“شریعت ، طریقت، حقیقت، معرفت میں باہم اصلا کوئی تخالف نہیں اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تونرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ بددین، شریعت حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اقوال ہیں، اور طریقت حضور کے افعال، اور حقیقت حضور کے احوال، اور معرفت حضور کے علوم بے مثال،صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ الی مالایزال”
فتاویٰ رضویہ جلد 21
اس عبارت کا آسان اور عام فہم مفہوم درج ذیل ہے
شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے درمیان آپس میں سرے سے کوئی اختلاف یا ٹکراؤ نہیں ہے
۔ اگر کوئی شخص ان کے درمیان تضاد کا دعویٰ کرتا ہے، تو وہ اگر بغیر سمجھے ایسا کہتا ہے تو وہ بالکل جاہل ہے، اور اگر سمجھ بوجھ کر کہتا ہے تو وہ گمراہ اور بددین ہے
دراصل:
شریعت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ارشادات (اقوال) ہیں
طریقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اعمال اور طریقے (افعال) ہیں
حقیقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باطنی اوصاف (احوال) ہیں
معرفت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ بلند اور بے مثال علوم ہیں جن کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی
اللہ تعالیٰ کی بے شمار اور ہمیشہ رہنے والی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ہمارے پیارے آقا پر، ان کی آل پر اور ان کے صحابہ پر
۔ اگر کوئی شخص ان کے درمیان تضاد کا دعویٰ کرتا ہے، تو وہ اگر بغیر سمجھے ایسا کہتا ہے تو وہ بالکل جاہل ہے، اور اگر سمجھ بوجھ کر کہتا ہے تو وہ گمراہ اور بددین ہے
دراصل:
شریعت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ارشادات (اقوال) ہیں
طریقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک اعمال اور طریقے (افعال) ہیں
حقیقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باطنی اوصاف (احوال) ہیں
معرفت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ بلند اور بے مثال علوم ہیں جن کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی
اللہ تعالیٰ کی بے شمار اور ہمیشہ رہنے والی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ہمارے پیارے آقا پر، ان کی آل پر اور ان کے صحابہ پر





