جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا (ف۲) اللہ نے ان کے عمل برباد کیے (ف۳)
(ف2)یعنی جو لوگ خود اسلام میں داخل نہ ہوئے اور دوسروں کو انہوں نے اسلام سے روکا ۔(ف3)جو کچھ بھی انہوں نے کئے ہوں خواہ بھوکوں کو کھلایا ہو یا اسیروں کو چھڑایا ہو یا غریبوں کی مد د کی ہو یا مسجدِ حرام یعنی خانۂِ کعبہ کی عمارت میں کوئی خدمت کی ہو سب برباد ہوئی ، آخرت میں اس کا کچھ ثواب نہیں ۔ ضحّاک کا قول ہے کہ مراد یہ ہے کہ کفّار نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے جو مَکر سوچے تھے اور حیلے بنائے تھے اللہ تعالٰی نے ان کے وہ تمام کام باطل کردیئے ۔
اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا گیا (ف٤) اور وہی ان کے رب کے پاس سے حق ہے اللہ نے ان کی برائیاں اتار دیں اور ان کی حالتیں سنوار دیں (ف۵)
(ف4)یعنی قرآنِ پاک ۔ (ف5)امورِ دِین میں توفیق عطا فرما کر اور دنیا میں ان کے دشمنوں کے مقابل ان کی مدد فرما کر ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ان کے ایّامِ حیات میں ان کی حفاظت فرما کر کہ ان سے عصیاں واقع نہ ہو ۔
یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے (ف٦) اللہ لوگوں سے ان کے احوال یونہی بیان فرماتا ہے (ف۷)
(ف6)یعنی قران شریف ۔(ف7)یعنی فریقین کے کہ کافروں کے عمل اکارت اور ایمانداروں کی لغزشیں بھی مغفور ۔
تو جب کافروں سے تمہارا سامناہو (ف۸) تو گردنیں مارنا ہے (ف۹) یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کرلو (ف۱۰) تو مضبوط باندھو، پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو (ف۱۱) یہاں تک کہ لڑائیاپنابوجھ رکھ دے (ف۱۲) بات یہ ہے اور اللہ چاہتا تو آپ ہی ان سے بدلہ لیتا (ف۱۳) مگر اس لئے (ف۱٤) تم میں ایک کو دوسرے سے جانچے (ف۱۵) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا (ف۱٦)
(ف8)یعنی جنگ ہو ۔(ف9)یعنی ان کو قتل کرو ۔(ف10)یعنی کثرت سے قتل کر چکو اور باقی ماندوں کو قید کرنے کا موقع آجائے ۔(ف11)دونوں باتوں کا اختیار ہے ۔ مسئلہ : مشرکین کے اسیروں کا حکم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا مملوک بنالیا جائے اور احساناً چھوڑنا اور فدیہ لینا ، جو اس آیت میں مذکور ہے وہ سورۂِ برأت کی آیت ' اُقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ ' سے منسوخ ہوگیا ۔(ف12)یعنی جنگ ختم ہوجائے اس طرح کہ مشرکین اطاعت قبول کریں اور اسلام لائیں ۔(ف13)بغیر قتال کے انہیں زمین میں دھنسا کر یا ان پر پتّھر برسا کر یا اور کسی طرح ۔(ف14)تمہیں قتال کا حکم دیا ۔(ف15)قتال میں تاکہ مسلمان مقتول ثواب پائیں اور کافر عذاب ۔(ف16)ان کے اعمال کا ثواب پورا پورا دے گا ۔شانِ نزول : یہ آیت روزِ اُحد نازل ہوئی جب کہ مسلمان زیادہ مقتول و مجروح ہوئے ۔
سَيَهۡدِيۡهِمۡ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡۚ ﴿5﴾
جلد انہیں راہ دے گا (ف۱۷) اور ان کا کام بنادے گا ،
(ف17)درجاتِ عالیات کی طرف ۔
وَيُدۡخِلُهُمُ الۡجَـنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ ﴿6﴾
اور انہیں جنت میں لے جائے گا انہیں اس کی پہچان کرادی ہے (ف۱۸)
(ف18)وہ منازلِ جنّت میں نو وارد ، نا آشنا کی طرح نہ پہنچیں گے جو کسی مقام پر جاتا ہے تو اس کو ہر چیز کے دریافت کرنے کی حاجت درپیش ہوتی ہے بلکہ وہ واقف کارانہ داخل ہوں گے ، اپنے منازل اور مساکن پہچانتے ہوں گے ، اپنی زوجہ اور خدّام کو جانتے ہوں گے ، ہر چیز کا موقع ان کے علم میں ہوگا گویا کہ وہ ہمیشہ سے یہیں کے رہنے بسنے والے ہیں ۔
تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا (ف۲۲) کیسا انجام ہوا، اللہ نے ان پر تباہی ڈالی (ف۲۳) اور ان کافروں کے لیے بھی ویسی کتنی ہی ہیں (ف۲٤)
(ف22)یعنی پچھلی امّتوں کا ۔(ف23)کہ انہیں اور ان کی اولاد اور ان کے اموال کو سب کو ہلاک کردیا۔(ف24)یعنی اگر یہ کافر سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان نہ لائیں توان کے لئے پہلے جیسی بہت سی تباہیاں ہیں ۔
بیشک اللہ داخل فرمائے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں، اور کافر برتتے ہیں اور کھاتے ہیں (ف۲٦) جیسے چوپائے کھائیں (ف۲۷) اور آگ میں ان کا ٹھکانا ہے،
(ف26)دنیا میں چند روز غفلت کے ساتھ اپنے انجام و مآل کو فراموش کئے ہوئے ۔(ف27)اور انہیں تمیز نہ ہو کہ وہ اس کھانے کے بعد وہ ذبح کئے جائیں گے ، یہی حال کفّار کا ہے جو غفلت کے ساتھ دنیا طلبی میں مشغول ہیں اور آنے والی مصیبتوں کا خیال بھی نہیں کرتے ۔
اور کتنے ہی شہر کہ اس شہر سے (ف۲۸) قوت میں زیادہ تھے جس نے تمہیں تمہارے شہر سے باہر کیا، ہم نے انہیں ہلاک فرمایا تو ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۲۹)
(ف28)یعنی مکّہ مکرّمہ والوں سے ۔(ف29)جو عذاب و ہلاک سے بچا سکے ۔ شانِ نزول : جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مکّہ مکرّمہ سے ہجرت کی اور غار کی طرف تشریف لے چلے تومکّہ مکرّمہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اللہ تعالٰی کے شہروں میں تو اللہ تعالٰی کو بہت پیارا ہے اور اللہ تعالٰی کے شہروں میں تو مجھے بہت پیارا ہے ، اگر مشرکین مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا ، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
تو کیا جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو (ف۳۰) اس (ف۳۱) جیسا ہوگا جس کے برے عمل اسے بھلے دکھائے گئے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے (ف۳۲)
(ف30)اور وہ مومنین ہیں کہ وہ قرآنِ معجز اور معجزاتِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی برہانِ قوی پر یقینِ کامل اور جزمِ صادق رکھتے ہیں ۔(ف31)اس کافر مشرک ۔(ف32)اور انہوں نے کفرو بت پرستی اختیار کی ، ہرگز وہ مومن اور یہ کافر ایک سے نہیں ہوسکتے اور ان دونوں میں کچھ بھی نسبت نہیں ۔
احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے ہے، اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے (ف۳۳) اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا (ف۳٤) اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے (ف۳۵) اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا (ف۳٦) اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور اپنے رب کی مغفرت (ف۳۷) کیا ایسے چین والے ان کی برابر ہوجائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے،
(ف33)یعنی ایسا لطیف کہ نہ سڑے ، نہ اس کی بوبدلے ، نہ اس کے ذائقہ میں فرق آئے ۔(ف34)بخلاف دنیا کے دودھ کے کہ خراب ہوجاتے ہیں ۔(ف35)خالص لذّت ہی لذّت ، نہ دنیا کی شرابوں کی طرح اس کا ذائقہ خراب ، نہ اس میں میل کچیل ، نہ خراب چیزوں کی آمیزش ، نہ وہ سڑ کر بنی ، نہ اس کے پینے سے عقل زائل ہو ، نہ سر چکرائے ، نہ خُمار آئے ، نہ دردِ سرپیدا ہو ۔ یہ سب آفتیں دنیا ہی کی شراب میں ہیں ، وہاں کی شراب ان سب عیوب سے پاک ، نہایت لذیذ ، مُفرِّ ح ، خوش گوار ۔(ف36)پیدائش میں یعنی صاف ہی پیدا کیا گیا ، دنیا کے شہد کی طرح نہیں جو مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے اور اس میں موم وغیرہ کی آمیزش ہوتی ہے ۔ (ف37)کہ وہ رب ان پر احسان فرماتا ہے اور ان سے راضی ہے اور ان پر سے تمام تکلیفی احکام اٹھالئے گئے ہیں جو چاہیں کھائیں ، جتنا چاہیں کھائیں ، نہ حساب ، نہ عقاب ۔(ف38)کفّار ۔
