Fatawa Razaviah Volume 7 in Typed Format

#5266 · پیش لفظ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
پیش لفظ
الحمد لله اعلی حضرت امام احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ الله تعالی علیہ کے خزائن علمیہ وذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں منصہ شہود پرلانے کے لئے “ رضا فاؤنڈیشن “ کے نام سے قائم شدہ ادارہ انتہائی سرعت رفتاری اور کامیابی کے ساتھ اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے۔ اس سے قبل فتاوی رضویہ کی چھ مجلدات آپ تك پہنچ چکی ہیں ۔ اب الله تعالی کے فضل وکرم اور نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی نظرعنایت سے ساتویں جلد آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ اس جلد کی عربی و فارسی عبارات کا ترجمہ فاضل شہیر مترجم کتب کثیرہ حضرت علامہ مفتی محمدخان قادری نے کیاہے جبکہ جلد ششم کا ترجمہ بھی انہیں کی رشحات قلم کا نتیجہ ہے۔
جلد ہفتم
یہ جلد فتاوی رضویہ (قدیم) کی جلد سوم سے باب الجماعۃ سے باب احکام المساجد تك ۲۶۹ سوالوں کے جوابات پرمشتمل ہے۔ متعدد ضمنی مسائل وفوائد کے علاوہ اس جلد میں مندرجہ ذیل چار مستقل ابواب زیربحث ہیں :
۱۔ باب الجماعۃ
۲۔ باب مفسدات الصلوۃ
۳۔ باب مکروہات الصلوۃ
۴۔ باب الوتر والنوافل
اس کے علاوہ انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل سات رسائل بھی پیش نظرجلد میں شامل ہیں جن کے نام یہ ہیں :
۱۔ القلادۃ المرصعۃ فی نحر الاجوبۃ الاربعۃ (۱۳۱۲ھ)
مولوی اشرف علی تھانوی کے چار فتووں کارد بلیغ
#5267 · پیش لفظ
۲۔ القطوف الدانیۃ لمن احسن الجماعۃ الثانیۃ (۱۳۱۳ھ)
جماعت ثانیہ کے ثبوت سے متعلق نادر تحقیقات
۳۔ تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب (۱۳۲۰ھ)
محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پر نفیس بحث
۴۔ اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (۱۳۱۶ھ)
قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوی کارد
۵۔ انھار الانوار فی یم صلوۃ الاسرار (۱۳۰۵ھ)
نماز غوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی
۶۔ ازھار الانوار من صبا صلوۃ الاسرار (۱۳۰۵ھ)
نماز غوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کا طریقہ
۷۔ وصاف الرجیح فی بسملۃ التراویح (۱۳۱۲ھ)
ختم تراویح میں ایك بار جہر سے بسملہ پڑھنے کا بیان
مندرجہ ذیل رسائل دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس جلد میں شامل نہ ہوسکے :
۱۔ حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ
جماعت اولی کے بیان میں
۲۔ رعایۃ المنہ فی ان التھجد نفل اوسنہ
نماز تہجد نفل یا سنت
۳۔ الرد الاشد البھی فی ھجرالجماعۃ الگنگھی
جماعت ثانیہ کے بیان میں
ڈاکٹر رشید احمدجالندھری ڈائریکٹر ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور کے ۲۷ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو آواری ہوٹل میں پڑھے گئے مقالہ کا وہ حصہ جو فتاوی رضویہ سے متعلق ہے جلد ہفتم میں شامل کیاجارہاہے۔

۲۳جمادی الاول ۱۴۱۵ھ حافظ محمد عبدالستارسعیدی
۲۹اکتوبر ۱۹۹۴ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
#5268 · فتاوٰی رضویہ کی غیرمعمولی اہمیت
فتاوی رضویہ کی غیرمعمولی اہمیت
پروفیسرڈاکٹر رشید احمد جالندھری ڈائریکٹر ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور
یہ با ت محتاج بیان نہیں کہ دین قیم کے اسرار وحکم اور دقائق وحقائق انہی قلوب پرمنکشف ہوتے ہیں جو مجلا و مصفی ہیں اور حسن مطلق کی جلوہ گاہ ہیں ۔ چنانچہ یہی لوگ ہیں جو دین اور معاشرے کے تعلق پرگہری نظررکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ دین دنیا میں مخلوق خدا کی بہتری کے لئے آیاہے اس کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لئے نہیں آیا۔ چنانچہ کہاگیا ہے کہ جو آدمی اپنے معاشرے کے احوال وظروف سے آگاہ نہیں وہ “ عالم “ کہلانے کا مستحق نہیں ۔ مولانا مرحوم نے اپنے فتاوی میں معاشرے کے رسم ورواج اور عرف وعادات کو نگاہ میں رکھاہے اور مقدور بھرسعی کی ہے کہ ایك مسلمان آسانی سے حقوق الله اور حقوق العباد کو سرانجام دینے کی سعادت حاصل کرے۔ چنانچہ انہوں نے اس سلسلہ میں بنیادی نکتہ یہ بیان کیاہے کہ فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب کو رضاء مخلوق پر مقدم رکھے اور فتنہ وفساد سے بچنے اور انسانی قلوب کی مدارات ومراعات کے لئے غیراولی امور کو ترك کردیاجائے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ جلد چہارم(طبع جدید) میں فرماتے ہیں :
“ پس ان امور میں ضابطہ کلیہ واجبۃ الحفظ یہ ہے کہ فعل فرائض وترك محرمات کو ارضائے خلق پر مقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلق پروانہ کرے اور اتیان مستحب وترك غیراولی پرمدارات خلق ومراعات قلوب کو اہم جانے اور فتنہ ونفرت ایذاء اور وحشت کاباعث ہونے سے بچے “ ۔
یہ بات شاید کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ جو لوگ شریعت مطہرہ کی روح اور حکمت وعلت سے تغافل برتتے ہیں اور ظاہری الفاظ کی پیروی کرنے پر زوردیتے ہیں وہ بعض اوقات امت میں اختلاف وتشتت کا باعث بنتے ہیں اور لوگوں کو مشقت و تنگی سے دوچار کرتے ہیں ۔ اگر ان کی نگاہ سے شریعت کا بنیادی مقصد اوجھل نہ ہوتا تو ان کا زہدخشك لوگوں کو غیراولی اور لایعنی باتوں میں الجھنے نہ دیتا۔ اسی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
“ اسی طرح جوعادات و رسوم خلق میں جاری اور شرع مطہر سے ان کی حرمت وشناعت نہ ثابت ہو ان میں اپنے ترفع وتنزہ کے لئے خلاف وجدال نہ کرے کہ یہ سب امورایتلاف وموانست کے معارض اور
#5269 · فتاوٰی رضویہ کی غیرمعمولی اہمیت
مرادومحبوب شارع کے مناقض ہیں ۔ ہاں ہاں ہوشیار وگوش دار! کہ یہ وہ نکتہ جمیلہ وحکمت جلیلہ وکوچہ سلامت و جادہ کرامت ہے جس سے بہت (سے) زاہدان خشك اور اہل تکشف جاہل وغافل ہوتے ہیں وہ اپنے زعم میں محتاط ودین پرور بنتے ہیں اور فی الواقع مغزحکمت ومقصود شریعت سے دور پڑتے ہیں “ ۔ (فتاوی رضویہ ۴(جدید) ص۵۲۸)
میں یہاں مولانا مرحوم کے فتاوی سے اور مثالیں دیناچاہتاتھا لیکن تنگی وقت کی بنا پر ایسانہیں کرسکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ مولانا کو اسلامی فقہ میں جو عبور ورسوخ حاصل ہے اس کی بنیادی وجہ قرآن وسنت سے ان کی گہری شیفتگی اور وابستگی ہے۔ چنانچہ میری اہل علم سے گزارش ہے کہ وہ مولانا مرحوم کے فتاوی کا گہری نظر سے مطالعہ فرمائیں اور فلسفہ دین اور روح عصر سے آگاہ ہوکر لوگوں کے مسائل حل کریں اور انہیں مشقت وتنگی میں گرفتار ہونے سے بچائیں ۔
___________________
#5270 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
باب الجماعۃ
(جماعت کا بیان)
مسئلہ ۸۴۶ : از میرٹھ خیر نگردروازہ خیرالمساجد مرسلہ مولوی ابوالعارف محمد حبیب الله صاحب قادری برکاتی ۲رمضان المبارك ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مسجد خیرنگر دروازہ کا صحن محراب کے ہردو جانب میں مساوی نہیں ہے بلکہ دست راست کی جانب ۱۶فٹ بڑھاہواہے گرمی برسات وغیرہ میں جب نماز صحن مسجد میں پڑھی جاتی ہے توجماعت اس سرے سے اس سرے تك قائم ہوتی ہے جومحراب کی نسبت سے دائیں جانب ۱۶فٹ متجاوز ہوتی ہے جس کا ایك خاکہ بھی مرسلہ خدمت ہے اب دریافت طلب یہ ہے کہ جب صحن مسجد میں جماعت قائم ہوجائے تو امام کو رعایت وسط صف کی لازم ہے یامحاذات محراب ضروری ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
امام کے لئے سنت متوارثہ کہ زمانہ اقدس رسالت سے اب تك معہود وسط مسجد میں قیام ہے کہ صف پوری ہو توامام وسط صف میں ہو اور یہی جگہ محراب حقیقی ومتورث ہے محراب صوری کہ طاق نماایك خلا وسط دیوار قبلہ میں بنانا حادث ہے اسی محراب حقیقی کی علامت ہے یہ علامت اگر غلطی سے غیروسط میں بنائی جائے اس کا اتباع نہ ہوگا مگرمراعات توسط ضروری ہوگی کہ اتباع سنت وانتفائے کراہت وامتثال ارشاد حدیث توسطوا الامام (امام درمیان میں کھڑا ہو۔ ت) جس مسجد میں مسقف حصہ نہ ہو وہاں یہ محراب صوری ہوتی ہی نہیں جیسے افضل المساجد مسجد الحرام شریف اور اس میں ہرمسجد کاصحن داخل ہے کہ باختلاف موسم مسجد مستقل ہے فقہائے کرام درجہ مسقفہ کو مسجد شتوی کہتے ہیں اور غیرمسقف کو مسجد صیفی جب ان کے وسط متطابق نہ ہوں تو ہرمسجد کے لئے اس کا اپنا وسط معتبر ہے پس صورت مستفسرہ میں جبکہ مسجد صیفی مسجد شتوی سے سولہ فٹ جانب راست زائد ہے توامام محراب صوری اندرونی کی محاذات سے آٹھ فٹ جانب راست ہٹ کر صحن میں کھڑاہو
#5271 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
کہ اس مسجد کی محراب میں قیام حاصل ہو۔ درمختار میں ہے : یصف الامام ویقف وسطا (امام صف بنوائے اور درمیان میں کھڑاہو۔ ت)درایہ شرح ہدایہ میں ہے :
السنۃ ان یقوم الامام ازاء وسط الصف الاتری ان المحاریب مانصبت الاوسط المساجد وھی قد عینت لمقام الامام مبسوط ۔
سنت یہ ہے کہ امام صف کے محاذی درمیان میں کھڑا ہو کیا تم نے ملاحظہ نہیں کیا تمام محرابیں مساجد کے وسط میں بنائی گئی ہیں اور وہ مقام امام کا تعین کررہی ہیں مبسوط۔ (ت)
امام بکرخواہرزادہ میں ہے :
لوقام فی احد جانبی الصف یکرہ ولوکان المسجد الصیفی بجنب الشتوی وامتلا المسجد یقوم الامام فی جانب الحائط لیستوی القوم من جانبیہ الخ اثرھما ش۔ والله تعالی اعلم۔
اگرامام صف کی دونوں جانبوں میں سے کسی ایك طرف کھڑاہوا تو یہ مکروہ ہے اگرمسجد صیفی شتوی کے پہلو میں ہو اور مسجد بھری ہو تو امام دیوار کی جانب کھڑاہو تاکہ امام کی دونوں طرف لوگ برابر ہوں الخ ان دونوں عبارتوں کو شامی نے نقل کیاہے والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۸۴۷ : از اروہ نگلہ ڈاك خانہ اچھنبرہ ضلع آگرہ مسؤلہ مرسلہ محمدصادق علی خاں صاحب رمضان شریف ۱۳۳۰ہجری
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے باہر درمیں جومشرق کی جانب ہوتاہے اس میں تنہا امام کوکھڑے ہوکر نماز پڑھانی کیسی ہے اور اکثرمساجد میں باہر کاصحن اندر کے صحن سے بہت نیچاہوتاہے بینوا توجروا۔
الجواب :
امام کو در میں کھڑا ہونا مکروہ ہے۔
فی رد المحتار عن معراج الدرایۃ عن
ردالمحتار میں معراج الدرایہ کے حوالے سے ہے کہ
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰
ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰
#5272 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
سیدنا الامام الاعظم رضی الله تعالی عنہ انی اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین ۔
سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا میں اس بات کو مکروہ جانتاہوں کہ امام دوستونوں کے درمیان کھڑا ہو۔ (ت)
پھرامام ومقتدیان کادرجہ بدلا ہونا کہ امام درجہ مسقف میں ہے اور سب مقتدی صحن میں یہ دوسری کراہت ہے کما فی جامع الرموز(جیسا کہ جامع الرموزمیں ہے۔ ت)پھر اگر در کی کرسی صحن سے بقدر امتیاز بلند ہوئی تو یہ تیسری کراہت ہے کما فی الدرالمختار والتفصیل فی فتاونا (جیسا کہ درمختار میں ہے اور اس کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۴۸ : ازڈھاکہ بنگالہ ۱۶ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طالب علم پرجوطلب علم دین کرتاہے جماعت نمازپنجگانہ واجب ہے یانہیں بینوا تؤجروا۔
الجواب :
علماء نے طالب ومشتغل علم کو احیانا ترك جماعت میں معذور رکھا ہے بچند شرائط اس کا اشتغال خاص علم فقہ سے ہو کہ مقصود اصلی ہے نہ نحو وصرف ولغت ومعانی وبیان وبدیع وغیرہا اگرچہ بوجہ آلیت داخل علم دین ہیں اور وہ اشتغال بدرجہ استغراق ہو جس کے سبب فرصت نہ پائے نہ یہ کہ اشتغال فقہ کابہانہ کرکے جماعت تو ترك کرے اور اپناوقت بطالت وفضولیات میں گزارے جیسا کہ بہت طلبائے زمانہ کا انداز ہے یاحالت ایسی ہو کہ کسی وقت اہتمام جماعت کے سبب اس کے کام میں حرج واقع ہو جس کا بندوبست نہ کرسکے نہ دوسرا وقت اس کا بدل سکتاہو مثلا ایك مجمع طلبہ کے ساتھ فقہ کادرس رکھتاہے اگر اس جماعت کوجائے یہ جماعت نہ پائے پھر بایں ہمہ کسل نفس کے لئے اس مسئلہ کو حیلہ بناکر ترك جماعت پرمداومت نہ کرے بلکہ احیانا واقع ہو ورنہ معذور نہ ہوگا بلکہ مستحق تعزیر ٹھہرے گا درمختار میں دربارہ اعذار ترك جماعت لکھا۔
کذا اشتغالہ بالفقہ لابغیرہ کذاجزم بہ الباقانی تبعا للبھنسی ای الااذاواظب
اسی طرح جوطالبعلم فقہ میں مشغول ہو نہ کہ کسی دوسرے فن میں اس پر بہنسی کی اتباع میں باقانی نے جزم کیاہے مگر
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
جامع الرموز فصل مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۹۴
درمختار ، باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۲
#5273 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
تکاسلا فلایعذرویعزر ۔
اس صورت میں جب وہ سستی کی وجہ سے دوام اختیار کرے تو وہ معذور نہ ہوگا اور اس پر تعزیر ہوگی۔ (ت)
نورالایضاح و مراقی الفلاح میں ہے :
(وتکرار فقہ) لانحو ولغۃ (بجماعۃ تفوتہ) ولم یداوم علی ترکھا ۔
(اور تکرار فقہ) نہ کہ نحو ولغت کا (جماعت کے ساتھ جو فوت ہوجائے)اور نہ جماعت کے ترك پردوام اختیار کرنے والا ہو۔ (ت)
قنیہ کے لفظ یہ ہیں :
من لایحضرھا لاستغراق اوقاتہ فی تکریر الفقہ الخ ۔
جوجمیع اوقات میں تکرار فقہ کی وجہ سے حاضر جماعت نہیں ہوسکتا الخ(ت)
علامہ شامی نے فرمایا :
ثم اشتغال لابغیر الفقہ فی بعض من الاوقات عذر معتبر ۔ والله تعالی اعلم ۔
بعض اوقات میں وہ اشتغال جوفقہ کے علاوہ میں ہو معتبر عذرنہیں ہے۔ (ت)
مسئلہ ۸۴۹ : ازپٹنہ عظیم آباد مرسلہ جناب مرزا غلام قادربیگ صاحب ۲۶ذی الحجہ ۱۳۰۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرصف اول کے مقتدی امام کے ایسے متصل کھڑ ے ہوں کہ ان کے پنجے امام کی ایڑی کے برابرہوں یاایك بالشت امام کی ایڑی سے پیچھے ہوں اس غرض سے کہ دوسری صف بھی مسجد کے اندرہوجائے حالانکہ صحن میں جگہ ہے اور صف اول کاکوئی مقتدی امام کے پیچھے نہ ہو اس صورت میں کراہت ہوگی یانہیں اگرہوگی تو کیسی کراہت ہوگی بینوا توجروا ۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں بیشك کراہت تحریمی ہوگی اور ایسے امر کے مرتکب آثم وگنہگار کہ امام کا صف پرمقدم ہونا سنت دائمہ ہے جس پر حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیشہ مواظبت فرمائی اور مواظبت دائمہ دلیل وجوب ہے اور ترك واجب مکروہ تحریمی اور مکروہ تحریمی کاارتکاب گناہ۔ امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب الامامۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۳
ردالمحتار بحوالہ القنیہ ، باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۱
ردالمحتار ، باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۲
#5274 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
ترك التقدم لامام الرجال محرم وکذا صرح الشارح وسماہ فی الکافی مکروھا وھوالحق ای کراھۃ تحریم لان مقتضی المواظبۃ علی التقدم منہ علیہ الصلاۃ والسلام بلاترك الوجوب فلعدمہ کراھۃ التحریم ۔
مردوں کے امام کے لئے تقدیم کاترك حرام ہے شارح نے بھی اسی کی تصریح کی ہے کافی میں اسے مکروہ کا نام دیا اور یہی حق ہے اور مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی ہے کیونکہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کا ہمیشہ آگے کھڑاہونا اور اسے کبھی ترك نہ کرنا وجوب پردلالت کرتاہے اور وجوب کاترك کراہت تحریمی ہوتاہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
مقتضی فعلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم التقدم علی الکثیر من غیر ترك الوجوب ۔
مقتدی کثیر ہونے کی صورت میں حضورعلیہ السلام کا ہمیشہ آگے کھڑا ہونااور کبھی ترك نہ فرمانا وجوب کا تقاضا کرتاہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
التقدم واجب علی الامام للمواظبۃ من النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وترك الواجب موجب لکراھۃ التحریم المقتضیۃ للاثم ۔
امام کا مقدم ہونا واجب ہے کیونکہ اسی پرنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مواظبت فرمائی اور واجب کاترك کراہت تحریمی کاموجب ہے جوگناہ کا مقتضی ہے۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق ظاہر ہے کہ حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کایہ تقدم ہمیشہ یونہی تھا کہ صف کے لئے پوری جگہ عطافرماتے نہ وہ ناقص وقاصرتقدم جوسوال میں مذکور ہوا۔ دلیل واضح اس پریہ ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تکمیل صف کانہایت اہتمام فرماتے اور اس میں کسی جگہ فرجہ چھوڑنےکو سخت ناپسندفرماتے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کوارشاد ہوتا :
اقیموا صفوفکم وتراصوا فانی ارکم من وراء ظھری اخرجہ البخاری والنسائی
اپنی صفیں سیدھی کرو اور ایك دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوکہ بیشك میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۶
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۹
بحرالرائق ، باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۳۵۱
صحیح البخاری باب الزاق لمنکب بالمنکب الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۱۰۰ ، سنن النسائی احث الامام علی رص الصفوف والمقاربۃ بینہا مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۳
#5275 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ و مسلم بلفظ اتمواالصفوف فانی ارکم خلف ظھری ۔
دیکھتاہوں ۔ اسے بخاری اور نسائی نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے اور مسلم شریف میں ان الفاظ سے ہے : اپنی صفیں مکمل کرو کیونکہ میں اپنی پشت کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ (ت)
دوسری حدیث میں ہے :
سدوالخلل فان الشیطان یدخل فیما بینکم بمنزلۃ الحذف ۔ رواہ الامام احمد عن امامۃ الباھلی رضی الله تعالی عنہ۔
یعنی صف چھدری نہ رکھو کہ شیطان بھیڑکے بچے کی وضع پراس چھوٹی ہوئی جگہ میں داخل ہوتاہے۔ اسے امام احمد نے حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
اور یہ مضمون حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بالفاظ عدیدہ مروی ہوا امام احمد بسند صحیح ان سے راوی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
راصوا الصفوف فان الشیاطین تقوم فی الخلل ۔
یعنی صفیں خوب گھنی رکھو جیسے رانگ سے درزیں بھردیتے ہیں کہ فرجہ رہتاہے تو اس میں شیطان کھڑاہوتاہے۔
نسائی کی روایت صحیحہ میں ہے :
راصوا صفوفکم وقاربوا بینھا وحاذوابالاعناق فوالذی نفس محمد بیدہ انی لاری الشیطین تدخل من خلل الصف کانھا الحذف ۔
اپنی صفیں خوب گھنی اور پاس پاس کرو اور گردنیں ایك سیدھ میں رکھو کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے بیشك میں شیاطین کو رخنہ صف میں داخل ہوتے دیکھتاہوں گویا وہ بھیڑکے بچے ہیں ۔
حوالہ / References صحیح مسلم ، باب تسویۃ الصفوف الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ، ۱ / ۱۸۲
مسند احمد بن حنبل حدیث ابی امامۃ الباہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۲۶۲
مسند احمد بن حنبل ، ازمسند انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۱۵۴
سنن النسائی حث الامام علی رص الصفوف الخ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۳
#5276 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
ابوداؤد طیالسی کی روایت میں یوں ہے :
اقیموا صفوفکم وتراصوا فوالذی نفسی بیدہ انی لاری الشیاطین بین صفوفکم کانھا غنم عفر ۔
اپنی صفیں سیدھی کرو اور ایك دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہو قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بیشك میں شیاطین کو تمہاری صفوں میں دیکھتاہوں گویا وہ بکریاں ہیں بھکسے رنگ کی۔
فائدہ : بھیڑبکری کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اکثردیکھا ہے کہ جہاں چندآدمی کھڑے دیکھے اور دوشخصوں کے بیچ میں کچھ فاصلہ پایا وہ اس فرجہ میں داخل ہوکر ادھر سے ادھر نکلتے ہین یوں ہی شیطان جب صف میں جگہ خالی پاتاہے دلوں میں وسوسہ ڈالنے کو آگھستا ہے اور بھکسے رنگ کی تخصیص شاید اس لئے ہے کہ حجاز کی بکریاں اکثر اسی رنگ کی ہیں یاشیاطین اس وقت اسی شکل پرمتشکل ہوئے۔ چوتھی حدیث میں اس تاکید شدید سے ارشاد فرمایا :
اقیموا الصفوف فانما تصفون بصفوف الملئکۃ وحاذوابین المناکب وسدوالخلل ولینوا فی ایدی اخوانکم ولاتذروا فرجات للشیاطین ومن وصل صفا وصلہ الله ومن قطع صفاقطعہا للہ ۔ رواہ الامام احمد وابوداؤد والطبرانی فی الکبیر و الحاکم و ابن خزیمۃ وصححاہ عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہما وعند النسائی والحاکم عنہ بسند صحیح الفصل الاخیراعنی من قولہ من وصل الحدیث ۔
یعنی صفیں درست کرو کہ تمہیں توملائکہ کی سی صف بندی چاہئے اور اپنے شانے سب ایك سیدھ میں رکھو اور صف کے رخنے بند کرو اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور صف میں شیطان کے لئے کھڑکیاں نہ چھوڑو اور جو صف کو وصل کرے الله اسے وصل کرے اور جو صف کو قطع کرے الله اسے قطع کرے۔ اسے امام احمد ابوداؤد طبرانی نے المعجم الکبیر میں حاکم اور ابن خزیمہ حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا اور ان دونوں نے اسے صحیح قراردیا۔ نسائی اور حاکم نے انہی سے سند صحیح کے ساتھ آخری جملہ من وصل صفا کوفصل کرکے روایت کیاہے الحدیث۔
حوالہ / References مسند ابوداؤد الطیالسی حدیث ۲۱۰۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ص۲۸۲
سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷ ، مسند احمد بن حنبل از مسند عبداللہ بن عمرو مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۹۸
المستدرک علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ من وصل صفا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۱۳ ، سنن النسائی کتاب الامامۃمن وصل صفا مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۴
#5277 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
ملائکہ کی صف بندی کا دوسری حدیث میں خود بیان آیا :
خرج علینا رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقال الاتصفون کما تصف الملئکۃ عن ربھا فقلنا یارسول الله کیف تصف الملئکۃ عند ربھا قال یتمون الصف الاول ویتراصون فی الصف ۔ اخرجہ احمد ومسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن جابر بن سمرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے باہر تشریف لاکر ارشاد فرمایا : ایسے صف کیوں نہیں باندھتے جیسے ملائکہ اپنے رب کے سامنے صف بستہ ہوتے ہیں۔ ہم نے عرض کی : یارسول الله ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) ملائکہ اپنے رب کے حضور کیسی صف باندھتے ہیں : فرمایا : اگلی صف کو پورا کرتے ہیں اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ اسے امام احمد مسلم ابوداؤد نسائی اور ا بن ماجہ نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجانایہ کہ اگر اگلی صف میں کچھ فرجہ رہ گیا اور نیتیں باندھ لیں اب کوئی مسلمان آیا وہ اس فرجہ میں کھڑا ہونا چاہتاہے مقتدیوں پرہاتھ رکھ کر اشارہ کرے تو انہیں حکم ہے کہ دب جائیں اور جگہ دے دیں تاکہ صف بھر جائے۔ فتح القدیر و بحرالرائق و مراقی الفلاح و درمختار وغیرہا میں ہے :
واللفظ للشرنبلالی قال بعد ایراد الحدیث الرابع وبھذا یعلم جھل من یستمسك عند دخول احد بجنبہ فی الصف یظن انہ ریاء بل ھوا عانۃ علی ماامربہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
علامہ شرنبلالی نے چوتھی حدیث ذکرکرنے کے بعد یہ الفاط کہے کہ اس حدیث سے اس شخص کی جہالت واضح ہوجاتی ہے جوریاکاری کاتصور کرتے ہوئے صف میں اپنی کسی جانب نمازی کوشامل ہونے سے روکتاہو بلکہ یہ حضورنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حکم کی بجاآوری پردوسرے کی مدد کرناہے۔ (ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ ، حدیث ۱۱۹ باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۸۱ ، مسند احمد بن حنبل حدیث جابربن سمرہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۵ / ۱۰۱ ، سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷ ، سنن نسائی حث الامام علی رص الصفوف الخ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۳
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی ، فصل فی بیان احق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۸
#5278 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
اور نہایت یہ کہ اگراگلی صف والوں نے فرجہ چھوڑا اور صف دوم نے بھی اس کا خیال نہ کیا مگر اپنی صف گھنی کرلی اور نیتیں بندھ گئیں حالانکہ ان پرلازم تھا کہ صف اول والوں نے بے اعتدالی کی تھی تویہ پہلے اس کی تکمیل کرکے دوسری صف باندھتے اب ایك شخص آیا اور اس نے صف اول کارخنہ دیکھا اسے اجازت ہے کہ اس دوسری صف کو چیرکرجائے اور فرجہ بھردے کہ صف دوم بے خیالی کرکے آپ تقصیروار ہے اوراس کا چیرنا روا۔ قنیہ و بحرالرائق و شرح نورالایضاح و درمختار وغیرہ میں ہے :
واللفظ لشرح التنویر لووجد فرجۃ فی الاول لاالثانی لہ خرق الثانی لتقصیر ھم ۔
شرح تنویر کے الفاظ یہ ہیں اگر کسی نے صف اول میں رخنہ پایا حالانکہ دوسری میں نہ تھا تو اس کے لئے دوسری صف والوں کی کوتاہی کی وجہ سے دوسری صف کو چیرناجائز ہوگا۔ (ت)۔
بحر میں : لاحرمۃ لہ لتقصیرھم (دوسری صف والوں کی کوتاہی کی وجہ سے بعد میں آنے والے کو دوسری صف چیرناجائز ہے)یونہی اس رخنہ بندی کے لئے پچھلی صف کے نمازیوں کے آگے گزرنا جائز ہے کہ انہوں نے خود اس امرعظیم میں بے پروائی کرکے جس کا شرع میں اس درجہ اہتمام تھا اپنی حرمت ساقط کردی۔ قنیہ میں ہے :
قام فی اخرالصف فی المسجد وبینہ وبین الصفوف مواضع خالیۃ فللداخل ان یمربین یدیہ لیصل الصفوف لانہ اسقط حرمۃ نفسہ فلایاثم الماربین یدیہ ۔
ایك آدمی آخری صف میں کھڑاہوگیا حالانکہ اس کے اور دوسری صفوں کے درمیان خالی جگہیں تھیں تو آنے والے نمازی کو اجازت ہے کہ وہ اس کے آگے سے گزرکر صف مکمل کرے کیونکہ آخر میں کھڑے ہونے والے نے اپنا احترام خود ختم کیا ہے لہذا اس کے سامنے سے گزرنے والا گنہگار نہیں ہوگا۔ (ت)
حدیث میں ہے :
من نظر الی فرجۃ فی صف فلیسدھا بنفسہ فان لم یفعل فمرمارفلیتخط علی رقبتہ فانہ لاحرمۃ لہ ۔ اخرجہ الدیلمی
یعنی جسے صف میں فرجہ نظرآئے وہ خود وہاں کھڑا ہوکر اسے بند کردے اگر اس نے نہ کیا اور دوسرا آیا تو وہ اس کی گردن پرقدم رکھ کر چلاجائے کہ اس کے لئے
حوالہ / References درمختار باب الامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۴
بحرالرائق باب الامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۵۴
القنیہ باب فی السترۃ ، مطبوعہ کلکۃ بھارت ، ص۳۹۸
المعجم الکبیر مروی از ابن عباس حدیث ۱۱۱۸۴ ، اور ۱۱۲۱۴ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۱ / ۱۰۵ ، ۱۱۳
ف : مسند الفردوس مجھے دستیاب نہیں اور ماثورالخطاب سے یہ حدیث نہیں مل سکی۔ نذیراحمد سعیدی
#5279 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما
کوئی حرمت نہ رہی۔ اسے دیلمی نے حضرت عبدالله ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔
یونہی اگرصف دوم میں کوئی شخص نیت باندھ چکا اس کے بعد اسے صف اول کا رخنہ نظرآیا تو اجازت ہے کہ عین نماز کی حالت میں چلے اور جاکر فرجہ بند کردے کہ یہ مشی قلیل حکم شرع کے امتثال کوواقع ہوئی ہاں دوصف کے فاصلہ سے نہ جائے کہ مشی کثیرہوجائے گی۔ علامہ ابن امیر الحاج حلیہ میں ذخیرہ سے ناقل :
ان کان فی الصف الثانی فرأی فرجۃ فی الاول فمشی الیھا لم تفسد صلاتہ لانہ ماموربالمراصۃ قال علیہ الصلاۃ والسلام تراصوا فی الصفوف ولوکان فی الصف الثالث تفسد ۔
اگر کوئی آدمی دوسری صف میں کھڑاتھا کہ اس نے پہلی میں رخنہ دیکھا اور وہ اسے پر کرنے کے لئے چلا تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ نماز میں مل کر کھڑا ہونا حکم شرعی ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : صفوں میں خوب مل کر کھڑا ہواکرو۔ اور اگر نمازی تیسری صف میں تھا تو اب نماز فاسد ہوجائے گی۔ (ت)
علامہ ابن عابدین ردالمحتارمیں فرماتے ہیں :
ظاھر التعلیل بامر انہ یطلب منہ المشی الیھا تامل ۔
امر کے ساتھ علت بیان کرنابتارہاہے کہ اس نمازی سے رخنہ پرکرنے کامطالبہ ہے تامل۔ (ت)
ثم اقول : وبالله التوفیق یہ احکام فقہ وحدیث باعلی ندامنادی کہ وصل صفوف اور ان کی رخنہ بندی اہم ضروریات سے ہے اور ترك فرجہ ممنوع وناجائز یہاں تك کہ اس کے دفع کو نمازی کے سامنے گزرجانے کی اجازت ہوئی جس کی بابت حدیثوں میں سخت نہی وارد تھی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لویعلم الماربین یدی المصلی ماذا علیہ لکان ان یقف اربعین خیرالہ من ان یمربین یدیہ ۔ اخرجہ الائمۃ احمد و الستۃ عن ابی جھیم رضی الله تعالی عنہ قال الحافظ فی بلوغ المرام و وقع
اگرنمازی کے سامنے گزرنے والا جانتاکہ اس پرکتنا گناہ ہے توچالیس برس کھڑارہنا اس گزرجانے سے اس کے حق میں بہترتھا۔ ۔ اسے امام احمد اور ائمہ ستہ نے حضرت ابوجہیم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ حافظ نے بلوغ المرام میں کہا کہ مسند بزار
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ الحلیہ ، باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۱
ردالمحتار بحوالہ الحلیہ ، باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۱
صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ باب اثم المار بین یدی المصلی مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۷۳
#5280 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
فی البزار من وجہ اخر اربعین خریفا قلت والاحادیث یفسر بعضھا بعضا
میں ایك اورسند سے مروی الفاظ یہ ہیں : چالیس سال میں کہتاہوں احادیث آپس میں ایك دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں ۔
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لویعلم احدکم مالہ فی ان یمربین یدی اخیہ معترضا فی الصلاۃ کان لان یقیم مائۃ عام مخیرلہ من الخطوۃ التی خطاھا ۔ رواہ احمد وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
اگرتم میں سے کوئی جان لے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے پر کیاگناہ ہوتاہے تو وہ اس ایك قدم چلنے سے سوسال تك کھڑے رہنے کو بہتر سمجھے گا۔ اسے امام احمد اور ا بن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)
اس میں سو برس کھڑا رہنا اس ایك قدم رکھنے سے بہترفرمایا۔ امام طحطاوی فرماتے ہیں : پہلے چالیس ارشاد ہوئے تھے پھر زیادہ تعظیم کے لئے سو۱۰۰(سال) فرمائے گئے۔ تیسری حدیث میں ہے :
لویعلم المار بین یدی المصلی لاحب ان ینکسر فخذہ ولایمر بین یدیہ ۔ رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ عن عبدالحمید بن عبد الرحمن منقطعا۔ اگرنمازی کے آگے گزرنے والا دانش رکھتا ہو توچاہتا اس کی ران ٹوٹ جائے مگرنمازی کے سامنے سے نہ گزرے۔ اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے مصنف میں شیخ عبدالحمید بن عبدالرحمن سے منقطع طور پر روایت کیاہے۔
چوتھی حدیث میں ارشاد فرمایا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
اذا صلی احدکم الی شیئ یسترہ من الناس فاراد احد ان یجتاز بین یدیہ فلیدفعہ فان ابی فلیقاتلہ فانما ھو شیطان ۔ اخرجہ
جب تم میں سے کوئی شخص سترہ کی طرف نماز پڑھتا ہو اور کوئی سامنے سے گزرنا چاہے تو اسے دفع کرے اگرنہ مانے تو اس سے قتال کرے کہ وہ شیطان ہے
حوالہ / References ببلوغ المرام مع مسک الختام باب سترۃ المصلی مطبوعہ مطبع نظامی کانپور(انڈیا) ۱ / ۱۷۵
سنن ابن ماجہ باب المرور بین یدی المصلی مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ص۶۸
مصنف ابن ابی شیبہ من کان یکرہ ان یمرالرجل الخ مطبوعہ ادارۃُ القرآن کراچی ۱ / ۲۸۲
صحیح البخاری ، باب لیردّ المصلی من مرّبین یدیہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۷۳
#5281 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ۔
اسے احمد بخاری مسلم ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
ظاہر ہے کہ ایسا شدید امر جس پریہ تشدیدیں اور سخت تہدیدیں ہیں اسی وقت روارکھاگیاہے جب دوسرا اس سے زیادہ اشد اور افسد تھا کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت)
ایك دلیل : اس وجوب اور فرجہ رکھنے کی کراہت تحریمی پریہ ہے۔
دلیل دوم : احادیث کثیرہ میں صیغہ امر کا وارد ہونا کما سمعت وما ترکت لیس باقل مما سردت (جیسا کہ تونے سن لیا اور جن روایات کو میں نے ترك کردیا ہے وہ بیان کردہ سے کم نہیں ہیں ۔ ت) اس لئے ذخیرہ وحلیہ میں فرمایا : انہ مامور بالمر اصۃ (کیونکہ مل کر کھڑے ہونے کا حکم ہے۔ ت)فتح القدیر و بحرالرائق وغیرہما میں فرمایا : سدالفرجات المأمور بھا فی الصف (صف کے درمیانی رخنہ کو پرکرنے کا حکم ہے۔ ت)اور اصول میں مبرہن ہوچکا ہے امر مفید وجوب ہے الا ان یصرف عنہ صارف (مگر اس صورت میں جب اس کے خلاف کوئی قرینہ ہو۔ ت)
دلیل سوم : علماء تصریح فرماتے ہیں کہ صف میں جگہ چھوٹی ہو تو اور مقام پرکھڑا ہونا مکروہ ہے۔
فی الخانیۃ والدرالمختار وغیرھما واللفظ للعلائی لوصلی علی رفوف المسجد ان وجد فی صحنہ مکانا کرہ کقیامہ فی صف خلف صف فیہ فرجۃ ۔
خانیہ درمختار اور دیگر کتب میں ہے علائی کے الفاط یہ ہیں اگر کسی نے رفوف مسجد میں نماز ادا کی حالانکہ صحن مسجد میں جگہ تھی تو مکروہ ہوگی جیسا کہ ایسی صف میں نماز پڑھنا مکروہ ہے جو ایسی صف کے پیچھے ہو جس میں رخنہ تھا۔ (ت)
اور کراہت مطلقہ سے مراد کراہت تحریم ہوتی ہے
الا اذا دل دلیل علی خلافہ کما نص علیہ
مگر جب اس کے خلاف دلیل موجود ہو جیسا کہ فتح بحر حواشی در
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ حلیہ عن الذخیرۃ باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۱
بحرالرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۵۴
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۴
#5282 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
فی الفتح والبحر وحواشی الدر وغیرھما من تصانیف الکرام الغر۔
اور دیگرتصانیف علماء عظام میں تصریح ہے۔ (ت)
دلیل چہارم احادیث سابقہ میں حدیث رابع کے وعید شدید من قطع صفا قطعہ الله (جس نے صف قطع کی الله اسے قطع کرے گا۔ ت) علامہ طحطاوی پھر علامہ شامی زیر عبارت مذکورہ درمختارفرماتے ہیں :
قولہ کقیامہ فی صف الخ ھل الکراھۃ فیہ تنزیھیۃ اوتحریمیۃ ویرشد الی الثانی قولہ علیہ الصلوۃ والسلام من قطع صفا قطعہ الله انتھی فافھم ۔
قولہ جیسا کہ کھڑاہونا اس صف میں الخ اس میں کراہت تنزیہی ہے یاتحریمی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد من قطع الله الخ کراہت تحریمی کی طرف راہنمائی کرتاہے انتہی فافہم (ت)
جب یہ امر واضح ہوگیا تو اب صورت مذکورئہ سوال میں دوسری وجہ کراہت تحریم کی اور ثابت ہوئی ظاہر ہے کہ جب امام صف اول میں صرف اس قدر فاصلہ قلیلہ چھوٹا تو بالیقین صف اول ناقص رہے گی اور امام کے پیچھے ایك آدمی کی جگہ چھوٹے گی وہ بھی ایسی جسے بوجہ تنگئی مقام کوئی بھر بھی نہ سکے گا تو یہ فعل ایك مکروہ تحریمی کو مستلزم اور جومکروہ تحریمی کو مستلزم ہو خود مکروہ تحریمی ہے محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں بعد عبارت منقولہ صدرجواب کے فرماتے ہیں :
واستلزم ماذکر ان جماعۃ النساء تکرہ کراھۃ تحریم لان ملزوم متعلق الحکم اعنی الفعل المعین ملزوم لذلك الحکم انتھی
مذکورہ بات اس کو مستلزم ہے کہ خواتین کی جماعت مکروہ تحریمی ہے کیونکہ ملزوم متعلق حکم یعنی فعل معین کا اس حکم کو ملزوم ہوتاہے۔ انتہی۔ (ت)
بحمدالله اس تحقیق انیق سے چند مسائل نفیسہ ثابت ہوئے :
اولا : ہرصف پرتقدم جوبنص ہدایہ وکافی وغیرہما واجب ہے وہ صرف تھوڑا آگے بڑھ جانے سے ادا نہیں ہوتا جب تك پوری صف کی جگہ نہ چھوٹے۔
ثانیا : ہرصف میں اول سے آخر تك دوسری صف کے لئے صف کامل کی جگہ بچنا واجب ہے۔
ثالثا : کسی صف میں فرجہ رکھنا مکروہ تحریمی ہے جب تك اگلی صف پوری نہ کرلیں صف دیگر ہرگزنہ باندھیں ۔
حوالہ / References ردالمحتار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۱
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۶
#5283 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
رابعا : صورت مذکورئہ سوال دوکراہت تحریمی پرمشتمل ہے ایك ترك تقدم دوسری بقائے فرجہ۔
خامسا : اکثرواقع ہوتاہے کہ امام کے ساتھ ایك مقتدی تھا دوسراآیا بائیں ہاتھ کوکھڑاہوگیا یہاں تك تو کراہت تنزیہی تھی لترك السنۃ پھر اور لوگ بھی آتے اور یونہی برابرکھڑے ہوجاتے ہیں نہ امام آگے بڑھتاہے نہ مقتدی پیچھے ہتے ہیں یہ صورت مکروہ تحریمی کی ہے کہ اگرچہ اکیلے مقتدی کے حق میں سنت یہ ہے کہ امام کے داہنی جانب بالکل اس کے محاذی کھڑاہونہ متاخر اور یہ سنت عوام میں صدہاسال سے متروك ہے اکیلا بھی امام سے کچھ پیچھے ہٹ کر کھڑاہوتاہے۔ امام نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں :
الواحد یقوم عن یمینہ ای ان کان مع الامام واحد وقف عن یمین الامام لانہ علیہ الصلوہ والسلام صلی بابن عباس فاقامہ عن یمینہ ولایتأخر عن الامام فی ظاھر الروایۃ وعن محمد انہ یضع اصابعہ عند عقب الامام وھوالذی وقع عند العوام انتھی قلت وعوام زماننا قدتعدواحتی خرجوا عن روایۃ محمد ایضا کماھو مشاھد۔
اکیلا نمازی امام کی دائیں جانب کھڑا ہو یعنی اگر امام کے ساتھ ایك مقتدی ہو تو وہ امام کی دائیں جانب کھڑاہو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت عبدالله بن عباس کو نماز پڑھائی تو ان کو آپ نے اپنی دائیں جانب کھڑاکیا اور ظاہر روایت کے مطابق وہ امام سے پیچھے کھڑا نہ ہو۔ امام محمد سے مروی ہے کہ مقتدی اپنے پاؤں کی انگلیاں امام کی ایڑی کے پاس رکھے اور عوام میں یہی طریقہ جاری ہے انتہی۔ میں کہتاہوں ہمارے دور کے لوگ تجاوز کرگئے ہیں حتی کہ وہ امام محمد سے مروی روایت سے بھی نکل گئے ہیں جیسا کہ مشاہدہ میں ہے۔ (ت)
پھر جو بعد کوآئے وہ اس مقتدی کی محاذات میں کھڑے ہوں گے جس کے باعث امام کو قدرے تقدم رہے گا اس صورت میں وہ توسط جس کی نسبت درمختارمیں فرمایا :
لوتوسط اثنین کرہ تنزیھاوتحریما لواکثر ۔
اگرامام دومقتدیوں کے درمیان کھڑا ہوا تو مکروہ تنزیہی ہے اور اگر دو سے زیادہ کے درمیان کھڑا ہوا تو مکروہ تحریمی ہے۔ (ت)
اگرنہ بھی ماناجائے تاہم اس صورت میں کراہت تحریم ہی رہے گی کہ توسط نہ سہی فرجہ رکھنااور صف کامل کی جگہ نہ چھوڑنا خود موجب کراہت تحریمی ہے یہ مسائل واجب الحفظ ہیں اکثر اہل زمانہ ان سے غافل ولعلك لاتجد ھذا التحقیق الخطیر بھذا الایضاح والتقریر فی غیرھذا التحریر (شاید ایسی بے مثال
حوالہ / References کافی شرح وافی
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
#5284 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
تحقیق اپنی وضاحت وتفصیل کے ساتھ اس تحریر کے علاوہ کہیں نہ ملے(ت) والحمدلله علی ماعلم الله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۸۵۰ : یکم جمادی الاخری ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سمجھ وال لڑکا آٹھ نوبرس کاجونماز خوب جانتاہے اگرتنہا ہوتو آیا اسے یہ حکم ہے کہ صف سے دور کھڑا ہو یا صف میں بھی کھڑا ہوسکتاہے بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اسے صف سے دوریعنی بیچ میں فاصلہ چھوڑکر کھڑاکرنا تو منع ہے
فان صلاۃ الصبی الممیز الذی یعقل الصلاۃ صحیحۃ قطعا وقدامرالنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بسد الفرج والتراص فی الصفوف ونھی عن خلافہ بنھی شدید۔
کیونکہ وہ بچہ جوصاحب شعور ہو اور نماز کوجانتا ہو اس کی نماز بالیقین صحیح ہے اورنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صف کے رخنہ کو پر کرنے اور اس میں مل کر کھڑے ہونے کاحکم دیاہے اوراس کے خلاف سے سخت منع فرمایا ہے۔ (ت)
اور یہ بھی کوئی ضروری امرنہیں کہ وہ صف کے بائیں ہی ہاتھ کوکھڑاہو علماء اسے صف میں آنے اور مردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی صاف اجازت دیتے ہیں ۔ درمختارمیں ہے : لوواحدا دخل فی الصف (اگر بچہ اکیلا ہو توصف میں داخل ہوجائے۔ ت)مراقی الفلاح میں ہے :
ان لم یکن جمع من الصبیان یقوم الصبی بین الرجال ۔
اگربچے زیادہ نہ ہوں تو بچہ مردوں کے درمیان کھڑاہوجائے (ت)
بعض بے علم جو یہ ظلم کرتے ہیں کہ لڑکا پہلے سے داخل نماز ہے اب یہ آئے تواسے نیت بندھا ہواہٹاکر کنارے کردیتے اور خود بیچ میں کھڑے ہوجاتے ہیں یہ محض جہالت ہے اسی طرح یہ خیال کہ لڑکا برابرکھڑا ہو تو مرد کی نماز نہ ہوگی غلط وخطا ہے جس کی کچھ اصل نہیں ۔ فتح القدیرمیں ہے :
امامحاذاۃ الامرد فصرح الکل بعدم افسادہ الامن شذولامتمسك لہ فی الروایۃ کما صرحوا بہ
بے ریش بچے کے محاذی ہونے پر تمام علماء نے تصریح کی ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی مگرشاذ طور پر کوئی فساد نماز کاقائل ہے اور اس کے لئے کوئی دلیل نہ روایت
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۴
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی بیان احق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۸
#5285 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
الروایۃ کما صرحوا بہ ولافی الدرایۃ ۔
والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
میں ہے جیسا کہ فقہا نے اس کی تصریح کی ہے اور نہ ہی درایت میں ہے۔ (ت)
مسئلہ ۸۵۱ تا ۸۵۴ : از سہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عمرجلیل ۱۶شوال ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں :
(۱) اگرکوئی نماز کسی وجہ سے دہرائی جائے تو وہ شخص کہ نماز مشکوکہ میں شریك نہیں تھا وہ جماعت ثانیہ میں شریك ہوسکتاہے یانہیں
(۲) امام فرض پڑھارہاہے ایك مقتدی دوسری یاتیسری رکعت میں ملاتو اس کا جو فرض چھوٹ گیا ہے بآواز بلند پڑھے یاآہستہ
(۳) قضاعمری کو امام وداع جمعہ کو فجر سے عشاء تك بجہر پڑھادے تو سب کی عمربھر کی قضاکیااداہوجائے گی
(۴)نمازجمعہ میں اگرکوئی شخص تشہد میں شریك ہو تو نماز ہوگی یانہیں بینوا وتوجروا
الجواب : (۱) نماز اگر ترك فرض کے سبب دہرائی جائے نیاشخص شریك ہوسکتاہے ورنہ نہیں ۔
(۲) علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مسبوق اپنی چھوٹی ہوئی رکعات میں منفرد ہے اور تصریح فرماتے ہیں کہ منفرد کوجہری رکعتوں میں جہر جائز بلکہ افضل ہے مگراس میں یہ دقت ہے کہ منفرد کاجہر اور کے شامل ہونے کا داعی ہوگا اور یہ دعوت خیر ہے کہ دونوں کو جماعت مل جائے گی لیکن مسبوق کاجہر کہ ناواقف کو شرکت کی طرف داعی ہو امر ناجائز کی طرف داعی ہوگا اور اس کا وہ عمل باطل ہوجائے گا لہذا یہ ہی اصوب معلوم ہوتاہے کہ وہ جہرنہ کرے۔
(۳) یہ قضا عمری کی جماعت جاہلوں کی ایجاد اور محض ناجائز وباطل ہے۔
(۴) اسلام سے پہلے جوشریك ہوگیا اسے جمعہ مل گیا ۔ والله سبحانہ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۵۵ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرمقتدی ابھی التحیات پوری نہ کرنے پایاتھا کہ امام کھڑاہوگیایاسلام پھیردیا تومقتدی التحیات پوری کرلے یا اتنی ہی پڑھ کر چھوڑدے بینوا وتوجروا
الجواب :
ہرصورت میں پوری کرلے اگرچہ اس میں کتنی ہی دیرہوجائے لان التشھد واجب والواجب
حوالہ / References فتح القدیر ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۳۱۲
#10737 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
لایترك لسنۃ والمسئلۃ منصوص علیھا فی الخانیۃ وغیرھا فی کتب العلماء (تشہد واجب ہے اور واجب کو کسی سنت کی وجہ سے ترك نہیں کیاجاسکتا اس مسئلہ پرخانیہ اور دیگر علماء کی کتب میں نص موجود ہے۔ ت)والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۵۶ تا۸۵۷ : از فیض آباد مرسلہ منشی احمدحسین صاحب خرسند نقشہ نویس اسسٹنٹ انجینئر ریلوے ۲جمادی الاخری
۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ومفتیان شرع مبین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) زید مسجد یا خلاف آں نماز فرض پڑھارہا ہے اور اس کی پہلی رکعت ہے یا کوئی اور رکعت اور بکر تنہا یا دو شخص داخل ہوئے باوجود اطلاع ہونے یا ہوجانے کے بکر تنہا یا دونوں شخصوں نے اسی مقام پر اور اسی صف پرعلیحدہ فرض پڑھے اور زید کے مقتدی نہ بنے کیاحکم ہے ان کی نماز کا یا پہلے ان کو اطلاع نہ تھی نیت باندھنے کے بعد رابع نے بآواز بلند کہہ دیا اب کیاحکم ہے بکر کی نماز کا آیا وہ نماز درست ہوئی اگرنہیں تو اطلاع پانے تك جس قدرہوچکی ہے وہیں سے ترك کردے یا پوری کرکے وہ نماز اعادہ کرے مفصل فرمائیے۔
(۲) اگرہیجڑا یاعورت یانابالغ یاشیعہ جن کی امامت بالاتفاق ناجائز ہے نماز فرض پڑھ رہاہے مسجد میں یا باہر اور زید بھی نماز فرض پڑھناچاہتاہے آیا اسی مصلے پرنماز پڑھ سکتاہے یانہ کیا اس شخص کی نماز ختم ہونے تك زیدکو انتظار لازم ہے بینوا وتوجروا۔
الجواب :
(۱) اگر زید قابل امامت تھا اور انہیں معلوم تھاکہ یہ فرض پڑھ رہاہے اور انہوں نے اقتدانہ کی بلکہ جدا جدا فرض پڑھے تواگرجماعت اولی ہوچکی ہے جب توفضل سے محروم رہے اور اگریہی جماعت اولی ہوئی توگنہگار ہوئے اور اگرزید قابل امامت نہیں اور ان دونوں میں کوئی قابل امامت تھا تو اب بھی وہی احکام ہیں اوراگران میں بھی کوئی قابل امامت نہیں تو اصلا حرج نہ ہوا اور نماز تینوں صورتوں میں مطلقا ہوجائے گی او ر نیت توڑدیناصرف جماعت قائمہ کی تحصیل کے لئے ہے مثلا ایك شخص نے ظہر کے فرض شروع کئے ایك رکعت یا اس سے کم پڑھنے پایاتھا کہ جماعت قائم ہوئی نیت توڑدے باقی جماعت معدومہ کی تحصیل کے لئے نیت توڑنے کی کہیں اجازت نہیں ۔
(۲) پڑھ سکتاہے اور ختم نماز تك انتظار کرنا کچھ ضرورنہیں ۔ والله تعالی اعلم
#10738 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
مسئلہ۸۵۸ : از میرٹھ کمبوہ دروازہ کارخانہ داروغہ یادالہی صاحب مرسلہ جناب مرزا غلام قادربیگ صاحب ۱۲ رمضان ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جماعت ثانیہ کی نسبت کیاحکم ہے یہاں بعض لوگوں کو اس کی ممانعت میں تشدد ہے جماعت اولی کے بعد آٹھ آٹھ دس دس آدمی جمع ہوجاتے ہیں مگرجماعت نہیں کرتے برابر کھڑے ہوکر علیحدہ علیحدہ نماز پڑھتے ہیں یہ کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب :
(۱) مسجد اگرشارع عام یا بازار کی ہے جس کے لئے اہل معین نہیں جب توبالاجماع اس میں تکرارجماعت باذان جدید وتکبیر جدید جائز بلکہ یہی شرعا مطلوب ہے کہ نوبت بہ نوبت جولوگ آئیں نئی اذان واقامت سے جماعت کرتے جائیں ۔
(۲) اور اگرمسجد محلہ ہے تو اگر اس کے غیراہل جماعت کر گئے ہیں تواہل محلہ کوتکرار جماعت بلاشبہ جائز۔
(۳) یااول اہل محلہ ہی نے جماعت کی مگربے اذان پڑھ گئے۔
(۴) یااذان آہستہ دی تو ان کے بعد آنے والے باذان جدید بروجہ سنت اعادہ جماعت کریں ۔
(۵) یااگرامام میں کسی نقص قرأت وغیرہ یافسق یامخالفت مذہب کے باعث جماعت اولی فاسد یا مطلقا مکروہہ یاباقی ماندہ لوگوں کے حق میں غیراکمل واقع ہوئی جب بھی انہیں اعادہ جماعت سے مانع نہیں ۔
یہ سب صورتیں توقطعی یقینی ہیں اب رہی ایك صورت کہ مسجد مسجد محلہ ہے اور اس کے اہل بروجہ مسنون اذان دے کرامام نظیف موافق المذہب کے پیچھے جماعت کرچکے اب غیرلوگ یااہل محلہ ہی سے جوباقی رہ گئے تھے آئے انہیں بھی اس مسجد میں جماعت ثانیہ جائز ہے یانہیں یہ مسئلہ مختلف فیہا ہے ظاہرالروایہ سے حکم کراہت نقل کیاگیااور علامہ محقق اجل مولی خسرو نے درر و غرر اور مدقق اکمل علامہ محمد بن علی دمشقی حصکفی نے خزائن الاسرار میں فرمایا کہ اس کراہت کامحل صرف اس صورت میں ہے جب یہ لوگ باذان جدید جماعت ثانیہ کریں ورنہ بالاجماع مکروہ نہیں اور اسی طرف درمختار میں اشارہ فرمایا اور ایسے ہی منبع وغیرہ میں تصریح کی اور قول محقق منقح یہ ہے کہ اگریہ لوگ اذان جدید کے ساتھ اعادہ جماعت کریں تومکروہ تحریمی ورنہ اگرمحراب نہ بدلیں تومکروہ تنزیہی ورنہ اصلا کسی طرح کی کراہت نہیں یہی صحیح ہے اور یہی ماخوذ للفتوی درمختار میں ہے :
یکرہ تکرار الجماعۃ باذان واقامۃ فی مسجد محلۃ لافی مسجد طریق او مسجد لاامام لہ ولامؤذن ۔
محلہ کی مسجد میں اذان وتکبیر کے ساتھ جماعت کاتکرار مکروہ ہے البتہ راستہ کی مسجد اور ایسی مسجد میں مکروہ نہیں جہاں امام اور مؤذن نہ ہو۔ (ت)
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
#10739 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
ردالمحتارمیں ہے :
عبارتہ فی الخزائن اجمع مماھنا ونصھا یکرہ تکرار الجماعۃ فی مسجد محلۃ باذان واقامۃ الااذاصلی بھما فیہ اولا غیراھلہ اواھلہ لکن بمخافتۃ الاذان ولوکرراھلہ بدونھمااوکان مسجد طریق جاز اجماعا کما فی مسجد لیس لہ امام ولامؤذن ویصلی الناس فیہ فوجا فوجا فان الافضل ان یصلی کل فریق باذان واقامۃ علیحدۃ کما فی امالی قاضی خاں ھ ونحوہ فی الدرر والمراد بمسجد المحلۃ مالہ امام وجماعۃ معلومون کما فی الدرر وغیرھا قال فی المنبع والتقید بالمسجد المختص بالمحلۃ احتراز من الشارع وبالاذان الثانی احتراز عما اذ اصلی فی مسجد المحلۃ جماعۃ بغیراذان حیث یباح اجماعا ھ ثم قال اعنی الشامی بعد مانقل الدلیل علی الکراھۃ مقتضی ھذا الاستدلال کراھۃ التکرار فی مسجد المحلۃ ولو بدون اذان ویؤیدہ ما فی الظھیریۃ لودخل جماعۃ المسجد بعد
اس کی عبارت خزائن میں یہاں سے زیادہ جامع ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں کہ مسجد محلہ میں جدید اذان واقامت کے ساتھ تکرار جماعت مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب یہاں پہلے کسی غیراہل محلہ اذان واقامت کے بغیرتکرار جماعت کریں یامسجد راستہ کی ہو تو بالاتفاق جماعت جائز ہوگی جیسا کہ اس مسجد کاحکم ہے جس کا امام اور مؤذن مقرر نہیں اور لوگ گروہ درگروہ اس میں نماز اداکرتے ہوں تویہاں افضل یہی ہے کہ ہرفریق علیحدہ اذان واقامت کے ساتھ نماز اداکرے جیسا کہ امالی قاضی خاں میں ہے ۱ھ اور اسی کی مثل درر میں ہے محلہ کی مسجد سے مراد وہ مسجد ہے جس کا امام اور جماعت معلوم ہو جیسا کہ درر وغیرہ میں ہے منبع میں ہے مسجد کومحلہ کے ساتھ مقید کرنا شارع عام کی مسجد سے احتراز ہے اور اذان ثانی کے ساتھ مقید کرنا اس صورت سے احتراز ہے جب مسجد محلہ میں بغیراذان کے جماعت ہوگئی ہو کیونکہ اب بالاتفاق(تکرار جماعت)مباح ہے۱ھ پھرکراہت پردلیل نقل کرنے کے بعد شامی نے فرمایا اس استدلال کاتقاضا یہ ہے کہ مسجد محلہ میں تکرار جماعت مکروہ ہے اگرچہ تکرار بغیراذان کے ہو اور اس کی تائید ظہیریہ کی یہ عبار ت
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۸
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۸
#10740 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
ماصلی فیہ اھلہ یصلون وحدانا وھوظاہر الروایۃ ھ وھذا مخالف لحکایۃ الاجماع المارۃ الخ وقال قبل ھذا فی باب الاذان بعد نقل عبارۃ الظہیریۃ وفی آخر شرح المنیۃ وعن ابی حنیفۃ لوکانت الجماعۃ اکثر من ثلثۃ یکرہ التکرار والافلا وعن ابی یوسف اذالم تکن علی الھیأۃ الا ولی لاتکرہ والاتکرہ وھو الصحیح وبالعدول عن المحراب تختلف الھیأۃ کذا فی البزازیۃ ھ وفی التاترخانیۃ عن الولوالجیۃ وبہ ناخذ ۔
بھی کرتی ہے کہ اگر کچھ لوگ مسجد میں اس وقت آئے جب اہل محلہ اس میں جماعت کرواچکے تھے تو وہ اکیلے اکیلے نماز اداکریں اور یہی ظاہر روایت ہے۱ھ اور یہ گزشتہ منقول اجماع کے مخالف ہے الخ اس سے پہلے باب الاذان میں عبارت ظہیریہ کے نقل کرنے کے بعد شامی نے کہا اور شرح منیہ کے آخر میں ہے اور امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ اگر افراد جماعت تین سے زیادہ ہوں توتکرار مکروہ ہوگا ورنہ نہیں اور امام یوسف سے مروی ہے جب ہیئت اولی پرنہ ہو مکروہ نہیں ورنہ مکروہ اور یہی صحیح ہے اور محراب سے اعراض کرلینے سے ہیئت مختلف ہوجاتی ہے بزازیہ میں یونہی ہے۱ھ اور تاتارخانیہ میں ولوالجیہ کے حوالے سے ہے کہ ہم اس پرعامل ہیں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
قد علمت ان الصحیح انہ لایکرہ تکرارالجماعۃ اذا لم تکن علی الھیأۃ الاولی ۔
آپ جان چکے کہ صحیح یہی ہے کہ تکرار جماعت مکروہ نہیں جبکہ وہ ہیئت اولی پرنہ ہو۔ (ت)
بالجملہ جماعت ثانیہ جس طرح عامہ بلاد میں رائج ومعمول درر ومنبع و خزائن شروح معتمدہ کے طور پر تو بالاجماع اور عند التحقق قول صحیح مفتی بہ پربلاکراہت جائز ہے کہ دوسری جماعت والے تجدید اذان نہیں کرتے اور محراب سے ہٹ ہی کرکھڑے ہوتے ہیں اور ہم پرلازم کہ ائمہ فتوی جس امر کی ترجیح وتصحیح فرما گئے اس کا اتباع کریں ۔ درمختارمیں ہے :
اما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ وماصححوہ کما لوافتونافی حیاتھم ۔
رہا ہمارامعاملہ تو ہم پراس قول کی اتباع لازم ہے جسے علماء نے ترجیح دی اور جس کی انہوں نے تصحیح فرمائی جیسے اس صورت میں ہم پر ان کی پیروی لازم تھی کہ اگر وہ ہمارے زمانہ میں زندہ ہوتے اور فتوی دیتے۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹
ردالمحتارباب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱
ردالمحتارباب الاذان ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۲
درمختار مقدمہ کتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۵
#10741 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
پھر خلاف صحیح مذہب اختیار کرکے اسے ناجائز وممنوع بتانا اور اس کے سبب لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کوگنہگار ٹھہرانا محض بے جاہے۔
ثم اقول : حال زمانہ کی رعایت اور مصلحت وقت کالحاظ بھی مفتی پرواجب علماء فرماتے ہیں :
من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل۔
جوشخص اپنے دور کے لوگوں کے احوال سے آگاہ نہیں وہ جاہل ہے۔ (ت)
اب دیکھئے کہ جماعت ثانیہ کی بندش میں کوشش وکاوش سے یہ تونہ ہوا کہ عوام جماعت اولی کاالتزام تام کرلیتے رہا وہی کہ کچھ آئے کچھ نہ آئے ہاں یہ ہوا کہ آٹھ آٹھ دس دس جورہ جاتے ہیں ایك مسجد میں ایك وقت میں اکیلے اکیلے نماز پڑھ کرناحق روافض سے مشابہت پاتے ہیں حضرات مجتہدین رضوان الله تعالی اجمعین کے زمانے میں ایسی مشابہت پیداہونا درکنار خود جماعت کی برکات عالیہ ظاہریہ وباطنیہ سے محروم رہنا ایك سخت تازیانہ تھا جس کے ڈر سے عوام خواہی نخواہی جماعت اولی کی کوشش کرتے اب وہ خوف بالائے طاق اور اہتمام التزام معلوم جماعت کی جوقدرے وقعت نگاہوں میں ہے کہ اگررہ گئے اور تنہا پڑھی ایك طرح کی خجلت وندامت ہوتی ہے جب بفتوی مفتیان یہی انداز رہے اور گروہ کے گروہ اکیلے اکیلے پڑھاکئے توایك تومرگ انبوہ جشنے دارد دوسرے شدہ شدہ عادت پڑجاتی ہے چندروز میں یہ رہی سہی وقعت بھی نظر سے گرجائے گی اور اس کے ساتھ ہی سستی و کاہلی اپنی نہایت پرآئے گی اب تویہ خیال بھی ہوتاہے کہ خیراگرپہلی جماعت فوت ہوئی ایسی دیرتونہ کیجئے کہ اکیلے ہی رہ جائیں اور تنہا پڑھ کرمحرومی وندامت کاصدمہ اٹھائیں جب یہ ہوگا کہ جماعت توآخر ہوچکی اول ہوچکی اب جماعت توملنے سے رہی اپنی اکیلی نماز ہے جب جی میں آیا پڑھ لیں گے یاپھر مسجد کی بھی کیاحاجت ہے لاؤ گھر ہی میں سہی لہذا ائمہ فتوی رحمہم الله تبارك وتعالی کچھ سوچ سمجھ کرترجیح وتصحیح فرمایاکرتے ہیں من وتو سے ان کے علوم وسیعہ عقول رفیعہ لاکھوں درجے بلند وبالا ہیں روایت ودرایت ومصالح شریعت وزمانہ وحالت کوجیساوہ جانتے ہیں دوسراکیاجانے لگاپھر ان کے حضور دخل درمعقولات کیسا! فالله الھادی وولی الایادی اس مسئلہ میں کلام طویل ہے اور عبد ذلیل پرفیض مولی عزیز وجلیل اگرتفصیل کیجئے رسالہ مبسوط ہوتاہے لیکن
ع : درخانہ اگرکس است یکحرف بس است
(اگرخانہ عقل میں کچھ ہے تو اس کے لئے ایك حرف بھی کافی ہے)
تنبیہ : مگر یہ ان کے لئے ہے جواحیانا کسی عذر کے باعث حاضری جماعت اولی سے محروم رہے نہ یہ کہ جماعت ثانیہ کے بھروسہ پرقصدا بلاعذر مقبول شرعی جماعت اولی ترك کریں یہ بلاشبہہ ناجائز ہے کماحققناہ فی فتاونا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
#10742 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
مسئلہ ۸۵۹ : ازوطن مرسلہ نواب مولوی سلطان احمدخاں صاحب سلمہ الله تعالی ۳ رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
چہ می فرمایند علمائے دین درین مسئلہ کہ دوجماعت دریك مسجد دریك وقت بلاعلمی پس نماز مصلین جماعت ثانیہ جائز است یانہ بینوا توجروا
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بغیر علم ایك وقت میں ایك مسجد میں دوجماعت ہونا کیسا ہے پھر دوسری جماعت کے نمازیوں کی نماز جائز ہے یانہیں بیان کرو اجرپاؤ ۔ (ت)
الجواب :
درجواز بمعنی صحت شك نیست اگرچہ باوصف علم باشد آرے بحال علم جواز بمعنی حل نیست مگرآنکہ امام اول ناشایان امامت باشد۔ والله تعالی اعلم
جواز بمعنی صحت میں کوئی شك نہیں ( یعنی درست ہے) اگرچہ جماعت ثانیہ کاباوصف علم ہو البتہ باوصف علم جواز بمعنی حل لینا درست نہیں مگر اس صورت میں کہ امام اول امامت کے لائق نہ ہو۔ والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۸۶۰ : ازکلکتہ دھرم تلہ نمبر ۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۸ رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہ جماعت جوکراہت تحریمی پرمشتمل ہے جیسے پانچ چھ مقتدی امام کے برابر کھڑے ہیں یاامام کی آستین کہنیوں تك چڑھائی ہوئی ہیں یاوہ کلام مجید صحیح نہیں پڑھتااس میں شریك ہونا چاہئے یانہیں بینوا توجرا
الجواب :
غلط خوانی امام اگرتاحد فساد ہے جب توظاہر کہ اس جماعت میں شرکت نہ کی جائے کہ شرعا وہ جماعت و نماز ہی نہیں اور اگر صرف اس قدر کہ مثلا حرف صحیح توخوب اداکرلیتاہے مگرپورے اوصاف زائد مثل تفخیم وترقیق لام وراوغیرہما نہیں اداہوتے یااظہار واخفا یا مدوقصروتحقیق وتسہیل وغیرہا ان قواعد تجوید کی رعایت نہیں کرتا جن کی مراعات اگرچہ تجویدا واجب ہوفقہا صحت نماز کے لئے کچھ ضرور نہیں توضرور شریك ہوکہ جماعت کاترك یا اس سے اعراض صرف اتنی بات پرہرگزروانہیں یونہی اگرجماعت کراہت تحریم پرمشتمل ہو توشرکت نہ کرے فان سلب المفاسداھم من جلب المصالح (کیونکہ مفسدات کو ختم کرنا مصلحات کے حصول سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ت) اور اگر صرف کراہۃ تنزیہیہ ہو جیسے امامت فاسق غیرمعلن میں تو اگر دوسری جماعت پاکیزہ ملے اس میں بھی شرکت نہ چاہئے ورنہ شریك ہوجائے کہ ترك جماعت کراہت تنزیہی سے اشد ہے بخلاف کراہت تحریم کہ اس کامرتبہ قول سنیت جماعت پر ترك جماعت سے بدتر اور مسلك معتمد یعنی وجوب جماعت
#10743 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
پر ہمسر وبرابر ہے
فی حاشیۃ الحلبی ثم الشامی علی الدر الجماعۃ واجبۃ فتقدم علی ترك کراھۃ التنزیہ ھ وفیہ فی المعراج قال اصحابنا لاینبغی ان یقتدی بالفاسق الا فی الجمعۃ لانہ فی غیرھا یجد اماماغیرہ ھ قال فی الفتح وعلیہ فیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھافی المصر علی قول محمد المفتی بہ لانہ بسبیل الی التحول ھ وفی الدر عن النھر عن المحیط صلی خلف فاسق او مبتدع نال فضل الجماعۃ ھ فی ردالمحتار افاد ان الصلاۃ خلفھمااولی من الانفراد ھ وفیہ لوانتظر امام مذھبہ بعیدا عن الصفوف لم یکن اعراضا عن الجماعۃ للعلم بانہ یرید جماعۃ اکمل من ھذہ الجماعۃ ۔ والله تعالی اعلم
حاشیہ حلبی پھر شامی علی الدر میں ہے کہ جماعت واجب ہے پس یہ کراہت تنزیہی کے ترك پرمقدم ہوگی۱ھ اور اسی میں معراج کے حوالے سے ہے کہ ہمارے اصحاب احناف نے فرمایاہے کہ نماز جمعہ کے علاوہ کسی نماز میں فاسق کی اقتدا نہیں کرنی چاہئے کیونکہ غیرنمازجمعہ میں دوسرے امام کوپایاجاسکتاہے ۱ھ فرمایا : فتح میں ہے کہ اس دلیل کی بناء پرامام محمد کے مفتی بہ قول کے مطابق جمعہ میں بھی فاسق کی اقتدا مکروہ ہوگی جبکہ شہر میں متعدد جگہ پرجمعہ قائم ہوتا ہو کیونکہ اس صورت میں دوسری جگہ نمازجمعہ کامیسرآنا ممکن ہے۱ھ اور در میں نہر اور اس میں محیط کے حوالے سے ہے کہ فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز ادا کرنے سے جماعت کا ثواب مل جاتاہے۱ھ ردالمحتار میں ہے اس سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ ان کے پیچھے نمازاداکرناتنہانماز اداکرنے سے اولی ہ۱ھ اور اسی میں ہے کہ اگر کوئی شخص صفوں سے دورکھڑے ہوکر اپنے ہم مذہب امام کاانتظار کرتاہے تویہ جماعت سے اعراض شمار نہیں ہوگا کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ وہ تو اس جماعت سے اعلی جماعت کے ارادے میں ہے۔ والله تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطلب فی الاقتداء بشافعی الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۶
ردالمحتار باب الامامۃ مطلب فی تکرار الجماعۃ فی المسجد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
درمختار باب الامامۃ باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸
ردالمحتار باب الامامۃ مطلب البدعۃ خمسۃ اقسام مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۵
ردالمحتار باب الامامۃ مطلب اذاصلی الشافعی قبل الحنفی الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۷
#10744 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
مسئلہ ۸۶۱ : ازکلکتہ غلام قادربیگ صاحب مرسلہ غلام قادربیگ صاحب ۵رجب ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اما م کے ساتھ ایك مقتدی برابرکھڑا ہے دوسرا اور آیا نہ وہ مقتدی اول پیچھے ہٹا نہ امام آگے بڑھا تو یہ اس مقتدی کونیت باندھ کرکھینچے یابے نیت باندھے بینوا تؤجروا
الجواب : دونوں صورتیں جائز ہیں فتح القدیر سے مستفاد کہ نیت باندھ کر کھینچنا اولی ہے اور خلاصہ میں تصریح فرمائی کہ پہلے کھینچ کرنیت باندھنی مناسب ہے بہرحال دونوں طریقے رواہیں فتح کی عبارت یہ ہے :
لواقتدی واحد باخرفجاء ثالث یجذب المقتدی بعد التکبیر ولوجذبہ قبل التکبیر لایضرہ ۔
اگر ایك آدمی نے دوسرے کی اقتدا کی کہ تیسرا آگیا تو وہ مقتدی کو تکبیر کے بعد کھینچے اگر اس نے تکبیر سے پہلے ہی کھینچ لیا تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ (ت)
خلاصہ کانص یہ ہے :
ینبغی ان یجذب احدا من الصف فی المسجد او فی الصحراء اولاثم یکبر ۔
مناسب یہی ہے کہ وہ کسی ایك نمازی کوصف سے پہلے کھینچ لے خواہ مسجد ہو یا صحرا پھر تکبیر کہے۔ (ت)
مگریہاں واجب التنبیہ یہ بات کہ کھینچنا اسی کوچاہئے جو ذی علم ہو یعنی اس مسئلہ کی نیت سے آگاہ ہو ورنہ نہ کھینچے کہ مبادا وہ بسبب ناواقفی اپنی نمازفاسد کرلے تحقیق منقح اس مسئلہ میں یہ ہے کہ نماز میں جس طرح الله اور الله کے رسول کے سوا دوسرے سے کلام کرنا مفسد ہے یونہی الله ورسول کے سواکسی کاکہنا ماننا (جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) پس اگر ایك شخص نے کسی نمازی کو پیچھے کھینچا یاآگے بڑھنے کوکہااور وہ اس کاحکم مان کرپیچھے ہٹا نمازجاتی رہی اگرچہ یہ حکم دینے والا نیت باندھ چکاہو اور اگر اس کے حکم سے کام نہ رکھابلکہ مسئلہ شرع کے لحاظ سے حرکت کی تونماز میں کچھ خلل نہیں اگرچہ اس کہنے والے نے نیت نہ باندھی ہو اس لئے بہتریہ ہے کہ اس کے کہتے ہی فوراحرکت نہ کرے بلکہ ایك ذرہ تامل کرلے تاکہ بظاہر غیر کے حکم ماننے کی صورت بھی نہ رہے جب فرق صرف نیت کاہے اور زمانہ پرجہل غالب توعجب نہیں کہ عوام اس فرق سے غافل ہوکربلاوجہ اپنی نماز خراب کرلیں ولہذا علماء نے فرمایا : غیرذی علم کواصلا نہ کھینچے اور یہاں ذی علم وہ جو اس مسئلہ اور نیت کے فرق سے آگاہ ہو درمختار میں ہے :
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۹
خلاصۃ الفتاوٰی جنس آخر مایتصل بصحۃ الاقتداء الخ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ، ۱ / ۱۵۷
#10745 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
لوامتثل امرغیرہ فقیل لہ تقدم فتقدم فسدت بل یمکث ساعۃ ثم یتقدم برایہ قھستانی معزیا للزاھدی ملخصا۔
اگرنمازی کسی غیرکاحکم بجالایا مثلا اسے کہاگیا آگے ہو جا وہ آگے ہوگیا تو نماز فاسد ہوجائے گی بلکہ وہ ایك گھڑی ٹھہرے اور پھر اپنی رائے سے آگے بڑھے قہستانی بحوالہ زاہدی ملخصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
فی المنح بعد ان ذکر لوجذبہ اخرفتاخر الاصح لاتفسد صلاتہ وفی القنیۃ قیل لمصل منفرد تقدم فتقدم بامرہ فسدت وعلله فی شرح القدوری بانہ امتثال لغیر امرالله تعالیھ کلام المصنف وذکر الشرنبلالی ان امتثالہ انما ھو لامر رسول الله صی الله تعالی علیہ وسلم فلایضراھ قال ط لو قیل بالتفصیل بین کونہ امتثل امر الشارع فلاتفسد وبین کونہ امتثل امر الداخل مراعاۃ لخاطرہ من غیرنظر لامرالشارع فتفسد لکان حسنا ھ مافی رد المحتار ملتقطا اقول : وھذا التفصیل کما تری من الحسن بمکان بل ھوالمحل لکلمات العلماء وبہ یحصل التوفیق وبالله التوفیق۔
منح میں اس کے بعد ہے کہ اگر اس کوکسی دوسرے نے کھینچا اور وہ پیچھے ہوگیا تواصح مذہب یہ ہے کہ اس کی نمازفاسد نہ ہوگی اور قنیہ میں ہے منفرد (تنہا) نمازی کوکہاگیا آگے ہو اور وہ اس کے حکم کی بنا پر آگے ہوا تونماز فاسد ہوگی۔ شرح قدوری میں اس کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ غیرالله کاحکم بجالاناہے ۱ھ کلام مصنف ختم ہوا شرنبلالی نے فرمایا یہ بجاآوری رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حکم کی بناپرتھی لہذا نقصان دہ نہیں ۱ھ طحطاوی نے فرمایا کہ اگر تفصیل بیان کی جائے درمیان اس کے کہ اگرشارع کاامرسمجھتے ہوئے بجالایا تونمازفاسد نہ ہوگی اور درمیان اس کے اگر داخل ہونے والے کے امر کی وجہ سے اس کے ارادے کی رعایت کرتے ہوئے بجالایا امرشارع کی طرف نظرکئے بغیر تو نمازفاسد ہوگی تو یہ (تفصیل بیان کرنا) بہترہوتا۱ھ یہ ردالمحتار کی گفتگو کاخلاصہ تھا اقول : (میں کہتاہوں ) یہ تفصیل اس جگہ احسن ہی نہیں بلکہ کلمات علماء کامحل بھی ہے اور اس کے ساتھ ان کے کلام میں تطبیق بھی پیداہوجاتی ہے وبالله التوفیق (ت)
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مبطع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۹
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۲
#10746 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
درمختارمیں ہے :
یجذب احد الکن قالوا فی زماننا ترکہ اولی ملخصا۔
کسی کوکھینچ لے مگر ہمارے زمانے کے علماء نے فرمایانہ کھینچنا ہی بہترہے ملخصا (ت)
خزائن الاسرار میں ہے :
ینبغی التفویض الی رأی المبتلی فان رأی عالما جذبہ ۔
اس معاملہ کو مبتلا ہونے والے شخص پرچھوڑدیاجائے اگروہ محسوس کرتاہے کہ یہ آدمی مسئلہ جانتاہے تو اسے کھینچ لے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھوتوفیق حسن اختارہ ابن وھبان فی شرح منظومتہ ۔
یہ بہت اچھی تطبیق ہے اسے ابن وہبان نے اپنی شرح منظومہ میں اختیار کیاہے۔ (ت)
رہا یہ کہ جب نہ مقتدی ہٹے نہ امام بڑھے نہ وہ ذی علم ہو کہ یہ کھینچ سکے یا مثلا امام قعدہ اخیرہ میں ہو جہاں ان باتوں کامحل ہی نہیں تو ایسی صورت میں اس آنے والے کو کیاکرناچاہئے اگرامام کے ساتھ ایك ہی مقتدی ہو اس کے بائیں ہاتھ پر یہ مل جائے کہ امام کے برابر دومقتدیوں کاہونا صرف خلاف اولی ہے۔
قال الشامی الظاھران ھذا اذا لم یکن فی القعدۃ الاخیرۃ والا اقتدی الثالث عن یسارالامام ولا تقدم ولاتاخر ۔
امام شافعی نے فرمایا ظاہر یہ ہے کہ یہ اس وقت ہے جب وہ قعدہ اخیرہ میں نہ ہو ورنہ (یعنی اگر قعدہ اخیرہ میں ہو) توتیسرا شخص امام کے بائیں جانب اقتداء کرے نہ آگے ہو اور نہ پیچھے۔ (ت)
اور اگرپہلے سے دوہیں تو یہ پیچھے شامل ہوجائے کہ امام کے برابر تین مقتدیوں کاہونا مکروہ تحریمی ہے۔
فی الدر لوتوسط اثنین کرہ تنزیھا وتحریما لو اکثر ۔
در میں ہے اگر دوکے درمیان امام کھڑا ہوتویہ مکروہ تنزیہی ہے اور اگردو سے زیادہ کے درمیان ہو تو یہ مکروہ تحریمی ہے ۔ (ت)
حوالہ / References درمختار ، باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲
ردالمحتاربحوالہ خزائن الاسرار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
ردالمحتاربحوالہ خزائن الاسرار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
ردالمحتار باب الامامۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰
درمختار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۳
#10747 · باب الجماعۃ (جماعت کا بیان)
مراقی الفلاح میں ہے
جذب عالما بالحکم لایتاذی بہ والاقام وحدہ ھ قلت فارشد الی القیام وحدہ صوتا لصلوۃ غیرہ عن الفساد المحتمل فکیف اذا کان فیہ صون صلاۃ نفسہ وغیرہ جمعیا عن الخلل المتیقن الموجب للاعادۃ۔ والله تعالی اعلم۔
حکم مسئلہ سے آگاہ نمازی کوکھینچ لے تاکہ اسے پریشانی نہ ہور اور اگرامام صاحب علم نہیں توتنہا ہی کھڑاہوجائے۱ھ
قلت (میں کہتاہوں ) جب اس کاتنہا کھڑاہونا اس لئے بہتر ہے تاکہ فساد محتمل سے دوسرے کی نماز بچائی جاسکے تو اس وقت تنہا کھڑاہونا کیوں نہ بہتر ہوگا جب اپنی اور دوسرے دونوں کی نماز ایسے خلل یقینی سے بچائی جارہی ہو جواعادہ کا موجب ہو۔ والله تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی بیان احق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۸
#10748 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
القلادۃ المرصعۃ فی نحرالاجوبۃ الاربعۃ۱۳۱۲ھ
(چارجوابوں کے مقابلہ میں پرویا ہواہار)
(مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارد بلیغ)
مسئلہ ۸۶۲ : ازکان پور بازار میدہ دکان نوربخش ومحمد سلیم مرسلہ مولوی محمد شفیع الدین صاحب نگینوی تلمیذ مولوی احمدحسن صاحب کانپوری ۱۶صفر۱۳۱۲ھ
بخدمت مجمع کمالات عقلیہ ونقلیہ جناب احمد رضاخاں صاحب دامت افضالہم السلام علیکم ایك استفتا خدمت شریف میں ارسال ہے پہلا جواب مولوی اشرف علی تھانوی نے لکھاتھا دوسرا جواب مولوی قاسم علی مرادآبادی نے لکھا ہے چونکہ دونوں جوابوں میں تخالف ہے لہذا ارسال خدمت شریف میں کیاگیاہے جوجواب صحیح ہو اس کومہرودستخط سے مزین فرمائیں اگر دونوں جواب خلاف تحقیق ہیں توجناب علیحدہ جواب مع حوالہ کتب تحریر فرمائیں ما جوابکم ایھا العلماء رحمکم الله تعالی (اے علماء رحمکم الله تعالی ! تمہارا جواب اس سلسلہ میں کیاہے۔ ت) ان مسئلوں میں کہ :
(۱) ایك شخص اپنے ایك پیر سے معذور ہے چونکہ اس کو شب کودوبارہ مسجد میں آنے سے تکلیف ہوتی ہے تو وہ شخص مسجد میں قبل اذان وجماعت کے اپنی نمازعشاء ہمراہ ایك شخص کے اقامت کہہ کرپڑھ لیتاہے پس شخص مذکور کوجماعت کاثواب ہوگا یانہ۔ اور جو جماعت مع اذان کے بعد کو ہوگی اس میں کچھ کراہت ہوگی یانہ
(۲) ہمراہ شخص مذکور کے جونماز پڑھتا ہے توبعد والی جماعت بسبب فوت ہونے تہجد کے ترك کرتاہے جائز ہے یانہ
(۳) ایك شخص ہمیشہ قیلولہ اس طرح کرتاہے کہ اس کی ظہر کی جماعت اولی ترك ہوجاتی ہے اور عذر اس کاخوف فوت تہجد ہے جائز ہے یانہ
#10749 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
(۴) چند شخصوں کوکوئی ضرورت درپیش ہے وہ چند شخص قبل اذان وجماعت اپنی نماز جماعت سے مسجد میں پڑھیں جائز ہے یانہ بینوا توجروا
جواب کان پور :
جواب سوال اول : نفس جماعت کاثواب ملے گا مگر جماعت اولی کی فضیلت سے محروم رہے گا جماعت اولی وہی ہوگی جو اذان واقامت سے اس کے بعد ہوگی اور اس میں کچھ کراہت نہیں ہے۔
جواب سوال دوم : خوف فوت تہجد ترك جماعت اولی میں عذر نہیں ہے۔
جواب سوال سوم : یہ عذر ترك جماعت ظہر نہیں ہوسکتا۔
جواب سوال چہارم : ضرورت شدیدہ میں ترك جماعت اولی جائز ہے۔ والله تعالی اعلم کتبہ محمد اشرف علی عفی عنہ اشرف۱۳۰۰علی ازگروہ اولیا

جوا ب مراد آباد :
جواب سوال اول : کایہ ہے کہ شخص مندرجہ سوال کاجماعت کرنا مکروہ تحریمہ ہے ثواب جماعت اصلا نہ ہوگا اس لئے کہ اولا تومعذور ہے جماعت ساقط ہے بلکہ بلاجماعت امید حصول ثواب بوجہ معذوری کے ہے۔
کما فی الھندیۃ وتسقط الجماعۃ بالاعذار حتی لاتجب علی المریض والمقعد والزمن ومقطوع الید والرجل من خلاف والمفلوج الذی لایستطیع المشی و الشیخ الکبیر العاجز اوکان قیما لمریض اویخاف ضیاع مالہ انتھی ملخصا ۔
جیسا کہ ہندیہ میں ہے عذر کی وجہ سے جماعت ساقط ہوجاتی ہے حتی کہ مریض بیٹھ کر چلنے والے لولے اور جس کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت کٹے ہوئے ہوں ایسا فالج زدہ جوچلنے کی طاقت نہ رکھتاہو نہایت ہی عاجز بوڑھا یاوہ شخص کسی بیمار کانگہبان ہو یااسے اپنے مال کے ضیاع کاخطرہ ہو مذکور سب افراد پر جماعت واجب نہیں ہے انتہی ملخصا(ت)
ومع ھذا (اور اس کے باوجود۔ ت) اس شخص کابغیر اذان وقامت کے جماعت کرنا علی الخصوص ایسے شخص کے ساتھ کہ وہ شرعا معذورنہیں ہے موجب کراہت تحریمہ کاہے۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی الجماعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۳
#10750 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
لکھا ہے :
ویکرہ اداء المکتوبۃ بالجماعۃ فی المسجد بغیراذان واقامۃ ۔
مسجد میں فرض نمازبغیر اذان وقامت باجماعت اداکرنامکروہ ہے۔ (ت)
ونیز درانست (نیز اسی میں ہے۔ ت)
الاذان سنۃ لاداء المکتوبۃ بالجماعۃ وقیل انہ واجب الصحیح انہ سنۃ مؤکدۃ ۔
باجماعت فرض نماز کی ادائیگی کے لئے اذان سنت ہے اور بعض نے اسے واجب کہاہے صحیح یہ ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے۔ (ت)
پس حصول ثواب نفس جماعت کہاں بلکہ بوجہ ترك سنت مؤکدہ کے موجب معصیت ہے۔
کماقال العلامۃ الشامی صرح العلامۃ ابن نجیم فی رسالتہ المؤلفۃ فی بیان المعاصی بان کل مکروہ تحریما من الصغائر وصرح ایضا بانھم شرطوا لاسقاط العدالۃ بالصغیرۃ الادمان علیھا۔
جیسا کہ علامہ شامی نے فرمایا علامہ ابن نجیم نے اپنے اس رسالہ میں جو انہوں نے بیان معاصی میں تحریر کیاہے فرمایا : ہرمکروہ تحریمی صغائر میں سے ہے اور یہ بھی صریح کی ہے کہ اہل علم نے صغیرہ کے سبب اسقاط عدالت کے لئے اس پر ہمیشگی کوشرط قراردیاہے۔ (ت)
اور جوجماعت بعد کومع اذان ہوگی وہ بلاکراہت ہوگی کمامر (جیسا کہ گزرا۔ ت) فقط
جواب سوال دویم : کایہ ہے کہ جواب سوال اول سے بخوبی مبرہن ہوگیا کہ شرعا یہ جماعت مکروہ تحریمہ ہے پس دوسرے شخص کااس معذور کے ساتھ قبل اذان کے بخوف فوت نماز تہجد کے نماز پڑھنا ترك کرنا جماعت کاہے اور ترك جماعت کہ سنت مؤکدہ قریب واجب کے ہے واسطے ادائے صلوۃ تہجد کے کہ مستحب ہے درست نہیں اس واسطے کہ ترك سنت معصیت ہے برخلاف امرمندوب کہ وہ معصیت نہیں درمختار میں لکھاہے :
ومن المندوبات رکعتا السفر والقدوم منہ سفر پرجانے اور اس سے واپسی پر دو۲ رکعت اور
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی صفۃ واحوال المؤذن مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۴
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی صفۃ واحوال المؤذن مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۳
ردالمحتار مطلب لمکروہ تجزی من الصفائہ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۳۷
ردالمحتار مطلب لمکروہ تجزی من الصفائہ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۳۷
#10751 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
وصلوۃ اللیل ۔
رات کی نماز مندوبات سے ہے۔ (ت)
علامہ شامی تحریر فرماتے ہیں :
قال فی البحر الذی یظھر من کلام اھل المذہب ان الاثم منوط بترك الواجب اوالسنۃ المؤکدۃ علی الصحیح لتصریحھم بان من ترك سنن الصلوات لخمس قیل لایأثم والصحیح انہ یأثم وتصریحھم بالاثم لمن ترك الجماعۃ مع انھا سنۃ مؤکدۃ علی الصحیح ۔ فقط
بحر میں ہے کہ اہل مذہب کے کلام سے یہ ظاہر ہورہاہے کہ صحیح مذہب پرگناہ تب ہوگا جب ترك واجب یاترك سنت سنت مؤکدہ ہو کیونکہ علماء کی تصریح ہے جو شخص صلوات خمسہ کی سنن ترك کردے ایك قول کے مطابق گنہگار نہ ہوگا اور صحیح یہ ہے کہ گنہگار ہوگا اور اس بات کی بھی تصریح کی ہے کہ جماعت کا ترك گناہ ہے حالانکہ وہ صحیح قول کے مطابق سنت مؤکدہ ہے۔ (ت)
جواب سوال سوم : بہتر یہ ہے کہ بخوف فوت تہجد کے اس قدر قیلولہ نہ کرے کہ جوموجب ترك فضیلت جماعت اولی کاہووے ولہذا اگر کرے توجائز ہے بشرطیکہ جماعت ترك نہ ہوجائے کہ جماعت ثانیہ ہووے اس لئے کہ ہمارے اساتذہ رحمہم الله تعالی کے نزدیك قول محقق یہی ہے کہ جماعت ثانیہ بلاکراہت درست ہے اور مساوی ہے ثواب میں نفس جماعت اولی کے اور جماعت اولی اولی ہے چنانچہ میرے استاد کامل ومحدث والد ماجد قدس سرہ کااثبات جماعت ثانیہ کے بارہ میں ایك رسالہ مبسوط ہے من شاء فلیطلع علیھا (جوشخص تفصیل چاہے اس کا مطالعہ کرے۔ ت) بناء علیہ واسطے ادائے نماز تہجد کے کہ اعلی درجہ کی مستحب ہے اس قدر قیلولہ کرنا کہ جس سے جماعت اولی ترك ہوجائے نہ مطلق جماعت بلاشبہ جائز ہے اس لئے کہ فضیلت جماعت کی مساوی فضیلت تہجد کے نہیں ہے بلکہ کمتر ہے من شاء فلیطالع الاحادیث المرویۃ فی ھذاالباب من الصحاح والحسان (جوشخص تفصیل چاہتا ہے وہ ان احادیث صحیحہ اور حسان کامطالعہ کرے جو اس مسئلہ کے بارے میں مروی ہیں ۔ ت) فقط۔
جواب سوال چہارم : بحالت عذرشرعی کے بھی قبل اذان کے مسجد میں جماعت کرنااشخاص مندرجہ سوال کا درست نہیں مکروہ ہے البتہ بعد اذان کے درست ہے
کما فی الھندیۃ ویکرہ اداء المکتوبۃ بالجماعۃ فی المسجد بغیر اذان واقامۃ ۔
جیسا کہ ہندیہ میں ہے مسجد میں اذان واقامت کے بغیر فرض نماز کی جماعت مکروہ ہے۔ (ت)
حوالہ / References درمختار ، باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۶
ردالمحتار مطلب فی السنۃ وتعریفہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۷
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی صفۃ واحوال المؤذن مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۴
#10752 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
یہی حکم صورمسؤلہ کا کہ تحریر ہوا والله تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والماب فقط حررہ العبد المفتقر الی الله الغنی محمد قاسم علی عفی عنہ
قاسم علی خلف۱۲۹۶مولنا محمد عالم علی الجواب الصحیح و المجیب نجیح بینظیر ۱۳۰۰ھ شگفتہ محمد گل
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب
(اے الله ! حق اور صواب کی ہدایت عطافرما)
بسم الله الرحمن الرحیم٭ الحمدلله الذی یدہ علی الجماعۃ والصلوۃ والسلام علی صاحب الشفاعۃ والہ وصحبہ اولی البراعۃ وسائر اھل السنۃ والجماعۃ۔
شروع الله کے نام سے جونہایت رحمت والا اور مہربان ہے تمام تعریف الله تعالی کے لئے جس کامبارك ہاتھ جماعت پرہے اور صلوۃ وسلام اس ذات اقدس پر ہو جو صاحب شفاعت ہے اور آپ کی آل اور اصحاب پر جو صاحب فضیلت ہیں اور تمام اہل سنت وجماعت پر۔ (ت)
جواب سوال اول وچہارم : ہاں فعل مذکور مکروہ ومحظور ہے نہ اس وجہ سے کہ معذور سے جماعت ساقط یااسے بے جماعت ثواب ثابت کہ : اولا ساقط وجوب ہے نہ جواز بلکہ جماعت افضل اورعزیمت
وفی ردالمحتار قولہ من غیر حرج قید لکونھا سنۃ مؤکدۃ اوواجبۃ فبالحرج یرتفع الاثم ویرخص فی ترکہا ولکنہ یفوتہ الافضل الخ۔
ردالمحتارمیں ہے کہ ماتن کاقول من غیرحرج قید ہے اس بات کی کہ جماعت سنت مؤکدہ یاواجب ہے اور حرج کی وجہ سے گناہ ختم اور جماعت کے ترك میں رخصت ہوگی البتہ وہ افضل کو فوت کردے گاالخ(ت)
ثانیا نہ بے جماعت ثواب مانع جماعت فشتان مابین الحکم والحقیقۃ (حکم اورحقیقت میں نہایت ہی فرق ہے ۔ ت) سورئہ اخلاص ثلث قرآن عظیم کے برابر ہے کیا تین بار اسے پڑھنے والا ختم قرآن سے ممنوع ہوگا(نماز مع) جماعت عشاء قیام نصف شب اور مع جماعت فجر قیام تمام لیل کے مساوی ہے کیا یہ نمازیں جماعت سے پڑھنے والا احیائے لیل سے بازرکھاجائے گا شرع میں اس کی نظائر ہزاردوہزار ہیں ۔
حوالہ / References ردالمحتار مطلب فی تکرار الجماعۃ فی المسجد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۰
#10753 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
فی الحدیث المتواتر عن النبی صلی الله علیہ وسلم قل ھوالله احد تعدل ثلث القرآن اخرجہ مالك واحمد و البخاری و ابو داؤد و نسائی عن ابی سعید الخدری و البخاری عن قتادۃ بن النعمان و احمد ومسلم عن ابی الدرداء ومالك واحمد ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ و الحاکم عن ابی ہریرۃ واحمد والترمذی وحسنہ والنسائی عن ابی ھریرۃ واحمد والترمذی وحسنہ والنسائی عن ابی ایوب الانصاری واحمد والنسائی والضیاء فی المختارۃ عن ابی بن کعب والترمذی وحسنہ عن انس بن مالك واحمد وابن ماجۃ عن ابی مسعود البدری وفی الباب عن عـــہ۱عبدالله بن مسعود وعبدالله عـــہ۲ بن عمروومعاذ عـــہ۳ بن جبل و جابر عـــہ۴ بن عبدالله وعبدالله عـــہ۵ بن عباس و ام عـــہ ۶کلثوم بنت عقبۃ وغیرھم عـــہ۷
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے متواتر روایت میں ہے سورہ اخلاص “ قل ھو الله احد “ کی تلاوت قرآن کی تہائی کے برابر ہے۔ اسے امام مالک احمد بخاری ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے بخاری نے قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالی عنہ سے مالک احمد مسلم ترمذی نسائی ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے احمد و ترمذی اور انہوں نے اس روایت کو حسن قراردیا اور نسائی نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے احمد نسائی اور ضیاء مقدسی نے مختارہ میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے ترمذی نے اسے حسن قراردیتے ہوئے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے احمد اور ابن ماجہ نے حضرت ابومسعود بدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے اس سلسلہ میں حضرت عبدالله بن مسعود عبدالله بن عمرو
عــــہ۱ رواہ عنہ الطبرانی فی الکبیر ۱۲ منہ
عــــہ۲ رواہ الطبرانی فی الکبیر والحاکم وابونعیم فی الحلیۃ ۱۲منہ
عــــہ ۳ الطبرانی فی الکبیر ۱۲منہ
عــــہ۴ البزار۱۲ منہ
عــــہ ۵ ابوعبیدہ ۱۲منہ
عــــہ۶ الامام احمد ۱۲منہ
عــــہ۷ رواہ البیھقی فی السنن عن رجاء الغنوی رضی الله تعالی عنہ فھؤلاء خمسۃ عشر صحابیا ۱۲منہ
(اس کو ان سے طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیاہے۔ ت)
اس کو طبرانی نے معجم کبیر میں اور حاکم نے اور ابونعیم نے حلیہ میں روایت کیاہے۔ (ت)
(اس کوطبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیاہے۔ ت)
(اس کو بزار نے روایت کیاہے۔ ت)
(اس کو ابوعبیدہ نے روایت کیاہے۔ ت)
(اس کو امام احمد نے روایت کیاہے۔ ت)
اس کو بہیقی نے سنن کبری میں رجاء غنوی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے یہ پندرہ کے پندرہ صحابی ہیں (لہذا حدیث متواتر ہوئی) ۱۲منہ غفرلہ
حوالہ / References صحیح البخاری باب فضل قل ھواللّٰہ احد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۵۰
#10754 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
رضی الله تعالی عنہم مالك واحمد ومسلم عن امیر المؤمنین عثمن الغنی رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من صلی العشاء فی جماعۃ فکانما قام نصف اللیل ومن صلی الصبح فی جماعۃ فکانما صلی اللیل کلہ ۔
معاذبن جبل جابر بن عبدالله عبدالله بن عباس ام کلثوم بنت عقبہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے بھی روایات مروی ہیں ۔ مالک احمد اور مسلم نے امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے نماز عشاء جماعت کے ساتھ اداکی گویا اس نے نصف رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز باجماعت پڑھی گویا اس نے تمام رات قیام کیا(ت)
ثالثا نہ ایسی حالت میں بے ادائے جماعت ثواب جماعت ملنا ثابت۔
قال المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر و العلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیۃ فی مسألۃ الاعمی وقول النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لہ مااجدلك رخصۃ معناہ لااجد لك رخصۃ تحصل لك فضیلۃ الجماعۃ من غیرحضورھا لاالایجاب علی الاعمی لانہ علیہ الصلوۃ والسلام رخص لعتبان بن مالك رضی الله تعالی عنہ علی مافی الصحیحین ۔
تنبیہ اقول : استشھادنا انما ھو بھما افادامن عدم حصول الفضیلۃ ولوللمعذور بدون الحضور وفیہ
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اور علامہ ابراہیم حلبی نے غنیہ میں مسئلہ اعمی کے تحت یہ لکھاہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کانابینا کوفرمانا کہ “ میں تیرے لئے رخصت نہیں پاتا “ اس کامعنی یہ ہے کہ میں تیرے لئے جماعت کی فضیلت وثواب بغیرحاضری جماعت کے نہیں پاتا اس کایہ معنی نہیں کہ آپ نے حاضری جماعت کے نابینا پرلازم فرمائی کیونکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے دوسرے صحابی عتبان بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ کو اسی عذر کی بنا پر جماعت سے رخصت عنایت فرمائی ہے جیسا کہ بخاری و مسلم میں موجود ہے(ت)
تنبیہ اقول : (میں کہتاہوں ) ہمارااستشہاد ودلیل ان دونوں بزرگوں کے اس افادہ سے ہے کہ فضیلت جماعت حاضری کے بغیر حاصل نہ ہوگی
حوالہ / References صحیح مسلم باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ، ۱ / ۲۳۲
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ص۵۱۰
#10755 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
ایضا تفصیل یعلم بالرجوع الی المراقی وغیرھا اماکون معی الحدیث ھذا فعندی محل نظر یعرفہ من جمع طرق الحدیث ففی صحیح مسلم عن ابی ھریرۃ قال اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم رجل اعمی فقال یارسول الله انہ لیس لی قائدیقودنی الی المسجد فسأل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان یرخص لہ فیصلی فی بیتہ فرخص فلما ولی دعاہ فقال ھل تسمع النداء بالصلاۃ فقال نعم قال فاجب
واخرجہ السراج فی مسندہ مبینافقال اتی ابن ام مکتوم الاعمی الحدیث وعند الحاکم عن ابن ام مکتوم قلت یارسول الله ان المدینۃ کثیرۃ الھوام والسباع قال اتسمع حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح قال نعم فحی ھلا وعند احمد وابن خزیمۃ
خواہ وہ شخص معذور ہی کیوں نہ ہو اور اس میں بھی تفصیل ہے جس کے جاننے کیلئے مراقی وغیرہ کی طرف رجوع ضروری ہے باقی حدیث کایہ معنی کرنا میرے نزدیك محل نظر ہے جس کی معرفت حدیث کے طرق کو جمع کرنے سے ہوگی۔ تو صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایك نابینا شخص آیا اور عرض کیا یارسول الله ! مجھے کوئی مسجد میں لانے والانہیں انہوں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے چاہا کہ آپ اسے اس بات کی اجازت دے دیں کہ وہ گھر میں نماز ادا کرلے آپ نے اجازت مرحمت فرمائی جب وہ لوٹے تو آپ نے دوبارہ بلایا اور پوچھا : کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو عرض کیا : ہاں ۔ فرمایا : اس کا جواب دو(یعنی باجماعت نماز پڑھو)اور اسے سراج نے مسند میں تفصیلا بیان کرتے ہوئے اس صحابی کا نام لیا کہ آپ کی خدمت میں حضرت ابن ام مکتوم نابیناصحابی حاضر ہوئے الحدیث۔ حاکم روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول الله ! مدینہ طیبہ میں بہت سے کاٹنے والے کیڑے اور درندے ہیں فرمایا : تم حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح سنتے ہو عرض کیا ہاں۔
حوالہ / References صحیح مسلم باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۲
عمدۃ القاری شرح البخاری بحوالہ السراج فی مسندہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۱۶۳
المستدرك علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۴۷
#10756 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
والحاکم عنہ بسند جید ایسعنی ان اصلی فی بیتی قال اتسمع الاقامۃ قال نعم قال فأتھا وفی اخری قال فاحضرھا ولم یرخص لہ ۔ و للبیھقی عنہ سألہ ان یرخص لہ فی صلاۃ العشاء والفجر قال ھل تسمع الاذان قال نعم مرۃ اومرتین فلم یرخص لہ فی ذلک ولہ عن کعب
بن عجرۃ جاء رجل ضریر الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فیہ ایبلغك النداء قال نعم قال فاذا سمعت فاجب ولاحمد وابی یعلی والطبرانی فی الاوسط و ابن حبان عن جابر واللفظ لہ قال اتسمع الاذان قال نعم قال فأتھا و لو حبوا فکان ذلك فیما نری والله تعالی اعلم انہ رضی
فرمایا : اس کی طرف آؤ۔ مسند احمد ابن خزیمہ اور حاکم نے انہی سے سند جید کے ساتھ نقل کیاکہ میں نے عرض کیا کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں گھر میں نماز اداکرلوں فرمایا : کیا اقامت سنتے ہو عرض کیا : ہاں ۔ فرمایا : اس کی طرف آؤ۔ دوسری روایت میں ہے : اس میں حاضری دو توآپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اسے رخصت نہ دی۔
بیہقی نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی روایت کیا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس بات کی رخصت چاہی کہ ان کو عشاء اور فجر کی نماز میں جماعت سے رخصت دے دیں ۔ فرمایا : کیا تم اذان سنتے ہو عرض کیا : ہاں ۔ ایك یادو دفعہ پوچھا آپ نے انہیں اس بارے میں رخصت نہ دی۔ بیہقی میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے کہ ایك نابینا شخص رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں آیا اسی میں ہے کہ آپ نے پوچھا : کیا تجھے اذان کی آواز پہنچتی ہے عرض کیا : ہاں ۔ بتایا : جب تو سنتاہے تو جواب دے (یعنی جماعت میں حاضری دے) مسند ابویعلی طبرانی کی اوسط میں اور
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث عمر بن ام مکتوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۴۲۳
المستدرك علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۴۷
مجمع الزوائد باب فی ترك الجماعۃ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ / ۴۳
مجمع الزوائد باب فی ترك الجماعۃ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ / ۴۲
ف : یہ دونوں حوالے مجمع سے اس لئے نقل کئے کہ سنن بیہقی اور شعب الایمان للبیہقی سے نہیں ملے ، ہوسکتاہے یہ لفظ للبیہقی کی بجائے للطبرانی ہو کیونکہ مجمع نے طبرانی اوسط کے حوالے سے یہ دونوں حدیثیں نقل کی ہیں ۔ نذیر احمد سعیدی
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان باب فرض الجماعۃ والاعذار الخ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۴ / ۲۵۲
#10757 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
الله تعالی عنہ لم یکن یشق علیہ المشی وکان یھتدی الی الطریق من دون حرج کمایشاھد الآن فی کثیر من العمیان ثم راجعت الزرقانی علی المؤطا فرأیتہ نص علی ذلك نقلا فقال و حملہ العلماء علی انہ کان لایشق علیہ المشی وحدہ ککثیر من العمیان اہ وح یترجح بحث العلامۃ الشامی حیث بحث ایجاب الجمعۃ علی امثال ھؤلاء فقال بل یظھر لی وجوبھا علی بعض العمیان الذی یمشی فی الاسواق ویعرف الطرق بلاقائد ولاکلفۃ ویعرف ای مسجد ارادہ بلاسؤال احد لانہ حینئذ کالمریض القادر علی الخروج بنفسہ بل ربما تلحقہ مشقۃ اکثر من
ھذا تامل ھ ثم رأیت الامام النووی نقل فی شرح مسلم ماذکر المحققان من معنی الرخصۃ عن الجمہور فقال اجاب الجمھور عنہ بانہ سأل
ابن حبان میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی الفاظ ابن حبان کے ہیں کیا تم اذان سنتے ہو عرض کیا : ہاں ۔ فرمایا : اس کی طرف آؤ خواہ گھٹنوں کے بل آنا پڑے اس سلسلہ میں ہماری رائے یہی ہے حقیقت حال سے الله ہی آگاہ ہے کہ حضرت ابن ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ پرچلنا دشوار نہ تھا اور وہ بغیر کسی حرج کے راستہ پالیتے تھے جیسا کہ اب بھی بہت سے نابینا لوگوں میں یہ مشاہدہ کیاجاتاہے پھر میں نے زرقانی علی المؤطا کا مطالعہ کیا تو اس میں بعینہ یہی بات منقول تھی کہ تمام اہل علم کی یہی رائے ہے کہ ان پرتنہا چلنے میں دشواری نہ تھی جیسا کہ اب بھی بہت نابینا افراد پرتنہاچلنا دشوار نہیں ہے۱ھ اور اب علامہ شامی کی وہ بحث بھی ترجیح پائے گی جو انہوں نے ایسے لوگوں پر جمعہ واجب قراردیتے ہوئے کی ہے توکہا بلکہ مجھ پریہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایسے نابینا لوگوں پرجمعہ واجب ہوگا جوبغیر کسی قائد اور بلامشقت تنہاراستہ جان کر چل سکتے ہوں اور اس مسجد تك بغیر پوچھے پہنچ سکتے ہوں جہاں انہوں نے نماز اداکرنی ہو کیونکہ یہ اس وقت اس مریض کی طرح ہوں گے جو خود بخود نکلنے پر قادر ہوبلکہ بعض اوقات مریض کو اس سے کہیں زیادہ مشقت اٹھانا ہوتی ہے تامل ۱ھ پھر میں نے امام نووی کی شرح مسلم دیکھی اس میں انہوں نے دونوں محققین کا جمہور سے معنی رخصت ذکر کیاہوا نقل کرکے فرمایا جمہور اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ حضرت
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المؤطا فصل صلوٰۃ الجماعۃ مطبوعہ مکتبہ تجاریہ کبری مصر ۱ / ۲۶۷
ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۰۲
#10758 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
ھل لہ رخصۃ ان یصلی فی بیتہ و تحصل لہ فضیلۃ الجماعۃ بسبب عذرہ فقیل لا قال ویؤید ھذا ان حضور الجماعۃ یسقط بالعذر باجماع المسلمین ودلیلہ من السنۃ حدیث عتبان بن مالک الخ۔
اقول : وقد علمت مافی ھذا التائید فان الشان فی ثبوت الحرج لہ رضی الله تعالی عنہ و لعل عتبان کان ممن یتحرج بالمشی وحدہ دون ابن ام مکتوم رضی الله تعالی عنھما ثم ان الامام النووی استشعر ورود قولہ صلی الله علیہ وسلم فاجب فاجاب باحتمام انہ بوحی نزل فی الحال وباحتمال تغیر اجتھادہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وبان الترخیص کان بمعنی عدم الوجوب وقولہ فاجب ندب الی الافضل۔
ابن مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے یہ سوال کیاتھا کہ مجھے گھر پرنماز پڑھنے کی اجازت دی جائے اور عذر کی بنا پر حاضر نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کا ثواب بھی حاصل ہو تو اس کا جواب نفی میں آیا امام نووی نے فرمایا اس گفتگو سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ عذر کی بنا پر حاضری جماعت کے سقوط پرتمام امت مسلمہ کا اتفاق ہے اور اس کی دلیل سنت سے وہ حدیث ہے جو حضرت عتبان بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے اس بارے میں مروی ہے الخ(ت)
اقول : میں کہتاہوں ) اس تائید میں جوکچھ ہے وہ آپ جان چکے کہ یہ اس صورت میں ہے جب ابن مکتوم کے لئے حرج ثابت ہو شاید حضرت عتبان رضی اللہ تعالی عنہ ان لوگوں میں سے ہوں جن کو تنہا چلنا دشوار ہو بخلاف ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ کے ان کے لئے ایسا معاملہ نہ تھا پھر امام نووی نے حضور علیہ السلام کے ارشاد “ فاجب “ کے ورود سے یہ بات سمجھی تو جواب احتمال سے دیا کہ ممکن ہے یہ حکم اسی حال میں وحی نازل ہونے کے ساتھ دیا اور بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اجتہاد میں تبدیلی ہوئی ہو یہ بھی ہوسکتاہے کہ رخصت بمعنی عدم وجوب ہو اور آپ کا ارشاد فاجب افضل کی طرف متوجہ کررہاہو۔
حوالہ / References شرح مسلم للنووی مع مسلم باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۲
#10759 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
اقول : اماالاولان فتسلیم للقول واماحمل فاجب علی الندب فخلاف الظاھرلاسیما مع بنائہ علی سماع الاذان فان الندب حاصل مطلقا فافھم والله تعالی اعلم۔
اقول : (میں کہتاہوں ) پہلے دونوں احتمال قول کی وجہ سے تسلیم مگر فاجب کو ندب پرمحمول کرنا خلاف ظاہر خصوصا جب اس کی بنا اذان کے سماع پر ہو کیونکہ ندب توہرحال میں حاصل تھا فافہم والله تعالی اعلم(ت)
رابعا : سب سے قطع نظر کیجئے تو پاؤں کا عذر عذر فی الحضور ہے نہ عذرللحاضر کالمطروالطین وامثالہما بلکہ وجہ اولا وہی اتیان جماعت بے اذان کہ درباب استنان موکد اذان اگرچہ مواہب الرحمان و مراقی الفلاح و ردالمحتار کے اطلاقات بہت وسیع ہیں
ویعارضہا کثیر من روایات المبسوط والمحیط والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ والھندیۃ وغیرھا من المعتبرات حتی نفس ردالمحتار ومشروحہ الدرالمختار کمابیناہ فیما علقناہ علی ھامشہ۔
مبسوط محیط خانیہ خلاصہ بزازیہ ہندیہ اور دیگر معتبر کتب کی اکثرروایات اس کے معارض ہیں حتی کہ خود ردالمحتار اور اس کا متن درمختار میں بھی معارض ہیں جیسا کہ ہم نے اس کے حاشیہ میں بیان کیاہے۔ (ت)
مگر اس قدر بلاشبہہ ثا بت کہ نماز پنجگانہ عـــہ۱سے جونماز وقتی رجال احرار غیرعراۃ مسجد میں باجماعت اداکریں اس کے لئے سوا بعض صور مستثناۃ عـــہ۲کے وقت میں اذان کا پہلے ہولینا سنت مؤکدہ قریب بواجب ہے اور بے اس کے
عـــہ۱ دخلت الجمعۃ وخرجت صلوۃ العیدین والکسوف والجنازۃ والاستسقاء وغیرھا والفوائت وجماعۃ النساء والصبیان و العبید والعراۃ وجماعۃ البیوت والصحراء ومستندکل ذلك مذکور فیما علقناہ علی ردالمحتار۱۲منہ غفرلہ (م )
اس میں جمعہ داخل اور عیدین کسوف جنازہ اور استسقاء وغیرہ اور قضا اور جماعت خواتین بچوں غلاموں ننگوں اور گھریلو جماعت اور جنگل کی جماعت اس سے خارج ہے اور ہرایك پردلیل ہم نے اپنے حاشیہ ردالمحتار میں تحریر کی ہے ۱۲منہ غفرلہ (ت)
عـــہ۲ مثلا جمعہ کے دن شہر یا قصبہ میں جو معذور ظہرپڑھیں انہیں اذان کی اجازت نہیں اگرچہ جماعت کریں کہ انہیں جماعت کرنابھی جائز نہیں موسم حج میں عصر عرفہ وعشائے مزدلفہ کے لئے تکبیرہوتی ہے نہ اذان(باقی برصفحہ ائندہ)
#10760 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
کچھ لوگوں نے آہستہ اذان دے کر جماعت کرلی کہ آواز اذان اوروں کو نہ پہنچی تو ایسی جماعت بھی داخل شمار واعتبار نہیں نہ کہ جب سرے سے اذان دی ہی نہ جائے وجیز امام کروری میں ہے :
ویکرہ للرجال اداء الصلوۃ بجماعۃ فی مسجد بلااعلامین لا فی المفازۃ والکروم والبیوت الخ
اقول : قولہ بلااعلامین ای بدون الجمع بینھما فنافی الکراھۃ ھوالایتان بھما لاباحدھما بدلیل قولہ لا فی المفازۃ الخ فان ترك اعلام الشروع مکروہ مطلقا ولوفی المفازۃ وقد نص علی الاساءۃ فی ترکہما۔
مردوں کے لئے مسجد میں فرائض کی جماعت اذان و اقامت کے بغیر مکروہ ہے جنگل گھنے باغوں اور گھروں میں مکروہ نہیں الخ (ت)
اقول : (میں کہتاہوں ) اس کا قول “ بلااعلامین “ یعنی اذان واقامت کو جمع کئے بغیر لہذا منافی کراہۃ دونوں کے ساتھ نماز باجماعت اداکرنا ہے نہ صرف ایك کے ساتھ اس کا قول لا فی المفازۃ الخ اس پر دلیل ہے کیونکہ جماعت کے ساتھ اذان کا ترك ہرحال میں مکروہ ہے خواہ جنگل میں ہو اور ان دونوں کے ترك پراساء ت کی تصریح ہے(ت)

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کما فی الھندیۃ عن الخانیۃ ولاحاجۃ ھھنا الی استثناء فوائت تودی فی المسجد کما فعل الشامی ولاماوراء اول فوائت ولوادیت فی غیرالمسجد کمازدناہ علیہ لان الکلام ھھنا فی الاداء ۱۲منہ غفرلہ (م)
ہندیہ میں خانیہ کے حوالے سے یوں ہی ہے اور ان فوت شدہ نمازوں کے استثناء کی ضرورت نہیں جو مسجد میں ادا کی جائیں جیسا کہ شامی نے کیاہے اور نہ ہی ماورائے اول کے فوت شدہ کااستثناء ضروری ہے اگرچہ وہ غیر مسجد میں ادا کی جائیں جیسا کہ ہم نے اس پر اضافہ کیاہے کیونکہ یہاں گفتگو ادا میں ہورہی ہے۔ (ت)
حوالہ / References ∞ فتاوٰی بزازیہ علی حاشیہ فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلوٰۃ فصل الاول فی الاذان مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۴
الدر الحکام فی شرح غررالاحکام باب الاذان مطبوعہ مطبع احمد کامل لاکائنہ فی دارالسعادت مصر ۱ / ۵۶
#10761 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
درر و غرر علامہ مولی خسرو میں ہے :
(یأتی بھما) ای الاذان والاقامۃ (المسافر والمصلی فی المسجد جماعۃ و فی بیتہ بمصر وکرہ للاول) ای المسافر (ترکہا) ای الاقامۃ (وللثانی) ای للمصلی فی المسجد (ترکہ) ای الاذان (ایضا) ای کالاقامہ ۔
(ان دونوں کو بجالائے) یعنی اذان واقامت کے ساتھ (مسافر اور نمازی مسجد میں جماعت کے لئے اور شہر میں گھر پرنماز ادا کرنے والا اور پہلے کے لئے مکروہ ہے) یعنی مسافر کے لئے (اس کا چھوڑنا) یعنی تکبیر کا( اور دوسرے کے لئے) یعنی مسجد میں نماز ادا کرنے والے کے لئے ( اس کا چھوڑنا) یعنی اذان کا (بھی) یعنی اقامت کی طرح مکروہ ہے۔ (ت)
عالمگیریہ میں ہے :
لوصلی بعض اھل المسجد باقامۃ وجماعۃ ث دخل المؤذن والامام وبقیۃ الجماعۃ فالجماعۃ المستحبۃ لھم والکراھۃ للاولی کذا فی المضمرات ۔
اگر کچھ اہل مسجد نے اقامت اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرلی پھر مؤذن امام اور باقی لوگ آئے تو ان کی جماعت مستحب ہے پہلی جماعت مکروہ ہوگی مضمرات میں اسی طرح ہے۔ (ت)
یہ خاص جزئیہ مسئلہ مسئولہ ہے خلاصہ و خانیہ و ہندیہ وغیرہا میں ہے :
واللفظ للامام البخاری جماعۃ من اھل المسجد اذنودی فی المسجد علی وجہ المخافۃ بحیث لم یسمع غیرھم ثم حضر من اھل المسجد قوم وعلموا فلھم ان یصلوا بالجماعۃ علی وجھھا ولاعبرۃ للجماعۃ الاولی اھ
الفاظ امام بخاری کے ہیں کہ جماعت کے لئے اہل مسجد میں سے ایك گروہ نے مسجد میں اتنی آہستہ اذان دی کہ ان کے غیر نے نہ سنی پھر دیگر لوگ آئے اور ان کو علم ہواتو ان لوگوں کو حق حاصل ہے کہ وہ سنت طریقہ پر جماعت کروائیں پہلی جماعت کا کوئی اعتبار نہیں ۱ھ(ت)
پس اس معذور اور اس کے شریك اور ان ضرورت والوں کا یہ فعل جماعت مسنونہ معتبرئہ شرعیہ نہیں بلکہ
حوالہ / References الدر الحکام فی شرح غررالاحکام باب الاذان مطبوعہ مطبع احمد کامل لاکائنہ فی دارالسعادت مصر ۱ / ۵۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول من باب الاذان مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۴
خلاصۃ الفتاوٰی ، الفصل فی الاول فی الاذان ، مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ، ۱ / ۴۸
#10762 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
مکروہ ممنوعہ ہے اور جو جماعت باذان واقامت اس کے بعد ہوگی اس میں کچھ کراہت نہ ہوگی بلکہ وہی جماعت مسنونہ وجماعت اولی ہے۔
ثانیا جب یہ جماعت جماعت نہیں تو دقیق نظر حاکم کہ ان کا یہ فعل بعد دخول وقت مسجد سے بے نیت شہود جماعت باہرجانا ہوا یہ بھی مکروہ اور حدیث میں اس پر وعید شدید وارد :
ابن ماجۃ عـــہ عن امیرالمؤمنین عثمن رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی اللہ
ابن ماجہ نے امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہا رسول الله صلی اللہ

عـــہ سندہ ضعیف واقتصرنا علیہ تبعا للبحر وغیرہ وقدثبت بسند صحیح من حدیث ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ لکن فیہ تخصیص مسجد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فانہ قال قال رسول الله تعالی علیہ وسلم لایسمع النداء فی مسجدی ھذا ثم یخرج منہ الا لحاجۃ ثم لایرجع الیہ الامنافق رواہ الطبرانی فی الاوسط ولابی داؤد فی مراسیلہ عن سعید بن المسیب رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال لایخرج من المسجد احد بعد النداء الامنافق الااحد اخرجتہ حاجۃوھو یرید الرجوع ۱۲منہ غفرلہ (م)
اس کی سند ضعیف ہے ہم نے بحر وغیرہ کی اتباع میں اسی پراقتصار کیا ہے حالانکہ سند صحیح کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث ثابت ہے لیکن اس میں مسجد نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تخصیص ہے کہا رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : میری اس مسجد میں کوئی شخص اذان نہیں سنتا پھر کسی ضرورت کے بغیر مسجد سے نکل جاتاہے اور واپس مسجد کی طرف نہیں آتا مگر یہ کہ وہ منافق ہے اسے طبرانی نے المعجم الاوسط میں ذکر کیا اور امام ابوداؤد نے مراسیل میں حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اذان کے بعد مسجد سے منافق کے علاوہ کوئی نہیں نکلتا مگر عذر کی وجہ سے جب کوئی حاجت وضرورت اس شخص کو نکالے اور وہ شخص واپسی کا ارادہ رکھتاہو تو منافق نہیں ۱۲منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References مجمع الزوائد بحوالہ طبرانی اوسط باب فیمن خرج من المسجد بعد الاذان مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ / ۵
کتاب المراسیل باب ماجاء فی الاذان مطبوعہ مطبعۃ علمیہ لاہور ص۳۴
#10763 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
علیہ وسلم من ادرکہ الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجۃ وھو لایرید الرجعۃ فھو منافق ۔
تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے اذان کو مسجد میں پایا پھر وہاں سے نکل گیا حالانکہ اسے نکلنے کی کوئی حاجت بھی نہ تھی اور واپسی کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ منافق ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
کرہ تحریما للنھی خروج من لم یصل من مسجد اذن فیہ جری علی الغالب والمراد دخول الوقت اذن فیہ اولا ۔
مکروہ تحریمی ہے سبب ممانعت کے نکلنا اس شخص کا جس نے نماز نہ پڑھی ہو اس مسجد سے جس میں اذان ہوگئی ہو شارح نے کہا ماتن اکثر پرچلا ہے(یعنی اکثریہی ہوتاہے کہ اذان کا وقت ہونے پر اذان ہوجاتی ہے) اور مراد اذان ہونے سے وقت نماز کا آجانا ہے خواہ مسجد میں اذان ہوئی ہو یانہ۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
الظاھر من الخروج من غیرصلاۃ عدم الصلوۃ مع الجماعۃ الخ
اقول : وظاھر ان المراد بالجماعۃ ھی الجماعۃ المسنونۃ المشروعۃ دون المکروھۃ الممنوعۃ فان النھی عن الخروج انما ھو لطلب الجماعۃ فلایتناول الا الجماعۃ المطلوبۃ شرعا کیف وقد تقدم ان الجماعۃ بلا اذان کلا جماعۃ فلا یعتدبھا اصلا والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم
نماز کے بغیرنکلنے سے ظاہرا مراد یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادانہ کی ہو الخ(ت)
اقول : (میں کہتاہوں ) اس سے ظاہرا مراد وہ جماعت ہے جو مسنونہ مشروعہ ہو نہ کہ وہ جو مکروہ و ممنوع ہو کیونکہ نکلنے پر ممانعت وہ طلب جماعت کے واسطے ہے اور یہ حکم اسی جماعت کے لئے ہوگا جو شرعا مطلوب ہے یہ کیسے نہ ہو حالانکہ پہلے گزرچکاہے کہ بغیر اذان کے جماعت ایسے ہے جیسے جماعت ہوئی ہی نہیں پس اس کا ہرگز اعتبار نہ کیاجائے گا الله تعالی تمام نقائص وعیوب اور کمزوریوں سے پاك ہے وہ سب سے بہترجانتاہے۔ اس جل مجدہ
حوالہ / References سنن ابن ماجہ باب الاذان وَاَنْتَ فِی الْمَسْجِدِ فَلاتخرج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۴
درمختار ، باب ادراك الفریضہ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۹
بحرالرائق باب ادراك الفریضہ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۲ / ۷۲
#10764 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
واحکم۔
کاعلم کامل اور اکمل ہے(ت)
جواب سوال دوم : خوف فوت تہجد نہ ترك جماعت ماموربہا کامجوز ہوسکتاہے نہ بعد دخول وقت بے شرکت جماعت شرعیہ مسجد سے نکل جانے کا مبیح نہ جماعت مکروہہ ممنوعہ کا داعی نہ خود اس عذر کا غالبا کوئی محصل صحیح کیا اذان موجب فوت تہجد ہے غرض یہ بہانہ مسموع نہیں اگرچہ تہجد سنت ہی سہی کما ال الیہ کلام المحقق فی الفتح ومال الیہ تلمیذہ المحقق محمدن الحلبی فی الحلیۃ قائلا انہ الاشبہ (جیسا کہ اس کی طرف فتح القدر میں کلام محقق لوٹتا ہے او ان کے شاگرد محمد حلبی نے حلیہ میں یہ کہتے ہوئے اسی طرف رجوع کیا کہ یہی اشبہ ہے۔ ت) کہ اولا وہ برتقدیر سنیت بھی معارضہ جماعت کاصالح نہیں دربارہ تہجدصرف ترغیبات ہیں اورترك جماعت پرسخت ہولناك وعیدیں کہ حکم کفر تك وارد
علی تاویلاتہ المعروفۃ فی امثال المقام وحدیثہ عـــہ۱ عند احمد والطبرانی فی الکبیر عن معاذ ابن انس رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بسند حسن وقال ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ فی المختلفین عن الجماعات لوترکتم عـــہ۲ سنۃ نبیکم لکفرتم ۔
اس طرح کے مقامات پرتاویلات معروفہ کے ساتھ اور اس پر مسند احمد اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حدیث سند کے ساتھ ذکر کی ہے اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے جماعت سے پیچھے رہنے والوں کے بارے میں فرمایا اگر تم نے اپنے نبی کی سنت ترك کردی تو تم نے کفرکیا۔ (ت)
اور جماعت عـــہ۳ عشا کے نہ حاضر ہونے پر گھرجلادینے کا قصد فرمانا ثابت کما فی الصحیحین من
(عـــہ۱) سیأتی نصہ فی جواب السؤال الثالث ۱۲منہ(م) (عـــہ۲) ھذہ روایۃ ابی داؤد والحدیث بلفظ لضللتم عند مسلم وغیرہ ۱۲منہ (م)
اس حدیث کے الفاظ عنقریب تیسرے سوال کے جواب میں آرہے ہیں ۱۲منہ۔ (ت) یہ ابوداؤد کی روایت ہے اور مسلم وغیرہ میں اس کے الفاظ “ تم گمراہ ہوجاؤگے “ ہیں ۱۲منہ (ت) عـــہ۳ بعض احادیث میں عشاء بعض میں فجر بعض میں جمعہ بعض میں مطلق جماعت وارد ہے اور سب صحیح ہیں کما فی عمدۃ القاری للامام العینی (جیسا کہ امام بدرالدین عینی کی عمدۃ القاری میں ہے۔ ت) یہاں ذکر عشا ہی تھا لہذا اس کی تخصیص کی ۱۲منہ غفرلہ (م)
حوالہ / References سنن ابی داؤد باب التشدید فی ترك الجماعۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۱
صحیح البخاری باب فضل صلوٰۃ العشاء فی الجماعۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹۰
#10765 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
حدیث ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و فی الباب غیرعـــہ۱ (جیسا کہ بخاری و مسلم میں اس کو ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا اور اس باب میں اس کے علاوہ بھی احادیث موجود ہیں ۔ ت)
ثانیا فوت سنت آئندہ کے خوف متیقن سے فی الحال اپنے ہاتھوں سنت جلیلہ چھوڑدینے کی نظیر یہی ہوسکتی ہے کہ کوئی شخص مرگ فردا کے اندیشہ سے آج خود کشی کرلے۔
ثالثا یہ کہ جاگنے میں قصدا مکروہات ومنہیات شرعیہ کا ارتکاب ہوگااور تہجد نہ بھی ملا تو حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نوم میں تفریط نہ رکھی۔
احمد عـــہ۲ ومسلم وابوداؤد ابن حبان احمد مسلم ابوداؤد اور ابن حبان نے حضرت

عـــہ۱ فانہ حدیث مشھور ورد من حدیث عمروبن ام مکتوم عند احمد وعن اسامۃ بن زید عند ابن ماجۃ وعن انس بسند جید وعن ابن مسعود کلیھما عند الطبرانی فی الاوسط وعن جابر بن عبدالله عند الطحاوی فی مشکل الاثار وقد ذکرنا احادیثھم فی رسالتنا حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ اماحدیث ابی ھریرۃ فرواہ من لایحصی من اصحاب الصحاح والسنن والمسانید والمعاجیم والله تعالی اعلم منہ (م)
عـــہ۲ عزاہ فی الجامع الصغیر لاحمد وابن حبان قال شارحہ المناوی ورواہ ابو داؤد وغیرہ اھ ولا شك انہ موجود فی صحیح مسلم منہ (م )
کیونکہ مشہور حدیث ہے امام احمد نے حضرت عمرو ابن ام مکتوم سے ابن ماجہ نے حضرت اسامہ بن زید سے طبرانی نے اوسط میں حضرت انس سے مسند جید کے ساتھ اور حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے طحاوی نے مشکل الآثار میں حضرت جابر بن عبدالله سے روایت کیاہے ہم نے ان تمام احادیث کو اپنے رسالے “ حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ “ میں ذکرکیاہے رہی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ تو اسے لاتعداد اصحاب صحاح وسنن اور اصحاب مسانیدومعاجیم نے روایت کیا ہے والله تعالی اعلم۱۲منہ(ت)
جامع صغیرمیں اس کی نسبت امام احمد اور ابن حبان کی طرف کی ہے اس کے شارح امام مناوی نے فرمایا اس کو ان سے ابوداؤد وغیرہ نے روایت کیا ہے۱ھ اور بلاشك یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی موجود ہے ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References التیسیر شرح جامع الصغیر تحت حدیث مذکور مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۲ / ۳۲۶
سنن ابوداؤد باب فی من نام عن صلوٰۃ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۶۴
#10766 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
عن ابی قتادۃ رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم لیس فی النوم تفریط انما التفریط فی الیقظۃ ۔
مالك فی المؤطا وابوداؤد والنسائی عن ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم قال مامن امریئ تکون لہ صلاۃ بلیل یغلبہ علیھا نوم الاکتب الله لہ اجرصلاتہ وکان نومہ علیہ صدقۃ وھو عند ابن ابی الدنیا فی کتاب التھجد بسند جید النسائی وابن ماجۃ وخزیمۃ والبزار بسند صحیح عن ابی الدرداء رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم قال من اتی فراشہ وھو ینوی ان یقوم فیصلی من اللیل فغلبتہ عیناہ حتی یصبح کتب لہ ما نوی وکان نومہ صدقۃ علیہ من ربہ عزوجل وھو بمعناہ عند ابن حبان فی صحیحہ عن ابی زر او
ابوقتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : تفریط نیند میں نہیں بلکہ بیداری میں ہے۔ (ت)
بلکہ بہ نیت تہجد سونے والے کو اگرچہ تہجد نہ پائے ثواب تہجد کا وعدہ فرمایا اور اس کی نیند کو رب العزت جل جلالہ کی طرف سے صدقہ بتایا۔ امام مالك نے مؤطا میں ابوداؤد اور نسائی نے ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ہروہ شخص جورات کی نماز(تہجد) کی نیت رکھتا ہو اس پرنیند غالب آجائے تو الله تعالی اسے نماز کا اجروثواب عطا فرمائے گا اور اس کی نیند اس پر صدقہ ہوگی یہ حدیث ابن ابی الدنیانے کتاب التہجد میں سند جید کے ساتھ یہ حدیث ذکر کی۔ نسائی ابن ماجہ ابن خزیمہ اور بزار نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جو شخص بستر پر اس نیت سے لیٹا کہ رات کواٹھ کر نماز(تہجد) پڑھے گا مگرنیند کے غلبہ کی وجہ سے صبح تك اس کی آنکھ نہ کھلی تو اسے اس کی نیت کے مطابق اجرملے گا اور اس کی نیند الله عزوجل کی طرف سے اس پر صدقہ ہوگی اور یہ حدیث معنا ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابوذریا حضرت
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب فی من نام عن صلوٰۃ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۶۴
مؤطا امام مالك ماجاء فی صلوٰۃ اللیل مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۹۹
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فیمن نام عن جزبہ من اللیل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۹۶
#10767 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
ابی الدرداء رضی الله تعالی عنھما ھکذا بالشک۔
ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہما سے اسی طرح شك کے ساتھ روایت کی ہے۔ (ت)
امیرالمؤمنین عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ابوحثمہ اور ان کے صاحبزادہ سلیمان رضی اللہ تعالی عنہما کو جماعت صبح میں نہ دیکھا ان کی زوجہ اور ان کی والدہ شفا رضی اللہ تعالی عنہما سے سبب پوچھا کہا نماز شب کے سبب نیند نے غلبہ کیا نماز صبح پڑھ کر سورہے فرمایا : مجھے جماعت صبح میں حاضرہونا نماز تمام شب سے محبوب تر ہے۔
مالك عن ابن شھاب عن ابی بکربن سلیمن بن ابی حثمۃ ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ فقد سلیمن ابن ابی حثمۃ فی صلاۃ الصبح وان عمر بن الخطاب غدا الی السوق ومسکن سلیمن بین السوق والمسجد (النبوی) فمرعلی الشفاء ام سلیمن فقال لھا لم ارسلیمن فی صلوۃ الصبح فقالت انہ بات یصلی فغلبتہ عیناہ فقال عمر لان اشھد صلاۃ الصبح فی الجماعۃ احب الی من ان اقوم لیلۃ ۔ عبدالرزاق فی مصنفہ عن معمر عن الزھری عن سلیمن ابن ابی حثمۃ عن امہ الشفاء بنت عبدالله قالت دخل علی عمر وعندی رجلان نائمان تعنی زوجھا اباحثمۃ و ابنھا سلیمن فقال اما صلیا الصبح قلت لم یزالا
مالک ابن شہاب سے وہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے سلیمان ابن ابی حثمہ کو نماز صبح میں نہ پایا آپ صبح کو جب بازار کی طرف گئے اور سلیمان کاگھر بازار اور مسجد نبوی کے درمیان تھا تو آپ سلیمان کی والدہ شفاء کے پاس سے گزرے اور پوچھا میں نے سلیمان کو آج نمازصبح میں نہیں پایا تو انہوں نے عرض کیا وہ رات بیدار رہے نماز پڑھتے رہے صبح کو نیند غالب آگئی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مجھے نماز فجر میں حاضر ہونا اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ساری رات قیام کروں ۔ امام عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں معمر سے انہوں نے اپنی والدہ شفاء بنت عبدالله سے بیان کیا کہ ان کی والدہ فرماتی ہیں حضرت عمر میرے پاس آئے تو میرے پاس دو آدمی سوئے ہوئے تھے اس سے وہ اپنا خاوند ابوحثمہ اور اپنا بیٹا سلیمان مراد لیتی ہیں ۔ آپ نے
حوالہ / References مؤطا امام مالك باب ماجاء فی العتمۃ والصبح مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۱۵
#10768 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
یصلیان حتی اصبحا فصلیا الصبح وناما فقال لان اشھد الصبح فی جماعۃ احب الی من قیام لیلۃ ۔ والله تعالی اعلم۔
فرمایا : انہوں نے نمازصبح کیوں نہ پڑھی میں نے عرض کیا یہ ساری رات نماز میں مشغول رہے حتی کہ صبح ہوگئی پھر انہوں نے نمازصبح ادا کی اور سوگئے۔ تو آپ نے فرمایا : جماعت کے ساتھ نمازفجر کی میری حاضری ساری رات قیام سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔ (ت) والله تعالی اعلم
جواب سوال سوم : اقول : وبالله التوفیق (میں الله تعالی کی توفیق سے کہتاہوں ۔ (ت) اس مسئلہ میں جواب حق کو حق جواب یہ ہے کہ عذرمذکور فی السؤال سرے سے بیہودہ سراپا اہمال ہے وہ زعم کرتاہے کہ سنت تہجد کا حفظ وپاس اسے تفویت جماعت پرباعث ہوتاہے اگرتہجدبروجہ سنت اداکرتا تو وہ خود فوت واجب سے اس کی محافظت کرتا نہ کہ الٹا فوت کاسبب ہوتا
قال عزوجل ان الصلوة تنهى عن الفحشآء و المنكر- ۔
الله تعالی نے فرمایا : بے شك نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔
سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
علیکم بقیام اللیل فانہ داب الصلحین قبلکم وقربۃ الی الله تعالی ومنھاۃ عن الاثم وتکفیر للسیأت ومطردۃ للداء عن الجسد ۔ رواہ الترمذی فی
تہجد کی ملازمت کرو کہ وہ (رات کاقیام) اگلے نیکوں کی عادت ہے اور الله عزوجل سے نزدیك کرنے والا اور گناہ سے روکنے والا اور برائیوں کاکفارہ اور بدن سے بیماری دورکرنے والا۔ اسے ترمذی نے اپنی جامع
حوالہ / References المصنف ف لعبدالرزاق باب فضل الصلوٰۃ فی جماعۃ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ۱ / ۵۲۶
القرآن ۲۹ / ۴۵
جامع الترمذی ابواب الدعوات مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۹۴ ، صحیح ابن خزیمہ باب التحریص علی قیام اللیل الخ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ۲ / ۱۷۷
ف : حدیث مذکور کے الفاظ صفحہ مذکور پرمصنّف میں یوں ہیں : عن معمر عن الزھری عن سلیمٰن بن ابی حثمۃ عن الشفاء بنت عبداللّٰہ قالت دخل علیّ بیتی عمربن الخطاب فوجد عندی رجلین نائمین فقال وماشان ھذین ماشھدا معی الصلٰوۃ؟ قلت یاامیرالمؤمنین صلیا مع الناس و کان ذلك فی رمضان فلم یزالا یصلیان حتی اصبحا الصبح وناما ، فقال عمر لان اصلی الصبح فی جماعۃ احب الی من ان اصلی لیلۃ حتی اصبح۔ نذیر احمد
#10769 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
جامعہ وابن ابی الدنیا فی التھجد و ابن خزیمۃ فی صحیحہ والحاکم فی المستدرك وصححہ والبیھقی فی سننہ عن ابی امامۃ الباھلی واحمد والترمذی وحسنہ والحاکم والبیھقی عن بلال والطبرانی فی الکبیر عن سلمان الفارسی وابن السنی عن جابر بن عبدالله وابن عساکر عن ابی الدرداء رضی الله تعالی عنھم اجمعین۔
ابن ابی الدنیا نے کتاب التہجد ابن خزیمہ نے اپنی صحیح اور حاکم نے مستدرك میں روایت کرکے صحیح کہا اور بیہقی نے سنن میں حضرت ابوامامہ باہلی سے اور احمد اور ترمذی نے صحیح قراردیتے ہوئے روایت کیا حاکم اور بیہقی نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت سلمان فارسی سے اور ابن سنی نے حضرت جابر بن عبدالله سے اور ابن عساکر نے حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے روایت کیاہے۔
توفوت جماعت کا الزام تہجد کے سررکھنا قرآن وحدیث کے خلاف ہے اگرمیزان شرع مطہر لے کر اپنے احوال وافعال تولے تو کھل جائے کہ یہ الزام خود اسی کے سرتھا بھلا یہ تہجد وقیلولہ وہ ہیں جو اس نے خود ایجاد کئے جب تو انہیں تفویت شعارعظیم اسلام کے لئے کیوں عذربناتاہے اور اگر وہ ہیں جو حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے قولا وفعلا منقول ہوئے تو بتائیے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کب ایسے تہجد وقیلولہ کی طرف بلایا جن سے جماعت فریضہ فوت ہو کیاقرآن وحدیث ایسے ہی تہجد کی ترغیب دیتے ہیں کیا سلف صالح نے ایسے ہی قیام لیل کئے ہیں حاشا وکلا
ترسم نہ رسی بکعبہ اے اعرابی
کیں رہ کہ تومیروی بترکستان است
(اے اعرابی! مجھے ڈر ہے کہ تو کعبہ کونہیں پہنچے گا کیونکہ جس راستہ پر تو چل رہاہے وہ ترکستان کوجاتاہے)
یاہذا سنت اداکیاچاہتاہے تو بروجہ سنت اداکر یہ کیا کہ سنت لیجئے اور واجب فوت کیجئے ذرابگوش ہوش سن اگرچہ حق تلخ گزرے وسوسہ ڈالنے والے نے تجھے یہ جھوٹا بہانہ سکھایا کہ اسے مفتیان زمانہ پرپیش کرے جس کا خیال ترغیبات تہجد کی طرف جائے تجھے تفویت جماعت کی اجازت دے جس کی نظرتاکیدات جماعت پرجائے تجھے ترك تہجد کی مشورت دے کہ من ابتلی بلیتین اختاراھونھما (دوبلاؤں میں مبتلا شخص ان دو میں سے آسان کو اختیار کرے۔ ت) بہرحال مفتیوں سے ایك نہ ایك کے ترك کی دستاویز نقد ہے مگرحاشاخدام فقہ وحدیث نہ تجھے تفویت واجب کا فتوی دیں گے نہ عادی تہجد کوترك تہجد کی ہدایت
#10770 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
کرکے ارشاد حضور سید الاسیاد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
یاعبدالله لاتکن مثل فلان کان یقوم اللیل فترك قیام اللیل رواہ الشیخان عن عبدالله بن عمر وبن العاص رضی الله تعالی عنھما۔
اے عبدالله ! فلاں شخص کی طرح نہ ہو جو رات کا قیام کرتاتھا مگر اب اس نے ترك کردیا۔ اسے بخاری و مسلم نے حضرت عبدالله بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔ ت)کاخلاف کریں گے۔
یہ اس لئے کہ وہ بتوفیقہ عزوجل حقیقت امر سے آگاہ ہیں ان کے یہاں عقل سلیم ونظرقدیم دوعادل گواہ شہادت دے چکے ہیں کہ تہجد وجماعت میں تعارض نہیں ان میں کوئی دوسرے کی تفویت کاداعی نہیں بلکہ یہ ہوائے نفس شریر وسوئے طرزتدبیر سے ناشی ہوا یا ھذا اگر تو وقت جماعت جاگتاہوتا اور بطلب آرام پڑارہتا ہے جب توصراحۃ آثم وتارك واجب اور اس عذرباطل میں مبطل وکاذب ہے۔ سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الجفاء کل الجفاء والکفر والنفاق من سمع منادی الله ینادی الی الصلوت فلایجیبہ ۔ حدیث حسن قدذکرنا تخریجہ ولفظ الطبرانی ینادی بالصلاۃ ویدعو الی الفلاح ۔
ظلم پورا ظلم اور کفر اور نفاق ہے کہ آدمی الله کے منادی کو نماز کی طرف بلاتا سنے اور حاضر نہ ہو۔ یہ حدیث حسن ہے اس کی تخریج کاذکر ہم نے پیچھے کردیا۔ طبرانی کے الفاظ یوں ہیں : “ نماز کی طرف بلانے والے اور فلاح کی دعوت دینے والے کوسنے “ ۔
اور اگرایسا نہیں تو اپنی حالت جانچ کہ یہ فتنہ خواب کیونکر جاگا اور یہ فساد عجاب کہاں سے پیدا ہو اس کی تدبیر کر۔ کیا توقیلولہ ایسے تنگ وقت کرتاہے کہ وقت جماعت نزدیك ہوتاہے ناچارہوشیار نہیں ہونے پاتا یوں ہے تواول وقت خواب کر اولیائے کرام قدسنا الله تعالی باسرارہم نے قیلولہ کے لئے خالی وقت رکھا ہے جس میں نماز وتلاوت نہیں یعنی ضحوہ کبری سے نصف النہار تک وہ فرماتے ہیں چاشت وغیرہ سے فارغ ہوکر خواب خوب ہے کہ اس سے تہجد میں مدد ملتی ہے اور ٹھیك دوپہر ہونے سے کچھ پہلے جاگناچاہئے کہ پیش از زوال
حوالہ / References صحیح البخاری باب مایکرہ من ترك قیام اللیل الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۴
مسند احمد بن حنبل حدیث معاذ بن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۴۳۹
المعجم الکبیر ازمعاذبن انس حدیث ۳۹۴ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲۰ / ۱۸۳
#10771 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر وقت زوال کہ ابتدائے ظہر ہے ذکروتلاوت میں مشغول ہو۔ امام اجل شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی رضی اللہ تعالی عنہ عوارف شریف میں فرماتے ہیں :
النوم بعد الفراغ من صلاۃ الضحی وبعد الفراغ من اعداد اخر من الرکعات حسن قال سفین کان یعجبھم اذا فرغوا ان یناموا طلباللسلامۃ وھذا النوم فیہ فوائد منھا انہ یعین علی قیام اللیل (الی قولہ قدس سرہ) وینبغی ان یکون انتباھہ من نوم النھار قبل الزوال بساعۃ حتی یتمکن من الوضوء والطھارۃ قبل الاستواء بحیث یکون وقت الاستواء مستقبل قبلۃ ذاکرا اومسبحا اوتالیا الخ
نماز چاشت سے فراغت کے بعد اور اس کے بعد کی مقررہ تعداد کی رکعتیں اداکرکے سونا اچھا اور مناسب ہے۔ سفیان ثوری نے فرمایا کہ صوفیہ کرام جب نماز واوراد سے فارغ ہوجاتے تو سلامتی اور عافیت کے لئے سونے کو پسند کرتے تھے اور اس (دوپہر سے قبل) سونے میں متعدد فوائد ہیں ان میں سے ایك رات کے قیام (شب بیداری) میں مدد ملتی ہے۔ (آگے چل کر شیخ قدسرہ نے) فرمایا : طالب حقیقت کوچاہئے کہ زوال سے کچھ وقت پہلے نیند سے بیدارہوجائے تاکہ استواء سے پہلے وضو اور طہارت سے فارغ ہوکر استواء کے وقت (جوابتدائے ظہرہے) قبلہ رخ ہوکر ذکر یاتسبیح یاتلاوت میں مصروف ہوجائے الخ(ت)
ظاہر ہے کہ جو پیش اززوال بیدار ہولیا اس سے فوت جماعت کے کوئی معنی ہی نہیں ۔ کیااس وقت سونے میں تجھے کچھ عذر ہے اچھاٹھیك دوپہر کو سو مگرنہ اتنا کہ وقت جماعت آجائے ایك ساعت قلیلہ قیلولہ بس ہے اگرطول خواب سے خوف کرتاہے ۱تکیہ نہ رکھ بچھونا نہ بچھا کہ بے تکیہ وبے بستر سونا بھی مسنون ہے ۲سوتے وقت دل کوخیال جماعت سے خوب متعلق رکھ کہ فکر کی نیند غافل نہیں ہوتی ۳کھانا حتی الامکان علی الصباح کھاکہ وقت نوم تك بخارات طعام فروہولیں اور طول منام کے باعث نہ ہوں ۴سب سے بہتر علاج تقلیل غذا ہے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ماملأ ادمی وعاء شرا من بطنہ بحسب ابن ادم اکلات یقمن صلبہ فان کان لامحالہ فثلث لطعامہ وثلث
آدمی نے کوئی برتن پیٹ سے بدتر نہ بھراآدمی کو بہت ہیں چندلقمے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھیں اور اگر یوں نہ گزرے توتہائی پیٹ کھانے کے لئے تہائی
حوالہ / References عوارف المعارف ملحق احیاء العلوم الباب الخٰمسون فی ذکر العمل فی جمیع النہار مطبوعہ مطبع المشہد الحسینی قاہرہ مصر ص۱۹۵
#10772 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
لشرابہ وثلث لنفسہ ۔ رواہ الترمذی وحسنہ وابن ماجۃ وابن حبان عن المقدام بن معد یکرب رضی الله تعالی عنہ۔
پانی تہائی سانس کورکھے اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن کہا۔ ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
پیٹ بھر کر قیام لیل کاشوق رکھنا بانجھ سے بچہ مانگنا ہے جو بہت کھائے گابہت پئے گا جو بہت پئے گا بہت سوئے گا جو بہت سوئے گا آپ ہی یہ خیرات وبرکات کھوئے گا
استغفرالله من قول بلاعمل
لقد نسبت بہ نسلا لذی عقم
(میں الله تعالی سے بلاعمل قول سے توبہ کرتاہوں تحقیق بانجھ عورت کو بچے کے ساتھ نسل کے اعتبار سے منسوب کیاگیاہے)
ولہذا حدیث میں آیا حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ان کثرۃ الاکل شؤم ۔ رواہ البیھقی فی شعب الایمان عن ام المؤمنین رضی الله تعالی عنھا۔
بیشك بہت کھانا منحوس ہے۔ اس کو بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیاہے۔
یوں بھی نہ گزرے۵تو قیام لیل میں تخفیف کردورکعتیں خفیف وتام بعدنمازعشاء ذراسونے کے بعد شب میں کسی وقت پڑھنی اگرچہ آدھی رات سے پہلے ادائے تہجد کو بس ہیں ۔ مثلا نوبجے عشا پڑھ کر سورہا دس بجے اٹھ کر دورکعتیں پڑھ لیں تہجد ہوگیا حدیث میں ہے حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
یحسب احدکم اذاقام من اللیل یصلی حتی یصبح انہ قدتھجد انما التھجد المرء یصلی الصلوۃ بعد رقدۃ ۔ رواہ الطبرانی عن الحجاج بن عمر رضی الله تعالی
تم میں کسی کایہ گمان ہے کہ رات کو اٹھ کر صبح تك نماز پڑھے جبھی تہجد ہو تہجد صرف اس کانام ہے کہ آدمی ذرا سوکر نماز پڑھے۔ اس کو طبرانی نے حجاج بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن ان شاء الله
حوالہ / References جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہیۃ کثرۃ الاکل مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۶۰
شعب الایمان الفصل الثانی فی کثرۃ الاکل حدیث ۵۶۶۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ / ۳۲
المعجم الکبیر مروی ازحجاج بن عمرو حدیث ۳۲۱۶ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۳ / ۲۲۵
#10773 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
عنہ بسند حسن عــــہ ان شاء الله تعالی۔
تعالی سے روایت کیا ہے۔
سوتے وقت الله عزوجل سے توفیق جماعت کی دعا اور اس پرسچا توکل مولی تبارك وتعالی جب تیرا حسن نیت وصدق عزیمت دیکھے گا ضرور تیری مدد فرمائے گا۔ و من یتوكل على الله فهو حسبه- (جو الله تعالی پرتوکل وبھروسہ کرتاہے اس کے لئے الله کافی ہے۔ ت)عوارف شریف میں ہے :
لتغییر العادۃ فی الوسادۃ والغطاء والوطاء تاثیر فی ذلك ومن ترك شیأا من ذلك و الله عالم بنیتہ وعزیمتہ یثیبہ علی ذلك بتیسیر مارام ۔ کیونکہ تکیہ بچھونے اور لحاف وغیرہ میں عادت کو بدل دینا یعنی ان کو ترك کردینا اس سلسلہ میں بہت مؤثر ہے اور جو ان اشیاء میں سے کسی کو ترك کردے تو الله تعالی اس کی نیت وارادہ کودیکھتے ہوئے اس کے مقصد میں سہولت پیدافرمادیتاہے یعنی کم خوابی کے آداب اس کو میسرآجاتے ہیں (ت)
۷اپنے اہل خانہ وغیرہم سے کسی معتمد کو متعین کرکہ وقت جماعت سے پہلے جگادے ۔
کماوکل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بلالارضی الله تعالی عنہ لیلۃ التعریس۔
جیسا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لیلۃ التعریس میں حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو بیدارکرنے کی ذمہ داری سونپی تھی(ت)
ان ساتوں تدبیروں کے بعد کسی وقت سوئے ان شاء الله تعالی فوت جماعت سے محفوظ ہوگا اور اگرشاید اتفاق سے کسی دن آنکھ نہ بھی کھلی اور جگانے والا بھی بھول گیا یاسورہا کما وقع لسیدنا بلال رضی اللہ تعالی
عــــہ علق بالمشیۃ لان فیہ ابن لھیعۃ والکلام فیہ معروف والاصواب فیہ عندی ان حدیثہ حسن ان شاء الله تعالی ۱۲منہ (م)
مشیت باری تعالی کے ساتھ معلق کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس حدیث کی سند میں ابن لہیعہ ہیں اور ان میں کلام معروف ہے اور اس کے بارے میں میری رائے میں یوں کہناچاہئے اس کی حدیث ان شاء الله تعالی حسن ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References القرآن ۶۵ / ۳
عوارف المعارف ملحق احیاء العلوم الباب السادس والاربعون الخ مطبوعہ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ مص ص۱۸۴
#10774 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
عنہ (جیسا کہ سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ واقعہ ہوا۔ ت) تو یہ اتفاقی عذر مسموع ہوگا اور امید ہے کہ صدق نیت وحسن تدبیر پرثواب جماعت پائے گا وبالله التوفیق۔
کیا تیری مسجد میں بہت اول وقت جماعت کرتے ہیں کہ دوپہر سے اس تك سونے کا وقفہ نہیں جب تو سب وقتوں سے چھوٹ گیا سوکر پڑھی یاپڑھ کر سوئے بات تو ایك ہی ہے جماعت پڑھ ہی کر سوئے کہ خوف فوت اصلا نہ رہے جیسے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم روزجمعہ کیاکرتے تھے۔
الشیخان عن سھل بن سعد رضی الله تعالی عنہ قال ماکنا نقیل ولانتغذی الابعدالجمعۃ وفی لفظ للبخاری کنا نصلی مع النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الجمعۃ ثم تکون القائلۃ وعندہ عن انس رضی الله تعالی عنہ کنانبکر الی الجمعۃ ثم نقیل ۔
بخاری ومسلم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے کہ ہم جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے اور کھاناکھاتے تھے دوسری حدیث میں الفاظ بخاری یہ ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ نمازجمعہ اداکرتے پھرقیلولہ ہوتاتھا اور بخاری میں ہی حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ہم نمازجمعہ کی طرف جلدی جاتے تھے پھر قیلولہ کرتے تھے(ت)
غرض یہ تین صورتیں ہیں پیش اززوال سواٹھنا بعد جماعت سونا ان میں کوئی خدشہ ہی نہیں اور تیسری صورت میں وہ سات تدبیریں ہیں رب عزوجل سے ڈرے اور بصدق عزیمت ان پر عمل کرے پھر دیکھیں کیونکر تہجد تفویت جماعت کا موجب ہوتاہے بالجملہ نہ ماہ نیم ماہ کہ مہرنیمروز کی طرح روشن ہوا کہ عذر مذکور یکسرمدفوع و محض نامسموع جماعت وتہجد میں اصلا تعارض نہیں کہ ایك کاحفظ دوسرے کے ترك کی دستایز کیجئے اور بوجہ تعذر جمع راہ ترجیح لیجئے ھذا ھو حق الجواب والله الہادی الی سبیل الصواب (اور یہی حق جواب ہے اور الله تعالی ہی راہ صواب کی طرف ہادی ہے۔ ت)
بااینہمہ اگر اس تقدیر ضائع وفرض خلاف واقع کامان لینا ہی ضرور توجماعت اولی پرتہجد کی ترجیح محض باطل ومہجور اگر حسب تصریح عامہ کتب تہجد مستحب وحسب اختیار جمہور مشائخ جماعت واجب مانئے جب توظاہر کہ واجب ومستحب کی کیابرابری نہ کہ اس کو اس پرتفضیل وبرتری اور اگر تہجد میں اعلی الاقوال کی طرف ترقی
حوالہ / References صحیح البخاری باب قول اللہ عزوجل فاذا قضیت الصلوٰۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۸
صحیح البخاری باب القائلہ بعدالجمعہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۸
صحیح البخاری باب قول اللہ عزوجل فاذاقضیت الصلوٰۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۸
#10775 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
اور جماعت میں اونی الاحوال کی جانب تنزل کرکے دونوں کو سنت ہی مانئے تاہم تہجد کو جماعت سے کچھ نسبت نہیں جماعت برتقدیر سنیت بھی تمام سنن حتی کہ سنت فجر سے بھی اہم وآکد واعظم ہے ولہذا اگرامام کونمازفجر میں پائے اور سمجھے کہ سنتیں پڑھے گا توتشہد بھی نہ ملے گا توبالاجماع سنتیں ترك کرکے جماعت میں مل جائے والمسئلۃ منصوص علیھا فی کتب المذھب کافۃ (اس مسئلہ پرتمام کتب مذہب میں نص موجود ہے۔ ت)طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں زیرقول مصنف الجماعۃ سنۃ فی الاصح (اصح قول کے مطابق جماعت سنت ہے۔ ت)فرمایا
وفی البدائع عامۃ المشائخ علی الوجوب و بہ جزم فی التحفۃ وغیرھا وفی جامع الفقہ اعدل الاقوال واقواھا الوجوب (الی ان قال) وعلی القول بانھا سنۃ ھی اکدمن سنۃ الفجر ۔
بدائع میں ہے کہ عامہ مشائخ کے نزدیك جماعت واجب ہے۔ اسی پرتحفہ وغیرہا میں جزم ہے اورجامع الفقہ میں ہے سب سے معتدل اور مضبوط قول وجوب کا ہے (آگے چل کرکہا) جن کے قول پر جماعت سنت ہے ان کے نزدیك یہ سنت فجر سے زیادہ مؤکد ہے۔ (ت)
ردالمحتار باب النوافل میں ہے :
لیس لہ ترك صلاۃ الجماعۃ لانھا من الشعائر فھی اکدمن سنۃ الفجر ولذا یترکھا لوخاف فوت الجماعۃ ۔
عالم دین کے لئے باجماعت نماز کا ترك جائز نہیں کیونکہ یہ شعائر اسلام میں سے ہے اور اس میں فجر کی سنتوں سے زیادہ تاکید ہے یہی وجہ ہے کہ جماعت کے نہ ملنے کاخوف ہو تو سنن فجر کو ترك کیاجاسکتاہے(ت)
اور سنت فجر بالاتفاق بقیہ تمام سنن سے افضل ولہذا بصورت فوت مع الفریضہ بعد وقت قبل زوال ان کی قضا کاحکم ہے بخلاف سائر سنن کہ وقت کے بعد کسی کی قضا نہیں ولہذا بلاعذر مبیح سنت فجر کوبیٹھ کرپڑھنا ناجائز بخلاف دیگرسنن کہ بے عذر بھی روا اگرچہ ثواب آدھا ولہذا صاحبین رحمہم اللہ تعالی کہ قائل سنیت وترہوئے سنت فجر کو اس سے آکد ماننے کی طرف گئے درمختار میں ہے :
السنن اکدھا سنۃ الفجر اتفاقا و قیل بوجوبھا فلاتجوزصلاتھا
وہ سنن جن پر سب سے زیادہ تاکید ہے وہ بالاتفاق فجر کی سنتیں ہیں بعض نے انہیں واجب
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الامامۃ مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۵۶
ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۹
#10776 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
قاعدا بلاعذر علی الاصح ولایجوزترکہا لعالم صارمرجعا فی الفتاوی بخلاف باقی السنن وتقضی اذا فاتت معہ بخلاف الباقی ھ ملخصا
قراردیاہے لہذا اصح قول کے مطابق بغیرعذر کے ان کو بیٹھ کر اداکرنا جائز نہ ہوگا اور اس عالم کے لئے بھی ان کا ترك جائز نہیں جو فتوی جات کے لئے مرجع بن چکاہو یعنی فتوی نویسی سے فراغت نہ ملتی ہو بخلاف باقی سنن کے یعنی باقی سنن کو لوگوں کی حاجت فتوی کے پیش نظرچھوڑسکتاہے اور یہ سنن فرائض کے ساتھ اگر فوت ہوجائیں تو ان کی قضا ہے جبکہ باقی سنن کی قضانہیں ۱ھ تلخیصا(ت)
بحرالرائق میں ہے :
سنۃ الفجر اقوی السنن باتفاق الروایات لما فی الصحیحین عن عائشۃ رضی الله تعالی عنہا قالت لم یکن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم علی شیئ من النوافل اشد تعاھدا منہ علی رکعتی الفجر ۔
فجر کی سنتیں بالاتفاق باقی تمام سنن سے اقوی ہیں جیسا کہ بخاری ومسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث سے ثابت ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نوافل میں سب سے زیادہ حفاظت فجر کی سنتوں کی فرماتے تھے(ت)
اسی میں خلاصہ سے ہے :
اجمعوا علی ان رکعتی الفجر قاعدا من غیر عذر لا تجوز کذا روی الحسن عن ابی حنیفۃ
تمام فقہا کااتفاق ہے کہ بغیر عذر کے فجر کی سنتیں بیٹھ کر اداکرنا جائز نہیں جیسا کہ حسن نے امام ابوحنیفہ سے روایت کیاہے(ت)
اسی میں قنیہ سے ہے :
اذا لم یسع وقت الفجر الا الوتر والفجر اوالسنۃ والفجر فانہ یوترویترك السنۃ عند ابی حنیفۃ وعندھما السنۃ اولی من الوتر ۔
جب وقت فجر میں وتروفجر یاسنن وفجر کی ادائیگی کے سواگنجائش نہ رہے تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك وترادا کرلئے جائیں اورسنتیں ترك کردی جائیں اور صاحبین کے ہاں سنتوں کی ادائیگی وتر کی ادائیگی سے افضل ہے۔ (ت)
حوالہ / References درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۵
بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۷
بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۷
بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۸
درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۵
بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۷
بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۷
بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۸
#10777 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
پھر مذہب اصح پرسنت قبلیہ ظہربقیہ سنن سے آکد ہیں
صححہ المحسن واستحسنہ المحقق فی الفتح فقال وقد احسن لان نقل المواظبۃ الصریحۃ علیھا اقوی من نقل المواظبۃ الصریحۃ علیھا اقوی من نقل مواظبتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم علی غیرھا من غیررکعتی الفجر ھ وکذا صححہ فی الدرایۃ والعنایۃ والنھایۃ وکذا ذکر تصحیحہ العلامۃ نوح کما فی الطحطاوی علی مراقی الفلاح وکذا صححہ فی البحرعن القنیۃ وعلله بورود الوعید وتبعہ فی الدر ۔
محسن نے اس کو صحیح اور محقق نے فتح میں اس کو مستحسن قراردیا اور کہا انہوں نے اچھا کیا کیونکہ فجر کی سنتوں کے علاوہ سنن ظہر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی جو مواظبت منقولہ سے زیادہ اقوی ہے۱ھ اور اسی طرح اسے درایہ عنایہ اور نہایہ میں صحیح کہا اور اسی طرح علامہ نوح نے اس کی تصحیح ذکر کی جیسا کہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں مذکور ہے۔ بحر میں قنیہ کے حوالے سے صحیح کہا اور اس کی علت یہ بیان کی کہ ان کے ترك پروعید وارد ہے اور اس کی اتباع درمختار نے کی ہے۔ (ت)
اور امام شمس الائمہ حلوانی کے نزدیك سنت فجر کے بعد افضل وآکد رکعتیں مغرب ہیں پھر رکعتیں ظہر پھر رکعتیں عشا پھر قبلیہ ظہر کما فی الفتح وغیرہ۔
قلت وعلیہ مشی فی الھندیۃ عن تبیین الحقائق الامام الزیلعی فقال اقوی السنن رکعتا الفجر ثم سنۃ المغرب ثم التی بعد الظھر ثم التی بعد العشاء ثم التی قبل الظھر (ملخصا)۔
قلت (میں کہتاہوں ) ہندیہ میں امام زیلعی کی تبیین الحقائق کے حوالے سے یہی بات بیان کرتے ہوئے کہا سب سے قوی اور مؤکد فجر کی سنتیں پھر سنت مغرب پھر بعدیہ ظہر پھر بعدیہ عشاء پھر قبلیہ ظہر(ملخصا) (ت)
پھر شك نہیں کہ ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے نزدیك سب سنن رواتب تہجد سے اہم وآکد ہیں ۔
اقول : وکیف لاوقدثبت استنانھا موکدا من دون تردد بخلاف التھجد فان
اقول : (میں کہتاہوں ) یہ کیسے نہ ہو حالانکہ ان سنن ورواتب کا مؤکد ہونا بغیر کسی تردد کے ثابت ہے
حوالہ / References فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۸۳
تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبعۃ کبرٰی امیریہ بولاق مصر ۱ / ۱۷۲
#10778 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
جمہور العلماء یعدونہ من المندوبات حتی جاء المحقق ابن الھمام فبحث بحثا ولم یقطع قولا فتردد فی ندبہ واستنانہ مع التنصیص بان الادلۃ القولیۃ انما تفید الندب ثم بحث تلمیذہ المحقق ابن امیرالحاج اشبھیۃ سنیتہ علی مافیہ من نزاع طویل ولولا غرابۃ المقام و مخافۃ الطویل لاتینابمافیہ من قال وقیل۔
بخلاف تہجدکے کیونکہ جمہور علماء اسے (یعنی تہجد کو) مندوبات میں شمار کرتے ہیں حتی کہ محقق ابن ہمام جب اس مسئلہ پرپہنچے تو انہوں نے خوب بحث کی لیکن وہ بھی اس بارے میں کوئی قطعی قول نہ کرسکے اور اس کے مندوب ومسنون ہونے میں متردد ہوئے باوجود اس تنصیص کے کہ ادلہ قولیہ اس کے مندوب ہونے کو ظاہر کرتی ہیں پھر ان کے شاگرد محقق ابن امیرالحاج نے اس کے سنت ہونے کو اشبہ ومختار کیا۔ علاوہ ازیں اس میں طویل نزاع کوذکرکیا ہے اگر غرابت مقام اور طوالت کاخوف نہ ہوتا تو ہم وہ تمام گفتگو یہاں ذکرکردیتے۔ (ت)
ولہذا ہمارے علماء سنن رواتب کی نسبت فرماتے ہیں :
انھا لتاکدھا اشبھت الفریضۃ کما فی الدر۔
یہ سنن رواتب تاکید کی بنا پر فرائض کے مشابہ ہیں جیسا کہ در میں ہے(ت)
اور یہی مذہب جمہورومشرب منصور ہے
وان خالفھم الامام ابواسحاق المروزی من الشافعیۃ فقال بتفضیل التھجد مطلقا وتبعہ الامام الاجل ابوزکریا النووی الشافعی فی المنہاج مستدلا بما لاحجۃ لہ فیہ عند التدقیق کما بیناہ عـــہ فی
اپنے بعض حواشی میں اسے بیان کیاہے اور آپ جانتے اگرچہ امام ا بواسحاق شافعی مروزی نے ہمارے اصحاب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تہجد ہرحال میں سنن رواتب سے افضل ہے امام اجل ابوزکریا نووی شافعی نے منہاج میں ایسی دلیل دیتے ہوئے ان کی اتباع کی کہ جوتحقیق وتدقیق کے بعد حجت نہیں بن سکتی جیسا کہ ہم نے

عــــہ اخرجہ الا ئمۃ احمد ومسلم و للاربعۃ عن ابی ھریرۃ ومحمد بن ھارون الرویانی فی مسندہ و الطبرانی
اسے امام احمد امام مسلم اور دیگر چاروں محدثین ائمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اور شیخ محمد ہارون رویانی نے اپنی مسند اور(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References درمختار ، باب الوتر والنوافل ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۹۵
#10779 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
بعض تعلیقاتنا وقد علمت مذہب اصحابنا
اپنے بعض حواشی میں اسے بیان کیا ہے اور آپ جانتے

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فی الکبیر عن جندب رضی الله تعالی عنہما قالا قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم افضل الصلوۃ بعد المکتوبات صلاۃ فی جوف اللیل فحملہ ابواسحق المروزی ومن وافقہ علی ظاھرہ فقالوا ان صلوۃ اللیل افضل من السنن الراتبۃ قال الامام النووی وقال اکثر اصحابنا الرواتب افضل لانھا تشبہ الفرائض قال والاول اقوی واوفق للحدیث ھ وتبعہ العلامۃ میرك فقال فیہ حجۃ لابی اسحق المروزی من شافعیۃ علی ان صلاۃ اللیل افضل من الرواتب ۔ وقال اکثر العلماء ان الرواتب افضل و الاول اقوی لنص ھذا الحدیث قال وقد یجاب بان معناہ من افضل الصلاۃ وھو خلاف سیاق الحدیث ھ امام موافقوا الجمہور فاولوہ بان المراد الفرائض و توابعھا ای کان الرواتب لشدہ التصاقھا بالمکتوبات وشبھھا بھادخلت فی قولہ صلی الله
طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت جندب رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا دونوں صحابی کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : فرائض کے بعد سب سے افضل نماز رات کے درمیانی حصہ کی نماز ہے۔ امام ابواسحاق مروزی اور ان کے ساتھ موافقت رکھنے والے علماء نے اسے اپنے ظاہری معنی پرمحمول کرتے ہوئے کہا کہ رات کی نماز سنن راتبہ سے افضل ہے۔ امام نووی نے کہا کہ ہمارے اکثر علماء نے فرمایا کہ سنن راتبہ افضل ہیں کیونکہ وہ فرائض کے مشابہ ہیں اور فرمایا پہلا قول اقوی اور حدیث کے زیادہ موافق ہے ۱ھ علامہ میرك نے اسی کا اتباع کرتے ہوئے کہا کہ یہ حدیث امام ابواسحق مروزی شافعی کی اس بات پردلیل ہے کہ رات کی نماز سنن راتبہ سے افضل ہیں ۔ اور اکثر علماء نے کہا ہے کہ سنن مؤکدہ افضل ہے مگر پہلا قول اس نص حدیث کی وجہ سے قوی ہے اور کہا کہ بعض نے یہ جواب دیا ہے کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ رات کی نماز افضل نماز میں سے ہے اور یہ سیاق حدیث کے خلاف ہے۱ھ بہرحال جو جمہور کی موافقت کرنے والے ہیں وہ اس کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ یہاں سے اس سے مراد فرائض اور ان کے توابع دونوں ہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
(باقی برصفحہ ایند)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الصوم ۱ / ۳۶۸
شرح صحیح مسلم للنووی ۱ / ۳۶۹
مرقات المفاتیح بحوالہ علامہ میرك ۳ / ۳۱۱
#10780 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
واجماعھم علی ان الاقوی
ہیں کہ ہمارے اصحاب کا مذہب اور اجماع اس بات پر ہے کہ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تعالی علیہ وسلم بعد المکتوبۃ قال المولی علی القاری فی المرقاۃ افضل الصلوۃ بعد المفروضۃ ای توابعھا من السنن المؤکدۃ ھ وقال المناوی فی تیسیر ای ولواحقھا من الرواتب ونحوھا من کل نفل یسن جماعۃ اذھی افضل من مطلق النفل علی الاصح ھ ومثلھا فی السراج المنیر للعزیزی وقال محمد الحفنی فی تعلیقاتہ علی الجامع الصغیر ای النفل المطلق فی اللیل افضل منہ فی النھار و الافا لراتبۃ فی النھار افضل منہ فی النھار افضل من التھجد ھ وابدی القاری جوابین اخرین فقال وقد یقال التھجد افضل من حیث زیادۃ مشقتہ علی النفس وبعدہ عن الریاء والرواتب افضل من حیث الاکدیۃ فی المتابعۃ للمفروضۃ فلامنافاۃ ھ ای ان التہجد لہ ھذا الفضل الجزئی علی الرواتب فلاینافی فضلھا الکلی قال اویقال صلاۃ اللیل افضل لاشتمالھا
کے ارشاد گرامی “ فرائض کے بعد “ کے تحت سنن راتبہ بھی داخل ہیں کیونکہ سنن مؤکدہ کافرائض کے ساتھ شدید اتصال اور مشابہت ہے۔ ملاعلی قاری مرقات میں لکھتے ہیں افضل الصلاۃ بعد المفروضۃ یعنی بعد سنن مؤکدہ کے ۱ھ مناوی تیسیر میں لکھتے ہیں اور یعنی فرائض سے ان کے لواحق (سنن مؤکدہ) اور وہ نوافل جن کی جماعت سنت ہے تمام مراد ہیں کیونکہ اصح قول کے مطابق وہ مطلق نفل سے افضل ہیں ۱ھ یہی بات عزیزی کی سراج منیر میں ہے۔ محمدحفنی اپنی تعلیقات علی الجامع الصغیر میں لکھتے ہیں رات کے نوافل مطلقا دن کے نوافل سے افضل ہیں ورنہ سنن راتبہ جو دن میں ہیں وہ تہجد سے افضل ہیں ۱ھ اور ملاعلی قاری نے دو۲جواب اور دئیے اور کہا کبھی یوں کہاجاتاہے کہ تہجد نفس پرزیادہ مشقت اور ریا سے دوری کی وجہ سے افضل ہے اور سنن جو فرائض کے ساتھ ہیں وہ فرائض کی متابعت میں زیادہ مؤکد ہیں وہ اس اعتبار سے افضل ہیں لہذا ان میں کوئی منافات نہیں ہے ۱ھ یعنی اگرتہجد کوسنن مؤکد پر یہ فضیلت جزئی حاصل ہے تو یہ ان کی فضیلت کلی کے منافی نہیں ہے۔ فرمایا یا یوں کہاجاسکتاہے کہ رات کی نماز(تہجد) افضل اس (باقی اگلے صفحےپر )
حوالہ / References مرقات المفاتیح حدیث۱۲۳۶ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ / ۳۱
التیسیر مطبوعہ الریاض ۱ / ۱۸۵
تعلیقات الحفنی عل السراج المنیر مطبوعہ مصر ۱ / ۲۴۴
مرقات المفاتیح حدیث۱۲۳۶ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ / ۳۱۱
#10781 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
الاکد مطلقا سنۃ الفجر
اقوی ومؤکد ہرحال میں فجر کی سنتیں

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
علی الوتر الذی ھومن الواجبات ھ
اقول : ھذا لایصلح بیانا لمعنی کلام الشارع صلی الله تعالی علیہ وسلم اذلاواجب عندہ انما ثمہ طلب جازم فافتراض اوغیرجازم فندب کماحققہ المحقق حیث اطلق فی الفتح فان کان الوتر عندہ واجبا لدخل فی ثنیا المکتوبۃ ولوترك قولہ الذی ھو من الواجبات وھی الکلام علی استنان الوتر کما ھو مذھب الصاحبین لم یتجہ ایضا لان سنۃ الفجر افضل من الوتر علی قولھما کماسمعت ۔
اقول : وظھر للعبد الضعیف جواب حسن احسن من کل ماسبق وھو ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لم یقل ان التھجد افضل الصلوۃ بعد المکتوبات حتی یکون دلیلا لمن شذ انما قال صلوۃ اللیل فان ثبت ان صلاہ اللیل تشتمل علی نافلۃ غیرالتھجد ھی افضل النوافل مطلقا حتی رواتب سقط
لئے ہے کہ وہ وتر پرمشتمل ہے جو کہ واجبات سے ہے۱ھ
اقول : (میں کہتاہوں ) یہ بیان کلام شارع کے معنی کابیان بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ اس کے ہاں کوئی واجب نہیں ہے وہاں تو طلب جازم ہو توافتراض ہے اگرجازم نہ ہو تو ندب ہے جیسا کہ فتح میں محقق نے تحقیق کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے اگرشارع کے ہاں وترواجب ہوتاتو وہ فرض میں شامل ہوتا اور اگر ملاعلی قاری کے قول الذی ھو من الواجبات کوچھوڑ دیاجائے یعنی ان کے کلام میں وتر کواستنان پرمحمول کیاجائے جیسا کہ صاحبین کامذہب ہے توبھی درست نہیں کیونکہ آپ سن چکے کہ ان کے قول کے مطابق فجر کی سنتیں وتر سے افضل ہیں ۔
اقول : (میں کہتاہوں ) اس عبدضعیف کے لئے ایك ایسا جواب ظاہر ہواہے جومذکورہ تمام جوابات سے احسن ہے وہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تہجد فرائض کے بعد افضل صلوۃ ہے حتی کہ یہ مخالفین جمہور کی دلیل بنے بلکہ آپ نے صلوۃ اللیل(رات کی نماز) فرمایا ہے اب اگریہ ثابت ہوجائے کہ رات کی نمازتہجد کے علاوہ دیگرنوافل پربھی مشتمل ہے جو کہ مطلق نوافل حتی کہ سنن مؤکدہ سے بھی افضل ہو تو پھر اس حدیث سے (باقی برصفحہ ائند)
حوالہ / References مرقات المفاتیح حدیث ۱۲۳۶ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ / ۳۱۲
#10782 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
فلاعلیك من جنوح الفاضل میرك وبالله التوفیق تعالی وتبارک۔
ہیں اور فاضل میرك کی بحث وگفتگو قابل توجہ نہیں وبالله التوفیق تعالی وتبارک۔ (ت)
توتہجد جماعت کے کمترازکمترازکمتر سے کمترپانچویں درجہ میں واقع ہے سب سے آکد جماعت۱پھر۲سنت فجر پھر۳قبلیہ ظہرپھر۴رواتب پھر۵تہجدوغیرہ سنن ونوافل اور دوسرے قول پرتوکہیں ساتویں درجے میں جاکرپڑے گا کہ سب سے اقوی جماعت ۱پھر۲سنت فجرپھر۳سنت مغرب پھر۴بعدیہ ظہرپھر۵بعدیہ عشاء پھر۶قبلیہ ظہر پھر تہجد وغیرہا۔ پس تہجد کو سنت ٹھہراکر بھی جماعت سے افضل کیا برابر کہنے کی بھی اصلاکوئی راہ نہیں نہ کہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الاحتجاج بہ وھوثابت بحمد الله تعالی بحدیث الصحیحین عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنھا قالت کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یصلی من اللیل ثلث عشرۃ رکعۃ منھا الوترورکعتا الفجر فھذا ام المؤمنین وامام الفقھاء والمحدثین وغرۃ العرب العرباء الافصحین رضی الله تعالی عنھا قدعدت سنت الفجر من صلاۃ اللیل فھذہ ھی النافلۃ التی تفوق الصلوات کلھا بعدالمکتوب فبالاشتمال علیھا فضلت صلوۃ اللیل علی صلاۃ النھار بالاطلاق فھذا الجواب القاطع بحمدالله تعالی ثم لاغرومن الامام الاجل النووی انما العجب من العلامۃ میرك کیف تبعہ وخالف اجماع ائمۃ مذھبہ علی ان سنہ الفجر اکد النوافل مطلقا وبالله التوفیق۱۲منہ (م)
استدلال ساقط ہوجائے گا اور یہ بات بحمدالله تعالی بخاری و مسلم کی اس حدیث سے ثابت ہے جو ام المؤمنین حضرت صدیقۃ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رات کو تیرہ۱۳رکعت پڑھتے تھے ان میں وتر اور فجر کی سنتیں بھی ہوتی تھیں ۔ یاد رہے آپ رضی اللہ تعالی عنہا ام المؤمنین امام الفقہا والمحدثین اور سرتاج فصحاء وبلغاء ہیں انہوں نے سنن فجر کو رات کی نماز میں شمار فرمایا ہے۔ پس یہ نوافل فرائض کے بعد تمام نمازوں پرافضل ٹھہرے چونکہ یہ نوافل صلوۃ اللیل پربھی مشتمل ہیں اس لئے رات کی نماز دن کی ہرنماز سے افضل قرارپائی۔ بحمدالله تعالی یہ قاطع جواب ہے۔ پھرامام نووی پرتو کوئی افسوس نہیں تعجب توعلامہ میرك پر ہے کہ انہوں نے امام نووی کی اتباع کرتے ہوئے اپنے ائمہ مذہب کے خلاف بات کیوں کہی حالانکہ ائمہ مذہب کااتفاق ہے کہ سنن فجر مطلقا نوافل سے مؤکد ہیں خواہ رات کے ہوں یا دن کے وبالله التوفیق ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التہجد باب کیف صلوٰۃ اللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۳
#10783 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
مستحب مان کر اگرکہئے یہاں کلام جماعت اولی میں ہے کہ سوال میں اس کی تصریح موجود اور واجب یا اس اعلی درجہ کی مؤکد مطلق جماعت ہے نہ خاص جماعت اولی بلکہ وہ صرف افضل واولی اور فضل تہجد اس سے اعظم و اعلی توحفظ تہجد کے لئے ترك اولی جائز وروا اگرچہ افضل ایتان وادا۔
اقول : وبالله التوفیق (میں الله تعالی کی مدد سے کہتاہوں ۔ ت) قطع نظر اس سے کہ جب تعارض مسلم اور فضل تہجد آکدواعظم توحفظ تہجد کو ترك اولی نہ ترك اولی بلکہ ترك ہی اولی کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت) یہ تاصیل وتفریع سراسربے اصل واحداث شنیع کہ نہ احادیث حضور پرنورسیدالانام علیہ وعلی آلہ الصلاۃ والسلام اس کے مساعد نہ کلمات وروایات علمائے کرام وفقہائے عظام مؤید وشاہد گر ایسا ہو تو بے عذر فوت تہجد وغیرہ بھلے چنگے بیٹھے بٹھائے بھی جماعت اولی قصدا فوت کردینا جائز ورواہو جبکہ ایك آدمی اپنے ساتھ جماعت کے لئے حاضرومہیا ہو کہ آخر کچھ گناہ نہ کیا صرف ایك اولویت ترك کی جس میں حکم کراہت بھی نہیں معاذالله مسلمان اگر اس پرعمل کریں تو امر جماعت میں کس قدرتفرقہ شنیعہ واقع ہوتاہے وجوب جان کرترك پرسکت سخت وعیدیں سن کر تو بہت لوگ کسل وکاہلی کرجاتے ہیں کاش یہ سن پائیں کہ جماعت اولی کی حاضری شرعاکچھ ضرورنہیں ایك بہتربات ہے کی کی نہ کی نہ کی تو ابھی جو رہاسہا انتظام ہے سب درہم برہم ہواجاتاہے لوگ مزے سے اذان سنیں اور اپنے لہوولعب میں مشغول رہیں کہ جلدی کیاہے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ بنالیں گے کیاایسی ہی متفرق بے نظم جماعتوں کی طرف حضورسیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بلایا کیاانہیں کے ترك پرسخت سخت جگرشگاف وعیدوں کاحکم سنایا! حاش لله ثم حاش لله !ذرا نگاہ انصاف درکار کہ یہ قصدا تفریق جماعت وتقلیل حضار کس قدر مقاصد شرع سے دور اور نورانیت حق وصواب سے بعید ومہجور ہے نہیں نہیں بلکہ یقینا وجوب و تاکد مذکور خاص جماعت اولی کے لئے منظور اور وہی صدراول سے معہود اور وہی احادیث وعید علی الترك میں مقصود اور زنہار زنہارہرگزجائز نہیں کہ بے عذر مقبول شرعی جماعت ثانیہ کے بھروسے پر جماعت اولی قصدا چھوڑدیجئے اور داعی الہی کی اجابت نہ کیجئے جماعت ثانیہ کی تشریع اس غرص سے ہے کہ احیانا بعض مسلمین کسی عذرصحیح مثل مدافعت اخبثین یاحاجت طعام وغیرہا کے باعث جماعت اولی سے رہ جائیں وہ برکت جماعت سے مطلقا محرومی نہ پائیں بے اعلان عــــہ وتداعی محراب سے جدا ایك گوشے میں جماعت کرلیں نہ کہ اذان ہوتی ہے داعی الہی پکاراکرے جماعت اولی ہواکرے(یہ) مزے سے گھرمیں بیٹھے باتیں بنائیں یاپاؤں پھیلاکر آرام فرمائیں کہ عجلت کیاہے ہم اور کرلیں گے یہ قطعا یقینا بدعت سیہ شنیعہ ہے۔
عــــہ اعلان وتداعی معروف شرعی کہ نماز کے لئے مقرر ہے یعنی اذان ۱۲منہ(م)
#10784 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
ھذا مما لایشك فیہ من دخل بستان الفقہ فشم عرفا لانوارہ الفائحۃ اوفتح اجفان الفکر فشام برقا من انوارہ اللائحۃ ومالنا نسترسل فی سر والبراھین علی مثل ھذا الواضح المبین ولکن لاباس ان نذکر شیأ من التنبیہ لیستظھر الفقیہ ویتذکر النبیہ۔
اس بارے میں اس شخص کو ہرگز شك نہیں ہوسکتا جس نے گلستان فقہ کے مہکتے ہوئے پھولوں سے کچھ خوشبو پائی ہو یا اس کے روشن انوار سے مشام جان کو معطر کیا ہو اور ہم اس معاملہ کو ترك نہیں کرسکتے باوجودیکہ اس پرواضح دلائل موجود ہیں کوئی حرج نہیں کہ ہم تنبیہ ذکرکردیں تاکہ صاحب فقہ پراستحضار ہوجائے اور صاحب فہم محفوظ کرے۔ (ت)
فاقول : وبہ نستعین (میں الله تعالی کی مددسے کہتاہوں ۔ ت) اولا فقیر غفرالله تعالی لہ کاایك موجز وجامع رسالہ مسمی بنام تاریخی حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ ہے جس میں بفضلہ سبحنہ وتعالی حکم جماعت کی تحقیق حدیثی وفقہی اعلی درجہ کمال وجمال پرموفق ہوئی ہمارے علماء سے درباب شاذومشہور ومقبول ومہجور چھ۶ قول ماثور :
(۱) فرض عین (۲) فرض کفایہ
(۳) واجب عین (۳) واجب کفایہ
(۵) سنت مؤکدہ (۶) مستحب
اس نفیس مبارك رسالہ نے بعونہ تعالی ثابت کردکھلایا کہ ان اقوال میں اصلا تدافع وتمانع نہیں سب حق وصحیح اور اپنے اپنے معنی پررجیح ونجیح ہیں یہ جلیل تحقیق جمیل توفیق وﷲ الحمد والمنۃ عجب نادر وعنقائے مغرب ہے جس کانام سن کر ناظر متحیرانہ کہے ھذا لایکون وکیف یکون (یہ نہیں ہوسکتا اور کیسے ہوسکتا ہے۔ ت) اور جب اس کی زاہر تحریر باہر تقریر پراطلاع پائے متعجبانہ اعتراف کرے کہ لمثل ھذا فلیعمل العاملون (کام کرنے والوں کو ایسا ہی کام کرنا چاہئے۔ ت)
اس رسالہ میں ہم نے احادیث عبدالله بن عباس و ابوہریرہ و کعب بن عجرہ و انس بن مالك و عثمان غنی و عمر وبن ام مکتوم و ابوامامہ و جابر بن عبدالله وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت کیا کہ حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اذان سن کر حاضری واجب فرمائی اداشناس سخن انہی احادیث سے جان سکتاہے کہ اذان کس جماعت کے لئے بلاتی اور شرع اس کی اجابت کیوں واجب فرماتی ہے مگر میں یہاں اصرح واوضح ذکرکروں حدیث حسن معاذ بن انس رضی اللہ تعالی عنہ کہ اوپرگزری جس میں ندا
#10785 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
سن کرحاضری ہونے پر حکم جفاو کفر ونفاق فرمایاگیا طبرانی کے یہاں بطریق آخر یوں آئی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
حسب المومن من الشقاء والخیبۃ ان یسمع المؤذن یثوب بالصلاۃ فلایجیبہ ۔
مؤمن کو یہ بدبختی ونامرادی بہت ہے کہ مؤذن کوتکبیر کہتے سنے اور اس کا بلانا قبول نہ کرے۔ (ت)
اس روایت نے روایت سابقہ کی تفسیر کردی کہ وہاں بھی ندا سے یہی تکبیر مراد تھی فان الاحادیث یفسر بعضھا بعضا وخیرتفسیر للحدیث مایستبین بجمع طرقہ (احادیث ایك دوسرے کی تفسیرہیں اور حدیث کی سب سے بہترتفسیر وہ ہے جو اس حدیث کے تمام طرق کو جمع کرنے پر ہو۔ ت) بلکہ عند التحقیق احادیث ایجاب اجابت فعلیہ عندالاذان کامرجع بھی اسی طرف کہ ہم نے رسالہ مذکورہ میں احادیث و آثار ابوقتادہ و جابربن عبدالله و ام المؤمنین و ابوہریرہ و جابر بن سمرہ و امیرالمومنین فاروق اعظم وعبدالله بن عمر و ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت کیاکہ یہ وجوب تاوقت اقامت موسع ہے اگرچہ قنیہ و مجتبی میں صراحۃ تضییق کی کہ جو اذان سن کرتکبیر کے انتظار میں بیٹھا رہے بدکارومردود الشہادۃ ہے۔ بحرالرائق میں ہے :
فی القنیۃلو انتظرتم الاقامۃ لدخول المسجد فھو مسیئ ۔
قنیہ میں ہے اگراذان سن کر دخول مسجد کے لئے اقامت کا انتظار کرتا ہے توگنہگار ہو گا (ت)
اسی میں ہے :
فی المجتبی من کتاب الشہادۃ من سمع الاذان وانتظر الاقامۃ فی بیتہ لاتقبل شہادتہ ۔
مجتبی کی کتاب الشہادۃ سے ہے جو شخص اذان سن کر گھر میں اقامت کاانتظار کرتاہے اس کی شہادت قبول نہیں ۔ (ت)
غرض حدیث سے ثابت کہ جو تکبیر سن کر حاضر جماعت نہ ہو اسے بدبخت نامراد ظالم اظلم کافر منافق فرمایاگیا۔ لله انصاف ! کیاتکبیر کسی مطلق جماعت کی طرف بلاتی ہے کیا اس جماعت میں ملونہ ملو ہردعوت تکبیر کی اجابت ہوجاتی ہے کیا اس میں حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح کے یہ معنی ہیں کہ چاہے اس
حوالہ / References المعجم الکبیر مروی ازمعاذ بن انس رضی اللہ عنہ حدیث ۳۹۶ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲۰ / ۱۸۳
بحرالرائق بحوالہ القنیہ باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۵
بحرالرائق بحوالہ القنیہ باب الاذان مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۶۰
#10786 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
نمازوفلاح میں حاضر ہو چاہے نہ آؤ اپنی الگ کرلینا شاید قدقامت الصلوۃ کایہی مطلب ہوگا کہ یہ نماز توکھڑی ہوہی گئی اب اس میں آکرکیاکروگے تم اور کوئی بیٹھی ہوئی اٹھانا حاشا وکلا بلکہ تکبیر اسی جماعت کی طرف بلاتی اور اس کی عدم حاضری پروہ حکم وظلم وکفرونفاق وشقاوت وخیبت ہے توقطعا حکم وجوب وتاکد کی مصداق یہی ماثور ومعہود جماعت ہے۔
ثانیا : یہ توسیع توہمارے طورپرتھی اگرتصریح قنیہ و مجتبی و تقریر بحر پرنظرکیجئے توامراظہر کہاں وہ تضییق کہ اذان کے بعد تکبیر کاانتظار بھی جائزنہیں کہاں یہ توسیع شنیع کہ سرے سے جماعت اولی میں حاضرہونا ہی کچھ ضرورنہیں ۔
ثالثا روشن ترنص قاطع لیجئے سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا شانہ اطہر سے مسجدانور میں قریب عــــہ۱ امام جلوہ فرماہوتے ایك دن نمازعــــہ۲ عشاء کو تشریف لائے جماعت عــــہ۳ میں قلت دیکھی کچھ لوگ حاضرنہ پائے نہایت عــــہ۴
عــــہ۱ ھذا ثابت فی غیرھذا الحدیث من عدۃ احادیث صحاح اوردناھا فی حسن البراعۃ ۱۲منہ رحمہ الله (م)
عــــہ۲ ھذا منصوص علیہ فی ھذا الحدیث عند غیرہ ۱۲منہ رحمہ الله
عــــہ۳ ھذا عند احمد وغیرہ من حدیث کعب بن عجرۃ رضی الله تعالی عنہ وعند سراج فی مسندہ فی ھذا الحدیث۔ (م)
عــــہ۴ ھذا فی روایۃ السراج قال ثم خرج الی المسجد فاذا الناس عزون واذاھم قلیلون فغضب غضبا شدیدا الا اعلم انہ رأیتہ غضب غضبا اشد منہ ثم قال لقد ھممت ان امرر جلایصلی بالناس ثم اتتبع ھذہ الدور التی تخلف اھلوھا عن ھذہ الصلاۃ فاضرمھا علیھم بالنیران (م)
یہ بات اس حدیث کے علاوہ متعدد احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہے جنہیں ہم نے حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃمیں ذکر کیا ہے۱۲ منہ رحمہ الله (ت)
امام مسلم نے اپنی صحیح اور دیگرمحدثین نے اسی حدیث میں اس بات پر تصریح کی ہے ۱۲منہ رحمہ الله (ت)
یہ حدیث امام احمد وغیرہ محدثین کے ہاں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے اور سراج کے ہاں مسند سراج میں بھی اسی حدیث کے تحت مذکور ہے۔ (ت)
یہ روایت سراج میں ہے کہا : پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے تو جو لوگ حاضر تھے وہ تھوڑے تھے آپ سخت غضب میں ہوگئے میں نے آج تك آپ کو اتنا غضبناك کبھی نہیں دیکھاتھا پھر فرمایا : میں ارادہ کرتاہوں میں کسی آدمی کو حکم دوں جو جماعت کروائے پھر میں ان گھروں کی طرف جاؤں جن کے اہل اس نماز میں حاضر نہیں ہوئے اور ان کو آگ سے جلادوں ۔ (ت)
حوالہ / References عمدۃ القاری بحوالہ مسند سراج باب وجوب صلوٰۃ الجماعۃ مطبوعہ ادارۃ الطباۃعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۱۶۰
#10787 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
شدید غضب وجلال محبوب ذی الجلال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے چہرہ اقدس سے ظاہر ہوا ارشاد فرمایا : خدا کی قسم میرے جی میں آتا ہے کہ مؤذن کو تکبیر کاحکم دوں پھر کسی کو عـــہ امامت کے لئے فرماؤں پھر بھڑکتی ہوئی مشعلیں لے جاؤں اور ان لوگوں پر ان لوگوں کے گھر پھونك دوں جنہیں یہ اذان سنے یہ وقت ہوگیا اب تك گھروں سے نماز کو
(عــہ)فان قلت الیس فی نفس الحدیث مایدل ان الاولی لاتجب عینا والالماھم ھو صلی الله تعالی علیہ وسلم ان یقیم الصلاۃ ثم ینصرف الیھم لاحراق بیوتھم۔
قلت ھذا السؤال قد اورد قبل علی الاحتجاج بالحدیث لوجوب الجماعۃ وقد تصدی العلماء لجوابہ قال العلامۃ البدر محمود العینی فی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری الثالث (ای من وجوہ الجواب عن حدیث الباب) ماقالہ ابن بزیزۃ عن بعضھم انہ استنبط من نفس الحدیث عدم الوجوب لکونہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ھم بالتوجہ الی المتخلفین فلوکانت الجماعۃ فرض عین ماھم بترکھا اذا توجہہ قال العینی ثم نظر فیہ ابن بزیزۃ بان الواجب یجوز ترکہ لما ھو اوجب منہ ھ کلام العمدۃ۔
اگرآپ کہیں کہ کیا نفس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں جو اس بات پردلالت کررہی ہو کہ پہلی (جماعت) واجب عینی نہیں ہے ورنہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کسی کو جماعت قائم کرنے کاحکم دے کر اس (جماعت میں نہ حاضر ہونے والوں ) کے گھروں کو جلانے کا ارادہ نہ کرتے۔
قلت (میں کہتاہوں ) پہلے یہی سوال اس حدیث سے وجوب جماعت پراستدلال کرنے پر وارد ہوا اور علما ء اس کے جواب کے درپے ہوئے ہیں چنانچہ علامہ بدرالدین عینی نے عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں لکھا تیسرا(یعنی حدیث باب پراعتراض کے جوابات میں سے) جواب وہ ہے جو ابن بزیزہ نے بعض محدثین کے حوالے سے ذکر کیا وہ یہ ہے کہ نفس حدیث سے عدم وجوب ثابت ہوتاہے کیونکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حاضر نہ ہونے والوں کی طرف جانے کاارادہ کیا ہے اگرجماعت فرض عین ہوتی تو آپ اسے چھوڑ کر وہاں جانے کاارادہ نہ کرتے۔ امام عینی کہتے ہیں پھر ابن بزیزہ نے اس کو یہ کہتے ہوئے محل نظر قراردیا کہ بعض اوقات اہم واجب کی وجہ سے دوسرے کم درجہ واجب کو ترك کیاجاسکتاہے ۱ھ(عمدۃ القاری کی عبارت ختم ہوئی)(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References عمدۃ القاری باب وجوب صلوٰۃ الجماعۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۱۶۴
#10788 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
نہیں نکلتے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اقول : فلقد صح مثل ذلك عنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی الجمعۃ اخرج مسلم فی صحیحہ عن عبدالله یعنی ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم قال لقوم یتخلفون عن الجمعۃ لقد ھممت ان امر رجلایصلی بالناس ثم احرق علی رجال یتخلفون عن الجمعۃ بیوتھم ۔
اقول : علا ان عبدالله بن وھب روی الحدیث فی مسندہ فقال حدثنا ابن ابی ذئب حدثنا عجلان عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ فذکر الحدیث وفیہ لینتھین رجال من حول المسجد لایشھدون العشاء اولاحرقن بیوتھم وقد قال فی حدیث سقناہ عن الجامع الصحیح ثم اخذ شعلا من نار ولانسلم ان بین ان یذھب بعد الاقامۃ بشعل قد اوقدت الی بیوت حول المسجد فیضرمھا علیھم وبین الرجوع الی المسجد مایوجب
اقول : (میں کہتاہوں ) یہی بات صحت کے ساتھ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے نماز جمعہ کے بارے میں بھی ثا بت ہے امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جمعہ سے غیرحاضر لوگوں کے بارے میں فرمایا : میراجی چاہتاہے کہ میں کسی آدمی کو جماعت کاحکم دوں کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کے گھرجلادوں جو جمعہ سے غیرحاضررہتے ہیں ۔
اقول : (میں کہتاہوں ) اس کے علاوہ عبدالله بن وہب نے اپنی مسند میں ذکر کیا کہ ہمیں ابن ابی ذئب نے انہیں عجلان نے انہیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حدیث بیان کی پھر حدیث ذکر کی اس کے الفاظ یوں ہیں : مسجد کے پڑوسی ضرور بازآجائیں جو نمازعشا میں حاضرنہیں ہوتے ورنہ میں ان کے گھرجلادوں گا۔ اور اس حدیث میں جسے ہم نے جامع صحیح کے حوالے سے لکھا یہ بھی ہے فرمایا پھر میں آگ کی مشعل لوں اور ہم نہیں مانتے کہ درمیان اس کے کہ اقامت کے بعد آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کامسجد کے اردگرد لوگوں کے گھروں کوجلانے کے لئے مشعل لے کر جانا اور درمیان اس کے کہ مسجد کی طرف لوٹ آنا کوئی
(باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References صحیح مسلم باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ بیان التشدید فی التخلف عنہا مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۲
عمدۃ القاری بحوالہ مسند عبداللہ بن وہب مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر ۵ / ۱۶۰
#10789 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
البخاری عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ قال قال النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لیس صلاۃ اثقل علی المنافقین من الفجر والعشاء ولو یعلمون مافیھما لاتوھما ولوحبوا لقد ھممت ان امر المؤذن فیقیم ثم امر رجلا یؤم الناس ثم اخذ شعلامن نار فاحرق علی من لایخرج الی الصلاۃ
البخاری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ منافقین پرفجروعشا کی نماز سے بڑھ کر کوئی نماز بھاری نہیں ۔ اگرانہیں ان کے درجہ وفضیلت کا علم ہوجائے تو وہ گھٹنوں کے بل ان کی ادائیگی کے لئے آئیں میراجی چاہتاہے کہ میں مؤذن کو تکبیر کاکہوں اور کسی دوسرے کو جماعت کا حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھرمیں آگ کی مشعل لے کر ان پرپھینکوں جونماز کے لئے ابھی تك گھروں
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تفویت الجماعۃ حتی یلزم الترك نعم یفوت الادراك من اول الصلاۃ وھولیس الافضیلۃ ربما یترك لاقل من ھذا اعلی السکینۃ فی المشی لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا سمعتم الاقامۃ فامشوا الی الصلاۃ وعلیکم بالسکینۃ و الوقار فما ادرکتم فصلوا ومافاتکم فاتموا رواہ الشیخان وغیرھما عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ فسقط الاشکال راسا ولله الحمد واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۱۲منہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ (م)
زیادہ وقت ہے جو جماعت کو فوت کردیتاہے حتی کہ ترك جماعت لازم آئے ہاں اول نماز کا فوت ہونا لازم آتاہے اور وہ فضیلت کے سواکچھ بھی نہیں بعض اوقات اس سے بھی کم درجہ شی کی بنا پر اعلی کو تك کیاجاسکتاہے مثلا جماعت کے لئے دوڑنے کی بجائے سکون سے چلناچاہئے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے جب تم اقامت سنو تو نماز کی طرف چلو دراں حال تم پرسکون ووقار لازم ہے جو حصہ نماز پالو اسے اداکرو اور جو رہ جائے اسے پواراکرلو۔ اسے بخاری ومسلم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے تو اب اشکال سرے سے ختم ہوگیا۔ وﷲ الحمد واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم منہ رضی اﷲتعالی عنہ (ت)
حوالہ / References صحیح بخاری باب ماادرکتم فصلوا الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۸
#10790 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
بعد عــــہ
سے نہیں نکلے۔ (ت)
یہ حدیث صحیح نص صریح ہے کہ وقت اقامت تك مسجدمیں حاضر نہ ہونا وہ جرم قبیح ہے جس پر حضور اقدس صلوات الله تعالی وتسلیماتہ علیہ وعلی آلہ الکرام نے ان لوگوں کے جلادینے کا قصد فرمایا علماء فرماتے ہیں یہ ارشاد کہ تکبیر کہلواکر نماز شروع کراؤں اس کے بعد تشریف لے جاؤں اسی بناپرتھا کہ ان کی عدم حاضری ثابت اور الزام تخلف قائم ہولے اس کا منشا وہی تحقیق ہے جو ہم نے ذکر کی کہ ایجاب اجابت تاوقت اقامت موسع ہے۔ امام اجل ابوزکریا نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں :
انماھم باتیانہم بعد اقامۃ الصلا ۃ لان بذالك یتحقق مخالفتہم وتخلفہم
اقامت نماز کے بعد آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ان کی طرف جانے کا ارادہ اس لئے ہے کہ یہ وہی

عــــہ قولہ بعد نقیض قبل مبنی علی الضم فلما حذف منہ المضاف الیہ بنی علی الضم وسمی غایۃ لانتھاء الکلام الیھا والمعنی بعد ان یسمع النداء الی الصلاۃ ھ عمدۃ القاری قلت والنفی اذا لاقی زمانا استغرق جمیع اجزائہ فیمتد من بدء وقت المضاف الیہ الی ان التکلم ولذا یرجع حاصلہ فی امثال المقام الی قولك الی الان تقول ماجاء نی بعد ای بعد ان ذھب الی ھذا الحین وھذا معنی قولہ سمی غایۃ لانتھاء الکلام الیھا ۱۲منہ رضی الله تعالی عنہ (م)
قولہ “ بعد “ یہ قبل کی نقیض ہے یہ مبنی علم الضم ہے۔ کیونکہ جب اس کا مضاف الیہ محذوف ہو تو یہ مبنی علی الضم ہوتاہے۔ کلام اس پرختم ہونے کی وجہ سے اسے غایت بھی کہاجاتاہے۔ الفاظ حدیث کامعنی یہ ہے کہ جونماز کی اذان سن کر نماز کے لئے نہیں آتے۱ھ عمدۃ القاری قلت(میں کہتاہوں ) جب نفی کسی زمان پر ملاقی ہو تو تمام اجزاء کومحیط ہوگی تو اس کا احاطہ وقت مضاف الیہ کی ابتداء سے لے کر وقت تکلم تك ہوتاہے اسی لئے ایسی عبارت کامعنی ایسے مقامات پرمثلا “ اب تک “ ہوتاہے مثلا کوئی کہے ماجاء نی بعد یعنی وہ جانے کے بعد اس وقت تك نہیں آیا اور جو انہوں نے کہا کہ اس پر انتہاء کلام کی وجہ سے اسے غایت کہاجاتاہے اس کا معنی ومفہوم بھی یہی ہے ۱۲منہ رضی اللہ تعالی عنہ (ت)
حوالہ / References صحیح البخاری باب فضل صلاۃ العشاء فی الجماعۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹۰
عمدۃ القاری باب فضل صلاۃ العشاء فی الجماعۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۱۷۴
#10791 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
فلیتوجہ اللوم علیہم الخ
وقت ہے جب نہ آنے والوں کی عدم حاضری اور الزام تخلف ثابت ہوچکا جس کی وجہ سے وہ ملامت کے مستحق قرارپائے ہیں الخ(ت)
اقول : یہاں سے واضح ہوگیا کہ ظاہر حدیث میں جو کلام قنیہ و مجتبی کی تائید نکلتی تھی ممنوع وساقط ہے معہذا شك نہیں کہ حضور مسجد بنفسہ عبادت مقصودہ نہیں بلکہ غرض شہود جماعت ہے اور قبل از اقامت فوت جماعت غیرمعقول تواقامت تك وجوب موسع ماننے سے چارہ نہیں مگربات یہ ہے کہ اقامت تك تاخیر یاتو امام معین کو میسر جس کے بن آئے جماعت قائم ہی نہ ہوگی یا اسے جس کامکان مسجد سے ایسا ملاصق کہ تکبیر کی آواز اس پرمخفی نہ رہے گی ان کے سوا اور نمازیوں کو انتظار اقامت کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں کہ جب نہ تکبیر ان پر موقوف نہ انہیں اس کی آواز آئے گی تو کس چیز کا انتظار کررہے ہیں ایسوں کو اسی وقت تك تاخیر واجب تك تفویت کاخوف نہ ہو حدیث ایسے ہی لوگوں پرمحمول اور ممکن کہ کلام قنیہ و مجتبی بھی اسی معنی پر حمل کریں فیحصل التوفیق وباﷲ التوفیق۔
رابعا : اگربفرض باطل یہ احکام مطلق جماعت کے ہوتے کہ اولی وثانیہ دونوں جس کے فرد کو واجب تھا کہ بعد فوت اولی ثانیہ بالتعیین واجب ومؤکد ہوتی کہ اب برأت ذمہ اسی فرد میں منحصر ہوگئی حالانکہ ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو بعد فوت اولی وجوب درکنار نفس جواز ثانیہ میں نزاع عظیم ہے ظاہرالروایہ عــــہ۱ منع وکراہت ہے اگرچہ ماخوذ ومختار جواز ہے جبکہ بے اعادہ اذان ہیأۃ اولی بدل کر ہو کما بیناہ فی فتاونا بما یقبل المنصف وان کابرالمتعسف (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تفصیل بیان کردی ہے جسے منصف قبول اور متعسف مخالفت کرے گا۔ ت) امام اجل ظہیرالدین مرغینانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں :
لودخل جماعۃ المسجد بعد مایصلی فیہ اھلہ یصلون وحدانا وھوظاھر الروایۃ ۔
اگرکچھ آدمی کسی ایسی مسجد میں داخل ہوئے کہ وہاں کے لوگ باجماعت نماز اداکرچکے تھے تو اب یہ تنہا تنہا پڑھیں اور یہی ظاہرروایت ہے۔ (ت)

عــــہ۱ یہاں کلام علی ماھوالمشہور بین کثیر من الناس ہے فقیر غفرالله تعالی لہ پر کہ اس کی تحقیق بجمیل توفیق و جلیل تطبیق فائض ہوئی خاص اسباب میں تحریر فقیر سے دیدنی ۱۲منہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ (م)
حوالہ / References شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب فضل صلوٰۃ الجماعۃ زیرحدیث مذکور مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۲
ردالمحتار بحوالہ فتاوٰی ظہیریہ مطلب فی تکرار الجماعۃ فی المسجد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹
#10792 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
وبعبارۃ اخری جس جماعت کو علماء واجب یاسنت موکدہ کہتے ہیں اس کا تاکد متفق علیہ ہے اور ثانیہ کا بعد فوت اولی بھی نفس جواز مختلف فیہ توثانیہ کسی وقت اس جماعت سے نہیں جس کاحکم وجوب و تاکد ہے لیکن ثانیہ دائما مطلق جماعت کی فرد ہے تولاجرم یہ احکام مطلق اصولی کے نہیں بلکہ خاص اولی کے ہیں وھو المطلوب (اور مطلوب یہی تھا۔ ت) ردالمحتار میں ہے :
قدعلمت ان تکرارھا مکروہ فی ظاھر الروایۃ الا فی روایۃ عن الامام وروایۃ عن ابی یوسف عــــہ کما قدمناہ قریبا وسیأتی ان الراجح عند اھل المذھب وجوب الجماعت وانہ یاثم بتفویتھا اتفاقا ۔
آپ نے جانا کہ جماعت کا تکرار ظاہرروایت میں مکروہ ہے مگرامام صاحب سے ایك روایت اور امام ابویوسف سے ایك روایت میں مکروہ نہیں جیسا کہ ہم نے ابھی پہلے بیان کیااور عنقریب آرہاہے کہ اہل مذہب کے ہاں راجح وجوب جماعت ہے اور جماعت کو فوت کرنے والا بالاتفاق گنہگار ہے(ت)
بھلا وہ کیاچیز ہے جس کی تفویت بالاتفاق گناہ ہے ثانیہ کو تو اسی عبارت میں روایت مشہورہ پرمکروہ بتارہے ہیں لاجرم وہ اولی ہی ہے توثانیہ کے اعتماد پر اسے فوت کرنا بالاتفاق گناہ ہے اور گناہ کی اجازت دینی اس سے بھی بدتر۔
وبعبارۃ ثالثۃ وہی علما کہ جماعت ثانیہ کو مکروہ بتاتے ہیں وجوب تأکد جماعت کی تصریح فرماتے ہیں کما لایخفی علی من تتبع کلمات القوم وقد علمت الخلف والوفاق
(جیسا کہ ہراس شخص پر واضح ہے جوفقہاء کی عبارات سے آگاہ ہے اور تو اس میں اختلاف واتفاق کو جانتا ہے۔ ت) اور وجوب و تاکد کا کراہت سے اجتماع بمعنی نہی عن الفعل یاندب ترك بعد حصول المتاکد یقینا محال اگرچہ بمعنی المطلوب المطلوب الدفع قبل الحصول و مطلوب الفعل بعد الحصول ممکن اور شك نہیں کہ یہاں اجتماع ہوگا توبمعنی اول فاعرف وافھم ان کنت تفھم بالیقین (اسے پہچان کر اچھی طرح سمجھ لے اگر توفیق کوپانے والا ہے۔ ت) وہ حکم اجماعی ایسی ہی جماعت کا ہے جو ثانیہ کو شامل نہیں ورنہ قول مشہور نہ صرف مہجور بلکہ قول بالمحال اور معاذالله
عــــہ قلت وروایۃ عن محمد کما فی البحر والمجتبی والحلیۃ وغیرھا ۱۲منہ (م)
میں کہتاہوں امام محمد سے بھی ایك روایت یہی ہے جیسا کہ بحر مجتبی حلیہ اور دیگر کتب میں ہے ۱۲منہ (م)
حوالہ / References ردالمحتار مطلب فی کراہت تکرار الجماعۃ فی المسجد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱
#10793 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
قانون عقل وتمیز سے دور ہوگا وای شناعۃ اشنع من ذلك (یعنی اس سے بڑھ کر بدبختی کیاہوگی۔ ت)
خامسا : ایك بدیہی بات سنیت کا ہے سے ثابت ہوتی ہے مواظبت حضورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مطلقا یامع الترك احیانا اور وجوب کوکیا چاہے انکاراعلی الترك بھی یا صرف مواظبت دائمہ اب دیکھ لیاجائے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کس جماعت پر مواظبت فرمائی اور کس کے ترك پرنکیر آئی ظاہر ہے کہ وہ جماعت اولی ہی تھی تو وجوب یا استنان موکد اسی کا حکم ہے نہ مطلق ثانیہ کا۔
تنبیہ : احکام افراد جانب مطلق سرایت کرتے شبہہ نہیں مگر وہ مطلق مطلق منطقی ہے جس کے تحقق کو تحقق فرد واحد اور اس پرصدق کا حکم کو صدق علی فرد ولوعلی خلاف سائر الافراد کافی ولہذا بتضاد احکام افراد مورد احکام متضاد ہوتا ہے بایں معنی مطلق جماعت بیشك فرض واجب سنت مستحب مباح مکروہ حرام سب کچھ ہے کہ جماعت ظہر فی المصر یوم الجمعہ وغیرہ سب کو شامل اس معنی پر حکم فرد کی مطلق سے نفی دوبار قول بالمتناقضین ہے لثبوتہ ونفیہ کلیھما عــــہ والمطلق کلیھما (ثبوت نفی دونوں میں اور دونوں کے دونوں مطلق میں ۔ ت)کلام اس میں نہیں مطلق اصولی یعنی فرد شائع یا ماہیت متقررہ فی ای فرد یراد میں کلام ہے اس کی طرف احکام خاصہ فرد دون فرد ہرگز ساری نہیں ہوسکتے اور جوحکم اس کے لئے ثابت وہ ہرفرد کوثابت مالم یمنع مانع (جب تك کوئی مانع نہ پایاجائے۔ ت) یہ نکتہ ضروری الحفظ ہے کہ اس سے غفلت باعث غلط وشطط ہوتی ہے
وقد حققہ تاج المحققین خاتمۃ المدققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی کتابہ المسماۃ “ اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد “ والله الھادی الی سبیل السداد۔
تاج المحققین خاتمۃ المدققین ہمارے سردار والدگرامی قدس سرہ نے اس کی تحقیق اپنی کتاب “ اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد “ میں کی ہے اور اﷲتعالی ہی سیدھے راہ کی ہدایت دینے والا ہے(ت)

عــــہ لانہ ان اثبت للفرد فقد اثبت للمطلق بھکم السرایۃ لکنہ اثبت للفرد فاثبت للمطلق وقد نفی عنہ لکنہ لم یثبت للمطلق فلم یثبت للفرد وقد اثبت لہ منہ (م)
اس لئے کہ اگرکسی فرد کے لئے ثابت کیا تو وہ حکم سرایت کی وجہ سے مطلق کے لئے بھی ثابت ہوجاتاہے لیکن جب اس نے فرد کے لئے ثابت کیا تو گویا مطلق کے لئے بھی ثابت کردیا حالانکہ اس نے اس سے نفی کردی لیکن جب مطلق کے لئے ثبوت نہیں تو فرد کے لئے بھی ثابت نہیں حالانکہ اس نے مطلق کے لئے ثابت کیا ہے۱۲(ت)
#10794 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
بالجملہ نہ جماعت اولی پرترجیح تہجد وجہ صحت رکھتی ہے نہ حکم وجوب وتاکد جماعت اولی سے متعدی ہے نہ باعتماد ثانیہ ترك اولی کی اجازت ہوسکتی ہے نہ ہرگز اولی وثانیہ کاثواب مساوی ہے بلکہ باعتماد ثانیہ تفویت اولی گناہ قطعی اجماعی ہے ہاں مسجد اگرمسجد شارع ہو یعنی اس کے لئے کوئی جماعت معلوم معین نہیں جیسے بازاروں کی مسجدیں کہ کسی خاص محلہ وگروہ سے مختص نہیں کچھ راہ گیر آئے پڑھ گئے کچھ پھرآئے وہ پڑھ گئے یوں ہی متفرق گروہ آتے اور پڑھتے جاتے ہیں تو وہاں اس قول کی گنجائش ہے کہ ایسی مساجد کی ہرجماعت جماعت اولی ہے
فان الاولی الناھیۃ عن الثانیۃ مطلقا او بشرطہ ھی مافعلھا اھل المسجد باذان جھر اواقامۃ حتی لو ان مسجدا من مساجد الحی اتاہ قوم من غیراھلہ فاذنوا واقاموا وصلوا جماعۃ کان لاھلہ ان یصلوا جماعۃ من دون حاجۃ الی العدول عن المحراب لان الحق لھم فلایبطل بفعل غیرھم کمانصوا علیہ ومساجد الشوارع لااھل لھا معینا فلایتحقق فیھا الاولی بالمعنی المذکور بل الکل اولی اذلیس بعض من بعض باولی۔
کیونکہ پہلی جماعت دوسری جماعت سے ہرحال میں روکنے والی ہے یا اس شرط کے ساتھ کہ پہلی جماعت اہل محلہ نے بلند اذان واقامت کے ساتھ اداکی ہو حتی کہ اگرغیرمحلہ کے لوگ کسی محلہ کی مسجد میں آئے اور انہوں نے اذان دی اقامت کہی اور جماعت کروائی تو اب اہل محلہ محراب تبدیل کئے بغیر جماعت کروانے کاحق رکھتے ہیں کیونکہ جماعت کرنے کاحق ان کا ہے توغیر کی جماعت کی وجہ سے ان کا حق باطل نہیں ہوسکتا جیسا فقہا نے اس کی تصریح کی ہے اور راستے کی مساجد میں کوئی عملی جماعت متعین نہیں ہوتی لہذا باعتبار معنی مذکور کے ایسی مساجد کی کوئی ایك جماعت اولی نہ ہوگی بلکہ ہرایك اولی ہوگی کیونکہ وہاں بعض بعض سے اولی نہیں ہوتے۔ (ت)
ولہذا ہرگروہ کہ آتاجائے اپنی اپنی جدا اذان واقامت سے جماعت کرے
کمافی ردالمحتار عن خزائن الاسرار عن امالی الامام قاضی خاں وفی خانیتہ مسجد لیس لہ مؤذن وامام معلوم ویصلی الناس فیہ فوجا فوجا فان الافضل ان یصلی کل فریق باذان واقامۃ
جیسا کہ ردالمحتار میں خزائن الاسرار سے امالی قاضیخاں سے اور انہی کے فتاوی خانیہ کے حوالے سے ہے ہروہ مسجد جہاں کوئی مؤذن وامام مقرر نہ ہو وہاں لوگ مسجد میں گروہ درگروہ نمازاداکریں کیونکہ افضل یہ ہے کہ ہرگروہ اذان واقامت کے ساتھ
#10795 · (چارجوابوں کے مقابَلہ میں پرویا ہواہار) (مولوی اشرف علی تھانوی کے چار۴ فتووں کارَدِّ بَلیغ)
علی حدۃ وفی الشامیۃ عن المنبع اما مسجد الشارع فالناس فیہ سواء لااختصاص لہ بفریق دون فریق ھ۔
الگ الگ نمازپڑھے ۱ھ۔ اور فتاوی شامی میں منبع سے ہے رہا معاملہ مسجد شارع کا تو اس میں تمام لوگ برابرہوتے ہیں اس میں کسی ایك فریق کوتخصیص حاصل نہیں ہے۱ھ(ت)
الحمدﷲ کلام پنے ذردہ اقصی کو پہنچا اور حکم مسائل نے غایت انجلا پایا ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق(تحقیق کاتقاضا یہی تھا اوراﷲتعالی ہی توفیق کامالك ہے۔ ت) روشن رہے کہ فقیر غفراﷲتعالی لہ کو کسی کے کلام پراخذ مقصود نہیں بلکہ صرف اظہارحق وادائے واجب اکد واحق کے بعد سوال اعانت جواب و ابانت صواب اہم واجبات شرعیہ سے ہے جس پر ہم سے حضورپرنور خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عہدواثق لیا۔
اللھم اجعلنا من المفلحین وبعھد نبیك من الموفین علیہ وعلی الہ الصلوۃ والتسلیم ربنا تقبل منا انك انت السمیع العلیم۔
اے اﷲ! ہمیں کامیاب ہونے والوں میں سے کردے او اپنے نبی علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والتسلیم کے ساتھ عہد ایفاء کرنے والابنادے۔ اے ہمارے رب! ہماری طرف سے قبول فرما بیشك تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے(ت)
الحمدﷲ کہ یہ ضروری وموجز جواب کاشف صواب فرصت اختلاصی کے چند متفرق جلسوں میں ۲۴صفر ۱۳۱۲ہجریہ روزجان افروزدوشنبہ کو وقت اشراق مہرمشرق سمائے ختام وبلحاظ تاریخ بدء وختم القلادۃ المرصعۃ فی نحرالاجوبۃ الاربعۃ اس کا پورانام ھوا واخردعونا ان الحمدﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعین امین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم۔
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۸ ، فتاوٰی قاضی خاں فصل فی المسجد مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱۶ / ۳۲
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹
#10796 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
القطوف الدانیۃ لمن احسن الجماعۃ الثانیۃ ۱۳۱۳ھ
(جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے)
(جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مسئلہ ۸۶۶ : از مرادآباد مدرسہ امدادیہ مرسلہ مولوی سید محمد حبیب الرحمن صاحب سلہٹی۱۱ جمادی الاولی ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جماعت ثانیہ بغیر اذان واقامت درصورت بدل دینے ہیأت جماعت اولی کی ازروئے شرع شریف بلاکراہت جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں جماعت ثانیہ بلاکراہت مطلقہ مطلقا جائزومباح عند اہل التحقیق ہے جس کی تنقیح بالغ وتوضیح بازغ مع ردوامع اوہام نابغ بعض ابنائے زمان بعونہ تعالی رسائل فقیر سے ظاہروعیاں یہاں نفس مسئلہ کے اجمالی احکام اور ان کے متعلق نقول ونصوص علمائے کرام پر اقتصار کیجئے کہ شان فتوی اسی کے شایاں ۔
فاقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق (میں کہتاہوں اﷲ تعالی کی توفیق سے اور اﷲتعالی کی توفیق سے تحقیق کی گہرائی تك پہنچاجاسکتاہے۔ ت)
اولا تکرار جماعت کے جوازوافضلیت کی وہ صورتیں سنئے جن میں اصلا نزاع کوگنجائش نہیں :
(۱) جومسجد شارع عام یابازار یا اسٹیشن یاسرا کی ہے جس کے لئے اہل معین نہیں وقت پرجولوگ گزرے یااترے یاآئے یاپڑھ گئے غرض کسی محلہ خاص سے خصوصیت نہیں رکھتی کہ وہاں کی معمولی جماعت
#10797 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
وہی ہے اوروں کا آنا اتفاقی وعارضی ہے ایسی مسجد میں بالاجماع تکرار جماعت باذان جدید وتکبیر جدید جائز بلکہ یہی شرعا مطلوب ہے کہ نوبت بنوبت جولوگ آئیں نئی اذان واقامت سے جماعت کرتے جائیں اگرچہ (ایك نماز کے) وقت میں دس بیس جماعتیں ہوجائیں ۔
(۲) مسجد محلہ کہ ایك محلہ خاص سے اختصاص رکھتی ہے اس میں اقامت جماعت انہیں کاحق ہے اگر ان کے غیرجماعت کرگئے تو اہل محلہ کو تکرار جماعت بلاشبہہ جائز ہے جیسے کہ نماز جنازہ حالانکہ اس کی تکرار اصلا مشروع نہیں پھر بھی اگر غیرولی بے اذن ولی پڑھاجائے اب ولی آئے اعادہ کامجاز ہے کہ حق اس کا تھا۔
(۳) بعض اہل ہی جماعت کرگئے بے اذان پڑھ گئے۔
(۴) اذان بھی دی تھی مگرآہستہ ان صورتوں میں بھی بعد کو آنے والے باذان جدید بروجہ سنت اعادئہ جماعت کریں کہ جماعت معتبرہ وہی ہے جو اذان سے ہو اور اذان وہ جو اعلان سے ہو۔
(۵) محلے میں حنفی وغیرحنفی دونوں رہتے ہیں پہلے غیرحنفی امام نے جماعت کرلی اور حنفیہ کو معلوم ہے کہ اس نماز میں اس نے مذہب حنفی کے کسی فرض طہارت یافرض صلوۃ یاشرط امامت کو ترك کیاہے مثلا چہارم سرسے کم کا مسح یا آب قلیل نجاست افتادہ سے وضو یاجسم یاکپڑے قدردرہم سے زیادہ منی یاصاحب ترتیب کا باوصف یادو وسعت وقت بے ادائے فائتہ وقتیہ پڑھنا یا نماز وقت تنہا پڑھ کر پھر اسی نمازمیں امامت کرنا تو ایسی حالت میں حنفیہ بلاشبہہ اپنی جماعت جداگانہ کریں کہ اگرچہ شرع ان جماعت کرنے والوں کے لئے اسے جماعت اولی مانے مگر حنفی تو اس میں اقتدا نہیں کرسکتا اگرکرے تو نماز ہی نہ ہو۔
(۶) اس خاص نماز کاتوحال معلوم نہیں مگر اس امام کی بے احتیاطی اور فرائض میں ترك لحاظ مذہب حنفی ثابت ہے جیسے عامہ غیرمقلدین کہ خواہی نخواہی اہل حق سے مخالفت اور مذاہب اربعہ خصوصا مذہب مہذب حنفیہ کی مضادت پرحریص ہوتے ہیں جب بھی حنفیہ کو ان کی اقتدا گناہ وممنوع ہے اپنی جماعت جدا کریں ۔
(۷) اس کی نسبت امورمذکورہ کی مراعات کاعادی ہونا نہ ہونا کچھ معلوم نہیں جیسے کوئی نامعلوم الحال شافعی مالکی حنبلی اس صورت میں بھی ان کی اقتدا خالی از کراہت نہیں تو جماعت ثانیہ کافضل مبین۔
(۸) عادت مراعات بھی معلوم ہی سہی تاہم بتصریح ائمہ امام موافق المذہب کے پیچھے جماعت ثانیہ ہی افضل واکمل اور اسی پرحرمین محترمین ومصروشام وغیرہا بلاد دارالاسلام میں جمہور مسلمین کا عمل۔
(۹) جس نے جماعت اولی کی فاسد العقیدہ بدمذہب بدعتی تھا مثلا وہابی یا تفضیلی یامعاذ اﷲ امکان کذب الہی تعالی شانہ ماننے والا یاصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں کسی کو برا جاننے والا کہ عند التحقیق
#10798 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ایسوں کی اقتداء بکراہت شدیدہ سخت مکروہ ہے۔
(۱۰) فاسق تھا جیسے شرابی زناکاریاداڑھی منڈا سودخوار کہ یہ لوگ ان وہابیوں کذابیوں وغیرہم بدمذہبوں کے مولویوں متقیوں سے بھی اگرچہ لاکھ درجہ بہترحال میں ہیں پھر بھی ان کی اقتدا شرعا بہت ناپسند ۔
(۱۱) امام اولی نرابے علم جاہل نماز وطہارت کے مسائل سے غافل تھا جیسے اکثر گنوار غلام وغیرہم عوام کہ ایسے کی امامت بھی کراہت انضمام۔
(۱۲) قرآن مجید ایساغلط پڑھتاتھا جس سے معنی فاسد ہوں مثلا ع یا ت ط یا ث س ص یا ح ہ یا ذ ز ظ میں تمیز نہ کرنے والے کہ آج کل اس دارالفتن ہند میں اکثر بلکہ عام عوام بلکہ بہت بلکہ اکثر پڑھے لکھے بھی اس بلامیں مبتلا ہیں وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل وانا ﷲ وانا الیہ راجعون پھر خواہ بے خیالی بے احتیاطی یاسیکھنے میں بے پروائی یازبان کی نادرستی کوئی سبب ہو مذہب معتمد پرصحیح خواہ کی نماز اس کے پیچھے مطلقا فاسد ہے اگرچہ ان میں بعض صور میں مذہب متاخرین خود اس کی اپنی نماز کے لئے بہت وسعتیں دے عندالتحقیق بھی بشرائط معلومہ مضبوطہ کہ ہم نے اپنے فتاوی میں ذکر کیں تاکہ قادر ناقادر کا امام ہوسکے تو اگریہی صورت صحت واقع ہوکر وہ جماعت اولی ٹھہرے لاجرم صحیح خوانوں کوجماعت ثانیہ ہی کاحکم ملے یہ صورت اولی کی مانند ہے اول بآخرنسبتے دارد غرض ایسی صورتیں جماعت ثانیہ کی خاص تاکید یافضل مزید کی ہیں جن میں بالاجماع یاعلی الاصح اصلا کلام کی گنجائش نہیں ۔ ضابطہ یہ ہے کہ جب جماعت اولی اہل مسجد عـــہ یااہل مذہب کی نہ ہو یااپنے مذہب میں فاسدہ یامکروہہ ہو تو ہمیں جماعت ثانیہ کی مطلقا اجازت بلکہ درصورت کراہت قصدا تفویت اولی کی رخصت جبکہ ثانیہ نظیفہ مل سکتی ہو اور درصورت فساد تو اس میں شرکت ہی سے صاف ممانعت اگرچہ ثانیہ بھی میسرنہ ہو اب ان تمام مطالب پرنصوص علماء سنئےے فقیر نے ان سب مسائل میں بتوفیقہ تعالی قول منقح اختیار کیاہے اسی کے متعلق عبارات کتب بایجازواختصار نقل کروں کہ ذکر اقاویل وتطبیق وتوفیق وترجیح وتحقیق وتنقیح و تدقیق محتاج تطویل معہذا بعونہ تعالی ان مباحث میں یہ سب مدارج فتاوی ورسائل وتعالیق فقیر میں طے ہوچکے ہیں وباﷲ التوفیق۔ متن غرر میں ہے :
لاتکرر فی مسجد محلۃ باذان واقامۃ
مسجد محلہ میں اذان واقامت کے ساتھ تکرار جماعت

