امام احمد رضا اور انگریز کی مخالفت
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
امام احمد رضا کی عبقری شخصیت
کسی بھی شخصیت سے متعلق کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اس کی تحریرات و تحقیقات و احوال کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ سُنی سنائی باتوں پر کان دھرنا اہل علم و بصیرت کا شیوہ نہیں۔ مطالعہ کی بنیاد پر حقائق سامنے آتے ہیں۔ غلط فہمی کے غبار چھٹ جاتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی (ولادت ۱۲۷۲ھ / ۱۸۵۶ء؛ وصال ۱۳۴۰ھ / ۱۹۲۱ء) عالم اسلام کی عبقری شخصیت تھے۔ دینی خدمات اور علمی تحقیقات کی بنیاد پر آپ کی ذات اہل علم و تحقیق کی نگاہوں کا محور و مرکز بن چکی ہے۔ دنیا کی بہت سی یونی ورسٹیوں میں آپ پر ڈاکٹریٹ کی جا رہی ہے، ۲۵ سے زائد تھیسس لکھی جا چکی ہیں اور تحقیق کا مرحلہ شوق ہر آن طے ہو رہا ہے، تحقیقات علمیہ کے نئے نئے گوشے سامنے آ رہے ہیں۔ آپ کی تصانیف جن کی تعداد ہزار کے لگ بھگ ہے ان میں علم و تحقیق کا دریا موج زن ہے۔ آپ نے مسلک اسلاف کی خوب ترجمانی کی اور انگریز کے پیدا کردہ نئے فتنوں اور نظریات کا تحریری و عملی طور پر سدِ باب کیا۔ خلافِ سنت راہوں کی مخالفت کی، بدعات کا خاتمہ کیا اور ان رسوم کی بھی مخالفت کی جن کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں۔ آپ کے عہد میں جن نظریات نے سر ابھارا ان میں توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا فتنہ سر فہرست تھا۔ آپ نے کتاب و سنت اور راہ اسلاف کی روشنی میں ان کا علمی و عملی تعاقب کیا۔ اور اس کے لیے مصلحت کوشی کی بجائے حق پسندی و سچائی سے کام لیا۔
مخالفین کا بہتان اور پروپیگنڈہ
وہ تحریکات جن کا رشتہ کسی نہ کسی طرح انگریز سے جاملتا ہے انھیں امام احمد رضا کی کوشش و جد و جہد ایک آنکھ نہیں بھائی۔ یاد رکھیں جب قبول ِحق کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں اور قوت فکر و عمل مُردہ ہو جاتی ہے تو جھوٹ اور اتہام و الزام کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہی کچھ معاملہ امام احمد رضا کے ساتھ ہوا۔ مخالفین نے بہتان و کذب سے کام لے کر چاہا کہ آپ کی خدمات کو دھندلا دیا جائے؛ قدرت کو کچھ اور منظور تھا جس قدر مخالفت کی کوششیں ہوئیں شہرت و مقبولیت بڑھتی گئی۔ ارباب علم و بصیرت نے مطالعہ کیا اور حیران و ششدر رہ گئے کہ کیا بتایا گیا تھا اور حقیقت کیا ہے۔
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
کردار میں گفتار میں اللہ کی برہان
عبدالوہاب نجدی کی تحریکوں کی مخالفت
امام احمد رضا بریلوی کی مخالفت کے اسباب و علل پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی (م ۲۰۰۸ء) لکھتے ہیں: ”چودھویں صدی ہجری کے اوائل میں امام احمد رضا کے خلاف ایک ہمہ گیر تحریک چلائی گئی۔ جس کے کئی اسباب تھے ۔۔۔۔ یہ اسباب زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔ امام احمد رضا نے مسلک اہل سنت و جماعت (سلف صالحین) کی پُر زور حمایت کی اور مجاہدانہ و سر فروشانہ سرگرم عمل ہوئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ امام احمد رضا نے ابن عبد الوہاب نجدی کے زیر اثر چلنے والی ہر تحریک کی مخالفت کی۔ ۔۔۔۔۔۔۔ امام احمد رضا نے ہنود (مشرکین) کے زیر اثر چلنے والی ہر سیاسی تحریک کی مخالفت کی۔ ۔۔۔۔۔۔۔ امام احمد رضا سے مخالفت کی سب سے بڑی وجہ مسلک سلف صالحین پر ان کی بے پناہ استقامت اور اس کی اشاعت کے لیے ان کی سرگرمی اور اس مسلک کے مخالفین پر ان کی سخت تنقیدات معلوم ہوتی ہے۔ بہر کیف امام احمد رضا کی مصلحانہ،مجددانہ اور ناقدانہ مساعی کا شدید رد عمل ہوا ۔۔۔۔ طرح طرح کے الزامات لگائے گئے اور ان کی تشہیر کے لیے پوری توانائیاں صرف کی گئیں۔ ( آینہٗ رضویات امام احمد رضا کراچی ۲۰۰۴ء، جلد ۴، صفحہ ۳۷ – ۳۸ ا )
دیوبندی مکتبہ فکر کے الزامات
انھیں الزامات میں ایک نمایاں الزام یہ تھا کہ: ”وہ استعمار (انگریز) کے ایجنٹ ہیں۔“ (بریلویت، از احسان الٰہی ظہیر غیر مقلد، ادارہ ترجمان السنۃ لاہور، صفحہ۶۷) دیوبندی مکتب فکر کے محمود مانچسٹروی نے ”مطالعہ بریلویت“ میں اور مولانا سرفراز صفدر نے ”عبارات اکابر“ میں اسی طرح کا الزام لگایا ہے۔ تاہم ان الزامات کی حقیقت اس وقت کھل جاتی ہے جب کوئی محقق دلیل تلاش کرتا ہے اور یہ پاتا ہے کہ تہمت لگانے والوں کے یہاں ایک بھی حوالہ موجود نہیں۔ بہر کیف! ضروری معلوم ہوا کہ اس الزام کو علم و تحقیق کی کسوٹی پر پرکھ لیا جائے۔ امید کہ صداقت و سچائی کو پیش نظر رکھ کر اس تحریر کا مطالعہ کیا جائے گا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ تحقیق میں جانب داری نہیں برتی جاتی، جو کھرا اور سچ ہوتا ہے وہی لکھا جاتا ہے۔ اہل علم کو چاہیے کہ حقائق کی روشنی میں حوالوں کا جائزہ لیں اس میں قیاس اور گمان سے پرے سچائی اور درست بات کو اہمیت دی جائے۔ یہی راقم کا مطالبہ اور اس تحریر کا مقصد ہے۔
دارالاسلام یا دارالحرب:
امام احمد رضا کے عہد کا ہندوستان دارالاسلام تھا یا دارالحرب یہ ایک شرعی مسئلہ ہے۔ آپ نے دارالاسلام کہا، اور اس کے اسباب و علل بھی بیان کیے۔ بعض طبقے کہتے ہیں کہ انگریز کی حمایت میں رضا بریلوی نے دارالاسلام کہا، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اسی پہلو سے تجزیہ کر لیا جائے۔ اس رُخ سے امام احمد رضا نے ایک کتاب ’اعلام الاعلام بان ہندوستان دار الاسلام‘ تحریر فرمائی جس میں اس مسئلہ شرعی کو اجاگر کیا کہ جہاں احکام اسلام جاری و ساری ہوں وہ دارالاسلام ہے، اس پر بعض کم فہم واویلا مچاتے ہیں اور امام احمد رضا پر انگریز نوازی کا الزام دھرتے ہیں۔
