اصل شعر
اغنیاء پلتے ہیں در سے وہ ہے باڑا تیرا
اصفیاء چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستا تیرا
Roman Transliteration
Aghniya palte hain dar se woh hai bara tera
Asfiya chalte hain sar se woh hai rasta tera
ترجمہ
اے اللہ کے رسول ﷺ! دنیا کے غنی اور دولت مند لوگ (بشمول دینی مقام رکھنے والے) آپ کے درِ اقدس سے فیض پا کر پلتے ہیں، وہ آپ ہی کا وسیع دربار اور باڑا (احاطہ) ہے جہاں سب کی پرورش ہوتی ہے۔ اور جو اللہ کے چنے ہوئے پاکیزہ نفوس (اصفیاء) ہیں، وہ آپ کی راہوں میں کمالِ ادب کی وجہ سے (پاؤں کے بجائے) سر کے بل چلتے ہیں، یہ آپ کے راستے کی رفعت اور عظمت ہے
شرح
اس شعر میں امام احمد رضا خان حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں دو اہم پہلوؤں کا ذکر کر رہے ہیں: پہلا آپ ﷺ کی عالمگیر سخاوت اور دوسرا آپ ﷺ کی عظیم منزلت و ادب
تفصیلی تشریح
پہلے مصرعے میں شاعر فرماتے ہیں کہ دنیا کے تمام غنی، مالدار اور دینی عظمت رکھنے والے لوگ دراصل آپ ﷺ ہی کے در کے منگتے ہیں ۔ ‘باڑا’ سے مراد وہ وسیع جگہ ہے جہاں مخلوق کی پرورش کی جائے ۔ یہاں یہ عقیدہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ حقیقی عطا فرمانے والا ہے اور حضور ﷺ اس کی نعمتوں کو کائنات میں تقسیم کرنے والے ہیں. کائنات کا ہر ‘غنی’ حقیقت میں آپ ﷺ کے درِ اقدس کا محتاج ہے اور وہیں سے ملنے والے فیض سے پل رہا ہے۔
دوسرے مصرعے میں اللہ کے برگزیدہ بندوں، صوفیائے کرام اور پاکیزہ نفوس (اصفیاء) کے کمالِ ادب کا ذکر ہے ۔ امام احمد رضا فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی طرف جانے والا راستہ اتنا مقدس اور بلند ہے کہ اللہ کے ولی وہاں پاؤں سے چلنا بے ادبی تصور کرتے ہیں، بلکہ وہ کمالِ عشق و احترام میں سر کے بل چلنا (یعنی نہایت عاجزی و انکساری اختیار کرنا) اپنی سعادت سمجھتے ہیں
یہ شعر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ دنیا کی مادی دولت ہو یا دین کی روحانی نعمتیں، سب حضور ﷺ کے وسیلے سے مل رہی ہیں ۔ اور آپ ﷺ کی بارگاہ تک رسائی کے لیے محض عبادت کافی نہیں، بلکہ ادب اور سرِ تسلیم خم کرنا لازمی ہے




