جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا (ف۲) اللہ نے ان کے عمل برباد کیے (ف۳)
Allah has destroyed the deeds of those who disbelieved and prevented from Allah’s way.
जिन्हों ने कुफ़्र किया और अल्लाह की राह से रोका अल्लाह ने उनके अमल बरबाद किए
Jinhnon ne kufr kiya aur Allah ki rah se roka Allah ne unke amal barbad kiye
(ف2)یعنی جو لوگ خود اسلام میں داخل نہ ہوئے اور دوسروں کو انہوں نے اسلام سے روکا ۔(ف3)جو کچھ بھی انہوں نے کئے ہوں خواہ بھوکوں کو کھلایا ہو یا اسیروں کو چھڑایا ہو یا غریبوں کی مد د کی ہو یا مسجدِ حرام یعنی خانۂِ کعبہ کی عمارت میں کوئی خدمت کی ہو سب برباد ہوئی ، آخرت میں اس کا کچھ ثواب نہیں ۔ ضحّاک کا قول ہے کہ مراد یہ ہے کہ کفّار نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے جو مَکر سوچے تھے اور حیلے بنائے تھے اللہ تعالٰی نے ان کے وہ تمام کام باطل کردیئے ۔
اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا گیا (ف٤) اور وہی ان کے رب کے پاس سے حق ہے اللہ نے ان کی برائیاں اتار دیں اور ان کی حالتیں سنوار دیں (ف۵)
And those who accepted faith and did good deeds and believed in what has been sent down upon Mohammed (peace and blessings be upon him) – and that is the truth from their Lord – Allah has relieved them of some of their evils and refined their condition.
और ईमान लाए और अच्छे काम किए और उस पर ईमान लाए जो मुहम्मद पर उतारा गया और वही उनके रब के पास से हक़ है अल्लाह ने उनकी बराइयाँ उतार दीं और उनकी हालते सँवार दीं
Aur imaan laye aur achhe kaam kiye aur us par imaan laye jo Muhammad par utara gaya aur wahi unke Rab ke paas se haq hai Allah ne unki baraiyan utar din aur unki halaten sanwar din
(ف4)یعنی قرآنِ پاک ۔ (ف5)امورِ دِین میں توفیق عطا فرما کر اور دنیا میں ان کے دشمنوں کے مقابل ان کی مدد فرما کر ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ان کے ایّامِ حیات میں ان کی حفاظت فرما کر کہ ان سے عصیاں واقع نہ ہو ۔
یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے (ف٦) اللہ لوگوں سے ان کے احوال یونہی بیان فرماتا ہے (ف۷)
This is because the disbelievers followed falsehood and the believers followed the Truth which is from their Lord; this is how Allah illustrates the examples of people to them.
यह इस लिए कि काफ़िर बातिल के पैरो हुए और ईमान वालों ने हक़ की पैरवी की जो उनके रब की तरफ़ से है अल्लाह लोगों से उनके अहवाल यूँही बयान फ़रमाता है
Ye is liye ke kafir batil ke pairo hue aur imaan walon ne haq ki pairwi ki jo unke Rab ki taraf se hai Allah logon se unke ahwaal yunhi bayan farmata hai
(ف6)یعنی قران شریف ۔(ف7)یعنی فریقین کے کہ کافروں کے عمل اکارت اور ایمانداروں کی لغزشیں بھی مغفور ۔
تو جب کافروں سے تمہارا سامناہو (ف۸) تو گردنیں مارنا ہے (ف۹) یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کرلو (ف۱۰) تو مضبوط باندھو، پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو (ف۱۱) یہاں تک کہ لڑائیاپنابوجھ رکھ دے (ف۱۲) بات یہ ہے اور اللہ چاہتا تو آپ ہی ان سے بدلہ لیتا (ف۱۳) مگر اس لئے (ف۱٤) تم میں ایک کو دوسرے سے جانچے (ف۱۵) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا (ف۱٦)
So when you confront the disbelievers, strike at their necks; until when you have slain them in plenty, tie them up firmly; then after that, you may either release them as a favour or take ransom, until the war lays down its ordeal; this is it; and had Allah willed He Himself could have taken revenge from them, but this is to test some of you with others; and Allah will surely never waste the deeds of those who were killed in His way.
