سورہ یونس رعدو سورہ الم تنزیل السجدہ کے پہلے رکوع اس نزعہ فلسفیّہ کے رَد کو بس ہیں۔ اور سورہ یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے رکوع چہارم میں فرماتا ہے : قل من یرزقکم من السماء والارض امن یملک السمع والابصار ومن یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ومن یّد بّر الامرط فسیقولون اﷲ ج فقل افلا تتقون ۔۔ (القرآن الکریم ۱۰ /۳۱)
تو فرما کون تمہیں روزی دیتا ہے آسمان سے ( مینہ اتار کر) اور زمین سے ( کھیتی اُگا کر) یا کون مالک ہے شُنوائی اور نگاہوں کا۔ ( کہ مُسَبَّبَات کو اسباب سے ربطِ عادی دیتا ہے۔ اور قَرَع سے ہوا کہ صوت کا حامل کرتا ، پھر اُسے اذنِ حرکت دیتا ، پھر اسے عَصبہ مفروشہ تک پہنچاتا ، پھر اس کے بچنے کو محض اپنی قدرتِ کاملہ سے ذریعہ ادراک فرماتا ہے___ اور اگر وہ نہ چاہے تو صور کی آواز بھی کان تک نہ جائے۔ یونہی جو چیز آنکھ کے سامنے ہو ، اور موانع و شرائط عادیہ مرتفع و مجتمع ۔
واﷲ اعلم انّ ذٰلک بالانطِباع اوخروج الشعاع،کما قد شاع،اوکیفما ماشاء ( اور اﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے کہ وہ انطباع کے ساتھ ہوا یا شعاع کے نکلنے سے ہوا جیسا کہ مشہور ہے یا جیسے اس نے چاہا۔ ت) ¬¬_____ اس وقت اِبصار کا حکم دیتا ہے____ اور اگر وہ نہ جاہے روشن دن میں بلند پہاڑ نظر نہ آئے۔ اور وہ کون ہےجو نکالتا ہے زندے کو مُردے سے ( کافر سے مومن ، نطفہ سے انسان ، انڈے سے پرند) اور نکالتا ہے مردے کو زندے سے ، اور کون تدبیر فرماتا ہے ہر کام کی ۔ ( آسمان میں اس کے کام ، زمین میں اس کی کام ، ہر بدن میں اس کے کام ،کہ غذا پہنچاتا ہے۔ پھر اُسے روکتا ہے۔ پھر ہضم بخشتا ہے۔ پھر سہولت دفع کو پیاس دیتا ہے۔ پھر پانی پہنچاتا ہے ۔ پھر اس کے غلیظ کو رقیق ، لزج کو منزلق کرتا ہے۔ پھر ثقل کیلوس کو امعا کی طرف پھینکتا ہے ۔ پھر ماساریقا کی راہ سے ، خالص کو جگر میں لے جاتا ہے ۔ وہاں کیموس دیتا ہے ۔ تلچھٹ کا سودا ، جھاگوں کا صفرا۔ کچے کا بلغم ، پکے کا خون بناتا ہے۔ فُضلہ کو مثانہ کی طرف پھینکتا ہے۔ پھر انہیں بابُ الکَبِدْکے راستے سے عُروق میں بہاتا ہے۔ پھر وہاں سہ بارہ پکاتا ہے۔ بے کا کو پسینہ بنا کر نکالتا ہے۔ عطر کو بڑی رگوں سے جَدَ اول ، جداول سے سواقی ، سواقی سے باریک عروق ، پیچ درپیچ تنگ برتنگ راہیں چلاتا ہوا ، رگوں کے دہانوں سے اعضاء پر اُنڈیلتا ہے۔ پھر یہ محال نہیں کہ ایک عضو کی غذا دوسرے پر گرے ۔جو جس کے مناسب ہے اسے پہچانتا ہے۔ پھر اعضاء میں چوتھا طبخ دیتا ہے کہ اس صورت کو چھوڑ کر صورتِ عُضویّہ لیں۔اِن حکمتوں سے بقائے شخص کو مایَتَحَلَّلْ کا عوض بھیجتا ہے___ جو حاجت سے بچتا ہے اُس سے بالیدگی دیتا ہے اور وہ ان طریقوں کا محتاج نہیں۔ چاہے تو بے غذا ہزار برس جِلائے اور نماء کا مل پر پہنچائے___ پھر جو فُضلہ رہا اُسے منی بنا کر صلب و ترائب میں رکھتا ہے۔ عقدو انعقاد کی قوت دیتا ہے۔ زن و مرد میں تالیف کرتا ہے۔ عورت کو باوجود مشقت حمل وصعوبت وضع شوق بخشتاہے ۔ حفظِ نوع کا سامان فرماتاہے ۔ رحم کو اذن جذب دیتا ہے___ پھر ا س کے اِمساک کا حکم کرتا ہے ۔ پھر اسے پکا کر خون بناتا ہے۔ پھر طبخ دے کر گوشت کا ٹکڑا کرتا ہے۔ پھر اس میں کلیاں ، کنچھیان نکالتا ہے۔ قسم قسم کی ہڈیاں ، ہڈیوں پر گوشت ، گوشت پر پوست ، سینکڑوں رگیں ، ہزاروں عجائب ___ پھر جیسی چاہے تصویر بناتا ہے ۔ پھر اپنی قدرت سے رُوح ڈالتا ہے۔ بے دست و پا کو ان ظلمتوں میں رزق پہنچاتا ہے ۔ پھر قوت آنے کو ایک مدت تک روکے رہتا ہے۔ پھر وقتِ معین پر حرکت وخروج کا حکم دیتاہے ۔ اس کے لیے راہیں آسان فرماتاہے ۔ مٹی کی مورت کو پیاری صورت ، عقل کا پُتلا ، چمکتا تارا۔ چاند کا ٹکڑا کر دکھاتا ہے۔ فتبٰرک اﷲ احسن الخالقین(القرآن الکریم ۳۳ /۱۴) (تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بنانے والا ۔ ت) اور وہ اِن باتوں کا محتاج نہیں ، چاہے تو کروڑوں انسان پتھر سے نکالے ، آسمان سے برسالے۔
ہاں بتاؤ وہ کون ہے جس کے یہ سب کام ہیں؟ فسیقولون اﷲ (القرآن الکریم ۱۰ /۳۱)اب کہا چاہتے ہیں کہ اللہ ۔ توفرما پھر ڈرتے کیوں نہیں؟
اٰمنّا باﷲ وحدہ، (القرآن الکریم ۴۰/ ۸۴) ( ہم ایک اﷲ پر ایمان لائے ۔ ت)–
آہ ! آہ ! اے مُتفلسف مسکین! کیوں اب بھی یقین آیا یا نہیں کہ تدبیر و تصّرف اسی حکم علیم کے کام ہیں۔(فتاویٰ رضویہ جلد27)۔
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے
سورہ یونس، سورہ رعد اور سورہ سجدہ کے ابتدائی حصے فلسفیانہ خیالات کو رد کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اور سورہ یونس کے چوتھے رکوع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قل من یرزقکم من السماء والارض امن یملک السمع والابصار ومن یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ومن یّد بّر الامرط فسیقولون اﷲ ج فقل افلا تتقون
اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اسباب کو ان کے نتائج سے جوڑتا ہے، وہ ہوا کو آواز اٹھانے کا حکم دیتا ہے، پھر اسے کان کی رگوں تک پہنچاتا ہے، اور پھر اپنی کامل قدرت سے اسے سننے اور سمجھنے کا ذریعہ بناتا ہے۔ اگر وہ نہ چاہے تو صور (قیامت کے بگل) کی آواز بھی کان تک نہ پہنچے۔ اسی طرح کوئی چیز آنکھ کے سامنے ہو اور دیکھنے کی تمام شرائط پوری ہوں، اللہ ہی اس وقت دیکھنے کا حکم دیتا ہے، اور اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ دیکھنا عکس پڑنے سے ہوتا ہے یا آنکھ سے شعاع نکلنے سے، یا جیسے اس کی مرضی ہو۔ اگر وہ نہ چاہے تو روشن دن میں بھی ایک بہت بڑا پہاڑ نظر نہ آئے۔
