حقیقت امر یہ ہے کہ مخلوق دو قسم ہے: اول وہ کہ عظمت دینی رکھتے ہیں جن کے سروسر ورمطلق حضور سید المرسلین ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم وبارک وسلم ، پھر باقی حضرات انبیاء وملائکہ واولیاء واہلبیت وصحابہ، پھر دیگر علماء وصلحاء واتقیاء، پھر سلاطین اسلام، پھر عام مومنین، نیز صحائف دینیہ مثل مصحف شریف وکتب فقہ وحدیث، صفات جمیلہ مثل ایمان وعمل، اعمال صالحہ مثل نماز وحج، اخلاق فاضلہ مثل زہد وتواضع، اماکن مقدسہ مثل کعبہ مکرمہ وروضہ منورہ، غرض جملہ اشخاص واشیاء جن کو مولٰی عزوجل سے علاقہ قرب ہے۔ اس علاقہ کے سبب ان کی تعظیم اللہ عزوجل ہی کی تعظیم ہے اور ان کی عزت اس کی عزت ہے، خود فرماتاہے : وﷲ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین ولکن المنفقین لایعلمون ۲؎۔ عزت اللہ اوراس کے رسول اور مسلمانوں کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔(۲؎ القرآن الکریم ۶۳ /۸)
رسول اور مسلمانوں کی عزت اگر عزت الٰہی سے جدا ہوتی تو عزت کے حصے ہوجاتے۔ ایک حصہ اللہ کے لئے، ایک رسول کا، ایک مومنین کا، حالانکہ رب عزوجل فرماچکا کہ عزت ساری اللہ ہی کے لئے ہے، تو قطعاً ان کی عزت اللہ ہی کی عزت سے ہے اور ان کی تعظیم اللہ ہی کی تعظیم ۔ اللہ اوراس کے رسولوں میں تفرقہ کرنے والوں کو قرآن عظیم کافر فرماتاہے، ایک قوم کا حال ارشاد فرمایا: یریدون ان یفرقوا بین اﷲ ورسولہ ۳؎۔ اللہ اور اس کے رسولوں میں جدائی ڈالنی چاہتے ہیں۔ رسولوں کی عزت رسولوں کی عظمت اللہ عزوجل کی عزت وعظمت سے جدا ماننی، اللہ اور اس کے رسولوں میں جدائی ڈالنی ہے ؎
خاصان خدا خدا نبا شند ۔۔۔لیکن زخدا جدا نبا شند
اللہ تعالٰی کے خاص بندے خدا نہیں لیکن خدا سے جدا بھی نہیں۔ ت)
دوم : وہ کہ عظمت دینی سے اصلاً بہرہ نہیں رکھتے کہ اللہ عزوجل سے انھیں کوئی علاقہ قرب نہیں ہے، تو بعد ہی ہے، ان کے بدتر وذلیل ترکفار ومشرکین ومرتدین مثل وہابیہ دیوبندیہ وغیر مقلدین ہیں، پھر باقی ضالین، نیز صفات رذیلہ مثل کفر وضلال، اعمال خبیثہ مثل زنا وشرب خمر، اخلاق رذیلہ مثل تکبر وعجب، اماکن نجسہ مثل معابد کفار غرض دنیا ومافیہا جس کو اللہ عزوجل سے علاقہ قرب نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: الدّنیا ملعونۃ ملعون مافیہا الاما کان منھا ﷲ عزوجل ۱؎۔ رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ و الضیاء فی المختارۃ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما بسند حسن۔ دنیا ملعون ہے اور دنیا میں جو کچھ ہے ملعون ہے مگر وہ جو اس میں سے اللہ عزوجل کے لئے ہو ( اسے ابو نعیم نے حلیہ میں اور ضیاء نے مختارہ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
جب یہ دونوں قسمیں معلوم ہوگئیں اور واضح ہوا کہ قسم اول سے جدا نہیں بلکہ بعینہٖ اسی کی تعظیم، تو محل تحقیر میں غیر اللہ یا خلق سے یقینا وہی مراد ہوتا ہے جسے مولٰی عزوجل سے علاقہ قرب نہیں۔ علاقہ قرب والے تو جانب خالق میں ہیں نہ کہ جانب غیر میں ، دیکھو علماء فرماتے ہیں غیر خدا کے لئے تواضع حرام ہے،
ملتقط پھر درمختار میں قبیل فصل فی البیع نیز فتاوٰی عالمگیریہ باب ۲۸ میں ہے : التواضع لغیر اﷲ حرام ۳؎ (غیر اللہ کے لئے تواضع حرام ہے۔ ت)(۳؎ الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵)
حالانکہ ماں باپ کے لئے تواضع کا قرآن عظیم میں حکم ہے:۔واخفص لھما جناح الذل من الرحمۃ ۴؎۔ماں باپ کے لئے نرم دل سے ذلت کا بازو بچھا۔(۴؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۲۴)