तो जब काफ़िरों से तुम्हारा सामना हो तो गर्दनें मारना है यहाँ तक कि जब उन्हें ख़ूब क़त्ल कर लो तो मज़बूत बाँधो, फिर उसके बाद चाहे एहसान करके छोड़ दो चाहे फिद्या ले लो यहाँ तक कि लड़ाई
अपना बोझ रख दे बात यह है और अल्लाह चाहता तो आप ही उन से बदला लेता मगर इस लिये तुम में एक को दूसरे से जाँचे और जो अल्लाह की राह में मारे गए अल्लाह हरगिज़ उनके अमल ज़ाया न फ़रमाएगा
To jab kafiron se tumhara samna ho to gardanen marna hai yahan tak ke jab unhen khoob qatal kar lo to mazboot bandho, phir us ke baad chahe ehsaaan kar ke chhod do chahe fidya le lo yahan tak ke larai
Apna bojh rakh de baat ye hai aur Allah chahta to aap hi un se badla leta magar is liye tum mein ek ko doosre se janche aur jo Allah ki rah mein mare gaye Allah hargiz unke amal zaya na farmayega
(ف8)یعنی جنگ ہو ۔(ف9)یعنی ان کو قتل کرو ۔(ف10)یعنی کثرت سے قتل کر چکو اور باقی ماندوں کو قید کرنے کا موقع آجائے ۔(ف11)دونوں باتوں کا اختیار ہے ۔ مسئلہ : مشرکین کے اسیروں کا حکم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا مملوک بنالیا جائے اور احساناً چھوڑنا اور فدیہ لینا ، جو اس آیت میں مذکور ہے وہ سورۂِ برأت کی آیت ' اُقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ ' سے منسوخ ہوگیا ۔(ف12)یعنی جنگ ختم ہوجائے اس طرح کہ مشرکین اطاعت قبول کریں اور اسلام لائیں ۔(ف13)بغیر قتال کے انہیں زمین میں دھنسا کر یا ان پر پتّھر برسا کر یا اور کسی طرح ۔(ف14)تمہیں قتال کا حکم دیا ۔(ف15)قتال میں تاکہ مسلمان مقتول ثواب پائیں اور کافر عذاب ۔(ف16)ان کے اعمال کا ثواب پورا پورا دے گا ۔شانِ نزول : یہ آیت روزِ اُحد نازل ہوئی جب کہ مسلمان زیادہ مقتول و مجروح ہوئے ۔
سَيَهۡدِيۡهِمۡ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡۚ ﴿5﴾
جلد انہیں راہ دے گا (ف۱۷) اور ان کا کام بنادے گا ،
He will soon guide them (towards Paradise) and make them succeed.
जल्द उन्हें राह देगा और उनका काम बना देगा,
Jald unhen rah dega aur unka kaam bana dega,
(ف17)درجاتِ عالیات کی طرف ۔
وَيُدۡخِلُهُمُ الۡجَـنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ ﴿6﴾
اور انہیں جنت میں لے جائے گا انہیں اس کی پہچان کرادی ہے (ف۱۸)
And He will admit them into Paradise – they have been made familiar with it.
और उन्हें जन्नत में ले जाएगा उन्हें उसकी पहचान करा दी है
Aur unhen jannat mein le jayega unhen us ki pehchan kara di hai
(ف18)وہ منازلِ جنّت میں نو وارد ، نا آشنا کی طرح نہ پہنچیں گے جو کسی مقام پر جاتا ہے تو اس کو ہر چیز کے دریافت کرنے کی حاجت درپیش ہوتی ہے بلکہ وہ واقف کارانہ داخل ہوں گے ، اپنے منازل اور مساکن پہچانتے ہوں گے ، اپنی زوجہ اور خدّام کو جانتے ہوں گے ، ہر چیز کا موقع ان کے علم میں ہوگا گویا کہ وہ ہمیشہ سے یہیں کے رہنے بسنے والے ہیں ۔
تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا (ف۲۲) کیسا انجام ہوا، اللہ نے ان پر تباہی ڈالی (ف۲۳) اور ان کافروں کے لیے بھی ویسی کتنی ہی ہیں (ف۲٤)
So did they not travel in the land to see what sort of fate befell those who preceded them? Allah poured ruin upon them; and for the disbelievers are several like it.
तो क्या उन्हों ने ज़मीन में सफ़र न किया कि देखते उन से अगलों का कैसा अंजाम हुआ, अल्लाह ने उन पर तबाही डाली और उन काफ़िरों के लिये भी वैसी कितनी ही हैं
To kya unhon ne zameen mein safar na kiya ke dekhte un se aglon ka kaisa anjaam hua, Allah ne un par tabahi dali aur un kafiron ke liye bhi waisi kitni hi hain
(ف22)یعنی پچھلی امّتوں کا ۔(ف23)کہ انہیں اور ان کی اولاد اور ان کے اموال کو سب کو ہلاک کردیا۔(ف24)یعنی اگر یہ کافر سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان نہ لائیں توان کے لئے پہلے جیسی بہت سی تباہیاں ہیں ۔
بیشک اللہ داخل فرمائے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں، اور کافر برتتے ہیں اور کھاتے ہیں (ف۲٦) جیسے چوپائے کھائیں (ف۲۷) اور آگ میں ان کا ٹھکانا ہے،
Allah will indeed admit those who believed and did good deeds into Gardens beneath which rivers flow; and the disbelievers enjoy, and they eat like the cattle eat, and their destination is in the fire.
