اے عزیز ! کسی بات کو حق جاننے کےلئے اس کی حقیقت جاننی لازم نہیں ہوتی ، دنیا جانتی ہے کہ مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے ، اور مقناطیسی قوت دیا ہوا لوہاستارہ قطب کی طرف توجہ کرتا ہے۔ مگر اس کی حقیقت و کنہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس خا کی لوہے اور اس افلاکی ستارے میں کہ یہاں سے کروڑوں میل دور ہے باہم کیاالفت ؟ اور کیونکر اسے اس کی جہت کا شعور ہے ؟ اور ایک یہی نہیں عالم میں ہزاروں ایسے عجائب ہیں کہ بڑے بڑے فلاسفہ خاک چھان کر مرگئے اور ان کی کنہ نہ پائی۔ پھر اس سے ان باتوں کا انکار نہیں ہوسکتا ،آدمی اپنی جان ہی کو بتائے وہ کیا شیئ ہے جسے یہ میں کہتا ہے ، اور کیا چیز جب نکل جاتی ہے تو یہ مٹی کا ڈھیر بے حس وحرکت رہ جاتاہے۔ غرض اپنی فہم کو قاصر جانے گانہ کہ اس کی حکمت کو ۔ پھر رب الارباب ، حکیم حقیقی ، عالم السر والخفی عزجلالہ کے اسرار میں خوض کرنا اور جو سمجھ میں نہ آئے اس پر معترض ہونا اگر بے دینی نہیں جنون ہے۔ اگر جنون نہیں بے دینی ہے ،والعیاذ باللہ رب العالمین۔(فتاویٰ رضویہ جلد29)۔
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے
اے پیارے بھائی! کسی بات کو سچ ماننے کے لیے یہ قطعی ضروری نہیں ہے کہ انسان کو اس کی مکمل اور اصل حقیقت بھی معلوم ہو۔ پوری دنیا یہ جانتی ہے کہ مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور جس لوہے میں مقناطیسی کشش پیدا ہو جائے (جیسے قطب نما)، وہ ہمیشہ قطب تارے کی سمت اشارہ کرتا ہے۔ لیکن اس بات کی اصل وجہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ زمین کے اس لوہے اور کروڑوں میل دور آسمان پر موجود اس تارے کے درمیان آخر کیا تعلق ہے، اور اس لوہے کو تارے کی سمت کا اندازہ کیسے ہو جاتا ہے؟
صرف یہی نہیں، بلکہ اس دنیا میں ہزاروں ایسے حیرت انگیز معاملات موجود ہیں جن کی حقیقت تلاش کرتے کرتے بڑے بڑے فلاسفر اس دنیا سے چلے گئے مگر ان کی اصل وجہ نہ جان سکے۔ لیکن اصل وجہ نہ جاننے کی بنیاد پر ان حقیقتوں کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انسان ذرا اپنی جان (روح) ہی کے بارے میں غور کرے اور بتائے کہ وہ کیا چیز ہے جسے وہ “میں” کہتا ہے، اور وہ کون سی چیز ہے جس کے جسم سے نکل جانے کے بعد انسان مٹی کا ایک بے جان اور حرکت نہ کرنے والا ڈھیر بن کر رہ جاتا ہے؟
مختصر یہ کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی عقل اور سمجھ کو محدود اور کمزور مانے، اور اللہ تعالیٰ کی حکمت پر سوال نہ اٹھائے۔ تو پھر سب کو پالنے والے، سچی حکمت والے اور ہر ظاہر و چھپے کو جاننے والے رب (اللہ تعالیٰ) کے رازوں میں بلاوجہ کرید کرنا، اور جو بات اپنی سمجھ میں نہ آئے اس پر اعتراض کرنا، اگر بے دینی نہیں ہے تو پاگل پن ہے، اور اگر پاگل پن نہیں ہے تو یقیناً بے دینی ہے، اور ہم اس سے تمام جہانوں کے رب کی پناہ مانگتے ہیں۔