اپنے استاد بلکہ شاگردوں کے لئے بھی تواضع کا حدیث میں حکم ہے: تواضعوا لمن تعلمون منہ وتواضعوا لمن تعلمونہ ولاتکوا جبابرۃ العلماء ۵؎۔ رواہ الخطیب عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جس سے علم سیکھتے ہو اس کے لئے تواضع کرو، اور جسے سکھاتے ہو اس کے لئے تواضع کرو۔ اور گردن کش عالم نہ بنو (اسے خطیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
فتاویٰ رضویہ جلد 15
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے
اس کائنات میں موجود تمام مخلوقات (چیزوں اور انسانوں) کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے تعلق کی بنیاد پر دو بڑی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
پہلی قسم: وہ جنہیں اللہ کی بارگاہ میں دینی عظمت اور قرب حاصل ہے
یہ کون ہیں؟ ان میں سب سے اعلیٰ مقام ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کا ہے۔ اس کے بعد دیگر انبیاء کرام، فرشتے، اولیاء اللہ، اہل بیت، صحابہ کرام، نیک علماء، صالحین، اسلامی حکمران اور تمام عام مسلمان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دینی کتابیں (جیسے قرآن مجید)، اچھی خوبیاں (جیسے ایمان)، نیک اعمال (جیسے نماز اور حج)، اچھے اخلاق (جیسے عاجزی) اور مقدس مقامات (جیسے خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ) بھی اسی قسم میں آتے ہیں۔
ان کی تعظیم کا اصول: چونکہ ان تمام ہستیوں اور چیزوں کا اللہ تعالیٰ سے قرب اور خاص تعلق ہے، اس لیے ان کی عزت اور تعظیم کرنا دراصل اللہ ہی کی عزت اور تعظیم کرنا ہے۔
قرآنی دلیل: قرآن مجید (سورۃ المنافقون، آیت 8) میں ارشاد ہے کہ “عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول اور مسلمانوں کے لیے ہے۔” اگر رسول اور مسلمانوں کی عزت اللہ کی عزت سے الگ ہوتی، تو عزت کے حصے ہو جاتے۔ چونکہ ساری عزت اللہ کے لیے ہے، اس لیے رسولوں اور نیک بندوں کی عزت کو اللہ کی عزت سے الگ سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا (جسے قرآن نے کافروں کا طریقہ بتایا ہے)۔
خلاصہ: فارسی کے ایک شعر کے مطابق: “اللہ کے خاص بندے خدا تو نہیں ہوتے، لیکن وہ خدا سے جدا بھی نہیں ہوتے۔”
دوسری قسم: وہ جن کا اللہ سے کوئی تعلق یا قرب نہیں ہے
یہ کون ہیں؟ یہ وہ لوگ اور چیزیں ہیں جن کا دین اور اللہ سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔ ان میں کافر، مشرک اور دین سے پھر جانے والے لوگ شامل ہیں۔ اسی طرح برے اعمال (جیسے زنا اور شراب نوشی)، بری عادتیں (جیسے تکبر اور غرور) اور ناپاک جگہیں (جیسے کافروں کی عبادت گاہیں) بھی اسی قسم میں آتی ہیں۔
حدیث کی دلیل: نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: “یہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب پر پھٹکار (لعنت) ہے، سوائے اس چیز کے جو اللہ کے لیے ہو۔” (اسے امام ابو نعیم اور ضیاء نے روایت کیا ہے)۔
غیر اللہ کی تعظیم کا مفہوم (ایک اہم غلط فہمی کا ازالہ): جب اسلامی فقہ کی کتابوں (جیسے درمختار اور فتاویٰ عالمگیری) میں یہ لکھا جاتا ہے کہ “غیر اللہ (یعنی اللہ کے سوا کسی اور) کے لیے عاجزی اور انکساری کرنا حرام ہے”، تو یہاں “غیر اللہ” سے مراد وہ دوسری قسم کی مخلوق ہے جس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔
پہلی قسم کی مخلوق (جو اللہ کے قریب ہے) اس ممانعت میں شامل نہیں ہے، کیونکہ ان کی تعظیم تو خود اللہ کی تعظیم ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ:
والدین کی تعظیم: قرآن مجید (سورۃ الاسراء، آیت 24) میں والدین کے سامنے عاجزی اور محبت سے جھکنے کا صریح حکم دیا گیا ہے۔
استاد اور شاگرد کی تعظیم: حدیث مبارکہ میں حکم ہے کہ “جس سے تم علم سیکھتے ہو (استاد) اور جسے علم سکھاتے ہو (شاگرد)، ان دونوں کے ساتھ عاجزی سے پیش آؤ، اور مغرور عالم نہ بنو۔”






