اور بولے وہ جو (ف٤۰) ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے ہم پر فرشتے کیوں نہ اتارے (ف٤۱) یا ہم اپنے رب کو دیکھتے (ف٤۲) بیشک اپنے جی میں بہت ہی اونچی کھینچی (سرکشی کی) اور بڑی سرکشی پر آئے (ف٤۳)
And those who do not expect to meet Us said, “Why were the angels not sent down to us or we been able to see our Lord?” Indeed they thought too highly of themselves and they turned extremely rebellious.
और बोले वह जो हमारे मिलने की उम्मीद नहीं रखते हम पर फ़रिश्ते क्यों न उतारे या हम अपने रब को देखते निश्चय अपने जी में बहुत ही ऊँची खींची (सरक़शी की) और बड़ी सरक़शी पर आए
Aur bole woh jo humare milne ki umeed nahi rakhte hum par farishte kyu na utare ya hum apne Rab ko dekhte, beshak apne je mein bohot hi unchi kheechee (sarkashi ki) aur badi sarkashi par aaye
(ف40)کافِر ہیں حشر و بعث کے معتقد نہیں اسی لئے ۔(ف41)ہمارے لئے رسول بنا کر یا سیدِ عالم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت و رسالت کے گواہ بنا کر ۔(ف42)وہ خود ہمیں خبر دے دیتا کہ سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں ۔(ف43)اور ان کا تکبُّر انتہا کو پہنچ گیا اور سرکشی حد سے گزر گئی کہ معجزات کا مشاہدہ کرنے کے بعد ملائکہ کے اپنے اوپر اترنے اور اللہ تعالٰی کو دیکھنے کا سوال کیا ۔
جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے (ف٤٤) وہ دن مجرموں کی کوئی خوشی کا نہ ہوگا (ف٤۵) اور کہیں گے الٰہی ہم میں ان میں کوئی آڑ کردے رکی ہوئی (ف٤٦)
The day when they will see the angels – that day will not be of any happiness for the guilty – and they will cry, “O God, erect a barrier between us and them!”
जिस दिन फ़रिश्तों को देखेंगे वह दिन मुजरिमों की कोई ख़ुशी का न होगा और कहेंगे अल्लाही हम में उनमें कोई आड़ कर दे रकी हुई
Jis din farishton ko dekhenge woh din mujrimoon ki koi khushi ka na ho ga aur kahenge elahi hum mein un mein koi aarr kar de ruki hui
(ف44)یعنی موت کے دن یا قیامت کے دن ۔(ف45)روزِ قیامت فرشتے مؤمنین کو بشارت سنائیں گے اور کُفّار سے کہیں گے تمہارے لئے کوئی خوشخبری نہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ فرشتے کہیں گے کہ مؤمن کے سوا کسی کے لئے جنّت میں داخل ہونا حلال نہیں اس لئے وہ دن کُفّار کے واسطے نہایت حسرت و اندوہ اور رنج وغم کا دن ہو گا ۔(ف46)اس کلمے سے وہ ملائکہ سے پناہ چاہیں گے ۔
اور جو کچھ انہوں نے کام کیے تھے (ف٤۷) ہم نے قصد فرما کر انھیں باریک باریک غبار، کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں (ف٤۸)
And We turned all the deeds they had performed into scattered floating specks of dust.
और जो कुछ उन्होंने काम किए थे हमने क़स्द फ़रमा कर उन्हें बारिक बारिक गुबार, के बिखरे हुए ज़रे कर दिया कि रोशन की धूप में नज़र आते हैं
Aur jo kuch unhone kaam kiye the humne qasd farma kar unhein bareek bareek ghubar, ke bikhre hue zarre kar diya ke rozn ki dhoop mein nazar aate hain
(ف47)حالتِ کُفر میں مثل صلہ رحمی و مہمان داری و یتیم نوازی وغیرہ کے ۔(ف48)نہ ہاتھ سے چھوئے جائیں نہ ان کا سایہ ہو ۔ مراد یہ ہے کہ وہ اعمال باطل کر دیئے گئے ان کا کچھ ثمرہ اور کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اعمال کی مقبولیت کے لئے ایمان شرط ہے اور وہ انہیں میسّر نہ تھا اس کے بعد اہلِ جنّت کی فضیلت ارشاد ہوتی ہے ۔
اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان بادلوں سے اور فرشتے اتارے جائیں گے پوری طرح (ف۵۰)
And the day when the sky will be split asunder with clouds and the angels will be sent down in full.
और जिस दिन फट जाएग़ा आसमान बादलों से और फ़रिश्ते उतारे जाएँगे पूरी तरह
Aur jis din phat jaega asman badalon se aur farishte utare jaenge poori tarah
(ف50)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا آسمانِ دنیا پھٹے گا اور وہاں کے رہنے والے (فرشتے) اتریں گے اور وہ تمام اہلِ زمین سے زیادہ ہیں جن و انس سب سے پھر دوسرا آسمان پھٹے گا وہا ں کے رہنے والے اتریں گے وہ آسمانِ دنیا کے رہنے والوں سے اور جن و انس سب سے زیادہ ہیں اسی طرح آسمان پھٹتے جائیں گے اور ہر آسمان والوں کی تعداد اپنے ماتحتوں سے زیادہ ہے یہاں تک کہ ساتواں آسمان پھٹے گا پھر کرّوبی اتریں گے پھر حاملینِ عرش اور یہ روزِ قیامت ہو گا ۔
اس دن سچی بادشاہی رحمن کی ہے، اور وہ دن کافروں پر سخت ہے (ف۵۱)
The true kingship on that day belongs to the Most Gracious; and that is hard for the disbelievers.
उस दिन सची बादशाही रहमान की है, और वह दिन काफ़िरों पर सख़्त है
Us din sachi badshahi Rahman ki hai, aur woh din kafiron par sakht hai
(ف51)اور اللہ کے فضل سے مسلمانو ں پر سہل ۔ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کا دن مسلمانوں پر آسان کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ ان کے لئے ایک فرض نماز سے ہلکا ہوگا جو دنیا میں پڑھی تھی ۔
اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا چبا لے گا (ف۵۲) کہ ہائے کسی طرح سے میں نے رسول کے ساتھ راہ لی ہوتی، (ف۵۳)
And the day when the unjust will gnaw his hands, saying, “Alas, if only I had chosen a way along with the (Noble) Messenger (of Allah)!”
और जिस दिन ज़ालिम अपने हाथ चबा चबा लेगा कि हाय किसी तरह से मैंने रसूल के साथ राह ली होती,
Aur jis din zalim apne haath chaba chaba lega ke haaye kisi tarah se maine rasool ke sath raah li hoti,
(ف52)حسرت و ندامت سے ۔ یہ حال اگرچہ کُفّار کے لئے عام ہے مگر عقبہ بن ابی معیط سے اس کا خاص تعلق ہے ۔شانِ نُزول : عقبہ بن ابی معیط اُبَیْ بن خلف کا گہرا دوست تھا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانے سے اس نے لَآاِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ کی شہادت دی اور اس کے بعد ابی بن خلف کے زور ڈالنے سے پھر مرتَد ہو گیا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مقتول ہونے کی خبر دی چنانچہ بدر میں مارا گیا ۔ یہ آیت اس کے حق میں نازِل ہوئی کہ روزِ قیامت اس کو انتہا درجہ کی حسرت و ندامت ہوگی اس حسرت میں وہ اپنے ہاتھ چاب چاب لے گا ۔(ف53)جنّت و نجات کی اور ان کا اِتّباع کیا ہوتا اور ان کی ہدایت قبول کی ہوتی ۔
بیشک اس نے مجھے بہکا دیا میرے پاس آئی ہوئی نصیحت سے (ف۵٤) اور شیطان آدمی کو بےمدد چھوڑ دیتا ہے (ف۵۵)
“He indeed led me astray from the advice that had come to me”; and Satan deserts man, leaving him unaided.
निश्चय उसने मुझे बहका दिया मेरे पास आई हुई नसीहत से और शैतान आदमी को बे मदद छोड़ देता है
Beshak usne mujhe behka diya mere paas aayi hui naseehat se aur shaytaan aadmi ko be madad chhod deta hai
(ف54)یعنی قرآن و ایمان سے ۔(ف55)اور بلا و عذاب نازِل ہونے کے وقت اس سے علیٰحدگی کرتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ابوداؤد و ترمذی میں ایک حدیث مروی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے تو دیکھنا چاہئیے کس کو دوست بناتا ہے اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہم نشینی نہ کرو مگر ایمان دار کے ساتھ اور کھانا نہ کھلاؤ مگر پرہیزگار کو ۔مسئلہ : بے دین اور بدمذہب کی دوستی اور اس کے ساتھ صحبت و اختلاط اور اُلفت و احترام ممنوع ہے ۔
اور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل ٹھہرایا (ف۵٦)
And the Noble Messenger submitted, “O my Lord – indeed my people took this Qur’an as worthy of being abandoned.”
और रसूल ने अरज़ की कि ऐ मेरे रब! मेरी क़ौम ने इस क़ुरआन को छोड़ने के क़ाबिल ठहराया
Aur rasool ne arz kiya ke ae mere Rab! Meri qoum ne is Quran ko chhodne ke qabil thehraya
(ف56)کسی نے اس کو سحر کہا کسی نے شعر اور وہ لوگ ایمان لانے سے محروم رہے اس پر اللہ تعالٰی نے حضور کو تسلی دی اور آپ سے مدد کا وعدہ فرمایا جیسا کہ آگے ارشاد ہوتا ہے ۔
اور کافر بولے قرآن ان پر ایک ساتھ کیوں نہ اتار دیا (ف۵۸) ہم نے یونہی بتدریج سے اتارا ہے کہ اس سے تمہارا دل مضبوط کریں (ف۵۹) اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا (ف٦۰)
And the disbelievers say, “Why was the Qur’an not sent down to him all at once?” This is how We sent it in stages, in order to strengthen your heart with it and We read it slowly, in stages.
और काफ़िर बोले क़ुरआन उन पर एक साथ क्यों न उतार दिया हमने यूँही बदरदरीज़ से उतारा है कि इससे तुम्हारा दिल मज़बूत करें और हमने इसे ठहर ठहर कर पढ़ा
Aur kafir bole Quran un par ek sath kyu na utar diya, humne yunhi batadreej se utara hai ke is se tumhara dil mazboot karein aur humne ise thehar thehar kar padha
(ف58)جیسے کہ توریت و انجیل و زبور میں سے ہر ایک کتاب ایک ساتھ اتری تھی ۔ کُفّار کا یہ اعتراض بالکل فضول اور مہمل ہے کیونکہ قرآنِ کریم کا معجِزہ و محتج بہٖ ہونا ہر حال میں یکساں ہے چاہے یکبارگی نازِل ہو یا بتدریج بلکہ بتدریج نازِل فرمانے میں اس کے اعجاز کا اور بھی کامل اظہار ہے کہ جب ایک آیت نازِل ہوئی اور تحدّی کی گئی اور خَلق کا اس کے مثل بنانے سے عاجز ہونا ظاہر ہوا پھر دوسری اتری اسی طرح اس کا اعجازظاہر ہوا اس طرح برابر آیت آیت ہو کر قرآنِ پاک نازِل ہوتا رہا اور ہر ہر دم اس کی بے مثالی اور خَلق کی عاجزی ظاہر ہوتی رہی غرض کُفّار کا اعتراض مَحض لغو و بے معنٰی ہے ، آیت میں اللہ تعالٰی بتدریج نازِل فرمانے کی حکمت ظاہر فرماتا ہے ۔(ف59)اور پیام کا سلسلہ جاری رہنے سے آپ کے قلبِ مبارک کو تسکین ہوتی رہے اور کُفّار کو ہر ہر موقع پر جواب ملتے رہیں علاوہ بریں یہ بھی فائدہ ہے کہ اس کا حفظ سہل اور آسان ہو ۔(ف60)بہ زبانِ جبریل تھوڑا تھوڑا بیس یا تئیس برس کی مدّت میں یا یہ معنٰی ہیں کہ ہم نے آیت کے بعد آیت بتدریج نازِل فرمائی اور بعض نے کہا کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں قراءت میں ترتیل کرنے یعنی ٹھہر ٹھہر کر بہ اطمینان پڑھنے اور قرآن شریف کو اچھی طرح ادا کرنے کا حکم فرمایا جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہوا وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً ۔
وہ جو جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے اپنے منہ کے بل ان کا ٹھکانا سب سے برا (ف٦۲) اور وہ سب سے گمراہ،
Those who will be dragged on their faces towards hell – theirs is the worst destination and they are the most astray.
वे जो जहन्नम की तरफ हाँके जाएँगे अपने मुँह के बल उनका ठिकाना सबसे बुरा और वे सबसे गुमराह,
Woh jo jahannam ki taraf haanke jaenge apne munh ke bal, unka thikana sabse bura aur woh sabse gumrah,
(ف62)حدیث شریف میں ہے کہ آدمی روزِ قیامت تین طریقے پر اٹھائے جائیں گے ایک گروہ سواریوں پر ، ایک گروہ پیادہ پا اور ایک جماعت منہ کے بل گھسٹتی ، عرض کیا گیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ منہ کے بل کیسے چلیں گے ؟ فرمایا جس نے پاؤں پر چلایا ہے وہی منہ کے بل چلائے گا ۔
تو ہم نے فرمایا تم دونوں جاؤ اس قوم کی طرف جس نے ہماری آیتیں جھٹلائیں (ف٦۳) پھر ہم نے انھیں تباہ کرکے ہلاک کردیا،
We therefore said, “Go, both of you, to the people who have denied Our signs”; then ruining the people, We destroyed them completely.
तो हमने फ़रमाया तुम दोनों जाओ उस क़ौम की तरफ जिसने हमारी आयतें झटकलाई फिर हमने उन्हें तबाह कर के हलाक कर दिया,
To humne farmaya tum dono jao us qoum ki taraf jinhone humari aayatein jhutlayin phir humne unhein tabah kar ke halak kar diya,
(ف63)یعنی قومِ فرعون کی طرف چنانچہ وہ دونوں حضرات ان کی طرف گئے اور انہیں خدا کا خوف دلایا اور اپنی رسالت کی تبلیغ کی لیکن ان بدبختوں نے ان حضرات کو جھٹلایا ۔
اور نوح کی قوم کو (ف٦٤) جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا (ف٦۵) ہم نے ان کو ڈبو دیا اور انھیں لوگوں کے لیے نشانی کردیا (ف٦٦) اور ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
And the people of Nooh – when they denied the Noble Messengers, We drowned them and made them a sign for mankind; and We have kept prepared a painful punishment for the unjust.
और नूह की क़ौम को जब उन्होंने रसूलों को झटकलाया हमने उनको डुबो दिया और उन्हें लोगों के लिए निशानी कर दिया और हमने ज़ालिमों के लिए दर्दनाक अज़ाब तैयार कर रखा है,
Aur Nuh ki qoum ko jab unhone rasoolon ko jhutlaya humne unko doob diya aur unhein logon ke liye nishani kar diya aur humne zalimon ke liye dardnak azaab tayyar kar rakha hai,
(ف64)بھی ہلاک کر دیا ۔(ف65)یعنی حضرت نوح اور حضرت ادریس کو اور حضرت شیث کو یا یہ بات ہے کہ ایک رسول کی تکذیب تمام رسولوں کی تکذیب ہے تو جب انہوں نے حضرت نوح کو جھٹلایا تو سب رسولوں کو جھٹلایا ۔(ف66)کہ بعد والوں کے لئے عبرت ہوں ۔
اور عاد اور ثمود (ف٦۷) اور کنوئیں والوں کو (ف٦۸) اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں (قومیں) (ف٦۹)
And the tribes of A’ad and the Thamud, and the people of the Wells, and many a generation between them.
और आद और समूद और कुँवाँ वालों को और उनके बीच में बहुत सी संगतें (क़ौमें)
Aur Aad aur Thamood aur kinweon walon ko aur unke beech mein bohot si sangtein (qoumein)
(ف67)اور عاد حضرت ہود علیہ السلام کی قوم اور ثمود حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ان دونوں قوموں کو بھی ہلاک کیا ۔(ف68)یہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم تھی جو بُت پرستی کرتے تھے اللہ تعالٰی نے ان کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دی انہوں نے سرکشی کی حضرت شعیب علیہ السلام کی تکذیب کی اور آپ کو ایذا دی ، ان لوگوں کے مکان کنوئیں کے گرد تھے اللہ تعالٰی نے انہیں ہلاک کیا اور یہ تمام قوم مع اپنے مکانوں کے اس کنوئیں کے ساتھ زمین میں دھنس گئی ۔ اس کے علاوہ اور اقوال بھی ہیں ۔(ف69)یعنی قومِ عاد و ثمود اور کنوئیں والوں کے درمیان میں بہت سی اُمّتیں ہیں جن کو انبیاء کی تکذیب کرنے کے سبب سے اللہ تعالٰی نے ہلاک کیا ۔
اور ضرور یہ (ف۷۱) ہو آئے ہیں اس بستی پر جس پر برا برساؤ برسا تھا (ف۷۲) تو کیا یہ اسے دیکھتے نہ تھے (ف۷۳) بلکہ انھیں جی اٹھنے کی امید تھی ہی نہیں (ف۷٤)
And indeed they have visited the township upon which had rained a harmful rain; so were they not seeing it? In fact, they never expected to be raised again.
और ज़रूर यह हो आए हैं उस बस्ती पर जिस पर बरा बरसाओ बरसा था तो क्या यह उसे देखते न थे बल्कि उन्हें जी उठने की उम्मीद थी ही नहीं
Aur zarur yeh ho aaye hain is basti par jise bara barsao barsa tha to kya yeh ise dekhte na the, balki unhein jee uthne ki umeed thi hi nahi
(ف71)یعنی کُفّارِ مکّہ اپنی تجارتوں میں شام کے سفر کرتے ہوئے بار بار ۔(ف72)اس بستی سے مراد سدوم ہے جو قومِ لوط کی پانچ بستیوں میں سب سے بڑی بستی تھی ان بستیوں میں ایک سب سے چھوٹی بستی کے لوگ تو اس خبیث بدکاری کے عامل نہ تھے ، جس میں باقی چار بستیوں کے لوگ مبتلا تھے اسی لئے انہوں نے نجات پائی اور وہ چار بستیاں اپنی بدعملی کے باعث آسمان سے پتّھر برسا کر ہلاک کر دی گئیں ۔(ف73)کہ عبرت پکڑ تے اور ایمان لاتے ۔(ف74)یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کے قائل نہ تھی کہ انہیں آخرت کے ثواب و عذاب کی پرواہ ہوتی ۔
اور جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا (ف۷۵) کیا یہ ہیں جن کو اللہ نے رسول بناکر بھیجا،
And when they see you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) they take you but as a mockery, “Is this the one whom Allah sent as a (Noble) Messenger?”
और जब तुम्हें देखते हैं तो तुम्हें नहीं ठहराते मगर ठठा क्या ये हैं जिनको अल्लाह ने रसूल बना कर भेजा,
Aur jab tumhein dekhte hain to tumhein nahi thehrate magar thattha, kya yeh hain jin ko Allah ne rasool bana kar bheja,
قریب تھا کہ یہ ہمیں ہمارے خداؤں سے بہکا دیں اگر ہم ان پر صبر نہ کرتے (ف۷٦) اور اب جانا چاہتے ہیں جس دن عذاب دیکھیں گے (ف۷۷) کہ کون گمراہ تھا (ف۷۸)
“Possibly he would have misled us away from our Gods had we not been firm upon them”; soon they will know, when they see the punishment, who was astray from the path.
करीब था कि ये हमें हमारे खुदाओं से बहका दें अगर हम उन पर सब्र न करते और अब जाना चाहते हैं जिस दिन अज़ाब देखेंगे कि कौन गुमराह था
Qareeb tha ke yeh humein humare khudaon se behka dein agar hum un par sabr na karte aur ab jana chahte hain jis din azaab dekhenge ke kaun gumrah tha
(ف76)اس سے معلوم ہوا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت اور آپ کے اظہارِ معجزات نے کُفّار پر اتنا اثر کیا تھا اور دینِ حق کو اس قدر واضح کر دیا تھا کہ خود کُفّار کو اقرار ہے کہ اگر وہ اپنی ہٹ پر جمے نہ رہتے تو قریب تھا کہ بُت پرستی چھوڑ دیں اور دینِ اسلام اختیار کریں یعنی دینِ اسلام کی حقانیت ان پر خوب واضح ہو چکی تھی اور شکوک و شبہات مٹا ڈالے گئے تھے لیکن وہ اپنی ہٹ اور ضد کی وجہ سے محروم رہے ۔(ف77)آخرت میں ۔(ف78)یہ اس کا جواب ہے کہ کُفّار نے یہ کہا تھا کہ قریب ہے کہ یہ ہمیں ہمارے خداؤں سے بہکا دیں ، یہاں بتایا گیا کہ بہکے ہوئے تم خود ہو اور آخرت میں یہ تم کو خود معلوم ہو جائے گا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بہکانے کی نسبت مَحض بےجا ہے ۔
کیا تم نے اسے دیکھا جس نے اپنی جی کی خواہش کو اپنا خدا بنالیا (ف۷۹) تو کیا تم اس کی نگہبانی کا ذمہ لو گے (ف۸۰)
Did you see the one who chose his own desires as his God? So will you accept the responsibility of guarding him?