دارالاسلام کے فقہی دلائل
دارالاسلام یا دارالحرب کا حکم شرعی بیان کرتے ہوئے امام احمد رضا تحریر فرماتے ہیں: ”ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلکہ علمائے ثلثہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے مذہب پر ہندوستان دارالاسلام ہے، دارالحرب ہرگز نہیں ہے کہ دارالاسلام کے دارالحرب ہو جانے میں جو تین باتیں ہمارے امام اعظم امام الائمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک درکار ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں احکام شرک علانیہ جاری ہوں اور شریعت اسلام کے احکام و شعائر مطلقاً جاری نہ ہونے پائیں۔ اور صاحبین کے نزدیک اسی قدر کافی ہے۔ مگر یہ بات بحمد اللہ یہاں قطعاً موجود نہیں۔ اہل اسلام جمعہ و عیدین و اذان و اقامت و نماز باجماعت و غیرھا شعائر شریعت بغیر مزاحمت علی الاعلان ادا کرتے ہیں۔ فرائض، نکاح، رضاع، طلاق، عدت، رجعت، مہر، نفقہ، حضانت، نسب، ہبہ، وقف، وصیت، شفعہ و غیرھا بہت معاملات مسلمین ہماری شریعت غرا بیضا کی بنا پر فیصل ہوتے ہیں کہ ان امور میں حضرات علمائے فتویٰ لینا اور اس پر عمل و حکم کرنا حکام انگریزی کو بھی ضرور ہوتا ہے۔ اگرچہ ہنود و مجوس و نصاریٰ ہوں۔ اور بحمد اللہ یہ بھی شوکت و جبروت شریعت علیہ عالیہ اسلامیہ اعلیٰ اللہ تعالیٰ حکمہا السامیہ ہے کہ مخالفین کو بھی اپنی تسلیم اتباع پر مجبور فرماتی ہے۔ و الحمد للہ رب العلمین۔ فتاویٰ عالم گیریہ میں سراج وھاج سے نقل کیا: اِعْلَمُوا اَنَّ دَارَ الْحَرْبِ تَصِیرُ دَارَ الْاِسْلَامِ بِشَرطٍ وَاحِدٍ وَ ھُوَ اِظْھَارُ حُكْمِ الْاِسْلَامِ فِیہَا۔ جان لو کہ بے شک دارالحرب ایک ہی شرط سے دارالاسلام بن جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہاں اسلام کا حکم غالب ہو جائے۔“ (فتاویٰ رضویہ مترجم، جلد ۱۴، صفحہ ۱۰۵، ۱۰۶، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کی شرعی حیثیت پر جمہور علمائے اسلام کا یہی حکم تھا، مولانا یٰس اختر مصباحی (بانی و صدر دار القلم دہلی) لکھتے ہیں: ”جس وقت امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی نے ہندوستان کو دارالاسلام کہا اُس وقت اور اُس زمانہ میں ہندوستان کے کسی مستند عالم و مفتی نے اسے دارالحرب کہا ہو تو یہ اس کا تفرد ہے۔ جمہور علماء اسے دارالاسلام ہی سمجھتے اور کہتے رہے ہیں۔“ (علمائے اہل سنت کی بصیرت و قیادت، مجلس رضا لودھیانہ ۲۰۱۲ء، صفحہ ۱۳۴
دارالسلام سے متعلق اشرف علی تھانوی کا نظریہ
جو لوگ امام احمد رضا پر ہند کو دارالاسلام قرار دینے کو بنیاد بنا کر انگریز نوازی کا الزام لگاتے ہیں انھیں کے مسلک کے علما نے دارالاسلام کہا اور لکھا اس بابت چند دلائل درج کیے جاتے ہیں، تاکہ سند رہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کے ضمن میں کہتے ہیں: ”شاید کسی کو شبہ ہو کہ غدر سے تو امان اول باقی نہیں رہا بلکہ عہد ثانی کی ضرورت ہوئی۔ اول تو یہ بات غلط ہے۔ غدر میں صرف باغیوں کو اندیشہ تھا۔ عام رعایا سرکار سے بالکل مطمئن تھی۔ دوسری سلّمنا غایت سے غایت یہ ہو گا کہ: بعض کے لیے امان اول باقی ہے بعض کے لیے امان ثانی۔ یہ بھی مثل دونوں اجراؤں یا دونوں اتصالوں کے ہو گا اور ترجیح دار الاسلام کو دی جائے گی۔ اور اگر بالفرض و التقدیر اس صورت میں دارالحرب بھی ہو گیا تب بھی دارالحرب اجرائے احکامِ اسلام مثل جمعہ و عید سے دارالاسلام ہو جاتا ہے۔ فی الدر المختار: وَ دَارُ الْحَربِ تَصِیرُ دَارَ الْاِسْلَامِ بِاِجرَاءِ اَحْکَامِ اَھْلِ الْاِسْلَامِ فِیھَا کَجُمُعَۃٍ وَ عِیدٍ۔ اِن بَقِیَ فِیہَا کَافِرٌ اَصْلِیٌّ وَ اِن لَّم تَتَّصِل بِدَارِ الْاِسْلَامِ، اس صورت میں بھی ہندوستان دار الاسلام ہو گا۔“ (تحذیر الاخوان عن الربو فی الہندوستان، از مولانا اشرف علی تھانوی، صفحہ ۹، اشرف المطابع، تھانہ بھون؛ مرجع سابق، صفحہ ۱۴۲ - ۱۴۳) اس ضمن میں متعدد اہم حوالے مولانا یٰس اختر مصباحی نے اپنی کتاب ”علمائے اہل سنت کی بصیرت و استقامت“ مطبوعہ مجلس رضا لودھیانہ میں درج کیے ہیں، جنھیں بلا تبصرہ تحریر کیا جاتا ہے:
دارالسلام سے متعلق وہابیوں کانظریہ
غیر مقلد محدث مولانا نذیر حسین بہاری ثم دہلوی (متوفی ۱۳۲۰ھ / ۱۹۰۲ء) کے بارے میں اُن کے سوانح نگار مولانا فضل حسین بہاری (متوفی ۱۹۱۶ء) لکھتے ہیں کہ: ”ہندوستان کو ہمیشہ میاں صاحب دارالامان فرماتے تھے دارالحرب کبھی نہ کہا۔“ (الحیات بعد الممات، مولانا فضل حسین، الکتاب انٹرنیشنل دہلی، صفحہ ۹۷) غیر مقلد عالم و مصنف نواب صدیق حسن بھوپالی (متوفی ۱۳۰۷ھ / ۱۸۹۰ء) لکھتے ہیں: ”پس فکر کرنا ان لوگوں کا جو اپنے حکم مذہبی سے جاہل ہیں اس امر میں کہ برٹش حکومت مٹ جاوے اور یہ امن و امان جو آج حاصل ہے، فساد کے پردے میں جہاد کا نام لے کر اٹھا دیا جائے، سخت نادانی و بے وقوفی کی بات ہے۔ بھلا ان عاقبت ناندیشوں کا چاہا ہو گا یا اس پیغمبر صادق کا فرمایا ہو گا جس کا کہا ہوا آج ہم آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اس کے خلاف نہیں ہو سکتا۔“ (ترجمان وہابیہ، از نواب صدیق حسن بھوپالی، صفحہ ۷، مطبع محمدی لاہور، مطبوعہ ۱۳۱۲ھ)
وہابیوں کا جہاد کو گناہ قرار دینا
”حنفیہ جن سے یہ ملک بھرا پڑا ہے، ان کے عالموں اور مجتہدوں کا تو یہی فتویٰ ہے کہ یہ دارالاسلام ہے اور جب یہ ملک دارالاسلام ہو تو پھر یہاں جہاد کرنا کیا معنی؟ بلکہ عزم جہاد ایسی جگہ ایک گناہ ہے بڑے گناہوں سے۔“ (ترجمان وہابیہ، از نواب صدیق حسن بھوپالی، صفحہ ۱۵، مطبع محمدی لاہور
وہابی کی جگہ اہلِ حدیث کی انگریزوں سے رجسٹری