عـــہ صادق بان لااھل لہ اوصلی من لیس من اھلہ ۱۲ منہ رضی اﷲ تعالی عنہ (م) یہ بایں طور صادق ہے کہ اس مسجد کاکوئی اہل معین نہ ہو یاجس نے نماز پڑھائی وہ مسجد کے اہل میں سے نہ ہو (یعنی اہل محلہ نہ ہو) ۱۲منہ رضی اللہ تعالی عنہ (ت)
#10799 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
الا اذاصلی بھما فیہ اولاغیراھلہ اوصلی اھلہ بمخالفتۃ الاذان ۔
جائز نہیں مگر اس صورت میں کہ غیر محلہ والوں نے وہاں اذان واقامت کے ساتھ اولا جماعت کروائی ہو یااہل محلہ نے آہستہ اذان دے کر جماعت کروائی ہو۔ (ت)
خزائن الاسرار شرح تنویر الابصارمیں ہے :
لوکان مسجد طریق جاز اجماعا کما فی مسجد لیس لہ امام ولامؤذن ویصلی الناس فیہ فوجا فوجا فان الافضل ان یصلی کل فریق باذان و اقامۃ علی حدۃ کما فی امالی قاضی خاں ۔
اگرمسجد شارع ہے توبالاتفاق تکرارجماعت جائز جیسا کہ اس مسجد کاحکم ہے جس کا امام ومؤذن مقرر نہ ہو اور لوگ اس میں گروہ درگروہ نماز اداکرتے ہوں تووہاں افضل یہ ہے کہ ہرفریق اپنی اپنی اذان و اقامت کے ساتھ الگ الگ نماز پڑھے جیسا کہ امالی قاضی خاں میں ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
تکرہ خلف مخالف کشافعی لکن فی وتر البحر ان تیقن المراعاۃ لم یکرہ اوعدمھالم یصح وان شك کرہ ۔
مخالف کے پیچھے نمازمکروہ ہے مثلا شافعی المسلك کے پیچھے لیکن بحر میں وتر کی بحث میں ہے کہ اگر اس کا مذہب حنفی کی رعایت کرنا یقینی ہو توپھرمکروہ نہیں اگرمذہب حنفی کی رعایت نہ کرنا یقینی ہو تو صحیح نہ ہوگی اور اس کے بارے میں شك ہو تو نماز مکروہ ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
حاصلہ ان صاحب الھدایۃ جوزالاقتداء بالشافعی بشرط ان لایعلم المقتدی منہ
حاصل یہ ہے کہ صاحب ہدایہ نے شافعی کی اقتداء کو اس شرط کے ساتھ جائز کہاہے کہ جب مقتدی اس امام کے کسی ایسے عمل کو نہ جانتا ہوجومقتدی کی
حوالہ / References کتاب درالحکام شرح غرر الاحکام فصل فی الامامۃ مطبوعہ مطبع احمد کامل الکائنہ فی دارسعادت مصر ۱ / ۴۰۸
ردالمحتار بحوالہ خزائن الاسرار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۸
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
#10800 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مایمنع صحۃ صلاتہ فی رأی المقتدی کالفصد ونحوہ وعددمواضع عدم صحۃ الاقتداء بہ فی العنایۃ وغایۃ البیان بقولہ کما اذالم یتوضأ من الفصد والخارج من غیرالسبیلین وکماکان شاکافی ایمانہ بقولہ انامومن ان شاء اﷲ اومتوضأ من القلتین اویرفع یدیہ عندالرکوع وعند رفع الراس من الرکوع اولم یغسل ثوبہ من المنی ولم یفرکہ اوانحرف عن القبلۃ الی الیسار اوصلی الوتر بتسلیمتین اواقتصرعلی رکعۃ اولم یوتراصلا اوقھقھہ فی الصلاۃ ولم یتوضأ اوصلی فرض الوقت مرۃ ثم ام القوم فیہ زاد فی النہایۃ وان لایراعی الترتیب فی الفوائت وان لایمسح ربع راسہ وزاد قاضی خاں وان یکون متعصبا والکل ظاھر ماعدا خمسۃ اشیاء ۔
الاول مسئلۃ التوضؤ من القلتین فانہ صحیح عندنااذالم یقع فی الماء نجاسۃ ولم یختلط بمستعمل رائے کے مطابق صحت نماز کے منافی ہے۔ مثلا رگ کٹوانا وغیرہ عدم صحت اقتداء کے چند مواضع عنایہ اور غایۃ البیان سے ان الفاظ سے بیان کئے کہ مثلا جب اس امام نے رگ کٹوانے یاغیرسبیلین سے کسی شے کے خارج ہونے پر وضو نہ کیا ہو یا اس امام کے ایمان میں شك ہے مثلا وہ یہ کہتا ہے کہ “ ان شاءاﷲمیں مومن ہوں “ یا وہ قلتین پانی سے وضو کرتاہے یا رکوع جاتے وقت اور اٹھتے وقت رفع یدین کرتاہے یا وہ منی لگ جانے کی وجہ سے کپڑے کو نہیں دھوتا اور نہ ہی اسے کھرچتا ہے(گاڑھی ہونے کی صورت) میں یا وہ قبلہ سے بائیں جانب پھرتاہے یاوہ دوسلاموں سے وتراداکرتاہے یاایك رکعت وترپڑھتاہے یابالکل پڑھتاہی نہیں یانماز میں قہقہہ سے ہنستاہے اور وضونہیں کرتا یاایك دفعہ وقتی نماز پڑھاچکاہے پھر اسی نماز کا امام بن جاتاہے۔ اس پر نہایہ میں اضافہ ہے کہ فوت شدہ نمازوں میں ترتیب کی رعایت نہ رکھتاہو حالانکہ وہ صاحب ترتیب ہو سر کے چوتھائی حصہ کا مسح نہ کرے قاضی خاں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ وہ متعصب ہو ان پانچ کے علاوہ باقی تمام واضح ہیں ۔
اول قلتین سے وضو کرنا ہمارے نزدیك بھی صحیح ہے جبکہ اس میں نجاست نہ گری ہو اور س کے مساوی یازائد اس میں مستعمل پانی نہ ملا ہو
حوالہ / References بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۵
#10801 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مساولہ اواکثر فلابد ان یقید قولھم بالقلتین المتنجس ماؤھما او المستعمل بالشرط المذکور لامطلقا۔ الثانی مسئلۃ رفع الیدین من وجہین الاول ان الفسادروایتہ شاذۃ لیست بصحیحۃ روایۃ ولادرایۃ الثانی ان الفساد عند الرکوع لایقتضی عدم صحۃ الاقتداء من الابتداء مع ان عروض البطلان غیرمقطوع بہ حتی یجعل کالمتحقق عند الشروع لان الرفع جائزالترك عندھم لسنیتہ۔ الثالث مسئلۃ الانحراف عن القبلۃ الی الیسارلان المانع عندناان یجاوزالمشارق الی المغارب والشافعیۃ لاینحرفون ھذا الانحراف۔ الرابع مسئلۃ التعصب لان التعصب علی تقدیر وجودہ منھم انما یوجب الفسق والفسق لایمنع صحۃ الاقتداء۔ الخامس مسئلۃ الاستثناء فی الایمان فان التکفیر غلط و الاستثناء قول اکثر السلف ھ ملتقطا
لہذا قلتین کے ساتھ یہ شرط لگانا بھی ضروری ہے کہ قلتین کاپانی ناپاك ہویااس میں مستعمل پانی برابریازائد ملاہو ورنہ مطلقاحکم لگانا درست نہیں ۔
دوم رفع یدین کی دوصورتیں ہیں ایك تو فساد والی روایت شاذہ ہے نہ روایۃ صحیح ہے نہ درایۃ۔ دوسری یہ کہ رکوع کے موقع پر فساد کاعارض ہونا ابتداء اقتداء کے منافی نہیں باوجود اس کے بطلان کاعارض ہونا بھی یقینی نہیں حتی کہ اسے بوقت شروع ہی متحقق قراردے دیاجائے کیونکہ رفع یدین کا چھوڑنا بھی جائز ہے کیونکہ ان کے نزدیك یہ سنت ہی ہے(توممکن ہے وہ اس کو ترك کردے)
سوم قبلہ سے بائیں طرف انحراف کامعاملہ تو اس معاملہ میں ہمارے نزدیك مانع وہ انحراف ہے جو مشارق سے مغارب کی طرف متجاوز ہو اور شوافع ایسے انحراف کے قائل نہیں ۔
چہارم رہا تعصب کامعاملہ تو اگر ان سے تعصب ثابت ہو تو یہ فسق کاموجب ہے اور فسق صحت اقتداء سے مانع نہیں ہوتا۔
پنجم باقی ایمان کا ان شاء اﷲ کے ساتھ معلق کرنے والا مسئلہ تو اس میں فتوی کفر غلط ہے کیونکہ معلق کرنا بہت سے اسلاف کاقول ہے ۱ھ تلخیصا(ت)یہ کلام بحر فی البحر تھا۔
حوالہ / References بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۵ ، ۴۶
#10802 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
اقول : وقد کانت ظھرت لی بحمد اﷲ الخمسۃ المذکورۃ اول مانظرت الکلام مع زیادۃ فلنذکر مابقی من الابحاث تتمیما للافادۃ الاول قولھم لم یوتر اصلالایظھرلہ وجہ فانہ بترکہ لایفسق فضلا عما یوجب بطلان الاقتداء فان الوتر وان وجب عندنا فہو مجتہد فیہ ولاتفسیق بالاجتھادیات وان حمل علی انہ ان لم یصلہ لم یصح الاقتداء بہ فی الفجر بشرطہ لفوات الترتیب نافاہ قولہ زاد فی النھایۃ وان لایراعی الترتیب ثم رأیت العلامۃ الشامی عﷲ فی منحۃ الخالق بھذا ثم اعلہ بالتکرار قال فلیتامل ماالمراد
اقول : بل ھو اشد من التکرار فان قولہ زاد لا یحتملہ کما علمت الثانی اقول وینبغی اسقاط صلاتہ الوتر بتسلیمتین فان طریان المبطل غیرالبطلان من رأس کما افادہ البحر ثم علی ماذھب الیہ الامام ابوبکر الرازی
اقول : (میں کہتاہوں ) بحمداﷲ سرسری نظر میں یہ پانچ ہی تھے کچھ اور بحثیں بھی ہیں ہم ان باقی کو افادہ کے لئے یہاں ذکرکردیتے ہیں اول اصلا وہ وتر نہ پڑھتاہو ان کایہ قول درست نہیں کیونکہ وتر کے ترك سے وہ فاسق نہیں ہوتاچہ جائیکہ اس کی اقتداء کو باطل قراردیاجائے کیونکہ وتر ہمارے ہاں اگرچہ واجب ہیں لیکن یہ مسئلہ اجتہادی ہے اور اجتہادی مسائل میں کسی کوفاسق قرارنہیں دیاجاسکتا اور اگر اس عبارت کو اس پر محمول کیاجائے کہ اگروترادانہیں کرتاتواس کی فجر میں اقتداء جائز نہ ہوگی کیونکہ ترتیب فوت ہوگئی ہے تواب اس کے قول کہ نہایہ میں اضافہ ہے کہ اگرو ہ ترتیب کی رعایت نہیں تواقتداء جائز نہیں یہ منافی قرارپائے گا پھر میں نے علامہ شامی کو دیکھا تو انہوں نے منحۃ الخالق میں یہ ہی علت بیان کی اور اس پرتکرار کااعتراض کیا اور کہا اس سے مراد پر غورکرنا چاہئے۔
اقول : (میں کہتاہوں ) بلکہ یہ تکرار سے اشدہے کیونکہ اس کا لفظ “ زاد “ اس کااحتمال نہیں رکھتاجیساکہ جان لیاہے۔ دوسرا یہ کہ اقول : (میں کہتاہوں ) وتر کو دوسلاموں کے ساتھ اداکرنے والے احتمال کو ساقط کردینا چاہئے تھا کیونکہ عارضی مبطل کا لاحق ہونا وہ اس بطلان کاغیرہوتاہے جو ابتداء ہو جیسا کہ بحر میں ہے۔ پھر امام ابوبکر رازی
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحر الرائق باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۵
#10803 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
لایفسد بالمال ایضا لان امامہ لم یخرج عندہ نفسہ بالسلام فانہ یحسب مابعدہ من الوتر وھو مجتھد فیہ نعم الاصح الفساد کما جزم بہ فی متن التنویر وھوالمؤید بقول الجمہور الصحیح المشھور من ان العبرۃ لراء المقتدی الثالث مثلہ الکلام فی اقتصارہ علی رکعۃ الرابع افادالشامی قال افادشیخنا حفطہ اﷲ تعالی ان المراد انحرا فھم اذا اجتھدوا فی القبلۃ مع وجود المحاریب القدیمۃ فانہ یجوز عندھم لاعندنافلوانحرف عن المحراب القدیم(ای انحرا فاجاوز المشارق الی المغارب)لایصح الاقتداء بہ ھ
اقول : وھو وجیہ مسقط لوجہ اسقاط عند الانحراف نعم لابد من التقیید وھو غیربعید فان عدم رعایۃ الترتیب وعدم غسل المنی اوفرکہ کل مقید کما نبھنا علیہ ولم یوجب اسقاطھما فکذا ھذا وبہ ظھر الخامس وھو عدم اسقاط التوضؤ من القلتین وان کان الوجہ ھو التقیید الا ان
جس طرف گئے ہیں وہ یہ ہے کہ مآلا بھی نمازفاسد نہ ہوگی کیونکہ ان کے نزدیك سلام کے ساتھ امام نماز سے خارج نہیں ہورہا بلکہ وہ مابعد کو وترسمجھتاہے لہذا وہ معاملہ اجتہادی ٹھہرا ہاں اصح فساد ہے جیساکہ اس پرمتن تنویر میں جزم کیاگیا ہے اور اس کی تائید جمہور کے اس صحیح مشہورقول سے ہوتی ہے کہ اعتبار مقتدی کی رائے کاہے۔ تیسرا یہ کہ وتر کی ایك رکعت پڑھنا اس پر بھی سابقہ گفتگو ہی ہے۔ چوتھا امام شامی نے فرمایا ہمارے شیخ حفظہ اﷲ نے فرمایا انحراف سے مراد یہ ہے کہ قدیم محراب ہونے کے باوجود اجتہاد سے کام لیتے ہوئے وہ انحراف کریں تو یہ ان کے ہاں جائز ہے ہمارے ہاں جائز نہیں تواگرامام محراب قدیم سے منحرف ہوگیا(یعنی ایساانحراف جومشارق سے مغارب کی طرف متجاوز ہو)تو اس کی اقتداء صحیح نہ ہوگی۱ھ
اقول : (میں کہتاہوں ) یہ توجیہ اس توجیہ کی ساقط ہوگی جو انحراف کے وقت اسقاطاکی گئی ہے ہاں اسے مقید رناضروری ہے اور وہ بعید نہیں کیونکہ عدم رعایت ترتیب یاعدم غسل منی یااس کاکھرچناتمام مقیدہیں جیسا کہ ہم نے اس پرتنبیہ کردی ہے تو یہ بات ان کے اسقاط کاسبب نہیں ہوسکتی تو یہاں (انحراف) میں بھی یہی معاملہ ہے اور اسی سے پانچویں بحث ظاہر ہے اور وہ قلتین پانی سے وضو کاعدم اسقاط ہے اگرچہ یہاں
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحر الرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۵
#10804 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
یفرق بالغالب والنادر والخفی والمتبادر ولنرجع الی ماکنافیہ من الکلام فماکان الامن تجاذب القلم عنان الرقم لمناسبۃ المقام۔
مناسب اس کا مقید کرنا ہے مگر غالب ونادر اور خفی ومتبادرمیں فرق کیاجاتاہے اب ہم سابقہ گفتگو کی طرف لوٹتے ہیں یہ تومناسبت مقام کی وجہ سے قلم سے مجبورا تحریرصادرہوگئی (ت)
نیز بحر میں ہے :
فصار الحاصل ان الاقتداء بالشافعی علی ثلثۃ اقسام الاول ان یعلم منہ الاحتیاط فی مذھب الحنفی فلاکراھۃ فی الاقتداء بہ الثانی ان یعلم منہ عدمہ فلاصحۃ لکن اختلفوا ھل یشترط ان یعلم منہ عدمہ فی خصوص مایقتدی بہ اوفی الجملۃ صحح فی النھایۃ الاول وغیرہ اختاراالثانی و فی فتاوی الزاھدی الاصح انہ یصح وحسن الظن بہ اولی الثالث ان لایعلم شیئا فالکراھۃ (ملخصا)۔
حاصل یہ ہے کہ شافعی کی اقتداء تین طرح کی ہے اول یہ کہ اس امام کا مسلك حنفی کی احتیاط ورعایت کرنامعلوم ہو تواب اس کی اقتداء میں کراہت نہ ہوگی۔ ثانی یہ کہ اس امام کا رعایت نہ کرنا معلوم ہو تو اب اقتداء صحیح نہ ہوگی لیکن اختلاف اس بارے میں ہے کہ کیابالخصوص اسی نماز میں جس میں اقتداء مطلوب ہے عدم احتیاط کاعلم ضروری ہے ۔ یافی الجملہ عدم احتیاط کاعلم ضروری ہے ۔ نہایہ میں پہلے کو صحیح کہا اور دوسرے لوگوں نے دوسرے کو مختار قراردیا۔ فتاوی زاہدی میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ اقتداء صحیح ہے اور اس کے ساتھ حسن ظن رکھنا اولی ہے۔ ثالث یہ کہ اس کے بارے میں علم نہیں کہ وہ رعایت کرتاہے یانہیں (یعنی مشکوك صورت ہے) تو اب اقتداء مکروہ ہوگی۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
نقل الشیخ خیرالدین عن الرملی الشافعی انہ مشی علی کراھۃ الاقتداء
شیخ خیرالدین نے رملی الشافعی سے نقل کیا ہے کہ وہ مخالف کی اقتداء کو اس وقت مکروہ جانتے جب
حوالہ / References بحرالرائق باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۶ ، ۴۷
#10805 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
بالمخالف حیث امکنہ غیرہ ومع ذلك ھی افضل من الانفراد یحصل لہ فضل الجماعۃ وبہ افتی الرملی الکبیر واعتمدہ السبکی والاسنوی وغیرھما قال والحاصل ان عندھم فی ذلك اختلافا وقد سمعت مااعتمدہ الرملی وافتی بہ والفقیر اقول مثل قولہ فیما یتعلق باقتداء الحنفی بالشافعی والفقیہ المنصف یسلم ذلك وانارملی فقہ الحنفی÷ لامرابعد اتفاق العالمین÷ ھ ملخصا یعنی بہ نفسہ ورملی الشافعیۃ رحمھمااﷲ تعالی فتحصل ان القتداء بالمخالف المراعی فی الفرائض افضل من الافراد اذا لم یجد غیرہ والافالاقتداء بالموافق افضل ۔
غیر کی اقتداء ممکن ہو اور اس کے باوجود اقتداء تنہانماز سے افضل ہے اور ایسی صورت میں جماعت کاثواب مل جائے گا۔ اسی پر رملی کبیر نے فتوی دیا سبکی اور اسنوی وغیرہما نے بھی اسی پر اعتماد کیا ہے کہا حاصل یہ ہے کہ ان (فقہاء) کے ہاں اس مسئلہ میں اختلاف ہے اور میں نے وہ سن رکھا ہے جس پر رملی نے اعتماد کرتے ہوئے فتوی دیا اور فقیر انہی کے مطابق کہتاہے اس اقتداء میں جو حنفی کی شافعی کے ساتھ ہو اور منصف فقیہ اسے تسلیم کرے گا۔ میں رملی ہوں فقہ حنفی رکھتاہوں دوعالموں کے اتفاق کے بعد کوئی شك نہیں ہے تلخیصا یہاں انہوں نے اناسے اپنی ذات اور رملی سے شافعی مراد لیا ہے تو خلاصہ یہ ہوا کہ اس مخالف کی اقتداء جورعایت کرتاہو فرائض میں تنہا نمازپڑھنے سے افضل ہے جبکہ اس کے علاوہ کوئی امام موجود نہ ہو ورنہ موافق ملنے کی صورت میں اس کی اقتداء افضل ہوگی۔ (ت)
اسی میں مولنا علی قاری علیہ رحمۃ الباری سے ہے :
لوکان لکل مذھب امام کما فی زماننا فالافضل الاقتداء بالموافق سواء تقدم اوتاخر علی مااستحسنہ عامۃ المسلمین وعمل بہ جمہور المؤمنین من اھل الحرمین والقدس ومصر و
اگرہرمذہب کاامام ہو جیسا کہ ہمارے دور میں ہے توموافق کی ابتداء افضل ہوگی خواہ وہ پہلے امامت کرے یابعد میں اسے ہی عامۃ المسلمین نے مستحسن جاناہے اور اہل حرمین بیت المقدس مصر اور شام کے جمہور مسلمان اسی پرعمل پیراہیں ان
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۶
#10806 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
الشام ولاعبرۃ بمن شذ منھم ھ۔
سے جو کوئی اکادکا اس کے خلاف رائے رکھتے ہیں ان کا کوئی اعتبارنہیں (ت)
پھرخود فرمایا :
والذی یمیل الیہ القلب عدم کراھۃ الاقتداء بالمخالف مالم یکن غیرمراع فی الفرائض وانہ لوانتظر امام مذھبہ بعید اعن الصفوف لم یکن اعراضا عن الجماعۃ للعلم بانہ یرید جماعۃ اکمل من ھذہ الجماعۃ ۔
جس بات کی طرف دل مائل ہورہاہے وہ یہ ہے کہ جومخالف فرائض میں رعایت کرنے والا ہو اس مخالف کی اقتداء مکروہ نہ ہوگی اوراگرکوئی شخص جماعت کی صفوں سے دور اپنے مذہب کے امام کاانتظار کرتاہے تویہ جماعت سے اعراض نہ ہوگا کیونکہ وہ یقینی طور پر اس جماعت سے اکمل جماعت کے انتظار میں ہے(ت)
اسی میں زیرمسئلہ امامت عبدواعرابی وغیرہما تبعاللبحر(بحر کی اتباع میں ) ہے :
یکرہ الاقتداء بھم تنزیھا فان امکن الصلاۃ خلف غیرھم فھو افضل والافالاقتداء اولی من الانفراد ۔
ان کی اقتداء مکروہ تنزیہی ہے اگر ان کے علاوہ کوئی امام میسر ہو تواس کی اقتداء افضل ہے ورنہ تنہا اداکرنے سے ان کی اقتدابہترہوگی۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی المعراج قال اصحابنا لاینبغی ان یقتدی بالفاسق الافی الجمعۃ لانہ فی غیرھا یجداماما غیرہ ۔
معراج میں ہے کہ ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ جمعہ کے علاوہ میں فاسق کی اقتداء جائزنہیں کیونکہ جمعہ کے علاوہ نمازوں میں دوسرے امام کی اقتداء ممکن ہوتی ہے(ت)
بلکہ اسی میں ہے :
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۷
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۷
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۳
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۴
#10807 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
بقی لوکان مقتدیا بمن یکرہ الاقتداء بہ ثم شرع من لاکراھۃ فیہ ھل یقطع ویقتدی بہ استظھرط ان الاول لوفاسقالایقطع ولومخالفا وشك فی مراعاۃ یقطع اقول والاظھر العکس لان الثانی کراھتہ تنزیھیۃ کالاعمی و الاعرابی بخلاف الفاسق فانہ استظھر فی شرح المنیۃ انھا تحریمیۃ لقولھم ان فی تقدیمیہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علینا اھتانتہ الخ
باقی رہا یہ معاملہ کہ اگر کوئی شخص ایسے امام کی اقتدا میں ہے جس کی اقتدا مکروہ تھی ساتھ ہی ایسا امام جماعت کروائے جس میں کراہت نہیں توآیا اب وہ نماز توڑ کر اس کی اقتدا کرے یانہ ط نے کہا ظاہر یہ ہے کہ اگرپہلا امام فاسق ہے تونماز نہ توڑے اور اگروہ مخالف ہے اور اس کی رعایت میں شك ہو تو نماز توڑدے۔ میں کہتاہوں اس کا عکس اظہرومختارہے کیونکہ ثانی میں کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ اعرابی اور نابینا میں ہے بخلاف فاسق کے اس کی اقتداء کے بارے میں شرح منیہ میں کہا کہ اس کامکروہ تحریمی ہوناظاہر ہے کیونکہ فقہاکہتے ہیں کہ فاسق کوامام بنانے میں فاسق کی تعظیم ہوتی ہے حالانکہ ہم پراس کی اہانت لازم ہے۱لخ(ت)
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی للعلامۃابراہیم الحلبی میں ہے :
یکرہ تقدیم المبتدع ایضا لانہ فاسق من حیث الاعتقادوھواشد من الفسق من حیث العمل لان الفاسق یعترف بانہ فاسق ویخاف ویستغفر بخلاف المبتدع ۔
بدعتی کی اقتدامکروہ ہے کیونکہ وہ اعتقادا فاسق ہے اور عقیدۃ فاسق عملا فاسق سے بدتر ہے کیونکہ فاسق عملی اعتراف کرتا کہ وہ فاسق ہے وہ ڈرتا ہے اور اﷲ سے معافی مانگتا ہے بخلاف بدعتی کے کہ وہ ایسانہیں کرتا۔ (ت)
تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
لایصح اقتداء غیرالالثغ بالالثغ علی الاصح کما فی البحر وحررالحلبی وابن الشحنۃ انہ بعد بذل جھدہ دائما حتما کالامی فلایؤم الامثلہ ولاتصح صلاتہ
اصح قول کے مطابق غیرتوتلے کاتوتلے کی اقتداکرنا صحیح نہیں جیسا کہ بحر میں ہے حلبی اور ابن شحنہ نے کہا جب توتلا دائمی کوشش کرتارہے تووہ امی کی طرح ہے اور صرف توتلے کی اقتداء کرسکتاہے اور جب
حوالہ / References ردالمحتار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۵
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴
#10808 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
اذامکنہ الاقتداء بمن یحسنہ اوترك جھدہ اووجد قدرالفرض ممالالثغ فیہ ھذا ھو الصحیح المختار فی حکم الالثغ وکذا من لایقدر علی التلفظ بحرف من الحروف ۔
اسے کسی عمدہ پڑھنے والے کی اقتداء ممکن ہو تو اب تنہانماز نہ ہوگی اسی طرح حکم ہے جب اس نے کوشش ترك کردی یا وہ مقدار فرض کی قرأت پرقادرہوگیا جس میں اسے توتلاپن پیدانہیں ہوتا توتلے کے حکم میں یہی صحیح ومختار ہے اسی طرح اس شخص کاحکم ہے جو حروف میں سے کسی حرف کے صحیح تلفظ پرقادرنہ ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وذلك کالرھمن الرھیم والشیتان الرجیم والالمین وایاك نابدوایاك نستئین السرات انأمت فکل ذلك حکمہ مامر ۔
جیسے کوئی رھمن رھیم شیتان الرجیم آلمین ایاك نابدوایاك نستئین السرات انأمت پڑھتاہے ان صوتوں کا حکم پیچھے گزرچکاہے(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے :
امامۃ الالثغ للفصیح
فاسدۃ فی الراجع الصحیح
(راجح اور صحیح قول کے مطابق فصیح کے لئے توتلے کی اقتداء فاسد نمازہے۔ ت)
اب محل نظر صرف ایك صورت رہی کہ مسجد محلہ میں اہل محلہ نے باذان واقامت بروجہ سنت امام موافق المذہب سالم العقیدہ متقی مسائل داں صحیح خواں کے ساتھ جماعت اولی خالیہ عن الکراہۃ ادا کرلی پھر باقی ماندہ لوگ آئے انہیں دوبارہ اس مسجد میں جماعت قائم کرنے کی اجازت ہے یانہیں اور ہے توبکراہت یابے کراہت اس بارے میں عین تحقیق وحق وثیق وحاصل انیق ونظردقیق واثرتوفیق یہ ہے کہ اس صورت میں تکرار جماعت باعادہ اذان ہمارے نزدیك ممنوع وبدعت ہے یہی ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ کامذہب مہذب وظاہرالروایہ ہے متن متین مجمع البحرین و بحرالرائق علامہ زین میں ہے :
ولاتکررھا فی مسجد محلۃ باذان ثان ۔
مسجد محلہ میں دوسری اذان کے ساتھ تکرارجماعت جائز نہیں ۔ (ت)
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۵
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۳۱
فتاوی خیریہ ، کتاب الصلاۃ ، مطبوعہ دار المعافہ بیروت ، ۱ / ۱۰
بحرالرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۶
#10809 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
درمختار و خزائن الاسرار میں ہے :
والنظم للدر یکرہ تکرار الجماعۃ باذان و اقامۃ فی مسجد محلۃ لافی مسجد طریق اومسجد لاامام لہ ولامؤذن ۔
الفاظ در کے ہیں محلہ کی مسجد میں اذان واقامت کے ساتھ تکرارجماعت مکروہ ہے راستہ کی مسجد یاایسی مسجد جس کا کوئی امام ومؤذن مقررنہ ہو اس میں تکرارجماعت مکروہ نہیں ۔ (ت)
غررالاحکام اور اس کی شرح دررالحکام میں ہے :
لاتکرر الجماعۃ فی مسجد محلۃ باذان واقامۃ یعنی اذاکان لمسجد امام و جماعۃ معلومان فصلی بعضھم باذان واقامۃ لایباح لباقیھم تکرارھابھما ۔
اذان واقامت کے ساتھ جماعت کا تکرار محلہ کی مسجد میں درست نہیں یعنی جب مسجد کے لئے امام اور جماعت متعین ہو پس بعض نے اذان واقامت کے ساتھ نمازپڑھ لی تو اب دوسرے لوگوں کے لئے اذان واقامت کے ساتھ دوبارہ جماعت مباح نہیں ہے۔ (ت)
شرح المجمع للمصنف الامام العلامۃ ابن الساعاتی و فتاوی ہندیہ میں ہے :
المسجد اذاکان لہ امام معلوم وجماعۃ معلومۃ فی محلۃ فصلی اھلہ فیہ بالجماعۃ لایباح تکرارھا فیہ باذان ثان ۔
جب مسجد محلہ کا امام اور جماعت مقرر ہو اور اہل محلہ نے اس مسجد میں نماز اداکرلی ہو تو اب دوسری اذان کے ساتھ تکرارجماعت مباح نہیں ۔ (ت)
وجیز کردری و غنیہ علامہ حلبی میں ہے :
لوکان لہ امام ومؤذن معلوم فیکرہ تکرار الجماعۃ فیہ باذان واقامۃ عندنا ۔
اگرمسجد کے لئے امام اور مؤذن مقرر ہو تو ایسی مسجد میں ہمارے نزدیك اذان واقامت کے ساتھ تکرارجماعت مکروہ ہوگا۔ (ت)
ذخیرۃ العقبی شرح صدرالشریعۃ العظمی میں ہے :
حوالہ / References درمختار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۲
دررالحکام شرح غررالاحکام فصل فی الامامۃ مطبوعہ مطبعہ احمد کامل الکائنہ دارسعادت مصر ۱ / ۸۵
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی الجماعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۳
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی احکام المسجد ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۶۱۴
#10810 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ان کان للمسجد امام معلوم وجماعۃ معلومۃ فصلوا فیہ بجماعۃ باذان واقامۃ لایباح تکرارھا بھما ۔
اگرمسجد کاامام اور جماعت معین ہے اور اس میں لوگوں نے اذان واقامت کے ساتھ نمازپڑھ لی تو اب اذان واقامت کے ساتھ تکرارجماعت مباح نہیں ۔ (ت)
جس کاحاصل عندالتحقیق کراہت اذان جدید کی طرف راجع نہ نفس جماعت کی طرف ولہذا اسی مذہب کو امام محقق محمد محمد محمد ابن امیرالحاج حلبی نے حلیہ میں اس عبارت سے ارشاد فرمایا :
المسجد اذاکان لہ اھل معلوم فصلوا فیہ اوبعضھم باذان واقامۃ کرہ لغیر اھلہ وللباقین من اھلہ اعادۃ الاذان والاقامۃ ۔
اگرمسجد کے لئے اہل معین ہوں اور اس میں وہ تمام یابعض اہل اذان واقامت کے ساتھ نمازاداکرلیں تو غیراہل محلہ اور باقی ماندہ اہل محلہ کے لئے اذان واقامت کااعادہ مکروہ۔ (ت)
اور اگربغیر اس کے تکرارجماعت کریں توقطعا جائز وروا ہے اسی پرہمارے علماء کااجماع ہواہے خزائن میں ہے :
لوکرراھلہ بدونھما جازاجماعا ۔
اگراہل محلہ نے بغیر اذان واقامت کے تکرارجماعت کیاتو یہ بالاتفاق جائزہے۔ (ت)
درر میں ہے :
لوکان مسجد الطریق یباح تکرارھا بھما ولوکرراھلہ بدونھما جاز ۔
اگرراستہ کی مسجد ہو تواذان واقامت دونوں کے ساتھ تکرارجماعت مباح ہے اور اگراہل محلہ ان دونوں کے بغیر تکرارکریں توجماعت جائزہے(ت)
شرح المجمع للمصنف وعلمگیریہ میں ہے :
اما اذا صلوا بغیر اذان یباح اجماعا
اگربغیراذان کے پڑھی ہو تو بالاجماع مباح ہے اسی طرح
حوالہ / References ذخیرۃ العقبٰی کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ منشی نولکشور کانپور انڈیا ۱ / ۷۷
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار بحوالہ خزائن الاسرار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۸
دررالحکام شرح غررالاحکام فصل فی الامامۃ مطبوعہ مطبعہ احمد کامل الکائنہ فی دارسعادت مصر ۱ / ۸۵
#10811 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
وکذا فی مسجد قارعۃ الطریق ۔
حکم ہے اگرمسجد راستہ پرواقع ہو۔ (ت)
ذخیرۃ العقبی و شرح المجمع للعلامہ میں ہے :
لوصلوا فیہ بلااذان یباح اتفاقا ۔
اگربغیراذان کے نماز پڑھی توبالاتفاق تکرارجماعت مباح ہے۔ (ت)
عباب و ملتقط و شرح دررالبحار و رسالہ علامہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ السندی تلمیذ المحقق ابن الہمام و حاشیۃ البحر للعلامہ خیرالدین الرملی استاذصاحب الدرالمختار میں ہے :
یجوز تکرارالجماعۃ بلااذان وبلااقامۃ ثانیۃ اتفاقا قال و فی بعضھا اجماعا ۔
تکرارجماعت اذان واقامت کے بغیر بالاتفاق جائز ہے کہا بعض کتب میں اجماع کالفظ مستعمل ہواہے۔ (ت)
پھر یہ جواز مطلقا محض وخالص ہے یاکہیں کراہت سے بھی مجامع اس میں صحیح یہ ہے کہ اگرمحراب میں جماعت ثانیہ کریں تومکروہ اور محراب سے ہٹ کر تواصلا کراہت نہیں خالص مباح وماذون فیہ ہے۔ بزازیہ و شرح منیہ و ردالمحتارمیں ہے :
عن ابی یوسف انہ اذلم تکن الجماعۃ علی الھیئۃ الاولی لاتکرہ والاتکرہ وھوالصحیح وبالعدول عن المحراب تختلف الھیأۃ ۔
امام ابویوسف سے مروی ہے جب جماعت پہلی ہیئت پرنہ ہو تومکروہ نہیں ورنہ مکروہ ہے یہی صحیح ہے اور محراب سے ہٹ کر اداکرنا ہیئت کی تبدیلی ہے۔ (ت)
ولوالجیہ و تاتارخانیہ و شامیہ میں ہے :
بہ نأخذ
(اسی کو ہم لیتے ہیں ۔ ت)
اسی میں ہے :
قدقلت ان الصحیح تکرار الجماعۃ اذالم تکن علی الھیأۃ الاولی ۔
میں کہتاہوں کہ تکرار جماعت اس وقت صحیح ہے جب وہ جماعت پہلی ہیئت پرنہ ہو(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی الجماعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۳
ذخیرۃ العقبٰی کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ منشی نولکشور کانپورانڈیا ۱ / ۷۷
منحۃ الخالق علی البحرالرائق بحوالہ حاشیہ البحرللعلامہ خیرالدین الرملی باب الامامۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۶
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹
#10812 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
یہ ان احکام میں اجمالی کلام تھا
وللتفصیل محل اخر الحمدﷲ العلی الاکبر والصلاۃ والسلام علی الحبیب الازھروالہ واصحابہ الاطائب الغرر۔
واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
تفصیل کے لئے دوسرامقام ہے تمام حمد اﷲتعالی کے لئے جوبلندوبرتر ہے۔ صلوۃ وسلام ہو حبیب خوب پر ان کی آل واصحاب پرجوپاکیزہ ہیں (ت)
مسئلہ۸۶۷ : زید نے وقت مغرب ایك مسجد میں داخل ہوکردیکھا کہ جماعت ہورہی ہے اور امام قرأت بجہر پڑھ رہاہے زید نے اس امام کی اقتداء نہ کی اور اس آن واحد میں علیحدہ اپنی قرأت بجہر شروع کردی اور دوسری جماعت قائم کی پس زید کاکیاحکم ہے اور جماعت ثانی کاجوبحالت موجودگی جماعت اول قائم ہوئی ہے کیا حکم ہے اور دوشخص ایك آن میں قرأت بجہر کرسکتے ہیں یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
تفریق جماعت حاضرین حضرت حق سبحنہ وتعالی کو نہایت ناپسند ہے حتی کہ انتہادرجہ کی ضرورت میں یعنی جب عساکر مسلمین ولشکر کفارمیں صف آرائی ہو مورچہ بندی کرچکے ہوں اور وقت نماز آجائے اس وقت بھی نمازخوف کی وہ صورت قرآن مجید میں تعلیم فرمائی جس سے تفریق جماعت نہ ہونے پائے اور ایك ہی امام کے پیچھے نماز ہو ورنہ ممکن تھا کہ نصف برسرمعرکہ رہیں اور نصف باقی اپنی جماعت کرلیں پھر یہ نصف مقابلہ پر چلے جائیں اور وہ آکر اپنی نمازپڑھ لیں اتحادجماعت کی عنداﷲ ایسی ہی توکچھ سخت ضرورت ہے جس کے لئے عین نماز میں مشی کثیر جومفسد صلوۃ ہے روارکھی گئی ۔ علاوہ بریں صدہاآیات واحادیث اس فعل کی مذمت پردال ہیں اور حکمت ایك جماعت کی مشروعیت کہ ایتلاف مسلمین ہے کہ نہایت محبوب الہی ہے یہ فعل بالکلیہ اس کے مناقض ہے کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت) جس زمانے میں نظم خلافت حقہ گسیختہ اور بنائے امامت راشدہ ازہم ریختہ ہوگئی تھی اورسلطنت فساق وفجار بلکہ بدمذہبان فاسدالعقیدہ کوپہنچی تھی وہ لوگ امامت کرتے اور صحابہ وتابعین وکافہ مسلمین بمجبوری ان کے پیچھے نماز پڑھتے اس وقت بھی ان اکابردین نے تفریق جماعت گوارا نہ کی پس اس دوسری جماعت کی شناعت میں کوئی شبہہ نہیں اور فاعل اس کا عوض ثواب کے مستوجب طعن وملام ہوا خصوصا جبکہ وہ اس تفریق کاسبب کسی بغض دنیاوی کے جواسے امام اول سے تھا مرتکب ہوا یابوجہ اپنے فاسدالعقیدہ ہونے کے عنادا امام اول کو بدمذہب ومبتدع ٹھہراکر اس کی اقتدا سے استنکاف کیاکہ ان صورتوں میں تشنیع اس پر اشدواکد ہے مگریہ کہ درحقیقت امام اول سے بدعت تابحدکفر وارتداد مرتقی ہوگئی ہو مثلا سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عیاذا باﷲ توہین کرتاہو حضور کے ختم نبوت میں کلام رکھتاہو
#10813 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
حضوروالا کے بعد کسی کے حصول نبوت میں حرج نہ جانتاہو حضوراقدس کی تعظیم جوبعد تعظیم الہی کے تمام معظمین کی تعظیم سے اعلی واقدم ہے مثل اپنے بڑے بھائی کی تعظیم کے جانتاہو وعلی ہذاالقیاس دیگرعقائد زائغہ مکفرہ رکھتاہو اس تقدیر پرتوالبتہ یہ فعل زید کانہایت محمود ہوگا اور وہ اس پراجرجزیل پائے گا کہ صورت مذکورہ میں وہ جماعت عنداﷲ جماعت ہی نہ تھی کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز رأسا باطل ہے۔
فی التنویر ویکرہ امامۃ المبتدع لایکفر بھا وان کفر بھا فلایصح الاقتداء بہ اصلا ھ ملخصا۔
تنویر میں ہے اس بدعتی کی امامت مکروہ ہے جس کی بدعت حد کفر تك نہ پہنچے اوراگر حد کفر تك پہنچ جائے تو اس کی اقتداء بالکل درست نہ ہوگی اھ تلخیصا(ت)
اور اگر صورت مرقومہ میں امام ثانی مقتدا ومتبوع حضار کاہو اور جس وقت وہ شخص امامت کررہاہے عین اسی حالت میں اس کا دوسری جماعت قائم کردینااور اس کے پیچھے نماز سے احتراز مجمع میں ظاہر کرنا باعث اس کے زجروتوبیخ یاحاضرین کی نگاہ سے اس کے گرجانے کاہو تو اب یہ فعل اور بھی موکدوضروری ہوجائے گا اسی طرح اگرکفروارتداد کے سوا اور کوئی وجہ ایسی ہو جس کے سبب اس کے پیچھے نماز باتفاق روایات باطل محض ہوتی ہو تو جب بھی یہ جماعت ثانیہ قطعا جائز ہوگی لماذکرنا ان الجماعۃ الاولی لیست بجماعۃ فی الحقیقۃ لبطلان الصلاۃ بالاقتداء بالامام الاول(جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ پہلی جماعت درحقیقت جماعت ہی نہیں کیونکہ امام اول کی اقتداء میں نماز ہی باطل ہے۔ ت)
لیکن اس فعل میں اگرکوئی غرض صحیح شرعی نہ ہو تو اس تقدیر پراس سے احترازاولی ہے ختم جماعت کاانتظار کرکے اپنی جماعت کرلے وھذا کلہ ظاھر جدالاخفاء فیہ عند عقل سلیم وراء نبیہ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم(یہ تمام کاتمام خوب واضح ہے ہرصاحب عقل سلیم اور سمجھدارپرکچھ مخفی نہیں واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔ ت)
مسئلہ ۸۶۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد میں ایك شخص واسطے امامت کے مقرر ہے اگر وہ امام قبل ازنمازعشا یا کسی اور وقت میں کسی مقتدی سے یہ کہہ جائے کہ میں کسی کام کوجاتاہوں میراانتظار کرنا یعنی بعد پوراہونے وقت معینہ کے میراانتظار کرنا بعدہ سب مصلی اپنے وقت معینہ پرجمع ہوگئے اور اس کے بعد انہوں نے پاؤگھنٹا وقت معمول سے دیر کی واسطے تعمیل حکم امام صاحب
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
#10814 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
کے پھر انہوں نے ایك شخص کو امام بناکر نمازپڑھ لی آیا ان سب کی نماز درست ہوگئی یانہیں اور اگرامام صاحب پھرآکر لوگوں سے کہیں کہ تم لوگوں کی نماز نہیں ہوئی تویہ قول امام صاحب کاصحیح ہوگا یانہیں اور امام صاحب کوئی فتوی اپنے رائے سے واسطے خواہش نفس کے دیں توشرعا کیاحکم ہوگا بینواتوجروا
الجواب :
مقتدیوں کے ذمہ امام معین ہی کے انتظار میں بیٹھارہنا اور جب تك وہ نہ آئے جماعت نہ کرنا ہرگزضرور نہیں بعض اوقات حضوراقدس سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب مدینہ طیبہ میں کسی اور محلہ میں تشریف لے گئے ہیں اور واپس تشریف لانے میں دیر ہوئی ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے جماعت اداکرلی ہے ایك بار صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کوامام کیا ایك بار عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ اور حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اسے پسند فرمایا کما ھومصرح بہ فی الاحادیث (جیسا کہ اس پر احادیث میں تصریح موجود ہے۔ ت) امام کاکہنا کہ تمہاری نماز نہ ہوئی اگرصرف اسی بنا پرہے کہ میراانتظار نہ کرنے اور دوسرے کوامام بنالینے سے تمہاری نماز نہ ہوئی تومحض باطل اور شریعت مطہرہ پرصریح افترا ہے اپنی خواہش نفسانی کے لئے اپنی رائے سے فتوی دینے والا لائق امامت نہیں ہاں جس شخص کو اس کی غیبت میں مقتدیوں نے امام بنایا وہ اگرقرآن مجید ایسا غلط پڑھتاتھا جس سے فسادنماز ہو یامعاذاﷲ اس کے مذہب میں ایسا فساد تھا جس سے اس کی امامت صحیح نہ ہو تو اس بناپر امام کاقول درست ہے کہ تمہاری نمازنہ ہوئی اس تقدیر پرمقتدیوں نے سخت خطا کی انہیں توبہ چاہئے اورا س نماز کی قضا پڑھیں واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۶۹ : ازجامع مسجد ۱۸جمادی الاولی ۱۳۱۴ہجری
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تارك الجماعت کس کو کہتے ہیں بینواتوجروا
الجواب :
تارك جماعۃ وہ کہ بے کسی عذر شرعی قابل قبول کے قصدا جماعت میں حاضر نہ ہو مذہب صحیح معتمد پراگر ایك بار بھی بالقصد ایسا کیاگنہگار ہوا تارك واجب ہوا مستحق عذاب ہوا والعیاذباﷲ تعالی اور اگر عادی ہو کہ بارہا حاضرنہیں ہوتا اگرچہ بارہا حاضربھی ہوتا ہو تو بلاشبہہ فاسق فاجر مردودالشہادۃ ہے فان الصغیرۃ بعدالاصرار تصیر کبیرۃ (صغیرہ اصرار کی بنا پر کبیرہ ہوجاتاہے۔ ت) درمختار میں ہے :
(الجماعۃ سنۃ مؤکدۃ للرجال) قال الزاھدی ارادوابالتاکید الوجوب (وقیل واجبۃ وعلیہ العامۃ) ای عامۃ
(جماعت مردوں کے لئے سنت مؤکدہ ہے) زاہدی نے کہا یہاں تاکید سے مرادوجوب ہے (بعض نے کہا ہے کہ جماعت واجب ہے اور اکثرعلماء کی
#10815 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مشائخنا وبہ جزم فی التحفۃ وغیرھا قال فی البحر وھوالراجح عنداھل المذھب (فتسن اوتجب) ثمرتہ تظھر فی الاثم بترکہا مرۃ ھ مختصرا۔
رائے یہی ہے) یعنی ہمارے اکثر مشائخ کی رائے یہی ہے اسی پرتحفہ وغیرہ میں جزم کیاہے بحر میں ہے کہ اہل مذہب کے ہاں یہی راجح ہے (پس سنت ہو یاواجب) اس کا ثمرہ اختلاف ایك بارترك کرنے پر گناہ کی صورت میں سامنے آئے گا۱ھ مختصرا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ قال فی البحر وقال فی النھر ھو اعدل الاقوال واقواھا ولذا قال فی الاجناس لاتقبل شہادتہ اذاترکہااستخفافا ومجانۃ اماسہوا او بتاویل ککون الامام من اہل الاھواء اولایراعی مذھب المقتدی فتقبل ھ ط
اس کاقول کہابحر میں ہے اور کہانہر میں ہے کہ یہی معتدل اور قوی قول ہے اور اسی لئے اجناس میں ہے جب کسی نے سستی اور ہلکاسمجھتے ہوئے جماعت کوترك کیا تو اس کی شہادت قبول نہ ہوگی ہاں اگرسہوا ترك ہو یاتاویلا جیسے امام کا اہل ہوا میں سے ہونا یامذہب مقتدی کی رعایت نہ کرنے والا ہو توپھر شہادت قبول ہوجائے گی ۱ھ ط(ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ۸۷۰ : ازبلڈانہ ملك ابرار مرسلہ شیخ فتح محمد صاحب حلال خور ۱۹جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں مسلمان حلال خور جوپنج وقتہ نمازپڑھتاہو اس طرح پر کہ اپنے پیشہ سے فارغ ہوکر غسل کرکے طاہرکپڑے پہن کر مسجد میں جائے تو وہ شریك جماعت ہوسکتاہے یانہیں اور اگرجماعت میں شریك ہو تو کیاپچھلی صف میں کھڑا ہو یا جہاں اس کو جگہ ملے یعنی اگلی صف میں بھی کھڑاہوسکتاہے اور اس طرف بعد نمازصبح وبعد نمازجمعہ نمازی آپس میں مصافحہ کرتے ہیں توکیا وہ بھی مسلمانوں سے مصافحہ اور مسجد کے لوٹوں سے وضو کرسکتاہے اور جو حلال خور اپنا پیشہ نہ کرتا ہو صرف جاروب کشی بازار وغیرہ کی کرتاہو اس کے واسطے شرع شریف کاکیاحکم ہے ہردوصورتوں میں جو حکم شرع شریف کا ہو اس سے اطلاع بخشئے۔ بینواتوجروا
الجواب :
بیشك شریك جماعت ہوسکتاہے اور بیشك سب سے مل کر کھڑا ہوگا اور بے شك صف اول یاثانی میں
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۰
#10816 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
جہاں جگہ پائے گا قیام کرے گا کوئی شخص بلاوجہ شرعی کسی کو مسجد میں آنے یاجماعت میں ملنے یا پہلی صف میں شامل ہونے سے ہرگزنہیں روك سکتا اﷲ عزوجل فرماتاہے : و ان المسجد لله بیشك مسجدیں خاص اﷲ کے لئے ہیں ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : العباد عباداﷲ بندے سب اﷲ کے بندے ہیں ۔ جب بندے سب اﷲ کے مسجدیں سب اﷲ کی توپھرکوئی بندے کو مسجد کی کسی جگہ سے بے حکم الہی کیونکر روك سکتاہے۔ اﷲ عزوجل نے کہ ارشاد فرمایا :
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه
اس سے زیادہ ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کوروکے ان میں خداکانام لینے سے۔
اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے کہ بادشاہ حقیقی عزجلالہ کایہ عام دربار خاں صاحب شیخ صاحب مغل صاحب یا تجار زمیندار معافی دارہی کے لئے ہے کم قوم یاذلیل پیشہ والے نہ آنے پائیں علماء جوترتیب صفوف لکھتے ہیں اس میں کہیں قوم یاپیشہ کی بھی خصوصیت ہے ہرگز نہیں وہ مطلقا فرماتے ہیں :
یصف الرجال ثم الصبیان ثم الخناثی ثم النساء ۔
یعنی صف باندھیں مردپھرلڑکے پھرخنثی پھر عورتیں ۔
بیشك زبال یعنی پاخانہ کمانے والا یاکناس یعنی جاروب کش مسلمان پاك بدن پاك لباس جبکہ مرد بالغ ہو تو وہ اگلی صف میں کھڑا ہوجائے گا اور خان صاحب اور شیخ صاحب مغل صاحب کے لڑکے پچھلی صف میں جو اس کا خلاف کرے گا حکم شرع کا عکس کرے گا شخص مذکور جس صف میں کھڑاہو اگر کوئی صاحب اسے ذلیل سمجھ کر اس سے بچ کر کھڑے ہوں گے کہ بیچ میں فاصلہ رہے وہ گنہگار ہوں گے اور اس وعید شدید کے مستحق کہ حضوراقدس سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : من قطع صفا قطعہ اﷲ ۔ جو کسی صف کو قطع کرے اﷲ اسے کاٹ دے گا۔
#10817 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
اور جو متواضع مسلمان صادق الایمان اپنے رب اکرم ونبی اعظم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاحکم بجالانے کو اس سے شانہ بشانہ خوب مل کر کھڑا ہوگا اﷲ عزوجل اس کا رتبہ بلند کرے گا اور وہ اس وعدہ جمیلہ کا مستحق ہوگا کہ حضورانورسیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : من وصل صفا وصلہ ۔ جو کسی صف کو وصل کرے اﷲ اسے وصل فرمائے گا۔ دوسری جگہ ہمارے نبی کریم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم اﷲ فرماتے ہیں :
الناس بنوادم وادم من تراب ۔ رواہ ابوداؤد والترمذی وحسنہ والبیھقی بسند حسن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
لوگ سب آدم کے بیٹے ہیں اور آدم مٹی سے۔ اسے ابوداؤد وترمذی نے روایت کرکے حسن کہا اور بیہقی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
دوسری حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
یاایھا الناس ان ربکم واحد وان اباکم واحد ألا لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولالاحمر علی اسود ولالاسود علی احمد الا بالتقوی ان اکرمکم عنداﷲ اتقکم ۔ رواہ البیہقی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما۔
اے لوگو! بیشك تم سب کا رب ایك اور بیشك تم سب کا باپ ایک سن لو کچھ بزرگی نہیں عربی کو عجمی پر نہ عجمی کو عربی پر نہ گورے کو کالے پر نہ کالے کو گورے پر مگر پرہیزگاری سے بیشك تم میں بڑے رتبے والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے اسے بیہقی نے حضرت جابربن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیاہے۔
ہاں اس میں شك نہیں کہ زبالی شرعا مکروہ پیشہ ہے جبکہ ضرورت اس پرباعث نہ ہو مثلا جہاں نہ کافر بھنگی پائے جاتے ہوں جو اس پیشہ کے واقعی قابل ہیں نہ وہاں زمین مثل زمین عرب ہو کہ رطوبت جذب کرلے ایسی جگہ اگربعض مسلمین مسلمانوں پرسے دفع اذیت وتنظیف بیوت وحفظ صحت کی نیت
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷
جامع الترمذی سورہ الحجرات مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۵۹
شعب الایمان فصل فی حفظ اللسان عن الفخربالابائ حدیث ۵۱۳۷ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ / ۲۸۹
#10818 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
سے اسے اختیار کریں تو مجبوری ہے اور جہاں ایسا نہ ہو تو بیشك کراہت ہے لتعاطی النجاسات من دون ضرورۃ (کیونکہ یوں بغیر ضرورت کے نجاسات کولینا لازم آتاہے۔ ت) وہ بھی ہرگز حد فسق تك منتہی نہیں فتح القدیر و فتاوی عالمگیری میں ہے
اماشہادۃ اھل الصناعات الدنیۃ کالکساح والزبال والحائك والحجام فالاصح انھا تقبل لانھا قدتولاھا قوم صالحون فمالم یعلم القادح لایبنی علی ظاھر الصناعۃ ۔
رہامعاملہ دنیوی پیشہ والوں کی شہادت کا جن کو معاشرہ ہیچ تصورکرتاہے مثلا کوڑا کرکٹ اٹھانے والا ٹٹی اٹھانے والا جولاہا حجام تو اصح یہ ہے کہ ان کی شہادت قبول ہوگی کیونکہ متعدد صالح لوگوں نے انہیں اپنایاہے جب تك واضح قباحت معلوم نہ ہو تو بظاہرکسی پیشہ کی وجہ سے ایسانہیں کیاجاسکتا (ت)
مگران قوم دارحضرات کا اس سے تنفر ہرگزاس بناپر نہیں کہ یہ ایك امرمکروہ کامرتکب ہے وہ تنفرکرنے والے حضرات خود صدہا امورمحرمات وگناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں تو اگر اس وجہ سے نفرت ہو تو وہ زیادہ لائق تنفر ہیں ان صاحبوں کی صفوں میں کوئی نشہ باز یاقمار یاسودخوارشیخ صاحب تجار یارشوت ستاں مرزاصاحب عہدہ دار آکرکھڑے ہوں توہرگزنفرت نہ کریں گے اور اگرکوئی کپتان یاکلکٹر صاحب یاجنٹ مجسٹریٹ صاحب یا اسسٹنٹ کمشنرصاحب یاجج ماتحت صاحب آکر شامل ہوں تو ان کے برابرکھڑے ہونے کو تو فخرسمجھیں گے حالانکہ اﷲ ورسول کے نزدیك یہ افعال اور پیشے کسی فعل مکروہ سے بدرجہا بدترہیں
و الله یقول الحق و هو یهدی السبیل(۴) ۔
(اور اﷲ تعالی حق فرماتاہے اور وہی سیدھی راہ کی ہدایت دینے والا ہے۔ ت)
درمختار وغیرہ میں ذلیل پیشہ کا ذکر کرکے فرمایا :
واما اتباع الظلمۃ فاخس من الکل ۔
ظالم حکام کے خدام توسب پیشہ وروں سے خسیس ترہیں ۔ (ت)
توثابت ہوا کہ ان کی نفرت خدا کے لئے نہیں بلکہ محض نفسانی آن بان اور رسمی تکبر کی شان ہے تکبرہرنجاست سے بدترنجاست ہے اور دل ہرعضو سے شریف ترعضو افسوس کہ ہمارے دل میں تو یہ نجاست بھری ہو اور ہم اس مسلمان سے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فیمن لاتقبل شہادتہ لفسقہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ / ۴۶۹
القرآن ۳۳ / ۴
درمختار باب الکفاء ۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۵
#10819 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
نفرت کریں جو اس وقت پاك صاف بدن دھوئے پاك کپڑے پہنے ہے غرض جو حضرات اس بیہودہ وجہ کے باعث اس مسلمان کو مسجد سے روکیں گے وہ اس بلائے عظیم میں گرفتار ہوں گے جو آیت کریمہ میں گزری کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہے اور جوحضرات خود اس وجہ سے مسجد وجماعت ترك کریں گے وہ ان سخت سخت ہولناك وعیدوں کے مستحق ہوں گے جو ان کے ترك پروارد ہیں یہاں تك رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
الجفاء کل الجفاء والکفر والنفاق من سمع منادی اﷲ ینادی ویدعوا الی الفلاح فلایجیبہ ۔ رواہ الامام احمد والطبرانی فی الکبیر عن معاذبن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔
ظلم پوراظلم اور کفر اور نفاق ہے کہ آدمی مؤذن کو سنے کہ نماز کے لئے بلاتاہے اور حاضر نہ ہو۔ اسے امام احمد اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت معاذبن انس رضی اللہ تعالی عنہ سے سندحسن کے ساتھ روایت کیاہے۔
اور جو بندہ خدا اﷲ عزوجل کے احکام پرگردن رکھ کر اپنے نفس کو دبائے گا اور اس مزاحمت ونفرت سے بچے گا مجاہدہ نفس وتواضع کا اﷲ سے ثواب جلیل پائے گا بھلا فرض کیجئے کہ ان مساجد سے تو ان مسلمانوں کو روك دیا وہ مظلوم بیچارے گھروں پرپڑھ لیں گے سب میں افضل واعلی مسجد مسجدالحرام شریف سے انہیں کون روکے گا اس مسلمان پر اگر حج فرض ہو توکیا اسے حج سے روکیں گے اور خدا کے فرض سے باز رکھیں گے یا مسجد الحرام سے باہرکوئی نیاکعبہ اسے بنادیں گے کہ اس کا طواف کرے۔ اﷲ تعالی مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمین۔ اس تقریر سے ثابت ہوگیا کہ مسجد کے لوٹے جوعام مسلمانوں پروقف ہیں ان سے وضو کو بھی اسے کوئی منع نہیں کرسکتا جبکہ اس کے ہاتھ پاك ہیں ۔ رہا مصافحہ خود ابتدا کرنے کا اختیار ہے کیجئے یا نہ کیجئے :
فان المصافحۃ بعد الصلوات علی الاصح من المباحات والمباح لایلام علی فعلہ ولاترکہ۔
اصح قول کے مطابق نمازوں کے بعد مصافحہ مباح ہے اور مباح کے کرنے یانہ کرنے پرملامت نہیں ہوتی۔ (ت)
مگرجب وہ مسلمان مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھائے اور آپ اپنے اس خیال بے معنی پرہاتھ کھینچ لیجئے تو بیشك بلاوجہ شرعی اس کی دل شکنی اور بیشك بلاوجہ شرعی مسلمان کی دل شکنی حرام قطعی۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اذی مسلما فقد اذانی
جس نے کسی مسلمان کو ایذادی اس نے بےشك مجھے
حوالہ / References المعجم الکبیر مروی ازمعاذبن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ۳۹۴ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲۰ / ۱۸۳
#10820 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ایذادی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے بیشك اﷲ عزوجل کو ایذادی۔ اسے طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے سندحسن کے ساتھ روایت کیاہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۷۱ : ازشہرکہنہ ۲۱ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ہجری
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مقام پرجماعت نماز کی ہوتی ہے اور زید بھی نماز پڑھتاہے اور جماعت کے وقت حاضربھی رہتاہے جماعت ترك کرکے اول جماعت سے یابعد جماعت کے نماز پڑھتاہے اس میں کیاحکم ہے
الجواب :
گرامام میں کوئی ایسا نقص ہو جس کے سبب اس کے پیچھے نمازفاسد یامکروہ تحریمی ہو مثلا قرآن عظیم غلط پڑھنا جس سے نماز میں فسادآئے یاوہابی رافضی یاغیرمقلد ہو یاکم ازکم تفضیلیہ یافاسق ہونا تو زید پرالزام نہیں اور اگربلاوجہ شرعی جماعت ترك کرتا ہے توسخت گنہگار فاسق ہے اس پر توبہ واجب ہے۔
قال اﷲ تعالی و من یشاقق الرسول من بعد ما تبین له الهدى و یتبـع غیر سبیل المؤمنین نوله ما تولى و نصله جهنم-و سآءت مصیرا(۱۱۵) ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا جو شخص ہدایت کے واضح ہو نے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستہ کے علاوہ کوئی دوسری راہ چلے اسے ہم اسی طرف پھیردیتے ہیں جونہایت براٹھکانہ ہے(ت)
بحکم قرآن ایسا معلن شخص کہ بلاعذر شرعی جماعت ترك کرے مستحق جہنم ہے خصوصا ترك بھی ایسا کہ جماعت ہوتی رہے اور یہ بیٹھارہے۔
مسئلہ ۸۷۲ : ازبنگالہ ضلع ڈھاکہ موضع چیتارچر مرسلہ نواب عبدالواحدصاحب ۱۰جمادی الاخری۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے مع ایك مقتدی کے نماز شروع کی بعد ایک
حوالہ / References مجمع الزوائد بحوالہ طبرانی اوسط باب فیمن یتخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ / ۱۷۹ ، الترغیب والترہیب الترہیب من تخطی الرقاب یوم الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۰۴
القرآن ۴ / ۱۱۵
#10821 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
رکعت کے دوسرااور ایك شخص آیاتواس صورت میں امام سامنے بڑھے گایاوہ شخص مقتدی کو پیچھے کی طرف کھینچے گا اگرامام سامنے بڑھے توقبل اشارہ کے یابعد اشارہ کے اگربعد اشارہ کے توقبل تکبیر تحریمہ کے اشارہ کرے گا یابعد اگرقبل تکبیر تحریمہ کے اشارہ سے امام بڑھے گا یا مقتدی کو قبل تحریمہ کے وہ شخص اپنی جانب کھینچے گا تو اس صورت میں نماز فاسد ہوگی یانہیں
الجواب :
جب امام کے ساتھ ایك مقتدی ہو اور دوسرا آئے توافضل یہ ہے کہ مقتدی پیچھے ہٹے ہاں اگرمقتدی مسئلہ نہ جانتاہویاپیچھے ہٹنے کو جگہ نہیں تو ایسی صورت میں امام کوبڑھنا چاہئے کہ ایك کابڑھنادوکے ہٹنے سے آسان ہے پھر اگر(مقتدی) مسئلہ جانتاہو توجب کوئی دوسرا ملاچاہتاہے توخودہی پیچھے ہٹنا چاہئے خواہ امام خود ہی آگے بڑھ جائے ورنہ اس آنے والے شخص کو چاہئے کہ مقتدی کو اور وہ مسئلہ نہ جانتاہو تو امام کواشارہ کرے انہیں مناسب ہے کہ معا اشارہ کے ساتھ ہی حرکت نہ کریں کہ امتثال امرغیر کا شبہہ نہ ہو بلکہ ایك تامل خفیف کے بعد اپنی رائے سے اتباع حکم شرع وادائے سنت کے لئے نہ اس کااشارہ ماننے کی نیت سے حرکت کریں اس صورت میں برابر ہے کہ یہ آنے والا مقتدی نیت باندھ کر اشارہ کرے خواہ بلانیت کے بہرحال وہ اطاعت حکم شرع کریں گے نہ اس کے حکم کی اطاعت اور جو جاہل اس کا حکم ماننے کی نیت کرے گا تو اس کاتکبیر تحریمہ کے بعداشارہ کرنا کیا نفع دے گا کہ امام یامقتدی کودوسرے مقتدی کاحکم ماننا کب جائز ہے لقمہ قرأت میں یا افعال میں لینا کہ امام کو جائز ہے وہ بھی بحکم شرع ہے نہ کہ اطاعت حکم مقتدی جو اس کی نیت کرے گا اس کی نماز خود ہی فاسد ہوجائے گی اور جب وہ امام ہے تواس کے ساتھ سب کی جائے گی۔
فی الدر المختار لوامتثل امرغیرہ فقیل لہ تقدم فتقدم اودخل فرجۃ الصف احد فوسع لہ فسدت بل یمکث ساعۃ ثم یتقدم برأیہ قہستانی معزیاللزاھدی وفی ردالمحتار عن المنح لوجذبہ اخر فتاخرالاصح لاتفسد صلاتہھ۔
درمختار میں ہے اگرنمازی نے کسی غیرنمازی کاحکم مان لیا مثلا کہاگیا آگے ہو وہ آگے ہوگیا یاکوئی صف کے اندرداخل ہوا اور نمازی نے اس کے لئے جگہ کشادہ کی تو نماز فاسد ہوجائے گی بلکہ وہ ایك ساعۃ ٹھہرارہے پھراپنی رائے سے آگے ہوجائے قہستانی نے زاہدی کے حوالے سے یہی بیان کیاہے ردالمحتار میں منح کے حوالے سے ہے اگرنمازی کو دوسرے نے
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصلاۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۹
#10822 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
وعن الشرنبلالی فی تیسرالمقاصد ان امتثالہ انماھولامررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلایضرھ وعن الطحطاوی لوقیل بالتفصیل بین کونہ امتثل امرالشارع فلاتفسدوبین کونہ امتثل امرالداخل مراعاۃ لخاطرہ من غیرنظر لامرالشارع فتفسد لکان حسنا ھ۔ رأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول : وھو من الحسن بمکان بل ھوالمحمل لکلمات العلماء و بہ یحصل التوفیق وباﷲ التوفیق وفی الھندیۃ رجلان صلیا فی الصحراء وائتم احدھمابالاخروقام عن یمین الامام فجاء ثالث وجذب المؤتم الی نفسہ قبل ان یکبر للأفتتاح حکی عن الشیخ الامام ابی بکر طرخان انہ لاتفسدصلاۃ المؤتم جذبہ الثالث الی نفسہ قبل الکتبیر اوبعدہ کذا فی المحیط وفی الفتاوی العتابیۃ ھو الصحیح کذا فی التاتارخانیۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
کھینچا اور وہ پیچھے ہوگیا تواصح مذہب پر اس کی نماز فاسد نہ ہوگی ۱ھ شرنبلالی سے ہے تیسرالمقاصد کے حوالہ سے ہے کہ اس کا امتثال (حکم بجالانا) حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حکم کی بناپر ہے لہذا فساد کا سبب نہیں اہ۔ اور طحطاوی سے ہے کہ اگرتفصیل کرتے ہوئے کہا جائے کہ شارع کے حکم پرعمل کرتے ہوئے کسی کا حکم بجالایا تونماز فاسد نہ ہوگی اور اگروہ بغیر رعایت امرشارع کے فقط آنے والے نمازی کوخوش کرنے کے لئے کرتاہے تو نماز فاسد ہوجائے گی تویہ تفصیل کرنانہایت ہی اچھا تھا۱ھ مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے یہاں یہ لکھا ہے اقول : (میں کہتاہوں ) یہ صرف حسن ہی نہیں بلکہ کلمات علماء کامحمل بھی ہے اور اسی کے ساتھ ان میں موافقت بھی پیداہوجائے گی اور اﷲ ہی اس کی توفیق دینے والا ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے دوآدمیوں نے صحرا میں نماز ادا کی ایك نے دوسرے کی اقتدا کی اور امام کے دائیں طرف کھڑا ہوگیا اب تیسراآیا تو اس نے مقتدی کو تکبیر افتتاح سے پہلے اپنی طرف کھینچ لیا تو امام ابوبکر طرخان سے منقول ہے کہ اس صورت میں مقتدی کی نماز فاسد نہ ہوگی خواہ اسے تیسرا شخص تکبیر سے پہلے کھینچے یابعد میں اسی طرح محیط میں ہے۔ فتاوی عتابیہ میں ہے کہ یہی صحیح ہے اور تاتارخانیہ میں بھی اسی طرح ہے واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامت ۱ / ۴۲۲
جدالممتار علٰی ردالمحتار ۱ / ۲۷۳
فتاوٰی ہندیہ الفصل الخامس فی بیان مقام الامام الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۸
#10823 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مسئلہ ۸۷۳ تا ۸۷۵ : ازفیض آباد مرسلہ احمدحسین صاحب خرسند نقشہ نویس اسسٹنٹ انجینئر ریلوے ۲جمادی الآخری ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ :
(۱) مسجد یاخلاف مسجد امام کا مصلی مقتدیوں کی صف سے ملارہے یاعلیحدہ اگرعلیحدہ ہو تو کس قدر فاصلہ پر امام مصلے کے کنارے پرکھڑاہو یاکچھ آگے بڑھ کر تاکہ مقتدیوں کوکافی جگہ ملے فرمائیے اﷲ آپ کو اجرعظیم عطافرمائے۔
(۲) زید مسجد یاخلاف آں نماز فرض پڑھ رہاہے اور اس کی پہلی رکعت ہے یاکوئی اور رکعت اور بکرتنہا یادوشخص داخل ہوئے باوجود اطلاع ہوجانے کے تنہابکر یادونوں شخصوں نے اسی مقام پر اور اسی صف پر علیحدہ فرض پڑھے اور زید کے مقتدی نہ بنے کیاحکم ہے ان کی نماز کا یاپہلے ان کو اطلاع نہ تھی نیت باندھنے کے بعد رابع نے بآوازببلند کہہ دیا اب کیاحکم ہے بکر کی نماز کا آیا وہ درست ہوئی اگرنہیں تو اطلاع پانے تك جس قدر ہوچکی ہے وہیں سے ترك کردے یا پوری کرکے وہ نماز اعادہ کرے مفصل فرمائیے۔ بینواتوجروا
(۳) اگرہجڑا یاعورت یانابالغ یاشیعہ جن کی امامت بالاتفاق ناجائز ہے نمازفرض پڑھ رہاہے مسجد میں یاباہر اور زید بھی نماز فرض پڑھناچاہتاہے آیا اس مصلے پرنماز پڑھ سکتاہے یانہ کیا اس شخص کے نماز ختم ہونے تك زید کو انتظار لازم ہے بینواتوجروا
الجواب :
(۱) فصل بقدر کفایت وحاجت ہو جس میں مقتدی بخوبی سجدہ کرلیں اور اس سے زائد فصل کثیر مکروہ وخلاف سنت ہے واﷲ تعالی اعلم۔
(۲) اگرزید قابل امامت تھا اور انہیں معلوم تھا کہ یہ فرض پڑھ رہاہے اور انہوں نے اقتدانہ کی بلکہ جدا جدا فرض پڑھے تواگرجماعت اولی ہوچکی ہے جب توفضل سے محروم رہے اور اگریہی جماعت اولی ہوئی توگنہگار ہوئے اور اگرزید قابل امامت نہیں اور ان دونوں میں کوئی قابل امامت تھا تواب بھی وہی احکام ہیں اور اگران میں بھی کوئی قابل امامت نہیں تو اصلا حرج نہ ہوااور نماز تینوں صورتوں میں مطلقا ہوجائے گی اور اورنیت توڑدینا صرف جماعت قائمہ کی تحصیل کے لئے ہے مثلا ایك شخص نے ظہر کے فرض شروع کئے ایك رکعت یا اس سے کم پڑھنے پایاتھا کہ جماعت قائم ہوئی تونیت توڑدے باقی جماعت معدومہ کی تحصیل کے لئے نیت توڑنے کی کہیں اجازت
#10824 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
(۳) پڑھ سکتاہے اور ختم نماز تك انتظار کرنا کچھ ضرور نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۷۶ : از شہرفیروزپور محلہ پیراں والا مرسلہ منشی عنایت اﷲ شاکی قادری
چہ می فرمایند علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثردیکھاجاتاہے کہ بعض لوگ مسجد میں آتے ہیں اور جماعت اولیہ پڑھی نہیں گئی اورامام کے حاضرہونے میں ابھی کچھ وقفہ ہے وہ اپنے کام کے واسطے امام معین کاانتظارنہیں کرتے حاضرین میں سے کسی کو بغیر اجازت امام کے امام بنادیتے ہیں اور نماز بجماعت اداکرلیتے ہیں یا اگرجماعت ہوچکی ہے اور آنے والا شامل جماعت نہیں ہواتوپھردیکھاکہ ایك دو اور آدمی موجود ہیں جو شامل جماعت نہیں ہوئے ان کو ہمراہ لے کر جماعت پڑھائی یا ان میں سے کسی اور کو امام بنادیا اور امام سے نہیں پوچھابعض کی یہ عادت ہے کہ مسجد میں آئے اور امام کا مصلی لیااور بچھایا اور اس پرنماز پـڑھی یا یونہی بیٹھ گئے کیا ان کاایساکرنااور بغیر امام کے نماز پڑھنادرست ہے یانہیں جواب بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمائیں بینوابالدلیل وتوجروابالاجرالجزیل(دلیل کے ساتھ بیان کرواﷲ تعالی آپ کو اجرجزیل عطافرمائے گا۔ ت)
الجواب :
جو لوگ جماعت معینہ سے پہلے جماعت کرکے چلے جائیں اس میں چند صورتیں ہیں اگرامام معین محلہ میں واقعی کوئی معذور شرعی ہے مثلا وضو طہارت کاٹھیك نہ ہونا یاتجوید وقرأت میں ایسی غلطی کہ مورث فساد نماز ہو یامعاذاﷲ بدمذہبی مثل وہابیت وغیرمقلدی وغیرہما یافسق بالاعلان مثلا داڑھی حد شرع سے کم رکھنا تو ان تین صورتوں میں ان لوگوں پرکوئی الزام نہیں بلکہ اسی جماعت محلہ پرالزام ہوگاجوایسے امام ناقابل امامت یاممنوع التقدیم کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں یونہی اگر وہ مسجد کسی خاص جماعت کی مسجد نہ ہو جیسے مسجد شارع وسرا واسٹیشن جب بھی کوئی الزام نہیں کہ وہاں امام معین ہوناکوئی معنی نہیں رکھتاجوجماعت آئے جدا اذان کہے اور جدااقامت کرے اور اپنے سے ایك شخص صالح امامت کو امام بناکر جماعت پڑھے یہ سب جماعتیں جماعت اولی ہوں گی ان میں سے کسی دوسرے پرترجیح نہیں اور اگرمسجد محلہ ہے جس کے لئے امام وجماعت معین ہے اورامام میں کوئی معذور شرعی نہیں اور چندلوگ اپنی کسی ضرورت خاصہ شرعیہ سے پیش ازجماعت نماز پڑھ کر جاناچاہتے ہیں مثلا کہیں انہیں جانے کی ضرورت جائزہ ہے اور جماعت کاانتظار کریں توریل کاوقت جاتارہے گا ایسی صورت میں بھی ان کواجازت ہوگی کہ باہم جماعت کرکے چلے جائیں کہ شرع نہ ان کویہ حکم دے گی کہ جماعت کا انتظار کرو اور ریل نکل جانے دونہ یہ حکم دے گی کہ جبکہ تم جماعت کاانتظار نہیں کرسکتے الگ الگ پڑھو اورجماعت نہ کرو نہ اس جماعت میں منصب امام معین سے کوئی منازعت ہوگی کہ وہ محلہ کی جماعت اولی
#10825 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
کاامام معین ہے اہل محلہ کے لئے جماعت اولی وہی ہوگی جووہ اپنے امام کے ساتھ اپنے وقت معین پرپڑھیں گے ان چندآدمیوں کابضرورت پہلے جماعت کرجاناان کے ثواب جماعت میں کچھ کمی نہ کرے گااور جب منازعت نہیں تو استیذان امام کی بھی حاجت نہیں پھر بھی احسن یہ ہے کہ محراب سے ہٹ کرجماعت کریں تاکہ صورت معارضہ سے بچیں اور باعث تنفیر ووحشت امام معین نہ ہواوراگران کی کوئی ضرورت شرعیہ نہیں توضرور موردالزام شرعی ہیں کہ مرتکب تفریق جماعت ہوئے پھرنیت کے اختلاف سے حکم اشدہوتاجائے گامثلا اپنے کسی لہوولعب مباح کی جلدی کے باعث جماعت کرگئے توصرف تفریق جماعت کاالزام ہے اور اگرکسی لہوولعب ناجائز کی جلدی تھی یا کسی ناجائز جگہ جانے والے تھے اور وقت ریل کے سبب جلدی کی توالزام دوچند ہے اور اگراپنی بدمذہبی کے باعث امام سنی صحیح العقیدہ صالح امامت کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہی توالزام سب میں سخت ترہے والکل ظاھر عند من لہ ادنی مسکۃ فی العلم (یہ تمام اس شخص پرظاہر ہے جسے اس علم سے ادنی تمسك ہے۔ ت)یہ صورت تقدیم کاجواب ہوا رہی صورت تاخیر اس میں بھی اگروہ مسجد مسجد محلہ نہیں تو ہم اوپرکہہ چکے کہ یہاں نہ تقدیم ہے نہ تاخیرہے نہ معین امام کے کوئی معنی سب جماعت اولی ہیں اور سب یکساں اور اگر مسجد مسجد محلہ ہے اور امام معین میں کوئی عذر شرعی تھاجس کے سبب انہوں نے قصدا تاخیر کی جب بھی ان پرکچھ الزام نہیں کہ مقصود اصلاح جماعت سے اثارت فتنہ ہے اور اس میں تقدیم وتاخیر یکساں اور اگرامام میں کوئی عذر شرعی بھی نہیں مگرجماعت اولی بے اذان یااذان خفی ناکافی اعلان کے ساتھ کی گئی جب بھی ان کوباعلان اذان اعادہ جماعت کی اجازت بلکہ حکم ہے کہ پہلی جماعت جماعت مسنونہ نہ ہوئی جماعت مکروہہ ہوئی اوراگر یہ بھی نہیں مگرامام معین مذہب فقہی میں اس جماعت باقیہ کامخالف ہے مثلا وہ شافعی المذہب ہے یہ حنفیہ ہیں اپنی جماعت جدا کرناچاہتے ہیں توکوئی بھی الزام نہیں کہ افضل یہی ہے کہ امام موافق المذہب کے پیچھے نماز پڑھی جائے اگرمخالف المذہب حتی الامکان مراعات مذاہب اربع رکھتاہو ان سب صورتوں میں اس جماعت ثانیہ کو نہ اذن امام اول کی حاجت نہ تبدیل محراب ومصلی کی ضرورت اگر ان سب وجوہ سے جداہو توپھرتاخیر میں بنظرباعث وہی شقوق عود کریں گے جوتقدم میں تھیں اگرباعث تاخیر کوئی ضرورت شرعیہ تھی مثلا بھوکا ہونا یا استنجے کی ضرورت ہونا وغیر ذلك جواعذار فقہا نے تحریر فرمائے ہیں تو ان پرکوئی الزام نہیں مگراعادہ اذان کی اجازت نہ ہوگی اور محراب نہ بدلنا مکروہ اور بعد تبدیل محراب شرعی اجازت ہے اذن امام کی حاجت نہیں نہ اس کے منصب میں منازعت نہ اس میں اس کے لئے تنفیر ووحشت اور اگرہوبھی اور وہ کہے کہ اگرچہ جماعت اولی میں نے ہی کی اور میرے حق میں کوئی دست اندازی نہ ہوئی پھر بھی تم نے میری مسجد میں بے میرے اذن کے کیسے جماعت ثانیہ کرلی تو اس وحشیانہ وحشت کاالزام خود اس پر ہے نہ ان پر۔ اور اگر بے ضرورت شرعیہ کسی امر مباح کے سبب
#10826 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
تاخیر کی تو تفریق جماعت وترك جماعت اولی کا ان پروبال ہے اور اگرکسی امرناجائز کے سبب تووبال دوچنداور اپنی بدمذہبی کے باعث امام سنی صالح الامامت کے پیچھے نماز نہ پڑھنا چاہی تو وبال سب میں سخت ترہے کما تقدم (جیسا کہ پہلے گزرا۔ ت) اور مصلائے امام کی دوصورتیں ہیں ایك یہ کہ وہ خاص اس کی ملك ہو کہ اس نے اپنے لئے مسجد میں بچھارکھاہے یہ توظاہر ہے کہ بے اس کے اذن کے کسی کام میں استعمال نہیں ہوسکتا جو استعمال کرے گا گنہگار ہوگا۔ دوسرے یہ کہ مصلی وقف ہو اس میں پھر تین صورتین ہیں ایك یہ کہ واقف نے صرف امام کے لئے وقف کیا تو اسے کوئی نمازی منفرد یامقتدی بھی نہیں لے سکتا چہ جائیکہ غیر۔ بلکہ اگرخاص امام جماعت اولی کے لئے وقف کیاہو توامام جماعت ثانیہ بھی نہ لے سکے گا جبکہ واقف نے اسے جائز نہ رکھاہو۔ تیسرے یہ کہ مسجد کے لئے وقف کیا اور صراحۃ یادلالۃ حاضران مسجد کے لئے اس کاستعمال مطلق ہے جس طرح چٹائیوں میں معروف ہے تو اسے نماز کے لئے بھی لے سکتے ہیں اور غیروقت نماز میں کسی ایسے جلوس کے لئے بھی کہ شرعا مسجد میں جائز ہو پھراتنا لحاظ رہے کہ بحال اطلاق بھی جس طرح صفیں جماعت کے لئے ہوتی ہیں مصلے میں حق امام زیادہ ملحوظ ہوتاہے توعین وقت امامت امام کو اس سے محروم نہیں کیاجاسکتا ہاں خالی وقت میں لے لینا اور وقت امامت کے لئے مقام امام پرپھر بچھادینا بھی کوئی حرج نہیں رکھتا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۷۷ : ازکھمریاپوٹہ کلاں ضلع پیلی بھیت مرسلہ شرف الدین صاحب زمیندار ۱۷رمضان المبارك ۱۳۲۵ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ظہر کی نماز دوبج کرپچیس منٹ پرتین شخص جماعت کرلیں وہ بہترہے یادوبج کر پینتیس منٹ پر پچیس آدمیوں کی جماعت ہو یہ بہترہے ان دونوں جماعتوں میں کون سی جماعت اولی ہے فقط۔
الجواب :
جماعت جتنی کثیر ہوگی ثواب عظیم ہوگا اورا س دس منٹ میں کچھ وقت تنگ نہیں ہوتا کثرت جماعت ہی کے لئے شرع مطہرنے نمازفجر کو آخر وقت میں پڑھنے پرثواب زیادہ رکھاہے اصل حکم یہ ہے اور اگر کسی جگہ کوئی خاص صورت باعث فتنہ ہو تو فتنہ سے بچنا لازم ہے اور وبال فتنہ کرنے والے پر اور مسجد محلہ میں امام معین اکثر اہل محلہ کے ساتھ جوجماعت بروجہ سنت اداکرے وہ جماعت اولی ہے اس سے پہلے دوچار بلاوجہ یا
#10827 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
اپنے کسی کام کے سبب جماعت کرجائیں تو وہ ان اکثرین کی جماعت کاثواب کم نہ کرے گی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۷۸ : بتوسط جناب مولانا مولوی محمد وصی احمدصاحب محدث سورتی ۷صفر ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ مسجد میں آتے ہیں اور جماعت ابھی تك نہیں پڑھ گئی امام کے حاضر ہونے میں ابھی کچھ وقفہ ہے امام معین کی انتظاری نہیں کرتے اپنے میں سے ایك کو امام بنایا اور نمازباجماعت ادا کی اور چل دئیے امام سے بھی امامت کااذن نہیں لیا علی ہذا اگر جماعت ہوچکی اور دیکھا کہ دوچارآدمی اور بھی جمع ہیں جو جماعت میں شامل نہیں ہوئے ایك کو امام بنایا اور جماعت کرائی اسی طرح پراورآئے اور انہوں نے بھی ایسا ہی کیا بعض کی عادت ہے کہ امام کا مصلی جو اس کے نام سے نامزد ہے اور وہ اس پرہمیشہ کھڑا ہوکر امامت کرتاہے جیسا کہ دستور ہے اٹھایا اور اس پر نماز ادا کی یا بیٹھ گئے امام سے پوچھا بھی نہیں لوگوں کو اگرمنع کیاجاتاہے تو کہتے ہیں کہ نیك کام ہے اس سے روکنا نہ چاہئے سابقوا الخیرات (خیرات میں سبقت حاصل کرو۔ ت) حکم ہے ضرورت کے وقت چونکہ شمولیت جماعت مقرر ہ سے شریعت کی جانب سے رخصت ہے اور انفرادی حالت میں بہ نسبت جماعت کے ثواب کم ہے اس واسطے شریعت کی جانب سے ایسی امامت کی نہی نہیں معلوم ہوتی اور مضمرات کی عبارت :
ولوصلی بعض اھل المسجد باقامۃ وجماعۃ ثم دخل المؤذن والامام وبقیۃ الجماعۃفالجماعۃ المستحبۃ لھم والکراھۃ للاولی ۔
(عالمگیریۃ) اگراقامت وجماعت کے ساتھ بعض اہل محلہ نے نماز ادا کی پھر مؤذن امام اور بقیہ لوگ آئے تو ان کے لئے جماعت مستحب اور پہلی مکروہ ہوگی(ت)
کوبلاضرورت اقامت جماعت للاعراض عن المقررۃ یااحداث فتنہ پرمحمول رکھتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مساجد کی وضع عبادت کے لئے ہے صفیں جیسے مقتدیوں کی نماز کے لئے ہیں ایسے مصلی امام کے لئے امام صف پرنماز پڑھاسکتاہے ایسا ہی اگرمصلے پرکوئی غیر امام نمازپڑھ لے تو کچھ حرج نہیں بعض کا قول ہے مصلی امام کی ملك نہیں فقہ کی متداولہ کتابوں پرنظرڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ معین امام کی انتظاری لازم ہے اور بغیر اجازت امام معین کے امامت نہ کرائیں اگر انتظار میں وقت مکروہ ہوتاہو یا کسی ضروری کام کے لئے جاناچاہتاہو مثلا ریل کاوقت جاتارہے گا تو الگ الگ نمازپڑھ کر چلے جائیں ترك جماعت میں ان کے حق میں امام کااذن نہ دینا اس قبیل سے ہوگا جو اس حدیث میں ہے۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی صفتہ واحوال المؤذن مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۵۴
#10828 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
حدیث لایؤمن الرجل الرجل فی سلطانہ ولایقعد فی بیتہ علی تکرمتہ الاباذنہ رواہ مسلم معناہ ماذکرہ اصحابنا وغیرھم ان صاحب البیت والمجلس وامام المسجد احق من غیرہ وان کان ذلك الغیر افقہ واقرء و اورع و افضل منہ الخ نووی شرح مسلم۔ قولہ فی سلطانہ ای موضع یملکہ اویتسلط علیہ بالتصرف کصاحب المجلس وامام المسجد ۔ مجمع بحارالانوار لیس للقاضی ان یصلی بھم اذا لم یؤمر بہ صریحا اودلالۃ (کبیری )
ایك آدمی دوسرے آدمی کی سلطنت میں اس کی اجازت کے بغیرجماعت نہ کروائے اور نہ ہی اس کے گھرمیں بغیراجازت اعلی مقام پر بیٹھے اسے مسلم نے روایت کیا معنی یہ ہے ہمارے ائمہ نے یوں بیان کیاکہ صاحب خانہ صاحب مجلس اور امام مسجد غیر سے امامت کے زیادہ مستحق ہوتاہے اگرچہ وہ غیر اس سے زیادہ فقیہ قاری صاحب تقوی وفضیلت ہو الخ نووی شرح مسلم (ت)قولہ فی سلطانہ اس سے مراد اس کا مالك اور زیرتصرف ہوناہے جیسا کہ صدرمجلس اور امام مسجد۔ مجمع بحارالانوار (ت) قاضی کے لئے نمازپڑھانا جائز نہیں جب تك اس کو صراحۃ یااشارۃ حکم نہ ہو کبیری(ت)
علت نہی کی یہ ہے :
وھذالئلا یؤدی الی تھوین امرسلطنتہ و خلع ربقۃ الطاعۃ والی التباغض و الخلاف التی شرع الاجتماع لرفعہ ۔ مجمع بحارالانوار۔
یہ اس لئے ہے تاکہ امرسلطنت کو ہلکاجان کر لاپروائی نہ ہو اور طاعت امیر سے بغاوت اور بغض نہ ہو اور ایسا اختلاف نہ ہو جس کے رفع کے لئے اجتماع مشروع ہوا مجمع بحارالانوار(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم باب من احق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد ، اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۶
شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب من احق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد ، اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۶
مجمع بحارالانوار زیر لفظ سلطٰن مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۲ / ۱۳۰
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۳
مجمع بحارالانوار زیرلفظ سلطٰن مطبوعہ المطبع العاد نولکشورلکھنؤ ۲ / ۱۳۰
#10829 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ان منقولات سے پایاجاتاہے کہ امام کہیں ہو جہاں تك ممکن ہو امام سے اجازت لے کر امامت کرائیں کہ امامت بلااذن منع ہے امام کا جماعت میں بالفعل موجود ہونا شرط نہیں اور عموم حدیث کی دلالت بھی اسی پرہے مرض الامیر فصلی الشرطی لم یجزالاباذنہ (امیر بیمار ہوگیا کسی لشکری نے نماز پڑھائی تو اجازت کے بغیرجائز نہ ہوگی۔ ت) علمگیریہ کی عبارت کابھی یہی مقصود ہے بعض کاخیال ہے کہ حدیث مذکورہ بالا سے یہ امرثابت ہے کہ منع امامت امام دیگر بوقت حضورامام المحلہ ہے نہ بوقت عدم حضور کیونکہ مراد رجل اولی سے امام دیگرہے اور رجل ثانی سے امام محلہ یاصاحب البیت ہے اور کہا رجل اول رجل ثانی کی امامت نہ کرے اگررجل ثانی حاضر ہوگا تو اس کی امامت ممکن ہے اور نہی امور ممکنہ سے متعلق ہواکرتی ہے جماعت ثانیہ اگرتحت عموم حدیث کے ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے اور یہی علت ہے اگرخارج ہے توبھی فقہا نے اسے مکروہ تحریمہ لکھاہے اور بعض کہتے ہیں اگرہیئت اولی کے خلاف ہے تو مکروہ نہیں جیسا کہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نفی جو امام ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مذکور ہے مراد اس سے کراہت تحریمہ کی نفی ہے نہ مطلق بہرحال کراہت سے خالی نہیں مصلی پر امام کے نماز پڑھنا یا بیٹھنا بلا اس کے اذن کے اس کی ممانعت بھی مذکورہ بالا کے آخری فقرہ میں ولایقعد فی بیتہ علی تکرمتہ الاباذنہ سے پائی جاتی ہے
قولہ علی تکرمتہ ھو موضع خاص لجلوسہ عن فراش اوسریر ممایعد لاکرامہ ن ھی بفتح تاء وکسرھا ط کفراش وسجادۃ ونحوھما مجمع بحار الانوار ۔
قولہ تکرمتہ سے مراد وہ جگہ ہے جوبیٹھنے کے لئے ہو یا وہ چارپائی جواکرام کے لئے رکھی گئی ہوتی ہے ن اس کی تاء پرفتحہ اور کسرہ دونوں آسکتے ہیں ط مثلا فراش اور سجادہ وغیرہ مجمع بحارالانوار۔ (ت)
چونکہ ہرسہ سوالات کی نسبت اقوال علماء وعبارات کتب مختلف ہیں اس واسطے بہت تردد رہتاہے اور تسکین نہیں ہوتی ہے بظاہر عبارات کتب سے تونہی راجح معلوم ہوتی ہے اور اقوال علمائے مخالف اس لئے ادب سے التماس ہے کہ حقیقت امر سے مفصل اور مدلل طور پر بحوالہ کتب اور عبارات سے آگاہ فرمائیں تاکہ شق راجح عملدرآمد ہو۔ بینواتوجروا
الجواب :
مسجد اگرجامع یاسرایابازار یااسٹیشن کی غرض مسجد عام ہے کہ ایك جماعت خاصہ سے مخصوص نہیں
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلوٰۃ الجمعۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۵
صحیح مسلم باب من احق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد ، اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۶
مجمع بحارالانوار زیرلفظ کرم مطبوعہ المطبع العاد نولکشور لکھنؤ ۳ / ۲۰۹
#10830 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
جب تو اس میں ان سوالات کامحل ہی نہیں اس کی سب جماعتیں جماعت اولی ہیں جو گروہ آئے اپنی جماعت کرے اور محراب ہی میں امامت کرے اور افضل یہ ہے کہ ہرگروہ جداجدا اذان واقامت کرے کما نص علیہ فی فتاوی قاضی خاں وغیرھا (جیسا کہ فتاوی قاضی خاں وغیرہ میں اس پرتصریح ہے۔ ت) ہاں مسجد محلہ جس کے لئے جماعت معین امام معین ہے اس میں ضرور امام مقرر کا حق مقدم ہے جبکہ اس کی طہارت قرأت عقیدے عمل میں خلل نہ ہو کما فی الدر المختار وردالمحتار وغیرھما من الاسفار (جیسا کہ درمختار اور ردالمحتار اور دیگرکتب میں ہے۔ ت) اور قصدا بلاوجہ شرعی تفریق جماعت ضرور مو جب ذم وشناعت خواہ یوں ہوکہ امام معین سے پہلے پڑھ جائیں یاجماعت اولی فوت کرکے اپنی جماعت الگ بنائیں ۔ رہے اہل ضرورت وہ مستثنی ہیں اور ان کی جماعت اگرچہ پہلے ہو(مثلا جماعت معینہ کا ابھی وقت نہ آیا اور انتظار میں ریل کا وقت نہ رہے پڑھ کر چلے گئے) امام اور اہل محلہ کے حق میں جماعت اولی نہ ہوگی تو اس سے حق امامت میں مزاحمت نہ ہوگی الالایؤمن الرجل الرجل فی سلطانہ (آدمی کو دوسرے کی حکومت میں جماعت نہیں کروانی چاہئے۔ ت) کاکچھ خلاف نہ ہوا کہ نہ امام معین کی امامت کی نہ اس کی امامت میں مزاحمت کی اور ہرگز شرع مطہر سے کوئی دلیل نہیں کہ ایسے لوگ بے اذن امام جماعت سے ممنوع ہیں نہ اصلا کہیں ان پر یہ حکم ملے گا کہ مجتمع ہوتے ہوئے الگ الگ پڑھیں اور روافض سے تشبہ کریں یوں ہی جواتفاقا بلاتقصیر جماعت سے رہ گئے وہ شرعا انفراد پرمجبورنہیں نہ شرع سے کوئی دلیل کہ جماعت میں اذن امام کے محتاج ہیں کہ یہاں بھی اس کے حق میں مزاحمت نہیں البتہ تمیز جماعت اولی وابانت فرق واحتراز صورت مزاحمت کے لئے محراب سے الگ ہوناچاہئے۔
وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئۃ ھو الصحیح وبہ ناخذ کمااثرہ فی ردالمحتار۔
محراب سے ہٹ کر نماز ادا کرنے سے ہیئت مختلف ہوجاتی ہے یہی صحیح ہے اور ہم اس پرعمل پیراہیں جیسا کہ ردالمحتار میں منقول ہے(ت)
عبارت مضمرات کا محل وہی صورت تفریق بلاضرورت ہے یونہی حکم انتظار محل عدم ضرورت میں ہے
و ما جعل علیكم فی الدین من حرج-
تم پردین میں اس نے تنگی نہیں کی(ت)
بصورت ضرورت بوجہ مذکور جماعت میں نہ امام معینہ کی تہوین نہ کوئی وجہ تباغض نہ تحزین عبارت علمگیری وعبارت کبیری دونوں دربارہ جمعہ ہیں اور جماعات کا اس پر قیاس باطل کہ جمعہ میں شرط ہے کہ امام خود سلطان ہو
حوالہ / References ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱
القرآن ۲۲ / ۷۸
#10831 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
یا اس کا ماذون اسی کی تفریع میں دونوں کتابوں کی وہ عبارات ہیں کبیری میں فرمایا :
الشرط الثانی کون الامام فیھاسلطانااومن اذن لہ السلطان(الی ان قال)المتغلب الذی لامنشورلہ اذاکان سیرتہ فی الرعیۃ سیرۃ الامراء یجوزلہ اقامتھا لان بذلك تثبت السلطنۃ فیتحقق الشرط ولیس للقاضی ان یصلی بھم الخ
دوسری شرط یہ ہے کہ امام سلطان ہو یا جسے سلطان نے حکم دیاہو(آگے کہا) اقتدارپرغلبہ پانے والا وہ شخص جس کو اجازت نامہ حاصل نہیں اگررعیت میں وہ امیر جیسی صورت ومقبولیت حاصل کرلے تو جمعہ کاقیام جائز ہے کیونکہ اس صورت میں اقتدار قائم ہونے سے جمعہ کی شرط پائی گئی ہے (سلطان یانائب) کی موجودگی میں قاضی کوجمعہ پڑھانا جائز نہیں الخ(ت)
علمگیریہ میں ہے :
منھا السلطان حتی لاتجوز اقامتھا بغیر امر السلطان اوامرنائبہ مرض الامیر الخ
ان میں سے سلطان ہے حتی کہ اقامت جماعت امرسلطان یا اس کے نائب کے حکم کے بغیر جائز نہیں امیر بیمار ہوگیا الخ(ت)
حدیث کی عبارۃ النص اگرچہ صورت امامت للامام میں ہے مگربلاوجہ شرعی اس کی امامت فوت کرکے خود امام بن جانے کو بھی دلالۃ شامل
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشروا ولا تنفروا ۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان اقدس ہے لوگوں کو خوشخبری دو نفرت نہ دلاؤ(ت)
اور جوصورتیں اوپر گزریں نہ ان میں عبارۃ منصوص نہ دلالۃ داخل جماعت ثانیہ کی تفصیل فتاوی فقیر میں ہے جس کامجمل یہ ہے کہ مسجد عام میں ہرجماعت اولی ہے اور مسجد محلہ میں قصدا تفریق یا اولی کی تفویت بلاعذر صحیح شرعی ناجائز ورنہ باعادہ اذان ہو تو مکروہ تحریمی اور محراب نہ بدلیں تو خلاف اولی ورنہ اصلا کراہت نہیں ھوالصحیح وبہ ناخذ (یہی صحیح ہے اور اسی پر ہماراعمل ہے۔ ت) تاترخانیہ مصلی اگرملك امام ہے جب توظاہر کہ اس کے بے اذن اس میں تصرف حرام اور اگرواقف نے خاص جماعت اولی کے لئے وقف کیا جب بھی اور لوگ استعمال نہ کریں لان شرط الواقف کنص الشارع (کیونکہ واقف کی شرط
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجمعۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۵۳
فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلوٰۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۵
صحیح بخاری باب ماکان النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یتخولہم بالموعظۃ الخ مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۶
#10832 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
نص شارع کی طرح ہے۔ ت) ورنہ اس پرنماز میں اصلا حرج نہیں جبکہ بلاوجہ امام سے مزاحمت یاتنفر ناحق یااثارت فتنہ نہ ہو احکام کہ فقہ میں مذکور ہوئے آپ پرواضح ہیں اور بعض کی استبانت کے لئے یہ عبارت بحرالرائق پیش نظر ہونانافع :
قال رحمہ اﷲ تعالی من ھنایعلم جہل بعض مدرسی زماننا من منعھم من یدرس فی مسجد تقرر فی تدریسہ اوکراھتھم لذلك زاعمین الاختصاص بھادون غیرھم حتی سمعت من بعضھم انہ یضیفھا الی نفسہ ویقول ھذہ مدرستی اولاتدرس فی مدرستی وھذا کلہ جہل عظیم فقد قال اﷲ تعالی وان المسجد فلایتعین مکان مخصوص لاحد حتی لوکان للمدرس موضع من المسجد یدرس فیہ فسبقہ غیرہ الیہ لیس لہ ازعاجہ و اقامتہ منہ ھ مختصرا واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
صاحب بحرالرائق رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا : یہاں سے ہمارے دور کے بعض مدرسین کی جہالت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اس شخص کو اس مسجد میں تدریس کرنے سے منع کرتے ہیں جس تدریس کے لئے ان کاتقرر ہو یا اسے مکروہ جاننے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان مدارس کو دوسروں کے علاوہ اپنے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں حتی کہ بعض لوگوں کو میں نے دیکھا وہ اپنی طرف نسبت کرتے ہوئے کہتے ہیں یہ میرا مدرسہ ہے یا تو میرے مدرسے میں تدریس نہ کر یہ تمام بہت بڑی جہالت ہے اﷲ تعالی کافرمان ہے بیشك مساجد اﷲ کی ہیں پس کوئی جگہ کسی کے لئے مخصوص نہیں لہذا اگرایك مدرس مسجد کے کسی مقام پر بیٹھ کر درس دیتا تھا پھر کوئی دوسرا اس کی جگہ پربیٹھاتو پہلے مدرس کوجائز نہیں کہ دوسرے کو وہاں سے ہٹا کر خود وہاں بیٹھے ۱ھ مختصرا واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۸۷۹ : ازشہر محلہ مسجد جامع مسؤلہ مولوی محمد احسان صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام صاحب بہ ہنگام ضرورت محراب مسجد میں یعنی آثاردیوار پچھیت مسجد کے اندرکھڑا ہے اور اپنے دائیں وبائیں برابر ایك ایك یا زیادہ مقتدی کھڑے کرلئے باقی اور صفیں عقب حدود مسجد میں ہوں توایسی صورت میں نماز ہوجائے گی یا نہیں بینواتوجروا۔
حوالہ / References بحرالرائق فصل کرہ استقبال القبلۃ بالفرج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۴
#10833 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
الجواب :
وقت ضرورت امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ نہیں اور اپنے برابر کسی مقتدی کے لینے کی حاجت نہیں بلکہ دومقتدیوں کاامام کے برابرہوناخود مکروہ ہے امام کا محراب میں ہونا بضرورت تھا کہ مکروہ نہ رہا یہ کس ضرورت سے ہوا اور اگرتین یازیادہ مقتدی امام کے برابر ہوجائیں گے تونماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوجائے گی محراب میں بلاضرورت کھڑاہونا بھی ایسا ہی مکروہ بلکہ یہ سخت وشدید مکروہ ممنوع ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۸۰ : ازعبدالغفور صاحب میونسپل کمشنر کیکڑی ضلع اجمیر شریف ۵ / ذی القعدہ ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام مذہب حنفی امامت کررہا ہے اور اس کے مقتدی کل حنفی ہیں اور ان میں چنداشخاص غیرمقلد شریك ہوکر آمین بالجہر ورفع یدین کریں تو اس صورت میں ادائے نمازحنفی میں نقص واقع ہوتاہے یانہیں کہ جس سے نماز مکروہ ہوتی ہے یافاسد۔
الجواب :
غیرمقلدین زمانہ بحکم فقہا وتصریحات عامہ کتب فقہ کافر تھے ہی جس کا روشن بیان رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ ورسالہ السیوف ورسالہ النھی الاکید
وغیرہا میں ہے اور تجربہ نے ثابت کردیا کہ وہ ضرور منکران ضروریات دین ہیں اور ان کے منکروں کے حامی وہمراہ تویقینا قطعا اجماعا ان کے کفروارتداد میں شك نہیں اور کافر کی نمازباطل تو وہ جس صف میں کھڑے ہوں گے اتنی جگہ خالی ہوگی اور صف قطع ہوگی اور قطع صف حرام ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من وصل صفا وصلہ اﷲ ومن قطع صفا قطعہ اﷲ ۔
جوصف کو ملائے اﷲ اپنی رحمت سے اسے ملائے اور جوصف قطع کرے اﷲ اپنی رحمت سے اسے جدا کرے۔
تو جتنے اہلسنت ان کی شرکت پرراضی ہوں گے یاباوصف قدرت منع نہ کریں گے سب گنہگار ومستحق وعید عذاب ہوں گے اور نماز میں بھی نقص آئے گا کہ قطع صف مکروہ تحریمی ہے اور اگرصرف ایك ہی صف ہواور اس کے کنارہ پرغیرمقلد کھڑاہو تو اس صورت میں اگرچہ فی الحال قطع صف نہیں مگر اس کا احتمال و اندیشہ ہے کہ ممکن کہ کوئی مسلمان بعد کو آئے اور اس غیرمقلد کے برابر یادوسری صف میں کھڑا ہو توقطع ہوجائے گا
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷
#10834 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
اور جس طرح فعل حرام حرام ہے یونہی وہ کام کرنا جس سے فعل حرام کاسامان مہیا اور اس کا اندیشہ حاصل ہو وہ بھی ممنوع ہے ولہذا حدوداﷲ میں فقط وقوع کومنع نہ فرمایا بلکہ ان کے قرب سے بھی ممانعت ہوئی کہ تلك حدود الله فلا تقربوها- (یہ اﷲ کی حدود ہیں ان کے قریب نہ جاؤ اس کے باوجود۔ ت) مع ھذا ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
لاتصلوا علیھم ولاتصلوا معھم ۔
نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔ بدمذہبوں کے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۸۱ : ازنجیب آبادضلع بجنور مسئولہ احمد حسین خاں صاحب ۷ / ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
وباردوم ازقصبہ سرواڑ علاقہ کشن گڑھ متصل اجمیر شریف ہوشیاروں کی مسجد مسئولہ قاضی اکبر صاحب ۲۰ذیقعد ۱۳۳۰ھ
کیا کسی امام کے مذہب میں آمین بآواز بلند کہناجائز ہے اگرکوئی جماعت میں آمین زور سے کہتاہو حنفی سنیوں کی جماعت میں شریك کرنے سے نماز میں توکچھ نقص واقع نہیں ہوتا۔
الجواب :
آمین بالجہرامام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب میں ہے اگرکوئی سنی شافعی مذہب آمین بآواز کہے وہ بلاتکلف حنفیوں کی جماعت میں شریك ہوبلکہ بشرائط مذکورہ کتب فقہ وہ امامت کرے ہم اس کے پیچھے نماز پڑ ھ لیں گے کہ ہم اور وہ سب حقیقی بھائی ہیں ہمارا باپ اسلام ہماری ماں سنت سید الانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام۔ مگریہاں جوآمین بالجہر والے ہیں یہ غیرمقلد وہابی ہیں یہ اﷲ ورسول کی توہین کرنے والے ہیں یہ ہمارے ائمہ کرام کوگالیاں دینے والے ہم کو مشرك کہنے والے ہیں ان کی شرکت جماعت حنفی سے ضرور ضرر ہے کہ ان کے عقائد باطلہ تکذیب خداوتوہین رسول کے باعث ان کی نماز ہی نہیں تو جماعت میں ان کا کھڑا ہونا بالکل ایسا ہے کہ ایك شخص بے نماز بیچ میں داخل ہے اس سے صف قطع ہوگی اور صف کا قطع کرناحرام حدیث میں فرمایا :
من وصل صفا وصلہ اﷲ ومن قطع صفا قطعہ اﷲ ۔
جوصف کوملائے اﷲ اسے اپنی رحمت سے ملائے گا اور جوصف کو قطع کرے گا اﷲ اسے اپنی رحمت سے جدا کردے گا(ت)
حوالہ / References القرآن ۲ / ۱۸۷
کنزالعمال الفصل الاول فی فضائل الصحابہ اجمالا مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۱ / ۵۴۰
سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷
#10835 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
حدیث میں حکم فرمایا کہ نمازمیں خوب مل کرکھڑے ہو کہ بیچ میں شیطان نہ داخل ہو۔ یہاں آنکھوں دیکھا شیطان صف میں داخل ہے یہ جائز نہیں تو بشرط قدرت اسے ہرگز اپنی جماعت میں نہ شامل ہونے دیں اور جومجبور ہے معذور ہے۔
مسئلہ ۸۸۲ : ازریاست الورراجپوتانہ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ مولوی محمد رکن الدین صاحب نقشبندی ۲۲ذی الحجہ ۱۳۲۴ہجری
بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔ قاطع بدعت وضلالت جامع معقول ومنقول جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب ادام فیوضہم وبرکاتہم!
السلام علیکم ورحمۃ ا ﷲ وبرکاتہ فقیر حقیر مسکین محمد رکن الدین حنفی نقشبندی مجددی نادیدہ مشتاق زیارت عــــہدومسئلہ خدمت شریف میں پیش کرکے امیدوار ہے کہ جناب اپنی تحقیق سے اس عاجز کو ممنون فرمائیں اﷲ تعالی اس کااجرعظیم عطافرمائے گا ایك مسئلہ تو جماعت ثانی کا ہے اس میں گزارش یہ ہے کہ ردالمحتار میں جواقوال کراہت وعدم کراہت کے نقل کئے ہیں ان میں سے کراہت کاقول اس محلہ کی مسجد کی نسبت کہ جس میں امام اور مؤذن اور نمازی معین ہوں ظاہر الروایۃ بیان کیا ہے اور اس کو مدلل بھی کردیا ہے اور عدم کراہت کے قول کی صحت بھی منقول ہے کہ جو منسوب امام ابویوسف رحمۃاﷲ تعالی علیہ سے ہے وہ بھی اس میں موجود ہے اب یہ فرمائیے کہ ظاہرالروایۃ کے مقابلہ میں جبکہ وہ مدلل بھی ہو دوسرے قول بلاد دلیل کی ترجیح کس طرح ہوسکتی ہے۔ بینواتوجروا
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
بملاحظہ مولانا المبجل المکرم المکین جعلہ اﷲ تعالی ممن شیدبہم رکن الدین۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ ہمارے امام ہمام سراج الامہ امام الائمہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب مہذب وظاہر الروایۃ یہ ہے کہ مسجد محلہ جس کے لئے اہل معین ہوں جب اس میں اہل محلہ باعلان اذان وامام موافق المذہب صالح امامت کے ساتھ جماعت صحیحہ مسنونہ بلاکراہت اداکرچکے ہوں توغیراہل محلہ یاباقی ماندگان اہل محلہ کو اذان جدید کے ساتھ اس میں اعادہ جماعت مکروہ وممنوع وبدعت ہے۔ مجمع البحرین و بحرالرائق میں ہے :
لاتکررھا فی مسجد محلۃ باذان
محلہ کی مسجد میں دوسری اذان کے ساتھ تکرارجماعت

عــــہ اول یہ ہے دوسرانوافل میں مسطورہے۱۲ (م)
#10836 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ثان
جائز نہیں ۔ (ت)
شرح المجمع للمصنف و فتاوی علمگیریہ میں ہے :
المسجد اذاکان لہ امام معلوم وجماعۃ معلومۃ فی محلۃ فصلی اھلہ فیہ بالجماعۃ لایباح تکرارھا فیہ باذان ثان ۔
جب مسجد کاامام اورجماعت محلہ میں متعین ہو اور اہل محلہ نے جماعت کے ساتھ نمازادا کرلی تو دوسری اذان کے ساتھ اس میں تکرار جماعت مباح نہ ہوگی(ت)
اسی طرح فتاوی بزازیہ و شرح کبیرمنیہ و غرر و درر و خزائن الاسرار و درمختار و ذخیرۃ العقبی وغیرہا میں ہے اور اس کا حاصل حقیقۃ کراہت اعادئہ اذان ہے
فان الحکم المنصب علی مقید انما ینسحب علی القید کما قدعرف فی محلہ ولھذا۔
وہ حکم جو کسی مقید پر ہو وہ قید پر وارد ہوتاہے جیسا کہ یہ ضابطہ اپنے مقام ومحل پرمعروف ہے(ت)
امام محقق ابن امیر الحاج حلبی ارشد تلامذہ ابن الہمام نے حلیہ میں اسی مذہب مہذب کو اس عبارت سے ادا فرمایا :
المسجد اذاکان لہ اھل معلوم فصلوا فیہ اوبعضھم باذان واقامۃ کرہ لغیراھلہ والباقین من اھلہ اعادۃ الاذان والاقامۃ ۔
جب مسجد کے اہل معلوم ہوں اور ان تمام یابعض نے اذان واقامت کے ساتھ نماز اداکرلی تو اب غیراہل اور بقیہ لوگوں کے لئے اذان واقامت کا اعادہ جائز نہیں (ت)
ولہذا کتب مذہب طافحہ ہیں کہ بے اعادہ اذان مسجد محلہ میں جماعت ثانیہ بالاتفاق مباح ہے اس کے جواز واباحت پرہمارے جمیع ائمہ کااجماع ہے عباب و ملتقط و منبع و شرح در البحار و شرح مجمع البحرین للمصنف و شرح المجمع ابن ملك ورسالہ علامہ رحمت اﷲ تلمیذ امام ابن الہمام و ذخیرۃ العقبی و خزائن الاسرار شرح تنویر الابصار و حاشیۃ البحر للعلامۃ خیرالدین رملی و فتاوی ہندیہ وغیرہا کتب معتمدہ میں اس پر اتفاق واجماع نقل فرمایا خزائن میں ہے :
لوکرر اھلہ بدونھمااوکان مسجد
اگراذان واقامت کے بغیر اہل محلہ تکرارجماعت
حوالہ / References بحرلرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۴۵۔ ۳۴۶
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی الجماعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#10837 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
طریق جاز اجماعا ۔
کریں یا وہ مسجد راستہ کی ہو تو یہ تکرار جماعت بالاجماع جائز ہے(ت)
علمگیریہ و شرح المجمع للمصنف میں ہے :
اما اذا صلوا بغیر اذان یباح اجماعا ۔
ہاں اگر انہوں نے نماز بغیر اذان کے ادا کی تو یہ بالاجماع جائز ہے(ت)
ردالمحتار میں منبع سے ہے :
التقیید بالمسجد المختص بالمحلۃ احتراز عن الشارع وبالاذان الثانی احتراز عما اذا صلی فی مسجد المحلۃ جماعۃ بغیر اذان حیث یباح اجماعا ۔
مسجد کو محلہ کے ساتھ مختص کرنے سے مسجد شارع اس سے خارج ہوگئی اور اذان ثانی کی قید سے وہ صورت خارج ہوجاتی ہے جب اہل محلہ نے اذان ثانی کے بغیر جماعت کروائی ہو کیونکہ اس صورت میں تکرارجماعت بالاجماع مباح ہے(ت)
حاشیۃ علامہ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے :
اما اذا کررت بغیر اذان فلاکراھۃ مطلقا وعلیہ المسلمون ۔
جب بغیر اذان کے تکرار جماعت ہو تو اب بہرحال کراہت نہیں اور تمام مسلمان اسی پرہیں (ت)
یہ عبارت تونہ صرف ہمارے ائمہ کااتفاق بلکہ جملہ مسلمانوں کا اسی پرعمل بتاتی ہے اور خود لفظ اجماع ائمہ کتب میں واقع اسی طرف ناظر تو کیونکر ممکن کہ ظاہرالروایۃ اس کے خلاف ہو ظہیریہ میں کہ تنہا پڑھنا لکھ کر اسے ظاہرالروایۃ بتایا ۔ اقول : واجب کہ اس سے مراد نفی وجوب جماعت ہو نہ وجوب نفی جماعت کہ اجماع کے خلاف پڑے اور یہ ضرور حق ہے اس کا حاصل اس قدر کہ جس طرح جماعت اولی چھوڑ کرتنہا پڑھنا ناجائز و گناہ تھا یہاں ایسا نہیں یہ الگ الگ پڑھ لیں وہ نہیں پڑھ سکتے تھے عقل ونقل کے قاعدہ متفق علیہا سے واجب ہے کہ محتمل کو محکم کی طرف ردکریں نہ کہ محکم کو محتمل سے رد کریں تو عبارت ظہیریہ سے ردنقول متظافرہ اجماع
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ خزائن الاسرار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۸
فتاوٰی ہندیہ ، الفصل الاول فی الجماعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۳
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۸
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۴۰
#10838 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ناممکن ہے بلکہ اگروہ دوسرے معنی صحیح نہ رکھتی نہ اصلا محتمل بلکہ خلاف اجماع میں نص مفسر ہوتی تو حسب قاعدہ قاطعیہ نقول عامہ کے خلاف خود ہی بوجہ غرابت نامقبول ٹھہرتی نہ کہ بالعکس ردالمحتار باب سجود التلاوۃ میں ہے :
ھذا عزاہ فی البحر الی المضمرات و قال ان الثانی غریب ھ وجہ غرابتہ انہ انفرد بذکرہ صاحب الظھیریۃ ولذا عزاہ من بعدہ الیہا فقط ۔
اس کی نسبت بحر میں المضمرات کی طرف کی ہے اور کہا دوسرانادر ہے ۱ھ نادر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صرف صاحب ظہیریہ ہی نے ذکر کیاہے یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد والوں نے اس کی نسبت صرف ان کی طرف ہی کی ہے۱ھ(ت)
اسی کے باب المیاہ مسئلہ اعتبار عمق میں ہے :
قولہ فی الاصح ذکرہ فی المجتبی والتمر تاشی والایضاح والمبتغی وعزاہ فی القنیۃ الی شرح صدر القضاۃ وجمع التفاریق وھو متوغل فی الاعراب مخالف لما اطلقہ جمہورالاصحاب کما فی شرح الوھبانیۃ ۔
قولہ فی الاصح اسے مجبتی تمرتاشی ایضاح اور مبتغی نے ذکر کیا قنیہ میں اس کی نسبت شرح صدرالقضاۃ اور جمع التفاریق کی طرف کی ہے شرح الوہبانیہ کے مطابق جمہور کے اطلاق کی مخالفت کی وجہ سے یہ اغراب میں ڈوبا ہو ا ہے(ت)
پھر جبکہ بحال اعادہ اذان اصل مذہب وظاہرالروایۃ کراہت تحریم تھی
لما فی ردالمحتار قولہ ویکرہ ای تحریما لقول الکافی لایجوز والمجمع لایباح ۔
ردالمحتار میں وقولہ ویکرہ یعنی تحریمی مراد ہے کیونکہ صاحب کافی نے کہا یہ جائز نہیں اور مجمع میں ہے یہ مباح نہیں (ت)
اور بے اذان ثانی جواز وعدم کراہت پراجماع تو اب اس میں اختلاف ہوا کہ آیا یہ جوازواباحت محض خالص ہے یاکہیں کراہت تنزیہ سے بھی جامع امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت آئی کہ محراب ہی میں ہو تو کراہت ہے :
فان المکروہ تنزیھا من قسم المباح کما فی رد المحتار وحققناہ فی جمل مجلیۃ۔
کیونکہ مکروہ تنزیہی قسم مباح ہی ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے اور ہم نے اس کی تحقیق “ جمل مجلیہ “ میں کی ہے(ت)
اس باب میں امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت آئی کہ
حوالہ / References ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۶۷
ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۶۷
ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۶۷
#10839 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
محراب ہی میں ہو تو کراہت ہے اور اس سے ہٹ کر اصلا کراہت نہیں ائمہ ترجیح نے اسی کی تصحیح کی ولوالجیہ و وجیزکردری و تاتارخانیہ و غنیہ وغیرہا میں اسی کو ھوالصحیح وبہ ناخذ (صحیح یہی ہے اورا سی کو ہم نے اختیار کیاہے۔ ت) فرمایا بحمداﷲ تعالی اس تقریر منیر وتوفیق وتحقیق سے واضح ہوا کہ نہ یہ تصحیحیں ظاہرالروایہ کے خلاف ہیں نہ ظاہرالروایہ کی حکایت اجماع کے خلاف اور مسئلے میں قول منقح یہ نکلا کہ مسجد محلہ میں بشرائط مذکورہ (جن کے محترزات کی تفصیل جمیل فتاوی فقیر میں مذکور ہے) باعادہ اذان جماعت ثانیہ ناجائز ومکروہ تحریمی ہے یہی ظاہرالروایہ ومذہب امام ہے اور بے اذان ثانی بلاشبہہ جائزاس پر خود اتفاق واجماع ائمہ ہے مگر محراب میں بکراہت اور اس سے ہٹ کر خالص مباح بلاکراہت یہی صحیح وماخوذ ومعتمد ہے اب شبہہ اصل سے منقطع ہوگیا اور بالفرض اگربراہ تنزل مان بھی لیں کہ ائمہ نے خلاف ظاہر الروایہ کی تصحیحیں فرمائیں تو ہم پرلازم کہ انہیں کااتباع کریں ظاہر الروایہ کی ترجیح اس وقت ہے کہ اس کے خلاف پرتصحیحح صریح نہ ہوچکی ہو ورنہ ترجیح ضمنی تصریح تصحیح کے معارض نہ ہوسکے گی اور اسی تصحیح تصریح کا اتباع ہوگا۔ درمختار میں ہے :
امانحن فعلینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لوافتوافی حیاتھم ۔
ہمارے لئے اس قول کی اتباع وپیروی لازم ہے جسے فقہانے ترجیح دی اور تصحیح کی جیسے اس صورت میں ہم پر ان کی پیروی لازم تھی کہ اگروہ ہمارے زمانے میں زندہ ہوتے اور فتوی دیتے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ترجیح ضمنی لکل ماکان ظاھرالروایۃ فلایعدل عنہ بلاترجیح صریح لمقابلہ ۔
ہر ظاہر روایت کو ترجیح ضمنی حاصل ہوتی ہے پھر جب تك اس کے مقابل صریح ترجیح نہ ہو اس سے عدول نہیں کیاجاسکتا۔ (ت)
حوالہ / References درمختار خطبۃ الکتاب مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
ردالمحتار خطبۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۸
#10840 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
درمختار میں ہے :
اذا ذیلت روایۃ بالصحیح اولماخوذ بہ لم یفت بمخالفہ مختصرا۔
جب روایت کے بعد صحیح یاماخوذبہ لکھا ہوا ہو تو اس کے مخالف فتوی نہیں دیاجاسکتا ۱ھ مختصرا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
اذا کان التصحیح بصیغۃ تقتضی قصرالصحۃ علی تلك الروایۃ فقط کالصحیح والماخوذ بہ ونحوھما مما یفید ضعف الروایۃ المخالفۃ لم یجز الافتاء بمخالفھا لما سیأتی ان الفتیا بالمرجوح جھل ۔
جب تصحیح ایسے صیغے کے ساتھ ہو جو صرف اسی روایت کی صحت کاتقاضاکررہاہو مثلا لفظ صحیح یاماخوذبہ وغیرہما جو مخالف روایت کے ضعف پردال ہو تواب اس کے مخالف پرفتوی دیناجائز نہ ہوگا جیسا کہ عنقریب آرہاہے کہ مرجوح پرفتوی جہالت ہوتی ہے(ت)
اسی میں ہے :
لوذکرت مسئلۃ فی المتون ولم یصرحوا بتصحیحھا بل صرحوا بتصحیح مقابلھا فقد افادالعلامۃ قاسم ترجیح الثانی لانہ تصحیح صریح ومافی المتون تصحیح التزامی والتصحیح الصریح مقدم علی التصحیح الالتزامی ای التزام المتون ذکرماھو الصحیح فی المذھب ۔
اگر کسی مسئلہ کاذکر متون میں ہوا اور اس کی تصحیح کی تصریح فقہا نے نہ کی ہو بلکہ اس کے مقابل کی تصحیح کی ہو توایسی صورت میں علامہ قاسم کے نزدیك دوسرے کوترجیح ہوگی کیونکہ تصحیح پر تصریح ہے اور متون میں تصحیح الزامی ہو اور تصحیح صریح تصحیح الزامی پرمقدم ہوتی ہے یہاں تصحیح التزامی سے مراد یہ ہے کہ متون نے یہ الزام کیاہوتاہے کہ ہم وہی ذکرکریں گے جومذہب میں صحیح قول ہوگا۔ (ت)
اب رہیں بعض تعلیلات اول توبعد تصحیح ائمہ ترجیح ہمیں نظر فی الدلیل کی حاجت نہیں نہ وہ ہمارا منصب پھربعونہ تعالی اس کاحال ملاحظہ تعلیقات سے واضح ہوگا جوفقیر نے کتاب مستطاب ردالمحتار پرلکھیں اسعا فاللمرام اس
حوالہ / References درمختار خطبۃ الکتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
ردالمحتار خطبۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۴ ، ۵۵
ردالمحتار خطبۃالکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۳ا
#10841 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مقام سے اس کی نقل مسطور
قولہ ولنا انہ علیہ الصلاۃ والسلام کان خرج لیصلح بین قوم فعاد الی المسجد وقدصلی اھل المسجد فرجع الی منزلہ فجمع اھلہ وصلی ولوجاز ذلك لما اختار الصلاۃ فی بیتہ علی الجماعۃ فی المسجد ۔
اقول : اولا لایتعین ھذا سببا لذلك فان فی اعادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الجماعۃ فی المسجد کان ایھام انہ لم یرض بجماعۃ القوم فلعلہ اراد دفع ذلك الوھم وتاکید تقریرھم علی مافعلوا۔
وثانیا : لعل الباقی من اھلہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم للجماعۃ النساء الطاھرات وحدھن فاحب الجماعۃ ولم یحب ان یخرجھن وحدھن للجماعۃ للمسجد وعسی ان یراہ الناس ممن قدصلوا فیحبوا اعادۃ الصلوۃ خلفہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اویجییئ بعض من لم یصل بعد فیقفوا خلفھن فتفسد صلاتھم۔
قولہ ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام بعض لوگوں کے درمیان صلح کے لئے تشریف لے گئے جب آپ مسجد میں واپس آئے تو اہل مسجد نے نماز ادا کرلی تھی تو آپ گھرتشریف لائے آپ نے اپنے اہل کو جمع کیا اور نماز ادا کی اگرتکرار جماعت جائز ہوتا تو آپ مسجد میں جماعت پرگھر کی جماعت کواختیار نہ فرماتے(ت)
اقول : (میں کہتاہوں ) (۱) تکرار جماعت کے ناجائز ہونے کے لئے اس کو سبب قراردینا متعین نہیں بلکہ اس کی وجہ اور بھی ہوسکتی ہے کہ آپ مسجد میں جماعت کااعادہ فرماتے تو یہ وہم ہوتا کہ آپ نے لوگوں کی جماعت کو پسند نہیں کیا تو ممکن ہے آپ نے اس وہم کے ازالے اور لوگوں کی جماعت کو صحیح قراردینے کے لئے ایسا کیاہو۔ (۲) یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کی صرف ازواج مطہرات ہی جماعت سے باقی رہ گئی ہوں آپ نے گھر میں ہی جماعت کوپسندفرمایا اور مسجد میں صرف ان کی جماعت کے لئے ان کو نکالنا پسند نہ فرمایا اور یہ بھی ممکن ہے کہ نماز اداکرلینے والے آپ کو دیکھ کر آپ کے پیچھے نماز کااعادہ پسند کریں یابعض لوگ پہلی جماعت میں شرکت نہ کرسکے تھے اب آئے تو ان خواتین کے پیچھے کھڑے ہوگئے تو اس صورت میں ان کی نماز فاسد ہوجائے گی۔
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹
#10842 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
وثالث من فاتتہ الجماعۃ وحدہ فھو مخیرفی الانفراد واتباع الجماعات وان یاتی اھلہ فیجمع بھم کما نص علیہ فی الخانیۃ والبزازیۃ وغیرھما وقدنصوا کما فی ردالمحتار وغیرہ ان الاصح انہ لوجمع باھلہ لایکرہ وینال فضیلۃ الجماعۃ لکن جماعۃ المسجد افضل ھ وقد کان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ربما یترك الافضل لبیان الجواز وکان حینئذ ھوالافضل فی حقہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لما فیہ من التبلیغ المبعوث لہ من عند ربہ عزوجل فکیف یسلم قولہ ولوجاز ذلك لما اختار۔
وفیہ رابعا : مایفیدہ العلامۃ المحشی ان قد انعقد الاجماع بلانزاع علی جواز اعادۃ الجماعۃ فی المسجد العام بل صرحوا قاطبۃ انہ الافضل ومعلوم قطعا ان مسجدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لیس مسجد محلۃ فلوتم ھذا الاستدلال لصادم الاجماع واتی بتحریم مالیس فی حلہ بل ولافضلہ محل نزاع۔
(۳) جب تنہاآدمی جماعت سے رہ جائے تو اب اسے اختیار ہے کہ وہ تنہا نماز اداکرے یاجماعت کے ساتھ کہ وہ گھرچلاجائے اور اپنے اہل کو اکٹھا کرکے نماز پڑھے اس پر خانیہ بزازیہ وغیرہا میں تصریح ہے ردالمحتار وغیرہ میں یہ تصریح ہے اگر اس نے اپنے اہل کو جمع کرکے نماز ادا کی تو کراہت نہیں بلکہ جماعت کاثواب پائے گا البتہ مسجد کی جماعت افضل ہے ۱ھ اور بعض اوقات سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بیان جواز کے لئے افضل کوترك فرمادیتے تھے اور اس صورت میں آپ کے حق میں وہ بیان جوازہی افضل ہوگا کیونکہ اس میں احکام خداوندی کی تبلیغ (جس کے لئے اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں )ہے ان کایہ قول “ ولوجاز ذلك لمااختار “ کیسے درست ہوگا۔
(۴) جوعلامہ محشی نے کہا ہے کہ اس بات پراجماع کے انعقاد میں کوئی نزاع نہیں کہ مسجد عام میں اعادہ جماعت جائز ہے بلکہ واضح تصریح کی ہے کہ یہ افضل عمل ہے اور یہ بھی قطعا معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مسجد مبارکہ مسجد محلہ نہیں اگرمعترض کایہ استدلال درست ہو تو یہ اجماع سے ٹکرائے گا اور ایسی چیز کو حرام قراردینا ہوگا جس کے حلال بلکہ اس کے افضل ہونے میں کوئی محل نزاع نہیں ۔
حوالہ / References ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۲
#10843 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
اقول : ومثلہ فی الضعیف بل اضعف ماقدم فی الاذان من الاستدلال بماروی عن انس رضی اﷲ تعالی عہ ان اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کانوا اذا فاتتھم الجماعۃ فی المسجد صلوا فی المسجد فرادی فانہ لیس فیہ ان الجماعۃ کانت تفوت جماعۃ منھم معاف کانوایصلون فی المسجد فرادی مجتمعین وحاش ﷲ متی عھد ھذا من الصحابۃ رضی اﷲ تعالی منھم وانما کانت تفوت نادرا واحدا بعد واحد منھم ولادلالۃ بصیغ الجمع علی القرآن فی الفعل فان معناہ انھم کانواکل من فاتتہ الجماعۃ صلی فی المسجد منفرداولم یکونوا یتتبعون المساجدنفیاللحرج فکان کقول انس ایضا صلیت خلف النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و ابی بکر وعمر وعثمان فکانوا یستفتحو ان القرأۃ بالحمدﷲ رب العلمن رواہ احمد ومسلم
اقول : (میں کہتاہوں ) اس کی طرح ضعیف ب لکہ اضعف ہے وہ استدلال جو اذان کی بحث میں اس حدیث کے حوالے سے گزرا جو حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جب اصحاب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مسجد میں جماعت فوت ہوجاتی تو وہ مسجد میں تنہا نمازادا کرتے تھے کیونکہ اس میں یہ ہرگز نہیں کہ اگرصحابہ کے ایك گروہ کی معاجماعت فوت ہوجاتی تو وہ سب مسجد میں اکیلے اکیلے نماز پڑھتے تھے حاشا ﷲ ایسی بات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت نہیں البتہ نادرا کسی ایك صحابی کی کسی ایك وقت کی جماعت رہ جاتی تھی گروہ کی نہیں اور جمع کے صیغہ کی قران فی الفعل پر کوئی دلالت نہیں کہ ایك سے زیادہ افراد مسجد میں اکیلے اکیلے نماز پڑھتے تھے کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگران میں سے کسی کی جماعت فوت ہوجاتی تو وہ مسجد میں تنہا نماز اداکرلیتا اور نفی حرج کی وجہ سے دیگرمساجد کی طرف نہ جاتے تھے یہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے اس قول کی طرح بھی ہے جس میں ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ابوبکر عمر اور عثمان رضی اللہ تعالی عنہم کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے تو وہ الحمدﷲ رب العالمین سے قرأت کی ابتداء کرتے تھے اسے احمداور مسلم نے روایت کیاہے
حوالہ / References ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱
مسند احمد بن حنبل مروی ازمسند انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۲۲۳
#10844 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ھل لقائل ان یقول ان فی نفس الحدیث دلیلا علی ھذا المعنی وذلك انا لانسلم ان المراد بالجماعۃ الجماعۃ الاولی عینا بل نجریھا ھی علی ارسالھاوالجماعۃ لاتفوت الجماعۃ الاان یمنعوا عن تکرارھا فیتوقف الاستدلال بہ علی اثبات ممانعۃ التکرارفیعودمصادرۃ علی المطلوب وقدذکرالبخاری فی صحیحہ عن انس نفسہ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ جاء الی مسجد قدصلی فاذن واقام وصلی جماعۃ ھ فلم تفتہ الجماعۃ اذلم یکن وحدہ و صح ان رجلا دخل المسجد وقد صلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باصحابہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من یتصدق علی ھذافیصلی معہ فقام رجل من القوم فصلی معہ رواہ احمد وابو داؤد والترمذی وابوبکر بن ابی شیبۃ والدارمی وابویعلی وابن خزیمۃ وابن حبان وسعید بن منصور والحاکم کلھم عن
کیا کوئی قائل یہ کہہ سکتاہے کہ اس حدیث کے مضمون میں اس مفہوم پردلیل ہے اور یہ اس لئے کہ ہم تسلیم نہیں کرتے کہ یہاں جماعت سے مراد جماعت اولی عینی ہے بلکہ ہم اسے مطلق جماعت پرمحمول کرتے ہیں اور ایك گروہ سے جماعت تب فوت ہوگی جب انہیں تکرار جماعت سے منع کیا ہو لہذا اس سے استدلال ممانعت تکرار کے اثبات پرموقوف ہوگا تو یہاں مصادرت علی المطلوب عود کرے گی اور بخاری نے اپنی صحیحمیں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ ہی سے روایت کی ہے کہ وہ مسجد میں آئے حالانکہ جماعت ہوچکی تھی تو انہوں نے اذان دی تکبیر کہی اور جماعت کرائی۱ھ توتنہا نہ ہونے کی صورت میں ان کی جماعت فوت نہ ہوئی اور یہ بھی ثابت ہے کہ ایك شخص مسجد میں آیا حالانکہ حضورعلیہ السلام نے صحابہ کو جماعت کرادی تھی توآپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا اس پر کون صدقہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ نماز ادا کرے گا توایك شخص کھڑا ہوا او ر اس کے ساتھ نماز ادا کی اس کو مسند ابوداؤد ترمذی ابوبکر بن ابی شیبہ دارمی ابویعلی ابن خزیمہ ابن حبان سعید بن منصور اور حاکم ان سب نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے
حوالہ / References صحیح البخاری باب فضل صلوٰۃ الجماعۃالخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۹
مسند احمد بن حنبل مروی ازمسند ابی سعید الخدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۴۵
#10845 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ابی سعید الخدری والطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ وعن عصمۃ بن مالك و ابن ابی شیبۃ عن الحسن البصری مرسلا عبدالرزاق فی مصنفہ وسعید بن منصور فی سننہ عن ابی عثمن النھدی مرسلا ایضا وفی الباب عن ابی موسی الاشعری والحکم بن عمیر کما فی الترمذی رضی اﷲ تعالی عنھم اجمعین وفی بعضھا ان ذلك المتصدق علی الرجل ابوبکر ن الصدیق رضی اﷲ تعالی عنھما قولہ ولان فی الاطلاق ھکذا تقلیل الجماعۃ معنی فانھم لایجتمعون اذا علموا انھا لاتفوتھم ۔
اقول : لسنانبیح تعمد ترك الجماعۃ الاولی اتکالا علی الاخری فمن سمع منادی اﷲ ینادی ولم یجب بلاعذر اثم وعزرفاین الاطلاق وانما نقول فیمن غابوا فحضروا اوکانوا مشتغلین بنحو الاکل تاقت الیہ انفسھم او التخلی وغیرذلك من الاعذار فتخلفھم عن الاولی قدکان باذن الشرع فعلی مایعاقبون بحرمان الجماعۃ وفیم تودی الی التقلیل وقد اثبتنا فی رسالتنا
اورطبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابوامامہ اور حضرت عصمہ بن مالك رضی اللہ تعالی عنہم ا سے اور ابن ابی شیبہ نے حضرت امام حسن بصری سے مرسلا روایت کیاہے عبد الرزاق نے مصنف اور سعید بن منصور نے سنن میں ابوعثمان النہدی سے بھی مرسلا روایت کیاہے۔ اس باب میں حضرت ا بوموسی اشعری اور حکم بن عمیر سے بھی روایت ہے جیسا کہ ترمذی میں ہے رضی اللہ تعالی عنہم اور بعض روایات میں ہے کہ وہ صدقہ کرنے والے حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ تھے قولہ کیونکہ ایسے اطلاق سے تقلیل جماعت کامعنی پایاجاتاہے اس لئے کہ وہ جب جان لیں کہ جماعت فوت نہ ہوگی توجمع نہ ہوں گے۔
اقول : ( میں کہتاہوں ) ہم جماعت اولی کے عمدا ترك کو دوسری جماعت پربھروسا کی بناء پر مباح نہیں رکھتے اور جس شخص نے بھی اﷲتعالی کی طرف سے بلاواسنااور اس نے اسے قبول نہ کیا وہ گنہگار ہوگا اور وہ قابل تعزیر ہے تو یہاں اطلاق کہاں ہے ہم تو ان لوگوں کی بات کررہے ہیں جو موجود نہ تھے اب آئے یا وہ کسی معاملہ میں مشغول تھے مثلا سخت بھوك کی وجہ سے کھاناکھارہے تھے یارفع حاجت کے لئے گئے تھے یا اس جیسے دوسرے اعذار ہوں تو اب ایسے لوگوں کا پہلی جماعت سے رہ جانا باجازت شرع ہوگا اب ان پرجماعت سے
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹
#10846 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
“ حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ “ ان الواجب ھی الجماعۃ الاولی عینا فاذا علموا انھم لولم یحضروا فاتھم الواجب فکیف لایجتمعون اما الکسالی وقلیل المبالاۃ فلا یجتمعون وان علموا انھم تفوتھم الاولی و الاخری جمیعا الاتری ان عــــہ بعض العصریین ممن یدعی العلم والدین قدشدد فی ذلك تشدید ابلیغا وزعم ان تکرار الجماعۃ معصیۃ مطلقا فتبعہ بعض عوام تلك البلاد فی ترك تکرار الجماعۃ ولم یتبعوہ فی اتیان الاولی فتری فوجامن الاحابیش یاتون بعد الجماعۃ فیصلون معا فرادی فیزیدون مشابھۃ بالروافض واﷲ المستعان ۔
قولہ ویؤیدہ مافی الظھیریۃ لودخل جماعۃ المسجد بعدماصلی فیہ اھلہ یصلون وحدانا و ھوظاھر الروایۃ ھ وھذا مخالف لحکایۃ الاجماع المارۃ
محروم ہونے کی وجہ سے کیونکر ملامت کی جاسکتی ہے اور انہیں تقلیل جماعت کا سبب کیوں قرار دیاجائے ہم نے رسالے “ حسن البراعۃ فی تنقید حکم الجماعۃ “ میں ثابت کیا ہے کہ واجب عینی جماعت اولی ہی ہے پس جب انہوں نے جانا اگروہ حاضر نہ ہوئے تو واجب فوت ہوجائے گا تووہ جمع کیسے نہ ہوں رہا معاملہ سستی اور لاپروائی کرنے والوں کا وہ جمع نہیں ہوں گے خواہ انہیں علم ہو کہ ہماری پہلی اور دوسری جماعت فوت ہوجائے گی کیا آپ کے علم میں نہیں کہ بعض معاصرین جوعلم ودین کادعوی کرتے ہیں انہوں نے اس میں بہت زیادہ تشدید کی اور کہا کہ تکرارجماعت ہرحال میں معصیت وگناہ ہے اور ان کے علاقے میں کچھ عام لوگوں نے تکرارجماعت کے ترك میں اس کا اتباع کیا حالانکہ وہ پہلی جماعت کے درپے نہیں ہوئے آپ متعدد گروپوں کوملاحظہ کریں گے کہ وہ جماعت کے بعد آتے ہیں وہ ایك ہی مقام پر تنہاتنہا نماز اداکرتے ہیں تو اس عمل سے روافض کے ساتھ مشابہت میں اضافہ کرتے ہیں اور اﷲ ہی مدد کرنے والا ہے قولہ اور اس کی تائید ظہیریہ کی یہ عبارت کرتی ہے اگرکوئی جماعت مسجد میں داخل ہوئی حالانکہ اہل محلہ نے جماعت کرالی تھی تووہ تنہا نماز اداکرلیں اور یہ ظاہر روایت ہے۱ھ اور یہ بات سابقہ منقول اجماع کے خلاف ہے