क्या तुम ने इसे देखा जिसने अपनी जी की ख्वाहिश को अपना ख़ुदा बना लिया तो क्या तुम उसकी निगरबानी का ज़िम्मा लोगे
Kya tumne ise dekha jisne apni jee ki khwahish ko apna Khuda bana liya, to kya tum iski nigrbani ka zimma loge
(ف79)اور اپنی خواہشِ نفس کو پُوجنے لگا اسی کا مطیع ہو گیا وہ ہدایت کس طرح قبول کرے گا ۔ مروی ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ ایک پتّھر کو پُوجتے تھے اور جب کہیں انہیں کوئی دوسرا پتھر اس سے اچھا نظر آتا تو پہلے کو پھینک دیتے اور دوسرے کو پوجنے لگتے ۔(ف80)کہ خواہش پرستی سے روک دو ۔
یا یہ سمجھتے ہو کہ ان میں بہت کچھ سنتے یا سمجھتے ہیں (ف۸۱) وہ تو نہیں مگر جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ (ف۸۲)
Or do you think that most of them hear or understand something? They are not but like the cattle – in fact more astray from the path than them!
या यह समझते हो कि उनमें बहुत कुछ सुनते या समझते हैं वे तो नहीं मगर जैसे चोपाए बल्कि उनसे भी बदतर गुमराह
Ya yeh samajhte ho ke unmein bohot kuch sunte ya samajhte hain, woh to nahi magar jaise chupaaye, balki unse bhi badtar gumrah
(ف81)یعنی وہ اپنے شدتِ عناد سے نہ آپ کی بات سنتے ہیں نہ دلائل و براہین کو سمجھتے ہیں بہرے اور ناسمجھ بنے ہوئے ہیں ۔(ف82)کیونکہ چوپائے بھی اپنے ربّ کی تسبیح کرتے ہیں اور جو انہیں کھانے کو دے اس کے مطیع رہتے ہیں اور احسان کرنے والے کو پہچانتے ہیں اور تکلیف دینے والے سے گھبراتے ہیں ، نافع کی طلب کرتے ہیں ، مُضِر سے بچتے ہیں ، چراگاہوں کی راہیں جانتے ہیں ، یہ کُفّار ان سے بھی بدتر ہیں کہ نہ ربّ کی اطاعت کرتے ہیں نہ اس کے احسان کو پہچانتے ہیں ، نہ شیطان جیسے دشمن کی ضرر رسانی کو سمجھتے ہیں ، نہ ثواب جیسی عظیم المنفعت چیز کے طالب ہیں ، نہ عذاب جیسے سخت مُضِر مہلکہ سے بچتے ہیں ۔
اے محبوب! کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا (ف۸۳) کہ کیسا پھیلا سایہ (ف۸٤) اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرایا ہوا کردیتا (ف۸۵) پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا،
O dear Prophet, did you not see your Lord, how He spread the shade? And if He willed, He could have made it still; then We made the sun a proof upon it.
ऐ महबूब! क्या तुमने अपने रब को न देखा कि कैसा फैला साया और अगर चाहता तो उसे ठहराया हुआ कर देता फिर हमने सूरज को उस पर दलील किया,
Ae mehboob! Kya tumne apne Rab ko na dekha ke kaisa phaela saaya, aur agar chahta to ise thehra hua kar deta phir humne sooraj ko is par daleel kiya,
(ف83)کہ اس کی صنعت و قدرت کیسی عجیب ہے ۔(ف84)صبحِ صادق کے طلوع کے بعد سے آفتاب کے طلوع تک کہ اس وقت تمام زمین میں سایہ ہی سایہ ہوتا ہے نہ دھوپ ہے نہ اندھیرا ہے ۔(ف85)کہ آفتاب کے طلوع سے بھی زائیل نہ ہوتا ۔
اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ کیا اور نیند کو آرام اور دن بنایا اٹھنے کے لیے (ف۸۷)
And it is He Who made the night a veil for you, and the sleep a rest, and made the day for getting up.
और वही है जिसने रात को तुम्हारे लिए पर्दा किया और नींद को आराम और दिन बनाया उठने के लिए
Aur wahi hai jisne raat ko tumhare liye parda kiya aur neend ko aaraam aur din banaya uthne ke liye
(ف87)کہ اس میں روزی تلاش کرو اور کاموں میں مشغول ہو ۔ حضرت لقمان نے اپنے فرزند سے فرمایا جیسے سوتے ہو پھر اٹھتے ہو ایسے ہی مرو گے اور موت کے بعد پھر اٹھو گے ۔
اور بیشک ہم نے ان میں پانی کے پھیرے رکھے (ف۹۰) کہ وہ دھیان کریں (ف۹۱) تو بہت لوگوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا،
And indeed We kept cycles of water among them that they may remember; so most men did not accept, except to be ungrateful.
और निश्चय हमने उनमें पानी के फेरे रखे कि वे ध्यान करें तो बहुत लोगों ने न माना मगर नाशकरी करना,
Aur beshak humne unmein paani ke phere rakhe ke woh dhyan karein to bohot logon ne na maana magar nashukri karna,
(ف90)کہ کبھی کسی شہر میں بارش ہو کبھی کسی میں ، کبھی کہیں زیادہ ہو کبھی کہیں ، مختلف طور پر حسبِ اقتضائے حکمت ۔ ایک حدیث میں ہے کہ آسمان سے روز و شب کی تمام ساعتوں میں بارش ہوتی رہتی ہے اللہ تعالٰی اسے جس خطہ کی جانب چاہتا ہے پھیرتا ہے اور جس زمین کو چاہتا ہے سیراب کرتا ہے ۔(ف91)اور اللہ تعالٰی کی قدرت و نعمت میں غور کریں ۔
اور ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈر سنانے والا بھیجتے (ف۹۲)
If We willed, We could have sent a Herald of Warning to every village.
और हम चाहते तो हर बस्ती में एक डर सुनाने वाला भेजते
Aur hum chahte to har basti mein ek dar sunane wala bhejte
(ف92)اور آپ پر سے اِنذار کا بار کم کر دیتے لیکن ہم نے تمام بستیوں کے اِنذار کا بار آپ ہی پر رکھا تاکہ آپ تمام جہان کے رسول ہو کر کُل رسولوں کی فضیلتوں کے جامع ہوں اور نبوّت آپ پر ختم ہو کہ آپ کے بعد پھر کوئی نبی نہ ہو ۔
اور وہی ہے جس نے ملے ہوئے رواں کیے دو سمندر یہ میٹھا ہے نہایت شیریں اور یہ کھاری ہے نہایت تلخ اور ان کے بیچ میں پردہ رکھا اور روکی ہوئی آڑ (ف۹۳)
And it is He Who caused the two joint seas to flow- one is palatable, very sweet, and the other is salty, very bitter; and kept a veil between them and a preventing barrier.
और वही है जिसने मिले हुए रवाँ किए दो समुंदर यह मीठा है निहायत शीरिन और यह खारी है निहायत तल्ख और उनके बीच में पर्दा रखा और रोकी हुई आड़
Aur wahi hai jisne mile hue rawan kiye do samundar, yeh meetha hai nihayat sheereen aur yeh khara hai nihayat talkh aur unke beech mein parda rakha aur roki hui aar
(ف93)کہ نہ میٹھا کھاری ہو نہ کھاری میٹھا ، نہ کوئی کسی کے ذائقہ کو بدل سکے جیسے کہ دجلہ دریائے شور میں میلوں تک چلا جاتا ہے اور اس کے ذائقہ میں کوئی تغیر نہیں آتا عجب شانِ الٰہی ہے ۔
اور وہی ہے جس نے پانی سے (ف۹٤) بنایا آدمی پھر اس کے رشتے اور سسرال مقرر کی (ف۹۵) اور تمہارا رب قدرت والا ہے (ف۹٦)
And it is He Who created man from water, then appointed relatives and in-laws for him; and your Lord is All Able.
और वही है जिसने पानी से बनाया आदमी फिर उसके रिश्ते और ससुराल मुक़रर की और तुम्हारा रब क़ुदरत वाला है
Aur wahi hai jisne paani se banaya aadmi phir uske rishte aur sarsaal muqarrar ki aur tumhara Rab qudrat wala hai
(ف94)یعنی نطفہ سے ۔(ف95)کہ نسل چلے ۔(ف96)کہ اس نے ایک نطفہ سے دو قسم کے انسان پیدا کئے مذکر اور مؤنث پھر بھی کافِروں کا یہ حال ہے کہ اس پر ایمان نہیں لاتے ۔
تم فرماؤ میں اس (ف۱۰۱) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر جو چاہے کہ اپنے رب کی طرف راہ لے، (ف۱۰۲)
Proclaim, “I do not ask any fee from you for this, except that whoever wills may take the way to his Lord.”
तुम फ़रमाओं मैं उस पर तुम से कुछ अज़रत नहीं मांगता मगर जो चाहे कि अपने रब की तरफ राह ले,
Tum farmaao mein is par tum se kuch ujrat nahi mangta magar jo chahe apne Rab ki taraf raah le,
(ف101)تبلیغ و ارشاد ۔(ف102)اور اس کا قُرب اور اس کی رضا حاصل کرے مراد یہ ہے کہ ایمانداروں کا ایمان لانا اور ان کاطاعتِ الٰہی میں مشغول ہونا ہی میرا اجر ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالٰی مجھے اس پر جزا عطا فرمائے گا اس لئے کہ صُلَحاءِ اُمّت کے ایمان اور ان کی نیکیوں کے ثواب انہیں بھی ملتے ہیں اور ان کے انبیاء کو جن کی ہدایت سے وہ اس رتبہ پر پہنچے ۔
اور بھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گا (ف۱۰۳) اور اسے سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو (ف۱۰٤) اور وہی کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں پر خبردار (ف۱۰۵)
And trust the Living One Who will never die, and praising Him proclaim His Purity; and He is Sufficient upon the sins of His bondmen, All Aware.
और भरोसा करो उस ज़िंदा पर जो कभी न मरेगा और उसे सराहते हुए उसकी पाक़ी बोलो और वही काफ़ी है अपने बंदों के गुनाहों पर ख़बरदार
Aur bharosa karo is zinda par jo kabhi na marega aur ise sarahte hue uski paaki bolo aur wahi kaafi hai apne bandon ke gunaahon par khabardar
(ف103)اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے کیونکہ مرنے والے پر بھروسہ کرنا عاقل کی شان نہیں ۔(ف104)اس کی تسبیح و تمحید کرو اس کی طاعت اور شکر بجا لاؤ ۔(ف105)نہ اس سے کسی کا گناہ چھپے نہ کوئی اس کی گرفت سے اپنے کو بچا سکے ۔
جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے (ف۱۰٦) پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے (ف۱۰۷) وہ بڑی مہر والا تو کسی جاننے والے سے اس کی تعریف پوچھ (ف۱۰۸)
The One Who created the heavens and the earth and all that is between them in six days, then befitting His Majesty, established Himself upon the Throne (of control); the Most Gracious – therefore ask the one who knows, concerning Him!
जिसने आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके बीच में है छे दिन में बनाए फिर अर्श पर इस्तवाँ फ़रमाया जैसा कि उसकी शान के लायक है वह बड़ी मेहर वाला तो किसी जानने वाले से उसकी तारीफ़ पूछ
Jisne asman aur zameen aur jo kuch unke darmiyan hai chay din mein banaye phir Arsh par istiwa farmaya jaisa ke iski shaan ke laayak hai, woh badi mehr wala, to kisi jaan-ne wale se iski tareef pooch
(ف106)یعنی اتنی مقدار میں کیونکہ لیل و نہار اور آفتاب تو تھے ہی نہیں اور اتنی مقدار میں پیدا کرنا اپنی مخلوق کو آہستگی اور اطمینان کی تعلیم کے لئے ہے ورنہ وہ ایک لمحہ میں سب کچھ پیدا کر دینے پر قادر ہے ۔(ف107)سلف کا مذہب یہ ہے کہ استواء اور اس کے امثال جو وارد ہوئے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی کیفیت کے درپے نہیں ہوتے اس کو اللہ جانے ۔ بعض مفسِّرین استواء کو بلندی اور برتری کے معنٰی میں لیتے ہیں اور بعض استیلا کے معنٰی میں لیکن قولِ اول ہی اسلم و اقوٰی ہے ۔(ف108)اس میں انسان کو خِطاب ہے کہ حضرت رحمٰن کے صفات مردِ عارف سے دریافت کرے ۔
اور جب ان سے کہا جائے (ف۱۰۹) رحمن کو سجدہ کرو کہتے ہیں رحمن کیا ہے، کیا ہم سجدہ کرلیں جسے تم کہو (ف۱۱۰) اور اس حکم نے انھیں اور بدکنا بڑھایا (ف۱۱۱) السجدة ۔۷
And when it is said to them, “Prostrate to the Most Gracious” – they say, “And what is the Most Gracious? Shall we prostrate to whatever you command us?” And this command only increases the hatred in them. (Command of Prostration # 7)
और जब उनसे कहा जाए रहमान को सजदा करो कहते हैं रहमान क्या है, क्या हम सजदा कर लें जिसे तुम कहो और इस हुक़्म ने उन्हें और बदक़ना बढ़ाया अल-सजदा 7
Aur jab unse kaha jaaye Rahman ko sajda karo, kehte hain Rahman kya hai, kya hum sajda kar lein jise tum kaho aur is hukum ne unhein aur badkna badhaya, as-sajdah 7
(ف109)یعنی جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکین سے فرمائیں کہ ۔(ف110)اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ رحمٰن کو جانتے نہیں اور یہ باطل ہے جو انہوں نے براہِ عناد کہا کیونکہ لغتِ عرب کا جاننے والا خوب جانتا ہے کہ رحمٰن کے معنٰی نہایت رحمت والا ہیں اور یہ اللہ تعالٰی ہی کی صفت ہے ۔(ف111)یعنی سجدہ کا حکم ان کے لئے اور زیادہ ایمان سے دوری کا باعث ہوا ۔
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے (ف۱۱۲) اور ان میں چراغ رکھا (ف۱۱۳) اور چمکتا چاند،
Most Auspicious is He Who created lofty towers in the sky and placed a lamp in it, and the luminous moon.
बड़ी बरकत वाला है वह जिसने आसमान में बरज बनाए और उनमें चराग़ रखा और चमकता चाँद,
Badi barkat wala hai woh jisne asman mein burj banaye aur unmein chirag rakha aur chamakta chaand,
(ف112)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ بروج سے کواکبِ سبعہ سیّارہ کے منازل مراد ہیں جن کی تعداد بارہ۱۲ ہے (۱) حمل (۲) ثور (۳) جوزہ (۴) سرطان (۵) اسد (۶) سنبلہ (۷) میزان (۸) عقرب (۹) قوس (۱۰) جدی (۱۱) دلو (۱۲) حوت ۔(ف113)چراغ سے یہاں آفتاب مراد ہے ۔
اور وہی ہے جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی (ف۱۱٤) اس کے لیے جو دھیان کرنا چاہے یا شکر کا ارادہ کرے،
And it is He Who created the alternation of the night and day for one who wishes to remember or intends to give thanks.
और वही है जिसने रात और दिन की बदली रखी उसके लिए जो ध्यान करना चाहे या शकर का इरादा करे,
Aur wahi hai jisne raat aur din ki badli rakhi us ke liye jo dhyan karna chahe ya shukr ka iraada kare,
(ف114)کہ ان میں ایک کے بعد دوسرا آتا ہے اور اس کا قائم مقام ہوتا ہے کہ جس کا عمل رات یا دن میں سے کسی ایک میں قضا ہو جائے تو دوسرے میں ادا کرے ایسا ہی فرمایا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اور رات اور دن کا ایک دوسرے کے بعد آنا اور قائم مقام ہونا اللہ تعالٰی کی قدرت و حکمت کی دلیل ہے ۔
اور رحمن کے وہ بندے کہ زمین پر آہستہ چلتے ہیں (ف۱۱۵) اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں (ف۱۱٦) تو کہتے ہیں بس سلام (ف۱۱۷)
And the bondmen of the Most Gracious who walk upon the earth humbly, and when the ignorant address them they answer, “Peace”. (Good –bye)
और रहमान के वह बन्दे कि ज़मीन पर आहिस्ता चलते हैं और जब जाहिल उनसे बात करते हैं तो कहते हैं बस सलाम
Aur Rahman ke woh bande ke zameen par ahista chalte hain aur jab jaahil un se baat karte hain to kehte hain bas salaam
(ف115)اطمینان و وقار کے ساتھ متواضعانہ شان سے نہ کہ متکبِّرانہ طریقہ پر ، جُوتے کھٹکھٹاتے ، پاؤں زور سے مارتے ، اتراتے کہ یہ متکبِّرین کی شان ہے اور شرع نے اس کو منع فرمایا ۔(ف116)اور کوئی ناگوار کلمہ یا بےہودہ یا خلافِ ادب و تہذیب بات کہتے ہیں ۔(ف117)یہ سلامِ متارکت ہے یعنی جاہلوں کے ساتھ مجادلہ کرنے سے اِعراض کرتے ہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ ایسی بات کہتے ہیں جو درست ہو اور اس میں ایذا اور گناہ سے سالم رہیں ۔ حسن بصری نے فرمایا کہ یہ تو ان بندوں کے دن کا حال ہے اور ان کی رات کا بیان آگے آتا ہے ، مراد یہ ہے کہ ان کی مجلسی زندگی اور خَلق کے ساتھ معاملہ ایسا پاکیزہ ہے اور ان کی خلوت کی زندگانی اور حق کے ساتھ رابطہ یہ ہے جو آگے بیان فرمایا جاتا ہے ۔
اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام میں (ف۱۱۸)
And who spend the night prostrating and standing, for their Lord.
और वह जो रात काटते हैं अपने रब के लिए सजदे और क़ियाम में
Aur woh jo raat kaat te hain apne Rab ke liye sajde aur qiyam mein
(ف118)یعنی نماز اور عبادت میں شب بیداری کرتے ہیں اور رات اپنے ربّ کی عبادت میں گزارتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالٰی اپنے کرم سے تھوڑی عبادت والوں کو بھی شب بیداری کا ثواب عطا فرماتا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جس کسی نے بعدِ عشاء دو رکعت یا زیادہ نفل پڑھے وہ شب بیداری کرنے والوں میں داخل ہے ۔ مسلم شریف میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے جس نے عشا ء کی نماز بجماعت ادا کی اس نے نصف شب کے قیام کا ثواب پایا اور جس نے فجر بھی باجماعت ادا کی وہ تمام شب کے عبادت کرنے والے کی مثل ہے ۔
اور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہم سے پھیر دے جہنم کا عذاب، بیشک اس کا عذاب گلے کا غل (پھندا) ہے (ف۱۱۹)
And who submit, “Our Lord – avert the punishment of hell from us; indeed its punishment is a permanent neck-shackle.”
और वह जो अरज़ करते हैं, ऐ हमारे रब! हम से फेर दे जहन्नम का अज़ाब, निश्चय उसका अज़ाब गले का गुल (फँदा) है
Aur woh jo arz karte hain, ae humare Rab! Hum se pher de Jahannam ka azaab, beshak iska azaab galle ka ghal (phanda) hai
(ف119)یعنی لازم جُدا نہ ہونے والا ۔ اس آیت میں ان بندوں کی شب بیداری اور عبادت کا ذکر فرمانے کے بعد ان کی اس دعا کا بیان کیا اس سے یہ اظہار مقصود ہے کہ وہ باوجود کثرتِ عبادت کے اللہ تعالٰی کا خوف رکھتے ہیں اور اس کے حضور تضرُّع کرتے ہیں ۔
اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں (ف۱۲۰) اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں (ف۱۲۱)
And those who, when spending, neither exceed the limits nor act miserly, and stay in moderation between the two.
