اور تمہاری پیدائش میں (ف۳) اور جو جو جانور وہ پھیلاتا ہے ان میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے،
(ف3)یعنی تمہاری پیدائش میں بھی اس کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں کہ نطفہ کو خون بناتا ہے ، خون کو بستہ کرتا ہے ، خونِ بستہ کو گوشت پارہ یہاں تک کہ پورا انسان بنادیتا ہے ۔
اور رات اور دن کی تبدیلیوں میں (ف٤) اور اس میں کہ اللہ نے آسمان سے روزی کا سبب مینہ اتارا تو اس سے زمین کو اس کے مَرے پیچھے زندہ کیا اور ہواؤں کی گردش میں (ف۵) نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے،
(ف4)کہ کبھی گٹھتے ہیں ،کبھی بڑھتے ہیں اور ایک جاتا ہے ، دوسرا آتا ہے ۔(ف5)کہ کبھی گرم چلتی ، کبھی سرد ، کبھی جنوبی ، کبھی شمالی ، کبھی شرقی ، کبھی غربی ۔
یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم تم پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی بات پر ایمان لائیں گے،
وَيۡلٌ لِّـكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍۙ ﴿7﴾
خرابی ہے ہر بڑے بہتان ہائے گنہگار کے لیے (ف٦)
(ف6)یعنی نضر بن حارث کے لئے ۔ شانِ نزول :کہا گیا ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازل ہوئی جو عجم کے قصّے کہانیاں سنا کر لوگوں کو قرآنِ پاک سننے سے روکتا تھا اور یہ آیت ہر ایسے شخص کے لئے عام ہے جو دِین کو ضرر پہنچائے اور ایمان لانے اور قرآن سننے سے تکبر کرے ۔
ان کے پیچھے جہنم ہے (ف۹) اور انہیں کچھ کام نہ دے گا ان کا کمایا ہوا (ف۱۰) اور نہ وہ جو اللہ کے سوا حمایتی ٹھہرا رکھے تھے (ف۱۱) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،
(ف9)یعنی بعدِ موت ان کا انجام کار اور مآل دوزخ ہے ۔(ف10)مال جس پر وہ بہت نازاں ہیں ۔(ف11)یعنی بت جن کو پوجا کرتے تھے ۔
ایمان والوں سے فرماؤ درگزریں ان سے جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے (ف۱۷) تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے (ف۱۸) (
(ف17)جو دن کہ اس نے مومنین کی مدد کے لئے مقرر فرمائے ، یا اللہ تعالٰی کے دنوں سے وہ وقائع مراد ہیں جن میں وہ اپنے دشمنوں کو گرفتار کرتا ہے ۔ بہرحال ان امید نہ رکھنے والوں سے مراد کفّار ہیں اور معنٰی یہ ہیں کہ کفّار سے جو ایذا پہنچے اور ان کے کلمات جو تکلیف پہنچائیں ، مسلمان ان سے در گزر کریں ، منازعت نہ کریں وَقِیْلَ اِنَّ الاٰیَۃَ مَنْسُوْخۃبِآیَۃِ الْقِتَالِ ۔شانِ نزول : اس آیت کی شانِ نزول میں کئی قول ہیں ایک یہ کہ غزوہ بنی مصطلق میں مسلمان بیرِ مُریسیع پر اترے یہ ایک کنواں تھا عبداللہ بن اُ بَیْ منافق نے اپنے غلام کو پانی کے لئے بھیجا وہ دیر میں آیا تو اس سے سبب دریافت کیا اس نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کنوئیں کے کنارے پر بیٹھے تھے جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مشکیں نہ بھر گئیں اس وقت تک انہوں نے کسی کو پانی بھرنے نہ دیا یہ سن کر اس بدبخت نے ان حضرات کی شان میں گستاخانہ کلمے کہے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ تلوار لے کر تیار ہوئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس تقدیر پر آیت مدنی ہوگی ۔ مقاتل کا قول ہے کہ قبیلہ بنی غفّار کے ایک شخص نے مکّہ مکرّمہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو گالی دی تو آپ نے اس کو پکڑنے کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ جب آیت مَنْ ذَالَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا نازل ہوئی تو فِنْحَاص یہودی نے کہا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا رب محتاج ہوگیا (معاذ اللہ تعالٰی) اس کو سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تلوار کھینچی اور اس کی تلاش میں نکلے حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں واپس بلوالیا ۔(ف18)یعنی ان کے اعمال کا ۔
اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ف۲۱) اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی (ف۲۲) اور ہم نے انہیں ستھری روزیاں دیں (ف۲۳) اور انہیں ان کے زمانے والوں پر فضیلت بخشی،
(ف21)یعنی توریت ۔(ف22)ان میں بکثرت انبیاء پیدا کرکے ۔(ف23)حلال کشائش کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے اموال و دیار کا مالک کرکے اور مَنْ و سَلْوٰی نازل فرما کر ۔
اور ہم نے انہیں اس کام کی (ف۲٤) روشن دلیلیں دیں تو انہوں نے اختلاف نہ کیا (ف۲۵) مگر بعد اس کے کہ علم ان کے پاس آچکا (ف۲٦) آپس کے حسد سے (ف۲۷) بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے یں،
(ف24)یعنی امرِ دِین اور بیانِ حلال و حرام اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مبعوث ہونے کی ۔(ف25)حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت میں ۔(ف26)اور علم زوالِ اختلاف کا سبب ہوتا ہے اور یہاں ان لوگوں کے لئے اختلاف کا سبب ہوا ، اس کا باعث یہ ہے کہ علم ان کا مقصود نہ تھا بلکہ مقصود ان کا جاہ و ریاست کی طلب تھی ، اسی لئے انہوں نے اختلاف کیا ۔(ف27)کہ انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جلوہ افروزی کے بعد اپنے جاہ و ریاست کے اندیشہ سے آپ کے ساتھ حسد اور دشمنی کی اور کافر ہوگئے ۔
بیشک وہ اللہ کے مقابل تمہیں کچھ کام نہ دیں گے، اور بیشک ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں (ف۳۱) اور ڈر والوں کا دوست اللہ (ف۳۲)(
(ف31)صرف دنیا میں ، آخرت میں ان کا کوئی دوست نہیں ۔(ف32)دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، ڈر والوں سے مراد مومنین ہیں اور آگے قرآنِ پاک کی نسبت ارشاد ہوتا ہے ۔
کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا (ف۳٤) یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کی ان کی زندگی اور موت برابر ہوجائے (ف۳۵) کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں،
(ف34)کفر و معاصی کا ۔(ف35)یعنی ایمانداروں اور کافروں کی موت و حیات برابر ہوجائے ایسا ہر گز نہیں ہوگا کیونکہ ایماندار زندگی میں طاعت پر قائم رہے اور کافر بدیوں میں ڈوبے رہے تو ان دونوں کی زندگی برابر نہ ہوئی ، ایسے ہی موت بھی یکساں نہیں کہ مومن کی موت بشارت و رحمت و کرامت پر ہوتی ہے اور کافر کی رحمت سے مایوسی اور ندامت پر ۔ شانِ نزول : مشرکینِ مکّہ کی ایک جماعت نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر تمہاری بات حق ہو اور مرنے کے بعد اٹھنا ہو تو بھی ہمیں ہی افضل رہیں گے جیسا کہ دنیا میں ہم تم سے بہتر رہے ، ان کی رد میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
اور اللہ نے آسمان اور (ف۳٦) زمین کو حق کے ساتھ بنایا (ف۳۷) اور اس لیے کہ ہر جان اپنے کیے کا بدلہ پائے (ف۳۸) اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
(ف36)مخالف سرکش مخلص فرمانبردار کے برابر کیسے ہوسکتا ہے ؟ مومنین جَنّاتِ عالیات میں عزّت و کرامت اور عیش و راحت پائیں گے اور کفّار اسفلُ السافلین میں ذلّت و اہانت کے ساتھ سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔(ف37)کہ اس کی قدرت ووحدانیّت کی دلیل ہو ۔(ف38)نیک نیکی کا اور بدبدی کا ، اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس عالَم کی پیدائش سے اظہارِ عدل و رحمت مقصود ہے اور یہ پوری طرح قیامت ہی میں ہوسکتا ہے کہ اہلِ حق اور اہلِ باطل میں امتیاز کامل ہو ، مومن مخلص درجاتِ جنّت میں ہوں اور کافر نافرمان درکاتِ جہنّم میں ۔
بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرالیا (ف۳۹) اور اللہ نے اسے با وصف علم کے گمراہ کیا (ف٤۰) اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا (ف٤۱) تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے، تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