बेशक अल्लाह दाख़िल फ़रमाएगा उन्हें जो ईमान लाए और अच्छे काम किए बाग़ों में जिनके नीचे नहरें रवाँ, और काफ़िर बरतते हैं और खाते हैं जैसे चौपाए खाएँ और आग में उनका ठिकाना है,
Beshak Allah dakhil farmayega unhen jo imaan laye aur achhe kaam kiye baghon mein jin ke neeche nahrein rawan, aur kafir barat te hain aur khate hain jaise chaupaaye khayen aur aag mein unka thikana hai,
(ف26)دنیا میں چند روز غفلت کے ساتھ اپنے انجام و مآل کو فراموش کئے ہوئے ۔(ف27)اور انہیں تمیز نہ ہو کہ وہ اس کھانے کے بعد وہ ذبح کئے جائیں گے ، یہی حال کفّار کا ہے جو غفلت کے ساتھ دنیا طلبی میں مشغول ہیں اور آنے والی مصیبتوں کا خیال بھی نہیں کرتے ۔
اور کتنے ہی شہر کہ اس شہر سے (ف۲۸) قوت میں زیادہ تھے جس نے تمہیں تمہارے شہر سے باہر کیا، ہم نے انہیں ہلاک فرمایا تو ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۲۹)
And many a township existed which was stronger than your town (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) – those who removed you from your town – We destroyed them, so they do not have a supporter!
और कितने ही शहर कि उस शहर से क़ुव्वत में ज़्यादा थे जिसने तुम्हें तुम्हारे शहर से बाहर किया, हमने उन्हें हलाक फ़रमाया तो उनका कोई मददगार नहीं
Aur kitne hi shehar ke us shehar se quwwat mein zyada the jis ne tumhen tumhare shehar se bahar kiya, humne unhen halak farmaya to unka koi madadgar nahin
(ف28)یعنی مکّہ مکرّمہ والوں سے ۔(ف29)جو عذاب و ہلاک سے بچا سکے ۔ شانِ نزول : جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مکّہ مکرّمہ سے ہجرت کی اور غار کی طرف تشریف لے چلے تومکّہ مکرّمہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اللہ تعالٰی کے شہروں میں تو اللہ تعالٰی کو بہت پیارا ہے اور اللہ تعالٰی کے شہروں میں تو مجھے بہت پیارا ہے ، اگر مشرکین مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا ، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
تو کیا جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو (ف۳۰) اس (ف۳۱) جیسا ہوگا جس کے برے عمل اسے بھلے دکھائے گئے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے (ف۳۲)
So will one who is upon on a clear proof from his Lord, ever be like any of those whose evil deeds are made to appear good to them and they follow their own desires?
तो क्या जो अपने रब की तरफ़ से रोशन दलील पर हो उस जैसा होगा जिस के बुरे अमल उसे भले दिखाए गए और वह अपनी ख़्वाहिशों के पीछे चले
To kya jo apne Rab ki taraf se roshan daleel par ho us jaisa hoga jis ke bure amal use bhale dikhaye gaye aur woh apni khwahishon ke peeche chale
(ف30)اور وہ مومنین ہیں کہ وہ قرآنِ معجز اور معجزاتِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی برہانِ قوی پر یقینِ کامل اور جزمِ صادق رکھتے ہیں ۔(ف31)اس کافر مشرک ۔(ف32)اور انہوں نے کفرو بت پرستی اختیار کی ، ہرگز وہ مومن اور یہ کافر ایک سے نہیں ہوسکتے اور ان دونوں میں کچھ بھی نسبت نہیں ۔
احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے ہے، اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے (ف۳۳) اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا (ف۳٤) اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے (ف۳۵) اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا (ف۳٦) اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور اپنے رب کی مغفرت (ف۳۷) کیا ایسے چین والے ان کی برابر ہوجائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے،
A description of the Garden which is promised to the pious; in it are rivers of water which shall never pollute; and rivers of milk the taste of which shall never change; and rivers of wine delicious to drink; and rivers of purified honey; and in it for them are fruits of all kinds, and the forgiveness of their Lord; so will such ever be equal to those who are to stay in the fire for ever and who will be given boiling water to drink so that it tears their guts apart?
