حضرت سیدنا علی المرتضی اور سیدنا امیر معاویہ کے متعلق اہلِ سنت کا عقیدہ:فرقَ مراتب بے شمار اور حق بدست حیدرِ کرار، مگر معاویہ بھی ہمارے سردار، طعن اُن پر بھی کارِ فجار، جو معاویہ کی حمایت میں عیاذا باللہ اسد اللہ کی سبقت و اولیت و عظمت و اکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی، اور جو علی کی محبت کی معاویہ کی صحابیت و نسبت بارگاہِ حضرتِ رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی ۔ یہی روشِ آداب بحمد اللہ تعالیٰ ہم اہلِ توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے (فتاویٰ رضویہ جلدجلد 10 ص 201)۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی اس تحریر کا آسان اردو ترجمہ درجِ ذیل ہے
حضرت سیدنا علی المرتضی اور سیدنا امیر معاویہ کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ ان دونوں کے مرتبوں میں بہت زیادہ فرق ہے اور حق حضرت علی (حیدرِ کرار) کے ساتھ تھا، لیکن حضرت امیر معاویہ بھی ہمارے سردار ہیں۔ ان پر طعنہ زنی کرنا یا برا بھلا کہنا گناہگاروں کا کام ہے۔ جو شخص حضرت امیر معاویہ کی حمایت کرتے ہوئے (اللہ کی پناہ) حضرت علی کی سبقت، فضیلت، بڑائی اور ان کے کامل ہونے سے نظریں چرا لے، وہ ناصبی اور یزیدی ہے۔ اسی طرح، جو حضرت علی کی محبت میں حضرت امیر معاویہ کے صحابی ہونے اور ان کے حضور ﷺ کی بارگاہ سے تعلق کو بھلا دے، وہ شیعی اور زیدی ہے۔ اللہ کے فضل سے، ہم درمیانہ راستہ اختیار کرنے والے لوگ ہر جگہ ادب کے اسی طریقے کا خیال رکھتے ہیں