और वह कि जब खर्च करते हैं न हद से बढ़ें और न तंगी करें और इन दोनों के बीच इत्तेदाल पर रहें
Aur woh ke jab kharch karte hain na had se badhen aur na tangi karein aur in dono ke beech itidaal par rahen
(ف120)اسراف معصیت میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں ۔ ایک بزرگ نے کہا کہ اسراف میں بھلائی نہیں ، دوسرے بزرگ نے کہا نیکی میں اسراف ہی نہیں اور تنگی کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کے مقرر کئے ہوئے حقوق کے ادا کرنے میں کمی کرے یہی حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی حق کو منع کیا اس نے اِقتار کیا یعنی تنگی کی اور جس نے ناحق میں خرچ کیا اس نے اسراف کیا یہاں ان بندوں کے خرچ کرنے کا حال ذکر فرمایا جاتا ہے کہ وہ اسراف و اِقتار کے دونوں مذموم طریقوں سے بچتے ہیں ۔(ف121)عبدالملک بن مروان نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اپنی بیٹی بیاہتے وقت خرچ کا حال دریافت کیا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ نیکی دو بدیوں کے درمیان ہے اس سے مراد یہ تھی کہ خرچ میں اعتدال نیکی ہے اور وہ اسراف و اقتار کے درمیان ہے جو دونوں بدیاں ہیں اس سے عبدالملک نے پہچان لیا کہ وہ اس آیت کے مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ مفسِّرین کا قول ہے کہ اس آیت میں جن حضرات کا ذکر ہے وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحابِ کبار ہیں جو نہ لذت و تنعُّم کے لئے کھاتے ، نہ خوبصورتی اور زینت کے لئے پہنتے ، بھوک روکنا ، ستر چھپانا ، سردی گرمی کی تکلیف سے بچنا اتنا ان کا مقصد تھا ۔
اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے (ف۱۲۲) اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی (ف۱۲۳) ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے (ف۱۲٤) اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا ،
And those who do not worship any other deity along with Allah, and do not unjustly kill any living thing which Allah has forbidden, nor commit adultery; and whoever does this will receive punishment.
और वह जो अल्लाह के साथ किसी दूसरे मअबूद को नहीं पूजते और उस जान को जिसकी अल्लाह ने हरमत रखी नाजहक नहीं मारते और बदकारी नहीं करते और जो यह काम करे वह सज़ा पाएगा,
Aur woh jo Allah ke sath kisi doosre mabood ko nahi poojte aur is jaan ko jiski Allah ne hirmat rakhi naahq nahi maarte aur badkaari nahi karte aur jo yeh kaam kare woh saza payega,
(ف122)شرک سے بری اور بیزار ہیں ۔(ف123)اور اس کا خون مباح نہ کیا جیسے کہ مؤمن و معاہد اس کو ۔(ف124)صالحین سے ان کبائر کی نفی فرمانے میں کُفّار پر تعریض ہے جو ان بدیوں میں گرفتار تھے ۔
مگر جو توبہ کرے (ف۱۲٦) اور ایمان لائے (ف۱۲۷) اور اچھا کام کرے (ف۱۲۷) اور اچھا کام کرے (ف۱۲۸) تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا (ف۱۲۹) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Except one who repents and accepts faith and does good deeds – so Allah will turn their evil deeds into virtues; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
मगर जो तौबा करे और ईमान लाए और अच्छा काम करे और अच्छा काम करे तो ऐसों की बराइयों को अल्लाह भलाईयों से बदल देगा और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Magar jo taubah kare aur iman laye aur acha kaam kare to eisoon ki buraiyon ko Allah bhalaiyon se badal dega aur Allah bakshne wala meherban hai,
(ف126)شرک و کبائر سے ۔(ف127)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ۔(ف128)یعنی بعدِ توبہ نیکی اختیار کرے ۔(ف129)یعنی بدی کرنے کے بعد نیکی کی توفیق دے کر یا یہ معنٰی کہ بدیوں کو توبہ سے مٹا دے گا اور ان کی جگہ ایمان و طاعت وغیرہ نیکیاں ثبت فرمائے گا ۔ (مدارک) مسلم کی حدیث میں ہے کہ روزِ قیامت ایک شخص حاضر کیا جائے گا ملائکہ بحکمِ الٰہی اس کے صغیرہ گناہ ایک ایک کر کے اس کو یاد دلاتے جائیں گے وہ اقرار کرتا جائے گا اور اپنے بڑے گناہوں کے پیش ہونے سے ڈرتا ہوگا اس کے بعد کہا جائے گا کہ ہر ایک بدی کے عوض تجھ کو نیکی دی گئی ، یہ بیان فرماتے ہوئے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالٰی کی بندہ نوازی اور اس کی شانِ کرم پر خوشی ہوئی اور چہرۂ اقدس پر سرور سے تبسّم کے آثار نمایاں ہوئے ۔
اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے (ف۱۳۰) اور جب بیہودہ پر گذرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں، (ف۱۳۱)
And those who do not give false testimony, and when they pass near some indecency, they pass by it saving their honour.
और जो झूठी गवाही नहीं देते और जब बेहूदा पर गुजरते हैं अपनी इज़्ज़त संभाले गुजर जाते हैं,
Aur jo jhooti gawahi nahi dete aur jab behooda par guzarte hain apni izzat sambhale guzarte hain,
(ف130)اور جھوٹوں کی مجلس سے علیٰحدہ رہتے ہیں اور ان کے ساتھ مخالطت نہیں کرتے ۔(ف131)اور اپنے کو لہو و باطل سے ملوث نہیں ہونے دیتے ایسی مجالس سے اعراض کرتے ہیں ۔
اور وہ کہ جب کہ انھیں ان کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو ان پر (ف۱۳۲) بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے (ف۱۳۳)
And those who, when they are reminded of the signs of their Lord, do not fall deaf and blind upon them.
और वह कि जब उन्हें उनके रब की आयतें याद दिलाई जाएँ तो उन पर बहरे अंधे होकर नहीं गिरते
Aur woh ke jab unhein unke Rab ki aayatein yaad dilayi jaayein to un par bahre andhe ho kar nahi girte
(ف132)بہ طریقِ تغافُل ۔(ف133)کہ نہ سوچیں نہ سمجھیں بلکہ بگوشِ ہوش سنتے ہیں اور بچشمِ بصیرت دیکھتے ہیں اور اس نصیحت سے پند پذیر ہوتے ہیں نفع اٹھاتے ہیں اور ان آیتوں پر فرمانبردارانہ گرتے ہیں ۔
اور وہ جو عرض کرتے ہیں، اے ہمارے رب! ہمیں دے ہماری بیبیوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک (ف۱۳٤) اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا (ف۱۳۵)
And who submit, “Our Lord, soothe our eyes with our wives and our children, and make us leaders of the pious.”
और वह जो अरज़ करते हैं, ऐ हमारे रब! हमें दे हमारी बीबियों और औलाद से आँखों की ठंडक और हमें परहेज़गारों का पेशवा बना
Aur woh jo arz karte hain, ae humare Rab! Humein de humari biwiyon aur aulad se aankhon ki thandak aur humein parhezgaaron ka peshwa bana
(ف134)یعنی فرحت و سرور ۔ مراد یہ ہے کہ ہمیں بی بیاں اور اولاد نیک صالح متقی عطا فرما کہ ان کے حُسنِ عمل اور ان کی اطاعتِ خدا و رسول دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش ہوں ۔(ف135)یعنی ہمیں ایسا پرہیزگار اور ایسا عابد و خدا پرست بنا کہ ہم پرہیزگاروں کی پیشوائی کے قابل ہوں اور وہ دینی امور میں ہماری اقتدا کریں ۔مسئلہ : بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ اس میں دلیل ہے کہ آدمی کو دینی پیشوائی اور سرداری کی رغبت و طلب چاہیئے ان آیات میں اللہ تعالٰی نے اپنے صالحین بندوں کے اوصاف ذکر فرمائے اس کے بعد ان کی جزا ذکر فرمائی جاتی ہے ۔
تم فرماؤ (ف۱۳۷) تمہاری کچھ قدر نہیں میرے رب کے یہاں اگر تم اسے نہ پوجو تو تم نے تو جھٹلایا (ف۱۳۸) تو اب ہوگا وہ عذاب کہ لپٹ رہے گا (ف۱۳۹)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) “You have no value before My Lord if you do not worship Him; so you have denied – therefore the punishment that remains, will occur.”
तुम फ़रमाओं तुम्हारी कुछ क़दर नहीं मेरे रब के यहाँ अगर तुम इसे न पूजो तो तुमने तो झटकलाया तो अब होगा वह अज़ाब कि लिपट रहेगा
Tum farmaao tumhari kuch qadr nahi mere Rab ke yahan agar tum ise na poojho to tumne to jhutlaya to ab ho ga woh azaab ke lipt rahega",
(ف137)اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہلِ مکہ سے کہ ۔(ف138)میرے رسول اور میری کتاب کو ۔(ف139)یعنی عذابِ دائم و ہلاکِ لازم ۔
طٰسٓمّٓ ﴿1﴾
طٰسم
Ta-Seen-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever he reveals, know their precise meanings.)
तास्म
Ta-Sa-Meem
تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ﴿2﴾
یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی (ف۲)
These are verses of the clear Book.
यह आयतें हैं रोशन किताब की
Ye aayatein hain roshan kitaab ki
(ف2)یعنی قرآنِ پاک کی جس کا اعجاز ظاہر ہے اور جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والا ہے اس کے بعد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہِ رحمت و کرم خطاب ہوتا ہے ۔
کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے (ف۳)
Possibly you may risk your life (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) by grieving, because they did not believe.
कहीं तुम अपनी जान पर खेल जाओगे उनके ग़म में कि वो ईमान नहीं लाए
Kahin tum apni jaan par khel jao ge unke gham mein ke woh imaan nahi laaye
(ف3)جب اہلِ مکہ ایمان نہ لائے اور انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی تو حضور پر ان کی محرومی بہت شاق ہوئی اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیتِ کریمہ نازِل فرمائی کہ آپ اس قدر غم نہ کریں ۔
کیا انہوں نے زمین کو نہ دیکھا ہم نے اس میں کتنے عزت والے جوڑے اگائے (ف۷)
Have they not seen the earth, that how many honourable pairs We have created in it?
क्या उन्होंने ज़मीन को न देखा हम ने इसमें कितने इज़्ज़त वाले जोड़े उगाए
Kya unhone zameen ko na dekha humne is mein kitne izzat wale joday ugaaye
(ف7)یعنی قِسم قِسم کے بہترین اور نافع نباتات پیدا کئے اور شعبی نے کہا کہ آدمی زمین کی پیداوار ہیں جو جنّتی ہے وہ عزّت والا اور کریم اور جو جہنّمی ہے وہ بدبخت لئیم ہے ۔
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے موسیٰ کو ندا فرمائی کہ ظالم لوگوں کے پاس جا،
And (remember) when your Lord said to Moosa, “Go to the unjust people.”
और याद करो जब तुम्हारे रब ने मूसा को नदा फरमाई कि ज़ालिम लोगों के पास जा,
Aur yaad karo jab tumhare Rab ne Musa ko nada farmaai ke zalim logon ke paas ja,
قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ ﴿11﴾
جو فرعون کی قوم ہے (ف۱۰) کیا وہ نہ ڈریں گے (ف۱۱)
“The nation of Firaun; will they not fear?”
जो फिरौन की क़ौम है क्या वो न डरेंगे
Jo Fir’aun ki qaum hai kya woh na darenge
(ف10)جنہوں نے کُفر و معاصی سے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اور انہیں طرح طرح کی ایذائیں پہنچا کر ان پر ظلم کیا اس قوم کا نام قبط ہے حضرت موسٰی علیہ السلام کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا کہ انہیں ان کی بدکرداری پر زجر فرمائیں ۔(ف11)اللہ سے اور اپنی جانوں کو اللہ تعالٰی پر ایمان لا کر اور اس کی فرمانبرداری کر کے اس کے عذاب سے نہ بچائیں گے اس پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں ۔
اور میرا سینہ تنگی کرتا ہے (ف۱۲) اور میری زبان نہیں چلتی (ف۱۳) تو توُ ہارون کو بھی رسول کر، (ف۱٤)
“I feel hesitant, and my tongue does not speak fast, therefore make Haroon also a Noble Messenger.”
और मेरा सीना तंगी करता है और मेरी ज़ुबान नहीं चलती तो तू हाफ़रून को भी रसूल कर,
Aur mera seenah tangi karta hai aur meri zubaan nahi chalti to tu Haroon ko bhi rasool kar,
(ف12)ان کے جھٹلانے سے ۔(ف13)یعنی گفتگو کرنے میں کسی قدر تکلّف ہوتا ہے اس عقدہ کی وجہ سے جو زبان میں بَایّامِ صِغر سنی مُنہ میں آ گ کا انگارہ رکھ لینے سے ہو گیا ہے ۔(ف14)تاکہ وہ تبلیغِ رسالت میں میری مدد کریں ۔ جس وقت حضرت موسٰی علیہ السلام کو شام میں نُبوّت عطا کی گئی اس وقت حضرت ہارون علیہ السلام مِصر میں تھے ۔
فرما یا یوں نہیں (ف ۱۷) تم دونوں میری آئتیں لے کر جاؤ ہم تمھارے ساتھ سنتے ہیں (ف۱۸)
He said, “Not like this (any more); both of you go with Our signs, We are with you, All Hearing.”
फ़रमा या यूँ नहीं तुम दोनों मेरी आयतें लेकर जाओ हम तुम्हारे साथ सुनते हैं
Farma ya yun nahi tum dono meri aayatein le kar jao hum tumhare saath sunte hain
(ف17)تمہیں قتل نہیں کر سکتے اور اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی درخواست منظور فرما کر حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبی کر دیا اور دونوں کو حکم دیا ۔(ف18)جو تم کہو اور جو تمہیں جواب دیا جائے ۔
‘That you let the Descendants of Israel go with us.’”
कि तू हमारे साथ बनी इस्राएल को छोड़ दे
Ke tu humare saath Bani Israel ko chhod de
(ف19)تاکہ ہم انہیں سرزمینِ شام میں لے جائیں ۔ فرعون نے چار سو برس تک بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھا تھا اور اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ تیس ہزار ۶۳۰۰۰۰ تھی اللہ تعالٰی کا یہ حکم پا کر حضرت موسٰی علیہ السلام مِصر کی طرف روانہ ہوئے ، آپ پشمینہ کا جبہ پہنے ہوئے تھے ، دستِ مبارک میں عصا تھا ، عصا کے سرے میں زنبیل لٹکی تھی جس میں سفرکا توشہ تھا ، اس شان سے آپ مِصر میں پہنچ کر اپنے مکان میں داخل ہوئے ، حضرت ہارون علیہ السلام وہیں تھے آپ نے انہیں خبر دی کہ اللہ تعالٰی نے مجھے رسول بنا کر فرعون کی طرف بھیجا ہے اور آپ کو بھی رسول بنایا ہے کہ فرعون کو خدا کی طرف دعوت دو یہ سن کر آپ کی والدہ صاحبہ گھبرائیں اور حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہنے لگیں کہ فرعون تمہیں قتل کرنے کے لئے تمہاری تلاش میں ہے جب تم اس کے پاس جاؤ گے تو تمہیں قتل کرے گا لیکن حضرت موسٰی علیہ السلام ان کے یہ فرمانے سے نہ رُکے اور حضرت ہارون کو ساتھ لے کر شب کے وقت فرعون کے دروازے پر پہنچے ، دروازہ کھٹکھٹایا پوچھا آپ کون ہیں ؟ حضرت نے فرمایا میں ہوں موسٰی رب العالمین کا رسول فرعون کو خبر دی گئی اور صبح کے وقت آپ بُلائے گئے آپ نے پہنچ کر اللہ تعالٰی کی رسالت ادا کی اور فرعون کے پاس جو حکم پہنچانے پر آپ مامور کئے گئے تھے وہ پہنچایا فرعون نے آپ کو پہچانا ۔
بو لا کیا ہم نے تمھیں اپنے یہاں بچپن میں نہ پالا اور تم نے ہمارے یہاں اپنی عمر کے کئی برس گزارے، (ف۲۰)
Said Firaun, “Did we do not raise you amongst us, as a child? And you spent many years of your life among us!”
बोला क्या हमने तुम्हें अपने यहाँ बचपन में न पाला और तुम ने हमारे यहाँ अपनी उम्र के कई बरस बिताए,
Bola kya humne tumhein apne yahan bachpan mein na paala aur tumne humare yahan apni umar ke kai baras guzare,
(ف20)مفسِّرین نے کہا تیس برس اس زمانہ میں حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام فرعون کے لباس پہنتے تھے اور اس کی سواریوں میں سوار ہوتے تھے اور اس کے فرزند مشہور تھے ۔
اور یہ کوئی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتاتا ہے کہ تو نے غَلام بناکر رکھے بنی اسرائیل (ف۲٦)
“And is this some great reward for which you express favour upon me – that you have enslaved the Descendants of Israel?”
और यह कोई नेमत है जिसका तू मुझ पर एहसान जताता है कि तू ने गुलाम बनाकर रखे बनी इस्राएल
Aur ye koi naimat hai jiska tu mujhe ahsaan jatata hai ke tu ne ghulam bana kar rakhe Bani Israel
(ف26)یعنی اس میں تیرا کیا احسان ہے کہ تم نے میری تربیت کی اور بچپن میں مجھے رکھا ، کھلایا پہنایا کیونکہ میرے تجھ تک پہنچنے کا سبب تو یہی ہوا کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنایا ، ان کی اولادوں کو قتل کیا ، یہ تیرا ظلمِ عظیم اس کا باعث ہوا کہ میرے والدین مجھے پرورش نہ کر سکے اور میرے دریا میں ڈالنے پر مجبور ہوئے تو ایسا نہ کرتا تو میں اپنے والدین کے پاس رہتا اس لئے یہ بات کیا اس قابل ہے کہ اس کا احسان جتایا جائے ، فرعون موسٰی علیہ السلام کی اس تقریر سے لاجواب ہوا اور اس نے اسلوبِ کلام بدلا اور یہ گفتگو چھوڑ کر دوسری بات شروع کی ۔
قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَمَا رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ ﴿23﴾
فرعون بولا اور سارے جہان کا رب کیا ہے (ف۲۷)
Said Firaun, “And what is the Lord Of The Creation?
موسیٰ نے فرمایا رب آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، اگر تمہیں یقین ہو (ف۲۸)
Said Moosa, “Lord of the heavens and the earth and all that is between them; if you believe.”
मूसा ने फ़रमाया रब आसमानों और ज़मीन का और जो कुछ उनके बीच में है, अगर तुम्हें यकीन हो
Musa ne farmaaya Rab aasmano aur zameen ka aur jo kuch unke darmiyan hai, agar tumhein yaqeen ho
(ف28)یعنی اگر تم اشیاء کو دلیل سے جاننے کی صلاحیت رکھتے ہو تو ان چیزوں کی پیدائش اس کے وجود کی کافی دلیل ہے ۔ ایقان اس علم کو کہتے ہیں جو استدلال سے حاصل ہو اسی لئے اللہ تعالٰی کی شان میں موقِن نہیں کہا جاتا ۔
قَالَ لِمَنۡ حَوۡلَهٗۤ اَلَا تَسۡتَمِعُوۡنَ ﴿25﴾
اپنے آس پاس والوں سے بولا کیا تم غور سے سنتے نہیں (ف۲۹)
Said Firaun to those around him, “Are you not listening with attention?”
अपने आस पास वालों से बोला क्या तुम गौर से सुनते नहीं
Apne aas paas walon se bola kya tum ghor se sunte nahi
(ف29)اس وقت اس کے گرد اس کی قوم کے اشراف میں سے پانچ سو شخص زیوروں سے آراستہ زریں کرسیوں پر بیٹھے تھے ان سے فرعون کا یہ کہنا کیا تم غور سے نہیں سنتے بایں معنٰی تھا کہ وہ آسمان اور زمین کو قدیم سمجھتے تھے اور ان کے حدوث کے منکِر تھے مطلب یہ تھا کہ جب یہ چیزیں قدیم ہیں تو ان کے لئے ربّ کی کیا حاجت اب حضرت موسٰی عَلٰی نَبیِّنا وعلیہ الصلٰوۃ والسّلام نے ان چیزوں سے استدلال پیش کر نا چاہا جن کا حدوث اور جن کی فنا مشاہدہ میں آ چکی ہے ۔
موسیٰ نے فرمایا رب تمہارا اور تمہارے اگلے باپ داداؤں کا (ف۳۰)
Said Moosa, “Your Lord and the Lord of your forefathers preceding you.”