عـــہوھو رشید احمد گنگوھی ۱۲(م)
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹
#10847 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
اقول : لاتائید ولاخلاف فان یصلون لیس نصافی الایجاب ومن تتبع ابواب صفۃ الصلاۃ والحج من ای کتاب شاء وجد قناطیر مقنطرۃ من صیغ الاخبار واردۃ فیما لیس بواجب بل ولاسنۃ انما اقصاہ الندب وقد قال فی البحر الرائق والطحطاوی فی حاشیۃ الدر ان ذلك ای دلالۃ الاخبار علی الوجوب فیما اذا صدرمن الشارع اما من الفقھاء فلایدل ھو ولا الامر منھم علی الوجوب کما وقع لمحمد حیث قال فی صفۃ الصلاۃ افترش رجلہ الیسری ووضع یدہ وامثال ذلك کثیرۃ ھ ولست انکرانہ کثیرا مایجیئ للوجوب کمابیناہ فی کتابنا “ فصل القضاء فی رسم الافتاء “ وانما ارید ان المحتمل لایقضی علی المفسر فکیف یرد بہ الاجماع المتظافر علی نقلہ المعتمدات بل کیف یصح ان یحمل علی مایصیر بہ مخالف للاجماع ولوکان کذا لکان ھو احق بالرد من الاجماع اذ الحاکی الواحد عن
اقول : (میں کہتاہوں یہاں نہ تائید ہے نہ ہی مخالفت کیونکہ لفظ “ یصلون “ سے صراحۃ ایجاب ثابت نہیں ہوتا اور جس نے بھی کسی کتاب کے ابواب صفۃ صلوۃ وحج کامطالعہ کیا ہے وہ بہت س)ے الفاظ خبر کا ذخیرہ پائے گا جو ایسی جگہ وارد ہیں جو واجب بلکہ سنت بھی نہیں ہاں زیادہ سے زیادہ مستحب کے درجے میں ہوتے ہیں بحرالرائق میں ہے اور طحطاوی نے حاشیہ در میں کہا ہے جملہ خبریہ کی دلالت وجوب پر اس وقت ہوتی ہے جب وہ شارع علیہ السلام سے صادر ہو اور اگروہ فقہاء کرام سے منقول ہو تو اس جملہ خبریہ بلکہ فقہاء کے امر کی بھی وجوب پردلالۃ نہیں ہوتی جیسا کہ امام محمد سے واقع ہے انہوں نے صفۃ صلوۃ میں فرمایا نمازی بایاں پاؤں بچھائے اور ہاتھ رکھ دے اور اس پر متعدد مثالیں شاہد ہیں ۱ھ اور میں اس بات کامنکر نہیں کہ بہت سے مقامات پرمفید وجوب بھی ہیں جس طرح ہم نے اس کی تفصیل گفتگو “ فصل القضاء فی رسم الافتاء “ میں کی ہے مراد یہاں یہ ہے کہ محتمل کو مفسر پرترجیح حاصل نہیں اور معتمدات کی منقولات کے باوجود اس کے ساتھ اجماع متظافر کو کیسے رد کیاجائے بلکہ ان عبارات کواس پر کیسے محمول کیاجائے جو اجماع کے خلاف ہوں اگرمعاملہ یہی ہے تو ایسی ظاہرالروایۃ
#10848 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ظاہرالروایۃ اقرب الی السھو من الجماعۃ بل لقائل ان یقول لایمکن الحمل ھھنا علی الوجوب اصلا وان قلنا بکراھۃ تکرارالجماعۃ فی مسجد الحی مطلقا وذلك کمانصوا علیہ فی الوجیز والتبیین والھندیۃ وغیرھا وسیاتی شرھا وحاشیۃ ان من فاتتہ فی مسجدہ ندب لہ طلبھا فی مسجد اخرالاالمسجدین المکی والمدنی کما فی القنیۃ ومختصر البحر وبحث فی الغنیۃ الحاق الاقصی وذکر القدوری یجمع باھلہ ویصلی بھم ای وینال ثواب الجماعۃ کما فی الفتح فاذا الجماعۃ معھم لایحتاجون الی التفتیش عنھا فمن ذاالذی حرم علیھم ان یذھبوا الی بعض البیوت مثلا ویجمعوا وینالوا الفضل ۔
فان قلت عاقھم عن الخروج الدخول قلت کلامھم المذکور مطلق فیمن دخل ومن لم یدخل والخروج لادراك الجماعۃ لایمنعہ الدخول الاتری ان مقیم الجماعۃ یخرج تکبیر الجماعۃ الاولی باذنیہ فلان یجوز لھؤلاء الخروج ولاتکبیر ولااولی
کورد کردینا اجماع کے رد سے بہتر ہے کیونکہ اکیلا ظاہرروایت نقل کرنے والے کابھول جانا جماعت کے بھول جانےسے زیادہ قریب ہے بلکہ کوئی قائل یہ کہہ سکتاہے کہ یہاں وجوب پرمحمول کرنا بالکل ممکن ہی نہیں اگرچہ ہم یہ کہیں کہ مسجد محلہ میں تکرارجماعت ہرحال میں مکروہ ہے وہ اس لئے کہ وجیز تبیین ہندیہ وغیرہ میں اس پرتصریح موجود ہے اور عنقریب تفصیلا آئے گا کہ جس نے نماز مسجد میں فوت کردی اس کے لئے دوسری مسجد میں تلاش جماعت مستحب ہے مگردو مساجد حرم مکی اور حرم مدنی میں جیسا کہ قنیہ اور مختصرالبحر میں ہے قنیہ میں مسجد اقصی کو بھی شامل کیاگیا ہے قدوری نے ذکرکیاکہ وہ اپنے گھروالوں کو جمع کرے اور جماعت کرائے یعنی وہ جماعت کاثواب پالے گا۔ فتح میں اس طرح ہے اہل کے ساتھ جماعت اس کی تلاش کی محتاج نہیں رہتے تو ان پر کس نے حرام کیا ہے اس بات کو مثلا وہ گھر کی طرف جائیں اورانہیں جمع کریں اور ثواب جماعت پائیں ۔
فان قلت (اگرکوئی کہے کہ)مسجد میں داخلہ دوسری جگہ جانے کو مانع ہے میں کہتاہوں ان کا مذکورہ کلام مطلق ہے خواہ وہ شخص داخل ہے یاداخل نہیں اور ادراك جماعت کے لئے خروج اس کو دخول سے مانع نہیں کیا آپ نہیں جانتے کہ دوسری جگہ جماعت کامنتظم پہلی جماعت کی تکبیر کے وقت مسجدسے نکل سکتاہے تو ان کے لئے خروج ہرطور جائز ہوگا نہ تکبیر ہے
#10849 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
لاولی وبالجملۃ لامحل ھھنا للایجاب وعلیہ کان یتوقف التائید والخلاف فان قلت فاذلا وجوب فمامنزع الکلام قلت افادۃ جوازالانفراد لھم بلاحظرولاحجر بخلاف مالولم تقم الجماعۃ بعد حیث لایجوز الصلاۃ منفرداالابعذرلما فیہ من تفویت الجماعۃ الواجبۃ علی المعتمد او القریبۃ من الوجوب علی المشہور فاذن کان علی وزان ماقال العینی فی عمدۃ القاری قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ سھا اونام او شغلہ عن الجماعۃ شغل جمع باھلہ فی منزلہ وان صلی وحدہ یجوز ھ وھذا معنی لاغبار علیہ ان شاء اﷲ تعالی وبہ یزول کل اشکال وﷲ الحمد ۔
قولہ وعن ھذا ذکر العلامۃ الشیخ رحمہ اﷲ السندی تلمیذ المحقق ابن الھمام فی رسالتہ ان مایفعلہ اھل الحرمین من الصلاۃ بائمۃ متعددۃ وجماعات مترتبۃ مکروہ اتفاقا الی
اور نہ جماعت اولی الغرض یہاں ایجاب کامحل نہیں اور اسی پرتائید اور خلاف موقوف تھا اگر اے معترض تو یہ کہے کہ جب وجوب ہی نہیں توکلام کامنشاکیاہوگا تومیں اس کاجواب دیتاہوں کہ ان کے لئے بلاخوف وخطر تنہا نمازادا کرنے کا جواز بیان کرنا مقصود ہے بخلاف اس صورت کے جب ابھی جماعت نہ ہوئی ہو کہ اب عذر کے بغیر تنہا نمازجائز نہ ہوگی کیونکہ اب اس جماعت کا فوت کرنا لازم آئے گا جو مختار قول کے مطابق واجب اور مشہور قول کے مطابق قریب واجب ہے اوریہ بات اس طریقہ پرہوگی جو امام عینی نے عمدۃ القاری میں بیان کیاکہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا جب کوئی بھول گیا یاسوگیا یا کسی اہم مصروفیت کی بنا پر جماعت میں شرکت نہ کرسکا تو وہ اپنے گھروالوں کوجمع کرے اورباجماعت نماز اداکرے اور اگر اس نے تنہانماز ادا کرلی تب بھی جائز ہے۱ھ یہ معنی نہایت ہی واضح ہے اس میں کوئی غبارنہیں ان شاء اﷲ تعالی اورا س کے ساتھ ہراشکال بھی زائل ہوجاتاہے قولہ اس بارے میں علامہ شیخ رحمۃ اللہ تعالی علیہ السندی جو شیخ ہمام کے شاگرد ہیں نے اپنے رسالہ میں لکھا کہ اہل حرمین جومتعدد ائمہ اور مترتب جماعات کی صورت میں نماز اداکرتے ہیں یہ بالاتفاق مکروہ ہے اس کے
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح بخاری باب وجوب صلوٰۃ الجماعۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۱۶۲
#10850 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
قولہ واقرہ الرملی فی حاشیۃ البحر
اقول : یاسبحن اﷲ ای مساس لھذابمانحن فیہ فان انکارھم علی التفریق العمدی کماھوالواقع فی الحرمین المکرمین فانھم جزؤا الجماعۃ اجزاء وعینوالکل جزء اماماوالتفریق بالقصدحیث لاباعث علیہ شرعا لایجوز اجماعاوالالماسن اﷲ تعالی صلاۃ الخوف وھذا تستوی فیہ مساجد الاحیاء والقوارع و الجوامع والبراری جمیعاقولا فصلامن دون فصل ثم وقع الخلاف فی الاقتداء بالمخالف علی وجوہ فصلھافی البحر وردالمحتار وغیرھما واتیناعلی لبابہ فی فتاونا فمن لاکراھۃ عندہ اصلا ای اذا لم یعلم ان الامام لایراع مذھب غیرہ بناء علی اعتبارہ رأی المقتدی کماھو الاصح او علم انہ غیرمراع عند من یقول العبرۃ برأی الامام فھذا التفریق عندہ من دون باعث شرعی
اس قول تك ذکر ہے کہ اسے رملی نے حاشیہ بحر میں ثابت رکھا ہے
اقول : (میں کہتاہوں )اے اﷲ! تو پاك ہے اس عبارت کو ہمارے زیربحث مسئلہ کے ساتھ کیاواسطہ ہے ان کی انکاری گفتگو اس تفریق پرہے جو دانستہ ہو جیسا کہ حرمین شریفین میں واقع ہے کیونکہ وہ جماعت کومختلف حصص میں بانٹ کر ہرایك حصہ کے لئے الگ الگ امام مقرر کرتے ہیں اور تفریق قصدی کاشرعا کوئی باعث نہیں اور وہ بالاتفاق جائز نہیں ورنہ اﷲ تعالی صلوۃ فوت کاطریقہ یوں جاری نہ فرماتا اور اس میں تمام مساجد برابرہیں خواہ وہ محلہ کی ہیں یاشوارع یاشہر کی جامع یادیہات وجنگل کی ان میں کوئی تفریق نہیں پھرمخالف مذہب کی اقتدا میں متعدد وجوہ پر اختلاف واقع ہوا ہے اس کی تفصیل بحر ردالمحتار وغیرہ میں موجود ہے ہم نے اس کا خلاصہ اپنے فتاوی میں ذکرکردیاہے اور جس کے نزدیك بالکل کراہت نہیں یعنی جب مقتدی کوعلم نہ ہو کہ امام دوسرے مذہب کی رعایت نہیں کرتا تویہ حکم مقتدی کی رائے کے اعتبار پرمبنی ہے اور یہی صحیح ہے یامقتدی کو معلوم ہو کہ امام رعایت نہیں کرتاتواس صورت میں عدم کراہت کاحکم امام کی رائے کے اعتبار پر مبنی ہے تو (عدم کراہت کے قائل )کے نزدیك ان متفرق جماعتوں کے لئے
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۴۰۹
#10851 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
وھؤلاء ھم الذین حضرواالموسم تلك السنۃ وانکروا ومن حکم بالکراھۃ عند الشك فی المراعات او اعتقدان الافضل الاقتداء بالموافق مھما امکن وان تحققت المراعاۃ فھو عندہ بوجہ شرعی وھم الجمہور وعلیہ العمل فلاانکار علی اھل الحرمین و لیس فی فعلھم خلل ولازلل والعلامۃ السید المحشی ھوالناقل فیما سیاتی عن الملا علی القاری انہ قال لوکان لکل مذھب امام کما فی زماننا فالافضل الاقتداء بالموافق سواء تقدم اوتاخرعلی مااستحسنہ عامۃ المسلمین وعمل بہ جمہور المؤمنین من اھل الحرمین والقدس ومصرو الشام ولاعبرۃ بمن شذ منھم ھ وعلی کل فھذا الکلام من واد اخرلاتعلق لہ بجواز التکرار وعدمہ قولہ لکن یشکل علیہ ان نحوالمسجد المکی والمدنی لیس لہ جماعۃ معلومون فلایصدق علیہ انہ مسجد محلۃ بل ھوکمسجد شارع وقدمرانہ لاکراھۃ فی تکرارالجماعۃ
شرعی جواز نہیں اور یہی عدم کراہت کے قائل لوگ اس سال حاضر ہوئے اورانہوں نے انکار کیا اور وہ شخص جس نے رعایت میں شك کی صورت میں کراہت کاحکم لگایا یاوہ یہ اعتقاد رکھتاہے کہ افضل موافق کی اقتداء ہی ہے جیسے بھی ممکن ہو تو اب اگرچہ رعایت متحقق ہوجائے تو یہ اس کے نزدیك وجہ شرعی کی بناپر ہوگا اور یہی جمہور کی رائے ہے اور اسی پرعمل ہے لہذا اہل حرمین پرکوئی انکارواعتراض نہیں اور نہ ہی ان کے عمل میں کوئی خلل ونقص ہے اور علامہ سیدمحشی نے آگے چل کر ملاعلی قاری سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر ہر مذہب کاامام ہو جیسا کہ ہمارے دورمیں ہے تو اقتدا موافق امام کی افضل ہے خواہ وہ جماعت پہلے ہو یابعد میں اسے عامۃ المسلمین نے مستحسن جانا اور جمہور مسلمان مثلا اہل حرمین قدس مصروشام کاعمل اسی پرہے اور اس کے خلاف رائے رکھنے والے کا کوئی اعتبارنہیں ۱ھ ہرحال میں اس کلام کاتعلق کسی اور معاملے سے ہے اس کا تعلق تکرارجماعت کے جواز اور عدم جواز سے نہیں ۔
قولہ لیکن اس پریہ اشکال ہے کہ مثلا مسجد مکی اور مسجد مدنی جن کی جماعت معین ومعلوم نہیں تو انہیں مسجد محلہ نہیں کہاجاسکتا بلکہ مسجد شارع کی طرح ہوں گی اورپہلے گزرچکاہے کہ مسجد شارع میں بالاتفاق تکرارجماعت میں کراہت نہیں اس
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۷
#10852 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
فیہ اجماعا فلیتامل اقول : انما نشأ الاشکال من حملہ علی مسئلۃ التکرار وقد علمت ان لم یقصدوھا وانما انکرواتعمد التفریق وھو محظور قطعا ولوفی مسجد شارع فالعجب من السید العلامۃ المحقق المحشی یورد علی مسئلۃ التکرار مالاورودلہ علیھا ثم یستشکل ھذا الوارد بمالااشکال بہ اصلا ولکن لکل جواد کبوۃ نسأل اﷲ سبحنہ عفوہ۔
ثم اقول : واشد العجب من العلامۃ الشیخ رحمۃ اﷲ رحمۃ اﷲ تعالی حیث قال الاحتیاط فی عدم الاقتداء بہ “ ای بالمخالف “ ولومرا عیا کما سینقلہ المحشی عنہ ثم قال ھھنا بکراھۃ ترتیب الجماعۃ وادعی الاتفاق علی خلاف ماعلیہ الجمہورولیت شعری اذاکان ھذا مکروھا وفاقا فکیف یعمل بالاحتیاط الذی اعترفتم بہ ایجعل الناس کلھم علی مذھب واحد ام یسکن مقلدوا کل امام فی بلدہ علیحدۃ اویجعل لکل منھم مسجد بحیالہ ویمنع
میں مزید غورکرناچاہئے اقول : (میں کہتاہوں ) یہ اشکال تب ہے جب اس کو مسئلہ تکرارپرمحمول کیاجائے حالانکہ آپ جان چکے وہ ان کے یہاں مقصود نہیں انہوں نے دانستہ تفریق سے انکارکیا ہے اور وہ یقینا ممنوع ہے اگرچہ مسجد شارع ہی کیوں نہ ہو توتعجب ہے علامہ محقق محشی پرکہ انہوں نے اسے مسئلہ تکرار پرمحمول کیا حالانکہ اس کایہ محل نہیں ہے پھر اس حمل پرمبنی ایسااشکال بنالیا جس سے کوئی اشکال پیداہی نہ ہوسکتاتھا لیکن ہرشاہسوار کے لئے ٹھوکرہوتی ہے ہم اﷲ تعالی سے اس پر ان کے لئے معافی کے طلبگار ہیں
ثم اقول : (پھرمیں کہتاہوں ) سب سے زیادہ تعجب علامہ شیخ سندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ پرکہ انہوں نے یہ فرمایاہے “ مخالف کی اقتداء نہ کرنے میں احتیاط ہے اگرچہ وہ رعایت کرتاہو “ جیسا کہ محشی عنقریب اس کو ان سے نقل کرے گا پھریہاں کہا کہ ترتیب جماعت مکروہ ہے اور جمہور کے مؤقف کے خلاف اتفاق کادعوی کیا افسوس صدافسوس اگریہ عمل بالاتفاق مکروہ ہے تو اس احتیاط پرعمل کیسے ہوگا جس کا تم نے خود اعتراف کیاہے کیا تمام لوگ ایك مذہب کے ہوجائیں گے یاہرشہر میں ہرمذہب کے مقلدین الگ الگ آباد ہوں گے یا ہرمذہب کی الگ الگ مسجد بنائی جائے گی اور ان
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۹
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر۱ / ۴۱۷
#10853 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
اھل ثلثۃ مذاھب عن الصلاۃ فی المسجدین الکریمین اوتجعل الجماعۃ لمذھب واحد ویؤمرالباقون بالصلاۃ فرادی
ثم اقول : ویرد مثلہ علی تقریر العلامۃ خیرالملۃ والدین الرملی رحمہ اﷲ تعالی لما مروھوالناقل کماسیأتی حاشیۃ عن العلامۃ الرملی الشافعی انہ مشی علی کراھۃ الاقتداء بالمخالف حیث امکنہ غیرہ وبہ افتی الرملی الکبیر واعتمدہ السبکی والاسنوی وغیرھماقال والحاصل ان عندھم فی ذلك اختلافا وکل ماکان لھم علۃ فی الاقتداء بناصحۃ وفسادا و افضلیۃ کان لنامثلہ علیھم وقدسمعت مااعتمدہ الرملی و افتی بہ والفقیر اقول مثل قولہ فیما یتعلق باقتداء الحنفی بالشافعی والفقیہ المنصف یسلم ذلك
وانا رملی فقہ الحنفی
لامر ابعد اتفاق عالمین ھ
فاذا کان الفقہ والانصاف ھوکراھۃ الاقتداء بالمخالف فکیف ینکر علی مافعلہ اھل الحرمین لاجرم رجع العلامۃ
دومبارك مساجد سے بقیہ تین مذاہب کے لوگوں کو نماز ادا کرنے سے روك دیاجائے گا یا ایك مذہب والوں کی جماعت ہوگی اور دوسرے لوگوں کو تنہا نماز اداکرنے کوکہاجائے گا
ثم اقول : (پھر میں کہتاہوں ) اسی طرح کااعتراض علامہ خیرالملت و الدین رملی رحمۃ اللہ تعالی علیہ پربھی وارد ہوتاہے جیسا کہ گزرا وہی ناقل ہیں جیسا کہ عنقریب آئے گا حاشیہ علامہ رملی شافعی سے ہے کہ جب مخالف کے علاوہ کسی امام کوپانا ممکن ہو تو مخالف کی اقتداء مکروہ ہے اسی پر رملی کبیر نے فتوی دیا سبکی اور اسنوی وغیرہ نے اس پراعتماد کیا ہے کہا الحاصل ان کے ہاں اس بارے میں اختلاف ہے اور ہروہ علت جس کی بنا پر ہماری اقتداء ان کے لئے صحیح فاسد یا افضل ہے ایسا ہی معاملہ ہمارا ان کے ساتھ ہے اور آپ نے وہ سن ہی لیا ہے جس پر رملی نے اعتماد کیا اور فتوی دیا ہے میں فقیر انہی کی مثل کہتاہوں اس مسئلہ میں جہاں حنفی کسی شافعی کی اقتداء کرے انصاف پسند فقیہ اسے تسلیم کرے گا
اور میں فقہ حنفی کا رملی ہوں (رملی شافعی اور رملی حنفی)
دونوں عالموں کے اتفاق کے بعد کوئی جھگڑانہیں ہے۔
پس جب دانش وانصاف کافیصلہ مخالف کی اقتدا کامکروہ ہوناہے تو اہل حرمین کے عمل پر انکار کیسے کیاجاسکتاہے یقینا علامہ خیرالدین رملی نے شرح
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۱۷
#10854 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
نفسہ فی حاشیتہ علی شرح زاد الفقیر للعلامۃ الغزی والمتن للامام ابن الہمام الی موافقۃ الجمہورفقال کمانقلہ فی منحۃ الخالق علی البحرالرائق بقی الکلام فی الافضل ماھو الاقتداء بہ اوالانفراد لم ارمن صرح بہ من علمائناوظاہر کلامھم الثانی والذی یظھرو یحسن عندی الاول لان فی الثانی ترك الجماعۃ حیث لاتحصل الابہ ولولم یکن بان کان ھناك حنفی یقتدی بہ الافضل الاقتداء بہ الخ فقداعترف ان الافضل الاقتداء بالحنفی اذا وجد وان کان الشافعی الذی یؤم صالحا عالما تقیا نقیا یراعی الخلاف کما وصفہ فی تلك الحاشیۃ
زاد الفقیر علامہ غزی جس کا متن امام ابن ہمام کاہے کے حاشیہ میں رجوع کرکے جمہور کے ساتھ موافقت کی اور کہا جیسا کہ اسے منحۃ الخالق علی البحرالرائق میں نقل کیاہے باقی رہا معاملہ اس بات کا کہ مخالف کی اقتدا افضل ہے یاانفراد تو اس بارے میں ہمارے علماء میں سے کسی کی تصریح میری نظر سے نہیں گزری بظاہر ان کی عبارات سے دوسری بات (انفراد کاافضل ہونا) ہی سمجھ آتی ہے اور جومیرے نزدیك واضح واحسن ہے وہ پہلی بات (اقتدائے مخالف) ہے کیونکہ دوسری صورت میں ایسی جگہ ترك جماعت لازم آئے گا جہاں اس کے بغیر جماعت حاصل نہیں ہوتی اور اگرایسی صورت نہ ہو مثلا وہاں کسی حنفی کی اقتداء کی جاسکتی ہے تو اقتدائے حنفی ہی افضل ہوگی الخ تویہاں انہوں نے خود اس بات کااعتراف کرلیا ہے کہ اگرحنفی امام موجود ہو تو اسی کی اقتداء افضل ہے اگرچہ شافعی امام صالح متقی صاحب ورع اور اختلافی صورت میں حنفی مذہب کی رعایت کرنے والا موجود ہوجیسا کہ اسی حاشیہ میں اس کے اوصاف بیان ہوئے ہیں ۔ (ت)
یہ تمام عبارات تعلیقات فقیر علی ردالمحتار کی ہے اور بحمداﷲ تعالی اس سے حق واضح وجلی ہے واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۶
#10855 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مسئلہ ۸۸۳ : ازسنبھل ضلع مرادآباد مرسلہ از سید محمد علی مدرس فارسی مدرسہ جارج مسلم اسکول
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید کہتاہے کہ مسجد کے فرش پرمحراب کے محاذ میں جماعت ہونا افضل ہے خواہ نمازی کم ہو خواہ کسی درخت وغیرہ کے ہونے کی وجہ سے نمازیوں کی طبیعت پربارہو اور دلیل اس کی یہ ہے کہ شامی کے اندر یہ مضمون ظاہرکرتاہے کہ محراب میں امام کاکھڑاہونا افضل ہے اسی پرقیاس کرلیاجائے عمریہ کہتاہے کہ تمام فرش مسجد کا ایك حکم میں ہے کسی جگہ کے واسطے فضیلت نہیں ہوسکتی اگر اس قدرنمازی ہوں کہ محراب سے راست وچپ میں جماعت ممکن ہو اور نمازیوں کوبھی وہاں آسائش ہو تو ضرور جماعت کرلی جائے دوسرے یہ کہ ائمہ مجتہدین کے قیاسات کااختتام ہوگیا علمائے حال کاقیاس کیاہوسکتاہے جبکہ علمائے حال کی یہ کیفیت ہے کہ لفظ کے لغوی معنی غلطی سے کچھ سے کچھ خیال کرتے ہیں لہذا مکلف خدمت ہوں کہ جواب مع دلیل تحریر فرمائیں مکرر یہ کہ زیدمحراب کے محاذ میں جماعت ہونے کی فضیلت میں کوئی قول منقول پیش نہیں کرتا محض قیاس سے کام لیناچاہتاہے عمرقیاس کو رد کرکے منقول دلیل مانگتاہے۔
الجواب :
فی الواقع سنت متوارثہ یہی ہے کہ امام وسط مسجد میں کھڑا ہو اور صف اس طرح ہو کہ امام وسط صف میں رہے محراب کانشان اسی غرض کے لئے وسط مسجد میں بنایاجاتاہے اور اس میں ایك حکمت یہ بھی ہے کہ اگرامام ایك کنارے کی طرف جھکا ہواکھڑا ہو تو اگرجماعت زائد ہے فی الحال امام وسط صف میں نہ ہوگا اور ارشاد حدیث توسطوا الامام(امام کو درمیان میں کھڑا کرو۔ ت) کاخلاف ہوگا اور اگر ابھی جماعت قلیل ہے توآئندہ ایسا ہونے کااندیشہ ہے لاجرم خود امام مذہب سیدامام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کانص ہے کہ گوشہ میں کھڑا ہونا مکروہ ہے کنارہ مسجد میں کھڑاہونا مکروہ ہے کہ حدیث کاارشاد ہے امام کو وسط میں رکھو یہ طاق جسے اب عرف میں محراب کہتے ہیں حادث ہے زمانہ اقدس وزمانہ خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین میں نہ تھا محراب حقیقی وہی صدرمقام اس کا مسجد میں قریب حدقبلہ ہے یہ محراب صوری اس کی علامت ہے جس مسجد کے دوحصے ہوں ایك مسقف دوسراصحن جیسا کہ اب اکثرمساجد یوں ہی ہیں وہ دومسجدیں ہیں مسقف مسجد شتوی ہے یعنی جاڑوں کی مسجد اور صحن مسجد صیفی یعنی گرمیوں کی مسجد ہرمسجد کے لئے وہ محراب حقیقی موجود ہے اگرچہ محراب صوری صرف مسجد شتوی میں ہوتی ہے اعتبار اسی محراب حقیقی کاہے یہاں تك کہ اگرمحراب صوری وسط میں نہ ہو یاجانب مسجد بنادینے سے اب وسط میں نہ رہے توامام اس میں نہ کھڑا ہو بلکہ محراب حقیقی میں کہ وسط مسجد ہے اور جب یہ حکم عام ہے جملہ مساجد کوشامل اور صحن مسجد بھی ایك مسجد ہے تووہ بھی یقینا اس حکم منصوص میں خود داخل ہے نہ کہ یہاں کسی قیاس کی حاجت ہے صحن مسجد میں جوجگہ
#10856 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
قریب حد قبلہ وسط میں ہے وہ خود محراب حقیقی ہے خواہ محراب صوری کے محاذی ہو یانہ ہو یاسرے سے اس مسجد میں محراب صوری نہ بنی ہو اس محراب حقیقی میں امام کاکھڑاہونا سنت ہے بشرط جماعت اولی لیکن جماعت ثانیہ کے لئے اسی مقام سے دہنے یابائیں ہٹ کرامامت کرنا نافی کراہت ہے معراج الدرایہ شرح ہدایہ میں ہے :
فی مبسوط بکر السنۃ ان یقوم فی المحراب لیعتدل الطرفان ولوقام فی احدجانبی الصف یکرہ ولوکان المسجد الصیفی بجنب الشتوی وامتلأ المسجد یقوم الامام فی جانب الحائط لیستوی القوم من جانبیہ والاصح ماروی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ قال اکرہ ان یقوم بین الساریتین اوفی زاویۃ اوفی ناحیۃ المسجد او الی ساریۃ لانہ خلاف عمل الامۃ قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم توسطوا الامام وسدوالخلل ۔
مبسوط بکرمیں ہے امام کا محراب میں کھڑا ہونا سنت ہے تاکہ دونوں اطراف میں اعتدال ہو اگر وہ صف کی کسی جانب کھڑا ہوا تو یہ مکروہ ہوگا اگرمسجد صیفی جانب شتوی میں ہو اور مسجد بھرجائے توامام دیوار کی طرف کھڑا ہوتا کہ قوم دونوں اطراف میں برابر ہوجائے اصح طور پر امام ا بوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا میں امام کے دوستونوں کے درمیان یاگوشہ مسجد یاکنارہ مسجد یاستون کی طرف کھڑے ہونے کو مکروہ جانتا ہوں کیونکہ یہ عمل امت کے مخالف ہے حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاارشاد گرامی ہے : امام کودرمیان میں کھڑاکرو اور صفوں کے خلا کو پرکرو۔ (ت)
اسی میں ہے :
المحاریب مانصبت الا اوسط المساجد و ھی قدعینت لمقام الامام ۔
محراب نہیں بنائے جاتے مگر درمیان مسجد میں اور وہ مقام امام کومتعین کرتے ہیں ۔ (ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۸۴ : ازکان پور نئی سڑك مسئولہ حاجی فہیم بخش صاحب عرف چھٹن ۱۳صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین زید اور عمرو کے بارے میں دونوں حنفیت کادعوی کرتے ہیں اور ترجمہ حدیث یزید بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ کاجوباب من صلی الصلاۃ مرتین (جس نے نماز دوبارپڑھی۔ ت)
حوالہ / References ردالمحتاربحوالہ معراج الدرایۃ باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰
ردالمحتاربحوالہ معراج الدرایۃ باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰
#10857 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
میں ہے حسب ذیل کرتے ہیں زید آخری حصہ حدیث :
اذا جئت الصلوۃ فوجدت الناس فصل معھم وان کنت قدصلیت کن لك نافلۃ وھذہ مکتوبۃ ۔
جب تو نماز کے لئے آیا تو لوگوں کو نماز اداکرتے پایا تو ان کے ساتھ نماز میں شامل ہوجا اگر تونماز پڑھ چکا تو وہ نفلی ہوگی اور یہ فرضی ہوگی۔ (ت)
کا ترجمہ یہ کرتاہے کہ پہلی نماز جو گھر میں پڑھی گئی ہو نفل ہوگی اور جوجماعت کے ساتھ پڑھی جائے وہ فرض ہوجائے گی دلیل یہ ہے : وان کانت قدصلیت تکن لك نافلۃ میں آیاکرتاہے اس کے بعد مستقل جملہ اور کلام مستانف ہواکرتاہے یہاں ایسا نہیں عمرو کہتاہے کہ زیدکا یہ ترجمہ مذہب حنفی کے موافق نہیں بلکہ مخالف ہے عمرو آخری حصہ حدیث مندرجہ بالا کاترجمہ یوں کرتاہے کہ گھروالی نماز جوپہلے پڑھی ہے وہ فرض ہوگی اور جو بعد میں جماعت سے پڑھی ہے وہ نفل ہوگی اس وجہ سے کہ ان وصلیہ ہے دلیل یہ ہے کہ وان کنت قدصلیت میں اول واؤ داخل ہے دوسرے کنت موجود ہے جوماضی کے لئے مخصوص ہے اور قد تحقیق ماضی کے لئے نیز ھذہ اسم اشارہ قریب ذکری کے لئے ہے پس قدصلیت سے جوصلوۃ مدلول ہے وہ مشار الیہ ہے اور یہ پہلی ہی ہوگی وہ فرض ہوگی اور جوصلوۃ فصل معھم سے مدلول وہ بعیدذکرا ہے وہ مشار الیہ نہیں اگرخود کنت ماضی کو شرط بنایاجائے تو تکن جزاء مرتب کون مخاطب پرنہیں ہے نیز فصل معھم امربھی جواب کوچاہتاہے اور شرط بھی جزا کو علی سبیل التسلیم تب بھی تکن لك نافلۃ جواب امر کا ہے جزا نہیں بوجہ مقدم ہونے امر کے جیسے جملہ قسمیہ جب مقدم ہو شرط پرتوجزا نہیں ہوتی بلکہ جواب قسم سے استغنا ہوجاتاہے ان دونوں قائلوں میں کون ساقائل راستی پر ہے نیز اوپربیان کی ہوئی دلیلیں قابل قبول ہیں یانہیں زید و عمرو کی دلیلوں میں سے کس کی دلیلیں زیادہ صحت کے ساتھ مانی جاسکتی ہیں اور قبول کی جاسکتی ہیں دیگرجونماز رکوع وسجود والی علاوہ مجرد عصرومغرب جماعت سے پڑھی یاپڑھائی ہو عام ہے کہ نماز عید وجمعہ ہی کیوں نہ ہو دوبارہ جماعت ملنے پرنفلا تکرارنماز کرسکتاہے یانہیں اگراوپر بیان کی ہوئی حدیث سے تکرار نماز پر اس طور سے کہ پہلے پڑھی ہوئی نماز فرض یاواجب اقتدا یاامامت کرکے دوسری جماعت دوسرے روز ملنے پرتکرار نماز کرسکتاہے اور وہ نفل ہوگی استدلال لایاجائے تو صحیح ہے یانہیں بینوا توجروا رحمکم اﷲ تعالی۔
الجواب :
زید کا قول غلط اور دلیل باطل
اولا : ان وصلیہ کاآخر کلام ہی میں آنا اور اس کے بعد جملہ اور وہ بھی کلام مستانف ہی ہونا
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب من صلی فی منزلہ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۵
#10858 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
سب باطل وبے اصل ہے وہ کلام واحد کے وسط اجزا میں آتاہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔
قولہ تعالی و ما اكثر الناس و لو حرصت بمؤمنین(۱۰۳) ۔
اﷲتعالی کا ارشاد ہے اگرچہ آپ (ایمان پر) حریص ہیں مگر اکثرلوگ ایمان نہ لائیں گے۔ (ت)
رضی میں ہے :
قد تدخل الواو علی ان المدلول علی جوابھابما تقدم ولاتدخل الاذاکان ضدالشرط اولی بذلك المقدم والظاھر ان الواو فی مثلہ اعتراضیۃ ونعنی بالجملۃ الاعتراضیۃ مایتوسط بین اجزاء الکلام متعلقا بمعنی مستانفا لفظا کقولہ ع : تری کل من فیھا وحاشاك فانیاکقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم “ انا سید ولد ادم ولافخر “ فتقول فی الاول زید وان کان غنیا بخیل وفی الثانی زید بخیل وان کان غنیا والاعتراضیۃ تفصل بین ای جزئین من الکلام کانا بلاتفصیل اذا لم یکن احدھما حرفا ھ مختصرا
کبھی واؤ اس لئے آتاہے کہ اس جواب کا مدلول سابقہ ہے یہ وہیں ہوگا جہاں ضد شرط اس مقدم کے زیادہ مناسب ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایسے مقام پر واؤ اعتراضی ہوتی ہے او رجملہ معترضہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اجزائے کلام کے درمیان ایسے کلمات آجائیں جومعنی ومفہوم کے اعتبار سے اس سے متعلق ہوں اور لفظا اس سے جدا ہوں جیسے شاعر کا یہ مصرعہ ہے : وہ دنیا میں ہرچیز کوفانی جانتاہے اور تومحفوظ رہے۔
بعض اوقات تمام کلام کے بعد واؤ آتی ہے مثلا حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاارشاد گرامی ہے : میں اولاد آدم کاسردار ہوں مگرفخرنہیں پہلے کی مثال “ زید بخیل وان کان غنیا “ ہے جملہ معترضہ بلاتفصیل کسی بھی کلام کے دوجزوں میں فصل پیدا کرتاہے بشرطیکہ دونوں میں سے کوئی جز حرف نہ ہو ۱ھ مختصرا (ت)
حوالہ / References القرآن ۱۲ / ۱۰۳
شرح رضی مع الکافیۃ ، بیان المضارع مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۵۸ ، ۲۵۷
#10859 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
لاجرمصحیحین میں ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
مامن عبد قال لاالہ الا اﷲ ثم مات علی ذلك الادخل الجنۃ وان زنی وان سرق وان زنی وان سرق وان زنی و ان سرق علی رغم انف ابی ذر ۔
جس بندے نے بھی لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کہا پھر اسی پرفوت ہوا وہ جنت میں داخل ہوگا اگرچہ اس نے زنا وچوری کی ہو اگرچہ اس نے زنا وچوری کی اگرچہ اس نے زناوچوری کی ابوذر کی ناك خاك آلود ہو۔ (ت)
ثانیا حدیث کی بہتر تفسیر حدیث ہے امام مالك و احمد و نسائی نے محجن بن اورع دیلمی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
اذا جئت المسجد وکنت قدصلیت فاقیمت الصلاۃ فصل مع الناس و ان کنت قد صلیت ۔
جب تو مسجد میں آئے اور نماز پڑھ چکاتھا اور جماعت کھڑی ہوئی تو تو لوگوں کے ساتھ نمازپڑھ اگرچہ تو نماز پڑھ چکاتھا۔ (ت)
یہاں یقینا وصلیہ ہے مرقاۃ میں ہے :
(فصل) ای نافلۃ لاقضاء ولااعادۃ (مع الناس وان) وصلیۃ ای ولو (کنت قدصلیت ۔
(تونماز پڑھ) یعنی نفل نماز نہ قضاء اور نہ اعادہ (لوگوں کے ساتھ اگرچہ) “ ان “ وصلیہ ہے یعنی اگرچہ (تونماز پڑھ چکا تھا)۔ (ت)
ثالثا : صرف “ ان “ کاوصلیہ یاشرطیہ ہونا یہاں احد المعنیین کی تعیین نہیں کرتا تو اس میں بحث فضول اور اس سے استناد نا مقبول مدارضمیر تکن کے مرجع اور ھذہ کے مشارالیہ پر ہے اگرضمیر ثانیہ کے لئے ہے اور اشارہ اولی کی طرف کہ وہی اقرب ذکرا ہے کما قالہ عمرو(جیسا کہ عمرو نے کہا۔ ت) تو اولی فرض اور ثانیہ نفل ہوگی اگرچہ “ ان “ شرطیہ ہو اور عکس ہے توعکس اگرچہ “ ان “ وصلیہ ہو وھذا ظاھر
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب اللباس باب الثیاب البیض مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۶۷
مؤطا امام مالك اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۱۵ ، مسند احمد بن حنبل حدیث محجن الدیلمی مطبوعہ دارالفکربیروت ۴ / ۳۴ ، سنن النسائی اعادۃ الصلوٰۃ مع الجماعۃ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۹
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثالث من باب من صلی صلوٰۃ مرتین مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۱۰۶
#10860 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
جدا(اور یہ بہت واضح ہے۔ ت) ۔ اشعہ اللمعات میں ہے :
(وان کنت قدصلیت) و اگرچہ ہستی تو کہ بتحقیق نماز گزارد (تکن لك نافلۃ) باشد نمازیکہ دوم بارمیکنی بامردم نفل مرترا (وھذہ مکتوبۃ) وباشد ایں نماز کہ نخست گزاردہ فرض وایں معنی موافق است بظاہر احادیث کہ دلالت داردبربودن نمازدوم نفل ازجہت سقوط ذمہ بادائے اولی ۔
(وان کنت قدصلیت) اگرچہ تونے نماز اداکرلی ہو(تکن لك نافلۃ) دوسری دفعہ لوگوں کے ساتھ جو تونے نماز پڑھی وہ تیری نفل نماز ہوگی (وھذہ مکتوبۃ) اور جوتونے پہلے پڑھی وہ فرض نماز ہوگی اور یہ معنی ومفہوم ان ظاہر احادیث کے موافق ہے جو اس بات پر دال ہے کہ دوسری نماز نفل ہوگی کیونکہ فرضی نماز پہلی نماز اداکرنے سے ساقط ہوگئی ۔ (ت)
پھر طیبی شافعی سے دوسرے معنی نقل کئے دیکھو ان شرطیہ لیا اور نماز دوم کو نافلہ قراردیا مرقاۃ میں ہے :
(فصل معھم وان کنت قدصلیت) لیحصل لك ثواب الجماعۃ وزیادۃ النافلۃ (تکن) ای صلاتك الاولی (لك نافلۃ وھذہ) ای التی صلیتھا الان قیل ویحتمل العکس (مکتوبۃ )
(لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ اگرچہ تونماز پڑھ چکا ہو) تاکہ تجھے جماعت کاثواب اور نوافل میں اضافہ حاصل ہوجائے یعنی تیری پہلی نماز(تیرے لئے نفل اور یہ) یعنی وہ نماز جوتونے ابھی پڑھی بعض محدثین نے فرمایا کہ معاملہ میں اس کے عکس کا احتمال ہے(تیرے لئے فرض)۔ (ت)
شرح میں وان کنت قدصلیت کے بعد لیحصل لك الخ لانے سے ظاہر ہے کہ ان وصلہ لیا ورنہ شرط وجزا کے بیچ میں اس کے لانے کاکوئی محل نہ تھا فصل معھم کے بعدلکھتے اور نماز دوم کو فریضہ بتایا ۔
اقول : ولایبعد ان یکون القدح فی ذھنہ اولاماھو الاوفق بالاحادیث و الالصق بالقواعد فجعل ان وصلیۃ ویؤیدہ
اقول : ممکن ہے ان کے ذہن میں پہلے ہی وہ کھٹکا موجود ہو جو احادیث وقواعد کے موافق ہے تو انہوں نے ان کو وصلیہ بنایا اس کی تائید ان کا
حوالہ / References اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ الفصل الثالث من باب من صلی صلوٰۃ مرتین مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۹۵
مرقاہ شرح مشکوٰۃ الفصل الثالث من باب من صلی صلوٰۃ مرتین مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۱۰۷۹
#10861 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
قولہ وزیادۃ النافلۃ وان امکن تاویلہ بان المراد بالنافلۃ ھی الاولی وترتبھا علی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فصل معھم مع وقوعھا سابقا باعتبار وصف نافلیۃ فانہ انما یظھر بصلاتہ معھم فافھم ثم اذا اتی علی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تکن حاد النظر الی حاشیۃ الطیبی فنقل مافیھا واﷲ تعالی اعلم۔
قول “ وزیادۃ النافلۃ “ کررہاہے اگرچہ اس کی تاویل یوں بھی ممکن ہے کہ نافلہ سے مراد پہلی نماز ہے انہوں نے حضور علیہ السلام کے ارشاد گرامی فصل معھم(ان کے ساتھ نمازپڑھ) پر اسے مرتب کیا ہو اگرچہ اس کا وقوع باعتبار وصف نفل کے سابق ہے کیونکہ اس نفل نماز کا ظہورجماعت کے ساتھ ہوگا اسے یادرکھو پھر جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشاد گرامی تکن پرآئے تو نظر حاشیہ طیبی کی طرف گئی جو کچھ وہاں تھا اسے نقل کردیا واﷲ تعالی اعلم(ت)
عمرو کا قول صحیح اور دلائل زائل اولا ہم بیان کرچکے کہ ان کا وصلیہ ہونا کچھ مفید نہ شرطیہ ہونا مضر۔
ثانیا دخول واؤ وصلیہ ہونے پر کیا دلیل شرطیہ پربھی عاطفہ آتاہے۔
ثالثا کنت اور قد بھی منافی شرطیہ نہیں قد کا دخول خود فعل شرط پرممنوع ہے فعلی ھذا لاتقول ان قد فعلت وان قد تفعل ۱ھ “ رضی “ یہاں فعل شرط کنت ہے جسے ابقائے معنی ماضی ہی کے لئے شرط کرتے ہیں
کقولہ تعالی عن عبدہ عیسی علیہ الصلاۃ والسلام ان كنت قلته فقد علمته-
وقولہ تعالی عن شاھد یوسف علیہ الصلاۃ والسلام و ان كان قمیصه قد من دبر ۔
جس طرح اﷲتعالی نے اپنے بندے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کایہ قول ذکر کیا “ اگر میں نے یہ کہا تو تو جانتا ہے “ اﷲ تعالی نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے گواہ کے حوالے سے فرمایا اگر ان کاقمیص پیچھے سے پھٹا ہے (ت)
یعنی وہ فعل ماضی جسے شرط کرنا اور معنی ماضی پرباقی رکھنا منظور ہو اگر اس پر ان داخل کرتے مستقبل کردیتا
حوالہ / References شرح رضی مع الکافیہ بیان المضارع مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۶۲
القرآن ۵ / ۱۱۶
القرآن ۱۲ / ۲۷
#10862 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
لہذا اسے خبر کان اور کان کو شرط کرتے ہیں اب وہ فعل اپنے معنی ماضی پرباقی رہتاہے رضی میں ہے :
اعلم ان یکون شرطھا فی الاغلب مستقبل المعنی فان اردت معنی الماضی جعلت الشرط لفظ کان کقولہ تعالی ان کنت قلتہ وان کان قمیصہ وانمااختص ذلك بکان لان الفائدۃ التی تستفاد منہ فی الکلام الذی ھو فیہ الزمن الماضی فقط ومع النص علی المضی لایمکن استفادہ الاستقبال ۔
پھر جان لے کہ (ان) کے لئے اغلب طور پر یہ شرط ہے کہ وہ معنی کے اعتبار سے مستقبل پردلالت کرتاہے اگرتو معنی ماضی کاارادہ کرے تو تو لفظ کان کو شرط کردے جیسے فرمان الہی ہے “ ان کنت قلتہ وان کان قمیصہ “ اسے کان سے اس لئے مختص کیا ہے کہ وہ فائدہ جو اس میں مقصود ہے وہ فقط ماضی والی کلام سے حاصل ہے اور ماضی پرنص کے باوجود استقبال کااستفادہ ممکن نہیں رہتا۔ (ت)
اور جب وہ فعل معنی ماضی پربحالہ ہے تو ماضی کے لئے قد کاآنا کیامحال ہے۔
رابعا : نماز اول اگر قریب ذکرا ہے دوم قریب وقوعا ہے اور شك نہیں کہ جدید متاخرالوقوع قدیم متاخر الذکر سے اقرب ہے۔
خامسا : ضمیر بھی مرجع قریب چاہتی ہے تکن سے قدصلیت متصل ہے تو ضمیر بھی مرجع قریب چاہتی ہے تکن سے قدصلیت متصل ہے تو ضمیر سابقہ کی طرف اور اس کا تقاضا اقتضائے ھذہ سے پہلے ہولیا۔
سادسا : شرط بلاشبہہ کنت ہے مگرمعنی سببیت کہ شرط میں نفس فعل شرط میں نہیں ہوتے بلکہ مع جمیع متعلقات ان تلوتم یس فی بیتی عند رأسی ثلاث لیال مستقبلی القبلۃ متؤضیین فانتم احرار(اگر تم میرے گھر میں میرے سر کے قریب تین راتیں باوضو قبلہ رو ہوکر یس پڑھو تو تم آزاد ہو۔ ت) ان ساتوں قیود کے جمع ہونے سے آزاد ہوں گے مجردتلاوت سے نہیں ہوتے خصوصا کان جس کی دلالت حدث مطلق وزمانہ ماضی کے سوا کسی چیز پر نہیں کما قدمنا انفا عن الرضی (جیسا کہ ہم نے رضی کے حوالے سے ابھی ذکر کیا۔ ت) تو سبب کون مخاطب نہیں بلکہ کونہ قدصلی یعنی تقدم ایقاع صلاۃ کہ اس کا نافلہ ہونا اس کے وقوع پرموقوف۔
سابعا : امر کے لئے جواب لاسکتے ہیں نہ یہ کہ امرطالب جواب ہے بخلاف قسم تونامستدعی جواب کا
حوالہ / References شرح رضی مع الکافیہ بیان المضارع مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ / ۲۶۴
#10863 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
تقدم شرط مستدعی جزا کے اقتضا پرمرجح نہیں ہوسکتا۔
ثامنا : اگرتکن جواب امرہی ہو تو یہ بھی تعیین احد المعنیین سے عاری ہے جزائے ان کنت نہ سہی اس سے پہلے قد صلیت کلام میں توواقع ہے رجوع ضمیر کو اتنا ہی درکا ہے۔
بالجملہ دلائل طرفین کچھ نہیں ہمیں اس تمام بیان کی حاجت نہ تھی اگرسوال میں نہ ہوتا کہ کس کی دلیلیں قبول کی جاسکتی ہیں اور طریق صحیح یہ ہے کہ
اولا : کلام اس میں ہے کہ پہلے فرض بہ نیت فرض وقت میں باستجماع شرائط اداکرچکا ہو ورنہ بداہۃ پہلی نماز نماز ہی نہ تھی یاکوئی نفل تھی اگردوسری میں شامل نہ ہوتا جب بھی وہ نفل یا باطل ہی رہتی اور جب صورت یہ ہے تو قطعا اس وقت پڑھنے سے فرض ذمہ سے ساقط ہوگیا اب نہ وہ وقت میں عود کرسکتا ہے نہ وقت میں دو فرض ہوسکتے ہیں تو یقینا یہ دوسری نہ ہوگی مگرنفل ۔ ہاں اس کافائدہ یہ ہوگا کہ برکت وثواب جماعت میں حصہ ملے گا۔
کما فی حدیث مالك وابی داؤد عن ابی ایوب الانصاری رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فذلك لہ سھم جمع ۔
جیسا کہ امام مالك اور ابوداؤد نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : یہ اس کے لئے جماعت کے ثواب کا حصہ ہے(ت)
واقول ثانیا : اگرثانی فرض ہو تو طلب جماعت فرض ہو حالانکہ اس حکم کو حدیث نے مصلی کے آنے پر محمول فرمایاہے کہ
اذا جئت الی الصلاۃ فوجدت الناس فصل معھم وان کنت قدصلیت ۔
جب تونماز کے لئے اور لوگوں کو نماز میں پائے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ اگرچہ تو نماز پڑھ چکا ہو(ت)
یہ نہیں فرمایا :
اذا صلیت فی رحلك افترض علیك ان تأتی الجماعۃ فتصلی معھم۔
جب تونے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تو تجھ پر فرض ہے کہ تو جماعت کی طرف آئے اور ان کے ساتھ نماز ادا کرے۔ (ت)
حوالہ / References سنن ابی داؤد باب من صلی فی منزلہ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۵ ، مؤطا الامام مال اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۱۶
سنن ابوداؤد باب من صلی فی منزلہ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۵
#10864 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ابوداؤد و ترمذی و نسائی کی حدیث میں یزید بن الاسود رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
اذا صلیتما رحالکما ثم اتیتما مسجد جماعۃ فصلیا معھم فانھا لکما نافلۃ ۔
جب تم دونوں اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کرچکو پھر تم مسجد کی طرف آؤتو لوگوں کے ساتھ بھی نماز پڑھو کہ (جماعت والی نماز) تمہارے لئے نفل ہوگی(ت)
بلکہ حدیث میں تخییر کی تصریح ہے کہ جی میں آئے توشامل ہوجاؤ سنن ابی داؤد میں عبادہ ابن صامت انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال سیکون علیکم بعدی امراء تشتغلھم اشیاء عن الصلوۃ لوقتھا حتی یذھب وقتھا فصلوا الصلوۃ لوقتھا فقال رجل یارسول اﷲ اصلی معھم قال نعم ان شئت ۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا عنقریب میرے بعد تم پر ایسے امراء آئیں گے جنہیں بعض اشیاء کی مشغولیت نماز بروقت سے غافل رکھے گی یہاں تك کہ وقت چلاجائے گا تو تم نماز بروقت اداکرو ایك آدمی نے عرض کیا : یارسول اﷲ ! میں ان کے ساتھ نماز پڑھوں فرمایا : ہاں اگر تو چاہے تو پڑھ۔ (ت)
فرض میں اختیار کیسا!
اقول : والمراد بالوقت المستحب ای یؤخرون الی وقت الکراھۃ اذھو المعھود من اولئك الامراء لا ان یصلوا العصر جماعۃ بعد الغروب والعشاء بعد الطلوع۔
میں کہتاہوں یہاں وقت سے مراد وقت مستحب ہے یعنی وہ مکروہ وقت تك نماز کو مؤخر کریں گے یہی بات ان امرا سے معروف ہے یہ نہیں کہ وہ نما ز عصر کی جماعت غروب کے بعد اور نماز عشاء کی جماعت طلوع کے بعد کریں گے(ت)
حوالہ / References سنن النسائی اعادۃ الفجر مع الجماعۃ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۹ ، جامع الترمذی باب ماجاء فی الرجل یصلی وحدہ الخ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۳۰
سنن ابوداؤد باب اذا اخرالامام الصلوٰۃ عن الوقت مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۶۲
#10865 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
وثالثا : دارقطنی بسند صحیح عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
اذا صلیت فی اھلك ثم ادرکت فصلہا الا الفجر والمغرب ۔
جب تونے اپنے اہل میں نماز ادا کرلی پھر تو نے جماعت کوپالیا تو اسے دوبارہ پڑھ سوائے فجر و مغرب کے۔ (ت)
فجرومغرب کا استثناء اسی بناء پر ہوسکتاہے کہ یہ دوسری نفل ہو کہ نہ فجر میں تنفل ہے نہ نفل میں ایتار اگر یہ فرض ہوتی تو فجر و مغرب میں ادائے فرض سے کون مانع ہے۔
ورابعا : حدیث بتارہی ہے کہ ان میں ایك کانفل ہونا اس کے شریك جماعت ہونے پرمرتب ہے “ تکن “ اگرجواب امر ہے جب توظاہر اور جزائے ان کنت قدصلیت ہے جب بھی مطلب یہی ہے یہ ہرگز مراد نہیں کہ جس وقت فرض پہلے پڑھے تھے اسی وقت وہ نفل ہوئے تھے چاہے بعد کو جماعت ملتی یا نہیں شریك ہوتا یانہیں اور جب ترتب نفلیت شرکت پر ہے اب اگر اس ایك سے نماز دوم مراد لو تو بے تکلف مستقیم ہے کہ یہ نفل اسے شرکت ہی سے ملیں گے اور اگر اول مراد لو تو معنی یہ ہوں گے کہ اب تك اس سے فرض اداہوئے تھے اس جماعت کی شرکت ان فرضوں کونفل کی طرف منقلب کردے گی اور یہ کہ حتما مطلوب نہ تھی فرض واقع ہوگی ان دونوں باتوں کے لئے شرع میں نظیرنہیں ۔
وخامسا : مسند احمدوصحیح مسلم میں ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کیف اذاکانت علیك امراء یمیتون الصلاۃ اوقال یوخرون الصلاۃ عن وقتھا قال قلت فما تأمرنی قال صل الصلوۃ لوقتھا فانھا لك نافلۃ ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اس وقت تمہارا حال کیاہوگا جب تم پر ایسے امراء مسلط ہوں گے جو نماز کو فوت کریں گے یافرمایا : وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے۔ کہا میں نے عرض کیا : حضور! آپ کا میرے لئے کیا حکم ہے فرمایا : تم نماز اپنے وقت پرپڑھو پھر اگر ان کے ساتھ جماعت پالے تو نماز پڑھ لے کہ یہ تیرے لئے نفل ہوجائے گی(ت)
حوالہ / References المصنف لعبد الرزاق باب الرجل یصلی فی بیتہ ثم یدرك الجماعۃ حدیث ۳۹۳۹ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۴۲۲ ، کنزالعمال اعادۃ الصلوٰۃ حدیث ۲۲۸۳۲ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۸ / ۲۶۲
صحیح مسلم باب کراہۃ تاخیر الصلوٰۃ عن وقتہا الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطا بع کراچی ۱ / ۲۳۰
#10866 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
اس میں ضمیر انھا صاف نماز ثانی کی طرف راجع ہے اولی کی طرف ارجاع بعد عن الفہم ہونے کے علاوہ ارشاد اقدس صل الصلوۃ لوقتھا (نماز کو اس کے وقت پرپڑھو۔ ت) کے منافی ہے کہ پہلی کو اس کے وقت میں پڑھ کہ اوقات فرائض کے لئے ہیں نہ کہ نفل کے واسطے۔
وسادسا : حدیث مذکور عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مسند احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ میں یوں ہے کہ فرمایا واجعلوا صلا تکم معھم تطوعا (تم اپنی نماز کو ان کے ساتھ نفل بنالو۔ ت) اس میں صاف تصریح ہے کہ یہ دوسری نفل ہوگی۔
سابعا : اگریہی ماناجائے کہ نافلہ پہلی اور مکتوبہ دوسری کو فرمایا تو فقیر کے ذہن میں یہاں ایك نکتہ بدیعہ ہے ظاہر ہے کہ نماز تنہا ناقص اور جماعت میں کامل ہے جس نے فرض اکیلے پڑھ لئے پھرنادم ہوکر جماعت میں ملاتو قضیہ اصل وحکم عدل یہ ہے کہ اس کے فرض ناقص اور نفل کامل ہوئے مگر اس کی ندامت اور جماعت کی برکت نے یہ کیا کہ سرکار فضل نے اس کامل کو اس کی فہرست فرائض میں داخل فرمالیا اور ناقص کونفل کی طرف پھیردیا تو یہ نفل کامل فرض لکھے گئے اور وہ فرض ناقص نفل میں محسوب ہوئے کہ کمال فرض کا جمال فضل پائے اور یہ اس کی رحمت سے بعید نہیں جوفرماتاہے :
فاولىك یبدل الله سیاتهم حسنت-
اﷲتعالی لوگوں کے گناہوں کونیکیوں کے ساتھ بدل دیتاہے (ت)
جب اس کا کرم گناہوں کونیکیوں سے بدل لیتاہے نفل کو فرض میں گن لینا کیادشوار ہے۔ اب حاصل یہ رہا کہ ہے تو پہلی ہی فرض اور دوسری نفل مگررحمت الہی اس نفل کو فرض میں شمار فرمائے گی اسی طرف مشیر ہے عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا کاارشاد جب ان سے پوچھا گیا میں ان دونوں میں کس کو اپنی نماز یعنی فرض تصور کروں فرمایا :
وذلك الیك انما ذلك الی اﷲ عزوجل یجعل ایتھما شاء ۔ رواہ الامام مالك ھذا ماعندی العلم بالحق
یہ کیا تیرے ہاتھ ہے یہ تو اﷲکے اختیار میں ہے ان میں جسے چاہے (فرض) شمار فرمائے گا۔ اسے امام مالك نے روایت کیا یہ میری تحقیق ہے
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث ابی ابن امرأۃ عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۷
القرآن ۲۵ / ۷۰
مسند احمد بن حنبل حدیث ابی ابن امرأۃ عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۷
#10867 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
عند ربی۔ حق کا علم میرے رب کے ہاں ہے(ت)
ظہروجمعہ وعشا نفلا دوبارہ پڑھ سکتاہے نماز عید کے ساتھ تنفل شرع سے ثابت نہیں ۔ حدیث دوسرے روز ملنے پرکسی طرح دلیل نہیں کہ وہ اس صورت میں ہے کہ یہ نماز تنہا پڑھ چکا اب اس کی جماعت قائم ہوئی حدیث محجن رضی اللہ تعالی عنہ میں تھا :
کنت قدصلیت فاقیمت الصلوۃ ۔
تونے نماز پڑھ لی پھر نماز کے لئے تکبیر کہی گئی(ت)
حدیث ابوایوب رضی اللہ تعالی عنہ میں ہے :
یصلی احدنا فی منزلہ الصلاۃ ثم یاتی المسجد فتقام الصلاۃ ۔
جب تو کوئی اپنے گھرمیں نماز پڑھتا ہے پھر مسجد کی طرف آتاہے پھر نماز کی جماعت کھڑی ہوجائے(ت)
حدیث ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ میں تھا :
فان ادرکتھا معھم
(پس اگر توان کے ساتھ نمازکو پائے۔ ت)
سنن ابی داؤد میں حدیث یزید بن الاسود رضی اللہ تعالی عنہ کے ایك لفظ یہ ہیں :
اذا صلی احدکم فی رحلہ ثم ادرك الصلاۃ مع الامام فلیصلھا معہ فانھا لہ نافلۃ ۔
جب کسی نے گھر پرنماز پڑھ لی پھر امام کے ساتھ نماز پالی تو اس کے ساتھ بھی نماز پڑھے کہ یہ اس کے لئے نفل ہوجائے گی(ت)
حدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما میں تھا
اذا صلیت فی اھلك ثم ادرکت
(جب تونے اپنے اہل میں نماز پڑھ لی پھر تونے جماعت کو پایا۔ ت)
حدیث اخیر ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا میں ہے :
اصلی فی بیتی ثم ادرك الصلاۃ فی المسجد مع الامام
(میں اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہوں پھر میں امام
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث محجن الدیلمی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۱۵ ، سنن النسائی اعادۃ الصلوٰۃ مع الجماعۃ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۹
مسند احمد بن حنبل حدیث محجن الدیلمی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۱۵ ، سنن النسائی اعادۃ الصلوٰۃ مع الجماعۃ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۹ ، مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثالث من باب من صلی مرتین مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۱۰۳ ، سنن ابوداؤد باب من صلی فی منزلہ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۵
صحیح مسلم باب کراہۃ تاخیرالصلوٰۃ عن وقتہاالخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۰
سنن ابوداؤد باب من صلی فی منزلہ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۵
المصنف لعبدالرزاق باب الرجل یصلی فی بیتہ الخ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت۲ / ۴۲۲
مؤطا الامام مالك اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۱۵
#10868 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
کے ساتھ مسجد میں نماز کو پالیتا ہوں ۔ ت)دوسرے روز اس نماز کی جماعت نہیں ہوسکتی آج کی ظہر ظہر دیروزہ کی غیر ہے ولہذا امام ومقتدی کاقضاء ادا میں اختلاف مبطل اقتدا ہے او ر دوسرے دن اگرلوگ کل کی قضا بجماعت پڑھتے ہوں تو اسے ادراك نہ کہیں گے اور واجب سے تو اسے علاقہ ہی نہیں کہ وہ یاوتر ہے یانماز عیدین اول میں تنفل گناہ اور ثانی میں شریعت مطہرہ سے ثابت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۸۵ تا ۸۹۰ : ازکانپور محلہ بوچڑخانہ مولو ی نثار احمدصاحب ۲۰ / صفر ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم حامدا ومصلیا ومسلما (اﷲ تعالی کی حمد اور حضور علیہ السلام کی خدمت میں صلوۃ وسلام عرض کرتے ہوئے۔ ت)۔ حضرات علمائے کرام ادام اﷲ بقاء ہم علی رؤس المسلمین وحماہم۔ ان چندسوالوں کاجواب مرحمت فرمائیں :
(۱) یہ کہ اختلاف علماء ہو یوم النحر میں توقربانی کواحتیاطا ایك روز مؤخر کرانے والا اختلاف علماء سے بچنے کے لئے مجرم ہے یانہیں ۔
(۲) سہ شنبہ ۱۰ / ذی الحجہ کو عیدالاضحی کی نماز واجب کی نیت سے پڑھانے والا امامت سے بوجہ ثبوت شرعی ماننے کے اور چہارشنبہ کو اس جگہ حاضر ہوکر جہاں عیدالاضحی بوجہ ثبوت کامل نہ ہونے کے عید سہ شنبہ کو نہیں ہوئی تھی بلکہ آج چہارشنبہ کو عیدالاضحی تھی اور جماعت میں شریك ہوگیا نفلی نیت سے مجرم ہوا یانہیں ۔
(۳) سہ شنبہ کوامامت وخطبہ کے بعد احتیاطی جملہ کاتلفظ اور دوسرے روز اسی کاجماعت میں بہ نیت نفل شریك ہونا لوگوں کو شبہہ دلاتاہے کہ اس نے اپنی نماز دہرالی اور ہم لوگوں کی نمازیں خوب خراب کیں مگر امام کو دوشنبہ کو اعلان وقت نماز کے یقین تھا عید کا اور راضی تھا اور خود سہ شنبہ کو وہ ایك اعلان دینے پرراضی تھا کہ میں نے ثبوت کویقین جان کر بہ نیت واجب پڑھی اور امام ہوکر اقرارکرتاہے اصرار سے کہ واجب یقینی جان کرپڑھائی اوراحتیاطی جملہ میں بھی یہ عرض کیا کہ دینی بھائیو! آج عید ہے اور اکثرجگہ ہے نماز بھی عید کی پڑھی گئی مگر قربانی کل کرنے میں حتیاط ہے ایسی اختلافی حالت میں کس کے قول کو ماناجائے امام کے قول کو یامقتدیوں کے۔
(۴) پڑھی ہوئی نماز نفل کی نیت سے پھر پڑھنا حنفیوں کے نزدیك حدیث یزید ابن عامر رضی اللہ تعالی عنہ جوباب “ من صلاۃ مرتین “ میں ہے سے ثابت ہوتا ہے یانہیں ۔
(۵) اس حدیث میں وان کنت قدصلیت (اگرچہ تونے نماز پڑھ لی ہو۔ ت) میں ان وصلیہ ہے یا شرطیہ اولی وصلیہ ہوتاہے یاشرطیہ۔
#10869 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
(۶) آیہ کریمہ فمن تطوع خیرا فهو خیر له- (اور جو کوئی اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے تو وہ اس کے لئے بہترہے۔ ت) اور من تطوع خیرا فان اﷲ شاکر علیم (جوکوئی اپنی طرف سے اچھائی کرے تو اﷲ تعالی نیکی کاصلہ دینے والا اور جاننے والا ہے۔ ت) سے عبادات مالیہ اور بدنیہ جس میں نفلی نماز بھی داخل ہے کوئی ثابت کرے تو استدلال درست ہے یانہیں اور معطوف علیہ نہ ہونے کی وجہ سے تحریر میں بغیر واؤ کے لکھنے والا اور آیہ ثانیہ میں بغیر ف ترتیبیہ کے لکھنے والا غلطی کرنے والا ہے یانہیں ۔ بینواتوجروا رحمکم اﷲ تعالی۔
الجواب :
(۱) محل اختلاف علماء میں مراعات خلاف جہاں تك ارتکاب مکروہ کو مستلزم نہ ہو بالاجماع مستحب ہے مستحب جرم نہیں ہوتا بلکہ اسے جرم کہنا جرم ہے درمختار میں ہے :
یندب للخروج من الخلاف لاسیما للامام لکن بشرط عدم ارتکاب مکروہ مذھبہ ۔
اختلاف سے نکلنا مستحب ہے خصوصا امام کے لئے لیکن شرط یہ ہے کہ اپنے مذہب میں مکروہ کاارتکاب لازم نہ آئے(ت)
(۲) جبکہ اس نے ثبوت شرعی پایا اورروزسہ شنبہ کوروزعید جان کر بہ نیت واجب نماز عید اداکی اور دوسرے جن کو ثبوت نہ پہنچنے کے باعث ان پر شرعا آج عید واجب تھی ان کی جماعت جماعت روز اول تھی اور سہ شنبہ کے دن پڑھنے والے کے نزدیك اگرچہ جماعت روزدوم تھی مگرامام صالح امامت عید اور اس کے مقتدیوں نے کل ادا نہ کی تھی اور یہاں تاخیر بالعذر بالاجماع بلاکراہت جائز ہے اور عدم تحقیق ثبوت عندہم سے بڑھ کر اور کیاعذرہوسکتاہے بہرحال یہ نماز امام وقوم اور اس کل پڑھنے والے سب کے نزدیك جماعت واجبہ تھی تو اس کا بہ نیت نفل اس میں مل جانا ہرگز جرم نہیں ہوسکتا جرم نہیں مگرمخالفت امراﷲ یہاں کون سے امراﷲ کاخلاف ہوا ام تقولون على الله ما لا تعلمون(۸۰) (کیا تم اﷲکے بارے میں ایسی بات کہتے ہو جسے تم نہیں جانتے۔ ت)ہاں اگر ایك دن نماز عید ہوکر دوسرے دن مطلقا ناجائز ہوتی حتی کہ اس امام صالح امامت عید وقوم کوبھی جس نے کل بعذرنہ پڑھی تو البتہ اسے شریك ہونا جرم ہوتا اگرچہ ان پر جرم کیسا وہ اپناادائے واجب کررہے تھے کہ ان کو کل کاثبوت نہ پہنچاتھا مگر اس کے اعتقاد میں توعید کل ہوچکی تھی آج
حوالہ / References درمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷
القرآن ۲ / ۸۰
#10870 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
دوسرادن تھا جس میں نماز ناجائز تھی تو یہ اپنے اعتقاد کی رو سے ایك ناجائز فعل میں شرکت کرتا اور مجرم ہوتا فان المرء مواخذ بزعمہ (ہرآدمی کامواخذہ اس کے زعم واعتقاد پرہوگا۔ ت)مگرایسا ہرگزنہیں بلکہ قطعا جواز ہے کمانصوا علیہ قاطبۃ (جیسا کہ اس پر تمام فقہا نے نص کی ہے۔ ت) تو ایك جماعت جائزہ میں متنفلا شریك ہونا کس نے منع کیا نماز عید نمازجنازہ نہیں جس سے تنفل میں شرعا عدم جواز کاحکم ثابت ہے بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
لایصلی علی میت الامرۃ واحدۃ لاجماعۃ ولاوحدانا عندنا لنا ماروی ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صلی علی جنازۃ فلما فرغ جاء عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ومعہ قوم فاراد ان یصلی ثانیا فقال لہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الصلوۃ علی الجنازۃ لاتعادوا لکن ادع للمیت واستغفرلہ وھذا نص فی الباب (الی قولہ) دلیل علی عدم جواز التکرار ۔
ہمارے نزدیك میت پرفقط ایك دفعہ نماز ادا کی جائے گی دوبارہ نہیں نہ تنہا نہ جماعت کے ساتھ کیونکہ منقول ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جنازہ پڑھایا جب فارغ ہوئے تو حضرت عمراور ان کے ساتھ کچھ لوگ آئے اورانہوں نے دوبارہ جنازہ پڑھنے کاارادہ کیا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جنازہ کی نماز لوٹائی نہیں جاسکتی البتہ میت کے لئے دعا اور استغفار کرو یہ اس باب میں نص ہے (یہاں تك ) یہ تکرار کے عدم جواز پردلیل ہے۔ (ت)
صلاۃ عید میں نہی کہاں ہاں ثبوت بھی نہیں پھر عدم ثبوت کو ثبوت عدم سے کیاعلاقہ وھذا بحث لقد فرغنا عنہ فی الرد علی الوھابیۃ مرارا(یہ وہ بحث ہے جس کو ہم وہابیوں کے رد میں بارہا تفصیلا بیان کرچکے ہیں ۔ ت) غایت یہ کہ بے طلب شرع بے وجہ ہے جبکہ کوئی عارض خاص نہ ہو مثلا مرید یاتلمیذ یا ابن کے نزدیك کل ثبوت شرعی ہوگیا تھا پڑھ لی شیخ یااستاذ یا اب کے یہاں آج ملنے کو حاضر ہوا ان کے نزدیك آج عید ہے یا نماز کوکھڑے ہوئے اب ان کی مخالفت اس امر میں کہ شرعا ممنوع وحرام نہیں معیوب وقبیح ہے لہذا متنفلا شریك ہوگیا تو یہ صورت بے وجہ بھی نہیں بلکہ بوجہ وجیہ ہے امام مجتہد مطلق عالم قریش سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ نے تو جب مزارمبارك امام الائمہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے حضور نماز صبح پڑھائی دعائے قنوت نہ پڑھی نہ بسم اﷲ وآمین جہر سے کہی نہ غیرتحریمہ میں رفع یدین فرمایا علی مافی الروایات (جیسا کہ روایات میں ہے)
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی صلوٰۃ الجنازہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۱۱
#10871 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
خود اپنا مذہب مجتہد نے ترك کیا اور عذر بھی بیان فرمایا کہ مجھے ان امام اجل سے شرم آئی کہ ان کے سامنے ان کا خلاف کروں کما بیناہ فی حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات (جیسا کہ ہم نے “ حیات الموات فی بیان سماع الموات “ میں بیان کیا ہے۔ ت) (۳) امام اپنے قلب سے نیت کرتاہے اور قلب غیب ہے اور زبان اس کاذریعہ بیان۔ ہرمسلم اپنے مافی الضمیر پرامین ہے جب تك ظاہر اس کا مکذب نہ ہو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم اقالھا ام لا رواہ مسلم۔
کیاتونے اس کا دل چیرکردیکھا ہے حتی کہ تونے جان لیا کہ اس نے دل سے کہا یانہیں ۔ اسے مسلم نے روایت کیا(ت) ۱
مقتدیوں کا یہ وسوسہ بد گمانی ہے اور بدگمانی :
قال تعالی
یایها الذین امنوا اجتنبوا كثیرا من الظن-ان بعض الظن اثم
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث۔
اﷲ تعالی کاارشاد ہے اے ایمان والو! بہت زیادہ ظن سے بچاکرو کیونکہ بعض ظن گناہ ہوجاتے ہیں ۔
اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے(ت)
(۴) ہاں ثابت ہے کما فصلناہ فی الفتوی السابقۃ بمالامزید علیہ (جیسا کہ ہم نے سابقہ فتوی میں اس کی تفصیل بیان کی جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا۔ ت) فجرومغرب کاحدیث میں استثناء فرمایا رواہ الدار قطنی بسند صحیح عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم (اسے دارقطنی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بیان کیاہے۔ ت) تعلیل حکم نے فجر سے عصر مغرب سے وتر کا
حوالہ / References صحیح مسلم باب تحریم قتل الکافر بعد قول لاالٰہ الااﷲ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۶۸
القرآن ۴۹ / ۱۲
صحیح البخاری کتاب الوصایا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۸۴
المصنف لعبدالرزاق باب الرجل یصلی فی بیتہ الخ حدیث ۳۹۳۹ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۴۲۲ ، کنزالعمال اعادۃ الصلوٰۃ حدیث ۲۲۸۳۲ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۸ / ۲۶۲
#10872 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
الحاق بتایا اور یہی مذہب حنفیہ ہے۔
(۵) وصلیہ اولی ہے بدلیل حدیث محجن رضی اللہ تعالی عنہ :
عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا جئت المسجد وکنت قدصلیت فاقیمت الصلوۃ فصل مع الناس وان کنت قدصلیت ۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جب تومسجد میں آئے جبکہ کہ تو نماز اداکرچکاتھا پس جماعت کھڑی ہوگئی تو تو لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر اگرچہ تونے نماز پڑھ لی تھی(ت)
یہ وہی مضمون وحکم ہے اور اس میں وصلیہ متعین والحدیث خیرتفسیرللحدیث (ایك حدیث دوسری حدیث کے لئے سب سے بہترتفسیر ہوتی ہے۔ ت)
(۶) ہاں درست ہے جہاں شرع مطہر سے ممانعت ثابت نہ ہو اور یہ عموم آیہ کریمہ کی تخصیص نہیں بلکہ وہ (ممنوع) عموم میں داخل ہی نہیں کہا من تطوع خیرافرمایا ہے اور ممنوع خیرنہیں کہ خیرممنوع نہیں ۔ اقول : تحقیق مقام یہ ہے کہ شے مطلوب الفعل اوالترك باحد الطلبین الجازم وغیرہ ہوگی یا لاولا یہیں سے احکام خمسہ پیداہوئے ان کا خامس مباح وتمام الکلام فیہ بحیث لایوجد فی شیئ من الکتب فی رسالتنا الجود الحلو فی ارکان الوضوء (اس سے متعلق تحقیق ہمارے رسالے “ الجود الحلوفی ارکان الوضو “ میں ہے جو کسی اور کتاب میں نہیں ملے گی۔ ت) اربع اول کو ثبوت درکار اور عدم ثبوت طرفین کانتیجہ خامس مگر یہ خامس کسی مستحسن کے نیچے اندراج اور نیت حسنہ کے اندراج سے مستحسن ہوجاتاہے جیسے نیت قبیحہ سے مستقبح فعل لوح سادہ ہے اور نیت نقش صورت اخیرہ میں وہ مکروہ حرام اور اس سے بدتر ہوسکتااور اولی میں تطوع ہوکر دونوں آیہ کریمہ کے عموم میں آئے گا۔ اشباہ و ردالمحتار وغیرہما میں ہے :
المباحات تختلف صفتہا باعتبار ماقصدت لاجلہ فاذا قصد بھا التقوی علی الطاعات اوالتوصل الیہا کانت عبادۃ کالاکل و النوم واکتساب المال والوطء انتھی
مباحات کامختلف نیات کے اعتبار سے حکم مختلف ہوجاتاہے پس جب اس سے طاعات پرفتوی یاطاعات کی طرف ایصال متصور ہو تو یہ عبادات ہوں گی مثلا کھاناپینا سونا حصول مال اور وطی کرنا انتہی (ت)
حوالہ / References مشکوٰۃ المصابیح الفصل الثالث من باب من صلی مرتین مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۱۰۳ ، مؤطاالامام مالك اعادۃ الصلوٰۃ مع الامام مطبوعہ میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۱۵ ، مسند احمد بن حنبل حدیث محجن الدیلمی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۳۴
الاشباہ والنظائر بیان دخول البیت فی العبادات مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۳۴
#10873 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
لہذا مسئلہ دائرہ میں یہ حکم نہ دیں گے کہ نماز عید دوبارہ پڑھنا مستحب ہے کہ یہ طلب شرعی سے خبردے گا یعنی شرعا مطلوب ہے کہ دوبارہ پڑھے اور یہ باطل ہے کہ اس کوثبوت درکار اور ثبوت نہیں ولہذا اس کا فعل بے وجہ ہوگا کہ سبب نہیں یہ اس کافی نفسہ حکم ہے پھر اگرخارج سے وجہ پیداہو مثلا یہ امام متبرك بہ ہے یااس جماعت میں وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ پڑھنے میں امید رحمت ہے کہ ھم القوم لایشقی بھم جلیسھم (وہ ایسی قوم ہیں جن کاساتھی اور ہم نشین بدبخت نہیں ہوتا۔ ت) یا وہ وجہ جو ہم نے نمبردوم میں بیان کی کہ معظم دینی سے موافقت ومحوصورت مخالفت تو یہ سب نیت محمودہ ہیں اور مباح نیت محمودہ سے محمود اور محمود کاادنی درجہ نفل خصوصا نماز کہ
الصلوۃ خیرموضوع فمن استطاع ان یستکثر منھا فلیستکثر رواہ الطبرانی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
نماز سب سے بہترین عمل ہے اس میں جتنا بھی کوئی اضافہ کرسکتاہے کرے۔ اسے طبرانی نے اوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیاہے(ت)
یوں تحت کریمتین داخل ہوگا کشف الغمہ میں امیرالمؤمنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ سے ہے
: فکان رضی اﷲ تعالی عنہ لاینھی احدا تطوع بشیئ زائدا علی السنۃ ویقول فمن تطوع خیرا فہوخیرلہ ۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کسی کو بھی سنت سے زائد نوافل سے نہ روکتے اور فرماتے جونیکی میں اضافہ کرناچاہتاہے اس کے لئے یہ بہترعمل ہے۔ (ت)
رہا کریمتین میں ترك واووفایہ لکھنا تلاوت قرآن کا وقت نہ تھا بلکہ استدلال کا اور ترك کسی ایسے حرف کا نہ کیا جس پرنظما یا معنی صحت کو توقف یاموجب تغیر ہو تو اسے کسی طرح غلطی نہیں کہہ سکتے۔ ابن ابی حاتم و بیہقی نے امیرالمؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کی :
ان رجلا سأل علیا عن الھدی مماھو فقال من الثمانیۃ الازواج فکان الرجل شك فقال ھل تقرأ القران قال نعم قال فسمعت اﷲ یقول لیذکروا اسم اﷲ علی مارزقھم
ایك آدمی نے حضرت علی سے ہدی(قربانی) کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیا ہے فرمایا آٹھ جوڑوں میں سے اس آدمی کو شك گزرا فرمایا کیا تونے قرآن حکیم پڑھاہے عرض کیا۔ ہاں ۔ فرمایا کیا تونے یہ سنا ہوگا کہ اﷲتعالی
حوالہ / References صحیح مسلم باب فضل مجالس الذکر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۴۴
مجمع الزوائد بحوالہ طبرانی اوسط باب فضل الصلوٰۃ مطبوعہ دارالکتب بیروت ۲ / ۲۴۹
کشف الغمۃ عن جمیع الامۃباب صلوٰۃ العیدین مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۹۱
#10874 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
من بھیمۃ الانعام ومن الانعام حمولۃ وفرشا قال نعم فسمعتہ یقول من الضأن اثنین ومن المعز اثنین ومن الابل اثنین ومن البقر اثنین قال نعم ۔
فرماتاہے “ چاہئے کہ وہ اﷲ کانام ذکرکریں اس کے دئیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر اور چوپایوں میں سے بعض وہ ہیں جو بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پربچھے میں نے عرض کیا ہاں فرمایا تونے یہ بھی سنا ہوگا کہ اﷲ تعالی فرماتاہے ایك جوڑا بھیڑ کا ایك جوڑا بکری کا ایك جوڑا اونٹ کا اور ایك جوڑا گائے کا فرمایا : ہاں ۔ (ت)
امیرالمؤمنین نے ایك آیت سترہویں پارے کی لی ایك آٹھویں کی اور ان کو سیاق واحد میں ذکرفرمایا دوبار سورہ انعام کی آیتوں میں خاص وسط میں سے اتنے جملے چھوڑدئیے :
قل ءالذكرین حرم ام الانثیین اما اشتملت علیه ارحام الانثیین- نبـٴـونی بعلم ان كنتم صدقین(۱۴۳)
تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نرحرام کئے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لئے ہیں کسی علم سے بتاؤ اگرتم سچے ہو۔ (ت)
اب یہاں کیا حکم ہوگا نبؤنی بعلم ان کنتم صدقین۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۹۱ : ازشہر کہنہ بریلی محلہ کانکڑٹولہ مسئلہ محمدظہورخاں صاحب ۱۳ / شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فجر کی نماز امام پڑھارہاہے اب دوسرا نمازی آیا تو شامل جماعت ہوجائے یااول سنت اداکرے اگرمسجد چھوٹی ہے یاصحن مسجد قلیل ہے اورکانوں میں امام کی آواز آرہی ہے ایسی صورت میں ادائیگی سنت کس صورت سے ہوناچاہئے یابلاادائیگی سنت شامل ہوجائے اور سنت بعد طلوع آفتاب ہونا بہتریا اول یعنی جماعت میں شامل ہوگیاتھا اس کے بعد
الجواب :
اگرجانتا ہے سنتیں پڑھ کر جماعت میں شامل ہوسکے گا اور صف سے دور سنتیں پڑھنے کو جگہ ہے تو پڑھ کرملے ورنہ بے پڑھے پھر بعد بلندی آفتاب پڑھے اس سے پہلے پڑھناگناہ ہے کان میں آواز آنے کا اعتبارنہیں امام اندرپڑھ رہاہو باہرپڑھے باہرپڑھتا ہو اندرپڑھے حدمسجد کے باہر پاك جگہ پڑھنے کو ہو تو سب سے بہتر۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۹۲ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض نمازیوں کی کسی دنیاوی ضرورت کی وجہ سے
حوالہ / References السنن الکبرٰی للبیہقی باب الہدایا من الابل والبقر والغنم مطبوعہ دارصادربیروت ۵ / ۲۲۹
#10875 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مثلا بازار کو خریدوفروخت کے لئے جاناہوتاہے تو اس کے لئے ان کی رعایت سے وقت مستحبہ پرنماز کو ترك کرنا اور اول وقت پڑھنے میں کچھ قباحت تونہیں ہے یا امام کو وقت مستحبہ پرپڑھنا چاہئے مثلا عصر کے وقت کہ بعد گزرنے دومثل سایہ کے پندرہ بیس منٹ کا وقفہ اذان وصلوۃ کے لئے دے کر جماعت کرنے میں افضلیت توترك نہ ہوگی۔
الجواب :
عام جماعت کوضرورت ہو تو حرج نہیں ایك کے لئے جماعت منتشر کرنا یاسب کو ترك وقت مستحبہ کی طرف بلانا بے جاہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۹۳ : سیکریٹری انجمن مشفق المسلمین محلہ ابراہیم پورہ بریلی
بسم اﷲ الرحمن الرحیم کیا فرماتے ہین علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مبتلائے جذام کو جس سے طبا اجتناب واجب ہے اور مسلمانان محلہ اس کے دخول مسجد واستعمال ظروف سے حذر کرتے ہیں مسجد میں بغرض شرکت جماعت وغیرہ آنے سے شرعا بغرض فائدہ عوام روکاجاسکتاہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
ہاں جبکہ اس کے آنے سے مسجد میں نجاست کاظن غالب ہو تو وجوبا اور ایسانہ ہو صرف نفرت عوام و احتمال تقلیل جماعت ہو تو استحبابا۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۹۴ : حافظ نجم الدین گندہ نالہ بریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) ایك شخص کو غسل کی حاجت ہے اگروہ غسل کرتاہے تو فجر کی نماز قضاہو ئی جاتی ہے تو اس وقت اسے کیاکرناچاہئے۔
(۲) جبکہ امام رکوع میں ہے اور ایك شخص ایك تکبیر کہہ کر شامل جماعت ہوگیا تو یہ کبیر تحریمہ ہوئی یا مسنونہ اس صورت میں نماز اس مقتدی کی ہوگی یانہیں
الجواب :
(۱) تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور غسل کرکے پھر اعادہ کرے۔
(۲) اگر اس نے تکبیرتحریمہ کہی یعنی سیدھے کھڑے ہوئے تکبیر کہی کہ ہاتھ پھیلائے توزانو تك نہ جائے تو نماز ہوگئی اور اگرتکبیر انتقال کہی یعنی جھکتے ہوئے تکبیر کہی تو نماز نہ ہوگی اسے دوتکبیر کہنے کاحکم ہے تکبیرتحریمہ اور تکبیرانتقال پہلی تکبیر تحریمہ قیام کی حالت میں اور دوسری تکبیرانتقال رکوع کوجاتے ہوئے۔
درمختار
#10876 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
میں ہے :
لووجد الامام راکعا فکبر منحنیا ان الی القیام اقرب صح ولغت فیہ تکبیرۃ الرکوع ۔ واﷲ تعالی اعلم
اگرکسی نے امام کو حالت رکوع میں پایا تو اس نے جھکتے ہوئے تکبیر کہی اگریہ مقتدی قیام کے زیادہ قریب ہوتودرست ہے اور ا س کی تکبیر رکوع لغو ہوجائے گی۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۸۹۶ : دوشخص ایك چٹائی ایك مصلے پرجداجدا برابرکھڑا ہوکر ایك ہی نماز فریضہ قبل جماعت یابعد جماعت پڑھ رہے ہیں ان کی نماز ہوجائے گی یانہیں
الجواب :
نماز تو ہرطرح ہوجائے گی لیکن قبل جماعت الگ الگ پڑھیں اور ایك کاحال دوسرے کومعلوم ہو اور ان میں ایك قابل امامت ہے ا س کوکوئی عذرشرعی نہ ہو تو ان پرترك جماعت کاالزام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۹۷ : ازشہر بریلی محلہ باغ احمدخاں ۲۰ / ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
جماعت جمعہ کے اندر پہلی صف میں دو یاتین شخض جن کی داڑھی منڈی ہوئی اور ایك شخص کی کتری ہوئی اس نے یہ لفظ کہا کہ بزرگ لوگ پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں وہ اگلی صف میں آجائیں اور منڈی اور کتری ہوئی پیچھے چلے جائیں لہذا اس نے گناہ کیا یانہیں اور اگلی صف میں منڈی ہوئی ہیں اور پیچھے صف میں پرہیزگار اور متقی ہیں ان کو پہلی صف میں لے جائیں اور منڈی ہوئی کوپیچھے ہٹایاجائے یانہیں اور وہ لوگ جن کی داڑھی منڈی ہوئی ہے اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد کونماز پڑھنے کوجاتے ہیں اورایك کے ساتھ ایك یادو داڑھی والے بھی جاتے ہیں اس بات کو ان لوگوں نے نہایت ناگوارمعلوم کیا۔
الجواب :
داڑھی کترانا منڈانا حرام ہے اور اس کے مرتکب فاسق ان کوتفہیم ہدایت کی جائے بہتریہ ہے کہ امام کے قریب دانشورلوگ ہوں حدیث میں فرمایا :
لیلینی منکم اولوالاحلام والنھی ۔
تم میں سے دانشور اور عقلمند لوگوں کو میرے قریب ہونا چاہئے۔ (ت)
حوالہ / References درمختار فصل واذا اراد الشروع فی الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۴
صحیح مسلم باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۱
#10877 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
اور وہی دانشور ہے جو متقی ہو متقیوں کوچاہئے تھا کہ یہی پہلے آتے کہ سب سے اول میں جگہ پاتے اب کہ وہ دوسری قسم کے لوگ پہلے آگئے تو انہیں مناسب ہے کہ متقیوں کے لئے جگہ خالی کردیں ورنہ انہیں ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں خصوصا جبکہ سبب فتنہ ہو اعمال میں ہدایت نرمی سے چاہئے کہ سختی سے ضد نہ بڑھے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۹۸ : ازشہر بانس منڈی مسؤلہ محمدجان بیگ ۱۰ / محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص پانچوں وقت کی نماز اداکرتاہے اور صوم وصلوۃ کابھی پابند ہے مگرمسجد میں صرف تین وقت کی نمازیں ظہروعصر ومغرب باقی عشاء وفجر کی اپنے مکان پرتنہاپڑھتاہے اوروجہ تنہائی میں پڑھنے کی یہ ہے کہ بعد نماز عشاء وفجر کے وظیفہ میں زیادہ وقت لگتاہے اورقرآن عظیم کی تلاوت بھی کرتاہے تنہاپڑھنے میں علیحدہ کوئی حرج تو نہیں
الجواب :
پانچوں وقت کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ واجب ہے ایك وقت کابھی بلاعذر ترك گناہ ہے وظیفہ وتلاوت باعث ترك نہیں ہوسکتے فرض مسجد میں باجماعت پڑھ کر وظیفہ وتلاوت مکان پرکرے ورنہ صورت مذکورہ فسق وکبیرہ ہے فان کل صغیرۃ بالاعتیاد کبیرۃ وکل کبیرہ فسق (ہرصغیرہ گناہ کا معمول اسے کبیرہ بنادیتاہے اور ہرکبیرہ گناہ فسق ہے۔ ت) حدیث میں ہے ظلم اور کفرنفاق سے ہے۔ یہ بات کہ آدمی اﷲ کے منادی یعنی مؤذن کوپکارتا سنے اور حاضر نہ ہو وہ وظیفہ وتلاوت کہ جماعت مسجد سے روکین وظیفہ وتلاوت نہیں بلکہ ناجائز ومعصیت۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۹۹ : از اسیریاں محلہ سادات ضلع فتح پور مسؤلہ حکیم سید نعمت اﷲ صاحب ۲۳ / محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جماعت ثانیہ میں اقامت کہ جائے یانہیں اور جماعت ثانیہ میں امام کو زور سے جہری نماز میں قرأت کرنی چاہئے یاجماعت اولی کے لوگ جوسنتیں پڑھ رہے ہوں ان کے خیال سے برائے نام آواز سے پڑھے تاکہ دوسروں کی نماز میں ذہن نہ منتقل ہو جوحکم شرعی ہو ارشاد فرمائیں
الجواب :
جماعت ثانیہ کے لئے اعادہ اذان ناجائز ہے تکبیر میں حرج نہیں اور اس کا امام نماز جہری میں بقدرحاجت جماعت جہر کرے گا اگرچہ اور لوگ سنتیں پڑھتے ہوں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۰۰ : از شہرکہنہ محلہ لودھی ٹولہ مسؤلہ حبیب اﷲ خاں صاحب ۲۹محرم ۱۳۳۹ھ
(۱) کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید و بکر باہم رشتہ دار ہیں دونوں میں خانگی معاملات میں مع دیگررشتہ داران زید و بکر عرصہ سے نااتفاقی ہے اور زید وبکر دونوں شریك ہوکر ایك جماعت میں ہمیشہ
#10878 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
نماز پڑھتے ہیں اما صاحب سے کسی کو کچھ کدورت نہیں ہے اب اہل محلہ زید و بکر سے کہیں کہ تم دونوں باہم میل کرلو بکر یہ جواب دے کہ ہم باہم رشتہ دار ہیں ہمیں میل کرنے میں کچھ انکارنہیں ہے مگراس معاملہ میں دیگررشتہ دار داماد بھائی حقیقی وغیرہ بھی شریك ہیں جن کے ساتھ زیدکو مع دیگررشتہ داران ناراضگی ہے ان کی موجودگی کی بھی ضرورت ہے ـــــــــــــــــــــ اس وقت پورا میل ہوسکتاہے تنہامیل کرنے میں دیگررشتہ داران کومجھ سے رنج ہوجائے گا بغیر ان کی موجودگی کے میل ناممکن ہے یہ جواب بکر کاچنداشخاص کوناگوار معلوم ہوا اور ان اشخاص نے ناخوش ہوکر بکر سے کہا کہ اگرتم اس وقت ہمارے کہنے سے میل نہیں کرو گے تو ہم جماعت میں شریك نہیں ہونے دیں گے ہرطرح پریشان کریں گے لہذا اس بنا پر ایك شخص نے مسجد میں وقت نماز اعلان کیا کہ زید و بکر میں باہم رنج ہے جب دوشخص ایسے جن میں رنج ہے وہ شریك جماعت ہوں توپوری جماعت کی نماز نہیں ہوتی ہے اور نہ دعا اس جماعت کی قبول ہوتی ہے اور صرف بکر کو یہ کہہ کر جماعت سے علیحدہ کردیا تویہ عمل ان اشخاص کاجائز ہے یاناجا ئز اگرناجائز ہے توعلیحدہ کردینے والوں کو شرع شریف کاکیاحکم ہے
(۲) سوال بصورت حال مندرجہ بالا جو اشخاص وقت نماز جماعت سے علیحدہ کردیں ان کے واسطے شرع شریف کاکیاحکم ہے
الجواب :
(۱) اس صورت میں اس کو جماعت سے علیحدہ کرناجائز نہیں اور یہ کہنا محض باطل ہے کہ جس جماعت میں دوشخص آپس میں رنج رکھتے ہوں نماز نہیں ہوگی اور یہ بھی غلط محض ہے کہ وہاں دعاقبول نہیں ہوگی ہاں باہم اہلسنت کے اتفاق رکھنے کاحکم ہے اور دوبھائیوں میں کسی دنیوی وجہ سے قطع مراسم تین دن سے زیادہ حرام ہے اور جوباہم موافقت کی طرف سبقت کرے گا وہ جنت کی طرف سبقت کرے گا اور جس سے اس کابھائی معافی چاہے گا اور وہ بلاعذر شرعی معاف نہ کرے گا توحدیث میں فرمایا کہ اسے روز قیامت حوض کوثر پر میرے پاس حاضر ہونا نصیب نہ ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲) بلاوجہ شرعی کسی مسلمان کو جماعت سے علیحدہ کرنا ظلم شدید ہے اس میں حق اﷲ کابھی مواخذہ ہے اور حق العبد کی بھی گرفتاری توبہ بھی کریں اور ان لوگوں سے معافی بھی چاہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۰۲ : ازشہر تکیہ سفر علی شاہ مسؤلہ مولوی احمدبخش صاحب ۳ / صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عشاکے واسطے (۰۸) بجے وقت مقرر کرلیاگیا کہ بلاانتظار کئے دوسرے کے اس وقت جماعت کھڑی ہوجائے گی کل شب میں ۱۴آدمی دروازے پرمسجد کے کھڑ ے تھے پانچ سات کووضوکرناتھا دوتین کرچکے تھے یہ سب ایك مسئلہ پر ذکرکررہے تھے جماعت کی تکبیر والے نے ان سب کو
#10879 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
نہیں بلایا نماز شروع کردی آیا بلانا یاانتظار واجب تھا یانہیں
الجواب :
اگراذان کے بعد انتظار بقدرمسنون کرلیاگیا ہو پھرزیادہ انتظار کی حاجت نہیں اور اگروقت میں وسعت ہو اور حاضرین پرگراں نہ ہو تو جوآگئے ہیں ان کے وضو کاانتظار کرلینا بہتر اذان کے بعد غیرمغرب میں بحالت وسعت وقت اتنا انتظار مسنون ہے کہ کھانے والاکھانے سے فارغ ہوجائے جیسے قضائے حاجت کرنی ہے اس سے فراغ پائے اورطہارت ووضو کرکے آجائے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۰۳ : ازمونڈیا جاگیر ضلع بریلی مسؤلہ عبدالصمد ۵ / صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے یہاں پانچ آدمی ہیں اور سب کلام مجید خواں اور نمازی ہیں ایك روززید نے بوقت عشا بوجہ تنہائی مکان اپنے گھر نماز ادا کی بوجہ حاضر نہ ہونے مسجد کے زید کا مع اس کے برادران اور اہل خانہ حقہ پانی بھنگی بہشتی دھوبی جملہ کام والوں کو اس سے بند کردیا اور پانچ دن سے بند ہے یعنی یکم صفر سے ۵صفر تک حالانکہ زیدنماز کے لئے کوئی عذر وحیلہ نہیں کرتا بلکہ بوجہ مجبوری کے حاضر نہیں ہے آیا زید اس سزا کامستوجب تھا یانہیں اگرنہ تھا توسزادہندگان کوکیاکرناچاہئے
الجواب :
اگرواقعی مکان تنہاتھا اور تنہاچھوڑ کرآنے میں اندیشہ تھا تویہ عذر قابل قبول ہے اور ایسی حالت میں سزادینا ظلم ہے اور اگر کوئی عذرصحیح نہ ہو بلاعذرجماعت چھوڑے تو شرعا قابل سزا ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۰۴ : ازمونڈیاجاگیر ضلع بریلی مسؤلہ عبدالصمد ۵ / صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کومرض جذام ہے سال گزشتہ میں ڈاکٹر نے مرض مذکورکی تصدیق کردی ہے اب ناخون وغیرہ کے دیکھنے سے مرض کی شدت کاثبوت ہوتاہے چونکہ زید مسجد میں آکر وضوکرتاہے جس سے بعض اشخاص تنفرکرتے ہیں بلکہ مسجد میں نماز پڑھنے سے جماعت سے احتراز کرناچاہتے ہیں او ر اکثرمقتدیان کاعزم ہے کہ زید اگرجماعت میں شامل ہوگا تو ہم گھر پرنماز پڑھ لیاکریں گے دریں صورت مسلمانوں کو کیاکرناچاہئے آیا زید کو مسجد سے روك دیناچاہئے یالوگوں کوگھرپرنماز پڑھ لینا اور کبھی کبھی خود بھی نماز پڑھانے کو کھڑاہوجاتاہے۔
الجواب :
اس صورت میں زید کو چاہئے کہ نمازگھر میں پڑھے جماعت منتشرنہ کرے اور اس کی امامت مکروہ ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
#10880 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مسئلہ ۹۰۵ : از محلہ سوداگران مسؤلہ شمس الہدی صاحب طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۱۲صفر ۱۳۳۹ھ
حضور اس مسئلہ میں کیاارشاد فرماتے ہیں کہ کوئی شخص ایسا ہو کہ وہابی کے مدرسہ میں پڑھتا ہو اور ان کے اقوال بھی جانتا ہے اور پھر وہابی کے مکان میں رہتاہے اس کے یہاں کھاناکھاتاہے تو اس صورت میں اسے اہلسنت کی نمازجماعت میں کھڑا ہونے دیں یانہیں اور اگر کھڑا ہوگا تو فصل لازم آئے گا یانہیں
الجواب :
اگر وہ وہابیہ کے عقائد سے واقف ہو کر انہیں مسلمان جانتاہے تو ضرور صف میں اس کے کھڑے ہونے سے فصل لازم آئے گا اور صف قطع ہوگی اور قطع صف حرام ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من قطع صفا قطعہ اﷲ ۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے صف کو کاٹا اسے اﷲ تعالی اپنی رحمت سے کاٹ دے گا۔ (ت)
اور اگروہابیہ کو کافرجانتاہے تو ان سے میل جول کے باعث جس میں سب سے بدتر ان سے پڑھنا ہے سخت فاسق ہے امامت کے قابل نہیں نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوگی مگر صف میں اس کے کھڑے ہونے سے صف قطع نہ ہوگی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۰۶ : مولوی عبداﷲ صاحب بہاری مدرس مدرسہ منظرالاسلام محلہ سوداگران بریلی ۹صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك جماعت میں چار صفیں ہیں صف اول میں کسی مقتدی یاامام کاوضوجاتارہا تب وہ مقتدی یاامام باہر کس طرح آسکتاہے کیونکہ درمیان میں تین صفیں ہیں جو شانہ سے شانہ ملائے ہیں اور مقتدی کی جوجگہ خالی ہے اس کے واسطے کیاحکم ہے
الجواب :
مقتدی جس طرف جگہ پائے چلاجائے یونہی امام دوسرے کوخلیفہ بناکر اب صفوں کاسامنا سامنانہیں کہ امام کاسترہ سب کاسترہ ہے اور مقتدی کی جوجگہ خالی رہی کوئی نیاآنے والا اسے بھردے یایونہی رہنے دے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۰۷ : ازشہر محلہ باغ احمد علی خاں مسؤلہ نیاز احمدصاحب ۲۴ صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك محلہ میں دوگروہ آباد ہیں دیوبندی و سنی حنفی اس محلہ کی مسجد میں دودوجماعتیں ہوتی ہیں پہلی جماعت دیوبندی فرقہ کی ہوتی ہے وہ لوگ عداوت
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷
#10881 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
کی وجہ سے مغرب اور فجر کی نماز میں دیرکردیتے ہیں اس میں جماعت(نماز) قضاہونے کااندیشہ ہے اگرسنی اپنی جماعت پہلے کراناچاہتے ہیں تو وہ لوگ فساد پرآمادہ ہوتے ہیں ایسی حالت میں سنیوں کوکیاکرناچاہئے بینوا توجروا
الجواب :
عین ان کی جماعت ہونے کی حالت میں سنی اپنی جماعت کرسکتے ہیں کہ نہ ان کی جماعت جماعت ہے نہ ان کی نماز نماز۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۰۸ : ازشہرممباسہ ضلع شرقہ افریقہ دکان حاجی قاسم اینڈسنزمسؤلہ حاجی عبد اﷲحاجی یعقوب ۲۶ / رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نمازپڑھاتاہے جماعت کو بعد دوسرے آدمی امام شافعی علیہ الرحمۃ کے مقلد آئے اور صحن میں جماعت پڑھانے لگے اسی طرح دوجماعت ایك مسجد میں ساتھ اداکرناجائز ہے یانہیں اور صحن میں ایك امام نمازپڑھارہاہے مقلد شافعی کے ہاں مسبوق کے ساتھ اقتداکرنا جائز ہے اسی طرح نماز جماعت سے پڑھتے ہیں اور امام آیا اور تکبیر ہوئی اور جماعت کھڑی ہوئی اسی طرح دوجماعت ایك مسجد میں پڑھناجائز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
ایك مسجد میں ایك فرض کی دوجماعتیں ایك ساتھ قصدا کرنابلاوجہ شرعی ناجائز وممنوع ہے لیکن ایك جماعت حنفیہ کی امام حنفی کے پیچھے ہو اور دوسری شافعیہ یامالکیہ یاحنبلیہ کی اپنے ہم مذہب امام کے پیچھے ہو اس میں حرج نہیں جس طرح حرمین شریفین میں معمول ہے کہ یہ وجہ شرعی سے ہے مسبوق کی اقتداء ہمارے مذہب میں باطل ہے اگرچہ وہ مسبوق شافعی المذہب ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۰۹ : ازموضع دھرم پور ضلع بلند شہرپرگنہ ڈبائی کوٹھی نواب صاحب مسؤلہ عبدالرحیم ۲۸ / رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازباجماعت ہوچکی بعد میں دوچارآدمی فراہم ہوگئے اور جماعت سے رہ گئے تووہ آپس میں مل کرنمازباجماعت سے پڑھ سکتے ہیں یانہیں کیونکہ اکثرایسا دیکھاگیاتھا اب ایسا معلوم ہواہے کہ اول جماعت کے بعد پھر جماعت سے نمازپڑھنا موجب ثواب نہیں بلکہ عذاب ہے لہذا جوحکم شریعت ہو اس سے آگاہ فرمائیے بینواوجروا
الجواب :
جومسجد کسی معین قوم کی نہیں جیسے بازار یاسرایااسٹیشن کی مسجدیں ان میں تو ہرجماعت جماعت اولی ہے
#10882 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ہرجماعت کاامام اسی محل قیام امام پرمحراب میں کھڑا ہوکرامامت کرے بلکہ افضل یہ ہے کہ ہرجماعت جدید اذان سے ہو۔ ہاں مسجد محلہ میں جس کے لئے امام وجماعت معین ہیں اس اعتماد پرکہ ہم اپنی جماعت دوبارہ کرلیں گے بلاعذر شرعی مثل بدمذہبی امام وغیرہ جماعت اولی کاقصدا ترك کرناگناہ ہے اور اگرامام کے ساتھ اہل محلہ کی جماعت ہوگئی اور کچھ لوگ اتفاقا یاعذرصحیح کے سبب رہ گئے تو ان کواذان جدید کی اجازت نہیں اور محراب میں قیام امام کی جگہ ان کے امام کوکھڑاہونا مکروہ ہے اذان دوبارہ نہ کہیں اور محراب سے ہٹ کرجماعت کریں یہی افضل ہے اسے جوموجب عذاب بتاتاہے غلط کہتاہے کما حققنا فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۱۰ : ازمدرسہ اہلسنت منظراسلام بریلی مسؤلہ عبداﷲ مدرس ۳ / شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك صف پردویاچارشخص علیحدہ علیحدہ فرض پڑھ سکتے ہیں یانہیں بینواتوجروا
الجواب : اگرجماعت کرسکتے ہوں توترك جماعت نہ کریں رافضیوں سے مشابہت نہ کریں اور اگر یہ جماعت جماعت اولی ہے جب تو اس کاترك گناہ اور ناجائز ہے مگرنماز سب کی بہرحال ہوجائے گی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۱۱ تا ۹۲۲ : ازگورکھپور محلہ دھوبی مسؤلہ سعیدالدین ۹شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) جماعت کے لئے تعین وقت گھڑی سے جائز ہے یانہیں
(۲) امام کو کسی مقتدی کے لئے جوممبرمسجد ومیرمحلہ ہو اور سید ہو باوجودگزرجانے وقت معین گھڑی کے جماعت کے لئے انتظار کرنا درست ہے یانہیں
(۳) امام کے نزدیك تمام مقتدیوں کی عزت برابرہونی چاہئے یانہیں
(۴) ایك مقتدی کوجوممبرمسجد ومیرمحلہ اور سید ہو دوسرے مقتدی پرفوقیت ہے یانہیں ۔
(۵) اگرکوئی مقتدی سنت مستحب نمازپڑھتاہو تواس کی سنت ختم ہونے تك امام کو انتظارکرناچاہئے یانہیں سنت مؤکدہ کی تعریف کیاہے
(۶) کسی مقتدی کابوجہ اس کی امارت اعزاز کے باوجود تعین وقت گھڑی وضو اور سنت کا انتظارکرناجائز ہے یاناجائز
#10883 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
(۷) امام کاکہنا کہ ہم کومقتدیوں کے انتظار کی ضرورت نہیں بلکہ مقتدیوں کوامام کے انتظار کی ضرورت ہے صحیح ہے یانہیں
(۸) امام کووقت معین گھڑی پرآناجائز ہے یانہیں
(۹) امام کاکہنا کہ گھڑی کامعین صرف مؤذن کی اذان کے لئے ہے جماعت کے لئے نہیں درست ہے یانہیں
(۱۰) باوجود تعین وقت گھڑی امام کاکہنا کہ جب امام نماز کے لئے کھڑا ہوجائے وہی وقت نماز کا ہے درست ہے یانہیں
(۱۱) مقتدیوں کاپیش امام سے جو کہ وقت معین پرنماز نہ پڑھاتے ہوں کہنا کہ آپ وقت معین سے ۲۔ ۴۔ ۱۰ منٹ پہلے تشریف لائیے درست ہے یانہیں
(۱۲) امام کا کہنا میں حشرتك نہ آؤں گا درست ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
(۱) جائز ہے واﷲ تعالی اعلم۔
(۲) درست ہے جبکہ حاضرین پرگراں نہ ہو اور وقت وسیع ہو واﷲ تعالی اعلم۔
(۳) جس کو دینی عزت زائد ہے ہرمسلمان کے نزدیك زائد ہے اس کی وہ رعایت کی جائے گی جودوسرے کی نہ ہوگی جب تك کوئی حرج شرعی لازم نہ آئے واﷲ تعالی اعلم
(۴) ہے مگرنہ ایسی کہ اس کی ذاتی رعایت اوروں پر باعث بار ہو اور عین نماز میں کسی معین کی رعایت جائز نہیں مثلا امام رکوع میں ہے اور کوئی شریك ہونے کوآیا اگرامام نے نہ پہچانا تو اس کے لئے رکوع میں بعض تسبیحیں زائد کرسکتاہے جس میں وہ شامل ہوجائے کہ یہ دین میں اعانت ہے لیکن اگر پہچانا کہ فلاں ہے اور اس کی خاطر سے زائد کرنا چاہے توجائز نہیں ویخشی علیہ امرعظیم (اس سے ڈرنا چاہئے یہ بہت بڑا معاملہ ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
(۵) انتظارکرسکتاہے اگروقت میں وسعت ہو اور اوروں پرگرانی نہ ہو۔ سنت موکدہ وہ امردینی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیشہ کیامگرنادرا یاکبھی ترك نہ فرمایا مگراتفاق سے کسی نے ترك کیا تو اس پرانکار بھی نہ فرمایا واﷲ تعالی اعلم
(۶) اس کا جواب نمبر۵ کے مطابق ہے مگر خاص اس کی مالداری کے سبب رعایت کی اجازت نہیں لیکن اس حالت میں کہ رعایت نہ کرنے سے فتنہ ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
(۷) مقتدیوں کوامام کاانتظار چاہئے امام کوتاحدوسعت مقتدیوں کاانتظار چاہئے۔ حدیث میں ہے :
#10884 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
لوگ جلدجمع ہوجاتے تو حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جلد نماز پڑھ لیتے اور لوگ دیر میں آتے تو تاخیر فرماتے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۸) جائز کیا بلکہ مناسب ہے وا ﷲ تعالی اعلم
(۹) تعیین وقت جماعت ہی کے لئے کی جاتی ہے لوگ جب وقت معین پرآجائیں توامام کو بلاضرورت زیادہ دیرلگانے کی اجازت نہیں کہ وجہ ثقل وباعث نفرت جماعت ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم
(۱۰) جب وقت معین ہوچکا تو اس کے بعد دیر کرکے امام کانمازپڑھانا اس کاحکم ابھی سوال سابق میں گزرا اور اس سے پہلے جلدی کرکے پڑھ لینا باعث تفریق جماعت ہوگا اور وہ بلاضرورت جائزنہیں واﷲ تعالی اعلم۔
(۱۱) پیشتر کی استدعا فضول ہے یہ استدعا کریں کہ وقت معین پرتشریف لایاکیجئے واﷲ تعالی اعلم
(۱۲) اگرپیشتر آنے سے انکار ہے توبیجا نہیں امام انتظار کے لئے نہیں بنایاگیا واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۲۳ : ازچاند پارہ ڈاك خانہ شہرت گنج ضلع بستی مسؤلہ محمدیار علی نائب مدرس ٹریننگ اسکول ۱۸ / ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرامام کو مقتدی کی صف کے آگے کھڑاہونے کی جگہ نہیں ہے تو امام صف مقتدی میں کس صورت سے کھڑا ہو آیا امام مقتدی سے کچھ امتیاز کے واسطے آگے کھڑا ہو یامقتدی امام کی دونوں جانب یعنی دہنی بائیں امام کے پیر کے برابرکھڑے ہوں بینواتوجروا
الجواب : جب صرف ایك مقتدی ہو تو سنت یہی ہے کہ وہ امام کے برابر دا ہنی طرف کھڑا ہو مگر اس کا لحاظ فرض ہے کہ قیام قعود رکوع سجود کسی حالت میں اس کے پاؤں کاگٹا امام کے گٹے سے آگے نہ بڑھے۔ اسی احتیاط کے لئے امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ یہ فرماتے ہیں کہ یہ اپنا پنجہ امام کی ایڑی کے برابررکھے اور اگردومقتدی ہوں تواگرچہ سنت یہی ہے کہ پیچھے کھڑے ہوں پھر بھی اگرامام کے دہنے بائیں برابر کھڑے ہوجائیں گے حرج نہیں مگردو سے زیادہ مقتدیوں کاامام کے برابرکھڑا ہونا یاامام کاصف سے کچھ آگے بڑھا ہونا کہ صف کی قدر جگہ نہ چھوٹے یہ ناجائز وگناہ ہے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی اگرمقتدیوں کی کثرت اور جگہ کی قلت ہے باہم صفوں میں فاصلہ کم چھوڑیں پچھلی صف اگلی صف کی پشت پرسجدہ کرے اور امام کے لئے جگہ بقدرضرورت پوری چھوڑیں اور اگر اب بھی امام کو جگہ ملنا ممکن نہ ہو نہ ان میں کچھ لوگ دوسری جگہ نماز کوجاسکیں مثلا معاذاﷲ کسی ایسی کوٹھڑی میں محبوس ہیں جس کاعرض جانب قبلہ گزسواگز ہے تویہ صورت مجبوری محض
#10885 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ہے اس میں قواعد شرع سے ظاہر یہ ہے کہ جماعت کریں امام بیچ میں کھڑا ہو پھر تنہاتنہا اس کااعادہ کریں جماعت اقامت اشعار کے لئے او ر اعادہ رفع خلل کے واسطے۔ درمختار میں ہے :
کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھ ۔
جونماز کراہت تحریمی کے ساتھ اداکی گئی ہو اس کا اعادہ واجب ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لوتوسط اثنین کرہ تنزیھا وتحریما لواکثر ھ
ولایقال الجماعۃ واجبۃ بل قیل سنۃ موکدۃ وکراھۃ التحریم فی جانب النھی کالوجوب فی جانب الامر والاجتناب عن المناھی اھم من ایتان الاوامر فی الحدیث لترك ذرۃ مما نھی اﷲ خیرمن عبادۃ الثقلین لانانقول اقامۃ الشعار اھم من کل شیئ حتی اباحوا للختان ولیس الاسنۃ صریح المحرمات من النظر والمس قیل فی الھندیۃ عن العتابیۃ فی ختان الکبیر اذا امکن ان یختن نفسہ فعل والالم یفعل الا ان یمکنہ ان یتزوج اویشتری ختانۃ فتختنہ وذکر الکرخی فی الجامع الصغیر ویختنہ
اگرامام دومقتدیوں کے درمیان کھڑاہوا تو یہ مکروہ تنزیہی ہے اگردو سے زیادہ مقتدی ہوں تو مکروہ تحریمی۱ھ
یہ نہ کہاجائے کہ جماعت واجب ہے بلکہ اسے سنت مؤکدہ کہاگیاہے اور جانب نہی میں کراہت تحریمی جانب امر میں وجوب کی طرح ہے اور مناہی سے اجتناب اوامر پرعمل سے اہم ہے۔ حدیث شریف میں ہے : اﷲ تعالی کے منع کردہ ایك ذرہ کاچھوڑدینا تمام جن وانس کی عبادت سے افضل ہے۔ کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ شعار کی اقامت ہرشے سے اہم ہے حتی کہ علمانے ختان کے لئے صریح محرمات پرنظرمس کومباح قراردیا حالانکہ ختنہ صرف سنت ہے۔ فتاوی ہندیہ میں عتابیہ کے حوالے سے کبیر کے ختنے کے بارے میں کہاگیا ہے کہ اگراس کیلئے اپنا ختنہ کرناممکن ہو توخود کرے ورنہ نہ کرے مگر اس صورت میں کہ جب اس کے لئے شادی ممکن ہو یا ایسی لونڈی خریدناممکن ہو جو اس کاختنہ کردے تو ایسا ہی کرے۔ امام کرخی نے جامع صغیر
حوالہ / References درمختار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۱
درمختار باب الامامۃمطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
#10886 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
الحمامی ۔
اقول : ویؤیدہ ماعن الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم انھم کانوا لایختنون اولادھم الابعد البلوغ وقال فی الدر وقتہ غیرمعلوم وقیل سبع سنین کذا فی الملتقی وقیل عشر وقیل اقصاہ اثنتا عشرۃ سنۃ زاد الشامی عن الطحطاوی وقیل لایختن حتی یبلغ لانہ للطھارۃ ولاتجب علیہ قبلہ قال فی الدر وقیل العبرۃ بطاقتہ وھوالاشبہ قال ش ا ی بالفقہ زیلعی وھذہ من صیغ التصحیح ھ فشمل اذا لم یلق الابعد البلوغ لایقال فلیصل ثلثۃ ثلثۃ تتری یؤم کل اثنین امام فالجماعۃ یحرزون وعن الکراھۃ یحترزون لانا نقول لا اصل فی الشریعۃ الطاھرۃ لتفریق الجماعۃ الحاضرۃ ولم یرض اﷲ بہ للمسلمین وھم فی نحرالعدو فما ظنك بسائر الاحوال ھذا
میں فرمایا اس کا ختنہ حجام کردے۔
اقول : (میں کہتاہوں ) اس کی تائید صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے اس عمل سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کاختنہ بلوغت کے بعد کرتے تھے۔ درمختار میں ہے کہ ختنہ کاوقت مقرر نہیں بعض نے سات سال بعض نے دس سال اور بعض نے کہا ہے کہ آخری وقت بارہواں سال ہے۔ شامی نے طحطاوی کے حوالے سے اضافہ کیاہے کہ بلوغ سے قبل ختنہ نہ کیاجائے کیونکہ اس کا مقصد طہارت ہے اور وہ بلوغ سے پہلے لازم نہیں ہوتی۔ درمختار میں ہے اعتبار طاقت وقوت کا ہے اور یہی مختار ہے۔ شارح شامی نے فرمایا یعنی یہی عقل و دانش کے زیادہ قریب ہے زیلعی اوریہ (اشبہ) تصحیح کے صیغوں میں سے ایك ہے۱ھ یہ اس صورت کوبھی شامل ہے جب بلوغ کے بعد ہی طاقت رکھتاہو یہ بھی نہیں کہاجاسکتا کہ تین تین الگ ہوکرنماز اداکریں اور امام ہردوکی امامت کرائے توجماعت حاصل کرلیں گے اور کراہت سے بچ جائیں گے کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ شریعت طاہرہ میں جماعت حاضر ہ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع عشرفی الختان الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۵۷
ردالمحتار مسائل شتّی ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۳۴۹
درمختار مسائل شتّی مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۵۳۰
درمختار مسائل شتّی مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۳۵۰
ردالمحتار ، مسائل شتّی مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۵۳۰
#10887 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ماظھر لی وعند ربی علم حقیقۃ کل حال۔ واﷲ تعالی اعلم میں تفریق کی اجازت نہیں ہے حتی کہ دشمنوں کے سامنے بھی اﷲتعالی نے مسلمانوں کے لئے ایسے عمل کو پسند نہیں کیا تو دیگر حالات میں یہ کیسے ہوسکتاہے یہ بات مجھ پر آشکار ہوئی ہے حقیقت حال کاعلم میرے رب کریم کے پاس ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۹۲۴تا۹۲۷ : ازغازی پورمحلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفترججی غازی پور ۱۷ / ذی القعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین :
(۱) ایك مسجد میں دو تین جماعتوں کایکے بعددیگرے ہوناکیسا ہے چاہئے یانہیں
(۲) کراہت جماعت ثانیہ میں آپ کی کیاتحقیق ہے
(۳) ایك مسجد میں ایك ہی وقت دوتین آدمیوں کافردا فردا فرض پڑھنا کیسا ہے
(۴) اور اگرفردا فردا چندشخص فرض پڑھیں تونمازہوجائے گی یانہیں
الجواب :
(۱) مسجد دوقسم ہے ایك مسجد عام جسے کسی خاص محلہ سے خصوصیت نہیں جیسے مسجد جامع یابازار یاسرایا اسٹیشن کی مسجد(۲) دوسری مسجد محلہ کہ ایك محلہ خاص سے اختصاص رکھتی ہو اس کی معمولی جماعت معین ہے اگرچہ کچھ راہگیر یامسافر بھی متفرق اوقات میں شریك ہوجایاکریں اور یکے بعددیگرے چندجماعتیں کرنے کی بھی دوصورتیں ہیں ایك یہ کہ جماعت موجودہ کے دویاچندحصے کردیں جب ایك حصہ کرلے تودوسرا کرے۔ دوسرے یہ کہ وہ حاضر ہواپڑھ گیا دوسرا اس کے بعد آیا یہ اب جماعت کرتاہے تعدد جماعت کی پہلی صورت بلاضرورت شرعیہ مطلقا حرام ہے خواہ مسجد محلہ ہو یامسجد عام ہاں بضرورت جائز ہے جیسے صلوۃ الخوف میں ۔ رہا یہ کہ مسجد میں کوئی بدمذہب گمراہ یافاسق معلن یاقرآن مجید کاغلط پڑھنے والا امامت کرتاہے کچھ لوگ براہ جہل یاتعصب اس کے پیچھے پڑھتے ہیں دوسرے لوگ اس کے روکنے پرقادرنہیں یہ اس کی اقتدا سے بازرہتے ہیں اور اس کے فراغ کے بعد اپنی جماعت جداکرتے ہیں جس کاامام سب بلاؤں سے پاك ہے یہ صورت مطلقا جائز بلکہ شرعا مطلوب ہے مسجد عام ہو خواہ مسجد محلہ۔ اور تعدد جماعت کی صورت ثانیہ کہ یہ گروہ پہلی جماعت کے وقت حاضرنہ تھا یہ مسجد عام میں مطلقا جائزومطلوب ہے یہاں تك کہ کتابوں میں تصریح ہے کہ بازار وغیرہ کی عام مساجد میں افضل یہ ہے کہ جو گروہ آتاجائے نئی اذان نئی اقامت سے جماعت کرے سب جماعتیں جماعت اولی ہوں گی کما فی فتاوی الامام قاضی خاں وغیرہ (جیسا کہ فتاوی امام قاضی خاں وغیرہ
#10888 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
میں ہے۔ ت) اور مسجد محلہ میں بھی اگرپہلی جماعت کسی غلط خواں یابدمذہب یامخالف مذہب نے کی یا بے اذان دئیے ہوگئی یااذان آہستہ دی گئی دوسری جماعت مطلقا جائز ومطلوب ہے اور اگر ایسانہیں بلکہ اہل محلہ موافق المذہب سنی صالح صحیح خواں امام کے پیچھے باعلان اذان کہہ کر پڑھ گئے اب باقی ماندہ آئے توانہیں دوبارہ اذان کہہ کر جماعت کرنی مکروہ تحریمی ہے اور بے اذان دیئے محراب جماعت اولی میں امامت کرنی مکروہ تنزیہی اور اگرمحراب بدل دیں تواصلا کراہت نہیں ۔ اس مسئلہ کی تفصیل تام فقیر نے اپنے فتاوی میں ذکرکی۔
(۲) اس کاجواب اول میں آگیا۔
(۳) اگران میں کوئی شرعی حیثیت سے قابل امامت ہو اور دانستہ بلاوجہ شرعی ترك جماعت کریں توگنہگار ہوں گے اگرچہ نمازہوجائے گی۔ اور نادانستہ ہو یعنی ایك شخص فرض پڑھ رہاہے دوسراآیا اسے معلوم نہیں کہ یہ فرض پڑھ رہاہے اس نے بھی فرض کی نیت الگ باندھ لی اسی طرح تیسراآیا اس نے بھی فرض کی نیت باندھ لی یاان میں کوئی قابل امامت نہیں تو حرج نہیں ۔
(۴) نماز ہوجاتی ہے مگرترك جماعت سے گناہ ہوتاہے جبکہ کوئی عذرشرعی نہ ہو۔
مسئلہ ۹۲۸ : ۲۹صفر۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کے انتظار میں وقت میں تاخیرکرنا مقتدیوں کودرست ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
وقت کراہت تك انتظار امام میں ہرگز تاخیرنہ کریں ہاں وقت مستحب تك انتظارباعث زیادت اجروتحصیل افضلیت ہے پھر اگروقت طویل ہے اورآخر وقت مستحب تك تاخیرحاضرین پرشاق نہ ہوگی کہ سب اس پرراضی ہیں تو جہاں تك تاخیر ہواتناہی ثواب ہے کہ ساراوقت ان کانماز ہی میں لکھاجائے گا۔
وقدصح عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم انتظار النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی مضی نحو من شطر اللیل وقداقرھم علیہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقال انکم لن تزالو فی صلاۃ
صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کاحضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کایہاں تك انتظارکرنا ثابت ہے کہ رات کاکافی حصہ گزرجاتا اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے اس عمل کوبرقراررکھااور فرمایا : تم جب سے نماز کے انتظار میں ہو
#10889 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ماانتظرتم الصلاۃ ۔
وہ تمام وقت تمہارانماز میں گزرا۔ (ت)
ورنہ اوسط درجہ تاخیر میں حرج نہیں جہاں تك حاضرین پرشاق نہ ہو
فی الانقرویۃ عن التاتارخانیۃ عن المنتقی للامام الحاکم الشھید ان تاخیرالمؤذن و تطویل القرأۃ لادراك بعض الناس حرام ھذا اذا کان لاھل الدنیا تطویلا وتاخیرا یشق علی الناس و الحاصل ان التاخیر القلیل لاعانۃ اھل الخیر غیرمکروہ ولاباس بان ینتظر الامام انتظار اوسطا ۔ واﷲ تعالی اعلم
انقرویہ میں تاتارخانیہ سے امام حاکم شہید کی المنتقی کے حوالے سے ہے کہ بعض لوگوں کی خاطر مؤذن کا اذان کو مؤخر کرناا ور امام کاقرأت کولمباکرنا حرام ہے یہ تب ہے جب دنیاداروں کی خاطرایساکرے اور تطویل وتاخیر لوگوں پرشاق ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ اہل خیر کی اعانت کی وجہ سے کچھ تاخیر کرنے میں کوئی کراہت نہیں لہذا امام کو اوسط درجہ کا انتظار کرلینے میں کوئی حرج نہیں ۔ (ت)
مسئلہ ۹۲۹ : ازفیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ربع الاخری۱۳۳۶ھ
اگرکوئی پیریامولوی عربی خواں مسجد کے قریب رہتاہو اور اس مسجد کامنتظم ہوجماعت میں شریك نہ ہو اور اذان وقت بے وقت ہو اور کبھی نہ ہو لوگ بلااذان نمازپڑھ جائیں ایسا شخص گنہگار ہے یانہیں
الجواب :
ترك جماعت اور ترك حاضری مسجد کاعادی فاسق ہے اور فاسق قابل اتباع نہیں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۳۰ : ازشہرجوناگڈھ محلہ کیتانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمدحسین ۲۰ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
جوشخص جماعت کے ساتھ نمازپڑھنے کومستحب کہے اس کو علمائے دین کیاکہیں گے یہاں پرایك مدرسہ ہے اس میں تھوڑے عرصہ سے شوروغوغا مچاہے اور آپ علمائے دین کی منصفی پرسب کااتفاق ہے
حوالہ / References صحیح البخاری باب السمرفی الفقہ والخیر بعدالعشاء مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۴ ، ۹۰ ، مسند احمد بن حنبل مروی ازمسند انس بن مالك مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۲۶۷
فتاوٰی انقرویۃ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ۱ / ۵
#10890 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
برائے خدا ہم جاہلوں کوراہ راست بتائیں ۔
الجواب :
جماعت کو مستحب سمجھنے کے اگریہ معنی ہیں کہ اسے واجب یاسنت مؤکدہ نہیں جانتا صرف ایك مستحب بات مانتاہے توسخت مبطل شدیدخاطی ہے اور احادیث صحیحہ اور تمام کتب فقہ کے ارشاد کامخالف ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۳۱ : ازترسائی کاٹھیاواڑ مرسلہ احمددادصاحب ۲ / جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
ایك ہی مسجد میں جماعت ثانی بلاوجہ ہوسکتی ہے یانہیں مثلا سہو سے جماعت اول کونہ پہنچ سکے اور بعد میں جماعت ثانی کرلے خواہ گاؤں ہو یاشہر شارع عام ہو یاکوچہ قائم امام ہو یانہ ہو۔
الجواب :
جومسجد شارع یابازار یاسریااسٹیشن کی ہو کہ کسی محلہ یاامام سے مخصوص نہیں اس میں سب جماعتیں جماعت اولی ہیں جوگروہ آئے نئی اذان واقامت سے محراب میں جماعت کرے اور جومسجد محلہ ہے جس کے لئے امام وجماعت معین ہے اس میں جب امام پہلی جماعت باعلان اذان مطابق سنت اداکرچکا توبعد کوجوآئیں انہیں اعادہ اذان ناجائز ہے اور محراب میں امامت مکروہ اور بلااعادہ اذان محراب سے ہٹ کر بے کراہت جائز۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۳۲ : ازشہرکہنہ محلہ مروہی ٹولہ مسؤلہ بشیرالدین صاحب ۱۹ / رمضان شریف ۱۳۳۶ھ
ایك مصلی پردوشخص علیحدہ نمازفرض اداکریں تو ایسی حالت میں فرض اداہوتے ہیں یانہیں
الجواب :
اگر ان میں کوئی امامت کے قابل ہے اور قصدا ترك جماعت کیااور یہ مسجد محلہ نہ تھی یاتھی اور یہ جماعت جماعت اولی ہوتی تو جس کی طرف سے یہ ترك ہے وہ گناہگار ہوا ایك خواں دونوں اور اگر یہ مسجد محلہ تھی اور یہ جماعت جماعت اولی نہ ہوتی تو براکیا رافضیوں سے مشابہت توقدیم سے تھی اب دیوبندیوں گنگوہیوں سے بھی ہوئی اور اگر ان میں کوئی قابل امامت نہ تھا توحرج نہیں بہرحال فرض ادا ہرصورت میں ہوجائیں گے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۳۳ : ازنمبر۱۰۱ ثلی تال کوہ نینی تال مرسلہ مولوی محمدحسین صاحب تاجرطلسمی پریس ۲۵ / شوال ۱۳۳۶ھ
جماعت صرف عورتوں کی جن کامحض امام مرد ہو درست ہے یانہیں اور امام کے سہو کو وہ لڑکی یا عورت بتاسکتی ہے یانہیں جس سے پردہ نہیں ہوتا
#10891 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
الجواب :
اگریہ جماعت مسجد میں ہو مطلقا مکروہ ہے کہ عورات کوحاضری مسجد منع ہے اوراگرمکان ہو اور مرد کوحاضری مسجد سے کوئی عذر صحیح شرعی مانع نہیں تومطلقا مکروہ ہے کہ مرد پرحاضری مسجد واجب ہے اور اگر اسے عذر ہے اور جماعت میں جتنی عورتیں اس کی محرم یازوجہ یاغیرمشتہاۃ لڑکیوں کے سوانہیں تومطلقا بلاکراہت جائز ہے اور نامحرم مشتہاۃ ہیں تومکروہ بہرحال اگرامام کوسہو ہو توعورت تصفیق سے اسے متنبہ کرے یعنی سیدھی ہتھیلی بائیں پشت دست پرمارے آواز سے تسبیح وغیرہ نہ کہے کہ مکروہ ہے۔ درمختار :
المرأۃ تصفق لاببطن علی بطن ولو صفق اوسبحت لم تفسد وقدترکا السنۃ تاتارخانیۃ ۔
عورت تصفیق سے متنبہ کرے مگر باطن ہتھیلی کوبائیں ہتھیلی کے باطن پرنہ مارے اگرمرد نے تصفیق کی عورت نے تسبیح کہی تونماز فاسد نہ ہوگی البتہ دونوں نے سنت کو ترك کردیا تاتارخانیہ۔ (ت)
اقول : ہاں اگر امام نے قرأت میں وہ غلطی کی جس سے نماز فاسد ہو توعورت مجبورانہ آوازہی سے بتائے گی جبکہ وہ تصفیق پرامام کویاد نہ آجائے وذلك لان الضرورات تبیح المخطورات (اور وہ اس لئے کہ ضرورتیں ممنوعات کومباح کردیتی ہیں ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۳۴ : یکم جمادی الاخری ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك سمجھ وال لڑکا آٹھ نوبرس کاجونمازخوب جانتاہے اگرتنہاہو تو آیا اسے یہ حکم ہے کہ صف سے دورکھڑا ہویاصف میں بھی کھڑاہوسکتاہے بینواتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں اسے صف سے دور یعنی بیچ میں فاصلہ چھوڑکرکھڑا کرنا تومنع ہے
فان صلاۃ الصبی الممیز الذی یعقل الصلاۃ صحیحۃ قطعا وقدامر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بسدالفرج
کیونکہ ممیزبچے (جونماز کوجانتاہو) کی نمازقطعا صحیح ہے اور حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صفوف میں خلا نہ چھوڑنے اور متصل رکھنے کا
حوالہ / References درمختار باب ما یفسدالصلوٰۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۱
#10892 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
والتراض فی الصفوف ونھی عن خلافہ بنھی شدید۔
حکم دیا ہے اوراس کے خلاف پرنہی شدید فرمائی ہے۔ (ت)
اور یہ بھی کوئی ضروری امرنہیں کہ وہ صف کے بائیں ہی ہاتھ کوکھڑا ہو علماء اسے صف میں آنے اور مردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی صاف اجازت دیتے ہیں درمختار میں ہے :
یصف الرجال ثم الصبیان ظاھرہ تعددھم فلو واحد ادخل الصف ۔
مردصف بنائیں پھربچے اس کاظاہرواضح کررہاہے یہ اس وقت ہے جب بچے متعدد ہوں اگراکیلا ہوتو اسے صف کے اندرکھڑاکرلیاجائے(ت)
مراقی الفلاح میں ہے :
ان لم یکن جمع من الصبیان یقوم الصبی بین الرجال ۔
اگربچے زیادہ نہیں توایك بچے کومردوں کی صف میں کھڑاکرلیاجائے۔ (ت)
بعض بے علم جویہ ظلم کرتے ہیں کہ لڑکا پہلے سے داخل نماز ہے اب یہ آئے تواسے نیت بندھا ہوا ہٹاکر کنارے کردیتے اور خود بیچ میں کھڑے ہوجاتے ہیں یہ محض جہالت ہے اسی طرح یہ خیال کہ لڑکابرابر کھڑا ہوتو مرد کی نماز نہ ہوگی غلط وخطا ہے جس کی کچھ اصل نہیں ۔
فتح القدیر میں ہے:
اما محاذاۃ الامرد فصرح الکل بعدم افسادہ الامن شذ ولامتمسك لہ فی الروایۃ ولافی الدرایۃ ۔ ملخصا
واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
امردکامحاذی ہونا فسادنماز کاسبب نہیں اس مسئلہ پر تمام فقہانے تصریح کی ہے البتہ شاذونادرطورپرکچھ لوگوں نے اس کی مخالفت کی ہے ان کے لئے نہ روایۃ کوئی دلیل ہے نہ درایۃ ملخصا(ت)
مسئلہ ۹۳۵ : از کلکتہ دھرم تلانمبر۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۲۶صفرالمظفر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آپ نے پہلے میرے سوال کے جواب میں تحریرفرمایا
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبو عہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۴
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ کراچی ص۱۶۸
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۱۲
#10893 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
تھا کہ امام کے برابر تین مقتدی ہوجائیں گے تونماز مکروہ تحریمی ہوگی ایك حافظ صاحب کہ آدمی ذی علم ہیں وہ کہتے ہیں کہ جناب مولوی صاحب نے جوحوالہ دیاہے وہ درمختار کے متن سے نہیں بلکہ شرح سے ہے اورچاہتے ہیں کہ اصول سے جواب تحریر فرمادیں ۔ بینواتوجروا
الجواب :
یہ مطالبہ سخت عجیب ہے درمختارتوشرح ہی کانام ہے کیاشروح معتبرنہیں ہوتیں یا ان میں درمختارنامعتبرہے یامتن میں شرح کے خلاف لکھا ہے اور جب کچھ نہیں تو ایسا مطالبہ اہل علم کی شان سے بعید درمختار بحر علم کی وہ درمختارہے کہ جب سے تصنیف ہوئی مشارق ومغارب ارض میں فتوائے مذہب حنفی کاگویا مدار اس کی تحقیقات عالیہ وتدقیقات غالیہ پر ہوگیا اﷲ عزوجل رحمت فرمائے علامہ سید ابن عابدین شامی پر کہ فرماتے ہیں :
ان کتاب الدرالمختار شرح تنویر الابصار قدطار فی الاقطار وسار فی الامصار وفاق فی الاشتھار علی الشمس فی رابعۃ النھار حتی اکب الناس علیہ وصار مفزعھم الیہ وھوالحری بان یطلب ویکون الیہ المذھب فانہ الطراز المذھب فی المذھب فلقد حوی من الفروع المنقحۃ والمسائل المصححۃ مالم یحوہ غیرمن کبارالاسفار ولم تنسج علی منوالہ یدالافکار ۔
خلاصہ یہ کہ درمختار نے تمام عالم میں آفتاب چاشت کی طرح شہرت پائی مخلوق ہمہ تن اس سے گرویدہ ہوکر اپنے مہمات میں اس کی طرف التجا لائی یہ کتاب اسی لائق ہے کہ اسے مطلوب بنائیں اور اس کی طرف رجوع لائیں کہ یہ دامن مذہب کی زرنگار گوٹ ہے وہ تصحیح وتنقیح کے مسائل جمع ہیں کہ بڑی بڑی کتابوں میں مجتمع نہیں آج تك اس انداز کی کتاب تصنیف نہ ہوئی۔
سبحان اﷲ کیا ۱ایسی کتاب اس قابل ہے کہ اس کاارشاد بلاوجہ محض قبول نہ کریں خیر۲فتح القدیرتومعتبر ہوگی جس کے مصنف امام ہمام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام قدس سرہ وہ امام اجل ہیں کہ ان کے معاصرین تك ان کے لئے منصب اجتہاد ثابت کر تےتھے کماذکرہ فی ردالمحتار(جیساکہ
حوالہ / References ردالمحتار شروع الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲
#10894 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
ردالمحتار میں اس کا ذکر کیاگیاہے۔ ت) ۳تبیین الحقائق تومقبول ہوگی جس کے مصنف امام اجل فخرالدین ابومحمدعثمان بن علی زیلعی شارح کنز ہیں جن کی جلالت شان آفتاب نیمروز سے روشن تر ہے ۔ یہ امام محقق علی الاطلاق سے مقدم اور ان کے مستند ہیں کافی ۴امام نسفی تومعتمد ہوگی جس کے مصنف امام برکۃ الانام حافظ الملۃ والدین ابوالبرکات عبدا ﷲ بن محمودنسفی صاحب کنزالدقائق ہیں ۔ سب جانے دو ۵ہدایہ بھی ایسی چیز ہے جس کے اعتماد واستناد میں کلام ہوسکے یہ سب اکابرآئمہ تصریح فرماتے ہیں کہ جماعت رجال میں امام کا قوم کے برابر ہوناحرام ومکروہ تحریمی ہے ہدایہ میں ہے : محرم قیام الامام وسط الصف (امام کا صف کے درمیان کھڑاہونا حرام ہے۔ ت)فتح القدیرمیں ہے :
صریح فی ان ترك التقدم لامام الرجال محرم وکذا صرح الشارح وسماہ فی الکافی مکروھا وھو الحق ای کراھۃ تحریم لان مقتضی المواظبۃ علی التقدم منہ علیہ الصلاۃ والسلام بلا ترک الوجوب فلعدمہ کراھۃ التحریم فاسم المحرم مجاز ۔
یہ عبارت اس میں صریح ہے کہ مردوں کے امام کا تقدیم کوترك کرنا حرام ہے اور شارح نے بھی اسی کی تصریح کی ہے اور کافی میں اسے مکروہ کہا اور حق بھی یہی ہے یعنی مکروہ تحریمی ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کابلاترك
اس پرمواظبت فرماناوجوب کی دلیل ہے لہذا اس کاخلاف کرنا مکروہ تحریمی ہوا پس اس پرحرام کااطلاق مجازا ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
محرم وھوقیام الامام وسط الصف فیکرہ کالعراۃ کذا فی الھدایۃ ھویدل علی انھا کراھۃ تحریم لان التقدم واجب علی الامام للمواظبۃ من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وترك الواجب موجب الکراھۃ التحریم المقتضیۃ للاثم ۔
امام کاوسط صف میں قیام حرام ہے۔ ایسا عمل ننگوں کی طرح مکروہ ہوگا ہدایہ میں اسی طرح ہے یہ اس پردال ہے کہ یہ عمل مکروہ تحریمی ہے کہ امام کامقدم ہونا واجب ہے کیونکہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کایہ دائمی عمل ہے اور ترك واجب اس کراہت تحریمی کاموجب ہے جوگناہ کی مقتضی ہے۔ (ت)
حوالہ / References الہدایۃ باب الامامۃ مطبوعہ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۱۰۳
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۰۶
بحرالرائق باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۵۱
#10895 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
۷دررالحکام علامہ مولی خسرو میں ہے : محظور قیام الامام وسط الصف ھ ملخصا (امام کا صف میں کھڑاہونا ممنوع ہے۔ ت)۸ذخیرۃ العقبی میں ہے : اماکراھتھا فلعدم خلوھا عن المحرم (اس کی کراہت کی وجہ یہ ہے کہ یہ حرمت سے خالی نہیں ۔ ت)مجمع ۹ الانہر میں ہے : قیام الامام وسط الصف مکروہ کراھۃ تحریم ھ ملخصا(امام کاوسط صف میں کھڑا ہونا مکروہ تحریمی ہے ۱ھ تلخیصا۔ ت) مستخلص۱۰ میں ہے : محرم وھووقوف الامام وسط الصف (امام کاوسط صف میں کھڑا ہونا حرام ہے۔ ت) فتح المعین۱۱ علامہ سیدابی السعود ازہری میں زیرقول شارح والاثنان خلفہ وان کثرالقوم کرہ قیام الامام وسطھم (اور دوامام کے پیچھے کھڑے ہوں اگرلوگ دو سے زیادہ ہوں توامام کا ان کے درمیان کھڑاہونا مکروہ ہے۔ ت) ای تحریما لترك الواجب (یعنی مکروہ تحریمی ہے کیونکہ ترك واجب لازم آرہا ہے ۔ ت) ۱۲ردالمحتار میں ہے : تقدیم الامام امام الصف واجب (امام کاصف کے آگے کھڑاہونا واجب ہے۔ ت) باایں ہمہ اگردلیل درکار ہوتو فتح القدیر وبحرالرائق کاارشاد پیش نظر کہ حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیشہ ہمیشہ صف پرتقدم فرمایا اور ایسی مداومت کہ کبھی ترك نہ فرمائیں دلیل وجوب ہے
اقول : وقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صلوا کما رأیتمونی اصلی رواہ البخاری عن مالك بن الحویرث رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اقول : (میں کہتاہوں )اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم اس طرح نمازپڑھو جس طرح تم مجھے نمازاداکرتے دیکھتے ہو۔ اس کو امام بخاری نے حضرت مالك بن حویرث رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)
حوالہ / References دررالحکام شرح غررالاحکام فصل فی الامامۃ مطبوعہ مطبعۃ احمد کامل الکائنۃ دارسعادت مصر ۱ / ۸۶
ذخیرۃ العقبٰی فصل فی الجماعۃ مطبوعہ منشی نولکشورلکھنؤ ۱ / ۸۵
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل مکروہات الصلوٰۃ مطبوعہ احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۲۵
مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق باب الامامۃ مطبوعہ کانشی رام پرنٹنگ ورکس لاہور ۱ / ۲۰۳
فتح المعین ، باب الامامۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۲۰۹
ردالمحتار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰
صحیح البخاری باب الاذان للمسافرالخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۸
#10896 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
یہاں امرہے اور امر کامفاد وجوب توجب تك دلیل خصوص مثلا ترك احیانا یااقرار علی الترك ثابت نہ ہوا اس عموم میں داخل اور وجوب حاصل اور ترك واجب مکروہ تحریمی اورمکروہ تحریمی گناہ صغیرہ اور صغیرہ بعد اعتیاد کبیرہ اور کبیرہ کامرتکب فاسق اور مردودالشہادۃ اور گناہ توایك ہی بار میں ثابت نسأل اﷲ العفو والعافیۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۹۳۶تا ۹۳۷ : ازگونڈہ ملك اودھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالعزیز صاحب مدرس مدرسہ مذکورہ ۱۳جمادی الاخری ۱۳۱۸ھ
سوال اول : زید کی امامت سے جماعت ثانیہ مسجد بازار یاسرائے میں ہورہی ہے اسی مسجد میں بکر بھی آیا اس کومعلوم ہوگیا کہ یہ جماعت ثانیہ ہے اس نے علیحدہ وتنہا جماعت کے قریب یا کسی قدر فاصلے سے اپنی نماز اداکی تونماز بکرکی ادا ہوگئی یانہیں
سوال دوم : ایك عالم صاحب فرماتے ہیں کہ جماعت ثانیہ کیا بلکہ جماعت اولی بھی ہوتی ہو تو اس وقت کوئی دوسراشخص اس مسجد میں آئے اور تنہا اپنی نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ہوجائے گی جماعت کا پچیس۲۵ گناثواب نہ ملے گا نماز ہوجانے کاسبب یہ بتایا کہ جماعت سنت مؤکدہ ہے نہ فرض ہے نہ واجب اس بارے میں کیاارشاد ہے
الجواب :
جواب سوال اول : نمازبایں معنی توہوگئی کہ فرض سرسے اترگیا مگرسخت کراہت ولزوم معصیت کے ساتھ کہ بے عذرشرعی ترك جماعت گناہ وشناعت ہے نہ کہ خود بحال قیام جماعت صریح خلاف و اضاعت یہاں تك کہ اگر کسی نے تنہافرض شروع کردئیے ہنوزجماعت قائم نہ تھی اس کے بعد قائم ہوئی اور اس نے بھی پہلی رکعت کاسجدہ نہ کیا تو اسے شرع مطہر مطلقا حکم فرماتی ہے کہ نیت توڑدے اور جماعت میں شامل ہوجائے بلکہ مغرب وفجر میں تو جب تك دوسری رکعت کاسجدہ نہ کیا ہو حکم ہے کہ نیت توڑکرمل جائے اور باقی تین نمازوں میں دوبھی پڑھ چکا ہوتو انہیں نفل ٹھہراکر جب تك تیسری کاسجدہ نہ کیا ہو شریك ہوجائے۔
فی التنویر شرع فیھا اداء منفردا ثم اقیمت یقطعھا قائما بتسلیمۃ واحدۃ ویقتدی بالامام ان لم یقید الرکعۃ الاولی بسجدۃ
تنویر الابصار میں ہے کسی نے تنہا نماز اداکرنا شروع کی پھر اسی فرض کی جماعت کھڑی ہوگئی تو وہ سلام واحد کے ساتھ کھڑے کھڑے نماز ختم کردے اور امام کی اقتدا کرے بشرطیکہ اس نے پہلی رکعت کا
#10897 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
اوقیدھا فی غیرر باعیۃ اوفیھا وضم الیھا اخری وان صلی ثلثا منھا اتم ثم اقتدی متنفلا ویدرك فضیلۃ الجماعۃ الافی العصر ۔
سجدہ نہ کیاہو یاپہلی رکعت کا سجدہ کرلیا ہے مگرنماز غیررباعی ہو(یعنی فجرومغرب کی نماز میں ) یانماز رباعی ہومگر اس کے ساتھ ایك اور رکعت ملاچکا ہے (ان صورتوں میں نماز توڑ کرامام کی اقتداکرے) اگرتین رکعت اداکرچکا ہے تونماز پوری کرے اس کے بعد بنیت نوافل امام کی اقتداکرے تواسے ثواب جماعت حاصل ہوجائے گا البتہ نمازعصر میں ایسا نہیں کرسکتا(کیونکہ بعدازعصرنفل پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ ت)
جب پیش ازجماعت تنہاشروع کرنے والے کویہ حکم ہے حالانکہ اس نے ہرگز مخالفت جماعت نہ کی تھی اورنیت توڑنا بے ضرورت شرعیہ سخت حرام ہے قال اﷲ تعالی و لا تبطلوا اعمالكم(۳۳) اپنے عمل باطل نہ کرو مگرشرع مطہرنے جماعت حاصل کرنے کے لئے نیت توڑنے کو ابطال عمل نہ سمجھا اکمال عمل تصورفرمایا تویہاں کہ جماعت قائمہ کے خلاف اپنی الگ پڑھتاہے کیونکر شرع مطہر کو گوارا ہوسکتاہے بلکہ جوشخص مسجد میں نمازتنہا پوری پڑھ چکا ہو اب جماعت قائم ہوئی ہے اگرظہر یاعشا ہے توشرعا اس پرواجب ہے کہ جماعت میں شریك ہوکہ مخالفت جماعت کی تہمت سے بچے اور باقی تین نمازوں میں حکم ہے کہ مسجد سے باہر نکل جائے تاکہ مخالفت جماعت کی صورت نہ لازم آئے
فی الدرالمختار من صلی الظھر والعشاء وحدہ مرۃ فلایکرہ خروجہ بل ترکہ للجماعۃ الاعند الشروع فی الاقامۃ فیکروہ لمخالفتہ الجماعۃ بلاعذر بل یقتدی متنفلا ومن صلی الفجر والعصر والمغرب مرۃ فیخرج مطلقا وان اقیمت وفی النھر ینبغی ان یجب خروجہ لان کراھۃ
نہر میں ہے مناسب یہ ہے کہ جماعت ہونے کے وقت اس کانکل جانا واجب ہے کیونکہ بغیرنماز کے وہاں مسجد میں رکے رہنا زیادہ مکروہ ہے۱ھ مختصرا اگرچہ درمختار میں ہے جس نے ظہر وعشاء کی نمازتنہا ایك مرتبہ اداکرلی اس کے لئے مسجد سے نکلنا مکروہ نہیں بلکہ جماعت کاترك مکروہ ہوا مگر اس صورت میں جب اقامت شروع ہوگئی تومکروہ ہے بلاعذر نکلنا بسبب اس کی مخالفت جماعت کے بلکہ وہ مسجد میں ٹھہرے اور بنیت نوافل امام کی اقتداء کرے اور جس نے فجر عصر اور مغرب کی نماز ادا کرلی تووہ ہرحال میں مسجد سے نکل سکتاہے اگرچہ
حوالہ / References درمختار باب ادراك الفریضۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
القرآن ۴۷ / ۳۳
#10898 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مکثہ بلاصلاۃ اشد ھ مختصرا فی ردالمحتار تحت قولہ الاعند الشروع فی الاقامۃ لان فی خروجہ تھمۃ قال الشیخ اسمعیل وھو المذکور فی کثیر من الفتاوی والتھمۃ ھنانشأت من صلاتہ منفردا فاذا خرج یؤیدھااہ وفیہ عن المحیط مخالفۃ الجماعۃ وزرعظیم ۔
تکبیر شروع ہوجائے ۔ ردالمحتار میں “ الاعند الشروع فی الاقامۃ “ کے تحت ہے کہ اس کے نکلنے میں تہمت ہے۔ شیخ اسمعیل فرماتے ہیں کہ بہت سے فتاوی میں یہی مذکور ہے اور یہ تہمت کاسبب اس کاتنہا نمازاداکرنا ہے اور جب وہ نکل کھڑا ہواتو اس سے تائید ہوجائے گی الخ اسی میں محیط کے حوالے سے ہے کہ مخالفت جماعت میں بہت بڑاگناہ ہے۔ (ت)
جب جماعت سے پہلے تنہا پڑھنے والا جماعت میں شریك نہ ہو تو متہم اور مخالف جماعت اور وزرعظیم میں مبتلا پاتاہے تو جوباوصف قیام جماعت قصدا مخالفت کرکے اپنی الگ شروع کردے کیونکر سخت متہم وصریح مخالف وگرفتار گناہ شدید نہ ٹھہرے گا بلکہ علمافرماتے ہیں کہ قیام جماعت کی حالت میں اگرکچھ لوگ آکردوسری جماعت جدا قائم کردیں مبتلائے کراہت ہوں گے کہ تفریق جماعت کی حالانکہ یہ نفس جماعت کے تارك نہ ہوئے نہ ان پر اصل جماعت سے مخالفت کی تہمت آسکتی ہے تواکیلا اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ بنانے والا کس قدر شدید مخالف ہوگا
فی الخلاصۃ ثم الھندیۃ قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الخارج فامھم وقام امام من اھل الداخل فامھم
خلاصہ پھرہندیہ میں ہے کچھ لوگ داخل مسجد اور کچھ مسجد سے باہربیٹھے تھے کہ مؤذن نے اقامت کہی تو باہروالوں میں سے ایك شخص نے امامت کرائی اسی طرح اہل داخل میں سے ایك شخص نے امامت کرائی ان دونوں میں سے جو پہلے
حوالہ / References درمختار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
ردالمحتارباب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۵۲۸
ردالمحتارباب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۵۲۹
#10899 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
من یسبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم
شروع ہوا وہ امام ہے اور اس کی اقتدا کرنے والے درست ہیں اور ان میں کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)
اور اس جماعت کاجماعت ثانیہ ہونا ان شناعتوں سے نہیں بچ سکتا اگرچہ جماعت ثانیہ کی مخالفت کا تہمت سے مطلقا بری ہونا مان بھی لیاجائے کہ جب مسجد مسجد محلہ نہیں بازاریاسراکی مسجد ہے تو اس کی ہرجماعت جماعت اولی ہے کماحققناہ فی فتاونا (جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی میں کی ہے۔ ت) ہاں اگر یہ امام قرآن عظیم ایسا غلط پڑھتاہے جومفسد نماز ہو یا اس کی بدمذہبی تاحد فساد ہے یانقص طہارت وغیرہ کوئی اور وجہ فساد کی ہے تو الزام نہیں کہ ان صورتوں میں وہ جماعت خود جماعت ہی نہیں بلکہ اب اس میں شرکت ممتنع ہوگی لبطلان الصلاۃ خلفہ (کیونکہ اس کے پیچھے نماز باطل ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
جواب سوال دوم : اس کاجواب سوال اول سے واضح ہے۔ ہوجانا بمعنی سقوط فرض مسلم مگر اس قائل کے فحوائے کلام سے ظاہر ہے کہ صرف اس قدراس کی مرادنہیں بلکہ اس میں فقط کمی ثواب مانتا اور لحوق اثم سے پاك جانتاہے ولہذا تعلیل میں نہ واجب کالفظ بڑھایا اور نہ سقوط فرض توبحال ترك جمیع واجبات بھی حاصل ہے اب یہ قول محض غلط ہے اولا مذہب معتمدمیں جماعت واجب ہے اور اسے سنت مؤکدہ کہنا بوجہ ثبوت بالسنۃ ہے اور نہ بھی سہی تاہم اس کے قصدی ترك میں لحوق گناہ سے مفرنہیں
فی الدر المختار الجماعۃ سنۃ موکدۃ للرجال قال الزاھدی ارادوابالتاکید الوجوب الخ وفیہ وقیل واجبۃ و علیہ العامۃ ای عامۃ مشائخنا و بہ جزم فی التحفۃ وغیرھا قال فی البحر وھوالراجح عنداھل المذہب ھ وفی البحر من باب صفۃ الصلوۃ الذی یظھر من کلام اھل المذھب ان
درمختار میں ہے مردوں کے لئے جماعت سنت مؤکدہ ہے۔ زاہدی نے کہا یہاں تاکید سے وجوب مراد لیاگیاہے الخ
اسی میں ہے وجوب کا قول بھی کیاگیاہے اور ہمارے عام مشائخ اسی پرہیں تحفہ وغیرہ میں اسی پرجزم ہے بحر میں فرمایا اہل مذہب کے ہاں یہی راجح ہے۱ھ اور بحرمیں باب صفت صلوۃ میں ہے کہ اہل مذہب کے کلام سے جوظاہرہوتاہے وہ یوں ہے کہ صحیح
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوی الفصل الخامس عشرفی الامامۃ والاقتداء مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۱۴۵ ، خلاصہ ہندیہ الفصل الثانی فی بیان من ہواحق بالامامۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۴
درمختار باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۲
#10900 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
الاثم منوط بترك الواجب اوالسنۃ المؤکدۃ علی الصحیح لتصریحھم بان من ترك سنن الصلوۃ الخمس قیل لایأثم والصحیح انہ یاثم ذکرہ فی فتح القدیر وتصریحھم بالاثم لمن ترك الجماعۃ مع انہا سنہ موکدۃ علی الصحیح وکذا فی نظائر لمن تتبع کلاھم ولاشك ان الاثم مقول بالتشکیك بعضہ اشد من بعض فالاثم لتارك السنۃ لمؤکدۃ اخف من الاثم لتارك الواجب ھ وفی ردالمحتار عن النھر عن الکشف الکبیر عن اصول ابی الیسرحکم السنۃ ان یندب الی تحصیلھا ویلام علی ترکھا مع لحوق اثم یسیرا ھ
قول کے مطابق گناہ کامدارترك واجب یاترك سنت موکدہ پرہے کیونکہ انہوں نے تصریح کی ہے کہ جس نے صلوات خمسہ کی سنن کوترك کیا اس کے بارے میں ایك قول ہے کہ وہ گنہگار نہیں ہوگا اور صحیح یہ ہے کہ وہ گنہگار ہوگا۔ فتح القدیر میں اس کوذکرکیاہے اور یہ بھی ان کی تصریح ہے کہ جس نے جماعت ترك کی وہ گنہگار ہوگا حالانکہ صحیح یہی ہے کہ جماعت سنت موکدہ ہے اسی طرح اس کی دیگر نظائر کاحکم ہے ان کے کلام سے تلاش کرنے والے کو یہی ملے گا بلاشبہ گناہ کے بارے میں تشکیکی قول ہے بعض کاقول بعض سے سخت ہے توتارك سنت مؤکدہ کاگناہ تارك واجب سے اخف اور کم ہوگا۱ھ
اور ردالمحتار میں نہر سے الکشف الکبیر کے حوالے سے ہے اصول ابوالیسر سے ہے کہ سنت کاحکم یہ ہے کہ اس کوحاصل کرنا مندوب ومستحب ہے اور اس کے ترك پر تھوڑے سے گناہ کے ساتھ ملامت ہوگی۱ھ(ت)
سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
لقدرأیتنا ومایتخلف عنھا الامنافق معلوم النفاق۔
یعنی ہم نے اپنے آپ کوعہد رسالت میں دیکھاکہ جماعت سے پیچھے نہ ہٹتا تھا مگر کھلا منافق۔
لوترکتم سنۃ نبیکم لضللتم رواہ مسلم (اگرتم اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سنت ترك کروگے گمراہ ہوجاؤگے (اسے مسلم نے روایت کیا۔ ت)اور ایك روایت میں ہے : لکفرتم تم کافرہوجاؤگے رواہ ابوداؤد (اسے ابوداؤد نے روایت کیا۔ ت) یعنی کفران یایہ کہ معاصی بریدکفر ہیں ۔ والعیاذباﷲ تعالی سبحنہ وتعالی اعلم
حوالہ / References بحرالرائق باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۰۲
ردالمحتار مطلب فی السنۃ وتعریفہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۷
#10901 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مسئلہ ۹۳۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز میں امام کے واسطے مصلی مخصوص کرنا اور مقتدی بغیرمصلے کے قصدا کھڑے کئے جاتے ہیں بایں نیت کہ امام بہ نسبت مقتدیوں کے ممتازہوناچاہئے مکروہ ہے یاغیرمکروہ بینواتوجروا۔
الجواب :
اتفاقا ایساہوجائے تو مضائقہ نہیں یاامام نے خود نہ چاہا نہ کسی مقتدی نے نہ اس لئے کہ امام ومقتدی میں امتیاز چاہئے بلکہ امام کو کسی فضل دینی کی تعظیم کے لئے مثلا وہ عالم دین ہے اس کے نیچے مصلی بچھادیا تو بھی حر ج نہیں اورخاص اس نیت سے بالقصد مقتدیوں کو بے مصلی کھڑاکرنا کہ نماز میں امام ومقتدیان کایوں امتیاز ہوناچاہئے محض بے اصل وخلاف سنت اور دین میں نئی بات نکالنا ہے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی
مسئلہ ۹۳۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی رمضان میں اور مسجد میں کلام شریف سننے جائے تو اپنی مسجد میں عشاء کی جماعت اس کے جانے سے بالکل جاتی ہے کیاایساشخص مقیم جماعت نہ ہوگا گوامام مقرر مسجد نہیں مگرقرآن شریف مایجوزبہ الصلوۃ پرقادر ہے درصورت اس کے موجود ہونے کے جماعت ہوسکتی ہے چنانچہ جمعہ مسجد میں یہی شخص پڑھاتاہے اس کو غیرمسجد میں جانا اپنی مسجد کو ایك وقت معطل چھوڑنا بغرض استماع قرآن جائز ہے یامکروہ یاکراہت ہے لیکن استماع قرآن تراویح میں صرف تراویح سے ثواب اتنازیادہ ہے کہ کراہت کان لم تکن (یعنی کراہت اصلا نہ رہے۔ ت) ہوجائے۔ بینواتوجروا
الجواب :
ایساشخص بلاشبہ مقیم جماعت ہے اسے چاہئے کہ نماز فرض اپنی مسجد میں پڑھاکر تراویح کے لئے دوسری مسجد میں چلاجائے کہ جب اپنی مسجد میں قرآن عظیم نہ ہوتا ہو تودوسری مسجد میں اس غرض سے جاناکوئی باك نہیں رکھتا بلکہ مطلوب ومندوب ہے ہاں تعطیل جماعت فرض جائز نہیں ولہذا فرض یہاں پڑھاکر دوسری جگہ جائے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۴۰ : ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی جواب ھذا السؤال (اے علما ! اﷲ تم پررحم فرمائے اس سوال کاکیاجواب ہےت) جماعت تراویح میں بعض لوگ صف اول ودوم میں متفرق طور پر اس طرح نماز پڑھتے ہیں کہ چارآدمی کھڑے ہوکر پھرچار بیٹھ کر بعد ہی اس کے دوکھڑے ہوئے ازاں بعد پھر تین بیٹھے ہوئے پڑھتے اور قرآن سنتے ہیں اگرچہ یہ بیٹھنے والے سب ضعیف ومعذور نہیں ہیں بلکہ بیشتر نوجوان ہیں جن کو بخیال تطویل قرأت امام برابر کھڑا رہنا بوجہ اپنی کاہلی وتکاسل کے ناگوار ہے آیابیٹھ کرنماز پڑھنا ان کا اندرصفوف بلاکراہت جائز ہے کیاتسویہ صفوف کاحکم اس سے قطعا غیرمتعلق ہے کیا
#10902 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
جماعت فرض وتراویح میں اس کی بابت کوئی حکم تخصیصی ہے ایك فریق کہتاہے کہ بیٹھ کرپڑھنے والے آخر صف میں نماز پڑھیں دوسرافریق مجوز ہے کہ ایسی جماعت بلاکراہت صحیح ودرست ہے چاہے کسی صف میں کوئی شخص بیٹھ کر پڑھتا ہو یا کھڑا ہوکر اس میں کوئی محظور شرعی نہیں ہے ایسی حالت میں کون حق پرہے بینواتوجروا
الجواب :
دربارہ صفوف شرعا تین باتیں بتاکیداکیدماموربہ ہیں اور تینوں آج کل معاذاﷲ کالمتروك ہورہی ہیں یہی باعث ہے کہ مسلمانوں میں نااتفاقی پھیلی ہوئی ہے۔
اول تسویہ کہ صف برابر ہوخم نہ ہو کج نہ ہو مقتدی آگے پیچھے نہ ہوں سب کی گردنیں شانے ٹخنے آپس میں محاذی ایك خط مستقیم پرواقع ہوں جو اس خط پرکہ ہمارے سینوں سے نکل کر قبلہ معظمہ پر گزراہے عمود ہو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
عباد اﷲ لتسون صفوفکم اولیخالفن اﷲ بین وجوھکم ۔
اﷲ کے بندو! ضرور یا تم اپنی صفیں سیدھی کروگے یااﷲ تمہارے آپس میں اختلاف ڈال دے گا۔
حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صف میں ایك شخص کاسینہ اوروں سے آگے نکلا ہواملاحظہ کیا اس پر یہ ارشاد فرمایا۔ رواہ مسلم عن النعمن بن بشیر رضی اﷲ تعالی عنھما (اس کو مسلم نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیاہے۔ ت)دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
راصوا صفوفکم وقاربوا بینھا وحاذوا بالاعناق فوالذی نفس محمد بیدہ انی لاری الشیاطین تدخل من خلل الصف کانھا الخذف ۔ رواہ النسائی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اپنی صفیں خوب گھنی اورپاس پاس کرو اور گردنیں ایك سیدھ میں رکھو کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں شیاطین کودیکھتاہوں کہ رخنہ صف سے داخل ہوتے ہیں جیسے بھیڑ کے بچے۔ اس کو نسائی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
حوالہ / References صحیح مسلم ، باب تسویۃ الصفوف الخ ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۲
سنن النسائی حث الامام علی رص الصفوف الخ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۳
#10903 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
تیسری حدیث صحیح میں ہے فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
اقیموا الصفوف فانما تصفون بصف الملئکۃ وحاذوا بین المناکب ۔ رواہ احمد وابوداو د والطبرانی فی الکبیر و ابن خزیمۃ والحاکم وصححاہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔
صفیں سیدھی کرو کہ تمہیں توملائکہ کی سی صف بندی چاہئے اور شانے ایك دوسرے کے مقابل رکھو۔ اس کو امام احمد ابوداؤد طبرانی نے المعجم الکبیر میں ابن خزیمہ اور حاکم نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کرکے اسے صحیح قراردیا۔
دوم : اتمام کہ جب تك ایك صف پوری نہ ہو دوسری نہ کریں اس کا شرع مطہرہ کو وہ اہتمام ہے کہ اگرکوئی صف ناقص چھوڑے مثلا ایك آدمی کی جگہ اس میں کہیں باقی تھی اسے بغیر پوراکئے پیچھے اور صفیں باندھ لیں بعد کو ایك شخص آیا اس نے اگلی صف میں نقصان پایا تو اسے حکم ہے کہ ان صفوں کو چیرتاہوا جاکروہاں کھڑا ہو اور اس نقصان کو پوراکرے کہ انہوں نے مخالفت حکم شرع کرکے خود اپنی حرمت ساقط کی جو اس طرح صف پوری کرے گا اﷲ تعالی اس کے لئے مغفرت فرمائے گا۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
الاتصفون کما تصف الملئکۃ عن ربھا ۔
ایسی صف کیوں نہیں باندھتے جیسی ملائکہ اپنے رب کے حضور باندھتے ہیں ۔
صحابہ نے عرض کی : یارسول اﷲ ! ملائکہ کیسی صف باندھتے ہیں فرمایا :
یتمون الصف الاول ویتراصون فی الصف ۔ رواہ مسلم وابوداؤد و
اگلی صف پوری کرتے اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس کو مسلم ابوداؤد
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷ ، مسند احمد بن حنبل مروی ازعبداﷲ ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۹۸
صحیح مسلم باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۱ ، سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷
صحیح مسلم باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۱ ، سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷
#10904 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
النسائی وابن ماجۃ عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
اتموا الصف المقدم ثم الذی یلیہ فما کان من نقص فلیکن فی الصف المؤخر ۔ رواہ الائمۃ احمد وابوداو د والنسائی وابن حبان وخزیمۃ والضیاء باسانید صحیحۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
پہلی صف پوری کرو پھر جو اس کے قریب ہے کہ جو کمی ہو تو سب سے پچھلی صف میں ہو۔ اسے ائمہ کرام احمد ابوداؤد نسائی ابن حبان ابن خزیمہ اور ضیاء مقدسی نے اسانید صحیحہ کے ساتھ حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
من وصل صفا وصلہ اﷲ ومن قطع صفا قطعہ اﷲ ۔ رواہ النسائی والحاکم بسند صحیح عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی تعالی عنھما وھو من تتمۃ حدیثہ الصحیح المذکور سابقا عند احمد وابی داؤد والثلثۃ الذین معھما۔
جوکسی صف کو صل کرے اﷲ اسے وصل کرے اور جوکسی صف کو قطع کرے اﷲاسے قطع کردے۔ اسے نسائی اور حاکم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیاہے یہ عبداﷲ ابن عمر کی حدیث اس حدیث صحیح مذکور سابقہ کاتتمہ ہے جسے امام احمد اور ابوداؤد اور دیگرمحدثین نے روایت کیاہے۔
ایك حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من نظر الی فرجۃ فی صف فلیسدھا بنفسہ فان لم یفعل فمرمارفلیتخط
جوکسی صف میں خلل دیکھے وہ خود اسے بند کردے اور اگراس نے بند نہ کیا اوردوسراآیا توا سے چاہئے
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۸ ، سنن النسائی فضل الصف الاول مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۴
سنن ابوداؤد باب تسویۃ الصفوف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۷ ، سنن النسائی من وصل صفا مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۹۴
#10905 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
علی رقبتہ فانہ لاحرمۃ لہ ۔ رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
کہ وہ اس کی گردن پرپاؤں رکھ کر اس خلل کی بندش کوجائے کہ اس کے لئے کوئی حرمت نہیں ۔ اسے مسند فردوس میں حضرت عبداﷲابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیاہے۔
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
ان اﷲ وملئکتہ یصلون علی الذین یصلون الصفوف ومن سد فرجۃ رفعہ اﷲ بھا درجۃ ۔ رواہ احمد و ابن ماجہ وابن حبان والحاکم وصححہ واقروہ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔
بیشك اﷲتعالی اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں ان لوگوں پرجوصفوں کو وصل کرتے ہیں اور جوصف کافرجہ بند کرے اﷲتعالی اس کے سبب جنت میں اس کا درجہ بلند فرمائے گا۔ اسے امام احمد ابن ماجہ ابن حبان اور حاکم نے روایت کیااور صحیح کہا اور ان تمام نے اسے حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیاہے۔
سوم : تراص یعنی خوب مل کر کھڑاہونا کہ شانہ سے شانہ چھلے اﷲ عزوجل فرماتاہے : صفا كانهم بنیان مرصوص(۴) ایسی صف کے گویا وہ دیوار ہے رانگاپلائی ہوئی۔ رانگ پگھلا کر ڈال دیں تو سب درزیں بھرجاتی ہیں کہیں رخنہ فرجہ نہیں رہتا ایسی صف باندھنے والوں کو مولی سبحنہ وتعالی دوست رکھتاہے اس کے حکم کی حدیثیں اوپرگزریں اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
اقیموا صفوفکم وتراصوا فانی ارکم من وراء ظھری ۔ رواہ البخاری و النسائی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اپنی صفیں سیدھی اور خوب گھنی کرو کہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتاہوں ۔ اسے بخاری اور نسائی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
حوالہ / References المعجم الکبیر مروی از ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۱ / ۱۰۵۔ ۱۱۳
مسند احمدبن حنبل مروی از مسند عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۸۹
القرآن ۶۱ / ۴
صحیح بخاری باب اقبال الامام علی الناس عند تسویہ الصفوف مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰۰
#10906 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
یہ بھی اسی اتمام صفوف کے متممات سے اور تینوں امرشرعا واجب ہیں کماحققناہ فی فتاونا وکثیر من الناس عنہ غافلون(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی خوب تحقیق کی ہے اور بہت سے لوگ اس سے غافل ہیں ۔ ت) اور یہاں چوتھا امر اور ہے تقارب کہ صفیں پاس پاس ہوں بیچ میں قدرسجدہ سے زائد فضول فاصلہ نہ چھوٹے جس کاذکرحدیث دوم میں گزرا وہ یہاں زیربحث نہیں صف میں کچھ مقتدی کھڑے کچھ بیٹھے ہوں تو اس سے امراول یعنی تسویہ صف پرتو کچھ اثرنہیں پڑتا کہ قائم وقاعد بھی خط واحد مستقیم میں ہوسکتے ہیں تسویہ میں ارتفاع کی برابری ملحوظ نہیں نہ وہ ملحوظ ہونے کے قابل کہ ایك پیمائش کے قدرکہاں سے آئیں گے ہاں جبکہ بیٹھنے والے محض کسل وکاہلی کے سبب بے معذوری شرعی بیٹھیں گے توفرائض وواجبات مثل عیدین ووتر میں امردوم وسوم کاخلاف لازم آئے گا کہ جب بلاعذر بیٹھے توان کی نماز نہ ہوئی اور قطع صف لازم آیا کہ نمازیوں میں غیرنمازی دخیل ہیں ان بیٹھنے والوں کو خودفساد نماز ہی کاگناہ کیاکم تھا مگرانہیں یہاں جگہ دینا اور اگرقدرت ہو تو صف سے نکال نہ دینا یہ باقی نمازیوں کاگناہ ہوگا کہ وہ خود اپنی صف کی قطع پرراضی ہوئے اور جو صف کوقطع کرے اﷲ اسے قطع کردے ان پرلازم تھا کہ انہیں کھڑے ہونے پرمجبور کریں اور اگرنہ مانیں توصفوں سے نکال کردور کریں ہاں نمازی اس پرقادرنہ ہوں تومعذور ہیں اور قطع صف کے وبال عظیم میں یہی بیٹھنے والے ماخوذ ہیں جوحکم فرائض وواجبات کاتھا رہی تراویح اس میں ہمارے علما کو اختلاف ہے کہ آیا یہ بھی مثل واجبات وسنت فجر بلاعذربیٹھ کرناجائز وفاسد ہوتی ہیں یامثل باقی سنن جائز ہوجاتی ہیں اگرچہ خلاف توارث کے سبب مکروہ ہوتی ہیں بعض علما حکم اول کی طرف گئے اور صحیح ثانی ہے درمختار میں ہے :
(التراویح تکرہ قاعد) لزیادۃ تاکدھا حتی قیل لاتصح (مع القدرۃ علی القیام) کمایکرہ تاخیر القیام الی رکوع الامام للتشبیہ بالمنافقین ۔
(نمازتراویح بیٹھ کراداکرنا مکروہ ہے) کیونکہ ان میں تاکید زیادہ ہے حتی کہ بعض فقہأ کے قول کے مطابق بیٹھ کر نمازتراویح ہوتی ہی نہیں (قیام پرقدرت کے ہوتے ہوئے) جیسا کہ رکوع امام تك قیام کو مؤخرکرنا (یعنی امام کے رکوع کے وقت نماز کاشروع کرنا) مکروہ ہے کیونکہ اس میں منافقین کے ساتھ مشابہت ہے۔ ت)
خانیہ و ردالمحتار میں ہے :
حوالہ / References درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
#10907 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
لوصلی التراویح قاعدا قیل لایجوز بلاعذر لماروی الحسن عن ابی حنیفۃ لوصلی سنہ الفجر قاعدا بلاعذر لایجوز فکذا التراویح لان کلامنھما سنۃ موکدۃ وقیل یجوز وھوالصحیح والفرق ان سنۃ الفجر سنۃ موکدۃ بلاخلاف والتراویح دونھا فی التاکد فلایجوز التسویۃ بینھم ۔
اگرکسی نے تراویح بیٹھ کرادا کیں توبعض فقہا کے نزدیك بلاعذر ایساکرنا درست نہیں کیونکہ امام حسن نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیاہے کہ اگر کسی نے فجر کی سنتیں بلاعذر بیٹھ کر ادا کیں تو یہ جائز نہیں اسی طرح تراویح کامعاملہ ہے کیونکہ دونوں سنت مؤکدہ ہیں بعض فقہا کے نزدیك جائز ہے اور یہی صحیح ہے فرق یہ ہے کہ سنن فجر بغیر کسی اختلاف کے سنت مؤکدہ ہیں اور تراویح کادرجہ تاکید میں ہونا اس سے کم ہے لہذا ان کے درمیان مساوات وبرابری نہ ہوگی۔ (ت)
قول اول پرکاہلوں کابلاعذر صف میں بیٹھنا ویساہی ناجائز ومورث گناہ وموجب قطع صف ہوگا جیسا واجبات میں کہ اس قول پریہ لوگ بھی نماز سے خارج ہیں اور قول ثانی پرمستحب ہوگا کہ ان اہل کسل کومؤخر کیاجائے اور صفوں میں یوں دخیل نہ ہونے دیاجائے کہ ایك قول پروہ گناہ ومعصیت ہے اور دوسرے پرمحض بے ضرورت ہے تو اس سے احتراز ہی میں فضیلت ہے۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دوسرے مذاہب جواپنے مذہب سے بے علاقہ ہیں جیسے حنفیہ کے لئے شافعیت مالکیت حنبلیت ان کے خلاف کی رعایت رکھنی بالاجماع مستحب ہے جب تك اپنے مذہب کامکروہ نہ لازم آتاہو تو یہ خلاف توخود اپنے علمائے مذہب میں ہے درمختارمیں ہے :
لاینقضہ مس ذکر وامرأۃ لکن یندب للخروج من الخلاف لاسیما للامام لکن بشرط عدم لزوم ارتکاب مکروہ مذھبہ ۔
مس ذکر اور مس امرأۃ سے وضونہیں ٹوٹتا لیکن ایسی صورت میں اختلاف سے بچتے ہوئے وضو کرلینا مستحب ہے خصوصا امام کے لئے بشرطیکہ امام کے اپنے مسلك میں مکروہ کاارتکاب لازم نہ آئے(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۹
دُرمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۷
#10908 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مگریہاں ایك اور نکتہ واجب اللحاظ ہوگا کہ تاخیر اتنے کاہلوں کی ہو جس قدر تمام صف سے زائد ہوں ورنہ اطراف صف آخر میں اقامت ہوتا کہ مذہب صحیح پرقطع صف نہ لازم آئے اس سے تحرز مستحب تھا یہاں واجب ہوگا توضیح یہ کہ یہاں تین۳ صورتیں ہوں گی :
اول یہ کہ قائمین بقدرکمال صف ہوں یعنی ان سے ایك یاچند صفیں پوری کامل ہوجائیں کہ نہ آدمی زائد بچے نہ صف میں جگہ رہے اس صورت میں صفوف سابقہ کاملہ قائمین سے کرلی جائیں اور کاملین سب سے آخر میں اپنی صف یاصفیں کامل یاناقص جس قدر ہیں باندھیں یہ صورت کاہلین کی تاخیرمطلق کی ہوگی۔
دوم قائمین سے اکمال صف نہیں ہوتا خواہ اس قدر کم ہیں کہ پہلی ہی صف پوری کرنے کو اور آدمیوں کی حاجت ہے یاکثیر ہیں ایك یاچند صفین ان سے مکمل ہوگئیں اور اب اتنے بچے جن سے بعد کی صف پوری نہیں ہوتی اور قاصرین سے تکمیل ہوجائے گی اور زیادہ نہ بچیں گے تولازم ہے کہ قائمین کی اخیر صف میں کاہلین کو ایك کنارے پرجگہ دے کرتکمیل صف کریں حتی کہ اگرصف اول ہی ناقص تھی تو اسی کے کنارے پرانہیں رکھیں اس صورت میں کاہلوں نے اصلا تاخیرنہ پائی ہاں ایك کنارے پرجمع کردئیے گئے۔
سوم تکمیل صف میں کاہلین کی حاجت ہے اور وہ بعد تکمیل بھی بچتے ہیں تو جس قدر تکمیل کے لئے مطلوب ہیں قائمین کی صف آخر کے ایك کنارے پرانہیں رکھ کرباقی کی صف تاصفوف ناقص یاکامل اخیر میں کردی جائیں یوں بعض کی تاخیر اور بعض کی طرف پر اقامت ہوگی اور وجہ ان سب کی وہی ہے کہ جب مذہب صحیح میں کاہلین کی نماز میں صرف کراہت ہے نہ باطل محض اور قائمین کی صف کوتکمیل کی حاجت ہے تواس سے ہٹا کر کاہلین کو صف دیگر میں رکھنا صف اخیر قائمین کوناقص چھوڑناہوگا اور یہ جائز نہیں پھربہرحال اگراور قائمین آتے جائیں یاانہیں میں سے بعض توفیق پاتے جائیں تووہ بجائے کاہلین فی طرف الصف ہوں اور کاہلین فی الطرف مؤخر ہوتے جائیں یہاں تك کہ مثلا صورت ثانیہ صورت اولی کی طرف رجوع کرے اور ثالثہ ثانیہ یااولی ہوجائے الی غیر ذلك من الاحتمالات (اس کے علاوہ دیگر احتمالات) یہ سب اس صورت میں ہے کہ کاہلین دست شرع میں نرم ہوں ورنہ بحال فتنہ قدر میسور پرعمل چاہئے وباﷲ التوفیق ھذا ماافادہ التفقہ والکتاب واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۹۴۱ : ازجالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی محمدجان صاحب مرسلہ محمداحمدخان صاحب ۲۰ / شوال ۱۲۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی کتاب میں یہ
#10909 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
عبارت لکھی ہے البتہ چارمصلے جو کہ مکہ معظمہ میں مقرر کئے ہیں لاریب یہ امرزبون ہے کہ تکرارجماعت وافتراق اس سے لازم آگیا کہ ایك جماعت ہونے میں دوسرے مذہب کی جماعت بیٹھی رہتی ہے اور شریك جماعت نہیں ہوتی اور مرتکب حرمت ہوتے ہیں مگریہ تفرقہ نہ ائمہ دین حضرات مجتہدین سے ہے نہ علمائے متقدمین سے بلکہ کسی وقت سلطنت میں کسی وجہ سے یہ امرحادث ہواہے کہ اس کو کوئی اہل حق پسندنہیں کرتا پس یہ طعن نہ علمائے اہل حق مذاہب اربعہ پر ہے بلکہ سلاطین پرہے کہ مرتکب اس بدعت کے ہوئے فقط واﷲتعالی اعلم۔ پس دریافت طلب یہ امر ہے کہ یہ چارمصلے کس کی سلطنت میں ہوئے اور کس امروبنیاد پر قائم کئے گئے کہ جوزیدلکھتاہے کہ لاریب یہ امرزبون ہے صدہاعلمائے کاملین وصلحائے مقبولین گزرے کسی نے آج تك یہ اعتراض نہیں کیا کہ جواب زید یہ اعتراض کرتاہے اس کالکھنا درست ہے یاخلاف اور زید کو شرعا کیاکہناچاہئے جواب مدلل مکمل صاف صاف تحریر فرمائیں بینوابالتفصیل جزاکم اﷲ الرب الجلیل۔
الجواب :
حقیقت امر یہ ہے کہ حرمین طیبین زادہما اﷲ شرفا وتعظیما میں چاروں مذاہب حقہ اہلسنت حفظہم اﷲتعالی کے لوگ مجتمع ہیں اور ان میں باہم طہارت ونماز کے مسائل میں اختلاف رحمت ہے ایك بات ایك مذہب میں واجب دوسرے میں ممنوع ایك میں مستحب دوسرے میں مکروہ ایك کے نزدیك ایك امرناقص طہارت دوسرے کے نزدیك نہیں ایك کے یہاں کسی صورت میں وضو تمام دوسرے کے یہاں نہیں تو جب امام کسی مذہب کا ہو اگر اس نے دوسرے مذہب کے فرائض طہارت وصلاۃ کی رعایت اور ان کے نواقض ومفسدات سے مجانبت نہ کی جب تو اس مذہب والوں کی نماز اس کے پیچھے باطل وفاسد ہی ہوگی اور اگرمراعات ومجانبت مشکوك ہو تومکروہ اور تلفیق مذاہب باجماع جمہورائمہ حرام وباطل اور بحال رعایت بھی ہرمذہب کے مکروہات سے بچنایقینا محال اور بعض امور ایك مذہب میں سنت اور دوسرے میں مکروہ ہیں اگربجالایا تومذہب ثانی اور تارك ہوا تو مذہب اول پر کراہت ولہذا غایت امکان قدرفرائض ومفسدات تك ہے محققین نے تصریح فرمائی کہ بہرحال موافق المذہب کی اقتداء اکمل وافضل تو انتظار موافق کے لئے نوافل یاذکروغیرہما میں مشغول رہنا جماعت سے اعراض نہیں بلکہ اکمل واعلی کی طلب ہے اور یہ تفریق جماعت نہیں بلکہ تکمیل وتحسین ہے خصوصا ان دومسجد مبارك میں کہ مسجد محلہ نہیں ہرجماعت جماعت اولی ہے اس لئے آٹھ سوبرس یا زائد سے مکہ معظمہ و مدینہ طیبہ و بیت المقدس و جدہ و مصرو شام وغیرہا بلاد اسلام میں عامہ مسلمین کا
#10910 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
عمل اس پرجاری وساری رہا اور بعض کاانکار شاذومہجور قرارپایا تو بعد وضوح حق واستقرار امر اسے زبون وحرام وبدعت کہنا باطل وجہل وسفاہت ہے چارمصلے ہونا اسی طریقہ ا نیقہ سے عبارت جسے علمائے مذاہب نے بنظرمصالح جلیلہ مذکورہ پسند ومقرررکھا باقی کسی مکان یاعلامت کابننا کہ یہ بھی صدہاسال سے معہود ومقبول ہے نہ اس کے لئے ضرور نہ ان میں مخل بلکہ وہ بھی منافع پرمشتمل درمختارمیں ہے :
یکرہ تطوع عند اقامۃ صلوۃ مکتوبۃ ای اقامۃ امام مذھبہ ۔
نماز فرض کی اقامت کے وقت نوافل مکروہ ہیں یعنی اقامت سے مراد اپنے ہم مذہب امام کی اقامت ہے(ت)
ردالمحتار میں :
لوانتظر امام مذھبہ بعیدا عن الصفوف لم یکن اعراضا عن الجماعۃ للعلم بانہ یرید جماعۃ اکمل من ھذہ الجماعۃ ۔
اگرکوئی شخص صفوں سے دور اپنے مذہب کے امام کاانتظارکرتارہا تو یہ جماعت سے اعراض نہ ہوگا کیونکہ یقینا معلوم ہے کہ وہ اس موجودہ جماعت سے اکمل جماعت کاارادہ رکھتاہے(ت)
شیخ علمائے مکہ معظمہ مولانا علی قاری مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ رسالہ اہتداء میں فرماتے ہیں :
لوکان لکل مذھب امام کما فی زماننا فالافضل الاقتداء بالموافق سواء تقدم اوتاخر علی ما استحسنہ عامہ المسلمین وعمل بہ جمہور المومنین من اھل الحرمین والقدس ومصر و الشام ولاعبرۃ بمن شذ منھم ۔
اگرہرمذہب کاالگ امام موجود ہو جیسا کہ ہمارے دور میں ہے توپھر اپنے موافق کی اقتدا افضل ہے خواہ وہ پہلے ہو یا بعد جیسا کہ اس کو عامہ مسلمین نے پسند کیا جمہورمومنین اہل حرمین قدس مصر اوراہل شام کا اسی پرعمل ہے اس کی مخالفت کرنے والے شاذونادر کاکوئی اعتبارنہیں ۔ (ت)
#10911 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں :
قد سئل بعض العلماء عن ھذہ المقامات المنصوبۃ حول الکعبہ التی یصلون فیھا الان باربعۃ ائمۃ علی مقتضی المذاھب الاربعۃ فاجاب بانھا بدعۃ ولکنھا بدعۃ حسنۃ لاسیئۃ لانھا تدخل بدلیل السنۃ الصحیحۃ و تقریرھا فی السنۃ الحسنۃ لانھا لم یحدث منہا ضرر ولاحرج فی المسجد ولافی المصلین من المسلمین لعامۃ اھل السنۃ والجماعۃ بل فیھا عمیم النفع فی المطروالحر الشدید والبرد و فیھا وسیلۃ للقرب من الامام فی الجمعۃ وغیرھا فھی بدعۃ حسنۃ و ویسمون بفعلھم للسنۃ الحسنۃ و ان کانت بدعۃ اھل السنۃ لااھل البدعۃ لان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال من سن سنۃ حسنۃ الی اخرما اطال واطاب علیہ رحمۃ الملك الوھاب واﷲ تعالی اعلم۔
بعض علماء سے کعبہ معظمہ کے اردگرد مقامات مخصوصہ میں مذاہب اربعہ کی اقتداء میں نماز اداکرنے کے بارے میں پوچھاگیاتوانہوں نے اسے بدعۃ کہا لیکن یہ بدعت حسنہ ہے سیئہ نہیں کہ یہ سنت صحیحہ کی دلیل وتقریر پرسنت حسنہ میں داخل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے کوئی ضررنہیں ہوتا نہ مسجد میں کوئی تنگی ہے اور نہ عام اہل سنت کے نمازیوں میں کوئی حرج ہے بلکہ اس میں بارش اور سخت گرمی وسردی میں فائدہ وآسانی ہے اور اس میں جمعہ وغیرہ میں امام کاقرب بھی حاصل رہتاہے لہذا یہ بدعت حسنہ ہے اور فقہاء اپنے اس فعل کانام سنت حسنہ رکھتے ہیں اگرچہ اہلسنت کی بدعت ہے نہ کہ اہل بدعت کی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا “ من سن سنۃ حسنۃ “ (جس نے اچھا طریقہ ایجادکیا) الی آخرالعبارۃ اﷲ تعالی ان پرلطف وکرم فرمائے وا ﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۹۴۲ : ازغازی پورمحلہ میاں پورہ مرسلہ منشی علی بخش صاحب محرر دفترججی غازی پور ۱۷ / ذی قعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام پرتحکم کرنا مقتدیوں کویاانتظار کرنا امام کو مقتدی
حوالہ / References حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ وقدسئل بعض العماء عن ہذہ المقامات المنصوبۃ حول الکعبۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد۱ / ۱۱۶
#10912 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
کا بعد اوقات معینہ کے بھی بالخصوص ایسے مقتدی کاجوبے علم اور مشہور جھگڑالو ہو درمیان میں مقتدیوں کے اور یہ چاہتاہو کہ جب ہم کہیں جب ہی اذان ہو اور جب ہم کہیں جب ہی نماز ہو اگرچہ وقت کچھ ہی ہوجائے اور امام پانچوں وقت بعداذان کے خود آکر ہمیں گھرسے بلالے جایاکرے پس ایسے شخص کانماز کے باب میں انتظار کرنااور متبع ہونا ا مام کو سزاوارہے یانہیں
الجواب :
مقتدی کوامام پرتحکم نہیں پہنچتا اور وہ خیالات جوسوال میں مذکور ہوئے محض ظلم واثم ہیں امام کو ایسے شخص کااتباع اور اس کی ان نفسانی خواہشوں کالحاظ ہرگز نہ چاہئے مگرجبکہ شریروموذی ہو اور اس کے ترك انتظارمیں مظنہ فتنہ ہو توبمجبوری تاحدامکان انتظارکرسکتاہے کہ فتنہ سے بچنا ضرورہے۔
قال اﷲ تعالی و الفتنة اشد من القتل- ۔
اﷲ تعالی کاارشاد گرامی ہے : فتنہ قتل سے بدترہے۔ (ت)
ملتزمان جماعت جب تك حاضرنہ ہوں اور وقت میں کراہت نہ آئے امام انتظار کرے ورنہ نہیں ۔
وقد کان صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا حضر الناس عجل واذا تاخروا اخر۔
واﷲ تعالی اعلم حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کامعمول تھا جب لوگ حاضر ہوتے آپ جلدی فرماتے جب لوگ تاخیر کرتے آپ تاخیرفرماتے(ت)
مسئلہ ۹۴۳ : ازشہرکہنہ مرسلہ رحیم بخش بریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ کھاناتیار ہے اورجماعت بھی تیارہے تواول کھاناکھائے یانماز پڑھ لے
الجواب :
جماعت تیار ہے اور کھاناسامنے آیا اور وقت تنگ نہ ہوجائے گا اور پہلے جماعت کوجائے توبھوك کے سبب دل کھانے میں لگارہے یاکھانا سردہو کر بے مزا ہوجائے گا یا اس کے دانت کمزور ہیں روٹی ٹھنڈی ہوکر نہ چبائی جائے گی تواجازت ہے کہ پہلے کھانا کھالے اور اگرکھانے میں کوئی خرابی یادقت نہ آئے گی نہ اسے ایسی بھوك ہے توجماعت نہ کھوئے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن ۲ / ۱۹۱
#10913 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
مسئلہ ۹۴۴ : مرسلہ اصغرعلی خاں بریلی بانس منڈی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں دس بیس شخص نمازی روزمرہ جمع ہوتے ہیں ان سب کی رائے سے وقت ظہر دوبجے اور عصر پانچ۵ بجے اور عشا۹ بجے قرارپایاہے اذان ہوئی اور دوایك شخص تشریف لاکر بیٹھے رہے یہاں تك کہ اور نمازی بھی جمع ہوگئے اور صف باندھ کرکھڑے ہوئے تو ان صاحب نے جوپیشتر سے تشریف لائے ہیں کہا کہ ہم نے تو بھی وضو ہی نہیں کیاہے لہذا کچھ صاحبوں کی اہل جماعت سے رائے ہوئی کہ وضو کرلینے دو جملہ نمازی کھڑے رہے جب ان صاحب نے وضوکرلیا بلکہ پاؤں دھوناباقی تھے کہ اس عرصہ میں دوچار شخص اور آگئے ان کووضوسے فارغ نہ ہونے دیا اور فورا کھڑے ہوگئے دیگر یہ کہ کوئی صاحب تشریف لائے اور وضو کرکے جماعت میں دیر دیکھ کر اپنے مکان کو تشریف لے گئے تو ان کا انتظار کیاجائے یانہیں اور جماعت تیار ہے بینوا توجروا
الجواب :
یہ دو۱چارشخص جوبعد کو آئے اور ان کے وضو کاانتظار نہ کیا اور جماعت قائم کردی اگریہ لوگ اہل محلہ سے نہ تھے انہیں اس تعیین وقت پرجواہل مسجد نے مقرر کرلی ہے اطلاع نہ تھی اور وقت میں تنگی بھی نہ تھی اور حاضرین میں کسی پرانتظار سے کوئی حرج بھی نہ تھا تو اس صورت میں ان کے وضو کاانتظارکرلینا مناسب تھا خصوصا جبکہ اس انتظار نہ کرنے میں ان کی دل شکنی ہو کہ بلاوجہ کسی مسلمان کی دل شکنی بہت سخت بات ہے دوچار منٹ میں وضوہوجائے گا اس میں ان کاایك نفع اور اپنے تین ان کا تویہ کہ تکبیر اولی پالیں گے او اپنا پہلانفع یہ کہ اس فضیلت کے ملنے میں مسلمانوں کی اعانت ہوئی اور اس کا اجرعظیم ہے قال اﷲ تعالی و تعاونوا على البر و التقوى ۪- (اﷲ تعالی نے فرمایا : نیکی اورتقوی پرلوگوں کے ساتھ تعاون کرو(ت)
یہاں تك کہ عین نماز میں امام کو چاہئے کہ اگررکوع میں کسی کی پہچل سنے اور اسے پہچانانہیں تو ایك تسبیح زیادہ کردے کہ وہ شامل ہوجائے دوم اس رعایت سے ان مسلمانوں کادل خوش کرنا متعدد احادیث میں ہے :
احب الاعمال الی اﷲ بعد الفرائض ادخال السرور علی المسلم اوکما
فرائض کے بعد سب اعمال میں اﷲ کوزیادہ پیارا مسلمان کادل خوش کرنا ہے جیسا کہ حضوراکرم
حوالہ / References القرآن ۵ / ۲
الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ۲۰۰ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۶۷ ، مجمع الزوائد باب فضل قضاء الحوائج مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۸ / ۱۹۳
#10914 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاارشاد مبارك ہے۔
سوم صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ :
انکم فی صلوۃ ماانتظرتم الصلوۃ ۔
بیشك تم نماز ہی میں ہو جب تك نماز کے انتظار میں ہو۔
ورنہ انتظارنہ کرنے میں کوئی حرج نہ ہوا جوشخص جماعت میں دیر دیکھ کرچلاگیا وقت مقررہ کے بعد اس کے انتظار کی حاجت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۴۵ : ازککرالہ ضلع بدایوں مرسلہ یسین خاں ۷ / ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
ایك شخص نے نماز پڑھنا شروع کیادوسرا آیا اس کے برابرکھڑاہوگیا تیسراآیا وہ دوسری طرف برابرکھڑاہوگیا چوتھا آیا اس نے دونوں مقتدیوں کوکھینچ کے پیچھے کھڑا کرکے شامل ہوا پوچھاگیا کہ نماز میں کوئی قصور تونہ ہوا کہاحدیث میں آیا ہے کہ مقتدیوں 0کوکھینچ کے پیچھے کھڑاکرلے۔ بینواتوجروا
الجواب :
آج کل بوجہ غلبہ جہل کھینچنا منع ہے پھر بھی نماز ہوگئی اگرہٹنے والے حکم شرع ماننے کے لئے ہٹے ہوں اور اگر کھینچنے والے کاحکم ماننے کوہٹے نہ مسئلہ کے لحاظ سے تو ان ہٹنے والوں کی نماز نہ ہوئی واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۴۶ : ازڈیرہ غازی خاں بلاك نمبر۱۲ مسؤلہ احمدبخش صاحب ۸صفر۱۳۳۹ھ
حضرت ملك العلماء شمس الفضلا مقتدائے اہل ایمان پیشوائے اہل ایقان ادام اﷲ تعالی فضلہم ومجدہم الی یوم الدین السلام و علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ نیازمند مشتاق زیارت محتاج دعاہزارہزار نیازکے بعد عرض کرتاہے کہ ان ایام میں ایك مسجد جدید تیارکرائی جاتی ہے جس کے متعلق یہ ارادہ ہے کہ سقف پرعورتوں کے نمازپڑھنے کی جگہ تیارہو اس حالت میں جماعت کی وضع اور صورت یہ ہوگی کہ بعض صفوف رجال جونیچے زمین پرہوں گی عورتوں کی صفوں سے مقدم اور بعض محاذی زیروبالا اور بعض مؤخر بیرونی صحن میں پس کیاایسی جماعت اس لئے کہ عورتوں کے صفوف بعض صفوف رجال کے اوپر اور بعض صفوف رجال سے جوبیرونی صحن میں ہوں گی مقدم ہیں مکروہ یاناجائز ہوگی اس لئے کہ عورتوں کے صفوف اورصفوف رجال کے درمیان دیواریں اور پردے حائل ہوں گے یاکوئی کراہت نہیں بینواتوجروا
الجواب :
جبکہ بیچ میں سقف وجدار حائل ہیں باعث بطلان نماز رجال نہیں ہوسکتا کہ محاذات نہ ہوئی
حوالہ / References صحیح بخاری باب السمر فی الفقہ والخبر بعدالعشاء مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۸۴۔ ۹۰
#10915 · (جماعت ثانیہ کو مستحسن قراردینے والے کے لئے جھکے ہوئے خوشے) (جماعت ثانیہ کے ثبوت میں)
تنویرالابصارمیں ہے :
واذا حاذتہ امرأۃ ولاحائل بینھما فی صلاۃ مطلقۃ فسدت صلاتہ ۔
جب عورت نمازمطلقہ میں مرد کے محاذی ہوجائے اور ان کے درمیان کوئی چیزحائل نہ ہو تو اس مرد کی نماز فاسدہوجائے گی۔ (ت)
مگریہ صورت بوجوہ کراہت وممانعت سے خالی نہ ہوگی
اولا عورتوں کامسجدمیں جانا خود ممنوع ہے توایك ممنوع کے لئے سامان کرنا ہے تنویرالابصارمیں ہے :
ویکرہ حضورھن الجماعۃ مطلقا علی المذھب ۔
مفتی بہ مذہب پرخواتین کاجماعت کے لئے حاضر ہونامطلقا مکروہ ہے(ت)
ثانیا بے ضرورت شرعیہ مسجد کی چھت پرچڑھنامکروہ ہے یہاں تك کہ شدت گرمی بھی اس کے لئے عذرنہ مانی گئی علمگیریہ میں ہے :
الصعود علی سطح کل مسجد مکروہ ولھذا اذا اشتد الحریکرہ ان یصلوا بالجماعۃ فوقہ ۔
ہرمسجد کی چھت پرچڑھنا مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ جب گرمی سخت ہو تومسجد کے اوپر باجماعت نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (ت)
ثالثا یہ اگرچہ تقدیم محسوس نہیں مگرواقع میں بعض صفوف رجال سے تقدیم اور بعض سے معیت ضرورہے اور حکم یہ ہے کہ اخروھن من حیث اخرھن اﷲ (ان کو موخررکھو جیسا کہ اﷲتعالی نے انہیں مؤخرفرمایا ہے۔ ت) لہذا اس سے احتراز ہی کیاجائے۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۴
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
فتاوٰی ہندیۃ الباب الخامس فی آداب المسجدالخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۲۲
فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۱۲
#11017 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
مسئلہ ۹۴۷ : ازفیض آباد مرسلہ منشی احمدحسین خرسندنقشہ نویس اسسٹنٹ انجینئر ریلوے ۲۳ربیع الاول شریف ۱۳۲۳ھ
س کہتاہے جس کو مغرب کی تیسری رکعت جماعت کے ساتھ ملے وہ جب اپنی نمازپوری کرنے کھڑا ہوتو اپنی دوسری رکعت میں قعدہ کرے کیونکہ قاعدہ مصرحہ ہے نماز مسبوق درحق قرأت حکم اول نمازدارد ودرحق قعود حکم آخرنماز مسبوق کی باقی ماندہ نماز) قرأت کے لحاظ سے اول اور بیٹھنے میں آخر کاحکم رکھتی ہے۔ ت) ع کہتاہے مسبوق دوسری رکعت پرقعدہ نہ کرے کہ بعض کتب فقہ میں ایسا ہی لکھا ہے اور جو دوسری قعدہ کرے گا توتینوں رکعات علیحدہ علیحدہ ہوجائیں گی پس سوال یہ ہے کہ قول س کا قابل عمل ہے یاع کا۔ بینواتوجروا
الجواب :
قول س کا صحیح ہے ائمہ فتوی سے اسی کااختیار مفیدترجیح ہے کتب معتمدہ میں اس کی تصریح ہے درمختارمیں ہے :
یقضی اول صلاتہ فی حق قراء ۃ واخرھا فی حق تشھد فمدرك رکعۃ من غیر
قرأۃ کے حق میں وہ اپنی ابتدا نماز اور تشہد کے حق میں آخرنماز تصورکرکے اداکرے فجر کے علاوہ
#11018 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
فجریاتی برکعتین بفاتحۃ وسورۃ و تشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا ۔
ایك رکعت پانے والا دورکعتوں کو فاتحہ اور سورت کے ساتھ اداکرے اور ان کے درمیان قعدہ بھی کرے اور چاررکعتی نماز میں چوتھی رکعت کو صرف فاتحہ کے ساتھ اداکرے اور اس سے پہلے قعدہ نہ کرے۔ (ت)
خلاصہ و ہندیہ میں ہے :
لوادرك رکعۃ من المغرب قضی رکعتین وفصل بقعدۃ فتکون بثلث قعدات ۔
اگرکسی نے مغرب کی ایك رکعت پائی تو وہ باقی ماندہ دوبجالائے اور ان کے درمیان قعدہ کے ساتھ فاصلہ کرے تو یہاں تین قعدے ہوجائیں گے(ت)
یہاں تك کہ غنیہ شرح منیہ میں فرمایا اگرایك رکعت پڑھ کرقعدہ نہ کیا توقیاس یہ ہے کہ نمازناجائز ہو یعنی ترك واجب کے سبب ناقص وواجب الاعادہ البتہ استحسانا حکم جواز وعدم وجوب اعادہ دیاگیاکہ یہ رکعت من وجہ پہلی بھی ہے ردالمحتارمیں ہے :
قال فی شرح المنیۃ ولولم یقعد جاز استحسانا لاقیاسا ولم یلزم سجود السھو لکون الرکعۃ اولی من وجہ ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
شرح المنیہ میں فرمایا ہے اگر اس نے ایك رکعت پڑھ کر قعدہ نہ کیا تو اگرچہ قیاسا نماز درست نہیں مگراستحسانا درست ہے اور اس پر سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ ایك لحاظ سے یہ پہلی رکعت ہے۔ (ت)
مسئلہ ۹۴۸ : حافظ عبداﷲ خاں موضع ٹھریا ضلع بریلی بتاریخ ۲۹ / جمادی الاخری ۱۳۲۷ھ
جماعت رکوع میں ہو تو مسبوق نمازی کونیت کرکے اور تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھنا چاہئے یا بے باندھے دوسری تکبیر کہہ کر رکوع میں جانا چاہئے یا ایك ہی تکبیر اس کے واسطے کافی ہے یاکیا حکم ہے بینوا توجروا
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶
فتاوٰی ہندیۃ الفصل السابع فی المسبوق واللاحق مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۹۱
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۴۱
#11019 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
الجواب :
ہاتھ باندھنے کی تواصلا حاجت نہیں اور فقط تکبیرتحریمہ کہہ کر رکوع میں مل جائے گا تو نماز ہوجائے گی مگرسنت یعنی تکبیر رکوع فوت ہوئی لہذا یہ چاہئے کہ سیدھا کھڑا ہونے کی حالت میں تکبیر تحریمہ کہے اور سبحنك اللھم پڑھنے کی فرصت نہ ہو یعنی احتمال ہو کہ امام جب تك سراٹھالے گا تومعا دوسری تکبیرکہہ کر رکوع میں چلاجائے اور امام کا حال معلوم ہوکہ رکوع میں دیر کرتاہے سبحنك اللھم پڑھ کر بھی شامل ہوجاؤں گا تو پڑھ کر رکوع کی تکبیر کہتاہوا شامل ہو یہ سنت ہے اور تکبیر تحریمہ کھڑے ہونے کی حالت میں کہنی توفرض ہے بعض ناواقف جو یہ کرتے ہیں کہ امام رکوع میں ہے تکبیرتحریمہ جھکتے ہوئے کہی اور شامل ہوگئے اگراتنا جھکنے سے پہلے کہ ہاتھ پھیلائیں توگھٹنے تك پہنچ جائیں اﷲ اکبر ختم نہ کرلیا تونماز نہ ہوگی اس کاخیال لازم ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۴۹ : ازبلنڈی افریقہ سائل حاجی عبداﷲ و حاجی یعقوب علی
نمازظہر کی جماعت کھڑی ہے میں نے وضو کیا تب تك تین رکعت خلاص ہوگئیں چوتھی میں جاملا اب میں تین رکعت کس ترتیب سے اداکروں
الجواب :
سلام اما م کے بعد کھڑے ہوکر سبحنك اللھم الخ پہلے اگرنہ پڑھا تھا تو اب پڑھے ورنہ اعوذ سے شروع کرے اور الحمد وسورت پڑھ کر رکوع وسجدہ کرکے بیٹھ کر التحیات پڑھے پھر کھڑا ہوکر الحمدوسورت پڑھے اور رکوع وسجدہ کرکے بغیر بیٹھے کھڑا ہوجائے اور چوتھی رکعت میں فقط الحمد پڑھ کر رکوع وسجدہ کرکے التحیات پڑھے اور نماز تمام کرے درمختارمیں ہے :
یقضی اول صلاتہ فی حق قراء ۃ واخرھا فی حق تشھد فمدرك رکعۃ من غیرفجر یاتی برکعتین بفاتحۃ وسورۃ وتشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا ۔ واﷲ تعالی اعلم
قراء ت کے حق میں ابتدائے نماز اور تشہد کے حق میں آخر نمازتصور کرکے اداکرے فجر کے علاوہ ایك رکعت پانے والا دورکعتوں کوفاتحہ اور سورت اور ان کے درمیان تشہد کے ساتھ اداکرے اور چاررکعتی نماز میں چوتھی رکعت کوصرف فاتحہ کے ساتھ پڑھے اور اس سے پہلے قعدہ نہ کرے(ت)
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶
#11020 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
مسئلہ ۹۵۰ : ازلشکر گوالیار محکمہ ڈاك دربارگوالیار مرسلہ مولوی نورالدین احمدصاحب ۹ / صفر۱۳۱۲ھ
مخدوم نیازمنداں بسط اﷲ ظلکم ابدا مسبوق سجدہ سہو میں امام سے ملے یانہیں یعنی اگر اس کو علم ہوکہ امام اور اس کے مقتدی سجدہ سہو کررہے ہیں یاتشہد بعد سجدہ سہو میں بیٹھے ہیں باوجود اس علم کے اس کی اقتداء درست ہے یانادرست بینواتوجروا
الجواب :
ضرورمل جائے ہرحال میں اقتدا درست وصحیح ہے ردالمحتارمیں زیر قول درمختار :
المسبوق یسجد مع امامہ مطلقا سواء کان السہو قبل الاقتداء اوبعدہ لکھا شمل ایضا مااذا سجد الامام واحدۃ ثم اقتدی بہ قال فی البحر فانہ یتابعہ فی الاخری ولایقضی قضاء الاولی کما لایقضیہما لواقتدی بہ بعد ما سجدھما انتھی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسبوق اپنے امام کے ساتھ ہرحال میں سجدہ سہو کرے خواہ وہ سہو اقتدا سے پہلے ہو یابعد میں یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب امام نے ایك سجدہ کرلیاتو پھر اس نے امام کی اقتداء کی بحرمیں ہے کہ مسبوق دوسرے سجدے میں اقتدا کرے تو اس صورت میں پہلے سجدہ کی قضانہیں جیسا کہ ان دونوں سجدوں کی ادائیگی کے بعد شمولیت کرنے پرقضانہیں انتہی۔ (ت)
مسئلہ ۹۵۱ : ۲۲ / رجب ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب زید صبح کی نماز کے وقت وضو کرکے فارغ ہوا توگمان کیا کہ امام نصف التحیات پڑھ چکا اور جماعت دوسری بھی تیار ہے اس نے سنت پڑھنا شروع کیا بعدسنت کے جماعت ثانی ہوئی زید اس میں شریك ہوا آیا یہ سنتیں اس کی ہوئی یانہیں اور زید امام اول کی التحیات میں شریك نہ ہونے سے گنہگار ہوا یانہیں اور اس التحیات میں شریك ہونا اسے ضروری تھا یانہیں
الجواب :
سنتیں ہوتو ہرحال میں گئیں مگرزید کوحکم یہ تھا ك امام اول کی التحیات میں شریك ہوجائے۔
حوالہ / References ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۴۹
#11021 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
جماعت ثانیہ کے اعتماد پر اولی کی شرکت نہ چھوڑے زید بالقصد بلاعذر صحیح شرعی جماعت اولی فوت کردینے سے گنہگار ہوا درمختارمیں ہے :
اذا خاف فوت رکعتی الفجر لاشتغالہ بسنتہا ترکہا ۔
جب سنتوں میں مشغولیت سے فرائض فجر کے فوت ہونے کا خوف ہوتو سنن کو ترك کردیاجائے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
الراجح عند اھل المذہب وجوب الجماعۃ وانہ یاثم بتفویتھا اتفاقا ھ وقدحققنا فی فتاونا بتوفیق اﷲ تعالی ان ھذا الحکم للجماعۃ الاولی عینا۔
راجح اہل مذہب کے ہاں جماعت کا واجب ہونا ہے اور اس کافوت کرنا بالاتفاق گناہ ہے۱ھ۔ اﷲ تعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی میں اس بات کی خوب تحقیق کی ہے کہ یہ حکم صرف پہلی جماعت کے لئے ہے۔ (ت)
ہاں اگر جماعت اولی کاامام غلط خواں یامعاذاﷲ بدمذہب گمراہ یافاسق معلن تھا اور امام ثانی ان بلاؤں سے پاک تو زید نے بہت اچھاکیا ایساہی چاہئے تھا بلکہ اگرامام اول مثلا شافعی المذہب تھا اور اس نے امام حنفی المذہب کی اقتداچاہی ا س نیت سے تاخیر کی جب بھی گناہ نہ ہوا کما بینا کل ذلك فی فتاونا والمسائل فی ردالمحتار وغیرہ (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس بات کی خوب تحقیق کی ہے اور ردالمحتاروغیرہ میں مسائل کی تفصیل ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۵۲ : ازگونڈل مرسلہ سیدغلام محی الدین صاحب راندھیری ۱۱ / صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسبوق بروقت اختتام نماز امام قعدہ اخیرہ میں تمامیت تشہد کے بعد گویا فقہی اقوال کے بموجب شہادتین کو مسبوق دہرایاکرے تاسلام امام بجائے شہادتین کے اگرالسلام علیك ایہاالنبی سے دہرایاکرے توکچھ حرج ہے
الجواب :
فقہانے تکرارتشہد ہی کو لکھاہے اور اگر السلام سے تکرار کرے جب بھی کوئی ممانعت نہیں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۵۳ : ازبریلی مرسلہ مولوی عبدالرشید صاحب مدرس ۲۲ / شوال ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسبوق امام کی متابعت سجدہ وسلام دونوں میں کرے گا
حوالہ / References درمختار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
ردالمحتار باب الاذان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۲
#11022 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
یافقط سجدہ میں اور اگر بالفرض والتقدیر سلام میں متابعت کرے تونماز مسبوق کی باقی رہے گی یافاسد بینواتوجروا جزاکم اﷲ تعالی۔
الجواب :
مسبوق صرف سجدہ میں متابعت کرے نہ سلام میں اگر سلام میں قصدا متابعت کرے گا اگرچہ اپنے جہل سے یہ ہی سمجھ کر کہ مجھے شرعا سلام میں بھی اتباع امام چاہئے تونماز اس کی فاسد ہوجائے گی ہاں اگرسہوا سلام کیا تونمازمطلق نہ جائے گی اور سجدہ سہو بھی اپنی نمازکے آخر میں کرنانہ ہوگا اگریہ سلام سہوا سلام امام سے پہلے یامعا اس کے ساتھ ساتھ بغیرتاخیر کے تھا اور اگرسلام امام کے بعد بھول کر سلام پھیرا تو اس سجدہ سہو میں توامام کی متابعت کرے ہی پھر جب اپنی باقی نماز کو کھڑا ہو تو اس کے ختم پر اس کے سہو سلام کے لئے سجدہ سہو کرے ردالمحتارمیں ہے :
المسبوق لیسجد مع امامہ قید بالسجود لانہ لایتابعہ فی السلام بل یسجد معہ ویتشھد فاذا سلم الامام قام الی القضاء فان سلم فان کان عامدا فسدت والالاولاسجود علیہ ان سلم سہوا قبل الامام اومعہ وان سلم بعدہ لزمہ لکونہ منفردا حینئذ بحر واراد بالمعیۃ المقارنۃ وھو نادرالوقوع کما فی شرح المنیۃ وفیہ لوسلم علی ظن ان علیہ ان یسلم فھو سلام عمد یمنع البناء ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسبوق اپنے امام کے ساتھ سجدہ کرے سجدہ کی قید اس لئے کہ سلام میں امام کی اتباع نہ کرے بلکہ اس کے ساتھ سجدہ کرے اور تشہد پڑھے اور جب امام سلام پھیرے تو وہ بقیہ رکعتوں کی ادائیگی کے لئے کھڑاہوجائے اگر اس نے سلام پھیرا اور اس کاسلام پھیرنادانستہ تھا تو نمازفاسد ہوجائے گی ورنہ نہیں اگر اس نے بھول کر سلام پھیرا تواس صورت میں سجدہ سہو نہ ہوگا جب امام سے پہلے یامعا اما کے ساتھ ساتھ بغیرتاخیر سلام پھیرا ہو اور اگر سلام امام کے بعد سلام پھیرا تواب سجدہ لازم ہے کیونکہ اب وہ تنہا ومنفرد ہے بحر اور یہاں معیت سے مراد مقارنت ہے اور اس کا وقوع بہت کم ہے اسی طرح شرح المنیۃمیں ہے کہ اگر اس نے یہ گمان کرتے ہوئے سلام پھیردیا کہ اس پرسلام لازم تھا تویہ عمدا سلام ہوگا جو کہ بنائے نماز سے مانع ہے۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۴۹
#11023 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
مسئلہ ۹۵۴ : مرسلہ مرزاباقی بیگ صاحب رامپوری ۱۱ / ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرمقیم نے امام مسافر کی اقتدا کی اور ایك یادونوں رکوع نہ پائے مثلا دوسری رکعت یاصرف التحیات میں شریك ہوا تو بعد سلام امام کے اپنی نماز کس طرح ادا کرے بینوا توجروا
الجواب :
یہ صورت مسبوق لاحق کی ہے وہ پچھلی رکعتوں میں کہ مسافر سے ساقط ہیں مقیم مقتدی لاحق ہے لانہ لم یدرکھما مع الامام بعد مااقتدی بہ (اس لئے کہ اس نے اقتداء کے بعد امام کے ساتھ ان دورکعتوں کو نہیں پایا۔ ت) اور اس کے شریك ہونے سے پہلے ایك رکعت یادونوں جس قدرنماز ہوچکی ہے اس میں مسبوق ہے لانھا فاتتہ قبل ان یقتدی (اقتدا سے قبل اس نے اسے فوت کیا ہے۔ ت) درمختار و ردالمحتارمیں ہے :
مقیم ائتم بمسافر فھو لاحق بالنظر للاخیرتین وقدیکون مسبوقا ایضاھ کما اذافاتہ اول صلاۃ امامہ المسافر ط۔
اگرمقیم نے مسافر کی اقتداء کی تو وہ آخری رکعتوں کے لحاظ سے لاحق ہے اور کبھی مسبوق بھی ہوسکتاہے جبکہ مسافر امام کی اقتدا ء پہلی رکعت میں نہ کی ہو۔ ط(ت)
اور حکم اس کا یہ ہے کہ جتنی نماز میں لاحق ہے پہلے اسے بے قراء ت اداکرے یعنی حالت قیام میں کچھ نہ پڑھے بلکہ اتنی دیر کہ سورہ فاتحہ پڑھی جائے محض خاموش کھڑا رہے بعدہ جتنی نماز میں مسبوق ہوا اسے مع قراء ت یعنی فاتحہ وسورت کے ساتھ اداکرے
فی الدر المختار اللاحق یبدأ بقضاء مافاتہ بلاقراء ۃ ثم ماسبق بہ بھا ان کان مسبوقا ایضا ھ ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ پہلے لاحق فوت شدہ رکعات بغیرقراء ت کے اداکرے پھر وہ رکعات جوامام کے ساتھ رہ گئی تھیں اگرمسبوق ہوا۱ھ ملخصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ ماسبق بہ بھا الخ ای ثم صلی
ماسبق رکعات الخ یعنی اگرمسبوق ہے تولاحق
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴۰
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶
#11024 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
اللاحق ماسبق بہ بقرأۃ ان کان مسبوقا ایضا بان اقتدی فی اثناء صلاۃ الامام ثم نام مثلا وھذا بیان للقسم الرابع وھو المسبوق اللاحق الخ
پھر قرأت کے ساتھ سابقہ رکعات اداکرے مثلا اس نے امام کے ساتھ دوران نماز اقتداء کی پھر مثلا سوگیا اور یہ چوتھی قسم کابیان ہے جومسبوق لاحق ہے الخ۔ (ت)
پس اگردونوں رکوع نہ پائے تھے تو پہلے دورکعتیں بلاقرأت پڑھ کر بعدالتحیات دورکعتیں فاتحہ و سورت سے پڑھے اور اگرایك رکوع نہ ملاتھا توپہلے ایك رکعت بلاقرأت پڑھ کر بیٹھے اور التحیات پڑھے کیونکہ یہ اس کی دوسری ہوئی پھر کھڑا ہوکر ایك رکعت اور ویسی ہی بلاقرأت پڑھ کر اس پربھی بیٹھے اور التحیات پڑھے کہ یہ رکعت اگرچہ اس کی تیسری ہے مگرامام کے حساب سے چوتھی ہے اور رکعات فائتہ کونماز امام کی ترتیب پراداکرنا ذمہ لاحق لازم ہوتاہے پھر کھڑا ہوکر ایك رکعت بفاتحہ وسورت پڑھ کر بیٹھے اور بعد تشہد نماز تمام کرے۔
فی ردالمحتار عن شرحی المنیۃ والمجمع انہ لوسبق برکعۃ من ذوات الاربع ونام فی رکعتین یصلی اولامانام فیہ ثم ماادرکہ مع الامام ثم ماسبق بہ فیصلی رکعۃ ممانام فیہ مع الامام ویقعد متابعۃ لہ لانھا ثانیۃ امامہ ثم یصلی الاخری ممانام فیہ ویقعد لانھا ثانیتہ ثم یصلی التی انتبہ فیھا و یقعد متابعۃ لامامہ لانھا رابعۃ و کل ذلك بغیرقرأۃ لانہ مقتد ثم یصلی الرکعۃ التی سبق بھا بقرأۃ الفاتحۃ وسورۃ والاصل ان اللاحق یصلی علی ترتیب صلاۃالامام
ردالمحتار میں شرح منیہ و مجمع سے ہے کہ اگر چاررکعات میں سے ایك رکعت گزرگئی اور پھر شریك ہوا پھر دومیں سوگیا تو اب جن میں سویا انہیں پہلے ادا کرے پھر جس میں امام کے ساتھ اقتداء کی پھر چھوٹی ہوئی پس وہ جس میں امام کے ساتھ سویا اس کی ایك رکعت پڑھے اور امام کی اتباع میں قعدہ کرے کیونکہ امام کی دوسری رکعات تھی پھرسونے والی دوسری رکعات اداکرے اور قعدہ کرے کیونکہ اس کی دوسری رکعت ہے پھر وہ پڑھے جس میں بیدار ہوا اور اتباع امام کی وجہ سے بیٹھے کیونکہ یہ اس کی چوتھی ہے اور یہ تمام بغیرقرأت کے ہوں گے پھر وہ قرأت وفاتحہ کے ساتھ وہ رکعات پڑھے جوگزرچکی تھیں ضابطہ
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۴۴۰
#11025 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
والمسبوق یقضی ماسبق بہ بعد فراغ الامام ھ اقول : فھذہ ھی الصورۃ المسؤل عنہا بید ان مانحن فیہ اعنی اقتداء المقیم بالمسافر لایتحقق فیہ الادراك بعد ماصار لاحقالانہ انما یصیر لاحقا فی الاخیرین وذلك انما یکون بعد سلام الامام فلا تتأتی ھنا صورۃ المتابعۃ بعد اداء ماھو لاحق فیہ کمالایخفی ولذلك تغیر بعض الترتیب واﷲ تعالی اعلم۔
یہ ہے کہ لاحق امام کی ترتیب پرنماز اداکرے لیکن امام کی فراغت کے بعد ماسبق کی ادائیگی کرے ۱ھ۔
اقول : (میں کہتاہوں ) صورت مسؤلہ یہی ہے علاوہ ازیں جس میں ہم بحث کررہے ہیں یعنی مقیم کا مسافر کی اقتدا کرنا اس میں لاحق سے ادراك امام پایانہیں جاتا کیونکہ آخری رکعتوں میں وہ لاحق ہی ہے اور یہ بات سلام امام کے بعد ہی ہوگی لہذا یہاں ایسی صورت نہ ہوگی کہ وہ کچھ ادائیگی کے بعد لاحق ہو جیسا کہ واضح ہے اسی لئے کچھ ترتیب میں تبدیلی آجاتی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۹۵۵ : ازبگرام ضلع ہردوئی محلہ میدانی پورہ مرسلہ حضرت سیدابراہیم صاحب مارہروی ۲۰ / صفر۱۳۱۱ھ
امام نمازظہریاعصر یاعشاء پڑھتاہے اور ایك یا دورکعت پڑھ چکاہے کہ دوسراشخص آکرشامل ہوا توبعد ختم ہونے نماز کے یہ مقتدی اپنے رکعات باقیہ جوپڑھے تو اس میں فاتحہ وسورت و قراء ت کرے یابقدر پڑھنے فاتحہ وسورت کے ساکت رہ کر رکوع وسجود بجالائے تشریحا لکھا جاوے اور اسی طرح اگرمسافر نمازیں مذکور نصف پڑھ کرختم کرے تومقتدی فاتحہ پڑھے یابقدر قرأت ساکت رہے۔ بینواتوجروا
الجواب :
صورت اولی میں مقتدی کہ بعد سلام امام رکعت اولی یا اولین قضاکرے فاتحہ وسورت وجوبا پڑھے کیونکہ وہ مسبوق ہے اور مسبوق اپنے رکعات میں مثل منفرد اور منفرد پرقراء ت لازم اور صورت ثانیہ میں مقیم کہ بعد سلام مسافر رکعتین اخیرتین اداکرے بجائے قراء ت ساکت رہے کہ وہ ان رکعات میں لاحق ہے اور لاحق حکما مقتدی اور مقتدی کو قرأت ممنوع۔
فی الدرالمختار اللاحق من فاتتہ الرکعات کلھا اوبعضھا
درمختار میں ہے لاحق وہ مقتدی ہوتاہے جس کی اقتدا کے بعد تمام یابعض رکعتیں (امام سے)
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴۰
#11026 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
بعد اقتدائہ کمقیم ائتم بمسافر و حکمہ کمؤتم فلا یأتی بقرأۃ ولاسہو والمسبوق من سبقہ الامام بھا اوبعضہا وھو منفرد حتی یثنی ویتعوذ ویقرؤ فیما یقضیہ فمدرك رکعۃ من غیر فجر یأتی برکعتین بفاتحۃ وسورۃ و تشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ھ ملتقطا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
رہ جائیں جیسے کہ کسی مقیم نے مسافر کی اقتداء کی اس کاحکم مقتدی کی طرح ہی ہے وہ قرأت نہیں کرے گا اور نہ ہی سجدہ سہو کرے گا اور مسبوق وہ ہوتاہے جس سے پیشتر امام سب رکعتیں یابعض رکعتیں اداکرچکاہو اس کے بعد شریك ہو وہ مسبوق منفرد کی طرح ہوتاہے حتی کہ وہ ثناء سبحنك اللھم الخ اور تعوذ پڑھے گا بقیہ رکعتوں میں قرأت بھی کرے گا فجر کے علاوہ ایك رکعت پانے والا دورکعتوں کوفاتحہ اور سورت کے ساتھ ادا کرے اور ان کے درمیان قعدہ بھی کرے اور چاررکعتی نماز میں چوتھی رکعت میں صرف فاتحہ ہی پڑھے ۱ھ ملتقطا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ مجل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ۹۵۶ : ازپیلی بھیت وموضع بھنڈورہ علاقہ آنولہ یکم شوال ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس امام کے ساتھ چاررکعت کی نماز میں ایك رکعت ملی وہ باقی نماز کیونکر اداکرے بینواتوجروا
الجواب :
امام کے سلام کے بعد اٹھ کرایك رکعت فاتحہ وسورت کے ساتھ پڑھے اور اس پرالتحیات کے لئے بیٹھے پھر کھڑا ہو کر ایك رکعت فاتحہ وسورت کے ساتھ پڑھے اور اس پر نہ بیٹھے پھر ایك رکعت صرف فاتحہ کے ساتھ پڑھے اور قعدہ اخیرہ کرکے سلام پھیردے۔
ھذا ما اعتمدہ الائمۃ الجلۃ وعلیہ اقتصر فی الخلاصۃ وشرح الطحطاوی والاسبیجابی وفتح القدیر والبحر الرائق
یہ وہ ہے جس پراکابرائمہ نے اعتماد کیا خلاصہ شرح طحطاوی اسبیجابی فتح القدیر بحرالرائق درر درمختار
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴۰
#11027 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
والدرر والدرالمختار والھندیۃ وغیرھا من معتمدات المذھب۔
ہندیہ اور دیگر معتبرکتب مذہب میں اسی پراکتفا کیاہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
یقضی اول صلاتہ فی حق قراء ۃ واخرھا فی حق تشھد فمدرك رکعۃ من غیر فجر یأتی برکعتین وفاتحۃ وسورۃ و تشھد بینھما وبرابعۃ الرباعی بفاتحۃ فقط ولایقعد قبلھا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اور مسبوق قرأت کے حق میں اپنی نماز کو اول اور تشہد کے حق میں آخر نماز کرکے نماز اداکرے فجر کے علاوہ ایك رکعت پانے والا دورکعتوں کوفاتحہ اور سورت کے ساتھ اداکرے اور ان کے درمیان قعدہ بھی کرے چاررکعتی نماز میں چوتھی میں صرف فاتحہ پڑھے اور اس سے پہلے قعدہ نہ کرے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۹۵۷ : ازقصبہ میترانوالی ڈاك خانہ گھکرریلوی ضلع گوجرانوالہ مرسلہ حافظ شاہ ولی اﷲصاحب ۷محرم الحرام ۱۳۰۹ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔ بخدمت عالی جناب قدسی القاب مولوی احمدرضاخاں صاحب دام برکاتہ از فقیر حافظ ولی اﷲ شاہ بعد از تسلیمات وآداب ماوجب معروض آنکہ عرصہ ایك سال کا گزراہے کہ بندہ حضور کی قدم بوسی سے مشرف ہواتھا اور ایك مسئلہ حضور سے دریافت کیاتھا درباب اقتداء مقیم کامسافر کے ساتھ نماز رباعی میں اس حالت میں جومسافر ایك رکعت اداکرچکا ہو اور مقیم آکرملا توایك رکعت مقیم نے امام مسافر کے ساتھ پائی پھر وہ تین کس طرح پراداکرے میں نے آپ سے یہ مسئلہ دریافت کیاتھا تو آپ نے فرمایاتھا کہ اول دورکعت جوخالی قرأت سے ہیں وہ ادا اس طرح پر کرے کہ بقدر الحمد کے قیام کرے اور اس میں قرأت نہ پڑھے بعدہ ایك رکعت جو مسبوقانہ ہے اداکرے اور اس میں ثناء و فاتحہ وسورۃ پڑھے۔ اور یہی مسئلہ مسافر والے کا اس جگہ تنازع دومولوی صاحبوں کا آپس میں پڑاہواہے بلکہ بہت عالموں سے یہ مسئلہ دریافت کیاگیا ہے سب کے سب آپ کے برخلاف بیان کرتے ہیں اور یہی کہتے ہیں سوا سند کتاب کے ہم نہیں مانتے اور دوسری جگہ ہمیشہ جب امام سے علیحدہ ہوکرمسبوقانہ اداکرتاہے توپہلے ابتداء سے شروع کرتاہے یعنی ثناء وفاتحہ وسورۃ شروع کرتاہے
حوالہ / References درمختار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶
#11028 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
کیاوجہ ہے کہ مقیم نماز رباعی میں امام مسافر کے ساتھ مسبوق ہوجائے تو اول خالی دورکعت اداکرے برخلاف ترتیب معمولہ کے لہذا مہربانی فرماکر محض واسطے ثواب کے یہ مسئلہ مسافروالا مفصل معہ حوالہ کتب معتبرہ کے تحریر فرمائیں تاکہ تنازع رفع ہوجائے مگربجز حوالہ کتاب کے تسلی نہ ہوگی کیونکہ ہم نے اس جگہ بہت کتب سے معلوم کیاہے کچھ تسکین نہ ہوئی اور اگرپہلی خالی دورکعت کواداکرے تو اس میں قعدہ ایك پرکرے یانہ اور قرأت وسجدہ سہو بھی اداکرے یانہ ازجانب نیازمند امیر احمد اگرچہ ظاہرآپ سے ملاقات حاصل نہیں مگرزبانی حافظ ولی اﷲ شاہ صاحب سے آپ کی تعریف سن کرشائق ہوں کہ آپ جیسا شاید ہندوستان میں کوئی عالم حنفی مذہب موجودنہیں جو مسئلہ حافظ ولی اﷲ شاہ صاحب نے اوپرلکھاہے آپ پوراپورا بعینہ حوالہ کتب معتبرہ تحریرفرمائیں تاکہ اطمینان کلی حاصل ہو اور کوئی شك وشبہ باقی نہ رہے اور دوسرا صرف نیازمند کو یہ شبہہ واقع ہوا ہے کہ مسافر کے ساتھ مقیم نے نماز چہارگانہ میں دوسری رکعت میں آکراقتداء کیا تواب پہلی رکعت جو بعد فراغ امام اٹھ کر پڑھے گا کس طرح پڑھے گا کیونکہ اس کی تین رکعت باقی ہیں اور یہ جورکعت امام کے ساتھ اس نے پائی ہے مقتدی کی کونسی رکعت ہوگی آیا بعموم قاعدہ کے جو رکعت امام کی وہی رکعت مقتدی کی اس نماز میں تو یہ رکعت امام کی بلحاظ مسافر ہونے کے آخر کی ہے اور مقیم کی دوسری اب وہ دوسری رکعت میں الحمدوقل پڑھے گایانہیں ہرسہ رکعت میں جیسے قرأت پڑھنی کتب سے ثابت ہو تحریرفرمائیں مکلف اوقات گرامی امیراحمدعفی عنہ مکرر عرض یہ ہے کہ قیاس یہ چاہتاہے کہ جو رکعت امام کی قرأت والی ہے اس کی بھی قرأت والی رکعت اس کے ساتھ ملحق ہوجائے یا کہ پہلی دورکعت وہ اداکرے جوخالی سورۃ والی ہیں فقط بینواتوجروا
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
(شاہ صاحب کرم فرمااکرمکم اﷲ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ حکم مسئلہ جو کہ فقیرغفراﷲ تعالی لہ نے بیان کیا صحیح ومطابق کتاب تھا منشا اشتباہ ناظرین یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں یہ مقیم بھی مسبوق ہے اور ہم مسبوق کو دیکھتے ہیں کہ حق قرأت میں اول نماز سے ابتداء کرتاہے درمختارمیں ہے :
المسبوق یقضی اول صلاتہ فی حق قرأۃ ۔
مسبوق قرأت کے حق میں اپنی پہلی رکعت تصور کرکے اداکرے گا۔ (ت)
حوالہ / References درمختار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶
#11029 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
توچاہئے تھا کہ یہ بھی بعد سلام امام رکعت اولی ہی اداکرتاجس میں اس کو حکم قرأت ہے مگرانہوں نے یہ خیال نہ فرمایا کہ صورت مسطورہ میں مقیم تنہامسبوق نہیں لاحق بھی ہے دورکعت اخیرہ کی نظر سے لاحق اور اولی کے اعتبار سے مسبوق درمختارمیں ہے :
اللاحق من فاتتہ الرکعات کلہا اوبعضھا بعد اقتدائہ کمقیم ائتم بمسافر ۔
لاحق وہ ہوگا جس کی اقتداء کے بعد تمام یابعض رکعات(امام سے )رہ گئی ہوں جیسا کہ وہ مقیم جس نے مسافر کی اقتداء کی۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
ای فھولاحق بالنظر للاخیرتین وقد یکون مسبوقا کما اذا فاتہ اول صلاۃ امامہ المسافر ط۔
یعنی وہ آخری رکعتوں کے لحاظ سے لاحق ہے اور کبھی مسبوق بھی ہوسکتاہے جب مسافر امام کے ساتھ اس کی پہلی رکعت رہ گئی ہوط۔ (ت)
اور مسبوق لاحق کو یہی حکم ہے کہ پہلے دورکعت بے قرأت اداکرے جن میں لاحق ہے ان سے فارغ ہوکر رکعت مسبوق بہاکی قضاء باقرأت کرے۔ درمختارمیں ہے :
اللاحق یبدأ بقضاء مافاتہ بلاقرأۃ ثم ماسبق بہ بھا ان کان مسبوقا ایضا ۔ (ملخصا)
لاحق پہلے بغیر قرأت کے فوت شدہ اداکرے اور اگرمسبوق بھی ہوتو اس کے بعد وہ پڑھے جس میں مسبوق ہوا(یعنی اول رکعت جوباقی تھی اس کو قرأت کے ساتھ پڑھے)۔ (ت)
توعلماء کافرمانا کہ مسبوق قضائے رکعات میں اول نماز سے آغاز کرے اس کے یہ معنی نہیں کہ سب سے پہلے رکعات مسبوق بہا کی قضاکرے یہ تونہ لفظوں کامفاد نہ ان کی مراد نہ واقع میں صحیح ومتصف بسداد تمام کتب فقہ جن میں خود انہیں علماء کی صاف وصریح تصریح ہے کہ مقتدی جس نماز میں لاحق ہو اسے مسبوق بہا سے پہلے اداکرے اس کے بطلان پر شاہد عدل بلکہ علماء اس حکم سے صرف رکعات مسبوق بہاکی باہمی ترتیب ارشاد فرماتے ہیں یعنی چندرکعتوں میں مسبوق ہوا وہ ان کی قضا کے وقت الاول فالاول اداکرے مثلا تین میں مسبوق ہو تو پہلی میں ثناء وتعوذوفاتحہ سب کچھ پڑھے دوسری میں صرف فاتحہ وسورۃ تیسری میں
حوالہ / References درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴۰
درمختار۔ باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۶
#11030 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
فقط فاتحہ غرض حکم منکشف ہے اور شبہہ منکسف یونہی دوسراشبہہ کہ قیاس چاہتاہے کہ رکعت قرأت رکعت قرأت سے ملحق ہو
اولا نصوص صریحہ کے مقابل ہمارے خیالات کوکیادخل!
ثانیا جسے چاررکعتی نماز میں صرف اخیرہ ملی بعد سلام امام دورکعت قرأت پڑھے گا توجیسے خالی سے خالی کااتصال ضرورنہیں یونہی بھری سے بھری کا۔
ثالثا یہ دیکھناتھا کہ وہ رکعت قرأت کون سی ہے جس سے رکعت قرأت ملحق ہوتی ہے اور وہ کون سی ہے جو اسے امام کے ساتھ ملی ہے وہ رکعت قرأت رکعت اولی ہے جس کے بعد رکعات قرأت ہوتی ہے اور اس نے ہمراہ امام رکعت ثانیہ پائی اس سے رکعت بے قرأت ہی ملتی ہے غرض یونہی دیکھئے تودوسری کے بعد تیسری کامحل ہے نہ وہ پہلی کابخلاف مسبوق کہ چوتھی تك اداکرچکا لاجرم اب پہلی سے شروع کرے گا رہا حکم قعود وسجود جب سلام امام مسافر کے بعد مقیم قائم ہو ایك رکعت پڑھ کر اسے قعود چاہئے کہ اگر اصل میں یہ تیسری رکعت ہے مگر اس کی ادا میں دوسری ہے تو اس پر ایك شفعہ تمام ہوگا اور ہرشفعہ پرقعدہ مطلقا چاہئے امام منفرد مقتدی مدرک لاحق مسبوق اس قدرحکم میں سب شریك ہیں مسبوق کے لئے درمختار و خلاصہ و ہندیہ میں ہے :
واللفظ لھاتین لوادرك رکعۃ من المغرب قضی رکعتین وفصل بقعدۃ فتکون بثلث قعدات ولوادرك رکعۃ من الرباعیۃ یقضی رکعۃ و یتشہد الخ
الفاظ ہندیہ و خلاصہ کے ہیں اگرمغرب کی ایك رکعت پائی تو دو اور پڑھے اور ان کے درمیان قعدہ کرے تو اب تین قعدے ہوجائیں گے او ر اگرچار میں سے ایك رکعت پائی تو ایك رکعت پڑھ کر تشہد بیٹھے الخ(ت)
لاحق کے لئے شرح مجمع و غنیہ و ردالمحتار میں ہے :
لوسبق برکعۃ من ذوات الاربع ونام فی رکعتین یصلی اولامانام فیہ ثم ماادرکہ مع الامام ثم ماسبق بہ فیصلی رکعۃ ممانام
اگرچار میں سے ایك رکعت (امام سے) گزرگئی اور دو رکعتوں میں وہ سوگیا توپہلے سونے والی رکعتیں اداکرے پھر وہ جوامام کے ساتھ پائی اور پھر فوت شدہ اداکرے تووہ ایك رکعت جو سوتے میں
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃالفصل السابع فی المسبوق واللاحق مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۹۱
#11031 · فَصْلُ الْمَسْبُوْق (مسبوق کابیان)
فیہ مع الامام ویقعد متابعۃ لہ لانھا ثانیۃ امامہ ثم یصلی اخری ممانام فیہ ویقعد لانھا ثانیتہ الخ
امام کے ساتھ ہوئی پڑھے گا اور اتباعا قعدہ کرے کیونکہ امام کی دوسری تھی پھرایك اور رکعت سونے والی پڑھے اور قعدہ کرے کیونکہ وہ اس کی دوسری ہے الخ(ت)
دیکھو ان کی ادا میں جو رکعت دوسری تھی اس پرقعدہ کاحکم دیا اگرچہ واقع میں وہ مسبوق کی پہلی اور لاحق کی تیسری تھی کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت) یہ عبارت بھی نص صریح ہے کہ لاحق مسبوق جس رکعت میں لاحق ہو اسےرکعت مسبوق بہا سے پہلے ادا کرے گا اور مقیم مذکور کوبعد فراغ امام جو سہو ہوا اگروہ سہورکعت مسبوق بہا میں ہے تو بالاجماع سجدہ سہو لازم لانہ فیہا مسبوق وعلی المسبوق السجود بسھوہ (کیونکہ ا س میں وہ مسبوق ہے اور مسبوق پرسہو کی وجہ سجدہ سہو لازم ہوتاہے۔ ت) اور اگران دورکعت میں ہے جن میں اسے حکم لاحق دیاگیا تولزوم سجدہ میں علماء مختلف ہیں اور اصح لزوم ہے بحرالرائق ہے :
المقیم اذا اقتدی بالمسافر ثم قام لاتمام صلاتہ وسھا ذکر فی الاصل انہ یلزم سجود السھو و صححہ فی البدائع ھ ملخصا۔
وہ مقیم جس نے مسافر کی اقتدا کی جب وہ اتمام نماز کے لئے کھڑا ہوا اوربھول گیا تو اصل میں ہے کہ اس پرسجدہ سہولازم ہے بدائع میں اس کی تصحیح کی ۱ھ تلخیصا(ت)
واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم فقط۔
____________________
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصظفی البابی مصر ۱ / ۴۴۰
بحرالرائق ، باب سجودالسہو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۰۰
#11032 · فصل الاستخلاف (خلیفہ بنانے کابیان)
مسئلہ ۹۵۸ : ازکیمپ بریلی ۱۱ / ربیع الاول ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرنماز پڑھاتے میں امام کاوضو جاتارہے تومقتدی کیا کریں اور ان کی نماز کیونکر درست رہے بینواتوجروا
الجواب :
یہ صورت استخلاف کی ہے کہ امام قبل اس کے کہ وضو کرنے کو مسجد سے باہرنکلے مقتدیوں میں سے کسی صالح امامت کو اپنا خلیفہ کردے اور وہ خلیفہ نہ کرے تومقتدی اپنے میں سے ایک کوامام کردیں یا ان میں سے کوئی خود ہی آگے بڑھ جائے بشرطیکہ امام ابھی مسجد سے خارج نہ ہوا ہو کہ خلیفہ اس کی جگہ جاکھڑاہو ان صورتوں میں بعد لحاظ شرئط کثیرہ نماز قائم رہے گی اور اگرپانی مسجد ہی میں مل سکے کہ وضو کے لئے باہرجانانہ پڑے تو ان باتوں کی حاجت نہیں بلکہ مقتدی اپنی حالت پرباقی رہیں اور امام وضو کرکے آجائے اور نمازجہاں سے چھوڑی تھی شروع کردے مگریہ مسئلہ استخلاف ایک سخت دشوار وکثیر الشقوق مسئلہ ہے جس میں بہت سے شرائط اور بکثرت اختلاف صور سے اختلاف احکام ہے جن کی پوری مراعات عام لوگوں سے کم متوقع لہذا وہ ان امور کے خیال میں نہ پڑیں بلکہ جوبات احسن وافضل واعلی واکمل ہے اسی پرکاربند رہیں یعنی اس نیت کو توڑکر ازسرنونمازپڑھنا کہ جولوگ علم کافی رکھتے اور مراعات جمیع احکام پرقادر ہیں ان کے لئے بھی افضل یہی ہے توعام لوگ ایک خلاف افضل بات کے حاصل کرنے کوایسے راہ دشوارگزار میں کیوں پڑیں
#11033 · فصل الاستخلاف (خلیفہ بنانے کابیان)
فی الدر المختار اعلم ان لجواز البناء ثلثۃ عشرشرطا الخ ثم قال سبق الامام حدث غیر مانع للبناء استخلف ای جازلہ ذلک مالم یجاوز الصفوف لوفی الصحراء ومالم یخرج من المسجد لوفیہ ولوکان الماء فی المسجد لم یحتج للاستخلاف واستینافہ افضل تحرزا عن الخلاف ھ ملتقطا۔
درمختارمیں ہے آگاہ رہناچاہئے کہ جوازبناء کی تیرہ شرائط ہیں پھرفرمایا : امام کو ایسا حدث لاحق ہوگیا جوبناسے مانع نہیں تو وہ کسی کو خلیفہ بنائے یعنی اس کے لئے یہ جائز ہے جب تک اس نے صفوں سے تجاوز نہیں کیا بشرطیکہ وہ صحرا میں ہو اور اگرمسجد میں ہو ہوتو جب تک مسجد سے خارج نہیں ہواخلیفہ بناسکتاہے اور اگرمسجد میں پانی ہو تو خلیفہ بنانے کی ضرورت نہیں البتہ اختلاف سے بچنے کے لئے نئے سرے سے نماز اداکرنا افضل ہے ۱ھ تلخیصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
ان قدم القوم واحد اوتقدم بنفسہ لعدم استخلاف الامام جاز ان قام مقام الاول قبل ان یخرج من المسجد ولوخرج منہ فسدت صلاۃ الکل دون الامام کذا فی الخانیۃ انتھی۔ واﷲ تعالی اعلم
امام کے خلیفہ بنانے کی وجہ سے اگرقوم نے کسی ایک کوآگے کردیا یاکوئی خود آگے ہوگیاتویہ جائز ہے بشرطیکہ وہ امام کے مسجد سے خارج ہونے سے پہلے پہلے قائم مقام بن جائے اور اگرامام مسجد سے خارج ہوگیا تو امام کے علاوہ باقی تمام کی نمازفاسد ہوجائے گی جیسا کہ خانیہ میں ہے انتہی۔ (ت)
مسئلہ ۹۵۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کو حدث ہوا اس نے ایک امی مقتدی کوخلیفہ کیا اس خلیفہ نے دوسرے کو خلیفہ کردیا آیا یہ نماز صحیح ہوئی یافاسد بینوا توجروا
الجواب :
اگریہ خلیفہ فی الحقیقۃ امی ہے کہ ایک آیت بھی قرآن کی اسے یاد نہیں اور اس نے قبل اس کے کہ امام مسجد سے باہر جائے اور آپ امام کی جگہ پہنچے دوسرے شخص صالح امامت کوخلیفہ کردیا اور وہ امام کے
حوالہ / References درمختار باب الاستخلاف مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۷
ردالمحتار باب الاستخلاف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۴۴
#11034 · فصل الاستخلاف (خلیفہ بنانے کابیان)
نکلنے سے پہلے اس کی جگہ پرپہنچ گیا تونماز صحیح ہوگئی کہ ہرچند امی صلاحیت خلافت نہیں رکھتا لیکن اس حالت میں خلیفہ دوسراشخص ہے نہ وہ
فی الھندیۃ وشرط جواز صلاۃ الخلیفۃ والقوم ان یصل الخلیفۃ الی المحراب قبل ان یخرج الامام عن المسجد کذا فی البحر الرائق ولواستخلف فاستخلف الخلیفۃ غیرہ قال الفضلی ان لم یخرج الاول ولم یأخذ الخلیفۃ مکانہ حتی استخلف جاز یصیرکان الثانی تقدم بنفسہ اوقدمہ الاول والا لم یجز ھکذا فی الخلاصۃ ۔
ہندیہ میں ہے خلیفہ اور قوم کی نماز کے جواز کے لئے شرط ہے کہ امام کے مسجد سے خارج ہونے سے پہلے پہلے خلیفہ محراب میں پہنچ جائے جیسا کہ بحرالرائق میں ہے اور اگرخلیفہ نے اپنی جگہ اور خلیفہ بنالیا تو فضلی کہتے ہیں کہ اگراول نہیں نکلا اور خلیفہ نے امام کی جگہ لینے سے پہلے کوئی اورخلیفہ بنالیا توجائز ہے گویادوسراخود بنایا پہلے نے اسے بنایا ورنہ جائز نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ میں ہے۔ (ت)
اور جوامام نے اسے تشہد میں یا اس سے پہلے خلیفہ کیا اور اس نے امام کی جگہ پرپہنچنے کے بعد دوسرے شخص کوخلیفہ کیا تونمازفاسد ہوئی اب اصلاح اس کے دوسرے کوخلیفہ کرنے سے متصورنہیں
فی الدرالمختار واستخلف الامام امیا فی الاخریین ولوفی التشھد اما بعدہ فتصح لخروجہ بصنعہ تفسد صلاتھم ۔
درمختارمیں ہے اگر امی کو آخری دورکعات حتی کہ تشہد میں خلیفہ بنایا(توامام کی نماز فاسد ہوگی) لیکن اس کے بعد صحیح ہے کیونکہ اس کا خروج بالارادہ ہے لوگوں کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ (ت)
اسی طرح دوسراشخص امام کی جگہ پربعد اس کے کہ امام مسجد سے خارج ہوپہنچا تونماز فاسد ہوگئی اور جوخلیفہ اول کو ایک آیت قرآن کی یاد ہے تو وہ صالح خلافت تھا ایسی صورت میں دوسرے کوخلیفہ کرنے سے نماز اس کی فاسد ہوگئی کہ استخلاف بدون ضرورت کے نماز کوفاسد کرتاہے کما فی الھدیۃ فی مسئلۃ من الحدث (جیسا کہ ہدایہ میں مسئلہ حدث میں ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ فصل فی الاستخلاف مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۹۶
درمختار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۸۶
#11035 · فصل الاستخلاف (خلیفہ بنانے کابیان)
مسئلہ ۹۶۰ : ازشہر بازار شہامت گنج نثاراحمدصاحب ۹ / صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کانماز میں وضو ٹوٹ گیا اور امام رکوع ان ابراھیم کان پڑھ رہاتھا اور جوخلیفہ امام نے بنایا اس کو رکوع مذکور یادنہیں تھا اب وہ خلیفہ کوئی سورت یعنی اخلاص یااور کوئی سورت پڑھے تونماز ہوجائے گی یانہیں اور وضو کے بعد امام اپنی جگہ پرآسکتاہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
نماز ہوجائے گی اور امام کے خلیفہ نے جتنی پڑھی اتنی پڑھ کر اگرخلیفہ نماز میں ملے اس کا شریک ہوجائے سیہ نہیں ہوسکتا کہ باقی نماز میں اسے ہٹاکر خو د امام ہوجائے۔ واﷲ تعالی اعلم
____________________
#11036 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
مسئلہ ۹۶۱ : ازبمبئی مسجد قصاباں کرافٹ مارکیٹ مرسلہ مولوی عمرالدین صاحب ۲۹ / شعبان ۱۳۳۱ھ
مولنا المعظم ذی الفضل الاعظم دامت برکاتکم العالیہ بعد تسلیمات بصد تعظیمات کے واضح رائے عالی ہو کہ زمانہ طالب علمی میں کسی کتاب میں دیکھاتھا کہ مصلی کو غیرمصلی پنکھاکرے تومصلی کواگر اس پر رضامندی ہے تونماز اس کی فاسد ہوجائے گی اب اس مسئلہ کو بہت تلاش کیاہوں نہیں ملتا البتہ مولوی عبدالحی کے رسالہ نفع المفتی والسائل میں ہے :
قلت فما فی مجمع البرکات من فساد صلوۃ من روحہ غیرالمصلی بمروحۃ معللابانہ رضی بفعل الغیر غیر معتمد علیہ فانہ مخالف للدرایۃ و الروایۃ وقد کان الوالد العلام افتی بہ مرۃ ثم رجع عنہ وحکم بکونہ غلطا وقد اغتربہ بعض معاصریہ فاصرعلی الافتاء بہ
میں نے کہا پس جو مجمع البرکات میں ہے کہ غیرنمازی اگر نمازی کو پنکھے سے ہوادے تونمازی کی نماز فاسد ہوگی کیونکہ وہ نمازی غیر کے فعل پر راضی ہے یہ فساد نماز کاحکم فہم اور روایت کے مخالف ہے میرے والدگرامی نے ایك دفعہ یہ فتوی دیاتھا پھر اس سے انہوں نے رجوع فرمالیا اور فرمایا کہ یہ فتوی غلط ہے اور والد صاحب کو معاصرین میں سے ایك صاحب نے دھوکادے کر اصرارکرتے ہوئے یہ
#11037 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
واعتمد علیہ عملا وافتا ء ولم یدرکونہ لغوا ۔
فتوی ان سے حاصل کیا والد صاحب نے ان پراعتماد کرتے ہوئے عملا فتوی دے دیا اور انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ لغو بات ہے۔ (ت)
مجمع البرکات کس کی تصنیف ہے اور حضور کی رائے عالی ا س مسئلہ میں اس کے موافق ہے یامخالف برتقدیر موافقت برقی پنکھا جوآدمی کی صنعت ہے اس حکم میں داخل ہے یانہیں چارچھ سطر اس کے متعلق اگرجوابی کارڈ پر تحریرفرمائی جائے توعین بند نوازی ہوگی۔
الجواب :
مولناالمبجل المکرم المفخم المولی سبحنہ وتعالی کاسمہ عمرالدین آمین! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ مجمع البرکات مولنا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ کی تصنیف ہے اگر یہ عبارت اس کے کسی نسخہ صحیحہ میں ہو تو اس سے مراد نماز قلبی کافساد ہوگا نہ نماز فقہی کاکہ ادائے فرض ودفع کبیرہ ترك کے لئے باذنہ تعالی کافی ہے ظاہر ہے کہ فعل غیرپررضاعمل قلیل بھی نہیں کثیردرکنار توفساد نمازفقہی ناممکن ہے ہاں نمازقلبی تذلل وتضرع وتخشع ہے کما فی الحدیث (جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ت) اور یہ امر نوع تجبر پردال ہے لہذا اس میں مخل ہوسکتاہے اگر اس کی نیت خود استخدام اور نماز میں اپنا اعظام ہو تو یقینا مفسد نماز قلب ہے ورنہ مفسد کی صورت ہے لہذا احتراز درکارہے پنکھا کہ کل کے ذریعہ سے چلے اگر اس کے مسالے میں مٹی کاتیل وغیرہ بدبودارچیزیں ہو توایسی اشیاء کا مسجد میں لے جانا حرام ہے ورنہ کم ازکم ناپسند وخلاف مصالح ہے پنکھے کامسئلہ فتاوی فقیرمیں بہت مفصل ہے فلیراجع (اس کی طرف رجوع کیاجائے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۶۲ : مسؤلہ شوکت علی ۲۳ربیع الاخری شریف ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازی کے آگے سے نکلنے والا گنہگار ہوتاہے او ر اس کی نماز میں توکوئی خلل نہیں ہوتا ہے اور نمازی کے آگے سے کس قدر دور تك گزر نہ کرناچاہئے
الجواب :
نماز میں کوئی خلل نہیں آتا نکلنے والا گنہگار ہوتاہے نماز اگرمکان یاچھوٹی مسجد میں پڑھتا ہو تو دیوارقبلہ تك نکلنا جائز نہیں جب تك بیچ میں آڑ نہ ہو اور صحرایا بڑی مسجد میں پڑھتاہو توصرف موضع سجود تك نکلنے کی
حوالہ / References نفع المفتی والسائل مایتعلق بمایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۸۵
#11038 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
اجازت نہیں اس سے باہرنکل سکتاہے۔ موضع سجود کے یہ معنی ہیں کہ آدمی جب قیام میں اہل خشوع وخضوع کی طرح اپنی نگاہ خاص جائے سجودپرجمائے یعنی جہاں سجدے میں اس کی پیشانی ہوگی تونگاہ کاقاعدہ ہے کہ جب سامنے روك نہ ہو تو جہاں جمائے وہاں سے کچھ آگے بڑھتی ہے جہاں تك آگے بڑھ کر جائے وہ سب موضع میں ہے اس کے اندرنکلنا حرام ہے اور اس سے باہرجائز۔ درمختار میں ہے :
مرور مار فی الصحراء اوفی مسجد کبیر بموضع سجودہ فی الاصح اومرورہ بین یدیہ الی حائط القبلۃ فی بیت ومسجد صغیر فانہ کبقعۃ واحدۃ ۔
نمازی کے آگے سے صحرااور بڑی مسجد میں گزرنا اصح قول کے مطابق اس کی سجدہ کی جگہ سے گزرنا ہے یاگھر یاچھوٹی مسجد میں دیوارقبلہ تك گزرناہے کیونکہ یہ ایك ہی جگہ کے حکم میں ہوتاہے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ بموضع سجودہ کما فی الدرر وھذا مع القیود التی بعدہ انما ھو للاثم والافالفساد منتف مطلقا قولہ فی الاصح صححہ التمرتاشی وصاحب البدائع واختارہ فخرالاسلام ورجحہ فی النھایۃ والفتح انہ قدرمایقع بصرہ علی المار لوصلی بخشوع ای رامیا بصرہ الی موضع سجودہ ھ مختصرا۔
ماتن کاقول “ نمازی کے سجدہ کی جگہ “ جیسا کہ دررمیں ہے یہ بات ان قیودات کے ساتھ جو بعد میں ذکر کی گئی ہیں فقط گناہ کاسبب ہے ورنہ ہرحال میں نماز فاسدنہیں ہوتی اس کا قول “ اصح قول کے مطابق ہے “ اسے تمرتاشی اور صاحب بدائع نے صحیح کہا اور اس کو فخرالاسلام نے اختیارکیا اور اس کو ترجیح دی۔ نہایہ اور فتح میں ہے کہ اس کی مقدار یہ ہے کہ خشوع سے نماز پڑھتے ہوئے نمازی کی نظر گزرنے والے پرپڑے اور خشوع سے مراد یہ ہے کہ وہ سجدہ کی جگہ دیکھنے کاارادہ کئے ہوئے ہو۱ھ تلخیصا(ت)
منحۃ الخالق میں تجنیس سے ہے :
الصحیح مقدار منتھی بصرہ وھو موضع سجودہ وقال ابونصر رحمۃ اﷲ تعالی علیہ مقدار مابین الصف الاول وبین
صحیح یہ ہے کہ اس کی مقدار نمازی کی انتہانگاہ ہے اور وہ ا س کے سجدہ کی جگہ ہے۔ ابونصر نے فرمایا کہ اس کی مقدار صف اول اور امام کے درمیانی جگہ
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، بھارت ۱ / ۹۱
ردالمحتار باب ما یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶۹
#11039 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
مقام الامام وھذا عین الاول ولکن بعبارۃ اخری قال رضی اﷲ تعالی عنہ وفیما قرأنا علی شیخنا منھاج الائمۃ رحمہ اﷲ تعالی ان یمر بحیث یقع بصرہ وھو یصلی صلاۃ الخاشعین وھذہ العبارۃ اوضح ۔
ہے اور یہ پہلے کے عین مطابق ہے البتہ دوسرے الفاظ میں ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے اپنے شیخ منہاج الائمہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے جوپڑھا وہ یہ ہے کہ نمازی خشوع والوں کی نماز اداکررہاہے اس کی نگاہ گزرنے والے پرپڑسکتی ہے اور یہ عبارت نہایت ہی واضح ہے۔ (ت)
علامہ شامی فرماتے ہیں :
فانظر کیف جعل الکل قولا واحد وانما الاختلاف فی العبارۃ لافی المعنی ۔
آپ نے دیکھا کہ انہوں نے تمام اقوال کو ایك قول قراردیا اور اختلاف فقط عبارت میں ہے معنی میں نہیں ۔ (ت)
نیزردالمحتارمیں ہے :
(قولہ فی بیت) ظاھرہ ولوکبیرا وفی القھستانی وینبغی ان یدخل فیہ ای فی حکم المسجد الصغیرالدار والبیت ۔
ماتن کا قول “ فی بیت “ ا س کے ظاہر سے پتاچلتاہے کہ خواہ وہ گھربڑاہو قہستانی میں ہے مناسب یہ ہے کہ دار اور بیت کو مسجد صغیر کے حکم میں داخل کیاجائے۔ (ت)
رہا یہ کہ مسجد صغیروکبیر میں کیافرق ہے فاضل قہستانی نے لکھا چھوٹی مسجد وہ کہ چالیس۴۰گز مکسر سے کم ہو
ففی ردالمحتار (قولہ ومسجد صغیر) ھواقل من ستین ذراعا وقیل من اربعین وھو المختار کما اشار الیہ فی الجواھر ۔
ردالمحتارمیں قہستانی سے ہے کہ چھوٹی مسجد سے مراد وہ ہے جوساٹھ ہاتھ سے کم ہو بعض نے چالیس ہاتھ کہا اور مختاریہی ہے جیسا کہ اس کی طرف جواہرمیں اشارہ ہے۔ (ت)
حوالہ / References منحۃ الخالق حاشیۃ البحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۵
تقریرات الرافعی علی ردالمحتار مطلب اذا قرأ تعالٰی جدك الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶۹
ردالمحتار ، مطلب اذا قرأ تعالٰی جدك الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۴۶۹ ردالمحتار ،
ردالمحتار ، مطلب اذا قرأ تعالٰی جدك الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۴۶۹
#11040 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
اقول : یہاں گزسے گز مساحت مراد ہوناچاہئے ۔
لانہ الالیق بالممسوحات کماقالہ الامام قاضی خاں فی الماء فھھنا ھوالمتعین بالاولی۔
کیونکہ ممسوحات کے یہی زیادہ مناسب ہے جیسا کہ قاضی خاں نے پانی کے بارے میں کہا پس یہاں بطریق اولی یہی متعین ہوگا۔ (ت)
اور گزمساحت ہمارے اس گز سے کہ اڑتالیس انگل یعنی تین فٹ کاہے ایك گزدوگرہ اور دوتہائی گرہ ہے کما بیناہ فی بعض فتاونا (جیسا کہ ہم نے اپنے بعض فتاوی میں اسے بیان کیا ہے۔ ت) تو اس گز سے چالیس گز مکسر ہمارے سے چون۵۴ گزسات گرہ کانواں حصہ ہوا کما لایخفی علی المحاسب (جیسا کہ حساب دان پرمخفی نہیں ہے۔ ت) تو اس زعم علامہ پرہمارے گز سے چون ۵۴ گزسات گرہ مکسر مسجد صغیر ہوئی اور ساڑھے چون(۲ / ۵۴۱ )گزمسجد کبیر یہ ہے وہ کہ انہوں نے لکھا اور علامہ شامی نے اس میں ان کا اتباع کیا۔
اقول : مگریہ شبہہ ہے کہ فاضل مذکور کو عبارت جواہر سے گزرا عبارت جواہرالفتاوی دربارہ دار ہے نہ کہ دربارہ مسجد مسجد کبیر صرف وہ ہے جس میں مثل صحرااتصال صفوف شرط ہے جیسے مسجد خوارزم کہ سولہ ہزارستون پرہے باقی عام مساجد اگرچہ دس ہزار گزمکسر ہوں مسجد صغیر ہیں اور ان میں دیوار قبلہ تك بلاحائل مرورناجائز کمابیناہ فی فتاونا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۶۳ : ازکلکتہ فوجداری بالاخانہ ۳۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب آخرربیع الاخری ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرامام کو قعدہ اولی میں اپنی عادت سے دیرلگی اور مقتدی نے بخیال اس امر کے کہ امام کوسہو ہواہوگا تکبیربآواز بلندبنابر اطلاع امام کہی تونماز مقتدی کی فاسد ہوئی یا نہیں بینوا تؤجروا (بیان کرواور اجرپاؤ۔ ت)
الجواب :
ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ بتانا اگرچہ لفظا قرأت یاذکر مثلا تسبیح وتکبیر ہے اور یہ سب اجزا واذکار نماز سے ہیں مگر معنی کلام ہے کہ اس کا حاصل امام سے خطاب کرنا اور اسے سکھانا ہوتاہے یعنی توبھولا اس کے بعد تجھے یہ کرناچاہئے پرظاہر کہ اس سے یہی غرض مراد ہوتی ہے اور سامع کوبھی یہی معنی مفہوم تو اس کے کلام ہونے میں کیاشك رہا اگرچہ صورۃ قرآن یاذکر و لہذا اگرنماز میں کسی یحیی نامی کو خطاب کی نیت سے یہ آیہ کریمہ ییحیى خذ الكتب بقوة- پڑھی بالاتفاق نماز
حوالہ / References القرآن ۱۹ / ۱۲
#11041 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
جاتی رہی حالانکہ وہ حقیقۃ قرآن ہے اس بنا پرقیاس یہ تھا کہ مطلقا بتانا اگرچہ برمحل ہو مفسد نماز ہو کہ جب وہ بلحاظ معنی کلام ٹھہرا تو بہرحال افساد نماز کرے گا مگرحاجت اصلاح نماز کے وقت یا جہاں خاص نص وارد ہے ہمارے ائمہ نے اس قیاس کوترك فرمایا اور بحکم استحسان جس کے اعلی وجوہ سے نص وضرورت ہے جواز کاحکم دیا ولہذا صحیح یہ ہے کہ جب امام قرأت میں بھولے مقتدی کومطلقا بتانا روااگرچہ قدرواجب پڑھ چکا ہو اگرچہ ایك سے دوسرے کی طرف انتقال ہی کیا ہو کہ صورت اولی میں گوواجب اداہوچکا مگر احتمال ہے کہ رکنے اور الجھنے کے سبب کوئی لفظ اس کی زبان سے ایسا نکل جائے جو مفسد نماز ہو لہذا مقتدی کو اپنی نماز درست رکھنے کے لئے بتانے کی حاجت ہے بعض عوام حفاظ کو مشاہدہ کیاگیا کہ جب تراویح میں بھولے اور یاد نہ آیا تو ایں آں یااور اسی کی قسم الفاظ بے معنی ان کی زبان سے نکلے اور فساد نماز کاباعث ہوئے اور صورت ثانیہ میں اگرچہ جب قرأت رواں ہے تو صرف آیت چھوٹ جانے سے فسادنماز کااندیشہ نہ ہو مگر اس بات میں شارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمسے نص وارد :
وھو حدیث سورۃ المومنین الذی ذکرہ المحقق فی الفتح وغیرہ فی غیرہ مع اطلاقات احادیث اخر واردۃ فی الباب کما بینہ فی الحلیۃ من المفسدات اقول والاحسن من کل ذلك التمسك بمااخرج ابوداؤد و عبداﷲ ابن الامام فی زوائد المسند عن مسور بن یزید المالکی قال صلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فترك ایۃ فقال لہ رجل یارسول اﷲ ایۃ کذا وکذا فقال فھلا اذکرتنیھا وذلك لان حدیث الفتح فی ترك کلمۃ وھوانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قرأ فی الصلاۃ سورۃ المومنین
اور وہ سورہ مومنین کے بارے میں حدیث وارد ہے محقق نے فتح میں اور دیگر فقہا نے مختلف کتب میں اسے ذکر کیا باوجودیکہ دیگراحادیث اس باب میں مطلق ہیں جیسا کہ حلیہ میں مفسدات صلوۃ کے باب میں بیان ہواہے اقول (میں کہتاہوں ) سب سے احسن تمسك کے لحاظ سے وہ حدیث ہے جسے ابوداؤداور عبداﷲ بن امام احمدنے زوائد مسندمیں حضرت مسوربن یزیدمالکی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نماز پڑھائی تو آپ نے ایك آیت چھوڑدی ایك آدمی نے عرض کیا : یارسول اﷲ ! آیت تو ایسے ہے تو آپ نے فرمایا : تونے مجھے یاد کیوں نہ کرائی اور وہ اس لئے کہ حدیث جو ایك کلمہ کے ترك پرلقمہ دینے
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب الفتح علی الامام فی الصلاۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳۱
#11042 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
فترك کلمۃ فلما فرغ قال الم یکن فیکم أبی قال بلی قال ھلا فتحت علی فظاھر ان حکم ترك کلمۃ اضیق من حکم الانتقال من ایۃ الی ایۃ۔ واثر علی کرم اﷲ تعالی وجھہ اذا ستطعمکم الامام فاطعموہ رواہ سعید بن منصور فی سننہ وذکرہ فی الحلیۃ والفتح فیما اذا سکت الامام ینتظر الفتح وحدیث انس رضی اﷲ تعالی عنہ کنا نفتح علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی الائمۃ رواہ الدارقطنی والحاکم وصححہ مجمل بخلاف ماذکرناففیہ تصریح ترك ایۃ وان کان قد یقال علی ھذا و علی ماتمسك بہ فی الفتح من حدیث الکلمۃ انھما من وقائع العین لیس فیھما ان ذلك کان بعد ثلاث اوقبلھا۔
کے بارے میں ہے یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نماز میں سورہ مومنون کی تلاوت فرمائی اور ایك کلمہ چھوڑدیا جب آپ فارغ ہوئے توفرمایا : کیا تم میں ابی نہیں عرض کیا : یارسول اﷲ ! موجودہوں فرمایا : مجھے لقمہ کیوں نہ دیا۔ اور یہ واضح ہے کہ کلمہ کاترك کرنا ایك آیت سے دوسری آیت کی طرف منتقل ہونے سے زیادہ تنگ ہے اور حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کاکہنا ہے کہ جب امام تم سے لقمہ چاہے تولقمہ دو اسے سعید بن منصور نے اپنی سنن میں روایت کیاہے حلیہ اور فتح میں اسے اس صورت کے بارے میں کہ جب امام خاموش ہوجائے اور لقمہ کاانتظار کرے ذکرکیاگیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث کہ ہم رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات میں اپنے ائمہ کو لقمہ دیاکرتے تھے اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا اور صحیح کہا یہ حدیث مجمل ہے بخلاف اس حدیث کے جوہم نے ذکرکی اس میں ترك آیت کی تصریح ہے اگرچہ اس آیت کے ترك والی اور وہ حدیث جس میں کلمہ کاترك مذکور ہے جس سے فتح القدیرمیں استدلال کیاگیاہے پراعتراض کیاگیاہے یہ خاص واقعات ہیں اس میں اس بات کاتذکرہ نہیں کہ یہ تین آیات پڑھنے کے بعد ہوا یاپہلے ہو۔ (ت)
ولہذا اگرکوئی مکان میں آنے کااذن چاہے اور یہ اس غرض سے کہ اسے نماز میں ہونا معلوم ہوجائے تسبیح یاتکبیر یاتہلیل کہے نماز فاسد نہ ہوگی کہ اس بارے میں بھی حدیث وارد
حوالہ / References فتح القدیر باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۴۸
فتح القدیر باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۴۸
سنن الدارقطنی باب تلقین المأ موم لامامہ الخ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان۱ / ۳۹۹
#11043 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
وھو علی ماذکر علمائنا فی الھدایۃ و الکافی والتبیین والفتح والحلیۃ والغنیۃ والبحر وغیرھا حدیث سھل بن سعد عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من نابہ شیئ فی صلاتہ فلیسبح اخرجہ الشیخان وغیرھما۔ اقول : والاقرب مااخرج احمد فی المسند عن علی کرم اﷲ تعالی وجھہ قال کان لہ ساعۃ من السحر ادخل فیھا علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فان کان قائما یصلی سبح لی الحدیث۔
یہ اس حدیث کے مطابق ہے جو ہمارے علماء نے ہدایہ کافی تبیین فتح حلیہ غنیہ اور بحروغیرہ میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیاکہ جس شخص کونماز میں کوئی واقعہ درپیش ہو وہ تسبیح کہے اسے بخاری و مسلم وغیرہ نے روایت کیاہے۔ اقول : (میں کہتاہوں ) سب سے اقرب وہ حدیث ہے جسے امام احمدنے مسندمیں سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کیاہے کہ میرے لئے سحری کے وقت میں ایك خاص وقت تھا جس میں میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتا تو اگرآپ نمازپڑھ رہے ہوتے تو تسبیح پڑھ کر مجھے اندر آنے کی اجازت دیتے الخ الحدیث(ت)
بس جوبتانا حاجت ونص کے مواضع سے جدا ہو وہ بیشك اصل قیاس پرجاری رہے گا کہ وہاں اس کے حکم کاکوئی معارض نہیں اس لئے اگر غیرنمازی یادوسرے نمازی کو جو اس کی نماز میں شریك نہیں یا ایك مقتدی دوسرے مقتدی یا امام کسی مقتدی کو بتائے قطعا نمازقطع ہوجائے گی کہ اس کی غلطی سے اس کی نماز میں کچھ خلل نہ آتاتھا جو اسے حاجت اصلاح ہوتی تو بے ضرورت واقع ہوا اور نماز گئی بخلاف امام کہ اس کی نماز کاخلل بعینہ مقتدی کی نماز کاخلل ہے تو اس کابتانا اپنی نماز کابنانا ہے تبیین الحقائق میں ہے :
قولہ وفتحہ علی غیر امامہ لانہ تعلیم وتعلم من غیر ضرورۃ فکان من کلام الناس وقولہ علی غیر امامہ یشمل فتح
ماتن کاقول (نمازی کا اپنے امام کے غیر کولقمہ دینا) کیونکہ یہ بغیرضرورت تعلیم وتعلم ہونے کی وجہ سے لوگوں کے کلام کی طرح ہوگا۔ اس کا قول “ اپنے
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاذان باب من دخل لیؤم الناس قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹۴
مسند احمد بن حنبل مسند علی ابن ابی طالب دارالفکر بیروت ۱ / ۷۷
#11044 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
المقتدی علی المقتدی وعلی غیر المصلی وعلی المصلی وحدہ وفتح الامام المنفرد علی ای شخص کان وکل ذلك مفسد الا اذا قصدبہ التلاوۃ دون الفتح ھ ملخصا
امام کے علاوہ “ کے الفاظ مقتدی کامقتدی کو غیرنمازی تنہانمازی کے لقمہ کو اور امام اور منفرد کا کسی بھی دوسرے شخص کو لقمہ دینے کو شامل ہیں اور ان تمام صورتوں میں نماز فاسد ہوجاتی ہے لیکن اس صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی جب تلاوت مقصود ہو لقمہ دینا مقصود نہ ہو۱ھ تلخیصا(ت)
درمختارمیں ہے :
یفسدھا کل ماقصد بہ الجواب اوالخطاب کقولہ لمن اسمہ یحیی یایحیی خذ الکتب بقوۃ ھ ملخصا۔
ہروہ شے نماز کو فاسد کردے گی جس سے جواب یاخطاب مقصود ہو جیسا کہ یحیی نامی شخص کو یہ کہنا یایحیی خذالکتاب بقوۃ (اے یحیی! کتاب کو مضبوطی سے پکڑ)۱ھ ملخصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ اوالخطاب الخ ھذا مفسد بالاتفاق وھو ممااورد نقضا علی اصل ابی یوسف فانہ قران لم یوضع خطا بالمن خاطبہ المصلی وقد اخرجہ بقصد الخطاب عن کونہ قرانا وجعلہ من کلام الناس ۔
اس کا قول “ اوالخطاب “ بالاتفاق مفسد نماز ہے اور یہ ان امور میں سے ہے جن سے امام ابویوسف کے قاعدے پرنقض وارد ہوتاہے کہ یہ قرآن ہے اس کی وضع اس لئے نہیں کہ کوئی شخص اس سے نمازی کومخاطب کرے حالانکہ (وجہ یہ ہے) کہ اس نے اسے قصد خطاب کے طور پر قرآن ہونے سے خارج کیااور اسے کلام الناس میں شامل کردیا ہے۔ (ت)
علامہ ابن امیرالحاج حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں :
الذی یفتح کانہ یقول خذ منی کذا والتعلیم لیس من الصلاۃ فی شیئ
لقمہ دینے والا گویا کہہ رہاہوتاہے کہ “ مجھ سے یہ لے لو “ اور سکھانا نماز کاحصہ نہیں اور ایسی
حوالہ / References تبیین الحقائق باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ امیریہ کبرٰی بولاق مصر ۱ / ۱۵۶
الدرالمختار باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۹
ردالمحتار باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۵۹
#11045 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
وادخال مالیس منھا فیھا یوجب فسادھا وکان قضیۃ ھذا المعنی ان تفسد صلاتہ اذا فتح علی امامہ لکن سقط اعتبار التعلیم للاحادیث و للحاجۃ الی اصلاح صلاۃ نفسہ فماعدا ذلك یعمل فیہ بقضیۃ القیاس ھ ملخصا بالمعنی۔
شیئ کانماز میں داخل کرنا جو نماز میں سے نہیں نماز کے فساد کاسبب ہے۔ اس بات کے پیش نظر ہونایہی چاہئے کہ جب امام کو لقمہ دیاجائے تو بھی نماز فاسد ہوجائے لیکن اس صورت میں نماز کے فساد کا حکم اس لئے جاری نہیں کیاجاتا کہ احادیث میں اس کی اجازت ہے اور نماز کی اصلاح کی بھی حاجت ہے البتہ اس کے علاوہ دیگر صورتوں میں قیاس پر عمل کیاجائے گا(یعنی نماز فاسد ہوجائے گی) ملخصا بالمعنی۔ (ت)
اسی میں ہے :
ھذا قد استعمل فی موضع الجواب وقد ارید ذلك منہ وفھم فیصیر من ھذا الوجہ کلام الناس فیفسد و ان لم یکن من حیث الصیغۃ فی الاصل من کلامھم فالقیاس فساد الصلوۃ الا انا ترکناہ بالنص والمعدول بہ عن القیاس لایقاس علیہ ھ ملخصا۔
یہ جواب میں مستعمل ہے اور یہاں وہی مراد اور مفہوم ہے لہذا یہ لوگوں کے کلام میں سے ہونے کی وجہ سے مفسد نماز ہے اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے لوگوں کے کلام میں سے نہیں ۔ تو قیاس کاتقاضا ہے کہ نماز فاسد ہوجائے مگر نص کی بنا پر قیاس ترك کردیااور جوخود خلاف قیاس ہوں اس پر قیاس نہیں کیاجاسکتا ۱ھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے :
(م) ان فتح بعد ماقرأ قدرماتجوز بہ الصلاۃ تفسد (ش) لانہ لیس فیہ اصلاح صلاتہ فیبقی تعلیما وجوابالہ وان اخذ الامام بفتحہ تفسد صلاۃ الکل(م)
(متن) اگریہ لقمہ اتنی قرأت کے بعد دیا جس سے نماز ہوجاتی ہے تونماز فاسد ہوجائے گی(شرح) کیونکہ اس میں اس کی نماز کی اصلاح نہیں ہے لہذا یہ تعلیم وجواب ہوگا اور اگرامام نے لقمہ لے لیاتو تمام کی
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#11046 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
الصحیح لا(ش) کذا فی الخانیۃ والخلاصۃ ونص القاضی فی شرح الجامع الصغیر انہ الاصح وعﷲ ھو وغیرہ بانہ لولم یفتح ربما جری علی لسانہ مایکون مفسدا فکان بمنزلۃ الفتح والاولی فی التعلیل حدیث المسوربن یزید واطلاق ماروی عن علی و عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ (م) وان انتقل الامام الی ایۃ اخری ففتح علیہ بعد الانتقال تفسد(ش) لوجود التلقین من غیرضرورہ کذا فی الھدایۃ وغیرھا وجعل صاحب الذخیرۃ ھذا محکیا عن القاضی الامام ابی بکر الزر نجری وان غیرہ من المشائخ قالوا لاتفسد کذا نقلوہ عن المحیط واخذ من ھذا صاحب النھایۃ ان عدم الفساد قول عامۃ المشائخ ووافقہ شیخنا رحمہ اﷲ تعالی علی ذلك وھو الاوفق لاطلاق الرخص الذی رویناہ ھ ملخصا۔
نمازفاسد ہوجائے گی۔ (متن) صحیح یہ ہے کہ نماز فاسد نہیں ہوتی(شرح) اسی طرح خانیہ اور خلاصہ میں ہے اور قاضی نے شرح جامع الصغیرمیں کہاہے کہ یہی اصح ہے اور انہوں نے اور دیگر لوگوں نے علت یہ بیان کی ہے کہ اگر وہ لقمہ نہیں دے گا تو بعض اوقات امام کی زبان پر ایسی چیز جاری ہوجاتی ہے جونماز کے لئے مفسد ہوتی اس لئے وہ لقمہ ہی ہوگا حضرت مسور بن یزیدسے مروی اور وہ جو حضرت علی اور حضرت انس رضی اﷲ عنہما سے مروی روایات کا اطلاق علت کے بیان کے لئے بہترہے(متن) اور اگرامام کسی دوسری آیت کی طرف منتقل ہوگیا اور اسے انتقال کے بعد لقمہ دیاتو نماز فاسد ہوجائے گی (شرح) کیونکہ یہ بغیر ضرورت کے تلقین ہے ہدایہ وغیرہ میں اسی طرح ہے اور صاحب ذخیرہ نے اسے قاضی امام ابوبکر الزرنجری نے نقل کیاہے اگرچہ ان کے علاوہ دیگرمشائخ کہتے ہیں کہ نماز فاسد نہں ہوتی محیط سے اسی طرح منقول ہے اسی سے صاحب نہایہ نے لیا اور کہا کہ اکثرمشائخ کاقول عدم فساد ہے اور ہمارے شیخ رحمہ اﷲنے اسی کی موافقت کی ہے اور یہ ان رخصتوں کے اطلاق کے بھی زیادہ موافق ہے جن کا ہم نے ذکر کیاہے۱ھ تلخیصا(ت)
فتح القدیرمیں ہے :
خرج قصد اعلام الصلاۃ بالحدیث لالانہ لم یتغیر بعزیمتہ فیبقی ماورواء ہ علی
نماز میں ہونے کی قصدا اطلاع کرنا حدیث کی وجہ سے مفسدات سے خارج ہے نہ اس لئے کہ اس کے
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#11047 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
المنع ھ ملخصا
عزم وارادہ سے تغیر نہیں ہوا لہذا اس کے علاوہ صورتیں منع ہی رہیں گی ۱ھ ملخصا(ت)
جب یہ اصل ممہد ہولی حکم صورت مسؤلہ واضح ہوگیا ظاہر ہے کہ جب امام کوقعدہ اولی میں دیرہوئی اور مقتدی نے اس گمان سے کہ یہ قعدہ اخیرہ سمجھا ہے تنبیہ کی تودوحال سے خالی نہیں یا تو واقع میں اس کاگمان غلط ہوگا یعنی امام قعدہ اولی ہی سمجھا ہے اور دیر اس وجہ سے ہوئی کہ اس نے اس بار التحیات زیادہ ترتیل سے ادا کی جب توظاہر ہے کہ مقتدی کابتانا نہ صرف بے ضرورت بلکہ محض غلط واقع ہواتویقینا کلام ٹھہرا اور مفسد نماز ہوا
لقول الحلیۃ ان ماوراء ذلك یعمل فیہ بقضیۃ القیاس ولقول المعدول بہ عن القیاس لایقاس علیہ ولقول الفتح یبقی ماوراء ہ علی المنع ولقول التبیین لایقاس علیہ غیرہ وھذا واضح جدا۔
حلیہ کے ان الفاظ کی وجہ سے کہ “ ان کے علاوہ میں قیاس پرعمل ہوگا “ اور اس کے اس قول کے پیش نظر کہ “ خلاف قیاس پرقیاس نہیں ہوسکتا “ اورفتح کے قول کہ “ اس کے علاوہ ممنوع ہوں گے “ اور تبیین کے قول کہ “ اس پر غیر کو قیاس نہیں کیاجاسکتا “ اور یہ نہایت ہی واضح ہے(ت)
یا اس کا گمان صحیح تھا غورکیجئے تو اس صورت میں بھی اس بتانے کامحض لغو وبے حاجت واقع ہونا اور اصلاح نماز سے اصلا تعلق نہ رکھنا ثابت کہ جب امام قدہ اولی میں اتنی تاخیر کرچکا جس سے مقتدی اس کے سہو پر مطلع ہوا تولاجرم یہ تاخیر بقدرکثیر ہوئی اور جوکچھ ہوناتھا یعنی ترك واجب ولزوم سجدہ سہو وہ ہوچکا اب اس کے بتانے سے مرتفع نہیں ہوسکتا اور اس سے زیادہ کسی دوسرے خلل کا اندیشہ نہیں جس سے بچنے کو یہ فعل کیاجائے کہ غایت درجہ وہ بھول کر سلام پھیردے گا پھر اس سے نماز تو نہیں جاتی وہی سہو کاسہورہے گا ہاں جس وقت سلام شروع کرتا اس وقت حاجت متحقق ہوتی اور مقتدی کوبتاناچاہئے تھا کہ اب نہ بتانے میں خلل وفسادنماز کااندیشہ ہے کہ یہ تواپنے گمان میں نماز تمام کرچکا عجب نہیں کہ کلام وغیرہ کوئی قاطع نماز اس سے واقع ہوجائے اس سے پہلے نہ خلل واقع کاازالہ تھا نہ خلل آئندہ کااندیشہ تو سوافضول وبے فائدہ کے کیاباقی رہا لہذا مقتضائے نظر فقہی پر اس صورت میں بھی فسادنماز ہے نظیر اس کی یہ ہے کہ جب امام قعدہ اولی چھوڑ کر پوراکھڑا ہوجائے تواب مقتدی بیٹھنے کااشارہ نہ کرے ورنہ ہمارے امام کے مذہب پر مقتدی کی نماز جاتی رہے گی کہ پوراکھڑے ہونے کے بعد امام کوقعدہ اولی کی طرف عودناجائز تھا تو اس کابتانامحض بے فائدہ رہا اور اپنے اصلی حکم کی رو سے
حوالہ / References فتح القدیر باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۴۹
#11048 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
کلام ٹھہر کر مفسدنماز ہوا بحرالرائق میں ہے :
لوعرض للامام شیئ فسبح الماموم لاباس بہ لان المقصود بہ اصلاح الصلوۃ فسقط حکم الکلام عند الحاجۃ الی الاصلاح ولایسبح للامام اذا قام الی الاخریین لانہ لایجوز لہ الرجوع اذا کان الی القیام اقرب فلم یکن التسبیح مفید اکذا فی البدائع وینبغی فساد الصلوۃ بہ لان القیاس فسادھا بہ عند قصد الاعلام وانما ترك للحدیث الصحیح من نابہ شیئ فی صلاتہ فلیسبح فللحاجۃ لم یعمل بالقیاس فعند عدمھا یبقی الامر علی اصل القیاس ثم رایتہ فی المجتبی قال ولوقام الی الثالثۃ فی الظھر قبل ان یقعد فقال المقتدی سبحن اﷲ قیل لاتفسد و عن الکرخی تفسد عندھما ھ وبہ انتھی مانقلناہ عن البحر
قلت وقولہ عندھمایرید بہ الطرفین فان مذھبھما تغیر الذکر بتغیر العزیمۃ خلافا لابی یوسف فعندہ ماکان ذکرا بصیغتہ لاتعمل فیہ النیۃ وکذا قولہ اعنی المجتبی لوسبح اوھلل یرید زجراعن فعل اوامرابہ فسدت عندھما ھ فانما ارادالطرفین
اگر امام کوعارضہ پیش آگیا مقتدی نے لقمہ دیا تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے مقصود نماز کی اصلاح ہے لہذا حاجت اصلاح کی وجہ سے اس سے حکم کلام ساقط ہوگیا اگرامام آخری دورکعات کی طرف اٹھ جائے تو اسے لقمہ نہ دیاجائے کیونکہ اگروہ قیام کے زیادہ قریب ہے تو اب اس کے لئے لوٹناجائز نہیں لہذا لقمہ اس کے لئے مفیدنہیں ۔ البدائع میں ایسے ہے اور اس سے نماز فاسد ہوجانی چاہئے کیونکہ یہ قیاس کاتقاضا ہے کہ جب مقصود امام کواطلاع ہو تونماز فاسد ہوجائے البتہ اس حدیث صحیح کی بناپر اس قیاس کو ترك کردیں گے کہ جس کونماز میں کوئی واقعہ درپیش ہو تو وہ تسبیح کہے توحاجت کے پیش نظر قیاس پرعمل نہ ہوگا اور جب حاجت نہ ہوگی تو معاملہ اصل قیاس پرہی رہے گا پھر میں نے مجتبی میں دیکھا اگرنمازظہر میں امام قعدہ کئے بغیرتیسری رکعت کی طرف اٹھا اور مقتدی نے سبحان اﷲ کہا تو بعض کے نزدیك نماز فاسد نہ ہوگی۔ امام کرخی سے منقول ہے کہ طرفین کے نزدیك نماز فاسد ہوجائے گی۔ اور یہاں بحرسے منقول عبارت ختم ہوگئی ۔ قلت اس کا قول “ عندھما “ سے مراد طرفین ہیں کیونکہ انہی کا قول ہے کہ تبدیلی عزم سے ذکر تبدیل ہوجاتاہے
حوالہ / References بحرالرائق باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۷
بحرالرائق باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۷
#11049 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
رضی اﷲ تعالی عنھما
ثم اقول : وباﷲ التوفیق لایبعد ان یکون قام فی القیل للارادۃ کقولہ تعالی
یایها الذین امنوا اذا قمتم الى الصلوة وفی روایۃ الکرخی للحقیقۃ کقولہ تعالی
و انه لما قام عبد الله یدعوه الایۃ وھذا جمع کماتری حسن ان شاء اﷲ تعالی والافلاشك ان الدلیل مع الکرخی وانہ ھوقضیۃ مذھب الامام والامام محمد رضی اﷲ تعالی عنھما فعلیہ فلیکن التعویل فان قیل فی القیل لواراد الارادۃ فما الوجہ لتخصیص المسئلۃ بالذکر فانھا معلومۃ من اطلاق قولھم لوعرض للامام شیئ الخ اقول بلی کان لمتوھم ان یتوھم عدم الجواز ھھنا مطلقا کمایتوھم من ظاھر لفظ البدائع لایسبح للامام اذاقام
بخلاف امام ابویوسف کے ان کے نزدیك الفاظ ذکر میں نیت کادخل نہیں ہوتا اسی طرح اس یعنی المجتبی کاقول اگر اس نے سبحان اﷲ کہا یا لاالہ الا اﷲ اور اس سے مقصد کسی عمل پر زجریاکسی عمل کا حکم ہوتو ان دونوں کے نزدیك نماز فاسد ہوجائے گی۱ھ اس سے مراد طرفین رضی اللہ تعالی عنہم ا ہیں ثم اقول : وباﷲ التوفیق (پھر میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں ۔ ت) یہ بھی ممکن ہے کہ مجتبی کی عبارت میں قام کامعنی ارادہ ہو جیسا کہ اﷲ تعالی کے اس ارشاد گرامی میں ہے “ اے اہل ایمان! جب تم نماز کا ارادہ کرو “ اورروایت کرخی میں حقیقی معنی ہے جیسا کہ اﷲتعالی کا فرمان ہے “ جب اﷲ کا بندہ کھڑا ہوکر اپنے رب کوپکارتاہے “ ۔ آپ نے دیکھا یہ نہایت ہی اچھاتطا بق ہے ان شاء اﷲتعالی ورنہ اس میں کوئی شك نہیں کہ دلیل کرخی کاساتھ دیتی ہے اور یہی ضابطہ ہے امام اعظم اور امام محمد رضی اللہ تعالی عنہم ا کے مذہب کا اس بناپر اس پر اعتماد کرناچاہئے اگرسوال ہو کہ عبارت میں اگرارادہ مراد ہے تواس مسئلہ کاخصوصا کیوں ذکرہوا کیونکہ اس کا علم تو فقہا کے اس قول “ اگرامام کوکوئی عارضہ لاحق ہو “ کے اطلاق سے ہی ہورہاہے اقول(میں کہتاہوں ) کیوں نہیں
حوالہ / References القرآن ۵ / ۶
القرآن ۷۲ / ۱۹
#11050 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
الی الاخریین حیث لم یفصل والحاوی علی الوھم ان المقتدی لایطلع علی قیام الامام بفورہ بل یتاخر ذلك عن افاضتہ فی القیام ولولحظات کما ھو معلوم مشاھد فعند ذلك یسبح ثم الامام لاینبہ بفور مابدأ المقتدی بحرف التسبیح بل یتاخرولو لحظۃ ثم ھو ربما لایتذکر بمجرد السماع والتنبہ علی تنبیھہ بل قدیحتاج الی شیئ من التامل فھذہ ثلث وقفات والامام اذا نھض نھض ولم یکن فیہ تدرج یقتضی مکثا معتدا بہ فربما لایتنبہ بتسبیحہ الابعد مافات وقت العود لاسیما علی قول من قال بفواتہ اذ اقرب الی القیام کما ھو مختار صاحب البدائع و الھدایۃ والوقایۃ والکنز وغیرھم من الجلۃ الکرام وان کان الاصح العبرۃ بتمام القیام کما اعتمدہ فی مواھب الرحمن ونور الایضاح
گویا کوئی وہم کرنے والا یہ تصورکرسکتاتھا کہ یہاں مطلقا لقمہ ناجائز ہے جیسا کہ بدائع کے ان الفاظ کے ظاہر سے وہم کیاجاسکتاہے کہ “ امام جب آخری رکعتوں کی طرف کھڑا ہوجائے تو سبحان اﷲ نہ کہاجائے “ تویہاں انہوں نے کوئی فرق نہیں کیا اور یہاں منشاء وہم یہ بات ہے کہ مقتدی فی الفور امام کے قیام پرمطلع نہیں ہوتا بلکہ قیام کی طرف مائل ہونے کے بعد مطلع ہوتاہے اگرچہ کچھ لمحات ہی ہوں جیسا کہ معلوم ومشاہد ہے تو اس وقت مقتدی سبحان اﷲ کہے گا پھر امام بھی مقتدی کے لقمہ پرفی الفورمتوجہ نہیں ہوتا بلکہ معاملہ متاخرہوتاہے خواہ ایك لمحہ بعد ہی ہو پھر بعض اوقات اسے صرف سماع اور توجہ دلانے سے یادنہیں آجاتا بلکہ کچھ نہ کچھ غوروفکر کا محتاج ہوتاہے تویہ تین وقفے ہوئے توامام جب کھڑاہوتاہے توکھڑاہوجاتاہے اس میں ایسی تدریج نہیں جو قابل ذکر ٹھہرنے کاتقاضاکرے بعض اوقات مقتدی کی تسبیح سے بھی متوجہ نہیں ہوپاتا مگراس وقت جب لوٹنے کاوقت ختم ہوچکا ہو خصوصا اس قول کے مطابق جوکہتے ہیں کہ جب قیام کے زیادہ قریب ہو تو رجوع فوت ہوجاتاہے جیسا کہ صاحب بدائع ہدایہ وقایہ کنزاور دیگر جلیل القدرفقہاء نے اختیارکیاہے اگرچہ اصح یہ ہے کہ اعتبار کامل قیام کاہے جیسا کہ اس پرمواہب الرحمن نورالایضاح تنویر فتح
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی بیان حکم الاستخلاف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۳۵
#11051 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
والتنویر والفتح والدر المختار وغیرھا وجعلہ فی الدر ظاھر المذھب۔ واذا کان الامر علی ماوصفنا لك فعسی ان یتوھم کونہ عبثا مطلقا فیحکم بفساد الصلوۃ بہ علی الاطلاق فمست الحاجۃ الی التصریح بذلك فان المسموع ھوکونہ مفید احین وقوعہ وھوکذلك فی فورالقیام ولربما یرجی العود بہ بل ربما یقع وھذا حسبہ ولایضرہ ان تعجل الامام ولم یلتفت کما اذا فتح ولم یاخذ فانقلت یحتمل ان الامام لماظن ان صلاتہ تمت لعلہ یتعمد الکلام اوالذھاب اوالضحك قبل ان یسلم۔
قلت ھذا فی غایۃ البعد ولا یتوقع من المسلم بل ھو اسائۃ ظن بہ والفقہ لایبنی علی نادر فضلا عما عساہ لم یقع قط بل ھواحتمال علی احتمال لان ظن الامام تمام الصلوۃ ایضا غیرمعلوم کما قدمنا فکان شبھۃ الشبھۃ ولاعبرۃ بھا اصلا ھذا ماوقع فی الحلیۃ
درمختاروغیرہ میں اعتماد کیاگیاہے اور درمیں اسے ظاہرمذہب قراردیاہے اور جب معاملہ اس طرح ہے جو ہم نے آپ کے سامنے بیان کیاہے توقریب ہے اس کے مطلقا عبث ہونے کے وہم پرمطلقا فسادنماز کاحکم کردیاجائے لہذا اس کی تصریح کی حاجت وضرورت پیش آئی کیونکہ اس کے وقوع کے وقت لقمہ کامفید ہونا قابل اعتبار ہے اور علی الفور قیام کے وقت لقمہ میں یہ صورت ہے اور بسااوقات لوٹنے کی امید کی جاتی بلکہ بعض دفعہ لوٹنے کا وقوع ہوتاہے اور مفید ہونے کے لئے یہی کافی ہے اور امام کا جلدی کرنا اور متوجہ نہ ہونا نقصان دہ نہیں جیسا کہ اس صورت میں جب لقمہ دیا مگرامام نے نہ لیا۔ اگر آپ سوال کریں (قعدہ لمباہونے پرسلام سے پہلے لقمہ دینے میں فائدہ ہے) کیونکہ ممکن ہے امام نے گمان کیا ہو کہ نماز مکمل ہوگئی ہے پھر وہ دانستہ طور پر قبل از سلام کلام کرنے یاچلے جانے یاہنسنے کا ارادہ کرلے۔
قلت (میں کہتاہوں ) یہ نہایت ہی بعید ہے اور اس بات کی کسی مسلمان سے توقع نہیں بلکہ کسی مسلمان کے بارے میں ایساگمان کرنا بھی گناہ ہے اور کسی نادرمعاملہ پرفتوی نہیں ہواکرتا چہ جائیکہ جس کا امکان کبھی واقع نہ ہو بلکہ یہ احتمال دراحتمال ہے کیونکہ امام کااتمام نماز کاگمان کرنابھی معلوم نہیں جیسا کہ پہلے بیان ہوا گویا یہ اتمام کے گمان کے بعد کلام وغیرہ کاگمان شبہ کا شبہ ہے لہذا اس کاکوئی اعتبارنہیں یہ وہ ہے جو حلیہ میں
#11052 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
نقلا عن المحیط الرضوی اذا فتح علی امامہ یجوز مطلقا لان الفتح وان کان تعلیما ولکن التعلیم لیس بعمل کثیر وانہ تلاوۃ حقیقۃ فلایکون مفسدا وان لم یکن محتاجا الیہ ھ فاقول : یجب ان یحمل فیہ لام “ التعلیم “ علی العھد ای ھذا التعلیم من المقتدی للامام کمثل لام “ الفتح “ فلیس المراد الاھذا الفتح' لامطلقا ولومن غیر مقتدعلی امامہ وذلك لان کون مطلق التعلیم من العمل القلیل باطل بداھۃ وتشھد بہ فروع فی المذھب متواترات بل قدنص فی الفتح فی نفس مسئلۃ الفتح ان التکرار لم یشترط فی الجامع ای ان الجامع الصغیر لم یشترط للافساد تکرار الفتح بل حکم بہ مطلقا قال وھوالصحیح وکذا صححہ فی الخانیۃ وقد علم ھذا من مذھب الامام فانہ اذا جعل کلاما فقلیلہ و کثیرہ سواء فاعرف وتثبت وباﷲ التوفیق ھذا ماعندی واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔
محیط رضوی کے حوالے سے مذکور ہے کہ امام کولقمہ دینا ہرحال میں جائز ہے کیونکہ لقمہ دینا اگرچہ تعلیم ہے لیکن تعلیم عمل کثیرنہیں ہے اور یہ توحقیقت میں تلاوت ہے لہذایہ مفسدنمازنہیں اگرچہ اس کی احتیاجی نہ ہو۔
اقول : یہان پرلفظ تعلیم کے الف لام کو عہد خارجی ماننا ضروری ہے کیونکہ اس سے مراد وہی تعلیم ہے جو مقتدی کی امام کے لئے ہو جیسا کہ الفتح کے الف لام کامعاملہ ہے کیونکہ یہاں لقمہ سے بھی خصوصی لقمہ مراد ہوگا ہرلقمہ نہیں کہ اگرچہ وہ غیرمقتدی کاامام کے لئے ہو وہ اس لئے کہ ہرتعلیم کاعمل قلیل ہونا بداہۃ باطل ہے اور اس پرمذہب کی فروعات بڑی تواترکے ساتھ گواہ ہیں بلکہ فتح میں اس مسئلہ لقمہ میں تصریح ہے کہ جامع میں تکرار کوشرط نہیں کیا یعنی جامع صغیرنے نمازفاسد ہونے کے لئے تکرارلقمہ کو شرط قرارنہیں دیابلکہ مطلقا حکم جاری کیااور کہایہی صحیح ہے اسی طرح اسے خانیہ نے بھی صحیح قراردیا اور مذہب امام کے حوالے سے یہ معلوم ہے کہ جب انہوں نے اسے کلام قراردیا ہے تو اب کلام کے قلیل اور کثیر کاایك ہی حکم ہوگا اسے اچھی طرح جان لو اور ثابت رہو اور توفیق اﷲ ہی سے ہے یہ ہے جو کچھ میرے پاس تھا اور اﷲ سبحانہ وتعالی ہی زیادہ جاننے والا ہے(ت)
مسئلہ ۹۶۴ : ازکلکتہ نل موتی گلی نمبر۱۸ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۲۱ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں اکثرلوگ بے پڑھے نمازظہروعصرومغرب وعشاکے
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#11053 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
فرض تنہا پڑھنے کی حالت میں تکبیرات انتقالیہ بجہر اس غرض سے کہتے ہیں کہ دوسرے نمازی معلوم کرلیں کہ یہ شخص فرض پڑھتاہے اور شریك ہوجائیں اس صورت میں جہر کے ساتھ تکبیرکہنے سے نمازمیں فساد ہوتاہے یانہیں دوسری صورت یہ ہے کہ ایك شخص نمازپڑھ رہاہے دوسراشخص آیا اورمنتظراس امرکاہے کہ یہ نمازی بجہرتکبیر کہے تو میں شریك ہوجاؤں چنانچہ اس نے اس کی اطلاع کی غرض سے تکبیرجہر کے ساتھ کہ اس صورت نماز فاسد ہوگی یاصحیح بینواتوجروا۔
الجواب :
دونوں صورتوں میں اگرنمازیوں نے اصل تکبیرات انتقال بہ نیت ادائے سنت وذکرالہی عزوجل ہی کہیں اور صرف جہربہ نیت اطلاع کیا تونماز میں کچھ فسادنہ آیا ردالمحتارمیں ہے :
وقال فی البحر ومما الحق بالجواب مافی المجتبی لوسبح اوھلل یرید زنجرا عن فعل اوامرابہ فسدت عندھما ھ قلت والظاھر انہ لولم یسبح ولکن جھر بالقراء ۃ لاتفسد لانہ قاصد للقرائۃ وانما قصد الزجر اوالامربمجرد رفع الصوت تأمل ھ۔
بحرمیں ہے کہ ان چیزوں میں سے جن کا جواب سے تعلق ہے وہ ہیں جو مجتبی میں ہیں اگرمقتدی نے سبحان اﷲ کہا یا لاالہ الااﷲ کہا اور اس سے مقصد کسی عمل پر زجریاکسی عمل کا حکم تھا توان دونوں (طرفین) کے نزدیك نمازفاسد ہوجائے گی۱ھ میں کہتاہوں ظاہریہی ہے کہ اگر اس نے سبحان اﷲ نہیں کہا لیکن قرأت بلندآواز سے کی تو نماز فاسد نہ ہوگی کیونکہ اس سے مقصد قرأت ہے اور آواز کی بلندی کے ذریعے توصرف زجریا حکم مقصود ہے تأمل ۱ھ(ت)
اور شك نہیں کہ واقعایسا ہی ہوتاہے نہ یہ کہ نفس تکبیرہی سے ذکروغیرہ کچھ مقصودنہ ہو صرف بغرض اطلاع بہ نیت مذکورہ کہی جاتی ہو ہاں اگرکوئی جاہل اجہل ایساقصد کرے تو اس کی نمازضرور فاسد ہوجائے گی علی قول الامام والامام محمد خلافا للامام ابی یوسف رضی اﷲ تعالی عنہم۔ (یہ امام اعظم اور امام محمدکے قول کے مطابق ہے بخلاف امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہم کے۔ ت)اقول : وباﷲ التوفیق (میں اﷲتعالی کی توفیق سے کہتاہوں ۔ ت) تحقیق مقام یہ ہے کہ ان مسائل میں حضرات طرفین رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك اصل یہ ہے کہ نمازی جس لفظ سے کسی ایسے معنی کا افادہ کرے جو اعمال نماز سے نہیں وہ
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۵۹
#11054 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
کلام ہوجاتا اور مفسد نماز قرارپاتا ہے اگرچہ لفظہ فی نفسہ ذکر الہی یا قرآن ہی ہو اگرچہ اپنے محل ہی میں ہو مثلا کسی موسی نامی شخص سے نمازی نے کہا : ماتلك بیمینك یاموسی (اے موسی!تیرے تھ میں کیاہے نماز جاتی رہی اگرچہ یہ الفاظ آیہ کریمہ ہیں ۔ یا التحیات پڑھ رہاتھا جب کلمہ تشہد کے قریب پہنچا مؤذن نے اذان میں شہادتیں کہیں اس نے نہ بہ نیت قرأت تشہد بلکہ بہ نیت اجابت مؤذن اشھد ان لاالہ الا اﷲ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ کہا نمازجاتی رہی اگرچہ یہ ذکر اپنے محل ہی میں تھا۔ بحرالرائق میں ہے :
اذا ذکر فی التشھد الشھادتین عند ذکر المؤذن الشھادتین تفسد ان قصد الاجابۃ ھ
جب دوران تشہد شہادتین کاذکر مؤذن کے ذکر شہادتین کے موقع پرکرتاہے تو نماز فاسد ہوجائے گی۔ اگراذان کاجواب مقصود ہو۱ھ(ت)
مگرجبکہ ایسا قصد بضرورت اصلاح نماز ہو جیسے مقتدیوں کاامام کوبتانا یا اس کے جواز میں خاص نص آگیا ہو جیسے کوئی دروازے پر آواز دے یہ نماز پڑھتاہو اس کو مطلع کرنے کے لئے سبحان اﷲ یا لاالہ الااﷲ یا اﷲ اکبر کہے توصرف ان صورتوں میں نماز نہ جائے گی اور ان کے ماوراء میں مطلقا اسی اصل کلی پر عمل ہو کر فساد نماز کاحکم دیاجائے گا۔ فتح القدیرمیں ہے :
قلنا خرج قصد اعلام الصلاۃ بقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذنابت احدکم نائبۃ وھو فی الصلاۃ فلیسبح الحدیث اخرجہ الستۃ لالانہ لم یتغیر بعزیمتہ کما لم یتغیر عند قصد اعلامہ فان مناط کونہ من کلام الناس کونہ لفظا افید بہ معنی لیس من عمال الصلاۃ لاکونہ وضع لافادۃ ذلك فیبقی ماوراء ہ علی المنع الخ قلت وقد اوضحنا المسألۃ بنقولھا فیما تقدم من فتاونا۔
ہم کہتے ہیں کہ نماز میں اصلاح کاقصد حضورعلیہ السلام کے ارشاد مبارك کہ “ جب کسی کو نماز میں کوئی واقعہ پیش آجائے تو وہ تسبیح کہے “ کے تحت اس حکم سے خارج ہے۔ اس حدیث کو صحاح ستہ نے بیان کیاہے اس لئے نہیں کہ اس میں تبدیلی بالارادہ نہیں کیونکہ لوگوں کے کلام میں سے ہونے کامدار اس پر ہے کہ وہ الفاظ ہوں جو ایسے معانی کا فائدہ دیں جو اعمال نماز میں سے نہیں نہ کہ وہ الفاظ ان معانی کے افادہ کے لئے موضوع ہوں لہذا اس کے علاوہ ممنوع ہی رہیں گے الخ قلت ہم نے اس مسئلہ کو سابقہ گفتگو میں خوب واضح کیاہے۔ (ت)
حوالہ / References بحرالرائق باب ما یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ اہم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۶
فتح القدیر باب ما یفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۴۹
#11055 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
اور شك نہیں کہ جب نمازی نے اﷲ اکبر یا سمع اﷲ لمن حمدہ صرف اس اطلاع کی نیت سے کہا کہ میں پڑھ رہاہوں میرے شریك ہوجاؤ تو یہ ایك لفظ ہے جس سے ایسے معنی کا افادہ چاہا جو اعمال نماز سے نہیں کہ اعمال نماز اس کے افعال مخصوصہ معلومہ ہیں نہ کسی سے یہ کہنا کہ نماز میں مل جاؤ اور اس خصوص میں نہ نص وارد ہے نہ یہ کسی نہ جاننے والے کو اس کا بتانا ہے کہ میں نماز میں مشغول بلکہ ا س سے اپنے فرض میں ہونے کا اعلام اور اپنی نماز کی طرف بلانا مقصود ہے یہ دونوں باتیں مجرد قصداعلام صلوۃ سے زائد ہیں کہ اس قدر تو وہ آنے والے خودہی جانتے ہیں کہ یہ نماز پڑھ رہاہے تو یہ صورت ان صور استثناء میں داخل نہیں اور حکم فساد نماز ہے مگر اگر اصل لفظ سے کوئی امر بیرونی مقصود نہیں بلکہ صرف رفع صوت بقصد دیگرہے تو یہاں کوئی لفظ ایسانہ پایا گیا جس سے کسی خارج بات کا قصد کیاگیا ہو اور تنہا رفع صوت کلام نہیں تو مناط فساد متحقق نہ ہو اولہذا امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام قدس سرہ نے جبکہ ان مکبروں کی نسبت جو تکبیرات انتقالات میں گانے کے طور پر اپنی آواز بنانے کے لئے گھٹاتے بڑھاتے اور سامعین کو اپنی خوش الحانی جتانے کا قصد کرتے ہیں فساد نماز کاحکم دیا اسے دوامر پرمبنی فرمایا ایك یہ کہ ان تکبیرات سے ان کا قصد اقامت عبادت نہیں ہوتا بلکہ اپنی صناعت موسیقی کااظہار مقصود ہوتاہے تو اب یہ تکبیریں خود ہی وہ الفاظ ہیں جن سے معنی خارج کا افادہ مراد ہوا دوسرے یہ کہ اس جزرومد سے حروف زائد پیدا ہوجاتے ہیں جواصل کلمات تکبیر میں نہیں تو اگرچہ نفس تکبیر سے ان کا قصد وہ نہ ہو مگریہ حروف توضرور اسی قصد سے بڑھائے گئے اور اب یہ وہ الفاظ بقصدافادہ معنی خارج ہوئے بہرصورت فساد نماز چاہئے۔ فتح القدیرمیں درایہ سے مکبرین کے لئے رفع صورت کا جواز نقل کرکے اشارہ فرمایا :
مقصودہ اصل الرفع لابلاغ الانتقالات اما خصوص ھذا الذی تعارفوہ فی ھذا البلاد فلا یبعد انہ مفسد فلانھم یبالغون فی الصیاح زیادۃ علی حاجۃ الابلاغ والاشتغال بتحریرات النغم اظھارا للصناعۃ النغمیۃ لااقامۃ للعبادۃ والصیاح ملحق بالکلام وھنا معلوم ان قصدہ اعجاب الناس بہ ولوقال اعجبوا من حسن صوتی و تحریری
تکبیرات میں آوازبلند کرنے کا اصل مقصد انتقالات کی اطلاع ہے رہا وہ مخصوص انداز جو ان شہروں میں معروف ہے اس کا مفسد نماز ہونا بعید نہیں کیونکہ یہ مکبرین حاجت ابلاغ سے بڑھ کر چیخنے میں مبالغہ کرتے ہے اور نغمہ کو سجانے کے لئے مشغول ہونا نغمہ سرائی ہے عبادت کاقیام نہیں اور چیخنا بھی کلام کے ساتھ ملحق ہے اور یہاں تو واضح ہے کہ مکبر کا مقصد لوگوں کوتعجب میں ڈالنا ہے اگر وہ یہ کہتاکہ لوگو! میری اچھی آواز اور سرپرخوش ہوجاؤ تو اس نے نمازفاسد
#11056 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
فیہ افسد و حصول الحروف لازم من التلحین ھ مختصرا وقد اقرہ فی النھر و استحسنہ فی الحلیۃ فقال وقد اجاد فیما اوضح وافاد۔
کردی ہوتی اور اظہارلحن سے حروف کا حاصل ہونا لازمی ہے۱ھ اختصارا۔ اسے نہرنے ثا بت رکھا اور حلیہ میں اسے ان الفاظ سے سراہاگیا کہ وضاحت میں یہ نہایت ہی عمدہ اور مفید ہے۔ (ت)
علامہ شامی تنبیہ ذوی الافہام علی احکام التبلیغ خلف الامام میں فرماتے ہیں :
ان المحقق لم یجعل مبنی الفساد مجرد الرفع بل زیادۃ الرفع ملحق بالکلام بالصیاح المشتمل علی النغم مع قصد اظھارہ لذلك والاعراج عن اقامۃ العبادۃ فقول المحقق والصیاح ملحق بالکلام ای الصیاح المشتمل علی ماذکر بدلیل سوابق الکلام ولو احقہ الخ
محقق نے محض بلندی آواز کو فساد کی علت قرارنہیں دیا بلکہ بلندی میں ایسی زیادتی کو جو نغمہ پرمشتمل چیخ سے مل جائے اور اس کے اظہار کا اور اقامت عبادت سے اعراض کاقصد بھی ہو لہذا محقق کا قول کہ “ الصیاح ملحق بالکلام “ سے وہی چیخنا مراد ہے جو مذکورہ امور پر مشتمل ہو اس پر سابق ولاحق کلام شاہد عادل ہے الخ(ت)
اسی میں ہے :
فحاصل کلام المحقق ان الاشتغال بتحریر النغم والتلحین والصیاح الزائد علی قدر الحاجۃ لالقصد القربۃ بل لیعجب الناس من حسن صوتہ ونغمہ مفسد من وجہین الاول مایلزم من التلحین من حصول الحرف بالمفسد غالبا و الثانی عدم قصد اقامۃ العبادۃ الخ اقول : وللعبد الضعیف فی بعض کلام العلامۃ الشامی ھنا کلام بینتہ علی ھامشہ ولکن المرمی۔
کلام محقق کاحاصل یہ ہے کہ نغمہ الحان اور ایسا چیخنا جوقدرحاجت سے زائدہو میں مشغول ہونا جس کا مقصد قربت وعبادت نہ ہو بلکہ لوگوں کو حسن آواز کی وجہ سے مسحور کرنا ہو تو یہ عمل دو وجہ سے مفسد نماز ہ اول یہ کہ الحان سے ایسے حروف کاحصول ہوجاتاہے جوغالبا نماز کے لئے مفسد ہوتے ہیں ثانی یہ کہ یہاں مقصود عبارت نہیں الخ(ت) اقول : (میں کہتاہوں ) اس عبدضعیف کو علامہ شامی کے اس مقام پربعض کلام میں اعتراض ہے جسے میں نے ردالمحتارکے حاشیہ میں ذکرکیاہے(ت)
حوالہ / References فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲۲
رسائل ابن عابدین رسالہ تنبیہ ذوی الافہام علی احکام التبلیغ خلف الامام مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۱۴۶
#11057 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
بالجملۃ جبکہ لفظ بقصد مفسد نہ ہو تو مجرور رفع صورت سے کسی معنی زائد کاارادہ مفسد نہیں ولہذا علامہ حموی نے رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ میں فرمایا :
فی کون الصیاح بما ھوذکر ملحقا بالکلام نظرلان المفسد للصلاۃ الملفوظ لاعزیمۃ القلب ھ ملخصا۔
مذکورہ چیخنے کو کلام کہنامحل نظرہے کیونکہ مفسدنماز وہ ہوگا جو ملفوظ ہو ارادہ قلب مفسد نماز نہیں ۱ھ ملخصا (ت)
ردالمحتارسنن الصلاۃ میں حاشیہ ابوالسعود ازہری سے ہے :
مانقل عن الطحطاوی اذا بلغ القوم صوت الامام فبلغ المؤذن فسدت صلاتہ لعدم الاحتیاج الیہ فلاوجہ لہ اذغایتہ انہ رفع صوتہ بما ھو ذکر بصیغتہ وقال الحموی وأظن ان ھذا النقل مکذوب علی الطحاوی فانہ مخالف للقواعد ھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
طحاوی سے جوکچھ منقول ہے کہ لوگوں تك امام کی آواز پہنچ رہی ہو اس کے باوجود موذن بھی پہنچارہا ہو تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی کیونکہ یہاں احتیاجی ہی نہ تھی۔ اس (منقول) پرکوئی دلیل نہیں زیادہ سے زیادہ یہ رفع صوت جوذکر کے الفاظ پرمشتمل ہے اور شیخ حموی کہتے ہیں کہ میں یہ محسوس کرتاہوں کہ یہ قول امام طحاوی کی طرف غلط طورپرمنسوب ہے کیونکہ یہ قواعد کے مخالف ہے۱ھ واﷲتعالی اعلم اسی کا علم کامل واتم ہے(ت)
مسئلہ ۹۶۵ : ازکلکتہ فوجداری نمبر۳۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۳۰ / رجب ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرمقتدی نے رکوع یاسجدہ امام کے ساتھ نہ کیا بلکہ امام کے فارغ ہونے کے بعد کیا تو نماز اس کی ہوئی یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
ہوگئی اگرچہ بلاضرورت ایسی تاخیر سے گنہگار ہوا اور بوجہ ترك واجب اعادہ نماز کاحکم دیاجائے تحقیق مقام یہ ہے کہ متابعت امام جو مقتدی پرفرض میں فرض ہے تین صورتوں کو شامل ایك یہ کہ اس کا ہرفعل فعل امام کے ساتھ کمال مقارنت پرمحض بلافصل واقع ہوتارہے یہ عین طریقہ مسنونہ ہے اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ
حوالہ / References رسالہ القول البلیغ فی حکم التبلیغ
ردالمحتار باب صفۃ الصلاۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۵۱
#11058 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
کے نزدیك مقتدی کو اسی کا حکم۔ دوسرے یہ کہ اس کا فعل فعل امام کے بعد بدیر واقع ہو اگرچہ بعد فراغ امام فرض یوں بھی ادا ہوجائے گا پھر یہ فصل بضرورت ہوا تو کچھ حرج نہیں ضرورت کی یہ صورت کہ مثلا مقتدی قعدہ اولی میں آکر ملا اس کے شریك ہوتے ہی امام کھڑا ہوگیا اب اسے چاہئے کہ التحیات پوری پڑھ کر کھڑا ہو اور کوشش کرے کہ جلد جاملے فرض کیجئے کہ اتنی دیر میں امام رکوع میں آگیا تو اس کا قیام قیام امام کے بعد اختتام واقع ہوگا مگرحرج نہیں کہ یہ تاخیر بضرورت شرعیہ تھی اور اگربلاضرورت فصل کیا تو قلیل فصل میں جس کے سبب امام سے جاملنا فوت نہ ہو ترك سنت اور کثیر میں جس طرح صورت سوال ہے کہ فعل امام ختم ہونے کے بعد اس نے فعل کیا ترك واجب جس کا حکم اس نماز کو پورا کرکے اعادہ کرنا۔
تیسرے یہ کہ اس کا فعل فعل امام سے پہلے واقع ہو مگر امام اسی فعل میں اس سے آملے مثلا اس نے رکوع امام سے پہلے رکوع کردیا لیکن یہ ابھی رکوع ہی میں تھا کہ امام رکوع میں آگیا اور دونوں کی شرکت ہوگئی یہ صورت اگرچہ سخت ناجائز وممنوع ہے اور حدیث میں اس پر وعید شدید وارد مگرنماز یوں بھی صحیح ہوجائے گی جبکہ امام سے مشارکت ہولے اور اگرابھی امام مثلا رکوع یاسجود میں نہ آنے پایا کہ اس نے سراٹھالیا اور پھرامام کے ساتھ یہ بعد اس فعل کااعادہ نہ کیا تو نماز اصلانہ ہوگی کہ اب فرض متابعت کی کوئی ضرورت نہ پائی گئی توفرض ترك ہوا اور نماز باطل۔ ردالمحتارمیں ہے :
وتکون المتابعۃ فرضا بمعنی ان یأتی بالفرض مع امامہ اوبعدہ کما لو رکع امامہ فرکع معہ مقارنا اومعاقبا وشارکہ فیہ اوبعد مارفع منہ فلولم یرکع اصلا اورکع و رفع قبل ان یرکع امامہ ولم یعدہ معہ اوبعدہ بطلت صلاتہ والحاصل ان المتابعۃ فی ذاتھا ثلثۃ انواع مقارنۃ لفعل الامام مثل ان یقارن احرامہ لاحرام امامہ ورکوعہ
اورمتابعت امام اس معنی میں فرض ہے کہ مقتدی فرض کو بجالائے خواہ امام کے ساتھ یا اس کے بعد مثلا امام نے رکوع کیا تومقتدی اس کے ساتھ ہی رکوع کرے یابعد میں کرے مگر اس کے ساتھ شریك ہوجائے اور یا اس کے سراٹھانے کے بعد کرے پس اگرمقتدی نے بالکل رکوع ہی نہ کیا یارکوع کیا مگر امام کے رکوع جانے سے پہلے سراٹھالیا اور امام کے ساتھ دوبارہ شامل نہ ہوا یا اس نے امام کے بعد رکوع نہ کیا تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔ الحاصل متابعت امام تین۳ طرح کی ہے فعل امام سے مقارنت مثلا امام کی تکبیر تحریمہ کے ساتھ تکبیر تحریمہ اس کے رکوع
#11059 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
لرکوعہ وسلامہ لسلامہ ویدخل فیھا مالورکع قبل امامہ ودام حتی ادرکہ امام فیہ ومعاقبۃ لابتداء فعل امامہ مع المشارکۃ فی باقیہ ومتراخیۃ عنہ فمطلق المتابعۃ الشامل لھذہ الانواع الثلثۃ یکون فرضا فی الفرض و واجبا فی الواجب وسنۃ فی السنۃ عند عدم المعارض اوعدم لزوم المخالفۃ کما قدمناہ والمتابعۃ المقیدۃ بعدم التاخیروالتراخی الشاملۃ للمقارنۃ والمعاقبۃ لاتکون فرضا بل تکون واجبۃ فی الواجب وسنۃ فی السنہ عند عدم المعارض وعدم لزوم المخالفۃ ایضا والمتابعۃ المقارنۃ بلاتعقیب ولاتراخ سنۃ عندہ لاعندھا الی اخرما افادواجاد علیہ رحمۃ الملك الجواد۔
اقول : وفی التقسیم الذی ذکرا المولی المحقق الفاضل والذی ابداہ ھذا العبد الظلوم الجاھل نوع تفنن ومآل الاقسام واحد فھو رحمہ اﷲ تعالی جعلہا ثلثا مقارنۃ ومعاقبۃ ومتراخیۃ وادخل المتقدمۃ التی الت الی المشارکۃ فی المقارنۃ والعبد الضعیف قسم ھکذا متصلۃ ومنفصلۃ ومتقدمۃ وادخل
کے ساتھ رکوع اور سلام کے ساتھ سلام اس میں یہ صورت بھی شامل ہوجائے گی کہ جب امام سے پہلے رکوع کیا مگر طویل کیاحتی کہ امام نے اس کو رکوع میں پالیا اورفعل امام کی ابتداء سے معاقبت ہو اور آخر تك شرکت رہے اور امام سے متاخر ہو عدم معارض اور عدم لزوم مخالفت کے وقت مطلق متابعت جو ان تینوں اقسام کوشامل ہے فرض میں فرض واجب میں واجب اور سنت میں سنت ہوگی جبکہ معارض نہ ہو اور لزوم مخالفت بھی نہ ہو اور متابعت بمعنی مقارنت بلاتعقیب و تراخی امام کے نزدیك سنت ہے صاحبین کے نزدیك نہیں آخر کلام تك جو نہایت ہی مفید اور عمدہ ہے۔
اقول : (میں کہتاہوں ) فاضل محقق کی تقسیم اور اس عبدضعیف اور ظلوم وجہول کی تقسیم میں صرف تفنن ہے کہ تمام اقسام کا مآل واحد ہے فاضل رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے متابعت کی تین اقسام مقارنت معاقبت اور متراخی کرکے متقدمہ کوجومشارکت کی طرف راجح تھی مقارنت میں داخل کردیا۔ عبدضعیف نے تقسیم یوں کی ہے متصلہ منفصلہ متقدمہ اور متراخیہ اور معاقبہ کومنفصلہ میں داخل کیا اور
حوالہ / References ردالمحتار باب صفۃ الصلاۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۴۸
#11060 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
المتراخیۃ والمعاقبۃ فی المنفصلۃ وجعل المتقدمۃ قسما بحیالھا وذلك لانی رأیت المتقدمۃ تباین المقارنۃ لانھا فاعلۃ من الطرفین فکما ان تاخر المقتدی یخرجہ عن القران حتی جعل المعاقبۃ قسیما للمقارنۃ فکذلك تقدمہ وایضا رأیت احکام المتابعۃ المجزئۃ ثلثۃ سنۃ وکراھۃ الالضرورۃ وکراھۃ شدیدہ مطلقا فاجبت ان تنفرزالاقسام بحسب الاحکام بخلاف ماصنع ھو رحمہ اﷲ تعالی فان المقارنۃ علی ما افاد تشتمل اکمل مطلوب واشنع مھروب اعنی المتصلۃ و المتقدمۃ کما سمعت وعلی کل فالحاصل واحد والحمدﷲ۔
متقدمہ کو ایك مستقل قسم بنادیا اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے متقدمہ کومقارنۃ کے متبائن پایا کیونکہ یہ جانبین سے ہے پس جیسا کہ مقتدی کا موخر ہونا اسے مقارنت سے خارج کردیتاہے نیز جب متابعت کی قسموں کے کل احکام میں نے تین پائے سنت کراہت(جب بلاضرورت ہو) مطلق کراہت شدیدہ تومیں نے احکام کی تعداد کے مطابق اقسام کی تعداد کو پسند کیا۔ اور فاضل محقق کی تقسیم میں ایسانہیں ہے کیونکہ ان کی مقارنت والی قسم (دومتضاد صورتوں ) جن میں سے ایك انتہائی کامل مطلوب ہے اوردوسری انتہائی ناپسندیدہ یعنی متصلہ اور متقدمہ پرمشتمل ہے جیسا کہ تومعلوم کرچکاہے بہرصورت حاصل ایك ہے الحمدﷲ۔
اسی میں ہے :
قال فی شرح المنیۃ متابعۃ الامام من غیرتاخیر واجبۃ فان عارضھا واجب یأتی بہ ثم یتابع کمالوقام الامام قبل ان یتم المقتدی التشھد فانہ یتمہ ثم یقوم ھ ملخصا۔
شرح المنیہ میں فرمایا ہے متابعت امام بغیر کسی تاخیر کے واجب ہے اگرکسی واجب کامتابعت کے ساتھ تعارض ہوجائے تو اسے بجالائے پھر متابعت کرے مثلا مقتدی کے تشہد مکمل کرنے سے پہلے امام نے قیام کرلیا تومقتدی تشہد مکمل کرکے قیام کرے ۱ھ تلخیصا(ت)
درمختارمیں ہے :
لورفع الامام رأسہ من الرکوع او اگرامام نے رکوع یاسجود سے سراٹھالیا حالانکہ
حوالہ / References ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۴۷
#11061 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
السجود قبل ان یتم الماموم التسبیحات الثلث وجب متابعتہ بخلاف سلامہ او قیامہ لثالثۃ قبل تمام الموتم التشھد فانہ لایتابعہ بل یتمہ لوجوبہ ۔
مقتدی نے تین تین تسبیحات نہیں کہی تھیں تومقتدی پرامام کی متابعت لازم ہے بخلاف مقتدی کے تشہد مکمل نہ کرنے کی صورت میں جب امام سلام پھیرے یاتیسری رکعت کی طرف کھڑا ہوجائے تواب مقتدی متابعت نہ کرے کیونکہ تشہد واجب ہے(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ فانہ لایتابعہ الخ ای ولوخاف ان تفوتہ الرکعۃ الثالثۃ مع الامام کما صرح بہ فی الظھیریۃ ۔
قولہ فانہ لایتابعہ الخ یعنی اگرچہ اسے یہ خوف ہو کہ امام کے ساتھ تیسری رکعت فوت ہوجائے گی جیسا کہ ظہیریہ میں اس پرتصریح ہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
سجود السھو یجب علی مقتد بسھو امامہ لابسھوہ اصلا (ملخصا)
امام کے بھول جانے کی وجہ سے مقتدی پرسجدہ سہو لازم ہوتاہے مگرمقتدی کے بھولنے کی وجہ سے سجدہ لازم نہیں ہوتا نہ مقتدی پرنہ امام پر(ملخصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قال فی النھر ثم مقتضی کلامھم انہ یعیدھا لثبوت الکراھۃ مع تعذر الجابر ھ قلت فاذا کان ھذا فی السھو فالعمد اولی بالاعادۃ مع تصریحھم بانھا ھی سبیل کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم واﷲ تعالی اعلم۔
نہرمیں ہے کہ کلام فقہا کاتقاضا ہے کہ مقتدی نماز کو ثبوت کراہت کی وجہ سے لوٹائے اس کی وجہ یہ ہے کہ (امام کی متابعت کی وجہ سے) نقصان پورانہیں ہوسکتا۱ھ قلت جب یہ صورت سہو میں ہے توعمد میں بطریق اولی اعادہ ہوگا اور اس پر توفقہاء کی تصریح ہے کہ ہروہ نماز جوکراہت تحریمی سے ادا کی جائے اس کا اعادہ واجب ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References الدرالمختار فصل اذا اراد الشروع فی الصلوٰۃ کبر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۵
ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۶۶
الدرالمختار باب سجود السہو مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۲
ردالمحتار باب سجود السہو مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۴۹
#11062 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
مسئلہ ۹۶۶ : از بریلی مدرسہ منظرالاسلام مسؤلہ مولانا حشمت علی صاحب طالب علم قادری رضوی ۲۹ / محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام نے یایها الذین امنوا صلوا علیه و سلموا تسلیما پڑھی مقتدی کے منہ سے عادۃ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نکل گیا نماز فاسد ہوئی یانہیں
الجواب :
اس میں جواب امام مقصودنہیں ہوتا بلکہ امتثال امرالہی لہذا فساد نماز نہیں ۔
مسئلہ ۹۶۷ : از میرٹھ لال کرتی کوٹھی حافظ عبدالکریم صاحب مرسلہ مولوی محمداحسان الحق صاحب ۲۷ / رمضان ۱۳۲۹ھ۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں :
(۱) زید ایك مسجد کا امام تراویح میں قرآن مجید سناتاہے عمرو اسی مسجد کا مؤذن۔ مہتممان مسجد کی طرف سے زیدکاسامع مقررکیاگیاہے محمودایك تیسراشخص ہے جو ہمیشہ یاکبھی کبھی اسی مسجد میں زیدکے پیچھے تراویح پڑھاکرتاہے اگرمحمود کے خیال میں زید(امام) نے کچھ غلط پڑھا اورعمرومقررکیا ہوا سامع سہوا یاعمدا خاموش رہا یا یہ کہ زیدنے صحیح پڑھا اور عمرونے سہوا یا عمدا غلط بتایا یا یہ کہ زید نے غلط پڑھا اور عمرونے بھی سہوا یاعمدا غلط بتایا تو ان تینوں صورتوں میں محمود شخص ثالث کوغلطی کی تصحیح کا اگرچہ وہ غلطی مفسدنماز نہ ہو حق حاصل ہے یا نہیں اور ایسی تصحیح اس کو حالت قرأت میں کرنی چاہئے یا بعد اختتام نماز کے وجوبا کرنی چاہئے یااختیارا۔ قرآن مجید کے غلط پڑھے جانے کے غالب گمان ہونے کی حالت میں محمودکی خاموشی اس کے لئے گنہگار ہ ہونے کا باعث ہوگی یانہیں
(۲) شرع شریف میں امامت اور مؤذن کی طرح سماعت قرآن مجید کابھی کوئی منصب مقرر ہے یانہیں یعنی آیا یہ بات شرعا جائز ہے کہ کوئی شخص قرآن مجید سننے کے لئے کسی طرف سے ایسا سامع مقررکیاجائے جس کی بلااجازت واذن دوسراشخص امام کو فتح نہ کرسکے۔ کسی مہتمم مسجد کا ایك ایسی بات کو جوشرعا مستحسن واولی یاواجب ہواپنے ذاتی رسوخ اور تمکنت اور اعلی شخصیت کی وجہ سے حکما بند کردینا یعنی درصورت خلاف ورزی حکم کے خلاف کرنے والے کو مسجد سے نکلوادینا یا آئندہ اس مسجدمیں نماز نہ پڑھنے کی ہدایت کرنا یا اور تشدد کرناشرعا واخلاقا کیسا ہے خصوصا اس حالت میں کہ جس فعل کے ارتکاب سے دوسروں کو تشدد کے ساتھ روکاجاتاہو خود مانع اس کو انہیں تغیر کے ساتھ متعدد بارکرچکاہو۔ بینواتوجروا۔
#11063 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
الجواب :
امام جب ایسی غلطی کرے جوموجب فسادنماز ہو تو اس کا بتانا اور اصلاح کرانا ہرمقتدی پرفرض کفایہ ہے ان میں سے جوبتادے گا سب پر سے فرض اترجائے گا اور کوئی نہ بتائے گا توجتنے جاننے والے تھے سب مرتکب حرام ہوں گے اور نماز سب کی باطل ہوجائے گی
وذلك لان الغلط لما کان مفسدا کان السکوت عن اصلاحہ ابطالا للصلاۃ وھو حرام بقولہ تعالی و لا تبطلوا اعمالكم(۳۳) ۔
وجہ یہ کہ غلطی جب مفسد ہو تو اس کی اصلاح کرنے پرخاموشی نماز کے بطلان کا سبب ہے اور اﷲتعالی کے اس ارشاد مبارك کی وجہ سے حرام ہے کہ “ تم اپنے اعمال کو باطل نہ کرو “ ۔ (ت)
اور ایك کابتانا سب پر سے فرض اس وقت ساقط کرے گا کہ امام مان لے اور کام چل جائے ورنہ اوروں پربھی بتانا فرض ہوگا یہاں تك کہ حاجت پوری اور امام کو وثوق حاصل ہو بعض دفعہ ایسا ہوتاہے کہ ایك کے بتائے سے امام کا اپنی غلط یاد پر اعتماد نہیں جاتااور وہ اس کی تصحیح کو نہیں مانتا اور اس کامحتاج ہوتا ہے کہ متعدد شہادتیں اس کی غلطی پر گزریں تو یہاں فرض ہوگا کہ دوسرا بھی بتائے اور اب بھی امام رجوع نہ کرے تو تیسرا بھی تائید کرے یہاں تك کہ امام صحیح کی طرف واپس آئے
وذلك لان الاصلاح ھھنا فرض و مالایتم الفرض الابہ فھو فرض اقول ونظیرہ ان الشھادۃ فرض کفایۃ فان علم الشاھد انہ اسرع قبولا عند القاضی وجب علیہ الا داء عینا و ان کان ھناك من تقبل شھادتہ کما فی الخانیۃ والفتح والوھبانیۃ و البحر والدر وغیرھا۔
اس لئے کہ یہاں اصلاح فرض ہے اور ہروہ چیز جس کے بغیر فرض مکمل نہ ہو وہ فرض ہوتی ہے اقول اس کی نظیر گواہی ہے جو فرض کفایہ ہے اگرکوئی گواہ جانتا ہے کہ اس کی گواہی قاضی کے ہاں زیادہ مقبول ہے تو اس پر ادائیگی شہادت لازم ہے اگرچہ وہاں ایسے گواہ ہوں جن کی گواہی قبول کی جاسکتی ہو خانیہ فتح وہبانیہ بحر اور در وغیرہ۔ (ت)
اورا گر غلطی ایسی ہے جس سے واجب ترك ہو کر نماز مکروہ تحریمی ہو تو اس کا بتانا ہرمقتدی پر
حوالہ / References القرآن ۴۷ / ۳۳
بحرالرائق کتاب الشہادات مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ / ۵۷ ، ۵۸
#11064 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
واجب کفایہ ہے اگر ایك بتادے اور اس کے بتانے سے کاروائی ہوجائے سب پر سے واجب اترجائے ورنہ سب گنہگار رہیں گے
فان قیل لہ مصلح اخر وھو سجود السہو فلایجب الفتح عینا قلت بلی فان ترك الواجب معصیۃ وان لم یاثم بالسھو و دفع المعصیۃ واجب ولایجوز التقریر علیہا بناء علی جابر یجرھا کمالایخفی۔
اگریہ کہاجائے کہ یہاں اصلاح کی دوسری صورت بصورت سجدہ سہو موجود ہے تویہاں لقمہ دینا واجب نہ ہوگا قلت کیوں نہیں کیونکہ ترك واجب گناہ ہے اگرچہ امام سہو سے گناہگار نہیں ہوتا اور گناہ سے بچناضروری ہے تومعصیت پراثبات اس لئے کہ کسی دوسرے سے اس کا ازالہ کرلیاجائے گا جائزنہیں جیسا کہ ظاہر ہے۔ (ت)
اور اگر اس غلطی میں نہ فساد نماز ہے نہ ترك واجب جب بھی ہرمقتدی کومطلقا بتانے کی اجازت ہے ھو الصحیح کما نص علیہ فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر (یہی صحح ہے جیسا کہ اس پر دروغیرہ میں تصریح ہے۔ ت)مگریہاں وجوب کسی پرنہیں لعدم الموجب اقول مگر دو صورتوں میں ایك یہ کہ امام غلطی کرکے خود متنبہ ہوا اور یاد نہیں آتا یادکرنے کے لئے رکا اگرتین بار سبحان اﷲ کہنے کی قدر رکے گا نماز میں کراہت تحریم آئے گی اور سجدہ سہو واجب ہوگا
فی الدر المختار اذا شغلہ الشك فتفکر قدر اداء رکن ولم یشتغل حالۃ الشك بقراء ۃ وجب علیہ سجود السہو ۔
درمختارمیں ہے جب کوئی شك میں پڑجائے اور وہ ایك رکن کی ادائیگی کے مقدار غورکرتارہے اور حالت شك میں قرأت میں مشغول نہ ہوا تو اس پرسجدہ سہو لازم ہوگا(ت)
تو اس صورت میں جب اسے رکا دیکھیں مقتدیوں پربتانا واجب ہوگا کہ سکوت قدرناجائزتك نہ پہنچے دوسرے یہ کہ بعض ناواقفوں کی عادت ہوتی ہے جب غلطی کرتے ہیں اور یادنہیں آتا تواضطرارا ان سے بعض کلمات بے معنی صادر ہوتے ہیں کوئی اوں اوں کہتاہے کوئی کچھ اور اس سے نماز باطل ہوجاتی ہے تو جس کی یہ عادت معلوم ہے وہ جب رکنے پرآئے مقتدیوں پرواجب ہے کہ فورا بتائیں قبل اس کے کہ وہ اپنی عادت کے حروف نکال کر نماز تباہ کرے
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۰
درمختار باب سجود السہو ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۰۳
#11065 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
وذلك لانہ اذن یکون صیانتہ عن البطلان وھی فریضۃ غیر ان وقوعہ مظنون للعادۃ لامقطوع بہ فینزل فیما یظھر الی الوجوب۔
وجہ یہ ہے کہ اس وقت اس کا بطلان سے بچانا ہے جوکہ فریضہ ہے لیکن عادت کی بنا پر اس کا وقوع صرف ظنی ہے قطعی نہیں ہے توموجودہ صورت میں یہ فرض سے مرتبہ وجوب پرآجائے گا۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
نص القاضی فی شرح الجامع الصغیر علی انہ الاصح وعﷲ ھو وغیرہ بانہ لولم یفتح ربما یجری لسانہ مایکون مفسدا ھ اقول : ولایرد علیہ مافی الحلیۃ انہ کما یکرہ للامام الجاء القوم الی الفتح علیہ یکرہ للمقتدی ان یفتح علیہ من ساعتہ قال فی الذخیرۃ لانہ ربما یتذکر الامام من ساعتہ فتکون قراء تہ خلفہ قراء ۃ من غیرحاجۃ ھ فان ھذا حیث لم یخش الفساد اما اذا خشی کما ذکرنا فحاجۃ وای حاجۃ۔
قاضی نے شرح جامع صغیرمیں اس کے اصح ہونے کی تصریح کی انہوں نے اور دیگرعلمانے علت یہ بیان کی ہے کہ اگر وہ لقمہ نہیں دیتا تو بعض اوقات امام کے زبان پر ایسے الفاظ جاری ہوجاتے ہیں جو نماز کے لئے مفسد ہوتے ہیں
اقول : (میں کہتاہوں ) یہاں وہ اعتراض واردنہیں ہوسکتا جو حلیہ میں ہے کہ جس طرح امام کا قوم کو لقمہ پرمجبورکرنا مکروہ ہے اسی طرح مقتدی کافی الفور امام کو لقمہ دینا بھی مکروہ ہے۔ ذخیرہ میں ہے اس لئے کہ بعض اوقات امام کو اسی وقت یاد پڑتاہے تو امام کے پیچھے مقتدی کی قرأت بغیر حاجت کے ہوگی۱ھ لیکن یہ وہاں ہے کہ جہاں فساد کاخوف نہ ہو اگروہاں فساد کاخوف ہو جیسا کہ ہم نے ذکرکیاہے تو اب لقمہ کی حاجت ہوگی اور وہ کوئی بھی ہوسکتی ہے۔ (ت)
اقول : اور ان دونوں صورتوں کے سوا جب تراویح میں ختم قرآن عظیم ہو تو ویسے بھی مقتدیوں کوبتانا چاہئے جبکہ امام سے نہ نکلے یا وہ آگے رواں ہوجائے اگرچہ اس غلطی سے نماز میں کچھ خرابی نہ ہو کہ مقصود ختم کتاب عزیز ہے اور وہ کسی غلطی کے ساتھ پورانہ ہوگا یہاں اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت نہ بتائے بعد سلام اطلاع کردے امام دوسری تراویح میں اتنے الفاظ کریمہ کاصحیح طورپر اعادہ کرلے مگر اولی بھی بتانا ہے کہ
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#11066 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
حتی الامکان نظم قرآن اپنی ترتیب کریم پرادا ہو۔ خانیہ و ہندیہ وغیرہ میں ہے :
اذ غلط فی القراء ۃ فی التراویح فترك سورۃ او ایۃ وقرأما بعدھا فالمستحب لہ ان یقرء المتروکۃ ثم المقروأۃ لیکون علی الترتیب ۔
جب تراویح میں قرأت میں غلطی ہوجائے سورت یا آیت چھوڑدی اور اس کے بعد والی پڑھ لی تومستحب یہ ہے کہ پہلے متروکہ پڑھے پھرتلاوت کردہ تاکہ ترتیب درست ہو جائے(ت)
اور ان تمام احکام میں جملہ مقتدی یکساں ہیں امام کو بتاناکسی خاص مقتدی کا حق نہیں ارشادات حدیث و فقہ سب مطلق ہیں ابن عساکرنے سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی :
قال امرنا النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان نرد علی الامام ۔
ہم کو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حکم دیا کہ امام پر اس کی غلطی رد کریں ۔
ابن منیع نے مسند اورحاکم نے مستدرك میں ابوعبدالرحمن سے روایت کی :
قال قال علی کرم اﷲ تعالی وجہہ من السنۃ ان تفتح علی الامام اذاستطعمك قیل لابی عبدالرحمن مااستطعام الامام قال اذا سکت ۔
فرمایا : امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا سنت ہے کہ جب امام تم سے لقمہ مانگے تو اسے لقمہ دو ابوعبدالرحمان سے کہاگیا امام کامانگنا کیا کہا جب وہ پڑھتے پڑھتے چپ ہوجائے۔
کتب مذہب میں عموما یجوز فتحہ علی امامہ فرمایا جس میں ضمیر مطلق مقتدی کی طرف ہے کہ اسے امام کو بتانے کی اجازت ہے مسئلہ کی دلیل جوعلماء نے فرمائی وہ بھی تمام مقتدی کو شامل ہے۔ بحرالرائق وغیرہ میں ہے :
لانہ تعلق بہ اصلاح صلاتہ لانہ لولم یفتح ربما یجری علی لسانہ مایکون مفسد اولاطلاق ماروی عن علی رضی اﷲ تعالی عنہ اذاستطعمکم الامام فاطعموہ
کیونکہ اس کے ساتھ اصلاح نماز کاتعلق ہے کیونکہ اگرلقمہ نہ دیا توبعض اوقات امام کی زبان پر ایسے کلمات جاری ہوجاتے ہیں جومفسدنماز ہیں اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کا اطلاق بھی
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ فصل فی التراویح مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۱۸
المستدرك علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۲۷۰
المستدرك علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲۷۰
#11067 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
واستطعامہ سکوتہ ولھذا لوفتح علی امامہ بعد ماانتقل الی ایۃ اخری لاتفسد صلاتہ وھو قول عامۃ المشایخ لاطلاق المرخص ھ مختصرا۔
یہی تقاضا کرتاہے جب امام تم سے لقمہ مانگے تواسے لقمہ دو امام کا قرأت سے سکوت کرنا لقمہ طلب کرنا ہے اوریہی وجہ ہے کہ اگرامام نے دوسری آیت کی طرف انتقال کرلیا پھر لقمہ دیاگیاتونماز فاسد نہ ہوگی اور یہی اکثرمشایخ کاقول ہے کیونکہ اجازت مرحمت فرمانے والی نصوص میں اطلاق ہے۱ھ اختصارا (ت)
حتی کہ بالغ مقتدیوں کی طرح تمیز داربچہ کابھی اس میں حق ہے کہ اپنی نماز کی اصلاح کی سب کو حاجت ہے قنیہ پھر بحرپھر ہندیہ میں ہے : وفتح المراھق کالبالغ (تمیزداربچے کالقمہ دینا بالغ کے لقمہ کے حکم میں ہے۔ ت) قوم کا کسی کو سامع مقرر کرنے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس کے غیر کو بتا نے کی اجازت نہیں اور اگر کوئی اپنے جاہلانہ خیال سے یہ قصد کرے بھی تو اس کی ممانعت سے وہ حق کہ شرع مطہر نے عام مقتدیوں کودیا کیونکر سلب ہوسکتاہے اور اس کے سبب کسی مسلمان پرتشدد یامسجد میں آنے سے ممانعت یامعاذاﷲ مسجد سے نکلوادینا سخت حرام ہے۔ ﷲ عزوجل فرماتاہے :
و لا تعتدوا-ان الله لا یحب المعتدین(۱۹۰)
زیادتی نہ کرو اﷲ دوست نہیں رکھتا زیادتی کرنے والوں کو۔
اور فرماتاہے :
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کوان میں نام خدا لینے سے روکے۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ رواہ الطبرانی فی المعجم الاوسط عن
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی بیشك اس نے اﷲ عزوجل کوایذادی۔ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں
حوالہ / References بحرالرائق باب مایفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۶
فتاوٰی ہندیہ باب فیما ما یفسدالصلوٰۃ ومایکرہ فیہا نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۹۹
القرآن ۲ / ۱۹۰
القرآن ۲ / ۱۱۴
الترغیب والترہیب من تخطی الرقاب یوم الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۰۴ ، مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط باب فیمن یتخطی رقاب الناس الخ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ / ۱۷۹
#11068 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔ (ت)
اور دوسرے کو منع کرنا اور خود مرتکب ہونا دوسرا الزام ہے اﷲ عزوجل فرماتاہے :
یایها الذین امنوا لم تقولون ما لا تفعلون(۲) كبر مقتا عند الله ان تقولوا ما لا تفعلون(۳)
اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو جوخود نہیں کرتے اﷲ کوسخت ناپسند ہے یہ کہ کہو اور نہ کرو۔
اس بیان سے جملہ مدارج سوال کاجواب منکشف ہوگیا بیشك محمود کو سب صورتوں میں عین نماز میں بتانے کا حق حاصل ہے کہیں وجوبا کہیں اختیارا جس کی تفصیل اوپرگزری اور بحال وجوب عینی خاموشی میں گناہ ہوگا خصوصا اس حالت میں کہ عمرو غلط بتائے کہ اب تو بہت جلد فورا فورا صحیح بتانے کی طرف مبادرت واجب ہے کہ بتانا تعلیم و کلام تھا اور بضرورت اصلاح نماز جائز رکھاگیا اور غلط بتانے میں نہ اصلاح نہ ضرورت۔ تواصل پررہنا چاہئے تو عمرونے اگر قصدا مغالطہ دیا جب تویقینا اس کی نماز جاتی رہی اور اگرامام اس کے مغالطے کولے گا عام ازیں کہ امام نے غلط پڑھا ہو یاصحیح تو ایك شخص خارج ازنماز کاامتثال یا اس سے تعلم ہوگا اور یہ خود مفسد نماز ہے توامام کی نماز جائے گی اور اس کے ساتھ سب کی باطل ہوگی لہذا اس فسادکاانسداد فورا واجب ہے بحرالرائق میں ہے :
القیاس فسادھا بہ وانما ترك للحاجۃ فعند عدمھا یبقی الامر علی اصل القیاس ھ مختصرا۔
قیاس کے مطابق نماز اس کے ساتھ فاسد ہوجائے گی البتہ حاجت کی بناپر قیاس متروك ہے جب حاجت نہیں تومعاملہ اصل قیاس کے مطابق ہی ہوگا۱ھ اختصارا(ت)
اور اگرسہوا غلط بتایا توبظاہر حکم کتاب وقضیہ دلیل مذکوراب بھی وہی ہے
اقول : مگرفقیر امیدکرتاہے کہ شرع مطہر ختم قرآن مجید فی التراویح میں اس باب میں تیسیر فرمائے کہ سامع کاخود غلطی کرنا بھی نادر نہیں اور غالبا قاری اسے لے لیتا یا اس کے امتثال کے لئے اوپر سے پھر عودکرتاہے تواگر ہرباربحال سہو فساد نماز کاحکم دیں اورقرآن مجید کااعادہ کرائیں حرج ہوگا والحرج مدفوع بالنص (دین میں تنگی کا مدفوع ہونا نص سے ثابت ہے۔ ت) بہرحال یہ حکم قابل غورومحتاج تحریر تام ہے تواندیشہ فساد سے تحفظ
حوالہ / References القرآن ۶۱ / ۳
بحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۷
#11069 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
کے لئے عمرو کے غلط بتانے کی حالت میں مطلقا دوسروں کوصحیح بتانے کی طرف فورا فورا مبادرت چاہئے ۔ واﷲ سبحنہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۶۹ : از میرٹھ لال کرتی بازار مرسلہ حاجی شیخ علاء الدین صاحب رئیس ۲۵ / ربیع الآخر شریف ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایك امام مسجد میں تراویح پڑھاتاہے اور ایك سامع حافظ بھی اس کی تصحیح کے واسطے مقرر ہے امام اس کی تصحیح سے فائدہ اٹھاتاہے اب کوئی حافظ بھی امام کو اپنے خیال کے موافق لقمہ دیتاہے جوکبھی غلط اور کبھی صحیح ثابت ہوتاہے اور ایسا بھی ہوتاہے کہ سامع اپنی یادداشت کے موافق اس دوسرے بتانے والے کی تردید بھی کرتاہے اور امام اس شش وپنج میں پڑجاتاہے کہ کس کاقول ماناجائے غرض کہ امام کوکئی شخصوں کے لقمہ دینے سے اور زیادہ شکوك پیداہوتے ہیں اور پریشان ہوکرمعمول سے زیادہ غلطی کرنے لگتاہے چنانچہ یہ بات بارہاتجربہ سے ثابت ہوچکی ہے علاوہ ازیں اکثرنوجوان ایسے ہوتے ہیں جومحض اپنی یادجتانے کے واسطے ذراذرا شبہے پرلقمہ دیتے ہیں اور قاری کوپریشان کرتے ہیں اور بعض اوقات امام اور نئے بتانے والے میں غلط بتانے پر جھگڑا بھی ہوتاہے اور قاری ملامت کرتاہے کہ کیوں غلط بتایا جس کے باعث نماز میں بے لطفی پیدا ہوتی ہے ان امور پر لحاظ فرماکر علمائے کرام اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اور حفاظ بعد سلام اپنے شکوك کااظہارفرمائیں اگرفی الواقع وہ غلطی نکلے گی اور اس کی وجہ سے نماز میں نقصان کچھ واقع ہوگا تونماز دہرالی جائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ فقط کراہت کی وجہ سے نماز دہرائی جائے ایسی صورتوں میں ان حفاظ کو باوجود اپنے شك کے کہ قاری غلط پڑھتاہے سکوت کرنے میں کچھ گناہ تولازم نہیں آتا خصوصا ایسی صورت میں کہ جب ان کو ایسے شبہات کے موقع پر جس سے نماز میں قطعا فسادپیداہوتاہو بولنے کی اجازت بھی دے دی جائے کیونکہ اگرحافظ عالم بھی ہو تو ایسے فساد معنی پراس کوکماحقہ آگاہی ہوجائے گی اور ایسے مواقع میں شبہۃ نہیں بلکہ یقینا اس کو معلوم ہوتاہے کہ یہ موقع فسادنماز کاہے بینواتوجروا
الجواب :
یہاں چندامور ہیں جن کے علم سے حکم واضح ہوجائے گا :
(۱) امام کوفورا بتانامکروہ ہے ردالمحتارمیں ہے : یکرہ ان یفتح من ساعتہ (فی الفور لقمہ دینا مکر وہ ہے۔ ت)
ہاں اگر وہ غلطی کرکے رواں ہوجائے تو اب نظر کریں اگر غلطی مفسد معنی ہے جس سے نماز فاسد ہوتو بتانا لازم ہے اگرسامع کے خیال میں نہ آئی ہرمسلمان کاحق ہے کہ بتائے کہ اس کے باقی رہنے میں نماز کافساد ہے اور دفع فسادلازم اور اگرمفسدمعنی نہیں توبتاناکچھ
حوالہ / References ردالمحتار مطلب المواضع التی لایجب فیہا ردالسلام مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۲۳
#11070 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
ضرورنہیں بلکہ نہ بتاناضرور ہے جبکہ اس کے سبب امام کو وحشت پیدا ہو فان الامر بالمعروف یسقط بالایحاش کما فی الفتاوی العلمگیریۃ وغیرھا (وحشت پیدا کرنے والا امربالمعروف ساقط ہوجاتاہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری وغیرہ میں ہے۔ ت) بلکہ بعض قاریوں کی عادت ہوتی ہے کہ غیرشخص کے بتانے سے اور زیادہ الجھ جاتے اور کچھ حروف اس گھبراہٹ میں ان سے ایسے صادر ہوجاتے ہیں جس سے نماز فاسد ہوتی ہے اس صورت میں اوروں کاسکوت لازم ہے کہ ان کا بولنا باعث فساد نماز ہوگا۔
(۲) قاری کوپریشان کرنے کی نیت حرام ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
بشرواولاتنفروا ویسروا ولاتعسروا ۔
لوگوں کو خوشخبریاں سناؤ نفرت نہ دلاؤ آسانی پیداکرو تنگی نہ کرو۔ (ت)
اور بیشك آج کل بہت حفاظ کایہ شیوہ ہے یہ بتانا نہیں بلکہ حقیقۃ یہود کے اس فعل میں داخل ہے
لا تسمعوا لهذا القران و الغوا فیه
(اس قرآن کونہ سنو اس میں شور ڈالو۔ ت)
(۳) اپنا حفظ جتانے کے لئے ذراذرا شبہ پرروکنا ریاء ہے اور ریاء حرام ہے خصوصا نمازمیں ۔
(۴) جبکہ غلطی مفسد نماز نہ ہو تومحض شبہ پر بتاناہرگزجائزنہیں بلکہ صبر واجب بعد سلام تحقیق کرلیاجائے اگرقاری کی یادصحیح نکلے فبہا اور ان کی یادٹھیك ثابت ہوئی توتکمیل ختم کے لئے حافظ اتنے الفاظ کااور کسی رکعت میں اعادہ کرلے گا حرمت کی وجہ ظاہر ہے کہ فتح حقیقۃ کلام ہے اور نماز میں کلام حرام ومفسدنماز مگر بضرورت اجازت ہوئی جب اسے غلطی ہونے پرخودیقین نہیں تو مبیح میں شك واقع ہوا اور محرم موجود ہے لہذا حرام ہو ا جب اسے شبہ ہے توممکن کہ اسی کی غلطی ہو اور غلط بتانے سے اس کی نمازجاتی رہے گی اور امام اخذ کرے گا تو اس کی اور سب کی نمازفاسد ہوگی۔ توایسے امرپراقدام جائزنہیں ہوسکتا۔
(۵) غلطی کامفسدمعنی ہونامبنائے افسادنماز ہے ایسی چیز نہیں جسے سہل جان لیاجائے ہندوستان میں جو علماء گنے جاتے ہیں ان میں چند ہی ایسے ہوسکیں کہ نماز پڑھتے میں اس پرمطلع ہوجائیں ہزارجگہ ہوگا کہ وہ افساد گمان کریں گے اور حقیقۃ فساد نہ ہوگا جیسا کہ ہمارے فتاوی کی مراجعت سے ظاہرہوتاہے۔ ان امور سے حکم مسئلہ واضح ہوگیا صورت فساد میں یقینا بتایاجائے ورنہ تشویش قاری ہو تونہ بتائیں اور خود شبہ ہو تو بتانا سخت ناجائز اور جو ریاء وتشویش چاہیں ان کو روکاجائے نہ مانیں تو ان کومسجد میں نہ آنے دیاجائے کہ موذی ہیں اور موذی کادفع واجب۔
حوالہ / References صحیح البخاری باب ماکان علی النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یتخولہم بالموعظۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
القرآن ۴۱ / ۲۶
#11071 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
درمختارمیں ہے : ویمنع کل موذ ولوبلسنانہ (ہر ایذادینے والے کومسجد سے منع کیاجائے گا اگرچہ وہ زبان سے ایزادے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۷۰ : لإ ازجلال پور ڈاك خانہ خداگنج ضلع شاہجہاں پور مرسلہ سید مشتاق علی صاحب ۱۶جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
ذات فیض سمات قبلہ ارباب علم وکعبہ اصحاب حلم کی ہمیشہ فدویوں کے سروں پرسایہ انداز رہے بعد سلام نیاز وشوق قدم بوسی کے عرض پرداز ہوں کہ ایك مسئلہ میں ضرورت جناب کے حکم کی بموجب شرع شریف وحدیث نبوی کے ہے کہ اس میں ہم لوگوں کوکیاکرناچاہئے ذیل کے سوال کا جواب بواپسی ڈاک ہم لوگوں کو مکروہیت اور گناہ سے بچائیے وہ یہ ہے کہ ایك صاحب نے نمازجمعہ پڑھاتے وقت مقتدی کالقمہ درمیان قرأت کے لیا اور پھر سجدہ سہو کیا تو اس حالت میں نماز ہوئی یانہیں وجہ شك کے پیدا ہونے کی یہ ہوئی ہے کہ ایك دوسرے صاحب بمقام لکھنؤمیں نمازجمعہ پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے جو کہ کسی اسلامیہ اسکول کے غالبا منتہی طالب علم تھے اتفاق سے قرأت میں بھول گئے لہذا میں نے فورا لقمہ دیا معا انہوں نے نماز سلام کے ساتھ ترك کرکے دوبارہ نمازپڑھائی اور یہ کہا کہ فرضوں میں لقمہ دینا ناجائزہے فرضوں میں لقمہ دینے سے سجدہ سہو کیاجائے توبھی نماز نہیں ہوتی ہے میری غلطی یہ ہوئی کہ میں نے ان صاحب سے بالتشریح نہ دریافت کیا کہ اس کا کیاثبوت۔ علاوہ اس کے ان صاحب نے یہ بھی کہا کہ بجزتراویح کے دوسری نماز فرض یا واجب کسی میں لقمہ دینابھی جائزنہیں لہذا اس کی بابت بواپسی جواب جلدسرفرازفرمائیے۔
الجواب :
امام جب نماز یا قرأت میں غلطی کرے تو اسے بتانا لقمہ دینا مطلقا جائزہے خواہ نماز فرض ہو یا واجب یاتراویح یانفل اور اس میں سجدہ سہو کی بھی کچھ حاجت نہیں ہاں اگربھولا اور تین بار سبحن اﷲ کہنے کی دیر چپکاکھڑا رہا توسجدہ سہو آئے گا جس نے لقمہ دینے کے سبب نیت توڑدی اس نے محض جہالت برتی اور مبتلائے حرام ہوا کہ بے سبب نیت توڑدینا حرام ہے ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۷۱ : ازبنگلور ڈاکخانہ گجادھر گنج لائن مین اسٹیشن بکسر مسؤلہ حاجی عبداﷲخاں ۲۳ / محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کی نماز امام پڑھاتا ہو اور درمیان میں رك گیا لقمہ
حوالہ / References الدرالمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
#11072 · باب مفسدات الصّلٰوۃ (مفسداتِ نماز کابیان)
دیناچاہئے یانہیں اور اگرلقمہ دیاگیا تو سجدہ سہو جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
امام کو لقمہ دینا ہرنماز میں جائز ہے جمعہ ہو یا کوئی نماز بلکہ اگر اس نے ایسی غلطی کی جس سے نماز فاسد ہوگی تولقمہ دینافرض ہے نہ دے گا اور اس کی تصحیح نہ ہوگی تو سب کی نماز جاتی رہے گی اور لقمہ دینے سے سجدہ سہو نہیں آتا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
#11073 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
مسئلہ ۹۷۲ : ازکلکتہ فوجداری بالاخانہ دکان ۳۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۲۸ / ذیقعد ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کا دوستونوں کے بیچ میں اور مقتدیوں سے تین گرہ اونچی جگہ پرکھڑاہونا کیساہے بینواتوجروا
الجواب :
امام کا دوستونوں کے بیچ میں کھڑا ہونامکروہ ہے۔ ردالمحتارمیں ہے :
فی معراج الدرایۃ من باب الامامۃ الاصح ماروی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین اوزاویۃ او ناحیۃ المسجد اوالی ساریۃ لانہ بخلاف عمل الامۃ ۔
معراج الدرایۃ کے باب الامامت میں ہے کہ اصح روایت کے مطابق امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے یہی منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : میں امام کادوستونوں کے درمیان یازاویہ یامسجد کی ایك جانب یا ستون کی طرف کھڑاہونا مکروہ جانتاہوں کیونکہ یہ امت محمدیہ کے عمل کے خلاف ہے۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب مکروہات الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
#11074 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
اسی طرح امام کاتمام مقتدیوں سے بلندجگہ میں ہونا بھی مکروہ۔ سنن ابی داؤدمیں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
اذا ام الرجل القوم فلایقم فی مکان ارفع من مقامھم اونحوذلک ۔
یعنی جب کوئی شخص نمازیوں کی امامت کرے تو ان کے مقام سے اونچی جگہ میں نہ کھڑاہو۔
ابوداؤد وابن حبان وحاکم حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
وھذا لفظ الحاکم فی مستدرکہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نھی ان یقوم الامام فوق و یبقی الناس خلفہ ۔
حاکم کی مستدرك میں یہ الفاظ ہیں کہ حضور پرنورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے منع فرمایا کہ امام اونچا کھڑاہو اور مقتدی نیچے رہیں
پھر ہمارے ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہم نے ظاہرالروایہ میں اس کراہت بلندی وپستی کو کسی مقدار معین مثلا ایك ذراع شرعی وغیرہ پرموقوف نہ مانا بلکہ جس قدرسے امام وقوم کامقام میں امتیاز واقع ہو مطلقا باعث کراہت جانا اور اسی کوامام مالك العلماء ابوبکرمسعودکاشانی قدس سرہ الربانی نے بدائع میں صحیح اور امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام صاحب فتح القدیر وغیرہ محققین نے اوجہ وارجح فرمایا اوریہی اطلاق احادیث کا مفاد تو اسی پرفتوی اور اسی پر اعتماد ولہذا منیہ و نقایہ و جامع الرموز وغیرہا میں حکم کراہت کو مطلق رکھا درمختارمیں ہے :
کرہ انفراد الامام علی الدکان للنھی و قدر الارتفاع بذراع ولاباس بما دونہ وقیل مایقع بہ الامتیاز وھو الاوجہ ذکرہ الکمال وغیرہ ۔
امام کااونچی جگہ تنہا کھڑاہونا مکروہ ہے کیونکہ اس پرنہی وارد ہے اور اونچائی کی مقدار ایك ذراع ہے اس سے کم ہو تو کوئی حرج نہیں بعض کی رائے میں اتنی اونچائی مکروہ ہے جس سے امتیاز پیداہو یہی مختار ہے کمال وغیرہ نے اسے ذکرکیا۔ (ت)
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب الامام یقوم مکانا ارفع من مکان القوم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۸
المستدرك علی الصحیحین نہی النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ان یقوم الامام الخ مطبوعہ المطبوعات الاسلامیہ یروت ۱ / ۲۱۰
درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۲
#11075 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ وقیل الخ ھو ظاھرالروایۃ کما فی البدائع قال فی البحر والحاصل ان التصحیح قد اختلف والاولی العمل بظاھر الروایۃ واطلاق الحدیث ھ و کذا رجحہ فی الحلیۃ۔ قولہ وقیل
الخ یہی ظاہر روایت ہے جیسا کہ بدائع میں ہے بحرمیں کہاہے الغرض تصحیح میں اختلاف ہے لیکن ظاھر روایت اور اطلاق حدیث پرعمل بہترہے ۱ھ حلیہ میں اسی کو ترجیح ہے۔
امام ملك العلماء ابوبکربدائع میں فرماتے ہیں :
الصحیح جواب ظاھر الروایۃ لماروی ان حذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالی عنھما قام بالمدائن یصلی بالناس علی دکان فجذبہ سلمان الفارسی رضی اﷲ تعالی عنہ ثم قال ما الذی اصابك اطال العھد ان نسیت اما سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول لایقوم الامام علی مکان انشر مما علیہ اصحابہ وفی روایۃ اماعلمت ان اصحابك یکرھون ذلك فقال تذکرت حین جذبتنی ۔
ظاہرالروایہ کاجواب صحیح ہے کیونکہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہم ا کے بارے میں مروی ہے کہ وہ مدائن میں نمازپڑھانے کے لئے اونچی جگہ کھڑے ہوتے تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں نیچے کھینچا اور فرمایا کیاہوگیا کیاوقت زیادہ گزرگیا ہے یاآپ بھول گئے کیا آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ امام ایسی جگہ کھڑانہ ہو جہاں وہ اپنے ساتھیوں سے جداہوجائے۔ دوسری روایت کے الفاظ میں ہے کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ تمہارے ساتھی اس بات کو پسند نہیں کرے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا مجھے اس وقت یہ بات یاد آگئی جب تم نے مجھے کھینچا۔ (ت)
منیہ میں ہے :
یکرہ ان یقوم ینفرد فی مکان اعلی یہ مکروہ ہے کہ امام اکیلا ایسی جگہ کھڑا ہو کہ قوم
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
بدائع الصنائع فصل وامابیان مایستحب فیہا ومایکرہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۶
#11076 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
من مکان القوم اذا لم یکن بعض القوم معہ ۔
سے بلند ہوجبکہ اس کے ساتھ کچھ لوگ بھی نہ ہوں ۔ (ت)
نقایہ کے مکروہات الصلاۃ میں ہے : وتخصیص الامام بمکان (امام کا جگہ مخصوص کرنا۔ ت)شرح علامہ شمس الدین محمدمیں ہے :
(تخصیص الامام) ای انفرادہ (بمکان) امابان یکون مقامہ اعلی اواسفل من مکان القوم الخ ویأتی تمامہ۔
(تخصیص امام سے مراد) اس کا الگ ہونا ہے (بمکان) یاتو اس کامقام قوم سے اوپر ہوگا یانیچے ہوگا الخ اس کی تفصیل آرہی ہے(ت)
ہمارے مذہب کے قواعد مقررہ سے ہے کہ عند اختلاف الفتیا (جب فتوی میں اختلاف ہو۔ ت) ظاہرالروایۃ پرعمل واجب ہے بحرالرائق میں ہے :
اذا اختلف التصحیح وجب الفحص عن ظاھر الروایۃ والرجوع الیھا ۔
جب تصحیح اقوال میں اختلاف ہو توظاہرالروایۃ کی تلاش اور اس کی طرف رجوع واجب ہوتاہے (ت)
اور علماء فرماتے ہیں جب روایت ودرایت متطابق ہوں توعدول کی گنجائش نہیں ۔ علامہ حلبی نے غنیہ میں فرمایا :
لایعدل عن الدرایۃ ماواقفتھا روایۃ ۔
اس درایت سے اعراض نہیں کیاجائے گا جو روایت کے موافق ہو۔ (ت)
یہاں جبکہ یہی ظاہرالروایۃ اور اسی کے مطابق دلیل وروایت تولاجرم قول یہی ہے کہ ادنی مابہ الامتیاز (جس سے کم ازکم امتیاز پیداہوجائے۔ ت) بلندی بھی مکروہ ہے ہاں ایسا قلیل تفاوت جس سے امتیاز ظاہرنہ ہو عفو ہے فان فی اعتبارہ حرجاوالحرج مدفوع بالنص (کیونکہ اس کے اعتبار کرنے میں حرج وتنگی ہے اور تنگی نصوص کی وجہ سے مدفوع ہے۔ ت) یونہی اگرپہلی صف امام کے سات ہوباقی صفیں نیچی توبھی مذہب اصح میں کچھ حرج نہیں
حوالہ / References منیۃ المصلی بحث یکرہ ان یصلی علی بساط فیہ تصاویر مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۳۶۶
جامع الرموز فصل مایفسد الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۹۴
بحرالرائق ، باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۶
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی واجبات الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۹۵
#11518 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
کماقدمنا عن المنیۃ وغیرھا وقال فی الدر المختار لم یکرہ لوکان معہ بعض القوم فی الاصح ھ۔ اقول : وربما یشیرالیہ مافی حدیث الحاکم ویبقی الناس خلفہ فافھم۔
جیسا کہ ہم نے منیہ وغیرہ کے حوالے سے ذکرکیاہے اور درمختارمیں فرمایا ہے کہ اصح قول کے مطابق اگرامام کے ساتھ کچھ لوگ ہوں توکراہت نہ ہوگی۱ھ اقول : اس کی طرف حدیث حاکم کے یہ الفاظ اشارہ کرتے ہیں “ اور لوگ اس کے پیچھے ہوں “ اس کوسمجھ ۔ (ت)
اورشك نہیں کہ تین گرہ بلندی قطعا ممتاز وباعث امتیاز ہے کہ ہرشخص بنگاہ اولیں فورا تفاوت بین جان لے گا تومذہب معتمد پر اس کی کراہت میں شبہہ نہیں بلکہ علما تصریح فرماتے ہیں کہ امام کے لئے تخصیص مکانی کراہت میں یہ صورت بھی داخل کہ مثلا وہ مکان مسقف میں ہو اور مقتدی صحن میں شرح نقایہ میں بعد عبارت مذکورہ ہے :
وامابان یکون فی صفۃ وھم فی وسط الدار مثلا کما فی الجوھر وامابان یقوموا فی المسجد والامام فی طاق یتخذ فی المحراب ۔
امام چھت میں ہو اور لوگ صحن کے درمیان جیسا کہ جواہرمیں ہے یالوگ مسجد میں ہوں اور امام طاق میں ہوجومحراب میں بنایاگیاہو۔ (ت)
یہاں تك کہ امام مقتدیوں سے تقدیم کوفرماتے ہیں یہ بھی تخصیص مکانی ہے اگرشریعت مطہرہ میں اس کاحکم نہ آتا مکروہ ہوتا علامہ برجندی نے شرح نقایہ میں فرمایا :
یدخل فی تخصیص الامام بمکان قیامہ فی الطاق ای المحراب بحیث یکون قدماہ فیہ والتقدم علی القوم وان کان تخصیصالہ بمکان لکنہ مستثنی شرعا ۔
امام کے لئے تخصیص مکان میں یہ صورت بھی شامل ہے جب وہ طاق یعنی محراب میں اس طرح کھڑا ہو کہ اس کے قدم محراب کے اندرہوں امام کاقوم سے مقدم ہونابھی اگرچہ تخصیص مکان میں شامل ہے مگر اس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔ (ت)
جب ایسے فرق کوبھی تخصیص مکانی ٹھہراتے ہیں حالانکہ مکان واحد اور زمین ہموار ہے جس میں فی نفسہ اصلا
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۲
جامع الرموز فصل مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۹۴
البرجندی شرح مختصر الوقایۃ فصل مایکرہ فی الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ مطبع منشی نولکشور لکھنؤ ، بھارت ۱ / ۱۳۰
#11519 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
کوئی فرق وامتیازنہیں تو مثلا کرسی مکان یا چبوترہ کی بلندی اگرچہ دوتین ہی گرہ ہو بدرجہ اولی تخصیص مکانی باعث کراہت ہوگی کہ یہاں نفس مکان میں تفرقہ وتفاوت موجود اور دالان وصحن کے فرق میں توسرے سے درجہ ہی بدل گیا تویہ سب صورتیں ارشاد امام علام صدرالشریعۃ قدس سرہ وتخصیص الامام بمکان (امام کاجگہ مخصوص کرنا۔ ت) میں داخل ہیں جزاہ اﷲ خیر جزاء (کیادولفظوں میں تمام صور کااحاطہ فرمالیا اور بہت نزاعوں کاتصفیہ کردیا فالحمد ﷲ رب العلمین پس ثابت ہوا کہ جہاں دالان مسجد کی کرسی صحن مسجد سے بلندی ممتاز رکھتی ہو جیسا کہ اکثرمساجد میں ہے وہاں امام کا دوستونوں کے درمیان کھڑاہونا جیسا کہ عوام ہند میں مشاہد ہے نہ صرف ایك کراہت بلکہ تین کراہتوں کاجامع ہوگا :
اولا : یہی بین الساریتین قیام امام
ثانیا : مقتدیوں پربلندی ممتاز
ثالثا : اس کا زیرسقف اور مقتدیوں کاصحن پرہونا۔
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالی ولی التوفیق وھو سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہی تحقیق مناسب ہے اور اﷲ تعالی توفیق کامالك ہے وہ پاك وبلند زیادہ جاننے والا اور اس کا علم اجل واعلی ہے۔ (ت)
مسئلہ ۹۷۳ تا ۹۷۴ : ازشہرکہنہ بریلی مسؤلہ محمدظہورمحمدصاحب ۱۲ شوال ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) بعض شخص نماز میں رکوع کے بعد سجدہ کوجاتے وقت دونوں ہاتھوں سے دونوں پائچوں کوگھٹنوں سے اوپرکوچھڑالیا کرتے ہیں یعنی ہرکعت میں ایساہی کرتے ہیں اس کی نسبت کیاحکم ہے
(۲) ہاتھوں کی کہنی کھول کو آستین اوپرکوچھڑھاکر نمازپڑھنے میں کس قدرنقصان ہے کس درجہ کی وہ نماز ہوگی زید کاخیال ہے وہ نماز مکروہ ہوئی مگر عمروکاخیال ہے کہ مکروہ نہیں ہوئی اور عمرو کاسوال ہے کہ اگرمکروہ ہوئی توصحت کے ساتھ بتلادیاجائے۔
الجواب :
(۱) مکروہ ہے۔
(۲) نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی اگرنہ پھیرے گا توگنہگار رہے گا درمختار حلیہ وغیرہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
#11520 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
مسئلہ ۹۷۵ تا ۹۷۶ : ازبریلی مدرسہ منظرالاسلام مسؤلہ احسان علی مظفرپوری طالب علم بتاریخ ۱۳ شوال ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) نماز کے اندر اگرٹوپی گرجائے تو اٹھاناچاہئے یانہیں
(۲) امام قراء ت یارکوع کوکسی مقتدی کے واسطے درازکرسکتاہے یانہیں جبکہ مقتدی وضوکررہاہو یامسجد میں آگیاہو اور یہ امام کومعلوم ہوگیا کہ کوئی شخص ہے کہ عنقریب شریك ہوناچاہتاہے بایں صورت رکوع میں کچھ دیر کردے توجائز یانہیں
الجواب :
(۱) اٹھالیناافضل ہے جبکہ باربارنہ گرے اور اگرتذلل وانکسار کی نیت سے سربرہنہ رہناچاہے تونہ اٹھانا افضل۔ درمختارمیں ہے :
سقط قلنسوتہ فاعادتھا افضل الا اذا احتاجت لتکویر او عمل کثیر
نمازی کی ٹوپی گرجائے تو اس کا اٹھانا افضل ہے مگر اس صورت میں کہ باندھنے کی حاجت ہو یاعمل کثیرلازم آرہاہو۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
الظاھر ان افضلیۃ اعادتھا حیث لم یقصد بترکھا التذلیل ۔
ظاہریہی ہے کہ اس کا اٹھانا تب افضل ہے جب اس کے ترك میں تذلل کاارادہ نہ ہو۔ (ت)
(۲) اگر کسی خاص شخص کی خاطر اپنے کسی علاقہ خاصہ یاخوشامد کے لئے منظور تو ایك بار تسبیح کی قدر بھی بڑھانے کی ہرگزاجازت نہیں بلکہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یخشی علیہ امرعظیم یعنی اس پرشرك کا اندیشہ ہے کہ نماز میں اتنا عمل اس نے غیرخدا کے لئے کیا اور اگرخاطر خوشامد منظورنہیں بلکہ عمل حسن پر مسلمان کی اعانت( اور یہ اس صورت میں واضح ہے کہ یہ اس آنے والے کو نہ پہچانے یاپہچانے اور اس کا کوئی تعلق خاص اس سے نہ ہو نہ کوئی غرض اس سے اٹکی ہو) تورکوع میں دوایك تسبیح کی قدربڑھادینا جائز بلکہ اگرحالت یہ ہے کہ یہ ابھی سراٹھائے لیتاہے تووہ رکوع میں شامل ہونے نہ ہونے میں شك میں پڑجائے گا تو بڑھادینا مطلوب اور جوابھی نمازمیں نہ ملے گا مسجد میں آیا ہے وضو وغیرہ کرے گا یاوضوکرتا رہے اس کے لئے
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۱
ردالمحتار باب مکروہات الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۴
#11521 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
قدرمسنون پرنہ بڑھائے بلکہ اگر بڑھائے موجب ثقل حاضرین نماز ہوگا توسخت ممنوع وناجائز المسألۃ دوارۃ فی الکتب وبسطھا الشامی من صفۃ الصلوۃ وماقلتہ عطر التحقیق (یہ مسئلہ کتب فقہ میں تحریر ہے شامی نے اسے صفت صلوۃ میں تفصیلا بیان کیا اور جوکچھ میں نے بیان کریاہے یہ تحقیق کاعطرونچوڑ ہے۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۷۷ : یکم ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے منع کرنے پر کہ آستین چڑھے ہوئے سے نمازنہ پڑھاکرو آستین اتارلیاکرو جواب دیا کہ کس کاقول ہے کس حدیث میں ہے اور اس کا راوی کون ہے
الجواب :
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاارشاد ہے صحیحین کی حدیث ہے عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا راوی ہیں اور جاہل کو ایسے سوالات نازیبا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۷۸ : ازبریلی محلہ ذخیرہ مسؤلہ مسعود حسین ۲۹صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر دھوبی کپڑابدل کرلائے تو اس کو پہن کرعورتوں کونماز پڑھنا جائز ہے یانہیں اور جوڑا باندھ کرنمازپڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب :
بدلاہواکپڑا پہننا مردوعورت سب کو حرام ہے اور اس سے نمازمکروہ تحریمی جوڑا باندھنے کی کراہت مرد کے لئے ضرور ہے حدیث میں صاف نھی الرجل ہے عورت کے بال عورت ہیں پریشان ہوں گے توانکشاف کاخوف ہے اور چوٹی کھولنے کااسے غسل میں بھی حکم نہ ہوا کہ نماز میں کف شعر گندھی چوٹی میں ہے جب اس میں حرج نہیں جوڑے میں کیا حرج ہے مرد کے لئے ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ سجدے میں وہ بھی زمین پر گریں اور اس کے ساتھ سجدہ کریں کما فی المرقاۃ وغیرہ (جیسا کہ مرقات وغیرہ میں ہے۔ ت) اور عورت ہرگز اس کے مامور نہیں لاجرم امام زین الدین عراقی نے فرمایا : ھو مختص بالرجال دون النساء (یہ مردوں کے ساتھ مخصوص ہے نہ کہ عورتوں کے لئے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث۵۱۳ مروی عن ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲۳ / ۲۵۲ ، مسند احمد بن حنبل حدیث ابی رافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبو عہ دارالفکر بیروت ۶ / ۸
ف : حدیث کے الفاظ یوں ہیں : نھی النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ان یصلی الرجل ورأسہ معقوصٌ۔ نذیراحمد
#11522 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
مسئلہ ۹۷۹ : از موضع مانیاوالہ ڈاکخانہ قاسم پورگڈھی ضلع بجنور پرگنہ افضل گڑھ مرسلہ سید کفایت علی ولد حمایت علی ۳ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
حضورکی مسجدمیں ایك مرتبہ نماز عشاء کی پڑھ رہاتھا سرپرچادراوڑھے ہوئے تھا اور چادربدن پرقائم رہی مگر سرپراترکرکندھے پرگرگئی تھی میں نے یہ مسئلہ سنا بھی نہیں تھا آپ کے خلیفہ مولوی امجدعلی صاحب نے یہ فرمایا اگرچادر رکوع میں یاکھڑے ہونے سے گرجائے توہاتھ سے اشارہ کرکے سرپررکھ لینی چاہئے اگرنہیں رکھے گا تو نماز مکروہ ہوگی اور بھیتر چادراوڑھنے کے ٹوپی کے دوپٹہ بندھا ہواتھا جیسا کہ انہوں نے بتایا تھا ویساخاکسار عمل میں لایاتھا مگرغریب خانہ آکرجونمازیوں کودیکھا تو وہ چادر یارضائی سرکے اوپر سے نہیں اوڑھتے بلکہ کاندھے پر اوڑھتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ چادر نماز پڑھتے میں سرپرسے اوڑھنی چاہئے اگرسرپر گرجائے توہاتھ سے سر پررکھ لینی چاہئے انہوں نے کہا نماز پڑھتے میں چادر سرپر رکھے گا نماز نہیں ہوگی اب اس مسئلہ کاخواستگارہوں تحریرکیجئے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
ابونعیم نے عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاینظر اﷲ الی قوم لایجعلون عمائمھم تحت ردائھم یعنی فی الصلوۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اﷲتعالی اس قوم کی طرف نظررحمت نہیں فرماتا جونماز میں اپنے عمامے اپنی چادروں کے نیچے نہیں کرتے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۹۸۰ : از سرولی کلاں ڈاکخانہ کچھا ضلع نینی تال مرسلہ محمد حسین خورد ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرسرپررومال باندھ کرنماز پڑھی جائے تو ہوسکتی ہے یا نہیں اور بغیر ٹوپی کے رومال بندھاجائے تونماز ہوسکتی ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب : رومال اگربڑا ہو کہ اتنے پیچ آسکیں جوسرکوچھپالیں تووہ عمامہ ہی ہوگیا اور چھوٹا رومال جس سے صرف دوایك پیچ آسکیں لپیٹنا مکروہ ہے اور بغیر ٹوپی کے عمامہ بھی نہ چاہئے نہ کہ رومال حدیث میں ہے :
حوالہ / References الفردوس بمأثور الخطاب حدیث۷۷۷۳ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ / ۱۴۶
#11523 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
فرق مابیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس ۔
ہم میں اور مشرکوں میں ایك فرق یہ ہے کہ ہمارے عمامے ٹوپیوں پرہوتے ہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۸۱ : ازشہرممباسہ ضلع شرقی افریقہ دکان حاجی قاسم اینڈسنز مسؤلہ حاجی عبداﷲ حاجی یعقوب ۲۶ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کو جاگتے میں کچھ غفلت ہوئی یانماز پڑھتے میں کچھ شیطانی خیال آیا اور آنکھوں کے سامنے عورت کی فرج کودیکھا اور اپناذکرسامنے کیا لیکن دخول نہ کیا ایك منٹ کے بعد اس خیال کو دور کیا اور نماز تمام کی اب اس نے نہ دخول کیا اور نہ ذکرکھڑا ہواتھا اور نہ منی یامذی نکلی ہے ایك ذرا سا یہ خیال اس کو تھا لیکن پیشاب اس کو لگا ہے غسل کرنا ہوگایانہیں اور اس کی نماز کیسی ہوئی اس کا خیال ہے کہ مجھ پرغسل نہیں اور نمازیں پڑھتاہے قرآن مجید پڑھتاہے اب نمازیں پڑھنا یاقرآن مجید اور درودشریف پڑھنا سب کیساہے بینواتوجروا
الجواب :
جب نہ اس نے دخول کیا نہ منی نکلی توغسل واجب نہ ہوا قرآن مجید کی تلاوت کرسکتاہے اور سوائے قرآن مجید اور اذکارمثل کلمہ طیبہ وتسبیح وتہلیل ودرودشریف وغیرہا توحالت جنابت میں بھی پڑھ سکتاہے اور جبکہ صورت مذکورہ میں مذی بھی نہ نکلی تونماز بھی ہوگئی بشرطیکہ اس کابرہنہ عضو عورت کی برہنہ شرمگاہ سے ملانہ ہو ورنہ وضوجاتارہا اور نماز نہ ہوئی باقی نماز میں ایساخیال بہت بد ہے اگرچہ فرض اداہوجائے گا نمازسخت مکروہ ہوگی اور اگربرہنگی ایسی ہو جس سے دوسرے کی نظر سے حجاب نہ ہو تو اسی قدر سے نمازجاتی رہے گی جبکہ چہارم عضو کی قدر برہنہ کرے اگرچہ وضو نہ جائے گا جبکہ برہنہ شرمگاہ زن سے ملنا نہ ہو یہ سب اسی صورت میں ہے کہ واقعی کوئی عورت موجود ہو ورنہ مجردخیال سے نہ وضوجائے گا جب تك مذی نہ نکلے نہ غسل واجب ہوگا جب تك منی نہ نکلے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۸۲ : ازجمشید پور ڈاکخانہ خاص ضلع سنگھ بھوم آفس کارکیسے مسؤلہ حمیداﷲ ۹ شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ پتلون پہن کرنماز درست ہے یانہیں جبکہ اس میں نشست وبرخاست
حوالہ / References سنن ابواداؤد باب فی العمائم مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۰۸
#11524 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
پوری طور سے ہوتاہے بینوا توجروا
الجواب :
پتلون پہننا مکروہ ہے اور مکروہ کپڑے سے نمازبھی مکروہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۸۳ : گلوبند یاپگڑی یارومال سے پیشانی چھپی ہے توسجدہ درست ہوگایانہیں
الجواب :
سجدہ درست ہے اور نماز مکروہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۸۴ : مرزا اصغرعلی خاں بانس منڈی بریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اکثرجماعت میں امام مسجد کے درمیں اور مقتدی باہرکھڑے ہوکرنمازپڑھتے ہیں اس میں کیاحکم ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
امام کادرمیں کھڑاہونا مکروہ ہے کما فی رد المحتار عن معراج الدرایۃ عن سیدنا الامام رضی اﷲ تعالی عنہ (ردالمحتار میں معراج الدرایہ کے حوالے سے سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۹۸۵ : جرابیں پہن کرپاؤں میں نماز پڑھنادرست ہے یانہیں زید کہتاہے کہ جبکہ ان کے پہننے سے ٹخنے بند ہوگئے تونماز مکروہ ہوگی۔ بینوا توجروا
الجواب :
زیدکاقول غلط ہے موزے پہن کرنمازپڑھنا بہترہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۸۶ : ازسرکار پاك پٹن شریف ضلع منٹگمری درگاہ اقدس مرسلہ امام علی شاہ صاحب ۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۱ھ
حق حق حق جناب مولنا! السلام علیکم مکلف ہوں کہ اس مسئلہ میں آپ کیافرماتے ہیں کہ کسی بزرگ کے آستانہ پاك میں اسی بزرگ صاحب مزار کے روضہ منورہ کے دروازے کوبند کرکے روضہ کے آگے ہی اگرنماز پڑھ لی جائے توشرعا جائز ہے یانہیں یہ مسئلہ اخبار دبدبہ سکندری میں لکھ دیاجائے تاکہ سب لوگ دیکھ لیں ۔ زیادہ نیازالمکلف فقیر محمد امام علی شاہ اولاد باباصاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ ازدرگاہ حضرت جناب
حوالہ / References ردالمحتار باب مکروہات الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
#11525 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
بابا صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ گنج شکر قطب عالم اغیاث ہند پاك پٹن شریف ضلع منٹگمری
الجواب :
جناب شاہ صاحب وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ صورت مذکورہ میں نمازجائز اور بلاکراہت جائز اور قرب مزار محبوباں کردگار کے باعث زیادہ مثمر برکات وانوار و مورد رحمت جلیلہ غفار۔ خلاصہ و ذخیرہ و محیط و ہندیہ وغیرہا میں ہے :
واللفظ لھذین قال محمد اکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الی المخرج والحمام والقبر (الی قولہ اعنی المحیط) ھذا کلہ اذا لم یکن بین المصلی وبین ھذہ المواضع حائط اوسترۃ امااذاکان لایکرہ ویصیر الحائط فاصلا ۔
ان دونوں کی عبارت یہ ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ میں مسجد کے قبلہ کابیت الخلا حمام اور قبر کی طرف ہونامکروہ جانتاہوں (محیط کے قول تک) یہ اس وقت ہے جب نمازی اور ان کے درمیان کوئی دیواریاسترہ نہ ہو لیکن اگردرمیان کوئی چیز ہے ومکروہ نہیں اب دیوار ان کے درمیان فاصل ہوجائے گی۔ (ت)
سرکاراعظم مدینہ طیبہ صلی اﷲ تعالی علی من طیبہا وآلہ وسلم میں روضہ انور حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے نمازیوں کی صفیں ہوتی ہین جن کاسجدہ خاص روضہ انور کی طرف ہوتاہے مگرنیت استقبال قبلہ کی ہے نہ استقبال روضہ اطہر کی۔ لہذا ہمیشہ علمائے کرام نے اسے جائز رکھا ہاں بلامجبوری مزاراقدس کوپیٹھ کرنے سے منع فرمایا اگرچہ نماز میں ہو منسك متوسط اور اس کی شرح مسلك متقسط ملاعلی قاری میں ہے :
(لایستدبر القبر المقدس) ای فی صلاۃ ولاغیرھا الالضرورۃ ملجئۃ الیہ ۔
(مزاراقدس کی طرف پشت نہ کرے) نماز اور غیرنماز میں البتہ جب کوئی مجبوری وضرورت ہو تو کوئی حرج نہیں (ت)
نیز شرح مذکور میں ہے :
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الباب الخامس فی آداب المسجد الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۱۹
فتاوٰی ہندیہ الباب الخامس فی آداب المسجد الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۲۰
مسلك متقسط مع ارشاد الساری باب زیارت سیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ص۳۴۲
#11526 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
لاتکرہ الصلوۃ خلف الحجرۃ الشریفۃ الا اذا قصدالتوجہ الی قبرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
حجرہ شریف کے سامنے نماز اداکرنا مکروہ نہیں مگر اس صورت میں جب توجہ سے مقصود ہی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی قبرشریف ہو۔ (ت)
۱امام اجل قاضی عیاض شرح صحیح مسلم شریف پھر۲ علامہ طیبی شرح مشکوۃ المصابیح پھر۳علامہ قاری مرقاۃ المفاتیح نیز۴علامہ محدث طاہر فتنی مجمع بحارالانوار نیز۵امام قاضی ناصرالدین بیضاوی پھر۶امام جلیل علامہ محمودعینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری پھر ۷امام احمد محمد خطیب قسطلانی ارشاد الساری شرح بخاری نیز ۸امام ابن حجرمکی شرح مشکوۃ شریف پھر۹شیخ محقق محدث دہلوی لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں :
وھذا لفظ الاولین من اتخذ مسجدا فی جوار صالح اوصلی فی مقبرہ وقصد الاستظھار بروحہ اووصول اثر من اثار عبادتہ الیہ لاللتعظیم لہ و التوجہ نحوہ فلاحرج علیہ الاتری ان مرقد اسمعیل علیہ الصلاۃ و السلام فی المسجد الحرام عند الحطیم ثم ان ذلك المسجد افضل مکان یتحری المصلی لصلاتہ ۔
یعنی جس نے کسی نیك بندے کے قرب میں مسجد بنائی یامقبرہ میں نمازپڑھی اور اس کی روح سے استمداد و استعانت کاقصدکیایا یہ کہ اس کی عبادت کاکوئی اثرپہنچے نہ اس لئے کہ نماز سے اس کی تعظیم کرے یانمازمیں اس کی طرف منہ ہوناچاہے تواس میں کوئی حرج نہیں کیا دیکھتے نہیں کہ سیدنا اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام کا مزارشریف خاص مسجد الحرام میں حطیم کے پاس ہے پھر یہ مسجد سب سے افضل وہ جگہ ہے کہ نمازی نماز کے لئے جس کاقصد کرے۔
اخیرین کے لفظ یہ ہیں :
خرج بذلك اتخاذ مسجد بجوار نبی او صالح والصلوۃ عند قبرہ لالتعظیمہ والتوجہ نحوہ بل لوصول مدد منہ حتی تکمل عبادتہ ببرکۃ مجاورتہ
یعنی کسی نبی یاولی کے قرب میں مسجدبنانا اور ان کی قبرکریم کے پاس نمازپڑھنا نہ ان دو نیتوں سے بلکہ اس لئے کہ ان کی مدد مجھے پہنچے ان کے قرب کی برکت سے میری عبادت کامل ہو اس میں کچھ مضائقہ
حوالہ / References مسلك متقسط مع ارشاد الساری باب زیارت سیدالمرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ یروت ص۳۲۲
شرح طیبی علٰی مشکوٰۃ المصابیح الفصل الاول باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۲۳۵
#11527 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
لتلك الروح الطاھرۃ فلاحرج فی ذلك لما ورد ان قبر اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام فی الحجر تحت میزاب وان فی الحطیم وبین الحجر الاسود وزمزم قبرسبعین نبیا ولم ینہ احد عن الصلاۃ فیہ ۔
نہیں کہ وارد ہوا ہے کہ اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام کا مزارپاك حطیم میں میزاب الرحمۃ کے نیچے ہے اور حطیم میں اور سنگ اسود وزمزم کے درمیان سترپیغمبروں کی قبریں ہیں علیہم الصلوۃ والسلام اور وہاں نماز پڑھنے سے کسی نے منع نہ فرمایا۔
شیخ محقق فرماتے ہیں : کلام الشارحین متطابق فی ذلک تمام اصحاب شرح اس بارے میں یك ز بان ہیں ۔
الحمدﷲ ائمہ کرام کے اس اجماع واتفاق نے جان وہابیت پرکیسی قیامت توڑی کہ خاص نماز میں مزارات اولیائے کرام سے استمداد واستعانت کی ٹھہرادی اب توعجب نہیں کہ حضرات وہابیہ تمام ائمہ دین کو گور پرست کالقب بخشیں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم پھر روضہ مبارك کادروازہ مبارك بند کرنے کی بھی ضرورت اس حالت میں ہے کہ قبرانور نمازی کے خاص سامنے ہو اور بیچ میں چھڑی وغیرہ کوئی سترہ نہ ہو اور قبراتنی قریب ہو کہ جب یہ خاشعین کی سی نمازپڑھے توحالت قیام میں قبر پرنظرپڑے اور اگر مزارمبارك ایك کنارے کو ہے یابیچ میں کوئی سترہ ہے اگرچہ آدھ گز اونچی کوئی لکڑی ہی کھڑی کرلی ہو یامزارمطہر نماز کی جگہ سے اتنی دورہے کہ نمازی نیچی نظرکئے اپنے سجدہ کی جگہ نظرجمائے تومزارشریف تك نگاہ نہ پہنچے تو ان صورتوں میں دروازہ بند کرنے کی بھی حاجت نہیں یونہی نمازبلاکراہت جائزہے۔ ۱تاتارخانیہ پھر۲فتاوی علمگیریہ میں ہے :
ان کان بینہ وبین القبر مقدار ما لوکان فی الصلوۃ و یمر انسان لایکرہ فھھنا ایضا لایکرہ ۔ اگرنمازی اور قبر کے درمیان اتنافاصلہ ہو کہ آدمی نماز میں ہو اور اس کے آگے سے کسی آدمی کاگزرنامکروہ نہ ہو تو یہاں بھی کراہت نہ ہوگی۔ (ت)
۳جامع مضمرات شرح قدوری پھر ۴جامع الرموز شرح نقایہ پھر ۵طحطاوی علی مراقی الفلاح و۶ردالمحتارعلامہ شامی میں ہے :
حوالہ / References لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب المساجد ومواضع الصلاۃ مطبوعہ معارف علمیہ لاہور ۳ / ۵۲
لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب المساجد ومواضع الصلاۃ مطبوعہ معارف علمیہ لاہور ۳ / ۵۲
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فیمایکرہ فی الصلوٰۃ ومالایکرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰۷
#11528 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
لاتکرہ الصلوۃ الی جھۃ القبر الا اذا کان بین یدیہ بحیث لوصلی صلاۃ الخاشعین وقع بصرہ علیہ ۔
قبر کی طرف نمازپڑھنا مکروہ نہیں مگر اس صورت میں جبکہ نمازی خشوع سے نمازپڑھ رہاہو(جائے سجدہ پرنظرہو) توقبر پرنظرپڑے(ت)
یہ قلب وہابیت پرکیسا شاق ہوگا کہ مزارمبارك بلاحائل بے پردہ صرف چارپانچ گزکے فاصلے سے عین نماز میں نمازی کے سامنے ہے اور نمازبلاکراہت جائز کیایہ فقہائے کرام کو قبر پرست نہ کہیں گے والعیاذباﷲ رب العلمین۔ یہ سب اس صورت میں ہے کہ وہ بہ نیت فاسدہ نہ ہوں یعنی نماز سے تعظیم قبر کاارادہ یابجائے کعبہ نمازمیں استقبال قبرکاقصد۔ ایسا ہو تو آپ ہی حرام بلکہ معاذاﷲ نیت عبادت قبرہو توصریح شرك و کفرمگر اس میں مزارمقدس کی جانب سے حرج نہ آیا بلکہ اس شخص کافاسد ارادہ یہ فساد لایا اس کی نظیریہ ہے کہ کوئی ناخدا ترس کعبہ معظمہ کے سامنے اس نیت سے نمازپڑھے کہ وہ کعبہ کی طرف نہیں بلکہ وہ خود کعبہ کوسجدہ کرتاہے یا نمازتعظیم کعبہ کے لئے پڑھتاہے ایسی نماز بیشك حرام اور نیت عبادت کعبہ ہو توسلب اسلام مگراس میں کعبہ معظمہ کا کیاقصور ہے یہ تو اس کی نیت کافتورہے یونہی جومزارات کے حضورہے اور مزارکریم مستورہے یا نظرخاشعین سے دورہے توفاسدنیت سے مازورہے اور تبرك واستمداد کی نیت سے ماجورہے کہ نمازو نیاز کااجتماع نور علی نور ہے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۹۸۷ تا ۹۸۹ : ازموضع سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیرعلی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ
(۱) وضو نماز غسل جماعت لباس نمازجنازہ کفن دفن نکاح وغیرہ میں کتنے کتنے اور کون کون سے فرض سنت مستحب واجب ہیں جس کے ترك سے نمازفاسد یامکروہ تنزیہی یاتحریمی یا کہ بطوردہرانے کے یاسجدہ سہو کے قابل ہوجاتی ہے یاکیاچیز ترك ہو جس سے امام نے دوبارہ جماعت شروع کی اب اور نئے آدمی شامل نہیں ہوسکتے ہیں اور کس ترك کے سبب سے اب نئے آدمی شامل ہوسکتے ہیں اسی طرح غسل جماعت لباس کفن دفن نکاح سب کاحال علیحدہ علیحدہ ترتیب وار تحریرفرمایاجائے۔
(۲) زیدتمباکو کھانے پینے کی اکثراشیاء باندھ کر نمازپڑھتاہے نماز ہوگی
(۳) زیداکثر رزائی کمبل چادر کی گھوکی ڈال کرنمازپڑھتاہے ہوگی یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
(۱) اس سوال کاجواب اگرمفصل لکھاجائے توکم ازکم دوہزارورق ہوں گے سائل کوچاہے علم سیکھے
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی بیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کرای ص۱۹۶
#11529 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
یہ باتیں آجائیں گی فرض کے ترك سے نمازفاسد ہوتی ہے اور واجب کے ترك سے مکروہ تحریمی اور سنت مؤکدہ کاترك بہت براہے اورغیرمؤکدہ کے ترك سے مکروہ تنزیہی اور مستحب کے ترك سے غیراولی فرض کے ترك میں پڑھنا فرض ہے کہ پہلی نمازاصلا نہ ہوئی اور اسی صورت میں نئے آدمی شامل ہوسکتے ہیں اور واجب بھول کر چھوٹا توسجدہ سہو کاحکم ہے اور قصدا چھوڑا یابھول کرچھوٹا تھا مگر سجدہ سہو نہ کیا تو اعادہ واجب ہے اور سنت کے ترك میں سنت اور مستحب کے ترك میں مستحب اور ان سب صورتوں میں نئے آدمی شامل نہیں ہوسکتے۔
(۲) ہاں نمازہوجائے گی مگربدبوآئے تو کراہت ہے۔
(۳) نمازمکروہ ہوگی جب تك ایك پلہ اس کادوسرے کندھے پرنہ ڈالاجائے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۰ : ازکلکتہ دھرم تلانمبر۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۱۲ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرد کو ریشمیں کپڑا پہن کرنماز کیسی ہے اور جب امام باوصف معلوم ہوجانے حرمت کے لباس ریشمیں پہن کرامامت کیاکرے توساری جماعت کی نماز میں کراہت تحریمی کاوبال امام پرہوگایانہیں
الجواب :
فی الواقع ریشمیں کپڑاپہن کرنمازمرد کے لئے مکروہ تحریمی ہے کہ اسے اتار کرپھرپڑھنا واجب کما ھو معلوم من الفقہ فی غیر ما موضع (جیسا کہ فقہ میں متعدد مقامات پرموجود ہے۔ ت) شرح مقدمہ غزنویہ پھر فتاوی انقرویہ میں ہے :
تکرہ الصلوۃ فی ثوب الحریر وعلیہ ایضا لانہ محرم علیہ لبسہ فی غیرالصلوۃ ففیہا اولی فان صلی فیھا صحت صلاتہ لان النھی لایختص بالصلوۃ انتھی
اقول : وقولہ وعلیہ ایضا مبتن علی قولھما من حرمۃ افتراش الحریر والا فھو جائز عندالامام الاعظم رضی اﷲ تعالی
ریشمی کپڑے میں اور اس کے اوپرنماز مکروہ ہے کیونکہ جب نماز کے علاوہ اسے پہننا حرام ہے تو نماز میں بطریق اولی حرام ہوگا اگران میں نماز ادا کی توصحیح ہوگی کیونکہ نہی نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں انتہی
اقول : اس کاقول “ ریشمی کپڑے پربھی “ صاحبین کے اس قول پرمبنی ہے کہ ریشم کابچھونا بنانا بھی حرام ہے ورنہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك جائز
حوالہ / References فتاوٰی انقرویہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالاشاعت قندھار ، افغانستان ۱ / ۷
#11530 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
عنہ لان المحرم لبسہ لاسائر وجوہ الانتفاع کما فی ردالمحتار وغیرہ نعم تکرہ الصلاۃ علیہ وان جاز افتراشہ لان الصلوۃ لیست موضع الترفہ وھذہ الکراھۃ تنزیھیا۔
ہے کیونکہ ریشم کاپہننا حرام ہے باقی نفع کی صورتیں منع نہیں جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے ہاں اگرچہ اس کابچھونا بنانا جائز ہے مگر اس پرنماز مکروہ ہوگی کیونکہ نمازتعیش کامقام نہیں اور یہ کراہت تنزیہی ہوگی۔ (ت)
جبکہ اﷲ عزوجل نے مرد کو ریشمیں کپڑاگھر میں پہننا حرام کیا تو خود اس کے دربار میں اسے پہن کرحاضر ہونا کس درجہ گستاخی وبے ادبی ہوگا جوبات گھربیٹھ کرتنہائی میں کرناتو قانون سلطانی میں جرم ہو وہ خود بارگاہ سلطانی میں اس کے حضور کھڑے ہوکر کرنا کیسی صریح بیباکی اور بادشاہ کاموجب ناراضی ہوگا والعیاذ باﷲ تعالی اور پرظاہر کہ نماز امام کی یہ کراہت نماز مقتدیان کی طرف بھی سرایت کرے گی تو ان سب کی نمازیں خراب وناقص ہونے کا یہی شخص باعث ہوا اور معاذاﷲ ارشاد حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی کامصداق ٹھہر۱
بے ادب تنہا نہ خود را داشت بد
بلکہ آتش درھمہ آفاق زد
(بے ادب تنہا اپنے آپ کوہی تباہ نہیں کرتا بلکہ اس ایك کی بے ادبی تمام عالم کو برباد کردیتی ہے)
بعینہ یہی حکم ان سب چیزوں کاہے جن کاپہننا ناجائز ہے جیسے ریشمیں کمربندیامغرق ٹوپی یاوہ کپڑا جس پرریشم یا چاندی یا سونے کے کام کاکوئی بیل بوٹا چارانگل سے زیادہ عرض کا ہو یا ہاتھ خواہ پاؤں میں تانبے سونے چاندی پیتل لوہے کے چھلے یاکان میں بالی یابندا یاسونے خواہ تانبے پیتل لوہے کی انگوٹھی اگرچہ ایك تارکی ہو یاساڑھے چارماشے چاندی یا کئی نگ کی انگوٹھی یاکئی انگوٹھیاں اگرچہ سب مل کر ایك ہی ماشہ کی ہوں کہ یہ سب چیزیں مردوں کوحرام وناجائز ہیں اور ان سے نمازمکروہ تحریمی اور تانبے پیتل لوہے کے زیور توعورتوں کو بھی حرام ہیں انہیں پہن کر ان کی نماز بھی مکروہ تحریمی ان مسائل کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے اﷲ عزوجل مسلمانوں کوہدایت فرمائے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۱ : ازبدایوں کچہری منصفی مرسلہ شیخ حامدحسین وکیل ۱۷ جمادی الاخری ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگریزی وضع کے کپڑے پہنناکیسا اور ان کپڑوں سے نماز
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی اللبس مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶ / ۳۵۴
#11531 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
ہوتی ہے یانہیں اورہوتی ہے توبکراہت تحریمی یاتنزیہی یابلاکسی فساد کے بینوا توجروا
الجواب :
انگریزی وضع کے کپڑے پہننا حرام سخت حرام اشد حرام اورانہیں پہن کرنمازمکروہ تحریمی قریب بحرام واجب الاعادہ کہ جائز کپڑے پہن کر نہ پھیرے توگنہگارمستحق عذاب والعیاذباﷲ العزیزالغفار سیدی علامہ اسمعیل نابلسی شرح درر و غرر پھرعلامہ عارف باﷲ عبدالغنی نابلسی قدس سرہما القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں :
مافعلہ بعض عــــہ۱ ارباب الحرف بدمشق لما زینت البلدۃ بسبب اخذ بلد من الافرنج من لبسھم زی الافرنج فی رؤسھم وسائر بدنھم وجعلھم اساری فی القیود وعرض ذلك فی البلدۃ علی زعم انہ حسن وھو والعیاذباﷲ کفرعلی الصحیح وخطأ عظیم علی القول المرجوع عـــہ۲ اعاذنااﷲ من الجھل المورد موارد السوئ ۔
دمشق شہر کی خوبصورتی کے وقت بعض ارباب صنعت نے فرنگیوں سے شہر کی قبضہ میں لیتے وقت جشن مناتے ہوئے مذاق کے طور پر فرنگیوں کالباس سر اور جسم پر پہناکر (کچھ لوگوں کو) قید میں ڈالا اور شہر میں پھرا یا اور اس سے خوش ہوئے (اﷲ کی پناہ) یہ صحیح قول کے مطابق کفراور قول مرجوع پرخطأ عظیم ہے اﷲتعالی جہالت کے ایسے برے مواقع سے محفوظ رکھے۔ (ت)
علمگیری میں تاتارخانیہ سے ہے :
تکرہ الصلاۃ مع البرنس
(ٹوپی والے جبہ میں نماز مکروہ ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
عــــہ۱ ذکرہ فی النوع الثامن من المبحث الاول من القسم الثانی من الصنف الثانی افات اللسان وھو نوع السخریہ۱۲منہ (م)
عـــــہ۲ ھکذا ھو بالعین فی نسختی الحدیقۃ ۱۲منہ (م)
اسے نابلسی نے مبحث اول کی قسم ثانی کی نوع ثامن میں آفات زباں کی صنف ثانی کے تحت ذکرکیاہے اور یہ مذاق کی قسم ہے۱۲منہ(ت)
میرے پاس جوحدیقہ کانسخہ ہے اس میں یہ لفظ ع کے ساتھ ہے۱۲منہ (ت)
حوالہ / References الحدیقۃ الندیہ النوع الثامن من الانواع الستیں الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۳۰
فتاوٰ ی ہندیہ فیمایکرہ فی الصلوٰۃ ومالایکرہ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰۶
#11532 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
مسئلہ ۹۹۲ : از ملك اپربرہما چھاؤنی مٹکینہ مرسلہ حاجی ہادی یارخاں ۶صفر۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے حامیان دین اس مسئلہ میں کہ ایك آدمی ہے اس کے کپڑا بہت ہے لیکن آستینیں چڑھاکر کہنی سے اوپر نمازپڑھتاہے کچھ کراہت نماز میں آتی ہے یانہیں اس کاجواب بمع حدیث شریف تحریرفرمائیے۔
الجواب : مکروہ ہے نمازپھیرنے کاحکم ہے درمختارمیں ہے :
کرہ سدل ثوبہ وکرہ کفہ ای رفعہ ولولتراب کمشمرکم اوذیل ۔
کپڑے کالٹکانا اسی طرح کپڑے کااٹھانا بھی مکروہ ہے اگرچہ کیچڑ کی وجہ سے ہو جیسے کوئی آدمی آستین اور دامن اٹھالے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
حررالخیر الرملی مایفید ان الکراھۃ فیہ تحریمیۃ ۔
شیخ خیرالدین رملی کی عبارت اس بات کی مفید ہے کہ اس میں کراہت تحریمی ہے(ت)
حدیث صحیح میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
امرت ان اسجد علی سبعۃ اعضاء وان لااکف شعرا ولا ثوبارواہ الستۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما ۔
مجھے سات اعضا پرسجدہ کاحکم دیاگیاہے اور اس بات کاحکم ہے کہ بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں اس روایت کو صحاح ستہ نے حضرت عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیا(ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۹۹۳ : ازمیرٹھ مرسلہ مولوی محمدحسین ۲ صفر۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آستین کہنی تك چڑھی ہوئی نماز پڑھنی مکروہ ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
ضرور مکروہ ہے اور سخت وشدیدمکروہ ہے صحاح ستہ میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References الدرالمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۱
ردالمحتار مطلب مکروہات الصلوٰۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۳
صحیح مسلم ، باب اعضاء السجود ، مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ، ۱ / ۱۹۳
#11533 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
فرماتے ہیں :
امرت ان اسجد علی سبعۃ اعضاء وان لااکف شعرا ولاثوبا ۔
مجھے سات اعضا پرسجدہ کاحکم ہے اور اس بات کاکہ میں بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں (ت)
صحیحین میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
امرت ان لااکف الشعروالثیاب ۔
مجھے حکم دیاگیاہے کہ میں بالوں اور کپڑوں کواکٹھا نہ کروں ۔ (ت)
تمام متون مذہب میں ہے : کرہ کف ثوبہ (کپڑوں کواٹھانا مکروہ ہے۔ ت) فتح القدیر وبحرالرائق میں ہے :
یدخل ایضا فی کف الثوب نشمیر کمیہ ۔
کپڑا اٹھانے میں آستینوں کاچڑھانا بھی داخل ہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
کرہ کف ای رفعہ ولو لتراب کمشمرکم اوذیل ۔
کپڑے کا اٹھانا اگرچہ مٹی کی وجہ سے ہو مکروہ ہے جیساکہ آستین اور دامن کاچڑھانا۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
حرر الخیر الرملی مایفید ان الکراھۃ فیہ تحریمیۃ ۔
شیخ خیرالدین رملی کی عبارت اس بات کی مفید ہے کہ اس میں کراہت تحریمی ہے(ت)
غنیہ میں ہے :
یکرہ ان یکف ثوبہ وھو فی الصلاۃ بعمل قلیل بان یرفعہ من بین یدیہ او من خلفہ عند السجود اویدخل فیھا
عمل قلیل کے ساتھ نمازمیں کپڑا چڑھانا مکروہ ہے بایں طور کہ پیچھے یاآگے سے سجدہ کے وقت اٹھائے یانماز میں کپڑا اٹھائے ہوئے داخل ہونا
حوالہ / References صحیح مسلم باب اعضاء السجود مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۹۳
صحیح مسلم ، باب اعضاء السجود ، مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۹۳
بحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۴
الدرالمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۱
ردالمحتار ، مطلب مکروہات الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۳
#11534 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
وھو مکفوف کما اذا دخل وھومشمرا لکم او الذیل ۔
جیسا کہ نماز میں داخل ہوتے وقت اس نے آستین یادامن چڑھایا ہواتھا۔ (ت)
علامتین محققین جلیلین شارحین منیہ تحقیق فرماتے ہیں کہ اکثرکلائی پر سے آستین چڑھی ہونا ہی کراہت کو کافی ہے اگرچہ کہنی تك نہ ہو۔ غنیہ میں ہے :
(و) یکرہ ایضا (ان یرفع کمہ) ای یشمرہ (الی المرفقین) وھذا قید اتفاقی فانہ لو شمر الی مادون المرفق یکرہ ایضا لانہ کف للثوب وھو منھی عنہ فی الصلاۃ لما مر وھذا اذاشمرہ خارج الصلوۃ وشرع فی الصلوۃ وھوکذلك اما لوشمرہ فی الصلاۃ تفسد لانہ عمل کثیر ۔
اور یہ بھی مکروہ ہے (کہ آستین اٹھائی) یعنی چڑھائی ہو(کہنیوں تک) اور یہ قید اتفاقی ہے کیونکہ کہنیوں کے نیچے تك بھی چڑھائی ہوں تب بھی کراہت ہے کیونکہ یہ کپڑے کااٹھانا ہے حالانکہ وہ نمازمیں ممنوع ہے جیسا کہ اس پراحادیث گزری ہیں اور یہ اس وقت ہے جب اس نے نماز سے باہر آستین کوچڑھایاتھا اور اسی حال میں نماز شروع کردی اور اگردوران نمازآستین چڑھاتاہے تونماز فاسد ہوجائے گی کیونکہ یہ عمل کثیرہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
ینبغی ان یکرہ تشمیرھما الی مافوق نصف الساعد لصدق کف الثوب علی ھذا ۔
آستینوں کانصف کلائی کے اوپرتك اٹھانا بھی مکروہ ہوناچاہئے کیونکہ اس پربھی کپڑا اٹھانا صادق آرہاہے(ت)
تولازم ہے کہ آستینیں اتار کرنماز میں داخل ہو اگرچہ رکعت جاتی رہے اور اگرآستین چڑھی نمازپڑھے تو اعادہ کی جائے کما ھو حکم صلاۃ ادیت مع الکراھۃ کمافی الدر وغیرہ (جیسا کہ ہراس نماز کاحکم ہے جوکراہت کے ساتھ اداکی گئی ہو جیسا کہ دروغیرہ میں ہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۴ : غرہ جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سنی المذہب ہے اور اس نے کسی وجہ سے نماز
حوالہ / References غنیۃ المستملی یکرہ فصلہ فی الصلوٰۃ ومالایکرہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۸
غنیۃ المستملی ، یکرہ فصلہ فی الصلوٰۃ ومالایکرہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۸
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#11535 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
دست کشا پڑھی تو وہ اس کی نمازصحیح ہوگئی یانہیں یا اس کا اعادہ کرناچاہئے یاکیا
الجواب :
نماز ہوجائے گی مگربکراہت لترك السنۃ (ترك سنت کی بنا پر۔ ت) اعادہ چاہئے علی وجہ الاستحباب۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۵ : ازمارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ محلہ کمبوہان مرسلہ تاج الدین حسین خاں صاحب ۵جمادی الاخری ۱۳۱۷ھ
موسم گرما میں میں ساری بہت نیچی باندھتاہوں اکثرنماز مولوی صاحبوں کے ہمراہ پڑھی کسی نے اعتراض نہ کیا ایك سیدصاحب سے دریافت کیا توفرمایا جواونچی دھوتی باندھتے ہیں ان کو کانچھ کھولنی ضرور ہے کہ سترپوشی ہو اور تم بہت نیچی باندھتے ہو اس میں ضرورنہیں کہ سترچھپارہتاہے میں نماز بیٹھ کرپڑھتاہوں کھڑے ہوکرنہیں پڑھ سکتا اس پرچند آدمیوں نے اعتراض کیا کہ کھول دیا کرو ورنہ نماز میں خلل پڑتاہے پس آں مخدوم کوتکلیف دیتاہوں حکم شرح بیان فرمائیے اور اگرباندھنا ساری کاداخل پوشاك مشرکین ہو تو میں موقوف کروں کیونکہ میرا اعتقاد آپ کے قول پر ہے بمقابلہ آپ کے میں کسی کے قول کو ترجیح نہیں دیتاہوں بقول مخدوم میناصاحب قدس سرہ العزیز
ہمہ شہرپرزخوباں منم وخیال ماہے
چکنم کہ چشم بدخونکند بکس نگاہے
(تمہارا شہرخوبصورت حضرات سے بھراہے میراذوق اپناہے میں کیاکروں کہ بدخو آنکھ کسی پربھی ایك نگاہ نہیں ڈالتی)
زیادہ نیاز
الجواب :
مکرمی سلمکم اﷲ تعالی! جواب مسئلہ انہی لفظوں میں ہے جو آپ نے تحریر فرمائے کہ اس عقدے کو حل فرمائیے واقعی ساری پیچھے سے نہ کھولنا کراہت نماز کاموجب ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : امرت ان لااکف شعرا و لاثوبا (مجھے اس بات کاحکم دیاگیاہے کہ میں بال اکٹھے نہ کروں اور نہ کپڑا اٹھاؤں ۔ ت)
حوالہ / References صحیح مسلم باب اعضاء السجود والنہی عن کف الثوب مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۹۳
#11536 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
غنیہ شرح منیہ میں ہے :
یکرہ ان یکف ثوبہ وھوفی الصلاۃ بعمل قلیل بان یرفعہ من بین یدیہ او من خلفہ عن السجود او یدخل فیھا وھو مکفوف کما اذا دخل وھومشمرا لکم او الذیل۔ ۔
نماز میں عمل قلیل کے ساتھ کپڑا اٹھانا مکروہ ہے یوں کہ آگے یاپیچھے سے اپنا کپڑا اٹھائے یا نماز میں کپڑا چڑھائے ہوئے داخل ہونا اور یہی حکم ہے جبکہ نمازی آستین یادامن چڑھائے ہوئے ہو۔ (ت)
اور ساری یادھوتی باندھنا جہاں کے شرفا میں اس کا رواج نہ ہو جیسے ہمارے بلاد وہاں شرفا کے لئے خود بھی کراہت سے خالی نہیں کماحققناہ فی کتاب الحظر من فتاونا (ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی کی کتاب الحظر میں کی ہے۔ ت) اور اگروہاں کے مسلمان اسے لباس کفار سمجھتے ہوں تواحترازمؤکد ہے حرج پیچھے گھرسنے میں ہے ورنہ تہبند توعین سنت ہے اور گٹوں سے اوپر تك ہوناچاہئے اس سے زیادہ نیچی مکروہ ہے واﷲ تعالی اعلم یہ تو آپ کے سوال کاجواب تھا اور ان سب باتوں سے زیادہ ضروری مسئلہ قیام نماز ہے فرض و وتر وسنت فجر بیٹھ کرپڑھنے کی اجازت صرف اس حالت میں ہے کہ کھڑے ہونے پراصلا قدرت نہ ہو نہ دیوار کی ٹیك نہ کسی آدمی یالکڑی کے سہارے سے اور عجزبھی ایسا ہو کہ ایك بار اﷲ اکبر کہنے کی دیر تك بھی کھڑانہ ہوسکے اگر اتنی ہی دیر قیام کی طاقت ہو اگرچہ کسی سہارے سے توفرض ہے کہ تکبیر تحریمہ کھڑے ہوکر کہے پھرطاقت نہ رہے توبیٹھ جائے آج کل اکثر لوگ اس کاخلاف کرتے ہیں ذراتکلیف ہوئی اور نماز بیٹھ کر پڑھ لی اور سیدھے کھڑے ہوکرگھرکو راہی ہوئے یوں نمازیں قطعا باطل ہوتی ہیں بلکہ جتنی دیر جس قدر اور جس طرح کھڑے ہونے کی قدرت ہو اتناقیام ہررکعت میں فرض ہے یہ مسئلہ خوب یادرکھنے کاہے وقد بیناہ فی فتاونا وباﷲ التوفیق ثم السلام
مسئلہ ۹۹۶ : ۲۸جمادی الاولی ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وقت نماز اپنی جوتیاں سجدہ کے روبرو رکھ کر نماز اداکرے تونماز میں کیا شرعا کراہت آتی ہے اور دہنے یا بائیں طرف رکھنے سے کیانفع نقصان ہے اگرسجدہ کے برابررکھ کرکپڑے وغیرہ سے چھپادی جائیں توعلیحدہ ہونے کے مرتبہ میں ہوئیں یانہیں اور کس حدیث سے جوتیوں کوسجدہ کے روبرو رکھنا منع آیاہے اور ایسے وقت میں نزول رحمت کابند ہونا کیوں ہے معمولی جوتیاں
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی کراہیۃ الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۸
#11537 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
جوہرشخص پہنے پھرتاہے پہنے ہوئے مسجد میں چلاآئے اور پہنے ہوئے نماز اداکرے جائز ہے یانہیں کن بزرگان دین نے ایسافعل کیاتھا بینواتوجروا
الجواب :
سنن ابی داؤدمیں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا اصلی احدکم فلایضع نعلیہ عن یمینہ ولاعن یسارہ فتکون عن یمین غیرہ الاان لایکون احد ولیضعھما بین رجلیہ ۔ رواہ الحاکم ایضا والبیھقی۔
جب تم میں کوئی نماز پڑھے توجوتی اپنے دائیں طرف نہ رکھے نہ اپنے بائیں طرف رکھے کہ دوسراجواس کے بائیں ہاتھ کو ہے اس کے دہنی طرف ہوں گی ہاں اگربائیں طرف کو کوئی نہ ہو تو بائیں جانب رکھے ورنہ اپنے پاؤں کے بیچ میں رکھے اسے بھی حاکم اور بیہقی نے روایت کیا۔
دوسری روایت میں اس ممانعت کے لئے یوں حدیث آئی :
فلایؤذ بھما احدا ۔ رواہ الثلثۃ المذکورون وابن حبان رضی اﷲ تعالی عنہ۔
کسی کو ایذانہ دے۔ مذکورہ تینوں محدثین اور ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
ایك حدیث میں اس ایذا کی یوں تصریح آئی :
لاتضعھما عن یمینك ولا عن یسارك فتؤذی الملئکۃ والناس ۔ رواہ الخطیب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
دہنے ہاتھ کورکھے گا توملائکہ کو ایذا ہوگی بائیں کورکھے گا توجولوگ بائیں طرف ہیں انہیں ایذا ہوگی۔ اسے خطیب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا کے حوالے سے رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بیان کیاہے۔
علماء نے اس ایذا کی وجہ فرمائی یعنی وفیہ نوع اھنانۃ لہ (جس کی طرف جوتارکھاجائے اس کی
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب المصلی اذاخلع نعلیہ این یضعہما مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۶
المستدرك علی الصحیحین کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ دارالفکربیروت ۱ / ۲۵۹
تاریخ بغداد ترجمہ عبداﷲ بن حمویہ نمبر۱۵۰۷۸ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۹ / ۴۴۹
مرقات المفاتیح حدیث ۷۶۷ کے تحت مذکورہے مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲ / ۴۷۵
#11538 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
اہانت ہوتی ہے قالہ الطیبی ونقلہ فی المرقاۃ (یہ علامہ طیبی نے فرمایا اور مرقات میں نقل ہوا۔ ت)اعلی درجہ کی حدیث صحیح ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا کان احدکم یصلی فلایبصق قبل وجھہ فان اﷲ تعالی قبل وجھہ اذا صلی ۔ رواہ مالك فی الموطا عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما و طریقہ الشیخان فی الصحیحین۔
جب تم میں کوئی نمازمیں ہو تو سامنے کو نہ تھوکے کہ نمازی کے سامنے اﷲ عزوجل کافضل وجلال ورحمت ہوتے ہیں ۔ اسے امام مالك نے مؤطا میں امام نافع سے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے اور اسی سند سے بخاری و مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیاہے۔
ائمہ دین اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں :
یجب علی المصلی اکرام قبلتہ بما یکرم بہ من یناجیہ من المخلوقین عند استقبالھم بوجھہ ۔ ذکرہ ابن بطال ونقلہ فی ارشاد الساری۔
یعنی نمازی پرواجب ہے کہ معظمین کے سامنے کھڑے ہونے میں جس بات میں ان کی تعظیم جانتاہے وہی ادب اپنی جانب قبلہ میں ملحوظ رکھے کہ اﷲعزوجل سب سے زیادہ احق بالتعظیم ہے۔ اسے شیخ ابن بطال نے ذکرکیااور ارشادالساری میں مذکورہے۔
ان احادیث میں دہنے بائیں کاحکم صاف مصرح ہے اور سامنے کاحکم اس حدیث صحیح کہ دلالۃ النص اور اسی ارشاد علما کے عموم اور نیز اس قاعدہ مسلمہ مرعیہ عقلیہ شرعیہ سے معلوم کہ توہین وتعظیم کامدار عرف و عادت ناس وبلاد پرہے۔
وقد حققہ المولی العلامۃ خاتم المحققین سیدناالوالدقدس سرہ الماجدفی اصول الرشاد ۔
اس کی تحقیق علامہ خاتمۃ المحققین سیدنا والدگرامی قدس سرہ الماجد نے اصول الرشاد میں فرمائی ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ اب عرف عام تمام بلادیہی ہے کہ دربار شاہی میں بحضور سلطانی باتیں کرنے کھڑاہو اور جوتا سامنے رکھے بے ادب گناجائے گا فقیر نے بچشم خود دیکھاہے کہ کعبہ معظمہ پرپھوہاربرسی تھی میزاب رحمت سے
حوالہ / References موطاامام مالك النہی عن البصاق فی القبلۃ مطبوعہ میرمحمدکتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۲
ارشاد الساری شرح البخاری باب حك البزاق بالید من المسجد مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۱ / ۴۱۹
#11539 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
بوندیں ٹپك رہی تھیں مسلمان حاضرتھے ان بوندوں کولیتے اور چشم و دل سے ملتے ان میں کوئی ہندی شخص جوتاہاتھ میں لئے تھا ترکی خادم دوڑا اور اس کی گردن دبادی تناجی ربك ونعلاك بیدك جوتیاں ہاتھ میں لئے ہوئے اﷲتعالی سے مناجات کرتاہے بلکہ سنن ابن ماجہ میں حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ میں یوں ہے :
فاجعلھما بین رجلیك ولاتجعلھما عن یمینك ولاعن یمین صاحبك ولاورائك فتوذی من خلفک ۔
یعنی جوتے اپنے پیچھے بھی نہ رکھ جو پیچھے ہے اس کے آگے ہوں گے اسے ایذا ہوگی۔
انجاح الحاجہ میں لکھاہے :
لانك اذاوضعتھما ورائك تکونان قدام من کان فی الصف الموخر فیتأذی ورحمۃ اﷲ تعالی تنزل علیھم فیکون ھذاالفعل اساء ۃ ۔
جب توان کو اپنے پیچھے رکھے گا تووہ پچھلی صف میں کھڑے ہونے والے نمازی کے سامنے ہوں گی تو اسے اذیت ہوگی حالانکہ ان پراﷲ تعالی کی رحمت نازل ہورہی ہوگی۔ لہذایہ عمل براہے۔ (ت)
ولہذا ائمہ دین نے تصریح فرمائی کہ استعمال جوتیاں پہنے ہوئے مسجد جانا بے ادبی ومکروہ ہے امام برہان الدین صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید پھر علامہ بحر بحرالرائق میں فرماتے ہیں :
قدقیل دخول المسجد متنعلا من سوء الادب ۔
مسجد میں جوتے پہنے ہوئے داخل ہونا بے ادبی ہے۔ (ت)
ردالمحتارمیں عمدۃ المفتی سے ہے :
دخول المسجد متنعلا من سوء الادب ۔
مسجد میں جوتے پہنے ہوئے داخل ہونا بے ادبی ہے۔ (ت)
فتاوی سراجیہ و فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
دخول المسجد متنعلا مکروہ
(مسجد میں جوتے پہن کرداخل ہونا مکروہ ہے ۔ (ت)
حوالہ / References سنن ابن ماجہ باب ماجاء این توضع النعل اذاخلعت فی الصلوٰۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۰۵
انجاح الحاجہ حاشیہ سنن ابن ماجہ باب ماجاء این توضع النعل اذاخلعت فی الصلوٰۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۰۵
بحرالرائق باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳۴
ردالمحتار مطلب فی احکام المسجد مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۵۷
فتاوٰی سراجیہ باب المسجد مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ص۷۱
#11540 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
مولی علی کرم اﷲتعالی وجہہ دوجوڑے رکھتے تھے استعمالی جوتاپہن کردروازہ مسجد تك تشریف لاتے پھر دوسراجوڑا پہن کرمسجد میں جاتے
ذکرہ ایضا فی البحر عن التجنیس واذالامر دار علی العرف فالحکم الحظر الان مع ثبوتہ عن سیدالمتادبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وذلك کترك الکلاب تدور فی المسجد ووضع السریر وادخال البعیر وضرب الخیمۃ للمرضی وغیرھم فیہ ولنا رسالۃ فی الباب سمیناھا “ جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال “ واخری “ نفیسۃ حافلۃ فیماتصان عنہ المساجد “ ۔
اسے بحرمیں تجنیس کے حوالے سے ذکرکیا اور مسئلہ کا مدار عرف پرہوتاہے اس دور میں یہ ممنوع ہے باوجودیکہ اس کاثبوت سیدالمتادبین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے وہ اسی طرح ہے جیسے کتوں کامسجد میں آناجانا چارپائی کابچھانا اونٹوں کاداخل ہونا بیمارلوگوں اور دیگر ضروریات کے لئے خیمہ نصب کرنے کاحکم متروك ہے ہم نے اس موضوع پرایك رسالہ “ جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال “ اور دوسرا “ نفیسۃ حافلۃ فیماتصان عنہ المساجد “ لکھاہے۔ (ت)
ہاں اگربائیں جانب یاپیچھے رکھنے میں چوری کاخوف ہو اور یہاں جوتی پاؤوں کے بیچ میں جو فرجہ نماز میں ہوتاہے یعنی چارانگلی اس قدرمیں آنے کے قابل نہیں ہوتے توکپڑے سے چھپاناکافی ہے
ھذا کلہ ماظھر لی تفقھا وبما قررت ظھر ان لاورود لبقیۃ حدیث الخطیب المذکور وان سلم ان سلم من الضعف لان الاحکام ھھنا بالعرف۔ واﷲ تعالی اعلم۔
یہ تمام وہ جومجھے ازراہ تفقہ حاصل ہوا جو ہم نے گفتگو کی اس سے یہ بھی واضح ہوجاتاہے کہ خطیب کی ذکرکردہ حدیث کایہ محل نہیں اگرچہ تسلیم بھی کرلیاجائے کہ یہ روایت ضعف سے خالی ہے کیونکہ ان احکام کا مدارعرف پرہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۹۹۷ : ۴ربیع الآخر۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے احناف رحم کرے اﷲ آپ لوگوں پر اور برکت دے علم میں کہ فیض پہنچاتے رہیں علم سے اپنے خلائق کو اس قول میں کہ وردی جو کہ سپاہی پولیس کے پہنتے ہیں اور دھوتی جو کہ کفارپہنتے ہیں اس کو پہن کر نماز مکروہ ہے یاکہ مکروہ تحریمی حکمش چیست
حوالہ / References بحرالرائق ، باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۳۴
#11541 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
الجواب :
وہ وردی پہن کرنماز مکروہ ہے خصوصا جبکہ سجدہ بردرجہ مسنون سے مانع ہو۔ فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
اوالخیاط اذااستوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذلك کثیر اجرلایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ ۔
جب کسی درزی کوفاسقوں کے لباس سینے پر اجرت دی جائے اور اسے اس پراجرکثیردیاجائے تویہ عمل اس کے لئے بہتر نہیں کیونکہ یہ گناہ پرمعاونت ہے۔ (ت)
اور دھوتی باندھنا بھی مکروہ ہے کہ اگرلباس ہنود و غیرہ نہ ہو توکپڑے کاپیچھے گھرسنا ہی نماز کومکروہ کرنے کے لئے بس ہے لنھیہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عن کف ثوب اوشعر (کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کپڑے یا بال مجتمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ت) ہاں پیچھے نہ گھرسیں تووہ دھوتی نہیں تہ بند ہے اور اس میں کچھ کراہت نہیں بلکہ سنت ہے واﷲ تعالی سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص عینك لگاکر نمازپڑھاتاہے تومقتدیوں کی نماز میں کچھ قصورتونہیں بینواتوجروا
الجواب :
اگرعینك کا حلقہ یاقیمیں چاندی یاسونے کی ہیں توایسی عینك ناجائز ہے اور نماز اس کی اور مقتدیوں سب کی سخت مکروہ ہوتی ہے ورنہ تانبے یااوردھات کی ہوں توبہتر یہ کہ نماز پڑھتے میں اتارلے ورنہ یہ خلاف اولی اور کراہت سے خالی نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۹۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے در و محراب میں نماز پڑھنا وپڑھانا جائز ہے یانہیں اوراکثر آگے در کے چبوترہ یالکڑی کی مثل چوکی کے بناکر اس پرنمازپڑھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم در کے باہرنمازپڑھتے ہیں اور بعض در ایسے ہیں کہ کچھ دروازہ ان کاعمارت میں نکال دیاگیاہے اور کہتے ہیں کہ یہ در بیچ کاآگے کو ان دونوں دروں سے نکال دیاگیاہے تب ان صورتوں میں کیاحکم ہے
الجواب :
اصل حکم یہ ہے کہ تنہا ایك شخص کہ نہ امام ہے نہ مقتدی بلکہ اپنی نمازجداپڑھ رہاہے اسے درمیں کھڑے
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۴ / ۷۸۰
#11542 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
ہوکراپنی نمازپرھنے میں حرج نہیں ہے اور مقتدی کودرمیں کھڑاہونا ممنوع ہے مگربضرورت کہ جگہ نہیں ہے یامثلا مینہ برس رہاہے صحیح حدیث میں ہے :
کمانتقی ھذا علی عھد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
ہم اس عمل سے حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات میں بچاکرتے تھے(ت)
کما بیناہ فی فتاوینا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اسے بیان کیاہے۔ ت) یہ حکم منفرد مقتدی کے لئے تھا رہا امام اس کے لئے ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے کہ در میں کھڑے ہونامکروہ ہے تاتارخانیہ و ردالمحتار میں امام سے ہے :
انی اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین ۔
میں امام کے ستونوں کے درمیان کھڑاہونے کومکروہ سمجھتاہوں ۔ (ت)
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمل خلاف امت ہے کما فی المعراج وغیرہ (جیسا کہ معراج وغیرہ میں ہے۔ ت) اور دوسرے یہ کہ امام ومقتدی کادرجہ بدل گیا اگرامام ایك درجہ میں تنہا ہے اور مقتدی دوسرے درجے میں ہے تویہ مکروہ ہے کمانص علیہ القھستانی فی شرح النقایۃ (جیسا کہ قہستانی نے شرح نقایہ میں اس پرنص وارد کی ہے۔ ت) در کاآس پاس کے دروں سے آگے نکلاہونا اس سے کراہت کادفع نہیں ہوسکتا البتہ امام درکے باہرکھڑا ہو اورسجدہ درکے اندرکرے تووہ کراہت جاتی رہے گی کہ اب امام ومقتدی ایك ہی درجہ میں ہیں لان العبرۃ للقدم کما نصواعلیہ (کیونکہ اعتبار قدم کاہے جیسا کہ اس پرفقہا نے تصریح کی ہے۔ ت) مگر اب غالب مساجد میں ایك اور کراہت پیش آئے گی وہ یہ ہے کہ اگلے درجے کی کرسی صحن سے بلند ہوتی ہے توکھڑا ہوانیچے اور سجدہ بلندی پرکیایہ بلندی اگردوخشت بخارا یعنی ۱۲ انگل یعنی پاؤگز کی قدرہوئی جب تونماز ہی نہ ہوگی کما نص علیہ فی الدر المختار (جیسا کہ درمختارمیں اس پرنص وارد کی گئی ہے۔ ت)اور اگر اس سے کم ہوئی جب بھی کراہت سے خالی نہیں لہذا اس کاعلاج یہ ہے کہ در کی کرسی اس قدر جس میں امام سجدہ کرسکے زمین کاٹ کر صحن کے برابر کردی جائے اب امام در کے باہر کھڑا ہو اور اس کٹی ہوئی زمین میں سجدہ کرے سب کراہتیں جاتی رہیں اور وہ جو چوکی رکھ دیتے ہیں یالکڑی وغیرہ کاچبوترہ بنادیتے ہیں اس سے اگرچہ
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب الصفوف بین السواری ، مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۸
ردالمحتار باب مکروہات الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۸
درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲
#11543 · باب مکروھات الصّلٰوۃ (مکروہات نماز کا بیان)
دو۲کراہتیں جاتی رہیں کہ اب نہ امام درمیں ہے نہ اس کاسجدہ پاؤں کی جگہ سے بلند ہے مگرتیسری کراہت اور عارض ہوئی کہ امام کومقتدیوں سے بببلندجگہ بقدرامتیاز کھڑاہونا بھی مکروہ ہے کما فی الدرالمختار وھو الاصح المختار (جیسا کہ در مختار میں ہے اور یہ اصح و مختارہے۔ ت) اور مشابہت یہود ہے اور حدیث میں فرمایا :
لاتشبھوا بالیھود وقد قالوا انھم یقیمون امامھم علی دکان ممتازا عمن خلفہ۔
یہودکے ساتھ مشابہت نہ کرو اور منقول ہےکہ یہود اپنے ائمہ کو بلند جگہ کھڑاکرتے تھے تاکہ وہ مقتدیوں سے ممتازہو جائے۔ (ت) توچارہ کاروہی ہے جواوپربتایاگیا۔ واﷲ تعالی اعلم
___________________
حوالہ / References جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہیۃ اشارۃ الید فی السلام مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۲ / ۹۴
#11544 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مسئلہ ۱۰۰۰ : ازجبل پور قریب مسجد کوتوالی مرسلہ مولنا مولوی شاہ محمد عبدالسلام صاحب قادری برکاتی ۶جمادی الاخری ۱۳۲۰ھ
اما بعد مایقول سیدنا وسندنا ومولنا ومرشدنا والذخرلیومنا وغدنا و وسیلتنا وبرکتنا فی الدنیا والدین ایۃ من ایات اﷲ رب العلمین نعمۃ اﷲ علی المسلمین اعلم العلماء المتبحرین افضل الفضلاء المتصدرین تاج المحققین سراج المدققین مالك ازمۃ الفتاوی و المفتین ذوالمقامات الفاخرۃ والکمالات الزاھرہ الباھرۃ صاحب الحجۃ القاھرۃ مجدد المائۃ الحاضرۃ العلامۃ الاجل الابجل حلال عقدۃ مالاینحل بحرالعلوم کاشف السر المکتوم صدرالشریعۃ محی السنۃ المحدث
حمدوصلوۃ کے بعد کیافرماتے ہیں ہمارے سربراہ وآقا مرشد ہمارے آج اور کل کے لئے ذخیرہ دنیاوآخرت میں ہمارے وسیلہ اﷲ رب العالمین کی نشانیوں میں سے ایك نشانی مسلمانوں پر اﷲ کی نعمت متبحرعلماء سے زیادہ صاحب علم فضلاء سے افضل تاج المحققین سراج المدققین فتاوی اور اصحاب فتاوی کے شیخ صاحب مقامات کاملہ اور کمالات زاہرہ و باہرہ صاحب حجت قاہرہ مجددمائۃ حاضرہ علامہ اجل وابجل نہ کھلنے والے عقدوں کوکھولنے والے علوم کے سمندر مخفی رازوں کے واضح کرنے والے صدرالشریعۃ سنت کوزندہ کرنے والے عظیم محدث و
#11545 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
الفقیہ العدیم النظیر النحریر لازالت لوامع افکارہ توضح غوامض المشکلات وانواراسرارہ تحل المعضلات فی ھذالمرام۔
سوال اول : امام راتب اگرمحراب راگزاشتہ درمسجد یادرصحن بأزائے وسط قیام نماید آیا ایں ترك مقام معین ومقام درغیرمحراب مکروہ باشد یانہ برتقدیراول انچہ درکتاب مستطاب ردالمحتار درباب الامامۃ مذکورست والظاھر ان ھذا فی الامام الراتب لجماعۃ کثیرۃ لئلا یلزم عدم قیامہ فی الوسط فلولم یلزم ذلك لایکرہ فما لمراد منہ وبرتقدیر ثانی آنچہ درہماں کتاب درمکروہات الصلوۃ مسطوراست ومقتضاہ ان الامام لوترك المحراب وقام فی غیرہ یکرہ ولوکان قیامہ وسط الصف لانہ خلاف عمل الامۃ وھوظاھر فی الامام الراتب دون غیرہ والمنفرد الخ فمالمستفاد عنہ ازعبارت اولی مفہوم می شود کہ ترك محراب سبب کراہت نیست بلکہ لزوم عدم قیام فی الوسط باعث کراہت است پس اگرامام راتب ہم ترك محراب نمودہ درغیرمحراب بمحاذات وسط صف فقیہ جن کی مثالیں نہیں آپ کے افکار عالیہ ہمیشہ نہایت ہی مشکل پیچیدگیوں کوواضح کرتے رہیں اور آپ کے اسرار کے نور اس مقصد کی مشکلات روشن کرتے رہیں ۔
سوال اول : مقررہ امام اگرمحراب چھوڑکرمسجد یاصحن مسجد محراب کے مقابل درمیان میں کھڑاہوا توکیامقام مقررہ کاچھوڑنامکروہ ہے یانہیں اگرمکروہ ہے توردالمحتارکے باب الامامت کی اس عبارت کہ “ ظاہریہ ہے کہ یہ اس امام مقرر کے لئے ہے جوجماعت کثیرہ کاہو تاکہ اس کاوسط میں کھڑانہ ہونالازم آئے اور اگر ایسی صورت نہیں توکراہت نہیں “ کاکیامعنی ہوگا اور مکروہ نہیں تو اس کتاب کے باب مکروہات نمازمیں تحریرہے “ اور اس کاتقاضایہ ہے کہ اگرامام نے محراب چھوڑدیا اور دوسری جگہ کھڑاہوگیا تومکروہ ہے اگرچہ اس کاقیام صف کے درمیان میں ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس کایہ عمل امت کے عمل کے خلاف ہے اور یہ بات مقررہ امام میں واضح ہے مگرغیرمقرر امام اور منفرد میں نہیں “ تواس کا مفہوم کیاہوگا پہلی عبارت سے یہ سمجھ آرہاہے کہ ترك محراب کراہت کاسبب نہیں بلکہ وسط میں کھڑانہ ہونا سبب کراہت ہے لہذا اگرمقررامام بھی محراب ترك کردے اور کسی اورمقام پر اس کے محاذات میں صف کے درمیان
حوالہ / References ردالمحتار مطلب فی کراہۃ قیام الامام فی غیرالمحراب مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۵۶۸
ردالمحتار مطلب اذاتردد الحکم بین سنۃ وبدعت مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۶۴۶
#11546 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
قیام نماید درمسجد باشد یادرصحن مسجد باجماعت قلیل کہ ازوعدم محاذات وسط صف لازم نیاید مکروہ نباشد وازعبارت اخری مستفاد می شود کہ امام راتب را ترك محراب و قیام در غیرمحراب مطلقا اگرچہ بأزائے وسط صف باشد وبہرکجاکہ بود اندرون مسجد یابیرون مسجد درصحن وغیرہ مکروہ باشد لانہ خلاف عمل الامۃ وظاھرھما یدل علی التضارب و التنافی بینھما فکیف التطبیق۔
سوال دوم : قیام امام درمحراب بطوریکہ مصرح فقہائے کرام رحمۃ اللہ تعالی علیہ است یعنی قیامہ خارجہ وسجودہ فیہ چہ حکم دارد مباح یا سنت امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ درجامع صغیر می فرمایند عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی لاباس ان یکون مقام الامام فی المسجد وسجودہ فی الطاق ویکرہ ان یقوم فی الطاق ھ وھکذا فی الھدایۃ و در کتاب الآثار می نویسند و اما نحن فلانری باسا ان یقوم بحیال الطاق مالم یدخل فیہ اذاکان مقامہ خارجا منہ و سجودہ فیہ وھو قول ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ علیہ فیفھم من ھذہ العبارات کھڑا ہوخواہ مسجد کے اندر ہویاصحن مسجد میں یاجماعت قلیل ہوتاکہ وسط صف کی عدم محاذات لازم نہ آئے تویہاں کراہت نہ ہوگی اور دوسری عبارت سے پتاچلتاہے کہ مقررامام کامحراب کوترك کرکے غیرمحراب میں کھڑاہونا خواہ صف کے وسط میں ہو اندرون مسجد یاصحن مسجد میں ہرجگہ مکروہ ہے کیونکہ یہ عمل امت کے خلاف ہے اور ان دونوں عبارات میں بظاہر تعارض ومنافات ہے ان میں تطبیق کیسے ہوگی
سوال دوم : امام کامحراب میں اس طرح کھڑا ہ ہونا جو فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی نے بیان کیاہے یعنی خود خارج میں کھڑا ہو اور سجدہ محراب میں کرے کیاحکم رکھتاہے مباح یاسنت امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جامع صغیر میں فرمایا کہ امام یعقوب نے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے نقل کیا ہے کہ امام کامسجد میں کھڑا ہوکر محراب میں سجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ محراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے ۱ھ اور ہدایہ میں بھی اسی طرح ہے اور کتاب الآثار میں امام محمد لکھتے ہیں کہ رہا معاملہ ہمارا تواگرامام محراب کے گوشے میں کھڑا ہوبشرطیکہ اس میں داخل نہ ہو اور اس کی قیام گاہ اس سے باہر ہو اور سجدہ اس کے اندرہو توہمارے نزدیك کوئی حرج نہیں اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کابھی ے ہی موقف ہے ان تمام عبارات سے
حوالہ / References الجامع الصغیر باب فی الامام این یستحب لہ ان یقوم الخ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ص۱۱
کتاب الآثار باب الصلوٰۃ فی الطاق مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ص۲۱
#11547 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
الاذن والرخصۃ فیہ
وازاکثر کتب معتمدہ فقہیہ ہم جوازمطلق مفہوم می شود کہ عبارات متون و شروح معتبرہ مشہورہ یکرہ قیام الامام فی الطاق ولایکرہ سجودہ فی الطاق اذاکان قائما خارجا المحراب ھ ملخصا عینی کنز لاسجود فیہ وقدماہ خارج الخ مختصرا درمختار لایکرہ ان قام الامام فی المسجد وسجد فی الطاق الخ مختصرا قھستانی وغیرھا من العبارات المتقاربۃ لھا مشعر ہمیں معنی خواہند شد ازا یں تصریحات معلوم می شودکہ قیام امام در محراب بطور مذکور مباح وجائز ست نہ کہ سنت ومندوب پس ازطرف محراب وقیام در غیر آں ہیچ کراہتے لازم نا نیاید اما علامہ محقق شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ در ردالمحتار از معراج الداریہ و مبسوط نقل می فرمایند : السنۃ ان یقوم فی المحراب لیعتدل الطرفان ولو قام فی احد جانبی الصف یکرہ الخ ایضا السنۃ ان یقوم الامام ازاء وسط الصف الاتری
یہی محسوس ہوتاہے کہ اس میں اجازت ورخصت ہے
اور اکثر کتب فقہ جومعتمد ہیں ان سے بھی مطلق جوازمفہوم ہوتاہے کیونکہ مشہورمتون اور شروحات میں درج ہے کہ امام کامحراب میں کھڑا ہونا مکروہ ہے مگرمحراب میں سجدہ کرنا مکروہ نہیں جبکہ وہ خارج محراب کھڑاہو۱ھ تلخیصا عینی کنز محراب میں اس کاسجدہ مکروہ نہیں جبکہ اس کے قدم محراب سے خارج ہوں الخ اختصارا درمختار میں ہے اگرامام مسجد میں کھڑا ہو اور سجدہ محراب میں ہو توکراہت نہیں الخ اختصارا قہستانی اور دیگرکتب میں ایسی ہی قریب المعنی عبارات ہیں جن سے یہی معنی مترشح ہوتاہے ان تمام تصریحات سے معلوم ہورہاہے کہ امام کامحراب میں مذکورہ طریقہ پرکھڑا ہونا جائزومباح ہے سنت ومندوب نہیں لہذا محراب کاترك اور دوسری جگہ کھڑے ہونے سے کراہت لازم نہیں آتی۔ لیکن علامہ محقق شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ردالمحتار میں معراج الدرایہ اور مبسوط سے نقل کیا کہ امام کا محراب میں کھڑا ہونا سنت ہے تاکہ دونوں اطراف میں اعتدال ہوجائے اگر کسی ایك جانب کھڑا ہواتو کراہت ہوگی الخ
وہاں یہ بھی ہے امام کا وسط صف کے مقابل کھڑاہونا سنت ہے کیا آپ نے
حوالہ / References عینی علی الکنز باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۳
درمختار باب مایفسدفی الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲
جامع الرموز للقہستانی فصل مایفسدفی الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ / ۱۹۴
#11548 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
ان المحاریب مانصبت الاوسط المساجد وھی عینت لمقام الامام ایضا والاصح ماروی عن ابی حنیفۃ انہ قال اکرہ ان یقوم بین الساریتین اوفی زاویۃ اوفی ناحیۃ المسجد اوالی ساریۃ لانہ خلاف عمل الامۃ قال علیہ الصلوۃ و السلام توسطوا الامام الخ واز تاتارخانیہ می آرند ویکرہ ان یقوم فی غیرالمحراب الابضرورۃ ونیز می فرمایند یفھم من قولہ او الی ساریۃ کراھۃ قیام الامام فی غیرالمحراب ویؤیدہ قولہ قبلہ السنۃ ان یقوم فی المحراب وکذا قولہ فی موضع اخر والسنۃ ان یقوم الامام ازاء وسط الصف الی اخر ماھو المنقول والمذکور فیہ کل ذلك یدل علی ان السنۃ للامام ان یقوم فی المحراب ویکرہ ان یقوم فی غیرہ فما صورۃ التطبیق بین ھذہ الاقوال المختلفۃ او الترجیح لواحد علی وجہ یتبین بہ الصواب والحکم الصحیح آیا امام راتب
نہیں دیکھا کہ محرابیں مساجد کے درمیان بنائی جاتی ہیں جوامام کے مقام کابھی تعین کردیتی ہیں اور اصح قول جو امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ میں امام کادو ستونوں کے درمیان یازاویہ یامسجد کے گوشے یا ستون کی طرف کھڑا ہونے کوناپسند کرتاہوں کیونکہ یہ عمل امت کے خلاف ہے۔ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : امام کودرمیان میں کھڑا کرو۔ تاتارخانیہ میں ہے کہ امام کاضرورت کے بغیر محراب میں کھڑاہونا مکروہ ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ امام صاحب کے “ یاستون کی طرف “ سے معلوم ہوتاہے کہ غیرمحراب میں امام کاقیام مکروہ ہے اس کی تائید اس پہلے قول سے ہوتی ہے کہ محراب میں کھڑا ہونا سنت ہے اسی طرح دوسرے مقام پرہے کہ سنت یہ ہے کہ امام وسط صف کے مقابل کھڑاہو اس بارے میں جوکچھ منقول ومذکور ہے وہ تمام اس پردال ہے کہ امام کامحراب میں کھڑا ہوناسنت ہے اور غیرمحراب میں قیام مکروہ ہے تو اب ان مختلف اقوال میں تطبیق کیسے ہوگی یا ان میں سے کسی ایك کوترجیح کیسے دی جائے تاکہ درست رائے اور حکم صحیح واضح ومتعین ہوجائے کیاامام کا
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۶۸
ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۴۶
ردالمحتار مطلب فی کراہۃ قیام الامام فی غیرالمحراب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۶۸
ردالمحتار مطلب فی کراہۃ قیام الامام فی غیرالمحراب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۶۸
#11549 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
راقیام درصحن مسجد بمحاذاۃ محراب درصف کماھو المتعاد فی دیارنا براعتبار فرق مسجد صیفی و شتوی جائز داشتہ شدہ یابوجہے دیگر فالمسؤل من الحضرۃ العلیۃ البھیۃ السنیۃ الرضیۃ المطھرۃ القدسیۃ ان نستفیض بتحقیق المقام وتوضیح المرام بحیث ینکشف بہ المشکل و ینحل بہ المعضل فتطمئن بہ الاوھام۔
محراب کے محاذی صحن مسجد میں قیام جیسا کہ ہمارے علاقے میں متعارف ہے بنابراعتبار مسجد صیفی و شتوی جائز ہے یاکوئی اور صورت ہے اس بارگاہ میں سوال ہے جوبلند اعلی محبوب پاکیزہ ومقدسہ ہے کہ ہمیں اس مقام کی ایسی تحقیق اور مقصد کی وضاحت عطافرمائے جس سے مشکل حل ہوجائے اور ذہن مطمئن ہوجائیں ۔ (ت)
بینواتوجروا۔ فقیر حقیر مستہام غلام تراب الاقدام اذل خدام الحضور عالی مقام احقرالطلبہ محمدعبدالسلام سنی حنفی قادری جبلپوری عفی عنہ۔
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ امابعد برضمیر منیرہدی تخمیر مولنا الفاضل الکامل العالم العامل التقی النقی الحفی الوفی الصفی الزکی الذکی السنی السنی الجمیل الجلیل المولوی الشاہ محمدعبدالسلام القادری البرکاتی السنی الحنفی سلمہ اﷲتعالی بالعز والاکرام و السلامۃ والسلام وحمایۃ الاسلام وجعلناہ و ایاہ دارالسلام آمین آمین یاذالجلال والاکرام
مستترنیست کہ مسئلہ مرسلہ سامی برچارسوال اشتمال دارد یکے نفی تنافی ازدوعبارت علامہ شامی کہ جائے مبنائے کراہت درحق امام عدم توسط صف راداشتہ است نہ ترك محراب راتاآنکہ اگر میانہ صف ایستد کراہت نبود اگرچہ ترك محراب گوید ودگرجانفس ترکش راتاآنکہ اگردرغیرمحراب ایستد کراہت باشد گومیانہ صف باش دوم دفع
بسم اللہ الرحمن الر حیم ہم اس کی حمد بجالاتے ہیں اور اس کے رسول کریم کی خدمت میں صلوۃ وسلام عرض کرتے ہیں حمدوصلوۃ کے بعد اے روشن ضمیر سراپاہدایت مولنا الفاضل الکامل العالم العامل تقی نقی لائق تام پاکیزہ ستھرا سنی قیمتی جمیل بزرگ اﷲتعالی ان کوعزت و اکرام سے زندہ رکھے ہمیں اور ان کو جنت میں داخل کرے یاذالجلال والاکرام آمین! ارسال کردہ مبارك مسئلہ چارسوالات پرمشتمل ہے ایك یہ ہے کہ علامہ شامی کی دوعبارات میں منافات کی نفی مقصود ہے کہ ایك جگہ امام کے صف میں عدم توسط کو علت کراہت قراردیاہے نہ کہ ترك محراب کو حتی کہ اگرامام صف کے درمیان کھڑا ہوجاتاہے اگرچہ محراب میں نہیں تواب کراہت نہ ہوگی دوسرے مقام پر ترك محراب کومکروہ کہاہے حتی کہ اگرامام محراب چھوڑ کر
#11550 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
تدافع ازتنصیصات متون وغیرہا کہ قیام درنفس محراب رامکروہ فرمودہ اندوبازائے اواستادن راچنانکہ سجدہ درمحراب افتد بہ لفظ لابا س بہ کہ مفید مجرد اباحت عاری ازفضیلت بلکہ درغالب اطلاق مشعر بکراہت است تعبیرنمودہ وتصریحات مبسوط امام خواہرزادہ ومعراج الدرایہ وتاتارخانیہ وغیرہا کہ قیام امام درمحراب سنت است وترکش موجب کراہت واسائت سوم آنکہ امام راتب راترك محراب باوصف توسط صف درمسجد صیفی خواہ شتوی مکروہ باشد یاخیر چہارم آنکہ امام رابازائے محراب ایستادن چنانکہ سجدہ درون طاق باشد سنت ووجہ فضیلت ست یامحض مباح دوسوال پیشیں متشابہ و متماثل ست عبارت اول شامی کہ ترك محراب را وجہ ایراث کراہت نداشت بانصوص متون موافق می آید کہ قیام بازائے محراب را لاباس بہ گفتند پیداست کہ ترك مباح کراہتے ندارد وعبارت دومش باقوال مبسوط ومامعہ مشایعت نماید کہ قیام فی المحراب چوں مسنون ست نفس ترکش ہرآئینہ مکروہ و زبون ست و سوال سوم نیزاز ہمیں مناشی ناشی آمدہ کہ اونیزاز کراہت وعدم کراہت ترك محراب مستحسن می راند واگرنیکوبنگرند سوال چہارم نیزاز ہمیں گریبان سربرزدہ زیراکہ چونکہ بتصریحات ائمہ مذہب قیام درنفس طاق مکروہ است لاجرم آنجاکہ حکم فضیلت ۔
دوسری جگہ کھڑا ہوا تو یہ مکروہ ہے خواہ وہ درمیان صف ہی کھڑا ہوا ہو دوم متون وغیرہ کی نصوص کے درمیان اختلاف کاتدافع ہے کہ بعض میں ہے کہ محراب میں قیام مکروہ ہے اور اس کے سامنے کھڑاہونا اور سجدہ محراب میں کرنے کی صورت کو “ اس میں کوئی حرج نہیں “ کے الفاظ سے تعبیر کیاہے جو اس بات پردال ہے کہ یہ مباح ہے اور فضیلت سے عاری ہے بلکہ اغلب طورپر ان کااطلاق کراہت پرہوتاہے دوسرے متون مثلا مبسوط امام خواہرزادہ معراج الدرایہ اور تاتارخانیہ وغیرہ میں ہے کہ امام کامحراب میں کھڑاہونا سنت ہے اور اس کاترك کراہت واسائت کاموجب ہے۔ تیسرے یہ کہ امام مقررہ کا محراب کوچھوڑنا خواہ مسجد صیفی ہو یاشتوی اگرچہ وہ صف کے درمیان ہی کھڑا ہو مکروہ ہے یانہیں چہارم یہ کہ امام کامحراب کے سامنے اس طرح کھڑاہونا کہ سجدہ محراب کے اندر ہو سنت اور سب فضیلت ہے یاصرف مباح پہلے دونوں سوالات ایك دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔ امام شامی کی پہلی عبارت کہ امام کاترك محراب مکروہ نہیں ان نصوص متون کے موافق ہے کہ امام کامقابل محراب کھڑاہونے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ترك مباح میں کراہت نہیں ہوتی دوسری عبارت شامی کی مبسوط وغیرہ کتب کے مناسب وموافق ہے کہ جب امام کامحراب میں کھڑا ہونا مستون ہے تو اس کاترك بہرطور مکروہ ہوگا۔ تیسراسوال بھی اسی تشابہ کی بناپر پیداہوا کہ ترك محراب کی کراہت وعدم کراہت ہے یانہیں اگر
#11551 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
یاسلب کراہت کنند مرادنباشد مگرقیام بازائے اوقریبا پس سوال ازدوشق فضیلت و اباحت محضہ راجح شود بتخالف مافی المتون والمبسوط پس گرہے کہ ایں جاباید کشود ہمین ست کہ معنی قیام فی المحراب و حکمش درحق امام ازکراہت واباحت واستحباب چیست وہرچہ منقح شود درکلمات کرام ایں چہ تنافی ست۔
فقیرگوید یغفراﷲ لہ اما دفع تدافع میاں حکم سنیت وتعبیر بلاباس بہ بنظر ظاہرخود آسان ست کلمہ لاباس گاہے برائے دفع توہم باس آیدگوآں کارخودسنت بلکہ واجب باش قال اﷲ تعالی ان الصفا و المروة من شعآىر الله-فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیه ان یطوف بهما- عروہ بن الزبیر رضی اللہ تعالی عنہم ا خالہ اش ام المومنین محبوبہ محبوب رب العلمین عائشہ صدیقہ بنت الصدیق صلی اﷲتعالی علی بعلہا الکریم
اسے مستحسن جانتے ہیں توچوتھا سوال اسی سے جنم لے گاکیونکہ جب ائمہ مذہب کی تصریحات ہیں کہ محراب میں کھڑاہونا مکروہ ہے تواب ہرصورت فضیلت یا عدم کراہت کاحکم نہیں ہوسکتا مگراس صورت میں جب قیام محراب کے مقابل ہو پس ان دوشقوں کی وجہ سے فضیلت واباحت محضہ کاسوال متون اور مبسوط میں تخالف وتضاد کی طرف راجح ہوگیا یہاں اس بات کاجانناضروری ہے کہ امام کامحراب میں کھڑے ہونے کامعنی ومفہوم کیاہے امام کے حق میں
اس کاکیاحکم ہے مکروہ مباح یامستحب ہے جب ان بزرگوں کے کلمات سے یہ واضح ہوجائے گا تو(پھردیکھنا ہے کہ) منافات کیاہے!
فقیر (اﷲ تعالی اسے معاف کرے) کہتاہے کہ اسے سنت قراردینا اور “ اس میں کوئی حرج نہیں “ کہنا اس پرمنافات کادورکرنا نہایت ہی آسان ہے کیونکہ “ لاباس بہ “ کے کلمات میں دفع وہم کے لئے بھی آجاتے ہیں اگرچہ وہ کام سنت بلکہ واجب بھی ہو۔ اﷲ تعالی کاارشادگرامی ہے : “ صفاومروہ اﷲتعالی کی نشانیوں میں سے ہیں پس جوبیت اﷲ کاحج کرے یاعمرہ کرے اس پرکوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کاطواف کرے۔ “ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہم ا نے اپنی خالہ ام المومنین محبوبہ محبوب رب العلمین حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیق(اﷲتعالی ان کے
حوالہ / References القرآن ۲ / ۱۵۸
#11552 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
و ابیہاوعلیہا وسلم الکریم راازیں آیت پرسید وگفت
فواﷲ ماعلی احد جناح ان لایطوف بالصفا والمروۃ ام المؤمنین فرمود بئس ماقلت یابن اخی ان ھذہ لوکانت کما اولتھا علیہ کانت لاجناح علیہ ان لایطوف بھما ولکنھا انزلت فی الانصار کانواقبل ان یسلموا یھلون لمناۃ الطاغیۃ التی کانوا یعبدونھا عندالمشلل فکان من اھل یتحرج ان یطوف بالصفا و المروۃ فلما اسلموا سئلوا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن ذلك قالوا یارسول اﷲ اناکنا نتحرج ان نطوف بین الصفا والمروۃ فانزل اﷲ تعالی ان الصفا والمروۃ من شعائراﷲ الایۃ وقدسن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الطواف بینھما فلیس لاحد ان یترك الطواف بینھما
نظر کردنی ست ام المومنین چساں نفی حرج رابردفع توہم حرج فرودآورد وہم عروہ رایك دم دلیل ساطع ردکرد کہ اگرچناں بودے لاجناح علیہ ان لایطوف بودے
مبارك خاوند ان کے والدگرامی خود ان کی ذات پررحمت وسلام نازل فرمائے) سے اس آیت مبارکہ کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا اﷲ کی قسم صفاومروہ کاطواف نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں تو ام المومنین نے فرمایا اے بھتیجے! تونے بہترقول نہیں کیااگر اس کامعنی یہی ہوتا جوتونے کیاہے تو اس کے الفاظ یوں ہوتے “ نہیں گناہ اس پراگروہ ان کا طواف نہ کرے “ لیکن یہ توانصار کے بارے میں نازل ہوئی جواسلام سے پہلے مقام مشلل میں “ مناۃ “ کی عبادت کیاکرتے تھے تو ان میں سے جوشخص حج کے لئے آتاوہ صفا ومروہ کے طواف میں حرج محسوس کرتاجب انصار اسلام لائے توانہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہم صفاومروہ کے طواف میں حرج محسوس کرتے ہیں تو اﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ “ صفاومروہ اﷲ کی نشانیاں ہیں “ (الآیۃ) تورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی نے صفاومروہ کے درمیان طواف کوسنت قراردیا تواب کوئی ان کے طواف کوترك نہیں کرسکتا۔
دیکھا ام المومنین نے نفی حرج کودفع توہم پرچسپاں کرتے ہوئے حضرت عروہ کے وہم کو واضح دلیل سے رد کردیا اور کہا اگرمعاملہ ایسے ہوتا توالفاظ یہ ہوتے “ نہیں گناہ اس پرکہ ان دونوں کاطواف نہ کرے “ “ ان کاطواف کرے “ کے الفاظ
حوالہ / References صحیح البخاری باب وجوب الصفا والمروۃ وجعل من شعائر اﷲ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۲
#11553 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
نہ ان یطوف یعنی منافی وجوب نفی حرج از ترك است نہ ازفعل کہ اوخودلازم وجوب است زیرا کہ واجب رادرترك حرج باشد و ثبوت حرج دراں مستلزم انتفائے آں ازفعل است واثبات لازم منافی ثبوت ملزوم نباشد بلکہ مؤکد ومقرر آن است این معنی شریف رابالطف واخصر لفظے ادافرمود ولہذا چوں عروہ ایں حکایت پیش ابوبکر بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام برو ابوبکر گفت ان ھذا لعلم وآیت راسببے دیگرازاہل علم آوردکہ ذکر اﷲ تعالی الطواف بالبیت ولم یذکر الصفا والمروۃ فی القران قالوا یارسول اﷲ کنا نطوف بالصفا والمروۃ وان اﷲ تعالی انزل الطواف بالبیت فلم یذکر الصفا فھل علینا من حرج ان نطوف بالصفا والمروۃ فانزل اﷲ تعالی ان الصفا و المروۃ من شعائر اﷲ الایۃ قال ابوبکر فاسمع ھذہ الایۃ نزلت فی الفریقین الخ رواہ الشیخان ایں دگر نیز از ھماں دادی ست کما لایخفی در ردالمحتار باب ما یکرہ فی الصلوۃ قبیل احکام المسجد
نہ ہوتے یعنی وجوب کے منافی ترك سے حرج کی نفی ہے فعل سے حرج کی نفی منافی نہیں فعل توخود لازم واجب ہے کیونکہ ترك واجب میں حرج ہے اور اس میں ثبوت حرج اس بات کو مستلزم ہے کہ اس فعل کی نفی ہو اور کسی لازم کا اثبات لازم کے ثبوت کے منافی نہیں ہو تا کے منافی نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے مؤکد اور ثابت کرنے والا ہوتاہے اس مبارك معنی کو انہوں نے کتنے احسن اختصار کے ساتھ بیان فرمادیا یہی وجہ ہے کہ جب یہ بات حضرت عروہ نے ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کے سامنے رکھی تو انہوں نے کہا علم یہی ہوتاہے اس آیت کے نزول کاسبب اہل علم نے ایك اور بھی ذکرکیاہے کہ اﷲ تعالی نے قرآن میں بیت اﷲ کے طواف کاذکرکیا مگرصفا ومروہ کے طواف کاذکرنہ کیا توصحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲ ہم صفا ومروہ کاطواف کرتے ہیں حالانکہ اﷲتعالی نے بیت اﷲ کے طواف کاذکر فرمایا اور صفا ومروہ کاذکرنہیں کیا توکیا ہمارا صفا ومروہ کاطواف کرنا صحیح نہیں تو اﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : “ بلاشبہ صفاومروہ اﷲ کی نشانیاں ہیں “ ابوبکر نے کہا اس آیت کو سنو جو دونوں فریقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے الخ (بخاری و مسلم)یہ دوسرا بھی اس (دفع وہم) معاملہ سے تعلق رکھتاہے جیسا کہ واضح ہے۔ ردالمحتار میں احکام مسجد سے تھوڑا سا
حوالہ / References صحیح البخاری باب وجوب الصفاوالمروۃ وجعل من شعائر اﷲ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۲۳
#11554 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
است قدیقال ان لاباس ھنا لدفع مایتوھم ان علیہ باسا فی عدم الاجابۃ نیزدراوائل ادراك الفریضۃ گوید لیس کلمۃ لاباس ھنالخلاف الاولی لان ذلك غیرمطردفیھا بل قدتاتی بمعنی یجب ہم درباب العیدین فرمود کلمۃ لاباس قدتستعمل فی المندوب کما فی البحر من الجنائز والجھاد ومنہ ھذا الموضع اینجانیز زآنرد کہ قیام فی الطاق را مکروہ فرمودہ بودند توہم می شود کہ شایدایں چناں قیام کہ سجدہ درطاق افتدنیز مکروہ باشد دفع ایں التباس رالاباس آوردند۔ اما نفی تنافی ازدوکلام شامی فاقول : محقق سامی علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ درہر دوباب کلام امام امام الکلام وکلمات علمائے رام از مبسوط ودرایہ وتاتارخانیہ آوردہ مقتضایش وانمود کہ قضیہ ایں سخن کراہت ترك محراب است مرامام رامطلقا اگرچہ میانہ صف ایستد ایں اطلاق رابنظراو دوتخصیص بود یکے مستفاد ازحکم
پہلے “ باب مایکرہ فی الصلوۃ “ میں ہے یہ کہا گیا گیا ہے لکہ اس مقام پر “ لا باس “ کا ذکر اس وہم کے ازالے کے لئے کہ یہاں حرج ہے ادراك الفریضہ کی ابتداء میں ہے لاباس کاکلمہ یہاں خلاف اولی کے لئے نہیں ہے کیونکہ اس کایہ معنی غیریقینی ہے بلکہ وہ توبعض اوقات وجوب کامعنی دیتاہے اور باب العیدین میں بھی فرمایا لاباس کاکلمہ مندوب کے لئے بھی استعمال ہوتاہے جیسا کہ بحر کے باب الجنائز اور باب الجہاد میں ہے اور مذکورہ مقام اس کے باب الجہاد سے ہے یہاں بھی فقہاء نے جوطاق میں قیام کرمکروہ فرمایا تو اس سے وہم پیداہوا شاید اس طرح کھڑا ہوکہ سجدہ طاق میں کرنابھی مکروہ ہے لہذا اس کو لاباس کے ساتھ دفع کردیا۔ رہا معاملہ امام شامی کی دو۲ عبارات میں منافات ہونے کا فاقول : (تومیں کہتا ہوں )محقق سامی علامہ شامی نے دونوں مقامات پرامام کی گفتگو جوکلام کی امام ہے اور دیگرفقہاء کرام کی مبسوط درایہ اور تاتارخانیہ کے حوالے سے جوعبارات نقل کی ہیں ان کامقتضی یہ ہے کہ امام کے لئے محراب کاترك ہرحال میں مکروہ ہے خواہ صف کے درمیان ہی میں کھڑا ہو اس کے اطلاق کے لئے ان کی نظر میں دوتخصیصیں
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۸۴
ردالمحتار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۶
ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۲۱
#11555 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
منصوص وآں تخصیص امام غیرراتب ست اے درمسجد محلہ زیراکہ فرق احکام راتب وغیرا وہما نجاست امامساجدالقوارع والجوامع العامۃ وامثالھا فلاراتب لھا وان کان فلافضل لہ علی غیرہ بل الکل فیھا سواء ولذاکانت کل جماعۃ فیھا جماعۃ اولی وکان الافضل فی کل جماعۃ ان تقام باذان واقامۃ جدیدین کما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا وبیناہ فی فتاونا علماء تصریح فرمودہ اند کہ بعد امام راتب اعنی بعد جماعت اولی درمسجد محلہ امام دیگر راباید کہ ازمحراب عدول نماید اقول : ولعل ذلك ابانۃ لشرف الاولی وتنبیھا علی ان من تاخر اخر عن اشرف المقامات وایضا قدتأدی حق المسجد فلایکرر فی صلوۃ مرتین لحدیث لایصلی بعد صلوۃ مثلھا رواہ ابن ابی شیبۃ عن امیر المؤمنین الفاروق الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ من قولہ و ظاھر کلام الامام محمد انہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال المحقق علی الاطلاق فی الفتح
ہیں ایك توحکم منصوص سے مستفاد ہے اور وہ تخصیص غیرمقررہ امام جب محلہ کی مسجد میں ہو کے اعتبار سے ہے کیونکہ مقرر اور غیرمقرر کے درمیان فرق مسجد محلہ ہی کے اعتبار سے ہے رہامعاملہ مساجد شوارع یاعام جامع مسجد کا تو وہاں امام مقرر نہیں ہوتا اور اگرہوبھی تواسے دوسرے پر فضیلت نہیں بلکہ اس میں تمام برابرہیں اسی لئے وہاں کی ہر جماعت جماعت اولی ہوتی ہے اور ہرجماعت میں افضل یہی ہے کہ وہ نئی اذان وتکبیر کے ساتھ ہو اس پرخانیہ وغیرہ میں تصریح ہے کہ مقررامام یعنی جماعت اولی کے بعد مسجد محلہ میں دوسرے امام کومحراب سے عدول کرناچاہئے اقول شاید اس میں پہلی کے شرف کااظہار ہے اور اس پرتنبیہ ہے کہ ہروہ شخص جوجماعت اولی سے مؤخر ہوجاتاہے وہ اعلی مقامات سے بھی مؤخررہ جاتاہے اور یہ بھی ہے کہ مسجد کاحق اداہوگیاتھا لہذا نماز میں دودفعہ تکرار اس حدیث کی بناپر “ مناسب نہیں کہ نماز کے بعد اس کی مثل نہ پڑھی جائے “ ابن ابی شیبہ نے اسے امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کے طورپر نقل کیاہے اور امام محمد کی عبارت سے واضح ہوتاہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاارشاد عالی ہے محقق علی الاطلاق نے فتح میں
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فصل فی المسجد مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۲
مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن الخ کراچی ۲ / ۳۰۲
#11556 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
ومحمد اعلم بذلك منا ھوقد حملہ علی الجماعۃ الثانیۃ الامامان الجلیلان فخر الاسلام وفخرالدین قاضی خاں قال فی البحر فالحاصل ان تکرار الصلوۃ ان کان مع الجماعۃ فی المسجد علی ھیأتہ الاولی فمکروہ الخ وفی ردالمحتار عن الغنیۃ عن البزازیۃ عن ابی یوسف اذالم تکن علی الھیأۃ الاولی لاتکرہ والاتکرہ قال وھوالصحیح وبالعدول عن المحراب تختلف الھیأۃ وفیہ عن التتارخانیۃ عن الولوالجیۃ وبہ ناخذ ایں تخصیص چوں مبنی برتنصیص بودہردوجا اورابیان نمود ودرمکروہات خودسخنے درآں نفرمود بلکہ درآخرش بجملہ فاغتنم ھذہ الفائدۃ لب کشود دوم آنکہ ازحکمت وعلتش استنباط خواست و تحقیقش علی ما اقول : چنانست کہ معہود ومتوارث از زمان برکت توامان حضورسیدالانس والجان وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام قیام امام درمحراب است فاماظاہراین سنت مقصود لعینہا نیست بلکہ لغیرہا واصل سنت توسط امام درصفت است لحکم بالغۃ سیأتیك بیان بعضھا ان شاء اﷲ تعالی ولہذا جائیکہ قیام درمحراب
فرمایاامام محمد ہم سے زیادہ جاننے والے ہیں دوبزرگ امام فخرالاسلام اور فخرالدین قاضی خاں نے اسے دوسری جماعت پرمحمول کیاہے۔ بحر میں ہے حاصل یہ ہے کہ اگرتکرار جماعت محلہ کی مسجد میں پہلی حالت پرہے تومکروہ ہے الخ ردالمحتار میں غنیہ وہاں بزازیہ سے امام ابویوسف کے حوالے سے ہے کہ جب پہلی حالت کے مطابق نہ ہو تو کراہت نہیں ورنہ کراہت ہوگی فرمایا یہی صحیح ہے اور محراب سے عدول کرلینے سے حالت بدل جاتی ہے اور اس میں تاتارخانیہ وہاں والوالجیہ سے ہے کہ ہماراعمل اسی پرہے یہ تخصیص چونکہ دونوں جگہ پرنصوص فقہاء پرمبنی تھی اس لئے اس کی تصریح کردی اور مکروہات میں اس پرخود کچھ نہ فرمایا بلکہ اس کے آخر میں یہ جملہ کہہ دیا “ اس فائدہ کوغنیمت جان لو “ دوسری (تخصیص) اس کی حکمت اور علت سے مستنبط ہوتی ہے اس کی تفصیل میرے نزدیك یہ ہے کہ حضورسیدالانس والجن صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام کی ظاہری حیات سے امام کامحراب میں کھڑا ہوناآرہاہے لیکن ظاہریہی ہے کہ یہ سنت بذاتہ مقصود نہیں بلکہ غیر کی وجہ سے مقصود ہے بلکہ اصل سنت امام کاصف کے درمیان کھڑا ہوناہے ان عظیم حکمتوں کی وجہ سے جن میں سے بعض کاتذکرہ آرہاہے ان شاء اﷲ تعالی لہذا وہ جگہ جہاں محراب
حوالہ / References ردالمحتاربحوالہ فتح القدیر ، باب الوتروالنوافل ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۱۶
بحرالرائق باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۶۲
ردالمحتار مطلب فی کراہیۃ تکرار الجماعۃ فی المسجد مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۹۱
#11557 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
باتوسط صف برطرف افتد اعنی جمع میان ہردو نتواں کردآنجا توسط صف اختیار کنند وقیام محراب راترك دہند مثلا مسجد صیفی درجنب شتوی باشد ومردماں بکثرت گرد آمدند کہ ہردومسجد بصفوف صلوۃ یکے شدآں گاہ راامام راحکم ست کہ محراب گزاشتہ بکناردیوارایستد تامیانہ صفہا باشد فی ردالمحتار عن معراج الدرایۃ عن مبسوط الامام بکر خواھر زادہ السنۃ ان یقوم فی المحراب لیعتدل الطرفان ولوقام فی احدجانبی الصف یکرہ ولو کان المسجد الصیفی بجنب الشتوی وامتلأ المسجد یقوم الامام فی جانب الحائط لیستوی القوم من جانبیہ و الاصح ماروی عن ابی حنیفۃ الی قومہ قال علیہ الصلوۃ والسلام توسطواالامام ۔ پس ایں استدلال بحدیث وآں فرع نفیس خاصہ بعدازاں مقال کہ السنۃ ان یقوم فی المحراب وتعلیلش بآں کہ لیعتدل الطرفان و تعقیبش بقول اوولوقام فی احد جانبی الصف یکرہ ایں ہمہ ہا دلیل روشن است برآنکہ اصل مقصود توسیط امام ست نہ نفس قیام فی المحراب میں کھڑا ہونا اور وسط صف دونوں جمع نہ ہوسکتے ہوں تووہاں امام وسط صف کو اختیار کرے اور محراب میں قیام کوترك کردے مثلا مسجدصیفی شتوی کے پہلو میں ہو اور لوگ کثیر ہوں اور دونوں مساجد کی دوصفیں ایك ہوجائیں توامام کے لئے حکم ہے کہ وہ محراب کوچھوڑ کر دیوار کے پاس کھڑاہوتاکہ صفوں کے درمیان ہوجائے ردالمحتار میں معراج الدرایہ وہاں مبسوط امام بکرخواہرزادہ سے ہے کہ امام کے لئے محراب میں کھڑا ہونا سنت ہے تاکہ دونوں اطراف میں برابری ہوجائے اگرصف کی ایك جا نب کھڑا ہواتویہ مکروہ ہے اور اگرمسجد صیفی شتوی کے پہلو میں ہو مسجد بھرجائے توامام دیوار کی جانب کھڑاہوتاکہ لوگ دونوں طرف برابرہوجائیں اور اصح طورپر امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا امام کودرمیان میں کھڑا کرو پس اس حدیث سے استدلال اور اس پر اس فرع کا ذکرکہ محراب میں کھڑا ہونا سنت ہے اس کی علت یہ تاکہ دونوں اطراف برابرہوجائیں اور اس کے بعد یہ قول ذکرکرنا کہ اگرامام کسی صف کی ایك جانب کھڑا ہوا تو یہ مکروہ ہوگا
یہ تمام کے تمام اس بات پرروشن دلیل ہیں کہ اصل مقصود امام کادرمیان میں کھڑاہونا ہے محراب میں کھڑاہونا مقصودنہیں
حوالہ / References ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۴۲۰
ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۴۲۰
#11558 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
آرے غالب آنست کہ محراب مقام تعادل طرفین ست چوں صف کامل باشد خودظاہر ست وآں گاہ بترك محراب ترك سنت مقصودہ بالفعل نقدوقت ست ورنہ درعامہ مساجد استکمال صف بہ پس آیند گاں مرجوو متوقع می باشد وزیادتش بنہجیکہ توسط موجودازہم باشد پس ترك محراب تعرض بترك سنت ومخالف عمل امت بود واحکام فقہیہ برامور غالبہ انسحاب یابدازیں امرحکم بہ سنیت قیام فی المحراب کردہ اند امااگرمسجد درجائے خامل بعیدازممرومورد باشد کہ ہمیں چندکساں دروحاضراندوآں بقدر زیادت اصلا متوقع نیست آں جااگرامام راتب درگوشہ ازمسجد میانہ صف موجودایستد ظاہرمخالف سنت نباشد زیراکہ سنت قولیہ وسطواالامام خوداداشد وسنت فعلیہ مبتنی برہمیں حکمت بودواین جاازعدم توقع زیادت مذکورخودرابمعرض مخالفت افگندن لازم نیست وفعل متوارث اززمان اقدس درمسجدے ست ازابشہر واعمر مساجد بود ہمچو مسجدے خامل رابرآں قیاس نتواں کردوکراہت حکم شرعی ست بے دلیل شرعی رنگ ثبوت نیابد پس ظاھرا ایں صورت نادرترباشد این مطمح نظر علامہ شامی و ایں جملہ مطالب راباوجزکلام
ہاں اغلب یہی ہے کہ محراب ایسی جگہ ہوتاہے جہاں دونوں جانبوں میں برابری ہوتی ہے۔ جب صف مکمل ہو توخود ظاہر ہے کہ اس وقت محراب کوچھوڑنا موقعہ پر سنت مقصودہ کوترك کرنا یعنی وسط کاترك لازم آئے گا ورنہ عام مساجد میں بعد میں آنے والے حضرات سے صف کامکمل ہونا متوقع ہوتاہے اور صف سے زائد بھی ہوسکتے ہیں لیکن توسط موجود ہونے پرکوئی حرج نہیں پس ا س صورت میں محراب کوترك کرنا سنت کاترك اور امت کی مخالفت ہوگی۔ اور احکام فقہیہ اکثرطورپر امورغالبہ پرجاری کئے جاتے ہیں اسی وجہ سے امام کے محراب میں کھڑے ہونے کوسنت قراردیاگیاہے اب اگر بے آباد مسجد ایسی جگہ پرہے جوگزرگاہ اور جائے ورود سے دور ہے اس میں چندلوگ اکٹھے ہیں اب اس سے زیادہ افراد کی توقع بھی نہیں توامام اس مسجد کے کسی کونے میں موجود صف کے درمیان کھڑاہوسکتاہے اورظاہریہی ہے کہ یہ سنت کے خلاف نہیں کیونکہ سنت قولیہ “ امام کودرمیان میں کھڑا کرو “ پرعمل ہورہاہے اور سنت فعلیہ بھی اسی حکمت پر مبنی ہے اور اس جگہ زیادہ کی عدم توقع سے مخالفت میں ڈالنا لازم نہیں آتا اور آپ کی ظاہری حیات سے جومعمول چلاآرہاہے وہ مشہور اور آباد مسجد میں ہے اس طرح کی گمنام مسجد کو اس پرقیاس نہیں کیاجاسکتا کراہت حکم شرعی ہے جوکسی شرعی دلیل کے بغیر ثابت نہیں ہوسکتی تو ایسی صورت کا ظہورنادرترہے علامہ شامی کامطمح نظریہی ہے اور ان تمام مطالب کو انہوں نے نہایت ہی اختصار
#11559 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
دریں دولفظ ادافرمود والظاھران ھذا فی الامام الراتب لجماعۃ کثیرۃ فمعنی قولہ الامام الراتب ای امام الجماعۃ الاولی دون الثانیۃ وھوفی مسجد المحلۃ ظاھر وفی غیرہ کل امام لان جمیع جماعاتہ اولی فالکل فی حکم الراتب فی مسجد المحلۃ ومعنی قولہ لجماعۃ کثیرۃ ای واقعۃ اومتوقعۃ وکذا قولہ لئلا یلزم ای حالااومالاظناواحتمالا ھذا مایعطیہ الفقہ فی تفسیر کلامہ وتبیین مرامہ واﷲ تعالی اعلم باحکامہ
لکن ازانجا کہ برخلاف تخصیص اول اینجا نصے کہ مفید اوباشد بدست نبود باستظہارخودش بودن اوتصریح نمودودرآخرامرتبائل فرمود زیراکہ می تواند کہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام رادرنفس قیام امام راتب فی المحراب حکمتے باشد پس جزم بحکم نتواں نمود کماھو داب العلماء فی ابحاثھم ایں راتنافی نتواں گفت کہ جائے برمنصوص ومفاد پرنصوص اقتصار ورزیدہ وجائے بہ رائے خود استظہار خصوصے وگرنمودہ نظائر ایں ترك و کے ساتھ ان دوالفاظ میں بیان کردیا ہے “ اورظاہر یہی ہے کہ یہ مقرر امام اور جماعت کثیرہ کے لئے ہے “ امام راتب سے مراد پہلی جماعت کاامام ہے دوسری کانہیں اور یہ بات مسجدمحلہ میں ظاہر ہے اس کے علاوہ مسجد میں ہرامام مراد ہے کیونکہ وہاں کی تمام جماعتیں اولی ہیں لہذا وہاں کاہرامام مسجد محلہ کے امام مقرر کے حکم میں ہوگا جماعت کثیرہ سے مراد نفس الامر میں لوگ کثیرموجود ہوں یا ان کی توقع ہو اس طرح کاقول “ تاکہ لازم نہ آئے “ حالا یامآلا ظنا اور احتمالا مراد ہے جوشامی کے کلام کی تفسیرومقصد کی تفصیل کے بارے میں عطا ہوا اﷲ تعالی اپنے احکام کاسب سے زیادہ عالم ہے لیکن اس وجہ سے کہ تخصیص اول کے خلاف اس جگہ کوئی ایسی نص جو انہیں مفید ہوتی ان کے ہاتھ میں نہ تھی تاکہ اپنے اظہار کی صورت میں اس کی تصریح کرتے اور آخر میں “ غورکرو “ فرمایا کیونکہ ہوسکتاہے کہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاں محراب میں امام راتب کے نفس قیام میں کوئی حکمت ہو لہذا اس پرجزما حکم جاری نہیں کیا علماء کا ایسے مقامات میں بحث کایہی طریقہ رہاہے۔ تواسے منافات نہیں کہہ سکتے ایك جگہ پرحکم منصوص اور نصوص سے مستفاد پرمنحصرا ہے اور دوسری جگہ خود اپنی رائے کااظہار ہے اس ترك و
حوالہ / References ردالمحتار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰
#11560 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
اظہارواقتصار واستظہار درکلام شراح ومحشین وخود علامہ شامی بوفوریافتہ می شود فانھم اذا لم یجزموا بمااستظھر والم یتات لھم المشی علیہ وانما یمشون علی المنصوص وینقطعون الیہ ویقفون لدیہ۔
اماتحقیق کلام درتفسیر واحکام محراب وقیام فاقول : وباﷲ التوفیق وبہ الاعتصام حضرت عزہ منزہ ازصورت جلت آلاہ وتوالت نعماؤہ دریں عالم ہرشئے را صورتے دادہ است وہرصورت راحقیقتے شہادت شرع مطہر درغالب احکام مطمح نظرحقیقت شئی راداشت و صورت رانیز مہمل نگزاشت اے بسا احکام کہ تنہا برصورت میرودوگاہے مجموع حقیقت وصورت بہیات اجتماعیہ ملحوظ می شود وکل ذلك جلی عند فضلکم لایخفی علی مثلکم پس چنانکہ مسجدرا حقیقتے ست وآں بقعہ مخصوصہ موقوفہ للصلوۃ مفرزۃ فی جمیع الجہات عن حقوق العباد ست کہ ہیچ بنائے عمارت رادرسنخ ماہیتش مدخلے نیست فی الخانیۃ وفی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الواقعات للامام الصدر الشھید رجل لہ ساحۃ لابناء
اظہاراور اقتصار واستظہار کے متعدد نظائر شارحین ومحشین اور خود علامہ شامی کے ہاں کثرت کے ساتھ موجود ہیں کیونکہ جب تك فقہاء کو اپنی رائے پرجزم نہ ہو وہ اس پرعمل نہیں کرسکتے وہ احکام منصوصہ پرچلتے ہیں انہیں کی طرف انقطاع اوررجوع کرتے ہیں اور انہیں پرگامزن ہوجاتے ہیں ۔
اب رہ گیا معاملہ محراب وقیام کے احکام وتفسیر کا تو اﷲ کی توفیق اور اس کے سہارے سے میں کہتاہوں اس ذات اقدس نے جوصورت سے منزہ ہے اس کی قدرتیں اور نعمتیں مسلسل ہیں اس کائنات میں ہرشی کو اس نے صورت بخشی ہے اور ہرصورت کوایك حقیقت دے رکھی ہے شریعت مطہر کے احکام میں مطمح نظر اغلب طور پرشے کی حقیقت ہے لیکن صورت شئے کوبھی بے فائدہ نہیں چھوڑا بہت دفعہ احکام صورت پرجاری ہوتے ہیں اور بعض اوقات حقیقت وصورت دونوں کے مجموعہ پربحیثیت اجتماعی احکام لاگو ہوتے ہیں فاضل لوگوں کے ہاں یہ نہایت ہی واضح اور آپ جیسے لوگوں سے مخفی نہیں جیسا کہ مسجد کی حقیقت ہے جس سے مراد وہ بقعہ ہے جونماز کے لئے مخصوص ووقف شدہ ہو اور ہرلحاظ سے بندوں کے حقوق سے علیحدہ کیاگیاہو اس کی حقیقت میں عمارت کاکوئی دخل نہیں خانیہ اور ہندیہ میں ذخیرہ سے وہاں امام صدرالشہید کے واقعات کے حوالے سے ہے کہ ایك آدمی کی کھلی جگہ تھی جس میں کوئی
#11561 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
فیہا امر قوما ان یصلوافیھا ابداوامرھم بالصلوۃ مطلقا ونوی الابد صارت الساحۃ مسجدا لومات لایورث عنہ ھ مختصرا درآیہ کریمہ انما یعمر مسجد الله من امن بالله وکریمہ و لا تباشروهن و انتم عكفون-فی المسجد- وحدیث خیر البقاع المساجد شر البقاع الاسواق رواہ الطبرانی وابن حبان والحاکم بسند صحیح عن ابن عمر ومعناہ لمسلم عن ابی ھریرۃ ولاحمد والحاکم عن جبیربن مطعم رضی اﷲ تعالی عنم عن النبی صلی اﷲ تعالی عنھم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وحدیث لاصلوۃ لجارالمسجد الافی المسجد رواہ الدارقطنی عن جابر وابی ھریرۃ وفی الباب عن امیرالمؤمنین علی وعن ام
تعمیر نہ تھی اس نے لوگوں سے کہا یہاں تم ہمیشہ نماز پڑھاکرویاصرف مطلق نماز کاحکم کیا اور ہمیشگی کی نیت کی تویہ جگہ مسجد قرارپائے گی اب وہ شخص اگرفوت ہوجاتاہے تو اس کے ورثا اس زمین کے مالك نہ ہوں گے۱ھ آیت مبارکہ “ اﷲ کی مساجد وہی تعمیر کرتے ہیں جو اﷲ پرایمان لاتے ہیں “ ۔ آیت کریمہ “ جب تم مساجدمیں معتکف ہوتواپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو “ اور یہ حدیث کہ “ سب سے اعلی جگہ مساجد ہیں اور بدترجگہ بازارہیں “ ۔ اسے طبرانی ابن حبان اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے اور مسلم نے اسی معنی کی روایت حضرت ابوہریرہ سے امام احمد اور حاکم نے حضرت جبیربن مطعم سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ یہ اور حدیث کہ “ مسجدکے پڑوسی کی نمازمسجد کے علاوہ نہیں “ ۔ اسے دار قطنی نے حضرت جابر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیاہے اس سلسلہ میں امیرالمومنین
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ باب المسجد ومایتعلی بہ مطبوعنہ نوارنی کتب خانہ پشاور ۲ / ۴۵۵
القرآن ۹ / ۱۸
القرآن ۲ / ۱۸۷
مجمع الزوائدبحوالہ طبرانی عن ابن عمر باب فضل المسجد مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۲ / ۶ ، الجامع الصغیر حدیث ۴۰۰۲ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۴۷۰ ، کنزالعمال فضائل المسجد مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۷ / ۵۲۔ ۶۵۸
سنن الدارقطنی کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۱ / ۴۲۰
#11562 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھم کلھم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
واکثراحادیث واحکام فقہیہ متعلقہ بمساجد نظراصلی یاکلی بہمیں حقیقت است و اوراصورتے ست کہ عبارت ازبنائے مخصوص بروجہ مخصوص درآیہ کریمہ
و لو لا دفع الله الناس بعضهم ببعض لهدمت صوامع و بیع و صلوت و مسجد یذكر فیها اسم الله كثیرا- وکریمہ و الذین اتخذوا مسجدا ضرارا وحدیث ابنوا المساجد واتخذواھا جما رواہ البیھقی عن انس وابن ابی شیبۃ عنہ و عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وحدیث ماامرت بتشیید المساجد رواہ ابوداؤد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما بسند صحیح عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
ومسئلہ نقش ونگار مسجد بآب زروغیرہا مراد ہمیں صورت حضرت علی اور ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہم ا نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیاہے۔ یہ تمام اوردیگر احادیث اور احکام فقہیہ کاتعلق بنظراصلی یاکلی مسجد کی حقیقت کے ساتھ ہے البتہ مسجد کی ایك صورت ہوتی ہے جوبنائے مخصوص بروجہ مخصوص سے عبارت ہے درج ذیل آیات اور احادیث میں یہی صورت مراد ہے “ اگراﷲتعالی بعض کو بعض کے ذریعے دفع نہ کرتاتویہود ونصاری کی عبادت گاہیں اور مساجد گرادی جاتیں جن میں اﷲ کاذکرکثیرکیاجاتاہے “ وہ لوگ جنہوں نے مسجدضرار کوبنایا اور حدیث “ مساجدمنڈی بناؤ اور ان میں کنگرے نہ رکھو “ ۔ اسے بیہقی نے حضرت انس اور ابن شیبہ نے ان سے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا حدیث “ مجھے مساجد مزین کرنے کاحکم نہیں دیاگیا “ اسے ابوداؤد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے صحیح سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بیان کیا۔
مسجد کوسونے کے پانی کے ساتھ نقش ونگار کرنے کاتعلق صورت مسجد کے ساتھ
حوالہ / References القرآن ۲۲ / ۴۰
القرآن ۹ / ۱۰۷
السنن الکبرٰی للبیہقی باب کیفیۃ بناء المسجد مطبوعہ دارصادربیروت ۲ / ۴۳۹
السنن ابوداؤد باب فی بناء المسجد مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۶۵
#11563 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
ست ہمچناں محراب صورتے دارد وآں طاق معین درجدارقبلہ است وحقیقتش کہ ایں صورت برآں علم باشد موضعے ست ازمسجد برائے قیام امام ملحوظ بدولحاظ یکے آنکہ درعرض مسجد(کہ خط عموداست برخط مار ازمصلی بقبلہ چنانکہ دردیار ماجنوبا شمالا) واقع دروسط بود لحدیث وسطوا الامام وسدوالخلل رواہ ابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وحکمت درآں تعدیل واعتدال درقرب وبعد رجال وسماع قرأت واطلاع انتقال وسریان فیوض بہ یمین و شمال ازامام ست دوم آنکہ درجہت قبلہ تاحد تیسر شرعی وعادی ہرچہ تمام تراقرب بقبلہ باشد لحدیث کان بین مصلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبین الجدار ممرالشاۃ رواہ الائمۃ احمد والشیخان عن سہل بن سعد رضی اﷲ تعالی عنہ وحدیث لایزال قوم یتأخرون حتی
ہی ہے۔ اسی طرح محراب کی ایك صورت ہے کہ وہ طاق جوقبلہ کی دیوارمیں ہوتاہے اور اس کی حقیقت جس پریہ صورت علامت ہے وہ جگہ ہے جوقیام امام کے لئے دولحاظ سے ہو اس میں ایك لحاظ یہ ہو کہ عرض مسجد میں (کہ گزرنے والے خط پرخط عمود ہوجونمازی سے قبلہ کی طرف گزرنے والے خط پر جیسا کہ ہمارے علاقے میں جنوبا شمالا) وسط میں واقع ہے اس حدیث کی وجہ سے کہ “ امام کو درمیان میں کھڑا کرو اور صفوں کے رخنے بند کرو “ اسے ابوداؤد رضی اللہ تعالی عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیاہے اوراس میں حکمت یہ ہے کہ لوگوں کے قرب وبعد میں برابری ہوتاکہ قرأت سننے امام کے اوپرنیچے انتقال پراطلاع اور دائیں بائیں لوگوں پرفیضان میں آسانی ہوجائے دوسرالحاظ یہ کہ جہت قبلہ میں ہوتاکہ حدشرعی وعادی تمام ترقبلہ سے اقرب ہو اس حدیث کی بناپر کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مصلی اور دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے کی جگہ ہوتی اسے امام احمد بخاری ومسلم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا
اور یہ حدیث کہ “ ہمیشہ لوگ پیچھے ہوتے رہیں گے حتی کہ
حوالہ / References سنن ابوداؤد مقام الامام فی الصف مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۹
صحیح البخاری باب قدرکم ان ینبغی ان یکون بین المصلی والسترہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ پشاور ۱ / ۷۱
#11564 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
یؤخرھم اﷲ عزوجل رواہ مسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن ابی سعید رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وحدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ لایصلین احدکم وبینہ وبین القبلۃ فجوۃ رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ پس حکمت دروے توسیع برائے مقتدیاں وپس آیندگاں و عدم تضییق برذاکراں وگزرندگاں وعدم تعطیل پارہ ازقبلہ مسجد باہمال آں وتفاؤل حسن بقرب رحمت ونزدیکی رحمان ست جل وعلی فان احدکم اذاقام فی صلوتہ فانہ یناجی ربہ وان ربہ بینہ وبین القبلۃ کمارواہ الشیخان وغیرھما عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پیداست وتعین ایں موضع رابطاق معروف بلکہ بہ ہیچ بناہرگزنیازنیست تاآنکہ اگرمسجد ساحتے سادہ باشد ایں موضع بتعیین وتحدید اوخودمتعین می شود درزبان عرب نیز معنی محراب باصورت طاق جفت نیست عرباں ہرمکان رفیع وصدر اﷲتعالی انہیں مؤخرفرمادے گا “ ۔ اسے مسلم ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا۔ حضرت ابن سعد کی یہ حدیث کہ “ تم میں ہرگزکوئی نماز اس طرح ادا نہ کرے کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان بیکارخالی جگہ رہے “ اسے عبدالرزاق نے مصنف میں ذکرکیاہے
اس میں مقتدیوں اور بعد میں آنے والوں کے لئے وسعت ذاکرین اور گزرنے والوں کے لئے عدم تنگی مسجد کے قبلہ کی جانب کسی گوشے کامہمل نہ ہونا اﷲ تعالی کے قرب رحمت کے لئے نیك فال ہے کیونکہ جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتاہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کررہاہوتاہے اس نمازی اور قبلہ کے درمیان اس کارب ہوتاہے جیسا کہ بخاری و مسلم وغیرہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ذکرکیا محراب کوطاق معروف یاکسی اور تعمیر کی حاجت نہیں بلکہ اگرمسجد سادہ میدان ہو تو بھی مسجد کی حدود خودبخود متعین ہوجاتی ہیں اور عربی زبان میں محراب کااطلاق صرف طاق پرہی نہیں ہوتابلکہ ہربلند جگہ صدرمجلس اور گھر کی اعلی جگہ کو محراب کہا جاتا ہے
حوالہ / References صحیح مسلم با ب تسویۃالصفوف واقامتہا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۲
المصنف لعبدالرزاق نمبر۲۳۰۶ باب کم یکون بین الرجل وبین سترتہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۱۶
صحیح البخاری حك البزاق بالید من المسجد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۸
#11565 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مجلس واشرف مواضع بیت رامحراب نامند لانہ ممایتنافس فیہ ویتنازع علیہ فربما ادی الی حرب وقتال وفی الحدیث اتقوا ھذہ المذابح یعنی المحاریب رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی السنن عن عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال المناوی فی التیسرای تجنبوا تحری صدور المجالس یعنی التنافس فیھا ومحراب مسجد حسب تصریح ائمہ لغت وتفسیر ازہمیں معنی ماخوذ ست لانہ صدرالمقام ومقدمہ واشرف موضع فیہ لکونہ مقام الامام اوسط قطعۃ تلی القبلۃ لاجرم محراب رابمطلق مقام فی المسجد تفسیرکردہ انددرمجمع بحارالانوار ست دخل محرابالھم ھو الموضع العالی المشرف وصدر المجلس ایضا ومنہ محراب المسجد وھو صدرہ واشرف موضع فیہ ومنہ ح انس کان یکرہ المحاریب ای لم یکن یحب ان یجلس فی صدرالمجلس ویترفع علی الناس درقاموس فرمود المحراب الغرفۃ وصدر البیت واکرم
کیونکہ اس میں ایك دوسرے پررشك کرتے اور اس حصول میں جھگڑتے ہیں بسااوقات جنگ وقتال تك نوبت جاپہنچتی ہے اور حدیث میں ہے ان مذابح یعنی محرابوں سے بچو اسے طبرانی نے کبیر اور بیہقی نے سنن میں حضرت عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالی عنہم ا سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا شیخ مناوی نے تیسیر میں فرمایا یعنی صدور مجالس کی تلاش سے بچویعنی اس میں تنافس سے بچو ائمہ لغت وتفسیر کی تفسیر کے مطابق مسجد کامحراب بھی اسی معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ یہ صدرمقام اور اعلی جگہ ہوتی ہے اس لئے کہ امام کی جگہ قبلہ سے متصل سب سے وسط میں ہے اسی لئے محراب کی تفسیر مسجد میں مطلق مقام سے کی ہے مجمع بحارالانوار میں ہے وہ ان کے محراب میں داخل ہوا اور وہ محراب بلندو عالی جگہ ہے صدرمجلس کوبھی کہاجاتاہے اسی سے محراب مسجد ہے اور یہ صدر اور اعلی جگہ ہے اسی پرحدیث دال ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ محاریب کوپسند نہ کرتے یعنی لوگوں پربلند اور صدرمجلس کے طورپربیٹھنا پسند نہ کرتے۔ قاموس میں ہے محراب الماری صدرگھر گھرکااعلی مقام
حوالہ / References السنن الکبرٰی للبیہقی باب فی کیفیۃ بناء المسجد مطبوعہ دارصادر بیروت ۲ / ۴۳۹
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۱۵۲ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۱۴۴
مجمع بحارالانوار باب الحاء مع الراء مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۴۹
#11566 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مواضعہ ومقام الامام من المسجد و الموضع ینفرد بہ الملك فیتباعد عن الناس درمختار رازی منتخب صحاح ست المحراب صدر المجلس ومنہ محراب المسجد درصراح ست محاریب پیشگاہ ہائے مجالس ومنہ محراب المسجد درمصباح المنیر ست المحراب صدر المجلس ویقال ھو اشرف المجالس وھوحیث یجلس الملوك والسادات و العظماء ومنہ محراب المصلی درتاج العروس ست المحراب الغرفۃ وموضع العالی نقلہ الھروی فی غریبیہ عن الاصمعی وقال الزجاج المحراب ارفع بیت فی الدار وارفع مکان فی المسجد وقال ابوعبیدۃ المحراب اشرف الاماکن قال ابن الانباری سمی محراب المسجد لانفراد الامام فیہ وبعدہ من القوم وفی لسان العرب المحاریب صدورالمجالس ومنہ محراب المسجد ومنہ محاریب غمدان بالیمن والمحراب القبلۃ ومحراب
مسجد میں امام کی جگہ اور اس جگہ کوکہتے ہیں جہاں بادشاہ تنہا بیٹھتاہو تاکہ لوگ دور رہیں مختار رازی منتخب صحاح میں ہے کہ محراب صدرمجلس کو کہاجاتاہے اور اسی سے محراب مسجد ہے۔ صراح میں ہے محاریب مجالس کی اگلی جگہ اسی سے محراب مسجد ہے۔ مصباح المنیر میں ہے محراب مجلس کے لئے اونچی جگہ کوکہاجاتا ہے وہ اعلی جگہ ہے کہ وہاں بادشاہ سادات اور بڑے لوگ بیٹھتے ہیں اسی سے عیدگاہ کا محراب ہے۔ تاج العروس میں ہے لفظ محراب کو ہروی نے غریب میں اصمعی سے نقل کیا اور زجاج نے کہا کہ گھر کاسب سے بلندمقام محراب کہلاتاہے اور مسجد میں بلند جگہ۔ ابوعبیدہ نے کہا محراب بزرگ جگہ ہے۔ ابن الانباری کہتے ہیں کہ محراب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں امام اکیلا کھڑاہوتاہے اور لوگوں سے دورہوتاہے۔ لسان العرب میں ہے کہ محاریب سے مراد جائے صدور ہے اسی سے محراب مسجد ہے اسی سے محراب مسجد ہے اسی سے یمن میں غمدان کے محراب اور محراب قبلہ ہے
حوالہ / References القاموس باب الباء فصل الحاء مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۵
الصحا ح باب الباء فصل الحاء مطبوعہ دارالعلم للملایین بیروت ۱ / ۸۸
الصراح باب الباء فصل الحاء مطبوعہ مجیدی کانپور ص۲۴
مصباح المنیر تحت لفظ الحرب مطبوعہ منشورات دارالہجرۃ قم ایران ۱ / ۱۲۸
تاج العروس فصل الحاء من باب الیاء مطبوعہ احیاء التراث بیروت ۱ / ۲۰۷
#11567 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
المسجد ایضا صدورہ واشرف موضع فیہ والمحراب اکرم مجالس الملوك عن ابی حنیفۃ وقال ابوعبیدۃ المحراب سید المجالس ومقدمھا واشرفھا قال وکذلك ھو من المساجد ھ ملخصا ۔ درمعالم التنزیل فرمود المحراب اشرف المجالس ومقدمھا وکذلك ھو من المسجد درانوارالتنزیل ست (المحراب) ای الغرفۃ اوالمسجد اواشرف مواضعہ ومقدمھا سمی بہ لانہ محل محاربۃ الشیطان کانھا (ای سیدتنا مریم) وضعت فی اشرف موضع من بیت المقدس درشرح او عنایہ القاضی ست ذکرالمحراب معانی المشھور منہا الاخیر ولذااقتصر علیہ اخیرافی قولہ کانھا الخ درجلالین ست(المحراب) الغرفۃ وھی اشر المجالس درتفسیر کبیر ست المحراب الموضع العالی الشریف وقیل المحراب اشرف المجالس
مسجد کا محراب بھی اس کی اعلی واشرف جگہ ہوتی ہے یہ امام ابوحنیفہ سے ہے۔ ابوعبیدۃ کہتے ہیں کہ محراب مجالس کی اعلی واشرف جگہ ہوتی ہے اور اسی طرح مساجد کے محراب ہیں ۱ھ تلخیصا۔ معالم التنزیل میں ہے محراب سے مراد مجالس کی اعلی اور مقدم جگہ ہے اور مسجد میں بھی محراب کا معاملہ ایساہی ہے۔ انوارالتنزیل میں ہے (محراب یعنی کمرہ یامسجد یاکمرہ ومسجد کی اعلی و اشرف جگہ مراد ہے یہ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ شیطان سے محاربہ کی جگہ ہوتی ہے گویا (سیدہ مریم علیہا السلام) بیت المقدس کی اعلی جگہ پرپیداہوئیں اس کی شرح عنایۃ القاضی میں ہے کہ محراب کے متعدد معانی ہیں ان میں سے مشہور آخری ہے اسی لئے ماتن نے اس آخری معنی پر “ کانھاوضعت الخ “ کے الفاظ سے اقتصارکیا۔ جلالین میں ہے (محراب) کمرہ یہ مجالس کی اعلی جگہ ہوتی ہے۔ تفسیر کبیرمیں ہے محراب سے مراد بلندواعلی جگہ ہے بعض کے نزدیك مجالس کے لئے
حوالہ / References لسان العرب فصل الحاء المہملہ مطبوعہ دارصادربیروت ۱ / ۳۰۵
معالم التنزیل علی ہامش الخازن سورہ آل عمران مطبوعہ مصطفی البابی بیروت ۱ / ۳۴۲
انوارالتنزیل (بیضاوی) سورہ آل عمران مطبوعہ مطبع مجبتائی دہلی ۲ / ۸
حاشیۃ الشہاب المعروف عنایۃ القاضی سورہ آل عمران مطبوعہ دارصادربیروت ۳ / ۳۳
تفسیر جلالین سورہ آل عمران مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۸
#11568 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
وارفعھا درکشاف ست غرفۃ وقیل اشرف المجالس ومقدمھا این ست معظم عبارات ائمہ فن کہ ازہمان نفس موضع نشان می دہدہ ازصورت طاق وچسپاں ازونشان دہند کہ اوخودحادث ست درمساجد قدیمہ تاسال ہشتاد وہشت ہجری نامے ازاں نبود افضل المساجد مسجد الحرام ہنوزازان خالیست ودرمسجد اکرم سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نیز نہ بزمان اقدس بودنہ بعہد خلفائے راشدین نہ بعہد امیرمعاویہ وعبداﷲ ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین بلکہ ولیدبن عبدالملك مروانی زمانہ امارت خوداحداث کردہ است و مانا کہ حامل برآں غیرزینت اعلام مقام امام بعلامتے ظاہرہ متبینہ باشد کہ درتوسط صف خاصہ بمساجد کبارحاجت بنظروآزمودن نیفتدوبشب نیزبے روشنی مدرك شودوبرائے مقتدیاں بسجدہ امام درطاق فراخی فراغے ہم نماید چوں کارمشتمل مصالح بودرواج گرفت وزاں بازدرعامہ بلاداسلام معہود شد پس اطلاق محراب برآں نام معین برائے معین ست اعنی تسمیۃ الدال باسم المدلول سیدسمہودی عــــہ
اعلی وارفع جگہ ہے۔ کشاف میں ہے محراب کامعنی کمرہ بعض کے نزدیك مجالس کے لئے اعلی واشرف جگہ مراد ہوتی ہے۔
محراب کے بارے میں یہ ہیں تمام ائمہ فن کی عبارات جن سے واضح ہورہاہے کہ اس سے مراد جگہ ہے طاق وغیرہ کی صورت کانام نہیں بلکہ اٹھاسی۸۸ ہجری سے پہلے مساجد قدیمہ میں اس کا وجود نہ ہوتاتھا سب سے افضل مسجد مسجدحرام اس سے اب تك خالی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات خلفاء راشدین امیرمعاویہ اور عبداﷲ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہم کے دور میں مسجدنبوی میں صورت محراب نہیں تھی بلکہ ولیدبن عبدالملك مروانی نے اپنے دورامارت میں محراب بنایا اور یہ تسلیم ہے کہ زینت کے علاوہ امام کی جگہ پرعلامت کے طورپر محراب کاہونا بہترہے خصوصا بڑی مساجد میں تاکہ ہردفعہ غوروفکرنہ کرناپڑے اور رات کو بغیرروشنی کے امام کو پایاجاسکے اور امام کے محراب میں سجدہ کی وجہ سے مقتدیوں کووسعت بھی مل جاتی ہے توجب محراب میں یہ مصالح تھے تو اس کارواج ہوگیا اور تمام بلاد اسلامیہ میں یہ معروف ہواتو یہ یہاں مدلول کانام دال کودیاگیاہے۔ سیدسمہودی قدس سرہ نے
عــــہ بتصریحات ھؤلاء الکبراء رحمھم اﷲ
اکابر رحمہم اللہ تعالی کی ان تصریحات سے یہ بات(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References التفسیرالکبیر سورہ آل عمران میں مذکورہے مطبوعہ البہیۃ المصریۃمصر ۸ / ۳۱
تفسیرالکشاف سورہ آل عمران میں مذکورہے مطبوعہ انتشارات آفتاب تہران ایران ۱ / ۴۲۷
#11569 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
قدس سرہ درخلاصہ الوفا در فصل ہشتم باب چہارم فرماید یحیی عن عبدالمھیمن بن عباس عن ابیہ مات عثمن ولیس فی المسجد شرفات ولامحراب فاول من احدث المحراب والشرفات عمربن عبدالعزیز ہمدر فصل دوم ازاں فرمود لم یکن للمسجد محراب فی عھدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولافی عھدالخلفاء بعدہ حتی اتخذعمربن عبدالعزیزفی امارۃ الولید امام عسقلانی درفتح الباری شرح صحیح بخاری آورد قال الکرمانی من حیث انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یقوم بجنب المنبرای ولم یکن لمسجدہ محراب امام عینی درعمدۃ القاری شرح بخاری فرمود
خلاصۃ الوفا کے باب چہارم کی آٹھویں فصل میں فرمایا یحیی نے عبدالمہیمن بن عباس انہوں نے اپنے والد سے بیان کیاکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہوئے تومسجد میں کنگرے اور محراب نہ تھے سب سے پہلے محراب اور کنگرے بنانے والے حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ ہیں اسی کی دوسری فصل میں ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات اور خلفائے راشدین کے دور میں محراب نہ تھا حتی کہ امارت ولیدبن عبدالملك میں عمربن عبدالعزیز نے بنوایا۔ امام عسقلانی فتح الباری شرح البخاری میں فرماتے ہیں کہ امام کرمانی نے لکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم منبر کی ایك جانب کھڑے ہوتے یعنی اس وقت مسجد میں محراب نہ تھا۔ امام عینی نے عمدۃ القاری شرح البخاری میں فرمایا