अहवाल उस जन्नत का जिस का वादा परहेज़गारों से है, उस में ऐसी पानी की नहरें हैं जो कभी न बिगड़े और ऐसे दूध की नहरें हैं जिस का मज़ा न बदला और ऐसी शराब की नहरें हैं जिस के पीने में लज़्ज़त है और ऐसी शहद की नहरें हैं जो साफ़ किया गया और उनके लिये उस में हर क़िस्म के फल हैं, और अपने रब की मग़फ़िरत क्या ऐसे चैन वाले उनकी बराबर हो जाएँगे जिन्हे हमेशा आग में रहना और उन्हें खौलता पानी पिलाया जाएगा कि आँतों के टुकड़े टुकड़े कर दे,
Ahwaal us jannat ka jis ka wada parhezgaron se hai, us mein aisi paani ki nahrein hain jo kabhi na bigre aur aise doodh ki nahrein hain jis ka maza na badla aur aisi sharab ki nahrein hain jis ke peene mein lazzat hai aur aisi shahad ki nahrein hain jo saaf kiya gaya aur unke liye us mein har qism ke phal hain, aur apne Rab ki maghfirat kya aise chain waley unki barabar ho jayenge jinhen hamesha aag mein rehna aur unhen kholta paani pilaya jayega ke aanton ke tukde tukde kar de,
(ف33)یعنی ایسا لطیف کہ نہ سڑے ، نہ اس کی بوبدلے ، نہ اس کے ذائقہ میں فرق آئے ۔(ف34)بخلاف دنیا کے دودھ کے کہ خراب ہوجاتے ہیں ۔(ف35)خالص لذّت ہی لذّت ، نہ دنیا کی شرابوں کی طرح اس کا ذائقہ خراب ، نہ اس میں میل کچیل ، نہ خراب چیزوں کی آمیزش ، نہ وہ سڑ کر بنی ، نہ اس کے پینے سے عقل زائل ہو ، نہ سر چکرائے ، نہ خُمار آئے ، نہ دردِ سرپیدا ہو ۔ یہ سب آفتیں دنیا ہی کی شراب میں ہیں ، وہاں کی شراب ان سب عیوب سے پاک ، نہایت لذیذ ، مُفرِّ ح ، خوش گوار ۔(ف36)پیدائش میں یعنی صاف ہی پیدا کیا گیا ، دنیا کے شہد کی طرح نہیں جو مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے اور اس میں موم وغیرہ کی آمیزش ہوتی ہے ۔ (ف37)کہ وہ رب ان پر احسان فرماتا ہے اور ان سے راضی ہے اور ان پر سے تمام تکلیفی احکام اٹھالئے گئے ہیں جو چاہیں کھائیں ، جتنا چاہیں کھائیں ، نہ حساب ، نہ عقاب ۔(ف38)کفّار ۔
اور ان (ف۳۸) میں سے بعض تمہارے ارشاد سنتے ہیں (ف۳۹) یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں (ف٤۰) علم والوں سے کہتے ہیں (ف٤۱) ابھی انہوں نے کیا فرمایا (ف٤۲) یہ ہیں وہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی (ف٤۳) اور اپنی خواہشوں کے تابع ہوئے (ف٤۲)
And among them are some who listen to what you say; until when they go away from you, they say to those who have been given knowledge, “What did he say now?”; they are those whose hearts Allah has sealed, and they follow their own desires.
और उन में से बा'ज़ तुम्हारे इर्शाद सुनते हैं यहाँ तक कि जब तुम्हारे पास से निकल कर जाएँ इल्म वालों से कहते हैं अभी उन्हों ने क्या फ़रमाया यह हैं वह जिन के दिलों पर अल्लाह ने मोहर कर दी और अपनी ख़्वाहिशों के ताबे हुए
Aur un mein se baaz tumhare irshaad sunte hain yahan tak ke jab tumhare paas se nikal kar jayein ilm walon se kehte hain abhi unhon ne kya farmaya ye hain woh jin ke dilon par Allah ne mohar kar di aur apni khwahishon ke tabe hue
(ف39)خطبہ وغیرہ میں نہایت بے التفاتی کے ساتھ ۔(ف40)یہ منافق لوگ تو ۔(ف41)یعنی علماءِ صحابہ سے ، مثل ابنِ مسعود و ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم کے مسخّرگی کے طور پر ۔(ف42)یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ۔ اللہ تعاٍلٰی ان منافقوں کے حق میں فرماتا ہے ۔(ف43)یعنی جب انہوں نے حق کا اتباع ترک کیا تو اللہ تعالٰی نے ان کے قلوب کو مردہ کردیا۔(ف44)اور انہوں نے نفاق اختیار کیا ۔
اور جنہوں نے راہ پائی (ف٤۵) اللہ نے ان کی ہدایت (ف٤٦) اور زیادہ فرمائی اور ان کی پرہیزگاری انہیں عطا فرمائی (ف٤۷)
And those who attained the right path – Allah increases the guidance for them and bestows their piety to them.
और जिन्हों ने राह पाई अल्लाह ने उनकी हिदायत और ज़्यादा फ़रमाई और उनकी परहेज़गारी उन्हें अता फ़रमाई
Aur jinhnon ne rah payi Allah ne unki hidayat aur zyada farmayi aur unki parhezgari unhen ata farmayi
(ف45)یعنی وہ اہلِ ایمان جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کلام غور سے سنا اور اس سے نفع اٹھایا ۔(ف46)یعنی بصیرت و علم و شرحِ صدر ۔(ف47)یعنی پرہیزگاری کی توفیق دی اور اس پر مدد فرمائی یا یہ معنٰی ہیں کہ انہیں پرہیزگاری کی جزا دی اور اس کا ثواب عطا فرمایا ۔
تو کاہے کے انتظار میں ہیں (ف٤۸) مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے، کہ اس کی علامتیں تو آہی چکی ہیں (ف٤۹) پھر جب آجائے گی تو کہاں وہ اور کہاں ان کا سمجھنا،
So what are they waiting for, except that the Last Day suddenly come upon them? For its signs have already appeared; so when it does come, of what use is their realising it?