मूसा ने फ़रमाया रब तुम्हारा और तुम्हारे अगले बाप दादाओं का
Musa ne farmaaya Rab tumhara aur tumhare agle baap dadaon ka
(ف30)یعنی اگر تم دوسری چیزوں سے استدلال نہیں کر سکتے تو خود تمہارے نفوس سے استدلال پیش کیا جاتا ہے ، اپنے آپ کو جانتے ہو ، پیدا ہوئے ہو ، اپنے باپ دادا کو جانتے ہو کہ وہ فنا ہو گئے تو اپنی پیدائش سے اور ان کی فنا سے پیدا کرنے اور فنا کر دینے والے کے وجود کا ثبوت ملتا ہے ۔
بولا تمہارے یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ضرور عقل نہیں رکھتے (ف۳۱)
Said Firaun, “This (Noble) Messenger of yours, who has been sent towards you, has no intelligence!”
बोला तुम्हारे ये रसूल जो तुम्हारी तरफ भेजे गए हैं जरूर अकल नहीं रखते
Bola tumhare ye rasool jo tumhari taraf bheje gaye hain zaroor aqal nahi rakhte
(ف31)فرعون نے یہ اس لئے کہا کہ وہ اپنے سوا کسی معبود کے وجود کا قائل نہ تھا اور جو اس کے معبود ہونے کا اعتقاد نہ رکھے اس کو خارج از عقل کہتا تھا اور حقیقتہً اس طرح کی گفتگو عجز کے وقت آدمی کی زبان پر آتی ہے لیکن حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرضِ ہدایت و ارشاد کو علٰی وجہِ الکمال ادا کیا اور اس کی اس تمام لایعنی گفتگو کے باوجود پھر مزید بیان کی طرف متوجہ ہوئے ۔
موسیٰ نے فرمایا رب پورب (مشرق) اور پچھ پھر ہمغرب) کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (ف۳۲) اگر تمہیں عقل ہو (ف۳۳)
He said, “The Lord of the East and the West and all that is between them; if you have sense.”
मूसा ने फ़रमाया रब पूरब (मश्रिक) और पिछम (मग़्रिब) का और जो कुछ उनके बीच है अगर तुम्हें अकल हो
Musa ne farmaaya Rab purb (mashriq) aur pichham (maghrib) ka aur jo kuch unke darmiyan hai agar tumhein aqal ho
(ف32)کیونکہ پورب سے آفتاب کا طلوع کرنا اور پچھم میں غرب ہو جانا اور سال کی فصلوں میں ایک حسابِ معیّن پر چلنا اور ہواؤں اور بارشوں وغیرہ کے نظام یہ سب اس کے وجود و قدرت پر دلالت کرتے ہیں ۔(ف33)اب فرعون متحیر ہو گیا اور آثارِ قدرتِ الٰہی کے انکار کی راہ باقی نہ رہی اور کوئی جواب اس سے بن نہ آیا ۔
بولا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا ٹھہرایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا (ف۳٤)
Said Firaun, “If you ascribe any one else as a God other than me, I will surely imprison you.”
बोला अगर तुम ने मेरे सिवा किसी और को ख़ुदा ठहराया तो मैं जरूर तुम्हें क़ैद कर दूँगा
Bola agar tumne mere siwa kisi aur ko Khuda thehraaya to main zaroor tumhein qaid kar dunga
(ف34)فرعون کی قید قتل سے بدتر تھی ، اس کا جیل خانہ تنگ و تاریک عمیق گڑھا تھا ، اس میں اکیلا ڈال دیتا تھا نہ وہاں کوئی آؤاز سنائی آتی تھی نہ کچھ نظر آتا تھا ۔
تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا جبھی وہ صریح اژدہا ہوگیا (ف۳٦)
So Moosa put down his staff and it became a visible serpent.
तो मूसा ने अपना असा डाल दिया तभी वह सरीह अजदहा हो गया
To Musa ne apna asaa daal diya tabhi woh sareeh azdaha ho gaya
(ف36)عصا اژدھا بن کر آسمان کی طرف بقدر ایک میل کے اُڑا پھر اُتر کر فرعون کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا اے مُوسٰی مجھے جو چاہیئے حکم دیجئے فرعون نے گھبرا کر کہا اس کی قسم جس نے تمہیں رسول بنایا اس کو پکڑو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس کو دستِ مبارک میں لیا تو مثلِ سابق عصا ہو گیا فرعون کہنے لگا اس کے سوا اور بھی کوئی معجِزہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور اس کو یدِ بیضا دکھایا ۔
چاہتے ہیں، کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اپنے جادو کے زور سے، تب تمہارا کیا مشورہ ہے (ف۳۹)
“He wishes to expel you out of your land by his magic; so what is your advice?”
चाहते हैं, कि तुम्हें तुम्हारे मुल्क से निकाल दें अपने जादू के ज़ोर से, तब तुम्हारा क्या मशवरा है
Chahte hain ke tumhein tumhare mulk se nikal dein apne jadoo ke zor se, tab tumhara kya mashwara hai
(ف39)کیونکہ اس زمانہ میں جادو کا بہت رواج تھا اس لئے فرعون نے خیال کیا کہ یہ بات چل جائے گی اور اس کی قوم کے لوگ اس دھوکے میں آکر حضرت موسٰی علیہ السلام سے متنفر ہو جائیں گے اور ان کی بات قبول نہ کریں گے ۔
وہ بولے انھیں ان کے بھائی کو ٹھہرائے رہو اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیجو،
They said, “Stop him and his brother, and send gatherers to the cities.”
वो बोले उन्हें उनके भाई को ठहराए रहो और शहरों में इकट्ठा करने वाले भेजो,
Woh bole unhein unke bhai ko thehraaye raho aur shehron mein jama karne wale bhejo,
يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيۡمٍ ﴿37﴾
کہ وہ تیرے پاس لے آئیں ہر بڑے جادوگر دانا کو (ف٤۰)
“To bring to you every expert great magician.”
कि वे तुम्हारे पास ले आएँ हर बड़े जादूगर दाना को
Ke woh tere paas le aayen har bade jadoo gar daana ko
(ف40)جو علمِ سحر میں بقول ان کے حضرت موسٰی علیہ السلام سے بڑھ کر ہو اور وہ لوگ اپنے جادو سے حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجزات کا مقابلہ کریں تاکہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے حُجّت باقی نہ رہے اور فرعونیوں کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ یہ کام جادو سے ہو جاتے ہیں لہٰذا نُبوّت کی دلیل نہیں ۔
شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ غالب آئیں (ف٤۳)
The people said, “Perhaps we may follow the magicians if they are victorious.”
शायद हम उन जादूगरों ही की पैروی करें अगर ये ग़ालिब आएँ
Shayad hum un jadoo garon hi ki pairvi karein agar ye ghalib aaye
(ف43)حضرت موسٰی علیہ السلام پر ۔ اس سے مقصود ان کا جادو گروں کا اِتّباع کرنا نہ تھا بلکہ غرض یہ تھی کہ اس حیلہ سے لوگوں کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے اِتّباع سے روکیں ۔
He said, “Yes, and you will then become close to me.”
बोला हाँ और उस वक्त तुम मेरे मुक़रब हो जाओगे
Bola haan aur us waqt tum mere muqarrab ho jaoge
(ف44)تمہیں درباری بنایا جائے گا ، تمہیں خاص اعزاز دیئے جائیں گے ، سب سے پہلے داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی ، سب سے بعد تک دربار میں رہو گے ۔ اس کے بعد جادو گروں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے عرض کیا کہ کیا حضرت پہلے اپنا عصا ڈالیں گے یا ہمیں اجازت ہے کہ ہم اپنا سامانِ سحر ڈالیں ۔
تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور بولے فرعون کی عزت کی قسم بیشک ہماری ہی جیت ہے، (ف٤٦)
So they threw down their ropes and their staves and exclaimed, “By the honour of Firaun, indeed victory is ours!”
तो उन्होंने अपनी रसियाँ और लाठियाँ डालीं और बोले फिरौन की इज़्ज़त की कसम बेशक हमारी ही जीत है,
To unhone apni rasiyaan aur laathiyan daali aur bole Fir’aun ki izzat ki qasam beshak hamari hi jeet hai,
(ف46)انہیں اپنے غلبہ کا اطمینان تھا کیونکہ سحر کے اعمال میں جو انتہا کے عمل تھے یہ ان کو کام میں لائے تھے اور یقینِ کامل رکھتے تھے کہ اب کوئی سحر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔
تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا جبھی وہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا (ف٤۷)
Therefore Moosa put forth his staff – so it immediately began swallowing all their fabrications.
तो मूसा ने अपना असा डाला तभी वह उनकी बनावटों को निगलने लगा
To Musa ne apna asaa daala tabhi woh unki banaawaton ko nigalne laga
(ف47)جو انہوں نے جادو کے ذریعہ سے بنائیں تھیں یعنی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں جو جادو سے اژدھے بن کر دوڑتے نظر آ رہے تھے حضرت موسٰی علیہ السلام کا عصا اژدھا بن کر ان سب کو نگل گیا پھر اس کو حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک میں لیا تو وہ مثلِ سابق عصا تھا جب جادوگروں نے یہ دیکھا تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں ہے ۔
فَاُلۡقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيۡنَۙ ﴿46﴾
اب سجدہ میں گرے ،
The magicians therefore fell down prostrate.
अब सज्दा में गिरे,
Ab sajda mein gire,
قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ﴿47﴾
جادوگر، بولے ہم ایمان لائے اس پر جو سارے جہان کا رب ہے ،
They said, “We have accepted faith in the Lord Of The Creation.”
जादूगर, बोले हम ईमान लाए उस पर जो सारे जहान का रब है,
Jadoo gar, bole hum imaan laaye is par jo saare jahan ka Rab hai,
فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا (ف٤۸) تو اب جاننا چاہتے ہو (ف٤۹) مجھے قسم ہے! بیشک میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا اور تم سب کو سولی دوں گا (ف۵۰)
Said Firaun, “You accepted faith in him before I permitted you! He is indeed your leader who taught you magic; so now you will come to know; I swear, I will certainly cut off your hands and your feet from alternate sides, and crucify all of you.”
फिरौन बोला क्या तुम उस पर ईमान लाए पहले के मैं तुम्हें इजाज़त दूँ, बेशक वह तुम्हारा बड़ा है जिसने तुम्हें जादू सिखाया तो अब जानना चाहते हो मुझे कसम है! बेशक मैं तुम्हारे हाथ और दूसरी तरफ के पाँव काटूँगा और तुम सब को सूली दूँगा
Fir’aun bola kya tum is par imaan laaye pehle is ke ke main tumhein ijaazat doon, beshak woh tumhara bada hai jisne tumhein jadoo sikhaya to ab jaanna chahte ho mujhe qasam hai! Beshak main tumhare haath aur doosri taraf ke paon kaatoonga aur tum sab ko sooli doonga
(ف48)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام تمہارے استاد ہیں اسی لئے وہ تم سے بڑھ گئے ۔(ف49)کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے ۔(ف50)اس سے مقصود یہ تھا کہ عام خَلق ڈر جائے اور جادو گروں کو دیکھ کر لوگ حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان نہ لے آئیں ۔
ہمیں طمع ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے اس پر کہ سب سے پہلے ایمان لائے (ف۵۳)
“We hope that our Lord will forgive us our mistakes, as we are the first to believe.”
हमें तमन्ना है कि हमारा रब हमारी खताayeँ बख़्श दे उस पर कि सबसे पहले ईमान लाए
Humein tamanna hai ke humara Rab humari khataein bakhsh de is par ke sabse pehle imaan laaye
(ف53)رعیّتِ فرعون میں سے یا اس مجمع کے حاضرین میں سے ۔ اس واقعہ کے بعد حضرت موسٰی علیہ السلام نے کئی سال وہاں اقامت فرمائی اور ان لوگوں کو حق کی دعوت دیتے رہے لیکن ان کی سرکشی بڑھتی گئی ۔
اور ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو (ف ۵٤) لے نکل بیشک تمھارا پیچھا ہو نا ہے ، (ف۵۵)
And We sent the divine revelation to Moosa that, “Journey along with My bondmen within the night, for you will be pursued.”
और हमने मूसा को वाही भेजी कि रातों रात मेरे बंदों को ले निकल बेशक तुम्हारा पीछा होना है,
Aur humne Musa ko wahi bheji ke raaton raat mere bandon ko le nikal beshak tumhara peecha hona hai,
(ف54)یعنی بنی اسرائیل کو مِصر سے ۔(ف55)فرعون اور اس کے لشکر پیچھا کریں گے اور تمہارے پیچھے پیچھے دریا میں داخل ہوں گے ہم تمہیں نَجات دیں گے اور انہیں غرق کریں گے ۔
(ف56)لشکروں کو جمع کرنے کے لئے جب لشکر جمع ہو گئے تو ان کی کثرت کے مقابل بنی اسرائیل کی تعداد تھوڑی معلوم ہونے لگی چنانچہ فرعون نے بنی اسرائیل کی نسبت کہا ۔
پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا (ف٦۱) موسیٰ والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آلیا (ف٦۲)
And when the two groups saw each other, those with Moosa said, “They have caught us.”
फिर जब आमना सामना हुआ दोनों समूहों का मूसा वालों ने कहा हम को उन्होंने आ लिया
Phir jab aamna saamna hua dono girohon ka Musa walon ne kaha hum ko unhone aa liya
(ف61)اور ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا ۔(ف62)اب وہ ہم پر قابو پا لیں گے نہ ہم ان کے مقابلہ کی طاقت رکھتے ہیں نہ بھاگنے کی جگہ ہے کیونکہ آگے دریا ہے ۔
اور ہم نے بچالیا موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو (ف٦۸)
And We saved Moosa and all those with him.
और हमने बचा लिया मूसा और उसके सब साथ वालों को
Aur humne bacha liya Musa aur uske sab saath walon ko
(ف68)دریا سے سلامت نکال کر ۔
ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَؕ ﴿66﴾
پھر دوسروں کو ڈبو دیا (ف٦۹)
Then drowned the others.
फिर दूसरों को डुबो दिया
Phir doosron ko doobaa diya
(ف69)یعنی فرعون اور اس کی قوم کو اس طرح کہ جب بنی اسرائیل کل کے کل دریا سے باہر ہو گئے اور تمام فرعونی دریا کے اندر آ گئے تو دریا بحکمِ الٰہی مل گیا اور مثلِ سابق ہو گیا اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب گیا ۔
بیشک اس میں ضرور نشانی ہے (ف۷۰) اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے (ف۷۱)
Indeed in this is surely a sign, and most of them were not Muslims.
बेशक इसमें जरूर निशानी है और उनमें अक्सर मुसलमान न थे
Beshak is mein zaroor nishani hai aur un mein aksar musalman na the
(ف70)اللہ تعالی کی قدرت پر اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا معجِزہ ہے ۔(ف71)یعنی اہلِ مِصر میں صرف آسیہ فرعون کی بی بی اور حِزْ قِیْل جن کو مؤمنِ آلِ فرعون کہتے ہیں وہ اپنا ایمان چھپائے رہتے تھے اور فرعون کے چچا زاد تھے اور مریم جس نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قبر کا نشان بتایا تھا جب کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے ان کے تابوت کو دریا سے نکالا ۔
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا تم کیا پوجتے ہو (ف۷۵)
When he said to his father and his people, “What do you worship?”
जब उसने अपने बाप और अपनी क़ौम से फ़रमाया तुम क्या पूजते हो
Jab usne apne baap aur apni qaum se farmaaya tum kya poojhte ho
(ف75)حضرت ابراہیم علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ لوگ بُت پرست ہیں باوجود اس کے آپ کا سوال فرمانا اس لئے تھا تاکہ انہیں دکھا دیں کہ جن چیزوں کو وہ لوگ پوجتے ہیں وہ کسی طرح اس کے مستحق نہیں ۔
اور وہ جس کی مجھے آس لگی ہے کہ میری خطائیں قیامت کے دن بخشے گا (ف۸۵)
“And the One Who, upon Whom I pin my hopes, will forgive me my mistakes on the Day of Judgement.”
और वह जिसकी मुझे आस लगी है कि मेरी ख़ताइयाँ क़यामत के दिन माफ़ करेगा
Aur woh jis ki mujhe aas lagi hai ke meri khataein Qayamat ke din bakhsh dega
(ف85)انبیاء معصوم ہیں ، گناہ ان سے صادر نہیں ہوتے ، ان کا استغفار اپنے ربّ کے حضور تواضع ہے اور اُمّت کے لئے طلبِ مغفرت کی تعلیم ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ان صفاتِ الٰہیہ کو بیان کرنا اپنی قوم پر اقامتِ حجّت ہے کہ معبود وہی ہو سکتا ہے جس کے یہ صفات ہوں ۔
اے میرے رب مجھے حکم عطا کر (ف۸٦) اور مجھے ان سے ملادے جو تیرے قرب خاص کے سزاوار ہیں (ف۸۷)
“My Lord, bestow me the command and join me with those who deserve your proximity.”
ऐ मेरे रब मुझे हुक्म अता कर और मुझे उनसे मिला दे जो तेरे करीब ख़ास के सज़ा वार हैं
Ai mere Rab! Mujhe hukm ata kar aur mujhe un se mila de jo tere qurb khaas ke sazaawaar hain
(ف86)حکم سے یا علم مراد ہے یا حکمت یا نُبوّت ۔(ف87)یعنی انبیاء علیہم السلام اور آپ کی یہ دعا مستجاب ہوئی چنانچہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے وَاِنَّہ، فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔
“And forgive my father* – he is indeed astray.” (His paternal uncle)
और मेरे बाप को माफ़ कर बेशक वह गुमराह,
Aur mere baap ko bakhsh de beshak woh gumraah,
(ف90)توبہ و ایمان عطا فرما کر اور یہ دعا آپ نے اس لئے فرمائی کہ وقتِ مفارقت آپ کے والد نے آپ سے ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا جب ظاہر ہو گیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے اس کا وعدہ جھوٹا تھا تو آپ اس سے بیزار ہو گئے جیسا کہ سور ۂ براءت میں ہے مَاکَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلاَّ عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَا اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہ، اَنَّہ، عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ ۔
وَلَا تُخۡزِنِىۡ يَوۡمَ يُبۡعَثُوۡنَۙ ﴿87﴾
اور مجھے رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے (ف۹۱)
“And do not disgrace me on the day when everyone will be raised.”
और मुझे रसवा न करना जिस दिन सब उठाए जाएँगे
Aur mujhe ruswa na karna jis din sab uthaye jaayenge
(ف91)یعنی روزِ قیامت ۔
يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ ﴿88﴾
جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے،
“The day when neither wealth will benefit nor will sons.”
مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر (ف۹۲)
“Except he who presented himself before Allah, with a sound* heart.” (Intact or unblemished.)
मगर वह जो अल्लाह के हाज़िर होकर आया सलामत दिल लेकर
Magar woh jo Allah ke huzoor haazir hua salaamat dil le kar
(ف92)جو شرک کُفر و نفاق سے پاک ہو اس کو اس کا مال بھی نفع دے گا جو راہِ خدا میں خرچ کیا ہو اور اولاد بھی جو صالح ہو جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ جب آدمی مرتا ہے اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں سوا تین کے ایک صدقۂ جاریہ دوسرا وہ مال جس سے وہ لوگ نفع اٹھائیں تیسری نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے ۔
وَاُزۡلِفَتِ الۡجَـنَّةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَۙ ﴿90﴾
اور قریب لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں کے لیے (ف۹۳)
And Paradise will be brought close for the pious.
और करीब लाई जाएगी जन्नत परहेज़गारों के लिए
Aur qareeb laayi jaayegi jannat parhezgaaron ke liye
Khuda ki qasam beshak hum khuli gumraahi mein the,
اِذۡ نُسَوِّيۡكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴿98﴾
جبکہ انھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے،
“When we considered you equal to the Lord Of The Creation.”
जबकि उन्हें रबुल आलमीन के बराबर ठहराते थे,
Jabke unhein Rab-ul-Aalameen ke barabar thehraate the,
وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿99﴾
اور ہمیں نہ بہکایا مگر مجرموں نے (ف۹۸)
“And none misled us but the guilty.”