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تعالی ظھران ماوقع فی الفتح مسألۃ القیام فی الطاق انہ نبی فی المساجد المحاریب من لدن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھ سہو فلیتنبہ ۱۲منہ غفرلہ(م)
واضح ہوگئی کہ فتح القدیر میں امام کے محراب میں کھڑاہونے کے بیان میں جوکہاگیاکہ یہ محراب مساجد میں رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات سے ہیں سہووبھول ہے۱ھ اس پرمتنبہ رہناچاہئے ۱۲منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References وفاء الوفاء الفصل السابع عشر مطبوعہ احیاء التراث بیروت ۲ / ۵۲۵
وفاء ا لوفاء محراب المسجد النبوی وقی صنع مطبوعہ احیاء التراث بیروت ۱ / ۳۷۰
فتح الباری شرح بخاری قدرکم ینبغی ان یکون بین المصلی والسترۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۲۱
فتح القدیر باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۶۰
#11570 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یقوم بجنب المنبر لانہ لم یکن لمسجدہ محراب علامہ شیخ محقق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز در جزب القلوب شریف فرماید درزمان آں سرور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم علامت محراب کہ الآن درمساجد متعارف ست نبودابتدائے آں ازوقت عمربن عبدالعزیزست دروقتیکہ امیرمدینہ منورہ بودازجانب ولیدبن عبدالملك اموی ۱ھ ہمدرآن ست طول مسجد درزمان ولیددوئیست ذراع بودوعرض آں یکصدوشصت ہفت ذراع ووی درتکلف وتصنع عمارت باقصی الغایۃ کوشیدوعلامت محراب کہ الآن درمساجد متعارف ست اوساخت وپیش ازاں نبود ۱ھ مختصرا ازیں تقریر منیر مستنیر شد کہ ہیچ مسجد شتوی خواہ صیفی تاآنکہ بقعہ سادہ موقوفہ للصلوۃ نیزازمحراب حقیقی تہی نتواں بودوہمون ست مقام امام متوارث اززمان امام الانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام پس جائیکہ قیام امام فی المحراب راسنت گفتہ اند مراد ہمین ست ونہ قیام درمحراب صوری یابازآئے آن کہ اوخوددرزمان سنت بودوجائیکہ
حضورسرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم منبر کے پہلو میں قیام فرماتے کیونکہ اس وقت مسجد میں محراب نہ تھا۔ علامہ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز جذب القلوب میں فرماتے ہیں یہ محراب جوآج متعارف ہے رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات میں نہ تھا اس کی ابتداء ولیدبن عبدالملك اموی کے دور میں عمربن عبدالعزیز نے کی جبکہ وہ مدینہ طیبہ کے گورنر تھے۔
اوراسی میں ہے کہ ولید مسجد کاطول چالیس۴۰ہاتھ اور عرض ایك ۱۶۷سوسڑسٹھ ہاتھ تھا اور عمارت بنانے میں تکلف وتصنع سے انہوں نے کام لیا اور علامت محراب جوآج کل مساجد میں متعارف ہے اس دور میں نہ تھا۱ھ المختصر
اس پرنورتقریر سے یہ بات آشکارا ہوگئی کہ کوئی بھی مسجد خواہ شتوی ہو یا صیفی جب سے وہ وقف ہوئی ہے وہ محراب حقیقی سے خالی نہیں ہوتی اور یہی وہ مقام ہے جو امام الانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام کی ظاہری حیات سے امام کی جگہ بنتارہالہذا جس جگہ بھی علماء نے امام کے محراب میں کھڑے ہونے کوسنت کہاہے وہاں یہی محراب حقیقی مرادہے نہ کہ محراب صوری میں قیام مراد ہے یا اس کے برابرجو اس وقت
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح بخاری قدرکم ینبغی ان یکون بین المصلی والسترۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۴ / ۲۸۰
جذب القلوب الٰی دیارالمحبوب باب ششم دربیان عمارت مسجد شریف نبوی مطبوعہ مکتبہ نعیمیہ چوك دارلگراں لاہور ص۷۳
جذب القلوب الٰی دیار المحبوب باب ہفتم دربیان تغیرات وزیادات کہ بعد ازوصلت الخ مطبوعہ مکتبہ نعیمیہ چوك دارلگراں لاہورص۸۸
#11571 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مکروہ گفتند مراددرمحراب صوری استادن ست بوجہیکہ پائے اندرقضائے اوباشد بدلیل و آں اشتباہ حال امام ست برقولے وتشبہ بہ یہود وشبہ اختلاف مکان برقول اصح ووجہ اطلاق محمد ۔
اقول : وفی تعلیل الاشتباہ نظرواشتباہ فانہ لایحصل غالبا الااذازداد طول الصف وھو یحصل بدون القیام فی المحراب بل مع عدم المحراب والبناء اصلا وایضا ان اریداطلاع الکل بنظرنفسہ فان النظرلہ حدلایتجاوزہ فکما یعجز عند قیام الامام فی المحراب لبعد ما یعجز ایضا بدونہ علی بعد اخر وان اکتفی بالاطلاع ولوبواسطۃ من معہ فی الصلوۃ فلامعنی للاشتباہ بالقیام فی المحراب ولاشك ان الاخیرھوالمعتبر والالم یکن لکل من بعد الصف الاول بدمن الاشتباہ ولالمن فی طرفی الاول علی بعد
بھی سنت تھا اور جہاں علماء نے محراب میں امام کے قیام کو مکروہ قراردیاہے وہاں محراب صوری میں کھڑا ہونا ہے اس طریقہ پر کہ اس کے پاؤں محراب کے اندرہوں اس پردلیل ایك قول کے مطابق امام کے حال کامشتبہ ہونا اور ایك قول پریہود کے ساتھ تشابہ لیکن اصح قول کے مطابق مکان کامختلف ہوجاناہے اور ایك وجہ امام محمد کے قول کااطلاق ہے۔
اقول : مشتبہ ہونے کی علت میں نظرواشتباہ ہے کیونکہ یہ اکثر طور پرحاصل نہیں ہوتا مگر اس صورت میں جب صف زیادہ لمبی ہو اور یہ اشتباہ قیام فی المحراب کے بغیر بھی حاصل ہوجاتاہے بلکہ اس وقت بھی جب محراب اور عمارت نہ ہو اور یہ بھی معاملہ ہے کہ کیا تمام مقتدیوں کاامام کو اپنی اپنی آنکھوں سے دیکھنا ضروری ہے کیونکہ نظرکی ایك حد ہے جس سے متجاوزنہیں ہوتی تو جس طرح محراب کے اندرکھڑے ہونے پرامام کے بعد کی وجہ سے وہ نظر نہیں آتا اس طرح اس کے بغیر بھی بعد کی وجہ سے ممکن ہے کہ وہ نظرنہ آئے اور اگرمحض اطلاع کافی ہے خواہ وہ بالواسطہ کسی مقتدی کے ذریعے ہو تومحراب میں کھڑے ہونے سے اشتباہ کاپیداہونا کوئی معنی نہیں رکھتا اور بلاشبہ آخری بات (وجہ) ہی معتبرہے ورنہ ہروہ شخص جوصف اول کے بعد والی صف میں ہو اسے اشتباہ کے بغیر کوئی چارہ نہیں اسی طرح
#11572 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
یمنع النظر الابالتفات عن القبلۃ درردالمحتار ست صرح محمد فی الجامع الصغیر بالکراھۃ ولم یفصل فاختلف المشائخ فی سببھا فقیل کونہ یصیر ممتازاعنھم فی المکان المحراب فی معنی بیت اخر وذلك صنیع اھل الکتب واقتصر علیہ فی الھدایۃ و اختارہ الامام السرخسی و قال انہ الاوجہ وقیل اشتباہ حالہ علی من فی یمینہ ویسارہ فعلی الاول یکرہ مطلقا وعلی الثانی لایکرہ عندعدم الاشتباہ وایدالثانی فی الفتح بان امتیاز الامام فی المکان مطلوب وتقدمہ واجب وغایۃ اتفاق الملتین فی ذلك وارتضاہ فی الحلیۃ وایدہ لکن نازعہ فی البحر بان مقتضی ظاھر الروایۃ الکراھۃ مطلقا بان امتیاز الامام المطلوب حاصل بتقدمہ بلاوقوف فی مکان اخر ولھذا قال فی الولوالجیۃ وغیرھا اذا لم یضق المسجد
اس کوبھی جو صف اول کے اطراف میں اتنا دور کھڑا ہو کہ نظر سے دیکھ نہ پائے۔ اشتباہ کودور کرنے کے لئے ان کو اپنے قبلہ سے انحراف ضروری ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے کہ امام محمد نے جامع صغیرمیں اس محراب میں ہونے پرکراہت کاحکم لگایا ہے اور کوئی تفصیل نہیں دی اس لئے سبب کے بیان میں مشائخ کااختلاف ہوا ایك یہ ہے کہ امام ایسی صورت میں ممتاز ہوکریوں ہوجاتاہے جیسے وہ کسی دوسرے کمرے میں ہے اور یہ اہل کتاب کا طریقہ ہے۔ ہدایہ میں اسی پراکتفا کیاگیاہے۔ امام سرخسی نے اسے ہی پسندکیا اور کہا یہی مختار ہے۔ بعض نے کہا کہ امام اپنے دائیں بائیں مقتدیوں پرمشتبہ ہوجاتاہے پہلی صورت میں ہرحال میں کراہت ہے اور دوسری صورت میں جب اشتباہ نہ ہوکراہت نہ ہوگی۔ فتح میں یہ کہتے ہوئے دوسری کی تائید کی اور کہا کہ امام کاممتاز مقام پر کھڑاہونا تومطلوب ہے اور اس کامقدم ہونا واجب ہے اوراس میں دونوں فریق متفق ہیں اسے حلیہ میں پسندکیاگیا اور اس کی تائید کی لیکن بحر میں یہ کہتے ہوئے اس سے اختلاف کیا کہ ظاہرروایت کاتقاضا یہی ہے کہ ہرحال میں کراہت ہو اور یہ کہ امام کامطلوبہ امتیازآگے ہونے سے حاصل ہوجاتاہے یہ اس کے دوسرے مقام پرکھڑے ہونے پرموقوف نہیں ہے اسی لئے ولوالجیہ وغیرہ میں ہے کہ جب مقتدیوں پرمسجد
#11573 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
بمن خلف الامام لاینبغی لہ ذلك لانہ یشبہ تباین المکانینھ یعنی وحقیقۃ اختلاف المکان تمنع الجواز فشبھۃ الاختلاف توجب الکراھۃ والمحراب وان کان من المسجد فصورتہ ھیأتہ اقتضت شبھۃ الاختلافھ ملخصا قلت ای لان المحراب انما نبی علامۃ لمحل قیام الامام لیکون قیامہ وسط الصف کماھوالسنۃ لالان یقوم فی داخلہ فھو وان کان من بقاع المسجد لکن اشبہ مکانا اخر فاورث الکراھۃ ولایخفی حسن ھذا الکلام فافھم لکن تقدم ان التشبہ انما یکرہ فی المذموم وفیما قصد بہ التشبہ لامطلقا ولعل ھذا من المذموم تامل ھ کلام الشامی
اقول : ولامحل للترجی بعد ماافادنا قلاعن الولوالجیۃ وغیرھا انہ یشبہ تباین المکانین وحقیقۃ تفسد فشبھتہ تکرہ بل لوعد ھذا دلیلا براسہ لکفی وشفی کما
تنگ نہ ہو توامام کے لئے ایساکرنا جائز نہیں کیونکہ دونوں مقامات کاجداہونالازم آتاہے۱ھ اور حقیقۃ جگہ کااختلاف جوازنمازسے مانع ہے اور جہاں اختلاف کاشبہ ہو وہاں کراہت ہوگی اور اگرمحراب اگرچہ مسجد میں ہی ہے لیکن اس صورت و ہیئت سے شبہ اختلاف پیداہوتاہے۱ھ تلخیصا
قلت(میں (شامی) کہتاہوں ) محراب کا مقصد یہ ہے کہ وہ قیام امام کی علامت ہوتاکہ اس کاقیام صف کے درمیان ہو یہ مقصد نہیں کہ امام محراب کے اندرکھڑا ہو۔ محراب اگرچہ مسجد کاہی حصہ ہے لیکن ایك دوسرے مقام کے مشابہ ہے لہذا اس سے کراہت ہوگی۔ اس کلام کاحسن واضح ہے اسے اچھی طرح محفوظ کرو لیکن پیچھے گزرا کہ تشبہ بری بات میں مکروہ ہوتاہے اور اس صورت میں جب تشبہ مقصد ہوہرحال میں مکروہ نہیں اور ممکن ہے یہ مذموم میں سے ہو۔ (کلام شامی ختم ہوا)
اقول : (میں کہتاہوں ) یہ “ شاید “ کہنے کامحل نہیں کیونکہ اس نے ولوالجیہ وغیرہ سے نقل کردیا ہے کہ یہ عمل دوجگہوں کے متخالف ہونے کے مشابہ ہے اور اگرتباین حقیقۃ ہو تو اس سے نمازفاسد ہوجاتی ہے اور اگرتباین کاتشابہ ہوتونماز میں کراہت آئے گی بلکہ اگر اسے
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۷
#11574 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
لایخفی پیداست کہ ایں شبہہ وتشبہ و اشتباہ ہمہ ہاہمیں درمحراب صوری ست نہ حقیقی اما قیام بمحاذات محراب صوری آنچناں کہ سجدہ درطاق افتد پس فی نفسہ نہ کراہتے دارد لعدم الوجوہ المذکورۃ من الشبھۃ و التشبہ والاشتباہ فیہ نہ فضیلتے لما قدمنا انہ لم یکن فی اصل السنۃ محراب صوری ولامحاذاتہ پس نظربذات خودش نباشد جزمباح ازینجاست کہ ایں راسنت نگفتہ اند و چوں مکروہ ہم نبود دفع توہم را لاباس آورند آرے اگرقیام بمحل محراب حقیقی موافق آید کما ھو الغالب لاجرم سنت باشد نہ ازاں روکہ محاذات محراب صوری ست بل ازاں جہت کہ موافات محراب حقیقی ست ازیں تحقیق انیق بحمداﷲ روشن شد کہ اگرامام درمسجد صیفی بمحراب حقیقی ایستد یقینا اصابت سنت یافتہ باشد وہیچ کراہتے برونبود گومحراب صوری را محاذی ہم مباش چنانکہ صیفی در عرض ازیدازشتوی باشد آنگاہ باید کہ از محاذات طاق بجانب زیادت میل کند وبوسط صیفی بایستد
مستقل دلیل بنایاجائے تو یہ کافی وشافی ہے جیسا کہ واضح اور یہ ظاہر بات ہے کہ یہ شبہ تشبہ اور اشتباہ وغیرہ تمام صورتیں محراب صوری میں ہیں نہ کہ حقیقی میں محراب صوری کی محاذات میں اس طرح کھڑاہونا کہ سجدہ محراب میں ہوفی نفسہ مکروہ نہیں کیونکہ وجوہ مذکورہ یعنی شبہ تشبہ اور اشتباہ یہاں نہیں ہیں اور نہ اس میں کوئی فضیلت ہے کیونکہ ہم نے پہلے یہ بیان کردیاہے کہ اصل سنت میں نہ محراب صوری ہے اور نہ اس کی محاذات پس وہ اپنی ذات کے حوالے سے سوائے مباح کے کچھ نہیں یہی وجہ ہے کہ اسے سنت نہیں کہاگیا چونکہ مکروہ بھی نہیں تو علماء دفع توہم کے لئے لفظ “ لاباس “ لے آئے ہیں اگر اس کی محاذات کاقیام محراب حقیقی کے موافق ہوجاتاہے جیسا کہ اکثرہوتا ہے تو اب یہ سنت ہوگا مگر اس کی وجہ محراب صوری کے محاذی ہونانہیں بلکہ محراب حقیقی کے موافق ہونا ہے بحمداﷲ اس شفاف تحقیق سے واضح ہوگیاکہ اگرامام مسجد صیفی میں محراب حقیقی میں کھڑاہوتاہے تووہ یقینا سنت کوپانے والاہے اور اس پر ہرگزکوئی کراہت نہ ہوگی اگرچہ وہ محراب صوری کے محاذی نہ ہو کیونکہ جب مسجد صیفی عرض میں شتوی سے زیادہ ہوتو اس وقت محراب کی محاذات میں جانب زیادت کی طرف ہو کرصیفی کے درمیان
#11575 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
میں بمحراب حقیقی قیام کردہ باشد وبدستور درشتوی نیزاگرطاق درحاق وسط نبود امام راطاق گزاشتہ بوسط شتوی عدول باید کہ محراب حقیقی بدست آید دروالایت افغانستان ازعلمائے زمان کہ قیام امام رادرمسجد صیفی مکروہ گویند دلیل برآں ازہماں مسئلہ سنیت قیام فی المحراب چون درسوالیکہ نزدفقیرازان ولایت آمدہ بودوانمود ناشی ازاشتباہ معنی محراب است عزیزان او را محراب صوری گماشتند وازحقیقی غفلت کردہ اندودانستہ شد کہ قیام درصوری سنت نیست بلکہ بمعنی حقیقتش خودمکروہ ہے ست وانکہ سنت است بہ مسجد صیفی نیزنقدوقت ست پس کراہت ازکجا امام ابن الہمام درفتح ایں معنی رارنگ ایضاح داد کہ فرمود لولم تبن (ای المحاریب) کانت السنۃ ان یتقدم فی محاذاۃ ذلك المکان لانہ یحاذی وسط الصف وھوالمطلوب اذقیامہ فی غیرمحاذاتہ مکروہ ھ واگرچناں باشد کہ صیفی مطلقا ازصلاحیت اقامت جماعت بدرودزیراکہ آنجا محراب صوری نتواں یافت ومجرد محاذات اگرچہ ازدوربسندہ نیست کما
کھڑا ہوناچاہئے تاکہ محراب حقیقی میں قیام ہوجائے اسی طرح شتوی میں بھی اگرطاق وسط میں نہیں توامام طاق چھوڑ کر شتوی کے وسط میں ہوجائے تاکہ محراب حقیقی کوپایاجاسکے افغانستان کے علاقے میں اس وقت کے علماء مسجد صیفی میں امام کے قیام کو مکروہ قراردیتے ہوئے یہی دلیل دیتے ہیں کہ محراب میں کھڑا ہوناسنت ہے کیونکہ اس ملك سے فقیر کے پاس جوسوال آیاہے اس سے واضح ہوتاہے کہ انہیں معنی محراب میں اشتباہ ہے اور انہوں نے محراب صوری مقررکئے ہیں مگرمحراب حقیقی سے غافل ہوگئے ہیں اور معلوم ہوا کہ صوری میں قیام سنت نہیں بلکہ اسے حقیقی سمجھنا بذات خود مکروہ ہے اور جوسنت ہے وہ صیفی مسجد میں بھی درست ہے پس یہاں کراہت کہاں ! امام ابن الہمام نے فتح القدیر میں اسے واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگروہ بنے ہوئے نہیں (یعنی محاریب) توسنت یہ ہے کہ اس جگہ کے محاذی کھڑاہواجائے کیونکہ وہ وسط صف کے محاذی ہے اور یہی مطلوب ہے کیونکہ محاذات کے علاوہ امام کاقیام مکروہ ہے۱ھ
اوراگر ایسے ہو کہ صیفی اقامت جماعت کی صلاحیت نہ رکھتی کیونکہ وہاں محراب صوری نہیں اور صرف محاذات اگرچہ دور سے ہو محراب کی نشانی نہیں ہے جیسا کہ تونے
حوالہ / References فتح القدیر فصل یکرہ المصلی مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۶۰
#11576 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
علمت وقداعترفوا بہ والالم یحکموا بکراھۃ قیام الامام فی الصیفی مطلقا وایں برخلاف عمل و نیت جملہ امت ست مسجد رابردودرجہ سرما وگرما ازہمیں روبخش میکنند کہ بہرموسم اقامت جماعت بہ مسجد نتوانند اگرایں پارہ از قیام امام معطل ماند لاجرم جماعت رانیز لازم باشد ہم درپارہ شتوی صفہا بستن کہ انفراد امام بدرجہ خود مکروہ ست پس ازصیفی بہرہ نیابند مگربعض قوم دربعض احیان آنگاہ کہ شتوی ہمہ آوردہ شودوایں یقینا مخالف نیت وقصد جملہ بانیان وعمل وتوارث عامہ مومنان ست بازدرہندیہ وبزازیہ وخلاصہ وظہیریہ وخزانۃ المفتین وغیرہا کتب معتمدہ ست قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الداخل فامھم قال من سبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم چرابلائے نفی جنس مطلقا سلب مستغرق نمایندچرا نگویند کہ امام مسجد صیفی ومقتدیانش بہرحال درگردکراہت اندزیراکہ قیام سمجھا اور جیسا کہ انہوں نے اس کا اعتراف کیاہے ورنہ وہ صیفی میں مطلقا قیام امام کو مکروہ قرارنہ دیتے حالانکہ یہ بات تمام امت کے عمل کے خلاف ہے کیونکہ مسجد کے دودرجے موسم گرما وسرما کے لحاظ سے کئے جاتے ہیں کہ ہرموسم میں ایك جگہ جماعت نہیں کرائی جاسکتی تو اگریہ حصہ قیام امام سے معطل ہو تولازم ہوگا کہ جماعت بھی شتوی حصے میں صفیں بنائے کیونکہ امام کاتنہا ہونابذات خود مکروہ ہے تواس طرح صیفی حصہ سے فائدہ صرف بعض اوقات بعض لوگ اس وقت ہی اٹھاسکیں گے جب شتوی حصہ پرہوجائے گا اور یہ بات تمام بانیان مساجد کی نیت اور عمل اور توارث امت کے خلاف ہے ہندیہ بزازیہ خلاصہ ظہیریہ خزانۃ المفتین وغیرہ کتب معتمدہ میں ہے کہ کچھ لوگ مسجد کے اندر اور کچھ مسجد کے صحن میں تھے مؤذن نے اذان کہی اوراہل خارج میں سے امام نے جماعت کرائی اسی طرح اندروالوں میں سے امام نے جماعت کرائی تو جس نے پہل کردی وہ امام ہوگا اور تمام لوگ اس کے مقتدی ہوں گے ان کے حق میں کوئی کراہت نہ ہوگی کیونکہ یہاں لانفی جنس انہوں نے استعمال کیاہے جومطلق سلب کااحاطہ کرتاہے انہوں نے یہ کیوں نہ کہا کہ مسجد صیفی کاامام اس کے مقتدی بہرحال کراہت میں مبتلا ہوں گے کیونکہ انہوں نے
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی الامامۃ والاقتداء مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴۵
#11577 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
فی المحراب راترك گفتند بالجملہ ایں خطائے فاحش ست کہ ولایتیان دریں جزوزمان احداث کردہ اند ازیں باخبربا یدبود۔ سخن راندن مانداز استظہار علامہ شامی عاملہ اﷲ باللطفف النامی اقول : انچہ بالاگفتہ ایم غایت توجیہ کلام آں فاضل علام بودوہنوز گل نظرے دمیدن دارد ماثور ومورث چنانکہ دانی ہما ں قیام امام درمحرا ب حقیقی ست وآں مقام اشرف موضع وصدر مسجد ست چنانکہ شنیدی پس ترك اوبے عذرشرعی عدول ازافضل وخلاف متوارث العمل وفرع مبسوط دلالت برآں ندردکہ اینجا فی نفسہ اصلا منظور نیست بلکہ غایتش آنست کہ توسط صف سنت عظیمہ مہم ترازآن ست چوں ہردودست وگریبان شود اختیار بہ سنت توسط رودپس انچہ بدل می چسپد کلمات ائمہ رابر اطلاق آنہا داشتن اگرچہ درکمال خمول باشد غیرامام جماعت ثانیہ فی مسجد المحلہ را محراب حقیقی گذاشتن ست ھذا اخرالکلام فی ھذا المقام وقداتضح بہ کل مرام وانکشف بہ جمیع الاوھام والتأمت کلمات الائمۃ الکرام وماتوفیقی الاباﷲ الملك العلام والسلام مع الکرام علی مولنا عبد السلام واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
محراب میں قیام کوترك کیاہے حاصل کلام یہ کہ یہ بہت بڑی غلطی ہے جو اس دور میں ان علاقوں میں پیدہوئی ہے اس سے باخبرہونا چاہئے۔ رہامعاملہ علامہ شامی کے مختار قراردینے کاتو میں کہتاہوں کہ جوکچھ ہم نے بیان کیا اس فاضل علام کے کلام کی غایت توجیہ ہے اور جوکچھ منقول و متوارث ہے وہ امام کامحراب حقیقی میں قیام ہے اور وہ مقام سب سے اعلی اور صدرمسجد ہوتاہے جیسا کہ آپ پڑھ چکے لہذا اس کاترك بغیرکسی عذر کے افضل سے اعراض اور متوارث عمل کے خلاف ہے اور مبسوط کاجزئیہ اس پردلالت نہیں کرتا کہ یہ مقام فی نفسہ مقصودنہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہ صف کے درمیان کھڑاہونا سنت عظیمہ ہے کیونکہ جب دونوں میں تعارض ہو تووسط میں کھڑا ہونا سنت اور مختارہوگا دل لگتی بات یہ ہے کہ ائمہ کے کلام کو اپنے اطلاق پررکھیں اگرچہ یہ کمزور سی بات ہے تاہم اس سے محلہ کی مسجد میں پہلے امام کاحقیقی محراب کوچھوڑنا مراد ہے یہ اس مقام میں آخری کلام ہے اور اس سے پورا مقصد واضح ہوگیا اور تمام ائمہ کا کلام موافق ہوگیا وماتوفیقی الاباﷲ الملك العلام والسلام مع الاکرام علی مولنا عبدالسلام واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۰۰۲ : ازبنگالہ ضلع چاٹگام تھانہ راؤجان موضع پھمرا مرسلہ مولوی اسمعیل صاحب ۱۴شوال ۱۳۲۱ھ
چہ می فرمایند علمائے دین وفضلائے شرع متین کیافرماتے ہیں علمائے دین اور فضلائے شرع متین
#11578 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
اندریں صورت کہ شخصے مصلی ردائے خودرابدیں نوع پوشد کہ اولا وسط ردارابرپشت نہادہ و ہردوسرش راتحت بطین بیروں آوردہ بازجانب چپ رابرمنکب راست وطرف راست رابرمنکب چپ افگند حتی کہ ہردوسرش نیزبطرف پشت و سریں رسندایں صورت درحالت صلوۃ شرعا جائزست یانہ
اس مسئلہ میں کہ نمازی ایك چادر اس طرح پہنتاہے کہ پہلے اس کانصف حصہ اپنی پشت پرڈالتاہے اور اس کے دونوں کونوں کوبغلوں کے نیچے سے باہرلاکر اس کی جانب کودائیں کاندھے اور اس کے دائیں حصے کوبائیں کاندھے پرڈالتاہے حتی کہ اس کے دونوں کونے بھی پشت وسرین تك پہنچ رہے ہوتے ہیں اس حالت میں نمازجائز ہے یانہیں
الجواب :
جائزست فی الصحیحین عن عمربن ابی سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھما قال رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یصلی فی ثوب واحد مشتملا بہ فیبیت ام سلمۃ واضعاطرفیہ علی عاتقیہ ۔
وللبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول من صلی فی ثوب واحد فلیخالف بین طرفیہ شیخ محقق دہلوی قدس سرہ راشعۃ اللمعات می فرماید صورت اشتمال آن ست کہ طرفے راست ازجامہ کہ بردوش راست است گرفتہ بردوش چپ بیندازدوطرف چپ
جائز ہے کیونکہ بخاری ومسلم میں حضرت عمربن ابی سلمۃ رضی اللہ تعالی عنہم اسے مروی ہے کہ میں نے بیت حضرت ام سلمہ میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ایك کپڑے میں اس طرح نمازپڑھتے ہوئے دیکھا کہ اس کی دونوں اطراف آپ کے کاندھوں پرتھیں ۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے کہ میں نے رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے سنا جوآدمی ایك کپڑے میں نمازاداکرے اسے چاہئے کہ وہ اس کی دونوں اطراف کومخالف سمت میں ڈالے۔ شیخ محقق دہلوی قدس سرہ اشعۃ اللمعات میں صورت اشتمال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کپڑے کی دائیں طرف جو کپڑا دائیں کاندھے پر ہے بائیں پر ڈال دے اور بائیں کاندھے
حوالہ / References صحیح مسلم ، باب الصلوٰۃ فی ثوب واحد ، مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۱۹۸
صحیح بخاری باب اذاصلی فی الثوب الواحدالخ مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۵۲
#11579 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
کہ بردوش چپ است اززیردست چپ گرفتہ بردوش راست بیندازوپستر بنددہردوطرف رابرسینہ وغالبا احتیاج بہ بستن ہردوطرف برسینہ برتقدیریست کہ گوشہائے جامہ دراز نباشد وبیم واشدن بودواگردراز بسیار باشد احتیاج بربستن نباشد چنانکہ ازلباس فقرائے یمن ظاہرمیگرددولہذا درعبارت بعض شارحان این قیدواقع شدہ ۔ واﷲ تعالی اعلم
کی طرف کوبائیں کے نیچے سے نکال کردائیں کاندھے پرڈال دے اس کے بعد دونوں اطراف کوسینہ پرباندھ لے غالبا دونوں کوسینہ پرباندھنے کی وجہ یہ ہے کہ کپڑے کے کنارے طویل نہ تھے اور اس کے گرجانے کاخطرہ تھا اوراگر اطراف لمبے ہوں توباندھنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ فقرائے یمین کالباس ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ بعض شارحین کی عبارت میں اس قید کاذکرنہیں واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۰۳ : ازملك بنگالہ ضلع میمن سنگھ مرسلہ عبدالحکیم ۲۸ / جمادی الاول ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چبوترہ جوصحن میں ملاصق بیچ کے در میں جوکچھ بلندی ہوتی ہے اس پرنماز جماعت میں امام کاکھڑے ہوکرنماز پڑھناجائز ہے یانہیں اور اس کو اگردورکردیاجائے تونماز جائزہوگی یانہیں
الجواب :
یہ صورت مکروہ ہے
لمشابھۃ الیھود فانھم یجعلون لامامہم علی دکان ممتازا عمن خلفہ والاصح ان لاتقدیر بل کل مایقع بہ الامتیاز یکرہ کمافی الدر ۔
یہ یہود کے ساتھ مشابہت ہے کیونکہ امام کے لئے اونچی جگہ بناتے ہیں اور اصح یہ ہے کہ اس کی مقدار کاتعین نہیں بلکہ اتنی اونچائی جس سے امتیاز ہوجائے مکروہ ہے جیسا کہ در میں ہے۔ (ت)
اور اگراسے دورکردیں توامام اگردرمیں کھڑا ہوتویہ بھی مکروہ ہے
لقول امامنا رضی اﷲ تعالی عنہ انی اکرہ للامام ان یقوم بین الساریتین
ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ کاارشاد ہے کہ امام کے دوستونوں کے درمیان کھڑاہونے کو
حوالہ / References اشعۃ اللمعات باب الستر الفصل الاول مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۴۴
درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۲
ردالمحتار مطلب فی کراہۃ قیام الامام فی غیرالمحراب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۲۰
#11580 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
کما فی المعراج
ناپسند جانتاہوں جیسا کہ معراج میں ہے(ت)
اور اگرصحن میں کھڑا ہو کر کرسی کی بلندی پرسجدہ کرے تویہ سخت ترمکروہ ہے یہاں تك کہ وہ بلندی بالشت بھرہوتونمازہی نہ ہوگی کمافی درالمختار وغیرہ(جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) توجب صحن میں صفوں کے لئے زیادہ وسعت چاہیں تو اس کاطریقہ یہ ہے کہ درکی کرسی بقدر سجدہ کھود کرطاق کے مثل بنائیں اوراتنا ٹکڑا صحن سے ہموارکردیں امام صحن میں کھڑا ہوکر اس طاق نماز میں سجدہ کرے اب کوئی کراہت نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰۴ : ازاترولی ضلع علی گڑھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبدالکریم صاحب مدرس ۸ / جمادی الاخری ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پہلی رکعت میں قل یاپڑھے دوسری رکعت میں انا اعطینا پڑھے ترتیب واجب میں فرق آیا الٹاقرآن پڑھنے سے۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
ترتیب الٹنے سے نماز کااعادہ واجب ہو نہ سجدہ سہو آئے۔ ہاں یہ فعل ناجائز ہے اگرقصدا کرے گنہگارہوگا ورنہ نہیں اور اگربعد کی سورت پڑھناچاہتاتھا زبان سے اوپر کی سورت کاکوئی حرف نکل گیا تواب اسی کوپڑھے اگرچہ خلاف ترتیب ہوگا کہ یہ اس نے قصدا نہ کیا اور اس کا حرف نکل جانے سے اس کاحق ہوگیا کہ اب اسے چھوڑنا قصدا چھوڑنا ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے :
ترتیب السور فی القراءۃ من واجبات التلاوۃ وانما جوز للصغار تسھیلا لضرورۃ التعلیم ط التنکیس اوالفصل بالقصیرۃ انما یکرہ اذا کان عن قصد فلو سھوا فلا شرح المنیۃ واذا انتفت الکراھۃ فاعرضہ عن التی شرع فیھا لاینبغی وفی الخلاصۃ افتتح سورۃ و قصدہ سورۃ اخری فلما قرء ایۃ وایتین اراد ان یترك تلك السورۃو یفتتح التی ارادھا یکرہ الخ
قرأت میں سورتوں کے درمیان ترتیب رکھنا واجب ہے چھوٹے بچوں کے لئے ضرورت تعلیم کے پیش نظر جائز ہے تاکہ آسانی ہو ط خلاف ترتیب یاتھوڑا فاصلہ اس وقت مکروہ ہے جب دانستہ ہو اگربھول کر ہوتو مکروہ نہیں شرح المنیہ اور جب کراہت ختم ہو تو مشروع سے اعراض مناسب نہیں خلاصہ میں ہے کسی ایك نے سورت شروع کی اور دوسری کا ارادہ کیاجب ایك آیت یادو آیات تلاوت کیں تو اس نے چاہا کہ یہ سورت چھوڑدے اور وہ شروع کرے جس کاارادہ تھا تو یہ مکروہ ہے الخ اور فتح میں ہے کہ اگرچہ پڑھاہوا محض ایك حرف ہو الخ
#11581 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
وفی الفتح ولوکان ای المقرؤ حرفا واحدا الخ
فی ردالمحتار انھم قالوا یجب الترتیب فی سورۃ القران فلوقرأمنکوسا اثم لکن لایلزمہ سجود السھو لان ذلك من واجبات القرائۃ لامن واجبات الصلوۃ کمافی البحر باب السھو الخ شامی اقول وبہ یظھر مافی افتاء الشیخ الملانظام الدین والد ملك العلماء بحرالعلوم رحمہما اﷲ تعالی بایجاب السجود فیہ بناء علی وجوبہ فانہ خلاف المنقول المنصوص علیہ فی کتب المذھب وقدکان یتوقف فیہ المولی بحرالعلوم قدس سرہ واﷲ تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے کہ فقہاءنے فرمایا ہے کہ قرآنی سورتوں میں ترتیب ضروری ہے اگرکسی نے خلاف ترتیب پڑھا تووہ گنہگارہوگا لیکن اس پرسجدہ سہولازم نہیں ہوتا کیونکہ یہ واجبات قرأت میں سے ہے نماز کے واجبات میں سے نہیں جیسا کہ بحرکے باب السہومیں ہے الخ شامی اقول (میں کہتاہوں ) اسی کے ساتھ یہ بھی واضح ہوگیا کہ شیخ ملانظام الدین والدگرامی ملك العلماء بحرالعلوم رحمہم اللہ تعالی نے جوفتوی دیا کہ اس صورت میں سجدئہ سہولازم ہے کیونکہ یہ عمل واجب ہے یہ کتب مذہب میں منقول نصوص کے خلاف ہے اور اس میں بحرالعلوم قدس سرہ نے توقف سے کام لیا ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۰۵ : ۲۱ذیقعد ۱۳۲۲ھ
اگرکسی شخص نے صبح کی نماز کے وقت جلدی میں غلطی سے یااندھیرے میں الٹی دلائی اوڑھ کرنمازپڑھی تو وہ نماز مکروہ تحریمی یاواجب الاعادہ ہوگی یافاسد وغیرہ بینواتوجروا۔
الجواب :
واجب الاعادہ اورمکروہ تحریمی ایك چیزہے کپڑا الٹا پہننا اوڑھنا خلاف معتاد میں داخل ہے اور خلاف معتاد جس طرح کپڑا پہن یا اوڑھ کر بازارمیں یا اکابر کے پاس نہ جاسکے ضرورمکروہ ہے کہ دربارعزت احق بادب وتعظیم ہے۔
واصلہ کراھۃ الصلوۃ فی ثیاب
اصل یہ ہے کہ کام ومشقت کے لباس میں نمازمکروہ ہے درمیں ہے نمازی کاکام کے کپڑوں میں نمازاداکرنا
حوالہ / References ردالمحتار فصل ویجہرالامام قبیل باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۰۴
ردالمحتار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۳۷
#11582 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مھنۃ قال فی الدر وکرہ صلوتہ فی ثیاب مھنۃ قال الشامی وفسرھا فی شرح الوقایۃ بما یلبسہ فی بیتہ ولایذھب بہ الی الاکابر ۔
مکروہ ہے شامی نے فرمایا اور اس کی تفسیرشرح وقایہ میں ہے وہ کپڑ جوآدمی گھرپہنتاہے مگران کے ساتھ اکابرکے پاس نہیں جاتا (ت)
اور ظاہر کراہت تنزیہی ۔
فان کراھۃ التحریم لابدلھا من نھی غیرمصروف عن الظاھر کماقال ش فی ثیاب المھنۃ والظاھر ان الکراھۃ تنزیھیۃ ۔
کیونکہ کراہت تحریمی کے لئے ایسی نہی کاہونا ضروری ہے جوظاہر سے مؤول نہ ہو جیسا کہ علامہ شامی نے کام کے کپڑوں کے بارے میں کہا کہ ظاہرکراہت تنزیہی ہے۔ (ت)
اور اسے سدل میں کہ مکروہ تحریمی اور اس سے نہی وارد دخل نہیں کہ وہ برلبس خلاف معتاد نہیں بلکہ کپڑا اوپر سے اس طرح سے ڈال لینا کہ دونوں جانبین لٹکتی رہیں مثلا چادر سریاکندھوں پرڈال لی اور دوبالا نہ مارا یاانگرکھاکندھے پرڈال لیا اور آستین میں ہاتھ نہ ڈالا کما فی الدروغیرہ (جیسا کہ دروغیرہ میں ہے۔ ت) اور اگرآستینوں میں ہاتھ ڈالے اور بندنہ باندھے تویہ بھی سدل نہ رہا اگرچہ خلاف معتادضرورہے ہاں امام ابوجعفرہندوانی نے اس صورت کو مشابہ سدل ٹھہراکر فرمایا کہ براکیا امام ابن امیرالحاج نے حلیہ میں ایك قید اور بڑھائی کہ اگرنیچے کرتا نہ ہو ورنہ حرج نہیں اور اقرب یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں حرج ہے
قال فی ردالمحتار قال فی الخزائن بل ذکر ابو جعفر انہ لوادخل یدیہ فی کمیہ ولم یشد وسطہ اولم یزرازراہ فھو مسیئ لانہ یشبہ السدل اھ قلت لکن قال فی الحلیہ فیہ نظر ظاھر بعد ان یکون تحتہ قمیص اونحوہ
ردالمحتار میں ہے کہ خزائن میں ہے بلکہ ابوجعفر نے ذکر کیا کہ اگرنمازی نے اپنے بازؤوں کوآستینوں میں داخل کردیا اور درمیان کو نہیں باندھا یا اس نے اس کے بٹن بند نہ کئے توخطاکار ہے کیونکہ سدل کی طرح ہے اھ میں کہتاہوں حلیہ میں ہے کہ اس میں واضح اعتراض ہے جبکہ اس کے نیچے قمیص یا ایسا کپڑا
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۱
ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۴۱
ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۴۱
درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۱
#11583 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
ممایستر البدن اھ اقول : وفیہ نظر ظاہر فان انکشاف شیء من صدر الرجل و بطنہ لا اساء ۃ فیہ اذا کان عاتقاہ مستورین وانما نھی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عما اذا صلی فی ثوب واحد ولیس علی عاتقہ منہ شیئ ولاشك ان ارسال اطراف مثل الشایہ من دون ان یزر ازارھا انما یشبہ السدل بنفس ھیأۃ ولامدخل فیہ لوجود القمیص تحتہ وعدمہ لما ان السدل سدل وان کان فوق القمیص ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول النظر ان کان ففی کراھۃ التحریم اماالتنزیھی فلاشك فی ثبوتہ ۔
ہوجوبدن ڈھانپ دےاھ اقول : (میں کہتاہوں ) اس میں نظر ہے کیونکہ انسان کے سینے اور بطن کے کسی حصے کاظاہرہونا اس میں کوئی برائی نہیں جبکہ اس کے کاندھے مستورہوں اور رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس صورت میں ایك کپڑے میں نماز سے منع فرمایا ہے جبکہ اس کے کاندھے پر کوئی شئی نہ ہو اور اس میں کوئی شك نہیں کہ اطراف کاکھلاہونا بٹن باندھنے کے بغیرسدل کے مشابہ ہے اس میں نیچے قمیص اور عدم قمیص کاکوئی دخل نہیں کیونکہ سدل سدل ہی ہوتاہے اگرچہ قمیص پر ہو اور مجھے یادآرہاہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پرلکھا ہے اقول نظر تب ہے کہ اگرکراہت تحریمی ہو اور اگرتنزیہی ہو تو اس کے ثبوت میں کوئی شك نہیں ۔ (ت)
ہاں اگرقصدا ایساکیا یوں کہ نماز کومحل بے پرواہی جانا اور اس کا ادب واجلال ہلکامانا توکراہت و حرمت درکنار معاذاﷲ اسلام ہی نہ رہے گا۔ کماقالوا فی الصلوۃ حاسرالرأس اذاکان للاستہانۃ (جیسا کہ علماء نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جوسستی وکاہلی کی وجہ سے ننگے سرنمازاداکرتاہے۔ ت) والعیاذباﷲ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰۶ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی نے گلوبند سرمیں لپیٹ کرنمازپڑھائی بغیرٹوپی کے تویہ نماز مکروہ تحریمی یاتنزیہی ہوئی یانہیں
الجواب :
مخالف سنت ہوا حدیث میں ہے :
الفرق بیننا وبین المشرکین العمائم ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۴۰
صحیح بخاری باب اذا صلی فی ثوب واحد الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۵۲
جدالممتار علی ردالمحتار مکروہات الصلٰوۃ المجمع الاسلامی مبارك پور انڈیا ۱ / ۳۰۴
#11584 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
علی القلانس ۔ و قررالشیخ قدس سرہ فی اللمعات ان تعمیم مشرکی العرب ثابت معلوم فالمعنی انانجعل العمائم علی القلانس وھم یتعممون بدونھا۔
عمامہ باندھنا ہے۔ (ت)اور شیخ قدس سرہ نے لمعات میں ثابت کیا ہے کہ مشرکین عرب کاعمامہ باندھنا ثابت ہے اب معنی یہ ہوگا کہ ہم ٹوپیوں پرعمامہ باندھتے ہیں اور مشرکین ٹوپیوں کے بغیر۔ (ت)
پھر اگرگلوبندچھوٹا ہو کہ ایك دوپیچ سے زائد نہ کرسکے تویہ سنت عمامہ کابھی ترك ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰۷ : ازرام پور مرسلہ جناب مولنا مولوی شاہ سلامت اﷲ صاحب ۴محرالحرام ۱۳۲۳ھ
(مع رسالہ نعم الجواب فی مسئلہ المحراب )
خلاصہ سوال
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید امام مسجد کہتاہے کہ محراب ہی کے پاس نمازپڑھنا مسنون ہے باہرمسجد کے مکروہ ہے باوجودیکہ اندرمسجد کے عشاکے وقت سخت گرمی اور لوگوں کوتکلیف ہوتی ہے زید اندرہی محراب کے پاس پڑھتاہے اکثرضعفا کو اس تکلیف وگرمی سے قے بھی ہوجاتی ہے اوربیہوشی ہوتی خوف ہلاکت ہوتاہے لیکن زید نہیں مانتا۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
تحریرفقیر پرجواب مولوی معزاﷲخاں صاحب وتائید مولناشاہ سلامت اﷲ صاحب
جزی اﷲ المجیب خیرا ویثیب وایدی الفاضل المؤید بنصرہ القریب (جواب دینے والے کو اﷲ جزائے خیردے اور اس فاضل کومددقریب سے نوازے۔ ت) فی الواقع زید کاقول محض باطل وجہالت اور اس پرایسااصرار اور اس کے سبب نمازیوں بلکہ خود نمازوجماعت نماز کو اس درجہ اضرار صریح ضلالت ہے فقیرنے اپنے فتاوی میں اس مسئلہ کی تنقیح تام اور محراب کی حقیقی وصوری اقسام اور حدیثا وفقہا ان کے احکام اور تحقیق مرام وازالہ اوہام بفضلہ تعالی بروجہ کافی وشافی ذکرکی یہاں اسی قدر کافی کہ ہندیہ و بزازیہ و خلاصہ و ظہیریہ و خزانۃ المفتین وغیرہاکتب معتمدہ میں ہے :
قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام
کچھ لوگ داخل مسجد اور کچھ خارج مسجدہیں مؤذن نے تکبیر کہی اہل خارج میں سے امام نے جماعت کروائی
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب فی العمائم مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۰۸ ، مشکٰوۃ المصابیح کتاب اللباس مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۷۴
#11585 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
امام من اھل الخارج فامھم وقام امام من اھل الداخل فامھم من یسبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقہم ۔
اور اسی طرح اہل داخل میں سے ایك نے جماعت کروائی تو جس نے سبقت لی وہ امام ہے اور لوگ اس کے مقتدی ان کے حق میں کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)
امام ابن امیرالحاج حلبی شرح منیہ میں فرماتے ہیں : المسجد الخارج صحن المسجد (مسجد خارج سے صحن مسجد مراد ہے۔ ت) دیکھوکیسی تصریح ہے کہ صحن مسجد میں نمازپڑھنی جماعت کرنی امامت کرنی اصلا کسی طرح مکروہ نہیں۔
لان السابق بالشروع فی الصورۃ المذکورۃ ان کان امام الخارج وھوالذی ھو و مقتدہ کلھم فی الصحن کان ھو المحکوم لہ بقول الائمۃ ھو و المقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم ولا ھذہ لنفی الجنس فتفید نفی کل کراھۃ عنھم وھو المقصود۔ واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ صورت مذکورہ میں شروع میں سبقت کرنے والا اگرامام خارج ہے تو وہ امام اور اس کے مقتدی تمام صحن میں ہوں گے اور ائمہ کایہ بیان کردہ حکم کہ وہ امام اور لوگ اس کے مقتدی ہوں گے اور ان پرکوئی کراہت نہیں اسی پرلاگو ہوگا اور یہ “ لا “ نفی جنس کے لئے ہے جس سے کراہت کی نفی ہوجاتی ہے اوریہی مقصود ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۰۸ : ازمارہرہ مطہرہ کمبوہ محلہ مرسلہ چودھری محمدطیب صاحب ۴محرم الحرام ۱۳۲۳ھ
جوتیوں سمیت نماز پڑھنا ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہاہم سے شعبہ نے کہا ہم کو ابومسلمہ سعیدبن یزید ازدی نے خبردی کہا میں نے انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جوتیاں پہنے پہنے نماز پڑھتے تھے انہوں نے کہا
حدثنا ادم ابن ابی ایاس قال انا ابومسلمۃ سعید بن یزید الازدی قال سألت انس بن مالك کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ قال نعم۔
آدم ابن ابی ایاس بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابومسلمہ سعید بن یزید الازدی نے بتایا کہ میں نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نعلین میں نمازاداکی ہے انہوں نے فرمایا ہاں (ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ فصل فی بیان من ھو احق بالامامۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۸۴ ، خلاصہ الفتاوٰی الفصل الخامس فی الامامۃ والاقتداء مطبوعہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴۵
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
#11586 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
ابن بطال نے کہا جب جوتے پاك ہوں تو ان میں نمازپڑھناجائز ہے میں کہتاہوں مستحب ہے کیونکہ ابوداؤد اور حاکم کی حدیث میں ہے کہ یہودیوں کاخلاف کرو وہ جوتوں اور موزوں میں نمازنہیں پڑھتے۔ اورحضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نماز میں جوتے اتارنامکروہ جانتے تھے اور ابوعمروشیبانی کوئی نماز میں جوتا اتارے تو اس کو مارتے تھے اور ابراہیم سے جو امام ابوحنیفہ کے استاذ ہیں ایسا ہی منقول ہے۔ شوکانی نے کہا صحیح اور قوی مذہب یہی ہے کہ جوتیاں پہن کرنماز پڑھنامستحب ہے اور جوتوں میں اگرنجاست ہوتووہ زمین پررگڑدینے سے پاك ہوجاتے ہیں خواہ وہ کسی قسم کی نجاست ہو تریاخشک جرم والا یابے جرم۔
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب اقول وباﷲ التوفیق وبہ الحصول الی ذری التحقیق (اے اﷲ! حق اور صواب کی ہدایت دے اقول : اور اﷲ ہی توفیق دینے والا اور وہ ہے جو تحقیق کی منزل پرپہنچانے والا ہے۔ ت) سخت اور تنگ پنجے کاجوتا جوسجدہ میں انگلیوں کاپیٹ زمین پربچھانے اور اس پر اعتماد کرنے زوردینے سے مانع ہو ایسا جوتا پہن کرنماز پڑھنی صرف کراہت و اساءت درکنارمذہب مشہورہ و مفتی بہ کی روسے راسا مفسد نماز ہے کہ جب پاؤں کی انگلی پراعتماد نہ ہوا سجدہ نہ ہوا اور جب سجدہ نہ ہوا نماز نہ ہوئی امام ابوبکرجصاص و امام کرخی و امام قدوری و امام برہان الدین صاحب ہدایہ وغیرہم اجلہ ائمہ نے اس کی تصریح فرمائی محیطو خلاصہ و بزازیہ و کافی و فتح القدیر و سراج و کفایہ و مجتبی و شرح المجمع للمصنف و منیہ و غنیہ شرح منیہ و فیض المولی الکریم و جوہرئہ نیرہ و نورالایضاح و مراقی الفلاح و درمنتقی و درمختار و علمگیریہ و فتح المعین علامہ ابوالسعود ازہری و حواشی علامہ نوح آفندی وغیرہا کتب معتمدہ میں اسی پرجزم فرمایا زاہدی نے کہا یہی ظاہرالروایۃ ہے علامہ ابراہیم کرکی نے فرمایا اسی پرفتوی ہے جامع الرموز میں قنیہ سے نقل کیا یہی صحیح ہے ردالمحتار میں لکھا کتب مذہب میں یہی مشہور ہے درمختارمیں ہے :
فیہ (ای فی شرح الملتقی) یفترض وضع اصابع القدم ولوواحدۃ نحوالقبلۃ والا لم تجز والناس عنہ غافلون وشرط طھارۃ المکان وان یجد حجم الارض والناس عنہ غافلون اھ ملخصا
اس (شراح الملتقی) میں ہے قدم کی انگلیوں کا زمین پرجانب قبلہ رکھنا فرض ہے خواہ وہ ایك ہی کیوں نہ ہو ورنہ جائز نہیں اور لوگ اس سے غافل ہیں اور مکان کاپاك ہونا بھی شرط ہے اور حجم زمین کوپانا اور لوگ اس سے بھی غافل ہیں اھ تلخیصا(ت)
حوالہ / References درمختار فصل واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ کبّر مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۷۲
#11587 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
اسی میں ہے :
منھا(ای من الفرائض) السجود بجبھتہ وقدمیہ ووضع اصبع واحدۃ منھما شرط ۔
ان میں سے (یعنی فرائض میں سے) پیشانی اور قدمین پرسجدہ کرناہے اور ان دونوں پاؤں میں سے ایك انگلی کالگنا شرط ہے۔ (ت)
منیہ میں ہے :
لوسجد ولم یضع قدمیہ علی الارض لایجوز ولووضع احدھما جاز ۔
اگرسجدہ کیا لیکن قدم زمین پرنہ لگے تووہ جائز نہ ہوگا اور اگران سے ایك قدم لگ گیا توجائزہوگا(ت)
غننہ میں ہے :
المراد من وضع القدم وضع اصابعھا قال الزاھ دی ووضع رؤس القدمین حالۃ السجود فرض وفی مختصر الکرخی سجد ورفع اصابع رجلیہ عن الارض لاتجوز وکذا فی الخلاصۃ والبزازی وضع القدم بوضع اصابعہ وان وضع اصبعا واحدۃ اووضع ظھرالقدم بلااصابع ان وجع مع ذلك احدی قدمیہ صح والافلا فھم من ھذا ان المراد بوضع الاصابع توجیھھا نھو القبلۃ لیکون الاعتماد علیھا والافھووضع ظھرالقدم وقدجعلہ غیرمعتبر وھذا ممایجب التنبیہ لہ فان اکثرالناس عنہ غافلون ۔
قدم رکھنے سے مراد اس کی انگلیوں کورکھنا ہے زاہدی نے کہا حالت سجدہ میں دونوں قدموں کی انگلیوں کے سروں کازمین پررکھنا فرض ہے۔ مختصرکرخی میں ہے اگرکسی نے سجدہ کیا مگرپاؤں کی انگلیان زمین سے اٹھی رہیں تو سجدہ نہ ہوگا۔ اسی طرح خلاصہ میں ہے۔ بزازیہ میں قدم رکھنے سے مراد انگلیوں کارکھناہے اور اگرقدم کی پشت انگلیوں کے بغیر لگائی تو اگراس کے ساتھ کسی ایك قدم کوبھی لگایاتوصحیح ورنہ نہیں اس سے یہ بھی سمجھ آرہاہے کہ انگلیوں کے رکھنے سے مراد انہیں قبلہ کی طرف کرنا ہے تاکہ ان پرٹیك ہو ورنہ قدم کی پشت پر ہوگا اور اسے توغیر معتبر قرار دیا گیا ہے اور اس پرمتنبہ ہونانہایت ضروری ہے کیونکہ اکثرلوگ اس سے غافل ہیں ۔ (ت)
حوالہ / References درمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۷۰
منیۃ المصلی باب فرائض صلٰوۃ مبحث السجود مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۲۶۱
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فرائض صلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۸۵
#11588 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
بحرالرائق و شرنبلالیہ میں ہے :
السجود فی الشریعۃ وضع بعض الوجہ ممالاسخریۃ فیہ وخرج بقولنا لاسخریۃ فیہ ما اذا رفع قدمیہ فی السجود فانہ لایصح لان السجود مع رفعھما بالتلاعب اشبہ منہ بالتعظیم والاجلال ویکفیہ وضع اصبع واحدۃ فلو لم یضع الاصابع اصلا ووضع ظاھر القدم فانہ لایجوز لان وضع القدم بوضع الاصبع اھ ملتقطا ۔
شریعت میں سجدہ یہ ہے چہرہ کازمین پررکھنا اور اس میں سخریت نہ ہو “ لاسخریۃ فیہ “ سے وہ صورت خارج ہوجاتی ہے جس میں دونوں قدم حالت سجدہ میں زمین پر نہ ہوں کیونکہ حالت سجدہ میں ان کازمین سے اٹھاہواہونا تعظیم وعزت کے بجائے مذاق پردالالت کرتاہے اور اس میں ایك انگلی کازمین پرلگ جانا کافی ہوتاہے۔ پس اگرکسی نے انگلیاں بالکل نہیں لگائیں مگر پشت قدم کولگایا تویہ جائز نہیں کیونکہ قدم کے رکھنے سے مرادانگلی کالگانا ہے اھ تلخیصا(ت)
جوہرئہ نیرہ میں ہے :
من شرط جواز السجود ان لایرفع قدمیہ فان رفعھما فی حال سجودہ لاتجزیہ السجدۃ وان رفع احدھما قال فی المرتبۃ یجزیہ مع الکراھۃ ولو صلی عن الد کان وادلی رجلیہ عن الدکان عند السجود لایجوزوکذا علی السریر اذا ادلی رجلیہ عنھا لایجوز ۔
جوازسجدہ کے لئے شرط یہ ہے کہ دونوں قدم زمین سے اٹھے ہوئے نہ ہوں اگرحالت سجدہ میں اٹھے ہوئے رہے تو سجدہ جائز نہیں ہوگا اور اگران میں ایك رکھاہوا تھا تومرتبہ میں ہے کہ سجدہ جائز مگرمکروہ ہوگا اگرکسی نے اونچی جگہ نمازپڑھی اور سجدہ کے وقت پاؤں نیچے لڑھکادئیے توجائزنہیں اسی طرح چارپائی سے اگرپاؤں نیچے لڑھکادئیے توسجدہ نہ ہوگا۔ (ت)
فتح القدیرمیں ہے :
اما افتراض وضع القدم فلان السجود
قدم کا زمین پرلگنا اس لئے ضروری ہے کہ ان کا
حوالہ / References بحرالرائق باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۲۹۳
جوہرنیرہ شرح قدوری باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مکتبہ امدایہ ، ملتان ۱ / ۶۳
#11589 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مع رفعہما بالتلاعب اشبہ منہ بالتعظیم ولاجلال ویکفیہ وضع اصبع واحدۃ وفی الوجیز وضع القدمین فرض فان رفع احدھما دون الاخری جازویکرہ ۔
اٹھاہوا ہونا تعظیم وعزت کے بجائے مذاق کے زیادہ قریب ہے البتہ ایك انگلی کالگ جانا بھی کافی ہوتاہے وجیز میں ہے کہ دونوں قدموں کالگانا فرض ہے اگر ایك لگارہا اور دوسرا اٹھ گیاتوجائز مگرمکروہ ہے(ت)
شرح نقایہ قہستانی میں ہے :
الصحیح ان رفع القدمین مفسدکما فی القنیۃ ۔
صحیح یہی ہے کہ قدمین کازمین سے اٹھ جانا نماز کو فاسد کردیتاہے جیسا کہ قنیہ میں ہے۔ (ت)
فتح اﷲ المعین میں ہے :
وضع اصبع واحدۃ من القدمین شرط ۔
قدمین کی ایك انگلی کالگنا شرط ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
یفترض وضع واحدۃ من اصابع القدم ۔
قدم کی انگلیوں میں سے ایك کالگنا فرض ہے۔ (ت)
اسی میں زیرقول کنز وجہ اصابع رجلیہ نحو القبلۃ (پاؤں کی انگلیوں کوقبلہ کی طرف کرکے زمین پرلگایاجائے۔ ت) فرمایا :
خص اصابع الرجلین بالذکر مع ان اصابع الیدین کذلك حتی یکرہ تحویلھا عن القبلۃ انما خصھا وضعھا موجھۃ کما ذکرہ نوح افندی ونصہ
یہاں پاؤں کی انگلیوں کاذکرہوا ہے حالانکہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کالگنا بھی اسی طرح ہے حتی کہ ان کاقبلہ سے پھرجانا بھی مکروہ ہے مگرمخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں قبلہ کی طرف متوجہ کرنا فرض ہے جیسا کہ نوح آفندی نے ذکرکیا اور اس کے الفاظ
حوالہ / References فتح القدیر باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۶۵
جامع الرموز فصل فی فرائض الصلٰوۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۴۰
فتح اﷲ المعین باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۹
فتح اﷲ المعین باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۱
#11590 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
قال الزاھدی ووضع رؤس القدمین حالۃ السجود فرض وفی مختصر الکرخی سجد ورفع اصابع رجلیہ عن الارض لایجوز قال وفھم من ھذا ان المراد بوضع الاصابع توجیھھا نحو القبلۃ لیکون الاعتماد علیھا والافھو وضع لظھر القدم وھو غیرمعتبر الخ وکذا الحلبی عن المنیۃ الخ۔
یہ ہیں زاہدی نے کہا حالت سجدہ میں قدمین کی انگلیوں کے سروں کا لگنا فرض ہے مختصرکرخی میں ہے کسی نے سجدہ کیا مگرپاؤں کی انگلیان زمین پرنہ لگیں تویہ جائزنہیں اور فرمایا اس سے یہ بھی سمجھ آرہاہے کہ انگلیوں کے لگانے سے مراد انہیں قبلہ کی طرف متوجہ کرناہے تاکہ اعتماد ان پرہو ورنہ توپشت قدم پرہوگا جومعتبر نہیں الخ حلبی میں منیہ سے یہی ہے۔ (ت)
نورالایضاح و مراقی الفلاح میں ہے :
من شرط صحۃ السجود وضع شئی من اصابع الرجلین موجھا بباطنہ نحو القبلۃ ولایکفی لصحۃ السجود وضع ظاھر القدم ۔
صحت سجدہ کے لئے پاؤں کی انگلیوں کاقبلہ کی طرف متوجہ ہوکرزمین پرلگنا شرط ہے فقط ظاھر قدم کازمین پرلگنا کافی نہیں ۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
وکذا قال فی الھدایۃ واما وضع القدمین فقد ذکر القدوری انہ فرض فی السجود اھ فاذا سجد ورفع اصابع رجلیہ لایجوز کذا ذکرہ الکرخی والجصاص ولووضع احداھما جاز قال القاضی خاں و یکرہ قال فی المجتبی قلت ظاھر مافی مختصر الکرخی والمحیط والقدوری انہ اذ رفع احدھما دون الاخری لایجوز وقدرأیت فی
ہدایہ میں اسی طرح ہے رہا قدمین کالگنا تو قدوری نے کہا کہ یہ سجدہ میں فرض ہے پس جب سجدہ کیا مگرپاؤں کی انگلیاں نہ لگیں توسجدہ صحیح نہ ہوگا اسی طرح کرخی اور جصاص نے کہا اور اگر ایك انگلی لگ گئی توجائز ہے قاضی نے کہا مگرکراہت ہے۔ مجتبی میں ہے مختصر کرخی محیط اور قدوری کاظاہربتارہا ہے کہ جب ایك پاؤں اٹھاہواہو تو یہ جائز نہیں اور میں نے اس کے بعض نسخوں
حوالہ / References فتح اﷲ المعین باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۹۲
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۲۷
#11591 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
بعض النسخ فیہ روایتان اھ ومشی علی روایۃ الجواز برفع احدھما فی التفصیل والخلاصۃ وغیرھما وذھب شیخ الاسلام الی ان وضعھما سنۃ واختار فی العنایۃ ھذہ الروایۃ وقال انھا الحق واقرہ فی الدرر و وجھہ ان السجود لایتوقف تحققہ علی وضع القدمین فیکون افتراض وضعھما زیادۃ علی الکتاب بخبر الواحد لکن ردہ فی شرح المنیۃ وقال ان قولہ ھو الحق بعید عن الحق وبضدہ احق اذلاروایۃ تساعدہ والدرایۃ تنفیہ لان مالایتوصل الی الفرض الابہ فھو فرض و حیث تظافرت الروایات عن ائمتنا بان وضع الیدین والرکبتین سنۃ ولم ترد روایۃ بانہ فرض تعین وضع القدمین او احدھما للفرضیۃ ضرورۃ التوصل الی وضع الجبھۃ وھذا لولم ترد بہ عنھم روایۃ کیف و الروایات فیہ متوافرۃ اھ ویؤیدہ مافی شرح المجمع لمصنفہ حیث استدل علی ان وضع الیدین والرکبتین سنۃ بان ماھیۃ السجدۃ حاصلۃ بوضع الوجہ والقدمین علی الارض الخ وکذا مافی الکفایۃ عن الزاھدی من ان ظاھر الروایۃ ماذکر فی مختصرا لکرخی وبہ جزم فی السراج و فی الفیض وبہ یفتی ھذا وقال فی الحلیۃ والاوجہ علی منوال ماسبق ھوالوجوب
میں دوروایتیں دیکھی ہیں اھ فیض اور خلاصہ وغیرہ میں روایت جواز پرعمل کیا ہے۔ شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ دونوں پاؤں کارکھنا سنت ہے۔ عنایہ میں اسی روایت کومختارکہا ہے اور کہا یہی حق ہے اور درر میں اسے ہی ثابت رکھا وجہ یہ ہے کہ سجدہ قدمین کے لگنے پرموقوف نہیں لہذا ان کے لگنے کو فرض قراردینے سے خبر واحد سے کتاب اﷲ پرزیادتی لازم آئے گی لیکن شرح منیہ میں اس کی تردید ہے کہ اسے حق کہنا حق سے بعید ہے بلکہ اس کا خلاف احق ہے کیونکہ کوئی روایت تائید نہیں کرتی اور درایت اس کی نفی کرتی کیونکہ جوفرض تك پہنچائے وہ بھی فرض ہوتاہے اور اس مقام پراپنے ائمہ سے کثرت کے ساتھ روایات ہیں کہ قدمین اور ہاتھوں کازمین پرلگانا سنت ہے اور فرض کی روایت نہیں تاہم پیشانی لگانے کےلئے دویاایك قدم کا لگانا فرض متعین ہے اگرکوئی روایت نہیں ہوتی تب بھی یہ حکم تھا حالانکہ اس بارے میں روایات کثیرہیں اھ اس کی تائید خود ماتن کی شرح مجمع کے اس استدلال سے بھی ہوتی ہے ہاتھوں اور قدموں کازمین پرلگانا سنت ہے کیونکہ سجدہ کی ماہیت چہرہ اور قدمین زمین پررکھنے سے حاصل ہوجاتی ہے الخ اسی طرح کفایہ میں زاہدی کے حوالے سے ہے کہ ظاہرالروایۃ وہی ہے جس کا ذکر مختصر الکرخی میں ہے اور اسی پر سراج میں جزم فرمایا اور فیض میں ہے اسی پرفتوی ہے حلیہ میں ہے گزشتہ طریقہ کے مطابق سا بقہ حدیث کے پیش نظر وجوب ہی مختار ہے اھ یعنی اس طریقہ پر جو ان کے شیخ نے ہاتھوں اور
#11592 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
لما سبق من الحدیث اھ ای علی منوال ماحققہ شیخہ من الاستدلال علی وجوب وضع الیدین والرکبتین وتقدم انہ اعدل الاقوال فلذا ھنا واختارہ فی البحر والشرنبلالیۃ قلت ویمکن حمل کل من الروایتین السابقتین علیہ بحمل عدم الجواز علی عدم الحل لاعدم الصحۃ ونفی شیخ الاسلام فرضیۃ وضعھما لاینافی الوجوب وتصریح القدوری بالفرضیۃ یمکن تاویلہ فان الفرض قدیطلق علی الواجب تامل ومامر عن شرح المنیۃ للبحث فیہ مجال لان وضع الجبھۃ لایتوقف علی وضع القدمین بل توقفہ علی الرکبتین والیدین ابلغ فدعوی فرضیۃ وضع القدمین دون غیرھما ترجیح بلامرجح والروایات المتظافرۃ انماھی فی عدم الجواز کمایظھر من کلامھم لافی الفرضیۃ وعدم الجواز صادق بالوجوب کما ذکرنا والحاصل ان المشھور فی کتب المذھب اعتماد الفرضیۃ والارجح من حیث الدلیل والقواعد عدم الفرضیۃ (ملخصا) و اﷲ تعالی اعلم۔ قولہ ولو واحدۃ صرح بہ فی
قدموں کے رکھنے پر یہ استدلال کیاتھا اور یہ گزرچکا کہ یہ معتدل قول ہے پس یہاں بھی یہی معاملہ ہے اور اسے بحر اور شرنبلالیہ میں مختار کہا میں کہتاہوں کہ یہ ممکن ہے کہ سابقہ دونوں روایات میں عدم جواز کوعدم حلت پرمحمول کریں نہ کہ عدم صحت پر شیخ الاسلام کی ان کے زمین پرلگنے کی فرضیت کی نفی کرنا وجوب کے منافی نہیں قدوری کی تصریح کہ یہ فرض ہے اس کی تاویل ممکن ہے کیونکہ بعض اوقات فرض کا اطلاق وجوب پرہوتاہے تامل۔ شرح المنیہ کے حوالے سے جوکچھ گزراہے وہ قابل بحث ہے کیونکہ پیشانی کارکھنا قدمین کے رکھنے پرموقوف نہیں بلکہ ہاتھوں اور گھٹنوں پرموقوف ہونا زیادہ واضح ہے لہذا قدمین کوزمین پررکھنے کوفرض قراردینا اور دوسروں کونہ قراردینا ترجیح بلامرجح ہے اور روایات کثیرہ اس کے عدم جواز میں ہیں جیسا کہ علماء کے کلام سے واضح ہے نہ کہ عدم فرضیت میں اور عدم جواز وجوب کی صورت میں بھی صادق آتاہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیاہے حاصل یہ کہ مشہورکتب مذہب میں فرضیت ہے اور قواعد کے مطابق راجح وجوب ہے(ملخصا) واﷲ تعالی اعلم
قولہ اگرچہ ایك انگلی ہو فیض میں
حوالہ / References ردالمحتار فصل ای فی بیان تالیف الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۶۹
#11593 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
الفیض قولہ نحو القبلۃ اقول وفیہ نظر فقد قال فی الفیض ولووضع ظھر القدم دون الاصابع بان کان المکان ضیقا اووضع احدھما دون الاخری لضیقہ جاز کما لوقام علی قدم واحد و ان لم یکن المکان ضیقا یکرہ اھ فھذا صریح فی اعتبار وضع ظاھر القدم وانما الکلام فی الکراھۃ بلاعذر لکن رأیت فی الخلاصۃ ان وضع احدھما بان الشرطیۃ بدل او العاطافۃ اھ لکن ھذا لیس صریحا فی اشتراط توجیہ الاصابع بل المصرح بہ ان توجیھھا نحو القبلۃ سنۃ یکرہ ترکھا کما فی البرجندی والقھستانی ۔ (ملخصا)
اسی کی تصریح ہے قولہ قبلہ کی طرف اقول اس میں نظر ہے فیض میں ہے اگرقدم کی پشت لگی اور انگلیان نہ لگیں مثلا جگہ تنگ ہے یاتنگی کی وجہ سے ایك قدم لگادوسرا نہ لگ سکا توجائز ہے جیسا کہ کوئی ایك قدم پرکھڑا ہوتاہے اگرمکان تنگ نہ ہو توکراہت ہے اھ یہ عبارت اس بات پرتصریح کہ پشت قدم کااعتبار ہے کلام اس میں ہے کہ بلاعذر مکروہ ہے لیکن میں نے خلاصہ میں دیکھا ہے کہ وہاں او وضع کی بجائے ان وضع احدھماہے (یعنی ان شرطیہ کے ساتھ) لیکن یہ بات انگلیوں کے متوجہ کرنے کو شرط قراردینے میں صریح نہیں ببلکہ تصریح یہ ہے کہ قبلہ کی طرف انگلیوں کومتوجہ کرنا سنت ہے اور اس کاترك مکروہ جیسا کہ برجندی اور قہستانی میں ہے۔ (ملخصا)
یہ علامہ شامی کاکلام ہے کہ قدرے اختصار کے ساتھ منقول ہوا۔
انا اقول وباﷲ العون حمل عدم الجواز علی عدم الحل فی الصلاۃ بعید ولھذا اعترفتم ان المشھور فی کتب المذھب اعتماد الفرضیۃ مع قولکم ان تظافر الروایات انما ھو فی عدم الجواز فلولا ان مرادہ الشائع الذائع ھو الافتراض فمن این یکون اعتماد الفرضیۃ
میں اﷲ کی مدد سے کہتاہوں نماز میں عدم جواز کو عدم حلت پرمحمول کرنا بعیدہے اسی لئے تم نے اعتراف کیا کہ مشہورکتب مذہب میں فرضیت ہے باوجود اس کے کہ تمہارا قو ل ہے کہ اکثر روایات عدم جواز پرہیں اگران کی مراد مشہورومعروف فرض قرار دینانہیں توفرضیت پراعتماد کتب مشہورہ میں کیسے ہوگیا پھر حمل میں گنجائش ہے کہ “ لم یجز “ کہاگیا اور ضمیرمثلا رفع قدمین کیطرف لوٹ رہی ہو جب
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی بیان تالیف الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۶۹
#11594 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مشھورا فی کتب المذھب ثم للحمل مساغ حیث یقال لم یجز و الضمیر لرفع القدمین مثلا اما اذا قیل لم تجز والضمیر للصلاۃ تعین مفید العدم الصحۃ وثبوت الفرضیۃ بالمعنی المقابل للوجوب وھو کذلك فی غیرما کتاب منہا مختصرا الکرخی کماتقدم ھذا وجہ والثانی مثلہ اضافۃ عدم الجواز للسجود کما مضی عن الجوھرۃ والثالث اظھر منہ التعبیر بعدم الاجزاء کماسلف عنھا ایضا فھو مفسرلایقبل التاویل والرابع کذا الحکم بالفساد کما سمعت عن جامع الرموز عن القنیۃ والخامس مقابلتھم عدم الجواز ھذا بحکم الجواز علی ما اذا رفع احدی القدمین کما فی الفتح والوجیز والجوھرۃ وغیرھا نص ایضا فی ارادۃ الجواز بمعنی الصحۃ الا تری انھم حکم علیہ باالکراہۃ والمراد کراھۃ التحریم کما ھو المحمل عند الاطلاق و کما ھو قضیۃ الدلیل ھنا فالجواز بمعنی الحل منتف فیہ ایضا و السادس قد عبر فی عدۃ کتب کالخلاصۃ و البزازیۃ والغنیۃ والبحر الرائق ونورالایضاح ومراقی الفلاح وغیرھا کما سبق بعدم الصحۃ وھو صریح فی المراد والسابع مثلہ الحکم بالشرطیۃ کما فی الدر والجوھرۃ وابی السعود و نورالایضاح ومراقی الفلاح وغیرھا۔ والثامن
“ لم تجز “ کہاجائے توضمیر نماز کی طرف لوٹے جس سے عدم صحت کاتعین ہوجاتااور اس فرضیت کابھی جومعنی وجوب کے مقابل ہے اور متعدد کتب میں اسی طرح ہے ان میں سے مختصرالکرخی بھی ہے جیسا کہ پہلے گزرا یہ ایك صورت ہے دوسری اس کے مثل کی عدم جواز کی سجدہ کی طرف اضافت جیسا کہ جوہرہ کے حوالے سے گزراہے تیسری جوکہ واضح ہے کہ عدم اجزاء سے تعبیر کرنا جیسا کہ پیچھے آیا یہ بھی مفسر ہے اور یہ تاویل کوقبول نہیں کرتا چوتھی اسی طرح حکم بالفساد جیسا کہ آپ نے جامع الرموز سے قنیہ کے حوالے سے پڑھاہے۔ پانچویں یہ کہ انہوں نے مقابلہ عدم جواز کاجواز کے ساتھ کیاہے اور جواز کاحکم اس صورت میں ہوگا جب ایك قدم اٹھاہوا ہو جیسا کہ فتح وجیز جوہرہ وغیرہ میں ہے اس پربھی تصریح ہے کہ جواز بمعنی صحت مراد ہے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ انہوں نے اسے مکروہ کہاہے اور کراہت سے مراد تحریمی ہے جیسا کہ اطلاق کے وقت ہواکرتاہے اور یہاں دلیل کاتقاضا بھی یہی ہے توجواز بمعنی حلت یہاں بھی نہ ہوا چھٹی کہ بہت سی کتب مثلا خلاصہ بزازیہ غنیہ بحرالرائق نورالایضاح مراقی الفلاح وغیرہ میں اسے عدم صحت کے ساتھ تعبیرکیاہے اور یہ مراد پرواضح تصریح ہے۔ ساتویں اسی کی مثل حکم بالشرطیۃ ہے جیسا کہ در جوہرہ ابوسعود نورالایضاح اور مراقی الفلاح میں ہے۔ آٹھویں شرح مجمع کافی فتح بحر وغیرہ میں ہے
#11595 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
صرح فی شرح المجمع والکافی والفتح و البحر وغیرہ کما مربدخول ذلك فی حقیقۃ السجود شرعا وکل قاض بالافتراض بالمعنی الخاص غیر قابل للتاویل الذی ابد یتموہ فکیف یمکن ارجاع جمیع تلك الصرائح الی ماتاباہ بالاباء الواضح فانی یتأتی التوفیق و من این یسوغ ترك النصوص المذھب الی بحث ابداہ العلامۃ ابن امیرالحاج وان تبعہ البحر والشرنبلالی علی مناقضۃ منھما لانفسھا رحمھم اﷲ تعالی والبحر صرح ھھنا وقبلہ بان السجود مع رفع القدمین تلاعب والشرنبلالی قدجزم فی متنہ وشرحہ بافتراض وضع بعض الاصابع والمحقق علی الاطلاق اعلم وافقہ من تلمیذہ ابن امیرالحاج وقدجزم بماجزم وقد سمعت کل ذلك ۔ ثم النظر فی دلیل العلامۃ ابراھیم الحلبی مدفوع بما قدمنا عن الفتح والبحر والشرنبلالی ان السجود مع رفع القدمین بالتلاعب اشبہ منہ بالتعظیم ولانسلم ان کذلك الیدان والرکبتان وکون توقف وضع الوجہ علی وضع ھاتین ابلغ من توقفہ علی وضع القدمین مع ظھور ضعفہ فی الیدین فلاحاجۃ فی وضعہ الی وضعھما اصلا وکذا فی الرکبتین فان الواقع ھھنا التساوی لا الا بلغیۃ نحن لانبنی الکلام علی توقف
جیسا کہ گزرا کہ یہ ماہیت سجدہ میں شرعا داخل ہے اور یہ تمام امور یہاں فرض بمعنی خاص کیلئے فیصلہ کن ہیں جوقابل تاویل نہیں ہیں تو یہ تصریحات جس سے واضح انکاری ہیں اس پر ان کو کیسے محمول کیاجاسکتاہے یہ توفیق کہاں ہوئی اورمذہب کی نصوص کوچھوڑ کر علامہ ابن امیرالحاج کی بحث کی گنجائش کہاں سے نکلی اگرچہ بحر اور شرنبلالی میں اس کی اتباع کی گئی ہے علاوہ ازیں ان کا خود اپنا تضاد ہے بحر نے یہاں اور اس سے پہلے تصریح کی ہے کہ قدموں کے اٹھائے ہوئے سجدہ مذاق ہے۔ شرنبلالی نے متن اور شرح میں کچھ انگلیوں کے لگانے پرجزم کیاہے اور محقق علی الاطلاق اپنے شاگرد ابن امیرالحاج سے زیادہ صاحب علم وفقہ ہیں اور انہوں نے اسی پرجز م کیا جس پرکرناتھا اور وہ تمام آپ نے پڑھ لیاہے۔ پھر علامہ ابراہیم حلبی کی دلیل پراعتراض اس سے ختم ہوجاتاہے جوہم نے پہلے فتح بحر شرنبلالی کے حوالے سے بیان کیا کہ قدم اٹھائے ہوئے سجدہ کرنا تعظیم کے بجائے مذاق کے زیادہ قریب ہے اور ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ہاتھوں اور گھٹنوں کایہی معاملہ ہے اور چہرے کالگنا قدمین کے لگنے سے ان پرزیادہ موقوف ہے باوجود اس کے اس کاضعف ہاتھوں میں ظاہر ہے کیونکہ چہرے کے رکھنے میں ان دونوں کی ضرورت اصلا نہیں اسی طرح گھٹنوں کامعاملہ ہے کیونکہ یہاں مساوات ہے زیادتی نہیں اور ہم کلام کی
#11596 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
وضع الوجہ بل علی توقف السجود المطلوب الشرعی علیہ وھوالذی یکون علی جھۃ التعظیم و الاجلال ولاتعظیم اذا وضع الوجہ ورفع القدمین کما افاد المحقق علی الاطلاق فعن ھذا کان وجع القدم ممالایتوصل الی الفرض الابہ فکان فرضا لاجرم لم یتفرد العلامۃ الحلبی بھذا التعلیل بل سبقہ الیہ امام جلیل وھوالامام ابوالبرکات النسفی قال فی شرح وافیۃ الکافی وضع القدمین فرض فی السجود لانہ لایمکن تحقیق السجود الابوضع القدمین اھ فلم یقل لایمکن وضع الوجہ بل تحقیق السجود اما قول الغنیۃ نحو القبلۃ وقد تبعہ علیہ العلامۃ الشرنبلالی فی مراقی الفلاح والمدقق العلائی والعلامۃ نوح افندی والعلامۃ ابوالسعود الازھری وقد تلونا علیك نصوصھم جمیعا۔ فاقول : حملہ علی مافھمتم بعید من مرامھم کل البعد وکیف یرومونہ وھم مصرحون بانفسھم ان توجیہ الاصابع سنۃ یکرہ ترکہ فلم یحتج علیھم بالبرجندی و القھستانی لم لایحتج علیھم بھم
بنیاد چہرے کے رکھنے کے موقوف پرنہیں رکھتے بلکہ سجدہ کے موقوف ہونے پررکھتے ہیں جو مطلوب شرعی ہو اور اس میں تعظیم وتوقیر ہونہ کہ اس صورت میں جب چہرہ رکھاہواور قدم اٹھے ہوئے ہوں جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فرمایا تواب قدموں کارکھنا فرض کی تکمیل کے لئے ضروری ہواتو وہ لامحالہ فرض ہوگا اور علامہ حلبی اس تعلیل کے بیان کرنے میں تنہا نہیں بلکہ اس سے پہلے ایك امام جلیل جن کااسم گرامی ابوالبرکات نسفی ہے نے بیان کی ہے شرح وافیہ الکافی میں فرمایا سجدے میں قدموں کالگانا فرض ہے کیونکہ سجدہ کا وجود ممکن نہیں ۔ رہا غنیہ کا قول “ قبلہ کی طرف “ تو اس کی علامہ نوح آفندی علامہ ابوالسعود ازہری نے اتباع کی ہے اور ہم نے ان کی عبارات کاتذکرہ کردیاہے۔ فاقول : ان کی عبارات کوجوتم نے سمجھا ہے وہ ان کے مقصود سے کہیں دورہے اور یہ مراد لے بھی کیسے سکتے ہیں حالانکہ خود انہوں نے تصریح کی ہے کہ انگلیوں کا قبلہ کی طرف متوجہ کرنا سنت اور اس کاترك مکروہ ہے۔ پس برجندی اور قہستانی کے حوالے سے ان کے خلاف احتجاج کیوں کیاہے کیوں نہ ان کے
حوالہ / References کافی شرح وافی
#11597 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
قال الحلبی قبیل فصل النوافل یعنی کل شیئ لم یذکر انہ فرض اوواجب قدذکرنا فی صفۃ الصلوۃ مما سوی ماعینا ھھنا انہ سنۃ فھو آدب لکن ھذا التعمیم فیہ نظر و فان من جملۃ ذلك وضع الیدین والرکبتین فی السجود وھوسنۃ وکذا ابداء الضبعین ومجافاۃ البطن عن الفخذین وتوجیہ الاصابع نحوالقبلۃ فیہ فان کل ذلك سنۃ لما تقدم من ادلتہ ھناک وقال الشرنبلالی متناوشرحا یکرہ تحویل اصابع یدیہ اورجلیہ عن القبلۃ فی السجود وغیرہ لما فیہ من ازالتھا عن الموضع المسنون وقال العلائی یستقبل باطراف اصابع رجلیہ القبلۃ ویکرہ ان لم یفعل ذلک بل انما ارادوا رحمھم اﷲ تعالی علی ماالھمنی الملك المنعام عزجلالہ ان یقولوا یفترض وضع بطن الاصبع ولایکفی وضع ظھرھا ولارأسھا الکائن عند ظفرھا لان علی الاول یکون وضع ظھر القدم وقداسقطوہ عن الاعتبار وعلی الثانی
خلاف خود ان کی عبارات سے احتجاج کیا۔ حلبی نے فصل النوافل سے تھوڑا پہلے فرمایا کہ نوافل سے مراد ہروہ شئی ہے جس کا فرض یاواجب ہونا مذکور نہ ہو اور جن اشیاء کو ہم نے صفۃ الصلوۃ میں سنت ہونامعین کیا ہے ان کے سوا تمام آداب ہیں لیکن یہ تعمیم محل نظر ہے کیونکہ ان میں حالت سجود میں ہاتھوں اور گھٹنوں کارکھنابھی ہے حالانکہ وہ سنت ہے اسی طرح پہلوؤں کارانوں کاپیٹ سے دوررکھنا حالت سجدہ میں انگلیوں کو قبلہ کی طرف متوجہ کرنا بھی ہے کیونکہ یہ سابقہ دلائل کی بنا پر سنت ہیں شرنبلالی نے متن اور شرح میں کہا حالت سجود وغیرہ میں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا قبلہ سے پھیرنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں طریقہ سنت کی خلاف ورزی ہے۔ علائی نے کہا پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ رخ کیاجائے اور اگرنہ کیاتوکراہت ہوگی اﷲ تعالی نے مجھے جو آگاہ فرمایا ہے اس کے مطابق یہ سمجھاہوں کہ وہ تمام بزرگ رحمہم اللہ تعالی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایك انگلی کاباطن لگانا فرض ہے اس کاظاہر اور اس کا سرجوناخن والاحصہ ہے لگالینا کافی نہیں کیونکہ پہلی صورت میں قدم کی پشت پرسجدہ ہوگا جس کاوہ اعتبار ہی نہیں کرتے دوسری صورت میں
حوالہ / References غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی سنن الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۸۳
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی المکروہات مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۱۹۴
درمختار فصل واذا اراد الشروع فی الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۷۶
#11598 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
یکون وضعا مجردا عن الاعتماد والمقصود الاعتماد وقد بین ھذا بقولہ لیکون الاعتماد علیھا والافھو وضع ظھرالقدم وقد جعلہ غیرمعتبر انما عبر عنہ بالتوجیہ نحوالقبلۃ لان المصلی ان اراد فی سجودہ الاعتماد علی بطن اصبع قدمہ لم یمکنہ ذلك الابتوجیھھا نحو القبلۃ اعنی بالمعنی المقترض فی الاستقبال ممتدا بین الجنوب والشمال لابالمعنی المسنون النافی للانحراف وکذلك ان اراد توجیھھا للقبلۃ بالمعنی العام لم یتأت لہ الاباصابۃ بطنھا الارض وھذا ظاھر جدا فبینھما تلازم فی الصلوۃ وان کان یمکن خارجھا لمن سجد غلطا او عمد الغیر القبلۃ ان یعتمد علی بطنھا وھی علی خلاف جھۃ القلبۃ فکان ھذا من باب اطلاق اللازم وارادۃ الملزوم اما السنۃ فجعلھا علی مسامتۃ القبلۃ من دون انحراف وھذا الذی لیس فی ترکہ الا الکراھۃ والاساءۃ ھکذا ینبغی ان یفھم ھذا المقام والحمدﷲ المللك المنعام وذلك مانقل الامام ابن امیرالحاج فی الحلیۃ عن التحقیق مقرا علیہ والمعتبر فی القدمین بطون الصابع الخ اماما نقلتم عن الفیض العبارۃ و الخلاصۃ والوجیزوالحلیۃ والغنیۃ و
اعتماد نہیں ہوگا حالانکہ مقصود اعتماد جسے ان الفاظ سے بیان کیاگیا ہے تاکہ ان پراعتماد ہو ورنہ سجدہ قدم کی پشت پرہوگا حالانکہ اسے معتبر تسلیم نہیں کیاگیا یہاں فقہاء نے قبلہ کی طرف متوجہ کرناکہا ہے کیونکہ نمازی اگرحالت سجدہ میں قدم کی ایك انگلی کے باطن پراعتماد چاہے تویہ ممکن نہیں مگر اس وقت جب اسے قبلہ کی طرف متوجہ کرے میری مراد جنوبا وشمالا استقبال قبلہ کے لئے اسے بچھانا ہے نہ کہ وہ معنی مسنون جوانحراف کے منافی ہے اور اسی طرح اگرمتوجہ ہونے کاعام معنی لیاجائے تو بھی انگلیوں کے باطن کا زمین پرلگنا ضروری ہوگا اور یہ بالکل واضح ہے پس ان دونوں کے درمیان نماز میں تلازم ہے اگرچہ نماز سے باہر یہ ممکن ہے اس شخص کے لئے جس نے غیرقبلہ کی طرف غلطی سے یاعمدا سجدہ کیا کہ وہ انگلیوں کوقبلہ روکئے بغیر ان پرٹیك لگائے تویہاں اطلاق لازم اور مراد ملزوم ہے رہامعاملہ سنت ہونے کا تو وہ قبلہ کی جانب ہے بغیر کسی انحراف کے اور وہ یہ ہے کہ جس کے ترك میں کراہت واسائت کے علاوہ کچھ نہیں اس مقام کو اس طریقہ سے سمجھنا چاہئے تمام حمداﷲ تعالی کے لئے جوحامد ومنعم ہے اور یہی وہ ہے جو امام ابن امیرالحاج نے حلیہ میں ثابت رکھتے ہوئے تحقیق سے نقل کیاکہ معتبر قدمین میں انگلیوں کاباطن ہے الخ اور جو تم نے فیض سے نقل کیاہے کہ خلاصہ وجیز حلیہ غنیہ ہندیہ
#11599 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
وغیرھا بلاخلاف بان الشرطیۃ دون او العاطفۃ فاو فی نسخۃ الفیض تصحیف و قد اغتربہ العلامۃ البرجندی فی شرح النقایۃ فلیتنبہ وبالجملۃ فتحرر مما تقرر ان الاعتماد فی السجود علی بطن احدی اصابع القدم العشر فریضۃ فی المذھب المعتمد المفتی بہ والاعتماد علی بطون کلھا اواکثرھا من کلتا القدمین لایبعد ان یجب لماحررہ فی الحلیۃ وتوجیھھا نحو القلبۃ من دون انحراف سنۃ اغتنم ھذا التحریر المفرد المنیر فلعلك لاتجدہ من غیرالفقیر وﷲ الحمد والمنۃ۔
وغیرہ میں بالاتفاق ہے “ ان “ شرطیہ ہے “ او “ عاطفہ نہیں ہے پس “ او “ نسخہ فیض میں تحریف ہے اور اس سے علامہ برجندی نے شرح نقایہ میں دھوکاکھایا ہے اس پرمتنبہ رہناچاہئے۔ اس تمام گفتگو سے آشکار ہوگیا کہ حالت سجدہ میں قدم کی دس انگلیوں میں سے ایك کے باطن پراعتماد مذہب معتمد اور مفتی بہ میں فرض ہے اور دونوں پاؤں کی تمام یااکثر انگلیوں پراعتماد بعیدنہیں کہ واجب ہو اس بناپر جو حلیہ میں ہے اور قبلہ کی طرف متوجہ کرنا بغیرکسی انحراف کے سنت ہے اس یکتا منفرد اور روشن گفتگو کوغنیمت جانوشاید اس فقیر کے علاوہ کسی اور کے ہاں تم کو نہ ملے اﷲتعالی کے لئے ہی حمدواحسان ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ ان بلاد میں اکثر جوتے سلیم شاہی پنجابی خوردنوکے منڈے گرگابی وغیرہا خصوصا جبکہ نئے ہوں ایسے ہی ہوتے ہیں کہ انگلیوں کاپیٹ زمین پرباعتماد تمام بچھنے نہ دیں گے گو ان جوتوں کوپہن کر مذہب مفتی بہ پرنماز ہوگی ہی نہیں اور گناہ وناجوازی توضرور نقد وقت ہے عرب شریف کے جوتوں میں صرف پاؤں کے نیچے چمڑا ہوتاتھا اور اوپر بندش کے لئے تسمہ جسے شراکت کہتے تھے پھر عرب میں نعل کی تعریف یہ تھی کہ نرم ورقیق ہو یہاں تك کہ صرف اکہرے پرت کی زیادہ پسند رکھتے مجمع بحارالانوار میں زیرحدیث :
ان رجلا شکا الیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رجلا من الانصار فقال یاخیر من یمشی بنعل فرد والفرد ھی التی تخصف ولم تطارق وانما ھی طارق واحد والعرب یمدح برقۃ النعال ویجعلھا من لباس الملوک ۔
ایك آدمی نے رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں ایك انصاری کی شکایت کرتے ہوئے کہا : اے ایك پرت والے جوتے پہننے والوں میں افضل ترین ذات۔ فرد اس نعل کوکہتے ہیں جس کاایك پرت ہو اور عرب جوتے کی نرمی کوپسند کرتے ہیں اور یہ ملوك کالباس ہے(ت)
حوالہ / References مجمع بحارالانوار لفظ فعل کے تحت مذکور ہے مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۳ / ۳۷۳
#11600 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
تو وہ کیسے ہی نئے ہوتے سجدہ میں فرض وواجب کیاکسی طریقہ مسنونہ کوبھی مانع نہ ہوتے ان نعال پریہاں کی جوتیوں کاقیاس صحیح نہیں پھر اگر اسی طرح کے جوتے ہوں کہ سنت سجدہ میں بھی خلل نہ ڈالیں تو اگر وہ نئے بالکل غیراستعمالی ہیں تو انہیں پہن کر نمازپڑھنے میں حرج نہیں بلکہ افضل ہے اگرچہ مسجد میں ہو۔ درمختارمیں ہے : صلاتہ فیھما افضل (ان میں نماز افضل ہے۔ ت) مگرعندالتحقیق استعمالی جوتے پہن کرنمازپڑھنی مکروہ ہے اور اگرمعاذاﷲ نماز کو کہ حاضری بارگاہ شہنشاہ حقیقی ملك الملوك رب العرش عزجلالہ ہے ہلکا جان کر استعمالی جوتا پہنے ہوئے نماز کوکھڑاہوگیا توصریح کفرہے پھر بے نیت استخفاف نری کراہت بھی اس حالت میں ہے کہ غیرمسجد میں ایساکرے اور مسجد میں تو استعمالی جوتے پہنے جاناہی ممنوع وناجائز ہے نہ کہ مسجد میں یہ جوتا پہنے شرکت جماعت نمازودخول مسجد کے یہ احکام بحمداﷲ تعالی دلائل کثیرہ سے روشن ہیں تفصیل موجوب تطویل ہوگی لہذا چند کلمات نافع وسودمند باذن اﷲ تعالی سے القا کرے کہ بعونہ تعالی احکام کا ایضاح اور اوہام کا ازالہ کریں ۔ ت)
فاقول : و باﷲ استعین ( پس میں اﷲ تعالی سے مدد طلب کرتے ہوئے کہتا ہوں )
افادہ اول : متون وشروح وفتاوی تمام کتب مذہب میں بلاخلاف تصریف صاف ہے کہ ثیاب بذلت و مہنت یعنی وہ کپڑے جن کو آدمی اپنے گھر میں کام کاج کے وقت پہنے رہتاہے جنہیں میل کچیل سے بچایا نہیں جاتا انہیں پہن کرنماز پڑھنی مکروہ ہے
تنویرالابصار و درمختار میں ہے :
کرہ صلوتہ فی ثیاب بذلۃ (یلبسھا فی بیتہ) (ومھنۃ) ای خدمۃ ان لہ غیرھا ۔
کام کے کپڑوں میں نماز مکروہ ہے(وہ کپڑے جوگھر میں پہنتاہے) (اور صنعت کے کپڑوں میں ) یعنی خدمت والے اگر اس کے پاس دوسرے کپڑے ہوں (ت)
درر و غرر و شرح وقایہ و مجمع الانہر و بحرالرائق و ردالمحتار میں ان کی تفسیر کی :
مایلبسہ فی بیتہ ولایذھب بہ الی الاکابر ۔
جوکپڑے صرف گھرمیں پہنتاہو وہ پہن کراکابر کے ہاں نہ جاتا ہو۔ (ت)
غنیہ میں ان کی تفسیرکی :
مالایصان ولایحفظ من الدنس ونحوہ
(جن کپڑوں کووہ میل کچیل سے محفوظ
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۱
درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مجتبائی ہلی ۱ / ۹۱
ردالمحتار مطلب مکروہات الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۴
غنیہ المستملی فصل کراہتیہ الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور س۳۴۹
#11601 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
نہ رکھتا ہو۔ ت)
اسی میں ہے :
یکرہ تکمیلا لرعایۃ الادب فی الوقوف بین یدیہ تعالی بما امکن من تجمیل الظاھر والباطن وفی قولہ تعالی خذوا زینتکم عند کل مسجد اشارۃ الی ذلك وان کان المراد بھا سترالعورۃ علی ماذکرہ اھل التفسیر کما تقدم ۔
اﷲتعالی کی بارگاہ اقدس میں ظاہری وباطنی جمال کا حصول اس بارگاہ کے آداب میں سے ہے اور اﷲتعالی کے ارشاد گرامی “ تم ہرمسجد میں جانے کے وقت زینت اختیار کرو “ میں اسی طرف اشارہ ہے اگرچہ اس سے مراد سترعورت ہے جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا(ت)
امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ایك شخص کو ایسے ہی کپڑوں میں نماز پڑھتے دیکھا فرمایا : بھلا بتاؤ تو اگرمیں کسی آدمی کے پاس تجھے بھیجوں تو انہیں کپڑوں سے چلاجائے گا کہانہ۔ فرمایا : تو اﷲ تعالی زیادہ مستحق ہے کہ اس کے دربار میں زینت وادب کے ساتھ حاضر ہو۔ حلیہ پھر بحرالرائق میں ہے :
احتج لہ فی الذخیرۃ بانہ روی ان عمر رضی اﷲ تعالی عنہ رأی رجلا فعل ذلك فقال رأیت لوارسلتك الی بعض الناس اکنت تمرفی ثیابك ھذہ فقال لافقال عمرفاﷲ احق ان یتزین لہ ۔
ذخیرہ میں اس پریوں استدلال ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایك شخص کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا توفرمایا کیا خیال ہے اگرتجھے میں کسی آدمی کے پاس بھیجوں توتوانہیں کپڑوں میں چلاجائے گا عرض کیا : نہیں ۔ فرمایا : اﷲ تعالی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ اس کے ہاں حاضری کے لئے زینت اختیار کی جائے۔ (ت)
سبحان اﷲ کام خدمت کے کپڑے کہ گھر میں پہنے جاتے ہیں انہیں پہن کرنماز مکروہ ہو اور استعمالی جوتے کہ پاخانے میں پہنے جاتے ہیں انہیں پہن کرنماز مکروہ نہ ہو معمولی کپڑے کہ میل سے محفوظ نہیں رکھے جاتے ان سے نماز میں کراہت ہو اور مستعمل جوتے کہ نجاست سے بچائے نہیں جاتے ان سے نماز میں کراہت نہ ہو یہ بداہت عقل کے خلاف اور صریح خون انصاف ہے ولیس ھذا من باب القیاس بل کماتری استدلال بفحوی الخطاب لایحوم حولہ شك ولاارتیاب(یہ مسئلہ قیاسی نہیں بلکہ انداز وخطاب سے آپ
حوالہ / References غنیہ المستملی فصل کراہیۃ الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۹
بحرالرائق آخر مکروہات الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۳
#11602 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
استدلال دیکھ رہے ہیں اس میں نہ کوئی شك ہے نہ ریب۔ ت)
افادہ دوم : متون وشروح وفتاوی تمام کتب مذہب میں بلاخلاف تصریح صاف ہے کہ اندھے کے پیچھے نماز مکروہ ہے کہ اسے نجاست کامل احتیاط دشوار ہے۔ ہدایہ میں ہے :
یکرہ تقدیم الاعمی لانہ لایتوقی النجاسۃ ۔
نابینا کاامام بنانامکروہ ہے کیونکہ وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا۔ (ت)
کافی امام نسفی میں ہے :
الاعمی لایصون ثیابہ عن النجاسات فالبصیر اولی بالامامۃ ۔
نابینا اپنے کپڑوں کونجاست سے محفوظ نہیں رکھ سکتا لہذا امامت کے لئے بیناہونا بہترہے(ت)
درمختارمیں ہے :
ونحوہ الاعشی نھر
(اس کی مثل اعشی ہے نہر۔ ت)
ردالمتارمیں ہے :
الاعشی ھوسیئ البصر لیلاونھارا قاموس و ھذا ذکرہ فی النھر بحثا اخذا من تعلیل الاعمی بانہ لایتوقی النجاسۃ ۔
اعشی سے مراد وہ شخص ہے جس کی دن یا رات کو نظرکم ہوجائے قاموس نہر میں نابینا کی علت یہی بیان ہوئی ہے کہ وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا۔ (ت)
ابوالسعود علی الکنز میں ہے :
والاعمی لانہ لایتوقی النجاسۃ وھذا یقتضی کراھۃ امامۃ الاعشی ۔
نابینا کیونکہ وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا اور یہ تقاضاکرتاہے کہ اعشی کی امامت بھی مکروہ ہو۔ (ت)
حوالہ / References الہدایہ ، باب الامامۃ ، مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ، ۱ / ۱۰۱
کافی شرح وافی
الدرالمختار باب الاحق بالامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳
ردالمحتار ، باب الامامۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر۱ / ۴۱۴
فتح المعین حاشیہ علی شرح الکنز باب الامامۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰۸
#11603 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
طحطاوی علی المراقی میں اس کے بعد ہے :
وھوالذی لایبصرلیلا
(وہ شخص جسے رات کودکھائی نہ دے۔ ت)
محل انصاف ہے کہ نمازی پرہیزگار نابینا بلکہ ضعیف البصر کے کپڑوں یابدن پراندیشہ ومظنہ نجاست زیادہ ہے یاان استعمالی جوتوں پرجنہیں پہن کرپاخانے تك میں جانا ہوتاہے پھروہاں کراہت ہونایہاں نہ ہونا صریح عکس مدعا ہے بلکہ وہان ایك حصہ کراہت ہو تو یہاں کئی حصے ہوناہے۔ افادہ سوم : علمائے حدیث مذکورسوال کی شرح میں تصریح فرمائی کہ عام لوگوں کو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پرقیاس صحیح نہیں حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے برابرکون احیتاط کرسکتاہے!
اقول : اور اگرنادرا کوئی شئے واقع ہو تو جبریل امین علیہ الصلوۃ والتسلیم حاضرہوکر عرض کردیتے ہیں جیسا کہ حدیث خلع نعال فی الصلوۃ سے ثابت ہے۔ مجمع بحارالانوار میں برمز “ ن “ فرمایا : یصلی فی النعلین لایوخذ منہ لغیرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لان حفظ غیرہ لایلحق بہ ۔ حضورعلیہ السلام نے نعلین میں نماز ادا کی اس سے کوئی دوسرا استدلال نہیں کرسکتا کیونکہ کوئی دوسرا آپ کی طرح حفاظت نہیں کرسکتا۔ (ت)
افادہ چہارم : بے جرم نجاست مثل بول وغیرہ کامطلقا صرف زمین پررگڑدینے سے پاك ہوجانا جیسا کہ سوال میں بیان کیا حسب تصریح صریح کتب معتمدہ تمام ائمہ مذہب کے خلاف ہے امام محمد کے نزدیك تونعل وخف بھی مطلقا بے دھوئے پاك نہیں ہوسکتے جیسے کپڑے کاحکم ہے اور امام اعظم کے نزدیك نجاست جومردار اور خشك ہوگئی ہو ا س کے بعد اس قدررگڑیں کہ اس کااثرزائل ہوجائے اس وقت طہارت ہوگی اور ترنجاست یابے جرم جیسے پیشاب وغیرہ بے دھوئے پاك نہ ہوں گے اور امام ابی یوسف کی روایت میں اگرچہ خشك ہوجانا شرط نہیں تر بھی ملنے ولنے اثرزائل کردینے سے پاك ہوسکتی ہے مگرجرم دار نجاست کی ضرور قید ہے اکثر مشائخ نے قول امام ابی یوسف ہی اختیارکیا اور یہی مختار للفتوی ہے تو بے جرم نجاست کی بے دھوئے تطہیر ائمہ ثلثہ مذہب کے بھی خلاف اور جمہور مشائخ مذہب کے بھی خلاف اور قول مختارللفتوی کے بھی خلاف ہے وقدصرحواان لاعبرۃ بالبحث علی خلاف المنقول(اس کی تصریح کی ہے کہ خلاف منقول بحث کااعتبارنہیں ۔ ت) ہدایہ میں ہے :
حوالہ / References طحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی ابیان الاحق بالامامۃ مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۵
مجمع بحارالانوار ، تحت لفظ نعل ، مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۳ / ۳۷۳
#11604 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
اذا اصاب الخف نجاسۃ لہا جرم کالروث والعذرۃ والدم فجفت فدلکہ بالارض جاز وھذا استحسان وقال محمد رحمہ اﷲ تعالی لایجوز وھوالقیاس وفی الرطب لایجوز حتی یغسلہ وعن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی انہ اذا مسحہ بالارض حتی لم یبق اثرالنجاسۃ یطھر لعموم البلوی واطلاق مایروی و علیہ مشائخنا رحمھم اﷲ تعالی فان اصابہ بول فیبس لم یجز حتی یغسلہ وکذا کل مالاجرم لہ کالخمر ۔ (مختصرا)
جب موزے پر ایسی نجاست لگ جائے جس کا جسم ہو مثلا لید پاخانہ خون اور خشك ہوجائے توزمین پررگڑ لیاجائے توجائز ہے اور یہ استحسانا ہے۔ امام محمد نے فرمایا یہ جائز نہیں قیاس کا تقاضا یہی ہے اور اگرنجاست ترہو تو دوھونے سے پہلے جائزنہیں ۔ امام ابویوسف نے کہاجب زمین پررگڑا حتی کہ نجاست کا اثر باقی نہ رہا تو عمومی ضرورت کے پیش نظر یہ پاك ہوجائے گا اور مروی کا اطلاق یہی ہے اور ہمارے مشائخ رحمہم اللہ تعالی اسی پر ہیں اور اگرپیشاب موزے پر لگ گیا اور خشك ہوگیا تو دھوئے بغیر جائزنہیں اور یہی حکم ہر اس نجاست کا ہے جس کا جسم نہیں مثلا شراب۔ (مختصرا)(ت)
فتح القدیر میں ہے :
وعلی قول ابی یوسف اکثر المشائخ وھو المختار ۔
اکثر مشائخ قول ابویوسف پر ہیں اور یہی مختار ہے(ت)
عنایہ میں ہے :
علیہ اکثر مشائخنا قال شمس الائمۃ السرخسی وھو صحیح وعلیہ الفتوی ۔
ہمارے اکثرمشائخ اسی پر ہیں ۔ شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے(ت)
حلیہ میں ہے :
فی الخلاصۃ وعلیہ عامۃ المشائخ و ھوالصحیح ونص فی الفتاوی الخانیۃ والکافی والحاوی
خلاصہ میں ہے اسی پر عام مشائخ ہیں اور یہی صحیح ہے اور خانیہ کافی اور حاوی میں تصریح ہے کہ
حوالہ / References الہدایہ باب الانجاس وتطہیرہا مطبوعہ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۵۶
فتح القدیر باب الانجاس وتطہیرہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۷۲
عنایۃ شرح علی حاشیۃ فتح القدیر باب الانجاس وتطہیرہا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۷۲
#11605 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
علی ان الفتوی علیہ ۔
فتوی اسی پر ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
علی قولہ اکثر المشائخ وفی النھایۃ والعنایۃ والخانیۃ والخلاصۃ وعلیہ الفتوی و فی فتح القدیر وھوالمختار ۔
اکثرمشائخ اسی قول پرہیں نہایہ عنایہ خانیہ اور خلاصہ میں ہے کہ فتوی اسی پر ہے فتح القدیر میں ہے یہی مختار ہے ۔ (ت)
تنویر الابصارمیں ہے :
یطھر خف ونحوہ تنجس بذی جرم بدلك ولافیغسل ۔
اگرموزہ یا اس کی مانند کوئی شئی صاحب جسم نجاست سے ناپاك ہوجائے تو وہ رگڑنے سے پاك ہوجائے گی ورنہ دھونا ضروری ہوگا۔ (ت)
طحطاوی علی المراقی الفلاح میں ہے :
واحترز بہ عن غیر ذی الجرم فانہ یغسل اتفاقا ذکرہ العینی ۔
اس سے اس نجاست سے احتراز ہے جو جسم والی نہ ہو کیونکہ اس صورت میں اسے بالاتفاق دھوناضروری ہے۔ اسے عینی نے ذکرکیا۔ (ت)
بحر میں ہے :
ان لم یکن لھا جرم فلابد من غسلہ واشتراط الجرم قول الکل لانہ لو اصابہ بول فیبس لم یجزہ حتی یغسلہ لان الاجزاء تتشرب فیہ فاتفق الکل علی ان المطلق
اگرجسم والی نجاست نہ ہو تو اس کا دھونا ضروری ہے اور جسم کاشرط ہوناتمام کاقول ہے اس لئے کہ اگر پیشاب لگ گیا اور خشك ہوگیا تودھونے کے سوا جواز نہ ہوگا کیونکہ اس کے اجزاء اس شئے میں داخل ہوچکے ہیں تو سب کااتفاق ہے اس بات پر
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
بحرالرائق باب الانجاس مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۲۲۳
درمختار باب الانجاس مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۵۳
طحطاوی علی المرقی الفلاح باب الانجاس مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۸۷
#11606 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مقید الخ مختصرا۔
کہ مطلق مقید ہے الخ تلخیصا(ت)
منحۃ الخالق میں ہے :
الحاصل انھم اتفقوا علی التقیید بالجرم ۔
خلاصہ یہ ہے کہ تمام فقہاء کا اس قید پراتفاق ہے کہ وہ نجاست جسم والی ہو۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
ان لم یکن لھا ای للنجاسۃ التی اصابت الخف جرم کالبول والخمر ونحوھما فلابد من الغسل بالاتفاق رطبا کان او یابسا ۔
اگرنجاست کے لئے جسم نہیں جوموزے کو لگی مثلا بول وشراب وغیرہ تووہ خشك ہوگی یاابھی ترہے اسے بالاتفاق دھونا ضروری ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں علامہ مقدسی سے ہے :
البحث لایقضی علی المذھب
(اختلاف مذہب پرفائق نہیں ۔ ت)
اسی میں ہے :
الفرض فی اشواط الطواف اکثر السبع لاکلھا وان قال المحقق ابن الھمام ان الذی ندین اﷲ تعالی بہ ان لایجزئ اقل من السبع ولایجبر بعضہ بشیئ فانہ من ابحاثہ المخالفۃ لاھل المذھب قاطبۃ کما فی البحر وقد قال تلمیذہ العلامۃ قاسم ان ابحاثہ المخالفۃ المذھب لاتعتبر ۔
طواف میں فرض سات چکروں کااکثرہے نہ کہ تمام اگرچہ محقق ابن ہمام نے فرمایا ہے کہ اﷲ تعالی ہمیں تب جزا دے گا جب سات سے کم نہ کریں اس کمی کا ازالہ کسی اور شئی سے نہیں کیاجاسکتا کیونکہ یہ ابحاث اہل مذھب کے مخالف ہیں جیسا کہ بحرمیں ہے ان کے شاگر علامہ قاسم نے کہا کہ مذہب کے مخالف ابحاث کاکوئی اعتبارنہیں ۔ (ت)
اور شك نہیں کہ اکثرنجاست کہ عام لوگوں کے جوتوں کولگتی ہے یہی نجاست رقیقہ استنجے کے پانی اور پیشاب کی ہوتی ہے۔ واﷲ اعلم
حوالہ / References بحرالرائق باب الانجاس مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۲۳
منحۃ الخالق حاشیۃ علی البحرالرائق باب الانجاس مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۲۳
غنیہ المستملی فصل فی آسار مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۷۸
ردالمحتار باب نکاح الرقیق مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۴۱۰
ردالمحتار باب الجنایات مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۲۲۴
#11607 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مسئلہ ۱۰۰۹ : ۲۱ربیع الاول شریف ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ حقہ تمباکو کوپینے والے کے منہ کی بو نماز میں دوسرے نمازی کومعلوم ہوئی توکوئی قباحت تونہیں ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
منہ میں بدبو ہونے کی حالت میں نمازمکروہ ہے اور ایسی حالت میں مسجد میں جانا حرام ہے جب تك منہ صاف نہ کرے اور دوسرے نمازی کوایذا پہنچنی حرام ہے اور دوسرانمازی نہ بھی ہو تو بدبو سے ملائکہ کو ایذاپہنچتی ہے حدیث میں ہے :
ان الملئکۃ تتأذی ممایتاذی منہ بنوادم ۔ واﷲ تعالی اعلم
ملائکہ کو ہر اس شے سے اذیت ہوتی ہے جس سے بنی آدم کو اذیت پہنچتی ہے۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۱۰ : ازریاست جاورہ مکان عبدالمجیدخاں صاحب سرشتہ دار ۱۳۲۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالت نماز میں کسی مقام پرکھجالی چلے توکھجاوے یانہیں اور اگر کھجاوے توکتنی مرتبہ
الجواب :
ضبط کرے اور نہ ہوسکے یا اس کے سبب نماز میں دل پریشان ہوتوکھجالے مگر ایك رکن مثلا قیام یا قعود یارکوع یاسجود میں تین بار نہ کھجاوے دوبارتك اجازت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۱۱ تا ۱۰۱۶ : مرسلہ احمدشاہ ازموضع نگریہ سادات یکم ذی الحجہ ۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) اگرتہبند کے نیچے لنگوٹ بندھا ہو تو نماز جائز ہے یانہیں
(۲) تہبند کا پیچ کھول کرنمازکیوں پڑھتے ہیں
(۳) داڑھی میں ڈاٹا باندھ کر نمازپڑھنا جائز ہے یانہیں
(۴) کمر میں پٹکا باندھ کر نمازدرست ہے یانہیں
(۵) کسی چیز کی مورت (تصویر) اگرجیب میں رکھی ہو تو نماز ہوگی یانہیں
(۶) روپیہ پیسہ جیب میں رکھ کرنمازدرست ہے یانہیں
حوالہ / References صحیح مسلم ، باب نہی من اکل ثومًا اوبصلًا اوکراثا الخ مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۰۹
#11608 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
الجواب :
(۱) درست ہے واﷲ تعالی علم۔
(۲) رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نماز میں کپڑاسمیٹنے گھرسنے سے منع فرمایا ہے واﷲ تعالی اعلم
(۳) منع ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نماز میں بالوں کے روکنے سے منع فرمایا ہے واﷲ تعالی اعلم۔
(۴) درست ہے مگردامن اس کے پیچھے نہ دب جائے واﷲ تعالی اعلم
(۵) نماز درست ہوگی مگر یہ فعل مکروہ وناپسند ہے جبکہ کوئی ضرورت نہ ہو روپے اشرفی میں ضرورت ہے واﷲ تعالی اعلم۔
(۶) درست ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱۷ : از شہرکہنہ ۲۸شوال ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگرکھے کے بندیا گھنڈی بلاباندھے یالگائے یاکرتے کے بٹن جوسامنے سینہ پر گوٹ میں لگے ہوتے ہیں بلالگائے ہوئے یاکرتہ کی وہ گھنڈی جس کے کہ گوٹ آگے سینہ پرنہیں ہوتے بلکہ دونوں کندھوں پرایك ایك گھنڈی لگی ہوتی ہے ایك گھنڈی لگاکر نمازپڑھے توکوئی حرج تونہیں ہے اگر کسی شخص کی ہمیشہ یہ عادت ہے کہ وہ گھنڈی کرتے کے گلے میں جو ہیں ایك کھلی رکھے جس سے کہ کچھ گلا کھلاہوارہے تو کوئی حرج ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اصل یہ ہے کہ سدل یعنی پہننے کے کپڑے کو بے پہنے لٹکانا مکروہ تحریمی ہے اور اس سے نمازواجب الاعادہ جیسے انگرکھایا کرتا کندھوں پرسے ڈال لینابغیر آستینوں میں ہاتھ ڈالے یابعض بارانیاں وغیرہ ایسی بنتی ہیں کہ ان کی آستینوں میں مونڈھوں کے پاس ہاتھ نکال لینے کے چاك بنے ہوتے ہیں ان میں سے ہاتھ نکال کر آستینوں کو بے پہنے چھوڑدینا یارضائی یاچادر کندھے یاسر پرڈال کردونوں آنچل چھوڑدینا یاشال یا رومال ایك شانہ پراس طرح ڈالنا کہ اس کے دونوں پلو آگے پیچھے چھوٹے رہیں اور اگررضائی یاچادر کامثلاسیدھا آنچل بائیں شانے پرڈال لیا اور بایاں آنچل چھوڑدیا توحرج نہیں اور کسی کپڑے کو ایساخلاف عادت پہننا جسے مہذب آدمی مجمع یابازار میں نہ کرسکے اور کرے تو بے ادب خفیف الحرکات سمجھاجائے یہ بھی مکروہ ہے جیسے انگرکھا پہننا اور گھنڈی یاباہر کے بندنہ لگانا
حوالہ / References صحیح بخاری باب لایکف شعرًا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۱۳
صحیح بخاری باب لایکف شعرًا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۱۳
#11609 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
یاایسا کرتا جس کے بٹن سینے پر ہیں پہننا اور بوتام اتنے لگانا کہ سینہ یاشانہ کھلارہے جبکہ اوپر سے انگرکھا نہ پہنے ہو یہ بھی مکروہ ہے اور اگراوپر سے انگرکھا پہنا ہے یااتنے بوتام لگالئے کہ سینہ یاشانہ ڈھك گئے اگرچہ اوپر کا بوتام نہ لگانے سے گلے کے پاس کا خفیف حصہ کھلارہا یاشانوں پرکے چاك بہت چھوٹے چھوٹے ہیں کہ بوتام نہ لگائیں جب بھی کرتا نیچے ڈھلکے گا شانے ڈھکے رہیں گے توحرج نہیں اسی طرح انگرکھے پرجوصدری یاچغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں ان کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے تو اس میں بھی حرج نہیں ہوناچاہئے کہ یہ خلاف معتاد نہیں ھذا ماظھرلی من کلماتھم والعلم بالحق عند ربی(یہ وہ ہے جوعبارات فقہاء سے بھرپور واضح ہوا باقی حق کا علم میرے رب کے پاس ہے ۔ ت)درمختار میں ہے :
کرہ تحریما سدل ثوبہ ای ارسالہ بلالبس معتاد وکذا القباء بکم الی وراء ذکرہ الحلبی کشد ومندیل یرسلہ کتفیہ فلومن احدھما لم یکرہ کحالۃ عذروخارج صلوۃ فی الاصح ۔
کپڑے کو لٹکانا مکروہ تحریمی ہے یعنی ایسا لٹکانا جو معتاد پہننے کے خلاف ہو اسی طرح آستین والی قبا کاپیچھے کی طرف ڈالنا اسے حلبی نے ذکرکیا مثلا پٹکا یارومال دونوں کاندھوں سے لٹکانا اگرایك طرف سے ہو تومکروہ نہیں جیسا کہ اصح قول کے مطابق حالت عذر اور نماز سے باہرکامعاملہ ہے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
ظاھر کلامھم انہ لافرق بین ان یکون الثوب محفوظا من الوقوع اولافعلی ھذا لاتکرہ فی الطیلسان الذی یجعل علی الراس وقدصرح بہ فی شرح الوقایۃاھ ای اذا لم یدرہ علی عنقہ والافلا سدل والاقبیتۃ الرومیۃ التی تجعل لاکمامھا خروق عند العضد اذا اخرج المصلی یدہ من الخرق وارسل الکم یکرہ لصدق السدل لانہ
ان کے کلام کے ظاہر سے پتاچلتاہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ کپڑاگرنے سے محفوظ ہو یانہ ہو لہذا اس صورت میں ٹوپی والے کوٹ میں کراہت نہیں ہوگی جو سر پرہو اس کی تصریح شرح وقایہ میں ہے اھ یعنی جب اس نے گردن کو نہ باندھا ہو ورنہ کوئی سدل نہ ہوگا وہ رومی قبائیں جن کی آستینوں میں کندھوں کے پاس سوراخ ہوتے ہیں اگرنمازی اس پھٹی ہوئی جگہ سے ہاتھ نکالے اور آستین کو ویسے ہی ڈال لے تویہ مکروہ ہے اس پرسدل کاصدق ہے کیونکہ یہ
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۱
#11610 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
ارخاء من غیرلابس لان لبس الکم بادخال الیدوتمامہ فی شرح المنیۃ والشد شیئ یعتاد وضعہ علی الکتفین کما فی البحر و ذلك نحو الشال فاذا ارسل طرفا منہ علی صدرہ وطرفا علی ظھرہ یکرہ وفی الخزائن بل ذکر ابوجعفر انہ لوادخل یدیہ فی کیسہ ولم یزر ازرارہ فھو مسیئ لانہ یشبہ السدل اھ لکن فی الحلیہ فیہ نظر ظاھر بعد ان یکون تحت قمیص اونحوہ مما یستر البدن اھ مختصرا ولنا فی ماقال فی الحلیۃ نظر قدمناہ۔ واﷲ تعالی اعلم
بغیر پہننے کے چھوڑنا ہے اور آستین کاپہننا ہاتھ داخل کرکے ہوتاہے اس کی تفصیل شرح منیہ میں ہے بحر میں ہے شد (صافایاپرنا) عادی شئی ہے اسے کاندھے پررکھاجاتاہے اس کی مثل شال ہے جب اس کی ایك طرف اپنے سینے پر اور ایك طرف اپنی پشت پررکھی تویہ مکروہ ہے خزائن میں ابوجعفر نے ذکرکیا اگر کسی نے دونوں ہاتھ آستینوں میں ڈالے اور ان کے بٹن بند نہ کئے تویہ گنہ گار ہوگا کیونکہ یہ سدل کے مشابہ ہے لیکن حلیہ میں کہا کہ جب وہ قمیص یا ایسے کپڑے کے تحت ہو جو بدن کوڈھانپ رہاہوتو اس میں نظر ہے اھ اختصارا جبکہ خود حلیہ کی گفتگو میں نظر ہے جیسا کہ پیچھے ہم نے بیان کردیاہے۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۱۸ : از کالج علی گڑھ کمرہ نمبر۶ مرسلہ محمدعبدالمجیدخاں یوسف زئی سرسیدکورٹ ۲۹صفر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس کمرہ میں یامکان میں تصاویر مردم آویزاں ہوں اس میں نمازپڑھنا جائز یاناجائز حرام ہے یامکروہ اگرناجائز یامکروہ ہے توشارع نے جومصلحت اس میں رکھی ہے وہ برائے خوبی اور باریکی ظاہرہونے کے بیان فرمائے جائیں دوسرے یہ کہ نماز ساتھ خیال غیراﷲ اور ہمہ تن مصروف ہوکرہوناچاہئے لہذا کیامضائقہ ہوسکتاہے اگرتصاویر اس جگہ ہوں یااحتیاطا کیسا اس قدرکافی نہیں ہوسکتاہے کہ صرف سامنے یا اس حد تك کے جہان تك نظرپڑ سکے تصاویرہٹادی جائیں اور پس پشت اگر تصاویر ہوں وہ رہیں اور نمازپڑھ لی جائے تونماز ہوجائے گی یا کیانقص پیداہوجائے گا فقط۔
الجواب :
جاندار کی اتنی بڑی تصویر کہ اسے زمین پررکھ کر کھڑے ہوکردیکھیں تو اعضاء بالتفصیل نظرآئیں بشرطیکہ نہ سربریدہ ہو نہ چہرہ محورکردہ نہ پاؤں کے نیچے نہ فرش پااندازمیں نہ مخفی پوشیدہ جس کمرہ میں ہو اس میں نماز مطلقا
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۳۔ ۴۷۲
#11611 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مکروہ ہے خواہ آگے ہو یاپیچھے یادہنے یابائیں یا اوپر یاسجدہ کی جگہ اور ان سب میں بدترجائے سجود یاجانب قبلہ ہونا ہے پھر اوپر پھردہنے بائیں پھرپیچھے اور اس میں کراہت کے متعدد وجوہ ہیں اس مکان کامعبد کفارسے مشابہ ہونا تصویر کابطوراعزاز ظاہرطورپررکھا یا لگاہونا آگے یاجائے سجود پرہو تو اس کی عبادت سے مشابہ ہو ملائکہ رحمت کا اس مکان میں نہ آنا متواترحدیثوں میں ہے کہ حضورسیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ان الملئکۃ لاتدخل بیتافیہ کلب ولاصورۃ ۔
بیشك فرشتے اس گھرمیں نہیں جاتے جس میں کتا یاتصویرہو۔
یہ وجہ ان تمام صورمذکورہ کوشامل اور وہم مذکور فی السوال کاعلاج کامل ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱۹ : ازبھنڈی بازار مرسلہ محمد فضل الرحمن سادہ کار ۵ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو امام ازار ٹخنوں کے نیچے تك پہن کر نمازپڑھائے وہ نمازمکروہ تحریمی ہے یاتنزیہی قبلہ رخ ایك قدم کونہ رکھنا یاایك قدم پرکھڑارہنا نمازمیں جائز ہے یاخلاف سنت اور مکروہ تنزیہی قبلہ رخ ایك قدم کو نہ رکھنا یا ایك قدم پرکھڑارہنا نمازمیں جائز ہے یاخلاف سنت اور مکروہ تنزیہی ہے براہ ہمدردی استفتا بحوالہ عبارت کتب متداولہ معتبرہ فقیہ ارقام فرمائیں ۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
ازارکاگٹوں سے نیچے رکھنا اگربرائے تکبرہوحرام ہے اور اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی ورنہ صرف مکروہ تنزیہی اور نماز میں بھی اس کی غایت اولی۔ صحیح بخاری شریفمیں ہے : صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : یارسول اﷲ! میراتہبند لٹك جاتاہے جب تك میں اس کا خاص خیال نہ رکھوں فرمایا : لست من یصنعہ خیلاء (تم ان میں نہیں ہو جوبراہ تکبرایساکریں فتاوی علمگیریہ میں ہے :
اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن للخیلاء ففیہ کراھۃ تنزیہ کذا فی الغرائب ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
کسی آدمی کاٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکاکرچلنا اگر تکبر کی بناپر نہ ہو تو مکروہ تنزیہی ہے۔ غرائب میں یونہی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل مروی عن ابی طلحۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۳۰
صحیح بخاری باب فی جرازارہ من غیرخیلاءِ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۶۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب التاسع فی اللبس مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۳۳
#11612 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
دونوں باتیں خلاف سنت ومکروہ ہیں ہاں تراویح بین القدمین یعنی تھوڑی دیرایك پاؤں پرزوررکھنا پھر تھوڑی دیردوسرے پرسنت ہے کما حققہ فی الحلیۃ وبیناہ فی فتاونا (حلیہ میں اس کی تفصیل ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں بھی اسے بیان کیاہے۔ ت)
مسئلہ ۱۰۲۰ : از قادری گنج ضلع بیربھوم ملك بنگالہ مرسلہ سید ظہورالحسن صاحب قادری رزاقی کرمانی ۲۲جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
آج کل دیار بنگال کے بعض بعض شہروں میں بعض لوگوں نے فرض جماعت میں سرننگا کرکے نماز پڑھنا اختیارکیاہے اگرکسی نے کہا کہ جماعت کی اہانت ہوتی ہے تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ عاجزی و انکساری کی وجہ سے پڑھتاہوں اسی طرح عاجزی وانکساری کے بہانے سے بعض لوگوں نے علاوہ نماز کے بھی سرپرٹوپی رکھناچھوڑدیاہے توکیاننگاسرفرض جماعت میں نماز پڑھنے سے نمازجائز ہوگی یامکروہ ہوگی اگرجائز ہوگی توکیاحضورسرورکائناب یاحضرت مولائے کائنات یاحضرات امامین متطہرین یاحضرات نے کبھی کبھی سرکوننگا رکھا ہے یانہیں اور صوفیائے عظام کی کتابوں میں ننگا سررہنا تہذیب اور آداب آیاہے یانہیں اور احادیث شریفہ وفقہ سے اس کی کراہت ثابت ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سنت کریمہ نماز مع کلاہ وعمامہ ہے اور فقہاء کرام نے ننگے سر نمازپڑھنے کوتین قسم کیاہے اگربہ نیت تواضع وعاجزی ہوتوجائز اور بوجہ کسل ہو تومکروہ اور معاذاﷲ نماز کو بے قدر اور ہلکا سمجھ کر ہوتوکفر جب مسلمان اپنی نیت تواضع بتاتے ہیں تو اسے نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں مسلمان پربدگمانی حرام ہے ننگے سررکھنے کااحرام میں حکم ہے اور اس حالت میں شبانہ روزبرابر سربرہنہ حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وصحابہ کرام سب سے ثابت بغیر اس کے ننگے سر کی عادت ڈالنا کوچہ وبازار میں اسی طرح پھرنا نہ ہرگزثابت ہے نہ شرعا محمود بلکہ وہ منجملہ اسباب شہرت ہے اور ایسی وضع جس پرانگلیاں اٹھیں شرعا مکروہ مجمع البحار وغیرہ میں ہے :
الخروج عن عادۃ البلد شھرۃ ومکروہ ۔
اہل شہر کے معمول سے نکلنا شہرت اور مکروہ ہے(ت)
صوفیہ کرام کا اس بارے میں کوئی قول اس وقت ذہن میں نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References مجمع البحار
#11613 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مسئلہ ۱۰۲۱ : ازشہرکہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مسئولہ حافظ رحیم اﷲصاحب ۱۱جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
بعد الحمدکے محمد رسول اﷲ والذین معہ رکوع پڑھاایك مقتدی کے منہ سے سہوا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نکلااور دوسرے مقتدی نے عمدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہا حضور ان دونوں مقتدیوں کی نماز ہوئی یانہیں اور جوشخص یہ کہے کہ نماز کے اندر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نہ سہوا کہناچاہئے نہ عمدا ایسے شخص کاکیاحکم ہے
الجواب :
اﷲ عزوجل کانام پاك سن کر حکم ہے کہ عزوجل یاجل جلالہ یااس کی مثل کلمات تعظیمی کہے حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کانام پاك سن کرواجب ہے کہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یا علیہ افضل الصلوۃ والسلام یا اس کے مثل کلمات درودکہے مگریہ دونوں وجوب بیرون نماز ہیں نماز میں سوا ان کلمات کے جو شارع علیہ الصلاۃ والسلام نے مقررفرمادئیے ہیں اور کی اجازت نہیں خصوصا جہریہ نماز میں وقت قرأت امام مقتدی کاسننا اور خاموش رہنا واجب ہے یونہی امام کے خطبہ پڑھتے میں جب اﷲ عزوجل اور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اسمائے طیبہ آئیں سامعین دل میں کلمات تقدیس ودرود کہیں زبان سے کہنے کی وہاں بھی اجازت نہیں نمازمیں نام الہی سن کرجل وعلا یانام مبارك سن کر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہنا اگر بقصد جواب ہے نماز جاتی رہے گی سہوا ہو یا قصدا اور اگربلاقصد جواب تو قصدا ممنوع اور سہوا پرمواخذہ نہیں درمختار میں ہے :
سمع اسم اﷲ تعالی فقال جل جلالہ او النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فصلی علیہ اوقراءۃ الامام فقال صدق اﷲ ورسولہ لفسد ان قصد جوابہ اھ۔ قال العلامۃ الشامی ذکر فی البحر انہ لوقال مثل ماقال المؤذن ان اراد جوابہ تفسد وکذا لولم تکن نیۃ لان الظاھرانہ اراد الاجابۃ وکذلك اذا سمع اسم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فصلی
اگراﷲ تعالی کانام سن کر جل جلالہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کانام سن کردرودشریف امام کی قرأت سن کرصدق اﷲ و رسولہ کہا تو مقصود جواب تھا تونماز فاسد ہوجائے گی اھ۔ علامہ شامی نے فرمایا بحرمیں ہے کہ اگرنمازی نے اذان کاجواب دیتے ہوئے اذان کے کلمات کہے تو نمازفاسد ہوجائے گی اسی طرح اس صورت کاحکم ہے جب کوئی نیت نہ تھی کیونکہ ظاہرجواب دیناہی ہے اسی طرح جب سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۵۹
#11614 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
علیہ فھذا اجابۃ اھ ویشکل علی ھذا کلمۃ مامر من التفصیل فیمن سمع العاطس فقال الحمد ﷲ تأمل استفید انہ لولم یقصد الجواب بل قصدا الثناء والتعظیم لاتفسد لان نفس تعظیم اﷲ تعالی و والصلوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاینافی الصلوۃ کما شرح المنیۃ اھ کلام العلامۃ ش۔
اقول : والذی من التفصیل ان سامع عطسۃ غیرہ لوقال الحمد ﷲ فان عنی الجوب اختلف المشائخ اوالتعلیم فسدت اولم یرد واحدا منھما لاتفسد نھر وصحح فی شرح المنیۃ عدم الفساد مطلقا لانہ لم یتعارف جوابا قال بخلاف جواب السار بالحمدلۃ التعارف اھ اھ ۔ ش ورأیتنی کتبت علی قولہ عدم الفساد مطلقا مانصہ۔ اقول : لابد من استثناء ارادۃ التعلیم کمالایخفی
کا اسم گرامی سنا اور درودشریف پڑھا تو یہ بھی جواب ہی ہے اھ اور اس پر گزشتہ گفتگو کے ساتھ اعتراض ہوگا جس میں فرق کیاگیاتھا مثلا کسی نے چھینك سن کر الحمدﷲ کہا غورکرو جو واضح کررہاہے کہ اگر مقصود جواب نہ ہو بلکہ اﷲ کی ثنا و تعظیم ہوتو نمازفاسدنہ ہوگی کیونکہ اﷲتعالی کی تعظیم اور رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں سلام نماز کے منافی نہیں شرح المنیہ اھ علامہ شامی کا کلام ختم ہوا۔
اقول : (میں کہتاہوں ) جوتفصیل پیچھے گزری کہ اگرغیرکی چھینك سننے والے نے الحمدﷲ کہاتو اگر مقصود جواب تھا تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے یامقصود تعلیم تھا تونمازفاسد ہوجائے گی یادونوں میں سے کوئی بھی مقصودنہ تھا تونماز فاسد نہ ہوگی نہر اور شرح منیہ میں اس بات کوصحیح قراردیاہے کہ کسی صورت میں بھی نمازفاسدنہ ہوگی کیونکہ یہ جواب متعارف نہیں بخلاف اس صورت کے جب خوش کن بات پر الحمد ﷲ کہے تو یہ جواب متارف ہے اھ ش۔ مجھے یاد آتاہے کہ اس کے قول “ عدم الفساد مطلقا “ پریہ لکھاتھا۔ اقول : یہاں ارادہ تعلیم کو مستثنی کرناضروری ہے جیسا کہ واضح ہے اور تعلیل اس سے متعلق نہیں
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵۹
ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۵۸
#11615 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
والتعلیل لایمسہ فان العلۃ فیہ شیئ اخر غیرکونہ جوابا وھوکونہ خطاء فھذا مامر من التفصیل وانت تعلم انہ لامساس لہ بانھا من الفروع بان الحمدﷲ لیس جوابا باللعطاس و انما ھو سنۃ العاطس فاذالم یرد بہ التعلیم لم یکن الاانشاء حمد بخلاف ماھ نا فکلہ جواب وقد عرف جوابا فقد عرف الجواب عن الاشکال ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ہو سکتی کیونکہ اس میں علت اور شئی ہے اور وہ جواب ہونا نہیں بلکہ وہ اس کاخطاء ہوناہے یہی گزشتہ تفصیل تھی اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کا کوئی تعلق نہیں کہ یہ اس کی فروعات میں سے ہے کیونکہ الحمدﷲ چھینك کاجواب نہیں بلکہ وہ چھینکوالے کے لئے سنت ہے توجب اس سے مقصود تعلیم نہیں تواب حمد کرنا ہی ہوگا بخلاف مذکورہ صورتوں کے کہ یہ بہرصورت جواب ہیں کیونکہ ان کاجواب ہونا معروف ہے تو اس سے اشکال کا جواب معلوم ہوگیا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۲۲ : ازداتاگنج ضلع بدایوں مرسلہ عاشق حسین صاحب ۱۹جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
جوتاپہن کریعنی فل بوٹ جوٹخنوں تك بندھا ہوتاہے خشك ہوغلاظت نہ لگی ہوخواہ نیا ہو یاپرانا نماز جائز ہے یانہیں یہ اور بات ہے کہ مسجد میں چونکہ سب لوگ رواجا آج کل جوتا اتارکر جاتے ہیں ان میں ایك شخص انگشت نمائی کے خوف سے جوتاپہن کرنہ جائے مگر مسئلہ کیاہے آیاکوئی شخص اپنے مکان میں یاجنگل میں یا سفرمیں بوٹ پہن کرنماز پڑھ سکتاہے ایك مولوی نے فرمایاتھا کہ بوٹ نیاہو یاپرانا خشك ہو غلاظت نہ لگی ہو پہن کر نمازجائز اور صحیح بخاری میں لکھاہوا بتایاتھا۔
الجواب :
مسجد میں جوتاپہن کرجانا خلاف ادب ہے ۔ ردالمحتارمیں ہے دخول المسجد متنعلا سوء الادب (مسجد میں جوتاپہن کرداخل ہونا بے ادبی ہے۔ ت)اب کی بناعرف ورواج ہی پرہے اور وہ اختلاف زمانہ و ملك وقوم سے بدلتاہے عرب میں باپ سے انت کہہ کرخطاب کرتے ہیں یعنی تو۔ زمانہ اقدس نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں بھی یونہی خطاب ہوتاتھا سیدنا اسمعیل علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے والد ماجد سیدنا ابراہیم شیخ الانبیاء خلیل کبریا علیہ الصلاۃ والسلام سے عرض کی اے میرے باپ! تو کر جس بات کا تجھے
حوالہ / References جدالممتار علٰی ردالمحتار باب مایفسد الصلٰوۃ المجمع الاسلامی مبارکپور انڈیا ۱ / ۲۸۵
ردالمحتار باب یفسدالصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۸۶
#11616 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
حکم دیاجاتاہے اب اگرکوئی بے ادب اسے حجت بناکر اپنے باپ کوتوتو کہاکرے ضرور گستاخ مستحق سزاہے نماز حاضری بارگاہ بے نیاز ہے کسی نواب کے دربار میں توآدمی جوتاپہن کرجائے یہ توادب کاحکم ہے اور آج کل لوگوں کے جوتے صحابہ کرام کے جوتوں کی طرح نہیں ہوتے۔ ردالمحتار میں ہے : نعالھم المتنجسۃ (لوگوں کے جوتے ناپاك ہوتے ہیں ۔ ت) پھر بوٹ غالبا ایساپھنساہواہوتا ہے کہ سجدے میں انگلیوں کا پیٹ زمین پربچھانے نہ دے گا توآداب درکنار سرے سے نمازہی نہ ہوگی۔ وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۳ : از ککراالہ ضلع بدایوں مرسلہ یسین خاں ۷ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
ایك شخص نے پہلی رکعت میں لم یکن الذین کفروا پڑھی اور دوسری میں سورئہ دہر اس سے کہا کہ ایك تو تم نے قرآن شریف الٹا پڑھا دوسرا پہلی سورہ چھوٹی پڑھی اور بعد کی بڑی نماز میں کراہت تونہیں آئی کہاکچھ حرج نہیں حدیث سے ثابت ہے۔ فقط
الجواب : اس میں دوکراہتیں ہوئیں : ایك دوسری رکعت کی پہلی سے اس قدرتطویل اور دوسری سخت اشد کراہت ہے۔ قرآن مجید کومعکوس پڑھا یہ گناہ وسخت ناجائزہے حدیث میں ہے ایساشخص خوف نہیں کرتا کہ اﷲتعالی اس کا دل الٹ دے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۴ : ازدھام پور ضلع بجنور مرسلہ حافظ سید بنیاد علی صاحب ۸محرم الحرام ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کے حجرہ میں کوئی شخص علیحدہ نمازپڑھے تو اس کی نماز ہوگی یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
مسجد کے حجرہ میں فرضوں کے سوا اور نمازیں پڑھنابہترہے یہاں تك کہ فرائض کے قبل وبعد کے سنن مؤکدہ میں بھی بربنائے اصل حکم افضل یہی ہے کہ غیرمسجد میں ہو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
افضل صلوۃ المرء فی بیتہ الاالمکتوبۃ ۔
فرض نماز کے علاوہ آدمی کی نمازگھر میں افضل ہے(ت)
مگرفرائض بے عذر قوی مقبول اگرحجرہ میں پڑھے اور مسجد میں نہ آئے گنہگار ہے چندبار ایساہو توفاسق
حوالہ / References ردالمحتار باب صلٰوۃ الجنائز مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۵۴
صحیح مسلم باب صلٰوۃ النافلۃ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۶۶
#11617 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
مردود الشہادۃ ہوگا حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لاصلوۃ لجار المسجد الافی المسجد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسجد کے پڑوسی کی نماز صرف مسجد میں ہوتی ہے(ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۵ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چوری کاکپڑا پہن کرنماز کاکیاحکم ہے بینواتوجروا
الجواب :
چوری کاکپڑا پہن کرنمازپڑھنے میں اگرچہ فرض ساقط ہوجائے گا لان الفساد مجاور (کیونکہ فساد نماز سے باہرہے۔ ت) مگرنماز مکروہ تحریمی ہوگی للاشتمال علی المحرم (حرام چیز اٹھائے ہوئے ہونے کی وجہ سے) کہ جائز کپڑے پہن کراس کااعادہ واجب کالصلوۃ فی الارض المغصوبۃ سواء بسواء (جس طرح مغصوبہ زمین پرنماز کاحکم اور یہ برابرہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۶ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کے سرپردستارنہ ہو اور مقتدی کے دستار ہو توکسی کی نمازمیں کچھ خلل آتاہے یانہیں اوراگرکچھ خلل آتاہے توامام کے یامقتدی کے اور اگرخلل ہے تو کس قسم کا خلل ہے بینواتوجروا
الجواب :
کسی کی نماز میں کچھ خلل نہیں عمامہ مستحبات نماز سے ہے اور ترك مستحب سے خلل درکنار کراہت بھی نہیں آتی
وذلك لان التعمم من سنن الزوائد و سنن الزوائد حکمھا حکم المستحب۔
اس لئے کہ عمامہ باندھنا سنن زوائد میں سے ہے اور سنن زوائد کاحکم مستحب ولا ہوتاہے(ت)
درمختارمیں ہے :
لھا اداب ترکہ لایوجب اسائۃ والاعتابا کترك سنۃ الزوائد لکن فعلہ افضل ۔
نماز کے آداب ہیں جن کاترك اساءت وعتاب لازم نہیں کرتا مثلا سنن زوائد کاترک لیکن بجالانا افضل ہے(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
السنۃ نوعان سنۃ الھدی وترکھا
سنت کی دواقسام ہیں سنت ہدی اس کے
حوالہ / References سنن الدارقطنی باب البحث لجار المسجد علی الصلٰوۃ فیہ الخ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۱ / ۴۲۰
درمختار آخر باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۷۳
#11618 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
یوجب اساءۃ وکراھۃ کالجماعۃ و الاذان والاقامۃ ونحوھا وسنۃ الزوائد وترکہا لایوجب ذلك کسیر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی لباسہ والنفل و منہ المندوب یثاب فاعلہ ولایسیئ تارکہ کذا حققہ العلامۃ ابن کمال فی تغییر التنقیح وشرحہ فلافرق بین النفل و سنن الزوائد من حیث الحکم لانہ لایکرہ ترك کل منھما وقدمثلوا السنۃ الزوائد بتطویلہ علیہ الصلوۃ والسلام القرائۃ و الرکوع والسجود ولمالم تکن مکملات الدین وشعائرہ سمیت سنۃ الزوائد بخلاف سنۃ الھدی وھی السنن المؤکدۃ القریبۃ من الواجب التی یضلل تارکھا اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم
ترك سے اسائت وکراہت لازم آتی ہے مثلا جماعت اذان اور تکبیر وغیرہ سنت زوائد اس کے ترك سے اسائت وکراہت لازم نہیں آتی مثلا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کالباس پہننا نفل ومندوب کامعاملہ بھی یہی ہے اس کے کرنے والے کوثواب ہوگا مگر تارك گنہگار نہیں علامہ ابن کمال نے تغییر التنقیح اور اس کی شرح میں اسی طرح تحقیق کی ہے پس نفل اور سنن زوائد میں حکم کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیونکہ کسی کابھی ترك مکروہ نہیں فقہا نے بعض اوقات سنت زوائد کی مثال نماز میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاقرأت رکوع اور سجودکولمباکرنا بھی دی ہے جب وہ دین اور شعائردین کاحصہ نہیں توانہیں سنت زوائدکہاجاتاہے بخلاف سنت ہدی کے وہ سنن مؤکدہ ہوتی ہیں جو واجب کے قریب ہیں ان کا تارك گمراہ ہے اھ تلخیصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۲۷ : مرسلہ محمدابراہیم محلہ خواجہ قطب بریلی ۲۲شوال المکرم ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مردہ کی نمازپڑھانے کے واسطے جوجائے نمازملتی ہے اس سے کرتایاکچھ اور کپڑابنوانا جائز ہے یانہیں اور اگرجائزنہیں تو اس سے جونماز مفروضہ پڑھی گئی وہ لوٹائی جائے گی یانہیں اور اس کفن سے یہ جائے نماز کے واسطے کپڑانکالنا جائزہے یانہیں بادلیل وحوالہ کتب تحریر کریں ۔ بینواتوجروا
الجواب :
اس جائے نماز سے دو۲غرضیں لوگوں کی ہیں ایك یہ اکثر نمازجنازہ راستے وغیرہ بے احتیاطی کے مقامات پرہوتی ہے مسجد کہ صاف وپاکیزہ رکھی جاتی ہے اس میں نماز جنازہ منع ہے توبغرض احتیاط امام کے نیچے جائے نماز بچھادی جاتی ہے کہ سب مقتدیوں کے لئے اس کامہیاکرنا دشوارہوتاہے اور اگرفرض کیجئے کہ وہ تمام جگہ ایسی ناپاك ہے کہ سب کی نماز نظربواقع نہ ہوسکے توجائے نماز
حوالہ / References ردالمحتار مطلب فی السنۃ وتعریفہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
#11619 · تیجان الصواب فی قیام الامام فی المحراب ۱۳۲۰ھ (محراب میں قیام امام سے متعلق درستگی کے تاج) (محراب کے معنی اور امام کے محراب میں کھڑا ہونے پرنفیس بحث)
کے سبب امام کی نماز ہوجائے گی اور اسی قدر سب مسلمانوں کی طرف سے ادائے فرض وابرائے ذمہ کے لئے کافی ہے کہ نمازجنازہ میں جماعت شرط نہیں دوسری نفع فقیر کہ وہ جانماز بعد از نماز کسی طالب علم اور فقیر پرتصدق کردی جاتی ہے اور یہ دونوں غرضیں محمود ہیں تو اس کے جواز میں کلام نہیں اور جس فقیر پروہ تصدیق کی گئی اس کی ملك ہے کرتا وغیرہ جوچاہے بنالے اس میں نمازمکروہ بھی نہیں نہ اصلا حاجت اعادہ کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
#11620 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
مسئلہ ۱۰۲۸ : ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص نمازظہروعشاء باجماعت پڑھ چکا خواہ امام تھا یا مقتدی اب دوسری جماعت قائم ہوئی وہ شریك جماعت ہوا تو وہ نیت نماز کی کیاکرے بینواتوجروا۔
الجواب :
نفل کی نیت چاہئے
فان الفریضۃ فی الوقت لاتکرر وفی الحدیث لایصلی بعد صلوۃ مثلھا ۔
کیونکہ وقتی فریضہ میں تکرارنہیں حدیث میں ہے نماز کی مثل نماز کے بعد ادانہ کی جائے۔ (ت)
اور اگر فرض کی نیت کرے گا جب بھی نفل ہی ہوں گے فان الفریضۃ فی الوقت لاتکرر (کیونکہ فریضہ ایك وقت میں متکررنہیں ہواکرتا۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲۹ : از موضع سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیرعلی صاحب قادری ۲رجب ۱۳۳۱ھ
نیاکپڑااور جوتاپہن کرنفل پڑھنا کیساہے
الجواب :
نیاکپڑا پہن کر نفل پڑھنا بہترہے یونہی نیاجوتا بھی اگر اس پنجہ اتنا کڑانہ ہوکہ پاؤں کی کسی انگی کا
حوالہ / References مصنف ابن ابی شیبہ من کرہ ان یصلی بعد الصلٰوۃ مثلہا مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۲۰۶
#11621 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
پیٹ زمین سے نہ لگنے دے ایساہوگا تونمازنہ ہوگی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳۰ : ازبریلی مرسلہ نواب سلطان احمدخاں صاحب ۱۳رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
آج کل وتر باجماعت پڑھنا بوجہ فضل جماعت افضل یابوقت تہجد بھی بہترہے بینواتوجروا
الجواب :
وتررمضان المبارك میں ہمارے علمائے کرام قدست اسرارہم کواختلاف ہے کہ مسجد میں جماعت سے پڑھناافضل ہے یامثل نماز گھرمیں تنہا دونوں قول باقوت ہیں اور دونوں طرف تصحیح وترجیح اول کو یہ مزیت کہ اب عامہ مسلمین کا اس پر عمل ہے اور حدیث سے بھی اس کی تائید نکلتی ہے ثانی کو یہ فضیلت کہ وہ ظاہرالروایۃ ہے ردالمحتارمیں زیر قول درمختار الجماعۃ فی وتررمضان مستحبۃ علی قول(ایك قول کے مطابق رمضان میں وتر کی جماعت مستحب ہے۔ ت) فرمایا :
وغیرمستحبۃ علی قول اخر بل یصلیھا وحدہ فی بیتہ وھما قولان مصححان وسیاتی قبیل ادراك الفریضۃ ترجیح الثانی بانہ المذھب ۔
ایك اور قول کے مطابق مستحب نہیں ہے بلکہ انہیں گھرمیں تنہا اداکرے اور یہ دونوں اقوال صحیح قراردئیے گئے ہیں عنقریب ادراك فریضہ سے تھوڑا ساپہلے آئے گا کہ دوسرے قول کو ترجیح ہے کہ یہی مذہب ہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
ھل الافضل فی الوتر الجماعۃ ام المنزل تصحیحان لکن نقل شارح الوھبانیۃ مایقتضی ان المذھب الثانی واقرھ المصنف وغیرہ ۔
کیاوتر میں جماعت افضل یاگھر میں اداکرنا دونوں کی تصحیح ہے لیکن شارح وہبانیہ نے جونقل کیا ہے اس کاتقاضا ہے کہ دوسراقول مذہب ہے اور اسے مصنف وغیرہ نے بھی ثابت رکھاہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
رجح الکمال الجماعۃ بانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان اوتربھم
کمال نے اس بناپر جماعت کو ترجیح دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحابہ کو وتر پڑھائے
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۸
درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹
#11622 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
ثم بین العذر فی تأخرہ مثل ماصنع فی التراویح فکما ان الجماعۃ فیھا سنۃ فکذلك الوتر بحر وفی شرح المنیۃ الصحیح ان الجماعۃ فیھا افضل الاان سنیتھا لیست کسنیۃ جماعۃ التراویح اھ قال الخیر الرملی وھذاالذی علیہ عامۃ الناس الیوم اھ وقواہ المحشی ایضا بانہ مقتضی مامرمن ان کل ماشرع بجماعۃ فالمسجد افضل فیہ اھ مافی ردالمحتار اقول : فی ھذہ التقویۃ عندی نظر ظاھرفانہ لوکان المراد ان ماجاز بجماعۃ فالمسجد افضل فیہ فممنوع فان کل نفل یجوز بجماعۃ مالم یکن علی سبیل التداعی مع ان الافضل فیہ البیت وفاقا وان کان المراد ماندب فیہ الشرع الی الجماعۃ فمسلم لکن ھذا اول المسئلۃ فالاستناد بہ صریح المصادرۃ فلیتأمل۔
پھرجماعت چھوڑنے پر وہی حکمت بیان کی جو نمازتراویح میں تھی تو وتر کاحکم تراویح والاہے جس طرح ان میں جماعت سنت ہے اسی طرح وتروں میں بھی بحر شرح المنیہ میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ جماعت وتروں میں افضل مگر اس سنیت تراویح کی جماعت کی طرح نہیں اھ خیر رملی نے فرمایا اسی پر آج لوگوں کا عمل ہے اھ محشی نے بھی یہ کہتے ہوئے اس کی تائید کی گزشتہ اصول کاتقاضا بھی یہی ہے کہ ہروہ نماز جوجماعت کے ساتھ مشروع ہے وہ مسجد میں افضل ہے اھ ردالمحتار کی عبارت ختم ہوئی اقول : اس کی تائید میں میرے نزدیك نظرظاہرہے اگریہ مراد ہو کہ ہروہ نماز جو جماعت کے ساتھ جائز ہے اس میں مسجد افضل ہے تویہ ممنوع ہے کیونکہ جن نوافل کی علی سبیل التداعی جماعت نہ ہو ان کی جماعت جائز ہے حالانکہ ان کی ادائیگی بالاتفاق گھرمیں افضل ہے اور اگرمراد یہ ہو کہ جس نماز کوجماعت کے ساتھ اداکرنا شریعت نے مستحب قراردیاہو تو یہ مسلم ہے لیکن یہ بعینہ سوال ہے اسی کے ساتھ استناد کرنا صراحۃ مصادرہ علی المطلوب ہے۔ پس غورکیجئے۔ (ت)
بالجملہ اس مسئلہ میں اپنے وقت وحالت اور اپنی قوم وجماعت کی موافقت سے جسے انسب جانے اس پرعمل کا اختیار رکھتاہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۹
#11623 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
مسئلہ ۱۰۳۱ : از کلکتہ دھرم تلانمبر۶ مرسلہ جناب مرزاغلام قادربیگ صاحب ۱۲رمضان شریف ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رمضان شریف میں عشاء کی نماز فرض جس میں مصلی تہجد گزار یاغیرتہجد گزار نے جماعت کے ساتھ اداکی ہو اس کو نماز وتر جماعت کے ساتھا داکرناضرور ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
کسی کو بھی ضرورنہیں بلکہ افضلیت میں اختلاف ہے ہمارے اصل مذہب میں افضل یہی ہے کہ تنہاگھر میں پڑھے اور ایك قول پرمسجد میں جماعت سے پڑھنا افضل ہے اب اکثر مسلمین کاعمل اسی پر ہے کما فی الدر و حواشیہ وبیناہ فی فتاونا (جیسا کہ در اوراس کے حواشی میں ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ ت) بہرحال ضروری کسی کے نزدیك نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳۲ : از سوروں ضلع ایٹہ محلہ ملك زاداں مرسلہ مرزا عابدحسین صاحب ۲۷ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نماز تہجد واجب ہے یاسنت اگرسنت ہے توموکدہ یاغیرمؤکدہ اس کاتارك گنہگار ہے یانہیں یعنی قصدا ترك کرنے والا مفصل مع احادیث ارقام فرمائیے گا۔ بینواتوجروا
الجواب :
تہجد سنت مستحبہ ہے تمام مستحب نمازوں سے اعظم واہم قرآن واحادیث حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کی ترغیب سے مالامال عامہ کتب مذہب میں اسے مندوبات ومستحبات سے گنا اور سنت مؤکدہ سے جدا ذکرکیا تو اس کا تارك اگرچہ فضل کبیر وخیرکثیر سے محروم ہے گنہگارنہیں بحرالرائق و علمگیری و درمختار و فتح اﷲ المعین السید ابوالسعود الازہری میں ہے : المندوبات صلوۃ اللیل (رات کی نماز مندوبات میں سے ہے۔ ت) مراقی الفلاح میں ہے : سن تحیۃ المسجد و ندب صلوۃ اللیل (تحیۃ المسجد سنت اور رات کی نمازمستحب ہے۔ ت)غنیہ شرح منیہ میں ہے : من النوافل المستحبۃ قیام اللیل (نوافل مستحبہ میں سے رات کی نمازہے۔ ت)
حوالہ / References فتح المعین حاشیہ علی الکنز باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۲۵۴
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فی بیان النوافل مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۔ ۲۱۵
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی النوافل بحث قیام اللیل مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۳۲
#11624 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
حلیہ میں ہے :
مشی صاحب الحاوی القدسی علی انھا مندوبۃ ۔
صاحب الحاوی القدسی کی رائے یہی ہے کہ رات کی نماز مستحب ہے۔ (ت)
جامع الرموز میں ہے :
الاحسن اتمام السنن المؤقتۃ بذکر صلوۃ الضحی و المستحبات بذکر التھجد اھ ملخصا۔
وقتی سنن میں چاشت کی نماز اور مستحبات میں تہجد کاذکر ان کا اچھا اتمام ہے ۱ھ ملخصا(ت)
غرض ہمارے کتب مذہب کے احکام منصوصہ مذکورہ علی جہۃ النفل میں اس کا استحباب ہی مصرح ہے ہاں بعض علمائے مالکیہ وشافعیہ مثل امام ابن عبدالبروامام ابوزکریانووی جانب سنیت گئے اور بعض ائمہ تابعین حسن بصری و عبیدہ سلمانی و محمد بن سیرین قائل وجوب ہوئے کمایظھر بمطالعۃ عمدۃ القاری وشرح المؤطا الزرقانی وغیرھما (جیسا کہ عمدۃ القاری شرح المؤطا للزرقانی وغیرہ کے مطالعہ سے پتاچلتاہے۔ ت) قول وجوب کو توجمہور علمائے مذاہب اربعہ ردفرماتے اورمخالف جماعت بتاتے ہیں کمافیھما وفی شرح مسلم للنووی و البخاری للقسطلانی والمواھب للزرقانی وغیرھما(جیسا کہ ان دونوں میں ہے اور شرح مسلم للنووی شرح بخاری للقسطلانی اور مواہب للزرقانی وغیرہ میں ہے۔ ت) اور ہمارے علماء وجوب وسنیت کی یکساں تضعیف فرماتے ہیں ۔ شرح نقایہ قہستانی میں ہے :
ثمان رکعات بتسلمیۃ اوتسلیمتین للتہجد وقیل لہ رکعتان سنۃ وقیل فرض کمافی المحیط ۔
تہجد کی ایك یادو سلاموں کے ساتھ آٹھ رکعات ہیں بعض کے نزدیك دورکعات سنت ہیں بعض کے نزدیك یہ فرض ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت)
البتہ ہمارے علماء متاخرین سے امام ابن الہام نے سنیت واستحباب میں تردد اور بالآخر جانب اول میل اور انہیں کے اتباع سے ان کے تلمیذ علامہ حلبی نے حلیہ میں اسے اشبہ فرمایا یہ ان
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
جامع الرموز فصل الوتر مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۲۰۷
جامع الرموز فصل الوتر مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۲۰۷
#11625 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
امام کی اپنی بحث ہے۔ نہ مذہب منصوص باآنکہ خود اعتراف فرماتے ہیں کہ احادیث قولیہ حضورپرنورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صرف استحباب ہی کاافادہ فرماتے ہیں ۔ مستند ان کا مواظبت فعلیہ حضوروالا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہے مگرخود فرماتے ہیں کہ مواظبت وہی مفید سنیت جو فعل نفل پرہو تو اس مسئلہ کی بناء حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پرتہجد فرض ہونے نہ ہونے پررہی۔ اگرحضور پرفرض نہ تھا توبوجہ مواظبت امت کے لئے سنت ہوگا ورنہ مستحب۔
قال قدس سرہ بقی ان صفۃ صلوۃ اللیل فی حقنا السنیۃ اوالاستحباب یتوقف علی صفتھا فی حقہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فان کانت فرضا فی حقہ فھی مندوبۃ فی حقنا لان الادلۃ القولیۃ فیھا انما تفید الندب والمواظبت الفعلیۃ لیست علی تطوع لتکون سنۃ فی حقنا وان کانت تطوعا فسنۃ بلنا ۔
امام ابن ہمام قدس سرہ نے فرمایا کہ باقی رہا معاملہ رات کی نماز کاکہ آیا ہمارے حق میں سنت ہے یامستحب تویہ بات اس پرموقوف ہے کہ وہ سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حق میں کیاتھی اگروہ آپ پر فرض تھی توہمارے حق میں مستحب ہے کیونکہ ادلہ قولیہ اس کے بارے میں مستحب ہونے کافائدہ دیتی ہیں اور مواظبت فعلیہ نفل پرنہیں کہ وہ ہمارے حق میں سنت بن جائے اور اگرآپ کے لئے یہ نفل تھی تو ہمارے لئے یہ سنت ہوگی۔ (ت)
اب اسی مبنی کودیکھئے تو اس میں بھی قول جمہور مذہب مختار ومنصور حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حق میں فرضیت ہے اسی پرظاہر قرآن عظیم شاہد اور اسی طرف حدیث مرفوع وارد۔
قال اﷲ تعالی یایها المزمل(۱) قم الیل
اﷲ تعالی کافرمان ہے اے چادر اوڑھنے والے رات کوقیام کیاکرو۔
دوسرے مقام پرفرمایا :
و من الیل فتهجد به
رات کوتہجد اداکیاکرو۔
ان آیتوں میں خاص حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو امرالہی ہے اور امرالہی مفیدوجوب
ولاینا فیہ قولہ تعالی نافلۃ فالنافلۃ
اﷲتعالی کانافلۃ فرمانا اس وجوب کے منافی نہیں
حوالہ / References فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۹۱
القرآن ۷۳ / ۱۔ ۲
القرآ ن ۱۷ / ۷۹
#11626 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
الزیادۃ ای زائدۃ فی فرائضك اوفی درجاتك بتخصیص ایجابہ بك فان الفرائض اعظم درجات واکبر تفصیلا بل مؤیدہ قولہ تعالی لك قال الامام ابن الھمام ربما یعطی التقیید بالمجرور ذلك فانہ اذا کان النفل المتعارف یکون کذلك لہ ولغیرہ اھ
کیونکہ نافلہ کا معنی زائدہ ہے اب معنی ہوگا کہ آپ کے فرائض یادرجات میں یہ اضافہ ہے کہ آپ پر یہ لازم واجب ہے کیونکہ فرائض سب سے بڑے درجے وفضیلت پرفائز کرنے کاسبب بنتے ہیں بلکہ اس کی تائید اﷲتعالی کے اس ارشاد “ لک “ سے ہورہی ہے۔ امام ابن ہمام کہتے ہیں کہ بعض اوقات مجرور “ ک “ کے ساتھ مقیدکرنا اسی بات کافائدہ دیتاہے (یعنی یہ فرائض میں آپ کے لئے اضافہ ہے) کیونکہ متعارف نوافل صرف آپ ہی کے لئے نہیں بلکہ اس میں آپ اور دیگر لوگ مشترك ہیں (ت)
طبرانی معجم ف اوسط بیہقی سنن میں ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہم ا سے راوی حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا
ثلث ھن علی فرائض وھن لکم سنۃ الوتر والسواك وقیام اللیل ۔ اقول : والحدیث ان لم یصلح حجۃ فقد استظھر بظاھر الکتاب العزیز وقدنص المحقق نفسہ فی الفتح القدیر مسئلۃ امرأۃ المفقود ان الحدیث الضعیف یصلح مرجحا لامثبتا بالاصالۃ قال و مؤافقۃ ابن مسعود مرجح اخر ۔
تین چیزیں مجھ پرفرض اور تمہارے لئے سنت ہیں : وترومسواك وقیام شب اقول : (میں کہتاہوں ) اگرچہ یہ حدیث حجت نہیں بن سکتی مگر قرآن عزیز کے ظاہر سے اس کی تائید ہورہی ہے اور خود محقق نے فتح القدیر میں مسئلہ مفقود کی بیوی کے تحت لکھاہے کہ حدیث ضعیف کسی شئی کی اصل کو ثابت نہیں کرسکتی البتہ مرجح
حوالہ / References فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۹۱
تفسیر درمنثور بحوالہ معجم اوسط وسنن بیہقی زیرآیہ ومن الیل فتہجد بہ نافلۃ لك مطبوعہ مکتبہ آیۃ اﷲ العظیمی قم ایران ۴ / ۱۹۶ ، تفسیرخازن سورہ بنی اسرائیل میں مذکورہے مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۴ / ۱۷۴ ، کنزالعمال بحوالہ بیہقی الاکمال من وقت الوتر ۱۹۵۴۰ مطبوعہ مکتبۃ التراث الاسلامی موسسۃ الرسالۃ بیروت ۷ / ۴۰۷ ، مجمع الزوائد بحوالہ معجم الاوسط باب ماجاء فی الخصائص مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۷ / ۴۰۷ ، المعجم الاوسط حدیث ۳۲۹۰ مکتبۃ المعارف الریاض ۴ / ۱۶۵
فتح القدیر کتاب المفقود مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۳۷۲
#11627 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
بن سکتی ہے اور کہا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی موافقت دوسرامرجح ہے(ت) اقول : وھھنا موافقۃ سلطان المفسرین مرجح اخر(اور یہاں سلطان المفسرین حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا کی موافقت ایك دوسرا مرجح ہے۔ ت) ابوجعفرطبری حضرت سیدنا عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے راوی :
امر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بقیام اللیل وکتب علیہ دون امتہ
حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوقیام شب کاحکم تھا حضورپرفرض تھا امت پرنہیں ۔
اما م محی السنۃ بغوی معالم میں فرماتے ہیں :
کانت صلوۃ اللیل فریضۃ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الابتداء و علی الامۃ ثم صار الوجوب منسوخا فی حق الامۃ وبقی فی حق النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اھ ملخصا
ابتداء قیام شب سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور آپ کی امت دونوں پرفرض تھا پھر امت کے حق میں وجوب منسوخ ہوگیا لیکن رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حق میں وجوب باقی رہا اھ تلخیصا(ت)
فتح القدیر میں ہے : علیہ کلام الاصولیین من مشائخنا (ہمارے مشائخ اصولیین کی رائے یہی ہے۔ ت)شرح مواہب زرقانی میں ہے : ھو قول الاکثر ومالک (اکثرعلماء اور امام مالك کایہی قول ہے۔ ت) مواہب میں ہے : ھذا ماصححہ الرافعی ونقلہ النووی عن الجمہور (رافعی نے اسی کی تصحیح کی اور نووی نے اسے جمہور سے نقل کیاہے۔ ت) شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں :
مختار آن ست کہ از امت منسوخ شد بر آنحضرت
مختار یہی ہے کہ امت سے یہ منسوخ ہے اور
حوالہ / References تفسیر ابن جریر طبری المسمی جامع البیان مطبوعہ مطبعۃ میمنیۃ مصر ۱۵ / ۹۰ ، المواہب اللدنیۃ بحوالہ طبری الباب الثالث فی ذکر تہجدہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۱۷۸
المعالم التنزیل علٰی حاشیۃ الخازن زیر آیۃ ومن الیل فتہجد بہ الخ ۴ / ۱۷۴
فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۹۱
شرح الزرقانی المواہب الباب الثالث فی ذکر تہجدہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ صر ۷ / ۴۵۵
مواہب اللدنیہ
#11628 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باقی ماندتا اخر عمر وقد حقق ذلك فی موضعہ
سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حق میں یہ وجوب تمام عمرباقی رہا اور اس کی تحقیق اس کے مقام پرہوئی ہے۔ (ت)
تویوں بھی سنیت تہجد ثابت نہ ہوئی اور وہی مذہب واستحباب مؤید بقول جمہور ومشرب ومختار ومنصوررہا۔
اقول : شك نہیں کہ تہجد ابتدائے امر میں حضوراقدس صلوات اﷲتعالی وسلامہ علیہ اور حضورکی امت سب پر فرض تھا کما شھدت بہ سورۃ المزمل “ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم “ (جیسا کہ اس پرسورہ مزمل ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) گواہ ہے۔ ت) تواب ان کی فرضیت ثبوت ناسخ پرموقوف امت کے حق میں ناسخ بدلیل اجماع امت ثابت وان لم نعلم سندالاجماع (اگرچہ ہم اس اجماع کی سند سے آگاہ نہیں ۔ ت)حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے باب میں دعوی نسخ کوبھی کوئی ایسی ہی روشن دلیل چاہئے جو اپنے افادہ میں احتمالات سے منزہ ہوں فان الاحتمال یقطع الاستدلال ولایقوم بامر محتمل حجۃ (کیونکہ احتمال استدلال کوختم کردیتاہے اور امرمحتمل حجت نہیں ہوسکتا۔ ت) حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا :
ان اﷲ عزوجل افترض قیام اللیل فی اول ھذہ السورۃ فقام نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واصحابہ حولا وامسك اﷲ خاتمتھا اثنی عشرشھرا فی السماء حتی انزل اﷲ فی اخر ھذہ السورۃ التخفیف فصارقیام اللیل تطوعا بعد فریضۃ رواہ مسلم وابوداؤدوالنسائی۔
اﷲ عزوجل نے اس سورہ کی ابتداء میں قیام شب فرض فرمایا تو سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین نے ایك سال تك قیام کیا اور اس سورۃ کے آخری حصہ کو اﷲتعالی نے بارہ مال تك آسمان پرروکے رکھا حتی کہ اس سورۃ کے آخر میں تخفیف نازل ہوئی توفرض ہونے کے بعد اب قیام شب نفل بن گیاکو مسلم ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا(ت)
حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے نسخ میں نص نہیں ولہذا علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا : دلالتہ لیست بقویۃ لاحتمالہ (اس کی دلالت احتمال کی وجہ سے (حضور اکرم کے حق
حوالہ / References اشعۃ اللمعات باب صلٰوۃ اللیل مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۰۶
صحیح مسلم باب صلٰوۃ اللیل مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۵۶ ، سنن نسائی باب قیام اللیل مطبوعہ نورمحمد کارخانہ آرام باغ کراچی ۱ / ۲۳۷
شرح الزرقانی علی المواہب الباب الثالث فی ذکر تہجدہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ مطبعۃ عامرہ مصر ۷ / ۴۵۷
#11629 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
میں نسخ پر) قوی نہیں ۔ ت) رسائل الارکان مولنا بحرالعلوم میں ہے :
ھذا لایقنع بہ القائل بالفریضۃ لانہ یقول لعل ام المؤمنین ارادت ان صلوۃ اللیل کانت فریضۃ علی الامۃ ثم نسخھا اﷲ تعالی عن الامۃ وصارت نفلا واما علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فبقیت الفریضۃ کما کانت یظھر من خاتمۃ سورۃ المزمل اھ۔
اقول : کانہ یرید قولہ تعالی علم ان لم تحصوہ فتاب علیکم وقولہ تعالی
علم ان سیكون منكم مرضى-و اخرون یضربون فی الارض یبتغون من فضل الله- فان الظاھران الخطاب فیہ للامۃ۔
جو حضور پرفرضیت تہجد کاقائل ہے وہ ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہ کے اس فرمان سے قانع نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ کہہ سکتاہے آپ کامقصد یہ بیان کرناہے کہ پہلے قیام شب امت پرفرض تھا پھرفرض منسوخ ہوکر نفل ہوگیا رہامعاملہ سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاتووہاں یہ فرض ہی باقی رہا جیسا کہ خاتمہ سورۃ سے ظاہرہورہاہے اھ ۔
اقول : شاید اس سے ان کی مرادخاتمہ سورۃ کے یہ الفاظ ہوں کہ اﷲتعالی نے فرمایا : “ وہ جانتاہے اے مسلمانو! تم سے رات کاشمارنہ ہوسکے گا تو اس نے اپنے کرم سے تم پررجوع فرمایا “ اور اﷲ تعالی کایہ فرمان : “ وہ جانتاہے کہ عنقریب تم میں کچھ بیمارہوں گے اور کچھ زمین پرسفر کریں گے اﷲ کا فضل تلاش کریں گے “ کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ یہاں خطاب امت کے لئے ہے(ت)
ثم اقول : ہمیں احتمال کافی خصوصا جبکہ بوجہ عدیدہ اس کاپتا چلتاہو اولا اسی حدیث میں لفظ ابوداؤد یوں ہیں :
قال (ای سعد بن ھشام قلت حدثنی عن قیام اللیل قالت الست تقرأ یایھا المزمل قال قلت بلی قالت فان اول ھذہ السورۃ نزلت فقام اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ
اس (یعنی سعد بن ہشام ) نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ مجھے قیام شب کے بارے میں بیان کیجئے تو ام المومنین نے فرمایا کیا تونے یایھا المزمل نہیں پڑھی عرض کیا ہاں پڑھی ہے۔ فرمایا اس سورۃ کاابتدائی حصہ جب نازل ہوا تو حضور کے اصحاب
حوالہ / References رسائل الارکان فصل فی صلوۃ اللیل مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۳۵
القرآن ۷۳ / ۲۰
#11630 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
تعالی علیہ وسلم حتی انتفخت اقدامھم وحبس خاتمتھا فی السماء اثنی عشر شھرا ثم نزل اخرھا فصار قیام اللیل تطوعا بعد فریضۃ ۔
نے یہاں تك قیام کیا کہ ان کے پاؤن سوج گئے لیکن اس کا آخری حصہ بارہ۱۲ماہ آسمان پر روك لیا پھر جب آخری حصہ نازل فرمایا تو قیام شب فرض ہونے کے بعد نفل بن گیا(ت)
ثانیا خود ام المومنین سے حدیث گزری کہ قیام لیل حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پرفرض امت کے لئے سنت تھا۔
ثالثا اسی طرح ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا نے نسخ ذکرفرمایا کما رواہ ابوداؤد (جیسا کہ ابوداؤد نے اسے روایت کیاہے۔ ت)حالانکہ وہ حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حق میں فرضیت مانتے ہیں کما تقدم (جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ت)
رابعا جب ام المومنین کاارشاد ان تك پہنچافرمادیا : صدقت کما بینہ مسلم والنسائی (انہوں نے سچ فرمایا جیسا کہ اسے مسلم اور نسائی نے بیان کیاہے۔ ت) اور فرمایا ھذا واﷲ ھو الحدیث کما عند ابی داؤد (اﷲ کی قسم یہ وہی حدیث ہے جیسا کہ ابوداؤد کے ہاں ہے۔ ت) اگراس کے معنی وہ اپنے خلاف سمجھتے بیان فرماتے۔
ثم اقول : ( پھرمیں کہتا ہوں ) بلکہ تحقیق یہ ہے کہ آخر سورۃ نے مطلق قیام لیل نسخ نہ فرمایا بلکہ اول سورۃ میں جونصف شب یاقریب بہ نصف کے تقدیر تھی اسے منسوخ فرماکر مطلق قیام کی فرضیت باقی رکھی لقولہ تعالی فتاب علیكم فاقرءوا ما تیسر من القران- (کیونکہ اﷲتعالی کا ارشاد ہے اﷲتعالی نے تم پر اپنے کرم سے رجوع فرمایاہے کہ اب تم اتنا قرآن پڑھو جو تم پرآسان ہو۔ ت)اس کے بعد پھر دوبارہ نسخ مطلق ہوکر استحباب رہاہے جلالین شریف میں ہے :
خفف عنھم بقیام ماتیسر منہ ثم نسخ ذلك بالصلوات الخمس ۔
اﷲتعالی نے تخفیف فرماتے ہوئے آسانی کے ساتھ بندوں پرقیام رکھا پھر یہ قیام پانچ نمازوں کی فرضیت کے بعد منسوخ ہوگیا(ت)
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب رفع الصوت بالقرأۃ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۹۰
سنن ابوداؤد باب نسخ قیام اللیل الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸۵
سنن ابوداؤد باب رفع الصوت بالقرأۃ الخ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۹۰
القرآن ۷۳ / ۲۰
تفسیر جلالین سورۃ مزمل ، مطبوعہ مطبع مجتبائی ہلی ۲ / ۴۷۷
#11631 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
کشاف و ارشاد العقل وغیرہما میں ہے :
یہاں نماز کو قرأت سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ قرأت نماز کارکن ہے جیسا کہ نماز کو قیام رکوع اور سجود کے ساتھ تعبیر کیاہے مقصد یہ بنا کہ تم اتنی نمازپڑھتے رہو جو تم پرآسان ہو لیکن قیام شب نہیں چھوڑسکتے اور یہ حکم ابتدائے سورۃ کے لئے ناسخ پھرپانچ نمازوں کاحکم ان سب کے لئے ناسخ قرارپایا۔ (ت)
عبر عن الصلوۃ بالقرائۃ لانھا بعض ارکانھا کما عبر عنھا بالقیام والرکوع والسجود یرید فصلواماتیسر علیکم ولم یعذر من صلوۃ اللیل وھذا ناسخ للاول ثم نسخا جمیعا بالصوات الخمس ۔
تفسیر کرخی و فتوحات الہیہ میں ہے : ھذا ھوالاصح (یہی اصح ہے۔ ت)ام المومنین یقینا ناسخ اول کا ذکر فرمارہی ہیں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بھی داخل پھر اس سے انتفائے فرضیت کہاں حاصل ناسخ ثانی میں حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کادخول کب ثابت ہوا نہ ہرگز اس میں کوئی نص نازل توحدیث مذکور سے انتفائے وجوب پرتمسك سرے سے زائل
وھھنا تحقیقات اخراجل واعز اتینابھا بتوفیق اﷲ العلی الاکبر فی رسالۃ لنا صنفناھا بعد ورود ھذا السؤال فی تحقیق ھذا المقال سمیناھا “ رعایۃ المنۃ فی ان التھجد نفل ام سنۃ “ ھ فلینظر ثمہ والحمدﷲ علی کشف الغمۃ۔
یہاں دیگرنہایت اہم تحقیقات ہیں اﷲ کی توفیق سے ان کا ذکر ہم نے اس سوال کے ورود کے بعد اپنے ایك رسالے (جس کو ہم نے اسی مقال کی تحقیق میں تصنیف کیا ہے) میں کیاہے اس کانام “ رعایۃ المنۃ فی ان التہجد فضل ام سنۃ “ ۱۳۱۲ھ اس کا مطالعہ کیجئے اﷲتعالی کاشکر ہے کہ اس نے عقدے کھول دئیے۔ (ت)
ثم اقول : وباﷲ التوفیق فقیر کے نزدیك اسی مبحث میں حق تحقیق یہ ہے کہ یہاں دوچیزیں ہیں صلوۃ لیل و نماز تہجد صلوۃ لیل ہروہ نمازنفل کہ بعد فرض عشاء رات میں پڑھی جائے۔ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References تفسیر الکشاف سورۃ مزمل مطبوعہ انتشارات آفتاب تہران ، ایران ۴ / ۱۷۹
تفسیر الفتوحات الالٰہیہ الشہیر بالجمل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۴ / ۴۳۳
#11632 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
ماکان بعد صلوۃ العشاء فھو من اللیل رواہ الطبرانی عن ایاس بن معویۃ المزنی رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔
جونماز بعد عشاء پڑھی جائے وہ سب نماز شب ہے اسے طبرانی نے سند حسن کے ساتھ حضرت ایاس بن معاویہ المزنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
یہ بیشك سنت مؤکدہ ہے کہ اس میں عشاء کی سنت بعدیہ بلکہ سنت فجر بھی داخل صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہے :
کانت صلوتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی شھر رمضان وغیرہ ثلث عشرۃ رکعۃ باللیل ومنھا رکعتا الفجر ۔
آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نمازشب رمضان وغیرہ میں تیرہ۱۳ رکعتیں تھیں ان میں دورکعات فجر کی بھی ہیں (ت)
اس معنی پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صلوۃ لیل کوبعد فرائض ہرنماز سے افضل بتایا
کما المسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ یرفعہ افضل الصلوۃ بعد الفریضۃ صلوۃ اللیل ۔
جیسا کہ مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ فرائض کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے۔ (ت)
ورنہ جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ سنن راتبہ سے مسنون نمازوں سے افضل ہیں اور ہمارے ائمہ کا اجماع ہے کہ سنت فجر سنن راتبہ سے بھی اعلی واجل اور نماز تہجد وہ نفل کہ بعد فرض عشاقدرے سوکرطلوع فجر سے پہلے پڑھے جائیں طبرانی حجاج بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی۔
انما تھجد المرء یصلی الصلوۃ بعد رقدۃ
قدرےسو کر آدمی جو نماز اداکرے اسے تہجد کہاجاتاہے (ت)
معالم میں ہے :
التھجد لایکون الابعد النوم ۔
(تہجد سونے کے بعد ہی ہوتی ہے۔ ت)
حوالہ / References المعجم الکبیر ترجمہ ۵۵ حدیث ۷۸۷ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱ / ۲۷۱
صحیح مسلم باب صلٰوۃ اللیل مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۵۵
صحیح مسلم باب فضل صوم المحرم مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۳۶۸
المعجم الکبیر ترجمہ ۲۵۸ حدیث ۳۲۱۶ ، مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۳ / ۲۲۵
معالم التنزیل علی حاشیۃ الخازن تحت قولہ تعالٰی ومن الیل فتہجدبہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۴ / ۱۷۴
#11633 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
حلیہ میں قاضی حسین سے ہے :
انہ فی الاصطلاح صلوۃ التطوع فی اللیل بعد النوم ۔
اصطلاح میں رات کو سونے کے بعد نوافل کی ادائیگی کوتہجد کہاجاتاہے۔ (ت)
ولہذا ردالمحتارمیں فرمایا :
صلوۃ اللیل وقیام اللیل اعم من التھجد ۔
رات کی نماز اور قیام لیل تہجد سے عام ہے۔ (ت)
یہ مستحب سے زائد نہیں ورنہ سونابھی سنت موکدہ ہوجائے اور شب بیداری گناہ ٹھہرے کہ تہجد سنت موکدہ ہوئی اور وہ بے نوم حاصل نہیں ہوسکتی اور سنت مؤکدہ کاحصول جس پرموقوف ہے وہ سنت مؤکدہ ہے لان حکم المقدمۃ حکم ماھی مقدمۃ لہ (کیونکہ مقدمہ کاحکم وہی ہوتاہے جو اس پرموقوف ہونے والے کاہے۔ ت) اورسنت مؤکدہ کاترك مطلقا یابعد عادت گناہ اور بعد اصرارکبیرہ شب بیداری کی غایت یہ تھی کہ مستحب ہوتی مگرجب وہ ترك سنت مؤکدہ کی موجب تو مستحب کیسی مکروہ وممنوع ہونی لازم کوئی مستحب کیسی ہی فضیلت والا ہو جب کسی سنت مؤکدہ کے فوت کا موجب ہو مستحب نہیں ہوسکتا مذموم ہوگا ہمارے امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے پینتالیس ۴۵برس عشا کے وضو سے صبح کی نماز پڑھی کیا معاذاﷲ پینتالیس ۴۵سال کامل ترك سنت مؤکدہ پراصرارفرمایا فقد ظھر الحق واسفر الفلق وبقیہ الکلام فی تلك الرسالۃ والحمدﷲ رب الجلالۃ (حق واضح ہوگیا صبح طلوع ہوگئی اور بقیہ کلام ہمارے اس مذکورہ رسالہ میں ہے حمد ہے صاحب جلال رب کی۔ ت) واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳۳ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سنتیں گھر میں پڑھنا افضل ہے یامسجد میں اور سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عادت کس طرح تھی یا کوئی عادت نہ تھی بلکہ کبھی گھر میں پڑھتے کبھی مسجدمیں اور روافض کی مشابہت اور رفض کی تہمت سے بچنے کو مسجد میں پڑھنا ضرورلازم ہے یانہیں اور حدیثوں میں جو گھر میں پڑھنے کی فضیلت واردہوئی وہاں صرف نوافل ہیں یاسنتیں بھی
الجواب :
ومن اﷲ سبحنہ توفیق الصدق والصواب تراویح وتحیۃ المسجد کے سوا تمام نوافل
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
ردالمحتار مطلب فی صلٰوۃ اللیل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۴
#11634 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
سنن راتبہ ہوں یا غیرراتبہ مؤکدہ ہوں یا غیرموکدہ گھر میں پڑھنا افضل اور باعث ثواب اکمل۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
علیکم بالصلوۃ فی بیوتکم فان خیرصلوۃ المرء فی بیتہ الاالمکتوبۃ ۔ رواہ البخاری ومسلم۔
تم پرلازم ہے گھروں میں نماز پڑھنا کہ بہترنماز مرد کیلئے اس کے گھرمیں ہے سوافرض کے۔ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا۔
اور فرماتے ہیں :
صلوۃ المرء فی بیتہ افضل من صلاتہ فی مسجدی ھذاالا المکتوبۃ ۔ رواہ ابوداؤد۔
نماز مرد کی اپنے گھر میں میری اس مسجد میں اس کی نماز سے بہترہے مگرفرائض۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا۔
اور خود عادت کریمہ سید المرسلین کی اسی طرح تھی۔ احادیث صحیحہ سے حضوروالا کاتمام سنن کاشانہ فلك آستانہ میں پڑھنا ثابت۔ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں : رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم گھرمیں چار رکعت ظہرسے پہلے پڑھتے پھرباہرتشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے پھر گھر میں رونق افروزہوکر دو۲ رکعتیں پڑھتے اور مغرب کی نماز پڑھ کر گھر میں جلوہ فرماہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور عشا کی امامت کرکے گھر میں آتے اور دورکعتیں پڑھتے جب صبح چمکتی دورکعتیں پڑھ کر باہرتشریف لے جاتے اور نمازفجر پڑھاتے۔
اخرج مسلم فی صحیحہ وابوداؤد فی السنن واللفظ لمسلم عن عبداﷲ بن شقیق قال سألت عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا عن صلوۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن تطوعہ فقالت کان یصلی فی بیتی قبل الظھر اربعا ثم یخرج فیصلی بالناس ثم یدخل
مسلم نے صحیح میں اور ابوداؤد نے سنن میں روایت کیاہے مسلم کے الفاظ ہیں کہ عبداﷲ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نفلی نماز کے بارے میں پوچھا توانہوں نے فرمایا میرے حجرے میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ظہرسے پہلے چار رکعات ادافرماتے پھر باہرتشریف لے جاتے اور
حوالہ / References صحیح مسلم باب استحباب صلوۃ النافلۃ فی بینہ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۶۶
سنن ابوداود باب صلٰوۃ الرجل التطوع فی بیتہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۴۹
#11635 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
فیصلی رکعتین وکان یصلی بالناس المغرب ثم یدخل فیصلی رکعتین ویصلی بالناس العشاء ویدخل بیتی فیصلی رکعتین ثم ذکرت صلوۃ اللیل والوتر الی ان قالت وکان اذا طلع الفجر صلی رکعتین زاد ابوداؤد ثم یخرج فیصلی بالناس صلوۃ الفجر ۔
لوگوں کوجماعت کرواتے پھرحجرے میں جلوہ افروزہوتے تو دورکعت پڑھتے جب مغرب کی نماز کی جماعت کرواتے پھرحجرہ میں تشریف لاکر دورکعات پڑھتے لوگوں کو عشاء کی نمازپڑھاکر میرے ہاں تشریف لاتے تودورکعات اداکرتے۔ پھرانہوں نے رات کی نماز اور وتر کاذکرکرتے ہوئے کہا جب طلوع فجر ہوجاتی تو آپ دورکعات اداکرتے۔ سنن ابوداؤد میں یہ اضافہ ہے پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حجرہ سے نکل کرلوگوں کوفجر کی نمازپڑھاتے۔ (ت)
اسی طرح سنن جمعہ کامکان جنت نشان میں پڑھنا صحیحین میں مروی زمانہ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ میں لوگ مغرب کے فرض پڑھ کر گھروں کو لوٹ جاتے یہاں تك کہ مسجد میں کوئی شخص نہ رہتا گویا وہ بعد مغرب کچھ پڑھتے ہی نہیں
فی الفتح عن السائب بن یزید قال لقد رأیت الناس فی زمن عمر بن الخطاب اذاانصرفوا من المغرب انصرفوا جمیعا حتی لایبقی فی المسجد احد کانھم لایصلون بعد المغرب حتی یصیرون الی اھلیھم ۔
فتح میں سائب بن یزید سے ہے کہ میں نے دور فاروقی میں لوگوں کو مغرب کے بعد اکٹھے لوٹتے ہوئے دیکھا حتی کہ کوئی مسجد میں باقی نہ رہتا گویا وہ مغرب کے بعد کوئی نمازادانہ کرے یہاں تك کہ وہ اپنے گھروں میں چلے جاتے۔
سیدالعالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لوگوں کودیکھا کہ مغرب کے فرض پڑھ کر مسجد میں سنتیں پڑھنے لگے ارشاد فرمایا : یہ نماز گھرمیں پڑھاکرو۔
اخرج ابوداؤد والترمذی والنسائی
ابوداؤد ترمذی اور نسائی نے حضرت کعب
حوالہ / References صحیح مسلم باب استحباب صلٰوۃ النافلۃ فی بیتہ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۶۶
سنن ابوداؤد باب صلٰوۃ الرجل التطوع فی بیتہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۴۹
فتح القدیر باب ادراك الفریضہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ / ۴۱۶
#11636 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
عن کعب بن عجرۃ وابن ماجۃ عن حدیث رافع بن خدیج والسیاق لابی داؤد قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتی مسجد بنی عبدالاشہل فصلی فیہ المغرب فلما قضوا صلوتھم راھم یسبحون بعدھا فقال ھذہ صلوۃ البیوت ولفظ الترمذی والنسائی علیکم بھذہ الصلوۃ فی البیوت وابن ماجۃ ارکعوا ھاتین الرکعتین فی بیوتکم ۔
بن عجرہ سے اور ابن ماجہ نے حضرت رافع بن خدیج سے روایت کیا ابوداؤد کے الفاظ یہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بنو عبدالاشہل مسجد میں تشریف لائے تو آپ نے مغرب کی نماز اداکی جب لوگ فرائض پڑھ چکے تو آپ نے انہیں نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا : یہ گھروں کی نماز ہے ترمذی اور نسائی کے الفاظ ہیں کہ تم یہ نماز اپنے گھروں میں اداکرو۔ ابن ماجہ کے الفاظ ہیں : یہ دورکعات تم اپنے گھروں میں ادا کیاکرو۔ (ت)
شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں :
ہرگاہ تمام کردند مردم نماز فرض رادید آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ایشاں راکہ نماز نفل می گزارند کہ مرادبوے سنت مغرب است بعد از فرض یعنی درمسجد پس گفت آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ایں یعنی سنت مغرب یامطلق نماز نفل نماز خانہا است کہ درخانہا باید گزارد نہ درمسجد بدانکہ افضل آنست کہ نماز نفل غیرفرض درخانہ بگزارند ہمچنیں بودعملے آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مگربسببے یاعذرے خصوصا سنت مغرب کہ ہرگز در مسجد نگزارد و بعضے ازعلما گفتہ اند کہ اگرسنت مغرب را درمسجد بگزارد از سنت واقع نمی شود وبعض
جب لوگوں نے فرض نماز اداکرلی تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے انہیں فرائض کے بعد نوافل یعنی سنن مغرب کو مسجد میں اداکرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا : یہ سنن مغرب یامطلقا نمازنفل گھروں کی نماز ہے انہیں گھروں مین اداکرنا چاہئے نہ کہ مسجد میں ۔ واضح رہے کہ فرض کے علاوہ نوافل گھرمیں اداکرنے چاہئیں ۔ سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کایہی عمل تھا البتہ کسی سبب یاعذر کی صورت مستثنی ہے خصوصا نماز مغرب کی سنن مسجد میں ادانہ کی جائیں بعض علماء نے فرمایا کہ اگرکسی نے سنن مغرب مسجد میں ادا کیں تو سنت واقع نہ ہوں گی اور بعض کے نزدیك ایسا آدمی
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب رکعتی المغرب این تصلیان مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸۴
کنزالعمال حدیث ۱۹۴۲۳ ، موسستہ الرسالہ بیروت ۱ / ۳۸۶
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی رکعتین بعدالمغرب ، سعید کمپنی کراچی ص ۸۳
#11637 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
گفتہ اند کہ عاصی می گرد وازجہت مخالفت امرکہ ظاہرش در وجوب است وجمہور برآنند کہ امربرائے استحباب است ۔ الخ
گنہگار بھی ہوگا کیونکہ اس نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے امر ( جس سے ظاہر وجوب ہے) کی مخالفت کی ہے اور جمہور کے نزدیك یہاں امر استحباب کے لئے ہے الخ (ت )
گا ہے اگربعض سنن مسجد میں پڑھنے کا اتفاق ہوا تو علماء فرماتے ہیں وہ کسی عذروسبب سے تھا کما مر عن الشیخ وبمثلہ قال العلامۃ ابن امیرالحاج فی شرح المنیۃ(جیسا کہ شیخ کے حوالے سے گزرا اسی کی مثل علامہ ابن امیرالحاج نے شرح منیہ میں فرمایا۔ ت) معہذا ترك احیانا منافی سنیت و استحباب نہیں بلکہ اس کامقرر ومؤکد ہے کہ مواظبت محققین کے نزدیك امارت وجوب کمافی البحر وغیرہ (جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے۔ ت) علاوہ بریں اگربالفرض رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دائما سب سنتیں مسجد ہی میں پڑھی ہوتیں تاہم بعد اس کے کہ حضور ہم سے ارشاد فرماچکے “ فرضوں کے سواتمام نمازیں تمہیں گھرمیں پڑھنی چاہئیں “ اور فرمایا “ ماورائے فرائض اور نمازیں گھرمیں پڑھنا مسجد مدیہ طیبہ میں پڑھنے سے زیادہ ثواب رکھتاہے “ بلکہ مسجد میں پڑھتے دیکھ کر وہ ارشاد فرمایا کہ “ نمازگھروں میں پڑھاکرو “ کمامرکل ذلك (جیسا کہ یہ سب کچھ پیچھے گزراہے۔ ت) توہمارے لئے بہترگھر ہی میں پڑھنے میں رہے کہ قول فعل پرمرجح ہے اور ان احادیث میں نماز سے صرف نوافل مطلقہ مرادنہیں ہوسکتی کہ ماورائے فرائض میں سنن بھی داخل اور قضیہ مسجد بنی عبدالاشہل کا خاص سنن مغرب میں تھا کما سبق (جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ت) اسی طرح فقہاء بھی عام حکم دیتے اور نوافل کی
تخصیص نہیں کرتے ہدایہ میں ہے :
والافضل فی عامۃ السنن والنوافل المنزل وھو المروی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
تمام سنن ونوافل کوگھر میں اداکرنا افضل ہے اور یہ بات رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی ہے۔ (ت)
فتح القدیرمیں ہے :
عامتھم علی اطلاق الجواب کعبارۃ الکتاب وبہ افتی
عام فقہا نے عبارت کتاب (ہدایہ) کی طرح مطلقا جواب دیاہے اور فقیہ ابوجعفر نے اسی پر
حوالہ / References اشعۃ اللمعات باب من صلی صلٰوۃ مرتین ، فصل ثالث مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۵۰۳
الہدایۃ جز اول باب ادراك الفریضۃ مطبوعہ عربیہ کراچی ۱ / ۱۳۲
#11638 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
الفقیہ ابوجعفر قال الا ان یخشی ان یشتغل عنھا اذا رجع فان لم یخف فالافضل البیت ۔
یہ کہتے ہوئے فتوی دیا ہے مگر اس صورت میں کہ جب کسی مشغولیت کی بناپرگھرلوٹ کرنوافل کے فوت ہوجانے کاخطرہ ہو(تومسجد میں ہی پڑھ لے) ہاں اگر خوف نہ ہو توگھرمیں اداکرنا افضل ہے(ت)
شرح صغیرمیں ہے :
ثم السنۃ فی سنۃ الفجر وکذا فی سائر السنن ان یاتی بھا اما فی بیتہ وھو الافضل اوعند باب المسجد واما السنن التی بعد الفریضۃ فان ان تطوع بھا فی المسجد فحسن وتطوعہ بھا فی البیت افضل وھذا غیرمختص بما بعد الفریضۃ بل جمیع النوافل ماعد التراویح و تحیۃ المسجد الافضل فیھا المنزل لماروی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کان یصلی جمیع السنن والوتر فی البیت ھ ملخصا۔
پھرسنت سنن فجر میں اسی طرح بقیہ سنن میں کہ ان کوگھر میں اداکرے اور یہ ہی افضل ہے یادروازئہ مسجد کے پاس اداکرے۔ رہیں وہ سنتیں جو فرائض کے بعد ہیں اگرمسجد میں اداکرے توبھی ٹھیك اور اگرگھرمیں اداکرے تو زیادہ بہترہے اور یہ صرف ان سنن کامعاملہ نہیں جوفرائض کے بعد ہیں بلکہ تراویح وتحیۃ المسجد کے علاوہ باقی تمام نوافل کوگھر میں اداکرنا افضل ہے کیونکہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سنن ووتر کوگھر میں ہی ادافرماتے تھے اھ تلخیصا(ت)
اور جب ثابت ہوچکا کہ سنن ونوافل کاگھرمیں پڑھنا افضل اور یہی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عادت طیبہ اور حضور نے یونہی ہمیں حکم فرمایا توبخیال مشابہت روافض اسے ترك کرناکچھ وجہ نہ رکھتاہے۔ اہل بدعت کاخلاف ان کی بدعت یاشعارخاص میں کیاجائے نہ یہ کہ اپنے مذہب کے امور خیر سے جوبات وہ اختیارکریں ہم اسے چھوڑتے جائیں آخر رافضی کلمہ بھی توپڑھتے ہیں بالجملہ اصل حکم استحبابی یہی ہے کہ سنن قبلیہ مثل رکعتین فجر ورباعی ظہروعصر وعشا مطلقا گھرمیں پڑھ کر مسجد کوجائیں کہ ثواب زیادہ پائیں اور سنن بعدیہ مثل رکعتین ظہرومغرب وعشاء میں جسے اپنے نفس پراطمینان کامل حاصل ہو
حوالہ / References فتح القدیر باب ادراك الفریضۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۴۱۶
صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی النوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ص۵ ، ۲۰۴
#11639 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
کہ گھرجاکر کسی ایسے کام میں جو اسے ادائے سنن سے باز رکھے مشغول نہ ہوگا وہ مسجد سے فرض پڑھ کر پلٹ آئے اور سنتیں گھر ہی میں پڑھے توبہتر اور اس سے ایك زیادت ثواب یہ حاصل ہوگی کہ جتنے قدم بارادئہ بادائے سنن گھر تك آئے گا وہ سب حسنات میں لکھے جائیں گے۔
قال تبارك وتعالی
و نكتب ما قدموا و اثارهم-و كل شیء احصینه فی امام مبین(۱۲) ۔
اﷲ تبارك وتعالی کافرمان ہے : ہم لکھ رہے ہیں جوانہوں نے آگے بھیجا اور جونشانیاں پیچھے چھوڑگئے اور ہرشئی کوہم نے کتاب مبین میں شمار کررکھاہے۔ (ت)
اور جسے یہ وثوق نہ ہو وہ مسجد میں پڑھ لے کہ لحاظ افضلیت میں اصل نماز فوت نہ ہو اور یہ معنی عارضی افضلیت صلوۃ فی البیت کے منافی نہیں نظیر اس کی نماز وتر ہے کہ بہتر اخیر شب تك اس کی تاخیر ہے مگرجواپنے جاگنے پراعتماد نہ رکھتاہو وہ پہلے ہی پڑھ لے کما فی کتب الفقہ (جیسا کہ کتب فقہ میں ہے۔ ت) مگراب عام عمل اہل اسلام سنن کے مساجد ہی میں پڑھنے پرہے اور اس میں مصالح ہیں کہ ان میں وہ اطمینان کم ہوتاہے جومساجد میں ہے اور عادت قوم کی مخالفت موجب طعن و انگشت نمائی وانتشار ظنون وفتح باب غیبت ہوتی ہے اور حکم صرف استحبابی تھا تو ان مصالح کی رعایت اس پرمرجح ہے ائمہ دین فرماتے ہیں : الخروج عن العادۃ شھرۃ ومکروہ (معمول کے خلاف کرنا شہرت اور مکروہ ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳۴ : از لشکر گوالیار محکمہ ڈاك مرسلہ مولوی نورالدین احمدصاحب غرہ ذی الحجہ۱۳۱۲ھ
(۱) نفل کا سوائے تراویح ونماز کسوف وخسوف بجماعت منسوخ ہونا تومعلوم ہے لیکن بعض مشائخ کے یہاں جوباعتبار کسی کسی کتاب کے بعد نمازیں نفل کی مثلا صلوۃ قضائے عمر(۴نفل قبل آخری جمعہ کے) اور نفل شب برات بجماعت ہوتے ہیں ان کی اصل ہے جوازکس بناپر ہے اور ممانعت کیوں ہے جن فتاوی کی روسے جوازنکالاہے وہ کہاں تك معتبرہے (۲) نفل یوم عاشورہ ہم کوپڑھنا مناسب ہے یانہیں
الجواب :
(۱) ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے نزدیك نوافل کی جماعت بتداعی مکروہ ہے۔ اسی حکم میں
حوالہ / References القرآن ۳۶ / ۱۲
#11640 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
نماز خسوف بھی داخل کہ وہ بھی تنہاپڑھی جائے اگرچہ امام جمعہ حاضرہو کما فی الشامی عن اسمعیل عن ا لبرجندی (جیسے کہ شامی نے اسمعیل سے اور انہوں نے برجندی سے نقل کیاہے۔ ت)حلیہ میں ہے :
اما الجماعۃ فی صلوۃ الخسوف فظاھرکلام الجم الغفیر من اھل المذھب کراھتھا الخ
رہا صلوۃ خسوف کی جماعت کے بارے میں حکم تو اہل مذہب کے جم غفیر کے کلام سے یہی ظاہر ہے کہ یہ مکروہ ہے الخ(ت)
صرف تراویح وصلوۃ الکسوف وصلوۃ الاستسقاء مستثنی ہیں
وذلك بوفاق ائمتنا علی الاصح فالخلف فی الاخیر فی الاستنان دون الجواز کما صرح بہ فی الدر المختار۔
اصح مذہب کے مطابق ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے اختلاف آخری (صلوۃ الاستسقاء) کے مسنون ہونے میں ہے نہ کہ جواز میں جیسے کہ درمختار میں تصریح ہے(ت)
تداعی مذہب اصح میں اس وقت متحقق ہوگی جب چاریازیادہ مقتدی ہوں دوتین تك کراہت نہیں
فی الدر یکرہ ذلك لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد کما فی الدر ر اھ فی الطحطاوی علی مراقی الفلاح فی اقتداء ثلثۃ الاصح عدم الکراھۃ ۔ درمختارمیں ہے یہ مکروہ ہے اگرعلی سبیل التداعی ہومثلا چارآدمی ایك کی اقتداء کریں جیسا کہ درر میں ہے اھ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے اگرتین نے ایك کی اقتداء کی تو اصح یہی ہے کہ یہ مکروہ نہیں ۔ (ت)
نماز قضائے عمری کہ آخرجمعہ ماہ مبارك رمضان میں اس کاپڑھنا اختراع کیاگیا اور اس میں یہ سمجھاجاتاہے کہ اس نماز سے عمربھر کی اپنی اور ماں باپ کی بھی قضائیں اترجاتی ہیں محض باطل و
حوالہ / References ردالمحتار ، باب الکسوف مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۸۳
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
درمختار باب الاستسقاء مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۱۸
درمختار آخر باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ آرام باغ کراچی ص۲۱۱
#11641 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
بدعت سیئہ شنیعہ ہے کسی کتاب معتبر میں اصلا اس کانشان نہیں نمازشب برات اگرچہ مشائخ کرام قدست اسرارہم نے بجماعت بھی پڑھی قوت القلوب شریف میں ہے :
یستحب احیاء خمس عشرۃ لیلۃ (الی قولہ) لیلۃ النصف من شعبان وقد کانوا یصلون فی ھذہ اللیلۃ مائۃ رکعۃ بالف مرۃ قل ھواﷲ احد عشرا فی کل رکعۃ ویسمون ھذہ الصلوۃ صلوۃ الخیر ویتعرفون برکتھا ویجتمعون فیھا وربما صلوھا جماعۃ ۔
پندرہ راتوں میں شب بیداری مستحب ہے (آگے چل کرفرمایا) ان میں ایك شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہے کہ اس میں شب بیداررہنا مستحب ہے کہ اس میں مشائخ کرام سو رکعت ہزارمرتبہ قل ھواﷲ احد کے ساتھ اداکرتے ہر رکعت میں دس دفعہ قل ھواﷲ احد پڑھتے اس نماز کانام انہوں نے صلوۃ الخیر رکھاتھا اس کی برکت مسلمہ تھی اس رات (یعنی پندرہ شعبان) میں اجتماع کرتے اور احیانا نماز کوباجماعت اداکرتے تھے(ت)
اوریہی علمائے تابعین سے لقمان بن عامروخالد بن معدان اور ائمہ مجتہدین سے اسحق بن راہویہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کاہے مگرہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا مذہب وہی ہے کہ جماعت بتداعی ہو تومکروہ ہے
کما نص علیہ فی البزازیۃ والتتارخانیۃ والحاوی القدسی والحلیۃ والغنیۃ ونورالایضاح ومراقی الفلاح والاشباہ وشروحھا والدرالمختار وحواشیہ وغیرذلك من الکتب المعتمدۃ۔
جیسا کہ اس پر بزازیہ تتارخانیہ الحاوی القدسی حلیہ غنیہ نورالایضاح مراقی الفلاح الاشباہ اور اس کی شروح درمختار اور اس کے حواشی اور اس کے علاوہ دیگرمعتمد کتب میں تصریح ہے(ت)
(۲) عاشورا ایام فاضلہ سے ہے اور نماز بہترین عبادات اور اوقات فاضلہ میں اعمال صالحہ کی تکثیر قطعا مطلوب ومندوب مگر اس دن نوافل معینہ بطریق مخصوصہ میں جو حدیث روایت کی جاتی ہے علماء اسے موضوع وباطل بتاتے ہیں کما صرح بہ ابن الجوزی فی موضوعاتہ واقرہ علیہ فی اللآلی (اس کی تصریح ابن جوزی نے اپنی موضوعات میں کی اور امام سیوطی نے اللآلی میں
حوالہ / References قوت القلوب فصل العشرون فی ذکراحیاء اللیالی مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۶۲
#11642 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
اسے ثابت رکھاہے۔ ت) موضوعات کبیرملاعلی قاری میں ہے : صلوۃ عاشوراء موضوع بالاتفاق (عاشوراکی نماز بالاتفاق موضوع ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳۶ : از علاقہ جاگل تھانہ ہری پور کوٹ نجیب اﷲ خاں مرسلہ شیرمحمدشیخ ۱۷ / رمضان شریف ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وترمیں نیت وتر کی کرے یا واجب کی یاسنت کی یاکیا بینواتوجروا
الجواب :
وترکی نیت توضرورہی ہے پھرچاہے اسی قدرپرقناعت کرے اور بہتریہ ہے کہ وترواجب کی نیت کرے کہ ہمارے مذہب میں وتر واجب ہی ہیں اور اگرسنت بمعنی مقابل واجب کے نیت کی تو ہمارے امام کے نزدیك وترادانہ ہوں گے۔
فی الدر المختار لابد من التعیین عند النیۃ لفرض انہ ظھر اوعصر وواجب انہ وتراونذر اھ مختصرا وفی ردالمحتار ای لایلزمہ تعیین الوجوب وان کان حنفیا ینبغی ان ینویہ لیطابق اعتقادہ الخ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختارمیں ہے نیت کے وقت اس بات کاتعین کہ یہ فرض ہے مثلا یہ ظہروعصر کی نماز ہے یا واجب مثلا وتریانذر کی نماز ہے ضروری ہے اھ اختصارا اور ردالمحتارمیں ہے کہ تعین وجوب لازم نہیں ہاں اگر وہ حنفی ہو تومناسب یہی ہے کہ اس کی نیت کرے تاکہ وہ اس کے اعتقاد کے مطابق ہوجائے الخ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۳ : از ملك بنگالہ ضلع چاٹگام ڈاکخانہ جلدی مرسلہ محمد حبیب اﷲ صاحب ۸ جمادی الاخری ۱۳۱۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ جناب قاضی ثناء اﷲ صاحب درمالا بدمنہ آوردہ اند کہ اس مسئلہ میں علماء کی کیارائے ہے کہ مالابدمنہ میں قاضی ثناء اﷲپانی پتینے ذکرکیاہے کہ
حوالہ / References الاسرار المرفوعۃ لملا علی قاری حدیث ۱۱۳۱ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۲۸۹
در مختار باب شروط الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۲۷
رد المحتار باب شروط الصلوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۱۹
#11643 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم درصلوۃ تہجد قیام بسیارمی فرمودند حتی کہ درپائے مبارك آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ورم ومنشق شدہ است قول مذکور قابل اعتباراست یانہ وورم ومنشق درصحاح ستہ ثابت است یاخارج ازصحاح بعض عالم می گویند کہ ورم قدم مبارك آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم درصحاح ستہ ثابت است ومنشق ثابت نیست قول کدام کس معتبراست بینوا بسند الکتاب وتوجروا من اﷲ الوھاب۔ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نمازتہجد میں قیام طویل فرماتے حتی کہ آپ کے پاؤں مبارك متورم ہوجاتے اور پھٹ جاتے یہ قول قابل اعتبار ہے یانہیں متورم ہونا اور پھٹنا دونوں صحاح ستہ سے ثابت ہیں یاصحاح کے علاوہ سے بعض علماء کایہ کہنا ہے کہ مبارك قدموں کامتورم ہونا تو صحاح سے ثابت ہے مگر پھٹ جانا ثابت نہیں کس کاقول معتبرہے مسئلہ کتاب کے ساتھ بیان کریں اور عطاکرنے والے اﷲ تعالی سے اجرپائیں ۔
الجواب :
ایں جاسخن قاضی درست وسوی ست انکارش ازنادیدہ روی ست تورم وانشقاق ہردودرصحاح ستہ خبرایں سنن ابی داؤد مروی ست ودرجامع صحیح امام بخاری ست حدثنا صدقۃ بن فضل اخبرنا ابن عیینہ ثنازیاد انہ سمع المغیرۃ یقول قام النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حتی تورمت قدماہ فقیل لہ قد غفراﷲ لك ماتقدم من ذنبك وما تاخر قال افلااکون عبدا شکورا حدثنا الحسن بن عبدالعزیز حدثنا عبداﷲ بن یحیی اخبرنا حیوۃ عن ابی الاسود
قاضی صاحب کاکلام درست وصحیح ہے اس کاانکار ناواقفیت ہے پاؤں کامتورم ہونا اور پھٹ جانا دونوں ہی صحاح ستہ سے ثابت ہیں یہ خبرسنن ابی داؤد اور جامع صحیح امام بخاری میں مروی ہے کہ ہمیں صدقہ بن فضل انہیں ابن عیینہ انہیں زیاد نے بتایا کہ میں نے حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسالت مآب صلی اﷲ حسن بن عبدالعزیزانہیں عبداﷲ بن یحیی انہیں حیوۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رات کو قیام فرماتے حتی کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قدم مبارك متورم ہو گئے اپ سے عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم !اﷲ تعالی نے اپ کو ان الفاظ کے ذریعے مغفرت و بخشش کی خوشخبری دی ہے
لیغفر لك الله ما تقدم من ذنبك و ما تاخر تو
حوالہ / References صحیح البخاری سورۃ الفتح زیرقول لیغفرلك اﷲ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۱۶
#11644 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
انہ سمع عروۃ عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا ان نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یقوم من اللیل حتی تنفطر قدماہ فقالت عائشۃ لم تصنع ھذا یارسول اﷲ وقد غفر اﷲ لك ماتقدم من ذنبك وما تأخر قال افلا احب ان اکون عبدا شکورا الحدیث قال البخاری فی کتاب الصلوۃ تفطر قدماہ الفطور الشقوق انفطرت انشقت اھ واﷲ تعالی اعلم۔
آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : کیامیں اس کا شکرگزاربندہ نہ بنوں حسن بن عبدالعزیز انہیں عبداﷲ بن یحیی حیوۃ انہیں ابو الاسود نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عروۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رات کو قیام فرماتے حتی کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مبارك قدم پھٹ جاتے میں نے عرض کیا یارسول اﷲ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہو حالانکہ اﷲتعالی آپ کے اگلے اور پچھلے معاملات پر مغفرت و بخشش کی ضمانت فراہم کردی ہے ۔ تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا میں اس کا شکر گذار بندہ نہ بنوں اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب الصلوۃ میں ذکر کر کے فرمایا : تفطر قدماہ الفطور کامعنی پھٹ جانا ہے کیونکہ انفطرت اور انشقت دونوں کامعنی “ پھٹ جانا “ ہے اھ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۳۸ : از بریلی محلہ صندل خاں کی بزریہ ۲۹ذی القعدہ ۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عشاء میں آخری نفل بیٹھ کرپڑھنا چاہئے یا کھڑے ہوکر سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کس طور پرہمیشہ ان لفظوں کو ادافرمایا اور کس طرح پڑھنا باعث زیادتی ثواب ہے بینواتوجروا
الجواب :
حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ نفل بیٹھ کرپڑھے مگرساتھ ہی فرمادیا کہ میں تمہارے مثل
حوالہ / References صحیح البخاری سورۃ الفتح زیرقول لیغفرلك اﷲ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۷۱۶
صحیح البخاری باب قیام النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۵۲
#11645 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
نہیں میرا ثواب قیام وقعود دونوں میں یکساں ہے تو امت کے لئے کھڑے ہوکر پڑھنا افضل اور دوناثواب ہے اور بیٹھ کر پڑھنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۰۳۹ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نمازتہجد اداکرتاہے لہذا اس کو وتر بعد فراغت تراویح پڑھنا جائزہے یانہیں یاکسی کی تراویح اتفاق سے کچھ باقی رہ گئی ہیں تووہ امام کے بعد تراویح پڑھ سکتا ہے یانہیں
الجواب :
تہجد پڑھنے والا بعد تراویح وتر پڑھ سکتاہے بلکہ جاگنے پراعتماد نہ ہو تو پہلے ہی پڑھ لینا بہترہے جس نے امام کے ساتھ بعض تراویح نہ پائیں تو بعد امام ان کو پڑھے خواہ وتروں سے پہلے یا بعد اور اول بہترہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴۰ : از ریاست الور راجپوتانہ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ مولوی محمدرکن الدین صاحب نقشبندی ۲۲ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ
مسئلہ یہ ہے کہ جمعہ کی پہلی چارسنتیں اگرقضا ہوجائیں توبعد فرض جماعت کے اسے سنت وقت کے اندرقضا کرلے یانہیں اس میں بھی صاحب ردالمحتارتحریرفرماتے ہیں کہ جمعہ کی سنت مثل سنت ظہر کے نہیں ہیں لہذا گزارش ہے کہ اس کی تحقیق سے بواپسی ڈاك اطلاع بخشی جائے دوچار علماء سے جوگفتگو ہوئی توانہوں نے جناب کی تحقیق کی طرف توجہ دلائی۔
الجواب :
ہاں وقت میں انہیں اداکرلے وہ اداہوگی نہ کہ قضا درمختارمیں ہے :
بخلاف سنۃ الظھر وکذا الجمعۃ فانہ ان خاف فوت رکعۃ یترکھا ویقتدی ثم یاتی بھا علی انہ سنۃ فی وقتہ ای الظھر ۔
بخلاف ظہر کی سنت کے اسی طرح جمعہ کا معاملہ ہے پس اگرنماز کی ایك رکعت نکل جانے کا خطرہ ہو توسنن ترك کرکے جماعت میں شامل ہوجاناچاہئے پھر ان سنتوں کو اپنے وقت یعنی ظہرمیں اداکرے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
وحکم الاربع قبل الجمعۃ کالاربع جمعہ کی پہلی چارسنتوں کاحکم وہی ہے جوظہرسے
حوالہ / References درمختار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۰۰
#11646 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
قبل الظھر کمالایخفی ۔
پہلی چارسنتوں کاہے جیسا کہ واضح ہے(ت)
حاشیہ علامہ خیرالدین الرملی علی البحرالرائقمیں فتاوی علامہ سراج الدین حانوتی سے ہے :
فعلی ماقالوہ فی المتون وغیرھا من ان سنۃ الظھر تقضی یقتضی ان تقضی سنۃ الجمعۃ اذلافرق اھ ثم نقل عن روضۃ العلماء ماردہ فی منحۃ الخالق وردالمحتار۔
اس بناپر کہ جوفقہا نے کہا ہے کہ متون وغیرہ میں ہے کہ ظہرکی سنتیں ادا کی جائیں اس کاتقاضا ہے کہ جمعہ کی سنتیں بھی اداکی جائیں کیونکہ ان میں کوئی فرق نہیں اھ پھر انہوں نے روضۃ العلماء سے وہ نقل کیا جسے منحۃ الخالق اور ردالمحتارمیں رد کیاہے(ت)
جامع الرموزمیں ہے :
یترك سنۃ الظھر ولوحکما فیدخل فیہ سنۃ الجمعۃ فتقضی علی الخلاف سنۃ الظھر
ظہر کی سنتیں چھوڑدی جائیں اگرچہ ظہرحکمی ہو تو جواز ترك میں جمعہ کی سنتیں بھی داخل ہوں گی توانہیں برخلاف سنت ظہر اداکیاجائے(ت)
رہا علامہ شامی کا استدلال کہ :
قدیستدل للفرق بینھما بان القیاس فی السنن عدم القضأ وقد استدل قاضی خاں لقضاء سنۃ الظھر بما عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان اذا فاتتہ الاربع قبل الظھر قضاھن بعدہ فیکون قضاءھا ثبت بالحدیث علی خلاف القیاس ۔
بعض اوقات ان کے درمیان فرق کے لئے یہ استدلال کیاجاتاہے کہ قیاس کاتقاضا ہے کہ سنن میں قضانہیں اور قاضی خاں نے ظہر کی سنتوں کی قضا پر اس حدیث سے استدلال کیاہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اگرظہر سے پہلے کی چاررکعات حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے رہ جائیں تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ظہر کے بعد انہیں ادافرمایا کرتے تھے پس ان کی اداخلاف قیاس حدیث سے ثابت ہوئی (ت)
حوالہ / References بحرالرائق باب ادراك الفریضۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۷۵
حاشیۃ منحۃ الخالق علی البحرالرائق قول حکم الاربع قبل الجمعۃ کے تحت مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۲ / ۷۵
جامع الرموز ، فصل ادراك الفریضۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ۱ / ۲۲۳
ردالمحتار باب فصل ادراك الفریضۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۳۱
#11647 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
اس پر فقیرغفرلہ المولی التقدیر نے اپنی تعلیقات میں یہ لکھا :
اقول : فیہ ان الحاق سنۃ الجمعۃ بسنۃ الظھر بدلیل المساواۃ فلایضرکون القضاء فیھن علی خلاف القیاس لان الالحاق دلالۃ لایختص بعقول المعنی کما نص علیہ الامام ابن الھمام وغیرہ من الاعلام بل لقائل ان یقول ان سنۃ الجمعۃ من افراد سنۃ الظھر فلاالحاق فافھم وبالجملۃ فالاحوط الایتان بھا خروجا عن العھدۃ بیقین ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اقول : جمعہ کی سنتوں کوظہر کی سنتوں کے ساتھ مساوات کی بناء پر لاحق کرنے میں ان کو خلاف قیاس قضا کرنے میں کوئی ضررنہیں کیونکہ دلالۃ الحاق کے لئے معقول المعنی ہوناضروری نہیں جس طرح اس پر امام ابن الہمام وغیریہ نے تصریح کی ہے بلکہ قائل کے لئے یہ کہنا ممکن ہے کہ جمعہ کی سنتیں ظہر کی سنتوں کا ہی فرد ہیں توپھرکوئی الحاق نہ ہوگا اسے سمجھو الغرض احتیاط یہی ہے کہ انہیں بجالایاجائے تاکہ ذمہ داری سے بالیقین عہدہ برآہواجاسکے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۴۱ : ۲۸محرم ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے فوت جماعت کے خوف سے سنتیں فجر کی ترك کیں اور جماعت میں شامل ہوگیا اب وہ ان سنتوں کوفرضوں کے بعد سورج نکلنے سے پیشتر پڑھے یابعد بینواتوجروا
الجواب :
جبکہ فرض فجرپڑھ چکاتوسنتیں سورج بلند ہونے سے پہلے ہرگز نہ پڑھے ہمارے ائمہ رحمہم اللہ تعالی عنہم کا اس پراجماع ہے بلکہ پڑھے تو سورج بلند ہونے کے بعد دوپہر سے پہلے پڑھ لے نہ اس کے بعد پڑھے نہ اس سے پہلے ردالمحتارمیں ہے :
اذا فاتت وجدھا فلاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع لکراھۃ النفل بعد الصبح واما بعد طلوع الشمس فکذالك عندھما وقال محمد احب الی ان یقضیھا الی الزوال کما فی الدرر ۔
جب اکیلی سنن رہ گئی ہوں توبالاجماع طلوع آفتاب سے پہلے انہیں قضانہ کرے کیونکہ اس وقت نفل نماز مکروہ ہے۔ رہاطلوع آفتاب کے بعدکا تو شیخین کے نزدیك یہی حکم ہے مگر امام محمد فرماتے ہیں کہ زوال سے پہلے پہلے ان کا اداکرلینا مجھے پسند ہے جیسا کہ دررمیں ہے(ت)
حوالہ / References جدالممتا علی ردالمحتار باب ادراك الفریضۃ المجمع الاسلامی مبارکپور (انڈیا) ۱ / ۲۴۳
ردالمحتار باب ادراك الفریضۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۵۷
#11648 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
اور یہ خیال کہ ا س میں قصدا وقت قضا کراناہے ناواقفی سے ناشی یہ سنتیں جب فرضوں سے پہلے نہ پڑھی گئیں خود ہی قضا ہوگئیں ان کا وقت یہی تھا کہ فرضوں سے پیشتر پڑھی جائیں اب اگرفرضوں کے بعد سورج نکلنے سے پیشتر پڑھے گا جب بھی قضا ہی ہوں گی ادا ہرگزنہ ہوں گی الاتری الی قولہ لاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع فقدسمی صلوتھا قبل الطلوع بعد الفرض قضاء (آپ نہیں دیکھتے کہ انہوں نے کہا بالاجماع طلوع آفتاب سے پہلے قضانہ کرے اس میں فرض کے بعد طلوع سے پہلے نماز کو قضاکہاگیاہے۔ ت) لیکن طلوع سے پہلے قضاکرنے ممیں فرض فجر کے بعد نوافل کاپڑھنا ہے اور یہ جائزنہیں لہذا ہمارے اماموں نے اس سے منع فرمایا اور بعد طلوع وہ حرج نہ رہا لہذا جازت دی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴۲ : ازاوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۲۲شعبان ۱۳۱۱ھ
اس مسئلہ میں کیا حکم ہے کہ بکروضو نمازفجر کاکرکے ایسے وقت میں آیا کہ امام قعدئہ اخیرہ میں ہے جو سنت پڑھتاہے توجماعت جاتی ہے اور جماعت میں ملتاہے توسنتیں فوت ہوتی ہیں اس صورت میں سنتیں پڑھے یاقعدہ میں مل جائے بینواتوجروا
الجواب :
اس صورت میں بالاتفاق جماعت میں شریك ہوجائے کہ جماعت میں ملنا سنتیں پڑھنے سے اہم وآکد ہے جب یہ جانے کہ سنتیں پڑھوں گا تو جماعت ہوچکے گی بالاتفاق جماعت میں مل جانے کاحکم ہے اگرچہ ابھی امام رکعت ثانیہ کے شروع میں ہو قعدہ توختم نماز ہے اس میں کیونکر امیدہوسکتی ہے کہ امام کے سلام سے پہلے یہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں مل سکے گا
فی الدر المختار اذا خاف فوت رکعتی الفجر لاشتغالہ بستنھا ترکھا لکون الجماعۃ اکمل الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختارمیں ہے کہ سنتوں میں مصروفیت کی بناپر فجر کے فرائض کے فوت ہونے کاخوف ہو تو انہیں چھوڑدیاجائے کیونکہ جماعت ان سے اکمل ہے الخ واﷲ تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References درمختار باب ادراك الفریضۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹
#11649 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
مسئلہ ۱۰۴۳ : از مقام یومد قلعہ رام چھاؤنی ڈیرہ اسمعیل خاں رجمنٹ نمبر۸ بنگال ملك وزیرستان مرسلہ عبداﷲ خاں صاحب سوار ۱۳صفر ۱۳۲۰ھ
اے لقائے توجواب ہرسوال
مشکل ازتوحل شود بے قیل وقال
(آپ سے ملاقات بھی ہرسوال کاجواب ہے اور بغیر قیل وقال آپ سے سوال حل ہوجاتاہے)
بعد تمنا قدمبوسی کے مدعایہ ہے کہ یہاں ہم لوگوں میں ایك حافظ قرآن شریف بہت عمدہ تلاوت کرتے ہیں سب جوانوں کامشورہ ہواکہ حافظ صاحب ہم کو پوراقرآن سنائیں سب کی صلاح سے بعد نمازعشاء پچھلی دورکعت نفل میں دو پارے روزسنائے دس یوم بعد معلوم ہوا کہ نفلوں میں جماعت درست نہیں بعد کو سب کی رائے سے عشاء کے فرضوں میں دورکعت پیشتر میں قرآن سنایا ۸یوم سنا ہوگا کہ بعض نے کہا تمہاری نمازدرست نہ ہوئی اب آپ لکھئے کہ کسی طرح قرآن شریف علاوہ رمضان مبارك سنانا درست ہے یانہیں اب سب کہتے ہیں وتروں میں سناؤ اور اب یہ بھی سناہے کہ سنتوں میں جماعت درست نہیں ہے پھر کیابندوبست کیاجائے اور جونماز اس طورپرپڑھی ہے وہ قبول ہوئی یاپھر قضاکریں یہ جگہ پہاڑ ہے ایك قلعہ ہے جس میں ہم قریب سوجوانوں کے رہتے ہیں ۔
الجواب :
استسقاء کے سوا ہر نماز نفل و تراویح وکسوف کے سوا ہر نماز سنت میں ایسی جماعت جس میں چار یا زیادہ شخص مقتدی بنیں مکروہ ہے اور وتروں کی جماعت غیررمضان میں اگراتفاقا کبھی ہوجائے توحرج نہیں مگر التزام کے ساتھ وہی حکم ہے کہ چاریازیادہ مقتدی ہوں توکراہت ہے اور فرضوں میں قرأت طویل قدرسنت سے اس قدرزائد کہ مقتدیوں میں سے کسی شخص پر بارگزرے سخت ناجائز وگناہ ہے یہاں تك کہ اگرہزار مقتدی ہیں اور سب خوشی سے راضی ہیں کہ قرأت قدر سنت سے زیادہ پڑھی جائے مگرایك شخص کوناگوار ہے تو اسی ایك کالحاظ واجب ہوگا اور قدرسنت سے بڑھاناگناہ ہوگا درمختارمیں ہے :
یصلی بالناس من یملك اقامۃ الجمعۃ رکعتین کالنفل وصلوۃ الکسوف سنۃ واختار فی الاسرار وجوبھا واختلف فی استنان صلوۃ
وہ شخص جوجمعہ قائم کرسکتاہے لوگوں کومثل نفل کے دو۲ رکعات نمازپڑھاسکتاہے اور صلوۃ کسوف سنت ہے اور اسرار میں اس کے وجوب کو مختارکہاہے نماز استسقاء کے سنت ہونے
#11650 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
الاستسقاء وھو بلاجماعۃ مسنونۃ بل ھی جائزۃ اھ ملتقطا۔
میں اختلاف ہے اوریہ بلاجماعت مسنون بلکہ جائز ہے اھ تلخیصا(ت)
اسی میں ہے :
لایصلی الوتر ولاالتطوع بجماعۃ خارج رمضان ای یکرہ ذلك الوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد کمافی الدرر ۔
رمضان کے علاوہ وتر اور نوافل کو جماعت کے ساتھ ادانہ کیاجائے یعنی یہ عمل مکروہ ہے اگر علی سبیل التداعی ہو بایں طور کہ چارآدمی کسی ایك کی اقتداء کریں جیسا کہ دررمیں ہے(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ یکرہ ذلك اشار الی ماقالوا ان المراد من قول القدوری فی مختصرہ لایجوز الکراھۃ لاعدم اصل الجواز لکن فی الخلاصۃ عن القدوری انہ لایکرہ وایدہ فی الحلیۃ بما اخرجہ الطحاوی عن المسور بن مخرمۃ قال دفنا ابابکر رضی اﷲ تعالی عنہ لیلا فقال عمر رضی اﷲ تعالی عنہ انی لم اوتر فقام وصفنا ورائہ فصلی بنا ثلث رکعات لم یسلم الا فی اخرھن ثم قال و یمکن ان یقال الظاھر
ان کا قول “ یکرہ ذلک “ علماء کے اس قول کی طرف اشارہ ہے جوانہوں نے فرمایا کہ قدوری کے اپنی مختصرمیں قول “ لایجوز “ کامعنی یہ ہے کہ کراہت ہے نہ کہ اصل جواز معدوم ہے لیکن خلاصہ میں قدوری سے ہے کہ یہ مکروہ نہیں اور اس کی تائید حلیہ میں اس روایت سے کی ہے جو طحاوی نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم نے سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کورات کو دفن کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : میں نے ابھی وترنہیں پڑھے آپ کھڑے ہوئے تو ہم نے ان کے پیچھے صف بنالی تو انہوں نے ہمیں تین رکعات پڑھائیں اور ان کے آخر میں سلام پھیرا پھر کہا کہ یہ کہنا
حوالہ / References درمختار باب الکسوف مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۸۔ ۱۱۷
درمختار باب الاستسقاء مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۸
درمختار آخر باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹
#11651 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
ان الجماعۃ فیہ غیرمستحبۃ ثم ان کان ذلك احیانا کما فعل عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کان مباحا غیرمکروہ وان کان علی سبیل المواظبۃ کان بدعۃ مکروھۃ لانہ خلاف المتوارث وعلیہ یحمل ماذکرہ القدوری فی مختصرہ وماذکرہ فی غیرمختصرہ یحمل علی الاول ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
ممکن ہے کہ ظاہریہی ہے کہ وتروں میں جماعت غیرمستحب ہے اور اگریہ بعض اوقات ہو تو جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا تو یہ مباح غیرمکروہ ہے اور اگر اس میں دوام ہو تو یہ بدعت ومکروہ ہے کیونکہ منقول کے خلاف ہے اور مختصر قدوری میں جو مذکور ہے اسے بھی اسی پر محمول کیاجائے گا اور مختصرکے علاوہ میں جو مذکور ہے اسے پہلی صورت پرمحمول کیاجائے گا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
درمختارمیں ہے :
یکرہ تحریما تطویل الصلوۃ علی القوم زائدا علی قدرالسنۃ الخ وتمام الکلام علیہ فی ردالمحتار والحلیۃ وغیرھما وبالبحث والتنقیر یظھر ما ذکرنا۔
نماز کامقتدیوں پرقدرسنت سے زیادہ لمباکرنا مکروہ تحریمی ہے الخ اس پرتفصیلی کلام ردالمحتار اور حلیہ وغیرہ میں موجود ہے اور بحث وتمحیص سے وہ ظاہر ہوگاجوہم نے ذکر کیا ہے (ت)
پس اگر اس کا بندوبست منظور ہو تو اس کی تین صورتیں ہیں :
(۱) یہ کہ فرضوں کی دورکعت پیشیں میں قرأت ہو اس شرط پرکہ جماعت کے آدمی گنے بندھے ہوں اور وہ سب دل سے اس تطویل پرراضی ہوں کسی کو گراں نہ گزرے
ان اﷲ لایمل حتی تملوا کما فی الصحیح عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
اﷲتعالی ملال نہیں دیتا یہاں تك کہ تم ملال میں ہوجاؤ جیسا کہ صحیح حدیث میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کافرمان ہے(ت)
اگر یہ معدود لوگ راضی ہوں مگرجماعت میں یہی معین نہیں اور لوگ بھی آکرشریك ہوجاتے ہیں اور ان کا اس تطویل پرراضی ہونا معلوم نہیں توجائز نہ ہوگا حذراعن الوقوع فی الحرام (حرام میں واقع ہونے
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۸
درمختار باب الامامۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۸۳
سنن ابوداؤد باب مایومربہ من القصد فی الصلٰوۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۹۴
#11652 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
سے بچنے کے لئے۔ ت)
(۲) سنتوں نفلوں وتروں میں حافظ قرأت کرے اور ہربار مختلف لوگ مقتدی ہوں کہ کسی بار میں تین سے زیادہ مقتدی نہ ہوں مثلا عشاء کے بعد دوسنتوں مین تین مقتدیوں کے ساتھ آدھا پارہ پڑھ لیا پھروتروں میں دوسرے تین آدمی شریك ہوگئے آدھا ان میں پڑھا پھرنفلوں میں دوسرے تین مل گئے آدھا اب پڑھایاوتروں سے پہلے جتنے نفل چاہے امام نے مختلف تین تین آدمیوں کے ساتھ پڑھے کہ سو یا زیادہ شخص سب کو حصہ رسد ایك قرأت طویل میں شرکت پہنچ گئی۔
(۳) سنتوں خواہ نفلوں میں سب مقتدی ایك ساتھ شریك ہوکر ایك ہی بار میں ساری قرأت سب سنیں مگریوں کہ مقتدی سب یاتین سے جتنے زیادہ ہیں یوں منت مان لیں کہ میں نے اﷲ تعالی کے لئے نذر کی کہ یہ رکعتیں اس امام کے ساتھ باجماعت اداکروں اس صورت میں بھی کراہت نہ رہے گی اگرچہ کوئی ایسی پسندیدہ بات یہ بھی نہیں درمختارمیں ہے :
فی الاشباہ عن البزازیۃ یکرہ الاقتداء فی صلوۃ رغائب وبرائۃ وقدر الااذا قال نذرت کذا رکعۃ بھذا الامام جماعۃاھ قلت وتتمۃ عبارۃ البزازیۃ من الامامۃ ولاینبغی ان یتکلف کل ھذا التکلف لامر مکروہ اھ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اشباہ میں بزازیہ کے حوالہ سے ہے کہ نماز رغائب اور برائۃ (شب برأت کی نماز) اور قدر(شب قدر کی نماز) میں اقتداء مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب کوئی یوں کہے کہ میں نے اﷲتعالی کے لئے نذر کی ہے کہ میں اس امام کی اقتداء میں یہ رکعتیں اداکروں گا اھ قلت بزازیہکے باب الامامت میں اختتامی عبارت یوں ہے کہ اس امر مکروہ کے لئے یہ تمام تکلفات مناسب نہیں اھ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۴۴ : از احمدآباد گجرات دکن محلہ مرزاپورمدرسہ اسلامیہ مرسلہ شیخ علاء الدین صاحب ۲۲ربیع الاول شریف ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ نزدیك امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ اور علمائے حنفیہ کی نماز تہجد کی ساتھ جماعت کے پڑھنا جائز ہے یانہیں اور دیگر ایام مخصوصہ مثلا یوم عاشورا وغیرہ میں نفل جماعت سے جائز ہیں یانہیں اور یہاں کے مولوی نماز تہجد کی جماعت سے پڑھنا از حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما
حوالہ / References درمختار آخرباب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹
#11653 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
منصوص کہتے ہیں اور وقت تہجد کے جماعت بھی کرتے ہیں آیا جماعت تہجد اور نفلوں کی کرنامستحب یاسنت کیاہے اور جبکہ برعکس ہوتوکیامکروہ ہے یابدعت ہے یاکیاہے اللھم اھدنا بینوابحکم الکتاب توجروا یوم الحساب۔
الجواب :
تراویح وکسوف واستسقاء کے سوا جماعت نوافل میں ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کامذہب معلوم ومشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ۔ تداعی ایك دوسرے کوبلاناجمع کرنا اور اسے کثرت جماعت لازم عادی ہے اور اس کی تحدید امام نسفی وغیرہ نے کافی میں یوں فرمائی کہ امام کے ساتھ ایك دوشخص تك بالاتفاق بلاکراہت جائز اور تین میں اختلاف اور چارمقتدی ہوں تو بلاتفاق مکروہ یہ تحدید امام شمس الائمہ سے منقول ہے کافی کانص عبارت یہ ہے :
(لایصلی تطوع بجماعۃ الاقیام رمضان) وعن شمس الائمۃ ان التطوع بالجماعۃ انما یکرہ اذا کان علی سبیل التداعی امالو اقتدی واحد بواحد اواثنان بواحد لایکرہ واذا اقتدی ثلثۃ بواحد اختلف فیہ وان اقتدی اربعۃ بواحد کرہ اتفاقا ۔
(نفل جماعت کے ساتھ ادانہ کئے جائیں مگر رمضان کاقیام) شمس الائمہ سے یوں منقول ہے کہ نوافل کی جماعت اس صورت میں مکروہ ہے جب علی سبیل التدعی ہو اگرایك نے ایك کی اقتداء کی یادونے ایك کی توکراہت نہیں اور جب تین ایك کی اقتداء کریں تواس میں اختلاف ہے اور اگرچار نے ایك کی اقتداء کی تویہ بالاتفاق مکروہ ہے۔ (ت)
اور اصح یہ ہے کہ تین مقتدیوں میں بھی کراہت نہیں طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
قولہ اختلف فیہ والاصح عدم الکراھۃ ۔
ان کا قول “ اختلف فیہ “ اس میں اصح یہ ہے کہ کراہت نہیں ۔ (ت)
مگرانہیں امام شمس الائمہ سے خلاصہ وغیرہ میں یوں منقول کہ تین مقتدیوں تك بالاتفاق کراہت نہیں
حوالہ / References بحوالہ خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس عشر فی الامامۃ والاقتدائ مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۳
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح آخر باب الوتر مطبوعہ نورمحمد کتب خانہ کراچی ص۲۱۱
#11655 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
چارمیں اختلاف ہے اوراصح کراہت ۔ فتاوی خلاصہ کا نص عبارت کتاب الصلوۃ فصل خامس ۱۵ عشر میں یہ ہے :
اصل ھذا ان التطوع بالجماعۃ اذا کان علی سبیل التداعی یکرہ فی الاصل للصدر الشھید اما اذا صلی بجماعۃ بغیر اذان واقامۃ فی ناحیۃ المسجد لایکرہ وقال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اﷲ تعالی ان کان سوی الامام ثلثۃ لایکرہ بالاتفاق وفی الاربع اختلف المشائخ و الاصح انہ یکرہ ۔
اس مسئلہ کی اصل یہ ہے کہ جب نوافل کی جماعت علی سبیل التداعی ہو تو صدرشہید کی اصلمیں ہے کہ یہ مکروہ ہے لیکن اگر مسجد کے گوشے میں بغیر اذان و تکبیر نفل کی جماعت ہوئی تو کراہت نہیں اور شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ اگرامام کے علاوہ تین افراد ہوں توبالاتفاق کراہت نہیں اور اگرمقتدی چارہوں تواس میں مشائخ کااختلاف ہے اور اصح کراہت ہے(ت)
بالجملہ دو مقتدیوں میں بالاجماع جائز اور پانچ میں بالاتفاق مکروہ اور تین اور چارمیں اختلاف نقل ومشائخ اوراصح یہ کہ تین میں کراہت نہیں چار میں ہے تومذہب مختار یہ نکلا کہ امام کے سوا چار یا زائد ہوں توکراہت ہے ورنہ نہیں ولہذا دررو غرر پھر درمختارمیں فرمایا :
یکرہ ذلك لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد ۔
اگرنفل کی جماعت علی سبیل التداعی ہو بایں طورپرکہ چارآدمی ایك کی اقتداء کریں تومکروہ ہے(ت)
پھر اظہریہ کہ یہ کراہت صرف تنزیہی ہے یعنی خلاف اولی لمخالفۃ التوارث (کیونکہ یہ طریقہ توارث کے خلاف ہے۔ ت) نہ تحریمی کہ گناہ وممنوع ہو ردالمحتارمیں ہے :
فی الحلیۃ الظاھر ان الجماعۃ فیہ غیرمستحبۃ ثم ان کان ذلك احیانا کان مباحا غیرمکروہ وان کان علی سبیل المواظبۃ کان بدعہ مکروھۃ لانہ خلاف المتوارث ھ ویؤید ایضا مافی البدائع من قولہ
حلیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ نفل میں جماعت مستحب نہیں پھر اگرکبھی کبھی ایسا ہو تو یہ مباح ہے مکروہ نہیں اور اس میں دوام ہو توطریقہ متوارث کے خلاف ہونے کی وجہ سے بدعت مکروہ ہے اھ اس کی تائید بدائع کے اس قول سے
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس عشرالخ مطبوعہ مطبع منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۵۴
درمختار آخرباب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹
#11656 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
ان الجماعۃ فی التطوع لیست بسنۃ الا فی قیام رمضانھ فان نفی السنیۃ لایستلزم الکراھۃ ثم ان کان مع المواظبۃ کان بدعۃ فیکرہ وفی حاشیۃ البحر للخیر الرملی علل الکراھۃ فی الضیأ والنھایۃ بان الوتر نفل من وجہ والنفل بالجماعۃ غیرمستحب لانہ لم تفعلہ الصحابۃ فی غیررمضانھ وھو کالصریح فی انھا کراھۃ تنزیہ تأمل اھ اھ مختصرا۔
بھی ہوتی ہے کہ جماعت قیام رمضان کے علاوہ نوافل میں سنت نہیں اھ کیونکہ نفی سنیت کراہت کومستلزم نہیں پھر اگر اس میں دوام ہو تو یہ بدعت ومکروہ ہوگی خیررملی نے حاشیہ بحر میں کہا کہ ضیاء اور نہایہ میں کراہت کی علت یہ بیان کی ہے کہ وتر من وجہ نفل ہیں اور نوافل کی جماعت مستحب نہیں کیونکہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین نے رمضان کے علاوہ وتر کی جماعت نہیں کرائی اھ یہ گویا اس بات کی تصریح ہی ہے کہ جماعت مکروہ تنزیہی ہے تامل اھ اھ اختصارا(ت)
صلوۃ الرغائب وصلوۃ البرائۃ وصلوۃ القدر کہ جماعات کثیرہ کے ساتھ بکثرت بلاداسلام میں رائج تھیں متأخرین کا ان پر انکار اس نظر سے ہے کہ عوام سنت نہ سمجھیں ولہذا وجیزکردری میں بعد بحث و کلام فرمایا :
فلوترك امثال ھذہ الصلوات تارك لیعلم الناس انہ لیس من الشعار فحسن ۔
اگرنمازوں کوکوئی اس لئے تر ك کرتاہے کہ لوگ جان لیں کہ یہ شعار اسلام نہیں تو یہ ا چھا کام ہے۔ (ت)
اوربعض ناس کاغلو وافراط مسموع نہیں اور حدیث بروایت مجاہیل آناموجب وضع نہیں نہ وضع حدیث موجب منع عمل ہے عمل بالحدیث الموضوع اور عمل بمافی الحدیث الموضوع میں زمین آسمان کا بل ہے کما حققنا کل ذلك فی منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین(جیسا کہ ہم نے اس کی پوری تحقیق رسالہ “ منیرالعین فی حکم تقبیل الابہامین “ میں کی ہے۔ ت) خصوصا ان کا فعل بجماعت اجلہ اعاظم اولیائے کباروعلمائے ابرار حتی کہ ایك جماعت تابعین کرام وائمہ مجتہدین اعلام سے ثابت ومنقول ہے لطائف المعارف امام حافظ زین الدین ابن رجب میں ہے :
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۸
فتاوٰی بزازیہ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۵۴
#11657 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
لیلۃ النصف من شعبان کان التابعون من اھل الشام کخالد بن معدان و مکحول ولقمان بن عامر وغیرھم یعظمونھا ویجتھدون فیھا فی العبادۃ وعنھم اخذالناس فضلھا وتعظیمھا وقدقیل انہ بلغھم فی ذلك اثار اسرائیلیۃ فلما اشتھر ذلك عنھم فی البلدان اختلف الناس فی ذلک فمنھم من قبلہ ووافقھم علی تعظیمھا منھم طائفۃ من عباد اھل البصرۃ وغیرھم وانکرذلك اکثرالعلماء من اھل الحجاز منھم عطاء وابن ابی ملیکۃ وعبد الرحمن بن زید بن اسلم عن فقھاء المدینۃ وھو قول اصحاب مالك وغیرھم وذلك کلہ بدعۃ واختلف علماء اھل الشام فی صفۃ احیائھا علی قولین احدھما انہ یستحب احیاؤھا جماعۃ فی المساجد کان خالد بن معدان ولقمان بن عامر وغیرھما یلبسون فیھا احسن ثیابھم ویتبخرون و یکتحلون و یقومون فی المساجد لیلتھم ذلك و وافقھم اسحق بن راھویۃ علی ذلک وقد ذکر بعدہ القول الاخر وھو کراھۃ الجماعۃ دون الانفراد وان علیہ امام الشام الاوزاعی لکن فیہ سقطا فی نسختی
یعنی اہل شام میں ائمہ تابعین مثل خالد بن معدان و امام مکحول و لقمان بن عامروغیرہم شب برات کی تعظیم اور اس رات عبادت میں کوشش عظیم کرتے اور انہیں سے لوگوں نے اس کا فضل ماننا اور اس کی تعظیم کرنا اخذکیاہے کوئی کہتاہے انہیں اسباب میں کچھ آثار اسرائیلی پہنچے تھے خیرجب ان سے یہ امر شہروں میں پھیلا علماء اس میں مختلف ہوگئے ایك جماعت نے اسے قبول کیا اور تعظیم شب برات کے موافق ہوئے ان میں سے ایك گروہ عابدین اہل بصرہ وغیرہم ہیں اور اکثرعلماء نے اس کا انکارکیا ان میں سے ہیں امام عطاء و ابن ابی ملیکہ و عبدالرحمن بن زیدبن اسلم فقہائے مدینہ سے ہیں اور یہ قول مالکیہ وغیرہم کاہے کہ یہ سب نوپیداہے علمائے اہل شام اس رات کی شب بیداری میں کہ کس طرح کی جائے دو قول پرمختلف ہوئے ایك قول یہ ہے کہ مسجدوں میں جماعت کے ساتھ مستحب ہے خالد بن معدان و لقمان بن عامر وغیرہما اکابرتابعین اس رات اچھے سے اچھے کپڑے پہنتے بخورکااستعمال کرتے سرمہ لگاتے اور شب کومسجدوں میں قیام فرماتے امام مجتہد اسحق بن راہویہ نے بھی اس بارے میں ان کی موافقت فرمائی الخ دوسراقول یہ کہ مساجد میں اس کی جماعت مکروہ ہے اور یہ قول شام کے امام وفقیہ وعالم امام اوزاعی کا ہے۔ لیکن میرے پاس موجود نسخہ سے
حوالہ / References لطائف المعارف المجلس الثانی فی ذکرنصف شعبان دارابن کثیر بیروت ص۲۶۳
#11659 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
فلم یتیسرلی نقلہ ویتضح بما اذکرہ عن الشرنبلالی فانہ انما اخذہ عنہ۔
کچھ عبارت ساقط ہے اس کی عبارت نقل کرنا میسرنہیں اس کی وضاحت اس سے ہوجائے گی جسے میں شرنبلالی کے حوالے سے ذکرکر رہا ہوں کیونکہ انہوں نے اس سے اخذ کیاہے۔
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے :
انکرہ اکثرالعلماء من اھل الحجاز منھم عطاء وابن ابی ملیکۃ وفقھاء اھل مدینۃ واصحاب مالك وغیرھم وقالوا ذلك کلہ بدعہ ولم ینقل عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولاعن اصحابہ احیاء لیلتی العید جماعۃ واختلف علماء الشام فی صفۃ احیاء لیلۃ النصف من شعبان علی قولین احدھما انہ استحب احیاؤہ بجماعۃ فی المسجد طائفۃ من اعیان التابعین کخالد بن معدان ولقمان بن عامر ووافقھم اسحق بن راھویۃ والقول الثانی انہ یکرہ الاجتماع لھا فی المساجد للصلوۃ وھذا قول الاوزاعی امام اھل الشام وفقیھھم وعالمھم ۔
اہل حجاز میں سے اکثر علماء نے اس کاا نکارکیاہے ان میں سے ہیں امام عطاء و ابن ابی ملیکۃ و فقہاء مدینہ اور اصحاب امام مالك وغیرہم۔ یہ علماء کہتے یہ سب نوپیداہے۔ نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عیدین کی دونوں راتون کی باجماعت شب بیداری منقول ہے اور نہ ہی صحابہ کرام سے مروی ہے اور علماء شام بیداری شب برأت میں کہ کس طرح کی جائے دوقول پرمختلف ہوئے ایك قول یہ ہے کہ مسجدوں میں جماعت کے ساتھ بیداری مستحب ہے یہ قول اکابرتابعین مثل خالدبن معدان اور لقمان بن عامرکاہے امام مجتہد اسحق بن راہویہ نے بھی اس بارے میں ان کی موافقت فرمائی ہے۔ دوسراقول یہ ہے کہ مساجد میں اس کی جماعت مکروہ ہے یہ قول اہل شام کے امام و فقیہ وعالم امام اوزاعی کاہے۔ (ت)
شیخ محقق اعلم علماء الہند مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ ماثبت بالسنۃ میں حدیث صلوۃ الرغائب پرمحدثین کاکلام ذکرکرکے ارشاد فرماتے ہیں :
ھذا ماذکرہ المحدثون علی طریقھم فی تحقیق
یعنی وہ کلام ہے کہ محدثین نے اپنے طریقہ تحقیق اسناد
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح آخرباب الوتر واحکامہ مطبوعہ نورمحمدکتب خانہ کراچی ص۲۰۔ ۲۱۹
#11660 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
الاسانید ونقد الاحادیث وعجبا منھم ان یبالغوا فی ھذا الباب ھذہ المبالغۃ و یکفیھم ان یقولوا لم یصح عندنا ذلك و واعجب من الشیخ محی الدین النووی مع سلوکہ طریق الانصاف فی الابواب الفقھیۃ وعدم تعصبہ مع الحنفیۃ کماھو داب الشافعیۃ فمانحن فیہ اولی بذلك لنسبۃ الی المشائخ العظام والعلماء الکرام قدس اسرارھم ۔
وتنقید آثار پر ذکرکیا اور ان سے اس قدرمبالغہ کا تعجب ہے انہیں اتناکہنا کافی نہ تھا کہ حدیث ہمارے نزدیك درجہ صحت کو نہ پہنچی اور زیادہ تعجب امام محی الدین نووی سے ہے کہ وہ تومسائل فقہ میں راہ انصاف چلتے ہیں اور دیگرشافعیہ کی طرح حنفیہ کے ساتھ تعصب نہیں رکھتے تویہ مسئلہ جس میں ہم بحث کررہے ہیں زیادہ انصاف وترك افراط کے لائق تھا اس لئے کہ یہ فعل اولیائے عظام وعلمائے کرام قدست اسرارہم کی طرف منسوب ہے۔
پھر شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے دربارہ صلوۃ الرغائب خود نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ایك حدیث بحوالہ جامع الاصول کتاب امام رزین سے نقل کی جس کی وضع اس لئے ہے کہ صحاح ستہ کی حدیثیں جمع کرے اور اس کے آخر میں ابن اثیر سے نقل کیا :
ھذا الحدیث مما وجدتہ فی کتاب رزین ولم اجدہ فی واحد من الکتب الستۃ و الحدیث مطعون فیہ ۔
یعنی یہ حدیث میں نے کتاب رزین میں پائی اور صحاح ستہ میں مجھے نہ ملی اور اس پرجرح ہے۔
پھرفرمایا :
وقد وقع فی کتاب بھجۃ الاسرار ذکرلیلۃ الرغائب فی ذکر سیدنا وشیخنا القطب الربانی وغوث الصمدانی الشیخ محی الدین عبدالقادر الحسینی الجیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ قال اجتمع المشائخ وکانت لیلۃ الرغائب الی اخرماذکر من الحکایۃ
یعنی کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف میں حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے ذکراقدس میں صلوۃ الرغائب کاذکرآیاہے کہ شب رغائب میں اولیاء جمع ہوئے الی آخر کلماتہ نیز امام ابوالحسن نورالدین علی قدس سرہ نے بسند خود حضرات عالیات سیدنا سیف الدین عبدالوہاب و سیدنا
حوالہ / References ماثبت من السنۃ صلٰوۃ الرغائب مطبوعہ ادراہ نعیمیہ رضویہ لاہور ا / ۲۴۶
ماثبت من السنۃ صلٰوۃ الرغائب مطبوعہ ادراہ نعیمیہ رضویہ لاہور ا / ۲۴۶
#11661 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
وذکر ایضا انہ نقل عن الشیخین القدوتین الشیخ عبدالوھاب والشیخ عبدالرزاق قالا بکر الشیخ بقابن بطوسحر یوم الجمعۃ الخامس من رجب السنۃ ثلث واربعین وخمسمائۃ الی مدرسۃ والدنا الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ و قال لنا الاسألتمونی عن سبب بکوری الیوم انی رأیت البارحۃ نورااضائت بہ الافاق وعم اقطار الوجود ورأیت اسرارذوی الاسرار فمنھا مایتصل بہ ومنھا مایمنعہ مانع من الاتصال بہ وما اتصل بہ سرالاتضاعف نورہ فتطالبت ینبوع ذلك النور فاذا ھوصادر عن الشیخ عبدالقادر فاردت الکشف عن حقیقتہ فاذا ھو نور شھودہ قابل نورقلبہ وتقادح ھذان النوران وانعکس ضیاؤھما علی مرأۃ حالہ واتصلت اشعۃ المتقادحات من محط جمعہ الی وصف قربہ فاشرق بہ الکون ولم یبق ملك نزل اللیلۃ الااتاہ وصافحہ واسمہ عندھم الشاھد والمشھود قالا فاتیناہ رضی اﷲ تعالی عنہ وقلنا لہ اصلیت اللیلۃ صلوۃ الرغائب فانشد
اذا نظرت عینی وجوہ حبائبی
فتلك صلاتی فی لیالی الرغائب
تاج الدین ابوبکر عبدالرزاق ابنائے حضورپرنور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کی کہ روزجمعہ پنجم رجب ۵۴۳ کو حضرت شیخ بقابن بطو قدس سرہ العزیز صبح تڑکے مدرسہ انور حضور پرنور رضی اللہ تعالی عنہ میں حاضرآئے اور ہم سے کہا مجھ سے پوچھتے نہیں کہ اس قدر اول وقت کیوں آیا میں نے آج کی رات ایك نوردیکھا جس سے تمام آفاق روشن ہوگئے اور جمیع اقطار عالم کوعام ہوا اور میں نے اہل اسرار کے اسراردیکھے کہ کچھ تو اس نور سے متصل ہوئے ہیں اور کچھ کسی مانع کے سبب اتصال سے رك گئے ہیں جو اس سے اتصال پاتاہے اس کانور دوبالاہوجاتاہے تو میں نے غورکیا کہ اس نور کاخزانہ ومنبع کیاہے کہاں سے چمکا ہے ناگاہ کھلا کہ یہ نور حضورپرنورسیدنا شیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالی عنہ سے صادرہواہے اب میں نے اس کی حقیقت پراطلاع چاہی تو معلوم ہوا کہ یہ حضور کے مشاہدے کانورہے کہ حضورکے نور قلب سے مقابل ہوکر ایك کی جوت دوسرے پرپڑی اور دونوں کی روشنی حضور کے آئینہ حال پرمنعکس ہوئی اور یہ آپس میں ایك دوسرے کی جوت بڑھانے والے نوروں کے بقعے حضور کے مقام جمع سے منزلت قرب تك متصل ہوئے کہ ساراجہان اس سے جگمگا اٹھا اور جتنے فرشتے اس رات اترے تھے سب نے حضور کے پاس آکرحضور سے مصافحہ کیا(اور بہجۃ الاسرارشریف میں فقیرنے یوں دیکھا کہ کوئی فرشتہ باقی نہ رہا جو اس رات زمین پرنہ اترا اور حضورکے پاس آکر حضورسے مصافحہ
#11662 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
وجوہ اذا ما اسفرت عن جمالھا
اضاءت لھا الاکوان من کل جانب
ومن لم یوف الحب مایستحقہ
فذاك الذی لم یأت قط بواجب اھ
ما نقلہ الشیخ قدس سرہ و الذی راہ العبد الضعیف غفر اﷲ لہ فی البھجۃ الکریمۃ نصہ ھکذا ولم یبق ملك انزل اللیلۃ الی الارض واتاہ و صافحہ الخ
کیا فرشتوں کے یہاں حضورکانام پاك شاہد مشہود ہے(شاہد کہ مشاہدہ والے ہیں اور مشہود کہ سب ملائکہ ان کے پاس آئے قال تعالی ان قران الفجر كان مشهودا(۷۸) (ای تشہھدہ الملئکۃ ) دونوں شاہزادگان دوجہاں نے فرمایا ہم یہ سن کر حضور پرنورکے پاس حاضر ہوئے اور حضور سے عرض کی کیا آج کی رات حضور نے صلوۃ الرغائب پڑھی( یعنی جس کے انواریہ چمکے یہ شب شب رغائب ہی تھی کہ رجب کی نوچندی شب جمعہ تھی) حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس پر یہ اشعار ارشادفرمائے :
جب میری آنکھ میری پیاریوں کے چہرے دیکھے تویہ شبہائے رغائب میں میری نمازہے وہ چہرے کہ جب اپنے جمال کاجلوہ دکھائیں توہرطرف سے سارا جہان چمك اٹھے اور جس نے محبت کا حق پورانہ کیا وہ کبھی کوئی واجب نہ لایا (پیاریاں عالم قدس کی تجلیاں ہیں ) (اور بہجۃ الاسرارشریف میں فقیرنے یوں دیکھا کہ کوئی فرشتہ باقی نہ رہا جو اس رات زمین پرنہ اترا اور حضورکے پاس آکر حضورسے مصافحہ نہ کیا ہو یعنی تمام ملائکۃ اﷲ زمین پر آئے اور محبوب خدا سے مصافحے کئے) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴۵ : از ریاست جاورہ مکان عبدالمجیدخاں صاحب سرشتہ دار ۱۸جمادی الاولی ۱۳۲۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ بعد وتر کے نفل جوپڑھے جاتے ہیں ان کا بیٹھ کرپڑھنا بہترہے یاکھڑے ہوکر کتاب مالابدمنہ ہندی میں صفحہ ۴۵ سطر۵ میں تحریر ہے کہ بعد وتر کے دورکعت بیٹھ کر پڑھنامستحب ہے۔
الجواب :
کھڑے ہوکرپڑھنا افضل ہے بیٹھ کرپڑھنے میں آدھا ثواب ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان صلی قائما فھو افضل ومن صلی قاعدا فلہ نصف اجرا لقائم ۔ رواہ البخاری عن عمران بن حصین
اور اگرکھڑے ہوکرپڑھے تووہ افضل ہے اور جو بیٹھ کر پڑھے اس کے لئے کھڑے ہوکرپڑھنے والے سے نصف ثواب ہے۔ اسے بخاری نے حضرت
حوالہ / References ماثبت من السنۃ صلٰوۃ الرغائب مطبوعہ ادراہ نعیمیہ رضویہ لاہور ص ۲۴۸
بہجۃ الاسرار مصطفی البابی مصر ص۵۸
القرآن الکریم ۱۷ /۷۸
صحیح البخاری باب صلٰوۃ القاعد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۵۰
#11664 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
رضی اﷲ تعالی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا۔
عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے اور جمیع صحابہ سے اﷲ راضی ہو۔ (ت)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ رکعتیں بیٹھ کربھی پڑھی ہیں :
کما عند مسلم عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھما قالت بعد ماذکرت وترہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم یصلی رکعتین بعد ما یسلم وھو قاعد ولاحمد عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یصلیھما بعد الوتر وھو جالس ۔
جیسے کہ مسلم میں ہے حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نمازوتر ذکر کرنے کے بعد فرماتی ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دورکعات نمازاداکرتے۔ اور امام احمد نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وتروں کے بعد بیٹھ کر دورکعات نمازادافرماتے تھے(ت)
اور کبھی ان میں قعود وقیام کوجمع فرمایا ہے کہ بیٹھ کر پڑھتے رہے جب رکوع کاوقت آیا کھڑہوکر رکوع فرمایا
فلا بن ماجۃ عن ام المومنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یصلی بعد الوتر رکعتین خفیفتین وھو جالس فاذا اراد ان یرکع قام فرکع ۔
ابن ماجہ میں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وتروں کے بعد دورکعات نماز اختصار کے ساتھ بیٹھ کر اداکرتے تھے اور جب آپ رکوع کاارادہ فرماتے تو قیام فرماتے پھر رکوع کرتے(ت)
مگربیٹھ کر پڑھنا دواما نہ تھا بلکہ اس بات کے بیان کے لئے کہ بیٹھ کر پڑھنا بھی جائز ہے جیساکہ خود ان نفلوں کاپڑھنا بھی اس بیان کے واسطے تھا کہ وتر کے بعدنوافل جائز ہیں اگرچہ اولی یہ ہے کہ جتنے نوافل پڑھنے ہوں سب پڑھ کر آخر میں وتر پڑھے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اجعلوا اخرصلوتکم باللیل وترا ۔ رواہ
اپنی نماز شب میں سب سے آخر وتررکھو۔ اسے
حوالہ / References صحیح مسلم باب صلٰوۃ اللیل وعددرکعات النبی الخ مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۵۶
مسند احمد بن حنبل حدیث عائشہ الصدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۵۴
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی رکعتین بعدالوتر جالسًا مطبوعہ آفتاب عالم پرریس لاہور ۱ / ۸۵
صحیح مسلم باب صلٰوۃ الیل وعددرکعات النبی الخ مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۵۷
#11665 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
مسلم عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالی عنھا مسلم نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے۔
مسلم امام نووی منہاجپھر علامہ قاری مرقاۃ شرح مشکوۃمیں فرماتے ہیں :
ھاتان الرکعتان فعلھما رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جالسا لبیان جواز الصلوۃ بعد الوتر وبیان جواز النفل جالسا ولم یواظب علی ذلک ۔
ان دورکعات کو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس لئے بیٹھ کر ادافرماتے تھے تاکہ وتر کے بعد جواز نماز اور بیٹھ کر جواز نفل کااظہار ہوجائے البتہ آپ نے اس پرہمیشگی نہیں فرمائی(ت)
بلکہ اگر حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیشہ یہ نفل بیٹھ کر پڑھتے جب بھی ہمارے لئے کھڑے ہوکر پڑھنا ہی افضل ہوتا کہ یہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کااپنے لئے فعل ہوتا اور ہمارے لئے صاف وہ ارشاد قولی ہے کہ کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے اور بیٹھے کاثواب آدھا ہے اور اصول کاقاعدہ ہے کہ قول فعل میں ترجیح قول کو ہے کہ فعل میں احتمال خصوصیت ہے نہ کہ یہاں توصریحا بیان خصوصیت فرمایاہے صحیح مسلم شریف میں عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہم ا سے ہے : “ مجھے حدیث پہنچی تھی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھے کی نمازآدھی ہے میں خدمت اقدس میں حاضرہوا تو خود حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھے کی نماز آدھی ہے میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو خد حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا میں نے سرانور پرہاتھ رکھا (اقول : یعنی یہ خیال گزرا کہ شاید بخار وغیرہ کے سبب بیٹھ کر پڑھ رہے ہوں )
وھذا بحمداﷲ منزع نفیس واضح لیستغنی بہ عما اطال الطیبی عــــہ وابن حجر و الحمداﷲ
یہ بات عمدہ نفیس علامہ طیبی ابن حجر اور اور واضح ہونے کے ساتھ ساتھ اس طویل گفتگو سے مستغنی کردیتی ہے علامہ طیبی ابن حجر اور