तो काहे के इंतज़ार में हैं मगर क़यामत के कि उन पर अचानक आ जाए, कि उसकी अलामतें तो आ ही चुकी हैं फिर जब आ जाएगी तो कहाँ वह और कहाँ उनका समझना,
To kahe ke intezar mein hain magar qayamat ke ke un par achanak aa jaye, ke us ki alamaten to aa hi chuki hain phir jab aa jaye gi to kahan woh aur kahan unka samajhna,
(ف48)کفّار و منافقین ۔(ف49)جن میں سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثتِ مبارکہ اور قمر کا شق ہونا ہے ۔
تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو (ف۵۰) اور اللہ جانتا ہے دن کو تمہارا پھرنا (ف۵۱) اور رات کو تمہارا آرام لینا (ف۵۲)
Therefore know (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) that there is none worthy of worship except Allah, and seek the forgiveness of sins of your close ones and for the common believing men and women; and Allah knows your movements during the day and your resting during the night.
तो जान लो कि अल्लाह के सिवा किसी की बंदगी नहीं और ऐ महबूब! अपने खासों और आम मुसलमान मर्दों और औरतों के गुनाहों की माफी माँगो और अल्लाह जानता है दिन को तुम्हारा फिरना और रात को तुम्हारा आराम लेना
To jaan lo ke Allah ke siwa kisi ki bandagi nahin aur ae Mehboob! apne khason aur aam Musalman mardon aur auraton ke gunahon ki maafi mango aur Allah janta hai din ko tumhara phirna aur raat ko tumhara aaram lena
(ف50)یہ اس امّت پر اللہ تعالٰی کا اکرام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرمایا کہ ان کے لئے مغفرت طلب فرمائیں اور آپ شفیع ، مقبول الشفاعت ہیں ۔ اس کے بعد مومنین وغیرِ مومنین سب سے عام خطاب ہے ۔(ف51)اپنے اشغال میں اور معاش کے کاموں میں ۔(ف52)یعنی وہ تمہارے تمام احوال کا جاننے والا ہے ، اس سے کچھ بھی مخفی نہیں ۔
اور مسلمان کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نہ اتاری گئی (ف۵۳) پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی (ف۵٤) اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۵۵) کہ تمہاری طرف (ف۵٦) اس کا دیکھنا دیکھتے ہیں جس پر مُرونی چھائی ہو، تو ان کے حق میں بہتر یہ تھا کہ فرمانبرداری کرتے (ف۵۷)
And the Muslims say, “Why was not a chapter sent down?” So when a positive chapter was sent down, and war was commanded in it, you will see those in whose hearts is a disease looking at you with the dazed looks of a dying man; so it would be better for them. –
और मुसलमान कहते हैं कोई सूरत क्यों न उतारी गई फिर जब कोई पुख़्ता सूरत उतारी गई और उस में जिहाद का हुक्म फ़रमाया गया तो तुम देखोगे उन्हें जिन के दिलों में बीमारी है कि तुम्हारी तरफ़ उस का देखना देखते हैं जिस पर मर्दनी छाई हो, तो उनके हक़ में बेहतर यह था कि फ़रमाँबरदारी करते
Aur Musalman kehte hain koi surat kyon na utari gayi phir jab koi pukhta surat utari gayi aur us mein jihad ka hukm farmaya gaya to tum dekhoge unhen jin ke dilon mein bimaari hai ke tumhari taraf us ka dekhna dekhte hain jis par mardani chhayi ho, to unke haq mein behtar ye tha ke farmanbardari karte
(ف53)شانِ نزول : مومنین کو جہاد فی سبیل اللہ تعالٰی کا بہت ہی شوق تھا ، وہ کہتے تھے کہ ایسی سورت کیوں نہیں اترتی جس میں جہاد کا حکم ہوتا کہ ہم جہاد کریں ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف54)جس میں صاف غیر محتمل بیان ہو اور اس کا کوئی حکم منسوخ ہونے والا نہ ہو ۔(ف55)یعنی منافقین کو ۔(ف56)پریشان ہو کر ۔(ف57)اللہ تعالٰی اور رسول کی ۔
بیشک وہ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے (ف٦۵) بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی (ف٦٦) شیطان نے انہیں فریب دیا (ف٦۷) اور انہیں دنیا میں مدتوں رہنے کی امید دلائی (ف٦۸)
Indeed those who turn back after the guidance had become clear to them – Satan has deceived them; and made them optimistic of living for ages.