और हमें न बहकाया मगर मुजरिमों ने
Aur humein na bahkaaya magar mujrimoun ne
(ف98)جنہوں نے بُت پرستی کی دعوت دی یا وہ پہلے لوگ جن کا ہم نے اِتّباع کیا یا ابلیس اور اس کی ذُرِّیَّت نے ۔
فَمَا لَـنَا مِنۡ شٰفِعِيۡنَۙ ﴿100﴾
تو اب ہمارا کوئی سفارشی نہیں (ف۹۹)
“So now we do not have any intercessors.” (The believers shall have intercessors, the disbelievers none).
तो अब हमारा कोई सफ़ारशी नहीं
To ab humara koi sifaarshi nahi
(ف99)جیسے کہ مؤمنین کے لئے انبیاء اور اولیاء اور ملائکہ اور مؤمنین شفاعت کرنے والے ہیں ۔
وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴿101﴾
اور نہ کوئی غم خوار دوست (ف۱۰۰)
“Nor a caring friend.”
और न कोई ग़म ख़वार दोस्त
Aur na koi gham khwaar dost
(ف100)جو کام آئے ۔ یہ بات کُفّار اس وقت کہیں گے جب دیکھیں گے کہ انبیاء اور اولیاء اور ملائکہ اور صالحین ایمان داروں کی شفاعت کر رہے ہیں اور ان کی دوستیاں کام آرہی ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جنّتی کہے گا میرے فلاں دوست کا کیا حال ہے اور وہ دوست گناہوں کی وجہ سے جہنّم میں ہو گا اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ اس کے دوست کو نکالو اور جنّت میں داخل کرو تو جو لوگ جہنّم میں باقی رہ جائیں گے وہ یہ کہیں گے کہ ہمارا کوئی سفارشی نہیں ہے اور نہ کوئی غم خوار دوست ۔ حسن رحمۃ اللہ تعالٰی نے فرمایا ایماندار دوست بڑھاؤ کیونکہ وہ روزِ قیامت شفاعت کریں گے ۔
(ف102)یعنی نوح علیہ السلام کی تکذیب تمام پیغمبروں کی تکذیب ہے کیونکہ دین تمام رسولوں کا ایک ہے اور ہر ایک نبی لوگوں کو تمام انبیاء پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں ۔
بولے کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں اور تمہارے ساتھ کمینے ہو ےٴ ہیں (ف۱۰٦)
They said, “Shall we believe in you, whereas the abject people are with you?”
बोले क्या हम तुम पर ईमान ले आएँ और तुम्हारे साथ कमीने हुए हैं
Bole kya hum tum par imaan le aayein aur tumhare saath kamine hue hain
(ف106)یہ بات انہوں نے غرور سے کہی غُرَباء کے پاس بیٹھنا انہیں گوارا نہ تھا اس میں وہ اپنی کسرِ شان سمجھتے تھے اس لئے ایمان جیسی نعمت سے محروم رہے ۔ کمینے سے مراد ان کی غُرَباء اور پیشہ ور لوگ تھے اور ان کو رذیل اور کمین کہنا یہ کُفّار کا متکبِّرانہ فعل تھا ورنہ درحقیقت صنعت اور پیشہ حیثیت دین سے آدمی کو ذلیل نہیں کرتا ۔ غنا اصل میں دینی غنا ہے اور نسب تقوٰی کا نسب ۔ مسئلہ : مؤمن کو رذیل کہنا جائز نہیں خواہ وہ کتنا ہی محتاج و نادار ہو یا وہ کسی نسب کا ہو ۔ (مدارک)
ان کا حساب تو میرے رب ہی پر ہے (ف۱۰۸) اگر تمہیں حِس ہو (ف۱۰۹)
“Indeed their account is only upon my Lord, if you perceive.”
उनका हिसाब तो मेरे रब ही पर है अगर तुम्हें हिस हो
Unka hisaab to mere Rab hi par hai agar tumhein his ho
(ف108)وہی انہیں جزا دے گا ۔(ف109)تو نہ تم انہیں عیب لگاؤ نہ پیشوں کے باعث ان سے عار کرو پھر قوم نے کہا کہ آپ کمینوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ ہم آپ کے پاس آئیں آپ کی بات مانیں اس کے جواب میں فرمایا ۔
وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ ﴿114﴾
اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں (ف۱۱۰)
“And I will not repel the Muslims.”
और मैं मुसलमानों को दूर करने वाला नहीं
Aur main musalmanon ko door karne wala nahi
(ف110)یہ میری شان نہیں کہ میں تمہاری ایسی خواہشوں کو پورا کروں اور تمہارے ایمان کے لالچ میں مسلمانوں کو اپنے پاس سے نکال دوں ۔
اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌؕ ﴿115﴾
میں تو نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا (ف۱۱۱)
“I am not but clearly a Herald of Warning.”
मैं तो नहीं मगर साफ़ डर सुनाने वाला
Main to nahi magar saaf dar sunane wala
(ف111)برہانِ صحیح کے ساتھ جس سے حق و باطل میں امتیاز ہو جائے تو جو ایمان لائے وہی میرا مقرَّب ہے اور جو ایمان نہ لائے وہی دور ۔
(ف114)تیری وحی و رسالت میں ۔ مراد آپ کی یہ تھی کہ میں جو ان کے حق میں بددعا کرتا ہوں اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ انہوں نے مجھے سنگسار کرنے کی دھمکی دی نہ یہ کہ انہوں نے میرے متّبِعین کو رذیل کہا بلکہ میری دعا کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے تیرے کلام کو جھٹلایا اور تیری رسالت کے قبول کرنے سے ا نکارکیا ۔
کیا ہر بلندی پر ایک نشان بناتے ہو راہ گیروں سے ہنسنے کو (ف۱۲۰)
“What! You build a structure on every height, to laugh at the passers-by?”
क्या हर बुलंदी पर एक निशान बनाते हो राह ग़ीरों से हँसने को
Kya har bulandi par ek nishan banate ho raah giro se hansne ko
(ف120)کہ اس پر چڑھ کر گزرنے والوں سے تمسخُر کرو اور یہ اس قوم کا معمول تھا انہوں نے سرِ راہ بلند بِنائیں بنا لی تھیں وہاں بیٹھ کر راہ چلنے والوں کو پریشان کرتے اور کھیل کرتے ۔
بولے ہمیں برابر ہے چاہے تم نصیحت کرو یا ناصحوں میں نہ ہو (ف۱۲۵)
They said, “It is the same for us, whether you advise us or not be of the preachers.”
बोले हमें बराबर है चाहे तुम नसीहत करो या नासिहों में न हो
Bole humein barabar hai chahe tum naseehat karo ya naseehaton mein na ho
(ف125)ہم کسی طرح تمہاری بات نہ مانیں گے اور تمہاری دعوت قبول نہ کریں گے ۔
اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِيۡنَۙ ﴿137﴾
یہ تو نہیں مگر وہی اگلوں کی ریت (ف۱۲٦)
“This is nothing but the tradition of former people.”
यह तो नहीं मगर वही उगलों की रेत
Ye to nahi magar wohi agalon ki reet
(ف126)یعنی جن چیزوں کا آپ نے خوف دلایا یہ پہلوں کا دستور ہے وہ بھی ایسی ہی باتیں کہا کرتے تھے اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم ان باتوں کا اعتبار نہیں کرتے انہیں جھوٹ جانتے ہیں یا آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ یہ موت و حیات اور عمارتیں بنانا پہلوں کا طریقہ ہے ۔
وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَۚ ﴿138﴾
اور ہمیں عذاب ہونا نہیں (ف۱۲۷)
“And we will not be punished.”
और हमें आज़ाब होना नहीं
Aur humein azaab hona nahi
(ف127)دنیا میں نہ مرنے کے بعد اٹھنا نہ آخرت میں حساب ۔
“And you carve out dwellings in the mountains, with skill?”
और पहाड़ों में से घर तराशते हो उस्ताद से
Aur pahadon mein se ghar taraste ho ustad se
(ف132)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ فرہ بمعنٰی فخر و غرور ہے معنٰی یہ ہوئے کہ اپنی صنعت پر غرور کرتے اتراتے ۔
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ۚ ﴿150﴾
تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
“Therefore fear Allah and obey me.”
तो अल्लाह से डरो और मेरा हुक्म मानो,
To Allah se daro aur mera hukum maano,
وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ ﴿151﴾
اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو (ف۱۳۳)
“And do not follow those who exceed the limits.”
और हद से बढ़ने वालों के कहने पर न चलो
Aur had se badhne walon ke kehne par na chalo
(ف133)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مُسرفین سے مراد مشرکین ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ مُسرفین سے مراد وہ نو شخص ہیں جنہوں نے ناقہ کو قتل کیا تھا ۔
وہ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۱۳٤) اور بناؤ نہیں کرتے (ف۱۳۵)
“Those who spread turmoil in the earth, and do no reform.”
वह जो ज़मीन में फ़साद फैलाते हैं और बनाते नहीं
Woh jo zameen mein fasaad phaelaate hain aur banaate nahi
(ف134)کُفر و ظلم اور معاصی کے ساتھ ۔(ف135)ایمان لا کر اور عدل قائم کر کے اور اللہ کے مطیع ہو کر ۔ معنٰی یہ ہیں کہ ان کا فساد ٹھوس ہے جس میں کسی طرح نیکی کا شائبہ بھی نہیں اور بعض مُفسدین ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کچھ فساد بھی کرتے ہیں کچھ نیکی بھی ان میں ہوتی ہے مگر یہ ایسے نہیں ۔
فرمایا یہ ناقہ ہے ایک دن اس کے پینے کی باری (ف۱۳۹) اور ایک معین دن تمہاری باری،
He said, “This is the she-camel – one day shall be her turn to drink, and on the other appointed day, shall be your turn.”
फ़रमाया यह नाक़ा है एक दिन उसके पीने की बारी और एक मुऐन दिन तुम्हारी बारी,
Farmaaya ye naqa hai ek din us ke peene ki baari aur ek mu’ain din tumhari baari,
(ف139)اس میں اس سے مزاحمت نہ کرو ۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو ان کے معجِزہ طلب کرنے پر ان کے حسب خواہش بدعائے حضرت صالح علیہ السلام پتھر سے نکلی تھی اس کا سینہ ساٹھ گز کا تھا جب اس کے پینے کا دن ہوتا تو وہ وہاں کا تمام پانی پی جاتی اور جب لوگوں کے پینے کا دن ہوتا تو اس دن نہ پیتی ۔ (مدارک)
اور اسے برائی کے ساتھ نہ چھوؤ (ف۱٤۰) کہ تمہیں بڑے دن کا عذاب آلے گا (ف۱٤۱)
“And do not touch her with evil intentions for the punishment of the Great Day will seize you.”
और इसे बुराई के साथ न छुओ कि तुम्हें बड़े दिन का आज़ाब आएगा
Aur use burai ke saath na chhoo’o ke tumhein bade din ka azaab aayega
(ف140)نہ اس کو مارو نہ اس کی کونچیں کاٹو ۔(ف141)نُزولِ عذاب کی وجہ سے اس دن کو بڑا فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ عذاب اس قدر عظیم اور سخت تھا کہ جس دن میں وہ واقع ہوا اس کو اس کی وجہ سے بڑا فرمایا گیا ۔
فَعَقَرُوۡهَا فَاَصۡبَحُوۡا نٰدِمِيۡنَۙ ﴿157﴾
اس پر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں (ف۱٤۲) پھر صبح کو پچھتاتے رہ گئے (ف۱٤۳)
So they hamstrung her, and in the morning could only regret.
इस पर उन्होंने इसकी कौंचें काट दीं फिर सुबह को पछताते रहे
Is par unhone is ki kaunchain kaat di phir subah ko pachtate rahe
(ف142)کونچیں کاٹنے والے شخص کا نام قِدار تھا اور وہ لوگ اس کے اس فعل سے راضی تھے اس لئے کونچیں کاٹنے کی نسبت ا ن سب کی طرف کی گئی ۔(ف143)کونچیں کاٹنے پر نُزولِ عذاب کے خوف سے نہ کہ معصیت پر تائبانہ نادم ہوئے ہوں یا یہ بات کہ آثارِ عذاب دیکھ کر نادم ہوئے ایسے وقت کی ندامت نافع نہیں ۔
“What! Among all the creatures, you commit the immoral acts with men?”
क्या मख़लूक में मर्दों से बद फ़अली करते हो
Kya makhlooq mein mardon se bad fe’li karte ho
(ف145)اس کے یہ معنٰی بھی ہو سکتے ہیں کہ کیا مخلوق میں ایسے قبیح اور ذلیل فعل کے لئے تمہیں رہ گئے ہو جہاں کے اور لوگ بھی تو ہیں انہیں دیکھ کر تمہیں شرمانا چاہئے اور یہ معنٰی بھی ہو سکتے ہیں کہ بکثرت عورتیں ہوتے ہوئے اس فعلِ قبیح کا مرتکب ہونا انتہا درجہ کی خباثت ہے ۔
اے میرے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے کام سے بچا (ف۱۵۰)
“My Lord, rescue me and my family from their deeds.”
ऐ मेरे रब! मुझे और मेरे घर वालों को उनके काम से बचा
Ai mere Rab! Mujhe aur mere ghar walon ko un ke kaam se bacha
(ف150)اس کی شامتِ اعمال سے محفوظ رکھ ۔
فَنَجَّيۡنٰهُ وَ اَهۡلَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۙ ﴿170﴾
تو ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی (ف۱۵۱)
We therefore rescued him and his entire family.
तो हमने इसे और उसके सब घर वालों को नजात बख्शी
To humne use aur uske sab ghar walon ko najat bakshi
(ف151)یعنی آپ کی بیٹیوں کو اور ان تمام لوگوں کو جو آپ پر ایمان لائے ۔
اِلَّا عَجُوۡزًا فِى الۡغٰبِرِيۡنَۚ ﴿171﴾
مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی (ف۱۵۲)
Except one old woman, who stayed behind.
मगर एक बढ़िया कि पीछे रह गई
Magar ek burhiya ke peeche reh gayi
(ف152)جو آپ کی بی بی تھی اور وہ اپنی قوم کے فعل پر راضی تھی اور جو معصیت پر راضی ہو وہ عاصی کے حکم میں ہوتا ہے اسی لئے وہ بڑھیا گرفتارِ عذاب ہوئی اور اس نے نجات نہ پائی ۔
The People of the Woods denied the Noble Messengers.
बिन वालों ने रसूलों को झुठलाया
Bin walon ne rasoolon ko jhutlaya
(ف154)یہ بن مدیَن کے قریب تھا اس میں بہت درخت اور جھاڑیاں تھیں اللہ تعالٰی نے حضرت شعیب علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ اہلِ مدیَن کی طرف مبعو ث کیا تھا اور یہ لوگ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے نہ تھے ۔
اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے (ف۱۵۵)
“And I do not ask from you any fee for it; my reward is only upon the Lord Of The Creation.”
और मैं इस पर तुमसे कुछ उज़रत नहीं माँगता मेरा अज्र तो उसी पर है जो सारे जहाँ का रब है
(ف155)ان تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا یہی عنوان رہا کیونکہ وہ سب حضرات اللہ تعالٰی کے خوف اور اس کی اطاعت اور اخلاص فی العباد ۃ کا حکم دیتے اور تبلیغِ رسالت پر کوئی اجر نہیں لیتے تھے لہذا سب نے یہی فرمایا ۔
تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انھیں شامیانے والے دن کے عذاب نے آلیا، بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا (ف۱٦۱)
In response they denied him – therefore the punishment of the day of the tent* seized them; that was indeed a punishment of a Great Day. (The clouds formed a tent and rained fire upon them).
तो उन्होंने इसे झुठलाया तो उन्हें शामियाने वाले दिन के आज़ाब ने आ लिया, बेशक वह बड़े दिन का आज़ाब था
(ف161)جو کہ اس طرح ہوا کہ انہیں شدید گرمی پہنچی ہوا بند ہوئی اور سات روز گرمی کے عذاب میں گرفتار رہے ، تہ خانوں میں جاتے وہاں اور زیادہ گرمی پاتے اس کے بعد ایک ابر آیا سب اس کے نیچے آ کے جمع ہو گئے اس سے آ گ برسی اور سب جل گئے ۔ (اس واقعہ کا بیان سورۂ اعراف اور سورۂ ہود میں گزر چکا ہے ۔
(ف163)تاکہ آپ اسے محفوظ رکھیں اور سمجھیں اور نہ بھولیں ۔ دل کی تخصیص اس لئے ہے کہ درحقیقت وہی مخاطب ہے اور تمیز و عقل و اختیار کا مقام بھی وہی ہے ، تمام اعضاء اس کے مسخّر و مطیع ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ دل کے درست ہونے سے تمام بدن درست ہو جاتا ہے اور اس کے خراب ہونے سے سب جسم خراب اور فرح و سرور و رنج و غم کا مقام دل ہی ہے جب دل کو خوشی ہوتی ہے تمام اعضاء پر اس کا اثر پڑتا ہے تو وہ مثل رئیس کے ہے وہی موضع ہے عقل کا تو امیرِ مطلق ہوا اور تکلیف جو عقل و فہم کے ساتھ مشروط ہے اسی کی طرف راجع ہوئی ۔
بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِيۡنٍؕ ﴿195﴾
روشن عربی زبان میں،
In plain Arabic language.
रोशन अरबी ज़बान में,
وَاِنَّهٗ لَفِىۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴿196﴾
اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں میں ہے (ف۱٦٤)
And indeed it is mentioned in the earlier Books.
और बेशक इसका चरचा अगली किताबों में है
(ف164)اِنَّہ، کی ضمیر کا مرجع اگر قرآن ہو تو اس کے معنٰی یہ ہوں گے کہ اس کا ذکر تمام کتبِ سماویہ میں ہے اور اگر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ضمیر راجع ہو تو معنٰی یہ ہوں گے کہ اگلی کتابوں میں آپ کی نعمت و صفت مذکور ہے ۔
اور کیا یہ ان کے لیے نشانی نہ تھی (ف۱٦۵) کہ اس نبی کو جانتے ہیں بنی اسرائیل کے عالم (ف۱٦٦)
And was this not a sign for them, that the scholars of the Descendants of Israel may recognise this Prophet?
और क्या यह उनके लिए निशानी न थी कि इस नबी को जानते हैं बनी इस्राएल के आलम
(ف165)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقِ نُبوّت و رسالت پر ۔(ف166)اپنی کتابوں سے اور لوگوں کو خبریں دیتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اہلِ مکہ نے یہودِ مدینہ کے پاس اپنے معتمدین کو یہ دریافت کرنے بھیجا کہ کیا نبیٔ آخر الزمان سیدِ کائنات محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت ان کی کتابوں میں کوئی خبر ہے ؟ اس کا جواب عُلَماءِ یہود نے یہ دیا کہ یہی ان کا زمانہ ہے اور ان کی نعت و صفت توریت میں موجود ہے ۔ عُلَماءِ یہود میں سے حضرت عبداللہ ابن سلام اور ابنِ یامین اور ثعلبہ اور اسد اور اُسید یہ حضرات جنہوں نے توریت میں حضور کے اوصاف پڑھے تھے حضور پر ایمان لائے ۔
کہ وہ انھیں پڑھ کر سناتا جب بھی اس پر ایمان نہ لاتے (ف۱٦۷)
In order that he read it to them, even then they would not have believed in it.
कि वह उन्हें पढ़ कर सुनाता जब भी इस पर ईमान न लाते
(ف167)معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے یہ قرآنِ کریم ایک فصیح بلیغ عربی نبی پر اُتارا جس کی فصاحت اہلِ عرب کو مسلّم ہے اور وہ جانتے ہیں کہ قرآنِ کریم مُعجِز ہے اور اس کی مثل ایک سورت بنانے سے بھی تمام دنیا عاجز ہے علاوہ بریں عُلَماءِ اہلِ کتاب کا اتفاق ہے کہ اس کے نُزول سے قبل اس کے نازِل ہونے کی بشارت اور اس نبی کی صفت ان کی کتابوں میں انہیں مل چکی ہے ، اس سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ نبی اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ کتاب اس کی نازِل فرمائی ہوئی ہے اور کُفّار جو طرح طرح کی بیہودہ باتیں اس کتاب کے متعلق کہتے ہیں سب باطل ہیں اور خود کُفار بھی متحیّر ہیں کہ اس کے خلاف کیا بات کہیں ، اس لئے کبھی اس کو پہلوں کی داستانیں کہتے ہیں ، کبھی شعر ، کبھی سحر اور کبھی یہ کہ معاذ اللہ اس کو خود سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنا لیا ہے اور اللہ تعالٰی کی طرف اس کی غلط نسبت کر دی ہے اس طرح کے بیہودہ اعتراض معانِد ہر حال میں کر سکتا ہے حتٰی کہ اگر بالفرض یہ قرآن کسی غیر عربی شخص پر نازِل کیا جاتا جو عربی کی مہارت نہ رکھتا اور باوجود اس کے وہ ایسا مُعجِز قرآن پڑھ کر سُناتا جب بھی لوگ اسی طرح کُفر کرتے جس طرح انہوں نے اب کُفر و انکار کیا کیونکہ ان کے کُفر و انکار کا باعث عناد ہے ۔
ہم نے یونہی جھٹلانا پیرا دیا ہے مجرموں کے دلوں میں (ف۱٦۸)
This is how We have made (the habit of) denying embedded in the hearts of the guilty.