”اس مقام پر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہندوستان دارالحرب ہی ہو تو بھی حکام انگلشیہ کے ساتھ جو یہاں کے رئیسوں کا عہد اور صلح ہے اس کا توڑنا بڑا گناہ ہے۔“ (صفحہ ۲۶، حوالہ مذکورہ) لفظ ”وہابی“ کی جگہ ۱۸۸۸ء میں حکومت انگلشیہ سے ”اہلِ حدیث“ نام رجسٹرڈ کرانے والے معروف غیر مقلد عالم و صحافی و وکیل مولانا محمد حسین بٹالوی (متوفی ۱۳۳۸ھ / ۱۹۲۰ء) لکھتے ہیں: ”جس شہر یا ملک میں مسلمانوں کو مذہبی فرائض ادا کرنے کی آزادی ہو وہ شہر یا ملک دارالحرب نہیں کہلاتا۔ پھر اگر وہ در اصل مسلمانوں کا ملک یا شہر ہو اور اقوام غیر نے اس پر تغلب سے تسلط پالیا ہو تو جب تک اس میں ادائے شعائر اسلام کی آزادی ہے وہ بحکمِ حالتِ قدیم دارالاسلام کہلاتا ہے۔“ (الاقتصاد فی مسائل الجہاد، از محمد حسین بٹالوی، صفحہ ۱۹، وکٹوریہ پریس لاہور) (علمائے اہل سنت کی بصیرت و قیادت، یٰس اختر مصباحی، مجلس رضا لودھیانہ ۲۰۱۲ء، صفحہ ۱۴۵ - ۱۴۶) ایک شبہ یہ ہو سکتا ہے کہ ۱۸۵۷ء میں علما نے انگریز سے جہاد کا فتویٰ کس بنیاد پر دیا تھا، اس کی توضیح کرتے ہوئے مولانا یٰس اختر مصباحی لکھتے ہیں: ”اپنے وقت میں حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے ۱۸۰۳ء کے چند سال بعد برطانوی سامراج کے پنجۂ استبداد میں پھڑ پھڑاتے اور شعائر اسلام کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر ہندوستان کے دارالحرب ہونے کو ترجیح دی اور انھیں کے تلمیذ رشید علامہ فضل حق خیر آبادی (متوفی ۱۲۷۸ھ / ۱۸۶۱ء) نے ۱۸۵۷ء میں برطانوی سامراج اور غاصب و قابض انگریزوں کے خلاف جامع مسجد دہلی میں تقریر کی اور فتوائے جہاد دیا جس پر اس وقت کے مشہور علما کی تحریری تصدیقات ہیں۔ ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کے خلاف جہاد کے لیے اس وقت کے علمائے کرام نے متعدد فتاویٰ اس کے علاوہ بھی جاری کیے۔ ایک فتویٰ پر حضرت مفتی صدر الدین آزردہ، صدر الصدور دہلی (متوفی ۱۲۸۵ھ / ۱۸۶۸ء) شاگرد شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کا بھی دستخط ہے۔ مزید فتاویٰ بھی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں زبانی و تحریری طور پر جاری ہوئے۔ جن میں مفتی عنایت احمد کاکوری (وصال شوال ۱۲۷۹ھ / اپریل ۱۸۶۳ء)، مولانا سید کفایت علی کافی مراد آبادی (وصال ۱۲۷۴ھ / مئی ۱۸۵۸ء) و مفتی مظہر کریم دریا بادی (وصال ۱۴ / اکتوبر ۱۸۷۳ء) کے تحریری فتاویٰ شامل ہیں۔ علمائے اہل سنت کے یہ فتاویٰ انقلاب ۱۸۵۷ء کے پیش نظر بالکل صحیح اور درست تھے۔“ (علمائے اہل سنت کی بصیرت و قیادت، مجلس رضا لودھیانہ ۲۰۱۲ء، صفحہ ۱۴۴)
ترک موالات اور انگریز کی مخالفت:
گاندھی کے ایما پر خلافت تحریک نے تحریک ترک موالات (نان کو آپریشن) چلائی۔ جب کہ اس کو صرف مسلم کمیونٹی میں چلوا یا گیا، ہندو مہا سبھا نے اسے کیوں نہیں قبول کیا؟ یہ سوال جواب طلب ہے۔ اگر یہ تحریک انگریز مفاد پر ضرب کاری تھی تو ہندو مسلم اتحاد کے داعی گاندھی و کارکنان خلافت تحریک کو اسے ہندؤں میں بھی چلانا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ غیر مقلد عالم احسان الٰہی ظہیر نے بلا دلیل یہ بات لکھ دی”:جناب احمد رضا نے تحریک ترک موالات کی بھی شدید مخالفت کی کیوں کہ انھیں خطرہ تھا کہ یہ تحریک انگریز کے زوال کا باعث بنے گی۔“ (بریلویت تاریخ و عقائد، احسان الٰہی ظہیر، ادارہ ترجمان السنۃ لاہور، صفحہ ۶۵)
تحریک ترکِ موالات کے پس پردہ مقاصد اور گاندھی
اس پر چند معروضات استدلال کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ ترک موالات کے پس منظر میں پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد لکھتے ہیں: ”۱۹۲۰ء میں کانگریس کے قوم پرست ہند و مسلمان اور تحریک خلافت کے داعی اپنے مشترکہ دشمن انگریز کے خلاف متحد ہو گئے۔ہر شخص ترک موالات پر تلا ہوا نظر آتا تھا، مخالفت کی کسی کو جرات نہ تھی، جوش جنوں میں انگریزوں سے ترک موالات بلکہ ترک معاملت کر کے کفار و مشرکین سے دوستی و محبت کے لیے ہاتھ بڑھایا گیا۔“ (فاضل بریلوی اور ترک موالات، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد، ادارہ مسعودیہ کراچی ۲۰۰۴ء، صفحہ ۳۸) انگریز کے ساتھ ہی ہنود بھی مسلمانوں کے دشمن تھے اور نقصان پہنچانے کے درپے۔ اس لیے یہ عجیب بات تھی کہ ایک دشمن کی مخالفت میں دوسرے دشمن کو گلے لگایا جا رہا تھا، بات یہاں تک پہنچی کہ اسلامی شعائر و مراسم ترک کر کے مشرکین کو خوش کرنے کے لیے جتن کیے جا رہے تھے۔ حالات کی ابتری اور مشرکین سے اتحاد کے منفی نتائج اس دور کے شاہد پروفیسر سید سلیمان اشرف (سابق صدر شعبۂ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ) کے قلم سے مطالعہ کریں: ”یہ نتیجہ آج اسی عنایت اور قران کا ہے جو گائے کی قربانی مسلمانوں سے چھڑوائی جاتی ہے، موحدین کی پیشانیوں پر قشقہ جو شعار شرک ہے کھینچا جاتا ہے، مساجد اہل ہنود کی تفریح گاہیں مندر مسلمانوں کا ایک مقدس معبد ہے۔ ہولی شعار اسلام ہے، جس میں رنگ پاشی اور وہ بھی خاص اہل ہنود کے ہاتھوں سے جب کہ وہ نشہ شراب میں بدمست ہوں عجب دل کش عبادت ہے، بتوں پر ریوڑیاں چڑھانا ہار پھولوں سے انھیں آراستہ کرنا، پھولوں کا تاج اصنام کے سروں پر رکھنا خالص توحید ہے، یہ سارے مسائل ان صورتوں میں اس لیے ڈھل گئے کہ ہندووں کی دل نوازی اور استرضا سے زیادہ اہم نہ توحید ہے نہ رسالت نہ معاد۔ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ۔“( (موالات و معاملات کا شرعی حکم، مولانا پروفیسر سید سلیمان اشرف، رضا اکیڈمی ممبئی ۲۰۱۰ء، صفحہ ۸) حالات کی نزاکت اور اسلام پر ہنود کے حملے اس پر انگریز کے چیرہ دستیاں مذکورہ اقتباس سے ظاہر ہیں۔ امام احمد رضا نے انگریزی سازشوں کے ساتھ مشرکین کی سازشوں سے باخبر رہنے کی تلقین کی اسی لیے فرماتے ہیں: ”یہ کون سا دین ہے؟ نصاریٰ کی ادھوری سے اجتناب اور مشرکین کی ’پوری‘ میں غرق آب؟ فَرَّمِنَ الْمَطَرِ وَ وَقَفَ تَحْتَ الْمِیزَاب۔ مینہ سے بھاگ کر چلتے پرنالے کے نیچے ٹھہرے۔“ (اَلْمَحَجَّۃُ الْمُؤْتَمَنَۃ، صفحہ ۱۴، مشمولہ فتاویٰ رضویہ جلد ۱۴، مطبوعہ برکات رضا پور بندر گجرات) ترک موالات سے نقصان مسلمانوں کا ہوا، علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبا کا تعلیمی نقصان ہوا، اساتذہ معاشی مشکلات کا شکار ہوئے، جب کہ ہندو یونیورسٹی بنارس میں سب کچھ معمول کے مطابق جاری رہا، گاندھی نے مسلمانوں کی جائز نوکریاں چھڑائیں تا کہ مسلمان مفلوک الحال ہو جائیں۔ طلبا کو تعلیم سے رکوایا تا کہ تعلیمی لائن میں سب سے کم زور ہو جائیں۔ ترک موالات کے طوفان نے مسلمانوں کو تعلیمی سطح پر کم زور کر کے رکھ دیا اسی کا نتیجہ تھا کہ آزادی کی صبح قریب آنے سے پہلے ہی علم سے مسلمانوں کا رشتہ کم زور کر دیا گیا، انگریز کے رخصت کے بعد اعلیٰ عہدوں پر ہند و براجمان ہوئے، گاندھی کے ایما پر چلائی جانے والی تحریک ترک موالات کی امام احمد رضا نے مخالفت کی تو اس کے نتائج بھی سامنے ہیں کہ گاندھی کا مقصد مسلمانوں کا علم سے رشتہ و تعلق کم زور کرنا تھا۔ ترک موالات نے مسلمانوں کو پچھاڑ دیا، ہند و آگے بڑھتے گئے، مسلمان اور پیچھے ہوتے گئے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ ہمارے موقف پر دلیل ہے۔
ترکی کی حمایت اور مشرکین سے نفرت
موالات سے متعلق امام احمد رضا نیز علمائے اہل سنت کا موقف بیان کرتے ہوئے شاگرد رضا مولانا پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاری صدر شعبۂ علوم اسلامیہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ (متوفی ۱۳۵۸ھ / ۱۹۳۹ء) اجلاس جمعیۃ العلماء ہند مارچ ۱۹۲۱ء میں مولانا آزاد کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ہمیں ترکی کی اسلامی سلطنت کی ہم دردی و اعانت سے انکار نہیں۔ یہ امداد و اعانت تمام مسلمانان عالم پر فرض ہے۔ نہ ہی ہم انگریزوں کی دوستی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ موالات ہر نصرانی و یہودی سے ہر حال میں حرام اور حرام قطعی ہے۔ ہمیں تو ہندو مسلم اتحاد اور اس اتحاد کی بنا پر کیے جانے والے غیر اسلامی افعال و اقوال سے اختلاف ہے۔“ (روداد مناظرہ، طبع دوم، مطبوعہ بریلی ۱۹۲۱ء) امام احمد رضا کی دور رس نگاہ دیکھ رہی تھی کہ ہندؤوں سے اتحاد صرف مسلمانوں کی تباہی کا باعث ہو گا اور ہوا بھی، جو لوگ ترک موالات کے سلسلے میں امام احمد رضا کی مخالفت کرتے ہیں وہ بتائیں کہ آزادی کے بعد سے ہندؤوں نے مسلمانوں کے ساتھ کتنی اور کیسی ہم دردی کی؟ کیا مسلمانوں کے لہو سے ہولی نہیں کھیلی گئی؟ اہانتِ مسلمین کا کوئی موقع مشرکین نے ہاتھ سے جانے دیا؟ فسادات کی سیاہ تاریخ مشرکین کی مسلم دشمنی پر غماز ہے، بابری مسجد کی شہادت بھی انھیں فرقہ پرستوں نے کی جن سے اتحاد کی امام احمد رضا نے شدید مخالفت کی تھی۔ ان حقائق کے باوجود یہ کہنا ”جناب احمد رضا خاں صاحب انگریزوں کے مفاد کے لیے کام کر رہے تھے“۔ (بریلویت تاریخ و عقائد، احسان الٰہی ظہیر، ادارہ ترجمان السنۃ لاہور، صفحہ ۶۷) تاریخ سے جہل و ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔
دنیاوی منفعت کی جگہ فقط اسلامی احکام کا پاس
اس دور میں امرا و نوابین کے قصیدے کہنا کوئی معیوب بات نہ تھی۔ شعرا و ادبا میں یہ رواج تھا کہ قصائد کے ذریعے مالی منفعت حاصل کیا کرتے تھے۔ امام احمد رضا کی شاعرانہ عظمت اور بلندی فکر کا شہرہ بر صغیر ہی کیا عرب تک پھیلا ہوا تھا لیکن آپ نے کسی امیر و نواب کی مدح و ستائش کو کبھی اپنے لیے ناروا جانا، پھر بھلا کیسے وہ انگریز کے مفاد یا مدح کو پسند کرتے جب کہ ان کے تمدن تک سے نفرت کرتے تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد لکھتے ہیں: ”فاضل بریلوی نے ترک موالات کی مخالفت اس لیے نہیں فرمائی کہ وہ انگریزوں کے حامی و ناصر تھے، یا ان کی ہم دردیاں حاصل کرنا چاہتے تھے بلکہ انھوں نے مخالفت سے شرعی تقاضوں کو پورا فرمایا، جس مردِ کامل نے کسی مسلمان نواب یا امیر کی مدح سرائی نہ کی ہو اور جب نواب ریاست نان پارہ کے لیے قصیدہ کہنے کی فرمائش کی گئی تو یہ کہہ کر بات ٹال دی ہو۔
کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں مری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا مرا دین پارۂ ناں نہیں
بھلا وہ انگریز دشمنِ اسلام کا پاس و لحاظ کیا رکھتا۔“ (فاضل بریلوی اور ترک موالات، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد، ادارہ مسعودیہ کراچی ۲۰۰۴ء، صفحہ ۳۴) شوکت صدیقی لکھتے ہیں: ”ان کے بارے میں وہابیوں کا یہ الزام کہ وہ انگریزوں کے پروردہ تھے، یا انگریز پرست تھے نہایت گمراہ کن اور شر انگیز ہے۔۔۔۔۔ وہ انگریز اور اس کی حکومت کے اس قدر کٹر دشمن تھے کہ لفافہ پر ہمیشہ الٹا ٹکٹ لگاتے تھے اور برملا کہتے تھے کہ ”میں نے جارج پنجم کا سر نیچا کر دیا“، انھوں نے زندگی بھر انگریزوں کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا۔“ (ہفت روزہ الفتح کراچی، شمارہ ۱۴ تا ۲۱ مئی ۱۹۷۶ء، صفحہ ۱۷) علما کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہوا کے رُخ کو نہ دیکھیں شریعت کے فیصلے دیکھیں، اگر شریعت کا کوئی فیصلہ حالیہ سیاست کے خلاف ہو تو لیڈروں کی رضا مندی کی بجائے اللہ کریم کی خوش نودی کو ترجیح دے کر دنیا پر آخرت کو فائق رکھیں، یہی عالم حق کی علامت ہے کہ وہ اسلامی شریعت کو ہر جگہ مقدم رکھتا ہے اور کسی کی ناراضی کی پروا نہیں کرتا۔ امام احمد رضا کا یہی اسلامی کردار اور حفظ شریعت مطہرہ کا پاس و لحاظ ان کے مخالفین کو نہیں بھایا اور انھوں نے شریعت کے احکام پر طبیعت کو غالب کر لیا۔ مشرکین کی خوشی چاہنے کے لیے اسلامی فیصلوں کی مطلق پروا نہیں کی۔ یہ المیہ ہے اسی وجہ سے ملک میں مسلمان مسلسل ستائے جا رہے ہیں۔ اقتدار کے خواہاں علما اربابِ اقتدار کی جی حضوری کر کے مسلمانوں کو مسلسل زوال کی طرف لے جا رہے ہیں اور اس طرح اسلام مخالف قوتوں کے دست و بازو مضبوط کر کے مسلمانوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ انھیں امام احمد رضا کی بے لوث اسلامی فکر اور شریعت کے تحفظ کے لیے مخلصانہ جذبات سے درس عمل لینا چاہیے۔ ترک موالات کی پشت پر اسلام دشمن قوم کے لیڈر ان تھے۔ وہ وہی تھے جن کو یہ خدشہ تھا کہ اگر ملک آزاد ہو گیا تو مسلمان پھر حکمراں بن جائیں گے اس لیے انھوں نے سوراج کے قیام کے لیے ہر حربہ آزمایا اور مسلمانوں کو معاشی مشکلات میں مبتلا کرنے کے لیے نان کو آپریشن تحریک شروع کی۔ تحریک کے ابتدائی حامی مولانا عبد الباری فرنگی محلی کے ایک خط سے تحریک کے پس منظر میں مشرکین کی موجودگی کی دھمک محسوس کی جا سکتی ہے: ”فقیر نان کو آپریشن کے مسئلہ میں بالکل پس رو گاندھی صاحب کا ہے کیوں کہ اس طریق کار کا واقف کار نہیں ہے، ان (گاندھی) کو اپنا راہ نما بنا لیا ہے جو وہ کہتے ہیں وہی مانتا ہوں۔“ (موالات و معاملات کا حکم شرعی، مولانا پروفیسر سید سلیمان اشرف، رضا اکیڈمی ممبئی ۲۰۱۰ء، صفحہ ۲۶) علما و مسلم عمائدین کسی مشرک کو راہ نما بنا لیں تو اس کے کیا مضر اثرات رونما ہوں گے وہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں ایک بات یہ بھی کہی جا سکتی ہے کہ یہ راہ نمائی سیاسی تھی تو عرض ہے کہ مسلمان کے دینی و دنیوی معاملات و امور بھی احکام دینی کے ہی تابع ہوتے ہیں۔ اسلام مکمل نظام زندگی ہے، سیاسی امور میں بھی اسلام کی راہ نمائی ایسی کامل ہے کہ اب کسی مشرک کی راہ نمائی کی کیا ضرورت؟ کیا کوئی مشرک مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے تحریک چلوائے گا؟ اس کا جواب حامیان تحریک نان کو آپریشن کے ذمہ باقی ہے۔
مشرکین سے اتحاد کے مُضر اثرات:
جن مولویوں نے مشرکین سے اتحاد کی ہر دور میں حمایت کی وہ ماضی تا حال تجزیہ کریں کہ اس اتحاد کا کتنا اور کون سا فائدہ مسلمانوں کو ہوا۔ فسادات کی بدترین تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی مقام پر مشرکین نے مسلمانوں کے لہو سے ہولی کھیلنے سے گریز نہ کیا۔ کثیر مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں میں بالترتیب ۲۰۰۶ء اور ۲۰۰۸ء میں بم دھماکے کیے گئے جن میں ہند و تواتنظیموں کا کردار سامنے آیا۔ ان دہشت گردانہ وارداتوں میں بہت سے مسلمان ہلاک و زخمی ہوئے، اسی قسم کے اور بھی دھماکے ملک میں مختلف مقامات پر عمل میں آئے۔ انھیں آڑ بنا کر مسلم نوجوانوں پر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے، پریشان کرنے اور انھیں ہی بدنام کرنے کے لیے کیا گیا۔ ہر فیلڈ میں مسلمانوں کو پچھاڑنے میں وہ پیش پیش رہے۔ مسلمانوں کی مساجد، مدارس، درگاہوں حتی کہ خانقاہوں تک کو نہیں بخشا۔ ہر جگہ اسلامی مراسم و شعائر کے ترک پر زور دیا۔ تعلیمی میدان میں مسلمانوں کو کم تر دیکھنے کی انھیں آرزو رہی۔ لیکن اتحاد کے حامی آنکھیں موند کر اور نقصانات سے بے خبر غیر دانش مندانہ راگ اب بھی الاپ رہے ہیں۔ گجرات و آسام اور حالیہ مظفر پور کے مسلم کش فسادات انھیں سبق دینے کو شاید کافی نہیں! پھر وہ سیکڑوں فسادات بھی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جو آزادی کے بعد سے وقوع پذیر ہوئے۔ مسلمانوں سے چھینی ہوئی سلطنت انگریز نے مسلم دشمن ہنود کو لوٹائی۔ یہ زخم بھی ان کی اسلام دشمنی کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ جس کا ایک پہلو ہنودکی انگریز سے خفیہ ساز باز بھی ہے۔
تحریکِ شدھی اور جماعتِ رضائے مصطفیٰ
۱۹۲۱ء میں جب کہ سیاسی اعتبار سے بہت سی تحریکات افق ہند پر سرگرم عمل تھیں۔ ہنود سے اتحاد کا ماحول شباب پر تھا۔ پنڈت شردھانند نے مسلمانوں کو اسلام سے منحرف کرنے کے لیے شدھی تحریک کی بنیاد رکھی جس کی زد میں بہت سے پچھڑے علاقے آ گئے اور مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنے مذہب سے انحراف کر کے مرتد ہو گئی۔ اس کے انسداد و مقابلہ کے لیے امام احمد رضا کے تلامذہ و خلفا و احباب کا ایک وفد جماعت رضائے مصطفیٰ کی معیت میں سرگرم عمل ہوا۔ مولانا یٰس اختر مصباحی لکھتے ہیں: ”حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی بریلوی کی قائم کردہ تحریک ”جماعت رضائے مصطفیٰ“ (تشکیل ۱۳۳۶ھ / ۱۹۱۷ء) نے شدھی تحریک کے مقابلے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی، صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی، محدث اعظم ہند مولانا سید محمد اشرفی کچھوچھوی، مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا قادری بریلوی، شیر بیشۂ اہل سنت مولانا حشمت علی لکھنوی و غیر ہم کی خدمات نا قابل فراموش ہیں۔ تحریک شدھی سنگٹھن کے زہریلے جراثیم اور خطرناک مفاسد کے ازالہ کے سلسلے میں ملکانہ یعنی آگرہ و متھرا و بھرت پور و الور وغیرہ میں جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی شریف کی مساعی جمیلہ کو اس وقت (۱۹۲۳ء) کی دو عظیم المرتبت شخصیتوں اور مقبول عوام و خواص بزرگوں (۱) امیر ملت سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری (وصال ۱۳۷۰ھ) اور (۲) شیخ المشائخ سید شاہ علی حسین اشرفی کچھوچھوی (وصال ۱۳۵۵ھ) کی مکمل تائید و حمایت اور سر پرستی حاصل تھی۔ جن کے وفود اور مبلغین نے جماعت رضائے مصطفیٰ کے ساتھ تعاون کر کے ملکانہ راج پوتوں کے علاقوں میں قریہ قریہ گھوم کر اور اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ہزاروں مسلمانوں کو ارتداد سے محفوظ رکھا اور ہزاروں وہ مسلمان جو ارتداد کا شکار ہو چکے تھے انھیں دوبارہ کلمہ پڑھا کر مشرف بہ اسلام کیا۔ یہ تفصیلات ۱۹۲۳ء و ۱۹۲۴ء کے رسائل و مجلات میں تاریخی ریکارڈ کے طور پر درج ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک مستقل کتاب ”تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ“ مؤلفہ مولانا شہاب الدین رضوی مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی جو کئی سو صفحات پر مشتمل ہے اس کا مطالعہ کر کے اس وقت کے حالات و کیفیات اور جماعت کی خدمات وغیرہ ہر طرح کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔“ (مجلہ یادگار رضا، رضا اکیڈمی ممبئی ۱۳۔۲۰۱۲ء، صفحہ ۱۳۴)
گائے کی قربانی موقوف کروانے کی کوشش
گائے کا ذبیحہ اسلامی شعار سے ہے۔ ہند و مسلم اتحاد کی آڑ میں اسے بند کروانے کے لیے با قاعدہ عملی جد و جہد کی گئی۔ مولانا پروفیسر سید سلیمان اشرف (تلمیذ رشید امام احمد رضا) لکھتے ہیں: ”مسٹر مانٹیگو کے سامنے دہلی میں جس وقت کے اعیانِ ہند کے وفود پیش ہو رہے تھے، جب آل انڈیا مسلم لیگ کی پیشی کی نوبت آئی تو اس جماعت کا جو ایڈریس تھا اس میں یہ گزارش بھی پُر زور الفاظ میں کی گئی تھی کہ ہندوستان سے گائے کا ذبح کرنا موقوف کیا جائے۔ جدید آقا (مشرکین) کے دربار میں جو نذور عبودیت و عقیدت کے ہاتھوں پیش کش ہونے والے تھے ان میں سب سے زیادہ پسندیدہ یہی نذر تھی۔“ (موالات و معاملات کا حکم شرعی، مولانا پروفیسر سید سلیمان اشرف، رضا اکیڈمی ممبئی ۲۰۱۰ء، صفحہ ۱۰) ”یہاں تک کہ رولٹ بل کا وقت آیا اور ستیا گرہ کی ایجاد ہوئی اُس وقت عجیب عجیب طرح سے مسلمانوں نے دین کی توہین کی تا کہ اہلِ ہنود کو یہ یقین ہو جائے کہ تمہاری اطاعت کے سامنے مذہب کی اطاعت یوں قربان کی جا سکتی ہے۔“ (مرجع سابق، صفحہ ۲۳) انگریز کی مخالفت میں بات اپنوں سے اتحاد کی ہوتی تو نوعیت الگ ہوتی۔ ہندؤوں کی ساری تگ و دو ’سوراج‘ کے لیے تھی۔ وہ ہند و راشٹر بنانے کے لیے کوشاں تھے۔ گاندھی کی پالیسی سے اس امر کو تقویت ملتی ہے، اتحاد مشرکین کے نتائج مسلمانوں کے حق میں ضرر رساں ظاہر ہوئے۔ پروفیسر سید سلیمان اشرف لکھتے ہیں: ”ہر وہ ایجاد اور ہر وہ تحریک جو کسی قوم کی ہو جب اسے دوسری قوم اختیار کرے تو یہ اس ایجاد وتحریک کی انتہائی کام یابی ہے، پس یہ ساری تحریکیں ہندؤوں نے اپنے ملک کے لیے کی تھیں جنھیں مسلمانوں نے اختیار کر کے ان کی کام یابی پر مہر لگا دی۔“ (مرجع سابق، صفحہ ۲۴) پیش کردہ ان تجزیوں کی صداقت کا اندازہ آزادی کے بعد کے احوال سے بہ خوبی ہو جاتا ہے۔ ہندؤوں کی ریشہ دوانیوں کی داستان بڑی طویل اور لرزہ خیز ہے۔ امام احمد رضا نے ان سے اتحاد کی مخالفت یوں ہی نہیں کی تھی بلکہ اس کی بنیاد ٹھوس اور شرعی وجوہات پر قائم ہیں، جن سے مسلمانوں کی تاریخ کا واقف کار انکار نہیں کر سکتا۔ یہاں ان لوگوں سے سوال ہے جو مشرکین سے اتحاد کے پُر زور داعی ہیں کہ کیا کبھی مسلم مسائل میں مشرکین نے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کی یا کچھ ساتھ دیا؟ ہاں! یہ ضرور ہوا کہ لیڈران کا ذاتی و مالی فائدہ ہوا اور قوم کا بھاری نقصان۔ جسٹس راجندر سچر نے مسلمانوں کی مفلوک الحالی پر جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں مسلمانوں کو دلتوں سے کم زور بتایا گیا ہے اور علم کے میدان میں مسلمانوں کا گھٹتا ہوا تناسب قابلِ تشویش حد تک ظاہر کیا گیا ہے۔ ۹۰ برس قبل ہی ان نتائج کے حصول کے لیے ہند و لیڈروں نے کمر کس لی تھی۔ آزادی کی تگ و دو کے ساتھ ہی مسلمانوں کی ذلت و نکبت اور کس مپرسی و پس ماندگی کا خاکہ بنا لیا گیا تھا اور آزاد جیسے لیڈر خود مشرکین کے خاکوں میں ان کی چالوں سے آنکھیں موند کر رنگ بھر رہے تھے۔ اُس دور کے عظیم دانش ور پروفیسر سید سلیمان اشرف نے جو مشاہدہ لکھا ہے اس کے عواقب ہم خود دیکھ رہے ہیں، موصوف لکھتے ہیں: ”اسی کے ساتھ مسٹر گاندھی کی کمالِ ہنر مندی کا اظہار اس حکیمانہ طرز عمل سے ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو برٹش گورنمنٹ کے مقابلہ میں صرف انھیں مقاصد و اغراض کے تکملہ اور تحصیل کے لیے لاکھڑا کر دیا جس سے ہندوستان کی آزادی برسوں کی راہ گھنٹوں میں طے کر لے، یہ ملک جس قدر آزادی سے قریب ہوتا جائے اسی قدر خود مسلمانوں ہی کے جد و جہد سے ہندؤوں کی حکومت یوماً فیوماً قوی ہوتی جائے اور مسلمانوں کی ہستی ہندوستان میں مٹنے مٹتے شودر کے مرتبہ پر پہنچ جائے۔“ (مرجع سابق، صفحہ ۲۹) سچر کمیٹی کی موجودہ رپورٹ ۹۰ برسوں قبل مشرکین کی سازشوں کے ان نتائج پر واضح دلیل ہے جو شاگرد اعلیٰ حضرت پروفیسر سلیمان اشرف نے درج کیے۔
یورپ کی مخالفت؛ ترکوں کی حمایت