बेशक वह जो अपने पीछे पलट गए बाद इस के कि हिदायत उन पर खुल चुकी थी शैतान ने उन्हें फ़रेब दिया और उन्हें दुनिया में मुद्दतों रहने की उम्मीद दिलाई
Beshak woh jo apne peeche palat gaye baad is ke ke hidayat un par khul chuki thi Shaitan ne unhen fareb diya aur unhen duniya mein muddaton rehne ki umeed dilai
(ف65)نفاق سے ۔(ف66)اور طریقِ ہدایت واضح ہوچکا تھا ۔ قتادہ نے کہا کہ یہ کفّارِ اہلِ کتاب کا حال ہے جنہوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پہچانا اور آپ کی نعت و صفت اپنی کتاب میں دیکھی ، پھر باوجود جاننے پہچاننے کے کفر اختیار کیا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما اور ضحّاک وسدی کا قول ہے کہ اس سے منافق مراد ہیں جو ایمان لا کر کفر کی طرف پھر گئے ۔(ف67)اور برائیوں کو ان کی نظر میں ایسا مزیّن کیا کہ انہیں اچھا سمجھے ۔(ف68)کہ ابھی بہت عمر پڑی ہے ، خوب دنیا کے مزے اٹھا لو اور ان پر شیطان کا فریب چل گیا ۔
یہ اس لیے کہ انہوں نے (ف٦۹) کہا ان لوگوں سے (ف۷۰) جنہیں اللہ کا اتارا ہوا (ف۷۱) ناگوار ہے ایک کام میں ہم تمہاری مانیں گے (ف۷۲) اور اللہ ان کی چھپی ہوئی جانتا ہے،
This is because they said to those who dislike what Allah has sent down, “We will obey you regarding one matter*”; and Allah knows their secrets. (* To fight against the Holy Prophet).
यह इस लिए कि उन्हों ने कहा उन लोगों से जिन्हे अल्लाह का उतारा हुआ नागवार है एक काम में हम तुम्हारी मानेंगे और अल्लाह उनकी छुपी हुई जानता है,
Ye is liye ke unhon ne kaha un logon se jinhen Allah ka utara hua nagawar hai ek kaam mein hum tumhari manenge aur Allah unki chhupi hui janta hai,
(ف69)یعنی اہلِ کتاب یا منافقین نے پوشیدہ طور پر ۔(ف70)یعنی مشرکین سے ۔(ف71)قرآن اور احکامِ دِین ۔ (ف72)یعنی سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عداوت اور حضور کے خلاف انکے دشموں کی امداد کرنے میں اور لوگوں کو جہاد سے روکنے میں ۔
یہ اس لیے کہ وہ ایسی بات کے تابع ہوئے جس میں اللہ کی ناراضی ہے (ف۷٤) اور اس کی خوشی (ف۷۵) انہیں گوارا نہ ہوئی تو اس نے ان کے اعمال اَکارت کردیے،
This is because they followed the matter which displeases Allah, and they disliked what pleases Him – He therefore squandered away all their deeds.
यह इस लिये कि वह ऐसी बात के ताबे हुए जिस में अल्लाह की नाराज़ी है और उसकी ख़ुशी उन्हें गवारा न हुई तो उस ने उनके आमाल अकारत कर दिए,
Ye is liye ke woh aisi baat ke tabe hue jis mein Allah ki narazi hai aur us ki khushi unhen gawara na hui to us ne unke aamal akarat kar diye,
(ف74)اور وہ بات رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی معیّت میں جہاد کو جانے سے روکنا اور کافروں کی مدد کرنا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ وہ بات توریت کے ان مضامین کا چُھپانا ہے جن میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نعت شریف ہے ۔(ف75)ایمان وطاعت اور مسلمانوں کی مدد اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ جہاد میں حاضر ہونا ۔
اور اگر ہم چاہیں تو تمہیں ان کو دکھا دیں کہ تم ان کی صورت سے پہچان لو (ف۷۸) اور ضرور تم انہیں بات کے اسلوب میں پہچان لو گے (ف۷۹) اور اللہ تمہارے عمل جانتا ہے (ف۸۰)
And if We will, We can show them to you so that you may recognise them by their faces; and you will surely recognise them by the way they talk; and Allah knows your deeds.
और अगर हम चाहें तो तुम्हें उनको दिखा दें कि तुम उनकी सूरत से पहचान लो और ज़रूर तुम उन्हें बात के अस्लूब में पहचान लोगे और अल्लाह तुम्हारे आमल जानता है
Aur agar hum chahein to tumhen unko dikha den ke tum unki soorat se pehchan lo aur zaroor tum unhen baat ke aslub mein pehchan loge aur Allah tumhare aamal janta hai
(ف78)حدیث : حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کوئی منافق مخفی نہ رہا ۔ آپ سب کو ان کی صورتوں سے پہچانتے تھے ۔(ف79)اور وہ اپنے ضمیر کا حال ان سے چُھپا نہ سکیں گے ، چنانچہ اس کے بعد جو منافق لب ہلاتا تھا حضور اس کے نفاق کو اس کی بات سے اور اس کے فحوائے کلام سے پہچان لیتے تھے ۔ فائدہ : اللہ تعالٰی نے حضور کو بہت سے وجوہِ علم عطا فرمائے ، ان میں سے صورت سے پہچاننا بھی ہے اور بات سے پہچاننا بھی ۔(ف80)یعنی اپنے بندوں کے تمام اعمال ہر ایک کو اس کے لائق جزا دے گا ۔
بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے (ف۸٤) روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ہدایت ان پر ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہچائیں گے، اور بہت جلد اللہ ان کا کیا دھرا اَکارت کردے گا (ف۸۵)
Indeed those who disbelieved and prevented others from Allah’s way, and opposed the Noble Messenger after the guidance had become clear to them – they cannot harm Allah in the least; and soon He will squander away their deeds.