हमने यूँ ही झुठलाना पैर दिया है मुजरिमों के दिलों में
(ف168)یعنی ان کافِروں کے جن کا کُفر اختیار کرنا اور اس پر مُصِر رہنا ہمارے علم میں ہے تو ان کے لئے ہدایت کا کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے کسی حال میں وہ کُفر سے پلٹنے والے نہیں ۔
So it will come upon them suddenly, whilst they will be unaware.
तो वह अचानक उनके ऊपर आ जाएगा और उन्हें ख़बर न होगी,
فَيَـقُوۡلُوۡا هَلۡ نَحۡنُ مُنۡظَرُوۡنَؕ ﴿203﴾
تو کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی (ف۱٦۹)
They will therefore say, “Will we get some respite?”
तो कहेंगे क्या हमें कुछ मोहलत मिलेगी
(ف169)تاکہ ہم ایمان لائیں اور تصدیق کریں لیکن اس وقت مہلت نہ ملے گی جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کُفّار کو اس عذاب کی خبر دی تو براہِ تمسخُر و استہزاء کہنے لگے کہ یہ عذاب کب آئے گا ؟ اس پر اللہ تبارک وتعالٰی ارشاد فرماتا ہے ۔
اَفَبِعَذَابِنَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿204﴾
تو کیا ہمارے عذاب کی جلدی کرتے ہیں،
So do they wish to hasten Our punishment?
तो क्या हमारे आज़ाब की जल्दी करते हैं,
اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَۙ ﴿205﴾
بھلا دیکھو تو اگر کچھ برس ہم انھیں برتنے دیں (ف۱۷۰)
Therefore observe, that if We give them some comforts for some years, –
اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہ کی جسے ڈر سنانے والے نہ ہوں،
And never did We destroy a township which did not have Heralds of warning, –
और हमने कोई बस्ती हलाक न की जिसे डर सुनाने वाले न हों,
ذِكۡرٰىۛ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴿209﴾
نصیحت کے لیے، اور ہم ظلم نہیں کرتے (ف۱۷۳)
To advise; and We never oppress.
नसीहत के लिए, और हम ज़ुल्म नहीं करते
(ف173)پہلے حُجّت قائم کر دیتے ہیں ڈر سنانے والوں کو بھیج دیتے ہیں اس کے بعد بھی جو لوگ راہ پر نہیں آتے اور حق کو قبول نہیں کرتے ان پر عذاب کرتے ہیں ۔
وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ الشَّيٰطِيۡنُ ﴿210﴾
اور اس قرآن کو لے کر شیطان نہ اترے (ف۱۷٤)
And this Qur’an was not brought down by the devils.
और इस क़ुरआन को लेकर शैतान न उतरे
(ف174)اس میں کُفّار کا رد ہے جو کہتے تھے کہ جس طرح شیاطین کاہنوں کے پاس آسمانی خبریں لاتے ہیں اسی طرح معاذ اللہ حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قرآن لاتے ہیں ۔ اس آیت میں ان کے اس خیال کو باطل کر دیا کہ یہ غلط ہے ۔
اور وہ اس قابل نہیں (ف۱۷۵) اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں (ف۱۷٦)
They are unworthy of it, nor can they do it.
और वह इस क़ाबिल नहीं और न वह ऐसा कर सकते हैं
(ف175)کہ قرآن لائیں ۔(ف176)کیونکہ یہ ان کے مقدور سے باہر ہے ۔
اِنَّهُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَؕ ﴿212﴾
وہ تو سننے کی جگہ سے دور کردیے گئے ہیں (ف۱۷۷)
Indeed they have been banished from the place of hearing.
वह तो सुनने की जगह से दूर कर दिए गए हैं
(ف177)یعنی انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی طرف جو وحی ہوتی ہے اس کو اللہ تعالٰی نے محفوظ کر دیا جب تک کہ فرشتہ اس کو بارگاہِ رسالت میں پہنچائے اس سے پہلے شیاطین اس کو نہیں سن سکتے اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے بندوں سے فرماتا ہے ۔
تو اللہ کے سوا دوسرا خدا نہ پوج کہ تجھ پر عذاب ہوگا،
Therefore do not worship another deity along with Allah, for you will be punished.
तो अल्लाह के सिवा दूसरा ख़ुदा न पूज कि तुझ पर आज़ाब होगा,
وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَۙ ﴿214﴾
اور اے محبوب! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ (ف۱۷۸)
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), warn your closest relatives.
और ऐ महबूब! अपने करीबतर रिश्तेदारों को डराओ
(ف178)حضور کے قریب کے رشتہ دار نبی ہاشم اور بنی مطلب ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اعلان کے ساتھ انذار فرمایا اور خدا کا خوف دلایا جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں وارد ہے ۔
تو اگر وہ تمہارا حکم نہ مانیں تو فرمادو میں تمہارے کاموں سے بےعلاقہ ہوں،
So if they do not obey you, then say, “Indeed I am unconcerned with what you do.”
तो अगर वह तुम्हारा हुक्म न मानें तो फ़रमा दो मैं तुम्हारे कामों से बेअलाक़ा हूँ,
وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِۙ ﴿217﴾
اور اس پر بھروسہ کرو جو عزت والا مہر والا ہے (ف۱۸۱)
And rely upon (Allah) the Almighty, the Most Merciful.
और इस पर भरोसा करो जो इज़्ज़त वाला मेहर वाला है
(ف181)یعنی اللہ تعالٰی ، تم اپنے تمام کام اس کو تفویض کرو ۔
الَّذِىۡ يَرٰٮكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ ﴿218﴾
جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو (ف۱۸۲)
Who watches you when you stand up.
जो तुम्हें देखता है जब तुम खड़े होते हो
(ف182)نماز کے لئے یا دعا کے لئے یا ہر اس مقام پر جہاں تم ہو ۔
وَتَقَلُّبَكَ فِى السّٰجِدِيۡنَ ﴿219﴾
اور نمازیوں میں تمہارے دورے کو (ف۱۸۳)
And watches your movements among those who prostrate in prayer.
और नमाज़ियों में तुम्हारे दौरे को
(ف183)جب تم اپنے تہجُّد پڑھنے والے اصحاب کے احوال ملاحظہ فرمانے کے لئے شب کو دورہ کرتے ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنٰی یہ ہیں کہ جب تم امام ہو کر نماز پڑھاتے ہو اور قیام و رکوع و سجود و قعود میں گزرتے ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنٰی یہ ہیں کہ وہ آپ کی گردشِ چشم کو دیکھتا ہے نمازوں میں کیونکہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پس و پیش یکساں ملاحظہ فرماتے تھے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے بخدا مجھ پر تمہارا خشوع و رکوع مخفی نہیں میں تمہیں اپنے پسِ پشت دیکھتا ہوں ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ اس آیت میں ساجدین سے مؤمنین مراد ہیں اور معنٰی یہ ہیں کہ زمانۂ حضرت آدم و حوا علیہما السلام سے لے کر حضرت عبداللہ و آمنہ خاتون تک مؤمنین کی اصلاب و ارحام میں آپ کے دورے کو ملاحظہ فرماتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ آپ کے تمام اصول آباء و اجداد حضرت آدم علیہ السلام تک سب کے سب مؤمن ہیں ۔ ( مدارک و جمل وغیرہ)
اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴿220﴾
بیشک وہی سنتا جانتا ہے (ف۱۸٤)
Indeed only He is the All Hearing, the All Knowing.
बेशक वही सुनता जानता है
(ف184)تمہارے قول و عمل اور تمہاری نیت کو اس کے بعد اللہ تعالٰی ان مشرکوں کے جواب میں جو کہتے تھے کہ محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شیطان اترتے ہیں یہ ارشاد فرماتا ہے ۔
شیطان اپنی سنی ہوئی (ف۱۸٦) ان پر ڈالتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں (ف۱۸۷)
The devils convey upon them what they heard, but most of them are liars.
शैतान अपनी सुनी हुई उन पर डालते हैं और उनमें अक्सर झूठे हैं
(ف186)جو انہوں نے ملائکہ سے سُنی ہوتی ہے ۔(ف187)کیونکہ وہ فرشتوں سے سُنی ہوئی باتوں میں اپنی طرف سے بہت جھوٹ ملا دیتے ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک بات سنتے ہیں تو سو جھوٹ اس کے ساتھ ملاتے ہیں اور یہ بھی اس وقت تک تھا جب تک کہ وہ آسمان پر پہنچنے سے روکے نہ گئے تھے ۔
وَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَؕ ﴿224﴾
اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں (ف۱۸۸)
And the astray follow the poets.
और शायरों की पीरूई गुमराह करते हैं
(ف188)ان کے اشعار میں کہ ان کو پڑھتے ہیں رواج دیتے ہیں باوجود یکہ وہ اشعار کذب و باطل ہوتے ہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت شعراءِ کُفّار کے حق میں نازِل ہوئی جو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو میں شعر کہتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسا محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں ایسا ہم بھی کہہ لیتے ہیں اور ان کی قوم کے گمراہ لوگ ان سے ان اشعار کو نقل کرتے تھے ۔ ان لوگوں کی آیت میں مذمت فرمائی گئی ۔
(ف190)بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اگر کسی کا جسم پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ شعر سے پر ہو مسلمان شعراء جو اس طریقہ سے اجتناب کرتے ہیں اس حکم سے مستثنٰی کئے گئے ۔
مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۱۹۱) اور بکثرت اللہ کی یاد کی (ف۱۹۲) اور بدلہ لیا (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا (ف۱۹٤) اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم (ف۱۹۵) کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے (ف۱۹٦)
Except those who believed and did good deeds, and profusely remembered Allah, and took revenge after they had been wronged*; and soon the unjust will come to know upon which side they will be overturned**. (* The Muslim poets who praise Allah and the Prophet. ** The disbelievers will be punished.)
मगर वह जो ईमान लाए और अच्छे काम किए और बक़्सरत अल्लाह की याद की और बदला लिया बाद उसके कि उन पर ज़ुल्म हुआ और अब जानना चाहते हैं ज़ालिम कि किस करवट पर पलटा खाएंगे
(ف191)اس میں شعراءِ اسلام کا استثناء فرمایا گیا وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت لکھتے ہیں ، اللہ تعالٰی کی حمد لکھتے ہیں ، اسلام کی مدح لکھتے ہیں ، پند و نصائح لکھتے ہیں ، اس پر اجر و ثواب پاتے ہیں ۔ بخاری شریف میں ہے کہ مسجدِ نبوی میں حضرت حسّان کے لئے منبر بچھایا جاتا تھا وہ اس پر کھڑے ہو کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مفاخر پڑھتے تھے اور کُفّار کی بدگوئیوں کا جواب دیتے تھے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے حق میں دعا فرماتے جاتے تھے ۔ بخاری کی حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بعض شعر حکمت ہوتے ہیں ۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس مبارک میں اکثر شعر پڑھے جاتے تھے جیسا کہ ترمذی میں جابر بن سمرہ سے مروی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ شعرکلام ہے بعض اچھا ہوتا ہے بعض بُرا ، اچھے کو لو بُرے کو چھوڑ دو ۔ شعبی نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق شعر کہتے تھے ، حضرت علی ان سب سے زیادہ شعر فرمانے والے تھے رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔(ف192)اور شعر ان کے لئے ذکرِ الٰہی سے غفلت کا سبب نہ ہو سکا بلکہ ان لوگوں نے جب شعر کہا بھی تو اللہ تعالٰی کی حمد و ثناء اور اس کی توحید اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت اور اصحابِ کرام و صُلحاءِ اُمّت کی مدح اور حکمت و موعظت اور زہد و ادب میں ۔(ف193)کُفّار سے ان کی ہجو کا ۔(ف194)کُفّار کی طرف سے کہ انہوں نے مسلمانوں کی اور ان کے پیشواؤں کی ہجو کی ان حضرات نے اس کو دفع کیا اور اس کے جواب دیئے یہ مذموم نہیں ہیں بلکہ مستحقِ اجر و ثواب ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ مؤمن اپنی تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی یہ ان حضرات کا جہاد ہے ۔(ف195)یعنی مشرکین جنہوں نے سیدُ الطاہرین افضلُ الخَلق رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو کی ۔(ف196)موت کے بعد ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا جہنّم کی طرف اور وہ برا ہی ٹھکانا ہے ۔
Ta-Seen*; these are verses of the Qur’an and the clear Book. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever he reveals, know their precise meanings.)
ये आयते हैं क़ुरआन और रोशन किताब की
Yeh aayatein hain Qur’an aur roshan kitaab ki
(ف2)جو حق و باطل میں امتیاز کرتی ہے اور جس میں علوم و حِکَم ودیعت رکھے گئے ہیں ۔
جب کہ موسیٰ نے اپنی گھر والی سے کہا (ف۹) مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے عنقریب میں تمہارے پاس اس کی کوئی خبر لاتا ہوں یا اس میں سے کوئی چمکتی چنگاری لاؤں گا کہ تم تاپو (ف۱۰)
(Remember) when Moosa said to his wife, “I have sighted a fire; I will soon bring its news to you, or bring for you an ember from it so that you may warm yourselves.”
जब कि मूसा ने अपनी घर वाली से कहा मुझे एक आग नज़र पड़ी है अनक़रीब मैं तुम्हारे पास इसकी कोई खबर लाता हूँ या इसमें से कोई चमकती चुन गारी लाऊँगा कि तुम तापो
Jab ke Musa ne apni ghar wali se kaha mujhe ek aag nazar padi hai anqareeb main tumhare paas is ki koi khabar lata hoon ya is mein se koi chamakti chun gaari laoon ga ke tum taapo
(ف9)مَدیَن سے مِصر کو سفر کرتے ہوئے تاریک رات میں جبکہ برف باری سے نہایت سردی ہو رہی تھی اور راستہ گم ہو گیا تھا اور بی بی صاحبہ کو دردِ زِہ شروع ہو گیا تھا ۔(ف10)اور سردی کی تکلیف سے امن پاؤ ۔
پھر جب آگ کے پاس آیا ندا کی گئی کہ برکت دیا گیا وہ جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے یعنی موسیٰ اور جو اس کے آس پاس میں یعنی فرشتے (ف۱۱) اور پاکی ہے اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا،
So when he reached it, it was proclaimed, “Blessed is he who is in the location of the fire (Moosa) and those who are close to it (the angels); and Purity is to Allah, the Lord Of The Creation.”
फिर जब आग के पास आया नदा की गई कि बरकत दिया गया वो जो उस आग की जलवा गाह में है यानी मूसा और जो उसके आस पास में यानी फ़रिश्ते और पाकी है अल्लाह को जो रब है सारे जहान का,
Phir jab aag ke paas aaya nada ki gayi ke barkat diya gaya woh jo is aag ki jalwa gaah mein hai yani Musa aur jo us ke aas paas mein yani farishte aur paaki hai Allah ko jo Rab hai saare jahan ka,
(ف11)یہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی تحیّت ہے اللہ تعالٰی کی طرف سے برکت کے ساتھ ۔
اور اپنا عصا ڈال دے (ف۱۲) پھر موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا، ہم نے فرمایا اے موسیٰ ڈر نہیں، بیشک میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا (ف۱۳)
“And put down your staff”; so when he saw it writhing like a serpent, he turned moving away without looking back; We said, “O Moosa, do not fear; indeed the Noble Messengers do not fear in My presence.”
और अपना असा डाल दे फिर मूसा ने उसे देखा लहराता हुआ गोया साँप है पीठ फेर कर चला और मुड़ कर न देखा, हमने फरमाया ऐ मूसा डर नहीं, बेशक मेरे हज़ूर रसूलों को ख़ौफ़ नहीं होता
Aur apna asa daal de phir Musa ne use dekha lehrata hua goya saanp hai peeth phair kar chala aur mudh kar na dekha, hum ne farmaya Ae Musa dar nahi, beshak mere huzoor rasoolon ko khauf nahi hota
(ف12)چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے بحکمِ الٰہی عصا ڈال دیا اور وہ سانپ ہو گیا ۔(ف13)نہ سانپ کا نہ کسی اور چیزکا یعنی جب میں انہیں امن دوں تو پھر کیا اندیشہ ۔
ہاں جو کوئی زیادتی کرے (ف۱٤) پھر برائی کے بعد بھلائی سے بدلے تو بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں (ف۱۵)
“Except the one* who does injustice and then after evil changes it for virtue – then indeed I am Oft Forgiving, Most Merciful.” (Other than the Prophets.)
हाँ जो कोई ज़ियादती करे फिर बुराई के बाद भलाई से बदले तो बेशक मैं माफ़ करने वाला मेहरबान हूँ
Haan jo koi ziadti kare phir burai ke baad bhalaai se badle to beshak main bakshne wala meherban hoon
(ف14)اس کو ڈر ہو گا اور وہ بھی جب توبہ کرے ۔(ف15)توبہ قبول فرماتا ہوں اور بخش دیتا ہوں ، اس کے بعد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کو دوسری نشانی دکھائی گئی اور فرمایا گیا ۔
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بےعیب (ف۱٦) نو نشانیوں میں (ف۱۷) فرعون اور اس کی قوم کی طرف، بیشک وہ بےحکم لوگ ہیں،
“And put your hand inside your armpit – it will come out shining white, not due to any illness; a sign among the nine signs towards Firaun and his people; they are indeed a lawless nation.”
और अपना हाथ अपने गरिबान में डाल निकलेगा सफ़ेद चमकता बेमिसाल नौ निशानियों में फ़िरौन और उसकी क़ौम की तरफ़, बेशक वो बे हुक़्म लोग हैं,
Aur apna haath apne guraiban mein daal niklega safed chamakta be ayb no nishaniyon mein Fir’awn aur us ki qaum ki taraf, beshak woh be hukum log hain,
(ف16)یہ نشانی ہے ان ۔(ف17)جن کے ساتھ رسول بنا کر بھیجے گئے ہو ۔
اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا (ف۱۹) ظلم اور تکبر سے تو دیکھو کیسا انجام ہوا فسادیوں کا (ف۲۰)
And they denied them – whereas in their hearts they were certain of them – due to injustice and pride; therefore see what sort of fate befell the mischievous!
और उनके मना करने वाले हुए और उनके दिलों में उनका यकीन था ज़ुल्म और तक़ब्बुर से तो देखो कैसा अंज़ाम हुआ फ़सादीयों का
Aur un ke mankar huye aur un ke dilon mein un ka yaqeen tha zulm aur takabbur se to dekho kaisa anjaam hua fasadiyon ka
(ف19)اور وہ جانتے تھے کہ بے شک یہ نشانیاں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں لیکن باوجود اس کے اپنی زبانوں سے انکار کرتے رہے ۔(ف20)کہ غرق کر کے ہلاک کئے گئے ۔
اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو بڑا علم عطا فرمایا (ف۲۱) اور دونوں نے کہا سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت بخشی (ف۲۲)
And We indeed bestowed great knowledge to Dawud and Sulaiman; and they both said, “All praise is to Allah, Who bestowed us superiority over many of His believing bondmen.”
और बेशक हमने दाऊद और सुलैमान को बड़ा इल्म अता फरमाया और दोनों ने कहा सब खूबियाँ अल्लाह को जिसने हमें अपने बहुत से ईमान वाले बंदों पर फ़ज़ीलत बख़्शी
Aur beshak hum ne Dawood aur Sulaiman ko bada ilm ata farmaya aur dono ne kaha sab khubiyan Allah ko jis ne humein apne bahut se imaan wale bandon par fazilat bakshi
(ف21)یعنی علمِ قضا و سیاست اور حضرت داؤد کو پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کا علم دیا اور حضرت سلیمان کو چوپایوں اور پرندوں کی بولی کا ۔ (خازن)(ف22)نبوّت و مُلک عطا فرما کر اور جِن و انس اور شیاطین کو مسخَّر کر کے ۔
اور سلیمان داؤد کا جانشین ہوا (ف۲۳) اور کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہر چیز میں سے ہم کو عطا ہوا (ف۲٤) بیشک یہی ظاہر فضل ہے (ف۲۵)
And Sulaiman became Dawud’s heir; and he said, “O people, we have indeed been taught the language of birds, and have been given from all things; this surely is a manifest favour.”