وہی ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے، جیسے کافر کے گھر مومن کو، نطفے سے انسان کو، اور انڈے سے پرندے کو، اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے، اور وہی ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ آسمان، زمین اور ہر جسم کے اندر اسی کے کام جاری ہیں، وہی جسم کو خوراک پہنچاتا ہے، اسے روکتا ہے اور ہضم کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ فضلات (گندگی) کو نکالنے کے لیے پیاس لگاتا ہے اور پانی پہنچاتا ہے، گاڑھی چیزوں کو پتلا اور چپکنے والی چیزوں کو پھسلنے والا بناتا ہے، پھر ہضم شدہ غذا کو آنتوں کی طرف اور خالص حصے کو رگوں کے ذریعے جگر تک لے جاتا ہے۔ جگر میں اس خوراک کی مختلف شکلیں بناتا ہے، فضلے سے سودا، جھاگ سے صفرا، کچے حصے سے بلغم اور پکے ہوئے حصے سے خون بناتا ہے، اور بے کار مادے کو مثانے کی طرف بھیج کر خون کو رگوں میں بہاتا ہے۔ پھر اسے مزید پکا کر بے کار مادے کو پسینے کی شکل میں نکال دیتا ہے، اور مفید رس کو بڑی رگوں سے چھوٹی رگوں اور تنگ راستوں سے گزار کر جسم کے تمام حصوں تک پہنچاتا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک عضو کی خوراک دوسرے عضو پر گرے، بلکہ ہر عضو اپنی مناسب خوراک پہچان لیتا ہے۔
پھر جسم کے اعضاء میں اسے آخری بار پکاتا ہے تاکہ وہ اسی عضو کی شکل اختیار کر لے، اور ان حکمتوں سے وہ جسم کی کمی پوری کرتا ہے تاکہ انسان زندہ رہے، اور جو خوراک بچتی ہے اس سے جسم کو نشوونما دیتا ہے۔ اللہ ان طریقوں کا محتاج نہیں ہے، وہ چاہے تو بغیر خوراک کے انسان کو ہزار سال زندہ رکھے اور مکمل نشوونما دے۔
پھر جو مادہ بچ جاتا ہے، اسے منی بنا کر پیٹھ اور پسلیوں میں رکھتا ہے، اسے جمنے کی طاقت دیتا ہے، مرد اور عورت میں محبت پیدا کرتا ہے، اور عورت کو حمل اور پیدائش کی تکالیف کے باوجود اس کا شوق دیتا ہے تاکہ انسانی نسل باقی رہے۔ وہ رحمِ مادر کو اسے کھینچنے اور روکے رکھنے کا حکم دیتا ہے، پھر اسے پکا کر خون اور پھر گوشت کا لوتھڑا بناتا ہے۔ پھر اس میں ابھار نکال کر مختلف ہڈیاں، ہڈیوں پر گوشت، کھال اور سینکڑوں رگیں بناتا ہے، پھر جیسی مرضی ہو صورت بناتا ہے اور اپنی قدرت سے اس میں روح پھونکتا ہے۔
اس اندھیرے میں بغیر ہاتھ پاؤں کے بچے کو رزق پہنچاتا ہے، طاقت آنے تک اسے ایک مقررہ وقت کے لیے روکے رکھتا ہے، پھر وقت آنے پر حرکت کرنے اور باہر آنے کا حکم دیتا ہے اور اس کے لیے راستے آسان فرماتا ہے۔ وہ ایک مٹی کی مورت کو پیاری صورت، عقل کا پتلا، چمکتا تارا اور چاند کا ٹکڑا بنا کر دکھا دیتا ہے۔ فتبٰرک اﷲ احسن الخالقین۔ وہ ان تمام اسباب کا محتاج نہیں، چاہے تو کروڑوں انسانوں کو پتھروں سے پیدا کر دے یا آسمان سے برسا دے۔
ہاں بتاؤ! وہ کون ہے جس کے یہ سب کام ہیں؟ فسیقولون اﷲ۔ تو فرماؤ، پھر ڈرتے کیوں نہیں؟ اٰمنّا باﷲ وحدہ۔ ۔ اے غریب اور بے چارے فلسفی! کیا اب تجھے یقین آیا یا نہیں کہ یہ ساری تدبیر اور سارا تصرف اسی ایک حکمت والے اور سب کچھ جاننے والے حکمران (اللہ تعالیٰ) کا کام ہے