बेशक वह जिन्हों ने कुफ़्र किया और अल्लाह की राह से रोका और रसूल की मुख़ालफ़त की बाद इस के कि हिदायत उन पर ज़ाहिर हो चुकी थी वह हरगिज़ अल्लाह को कुछ नुक़सान न पहुँचाएँगे, और बहुत जल्द अल्लाह उनका किया धरा अकारत कर देगा
Beshak woh jinhnon ne kufr kiya aur Allah ki rah se roka aur Rasool ki mukhalafat ki baad is ke ke hidayat un par zahir ho chuki thi woh hargiz Allah ko kuch nuqsan na pohchayenge, aur bohot jald Allah unka kiya dhara akarat kar dega
(ف84)اس کے بندوں کو ۔(ف85)اور وہ صدقہ وغیرہ کسی چیز کا ثواب نہ پائیں گے کیونکہ جو کام اللہ تعالٰی کے لئے نہ ہو اس کا ثواب ہی کیا ؟ شانِ نزول : جنگِ بدر کے لئے جب قریش نکلے تو وہ سال قحط کا تھا ، لشکر کا کھانا قریش کے دولتمندوں نے نوبت بنوبت اپنے ذمّہ لے لیا تھا ، مکّہ مکرّمہ سے نکل کر سب سے پہلا کھانا ابوجہل کی طرف سے تھا ، جس کے لئے اس نے دس اونٹ ذبح کئے تھے ، پھر صفوان نے مقامِ عُسفان میں نو۹اونٹ ، پھر سہل نے مقامِ قدید میں دس ، یہاں سے وہ لوگ سمندر کی طرف پھر گئے اور رستہ گم ہوگیا ، ایک دن ٹھہرے ، وہاں شیبہ کی طرف سے کھانا ہوا ، نو اونٹ ذبح ہوئے ، پھر مقامِ ابواء میں پہنچے ، وہاں مُقَیَّسْ جمحی نے نو اونٹ ذبح کئے ۔ حضرت عباس (رضی اللہ تعالٰی عنہ )کی طرف سے بھی دعوت ہوئی ، اس وقت تک آپ مشرف بہ اسلام نہ ہوئے تھے ، آپ کی طرف سے دس اونٹ ذبح کئے گئے ، پھر حارث کی طرف سے نو ، اور ابوالبختری کی طرف سے بدر کے چشمے پر دس اونٹ ۔ ان کھانا دینے والوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو (ف۸٦) اور اپنے عمل باطل نہ کرو (ف۸۷)
O People who Believe! Obey Allah and obey the Noble Messenger, and do not render your deeds void.
ऐ ईमान वालो अल्लाह का हुक्म मानो और रसूल का हुक्म मानो और अपने अमल बातिल न करो
Ae imaan walo Allah ka hukm mano aur Rasool ka hukm mano aur apne amal batil na karo
(ف86)یعنی ایمان و طاعت پر قائم رہو ۔(ف87)ریا یا نفاق سے ۔ شانِ نزول : بعض لوگوں کا خیال تھا کہ جیسے شرک کی وجہ سے تمام نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں اسی طرح ایمان کی برکت سے کوئی گناہ ضرر نہیں کرتا ۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی گئی اور بتایا گیا کہ مومن کے لئے اطاعتِ خدا اور رسول ضروری ہے گناہوں سے بچنا لازم ہے ۔مسئلہ : اس آیت میں عمل کے باطل کرنے کی ممانعت فرمائی گئی تو آدمی جو عمل شروع کرے خواہ وہ نفل ہی ہو نماز یا روزہ یا اور کوئی ، لازم ہے کہ اس کو باطل نہ کرے ۔
بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر کافر ہی مرگئے تو اللہ ہرگز انہیں نہ بخشے گا (ف۸۸)
Indeed those who disbelieved and prevented others from Allah’s way, and then died as disbelievers – so Allah will never forgive them.