اور ان (ف۳۸) میں سے بعض تمہارے ارشاد سنتے ہیں (ف۳۹) یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں (ف٤۰) علم والوں سے کہتے ہیں (ف٤۱) ابھی انہوں نے کیا فرمایا (ف٤۲) یہ ہیں وہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی (ف٤۳) اور اپنی خواہشوں کے تابع ہوئے (ف٤۲)
(ف39)خطبہ وغیرہ میں نہایت بے التفاتی کے ساتھ ۔(ف40)یہ منافق لوگ تو ۔(ف41)یعنی علماءِ صحابہ سے ، مثل ابنِ مسعود و ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم کے مسخّرگی کے طور پر ۔(ف42)یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ۔ اللہ تعاٍلٰی ان منافقوں کے حق میں فرماتا ہے ۔(ف43)یعنی جب انہوں نے حق کا اتباع ترک کیا تو اللہ تعالٰی نے ان کے قلوب کو مردہ کردیا۔(ف44)اور انہوں نے نفاق اختیار کیا ۔
اور جنہوں نے راہ پائی (ف٤۵) اللہ نے ان کی ہدایت (ف٤٦) اور زیادہ فرمائی اور ان کی پرہیزگاری انہیں عطا فرمائی (ف٤۷)
(ف45)یعنی وہ اہلِ ایمان جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کلام غور سے سنا اور اس سے نفع اٹھایا ۔(ف46)یعنی بصیرت و علم و شرحِ صدر ۔(ف47)یعنی پرہیزگاری کی توفیق دی اور اس پر مدد فرمائی یا یہ معنٰی ہیں کہ انہیں پرہیزگاری کی جزا دی اور اس کا ثواب عطا فرمایا ۔
تو کاہے کے انتظار میں ہیں (ف٤۸) مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے، کہ اس کی علامتیں تو آہی چکی ہیں (ف٤۹) پھر جب آجائے گی تو کہاں وہ اور کہاں ان کا سمجھنا،
(ف48)کفّار و منافقین ۔(ف49)جن میں سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثتِ مبارکہ اور قمر کا شق ہونا ہے ۔
تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو (ف۵۰) اور اللہ جانتا ہے دن کو تمہارا پھرنا (ف۵۱) اور رات کو تمہارا آرام لینا (ف۵۲)
(ف50)یہ اس امّت پر اللہ تعالٰی کا اکرام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرمایا کہ ان کے لئے مغفرت طلب فرمائیں اور آپ شفیع ، مقبول الشفاعت ہیں ۔ اس کے بعد مومنین وغیرِ مومنین سب سے عام خطاب ہے ۔(ف51)اپنے اشغال میں اور معاش کے کاموں میں ۔(ف52)یعنی وہ تمہارے تمام احوال کا جاننے والا ہے ، اس سے کچھ بھی مخفی نہیں ۔
اور مسلمان کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نہ اتاری گئی (ف۵۳) پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی (ف۵٤) اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۵۵) کہ تمہاری طرف (ف۵٦) اس کا دیکھنا دیکھتے ہیں جس پر مُرونی چھائی ہو، تو ان کے حق میں بہتر یہ تھا کہ فرمانبرداری کرتے (ف۵۷)
(ف53)شانِ نزول : مومنین کو جہاد فی سبیل اللہ تعالٰی کا بہت ہی شوق تھا ، وہ کہتے تھے کہ ایسی سورت کیوں نہیں اترتی جس میں جہاد کا حکم ہوتا کہ ہم جہاد کریں ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف54)جس میں صاف غیر محتمل بیان ہو اور اس کا کوئی حکم منسوخ ہونے والا نہ ہو ۔(ف55)یعنی منافقین کو ۔(ف56)پریشان ہو کر ۔(ف57)اللہ تعالٰی اور رسول کی ۔
بیشک وہ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے (ف٦۵) بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی (ف٦٦) شیطان نے انہیں فریب دیا (ف٦۷) اور انہیں دنیا میں مدتوں رہنے کی امید دلائی (ف٦۸)