عــــہ : (فوجدتہ یصلی جالسا فوضعت یدی) لعلہ بعد الفراغ من الصلوۃ ثم رأیت (تومیں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوبیٹھ کرنماز پڑھتے ہوئے پایا تو میں نے سر انورپرہاتھ رکھ دیا) شاید یہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد کامعاملہ ہو(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References مرقات شرح مشکوٰۃ باب القصد فی العمل فصل اول مطبوعہ کتب خانہ امدادیہ ملتان ۳ / ۱۶۳
صحیح مسلم باب جواز النافلۃقائما وقاعدًا الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۵۳
#11667 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
القاری و وقعوا فیماکان لھم مندوحۃ
ملاعلی قاری نے کی اور یہ حضرات طوالت کے باعث

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ابن حجر جزم بہ وقال بعد فراغہ اذلایظن بہ الوضع قبلہ (علی رأسہ) ای لیتوجہ الیہ وکانہ کان ھناك مانع من ان یحضر بین یدیہ ومچل ھذا لایسمی خلاف الادب عند طائفۃ العرب لعدم تکلفھم وکمال تألفھم وکذلك فی قولھم لہ انت دن انتم الذی ھو مقتضی حسن الاداب فی معرض الخطاب لایتوجہ علی قائلہ العتاب وتکلف الطیبی ھنافی شرح الکتاب واورد السؤال والجواب ونسب قلۃ الادب الی الاصحاب وقال علی وجہ الاطناب فان قلت الیس یجب علیہ خلاف ذلك توقیرا لہ علیہ الصلوۃ والسلام قلت لعلہ صدر عنہ لاعن قصد اولعلہ استغرب کونہ علی خلاف ماحدث عنہ واستبعدہ فاراد تحقیق ذلك فوضع
پھر میں نے دیکھا کہ ابن حجر نے یہ کہتے ہوئے اس پر جزم کااظہار کیا کہ یہ معاملہ فراغت کے بعد ہوا کیونکہ اس سے پہلے ہاتھ رکھنے کے بارے میں سوچاہی نہیں جاسکتا(آپ کے سراقدس پر) یعنی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوں اور گویا آپ کے سامنے آنے سے وہاں کوئی رکاوٹ تھی اور ایسے طریقے کو بعض عربوں کے ہاں عدم تکلف اور کمال محبت کی وجہ سے خلاف ادب تصورنہیں کیاجاتا اور اسی طرح بعض عربوں کاآپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے “ انت “ (تو) استعمال کرنا نہ کہ “ انتم “ (تم) جو کہ خطاب کے موقع پر حسن آداب کا مقتضی ہے اس کے قائل پرعتاب کاموجب نہیں بنتا علامہ طیبی نے کتاب کی شرح میں اس مقام پر تکلف کرتے ہوئے سوال وجواب واردکیا اور صحابہ کی طرف قلت ادب کی نسبت کی اور طوالت سے کام لیتے ہوئے سولا کہا اگر تو کہے کیا ان پر حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی تعظیم وتوقیر کے پیش نظر اس کے خلاف عمل لازم نہ تھا جوابا کہا میں کہتاہوں شاید ان سے یہ معاملہ عدم دانستگی میں ہوا ہو یاممکن ہےکہ انہوں نے ان سے حادث شدہ واقعہ کے خلاف معاملہ کو نہایت ہی اجنبی اور بعیدتصور کیا اور اس کی تحقیق کا(باقی اگلے صفحہ پر)
#11669 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
عنہ وباﷲ التوفیق۔
ایسی چیز میں واقع ہوئے جس سے محفوظ رہنا اﷲ تعالی کی توفیق سے ان کے لئے مفیدتھا(ت)
حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے عبداﷲ بن عمر! کیاہےمیں نے عرض کی یارسول اﷲ!
یدہ علی رأسہ ولذلك انکر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بقولہ مالك الخ فسماہ ونسبہ الی ابیہ وکذا قول عبداﷲ و انت تصلی قاعدا فانہ حال مقررۃ لجھۃ الاشکال ثم رأیت ابن حجر قال کان ذلك فی عادتھم یفعلہ المستغرب الشیئ المتعجب من وقوعہ مع من استغرب منہ ذلك فلاینافی المتعارف الا ان ذلك خلاف الادب ونظیرہ ان بعض العرب کان ربما لمس لحیتہ الشریفۃ عند مفاوضتہ معہ اھ وقد شوھد فی زماننا ان بعض اجلاف العرب یمسك لحیۃ شریف مکۃ ویقول انا فداك یاحسن والحال انہ قدیکون نعلہ معلقا فی اصبعہ ف منہ(م)
ارادہ کرتے ہوئے اپنا ہاتھ سراقدس پررکھ دیا اسی لئے سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ناپسند کیااور فرمایا تجھے کیاہوگیا ہے الخ تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کانام لیا اور ان کی نسبت ان کے باپ کی طرف کی۔ اور اسی طرح حضرت عبداﷲ کاقول کہ آپ بیٹھ کر نماز ادافرمارہے ہیں کیونکہ یہ حال جہت اشکال کوپختہ کررہاہے پھرمیں نے ابن حجر کودیکھا کہ انہوں نے یہاں یہ لکھاہے کہ عربوں کی عادات میں سے ہے کہ جب کوئی ان میں سے کسی سے ایسی چیز دیکھتاہے جونہایت اجنبی ہو تووہ ایساہی کرتاہے تو یہ متعارف کے منافی نہیں البتہ خلاف ادب ہے جوخلاف ادب ہو اس کی نظیریہ ہے کہ بعض عرب گفتگو وملاقات کے وقت آپ کی داڑھی مبارك کو مس کرتے تھے۱ھ اور ہمارے دور میں اس کامشاہدہ یون کیاجاسکتاہے کہ بعض بزرگ عرب شریف مکہ کی داڑھی پکڑ کر یہ کہتے ہیں اے حسن میں تجھ پرفدا۔ حالانکہ اس کا جوتا اس کی انگلیوں کے ساتھ لٹك رہاہوتاہے ۱۲منہ (ت)