۱۹۱۱ء میں اٹلی نے طرابلس پر حملہ کیا۔ ترکوں کی حمایت کو مسلمان کمر بستہ ہوئے۔ یورپ کی اس حرکت سے مسلمان غم و غصہ میں تھے، ان کی امداد کے لیے امام احمد رضا نے تدبیریں بتائیں۔ اس سلسلے میں ایک رسالہ بھی حاجی لعل محمد خاں مدراسی کے استفسار پر لکھا، مسلمانوں کو ترکوں کے مالی تعاون پر ابھارا، تا کہ انگریز کے مقابل ترک مسلمان مضبوط ہوں۔ امام احمد رضا تعاون کے طریقے واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اب بھی اگر تمام ہندوستان کے جملہ مسلمان، امیر، غریب، فقیر، رئیس، اپنے سچے ایمان سے ہر شخص اپنی ایک ماہ کی آمدنی دے دے تو گیارہ ماہ کی آمدنی میں بارہ ماہ گزر کر لینا کچھ دشوار نہ ہو۔ اور اللہ عز و جل چاہے تو لاکھوں پونڈ جمع ہو جائیں۔“ (حیاتِ اعلیٰ حضرت، از ملک العلما، صفحہ ۴۳۴، مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور ۲۰۰۳ء۔ سال تصنیف ۱۹۳۸ء) سلطنت ترکی کی حمایت کے سلسلے میں امام احمد رضا کی عملی کد و کاوش کے ضمن میں تاج العلما مولانا سید اولاد رسول محمد میاں قادری مار ہروی لکھتے ہیں: ”۔۔۔۔۔۔ آج (۱۳۴۰ھ) سے برسوں پہلے جنگ بلقان (۱۲ - ۱۹۱۱ء) کے موقع پر انھوں (مولانا احمد رضا) نے سلطنتِ اسلامی و مظلومین مسلمین کی اعانت و امداد کی مناسب و صحیح شرعی تدابیر لوگوں کو بتائیں۔ عام طور پر شائع کیں۔ قولاً و عملاً ان کی تائید کی۔ خود چندہ دے کر عوام کو اس طرف رغبت دلائی اور اب بھی لوگوں کو صحیح مفید شرعی طریقے اعانتِ اسلام و مسلمین کے بتاتے رہتے ہیں۔ مولانا احمد رضا خاں صاحب جو عملی کوششیں کر سکتے تھے، انھوں نے کیں۔ خود چندہ دیا اور اپنے زیر اثر لوگوں سے دلوایا۔ مسلمانوں کو اسلامی سلطنت کی امداد و اعانت پر توجہ و رغبت دلائی۔ تحفظِ سلطنتِ اسلامی کی مفید و کارگر تدابیر بتائیں۔ یہ عملی کوشش نہیں تو کیا ہے؟ (صفحہ ۱۲، برکاتِ مارہرہ و مہمانانِ بدایوں (۱۳۴۰ھ) مطبوعہ حسنی پریس، بریلی ۱۳۴۰ھ)
انگریز کی مخالفت میں امام احمد رضا کا کردار:
مولانا یٰس اختر مصباحی لکھتے ہیں: ”مغربی تہذیب و تمدن، فرنگی فکر و مزاج اور غاصب انگریزوں سے نفرت و عداوت کا یہ عالم تھا کہ نہ کبھی ان کی حکمرانی تسلیم کی اور نہ ہی ان کی کسی کچہری میں گئے اور وہ بھی یہ کہہ کر کہ ”جب میں انگریز کی حکومت ہی تسلیم نہیں کرتا تو ان کی عدالت کیا تسلیم کروں گا؟“ لفافہ پر ہمیشہ الٹا ٹکٹ لگاتے اور کہتے کہ ”میں نے جارج پنجم کا سر نیچا کر دیا“ زندگی بھر کسی انگریز کے پاس نہیں گئے اور نہ ان سے کوئی ربط و تعلق رکھا۔“ (امام احمد رضا اور جدید افکار و تحریکات، یٰس اختر مصباحی، رضا اکیڈمی ممبئی ۲۰۱۰ء، صفحہ ۱۸۱) انگریز نے فکر و نظر کے اعتبار سے بھی مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کوششیں کیں۔ امام احمد رضا نے جہاں اسلامی روایات کو زندہ کیا وہیں تہذیبی و تمدنی لحاظ سے مسلم تشخص کے لیے کام کیا۔ آپ نے ہر پہلو سے انگریز کی فریب کاریوں کی مخالفت کی۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ آپ نے شعار و مراسم شرکیہ کی بھی مذمت کی۔ جس سے بہت سے حاسدین و مخالفین رضا آپ کی ذات پر جنبشِ لب کشائی کی جرات کرتے رہتے ہیں۔ انھیں یہی بُرا لگا کہ مشرکین سے اتحاد کی مخالفت کیوں کر کی گئی؟ اس بابت گزشتہ سطور میں ہم نے توضیح کر دی ہے کہ کس طرح مشرکین سے اتحاد نے اسلامی حمیت و غیرت اور عقائد کو نقصان سے دو چار کیا۔ انگریزی تہذیب و تمدن و معاشرت و نظریات و افکار کی مخالفت میں امام احمد رضا نے جو کتابیں لکھیں ان میں چند اس طرح ہیں: ۱] اَلْمَحَجَّۃُ الْمُؤْتَمَنَۃ فِی آیَۃِ الْمُمْتَحِنَۃ (۱۳۳۹ھ): ترک موالات کے موضوع پر مشرکین سے اتحاد و وداد کی مخالفت نیز نصاریٰ کی بیخ کنی میں معرکہ آرا رسالہ، پروفیسر مولوی حاکم علی بی۔ اے نقشبندی کے سوال کے جواب میں تحریر فرمایا۔ اس کتاب کی متعدد جگہوں سے بارہا اشاعت ہو چکی ہے۔ راقم کے پیش نظر جو نسخہ ہے وہ رضا اکیڈمی ممبئی کا شائع کردہ ہے۔ سن اشاعت ۱۹۹۸ء ہے۔ [۲] معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین (۱۳۳۸ھ): امریکی منجم پروفیسر البرٹ ایف۔ پورٹا نے ۱۹۱۹ء میں پیش گوئی کی کہ ۷ ۱ دسمبر ۱۹۱۹ء کو آفتاب کے سامنے بعض سیاروں کے آ جانے سے کشش کے نتیجے میں دنیا میں قیامتِ صغریٰ برپا ہو گی۔ اسلامی لحاظ سے یہ پیش گوئی باطل تھی جس کے جواب میں مذکورہ کتاب لکھ کر پورٹا کے نظریے کی سائنسی و عقلی دلائل سے ایسی تردید کی کہ انگریزی فکر دم توڑ گئی۔ بات چوں کہ ۱۷ دسمبر سے تعلق رکھتی تھی اس لیے پیش گوئی کے بطلان پر ۱۷ رُخ سے جواب تحریر کیا اور نصاریٰ کے فکری حملوں کا دنداں شکن جواب دیا۔ [۳] نزول آیاتِ فرقان بسکونِ زمین و آسمان (۱۳۳۹ھ): یہ کتاب بھی سائنس کے غیر اسلامی افکار در حرکتِ زمین کی تردید میں تصنیف کی، اس کے اندر پروفیسر حاکم علی بی۔ اے نقشبندی (اسلامیہ کالج لاہور) کو انگریز کے خلاف اسلام نظریات سے اجتناب کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”قرآن عظیم کے وہی معنی لینے ہیں جو صحابہ و تابعین و مفسرین و معتمدین نے لیے۔ ان سب کے خلاف وہ معنی لینا جن کا پتا نصرانی سائنس میں ملے مسلمان کو کیسے حلال ہو سکتا ہے۔“ (نزولِ آیاتِ فرقان بسکونِ زمین و آسمان، امام احمد رضا، ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ۲۰۰۵ء، صفحہ ۲۰) اسی کتاب میں نصاریٰ کے طریقہ استدلال کی دھجیاں ان الفاظ میں بکھیر کر رکھ دی ہیں: ”یورپ والوں کو طریقہ استدلال اصلاً نہیں آتا، انھیں اثبات دعویٰ کی تمیز نہیں، ان کے اوہام جن کو بنامِ دلیل پیش کرتے ہیں یہ یہ علتیں رکھتے ہیں۔“ (نزولِ آیاتِ فرقان بسکونِ زمین و آسمان، امام احمد رضا، ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ۲۰۰۵ء، صفحہ ۵۵) [۴] الصمصام علی مشکک فی آیۃ علوم الارحام (۱۳۱۵ھ): ایک پادری کے اعتراض کے جواب میں تصنیف فرمائی۔ اس کتاب میں نصاریٰ کے باطل نظریات کا درجنوں دلائل سے مسکت انداز میں رد فرمایا ہے۔ تاریخی اعتبار سے بھی نصاریٰ کی سازشوں کی بخیہ ادھیڑ کر رکھ دی ہے۔ نیز ان کی گستاخیوں اور کارستانیوں کا بھی پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ ان کی دھاندلی اور فریب پر ملامت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اللہ اللہ یہ قوم! یہ قوم سراسر لوم! یہ لوگ! یہ لوگ جنھیں عقل کا لاگ جنھیں جنوں کا روگ، یہ اس قابل ہوئے کہ خدا پر اعتراض کریں اور مسلمان ان کی لغویات پر کان دھریں انا للہ و انا الیہ راجعون۔۔۔۔۔۔