(ف65)نفاق سے ۔(ف66)اور طریقِ ہدایت واضح ہوچکا تھا ۔ قتادہ نے کہا کہ یہ کفّارِ اہلِ کتاب کا حال ہے جنہوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پہچانا اور آپ کی نعت و صفت اپنی کتاب میں دیکھی ، پھر باوجود جاننے پہچاننے کے کفر اختیار کیا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما اور ضحّاک وسدی کا قول ہے کہ اس سے منافق مراد ہیں جو ایمان لا کر کفر کی طرف پھر گئے ۔(ف67)اور برائیوں کو ان کی نظر میں ایسا مزیّن کیا کہ انہیں اچھا سمجھے ۔(ف68)کہ ابھی بہت عمر پڑی ہے ، خوب دنیا کے مزے اٹھا لو اور ان پر شیطان کا فریب چل گیا ۔
یہ اس لیے کہ انہوں نے (ف٦۹) کہا ان لوگوں سے (ف۷۰) جنہیں اللہ کا اتارا ہوا (ف۷۱) ناگوار ہے ایک کام میں ہم تمہاری مانیں گے (ف۷۲) اور اللہ ان کی چھپی ہوئی جانتا ہے،
(ف69)یعنی اہلِ کتاب یا منافقین نے پوشیدہ طور پر ۔(ف70)یعنی مشرکین سے ۔(ف71)قرآن اور احکامِ دِین ۔ (ف72)یعنی سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عداوت اور حضور کے خلاف انکے دشموں کی امداد کرنے میں اور لوگوں کو جہاد سے روکنے میں ۔
یہ اس لیے کہ وہ ایسی بات کے تابع ہوئے جس میں اللہ کی ناراضی ہے (ف۷٤) اور اس کی خوشی (ف۷۵) انہیں گوارا نہ ہوئی تو اس نے ان کے اعمال اَکارت کردیے،
(ف74)اور وہ بات رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی معیّت میں جہاد کو جانے سے روکنا اور کافروں کی مدد کرنا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ وہ بات توریت کے ان مضامین کا چُھپانا ہے جن میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نعت شریف ہے ۔(ف75)ایمان وطاعت اور مسلمانوں کی مدد اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ جہاد میں حاضر ہونا ۔
اور اگر ہم چاہیں تو تمہیں ان کو دکھا دیں کہ تم ان کی صورت سے پہچان لو (ف۷۸) اور ضرور تم انہیں بات کے اسلوب میں پہچان لو گے (ف۷۹) اور اللہ تمہارے عمل جانتا ہے (ف۸۰)
(ف78)حدیث : حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کوئی منافق مخفی نہ رہا ۔ آپ سب کو ان کی صورتوں سے پہچانتے تھے ۔(ف79)اور وہ اپنے ضمیر کا حال ان سے چُھپا نہ سکیں گے ، چنانچہ اس کے بعد جو منافق لب ہلاتا تھا حضور اس کے نفاق کو اس کی بات سے اور اس کے فحوائے کلام سے پہچان لیتے تھے ۔ فائدہ : اللہ تعالٰی نے حضور کو بہت سے وجوہِ علم عطا فرمائے ، ان میں سے صورت سے پہچاننا بھی ہے اور بات سے پہچاننا بھی ۔(ف80)یعنی اپنے بندوں کے تمام اعمال ہر ایک کو اس کے لائق جزا دے گا ۔
بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے (ف۸٤) روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ہدایت ان پر ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہچائیں گے، اور بہت جلد اللہ ان کا کیا دھرا اَکارت کردے گا (ف۸۵)
(ف84)اس کے بندوں کو ۔(ف85)اور وہ صدقہ وغیرہ کسی چیز کا ثواب نہ پائیں گے کیونکہ جو کام اللہ تعالٰی کے لئے نہ ہو اس کا ثواب ہی کیا ؟ شانِ نزول : جنگِ بدر کے لئے جب قریش نکلے تو وہ سال قحط کا تھا ، لشکر کا کھانا قریش کے دولتمندوں نے نوبت بنوبت اپنے ذمّہ لے لیا تھا ، مکّہ مکرّمہ سے نکل کر سب سے پہلا کھانا ابوجہل کی طرف سے تھا ، جس کے لئے اس نے دس اونٹ ذبح کئے تھے ، پھر صفوان نے مقامِ عُسفان میں نو۹اونٹ ، پھر سہل نے مقامِ قدید میں دس ، یہاں سے وہ لوگ سمندر کی طرف پھر گئے اور رستہ گم ہوگیا ، ایک دن ٹھہرے ، وہاں شیبہ کی طرف سے کھانا ہوا ، نو اونٹ ذبح ہوئے ، پھر مقامِ ابواء میں پہنچے ، وہاں مُقَیَّسْ جمحی نے نو اونٹ ذبح کئے ۔ حضرت عباس (رضی اللہ تعالٰی عنہ )کی طرف سے بھی دعوت ہوئی ، اس وقت تک آپ مشرف بہ اسلام نہ ہوئے تھے ، آپ کی طرف سے دس اونٹ ذبح کئے گئے ، پھر حارث کی طرف سے نو ، اور ابوالبختری کی طرف سے بدر کے چشمے پر دس اونٹ ۔ ان کھانا دینے والوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو (ف۸٦) اور اپنے عمل باطل نہ کرو (ف۸۷)