ف : حاشیہ کی عبارت مرقات مشکوۃ سے نقل کی گئی ہے مطالعہ کیلئے باب القصد فی العمل جلدسوم مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ص۱۵۹ ملاحظہ ہو۔ نذیراحمد سعیدی
#11670 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
میں نے سنا تھاکہ حضور نے فرمایا بیٹھے کی نماز آدھی ہے اور خود حضور علیہ الصلاۃ والسلام بیٹھ کرپڑھ رہے ہیں ۔ فرمایا : اجل ولکن لست کاحد منکم ہاں بات وہی ہے کہ بیٹھے کاثواب آدھا ہے مگرمیں تمہاری مثل نہیں میرے لئے ہرطرح پورا کامل اکمل ثواب ہے یہ میرے لئے خصوصیت وفضل رب الارباب ہے۔ مرقاۃ میں ہے :
یعنی ھذا من خصوصیاتی ان لاینقص ثواب صلواتی علی ای وجھہ تکون من جلواتی و ذلك فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء قال تعالی وکان فضل اﷲ علیك عظیما ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
آپ کی مراد یہ ہے کہ یہ میری خصوصیت ہے کہ میری نماز جس طریقہ پربھی ہو اس کے ثواب میں کمی نہیں کی جاتی کہ میری نماز میرے خاص تعلق سے ہے اور یہ اﷲتعالی کافضل ہے جسے وہ چاہتاہے عطافرماتاہے اﷲ تعالی کاارشاد ہے آپ کی ذات اقدس پر اﷲ تعالی کافضل عظیم ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۴۶ : از بھنڈی بازار کارخانہ کرسی مرسلہ ننھے خاں ولداحمدخاں معمار ۲۹رجب ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صلوۃ التسبیح پڑھنے کی کیاترکیب اور اس کا کیاوقت ہے
الجواب :
اس نماز کی بہت فضیلت اور بڑاثواب اور اس میں بڑی معافی کی امید ہے وہ چاررکعت نفل ہے کہ غیروقت کروہ میں ادا کی جائے یعنی صبح صادق کے طلوع ہونے سے آفتاب نکل کر بلند ہونے تك جائز نہیں اور ٹھیك دوپہر کوجائز نہیں اور جب آفتاب ڈوبنے کے قریب آئے کہ اس پرنگاہ بے تکلف ٹھہرنے لگے اس وقت جائز نہیں نماز عصر کے فرض پڑھنے کے بعد شام تك جائزنہیں جس وقت امام خطبہ پڑھ رہاہو اس وقت جائزنہیں غرض جتنے وقت نفل نماز کی کراہت کے ہیں ان اوقات سے بچ کر جس وقت چاہے پڑھے اور بہتریہ ہے کہ ظہر سے پہلے پڑھے کما فی الھندیۃ عن المضمرات عن المعلی(جیسا کہ ہندیہ میں مضمرات اور معلی کے حوالے سے ہے۔ ت) اور افضل دن جمعہ کاہے اور اس کامناسب طریقہ کہ ہمارے ائمہ کرام کے مذہب سے موافق ہے یہ ہے کہ سبحنك اللھم پڑھ کرپندرہ۱۵بار سبحن اﷲ والحمدﷲ ولاالہ
حوالہ / References صحیح مسلم باب جواز النافلۃ قائمًا وقاعدًا مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۵۳
مرقاہ شرح مشکوٰۃ باب القصد فی العمل فصل ثالث مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۳ / ۱۶۰
فتاوٰی ہندیہ باب التاسع فی النوافل مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۱۳
#11671 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
الااﷲ واﷲ اکبر پھر الحمد وسورت پڑھ کر یہی کلمہ دس بارپھررکوع میں تسبیحات رکوع کے بعد دس بار پھررکوع سے کھڑے ہوکر ربنا ولك الحمد کے بعد دس بار پھر سجدہ میں تسبیحوں کے بعد دس بارپھر سجدہ سے سراٹھاکر دس بار پھردوسرے سجدہ میں اسی طرح دس بار یہ ایك رکعت میں پچھتر بارہوا پھردوسری رکعت کوکھڑا ہوکرالحمد سے پہلے پندرہ بار پھر الحمد وسورت کے بعد دس بارپھررکوع میں بدستور کہ یہ بھی پچھتر ہوئے اسی طرح باقی دونوں رکعتوں میں بھی کہ یہ سب مل کر تین سوبار ہوجائیں گے سورت کا اختیار ہے جوچاہے پڑھے اور بہتریہ کہ پہلی رکعت میں الھکم اتکاثردوسری میں والعصرتیسری میں قل یایھا الکفرون چوتھی میں قل ھواﷲ یہ نماز ہرروزپڑھے ورنہ ہرجمعہ ورنہ ہرمہینے ورنہ سال میں ایك بارتوہوجایاکرے اور نہ ہو تو عمربھر میں ایك بار توہوجائے کہ اس میں بڑی دولت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴۷ : از اروہ نگلہ ڈاك خانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مسئولہ جناب محمدصادق علی صاحب رمضان ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چار رکعت تراویح یا اور نوافل ایك نیت سے پڑھے قعدئہ اولی میں درودشریف ودعا اور تیسری رکعت میں سبحنك اللھم پڑھے یانہیں
الجواب :
پڑھنا بہترہے درمختارمیں ہے :
لایصلی علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی القعدۃ الاولی فی الاربع قبل الظھر والجمعۃ وبعدھا لایستفتح اذا قام الی الثالثۃ منھا وفی البواقی من ذوات الاربع یصلی علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویستفتح ویتعوذ ولو نذرا لان کل شفع صلوۃ ۔
ظہر اور جمعہ کی پہلی چارسنتوں اور بعد کی چارسنتوں کے پہلے قعدہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں درودشریف نہ پڑھاجائے اور تیسری رکعت میں ثناء بھی نہ پڑھی جائے اور باقی چارکعتوں والی سنتوں اور نفلوں میں درودشریف پڑھاجائے تیسری رکعت میں ثناء اور تعوذ بھی پڑھا جائے گااگرچہ اس نے نوافل کی نذرمانی ہو کیونکہ یہ جوڑاجوڑا نمازہے۔ (ت)
مگرتراویح خود ہی دورکعت بہترہے لانہ ھوالمتوارث (کیونکہ طریقہ متوارثہ یہی ہے۔ ت) تنویر میں ہے : عشرون رکعۃ بعشر تسلیمات (بیس رکعتیں دس سلاموں کے ساتھ پڑھائی جائیں ۔ ت)
حوالہ / References درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۵
درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۸
#11673 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
سراجیہ میں ہے :
کل ترویحۃ اربع رکعات بتسلمیمتین ۔
ہرترویحہ چاررکعتوں کادوسلاموں کے ساتھ پڑھا جائے۔ (ت)
یہاں تك کہ اگرچاریازائد ایك نیت سے پڑھے گا تو بعض ائمہ کے نزدیك دو ہی رکعت کے قائم مقام ہونگی اگرچہ صحیح یہ ہے کہ جتنی پڑھیں شمارہوں گی جبکہ ہردورکعت پرقعدہ کرتارہا ہو۔ عالمگیری میں ہے :
ان قعد فی الثانیۃ قدر التشھد اختلفوا فیہ فعلی قول العامۃ یجوز عن تسلیمتین وھو الصحیح ھکذا فی فتاوی قاضی خاں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگردوسری رکعت میں تشہد کی مقدار نمازی بیٹھ گیا تو اس میں اختلاف ہے اکثرعلماء کی رائے یہ ہے کہ یہ دوسلاموں کے قائم مقام ہے اور یہی ہے صحیح ہے فتاوی قاضی خاں میں اسی طرح ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۴۸ : مسئولہ علی حسین صاحب ازآنولہ محلہ خیل حکیمان معرفت جناب حاجی علیم اﷲصاحب ۱۷رمضان ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ رمضان شریف میں لڑکوں کے پیچھے دن میں دوتین بالغ حافظ وغیرہا نماز کے اندرقرآن مجید سنتے ہیں یہ امرمشروع ہے یانہیں بظاہر ف کتب فقہیہ سے مفہو م ہوتاہے کہ نوافل روز میں سرا پڑھنا واجب ہے بموجب اس کے لڑکا ہو یابالغ اس کی نماز کراہت تحریمی سے توخالی نہ ہوگی یہ اور بات ہے کہ لڑکے کے ذمہ اعاد ہ واجب نہ ہوا جیسا کہ لڑکا اگرنماز نفل کو فاسد کردے گا تواجماعا اس کے ذمے قضا نہ آئے گی اور یہ اقتدا لڑکے کے پیچھے مختار مذہب کے موافق توصحیح ہی نہیں ہے اس کے متعلق جواب بالصواب بحوالہ عبارت کتب فقہیہ تحریر فرمائیے اجرجزیل کے عنداﷲ مستحق ہوجئے۔ بینواتوجروا
الجواب :
یہ امر بالاتفاق نامشروع وممنوع ہے مذہب صحیح پر تواس لئے کہ وہ جماعت باطل ہے لان نفل البالغ مضمون فلایصح بناء الا قوی علی الاضعف (کیونکہ بالغ کے نوافل اس کے ذمہ لازم ہوجاتے ہیں لہذا اقوی کی بناء اضعف پرصحیح نہیں ۔ ت) اوردرمختارمیں ہے :
حوالہ / References فتاوٰی سراجیہ باب التراویح مطبوعہ نولکشور لکھنؤ بھارت ص۲۰
فتاوٰی ہندیہ فصل فی التراویح مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۱۸
#11674 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
صلوۃ العید فی القری تکرہ تحریما لانہ اشتغال بمالایصح ۔
دیہاتوں میں نمازعید مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے عمل کاارتکاب ہے جو صحیح نہیں ۔ (ت)
اور مذہب ضعیف پر اس لئے کہ دن کے نفل میں اخفا واجب ہے ۔ حدیث میں ہے :
صلوۃ النھار عجما
(دن کی نماز سری ہے۔ ت)
درمختارمیں ہے :
یجھر الامام وجوبا فی الفجر واولی العشائین الی قولہ ویسر فی غیرھا کمتنفل بالنھار ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
امام فجر اور عشائین کی پہلی دورکعتوں میں جہرکرے (آگے چل کرلکھا) ان کے علاوہ میں امام سرا پڑھے جیسے کہ دن کے نوافل کامعاملہ ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۴۹ : از قصبہ اترولی ضلع علی گڑھ محلہ کڑہ برمکان شیخ عبدالحق صاحب رسالدار مسئولہ شیخ عبدالحمیدصاحب زاہد نعمانی قادری ۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وصوفیائے محققین اس مسئلہ میں کہ بعد نمازفجر آفتاب طلوع ہونے پر جو نوافل اشراق(دولغایت چھ رکعت) اور ایك پہردن چڑھے پرجونوافل نماز چاشت(دولغایت بارہ رکعت پڑھے جاتے ہیں شرح مشکوۃ میں ان نوافل یعنی اشراق اور چاشت ہی کو نماز ضحی لکھاہے لیکن ایك بزرگ صوفی مشرب نماز ضحی کو ان نوافل یعنی اشراق اور چاشت سے علیحدہ بتاتے ہیں اور خود بھی عرصہ چالیس سال سے اشراق اور چاشت کے علاوہ نمازضحی کے نوافل(دولغایت آٹھ رکعت) علیحدہ پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرپیرطریقت نے علیحدہ پڑھنابتلایاہے اور ملك سندھ میں عام آدمی نماز ضحی کے نوافل نماز اشراق اور چاشت کے علاوہ علیحدہ پڑھتے ہیں اور بعض علما سے تصدیق کرلینا بھی ظاہرکرتے ہیں چونکہ اس مسئلہ میں اختلاف واقع ہوگیاہے اس لئے استفتاء ہے کہ صحیح طریقہ کیاہے اور نمازضحی اشراق اور چاشت کے نوافل کو کہتے ہیں یاعلیحدہ نمازہے بینواتوجروا
الجواب :
نمازضحی وہی نماز چاشت ہے نوافل پڑھنے کا اختیارہے ہے تمام اوقات غیرمکروہہ میں اگرنوافل ہی پڑھے کون منع کرتاہے مگرشرعی معنی میں اپنی طرف سے جدت نکالنا ضرورشنیع ومعیوب ہے ہرشخص
حوالہ / References درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۴
الہدایہ کتاب الصلٰوۃ فصل فی القرأۃ مطبوعہ مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۹۶
درمختار باب صفۃ الصلٰوۃ فصل یجہر الامام مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۷۹
#11676 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
جانتاہے کہ ضحی کا ترجمہ چاشت ہی ہے توصلوۃ الضحی نہیں مگر نماز چاشت۔ اور ان دو کے سوا کسی تیسری نماز کا اصلا کسی حدیث سے ثبوت بھی نہیں ومن ادعی فعلیہ البیان(جودعوی کرتاہے وہ دلیل لائے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۰ تا ۱۵۵ : ازعثمان پور ضلع بارہ بنکی مسئولہ محمدحسن یارخاں صاحب ۱۹رمضان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ نماز تہجد میں خیرمتین ترجمہ حصن حصین کے دیکھنے سے بروایت چاررکعت اور آٹھ رکعت اور تیرہ رکعت نمازتہجد میں ہے ایك شخص تہجدگزار اجہل سے معلوم ہوا کہ بارہ رکعت تہجد کی اور ترکیب پڑھنے کی یہ ہے کہ اول رکعت میں ایك مرتبہ قل ہواﷲ شریف دوسری میں دوبار بارھویں میں بارہ مرتبہ یاہررکعت میں تین تین بارقل ھواﷲ شریف پڑھاجائے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ صحیح کون سا قاعدہ ہے اور تہجد میں کے رکعت پڑھناچاہئے اور بعدالحمد کے جیسا کہ نماز میں قاعدہ ہے کہ جو سورہ چاہے ملائے خیرمتین میں قل ھواﷲ پڑھنے کاقاعدہ مسطورہ بالا نہیں لکھاہے اور جو بعد وتر کے دورکعت نفل پڑھے جاتے ہیں ان کو بھی تہجد کے وقت میں پڑھنا چاہئے مثل وتر کے یا عشاء کے وقت اداکرناچاہئے اور نمازصلوۃ التسبیح میں کلمہ تمجید سبحان اﷲ والحمدﷲ ولاالہ الااﷲ واﷲ اکبر ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العظیم ایك شخص کہتاہے کہ ہررکعت میں گیارہ گیارہ بارپڑھنا چاہئے۔ چاررکعت میں دورکعت کی نیت کی جائے یاچارکی دعائے ماثورکیاہے معلوم نہیں اور کس موقع پرپڑھی جائے دعائے تہجد بفرض تصحیح مرسل ہے یامقلب القلوب قلب قلبی الیك مامصرف القلوب صرف قلبی علی دینك وطاعتك خیر متین میں سنت فجر میں قل یایھا الکفرون اور قل ھواﷲ پڑھنے کولکھاہے اس ترکیب سے پڑھنا سنت فجر یانفل میں جائز ہے یانہیں اورجیسا کہ فرض میں بقید سورہ پڑھنا ناجائزہے اور سنن ابن ماجہ کے ترجمہ رفع الحاجہ کی دو جلدیں میرے پاس ہیں جن میں تہجد وغیرہ کا ذکرنہیں ہے جلد اول میں ہے اور ایك کتاب وظیفہ میں قل یا اور قل ھواﷲ سنت میں پڑھنے کولکھا ہے اور دوسری میں الم نشرح اور الم ترکیف لکھاہے جوفرض ووتر میں بغرض فلاحیت لکھاہے اور وترمیں اخیررکعت میں قل ھواﷲ پڑھنا ضرورہے یا اور سورہ کوملاکر پڑھنے سے نماز ہوجائے گی بینواتوجروا۔
الجواب :
عشاء کے فرض پڑھ کر آدمی سورہے پھر اس وقت سے صبح صادق کے قریب جس وقت آنکھ کھلے دورکعت نفل صبح طلوع ہونے سے پہلے پڑھ لے تہجد ہوگیا اقل درجہ تہجدکایہ ہے اور سنت سے آٹھ رکعت مروی ہے اور مشائخ کرام سے بارہ اور حضرت سیدالطائفہ جنیدبغدادی رضی اللہ تعالی عنہ
#11677 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
دوہی رکعت پڑھتے اور ان میں قرآن عظیم ختم کرتے غرض اس میں کمی بیشی کااختیارہے اتنی اختیار کرے جو ہمیشہ نبھ سکیں اگرچہ دوہی رکعت ہو کہ حدیث صحیح میں فرمایا :
احب الاعمال الی اﷲ ادومھا وان قل ۔
اﷲ تعالی کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے کہ ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑاہو۔
قرأت کابھی اختیار ہے چاہے ہررکعت میں تین تین بارسورئہ اخلاص پڑھے کہ اس کا ثواب ایك ختم قرآن کے برابرہے خواہ یوں کہ بارہ رکعتیں ہوں پہلی میں ایك بار دوسری میں دوبار یاپہلی میں بارہ دوسری میں گیارہ اخیرمیں ایك کہ یوں ۲۶ختم قرآن کاثواب ہوگا اور پہلی صورت میں بیس کا ہوتا۔ اوربہتر یہ ہے کہ جتنا قرآن مجید یادہواس نماز میں پڑھ لیاکرے کہ اس کے یادرہنے کا اس سے بہتر سبب نہیں ۔ تہجد پڑھنے والا جسے اپنے اٹھنے پراطمینان ہو اسے افضل یہ ہے کہ وتر بعد تہجد پڑھے پھر وتر کے بعد نفل نہ پڑھے جتنے نوافل پڑھناہوں وترسے پہلے پڑھ لے کہ وہ سب قیام اللیل میں داخل ہوں گے اور اگرسونے کے بعد ہیں توتہجد میں داخل ہوں گے۔
(۲) صلوۃ التسبیح میں سبحان اﷲ والحمدﷲ ولاالہ الا اﷲ واﷲ اکبر ہرجگہ دس دس بارپڑھنا چاہئے گیارہ باربتانے والا غلط کہتاہے مگرہرقیام میں قرأت سے پہلے پندرہ بارہے۔
(۳) صلوۃ التسبیح میں چاررکعت کی نیت کی جائے۔
(۴) بعد دونوں درودوں کے قبل سلام یہ دعاپڑھے :
اللھم انی اسألك توفیق اھل الھدی واعمال الیقین ومناصحۃ اھل التوبۃ وعزم اھل الصبر وجداھل الخشیۃ وطلب اھل الرغبۃ وتعبد اھل الورع وعرفان اھل العلم حتی اخافک۔ اللھم انی اسألك مخافۃ تحجرزنی عن معاصیك حتی اعمل
اے اﷲ! میں تجھ سے اہل ہدی جیسی توفیق اہل یقین جیسے اعمال اہل توبہ جیسی نصیحت اہل صبرکاعزم اہل خشیت کی محنت اہل رغبت کی طلب اہل ورع کی عبادت اہل علم کا عرفان مانگتاہوں کہ مجھے تیراخوف نصیب ہو۔ اے اﷲ! میں تجھ سے اس بات کا سوال کرتاہوں کہ مجھے ایساخوف عطافرما جوتیری نافرمانی سے روك لے
حوالہ / References مشکوٰۃ المصابیح باب القصد فی العمل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ص۱۱۰
#11678 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
بطاعتك عملا استحق بہ رضاك وحتی اناصحك بالتوبۃ خوفامنك وحتی اخلص لك النصیحۃ حبالك وحتی اتوکل علیك فی الامور حسن ظن بك سبحن خالق النور ۔
حتی کہ میں ایسے عمل کروں جومجھے تیری رضا کامستحق بنادے اور حتی کہ میں تیرے خوف کی بناپر خالصۃ توبہ کروں اور تیرے ساتھ محبت کی بناپر مخلصانہ تیرے حقوق اداکروں حتی کہ تمام امورمیں تجھ پربھروسہ کروں تیرے ساتھ مجھے حسن ظن نصیب ہو اے خالق نور! تیری ذات تمام عیوب اور نقائص سے پاك ہے۔ (ت)
(۵) سنت فجر میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی وماثور سنت وہی ہے کہ پہلی رکعت میں سورئہ کفرون اور دوسری میں اخلاص اور الم نشرح اور الم ترکیف پڑھنامشائخ سے بطور عمل مروی ہے جس کا فائدہ دفع اعداء ہے اور یہ کہ نوافل میں اختیارہے جس طرح جوچاہے پرھے۔
(۶) وتر میں اخیررکعت میں قل ھواﷲ احد شریف پڑھنا ماثور ہے مگرضرورنہیں جوچاہے پڑھے بہتر یہ ہے کہ پہلی میں سبح اسم ربك الاعلی یاانا انزلناہ اور دوسری میں کفرون تیسری میں اخلاص۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵۶ : امام نے ظہر کے وقت چاررکعت نمازسنت ادا کرنے کے بعد کلام دنیا کیا بعد اس کے نمازپڑھائی تو اس فرض نماز میں کچھ نقصان آوے گایانہیں اور نمازسنت کا ثواب کم ہوجائے گا یاباطل ہوجائے گی
الجواب :
فرض میں نقصان کی کوئی وجہ نہیں کہ سنتیں باطل نہ ہوں گی ہاں اس کا ثواب کم ہوجاتاہے۔ تنویرالابصارمیں ہے :
ولوتکلم بین السنۃ والفرض لایسقطھا ولکن ینقص ثوابھا ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگرکوئی سنن وفرائض کے درمیان کلام کرتاہے تو اس سے سنن ساقط نہیں ہوجاتی مگران کے ثواب میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۵۷ : از ریاست جاورہ مکان عبدالمجیدخاں صاحب سرشتہ دار ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سنتیں پڑھنے کے بعد اگرگفتگو کی جائے توپھر اعادہ سنتوں کا کرے یانہیں
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۸
درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۵
#11680 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
الجواب :
اعادہ بہترہے کہ قبلی سنتوں کے بعدکلام وغیرہ افعال منافی تحریمہ کرنے سے سنتوں کاثواب کم ہوجاتاہے اور بعض کے نزدیك سنتیں ہی جاتی رہتی ہیں توتکمیل ثواب وخروج عن الاختلاف کے لئے اعادہ بہترہے جبکہ اس کے سبب شرکت جماعت میں خلل نہ پڑے مگرفجر کی سنتیں کہ ان کا اعادہ جائزنہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۵۸ تا ۱۰۵۹ : ازپیلی بھیت محلہ پنجابیاں متصل مسجد مرسلہ شیخ عبدالحکیم صاحب غرہ رجب ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں :
(۱) ایك مسجد کہ اس میں فجر کی نماز کے وقت بعد شروع ہوجانے جماعت کے اکثرنمازی آتے جاتے ہیں اور بعد حصول طہارت سنتیں فجرادا کرکے شریك جماعت ہوجاتے ہیں مگرسنتیں فجر کی خلاف قاعدہ شرعیہ ادا ہوتی ہیں صورت یہ ہے کہ ایام گرما میں اندرونی درجہ مسجد میں توبسبب گرمی کے جماعت نہیں ہوتی اکثراوقات دوسرے سائبان مسجد میں ہواکرتی ہے بسااوقات اندرونی درجہ میں سنتیں اداکرنے کے واسطے جانے کی گنجائش نہیں رہتی یابسبب شدت گرمی کے نمازی اندرجانابھی گوارانہیں کرتا ایسی شکل میں بعض واقفین تو صحن مسجد مین ستونوں کی آڑمیں سنتیں پڑھ لیتے ہیں وہ بھی چارپانچ شخص بقدر تعدادستونوں کے پڑھ سکتے ہیں مگرنمازی بعد کوآنے والے زیادہ ہوتے ہیں سب لوگ آڑستونوں کی نہیں پاتے اور بعض لوگ بوجہ عدم واقفیت یاکم توجہی کے اس کی ضرورت بھی نہیں سمجھتے اور بعض اوقات شدت گرمی سے صحن مسجد میں نمازہوتی ہے تو ستون بھی سنتوں کی آڑ کونہیں ملتے اکثربدون حائل کسی شئی کے سنتیں پڑھی جاتی ہیں مگر ازروئے اس مسئلہ فقہیہ کے کہ جماعت شروع ہوجانے کے بعد سنتیں فجر کی خارج از مسجدادا کی جائیں ہم کو عمدہ موقع حاصل ہے کہ مسجد سے ملحق چہارطرف مسجد کے چارکمرے مدرسہ کے ہیں اس طرح سے کہ فرش سے فرش ملاہے حد فاصل مابین مسجد اور مدرسہ کے صحنوں کی فصیلیں ہیں جوایك ہاتھ تخمینا چوڑی اور ایك بالشت اونچی ہیں اورر یہ جملہ مکانات مسجد اور مدرسہ ایك احاطہ کے اندرہیں اگرہم ایك صف خواہ چٹائی صحن مدرسہ میں یاکسی کمرئہ مدرسہ میں ملحق صحن مسجد کے واسطے ادائے سنتوں فجر کے بچھادیں اور وہ لوگ جوپیچھے آتے ہیں طہارت حاصل کرکے اس چٹائی پرجومدرسہ میں خارج از مسجد بچھی ہے سنتیں فجراداکرکے شریك جماعت ہوتے جائیں توسنتیں بھی حسب قاعدہ شرعیہ اداہوں اور نمازیوں کی بھی سہولت کاباعث ہو مگرزید اس کو دو۲ بنا پرناجائز کہتاہے ایك یہ کہ نمازی جب مسجد کی فصیلوں پر جووضوکرنے کاموقع ہے بیٹھ کر وضو کرے گا تولابدمسجد کے صحن میں سے گزرکرمدرسہ کے صحن میں جوچٹائی بچھی ہے سنتیں اداکرنے کے واسطے جائے گا تویہ صورت خلاف شرعیہ ہے اس وجہ سے کہ بعد از اذان مسجد سے خارج ہونا جائزنہیں اس گناہ کامرتکب ہوگا سائل کہتاہے کہ اگرایسا ہی خارج ہوناہے تو اس بناپر اور بھی مسائل متفرع ہوتے
#11682 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
ہیں وہ یہ ہیں کہ پانی لینے کاکنواں اور سقاوے اور پاکی حاصل کرنے کاغسل خانہ یہ سب کہ احاطہ مسجد کے اندرہیں مگر مسجد کے حدود فصیلوں سے باہرہیں نمازی حسب عادت مروجہ زمانہ کے اکثر اول مسجد میں آتاہے اپناکپڑا وغیرہ مسجدمیں رکھ کربعد کوپانی لے کر طہارت وضووغیرہ کرتاہے بلکہ یہ عادات زمانہ کی عام مقامات کی مساجد کے موافق ہیں تو کیایہ سب بعداذان مسجد سے خارج ہونے کے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں یااحاطہ مسجد کے بیرونی دروازہ سے نکلنے والا اور وہ بھی جومسجد میں واپس آنے کاقصد نہ رکھتاہو۔
(۲) دوسری وجہ ممانعت زید کی یہ ہے کہ صحن مدرسہ کابھی فرش پختہ ہے اور چھوٹے لڑکے بعض برہنہ پاپیشاب کویاپاخانہ میں اور غسل خانہ میں جاتے ہیں اور اسی فرش صحن مدرسہ پر ہوکرگزرتے ہیں اور فجر کواکثر شبنم کی کچھ نمی فرش پر ہوتی ہے اور گاہے شب کی بارش کی بھی نمی فرش پر ہوتی ہے پس ایسے مشکوك فرش پر چٹائی کابچھانا چٹائی کانجس کرنا اور نیزنمازیوں کی نماز خراب کرناہے حالانکہ افضل عبادات کی نمازہے سائل کہتاہے پس ایسے شکوك کی وجہ سے صحن مدرسہ میں جوچٹائی بچھائی گئی ہے اس پرسنتیں اداکرنا یااس پرسے وضوکرکے جس حالت میں کہ نمازی کے پیروضو کے پانی سے ہنوز خشك نہیں ہوئے ہیں گزرکرکمرئہ مدرسہ میں سنتیں اداکرنا جائز ہوگا یانہیں اور وہ چٹائی نجس ہوگی یاپاك قابل ادائے نماز رہے گی اور پیراس نمازی کے جووضوکرکے اس مشکوك فرش سے گزراہے پاك رہیں گے یاناپاك ہوجائیں گے اور ایسی چٹائی کابچھانے والا واسطے اہتمام ادائے سنتوں فجر کے طریقہ نیك کاجاری کرنے والا ہوگا اور ثواب پائے گا ان وجوہات مرقومہ صدرجوباعث ممانعت زید کے ہیں ان کی وجہ سے بعد ازاذان مسجد سے نمازیوں کے خارج کرنے کا اور مشکوك فرش پرسنتیں اداکرنے والے نمازیوں کی نماز خراب کرانے کاباعث ہوکر عذاب پائے گا یا اس قسم کے شکوك پیداکرکے تمام نمازیوں کوتنگی میں ڈالنے والاہوگا بیان فرمائیے ثواب پائیے۔
الجواب :
زید کے دونوں اعتراض باطل وبے معنی ہیں مسجد سے بے نماز پڑھے باہرجانا دوشرط سے ممنوع ہے ایك یہ کہ وہ خروج بے حاجت ہو ورنہ بلاشبہ جائز ہے مثلا جس شخص کی ذات سے دوسری مسجد کی جماعت کاانتظام وابستہ ہے وہ بعد اذان بلکہ خاص اقامت ہوتے وقت باہرجاسکتاہے یونہی جسے دوسری مسجد میں بعد نمازدینی سبق پڑھنا یاسنی عالم کاوعظ سننا ہو اسی طرح پیشاب یااستنجے یاوضو کی حاجتیں ۔ دوسرے یہ کہ شروع جماعت تك واپسی کاارادہ نہ ہو ورنہ مضائقہ نہیں اگرچہ بے ضرورت ہی سہی۔
فی الدر المختار کرہ تحریما للنھی خروج من لم یصل من مسجد اذن فیہ جری علی الغالب والمراد دخول الوقت اذن
درمختارمیں ہے کہ نکلنا اس شخص کا جس نے نماز نہ پڑھی ہو اس مسجد سے جس میں اذان ہوچکی ہو
#11683 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
فیہ اولا الالمن ینتظم بہ امرجماعۃ اخری اوکان الخروج المسجد حیہ ولم یصلوا فیہ اولاستاذہ لدرسہ اولسماع الوعظ اولحاجۃ ومن عزمہ ان یعود نھر اھ وفی ردالمحتار قولہ للنھی ھو مافی ابن ماجۃ من ادرك الاذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجۃ وھولایرید الرجوع فھومنافق اھ وفیہ عن البحر ولوکانت الجماعۃ یوخرون لدخول الوقت المستحب کالصبح مثلا فخرج ثم رجع وصلی معھم ینبغی ان لایکرہ اھ قال وجزم بذلك کلہ فی النھر لدلالۃ کلامھم علیہ قولہ الالمن ینتظم بہ لہ الخروج ولوعندالشروع فی الاقامۃ وبہ صرح فی متن الدرر و القھستانی وشرح الوقایۃ اھ مختصرا۔
مکروہ تحریمی ہے یہ غالب پرحکم ہے اور مراد دخول وقت ہے خواہ اذان ہوئی ہو یانہ ہوئی ہو البتہ اس شخص کوجانے کی اجازت ہے جس نے کسی دوسری جماعت کاانتظام کرناہے یا اپنے محلہ کی مسجد کی طرف جاناہے درانحالیکہ وہاں لوگوں نے نمازادانہیں کی یا استادسے سبق لیناہے یاوعظ سننا ہے یاکوئی حاجت ہے اور وہ شخص دوبارہ آجانے کاارادہ رکھتاہو نہر ردالمحتارمیں قولہ للنھی (یعنی اس پرنہی وارد ہے) سے مراد ابن ماجہ کی وہ روایت ہے جس میں ہے کہ مسجد میں اذان کوپایا پھربغیر کسی حاجت وضرورت کے چلاگیا اور واپسی کا ارادہ بھی نہیں رکھتا تو وہ منافق ہے اور اسی میں بحر سے ہے کہ اگرجماعت لوگوں نے اس لئے مؤخر کی کہ وقت مستحب آجائے مثلا صبح کی نماز توکوئی شخص چلاگیا پھرلوٹ آیا اور ان کے ساتھ نماز ادا کی تو اسے مکروہ نہ قراردینا ہی مناسب ہے اور نہر میں اس پر کلام علماء کی وجہ سے جزم کااظہار کیاہے ماتن کاقول الالمن ینتظم (مگر جس نے نماز کاانتظام کرناہے) وہ نکل سکتاہے خواہ اقامت شروع ہوچکی ہو اور اسی پر متن درر قہستانی اور شرح وقایہ میں جزم کیاگیا ہے اھ اختصارا (ت)
یہاں دونوں شرطوں سے ایك بھی متحقق نہیں سنتیں بحال قیام جماعت بیرون مسجد پڑھنے کاحاجت شرعی ہونابھی ظاہر اور قصدرجوع بھی بدیہی توعدم جوازوحصول گناہ کاحکم صریح باطل قطعی
فی الدرالمختار اخاف فوت الوقت لاشتغالہ بسنتھا ترکھا
درمختارمیں ہے جب نمازی کوسنن میں مشغولیت سے وقت کے فوت ہونے کاخوف ہوتوانہیں
حوالہ / References درمختار باب ادراك الفریضۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹
ردالمحتار باب ادراك الفریضۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۵۴
#11685 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
والالابل یصلیھا عندباب المسجد وفی رد المحتار ای خارج المسجد کما صرح بہ القھستانی وقال فی العنایۃ لانہ لوصلاھا فی المسجد کان متنفلا فیہ عنداشتغال الامام بالفریضۃ وھومکروہ ومثلہ فی النھایۃ والمعراج اھ مختصرین۔
ترك کرے ورنہ ترك نہ کرے بلکہ انہیں مسجد ك دروازے کے پاس اداکرے۔ ردالمحتارمیں ہے یعنی مسجد سے باہرادا کرے جیسا کہ اس پرقہستانی نے تصریح کی ہے۔ عنایہ میں ہے اگر اس نے سنن مسجد میں ادا کیں تو یہ امام کے فریضہ میں مشغول ہونے کے وقت نوافل پڑھنے والا قرارپائے گا جوکہ مکروہ ہے۔ اسی کی مثل نہایہ اورمعراج میں ہے اھ دونوں کتابوں کی عبارت اختصارا منقول ہے(ت)
بعینہ یہ صورت سیدنا عبداﷲ بن عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہم ا سے ثابت ہے ایك روز وہ ایسے وقت تشریف لائے کہ جماعت فجر قائم ہوچکی تھی انہوں نے ابھی سنتیں نہ پڑھی تھیں ان کی بہن ام المومنین حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کاحجرہ مطہرہ مسجد سے ملاہواتھا جس کادروازہ عین مسجد میں تھا وہاں چلے گئے اور سنتیں حجرے میں پڑھ کر پھرمسجد میں آکر شامل جماعت ہوئے۔ امام اجل ابوجعفرطحاوی شرح معانی الآثارمیں فرماتے ہیں :
حدثنا علی بن شیبۃ ثنا الحسن بن موسی حدثنا شیبان بن عبدالرحمن عن یحیی بن ابی کثیر عن زید بن اسلم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما انہ جاء والامام یصلی الصبح ولم یکن صلی الرکعتین قبل صلوۃ الصبح فصلاھما فی حجرۃ حفصۃ رضی اﷲ تعالی عنہا ثم انہ صلی مع الامام ففی ھذا الحدیث عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما انہ صلاھما فی المسجد لان حجرۃ حفصۃ رضی اﷲ تعالی عنھا من المسجد ۔
زید بن اسلم سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا آئے توامام صبح کی نماز پڑھارہاتھا آپ نے فجر کی دوسنتیں ابھی ادانہیں کی تھیں تو آپ نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حجرہ مبارکہ میں انہیں اداکیا پھرامام کے ساتھ شریك ہوئے۔ اس حدیث نے واضح کردیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فجر کی سنتیں مسجدمیں اداکیں کیونکہ حجرئہ حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا مسجد کا حصہ تھا۔ (ت)
حوالہ / References درمختار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹۔ ۱۰۰
ردالمحتار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۵۶
شرح معانی الآثار باب الرجل یدخل المسجد والامام فی الصلٰوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۲۵۸
#11687 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
بلکہ جب وہ مدارس متعلق مسجد حدودمسجد کے اندرہیں ان میں اور مسجد میں راستہ فاصل نہیں صرف ایك فصیل سے صحنوں کاامتیاز کردیاہے تو ان میں جانا مسجد سے باہر جاناہی نہیں یہاں تك کہ ایسی جگہ معتکف کوجاناجائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایك قطعہ ہے۔
وھذا ماقال الامام الطحاوی ان حجرۃ ام المؤمنین من المسجد فی ردالمحتار عن البدائع لوصعدای المعتکف المنارۃ لم یفسد بلاخلاف لانھا منہ لانہ یمنع فیھا من کل مایمنع فیہ من البول ونحوہ فاشبہ زاویۃ من زوایا المسجد ۔
یہی بات امام طحاوی نے فرمائی کہ ام المومنین کا حجرہ مسجد کاحصہ ہے۔ ردالمحتارمیں بدائع سے ہے اگر معتکف منارہ پرچڑھا توبالاتفاق اس کا اعتکاف فاسد نہ ہوگا کیونکہ منارہ مسجد کاحصہ ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس میں ہر وہ عمل مثلا بول وغیرہ منع ہے جومسجد میں منع ہے تویہ مسجد کے دیگر گوشوں کی طرح ایك گوشہ ٹھہرا۔ (ت)
چٹائی کو ان خیالات بعیدہ کی بناپر نجس بتانا محض پیروی اوہام ہے شرع مطہر نے دربارہ طہارت ظاہر ایسے لیت ولعل کواصلا گنجائش نہ دی۔
کما فصلہ فی الطریقۃ المحمدیۃ والحدیقۃ الندیۃ وبینہ العبد الضعیف غفراﷲ تعالی لہ فی “ الاحلی من السکر لطلبۃ سکررو سر “ ۔
جیسا کہ اس کی تفصیل طریقہ محمدیہ اور حدیقہ ندیہمیں ہے اور اسے عبدضعیف غفراﷲ تعالی نے “ الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر “ میں بیان کیاہے۔ (ت)
ردالمحتارمیں تاتارخانیہ سے ہے :
من شك فی انائہ اوثوبہ وبدنہ اصابتہ نجاسۃ اولافھو طاھر مالم یستیقن وکذا الابار والحیاض والحباب الموضوعہ فی الطرقات ویستسقی منھا الصغار والکبار والمسلمون والکفار ۔
اگرکپڑے یابدن یابرتن کونجاست لگنے میں شك ہے تو وہ پاك ہوگا جبکہ نجاست کایقین نہ ہو یہی حکم ان کنووں حوضوں اور تالابوں کاہے جوراستوں میں بنائے گئے ہیں ان سے چھوٹے بڑے مسلمان اور کفار سبھی پانی حاصل کرتے ہیں ۔ (ت)
حوالہ / References شرح معانی الآثار باب الرجل یدخل المسجد والامام فی الصلٰوۃ الخ مطبوعہ ایچ ایم کمپنی کراچی ۱ / ۲۵۸
ردالمحتار باب الاعتکاف مطبوعہ ایچ ایم کمپنی کراچی ۲ / ۴۴۶
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۱
#11688 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
طریقہ و حدیقہ میں ہے :
سئل الامام الخجندی عن رکیۃ وجد فیھا نعل تلبس ویمشی بھاصاحبھا فی الطرقا لایدری متی وقع فیھا ولیس علیہ اثرالنجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا ۔
امام خجندی سے ایك ایسے کنویں کے بارے میں پوچھاگیا جس میں ایسا جوتا گرگیا جسے پہناگیاتھا اور مختلف راستوں پرچلاگیا۔ یہ علم نہ ہوسکا کہ کب گراہے اور اس پر اثرنجاست نہ تھا توکیاکنواں ناپاك ہوگا یانہ فرمایا : ناپاك نہیں ہوگا۔ (ت)
انہیں میں ہے :
کذلك حکم الماء الذی ادخل الصبی یدہ فیہ لان الصبیان لایتوفون النجاسۃ لکن لایحکم بھا بالشك والظن اھ ملخصین۔
یہی حکم ہے اس پانی کا جس میں بچے نے ہاتھ داخل کردیاہو کیونکہ بچے نجاست سے بچتے نہیں لیکن شك وظن کی بناپر نجاست کاحکم جاری نہیں ہوگا ۱ھ ملخصین(ت)
نیت مذکور سے چٹائی بچھانے والوں کے لئے امیدثواب ہے واﷲ تعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۱۰۶۰ : از کھنڈوہ ضلع برہان پور مسجد دارالشفاء مرسلہ محمد مسلم صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك پیرزادہ سیدصاحب نے نمازتراویح میں بہ یك سلام دس رکعت سفر کی حالت میں امامت سے پڑھادئے جماعت معترض ہوئی کہ نماز ناجائزہوئی۔ سیدصاحب نے کہا کہ منیۃ المصلی میں صاف طور پر بلاکراہت بیك سلام جائزہے وہ عبارت یہ ہے :
ولوصلی التراویح کلھا بتسلیمۃ واحدۃ وقد قعد علی راس کل رکعتین جاز ولایکرہ لانہ اکمل ذکرہ فی المحیط۔
اگرتمام تراویح ایك سلام کے ساتھ اداکریں اور ہردورکعت کے بعد نمازی نے قعدہ کیاتوجائزہے مکروہ نہیں کیونکہ یہ اکمل ہے۔ محیط میں اس کوذکرکیاگیاہے۔ (ت)
اس پرسیدصاحب کوبراکہنا اور نماز کو ناجائز وحرام کہنا ان کے حق میں کیساہے
الجواب :
نماز کوناجائزوحرام کہناباطل ہے اور سیدکی توہین وبے ادبی سخت گناہ ہے اور صحیح اس مسئلہ میں
حوالہ / References الحدیقۃ الندیہ الصنف الثانی مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۷۴
الحدیقۃ الندیہ الصنف الثانی النوع الرابع مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۱
#11689 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
یہ ہے کہ نماز ہوگئی دسوں رکعتیں تراویح میں شمار ہوں گی مگرخلاف ومکروہ ضرورہوئیں منیہ کا قول لایکرہ (مکروہ نہیں ۔ ت) خلاف صحیح ہے۔ غنیہ شرح منیہ میں ہے قول المصنف ولایکرہ لانہ اکمل مخالف لما ذکر فی الخلاصۃ وغیرھا انہ یکرہ (مصنف کا قول کہ مکروہ نہیں ہے کیونکہ یہ اکمل ہے خلاصہ وغیرہ کے مخالف ہے کیونکہ وہاں لکھا ہے مکروہ ہے۔ ت)حلیہ شرح منیہ میں ہے :
وھو مشکل بانہ خلاف المنقول واذا قالوا بکراھۃ الزیادۃ علی ثمان فی مطلق التطوع لیلا فلان یکونوا قائلین بکراھتہا فیماکان منہ مسنونا اولی فلاجرم ان فی النصاب و خزانۃ الفتاوی والصحیح انہ لو تعمد ذلك یکرہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
یہ مشکل ہے کیونکہ یہ منقول کے خلاف ہے اور جب انہوں نے رات کے نوافل مطلقہ کو آٹھ سے زائد پرکراہت کاحکم نافذ کیاہے تو انہیں تراویح جو کہ مسنون ہیں میں کراہت کاحکم بطریق اولی جاری کرنا چاہئے۔ لاجرم نصاب اور خزانۃ الفتاوی میں ہے کہ اگر کسی نے عمدا ایساکہا تو مکروہ ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۶۱ : ازپیلی بھیت مدرسہ پنجابیاں مرسلہ حافظ محمداحسان صاحب ۱۰ / رمضان المبارک۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نابالغ کے پیچھے نمازتراویح جائزیاناجائز اور جس حافظ کاسن چودہ سال کا ہو وہ بلوغ میں داخل ہے یاخارج اور شرعا حد بلوغ کی ابتداء ازروئے سن کے سال سے معتبرہے بینوا توجروا
الجواب :
مسئلہ میں اختلاف مشائخ اگرچہ بکثرت ہے مگراصح وارجح واقوی یہی کہ بالغوں کی کوئی نمازاگرچہ نفل مطلق ہو نابالغ کے پیچھے صحیح نہیں ۔ ہدایہ میں ہے :
المختار انہ لایجوز فی الصلوات کلھا ۔
مختاریہی ہے کہ تمام نمازوں میں جائزنہیں ۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
حوالہ / References غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی النوافل مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۰۵
التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی مع منیۃ المصلی فصل فی السنن مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۳۹۹
الہدایہ باب الامامت مطبوعہ مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۱۰۳
#11690 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
وھو قول العامۃ کمافی المحیط وھوظاھر الروایۃ ۔
اکثرعلماء کایہی قول ہے اور یہی ظاہرروایت ہے۔ (ت)
اور اقل مدت بلوغ پسرکے لئے بارہ سال اور زیادہ سے زیادہ سب کے لئے پندرہ برس ہے اگر اس تین سال میں اثر بلوغ یعنی انزال منی خواب خواہ بیداری میں واقع ہو فبہا ورنہ بعد تمامی پندرہ سال کے شرعا بالغ ٹھہرجائے گا اگرچہ اثراصلا ظاہرنہ ہو
فی التنویر بلوغ الغلام بلانزال فان لم یوجدفیھا شیئ منھا فحتی یتم خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی وادنی مدتہ لہ اثتن عشرۃ سنۃ ھوالمختار ملخصا ۔
تنویرمیں ہے لڑکااحتلام سے بالغ ہوجاتاہے اگر احتلام نہ ہو تو پندرہ سال کی عمر میں بالغ ہوگا اسی پرفتوی ہے کم از کم مدت بارہ سال ہے یہی مختارہے۱ھ ملخصا(ت)
پسر چاردہ سالہ کابالغ ہونا اگرمعلوم ہو(اگرچہ یونہی کہ وہ خود اپنی زبان سے اپنابالغ ہوجانا اور انزال منی واقع ہونا بیان کرتاہے اور اس کی ظاہرصورت وحالت اس بیان کی تکذیب نہ کرتی ہو) تووہ بالغ ماناجائے گا ورنہ نہیں ۔
فی الدر المختار فان راھقا بان بلغا ھذا السن فقالا بلغنا صدقا ان لم یکذبھما الظاھر کذا قیدہ فی العمادیۃ وغیرھا فبعد سنتی عشرۃ سنۃ یشترط شرطا اخر لصحۃ اقرارہ بالبلوغ وھو ان یکون بحال یحتلم مثلہ والا لایقبل قولہ شرح وھبانیۃ وھما حینئذ کبالغ حکما فلایقبل جحودہ البلوغ بعد اقرارہ مع احتمال حالہ الخ۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
درمختارمیں ہے اگروہ اس عمر کو پہنچے کہ قریب البلوغ ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ ہم بالغ ہیں تو ظاہرا کوئی بات ان کی تکذیب نہ کرتی ہو تو ان کی تصدیق کی جائے گی اسی طرح عمادیہ وغیرہ میں اسے مقیدکیاگیا ہے اور بارہ سال کے بعد صحت اقرار بلوغ کے لئے ایك اور شرط لگائی گئی ہے کہ اسی طرح کے لڑکوں کو احتلام ہوتا ہو ورنہ ان کادعوی قول نہ ہوگا شرح وہبانیہ اور اب وہ دونوں بالغ کے حکم میں ہوں گے احتمال کی وجہ سے اقرار کے بعدان کاانکار بلوغ قابل قبول نہ ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References بحرالرائق باب الامامت مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۵۹
درمختار ، فصل ببلوغ الغلام مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۳ / ۱۹۹
درمختار ، فصل ببلوغ الغلام مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ۳ / ۱۹۹
#11692 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
مسئلہ ۱۰۶۲ : از اوجین مرسلہ یعقوب علی خاں ۱۲ ربیع الاخری ۱۳۱۱ ھ
چہ می فرمایند علمائے کرام دریں مسئلہ کہ غیرمقلدین نمازتراویح رابدعت عمری قراردادہ ازبست تخفیف نمودہ یازدہ رکعت میخوانند جائزاست یانہ بینواتوجروا۔
علماء کرام اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ غیرمقلدین نے بیس۲۰تراویح کو بدعت عمر( رضی اللہ تعالی عنہ ) قراردیتے ہوئے ان میں تخفیف کرکے گیارہ کرلی ہیں یہ جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
تراویح سنت مؤکدہ است ونزدمحققین بترك سنت مؤکدہ نیزآثم شود خاصہ چوں ترك را عادت گیرد عددش نزدجمہورعلمائے امت بست رکعت ست ودرروایتے ازامام مالك سی وشش رکعت فی الدر المختار التراویح سنۃ مؤکدۃ لموظبۃ الخلفاء الراشدین وھی عشرون رکعۃ بازسنت امیر المؤمنین عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ عین سنت حضورپرنور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ست سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ماراحکم باقتدائے ابوبکر وعمر فرمود رضی اللہ تعالی عنہما تاکید تام باتباع سنت خلفائے راشدین نمود رضی اللہ تعالی عنہم احمد وابوداؤد و الترمذی وابن ماجۃ عن العرباض بن ساریۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین عضوا علیہا بالنواجذ الترمذی
تراویح سنت مؤکدہ ہے محققین کے نزدیك سنت مؤکدہ کاتارك گنہگار ہے خصوصا جب ترك کی عادت بنالے تراویح کی تعداد جمہور امت کے ہاں بیس ہی ہے۔ ایك روایت کے مطابق امام مالك کے ہاں ان کی تعداد چھتیس ہے۔ رمختارمیں ہے تراویح سنت مؤکدہ ہیں کیونکہ خلفاء راشدین نے اس پردوام فرمایا اور وہ بیس رکعات ہیں پھر حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ہی سنت ہے کیونکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا کی اقتداکاحکم دیاہے اور خلفاء راشدین کی اتباع سنت میں تاکید کامل فرمائی ہے۔ امام احمد ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا تم پر میری اور خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے اسے دانتوں سے اچھی طرح مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ ترمذی نے
حوالہ / References درمختار ، باب الوتر والنوافل مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۸
سنن ابوداؤد آخرباب فی لزوم السنۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور۲ / ۲۷۹
#11693 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
وحسنہ عن عبد اﷲ بن مسعود و احمد و الترمذی وابن ماجۃ والرویانی عن حذیفۃ بن الیمان وابن عدی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہم قالوا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اقتدوا بالذین من بعدی من اصحابی ابی بکر وعمر وآنکہ ایں بے باکاں سنت امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ رابکاسیہ لیسی روافض بدعت عمری نامندومتہوران ایشاں خذلہم اﷲتعالی تصریح بضلالت حضرت والایش کنند جوابش محول بروزجزاست  و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷) ۔ نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن مسعودسے روایت کیا اور اسے حسن کہا احمد ترمذی ابن ماجہ اور رؤیانی نے حضرت حذیفہ بن یمان اور ابن عدی نے حضرت انس بن مالك رضی اﷲتعالی عنہم سے روایت کیاکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : لوگو! تم میرے بعد میرے صحابہ ابوبکر و عمر کی اقتدا کرنا۔ یہ بیباك لوگ جواہل تشیع کی نقل کرتے ہوئے حضرت عمر( رضی اللہ تعالی عنہ ) کی سنت کو بدعت عمری کہتے ہیں اور ان میں سے کچھ دریدہ دہنی کرنے والے حضرت کے عمل کو گمراہی کہتے ہیں اس کاحساب وکتاب بروزجزا انہیں دیناہوگا عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس طرف پلٹا کھائیں گے۔ اﷲتعالی سے عفو وعافیت کاسوال ہے۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۶۳ : از بلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سیدابراہیم صاحب ۱۸ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح میں پورا کلام اﷲتعالی سنناپڑھنا سنت مؤکدہ ہے یاسنت یامستحب وغیرہ اور بعد سننے ایك پورے کلام اﷲ شریف کے جولوگ سورہ فیل سے آخر ك دوبارہ پڑھتے ہیں ان کاکیا حکم ہے یعنی ہررات رمضان شریف میں تراویح بست رکعتیں پڑھناسنت مؤکدہ یاسنت یامستحب وغیرہ ہے یاکیا ارشاد ہے ایك رات اسی ماہ صیام میں طبیعت میری نادرست تھی تراویح ایك شب کی مجھ سے نہ ہوئیں اب ان کی قضاکروں یانہیں اور کروں تو کس وقت بینوا توجروا۔
الجواب :
تراویح میں پورا کلام اﷲ شریف پڑھنا اور سننا مؤکدہ ہے اور صحیح یہ ہے کہ بعد کلام مبارك بھی تما م
حوالہ / References جامع الترمذی مناقب ابی بکرصدیق مطبوعہ امین کمپنی کراچی ۲ / ۲۰۷
القرآن ۲۶ / ۲۲۷
#11695 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
لیالی شہر مبارك میں بیس۲۰رکعت تراویح پڑھنا سنت مؤکدہ ہے تراویح اگرناغہ ہوگئیں تو ان کی قضاء نہیں کل ذلك مصرح بہ فی الکتب الفقھیۃ (ان تمام پرکتب فقہ میں تصریح ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۶۴ : از بلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت صاحبزادہ سیدابراہیم میاں صاحب قادری دامت برکاتہم ۳۲رمضان شریف ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح میں بعد سورہ فاتحہ سورہ اخلاص پڑھنا جائز ہے یامکروہ باوجودیکہ امام اور سورتیں بھی جانتاہے بینواتوجروا۔
الجواب :
جائزہے بلاکراہت اگرچہ سورہ فیل سے آخر تك تکرار کاطریقہ بہترہے کہ اس میں رکعات کی گنتی یاد رکھنی نہیں پڑتی ۔ ردالمحتارمیں ہے :
فی التجنیس واختار بعضھم سورۃ الاخلاص فی کل رکعۃ وبعضھم سورۃ الفیل ای البدائۃ منھا ثم یعیدھا وھذا احسن لئلا یشتغل قلبہ بعدد الرکعات ۔
تجنیس میں ہے بعض نے ہررکعت میں سورۃ اخلاص کومختارکہا بعض نے سورۃ فیل کویعنی اس سے ابتداء ہو اور پھرتکرارکیاجائے اور سب سے بہترہے تاکہ دل تعداد رکعات کی طرف متوجہ نہ ہو۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
لاباس ان یقرء سورۃ ویعیدھا فی الثانیۃ (الی قولہ) ولایکرہ فی النفل شیئ من ذلک ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایك سورت پڑھی جائے اور دوسری رکعت میں اسے دوبارہ لوٹایاجائے (یہاں تک) کہ نفل میں ان میں سے کوئی شے بھی مکروہ نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۶۵ : ازشہرکہنہ بریلی مرسلہ مولوی شجاعت علی صاحب ۲۵رمضان مبارک۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح میں ختم قرآن شریف کے لئے ایك بارجہرسے بسملہ پڑھناچاہئے یانہیں فقط بینوا توجروا۔
الجواب :
ہاں ___
فی المسلم وشرح الفواتح البسملۃ
مسلم اور شرح الفواتح میں ہے کہ بسملہ قرآن کی
حوالہ / References ردالمحتار مبحث التراویح مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۷
درمختار آخرفصل بجہر الامام مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۸۱
#11698 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
من القران ایۃ فتقرأ فی الختم مرۃ علی ھذا ینبغی ان یقرأھا فی التراویح بالجھر مرۃ ولاتتأدی سنۃ الختم دونھا ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
آیت ہے ختم قرآن میں ایك دفعہ اسے پڑھاجاناچاہئے لہذا تراویح میں اسے ایك دفعہ جہرا پڑھنا لازم ہے کیونکہ اس کے بغیر سنت کے مطابق ختم قرآن نہ ہوگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۶۶ تا ۱۰۶۸ : از صاحب گنج گیا مرسلہ مولوی کریم رضاصاحب یکم ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
(۱) نمازتراویح کی جماعت اس طورپرکہ الم ترکیف سے شروع کرتے ہیں اور والناس تك ایك ایك سورہ ایك ایك رکعت میں پڑھتے ہیں اور پھر الم ترکیف سے والناس تك دوبارہ دس رکعتوں میں پڑھتے ہیں جائز ہے یانہیں
(۲) ہرترویحہ کے بعد دعامانگنا جائزہے یانہیں
(۳) کسی حافظہ کو اس طورپر نماز تراویح کی پڑھانی کہ پہلے ایسی قوم کے ساتھ جو آٹھ رکعتیں تراویح منفرد پڑھ چکے ہوں بارہ رکعتیں ختم تراویح پڑھاکر پھردوسری قوم کے پاس جوبارہ رکعتیں تراویح کی منفرد پڑھ چکے ہوں جاکر آٹھ رکعتیں تراویح کی ہرشب میں پڑھانی جائز ہیں یانہیں بینوا بالفقہ والسنۃ والکتاب تؤجروا من اﷲ حسن الماب (فقہ اور کتاب وسنت کے مطابق جواب عنایت کرکے اﷲ تعالی سے اجرعظیم پاؤ۔ ت)
الجواب :
(۱) جائز ہے ۔
فی الھندیۃ بعضھم اختار قل ھواﷲ احد فی کل رکعۃ وبعضھم اختار قرأۃ سورۃ الفیل الی اخر القران وھذا احسن القولین لانہ لایشتبہ علیہ عدد الرکعات ولایشتغل قلبہ بحفظھا کذا فی التجنیس اھ واﷲ تعالی اعلم۔
ہندیہ میں ہے بعض نے ہر رکعت میں قل ھواﷲ احد کواختیار کیا اور بعض نے سورہ فیل سے آخر تك کو اور یہ احسن قول ہے کیونکہ اس صورت میں عددرکعات میں اشتباہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے یادرکھنے میں مصروف ہوتا ہے جیسا کہ تجنیس میں ہے اھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت مسئلہ البسملۃ من القرآن مطبوعہ قم ، ایران ۲ / ۱۴
فتاوٰی عالمگیری الباب التاسع فی النوافل مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۱۸
#11699 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
(۲) جائزہے۔
فی ردالمحتار قال القھستانی فیقال ثلاث مرات سبحن ذی الملك والملکوت سبحن ذی العزۃ والعظمۃ والقدرۃ و الکبریاء والجبروت سبحن الملك الحی الذی لایموت سبوح قدوس رب الملئکۃ والروح لاالہ الااﷲ نستغفراﷲ نسألك الجنۃ ونعوذبك من النار کمافی منھج العباد اھ واﷲ تعالی اعلم۔
ردالمحتارمیں ہے کہ قہستانی نے کہا کہ تین دفعہ یہ کلمات پڑھے جائیں : ملك وملکوت کے مالك تیری ذات پاك ہے اے صاحب عزت وعظمت اور جبروت وکبریا تیری ذات اقدس پاك ہے اے مالك جوزندہ ہے اس پرموت نہیں تیری ذات پاك ہے توپاك وقدوس ہے ملائکہ اور جبریل کا رب ہے اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہم اﷲ تعالی سے معافی مانگتے ہوئے جنت کا سوال اور دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں منہج العباد اھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۳) اصل یہ ہے کہ ہمارے نزدیك بیس رکعت تراویح سنت عین ہیں کہ اگرکوئی شخص مرد یاعورت بلاعذرشرعی ترك کرے مبتلائے کراہت واساءت ہو اور ان کی جماعت کی مساجد میں اقامت سنت کفایہ کہ اگر اہل محلہ اپنی اپنی مسجدوں میں اقامت جماعت کریں اور ان میں بعض گھروں میں تراویح تنہا یاباجماعت پڑھیں تو حرج نہیں اور اگر تمام اہل محلہ ترك کریں توسب گنہگار ہوں ردالمحتار میں ہے :
اصل التراویح سنۃ عین فلوترکھا واحدکرہ ۔
تراویح سنت عینی ہیں اگرانہیں کسی نے بھی ترك کیاتومکروہ ہے۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
والجماعۃ فیھا سنۃ علی الکفایۃ فی الاصح فلو ترکھا اھل مسجد اثموا لالوترك بعضھم ۔
ان میں اصح قول کے مطابق سنت کفایہ ہے اگر تمام اہل مسجد نے اسے ترك کیا توگنہگار ہوں گے اور اگربعض نے ترك کیاتوگنہگار نہ ہوں گے(ت)
حوالہ / References ردالمحتار مبحث التراویح مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۶
ردالمحتار مبحث التراویح مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۵
درمختار فصل فی الوتروالنوافل مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۸
#11700 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
ردالمحتارمیں ہے :
ظاھر کلامھم ھناان المسنون کفایۃ اقامتھا بالجماعۃ فی المسجد حتی لواقاموھا جماعۃ فی بیوتھم ولم تقم فی المسجدا ثم الکل ۔
یہاں سنت کفایہ سے مرادیہ ہے کہ تراویح کومسجد میں جماعت کے ساتھ اداکیاجائے اگرتمام نے گھروں میں جماعت کے ساتھ اداکیں اور مسجد میں ادانہ کیں توسب گنہگار ہوں گے۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں امام اور دونوں جگہ کے مقتدی تینوں فریق سے جس کے لئے یہ فعل اس شناعت کاموجب ہو اس کے حق میں کراہت واساءت ہے ورنہ فی نفسہ اس میں حرج نہیں مثلا امام وہردوقوم کی مساجد میں جماعت تراویح جداہوتی ہے یہ گھروں پربطور مذکور جماعۃ وانفرادا پڑھتے ہیں تو کسی پرمواخذہ نہیں کہ ہرگروہ مقتدیان نے اگربعض ترویحات تنہا اور ہرسہ فریق نے مسجد سے جدا پڑھیں مگرجبکہ ان کی مساجد میں اقامت جماعت ہوتی ہے سنت کفایہ اداہوگئی ہاں امام دونوں قوموں کوپوری تراویح پڑھاتاتو یہ جداکراہت ہوتی اس سے صورت مستفسرہ خالی ہے۔
فی الھندیۃ امام یصلی التراویح فی مسجدین فی کل مسجد علی الکمال لایجوز کذا فی المحیط السرخسی والفتوی علی ذلك کذا فی المضمرات ۔
ہندیہ میں ہے ایك امام دومساجد میں تمام تراویح پڑھاتے ہیں تویہ جائزنہیں جیسا کہ محیط سرخسی میں ہے مضمرات میں ہے کہ فتوی اسی پرہے۔ (ت)
اور اگران میں کسی فریق کی مسجد میں یہی جماعت بطور مذکورہوئی ہے تو اس کے لئے کراہت ہے کہ اس کی مسجد میں پوری تراویح جماعت سے نہ ہوئیں لہذا اس صورت میں یہ چاہئے کہ ایك فریق آٹھ یابارہ رکعتیں دوسرے امام کے پیچھے پڑھ کرباقی میں اس حافظ کی اقتداکرے اور دوسرافریق بارہ یاآٹھ رکعات میں دوسرے کامقتدی ہوکرباقی میں اس کامقتدی ہوکہ اب دونوں مسجدوں میں پوری تراویح کی اقامت جماعت سے ہوجائے گی اور اس میں کچھ مضائقہ نہیں کہ بعض ترویحات میں ایك امام کی اقتداء ہو اور بعض دیگر میں دوسرے کی ہاں یہ ناپسند ہے کہ ایك ترویحہ میں دورکعت کاامام اور ہودوکااور
فی الخانیۃ اقاموا التراویح بامامین فصلی
خانیہ میں ہے تراویح دواماموں نے پڑھائیں ہر
حوالہ / References ردالمحتار مبحث التراویح مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۵
فتاوٰی عالمگیری ، فصل فی التراویح ، مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۱۶
#11701 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
کل امام تسلیمۃ بعضھم جوزوا ذلك والصحیح نہ لایستحب وانما یستحب ان یصلی کل امام ترویحۃ لیکون موافقا عمل اھل الحرمین ۔
امام نے دورکعات پڑھائیں توبعض نے اسے جائز کہا اور صحیح یہ ہے کہ یہ طریقہ مستحب نہیں مستحب یہ ہے کہ ہرامام چاررکعات پڑھائے تاکہ اہل حرمین کے موافق عمل ہو جائے۔ (ت)
سراج وہاج میں ہے :
ان صلوھا بامامین فالمستحب ان یکون انصراف کل واحد علی کمال الترویحۃ فان انصرف علی تسلیمۃ لایستحب ذلك فی الصحیح ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگرنماز تراویح دواماموں نے پڑھائی مستحب یہ ہے کہ ہرایك کامل ترویحہ کے بعد مصلی چھوڑے اگر دورکعات پرچھوڑتاہے توصحیح قول کے مطابق یہ مستحب نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۶۹ : ازبدایوں محلہ کڑہ براہم پورہ مرسلہ شیخ عبدالغنی صاحب ۱۱ / رمضان شریف۱۳۱۳ھ
ایك شخص ایك مسجد میں فرض جماعت سے پڑھاکر تراویح بیس رکعت پڑھاتاہے پھروہی شخص دوسری مسجد میں تراویح بیس رکعت جماعت سے پڑھاتاہے آیا یہ امامت اس کی صحیح ہے نہیں اور مقتدیان مسجد دیگر کی تراویح ہوجاتی ہے یانہیں فقط۔
الجواب :
مذہب راجح میں امامت صحیح ہے تراویح ہوجاتی ہے مگرخلاف علماء واختلاف تصحیح ومخالفت طریقہ متوارثہ سے بچنے کے لئے بے ضرورت اس سے احتراز کیاجائے۔
فی الخالیۃ والخلاصۃ والظھیریۃ وغیرھا اذا صلی التراویح مقتدیا بمن یصلی المکتوبۃ اوبمن یصلی نافلۃ غیرالتراویح اختلفوا فیہ والصحیح انہ لایجوز اھ و فی الھندیۃ امام یصلی التراویح
خانیہ خلاصہ اور ظہیریہ میں ہے کہ جب تراویح ایسے شخص کے پیچھے پڑھی جوفرائض پڑھارہاہے یا اس شخص کی اقتداء میں جس نے تراویح کے علاوہ نوافل پڑھائے تو اس میں علماء کااختلاف ہے صحیح یہی ہے کہ جائزنہیں اھ اور ہندیہ میں ہے کہ
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں باب التراویح مطبوعہ مطبع منشی نولکشور لکھنؤ ، بھارت ۱ / ۱۱۰
سراج الوہاج شرح قدوری
خلاصۃ الفتاوی الفصل الثالث فی التراویح مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۶۴
#11702 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
فی مسجدین فی کل مسجد علی الکمال لایجوز کذا فی المضمرات اھ وفی امامۃ التنویر والدر ومتنفل بمفترض فی غیرالتراویح فی الصحیح خانیۃ و کانہ لانھا سنۃ علی ھیأۃ مخصوصۃ فیراعی وضعھا الخاص للخروج عن العھدۃ اھ فی رد المحتار ان ماذکرہ المصنف ھھنا مخالف لما قدمہ فی شروط الصلوۃ بقولہ وکفی مطلق نیۃ الصلوۃ لنفل وسنۃ وتراویح وذکر الشارح ھناك انہ المعتمد ونقلنا ھناك عن البحرانہ ظاھرالروایۃ وقول عامۃ المشائخ وصححہ فی الھدایۃ وغیرھا ورجحہ فی الفتح ونسبہ الی المحققین الخ والفتوی متی اختلف رجح ظاھر الروایۃ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
وہ امام کا دومساجد میں تمام تراویح پڑھاتاہے جائز نہیں محیط سرخسی اور مضمرات میں ہے کہ فتوی اسی پرہے۔ تنویر اور در کے باب الامامت میں ہے کہ نفل پڑھنے والے کی اقتداء تراویح کے علاوہ صحیح ہے خانیہ کیونکہ تراویح ہئیت مخصوصہ کے ساتھ سنت ہیں توعہدہ برآہونے کے لئے ان میں اس وجہ مخصوص کی رعایت کرنا ضروری ہے اھ ردالمحتارمیں ہے مصنف نے جوکچھ یہاں ذکرکیاہے وہ اس کے خلاف ہے جو اس نے شروط صلوۃ میں یوں ذکرکیاکہ نفل سنت اور تراویح کے لئے مطلق نیت کافی ہے اور شارح نے وہاں کہا کہ معتمد یہی ہے اور وہاں بحر سے نقل کیاکہ ہی ظاہرروایت اور اکثر مشائخ کاقول ہے ہدایہ وغیرہ میں اس کو صحیح قراردیاگیاہے۔ فتح میں اس کو ترجیح دیتے ہوئے اسے محققین کی طرف منسوب کیا الخ توجب فتوی میں اختلاف ہوجائے توظاہرروایت کوترجیح ہوتی ہے۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۷۰ : از کیمپ میرٹھ کوٹھی حافظ عبدالکریم صاحب بازار لال کرتی مرسلہ مولوی احسان اﷲصاحب ۲۷ماہ مبارك ۱۳۲۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ جواکثر جگہ رمضان شریف کے اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں نوافل میں شبینہ پڑھاجاتاہے یعنی ایك یاایك سے زیادہ رات میں ختم قرآن عظیم
حوالہ / References فتاوٰی عالمگیری فصل فی التراویح مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۱۶
درمختار باب الامامت مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۸۵
ردالمحتار باب الامامت مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۵۹۰
#11705 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
ہوتاہے اور یہ نوافل باجماعت پڑھے جاتے ہیں یہ شرعا جائزہے یانہیں ایك صاحب فرماتے ہیں کہ اگرچہ کلام مجید باجماعت نوافل میں ترتیل کے ساتھ ہی کیوں نہ پڑھاجائے وہ بھی ممنوع ہے اور نیز کہتے ہیں کہ جماعت نوافل کی سوا تراویح کے اصلا جائزنہیں ہے اور جس حدیث میں تہجد کے وقت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا کی شرکت نوافل تہجد میں آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پیچھے مروی ہے وہ مثبت صرف اقتدا ایك شخص کی ہے تیسری بات وہ یہ کہتے ہیں کہ سنتیں فجر کی اگررہ جائیں اور فرضوں میں کوئی شامل ہوجائے تو پھر اس کو وہ سنتیں نہ قبل آفتاب پڑھنی چاہئیں نہ بعد میں ان تینوں مسائل کوامید ہے کہ مشرح بیان فرمائیں ۔ جزاك اﷲ خیرالجزاء۔
الجواب : علماء بنظر منع کسل وملال اقل مدت ختم قرآن عظیم تین دن مقررفرمائی مگر اہل قدرت ونشاط بہرعبادت کوایك شب میں ختم کی بھی ممانعت نہیں بہت اکابردین سے منقول ہے :
کمابسطہ المولی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی فی الحدیقۃ الندیۃ وغیرہ فی غیرھا ۔
جیسا کہ اس پرتفصیل بحث علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ اور دیگر علماء نے اپنی کتب میں کی ہے ۔ (ت)
خود امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے دورکعت میں قرآن شریف ختم کیا کما فی الدر المختار (جیسا کہ درمختارمیں ہے۔ ت) نفل غیرتراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تك تواجازت ہے ہی چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہ جس کا حاصل خلاف اولی ہے نہ کہ گناہ حرام کما بیناہ فی فتاونا (جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاوی میں دی ہے۔ ت) مگرمسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابردین سے جماعت نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعل خیر سے منع نہ کئے جائیں گے علمائے امت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے درمختارمیں ہے :
اما العوام فلایمنعون من تکبیر والتنفل اصلا لقلۃ رغبتھم فی الخیرات بحر ۔
عوام کو تکبیرات اور نوافل سے کبھی بھی منع نہ کیاجائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے بحر۔ (ت)
حوالہ / References درمختار مقدمہ الکتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹
درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۴
#11706 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
اسی میں ہے :
ولایمنع العامۃ من التکبیر فی الاسواق فی الایام العشروبہ ناخذ بحرومجتبی وغیرہ ۔
عوام کو ان (ذوالحج کے) دس دنوں میں بازار میں تکبیرات پڑھنے سے منع نہ کیاجائے اسی پر ہماراعمل ہے بحر مجتبی وغیرہ(ت)
حدیقہ ندیہ میں ہے :
ومن ھذا القبیل نھی الناس عن صلوۃ الرغائب بالجماعۃ وصلوۃ لیلۃ القدر ونحوذلك وان صرح العلماء بالکراھۃ بالجماعۃ فیھا فلایفتی بذلك العوام لئلا تقل رغبتھم فی الخیرات وقد اختلف العلماء فی ذلك فصنف فی جوازھا جماعۃ من المتاخرین وابقاء العوام راغبین فی الصلوۃ اولی من تنفیرھم ۔
اسی قبیل سے نماز رغائب کاجماعت کے ساتھ اداکرنا اور لیلۃ القدر کے موقع پر نمازوغیرہ بھی ہیں اگرچہ علماء نے ان کی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کی ہے مگرعوام میں یہ فتوی نہ دیاجائے تاکہ نیکیوں میں ان کی رغبت کم نہ ہو علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے اور متاخرین میں سے بعض نے اس کے جواز پرلکھا بھی ہے عوام کونماز کی طرف راغب رکھنا انہیں نفرت دلانے سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔ (ت)
صبح کی سنتیں اگرنہ پڑھیں اور فرضوں میں شامل ہوگیا قبل طلوع وارتفاع شمس توالبتہ ان کی اجازت نہیں اگرپڑھے گا گنہگار ہوگا اور بعد بلندی آفتاب ان کاپڑھنا ممنوع نہیں ضرورمستحب ہے کلام علماء میں لایقضی (ادانہ کیاجائے۔ ت) بمعنی نفی مطالبہ ہے نہ مطالبہ نفی ردالمحتارمیں ہے :
اذا فاتت وحدھا لاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع اما بعد طلوع الشمس فکذلك عندھما وقال محمد رحمہ اﷲ تعالی احب الی ان یقضیھا الی الزوال کما فی الدرر قیل
جب فجر کی سنتیں تنہافوت ہوجائیں تو انہیں بالاجماع طلوع آفتاب سے پہلے ادانہ کیاجائے طلوع آفتاب کے بعد شیخین کے ہاں اسی طرح ہے لیکن امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ زوال سے پہلے قضا کرلینا پسندیدہ ہے جیسا کہ
حوالہ / References درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۱۱۷
الحدیقۃ الندیہ الخلق الثامن والاربعون من الاخلاق الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۱۵۰
#11707 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
ھناقریب من الاتفاق لان قولہ احب الی دلیل علی انہ لولم یفعل لالوم علیہ وقالا لایقضی وان قضی لاباس بہ کذا فی الخبازیۃ ومنھم من قال الخلاف فی انہ لوقضی کان نفلا مبتدأ اوسنۃ کذا فی العنایۃ یعنی نفلا عندھما سنۃ عندہ کما ذکرہ فی الکافی اسمعیل ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
درر میں ہے کہ یہاں اتفاق ہی ہے کیونکہ امام محمد نے احب کہا جودلالت کررہاہے کہ اگر اس نے قضانہ کیں تو اس پرملامت وغیرہ نہیں ہوگی اور جس نے لایقضی کہا ہے اگر کوئی قضاکرلیتاہے توکوئی حرج نہیں خبازیہ بعض نے کہا کہ اختلاف اس بات میں ہے کہ اگرقضاکرتا ہے تو وہی سنن ہوں گی یامستقل نوافل اسی طرح عنایہ میں ہے یعنی شیخین کے نزدیك نفل مگر امام محمدکے نزدیك سنت جیسا کہ الکافی لاسمعیل میں ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۷۱ : از سنبھل مرسلہ حکیم کفایت اﷲصاحب ۹شوال ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے فرض عشاء تنہا ادا کیا اور تراویح جماعت سے اب وترجماعت سے ادا کرناجائزہے یانہیں اور اولی کیاہے مع ادلہ وحوالہ کتب بیان فرمایاجائے۔ بینواﷲ توجروا عنداﷲ ۔
الجواب :
جس نے فرض تنہا پڑھے وتر کی جماعت میں شریك نہ ہوگا کما فی الغنیۃ وجامع الرموز وردالمحتار (جیسا کہ غنیہ جامع الرموزاور ردالمحتارمیں ہے۔ ت)جس نے فرض کسی جماعت میں پڑھے ہوں اس کے باب میں بھی علماء مختلف ہیں کہ وترجماعت سے اداکرنااولی ہے یا تنہا پڑھنادونوں طرف ترجیحیں ہیں اور زیادہ رجحان اس طرف ہے کہ جماعت افضل ہے۔
رجحہ الامام ابن الھمام وصححہ العلامۃ الحلبی فی الغنیۃ وقال خیرالرملی علیہ عامۃ الناس الیوم ۔ واﷲ تعالی اعلم
امام ابن الہمام نے اسے ترجیح دی علامہ حلبی نے غنیہ میں اس کی تصحیح فرمائی اور خیرالدین رملی نے فرمایا : آج لوگوں کی اکثریت اس پرہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب ادراك الفریضہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۳۰
غنیہ المستملی ، فصل فی النوافل مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۱۰
منحۃ الخالق علی البحرالرائق بحوالہ خیرالرملی باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۶۹
#11708 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
مسئلہ ۱۰۷۲ : ازبیلپور ضلع بریلی مرسلہ حافظ کلن صاحب ۲۳شوال ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ماہ رمضان شریف میں دوحافظوں نے ایك مسجد میں قرآن عظیم اس ترتیب سے سنایا کہ ایك حافظ نے اول مثلا دس تراویح میں ایك یاسوا یا ڈیڑھ پارہ الم ـ سے سنایا اور پھردوسرے حافظ نے آخردس تراویح میں وہی پارہ ایك یا سوایاڈیڑھ المـ کاپڑھا یعنی ابتداء سے انتہا تك یہی طریقہ قرأت کا رکھا کہ جوکچھ پہلے حافظ نے پڑھا تھا وہی پارہ دوسرے حافظ نے پڑھا اور ایك ہی تاریخ پرمثلا پچیس۲۵ یاچھبیس تك دونوں نے ختم قرآن کریم فرمایا پس ازروئے شرع مطہر کے یہ طریقہ قرآن شریف کے پڑھنے کاجائزہے یانہیں بینوابالکتاب تؤجروا بغیرحساب (کتاب وسنت سے جواب دیجئے اور بغیرحساب اجرپاؤ۔ ت)
الجواب :
یہ طریقہ مکروہ ہے اور اگرثابت ہوکہ بعض مقتدیوں پرگراں گزرنے کاباعث تھا (اور ضرورہوگا) توسخت ممنوع ہے کہ یوں دوختم معا سنت سے زائد ہیں تو ایك امر زائد سنت کے لئے مقتدیوں پرگرانی کی گئی اور یہ ناجائز ہے وانما علل عدم ترك ختم بکسل القوم لانہ سنۃ فمازاد یترك لانہ فتنۃ (قوم کی سستی کی وجہ سے ایك ختم قرآن ترك نہیں کیاجائے گا کیونکہ یہ سنت ہے اور جو اس سے زائد ہے وہ ترك کردیاجائے گا کیونکہ یہ فتنہ ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷۳ : از بلنڈی افریقہ سائل حاجی عبداﷲ وحاجی یعقوب علی ۲۴محرم ۱۳۳۱ھ
رمضان المبارك میں میں نے نمازعشاء جماعت سے نہیں پڑھی ہے مسجد میں جاتے وقت جماعت عشاء ہوگئی تھی اور نمازتراویح کی کھڑی تھی میں نے جلدی سے نمازعشاء ادا کی اب تراویح کی جماعت میں شامل ہوکر نمازتراویح اداکرسکتاہوں یا نہیں یا اکیلے پڑھناچاہئے
الجواب :
جس شخص نے نمازعشاء تنہاپڑھی وہ تراویح کی جماعت میں شامل ہوسکتا ہے تنہا نہ پڑھے ہاں وترکی جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا۔ جس نے فرض تنہا پڑھے ہوں وہ وتر بھی تنہاپڑھے۔ درمختارمیں ہے :
فمصلیہ وحدہ یصلیھا معہ اھ ای مصل الفرض وحدہ یصل التراویح مع الامام۔
فرض تنہا پڑھنے والا تراویح جماعت کے ساتھ پڑھے اھ یعنی تنہافرض اداکرنے والا تراویح امام کے ساتھ اداکرے۔ (ت)
حوالہ / References درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹
#11709 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
ردالمحتارمیں ہے :
اذا لم یصل الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر اھ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
جب فرض امام کے ساتھ ادا نہیں کئے تو وترمیں اس کی اقتداء نہ کرے۔ اھ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۷۴ : از فیض آباد محلہ رکاب گنج مرسلہ فیاض حسین ٹھیکیدار پتھر ۲۳ / رمضان المبارك ۱۳۳۱ھ
حضور والادست بستہ سلام مسنون کے بعد عرض ہے تابعدار بخیریت ہے خوشنودی مزاج اقدس درکار ازراہ شفقت مربیانہ معاف فرمایاجاؤں کہ آج سے پہلے عریضہ نہ لکھ سکا اور آج پھرجوموقع ملاہے وہ خاص ضرورت سے براہ کرم شرع شریف کے مقدس قانون کے مطابق رائے صائب وحکم مناسب سے اطلاع بخشی جائے میرے وطن اٹاوہ میں ایك بزرگ مفتی قوم میں سے ازراہ خیروبرکت ختم قرآن شریف کے دن بیسویں رکعت میں المـ تامفلحون پڑھنے کے بعد چند آیات مختلف ماکان محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وغیرہ کے ساتھ تراویح ختم کرنے کی ہدایت فرمایاکرتے ہیں لیکن اس زمانے کی نئی روشنی اس کے خلاف ہے لہذا اس کے جواز کے متعلق جوآیات شریفہ کتب احادیث سے پائی جائیں ان سے اطلاع بخشی جائے تاکہ مخالفین کو سمجھادی جائیں براہ کرم و شفقت مربیانہ بواپسی ڈاك جواب باصواب عریضہ ہذا سے شادفرمایاجائے کیونکہ اس کی یہاں فوری ضرورت ہے فقط
الجواب :
یہ صورت بلاشبہہ جائز ومباح ہے سنن ابی داؤد میں ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تہجد کی نماز میں ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو بہت پست آواز سے پڑھتے دیکھااور فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو بہت بببلندآواز سے اور بلال رضی اللہ تعالی عنہ کودیکھا کہ کچھ ایك سورت سے پڑھا اور کچھ دوسری سے لیا حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تینوں صاحبوں سے وجہ دریافت فرمائی صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : قداسمعت من ناجیت یارسول اﷲمیں جس سے مناجات کرتاہوں وہ اس پست آوازکوبھی سنتا ہے۔ فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : یارسول اﷲ اوقظ الوسنان واطرد الشیطان یارسول اﷲ میں اس لئے اتنی آواز سے پڑھتاہوں کہ اونگھتاجاگے اور شیطان بھاگے۔ بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی کلام طیب یجمعہ اﷲ
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۸
#11710 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
بعضہ الی بعض یارسول اﷲ قرآن مجید سب پاکیزہ کلام ہے کچھ یہاں سے کچھ وہاں سے ملالیتاہوں ارادہ الہیہ یونہی ہوتا ہے فرمایا : کلکم قداصاب تم تینوں نے ٹھیك بات کی درست کام کیا۔ فتاوی خلاصہ میں ہے :
الانتقال من ایۃ من سورۃ الی ایۃ اخری من سورۃ اخری اوایۃ من ھذہ السورۃ بینھما ایات مکروہ فی الفرائض اما فی النوافل لایکرہ اھ ملتقطا
ایك سورت کی آیت سے دوسری سورت کی آیت یا اسی سورت کی دوسری آیت کی طرف انتقال کرنا جبکہ ان کے درمیان چندآیات ہوں فرائض میں مکروہ ہے مگرنوافل میں مکروہ نہیں اھ ملتقطا(ت)
غنیہ شرح منیہ میں ہے :
قرأۃ ایۃ من بین الایات کقرأۃ سورۃ من بین السور فکما لایکون قرأۃ سورۃ متفرقۃ من اثناء القران مغیر التالیف والنظم لایکون قرأۃ ایۃ من کل سورۃ مغیرا لہ ۔
آیات میں سے کسی آیت کاپڑھنا ایسے ہی ہے جیسے سورتوں میں سے کسی سورت کاپڑھنا ہے توجس طرح متفرق سورتوں میں سے قرأت کرناقرآنی تالیف ونظم میں تبدیلی پیدانہیں کرتی اسی طرح ہرسورت سے کسی ایك آیت کا پڑھنا تبدیلی پیدا نہیں کرتا۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
اماضم ایات متفرقۃ فلایکرہ کمالایکرہ ضم سور متفرقۃ بدلیل ماذکرناہ من القرأۃ فی الصلوۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
بہرحال آیات متفرقہ کوملانا مکروہ نہیں جیسا کہ سور متفرقہ کاملانا مکروہ نہیں اس پردلیل وہی ہے جوہم نے قرأۃ فی الصلوۃ میں ذکرکی ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۷۵ : ازدھامپور محلہ بندوقچیاں ضلع بجنور ۸ / ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ مسئولہ اﷲ دیا
جناب فیض انتساب فضائل مآب جناب مولانا صاحب زاد فضلکم بعد آداب گزارش ہے کہ جو شخص
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب رفع الصوت بالقرأۃ فی صلٰوۃ اللیل مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸۸
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الحادی عشرفی القرأۃ مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۹۷
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی تتمات فیمایکرہ من القرآن فی الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۷۰
ردالمحتار ، آخرباب سجود التلاوۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۱۹
#11713 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
صوم وصلوۃ کاپابند ہے مگر تراویح قصدا چھوڑدیتاہے اس کے واسطے وعید ہے یانہیں اور یہ بھی تحریرکریں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کیوں نہیں پڑھیں ان پروعید ہے یانہیں
الجواب :
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین عضوا علیھا بالنواجذ ۔
تم پرلازم ہے میری سنت کااتباع اور خلفائے راشدین کی سنت کا اسے دانتوں سے مضبوط پکڑو۔
اور فرمایا :
اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکروعمر ۔
ابوبکر و عمر( رضی اللہ تعالی عنہم ا) کی پیروی کرو جو میرے بعد خلیفہ ہوں گے۔
سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تین شب تراویح میں امامت فرماکر بخوف فرضیت ترك فرمادی تواس وقت تك وہ سنت مؤکدہ نہ ہوئی تھی جب امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے اجرا فرمایا اور عامہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اس پرمجتمع ہوئے اس وقت سے وہ سنت مؤکدہ ہوئی نہ فقط فعل امیرالمومنین سے بلکہ ارشادات سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے۔ اب ان کاتارك ضرورتارك سنت مؤکدہ ہے اور ترك کاعادی فاسق وعاصی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷۶ : از بنارس رام نگر مرسلہ حافظ امام الدین صاحب ۵ رمضان ۱۳۳۶ھ
جب احقرکاحافظہ ہوگیا تو لوگوں نے اسی سے پڑھوایا مسجد کے پیش امام صاحب نے بخوشی صہ۵ پانچ روپے احقرکوعنایت کئے جسے احقرنے اسی وقت اپنے استاد مکرم کی نذرکردی میرے ایك مکتبی بھائی کی خواہش تھی کہ ان پانچ میں سے چندہ تبرك میں کچھ دوں مگرحضرت استاذی کی حالت بمقابلہ تبرك قابل ترجیح معلوم ہوئی لہذا میں نے چندہ تبرك میں اس میں سے کچھ نہ دیا دوسرے سال معلوم ہوا کہ اب کے سال امام صاحب معـــ۷ ــہ دیں گے پھرسناگیا کہ صـ۵ــہ ہی دیں گے اس پرقوی خیال کی بنا پرسمجھاگیا کہ انہیں مکتبی بھائی صاحب کی بدولت پانچ کردیا گیاہے جن کی غرض کے مطابق چندہ تبرك میں نے نہیں دیاتھا اس لئے میں نے ان سے شکایت کی کہ استاذ
حوالہ / References سنن ابوداؤد آخرباب فی لزوم السنۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۷۹
جامع الترمذی مناقب ابی بکر الصدیق رضی اﷲ عنہ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی بھارت ۲ / ۲۰۷
#11714 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
میرے بھی ہیں اور آپ کے بھی پھر آپ ان کی بھلائی کے بجائے ان کی نقصان رسانی کے درپے کیوں ہیں اس پربات بڑھی اور امام صاحب مسجد کے کانوں تك پہنچی اس کے بعد مجھے روپے کی گفتگو پرسخت افسوس ہو اور دل میں خطرہ پیداہوا کہ کہیں میراثواب نہ زائل ہو جائے اس لئے میں نے باعلان کہا کہ صاحبو میں کوئی اجرت نہیں مقررکرتا یہ جس قدرباتیں ہوئی ہیں بھائی صاحب سے بات بڑھ جانے کے سبب ہوئیں پھرختم کے دن امام صاحب نے سات ہی روپے دئیے جنہیں لیتے وقت احقرکے دل کی عجیب حالت تھی مگربخیال نفع استاد مکرم کے لئے اور اسی وقت ان کی خدمت میں پیش کردیا تاہم مجھے ہروقت اس کاخطرہ رہتاہے کہ گو ہم اپنے لئے نہیں لیتے پھربھی لیتے ہیں ۔ لیکن اس خیال سے کہ اب استاذمکرم کوبھروسا رہتاہوگا کہ اسے سات روپے ملیں گے اور یہ مجھے دے گا اور پھر اس سے میرافلاں فلاں کام چلے گا لینے سے انکار کرتے بھی نہیں بنتا۔ شبینہ کیساہے جوایك دن میں چندحفاظ مل کرختم کرتے ہیں ۔
الجواب :
مولی سبحانہ وتعالی ایسے بندوں کوبرکت دے جوقرآن عظیم پر اجرت لینے سے بچیں آپ صاف کہہ دیں کہ محض ادائے سنت وحصول ثواب کے لئے پڑھتاہوں کوئی معاوضہ نہ چاہتاہوں نہ ہوگا اس کے بعد امام یاجومسلمان کچھ خدمت کریں وہ اجرت نہیں ہوسکتی اس کالینا حلال اور استاذ کو دینا سعادت مندی فتاوی امام قاضی خاں میں ہے : الصریح یفوق الدلالۃ (صریح کودلالت پرفوقیت ہے۔ ت)شبینہ کہ ایك یاچند حافظ مل کرکرتے ہیں مکروہ ہے اکابر نے ایك ایك رات میں برسوں ختم فرمایا ہے مگروہ خاص اپنے لئے نہ کہ جماعت میں جس میں ہرقسم کے لوگ ہوں خصوصا اکثربلکہ شاید کل وہی ہوں جو اسے بارسمجھیں اور شرما شرمی شریك رہیں ۔ حدیث صحیح میں ہے : اذا ام احدکم الناس فلیخفف (جب تم میں کوئی لوگوں کی امامت کرائے توتخفیف سے کام لے۔ ت) اور ارشادفرمایا : لایسأم حتی تسأموا (اﷲ تعالی ثواب میں کمی نہیں فرماتا جب تك تم نہ اکتاؤ۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷۷ : از اوریاضلع اٹاوہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ عبدالحی صاحب مدرس ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تراویح کے ہر چار رکعت پرہاتھ اٹھاکر دعامانگنا
حوالہ / References درمختار ، کتاب الہبہ ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۲ / ۱۵۹
صحیح البخاری باب اذا صلی لنفسہ فلیطول ماشاء مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۹۷
مسند احمدبن حنبل حدیث سیدہ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۲۴۷
#11715 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
چاہئے یاصرف تسبیح بلاہاتھ اٹھائے پڑھے
الجواب :
تسبیح میں ہاتھ اٹھانے کی کیاضرورت ہاں کوئی دعامانگے تو ہاتھ اٹھائے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۷۸ : از کلکتہ مانك تلہ حاجی زکریالین نمبر۱ مرسلہ شیخ روشن علی صاحب ۳ / شوال ۱۳۳۷ھ
ایك شخص جو اپنے کو اہلسنت سے کہتا ہے اس کاقول ہے کہ نماز تراویح کے اندر دوچیزیں ہیں ایك قرأت قرآن مجید کی جوکہ فرض ہے اور دوسری تراویح سنت مؤکدہ ۔ جب نماز تراویح میں قرآن شریف پڑھاگیا تودونوں مذکورہ بالاچیزوں سے ایك ادا ہوئی ایك باقی رہ گئی ہے یعنی تراویح سنت مؤکدہ کا ثواب توحاصل ہوا مگرقرأت کے ثواب سے محروم رہ گیا جوکہ فرض ہے اس لئے جماعت کے لوگ بعدنماز تراویح کے بیٹھ جائیں کسی سے قرآن شریف سن لیں تاکہ دونوں ثواب حاصل ہوجائیں کیایہ قول زید کاصحیح ہے
الجواب :
زیدکاقول محض باطل اور دین میں بدعت پیداکرناہے اور شریعت مطہرہ پرافتراء ہے تراویح سنت مؤکدہ ہے صرف ایك آیت کاپڑھنا ہرنماز میں ہرمہینے ہروقت میں فرض ہے تمام قرآن مجید کی تلاوت خارج نمازخاص رمضان شریف میں فرض ہو یہ جہل محض ہے جب تراویح پڑھیں اور ان میں قرآن عظیم پورا پڑھاسنا دونوں سنتیں اداہوگئیں دونوں کاثواب بعونہ تعالی مل گیا بعد تراویح بیٹھ کر پھرقرآن مجید پورا سننافرض درکنار نہ واجب نہ سنت مؤکدہ نہ غیرمؤکدہ۔ اگرکوئی کرے تو ایك مستحب ہے جیسے اور اوقات میں تلاوت اور اسے فرض یاواجب یامؤکد سمجھنا حرام وبدعت اور وہ قرآن کریم کہ تراویح میں پڑھاگیا اسے ناکافی سمجھنا سخت جہالت ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔ ردالمحتارمیں ہے :
قرأۃ الختم فی صلوۃ التراویح سنۃ و صححہ فی الخانیۃ وغیرھا وعزاہ فی الھدایۃ الی اکثر المشایخ وفی الکافی الی الجمہور وفی البرھان و ھوالمروی عن ابی حنیفۃ والمنقول فی الاثار ۔
تراویح میں ختم قرآن سنت ہے خانیہ وغیرہ میں اسی کو صحیح کہاہے ہدایہ میں اس کی نسبت اکثرمشائخ کی طرف کی ہے کافی میں جمہور کی طرف کی ہے اور برہان میں ہے کہ یہی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے اثارمیں منقول ہے۔ (ت)
کافی و ہندیہ میں ہے :
السنۃ فی التراویح انما ھو الختم
تراویح میں ایك دفعہ ختم قرآن سنت ہے توقوم
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۶
#11716 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
مرۃ فلایترك لکسل القوم ۔ واﷲ تعالی اعلم
کی سستی اور کاہلی کی وجہ سے اسے ترك نہ کیاجائے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۷۹ : ازقصبہ کاشیپور محلہ قاضی باغ ضلع نینی تال مسئولہ جناب شیخ اﷲ بخش و محمد وزیرخاں ۱۴ / محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قرآن شریف کے اندر جو ایك سوچودہ سورتیں ہیں اگر حافظ قرآن تراویح میں ہرسورۃ میں بسم اﷲ شریف پڑھے توجائز ہے یانہیں یاکیانفع نقصان ہے ایك شخص یہاں پر ہرسورہ میں بسم اﷲ شریف ظاہرکرکے پڑھتے ہیں توان پراعتراض واجب ہے یانہیں ان سے کہتے ہیں کہ آپ ہرسورہ میں بسم اﷲ شریف پڑھتے ہیں ہم نے کسی حافظ اور عالم کوظاہرکرکے بسم اﷲ پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
الجواب :
نمازمیں بسم اﷲ شریف آواز سے پڑھنا منع ہے صرف تراویح میں جب ختم کلام مجید کیاجائے سورہ بقرہ سے سورہ ناس تك کسی ایك سورہ پر آواز سے پڑھ لی جائے کہ ختم پورا ہو ہر سورۃ سے آواز سے پڑھنا ممنوع ہے اور مذہب حنفی کے خلاف۔ گنگوہ وغیرہ کے بعض جاہلوں نے جو اس کے خلاف فتوی دیاہے حماقت وجہالت ہے والتفصیل فی رسالتنا وصاف الرجیح فی بسملۃ التراویح(اس کی تفصیل ہمارے رسالہ “ وصاف الرجیح فی بسملۃ التراویح “ میں ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۸۰ : ازدھرم پور ضلع بلندشہر پرگنہ ڈبائی کو ٹھی نواب صاحب مسئولہ عبدالرحیم ۲۸ / رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نمازتراویح حافظ کے نہ ہونے سے سورہ الم ترکیف سے پڑھی جائیں بیس رکعت لیکن اس طریق سے کہ ایك ایك رکعت میں ایك سورۃ دوسری میں قل ھواﷲ یہاں تك کہ بیس رکعت میں نو سورہ الم ترکیف سے اور گیارہ سورہ قل ھواﷲ پڑھی جائیں مگرگیارہویں رکعت میں جبکہ سورہ اذا جاء پڑھی جائے اور بارہویں میں قل ھو اﷲ توایك سورہ تبت بیچ میں رہ جاتی ہے اور اسی طرح سے جب انیسویں رکعت میں قل ھواﷲ اور بیسویں میں ناس تو فلق رہ جاتی ہے اس صورت میں کچھ کراہت ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ دونوں صورتیں وجہ کراہت ہوں گی کہ بیچ میں چھوٹی سورت کاچھوڑدینا مکروہ ہے یہ آسان ہے کہ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ فصل فی التراویح مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۱۷
#11717 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
دس رکعتوں میں سورہ فیل سے سورہ ناس تك پڑھے پھرانہیں کااعادہ کرے۔
اما مافی الدر المختار ولایکرہ فی النفل شیئ من ذلك فمع قطع النظر عما اورد علی ھذہ الکلیۃ لم یثبت ان النفل ھھنا یشمل السنۃ المؤکدۃ بل ھو مقابلھا وقدقالہ فی الدر المختار قبیلہ وفی الحجۃ یقرأ فی الفرض بالترسل حرفا حرفا وفی التراویح بین بین وفی النفل لیلا لہ ان یسرع بعد ان یقرأ کمایفھم ۔ ھ وفی الغنیۃ الاصح کراھۃ اطالۃ الثانیۃ علی الاولی فی النفل ایضا الحاقا لہ بالفرض فیمالم یرد فیہ التخصیص من التوسعۃ کجوازہ قاعدا بلا عذر ونحوہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
درمختارمیں جوہے کہ ان میں سے کوئی شئے نوافل میں مکروہ نہیں تو اس پروارد شدہ اعتراض سے قطع نظر کرتے ہوئے یہاں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نفل سنت مؤکدہ کوبھی شامل ہے بلکہ وہ اس کے مقابل ہے اس سے تھوڑا پہلے درمختار میں ہی بات کہی : حجہ میں ہے کہ فرائض میں قرأۃ آہستہ آہستہ حرف حرف پڑھے اور تراویح میں ترسل واسراع کے درمیان درمیان اور رات کے نوافل میں اتنا تیزپڑھ سکتاہے جو سمجھ آسکے اھ۔ غنیہ میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ نوافل میں بھی دوسری رکعت کو پہلی رکعت پرطویل کرنا مکروہ ہے یہ حکم نفل کوفرض کے ساتھ ان امورمیں ملحق کرنے کی بناء پر ہے جن میں نفل کے لئے تخصیص وسعت واردنہیں ہوئی واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۰۸۱ : از مین پوری مسئولہ حکیم محمد احمدصاحب علوی شب ۱۰ / شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شبینہ پڑھنا یعنی ایك شب میں قرآن مجید ختم کرنا تراویح یا تہجد یانفل میں جائز ہے یانہیں اور جوشخص اس طرح پرکہ نہایت صحت اور قواعد کے ساتھ صاف صاف پڑھتاہے اس کی اقتداء میں اگرکچھ لوگ ذوق وشوق اور خلوص وہمت سے داخل ہوکرشرکت کریں تو ان مقتدیوں اور امام کی بابت کیاحکم ہے زید کہتاہے کہ شبینہ مطلقا ناجائزہے اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ حرام ہے صحابہ و تابعین وتبع تابعین کے زمانہ میں کبھی نہیں ہوا اور یہ جوبعض بزرگوں کی نسبت مشہور ہے کہ فلاں بزرگ نے ایك رات میں اتنے اتنے ختم کئے بالخصوص حضرت سیدنا امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی نسبت وہ مخص خصوصیات ہیں ان کا یہ
حوالہ / References درمختار فصل ویجہر الامام ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۸۱
درمختار فصل ویجہر الامام ، مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۸۰
غنیہ المستملی کراھیۃ الصلوٰۃ فصل فی بیان مایکرہ فعلہ فی الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۵۶
#11719 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
فعل ہمارے لئے حجت نہیں ہے بکرکہتاہے کہ نفس شبینہ جائز اورمباح ہے بلکہ بزرگان دین کامعمول ہے یہ اور بات ہے کہ اگرمنہیات شرع اس میں شامل ہوں یالوگ اس کو اچھی طرح نہ سنیں بلکہ اس و قت بیٹھے باتیں کریں یاحقہ اورچائے پینے میں مشغول رہیں یاقرآن مجیدایساغلط اور جلدجلد پڑھاجائے کہ سمجھ میں نہ آئے توبیشك ایسی صورت ناجائز ہوگی بلکہ ایسی صورت اگر تراویح میں واقع ہوتوتراویح کے لئے کیاحکم نہ ہوگا کیانفس تراویح ان عوارض کی وجہ سے ناجائز ٹھہرے گی زیدکہتاہے شبینہ پڑھنے والے اور سننے والے کوپانسو جوتے لگانے چاہئیں امسال رمضان مبارك ۱۳۳۹ھ میں ہم چند مسلمانان مین پوری نے اپنے اپنے ذوق وشوق سے چند حافظ بلوائے جونہایت عمدہ اور صاف پڑھنے والے تھے نہ کسی پربار ہواسب نے نہایت مستعدی اور سکون سے سنا اس پر زیدکو بہت غصہ آیا زید امام جامع مسجد ہے انہوں نے بالاعلان ہم سب مسلمانوں پراسی جامع مسجد میں بعد نمازمغرب مصلے پرکھڑے ہوکر ماں بہن کی گالیاں دیں اور کہا شبینہ سننا اور وہاں جانا سب گناہ ہے کوئی شبینہ کوجائز ثابت کردکھائے تو پچاس روپیہ دوں گا ایسے شخص کی نسبت جو اس قسم کے سب وشتم مسلمانوں کو دے بازاری اور فحش کلمات اس کے زبان زدرہتے ہوں اور مسلمانوں کوجو اس کے مقتدی نہیں ماں بہن کی گالیاں دے چنانچہ اس بنا پر وہ کل مقتدی اس سے ناخوش ہوں اس کی امامت کا کیاحکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
فقیر۲۹شعبان سے بوجہ علالت رمضان شریف کرنے اور شدت گرماگزارنے کوپہاڑپرآیا ہوا ہے وطن سے مہجور اپنی کتب سے دور لہذا زیادہ شرح وبسط سے معذور مگرحکم مسئلہ بفضلہ تعالی واضح ومیسور۔ شبینہ فی نفسہ قطعا جائز و رواہے اکابرائمہ دین کامعمول رہا ہے اسے حرام کہنا شریعت پرافتراہے امام الائمہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے تیس برس کامل ہر رات ایك رکعت میں قرآن مجید ختم کیاہے۔ ردالمحتارمیں ہے :
قال الحافظ الذھبی قدتواتر قیامہ باللیل و تھجدہ وتعبدہ ای ومن ثم کان یسمی بالوتد لکثرۃ قیامہ باللیل بل احیاہ بقرأۃ القران فی رکعۃ ثلاثین سنہ ۔
حافظ ذہبی نے فرمایا کہ آپ کاقیام اللیل تہجد اور تعبد تواتر کے ساتھ منقول ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو وتد (کیل) کہاجاتاہے کیونکہ آپ کے قیام لیل میں کثرت تھی بلکہ آپ تیس سال تك رات کو ایك رکعت میں پورے قرآن کی تلاوت کرتے(ت)
حوالہ / References ردالمحتار مقدمہ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۶۲
#11720 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
بلادلیل شرعی کسی حکم کوبعض عباد سے خاص مان لینا جزاف ہے اور یہ کہنا کہ ان کا یہ فعل ہمارے لئے حجت نہیں ادب کے خلاف محض لاف ہے ان کافعل حجت نہ ہوگا تو کیا زیدوعمرو کاہوگا! جواہر الفتاوی ا مام کرمانی پھر فتاوی علمگیریہ میں ہے : انما یتمسك بافعال اھل الدین ۔ اہل دین کے افعال سے تمسك کیاجائے گا(ت)علمائے کرام نے فرمایا ہے سلف صالحین میں بعض اکابر دن رات میں دوختم فرماتے بعض چار بعض آٹھ میزان الشریعہ امام عبدالوہاب شعرانی میں ہے کہ سیدی علی مرصفی قدس سرہ نے ایك رات دن میں تین لاکھ ساٹھ ہزارختم فرمائے ۔ آثارمیں ہے امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہ الکریم بایاں پاؤں رکاب میں رکھ کر قرآن مجید شروع فرماتے اور دہنا پاؤں رکاب تك نہ پہنچتا کہ کلام شریف ختم ہوجاتا۔ بلکہ خود حدیث میں ارشاد ہے کہ داؤد علیہ السلام اپنے گھوڑے زین کرنے کو فرماتے اور اتنی دیر سے کم میں زبور یاتوراۃ مقدس ختم فرمالیتے۔ توراۃ شریف قرآن مجید سے حجم میں کئی حصے زائد ہے
والحدیث رواہ احمد والبخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال خفف علی داؤد القران فکان یامر بدوابہ فتسرج فیقرأ القران من قبل ان تسرج دوابہ ۔
امام احمد اور امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ حدیث شریف روایت کی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : حضرت داؤدعلیہ السلام پراﷲ تعالی نے تلاوت آسان فرمادی تھی آپ سواری پرزین رکھنے کاحکم دیتے اور زین رکھی جاتی توآپ زین رکھنے سے پہلے زبورتلاوت کرلیتے۔ (ت)
یہ سب روایات اوران سے زائد ہماری کتاب “ الفیوض المکیۃ لمحب الدولۃ المکیۃ “ میں ہیں ان افعال کریمہ کوحجت نہ ماننا کیسی گستاخی ہے جاہل وہ کہ اسوت اور حجت میں فرق نہ جانے ہم ان میں اقتداء پرقادرنہیں مگروہ حجت شرعیہ ضرور ہیں کہ فی نفسہ یہ فعل حسن ہے کراہت یاممانعت اگرآئے گی تو عوارض
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب السابع عشرفی الفناء نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۵۲
المیزان الکبرٰی فصل فی بیان بعض مااطلعت علیہ من کتب الشریعۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۹
صحیح البخاری کتاب الانبیاء قول اﷲ اٰتینا داؤدزبورا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۸۵
#11722 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
سے اور وہ یہاں پانچ ہیں :
اول عدم تفقہ یعنی جلدی کی وجہ سے معانی قرآن کریم میں تفکروتدبرنہ ہوسکے گا اصل وجہ منصوص فی الحدیث ہی ہے سنن دارمی و ابی داؤد و ترمذی و ابن ماجہ میں عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
لم یفقہ من فرائض القران فی اقل من ثلاث ۔
جس نے تین رات سے کم میں قرآن مجید ختم کیا اس نے سمجھ کرنہ پڑھا۔
یہ وجہ صرف نفی افضلیت کرتی ہے جس سے کراہت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ ولہذا علمگیری میں کراہت شبینہ کے قول کو بصیغہ ضعف ومرجوحیت نقل کیا :
حیث قال افضل القرأۃ ان یتدبر فی معناہ حتی قیل یکرہ ان یختم القران فی یوم واحد ۔
یہاں الفاظ یہ ہیں کہ افضل قرأت یہ ہے کہ اس کے معانی میں تدبر ہوحتی کہ یہ کہاگیا ہے کہ ایك دن میں ختم قرآن مکروہ ہے۔ (ت)
اقول : پھریہ بھی ان کے لئے ہے جوتفکر معانی کریں یہاں کے عام لوگ کہ کتناہی دیرمیں پڑھئے تفکر سے محروم ہیں ان کے لئے دیر بے سود ہے اور وہ مقصود لذاتہ نہیں بلکہ اسی لئے مقصود ہے ان کے لئے معتدل جلدی ہی کاافضل ہونا چاہئے کہ جس قدر جلد پڑھیں گے قرأت زائد ہوگی اورقرآن کریم کے ہرحرف پردس نیکیاں ہیں سوکی جگہ پانسوحرف پڑھے تو ہزار کی جگہ پانچ ہزارنیکیاں ملیں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من قرأ حرفا من کتاب اﷲ فلہ حسنۃ و الحسنۃ بعشرا مثالھا لااقول المـ حرف ولکن الف حرف ولام حرف ومیم حرف ۔ رواہ الدارمی و الترمذی و صححہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جس نے قرآن کریم کا ایك حرف پڑھا اس کے لئے ایك نیکی ہے اور ہرنیکی دس نیکیاں میں نہیں فرماتا کہ المـ ایك حرف ہے بلکہ الف ایك حرف ہے اور لام ایك حرف ہے اور میم ایك حرف ہے۔ اسے دارمی اور ترمذی نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیااور اسے صحیح کہا۔ (ت)
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب القرأۃ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۱۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الرابع فی الصلوٰۃ الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۱۷
جامع الترمذی باب ماجاء فی من قرأحرفا من القرآن الخ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۱۵
#11723 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
اور ہرثواب فہم پرموقوف نہیں امام احمد رضی اللہ تعالی عنہ نے رب عزوجل کوخواب میں دیکھا عرض کی : اے میرے رب! کیاچیزتیرے بندوں کو تیرے عذاب سے نجات دینے والی ہے۔ فرمایا : میری کتاب۔ عرض کی : یارب بفھم اوبغیرفھم اے میرے رب! سمجھ کر یابے سمجھ بھی۔ فرمایا : بفھم وبغیرفھم سمجھ کر اور بے سمجھے۔
دوم کسل نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : ان اﷲ لایسأم حتی تسأموا بیشك اﷲتعالی ثواب دینے میں کمی نہیں فرماتا جب تك نہ اکتاؤ۔
اقول : یہ وجہ عام عوام کو عام ہے اور احکام فقہیہ میں غالب ہی کااعتبار ہوتاہے کمابیناہ فی رسالتنا کشف الرین علی حکم مجاورۃ الحرمین ورسالتنا جمل النور فی نھی النساء عن زیارۃ القبور(جیسا کہ ہم نے اسے اپنے رسالے کشف الرین علی حکم مجاورۃ الحرمین اور اپنے رسالے جمل النور فی نہی النساء عن زیارۃ القبور میں بیان کیاہے۔ ت) مگر اس وجہ کا مفاد صرف کراہت تنزیہی ہے علماء نے تصریح فرمائی کہ کسل قوم کے سبب تراویح میں قرآن نہ چھوڑیں ۔ تنویرالابصار و درمختارمیں ہے :
الختم مرۃ سنۃ ولایترك الختم لکسل القوم (ملخصا)
ایك دفعہ ختم قرآن سنت ہے لہذا اسے قوم کی سستی کی بناپر ترك نہ کیاجائے(ملخصا)۔ (ت)
اگرکراہت تحریم ہوتی اس سے احتراز احتراز سنت پرمقدم رہتا اور مکروہ تنزیہی جواز واباحت رکھتاہے نہ کہ گناہ وحرمت کماحققناہ فی رسالتنا جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیھا لیس بمعصیۃ (جیسا کہ ہم نے اپنے رسالے جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیۃ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)سوم ہذرمہ گھاس کاٹنا۔ درمختارمیں ہے :
یاتی الامام والقوم بالثناء فی کل شفع ویزید الامام علی التشھد (بان یاتی بالدعوات بحر ش) الا ان یمل
امام اور مقتدی ہرشفع میں ثناپڑھیں اور امام تشہد پراضافہ کرے (بایں طور کہ دعائیں پڑھے بحر ش) مگرقوم اکتا جائے توصلوۃ پڑھ لے اور
حوالہ / References مسنداحمد بن حنبل حدیث سیّدہ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۶ / ۲۴۷
درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۸
درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹
ردالمحتار آخر باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۷
#11725 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
القوم فیاتی بالصلات ویترك الدعوات و یجتنب المنکرات ھذرمۃ القرأت وترك تعوذوتسمیۃ وطمانینۃ وتسبیح و استراحۃ ۔
اور دعائیں ترك کردے ممنوعات سے اجتناب کرے مثلا بہت زیادہ تیز قرأت کرنا تعوذ وتسمیہ کوترك کرنا اطمینان کے ساتھ نمازادانہ کرنا تسبیح اور جلسہ استراحت کا ترك کرنا۔ (ت)
بعض لوگ ایساجلد پڑھتے ہیں علیم یا حکیم یعقلون تعلمون غرض لفظ ختم آیت کے سواکچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ نفس سنت کافانی اور بدعت شنیعہ اور اساء ت ہے۔
چہارم ترك واجبات قرأۃ مثل مدمتصل یہ صورت گناہ ومکروہ تحریمی ہے۔
پنجم امتیاز حروف متشابہ مثل ث س ص ت ط ز ذ ظ وغیرہا نہ رہنا یہ خود حرام ومفسدنماز ہے مگرہندوستان کی جہالتوں کاکیاعلاج حفاظ وعلماء کودیکھاہے کہ تراویح درکنار فرائض میں بھی اس کی رعایت نہیں کرتے نمازیں مفت بربادجاتی ہیں انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ شبینہ مذکورہ سوال کہ ان عوارض سے خالی تھا اس کے جواز میں کوئی شبہہ نہیں مگر اتناضرور ہے کہ جماعت نفل میں تداعی نہ ہوئی ہو کہ مکروہ ہے مسلمانوں کوفحش گالیاں دینا خصوصا ماں بہن کی خصوصا مسجدمیں سخت فسق ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس المؤمن بالطعان ولااللعان ولاالفاحش ولاالبذی ۔ رواہ احمد والبخاری فی الادب المفرد والترمذی وحسنہ و ابن حبان والحاکم فی صحیحھما عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔
مسلمان نہیں ہوتاہے بہت طعنہ کرنے والا بہت لعنت کرنے والا نہ بے حیافحش گو۔ اسے امام احمد بخاری نے ادب المفردمیں ترمذی نے اسے حسن کہا۔ ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔
خصوصا جو اس کاعادی ہے اس کے سخت فاسق معلن ہونے میں کلام نہیں اسے امام بناناگناہ ہے اور اس کے پیچھے نمازپڑھنا مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پڑھ لی توپھیرنی واجب فتاوی حجہ و غنیہ میں ہے : لوقدموا فاسقا یاثمون (اگرفاسق کوامامت کے لئے مقدم کردیا توتمام لوگ گنہگار ہوں گے۔ ت)
حوالہ / References درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۹۹
جامع الترمذی باب ماجاء فی اللغۃ مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۹
غنیہ المستملی فصل فی الامامۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳
#11726 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے : لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقدوجب علیھم اھانتہ شرعا (کیونکہ اس کی امامت کے لئے تقدیم میں تعظیم ہے حالانکہ شرعا اس کی اہانت لازم ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۸۲ : ازگھوسی ضلع اعظم گڑھ محلہ کریم الدین پورمرسلہ جامع فنون عقلیہ ونقلیہ فقیہ ملت مولنا حکیم محمد امجدعلی صاحب اعظمی رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ مصنف بہارشریعت ۸ / رمضان المبارك ۱۳۳۱ھ
حضور والابرکت دامت برکاتہم بعدسلام ونیاز غلامانہ معروض حافظ نے تراویح میں فاتحہ اور سورہ توبہ کے درمیان اعوذ باﷲ من النار ومن شر الکفار الخ بالجہر قصدا پڑھا اب دریافت طلب یہ امرہے کہ نمازہوئی یانہیں اور ہوئی تو کیسی اگرنماز واجب الاعادہ ہوتو ان دونوں رکعتوں میں جوقرآن پڑھاگیاختم کے پوراہونے میں اس کااعادہ بھی ضرورہے یاکیا
الجواب :
سورہ توبہ شریف کے آغاز پربجائے تسمیہ یہ تعوذ محدثات عوام سے ہے شرع میں اس کی اصل نہیں خیربیرون نماز اس میں حرج نہ تھا رہی نماز اگرسورہ فاتحہ کے بعد یہی سورہ توبہ شروع کی اور اس سے پہلے وہ اعوذپڑھی تونمازمکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوئی کہ واجب ضم سورۃ بوجہ فصل بالاجنبی ترك ہوا مگراعادہ تراویح سے اعادہ قرآن لازم نہیں یہ جب تھا کہ تراویح باطل ہو جاتی اوراگرفاتحہ کے بعد کچھ آیات انفال پڑھ کر توبہ شروع کی اور اس سے پہلے وہ تعوذپڑھا تو اگرچہ کراہت تحریم ووجوب اعادہ نہیں مگرجماعت تراویح میں مثل جماعت فرائض وواجبات یہ فعل مکروہ وخلاف سنت ضرورہے اور اس کاجہرسے پڑھنا اورزیادہ نادانی وقلت شعور ہے ان دورکعتوں کااعادہ اولی ہے۔ قرآن عظیم کے اعادہ کی اصلا حاجت نہیں ۔ درمختارمیں ہے :
الامام لایشتغل بغیر القران وماورد حمل علی النفل منفردا ۔
امام قرآن کے علاوہ میں مشغول نہ ہو اور جودعائیں وغیرہ منقول ہیں وہ اس صورت پرمحمول ہیں جب اکیلاآدمی نفل پڑھ رہاہو۔ (ت)
ردالمحتارو حلیہ میں ہے :
اما الامام فی الفرائض فلما ذکرنا من انہ
فرائض میں امام کامعاملہ تووہی ہے جو ہم ذکرکرآئے
حوالہ / References تبیین الحقائق باب الامامۃ مطبوعہ مطبعۃ کبرٰی امیریہ مصر ۱ / ۱۳۴
درمختار فصل یجہر الامام مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۸۱
#11727 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یفعلہ فیھا وکذا الائمۃ من بعدہ الی یومنا ھذا فکان من المحدثات ولانہ تثقیل علی القوم فیکرہ واما فی التطوع فانکان فی التراویح فکذلک الخ واﷲ تعالی اعلم۔
یعنی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نماز میں ایسا فعل نہیں کیا اسی طرح آپ کے بعد آج تك ائمہ نے بھی نہیں کیا تو اب اس کے خلاف کرنا بدعت ہوگا اور دوسرا یہ بھی ہے کہ قوم پرثقل ہوگا لہذا مکروہ ہے رہا معاملہ نوافل کا تو اگرتراویح میں تو وہاں بھی یہی حکم الخ(ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۸۳ : از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمدجان صاحب مرسلہ محمد احمدخاں صاحب ۲۰ / شوال ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص کہے کہ نمازتراویح میں قرآن شریف کے سننے سے ذکر ولادت باسعادت آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا سننا اچھاہے آیا یہ شخص غلطی پرہے یانہیں بحوالہ کتب تحریرفرمائیں ۔
الجواب :
اگرچہ قرآن عظیم وتہلیل وتکبیر وتسبیح و ذکرشریف حضورپرنورسیدالعالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سب ذکرالہی ہیں کریمہ ورفعنا لك ذکرك کی تفسیرمیں حدیث قدسی ہے :
جعلتك ذکرا من ذکری فمن ذکرك فقد ذکرنی ۔
یعنی رب العزت عزوجل اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے فرماتاہے میں نے تمہیں اپنے ذکر میں سے ایك ذکربنایا توجس نے تمہاراذکر کیا اس نے میراذکرکیا۔ (ت)
مگرقرآن عظیم اعظم طرق اذکار الہیہ ہے حدیث قدسی میں سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں رب عزوجل فرماتاہے :
من شغلہ القران عن ذکری ومسألتی اعطیتہ افضل من اعطی السائلین وفضل کلام اﷲ علی سائر الکلام
جسے قرآن عظیم میرے ذکر ودعا سے روکے یعنی بجائے ذکرودعا قرآن عظیم ہی میں مشغول رہے اسے مانگنے والوں سے بہترعطاکروں اور کلام اﷲ کافضل
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی القرأۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۵۴۵
کتاب الشفاء الفصل الاول من الباب الاول مطبوعہ شرکۃ صحافیۃ دولت عثمانیہ ترکی ۱ / ۱۵
#11728 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
کفضل اﷲ علی خلقہ ۔ رواہ الترمذی وحسنہ ۔
سب کلاموں پرایساہے جیسا اﷲعزوجل کا فضل اپنی مخلوق پر۔ اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن قراردیاہے۔ (ت)
خصوصا تراویح کاایك ختم کہ سنت جلیلہ ہے اور مجلس میلاد مبارك عمل مستحبات اور سنت مستحب سے بلاشبہہ افضل ہاں اگرکسی شخص کے لئے کوئی عارض خاص پیدا ہو تو ممکن کہ ذکرشریف سننا اس کے حق میں قرآن مجید سننے بلکہ اصل تراویح سے بھی اہم وآکد ہوجائے مثلا اس کے قلب میں عدورجیم نے معاذاﷲ حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف سے کچھ وساوس ڈالے اور ایك عالم دین مجلس مبارك میں ذکر اقدس فرمارہاہے اس کاسننا اس وساوس کو دور کرے گا اور دل میں معاذاﷲ معاذاﷲ ان کے جم جانے کااحتمال ہے توقطعا اس پرلازم ہوگا کہ ذکرشریف میں حاضرہوکہ محبت وتعظیم حبیب کریم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم اصل کارومدارایمان ہے معاذ اﷲ یہ نہ ہو توپھر نہ قرآن مفید نہ تراویح نافع نسأل اﷲ العفو والعافیۃ (ہم اﷲ تعالی سے معافی اور درگزر کاسوال کرتے ہیں ۔ ت)
مسئلہ ۱۰۸۴ : از بنگالہ ضلع چاٹگام تھانہ راؤجان موضع پھمرا مرسلہ مولوی مہدی صاحب ۱۴شول ۱۳۲۱ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندرین مسئلہ کہ درماہ رمضان المبارك جماعت وترنہ نمودن وہرروز ازجماعت موجودہ بیروں رفتن شرعا جائز است یانہ وتارك جماعت وتررافاسق وفاجر و غیرآں خواند شودیانہ حسب شرع چہ حکم ست۔ بینوتوجروا۔
اس مسئلہ میں علمائے دین کیافرماتے ہیں کہ ماہ رمضان میں جماعت وتر میں شرکت نہ کرنا اور ہرروز جماعت موجودہ سے باہر چلاجانا شرعا جائز ہے یانہیں وتر کی جماعت کے تارك کوفاسق وفاجر وغیرہ کہاجاسکتاہے یانہیں شریعت کاحکم کیاہے بینواتوجروا۔
الجواب :
جماعت وترنہ واجب ست نہ مؤکد در ترك اوہیچ بزہ کاری نیست بلکہ اختلاف درانست کہ افضل جماعت ست یاوتر تنہا گزاردن فی الدرالمختار ھل الافضل فی الوتر
جماعت وترنہ واجب نہ سنت مؤکدہ اس کے ترك میں کوئی گناہ نہیں بلکہ اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ جماعت افضل ہے یاتنہا وتراداکرنا۔ درمختارمیں ہے کہ کیا وترجماعت کے ساتھ افضل
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن مطبوعہ کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۱۶
سنن الدارمی باب فضل کلام اﷲ تعالٰی الخ حدیث ۳۳۵۹ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۲ / ۳۱۷
#11730 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
الجماعۃ ام المنزل تصحیحان ھ واﷲ تعالی اعلم
ہیں یاگھرپرتنہاپڑھنا دونوں قولوں کی تصحیح ہوئی ہے الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۸۵ : ازموضع خوردمؤ ڈاك خانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مسئولہ سیدصفدرعلی صاحب ۲۳محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ کچھ قید ہےکہ نماز وتر کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورہ اخلاص ہی ضم ہو دوسری سورۃ نہ ہو
الجواب :
کوئی قیدنہیں اختیارہے جوسورۃ چاہے پڑھے یاچھوٹی آیتیں یابڑی ایك آیت۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۰۸۶ : ازمولوی عبداﷲصاحب مدرس مدرسہ منظرالاسلام بریلی ۹صفر ۱۳۳۹ھ وتروں میں مشابہ سے دعائے قنوت بھول جانے پرکیا پڑھناچاہئے اور ایسی حالت میں سجدہ سہو کرناہوگا یانہیں
الجواب :
ہردعا پڑھنے سے واجب قنوت ساقط ہوجاتاہے ہاں اگربالکل کوئی دعابھول کرنہ پڑھی تو سجدہ سہو کرے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۸۷ : از شہر مرادآباد محلہ مغلپورہ حصہ اول مرسلہ مولینا مولوی سیداولادعلی صاحب ۹ / رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وتروں کے مسبوق کواپنے فوت شدہ رکعت میں قنوت پڑھنی چاہئے یانہیں
الجواب :
مسبوق کی اگر وتر کی تینوں رکعتیں فوت ہوئیں اخیرمیں قنوت پڑھے اور اگرایك رکعت بھی ملی ہے اگرچہ تیسری کے رکوع ہی میں شامل ہواتو اب باقی نماز میں قنوت نہ پڑھے گا۔ درمختارمیں ہے :
المسبوق فیقنت مع امامہ فقط ویصیر مدرکا بادراك الرکوع الثالثۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسبوق امام کے ساتھ صرف قنوت پڑھے اور وہ تیسری رکعت کارکوع پانے سے مدرك ہوجائے گا واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References درمختار آخرباب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، بھارت ۱ / ۹۹
درمختار آخرباب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، بھارت ۱ / ۹۴
#11731 · باب الوتروالنوافل (وتراورنوافل کابیان)
مسئلہ ۱۰۸۸ : مسئولہ شوکت علی صاحب ۱۷ / ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نمازوتر کی تیسری رکعت میں بعد الحمد و قل کے تکبیرکہہ کر دعائے قنوت کے بدلے میں تین۳ بار قل ھو اﷲ شریف پڑھ لیتا ہے اور دعائے قنوت اس کو نہیں آتی ہے پس اس کی نماز وتر کی صحیح ہوتی ہے یانہیں اور اگروہ ہرروز سجدہ سہوکرلیاکرے تونماز وتر اس کی صحیح ہوجایاکرے گی بینوا توجروا۔
الجواب :
نمازصحیح ہوجانے میں توکلام نہیں نہ یہ سجدہ سہو کامحل کہ سہوا کوئی واجب ترك نہ ہوا دعائے قنوت اگریادنہیں یاد کرناچاہئے کہ خاص اس کا پڑھناسنت ہے اور جب تك یاد نہ ہو اللھم ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار پڑھ لیاکرے یہ بھی یادنہ ہو تو اللھم اغفرلی تین۳ بار کہہ لیاکرے یہ بھی نہ آتا ہو توصرف یا رب تین بارکہہ لے واجب اداہوجائے گا رہا یہ کہ قل ھواﷲ شریف پڑھنے سے بھی یہ واجب اداہواکہ نہیں اتنے دنوں کے وترکااعادہ لازم ہو۔ ظاہریہ ہے کہ اداہوگیا کہ وہ ثناء ہے اور ہرثناء دعا ہے۔
بل قال العلامۃ القاری وغیرہ من العلماء کل دعاء ذکر وکل ذکردعاء وقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم افضل الدعاء الحمد ﷲ۔ رواہ الترمذی وحسنہ و النسائی وابن ماجۃ وابن حبان و الحاکم وصححہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما ھذا ولیحرر واﷲ تعالی اعلم۔
بلکہ علامہ علی قاری اور دیگرعلماء نے فرمایا ہردعاذکر ہے اور ہر ذکردعا۔ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کافرمان ہے سب سے افضل دعا الحمدﷲ ہے۔ اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن کہا۔ نسائی ابن ماجہ ابن حبان اور حاکم نے حضرت جابربن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کرکے صحیح کہا اسے محفوظ کرلو اور غورکرناچاہئے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
_________________
حوالہ / References مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب التسبیح والتحمیدالخ مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۵ / ۱۱۲
جامع الترمذی ابواب الدعوات مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۷۴ ، مستدرك علی الصحیحین باب افضل الذکر الخ مطبوعہ دارالفکربیروت ۱ / ۴۹۸
#11733 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
مسئلہ ۱۰۹۵ تا ۱۰۸۹ : از شہر دمن عملداری پرتگیز مرسلہ ضیاء الدین صاحب ۲۶ / جمادی الاخری ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہابی نے اول چندرسائل عقائد وہابیت و گستاخی شان معـظمان دین پرمشتمل طبع کئے جس پرعلمائے بمبئی وغیرہ نے ۱۳۱۳ھ میں اس کی وہابیت پرفتوی دیا اس نے باصرار جماعت اہلسنت مجبورہوکر اپنے تحفظ کے لئے ربیع الاول ۱۳۱۴ھ اس وقت ایك پرچہ باظہار توبہ چھاپ کرشائع کردیا جب اہلسنت اس کی طرف سے مطمئن ہوگئے تو اس نے اپنے اسی زمانہ سابق وہابیت کی تحریرات سے ایك تحریر حال کی بتاکر ظاہرکی جس کا تاریخی نام “ ضروری سوال “ لکھاہے جس سے وہی ۱۳۱۳ھ پیداہے اگرچہ آخر میں ۱۳۱۵ھ لکھ دیاہے اس تحریر پروہ طالب مباحثہ ہے اور چندشرائط بحث لکھے ہیں وہ تحریر خاص اس کے قلم کی لکھی ہوئی مع توبہ نامہ و شرائط مباحثہ حضرات علمائے اہلسنت کے ملاحظ میں حاضر کرکے چند امور کا استفسارہے :
(۱) اس تحریر میں جوحکم اس نے قراردیاکہ نمازفجر میں قنوت پڑھنا وقت فتنہ وفساد وغلبہ کفارجائز وباقی وغیرمنسوخ ہے اور باقی کسی سختی مثل طاعون و وبا وغیرہ کے وقت جائزنہیں یہ حکم تفصیلی ہمارے ائمہ کاہے یا اس کا اپنااختراع ہے۔
(۲) طاعون یاوبا کے لئے قنوت ما ننے کوکذب وبہتان بتانا علمائے کرام وفقہائے اعلام کی شان میں گستاخی ہے یانہیں ـ
#11734 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
(۳) اس تحریر کے مضامین والفاظ وطرزبیان واملاوانشا سے اس شخص کابے علم وجاہل ومنصب فتوی کے ناقابل ہوناظاہرہے یانہیں ۔
(۴) اگرظاہر ہے تونااہل کومفتی بننا حلال ہے یاحرام اور اس کے فتوے پرعوام کواعتماد چاہئے یانہیں
(۵) اس نے اس تحریر میں جوسندیں تقریرمیں لکھی ہیں اگر ان سے اس کا مطلب ثابت نہیں تو آیا یہ امرصرف اس کی جہالت وبے علمی سے ہے یاکہیں بددیانتی اور عوام کوفریب دہی بھی پیداہوتی ہے
(۶) جو اس تحریر ضروری سوال کوصحیح ودرست بتائے وہ جاہل ونافہم ہے یانہیں
(۷) شرائط مباحثہ جو اس نے لکھے ہیں وہ اس کے اگلے اشتہار توبہ کے خلاف ہیں یانہیں اور اس سے اس کی قدیم وہابیت کی بوپیدا ہوتی ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اللھم لك الحمدتحریرات مذکورہ نظرسے گزریں ضروری سوال میں جو حکم اختیار کیامحض خلاف تحقیق ہے ہمارے ائمہ کرام کی تصریحات کتب متون دیکھئے توعموما یہ ارشاد ہے کہ غیروترمیں قنوت نہیں ان میں وقت غلبہ کفار کابھی کہیں استثناء نہیں اور اگر تحقیقات جمہورشارحین پرنظرڈالئے تومطلقا نازلہ کے لئے قنوت لکھتے ہیں خاص فتنہ وغلبہ کفار کی ہرگزقید نہیں لگاتے۔ غنیہ شرح منیہ میں ہے :
قال الحافظ ابوجعفر الطحاوی انما لایقنت عندنا فی صلوۃ الفجر من غیربلیۃ فاذا وقعت فتنۃ اوبلیۃ فلاباس بہ ۔
یعنی امام ابوجعفر طحاوی نے فرمایا نمازفجر میں ہمارے یہاں قنوت نہ ہونا اس وقت ہے کہ کوئی بلاومصیبت نہ ہو جب کوئی فتنہ یاکسی قسم کی بلاواقع ہو تو نمازصبح میں قنوت پڑھنا مضائقہ نہیں ۔
شرح نقایہ برجندی میں ہے :
فی الملتقط قال الطحاوی فذکر نحوہ
یعنی امام ناصرالدین محمدسمرقندی نے ملتقط میں امام طحاوی کا قول مذکورنقل فرمایا۔
بحرالرائق میں ہے :
وفی شرح النقایۃ معزیاالی الغایۃ وان نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام الخ۔
یعنی علامہ شمنی نے شرح نقایہ میں بحوالہ غایہ امام سروجی بیان کیاکہ اگرمسلمانوں پر(معاذ اﷲ) کوئی سختی آئے تو امام قنوت پڑھے الخ
حوالہ / References غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی صلوٰۃ الوتر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲۰
شرح نقایہ برجندی فصل الوتر مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۳۰
بحرالرائق شرح کنزالدقائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۴
#11735 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
منحۃ الخالق میں ہے :
کذا فی شرح الشیخ السمعیل لکنہ عزاہ الی غایۃ البیان ولم اجد المسألۃ فیھا فلعلہ اشتبہ علیہ غایۃ السروجی لغایۃ البیان لکنہ نقل عن البنایۃ مانصہ اذا وقعت نازلۃ قنت الامام فی الصلوۃ الجھریۃ وقال الطحاوی لایقنت عندنا فی صلوۃ الفجر فی غیربلیۃ اما اذا وقعت فلاباس بہ ھ
یعنی اسی طرح پرمسئلہ شرح شیخ اسمعیل للدرر و الغررمیں ہے انہوں نے اسے غایۃ البیان علامہ اتقانی کی طرف نسبت کیامگرمجھے غایۃ البیان میں نہ ملا شایدغایہ سروجی سے اشتباہ ہوا لیکن اس نے بنایہ سے نقل کیا جس کی عبارت یہ ہے جب کوئی سختی آئے توامام جہرنماز میں قنوت پڑھے اور طحاوی نے فرمایا ہمارے نزدیك فجرمیں بغیرمصیبت نہ پڑھے تاہم جب مصیبت نازل ہوتوحرج نہیں ۱ھ(ت)
اور انہیں نے غایہ امام عینی سے نقل کیاکہ جب کوئی سختی واقع ہو امام قنوت پڑھے اور امام طحاوی کا وہی ارشاد ذکرفرمایا۔ اسی میں ہے :
(قولہ ولھما انہ منسوخ) قال العلامۃ نوح افندی ھذا علی اطلاقہ مسلم فی غیر النوازل واما عند النوازل فی القنوت فی الفجر فینبغی ان یتابعہ عند الکل لان القنوت فیھا عند النوازل لیس بمنسوخ علی ماھو التحقیق کمامر الخ۔
یعنی علامہ نوح آفندی نے فرمایا : جب حنفی کسی شافعی کے پیچھے نمازفجر پڑھے تو بغیر کسی نازلہ کے قنوت میں اس کا اتباع نہ کرے کہ وہ ہمارے نزدیك منسوخ ہے لیکن بلاؤں کے وقت صبح میں ہمارے سب اماموں کے ہاں مقتدی کو باتباع امام قنوت پڑھنا چاہئے کہ تحقیق یہی ہے کہ سختیوں کے وقت نمازصبح میں قنوت منسوخ نہیں ۔
اشباہ والنظائر میں ہے :
فی فتح القدیر ان مشروعیۃ القنوت للنازلۃ مستمرۃ لم تنسخ ۔
یعنی فتح القدیرمیں ہے کہ سختی کے لئے قنوت پڑھنے کی شرعا اجازت برابرچلی آئی ہے منسوخ نہ ہوئی۔
اسی میں ہے :
ذکر فی السراج الوھاج قال الطحاوی الخ
سراج الوہاج میں امام طحاوی کا وہ ارشاد ذکرکیا کہ کوئی بلاآئے توقنوت فجر میں حرج نہیں ۔
حوالہ / References منحۃ الخالق علی بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ / ۴۴
منحۃ الخالق علی بحرالرائق باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۵
الاشباہ والنظائر فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ۲ / ۶۲۔ ۲۶۱
الاشباہ والنظائر فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ۲ / ۶۳۔ ۲۶۳
#11736 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں غایہ سروجی کا کلام نقل کرکے مثل علامہ ابراہیم حلبی شارح منیہ فرمایا :
فتکون مشروعیۃ مستمرۃ وھو محمل قنوت من قنت من الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم بعد وفاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو مذھبنا وعلیہ الجمہور وقال الامام ابوجعفر الطحاوی رحمہ اﷲ تعالی الخ
یعنی سختیوں کے وقت قنوت کامشروع ہوناباقی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے بعد وفات اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جو قنوت پڑھی اس کاموقع یہی ہے یعنی سختی کے وقت پڑھتے تھے ہمارادور جمہورائمہ کایہی مذہب ہے امام طحاوی فرماتے ہیں کوئی فتنہ یابلاہو توقنوت میں مضائقہ نہیں ۔
حاشیہ مراقی السید الطحاوی میں ہے :
قولہ وھو محمل الخ ای حصول نازلۃ قولہ وھو مذھبنا ای القنوت للحادثۃ ۔
اس کاقول وہ موقع ہے الخ یعنی سختی کے وقت۔ اس کاقول وہ ہمارامذہب ہے یعنی کسی سختی کے واقع پر۔ (ت)
درمختارمیں ہے :
لایقنت لغیرہ الالنازلۃ ۔
(یعنی وتر کے سوا کسی نماز میں قنوت نہ پڑھے مگرکسی سختی کے لئے۔ )
فتح اﷲ المعین حاشیہ کنزللعلامۃ السیدابی السعود الازہری میں امام طحاوی کاارشاد مذکور کہ کسی بلا کے وقوت قنوت فجر میں حرج نہیں نقل کرکے فرمایا :
وظاھرہ انہ لوقنت فی الفجر لبلیۃ انہ یقنت قبل الرکوع حموی۔
یعنی علامہ سیداحمدحموی نے فرمایا امام طحاوی کے اس ارشاد سے ظاہریہ ہے کہ اگر کسی بلا کے سبب نماز فجر میں قنوت پڑھے تو رکوع سے پہلے پڑھے۔
طحطاوی حاشیہ درمیں ہے :
قال العلامۃ نوح بعد کلام قدمہ فعلی
یعنی علامہ نوح نے ایك کلام ذکرکرکے فرمایا تو اس
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب الوتر واحکامہ مطبوعہ نورمحمد تجارت کتب کراچی ص۲۰۷
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الوتر واحکامہ مطبوعہ نورمحمد تجارت کتب کراچی
درمختار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
فتح اﷲ المعین باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۲۵۲
#11737 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
ھذا لایکون القنوت فی صلوۃ الفجر عند وقوع النوازل منسوخا بل یکون امرا مستمرا ثابتا ویدل علیہ قنوت من قنت من الصحابۃ بعدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیکون المراد بالنسخ نسخ عموم الحکم لانسخ نفس الحکم قال فی الملتقط قال الطحاوی الخ (ثم قال) قال بعض الفضلاء ھومذھبنا وعلیہ الجمہور ۔
تقدیر پربلائیں اترتے وقت نمازفجرمیں قنوت منسوخ نہ ہوگی بلکہ باقی وثابت ہوگی اور اس کی دلیل صحابہ کابعد نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قنوت پڑھنا ہے توہمارے علماء جو قنوت فجر کومنسوخ بتاتے ہیں اس کی مراد یہ ہے کہ سختی وغیرسختی ہرصورت میں قنوت کاعموم منسوخ ہوگیا نہ یہ کہ قنوت رہا ہی نہیں ملتقط میں ہے امام طحاوی نے فرمایا کوئی فتنہ یا بلاہو توفجرمیں قنوت پڑھ سکتے ہیں بعض علماء نے فرمایا یہ ہمارااور جمہورکا مذہب ہے۔
ردالمحتارمیں عبارات بحر و شرنبلالی و شرح شیخ اسمعیل و بنایہ و اشباہ و غایہ و غنیہ ذکر کرکے فرمایا :
قنوت النازلۃ عندنا مختص بصلوۃ الفجر
سختی کے لئے قنوت ہمارے نزدیك نمازفجر سے خاص ہے۔
مرقاۃ شرح مشکوۃمیں ہے :
قال الخطابی فیہ دلیل علی جواز القنوت فی غیرالوتر قلت لکن یقید بما اذا نزلت نازلۃ و حینئذ لاخلاف فیہ ۔
یعنی نماز فرض میں قنوت خاص اس صورت میں ہے جب کوئی سختی اترے اس وقت اس میں خلاف نہیں
کلام یہاں مسئلہ قنوت نوازل اور اس کے اجماعی یاخلافی ہونے کے بحث میں نہیں ۔
وقد تقدم عن الشرنبلالی والحلبی و نوح افندی والطحطاوی بنسبۃ الی الجمہور المشعرۃ بحصول خلاف و افادالامام ابن الھمام فی الفتح وتبعہ الحلبی فی الغنیۃ ان قنوت النوازل امر
پہلے شرنبلالی حلبی نوح آفندی اور طحطاوی سے جمہور کی نسبت گزرا جواختلاف کی طرف مشعرہے امام ابن ھمام نے فتح اور حلبی نے ان کی اتباع میں غنیہ میں کہا کہ قنوت نازلہ اجتہادی معاملہ ہے اور دونوں طرف کے دلائل
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۸۳
ردالمحتار مطلب فی قنوت النازلۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۶
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت ، الفصل الاول مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۱۷۹
#11738 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
مجتھد فیہ وذکر کلام النظرین۔
ذکرکئے۔ (ت)
کلام اس میں ہے کہ اولا ان سب عبارات میں نازلہ بلیہ حادثہ سب لفظ مطلق ہیں کسی میں خاص فتنہ وغلبہ کفار کی تخصیص نہیں نازلہ ہرسختی زمانہ کو کہتے ہیں جولوگوں پرنازل ہو۔ اشباہ میں ہے :
قال فی المصباح النازلۃ المصیبۃ الشدیدۃ تنزل بالناس انتھی وفی القاموس النازلۃ الشدیدۃ انتھی وفی الصحاح النازلۃ الشدیدۃ من شدائد الدھر تنزل بالناس انتھی
مصباح میں ہے کہ قنوت نازلہ اس وقت پڑھی جائے گی جب لوگوں پرشدید قسم کی مصیبت نازل ہو انتہی قاموس میں ہے نازلہ کامعنی شدیدۃ انتہی صحاح میں ہے کہ نازلہ اسے کہتے ہیں جو شدائد دہرمیں لوگوں پرنازل ہوں ۔ انتہی(ت)
خود مصنف “ ضروری سوال “ کو اقرارہے کہ عندنا النازلۃ (سخت مصیبت کے وقت۔ ت) کی قید سے ہرسختی سمجھی جاتی ہے بااینہمہ برخلاف اطلاقات علماء اپنی طرف سے خاص فتنہ وفساد وغلبہ کفار کی قیدلگانا اور کہنا کہ “ ہرایك نازلہ نہیں “ کلام علمامیں تصرف بیجا ہے۔
ثانیا “ میں اطلاق سے احتجاج کرتاہوں “ کلمات علماء میں صاف تعمیم موجود ہے عامہ عبارت مذکورہ دیکھئے لفظ نازلۃ یا بلیۃ نکرہ موضع شرط میں واقع ہوا کہ اگرکوئی سختی یا کسی قسم کی بلاآئے تونمازفجر میں قنوت پڑھے یہ صراحۃ ہرمصیبت ناس کو عام ہے “ لما نصوا ان النکرۃ فی حیزالشرط تعم “ (کیونکہ علماء نے تصریح کی ہے کہ نکرہ شرط کے تحت ہو توعام ہوتاہے۔ ت) تو زید کا ان کے معنی میں وہ حکم لگادینا کلمات علماء کابگاڑنا بدلناہے۔
ثالثا ابن حبان نے اپنی صحیح بالتقاسیم والانواع میں بطریق ابراہیم بن سعد عن الزہری عن سعید و ابی مسلمہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی :
قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایقنت فی صلوۃ الصبح الا ان یدعوا لقوم او علی قوم ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نماز صبح میں قنوت نہ پڑھتے مگرجب کسی قوم کے لئے ان کے فائدے کی دعافرماتے یا کسی قوم پر ان کے نقصان کی دعافرماتے۔
فتح القدیر و غنیہ و مرقاۃ شرح مشکوۃ میں فرمایا :
وھو سند صحیح
یہ سند صحیح ہے۔ خطیب بغدادی
حوالہ / References الاشباہ والنظائر فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۶۳۔ ۲۶۲
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت الفصل الثانی مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ، ۳ / ۱۸۲
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت الفصل الثانی مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۳ / ۱۸۲
#11740 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
نے کتاب القنوت میں بطریق محمدبن عبداﷲ الانصاری ثناسعید بن ابی عروبۃ عن قتادہ حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی :
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان لایقنت الا اذا دعا لقوم اودعا علی قوم ۔
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قنوت نہ پڑھتے مگرجب کسی قوم کے لئے یا کسی قوم پردعا فرمانی ہوتی۔
کتب ثلثۃ مذکورہ میں ہے :
ھذا سند صحیح قالہ صاحب تنقیح التحقیق
یہ سند صحیح ہے صاحب تنقیح التحقیق نے اس کی تصریح کی۔
امام زیلعی نصب الرایہ میں یہ دونوں حدیثیں ذکرکرکے فرماتے ہیں :
قال صاحب التنقیح وسند ھذین الحدیثین صحیح وھما نص فی ان القنوت مختص بالنازلۃ ۔
یعنی صاحب تنقیح نے کہا ان دونوں حدیثوں کی سند صحیح ہے اور ان میں صاف تصریح ہے کہ قنوت وقت مصیبت کے ساتھ خاص ہے۔
یہ دونوں حدیثیں بھی مطلق ہیں ان میں کوئی تخصیص فتنہ وغلبہ کفار کی نہیں اور شك نہیں کہ مثلا رفع طاعون دفع وبا زوال قحط کے لئے دعابھی “ دعا لقوم “ کے اطلاق میں داخل کہ یہ بھی مسلمانوں کے لئے دعائے نفع ہے توصحیح حدیثوں سے اس کا جواب ثابت ہوا۔
فان اعتل بحمل المطلق علی المقید قلنا لیس ھذا محلہ فان ذکر واقعۃ عین داخلۃ فی اجمال بیان لایحصرہ فیھا عند احد علی انہ انما ھو مسلك الشافعیۃ وانت تظھر من نفسك الاعتماد علی مذھب الحنیفۃ وقد انبأت فی غضون کلامك انك ھھنا بصدد اثبات مذھبھم وصرحت فی اخر الرسالۃ انھا علی اصول مذھب
اگر کوئی یہ علت بیان کرے کہ مطلق کومقید پرمحمول کیاگیا ہے توہم کہیں گے کہ یہ اس حمل کامحل ہی نہیں اگرکوئی مخصوص ایساواقعہ ذکرکرے جوبیان اجمال میں داخل ہو تو اس بات کاحصر مخصوص واقعہ میں کسی کے ہاں درست نہیں علاوہ ازیں یہ شوافع کامسلك ہے حالانکہ آپ مذہب حنفیہ پراعتماد کااظہارکررہے ہیں آپ کی یہ گفتگو آگاہ کررہی ہے کہ آپ احناف کا مذہب ثابت کرنے کے درپے ہیں حالانکہ آخر رسالہ میں آپ نے یہ تصریح کی ہے
حوالہ / References مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت الفصل الثانی مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۳ / ۱۸۲
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت الفصل الثانی مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۳ / ۱۸۲
نصب الرایہ لاحادیث الہدایۃ باب احادیث القنوت فی الفجر مطبوعہ مکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۲ / ۱۳۰
#11742 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
امامناالاعظم ابی حنیفۃ النعمان رضی اﷲ تعالی عنہ وعن مقلدیھم اھ بلفظك مع ان الصحیح فی المسئلۃ الاصولۃ قولنا فقد اقام ائمتنا علیھا براھین لاقیل لاحدبھا فیتم الالزام ولایبقی لاحد مجال کلام۔
یہ رسالہ ہمارے امام ابوحنیفہ نعمان رضی اللہ تعالی عنہ کے اور ان کے مقلدین کے اصولوں پرہےاھ یہ تمہارے اپنے الفاظ ہیں باوجودیکہ صحیح مسئلہ اصول میں ہمارا قول ہے ہمارے ائمہ نے اس پرایسے دلائل قائم کئے ہیں کہ کوئی ان پرقیل وقال نہیں کرسکتا پس الزام تام ہوا اور اس کے بعد کسی کو کلام کی مجال و طاقت نہیں (ت)
رابعا مرقات شرح مشکوۃمیں ہے :
قال ابن حجر اخذ منہ الشافعی انہ لیسن القنوت فی اخیرۃ سائر المکتوبات للنازلۃ التی تنزل بالمسلمین عامۃ کوباء قحط وطاعون اوخاصۃ ببعضھم کأسر العالم او الشجاع ممن تعدی نفعہ و قول الطحاوی لم یقل بہ فیھا غیر الشافعی غلط منہ بل قنت علی رضی اﷲ تعالی عنہ فی المغرب بصفین اھ و نسبۃ ھذا لقول الی الطحاوی علی ھذا المنوال غلط اذ أطبق علمائنا علی جواز القنوت عند النازلۃ ۔
ابن حجر نے فرمایا کہ امام شافعی نے یہاں سے یہ بات اخذ کی ہے کہ اس وقت تمام فرائض کی آخری رکعت میں قنوت نازلہ پڑھنا سنت ہے جب عام مصیبت مسلمانوں پرمثلا وباقحط طاعون نازل ہو یاخاص مصیبت بعض لوگوں پر نازل ہو مثلا کسی عالم یابہادر جس کے نفع کثیرہوں کامقید ہوجانا اور امام طحاوی کا یہ قول کہ نازلہ میں اس بات کاقول امام شافعی کے علاوہ کسی نے نہیں کیا یہ ان کی طرف سے غلطی ہے بلکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے مقام صفین پرمغرب کے وقت قنوت پڑھی ہےاھ اور اس قول کی اس طریق پرامام طحاوی کی طرف نسبت کرنا غلط ہے کیونکہ ہمارے علماء شدیدمصیبت کے وقت قنوت نازلہ پرمتفق ہیں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
قال الامام النووی القنوت مسنون
امام نووی نے فرمایا فجر کی نماز میں ہمیشہ قنوت سنت
حوالہ / References مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۱۷۸
#11743 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
فی صلوۃ الصبح دائما واما فی غیرھا ففیہ ثلثۃ اقوال والصحیح المشہور انہ اذا نزلت نازلۃ کعدوا وقحط اووباء اوعطش اوضرر ظاھر فی المسلمین ونحو ذلك قنتوا فی جمیع الصلوات المکتوبۃ والافلا ذکرہ الطیبی وفیہ ان مسنونیتہ فی الصبح غیر مستفادۃ من ھذا الحدیث ۔
ہے اس کے علاوہ باقی نمازوں کے بارے میں تین اقوال ہیں صحیح اور مشہوریہ ہے کہ جب کوئی شدید مصیبت آئے مثلا دشمن کاحملہ قحط وبا پیاس یا کوئی ضررمسلمانوں پرغالب ہو تو تمام فرائض نمازوں میں قنوت پڑھیں ورنہ نہیں اس کو طیبی نے ذکرکیا۔ اور اسی میں ہے کہ اس حدیث سے نمازصحیح کے اندرقنوت کی سنت مستفاد نہیں ہوسکتی۔ (ت)
دیکھو مولینا علی قاری نے امام ابن حجرمکی سے تصریح صریح نقل فرمائی کہ جس نازلہ کے لئے قنوت پڑھی جاتی ہے وہ وباء وقحط وطاعون وغیرہا سب کوشامل ہے اور امام طیبی سے انہوں نے امام اجل ابو زکریانووی سے نقل کیا کہ نازلہ میں قحط ووبا وتشنگی وغیرہا سب داخل ہیں اور ان اقوال کومسلم ومقرر رکھا اور بعض بیان کہ خلاف مذہب سمجھے ان پراعتراض کردیا اسے برقراررکھا بلکہ نازلہ کے معنی مذکورنقل کرکے صاف فرمادیا کہ امام طحاوی کی طرف قنوت نازلہ کاانکار اس طرح نسبت کردینا ٹھیك نہیں کہ اس کے جواز پرتوہمارے علماء کااتفاق ہے اس سے صاف مفہوم کہ وہی نازلہ جس کے معنی ابھی بیان ہوچکے کہ قحط ووباء وطاعون سب اس میں داخل ہیں اسی کے لئے ہمارے علماء جواز قنوت کے قائل ہیں ۔
خامسا کیوں راہ دور سے نشان معنی مقصود دیجئے کلمات علماء سے صاف صریح تصریحیں لیجئے اسی مرقاۃ شریف میں ہے :
قال ابن الملك وھذا یدل علی ان القنوت فی الفرض لیس فی جمیع الاوقات بل اذا نزلت بالمسلمین نازلۃ من قحط وغلبۃ عدو وغیر ذلک ۔
یعنی علامہ ابن ملك نے فرمایا اس حدیث سے ثابت ہے کہ فرض میں قنوت ہمیشہ نہیں بلکہ خاص اس وقت ہے جب معاذاﷲ مسلمانوں پرکوئی سختی آئے جیسے قحط اور دشمن کاغلبہ وغیرہ۔
علامہ زین العابدین بن ابراہیم بن محمدمصری نے کتاب الاشباہ میں غایہ و شمنی و فتح کی عبارات کہ نوازل میں قنوت رواہے نقل کرکے فرمایا :
حوالہ / References مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۳ / ۱۷۹
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القنوت مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان ۳ / ۱۸۱
#11744 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
فالقنوت عندنا فی النازلۃ ثابت وھو الدعاء برفعھا ولاشك ان الطاعون من اشدالنوازل ۔
یعنی ان عبارات علما سے ثابت ہوا کہ ہمارے نزدیك بلاسختی کے وقت قنوت پڑھنا ثابت ہے اور وہ یہی ہے کہ اس بلاکے دفع کی دعاکی جائے اور شك نہیں کہ طاعون سخت تربلاؤں میں سے ہے۔
اسی طرح علامہ سیداحمدمصری نے حاشیہ نورالایضاح اور علامہ سیدمحمد دمشقی نے حاشیہ تنویرمیں دفع طاعون کے لئے قنوت پڑھنے کی تصریح فرمائی اور انہیں بحرمحقق صاحب بحرکاحوالہ دیا ان کی عبارت ان شاء اﷲ تعالی عنقریب آتی ہے اور ثانی نے زیرقول شارح مدقق لایقنت لغیرہ الالنازلۃ (شدید مصیبت کے بغیرقنوت نہ پڑھی جائے۔ ت) فرمایا :
قال فی الصحاح النازلۃ الشدیدۃ من شدائد الدھر ولاشك ان الطاعون من اشد النوازل اشباہ
صحاح میں ہے نازلہ اس مصیبت کوکہاجاتاہے جو شدائد دہرمیں سے ہو اور اس میں کوئی شك نہیں کہ طاعون شدیدترین مصیبتوں میں سے ہے اشباہ(ت)
تنبیہ : ان بیانوں سے چند امرروشن ہوئے :
اول : یہ کہ طاعون ووباء اور ان کے مثل ہربلیہ عامہ کے لئے قنوت صحیح حدیثوں کے اطلاقات سے ثابت ہے تو زید یعنی مصنف “ ضروری سوال “ کاقنوت نوازل کوجائزوثابت مان کراسے بعض نازلہ سے خاص کرنا اور باقی کی نسبت کہنا جب تك شریعت سے کسی کام کی اصل نہ ملے وہ کام یاتوبدعت ہوگا یاگناہ محض بے معنی ہے کیااطلاق احادیث اس شخص کے نزدیك کوئی اصل شرعی نہیں کہ اس کے حکم کو بے اصل وگناہ مانتاہے۔
دوم : قنوت طاعون ووبا کو نہ صرف اطلاقات کلام علمابلکہ ان کی صاف تعمی میں شامل جن میں خود امام اجل ابوجعفر طحاوی بھی داخل تو اس کی بنا پر زید کا ادعا کہ “ نہ اقوال خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت اور نہ ہمارے امام صاحب کے توابعین کے اقوال سے وہ ایك زائد بات ہے “ صریح نافہمی ہے۔
سوم : اطلاق وعموم سے استدلال نہ کوئی قیاس ہے نہ مجتہد سے خاص کمابینہ خاتم المحققین سیدنا الجد قدس سرہ الامجد فی کتابہ المستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد (جیسا کہ ہمارے والدگرامی خاتم المحققین قدس سرہ نے اپنی مبارك کتاب “ اصول الرشاد لقمع مبافی الفساد “
حوالہ / References الاشباہ والنظائر فائدہ فی الدعالرفع الطاعون مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۲۶۲
ردالمحتارمطلب فی القنوت للنازلۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ، ۲ / ۱۱
#11745 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
میں بیان کیاہے۔ ت) مثلا اس اخیرزمانہ فتن میں طرح طرح کے نشے قسم قسم کے باجے ایسے پیدا ہوئے جن کی حرمت کاذکر نہ قرآن مجید میں ہے نہ حدیث شریف میں نہ اقوال ائمہ میں مگر انہیں حرام ہی کہاجائے گا کہ وہ کل مسکر حرام (ہرنشہ آورشے حرام ہے۔ ت) کے عموم اور یہ حدیث یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف ۔ (وہ ریشم شراب اور مزامیر کوحلال سمجھیں گے۔ ) وکریمہ و من الناس من یشتری لهو الحدیث ۔ (اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں ۔ ت)کے شمول واطلاق میں داخل اب اگرکوئی جاہل کہہ اٹھے کہ یہ توتم قیاس کرتے ہو احادیث میں کہیں تصریح نہیں پائی جاتی نہ ہمارے امام صاحب کے تابعین سے ہماراتمہارا قیاس مسائل فقہیہ دینیہ میں بےکار ہے تو اس سے یہی کہنا چاہئے کہ اے ذی ہوش! یہ قیاس نہیں بلکہ جب ایك مطلق یا عام احادیث وکلمات علمائے کرام میں وارد ہے تو اس کے دائرے میں جوکچھ داخل سب کووہ حکم محیط و شامل توثابت ہوا کہ زید کا “ ضروری سوال “ میں خود ہی یہ سوال قائم کرنا کہ “ جب قنوت عندالنازلہ ثابت اور جائز ہوتی توہرقسم کی بلااور مصیبت پرجائز ہونی چاہئے “ اور اس کایہ مہمل جواب دینا کہ “ ہماراتمہارا قیاس مسائل فقہیہ دینیہ میں بے کار ہے احادیث میں کہیں تصریح نہیں پائی جاتی نہ ہمارے امام صاحب کے توابعین کے اقوال سے “ صریح نادانی ہے۔
چہارم : اگرصرف یہی اطلاق وعموم احادیث واقوال ائمہ ہوتے تو ثابت کہنے کے لئے کافی تھے ایسے مسئلے کوہرگز کذب وبہتان نہیں کہہ سکتے دوسرے دلائل کی نظر سے راجح اور ارجح کااختلاف دوسری بات ہے مگر آپ اوپرسن چکے کہ طاعون وو باء قحط وغیرہاکے لئے قنوت کی صاف صریح تصریحیں امام اجل ابوزکریانووی شارح صحیح مسلم شریف (جن کی جلالت شان پرعلمائے جمیع مذاہب حقہ کااجماع ہے) اور امام جلیل شرف الدین حسن بن محمد طیبی شارح مشکوۃ وامام شہاب الحق والدین احمد بن حجرمکی ہاشمی و علامہ عبداللطیف بن عبدالعزیز شہیربابن فرشتہ از اجلہ علمائے حنفیہ ومحقق فقیہ زین بن نجیم مصری عمدہ حنفیہو مولیناعلی محمدسلطان محمدہروی قاری مکی حنفی و فاضل جلیل سیداحمدمصری طحطاوی حنفی و عالم نبیل سیدمحمد آفندی شامی حنفی نے فرمائیں اور امام ابن حجرمکی نے اسے امام مجتہد عالم قریش سیدنا امام ابوعبداﷲ محمد بن ادریس شافعی رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا تو مصنف “ ضروری سوال “ کاقول کہ “ طاعون یاوبا کے لئے قنوت ثابت نہیں وہ ایك قسم کاکذب اوربہتان ہے اگرخطاء ایساکلمہ بے موقع کسی سے سرزد ہوجائے جناب الہی میں توبہ واستغفار جلد کرلے “ محض کذب وبہتان اور اب ائمہ کرام وعلمائے اعلام کی جناب میں گستاخی وتوہین شان ہے زیدپرلازم ہے کہ اپنی اس خطا اور بے موقع کلمے سے جناب الہی میں توبہ واستغفار کرے اگربفرض باطل یہ قنوت نوازل صرف امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب ہوتا اور ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم بالاتفاق اس سے انکار فرماتے تو غایت یہ کہ مسئلہ ائمہ مجتہدین کا
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب الاشریہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۳۷
القرآن الکریم ۳۱ /۶
#11747 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
اختلافیہ اور ہمارے مذہب کے خلاف ہوتا اسے کذب وبہتان کہنا اس حالت میں بھی حلال نہ تھا نہ کہ اس صورت میں کہ خود ہمارے ائمہ وعلماء کے بھی اطلاق وعموم ونصوص سب کچھ موجود اور اگر اسے خصوص نقل فعل کامنکر ٹھہرائیے تو اول تویہاں اس کامحل نہیں کہ اس خصوص کامدعی کون تھا جس کے رد میں زید یہ الفاظ لکھتا۔
ثانیا اوپرواضح ہوا کہ زید نے اس تحریر “ ضروری سوال “ میں نہ ہمارے متون مذہب کے ظاہر پر عمل کیانہ ہمارے شارحین اعلام کا قول لیا بلکہ اپنی طرف سے ایك نیافتوی گھڑدیا۔
بلی قد وقع مایوھمہ فی کلام بعض ائمۃ الحدیث فی تقریر مذھب الامام احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالی عنہ و فی کلام بعض ائمتنا فی توجیہ مذھب بعض الصحابۃ رضوان اﷲ تعالی علیھم ثم لم یعتمدہ ولاجعلہ مذھب علمائنا ولاذکرہ فی تقریر کلامھم مع انہ قد اثر عنہ التعمیم صریحا فیحتمل ان یکون القصر ھھنا وقع وفاقا لاحصرا وایا ماکان فجعل ھذا مذھبا لنالاسلف لزید فیہ فیما اعلم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
ہاں مذہب امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ کی تفصیل کرتے ہوئے بعض ائمہ حدیث کے کلام اور بعض صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے مذہب کی توجیہ کرتے ہوئے ہمارے بعض ائمہ کے کلام میں کچھ ایسی گفتگو واقع ہوئی ہے جو ایساوہم پیداکرتی ہے پھر اس پرکسی نے اعتماد نہیں کیا نہ ہمارے علماء کامذہب ہے اور نہ ہی یہ ان کے کلام میں مذکورہے باوجودیکہ ان کی عموم پرتصریح منقول ہے لہذا ممکن ہے کہ یہاں قصراتفاقا واقع ہوگیا ہو اور حضر مقصود نہ ہو جوبھی ہوا اسے ہمارامذہب بنادیاگیا میرے علم کے مطابق اس میں زید کے لئے کوئی فائدہ نہیں ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
“ ضروری سوال “ کے اظہار خطا کو اسی قدربس تھا بے حاجت شرعیہ ناقصوں قاصروں کی جہالتوں سفاہتوں کاشمار اپناشیوہ نہیں لقولہ تعالی و اعرض عن الجهلین(۱۹۹) (اﷲ تعالی کاارشاد گرامی ہے کہ جاہلوں سے روگردانی کیجئے۔ ت) مگرامور متعلقہ بدین میں بعد سوال سائل بیان امرحق ضروری اور یہاں مصلحت دینی اس کی طرف داعی کہ جب ایك ایسابے علم وکم فہم ومشکوك ومتہم شخص اپنے آپ کو مفتی و مصنف بنائے ہوئے ہے اور بعض عوام اسے عالم وقابل اعتماد سمجھتے ہیں تو اس کے پرجہل ونااہل ہونے کا آشکارا کرنا ان شاء اﷲ دین عوام کو نافع اور ضلالت وجہالت میں پڑنے کادافع ہوگا وباﷲ التوفیق زید کی ترکیب وبندش الفاظ وانشا و املا میں اگرچہ خطاہائے فاحشہ موجود ہیں مگر ان سے تعرض داب محصلین نہیں
#11748 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
لہذا انہیں چھوڑکر اس کے باقی کثیر وبسیار اغلاط وجہالت سے صرف بعض کااظہار کیاجاتا ہے :
جہالت ۱ : حدیث مذکور ابن حبان کہ زید کے دعوی تخصیص کاصاف رد تھی براہ نادانی اپنی دلیل بناکر لکھی اور اس پرفائدہ یہ جمادیا کہ “ یہاں سے سمجھاگیا کہ کفار ظلم کریں تونصرت چاہئے طاعون کے لئے قنوت ثابت نہیں “ عقلمندسے پوچھاجائے کہ اس حدیث میں ظلم کفار کی تخصیص کہاں ہے اور اس کے ذکر سے سوا ضرر کے تجھے کیا فائدہ حاصل ہوا۔
جہالت۲ : قنوت فجر کے بارے میں ہمارے مشائخ کرام تصریح فرماتے ہیں کہ منسوخ ہے ولہذا حکم دیتے ہیں کہ حنفی اگرفجر میں شافعی کی اقتداکرے قنوت میں اس کا اتباع نہ کرے کہ منسوخ میں پیروی نہیں اس قدر توکلمات علماء متفق ہیں ہاں محل نظریہ ہے کہ یہاں عموم نسخ ہے یانسخ عموم۔ عموم نسخ یہ کہ نازلہ و بے نازلہ کسی حال میں قنوت فجر کی مشروعیت باقی نہیں عموما نسخ ہوگیا اور نسخ عموم یہ کہ نازلہ وبے نازلہ ہرحال میں عموما قنوت کاپڑھاجانا یہ منسوخ ہوا صرف بحالت نازلہ باقی رہا نسخ عموم پرتوبہت احادیث صحیحہ دلیل ہیں جن کی تفصیل امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیرمیں افادہ فرمائی اور مسند احمد و صحیح مسلم و سنن نسائی و ابن ماجہ میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قنت شھرا یدعو علی احیاء من احیاء العرب ثم ترکہ زادابن ماجۃ فی صلوۃ الصبح ۔ وھو عند البخاری فی مغازی بزیادۃ بعدالرکوع وترك ثم ترکہ ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك مہینے تك نمازصبح میں قنوت پڑھی عرب کے کچھ قبیلوں پر دعائے ہلاکت فرماتے تھے پھرچھوڑدی۔ ابن ماجہ نے یہ اضافہ کیاکہ نمازصبح میں قنوت پڑھتے تھے۔ بخاری کے مغازی میں یہ اضافہ ہے کہ قنوت رکوع کے بعد تھی “ پھراسے ترك کردیا “ کے الفاظ کو انہوں نے ترك کردیا۔ (ت)
اور صحاح ستہ میں بضمن حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ہے کہ ترك کا سبب نزول آیہ کریمہ
لیس لك من الامر شیء او یتوب علیهم او یعذبهم فانهم ظلمون(۱۲۸)
(آپ کے ہاتھ میں معاملہ نہیں چاہے تو
حوالہ / References صحیح مسلم باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۷
سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی القنوت فی صلوٰۃ الفجر مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۸۹
صحیح بخاری باب غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۷۔ ۵۸۶
القرآن ۳ / ۱۲۸
#11749 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
اﷲتعالی ان کی توبہ قبول فرمائے یا انہیں عذاب دے کیونکہ یہ ظالم ہیں ۔ ت)
یہاں نظر دو طرف جاتی ہے اگر معنی آیت مطلقا ممانعت اور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا تارك فرمانا بربنائے ارتقاع شریعت ہو یعنی فجر میں قنوت اصلا مشروع نہ رہی تو عموم نسخ ثابت ہوگا اور اب قنوت نازلہ بھی منسوخ ٹھرے گی اور اگر معنی آیت ان خاص لوگوں پر دعائے ہلاکت سے ممانعت ہوکہ ان میں بعض علم الہی میں مشرف باسلام ہونیوالے تھے اور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ترك انہیں کے بارے میں ہو نہ مطلقا تو صرف نسخ عموم ہی ثابت ہوگا اور قنوت نازلہ مشروع رہے گی یہی دونوں نظریں امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر پھر ان کی تبعیت سے علامہ محقق حلبی نے شرح کبیر میں افادہ فرمائیں ان دونوں کتابوں اور مرقاۃ شرح مشکوۃ میں کہے :
واذا ثبت النسخ وجب حمل الذی عن انس من روایۃ ابی جعفر ( ھو الرازی ) و نحوہ ( کدینار بن عبداﷲ خادم انس رضی اﷲ تعالی عنہ مازال رسول ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ سلم یقنت فی الصبح حتی فارق الدنیا) اما علی الغلط ( لان الرازی کثیر الوھم قالہ ابوزرعۃ و دینار وقد قیل فیہ ماقیل ) او علی طول القیام فانہ یقال علیہ ایضا او یحمل علی قنوت النوازل ویکون قولہ (ا ے قول انس رضی اﷲ تعالی عنہ ) ثم ترك فی الحدیث الاخر (المراد فی الصحاح ) یعنی الدعا علی اولئك القوم لامطلقا اھ مختصرا مزید منی مابین ھلالین
جب نسخ ثابت ہو تو اس روایت کو جسے حضرت انس سے ابوجعفر( رازی) یا اس کی مثل دیگر روایات( مثلا : دینار بن عبداﷲ حضرت انس کے خادم ہیں سے مروی ہے کہ رسالتماب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وصال تك فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے ) یا غلطی پر محمول کیا جائے گا ( کیونکہ بقول رازی ابو زرع کثیر الوہم ہیں اور دینار کے بارے میں بھی جو کچھ کہا یا ہے وہ ہی کچھ ہے ) یا طول قیام پر محمول کیا جائے گا کیونکہ قنوت کا اطلاق اس پر بھی ہوتا ہے یا اسی قنوت نازلہ پر محمول کیا جائے گا اور ان ( حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ ) کا قول دوسری حدیث (جو صحح میں موجود ہے ) میں کہ پھر اسے ترك کردیا گیا یعنی قوم کے خلاف دعا ترك کردی نہ کہ ہر دعا اھ اختصار ا اور میری طرف سے وہ اضافہ ہے جو ہلالین کے درمیان ہے ( ت)
حوالہ / References فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۹ ، مرقاۃ شرح مشکوۃ باب القنوت الفصل الثانی مطبوعہ مکتبۃ ادادیہ ملتان۳ / ۱۸۲
#11750 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
نیزکتابین مذکورین میں ہے :
فیجب کون بقاء القنوت فی النوازل مجتھدا فیہ وذلك ان ھذا الحدیث (ای حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ بطریقی حماد بن ابی سلیمان وابی حمزۃ القصاب عن ابراھیم عن علقمۃ عنہ قال لم یقنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الصبح الاشھر اثم ترکہ لم یقنت قبلہ ولابعدہ ولفظ حمادلم یرقبل ذلك ولابعدہ) لم یؤثر عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من قولہ ان لاقنوت فی نازلۃ بعد ھذہ بل مجرد العدم بعدھا فیتجہ الاجتھاد بان یظن ان ذلك انما ھولعدم وقوع نازلۃ بعدھا تستدعی القنوت فتکون شرعیۃ مستمرۃ وھو محمل قنوت من الصحابۃ بعد وفاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم او ان یظن رفع الشرعیۃ نظرا الی سبب ترکہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو انہ لما نزل قولہ تعالی لیس لك من الامر شیئ ترک۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ ھ بزیادۃ ۔
مصائب کے وقت قنوت پڑھنے کوباقی رکھنے کے معاملے کو اجتہادی قراردینا واجب ہے کیونکہ یہ حدیث (یعنی حدیث ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ دوطریقوں سے مروی ہے حماد بن ابی سلیمان ابوحمزہ قصاب نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے کہ رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك ماہ تك صبح کی نماز میں قنوت پڑھا پھر آپ نے اسے ترك فرمادیا اس سے پہلے بھی آپ نے قنوت فجر میں کبھی نہ پڑھی اور نہ بعد میں ۔ حماد کے الفاظ یہ ہیں کہ اس سے پہلے بھی نہ دیکھا اور نہ بعد میں اور نہ ہی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے یہ قول منقول ہے کہ شدید مصیبت میں اس کے بعد قنوت نہیں پڑھی جائے گی بلکہ اس کے بعد محض عدم منقول ہوا لہذا اس معاملہ میں اجتہاد ہوگا بایں طور کہ غالب گمان ہے کہ اس کے بعد کوئی ایسی شدیدمصیبت ہی نازل نہ ہوئی جو قنوت کا تقاضا کرتی لہذا قنوت دائما جائز ہوگی اور یہی محمل ہے اس قنوت کا جو حضور علیہ السلام کے صحابہ رضوان اﷲتعالی علیہم سے منقول ہے یابایں طور کہ گمان یہ ہے کہ اس کاجواز ختم ہونا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ترك کے باعث ہے سبب یہ کہ جب اﷲتعالی کاقول لیس لك من الامر شیئ نازل ہو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس کوترك کردیا واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۱ھ بزیادۃ۔ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر باب الصلوۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۹
#11752 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
روشن علم تو یہ ہے مگرمصنف “ ضروری سوال “ کی سخت نافہمی کہ دومتنافی باتوں کوایك کردیا اور کچھ نہ سمجھا خود اسی کا ایك کلام دوسرے کو رد کردے گا مسلك تو وہ اختیار کیا کہ قنوت نازلہ باقی ہے منسوخ نہیں اگرچہ نازلہ کے معنی خاص فتنہ وفساد وغلبہ کفار کے لئے ایك جگہ لکھا عندالنازلہ بدعت نہیں مداومت بدعت اوردین میں نیاکام ہے۔ پھرلکھا “ دلیل اوپرنسخ قنوت کے مداومت کے طوپر اوردلیل واسطے جواز قنوت کے عندالنازلہ “ پھرلکھا مداومت کے طور پرمنسوخ اور عندلنازلہ غیرمنسوخ “ ۔ اور مزے سے وہی آیہ کریمہ اور وہی حدیث بحوالہ صحیحین ذکرکرکے کہہ دیا “ اسی آیت سے اور حدیث متفق علیہ سے نسخ قنوت عموما ثابت ہوا سوائے قنوت وترکے “ ذی ہوش سے پوچھاجائے کہ اس حدیث سے کس چیز پرقنوت مذکورتھی نازلہ پر اور نزول آیت کس قنوت کے بارے میں ہوا قنوت نازلہ میں اگر آیت وحدیث سے اس کانسخ ثابت مانتاہے تو قنوت نازلہ کہاں باقی رہی وہ ہی توصراحۃ ان سے منسوخ ہوئی یہ طرفہ تماشا ہے کہ وہی منسوخ وہی باقی ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
جہالت۳ : حدیث طارق اشجعی رضی اللہ تعالی عنہ دربارہ انکار قنوت فجر(جس طرح معمول شافعیہ ہے) نسائی نے اس طرح روایت کی کہ میں نے حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وخلفائے اربعہ رضی اللہ تعالی عنہم کے پیچھے نماز پڑھی کسی نے قنوت نہ پڑھی وہ بدعت ہے ۔ اور ترمذی و ابن ماجہ نے یوں کہ ان کے صاحبزادے سعدابومالك نے ان سے پوچھا آپ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وخلفائے اربعہ رضی اللہ تعالی عنہم کے پیچھے نمازیں پڑھیں کیا وہ فجر میں قنوت پڑھتے تھے فرمایا : نئی نکالی ہوئی ہے۔ ۔ ایك ہی حدیث مضمون ایك ہی صحابی ایك ہی مخرج اور مصنف “ ضروری سوال “ نے اسے بلفظ اول ذکرکرکے نسائی و ابن ماجہ و ابن ترمذی سب کی طرف نسبت کیا اور لفظ دوم کو بے نسبت چھوڑکرکہہ دیا : “ ان دونوں حدیثوں میں لفظ بدعت اور محدث کاواردہے “ ۔ ایسی حدیث کو دوحدیثیں کہنا اصطلاح فقہادرکنار اصطلاح محدثین پربھی ٹھیك نہیں آسکتا یہ زید کی بے خبری وغفلت ہے۔
جہالت ۴ : قنوت مذکورہ ائمہ شافعیہ وائمہ مالکیہ رضی اللہ تعالی عنہم کوحدیث مذکور سے بدعت بتاکر آگے حاشیہ جمایا : “ اورحکم بدعت کایہ ہے کہ کل محدث بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار “ (ہرنوپیداچیز بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی دوزخ میں جائے گی۔ ت) قطع نظر اس سے کہ
حوالہ / References سنن النسائی باب لعن المنافقین فی القنوت مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ۱ / ۱۲۸
جامع الترمذی باب فی ترك القنوت مطبوعہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۵۳ ، سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی القنوت فی صلوٰۃ الفجر مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۸۹
#11753 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
جملہ اولی حکم بدعت نہیں حکم بہ بدعت ہے اجتہادیات ائمہ دین کو ایسے احکام کاموردقراردیں کیسی بے باکی وجرأت ہے حاشاائمہ کرام اہلسنت کاکوئی مسئلہ ضلالت وفی النار کامصداق نہیں وہ سب حق وہدایت وسبیل جنت ہے۔
جہالت ۵ تا ۸ : حدیث عاصم بن سلیمن ذکرکی :
قلنا لانس بن مالك ان قوما یزعمون ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یزل یقنت فی الفجر فقال کذبوا انما قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شھرا واحدا یدعو علی احیاء من احیاء المشرکین ۔
اور اس کاترجمہ کیا “ ہم نے پوچھا انس بیٹے مالك سے یہ کہ مقرر ایك قوم گمان کرتی ہے یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیشہ قنوت پڑھتے تھے نمازفجرمیں سو جواب دیا مالك نے کہ وہ لوگ اپنے گمان میں جھوٹے ہیں سوائے اس کے نہیں کہ قنوت پڑھی آپ نے مہینہ ایک سوبھی بددعاکرنے کو اوپرقبیلوں کے قبیلوں سے مشرکین کے “ ۔
اولا محاورہ عرب میں زعم بمعنی مطلق قول بھی شائع یہاں تك کہ صحیح حدیث میں زعم جبریل تك واقع۔
ثانیا کلام نامحقق یاخلاف تحقیق بھی مراد ہو تویہ حکم اس قائل کے نزدیك ہوتاہے جواسے بلفظ زعم تعبیرکرتاہے اس سے یہ مستفاد نہیں کہ وہ زاعم خود بھی اسے مشکوك یامظنون سمجھتاہے زید نے زبردستی یزعمون کے معنی یہ بنالئے کہ جو قنوت فجر کی بقا کے قائل ہیں خود ہی اسے شك وگمان کے مرتبے میں جانتے ہیں اور اسی بنا پر کذبوا کاترجمہ کیا “ کہ وہ اپنے گمان میں جھوٹے ہیں “ یہ نیوجماکراب اس پرفائدہ جڑا اس حدیث سے یہ بھی سمجھاجاتاہے کہ زمانہ تابعین میں قنوت کافقط گمان ہی گمان تھا یقینی امرنہ تھا پس جتنی روایات ان روایات کے مخالف ہیں وہ سب ظنیات ہونی چاہئیں واﷲ تعالی اعلم بالصواب۔ افسوس کہ جوکہنا چاہاتھا وہ بھی کہہ نہ جانا عقلمند سے پوچھاجائے کہ قائلان قنوت مالکیہ وشافعیہ نے کس دن کہاتھا کہ قنوت فجر یقینی ہے یامانعان قنوت حنفیہ وحنبلیہ کب کہہ سکتے ہیں کہ عدم قنوت قطعی ہے مسائل اجتہادیہ دونوں طرف ظنیات ہوتے ہیں پھر یہ کون سا فائدہ آپ نے نکالا اور اس سے بحث میں کیانفع حاصل ہو۔
ثالثا اس سب سے قطع نظر کیجئے تو ان قوما یزعمون میں لفظ قوم نکرہ حیزاثبات میں ہے جس کا مفاد صرف اس قدر ہوگا کہ کچھ لوگ طور وہم بقائے قنوت مانتے ہیں ا سے کب لازم ہوا کہ زمانہ تابعین میں سب قائلان قنوت اسے اسی درج میں جانتے ہیں ۔
حوالہ / References مرقات شرح مشکوٰۃ بحوالہ قصاب باب القنوت فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۳ / ۱۸۲ ، مسند احمدبن حنبل ۳ / ۱۶۷ مسلم شریف ۱ / ۲۳ بخاری شریف ۱ / ۱۳۶
#11754 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
جہالت۹ : حدیث ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا :
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن القنوت فی الفجر ۔
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قنوت فجر سے منع فرمایا :
جس میں تین راوی ضعیف وشدیدالضعیف ہیں ذکرکرکے تضعیف رواۃ کا جواب دیا کہ “ امام صاحب کی تحقیق کو وہ مانع نہیں ۔ “
دوم : یہ کہ انس بن مالك نے بدعت اور محدث کہا توگمان یہ ہوسکتاہے کہ آپ کو اس نہی کی ضرور خبرہوگی اگرچہ بدعت اور محدث کی جگہ لفظ نہی کانہ ذکرکیاہو اور اسی پراکتفاکیا قطع نظر اس سے کہ بدعت یامحدث کے قائل حضرت طارق اشجعی ہیں نہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہما توپیداکہنے سے اس گمان کی راہ کدھر سے ملی ضرور انہیں اس نہی کی خبر ہوگی انہوں نے صراحۃ نوپیدا ہونے کی وجہ ارشاد فرمادی تھی کہ میں نے سیدعالم وخلفاء کرام صلی اﷲ تعالی علیہم وسلم سب کے پیچھے نمازپڑھی اے فرزند! وہ نئی نکلی ہے اس میں نہی پراطلاع کی بوبھی نہیں نکلتی نہ کہ اس سے گمان ہوکہ ضرورنہی معلوم ہوگی بلکہ انصافا اس سے یہی متبادر کہ نہی یا تو واقع ہی نہ ہوئی یا ہوئی تو انہیں خبرنہ تھی ورنہ عدم فعل کاذکرنہ کرتے صاف جواب دیتے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تو اسے منع فرماچکے ہیں جواب مسئلہ میں دلیل اقوی کا ترك کیوں کیاجاتا۔
جہالت۱۰ : ایك حدیث کی سند ذکرکی : عن عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اور ترجمہ میں بھی لکھا “ اس نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی “ عنہما “ سے۔ عالم صاحب کواتنی خبرنہیں کہ صحابیت درکنارمسعود سرے سے مسلمان ہی نہ ہوا جاہلیت میں مرا۔ اسے رضی اللہ تعالی عنہ میں شامل کرنا کیسی جہالت اور دانستہ ہوتو سخت ترآفت۔
جہالت۱۱ : آگے لکھا فتح القدیرمیں تحت حدیث عبداﷲ بن مسعود کے بیان کیاہے چنانچہ
لم یکن انس نفسہ یقنت فی الصبح کما رواہ الطبرانی واذا ثبت النسخ وجب حمل الذی عن انس من روایۃ ابی جعفر اما علی الغلط او علی طول القیام فانہ یقال علیہ ایضا فی الصحیح عنہ علیہ الصلوۃ
خود حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فجرمیں قنوت نہیں پڑھتے تھے اس کوطبرانی نے روایت کیاہے اور جب نسخ ثابت ہوگیا تو وہ روایت “ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ جو ابوجعفر سے مروی ہے یا تو اسے غلطی پر محمول کیاجائے گا یا طول قیام پر
حوالہ / References سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی القنوت فی صلوٰۃ الفجر مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۸۹
#11756 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
والسلام افضل الصلوۃ طول القنوت ای القیام ۔
کیونکہ حدیث صحیح میں اس پرقنوت کااطلاق موجود ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : نماز میں افضل ترین عمل طول قنوت یعنی قیام ہے۔ (ت)
قطع نظر اس سے کہ تحت حدیث فلاں یازیرآیت چناں اہل علم کے محاورہ میں اس معنی پربولاجاتاہے کہ اس آیت وحدیث کی تفسیر وشرح یا اس کی بحث میں ایساکہا یہاں مبحوث عنہ حدیث ابی جعفر رازی ہے اسی کے تحت اسی کی بحث میں حدیث ابن مسعود وحدیث طبرانی وغیرہما مذکور ہیں نہ کہ ایك دوسرے کے تحت میں عبارت فتح کاصاف مطلب جسے ہرحرف شناس عربی بے تکلف پہلی ہی نگاہ میں سمجھ لے یہ ہے کہ حدیث ابی جعفر میں جو دوام قنوت مذکورہواممکن ہے کہ وہاں قنوت سے طول قیام مراد ہوکہ لفظ قنوت اس معنی پر بھی بولاجاتاہے دیکھو حدیث صحیح میں ارشاد ہوا کہ بہترنماز طول قنوت ہے یعنی جس میں قیام دیرتك ہو۔ مصنف “ ضروری سوال “ ایسی سلیس عبارت کے واضح معنی کو خاك نہ سمجھا لفظ ایضا کو کہ صراحۃ “ یقال “ کی طرف ناظرتھا اس سے قطع نظر کرکے مابعد سے ملایا اور “ ایضا فی الصحیح “ کوسندجداگانہ ٹھہرایا ولہذا لفظ “ ایضا “ پرنشان(ــــ)کہ علامت فعل ہے لگایا اور عبارت کاترجمہ یوں فرمایا “ کیونکہ وہ لفظ قنوت کامقرربولا گیاہے اوپرطول قیام کے اور بھی بیچ حدیث کے وہ لفظ قنوت کاآیاہے جومروی ہے آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہ افضل ترین نمازوں کی وہ نماز ہے جس میں قنوت یعنی قیام درازہو “ ۔ اس جہالت کی کچھ حد ہے اور ذرایہ حسن ادابھی قابل لحاظ کہ “ بیچ صحیح حدیث کے وہ لفظ قنوت کاآیاہے “ گویایہاں اس کی بحث تھی کہ حدیث میں کہیں لفظ قنوت آیاہی نہیں ۔
جہالت ۱۲ : اسی عبارت فتح کے آخرمیں تھا :
والاشکال نشأ من اشتراك لفظ القنوت بین ماذکر وبین الخضوع والسکوت والدعاء وغیرھا ۔
یہاں اشکال قنوت کے ان معانی میں اشتراك کی وجہ سے پیداہواہے یعنی مذکورہ شئی (طول قیام) خضوع سکوت اور دعا وغیرہ کے درمیان لفظ قنوت مشترك ہے۔ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۷
فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۷
#11758 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
یہاں ماذکر سے مراد وہی طول قیام تھا اور اس کے معطوفات خضوع وسکوت ودعا وغیرہا یعنی قنوت کا لفظ جبکہ ان سب معانی پربولاجاتاہے اس وجہ سے حدیث ابی جعفر میں قائلان قنوت فجر کو اشتباہ پیش آیا اس سے سمجھ لئے حالانکہ مراد طول قیام تھا کہ ہمیشہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نماز فجرمیں قیام طویل فرمایا یہ ایسے صاف معنی ہیں کہ عربی کاہرمبتدی بے تامل سمجھ لے اب مصنف صاحب کا علم دیکھئے عبارت صرف “ ماذکر “ تك نقل کی اور ترجمہ فرمادیا “ اور جو مشکلیں پیداہوئی ہیں وہ لفظ قنوت کے مشترك المعنی کے سبب اور وجہ سے بیان اس چیز کے جومذکور ہوئی یعنی اپنے محل پر پوراہوا ترجمہ فتح القدیرکی عبارت کا “ گویا آپ کے نزدیك بین صرف شے واحد پر داخل ہوتاہے معطوف کی حاجت ہی نہیں ماذکر کے معنی یہ کہ اپنے محل پر مذکورہوئی ہے اسی پرمطلب تمام ہوگیا۔
جہالت ۱۳ : سوال قائم کیا “ جب نسخ قنوت ثابت ہوا توعندالنازلہ جوازکہاں رہا “ اور اس کے جواب میں لکھا “ جواب بصورت اجمالیہ اجماعیہ یہ ہے فی فتح القدیر وترونوافل کی بحث میں قولہ ان مشروعیۃ القنوت فی لنازلۃ مستمرۃ لم تنسخ ۔ الخ تحقیق کے جائز ہونا قنوت کا بیچ وقت سختی منسوخ نہیں “ فتح القدیرسے استناد اور قنوت نازلہ کے اجماعی ہونے کاادعا بکف چراغ دارد کاتماشا ہے فتح القدیرکی اس عبارت میں صراحۃفرمایا کہ نازلہ میں بقائے قنوت مجتہدفیہ ہے منسوخ ہونا نہ ہونا دونوں طرف نظر جاتی ہے وقد تقدم نصہ فی بیان الجھالۃ الثانیۃ (اس کے الفاظ کاتذکرہ جہالت نمبر۲ میں ہوچکاہے۔ ت) اسی عبارت منقولہ زید کے بعد بلافصل فرمایاتھا۔ “ وبہ قال جماعۃ من اھل الحدیث ۔ (محدثین کی ایك جماعت نے یہی قول کیاہے۔ ت)کہاں ایك گروہ محدثین کاقول ہونا اور کہاں اجماع۔
جہالت ۱۴ : “ جوقنوت دونوں حضرات نے نمازفجر میں پڑھی وہ بارادہ اصلاح ذات البین کے تھی نہ بددعا “ بددعانہیں مگر دعائے وصول مکروہ اور شك نہیں کہ فریقین میں ہرایك کواپنی مغلوبی مکروہ ہوئی ہے اور شك نہیں کہ دونوں جماعتیں اپنا غلبہ مانگتی تھیں مصنف ابوبکربن ابی شیبہ میں امیرالمومنین مولی کریم اﷲ تعالی وجہ الکریم سے ہے :
انہ لماقنت فی صلوۃ الصحیح انکر الناس علیہ فقال انما استنصرنا علی عدونا ۔
جب انہوں نے نمازفجر میں قنوت پڑھی تولوگوں نے آپ پراعتراض کیا توآپ نے فرمایا ہم نے دشمن پرمدد مانگی ہے۔ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۹
فتح القدیر باب صلوٰۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۹
مصنف ابن ابی شیبہ من کان لایقنت فی الفجر مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۳۱۸
#11759 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کتاب الآثار میں فرماتے ہیں :
قال ابراھیم (ھو النخعی) وان اھل اکوفۃ انما اخذوا القنوت عن علی رضی اﷲ تعالی عنہ قنت یدعو علی معویہ حین حاربہ واما اھل الشام فانما اخذوا القنوت عن معویۃ رضی اﷲ عنہ قنت یدعو علی رضی اﷲ عنہ حین حاربہ قال محمد وبقول ابراھیم ناخذ وھوقول ابی حنیفۃ ۔
حضرت ابراہیم (نخعی) نے بیان فرمایا ہے کہ اہل کوفہ نے قنوت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے اخذ کی ہے کیونکہ انہوں نے اس وقت قنوت پڑھی جب حضرت معاویہ سے ان کی جنگ ہوئی اور اہل شام نے حضرت معاویہ سے قنوت اخذ کی ہے کیونکہ وہ بھی جنگ علی رضی اللہ تعالی عنہ کے وقت قنوت پڑھاکرتے تھے اما م محمد نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم کے قول پرہماراعمل ہے اور امام ابوحنیفہ کابھی یہی قول ہے۔ (ت)
جہالت ۱۵ : “ بعید نہیں کہ ان حضرات نے قنوت اس مضمون کی پڑھی ہو “ کہ اللھم اصلح بیننا وبین قومنا فانھم اخواننا بغوا علینا (اے اﷲ! ہمارے اور قوم کے درمیان صلح پیدافرما کیونکہ وہ ہمارے بھائی ہیں انہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کردی ہے۔ ت) امیرالمومنین کی طرف سے یہ قنوت محتمل کیا امیرمعاویہ بھی معاذاﷲ امیرالمومنین کوباغی سمجھتے تھے یہ نراجاہلانہ افتراہے امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے صاف تصریح بسندصحیح موجود ہے کہ مجھے خلافت میں نزاع نہیں نہ میں اپنے آپ کو مولی علی کاہم سر سمجھتاہوں
وانی لاعلم انہ افضل منی واحق بالامر ولکن لستم تعلمون ان عثمان قتل ظلما وانا ابن عمہ وولیہ اطلب بدمہ ۔ رواہ یحیی بن سلیمن الجعفی استاذ الامام البخاری فی کتاب صفین بسند جید عن ابن مسلم الخولانی۔
میں خوب جانتاہوں کہ امیرالمومنین کرم اﷲ تعالی وجہہ مجھ سے افضل واحق بہ امامت ہیں مگر تمہیں خبرنہیں کہ امیرالمومنین عثمان رضی اللہ تعالی عنہ ظلماشہید ہوئے میں ان کاولی اور ابن عم ہوں ان کا قصاص مانگتاہوں ۔ اسے امام بخاری کے استاد یحیی بن سلیمن الجعفی نے کتاب صفین میں سند جید کے ساتھ ابومسلم خولانی سے روایت کیاہے۔
حوالہ / References کتاب الآثار باب القنوت فی الصلوٰۃ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص۴۴
کتاب صفین
#11761 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
جہالت ۱۶ : خود ہی سوال میں لکھا “ جب قنوت عندالنازلہ جائز ہوئی توہرمصیبت پرجائز ہونی چاہئے جس طرح قلت باراں وسیلاب نازلہ آندھی امراض مختلفہ خاص کروبا اور طاعون کہ وہ اشدالنازلہ ہے “ اور جواب دیا “ ہمارا تمہارا قیاس بیکار ہے ان مصیبتوں کے لئے شارع علیہ السلام نے جدا جدا طریقہ بتادیا اور ان کاحکم بھی سنادیا چنانچہ کتب فقہ ان سے مملو ہیں الخ “ اس کو قیاس بتانے کی جہالت اوپرمذکور ہوچکی مگر طاعون کو خود “ اشد النازلہ “ لکھنے سے رہاسہا اور بھی جہل کاپردہ کھول دیا جب قنوت نازلہ ثابت اور طاعون سب سے سخت تر نازلہ ہے تواس کے لئے بدلالۃ النص قنوت ثابت اور دلالۃ النص سے اثبات کو قیاس بتانا سخت جہالت اب مصنف “ ضروری سوال “ کی مثال اس ذی ہوش کی طرح ہے جس سے کہاجائے والدین کومارناحرام ہے کہ اﷲعزوجل نے فرمایا : لاتقل لھما اف ماں باپ سے “ ہوں “ نہ کہہ۔ جب ہوں کہنے ممانعت ہے تومارنا اس سے سخت تر ہے بدرجہ اولی منع ہے وہ کہے “ ہماراتمہارا قیاس مسائل فقہیہ دینیہ میں بیکار ہے “ قرآن مجید میں توکہیں والدین کومارنے کی ممانعت نہیں ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
جہالت ۱۷ : قطع نظر اس سے قلت وکثرت باراں وسیلاب وزلازل و ریاح وامراض مختلفہ سب کے لئے جداجدا طریقہ شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کہاں بتایا اگر اس بیان پرمصنف سے مطالبہ کیاجائے توخود ہی اپنی جہالت کااقرارکرناپڑے بالفرض جداجداطریقے ارشاد بھی ہوئے ہوں تو سب کے لئے ایك طریقہ عامہ ہونے کی کیامنافی ہے پھر اس باب سے سوااپنے اظہارعلم اور کیاحاصل ہوا
جہالت ۱۸ : اشباہ والنظائر والے صاحب نے فرمایا ہے کہ ۹۹۹ھ نوسوننانوے میں مصرالقاہرہ میں لوگوں نے مجھ سے پوچھا تھا طاعون میں قنوت پڑھنے سے سو میں نے جواب دیا کہ اس کی تصریح کہیں نہیں میں حکم نہیں کرسکتا چنانچہ :
قولہ سئلت عنہ فی الطاعون سنۃ تسع و تسعین وتسعمائۃ بالقاھرۃ فاجبت بانی لم ارہ صریحا ۔
ان کا قول کہ قاہرہ میں مجھ سے طاعون کے وقت قنوت پڑھنے سے متعلق ۹۹۹ھ میں سوال کیاگیا تو میں نے جوابا کہا اس پرتصریح میرے مطالعہ میں نہیں آئی۔ (ت)
صاحب اشباہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا انتقال ہشتم رجب ۹۷۰ھ کوہوا۔ علامہ حموی شرح اشباہ فن ثانی کتاب الوقف میں نقل فرماتے ہیں :
قدتوفی المصنف رحمہ اﷲ لثمان مضین
مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی وفات رجب ۹۷۰ھ
حوالہ / References الاشباہ والنظائر فائدہ فی الدعا لرفع الطاعون مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ۲ / ۶۲۔ ۲۶۱
#11763 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
من رجب سنۃ سبعین وتسعمائۃ ۔
میں ہوئی(ت)
آپ ۹۹۹ھ کاواقعہ ان سے لکھوارہے ہیں حقیقۃ اشباہ میں یہاں سنۃ تسع وستین وتسعمائۃ یعنی ۹۶۹ ھ نوسوانہتر جسے آپ ۹۹۹ ھ بتارہے ہیں ۔
جہالت۱۹ : اور پھربیان کیا(یعنی صاحب اشباہ نے ) کہ اگر کوئی قنوت پڑھاچاہے تو اکیلا دورکعت نمازنفل کی نیت کرکے پڑھے چنانچہ
یقنت للطاعون لانہ اشد عــــہ۱ النوازل بل ذکرہ عــــہ۲ انہ یصلی رکعتین فرادی فرادی وینوی رکعتی عــــہ۳ لدفع الطاعون ۔
قنوت پڑھے واسطے طاعون کے مقرر وہ بڑی سخت ہے سختیوں سے مگرجماعت سے نہ پڑھے بلکہ پڑھے دودورکعتیں اکیلے اکیلے اور نیت کرے دورکعت نفل کی واسطے دفع طاعون پوراہوا حاصل مطلب اشباہ والے کا۔
قطع نظر اس سے کہ یہ عبارت اشباہ کی نہیں بلکہ صاحب اشباہ سے ناقل عــــہ۴ کی ہے اور اس میں بل ذکرکی ضمیر خود
عــــہ۱ : “ ضروری سوال “ میں یونہی لکھا اور اسی غلطی کی بناپر طاعون کوخود بھی اشدالنازلہ کہاحالانکہ اشباہ میں من اشد النوازل ہے۱۲ (م)
عــــہ۲ : ھکذا بخطہ وصوابہ بل ذکر ۱۲(م)
عــــہ۳ : ھکذا بخطہ وصوابہ رکعتین (م)
عــــہ۴ : ظاہرا کہیں طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح دیکھنے کومل گئی اس میں انہوں نے فرمایاتھا : النوازل بل ذکر انہ یصلی لہ رکعتین فرادی وینوی رکعتا رفع الطاعون ۔
یہ ان کی تحریر ہے اور درست “ بل ذکر “ ہے(ت)
یہ ان کی تحریر ہے درست “ رکعتین “ ہے۔ (ت)
اشباہ میں ہے کہ طاعون کے لئے قنوت پڑھی جائے کیونکہ یہ شدید مصائب میں سے ہے بلکہ یہ ذکرکیا کہ دورکعات الگ الگ ادا کی جائیں اور ان کی نیت طاعون کے دفع کے لئے دورکعات کی کی جائے۔ (ت) یہ صاحب اپنی خوش فہمی سے سمجھے کہ یہ سب عبارت فی الاشباہ کے تحت میں داخل ہے ۱۲(م)
حوالہ / References غمزعیون البصائر شرح الاشباہ فن ثانی ، کتاب الوقف مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۳۰۸
غمزعیون البصائر شرح الاشباہ فن ثانی ، کتاب الوقف مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۳۰۸
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الوتر مطبوعہ نورمحمد تجارت کتب کراچی ص۲۰۶
#11765 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
صاحب اشباہ کی طرف ہے جسے آپ نے چنانچہ کہہ کر عبارت اشباہ ہونے کااشعار کیا اور بل ذکر کامطلب کچھ نہ بنا لہذا اسے ترجمہ سے خارج کردیا طرفہ سخت جہالت فاحشہ یہ ہے کہ دورکعت پڑھنے کے مسئلہ کومسئلہ قنوت کا تتمہ بنادیا کہ “ قنوت پڑھاچاہے تواکیلادو رکعت نفل کی نیت کرکے پڑھے “ اور اسی لئے اپنی طرف سے ترجمے میں “ مگر “ تراش لیا کہ “ مگرجماعت سے نہ پڑھے “ حالانکہ کوئی کم علم بھی عبارت اشباہ خواہ عبارت مذکورہ ناقل عن الاشباہ دیکھ کر کسی طرح اس جہالت کاگمان بھی نہ کرے گا اشباہ میں تو قنوت طاعون ثابت فرماکر نماز طاعون کامسئلہ ہی جداشروع فرمایا اور جداگانہ دلیلوں سے اس کا ثبوت دیا۔
حیث قال صرح فی الغایۃ بانہ اذا نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام فی صلوۃ الفجر فالقنوت عندنا فی النازلۃ ثابت ولا شك ان الطاعون من اشد النوازل وفی السراج الوھاج قال الطحاوی لایقنت فی الفجر عندنا من غیربلیۃ فان وقعت فلاباس بہ کذا فی الملتقط انتھی فان قلت ھل بلہ صلوۃ قلت ھو کالخسوف لما فی منیۃ المفتی فی الخسوف والظلمۃ فی النھار واشتداد الریح والمطروالثلج والافزاع وعموم المرض یصلی وحدانا انتھی ولاشك ان الطاعون من قبیل عموم المرض فتسن لہ رکعتان فرادی ھ مختصرا
الفاظ یہ ہیں کہ غایہ میں تصریح ہے کہ جب مسلمانوں پر کوئی بڑی مصیبت اترے توامام نمازفجر میں قنوت پڑھے پس بڑی مصیبت کے وقت قنوت ہمارے نزدیك ثابت امر ہے اور بیشك طاعون بڑی مصیبتوں میں سے ہے السراج الوہاج میں ہے کہ طحاوی نے فرمایا کہ بغیر کسی مصیبت کے ہمارے نزدیك فجر میں قنوت نہ پڑھی جائے اور اگرکوئی مصیبت نازل ہوجائے توپڑھنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ ملتقط میں ہے انتہی اگر آپ پوچھیں کہ اس کے لئے نماز ہے تومیں کہتاہوں کہ طاعون کامعاملہ خسوف کی طرح ہی ہے۔ منیۃ المفتی کے باب الخسوف میں ہے کہ سخت تاریکی شدید طوفان شدید بارش یا شدید ژالہ باری شدید خوف یامرض عام لاحق ہوجائے توتنہا نمازاداکریں انتہی اور اس میں کوئی شك نہیں کہ طاعون ایسی مرض ہے جوعام لوگوں کولاحق ہوجاتی ہے لہذا اس کے رفع کے لئے بھی دورکعات تنہا اداکرنا سنت ہوگا۱ھ مختصرا(ت)
اور ناقل نے بھی بل ذکر لکھ کر اسے جدا کردیاتھا مگرجب آدمی کو سہل سہل عبارت کاترجمہ سمجھنے کی لیاقت نہ ہوتو مجبورہے۔
حوالہ / References الاشباہ والنظائر فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون مطبوعہ مطبع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۲۶۲
#11766 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
جہالت ۲۰ : اس سے بھی سخت ترجہالت یہ کہ صاحب اشباہ کا مطلب وہ ٹھہرایا “ کہ طاعون میں قنوت کی تصریح کہیں نہیں میں حکم نہیں کرسکتا “ اور عبارت یہ نقل کی کہ یقنت للطاعون جس کا آپ ہی ترجمہ کیاکہ “ قنوت پڑھے واسطے دفع طاعون کے “ ۔ کیوں حضرت! کیایہ حکم نہ ہوا واقعہ جوبزرگوار اپنالکھا آپ نہ سمجھ سکے پورامعذور ہے یہ سردست بیس جہالتیں ہیں اور شروع کلام میں اولا سے خامسا اور اس کے تنبیہ میں اول سے چہارم تك جو سخت وجوہ قاہرہ سے “ ضروری سوال “ کی بطالتیں جہالتیں ثابت کی گئیں انہیں شامل کیجئے تو یہاں تك ۲۹جہالات شدیدہ بیان ہوئیں اب تیسویں جہالت سب سے بڑھ کر سفاہت ملاحظہ ہو “ ضروری سوال “ کی ساری محنت و جانکاہی اپنے ا س ادائے باطل کے اثبات کوتھی کہ فتنہ وغلبہ کفار کے سواطاعون وغیرہ نوازل کی قنوت کذب باطل وبہتان بے ثبوت وگناہ وبدعت وضلالت وفی النار ہے جو اسے ثابت مانے اس پرحکم تعجیل توبہ واستغفار ہے ساڑھے پانچ ورق کی تحریر میں دس صفحے اسی مضمون میں سیاہ کئے یہ سب کچھ لکھ لکھاکر اب چلتے وقت حاشیہ پرایك فائدہ کانشان دیا “ ف زمانہ طاعون میں نمازپڑھنے کی ترکیب “ اور متن میں لکھا “ ھذہ الکیفیۃ لصلوۃ الطاعون (یہ نماز طاعون کاطریقہ ہے۔ ت) پہلے دل میں نیت کرکے زبان سے کہے نویت ان اصلی ﷲ تعالی رکعتین صلوۃ النفل لدفع الطاعون متوجھا الی جھہ الکعبۃ الشریفۃ اﷲ اکبر (میں اﷲتعالی کی رضاکے لئے رفع طاعون کی خاطر دورکعات اداکرتاہوں اس حال میں کہ میں کعبۃ اﷲ کی طرف متوجہ ہوں ۔ ت) پھر دوسری رکعت کے آخر میں رکوع عــــہ۱ رکوع میں جوقنوت ماثور عــــہ۲ ہوپڑھے کہ مشتمل ہواوپر طاعون کے اور اگرایسی قنوت اس کو یاد ہی نہ ہو تو ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وقنا ربنا عذاب النار پڑھے یہ آیہ وافی ہدایہ جامع جمیع ادعیہ کی ہے “ ۔ اﷲتعالی دلوں کے ارادے سب جانتاہے چلئے وہ اگلاپچھلالکھالکایابھولنا درکنار یہی یادنہ رہا کہ “ ضروری سوال “ کی تحریر کس غرض کے لئے تھی کس بات کادعوی کاہے سے انکارتھا اپنے زعم میں جنت کا راستہ کیا طریق نارتھا خود ہی کذب وبہتان بنانے لگے ضلالت و فی النار کی ترکیبیں بنانے لگے یارب مگر اسے اختلال حواس کے سوا کیاکہئے طرفہ یہ کہ اوپر سوال قائم کیاتھا “ بارادہ دفع طاعون ووبا کون سی قنوت ہے “ اور جواب دیاتھا “ کہیں پتانہیں “ ۔ اب حکم ہوتاہے کہ قنوت ماثورہ پڑھے کہ مشتمل ہواوپر طاعون کے “ ۔ اب خداجانے کہاں سے اس کاپتا لگ گیا۔ تصحیف اغلاط یعنی عبارت کچھ ہے اور پڑھیں کچھ یوں توزیادت ونقص وتبدیل ہرقسم کی خطا اس “ ضروری سوال “ میں موجود ہے یہیں
عــــہ۱ یہ ترکیب بھی نئی ہے قنوت میں علماء مختلف ہیں کہ قبل رکوع ہے یابعد آپ فرماتے ہیں خود رکوع میں پڑھے ۱۲(م)
عــــہ۲ تحریر زید میں یونہی ہے جیسے کچہریوں میں پنچ کو پنچ مقبولہ لکھتے ہیں ۔ ۱۲(م)
#11768 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
“ قنا ربنا عذاب النار “ کو آیت بنادیا حالانکہ قرآن عظیم میں قنا کے بعد لفظ ربناکہیں نہیں من اشد النوازل سے من اڑاکر طاعون کو 'اشد النازلۃ' کہا اوراپنے ہی پاؤں پرتیشہ مارا عبارت اشباہ میں سبعین کو تسعین بنایا مگرزیادہ اظہار علم کو تصحیفین یہ ہیں شیبان بن فروخ کواصل عبارت سند اور ترجمہ دونوں میں شیبان بن فرخ عــــہ۱ لکھایہ نام صحیح مسلم و سنن ا بی داؤدوسنن نسائی میں خداجانے کتنی جگہ آیاہے اگریہ کتابیں پڑھی ہوتیں توایسی غلطی نہ ہوتی اللھم اشدد وطأتك علی مضردو جگہ آیا دونوں جگہ وطائك بہمزہ عــــہ۲ بجائے تا بنایا اور قبیلہ قارہ کو کہ یہ لفظ بھی دوجگہ وارد ہوا تھا دونوں جگہ صاف فارہ عــــہ۳ بحرف فا بجائے قاف تحریر کیا۔ اور سب میں اخیر کالطیفہ یہ کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مناجات مروی ہے :
اللھم لاقابض لمابسطت ولاباسط لما قبضت ولا ھادی لماضللت ولامضل لمن ھدیت ولا معطی لما منعت و لامانع لمااعطیت ولا مقرب لما باعدت ولامباعد لماقربت ۔
اے اﷲ! جس چیز کو تونے کشادہ کیا اسے کوئی سمیٹنے والانہیں اور جسے تونے بند کردیا اسے کوئی کھولنے والانہیں اور جس کو تونے ہدایت دی اسے کوئی کوئی گمراہ کرنے والانہیں اور جس کوتونے گمراہ کیا اسے ہدایت دینے والاکوئی نہیں اور جوتونے عطاکیا اسے کوئی روکنے والانہیں ا ور جوتونے روك لیا اسے کوئی عطاکرنے والانہیں اور جس کو تونے دورکردیا اس کوقریب کرنے والاکوئی نہیں جس کوتونے قریب کیا اسے دورکرنے والاکوئی نہیں ۔ (ت)
آپ اسے لکھتے ہیں اللھم لاقابض لمابسطت ویاباسط لماقبضت۔ اہل علم کی غلطی اس طرح کی نہیں ہوتی اتنابھی نہ سمجھا کہ یوں ہوتا تو یاقابضا لمابسطت ویاباسطا لماقبضت نصب کے ساتھ ہوتانہ بالضم کہ بوجہ حصول معمول کلمہ شبہہ مضاف ہو کر مفرد نہ رہا اور نصب واجب ہوا کقولك یاطالعا جبلا ویاخیرا من زید' اور یہ جوحدیث نقل کی جس میں یہ مناجات مذکورہوئی
عــــہ۱ : یعنی چوزہ ۱۲(م) عــــہ۲ : یعنی نشیب ۱۲(م) عــــہ۳ : یعنی چوہا ۱۲(م)
حوالہ / References مسند الامام احمد بن حنبل حدیث عبداﷲ الزرقی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۴۲۴ ، درمنثور تحت آیت ولکن اﷲ حبب الیکم الایمان مطبوعہ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمٰی قم ایران ۶ / ۸۹ ، کنز العمال غزوہ احد حدیث ۳۰۰۴۷ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۱ / ۴۳۳
#11769 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
علمائے ناقدین اسے سخت منکربتاتے ہیں یہاں تك کہ امام ذہبی فرماتے ہیں : اخاف ان لایکون موضوعا میں ڈرتاہوں کہیں موضوع نہ ہو۔ خاتم الحفاظ امام جلیل سیوطی جمع الجوامع میں اسے نقل کرکے لکھتے ہیں ' اغلاط ترجمہ' گزری جہالتوں کے بیان میں متعدد جگہ واضح ہوا کہ زید کوسیدھی سادی عربی سمجھنے اور اس کاٹھیك ترجمہ کرلینے کی استعدادنہیں اور میں ایسے ترجموں کاشاکی بھی نہیں کہ ان یدعو لقوم اور علی قوم کے ترجمے میں لکھا : “ واسطے دعاکرنے کے کسی قوم کے لئے یا اوپر بددعاکرنے کے کسی قوم پر “ یا “ سندہ صحیح “ کا ترجمہ “ سند اس حدیث کی بہت صحیح ہے “ یا “ عن ابی مالك سعد بن طارق الاشجعی “ کا ترجمہ “ روایت کی مالك سعیدبیٹے طارق اشجعی نے “ لطیف خوش فہمیوں کے ترجمے وہ ہیں جن کا بیان جہالات ۵و۸۶و۱۱و۱۲و۱۹ میں گزرا علی الخصوص ثلثۃ اخیرہ اور اسی قبیل سے ہے : اللھم انج الولید بن الولید ومسلمۃ بن ھشام وعیاش بن ابی ربیعۃ و المستضعفین من المؤمنین وغفار غفراﷲ لھا واسلم سالمھا اﷲعــــہ کاترجمہ “ اے پروردگار خلاصی بخش ولید اور مسلمہ اور عیاش کو اور ناتواں مومنوں کو اور قبیلہ غفار کومغفرت کرے اﷲ ان کی اور قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اﷲ ان کو یعنی شرسے اعدا کے غفار غفراﷲ لہا واسلم سالمہااﷲ “ دومستقل جملے جداگانہ خبریہ یادعائیہ ہیں ۔
عــــہ : سالمھا اﷲ کا ظاہرترجمہ اﷲ نے ان سے صلح کی
علیہ درج فی اشعۃ اللمعات وفی الصراح مسالمۃ مصالحۃ وفی القاموس سالما صالحا وفی تاج العروس ومنہ الحدیث اسلم سالمھا اﷲ وھو من المسالمۃ و ترك الحرب وفی مجمع البحار اسلم سالمھا اﷲ ھو المسالمۃ وترك الحرب۱۲(م)
اسی معنی کو اشعۃ اللمعات میں بیان کیا اور صراح میں ہے مسالمۃ مصالحۃ کوکہتے ہیں اور قاموس میں ہے سالما کامعنی صالحا ہے اور تاج العروس میں ہے کہ اسی سے حدیث اسلم سالمھا اﷲ ہے۔ اس کامعنی صلح جوئی اور جنگ نہ کرنا ہے اور مجمع البحار میں ہے اسلم سالمھا اﷲ کامعنی صلح جوئی اور جنگ نہ کرناہے۔ ۱۲(ت)
حوالہ / References صحیح بخاری باب دعاء النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ قدیم کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۶ ، عمدۃ القاری شرح بخاری باب دعاء النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۷ / ۲۶
#11771 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
اقول : والاول عندی اولی لقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اسلم سالمھا اﷲ وغفار غفراﷲ لھا اما واﷲ ماانا قلتہ ولکن اﷲ قالہ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ واحمد والطبرانی فی الکبیر والحاکم عن سلمۃ بن الاکوع وابوبکر بن ابی شیبۃ عن خفاف بن ایماء الغفاری وابویعلی الموصلی عن ابی برزۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالی عنھم۔
اقول : میرے نزدیك پہلا احتمال اولی ہے کیونکہ حضور صلی اﷲ تعالیعلیہ وسلم نے فرمایا : اسلم سے اﷲتعالی نے مغفرت فرمائی خبردار! خدا کی قسم میں نے یہ بات خود نہیں کی لیکن اﷲ تعالی نے فرمائی ہے۔ اس کو امام مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور امام احمد نے اور طبرانی نے کبیر میں اور امام حاکم نے سلمہ بن اکوع اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے خفاف ابن ایماء غفاری سے اور ابویعلی موصلی نے ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)
مصنف “ ضروری سوال “ نے اپنی نادانی سے غفار و اسلم کو ولید پرمعطوف اور انج کے نیچے داخل سمجھاگویا یہ قبائل انصار بھی مثل ولید و سلمہ و عیاش و ضعفائے مومنین رضی اللہ تعالی عنہ اجمعین دست کفار میں گرفتار تھے ان سب کی نجات کے لئے دعافرمائی جاتی تھی حالانکہ یہ حدیث اس حدیث سے جداہے صحیح بخاری شریف صفۃ الصلوۃ میں بے ذکر غفار و اسلم صرف حدیث اول روایت فرمائی اور استسقامیں کہ اسے اس کے ساتھ روایت کیاصاف فصل بتادیا
حیث قال عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان اذا رفع رأسہ من الرکعۃ الاخرۃ یقول اللھم انج عیاش بن ابی ربیعۃ اللھم انج سلمۃ بن ھشام اللھم انج الولید بن الولید اللھم انج المستضعفین من المؤمنین اللھم اشدد وطأتك علی مضر
جہاں فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جب حضور علیہ الصلاۃ والسلام آخری رکعت سے سراٹھاتے تویہ کہتے اے اﷲ! نجات دے عیاش بن ابی ربیعہ کو اے اﷲ! نجات دے سلمۃ بن ہشام کو اے اﷲ نجات دے ولید بن ولید کو اے اﷲ! نجات دے مومنین میں سے ضعیفوں کو اے اﷲ! تواپنی سخت گرفت فرما مضرپر اے
حوالہ / References صحیح مسلم باب من فضائل غفارواسلم الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۲ / ۳۰۶ ، مسند احمد بن حنبل حدیث سلمہ بن الاکوع مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۴۸
#11772 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
اللھم اجعلھا اسنین کسنی یوسف وان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال غفار غفراﷲ لھا واسلم سالمھا اﷲ تعالی ۔
اﷲ! ان پر قحط مسلط فرما جس طرح یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قحط ہوا۔ اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا : غفار کے لئے اﷲتعالی نے مغفرت فرمائی ہے اور اسلم سے اﷲ تعالی نے صلح فرمائی ہے۔ (ت)
فتح الباری و عمدۃ القاری و ارشاد الساری شروح صحیح بخاری میں ہے :
قولہ وان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الخ حدیث اخروھو عند (البخاری) بالاسناد المذکور کانہ سمعہ ھکذا فاوردہ کما سمعہ زاد العینی وقد اخرجہ احمد کما اخرجہ البخاری ۔
قولہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الخ (یہ دوسری حدیث ہے اور یہ بخاری کے ہاں مذکورہ سند سے ہی مروی ہے گویاانہوں نے اسی طرح سن کر شامل کرلیا۔ اور عینی نے یہ بات زیادہ لکھی کہ اس کو امام احمد نے بھی تخریج کیا جس طرح اس کو امام بخاری نے تخریج کیا۔ (ت)
ذی ہوش نے یہ بھی نہ دیکھا کہ روایت میں غفار مرفوع ہے نہ منصوب نہ ولید پرعطف کیونکر ممکن اغلاط روایت “ ضروری سوال “ میں واقعہ بئر معونہ بطور خود ذکرکیا جسے بے اصل اغلاط سے بھردیا خلاصہ عبارت یہ ہے ایك عامر بیٹا مالك کا دوگھوڑے دو۲ اونٹ پیغمبر خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس ہدیہ لایا حضور نے فرمایا ہم کافر کاہدیہ قبول نہیں کرتے وہ اسلام تو نہ لایا مگرانکار بھی نہ کیا اور بولا اے حبیب خدا! میرے پیچھے ایك قوم ہے آپ چند اصحاب ہمراہ دوتوامید کہ وہ سب مسلمان ہوجائیں آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ستریاچالیس جوان انصار عــــہ سے جو سب کے سب قرآن مجید کے حافظ تھے عامر کے ہمراہ کردئیے اور ایك راہبر بھی ہمراہ ہولیا ان
عــــہ : سب انصاری نہ تھے بعض مہاجر تھے خمیس میں ہے : کان اکثرھم من الانصار واربعۃ من المہاجرین (ان میں اکثر انصار تھے اور چارمہاجرین۔ ت) (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References صحیح بخاری ابواب الاستسقاء باب دعاء النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۶
عمدۃ القاری شرح بخاری ابواب الاستسقاء باب دعاء النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم الخ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۷ / ۲۶ ، فتح الباری ابواب الاستسقاء باب دعاء النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم الخ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۴۱۰ ، ارشاد الساری ابواب الاستسقاء باب دعاء النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم الخ دارالکتاب العربیہ بیروت ۲ / ۲۳۶
تاریخ الخمیس سریۃ المنذر الٰی بئر معونۃ مطبوعہ موسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۴۵۲
#11774 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
پرمنذرکوسردار کیا اور بنام عامر بن طفیل ایك خط لکھواکر حوالہ منذر کے کردیا یہ صحابہ بئرمعونہ کے قریب پہنچ کر وہیں قیام کیا پھر ایك شخص کے ہاتھ وہ خط عامر بن طفیل کے پاس بھجوادیا جب وہ خط عامر بن طفیل نے پڑھا آگ کا شعلہ بن گیا اور جھپٹ کرخط پہنچانے والے کو قتل کرڈالا پھراپنے تمام حلیفوں اور قبیلوں کی کمك کے ساتھ ان صحابہ کوقتل کرڈالا اور منذر کو زندہ قیدکرلیا قطع نظر اس سے اولا عامر بن مالك ابوبراء نے “ اے حبیب خدا “ ہرگز نہ کہا کہ یہ خاص کلمہ اسلامی تھا۔
ثانیا “ : ہمراہ ہولیا “ سے ظاہریہ کہ بطورخود ساتھ ہولیا حالانکہ حدیث میں ہے خود حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مطلب سلمی رضی اﷲ تعالیعنہ کو رہبری کے لئے ہمراہ فرمادیا تھا۔
فقد اخرج الطبرانی من طریق عبداﷲ ابن لھیعۃ عن ابی الاسود عن عروۃ قال ثم بعث النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المنذر بن عمروالساعدی وبعث معہ المطلب السلمی لیدلھم علی الطریق الحدیث ذکرفی الاصابۃ فی ترجمۃ المطلب ۔
طبرانی نے اس کی تخریج عبداﷲ بن لہیعہ کے طریق سے انہوں نے ابوالاسود انہوں نے عروہ سے روایت کیا کہا کہ پھر حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے منذر بن عمرو الساعدی کو بھیجا اور ان کے ساتھ مطلب اسلمی کو بھی بھیجا تاکہ ان کو راستہ بتائیں الحدیث۔ اس کو الاصابہ میں مطلب کے عنوان کے تحت ذکرکیا۔ (ت)
ثالثا فرمان اقدس خاص بنام عامر بن طفیل نہ تھا بلکہ رؤسائے نجدوبنی عامر کے نام تھا خمیس میں ہے : وکتب
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) مدارج میں ہے : اکثرایشاں انصاربودند وبعضے ازمہاجراں (ان میں اکثر انصارتھے اور کچھ مہاجر تھے۔ ت) نیز خمیس میں ہے :
لم یکن القراء المذکورون کلھم من الانصار بل کان بعضھم من المہاجرین مثل عامر بن فھیرۃ مولی ابی بکر الصدیق ونافع بن بدیل بن ورقاء الخزاعی وغیرھما رضی اﷲ تعالی عنھم ۔
مذکور تمام اقراء انصار نہ تھے بلکہ کچھ مہاجربھی تھے جیسا کہ عامر بن فہیرہ مولی ابوبکرالصدیق اور نافع بن بدیل بن ورقاء خزاعی وغیرہما رضی اللہ تعالی عنہم مہاجرتھے۔ (ت)
حوالہ / References الاصابہ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ الطبرانی ترجمہ عبدالمطلب السلمی ۸۰۲۹ مطبوعہ دارصادربیروت ۳ / ۴۲۵
مدارج النبوۃ سریہ بئرمعونہ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۴۳
تاریخ الخمیس سریۃ المنذر بن عمروالٰی بئر معونۃ مطبوعہ مؤسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۴۵۲
#11776 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
کتابا الی رؤساء نجد وبنی عامر (اور آپ نے نجد کے رئیسوں اور بنی عامر کے نام خط لکھا۔ ت) مدارج میں ہے : مکتوبے برؤسائے نجدوبنی عامر نوشت ۔
رابعا حافظ قرآن کے اگریہ معنی کہ قرآن مجید سے کچھ یادتھا تو اس میں ان صحابہ کی کیا خصوصیت انہیں قراء نام رکھنے کی یہ وجہ نہیں ہوسکتی اور اگریہ مراد کہ جس قدر قرآن عظیم اس وقت اترا وہ سب ان سب کو یادتھا تھا تو اس کاکوئی ثبوت نہیں بلکہ انہیں قراء کہنے کی وجہ یہ کہ شب کودرس وتلاوت قرآن مجیدمیں بکثرت مشغول رہتے۔ صحیح بخاری ف میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے : یتدارسون القران باللیل ویصلون (رات کو قرآن مجید اور نمازپڑھتے۔ ت) عمدۃ القاری کتاب الجہاد باب العون بالمدد میں ہے : سموابہ لکثرۃ قراء تھم (قراء اس لئے انہیں کہاگیا کہ کثرت سے قرآن پاك پڑھتے تھے۔ ت)
خامسا عامربن طفیل کے خاص اپنے قبیلہ بنی عامر نے ہرگز کمك نہ دی بلکہ صاف انکار کردیا کہ تیراچچا عامر بن مالك انہیں اپنی پناہ میں لے چکا ہے ہم اس کاذمہ ہرگز نہ توڑیں گے۔ مواہب لدنیہ میں ہے :
استصرخ علیھم بنی عامر فلم یجیبوہ وقالوا لن تخفرابابراء وقد عقدلھم عقدا وجوارا ۔
عامر بن طفیل نے مسلمانوں کے خلاف بنوعامرقبیلہ کومدد کے لئے آواز دی پس انہوں نے مدد سے انکار کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا ہم تیرے چچا ابوبراء کامعاہدہ نہیں توڑیں گے کیونکہ اس نے ان مسلمانوں کو پناہ دینے کا معاہدہ کر رکھا ہے ۔ ت)
حوالہ / References تاریخ الخمیس سریۃ المنذر بن عمروالٰی بئرمعونہ مطبوعہ موسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۴۵۲
مدارج النبوۃ سریہ بئر معونہ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۴۳
صحیح بخاری کتاب الجہاد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۳۱ ، صحیح بخاری کتاب المغازی مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۵۸۲ ، مسند احمد بن حنبل ازمسند انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروتٍ ۳ / ۲۳۵ و ۲۷۰۔ شرح الزرقانی علی المواہب سریہ بئر معونہ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۷۵
عمدۃ القاری شرح بخاری باب العون بالمدد مطبوعہ ادارۃ الطابعۃ المنیریۃ بیروت ۱۴ / ۳۱۰
مواہب لدنیہ سریہ بئر معونہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۴۲۶
ف : صحیح بخاری میں یہ حدیث دوجگہوں پرمنقول ہے اس میں یتدارسون کی جگہ یحطبون کالفظ ہے البتہ بعینہٖ انہی الفاظ کے ساتھ یہ حدیث شرح الزرقانی میں موجود ہے حوالہ ملاحظہ ہو۔ نذیراحمد سعیدی
#11777 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
سیرت ابن ہشام میں ہے :
استصرخ علیھم بنی عامر فابوا ان یجیبوہ الی مادعالھم الیہ وقالوا لن نخفر الی اخر مامر ۔
عامر بن طفیل نے مسلمانوں کے خلاف بنوعامر کواپنی مدد کے لئے پکارا توانہوں نے اس کی مدد کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہم تیرے چچا کامعاہدہ نہیں توڑیں گے الخ۔ (ت)
خمیس میں ہے :
استصرخ عامر بن الطفیل بنی عامر علی المسلمین فامتنعوا وقالوا لانخفرذمۃ ابی براء عمک ۱لخ۔
عامر بن طفیل نے بنوعامر کومسلمانوں کے خلاف کاروائی کے لئے آواز دی توانہوں نے انکارکیا اور کہا تیرے چچا ابوبراء کے ذمہ کونہیں توڑیں گے الخ۔ (ت)
مدارج میں ہے : تمامہ بنی عامر ازجنگ مسلمانان اباآوردند (تمام بنوعامر نے مسلمانوں سے جنگ کرنے سے انکار کردیا۔ ت)
سادسا : عامر بن طفیل کاحامل فرمان اقدس حرام بن ملحان رضی اللہ تعالی عنہ کوشہید کرنابھی خلاف تحقیق ہے بلکہ ان کاقاتل اور شخص تھا کہ بعد کوسلام لے آیا کما رواہ الطبرانی عن ثابت البنانی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ (اس کوطبرانی نے ثابت بنانی سے انہوں نے انس بن مالك سے روایت کیا۔ ت) اور عدواﷲ عامر بن طفیل کفرپر مرا کما فی صحیح البخاری عن اسحق بن ابی طلحۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ (جیسا کہ صحیح بخاری میں اسحق بن ابی طلحہ سے انہوں نے انس بن مالك سے روایت کیا۔ ت)صحیح بخاری شریف میں ہے :
جعل یحدثھم فاومأ والی رجل فاتاہ من خلفہ فطعنہ ۔
یعنی حرام رضی اللہ تعالی عنہ ان کافروں کوپیام اقدس پہنچاتے اور ان سے باتیں فرمارہے تھے کہ انہوں نے کسی کو اشارہ کیا اس نے پیچھے سے آکر نیزہ مارا۔ (ت)
امام حافظ الشان عسقلانی نے فتح الباری میں فرمایا : لم اعرف اسم الرجل الذی طعنہ مجھے اس
حوالہ / References سیرت ابن ہشام سریہ بئرمعونہ مطبوعہ دارالفکربیروت ۳ / ۱۸۵
تاریخ الخمیس ، سریہ المنذر الی بئر معونہ ، مطبوعہ موسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۴۵۲
مدارج النبوۃ سریہ بئرمعونہ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۴۴
صحیح بخاری غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۵۸۶
فتح الباری شرح البخاری غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۸ / ۳۹۱
#11779 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
نیزہ مارنے والے کانام معلوم نہ ہوا۔ زرقانی شرح مواہب میں ہے :
فی الطبرانی من طریق ثابت عن انس ان قاتل حرام بن ملحان اسلم وعامر بن الطفیل مات کافرا کما تقدم انتھی من الفتح ۔
طبرانی میں ثابت کے طریق سے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حرام بن ملحان کاقاتل مسلمان ہوگیا اور عامربن طفیل کفرپر مرا جیسا کہ پہلے فتح الباری سے گزرا انتہی۔ (ت)
سابعا : ان سب سے قطع نظر کے بعد اس میں ایك غلطی یہ ہے کہ “ جب وہ خط عامرنے پڑھا آگ بگولہ ہوگیا “ ۔ کتب سیر میں تصریح ہے کہ اس خبیث نے فرمان اقدس تك نہیں ۔ سیرت ابن اسحق و سیرت ابن ہشام و مواہب لدنیہ میں ہے : لما اتاہ لم ینظر الی الکتاب (جب اسے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا خط ملا تو اس نے خط نہ پڑھا۔ ت)
ثامنا : سخت غلطی فاحش یہ ہے کہ “ منذر کوزندہ قیدکرلیا “ حالانکہ منذر رضی اللہ تعالی عنہ عین معرکہ میں شہید ہوئے معالم التنزیلف میں ہے :
قتل المنذر بن عمرواصحابہ الاثلثۃ نفر کانوا فی طلب ضالۃ لھم الخ
منذر بن عمر اور اس کے ساتھی شہید ہوئے صرف وہ تین بچے جوایك گم شدہ کی تلاش میں گئے تھے الخ۔ (ت)
مدارج میں ہے :
تمام اصحاب شہید شدند الامنذر بن عمروباوگفتند اگر خواہی تراامان دہیم اوامان ایشاں راقبول نہ کرد و باایشاں مقاتلہ کردتاشہید شد ۔
تمام صحابہ شہید ہوگئے مگر منذر بن عمرو کو انہوں نے کہا اگرتوچاہے توہم تجھے امن دیں مگر اس نے ان کا امن قبول نہ کیا اور ان سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ (ت)
سیرتین ابنائے اسحاق وہشام میں ہے :
لمارأوھم اخذواسیوفھم ثم قاتلوھم حتی قتلوا من عند اخرھم یرحمھم اﷲ
جب کفار نے مسلمانوں کو دیکھا توکفار نے ان سے تلواریں چھین لیں اور پھر ان کوشہید کردیا مگرانہوں نے
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواہب سریہ بئرمعونہ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۷۶
مواہب لدنیہ سریہ بئرمعونہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۴۲۶ ، تاریخ الخمیس سریہ منذر بن عمرو الی بئر معونہ مطبوعہ مؤسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۴۵۳
معالم التنزیل
مدارج النبوۃ ، سریہ بئرمعونہ ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۱۴۴
ف : معالم التنزیل میں منذر بن عمرو کا ذکر دوجگہ (ص۴۱۷ و ۴۴۸) پرنظر سے گزراہے وہاں یہ عبارت نہیں مل سکی البتہ تاریخ الخمیس میں معالم التنزیل کے حوالے س بعینہٖ یہی عبارت نقل کی ہے اس لئے تاریخ الخمیس سے حوالہ نقل کیاہے۔ نذیراحمد
#11780 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
الاکعب بن زید اخابن دینار بن النجار فانھم ترکوہ وبہ رمق فارتت من بین القتلی فعاش حتی قتل یوم الخندق شہیدا یرحم اﷲ
کعب بن زید دیناربن نجار کے بھائی کو زخمی حالت میں چھوڑدیا اور لاشوں میں سے وہ زندہ رہے اور بعد میں وہ اپنی زندگی میں جنگ خندق میں شریك ہوئے اور وہاں وہ شہید ہوئے رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی(ت)
مواہب میں ہے : قتلوا الی اخرھم الاکعب بن زید الخ(انہوں نے سب کوشہید کردیا صرف کعب بن زید زندہ بچے الخ۔ ت) خمیس میں ہے : قتلوا من عند اخرھم الاکعب بن زید الخ (انہوں نے کعب بن زید کے علاوہ سب کو موقعہ پرشہید کردیا الخ۔ ت)خود حدیث میں ہے حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خبردی۔
ان اخوانکم لقوا المشرکین فاقتطعوھم فلم یبق منھم احدوانھم قالوا ربنا قومنا انا قدرضینا ورضی عناربنا فانا رسولھم الیکم قدرضوا ورضی عنھم رواہ الحاکم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔
تمہارے بھائی مشرکین سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے ان میں سے کوئی نہ بچا اور انہوں نے شہید ہوتے ہوئے یہ دعا کی کہ اے ہمارے رب! ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچادے کہ ہم اﷲتعالی سے راضی ہوئے اور اﷲتعالی ہم سے راضی ہوا حضورعلیہ السلام نے فرمایا میں ان کاپیغام تمہیں پہنچارہاہوں کہ وہ بھی اور اﷲ بھی راضی ہوا۔ اس کو حاکم نے ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
فریب دہی عوام : جہالت واغلاط کثیرہ کے ساتھ فریب دہی عوام بھی “ ضروری سوال “ میں ضرورہے :
فریب ۱ : حدیث مذکور ابن حبان ذکر کی جو صراحۃ مطلق تھی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نمازصبح میں قنوت نہ پڑھتے مگر جب کسی قوم کے نفع یاضرر کی دعا فرمائی ہوتی تومصنف “ ضروری سوال “ نے اس کاترجمہ لکھ کرمعا جوڑلگادیا “ یعنی سوا اس کے پیمبرخدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور کسی مصیبت پرقنوت نہیں پڑھتے تھے “ جس سے عوام سمجھیں حدیث مین کسی خاص مصیبت کاذکرہے اسی کے لئے قنوت پڑھنے کاثبوت ہے
حوالہ / References سیرت ابن ہشام سریہ بئرمعونہ ، مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۸۵
مواہب لدنیہ سریہ بئرمعونہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۴۲۶
تاریخ الخمیس سریہ بئرمعونہ مطبوعہ مؤسسۃ شعبان بیروت ۱ / ۴۵۲
المستدرك علی الصحیحن کتاب الجہاد قول الشہدا ربنا بلغ الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۱
#11782 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
باقی بے ثبوت اس مغالطے سے جو فائدہ اٹھاناچاہا اسے یہیں ظاہر بھی کردیا کہ “ اب یہان سے سمجھاگیا کہ کفار ظلم کریں تونمازفجر میں نصرت چاہے طاعون یاوبا کے لئے قنوت ثابت نہیں “ حالانکہ ہرابجدخواں عربی بتاسکتاہے یہ محض دھوکادیاہے حدیث میں اصلا کسی مصیبت خاص کانام نہیں جس کے غیر پرنفی قنوت ہو۔
فریب ۲ : قنوت نازلہ خود بھی غیرمنسوخ مانی اگرچہ خاص ایك نازلے میں ۔ اب جو اس پرسند پیش کرنی ہوئی تو علامہ طحطاوی و علامہ شامی و محقق سامی بحر طامی صاحب اشباہ نامی کادامن پکڑا کہ “ چنانچہ حاشیہ درمختار طحطاوی و علامہ شامی و اشباہ والنظائروغیرہ وغیرہ نے اس کی تصریح کی ہے “ حالانکہ اوپر واضح ہوچکا کہ یہ علمائے کرام تونہ صرف تعمیم نوازل بلکہ خاص طاعون ہی کے لئے قنوت ثابت کرتے ہیں جس کے سبب معاذاﷲ اس شخص کے نزدیك کذب وبہتان میں پڑے ہیں ان کے کلام پورے طورپرنقل نہ کرنا درکنار جوعبارت ان کے نام سے نقل کی اس میں دوکارروائیاں کیں ایك یہ کہ خود ان کے ترجمہ کلام میں وہ الفاظ ملادئیے جو اپنے ساختہ مذہب کے مطابق تھے دوسرے یہ کہ ایك عربی عبارت اپنی طرف سے بناکر اس کلام سے ملادی اور سب کا ایك ساتھ ترجمہ کردیا جس سے ناواقف کودھوکا ہوکہ یہ ساراکلام ان علمائے کاہے وہ نقل وترجمہ ملخصا یہ ہے : “ وغیرہ وغیرہ نے اس کی تصریح کی ہے اور وہ یہ ہے کہ
وقدقنت ابوبکر الصدیق وعمر وعلی ومعویۃ فالقنوت فی النازلۃ ثابت فافھم واغتنم قلت والمراد بالنازلۃ ھناك ھوالذی مذکور فی الاحادیث ولایقاس علی غیرہ واﷲ اعلم۔
ترجمہ اور مقرر قنوت پڑھی ابوبکرصدیق اور عمرفاروق اور حضرت علی اور حضرت معویہ نے پس قنوت بیچ واقع ہونے سختی اور فتنہ اور فساد اور غلبہ کفر اشرار کے ثابت ہے سوسمجھ اور غنیمت جان اب کہتاہوں میں کہ مراد نازلہ سے اس جگہ وہی نازلہ مراد ہے جومذکورہواہے حدیثوں میں اور نہیں عــــہ خیال کیاجاوے گا اوپرغیراس نازلہ کے اعنی ہرایك نازلہ نہیں “ ۔
ترجمہ اصل میں “ فتنہ وفساد وغلبہ کفاراشرار “ لفظ بڑھادئیے کہ نرے بے علم کہیں دیکھو جوبات مولوی صاحب نے کہی تھی وہی ان کتابوں میں لکھی ہے ورنہ اصل عبارت علماء میں نہ ان لفظوں کااصلا پتانہ اس غرض فاسد کے سواترجمہ میں اس پیوند کاکوئی منشا پھرقلت سے آخر تك ایك عبارت عربی گھڑکر عبارت سے ملادی اور اس کاترجمہ اردوکیا کہ ناواقف کم علم جانیں یہ قلت انہی علمانے فرمایا ہے
عــــہ اس خوبی علم کودیکھئے کہنایہ مقصود ہے کہ لایقاس علیہ غیرہ اورنازلہ اس پرقیاس نہ کیاجائے گا اور کہایہ کہ لایقاس علی غیرہ نہ قیاس کیاجائے گا اوپرغیراس نازلہ کے۔ (م)
#11783 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
ورنہ یہ کہیں کادورنہیں کہ اردورسالے میں جوبات اردوہی زبان میں ظاہرکرنی ہو اسے پہلے عربی میں بولیں پھر اپنی عربی کی اردوکریں اور کلام علماء میں قلت ہزارجگہ ہوتاہے توصاف اسی طرف ذہن جائے گا کہ یہ کلام بھی انہی کاہے۔
فریب ۳ : اشباہ میں فرمایا تھا :
فائدۃ فی الدعاء برفع الطاعون سئلت عنہ فاجبت بانی لم ارہ صریحا ۔
یعنی فائدہ طاعون دورہونے کی دعامیں مجھ سے اس کا سوال ہواتھا میں نے جواب دیا کہ اس کی تصریح میں نے نہ دیکھی۔
پھر غایہ شمنی وفتح القدیر کی وہ عبارتیں نقل فرمائیں کہ نازلہ کی قنوت پڑھے پھر فرمایا :
فالقنوت عندنا فی النازلۃ ثابت ولاشك ان الطاعون من اشد النوازل ۔
یعنی ان عبارات سے واضح کہ ہمارے نزدیك بلامیں قنوت ثابت ہے اور شك نہیں کہ طاعون سخت تربلاؤں میں سے ہے۔
پھر اس دعوے کے ثبوت کو کہ نازلہ ہرشدت وسختی کوعام ہے مصباح و قاموس و صحاح کی عبارات مذکورہ سابق نقل فرمائیں پھر عبارت سراج وہاج و ملتقط و کلام امام طحاوی ثبوت مؤکد قائم فرمایا کہ جوکوئی بلاہو اس کے لئے قنوت پڑھنے میں حرج نہیں کسی عاقل غیرمجنون کے نزدیك اس کلام کے معنی سوااس کے کچھ نہیں ہوسکتے کہ طاعون کے لئے قنوت پڑھی جانے کوفرمارہے ہیں لاجرم علامہ سیدشرف طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں فرمایا :
فی الاشباہ یقنت للطاعون لانہ من اشد النوازل ۔
یعنی اشباہ میں ہے کہ طاعون کے لئے قنوت پڑھے اس لئے کہ وہ سخت تربلاؤں میں سے ہے۔
اب مصنف “ ضروری سوال “ کی سنئے “ اشباہ والنظائر والے صاحب نے فرمایا ہے لوگوں نے مجھ سے پوچھا طاعون میں قنوت پڑھنے سے سومیں نے جواب دیا کہ صریح مسئلہ اس کاکہیں نہیں دیکھا میں حکم کرنہیں سکتا “ ۔ اول تو سوال خاص قنوت طاعون سے ہونابنادیا کہ جوجواب گھڑاجائے گا وہ بالتخصیص صراحۃ اسی پروارد ہو پھرجواب میں یہ لفظ اپنی طرف سے بڑھادئیے کہ “ میں حکم کرنہیں سکتا “ حالانکہ عبارت اشباہ
حوالہ / References الاشباہ والنظائر فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون مطبوعہ مطبع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۲۶۱
الاشباہ والنظائر فائدہ فی الدعاء لرفع الطاعون مطبوعہ مطبع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۲۶۲
حاشیۃ الطحطاوی باب الوتر مطبوعہ نورمحمد تجارت کتب کراچی ص۲۰۶
#11784 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
میں اس کا وجود مفقود بلکہ بالتصریح اس میں قنوت کاحکم دینا موجود اسے کس درجہ کی تحریف وبددیانتی ومغالطہ و فریب دہی کہاچاہئے والعیاذ باﷲ رب العلمین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
مخالفت توبہ نامہ خود اس “ ضروری سوال “ سے بھی پیدا اولا اس میں اپنے طرفداروں کے ایك رسالے کی نسبت لکھاتھا کہ “ اس میں سادات کرام وعلمائے عظام کی شان وعظمت کے خلاف الفاظ رکیکہ برتے گئے ہیں واقعی یہ کمال درجے کی بے ادبی میرے طرفداروں سے توگویا مجھی سے ہوئی میں ﷲ ان کل حضرات بابرکات سے معافی چاہتاہوں خواہ حضرات سادات وعلماء اہل سورت خواہ اہل بمبئی خواہ آفاقی “ وہاں تو آج کل کے علما کو جو آپ کے طرفداروں نے کچھ الفاظ رکیکہ لکھے ا س سے معافی چاہی ور “ ضروری سوال “ میں خود آپ اکابرسابقین علمائے عظام وفقہائے کرام وسادات فخام مثل امام نووی و امام ابن حجر و امام طیبی و علامہ ابن ملك و محقق زین العابدین ابن نجیم ومولینا علی قاری مکی وسیدعلامہ شامی وامثالہم کومعاذاﷲ کذب وبہتان کی طرف نسبت فرمارہے ہیں شاید یہ الفاظ رکیکہ نہ ہوں گے۔
ثانیا : اس میں لکھاتھا “ واﷲ باﷲمیں مذاہب اربعہ کو سچے دل سے حق مانتاہوں “ یہاں صراحۃ قنوت فجر کوکہ مذہب امام مالك وامام شافعی رضی اللہ تعالی عنہم ا ہے بدعت وضلالت وفی النار بتایا ادھر قنوت طاعون ووبا کو کذب وبہتان ٹھہرایا شراح حنفیہ سے قطع نظر بھی کیجئے تو ائمہ شافعیہ کے یہاں اس کی صریح تصریحیں موجود اور امام ابن حجر مکی نے خود مام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کے بیان مذہب میں اسے ذکرفرمایا۔
ثالثا : اسی میں لکھاتھا : “ جمہورعلماء کااتباع اختیارکیااولیائے کرام نذرونیاز عرفی میں جبکہ فقہائے کرام نے تصفیہ کردیا ہے اور مستحسن کررکھاہے توہم انہی کی پیروی کریں یہ ایك اختلافی مسئلہ ہے لیکن بندہ اپنے پرانے خیالات سے بازآکر اولیاء کی نذرونیازعربی جوفی زماننا خاصما عوام میں مروج ہے کہ اس کو مستحسن جانتاہوں سوائے اس کے میری تصانیف میں جوبات خلاف اقوال جمہورعلما ہو اس کو واپس لیتاہوں اور عہد کرتاہوں کہ آئندہ علمائے کرام کے مخالف کوئی مسئلہ نہیں کہوں گا “ اور یہاں نہ ظاہرارشاد جمیع متون پر اقتصارلیانہ طریقہ مصرحہ جمہور شارحین اختیارکیا سب کے مخالف مسئلہ لکھ دیا یہ “ ضروری سوال “ کی مخالفتیں تھیں ۔
رابعا : شرائط بحث میں توصراحۃ اس توبہ کوتوڑدیا نذرونیاز عرفی اولیائے کرام قدست اسرارہم جوفی زماننا مروج ہے ظاہرہے کہ زمانہ صحابہ وتابعین وتبع تابعین میں اس پرکوئی نزاع قائم نہ ہوئی نہ اس کاکوئی تصفیہ اس وقت کے فقہائے کرام نے کیا تولاجرم توبہ نامے میں جمہورعلمائے متاخرین ہی کی پیروی کولکھااور ان کی مخالفت کاعہد کیاتھا اب شرئط ثلثہ کی بحث میں قرون ثلثہ کے متاخرین متقدمین سب کوبالائے طاق رکھ کر صاف لکھ دیا کہ سنددین میں اصول وفروع مسائل میں زمانہ خیرالقرون کی ہونی چاہئے یعنی صحابہ وتابعین و
#11786 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
تبع تابعین اور اس پر عمل بھی جاری ہوا بوئے وہابیت پیداہونے کو اولا وثانیا ضروری سوال ہی کی وہ تقریریں کہ “ یہ ارشاد فقہاکذب وبہتان ہے اور وہ مذہب ائمہ بدعت وضلالت وفی النار ہے “ کافی تھیں ۔
ثالثا : مگرشرائط بحث میں توصاف صاف وہی معمولی تقریر وہابیہ کہ “ قرون ثلثہ کی سند معتبرہے “ باقی سب باطل صراحۃ لکھ دی اور اس کے ساتھ اور تنگی بڑھادی کہ صحابہ وتابعین کی سندبھی مقبول نہیں جب تك اس پر عمل نہ جاری ہواہویہ باتیں ضروروہابیت کی ہیں ۔
رابعا : اور شرط لگائی کہ “ کوئی مسئلہ کسی کتاب میں بے سندلکھاہو وہ بغیراسناد کے تسلیم نہ کیاجائے گا “ ہرشخص جانتاہے کہ کتب فقہیہ متون وشروح وفتاوی کسی میں ذکراسناد نہیں ہوتا تو اس شرط میں صاف بتادی کہ کتب فقہ مہمل وناقابل عمل ہیں ان کامسئلہ تسلیم نہ کیاجائے گا یہ اول نمبر کی وہابیت غیرمقلدی ہے ان وجوہ سے ضرورظاہرہوتاہے کہ زیداپنی قدیم وہابیت پرباقی ہے والعیاذباﷲ تعالی واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
بالجملہ ان تمام بیانات جلیلہ سے واضح ہوا کہ “ ۱ضروری سوال “ کی تحریر ہمارے علمائے کرام کے خلاف ہے۔ وہ ۲ سراسر غلطیوں سے بھری ہے ۳جواسے صحیح بتائے سخت جاہل ونافہم ہے ۴ضروری سوال کامصنف علم دین سے بہرہ نہیں رکھتا ۵وہ نہ عبارت سمجھ سکتاہے ۶نہ ترجمہ کی لیاقت رکھتاہے پھرمطلب ۷سمجھنا توبڑا درجہ ہے ۸وہ خود اپنا لکھانہیں سمجھتانہ نافع ومضر میں تمیرکرتاہے اور ۹ اس کے ساتھ کلمات علماء کوبدلنا گھٹانا بڑھانا مغالطہ عوام کوکچھ کاکچھ مطلب بنانا علاوہ ہے ۱۰ایسابے علم وکج فہم ہرگز فتوی دین کی قابلیت نہیں رکھتا نہ اسے فتوی پر اعتماد ہوسکتاہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم و مسندامام احمدو جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اتخذالناس رؤساجھا لا فسئلوفافتوا بغیرعلم فضلوا واضلوا ۔
لوگ جاہلوں کوسردار بنائیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے وہ بغیرعلم کے فتوی دیں گے آپ بھی گمراہ ہوں گے اوروں کوبھی گمراہ بتائیں گے۔
اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ جو ایسے شخص کے فتوے پراعتماد کرے گا گمراہ ہوجائے گا ۱۱نیز اس کے اقوال و کلمات سے یہ بھی ظاہرہوا کہ وہ فقہائے کرام کی شان میں گستاخ ہے ارشادات علماء کوکذب وبہتان بتاتااور ۱۲مذہب اہل حق کوضلالت وفی الناربتاتا اور ۱۳تمام کتب فقہ کومہمل وبیکارٹھہراتاہے ۱۴اس نے اپنی توبہ توڑی اور ۱۵قدیمی وہابیت اب تك نہ چھوڑی مسلمانوں کو اس کی صحبت سے احترازچاہئے کہ بحکم صحیح گمراہی میں پڑنے کا
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۰ ، صحیح مسلم کتاب العلم باب رفع العلم وقبضہ الخ مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۲ / ۳۴۰
#11787 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
اندیشہ ہے ایسی حالت جو اس کی اعانت کرے گمراہی کی بنیادقائم کرتاہے ہاں اگروہ پھر ازسرنو ان تمام حرکات سے تائب ہواور ایك زمانہ ممتد گزرے جس میں اس سے وہ باتیں صادر ہوں جن سے اس کی توبہئ دوم کابرخلاف توبہ اول سچا ہوناظاہر ہوتو اس وقت اس سے تعرض نہ کیاجائے گا مگر اس کے فتوے پر اعتماد پھر بھی نہیں ہوسکتا ك اس قدر س اس کاجہل زائل ہوکر عالم نہ ہوجائے گا لاکھوں عوام سنی المذہب بحمداﷲ ایسے ہیں جن سے تمام عمر میں کبھی کوئی بات بدمذہبی یاگستاخی شان ائمہ وفقہا وکتب فقہیہ کی صادر ہی نہ ہوئی مگرجبکہ وہ بے علم ہیں مفتی نہیں بن سکتے۔ اﷲ عزوجل خذلان سے بچائے اور بطفیل خاکپائے بندگان بارگاہ بیکس پناہ حضور پرنورسیدیوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم توفیق علم وعمل عطافرمائے امین امین امین والحمد ﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا والہ صحبہ اجمعین امین۔
واﷲ تعالی سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ وجل مجدہ اتم واحکم کتبہ محمد ن المعروف بحامد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم۔
اور اﷲ تعالی پاك وبلند زیادہ علم والاہے اور اس کا علم اتم اور زیادہ محکم ہے۔ اس کو لکھا محمدالمعروف حامد رضابریلوی نے اﷲتعالی اس کو اپنے پیارے امی نبی محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وسیلہ سے معاف فرمائے۔ (ت)
فی الواقع یہ تفصیل کہ قنوت نازلہ جائز ہے مگر اس کاجواز صرف ایك نازلہ سے خاص باقی اس میں ناجائز ہمارے ائمہ کرام کامذہب نہیں مصنف “ ضروری سوال “ کی تحریروں ے اس کی جہالت وبطالت صاف ظاہرہے بیشك ایسے شخص کو مفتی بنناحلال نہیں نہ اس کے فتوے پراعتمادجائز مجیب سلمہ القریب المجیب نے جواموربالجملہ میں لکھے ضرورقابل لحاظ ومستحق عمل ہیں مسلمانوں کو ان کی پابندی چاہئے کہ باذنہ تعالی مضرت دینی سے محفوظ رہیں ۔
وباﷲ العصمۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم کتبہ عبدہ المذنب احمدرضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
اﷲ کی رحمت سے ہی حفاظت ہے اور اﷲتعالی سبحانہ زیادہ علم والاہے۔ اس کوگنہگار بندے احمدرضابریلوی نے لکھا اسے حضرت محمدمصطفی النبی الامی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وسیلہ سے معافی ہو۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۹۶ : ازرنگون گلی نمبر۲۵ دکان نمبر۴۴۵ مسئولہ حافظ محمدیوسف صاحب ۵ذیقعدہ ۳۲۹ھ
ہمارے سنی حنفی عالم لوگ اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ اس شہر میں ایك مسجد کا امام صاحب دوتین روز سے فجرکے فرض دوسری رکعت میں سمع اﷲ لمن حمدہ کے بعد ہاتھ اٹھاکر قنوت پڑھتاہے یعنی
#11789 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
سلطان کے واسطے دعامانگتاہے اور سب مقتدی لوگ بلندآواز سے پکارتے ہیں پس دریافت طلب یہ بات ہے کہ ہمارامذہب حنفی سے یہ امام صاحب کیسے ہیں اور ان کے پیچھے نماز کاکیاحکم ہے
الجواب :
اگرچہ متون میں مطلق حکم ہے کہ لایقنت فی غیرہ غیر وترمیں قنوت نہ پڑھے مگرمحققین شراح نے باتباع امام طحاوی وقت نازلہ وحدوث بلائے عام نمازفجرمیں قنوت پڑھنے کی اجازت دی ہے لہذا یہ مسئلہ ایسانہیں جس کی بناپر اس عالم کے پیچھے نمازمیں کچھ حرج ہو جبکہ وہ واقع میں سنی المذہب صحیح العقیدہ ہے اور اگرغیرمقلد ہے توآپ ہی گمراہ بددین ہے اور اس کے پیچھے نمازناجائز محض کماحققناہ فی النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید(جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ “ النھی الاکید عن الصلوۃ وراء التقلید “ میں تحقیق کی ہے۔ ت) درمختارمیں ہے : لایقنت لغیرہ الالنازلۃ (صرف مصیبت میں قنوت نازلہ پڑھے۔ ت)غنیہ میں ہے : ھو مذھبنا وعلیہ الجمہور ۔ (یہی ہمارا اور جمہورکامذہب ہے۔ ت) ردالمحتار میں کلام امام طحاوی نقل کرکے فرمایا :
ھو صریح فی ان قنوت النازلۃ عندنا مختص بصلوۃ الفجر دون غیرھا من الصلوۃ الجھریۃ والسریۃ ۔
یہ اس بات کی صراحت ہے کہ قنوت نازلہ صرف فجر کی نماز کے لئے مختص ہے دوسری جہری یاسری نمازوں میں ہیں ۔ (ت)
امام کوچاہئے کہ یہ قنوت بھی آہستہ پڑھے اور مقتدی بھی دعا ہی میں پڑھیں ہاں اگرامام قنوت بآواز پڑھے تو مقتدی آمین کہیں مگربآواز نہ کہیں بلکہ آہستہ کہ جہربآمین نمازمیں مکروہ ہے پھر علماء کو اختلاف ہواکہ یہ قنوت رکعت ثانیہ کے رکوع کے بعد ہو یاپہلے اور تحقیق یہ ہے کہ رکوع سے پہلے ہونا چاہئے۔ ردالمحتارمیں ہے :
ھل المقتدی مثلہ ام لاوھل القنوت قبل الرکوع
کیاقنوت نازلہ پڑھنے میں مقتدی بھی امام کی طرح پڑھے یانہیں اور کیاقنوت رکوع سے قبل پڑھی جائے
حوالہ / References کنزالدقائق باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۱
ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی صلٰوۃ الوتر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲۰
ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۶
#11790 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
اوبعدہ لم ارہ والذی یظھر لی ان المقتدی یتابع امامہ الا اذاجھر فیؤمن وانہ یقنت بعد الرکوع ثم رأیت الشرنبلالی فی مراقی الفلاح صرح بانہ بعدہ واستظھر الحموی انہ قبلہ والاظھر ماقلناہ واﷲ تعالی اعلم اقول : بل الاحق بالقبول ماقال السید الحموی لقول الفتح ولما ترجح ذلك خرج مابعدالرکوع من کونہ محلا للقنوت۱ھ وقال ایضا وھذا تحقیق خروج القومۃ عن المحلیۃ بالکلیۃ الا اذا اقتدی بمن یقنت فی الوتر بعدالرکوع فانہ یتابعہ اتفاقا ۱ھ واﷲ تعالی اعلم۔
یابعدمیں مجھے یہ تفصیل نظرنہیں آئی مگرمجھے معلوم ہوتاہے کہ مقتدی امام کی اتباع کرے لیکن جب امام قنوت پڑھنے میں جہرکرے تومقتدی کوچاہئے کہ وہ آمین کہے اور قنوت رکوع کے بعد پڑھے اس کے بعد مجھے شرنبلالی کا قول مراقی الفلاح میں ملا جس میں انہوں نے رکوع کے بعد کی تصریح کی ہے اور حموی نے رکوع سے قبل ظاہرقراردیالیکن زیادہ واضح یہی ہے جو میں نے کہاہے واﷲ تعالی اعلم۔ اقول : بلکہ حموی کاقول زیادہ مقبول ہو کیونکہ فتح القدیر کاقول یہ ہے کہ “ جب رکوع سے قبل کوترجیح ہے تورکوع کے بعد قنوت کامحل نہ رہا “ ۱ھ اور انہوں نے یہ بھی کہاکہ قومہ کلیۃ قنوت کی محلیت سے باہرہے تحقیق یہی ہے ہاں اگر کوئی ایسے امام کی اقتداء میں ہے جو رکوع کے بعدوتر میں قنوت پڑھتاہے تونمازی کوچاہئے کہ وہ اس امام کی اتباع کرے اس میں اتفاق ہے۱ھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۹۷ : از کراچی گاڑی حاطہ مولیڈنہ میمن محلہ رام باغ مرسلہ نوراحمد ۱۹ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
کیاحنفی امام نمازفجر میں دعائے قنوت ودیگر دعاؤں کوبآواز بلند پڑھے توجائز ہے یانہیں
الجواب :
حنفی مذہب میں وتر کے سوا اور نمازوں میں قنوت منع ہے متون کامسئلہ ہے ولایقنت فی غیرہ (غیروترمیں قنوت نہ پڑھے۔ ت) مگرجب معاذاﷲ کوئی بلائے عام نازل ہوجیسے طاعون ووباء وغیرہ تو امام اجل طحاوی و امام محقق علی الاطلاق وغیرہ شراح نے نمازفجر میں دعائے قنوت جائزرکھی ہے کما فضلناہ فی فتاوینا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تفصیل کردی ہے۔ ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹۸ : سائل مذکورالصدر
حنفی امام بسم اﷲ وامین آہستہ حنفی طریقہ پرنہ پڑھے اوردعائے قنوت ودیگر دعاؤں کوشافعی
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۶
فتح القدیر باب صلٰوۃ الوتر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۴
#11792 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
طریقہ سے پڑھے تونماز اور ایسے امام کی اقتداء جائزہے یانہیں یہ فعل امام نے متواتر تین روز بغیراطلاع مقتدیوں کے کیا جس سے مقتدیوں کی جداگانہ حالتیں مثلا کوئی رکوع میں کوئی قیام میں اور کوئی سجدہ میں تھا یہ نمازہوئی یانہیں
الجواب :
(۱) بے صورت نازلہ جوکوئی ایساکرے گاموجب کراہت ہوگا اسے منع کیاجائے گا اگرنہ مانے اس کی اقتداء نہ کریں۔
(۲) جس نے امام سے پہلے کوئی فعل کیااور امام سے پہلے ہی فارغ ہولیا اور پھرامام کااس میں ساتھ نہ دیا مثلا وہ متوجہ قنوت ہو اور یہ رکوع میں گیا اور امام رکوع میں نہ آنے پایاتھا کہ اس نے سراٹھالیا اور پھر امام کے ساتھ یابعد رکوع نہ کیاتو ایسے مقتدی کی نمازنہ ہوئی ورنہ ہوگئی اور اس میں بدنظمی ہوئی اس کاوبال امام کے سرپر ائمہ دین نے توجمعہ وعیدین میں سجدہ سہومعاف رکھاہے جبکہ جماعت کثیرہوکہ ہرقسم کے لوگوں کا مجمع ہوگا بعض کوباعث وحشت ہوگا کہ یہ کیاچیزہے حالانکہ یہ وہ بعد ختم نماز ہے کہ عین وسط نماز میں بے اطلاع مقتدیان ایسی نئی حرکت کس قدرباعث فتنہ ہے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹۹ : از کراچی بندر صدربازار دکان سیٹھ حاجی احمد حاجی کریم محمدشریف جنرل مرچنٹمرسلہ عبداﷲ ولدحاجی ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
امام حنفی المذہب دروقت حدوث حادثہ ونازلہ طاعون ووباء دررکعت اخیرنماز فرض فجر دعاقنوت شفعویہ مع چندالفاظ دعائے عربیہ دافع الوباسہ روزیا ہفت روز خواندآیا دریں صورت ایں فعل امام مطابق مذہب جمہور حنفیہ است یانہ واگر کسے این امام رابباعث مرتکب شدن فعل صدروہابی وغیرمقلد خوانست پس حکم اوچیست۔
کسی حادثہ یاطاعون کی وباء وغیرہ کے پھیلنے کے موقعہ پرحنفی امام فجر کی آخری رکعت میں دعائے قنوت مرویہ اور اس کے ساتھ چندمزید عربی الفاظ جودافع بلاء کے لئے تین یاسات روزپڑھے توکیایہ فعل جمہوراحناف کےمطابق ہے یانہیں اور اگرکوئی شخص امام کے مذکورعمل کی بناپر امام کووہابی اور غیرمقلد کہہ دے توایسے شخص کاکیاحکم ہے
الجواب :
قنوت درنازلہ محققین حنفیہ مثل امام طحاوی وامام ابن الہمام وغیرہما کبرائے اعلام اثبات کردہ اند عمل بروہیچ علاقہ بوہابیت حنفی محققین مثلا امام طحاوی امام ابن ہمام وغیرہما بڑےحضرات نے مصیبت کے نزول پر قنوت نازلہ کے عمل کا اثبات کیا ہے اور اس معاملہ میں وہابیت
#11793 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
وغیرمقلدی ندارد وہرکہ بایں طعنہ زندہ جاہل ست تفہیم بایدکرد آنجا کہ مجمع ہمچوعوام باشد اقدام بایں کارنباید کرد کہ باعث تنفیر وفتح باب غیبت نشود قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشرواولاتنفروا ائمہ منع فرمودہ اند کہ پیش جہال قراء تہائے کہ گوش اوباوآشنا نیست نخوانند تامنجربفتنہ ایشاں نشوداگرچہ ہمہ قراء تہا یقینا حق ست کمافی غنیۃ العلامۃ ابراھیم الحلبی وغیرہا واﷲ تعالی اعلم۔ اور غیرمقلدیت کا کوئی دخل نہیں جویہ طعنہ دے وہ جاہل ہے اسے سمجھاناچاہئے اور عوام کے مجمع میں ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جوعوام میں نفرت پیداکرے اور غیبت بنے حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ لوگوں کے لئے نفرت کی بجائے خوشی کاسامان بنو۔ اسی لئے ائمہ کرام نے ایسی قرائت جولوگوں میں معروف ومانوس نہیں ہے پڑھنے سے منع فرمایا ہے تاکہ لوگوں میں شکوك وشبہات کا فقنہ نہ بنے اگرچہ تمام قرأات برحق ہیں جیسا کہ علامہ ابراہیم حلبی کی غنیہ وغیرہا میں ذکر فرمایا ہے واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۱۰۰ تا ۱۱۰۲ : ازبمبئی ۳ مسئولہ محمدسعداﷲ گلی خطیب زکریا مسجد ۳صفر ۱۳۳۹ھ
ماقولکم دامـ فضلکم(علمائے کرام اﷲ تعالی تمہارے فضل وکرم کو قائم ودوام فرمائے آپ کا کیاارشادہے۔ ت) نظربرمصائب حاضرہ جنہوں نے آج کل بالخصوص سلطنت اسلامیہ عثمانیہ اور بالعموم تمام مسلمانان عالم کوگھیررکھاہے بعض مفتین جہری فرض نمازوں میں بآوازبلند قنوت خوانی کا فتوی دیتے ہیں نمونتا فتوی مولوی کفایت اﷲ دہلوی کالفافہ ہذا ہے علمائے احناف اہلسنت کے نزدیک : (۱) وقت نازلہ قنوت تمام جہری فرض نمازوں میں ہے یاصرف فجرمیں (۲) بعد سمع اﷲ لمن حمدہ ہاتھ اٹھاکر بجہر پڑھی جائے یاکس طرح (۳) یہ وقت اس کامقتضی ہے یانہیں کہ قنوت پڑھی جائے بینوااجرکم اﷲ
الجواب :
قنوت نازلہ امام طحاوی وغیرہ شراح نے جائز رکھی ہے وہ صرف نماز فجرمیں ہے اور ہمارے نزدیك بعدرکوع قنوت کامحل ہی نہیں قبل رکوع چاہئے کما نص علیہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر (جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ت) اس ہندوستان میں اسلام اس وقت خود مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھوں سے سخت نزع ہے قنوت کاوقت ہے واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب العلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
#11795 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
وہ رکعت ثانیہ میں بعد قرأت ہاتھ اٹھاکر تکبیر کہیں اور امام ومقتدی سب آہستہ قنوت پڑھیں جس مقتدی کویادنہ ہو آہستہ آہستہ آمین کہتارہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۰۳ : ازدھامپور محلہ موچیاں ڈاك خانہ خاص ضلع بجنور مسئولہ غلام محمدصاحب ۸شعبان ۱۳۳۹ھ
جناب مولوی صاحب رہنمائے گمرہان دام افضالہ بعدادائے نیازمندانہ کے معروض خدمت ہے یہاں قصبہ دھام پور میں زمرہ خلافت نے نمازمین ایك نیاطریقہ نکالاہے وہ یہ ہے کہ پانچوں وقت کی نماز میں اخیرفرض میں رکوع کرکے کھڑے ہوجاتے ہیں اور امام صاحب دعابآواز بلندپڑھتاہے اور مقتدی بآوازبلندکئی کئی مرتبہ آمین کہتے ہیں بلکہ بیس بیس مرتبہ سے زیادہ مقتدی آمین کہتے ہیں بعدہ سجدہ میں جاکر سلام پھیرتے ہین عالی جاہ! ہمارے امام صاحب حنفی کے طریقہ میں یہ نمازجائز ہے یاناجائز یاکہ کسی اصحاب نے یاکہ امامین میں سے کسی نے پڑھی ہے اور اس طریقہ سے نمازہوتی ہے یاکہ فاسد ہوجاتی ہے ہم کو اس نماز میں شریك ہوناچاہئے یانہیں
الجواب :
یہ طریقہ قنوت نازلہ کاہے جومتون مذہب حنفی کے خلاف ہے مگربعض شراح نے اجازت دی ہے اس سے بھی چارباتوں میں مخالف ہے :
اول : بعد رکوع ہمارے نزدیك محل قنوت ہی نہیں کماحققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر (جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیرمیں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)
دوم : امام کاجہر سے دعاپڑھنا مخالف قرآن کریم ومذہب حنفی ہے۔
سوم : یونہی مقتدیوں کاآمین بالجہر۔
چہارم : قنوت نازلہ ہمارے یہاں صرف نماز فجرمیں ہے اور بعض کتب میں نمازجہر واقع ہوا اپانچوں نمازوں میں ہونا ہمارے یہاں کسی کاقول نہیں تو ہمارے نزدیك اس کے سبب تاخیرفرض لازم آئے گی اور اس کے سبب نمازواجب الاعادہ ہوگی ایسی نماز میں شرکت نہ کی جائے جبکہ خالص حنفی جماعت مل سکتی ہو اور شرکت کی ہو ظہروعصربلکہ عندالتحقیق غیرفجر کااعادہ کرلیں بلکہ فجر کابھی جبکہ لوگ بعد رکوع قنوت کریں کہ مذہب حنفی میں خلاف محل ہے اگرچہ شامی و شرنبلالی کو شبہہ ہوا وہ مذہب میں صاحب قول نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۰۴ تا ۱۱۰۵ : ازکوہ کسوٹی کمسریٹ روٹی گودام مسئولہ عبداﷲ ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ عرصہ ایك سال سے میں سناکرتاہوں کہ :
#11797 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
(۱) اس جگہ اور دیگر شہروں میں ایك نماز واجبا پڑھی جارہی ہے جس کا ثبوت مجھ کو آج تك کسی نے نہ دیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ حدیث کی کتابوں میں دیکھو توتم کومعلوم ہوجائے گا نماز اس طرح پڑھی جاتی ہے کہ ہرایك فرض نماز کی آخررکعت میں بعدرکوع امام کچھ پڑھتاہے اور مقتدی آمین کہتے ہیں اور استفسار کرنے پر کہ امام کیا پڑھتا ہے یہ جواب ملتاہے کہ دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے اور اگردعائے قنوت کی عربی دریافت کی جاتی ہے تو اس سے صاف جواب۔ سخت حیرت اور تعجب کامقام میں مسجد جانے سے قاصر بلکہ مستثنی اس وجہ سے یہ مسئلہ حل طلب بہت ضروری ہے۔
(۲) اس خادم کی نظر سے ربع اول “ مظاہرحق “ جلداول کتاب الصلوۃ باب القنوت مندرجہ ذیل احادیث گزریں جس سے بالکل حضور سرورکائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاامرظاہر نہیں ہوتا کہ آپ نے امت کے لوگوں کو امرکیا ہوکہ وہ بھی اس کوپڑھاکریں بلکہ حدیث خودظاہر کررہی ہے کہ حضور نے بفرمان ربی اس کو ترك کردیا فصل اول کتب مذکور :
وعن ابی ھریرۃ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان اذا اراد ان یدعو علی احد اویدعولاحد قنت بعد الرکوع فربما قال اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ ربنا لك الحمد اللھم انج الولید وسلمۃ بن ھشام وعیاش بن ابی ربیعۃ اللھم اشدد وطأتك علی مضر سنین کسنی یوسف یجھر بذلك وکان یقول فی بعض صلوتہ اللھم العن فلانا وفلانا لاحیاء من العرب حتی انزل اﷲ لیس لك من الامرشیئ الایۃ متفق علیہ وعن عاصم الاحول قال سئلت عن انس بن مالك عن القنوت فی الصلوۃ کان قبل الرکوع
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام جب کسی کے خلاف یا کسی کے حق میں دعافرمانے کاارادہ فرماتے تو کبھی رکوع کے بعد سمع اﷲ کہہ کریوں فرماتے : اے اﷲ! ولید سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے اے اﷲ! قبیلہ مضر کوسخت پکڑ ان پرقحط نازل فرما جیسا کہ یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قحط نازل ہوا اور یہ بدعابلندآواز سے پڑھتے اور کبھی آپ کسی نمازمیں یوں پڑھتے : اے اﷲ! فلاں وفلاں پرلعنت فرما۔ اس سے مراد عرب کے بعض قبائل مراد ہوتے حتی کہ اﷲتعالی نے آیہ کریمہ نازل فرمائی کہ اے پیارے حبیب! یہ معاملہ آپ کے ذاتی اختیارمیں نہیں ہے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور حضرت عاصم احول رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا
#11799 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
اوبعدہ قال قبلہ انما قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعد الرکوع شھرا انہ کان بعث اناسا یقال لھم القراء فاصیبوا فقنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعد الرکوع شھرا یدعوا علیھم متفق علیہ فصل ثانی کتاب مذکور عن ابن عباس قال قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شھرا متتابعا فی الظھر والعصر والمغرب والعشاء وصلوۃ الصبح اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ من الرکعۃ الاخیرۃ یدعوا علی احیاہ من بنی سلیم رعل وذکوان وعصیۃ ویومن من خلفہ رواہ ابوداؤد وعن انس ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قنت شھرا ثم ترکہ۔ رواہ ابوداؤد والنسائی۔
کہ کیانماز میں قنوت رکوع سے پہلے تھی یابعد میں توانہوں نے فرمایاپہلے تھی حضورعلیہ السلام نے صرف ایك ماہ رکوع کے بعد قنوت پڑھی کیونکہ آپ نے قراء کی ایك جماعت کو تعلیم کے لئے بھیجا توان کو راستہ میں شہیدکردیاگیا تو اس واقعہ پر حضورعلیہ السلام نے ایك ماہ رکوع کے بعد قاتلین پر بدددعافرمائی (متفق علیہ) کتاب مذکور کی دوسری فصل میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیعنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ایك ماہ مسلسل ظہر عصر مغرب عشاء اور فجر کی نماز میں قنوت پڑھی اور جب نماز کی آخری رکعت کے رکوع کے بعد سمع اﷲ لمن حمدہ کہتے تو اس وقت عرب کے قبائل بنی سلیم ذکوان اور عصیہ پر بددعا فرماتے اور مقتدی آمین کہتے۔ اس کوابوداؤد نے روایت کیاہے اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضورعلیہ السلام نے یہ قنوت ایك ماہ پڑھ کر پھرچھوڑدی اس کو ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیاہے۔ (ت)
چونکہ حنفی مذہب کے مطابق آمین آواز سے کہناروکاگیاہے مگراب توپورے پندرہ منٹ آمین اس زور سے کہی جاتی ہے کہ مسجد گونج اٹھتی ہے بلکہ نماز جمعہ میں لوگوں کی کثرت سے آمین کاشور توحد درجہ بڑھ جاتاہے اس بستی میں صرف ایك مسجد ایك قبرستان ہے مذہب حنفی کے سب پیروہیں امام مسجد جن سے اس کارواج ہواہر شخص کومجبورکررہے ہیں کہ اس کی ادامیں اگرکوئی قاصرہوگا اسلام سے خارج سمجھاجائے گا اس کا جنازہ مسلمان نہیں اٹھائیں گے بسبب ملازمت لوگ باہر سے آتے ہیں ان کے لئے ایسا نادرشاہی ھکم بہت گراں ہورہاہے اور بے وقت پردیس میں موت ہونے کے لحاظ سے مجبورا اداکررہے ہیں وہی مثل کہ “ زبردست مارے رونے نہ دے “ اور حنفیہ “ قہردرویش برجان درویش “ کے مصداق
#11800 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
ہورہے ہیں ۔ والسلام
الجواب :
(۱) اصل مسئلہ متون یہ ہے کہ وتروں کے سوا کسی نمازمیں دعائے قنوت نہیں تنویرالابصار وغیرہ میں ہے : ولایقنت فی غیرہ (غیرمیں قنوت نہ کرے۔ ت)مگرامام طحاوی وغیرہ شراح نے معاذاﷲ کسی نازلہ یعنی عام مصیبت کے وقت اس کے دفع کے لئے بھی قنوت جائررکھی اسی بارے میں حدیث ہے :
قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شھرا علی عدۃ قبائل من الکفار ۔
حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے عرب کے چندقبائل کے خلاف قنوت ایك ماہ پڑھی۔ (ت)
اس کے لئے کوئی دعا مخصوص نہیں بلکہ جو بلامثل طاعون ووبا یاغلبہ کفار والعیاذ باﷲتعالی اس کے دفع کی دعا کی جائے گی تحقیق یہ ہے کہ قنوت صرف نمازفجر میں ہے وما وقع فی بعض الکتب فی صلوۃ الجھر فمصحف من صلوۃ الفجر (جو بعض کتب میں آیا ہے کہ جہروالی نماز تو یہ “ جہر “ بدل گیاہے اصل فجر ہے۔ ت) اور تحقیق یہ ہے کہ فجر کی دوسری رکعت میں بعد قرأت قبل رکوع ہو لان مابعد الرکوع قد خرج عن محلیۃ القنوت کما حققہ المحقق فی الفتح (کیونکہ رکوع کے بعد قنوت کامحل نہیں ہے جیسا کہ محقق نے اسے فتح میں ثابت کیاہے۔ ت) اور امام ومقتدی سب آہستہ پڑھیں لانہ دعاء وسنہ الدعاء الاخفاء (کیونکہ وہ دعاہے اور دعا کاطریقہ اخفاء ہے۔ ت) جن مقتدیوں کویاد نہ ہو وہ آہستہ آہستہ آمین کہیں واﷲ تعالی اعلم۔
(۲) اوپربیان ہوا کہ اس قنوت کا جوازہی ظاہرمتون مذہب حنفی کے خلاف ہے نہ کہ معاذاﷲ اس پرایسااصرار کہ جونہ کرے خارج ازاسلام سمجھاجائے اور مسلمان اس کاجنازہ نہ اٹھائیں یہ ظلم اور اشد ظلم ہے اور سخت کبیرہ ہے اور اﷲ ورسول پرافتراء اورنئی شریعت دل سے گھڑنا اورمسلمانوں کوناحق معاذاﷲ کافربنانا اور بحکم ظواہر احادیث خود کافربننا ہے قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقد باء بہ احدھما (رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : دونوں میں سے ایك اس کو اپنے پر وارد کرے گا۔ ت) اور آمین بالجہر مذہب حنفی میں کہیں نہیں ہاں اشراح وقت نازلہ قنوت اسی طریقہ پرروا رکھتے ہیں جس کی تحقیق اوپربیان ہوئی اور حدیث فعلی بھی مثل حدیث قولی حجت ہے لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صلوا رأیتمونی اصلی (اس لئے کہ حضورعلیہ الصلوۃ
حوالہ / References کنزالدقائق باب الوتروالنوافل ، مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۱
شرح معانی الآثار باب القنوت فی صلٰوۃ الفجر وغیرہا مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۲۸
سنن الدارقطنی باب فی ذکربالاذان والامامۃ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۱ / ۲۷۳
#11802 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
والسلام نے فرمایا ہے کہ ایسے نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا۔ ت)اور ترك دعا بوجہ قضائے حاجت یا بعض مخصوصین پردعا سے رب عزوجل کی ممانعت نفس دعا سے منع نہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۰۶ : ازدمن قریب سورت بخدمت جناب مولینا مولوی محمد وصی احمدصاحب محدث سورتی ( رحمۃ اللہ تعالی علیہ ) وازانجا بفرض تحقیق نزدفقیر ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دعائے قنوت کا کس مصیبت کے نازل ہونے کے وقت فرض پنجگانہ میں پڑھنا یاخاص کسی وقت کے فرض نماز میں پڑھنا شرع شریف سے ثابت ہے یانہیں خاص کرایام وبائے طاعون میں اور اس کے پڑھنے کامحل فرض کی آخری رکعت میں قبل رکوع کے یاقومہ میں امام اور مقتدی دونوں پڑھیں یاصرف امام بآوازبلندپڑھے اور مقتدی آمین آہستہ آہستہ کہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط ٭ اللھم لك الحمد (اے اﷲ! تیرے لئے حمد ہے۔ ت) عامہ بلکہ عام متون مذہب میں دربارہ وترارشاد ہوا :
لایقنت فی غیرہ وکذا صرحوا ان الما موم لایتبع امامہ القانت فی الفجر وعللوہ بانہ منسوخ وانہ محدث ۔
غیروتر میں قنوت نہ پڑھے جیسا کہ فقہاء کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ مقتدی اس امام کی جو فجر میں قنوت پڑھتاہے پیروی اس معاملہ میں نہ کریں اور انہوں نے وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ منسوخ ہے لہذا یہ نئی چیزہے۔ (ت)
اور محققین شراح مثل امام ابن الہام و علامہ سروجی و امام عینی شارحین ہدایہ و علامہ شمنی شارح نقایہ و علامہ ابراہیم حلبی شارح منیہ و علامہ زین بن نجیم شارح کنز و علامہ شرنبلالی شارح نورالایضاح و علامہ علائی شارح تنویر و علامہ سیدحموی شارح اشباہ وعلامہ نوح آفندی و علامہ سیدابوالسعود ازہری محشی کنز و علامہ سید محمدشامی محشیان درر وغیرہ بہ تبعیت امام اجل حافظ الحدیث ابوجعفر طحاوی ہنگام نزول مثل طاعون وغیرہ (والعیاذباﷲ تعالی) صرف نماز فجرمیں تجویز قنوت کی تنقیح وتنقید اور اطلاق متون کی اس سے تقیید فرماتے ہیں ۔ غنیہ المستملی و مراقی الفلاح وغیرہما میں ہے :
وھو مذھبنا وعلیہ الجمہور ۱ھ وقدصح
یہی ہمارامذہب ہے اور جمہوربھی اس کے قائل ہیں ۱ھ
حوالہ / References درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
غنیہ المستملی صلٰوۃ الوتر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۲۰
#11803 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
بہ الحدیث فی الصحیحین وغیرھما عن انس وابی ھریرۃ وغیرھما رضی اﷲ تعالی عنھم قالوا وھو محمل ماروی من قنوت امراء المؤمنین الصدیق و الفاروق والمرتضی ومعویۃ وغیرھم رضوان اﷲ تعالی علیھم قلت ولیست المسئلۃ مما تجری فیہ المماکسۃ۔
اور اس بارے میں صحیح حدیث بخاری اور مسلم وغیرہما میں موجودہے اور وہ حضرت انس اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے اور حضرت امیرالمومنین صدیق اکبر عمرفاروق علی مرتضی اور امیرمعاویہ وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم کاقنوت کے بارے میں عمل اس حدیث کے مطابق تھا میں کہتاہوں یہ وہ مسئلہ نہیں جس میں کھنچاؤپایاجائے۔ (ت)
پھربرتقدیرقنوت بلاشبہہ سبیل وہی ہے جو فاضل مجیب سلمہ المجیب نے اختیارفرمائی کہ امام ومقتدی سب آہستہ پڑھیں ۔
اقول : وماوقع من الخلف بین ایمتنا الکرام ومشائخنا الاعلام فی قنوت الوترھل یجھرہ ام یسروھو المختار کمافی الھدایۃ وھوالاصح کمافی المحیط والصحیح کما فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خاں وھل یؤمن الماموم ام یقنت وھو السحیح المختار کمافی المحیط والشرح المذکور وغیرھما فانما منشؤہ ان لقنوت الوتراللھم انا نستعینك الخ شبھۃ القران علی ماذکروہ فکما یجھر الامام بالقران فکذا بما فیہ شبھتہ وکما لایقرؤالموتم القران فکذا مالہ شبھتہ کماقررہ فی الحلیۃ و الغنیۃ والبحر وغیرھا
اقول : ہمارے ائمہ کرام سے متاخرین اور ہمارے مشائخ عظام نے وتر کی قنوت کے بارے بحث میں جو فرمایا کہ یہ قنوت جہر پڑھی جائے یاآہستہ توآہستہ پڑھناہی مختارہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور یہی اصح ہے جیسا کہ قاضی خاں کی شرح جامع صغیرمیں ہے۔ اور یہ کہ کیامقتدی صرف آمین کہیں یاوہ بھی قنوت پڑھیں تو ان کا قنوت پڑھناصحیح ومختارہے جیسا کہ محیط اور مذکورشرح وغیرہما میں ہے۔ اور اس بات کی وجہ یہ ہے کہ قنوت وتر جو کہ اللھم انانستعینك الخ ہے کی قرآن سے مشابہت ہے جیسا کہ فقہاء نے بیان کیاہے لہذا جس طرح قرآن کاجہر کرتاہے اسی طرح قرآن کے مشابہ چیز کا بھی امام جہرکر ے اور جس طرح مقتدی قرآن کی قرأت نہیں کرتا اسی طرح قرآن کی مشابہت والی چیز کی بھی مقتدی قرأت نہ کرے جیسا کہ حلیہ غنیہ بحر وغیرہا میں تقریر کی گئی ہے
#11805 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
ولاکذالك قنوت النوازل وانما ھو دعاء محض فیشترك فیہ الامام و الماموم ویخفیانہ کسائر دعیۃ فانہ ھوالمندوب الیہ فی الدعاء۔
جبکہ قنوت نوازل کایہ مقام نہیں ہے وہ تو محض دعا ہے جس میں امام اور مقتدی مساوی شریك ہیں لہذا دونوں اس کو آہستہ پڑھیں گے جس طرح تمام دعاؤں میں مستحب یہ ہے کہ آہستہ پڑھاجائے۔ (ت)
مگراخفاء واجب نہیں کہ جہرگناہ ہو۔
وقد صرحوابانہ اذا جھر سھوا بشیئ من الادعیۃ والاثنیۃ لایجب علیہ السجود کمافی رد المحتار ولووجب لوجب کمالایخفی۔
جبکہ فقہاء نے تصریح کی ہے اگرکوئی شخص بھول کر کوئی دعاوثناء جہر سے پڑھے توسجدہ سہو واجب نہ ہوگا جیسا کہ ردالمحتارمیں ہے اور اگرقنوت نازلہ یادعا کااخفاء واجب ہوتا تو اس کے جہر سے سجدہ سہوواجب ہوتا جیسا کہ واضح ہے۔ (ت)
پھراگرامام جہرکرے توبنظرحشمت امامت مقتدیوں کااس کی دعاپر آہستہ آمین کہناہی اس سے جدااپنی اپنی متفرق دعامیں مشغول ہونے سے اولی ہے کما استظھرہ العلامۃ الشامی(جیسا کہ علامہ شامی نے اس کوظاہرقراردیا ہے۔ ت)
رہایہ کہ قول بقنوت نازلہ پر اس کامحل قبل رکوع ہے یابعد۔ مشائخ مذہب وعلمائے متقدمین سے اس باب میں کوئی قول منقول نہیں متاخرین شراح کی نظرمختلف ہوئی علامہ شرنبلالی کے کلام سے بعد رکوع ہوناظاہر علامہ شامی نے اسی کواظہرکہا علامہ سیدحموی نے فرمایا : قبل رکوع چاہئے علامہ ازہری نے اسے مقرررکھا۔ علامہ طحاوی نے فرمایا : مقتضائے نظرتخییر ہے چاہے قبل پڑھے یابعد۔ شرح نورالایضاح میں ہے :
قال الامام ابوجعفر الطحاوی رحمہ اﷲ تعالی انما لایقنت عندنا فی الفجر من غیر بلیۃ فان وقعت فتنۃ اوبلیۃ فلاباس بہ فعلہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ای بعد الرکوع کما تقدم ۔
امام ابوجعفر طحاوی نے فرمایا ہے کہ ہمارے نزدیك کسی مصیبت وبلاء کے نزول کے بغیرفجر کی نمازمیں قنوت نازلہ نہ پڑھی جائے اور اگر کوئی فنہ یابلاء واقع ہوتی ہو توپھرکوئی حرج نہیں کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایساکیا ہے یعنی رکوع کے بعد پڑھے جیسا کہ پہلے گزرا ہے(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب سجود السحو مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۸۲
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الوتر مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۲۰۶۷
#11806 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
فتح اﷲ المعین میں بعد نقل قول امام طحاوی ہے :
ظاھرہ انہ لوقنت فی الفجر لبلیۃ انہ یقنت قبل الرکوع ۔
اس سے ظاہرہوتاہے کہ اگرنزول بلاء کے موقعہ پر قنوت پڑھے تو رکوع سے قبل پڑھے۔ (ت)
طحطاوی حاشیہ مراقی میں ہے :
قال الحموی وینبغی ان یکون القنوت قبل الرکوع فی الرکعۃ الاخیرۃ ویکبرلہ ۔
حموی نے کہا ہے کہ مناسب یہ ہے قنوت آخری رکعت کے رکوع سے قبل پڑھے او ر اس کے لئے تکبیربھی کہے۔ (ت)
قول شرنبلالی ای بعد الرکوع (یعنی بعدرکوع۔ ت) پرلکھا :
ھذا یخالف ماقدمناہ عن الحموی
(یہ حموی سے مروی کے خلاف ہے۔ ت)
ردالمحتارمیں ہے :
الذی یظھرلی ان المقتدی یتابع امامہ الا اذا جھر فیومن وانہ یقنت بعد الرکوع لاقبلہ بدلیل ان ماستدل بہ الشافعی علی قنوت الفجر وفیہ التصریح بالقنوت بعد الرکوع حملہ علماؤنا علی القنوت للنازلۃ ثم رأیت الشرنبلالی فی مراقی الفلاح صرح بانہ بعدہ واستظھر الحموی انہ قبلہ و الاظھر ماقلناہ ۔
میرے نزدیك ظاہربات یہ ہے کہ مقتدی بھی امام کی پیروی میں پڑھے لیکن اگرامام قنوت پڑھنے میں جہرکرے توپھرمقتدی صرف آمین کہے اور قنوت رکوع کے بعد پڑھے پہلے نہ پڑھے اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس سے امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فجر میں قنوت پڑھنے پراستدلال کیاہے اس حدیث مین بعدازرکوع کی تصریح ہے۔ اس حدیث میں بعد ازرکوع قنوت کو قنوت نازلہ پرہمارے علماء نے محمول کیاہے پھر میں نے دیکھا کہ شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں بعد از رکوع کی تصریح کی ہے اور حموی نے قبل از رکوع کوظاہر قراردیاہے جبکہ زیادہ واضح وہ ہے جو میں نے کہاہے (ت)
حوالہ / References فتح المعین باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۵۲
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الوتر مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۰۶
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الوتر مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۲۰۶۷
ردالمحتار مطلب فی القنوت للنازلۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۶
#11807 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
طحطاوی علی الدرالمختارمیں ہے :
قلت قد ورد فعلہ قبلہ وبہ قال الامام مالك وبعدہ وبہ قال الامام الشافعی فمقتضی النظر التخییر وذکر الشرنبلالی انہ یقنت بعد الرکوع ۔
میں کہتاہوں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا عمل قبل ازرکوع کے بارے میں مروی ہے یہ امام مالك کاقول و مسلك ہے اور دوسری روایت میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کاعمل بعدازرکوع مروی ہے اور یہ امام شافعی کا قول ومسلك ہے غوروفکر سے معلوم ہوتاہے کہ دونوں طرح کااختیار ہے اور شرنبلالی نے بعد از رکوع کوذکرکیاہے۔ (ت)
اقول : اس قضیہ نظرمیں نظرہے ۔
فلیس اختلاف المجتہدین قاضیا بالتسویۃ عندنا اذاکان احد القولین الیق بمذھبنا واقعد باصولنا۔
ہمارے نزدیك مجتہدین کے اختلاف کامطلب دونوں طرح کی مساوات نہیں ہے جبکہ ہمارے مذہب اور ہمارے اصول کی ایك قول تائید کرتاہے تووہ راجح ہے۔ (ت)
اور فقیر کے نزدیك اقرب وانسب مختار سید علامہ حموی ہے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا :
لماترجح ذلك خرج مابعد الرکوع من کونہ محلا للقنوت فلذا روی عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی انہ لوسھی عن القنوت فتذکرہ بعد الاعتدال لایقنت ۔
جب قبل از رکوع قنوت پڑھنا ترجیح پاچکاہے تو اب رکوع کے بعد قنوت کامحل ختم ہوگیا اسی لئے امام ابوحنیفہ سے مروی ہے کہ اگرکوئی شخص قبل از رکوع قنوت پڑھنے کوبھول جائے اور رکوع سے کھڑاہوجائے تو اب یادآنے پرقنوت نہ پڑھے(ت)
ہاں اس میں شك نہیں کہ برتقدیر قنوت نوازل مقتدی قبلیت وبعدیت میں اتباع امام کرے گا اور اگرامام بعدرکوع پڑھے تو یہ بھی بعد ہی پڑھے گا ۔
فانہ اذا کان یتابعہ فی قنوت الوتر بعد الرکوع مع نص المذھب انہ قبل الرکوع فھذا اولی۔
کیونکہ جب وتر کی قنوت میں مقتدی رکوع کے بعد پڑھنے میں امام کی پیروی کرسکتاہے حالانکہ ہمارے مذہب میں قبل ازرکوع قنوت پرتصریح موجود ہے تو اس قنوت نازلہ میں بطریق اولی امام کی پیروی کرسکتاہے(ت)
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۸۱
فتح القدیر باب صلٰوۃ الوتر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۴
#11808 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
فتح القدیر میں ہے :
ھذا یحق خروج القومۃ عن المحلیۃ بالکلیۃ الا اذااقتدی بمن یقنت فی الوتر بعد الرکوع فانہ یتابعہ اتفاقا ۱ھ واﷲ تعالی اعلم۔
یہ بات ثابت کرتی ہے کہ قومہ قنوت کے محل سے خارج ہے مگرجب ایسے امام کی اقتداء کی ہو جووتروں میں بعد از رکوع قنوت پڑھنے کاقائل ہو توپھر امام کی پیروی کرے باتفاق یہ حکم ہے۱ھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۰۷ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دفع طاعون ووباء کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھناجائز ہے یانہیں بینوا توجوا۔
الجواب :
وقت نزول نوازل وحلول مصائب ان کے دفع کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھنا احادیث صحیحہ سے ثابت اور مشروعیت اس کی مستمرغیرمنسوخ۔
روی الامام البخاری والامام مسلم فی للبخاری قال اخبرنا احمد بن یونس ثنازائدۃ عن التیمی عن ابی مجلز عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ قال قنت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شھرا یدعو علی رعل وذکوان ولفظ المسلم من طریق المعتمر عن سلیمن التیمی عن ابی مجلز عن انس ابن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ قنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شھرا بعد الرکوع فی صلوۃ الصبح یدعوا علی رعل وذکوان ویقول عصیۃ عصت اﷲ ورسولہ ۔ وفی صحیحہ
بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں اور حافظ نسائی نے اپنی سنن میں اور بخاری کے الفاظ یہ ہیں احمد بن یونس نے خبردی کہ زائدہ نے تیمی اور انہوں نے ابومجلز سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قنوت پڑھتے ہوئے رعل اور ذکوان پر ایك ماہ بدعا فرمائی اور مسلم نے معتمر عن سلیمن التیمی عن ابی مجلز عن انس رضی اللہ تعالی عنہ یہ الفاظ کہے حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ایك ماہ فجر کی نماز میں رکوع کے بعد رعل ذکوان اور عصیہ کے خلاف قنوت کے ذریعہ بدعافرمائی اور فرمایا عصیہ نے اﷲ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ اور امام مسلم کی صحیح میں بھی یہ ہے کہ محمد بن
حوالہ / References فتح القدیر باب الصلٰوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۷۴
صحیح بخاری کتاب المغازی ، باب غزوۃ الرجیع الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۵۸۷
صحیح مسلم باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۷
#11809 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
ایضا حدثنا محمد بن مھران الرازی فذکر باسنادہ عن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ حدثھم ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قنت بعد الرکعۃ فی صلوات شھرا اذا قال سمع اﷲ لمن حمدہ یقول فی قنوتہ اللھم انج الولید بن الولید اللھم انج سلمۃ بن ھشام اللھم نج عیاش بن ابی ربیعۃ اللھم انج المستضعفین من المؤمنین اللھم اشدد وطأتك علی مضر اللھم اجعلھا علیھم سنین کسنی یوسف قال ابوھریرۃ ثم رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ترك الدعا بعد فقلت اری رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قد ترك الدعاء لھم قال فقیل وما تراھم قدقدموا ۔
مہران نے اپنی سند کے ساتھ ابوسلمہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ایك ماہ رکوع کے بعد سمع اﷲ لمن حمدہ کہنے پرقنوت پڑھی اور قنوت میں یہ پڑھا : اے اﷲ! نجات دے ولید کو اے اﷲ! نجات دے سلمہ بن ہشام کو اے اﷲ نجادت دے عیاش بن ابی ربعیہ کو اے اﷲ نجات دے ضعیف مومنوں کو۔ اے اﷲ! اپنی سخت پکڑفرما مضرپر اے اﷲ! ان پرقحط مسلط فرما جتنے سال یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں قحط نازل ہوا۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو دیکھاکہ آپ نے بددعاچھوڑدی تومیں نے دل میں کہا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بددعاچھوڑدی او ر کہا کہ مجھے کہاگیاکہ وہ حفاظ آگئے تمہارا کیاخیال ہے۔ (ت)
عبدالرزاق حاکم دارقطنی باسناد صحیح بطریق امام باقر حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہما سے روای :
انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یزل یقنت فی الصبح حتی فارق الدنیا ۔
حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ قنوت تاحیات پڑھتے رہے۔ (ت)
یہ حدیث اور دیگراحادیث قنوت فجر برخلاف شافعیہ کہ انہیں فجرمیں دوام قنوت کی دلیل ٹھہراتی ہیں صریح نوازل ہیں اور واردان پرمحمول پس حاصل یہ کہ جناب سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وقت نزول شدائد دواما قنوت پڑھی اور جب وہ بلادفع ہوجاتی بوجہ ارتفاع ضرورت ترك فرماتے اور مشروعیت
حوالہ / References صحیح مسلم باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات الخ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۷
المصنف لعبدالرزاق باب القنوت ، حدیث ۴۹۶۴ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۱۱۰ ، سنن الدارقطنی باب صفۃ القنوت الخ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۲ / ۳۹
#11811 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
اس قنوت کی کتب حنفیہ میں بھی مصرح جیسا کہ ۱ اشباہ ۲ درمختار ۳ بحرالرائق ۴ غایت ۵ ملتقط ۶سراج ۷ شرح نقایہ شمنی ۸فتح القدیر ابن الہمام ۹ کلام رئیس الحنفیہ امام ابوجعفر بن سلامہ طحاوی وغیرہ سے ثابت متون میں غیروترمیں قنوت پڑھنا ممنوع ٹھہرایا شارحین کرام نے قنوت نوازل کو اس سے استثناء فرمایا۔
فی الدرالمختار ولایقنت فی غیرہ الالنازلۃ فیقنت الامام فی الجھریۃ وقیل فی الکل وفی البحرالرائق فی شرح النقایۃ معزیا الی الغایۃ وان نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام فی صلوۃ الجھر وھو قول الثوری واحمد وقال جمہور اھل الحدیث القنوت عند النوازل مشروع فی الصلوات کلھما ۔ وفی الاشباہ والنظائر فائدۃ فی الدعاء برفع الطاعون سئلت عنہ فی طاعون سنۃ تسع وستین وتسعمائۃ بالقاھرۃ فاجبت بانی لم ارہ صریحا ولکن صرح فی الغایۃ وعزاہ الشمنی الیھا بانہ اذا نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الامام فی صلواۃ الفجر وھو قول الثوری واحمد وقال جمہور اھل الحدیث القنوت عند النوازل مشروع فی الصلوات کہما انتھی وفی فتح القدیر ان مشروعیۃ القنوت للنازلۃ مستمرۃ لم تنسخ وبہ قال جماعۃ من اھل الحدیث و حملو علیہ حدیث ابی جعفر
درمختارمیں ہے کہ غیروتر میں صرف قنوت نازلہ پڑھ سکتاہے اور قنوت نازلہ امام جہری نماز میں پڑھے اور بعض نے کہا تمام نمازوں میں پڑھے اور بحرالرائق میں ہے کہ شرح نقایہ میں غایہ کے حوالہ سے ذکرکیا کہ اگرمسلمانوں پرکوئی مصیبت نازل ہو تو امام نمازفجر میں قنوت پڑھے یہ امام احمد اور امام ثوری کا قول ہے اور جمہورمحدثین نے کہا کہ قنوت نازلہ تمام نمازوں میں جائز ہے۔ اور الاشباہ والنظائر “ طاعون کوختم کرنے میں دعا کافائدہ “ میں ہے قاہرہ میں ۹۹۹ھ میں طاعون کے موقعہ پر مجھ سے اس بارے میں سوال کیاگیا تومیں نے جواب میں کہا کہ میں نے صریح طور پر اس بارے میں نہیں دیکھا لیکن غایہ میں تصریح ہے کہ شمنی نے اس بات کو صاحبین کی طرف منسوب کیا اور کہا کہ اگرکوئی مصیبت نازل ہو تو امام نمازفجر میں قنوت پڑھے یہ امام احمد اور امام ثوری کاقول ہے اور جمہور اہلحدیث نے فرمایا کہ تمام نمازوں میں قنوت جائزہے انتہی اور فتح القدیرمیں ہے قنوت نازلہ جاری ہے منسوخ نہیں ہے اور اہل حدیث کی جماعت کایہ قول ہے اور انہوں نے ابوجعفر کی حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے
حوالہ / References درمختار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
بحرالرائق شرح کنزالدقائق باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۴۴
#11812 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
عن انس رضی اﷲ تعالی عنہما مازال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقنت حتی فارق الدنیا ای عندالنوازل وماذکرنا من اخبار الخلفاء یفید تقررہ لفعلھم ذلك بعدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقد قنت الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ فی محاربۃ الصحابۃ رضی اﷲ عنھم مسیلمۃ الکذاب وعندمحاربۃ اھل الکتب وکذلك قنت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ وکذلك قنت علی رضی اﷲ تعالی عنہ فی محاربۃ معاویۃ رضی اﷲ تعالی عنھما وقنت معاویۃ فی محاربتہ رضی اﷲ تعالی عنھما انتھی فالقنوت عندنا فی النازلۃ ثابت وھو الدعاء برفعھا ولاشك ان طاعون من اشد النوازل قال فی المصباح النازلۃ المصیبۃ الشیدۃ تنزل بالناس انتھی وذکر فی السراج الوھاج قال الطحاوی ولایقنت فی الجر عندنا من غیر بلیۃ فان وقعت بلیۃ فلاباس بہ کما فعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانہ قنت شھرا فیھا یدعو علی رعل وذکوان وبنی لحیان ثم ترکہ کذا فی الملتقط انتھی(ملتقطا)۔
مروی حدیث اسی معنی پرمحمول کیاہے اور وہ یہ کہ حضورعلیہ الصلوہ والسلام تاحیات قنوت نازلہ مصیبت پرپڑھتے رہے اور خلفاء کے عمل کے بارے میں جوج ہم نے ذکرکیاہے وہ بھی اس کی تائید کرتاہے کہ انہوں نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد یہ عمل جاری رکھا اور ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے مسیلمہ کذاب سے صحابہ کی جنگ اور اہل کتاب سے جنگ میں قنوت پڑھی اسی طرح عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے قنوت پڑھی اور ایسے ہی علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے جنگ کے دوران پڑھی اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگوں کے دوران قنوت پڑھی انتہی پس قنوت نازلہ ہمارے ہاں مصیبت کو ختم کرنے کے لئے دعا کے طورپر ثابت ہے اور اس میں شك نہیں کہ طاعون بھی بڑی مصیبت ہے اور مصباح میں فرمایا کہ نازلہ لوگوں پرشدید مصیبت کے نزول کو کہتے ہیں انتہی اور سراج الوہاج میں ذکرہے کہ امام طحاوی نے فرمایا کہ نزول مصیبت کے بغیر نمازفجر میں قنوت نہ پڑھی جائے لیکن اگرمصیبت نازل ہو تو ہمارے نزدیك قنوت پـڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ایك ماہ قنوت پڑھی اور اس میں رعل ذکوان اور بنولحیان پربددعا فرمائی اور پھر آپ نے ترك کردی ملتقط میں اسی طرح ہے انتہی ملتقطا۔ (ت)
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثالث فائدۃ فی الدعاء لرفع الطاعون ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۲۶۱ و ۲۶۲
#11813 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
یہاں سے ظاہر کہ اختلاف شافعیہ وحنفیہ دربارہ قنوت فجر کہ وہ علی الدوام حکم دیتے اور ہم انکار کرتے ہیں غیرنوازل میں ہے نہ قنوت نوازل میں اور بلاشبہ طاعون ووبا اشدنوازل سے ہیں اور ان کے عموم میں داخل کما مر من الاشباہ (جیسا کہ اشباہ سے گزرا۔ ت) پس اگر امام دفع طاعون ووبا کے لئے نمازفجر میں قنوت پڑھے تو اس کے جواز ومشروعیت میں کوئی شبہ نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۰۷ : ۸جمادی الاخری ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جسے امام کے پیچھے نمازو وتر میں بھی رکعتیں فوت ہوئیں اور قنوت بھی وہ جب اپنی باقی نمازپڑھنے کو کھڑا ہو تواخیر رکعت میں دعائے قنوت دوبارہ پڑھے یاوہی جوامام کے پیچھے پڑھی کافی ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اسی پراکتفا کرے دوبارہ نہ پڑھے کہ تکرار قنوت مشروع نہیں ۔
فی الدر اما المسبوق فیقنت مع امامہ فقط ۱ھ فی ردالمحتار لانہ اخر صلوتہ ومایقضیہ اولھا حکما فی حق القرائۃ ومااشبھھا واذا وقع قنوتہ فی موضعہ بیقین لایکررلان تکرارہ غیر مشروع شرح المنیۃ ۱ھ واﷲ تعالی اعلم۔
درمیں ہے کہ مسبوق(جس کی کوئی رکعت جماعت سے رہ جائے) صرف امام کے ساتھ قنوت پڑھے۱ھ۔ ردالمحتارمیں ہے کیونکہ امام کے ساتھ اس کی نماز کاآخری حصہ ہے اور جس کوقضاکررہاہے وہ قرأۃ وغیرہ کے اعتبار سے حکما نماز کا اول ہے اور جب قنوت امام کے ساتھ اپنے محل میں اداہوچکی ہے تو اس کا تکرار نہ کیاجائے کیونکہ اس کاتکرار جائزنہیں شرح منیہ۱ھ۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۰۸ : ازاوجین علاقہ گولیار مرسلہ محمدیعقوب علی خاں صاحب از مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ یکم ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ
دوسہ مردم درآں مسجد کہ امام بجماعت تراویح مشغول تام ست حاضر گردیدند آنہا نمازفرض بجماعت ادانمایند یاجداگانہ خواندہ خواندہ ملحق جماعت تراویح شوند وبازوتر دوتین آدمی مسجد میں آئے توامام نمازتراویح میں مصروف تھا کیا یہ آنے والے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے جماعت کرائیں یاعلیحدہ علیحدہ پڑھیں اور اس کے بعد
حوالہ / References درمختار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۴
ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۹۶
#11815 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
راہمراہ اما بخوانند یا تنہا چراکہ امام رابجماعت فرض نیافتہ بینواتوجروا۔
تراویح کی جماعت میں شامل ہوں اور کیایہ لوگ وتر امام کے ساتھ جماعت سے اداکریں یا اس امام کی جماعت کے ساتھ فرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے وتر علیحدہ پڑھیں بیان کرو اجرپاؤ ۔ (ت)
الجواب :
جماعت تراویح مانع جماعت فرض نیست لان قیام جماعۃ انما یمنع اقامۃ جماعۃ اخری فی زمانھا ومکانھا اذا کانت الاولی داعیۃ لکل من یأتی الی الدخول فی نفسھا وجماعۃ التراویح لاتدعو من لم یصل الفرض الی الدخول فیھا فان الصحیح المعتمد بطلان التراویح قبل اداء الفرض ولذا قال فی جامع الرموز اذا دخل واحد فی المسجد والامام فی التراویح یصلی فرض العشاء اولا ثم یتابعہ
پس آنا نکہ از پس رسیدند چوں شرعا مامورند بادائے فرض پیش ازتراویح چراممنوع باشد ازجماعت حالانکہ چوں امام درتراویح ست محراب مشغول باشد پس عدول ازوکہ مبدل ہیأت وبرمذہب صحیح ومفتی بہ نافی کراہت ست کما نص علیہ فی مواضع من ردالمحتار اینجا خود حاصل ست پس برمذہب صحیح ایناں راہیچ مانع ازاقامت جماعت نیست آرے ہرقدرکے تواننددور ازجماعت نیست آرے ہرقدر کہ توانند دورازجماعت قوم جماعت فرض برپاکنند تاہم خویشتن ازالتباس افعال واشتغال بال ایمن باشندوہم براہل تراویح
تراویح کی جماعت فرض کی جماعت کے لئے مانع نہیں ہے کیونکہ دوسری جماعت کے لئے وہ موجودہ جماعت مانع ہوتی ہے جو کہ تمام آنے والوں کے لئے یہ پہلی موجودہ جماعت اپنے اندر داخل ہونے کی داعی ہو جبکہ بعد میں آنے والے ان لوگوں کوجنہون نے فرض نمازنہیں پڑھی کے لئے یہ موجودہ جماعت تراویح داعی نہیں ہے کہ اس میں شامل ہوں کیونکہ فرض ادا کرنے سے قبل تراویح کاپڑھنا صحیح مذہب میں باطل ہے اسی بناء پر جامع الرموز میں کہاہے کہ جب کوئی ایك شخص جماعت تراویح ہوتے وقت آئے تو اس کو پہلے عشا کے فرض پڑھنے ہوں گے اور اس کے بعد تراویح کی جماعت میں شریك ہو پس بعد میں آنے والے لوگ جب اس بات کے پابند ہیں کہ وہ پہلے فرض اداکریں اور بعد میں تراویح پڑھیں توشرعا ان کو فرض کی ادائیگی جماعت کرانے میں کیامانع ہے خصوصا جبکہ امام تراویح پڑھاتے ہوئے محراب میں ہے توبعد میں آنے والے اپنی جماعت کومحراب سے ہٹ کر کرائیں گے جس سے پہلی جماعت کی ہئیت تبدیل ہوجائے گی اور دوسری جماعت کی کراہت ختم ہوجائے گی جیسا کہ ردالمحتار
حوالہ / References جامع الرموز الوتروالنوافل مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۲۱۴
#11816 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
خصوصا امام تالی قرآن تلبیس ننمایند ھذا کلہ مما لایخفی علی من لہ مساس بالفقہ بازآنکس کہ فرض بجماعت گزاردہ است خواہ کود امام بودیا بامام دیگر غیراین امام اقتدانمودہ اور امیرسد کہ دروتربایں امام اقتدا کند آرے ہرکہ فرج بہ تنہائی ادانمود اوررا دروتر ہم منفرد باید بودعلامہ شامی دررالمحتارفرمود لوصلاھا (یعنی صلاۃ العشاء) جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لاکراھۃ تأمل ومن فقیرایں مسئلہ رادرفتاوی خودم ہرچہ تمام تررنگ تفصیل دادہ ام۔ واﷲ تعالی اعلم
کی تصریح کے مطابق صحیح اور مفتی بہ مذہب یہی ہے جب کراہت کی وجہ خودبخود ختم ہوگئی تو ان لوگوں کی جماعت کے لئے کوئی بھی مانع نہ رہا ہاں ممکن حد تك ان کو چاہئے کہ تراویح کی جماعت سے دور اپنی جماعت کریں تاکہ آپس میں قرأت اور افعال میں اشتباہ نہ پیداہو اور اطمینان قلبی سے نماز اداہوسکے نیز تراویح کے امام جوکہ تلاوت میں مصروف ہے کو اشتباہ سے بچایاجاسکے۔ فقہ سے مس رکھنے والے کو یہ تمام معاملہ معلوم ہے اور پھر جو شخص عشاء کے فرض جماعت سے اداکرچکا ہوخواہ اپنی جماعت کرائی ہو یاکسی اور امام یا اس تراویح والے کے ساتھ جماعت میں شامل ہواہو اس کوتراویح اور وتر کی جماعت میں شریك ہونا جائزہے ہاں جس نے فرض بغیرجماعت اکیلے پڑھے ہوں اس کو وتر اکیلے پڑھنے چاہئیں علامہ شامی نے ردمحتارمیں فرمایا کہ اگرکسی نے عشاء کی نماز کسی دوسرے امام کے ساتھ جماعت سے اداکی ہو تو وہ بلاکراہت اس امام کے ساتھ وتر جماعت سے پڑھ سکتاہے غورکیجئے جبکہ اس فقیرنے اس مسئلہ کو ہمہ پہلو تفصیل کے ساتھ اپنے فتاوی میں بیان کردیا ہے۔ (ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۰۹ : ازاوجین علاقہ گوالیار مرسلہ یعقوب علی خاں صاحب از مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ ۲۹ ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ
بقلم خجستہ رقم عبارت فتاوی صاحب چنیں ترقیم آمدہ است کہ ہرآنکس کہ نماز فرض بجماعت گزاردہ است خود امام بودیابامام دیگرغیرایں امام اقتدا نمودہ اورامیرسدکہ دروتر ہم منفرد باید بودبدیں طورعلامہ شامی در ردالمحتار فرمودہ است فقط صاحبہا
آپ کے مبارك قلم سے فتوی یوں جاری ہوا ہے کہ جوشخص عشاء کی نماز یعنی فرض جماعت سے پڑھ چکاہے خواہ خودامام بنا یاکسی دوسرے امام کے ساتھ جماعت میں پڑھ چکا ہو اس کو اس امام کے ساتھ باجماعت وترپڑھنے کااختیار ہے ہاں جوشخص اکیلے فرض اداکرے اس کووتر بھی اکیلے پڑھنے چاہئیں
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴
#11817 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
درفوائد الاعمال تصنیف قاضی محمد تقی صاحب فیروزپوری کہ فیروزپورہ از توابع ملك میوات ست وایں کتاب درعلم فقہ معتبرست ارقام فرمودہ کہ بعد نمازفرض درجہ واجب ست پس سبب سنت جماعت واجب راترك نماید وسنت را اداسازدکے روا بود بل لازم و واجب ست بعد ادائے نمازوترتراویح باقیماندہ اداکند اگرچہ بجماعت فرض بشمول نشدہ باشد ہمیں ست حکم کتب الفقہ ودرشامی جلد اول صفحہ ۴۷۶ ودر طحطاوی جلد اول صفحہ۲۹۷ ودردرالمحتار وتزکیۃ القیام مصنفہ مولینا صاحب عبدالحق محدث دہلوی نوشتہ است کہ اگرچہ جماعت فرض بدست نیامدہ باشد تاہم وتر راضروربجماعت ادانمودن درست ست یاقطعی حکم ممانعت ست مطلع فرمایند ایں گستاخی کہ ازیں احقرالبریہ رفتہ است معاف فرمایند وبخوف طول اصل عبارت موقوف داشتہ۔
علامہ شامی نے ردمحتارمیں یونہی بیان کیاہے فقط حالانکہ فوائد الاعمال جوکہ قاضی محمد تقی فیروزپوری کی تصنیف ہے اور فیروزپورمیوات کے علاقہ سے تعلق رکھتاہے اور یہ کتاب علم فقہ میں معتبرہے اس میں انہوں نے لکھاہے کہ فرض کے بعد واجب کا درجہ ہے لہذا سنت جماعت کی وجہ سے واجب کو یعنی وتر کو ترك کرنا اور سنت یعنی تراویح کواداکرنا کب جائز ہوسکتاہے اس لئے لازم ہے کہ وتر باجماعت اداکرکے باقی تراویح کوبعد مین پڑھے اگرچہ اس نے فرض اکیلے ہی پڑھے ہوں یہی حکم کتب فقہ میں ہے اور شامی جلداول صفحہ ۴۷۶ اور طحطاوی جلد اول صفحہ ۲۹۷ اور ردالمحتار اور تزکیۃ القیام مصنفہ مولانا عبدالحق محدث دہلوی میں لکھا ہے کہ اگرچہ فرض جماعت سے ادانہ کئے ہوں تب بھی ضروری ہے کہ وتر جماعت سے اداکرلے اب سوال یہ ہے کہ فرض باجماعت ادانہ کئے ہوں تب بھی وترجماعت سے اداکرنا جائز ہیں یاجائز نہ ہونے کاقطعی حکم ہے مطلع فرمائیں اس فقیرسے اگرگستاخی ہوئی ہو تومعاف فرمائیں اور طوالت کے ڈرسے اصل عبارت موقوف کردی ہے۔ (ت)
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب مہربانا حکم مسئلہ ہمان ست کہ فقیر نوشت وانچہ ازچارکتاب آوردہ اند کہ جماعت وتر مطلق ضروری ولابدی ست درسہ پیشین اعنی حاشیہ شامی وطحطاوی ودرمختار زنہارازیں معنی نشانے نیست و
اے اﷲ! حق اور درستگی کی رہنمائیل فرما میرے مہربان اس مسئلہ کاحکم وہی جو اس فقیرنے لکھاہے اور انہوں نے جن چارکتابوں کے حوالہ سھ لکھاہے کہ وتر کوجماعت سے پڑھنا مطلقا ضروری ہے ان میں سے تین یعنی شامی طحطاوی اور درمختارمیں قطعا اس مفہوم کاکوئی نشان تك نہیں ہے اور
#11818 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
تذکیۃ القیام رافقیر گاہے ندیدہ بلکہ نامش نشنیدہ ام اگرازتصانیف شیخ محقق قدس سرہ العزیز ست یقین دارم کہ ایں حکم درو ہرگز نباشد وچساں گمان بردہ آید کہ عالمے معتمد ہمچو شیخ مستند ایں چنیں کلامے بے سند برخلاف اجماع رقم زند ضروری و لابدی بمودنش درکنار علمارا اختلاف ست کہ افضل دروتر جماعت ست یابخانہ خویش تنہا گزاردن ائمہ افتا ہردوقول را تصحیح فرمودہ اند طرفہ آنکہ درمختار ہمیں قول اخیریعنی افضلیت انفرادر مذہب قرارداد و شیخ محقق درماثبت بالسنہ ہموں را مختار گفت و آنانکہ افضلیت جماعت رامرجح داشتند سپید نگاشتند کہ جماعت دروتر سنتے بیش نیست بلکہ سنیت اوازسنیت جماعت تراویح نازل تر ست ودربحرالرائق وغیرہ ہمیں بہ لفظ استحباب تعبیر رفت اینك عبارت درمختار ھل الافضل فی الوترالجماعۃ ام المنزل تصحیحان لکن نقل شارح الوھبانیۃ مایقتضی ان المذھب الثانی و اقرہ المصنف وغیرہ ۔ شیخ فرماید اختلفوا فی الافضل فقال بعضھم
تزکیۃ القیام نام کی کتاب اس فقیرنے نہ دیکھی نہ سنی اگرواقعی یہ کتاب شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی ہے توپھرمجھے یقین ہے کہ اس کتاب میں یہ حکم ہرگز نہ ہوگا حضرت شیخجیسے قابل اعتماد عالم کے بارے میں یہ کیسے گمان کیاجاسکتاہے کہ انہوں نے ایسی بے سند بات اور خلاف اجماع تحریرکردی ہے چہ جائیکہ انہوں نے ضروری اور لابدی قراردیا ہو۔ علماء میں تویہ اختلاف ہے کہ رمضان میں وتر باجماعت پڑھناافضل ہے یاتنہا گھرمیں جبکہ ائمہ کرام نے دونوں باتوں کو صحیح قرار ہے اور شیخ محقق نے بھی اپنی کتاب ماثبت بالسنۃ میں اسی دوسرے قول کوترجیح دی ہے اور وہ لوگ جووتر کوجماعت سے پڑھنے کوافضل کہتے ہیں ان کے نزدیك بھی وتر باجماعت سنت سے زیادہ نہیں بلکہ یہ سنت ان کے ہاں تراویح کے سنت سے کم درجہ ہے اور بحرالرائق میں تو اس کواستحباب سے تعبیر کیاہے درمختارکی عبارت یہ ہے کیا وتر کی جماعت افضل ہے یاگھرمیں پڑھنا دونوں کی تصحیح موجود ہے لیکن وہبانیہ کے شارح نے جونقل کیااس کامقتضی یہ ہے کہ دوسراقول مذہب ومسلك ہے اسی کو مصنف وغیرہ نے ثابت کیاہے اور شیخ عبدالحق نے یوں فرمایا ہے علماء نے وتر کے بارے میں اختلاف
حوالہ / References درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
#11819 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
الافضل الاجماعۃ وقال الاخرون الافضل ان یوترفی منزلہ منفردا وھو المختار ۔ (علامہ شامی قدس سرہ السامی فرمود رجع الکمال الجماعۃ فی شرح المنیۃ والصحیح ان الجماعۃ فیھا افضل الا ان سنیتھا لیست کسنیۃ جماعۃ التراویح۱ھ ملخصا ۔ علامہ طحطاوی زیرقولش فی رمضان یصلی الوتر بھاای بالجماعۃ “ تحریر نمود “ ای استحبابا کما فی البحروظاھر ماسیأتی لہ انھا فیہ سنۃ کالتراویح پس روشن شد کہ نسبت کلام مذکور بایں علما غلط بودہ است واگرازحکم ضروری ولابدی بودن جماعت قطع نظر نمودہ آید تاہم نسبت بعلامہ شامی نسبت بمخالف ست زیراکہ او رحمۃ اللہ تعالی علیہ تصریح فرمودہ است کہ ہرکہ درفرض منفرد بوددر وترہم اقتدا نکند از علامہ شمس قہستای آورد واذا لم یصل الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر ۔ بازخودگفت ینبغی ان یکون قول القھستانی
کیا کہ افضل جماعت ہے یاافضل یہ ہے کہ گھرمیں اکیلے پڑھے اور یہ دوسرا قول ترجیح یافتہ ہے۔ علامہ شامی نے فرمایا ہے کہکمال نے جماعت والے قول کوترجیح دی ہے اور منیہ کی شرح میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ جماعت افضل ہے لیکن وتر کی جماعت سنت تراویح کی جماعت کی سنت کی طرح نہیں ہے۱ھ ملخصا ۔ اور علامہ طحطاوی نے ماتن کے اس قول کہ 'رمضان میں وتر جماعت سے پڑھے' کے بعد لکھاہے کہ یہ استحباب ہے جیسا کہ بحر میں ہے اور ظاہر یہ ہے کہ جو ان سے آگے آئے گا کہ رمضان میں وتر کی جماعت سنت ہے جیسے تراویح سنت ہے۔ پس معلوم ہوا کہ مذکورہ بات ان علماء کی طرف غلط منسوب کی گئی ہے اور لابدی اور ضروری حکم سے قطع نظر بھی علامہ شامی کی طرف اس بات کومنسوب کرنا ایك مخالف چیز کو منسوب کرناہے کیونکہ انہوں نے تصریح کی ہے کہ اگرفرض جماعت سے نہ پـڑھے ہوں تووتربھی جماعت سے نہ پڑھے اور علامہ قہستانی کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ جب فرض امام کی اقتدا میں نہ پڑھے ہوں تووتر میں اس کی اقتدا نہ کرے ۔ اور علامہ نے خود فرمایا کہ علامہ قہستانی کا یہ کہنا کہ معہ احتراز عن صلوتھا منفرد امالو صلاھا جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لاکراھۃ تأمل ۱ھ ۔ ودردرمختاراین مسئلہ را اصلا ذکرے نیست۔ مصنف وشارح اعظم اﷲتعالی اجورھما وافاض علینا نورھما ہمیں نوشتہ اند کہ ہرکہ درتراویح منفرد بود درجماعت وترداخل می تواند شد حیث قالا لولم یصلھا ای التراویح بالامام اوصلاھا مع غیرہ لہ ان یصلی الوترمعہ ایں مسئلہ رابامسئلہ ماچہ علاقہ کہ اینجا کلام درمنفرد فی الفرض ست نہ منفرد فی التراویح وضرورنیست کہ ھرکہ تراویح تنہاگزاردہ است درفرض نیز منفرد بودہ باشد بازشارح رحمۃ اللہ تعالی علیہ سوالے آوردہ است کہ اگرہمہ ہا جماعت تراویح راترك کردہ باشد آیا ایشاں رامی رسد کہ وتربجماعت گزارند اینجا ہیچ حکمے ننمود وامربمراجعت کتب فرمود حیث قال بقی لو ترکھا الکل ھل یصلون الوتر بجماعۃ فلیراجع ۔ آرے
حوالہ / References ماثبت بالسنۃ الفصل السابع ادارہ نعیمیہ رضویہ لاہور ص۳۰۲
ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۵
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۹۷
ردالمحتار آخرباب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴
ردالمحتار آخرباب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴
درمختار آخرباب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
درمختار آخرباب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
#11820 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
اس امام کے پیچھے فرض نہ پڑھے ہوں “ کامطلب یہ ہے اکیلے پڑھے ہوں لیکن اگر اس نے فرض کسی دوسرے امام کی اقتدا میں پڑھے ہوں توپھر وترمیں امام کے ساتھ جماعت میں پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں ہے غور کر۱ھ۔ اور درمختارمیں ہے اس مسئلہ کابالکل ذکرنہیں ہے مصنف اور شارح (اﷲ تعالی ان کے اجر کو عظیم فرمائے اور ان کے نور کاہم پرفیضان فرمائے) دونوں نے لکھاہے کہ کسی نے صرف تراویح اکیلے پڑھی ہوں تو وہ وتر کی جماعت میں شریك ہوسکتاہے۔ انہوں نے یوں فرمایا اگراس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں یاکسی اور امام کے ساتھ پڑھی ہوں تو اس کو اس امام کے ساتھ وتر پڑھناجائزہیں لیکن اس مسئلہ کا ہمار ے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہمارامسئلہ تواکیلے فرض پڑھنے والے کے بارے میں ہے نہ کہ اکیلے تراویح پڑھنے کے بارے میں ہے کیونکہ تراویح اکیلے پڑھنے کویہ لازم نہیں کہ فرض بھی اکیلے پڑھے ہوں ۔ اس کے بعد شارح نے خود سوال اٹھایا کہ اگرتمام حاضرین نے تراویح باجماعت نہ پڑھی ہوں و ان کویہ جائز ہوگا کہ وہ وتر باجماعت اداکریں ۔ شارح نے یہ سوال بیان کرکے کوئی جواب نہ دیا بلکہ یہ کہا اس بارے میں کتب کودیکھاجائے انہوں نے اس کویوں بیان فرمایا “ یہ بات باقی ہے کہ اگرتمام حاضرین نے تراویح کی
#11823 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
علامہ حلبی محشی درجواب ایں سوال ازرائے وفہم خود چناں بحث کردکہ گوجماعت تراویح یکسر متروك باش تاہم مقتضائے تعلیل آن ست کہ جماعت وتررواباشد زیراکہ اونماز مستقل بنفسہ است وھذا نصہ علی مانقل العلامۃ الطحطاوی قولہ فلیراجع قضیۃ التعلیل فی المسئلۃ السابقۃ بقولھم لانھا تبع ان یصلی الوتر بجماعۃ فی ھذہ الصورۃ لانہ لیس بتبع للتراویح ولاللعشاء عندالامام رحمہ اﷲ تعالی ایں جانیزچنانکہ دیدی کلام در منفرد فی الفرض نیست ۔ نعم ربما یوھم قولہ ولاللعشاء جوازبجماعۃ الوتر وان ترکوا جماعۃ الفرض اصلا لکنہ کما علمت خلاف المنقول وماکان لبحث ان یقبل علی خلاف المنصوص لاسیما وھو غیرمستقیم فی نفسہ اذ لیس قضیۃ التعلیل مامر کما افاد العلامۃ الشامی واحاد حیث قال قولہ بقی الخ الذی یظھر ان جماعۃ الوتر
جماعت کوترك کیاہوتو وترجماعت سے پڑھ سکتے ہیں تو اس مسئلہ میں کتب کودیکھاجائے ہاں علامہ حلبی محشی نے ازخود اس سوال کے جواب میں اپنی رائے اور فہم سے یہ بحث کی ہے کہ اگرچہ تراویح کی جماعت متروك ہوگئی مگراب وتر کی جماعت کوترك نہ کریں اس کی وجہ یہ ہے کہ وتر ایك مستقل علیحدہ نماز ہے اور ان کابیان یہ ہے جیسا کہ علامہ طحطاوی نے ان کابیان نقل کیاہے “ کتب کی طرف رجوع کرو “ یہ اس علت کاقرینہ ہے جوانہوں نے سابقہ مسئلہ میں بیان کی ہے کہ تراویح تابع ہیں اس لئے اس کو جائز ہے کہ وہ وترباجماعت پڑھے کیونکہ وترنہ توتراویح کے تابع ہیں اور نہ ہی عشاء کے۔ امام صاحب کے قول میں رحمۃ اللہ تعالی علیہ آپ نے ملاحظہ کیاکہ یہاں بھی فرض اکیلے پڑھنے والے کے بارے میں بات نہیں ہے۔ ہاں اس کاقول “ عشاء کے بھی تابع نہیں “ وہم پیداکرتاہے کہ وتر کی جماعت جائز ہے اگرچہ سب حضرات نے فرض کی جماعت کوترك کردیاہو لیکن آپ کومعلوم ہے کہ یہ بات نقل کے خلاف ہے اور منقول کے خلاف کوئی بحث قابل قبول نہیں ہوتی خصوصا جبکہ وہ بحث خود بھی درست نہ ہو کیونکہ علت والا معاملہ وہ نہیں جو بیان ہوا جیسا کہ علامہ شامی نے خوب بیان فرمایا جہاں انہوں نے یہ کہا “ یہ بات باقی ہے الخ “ ان کایہ سوال اس بات کوظاہرکررہاہے کہ وتر کی جماعت
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الوتروالنوافل مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۹۷
#11824 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
تبع لجماعۃ التراویح وان کان الوتر نفسہ اصلا فی ذاتہ لان سنۃ الجماعۃ فی الوتر انما عرفت بالاثر تابعۃ للتراویح علی انھم اختلفوا فی افضلیۃ صلاتھا بالجماعۃ بعد التراویح کمایأتی ۱ھ
ومن فقیر درفتوی عربیہ کہ بجواب سوال مولوی محمد عبداﷲ صاحب پنجابی ھزاری بتاریخ نوزدہم شہرربیع الآخر ۱۳۰۶ہجریہ نوشتہ ام ایں مقام راباقضائے مراتب تنقیح وتوضیح رساندہ ام وباﷲ التوفیق سخن گفتن ماندازکتاب فوائد الاعمال مہربانا معتبر بودن کتابے نزد بعض معتقدین چیزے ومعتبر بودنش فی نفسہ چیزے دیگرست باز اعتبار کتابے مستلزم آں نیست کہ ہرچہ درومذکور ست مختار ومنصور ست زنہاردرکتب اجلہ ائمہ ہیچ یك کتابے نیابی کہ دربعض مواضع مجال نقدوتنقیح نداشتہ باشد تابتالیف مااحداث ہند چہ رسد مؤلف اگرایں مسئلہ را ازپیش خود گفتہ است بجوئے نیززدورنہ برولازم بود کہ نص کتاب آوردے یالااقل نام کتاب بردے تنہا گفتش کہ ہمیں ست حکم کتب الفقہ چگونہ قبول افتد
تراویح کی جماعت کے تابع ہے اگرچہ وترفی نفسہ مستقل نمازہے کیونکہ وتر کی جماعت کاسنت ہونا یہ نقل سے ثابت ہے کہ یہ تراویح کے تابع ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ علماء نے تراویح کے بعد وترباجماعت پڑھنے کی افضلیت میں اختلاف کیاہے جیسا کہ آئندہ آرہاہے۱ھ۔ اور مجھ فقیر نے عربی فتوی جوکہ مولوی عبداﷲصاحب پنجابی ہزاری کے سوال کے جواب میں بتاریخ ۱۹ربیع الآخر ۱۳۰۶ھ لکھاہے اس میں اس مقام پر خوب اعلی تنقیح وتوضیح سے کام لیاہے وباﷲ التوفیق فوائد الاعمال کے متعلق بات کرناباقی ہے میرے مہربان کسی کتاب کامعتقدین کے ہاں معتبر ہونا ایك بات ہے اور اس کتاب کی اپنی حیثیت میں معتبر ہونا اور بات ہے نیز کسی کتاب کے معتبرہونے کایہ مطلب نہیں کہ اس میں جوکچھ موجود ہے وہ تمام معتبر ومختارہوہرگزایسانہیں ہے کیونکہ بڑے بڑے ائمہ کرام کی کتابوں میں سے کوئی بھی کتاب ایسی نہیں کہ اس کے بعض مقامات قابل تنقید وتنقیح نہ ہوں تو ہم نئے لوگوں کی کتابوں کے بارے میں یہ کیسےکہاجا سکتا ہے کہ ان میں سب کچھ درست ہے۔ فوائد الاعمال کے مصنف نے اگریہ مسئلہ خود اپنی طرف سے کہہ دیا تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ورنہ ان پرلازم تھا کہ وہ کسی ایك کتاب کاہی حوالہ ذکرکردیتے اور
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴
#11827 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
حالانکہ درکتب فقہ ہمچومنیۃ الفقہاء وغنیہ وشرح نقایہ وردالمحتار تنصیص بخلافش می یابیم بازاگربرخاطر احباب گراں نیابد سخن ازنقد کلامش رانم وبرہمگناں واضح ولائح گردانم کہ ایں کلام چہ قدر ازپایہئ فقاہت دورومہجور افتادہ است اولا باید دانست کہ علماء رادروقت تراویح دوقول مذیل بطراز تصحیح ست یکے آنکہ وقتش مابین عشاء ووترست تاآنکہ بعد وتر روانبود چنانکہ بیش از فرض روا نیست صححہ فی الخلاصۃ ورجحہ فی غایۃ البیان بانہ الما ثور المتوارث ۱ھ ش عن البحر دوم آنکہ بعد عشاء تاطلوع فجروہمیں ست ارجح التصحیحین عزاہ فی الکافی الی الجمہور وصححہ فی الھدایۃ و الخانیۃ والمحیط ۱ھ ش عن الذین برمذہب اول ھرکرا چیزے ازتراویح باقی ماند وامام بوتربرخاست حکم ہمیں ست کہ بہ بقیہ تراویح اشتغال نماید وبجماعت وتردرنیاید زیرا کہ نزدایشاں پس ازوتر وقت تراویح
صرف یہ کہہ دینا کہ کتب فقہ کایہ حکم ہے کیسے قابل قبول ہوسکتاہے حالانکہ کتب فقہ مثلا منیۃ الفقہاء غنیہ شرح النقایہ اور ردمحتار میں ہم اس کا خلاف پاتے ہیں پھر اگردوستوں پرگراں نہ گزرے توہم اس کا تنقیدی جائزہ پیش کریں اور ان پرواضح کردیں کہ ان کے بیان کی کیاحیثیت ہے اور یہ کہ فقہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اولا معلوم ہوناچاہئے کہ تراویح کے وقت کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے اور اس میں دو قول ہیں جو کہ تصحیح کے معیار پر آتے ہیں : ایك یہ کہ تراویح کا وقت نمازیعنی فرض عشاء اور وتر کے درمیان ہے اس بناپر فرض سے قبل تراویح جائزنہیں جس طرح کہ وترکے بعد جائز نہیں اس قول کو خلاصہ میں صحیح قراردیاہے اور غایۃ البیان نے اس کو زمانہ بزمانہ منقول کہہ کر ترجیح دی ہے۱ھ۔ یہ شارح نے بحر سے نقل کیاہے دوسراقول یہ ہے کہ اس کاوقت بعدازعشاء تاطلوع فجر ہے یہی قول صحت میں راجح ہے اور کافی میں اس کو جمہور کی طرف منسوب کیاہے اور ہدایہ خانیہ اور محیط میں اس کوصحیح قراردیاہے۱ھ۔ یہ شارح نے زین سے نقل کیاہے اب پہلے قول کے مطابق اگرکسی کی کچھ تراویح رہتی ہوں اور امام وتر شروع کرچکاہے اس کو یہ حکم ہے کہ وہ امام کے
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۱
ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۱
#11829 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
فوت می شود۔ امام طاھربن احمد بخاری درخلاصہ فرمود یشتغل بالترویحۃ الفائتہ لانہ لایمکنہ الاتیان بھا بعد الوتر وبرمذہب دوم بہردوامر مخیراست اما اختلاف درافضل افتاد ہرکہ دروتر انفرادرا بہتردانستہ نزد اواشتغال بترویحہ فائتہ رابس انداختن خوشتر وماناکہ ہمیں احب باشد وفقیر گویم چوں صحیح دوم جانب عدم صحت تراویح بعد وتراست ینبغی انسب مراعات آں باشد واﷲ تعالی اعلم۔ قال فی الدرالمختار وقتھا بعد صلاۃ العشاء الی الفجر قبل الوتر وبعدہ فی الاصح فلوفاتہ بعضھا وقام الامام الی الوتر اوتر معہ ثم صلی مافاتہ ۱ھ قال فی ردالمحتار قولہ فلوفاتہ بعضھا الخ تفریع علی الاصح لکنہ مبنی علی ان الافضل فی الوتر الجماعۃ لاالمنزل
ساتھ وترنہ پڑھے بلکہ بقیہ تراویح کوپہلے پڑھے کیونکہ اس قول والوں کے ہاں وتر کے بعد تراویح کاوقت ختم ہوجاتاہے۔
امام طاہربن احمدبخاری خلاصہ میں فرماتے ہیں کہ وہ بقیہ تراویح اداکرے کیونکہ وتر کے بعد اس کوتراویح پڑھناممکن نہیں ۔ اور دوسرے قول کے مطابق اس کو دونوں طرح اختیار ہے کہ بقیہ تراویح وترسے پہلے پڑھے یابعد۔ لیکن افضل ہونے میں ضرور اختلاف ہے کہ جولوگ وترتنہا پڑھنا افضل کہتے ہیں کہ تراویح پہلے پڑھے اور جو جماعت کوبہترجانتے ہیں ان کے نزدیك پہلے وترجماعت کے ساتھ پڑھ کراس کے بعد باقی ماندہ تراویح پڑھے یہ تسلیم ہے کہ پسندیدہ امریہی ہے لیکن ایك قول میں وتر کے بعد تراویح جائزنہیں ہے اس لئے یہ فقیر کہتاہے کہ اس قول کی رعایت زیادہ مناسب ہے واﷲ تعالی اعلم۔ درمختارمیں کہا کہ تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد تاطلوع فجر ہے وترسے قبل یا بعد یہ اصح قول ہے۔ پس اگرکچھ تراویح رہ جائیں اور امام وتر کے لئے کھڑاہوجائے تو اسے چاہئے کہ وہ امام کے ساتھ وترپڑھے اور فوت شدہ تراویح اس کے بعد پڑھے۱ھ۔ اس پر ردمحتارمیں کہا (قولہ فلوفاتہ بعضہا الخ) یعنی ماتن کاقول کہ اگرکچھ تراویح رہ جائیں یہ اصح قول پرتفریع ہے لیکن یہ تفریع اس بات پرمبنی ہے کہ وترگھر کی بجائے
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الثالث فی التراویح مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ / ۶۳
درمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۸
#11831 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
وفیہ خلاف سیأتی فقولہ اوتر معہ ای علی وجہ الافضلیۃ الخ ۔ بالجملہ بریك مذہب راہ ہمیں ست کہ بجماعت وترشرك نکند وبرمذہب دیگرنزد بعضے افضل ہمیں ست ونزد کہ صاحب فوائد نوشت مذہب ہیچ عالمے نیست نہ زنہارا از شرع بروے دلیلے۔ ثانیا قول اوپس بسبب سنت جماعت واجب راترك نماید وسنت راادا اسازد کے روابود طرفہ استدلالے ست اگر لفظ واجب صفت جماعت سنت بداہتہ غلط وباطل بالاگفتہ ایم کہ جماعت وترنزد ہیچ کسے واجب نیست واگرمضاف الیہ است پس دلیل واجح الاختلال سخن درترك جماعت ست نہ درترك وتر پس قول او “ کے روابود “ کے روابود الحاصل حکم ہمان ست کہ فقیر درفتوائے پیشیں نوشتہ ام وازردوقدح ہمچو کلمات سکوت اولی بود اگر ایضاح صواب وکشف ارتیاب مقصود نبودے بازدرضمن بیان مسائل نافعہ کہ بروئے کارآمد نفع خوبی ست کہ حامل بریں تحریر می تواند شد مہربانا سخن برانچہ نقل فرمودہ اند رواں کردم ورنہ فقیرکتاب فوائد الاعمال ہم ندیدہ ام ندانم کہ اصل عبارتش چیست ومولفش کیست واﷲ تعالی اعلم۔
باجماعت پڑھنا افضل ہے اور اس میں اختلاف ہے جو آگے آرہاہے اور اس کا قول کہ امام کے ساتھ وترپڑھے یعنی مستحب یہ ہے۔ اصل کلام یہ ہے کہ ایك قول میں یہ متعین ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ وترنہ پڑھے اور دوسرے مذہب پرافضل یہ ہے کہ وترباجماعت نہ پڑھے ایك قول کے مطابق اور دوسرے قول کے مطابق اگرچہ اقتداء اور جماعت افضل ہے تاھم جماعت کالازم ہونا اور واجب ہونا وترکے لئے کسی عالم کامذہب اور قول نہیں جیسا کہ فوائد الاعمال والے نے لکھاہے اور نہ ہی شرع میں اس پرکوئی دلیل ہے۔ ثانیا اس کایہ کہنا کہ سنت کی وجہ سے جماعت واجب کاترك کرنا کیسے جائز ہوسکتاہے یہ عجیب استدلال ہے اس میں لفظ واجب اگر جماعت کی صفت ہے تویہ غلط اورباطل ہے کیونکہ وتر کی جماعت کسی کے ہاں بھی واجب نہیں ہے اور لفظ واجب جماعت کا مضاف الیہ ہے یعنی واجب کی جماعت توپھریہ دلیل واضح طورپرخلل والی ہے کیونکہ بات تو ہورہی ہے جماعت کےترك میں نہ کہ واجب یعنی وتر کے ترك میں اس کا یہ کہنا کہ “ کیسے جائزہوسکتاہے “ کیسے جائز اور درست ہوسکتاہے! الحاصل یہ کہ مسئلہ کاحکم وہی ہے جو اس فقیرنے پہلے فتوے میں لکھاہے ایسی باتوں پربحث کرنے سے سکوت بہترتھا اگردرست موقف کی وضاحت اور شکوك کودفع کرنا مقصود نہ ہوتا نیز بحث میں ضمنی مسائل ہیں جوکہ بروئے کارلانے میں مفیدہوسکتے تھے جن کی وجہ سے میں نے یہ بحث کی ہے ورنہ ضرورت نہ تھی
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۱
#11834 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
مہربانوں نے جیسے عبارت نقل کی اس کے مطابق میں نے تسلیم کرتے ہوئے جواب لکھ دیا ورنہ اس فقیرنے کتاب فوائد الاعمال نہیں دیکھی اور نہ یہ معلوم کہ اصل عبارت کیااور کتاب کامصنف کون ہے واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۱۰ : مرسلہ مولوی محمدعبداﷲصاحب پنجابی ہزاری مدرس اول مدرسہ عربیہ بریلی ۱۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۰۶ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی الرجل الذی اقتدی بالامام فی التراویح وقد صلی الفرض فی بیتہ اومع غیرذلك الامام ھل یصلی الوتر بالجماعۃ ام لا والوتر بالجماعۃ تابع لرمضان ام لجماعۃ الفرض بینواتوجروا۔
اﷲتعالی آپ پررحم فرمائے آپ کا کیا ارشاد ہے ایسے شخص کے بارے میں جس نے فرض اکیلے گھرمیں پڑھے یاکسی دوسرے امام کے ساتھ جماعت میں پڑھے کیاوہ شخص باجماعت تراویح والے امام کے پیچھے وترباجماعت پڑھ سکتاہے یانہیں اور وتر باجماعت رمضان کے تابع ہے یافرض کی جماعت کے تابع ہیں بیان کروا اجرپاؤ۔ (ت)
الجواب :
من صلی الفرض منفرد الایدخل فی جماعۃ الوتر ومن صلاھا جماعۃ ولوخلف غیرھذا الامام فلہ ان یأتم بہ فی الوتر ای وان لم یکن ادرك التراویح معہ ھو الصحیح المعتمد فی الغنیۃ شرح المنیۃ للعلامۃ ابراھیم الحلبی اذا لم یصلی الفرض مع الامام فعن عین الائمۃ الکرابیسی انہ لایتبعہ فی التراویح ولاالوتر و کذا اذا لم یتعابعہ فی التراویح لایتابعہ فی الوتر وقال ابویوسف البانی اذا صلی مع الامام شیئا من التراویح یصلی معہ الوتر وکذا اذا
جس نے فرض اکیلے پڑھے ہوں وہ وتر کی جماعت میں شریك نہ ہو اور جس نے فرض جماعت سے اداکئے ہوں اگرچہ کسی دوسرے کی جماعت کے ساتھ پڑھے ہوں وہ اس وتر پڑھانے والے کے ساتھ جماعت میں شریك ہوسکتاہے اگرچہ اس نے اس امام کے ساتھ تراویح نہ پڑھی ہوں یہی صحیح اور قابل اعتماد ہے منیہ کی شرح غنیہ میں علامہ ابراہیم حلبی نے فرمایا کہ جب فرض جماعت کے ساتھ نہ پڑھے تو عین الائمہ کرابیسی سے روایت ہے کہ وہ تراویح اور وترامام کے ساتھ نہ پڑھے اور یوں اگر اس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہو و بھی وہ وتر امام کے ساتھ نہ پڑھے اور ابویوسف البانی نے فرمایا کہ اگر امام کے ساتھ کچھ تراویح پڑھ لی ہوں تو اس کے ساتھ وترپڑھ سکتاہے اور یوں ہی اگر اس نے تراویح
#11835 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
لم یدرك معہ شیئا منھا وکذا اذا صلی التراویح مع غیرہ لہ ان یصلی الوترمعہ وھو الصحیح ذکرہ ابواللیث وکذا قال ظھیرالدین المرغینانی لوصلی العشاء وحدہ فلہ ان یصلی التراویح مع الامام وھو الصحیح حتی لودخل بعد ماصلی الامام الفرض وشرع فی التراویح فانہ یصلی الفرض اولا وحدہ ثم یتابعہ فی التراویح وفی القنیۃ لوترکواالجماعۃ فی الفرض لیس لھم ان یصلواالتراویح جماعۃ لانھا تبع للجماعۃ ۱ھ
وقال فی ردالمحتار عند قولہ لولم یصلھا (ای التراویح) بالامام لہ ان یصلی الوتر معہ فی التتارخانیۃ عن التتمۃ انہ سئل علی بن احمد عمن صلی الفرض و التراویح وحدہ اوالتراویح فقط ھل یصلی الوتر مع الامام فقال لا۱ھ ثم رأیت القھستانی ذکر تصحیح ماذکرہ المصنف (ای من جوز الوتر جماعۃ لمن صلی التراویح منفردا ای و الفرض جماعۃ قال الشامی
جماعت سے کچھ بھی نہ پڑھی ہوں تو وہ شریك ہوسکتاہے اور اگر اس نے ایسے ہی تراویح کسی دوسرے امام کے ساتھ پڑھی ہوں تو وہ وتر کی جماعت میں شریك ہوسکتاہے یہی صحیح ہے ا س کو ابولیث نے ذکر کیاہے اور ظہیرالدین مرغینانی نے بھی یہی کہاہے کہ اگر اس نے فرض اکیلے پڑھے ہوں توتراویح امام کے ساتھ پڑھ سکتاہے یہی صحیح ہے حتی کہ اگر وہ امام کے فرض پڑھالینے کے بعد اور تراویح میں شروع ہونے کے بعد مسجدمیں آیا تو اس کوچاہئے کہ پہلے اکیلے فرض پڑھ کر بعد میں تراویح کی جماعت میں شریك ہو۔ اور قنیہ میں ہے اگرکچھ لوگوں نے فرض کی جماعت ترك کردی تو ان کو تراویح باجماعت نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ تراویح فرض باجماعت کے تابع ہیں ۱ھ ۔ اور ردمحتار میں اس کے قول پر اگر اس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں تو اس کو وترامام کے ساتھ پڑھنے کی اجازت ہے “ ۔ تتارخانیہ میں تتمہ سے نقل ہے کہ علی بن احمد سے سوال کیاگیا کہ وہ شخص جس نے فرض اور تراویح اکیلے پڑھے ہوں یاصرف تراویح اکیلے پڑھی ہوں کیا وہ وترامام کے ساتھ پڑھ سکتاہے توانہوں نے جواب میں کہا کہ نہیں پڑھ سکتا۱ھ۔ پھر میں نے قہستانی کومصنف کی تصحیح ذکرکرتے ہوئے پایا یعنی جس نے تراویح اکیلے اور فرض جماعت سے پڑھے ہوں تو اس کو وتر جماعت سے پڑھنے کی اجازت ہے۔ علامہ شامی نے فرمایا کہ
حوالہ / References غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی باب التراویح مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۴۱۰
#11838 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
ثم قال (یعنی القھستانی) لکنہ اذا لم یصلی الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر ۱ھ۔ قلت وعزاہ القھستانی للمنیۃ وھی منیۃ الفقہاء لامنیۃ المصلی کماظنہ بعج المتصدین للفتوی فی عصرنا فنسبہ الی عدم مطابقۃ النقل للمنقول عنہ قال الشامی فقولہ (یعنی المصنف) ولولم یصلھا ای وقد صلی الفرض معہ لکن ینبغی ان یکون قول القہستانی معہ احتراز عن صلوتھا منفردا قلت فیکون علی وزان قول الغنیۃ المار اذا لم یدرك معہ شیئا منھا فانما اراد بہ الانفراد لامایشمل الادراك مع غیرہ بدلیل قولہ عطفا علیہ “ وکذا اذا صلی التراویح مع غیرہ “ قال الشامی امالوصلاھا (یعنی الفریضۃ) جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لاکراھۃ تأمل انتھی۔ اقول : معلوم ان الضمیر فی قولہ لایتبعہ للامام مطلقا لالخصوص
قہستانی نے پھرفرمایا : لیکن اگرفرض اس نے جماعت سے نہ پڑھے ہوں تووتربھی باجماعت نہ پڑھے۱ھ۔ میں کہتاہوں کہ اس بات کو قہستانی نے منیہ کی طرف منسوب کیاہے یادرہے کہ یہ منیۃ الفقہاء مراد ہے منیۃ المصلی نہیں جیسا کہ بعض معاصرفتوی نویسوں کویہاں غلط فہمی ہوئی ہے اورانہوں نے نقل کو اصل کے مطابق نہ ہونے کی شکایت کی ہے علامہ شامی نے فرمایا کہ مصنف کاقول کہ اگر اس نے تراویھ امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں یعنی فرض امام کے ساتھ پڑھے ہوں لیکن مناسب یہ ہے کہ قہستانی کا “ معہ “ کہنا یہ تراویح اکیلے پڑھنے کی صورت کوجداکرناہے۔ میں کہتاہوں یہ غنیہ کے گزشتہ قول “ جب امام کے ساتھ کچھ تراویح نہ پڑھے “ کے انداز پر ہے کہ اس سے مراد اکیلے پڑھنا ہے نہ کہ وہ معنی جس میں کسی دوسرے امام کے ساتھ پڑھنا شامل ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے دوسرے امام کے ساتھ پڑھنے کو علیحدہ عطف کے ذکرکیاہے۔ اور علامہ شامی نے فرمایا : اور اگر اس نے فرض کسی اور امام کے ساتھ جماعت میں پڑھا ہو اور پھروتر اس امام کے پیچھے پڑھ لے توکوئی کراہت نہیں غورکر انتہی۔ میں کہتاہوں یہ بات واضح ہے کہ “ لایتبعہ “ میں ضمیر کامرجع خاص امام نہیں
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴
ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴
ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲۴
#11840 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
ھذا الامام فان من صلی الفریضۃ منفردا لیس لہ ان یدخل فی جماعۃ الوتر لامع ھذا الامام ولامع غیرہ فکذلك فی قولہ معہ وبالجملۃ فالمتحصل شیئان احدھما ان المنفرد فی الفرض ینفرد فی الوتر اوماوقع فی “ منھیۃ الدر الفرید فی مسائل الصیام والقیام للعید “ للفاضل المفتی محمد عنایت احمد علیہ رحمۃ الاحد ان لم یصلی الفرض بجماعۃ فلہ ان یدخل فی جماعۃ الوتر وعزاہ لحاشیۃ الطحطاوی فسھو۔ وانا قد راجعت المعزی الیہ فلم اجدہ ناصابما ظن نعم قدتشم من بعض کلماتہ رائحۃ ذلك حیث قال عند قول الدرالمختار لوترکھا الکل (یعنی جماعۃ التراویح) ھل یصلون الوتر بجماعۃ فلیراجع قضیۃ التعلیل فی المسئلۃ السابقۃ (ای لوترکوا الجماعۃ فی الفرض لم یصلوا التراویح بجماعۃ) بقولھم لانھا تبع ان یصلی الوتر جماعۃ فی ھذہ الصورۃ لانہ لیس بتبع
بلکہ کوئی بھی ہوسکتاہے کیونکہ جس نے فرض اکیلے پڑھے ہوں وہ کسی امام کے ساتھ وترباجماعت نہیں پڑھ سکتا خواہ یہ امام ہو یا کوئی اور ہو اور اسی طرح اس کے قول “ معہ “ میں بھی ضمیر کامرجع عام ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یہاں د وچیزیں حاصل ہوئیں ایك یہ کہ جس نے فرض اکیلے پڑھے وہ وتربھی اکیلے پڑھے۔ دررالفرید فی مسائل الصیام والقیام والعیدجوکہ فاضل مفتی محمدعنایت احمد علیہ الرحمۃ کی کتاب ہے کے منہیہ میں جومذکورہے کہ اگرکسی نے فرض جماعت سے نہ پڑھے ہوں تو وتر کی جماعت میں شریك ہوسکتاہے اور اس بات کو انہوں نے حاشیہ طحطاوی کی طرف منسوب کیاہے تو یہ سہوہے۔ حالانکہ میں نے حاشیہ طحطاوی کودیکھا ہے میں نے اس میں یہ بات صراحۃ مذکورنہ پائی ہاں علامہ طحطاوی کی ایك عبارت سے اس بات کی بوآتی ہے جہاں انہوں نے درمختار کے اس قول “ اگرسب نے جماعت تراویح کو ترك کردیا ہوتو کیا وہ وترجماعت سے اداکرسکتے ہیں اس بارے میں رجوع کرناچاہئے “ پرلکھاہے کہ سابقہ مسئلہ کی تعلیل کی طرف رجوع کرنے کااشارہ ہے یعنی وہ سابقہ مسئلہ یہ ہے کہ “ اگر فرض باجماعت کوانہوں نے ترك کیا ہو تو تراویح جماعت سے ادانہ کریں “ اس مسئلہ کی تعلیل یہ ہے جس کو انہوں نے یوں بیان کیاہے کیونکہ تراویح تابع
حوالہ / References درمختار باب الوتروالنوافل مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
#11842 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
للتراویح ولاللعشاء عندالامام رحمہ اﷲ تعالی انتھی حلبی انتھی فقد یوھم قولہ “ ولا للعشاء “ جواز الوتر بجماعۃ ولولم یصل ھو بل الکل الفرض بھا لکنہ کما علمت خلاف المنصوص فان الذی فی ردالمحتار عن شرح النقایۃ عن المنیۃ ان لم یحمل علی مامر کان ادخل فی الرد علی ھذا الایھام واما ماذکر انہ لیس بتبع عند الامام فنعم ونعم الجواب عنہ ماافاد المولی المحقق ابن عابدین ان اصالتہ فی ذاتہ لاتنافی کون جماعتہ تبعا۔
قلت الاتری ان الظھر و العصر من اعظم الفروض المستقلۃ والجمع بینھما من توابع الوقوف بعرفۃ ولوفی حجۃ نافلۃ فافھم قال الشامی انھم اختلفوا فی افضلیۃ صلاتھا بالجماعۃ بعد التراویح ۱ھ
ہیں وہ وتر کو اس صورت میں جماعت کے ساتھ پڑھے کیونکہ وترتراویح کے تابع ہیں اور نہ ہی عشاء کے تابع ہیں امام صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک انتہی حلبی انتہی اس میں اس کا قول کہ وترعشاء کے تابع نہیں ہے وہم پیداکرتاہے کہ اس کے یا سب کے فرض باجماعت پڑھے بغیر وتر کو باجماعت پڑھنا جائز ہے لیکن یہ بات علماء کی نص کے خلاف ہے ردالمحتارمیں شرح نقایہ سے اور اس نے منیہ سے نقل کرتے ہوئے جو ذکرکیاہے اگر اس کوگزشتہ مفہوم پرمحمول نہ کیاجائے تو وہ اس وہم کابہترین رد ہے اور یہ بیان کہ وترامام صاحب کے نزدیك عشاء کے تابع نہیں ہیں ہاں یہ درست ہے۔ اور اس کابہترین جواب وہ ہے جس کو آقا محقق ابن عابدین نے بیان فرمایا ہے کہ وتر فی ذاتہ اصل ہیں اور ان کی جماعت کاعشاء کے تابع ہونافی ذاتہ اصل ہونے کے منافی نہیں ہے۔ میں کہتاہوں کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ظہراور عصر کے فرض عظیم اصل اور مستقل ہیں لیکن اس کے باوجود ان دونوں فرضوں کومقام عرفات کے تابع قراردے کرجمع پڑھاجاتاہے خواہ نفلی حج ہی کیوں نہ ہو۔ غورکر۔ علامہ شامی نے ماتن کی اس عبارت پرکہ “ وترکوتراویح کے بعد باجماعت پڑھنے کی افضلیت میں اختلاف ہے “ پرفرمایا
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الوتر والنوافل مطبوعہ بیروت ۱ / ۲۹۷
ردالمحتار باب الوتر والنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۸
#11844 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
ای فکانت جماعتہ ادون حالامن جماعۃ التراویح المسنونۃ عند الجمہور حتی لوترکہا الکل اثموا فکیف بجماعۃ الفرض الواجبۃ علی الصحیح الرجیح فساغ ان یکون تبعا فی الجماعۃ وان کان اصلا فی الذات حتی افسد تذکرہ المکتوبات ۔
قلت علی ان التعلیل بالقضیۃ المذکورۃ تعلیل بالنفی وھو عندنا من التعلیلات الفاسدۃ کما صرحوا باہ فی الاصول و حصرالعلۃ فی التبعیۃ ممنوع محتاج الی البیان ھذا والاخر ان من صلی الفرض بجماعۃ یجوز لہ الدخول فی جماعۃ الوتر سواء صلی الفرض خلف ھذاالامام اوخلف غیرہ کما قررالشامی وسواء صلی التراویح وحدہ او خلف ھذا الامام اوغیرہ کما نصوا علیہ قلت بل ومن لم یصلہا رأسا کما یشملہ اطلاق قولہ ولولم یصلہا بالامام لہ ان یصلی الوتر معہ فانہ یصدق بانتفاء القید و المقید جمیعا ولیحرر اماما ذکروا ان جماعۃ الوتر ھل ھی تبع
یعنی وتر کی جماعت تراویح کی جماعت سے ادنی ہے کیونکہ تراویح کی جماعت جمہور کے ہاں مسنون ہے حتی کہ اگرتمام لوگ تراویح کی جماعت کے تارك ہوں تو سب گنہگار ہوں گے توجماعت وتر کافرض کی جماعت سے جوکہ راجح قول کے مطابق واجب ہے کیامقابلہ ہے پس یہ بات ظاہرہوگئی کہ وتراگرچہ فی ذاتہ مستقل نماز ہیں لیکن ان کی جماعت عشاء کی نماز فرض کے تابع ہے اس لئے اگروتر کی جماعت میں یاد آئے کہ عشاء کے فرض باقی ہیں تووترفاسد ہوجائیں گے)
میں کہتاہوں کہ علامہ شامی کامتن کے قول مذکور کوعلت قراردینا یہ تعلیل بالنفی ہے جبکہ ہم احناف کے ہاں تعلیل بالنفی فاسد ہے جیسا کہ ا صول فقہ میں اس کی انہوں نے تصریح کی ہے پھر اس کلام کو وتر کی جماعت کافرض کے تابع بنانے کے لئے ہی علت ماننا محتاج بیان ہے اس کو محفوظ کر اس بحث سے حاصل شدہ دوسری چیز یہ ہے کہ جس نے فرض باجماعت اداکئے ہوں خواہ کسی دوسرے امام کے ساتھ جماعت میں پڑھے تو س کو اس امام کے ساتھ باجماعت وترپڑھنا جائز ہے جیسا کہ علامہ شامی نے اس کی تقریر کی ہے خواہ اس نے تراویح باجماعت اس امام یاکسی دوسرے امام کے ساتھ پڑھی ہوں یا تراویح اکیلے پڑھی ہوں جیسا کہ فقہأ نے اس کو صراحۃ بیان فرمایا۔ قلت (میں کہتاہوں کہ) خواہ اس نے تراویح سرے سے پڑھی ہی نہ ہوں کیونکہ اس کا یہ قول کہ “ اگر اس نے تراویح امام کے ساتھ نہ پڑھی ہوں تو بھی وتر باجماعت پڑھ سکتاہے “ مطلق ہے جو اس صورت کو
#11846 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
لجماعۃ التراویح ام لا جنح الفاضلان الحلبی والطحطاوی فی حواشی الدار الی الثانی کما سمعت واستظھر الشامی الاول قائلاان سنۃ الجماعۃ فی الوتر انما عرفت تابعۃ للتراویح ۔
قلت وھذا ھوالاظھر فان مشروعیۃ جماعتہ لوکانت لاصالتہ فالتہ دائمۃ لاتختص برمضان ثم رأیت العلامۃ البرجندی نص فی شرحہ للنقایۃ ان الجماعۃ فیہ لما کانت بتبعیۃ التراویح علی ماھو المشھور ۱ھ فقد ثبت روایتہ واعتضد درایتہ وترجح شھرۃ فانقطع النزاع فاعلم عــــہ ان ھذا کلہ فیما لوترك الکل جماعۃ التراویح کما قدمنا من الغنیۃ عن القنیۃ اما اذا جمع
بھی شامل ہے کیونکہ مقید کلام کی نفی سے قید اورمقید دونوں کی نفی بھی ہوسکتی ہے(جس سے تراویح نہ پڑھنے کی صورت بھی سمجھی جاتی ہے) اس کونوٹ کر۔ لیکن علماء کایہ بیان کہ وتر کی جماعت کیاتراویھ کی جماعت کے تابع ہے یانہیں تو حلبی اور طحطاوی دونوں کارجحان یہ ہے کہ تابع نہیں یہ بات انہوں نے درمختارکے حاشیہ میں کہی ہے جیسا کہ توسماعت کرچکاہے اور علامہ شامی نے پہلے احتمال یعنی تابع ہونے کوظاہر قراردیاہے یہ کہتے ہوئے کہ وتر کی جماعت کاسنت معلوم ہونا تراویح کے تابع ہونے کی وجہ سے ہے۔ میں کہتاہوں کہ یہ علامہ شامی کا قول زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اگروتر کی جماعت خود اصل ہوتی تو پھریہ جماعت پورا سال ہوتی صرف رمضان کی تخصیص نہ ہوتی پھر اس کے بعد میں نے یہی بات علامہ برجندی سے صراحۃ پائی کہ انہوں نے اپنی نقایہ کی شرح میں کہا کہ وتر کی جماعت تراویح کے تابع ہے جیسا کہ کہ یہی مشہورہے۱ھ ان کی روایت ثابت اور ان کی درایت مضبوط اور شہرت کوترجیح ہے لہذا یہ اختلاف ختم ہوگیا ہے معلوم ہوناچاہئے کہ یہ ساری بحث اس صورت میں تھی جبکہ تمام نے تراویح کی جماعت کوترك کیا ہو جیسا

