اعلیٰ حضرت کے تعلیمی افکار پر ایم ایڈ کے مقالہ پر ایک تبصرہ
مصنف: سلیم اللہ جندران
یہ تحریر ایک علمی جائزے پر مشتمل ہے جو امام احمد رضا کے تعلیمی تصورات پر لکھے گئے ایک تحقیقی مقالے (تھیسس) کی افادیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح جدید تعلیمی ماہرین جیسے روسو اور ڈیوی کے نظریات کے مقابلے میں اسلامی تعلیمی فکر زیادہ متوازن اور انسانی فطرت کے قریب ہے۔ مقالے کا بنیادی مقصد یہ دکھانا ہے کہ قدیم و جدید کا امتزاج کس طرح ایک مثالی تعلیمی نظام کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے نتائج سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مغربی تعلیمی نظریات کے برعکس، اسلامی طرزِ زندگی پر مبنی تعلیمی افکار بچوں کی نفسیاتی اور اخلاقی نشوونما کے لیے زیادہ سودمند ہیں۔ اس تبصرے میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جدید دنیا میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا حل اس فکری لنگر کو تھامنے میں ہے جو دین اور دنیا کی تعلیم کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرتا بلکہ انہیں ایک ہی مقصد کے تحت یکجا کرتا ہے
The research findings prove that, unlike Western theories, educational ideas based on the Islamic way of life are more beneficial for children’s psychological and moral development. The review emphasizes that the solution to Muslims’ educational backwardness in the modern world lies in holding onto the intellectual anchor that does not separate religious and worldly education but unites them under a single purpose.



