فی الواقع جب اسمائے اصحاب کہف قدست اسرارہم میں وہ برکات ہیں حالانکہ وہ اولیائے عیسویین میں سے ہیں ۔ تو اولیائے محمدیین صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کا کیا کہنا ۔ ا نکے اسمائے کرام کی برکت کیا شمار میں آسکے ۔ اے شخص تو نہیں جانتا کہ نام کیا ہے ۔ مسمی کے انحائے وجودسے ایک نحو ہے ۔ امام فخر الدین رازی وغیرہ علماء نے فرمایا : کہ وجود شئی کی چار صورتیں ہیں ۔ وجود اعیان میں ۔ علم میں ۔ تلفظ میں ۔ کتابت میں ۔ توان دوشق اخیر میں وجود اسم ہی کو وجود مسمی قرار دیا ہے، بلکہ کتب عقائد میں لکھتے ہیں ۔ الاسم عین المسمی ۔ نام عین مسمی ہے ۔ امام رازی نے فرمایا ۔المشہور عن اصحابنا ان الاسم ہو المسمی ۔ مقصود اتنا ہے کہ نام کا مسمی سے اختصاص کپڑوں کے اختصاص سے زائد ہے اور نام کی مسمی پر دلالت تراشۂ ناخن کی دلالت سے افزوں ہے ۔ توخالی اسماء ہی ایک اعلی ذریعۂ تبرک و توسل ہوتے نہ کہ اسامی سلاسل علیہ کہ اسناد اتصال بمحبوب ذوالجلال و بحضرت عزت و جلال ہیں ۔ جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ اور اللہ و محبوب و اولیا ء کے سلسلۂ کرام و کرامت میں انسلاک کی سند، تو شجرہء طیبہ سے بڑھ کر اور کیا ذریعۂ توسل چاہئے ۔ (فتاوی رضویہ ۴/۱۳۷)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس شاندار تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے
حقیقت میں جب اصحابِ کہف (اللہ ان کے باطنی رازوں کو پاکیزہ کرے) کے ناموں میں اتنی برکتیں موجود ہیں، حالانکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور کے اولیاء میں سے ہیں، تو پھر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے امتی اولیاء کا کیا کہنا۔ ان کے مبارک ناموں کی برکت کو تو گنا ہی نہیں جا سکتا۔
اے انسان! تو نہیں جانتا کہ نام کیا چیز ہے؛ یہ نام والے (مسمی) کے وجود کی مختلف صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ امام فخر الدین رازی اور دیگر علماء نے بیان فرمایا ہے کہ
کسی بھی چیز کے وجود کی چار صورتیں ہوتی ہیں: ۱۔ اس کا اصل وجود (باہر کی دنیا میں)۔ ۲۔ اس کا وجود علم میں (ذہن میں)۔ ۳۔ اس کا وجود زبان سے بولنے میں۔ ۴۔ اس کا وجود لکھنے میں۔ان آخری دو صورتوں (بولنے اور لکھنے) میں نام کے وجود کو ہی نام والے کا وجود مانا گیا ہے، بلکہ عقائد کی کتابوں میں یہاں تک لکھا ہے کہ “نام ہی نام والا ہے”۔ امام رازی نے فرمایا کہ ہمارے علماء میں یہی بات مشہور ہے کہ نام اور نام والا ایک ہی ہیں۔
اس بات کا مقصد صرف اتنا ہے کہ نام کا اپنے نام والے سے تعلق کپڑوں کے تعلق سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے، اور نام کا اپنے نام والے کی پہچان کروانا جسم کے ناخن جتنا (قریبی) ہونے سے بھی بڑھ کر ہے۔ لہٰذا، صرف بزرگوں کے نام ہی برکت اور وسیلہ حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہوتے ہیں، خصوصاً ان بزرگوں کے نام جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ تک پہنچنے کا ذریعہ اور سند ہیں۔ اللہ، اس کے محبوب ﷺ اور اولیاء کرام کے اس کرامت والے سلسلے میں شامل ہونے کی سند (شجرہء طیبہ) سے بڑھ کر وسیلے کا اور کیا ذریعہ ہو سکتا ہے