बेशक जिन्हों ने कुफ़्र किया और अल्लाह की राह से रोका फिर काफ़िर ही मर गए तो अल्लाह हरगिज़ उन्हें न बख़्शेगा
Beshak jinhnon ne kufr kiya aur Allah ki rah se roka phir kafir hi mar gaye to Allah hargiz unhen na bakhshega
(ف88)شانِ نزول : یہ آیت اہلِ قلیب کے حق میں نازل ہوئی ۔ قلیب بدر میں ایک کنواں ہے جس میں مقتول کفّار ڈالے گئے تھے ابوجہل اور اس کے ساتھی ، اور حکم آیت کا ہرکافر کے لئے عام ہے جو کفر پر مرا ہو ، اللہ تعالٰی اس کی مغفرت نہ فرمائے گا ، اس کے بعد اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خطاب فرمایا جاتا ہے ٍاور حکم میں تمام مسلمان شامل ہیں ۔
تو تم سستی نہ کرو (ف۸۹) اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ (ف۹۰) اور تم ہی غالب آؤ گے، اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا (ف۹۱)
Therefore do not relax, nor call towards truce by yourself; and it is you who will dominate; and Allah is with you, and He will never cause a loss in your deeds.
तो तुम सुस्ती न करो और आप सुलह की तरफ़ न बुलाओ और तुम ही ग़ालिब आओगे, और अल्लाह तुम्हारे साथ है और वह हरगिज़ तुम्हारे आमाल में तुम्हें नुक़सान न देगा
To tum susti na karo aur aap sulah ki taraf na bulao aur tum hi ghalib aoge, aur Allah tumhare sath hai aur woh hargiz tumhare aamaal mein tumhen nuqsan na dega
(ف89)یعنی دشمن کے مقابل میں کمزوری نہ دکھاؤ ۔(ف90)کفّار کو ۔ قرطبی میں ہے کہ اس آیت کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے ، بعض نے کہا یہ آیت ' وَاِنْ جَنَحُوْا' کی ناسخ ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کے صلح کی طرف مائل ہونے کو منع فرمایا جب کہ صلح کی حاجت نہ ہو اور بعض علماء نے کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے اور آیت ' وَاِنْ جَنَحُوْا' اس کی ناسخ ، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور دونوں آیتیں دو مختلف وقتوں اور مختلف حالتوں میں نازل ہوئیں ، اور ایک قول یہ ہے کہ آیت ' وَاِنْ جَنَحُوْا' کا حکم ایک معیّن قوم کے ساتھ خاص ہے اور یہ آیت عام ہے کہ کفّار کے ساتھ معاہدہ جائز نہیں مگر عندالضرورت جب کہ مسلمان ضعیف ہوں اور مقابلہ نہ کرسکیں ۔(ف91)تمہیں اعمال کا پورا پورا اجر عطا فرمائے گا ۔
دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے (ف۹۲) اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تم کو تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا (ف۹۳)
The worldly life is just a sport and pastime; and if you accept faith and be pious, He will bestow your rewards to you, and not at all ask you for your wealth.
दुनिया की ज़िंदगी तो यही खेल कूद है और अगर तुम ईमान लाओ और परहेज़गारी करो तो वह तुम को तुम्हारे सवाब अता फ़रमाएगा और कुछ तुम से तुम्हारे माल न माँगेगा
Duniya ki zindagi to yehi khel kood hai aur agar tum imaan lao aur parhezgari karo to woh tum ko tumhare sawab ata farmayega aur kuch tum se tumhare maal na maangega
(ف92)نہایت جلدگزرنے والی اور اس میں مشغول ہونا کچھ بھی نافع نہیں ۔(ف93)ہاں راہِ خدا میں خرچ کرنے کا حکم دے گا تاکہ تمہیں اس کا ثواب ملے ۔
ہاں ہاں یہ جو تم ہو بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۹۵) تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے (ف۹٦) وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بےنیاز ہے (ف۹۷) اور تم سب محتاج (ف۹۸) اور اگر تم منہ پھیرو (ف۹۸) تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے (ف۱۰۰)
Yes, undoubtedly it is you who are being called, that you may spend in Allah’s way; so some among you act miserly; and whoever is miserly, is being a miser upon himself; and Allah is the Independent (Wealthy – Not requiring anything), whereas you all are needy; and if you renege, He will replace you with other people – and they will not be like you.
हाँ हाँ यह जो तुम हो बुलाए जाते हो कि अल्लाह की राह में खर्च करो तो तुम में कोई बख़्ल करता है और जो बख़्ल करे वह अपनी ही जान पर बख़्ल करता है और अल्लाह बेनियाज़ है और तुम सब मोहताज और अगर तुम मुँह फेरो तो वह तुम्हारे सिवा और लोग बदल लेगा फिर वह तुम जैसे न होंगे
Haan haan ye jo tum ho bulaye jate ho ke Allah ki rah mein kharch karo to tum mein koi bakhl karta hai aur jo bakhl kare woh apni hi jaan par bakhl karta hai aur Allah beniyaaz hai aur tum sab mohtaj aur agar tum munh phero to woh tumhare siwa aur log badal lega phir woh tum jaise na honge",
(ف95)جہاں خرچ کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے ۔(ف96)صدقہ دینے اور فرض ادا کرنے میں ۔(ف97)تمہارے صدقات اور طاعات سے ۔(ف98)اس کے فضل و رحمت کے ۔(ف99)اس کی اور اس کے رسول کی طاعت سے ۔(ف100)بلکہ نہایت مطیع وفرمانبردار ہوں گے ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page