“ (الصمصام علی مشکک فی آیۃ علوم الارحام، امام احمد رضا، رضا اکیڈمی ممبئی ۱۴۱۸ھ، صفحہ ۱۹) [۵] الکلمۃ الملہمۃ فی الحکمۃ المحکمۃ (۱۳۳۸ھ): اس کتاب میں فلاسفہ کے اوہام باطلہ کا رد ہے۔ [۶] فوز مبین در رد حرکت زمین (۱۳۳۸ھ): اس کتاب کو سائنس کے نظریہ حرکت زمین کے رد میں تصنیف کی اور سائنسی اصولوں سے حرکتِ زمین کے نظریے کا باطل و غلط ہونا ثابت فرمایا۔ آخر الذکر دونوں کتابوں سے متعلق امام احمد رضا لکھتے ہیں: ”مسلمان طلبا پر دونوں کتابوں کا بغور بالاستیعاب مطالعہ اہم ضروریات سے ہے کہ دونوں فلسفۂ مزخرفہ کی شناعتوں، جہالتوں، سفاہتوں، ضلالتوں پر مطلع رہیں، اور بعونہ تعالیٰ عقائدِ حقہ اسلامیہ سے ان کے قدم متزلزل نہ ہوں۔“ (الکلمۃ الملہمۃ، امام احمد رضا، رضا اکیڈمی ممبئی ۱۴۱۸ھ، صفحہ ۶) خلاف اسلام سائنسی افکار کے مقابل اسلامی افکار کے تحفظ کے لیے امام احمد رضا کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے برطانوی انگریز نو مسلم پروفیسر ڈاکٹر محمد ہارون تحریر کرتے ہیں: ”اپنی زندگی میں امام احمد رضا نے سائنس دانوں کی حماقتوں کا جواب دینے کی جد و جہد فرمائی ۔۔۔۔۔ لیکن بلا شبہ احمق یورپیوں کی پوری دنیا کے مقابل وہ یکہ و تنہا تھے ۔۔۔۔۔۔ تاہم انھوں نے سائنس کو اس کے اصل مقام پر رکھنے کے لیے مسلمانوں کو ضروری کام پر لگا دیا ۔۔۔۔۔ انھوں نے محسوس کر لیا تھا کہ سب سے بڑا چیلنج سائنس کی پرستش اور اس کا وہ طریقہ تھا جس سے وہ اسلامی حکمت و دانش کو دھمکا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امام احمد رضا سائنس کے مقابل اسلام کا دفاع کرنے اور سائنس کی حدیں واضح کرنے کی کاوشوں کی وجہ سے عالمی اہمیت کی حامل شخصیت ہیں۔۔۔۔۔۔“ (دی ورلڈ امپارٹنس آف امام احمد رضا، اردو ترجمہ بنام ”امام احمد رضا کی عالمی اہمیت، نوری مشن مالیگاؤں ۲۰۰۵ء، صفحہ ۹)
خانوادہ رضا کی انگریز سے نفرت:
امام احمد رضا ہر باطل فرقہ و مذہب سے جدا رہنے کے قائل تھے۔ یہود و نصاریٰ نیز ہنود سے دوری میں ہی ایمان و عقیدہ کی سلامتی جانتے تھے۔ یہ اسلامی اصول آپ کو ورثے میں ملا تھا۔ آپ کے دادا علامہ رضا علی خاں نقش بندی بریلوی ملک پر نصرانی تسلط کو افتاد سے تعبیر کرتے ہوئے اظہارِ تاسف فرماتے ہیں۔ عجب افتاد بر سر ہندوستان بود تسلط فرنگیاں بر مسلمان بود رضا چگونه رنج و قلق میفتاد قضائے مہرباں ہا بر مسلمان بود (مولانا نقی علی خاں بریلوی، از مولانا شہاب الدین رضوی، رضا اکیڈمی ممبئی، صفحہ ۴۱ – ۴۲) جنگ آزادی ۱۸۵۷ء میں مولانا رضا علی خاں بریلوی نے عملاً حصہ لے کر مجاہدین کی تازہ دم گھوڑوں سے مدد کی۔ مولانا شہاب الدین رضوی نے اپنی کتاب ”مولانا نقی علی خاں“ میں ایسے تاریخی شواہد کی نشان دہی کی ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انگریز کی مخالفت کے سبب انگریز نے آپ کے بعض مواضعات کو ضبط کر لیا تھا۔ انگریز افسر ہڈسن نے آپ کے سر پر انعام رکھا تھا۔ یہی جذبہ حریت آپ کے شاگر د مولانا عبد اللہ خاں ہمدم بریلوی میں منتقل ہوا۔ آپ نے برطانوی افواج کے خلاف نمایاں حصہ لیا۔ قید و بند کے عالم میں ہی جام شہادت نوش کیا۔ (مرجع سابق، صفحہ ۸۱) ایام اسیری میں یہ رباعی لکھی
؎ تو گرفتار ہوں کچھ رسم مجھے یاد نہیں
اس لیے لب پہ مرے نالہ و فریاد نہیں
کس کو حالِ دلِ غمگیں میں سناؤں
قیس صحرا میں نہیں کوہ میں فرہاد نہیں
مولانا رضا علی خاں کے ایک اور شاگرد مولانا منشی محمد اسماعیل شکوہ آبادی بھی انگریز کے خلاف معرکے میں گرفتار ہوئے اور کالا پانی کی سزا دی گئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا رضا علی خاں بریلوی نے مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی اور جنرل بخت خاں کی فوجوں کو گھوڑے سپلائی کیے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا رضا علی خاں بریلوی کا مجاہدین کو گھوڑے دینا اور مجاہدین کے لیے قیام و طعام کا اپنی جیب خاص سے اہتمام کرنا ثابت کرتا ہے کہ آپ برطانوی تسلط کے کتنے شدید مخالف تھے۔“ (مرجع سابق، صفحہ ۹۶ – ۹۸) مولانا احسن دہلوی، مولانا رضا علی خاں بریلوی کی مجاہدانہ کاوش کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”آپ جنگ آزادی کے عظیم رہ نما تھے۔ عمر بھر فرنگی تسلط کے خلاف برسر پیکار رہے۔ آپ ایک بہترین جنگجو اور بے باک سپاہی تھے۔ لارڈ ہسٹنگ آپ کے نام سے بے حد نالاں تھا۔ جنرل ہڈسن جیسے برطانوی جنرل نے آپ کا سر قلم کرنے کا انعام پانچ سو روپیہ مقرر کیا تھا۔ مگر وہ اپنے مقصد میں عمر بھر نا کام رہا۔“ (مرجع سابق، صفحہ ۹۶) اعلیٰ حضرت کے والد ماجد مولانا نقی علی خاں بریلوی کی انگریز کے خلاف کارکردگی سے متعلق مولانا شہاب الدین رضوی لکھتے ہیں: ”مولانا مفتی نقی علی خاں بریلوی بنیادی طور پر حریت پسند تھے، انگریزی اقتدار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے علمائے اہل سنت نے جہاد کا فتویٰ صادر فرمایا۔ اس فتویٰ کے مطابق جہاد کی تیاری اور عملاً جہاد آزادی کا آغاز کرنے کے لیے جہاد کمیٹی کی تشکیل ہوئی، اس کے آپ رُکن رکین مقرر ہوئے۔ انگریزوں کے خلاف جنگ کرنے والے مجاہدین کو مناسب مقامات پر گھوڑے اور رسد پہنچانا آپ کے ذمہ تھا، جس کو بہ حسن و خوبی انجام دیتے، آپ کی تقاریر انتہائی پُر اثر ہوتی تھیں۔ آپ کی تقاریر نے مسلمانوں میں جہاد آزادی کا جوش و ولولہ بھر دیا تھا۔ انھیں علمائے کرام کی بدولت بریلی روہیل کھنڈ میں انگریزوں نے مسلمانوں سے شکست کھائی اور بریلی چھوڑ کر راہ فرار اختیار کی۔“ (مرجع سابق، صفحہ ۸۵)






