ملائکہ کا لفظ سننے سے انہوں نے جان لیا کہ کاہے سے بنے اور کیونکر بنے اور ان کے مرتبوں کی ترتیب کیا ہے اور کس لیے یہ فرشتہ اس مقام کا مستحق ہوا اور دسرا دوسرے کا۔ اسی طرح عرش سے زیرِ زمین تک ہر فرشتے کا حال، اوریہ تمام علوم صرف آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کو نہیں بلکہ ہر نبی اور ہر ولی کامل کو عطا ہوئے ہیں، آدم کا نام خاص اس لیے لیا کہ انکو یہ علوم پہلے ملے، پھر فرمایا کہ ہم نے بقدر طاقت وحاجت کی قید لگا کر صرف عرش تا فرش کی تمام اشیاء کا احاطہ اس لیے رکھا کہ جملہ معلوماتِ الہٰیہ کا احاطہ نہ لازم آئے اور ان علوم میں ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں یہ فرق ہے کہ اور جب ان علوم کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ان کو مشائدہ حضرت عزت جلالہ، سے ایک گونہ غفلت سی ہوجاتی ہے اور جب مشاہدہ حق کی طرف توجہ فرمائیں تو ان علوم کی طرف سے ایک نیند سی آجاتی ہے مگر ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ان کی کمال قوت کے سبب ایک علم دوسرے علم سے مشغول نہیں کرتا، وہ عین مشاہدہ حق کے وقت ان تمام علوم اور ان کے سوا اور علموں کو جانتے ہیں جن کی طاقت کسی میں نہیں اور ان علوم کی طرف عین توجہ میں مشاہدہ حق فرماتے ہیں اور ان کو نہ مشاہدہ حق ، مشاہدہ خلق سے پردہ ہو نہ مشاہدہ خلق مشاہدہ حق سے ، پاکی و بلندی اسے جس نے ان کو یہ علوم اور یہ قوتیں بخشیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (فتاویٰ رضویہ جلد29 )۔
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے
صرف ‘فرشتے’ کا لفظ سنتے ہی انہوں (یعنی حضرت آدم علیہ السلام) نے یہ جان لیا کہ فرشتے کس چیز سے اور کیسے بنے ہیں، ان کے درجوں کی ترتیب کیا ہے، اور کون سا فرشتہ کس وجہ سے کس خاص درجے کا حقدار بنا ہے۔ اسی طرح آسمان (عرش) سے لے کر زمین کی گہرائیوں تک موجود ہر فرشتے کا حال انہیں معلوم ہو گیا۔ یہ تمام علم صرف حضرت آدم علیہ السلام کو ہی نہیں دیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اور ہر کامل ولی کو بھی یہ علم عطا فرمایا ہے۔ یہاں خاص طور پر حضرت آدم علیہ السلام کا نام اس لیے لیا گیا ہے کیونکہ انہیں یہ علم سب سے پہلے عطا ہوا تھا۔
یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ ہم نے اس علم کو ‘انسان کی طاقت اور ضرورت کے مطابق’ کی شرط لگا کر صرف عرش سے لے کر زمین تک کی تمام چیزوں کے جاننے تک محدود رکھا ہے، تاکہ کہیں یہ مطلب نہ نکل آئے کہ مخلوق نے اللہ تعالیٰ کے لامحدود اور ذاتی علم کا مکمل احاطہ کر لیا ہے۔
ان تمام علوم کے معاملے میں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر تمام انبیاء کرام کے درمیان ایک بہت بڑا اور واضح فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ جب دوسرے انبیاء کائنات اور مخلوق کے اس علم کی طرف دھیان دیتے ہیں، تو ان کی توجہ اللہ تعالیٰ کے جلال اور مشاہدے سے کسی حد تک ہٹ جاتی ہے، اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف پوری توجہ فرماتے ہیں، تو مخلوق کے علم کی طرف سے ان پر ایک غفلت یا نیند سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی قوت اور طاقت کا کمال یہ ہے کہ ایک طرف کی توجہ انہیں دوسری طرف کے علم سے غافل نہیں کرتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت اللہ تعالیٰ کا عین مشاہدہ فرما رہے ہوتے ہیں، اسی وقت وہ کائنات کے ان تمام علوم اور ان کے علاوہ ایسے علوم کو بھی جان رہے ہوتے ہیں جنہیں جاننے کی طاقت کسی اور مخلوق میں نہیں ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کے علوم کی طرف پوری توجہ فرماتے ہیں، تب بھی آپ اللہ کا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں۔ غرض یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہ تو خالق کا مشاہدہ مخلوق کے مشاہدے میں رکاوٹ بنتا ہے، اور نہ ہی مخلوق کا مشاہدہ خالق کے مشاہدے کے درمیان کوئی پردہ ڈالتا ہے۔ پاکی اور بلندی ہے اس اللہ کی ذات کے لیے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بے مثال علوم اور طاقتیں عطا فرمائیں






