دین کا اصل دارومدار ضروریاتِ دین پر ہے

تنبیہ جلیل: مسلمانو! اصل مدار ضروریات دین ہیں اور ضروریات اپنے ذاتی روشن بدیہی ثبوت کے سبب مطلقاً ہر ثبوت سے غنی ہوتے ہیں یہاں تک کہ اگر بالخصوص ان پر کوئی نص قطعی اصلاً نہ ہو جب بھی ان کا وہی حکم رہے گا کہ منکر یقیناً کافر مثلاً عالم بجمیع اجزائہ حادث ہونے کی تصریح کسی نص قطعی میں نہ ملے گی۔ غایت یہ کہ آسمان و زمین کا حدوث ارشاد ہوا ہے مگر باجماع مسلمین کسی غیر خدا کو قدیم ماننے والا قطعاً کافر ہے جس کی اسانید کثیرہ فقیر کے رسالہ “مقامع الحدید علی خدا لمنطق الجدید ١٣٠٤ھ” میں مذکور تو وجہ وہی ہے کہ حدوث جمیع ماسوی اللہ ضروریات دین سے ہے کہ اسے کسی ثبوت خاص کی حاجت نہیں۔
اعلام امام ابن حجر ص ٧١ میں ہے: زاد النووی فی الروضة ان الصواب تقییدہ بما اذا جحد مجمعاً علیہ یعلم من الاسلام ضرورة سواء کان فیہ نص ام لا علامہ نووی نے روضہ میں یہ زائد کہا کہ درست یہ ہے اسے اس چیز سے مقیّد کیا جائے جس کا ضروریات اسلام سے ہونا بالاجماع معلوم ہو اس میں کوئی نص ہو یا نہ ہو۔
رد الرفضہ، فتاویٰ رضویہ، جلد 14

امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے

ایک بڑی اور اہم ہدایت: اے مسلمانوں! دین میں ایمان اور کفر کا اصل دارومدار ‘ضروریاتِ دین’ (یعنی دین کی وہ بنیادی اور مشہور باتیں جنہیں ہر عام و خاص مسلمان جانتا ہو) پر ہے۔ یہ بنیادی باتیں اپنے آپ میں اتنی واضح اور روشن ہوتی ہیں کہ انہیں ثابت کرنے کے لیے کسی بھی اور دلیل یا ثبوت کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ اگر ان باتوں کو ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید یا حدیث شریف کی کوئی بالکل واضح اور حتمی دلیل (نصِ قطعی) براہِ راست موجود نہ بھی ہو، تب بھی ان کا حکم وہی رہے گا۔ یعنی ان باتوں کا انکار کرنے والا یقینی طور پر کافر ہے۔
مثال کے طور پر: اس پوری کائنات اور اس کے تمام حصوں کا ‘حادث’ ہونا (یعنی ان کا ہمیشہ سے نہ ہونا، بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا کیا جانا)۔ اس بات کی صراحت شاید کسی ایک حتمی آیت یا حدیث میں پوری طرح نہ ملے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ قرآن میں آسمان اور زمین کے پیدا کیے جانے کا ذکر آیا ہے۔ لیکن تمام مسلمانوں کے اتفاق (اجماع) کے مطابق، اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور چیز کو ‘قدیم’ مانتا ہے (یعنی یہ مانتا ہے کہ وہ چیز ہمیشہ سے خود موجود ہے اور اسے کسی نے پیدا نہیں کیا)، تو وہ یقینی طور پر کافر ہے۔
اس بات کی بہت سی دلیلیں میرے (یعنی مصنف کے) رسالے “مقامع الحدید علی خدا لمنطق الجدید ١٣٠٤ھ” میں لکھی ہوئی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز کو ‘حادث’ (مخلوق اور پیدا شدہ) ماننا دین کی ان ضروری اور بنیادی باتوں میں سے ہے، جنہیں ثابت کرنے کے لیے کسی خاص دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
امام ابن حجر کی کتاب “الاعلام” کے صفحہ 71 پر لکھا ہے: (عربی عبارت کا مفہوم): علامہ نووی نے اپنی کتاب “الروضہ” میں اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ صحیح بات یہ ہے کہ کفر کے فتوے کو اس چیز کے ساتھ مشروط کیا جائے جس کا اسلام کی بنیادی اور ضروری باتوں میں شامل ہونا تمام مسلمانوں کے اتفاق (اجماع) سے ثابت ہو چکا ہو۔ چاہے اس مسئلے پر قرآن و حدیث کی کوئی واضح دلیل (نص) موجود ہو یا نہ ہو۔
Scroll to Top