और सुलैमान दाऊद का जानशीन हुआ और कहा ऐ लोगो! हमें परिंदों की बोली सिखाई गई और हर चीज़ में से हम को अता हुआ बेशक यही ज़ाहिर फ़ज़ल है
Aur Sulaiman Dawood ka jaanashin hua aur kaha Ae logo! Humein parindon ki boli sikhai gayi aur har cheez mein se hum ko ata hua beshak yehi zahir fazl hai
(ف23)نبوّت و علم و مُلک میں ۔(ف24)یعنی بکثرت نعمتیں دنیا و آخرت کی ہم کو عطا فرمائی گئیں ۔(ف25)مروی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کو اللہ تعالٰی نے مشارق و مغاربِ ارض کا مُلک عطا فرمایا چالیس سال آپ اس کے مالک ر ہے پھر تمام دنیا کی مملکت عطا فرمائی جِن ، انس ، شیطان ، پرندے ، چوپائے ، درندے سب پر آپ کی حکومت تھی اور ہر ایک شے کی زبان آپ کو عطا فرمائی اور عجیب و غریب صنعتیں آپ کے زمانہ میں برروئے کار آئیں ۔
یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے نالے پر آئے (ف۲۷) ایک چیونٹی بولی (ف۲۸) اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلی جاؤ تمہیں کچل نہ ڈالیں سلیمان اور ان کے لشکر بےخبری میں (ف۲۹)
Until when they came to the valley of the ants, a she ant exclaimed, “O ants, enter your houses – may not Sulaiman and his armies crush you, unknowingly.”
यहां तक कि जब चींटियों के नाले पर आए एक चींटी बोली ऐ चींटियों! अपने घरों में चली जाओ तुम्हें कुचल न डालें सुलैमान और उनके لش्कर बे ख़बर में
Yahan tak ke jab cheentiya ke naale par aaye ek cheenti boli Ae cheentiyo! Apne gharon mein chali jao tumhein kuchal na daalein Sulaiman aur un ke lashkar be khabri mein
(ف27)یعنی طائف یا شام میں اس وادی پر گزرے جہاں چیونٹیاں بکثرت تھیں ۔(ف28)جو چیونٹیوں کی ملکہ تھی وہ لنگڑی تھی ۔لطیفہ : جب حضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کوفہ میں داخل ہوئے اور وہاں کی خَلق آپ کی گرویدہ ہوئی تو آپ نے لوگوں سے کہا جو چاہو دریافت کرو ؟ حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس وقت نوجوان تھےآپ نے دریافت فرمایا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی چیونٹی مادہ تھی یا نر ؟ حضرت قتادہ ساکت ہو گئے تو امام صاحب نے فرمایا کہ وہ مادہ تھی آپ سے دریافت کیا گیا کہ یہ آپ کو کس طرح معلوم ہوا ؟ آپ نے فرمایا قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا ' قَالَت نَملَۃ' اگر نر ہوتی تو قرآن شریف میں' قَالَ نَمْلَۃ ' وارد ہوتا ۔ (سبحان اللہ اس سے حضرت امام کی شانِ علم معلوم ہوتی ہے) غرض جب اس چیونٹی کی ملکہ نے حضرت سلیمان کے لشکر کو دیکھا توکہنے لگی ۔(ف29)یہ اس نے اس لئے کہا کہ وہ جانتی تھی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نبی ہیں صاحبِ عدل ہیں جبر اور زیادتی آپ کی شان نہیں ہے اس لئے اگر آپ کے لشکر سے چیونٹیاں کچل جائیں گی تو بے خبری ہی میں کچل جائیں گی کہ وہ گزرتے ہوں اور اس طرف التفات نہ کریں چیونٹی کی یہ بات حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین میل سے سُن لی اور ہوا ہر شخص کا کلام آپ کے سمعِ مبارک تک پہنچاتی تھی جب آپ چیونٹیوں کی وادی پر پہنچے تو آپ نے اپنے لشکر وں کو ٹھہرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے گھروں میں داخل ہو گئیں سیر حضرت سلیمان علیہ السلام کی اگرچہ ہوا پر تھی مگر بعید نہیں ہے کہ یہ مقام آپ کا جائے نُزول ہو ۔
تو اس کی بات مسکرا کر ہنسا (ف۳۰) اور عرض کی اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے (ف۳۱) مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے اور یہ کہ میں وہ بھلا کام کروں جو تجھے پسند آئے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے قرب خاص کے سزاوار ہیں (ف۳۲)
He therefore smiled beamingly at her speech*, and submitted, “My Lord, bestow me guidance so that I thank you for the favour which You bestowed upon me and my parents, and so that I may perform the good deeds which please You, and by Your mercy include me among Your bondmen who are worthy of Your proximity.” (Prophet Sulaiman heard the voice of the she ant from far away.)
तो उसकी बात मुस्कुरा कर हँसा और arz की ऐ मेरे रब! मुझे तौफ़ीक़ दे कि मैं शुक़र करूँ तेरे एहसान का जो तूने मुझ पर और मेरे माँ बाप पर किए और ये कि मैं वो भला काम करूँ जो तुझे पसंद आए और मुझे अपनी रहमत से अपने इन बंदों में शामिल कर जो तेरे क़रब ख़ास के सज़ावार हैं
To us ki baat muskura kar hansa aur arz ki Ae mere Rab! Mujhe taufeeq de ke main shukar karoon tere ehsaan ka jo tu ne mujh par aur mere maan baap par kiye aur yeh ke main woh bhala kaam karoon jo tujhe pasand aaye aur mujhe apni rehmat se apne un bandon mein shamil kar jo tere qurb khaas ke sazaawar hain
(ف30)انبیاء کا ہنسنا تبسّم ہی ہوتا ہے جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے وہ حضرات قہقہہ مار کر نہیں ہنستے ۔(ف31)نبوّت و مُلک و علم عطا فرما کر ۔(ف32)حضراتِ ا نبیاء و اولیاء ۔
ضرور میں اسے سخت عذاب کروں گا (ف۳۳) یا ذبح کردوں گا یا کوئی روشن سند میرے پاس لائے (ف۳٤)
“I will indeed punish him severely or slay him, or he must bring to me some clear evidence.”
जरूर मैं उसे सख़्त अज़ाब करूँगा या ज़ब्ज़ कर दूँगा या कोई रोशन सन्द मेरे पास लाए
Zaroor main use sakht azaab karoon ga ya zabah kar doon ga ya koi roshan sanad mere paas laaye
(ف33)اس کے پر اُکھاڑ کر یا اس کو اس کے پیاروں سے جدا کر کے یا اس کو اس کے اقران کا خادم بنا کر یا اس کو غیر جانوروں کے ساتھ قید کر کے اور ہُدہُد کو حسبِ مصلحت عذاب کرنا آپ کے لئے حلال تھا اور جب پرند آپ کے لئے مسخَّر کئے گئے تھے تو تادیب و سیاست مقتضائے تسخیر ہے ۔(ف34)جس سے اس کی معذوری ظاہر ہو ۔
تو ہدہد کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرا اور آکر (ف۳۵) عرض کی کہ میں وہ بات دیکھ کر آیا ہوں جو حضور نے نہ دیکھی اور میں شہر سبا سے حضور کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں،
So Hudhud did not stay absent for long, and presenting himself submitted, “I have witnessed a matter that your majesty has not seen, and I have brought definite information to you from the city of Saba.”
तो हुदहद कुछ ज़्यादा देर न ठहरा और आकर arz की कि मैं वो बात देख कर आया हूँ जो हज़ूर ने न देखी और मैं शहर सबा से हज़ूर के पास एक यकीनी खबर लाया हूँ,
To hudhud kuch zyada der na thahra aur aa kar arz ki ke main woh baat dekh kar aaya hoon jo huzoor ne na dekhi aur main shehar Saba se huzoor ke paas ek yaqini khabar laya hoon,
(ف35)نہایت عجز و انکسار اور ادب و تواضُع کے ساتھ معافی چاہ کر ۔
میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں (ف۳۹) اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نگاہ میں سنوار کر ان کو سیدھی راہ سے روک دیا (ف٤۰) تو وہ راہ نہیں پاتے،
“I found her and her nation prostrating before the sun instead of Allah, and Satan has made their deeds seem good to them thereby preventing them from the Straight Path – so they do not attain guidance.”
मैंने उसे और उसकी क़ौम को पाया कि अल्लाह को छोड़ कर सूरज को सज्दा करते हैं और शैतान ने उनके आमाल उनकी निगाह में संवार कर उनको सीधी राह से रोक दिया तो वो राह नहीं पाते,
Main ne use aur us ki qaum ko paaya ke Allah ko chhod kar sooraj ko sajda karte hain aur shaitaan ne un ke aamaal un ki nigaah mein sanwaar kar un ko seedhi raah se rok diya to woh raah nahi paate,
(ف39)کیونکہ وہ لوگ آفتاب پرست مجوسی تھے ۔(ف40)سیدھی راہ سے مراد طریقِ حق و دینِ اسلام ہے ۔
کیوں نہیں سجدہ کرتے اللہ کو جو نکالتا ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزیں (ف٤۱) اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو (ف٤۲)
“Why do they not prostrate to Allah, Who brings forth the things hidden in the heavens and the earth, and knows all what you hide and all what you disclose?”
क्यों नहीं सज्दा करते अल्लाह को जो निकालता है आसमानों और ज़मीन की छिपी चीज़ें और जानता है जो कुछ तुम छुपाते हो और ज़ाहिर करते हो
Kyun nahi sajda karte Allah ko jo nikalta hai aasmanon aur zameen ki chhupi cheezen aur jaanta hai jo kuch tum chhupate ho aur zahir karte ho
(ف41)آسمان کی چُھپی چیزوں سے مِینہ اور زمین کی چُھپی چیزوں سے نباتات مراد ہیں ۔(ف42)اس میں آفتاب پرستوں بلکہ تمام باطل پرستوں کا رد ہے جو اللہ تعالٰی کے سوا کسی کو بھی پوجیں ، مقصود یہ ہے کہ عبادت کا مستحق صر ف وہی ہے جو کائناتِ ارضی و سماوی پر قدرت رکھتا ہو اور جمیع معلومات کا عالِم ہو جو ایسا نہیں وہ کسی طرح مستحقِ عبادت نہیں ۔
سلیمان نے فرمایا اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں ہے (ف٤۳)
Said Sulaiman, “We shall now see whether you spoke the truth or are among the liars.”
सुलैमान ने फरमाया अब हम देखेंगें कि तूने सच कहा या तू झूठों में है
Sulaiman ne farmaya ab hum dekhenge ke tu ne sach kaha ya tu jhooton mein hai
(ف43)پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک مکتوب لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ از جانب بندۂ خدا سلیمان بن داؤد بسوئے بلقیس ملکۂ شہرِ سبا بسم اللہ الرحمن الرحیم اس پر سلام جو ہدایت قبول کرے اس کے بعد مدعا یہ کہ تم مجھ پر بلندی نہ چاہو اور میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہو اس پر آپ نے اپنی مُہر لگائی اور ہُدہُد سے فرمایا ۔
میرا یہ فرمان لے جان کر ان پر ڈال پھر ان سے الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں (ف٤٤)
“Go with this letter of mine and drop it upon them – then move aside from them and see what they answer in return.”
मेरा ये फ़रमान ले जाकर उन पर डाल फिर उनसे अलग हट कर देख कि वो क्या जवाब देते हैं
Mera yeh farman le ja kar un par daal phir un se alag hat kar dek ke woh kya jawab dete hain
(ف44)چنانچہ ہُدہُد وہ مکتوب گرامی لے کر بلقیس کے پاس پہنچا اس وقت بلقیس کے گرد اس کے اَعیان و وزراء کا مجمع تھا ہُدہُد نے وہ مکتوب بلقیس کی گود میں ڈال دیا اور وہ اس کو دیکھ کر خوف سے لرز گئی اور پھر اس پر مُہر دیکھ کر ۔
وہ عورت بولی اے سردارو! بیشک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا (ف٤۵)
The woman said, “O chieftains, indeed a noble letter has been dropped upon me.”
वो औरत बोली ऐ सरदारो! बेशक मेरी तरफ़ एक इज़्ज़त वाला ख़त डाला गया
Woh aurat boli Ae sardaaro! Beshak meri taraf ek izzat wala khat dala gaya
(ف45)اس نے اس خط کو عزّت والا یا اس لئے کہا کہ اس پر مُہر لگی ہوئی تھی اس سے اس نے جانا کہ کتاب کا بھیجنے والا جلیل المنزلت بادشاہ ہے یا اس لئے کہ اس مکتوب کی ابتداء اللہ تعالٰی کے نامِ پاک سے تھی پھر اس نے بتایا کہ وہ مکتوب کس کی طرف سے آیا ہے چنانچہ کہا ۔
یہ کہ مجھ پر بلندی نہ چاہو (ف٤٦) اور گردن رکھتے میرے حضور حاضر ہو (ف٤۷)
“That ‘Do not wish eminence above me, and present yourselves humbly to me, with submission.’”
ये कि मुझ पर बुलंदी न चाहो और गर्दन रखते मेरे हज़ूर हाज़िर हो
Yeh ke mujh par bulandi na chaho aur gardan rakhe mere huzoor haazir ho
(ف46)یعنی میری تعمیلِ ارشاد کرو اور تکبُّر نہ کرو جیسا کہ بعض بادشاہ کیا کرتے ہیں ۔(ف47)فرمانبردارانہ شان سے مکتوب کا یہ مضمون سنا کر بلقیس اپنی اعیانِ دولت کی طرف متوجّہ ہوئی ۔
وہ بولے ہم زور والے اور بڑی سخت لڑائی والے ہیں (ف٤۸) اور اختیار تیرا ہے تو نظر کر کہ کیا حکم دیتی ہے (ف٤۹)
They said, “We possess great strength and are great warriors, and the decision is yours, therefore consider what you will command.”
वो बोले हम ज़ोर वाले और बड़ी सख़्त लड़ाई वाले हैं और इख़्तियार तेरा है तो नज़र कर कि क्या हुक़्म देती है
Woh bole hum zor wale aur bari sakht ladai wale hain aur ikhtiyar tera hai to nazar kar ke kya hukm deti hai
(ف48)اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اگر تیری رائے جنگ کی ہو تو ہم لوگ اس کے لئے تیار ہیں ، بہادر اور شجاع ہیں، صاحبِ قوّت وتوانائی ہیں ، کثیر فوجیں رکھتے ہیں ، جنگ آزما ہیں ۔(ف49)اے ملکہ ہم تیری اطاعت کریں گے تیرے حکم کے منتظر ہیں اس جواب میں انہوں نے یہ اشارہ کیا کہ ان کی رائے جنگ کی ہے یا ان کا مدعا یہ ہو کہ ہم جنگی لوگ ہیں رائے اور مشورہ ہمارا کام نہیں تو خود صاحبِ عقل و تدبیر ہے ہم بہرحال تیرا اِتّباع کریں گے جب بلقیس نے دیکھا کہ یہ لوگ جنگ کی طرف مائل ہیں تو اس نے انہیں ان کی رائے کی خطا پر آگاہ کیا اور جنگ کے نتائج سامنے کئے ۔
بولی بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں (ف۵۰) داخل ہوتے ہیں اسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو (ف۵۱) ذلیل اور ایسا ہی کرتے ہیں (ف۵۲)
She said, “Indeed the kings, when they enter a township, destroy it and disgrace its honourable people; and this is what they do.”
बोली बेशक बादशाह जब किसी बस्ती में दाख़िल होते हैं उसे तबाह कर देते हैं और उसके इज़्ज़त वालों को ज़लील और ऐसा ही करते हैं
Boli beshak badshah jab kisi basti mein daakhil hote hain use tabaah kar dete hain aur us ke izzat walon ko zaleel aur aisa hi karte hain
(ف50)اپنے زور و قوّت سے ۔ (ف51)قتل اور قید اور اہانت کے ساتھ ۔(ف52)یہی بادشاہوں کا طریقہ ہے بادشاہوں کی عادت کا جو اس کو علم تھا اس کی بنا پر اس نے یہ کہا اور مراد اس کی یہ تھی کہ جنگ مناسب نہیں ہے اس میں مُلک اور اہلِ مُلک کی تباہی و بربادی کا خطرہ ہے ۔ اس کے بعد اس نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور کہا ۔
اور میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر پلٹے (ف۵۳)
“And I shall send a present to them, then see what reply the envoys bring.”
और मैं उनकी तरफ़ एक तोफ़ा भेजने वाली हूँ फिर देखूँगी कि एल्ची क्या जवाब लेकर पलटे
Aur main un ki taraf ek tohfa bhejne wali hoon phir dekhungi ke elchi kya jawab lekar palte
(ف53)اس سے معلوم ہو جائے گا کہ وہ بادشاہ ہیں یا نبی کیونکہ بادشاہ عزّت و احترام کے ساتھ ہدیہ قبول کرتے ہیں اگر وہ بادشاہ ہیں تو ہدیہ قبول کر لیں گے اور اگر نبی ہیں تو ہدیہ قبول نہ کریں گے اور سوا اس کے کہ ہم ان کے دین کا اِتّباع کریں وہ اور کسی بات سے راضی نہ ہوں گے تو اس نے پانچ سو غلام ا ور پانچ سو باندیاں بہترین لباس اور زیوروں کے ساتھ آراستہ کر کے زرنگار زینوں پر سوار کر کے بھیجے اور پانچ سو اینٹیں سونے کی اور جواہر سے مرصّع تاج اور مشک و عنبر وغیرہ مع ایک خط کے اپنے قاصد کے ساتھ روانہ کئے ، ہُدہُد یہ دیکھ کر چل دیا اور اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس سب خبر پہنچائی آپ نے حکم دیا کہ سونے چاندی کی اینٹیں بنا کر نوفرسنگ کے میدان میں بچھا دی جائیں اور اس کے گرد سونے چاندی سے احاطہ کی بلند دیوار بنا دی جائے اور بر وبحر کے خوبصورت جانور اور جنّات کے بچّے میدان کے دائیں بائیں حاضر کئے جائیں ۔
پھر جب وہ (ف۵٤) سلیمان کے پاس آیا فرمایا کیا مال سے میری مدد کرتے ہو تو جو مجھے اللہ نے دیا (ف۵۵) وہ بہتر ہے اس سے جو تمہیں دیا (ف۵٦) بلکہ تمہیں اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو (ف۵۷)
So when the envoy came to Sulaiman, he said, “Are you helping me with wealth? What Allah has bestowed upon me is better than what He has given you; rather it is you who are delighted at your gift.”
फिर जब वो सुलैमान के पास आया फरमाया क्या माल से मेरी मदद करते हो तो जो मुझे अल्लाह ने दिया वो बेहतर है इससे जो तुम्हें दिया बल्कि तुम्हें अपने तोफ़ा पर खुश होते हो
Phir jab woh Sulaiman ke paas aaya farmaya kya maal se meri madad karte ho to jo mujhe Allah ne diya woh behtar hai is se jo tumhein diya balke tumhein apne tohfa par khush hote ho
(ف54)یعنی بلقیس کا پیامی مع اپنی جماعت کے ہدیہ لے کر ۔(ف55)یعنی دین اور نبوّت اور حکمت و مُلک ۔(ف56)مال و اسبابِ دنیا ۔(ف57)یعنی تم اہلِ مفاخرت ہو ، زخارفِ دنیا پر فخر کرتے ہو اور ایک دوسرے کے ہدیہ پر خوش ہوتے ہو ، مجھے نہ دنیا سے خوشی ہوتی ہے نہ اس کی حاجت ، اللہ تعالٰی نے مجھے اتنا کثیر عطا فرمایا کہ اوروں کو نہ دیا باوجود اس کے دین اور نبوّت سے مجھ کو مشرف کیا ۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے وفد کے امیر منضر بن عمرو سے فرمایا کہ یہ ہدیئے لے کر ۔
پلٹ جا ان کی طرف تو ضرور ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کی انھیں طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم ان کو اس شہر سے ذلیل کرکے نکال دیں گے یوں کہ وہ پست ہوں گے (ف۵۸)
“Go back to them – so we shall indeed come upon them with an army they cannot fight, and degrading them shall certainly drive them out from that city, so they will be humiliated.”