عــــہ : جواب اما فی قولہ اما ماذکروا ۱۲(م)
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۴۸
شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التراویح مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۴۱
#11847 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
القوم وتخلف عنھا ناس ثم ادرکوا الوتر مع الامام فلاشك ان لھم الدخول فی جماعۃ الوتر اذا کانوا صلوا الفرض بجماعۃ کما سمعت نعم ذھب بعض کالامام علی بن احمد وعین الائمۃ الکرابیسی الی تبعیۃ لجماعۃ التراویح فی حق کل مصل بمعنی ان من لم یدرکھا مع الامام لایتبعہ فی الوتر لکنہ کما علمت قول مرجوح
قلت بھذا التحقیق ظھرالتوفیق بین کلام العلامۃ البرجندی المذکور وکلام الفاضل شیخی زادہ فی مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر حیث قال لولم یصلھا (یعنی التراویح) مع الامام صلی الوتر بہ لانہ تابع لرمضان وعند البعض لالانہ تابع للتراویح عندہ وفی القھستانی ویجوز ان یصلی الوتر بالجماعۃ وان لم یصل شیئا من التراویح مع الامام اوصلاھا مع غیرہ وھو الصحیح ۱ھ مافی المجمع فانہ صریح فی ان القول
کہ ہم نے غنیہ سے قنیہ کے حوالے سے پہلے بیان کردیاہے لیکن اگرلوگوں کی جماعت تراویح سے کچھ لوگ رہ گئے ہوں اور یہ لوگ بعد میں آکر امام کووتر کی جماعت میں پائیں توکوئی شك نہیں کہ یہ لوگ وتر کی جماعت میں شریك ہوسکتے ہیں بشرطیکہ انہوں نے فرض باجماعت پڑھے ہوں جیسا کہ توسن چکاہے ہاں بعض حضرات جیسا کہ علی بن احمد اور عین الائمہ کرابیسی اس طرف گئے ہیں کہ وتر کی جماعت تراویح باجماعت کے تابع ہے لہذا ہرنمازی کے لئے ضروری ہے کہ وہ تراویح باجماعت پڑھے بغیر وتر کی جماعت میں شامل نہ ہو لیکن تومعلوم کرچکاہے کہ یہ بات مرجوح ہے۔
میں کہتاہوں کہ اس تحقیق سے علامہ برجندی کے کلام اور فاضل شیخی زادہ کی مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ذکر کردہ کلام میں موافقت واضح ہوگئی فاضل نے وہاں یہ کہا کہ اگر اس نے تراویح امام کے ساتھ نہ بھی پڑھی ہوں تووہ امام کے ساتھ وترپڑھ سکتاہے کیونکہ وترکی جماعت رمضان کے تابع ہے بعض کے نزدیك وہ وتر امام کے ساتھ نہیں پڑھ سکتاکیونکہ ان کے نزدیك وترکی جماعت تراویح کے تابع ہے۔ اور قہستانی میں ہے کہ اگرکسی نے تراویح جماعت سے نہ پڑھی ہوں یا کسی اور امام کے ساتھ پڑھی ہوں تو وہ بھی وترامام کے ساتھ باجماعت پڑھ سکتاہے یہی صحیح ہے۱ھ۔ مجمع کابیان اس بات میں صریح ہے کہ وتر کی جماعت کاتراویح کے تابع ہونے
حوالہ / References مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی التراویح مطبوعہ احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۳۸
#11849 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
بتبعیۃ للتراویح قول مرجوح خلاف الجمہور وصریح مافی البرجندی انہ ھوالقول المشھور ووجہ التوفیق ان التبعیۃ فی کلام المجمع ماخوذۃ بالنظر الی کل احد فی خاصۃ نفسہ ولذا بنی علیہ منع من لم یدرکھا مع الامام عن دخولہ فی الوتر وفی کلام البرجندی بمعنی وقوعہ بعد اقامۃ الناس جماعۃ التراویح وان لم یدرکھا بعض القوم فلیکن التوفیق وباﷲ التوفیق ثم انما المعنی بتبعیتہ لرمضان ان جماعتہ غیرمشروعۃ الافیہ لاسلب تبعیتہ عما سواہ مطلقا حتی ینافی تبعیتہ لجماعۃ التراویح بل والفرض فان فیہ ماقد علمت فاذن لاخلاف بین التبعیتین الاعلی قول البعض المرجوح ھکذا ینبغی التحقیق و اﷲ تعالی ولی التوفیق
نعم وقع فی شرح المنیۃ الصغیر مانصہ اذا لم یصل الفرض مع الامام قیل لایتبعہ فی التراویح ولافی الوتر وکذا اذالم یصل معہ التراویح لایتبعہ فی الوتر والصحیح انہ یجوز ان یتبعہ
کاقول مرجوح ہے اور جمہور کے خلاف ہے۔ اور برجندی کابیان یہ ہے کہ یہ قول مشہورہے اورموافقت کی وجہ یہ ہے کہ مجمع کلام میں جس تابع کومرجوح کہاہے اس سے مراد وہ صورت ہے جبکہ تراویح کی جماعت بالکل نہ ہوئی اورکسی نے بھی تراویح کی جماعت سے نہ پڑھی ہوں اسی لئے اس نے وتر کی جماعت میں شامل ہونے کی ممانعت ی بنااس بات کوبنایاہے کہ امام کے ساتھ تراویح نہ پڑھی ہوں جبکہ علامہ برجندی کا یہ کہنا کہ وتر کی جماعت تراویح کے تابع ہونا مشہور قول ہے اس سے مراد وہ صورت ہے کہ جب بعض نے تراویح کی جماعت کی ہو اور بعض لوگ اس جماعت سے رہ گئے ہوں یوں توفیق ہوگئی اﷲ کی دی ہوئی توفیق سے پھر وتر کی جماعت کارمضان کے تابع ہونے کامطلب یہ ہے کہ رمضان کے بغیروتر کی جماعت جائزنہیں یہ مطلب نہیں کہ یہ کسی اور چیز کے تابع نہیں تاکہ اس کاتراویح اور فرض کے تابع ہونے کی نفی ہوسکے کیونکہ یہ مطلب لینے میں اعتراض ہے لہذا دونوں کے تابع ہونا ایك دوسرے کے منافی نہیں ہے ماسوائے ایك مرجوح قول کے تحقیق یوں چاہئے اور اﷲ تعالی ہی توفیق کامالك ہے۔ ہاں منیہ صغیرمیں یہ بات مذکور ہے کہ جس نے فرض باجماعت نہ پڑھے ہوں وہ تراویح اور وتر کی جماعت میں ایك قول کے مطابق شریك نہ ہو اور وہ بھی جو اس امام کے ساتھ تراویح کی جماعت میں شریك نہ ہوا تووہبھی اس امام کے ساتھ ورترکی جماعت میں
#11851 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
فی ذلك کلہ حتی دخل بعد ماحصل الامام الفرض وشرع فی التراویح فانہ یصلی الفرض اولا وحدہ ثم یتابعہ فی التراویح وفی القنیۃ لوترکوا الجماعۃ فی الفرض لیس لھم ان یصلا التراویح جماعۃ ۱ھ فاوھم ذلك عند بعض الناس ان الحلبی صحح جواز اتباع الامام فی الوتر وان لم یتبع فی الفرض
وانا اقول : لیس ھورحمہ اﷲ تعالی من اصحاب التصحیح وانما وظیفتہ النقل عن ائمۃ الترجیح ومعلوم ان شرحہ الصغیر انما ھوملخص من شرحہ الکبیر وھذہ عبارۃ الکبیر بمرأی عین منك لاتری فیہ تصحیحا اصلا ناظر الی ھذا المتوھم وانما فیہ تصحیحان الاول من الامام الفقیہ ابی اللیث بجواز اتباع الامام فی الفقیہ ابی اللیث بجواز اتباع الامام فی الوتر سوء صلی التراویح کلھا اوبعضھا معہ اومع غیرہ اووحدہ منفردا وھذا مجمل قولہ “ یجوز ان یتبعہ فی ذلك کلہ والثانی عن الامام ظھیر الدین المرغینانی لجواز الاتباع فی التراویح وان لم یتبعہ فی الفرض
شریك نہ ہو( لیکن یہ بات درست نہیں ) کیونکہ ان مذکور تمام صورتوں میں وہ وترامام کے ساتھ باجماعت پڑ ھ سکتاہے حتی کہ امام کے فرض سے فارغ ہونے کے بعد اگر مسجد میں آیا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ پہلے اکیلے فرض پڑھ کرپھرتراویح کی جماعت میں شریك ہوجائے۔ اور قنیہ میں ہے کہ اگرلوگ فرض کی جماعت کے تارك ہوں تو وہ تراویح باجماعت امام کے ساتھ نہ پڑھیں ۱ھ۔ اس سے بعض حضرات کویہ وہم ہواہے کہ حلبی نے فرض باجماعت کے بغیروترکی جماعت میں شرکت کوصحیح قراردیاہے۔ میں کہتاہوں کہ حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اصحاب تصحیح میں سے نہیں ان کاکام صرف ائمہ ترجیح کے قول کونقل کرنا ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ ان کی شرح صغیریہ ا ن کی کبیرشرح کاخلاصہ ہے اور کبیر شرح کی عبارت آپ کے سامنے ہے اس میں اس وہم کے متعلق کوئی تصحیح نظرنہیں آتی اس مسئلہ میں صرف دو تصحیحیں موجود ہیں ایك امام فقیہ ابواللیث کی جوکہ کسی طرح بھی تراویح پڑھ لینے والے کو خواہ اکیلے یاجماعت کے ساتھ اس امام یاکسی دوسرے امام کے ساتھ پھر یہ کہ تمام تراویح یابعض باجماعت پڑھی ہوں وتر کی جماعت میں شرکت کے جواز کے بارے میں ہے اور اس کو بطوراجمال حلبی نے اپنے اس قول سے تعبیرکیاکہ س وترکی جماعت میں شرکت کی ان تمام صورتوں میں جائزہے۔ اس بارے میں دوسری تصحیح امام ظہیرالدین مرغینانی کی ہے جوکہ امام کے ساتھ تراویح کی جماعت میں شرکت کے جوازسے
حوالہ / References صغیری شرح منیۃ المصلی فروع فاتتہ ترویحۃ الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۱۰
#11853 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
وعلہ یتفرع الفرع المذکور فی الشرحین معا “ حتی لودخل بعد ماصلی الامام الفرض “ فالتوھم الحاصل فی عبارۃ الشرح الصغیر انما منشوہ ماوقع فیہ ھھنا من الاختصار المخل الاتری انہ اقتصر فی التفریع المذکور کاصلہ الکبیر علی قولہ یتابعہ فی التراویح ولوکان مرادہ بقولہ فی ذلك کلہ مایشمل المتوھم لزاد ایضا والوتر وبالجملۃ فالمعروف المعلوم من تصحیحات الائمۃ ھو الذی بینہ فی الشرح الکبیر وھذا المتوھم لایعرف لہ تصحیح ولاترجیح فلایعارض مانص علیہ فی منیۃ الفقہاء وحکم بہ حکما جازما من دون ذکر خلاف فعلیك بالتبصر والانصاف ولك ان تقول ان “ الامام “ معرف باللام وضمیر “ یتبعہ “ راجع الیہ والمعرفۃ اذا اعیدت معرفۃ کان المراد عین الاول غالبا فالمعنی اذا لم یصل الفرض مع ھذالامام فلہ ان یتبعہ فی الوتر ای لایجب لاتباعہ فی الوتر ان یکون اتبع ھذا الامام بعینہ فی الفرض
متعلق ہے اس شخص کے بارے میں جس نے اس امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے ہوں اسی تصحیح پر صغیر و کبیر شرحوں کی تفریع مرتب ہے کہ کوئی شخص امام کے فرض سے فارغ ہونے کے بعد مسجد میں آیا الخ لہذا شرح صغیر کی عبارت سے جووہم پیداہواوہ اس اختصار کی وجہ سے پیداہوا کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ انہوں نے تفریع بیان کرتے ہوئے صرف اتناکہا کہ وہ فرض پڑھنے کے بعد امام کے ساتھ تراویح میں شامل ہوجائے اور شرح کبیر میں بھی اتناہی ذکر ہے اور اس کے قول “ ان سب صورتوں میں “ وہ صورت بھی شامل ہوتی جس کاوہم ہواہے تو پھرتفریع میں تراویح میں شامل ہونے کے ساتھ وتر میں شامل ہونے کوبھی ذکرکرتے الحاصل ائمہ کرام کی تصحیحات سے صرف وہی بات معلوم ہوتی ہے جوکہ شرح کبیر میں ہے حالانکہ وہم شدہ کی اس میں کوئی تصحیح یاترجیح نظرنہیں آتی۔ لہذا شرح کبیرکی عبارت منیۃ الفقہاء کی تصریح عبارت کے معارض نہیں ہوسکتی جبکہ اس منیہ میں جزمی حکم ہے اور اس میں کسی اختلاف کااس بارے میں کوئی ذکرنہیں ہے تجھے غور وفکر میں انصاف چاہئے اور تویہ بھی کہہ سکتاہے کہ شرح صغیر کی عبارت میں لفظ 'الامام' معروف بالام ہے اور لفظ یتبعہ میں ضمیر کامرجع وہی امام ہے اور اکثرطورپر معرفہ کوجب دوبارہ معرفہ ذکرکیاجائے تووہی ایك مراد ہوتاہے تو اس قاعدہ کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ جب اس خاص امام کے ساتھ وتر باجماعت پڑھ سکتاہے یعنی کسی امام کے
#11856 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
وھذا صحیح لاشك ویؤید ھذا الفھم ان القھستانی لما قال اذا لم یصل الفرض معہ لایتبعہ فی الوتر احتاج الشامی الی ابانۃ مرادہ وان المقصود مع امام ما لامع خصوص ھذا الامام ان جادل مجادل فنقول الشرح الصغیر مطالب بتصحیح نقل ھذا التصحیح الذی لایعلم لہ اثراصلا فی کتاب قبلہ حتی فی الکبیر الذی کان اصلہ واﷲ الموفق۔
فقد تحرربما تقرر ان جماعۃ الوتر تبع لجماعۃ الفرض فی حق ك احد من المصلین والجماعۃ التراویح فی الجملۃ لافی حق کل ولرمضان بمعنی انھا تکرہ فی غیرہ لوعلی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد کمافی الدرعن الدرر
ساتھ وترپڑھنے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ فرض بھی اسی کے ساتھ باجماعت پڑھے ہوں اور یہ مفہوم بلاشك وشبہ صحیح ہے اس مفہوم کی تائید قہستانی کے اس قول سے ہوتی ہے جس کی مراد کو علامہ شامی نے واضح کیاہے وہ یہ کہ جب قہستانی نے کہا جب امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے ہوں تو وتر اس کے ساتھ نہ پڑھے اس پر علامہ شامی نے مراد کوواضح کرتے ہوئے کہاکہ اس امام سے مراد کوئی امام ہے یعنی اگر کسی بھی امام کے ساتھ فرض نہ پڑھے تو پھروتر بھی جماعت سے نہ پڑھے اگر کوئی اس وہم پربحث کااصرار کرتاہے تو اس کویہ کہہ دیا جائے کہ صغیر کااصل ہے واﷲ الموفق
پس اس تقریر سے یہ بات صاف ہوگئی کہ وتر کی جماعت فرض کی جماعت کے تابع ہے تمام نمازیوں کے لئے اور وتر کی جماعت تراویح کی جماعت کے تابع ہے کچھ نمازیوں کے لئے (یعنی بعض حضرات نے بھی تراویح باجماعت پڑھ لیں تو دوسروں کوتر کی جماعت میں شرکت جائزہے) اور وتر کی جماعت رمضان کے بھی تابع ہے لیکن اس معنی میں کہ غیررمضان میں یہ جماعت مکروہ ہے جب یہ غیررمضان میں وترکی جماعت میں یہ جماعت کروہ ہے جب یہ غیررمضان میں وتر کی جماعت بطوردعوت و اہتمام ہو یعنی چار افراد ایك امام کی اقتداء کریں تو مکروہ ہے
حوالہ / References جامع الرموز باب الوتروالنوافل مطبوعہ گنبدایران تہران ۱ / ۲۱۶
درمختار باب الوتروالنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۹۹
#11858 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
حتی جاز اقتداء ثلثۃ بامام بلاکراھۃ فی الاصح کما فی حاشیۃ العلامۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح للعلامۃ الشرنبلالی رحمۃ اﷲ تعالی علی العلماء جمیعا اتقن ھذا فلعلك لاتجد ھذا التحریر فی غیرھذا التقریر وماتوفیقی الابالعلیم الخبیر واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔
جیسا کہ درمختارمیں درر سے منقول ہے حتی کہ اگرتین آدمی وتر کی جماعت میں ایك امام کی اقتداء کریں تو یہ اصح قول کے مطابق بلاکراہت جائزہے جیسا کہ علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح شرح نورالایضاح کے حاشیہ میں ذکرکیاہے۔ نورالایضاح علامہ شرنبلالی کی کتاب ہے۔ اﷲتعالی تمام علماء پررحمت فرمائے۔ ا س تحریر کومضبوط کر ہوسکتاہے کہ تجھے دوسری جگہ یہ مفصل بحث نہ ملے وماتوفیقی الاباﷲ العلیم الخبیر واﷲ تعالی سبحنہ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۱۱۱۱ : دورکعت تراویح کی نیت کی قعدئہ اولی بھول گیاتین پڑھ کربیٹھا اور سجدہ کیاتو نماز ہوئی یانہیں اور ان رکعتوں میں جوقرآن شریف پڑھا اس کااعادہ ہویانہیں اور چارپڑھ لیں تو یہ چاروں تراویح ہوئیں یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت اولی میں مذہب اصح پرنماز نہ ہوئی اور قرآن عظیم جس قدر اس میں پڑھاگیا اعادہ کیاجائے
فی ردالمحتار لوتطوع بثلاث بقعدۃ واحدہ کان ینبغی الجواز اعتبارا بصلوۃ المغرب لکن الاصح عدمہ لانہ قدفسدما اتصلت بہ القعدۃ وھو الرکعۃ الاخیرۃ لان التنفل بالرکعۃ الواحدۃ غیرمشروع فیفسد ماقبلھا ۔
ردالمحتار میں ہے کہ اگر کسی نے تین نفل ایك قعدہ کے ساتھ پڑھے مغرب کی نماز پرقیاس کرتے ہوئے جائز ہونا چاہئے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ نفل جائزنہیں کیونکہ اس کی آخری رکعت جس کے بعد قعدہ کیاہے وہ فاسد ہے کیونکہ وہ دو پر زائد ایك رکعت نفل رہ گئی جبکہ ایك رکعت نفل جائزنہیں لہذا اس آخری رکعت کے فساد سے پہلی دورکعت بھی فاسد ہوجائیں گی۔ (ت)
اور چارپڑھ لیں اور قعدئہ اولی نہ کیا تو مذہب مفتی بہ پر یہ چاروں دوہی رکعت کے قائمقام گنی جائیں گی باقی اور پڑھ لے
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الوتر مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۱۱
ردالمحتار ، باب الوتروالنوافل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ، ۲ / ۲
#11861 · اجتناب العمال عن فتاوی الجھال (قنوت نازلہ پڑھنے کے بارے میں ایك فتوٰی کارَد)
کما صرح بہ فی ردالمحتار عن النھر الفائق الزاھدی (جیسا کہ ردالمحتارمیں نہرالفائق اس نے زاہدی سے وضاحت کردی گئی ہے۔ ت) اور دونوں قعدے کے توقطعا چاروں رکعتیں ہوگئیں ۔
ولاکراھۃ ایضا کما یفیدہ التعلیل المذکور فی ردالمحتار نعم الافضل مثنی مثنی کما لایخفی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
چاررکعت نفل دو قعدوں اور ایك سلام سے جائز ہیں اور کوئی کراہت نہیں ہے جیسا کہ ردالمحتار کی بیان کردہ علت سے حاصل ہے تاہم نفل دودو پڑھنا افضل ہے جیسا کہ واضح ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۱۲ : از جوالاپور ضلع سہارن پور مرسلہ سیدیادعلی صاحب ۱۹ شوال ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام جماعت تراویح میں مشغول ہے اب چندآدمی آئے وہ فرض جماعت سے پڑھیں توکوئی حرج ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
صحیح یہ ہے کہ کوئی حرج نہیں :
ولوفی مسجد محلۃ حیث لم یکرر والاذان وعدلوا عن المحراب کماھو معلوم جمشاھد۔
اگرچہ محلہ کی مسجدہی میں جبکہ دوبارہ اذان نہ دیں اور محراب سے ہٹ کر جماعت کرائیں جیسا کہ معلوم و معروف ہے۔ (ت)
طحطاویہ میں ہے :
اذا کررت بغیراذان فلاکرھۃ مطلقا وعلیہ المسلمون ۔
جب تو جماعت کاتکرار اذان کے بغیرکرے توکوئی کراہت نہیں ہے مسلمانوں کایہی عمل ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
عن ابی یوسف اذا لم یکن علی الھیئۃ الاولی لایکرہ والایکرہ وھوالصحیح وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئاۃ کذا فی فتاوی البزازیۃ ۔
امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے کہ جب دوسری جماعت پہلی جماعت کی طرز پرنہ ہو تومکروہ نہیں ورنہ مکروہ ہے یہی صحیح ہے اور محراب سے ہٹ کر کرنے سے پہلی جماعت کی طرز بدل جاتی ہے۔ فتاوی بزازیہ میں ایسے ہی ہے(ت)
مگرجہاں تك ممکن ہو جماعت تراویح سے دورجماعت کریں اور ان کاامام ضرورت سے زیادہ آواز بلند نہ کرے تاکہ تخلیط وتلبیس سے ایمن رہیں ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
_______________
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب الامامۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۲۴۰
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی احکام المسجد مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۱۵
#11865 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۱۱۱۳ : از دہلی کھڑکی فراش خانہ مسجد حضرت حافظ عبدالعزیز صاحب قدس سرہ مرسلہ جناب مستطاب مولانا مولوی حافظ شاہ سراج الحق محمدعمرصاحب قادری اواخرربیع الاول شریف ۱۳۰۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صلوۃ الاسرار یعنی نمازغوثیہ حضورغوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی اور شرع میں جائز ہے یانہیں زید اس کی روایت کو بے اصل اوراسے بہجۃ الاسرار میں کسی فاسق بدعتی کاالحاق بتاتا اور تصانیف شیخ اکبر و امام شعرانی کی نظیردیتاہے کہ ان میں الحاق ہوئے۔ اور کہتاہے کہ نمازفرض کے بعد قبلے سے انحراف اور کسی مزاروولی کی تعیین سمت او بہیأت نماز یا تعظیم اس طرف چلنا تذلل وخشوع تمام کرناہرگزدرست نہیں اور کہتاہے کہ آنجناب یعنی حضورغوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کوکتاب وسنت وسیرت صحابہ کے اتباع اور احکام شرع پرقیام او محدثات سے اجتناب تام اور طاعات میں اخلاص اور ہرحال میں خداپرتوکل واعتماد میں استقامت کاملہ تھی وہ ان امور کے خلاف کیونکرفرماتے کہ بعد نماز مغرب عراق کی طرف بتعظیم تمام لو اوع دل سے متوجہ ہوکر میرانام لے کرحاجت چاہو یہ فعل کتاب وسنت وطریقہ خلفائے راشدین کے خلاف ہے اور سیرت وعمل صحابہ کے موافق نہیں اور تابعین وتبع تابعین ودیگراسلاف کرام وائمہ عظام سے اس کامثل منقول نہیں عوام کہ اسے عمل مشائخ کہتے ہیں قابل التفات نہیں مشائخ میں جواہل علم فقہاء و ائمہ ہوئے کسی نے اس کے مثل تصریح نہ کی اور قول وفعل بعض غیرموثوق پرعمل نہ چاہئے بلکہ سواداعظم کااتباع
#11868 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
چاہئے صحابہ محبت وتعظیم آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں ہم سب سے زیادہ اور ثواب وحسنات پربہت حریص تھے اگریہ عمل موجب ثواب وقربت الی اﷲ ہوتا تو سلف کرام بلکہ خود حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی علیہ الرحمۃ مدینہ منورہ کی طرف کرتے آیا یہ کلام اس کاغلط ہے یاصحیح بینواتوجروا۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدﷲ علی حسن بلائہ ملأ ارضہ وملأ سمائہ و الشکر للمصطفی علی نعمائہ شکرا یوافی حسن الائہ ویکافئ عنامزید عطائہ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی ابنائہ وازواجہ واصحابہ واحبائہ و وارث علمہ ومجدہ و سنائہ ووارث علمہ ومجدہ وسنائہ غوثنا الاعظم رافع لوائہ ومشایخنا الکرام وسائر اولیائہ صلوۃ تکشف لنا الاسرار ونصرف عنا اذی الاشرار وتکون عدۃ لیوم لقائہ واشھد ان لاالہ الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ شھادۃ موجبۃ لرضائہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ الصادع بالحق بعد خفائہ صلی اﷲ تعالی وسلم علیہ وعلی کل عبد مرضی لدیہ صلوۃ تأتی علی قدر کبریائہ وسلام بدوامہ و
سب تعریفیں اﷲتعالی کے لئے ہیں اس کے اچھے امتحان پر زمین وآسمان کوعجائبات سے بھرنے اور اپنی قدرت وقضاء میں جسے چاہے بھرنے پراور شکر مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے ان کے انعامات پر ایسا شکر جوان کی بہترین نعمتوں کوپوراہو ار ان کی مزید عطاؤں کوہماری طرف سے کفایت کرے اﷲ تعالی ان پر اوران کے صاحبزادوں اور ازواج اور اصحاب اور آپ کے علم بزرگی اور بلندی کے وارث ہمارے غوث اعظم پر جو آپ کے جھنڈے کو بلندکرنے والے ہیں اور تمام اولیاء پر رحمت نازل فرمائے ایسی رحمت جوہمارے لئے اسرار کوکھول دے اور شریرلوگوں کی اذیت کوہم سے پھیردے اور اﷲ تعالی کے ہاں حاضری کی اذیت کو ہم سے پھیردے اور اﷲ تعالی کے ہاں حاضری کے دن کے لئے ذخیرہ بنے اور میں گواہی دیتاہوں کہ اﷲ تعالی وحدہ لاشریك ہے ایسی گواہی جواس کی رضا کی موجب ہو اور گواہی دیتاہوں کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کے بندے اوررسول ہیں جوحق کوخفا سے ظاہرکرنے والے ہیں صلی اﷲ تعالی وسلم آپ پر اور اس کے دربارمیں تمام پسندیدہ بندوں پر وہ صلوۃ جو اس کی کبریائی کے شایان شان ہو اور وہ سلام جو اس کی بقاء اور
#11870 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
بقائہ امین امین الہ الحق امین یاراحم العبد وسامع دعائہ قال العبید الذلیل للمولی الجلیل ابومحمد النسی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی لطف بہ اﷲ فی شدتہ ورخائہ مستعینا باﷲ فی دفع الارتیاب ورفع الحجاب عن وجھہ الصواب مسمیا للجواب بعلم یعلم عام املائہ “ انھار الانوار من یم صلوۃ الاسرار “ (۱۳۰۵ھ) جعلھا اﷲ ذخیرۃ لدیہ و ذریعۃ الیہ یوم تشرق الارض بنورربھا و جمیل ضیائہ امین والحمدﷲ رب العلمین اللھم ھدایۃ الحق و الصواب۔
دوام تك دائم ہو آمین آمین اے الہ برحق آمین بندے پررحم کرنے اور اس کی دعاکوسننے والے اپنے جلیل القدر آقا کے سامنے حقیر اور ناتواں بندہ ابومحمد عبدالمصطفی احمدرضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی(اﷲتعالی اس کی شدت وسہولت میں لطف و مہربانی فرمائے) نے اﷲتعالی سے امداد چاہتے ہوئے اور حق وصواب کے چہرے سے پردہ اٹھاتے اور شك کو دورکرتے ہوئے جواب کاایسا نام جو اس کی تحریر کے سال کوظاہرکرے “ انہار الانوار من یم صلوۃالاصرار “ رکھتے ہوئے کہاکہ اﷲتعالی اس کو ذخیرہ اور ذریعہ اپنے دربار میں بنائے جس دن زمین اپنے رب کے نور سے چمك جائے۔ اور خوب روشن ہوجائے آمین الحمدﷲرب العالمین اے اﷲ حق وصواب کی رہنمائی فرما۔ (ت)
فی الواقع یہ مبارك نماز حضرات عالیہ مشائخ کرام قدست اسرارہم العزیزہ کی معمولی اور قضائے حاجات وحصول مرادات کے لئے عمدہ طریق مرضی و مقبول اور حضور پرنور غوث الکونین غیاث الثقلین صلوات اﷲ وسلامہ علی جدہ الکریم وعلیہ سے مروی ومنقول اجلہ علماء واکابر برکملا اپنی تصانیف علیہ میں اسے روایت کرتے اور مقبول ومقرر ومسلم معتبررکھتے آئے امام اجل ہمام ابجل سیدی ابوالحسن نورالدین علی بن جریر لخمی شطنوفی قدس اﷲ سرہ العزیز بسند خود ۱بہجۃ الاسرار شریف میں اور شیخ شیوخ علماء الہند شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی نوراﷲ مرقدہ ۲زبدۃ الآثار لطیف میں اور دیگرعلمائے کرام وکملائے عظام رحمہم اللہ تعالی اپنے اپنے اسفار منیف میں اس جناب ملائك رکاب علیہ رضوان العزیز الوہاب سے راوی وناقل کہ ارشاد فرمایا :
من صلی رکعتین (زید فی روایۃ) بعد المغرب (وزادا) یقرأ فی کل رکعۃ بعد الفاتحۃ سورۃ الاخلاص احدی عشرۃ مرۃ ثم اتفقوا فی المعنی واللفظ للامام ابی الحسن
جوبعد مغرب دورکعت نمازپڑھے ہررکعت میں بعد فاتحہ سورہ اخلاص یازدہ بارپھر بعد سلام نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پرصلوۃ وسلام عرض کرے پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے اور میرانام یاد اور اپنی حاجت
#11871 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
قال ثم یصلی علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعد السلام ویسلم علیہ ویذکرنی ثم یخطوا الی جہۃ العراق احدی عشرۃ خطوۃ ویذکر اسمی ویذکر حاجتہ فانھا تقضی (زاد الشیخ) بفضل اﷲ وکرمہ (وقال اخر) قضی اﷲ تعالی حاجتہ ۔
ذکرکرے اﷲ تعالی کے فضل وکرم سے اس کی مرادپوری ہو اس عبارت میں “ مغرب کے بعد “ ایك روایت میں زائد ہے اور صاحب بہجۃ الاسرار اور صاحب زبدۃ الآثار نے “ ہررکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص گیارہ مرتبہ “ زائد ذکرکیا پھر شیخ عبدالحق نے بفضل اﷲ وکرمہ کوبھی اور دوسرے نے صرف “ قضی اﷲ تعالی حاجتہ “ ذکرکیا۔ (ت)
اسی طرح امام جلیل علامہ نبیل امام ۳عبداﷲ یافعی مکی طیب اﷲ ثراہ صاحب خلاصۃ المفاخر فی اختصار مناقب الشیخ عبدالقادر نے روایت کی یونہی فاضل کامل مولاناعلی قاری ہروی نزیل مکہ معظمہ صاحب شروع فقہ اکبر ومشکوۃ اکرم اﷲ نزلہ نے ۴نزہۃ الخاطر میں ذکر فرمایا زبدہ مبارکہ میں اپنے شیخ واستاذ احسن اﷲ مثواہ کا اس نماز کی اجازت دینا اور اپنااجازت لینا بیان کیا اور حضرت شیخ محقق تغمدہ اﷲ برحمۃ سے اس نمازمبارك میں خاص ایك رسالہ نفیس عــــہ۱ عجالہ۵ ہے اس سے ثابت کہ حضرت ورع سراپا سعادت حامل شریعت کامل طریقت سیدی عبدالوہاب متقی مکی برداﷲ مضجعہ نے کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار کو معتمد ومعتبر اور اس مبارك روایت کو مسلم ومقرر فرمایا اور مولینا شیخ ۶وجیہ الدین علوی احمدآبادی علیہ رحمۃ الرؤف الہادی کہ سال وفات عــــہ۲ امام اجل علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ میں متولد ہوئے حضرت شیخ غوث گوالیاری علیہ رحمۃ الملك الباری کے مرید سعید اور حضرت شیخ محقق کے استاد مجید اور شاہ ولی اﷲ دہلوی کے شیخ سلسلہ اور صاحب مقامات رفیعہ وتصانیف کثیرہ بدیعہ ہیں بیضاوی وہدایہ وتلویح وشرح وقایہ ومطول ومختصر و
عــــہ۱ : نقلھا برمتھا مولینا سراج الحق محمد عمر القادری حفظہ اﷲ تعالی ابن الفاضل الجلیل مولانا فرید الدین الدھلوی رحمہ اﷲ تعالی فی کتابہ ریاض الانوار من شاء فلیرجع الیہا۱۲منہ
عــــہ۲ : یعنی ۹۱۱ ھ ووفاتہ لسلخ صفر۹۹۸ھ ۱۲منہ
یہ تمام مولانا سراج الحق محمد عمرقادری ابن فاضل جلیل مولانا فرید الدین دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی کتاب “ ریاض الانوار “ میں نقل کیاہے جو چاہے اسے دیکھے۱۲(ت)
یعنی ۹۱۱ھ اور ان کی وفات ماہ صفر کے آخر ۹۹۸ھ۔ (ت)
حوالہ / References بہجۃ الاسرار فضل اصحابہ وبشراہم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۱۰۲
#11872 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
شروح عقائد مواقف وغیرہا پرحواشی مفیدہ رکھتے ہیں اور کبرائے منکرین نے بھی اپنے رسائل میں ان سے استناد کیا نہایت شدومد سے اس نمازمبارك کی اجازت دیتے اور اس پربتاکید تحریص وترغیب فرماتے یونہی شیخ نے ۷اخبار الاخیار شریف اور مولینا ابوالمعالی محمدمسلمی عالمہ اﷲ تعالی بلطفہ نے جنہیں رسالہ مذکورہ شیخ محقق میں علمائے سلسلہ علیہ سے شمارکیا ۸تحفہ شریفہ ار حضرت سیدنا ومولینا اسدالواصلین جبل العلم والیقین حضرت سیدشاہ حمزہ عینی قادری فاطمی حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے ۹کاشف الاستار شریف میں اسے نقل وارشاد فرمایا اور امام یافعی بل اﷲ تربتہ (اﷲتعالی ان کی قبر کو ٹھنڈا رکھے۔ ت) تصریح فرماتے ہیں کہ حضور پرنورغوث اعظم صلی اﷲتعالی علی جدہ الاکرم وعلیہ وسلم کے اصحاب کرام عطراﷲ ضرائحھم القادسۃ (اﷲ تعالی ان کی قبروں کو معطر فرمائے ۔ ت) اس نماز کو عمل میں لاتے اور زبدۃ الآثارمیں اولیائے طریقہ علیہ عالیہ روحت ارواحھم (ان کی روحیں معطرہوں ۔ ت) کے آداب میں فرمایا : وملازمتہ صلوۃ الاسرار التی بعدھا التخطی احدی عشرۃ خطوۃ یعنی اس خاندان پاك کے آداب سے ہے صلوۃ الاسرار کی مداومت کرنی جس کے بعد گیارہ رہ قدم چلناہے۔ بااینہمہ اس کااعمال مشائخ کرام سے ہونا نہ ماننا آفتاب روشن کاانکارکرناہے اور خود کون سی راہ ہے کہ ان ائمہ و اکابر کو خواہی نخواہی جھٹلائیے اورعیاذباﷲ بدعتی وناحق کوش ٹھہرائیے پھر یہ مقبولان خدا صرف اپنی طرف سے نہیں کہتے بلکہ اسے خاس حضورپرنور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کاارشاد بتاتے ہیں اور حضور کے ارشاد واجب الانقیاد پر رد وایراد اگرانجانی سے نہ ہو تو معاذاﷲوہ آتش سوزاں وبلائے بے درماں وقہربے امان ہے جس کا مزہ اس دارالغرور والاقتباس میں نہ کلھا توکل کیادورہے۔ “ان موعدهم الصبح-الیس الصبح بقریب(۸۱) “ (بیشك ان کا وعدہ صبح کا وقت ہے کیاصبح قریب نہیں ۔ ت)حضورخودارشاد فرماتے ہیں :
تکذیبکم لی سم قاتل لادیانکم وسبب لذھاب دنیاکم واخراکم۔
میرے ارشاد کوخلاف بتانا تمہارے دین کے لئے زہر قاتل اور تمہاری دنیاوعقبی دونوں کی بربادی ہے۔ والعیاذباﷲ تعالی۔
اور ان اکابران ملت وعلمائے امت کونقل وروایت میں بھی غیرموثوق جاننا اسی دارالفتن ہندوستان میں آسان ہے جہاں نہ کسی منہ کو لگام نہ کسی زبان کی روك تھام۔ یہ امام ابوالحسن نورالدین علی شطنوفی قدس سرہ
حوالہ / References بحوالہ زبدۃ الاسرار خاتمۃ الکتاب مطبوعہ مطبع بکسلنگ کمپنی دہلی ص۱۲۶
القرآن ۱۱ / ۸۱
#11873 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
کہ بہجۃ الاسرار شریف کے مصنف اور برطرز حدیث بسند متصل اس روایت جلیلہ کے پہلے مخرج ہیں اجلہ علماء وائمہ وقرأت و اکابراولیاء وسادات طریقت سے ہیں امام اجل شمس الدین ابن الجرزی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہ اجلہ محدثین وعلمائے قرائت سے ہیں جن کی حصن حصین مشہور ومعروف دیاروامصار ہے اس جناب کے سلسلہ تلامذہ میں ہیں انہوں نے یہ کتاب بہجۃ الاسرارشریف اپنے شیخ سے پڑھی اور اس کی سند واجازت حاصل کی اپنے رسالہ ۱۰طبقات القرأ میں فرماتے ہیں :
انی قرأت ھذالکتاب اعنی بھجۃ الاسرار بمصر وکان فی خزانۃ سلطان المصر علی الشیخ عبدالقادر وکان من اجلۃ مشایخ مصر فاجازنی روایتہ الخ
یعنی میں نے یہ کتاب بہجۃ الاسرارمصر میں خزانہ شاہی سے حاصل کرکے شیخ عبدالقادر سے کہ اکابرمشائخ مصرسے تھے پڑھی اور انہوں نے مجھے اس کی روایت کی اجازت دی الخ۔
امام شمس الدین ذہبی مصنف میزان الاعتدال کہ علم حدیث ونقدرجال میں ان کی جلالت شان عالم آشکار اس جناب کے معاصر تھے اور باآنکہ حضرات صوفیہ کرام کے ساتھ ان کی روش معلوم ہے سامحنا اﷲ تعالی وایاہ (ہم پر اور ان پر اﷲتعالی نرمی فرمائے۔ ت) امام ابوالحسن ممدوح کی ملاقات کو ان کی مجلس تدریس میں گئے اور اپنی کتاب طبقات المقرئین میں ان کی مدح وستائش سے رطب اللساں ہوئے فرماتے ہیں :
علی بن جریر الخمی الشطنوفی الامام عــــہ الاوحد نورالدین شیخ القراء بالدیار المصریۃ ابوالحسن اصلہ من الشام ولد بالقاھرۃ سنۃ اربع واربعین وستمائۃ وتصدر للاقراء بجمامع الازھر وغیرہ تکاثر علیہ الطلبۃ وحضرت مجلس اقراہ فاعجبتی سمتہ وسکوتہ وکان ذاعزام
یعنی علی بن جریرلخمی شطنوفی امام یکتا ہیں نورالدین لقب ابوالحسن کنیت بلاد مصر میں علمائے قرأت کے استاد ہیں اصل ان کی شام سے ہے ۶۴۴ھ میں قاہرہ مصر میں پیداہوئے اور جامع ازہر وغیرہ میں مسند اقرأ پرصدرنشینی کی بکثرت طلبہ ان کے پاس جمع ہوئے میں ان کی مجلس درس میں حاضرہوا ان کی نیك روش و کم سختی مجھے پسند آئی حضور شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ

عــــہ : بعینہ اسی طرح امام اجل جلال الملۃ والدین سیوطی نے حسن المحاضرۃ فی اخبارمصروالقاہرۃ میں اس جناب کو الامام الاوحد لکھا یعنی بے مثل امام ۱۲منہ غفرلہ (م)
حوالہ / References رسالہ طبقات القراء
#11874 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
بالشیخ عبدالقادر الجیلی رضی اﷲ تعالی عنہ وجمع اخبارہ ومناقبہ فی نحوثلث مجلدادت ۱ھ ملخصا
تعالی عنہ کے شیدائی تھے انہوں نے حضور کے فضائل تین۳ مجلد کے قریب میں جمع کئے ہیں ۔
پرظاہر کہ امام ذہبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے مثل سے یہ کلمات جلیلہ اس جناب کی کمال وثاقت وعدالت ووفور علم وجلالت پرشاہدعدل ودلیل فصل ہیں اور خود امام اوحد یعنی بے مثل امام یکتا کالفظ اجل واعظم تمام فضائل ومناقب جلیلہ کا یکتا جامع اکمل واتم ہے وہ جناب سندعالی رکھتے اور زمانہ اقدس حضور پرنورغوث الثقلین رضی اللہ تعالی عنہ سے نہایت قریب ہیں انہیں حضوراقدس تك صرف دو۲واسطے ہیں قاضی القضاۃ امام اجل حضرت سیدناابوصالح نصر قدس سرہ کے اصحاب سے ہیں اور وہ اپنے والدماجد حضرت سیدنا ابوبکرتاج الملۃ والدین عبدالرزاق رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور وہ اپنے والد ماجد حضورپرنور سیدالسادات غوث الافراد قطب الارشاد غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے خلیفہ و مرید وصاحب ومستفید ہیں رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین۔ شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہ زبدۃ الآثار شریف میں فرماتے ہیں یہ کتاب بہجۃ الاسرار کتاب عظیم و شریف ومشہور ہے اور اس کے مصنف علمائے قرأت سے عالم معروف ومشہور اور ان کے احوال شریفہ کتابوں میں مذکورومسطور پھر ذہبی وابن الجزری کے وہ اقوال نقل فرمائے اور رسالہ مذکورہ شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہ میں اسی نمازمبارك کے بارے میں مرقوم :
اقوی دلائل واوضح مسائل درین باب کتاب عزیز بہجۃ الاسرار معدن الانوار کہ معتبرومقررومشہورومذکورست ومصنف ایں کتاب ازمشاہیرمشائخ وعلماست میان وے و حضرت شیخ یعنی حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ دو واسطہ است ومقدم است برامام عبداﷲ یافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہ ایشان نیزازمنتسبان سلسلہ شریفہ ومحبان جناب غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ ۔ (ملتقطا) اس باب میں اقوی دلیل “ بہجۃالاسرار “ معدن الانوار ہے جو کہ معتبر اور مشہور ہے اس کتاب کے مصنف اور حضرت شیخ یعنی غوث اعظم کے درمیان صرف دو واسطے ہیں اور یہ امام یافعی سے مقدم ہیں کہ جبکہ امام یافعی خود سلسلہ قادریہ سے متعلق ہیں اور حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے عقیدت رکھتے ہیں (ت)
ہیں امام یافعی وعلامہ علی قاری و حضرت شیخ محقق دہلوی وغیرہم اکابر کی امامت وجلالت ووثاقت عدالت سے کون آگاہ نہیں ۔
حوالہ / References طبقات المقرئین
رسالہ متعلق بصلٰوۃ الاسرار لعبدالحق المحدث الدہلوی
#11875 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
وکیف یصح فی الاعیان شیئ اذا احتاج النہار الی دلیل
(جب روز روشن دلیل کامحتاج ہوجائے توپھر کسی چیز کا وجود کیسے ثابت ہوسکتاہے)
بالجملہ ایسے اکابر کی روایات معتمدہ کو بے وجہ وجیہ رد کردینا یاسخت جہالت ہے یا خبث وضلالت والعیاذ باﷲ سبحنہ وتعالی اور بے دلیل دعوی الحاق محض مردود ورنہ تصانیف ائمہ سے امان اٹھ جائے اور نظام شریعت درہم وبرہم نظرآئے جوسند پیش کیجئے مخالف کہہ دے یہ الحاقی ہے چلئے تمسك واستناد کادروازہ ہی بند ہوگیا “ ہیہات “ کیابزور زبان کچھ کہہ دینا قابل قبول ہوسکتاہے حاشاوکلا ادعائے بے دلیل مطرودوذلیل ہاں ہم کو مسلم کہ بعض کتابوں میں بعض الحاق بھی ہوئے مگر اس سے ہرکتاب کی ہرعبارت تومطروح یامشکوك نہیں ہوسکتی کسی خاص عبارت کی نسبت یہ دعوی زنہار مسموع نہیں جب تك بوجہ وجیہ اس میں الحاق ثابت نہ کردیں جس کے لئے امثال مقام عــــہ میں صرف دو۲طریقے متصور ایك تو یہ کہ اس کتاب کے صحیح معتمد عمدہ قدیم نسخے اس عبارت سے خالی ملیں یاخاص مصنف کااصل مسودہ پیش کیاجائے جس میں اس عبارت کانشان نہ ہو حضرت
عــــہ : اشارۃ الی انہ قدیعلم ذلك بالرجوع الی المتکلم وانکارہ عندمن لایتھمہ ویعرف تارۃ باعتراف المفتری کماوقع بعض الوضاعین ویقبل اخری اذا نص علی ذلك من یرجع الیہ لعظمہ وفضلہ ولاینکر علیہ لثقتہ وعدلہ وکذلك یحکم بہ اذا لم یأت ذلك الامن طریق من عرف بالکذب کقول المحدثین ان ھذا موضوع ای فی سندہ وضاع او کذاب وھذا انما یعطی عدم الجزم لاالجزم بالعدم الا اذا ضم الیہ دلیل اخر فالکذوب قد یصدق واﷲ تعالی اعلم ۱۲منہ
یہ اس طرف اشارہ ہےکہ الحاق کبھی خود متکلم کی طرف رجوع کرنے پر اور اس کا ایسا شخص کے سامنے الحاقی عبارت سے انکارکرنا جس کو کذب سے متہم نہیں کیاجاسکتا اور کبھی خود افتراء کرنے والے کے اعتراف سے معلوم ہوتاہے جیسا کہ بعض ایسے لوگوں سے اعتراف واقع ہواہے اور کبھی ایسی منظم اور افضل شخصیت جس کے تقوی اور عدل کی بناپر اس کی بات کاانکار نہیں کیاجاسکتا کی تصریح سے معلوم ہوتاہے اور کبھی الحاق کاحکم تب کیا جاتاہے جب کہ اس بات کو صرف جھوٹ بولنے میں مشہورشخص ہی بیان کرے جیسا کہ محدثین کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں من گھڑت اور کذاب راوی ہے یہ آخری وجہ صرف عدم جزم کافائدہ دیتی ہے اور جزم بالعدم کانہیں کیونکہ جھوٹا بھی کچھ سچ بول دیتاہے ہان اگرکوئی اوردلیل بتائے کہ یہ جھوٹ ہے توپھر جزم بالعدم کافائدہ ہوسکتاہے واﷲ تعالی اعلم۱۲۔ منہ (ت)
#11876 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
جناب شیخ اکبر و امام شعرانی قدس سرہما کی تصانیف میں الحاق یونہی ثابت ہوا امام شعرانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لواقح الانوارمیں فرماتے ہیں :
قدم علینا الاخ العالم الشریف شمس الدین السید محمد ابن السید ابی الطیب المدنی المتوفی ۹۵۵ خمس وخمسین و تسعمائۃ فذاکرتہ فی ذلك فاخرج الی نسخۃ من الفتوحات التی قابلھا علی النسخۃ التی علیھا خط شیخ محی الدین نفسہ بقونیۃ فلم ارفیھا شیئا مما توفقت فیہ وحذفتہ فعلمت ان النسخ التی فی مصر ان کلھا کتبت من النسخۃ التی دسوا علی الشیخ فیھا مایخالف عقائد اھل السنۃ والجماعۃ کماوقع لہ ذلك فی کتاب الفصوص وغیرہ الخ
یعنی ہمارے دوست عالم شریف سیدشمس الدین محمد بن سید ابوالطیب مدنی جن کی وفات ۹۵۵ھ میں ہوئی ہمارے یہاں آئے میں نے فتوحات شیخ اکبرقدس سرہ کاتذکرہ کیا انہوں نے ایك نسخہ فتوحات نکالا جسے انہوں نے اس نسخے سے مقابلہ کیاتھا جو شہر قونیہ میں کہ شیخ اکبرقدس سرہ کا وطن ہے خاص شیخ قدس سرہ کے دستخط شریف سے مزین ہے اس نسخے میں میں نے کہیں ان عبارتوں کانشان نہ پایا جن میں مجھے تردد تھا اور میں نے فتوحات کے انتخاب میں قلم انداز کردی تھیں تومجھے یقین ہوا کہ اب جس قدر نسخے مصر میں ہےں سب اسی نسخے سے نقل ہوئے ہیں جس میں لوگوں نے عقائد اہلسنت وجماعت کے خلاف عبارتیں شیخ پرافتراکرکے ملادی ہیں جیساکہ ان کی فصوص وغیرہ کے ساتھ بھی یہی واقع ہوا۔ الخ
اس کے بعد امام شعرانی نے دو تحریریں نقل فرمائیں جوعالم ممدوح سیدشریف مدنی مرحوم نے نسخہ مذکورہ قونیہ پر خود حضرت شیخ ودیگر عمائد رحمہم اللہ تعالی کے دستخطوں سے لکھی دیکھیں اور بیان کیاکہ یہ نسخہ خود حضرت شیخ اکبر رحمۃ اللہ تعالی علیہ کاوقف فرمایاہواہے شیخ نے اپنی علامت وقف یوں تحریرفرمائی ہے :
وقف محمد بن علی بن عربی الطائی ھذاالکتاب علی جمیع المسلمین ۔
یہ کتاب محمد بن علی بن عربی طائی نے تمام مسلمانوں پر وقف کی۔
اور اس کے آخر میں قلم شیخ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے یہ تحریر ہے :
قدتم ھذا الکتاب علی یدمنشئہ وھو
یہ کتاب بقلم مصنف تمام ہوئی اور یہ میرے
حوالہ / References کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیہ من الفتوحات المکیہ مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد ۲ / ۱۲۳۸
کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیہ من الفتوحات المکیہ مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد ۲ / ۱۲۳۹
#11877 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
النسخۃ الثانیۃ من بخط یدی وکان الفراغ منہ بکرۃ یوم الاربعاء الرابع و العشرین من شھر ربیع الاول سنۃ ست و ثلثین ۶۳۶ وستمائۃ وکتبہ منشؤہ ۔
خط سے دوسرانسخہ ہے اس کی تحریر سے روزچار شنبہ وقت صبح بتاریخ ست وچہارم ماہ مبارك ربیع الاول ۶۳۶ فراغ لکھاہواہے اس کے مصنف نے رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی۔
ور سیدموصوف نے یہ بھی بیان فرمایا کہ سینتیس۳۷ مجلد میں ہے اور اس میں اس نسخے سے جس میں ملحدوں نے عقائد شنیعہ الحاق کئے عبارت زیادہ ہے اور اس کی پشت پرنام کتاب بخط مصنف علیہ الرحمہ لکھاہے اس کے نیچے شیخ صدرالدین قونوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خط سے یہ عبارت تحریرہے :
انشاء مولانا شیخ الاسلام وصفوۃ الانام محی الدین بن عربی ۔
یہ کتاب ہمارے آقا سردار مسلمانان برگزیدہ جہاں محی الدین بن عربی کی تصنیف ہے۔
اور اس کے نیچے لکھاہے : ملك ھذہ المجلدۃ لمحمدبن اسحق القونوی (یہ مجلدمحمد بن اسحق قونوی کی ملك میں آیا۔ اس کے نیچے شیخ صدرالدین ممدوح کے خط سے محمد بن ابی بکرتبریزی کی روایت کہ ان سے بطریق سماع حاصل ہوئی مکتوب ہے اور محمدبن اسحق قونوی کی شرح دستخط یہ ہے :
انتقل الی خادمہ وربیب لطفہ محمد بن اسحق سنۃ سبعین وثلثین۶۳۷ وستمائۃ ۔
یہ کتاب مصنف کے خادم ولطف پروردہ محمد بن اسحق قونوی کی طرف ۶۳۷ میں منتقل ہوئی۔
نتہی ظاہرہے کہ اس سے زیادہ کون سانسخہ معتمدہوگا خود قلم خاص حضرت مصنف قدس اﷲ تعالی سرہ العزیز کی تحریر اور اس کے اول وآخرمیں خود مصنف ودیگرعلماء وعمائد کے دستخط کثیر جب یہ نسخہ ان عبارات شنیعہ سے خالی ملاتو الحاق وافترا میں کیاشك رہا والحمدﷲ رب العلمین ولہذا مفتی سلطنت عثمانیہ عمدہ علمائے روم علامہ ابوالسعود علیہ رحمۃ الملك الودود نے اپنے فتوے میں تصریح فرمائی کہ یتقنا ان بعض الیہود افتراھا علی الشیخ قدس اﷲ سرہ ہمیں یقین ہے کہ بعض یہودیوں نے یہ کلمات شیخ قدس سرہ پرافتراء کئے ہیں ۔ کمانقلہ فی الدرالمختار عن معروضاتہ۔ اب کلام امام شعرانی کاحال سنئے خود امام موصوف رحمۃ اللہ تعالی علیہ میزان میں فرماتے ہیں :
وقع لی ذلك من بعض الاعداء فانھم دسوا فی کتابی المسمی بالبحر المورود فی المواثیق
یعنی مجھے یہ واقعہ بعض اعدا کے ساتھ پیش آچکاہے انہوں نے میری کتاب البحر المورودفی المواثیق والعہود
حوالہ / References کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد ۲ / ۱۲۳۹
کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد ۲ / ۱۲۳۹
کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد ۲ / ۱۲۳۹
کشف الظنون بحوالہ لواقع الانوار القدسیۃ من الفتوحات المکیۃ مطبوعہ مکتبۃ المثنی بغداد ۲ / ۱۲۳۹
#11878 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
والعھود امور اتخالف ظاھر الشریعۃ و داروبھا فی الجامع الازھر وغیرہ و حصل بذلك فتنۃ عظیمۃ وماخمدت الفتنۃ حتی ارسلت لھم نسختی التی علیھا خطوط العلماء ففتشھا العلماء فلم یجدوا فیھا شیئا ممایخالف ظاھر الشریعۃ ممادسہ الاعداء فاﷲ تعالی یغفرلھم و یسامحھم ۱ھ۔
میں خلاف شرع باتیں الحاق کردیں اور اسے جامع ازہر وغیرہ میں لئے پھرے اور اس کے سبب بڑا فتنہ اٹھا اور فرو نہ ہوا یہاں تك کہ میں نے ان کے پاس اپنا نسخہ جس پرعلما کے دستخط تھے بھیج دیا اہل علم نے تلاش کی تو اس میں وہ امور مخالفہ شریعت جو دشمنوں نے ملادئیے تھے اصلا نہ پائے اﷲتعالی ان کی مغفرت کرے اور درگزرفرمائے۔
خیر ایك طریقہ توثبوت الحاق کایہ ہے دوسرے یہ مصنف کامام معتمد وعالم متدین مستند ہونا معلوم ہے اور یہ کلام کہ بے تواتر حقیقی اس کی طرف نسبت کیاگیا صریح معصیت یابدمذہبی وضلالت جس میں اصلا تاویل وتوجیہ کی گنجائش ہی نہیں تو اس وجہ سے کہ علماء تو لما عام اہل اسلام کی طرف بے تحقق وتواتر وثبوت قطعی کسی کبیرہ کی نسبت مقبول نہیں کما نص علیہ الامام الاجل حجۃ الاسلام محمد الغزالی قدس سرہ العالی فی الاحیاء (جیسا کہ امام غزالی قدس سرہء نے “ احیاء العلوم “ میں اس کی تصریح کی ہے۔ ت) رد کردیں گے اور تحسینا للظن الحاقی کہیں گے اور اسی سے ملحق ہے بات کا ایساسخیف ورذیل ہونا کہ کسی طرح عقل سلیم اس امام عظیم سے اس کاصدور منظورنہ کرے جیسے باب ذوی الارحام میں قبیل فصل صنف اول سراجیہ میں یہ مہمل عبارت لان عندھما کل واحد منھم اولی من فرعہ وفرعہ وان سفل اولی من اصلہ (کیونکہ ان دونوں کے نزدیك ان میں سے ہرایك اپنی فرع سے اولی ہے اور اس کی فرع اگرچہ نچلی ہو اصل سے اولی ہے۔ ت) جس کے لئے اصلا کوئی محصل نہیں ولہذا علامہ سیدشریف نے شرح میں نقل فرمایا :
لم یتحصل منھا معنی فھی من ملحقات بعض الطلبۃ القاصرین الخ
اس کاکوئی معنی نہیں بنتا لہذا یہ بعض نالائق طلباء کی الحاق کردہ عبارت ہے الخ (ت)
اور اسی قبیل سے ہے وہ عبارت جس میں کسی طائفہ زائفہ کے لئے کوئی غرض فاسد ہو اور امام مصنف اس
حوالہ / References المیزان الکبرٰی مقدمۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۹
السراجی فی المیراث باب ذوی الارحام مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۹
حاشیۃ ضیاء السراج مع السراج بحوالہ شرح سیدشریف مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۳۹
#11879 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
سے بری اور جابجا خود اس کاکلام اس غرض مردودکے خلاف پرشاہد جیسے بعض خداناترسوں کاامام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی کی طرف معاذاﷲ کلمات مذمت امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نسبت کرنا حالانکہ ان کی کتاب متواترہ احیاء وغیرہ مناقب امام کی شاہدعدل ہیں عــــہ اور مثل آفتاب روشن و بےنقا ب کہ مانحن فیہ میں ان صورتوں سے کوئی مشکل نہیں والحمدﷲ رب العلمین اگر منکر بہجۃالاسرار شریف کے نسخ قدیمہ صحیحہ معتمدہ اس روایت سے خالی دکھادیتا یازبانی انکار کے سواکوئی دلیل معقول قابل قبول ارباب عقول اس کے یقینی ضلالت ومخالف عقیدہ اہل سنت ہونے پرقائم کرلیتاتو اس وقت دعوی الحاق زیب دیتا نہ کہ علی الرغم اس کے علمائے مابعد طبقہ فطبقہ اس روایت کو نقل فرمائیں اور مقرر و مسلم رکھتے آئیں اور بہجۃ کا ایك نسخہ معتمدہ بھی اس کے خلاف نہ ملے اور محض براہ سینہ زوری الحاق کا ادعائے باطل کردیاجائے فن اصول میں جسے ادنی مداخلت ہے اس پر کالشمس واضح کہ مجرد امکان منافی قطع ویقین بالمعنی الاعم نہیں جب تك احتمال ناشئی عن دلیل نہ ہو ورنہ تمام نصوص قرآن وحدیث سے ہاتھ دھو بیٹھے اور یہیں سے ظاہرہوگیا کہ منکر کاتصانیف شریفہ جناب شیخ اکبر و امام شعرانی قدس سرہما کی نظیردینا کس درجہ لغو وبے محل تھا کہاں وہ روشن وقائع قطعی ثبوت کہاں یہ زبانی شو سے حیلہ مبہوت کاش منکر نے جہاں تصانیف مذکورہ کانام لیاتھا وہاں امام شعرانی کے اقوال مسطورہ بھی نقل کرلاتا کہ دعوی مدلل وادعائے
عــــہ ماینسب الی الامام الغزالی یردہ ماذکرہ فی احیاہ المتواترعنہ حیث ترجم الائمۃ الاربعۃ وقال واما ابوحنیفۃ فلقدکان ایضا عابدا زاھدا عارفا باﷲ خائفا منہ مریدا وجہ اﷲ تعالی یعلمہ الخ۱ھ درمختار۔
امام اعظم کے بارے میں جو امام غزالی کی طرف منسوب ہے اس کا رد خود امام غزالی کاذکر کردہ وہ کلام ہے جو انہوں نے تواتر سے مروی “ احیاء العلوم “ میں ائمہ اربعہ کے تراجم میں بیان کیاہے اور انہوں نے وہاں فرمایا کہ بیشك امام ابوحنیفہ بھی عابد زاہد عارف باﷲ اﷲ تعالی سے ڈرنے والے اپنے علم کی بناپر اﷲتعالی کی رضا کے طالب تھے الخ ۱ھ درمختار(ت)
یعنی امام حجۃ الاسلام احیاء العلوم میں فرماتے ہیں ابوحنیفہ خدا کی قسم عابد زاہد عارف باﷲ تھے اﷲتعالی سے ڈرنے والے اور اپنے علم سے وجہ اﷲ کاارادہ رکھنے والے۱۲
حوالہ / References احیاء العلوم بیان العلم الذی ھو فرض الکفایۃ مطبوعہ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ مصر ۱ / ۲۸
#11880 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
بے دلیل کافرق کھل جاتا واﷲ الحجۃ السامیۃ۔
اور اس نماز کو قرآن وحدیث کے خلاف بتانا محض بہتان وافترا ہرگزہرگز قرآن وحدیث میں کہیں اس کی ممانعت نہیں نہ مخالف کوئی آیت یاحدیث اپنے دعوے میں پیش کرسکا ہرجگہ صرف زبانی ادعا سے کام لیامگر یہ وہی جہالت قبیحہ وسفاہت فضیحہ ہے جس میں فرقہ جدیدہ وطائفہ حادثہ قدیم سے مبتلا یعنی قرآن وحدیث میں جس امرکاذکرنہیں وہ ممنوع ہے اگرچہ اس کی ممانعت بھی قرآن وحدیث میں نہ ہو ان ذی ہوشوں کے نزدیك امرونہی میں کوئی واسطہ ہی نہیں اور عدم ذکرذکرعدم ہے پھر خداجانے سکوت کس شے کانام ہے! ترمذی و ابن ماجہ و حاکم سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الحلال ما احل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرم اﷲ فی کتابہ وماسکت فھومماعفاعنہ ۔
حلال وہ ہے جو خدا نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جو خدانے اپنی کتاب میں حرام بتایا اور جس سے سکوت فرمایا وہ عفو ہے یعنی اس میں کچھ مواخذہ نہیں
اور اس کی تصدیق قرآن عظیم میں موجود کہ فرماتاہے جل ذکرہ :
یایها الذین امنوا لا تســٴـلوا عن اشیآء ان تبد لكم تسؤكم-و ان تســٴـلوا عنها حین ینزل القران تبد لكم-عفا الله عنها-و الله غفور حلیم(۱۰۱)
اے ایمان والو! وہ باتیں نہ پوچھو کہ تم پر کھول دی جائیں تو تمہیں برالگے اور اگرقرآن اترتے وقت پوچھوگے توتم پرظاہرکردی جائیں گے اﷲ نے ان سے معافی فرمائی ہے اور اﷲ تعالی بخشنے والا مہربان ہے۔

ف : یہاں سے اعلیحضرت علیہ الرحمۃ ایك فائدہ نفیسہ کابیان شروع کررہے ہیں جو چاراحادیث اور ایك آیت قرآنی پرمشتمل ہے جس سے بہت سی فروعات مثل عیدمیلادالنبی گیارہویں شریف تیجا دسواں چہلم اور صلوۃ الاسرار وغیرہ کے جواز کاثبوت ملتاہے۔ نذیراحمدسعیدی
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب اللباس ، باب ماجاء فی لبس الفراءمطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۲۰۶ ، سنن ابن ماجہ باب اکل الجبن والسمن مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۲۴۹
القرآن ۵ / ۱۰۱
#11881 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ ان کا حکم دیتے تو فرض ہوجاتیں اور بہت ایسی کہ منع کرتے تو حرام ہوجاتیں پھر جوانہیں چھوڑتا یاکرتاگناہ میں پڑتا اس مالك مہربان نے اپنے احکام میں ان کا ذکرنہ فرمایا یہ کچھ بھول کر نہیں کہ وہ توبھول اورہرعیب سے پاك ہے بلکہ ہمیں پرمہربانی کے لئے کہ یہ مشقت میں نہ پڑیں تومسلمانوں کوفرماتاہے تم بھی ان کی چھیڑنہ کرو کہ پوچھوگے حکم مناسب دیاجائے گا اور تمہیں کودقت ہوگی۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ جن باتوں کا ذکرقرآن وحدیث میں نہ نکلے وہ ہرگز منع نہیں بلکہ اﷲ کی معافی میں ہیں دارقطنی ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
ان اﷲ تعالی فرض فرائض فلاتضیعوھا وحرم حرمات فلاتعتدوھا وسکت عن اشیئاء من غیرنسیان فلاتبحثوا عنہا ۔
بیشك اﷲ تعالی نے کچھ باتیں فرض کیں انہیں ہاتھ سے نہ جانے دو اور کچھ حرام فرمائیں ان کی حرمت نہ توڑو ار کچھ حدیں باندھیں ان سے آگے نہ بڑھو اور کچھ چیزوں سے بے بھولے سکوت فرمایا ان میں کاوش نہ کرو۔
احمد و بخاری و مسلم و نسائی و ابن ماجہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ذرونی ماترکتکم فانما ھلك من کان قبلکم بکثرۃ سؤالھم واختلافھم علی انبیائھم فاذا نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ واذا امرتکم بامرفأتوا منہ ما استطعتم ۔
یعنی جس بات میں میں نے تم پرتضییق نہ کی اس میں مجھ سے تفتیش نہ کرو کہ اگلی امتیں اسی بلاسے ہلاك ہوئیں میں جس بات کومنع کروں اس سے بچو اور جس کاحکم دوں اسے بقدر قدرت بجالاؤ۔
احمد بخاری مسلم سیدنا سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References سنن الدارقطنی باب الرضاع مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۴ / ۱۸۴
صحیح مسلم باب فرض الححج فی العمر ، حدیث ۴۱۲ مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۴۳۲ ، سنن ابن ماجہ باب اتباع سنت رسول اﷲ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۲ ، مسند احمدبن حنبل ازمسند ابوہریرہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۲۴۷
#11882 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سأل عن شیئ لم یحرم علی الناس فحرم من اجل مسألتہ ۔
بیشك مسلمانوں کے بارے میں ان کا بڑاگناہگار وہ ہے جو ایسی چیز سے سوال کرے کہ حرام نہ تھی اس کے سوال کے بعد حرام کردی گئی۔
یہ احادیث باعلی ندامنادی کہ قرآن وحدیث میں جن باتوں کاذکرنہیں نہ ان کی اجازت ثابت نہ ممانعت وارد اصل جواز پرہیں ورنہ اگرجس چیز کاکتاب وسنت میں ذکرنہ ہو مطلقا ممنوع ونادرست ٹھہرے تواس سوال کرنے والے کی کیاخطا اس کے بغیر پوچھے بھی وہ چیز ناجائزہی رہتی۔ بالجملہ یہ قاعدہ نفیسہ ہمیشہ یادرکھنے کاہے کہ قرآن وحدیث سے جس چیز کی بھلائی یابرائی ثابت ہو وہ بھلی یابری ہے ور جس کی نسبت کچھ ثبوت نہ ہو وہ معاف وجائز ومباح وروا اور اس کو حرام وگناہ ونادرست وممنوع کہناشریعت مطہرہ پرافترا۔ قال ربنا تبارك وتعالی
و لا تقولوا لما تصف السنتكم الكذب هذا حلل و هذا حرام لتفتروا على الله الكذب-ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۱۱۶)
ہمارے رب تعالی نے فرمایا : اپنی زبانوں کامن گھڑت جھوٹ مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اﷲتعالی پر جھوٹ افتراء کرتے ہو بیشك جو لوگ اﷲ تعالی پر افتراء کریں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ (ت)
اسی طرح اس نماز کو طریقہ خلفائے راشدین وصحابہ کرام کے خلاف کہنا بھی اسی سفاہت قدیمہ پرمبنی کہ جو فعل ان سے منقول نہ ہو عموما ان کے نزدیك ممنوع تھا حالانکہ عدم ثبوت فعل وثبوت عدم جواز میں زمین وآسمان کافرق ہے امام علامہ احمد بن محمد قسطلانی شارح صحیح بخاری مواہب لدنیہ و منح محمدیہ میں فرماتے ہیں :
الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لایدل علی المنع ۔
کرناتوجواز کی دلیل ہے اور نہ کرنا ممانعت کی دلیل نہیں ۔
رافضیوں نے ا س طائفہ جدیدہ کی طرح ایك استدلال کیاتھا اس کے جواب میں شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی تحفہ اثناء عشریہ میں لکھتے ہیں :
نکردن چیزے دیگرست ومنع فرمودن چیزے دیگراست ملخصا ۔
نہ کرنا اور چیزہے اور منع کرنا اور چیزہے ملخصا(ت)
حوالہ / References صحیح بخاری باب مایکرہ من کثرۃ السوال مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۲ / ۱۰۸۲
القرآن ۱۶ / ۱۱۶
مواہب اللدنیہ
تحفہ اثنا عشریہ باب دہم مطاعن ابوبکر رضی اﷲ عنہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۶۹
#11883 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں بعد بیان اس امر کے کہ اذان مغرب کے بعد فرضوں سے پہلے دو۲رکعت نفل پڑھنانہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہ سے۔ فرماتے ہیں :
ثم الثابت بعدھذا نفی المندوبیۃ اما ثبوت الکراھۃ فلاالاان یدل دلیل اخر ۔
یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وصحابہ کرام کے نہ کرنے سے اس قدرثا بت ہواکہ مندوب نہیں ۔ رہی کراہت وہ اس سے ثا بت نہ ہوئی جب تك اور کوئی دلیل اس پرقائم نہ ہو۔
اور اسے اخلاص فـــ و توکل کے خلاف ماننا عجب جہالت بے مزہ ہے اس میں محبوبان خدا کی طرف توجہ بغرض توسل ہے اور ان سے توسل قطعا محمود اور ہرگز اخلاص وتوکل کے منافی نہیں اﷲ تعالی فرماتاہے :
و ابتغوا الیه الوسیلة و جاهدوا فی سبیله لعلكم تفلحون(۳۵)
اﷲ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں کوشش کرو کہ تم مراد کو پہنچو۔
اور انبیاء وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کی نسبت فرماتاہے :
اولىك الذین یدعون یبتغون الى ربهم الوسیلة
وہ ہیں کہ دعاکرتے اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں ۔
اور آدم علیہ الصلاۃ والسلام ودیگرانبیاء وصلحاء وعلماء وعرفاء علیہم التحیۃ والثناء کاقدیما وحدیثا حضوراقدس غایۃ الغایات نہایۃ النہایات علیہ افضل الصلوۃ واکمل التسلیمات سے حضور کے ظہورپرنور سے پہلے اور بعد بھی حضور کے زمان برکت نشان میں اور بعد بھی عہد مبارك صحابہ وتابعین سے آج تك اور آج سے قیام قیامت و عرضات محشر ودخول جنت تك “ استشفاع وتوسل “ احادیث وآثار میں جس قدر وفوروکثرت وظہوروشہرت کے ساتھ وارد محتاج بیان نہیں جسے اس کی گونہ تفصیل دیکھنی منظورہو مواہب لدنیہ امام قسطلانی و خصائص کبرائے امام جلال الدین سیوطی و شرح مواہب علامہ زرقانی و مطالع المسرات علامہ فاسی و لمعات و اشعہ شروح مشکوۃ و جذب القلوب الی دیار المحبوب و مدارج النبوۃتصانیف شیخ محقق مولنا عبد الحق صاحب دہلوی وغیرہا کتب و کلام علمائے کرام و فضلائے عظام علیہم رحمۃ العزیز العلام کی طرف رجوع لائے کہ وہاں حجاب غفلت منکشف
حوالہ / References فتح القدیر باب النوافل مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۸۹
القرآن ۵ / ۳۵
القرآن ۱۷ / ۵۷
ف : یہاں سے اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ شفاعت ، وسیلہ ، استمداد ، التجا اور ہنگام توسل ندائے محبوبانِ خدا کے جواز پر کلام شروع کررہے ہیں جو کہ آیات قرآنی ، احادیث اور کتب سیرت سے ماخوذ ہے ، غور کرو۔ نذیر احمد
#11884 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
ہوتاہے اور مصنف خطا سے منصرف وباﷲ سبحنہ وتعالی التوفیق۔ اسی طرح صحیح بخاری شریف میں امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے طلب باراں سے توسل کرنا مروی ومشہور حصن حصین میں ہے :
وان یتوسل الی اﷲ تعالی بانبیاہ خ ر مس والصالحین من عبادہ خ۔
یعنی آداب دعا سے ہے کہ اﷲ تعالی کی طرف اس کے انبیاء سے توسل کرے۔ اسے بخاری و بزاز وحاکم نے امیرالمومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اور اﷲ کے نیك بندوں کاوسیلہ پکڑے اسے بخاری نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
اور سب سے زیادہ وہ حدیث صحیح ومشہور ہے جسے ۱نسائی و۲ترمذی و ۳ابن ماجہ و ۴حاکم و ۵بیہقی و۶ طبرانی و ابن خزیمہ نے عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اور طبرانی و بیہقی نے صحیح اور ترمذی نے حسن غریب صحیح اور حاکم نے برشرط بخاری و مسلم صحیح کہا اور حافظ امام عبدالعظیم منذری وغیرہ ائمہ نقدوتنقیح نے اس کی تصحیح کو مسلم ومقرر رکھا جس میں حضوراقدس ملجاء بیکساں ملاذ دوجہاں افضل صلوات اﷲ تعالی وتسلیماتہ علیہ وعلی ذریاتہ نے نابینا کو دعاتعلیم فرمائی کہ بعد نمازکہے :
اللھم انی اسئلك واتوجہ الیك بنبیك محمد نبی الرحمۃ (صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) یامحمد انی اتوجہ بك الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم فشفعہ فی۔
الہی! میں تجھ سے مانگتااور تیری طرف توجہ کرتاہوں بوسیلہ تیرے نبی محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کہ مہربانی کے نبی ہیں یارسول اﷲ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتاہوں کہ میری حاجت رواہو الہی! ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔
اور لطف یہ ہے کہ بعض روایات حصن حصین میں لتقضی لی بصیغہ معروف واقع ہوا یعنی یارسول اﷲ! میں آپ کے توسل سے خدا کی طرف توجہ کرتاہوں کہ آپ میری حاجت روائی کردیں ۔ مولینا فاضل علی قاری علیہ الرحمۃ الباری حرزثمین شرح حصن حصین میں فرماتے ہیں :
وفی نسخۃ بصیغۃ فاعل ای لتقضی الحاجۃ
اورایك نسخہ میں معروف کاصیغہ ہے یعنی تومیری حاجت روائی
حوالہ / References حصن حصین آداب دعاء افضل المطابع انڈیا ص۱۸
جامع الترمذی ابواب الدعوات مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۹۷
#11885 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
لی والمعنی تکون سببا لحصول حاجتی ووصول مرادی فالاسنادمجازی ھ
فرما اور معنی یہ ہے کہ آپ میری حاجت روائی کاسبب بنیں پس یہ اسناد مجازی ہے۱ھ (ت)
اوریہ حدیث نفیس نجیح مذیل بطراز گرانبہائے تصحیح عــــہ۱ امام ابوالقاسم سلیمن لخمی طبرانی کے پاس یوں ہے :
ان رجلاکان یختلف الی عثمن بن عفان رضی اﷲ تعالی عنہ فی حاجۃ لہ فکان عثمن لایلتفت الیہ ولاینظر فی حاجتہ فلقی عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ فشکا ذلك الیہ فقال لہ عثمن بن حنیف : ائت المیضأۃ فتوضأ ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قل اللھم انی اسألك و اتوجہ الیك بنبینا محمد
یعنی ایك حاجتمند اپنی حاجت کے لئے امیرالمومنین عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں آتا امیرالمومنین نہ اس کی طرف التفات کرتے نہ اس کی حاجت پر نظرفرماتے اس نے عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ سے اس امر کی شکایت کی انہوں نے فرمایا وضو کرکے مسجد میں دورکعت نمازپڑھ پھریوں دعامانگ : الہی! میں تجھ سے سوال کرتاہوں اور تیری طرف اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نبی رحمت کے وسیلے سے

عــــہا : امام منذری ترغیب میں فرماتے ہیں : قال الطبرانی بعد ذکر طرقہ والحدیث صحیح طبرانی نے اس حدیث کی متعدد اسنادیں ذکرکرکے کہا حدیث صحیح ہے ۱۲منہ (م)
عــــہ۲ : ھکذا ھو ھھنا یثبت الصلوۃ فی نفس الحدیث فی النسخۃ التصحیحۃ للترغیب التی من اﷲ تعالی بہا علی ھذا المحتاج ولعل عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ اذا روی الحدیث اتی بہ کما ھو واذا علم الرجل زاد الصلوۃ کما ھو المطلوب فی امثال المقام واﷲ تعالی اعلم ۱۲منہ (م)
یوں ہی وہ یہاں نماز کا ثبوت نفس حدیث میں ہے “ ترغیب “ کے صحیح نسخہ میں ہے یہ نسخہ اﷲتعالی نے اس محتاج کو بطوراحسان عطافرمایاہے ہوسکتاہے کہ عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ نے جب روایت کیا توانہوں نے حدیث کودرست بیان فرمایا اور جب انہوں نے آدمی کو ترغیب دی ہو تو نماز کالفظ زائد کردیا ہو جیسا کہ ایسے مقام میں مطلوب ہوتاہے واﷲ تعالی اعلم ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References حرزثمین شرح حصن حصین مع حصن حصین ، صلٰوۃ الحاجۃ ، افضل المطابع انڈیاٍ ص۱۲۵
الترغیب والترہیب فی الصلٰوۃ الحاجۃ ودعائہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۶
#11886 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نبی الرحمۃ یامحمد انی اتوجہ بك الی ربی فتقضی لی حاجتی وتذکر حاجتك ورح الی حتی اروح معک فانطلق الرجل فصنع ماقال لہ ثم اتی باب عثمن رضی اﷲ تعالی عنہ فجاء البواب حتی اخذہ بیدہ فادخلہ علی عثمن بن عفان رضی اﷲ تعالی عنہ فاجلسہ معہ علی الطنفسۃ فقال حاجتک فذکر حاجتہ فقضاھالہ ثم قال : ماذکرت حاجتك حتی کانت ھذہ الساعۃ وقال ماکانت لك من حاجۃ فاذکرھا ثم ان الرجل خرج من عندہ فلقی عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ فقال لہ جزاك اﷲ خیرا ماکان ینظر فی حاجتی ولایلتفت الی حتی کلمتہ فی فقال عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالی عنہ واﷲ ما کلمتہ ولکن شھدت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واتاہ رجل ضریر فشکا الیہ ذھاب بصرہ فقال لہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ائت المیضأۃ فتوضأ ثم صل رکعتین ثم ادع بھذہ الدعوات فقال عثمن بن حنیف فواﷲ ماتفرقنا وطال بنا الحدیث حتی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضر قط ۔
توجہ کرتاہوں یارسول اﷲ! میں حضور کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتاہوں کہ میری حاجت روا فرمائے اور اپنی حاجت کاذکرکر شام کوپھرمیرے پاس آنا کہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں حاجت مند نے یوں ہی کیا پھرآستان خلافت پرحاضرہوا دربان آیا اور ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضورلے گیا امیرالمومنین نے اپنے ساتھ مسند پربٹھایا مطلب پوچھا عرض کیا فورا روافرمایا اور ارشاد کیا اتنے دنوں میں اس وقت تم نے اپنا مطلب بیان کیاپھر فرمایا جوحاجت تمہیں پیش آیاکرے ہمارے پاس چلے آیاکرو۔ یہ شخص وہاں سے نکل کر عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ سے ملا اور کہااﷲ تمہیں جزائے خیردے امیرالمومنین میری حاجت پرنظر اور میری طرف التفات نہ فرماتے تھے یہاں تك کہ آپ نے ان سے میرے بارے میں عرض کی عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا خدا کی قسم میں نے توتیرے معاملے میں امیرالمومنین سے کچھ بھی نہ کہا مگر ہوایہ کہ میں نے سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کودیکھا حضورکی خدمت اقدس میں ایك نابینا حاضرہوا اور نابینائی کی شکایت کی حضورنے یوں ہی اسے ارشاد فرمایا کہ وضوکرکے دورکعت پڑھے پھریہ دعا کرے خدا کی قسم ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے باتیں ہی کررہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آیاگویا کبھی اندھاہی نہ تھا۔
حوالہ / References المعجم الکبیر للطبرانی مااسند عثمان بن حنیف ۸۳۱۱ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۹ / ۱۷
#11887 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
تنبیہ : ایھا المسلمون حضرات منکرین کی غایت دیانت سخت محل افسوس وعبرت اس حدیث جلیل کی عظمت رفیعہ وجلالت منیعہ اوپرمعلوم ہوچکی اور اس میں ہم اہل سنت وجماعت کے لئے جواز استمداد والتجا وہنگام توسل ندائے محبوبان خداکابحمداﷲ کیسا روشن و واضح وبین ولائح ثبوت جس سے اہل انکار کو کہیں مفرنہیں اب ان کے ایك بڑے عالم مشہور نے باوجود اس قدردعوی بلند علم وتدوین کے اپنے مذہب کی حمایت بیجا میں جس صریح بے باکی وشوخ چشمی کوکام فرمایا ہے انہیں اس سے شرم چاہئے تھی حضرت نے حصن حصین شریف کاترجمہ لکھا جب اس حدیث پرآئے اس کی قاہرشوکت عظیم عزت نے جرأت نہ کرنے دی کہ نفس متن میں اس پرطعن فرمائیں اور ادھرپاس مشرب ناخن بدل جوش عصبیت تاب گسل ناچار حاشیہ کتاب پریوں ہجوم ہموم کی تسکین فرمائی کہ :
یك راوی این حدیث عثمن بن خالد بن عمربن عبداﷲ متروك الحدیث است چنانکہ درتقریب موجوداست وحدیث راوی متروك الحدیث قابل حجت نمی شود۔
ایك راوی اس حدیث میں عثمن بن خالد بن عمربن عبداﷲ ہے جو متروك ہے جیسا کہ “ تقریب “ میں موجودہے اور متروك الحدیث راوی کی حدیث حجت کے قابل نہیں ہوتی۔ (ت)
انا ﷲ وانا الیہ راجعون انصاف ودیانت کا تو یہ مقتضی تھا کہ جب حق واضح ہوگیاتھا تسلیم فرماتے ارشاد مفترض الانقیاد حضور پرنورسیدالانبیاء صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلی آلہ الامجاد کی طرف رجوع لاتے نہ کہ خواہی نخواہی بزورتحریف ایسی تصحیح رجیح حدیث کو جس کی اس قدرائمہ محدثین نے یك زبان تصحیح فرمائی معاذ اﷲ ساقط ومردود قراردیجئے اور انتقام خدا و مطالبہ حضورسیدروزجزا علیہ افضل الصلوۃ والثناء کاکچھ خیال نہ کیجئے اب حضرات منکرین کے تمام ذی علموں سے انصاف طلب کہ اس حدیث کاراوی عثمن بن خالد بن عمربن عبد اﷲ متروك الحدیث ہے جس سے ابن ماجہ کے سوا کتب ستہ میں کہیں روایت نہیں ملتی یا عثمن بن عمر بن فارس عبدی بصری ثقہ جوصحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہما تمام صحاح کے رجال سے ہیں کاش اتناہی نظرفرمالیتے کہ جو حدیث کئی صحاح میں مروی اس کامدار روایت وہ شخص کیونکر ممکن جو ابن ماجہ کے سوا کسی کے رجال سے نہیں وائے بیباکی مشہور و متداول صحاح کی حدیث جن کے لاکھوں نسخے ہزاروں بلاد میں موجود ان کی اسانید میں صاف صاف عن عثمن بن عمر مکتوب پھر کیاکہاجائے کہ ابن عمر کا ابن خالد بنالینا کس درجہ کی حیا و دیانت ہے لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ اور سنئے ابن السنی عبداﷲ بن مسعود اور بزار عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے راوی
#11888 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذاانفلتت دابۃ احدکم بارض فلاۃ فلیناد یاعباد اﷲ احبسوا فان ﷲ تعالی عبادا فی الارض تحبسہ ۔
جب تم میں کسی کاجانور جنگل میں چھوٹ جائے تو چاہئے یوں نداکرے “ اے خدا کے بندو! روك لو “ کہ اﷲتعالی کے کچھ بندے زمین میں ہیں جو اسے روك لیں گے۔
بزار کی روایت میں ہے یوں کہے : اعینوا یاعباداﷲ مدد کرو اے خدا کے بندو!۔ سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ان لفظوں کے بعد رحمکم اﷲ (اﷲ تم کرے۔ ت) اور زیادہ فرماتے رواہ ابن شیبۃ فی مصنفہ (اسے ابن شیبہ نے اپنی مصنف میں روایت کیا۔ ت) امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اذکار میں فرماتے ہیں : ہمارے بعض اساتذہ نے کہ عالم کبیر تھے ایسا ہی کیا چھوٹا ہواجانور فورا رك گیا اور فرماتے ہیں پررحم : ایك بار ہمارا ایك جانور چھٹ گیا لوگ عاجز آگئے ہاتھ نہ لگا میں نے یہی کلمہ کہا فورا رك گیا جس کا اس کہنے کے سوا کوئی سبب نہ تھا نقلہ سیدی علی القاری فی الحرز الثمین (ملاعلی قاری نے اسے حرزثمین میں نقل کیا۔ ت) امام طبرانی سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی حضورپرنور سیدالعالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا اضل احدکم شیئا واراد عونا وھوبارض لیس بھا انیس فلیقل یاعباداﷲ اعینونی یاعباداﷲ اعینونی یاعباداﷲ اعینونی فان ﷲ عبادا لایراھم ۔
جب تم میں سے کوئی شخص سنسان جگہ میں بہکے بھولے یا کوئی چیز گم کردے اور مددمانگنی چاہے تویوں کہے : اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو کہ اﷲ کے کچھ بندے عـــــہ ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا۔

عـــــہ : جن کے سیدو مولاوسند وماوی حضورپرنورسیدناعبدالقادرجیلانی ہیں رضی اللہ تعالی عنہ ۔ (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References المعجم الکبیر مروی از عبداﷲ ابن مسعود حدیث ۱۰۵۱۸ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۰ / ۲۶۷ ، المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ ۳ / ۲۳۹ کشف الاستار عن زوائد البزار ۴ / ۳۴ ، مجمع الزوائد ۱۰ / ۱۳۲ ، الاذکار للنووی ص۱۰۱
المصنف لابن ابی شیبہ مایدعوبہ الرجل حدیث ۹۷۶۹ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰ / ۳۹۰
الاذکار للنووی باب مایقول اذا انفلتت دا بۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ص۲۰۱
المعجم الکبیر ماسند عتبہ بن غزوان حدیث ۲۹۰ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۰ / ۱۱۷ و ۱۱۸
#11889 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں قد جرب ذلك بالیقین یہ بات آزمائی ہوئی ہے رواہ الطبرانی ایضا (اسے طبرانی نے بھی روایت کیاہے۔ ت)فاضل علی قاری علامہ میرك سے وہ بعض علمائے ثقات سے ناقل ھذا حدیث حسن یہ حدیث حسن ہے۔ اور فرمایا مسافروں کو اس کی ضرورت ہے اور فرمایا مشائخ کرام قدست اسرارہم سے مروی ہوا انہ مجرب قرن بہ النجاح یہ مجرب ہے اور مراد ملنی اس کے ساتھ مقرون۔ ذکرہ فی الحرز الثمین(اس کو حرزثمین میں ذکرکیا ہے۔ ت) ان احادیث میں جن بندگان خدا کو وقت حاجت پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کاصاف حکم ہے وہ ابدال ہیں کہ ایك قسم ہے اولیائے کرام سے قدس اﷲ تعالی اسرارھم وافاض علینا انوارھم یہی قول اظہرواشہرہے کما نص علیہ فی الحرز الوصین (جیسا کہ حرزالوصین میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ ت) اور ممکن کہ ملائکہ یا مسلمان صالح جن مراد ہوں وکیفما کان ایسے توسل وندا کو شرك وحرام اور منافی توکل واخلاص جاننا معاذاﷲ شرع مطہر کو اصلاح دیناہے۔
تنبیہ : یہاں تو حضرات منکرین کے انہیں عالم نے یہ خیال فرماکر کہ معجم طبرانی بلاد ہند میں متداول نہیں بے خوف وخطر خاص متن ترجمہ میں اپنے زور علم ودیانت وجوش تقوی وامانت کاجلوہ دکھایافرماتے ہیں : اس حدیث کے راویوں میں سے عتبہ بن غزوان مجہول الحال ہے تقوی اور عدالت اس کی معلوم نہیں جیسا کہ کہاہے تقریب میں کہ نام ایك کتاب کاہے اسماء الرجال کی کتابوں سے۔
اقول : مگربحمداﷲ آپ کاتقوی وعدالت تومعلوم کیسا طشت ازبام ہے خدا کی شان کہاں عتبہ بن غزوان رقاشی کہ طبقہ ثالثہ سے ہیں جنہیں تقریب میں مجہول الحال اور میزان میں لایعرف کہا اور کہاں اس حدیث کے راوی عتبہ بن غزوان بن جابر مازنی بدری کہ سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صحابی جلیل القدر مہاجر ومجاہد غزوہ بدر ہیں جن کی جلالت شان بدر سے روشن مہرسے ابین رضی اللہ تعالی عنہ وارضاہ مترجم صاحب دیباچہ ترجمہ میں معترف کہ حرزثمین
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
کما نص علیہ سیدنا الخضر علیہ الصلوۃ والسلام رواہ ونقلہ فی البھجۃ و الزبدۃ والتحفۃ وغیرھا منہ (م)
جیسا کہ سیدنا خضرعلیہ السلام نے اس کی تصریح کی اور بہجۃ الاسرار الزبدۃ اور التحفہ وغیرہا میں اس کو روایت کیا اور نقل کیا ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References المعجم الکبیر ماسند عتبہ بن غزوان حدیث ۲۹۰ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۰ / ۱۱۸
حرزثمین حواشی حصن حصین دعاء الرکوب فی البحر افضل المطابع انڈیا ص۴۶
#11890 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
ان کے پیش نظر ہے شاید اس حرز میں یہ عبارت تونہ ہوگی :
رواہ الطبرانی عن زید بن علی عن عتبۃ بن غزوان رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
اس کو طبرانی نے زید بن علی سے انہوں نے عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالی عنہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا۔ (ت)
یا جس تقریب کا آپ نے حوالہ دیااس میں خاص برا بر کی سطر میں یہ تحریر تونہ تھی :
عتبۃ بن غزوان بن جابر المزنی صحابی جلیل مھاجر بدری مات سنہ سبع عشرۃ اھ ملخصا۔
عتبہ بن غزوان بن جابر المزنی صحابی جلیل بدری اور مہاجرہیں جن کا وصال ۱۷ھ میں ہوا۔ اھ ملخصا۔ (ت)
پھرکون سے ایمان کامقتضی ہے کہ اپنے مذہب فاسد کی حمایت میں ایسے صحابی رفیع الشان عظیم المکان کوبزور زبان وبزورجنان درجہ صحابیت سے طبقہ ثالثہ میں لاڈالے اور شمس عدالت وبدر جلالت کومعاذاﷲ مردودالروایۃ ومطعون جہالت بنانے کی بدراہ نکالئے
ولکن صدق نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا لم تستحی فاصنع ماشئت ۔
لیکن حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جب تجھے حیانہیں تو پھرجوچاہے کر۔ (ت)
مسلمان دیکھیں کہ حضرات منکرین انکارحق واصرار باطل میں کیاکچھ کر گزرے پھر ادعائے حقانیت گویا تمیز کا وضوئے محکم ہے لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم خیر یہ تو حدیثیں تھیں اب شاہ ولی اﷲ صاحب کی سنئے اپنے قصیدہ اطیب النغم کی شرح میں پہلی بسم اﷲ یہ لکھتے ہیں کہ :
لابدست ازاستمداد بروح آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی روح پاك سے مددحاصل کرناضروری ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
بنظرنمی آید مرامگر آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہ
مجھے توہرمصیبت میں اور ہرپریشان حال کے لئے حضور
حوالہ / References حرزثمین شرح حصن حصین مع حصن حصین دعاء الرکوب فی البحر افضل المطابع انڈیا ص۴۵
تقریب التہذیب ترجمہ ۴۴۵۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۶۵۳
المعجم الکبیر مروی ازابومسعود حدیث ۶۵۸ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۷ / ۲۳۷
شرح قصیدہ اطیب النغم فصل اول درتشبیب بذکر الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲
#11891 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
جائے دست زدن اندوہگین ست درہرشدتے ۔
علیہ الصلاۃ والسلام کادست تصرف ہی نظرآتاہے(ت)
اسی میں ہے :
بہترین خلق خداست درخصلت ودرشکل ونافع ترین ایشان ست مردماں رانزدیك ہجوم حوادث زماں ۔
زمانے کے حوادث میں لوگوں کے لئے آپ سے بڑھ کر کوئی نافع نہیں ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
فصل یازدہم درابتہال بجناب آں حضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رحمت فرستد برتوخدائے تعالی اے بہترین کسیکہ امیدداشتہ شوداے بہترین عطاکنندہ ۔
گیارہویں فصل حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی مدح میں ہے اے بہترین مددگار اورجائے امید اور بہترین عطا کرنے والے! آپ پر اﷲ تعالی کی بے شمار رحمتیں ہوں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
اے بہترین کسیکہ امیدداشت شودبرائے ازالہ مصیبتے ۔
اے بہترین امیدگاہ مصیبتوں کے ازالہ کے لئے۔ (ت)
اسی میں ہے :
توپناہ دہندہ منی ازہجوم کردن مصیبتے وقتیکہ بخلاند دردل بدترین چنگلالہارا ۔
آپ مجھے ہرایسی مصیبت میں جودل میں بدترین اضطراب پیداکرے پناہ دیتے ہیں ۔ (ت)
اور اپنے قصیدہ ہمزیہ کی شرح میں توقیامت ہی توڑگئے لکھتے ہیں :
آخر حالتی کہ ثابت است مادح آں حضرت را صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وقتیکہ احساس کند نارسائی خودرااز حقیقت ثناضراعۃ (بالفتح) خواری وزاری ابتہال واخلاص دردعا آنست کہ ندا کند زار وخوارشدہ بشکستگی دل واظہار بے قدری خود باخلاص درمناجات وپناہ گرفتن بایں طریق اے رسول خدا اے بہترین مخلوقات عطائے ترامیخواہم روزفیصل کردن۔
مایوسی کے وقت مدح کرنے والے کی آخری حالت میں یہ دعااور ثنا ہونی چاہئے کہ وہ اپنے کو انتہائی گریہ و زاری اور دل جمعی اور اظہار بے قدری میں خلوص کے ساتھ پناہ حاصل کرتے ہوئے یہ مناجات کرے اور کہے کہ اے رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اے اﷲ تعالی کی مخلوق میں بہترین ذات! قیامت کے روز میں آپ کی عطا کاخواستگار ہوں ۔ (ت)
حوالہ / References شرح قصیدہ الطیب ا لنغم فصل اول درتشبیب بذکرالخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۴
شرح قصیدہ الطیب النغم فصل چہارم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۶
شرح قصیدہ اطیب النغم فصل یازدہم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۲
شرح قصیدہ اطیب النغم فصل یازدہم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۲
شرح قصیدہ اطیب النغم فصل یازدہم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۲
شرح قصیدہ ہمزیہ فصل ششم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳
#11892 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
اسی میں ہے :
وقتیکہ فرودآید کارعظیم درغایت تاریکی پس توئی پناہ ازہربلا ۔
جب کوئی کام تاریکی کی گہرائی میں گرجائے توآپ ہی ہربلامیں پناہ دیتے ہیں ۔ (ت)
اسی میں ہے :
بسوئے توست آوردن من وبہ توست پناہ گرفتن من ودر توست امید داشتن من ۔
میری جائے پناہ میری جائے امید اور میرے مرجع آپ ہی ہیں ۔ (ت)
بالجملہ بندگان خدا سے توسل کو اخلاص وتوکل کے خلاف نہ جانے گا مگرسخت جاہل محروم یاضال مکابرملوم رہا اس نماز مبارك کے افعال پرکلام اولا : جب اس کی ترغیب خود حضورپرنورغوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے ارشاد سے ثابت تو مدعی تسنن کوکیا گنجائش انکار خود منکرین کی زبانیں اس شہادت میں ہمارے دل وزبان کی شریك ہیں کہ وہ جناب اتباع قرآن وحدیث واقتضائے سنت سنیہ ومراعات سیرت صحابہ واجتناب محدثات شنیعہ والتزام احکام شرعیہ پراستقامت کاملہ رکھتے تھے رضی اﷲ تعالی عنہ وارضاہ امدنا فی الدارین بنعماہ امین (ا ﷲتعالی اس سے راضی ہو اور اس کو راضی کرے اور اپنی نعمتوں سے دونوں جہاں میں ہماری امداد فرمائے آمین۔ ت)
ثانیا : دو۲علما واولیا جن میں بعض کے اسمائے طیبہ فقیرغفراﷲتعالی لہ بہم نے ذکرکئے جنہوں نے یہ نمازپسند کی اجازت دی سند لی خود پڑھی منکرین میں کون ان کے پائے کاہے پھر ان کے کہے سے کیونکر مسلم ہو کہ حکم شرع پریہی چلے اور وہ سب معاذاﷲ گناہگار فساق بدعتی گزرے اور ان اکابر کو غیرموثوق کہہ کر اتباع سواداعظم کی طرف بلانا وہی پرانی تلبیس ہے سواد اعظم کاخلاف جب ہوکہ جمہورائمہ دین فقہا ومحدثین عرفائے محدثین رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین اس نماز سے ممانعت کرتے آئے ہوں جب منکرین دوچار ائمہ معتمدین سے صحیح طور پر (جودیدہ ودانستہ کذب وافترا ووضع اسمائے کتب وعلما و استناد بمجاہیل واجزائے خاملہ سے کہ داب قدیم اکابرمنکرین ہے خالی ہو) اس نمازکریم کی ممانعت کاثبوت نہ دے سکے نہ ان شاء اﷲ تعالی قیام قیامت دے سکیں توسواداعظم کانام لیناصرف عوام کودھوکادینا ہے۔
ثالثا : ان صاحبوں کے اصول پرتو اس نماز کے جوازواباحت اور منع وانکار کی قباحت وشناعت
حوالہ / References شرح قصیدہ ہمزیہ فصل ششم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳
شرح قصیدہ ہمزیہ فصل ششم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۴
#11893 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
پرنئے طورسے (جسے معارضہ بالقلب کہئے) سواداعظم ائمہ وعلماء و محدثین وفقہا کااجماع قطعی ثابت ہوگا پہلے معلوم ہوچکا کہ ان حضرات کے مذہب میں عدم ذکر ذکرعدم ہے اور خود یہاں منکرین کے ادعائے سواداعظم کایہی مبنی کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت) اب ہم کہتے ہیں کلمات ائمہ میں اس نماز پرانکار جائزہونا ہرگز مذکورنہیں ومن ادعی فعلیہ البیان ولایستطیعہ حتی یرجع القارظان (جودعوی کرے اس پربیان لازم ہے جبکہ یہ اس کی استطاعت سے خارج ہے۔ ت) اور عدم بیان بیان عدم تولاجرم اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ان سب ائمہ کے نزدیك اس نمازمبارك پر انکار روانہیں اور جس پرانکار ناجائز ہوگا وہ اقل درجہ مباح ہوگا فثبت المقصود وبھت العنود والحمد ﷲ العلی الودود (مقصود ثابت ہوا مخالف مبہوت ہوا الحمدﷲ العلی الودود۔ ت)
رابعا : ان حضرات کی عجیب عادت ہے جواز کہ عقلا ونقلا محتاج دلیل نہیں بے دلیل خاص قبول نہیں کرتے اور عدم جواز کے لئے ان کے زبانی دعوے کافی ہوجاتے ہیں کاش جہاں یہ کہتے ہیں کہ توجہ بعراق و روش باوسب درست نہیں وہاں اس پرکوئی دلیل شرعی بھی قائم کرتے اور جب کچھ نہیں توہمارے لئے اصل جواب وہی ہے جومدعیان بے ثبوت کے مقابل قرآن عظیم نے تعلیم فرمایا کہ قل هاتوا برهانكم ان كنتم صدقین(۱۱۱) (فرمادیجئے اگرسچے ہو تودلیل پیش کرو۔ ت)اور منکر نے اثنائے تقریر میں جو اپنے لئے بات آسان کرنے کوہیأت نمازوتذلل تام وانتہائے تعظیم کی قیدیں بڑھالیں وہ خود اسی پرمردود کہ ہرگز ترکیب صلوۃ الاسرار میں ان باتوں کانشان نہیں ہاں محبوبان خدا کی نفس تعظیم بیشك اہم واجبات و اعظم قربات سے ہے :
قال اﷲ تعالی و من یعظم حرمت الله فهو خیر له عند ربه-
قال اﷲ تعالی
و من یعظم شعآىر الله فانها من تقوى القلوب(۳۲)
انا ارسلنك شاهدا و مبشرا و نذیرا(۸) لتؤمنوا بالله و رسوله
اﷲتعالی نے فرمایا جوشخص اﷲ تعالی کی عزت والی چیزوں کی تعظیم کرے گا تویہ اس کے لئے ا ﷲتعالی کے ہاں بہترہے۔
اور نیزفرمایا جوشخص اﷲتعالی کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا تویہ قلبی تقوی ہوگا اور نیز فرمایاہم نے آپ کو مشاہدہ کرنے والا بشارت سنانے
حوالہ / References القرآن ۲ / ۱۱۱
القرآن ۲۲ / ۳۰
القرآن ۲۲ / ۳۲
#11894 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
و تعزروه و توقروه-
والا اور ڈرسنانے والابناکر بھیجاہے تاکہ اے مومنو! تم اﷲ اور اس کے رسول کی تعظیم وتوقیربجالاؤ(ت)
خود منکر نے کہا کہ صحابہ کرام تعظیم سیدالانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام میں ہم سے زیادہ تھے بلکہ شاید ابھی منکرین کوخبرنہیں کہ علمائے دین نے روضہ منورہ کے حضور خاص ہیأت نماز قائم کرنے کاحکم دیا تومنکر کو اس قید کا اضافہ بھی کام نہ آیا بلکہ گناہ بے لذت ٹھہرا۔ لباب و شرح لباب کی عبارت عنقریب مذکورہوگی بالفعل اختیار شرح مختار و فتاوی عالمگیری کی تصریح لیجئے فرماتے ہیں :
یتوجہ الی قبرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقف کما یقف فی الصلوۃ ویمثل صورتہ الکریمۃ البھیۃ اھ ملتقطا۔
یعنی قبرشریف سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف توجہ کرے اور یوں کھڑاہو جیسے نماز میں کھڑا ہوتاہے اور حضور کی صورت مبارك کاتصور باندھے۔ اھ ملتقطا۔
اے عزیز! ف اصل کاریہ ہے کہ محبوبان خدا کے لئے جوتواضع کی جاتی ہے وہ درحقیقت خدا ہی کے لئے تواضع ہے ولہذا بکثرت احادیث میں استاذ وشاگرد وعلماوعام مسلمین کے لئے تواضع کاحکم ہوا جنہیں جمع کیجئے تودفتر طویل ہوتاہے۔ طبرانی معجم اوسط اور ابن عدی کامل میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
تعلموا العلم وتعلمواللعلم السکینۃ والوقار وتواضعوا لمن تعلمون منہ ۔
علم سیکھو اور علم کے لئے سکون ومہابت (وقار) سیکھو اور جس سے علم سیکھتے ہو اس کے لئے تواضع کرو۔

ف : محبوبان خدا (مثلا انبیاء اولیاء علما استاد اور شاگرد کہ وہ اﷲ کے نبی یہ اﷲ کے ولی وہ دین الہی کے قیم ہیں اور ملت الہیہ پرقائم) کی تواضع اور تعظیم کرنادرحقیقت خدا ہی کی تواضع اور تعظیم کرنا ہے ورنہ محض کسی دنیادار یاکافر کی تعظیم جائزنہیں ۔ نذیراحمد
حوالہ / References القرآن ۴۸ / ۸ و ۹
فتاوٰی ہندیۃ کتاب المناسك مطلب زیارۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۶۵
الکامل فی ضعفاء الرجال من اسمہ عباد عباد بن کثیر ثقفی بصری مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۶۴۲
#11895 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
اور خطیب نے کتاب الجامع لآداب الراوی والسامع میں ان سے یوں روایت کی حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
تواضعوالمن تعلمون منہ وتواضعوا لمن تعلمونہ ولاتکونوا جبابرۃ العلماء فیغلب جھلکم علمکم ۔
جس سے علم سیکھتے ہو اس کے لئے تواضع کرو اور جسے علم سکھاتے ہو اس کے لئے تواضع کرواور متکبر عالم نہ بنو کہ تمہاراجہل تمہارے علم پرغالب ہوجائے۔
بااینہمہ علمانے تصریح فرمائی کہ غیرخدا کے لئے تواضع حرام ہے فتاوی ہندیہ میں یہ ہے : التواضع لغیراﷲ حرام کذافی الملتقط (غیرخدا کے لئے تواضع حرام ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے۔ ت) توبات وہی ہے کہ انبیاء واولیاء و مسلمین کے واسطے تواضع ا س لئے ہے کہ وہ اﷲ کے نبی ہیں یہ اﷲ کے ولی ہیں وہ دین الہی کے قیم ہیں یہ ملت الہیہ پرقائم ہیں توعلت تواضع جب وہ نسبت ہے جوانہیں بارگاہ الہی میں حاصل تویہ تواضع بھی درحقیقت خداہی عـــــہ کے لئے ہوئی جیسے
ف : یہ فائدہ ضرورملاحظہ ہو عــــہ عجیب تربشنو (نہایت عجیب بات سن۔ ت) مرزا مظہر جانجاناں صاحب اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں :
ایشاں بجناب پیرخود نوشتند کہ محبت شمار برمحبت خدا و رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم غالب وست موجب انفعال میشود درجواب برنگا شتند کہ محبت پیرہمیں محبت خدا ورسول ست وسبب جذب کمالات الہیہ کہ درباطن پیرثابت ست می شود
چوں دیدہ عقل آمد احول
معبود توسری ست اول انہوں نے اپنے پیر کی خدمت میں لکھاکہ آپ کی محبت اﷲ تعالی اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی محبت پرغالب ہے جوکہ فیضیاب ہونے کاسبب ہے پیرصاھب نے جواب میں لکھا کہ پیرکی محبت بھی اﷲ تعالی اور رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہی کی محبت ہے جوکہ پیرکے باطن میں ثابت شدہ اﷲتعالی کے کمالات کوجذب کرنے کاباعث ہے۔ انتہی بلطفہ ۱۲منہ (م)
حوالہ / References الجامع لاخلاق الراوی باب ذکرماینبعی للراوی والسامع دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۹۱ ، الکامل فی ضعفاء الرجال من اسمہ عباد عبادبن کثیرثقفی بصری مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۶۴۳
فتاوٰی ہندیہ الباب الثامن والعشرون فی ملاقات الملوك الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۶۸
ملفوظات مرزامظہر جانجاناں مجتبائی دہلی ص۱۸۲
#11896 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
صحابہ کرام واہل بیت عظام کی تعظیم ومحبت بعینہ محبت و تعظیم سیدعالم ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
کمانص علیہ النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فی غیرما حدیث ونحن فی غنی عن سردھا ھھنا فماھی شوارد بل معلومۃ الموارد۔
جیسا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اس پرتصریح فرمائی ایسی بہت سی احادیث ہیں ہمیں ان کو ذکرکرنے کی ضرورت نہیں وہ احادیث اجنبی نہیں ہیں ان کامورد سب کومعلوم ہے۔ (ت)
تواضع لغیراﷲ کی شکل یہ ہے کہ عیاذا باﷲ کسی کافر یادنیادارغنی کے لئے اس کے سبب تواضع ہوکہ یہاں وہ نسبت موجود ہی نہیں یاموجود ہے توملحوظ نہیں اے عزیز! کیاوہ احادیث کثیرہ بثیرہ جن میں صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کاحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے خشوع وخضوع بجالانا مذکور اس درجہ اشتہار پرنہیں کہ فقیر کو ان کے جمیع واستیعاب سے غناہو ابوداؤد و نسائی و ترمذی و ابن ماجہ اسامہ بن شریك رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
قال اتیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واصحابہ حولہ کأن علی رؤسھم الطیر ۔
فرمایا میں سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا حضور کے اصحاب حضورکے گردتھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں یعنی سرجھکائے گردنیں خم کئے بے حس وحرکت کہ پرندے لکڑی یاپتھرجان کر سروں پر آبیٹھیں اس سے بڑھ کر اور خشوع کیاہوگا!
ہند بن ابی ہالہ وصاف النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ورضی عنہ کی حدیث حلیہ اقدس میں ہے :
اذا تکلم اطرق جلساؤہ کان علی رؤسھم الطیر ۔
جب حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کلام فرماتے جتنے حاضران مجلس ہوتے سب گردنیں جھکالیتے گویا ان کے سروں پرپرندے ہیں
عجب ست باوجودت کہ وجود بمن ماند توبگفتن اندرآئی ومراسخن بماند
(تعجب ہے کہ تیرے وجود سے میراوجود باقی ہے تیری گفتگو نافذ ہے اور میری بات باقی ہے)
مولاناجامی قدس سرہ السامی نفحات الانس شریف میں لکھتے ہیں :
یکے ازمشایخ گوید کہ من وشیخ علی ہیتی درمدرسہ شیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالی عنہ بودیم کہ یکے از اکابر بغداد پیش آمدو ایك بزرگ نے فرمایا کہ میں اور شیخ علی ہیتی حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے مدرسہ میں تھے کہ اتنے میں بغداد کے
حوالہ / References سنن ابوداؤد کتاب الطب باب الرجل یتداوہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۸۳ ، مسند احمدبن حنبل حدیث اسامہ بن شریك مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۲۷۸
المعجم الکبیر حدیث ہندبن ابی ہالہ ۴۱۴ ، مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲۲ / ۱۵۸
#11897 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
گفت یاسیدی قال جدك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من دعی فلیجب وھاانا ادعوك الی منزلی گفت اگرمرا اذن کنند بیایم زمانے سرورپیش انداخت پس گفت مے آیم وبراستر سوارشد شیخ علی ہیتی رکاب راست وی گرفت ومن رکاب چپ تابسرائے آں شخص رسیدیم ہمہ مشایخ بغداد وعلماواعیان آنجا بودند سماطے برکشیدند بروی انواع نعمتہا وسلہ بزرگ سرپوشیدہ دوکس برداشتہ پیش آوردند ودرآخر سماط نہادند بعدازاں آں شخص کہ صاحب دعوت بودگفت الصلا وشیخ رضی اللہ تعالی عنہ سردرپیش افگندہ بودہیچ نخورد واذن نیزندادد ہیچکس ہم نخور واھل المجلس کأن علی رؤسھم الطیر ھیبتہ ۔
ایك بزرگ تشریف لائے اور انہوں نے عرض کی اے آقا (غوث اعظم) آپ کے جدامجد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جودعوت دے اس کی دعوت قبول کی جائے لومیں آپ کو اپنے گھرکے لئے دعوت دیتاہوں توآپ نے فرمایا اگرمجھے اجازت ملی توآؤں گا یہ فرماکر آپ نے کچھ دیرسرمبارك کوجھکایا پھرفرمایا میں آرہاہوں آپ گھوڑے پرسوار ہوئے شیخ علی ہیتی نے دایاں رکاب اور میں نے بایاں رکاب پکڑا حتی کہ ہم سب اس شیخ کے گھرپہنچے تووہاں پر بغداد کے مشائخ اور علما اور خاص لوگ موجودتھے دسترخوان بچھایاگیا جس پرمختلف قسم کی نعمتیں موجودتھیں اور ایك بھاری بوجھل تابوت کودس آدمی اٹھائے ہوئے لائے جواوپر سے ڈھانپا ہواتھا وہ دسترخوان کے قریب ایك طرف رکھ دیاگیا اس کے بعد صاحب خانہ شیخ نے کھاناکھانے کوکہا تو حضرت غوث اعظم نے سرمبارك جھکایانہ خود کھانا تناول فرمایا اور نہ ہی ہمیں کھانے کی اجازت دی اور کسی نے بھی نہ کھایا جبکہ تمام اہل مجلس ایسے خاموش سرجھکائے ہوئے تھے جیسے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں ۔ (ت)
یعنی اہل مجلس کہ تمام اولیاء وعلماء وعمائد بغداد تھے ہیبت سرکار قادریت کے سبب ایسے بیٹھے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں مقصود اسی قدرتھا مگرایسی جانفزابات کاناتمام رہنادل کونہیں بھاتا لہذا تفریح قلوب سنت وغیظ صدور بدعت کے لئے تتمہء روایت نقل کروں فرماتے ہیں :
شیخ رضی اﷲ تعالی بمن وشیخ علی ہیتی اشارتی کرد کہ آں سلہ راپیش آرید برخاستیم وآں راپیش برداشتیم وبس گراں بوددرپیش شیخ نہادیم فرمود تاسرآنرا بکشادیم دیدیم کہ فرزند آں شخصے بودنابینائے مادرزاد
حضرت نے مجھے اور شیخ علی ہیتی کو اشارہ فرمایا کہ اس تابوت کو میرے سامنے لاؤ وہ بھاری تابوت ہم نے اٹھاکر آپ کے سامنے رکھ دیا پھر آپ نے فرمایا اس پرسے کپڑا ہٹاؤ جب ہم نے دیکھا وہ اس شخص کا
حوالہ / References نفحات الانس حالات شیخ ابوعمروصریفینی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مطبوعہ انتشارات کتاب فروشی ایران ص۵۲۰
#11898 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
برجائے ماندہ ومجذوم ومفلوج گشتہ شیخ رضی اللہ تعالی عنہ وی راگفت قم باذن اﷲ معافی آں کودك برخاست دواں وبیناوبران ہیچ آفتے نے فریاد ازحاضراں برخاست شیخ رضی اللہ تعالی عنہ درانبوہ مردم بیروں آمدوہیچ نخوردپیش شیخ ابوسعید قیلوی رفتم وآں قصہ باوے بگفتم گفت شیخ عبدالقادر یبرئ الاکمہ والابرص ویحي الموتی باذن اﷲ عزوجل ست انتہی ۔
لڑکاتھا جومادر زاد نابینا اور مفلوج تھا تو حضرت نے اس لڑکے کوحکما فرمایا قم باذن اﷲ معافی (اﷲ کے حکم سے کھڑے ہوجاؤ عافیت والے ہوکر) وہ لڑکا فورا تندرست حالت میں کھڑاہوگیا جیسا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہ تھی۔ اس کے بعد حضرت حاضرین میں سے اٹھ کر پوری جماعت کے ساتھ باہرتشریف لے گئے اور کچھ نہ کھایا۔ اس کے بعد میں شیخ ابوسعید قیلوی کے پاس گیا اور ان کو میں نے یہ تمام قصہ سنایا توانہوں نے فرمایا کہ شیخ عبدالقادر رضی اللہ تعالی عنہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کوتندرست اور مردے کو زندہ اﷲ کے اذن سے کرتے ہیں ۔ (ت)
قادرا قدرت توداری ہرچہ خواہی آں کنی
مردہ راجانے دہی ودردرا درماں کنی
(اے قدرت والے تجھے قدرت ہے جوچاہے توکرے مردہ کوجان دیتاہے اور درد کو آرام دیتاہے)
امام ابوابراہیم تجیبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کتاب الشفاء میں ہے :
واجب علی کل مومن متی ذکرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اوذکر عندہ ان یخضع و یخشع ویتوقر ویسکن من حرکتہ ویأخذ فی ھیبتہ واجلالہ بماکان یاخذبہ نفسہ لوکان بین یدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویتأدب بماادبنا اﷲ تعالی بہ ۔
ہرمسلمان پرواجب ہے جب حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کویادکرے یااس کے سامنے حضورکاذکر آئے خضوع وخشوع بجالائے اور باوقار ہوجائے اور اعضاء کوحرکت سے بازرکھے اور حضور کے لئے اس ہیبت وتعظیم کی حالت پرہوجائے جو حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے روبرو اس پرطاری ہوتی اور ادب کرے جس طرح خداتعالی نے ہمیں ان کا ادب سکھایاہے۔
حوالہ / References نفحات الانس حالات ابوعمرو صریفینی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مطبوعہ انتشارات کتاب فروشی ایران ص۵۲۰
؎ کتاب الشفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بعدموتہ مطبوعہ مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ ترکی ۲ / ۳۴
#11899 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
امام علامہ شہاب الدین خفاجی نسیم الریاض میں اس قول کے نیچے لکھتے ہیں :
یفرض ذلك ویلاحظہ ویتمثلہ فکانہ عندہ ۔
یعنی یادحضور کے وقت یہ قراردے کہ میں حضوراقدس کاتصورباندھے گویا حضورکے سامنے حاضرہوں ۔
امام اجل سیدی قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہ شفاشریف میں امام تجیبی کا ارشاد نقل کرکے فرماتے ہیں :
وھذہ کانت سیرۃ سلفنا الصالح وائمتنا الماضین رضی اﷲ تعالی عنھم ۔
ہمارے سلف صالح وائمہ سابقین رضی اللہ تعالی عنہم کایہی داب وطریقہ تھا۔
اور فرماتے ہیں :
کان مالك اذا ذکر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یتغیر لونہ وینحنی ۔
امام مالك رحمہ اﷲتعالی جب سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاذکرکرتے رنگ ان کابدل جاتا اور جھك جاتے۔
نسیم میں ہے :
لشدہ خشوعہ
یہ جھك جانا سبب شدت خشوع تھا۔
شفاشریف وغیرہ تصانیف علماء میں اس قسم کی بہت روایات مذکور شاہ ولی اﷲ قصیدہ ہمزیہ میں لکھتے ہیں :
ینادی ضارعا لخضوع قلب وذل وابتھال والجتاء
رسول اﷲ یاخیرالبرایا نوالك ابتغی یوم القضاء
(حاجت مندی دل کی عاجزی انکساری تضرع اور التجاء کے ساتھ رسول اﷲ کو نداکرے اور عرض کرے کہ اے مخلوق سے افضل ذات! میں آپ سے قیامت کے روزعطاکاخواستگار ہوں )
دیکھو صاف بتاتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ندااور حضور سے عرض حاجت کرے تو تضرع و خضوع قلب وتذلل والحاح وزاری سب کچھ بجالائے۔ میں کہتاہوں واﷲ ایسا ہی چاہئے مگرآپ کے ان شرك فروشوں کی دواکون کرے غرض اس مطلب نفیس میں کلمات علماء کا استیعاب کیجئے تودفترچاہئے لہذا
حوالہ / References نسیم الریاض شرح شفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بعد موتہ مطبوعۃ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۹۶
کتاب الشفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بعد موتہ مطبوعہ مطبعۃشرکۃ صحافیۃ ترکی ۲ / ۳۴
کتاب الشفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بعد موتہ مطبوعہ مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ ترکی ۲ / ۳۶
نسیم الریاض شرح شفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بعد موتہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۹۹
شرح قصیدہ ہمزیہ شاہ ولی اﷲ فصل ششم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳
#11900 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
میں یہاں منسك متوسط اور اس کی شرح مسلك متقسط کی ایك نفیس عبارت کہ بہت فوائد جلیلہ پرمشتمل تلخیصا اور ذکر کرتاہوں مولینا رحمۃ اﷲ سندی متن اور فاضل علی قاری شرح میں فرماتے ہیں :
فاذا فرغ من ذلك قصد التوجہ الی القبر المقدس وفرغ القلب من کل شیئ من امور الدنیا واقبل بکلیتہ لماھو بصددہ لیصلح قلبہ للاستمداد منہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولیلا حظ مع ذلك الاستمداد من سعۃ عفوہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعطفہ ورأفتہ (ای شدۃ رحمتہ علی سائر العباد) ان یسامحہ فیما عجز عن ازالتہ من قلبہ ثم توجہ (ای بالقلب والقالب) مع رعایۃ غایۃ الادب فقام تجاہ الوجہ الشریف متواضعا خاضعا خاشعا مع الذلۃ والانکسار والخشیۃ والوقار والھیبۃ و الافتقار غاض الطرف مکفوف الجوارح (من الحرکات) فارغ القلب (عمن سوی مقصودہ ومرامہ) واضعا یمینہ علی شمالہ (تأدبا فی حال اجلالہ) مستقبلا للوجہ الکریم مستدبرا للقبلۃ ناظرا الی الارض متمثلا صورتہ الکریمۃ فی خیالك مستشعرا بانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عالم بحضورك وقیامك وسلامك (بل بجمع افعالك واحوالك وارتحالك ومقامک) مستحضرا عظمتہ وجلالتہ وشرفہ وقدرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم قال من غیررفع صوت (لقولہ تعالی ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اﷲ الایۃ)
یعنی جب مقدمات زیارت سے فارغ ہوقبرانور کی طرف توجہ کاقصد اور دل کو تمام خیالات دنیویہ سے فارغ کرے اور ہمہ تن اس طرف متوجہ ہوجائے تاکہ اس کاقلب حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے استمداد کے لائق ہو بااینہمہ جوخیال مجبورانہ دل میں باقی رہے جس کے ازالہ پرقادرنہ ہو اس کی معافی کے لئے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی کمال مغفرت ومہربانی و رافت اور تمام بندوں پرحضور کی شدت رحمت سے مددمانگے پھردل وبدن دونوں سے نہایت ادب کے ساتھ مواجہہ شریف میں حاضرہو تواضع وخضوع وخشوع وتذلل وانکسار وخوف و وقار وہیبت واحتیاج کے ساتھ آنکھیں بند کئے اعضا کوحرکت سے روکے دل اس مقصود مبارك کے سوا سب سے فارغ کئے ہوئے ادب وتعظیم حضور کے لئے دہنا ہاتھ بائیں پررکھے حضور کی طرف منہ اور قبلے کوپیٹھ کرے نگاہ زمین پرجمائے رہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صورت کریمہ کاتصور باندھے اور ہوشیار ہوکہ حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کی حاضری و قیام وسلام بلکہ تمام افعال واحوال اور منزل بمنزل کے قیام و ارتحال پرمطلع ہیں اور حضورکی عظمت وجلال وشرف و منزلت کوخوب خیال کرے پھرنہ توآواز بلند ہو کہ اﷲ تعالی ان کے حضورپست آواز کاحکم دیتاہے نہ بالکل آہستہ جس میں سنانے کی سنت فوت ہو اگرچہ سرکارپرکچھ پوشیدہ نہیں اس طرح حضور قلب وشرم وحیا
#11901 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
ولا اخفاء (ای بالمرۃ لفوت الاسماع الذی ھوالسنۃ وان کان لایخفی شیئ علی الحضرۃ) بحضور (قلب واستحیاء) السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ثم یقول یارسول اﷲ اسألك الشفاعۃ ثلثا (لانہ اقل مراتب الالحاح لتحصیل المنال فی مقام الدعاء والسؤال)
صلی اﷲ تعالی علی قاضی حاجتنا ومعطی مواداتنا سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
کے ساتھ عرض کرے السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ پھرکہے یارسول اﷲ! میں حضور سے شفاعت مانگتاہوں یارسول ! میں حضور سے شفاعت مانگتاہوں یارسول اﷲ!میں حضور سے شفاعت مانگتاہوں تین باس اس لئے کہے کہ یہ دعا وسوال میں حصول مقصود کے واسطے ادنی مرتبہ الحاح کاہے۔ (م)اﷲ تعالی ہمارے حاجت روا اور مرادوں کوپوراکرنے والے ہمارے آقا ومولی محمد اور آپ کی آل وصحابہ کرام سب پر رحمت نازل فرمائے۔ (ت)
ان احادیث وروایات وکلمات طیبات سے کالشمس فی وسط السماء روشن وآشکارہوگیا کہ ہنگام توسل محبوبان خدا کی طرف منہ کرناچاہئے اگرچہ قبلہ کوپیٹھ ہو اور دل کو ان کی طرف خوب متوجہ کرے یہاں تك کہ ہر این وآں خاطر سے محو ہوجائے اور ان کے لئے خضوع وخشوع محمود و مشروع اور اس میں ان کازمانہ وفات ظاہری وحضور مرقدو ذکرمجرد سب برابرہے اور ان کے سوا عبارت اخیرہ سے جو اور فوائد جمیلہ وعوائد جلیلہ حاصل ہوئے بیان سے غنی ہیں والحمدﷲ رب العلمین پس زید منکر نے کہ توجہ قلب وخشوع وہیأت نماز وغیرہ کی قیدیں بڑھاکر گمان کیاتھا کہ اب اسے اثبات عدم جواز کی طرف راہ آسان ہوگی۔ بحمداﷲ ثابت ہوا کہ اس کامحض خیال ہی خیال تھا و یحق الله الحق بكلمته و لو كره المجرمون(۸۲) (اور اﷲتعالی حق کو اپنے کلمہ سے ثابت فرماتاہے اگرچہ باطل واے ناپسند کریں ۔ ت)فقیرحیران ہے کہ اس نمازمبارك میں اول توصلوۃ مفروضہ کے بعد قبلے سے انحراف کہاں اورہوبھی تو اس میں کیاگناہ ہے ہرنماز مفروضہ کے بعد امام کو قبلے سے انحراف سنت معلومہ ہے پھر اسے ممانعت میں کیا مداخلت ہاں جوکچھ غیظ وغضب کرناہو تعیین سمت پرکیجئے اور اس کاجواب مرزا مظہرجانجاناں شہید سے لے لیجئے جنہیں شاہ ولی اﷲ دہلوی اپنے مکتوبات میں نفس زکیہ قیم طریقہ احمدیہ داعی سنت
حوالہ / References مسلك متقسط شرح منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل ولوتوجہ الی الزیارۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص۳۳۷
مسلك متقسط شرح منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل ولوتوجہ الی الزیارۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص۳۳۹
القرآن ۱۰ / ۸۲
#11902 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
نبویہ متحلی بانواع فضائل وفواضل لکھتے ہیں اور حاشیۃ مکتوبات پر شاہ صاحب مذکور سے مرزاصاحب موصوف کی نسبت منقول :
انچہ قدر ایشاں مامردم میدانیم شماچہ دانیداحوال مردم ہندبرما مخفی نیست کہ خود مولد ومنشاء فقیرست وبلاد عرب رانیزدیدہ ایم وسیرنمودہ واحوال مردم ولایت ازثقات آنجا شنیدہ ایم وتحقیق کردہ عزیزے کہ برجادہ شریعت وطریقت واتباع کتاب وسنت ہمچنین استوارومستقیم باشد ودرارشاد طالبان شان عظیم ونفسے قوی دارد ودریں جزوزماں مثل ایشاں دربلاد مذکور یافتہ نمی شودمگردرگز شتگان بلکہ درہر جزوزمان وجوداین چنیں عزیزاں کمتر بودہ است چہ جائے ایں زماں کہ پرفتنہ وفسادست انتہی ۔ ان کی جو قدرہم جانتے ہیں تم کیاجانو ہندوستان کے لوگوں کے احوال ہم سے مخفی نہیں کیونکہ ہندوستان فقیر کاجائے پیدائش وپرورش ہے اور عرب بھی میں نے دیکھاہے اور اس کی سیرکی ہے اور ولایت کے لوگوں کے احوال بھی سنے ہیں تحقیق کی ہے کہ ان صاحب عزت جوکہ شریعت وطریقت کے مرتبہ پر فائز ہیں اور کاب وسنت پرعمل پیراہیں اور طالب حضرات کی رہنمائی میں عظمت اور مضبوطی رکھتے ہیں جیسا بلادمذکورہ میں فی زمانہ کوئی نہیں ہے گزشتہ لوگوں (اسلاف میں ہوسکتاہے بلکہ ہردور میں ان جیسے بزرگ بہت کم ہوئے ہیں اس پرفتن زمانہ کی بات ہی کیاہے اھ(ت)
یہی جناب مرزاصاحب اپنے مکتوبات میں ایك مرید رشید کو (جن کی بی بی کی نسبت فرمایا : تخمے پاك در خاك آں عفیفہ کاشتہ ایم بروقت مقدرسرسبز خواہد شد(ہم نے اس پاکیزہ کی مٹی میں ایك پاك بیچ کاشت کیاہے جومقررہ وقت پرسرسبز ہوگا۔ ت) تحریرفرماتے ہیں :
انچہ ازقصد خودومردم خانہ بجانب شاہجہاں آباد نوشتہ اندبشرط امن مبارك ست وتارسیدن شما فقیر ان شااﷲ تعالی بعد نمازیك دوگھڑی روزبرآمدہ پیش از حلقہ یابعدآں بجانب آں مستورہ شمامتوجہ خواہد شد باید کہ ہرروز منتظر ومتوقع فیض روبایں طرف کردہ بعد نمازصبح روبایں طرف کردہ بعد نمازصبح بنشیند کہ محبت ایں عفیفہ کہ فرزند ماست دردل فقیر تاثیر کردہ است الخ میں نے اور گھروالوں نے شاہجہان آبادکی طرف جوخط لکھاہے وہ بشرط امن مبارك ہے اور تمہارے پہنچنے تك ان شاء اﷲ فقیرروزانہ ایك دوگھڑی حلقہ ذکر سے قبل یابعد باہرآکر آپ کی مستورہ بیوی کی طرف توجہ کرتاہے ہوسکتاہے تو روزانہ فیض کا متوقع ہوکر اس طرف منہ کرکے صبح کی نماز کے بعد بیٹھاکرو تاکہ اس پاکیزہ کی جو میری بیٹی ہے کی محبت کی تاثیر اس فقیر کے دل پرہو۔ الخ(ت)
حوالہ / References حاشیۃ مکتوبات شاہ ولی اﷲ دہلوی ازمجموعہ کلمات طیبات فصل چہارم ''مکاتیب شاہ ولی اﷲ'' مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۱۵۸
مکتوبات مرزامظہر جانجاناں ازمجموعہ کلمات طیبات مکتوب سی وہفتم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۴۷
#11903 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
دوسرے مکتوب میں فرماتے ہیں :
جان من سلامت باشی دریں مدت مفارقت دورقعہ شمارسید وحرزجاں گردید باید دید کہ انتظار باماچہ میکند ہرصبح بعد نماز متوجہ بفقیر بنشینید بے ناغہ توجہ می دہم از کسی توجہ نگیرید زیادہ عمرومزہ عمرباد انتہی ملخصا
میری جان! سلامت رہو اس جدائی کی مدت میں تمہارے دورقعے ملے ہیں جوحرزجاں ہیں غورکرو کہ ہماراانتظار کیااثرکرتاہے روزانہ صبح کی نماز کے بعد مجھ فقیر کی طرف منہ کرکے بیٹھاکرو اور ناغہ نہ کرو میں خودتوجہ کیاکروں گا کسی دوسرے کی توجہ کی ضرورت نہیں ان شاء اﷲ عمرزیادہ اور عمرکامزہ بھی پاؤ گے اھ ملخصا
انہیں مرزاصاحب کے ملفوظات میں ہے :
نسبت مابجناب امیرالمؤمنین حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجہہ مے رسد وفقیر رانیازے خاص بآنجناب ثابت ست دروقت عروض عارضہ جسمانی توجہ بآنحضرت واقع می شود وسبب حصول شفا میگردد الخ۔
میراخاص تعلق حضرت امیرالمؤمنین علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہ الکریم سے قائم ہے اور فقیر کوآپ سے خاص نیازحاصل ہے فقیرجسمانی عارضہ کے وقت آپ کی طرف توجہ کرتااور شفاپاتاہے الخ(ت)
شاہ ولی اﷲ صاحب نے مکتوب شرح رباعیات میں اپنی یہ رباعی لکھی :
آنانکہ زاوناس بہیمی جستند بالجسہ انوار قدم پیوستند
فیض قدس ازہمت ایشاں میجو دروازہ فیض قدس ایشاں ہستند
(وہ ذات جس سے لوگ بھلائی چاہتے ہیں اور ان کے قدم کے انوارلباس بناتے ہیں ان کی توجہ سے مقدس فیض کی خواہش کرکیونکہ وہ فیض قدس کادروازہ ہیں )پھر اس کی شرح میں لکھا :
یعنی توجہ بارواح طیبہ مشایخ درتہذیب روح وسرنفع بلیغ دارد ۔
یعنی مشایخ کی ارواح طیبہ روح اور سر کی صفائی میں انتہائی مفید ہیں (ت)
حوالہ / References مکتوبات مرزاجانجاناں ازمجموعہ کلمات طیبات مکتوب چہل ودوم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۴۹
ملفوظات مرزامظہر جانجاناں ازمجموعہ کلمات طیبات ملفوظات مکتوب چہل ودوم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۷۸
مکتوبات شاہ ولی اﷲ ازمجموعہ کلمات طیبات مکتوب بست ودوم درشرح رباعیات مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ، ص۱۹۴
شرح رباعیات شاہ ولی اﷲ ازمجموعہ کلمات طیبات مکتوب بست ودوم درشرح رباعیات مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۹۴
#11904 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
انہیں شاہ صاحب نے ہمعات میں حدیث نفس کا یوں علاج بتایا :
بارواح طیبہ مشائخ متوجہ شد وبرائے ایشاں فاتحہ خواند یابزیارت قبرایشاں رودازانجا انجذاب دریوزہ کند ۔ مشائخ کی ارواح کی طرف متوجہ ہو اور ان کے لئے فاتحہ پڑھو اور ان کی قبروں کی زیارت کے لئے جاؤ اور وہاں سے فیض حاصل کرو۔ (ت)
نفیسہ : امام علامہ ابن حجر مکی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان میں فرماتے ہیں :
لم یزل العلماء و ذووالحاجات یزورون قبرالامام ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ویتوسلون عندہ فی قضاء حوائجھم و یرون نجح ذلک منھم الامام الشافعی رضی اﷲ تعالی عنہ فانہ جاء عنہ انہ قال انی لاتبرك بابی حنیفۃ واجیئ الی قبرہ فاذا عرضت لی حاجۃ صلیت رکعتین وجئت الی قبرہ وسألت اﷲ تعالی عندہ فتقضی سریعا ۔
یعنی ہمیشہ سے علماو اہل حاجت امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مزارمبارك کی زیارت اور اپنی حاجت روائیوں کوبارگاہ الہی میں ان سے توسل کرتے اور اس سبب سے فورا مرادیں پاتے ہیں ان میں سے ہیں امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کہ فرماتے ہیں میں ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے تبرك کرتااور ان کی قبر پر جاتاہوں اور جب مجھے کوئی حاجت پیش آتی ہے دورکعت نمازپڑھتااور ان کی قبر کی طرف آکر خدا سے سوال کرتاہوں کچھ دیرنہیں لگتی کہ حاجت رواہوتی ہے۔
فقیرکہتاہے غفراﷲ تعالی لہ یہاں نکات غامضہ ہیں کہ ان پرمطلع نہیں ہوتے مگرتوفیق والے جب معلوم ہولیا کہ حق جل وعلا عزمجدہ کی طرف اس کے محبوبوں سے توسل محمود مقصود وسنت ماثورہ و طریقہ مامورہ اور ہنگام توسل ان کی جانب توجہ درکار یہاں تك کہ جب خلیفہ ابوجعفر منصورعباسی نے سید ناامام مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا : دعا میں قبلہ کی طرف منہ کروں یا مزارمبارك حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف فرمایا :
ولم تصرف وجھك عنہ وھو وسیلتک
کیوں اپنامنہ ان سے پھیرتاہے وہ قیامت کوتیرا
حوالہ / References ہمعات ہمعہ ۸ مطبوعہ اکادیمیہ الشاہ ولی اﷲ الدہلوی حیدرآباد ص۳۴
الخیرات الحسان الفصل الخامس والثلاثون فی تادب الائمۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۴۹
#11905 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
ووسیلۃ ابیك ادم علیہ الصلوۃ والسلام الی اﷲ تعالی یوم القیمۃ بل استقبلہ واستشفع بہ فیشفعك اﷲ تعالی ۔ اخرجہ الامام القاضی عیاض فی الشفاء وغیرہ فی غیرہ۔
اور تیرے باپ آدم علیہ الصلاۃ والسلام کا اﷲ تعالی کی طرف وسیلہ ہیں بلکہ انہیں کی طرف منہ کر اور شفاعت مانگ کہ اﷲ تعالی تیری درخواست قبول فرمائے۔
اور سوال حاجت سے پہلے دورکعت نماز کی تقدیم مناسب کہ اﷲتعالی فرماتاہے : استعینوا بالصبر و الصلوة- (صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ ت)پھرکامل اکسیریہ ہے کہ کسی محبوب خدا کے قریب جائیے اسی طرف حق جل وعلا نے قرآن عظیم میں ہدایت فرمائی کہ ارشاد کرتاہے :
و لو انهم اذ ظلموا انفسهم جآءوك فاستغفروا الله و استغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحیما(۶۴)
اور اگروہ جب اپنی جانوں پرظلم کریں تیرے حضور حاضر ہوکر خدا سے بخشش چاہیں اور رسول ان کے لئے استغفار کرے تو بیشك اﷲ تعالی کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔
سبحان اﷲ خداہرجگہ سنتاہے اور بے سبب مغفرت فرماتاہے مگرارشاد یوں ہوتاہے کہ گنہگار بندے تیری خدمت میں حاضر ہوکر ہم سے دعائے بخشش کریں اور قدیما وحدیثا وصلحا اس آیہ کریمہ کوزمانہ حیات ووفات سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں عام اور حاضری مزارمبارك کوحاضری مجلس اقدس کی مثل سمجھاکئے اور اوقات زیارت میں یہی آیہ کریمہ تلاوت کرکے اﷲتعالی سے استغفار کرتے رہے اس مضمون کی بہت روایات وحکایات مواہب لدنیہ و منح محمدیہ و مدارج النبوۃ وجذب القلوب الی دیار المحبوب و خلاصۃ الوفا فی اخبار دارالمصطفی وغیرہا تصانیف علمامیں مذکور ومشہور بعض ان سے حضرت مقدام المحققین حضرت والد قدس سرہ الماجد نے سرورالقلوب فی ذکرالمحجوب میں ذکرکرکے اس مسئلے کااثبات فرمایا من شاء فلیتشرف بمطالعتہ(جوچاہے اس کے مطالعہ سے مشرف ہو۔ ت) اسی طرح بہت علما مصنفان مناسك باب
حوالہ / References کتاب الشفاء فصل واعلم ان حرمتہ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ شرکۃ صحافیۃ فی بلاد عثمانیۃ ۲ / ۳۵ ، نسیم الریاض شرح شفاء فصل واعلم ان حرمتہ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۹۸
القرآن ۲ / ۱۵۳
القرآن ۴ / ۶۴
#11906 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
زیارت شریفہ مدنیہ طیبہ میں وقت حاضری اس آیت کو پڑھ کر استغفار کاحکم دیتے ہیں توثابت ہوا کہ محبوبان خدا کی طرف جانا اور بعد وصال ان کی قبور کی طرف چلنا دونوں یکساں جیسا کہ سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ سیدنا امام ابوحنیفہ کے مزارفائض الانوار کے ساتھ کیاکرتے۔ اب یہ کہ گدائے سرکار قادریہ اس آستان فیض نشان سے دور ومہجورہے گوبعد نماز مزار اقدس تك جانے کی حقیقت اسے میسرنہیں تاہم دل سے توجہ کرنا اور چندقدم اس سمت چل کر ان چلنے والوں کی شکل بناتا ہے کہ سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حدیث حسن میں فرمایا :
من تشبہ بقوم فھومنھم ۔ اخرجہ الطبرانی فی الاوسط عن حذیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ باسناد حسن وان کان طریق ابی داود عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما لیس بذلك
جو کسی قوم سے مشابہت پےدا کرے وہ انہیں سے ہے اس کی تخرےج طبرانی نے اوسط میں حضرت حذےفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کی ہے یہ سند جےد ہے اگرچہ ابوداؤد کے طرےق پرابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی قوی نہیں ہے(ت)
ثانیا توسل میں توجہ باطن ضرور اور ظاہر عنوان باطن لہذا یہ چلنا مقررہوا کہ حالت قالب حالت قلب پرشاہد ہو جس طرح سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے استسقا میں قلب ردا فرمایا کہ قلب لباس قلب احوال وکشف باس کی خبر دے شاہ ولی اﷲ نے قول الجمیل میں قضائے حاجت کے لئے “ صلوۃ کن فیکون “ کی ترکیب لکھی جس کے آخر میں ہے کہ پھرپگڑی اتارے آستین گلے میں ڈالے پچاس۵۰ باردعاکرے ضرورمستجاب ہو ۔ اس پر ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں : “ بعض ناواقفوں نے اعتراض کیا ہے آستین گردن میں ڈالنا کیونکر جائز ہوگا حالانکہ ادعیہ ماثورہ میں یہ ثابت نہیں ہم جواب دیتے ہیں کہ قلب ردا یعنی چادر کاالٹنا پلٹنا نماز استسقاء میں رسول علیہ السلام سے ثابت ہے تاحال عالم کابدل جائے تو اس طرح آستین گردن میں ڈالنا امر مخفی کے اظہار کے واسطے یعنی تضرع کے واسطے حصول شعار گردش حال کے یامقصود کے کیونکر ناجائز ہوگا “ ۔ انتھی ترجما بترجمۃ المولوی خرم علی البلھوری فی شفاء العلیل ترجمۃ القول الجمیل۔ میں کہتاہوں جب آستین گلے میں باندھنا باآنکہ طرق ماثورہ میں وارد نہیں اس وجہ سے کہ اس میں تضرع مخفی کااظہار شدیدہے اگرچہ نفس
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل مروی از عبد اللہ ابن عمر مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۵۰و ۹۲ ، مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط کتاب الزہد مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۱۰ / ۲۷۱
القول الجمیل مترجم اردو پانچویں فصل صلٰوۃ کن فیکون مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۷۳
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل پانچویں فصل صلٰوۃ کن فیکون مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۷۴
#11907 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
اظہار گڑگڑانے کی صورت سے حاصل تھا جائز ٹھہرا تویہ چندقدم جانب عراق محترم چلنا اس وجہ سے کہ اس میں توجہ مخفی کااظہار قوی ہے کیونکرناجائز ہوگا۔
ثالثا ظاہرمصلح خاطر ولہذا جس امر میں جمع عزیمت وصدق ارادت کااہتمام چاہتے ہیں وہاں اس کے مناسب احوال وجوارح رکھے جاتے ہیں کہ ان کی مدد سے خاطر جمع اور انتشار دفع ہوا اسی لئے نماز میں تلفظ بہ نیت قصد جمع عزیمت علماء نے مستحسن رکھا کمافی المبسوط والھدایۃ والکافی والحلیۃ وغیرھا (جیسا کہ مبسوط ہدایہ کافی اور حلیہ وغیرہ میں ہے۔ ت) شاہ ولی اﷲ حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں :
من جبلۃ الانسان انہ اذا استقر فی قلبہ شیئ جری حسب ذلك الارکان واللسان و ھوقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم “ ان فی جسد ابن ادم مضغۃ “ الحدیث ففعل اللسان ولارکان اقرب مظنۃ وخلیفۃ لفعل القلب۔
انسانی فطرت ہے کہ جب کوئی چیز اس کے دل میں جم جاتی ہے تواعضاء اور زبان اسی کے مطابق حرکت کرتے ہیں اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے اس ارشاد مبارك کا کہ انسان کے جسم میں ایك ٹکڑا ہے الحدیث پس زبان اور اعضاء کی حرکت دل کے فعل کے تابع ہوتی ہے۔ (ت)
اوریہی سر ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین اور تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ مقررہوا شاہ ولی اﷲ اسی کتاب میں لکھتے ہیں :
الھیأۃ المندوبۃ ترجع الی معان منھا تحقیق الخضوع کصف القدمین ومنھا محاکاۃ ذکراﷲ تعالی باصابعہ ویدہ حذوما یعقلہ بجنانہ کرفع الیدین و الاشارۃ بالمسبحۃ لیکون بعض الامر معاضدا لبعضھ ملخصا
مستحب حالت کئی معانی کی طرف راجع ہے ایك خشوع کاپایاجانا جیسے قدموں کابرابرہونا اور ایك اﷲ کے ذکر کی حکایت ہاتھ اور انگلیوں سے کرناب تاکہ دل میں جوکچھ ہے اس کی مطابقت ہوسکے جیسے ہاتھ اٹھانا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا جس سے بعض افعال کی بعض تقویت ہوتی ہے اھ ملخصا(ت)
اور اسی قبیل سے ہے دعامیں ہاتھ اٹھانا چہرے پرپھیرنا شاہ ولی اﷲ تصریح کرتے ہیں کہ یہ افعال رغبت باطنی کی تصویر بنانے کوہیں کہ قلب اس پرخوب متنبہ ہوجائے اورحالت قلب ہیأت سے تائید پائے۔
حوالہ / References حجۃ اﷲ البالغہ الامور التی لابدمنہا فی الصلٰوۃ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ / ۵
حجۃ اﷲ البالغہ اذکارالصلٰوۃ وہیأتہا المندوب الیہا مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ / ۷
#11908 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
کتاب مذکورمیں ہے :
اما رفع الیدین ومسح الوجہ بھما فتصویر للرغبۃ مظاھرۃ بین الھیأۃ النفسانیۃ وما یناسبھا من الھیأۃ البدنیۃ وتنبیہ للنفس علی تلك الحالۃ ۔
اور ہاتھ اٹھانا اور دعاکے بعد ہاتھوں کو چہرے پر ملنا یہ اپنی دعا میں رغبت کااظہارہے اور ہیئت نفسانیہ کی تصویر اور ہیئت بدنیہ کی مناسبت ہے اور نفس کو اپنی حالت پرتنبیہ ہے۔ (ت)
بعینہ یہی حالت اس چلنے کی ہے کہ رغبت طاطنی کی پوری تصویربتاتااور قلب کوانجذاب تام پرمتنبہ کرتاہے جیسا کہ اس عمل شریف کے بجالانے والوں پرروشن گومنکر محروم بیخبر باش ع
ذوق ایں مے نہ شناسی بخدا تانچشی
(اس شراب کامزہ تو اسے چکھے بغیر نہ پاسکے گا)
رابعا سنت نبویہ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ ہے کہ جہاں انسان سے کوئی تقصیر واقع ہو عمل صالح وہاں سے ہٹ کر کرے اسی لئے جب ایك بار سفرمیں آخرشب حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے نزول فرمایا اور آنکھ نہ کھلی یہاں تك کہ آفتاب چمکا حضور نے وہاں نماز نہ پڑھی اور فرمایا اس جگہ شیطان حاضر ہواتھا اپنے مرکبوں کویونہی لئے چلے آؤ پھروہاں سے تجاوز فرماکر نمازقضا کی مسلم فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال عرسنا مع نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلم نستیقظ حتی طلعت الشمس فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لیأخذ کل رجل براس راحلتہ فان ھذا منزل حضرنا فیہ الشیطان قال ففعلنا ثم دعا بالماء فتوضأ الحدیث (حدیث کاترجمہ متن حدیث سے پہلے موجود ہے)یہاں بھی جب یہ محتاج دورکعت نمازپڑھ چکااور اب وقت وہ آیا کہ جہت توسل کی طرف منہ کرکے اﷲ جل جلالہ سے دعاچاہتاہے نفس نماز میں جوقلت حضوروغیرہ قصورسرزد ہوئے یاد آئے اور سمجھاکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں شیطان کے دخل نے مجھ سے مناجات الہی میں تقصیر کرادی ناچار ہٹتاہے اور پرظاہر کہ جہت توجہ اس کے لئے اولی وایسر یمینا وشمالا انصراف میں ترك توجہ اور رجعت قہقری بعد کی صورت اور اقبال نشان اقبال فکان ھوالمختار۔
خامسا خادم شرع جانتاہے کہ صاحب شرع صلوات اﷲ وسلامہ علیہ کو باب دعا میں تفاؤل
حوالہ / References حجۃ اﷲ البالغہ الاذکار ومایتعلق بہا مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲ / ۷۵
صحیح مسلم باب قضاء الصلٰوۃ الفائتہ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۳۸
#11909 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
پربہت نظر ہے اسی لئے استسقاء میں قلب ردا فرمایا کہ تبدل حال کی فال ہو
الدارقطنی بسند صحیح علی اصولنا عن الامام ابن الامام ابن الامام جعفر بن محمد بن علی رضی اﷲ تعالی عنہم عن ابیہ انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استسقی وحول رداء ہ للیتحول القحط ۔
ہمارے اصول کے مطابق دارقطنی نے صحیح سند کے ساتھ امام ابن امام ابن امام جعفر بن محمدبن علی رضی اللہ تعالی عنہم وہ اپنے والد سے راوی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے (بارش کے لئے دعامیں ) چادرمبارك الٹی تاکہ قحط ختم ہوجائے۔ (ت)
امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں :
قالوا والتحویل شرع تفاؤلا بتغییر الحال من القحط الی نزول الغیث والخصب ومن ضیق الحال الی سعتہ ۔
ائمہ کرام نے فرمایا کہ چادر الٹانا اس لئے مشہور ہے کہ قحط سے بارش کی طرف اور تنگی سے خوشحالی کی طرف حالت کوتبدیل کرنے کے لئے نیك فال بن سکے۔ (ت)
اسی لئے بدخوابی کے بعد جو اس کے دفع شر کی دعا تعلیم فرمائی ساتھ ہی یہ بھی ارشاد ہوا کہ کروٹ بدل لے تاکہ اس حال کے بدل جانے پر فال حسن ہو
مسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما مرفوعا اذا رأی احدکم الرؤیا یکرھھا فلیبصق عن یسارہ ثلثا ولیستعذ باﷲ من الشیطان ثلثا ولیتحول عن جنبہ الذی کان علیہ ۔
مسلم ابوداؤد نسائی ابن ماجہ نے جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین مرتبہ بائیں جانب تھوکے اور اعوذباﷲ من الشیطان الرجیم تین مرتبہ پڑھے اور اپنی کروٹ دوسری جانب بدلے۔ (ت)
علامہ مناوی تیسیر میں لکھتے ہیں :
تفاؤلا بتحول تلك الحال
(تاکہ اس سے نجات کے لئے
حوالہ / References سنن الدارقطنی کتاب الاستسقاء حدیث ۲ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۲ / ۶۶
شرح مسلم للنووی مع مسلم کتاب صلٰوۃ الاستسقاء مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۲۹۲
صحیح مسلم کتاب الرؤیا مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۲ / ۲۴۱ ، سنن ابوداؤد باب فی الرؤیا مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۲ / ۶۸۵
التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث اذا رأی احدکم کے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۱ / ۹۷
#11910 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
نیك فال بن سکے۔ ت) اسی لئے ہنگام استسقا پشت دست جانب آسمان رکھے کہ ابرچھانے اور باران آنے کی فال ہو۔
مسلم عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استسقی فاشار بظھر کفیہ الی السماء ۔
مسلم نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام جب بارش کے لئے دعافرماتے توہتھیلی مبارك کی پشت سے آسمان کی طرف اشارہ فرماتے۔ (ت)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃمیں ہے :
طیبی گفتہ ایں نیزبرائے تفاول ست بقلب وتبدل حال مثل صنیع وے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم درتحویل رداشار تست بمطلوب کہ بطون سحائب بجانب زمین گرد و بریزد انچہ دروست از امطار واﷲ تعالی اعلم ۔
طیبی نے فرمایا یہ عمل بھی حالت کو تبدیل کرنے کی نیك فال کے طورپر ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم چادرتبدیل کرتے تھے جس میں بادلوں کے پیٹ زمین کی طرف ہوجانے اور بادلوں سے بارش ہونے کے مطلوب کی طرف اشارہ تھا واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
اسی لئے علمانے مستحب رکھا جب دفع بلاکے لئے دعاہو پشت دست سوئے سماہو گوہاتھوں سے آتش فتنہ کوبجھاتااور جوش بلا کو دباتا ہے۔ اشعہ میں ہے :
گفتہ اندچوں دعابرائے طلب وسوال چیزے ازنعمابود مستحب است کہ گردانیدہ شود بطن کفہا بجانب آسمان وہرگاہ کہ برائے دفع و منع فتنہ وبلاباشد پشت ہائے دست بجانب آسمان کندازبرائے اطفائے نائرہ فتنہ وبلاوپست کردن قوت حادثہ وغلبہ آں ۔
علمانے فرمایا ہے کہ جب کسی نعمت کے حصول کے لئے دعاکی جائے تومستحب یہ ہے کہ دعامیں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کوآسمان کی طرف کیاجائے اور اگرکسی دفع شر کے لئے دعا کی جائے توپھرہاتھوں کی پشت کوآسمان کی طرف کیاجائے تاکہ فتنہ اور مصیبت کی شدت کم ہو اور حادثہ کی قوت وغلبہ پست ہوجائے۔ (ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب صلٰوۃ الاستسقا مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱ / ۲۹۳
اشعۃ اللمعات کتاب صلٰوۃ الاستسقا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۲۳
اشعۃ اللمعات کتاب صلٰوۃ الاستسقا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۲۳
#11911 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
اسی لئے دعا کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنا مسنون ہوا کہ حصول مرادقبول دعا کی فال ہو گویادونوں ہاتھ خیروبرکت سے بھرگئے اس نے وہ برکت اعلی و اشرف اعضاپرالٹ لی کہ اس کے توسط سے سب بدن کو پہنچ جائے گی۔ ترمذی وحاکم کی حدیث میں عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے ہے :
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا رفع یدیہ فی الدعاء لم یحطھما حتی یمسح بھما وجھہ ۔
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب دعا میں ہاتھ اٹھاتے توچہرہ مبارك پرپھیرتے بغیرہاتھوں کونیچے نہ کرتے۔ (ت)
علامہ عبدالرؤف مناوی تیسیر میں فرماتے ہیں :
تفاؤلاباصابۃ المراد وحصول الامداد ۔
مراد کوپانے اور امداد حاصل کرنے کے لئے نیك فال کے طورپر۔ (ت)
اور حدیث حسن :
ابی داؤد عن السائب بن یزید عن ابیہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان اذا دعا فرفع یدیہ مسح وجھہ بیدیہ۔
ابوداؤد نے حضرت سائب بن یزید سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیاکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب دعافرماتے تو ہاتھ اٹھاکر چہرہ مبارك پرملتے۔ (ت)
کے نیچے لکھا :
تفاؤلا وتیامنا بان کفیہ ملئتا خیرافافاض منہ علی وجھہ ۔
یہ نیك فال ہوسکے ہ ہاتھ خیر سے بھرگئے ہیں اور اس خیرکو چہرہ پرفائض فرمایا۔ (ت)
اور حدیث ابی داؤد :
بیھقی عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سلوااﷲ ببطون اکفکم
بیہقی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ
حوالہ / References جامع الترمذی ''الدعوات'' باب ماجاء فی رفع الایدی عندالدعاء مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۷۴ ، المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء مسح الوجہ بالیدین مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۵۳۶
التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث کان اذارفع یدیہ فی الدعاکے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۲ / ۲۵۰
التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث کان اذا دعافرفع کے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۲ / ۲۴۹
#11912 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
ولاتسئلوہ بظھورھا فاذا فرغتم فامسحوا بھا وجوھکم ۔
نے فرمایا کہ اﷲتعالی سے اپنے ہاتھوں کے باطن میں سوال کرو اور ہاتھوں کی پشت میں سوا ل نہ کرو اور جب دعاسے فارغ ہوجاؤ توہاتھوں کوچہرے پرپھیرو۔ (ت)
کے تحت میں لکھا :
تفاؤلا باصابۃ المطلوب وتبرکا بایصالہ الی وجھہ الذی ھواشرف الاعضاء و منہ یسری الی بقیۃ البدن ۔
تاکہ نیك فال ہوسکے کہ مطلوب پالیا اور اس کو برکت کے لئے چہرے تك پہنچایا جوکہ اعضامیں افضل ہے اور اس سے تمام بدن میں سرایت کرے۔ (ت)
فاضل علی قاری نے حرزثمین میں فرمایا :
لعل وجھہ انہ ایماء الی قبول الدعاء و تفاؤل بدفع البلاء وحصول العطاء فان اﷲ سبحنہ یستحیی ان یرد ید عبد صفرا ای خالیا من الخیر فی الخلاء والملاء ۔
ہوسکتاہے کہ یہ اس بات کااشارہ ہوکہ دعا قبول ہوچکی ہے اور دفع بلا اور حصول عطا کے لئے نیك فال بن سکے کیونکہ اﷲ تعالی اپنے بندے کے ہاتھوں کوخلاء اور ملاء میں خیر سے خالی لوٹانے پر حیافرماتاہے۔ (ت)
اسی طرح صاحب شرع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نائب جلیل رضی اللہ تعالی عنہ نے مقاصد شرع پر لحاظ فرماکر خاص ان کے موافق یہ چلنا مقرر فرمایا کہ نفی اعراض وعطائے قربت وحصول اغراض واقبال اجابت کے لئے فال حسن ہو واﷲ تعالی الموفق۔
سادسا صحیح مسلم شریف ف میں بروایت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہم ا ثابت کہ سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عین نماز میں چندقدم آگے بڑھے جب جنت خدمت اقدس میں اتنی قریب حاضر کی گئی کہ دیوار قبلہ میں نظر آئی یہاں تك کہ حضور بڑھے تو اس کے خوشہ ہائے انگور دست اقدس کے قابو میں تھے
حوالہ / References التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث سلواﷲ کے تحت مکتبہ امام الشافعی الریاض ۲ / ۶۰
حرزثمین حواشی حصن حصین مع حصن حصین آداب الدعاء افضل المطابع انڈیا ص۱۱
ف : آئندہ سطورمیں ہلالین کے اندراعلٰی حضرت کی اپنی عبارت ہے اور ہلالین سے باہر حدیث کی عبارت ہے۔ نذیراحمد
#11913 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
اور یہ نماز صلوہ الکسوف تھی۔
وذلك قولہ (بعد ما وصف صلوۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الکسوف) ثم تأخر (یعنی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) وتأخرت الصفوف خلفہ حتی انتھینا (قال مسلم وقال ابوبکر یعنی ابن ابی شیبہ شیخہ حتی انتھی) الی النساء ثم تقدم وتقدم الناس معہ حتی قام فی مقامہ فانصرف حین انصرف وقد اضت الشمس فقال (وقص الحدیث حتی قال) ما من شیئ توعدونہ الاوقد رأیتہ فی صلوتی ھذہ لقدجیئ بالنار وذلکم حین رأیتمونی تأخرت (وساق الخبرالی ان قال) ثم جیئ بالجنۃ وذلکم حین رأیتمونی تقدمت حتی قمت فی مقامی ولقد مددت یدی وانا ارید ان اتناول من ثمرھا (الحدیث مختصر)
ان کاقول یہ کہ سوج گرہن کی نماز کوبیان کرتے ہوئے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والاسلام نماز میں پیچھے ہٹ گئے اور آپ کے پیچھے صفیں بھی ہٹ گئیں حتی کہ ہم ہٹ گئے “ مسلم نے فرمایا کہ ان کے استاد ابوبکر ابن ابی شیبہ نے فرمایا یعنی ہم عورتوں کی صف تك پیچھے ہٹ گئے پھر حضورعلیہ السلام آگے بڑھے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ آگے بڑھ گئے حتی کہ حضورعلیہ السلام اپنے پہلے مقام پرکھڑے ہوئے توسورج روشن ہوگیا پس انہوں نے کہا کہ راوی نے پوری حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے فرمایا تمہیں جن امور کاوعدہ دیاگیا میں نے نماز میں ان سب چیزوں کودیکھا ہے اور تحقیق میرے سامنے آگ (جہنم) پیش کیاگیایہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا اور واقعہ بیان کرتے ہوئے راوی نے کہا پھرآپ نے فرمایا میرے سامنے جنت کوپیش کیاگیا اوریہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا حتی کہ میں اپنی جگہ کھڑاہوا اور میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اس خیال سے کہ میں جنت کاپھل حاصل کروں (الحدیث مختصرا)۔ (ت)
اسی طرح جب ارباب باطن واصحاب مشاہدہ یہ نماز پڑھ کر بروجہ توسل عراق شریف کی طرف متوجہ ہوتے ہیں انوار وبرکات وفیوض وخیرات اس جانب مبارك سے باہزاراں جوش وہجوم پیہم آتے نظرآتے ہیں یہ بیتابانہ ان خوشہائے انگورجنات نوروباغات سرور کی طرف قدم شوق پربڑھتے اور ان عزیز مہمانوں کے لئے رسم باجمال تلقی واستقبال بجالاتے ہیں سبحان اﷲ کیاجائے انکار ہے اس نیك بندے پرجو اپنے رب کی برکات وخیرات کی طرف مسارعت کرے۔
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الکسوف مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۹۷
#11914 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
ان جئتکم قاصدا اسعی علی بصری
لم اقض حقا وای الحق ادیت
(اگرمیں تمہارے قصد سے آؤں تو آنکھوں کے بل دوڑتاہوا آؤں توحق ادانہ کرسکوں اور کونسا حق ہے جومیں نے ادا کردیا ہے)
رہے ہم عامی جن کاحصہ یہی شقشقہ لسان واضطراب ارکان ہے وبس نسأل اﷲ العفووالعافیۃ (ہم اﷲ تعالی سے عافیت کاسوال کرتے ہیں ۔ ت) ہم اس امرجمیل میں ان اہل بصائرکے طفیلی ہیں : ع
وللارض من کأس الکرام نصیب
(کریم حضرات کے پیالوں سے زمین کابھی حصہ ہے)
جیسے نماز کے اس کے اکثر افعال واحکام ان سرار وحکم پرمبنی جوحقیقۃ صرف احوال سنیہ اہل قلوب پرمتبنی پھرعوام بھی صورت احکام میں ان کے مشارك مثلا نماز۱نہاری میں اخفاء واجب ہو اور لیلی۲ میں جہر کہ لیل آیت لطف ہے اور اس کی تجلی لطیف اورنہار آیت قہری ہے اور اس کی تجلی شدید پھرتجلی جہری سری سے بہت قوی وگرم تر لہذا تعدیل کے لئے تجلی قہری کے ساتھ ٹھنڈی تجلی رکھی گئی اور لطفی کے ساتھ گرم ۳ جمعہ و ۴عیدین میں باوجود نہاری حکم جہرہواکہ بوجہ کثرت حاضرین انس حاصل اور دہشت زائل اور قلب بوجہ شہود تجلی سے قدرے ذاہل بھی ہوگا معہذا ایك ہفتہ کی تقصیرات جمع ہوکر حجاب میں گونہ قوت پیداکرتی ہیں تو گاہے ماہے یہ معالجہ مناسب ہوا جواپنی حرارت سے اسے گلادے جیسے اطبا خطوط دقیقہ دیکھنے سے منع کرتے اور نادرا بغرض تمرین اسے علاج سمجھتے ہیں اور ۵کسوف میں گوجماعت کثیر اور وقفہ طویل ہے پھربھی اخفاء ہی رہاکہ وہ وقت تخویف وتجلی جلال اور وقفہ طویل ہے جہر نہ ہوسکے گا اسی لئے ہمارے نزدیك ۶نماز جنازہ میں اصلا قراء ت نہیں کہ یہ ہیبت ۷عظیم وتجلی جلال تجلی شدید قرآنی سے جمع نہ ہو اور جو قراء ت کہتے ہیں وہ بھی جہر نہیں رکھتے کہ شدت برشدت بڑھ جائے گی۔ شب کو آٹھ رکعت تك ایك نیت سے جائز اور دن کو چار سے زیادہ منع کہ سنت الہیہ ہے تجلی شیئا فشیئاواردکرتے اور ہرثانی میں اول سے قوی بھیجتے ہیں تو تجلی گرم نہاری کے ساتھ چار سے آگے تاب نہ آئے گی ۸اسی لئے ہردورکعت پرجلسہ طویلہ کاحکم ہوا کہ خوب آرام پالے اور ۹نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی یاد واجب ہوئی کہ لطف جمال سے حظ اٹھالے اور ۱۰پچھلی رکعتوں میں قراء ت معاف کہ تجلیات بڑھتی جائیں گی شاید دشواری ہو اور ۱۱منفرد پرجہر واجب نہیں کہ بوجہ تنہائی دہشت وہیبت زیادہ ہوتی ہے عجب نہیں کہ تاب نہ لائے تو اسے اس کے حال و وقت پرچھوڑنا مناسب ۱۲رکوع و۱۳سجود میں قراء ت قرآن ممنوع ہوئی کہ ان کی تجلی تجلی قیام سے سخت اشد دوسری تجلی شدید قراء ت مل کر
#11915 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
افراط ہوگی نیز ۱۴قعود میں قراء ت ممنوع ہوئی کہ وہ آرام دینے کے لئے رکھاگیا تجلی قرآنی کی شدت مل کر اسے مقصود سے خالی کردے گی ۱۵اسی لئے رکو ع کے بعد قومہ کاحکم ہوا کہ اس تجلی قوی سے آرام لے کرتجلی اقوی کی طرف جائے ورنہ تاب نہ لائے گا ۱۶اسی بنا پر بین السجدتین اطمینان سے بیٹھنا واجب کیاگیا کہ تجلی سجدہ ثانیہ اور اشد واعظم ہوگی اشدبراشد کی توالی سے بنیان بشری نہ منہدم ہوجائے۔ امام عارف باﷲ عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی میزان میں نقل فرماتے ہیں :
انہ وقع لبعض تلامذۃ سیدی عبدالقادر جیلی رضی اﷲ تعالی عنہ انہ سجد فصار یضمحل حتی صار قطرۃ ماء علی وجہ الارض فاخذھا سیدی عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ بقطنۃ ودفنھا فی الارض وقال سبحن اﷲ رجع الی اصلہ بالتجلی علیہ ۔
یعنی حضورپر نورسیدناغوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے بعض مریدوں نے سجدہ کیاجسم گھلنا شروع ہوا یہاں تك کہ گوشت پوست ہڈی پسلی کسی شے کانشان نہ رہا صرف ایك بوندپانی کی زمین پر پڑی رہ گئی حضورپرنور نے روئی کے پھوئے سے اٹھاکر زمین میں دفن کردی اور فرمایا سبحن اﷲ تجلی کے سبب اپنی اصل کی طرف پلٹ گیا۔

قسمت نگر کہ کشتہ شمشیر عشق یافت
مرگے کہ زندگان بدعا آرزو کنند
(قسمت دیکھ کہ عشق کی تلوار کے مقتول نے ایسی موت کوپایا جس کے لئے زندہ لوگ دعا کی آرزو کرتے ہیں)
سابعا دیدہ انصاف بے غبار وصاف ہوتو احادیث صحیحہ سے اس کابھی پتاچلتاہے کہ جہاں جاناچاہے اس طرف چندقدم قریب ہونا اور جہاں سے جدائی مقصود ہو اس سے کچھ گام دورہونا بھی نافع وبکارآمد ہوتاہے جب کمال قرب وبعد میسرنہ ہو۔ طبرانی نے معجم کبیر اور حاکم نے بسند صحیح مستدرك میں برشرط شیخین ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی حضور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
کل شیئ یتکلم بہ ابن ادم فانہ مکتوب علیہ فاذاخطأ الخطیئۃ ثم احب ان یتوب الی اﷲ عزوجل فلیأت بقعۃ
آدمی کاہربول اس پرلکھاجاتاہے توجوگناہ کرے پھر اﷲتعالی کی طرف توبہ کرناچاہے اسے چاہئے بلندجگہ پرجائے اور اﷲ تعالی کی طرف ہاتھ پھیلاکر
حوالہ / References المیزان الکبرٰی باب صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۷
#11916 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
مرتفعۃ فلیمدد یدیہ الی اﷲ ثم یقول اللھم انی اتوب الیك منھا لاارجع الیھا ابدا فانہ یغفرلہ مالم یرجع فی عملہ ذلک ۔
کہے الہی! میں اس گناہ سے تیری طرف رجوع لاتاہوں اب کبھی ادھر عودنہ کروں گا اﷲ تعالی اس کے لئے مغفرت فرمادے گا جب تك اس گناہ کو پھرنہ کرے۔
توبہ کے لئے بلندی پرجانے کی یہی حکمت ہے کہ حتی الوسع موضع مصیبت سے بعد اور محل طاعت ومنزل رحمت یعنی آسمان سے قرب حاصل ہو جب سیدنا موسی علیہ الصلاۃ والسلام کازمانہ انتقال قریب آیا بن میں تشریف رکھتے تھے اور ارض مقدسہ پرجبارین کاقبضہ تھا وہاں تشریف لے جانا میسرنہ ہوا دعافرمائی کہ اس پاك زمین سے مجھے ایك سنگ پرتاب قریب کردے۔ بخاری مسلم نسائی ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی :
ارسل ملك الموت الی موسی علیھا الصلوۃ والسلام (فذکر الحدیث الی ان قال) نسأل اﷲ ان یدنیہ من الارض المقدسۃ رمیۃ بحجر ۔ موسی علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف اﷲ تعالی نے ملك الموت کوبھیجا پس حدیث کوبیان کرتے یہاں تك بیان کیا کہ مجھے بیت المقدس کے اتناقریب کردے جتناکہ پتھرپھینکنے کافاصلہ ہوتاہے۔ (ت)
شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہ شرح مشکوۃ میں دعائے موسی علیہ الصلاۃ والسلام کایوں ترجمہ کرتے ہیں :
نزدیك گردان مرا از ان اگرچہ بمقداریك سنگ اندازہ باشد ۔
مجھے اس قدر نزدیك کردے اگرچہ ایك پتھر کااندازہ ہو۔ (ت)
ظاہرہے کہ ہنگام حاجت سردست عراق شریف کی حاضری متعذر لہذا چندقدم اس ارض مقدسہ کی طرف چلنا ہی مقرر ہوا کہ مالایدرك کلہ لایترك کلہ وﷲ الحمد دقہ وجلہ (جومکمل حاصل نہ ہوسکے تو تووہ مکمل چھوڑابھی نہ جائے اﷲ تعالی ہی کے لئے ہرچھوٹی اوربڑی حمدہے۔ ت) رہی عدد یازدہ کی تخصیص اس کی وجہ ظاہر کہ ان اﷲ تعالی وتر یحب الوتر (اﷲ تعالی طاق ہے طاق کو
حوالہ / References المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء دعا قضاء الرین مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۵۱۶
صحیح بخاری باب وفات موسٰی علیہ السلام الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۸۴ ، صحیح مسلم باب من فضائل موسٰی علیہ السلام مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۲ / ۲۶۷
اشعۃ اللمعات کتاب الفتن باب بدء الخلق الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ / ۴۵۳
جامع الترمذی ابواب الوتر مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۶۰ ، مسنداحمدبن حنبل مروی ازابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۱۰۹ ، ۱۵۵ ، ۲۵۸ ، ۲۶۶ ، ۲۷۷
#11917 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
دوست رکھتاہے)قالہ النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رواہ الامام احمد عن ابن عمر بسند صحیح والترمذی عن علی بسند حسن وابن ماجۃ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنھم اجمعین (یہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کاارشاد مبارك ہے اس کو امام احمد نے عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیاہے اور ترمذی نے سند حسن کے ساتھ علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سے اور ابن ماجہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ ت) اور افضل الاوتار و اول الاوتار ایك ہے مگریہاں تکثیرمطلوب اور اس کے ساتھ تیسیربھی ملحوظ لہذا یہ عدد مختارہوا کہ یہ افضل الاوتار کاپہلا ارتفاع ہے جوخود بھی وتراور مشابہت زوج سے بھی بعید کہ سواایك کے اس کے لئے کوئی کسرصحیح نہیں اور اس سے ایك گھٹادینے کے بعد بھی جوزوج حاصل ہوتاہے زوج محض ہے نہ زوج الازواج کہ اس کے دونوں حصص متساویہ خود افراد ہیں بلکہ خلو مرتبہ پروہ بعینہ ایك ہے۔ شاہ ولی اﷲ حجۃ اﷲ البالغہ میں لکھتے ہیں :
الشرع لم یخص عددا الا لحکم ترجع الی اصول الاول ان الوتر عدد مبارك لایجاوز عنہ ماکان فیہ کفایۃ ثم الوتر علی مراتب وتر یشبہ الزوج کالتسعۃ والخمسۃ فانھما بعد اسقاط الواحد ینقمان الی زوجین والتسعۃ وان لم تنقسم الی عددین متساوین فانھا تنقسم الی ثلثہ متساویۃ وامام الاوتار الواحد وحیث اقتضت الحکمۃ ان یؤمر باکثرمنھا اختار عددا یحصل بالترفع کالواحد یترفع الی احد عشر اھ ملتقطا۔
شرع شریف میں عدد کی تخصیص صرف ایسے حکم کے لئے کی جاتی جوکئی معانی کی طرف راجع ہوتاہے اول یہ وتر ایسامبارك عدد ہے کہ اس سے تجاوز اس وقت تك جائزنہیں جبکہ اس وتر میں کفایت موجود ہے پھر وتر کے کئی اقسام ہیں ایك وتر زوج کے مشابہ ہوتاہے جیسا کہ نو اور پانچ کاعدد کہ یہ دونوں ایسے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایك ایك کو ساقط کردیاجائے تویہ دونوں برابرتقسیم ہوکر دو زوج بن جاتے ہیں اور نو کا عددخود اگرچہ دو جفت (زوج) پرتقسیم نہیں ہوتا مگرتین مساوی عددوں پرمنقسم ہوتاہے تمام وتروں کاامام (اصل) ایك کاعدد ہے اور حکمت کاتقاضا ہوتو زیادہ عدد کا تب حکم ہوتا کہ وہ عددبڑھ کر واحد کی طرح ہوجائے مثلا گیارہ ہوجائے۱ھ ملتقطا(ت)
حوالہ / References حجۃ البالغہ باب اسرار الاعداد والمقادیرمطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۱ / ۱۰۰
#11918 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
اس کے بعد فقیرگدائے سرکار قادریہ غفراﷲ لہ کل ذنب وخطیہ نے سرکار غوثیت مدار سے اس عدد مبارك کےاختصاص پر بعض دیگر نکات جمیلہ عظیمہ جلیلہ پائے ہیں کہ بتوفیق اﷲ تعالی رسالہ مبارك ازھار الانوار من صبا صلوۃ الاسرارمیں ذکرکئے یہاں ان کابیان زخمہ برعود پیس گاواں
فمن شاء فلیرجع الی ذاك التحریر الانیق واﷲ سبحنہ ولی التوفیق وبیدہ ازمۃ التحقیق وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
اگرکوئی چاہے تو اس صاف ستھری تحریر کی طرف رجوع کرسکتاہے۔ اﷲتعالی پاك ہے اور مجھے توفیق ملی جبکہ اﷲ کے قبضہ میں ہی تحقیق کی لگام ہے۔ اور صلوۃ وسلام ہوہمارے آقامحمد اوران کی آل وصحابہ سب پر۔ (ت)
بالجملہ اس نمازمقدس میں اصلا کوئی محذور شرعی نہیں اور خود کون ساطریقہ دیانت وانصاف ہے کہ جو امرحضور پرنورمحی الملۃ مقیم السنۃ ملاذالعلماء معاذ العرفاء وارث الانبیاء ولی اﷲ منبع الارشاد مرجع الافراد امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ ملجاالامہ قطب الاعلم غوثنا الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ وارضاہ وجعل حرزنا فی الدارین رضاہ (اﷲ تعالی ان کی رضا کو دونوں جہان میں ہماری جان کاموتی بنائے۔ ت) ارشاد فرمائیں اور حضور کے اصحاب اکابر انجاب قدست اسرارھم وتممت انوارھم (ان کے اسرار مقدس اوران کے انوارتام کئے جائیں ۔ ت) کہ بالیقین اعاظم علماء واجلہ کملاتھے اسے بجالائیں اور طبقۃ فطبقۃ اولیاء وعلمائے سلسلہ عالیہ قادریہ روح ارواح اصحابھا واروی قلوبنا بناھل عبابھا (اﷲتعالی ان کی ارواح کو معطرفرمائے اور ہمارے دلوں کو ان کے جاری چشموں سے سیراب فرمائے۔ ت) اسے اپنامعمول بنائیں اور ثقات علماء وکبار اولیاء اپنی تصانیف میں اسے نقل و روایت کریں اجازتیں دیں اجازتیں لیں اور منکرین مکا برین کو اصلا قدرت نہ ہو کہ آیت وحدیث توبڑی چیز ہے کہیں دو چارعمائد دین وفقہائے معتمدین ہی سے اس کا رد وانکار بے اعانت کذب واختلاق ومکابرہ وشقاق ثابت کرسکیں ایسی جمیل چیز جلیل عزیز کومحض اپنی ہوائے نفسانی واصول بہتانی کی بناپر بلحاظ اصل مذہب شرك قطعی اور فاعلوں مجوزوں کومعاذاﷲ مشرك جہنمی اور بخوف اہل حق تسہیل امر کوہارے جی سے صرف فاسق بدعتی بتائیے اور انکار ارشاد سیدالاولیاء وتضلیل وتفسیق علما وعرفاکا وبال عظیم گردن پر اٹھائیے و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(۲۲۷) (اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ت)اور حضرات منکرین کایہ کہنا کہ صحابہ
حوالہ / References القرآن ۲۶ / ۲۲۷
#11919 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
تابعین سے منقول نہیں صحابہ محبت وتعظیم میں ہم سے زیادہ تھے ثواب ہوتا تووہی کرتے۔
اولا وہی معمولی باتیں ہیں جن کے جواب علمائے اہلسنت کی طرف سے ہزارہزاربار ہوچکے جسے آفتاب روشن پراطلاع منظورہو ان کی تصانیف شریفہ کی طرف رجوع لائے علی الخصوص کتاب مستطاب “ اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد “ وکتاب لاجواب “ اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام “ وغیرہما تصانیف لطیفہ وتالیف منیفہ حضرت تاج المحققین سراج المدققین حامی السنن ماحی الفتن بقیۃ السلف حجۃ الخلف فردالاماثل فخرالاکابر وارث العلم کابرا عن کابر سیدی و والدی حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی اعظم اﷲ اجرہ ونورقبرہ وقدس سرہ ورزقنا برہ واعطاہ المسرۃ و وقاہ المضرۃ وکل معرۃ بجاہ المصطفی والہ الشرفاعلیہ وعلیھم الصلوۃ والثنا امین امین یااھل التقوی واھل المغفرۃ (اﷲتعالی ان کااجربڑاکرے ان کی قبر کومنورکرے ان کے اسرارمقدس بنائے ان کی بھلائی ہمیں نصیب فرمائے اور ان کو سرورعطافرمائے اور ان کو ہرضرر و تکلیف سے محفوظ فرمائے حضور علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کی آل کی وجاہت کی برکت سے علیہم الصلوۃ والسلام اے تقوی اور مغفرت والو!۔ ت) اور فقیرغفراﷲ تعالی بھی اس بحث اور اس کے امثال کو بروجہ اجمال رسالہ اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تھامۃ “ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ورسالہ “ منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین “ وغیرہما اپنے رسائل ومسائل میں بقدرکفایت منقح کرچکا والحمدﷲ رب العلمین۔
ثانیا یہاں تو ان جہالات کاکوئی محل ہی نہیں یہ نماز ایك عمل ہے کہ قضائے حاجات کے لئے کیاجاتاہے اور اعمال مشائخ میں تجدید واحداث کی ہمیشہ اجازت شاہ ولی اﷲہوامع میں لکھتے ہیں :
اجتہاد را در اختراع اعمال تصریفیہ راہ کشادہ است مانند استخراج اطباء نسخہائے قرابادین را این فقیر رامعلوم شدہ است کہ در وقت صبح صادق تا اسفار مقابل صبح نشستن وچشم رابآں نوردوختن و یانور راگفتن تاہزار بارکیفیت ملکیہ راقوت میدہد احادیث نفس رامی نشاند۔
جاری اعمال میں اجتہاد سے اختراع کاراستہ کشادہ ہے جیسا کہ طبیب حضرات کے ہاں قرابادین کے نسخوں میں ہے اس فقیرکومعلوم ہے کہ صبح صادق تاروشنی بیٹھنا اور منہ مشرق کی طرف کرنا اور آنکھوں کوصبح کے نورپرلگانا اور یانور ہزاربار تك پڑھنے سے قوت ملکیہ حاصل ہوتی ہے اور دل کی باتوں پرآگاہی ہوتی ہے۔ (ت)
حوالہ / References ہوامع شاہ ولی اﷲ
#11920 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
اسی میں ہے :
چندنواع ازکرامت ازہیچ ولی الاماشاء اﷲ منفك نمی شود ازانجملہ ظہورتاثیردراعمال تصریفیہ اوتاعاملے بفیض اومنتفع شوند اھ ملخصا۔ چندکرامتیں ایسی ہیں جوکسی ولی سے جدانہیں ہوپاتیں جن میں ایك یہ کہ اس کے جاری اعمال ووظائف کی ایسی تاثیر جوان پرعمل پیراکو اس کے فیض سے نفع دیتی ہے اھ ملخصا (ت)
خودشاہ ولی اﷲ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم صاحب اور ان کے فرزند ارجمند شاہ عبدالعزیز صاحب نے ہرگونہ حاجات کے لئے صدہااعمال بتائے کہ تازہ بنے تھے جن کاپتا قرون ثلثہ میں اصلا نہ تھا بعض ان مین سے فقیرنے اپنے رسالہ منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین میں ذکرکئے اور خود ان کی “ قول الجمیل “ ایسی باتوں کی حائزوکفیل۔ جامع ترسنئے شاہ ولی اﷲ کتاب الانتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ میں تصریح کرتے ہیں کہ انہوں نے جواہرخمسہ شیخ محمدغوث گوالیاری حلیہ رحمۃالباری کی سندیں اور اس کے اعمال کی اجازتیں اپنے استاذ علم حدیث مولانا ابوطاہرمدنی شیخ محمد سعید لاہوری مرحومین سے حاصل کیں حیث قال
ایں فقیر خرقہ از دست شیخ ابو طاہر کردی پوشیدہ وایشاں بعمل انچہ در جواہر خمسہ است اجازت دارند عن ابیہ الشیخ ابراہیم الکردی عن الشیخ القشاشی عن الشیخ احمدالشناوی عن السید صبغۃ اﷲ عن الشیخ محمد غوث الکوالیاری وایضالبسہا الشیخ ابو طاہر عن الشیخ احمد النخلی بسندہ الی اخرہ ایضا ایں فقیر درسفر حج چوں بہ لاہور رسید ودست بوس شیخ محمد سعید لاہوری دریافت ایشاں اجازت دعائے سیفی دادند بل اجازت
اس فقیر نے شییخ ابو طاہر کردی کے ہاتھ سے خرقہ پہنا اور انہوں نے جواہر خمسہ کے تمام وظائف کی اجازت دی یہ اجازت ان کو اپنے والد شیخ ابراہیم کردی سے اور ان کو اپنے شیخ احمدقشاشی سے اور ان کو شیخ احمدشناوی اور ان کو سیدصبغۃ اﷲ سے ان کو شیخ وجیہ الدین علوی گجراتی سے ان کو شیخ محمدغوث گوالیاری سے۔ نیز خرقہ پایا شیخ ابوطاہر نے احمد نخلی سے ان کی آخری سند تک۔ ؤاور نیز فقیر جب حج کے سفرمیں لاہور پہنچا تو وہاں شیخ محمدسعید لاہوری کی دست بوسی کی توانہوں نے مجھے دعائے صیفی کی اجازت مرحمت فرمائی بلکہ انہوں نے ان تمام وظائف
حوالہ / References ہوامع شاہ ولی اﷲ
الانتباہ فی سلاسل اولیاء مترجم اردو طریقہ شطاریہ مطبوعہ آرمی برقی پریس دہلی ص۱۳۷
#11921 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
جمیع اعمال جواہر خمسہ وسند خود بیان کردند وایشاں دریں زمانہ یکی ازاں عیاں مشائخ طریقہ احسنیہ وشطاریہ بودند وچوں کسے را اجازت می دادند او رادعوت رجعت نمی شود رحمۃ اﷲ تعالی سند قال الشیخ المعمر الثقۃ حاجی محمد سعید لاہوری اخذت الطریقۃ الشطاریۃ واعمال الجواہر الخمسۃ من السیفی وغیرہ عن الشیخ محمد اشرف لاہوری عن الشیخ عبد الملك عن الشیخ البایزید الثانی عن الشیخ وجیہ الدین الکجراتی عن الشیخ محمد غوث الکوالیاری انتہی
واعمال کی اجازت دی جو جواہرخمسہ میں ہیں اور انہوں نے اپنی سندبھی بیان کی اور آپ اس زمانہ کے مشائخ شطاریہ احسنیہ کے سلسلہ کے خاص بزرگوں میں سے تھے اور جب آپ کسی کو اپنے سلسلہ کی اجازت دیتے توپھر اس کورجوع کی حاجت نہ رہتی (اﷲ تعالی ان پررحم فرمائے) سندیہ ہے شیخ بزرگ باوثوق حاجی محمد سعید لاہوری نے فرمایا کہ میں نے سلسلہ شطاریہ اور جواہرخمسہ کے وظائف واعمال سیفی وغیرہ شیخ محمد اشرف لاہوری انہوں نے شیخ عبدالملك بایزید ثانی سے انہوں نے وجیہ الدین گجراتی انہوں نے شیخ محمدغوث گوالیاری سے حاصل کئے انتہی(ت)
حضرات منکرین ذرامہربانی فرماکر جواہرخمسہ پرنظرڈال لیں اور اس کے اعمال کاثبوت وقرون ثلثہ سے دے دیں بلکہ اپنے اصول مذہب پران اعمال کوبدعت وشرك ہی سے بچالیں جن کے لئے شاہ ولی اﷲ جیسے سنی موحد محدثانہ سندلیتے اور اپنے مشائخ حدیث وطریقت سے اجازت حاصل کرتے ہیں زیادہ نہ سہی یہی دعائے سیفی جس کی نسبت شاہ ولی اﷲ نے لکھاکہ میں اپنے شیخ سے اخذ کی اور اجازت لی اسی کی ترکیب میں ملاحظہ ہوکہ جواہرخمسہ میں کیالکھاہے :
نادعلی ہفت باریاسہ باریایکبار بخواند وآں اینست نادعلیا مظھرالعجائب تجدہ عونالك فی النوائب کل ھم وغم سینجلی بولایتك یاعلی یاعلی یاعلی ۔
مسئلہ : قال اﷲ تعالی
و اذ اخذ الله میثاق الذین اوتوا الكتب لتبیننه
نادعلی سات باریاتین باریاایك بارپڑھو اوروہ یہ ہے : پکارعلی کو جوعجائب کے مظہرہیں تو ان کو اپنے مصائب میں مدد گار پائے گا ہرپریشانی اور غم ختم ہوگا آپ کی مدد سے یاعلی یاعلی یاعلی(ت)
اور جب خدانے عہدلیا ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی اسے صاف بیان کردیں گے لوگوں سے
حوالہ / References الانتباہ فی سلاسل اولیاء مترجم اردو طریقہ شطاریہ مطبوعہ آرمی برقی پریس دہلی ص۱۳۸
فتوح الغیب ضمیمہ جواہرخمسہ مترجم اردو نادعلی کابیان مطبعہ دارالاشاعت کراچی ص۴۵۳
#11922 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
للناس و لا تكتمونه-
اورچھپائیں گے نہیں ۔
اب کیافرماتے ہیں علمائے ملت نجدیہ ھداھم اﷲ تعالی الی الملۃ الحنفیۃ (اﷲ تعالی ان کی حق کی طرف رجوع کرنے والی ملت کی طرف رہنمائی کرے) کہ جولوگ نادعلی پڑھیں پڑھائیں سیکھیں اس کی سندیں دیں اجازتیں لائیں اس کے سلسلے کوسلاسل اولیاء اﷲ میں داخل کرجائیں اس کے حکم دینے والون کوولی کامل بتائیں اپنا شیخ ومرشد مرجع سلسلہ بتائیں ان میں بعض کوبلفظہ ثقہ واعیان مشائخ او ان کی ملاقات کوبکلمہ دستبوس تعبیر فرمائیں انہوں نے غم ومصیبت ورنج وآفت کے وقت یاعلی یاعلی کہنا روارکھا یانہیں اور اسے ورد وظیفہ بنایا یا نہیں اور غیرخدا کو خدا کاشریك فی العلم وشریك فی التصرف ٹھہرایا یانہیں اور وہ اس سبب سے مشرك کافر بے ایمان جہنمی ہوئے یانہیں پھر جوایسوں کواپناپیرجانیں عالم امت حامی سنت وقطب زماں و مرشد دوراں مانیں (جیسے جناب شاہ عبدالعزیز صاحب) انہیں مقتدائے دین وپیشوائے مسلمین بتائیں ان کے علم وافضال وعرفان وکمال پرسچے دل سے ایمان لائیں (جیسے تمام اصاغرواکابر حضرات وہابیہ) انہیں سیدالحکما سیدالعلماوقطب المحققین فخرالعرفاء المکملین اعلمہم باﷲ وقبلہ ارباب تحقیق وکعبہ اصحاب تدقیق وقدوۃ اولیاوزبدئہ ارباب صفا بلکہ امام معصوم وصاحب وحی تشریعی ٹھہرائیں (جیسے میاں اسمعیل دہلوی) ان سب صاحبوں کی نسبت کیاحکم ہے یہ حضرات ایك مشرك شرك جوشرك پسند شرك آموز کو پیروپیشوا وامام ومقتدابناکر سیدالعلماء ومقبول خدابتاکر خود بھی کافرومشرك ومستحق عذاب الیم ومہلك ہوئے یانہیں اور ان پربھی مسئلہ الرضاء بالکفر کفر (کفر پررضامندی کفرہے۔ )ومسئلہ من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر (جس نے اس کے کفر اور اس کے عذاب پرشك کیا وہ کافر ہوگیا۔ ت) وحکم آیہ کریمہ و من یتولهم منكم فانه منهم- (تم میں سے جوجس سے محبت کرتاہے وہ انہیں میں سے ہوگا۔ ت) وحدیث صحیح المرء مع من احب (آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتاہے۔ ت) جاری ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔ خیر یہ توجملہ معترضہ تھا پھراصل مبحث یعنی دربارئہ اعمال تجدید واختراع کی طرف چلئے یہی شاہ ولی اﷲصاحب اسی انتباہ میں قضائے حاجات کے لئے ختم خواجگان چشت قدست اسرارہم کی ترکیب بتاتے اوراس کے آخر میں یوں فرماتے ہیں :
حوالہ / References القرآن ۳ / ۱۸۷
القرآن ۵ / ۵۱
صحیح البخاری کتاب الادب ، باب علامۃ الحب فی اﷲ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۹۱۱
#11923 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
وہ مرتبہ درود بخواند ختم کنند وبرقدرے شیرینی فاتحہ بنام خواجگان چشت عموما بخوانند وحاجت ازخدائے تعالی سوال نمایند ہمیں طور ہرروزمیخواندہ باشندہ ان شاء اﷲ درایام معدودہ مقصود بحصول انجامد ۔ دس مرتبہ درودشریف پڑھ کر ختم دیں اور کچھ شیرینی پرخواجگان چشت کے نماز کی فاتحہ پڑھیں اور اﷲ تعالی سے اپنی حاجت کاسوال کریں یہ عمل روزانہ کریں ان شاء اﷲ چند روز میں مقصود حاصل ہوجائے گا۔ (ت)
مرزا مظہر جانجاناں صاحب اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں :
دعائے حزب البحروظیفہ صبح وشام وختم حضرات خواجگان قدس اﷲ اسرارہم ہرروزبجہت حل مشکلات بایدخواند ۔
حزب البحرشریف کاوظیفہ صبح وشام اور روزانہ خواجگان (قدس اسرارہم) کاختم مشکلات کے حل کے لئے پڑھیں ۔ (ت)
دوسرے مکتوب میں لکھتے ہیں :
ختم خواجہا رضی اللہ تعالی عنہم وختم حضرت مجدد رضی اللہ تعالی عنہ ہرروزبعد حلقہ صبح لازم گیرید ۔
ختم خواجگان اور ختم حضرت مجددصاحب ( رضی اللہ تعالی عنہم ) صبح حلقہ ذکر کے بعد ضروری کریں ۔ (ت)
مکتوب آخرمیں کہتے ہیں :
ختم حضرت خواجہا وختم حضرت مجدد رضی اللہ تعالی عنہم نیزاگر یاراں جمع آیند بعد ازحلقہ صبح براں مواظبت نمایند کہ ازمعمولات مشائخ ست وفائدہ بسیار وبرکت بے شماردارد ۔
ختم خواجگان و ختم حضرت مجددصاحب رضی اللہ تعالی عنہم صبح کے حلقہ ذکرکے بعد پابندی سے کریں کیونکہ یہ مشایخ کے معمولات میں سے ہے بہت مفید اور بابرکت ہے۔ (ت)
اور مرزاصاحب موصوف کے معمولات مسمی بہ معمولات مظہری سے اس کی ترکیب یوں منقول :
اول دست برداشستہ سورہ فاتحہ یکبار بخواند الخ
پہلے ہاتھ اٹھاکر ایك بارسورہ فاتحہ پڑھیں الخ (ت)
حوالہ / References الانتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ ذکر طریقہ ختم خواجگان چشت مطبوعہ آرمی برقی پریس دہلی ص۱۰۰
ملفوظات مرزا مظہرجانجاناں ازمجموعہ کلمات طیبات ملفوظات مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۷۴
مکتوبات ازمجموعہ کلمات طیبات ملفوظات مکتوب بست وہشتم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۴۱ و ۴۲
ملفوظات ازمجموعہ کلمات طیبات ملفوظات نصائح ووصایا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۹۲
معمولات مظہری حاشیہ برعبارت مذکورہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ۹۲
#11924 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
اخیرمیں لکھا :
بعدازاں ازجناب خدائے عزوجل حصول مطالب بتوسل ایں بزرگواراں باید خواست وتاسرانجام مقصود مداومت بایدنمود الخ اس کے بعد اﷲ تعالی سے اپنی حاجت کے حصول کے لئے ان بزرگوں کے توسل سے دعاکرنی چاہئے تاکہ انجام میں دائمی طورپر مقصدظاہر ہوجائے الخ(ت)
ان صاحبوں سے کوئی نہیں کہتا کہ یہ طریقے قرون ثلثہ میں کہاں منقول ہیں ان میں کچھ ثواب یاتقرب الی اﷲ کی امیدہوتی توصحابہ ہی بجالاتے اور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی فاتحہ شیرینی پردلاتے والحمدﷲ علی وضوح الحق (حق کے واضح ہونے پر اﷲتعالی کی حمد ہے۔ ت)
ثالثا خیر صلوۃ الاسرار شریف تو ایك عمل لطیف ہے کہ مبارك بندہ اپنے حصول اغراض ودفع اعراض کے لئے پڑھتاہے مزاج پرسی ان حضرات کی ہے جو خاص امور ثواب وتقرب رب الارباب میں جومحض اسی نیت سے کئے جاتے ہیں ہمیشہ تجدید واختراع کوجائز مانتے اور ان محدثات کوذریعہ وصول الی اﷲ جانتے ہیں وہ کون شاہ ولی اﷲ شاہ عبدالعزیز مرزامظہرجانجاناں شیخ مجددالف ثانی مولوی اسمعیل دہلوی مولوی خرم علی بلہوری وغیرہم جنہیں منکرین بدعتتی وگمراہ کہیں تو کس کے ہوکررہیں خود شاہ ولی اﷲ قوال الجمیل میں اپنے اور اپنے پیران مشائخ کے آداب طریقت واشغال ریاضت کی نسبت صاف لکھتے ہیں :
لم یثبت تعین الاداب ولاتلك الاشغال ۔
یہ خاص آداب واشغال نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت نہ ہوئے۔ (ت)
شاہ عبدالعزیزصاحب حاشیہ قول الجمیل میں فرماتے ہیں : اسی طرح پیشوایان طریقت نے جلسات و ہیأت واسطے اذکار مخصوصہ کے ایجاد کئے ہیں مناسبات مخفیہ کے سبب سے جن کو مرد صافی الذہن اور علوم حقہ کا عالم دریافت کرتاہے (الی قولہ) تو اس کو یاد رکھنا چاہئے انتھی بترجمۃ البلھوری۔ مولوی خرم علی صاحب مصنف نصیحۃ المسلمین اسے نقل کرکے لکھتے ہیں : یعنی ایسے امور کومخالف شرع یاداخل دعات سیہ نہ سمجھناچاہئے جیسا کہ کم فہم سمجھتے ہیں انتہی۔
حوالہ / References معمولات مظہری ازمجموعہ کلمات طیبات حاشیہ برعبارت مذکور نصائح ووصایا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۹۲
القول الجمیل مع شفاء العلیل گیارہویں فصل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۷۳
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل چوتھی فصل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۵۱
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل چوتھی فصل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۵۲
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل چوتھی فصل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۵۲
#11925 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
اور سنئے اسی قول الجمیل میں اشغال مشائخ نقشبندیہ رحمۃ اﷲتعالی علیہم میں تصور شیخ کی ترکیب لکھی کہ :
ثالثھا الرابطۃ بشیخۃ فاذا صحبہ خلی نفسہ من کل شیئ الامحبتہ وینتظر لمایفیض منہ واذا غاب الشیخ عنہ یخیل صورتہ بین عینیہ بوصف المحبۃ والتعظیم فتفید صورتہ ماتفید صحبتہ اھ ملخصا۔
یعنی تیسراطریقہ وصول الی اﷲ کارابطہ شیخ ہے جب شیخ کی صحبت میں ہو تو اپنادل اس کی محبت کے سواہرچیزسے خالی کرے اور فیض کامنتظر ہو اور جب شیخ غائب ہوتواس کی صورت اپنے پیش نظر محبت وتعظیم کے ساتھ تصور کرے جوفائدے اس کی صحبت دیتی تھی اب یہ صورت دے گی اھ ملخصا(ت)
شفاء العلیل میں شاہ عبدالعزیزصاحب سے نقل کیاحق یہ ہے کہ “ سب راہوں سے یہ راہ زیادہ قریب ہے “ انتہی۔ اب کون کہے کہ یہ وہی راہ ہے جسے آپ کے سچے معتقدین ٹھیٹ بت پرستی بتائیں گے مرزاصاحب نے اگرچہ کتاب وسنت کوطرق حادثہ سے افضل مانا اور بے شك ایساہی ہے مگر ان کے بھی مباح ومفید ہونے کی تصریح فرمائی مکتوب ۱۱میں لکھتے ہیں :
ذکرجہر باکیفیات مخصوصہ ونیز مراقبات باطوار معمولہ کہ درقرون متاخرہ رواج یافتہ از کتاب و سنت ماخوز نیست بلکہ حضرات مشایخ بطریق الہام و اعلام ازمبدئہ فیاض اخذ نمودہ اند وشرع ازاں ساکت ست ودائرہ اباحت وفائدہائے دراں متحقق وانکار آں ضرورنے ۔
آخری زمانہ جوذکربالجہر مخصوص کیفیت کے ساتھ ہورہاہے نیزمراقبات جن کاعمل جاری ہے یہ کتاب وسنت سے ماخوذ نہیں بلکہ یہ مشائخ کرام نے بطورالہام مبدئہ فیاض سے پایاہے اور شریعت اس کے منع پر خاموش ہے لہذا یہ دائرئہ اباحت میں داخل ہے اس میں فائدہ ہے اس کا انکار ضروی نہیں ۔ (ت)
اور سنئے مکتوب ۶۱میں ہے :
اگرچہ ازمصحف مجیدفال زدن درحدیث شریف نیامدہ
اگرچہ نیك فال قرآن مجید سے نکالنا حدیث شریف میں
حوالہ / References القول الجمیل مع شفاء العلیل چھٹی فصل طریقہ مراقبہ بسیط مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۸۰۔ ۸۱
القول الجمیل مع شفاء العلیل چھٹی فصل طریقہ مراقبہ بسیط مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص ۸۰
مکتوبات مرزامظہرجانجاناں ازمجموعہ کلمات طیبات مکتوب یازدہم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۳
#11926 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
اماممنوع ہم نیست اگرکسی عــــہ زند مضائقہ ندارد ۔
مذکورنہیں لیکن ممنوع بھی نہیں اگرکوئی نکالے تو مضائقہ نہیں ۔ (ت)
انہیں کے ملفوظات میں ہے :
حضرت مجدد رضی اللہ تعالی عنہ طریقہ نوبیان نمودہ ومقامات وکمالات طریقہ خودبسیار تحریر فرمودہ ودراں مقامات ہیچ شبہ نیست کہ باقرار ہزاراں علماء عقلاء بتواترہ رسیدہ اھ ملخصا
حضرت مجددصاحب نے نئے طریقے بیان فرمائے ہیں اور اپنے طریقہ کے کمالات ومقامات کوخوب بیان فرمایاہے ان مقامات میں کوئی شك وشبہ نہیں کیونکہ ہزاروں علماء وعقلاء نے اس کی تصدیق فرمائی ہے جوتواتر کوپہنچی ہے اھ ملخصا (ت)
اسی میں ہے :
حضرت شاہ ولی اﷲ محدث رحمۃ اللہ تعالی علیہ طریقہ جدیدہ بیان نمودہ اندودرتحقیق اسرارمعرفت طرزخاص دارند مثل ایشاں درمحققان صوفیہ کہ جامع ازنددرعلم ظاہروباطن وعلم نوبیان کردہ اند چند کس گزشتہ باشند اھ ملخصا
حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اﷲتعالی نے جدیدطریقہ بیان فرمایاہے وہ معرفت کے اسرار کی تحقیق میں خاص طرز رکھتے ہیں اور یہ ان چندمحقق صوفیوں میں سے ہیں جنہوں نے ظاہری وباطنی علوم جمع فرمائے اور نئے علوم بیان کئے ہیں ایسے چندبزرگ ہوئے ہیں ۱ھ ملخصا (ت)