(ف39)اور اپنی خواہش کا تابع ہوگیا ، جسے نفس نے چاہا پوجنے لگا ، مشرکین کا یہی حال تھا کہ وہ پتّھر اور سونے اور چاندی وغیرہ کو پوجتے تھے ، جب کوئی چیز انہیں پہلی چیز سے اچھی معلوم ہوتی تھی تو پہلی کو توڑ دیتے پھینک دیتے ، دوسروں کو پوجنے لگتے ۔(ف40)کہ اس گمراہ نے حق کو جان پہچان کر بے راہی اختیار کی ۔ مفسّرین نے اس کے یہ معنٰی بھی بیان کئے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اس کے انجام کار اور اس کے شقی ہونے کو جانتے ہوئے اسے گمراہ کیا یعنی اللہ تعالٰی پہلے سے جانتا تھا کہ یہ اپنے اختیار سے راہِ حق سے منحرف ہوگا اور گمراہی اختیار کرے گا ۔(ف41)تو اس نے ہدایت و موعظت کو نہ سنا اور نہ سمجھا اور راہِ حق کو نہ دیکھا ۔
اور بولے (ف٤۲) وہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی (ف٤۳) مرتے ہیں اور جیتے ہیں (ف٤٤) اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ (ف٤۵) اور انہیں اس کا علم نہیں (ف٤٦) وہ تو نرے گمان دوڑاتے ہیں (ف٤۷)
(ف42)منکِرینِ بعث ۔ (ف43)یعنی اس زندگی کے علاوہ اور کوئی زندگی نہیں ۔(ف44)یعنی بعضے مرتے ہیں اور بعضے پیدا ہوتے ہیں ۔(ف45)یعنی روز و شب کا دورہ وہ اسی کو مؤثر اعتقاد کرتے تھے اور مَلَک الموت کا اور بحکمِ الٰہی روحیں قبض کئے جانے کا انکار کرتے تھے اور ہر ایک حادثہ کو دہر اور زمانہ کی طرف منسوب کرتے تھے اور اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف46)یعنی وہ یہ بات بے علمی سے کہتے ہیں ۔(ف47)خلافِ واقع ۔مسئلہ : حوادث کو زمانہ کی طرف نسبت کرنا اور ناگوار حوادث رونما ہونے سے زمانہ کو بُرا کہنا ممنوع ہے ، احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے ۔
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں (ف٤۸) تو بس ان کی حجت یہی ہوتی ہے کہ کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کو لے آؤ (ف٤۹) اگر تم سچے ہو (ف۵۰)
(ف48)یعنی قرآنِ پاک کی آیتیں جن میں اللہ تعالٰی کے بعث بعد الموت پر قادر ہونے کی دلیلیں مذکور ہیں ، جب کفّار ان کے جواب سے عاجز ہوتے ہیں ۔(ف49)زندہ کرکے ۔(ف50)اس بات میں کہ مردے زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے ۔
تم فرماؤ اللہ تمہیں جِلاتا ہے (ف۵۱) پھر تم کو مارے گا (ف۵۲) پھر تم سب کو اکٹھا کریگا (ف۵۳) قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں لیکن بہت آدمی نہیں جانتے (ف۵٤)
(ف51)دنیا میں بعد اس کے کہ تم بے جان نطفہ تھے ۔(ف52)تمہاری عمریں پوری ہونے کے وقت ۔(ف53)زندہ کرکے تو جو پروردگار ایسی قدرت والا ہے وہ تمہارے باپ دادا کے زندہ کرنے پر بھی بالیقین قادر ہے ، وہ سب کو زندہ کرے گا ۔(ف54)اس کو کہ اللہ تعالٰی مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے اور ان کا نہ جاننا دلائل کی طرف ملتفت نہ ہونے اور غور نہ کرنے کے باعث ہے ۔
اور جب کہا جاتا بیشک اللہ کا وعدہ (ف٦۱) سچا ہے اور قیامت میں شک نہیں (ف٦۲) تم کہتے ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں (ف٦۳) یقین نہیں،
(ف61)مُردوں کو زندہ کرنے کا ۔(ف62)وہ ضرور آئے گی تو ۔(ف63)قیامت کے آنے کا ۔
اور فرمایا جائے گا آج ہم تمہیں چھوڑ دیں گے (ف٦٦) جیسے تم اپنے اس دن کے ملنے کو بھولے ہوئے تھے (ف٦۷) اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں (ف٦۸)
(ف66)عذابِ دوزخ میں ۔(ف67)کہ ایمان و طاعت چھوڑ بیٹھے ۔(ف68)جو تمہیں اس عذاب سے بچاسکے ۔
یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا ٹھٹھا (مذاق) بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں فریب دیا (ف٦۹) تو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں اور نہ ان سے کوئی منانا چاہے (ف۷۰)
(ف69)کہ تم اس کے مفتوں ہوگئے اور تم نے بعث و حساب کا انکار کردیا ۔(ف70)یعنی اب ان سے یہ بھی مطلوب نہیں کہ وہ توبہ کرکے اور ایمان و طاعت اختیار کرکے اپنے رب کو راضی کریں کیونکہ اس روز کوئی اور توبہ قبول نہیں ۔