पलट जा उनकी तरफ़ तो जरूर हम उन पर वो لش्कर लाएँगे जिनकी उन्हें ताक़त न होगी और जरूर हम उनको उस शहर से ज़लील कर के निकाल देंगें यूँ कि वो पस्त होंगे
Palat ja un ki taraf to zaroor hum un par woh lashkar laayenge jin ki unhein taqat na hogi aur zaroor hum un ko is shehar se zaleel kar ke nikaal dein ge yoon ke woh past honge
(ف58)یعنی اگر وہ میرے پاس مسلمان ہو کر حاضر نہ ہوئے تو یہ انجام ہوگا ، جب قاصد ہدیئے لے کر بلقیس کے پاس واپس گئے اور تمام واقعات سنائے تو اس نے کہا بے شک وہ نبی ہیں اور ہمیں ان سے مقابلہ کی طاقت نہیں اور اس نے اپنا تخت اپنے سات محلوں میں سے سب سے پچھلے محل میں محفوظ کر کے تمام دروازے مقفّل کر دیئے اور ان پر پہرہ دار مقرر کر دیئے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کا انتظام کیا تاکہ دیکھے کہ آپ اس کو کیا حکم فرماتے ہیں اور وہ ایک لشکرِ گراں لے کر آپ کی طرف روانہ ہوئی جس میں بارہ ہزار نواب تھے اور ہر نواب کے ساتھ ہزاروں لشکری جب اتنے قریب پہنچ گئی کہ حضرت سے صرف ایک فرسنگ کا فاصلہ رہ گیا ۔
سلیمان نے فرمایا، اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں (ف۵۹)
Said Sulaiman, “O court members, which one of you can bring me her throne before they come humbled in my presence?”
सुलैमान ने फरमाया, ऐ दरबारियो! तुम में कौन है कि वो उसका तख़्त मेरे पास ले आए पहले कि वो मेरे हज़ूर मुती’ कर हाज़िर हों
Sulaiman ne farmaya, Ae darbariyo! Tum mein kaun hai ke woh us ka takht mere paas le aaye pehlay ke woh mere huzoor mutii’ ho kar haazir hon
(ف59)اس سے آپ کا مدّعا یہ تھا کہ اس کا تخت حاضر کر کے اس کو اللہ تعالٰی کے قدرت اور اپنی نبوّت پر دلالت کرنے والا معجِزہ دکھاویں ۔ بعضوں نے کہا ہے کہ آپ نے چاہا کہ اس کے آنے سے قبل اس کی وضع بدل دیں اور اس سے اس کی عقل کا امتحان فرمائیں کہ پہچان سکتی ہے یا نہیں ۔
ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں (ف٦۰) اور میں بیشک اس پر قوت والا امانتدار ہوں (ف٦۱)
An extremely evil jinn said, “I will bring it in your presence before you disperse the assembly; and I am indeed strong and trustworthy upon it.”
एक बड़ा ख़बिश जिन बोला कि मैं वो तख़्त हज़ूर में हाज़िर कर दूँगा पहले कि हज़ूर इज्लास बरखास्त करें और मैं बेशक उस पर क़ौवत वाला आमनदार हूँ
Ek bada khabees jinn bola ke main woh takht huzoor mein haazir kar doonga pehlay ke huzoor ijlaas barkhast karein aur main beshak us par quwat wala amanatdar hoon
(ف60)اور آپ کا اجلاس صبح سے دوپہر تک ہوتا تھا ۔(ف61)حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا میں اس سے جلد چاہتا ہوں ۔
اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا (ف٦۲) کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے (ف٦۳) پھر جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہ یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے (ف٦٤) اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بےپرواہ ہے سب خوبیوں والا،
Said one who had knowledge of the Book, “I will bring it in your majesty’s presence before you bat your eyelid”; then when he saw it set in his presence*, Sulaiman said, “This is of the favours of my Lord; so that He may test me whether I give thanks or am ungrateful; and whoever gives thanks only gives thanks for his own good; and whoever is ungrateful – then indeed my Lord is the Independent (Not Needing Anything), the Owner Of All Praise.” (A miracle which occurred through one of Allah’s friends.)
उसने arz की जिसके पास किताब का इल्म था कि मैं उसे हज़ूर में हाज़िर कर दूँगा एक पल मारने से पहले फिर जब सुलैमान ने तख़्त को अपने पास रखा देखा कि ये मेरे रब के फ़ज़ल से है, ताकि मुझे आज़माए कि मैं शुक़र करता हूँ या नाशुक्री, और जो शुक़र करे वो अपने भले को शुक़र करता है और जो नाशुक्री करे तो मेरा रब बे परवाह है सब खूबियों वाला,
Us ne arz ki jis ke paas kitaab ka ilm tha ke main use huzoor mein haazir kar doonga ek pal marne se pehle phir jab Sulaiman ne takht ko apne paas rakha dekha ke yeh mere Rab ke fazl se hai, taake mujhe aazmaaye ke main shukar karta hoon ya nashukri, aur jo shukar kare woh apne bhale ko shukar karta hai aur jo nashukri kare to mera Rab be parwaah hai sab khubiyon wala,
(ف62)یعنی آپ کے وزیر آصف بن برخیا جو اللہ تعالٰی کا اسمِ اعظم جانتے تھے ۔(ف63)حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا لاؤ حاضر کرو آصف نے عرض کیا آپ نبی ابنِ نبی ہیں اور جو رتبہ بارگاہِ الٰہی میں آپ کو حاصل ہے یہاں کس کو میسّر ہے آپ دعا کریں تو وہ آپ کے پاس ہی ہوگا آپ نے فرمایا تم سچ کہتے ہو اور دعا کی ، اسی وقت تخت زمین کے نیچے نیچے چل کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے قریب نمودار ہوا ۔(ف64)کہ اس شکر کا نفع خود اس شکر گزار کی طرف عائد ہوتا ہے ۔
سلیمان نے حکم دیا عورت کا تخت اس کے سامنے وضع بدل کر بیگانہ کردو کہ ہم دیکھیں کہ وہ راہ پاتی ہے یا ان میں ہوتی ہے جو ناواقف رہے،
Said Sulaiman, “Disguise her throne in front of her so that we may see whether she finds the way* or becomes of those who remain unknowing.” (*Recognises her throne.)
सुलैमान ने हुक़्म दिया औरत का तख़्त उसके सामने वज़ह बदल कर बेगाना कर दो कि हम देखें कि वो राह पाती है या उनमें होती है जो नाअफ़क़ रहे,
Sulaiman ne hukm diya aurat ka takht us ke samne wazah badal kar begaana kar do ke hum dekhen ke woh raah paati hai ya un mein hoti hai jo na-aafaq rahen,
پھر جب وہ آئی اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے، بولی گویا یہ وہی ہے (ف٦۵) اور ہم کو اس واقعہ سے پہلے خبر مل چکی (ف٦٦) اور ہم فرمانبردار ہوئے (ف٦۷)
Then when she came, it was said to her, “Is your throne like this? She said, “As if this is it! And we came to know about this incident beforehand and submit (to you).”
फिर जब वो आई उससे कहा गया क्या तेरा तख़्त ऐसा ही है, बोली गोया ये वही है और हम को इस वाक़िए से पहले खबर मिल चुकी और हम फ़रमाबदार हुए
Phir jab woh aayi us se kaha gaya kya tera takht aisa hi hai, boli goya yeh wohi hai aur hum ko is waqia se pehle khabar mil chuki aur hum farmaanbardaar hue
(ف65)اس جواب سے اس کا کمالِ عقل معلوم ہوا اب اس سے کہا گیا کہ یہ تیرا ہی تخت ہے دروازہ بند کرنے ، قفل لگانے ، پہرہ دار مقرر کرنے سے کیا فائدہ ہوا ، اس پر اس نے کہا ۔(ف66)اللہ تعالٰی کی قدرت اور آپ کی صحتِ نبوّت کی ہُدہُد کے واقعہ سے اور امیرِ وفد سے ۔(ف67)ہم نے آپ کی اطاعت اور آپ کی فرمانبرداری اختیار کی ۔
اس سے کہا گیا صحن میں آ (ف٦۹) پھر جب اس نے اسے دیکھا گہرا پانی سمجھی اور اپنی ساقیں کھولیں (ف۷۰) سلیمان نے فرمایا یہ تو ایک چکنا صحن ہے شیشوں جڑا (ف۷۱) عورت نے عرض کی اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا (ف۷۲) اور اب سلیمانے کے ساتھ اللہ کے حضور گردن رکھتی ہوں جو رب سارے جہان کا (ف۷۳)
It was said to her, “Enter the hall”; and when she saw it she thought it was a pool and bared her shins*; said Sulaiman, “This is only a smooth hall, affixed with glass”; she said, “My Lord, I have indeed wronged myself, and I now submit myself along with Sulaiman to Allah, the Lord Of The Creation.” (* In order to cross it)
उससे कहा गया साहन में आ फिर जब उसने उसे देखा गहरा पानी समझी और अपनी साक़ें खोलें सुलैमान ने फरमाया ये तो एक चकना साहन है शीशों जड़ा औरत ने arz की ऐ मेरे रब! मैंने अपनी जान पर ज़ुल्म किया और अब सुलैमान के साथ अल्लाह के हज़ूर गर्दन रखती हूँ जो रब सारे जहान का
Us se kaha gaya sahan mein aa phir jab us ne use dekha gehra paani samjhi aur apni saaqein kholen Sulaiman ne farmaya yeh to ek chakna sahan hai sheesho jura aurat ne arz ki Ae mere Rab! Maine apni jaan par zulm kiya aur ab Sulaiman ke saath Allah ke huzoor gardan rakhti hoon jo Rab saare jahan ka
(ف69)وہ صحن شفاف آبگینہ کا تھا اس کے نیچے آب جاری تھا ، اس میں مچھلیاں تھیں اور اس کے وسط میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت تھا جس پر آپ جلوہ افروز تھے ۔(ف70)تاکہ پانی میں چل کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو ۔(ف71)یہ پانی نہیں ہے ۔ یہ سن کر بلقیس نے اپنی ساقیں چُھپا لیں اور اس سے اس کو بہت تعجّب ہوا اور اس نے یقین کیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا مُلک و حکومت اللہ کی طرف سے ہے اور ان عجائبات سے اس نے اللہ تعالٰی کی توحید اور آپ کی نبوّت پر استدلال کیا ، اب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو اسلام کی دعوت دی ۔(ف72)کہ تیرے غیر کو پوجا آفتاب کی پرستش کی ۔(ف73)چنانچہ اس نے اخلاص کے ساتھ توحید و اسلام کو قبول کیا اور خالص اللہ تعالٰی کی عبادت اختیار کی ۔
اور بیشک ہم نے ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو بھیجا کہ اللہ کو پوجو (ف۷٤) تو جبھی وہ دو گروہ ہوگئے (ف۷۵) جھگڑا کرتے (ف۷٦)
And indeed We sent to the Thamud, their fellowman Saleh that, “Worship Allah”, thereupon they became two parties quarrelling.
और बेशक हमने समूद की तरफ़ उनके हम क़ौम सालेह को भीजा कि अल्लाह को पूजो तो तभी वो दो ग्रुप हो गए झगड़ा करते
Aur beshak hum ne Thamud ki taraf un ke hum qaum Saalih ko bheja ke Allah ko poojo to tabhi woh do group ho gaye jhagra karte
(ف74)اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو ۔(ف75)ایک مومن اور ایک کافِر ۔(ف76)ہر فریق اپنے ہی کو حق پر کہتا اور دونوں باہم جھگڑتے کافِر گروہ نے کہا اے صالح جس عذاب کا تم وعدہ دیتے ہو اس کو لاؤ اگر رسولوں میں سے ہو ۔
صالح نے فرمایا اے میری قوم! کیوں برائی کی جلدی کرتے ہو (ف۷۷) بھلائی سے پہلے (ف۷۸) اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے (ف۷۹) شاید تم پر رحم ہو (ف۸۰)
He said, “O my people, why do you hasten upon the evil before the good? Why do you not seek forgiveness from Allah? Perhaps there may be mercy upon you.”
सालेह ने फरमाया ऐ मेरी क़ौम! क्यों बुराई की जल्दी करते हो भलाई से पहले अल्लाह से बख़्शिश क्यों नहीं मांगते शायद तुम पर रहम हो
Saalih ne farmaya Ae meri qaum! Kyun burai ki jaldi karte ho bhalaai se pehle Allah se bakhshish kyun nahi maangte shayad tum par rahm ho
(ف77)یعنی بَلا و عذاب کی ۔(ف78)بھلائی سے مراد عافیّت و رحمت ہے ۔(ف79)عذاب نازِل ہونے سے پہلے کُفر سے توبہ کر کے ایمان لا کر ۔(ف80)اور دنیا میں عذاب نہ کیا جائے ۔
بولے ہم نے برُا شگون کیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے (ف۸۱) فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے (ف۸۲) بلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہو (ف۸۳)
They said, “We consider you an evil omen, and your companions”; he said, “Your evil omen is with Allah – in fact you people have fallen into trial.”
बोले हमने बुरा शगुन किया तुम से और तुम्हारे साथियों से फरमाया तुम्हारी बद शगुनी अल्लाह के पास है बल्कि तुम लोग फित्ने में पड़े हो
Bole hum ne bura shagun kiya tum se aur tumhare saathiyon se farmaya tumhari bad shiguni Allah ke paas hai balke tum log fitne mein pade ho
(ف81)حضرت صالح علیہ السلام جب مبعوث ہوئے اور قوم نے تکذیب کی اس کے باعث بارش رک گئی قحط ہو گیا ، لوگ بھوکے مرنے لگے اس کو انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کی تشریف آوری کی طرف نسبت کیا اور آپ کی آمد کو بدشگونی سمجھا ۔(ف82)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ بدشگونی جو تمہارے پاس آئی یہ تمہارے کُفر کے سبب اللہ تعالٰی کی طرف سے آئی ۔(ف83)آزمائش میں ڈالے گئے یا اپنے دین کے باعث عذاب میں مبتلا ہو ۔
اور شہر میں نو شخص تھے (ف۸٤) کہ زمین میں فساد کرتے اور سنوار نہ چاہتے،
And there were nine persons in the city who used to cause turmoil in the land and did not wish reform.
और शहर में नौ लोग थे कि ज़मीन में फ़साद करते और संवार न चाहते,
Aur shehar mein nau shaks the ke zameen mein fasad karte aur sanwaar na chahte,
(ف84)یعنی ثمود کے شہر میں جس کا نام حجر ہے ان کے شریف زادوں میں سے نو شخص تھے جن کا سردار قدار بن سالف تھا یہی لوگ ہیں جنہوں نے ناقہ کی کونچیں کاٹنے میں سعی کی تھی ۔
آپس میں اللہ کی قسمیں کھا کر بولے ہم ضرور رات کو چھاپا ماریں گے صالح اور اس کے گھر والوں پر (ف۸۵) پھر اس کے وارث سے (ف۸٦) کہیں گے اس گھر والوں کے قتل کے وقت ہم حاضر نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیں،
Swearing by Allah they said to one another, “We will indeed attack him and his family at night, and then say to his heir, ‘We were not present at the time of slaying of this household, and indeed we are truthful.’”
आपस में अल्लाह की क़समें खा कर बोले हम जरूर रात को छापा मारेंगे सालेह और उसके घर वालों पर फिर उसके वारिस से कहेंगे इस घर वालों के क़त्ल के वक़्त हम हाज़िर न थे और बेशक हम सच्चे हैं,
Aapas mein Allah ki qasmein kha kar bole hum zaroor raat ko chhapa maarenge Saalih aur us ke ghar walon par phir us ke waaris se kahenge is ghar walon ke qatl ke waqt hum haazir na the aur beshak hum sacche hain,
(ف85)یعنی رات کے وقت ان کو اور ان کی اولاد کو اور ا ن کے متّبِعین کو جو ان پر ایمان لائے ہیں قتل کر دیں گے ۔(ف86)جس کو ان کے خون کا بدلہ طلب کرنے کا حق ہو گا ۔
تو دیکھو کیسا انجام ہوا ان کے مکر کا ہم نے ہلاک کردیا انھیں (ف۸۸) اور ان کی ساری قوم کو (ف۸۹)
Therefore see what was the result of their scheming – We destroyed them and their entire nation.
तो देखो कैसा अंज़ाम हुआ उनके मकर का हमने हلاک कर दिया उन्हें और उनकी सारी क़ौम को
To dekho kaisa anjaam hua unke makr ka hum ne halaak kar diya unhein aur un ki sari qaum ko
(ف88)یعنی ان نو شخصوں کو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اس شب حضرت صالح علیہ السلام کے مکان کی حفاظت کے لئے فرشتے بھیجے تو وہ نو شخص ہتھیار باندھ کر تلواریں کھینچ کر حضرت صالح علیہ السلام کے دروازے پر آئے فرشتوں نے ان کے پتّھر مارے وہ پتّھر لگتے تھے اور مارنے والے نظر نہ آتے تھے اس طرح ان نو کو ہلاک کیا ۔(ف89)ہولناک آواز سے ۔
اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا بےحیائی پر آتے ہو (ف۹۲) اور تم سوجھ رہے ہو (ف۹۳)
And (remember) Lut when he said to his people, “What! You stoop to the shameful whereas you can see?”
और लूत को जब उसने अपनी क़ौम से कहा क्या बेहयाई पर आते हो और तुम सूझ रहे हो
Aur Lut ko jab us ne apni qaum se kaha kya be-hayaai par aate ho aur tum soojh rahe ho
(ف92)اس بے حیائی سے مراد ان کی بدکاری ہے ۔(ف93)یعنی اس فعل کی قباحت جانتے ہو یا یہ معنٰی ہیں کہ ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ بالاعلان بدفعلی کا ارتکاب کرتے ہو یا یہ کہ تم اپنے سے پہلے نافرمانی کرنے والوں کو تباہی اور ان کے عذاب کے آثار دیکھتے ہو پھر بھی اس بداعمالی میں مبتلا ہو ۔
کیا تم مردوں کے پاس مستی سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر (ف۹٤) بلکہ تم جاہل لوگ ہو (ف۹۵)
“What! You lustfully go towards men, leaving the women?! In fact, you are an ignorant people.”
क्या तुम मर्दों के पास मस्ती से जाते हो औरतें छोड़ कर बल्कि तुम जाहिल लोग हो
Kya tum mardon ke paas masti se jaate ho auratein chhod kar balke tum jaahil log ho
(ف94)باوجودیکہ مَردوں کے لئے عورتیں بنائی گئی ہیں مَردوں کے لئے مرد اور عورتوں کے لئے عورتیں نہیں بنائی گئیں لہذا یہ فعل حکمتِ الٰہی کی مخالفت ہے ۔(ف95)جو ایسا فعل کرتے ہو ۔
تم کہو سب خوبیاں اللہ کو (ف۹۹) اور سلام اس کے چنے ہوئے بندے پر (ف۱۰۰) کیا اللہ بہتر (ف۱۰۱) یا ان کے ساختہ شریک (ف۱۰۲)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “All praise is to Allah, and peace upon His chosen bondmen; is Allah better or what you ascribe as His partners?”
तुम कहो सब खूबियाँ अल्लाह को और सलाम उसके चुने हुए बंदे पर क्या अल्लाह बेहतर या उनके साख्ता शरीक
Tum kaho sab khubiyan Allah ko aur salaam us ke chune hue bande par kya Allah behtar ya un ke saakhta shareek
(ف99)یہ خِطاب ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کہ پچھلی امّتوں کے ہلاک پر اللہ تعالٰی کی حمد بجا لائیں ۔(ف100)یعنی انبیاء و مرسلین پر ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ چُنے ہوئے بندوں سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصحاب مراد ہیں ۔(ف101)خدا پرستوں کے لئے جو خاص اس کی عبادت کریں اور اس پر ایمان لائیں اور وہ انہیں عذاب و ہلاک سے بچائے ۔(ف102)یعنی بُت جو اپنے پرستاروں کے کچھ کام نہ آ سکیں تو جب ان میں کوئی بھلائی نہیں وہ کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے تو ان کو پوجنا اور معبود ماننا نہایت بے جا ہے اس کے بعد چند انواع ذکر فرمائے جاتے ہیں جو اللہ تعالٰی کی وحدانیّت اور اس کے کمالِ قدرت پر دلالت کرتے ہیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page