عقل کی حدود اور مقامِ مصطفیٰ ﷺ

عقل و شعور کو خود اپنا شعور نہیں، دست و پا بستہ خود گم کردہ حواس ہے، ہوش و خرد کو خود اپنے لالے پڑے ہیں وہم و گمان دوڑیں تو کہاں تک پہنچیں، ٹھوکر کھائی اور گرے۔

سراغ این و متٰی کہاں تھا، نشان کیف واِلٰی کہاں تھا

نہ کوئی راہی، نہ کوئی ساتھی ، نہ سنگ منزل، نہ مرحلے تھے۔

جس راز کو اللہ جل شانہ ظاہر نہ فرمائے بے بتائے کس کی سمجھ میں آئے اور کسی بے وقار کی کیا مجال کہ درون خانہ خاص تک قدم بڑھائے۔ گوہر شناور دریا مگر صدف نے وہ پردہ ڈال رکھا ہے کہ نم سے آشنا نہیں اے جاہلِ ناداں، علم کو علم والے پر چھوڑ اور اس میدان دشوار جو لان سے سمندِ بیان کی عنان موڑ زبان بند ہے پر اتنا کہتے ہیں کہ خلق کے آقا ہیں، خالق کے بندے، عبادت ان کی کفر اور بے ان کی تعظیم کے حبط ایمان ان کی محبت و عظمت کا نام اور مسلمان وہ جس کا کام ہے نامِ خدا کے ساتھ ، ان کے نام پر تمام۔

ایسے ہی کوئی عالم افادہ وتعلیم یا درس مسائل کےلئے خطاب کر رہا تھا اورسامعین دروازہ تک صف درصف بیٹھے ہوئے تھے ، کوئی طالب علم یا سائل مسئلہ پوچھنے آیا اس کو مجلس کی ہیبت نے عالم کے قریب ہونے نہیں دیا،تو خود عالم نے اسے قریب ہونے کا حکم دیا ، یابادشاہ نے اپنے بعض حاشیہ نشینوں کو اپنے نزدیک آنے کاحکم دیا، تو جاہل تو یہی کہے گا کہ مطلقاٍ قریب ہونے کا حکم ہے اورعرف میں اس سے انتہائی قرب مراد ہوتاہے ۔ تو وہ لوگوں کے کندھوں پر سوار ہوتے اورگردنیں پھلانگتے ہوئے عالم کی گود میں جابیٹھے گا، اوربادشاہ کے دربار میں فرش کو روندتاتخت پر چڑھ جائے گااوربادشاہ کے پہلو سے پہلو ملاکر بیٹھ جائےگا اور بادشاہ کی تعذیر اورآخرت کی تعذیب کا مستحق ہوگا۔ معاذاللہ اورعقلمند خوب سمجھے گا کہ یہاں وہی قرب مراد ہے جس کی شرعًااورعرفًاگنجائش ہے ، تو سائل دروازہ کے پاس مجلس عالم سے پرے اوربادشاہ کا حاشیہ نشین اپنے منصب تک، دربان دروازے تک اوروزیر تخت کے قریب کھڑا ہوجائے گا، اورپتا چل جائے گا کہ عرف کے ساتھ دلیل پکڑنے  والے جاہل نے عرف کے سمجھنے میں غلطی کی ، اس لئے کہ مطلقًاقرب کا مطلب وہ مقدارہے جہاں تک بڑھنے کی گنجائش ہو، نہ کہ تمام حدود کو پھلانگنے کا نام ہے (فتاویٰ رضویہ  جلد28)۔

امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے

انسان کی عقل اور سمجھ بوجھ کی اپنی کوئی حیثیت نہیں، یہ خود اپنے حواس کھو بیٹھی ہے اور ہوش و خرد خود پریشانی کا شکار ہیں۔ انسان کا وہم و گمان بھلا کہاں تک پہنچ سکتا ہے، وہ تھوڑی دور جا کر ہی ٹھوکر کھا کر گر جاتا ہے۔ اس راستے میں کب، کہاں اور کیسے کا کوئی نشان نہیں تھا، نہ کوئی سفر کرنے والا تھا، نہ کوئی ساتھی اور نہ ہی منزل کا کوئی نشان یا مرحلہ تھا۔ جس راز کو اللہ تعالیٰ خود ظاہر نہ فرمائے، اسے بتائے بغیر کوئی کیسے سمجھ سکتا ہے؟ اور کسی عام انسان کی کیا مجال کہ وہ اللہ کے خاص رازوں تک پہنچ سکے۔ اگرچہ موتی دریا میں ہو، لیکن سیپ نے اس پر ایسا پردہ ڈال رکھا ہوتا ہے کہ وہ پانی کی نمی تک سے ناواقف رہتا ہے۔ اے نادان انسان! علم کی باتیں علم والوں کے لیے چھوڑ دے اور اس مشکل میدان سے اپنی زبان اور بیان کی لگام موڑ لے۔ ہماری زبانیں خاموش ہیں، لیکن ہم صرف اتنا کہتے ہیں کہ وہ (نبی کریم ﷺ) ساری مخلوق کے آقا ہیں اور اللہ کے بندے ہیں۔ ان کی عبادت کرنا کفر ہے، لیکن ان کی تعظیم کے بغیر انسان کا ایمان برباد ہو جاتا ہے۔ سچے مسلمان کا کام یہی ہے کہ اللہ کے نام کے ساتھ ہر کام انہی کے نام پر ہو۔

اس بات کو ایک مثال سے سمجھیں کہ جیسے کوئی عالم دین پڑھا رہا ہو اور لوگ دروازے تک قطاروں میں بیٹھے ہوں، کوئی طالب علم یا سوال پوچھنے والا آئے اور محفل کے رعب کی وجہ سے عالم کے قریب نہ جا سکے۔ تب عالم خود اسے قریب آنے کا کہے، یا کوئی بادشاہ اپنے کسی درباری کو اپنے قریب آنے کا حکم دے۔ اب کوئی جاہل انسان یہی سمجھے گا کہ قریب بلانے کا مطلب بالکل ساتھ بیٹھنا ہے، تو وہ لوگوں کے کندھوں اور گردنوں کو پھلانگتا ہوا عالم کی گود میں جا بیٹھے گا، یا بادشاہ کے دربار میں قالینوں کو روندتا ہوا تخت پر چڑھ کر بادشاہ کے بالکل ساتھ جا بیٹھے گا۔ ایسا بے ادب شخص بادشاہ کی سزا اور آخرت کے عذاب کا حقدار ہوگا۔

اس کے برعکس، ایک عقلمند انسان یہ بات بخوبی سمجھے گا کہ یہاں قریب ہونے سے مراد وہ قرب ہے جس کی شریعت اور دنیاوی رسم و رواج میں اجازت ہے۔ لہٰذا، سوال پوچھنے والا دروازے کے پاس ہی محفل کے کنارے کھڑا ہوگا، بادشاہ کا درباری اپنے مرتبے کے لحاظ سے، دربان دروازے تک اور وزیر تخت کے قریب کھڑا ہوگا۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسم و رواج کی دلیل دینے والے جاہل انسان نے بات کو سمجھنے میں غلطی کی، کیونکہ قریب ہونے کا مطلب صرف وہاں تک آگے بڑھنا ہے جہاں تک جانے کی گنجائش ہو، نہ کہ تمام حدیں پار کر کے سب سے آگے نکل جانا۔

 

Scroll to Top