(ف86)یعنی ایمان و طاعت پر قائم رہو ۔(ف87)ریا یا نفاق سے ۔ شانِ نزول : بعض لوگوں کا خیال تھا کہ جیسے شرک کی وجہ سے تمام نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں اسی طرح ایمان کی برکت سے کوئی گناہ ضرر نہیں کرتا ۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی گئی اور بتایا گیا کہ مومن کے لئے اطاعتِ خدا اور رسول ضروری ہے گناہوں سے بچنا لازم ہے ۔مسئلہ : اس آیت میں عمل کے باطل کرنے کی ممانعت فرمائی گئی تو آدمی جو عمل شروع کرے خواہ وہ نفل ہی ہو نماز یا روزہ یا اور کوئی ، لازم ہے کہ اس کو باطل نہ کرے ۔
بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر کافر ہی مرگئے تو اللہ ہرگز انہیں نہ بخشے گا (ف۸۸)
(ف88)شانِ نزول : یہ آیت اہلِ قلیب کے حق میں نازل ہوئی ۔ قلیب بدر میں ایک کنواں ہے جس میں مقتول کفّار ڈالے گئے تھے ابوجہل اور اس کے ساتھی ، اور حکم آیت کا ہرکافر کے لئے عام ہے جو کفر پر مرا ہو ، اللہ تعالٰی اس کی مغفرت نہ فرمائے گا ، اس کے بعد اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خطاب فرمایا جاتا ہے ٍاور حکم میں تمام مسلمان شامل ہیں ۔
تو تم سستی نہ کرو (ف۸۹) اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ (ف۹۰) اور تم ہی غالب آؤ گے، اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا (ف۹۱)
(ف89)یعنی دشمن کے مقابل میں کمزوری نہ دکھاؤ ۔(ف90)کفّار کو ۔ قرطبی میں ہے کہ اس آیت کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے ، بعض نے کہا یہ آیت ' وَاِنْ جَنَحُوْا' کی ناسخ ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کے صلح کی طرف مائل ہونے کو منع فرمایا جب کہ صلح کی حاجت نہ ہو اور بعض علماء نے کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے اور آیت ' وَاِنْ جَنَحُوْا' اس کی ناسخ ، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور دونوں آیتیں دو مختلف وقتوں اور مختلف حالتوں میں نازل ہوئیں ، اور ایک قول یہ ہے کہ آیت ' وَاِنْ جَنَحُوْا' کا حکم ایک معیّن قوم کے ساتھ خاص ہے اور یہ آیت عام ہے کہ کفّار کے ساتھ معاہدہ جائز نہیں مگر عندالضرورت جب کہ مسلمان ضعیف ہوں اور مقابلہ نہ کرسکیں ۔(ف91)تمہیں اعمال کا پورا پورا اجر عطا فرمائے گا ۔
دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے (ف۹۲) اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تم کو تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا (ف۹۳)
(ف92)نہایت جلدگزرنے والی اور اس میں مشغول ہونا کچھ بھی نافع نہیں ۔(ف93)ہاں راہِ خدا میں خرچ کرنے کا حکم دے گا تاکہ تمہیں اس کا ثواب ملے ۔
ہاں ہاں یہ جو تم ہو بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۹۵) تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے (ف۹٦) وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بےنیاز ہے (ف۹۷) اور تم سب محتاج (ف۹۸) اور اگر تم منہ پھیرو (ف۹۸) تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے (ف۱۰۰)
(ف95)جہاں خرچ کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے ۔(ف96)صدقہ دینے اور فرض ادا کرنے میں ۔(ف97)تمہارے صدقات اور طاعات سے ۔(ف98)اس کے فضل و رحمت کے ۔(ف99)اس کی اور اس کے رسول کی طاعت سے ۔(ف100)بلکہ نہایت مطیع وفرمانبردار ہوں گے ۔