عــــہ : اقول : یہ جناب مرزاصاحب کاخیال تھا صحیح یہ ہے کہ قرآن عظیم سے فال کھولنا منع ہے حدیقہ ندیہ میں ہے :
قال والدی رحمہ اﷲ تعالی فی شرحہ علی شرح الدرر وفی کتاب التحفۃ اخذ الفال من المصحف مکروہ کذاذکرہ القھستانی یعنی کراھۃ التحریم الخ۱۲منہ دام ظلہ(م)
میرے والد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا درر کی شرح میں اور کتاب التحفہ میں ہے کہ قرآن پاك سے فال نکالنا مکروہ ہے قہستانی نے ایسے ہی ذکرکیاہے یعنی مکروہ تحریمہ ہے الخ ۱۲منہ دام ظلہ (ت)
حوالہ / References مکتوبات مرزامظہرجانجاناں ازمجموعہ کلمات طیبات مکتوب شصت ویکم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۵۶
ملفوظات مرزامظہرجانجاناں زمجموعہ کلمات طیبات ملفوظات مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ۷۰
ملفوظات مرزامظہرجانجاناں زمجموعہ کلمات طیبات ملفوظات مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ۸۳ و ۸۴
#11927 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
میاں اسمعیل دہلوی صراط مستقیم میں لکھتے ہیں :
اشغال مناسبہ ہروقت وریاضات ملائمہ ہرقرن جداجدا می باشند ولہذا محققال ہروقت ازاکابر ہرطرق درتجدید اشغال کوششہاکردہ اند بناء علیہ مصلحت دیدوقت چناں اقتضاکردکہ یك باب ازیں کتاب برائے بیان اشغال جدیدہ کہ مناسب ایں وقت ست تعیین کردہ شود الخ
ہروقت کے مناسب وظائف اورہرزمانہ کے لائق ریاضتیں جداجداہیں لہذا ہرزمانہ کے محققین نے ہرسلسلہ کے اکا برین سے نئے وظائف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اس بناپر میں نے مصلحت دیکھی کہ وقت کاتقاضا ہے کہ اس کتاب کا ایك باب نئے وظائف و اعمال میں جو اس وقت کے مناسب ہوں کے لئے معین کروں ۱الخ
اب خداجانے یہ حضرات بدعتی کیوں نہ ہوئے اور انہیں خاص ان اموردینیہ میں جومحض تقرب الی اﷲ کے لئے کئے جاتے ہیں نئی نئی باتیں جو قرآن میں حدیث میں نہ صحابہ میں نہ تابعین میں نکالنی اور عمل میں لانی اور ان سے امید وصول الی اﷲ رکھنی کس نے جائزکی۔
مسئلہ : قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من سئل عن علم فکتمہ الجمہ اﷲ یوم القیمۃ بالجام من نار اخرجہ احمدوابوداود والترمذی وحسنہ والنسائی وابن ماجۃ والحاکم وصححہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس سے کوئی علمی بات پوچھی جائے وہ اسے چھپائے اﷲتعالی روزقیامت اسے آگ کی لگام دے گا۔ اس حدیث کو ابوداؤد ترمذی نے تحسین کی۔ نسائی ابن ماجہ حاکم نے ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اسے صحیح روایت کیا۔ (ت)
اب کیافرماتے ہیں علمائے ملت اسمعیلیہ ھدھم اﷲ تعالی الی الشریعۃ الحقۃ الابراھیمیۃ (اﷲتعالی شریعت حقہ ابراہیمیہ کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے۔ ت) کہ دین خدا میں ایسی نئی نئی باتیں نکالنا اور یہ اقرارکرکے کہ کتاب وسنت سے اس کاثبوت نہیں ان پرعمل کرنا اور انہیں موجب ثواب وقرب رب الارباب سمجھنابدعت سیئہ نشیعہ ہے یانہیں اور یہاں حدیث من احدث فی امرنا مالیس منہ فھو
حوالہ / References صراط مستقیم قبیل باب اول مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور ص۷
سنن ابوداؤد باب کراہیۃ منع العلم مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۵۹ ، جامع الترمذی باب ماجاء فی کتمان العلم مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۸۹ ، مسنداحمدبن حنبل مروی ازمسند ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ / ۳۰۵ ، ۳۴۴ ، ۳۵۳ ، ۴۵۹
#11928 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
رد (جس نے ہمارے دین میں نئی بات نکالی جو اس میں نہیں تو وہ مردودہے۔ ت) وحدیث کل بدعۃ ضلالۃ (ہربدعت گمراہی ہے۔ ت) وکل ضلالۃ فی النار (اور ہرگمراہی جہنم میں ہے۔ ت)وحدیث شرالامورر محدثاتھا سب سے بری بات نئے امورہیں ۔ ت) وحدیث اصحاب البدع کلاب اھل النار (بدعت والے جہنم کے کتے ہیں ۔ ت) واردہوں گی یانہیں اور جن صاحبوں نے یہ باتیں ایجادفرمائیں آپ کیں اوروں سے کرائیں کتابوں میں لکھیں زبانی بتائیں حسب تصریح تقویۃ الایمان ان کے اصل ایمان میں خلل آیایانہیں اور وہ بدعتی فاسق مخالف سنت قرارپائے یانہیں اور ان سے کہاجائے گا یانہیں کہ صحابہ وحسنات پرتم سے زیادہ حریص تھے بھلائی ہوتی تو وہی کرجاتے اور میاں بشیرقنوجی یہاں بھی ہیأت عبادات کو توفیقی بتائیں گے یانہیں پھرجولوگ ان صاحبوں کوامام وپیشوا جانتے اور ان کی مدح وستائش میں حد سے زیادہ غلو کرتے ہیں (جیسے شاہ ولی اﷲ مداح ومعتقد مرزامظہرصاحب اور شاہ عبدالعزیز وصاف ومرید شاہ ولی اﷲ صاحب اور مولوی اسمعیل غلام وبادخوان ہردوشاہ صاحب اور تمام حضرات وہابیہ مداحین ومتعقدین جمیع صاحبان مذکورین) ان سب کے بارے میں کیاحکم ہے آیابحکم حدیث من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام (جس نے بدعت والے کی تعظیم کی اس نے اسلام کوڈھانے میں مدد کی۔ ت)یہ سب کے سب قصراسلام کے ڈھانے والے ہوئے یانہیں یایہ احکام صرف مجلس میلاد
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب الصلح مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۷۱ ، صحیح مسلم کتاب الاقضیہ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۲ / ۷۷ ، السنن الکبرٰی کتاب آداب القاضی مطبوعہ دارصادر بیروت ۱۰ / ۱۱۹
صحیح مسلم کتاب الجمعہ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۲۸۵ ، سنن ابن ماجہ باب اجتناب البدع والجدل مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۶
درمنثور تحت آیۃ من یہدی اﷲ فھوالمہتدی مطبوعہ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ قم ایران ۳ / ۱۴۷
صحیح مسلم کتاب الجمعہ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ص۲۸۵ ، مشکوٰۃ المصابیح باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، فصل اول مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۷
کنزالعمال فصل فی البدع حدیث ۱۰۹۴ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۱۸
مشکوٰۃ المصابیح باب الاعتصام والسنۃ فصل سوم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۱ ، کنزالعمال فصل فی البدع حدیث ۱۱۰۲ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۱۹
#11929 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
وغیرہ انہیں امور کے لئے ہیں جن میں محبوبان خدا کی محبت وتعظیم ہوباقی سب حلال وطیب اور شاہ عبدالعزیزصاحب نے کہ تصوربرزخ کواتناپسند کیاکہ اسے سب سے زیادہ قریب تر راستہ خداکابتایا اور مولوی خرم علی صاحب نے اسے نقل کرکے مسلم رکھا یہ دونوں صاحب مع اصل کاتب یعنی شاہ ولی اﷲ صاحب پھر ان صاحبوں کے معتقدین ومداح سب کے سب مشرك وشرك پرست ٹھہرے یانہیں یایہ حضرات احکام شرع س مستثنی ہیں اور تقویۃ الایمان و تذکیرالاخوان وغیرہما کی آیتیں حدیثیں صرف مؤمنین اہل سنت کو جو
خاندان عزیزی سے نہ ہوں معاذاﷲ مشرك بدعتی بنانے کے لئے اتری ہیں بینواتوجروا۔
سبحان اﷲ ان صاحبوں کے یہ احداث واختراع سب مقبول ہوں اور ناجائز وبدعت ٹھہرے تو وہ نماز جو حضور پرنور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے قضائے حاجات کے لئے ارشاد فرمائی ع
ببیں تفاوت رہ ازکجاست تابکجا
(دیکھ راستہ کہاں سے کہاں تك ٹیڑھا ہے)
حق جل علامسلمانوں کو نیك توفیق بخشے اور اپنے محبوبوں کی جانب میں معاذاﷲ بدعقیدہ نہ کرے خصوصا حضورسید المحبوبین مطلوب المطلوبین رضی اللہ تعالی عنہ وعنہم اجمعین آمین۔ یہ ہے جواس گدائے سرکار فیضبار قادریہ پربرکات ونعمات حضورپرنور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے فائض ہوا ع
گرقبول افتدزہے عزوشرف
گدائے بے نوافقیرناسزااپنے تاجدارعظیم الجو عمیم العطا کے لطف بے منت وکرم بے علت سے اس صلے کاطالب کہ عفووعافیت وحسن عاقبت کے ساتھ دارناپائدار سے رخصت ہوتے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عزیز پسر بتول زہرا کے لخت جگر علی مرتضی کے نورنظر حسن وحسین کے قرئہ بصر محی سنت ابی بکر و عمر صلی اﷲتعالی علی الحبیب وعلیھم وسلم یعنی حضورغوث صمدانی قطب ربانی واہب الآمال ومعطی الامانی حضور پرنور غوث اعظم قطب عالم محی الدین ابومحمد عبدالقادر حسنی حسینی جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ وارضاہ وجعل حرزنا فی الدارین رضاہ کی محبت وعشق وعقیدت واتباع واطاعت پرجائے او جس دن یوم ندعوا كل اناسۭ بامامهم- (جس دن ہرجماعت کوہم اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ ت) کاظہورہویہ سراپاگناہ زیرلوائے بیکس پناہ سرکارقادریت ظل آلہ جگہ پائے
حوالہ / References القرآن ۱۷ / ۷۱
#11930 · انھارالانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کے پانی سے انوار کی نہریں) (نمازغوثیہ کے ثبوت میں تحقیق رضوی)
فان ذلك علی اﷲ یسیر ان اﷲ علی کل شیئ قدیر بحمد اﷲ وقع الفراغ من تسویدہ لثمان خلون للقمر الزاھر من شھرسیدنا الغوث الفاخر اعنی شھرربیع الاخر فی ثلثۃ مجالس من ثلث غدوات وعام الف وثلث مائۃ وخمس من ھجرۃ سید الکائنات علیہ وعلی الہ وابنہ الوارث لمجدہ وکمالہ افضل الصلوات واکمل تسلیمات وازکی التحیات وانمی البرکات امین امین والحمدﷲ رب العلمین واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
پس بیشك یہ اﷲتعالی کے لئے آسان ہے اﷲتعالی ہرچیزپر قادر ہے بحمداﷲ تعالی اس رسالہ کے مسودہ سے ۸ربیع الثانی ۱۳۰۵ھ کوفراغت ہوئی یہ مسودہ تین دن کی تین مجلسوں میں تیارہوا۔ سیدالکائنات پران کی آل پر اور آپ کے بیٹے جوآپ کی بزرگی اور کمال کے وارث ہیں پرافضل دروداور کامل سلام اور پاکیزہ تعریفیں اور بڑی برکات ہوں آمین آمین اور سب تعریفیں اﷲ رب العالمین کے لئے ہیں اﷲ سبحانہ وتعالی زیادہ علم والاہے اور اس کاعلم بڑاہے اور اس کی بزرگی مضبوط اور تام ہے۔ (ت)
_________________
#11931 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط ۵
شکرالك یامن بالتوسل الیہ یغفر کثرالذنوب وحمدا لك یامن بالتوکل علیہ یجبر کسر القلوب اسألك ان تصلی وتسلم وتبارك علی سراج افقک وملجأ خلقک وافضل قائم بحقک المبعوث بیتیسرك ورفقک رحمۃ للعلمین و شفیعا للمذنبین و امانا للخائفین و یسرا للبائسین(سخت حاجت مند۱۲) وبشری للائسین(ناامیداں ۱۲) محمدن النبی الرؤف الرحیم الجواد الکریم العلی العلیم الغنی الحی الحکیم الحلیم ومصحح الحسنات مقیل العثرات قاضی الحاجات
تیراشکر ہے اے ایسی ذات جس کی طرف وسیلہ پیش کرنے سے کثیرگناہ معاف ہوتے ہیں اور تیری حمد ہے اے وہ ذات کہ جس پرتوکل سے شکستہ دلی ختم ہوجاتی ہے اے اﷲ! میں تجھ سے سوال کرتاہوں کہ رحمت سلامتی اور برکتیں نازل فرما اس پرجوتیری کائنات کاچراغ اور تیری مخلوق کامل جا اور تیرے حق کے لئے قائم لوگوں سے افضل اور تیری سہولت اور مہربانی لے کرمبعوث ہونے والے رحمۃ للعالمین اور شفیع المذنبین اور ڈرنے والوں کے لئے امان اور حاجت مندوں کی سہولت اور ناامید ہونے والوں کے لئے بشارت رؤف رحیم نبی کرم والے سخی بلندمرتبہ بڑے علم والے غنی تابندہ حکمت والے بردبار نیکیوں کوبنانے والے غلطیوں کو مٹانے والے حاجتوں کوپوراکرنے والے مرادیں
#11932 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
واھب المرادات صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی الہ الطاھرین واصحابہ الظاھرین وازواجہ الطیبات امھات المؤمنین واولیاء امتہ الکاملین العارفین وامناء ملتہ الراشدین المرشدین لاسیما علی ھذا الفرد الفرید الغوث المجید الغیث المجید واھب النعم سالب النقم کاسب العدم صاحب القدم جود الجود وکرم الکرم ملاذالعرب ومعاذ العجم مناح العطایا مناع الرزایا القطب الربانی الغوث الصمدانی سیدنا ومولنا ابی محمد عبدالقادر الحسنی الحسینی الجیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ و ارضاہ وجعل حرزنا فی الدارین امین امین یاارحم الراحمین واشھدان محمدا عبدہ ورسولہ بالرحمۃ ارسلہ صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلی کل محبوب ومرضی لدیہ امابعد فقدسألنی الفاضل الکامل جمیل الشمائل جامع الفضائل والفخر الجسیم والشرف العظیم مولانا الشاہ محمد ابراہیم القادری المدراسی الحیدرابادی جعلہ اﷲ من اولی الایادی وحفظہ من شرالعادی
اجازۃ الصلوۃ الغوثیۃ المبارکۃ المرضیۃ المعروف عندنا بصلوۃ الاسرار المجربۃ مرارالقضاء الاوطار ودفع
الاشرار تحسین ظن منہ بھذا العبد
برلانے والے محمدصلی اﷲ علیہ وآلہ والطاہرین اور حق کوظاہرکرنے والے صحابہ اور اس کی پاك ازواج پرجو مومنین کی مائیں ہیں اور اس کے کامل عارف اولیاء امت ہدایت یافتہ رہنما اس کی امت کے امینوں پرخصوصا ایسی یکتا منفرد غوث بزرگی والے برکت دینے والی بارش انعامات دینے والے محروموں کوبنانے والے تسلط والے سخیوں کے سخی کریموں کے کریم عرب وعجم کی جائے پناہ عطیات دینے اور مصیبتوں کودفع کرنے والے قطب ربانی خدائی مدد ہمارے آقاومولی ابومحمد عبدالقادر حسنی حسینی جیلانی پررضی اﷲعنہم اور جس کووہ راضی کرے اور اس کودونوں جہانوں میں ہمارے لئے محفوظ خزانہ بنائے آمین آمین یاارحم الراحمین اور میں گواہ ہوں کہ اﷲ تعالی وحدہ لاشریك ہے اور گواہ ہوں کہ بیشك محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کے خاص بندے اور اس کے خاص رسول ہیں جن کو اس نے رحمت بناکر بھیجاہے اس پراﷲ کی رحمتیں اور سلام ہو اور ہراس پرجواس کامحبوب اور پسندیدہ ہو۔ امابعد کامل فاضل اچھے اخلاق والے فضائل کے جامع بڑے فخر عظیم شرف والے مولانا شاہ محمدابراہیم قادری مدراسی حیدرآبادی (اﷲ تعالی ان کو صاحب قوت بنائے اور ان کو دشمنوں کے شرسے محفوظ فرمائے) نے مجھ سے “ صلوۃ غوثیہ “ مبارکہ پسندیدہ جوکہ ہمارے ہاں “ صلوۃ الاسرار “ کے نام سے معروف ہے کی جازت طلب کی یہ صلوۃ الاسرار قضائے حاجت اور دفع شر کے لئے بارہا مجرب ہے انہوں نے مجھ فقیر حقیر اپنے نفس پرظلم
#11933 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
الظلام الکثیر الاثام الفقیر الاذل الحقیر الارذل عبدالمصطفی احمدرضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی لطف اﷲ بہ وعفا عن ذنبہ واصلح عملہ وحقق املہ مع انی لست ھنالک ولا اھلا لذلک لکنی اجبتہ بالانقیاد واجزتہ بالمراد رجاء البرکۃ لی ولہ فی الدنیا والاخرۃ ان ربنا تعالی ھواھل التقوی واھل المغفرۃ کما اجازنی بہا سیدی ومولای وسندی ومأوای شیخی ومرشدی وکنزی وذخری لیومی وغدی تاج الکاملین سراج الواصلین حضرۃ السیدالشاہ ال الرسول الاحمدی المارھری رضی اﷲ تعالی عنہ بالرضی السرمدی بحق روایتہ لہا واجازتہ بھا عن شیخہ الاجل وعمہ الابجل الامام الاکمل والکرم الاشمل والقمر الاجمہ فرد عصرہ وقطب دھرہ ذی الفیض العظیم و الفضل المبین حضرۃ ابی الفضل شمس الملۃ و الدین السید الشاہ ال احمد اچھے میان المارھری رضی اﷲ تعالی عنہ بالرضوان لابدی عن ابیہ العریف النبیہ الغطریف البحر الطمطام والحبر الصمصام ذی الفناء والبقاء والوصول وللقاء حضرۃ السید الشاہ حمزۃ العینی المارھری علیہ الرضوان الدائم العلی القوی بسندہ المسلسل کابرا
کرنے والے نہایت گنہگار عبدالمصطفی احمدرضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہوئے یہ سوال کیا (اﷲتعالی ان پرمہربانی فرمائے اور ان کو معاف فرمائے اور ان کے اعمال کو درست فرمائے) حالانکہ میں اس قابل نہیں ہوں اور نہ ہی اس کااہل ہوں لیکن ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کہ دنیاوآخرت میں ہم دونوں کے لئے باعث برکت ہو (تقوی اورمغفرت کامالك صرف اﷲ تعالی ہی ہے) (ان کومیری طرف سے اجازت ہے جیسا کہ مجھے میرے آقا مولی جائے اعتماد مأوی اورمیرے شیخ مرشد سہارا خزانہ اور میرے آج اور کل کے لئے ذخیرہ اور کاملین کے تاج واصلین کے چراغ حضرت شاہ آل رسول احمدی مارہروی رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھے اجازت دی جیسا کہ ان کو روایت اور اجازت ملی ان کے عظیم شیخ اور ان کے بزرگوار چچا کامل امام وسیع کرم خوبصورت چاند اپنے زمانہ کے منفرد اور قطب عظیم فیض اور واضح فضیلت حضرت ابوالفضل ملت اور دین کے سورج سیدشاہ آل احمداچھے میاں مارہروی رضی اللہ تعالی عنہ سے اور ان کو اپنے والدگرامی عارف کامل مضبوط فہم بحربیکراں پختہ ماہر صاحب بقاء وفناء صاحب وصول وحضور حضرت شاہ حمزہ عینی مارہروی (ان پر اﷲ تعالی کی دائمی رضا) سے اسلاف دراسلاف سے ان کی مسلسل سندسے جوان کو بلنددربار مضبوط چوکھٹ مخلوق کے مرجع دربارقادریہ (وہاں کے رہنے والوں اور وہاں کے
#11934 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
عن کار عن الحضرۃ الرفیعۃ والسدۃ المنیعۃ مرجع البریۃ الحضرۃ القادریۃ علی حضارھا وخدامھا رضوان القادر فان اصلہا ماثور بطرق عدیدۃ عن الحضرۃ المجیدۃ کماذکرہ العلماء منھم الامام ابوالحسن نورالدین علی بن جریر عــــہ اللخمی الصوفی الشطنوفی فی بھجۃ الاسرار و الامام الاجل عبداﷲ بن الاسعد الیافعی الشافعی والفاضل علی بن سلطان محمدالقاری الھروی المکی والشیخ المحقق شیخ
خدام پر اﷲ تعالی کی رضاہو) سے حاصل ہوئی کیونکہ “ صلوۃ الاسرار “ کاثبوت متعددطرق سے منقول ہے برگزیدہ دربار سے جیسا کہ اس کو بہت سے علماء نے ذکرفرمایاہے جن میں امام ابوالحسن نورالدین علی بن جریر لخمی صوفی شطنوفی نے بہجۃ الاسرار میں اور امام اجل عبداﷲ بن اسعدیافعی شافعی و فاضل علی بن سلطان محمدالقاری الہروی المکی اور شیخ محقق علماء ہند کے شیوخ کے شیخ عبدالحق بن سیف الدین محدث دہلوی وغیرہم رحمۃ اﷲ
عــــہ : یجب ان یعلم انہ لیس بابن جھضم الذی تکلم فیہ الذھبی علی دابہ مع الصوفیۃ الکرام فی “ المیزان “ فانہ مقدم علی سیدنا الغوث رضی اﷲ تعالی عنہ بزمان وھذا معاصر الذھبی وبینہ وبین سیدنا واسطتان صحب المولی اباصالح قاضی القضاۃ نصرا صحب اباہ سیدی عبدالرزاق صحب اباہ سیدنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنھم وقد وصفہ الذھبی نفسہ فی “ طبقات القراء “ بالامام الاوحد وکذلك الامام الجلال السیوطی فی “ حسن المحاضرۃ “ اما نسبۃ الذھبی کتاب بھجۃ الاسرار الی ذلك فان کان لہ ایضا کتاب اسمہ ھذا فذاك والاشتباہ عظیم واجب التنبیہ۱۲ (م)
یا د رہے کہ یہ ابن جھضم نہیں ہے جن کے اولیاء کرام کے بارے میں خصوصی نظریات پر ذھبی نے اعتراض کیا ہے کیونکہ وہ غوث اعظم سے بہت پہلے کے ہیں یہ امام ذھبی کے معاصرہے جب کہ ان کے اور غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے درمیان دو واسطے ہیں انہوں نے قاضی القضاء نصر کی انہوں نے اپنے والد محترم نے حضرت عبدالرزاق کی انہوں نے اپنے والد حضرت غوث اعظم کی صحبت پائی جن کو خود امام ذھبی نے طبقات القراء میں ذکر فرمایا اور امام سیوطی نے بھی حسن المحاضرہ میں ذکر کیا امام ذھبی کے ابن جھضم کی طرف کتاب بہجۃ الاسرار کو منسوب کرنا جب درست ہوگا جب اس نام کی کوئی کتاب ان کی ہو ورنہ یہ نسبت درست نہیں ہے بلکہ ان کو اشتباہ ہوا ہے ۔ (ت)
#11935 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
اشیوخ علماء ھند عبدالحق بن سیف الدین المحدث الدھلوی وغیرھم رحمۃ اﷲ تعالی عیہم اجمعین انہ قال سیدنا ومولنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ من توسل بی فی شدۃ فرجت عنہ ومن استغاث بی فی حاجۃ قضیت لہ ومن صلی بعد المغرب رکعتین ثم یصلی ویسلم علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم یخطوا الی جھۃ العراق احدی عشرۃ خطوۃ یذکرفیہا اسمی قضی اﷲ تعالی حاجتہ ۔ قلت وفرجت وقضیت تحتملان صیغۃ المجہول لواحدۃ غائبۃ وصیغۃ المعلوم للواحد المتکلم وعلی ھذہ ترجمۃ الشاہ ابی المعالی رحمہ اﷲ تعالی فی التحفۃ القادریۃ وایاما کان فالحاصل واحد اولھما تحتمل الحقیقۃ الباطنۃ الذاتیۃ عـــــہ۱ والظاھرۃ عـــــہ۲ المستفادۃ
علیہم اجمعین سے منقول کہ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جس نے کسی مصیبت میں میراوسیلہ دیا تو اس کی مصیبت ختم ہوگی اور جس نے اپنی حاجت کے لئے مجھ سے مدد مانگی تو اس کی حاجت پوری ہوگی اور جس نے نمازمغرب کے بعد دو رکعتیں پڑھ کر صلوہ وسلام پڑھا اور پھر عراق کی جانب گیارہ قدم میرانام کہتے ہوئے چلا تو اﷲ تعالی اس کی حاجت کو پورا فرمائے گا۔ قلت “ فرجت “ اور “ قضیت “ دونوں صیغے واحدغیب مونث مجہول اور واحدمتکلم معلوم بن سکتے ہیں اور شاہ ابوالمعالی نے “ تحفہ قادریہ “ میں واحد متکلم معلوم کاترجمہ فرمایاہے (یعنی میں اس کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کروں گا) بہرحال جوبھی صیغہ ہو ماحصل ایك ہے کیونکہ پہلاصیغہ ہو تو یہ اﷲ تعالی کی طرف سے ذاتی باطنی حقیقت کااحتمال ہے جبکہ دوسرا
عـــــہ۱ : وھی التی تثبت بالذات من دون عطاء ولاالاستناد الی جعل وھذا مختص بصفات اﷲ سبحنہ وتعالی فحسب ۱۲(م)
عـــــہ۲ وھی التی حصلت بالعطاء ولاثبوت لھا الابالجعل وکذا جمیع صفات المخلوق کالعلم والقدرۃ والعطاء والعون حتی الوجود۱۲(م)
یہ بالذات ثابت ہے عطاء اور جعل کی طرف منسوب نہیں اور یہ صرف اﷲتعالی کی صفات سے مختص ہے اور بس۱۲۔ (ت)
یہ صرف عطاء سے حاصل ہے اس کا ثبوت اﷲتعالی کے عطا فرمانے پر جیسا کہ مخلوق کی تمام صفات ہیں مثلا انسان کا علم قدرت عطا امداد حتی کہ مخلوق کا وجود بھی عطائی ہے ۱۲(ت)
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکرفضل اصحابہ ، وبشراھم مطبوعہ مصطفی البابی الحلبی مصر ص۱۰۲
#11936 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
والاخری تتعین للاخیر والمرجع ماذکرہ رضی اﷲ تعالی عنہ اخر بقولہ قضی اﷲ تعالی حاجتہ ان الی ربك المنتھی ثم ان لمشایخنا قدست اسرارھم ورحمنا اﷲ تعالی بھم فی ھذا الصلوۃ طریقتین صغری وکبری والمعمول عندنا الاسھل الاشمل من حیث السوغ لکل احد من دون الاختصاص بالقائمین فی مجالی الشھود الھائمین فی فیافی الوجود ھی الطریقۃ الانیقۃ الصغری صفتھا بحیث یکون کالشرح لللفظ الکریم ویتضمن مختارات ھذا العبد الاثیم ان من عرضت لہ حاجۃ دینیۃ اودنیویۃ صلی بعد صلوۃ المغرب بسنتھا رکعتین من غیرفریضۃ ناویا صلوۃ الاسرار تقربا الی اﷲ تعالی و ھدیۃ لروح سیدنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ وان جددلھما الوضوء فھو اضوء و قد عھدنا ذلك من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی صلوۃ الحاجۃ والا فھوبسبیل من الرخصۃ فان توضأ فلیحسن وضوءہ ھکذا امر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ذلك المکفوف بصرہ واحب الی ان یقدم عـــــہ صدقۃ فانھا اسرع فی
صیغہ ظاہری حاصل کردہ حقیقت کامعین احتمال ہے لیکن وہ ہے جس کو خود حضورغوث اعظم نے بعد میں یوں ذکرفرمایا ہے کہ “ اﷲ تعالی اس کی حاجت پوری کرے گا کیونکہ تیرے رب کی طرف ہرچیز کی انتہی ہے “ ۔ پھرہمارے مشائخ ( رحمہم اللہ تعالی اور ان کے سبب ہم پررحم فرمائے) نے اس نماز کے بارے میں دوطریقے بتائے ہیں ایك مختصر اور دوسراطویل ہے اور ہمارے ہاں جومروج ہے وہ آسان اور جامع اورہرایك کے مناسب ہے یہ مرتبہ شہود پر فائز لوگوں یامرتبہ وجود میں طالبین کے لئے مخصوص نہیں یہ بہترین طریقہ اختصار والاہے اس کا طریقہ ایسا ہے جوخود لفظ (صلوۃ الاسرار) کی شرح جیسا ہے اور اس عاجز بندے کاپسندیدہ ہےکہ جس شخص کوکوئی حاجت درپیش ہوخواہ وہ دینی ہو یا دنیوی تووہ مغرب کی نماز کے بعد سنتوں کے ساتھ دورکعت “ صلوۃ الاسرار “ کی نیت سے اﷲ تعالی کی قربت اور حضور غوث اعظم کی روح کو ہدیہ کے لئے پڑھے اور اگر اس کے لئے نیاوضوکرے تویہ نورہوگا کیونکہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ایك نابینا کو یہ فرمایاتھا ورنہ نیاوضو ضروری نہیں مجھے تویہ پسند ہے کہ صلوۃالاسرار پڑھنے سے پہلے کوئی صدقہ کرے کیونکہ یہ عمل کامیابی جلدی لاتاہے اور مصیبتوں کے دروازوں کو خوب بند کرتاہے جبکہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے مناجات کیلئے

عــــــہ الافضل الاسرار بنص القران وھی
صدقہ میں افضل یہ ہے کہ پوشیدہ دے کیونکہ قران کا(باقی برصفحہ ایندہ)
#11937 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
الانجاح واسد لابواب البلاء وقدامر اﷲ تعالی من یناجی رسولہ ان یقدموا بین یدی نجوھم صدقۃ فنجوی اﷲ احق مع ان ھذہ الصلوۃ تشتمل علی نجوی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایضا والوجوب وان نسخ رحمۃ من اﷲ تعالی فلامریۃ فی الاستحباب ھذا یقرأ الاخلاص احدی عشرۃ مرۃ فھو احسن حتی اذا سلم حمد اﷲ تعالی واثنی علیہ بماھو اھلہ والافضل الصیغ عـــــہ الواردۃ عن النبی صلی اﷲ
پہلے صدقہ دینے کو اﷲ تعالی نے حکم دیا تو اﷲ تعالی سے مناجات میں اور زیادہ بہترہے باوجودیکہ اس نماز میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے بھی مناجات موجود ہے اگرچہ اس صدقہ کاوجوب منسوخ ہوچکا ہے جس میں امت کی آسانی ہے مگراستحباب کے طور پر جوازمیں کوئی شك نہیں ہے اس نماز میں فاتحہ کے بعد کوئی آسان سورت پڑھے بہترہے کہ سورہ اخلاص گیارہ بارپڑھے تو بہت اچھاہے نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اﷲتعالی کی حمدوثنا اس کی شان کے مطابق بجالائے اوراس میں بہتر وہ الفاظ ہیں جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تقی مصارع السوء کمافی الحدیث وفضائلھا اکثرمن ان تحصی والاحسن ان یتصدق بزوجین بفضل ذلك ورد حدیث وفلسان زوجان وخبزان زوجان ومن لم یجد فودعتان زوجان والودعۃ خرمھرہ ۱۲(م)
عـــــہ کقولہ اللھم لك الحمد حمد ایوافی نعمك ویکافیئ مزید کرمك وقولہ اللھم لك الحمد انت قیم السموت والارض ومن فیھن ولك الحمد انت ملك السموت والارض ومن فیھن ولك الحمد انت نورالسموت
یہ حکم ہے اور یہی برے احتمال سے بچاؤ ہے جیسا کہ حدیث میں بیان کیاگیاہے اور اس میں بہت زیادہ فضیلت ہے اور بہتریہ ہے کہ صدقہ میں جو دے دو کی تعداد دے دو۲پیسے دو۲روٹیاں اگراور کچھ نہ پائے توکم ازکم دوخرمہرے دے۱۲(ت)
اور جیسے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے منقول ہے اے اﷲ! تیرے لئے ایسی حمدجوتیری نعمتوں کے برابرہو اور مزید کرم کوکفایت کرے اور حضور کاارشاد کہ تیری حمد کہ توآسمانوں اور زمین کا نگران ہے اور تیری حمد کہ توآسمانوں اور زمین اور ان میں ہرچیز کامالك ہے اور تیری حمد کہ توزمین اور آسمانوں اور ان میں (باقی اگلے صفحہ پر)
#11938 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانہ لایقدر احدان یحمد الاحدکحمد احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومن احسنھا اللھم ربنالك الحمد حمد اکثیر اطیبا مبرکا فیہ کما تحب ربنا وترضی ملأ السموت وملأ الارض وملأ ماشئت من شیئ بعد ومنھا اللھم لك الحمد حمدا دائما مع دوامك ولك الحمد حمدا خالدا مع خلودك ولك الحمد حمد الا منتھی لہ دون مشیتك ولك الحمد حمدا دائما لایرید قائلہ الارضاك ولك الحمد حمدا عند کل طرفۃ عین وتنفس کل نفس
بطور حمدوثنا پڑھے ہیں کیونکہ حضورعلیہ السلام سے بڑھ کر بہترحمد اور اچھی ثنا کوئی نہیں کرسکتا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی بیان کردہ بہترین محامد میں ایك یہ ہے : اے اﷲ! ہمارے رب! تیرے لئے کثیر طیب مبارك حمد جیسے تجھے پسند ہے اور تو راضی ہے زمینیں اور آسمان اور ہروہ چیز بھرکر جس کوتوچاہے اور ان میں سے ایك اوریہ ہے : اے اﷲ! تیرے لئے دائمی حمد جیسا کہ تیرا دوام ہے اور تیری حمد جوباقی رہنے والی ہو تیری بقاء کے ساتھ تیری ایسی حمد جوتیری مشیت کے بغیرختم نہ ہو اور ایسی دائمی حمد جس کو بیان کرنے والا صرف رضاکا طالب ہو اور تیرے لئے ایسی حمد جوآنکھ کی ہرپلک

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والارض ومن فیھن وملك الحمد وقولہ اللھم لك الحمد فی بلائك وصنیعك الی خلقك ولك الحمد فی بلائك وصنیعك الی اھل بیوتنا ولك الحمد فی بلائك وصنیعك الی انفسنا خاصۃ ولك الحمد بما ھدیتنا ولك الحمد بما اکرمتنا ولك الحمد بما سترتنا ولك الحمد بالقران ولك الحمد بالاھل والمال ولك الحمد بالمعافاۃ ولك الحمد حتی ترضی ولك الحمد اذا رضیت یااھل التقوی واھل المغفرۃ الی غیرذلك من صیغ کثیرۃ۱۲ منہ(م)
ہرچیز کانورہے اور مالك حمدہے۔ اور آپ کایہ قول : اے اﷲ! تیری مخلوق کے لئے تیرے امتحان اور تیرے حکمت والے عمل پرتیری حمد۔ ہمارے گھروالوں کے لئے امتحان اور تیری کارسازی پرحمد۔ اور خاص ہماری جانوں میں تیرے امتحان وکارسازی پرحمد۔ ہمیں مستورکرنے پرتیری حمد قرآن سے تیری حمد اہل ومال دینے پر عافیت دینے پر تیری حمد حتی کہ توراضی ہوجائے تیرے لئے حمد ہے جب توراضی ہو اے تقوی اور مغفرت والو۔ اور ان جیسے دیگرالفاظ کثیرہ سے حمد پڑھے۱۲منہ (ت)
#11939 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
ومنھا اللھم لك الحمد کما ینبغی لجلال وجہك وعظیم سلطنك ومنھا اللھم لك الحمد شکرا ولك المن فضلا ومنھا اللھم لك الحمد کما تقول وخیرا ممانقول الی غیر ذلك مما وردت بہ الاحادیث فلیجمعھا اولیکتف ببعضھا ویعجبنی ان یختمھا بقولہ اللھم لااحصی ثناء علیك انت کما اثنیت علی نفسك فانہ من اجمع حمد واوسع ثناء علیہ سبحنہ وتعالی ومن لم یحسن من ذلك شیأ فلیقل الحمد ﷲ ثلثا اولیقرء الفاتحۃ اوایۃ الکرسی بنیۃ الثناء فلایجدن ثناء افضل منھا ثم یصلی ویسلم علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احدی عشرۃ مرۃ اذلایستجاب دعاء الابالصلوۃ علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وامر بالسلام احرازاللفضلین واحتراز اعن الخلاف فان من العلماء من کرہ الافراد ثم العبد یختار ھھنا الصلوۃ الغوثیۃ المرویۃ عن سیدنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ وھی اللھم صل علی (سیدنا عـــہ ومولنا) محمد
اورہرسانس کے وقت ہو اور ایك اور یہ ہے : اے اﷲ! تیرے لئے تیری ذات کے جلال اور تیری عظیم سلطنت کے شایان شایان حمد ہو او ر ایك یہ ہے : اے اﷲ ! شکربجالانے کے لئے تیری حمد اور تیرااحسان وفضل ہے اور ایك یہ ہے اے تیرے لئے وہ حمد جوتونے فرمائی اور وہ بہتر جوہم کرتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگرجواحادیث میں مروی ہیں سب کو یابعض کو پڑھے۔ اور مجھے توپسند ہے کہ آخر میں یہ حمد پڑھے : اے اﷲ! میں تیری ثناء کوبجانہیں لاسکتا جس طرح تونے خود اپنی ثنائی فرمائی ہے کیونکہ یہ حمد بہت جامع اور وسیع ہے۔ اور اگرکسی مذکورہ محامد میں سے کوئی حمد یادنہ ہو تو تین بار الحمد ﷲ پڑھ لے یاسورہ فاتحہ یاآیۃ الکرسی حمدوثنا کی نیت سے پڑھے ان سے بہترثناء نہ پاؤگے اور پھر آخر میں نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پردرودوسلام گیارہ مرتبہ پڑھے کیونکہ درود شریف کے بغیر کوئی دعاقبول نہیں ہوتی اور سلام کابھی حکم ہے تاکہ دونوں کی فضیلت ہوجائے۔ اور بعض علماء نے دونوں میں سے ایك پراکتفاء مکروہ قراردیاہے اس لئے دونوں کوملاکر پڑھنے سے اس خلاف سے بچے گا۔ پھرمجھ بندہ کو یہاں درودغوثیہ جو آپ سے مروی ہے

عــــہ اعلم ان لفظہ سیدنا ومولانا من زیادات للفقیرعلی مابلغنا عن مشایخنا وقدزاد امیر المؤمنین عمروابنہ عبداﷲ
سیدنا ومولانا کالفظ اس فقیر نے بڑھایاہے یہ لفظ ہمارے مشائخ کانہیں یہ اضافہ جائز ہے جیسا کہ امیرالمومنین عمرفاروق اور ان کے صاحبزادے عبداﷲ (باقی برصفحہ ایندہ)
#11940 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
معدن الجود والکرم والہ وسلم والعبد یقولھا ھکذا اللھم صل علی سیدنا ومولنا محمد معدن الجود والکرم والہ الکرام وابنہ الکریم وامتہ الکریمۃ یااکرم الاکرمین وبارك وسلم ثم لیتوجہ بقلبہ الی المدینۃ الطیبۃ ولیقل احدی عشرۃ مرۃ یارسول اﷲ یانبی اﷲ اغثنی وامددنی فی قضاء حاجتی یاقاضی الحاجات
ثم یخطو الی جھت العراق وھو من بلادنا بین الشمال والمغرب افادہ سیدی حمزۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وھی ایضا جھۃ المدینۃ المنورۃ و کربلاء والعبد الضعیف قداستخرج جھۃ حضرۃ بغداد من بلدتنا بریلی بالمؤامرۃ البرھانیۃ علی ان عرضہالحصہ ك عــــہ۱ وطولھا مد عــــہ۲ لح وعرض بریلی
پسندیدہ ہے اور وہ یہ ہے : اے اﷲ ! ہمارے آقا و مولی محمد جودوکرم کی کان پررحمت نازل فرما اور آپ کی آل پر اور سلامتی نازل فرما۔ جس کو یہ بندہ یوں پڑھتاہے : اے اﷲ! ہمارے آقاومولی محمد جودوکرم کی کان پر اور آپ کی برگزیدہ آل اور کریم بیٹے اور برگزیدہ امت پرصلوہ وسلام فرما اے برگزیدوں کے برگزیدہ اس کے بعد مدینہ منورہ کی طرف دلی توجہ کرکے گیارہ مرتبہ یوں پڑھے : یارسول اﷲ یانبی اﷲ! میری مدد کرو اور اے حاجات پوری کرنے والے! میری حاجت کے پوراہونے میں مدد فرماؤ۔
پھر عراق کی طرف قدم بڑھائے اور ہمارے ہاں عراق شمال مغرب میں ہے یہ میرے آقا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیاہے اور یہی مدینہ منورہ اور کربلا معلی کی جہت ہے اور اس عبدضعیف نے اپنے علاقہ بریلی سے دربار بغداد کی جہت جیومیٹری کی بنیاد پرمتعین کی ہے یوں کہ بغداد کاعرض لح ك اور اس کا طول مدلح اور بریلی کا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
رضی اﷲ تعالی عنھما علی تلبیۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واجاز العلماء زیادۃ السیادۃ فی الصلوۃ کما فی ردالمحتار فکیف فی غیرھا وقصۃ الترکی فی قرأۃ دلائل الخیرات معلومۃ والولایۃ مثل السیادۃ ۱۲(م)
عـــــہ۱ : ثلاث وثلاثون درجۃ وثلث ۱۲(م)
عـــــہ۲ : اربع واربعون درجۃ وثمان وعشرون دقیقۃ ۱۲(م)
رضی اللہ تعالی عنہما نے تلبیہ کے الفاظ میں زائد الفاظ شامل کئے اور ہمارے علماء نے بھی درودشریف میں “ سیدنا “ کالفظ بڑھایا جیسا کہ درمختار میں ہے تو اس کے غیرمیں بھی جائز ہوگا نیز دلائل الخیرات میں ترکی کاقصہ معلوم ہے جبکہ ولایت بھی سیادت کے معنی میں ہے۱۲(ت)
تینتیس درجے اور ایك ثلث ۱۲ (ت)
چوالیس درجے اور ۲۸ دقیقے (ت)
#11941 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
الح ص عـــہ۱ کا وطولہا عط حہ عـــہ۲ عط الرفجاء الانحراف الشمالی اعنی من نقطۃ المغرب الی نقطۃ الشمال لح ص عـــہ۳ لح فیستخرج خط الزوال ویقیم علیہ عمود الی المغرب ویدیر علیھما قوسا بجعل راس القائمۃ مرکزا فیجزیھا اخماسا عـــہ۴ ویصل خطابین الراس والخمس الاول مما یلی المغرب فھذا

الخط ھو سمت حضرۃ بغداد اما المدینۃ الکریمۃ فاربع درج اعنی ححہ نر من نقطۃ المغرب الی الشمال علی ما استخرجت بعدۃ طرق برھانیۃ احدی عشرۃ خطوۃ معتدلۃ معتادۃ فانہ المتبادر من الکلام لا مایفعلہ بعض العوام من انھم لایرفعون قدما ولایخطون خطوۃ وانما یتقدمون کل مرۃ نحو ثلاث اصابع اواربع فلیس ھذا من الخطوۃ فی شیئ وانما امرنا بالخطا فالعدول عنہا بدون ضرورۃ
عرض الح صہ اور اس کا طول عط الر ہے۔ اس سے شمالی انحراف یعنی نقطہ مغرب سے نقطہ شمال کی طرف لحصہ لح حاصل ہوا اب خط زوال نکال کہ راس پرقائمہ کی صورت میں عمود مغرب کی طرف کھینچاجائے اور خط زوال اور عمود پرقوس اس طرح بنایاجائے کہ رأس القائمہ کو مرکز قراردیاجائے اور قوس کے پانچ جز بنائے جائیں ا اور را س القائمہ اور مغرب کی طرف سے پہلے خمس کوخط کے ذریعے ملایاجائے تو یہ خط دربار بغداد کی جہت ہوگی۔ لیکن مدینہ منورہ نقطہ مغرب سے شمال کی جانب چاردرجے ہے

جیسا کہ میں نے جامیٹری کے متعددطریقوں سے معلوم کیاہے بغداد شریف کی طرف گیارہ قدم عادت کے مطابق درمیانے قدم چلے کیونکہ کلام سے یہی سمجھاجارہاہے اور بعض عوام کی طرح نہ کرے کہ وہ قدم چلنے کی بجائے ہرمرتبہ صرف تین یاچارانگشت آگے بڑھتے ہیں حالانکہ یہ قدم کافاصلہ نہیں کہلاتا جبکہ ہمیں گیارہ قدم کے بارے میں حکم ہے اس لئے بغیر ضرورت اور بلاعذر اس حکم سے عدول نہیں کرناچاہئے اور یہ عدول غلط ہے۔ ہاں اگر
عــــہ۱ : ثمان وعشرون درجۃ واحدی وعشرون دقیقۃ ۱۲(م)
عــــہ۲ تسع وسبعون درجۃ وسبع وعشرون دقیقۃ من قرنیص مرصد لندن ۱۲(م)
عــــہ۳ ثمانی عشرۃ درجۃ ومثلھا الدقائق ۱۲(م)
عـــــہ۴ اقتصر عی التخمیس لعدم الحاجۃ الی تدقیق الدقائق مع فیہ من الدقۃ ۱۲(م)
۲۸درجے اور ۲۱دقیقے ۱۲(ت)
۷۹درجے اور ۲۷دقیقے لندن کی قرنیص رصدگاہ سے ۱۲(ت)
۱۸درجے اور ۱۸دقیقے ۱۲(ت)
پانچ حصوں کوبیان کیاہے کیونکہ دقیقے بنانے میں دقت ہے ۱۲(ت)
#11942 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
عین الخطانعم ان کان فی مضیق لایجد مساغا للخطوات المعہودۃ ولاالخروج الی مندوحۃ فلیأت بما استطاع واشد شناعۃ من ھذا مارأیت بعضھم من انہ یصلی رکعتین حتی اذا کان فی اخرقرأۃ الاخری انحرف الی العراق فتخطی ثم عاد الی مکانہ فتوجہ نحوالقبلۃ واتم الصلوۃ ولایدری المسکین ان ھذا مع مخالفتہ للوارد عــــــہ۱ مفسد عــــــہ۲ لصلوتہ وابطال العمل حرام ثم النفل یجب بالشروع فیلزمہ القضاء وھو لایریدہ ولایدری بہ فیأثم مرتین عــــــہ۳ ولمثل ھذا ورد عــــــہ۴ فی الحدیث “ المتعبد بغیر فقہ کالحمار
عذر ہو مثلا جگہ تنگ ہو اور پورا قدم چلنے کی گنجائش نہ ہو اور کھلی جگہ نہ ملے تو پھر حسب گنجائش قدم کافاصلہ بنائے اور اس سے بڑھ کر قابل اعتراض وہ صورت ہے جو میں نے بعض جہال کوکرتے دیکھا کہ وہ دورکعت پڑھتے ہوئے دوسری رکعت کی قرأت کے آخر میں نماز میں ہی عراق کی طرف منہ پھیرکر چلتے ہیں اور گیارہ قدموں کے بعد پھر واپس پہلی جگہ پر لوٹ کر قبلہ رو ہوجاتے ہیں اور پھرنماز کومکمل کرتے ہیں ان غریبوں کویہ معلوم نہیں کہ یہ طریقہ مرویہ کے خلاف بھی ہے اور اس سے نمازبھی فاسد ہوجاتی ہے حالانکہ عبادت کوشروع کرکے توڑنا حرام ہے۔ چونکہ نفل ہیں اور نفل شروع کرنے سے لازم ہوجاتے ہیں اس لئے ان پردورکعتوں کی قضالازم ہے جبکہ اسے مسئلہ معلوم ہی نہیں توقضا کیاکرے گا لہذ اس کو دوہراگناہ ہے۔ ایسے ہی شخص کے بارے میں حدیث شریف
عــــــہ۱ : فی صفۃ ھذہ الصلوۃ عن سیدنا الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کما سمعت(م)
عــــہ۲ : لان المشی عمل کثیر (م)
عـــــہ۳ اثم الابطال حاضر الوقت واثم ترك القضاء یظھر عندالموت والعیاذ باﷲ تعالی (م)
عـــــہ۴ : اخرجہ ابونعیم فی الحلیۃ عن واثلۃ بن الاسقع رضی اﷲ تعالی عنہ ومثلہ قول علی کرم اﷲ وجہہ قصم ظھری اثنان جاھل متنستك وعالم متھتك نسأل اﷲ العفو و العافیۃ ۱۲(م)
اس نماز کو غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے بیان کردہ طریقہ میں جیسا کہ میں نے سنا ہے ۱۲(ت)
کیونکہ چلنا کثیر عمل ہے ۱۲(ت)
ایك جاری عبادت کوتوڑنا وقتی گناہ اور دوسراگناہ قضا کاترك جوموت کے وقت ظاہرہوگا العیاذباﷲ تعالی ۱۲(ت)
اس کی تخریج امام ابونعیم نے واثلہ بن الاسقع رضی اللہ تعالی عنہ سے اپنی کتاب حلیہ میں کی ہے اور ایسا ہی ایك قول حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ہے کہ دوچیزوں نے میری کمر توڑدی ہے ایك جاہل عامل نے اور دوسرے متشدد عالم نے۔ ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کے خواستگارہیں ۱۲(ت)
#11943 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
فی الطاحونۃ(آسیا) “ واکبر اثما منہ شیخہ الذی علمہ ھذا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم ھذا ولیکن عند التخطی علی ھیأۃ الھیبۃ والخضوع والادب والخشوع وانا احب ان یتخیل کانہ حاضر فی بغداد ومرقدہ رضی اﷲ تعالی عنہ بین عینیہ وھو راقد فیہ مستقبل القبلۃ الکریمۃ والعبد یتعمد کرمہ فیرید ان یتقدم الیہ اذ یعتریہ الحیاء من قبل المعاصی فیقف حیران کانہ یستأذن ویستشفع الیہ رضی اﷲ تعالی عنہ بسعۃ جودہ و وببشری مقالتہ “ ان عــــہ لم یکن مریدی جیدا فانا جید “ فبیناھو
میں آیاہے کہ بغیرعلم عبادت کرنے والا اس گدھے کی طرح ہے جو آٹے کی چکی میں جتاہو ایساعمل کرنے والے سے بڑھ کر اس کا وہ شیخ مجرم ہے جس نے اسے یہ طریقہ بتایاہے لاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم اور قدم چلتے وقت خشوع خضوع اور ادب وہیبت کی کیفیت ہونی چاہئے اور مجھے یوں پسند ہے کہ اس وقت یوں خیال کرے کہ وہ بغداد شریف میں آپ کی مرقد شریف کے سامنے حاضر ہے اور اسے دیکھ رہاہے اور یہ خیال کرے کہ حضور غوث اعظم اپنی قبرانور میں قبلہ رو سوئے ہوئے ہیں اور قدم چلنے والا بندہ آپ کے کرم پراعتماد کرتے ہوئے آگے بڑھنے کاارادہ کئے ہوئے ہے مگر اپنے گناہوں کے پیش نظر آگے جانے میں حیاکرتے ہوئے حیران کھڑا ہوجاتاہے اور گویا اب آپ سے بڑھنے کی اجازت طلب کرتاہے او ر آپ سے شفاعت طلب کررہاہے کیونکہ آپ کاجودوسخا وسیع ہے اور آپ کی یہ بات بشارت ہے کہ “ اگرمیرامریدخوب نہیں میں توخوب ترہوں ۔ “ قدم
عـــــہ : اخرج الامام الشنطوفی روح اﷲ تعالی روحہ فی بھجۃ الاسرار عن الشیخ القدوۃ ابی الحسن علی القرشی قال قال سیدی الشیخ محی الدین عبدالقادر الجیلی رضی اﷲ تعالی عنہ اعطیت
امام شنطوفی نے بہجۃ الاسرار میں شیخ امام ابوالحسن علی قرشی سے تخریج فرمائی ہے کہ میرے آقا حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ مدبصر تك دراز ایك دفتر مجھے عطاکیاگیا جس میں میرے(باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References حلیۃ الاولیاء عنوان ۳۱۸ خالد بن معدان عن واثلۃ بن الاسقع مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ۵ / ۲۱۹
بہجۃ الاسرار ومعدن الاسرار ذکر فضل اصحابہ وبشرٰھم مطبوعہ البابی مصر ص۱۰۰
#11944 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
کذلك وھو رضی اﷲ تعالی عنہ ینظرالیہ و یعلم فقرہ وحیائہ اذ یجیئ الکرم العمیم فیشفع للعبد الاثیم فکانہ رضی اﷲ تعالی عنہ یقول “ اذنت لھذا الفقر المضطر ان یخطو الی تلك الخطوات و یذکر فیھا اسمی ولایخشی المعاصی عندی فانی انا ضمینہ وکفیل مھماتہ فی الدنیا والاخرۃ “ فینشط العبد ویتقدم علی اقدام الوجد قائلا علی کل خطوۃ یاغوث الثقلین ویاکریم الطرفین فانہ رضی اﷲ تعالی عنہ حسنی الاب حسینی الام اغثنی وامددنی فی قضاء حاجتی یاقاضی الحاجات
بڑھانے والے کی اس کیفیت کو آپ دیکھ رہے ہیں اور اس کے فقروحیا کوجان کر آپ وسیع کرفرمائیں گے اور اس بندے گنہگار کی شفاعت فرمائیں گے اور گویا یہ فرمائیں گے کہ میں اس فقیر تنگدست کو اپنی طرف قدم بڑھانے کی اجازت دیتاہوں یہ چلتے ہوئے میرا نام ذکرکرے اور میرے پاس آکر اپنے گناہوں کافکر نہ کرے کیونکہ میں دنیاوآخرت میں اس کی مشکلات کا کفیل اور ضامن ہوں توبندہ یہ سن کر خوشی کااظہار کرتے ہوئے آگے بڑھتاہے اور ہرقدم پروجدانی کیفیت میں یاغوث الثقلین یاکریم الطرفین پکارتا ہے (کریم الطرفین اس لئے کہ آپ والد کی طرف سے حسنی اور والدہ کی طرف سے حسینی ہیں ) اور کہتاہے میری حاجت براری میں میری مدد کرو اے حاجات کو
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
سجلامدالبصر فیہ اسماء اصحابی ومریدی الی یوم القیمۃ وقیل لی قدوھبوالك وسألت مالکا خازن النار ھل عندك من اصحابی احدا فقال لاوعزۃ ربی و جلالہ ان یدی علی مریدی کالسماء علی الارض ان لم یکن مریدی جیدا فانا جید وعزۃ ربی و جلالہ لابرحت قدمای من بین یدی ربی حتی ینطلق بی وبکم الی الجنۃ اھ والحمدﷲ رب العلمین الکرم عمیم والرجاء عظیم ۱۲منہ (م)
ساتھیوں اور مریدین کے نام ہیں جوقیامت تك میرے سلسلے میں داخل ہوں گے مجھے کہاگیا یہ آپ کی ملکیت ہے اور میں نے جہنم کے خازن فرشتے سے پوچھا کہ کیا تیرے پاس میرے اصحاب میں سے کوئی ہے تو اس نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر حضورغوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ مجھے رب ذوالجلال کی عزت کی قسم کہ تمام مریدین پر میر اہاتھ ایسے ہے جیسے زمین پرآسمان سایہ فگن ہے۔ اور فرمایا : اگر میرا مرید خوب نہیں تومیں خوب ترہوں اور رب ذوالجلال کی عزت کی قسم میں اس وقت اﷲ تعالی کے دربار سے حرکت نہ کروں گا جب تك مجھے اور تم سب کوجنت کاپیغام نہ مل جائے گا الحمد ﷲ رب العلمین الکریم ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکرفضل اصحابہ وبشراہم مصطفی البابی مصر ص۱۰۰
#11945 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
ثم لیدع اﷲ سبحنہ وتعالی متوسلا الیہ بجاہ سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم بجاہ ابنہ ھذا السید الکریم غوثنا الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ ولیراع اداب الدعاء المذکورۃ فی کلمات العلماء کالحصن الحصین وغیرہ ومن احسن من فضلہا وجمع شتاتھا مقدام المحققین امام المدققین العالم الربانی سیدی ووالدی(عہ)قدس سرہ الزکی فی کتابہ الشریف “ احسن الوعالاداب الدعاء “ وقد لخصھا تلخیصا حسنا
پورا کرنے والے اس کے بعد اﷲتعالی سے حضورعلیہ السلام اور ان کے صاحبزادے (غوث اعظم) کے وسیلے سے دعا کرے مذکورہ دعامیں ان آداب کا خیال رکھے جو علماء کرام نے ذکرفرمائے جیسا کہ “ حصن حصین “ وغیرہ کتب میں مذکورہے۔ مختلف دعاؤں کوجمع کرنے اور فضیلت بیان کرنے والوں میں میرے والدگرامی نے اپنی کتاب “ احسن الوعاء لآداب الدعا “ میں بہترین دعاؤں کو ذکرفرمایا ہے اور پھر ان کاخلاصہ محققین کے امام مدققین کے پیشوا عالم ربانی میرے آقا والدگرامی قدرقدس سرہ نے اپنی بہترین کتاب
عــــــہ : ھو البحرالزاخر البدرالباھر النجم الزاھر حامی السنن ماحی الفتن العالم العامل الفاضل کامل الحاج الزائر الجامع المفاخر مولنا المولوی محمد نقی علی خان المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی اجل خلفاء حضرۃ شیخنا ومرشدنا بحر الرحمۃ مولی النعمۃ حضرۃ السید الشاہ آل الرسول الاحمدی مارھری قدس اﷲ تعالی سرھما وافاض علینا برھما ولدرحمہ اﷲ تعالی ستھل رجب۱۲۴۶ھ ونشأفی حجر العلم و العرفان تفقہ علی ابیہ الفاضل الاجل العارف الاکمل مولنا المولوی محمد رضا علی خاں قدس سرہ وصنف تصانیف
یہ گہراسمندر روشن چاند چمکنے والاستارہ سنت کی حمایت والااور فتنوں کومٹانے والا عالم باعمل کامل فاضل الحاج اور مدینہ منورہ کی زیارت والا فخرکاجامع مولانا مولوی محمد نقی علی خان محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی خلیفہ اجل حضرت ہمارے شیخ مرشد رحمت کے دریا نعمت کے مالک حضرت شاہ آل رسول احمدی مارہروی (قدس اﷲ سرہما) اﷲ تعالی ان کی بھلائی کاہم پرفیضان فرمائے آپ کی پیدائش ابتدائے رجب ۱۲۴۶ھ میں ہوئی انہوں نے علمی اور عرفانی ماحول میں پرورش پائی اور اپنے والد فاضل اجل عارف اکمل مولانا مولوی محمدرضاعلی خاں قدس سرہ سے علم حاصل کیا اور ۲۵کے قریب تصنیفات جلیلہ تصنیف فرمائیں اوران کتب میں سے یہ کتاب “ جواہرالبیان “ (باقی برصفحہ ایندہ)
#11946 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
فی باب الحج من کتابہ “ المستطاب جواھر البیان فی اسرار الارکان “ ولیبدأ بیاارحم الراحمین ثلثا فان من قالہ ناداہ ملك موکل بہ ان ارحم الراحمین قد اقبل علیك وبیا بدیع السموت والارض یاذالجلال والاکرام فانہ اسم اﷲ الاعظم علی قول وکذا تسبیح سیدنا ذی النون علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم ولیختمہ بامین عف ثلثا فانہ خاتم الدعاء ومماخص اﷲ تعالی بہ ھذہ الامۃ المرحومۃ وبالصلوۃ عف والسلام علی خاتم النبیین والحمدﷲ عف رب العلمین لیکون البدء وختم کلامھا بالصلوۃ علی واھب الصلوۃ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فان الدعاء طائروالصلوۃ جناحہ فبذلك یتم الجناحان ولان الصلوۃ علیہ علیہ الصلوۃ و
“ جواہرالبیان فی اسرارالارکان “ کے باب الحج میں بیان فرمایا اور دعا کی ابتداء میں “ یاارحم الراحمین “ تین مرتبہ کہے کیونکہ جو شخص یہ کہتاہے تو اس کو فرشتے جواب میں کہتے ہیں کہ بیشك ارحم الراحمین تیری طرف متوجہ ہے اور “ یابدیع السموت والارض یاذالجلال والاکرام “ بھی ابتداء میں پڑھے کیونکہ ایك قول کے مطابق یہ “ اسم اعظم “ ہے ایسے ہی حضرت سیدنا ذی النون علیہ السلام کی تسبیحات باری تعالی کو ابتداء میں پڑھے اور دعا کے آخر میں تین مرتبہ آمین کہے کیونکہ یہ دعا کی مہرہے اور یہ خاص اس امت مرحومہ کوعطیہ ہے اور دعا کے بعد حضور علیہ الصلاۃ والسلام پر درودوسلام اور “ الحمدﷲ رب العلمین “ پڑھے تاکہ دعا کی ابتدا اور اس کاخاتمہ نمازیں عطاکرنے والے نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے درودشریف پرہوجائے یہ اس لئے کہ دعا ایك پرندہ ہے اور درود شریف اس کے پرہیں اور اس لئے بھی کہ درودشریف مقبول ہے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
جلیلۃ تاقت خمسۃ وعشرین من اجلھا ھذا الکتاب “ جواھرالیبان “ الذی لم یرمثلہ فی بابہ والتفسیر الکبیرۃ لسورۃ الانشراح وسرور القلوب فی ذکر المحبوب واصول الرشاد لقمع مبانی الفساد واذاقۃ الاثام لما نعی عمل المولد والقیام وغیرذلك توفی سلخ ذی القعدۃ ۱۲۹۷ھ رحمہ اﷲ تعالی رحمۃ واسعۃ (م)
بے مثل ہے اور ایك سورہ الم نشرح کی تفسیرفرمائی ہے اور ایك سرورالقلوب فی ذکرالمحبوب اور ایك اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد اور اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام وغیرذلك ہیں اور آپ کی وفات آخرذیقعدہ ۱۲۹۷ھ میں ہوئی رحمۃ اللہ تعالی علیہ رحمۃ واسعۃ (ت)
#11947 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
السلام مقبولۃ لاشك فاذا استجیب الطرفان فاﷲ تعالی اکرم من ان یدع مابینھما ولیکن الدعاء وترا فان اﷲ وتر یحب الوتر ولیصل بعد کل مرۃ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانہ لم یرشیئ اجلب للاستجابۃ من الصلوۃ والسلام علی ھذا النبی الکریم علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والتسلیم ولیجتھد ان تخرج دمعۃ فانھا علم الاجابۃ فان لم یبك فلیتباك فمن تشبہ بقوم فھو منھم ثم المختار عندی ان یبقی حین الدعاء ایضا کما ھو مستقبل الجھۃ العراقیۃ فانھا کما اسمعناك جھۃ الشفعاء الکرام ولاعلیہ ان لاینحرف الی القبلۃ وقد عـــــہ سأل ابوجعفر المنصور ثانی الخلفاء العباسیۃ
توجب دعاء کے ابتداء وانتہاء میں درود ہوگا تواﷲتعالی کے کرم سے بعید ہے کہ وہ درمیان میں دعا کو قبول نہ فرمائے اور دعا میں وتر کالحاظ ہوناچاہئے کیونکہ اﷲ تعالی وترہے اور وتر کو پسندفرماتاہے اورہربار درودشریف پڑھے کیونکہ درودشریف سے بڑھ کر کوئی چیزمقبولیت کوحاصل کرنے والی نہیں ہے صلی اﷲ تعالی علی النبی الکریم وآلہ افضل الصلوۃ والتسلیم اور کوشش کرے کہ دعامیں آنسو نکلیں کیونکہ یہ بھی قبولیت کی علامت ہے اگررونانہ آئے تورونے والی صورت بنائے کیونکہ جوکسی کی مشابہت اختیارکرتاہے وہ بھی انہی میں شمارہوتاہے پھرمجھے یہ پسند ہے کہ دعاء کے وقت بھی عراق کی طرف متوجہ رہے کیونکہ یہ جہت شفاعت والوں کی ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں لہذا اس دعامیں قبلہ کی طرف متوجہ نہ رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ابوجعفرمنصور خلیفہ ثانی خاندان عباسیہ نے
عـــــہ قال الفقیر احمد رضا غفراﷲ تعالی لہ ابنأناسراج الحنفیۃ عبدالرحمن بن عبداﷲ السراج المکی عن مفتی الحنفیۃ جمال بن عمرالمکی عن المولی عابدالسندی المدنی عن الشیخ صالح الفلانی عن محمد بن سنۃ عن الشریف محمد بن عبداﷲ عن محمد بن ارکماش عن الحافظ ابن حجر العسقلانی عن ابی اسحق القنوجی عن ابی المواھب ربیع
فقیراحمد رضا غفرلہ کہتاہے کہ مجھے خبردی حنفیوں کے چراغ عبدالرحمن بن عبداﷲ سراج مکی نے انہوں نے حنفیوں کے مفتی جمال بن عمر مکی سے روایت کی انہوں نے آقا عابدسندی مدنی سے انہوں نے شیخ صالح فلانی سے انہوں نے محمدبن ارکماش سے انہوں نے حافظ ابن حجر عسقلانی سے انہوں نے ابواسحق قنوجی سے انہوں نے ابومواہب ربیع بن ابی عامر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
#11948 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
عالم المدینۃ مالك بن انس رضی اﷲ تعالی عنہ یاابا عبداﷲ استقبل القبلۃ وادعوام استقبل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال ولم تصرف وجھك عنہ وھو وسیلتك ووسیلۃ ابیك ادم علیہ السلام الی اﷲ عزوجل یوم القیمۃ بل استقبلہ واستشفع بہ فیشفعك اﷲ تعالی اھ فمن فعل ذلك موقنا بقبلہ
ایك دفعہ حضرت امام مالك عالم مدینہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیاکہ میں قبلہ روہوکر دعاکروں یا حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف متوجہ رہوں تو امام مالك رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے اپنا چہرہ نہ پھیرے کیونکہ وہ تیرا اور تیرے باپ حضرت آدم علیہ السلام کاقیامت کے روز اﷲ تعالی کے دربار میں وسیلہ ہیں بلکہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بن ابی عامر یحیی بن عبدالرحمن بن ربیع انا الحسن بن علی الغافقی اجازنا القاضی عیاض ثنا القاضی ابی عبداﷲ محمد بن عبدالرحمن الاشعری وابوالقاسم احمد بن بقی الحاکم وغیرواحد فیما اجازونیہ قالوا انا ابوعباس احمد بن عمر بن دلہاث نا ابوالحسن علی بن فھرابوبکر محمد بن احمد بن فرج ناابوالحسن عبداﷲ بن منتاب نایعقوب بن اسحق بن ابی اسرائیل ناابن حمید قال ناظر ابوجعفر امیر المؤمنین مالکا فذکر الحدیث وفیہ و قال یااباعبداﷲ ما استقبل الحدیث منہ یحفظہ اﷲ تعالی ابدا۔ (م)
یحیی بن عبدالرحمن بن ربیع سے انہوں نے کہا کہ مجھے حسن بن علی غافقی نے خبردی انہوں نے کہا کہ مجھے قاضی عیاض نے اجازت دی انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی قاضی ابوعبداﷲ محمد بن عبدالرحمن اشعری اور ابوالقاسم احمد بن بقی حاکم وغیرہم نے مجھے اجازت دی اور انہوں نے فرمایا کہ ہمیں بیان کیا ابوعباس احمد بن عمربن دلہاث نے انہوں نے کہا کہ مجھے بیان کیا ابوالحسن علی بن فہر ابوبکرمحمد بن احمد بن فرج نے انہوں نے کہا مجھے بیان کیا ابوا لحسن عبداﷲ بن منتاب نے انہوں نے کہا مجھے بیان کیا یعقوب بن اسحق بن ابی اسرائیل نے انہوں نے کہا مجھے بیان کیا ابن حمید نے اور کہا کہ ابوجعفر امیرالمومنین نے امام مالك سے بحث کی اور پوری حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ ابوجعفر نے کہا اے ابوعبداﷲ (مالک) ! میں کس طرف منہ کروں الحدیث۱۲منہ اﷲتعالی اس کی حفاظت فرمائے۔ (ت)
حوالہ / References کتاب الشفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ مطبعۃ شرکۃ صحافیۃ بلادعثمانیہ ۲ / ۳۵ ، نسیم الریاض شرح شفاء فصل واعلم ان حرمۃ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۹۸
#11949 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
غیرمستعجل من ربہ یقولبیان للاستعجالدعوت فلم یجب لی قضی اﷲ تعالی حاجتہ مالم یدع باثم اوقطیعۃ رحم فھذہ صفتھا واللفظ الکریم مکتوب فیھا بالحمرۃ وما علیہ خط احمر فھو الذی بلغنا عن مشایخنا قدست اسرارھم ومادون ذلك فھو من ھذا العبد الاثیم غفر اﷲ تعالی لہ ولیعلمن العارف ان ماذکرتہ لایرکن الی خلاف لذرۃ من الکلمات العلیۃ ولافیہ علیھا زیادۃ اجنبیۃ وانما ھو تصریح مطوی اوتوضیح منوی او تبیین مجمل اوتعیین افضل معتمدا فی ذلك علی احادیث کثیرۃ اشرت الیھا فی جمل یسیرۃ یعرفھا الماھر کالشمس فی فیئ ویمرالغافل کأن لم یکن شیئ فجاءت بحمداﷲ عروسا ملیحۃ مکشوفۃ النقاب عن عوارضھا الصبیحۃ بحلیتھا حلیتھا ثم اجتلیتھا فالحمدﷲ اولا و اخرا وباطنا وظاھرا و المامول من لطف مولنا الشاہ محمد ابراہیم وغیرہ من اخواننا القادریۃ سلمھم المولی الکریم
طرف متوجہ ہوکر ان کوشفیع بنا اﷲ تیرے لئے ان کی شفاعت قبول فرمائے گا جو شخص دلی یقین سے یہ دعا کرے گا اﷲ تعالی اس کی حاجت کوپورا فرمائے گا بشرطیکہ عجلت سے کام لیتے ہوئے مایوسی کااظہار نہ کرے کہ میں نے دعا کی اور قبول نہ ہوئی۔ یہ دعا قبول ہوگی جبکہ اس میں گناہ یاقطع رحمی کاسوال نہ ہو۔ “ صلوۃ الاسرار “ کا یہ طریقہ ہے (آپ کی طرف لکھی گئی تحریرمیں ) اصل منقول الفاظ سرخ سیاہی سے لکھے گئے ہیں اور جن الفاظ پر سرخ خط ہے وہ الفاظ ہمیں اپنے مشائخ کرام سے پہنچے ہیں ان کے علاوہ باقی الفاظ مجھ گنہگار بندے کے زائد کردہ ہیں اور عارف شخص ضرور جانے کہ میرے ذکرکردہ الفاظ اصل کلمات کے ذرہ بھر خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی یہ کوئی اجنبی زیادتی ہے بلکہ یہ مخفی کی تصریح اور نیت میں مراد کی وضاحت ہے یاپھر مجمل کابیان یا افضل کی تعیین ہے اور یہ سب کچھ کثیر احادیث سے اخذکردہ ہے جن کی طرف میں نے مختصر جملوں میں اشارہ کیاہے جن کو ماہرخوب جانتاہے جس طرح دھوپ اور سایہ کی معرفت رکھتاہے اور غافل شخص کوئی توجہ کئے بغیر گزرجائے گا الحمدﷲ صلوۃ الاسرار کاطریقہ دلکش دلہن جس کے خوبصورت رخسار سے نقاب اٹھایاگیاہو کی طرح واضح طورپرحاصل ہوگیا میں نے اس دلہن کو زیورات سے آراستہ کرکے مزید جلادی ہے الحمدﷲ اولا وآخرا باطنا وظاہرا۔ مجھے مولانا شاہ محمدابراہیم (سائل) کی مہربانی سے توقع اور امید ہے کہ وہ اور دوسرے ہمارے قادری بھائی (اﷲ تعالی ان کوسلامت رکھے) اس
#11950 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
ان لاینسوا ھذا الفقیر فی صالح دعائھم غب ھذہ الصلوۃ وفی سائرانائھم ویسمحوا لہ بسؤال المغفرۃ وکمال العافیۃ فی الدنیا والاخرۃ والعبد یدعولہ ولھم والدعاء یغنی عن ذروع بضمتین قلعہا۱۲ واطم لاسیما دعوۃ المسلم لاخیہ بظھر الغیب طھرنا اﷲ جمیعا من کل عیب ووقانا شرور الجھل والریب وحشرنا طرافی الامۃ المحمدیۃ والجماعۃ المبارکۃ اے جمیعا السنیۃ السنۃ والزمۃ الکریمۃ القادسۃ القادریۃ انہ علی مایشاء قدیر فنعم المولی ونعم النصیر۔
لطیفۃ نظیفۃ : بامرہ رضی اﷲ تعالی عنہ ان یخطوا احدی عشرۃ خطوۃ علم ان لھذا العدد مزیۃ اختصاص بالحضرۃ القادریۃ من زمنہ رضی اﷲ تعالی عنہ ولیس ان القادریین ھم اختاروہ لکون العرس الشریف فی الحادی عشرولکن لم اکن اعلم سرا فی ذلك حتی صلیت فی شاھجہان عــــہ اباد صلوۃ
الاسرار کوپڑھنے کے بعد کسی مرحلہ پربھی اس فقیر کو اپنی دعاؤں میں نہ بھولیں گے اور اس کے لئے مہربانی فرماتے ہوئے مغفرت اور دنیا و آخرت میں عافیت کی دعاکریں گے اور یہ بندہ بھی ان کے لئے دعاگو رہے گا حقیقت یہ ہے کہ ہتھیاروں اور قلعوں سے دعامستغنی کردیتی ہے خصوصا وہ دعا جو پس پشت مسلمان بھائی کے لئے کی جائے۔ میری دعاہے کہ اﷲ تعالی ہم سب کو ہرقسم کے عیب سے پاك فرمائے اور جہالت کے شروشك سے محفوظ فرمائے اور ہم سب کو امت محمدیہ میں اٹھائے ا ور اہل سنت وجماعت کی مبارك اور قیمتی جماعت اور سلسلہ کریمہ قادریہ میں شامل رکھے اﷲ تعالی جو چاہتاہے اس پرقادر ہے پس وہ اچھا مددگار اور اچھا آقاہے۔
پاکیزہ لطیفہ : حضور غوث اعظم کے حکم کے مطابق گیارہ قدم چلے اور یہ یقین کرے کہ اس عدد کو خاص مقبولیت دربارقادریہ سے حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ سے حاصل ہے اور یہ خیال نہ کرے بعد میں قادری سلسلہ والوں نے گیارہویں شریف کی مناسبت سے ایساکیاہے لیکن مجھے خود گیارہ قدموں کاراز معلوم نہ تھا حتی کہ ایك روز میں نے شاہجہاں آباد
عــــہ ھی قاعدۃ دیارالھند المعروفۃ بدھلی وکان ذلك سنۃ اثنتین بعدالالف وثلثمأتہ حین شددت الیہا رحلی قاصدا زیارۃ سیدہ سلطان المشایخ نظام الحق والدین قدس اﷲ تعالی سرہ المکین ۱۲منہ (م)
یہ ہندوستان کامرکزی مقام (ضلع) ہے جو دہلی کے نام سے معروف ہے اور یہ واقعہ ۱۳۰۲ھ کاہے جب میں وہاں سیدی سلطان المشائخ نظام الدین قدس سرہ کی حاضری کے ارادہ سے گیا ۱۲منہ (ت)
#11951 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
ذات لیلۃ صلوۃ الاسرار وانا مقبل علیھا بشرا شر عـــہ۱قلبی ماکانت منی التفاتۃ الی ذلك اذ لمعت بارقۃ سرجلیل فی خاطر کلیل واﷲ اعلم منی جاءت وکیف جاءت ماشعرت بھا الا وھی حلیلۃ ببالی فتأملتھا بعد الفراغ من الصلوۃ فاذا ھی کما اودو اشتھی وھی ان فی احد عشر عقدا وواحدۃ وھما عـــہ۲ بالحروف یاءوالف والمجموع یا ان
میں رات کے وقت صلوۃ الاسرار پڑھی اورمیں پوری توجہ قلبی سے مصروف تھا اور میرا ا س راز کی طرف ذرا بھی التفات نہ تھا کہ میرے دل پر ایك عظیم رازدار تجلی چمکی خدا کی قسم مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ کب اور کس طرح یہ چمك آئی جبکہ وہ میرے دل میں سرایت کرچکی تھی میں نے نماز سے فارغ ہوکر غوروتأمل کیا تو وہ میری مراد اور خواہش میری تمنا کے مطابق تھی وہ قلبی القاء یہ تھا کہ گیارہ کے عدد میں ایك دہائی اور ایك کاعدد ہے اور (ابجد کے حساب سے) دس کا حرف “ ی “ اور
عـــــہ ای بجمعی اجزائہ ۱۲(م)
عــــــہ اعلم ان مالایوجد لہ حرف واحد فالمصیر فیہ الی الترکیب ویجب القصر علی اقل مایمکن فلایختار الثلاثی ماامکن الثنائی ولاالرباعی ماساغ الثلاثی کمالایختار الثنائی ماوجد حرف واحد ثم الحاجۃ الی الترکیب انما تقع فیما بین عقد وعقد الی مائۃ وفی العقود غیرالمأات المحضۃ ایضا من مائۃ الی الف ثم تدوم الی مالا نہایۃ لہ وذلك لان العقود والمئات لکل منھما حروف معلومۃ فالترکیب الثنائی مثلا وان تصور بجمع آحاد الی آحاد کمثل طب وحج وزد وھو فی احد عشروھواول مایحتاج الی ذلك لکن اختیار بعض منہا دون بعض ترجیح بلامرجح
یعنی مکمل طور پر ۱۲منہ(ت)
جب کوئی عدد ایك حرف والانہ ہو تو وہاں ترکیب ضروری ہے اور ترکیب حسب ضرورت ہوگی اگر ترکیب ثنائی کافی ہوثلاثی کی ضرورت نہیں اور ثلاثی کافی ہو تو رباعی کی ضرورت نہیں ہے پھراکائیوں اور دہائیوں میں سو تك ہوگی اور اسی طرح سو سے اوپر ہزارک لیکن خالص دہائیوں اور خالص سوکے لئے ترکیب کی ضرورت نہیں (کیونکہ ان کے لئے ایك ایك حرف ہے مثلا ترکیب ثنائی تمام اکائیوں کی آپس میں ہوسکتی ہے مثلا ترکیب ثنائی تمام اکائیوں کی آپس میں ہوسکتی ہے مثلا طب حج زد گیارہ میں جوکہ پہلاعدد ہے جس میں ترکیب ثنائی کی ضرورت ہے اگرچہ کوئی دوحرف ملائے جاسکتے ہیں مگر ان حروف میں سے یہاں بعض کولینا اور بعض کونہ لینا بے مقصد ہے (باقی برصفحہ ایندہ)
#11952 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
قدمت العقد و ای ان ایك کاحرف “ الف “ ہے اور اگردہائی کومقدم کریں تودونوں

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والترکیب الطبعی ان یلتمس العقد۔ فیوضع حرفہ ثم حرف مازاد علیہ من الآحاد و ھکذا فیقدم الالف ثم المئات ثم العشرات ثم الآحاد ویکفی ھذا الی الف وتسعۃ وتسعین فلفظہا 'غظصط' فاذا زاد فیدور الامر فالفان 'بغ' وثلثۃ آلاف 'جغ' ومائۃ الف 'قغ' والف الف 'غخ' وھکذا الی مالانھایۃ لہ یعرف ذلك من یعلم ارقام الھیأۃ والنجوم ومن منافع ھذا الوضع الامن من الالتباس فی غالب الصور فان 'غظصط' المذکور مثلا ان کتب من دون نقط التعینت الحروف بالوضع الطبعی فالاول لایمکن ان یکون ع مھملۃ لانہ لایتقدم ص ولاالثالث ض معجمۃ لانھا لاتعقب ظ ولاالرابع ظ معجمۃ لانھا لاتعقب ص ولاالرابع ظ معجمۃ لانھا لاتعقب ص وتمام الکلام فی رسالتنا اطیب الاکسیر۱۲منہ(م)
اس لئے طبعی ترکیب کو ملحوظ رکھناہوگا وہ یہ کہ جودہائی مقصد ہو پہلے اسے پھراکائی جومقصود ہو اگرہزار ہو تو پہلے ہزارپھرسواور پھر دہائی اور پھراکائی کوترکیب وار ذکرکرکے ترتیب دی جائے گی یہ ترکیب ایك ہزارنوسوننانوے تك کام دے گی اس کے لئے حروف میں غظصط سے مرکب ہوگا اور اس پر ایك زائد ہو تو دوہزارہوگا جس کے حروف میں بغ اور تین ہزارجغ لاکھ کے لئے قغ اور دس لاکھ کے لئے غغ اسی طرح جتناچاہے آگے جائے جس کو علم نجوم اور ہیأۃ کی رقموں کی معرفت ہے خوب جانتاہے۔ اس ترکیب کا ایك فائدہ یہ ہے کہ انسان ہندسوں میں غلطی سے بچ جاتاہے کیونکہ مثلا غظصط میں اگر نقطے نہ بھی لکھے جائیں تومذکورہ حروف اپنی طبعی ترتیب کے لحاظ سے سمجھے جاسکتے ہیں کیونکہ غ کو ع اور ظ کو ط نہیں پڑھ سکتے کیونکہ اس ترکیب میں ظ سے غ مقدم ہوتاہے اور ع مقدم نہیں ہوسکتاہے اسی طرح ص سے ظ مقدم ہے ط مقدم نہیں ہوسکتا اور آخری دوحروف ص ط کو ض ظ نہیں پڑھاجاسکتا کیونکہ ض ظ کے بعد نہیں ہوسکتاہے اورآخری دوحروف ص ط کو ض ظ نہیں پڑھاجاسکتا کیونکہ ض ظ کے بعد نہیں ہوسکتا اور یونہی ظ بھی ص کے بعد نہیں ہوسکتاہے یہ اس لئے کہ ایك ترکیب میں بڑے عدد والاحرف پہلے اور چھوٹے والا بعد ہوتاہے یہی ترکیب طبعی ہے اور یہ پوری بحث ہمارے رسالہ 'اطیب الاکسیر “ میں ہے۱۲منہ(ت)
#11953 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
عکست عــــہ۱ و یاللنداء و ای عــــہ۲ للایجاب فکانت فی ذلك اشارۃ الی معاملتہ رضی اﷲ تعالی عنہ مع السائلین والفقراء المستغیثین فانھم فی مقام الکثرۃ مع کثرتھم فی انفسھم واذا اراد وسؤال حاجاتھم من الحضرۃ العلیۃ توجھوا الی الوحدۃ وکان علیھم افراغ القلوب من تشتت الخاطر مع کونھم ھھنا علی منھج واحد سواء منھم العاکف والباد وعظیم عــــہ۳ الملك وعدیم الزاد فقد انتقلوا بوجھین من الکثرۃ الی الوحدۃو
حرفوں کامجموعہ “ یا “ ہے اور اگرالٹ کریں تومجموعہ “ ای “ ہے جبکہ “ یا “ ندااورطلب کے لئے ہے اور “ ای “ قبول ومنظوری کے لئے ہے تو اس طرح گیارہ کے عدد میں حضورغوث اعظم کا سوال اور امداد طلب کرنے کا لوگوں سے معاملہ سمجھ آتاہے (کہ جس طرح “ یا “ میں “ ی “ دہائی اور کثرت اور اس کے بعد “ الف “ وحدت ہے) یوں ہی سائلین کثیر تعداد والے کثیرمطالبہ کرنے والے اپنے مطالبات کودربارعالیہ میں پیش کرتے ہوئے کثرت سے وحدت کی طرف متوجہ ہوں گے (کیونکہ آپ واحد ہیں )نیزیوں بھی کہ سائلین اور حاجتمند کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود غوث پاك کی طرف متوجہ ہونے میں یکساں ہیں خواہ وہ شہری ہوں یا دیہاتی شہنشاہ ہوں یاگدا توقلبی حاجات مختلف وکثیر مگر ان کے ازالہ کاڈھنگ ایک لہذا کثرت
عـــــہ۱ وقوعہ ھھنا علی قول انہ کنعم مطلقا ظاھروالا فالتقدیر یاسیدی ھل تقضی حاجتی الجواب ای واﷲ ۱۲منہ (م)
عـــــہ۲ وذلك طریق الارقام الجفریۃ یقدمون فیھا الآحادثم عشرات الخ فالف ومائۃ واحد عشربار قامھم “ ایقع “ وبالارقام النجمومیۃ “ غقیا “ ۱۲(م)
عـــــہ۳ الاضافۃ لفظیۃ ای عظیم ملکہ او معنویۃ فالعظیم بمعنی السلطان کعظیم الروم ای سلطانہ ۱۲(م)
یہاں اس کااستعمال “ نعم “ کی طرح ہے جیسا کہ ایك قول ہے ورنہ اصل میں اے میرے آقا! کیا آپ میری حاجت روائی فرمائیں گے جواب میں ای واﷲ ہے ۱۲منہ (ت)
یہ جفری علم کی رقم کاطریقہ ہے جس میں اکائی کودہائی پر مقدم کرتے ہیں مثلا ہزار سو کے بعد گیارہ کاذکر ان کی رقم میں “ ایقع “ ہے اور نجومی رقم میں “ غقیا “ ہے ۱۲منہ (ت)
یہ اضافت لفظی ہے یعنی اس کاملك عظیم ہے اور اگر اضافت معنوی بنائی جائے توعظیم بمعنی سلطان ہوگا جیسے عظیم الروم ہے۱۲(ت)
#11954 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
ھذا شان عــــہ۱ یا وحرکۃ الیاء لاضطرابھم فی الطلب وتخصیص الفتح یدل مالھم من فتح وفیض ببرکۃ ھذا النداء ثم ھو رضی اﷲ تعالی عنہ مستغرق فی بحارالوحدۃ رفیع مقامہ عن مجامع الکثرۃ فاذا نودی لکشف بلاء اورشف عطاء دعاہ الکرم الی التنزل من غیب الوحدۃ الی مشاھد الکثرۃ وذلك شان عــــہ۲ ای والکسر یحکی التنزل و سکون الیاء لتسکین قلقھم فکان المعنی انھم تحرکوا من مقام الکثرۃ مضطربین وھم یوزعون متوجھین الی حضرۃ الوحدۃ متحدین ھنالك فی الرغبۃ والرھبۃ وکان رضی اﷲ تعالی عنہ ساکنا فی مقام الوحدۃ فتنزل منہ الی نادی الکثرۃ لتسکین قلوبھم و اصلاح خطوبھم والحاصل انہ اذا دعی یجیب وسائلہ لایخیب ومن عجائب
کے بعد وحدت جیسے “ ی “ کے بعد “ الف “ ہے دوطرح سے ثابت ہے۔ یہ “ یا “ کے لحاظ سے ہے پھر “ ی “ کی حرکت طالبین کے اضطراب اور اس حرکت کافتح ہونا اس نداکی برکت سے فتح وفیض کی علامت ہے اور “ ای “ کے اعتبار سے یہ کہ غوث اعظم بحروحدت میں مستغرق ہیں اور کثیر اجتماعات سے آپ کامقام بلندوبالاہے جب آپ کو مصائب مٹانے اورعطیات نچھاور کرنے کے لئے پکاراجاتاہے تو آپ کو کرم وسخا مجبورکرتاہے کہ آپ وحدت غیب سے تنزل فرماکر کثرت مشاہد پرتوجہ فرمائیں (یہ وحدت سے کثرت کی طرف رجوع ہے جیسا کہ “ ای “ میں “ الف “ اور پھر “ ی “ ہے) اور “ ای “ کاکسرہ (زیر) تنزل کی حکایت ہے اور “ ی “ کاسکون طالبین کاپریشانی سے سکون ہے۔ معنی یہ ہوا کہ حاجتمندلوگ اضطراب کی حالت میں متفرق طورپرمقام کثرت سے مقام وحدت کی طرف متوجہ ہورہے ہیں اور سب کے سب امید وخوف میں یکساں ہیں اور آپ یعنی غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ مقام وحدت پر ساکن ہیں پھرآپ نداء کرنے والے کثیرلوگوں کی طرف تنزل فرماکر ان کے دلوں کو تسکین دیتے ہیں اور ان کی پراگندہ حالت کی اصلاح فرماتے ہیں غرضیکہ جب آپ کو نداء دی جائے توآپ جواب دیتے ہیں اور

عــــہ۱ فانہ ینتقل فیھا من العقد الی الواحد۱۲(م)
عـــــہ ۲ فان الواحد مقدم فیہ علی الکثیر ۱۲(م)
کیونکہ اس میں دہائی سے اکائی کاانتقال ہے۱۲(ت)
کیونکہ واحد کثیرپرمقدم ہے۱۲(ت)
#11955 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
صنع اﷲ سبحنہ وتعالی ان ا اول الحروف فلا حرف فوقھا وی اخر الکل فلاحرف تحتھا فمن ترقی من ی فلامظھر لہ وراء ا ومن تنزل من ا فلا منزل لہ تحت ی فدل ذلك ان سیدنا رضی اﷲ تعالی عنہ اخذ فی الطرفین بغایۃ الغایات فتنقطع مطایا الکاملین دون سیرہ فی اﷲ فلذا کانت قدمہ علی جمیل الرقاب ولذا قال رضی اﷲ تعالی عنہ الانس لھم مشایخ والجن لھم مشایخ و انا شیخ الکل بینی وبین مشایخ الکل کما بین السماء والارض لا تقیسونی باحد ولا تقیسوا علی احداوکذا ما استکمل المکملون عــــہ سیرہ من اﷲ ولذا کانت
سائل کومحروم نہیں کرتے۔ اﷲ تعالی کے عجائبات میں سے ہے کہ “ الف “ پہلاحرف ہے اور “ ی “ آخری حرف ہے جس کے بعد کوئی حرف نہیں ہے اگرکوئی “ ی “ سے آگے بڑھناچاہے توآگے الف ہی پائے گا اور اگر کوئی الف سے آگے بڑھے گا تو “ ی “ سے آگے کوئی منزل نہ پائے گا توگیارہ کے حرف یعنی “ یا “ سے پتاچلتاکہ آپ دونوں طرف انتہائی مقاصد پررسائی رکھتے ہیں اور تمام کاملین حضرات سیرفی اﷲ میں غوث اعظم کی سیرفی اﷲ سے بہت پیچھے ہیں اسی لئے آپ کاقدم گردنوں پرہے اوراسی لئے آپ نے فرمایا کہ انسان اور جن اور ملائکہ کے اپنے اپنے مشائخ ہیں جبکہ ان سب کا شیخ میں ہوں اور میرے اور تمام مخلوق کے درمیان زمین وآسمان کافرق ہے مجھے کسی دوسرے پر اور کسی دوسرے کو مجھ پرقیاس نہ کرو اور ایسے ہی کوئی کامل شخص آپ کی سیرفی اﷲ کواﷲتعالی سے کامل طور پر حاصل نہ کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ
عـــــہ۱ : ای یجمع اولھم واخرھم ۱۲(م)
عـــــہ۲ : ولاحاجۃ الی ابداء استثناء الانبیاء والمرسلین علیھم الصلوۃ والسلام فانہ مرکوز فی اذھان المسلمین وکذا الصحابۃ والتابعون لھم باحسان لما عرف فی محلہ وبالجملہ فسیدنا رضی اﷲ تعالی عنہ افضل الاولیاء الا من قائم الدلیل علی استثنائہ ۱۲ (م)
عـــــہ۳ ھذاکذلك ۱۲منہ (م)
عــــــہ۴ ھذا کذلك ۱۲منہ (م)
یعنی ان کے اول اور آخر سب کو جمع کریں گے ۱۲(ت)
یہاں انبیاء ومرسلین کے استثناء کااظہارضروری نہیں کیونکہ یہ بات تمام مسلمانوں کے ذہنوں میں مرکوز ہے یوں ہی صحابہ وتابعین کااستثناء بھی معلوم ہے حاصل یہ کہ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ تمام اولیاء سے افضل ہیں مگراس میں وہ لوگ مستثنی ہیں جن کے بارے میں دلیل موجود ہے ۱۲(ت)
یہ بھی اسی طرح ۱۲منہ (ت)
یہ بھی اسی طرح ۱۲منہ (ت)
#11956 · ازھارالانوارمن صبا صلٰوۃ الاسرار ۱۳۰۵ھ (صلٰوۃ الاسرار کی بادصبا سے غنچوں کے پھول) (نمازغوثیہ سے متعلق اہم نکات اور اس کے پڑھنے کاطریقہ)
ھدایتہ اتم واوفر وطریقتہ انفع و ایسر وکراماتہ اکثر واظھر حتی لم ینقل عشرھا ولامعشارھا عن احد من الاولیاء فیما نعلم ذلك فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم واخر دعونا ان الحمدﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین محمد والہ وصحبہ اجمعین وابنہ ھذا الفرد المکین والغوث المبین وعلینا بھم یاارحم الراحمین واوفی ختامہ ستا بقین من صفر الخیر یوم جمع المسلمین سنۃ الف وثلثمائۃ وخمس من ھجرۃ من اتی بالصلوات الخمس وردت لامرہ من المغرب الشمس صلی اﷲ علیہ وعلی الہ اجمعین والحمدﷲ رب العلمین۔
آپ کی رہنمائی اتم اور اکمل ہے اور آپ کا طریقہ آسان وواضح ہے اور آپ کی کرامات کثیر اور غالب ہیں حتی کہ کسی ولی کی کرامات آپ کی کرامات کی نسبت عشرعشیر بھی منقول نہیں جیساکہ ہمیں معلوم ہے۔ یہ اﷲ کافضل ہے جسے چاہتاہے عطافرماتاہے اﷲ تعالی بڑے فضل والا ہے۔ ہمارا آخری اعلان ہے کہ سب تعریفیں اﷲ رب العلمین کے لئے ہیں اور صلوۃ وسلام خاتم النبیین محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور آپ کی آل وصحابہ پر اور آپ کے اس حاکم بیٹے اور واضح غوث پر اور ان کے ساتھ ہم پر یا ارحم الراحمین۔ اس رسالہ کااختتام ۲۴۲۴صفر بروزجمعہ ۱۳۰۵۱۳۰۵ھ کو ہوا سن ہجری اس ذات کی ہجرت جس کوپانچ نمازیں عطاکی گئیں اور جن کے حکم پرمغرب سے سورج واپس پلٹا صلی اﷲتعالی علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین الحمدﷲ رب العلمین۔ (ت)
___________________
#11957 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۱۱۱۴ : ازاوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ حاجی ملامحمدیعقوب علی خاں صاحب ۲۶ / رجب ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں تمام بلاد ہندوستان میں کہ سب اہل سنت وجماعت بفضلہ تعالی حنفی المذہب ہیں ہمیشہ سے یہی رواج دیکھا سنا کہ تمام حفاظ قرآن تراویح میں بسم اﷲ شریف سارے قرآن مجید میں کسی نہ کسی سورت پر بس ایك بارآواز سے پڑھ لیتے ہیں اور بعض لوگ پیداہوئے کہ اس میں بہت جھگڑا اٹھاتے ہیں زید کہ اس کارسالہ مرسل خدمت والا ہے باتباع دومولویوں گنگوہی و پانی پتی کے دعوی کرتاہے کہ تراویح میں بسم اﷲ بالجہر ہرسورت کے سرے پر ماسواء سورہ برأت کے از بس لازم ہے ورنہ ۱۱۳ ایك سوتیرہ اور کبھی کہتا ہے ایك سوچودہ۱۱۴ آیت کانقصان لازم آئے گا بسم اﷲ کاجزویت ہونا آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے آج تك تواترا منقول ہے حنفیہ کے نزدیك بھی علی سبیل القطع والتواتر ہے متفق علیہ بلکہ اجماع امت متفق ہیں عمرو نے اس جہر سے انکارکیا اس پر زید نے اسے کہا بتسویل نفسانی منہمك سیآت کے ہوا اور تخریب دین محمدی میں کمرباندھ کر اصول وقواعد دینیہ سے برطرف ہوا اس رسالہ میں ایك عبارت اور دوفتوے مولویین مذکورین سے نقل کئے صفحہ ۱۵پرلکھا قاری عبدالرحمن صاحب پانی پتی تبیین الضاد ترجمہ تحفہ نذریہ میں فرماتے ہیں جان لوکہ جب اہل قرأت کااس امر میں اختلاف ہے کہ بسم اﷲ ہرسورت کاجزو ہے یا نہیں پس تمام قرآن کو تراویح میں پڑھنے
#11958 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
والے پر جو ان قاریوں کی قرأت پڑھے جو بسم اﷲ کو ہرسورت کاجزوجانتے ہیں واجب ہے کہ بسم اﷲ کو ہرسورت کے سرے پر پکارکرپڑھے ورنہ ختم قرآن مجید میں سے اس کو ایك سوچودہ ۱۱۴ آیتوں کاکم کرناا ور ترك کردینالازم آتاہے اورجائزنہیں ہے ان شہروں میں جہاں کے اکثر باشندے حنفی مذہب رکھتے ہیں اس کے خلاف دستور ہے پس معلوم نہیں اس ترك وغفلت کاکیاسبب ہے فقط صفحہ ۱۷پرلکھا “ استفتائے مولوی رشیداحمدگنگوہی بسم اﷲ کاجہرسے پڑھناتراویح میں مضائقہ نہیں اور نمازمیں اس سے کوئی قباحت نہیں ہوتی یہ بھی قرأ کامذہب ہے اگرحضرت حفص کی اقتداء کرو درست ومقبول ہے اور جوحسب مذہب حنفیہ نہ پڑھے تاہم کوئی عیب نہیں سب حق پرہیں سب کے مذاہب صحیح ودرست ہیں لیکن حفاظ قرآن مجید کولازم ہے کہ پڑھاکریں ورنہ بموجب فرمان مولوی عبدالرحمن صاحب کے عندالحفص ختم میں نقصان رہے گا فقط واﷲ اعلم کتبہ رشیداحمدگنگوہی “ صفحہ ۱۸پرلکھا “ استفتاء قاری عبدالرحمان صاحب پانی پتی زمانہ قراء سبعہ کا زمانہ اجتہاد وعمل بالسنۃ کاتھا زمانہ تابعین کاتھا اور مذہب مسائل اجتہاد یہ میں ہوتاہے نہ منقولہ میں اور مدار قراء کافقط روایت وصحت پر ہے اور قراء سب اپنی اپنی قراء ت کی روایت صحیح رکھتے ہیں اس میں دخل مذہب کو نہیں ہے لہذا قراء ت میں کسی اہل ہوا کا خلاف نہیں ہے۔ ائمہ مذہب تازمانہ قراء محتاج الیہ ومحصورنہ تھے بلکہ بعد قراء کے تھے ائمہ قرأت کوپوچھنا کہ کیامذہب رکھتے تھے حمق ہے بعد صحت روایت کے آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے پھرحاجت کسی مذہب اور کسی اجتہاد کی نہیں ہے اذا صح الحدیث فھومذھبی (جب حدیث صحیح ہوتو وہی میرامذہب ہے۔ ت)قول احناف کاہے جب مدارصحت روایت پرمذاہب اربعہ میں ہوا پھرجوکوئی کسی مذہب کاکسی قاری کی قرأت پڑھے گا اس کی قرأت میں جو ہواس کی اتباع کرے جو کہ امام عاصم کی قرأت میں بروایت حفص بسم اﷲ درمیان ہردوسورت کے ثابت ہے روایۃ اور کہیں حنفیہ کی کتب میں ممانعت قرأت عاصم وحفص کی استیعابا واقع نہیں ہے توتراویح میں بسم اﷲ پڑھنا جائز ہوا و الا پوراختم روایت حفص میں نہ ہوافقط واﷲ اعلم بالصواب العبد عبدالرحمن عفی عنہ “ ۔ صفحہ ۲۱ پر لکھا “ صلو ۃ مفروضہ میں ختم مقصودنہیں اس لئے وہاں جہرلازم نہیں وہاں اتباع ابوحنیفہ کاچاہئے اورتراویح میں مقصود ختم کامل قرآن ہے وہاں اتباع قرائے مبسلمین بسم اﷲکوجہرا پڑھناساتھ تأکد کے جائز ہے ورنہ ختم میں نقصان لازم آتاہے چنانچہ یہی تحریر خاکسار نے بارہا قاری عبدالرحمن صاحب کی زبانی بھی سنی ہے “ ۔ اب علماء سے عرض ہے کہ یہ بیانات وفتاوی صحیح ہیں یاغلط اور یہاں مذہب حنفی میں کیاحکم بینوا توجروا۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲ سرا وجھارا ولیلا ونھارا حمدا
سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں آہستہ اور بلند دن اور
#11959 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
کبارا ادامۃ واکثارا والصلوات السامیۃ والتحیات النامیۃ علی من سن فی الصلوۃ اسرارالتسمیۃ وعلی الہ وصحبہ النفوس الحامیۃ لبیضۃ السنۃ من الغوغاء العامیۃ امین امین یاارحم الراحمین۔
رات کو بڑی حمدیں اور زیادہ بلنددروداور اونچا سلام اس ذات پرجس نے نمازمیں بسم اﷲ کو آہستہ پڑھناسنت فرمایا اور آپ کی آل واصحاب پرجوکہ خالص سنت کوعوام کے شور ش سے محفوظ رکھنے والے ہیں آمین آمین یاارحم الراحمین۔ (ت)
بسم اﷲ شریف کاتراویح میں ہرسورت پرجہر مذہب حنفی میں لازم وواجب ہونامحض بے اصل وباطل صریح اور حنفیہ کرام پرافتراء قبیح ہے تحصیل سنت ختم فی التراویح کے لئے صرف ایك بار کسی سورت پر جہرکرنے کی ہماری کتب میں صاف تصریح ہے زید بے علم اور اس کے دونوں متبوعوں کی تحریر سراسربے تحریروغیرصحیح ہے مسلم الثبوت میں ہے :
البسملۃ من القران ایۃ فتقرأ فی الختم مرۃ ۔
یعنی بسم اﷲ شریف قرآن عظیم کی آیت ہے توختم میں ایك بارپڑھی جائے۔
ملك العلماء بحرالعلوم اس کی شرح فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں :
علی ھذا ینبغی ان یقرأھا فی التراویح بالجھر مرۃ ولاتتأدی سنۃ الختم دونھا ۔
یعنی اس بناپرچاہئے کہ بسم اﷲ شریف تراویح میں جہرسے ایك بارپڑھی جائے بے اس کے سنت ختم ادا نہ ہوگی۔
شرح مولانا ولی اﷲ میں ہے :
من قال بکون البسملۃ جزء من القران من غیرتعیین المحل اوجزئیتھا لہ فی اول کل سورۃ قال بوجوب قراء تھافیمایختم فیہ القران من الصلوۃ کالتراویح الا ان الجماعۃ الاولی تقول بوجوب قراء تھا جھرا مرۃ والثانیۃ
یعنی جو علماء بسم اﷲ شریف کوجزو قرآن مجیدمانتے ہیں خواہ بے تعیین محل (جیسے علماء حنفیہ وغیرہم) یایوں کہ ہرسورت کی پہلی آیت ہے (جیسے علماء شافعیہ) ان سب کے نزدیك جس نماز میں قرآن مجید کاختم کیاجائے جیسے تراویح اس میں بسم اﷲ شریف کاپڑھناضرور ہے مگر ہمارے ائمہ وجمہور علماء کے نزدیک
حوالہ / References مسلم الثبوت کامل ، مسئلۃ البسملۃ من القرآن مطبوعہ مطبع انصاری دہلی ص۱۵۱
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی مسئلۃ البسملۃ من القرآن مطبوعہ مطبعۃ امیریہ بولاق مصر ۲ / ۱۴
#11960 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
تقول بوجوب قرأتھا جھرا فی اول کل سورۃ سواء البراء ۃ ۔
صرف ایك باربآواز اورشافعی مذہب میں سورہ برأت کے سواہرسورت کی ابتدا پر۔
قمرالاقمار مولانا عبدالحلیم انصاری میں ہے :
اعلم ان التسمیۃ ایۃ من القران کلہ انزلت للفصل بین السور ولیست جزء من الفاتحۃ ولامن کل سورۃ فالقران عبارۃ عن مائۃ واربعۃ عشرسورۃ وایۃ وھی التسمیۃ فلابد فی ختم القران من قراء ۃ التسمیۃ مرۃ علی صدرایۃ سورۃ کانت وھذا کلہ عندنا علی المختار ھ مختصرا۔
یعنی بسم اﷲ شریف سارے قرآن مجیدمیں صرف ایك آیت ہے کہ سورتوں میں فصل کے لئے اتاری گئی نہ وہ فاتحہ کی جز ہے نہ ہرسورت کی تو قرآن عظیم نام ہے ایك سوچودہ۱۱۴ سورتوں اور ایك آیت کا کہ وہ بسم اﷲ شریف ہے پس ختم قرآن میں بسم اﷲ شریف کا کسی سورت کے سرے پر ایك بارپڑھنا ضرورہے یہ سب ہمارے ائمہ کامذہب مختارہےاھ مختصرا۔
جواب مسئلہ تواسی قدرسے ہوگیامگرفقیر غفراﷲ بعون رب قدیر جل جلالہ تحقیق حق نجیح وتلخیص قول رجیح کے لئے چند افادات عالیہ لکھے جن سے بتوفیق تعالی احکام مسئلہ کونورانکشاف اور اوہام باطلہ کوظہورانکساف ملے واﷲ المعین وبہ نستعین (اﷲ تعالی مددگار ہے اور اسی سے ہم مددطلب کرتے ہیں ۔ ت)
افادہ اولی : بسم اﷲ شریف کے باب میں ہمارے ائمہ کرام بلکہ جمہورائمہ صحابہ وتابعین وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہم کامذہب حق ومحقق یہ ہے کہ وہ کسی سورت قرآن کی جزنہیں جداگانہ آیت واحدہ ہے کہ تبرك و فصل بین السور کے لئے مکرر نازل ہوئی۔ امام عبدالعزیز بن احمدبن محمدبخاری علیہ رحمۃ الباری کہ اجلہ ائمہ حنفیہ ہیں کتاب التحقیق شرح حسامی میں فرماتے ہیں :
الصحیح من المذھب انھامن القران لکنھا لیست جزء من کل سورۃ عندنا بل ھی ایۃ منزلۃ للفصل بین السور کذا ذکر ابوبکر الرازی ومثلہ روی عن محمد رحمہ اﷲ تعالی ۔
صحیح مذہب ہمارایہ ہے کہ وہ قرآن کی جزہے مگرہرسورت کی جزنہیں بلکہ یہ ایسی آیۃ ہے جوسورتوں میں فاصلہ کے لئے نازل کی گئی ہے یوں ابوبکررازی نے ذکر کیااور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے بھی ایسے ہی مروی ہے۔ (ت)
حوالہ / References شرح مسلم الثبوت ولی اﷲ
قمرالاقمار حاشیہ نورالانوار مقدمہ الکتاب مطبوعہ مطبع علیمی دہلی ص۹
کتاب التحقیق شرح حسامی مقدمہ الکتاب مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ص۶
#11961 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
امام محقق ابن امیرالحاج حلیہ میں فرماتے ہیں :
المشھور عن اصحابنا انھا لیست بایۃ من الفاتحۃ ولامن غیرھا بل ھی ایۃ من القران مستقلۃ نزلت للفصل بین السور ۔
ہمارے اصحاب سے یہی مشہور ہے کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ یاکسی اور سورۃ کی جزنہیں ہے بلکہ یہ قرآن کی مستقل آیۃ ہے جو سورتوں میں فصل کے لئے نازل کی گئی ہے(ت)
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں :
ان مذھبنا ومذھب الجمہور لیست ایۃ من الفاتحۃ ولامن کل سورۃ ۔
ہمارا اور جمہور کامذہب یہ ہے کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ یاکسی اور سورۃ کی جزنہیں ہے(ت)
امام ابوالبرکات نسفی کنزالدقائق اور علامہ ابراہیم حلبی ملتقی الابحر اور علامہ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی تنویرالابصار میں فرماتے ہیں :
ھی ایۃ من القران انزلت للفصل بین السور ولیست من الفاتحۃ ولامن کل سورۃ ۔
یہ قرآن کی آیۃ ہے جوسورتوں میں فصل کے لئے نازل کی گئی ہے فاتحہ یاکسی اور سورۃ کی جزنہیں ہے(ت)

امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
قال اصحابنا البسملۃ ایۃ من القران انزلت للفصل بین السور لیست من الفاتحۃ ولامن اول کل سورۃ ۔
ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ بسم اﷲ قرآن کی آیت ہے جوسوتوں میں فصل کے لئے نازل کی گئی ہے نہ تو یہ فاتحہ کی جز ہے اور نہ ہی کسی سورۃ کایہ اول ہے(ت)
اسی طرح بہت کتب میں ہے :
افادہ ثانیۃ : مجردتکرر نزول ہرگز موجب تعددنہیں ورنہ قائلان تکرارنزول فاتحہ قرآن عظیم میں دوسورہ فاتحہ مانتے کہ ان کے نزدیك فاتحہ مکہ معظمہ میں نازل ہوکر مدینہ طیبہ میں دوبارہ اتری۔ علامہ حسن چلپی حاشیہ تلویح
حوالہ / References حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی بیان صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۰۶
ملتقی الابحر مع مجمع الانہر باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۹۵ ، درمختار فصل واذا اراد الشروع فی الصلوٰہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۷۵
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری خطبۃ الکتاب مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱ / ۱۲
#11962 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
میں فرماتے ہیں :
تعدد نزولہا یقتضی تعدد قرانیتھا کیف و قدقیل بتکرار نزول الفاتحۃ ولم یقل احد بتعدد قرانیتھا ۔
بسم اﷲ کے نزول کاتعدد اس بات کولازم نہیں کہ وہ متعدد بار قرآن کاجزبنے یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ سورہ فاتحہ کے نزول میں تعدد کاقول ہے لیکن فاتحہ کا قرآن کے متعدد جز ہونے کاقول کسی نے نہیں کیا(ت)
علامہ خسرو کے حاشیہ تلویح میں ہے :
القول بتکررہ لایقتضی القول بتعددھاکیف وقدقیل الی اخرمامر ۔
بسم اﷲ کے تکرارنزول کاقول اس کے متعدد ہونے کولازم نہیں یہ کیسے ہوسکتاہے جبکہ سورہ فاتحہ کے بارے الی آخرہ۔ (ت)
ولہذا علامہ بحر نے بحرالرائق میں فرمایا :
انھا فی القران ایۃ واحدۃ یفتتح بھا کل سورۃ وعندالشافعی ایات فی السور ۔
یہ بسم اﷲ قرآن کی ایك آیت ہے اس سے ہرسورۃ کا افتتاح کیاجاتاہے اور امام شافعی کے نزدیك یہ ہرسورۃ کی علیحدہ آیت ہے۔ (ت)
اسی طرح قمرالاقمار سے بھی گزرا کہ وہ ہمارے ائمہ کرام کے نزدیك تمام قرآن میں صرف ایك آیت ہے نہ یہ کہ ایك سوتیرہ یاچودہ آیتیں ہوں اور جب آیت واحدہ ہے تراویح میں اس کی صرف ایك بارتلاوت ادائے سنت ختم کے لئے آپ ہی کافی کمالا یخفی علی کل عاقل (یہ کسی عاقل سے مخفی نہیں چہ جائیکہ فاضل سے مخفی ہو۔ ت) کون جاہل کہے گا کہ ایك آیت کوجب تك سوبارنہ پڑھو ختم پورانہ ہو۔
افادہ ثالثہ : بسم اﷲ شریف کاجزو سورت ہونا ہرگزہرگز حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے متواتر ہونا درکنار ثابت کرنا دشوار اس کے تواتر کاادعا محض بہتان وافتراء بلکہ احادیث صحیحہ اس کلیہ کے نقض پرصاف گواہ
کحدیث قسمۃ الصلوۃ وحدیث ثلثین ایۃ
جیسا کہ تقسیم نماز والی حدیث اور وہ حدیث جس میں سورۃ
حوالہ / References تتمہ حاشیہ چلپی علی التوضیح والتلویح حاشیہ ۲۵ متعلق ص۵۰ مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص۵۵
حاشیہ تلویح لملا خسرو مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص۳۱
بحرالرائق باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۳۱۳
#11963 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
للملك وغیرھا کمافصلہ العلماء الکرام فی تصانیفھم ولاحاجۃ الی ایرادھا ھنافان شھرۃ الکلام فیہ اغنتنا عن اعادتہ و اطالۃ المقال بتذکارہ۔ ملك کی تیس آیتوں کاذکر اور ان جیسی اور احادیث جن کو علماء کرام نے مفصل طورپر اپنی تصانیف میں ذکرکیاہے یہاں ان کوبیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس بات کی شہرت نے ہمیں یہاں ذکرکرنے سے مستغنی کردیا ہے نیز ان کے ذکر سے بات لمبی ہوگی۔ (ت)
افادہ رابعہ : یونہی اس پراجماع امت کابیان افتراوبہتان بلکہ علماء فرماتے ہیں صحابہ کرام وتابعین اعلام رضی اللہ تعالی عنہ کااجماع تھا کہ بسم اﷲ شریف جزوسور نہیں قول جزئیت ان کے بعد حادث ونوپیداہوا سیدی فقیہ مقری علی نوری سفاقسی غیث النفع فی القرا ء ات السبع میں فرماتے ہیں :
ھذا ان قلنا ان البسلملۃ لیست بایۃ ولا بعض ایۃ من اول الفاتحۃ ولامن غیرھا وانما کتبت فی المصاحف للتیمن والتبرك اوانھا فی اول الفاتحۃ لابتداء الکتاب علی عادۃ اﷲ جل وعز فی ابتداء کتبہ وفی غیرالفاتحۃ للفصل بین السور قال ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایعرف فصل السورۃ حتی ینزل علیہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم وھو مذھب مالك وابی حنیفۃ والثوری وحکی عن احمد وغیرہ وانتصرلہ مکی فی کشفہ وقال انہ الذی اجمع علیہ الصحابۃ والتابعون و القول بغیرہ محدث بعد اجماعھم وشنع القاضی ابوبکر بن الطیب بن الباقلانی المالکی البصری نزیل بغداد علی من خالفہ
یہ تب ہے جب ہم یہ کہیں کہ بسم اﷲ آیت نہیں اور فاتحہ اور کسی سورۃ کی جزنہیں اور یہ صرف قرآن میں برکت کے طور پر لکھی گئی ہے یا اس لئے کہ اﷲتعالی کی عادت کریمہ ہے کہ اس نے اپنی تمام کتابوں میں بسم اﷲ سے ابتداء فرمائی لہذا سورہ فاتحہ کے ا بتداء میں بھی ذکر فرمائی اور باقی سورتوں کے ابتداء میں صرف سورتوں کے درمیان فصل کے لئے ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے مروی ہے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام دوسورتوں کافصل بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے نازل ہونے پرمعلوم کرتے تھے یہی امام مالك ابوحنیفہ ثوری کامذہب ہے اور امام احمد وغیرہ سے یہی بیان کیاگیا ہے اور امام مکی نے اسی کو اپنی کتاب کشف میں اپنایاہے اور فرمایا کہ یہی وہ ہے جس پرصحابہ وتابعین کا اجماع ہے بسم اﷲ کے بارے میں کوئی اور بات اس اجماع کے بعد نئی چیزہوگی اور قاضی ابوبکر بن طیب بن باقلانی مالکی بصری نیز بغداد ی نے اس کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے اور یہ
#11964 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
وکان اعرف الناس بالمناظرۃ وادقھم فیھا نظر ۔
قاضی ابوبکر خود بحث کے ماہر اس میں دقت نظر رکھتے ہیں ۔ (ت)
امام زیلعی تبیین الحقائق پھر علامہ سید ابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین میں فرماتے ہیں :
قال بعض اھل العلم ومن جعلھا من کل سورۃ فی غیرالفاتحۃ فقد خرق الاجماع لانھم لم یختلفوا فی غیر الفاتحۃ ۔
بعض علماء نے فرمایا کہ جو شخص بسم اﷲ کوفاتحہ کے علاوہ کسی سورت کاجزمانتاہے وہ اجماع کاخلاف کرتاہے کیونکہ فاتحہ کے بغیر کسی سورۃ کے بارے میں اختلاف نہیں ۔ (ت)
امام بدرالدین محمودعینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
فان قیل نحن نقول انھا ایۃ من غیرالفاتحۃ فکذلك انھا ایۃ من الفاتحۃ قلت ھذاقول لم یقل بہ احدولھذا قالوا زعم الشافعی انھا ایۃ من کل سورۃ وماسبقہ الی ھذا القول احدلان الخلاف بین السلف انماھو فی انھا من الفاتحۃ اولیست بایۃ منھا ولم یعدھا احد ایۃ من سائر السور ۔
اگراعتراض کیاجائے کہ ہم بسم اﷲ کو آیت مانتے ہیں تو اس کامعنی یہ ہوا کہ فاتحہ کی آیت ہے اور کسی اور سورۃ کی بھی آیت ہے میں کہتاہوں کہ یہ کسی کاقول نہیں ہے اسی لئے جمہور نے کہا کہ صرف امام شافعی کاخیال ہے کہ یہ ہرسورہ کی آیت ہے جبکہ امام شافعی سے پہلے کسی نے یہ بات نہیں کی کیونکہ اس سے پہلے اسلاف میں صرف یہ تھا کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ کی آیت ہے یانہیں اور اس کو کسی نے باقی سورتوں کاجز نہیں مانا۔ (ت)
افادہ خامسہ : تمام مصاحف حفصیہ میں ہربسم اﷲ شریف پر نشان آیت موجودہے وہ بلاشبہ ان کے نزدیك آیت تامہ ہے اب سورہ بقر سے لے کر سورہ ناس تك تمام سورمیں آیات حفصیہ کی گنتی بتائیے دیکھئے توکہیں بھی بسم اﷲ شریف گنتی میں آئی ہے مثلا سورہ اخلاص چارآیت ہے بسم اﷲ سے الگ ہی چار آیتیں ہیں سورہ کوثرمیں تین آیتیں ہیں بسم اﷲ سے جداہی تین آیتیں ہیں وعلی ھذا القیاس بخلاف سورہ فاتحہ کہ سات آیتیں ہیں اور ان کے نزدیك انعمت علیھم پر آیت نہیں ولھذا ہمارے مصاحف
حوالہ / References غیث النفع فی القراء ات السبع باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵۷
فتح المعین علی شرح الکنز فصل واذا اراد الدخول الخ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۸۷
عمدۃ القاری شرح بخاری باب مایقول بعد التکبیر مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۲۹۲
#12183 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
میں اس پرنشان آیت عندالغیر۵ لکھتے ہیں نہ ٭ یہ صاف دلیل واضح ہے کہ ہمارے قراء کے نزدیك بسم اﷲ بقرہ سے ناس تك کسی سورت کی جزنہیں بلکہ ایك انہیں قاریوں کی کیاتخصیص سب کے نزدیک سوافاتحہ کے کہ مختلف فیہاہے باقی تمام سورتوں کے شمار آیات سے بسم اﷲ شریف خارج ہے یہ بھی اس ارشاد علما کاپتا دیتاہے کہ قول جزئیت حادث وخلاف اجماع ہے۔
امام زیلعی تبیین پھر علامہ ازہری فتح المعین میں فرماتے ہیں :
ان کتاب المصاحف کلھم عدوا ایات السور فاخرجوھا من کل سورۃ وقال بعض اھل العلم الی اخرمامر۔
قرآن پاك کے تمام کاتبوں نے سورتوں کی آیات کو شمار کیاہے اور انہوں نے بسم اﷲ کوکسی سورت کی آیات میں شمارنہیں کیا اور بعض علماء نے گزشتہ قول کوانہوں نے آخر تك بیان کیا۔ (ت)
عمدہ میں امام عینی کاارشاد گزرا :
لم یعدھا احد ایۃ من سائر السور
(اس کو کسی نے باقی سورتوں کی آیۃ نہیں مانا۔ ت)
تنبیہ : شمار سے اخراج توعدم جزئیت میں صریح ظاہر ہے اور ادخال میں علمائے کرام نے جائز فرمایا کہ صرف ظن کی طرف مستند ہوتومفید قطعیت جزئیت نہ ہوسکے گا امام زیلعی نصب الرایہ اور امام عینی عمدہ میں فرماتے ہیں :
لعل اباھریرۃ مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقرأھا فظنھا من الفاتحۃ فقال انھا احدی ایاتھا و نحن لاننکرانھا من القران و لکن النزاع وقع فی مسئلتین احدھما انھا ایۃ من الفاتحۃ والثانیۃ ان لھا حکم سائر ایات الفاتحۃ جھرا وسرا ونحن نقول انھا ایۃ مستقلۃ قبل السورۃ ولیست منھا جمعابین الادلۃ وابوھریرۃ لم یخبر عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال : ھی احدی ایاتھا
ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کوپڑھتے ہوئے سنا توخیال فرمایا کہ بسم اﷲ سورۃ فاتحہ کی جز ہے توانہوں نے کہہ دیا کہ یہ فاتحہ کی آیات میں شامل ہے بسم اﷲ کاقرآن کی آیت ہونے سے ہمارا انکار نہیں ہے صرف بحث دومسئلوں میں ہے ایك یہ کہ کیا یہ سورہ فاتحہ کی آیت ہے اور دوسرا یہ کہ کیا بسم اﷲ کاحکم فاتحہ کی دوسری آیات والاہے کہ جہروسر میں ان کی طرح پڑھی جائے گی یانہیں جبکہ ہم یہ کہتے ہیں یہ ایك مستقل آیت ہے یہ سورہ فاتحہ کی آیات میں شمارنہیں یہ بات دلائل کو مطابق بنانے کے لئے ہے حالانکہ
حوالہ / References فتح المعین علی شرح الکنز فصل واذا اراد الدخول مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۸۷
عمدۃ القاری شرح بخاری باب مایقول بعد التکبیر مطبوعۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۲۹۲
#12185 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
وقراء تھاقبل الفاتحۃ لایدل علی ذلك و اذاجازان یکون مستند ابی ھریرۃ قراء ۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لہا وقد ظھر ان ذلك لیس بدلیل علی محل النزاع فلایعارض بہ ادلتنا الصحیحۃ الثابتۃ اھ۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ خبرنہیں دی کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایاکہ یہ سورۃ فاتحہ کی ایك آیۃ ہے جبکہ محض سورۃ فاتحہ سے پہلے پڑھنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی اور جب صرف حضور کاپڑھنا ہی ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی دلیل ہوتو یہ محل نزاع یعنی فاتحہ کاجز ہونے پردلیل نہیں ہوسکتی لہذا یہ روایت ہمارے صحیح ثا بت شدہ دلائل کے مقابل نہیں ہو سکتی اھ (ت)
افادہ سادسہ : جزئیت بسم اﷲ شریف کوقطعی کہنامحض جہالت اورتصریحات ائمہ کرام علمائے عظام سے غفلت ہے بلکہ جزئیت سورت درکنار جزئیت قرآن بھی خبرا متواترنہیں
ولذا انکرھا الامام الاوزاعی والامام مالك و بعض مشایخنا ونسب للمتقدمین بل وقع فی التلویح وحواشی الکشاف وغیرھما انہ المشہور من مذھب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال القھستانی ان ھذالم یوجد قال الشامی فی ردالمحتار ای بل ھو قول ضعیف عندنا ۔
بسم اﷲ کے قرآن کاجز ہونے کاامام اوزاعی امام مالك اور ہمارے بعض مشائخ نے انکار کیاہے۔ متقدمین کی طرف منسوب بلکہ تلویح میں اور کشاف کے حواشی وغیرہ میں ہے کہ یہی امام ابوحنیفہ کامشہور مذہب ہے امام قہستانی نے فرمایا اس قول کاوجود نہیں ہے علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمایا ہے بلکہ یہ قول ضعیف ہے۔ (ت)
علامہ حسن چلپی حاشیہ تلویح میں فرماتے ہیں :
قال الجد المحقق فی تفسیر الفاتحۃ قال ابوحنیفۃ ومالك رحمھما اﷲ تعالی المعتبر التواتر فی قرانیتھا لافی نقلہ فقط وھو الحق
بزرگ محقق نے سورہ فاتحہ کی تفسیر میں فرمایا کہ امام ابوحنیفہ اور امام مالك نے فرمایا ہے بسم اﷲ کے قرآن ہونے کیلئے صرف نقل متواتر نہیں بلکہ اس کاقرآن ہونا متواتر چاہئے اور یہی معتبراور حق ہے
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح بخاری احادیث البسملۃ فی الصلوٰۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۲۸۶ ، نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیۃ ریاض الشیخ ۱ / ۳۴۳
التوضیح والتلویح مع حاشیہ چلپی بیان ادلہ اربعہ مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص۵۰
جامع الرموز فصل صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۱۵۱
ردالمحتار مطلب قرأۃ البسملۃ بین الفاتحۃ والسورۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۹۱
#12187 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
اذمن الظاھر ان النقل اذالم یکن علی انہ قران لایفید القرانیۃ والتواتر فی نقل البسامل لیس علی انہ قران والالم یخالف فیہ بل کتب فی المصاحف للفصل والتبرك بھا الخ
کیونکہ ظاہربات ہے کہ اگر قرآن ہونا منقول نہ ہو توپھر بسم اﷲ کاقرآن ہوناثابت نہیں ہوگا اور بسم اﷲ کے نقل میں جوتواتر ہے وہ اس کے قرآن ہونے کا تواترنہیں ورنہ اس میں اختلاف نہ ہوتابلکہ بسم اﷲ کو قرآن میں سورتوں کے فصل اور تبرك کے لئے لکھا گیاہے الخ(ت)
ہمارے ائمہ کہ اثبات فرماتے ہیں بوجہ اثبات فی المصاحف وامربالتجرید دلیل عقلی قائم فرماتے ہیں نہ تواتر سمعی بالجملہ حق یہ کہ بسم اﷲ شریف کاجزء قرآن عظیم ہونا توہمارے نزدیك دلیل قطعی سے ثابت ہے مگرجز سور ہوناہرگزنقلا عقلا کسی طرح قطعی نہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام اسے دلیل قطعی سے باطل اور بعض اخباراحاد کو کہ موہم جزئیت واقع ہوئے مخالف قاطع کے سبب نامقبول ومضمحل بتاتے ہیں نہایت یہ کہ علمائے شافعیہ رحمہم اللہ تعالی کہ قائلین جزئیت ہیں خود منکر قطعیت ہیں امام نووی شافعی فرماتے ہیں : یہی صحیح ہے۔ امام عبدالعزیز بن احمدبخاری تحقیق میں فرماتے ہیں :
النقل المتواتر لمالم یثبت انھا من السورۃ لم یثبت ذلک ۔
جب نقل متواتر بسم اﷲ کوسورت کاجز ہوناثابت نہیں کرتا تو اس کاجز ہونا ثابت نہ ہوگا۔ (ت)
علامہ بہاری مسلم الثبوت اور علامہ بحر فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں :
(لم یتواتر انھا جزء منھا) فلاتثبت الجزئیۃ اذقد سبق ان تواتر الجزئیۃ شرط لاثباتہا ۔
اس کاجز ہونا تواترسے ثابت نہیں لہذا جزئیت ثابت نہ ہوگی کیونکہ پہلے معلوم ہوچکا ہے جزئیت کے اثبات کے لئے جزئیت کاتواتر شرط ہے۔ (ت)
انہیں میں ہے :
(عارضہ القاطع) وھوعدم تواتر الجزئیۃ الدال علی عدمھا فی الواقع فیضمحل المظنون
بسم اﷲ کے جزہونے کو ایك قطعی دلیل معارض ہے اور وہ جزئیت کے تواتر کانہ ہونا جوکہ فی الواقع جزنہ ہونے
حوالہ / References تتمہ حاشیہ چلپی علی التوضیح والتلویح بیان ادلہ اربعہ حاشیہ ۲۶ متعلق ص۵۰ مطبوعہ منشی نولکشور کانپور ص۵۵
کتاب التحقیق شرح الحسامی مقدمہ الکتاب مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ص۶
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلۃ البسملۃ من القرآن مطبوعہ مطبعۃ امیریۃ بولاق مصر ۲ / ۱۴
#12188 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
وھذا ھوالجواب عن الاخبار الاحاد التی توھم الجزئیۃ بل یجب ان تکون ھذہ الاخبار مقطوع السھو والالتواترات الخ
کی دلیل ہے پس ظنی امرکمزور قرارپائے گا یہ جزئیت کاوہم پیدا کرنے والی اخباراحاد کاجواب ہے لہذا ان اخبار کا سہوقطعی ہے ورنہ اگر بسم اﷲ سورۃ کاجز ہوتی توتواتر سے ثا بت ہوتی۔ (ت)
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
لایثبت کونھا ایۃ من کل سورۃ من السور بلادلیل قطعی کمافی سائر الایات واجماع الصحابۃ علی اثباتھا فی المصحف لایلزم منہ انھا ایۃ من کل سورۃ بل اللازم منہ مع الامر بالتجرید عن غیرالقران انھا من القران وبہ نقول انھا ایۃ منہ نزلت للفصل بین السور ۔
قطعی دلیل کے بغیر اس کا تمام سورتوں میں سے کسی کاجزہونا اور آیت ہوناثابت نہیں ہوسکتا جس طرح باقی آیات کے بارے میں ہے اور صحابہ کرام کا اس کو مصحف میں لکھنے پراجماع ہونااس بات کومستلزم نہیں کہ یہ کسی سورۃ کی آیت ہے بلکہ قرآن کوغیر سے مبرا رکھنے کے حکم سے اتنالازم آتاہے کہ یہ بسم اﷲ قرآن کی آیت ہے جوکہ فصل کے لئے نازل کی گئی ہے۔ (ت)
علامہ بحرالفقہ زین بن نجیم مصری شرح منار پھر علامہ سید محمدآفندی شامی منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق میں فرماتے ہیں :
ھی قران لتواتر فی محلھا ولاکفر لعدم تواترکونھا فی الاوائل قرانا ۔
بسم اﷲ قرآن ہے کیونکہ تواتر سے قرآن میں شامل چلی آرہی ہے لیکن سورتوں کی ابتدائی آیت ہونے کے انکار سے کفرلازم نہیں آئے گا کیونکہ یہ بات تواتر سے ثابت نہیں ۔
علامہ سیدابوالسعود ازہری فتح اﷲ المعین میں فرماتے ہیں :
ثبوت قرانیتھا لاعلی سبیل التواتر ولھذا علل فی النھر عدم تکفیر جاحدھا بعدم
بسم اﷲ کے قرآن ہونے پرتواترنہ ہونے کی وجہ سے اگرکوئی اس بات کاانکار کرے تو کفر
حوالہ / References فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی ، مسئلۃ البسملۃ من القرآن مطبوعہ مطبعۃ امیریۃ بولاق مصر ۲ / ۱۵
غنیۃ المستملی صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۰۷
منحۃ الخالق حاشیہ علی البحر الرائق فصل واذا اراد الدخول فی الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۳۱۲
#12189 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
تواترکونھا قرانا۔
نہ ہوگا نہر میں عدم تکفیر کی یہی علت بیان کی گئی ہے(ت)
علامہ سیدی احمد طحطاوی مصری حاشیہ مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں فرماتے ہیں :
لانھا وان تواترت کتابتھا فی المصاحف ولم یتواتر کونھا قرانا ۔
مصحف میں اس کولکھنے کے تواتر سے اس کے قرآن ہونے کاتواتر ثابت نہیں ہوتا۔ (ت)
علامہ شہاب خفاجی عنایۃ القاضی وکفایۃ الرازی میں فرماتے ہیں :
ولم یتواتر تسمیتھا قرانا وایۃ بالنقل عنہ علیہ الصلوۃ والسلام اذلو تواتر لکفر جاحدھا وھو لایکفر بالاتفاق ۔
بسم اﷲ کانام قرآن یاسورۃ کی آیۃ تواتر سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے منقول نہیں اور اگریہ بات تواترسے ثابت ہوتی تواس کاانکار کفرہوتا حالانکہ باتفاق یہ کفرنہیں ہے۔ (ت)
اسی سے امام قرطبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ہے :
المسألۃ اجتھادیۃ ظنیۃ لاقطعیۃ کماظنہ بعض الجھلۃ من المتفقھۃ۔
یہ مسئلہ ظنی اور اجتہادی ہے قطعی نہیں ہے جیسا کہ بعض جاہل لوگوں کاخیال ہے۔ (ت)
اسی میں تفسیر امام سمین مسمی بالوجیز سے ہے :
المطلوب ھنا الظن لاالقطع ۔
اس مسئلہ میں ظن مطلوب ہے یقین مطلوب نہیں (ت)
اسی میں امام حجۃ الاسلام محمدغزالی شافعی سے ہے :
انہ اقام الدلیل علی الاکتفاء بالظن فیما نحن ۔
ہماری بحث میں جودلیل پیش کی گئی ہے وہ صرف ظن کافائدہ دیتی ہے۔ (ت)
امام ابن حجر مکی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References فتح اﷲ المعین علی شرح الکنز فصل واذااراد الدخول فی الصلوٰۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۸۷
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل فی بیان سنن الصلوٰۃ مطبوعہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۴۱
حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی مبحث البسملۃ مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۳۰
حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی مبحث البسملۃ مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۳۰
حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی مبحث البسملۃ مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۳۰
حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی مبحث البسملۃ مطبوعہ دارصادر بیروت ۱ / ۳۰
#12190 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
البسملۃ ایۃ من الفاتحۃ عملا وظنا لاقطعا الخ نقلہ عنہ القاری فی المرقات۔
بسم اﷲ کاسورہ فاتحہ کاجزہونا ظنی ہے قطعی اور یقینی نہیں ہے الخ اس کو ملاعلی قاری نے مرقات میں ان سے نقل کیاہے(ت)
علامہ سفاقسی غیث النفع فی القراء ات السبع میں فرماتے ہیں :
ان المحققین من الشافعیۃ وعزاہ الماوردی للجمہور علی انہ ایۃ حکما لاقطعا قال النووی والصحیح انھا قران علی سبیل الحکم ولوکانت قرانا علی سبیل القطع لکفرنا فیھا وھوخلاف الاجماع ۔
محققین شافعیہ نے اور ماوردی کے بیان کے مطابق ان کے جمہور نے کہاہے کہ بسم اﷲ کافاتحہ کی جزہوناحکمی بات ہے قطعی نہیں ہے اور امام نووی نے فرمایا صحیح یہ ہے کہ بسم اﷲ کاقرآن ہوناحکمی ہے اور اگرقطعی ہوتاتو ہم مخالف کوکافرکہتے جبکہ یہ بات اجماع کے خلاف ہے۔ (ت)
اسی میں شرح منہاج النووی تصنیف امام جلال الدین محلی شافعی سے ہے :
البسملۃ منھا ای من الفاتحۃ عملا لانہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عدھا ایۃ منھا صححہ ابن خزیمۃ والحاکم ویکفی فی ثبوتھا من حیث العمل الظن ۔
بسم اﷲ سورہ فاتحہ کاحصہ ہے کیونکہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے اس کوفاتحہ کی آیت شمار کیاہے جس کی ابن خزیمہ اور حاکم نے تصحیح کی ہے اور اس کے عملی ثبوت کے لئے ظن ہی کافی ہے۔ (ت)
افادہ سابعہ : اقول : وباﷲ التوفیق قرآن عظیم کے ختم میں لااقل ایك باربسم اﷲ شریف پڑھنے پر تمام قراء کااجماع قطعی ہے کہ ابتداء تلاوت عـــہ سور ت غیربرأت میں اتیان بسملہ مجمع علیہ ہے پھر ہردوسورت کے درمیان اثبات وحذف میں قراء مختلف ہیں امام نافع مدنی بروایت قالون اور امام عبداﷲ بن کثیرمکی و
عــــہ شروع تلاوت اگرابتدائے سورت کے علاوہ کہیں وسط سے ہو توبسم اﷲ کی حاجت نہیں بہترہے اور اگرابتدائے سورت سوائے برأت سے تلاوت آغاز کرے توبسم اﷲ بالاجماع پڑھے پھراثنائے تلاوت میں جوسورتیں آتی جائیں ان پربسم اﷲ پڑھنے نہ پڑھنے میں اختلاف ہے۱۲(م)
حوالہ / References مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القراء ۃ فی الصلوٰۃ فصل اول مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۲۹۶
غیث النفع فی القراء ات السبع علٰی حاشیہ سراج القاری ، باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵۹
غیث النفع فی القراء ات السبع علٰی حاشیہ سراج القاری ، باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵۹
#12191 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
امام عاصم بن بہدلہ کوفی و امام علی بن حمزہ کسائی کوفی پڑھتے اور امام مدنی بروایت ورش اور امام عبداﷲ بن عامر شامی و امام حمزہ بن حبیب زیات کوفی و امام ابوعمروبن العلاء بصری حذف کرتے ہیں تواگر جلسہ واحدہ میں کوئی شخص قرآن عظیم بابتدائے واحد ختم کرے تاہم ایك بار بسم اﷲ شریف باجماع
قراء پڑھے گااور تکرار میں اختلاف رہے گا۔ غیث النفع میں ہے :
لاخلاف بینھم فی ان القارئ اذا افتتح قراء تہ باول سورۃ غیربرائۃ انہ یبسمل سواء کان ابتداء ہ عن قطع اووقف (الی ان قال) واختلفوا فی اثبا تھا بین السورتین سواء کانتا مرتبتین اوغیرمرتبتین فاثبتھما قالون والمکی وعاصم وعلی وحذفھا حمزۃ ووصل السورتین (الی قولہ) وانما اختلفوا فی الوصل ولم یختلفوا فی الابتداء لانھا مرسومۃ فی المصاحف فمن یترکھا فی الوصل لولم یأت بھا فی الابتداء لخالف المصاحف وخرق الاجماع الخ۔
اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ قاری کسی سورۃ کو ابتداء سے شروع کرے توبسم اﷲ پڑھے ماسوا سورۃ براء ت کے خواہ قاری قطع کے بعد ابتداء کرے یاوقف کے بعد ہرطرح بسم اﷲ پڑھے( اس کے بعد یہاں تك فرمایا) اور تلاوت میں دوسورتوں کے درمیان بسم اﷲ پڑھنے میں انہوں نے اختلاف کیا ہے خواہ دونوں کو ترتیب سے پڑھے یا غیرترتیب پرپڑھے امام قالون مکی عاصم اور علی نے بسم اﷲ کو ثابت ماناہے اور امام حمزہ نے حذف کرنا قراردیاہے اور دونوں سورتوں میں وصل کاقول کیاہے (اور پھر اس کوبیان کیاکہ) ان ائمہ نے دونوں سورتوں کے وصل کے بارے میں یہ اختلاف کیاہے اور ابتداء کرتے وقت بسم اﷲ پڑھنے میں اختلاف نہیں کیا کیونکہ بسم اﷲ قرآن میں لکھی ہے لہذا اگرکوئی دونوں سورتوں میں وصل کرتے وقت بسم اﷲ کوترك کرے اور سورۃ سے ابتداء کرتے وقت بھی ترك کرے تومصاحف اور اجماع کے خلاف ارتکاب کرے گاالخ(ت)
سراج القاری شرح شاطبیہ میں ہے :
اخبران رجالا بسملوا بین السورتین وھم قالون والکسائی وعاصم وابن کثیر والباقین لایبسملون بین السورتین لان ھذا من قبیل الاثبات والحذف ھ ملخصا۔
معلوم ہوا ہے کہ کئی لوگوں نے کوئی دوسورتوں میں بسم اﷲ پڑھنے کاقول کیا ہے اور وہ قالون کسائی عاصم اور ابن کثیر ہیں اور باقی لوگوں نے ان دونوں سورتوں میں بسم اﷲ نہ پڑھنے کاقول کیاہے کیونکہ یہ معاملہ اثبات وحذف والاہےاھ ملخصا(ت)
حوالہ / References غیث النفع فی القراء ات السبع علی حاشیہ سراج القاری باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵۲
سراج القاری شرح شاطبیہ لابن القاصح مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۴۸
#12192 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
اب نظرغائر کیجئے توحذف صراحۃ نافی ومنافی جزئیت ہے کہ اگر جزہوتی توحذف کیونکر ہوسکتی اور اثبات اصلا مفیدجزئیت نہیں کہ اثبات اعوذ پربھی اجماع قراء ہے او وہ بھی مثل اثبات بسملہ متواتر حالانکہ باجماع مسلمین قرآن نہیں غیث النفع میں ہے :
لاخلاف بین العلماء ان القارئ مطلوب منہ فی اول قرأتہ ان یتعوذ
الخ علماء میں یہ کوئی اختلاف نہیں کہ قاری قرآن کی تلاوت کے شروع میں اعوذ باﷲ پڑھے الخ(ت)
شرح الشاطبیہ لابن القاصح میں ہے :
الاستعاذۃ قبل القرأۃ باجماع وقولہ مسجلا ای مطلقا الجمیع القرأۃ وفی جمیع القران ۔
اعوذباﷲ قرأ ت شروع کرنے سے قبل بالاجماع پڑھی جائے اس کے قول مسجلا کامعنی تمام قراء کے نزدیك تمام قرآن کے شروع میں ۔ (ت)
تومجرد اثبات و روایت متواترہ قراء سے عندالتحقیق جزئیت قرآن پربھی جزم نہ ہوسکتا نہ کہ خاص جزئیت سورت پر ولہذا علمائے عالم جیسا کہ اثبات وتواتر تعوذپراجماع کرکے اس کی عدم قرآنیت پراجماع رکھتے ہیں یونہی اثبات و تواتربسملہ یك بارمطلقا پراجماع فرماکر اس کی قرآنیت میں اختلاف رکھتے ہیں تو مجرد اثبات قراء وتواتر روایت سے جزئیت پردلیل لانی محض باطل ہے ہاں قرآنیت بسم اﷲ پر اس کے سواایك دلیل قطعی قائم ہوئی جس کاذکر اوپرگزرا جمہورائمہ قائل قرآنیت ہولئے اور جزئیت سورت پرکوئی دلیل قطعی نہیں لہذاجمہورائمہ جانب جزئیت نہ گئے بحمداﷲ تعالی اس تقریر سے مثل آفتاب روشن ہوگیاکہ ائمہ قراء ت کااثبات متواتر اصلا مفیدجزئیت نہیں اس بنا پر حضورپرنور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یاصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے تواتر جزئیت کاادعائے باطل درکنار قراء سے تواتر قول بالجزئیت بھی ثابت نہیں ہوسکتا بالجملہ یہ کہنا حق ہے کہ اثبات وحذف دونوں متواتر قطعی اور یہ کہنا باطل کہ جزئیت و عدم دونوں القطع مروی کہ اثبات وجزئیت میں شرق وغرب کافرق ہے اس پرایك دلیل جلیل واضح وروشن یہ بھی ہے کہ قائلان جزئیت بعض احادیث احاد سے احتجاج واستناد کی طرف جھکے اور اس بناپر کہ ثبوت قطعی نہیں ظنیت مسئلہ کی تصریحیں کرگئے دفع اعتراض کے لئے یہاں کفایت ظن کے قائل ہولئے جیسا کہ ابھی کلمات امام حجۃ الاسلام و امام ماوردی و امام نووی محلی و امام ابن حجروغیرہم سے مذکور ہوااگراثبات قراء مثبت جزئیت ہوتا تو اسی پر تعویل کرتے قطعیت چھوڑ کر ظنیت کی طرف کیوں اترتے ھذاکلہ جلی واضح عند کل من لہ فھم وعقل فضلا
حوالہ / References غیث النفع فی القراءت السبع باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۴۸
تذکارالمقری شرح شاطبیہ لابن القاصح باب البسملۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۲۶
#12193 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
عن اھل العلم والفضل (یہ تمام اہل فہم اور اہل عقل کے ہاں واضح ہے چہ جائیکہ اہل علم وفضل پرواضح نہ ہو۔ ت) اور یہیں سے یہ بھی ظاہرہوگیا کہ اس مسئلہ میں مذہب کو دخل نہ ماننا محض جہالت وسخت سفاہت ہے بلکہ حقیقتا روایت قراء نے جزئیت میں کچھ دخل نہ دیا واژگوں فہموں نے الٹاسمجھ لیا آخرامام قرطبی وغیرہ کاارشاد سن چکے کہ مسئلہ اجتہادیہ ہے۔ علامہ بہاری وعلامہ بحر فرماتے ہیں :
(ترکہا نصف القراء) وھم ابن عامر ونافع بروایۃ الورش وحمزۃ وابوعمر وقال مطلع الاسرار الالھیۃ قدس سرہ فی غیرالفاتحۃ (وتواترانہ) صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی الہ واصحابہ وسلم (ترکہا) عند قراء ۃ السورلان قراۃ القراء متواترۃ(ولامعنی عند قصد قراء ۃ سورۃ ان یترك اولھا) فیجب أن لاتکون جزأ ویشھد علیہ ماروی فی الخبر الصحیح عدم الجھر بہا فی الصلوۃ فان قلت قدقرأھا الباقون من القراء فتواتر قراء تہ علیہ وعلی الہ واصحابہ الصلوۃ والسلام فیجب ان تکون جزأ قال(وتواتر قرأتھاعنہ) صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم (بقراء ۃ) القراء (الاخرین لایستلزم کونھا) جزء (منھا) لجواز ان یکون للتبرك کالاستعاذۃ ۔
اس کو نصف اہل علم اور قراء حضرات نے ترك کیا ہے اور وہ ابن عامر نافع اور ورش کی روایت کے مطابق ابوعامراور حمزہ ہیں اور مطلع الاسرار الہیہ قدس سرہ نے غیرفاتحہ کے بارے میں فرمایا کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے تواترکے ساتھ ثابت ہے کہ سورتوں کو پڑھنے میں آپ نے بسم اﷲ کوترك فرمایاکیونکہ قراء حضرات کی قراء ت متواترہ ہیں اور ممکن نہیں کہ سورۃ کوپڑھتے وقت اس کے اول (بسم اﷲ) کوچھوڑدیں لہذا ضروری ہے کہ بسم اﷲ سورتوں کاجزنہیں اور یہ بات اس کی شاہد ہے کہ صحیح طور ر مروی حدیث میں ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز میں بسم اﷲ کاجہرنہیں فرمایا اگر تیرا یہ اعتراض ہو کہ باقی قراء حضرات نے بسم اﷲ کو سورتوں کے ساتھ پڑھا ہے اور جب قراء حضرات کی قراء ت متواتر ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ بسم اﷲ کا سورتوں کے ساتھ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم والہ وصحبہ سے متواتر ہو گا اس سے توثابت ہوتاہے کہ یہ سورتوں کاجز ہے توجواب میں کہا کہ باقی قراء حضرات کی قراء ت سے حضور علیہ السلا م کی قراء ت کے متواتر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ سورتوں کا جز ہوجائے کیونکہ ہوسکتاہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تبرك کے طورپرپڑھا ہو جیسا کہ اعوذباﷲ کاحکم ہے۔ (ت)
اسی طرح اور کتب میں ہے مگرجہال زمانہ کوخبرنہیں ۔
حوالہ / References فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی مسئلۃ البسملۃ من القرآن مطبوعہ منشورات الرضی قم ؤ ایران ۲ / ۱۴
#12194 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
افادہ ثامنہ : اقول : روایت اثبات کااثبات جزئیت عندالمبسلمین سے بھی بے علاقہ ہوناتوظاہر ہوچکا اور ہم یہ بھی ثابت کرآئے کہ شمارآیات وسور دلیل واضح ہے کہ قراء مبسملین بھی جزئیت سورنہیں مانتے تاہم اب اگربالفرض کسی طریقہ سے ثابت بلکہ متواتربھی ہوکہ امام عاصم کامذہب جزئیت تھا تووہ جدابات ہے اس میں ہمیں کلام نہیں مذہب میں ہم ان کے مقلد نہیں نہ ان کی قراء ت کااختیار برخلاف مذہب ان کے مذہب پرعمل لابد کرسکے امر واضح پردلیل روشن درکار ہوتوسنئے شك نہیں کہ ہمارے ائمہ نے قرأت عاصم بروایت حفص اختیار فرمائی اور شك نہیں کہ بالاجماع نمازسریہ وجہریہ سب میں ہمارے یہاں اخفاء بسملہ کاحکم اور شك نہیں کہ مذہب امام پرنمازجہریہ میں ایك آیت کے سہوا اخفا پربالاجماع سجدہ اور عمدا پراعادہ لازم توقطعا ثابت کہ حفص وعاصم اگرچہ جزئیت فاتحہ کی طرح جزئیت ہرسورت بھی مانتے ہوں مگر ان کی قرأت اختیارکرنے نے ہمیں عمل قول جزئیت پر مجبور نہ کیا ورنہ ضرورجہریہ میں جہر تسمیہ علی الفاتحہ کاحکم ہوتا او ر اس کاترك سجدہ سہو یا اعادہ چاہتا پھربعد فاتحہ سر سورت پراتیان بسملہ میں عامہ متون مذہب مثل ہدایہ و وقایہ و نقایہ و اصلاح و غرر و ملتقی الابحر و تنویر وغیرہا انکار محض پرہیں اور اسی پر بدائع و شرح وقایہ ودرر و جوہرہ نیرہ و مجمع الانہر وغیرہا شروح نے مشی فرمائی محققین کے نزدیك اگرچہ اس کاحاصل کراہت نہیں صرف نفی سنیت ہے کما بیناہ فی فتاونا العطایا النبویۃ فی فتاوی الرضویۃ (جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوی “ العطایا النبویۃ فی فتاوی الرضویۃ “ میں بیان کیاہے۔ ت) تاہم اگر اختیار قرأت عاصم اختیار جزئیت لازم کرتا تونفی سنیت اور التزام ترك بسملہ میں نفی کراہت پراجماع حنفیہ ناممکن تھا ابھی مسلم وفواتح سے سن چکے کہ سورت پڑھتے وقت اس کے اول سے ایك آیت چھوڑدینا بے معنی ہے سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں :
فیہ ھجر شیئ من القران وذلك لیس من اعمال المسلمین اھ نقلہ الشامی عن النھر عن الامام فی باب سجود التلاوۃ۔
اس میں بعض قرآن کا ترك لازم آئے گا حالانکہ یہ بات مسلمانوں کے عمل سے بعید ہےاھ اس کو علامہ شامی نے باب سجود التلاوۃ میں نہر کے حوالے سے امام صاحب سے نقل کیاہے۔ (ت)
پس آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ ہمیں عمل قول جزئیت پرمجبورکرنا ہمارے ائمہ کرام کے اجتماع تام کے خلاف اور محض اپنے ذہن کی تراشیدہ بات ہے قصدوعدم قصد ختم سے تفرقہ محض جہالت اختیار قرأۃ عاصم موجب عمل برجزئیت نہیں توختم میں کیانقصان اور اگر ہے توفرض میں وجوب جہرکیوں نہیں کیافرائض میں ہم قرآن
حوالہ / References ردالمحتار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ / ۱۱۷
#12195 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
بقرأت عاصم نہیں پڑھتے بھلاختم میں اتنا ہی ہے کہ سنت ناقص رہی یہاں تو واجب ترك ہوتاہے۔
افادہ تاسعہ : اقول : بطورمناظرہ علی التنزل اگرمان لیجئے کہ اختلاف قراء روایت جزئیت و عدم جزئیت ہے تاہم جس نے ختم میں ایك بار بسم اﷲ شریف پڑھی اس نے یقینا کلام اﷲ ختم کیا نقص اگرہوا تو روایت میں نہ کہ قرآن میں توپورے قرآن کا ثواب نہ ملنا کیامعنی کیاسنت یہ ہے کہ مثلا امام عاصم کی روایت تراویح میں پوری کی جائے یایہ کہ قرآن عظیم کا ختم کامل ہو اگراول مانو تو محض باطل اور شرع مطہرپرکھلا افتراء کس دلیل شرعی کاحکم ہے کہ خاص فلاں روایت کااہتمام مسنون اور ثانی مانواور وہی حق ہے توقرآن عظیم تو بالقطع والیقین یوں بھی ختم ہوگیا پھرکامل ثواب نہ ملنا یعنی چہ کیابعض روایات پرقرآن کامل ہے بعض پرمعاذاﷲ ناقص حاش ﷲ ہرطرح تام و کامل ہے ورنہ لازم آئے کہ بعض بلکہ ہرعرض میں حضور پرنورسیدالعالمین و حضرت جبریل روح الامین صلی اﷲ تعالی علیہما وسلم میں ناقص قرآن کادورہوا ہرقاری کے پاس ناقص قرآن رہا کہ ہرقرأت میں بہ نسبت دوسری کے کچھ نہ کچھ اثبات وحذف ہے اپنے نزدیك تمامی عنداﷲ تمامی کو مستلزم نہیں اور جب عنداﷲ تمامی تونقص ثواب کا زعم رب العزت کی جناب میں سوئے ظن ہے ان الله لا یضیع اجر المحسنین(۱۲۰) (بیشك اﷲ تعالی نیکی کرنے والوں کااجرضائع نہیں فرماتا۔ ت) اگرکہئے گویہ قرآن فی نفسہ تام وکامل ہے مگر مثلا امام عاصم کے نزدیك پورانہ ہوا۔
اقول : دوحال سے خالی نہیں یاتوقراء کے نزدیك روایات اخربھی متواترہ نہیں اور ان میں ایك کا اعتبار اس بناپر کہ اپنے اساتذہ پریونہی پڑھا ان کے نزدیك اپنی ہی روایت متواترہوئی یاتواترباقی پراطلاع نہ ملی علی الاول بلاشبہ امام عاصم پریہ اعتقاد فرض کہ کلام الہی پوراختم ہوگیا اگرچہ ان کی روایت پوری نہ ہوئی اور ثواب کامل اسی پر منوط تھا نہ خاص ان کی روایت پر وعلی الثانی جب ہم پر مہرنیمروزوماہ نیم ماہ کی طرح ان روایات کاتواترروشن ہوگیاتو امام عاصم کانہ جاننا مطلع نہ ہونا کچھ حجت نہیں غرض نہ عاصم کی روایت پرثواب محصور نہ عاصم کے خیال کی تقلید ضرورجبکہ بالقطع والیقین حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اس کا خلاف بتواتر ماثور کیا مزے کی بات ہے کہ امام مذہب بلکہ انصافا امام الائمہ ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کامذہب تومحض اپنے اس زعم باطل پرچھوڑاجائے کہ اذا صح الحدیث فھو مذھبی (جب حدیث صحیح ہوتو وہی میرامذہب ہے۔ ت) قول احناف ہے اور امام عاصم کاایك خیال کہ عدم اطلاع پرمبنی ہوا اس پرجمود ایساضرور کہ اس کے مقابل حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے تواتر قطعی بھی نامنظور۔
حوالہ / References القرآن ۹ / ۱۲۰
#12196 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
افادہ عاشرہ : اگربعد طلوع فجر ساطع وظہور حق لامع اپنی خطا پرمطلع ہوکر دعوی نقصان ثواب سے عدول کرکے اس راہ چلئے کہ بلاشبہہ قرآن بھی کامل ختم ختم کامل کاثواب بھی حاصل مگرجبکہ ہم قرأت امام عاصم اختیارکئے ہوئے ہیں تو ہم پرشرعا یہی واجب کہ انہیں کی روایت پرقرآن ختم کریں۔
اقول : یہ بھی محض باطل اتباع قرأت واحدہ صرف ہنگام روایت واجب ہے کہ روایت احدالقراء کا نام کرکے بعض حروف روایت دیگرپڑھے توکذب فی النسبۃ وتخلیط وتغلیط لازم آئے کہ اس تقدیر پر اس کامفاد یوں ہوگا کہ یہ لفظ اس طرح اس امام کی روایت ہے حالانکہ وہ اس کی روایت نہیں تلاوت میں تعیین قرأت واجب نہیں کہ آخرسب قرآن اور سب حق منزل من عندالرحمن ہے توتخصیص بعض وانکار بعض کے کیامعنی اختلاف قرأت مثل اختلاف مذاہب نہیں کہ تعیین واجب یاتلفیق باطل ہو یہاں اگربعض سور بلکہ ایك سورت کی بعض آیات بلکہ ایك آیت کے بعض کلمات ایك قرأت کے مطابق پڑھے اور بعض دیگرکے توعندالتحقیق اصلا ممانعت نہیں جب تك وہ تلفیق موجب اختلال نظم یافساد معنی نہ ہو اور اگر ایك کلام ختم ہوکر دوسری بات شروع ہوجب تواحق واولی بالجواز ہے خصوصا جبکہ مجلس متبدل ہو امام خاتم الحفاظ جلال الحق والدین سیوطی اتقان شریف میں امام سیدالقراء شیخ المقرئین شمس الملۃ والدین ابوالخیر ابن الجزری سے نقل فرماتے ہیں :
الصواب ان یقال ان کانت احدی القرائتین مرتبۃ علی الاخری منع ذلك منع تحریم کمن یقرأ فتلقی ادم من ربہ کلمت برفعھما اونصبھما اخذارفع ادم من قراء ۃ غیرابن کثیر ورفع کلمات من قراء تہ ونحوذلك مما لایجوزفی العربیۃ واللغۃ ومالم یکن کذلك فرق فیہ بین مقام الروایۃ وغیرھا فان کان علی سبیل الروایۃ حرم ایضا لانہ کذب فی الروایۃ وتخلیط وان کان علی سبیل التلاوۃ جاز ۔
یہ کہنادرست ہوگا کہ دونوں قراء ات میں ایك دوسری پرمرتب ہے تویہ ممنوع بطورتحریم ہے جیسا کہ فتلقی ادم من ربہ کلمت میں لفظ “ ادم “ اور “ کلمت “ دونوں پرپیش پڑھے یادونوں پرزبرپڑھے یوں کہ “ ادم “ پر پیش کو غیر ابن کثیر کی قراء ت سے اور “ کلمت “ کی پیش ابن کثیر کی قرأت سے اخذ کرے اس طرح یہ عربی میں اور لغت میں جائزنہیں اور اگر ایسانہ ہو توپھر روایت اور غیرروایت کے مقام میں فرق ہوگا اور اگر روایت کے طورپر ہوتوبھی حرام ہے کیونکہ یہ روایت میں خلط اور کذب ہوگا اور اگر برسبیل تلاوت ہوتویہ جائز ہے۔ (ت)
حوالہ / References الاتقان فی علوم القرآن النوع الخامس فی آداب تلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۰
#12199 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
ہاں ائمہ کرام نے حفظ دین عوام کویہ وصیت فرمائی کہ جاہلوں کے سامنے قرأت غریبہ ووجوہ عجیبہ نہ پڑھیں کہ مبادا وہ انکاریاطعن یااستہزاء کی آفت میں نہ پڑیں درمختار میں ہے :
یجوز بالروایات السبع لکن الاولی ان لایقرء بالغریبۃ عندالعوام صیانۃ لدینھم ۔
قرأت سبعہ پڑھناجائز ہے مگرعوام کے لئے اجنبی قرأت کونہ پڑھے تاکہ عوام کے دین میں خلل نہ ہو۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ یجوز بالروایات السبع بل یجوزبالعشر ایضاکمانص علیہ اھل الاصول قولہ بالغریبۃ ای بالروایات الغریبۃ و الامالات لان بعض السفھاء یقولون مالایعلمون فیقعون فی الاثم والشقاء ولاینبغی للائمۃ ان یحملواالعوام علی مافیہ نقصان دینھم ولایقرؤ عندھم مثل قرأۃ ابی جعفر و ابن عامر و علی بن حمزۃ والکسائی صیانۃ لدینھم فلعلھم یستخفون اویضحکون وان کان کل القراء ات والروایات صحیحۃ قطعیۃ ومشائخنا اختارواقرأۃ ابی عمر وحفص عن عاصم اھ عن التتارخانیۃ عن فتاوی الحجۃ ۔
قولہ روایت سبعہ جائزہے بلکہ عشرہ بھی جائزہے جیسا کہ اہل اصول نے تصریح کی ہے قولہ اجنبی یعنی روایات اور امالات اجنبیہ کونہ پڑھے کیونکہ بعض جاہل لوگ لاعلمی کی وجہ سے باتیں بنائیں گے اور گناہ اور بدی میں مبتلا ہوں گے امامت کرانے والے حضرات کومناسب نہیں کہ لوگوں کودینی نقصان میں ڈالیں اور ان کے سامنے امام ابوجعفر ابن عامر علی اور کسائی جیسی قرأت نہ کریں ہوسکتاہے کہ عوام لاعلمی کی بناپر ان کی قراء ات کوحقیرجانتے ہوئے ان پرہنسنا شروع کردیں اور ان کادین محفوظ رکھناضروری ہے اگرچہ یہ تمام قراء ات قطعی طور پر صحیح ہیں جبکہ ہمارے مشائخ نے ابوعمرو کی عاصم سے روایت کردہ قرا ء ت کواپنایاہےاھ یہ فتاوی الحجہ سے تتارخانیہ کی روایت ہے۔ (ت)
اسی طرح علمگیریہ وغیرہا میں ہے :
افادہ حادیہ عشر : اقول : جس مصلحت کے لئے یہاں علما نے پیش عوام روایت غریبہ کی
حوالہ / References درمختار فصل ویجہرالامام مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۸۰
ردالمحتار فصل ویجہرالامام مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۵۴۱
#12201 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
تلاوت سے منع کیا مسئلہ بسملہ میں انصافا دیکھئے تو ہمارے بلاد میں خاص صورت اخفاء میں ہے کہ یہاں کہ تمام حفاظ وقراء وسامعین عامہ مسلمین کے کان ہرسورت پرجہربسم اﷲ سے آشنا نہیں وہ اسے سن کر مخالفت کریں گے طعن واعتراض سے پیش آئیں گے تمہارے زعم میں یہ اعتراض اس امرپرہوگاجو قرنا فقرناحضور پرنورسیدیوم النشور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے متواترہے اور دوسراامر جس کے وہ عادی ہیں یعنی اخفاء تم خود بھی مقر ہوکہ وہ بھی حق وصحیح اورحضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ایساہی متواتر ہے تواسی کوکیوں نہ لیجئے اور عکس کرکے مسلمانوں میں فتنہ عوام میں شورش کیوں پیداکیجئے اب اپنے زعم باطل پر تم خود اس کے باعث ہوتے ہوکہ امرمتواتر عن المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پرمسلمانوں سے انکار و اعتراض کراؤ کیااسی کاشریعت مطہرہ نے حکم دیاہے کیااسی پر قاری یاملا ہونارہ گیاہے ہاں یہ ضرور ہے کہ جب تك بات نئی بیگانہ تازی جدا اکثرمسلمین کے گوش ناآشنانہ ہو شہرت نام کاذریعہ نہیں ہوتی مگر پناہم بخدا کہ قاریان قرآن قرأت قرآن سے شہرت نام کی نیت رکھیں علمائے کرام ایسے محل پرترك افضل کی رائے دیتے ہیں نہ کہ ترك مساوی امام علامہ جلال الدین زیلعی نصب الرایہ میں نقل فرماتے ہیں :
یسوغ للانسان ان یترك الافضل لاجل تالیف القلوب واجتماع الکلمۃخوفامن التنفیر کما ترك النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بناء البیت علی قواعد ابراھیم لکون قریش کانواحدیثی عھد بالجاھلیۃ وخشی تنفیرھم بذلک ورای تقدیم مصلحۃ الاجتماع علی ذلک ولما انکراالربیع علی ابن مسعود اکمالہ الصلوۃ خلف عثمان قال الخلاف شر وقد نص احمدوغیرہ علی ذلك فی البسملۃ وفی وصل الوتروغیر ذلك ممافیہ العدول عن الافضل الی الجائز المفضول مراعاۃ لائتلاف المامومین اولتعریفھم السنۃ وامثال ذلك و ھذا اصل کبیر فی سد
لوگوں کی تالیف قلبی اور ان کو مجتمع رکھنے کے لئے افضل کوترك کرناانسان کے لئے جائز ہے تاکہ لوگوں کو نفرت نہ ہوجائے جیسا کہ حضورعلیہ الصلوۃوالسلام نے بیت اﷲ شریف کی عمارت کو اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پرقائم رکھا تاکہ قریشی نومسلم ہونے کی وجہ سے اس کی نئی بنیادوں پرتعمیر کو نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھیں تو آپ نے اجتماع کو قائم رکھنے کی مصلحت کومقدم سمجھا اور جیساکہ حضرت ربیع نے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی نمازمیں اختلاف کی بناپر روکاتو انہوں نے فرمایا کہ خلاف کرنے میں شرہے اسی لئے امام احمد وغیرہ نے بسم اﷲ اور وتر کے وصل وغیرہ کے بارے میں اس کی تصریح کی ہے یہ وہ معاملات ہیں جن میں افضل سے عدول کرکے جائز مفضول کو
#12203 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
الذرائع ۔
اختیارکیاگیاہے تاکہ مقتدی حضرات کی تالیف قلبی اور ان کی سنت شناسی وغیرہ کاپاس کیاجاسکے یہ بات فتنہ کے سدباب کے لئے بڑاضابطہ ہے۔ (ت)
یہ سب اس تقدیرپرتھاکہ بفرض باطل قطعیت جزئیت مان لی جائے ورنہ حق وتحقیق کاایضاح پہلے ہوچکااس تقدیرپرقاری وملا اپنی اس تنفیرواثارت فتنہ کی حدیں بتائیں یہاں توبداہۃ عوام اس غیرقصدی الزام سے بھی محفوظ اور یہ تنفیروایقاع اختلاف ویسے مستند معتمد سے نامحفوظ کما لایخفی واﷲ الھادی (جیسا کہ مخفی نہیں اور اﷲ ہی ہدایت دینے والاہے۔ ت)
افادہ ثانیہ عشر : یہاں تك دعوی قطعیت جزئیت ولزوم نقصان ختم کارد تھاکہ بحمداﷲباحسن وجوہ ظاہرہوا اب بعونہ تعالی جہرواخفا کی طرف چلئے تراویح میں جہربسملہ کاحضورپرنور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے متواتر کہناحضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پرصریح افتراہے تواتردرکنار زنہارکسی حدیث احادسے بھی اس کاثبوت نہیں جہرفی التراویح توجدا مطلقاکسی نماز میں حضوروالا صلوات اﷲ وسلامہ علیہ کابسم اﷲ شریف جہر سے پڑھنا ہرگز ہرگز متواترنہیں تواترکیسا نفس ثبوت میں سخت کلام ونزاع ہے امام حافظ عقیلی کتاب الضعفاء میں لکھتے ہیں :
لایصح فی الجھر بالبسملۃ حدیث مسند ۔ ذکرہ فی عمدۃ القاری۔
بسم اﷲ میں کوئی حدیث مسندصحیح نہیں اسے عمدۃ القاری میں ذکرکیاگیاہے۔
امام دارقطنی فرماتے ہیں :
لم یصح فی الجھر حدیث ۔ ذکرہ فی عنایۃ القاضی۔
جہرتسمیہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہوئی۔ اسے عنایۃ القاضی میں ذکرکیاگیا۔
یہی امام دارقطنی جب مصر تشریف لے گئے کسی مصری کی درخواست سے دربارہ جہرایك جز تصنیف فرمایا بعض مالکیہ نے قسم دے کرپوچھا کہ اس میں کون سی حدیث صحیح ہے آخر براہ انصاف اعتراف فرمایا کہ :
کل ماروی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ
یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جہرمیں جوکچھ
حوالہ / References نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۳۲۸
عمدۃ القاری باب مایقول بعد التکبیر مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۵ / ۲۸۸
عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی مبحث البسملۃ مطبوعہ دار صادربیروت ۱ / ۳۱
#12205 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
وسلم فی الجھر فلیس بصحیح ۔ ذکرہ الامام الزیلعی عن التنقیح عن مشایخہ عن الدار قطنی والمحقق فی الفتح۔
روایت کیاگیاہے اس میں کچھ صحیح نہیں ۔ اس کو امام زیلعی نے اپنے مشائخ کی تنقیح قراردے کر دارقطنی سے نقل کیاہے اور محقق نے فتح القدیر میں ذکرکیا۔
امام ابن الجوزی نے کہا :
لم یصح عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الجھر شیئ ۔ ذکرہ القاری فی المرقاۃ۔
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جہربسم اﷲ میں کوئی روایت صحیح نہیں ۔ اسے ملاعلی قاری نے مرقاۃ میں ذکرکیا۔
یہاں تك کہ تنقیح میں احادیث جہرلکھ کرفرماگئے :
ھذہ الاحادیث فی الجملۃ لاتحسن بمن لہ علم بالنقل ان یعارض بھا الاحادیث الصحیحۃ ولولاان یعرض للمتفقۃ شبھۃ عند سماعھا فیظنھا صحیحۃ لکان الاضراب عن ذکرھا اولی ویکفی فی ضعفھا اعراض المصنفین للمسانید والسنن عن جمہورھا ۔
ان احادیث کو صحیح احادیث کے معارض قراردینا نقل کے فن میں علم والے کودرست نہیں ۔ اگر ان روایات کوفقیہ سن کرغلط فہمی کی بناپرصحیح گمان کرنے کاخدشہ نہ ہوتاتوان کوذکرنہ کرنا مناسب تھا اور ان روایات کے ضعف پردلیل تمام مسانید وسنن کے مصنفین کاان کوذکرنہ کرناہی کافی ہے۔ (ت)
خلاصہ یہ کہ وہ احادیث نہ احادیث صحیحہ کے مقابل نہ ذکرکے قابل ولہذا مصنفان مسانید وسنن نے ان کے ذکرسے اعراض کیا نقلہ فی نصب الرایۃ (اس کو نصب الرایہ میں ذکرکیاگیاہے۔ ت)خود پیشوائے وہابیہ ابن القیم نے اپنی کتاب مسمی بالہدی میں لکھا :
فصحیح تلك الاحادیث غیرصریح وصریحھا غیرصحیح ۔ نقلہ امام الوھابیہ الشوکانی
ان حدیثوں میں جوصحیح ہے وہ جہرمیں صریح نہیں اور جو جہرمیں صریح ہے وہ صحیح نہیں ۔ اس کو وہابیوں کے
حوالہ / References نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۳۵۹
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب القرأۃ فی الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۲۸۶
نصب الرایہ بحوالہ التنقیح کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۳۵۸
نیل الاوطار باب ماجاء فی بسم اﷲ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۲۲۸
#12206 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
فی نیل الاوطار۔
امام شوکانی نے نیل الاوطار میں ذکرکیاہے۔
امام زیلعی تبیین الحقائق میں فرماتے ہیں :
الحاصل ان احادیث الجھر لم تثبت ۔ اثرہ السید الازھری فی الفتح۔
خلاصہ یہ کہ جہرکی حدیثیں ثابت نہ ہوئیں ۔ سیدازہری نے اس کو فتح میں نقل کیا ہے۔
امام زیلعی نصب الرایہ میں فرماتے ہیں :
ھذہ الاحادیث کلھا لیس فیھا صریح صحیح ولیست مخرجۃ فی شیئ من الصحیح ولاالمسانید ولاالسنن المشھورۃ وفی رواتھا الکذابون والضعفاء والمجاھیل الخ
ان حدیثوں میں کوئی حدیث صریح وصحیح نہیں نہ یہ صحاح ومسانید وسنن مشہورہ میں مروی ہوئیں ان کی روایتوں میں کذاب ضعیف مجہول لوگ ہیں الخ
امام عینی عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں :
احادیث الجھر لیس فیھا صریح بخلاف حدیث الاخفاء فانہ صحیح صریح ثابت مخرجہ فی الصحیح والمسانید المعروفۃ والسنن المشھورۃ
جہر کی حدیثوں میں کوئی حدیث صحیح وصریح نہیں بخلاف حدیث اخفا کہ وہ صحیح وصریح اور صحاح و مسانید وسنن مشہورہ میں ثابت ہے۔
۱امام اعظم ابوحنیفہ و ۲امام مالك و۳امام شافعی و۴امام احمدچاروں ائمہ مذہب اور ۵بخاری و۶مسلم و ۷ابوداؤدو ۸ترمذی و۹ نسائی و۱۰ابن ماجہ چھئوں ائمہ حدیث اور ۱۱دارمی وطحطاوی و۱۲ابن خزیمہ و۱۳ابن حبان و۱۴دارقطنی و ۱۶طبرانی و ۱۷ابویعلی و۱۸ ابن عدی و۱۹بیہقی و۲۰ابونعیم و ۲۱ابن عبدالبراکابرحفاظ و اجلہ محدثین اپنی صحاح وسنن ومسانید ومعاجیم میں باسانید کثیرہ حضرت سیدنا انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں :
صلیت خلف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وخلف ابی بکر و عمر و عثمن فلم اسمع احدا منھم یقرأ بسم اﷲ الرحمن
میں نے حضوراقدس رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وابوبکر صدیق و عمر فاروق و عثمان غنی کے پیچھے نمازپڑھی ان میں کسی کو بسم اﷲ شریف پڑھتے نہ سنا
حوالہ / References تبیین الحقائق فصل اذااراد الدخول فی الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۱۱۲
نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۳۵۵
عمدۃ القاری النوع الرابع اختلاف الفقہاء فی البسملۃ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۲۹۱
#12207 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
الرحیم ھذا لفظ مسلم وفی لفظ للامام احمد والنسائی وابن حبان فی صحیحہ وغیرھم باسناد علی شرط الصحیح کما افادہ فی الفتح کانوالایجھرون ببسم اﷲ الرحمن الرحیم وفی لفظ لابن خزیمۃ والطبرانی وابی نعیم کانوا یسرون ببسم اﷲ الرحمن الرحیم ولابن ماجۃ فکلھم یخفون بسم اﷲ الرحمن الرحیم ۔
وہ بسم اﷲ شریف کاجہر نہ فرماتے تھے وہ بسم اﷲ شریف آہستہ پڑھتے تھے یہ امام مسلم کے الفاظ تھے امام احمد نسائی اور ابن حبان اپنی صحیح میں اور دوسروں نے اپنی صحیح سندوں کے ساتھ جیسا کہ فتح القدیر نے بیان کیاہے جن کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ حضرات بسم اﷲ کاجہرنہ فرماتے تھے اور ابن خزیمہ طبرانی ابونعیم کے الفاظ یہ ہیں کہ وہ بسم اﷲ کوپوشیدہ پڑھتے تھے اور ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں کہ کہ وہ سب بسم اﷲ کااخفاء فرماتے تھے۔ (ت)
یہ وہ حدیث جلیل ہے جس کی تخریج پرچاروں ائمہ مذہب اور چھئوں اصحاب صحاح متفق ہیں بلکہ طبرانی ف نے انہیں سے روایت کی :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان یسرببسم اﷲ الرحمن الرحیم وابابکر وعمر وعثمن وعلیا ۔
بیشك رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ تعالی عنہم بسم اﷲ شریف آہستہ پڑھتے تھے۔
امام الائمہ امام ابوحنیفہ و امام محمد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ وغیرہم ابن عبداﷲ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی قال
حوالہ / References صحیح مسلم باب حجۃ من قال لایجہر بالبسملۃ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۷۲
مسنداحمدبن حنبل مروی ازانس بن مالك رضی اﷲ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۱۷۹ ، ۲۷۵ ، فتح القدیر باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۵۴
صحیح ابن خزیمہ معنی قول انس رضی اﷲ عنہ انہم کانوا یسرون الخ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۲۴۹
سنن ابن ماجہ باب افتتاح القراء ت مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۵۹
المعجم الکبیر مروی از انس رضی اﷲ عنہ حدیث ۷۳۹ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱ / ۲۵۵ ، صحیح ابن خزیمہ معنی قول انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کانوایسرون الخ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۲۵۰
ف : طبرانی کبیراور صحیح ابن خزیمہ میں عثمان و علی رضی اﷲ عنہما کاذکرنہیں ۔ نذیراحمد
#12209 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
سمعنی ابی وانا اقول بسم اﷲ الرحمن الرحیم فقال ای بنی ایاك والحدث قال ولم اراحدا من اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان ابغض الیہ الحدث فی الاسلام یعنی منہ قال وصلیت مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومع ابی بکر ومع عمر ومع عثمن فلم اسمع احدا منھم یقولھا فلاتقلھا انت اذا صلیت فقل الحمد ﷲ رب العلمین ۔
یعنی مجھے میرے باپ نے نماز میں بسم اﷲ شریف پڑھتے سنا فرمایا اے میرے بیٹے! بدعت سے بچ۔ ابن عبداﷲ کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صحابہ میں ان سے زیادہ کسی کو اسلام میں نئی بات نکالنے کادشمن نہ دیکھا انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و ابوبکرصدیق و عمرفاروق و عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ نماز پڑھی کسی کو بسم اﷲ شریف پڑھتے نہیں سنا تم بھی نہ کہو جب نمازپڑھو الحمدﷲ رب العالمین سے شروع کرو۔
انہی عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ نے کسی امام کو بسم اﷲ جہرسے پڑھتے سنا پکارکرفرمایا :
یاعبداﷲ انی صلیت خلف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وابی بکر وعمر وعثمن رضی اﷲ تعالی عنھم فلم اسمع احدا منھم یجھربھا ۔ رواہ الامام الاعظم ذکرہ فی الفتح۔
اے خدا کے بندے! میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ تعالی عنہم کے پیچھے نمازیں پڑھیں ان میں کسی کوبسم اﷲ جہر سے پڑھتے نہ سنا اس کو امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے روایت کیا اسے فتح میں ذکرکیاگیاہے۔
امام اعظم و امام محمد و امام احمد و امام طحاوی و امام ابوعمر ابن عبدالبر حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے راوی :
الجھر ببسم اﷲ الرحمن الرحیم قرأۃ الاعراب ۔
بسم اﷲ شریف آواز سے پڑھنی گنواروں کی قراء ت ہے۔
حوالہ / References جامع الترمذی باب ماجاء فی ترك الجہربسم اﷲ الرحمن الرحیم مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۳۳ ، سنن ابن ماجہ باب افتتاح القراء ت مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۵۹
مسندالامام الاعظم بیان عدم الجہر بالبسملۃ مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی ص۵۸ ، فتح القدیر باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۵۴
شرح معانی لآثار باب قراء ت بسم اﷲ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۴۰ ، المصنف لابن ابی شیبۃ من کان لایجہر بسم اﷲ الخ مطبوعہ ادارۃ القرآن الخ کراچی ۱ / ۴۱۱
#12213 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
نیز اسی جناب سے مروی ہوا :
لم یجھر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالبسملۃ حتی مات ۔ ذکرہ المحقق فی الفتح۔
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کبھی بسم اﷲ شریف کاجہر نہ فرمایا یہاں تك کہ دنیا سے تشریف لے گئے۔ اسے محقق نے فتح میں ذکرکیا۔
اثرم بسند صحیح عکرمہ تابعی شاگرد خاص حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے راوی :
انا اعرابی ان جھرت ببسم اﷲ الرحمن الرحیم ۔
میں گنوار ہوں اگر بسم اﷲ شریف جہرسے پڑھوں ۔
سعید بن منصور اپنی سنن میں راوی :
حدثنا حماد بن زید عن کثیربن شنظیر ان الحسن سئل عن الجھر بالبسملۃ فقال انما یفعل ذلك الاعراب ۔
حماد بن زید نے کثیر بن شنظیر سے بیان کیاکہ امام حسن بصری سے جہربسم اﷲ کاحکم پوچھاگیا فرمایا یہ گنواروں کاکام ہے۔
ابن ابی شیبہ اپنے مصنف میں امام ابراہیم نخعی تابعی سے راوی :
الجھرببسم اﷲ الرحمن الرحیم بدعۃ ۔
بسم اﷲشریف شریف جہر سے کہنابدعت ہے۔
اثرم انہیں سے راوی :
ماادرکت احدا یجھر بسم اﷲ الرحمن الرحیم والجھربھا بدعۃ ۔
میں نے صحابہ وتابعین میں کسی کو بسم اﷲ شریف کاجہرکرتے نہ پایا اس کاجہربدعت ہے۔
سبحان اﷲ! حضورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے تواتر درکنار ان حضرات عالیہ کے نزدیك کچھ بھی ثبوت ہوتا توکیا یہ اجلہ صحابہ وتابعین معاذ اﷲ اسے بدعت بتاتے یاگنواروں کا فعل کرسکتے تھے ولکن الجہلۃ یقولون مالایعلمون (لیکن جاہل لوگ غیرمعلوم باتیں کرتے ہیں ۔ ت) نہایت کہ امام الفقہاء امام المحدثین اوحدالاولیا اوحد المجتہدین سیدنا امام سفیان ثوری رضی اللہ تعالی عنہ نے اختیار جہربسم اﷲ کاقول سخت مہجور ومحجور مانا اور اس کے اخفا کوافضل واولی سمجھنا تتمہ عقائد اہل سنت جانا محدث لالکائی کتاب السنہ میں بسند صحیح راوی :
حوالہ / References فتح القدیر باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۵۴
فتح القدیر باب صفۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۵۴
نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ سنن سعیدبن منصور کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۳۵۸
مصنف ابن ابی شیبہ من کان لایجہر ببسم اﷲ الخ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۴۱۱
نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ بحوالہ الاثرم ، کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ریاض الشیخ ۱ / ۳۵۸
#12217 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
حدثنا المخلص نا ابو الفضل شعیب بن محمد نا علی بن حرب بن بسام سمعت شعیب بن جریر یقول قلت لسفین الثوری حدث بحدیث السنۃ ینفعنی اﷲ بہ فاذا وقفت بین یدیہ وسألنی عنہ قلت یارب حدثنی بھذا سفین فانجوانا وتوخذ فقال اکتب بسم اﷲ الرحمن الرحیم القران کلام اﷲ غیرمخلوق منہ (وجعل یسرد الی ان قال) یاشعیب لاینفعك ماکتبت حتی تری المسح علی الخفین وحتی تری ان اخفاء بسم اﷲ الرحمن الرحیم افضل من الجھر بہ وحتی تؤمن بالقدر (الی ان قال) اذا وقفت بین یدی اﷲ فسألك عن ھذا فقل یارب حدثنی بھذا سفین الثوری ثم خل بینی وبین اﷲ عزوجل ۔
یعنی شعیب بن جریر نے امام سفیان ثوری سے کہا مجھے عقائد اہلسنت بتادیجئے کہ اﷲ عزوجل مجھے نفع بخشے اور جب میں اس کے حضورکھڑاہوں اور مجھ سے ان کے متعلق سوال ہوتو عرض کردوں کہ الہی! یہ مجھے سفیان نے بتائے تھے تو میں نجات پاؤں اور جو پوچھ گچھ ہو آپ سے ہوتو فرمایا لکھو بسم اﷲ الرحمن الرحیم قرآن اﷲ کاکلام ہے مخلوق نہیں اور اسی طرح اور عقائد ومسائل لکھواکر فرمایا اے شعیب! یہ جو تم نے لکھا تمہیں کام نہ دے گا جب تك مسح موزہ کاجواز نہ مانو اور جب تك یہ اعتقاد نہ رکھو کہ بسم اﷲ کاآہستہ پڑھنا بآوازپڑھنے سے افضل ہے اور جب تك تقدیرالہی پرایمان نہ لاؤ جب تم اﷲ عزوجل کے حضور کھڑے ہواور تم سے سوال ہو تو میرانام لے دینا کہ یہ عقائد ومسائل مجھے سفیان ثوری نے بتائے پھر مجھے اﷲتعالی کے حضور چھوڑکر الگ ہوجانا۔
امام ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں فرماتے ہیں : ھذا ثابت عن سفین وشیخ المخلص ثقۃ ۔ یہ روایت سفیان سے ثابت ہے اور راوی ثقہ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
افادہ ثالثہ عشر : اقول : ہم آفتاب روشن کی طرح ثابت کرآئے کہ اگربفرض باطل مذہب ثابت نہیں کہ ان کاطریقہ نماز میں ہرجگہ جہربسم اﷲ تھا تاہم ان کی قراء ت اختیارکرنی ہرگز اسے مستلزم نہیں کہ نماز میں درباہ جہر واخفاء ان کی پیروی ضرورہوکہ یہ مسئلہ فقہیہ ہے اور ہم فقہ میں ان کے مقلدنہیں آخرنہ دیکھا کہ ہمارے ائمہ کرام نے ان کی قراءت اختیار فرمائی اور نمازمیں بسم اﷲ شریف کے اخفاء کاحکم دیا لاجرم ہمارے علماء نے صاف صریح تصریح فرمائی کہ جہر و اخفائے بسم اﷲ شریف میں امام قراء ت کا اتباع بیرون نماز
حوالہ / References تذکرۃ الحفاظ للذہبی عنوان سفیان بن سعید ثوری ۴۳ بحولہ اللالکائی مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف حیدرآباددکن ۱ / ۱۹۳
تذکرۃ الحفاظ للذہبی عنوان سفیان بن سعید ثوری ۴۳ بحولہ اللالکائی مطبوعہ مجلس دائرۃ المعارف حیدرآباددکن ۱ / ۱۹۳
#12218 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
ہے نماز میں اخفا ہی کرے اور بیرون نماز بھی اتباع قاری خاص صرف بروجہ اولویت ہے نہ بطور وجوب ولزوم و ضرورت۔
لما قدمنا ان القراء ات کلھا حقۃ بالیقین لااحتمال فیہا للخطأ ولاینافی بعضھا بعضا فلاھجر فی شیئ منھا لاجمعا ولاافراد مالم یؤد التلفیق الی التغییر بخلاف المجتھدات الخلافیۃ فان المجتھد یخطئ ویصیب فلا نعد وعما اعتقدنا انہ صواب یحتمل الخطأ الی ماظننا انہ خطأ یحتمل الصواب ولئن لفقت لربما اتفق الاقوال علی فساد العمل۔
جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے کہ تمام قراء ات برحق ہیں ان میں خطاء کااحتمال نہیں ہے اورایك دوسرے کے منافی بھی نہیں ہیں لہذا ان کوملاکرپڑھنا یاعلیحدہ علیحدہ پڑھنا اس وقت تك جائزہے جب تك ان کامختلف انداز معنی کی تبدیلی پیدانہ کرے۔ اس کے برخلاف اجتہادی اختلافی مسائل میں چونکہ مجتہد کے اجتہاد میں درستی اور خطا دونوں کااحتمال موجود ہے اس لئے وہاں ہم اپنے ظن میں درست کو اپنائیں گے اورجس کو ہم خطاسمجھیں گے اس کونہیں اپنائیں گے کیونکہ ہم اعتقاد کے پابند ہیں اگرچہ فی الواقع اس کی خطاء کااحتمال ہے اور یہاں اجتہادی مسائل میں مختلف مجتہدین کے اجتہاد کواپنانا عمل میں فساد پیداکردے گا۔ (ت)
مجتبی شرح قدوری پھر کفایہ شرح ہدایہ پھر ردالمحتار حاشیہ درمختارمیں ہے :
لایجھر بھا فی الصلوۃ عندنا خلافا للشافعی وفی خارج الصلوۃ اختلاف الروایات و المشایخ فی التعوذ والتسمیۃ قیل یخفی التعوذ دون التسمیۃ والصحیح انہ یتخیر فیھما ولکن یتبع امامہ من القراء وھم یجھرون بھما الا حمزۃ فانہ یخفیھما ھ۔
ہمارے نزدیك نمازمیں جہرنہیں ہے امام شافعی اس کے خلاف ہیں اور خارج ازنماز بسم اﷲ اور اعوذباﷲ میں مشائخ اور روایات کااختلاف ہے ایك قول میں اعوذباﷲ کومخفی اور بسم اﷲ کوجہرکے ساتھ لیکن صحیح یہ ہے قاری کو اختیارہے کہ دونوں کوآہستہ پڑھے یابلندپڑھے لیکن ائمہ قراء میں سے اپنے امام کی اتباع بہترہے امام حمزہ جہر کے قائل نہیں ہیں باقی ائمہ جہرکے قائل ہیں ۱ھ(ت)
بحمداﷲ تعالی یہ خیالات وہابیہ کے رد میں ہمارے علماء کانص صریح ہے۔
افادہ رابعہ عشر : اقول : وباﷲ التوفیق حقیقت امریہ ہے کہ روایات قراء
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ الکفایہ عن المجتبٰی فصل واذا اراد الشروع فی الصلوٰۃ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۹۰
#12219 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
طبقۃ فطبقۃ قرنا فقرنا بذریعہ تدریس وتعلیم وتلقی تلامذہ عن الشیوخ ہیں تو یہ جہر و اخفا اوقات تعلیم واقرا کی خبر دیتے ہیں نہ خاص حال نماز کی حضورپرنور سیدالعالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بعد توطریقہ تعلیم قرآن عظیم معین رہاکہ تلامذہ پڑھتے استاذ سنتے بتاتے نہ یہ کہ نمازوں میں سن سن کرسیکھتے جس میں سوال وجواب وتفہیم وتفہم کاکوئی موقع نہیں بیرون نماز بھی قراء ت شیوخ کادستورنہ تھابلکہ اسے ناکافی سمجھتے اگرچہ یہاں ممکن تھا کہ جو طرز ادا تلمیذ کی سمجھ میں نہ آتا دریافت کرلیتا استاد اعادہ کردیتا۔ اتقان شریف میں ہے :
اوجہ التحمل عند اھل الحدیث السماع من لفظ الشیخ والقراء ۃ علیہ والسماع علیہ بقراء ۃ غیرہ والمناولۃ والاجازۃ والمکاتبۃ والعرضیۃ والاعلام والوجادۃ فاما غیرالاولین فلایاتی ھنا لما یعلم مما سنذکرہ واما القراء ۃ علی الشیخ فھی المستعملۃ سلفا وخلفا واما السماع من لفظ الشیخ فیحتمل ان یقال بہ ھنا لان الصحابۃ رضی اﷲ عنہم انما اخذوا القران من فی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لکن لم یأخذ بہ احد من القراء والمنع فیہ ظاھر لان المقصود ھھنا کیفیۃ الاداء و لیس کل من سمع من لفظ الشیخ یقدر علی الاداء کھیأتہ بخلاف الحدیث فان المقصود فیہ المعنی اواللفظ لابالھیات المعتبرۃ فی اداء القران واما الصحابۃ فکانت فصاحتھم وطباعھم السلیمۃ تقتضی قدرتھم علی الاداء کما سمعوہ من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لانہ نزل بلغتھم ومما یدل للقراء ۃ علی الشیخ
محدثین کے ہاں اپنے شیخ سے حدیث اخذ کرنے کے کئی طریقے ہیں شیخ کے الفاظ کوسننا شیخ پرپڑھنا دوسرے شاگرد کوپڑھتے ہوئے سننا لکھے ہوئے کو لینا مرویات کی اجازت لینا لکھنا وصیت کے طورپراپنانا اطلاع حاصل کرنا شیخ کے لکھے ہوئے کو پہچان کریادکرنا لیکن قرآن کی قراء ت کے بارے میں پہلے دوطریقوں کے علاوہ دوسرے طریقے جائز نہیں جیسا کہ اس کی وجہ ہم بیان کریں گے یہاں قراء ت میں شیخ پرشاگرد کاپڑھنا ابتداء سے آج تك مروج ہے اور شیخ سے سننا بھی یہاں جائز ہوسکتا ہے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم نے قرآن کو حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارك سے سن کر اخذکیا ہے لیکن قراء حضرات نے اس طریقہ کو نہیں اپنایا اس کی وجہ یہ ہے کہ قراء ۃ میں ادائیگی کی کیفیت حاصل کرنامقصود ہوتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ استاذ کی ادائیگی کی کیفیت کومحض سننے پراخذکرلے لہذا قراء ت میں یہ طریقہ منع ہے مگرحدیث میں معاملہ اس کے برخلاف ہے کیونکہ یہاں معنی یا لفظ مقصود ہوتے ہیں لیکن ادائیگی والی کیفیت قرآن کی طرح یہاں معتبرنہیں ہے ہاں صحابہ کرام کامعاملہ
#12222 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
عرض النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم القران علی جبریل فی رمضان کل عام ھ
الگ ہے کیونکہ وہ اپنی فصاحت اور سلامتی طبع کی بناء پر حضورعلیہ السلام سے سن کر قراء ت کواسی کیفیت سے اداکرنے پرقدرت رکھتے تھے اور اس لئے بھی کہ قرآن ان کی لغت میں نازل ہوا ہے اور قرآن کواخذ کرنے میں شیخ کوسنانے والاطریقہ اس لئے بھی جائزہے کہ ہرسال حضورعلیہ الصلوۃ والسلام رمضان میں جبرائیل علیہ السلام کو قرآن سناتے تھے۱ھ(ت)
اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے اگرچہ بسبب کمال افادہ حضور فاعل کامل صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و نہایت استعداد نفوس قوابل رضی اللہ تعالی عنہم حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سن کر سیکھا مگروہ بھی بطور تعلیم وتلقین ظاہر و باطن ونظم ومعنی وحکم وحکمت تھا نہ یوں کہ صرف نماز میں قراء ت اقدس سے لفظ یادکرلئے صحابہ کرام دس دس آیتیں مع ان کے علم وعمل کے سیکھتے جب ان پرقادر ہوجاتے دس اور تعلم فرماتے۔ اسی طرح امیرالمومنین عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے بارہ برس میں سورہ بقرحضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے پڑھی جب ختم فرمائی ایك اونٹ ذبح کیا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا نے آٹھ سال میں پڑھی کہ جس قدرتدبر زائد دیر زائد ابن عساکر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی قال :
کنا اذا تعلمنا من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عشرایات من القران لم نتعلم من العشر التی نزلت بعدھا حتی نعلم مافیہ فقیل لشریك من العمل قال نعم
ہم جب حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے قرآن کی دس آیات کاعلم حاصل کرتے تواس کے بعد والی دس آیات کی تعلیم حاصل نہ کرتے جب تك پہلی آیات میں بیان شدہ اعمال کومعلوم نہ کرلیتے۔ شریك سے پوچھاگیاکہ آیات کے بیان شدہ اعمال سیکھنا مرادہے توانہوں نے کہاہاں ۔ (ت)
ابوبکربن ابی شیبہ اپنی مصنف میں ابوعبدالرحمن سلمی سے راوی قال :
حدثنا من کان یقرینا من اصحب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انھم کان یقترؤن من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عشرایات ولایأخذون فی العشر الاخری
صحابہ کرام میں سے جوحضرات ہمیں قراء ت پڑھاتے انہوں نے فرمایا ہم حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے دس آیات پڑھتے اور ان کے بعد دس آیات کو اس وقت تك اخذنہ کرتے جب تك پہلی دس آیات کے علم وعمل کو
حوالہ / References الاتقان فی علوم القرآن النوع الرابع والثلاثون الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۹۹
مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر عنوان عبداﷲ بن مسعود بن غافل نمبر۲۳ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱۴ / ۵۹
#12224 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
حتی یعلموا مافی ھذہ من العلم والعمل فانا علمنا العلم والعمل ۔
نہ سیکھ لیتے یوں ہم علم اور عمل دونوں کوحاصل کرتے۔ (ت)
ابن سعد طبقات میں بطریق عبداﷲ بن جعفر عن ابی الملح عن میمون اور امام مالك موطا میں بلاغا راوی :
ان ابن عمر تعلم البقرۃ فی ثمان سنین ۔
بیشك عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سورہ بقرہ کوآٹھ سال میں سیکھا۔ (ت)
خطیب بغدادی کتاب رواۃ مالك میں عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے راوی قال :
تعلم عمر البقرۃ فی اثنتی عشرۃ سنۃ فلما ختمہا نحرجزورا ۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سورہ بقرہ کوبارہ سال میں سیکھا جب انہوں نے اسے ختم کیا تو ایك اونٹ ذبح کیا۔ (ت)
توظاہر ہواکہ یہ روایات جہر واخفا قراء ا ت خارج ازنماز کی نقل ہیں اب بحمداﷲ تعالی اس ارشاد علماء کا راز واضح ہواکہ بیرون نمازاتباع امام قراء ت مناسب ہے اس کی نظیر منیرمسئلہ تعوذ ہے عامہ قرا کااس کے جہرپر اتفاق ہے۔ امام اجل ابوعمرو دانی نے اس پراجماع عـــــہ اہل ادا نقل فرمایا امام عارف باﷲ شاطبی نے باوصف حکایت خلاف تصریح فرمائی کہ ہمارے حفاظ رواۃ اس کا اخفانہیں مانتے۔ تیسیر باب ذکرالاستعاذہ میں ہے :
لااعلم خلافا بین اھل الاداء فی الجھر بھا عندافتتاح القران وعند الابتداء برؤس الاجزاء وغیرھا فی مذھب الجماعۃ اتباعا للنص واقتداء بالسنۃ ۔
قرآنی نص اور سنت کی اتباع میں قرآن کی ابتداء میں اور پاروں وغیرہ کی ابتداء میں تلاوت شروع کرتے وقت جیسا کہ ایك جماعت کامذہب ہے۔ اعوذباﷲ کو جہرسے پڑھنے میں اہل ادایعنی قراء حضرات کا اختلاف نہیں ہے۔ (ت)

عـــــہ ای وان جاء ت الروایۃ علی انحاء وصلہا منہ
اگرچہ تعوذ کے بارے میں مختلف صورتیں مروی ہیں ۱۲منہ (ت)
حوالہ / References مصنف ابن ابی شیبہ کتاب فضائل قرآن ۱۷۵۵ حدیث ۹۹۷۸ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰ / ۴۶۰
موطاامام مالك باب ماجاء فی القرآن مطبوعہ میرمحمدکتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۰
رواۃ مالك للخطیب بغدادی
تیسیر باب ذکرالاستعاذہ
#12227 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
حرزالامانی و وجہ التہانی میں ارشاد فرمایا :
اذا ما اردت الدھر تقرء فاستعذ
جھارا من الشیطان باﷲ مسجلا
(توزندگی بھرجب بھی قرآن کی قراء ت کرے تواعوذباﷲ کوبلندآواز سے پڑھ مسجلا۔ ت) سراج القاری میں ہے :
“ قولہ مسجلا ای مطلقا لجمیع القراء و فی جمیع القران “ ۔
اس کاقول مسجلا یعنی تمام قراء حضرات کے نزدیك اور تمام قرآن میں ۔ (ت)
پھر فرمایا :
واخفاؤہ فصل آباہ وعاتنا
وکم من فتی کالمھدوی فیہ اعملا
اس کی شرح میں ہے :
ای روی اخفاء التعوذ عن حمزۃ ونافع اشار الی حمزۃ بالفاء من فصل والی نافع بالالف من اباہ وجھربہ الباقون وھم ابن کثیر و ابوعمرو وابن عامر وعاصم والکسائی ھذا ھو المقصود بھذا النظم بالباطن ونبہ بظاھرہ علی ان من ترجع قراء تہ الیھم من الامۃ ابوالاخفاء ولم یاخذوا بہ بل اخذوا بالجھر للجمیع ولذلك امربہ مطلقا فی اول الباب ۔ ملخصا
یعنی امام حمزہ اور نافع سے اعوذباﷲ کااخفاء مروی ہے “ فصل “ کی فاء سے حمزہ کی طرف “ آباہ “ کے الف سے نافع کی طرف اشارہ کیاگیاہے اور باقی قراء حضرات نے اعوذباﷲ کو جہرمانا ہے اور باقی حضرات یہ ہیں : ابن کثیر ابوعمرو ابن عامر عاصم اور امام کسائی۔ باطنی طورپر اس نظم کا یہ مقصد ہے اور ظاہر میں انہوں نے یہ تنبیہ کی ہے کہ جن ائمہ کی طرف قراء ت منسوب ہے انہوں نے اخفاء کاانکارکیاہے اور اس پرعمل نہیں کیا بلکہ انہوں نے اعوذباﷲ کاجہرکیا ہے اور یہاں اول میں مطلقا کہہ کر تمام قرآن میں تعوذ کے جہر کی طرف اشارہ کیا ہے(ت)
حوالہ / References حرزالامانی و وجہ التہانی باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۱۰
سراج القاری المبتدی شرح منظومہ حرزالامانی ، باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۳۱
حرزالامانی و وجہ التہانی باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۱۰
سراج القاری المبتدی شرح منظومہ حرزالامانی باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۳۲
#12229 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
اب کون عاقل کہے گا کہ یہ اطباق جمہور رواۃ واتفاق جمیع اہل ادا نماز وغیرنماز سب کوشامل وہ سب تمام قراء کے طورپر نمازمیں بھی اعوذ بجہر پڑھتے تھے حاشا بلکہ قطعا یہ روایات ونقول سب محل روایت وتلاوت بیرون نماز سے متعلق ہیں لاجرم شرح میں فرمایا :
قولہ فاستعذ جھارا ھوالمختار لسائر القراء وھذا فی الاستعاذۃ القاری علی المقرئ اوبحضرۃ من یسمع قرائتہ امامن قرأ خالیا اوفی الصلوۃ فالاخفاء اولی ۔
اس کاقول “ جھارا “ یہ تمام قراء حضرات کاقول ہے یہ اس صورت میں ہے جب قاری استاذ کے سامنے یامجمع میں پڑھے لیکن اگر کوئی شخص خلوت میں یانمازمیں قراء ت کرے توپھراخفاء کرنااولی ہے(ت)
امام جلیل جلال سیوطی اتقان میں کتاب النشر امام القراء محمدمحمدمحمدابن الجزری سے ناقل :
المختار عند ائمۃ القراء ۃ الجھر بھا وقیل یسر مطلقا وقیل فیما عدا الفاتحۃ وقد اطلقوا اختیار الجھر وقیدہ ابوشامہ بقید لابد منہ وھو ان یکون بحضرۃ من یسمعہ لان الجھر بالتعوذ اظھار شعار القراء ۃ کالجھر بالتلبیۃ وتکبیرات العید ومن فوائدہ ان السامع ینصت للقراء ۃ من اولہا لایفوتہ منہا شیئ واذا اخفی التعوذ لم یعلم السامع بھا الابعد ان فاتہ من المقر وشیئ وھذا المعنی ھو الفارق بین القراء ۃ فی الصلوۃ وخارجھا ھ۔
قراء ت کے ائمہ کے ہاں اعوذباﷲ کاجہر ہے اور ایك قول میں یہ ہے کہ اس کومطلقا آہستہ پڑھے اورایك قول میں ہے کہ سورہ فاتحہ کے علاوہ باقی قرآن میں آہستہ پڑھے جبکہ جہرکاعموم راجح ہے اور ابوشامہ نے اس جہر کو ایك ضروری قید سے مقیدکیا ہے کہ جب مجلس میں سننے والے ہوں تو جہرکرے کیونکہ اعوذباﷲ کاجہرقراء ۃ کاشعار ہے اور اس کاایك فائدہ یہ بھی ہے کہ جب قاری اعوذباﷲ کا جہرکرے گا توسامع ابتداء سے ہی خاموشی سے سنناشروع کرے گا اور اس کاسماع فوت نہ ہوگا اور جب اعوذباﷲ کو آہستہ پڑھے گا تو سامع کوتلاوت کے شروع ہونے کاعلم نہ ہونے کی وجہ سے کچھ سماع ابتداء فوت ہوجائے گا نمازاورخارج نمازاعوذباﷲ کے بارے میں یہی وجہ فرق ہے۔ (ت)
افادہ خامسہ عشر : قرآنیت بسم اﷲ ضرور حق ہے مگر وہ ہرگز من حیث الروایہ ثابت
حوالہ / References سراج القار ی المبتدی شرح حرزالامانی باب الاستعاذہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص ۳۱
اتقان النوع الخامس والثلاثون فی آداب تلاوۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۵
#12231 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
نہیں بلکہ کتابت مصاحف واجماع علی التجرید سے ولہذا جب امام ولی صالح قدس سرہ المجید نے قصیدہ میں فرمایا :
وبسمل بین السورتین بسنۃ
رجال نموھا دریۃ وتحملا
(دوسورتوں کے درمیان بسم اﷲ سنت صحابہ سے ثا بت ہے جس کوانہوں نے جاری رکھا عقل ونقل کے طورپر)
شارح علامہ نے صاف تصریح فرمادی کہ اراد بالسنۃ التی نموھا کتابۃ الصحابۃ لھا فی المصحف (سنۃ التی نموھا سے مراد صحابہ کرام کا بسم اﷲکومصحف شریف میں لکھنا ہے۔ ت) پھر اس کاحاصل بھی صرف اس قدرکہ بسم اﷲ کلام الہی ہے نہ یہ کہ ہرسورت کی جزہے یاختم میں ہرجگہ اس کاجہرلازم کمامر فی الافادۃ السادسۃ (جیسا کہ چھٹے افادہ میں گزرا۔ ت) اور جب اسے چھوڑ کر نفس روایت بمعنی متعارف کی راہ لیجئے اور صرف اس کی صحت کومناط مان کر اثبات مدعا کاحوصلہ کیجئے تویہ محض باطل وہوس عاطل فقط صحت روایت پرمدار قراء ت ہونے سے کیامقصود ہے آیا یہ کہ صرف اس قدر سے قرآنیت ثابت ہوجاتی ہے تو قطعا مردود کہ قرآنیت بے دلیل قطعی یقینا مفقود افادہ ششم میں اس کابیان موجود۔
اقول : ولانسلم انہ فی القران حتی عن السبعۃ مالم یتواتر و ان اشتھر بل القران متواتر قطعا بجمیع اجزاء ہ وان لم تقف انت علی تواتر بعضہ فلیس من شرط المتواترہ عندک۔
اقول : (میں کہتاہوں ) قرآن ہونامحض شہرت سے اگرچہ سبعہ سے منقول ہو ثابت نہیں ہوگا جب تك قطعی تواتر سے تمام اجزاء منقول نہ ہوں اگرتجھے تواتر کابعض اجزاء کے بارے میں علم نہیں تو متواتر ہونے کے لئے تیرے ہاں تواتر ضروری بھی نہیں ہے۔ (ت)
اتقان میں ہے :
لاخلاف ان کل ماھو من القران یجب ان یکون متواترا فی اصلہ واجزاء ہ واما فی محلہ و وضعہ وترتیبہ فکذلك عند محققی اھل السنۃ للقطع بان العادۃ تقضی بالتواتر فی تفاصیل مثلہ لان ھذا
اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ جوکچھ قرآن کاحصہ ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود اور اس کے تمام اجزاء متواتر ہوں قرآنی حصہ کامحل مقام اور ترتیب بھی اسی طرح متواتر ہونا اہلسنت کے محققین کے ہاں ضروری ہے کیونکہ اس معاملہ میں تفصیل عادتا تواتر سے ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ
#12233 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
المعجز العظیم الذی ھو اصل الدین القویم والصراط المستقیم مما تتوفر الدواعی علی نقل جملہ وتفاصیلہ فمانقل احاد اولم یتواتر یقطع بانہ لیس من القران قطعا الخ ۔
یہ عظیم معجزہ جوکہ دین قویم اورصراط مستقیم کی بنیاد ہے اس کے اجمال وتفصیل کے دواعی وافرطورپرپائے جاتے ہیں جواجزاء خبر واحد یاغیرمتواتر طورپرثابت ہوں ان کے قطعی طور پر قرآن ہونے کایقین نہیں کیاجاسکتا الخ(ت)
اور اگریہ مراد کہ جب روایت صحیح ہو رد نہ کریں گے صرف اسی قدر پرپڑھنا جائزسمجھیں گے تواولا یہ بھی چاروں مذہب میں باطل جمہور محققین قراء ومحدثین وفقہاء واصولیین اس کے بطلان کے قائل
اقول : کیف لا وانما الکلام فی قراء تہ قرانا وھی موقوفۃ علی ثبوت قرانیتہ الموقوف علی تواترھا والا فلاشك فی جواز قراء ۃ الاحاد بل الشواذ للاحتجاج بھا فی حکم کخبر الواحد اولاستشھاد بھا علی مسئلۃ ادیبۃ مثلا اذا لم یعتقد قرانیتھا ولم یوھمھا والاحرم باجماع مسلمین کما نص علیہ فی غیث النفع عن ابی القاسم النویری فی شرح طیبۃ النشر عن الامام ابی عمر فی التمھید۔
اقول : یہ کیسے نہ ہوجبکہ بحث قرآن ہونے کے لحاظ سے قراء ت میں ہے قراء ت بطور قرآن کا ثبوت اس کے قرآن ہونے پر اور قرآن ہونا موقوف ہے اس کے تواتر پر ورنہ محض قراء ت کاجواز تواحاد بلکہ شاذ سے بھی ثابت ہوجاتا ہے جبکہ اس سے کسی ادب کے بارے مسئلہ پرشاہد بنانا مقصود ہوبشرطیکہ اسے قرآن نہ سمجھاجائے اور نہ ہی اس سے قرآن ہونے کا وہم پیدا ہو ورنہ قرآن ہونے کااعتقاد کرنا تمام مسلمانوں کے اجماع پرحرام ہے جیسا کہ اس کی تصریح غیث النفع میں ابو القاسم نویری کے حوالہ سے کی ہے کہ انہوں نے طیبۃ النشر کی شرح میں امام ابوعمر کے حوالہ سے کہ انہوں نے تمہید میں ذکرکیا ہے۔ (ت)
غیث النفع میں ہے :
مذھب الاصولیین وفقھاء المذاھب الاربعۃ والمحدثین والقراء ان التواتر شرط فی صحۃ القراء ۃ ولاتثبت
اہل اصول چاروں فقہاء کرام محدثین اور قراء حضرات کا مذہب یہ ہے کہ قرآن کی قراء ت کے طورپر متواتر ہونا ضروری ہے اور محض صحیح سند سے ثابت ہونا
حوالہ / References الاتقان النوع الخامس والثلاثون فی آداب تلاوتہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۷
#12235 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
بالسند الصحیح غیرالمتواتر ولو وافقت رسم المصاحف العثمانیۃ والعربیۃ وقال الشیخ ابو محمد مکی القراء ۃ الصحیحۃ ماصح سندھا الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وساغ وجھھا فی العربیۃ ووافقت خط المصحف وتبعہ علی ذلك بعض المتأخرین ومشی علیہ ابن الجزری فی نشرہ وطیبتہ وھذا قول محدث لایعول علیہ ویؤدی الی تسویۃ غیرالقران بالقران ولایقدح فی ثبوت التواتر اختلاف القراء فقد تواتر القراء ۃ عند قوم دون قوم الخ
کافی نہیں ہے اگرچہ وہ الفاظ مصاحف عثمانیہ کے رسم الخط اور عربی کلام کے معیارپرکیوں نہ ہو شیخ ابومحمد مکی نے فرمایا کہ قراء ۃ صحیحہ وہ ہے کہ جس کی سند حضورعلیہ الصلوۃ والسلام تك صحیح ہو اور اس کا انداز عربی ہو اور قرآنی رسم الخط کے موافق ہو اس کو بعض متاخرین نے معیار بنایاہے اور ابن جزری نے بھی اپنی کتاب نشر اور طیبہ میں اس کی پیروی کی ہے حالانکہ یہ معیارنئی بات ہے اور اس پراعتمادنہیں کیاجاسکتا کیونکہ اس سے قرآن اورغیرقرآن مساوی ہوجائیں گے تواترکے ثبوت میں قراء حضرات کا آپس کااختلاف مانع نہیں ہے کیونکہ ہرایك تواتر سے قراء ت کرتا ہے اگرچہ ہرایك کا تواترمختلف ہے الخ(ت)
اور بعض متاخرین کہ جائز رکھتے ہیں وہ بھی شہرت واستفاضہ وقبول قراء شرط کرتے ہیں مجردصحت روایت پرقناعت کسی معتمدفی الفن کاقول نہیں خود امام ابن الجزری جنہوں نے نشر میں یہ ضابطہ باندھا کہ :
کل قراء ۃ وافقت العربیۃ ولوبوجہ ووافقت احدی المصاحف العثمانیۃ ولواحتمالا وصح سندھا فھی القرأۃ الصحیحۃ ۔
ہروہ قراء ت جوکسی طرح عربی معیار مصاحف عثمانیہ میں سے کسی سے موافق ہونے کااحتمال اور اس کی سندصحیح ہو تو یہ قراء ۃ صحیحہ ہے۔ (ت)
انہیں نے اس ضابطہ کی تشریح میں آپ ہی فرمایا :
اذا کانت القراء ۃ مماشاع وذاع وتلقاہ الائمۃ بالاسناد الصحیح اذ ھوالاصل الاعظم و الرکن الاقوم ۔
جب وہ قراء ۃ مشہور و معروف ہو اور امت نے صحیح سند سے اس کو قبول کرلیاہو یہ اس لئے ضروری ہے کہ تلقی امت رکن اعظم اور مضبوط بنیادہے(ت)
حوالہ / References غیث النفع فی القراء ات السبع علی ھامش سراج القاری ، فوائد تشدید الحاجۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ص۵ ، ۶
الاتقان بحوالہ کتاب النشرلابن جزری النوع الثانی الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۵
الاتقان بحوالہ کتاب النشرلابن جزری النوع الثانی الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۵
#12238 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
پھرفرمایا :
نعنی بہ ان یروی تلك القراء ۃ العدل الضابط عن مثلہ وھکذا حتی تنتھی و تکون مع ذلك مشھورۃ عند ائمۃ ھذا الشان ۔
ہماری مرادیہ ہے کہ اس قراء ت کوعادل کامل ضبط شخص نے اپنے ہی جیسے سے آخرتك سلسلہ وار روایت کیاہو اور اس کے باوجود وہ ایسے ہی عظیم شخصیات کے ہاں مشہوربھی ہو۔ (ت)
امام جلیل جلال سیوطی جنہوں نے یہاں کلام امام القراء کی تعریف کی اگرچہ اس کے بعد وہ کلام مذکورسابق افادہ فرمایا جس نے اس کے مضمون کی تضعیف عــــہ۱ کی :
اعنی لاخلاف ان کل ماھو من القران یجب ان یکون متواترا الی اخرمامر۔
یعنی جوبھی قرآن ہے اس کامتواتر ہوناواجب ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ۔ (ت)
اس کلام کی تلخیص میں فرماتے ہیں :
اتقن الامام ابن الجزری ھذا الفصل جدا وقد تحرر لی منہ ان القراء ات انواع الاول المتواتر الثانی المشھور وھو ماصح سندہ ولم یبلغ درجۃ التواتر و وافق العربیۃ والرسم واشتھر عند القراء و یقرؤ بہ علی عــــہ ماذکر ابن الجزری الثالث الاحاد وھو ماصح سندہ وخالف الرسم او العربیۃ اولم یشتھر الاشتہار المذکور ولا یقرؤبہ ھ۔
امام ابن جزری نے اس بحث کوخوب مضبوط بنایا مجھے ان کی بحث سے یہ واضح ہواکہ قراء تیں کئی قسم ہیں ایك متواتر دوسری مشہور یہ وہ ہے کہ جس کی سند صحیح ہو مگردرجہ تواتر کونہ پہنچی ہو اور عربی قواعد اور رسم الخط کے موافق ہو اور قراء حضرات کے ہاں مشہورہو اور اس کی قراء ت کی جاتی ہو جیسا کہ ابن جزری نے ذکرکیاہے اور تیسری احاد ہے اور یہ وہ ہے کہ جس کی سندصحیح ہو لیکن عربی رسم الخط یاقواعد کے خلاف ہو اور مذکورہ شہرت کے معیارکونہ پائے اورنہ ہی اس کی قراء ت کی جاتی ہو۱ھ(ت)

عــــہ۱ بلکہ یہاں بھی ایك لفظ سے اپنی براء ت اس سے ظاہر فرمادی کماسیأتی ۱۲منہ (م)
عــــہ۲ ھذہ کلمۃ التبری ۱۲منہ (م)
حوالہ / References الاتقان فی علوم القرآن بحوالہ کتاب النشر النوع الثانی والثالث مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۶
الاتقان فی علوم القرآن بحوالہ کتاب النشر النوع الثانی والثالث مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۷۷
#12241 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
امام ابن جزری نے اس بحث کوخوب مضبوط بنایا مجھے ان کی بحث سے یہ واضح ہواکہ قراء تیں کئی قسم ہیں ایك متواتر دوسری مشہور یہ وہ ہے کہ جس کی سند صحیح ہو مگردرجہ تواتر کونہ پہنچی ہو اور عربی قواعد اور رسم الخط کے موافق ہو اور قراء حضرات کے ہاں مشہورہو اور اس کی قراء ت کی جاتی ہو جیسا کہ ابن جزری نے ذکرکیاہے اور تیسری احاد ہے اور یہ وہ ہے کہ جس کی سندصحیح ہو لیکن عربی رسم الخط یاقواعد کے خلاف ہو اور مذکورہ شہرت کے معیارکونہ پائے اورنہ ہی اس کی قراء ت کی جاتی ہو۱ھ(ت)
ثانیا اگربالفرض یہ مسلم بھی ہو تو اس سے حاصل کتنا جواز قراء ت نہ بروجہ قرآنیت یہ محض ایك امرزائد وخارج ہے جس سے نہ لزوم وضرورت ثابت ہوسکے نہ بحال ترك کسی عاقل کے نزدیک حکم نقصان ختم کی راہ ملے
اللھم الاعند مجنون نابذالعقول لایسمع ما یقال ولایدری مایقول۔
اے اﷲ! مگرجومجنون بے عقل ہو جوبات کونہ سنے نہ سمجھے کہ وہ کیاکہہ رہاہے۔ (ت)
بالجملہ یہاں تین چیزیں اثبات مبسلمین کتابت مصاحف روایت منصوصہ۔
اول : تو اولا بحث سے محض برکراں جس سے جزئیت سور درکنار قرآنیت کااثبات بھی ظاہر البطلان
ثانیا : روایات جہرواثبات سب بیرون نماز کی حکایات اس سے مطلق نمازیاخاص تراویح پرحکم ناقابل التفات۔
ثالثا : بفرض باطل بطورمناظرہ ادعائے نقصان ختم میں یوں بھی کلام کہ خلاف واثبات دونوں طورپرقرآن تمام۔
دوم : ثبوت قرآنیت پرضرور دلیل مبین مگرحاشاجزئیت سور و جہرفی الصلوۃ سے علاقہ نہیں نہ تکرر نزول تعدد آیات پردلیل معقول توایك بار پراقتصار میں نقصان ختم کازعم مخذول۔
سوم کی دو۲صورتیں ہیں : تواتر یامجردصحت اور ہرایك دربارہ جہرفی التراویح یادر باب جزئیت بسم اﷲ شریف میں تواتر نص تو سرے سے دربارہ قرآنیت ہی نہیں تابجزئیت چہ رسد اور جہرمذکور وجزئیت سورمیں نفس صحت معدوم تابتواتر چہ کشد خودقائلان جزئیت مصرحان ظنیت اورنافیان ظنیت اور عندالتحقیق انتفائے قطعیت خودانتفائے جزئیت ولہذا صحابہ وتابعین وجمہورائمہ دین کو اس سے انکار اور قول جزئیت کے محدث و نوپیدا ہونے کاصاف اظہار ہاں صرف دربارہ فاتحہ بعض اخبار آحاد مذکور کہ عندالمحققین مخالفت قاطع کے سبب مہجور اور مجرد صحت روایت پراقتصار و قناعت باطل ومقہور پھرعلی التسلیم ان سے ثابت ہوگا تو وہ امرجدید جو دعوی مخالف کے عموم وخصوص دونوں کا مخالف ورد شدید یعنی صرف جزئیت فاتحہ تو ہرسورت پرجہرکے لئے یہ تعمیم سور کارد ہوا اور فاتحہ کے ساتھ فرائض جہریہ میں اخفاء کس وجہ سے اس نے تخصیص تراویح کو باطل کیا یہ توامور ثابتہ تھے ولوبوجہ جن میں مخالف کے لئے اصلا سندنہ کوئی صورت کسی پہلو پر اس کی مستند اور یہیں سے واضح کہ مسئلے کو منصوصہ قطعیہ اجماعیہ غیراجتہادیہ ماننا مذہب کو اس میں دخل نہ جاننا محض جہل مسترد اب نہ رہا مگریہ جاہلانہ زعم زاعم کہ جزئیت سوریا جہرفی التراویح مذہب عاصم اور ان کی قراء ت کے آخذ پرجہر واخفاء نمازمیں ان کااتباع لازم اول ائمہ قراء ت پرافترا وتہمت اور ثانی محض جہل وسفاہت مخالفت تصریح ائمہ حنفیت غرض حفاظ حنفیہ پر سرہرسورت پرجبرجہر محض ظلم وقہر نہ شرع سے اس پردلیل قائم بلکہ دلائل شرعیہ اصلیہ وفرعیہ ہمارے قول پر حاکم ہمارے ہی قول کی ناصر وراعی مصالح شرعیہ ہمارے ہی قول کی طرف داعی وﷲ الحمد والمنۃ والصلوۃ والسلام علی نبینا سیدالانس والجنۃ والہ وصحبہ سادات الجنۃ۔ امین!
#12244 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
تذلیل
الحمدﷲ آفتاب عالم تاب حق وصواب بے نقاب وحجاب شك وارتیاب جلوہ فرمائے منظر احباب ہوا اب کیاحاجت کہ حشویات زائدہ ولغویات بے فائدہ کے رد وابطال میں تضیع وقت کیجئے زیدبے قید اپنی شدت جہالت و قوت سفاہت کے باعث خود اس قابل نہیں کہ اس کی بات قابل التفات ہو اس نے کوئی مطلب روشن علم پر تحریرنہ کیا زورتناقض وشور تعارض نے جابجا اپناہی لکھا خود رد کردیا عناد واجتراو مکابرہ وافترا سب وشتم علمائے کرام بیت اﷲ الحرام کے ماورا جوباتیں اصل مقصد میں لکھیں اپنے دونوں متبوعوں ہی کے کلام سے اخذ کیں متبوعین میں گنگوہی صاحب نے طرفہ تماشاکیا کہ اول تواپنے پیشوا جناب قاری صاحب کاصاف رد لکھا قاری صاحب نے فرمایاتھا اس مسئلے میں مذہب کوکچھ دخل نہیں گنگوہی صاحب فرماتے ہیں قبلہ یہ باطل مبین دخل نہ ہونا کیا معنی صریح اجتہادیہ ہے حفص کامذہب جہر امام اعظم کامذہب اخفاء ہے جس کی پیروی کیجئے درست وبجا ہے قاری صاحب جہرفی الختم اگرچہ نمازمیں ہو حفص کی روایت ہے عاصم کی قراء ت ہے منقول عن الرسول بروجہ صحت ہے گنگوہی صاحب حضرت نہیں بلکہ حفص کی رائے ہے عقلی اجتہاد سے ہاں مذہب سب بجاہیں یوں حق ارشاد ہے قاری صاحب یہ ان امور سے جن میں نزاع کی گنجائش ہی نہیں یہاں تك کہ بدمذہب بھی خلاف سے کنارہ گزیں گنگوہی صاحب قبلہ یہ لاف ہے صاف گزاف ہے خود ائمہ سنت نزاع کررہے ہیں خود امام اعظم کاصریح خلاف ہے قاری صاحب یہاں چاروں مذہب میں صرف صحت روایت پر مدارکارہے گنگوہی صاحب حضرت چاروں درکنار خود اپنے مذہب میں اس سے انکار ہے قاری صاحب جب مسئلہ بروایت صحیحہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے منقول ہوچکا خلاف ابوحنیفہ باقی ہی کب رہا اذا صح الحدیث فھو مذھبی (جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرامذہب ہے۔ ت) قول احناف ہے تو بعد صحت روایت خلاف وتخالف سے مطلع صاف ہے گنگوہی صاحب قبلہ یہ تو بداہۃ مردود خلاف امام اعظم قطعا موجود قاری صاحب بعد صحت روایت کسی مذہب کی کیاحاجت یعنی کوئی خلاف کرے بھی تو کیا قابل سماعت گنگوہی صاحب واہ حضرت سب حق وہدایت جس کی اقتداء کرواہتداء کی بشارت غرض اولا قاری صاحب کے خیالات کارد کلی فرماکر اخیرمیں سارا دھڑا قاری صاحب کے سردھرا کہ یہ سب کچھ ہے مگرحافظوں پروہی ضرورجوحضرت قبلہ قاری صاحب کومنظور ملك خدائے غالب کاحکم جناب قاری صاحب کا جوہرسورت پرجہربسم اﷲ نہ کرے گا ختم کامل کے ثواب سے محروم پھرے گا۔
#12246 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
اقول : ان سب خرافاتوں کارد بالغ وطرز بازغ توطرح طرح سے افادات میں گزرا یہاں حضرت سے اولا اتنا دریافت کرنا ہے کہ جب سب مذہب حق تھے سب کااتباع ہدایت سب کے اقتدا کی عام اجازت تواب حفاظ پرخاص ایك ہی کااتباع کیوں لازم وضرورہوگیا حفص کاخلاف توپہلے بھی معلوم ہی تھا اس وقت تو آپ یہی فرمارہے تھے کہ اس میں عیب نہ اس میں حرج اب قاری صاحب کے فرمان میں کیا کسی تازہ وحی نے نزول کیاجس نے ایك حق کو ناحق ایك ہدایت کو ضلالت ایك جائزکوناجائزکردیا۔
ثانیا : یہ آپ فتوی لکھ رہے ہیں یاکوئی اپنی خانگی پنچایت قاری صاحب کافرمان حدیث ہے یا آیت یا فقہی روایت کون سی شرعی حجت
ثالثا “ ثبوت تودیجئے کہ مذہب حفص تمام سورمیں جزئیت بسامل تھا۔
رابعا : پہلے اسی سے چلئے کہ امام حفص کومنصب اجتہاد حاصل تھا۔
خامسا : مسئلہ اجتہادیہ ہے یانہیں اگرنہیں تو اپنے فتوی میں ذکرفرمان پانی پت تك جوکچھ لکھا سب پرپانی پھیرلیے اور اگرہاں تو آپ اجتہادیات میں امام اعظم ملت امام ائمہ امت کے مقلد ہیں یامجتہد العصر پانی پت کے باتباع ہوا تقلید امام کو آگ دکھانا پانی پت کی خاك پردھونی رمانا کس نے مانا اور یوں بھی سہی تو آپ کو اپنی ذات کااختیار مسلم حنفیہ کو ان کے خلاف امام فتوی بتاناکیسا ستم افسوس کہ آپ نے اول تو تقلید شخصی کو ایسا چھوڑا کہ سب مذہب بجا سب پر عمل روا آخر میں پکڑا تو ایسا پکڑا کہ امام کا اتباع متروك و مہجور اور تقلید پانی پت کی پت رکھنی ضرور اس شتر گربگی کی کیاسند صلت علی الاسد وبلت عن النقد (شیر پرحملہ کیا اور بکری کے ڈر سے پیشاب آگیا۔ ت) خیر انہوں نے سب ڈھلی بگڑی قاری صاحب پرڈھال کر ان کی ڈھال پکڑی۔ قاری صاحب کی سنئے توان سے بہت کچھ کہنا ہے :
یکم : وہ بھی کوئی سند نہ لاسکے ایك کتاب کی عبارت بھی نہ دکھاسکے اور عاقل جانتاہے کہ محل فتوی میں ادعائے بے دلیل ذلیل وعلیل۔
دوم : سند دکھانا کہاں کاخوب جانتے تھے کہ یہ جملے خلاف مذہب کہے لہذا وہ راہ چلے کہ اتباع مذہب کاجھگڑا ہی نہ رہے اتنی عمرآئی غیرمقلدوں سے معرض ہیں ترك تقلید پرمعترض ہیں انہیں گمراہ ومفسد بتایاکرتے ہیں تحریرا وتقریرا جلی کٹی سنایاکرتے ہیں اب کہ اپنا اجتہاد گرمایا وہ کچھ فرمایا کہ انہیں بھی شرمایا بعد صحت روایت کسی مذہب کی کیاحاجت عمل بالحدیث ہی طریق انصاف ہے جب حدیث صحیح ہو پھرکیا خلاف ہے فھو مذھبی (حدیث صحیح ہی میرامذہب ہے۔ ت) خود قول احناف ہے زمانہ قراء زمانہ اجتہاد وعمل بالسنہ گزرا تخصیص دلیل ہے کہ جب دورتقلید آیا عمل بالسنہ نے منہ چھپایا حالانکہ تقلیدائمہ ہی عمل بالسنہ ہے اس کاخلاف صریح فتنہ ہے
#12248 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
سوم : اذا صح الحدیث توسن لیا مگر صحت فقہی وصحت حدیثی میں فرق نہ کیا خاص اس بات میں فقیرکا رسالہ الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی مطالعہ کیجئے کہ مطلب کھلے شك و ریب کی ظلمت دھلے۔
چہارم : اگر تلقی والقائے بیرون نماز میں صحت روایت جہر مراد چشم ماروشن دل ماشاد اس سے تراویح پرحکم خرط القتاد اور اگر خود مطلق نماز یاخاص تراویح میں روایت جہر کی صحت مقصود توممنوع ومردود افادہ ۱۲ و ۴ یادکیجئے اور خدا انصاف دے اذا صح الحدیث سے اپنے عکس مراد کامژدہ لیجئے کہ حدیث صحیح ہمارے ہی ساتھ اور خصوص تراویح میں تو آپ یك دست خالی ہاتھ۔
پنجم : مذہب کو دخل نہ ہونے کی بھی ایك ہی کہی مجرد کسی روایت صحیحہ کاوجود مسئلے کو مجتہد فیہانہ رکھے یہ تو بداہۃ مردود وکتب معﷲ خلافیہ دیکھئے ہزاروں مسائل اجتہادیہ ہیں ہرفریق یا ایك ہی کے پاس ایك یاچند روایات صحیحہ موجود ہاں نص قطعی مشہور متواتر دکھاسکتے کہ بسم اﷲ ہرسورت کاجز ہے یاختم تراویح میں ہرسورت پراس کاجہرچاہئے تویہ کہناٹھکانے سے ہوتاکہ مذہب مسائل اجتہادیہ میں ہوتاہے نہ ان منقولہ میں اور جب اس کی قدرت نہیں تو محض ربانی ادعاؤں سے مذہب حنفیہ رد ہوجائے حاشایہ ہوس ہی ہوس ہے۔
ششم : جزئیت جمیع سور میں اختلاف ائمہ قراء ت آپ نے کہیں دیکھا یامحض طبعی جودت افادہ ۴ ملاحظہ ہو کہ ماورائے فاتحہ میں قول جزئیت حادث وبے اصل ہے افادہ ۵ معلوم ہوکہ سورہ بقرہ سے سورہ ناس تك بسم اﷲ باتفاق قراء سورت سے خارج امارت فصل ہے۔
ہفتم : ایك سوچودہ آیتوں کی کمی کس حساب سے جمی قرآن عظیم میں کل سورتیں اسی قدرہیں اور براء ت میں بالاجماع بسم اﷲ نہیں توبسامل اوائل ایك سوتیرہ ہی رہیں ۔ حفاظ بالاتفاق ایك بارجہر کے عامل تو آپ کے طور پربھی صرف ایك سوبارہ ہی کانقصان حاصل چودہ کس گھر سے آئیں کیاحفدوخلع بھی دوسورتیں شمارفرمائیں بالفرض کوئی جاہل حافظ مطلقا تارك جہر ہی سہی تاہم کیا براء ت مستثنی ہوکربھی گنتی چودہ کی چودہ ہی رہی اس سے تو زید بیچارہ آپ کامقلد ہی اچھا رہا جس نے کہیں کہیں اپنے خیال سے تیرہ کہا۔
ہشتم : یہ تو اہل اہوا گمراہان باطغوی کی خوب ہی حمایتیں فرمائیں قراء ت امرمنقول ہے نہ اجتہادی لہذا اس میں کسی بدمذہب کاخلاف نہیں سبحان اﷲ مگرگمراہوں کاخلاف فروعات ظنیہ اجتہادیہ سے مخصوص یاوہ اشقیاء صراحۃ بداہۃ منکر صدہا قواطع ونصوص ویحك یامقری کانك لاتدری ماعلی لسانك یجری فان کنت لاتدری الخ (افسوس ہے اے استاذ! معلوم ہوتاہے تجھے سمجھ نہیں جوتیری زبان پرجاری ہے پس اگرتو سمجھ نہیں رکھتا الخ۔ ت)
#12251 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
نہم : قراء ت میں اہل ہوا کاخلاف نہ ماننا بھی عجب بے خبری ہے یاکوتاہ نظری خلاف کی دوصورتیں ہیں ہمارے ائمہ کی کسی قراء ت پرطاعن ومنکرہوں یاکہیں اپنی نئی گھڑت کے مظہر اہل ہوا خذلہم اﷲتعالی دونوں راہ چل چکے سردست تحفہ اثناعشریہ ہی کاتحفہ کافی جسے ہرفارسی خواں بھی سمجھ سکے باب دوم مکائد روافض قتلہم اﷲتعالی میں فرماتے ہیں :
کیدسیزدہم آنست کہ گویند عثمان ابن عفان بلکہ ابوبکروعمرنیز رضی اللہ تعالی عنہم قرآن را تحریف کردند وآیات فضائل اہلبیت اسقاط نمودند ازاں جملہ وجعلنا علیا صھرك کہ در الم نشرح بود “ ۔ ملخصا
تیرہواں مکریہ ہے کہ کہتے ہیں عثمان ابن عفان بلکہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالی عنہم نے قرآن میں تحریف کردی ہے اور انہوں نے فضائل اہل بیت کی آیات کو ساقط کردیا ہے اور ان میں سے ایك “ الم نشرح “ میں یہ آیت تھی کہ علی کو ہم نے تیرا داماد بنایا ہے۔ (ت)
ایك سنی نے اس پر ظرافۃ کہا ہاں اس کے بعد ایك آیت اور تھی وہ رافضیوں نے گھٹادی یعنی وعلی الروافض قھرك (رافضیوں پرتیرا قہر ہے۔ ت) تتمہ باب چہارم میں ان اشقیا کازعم نقل کیا :
“ صحابہ بجائے من المرافق الی المرافق ساختند وبجائے ائمۃ ھی ازکی من ائمتکم امۃ ھی اربی من امۃ نوشتند وعلی ہذا القیاس “
صحابہ نے من المرافق کی بجائے الی المرافق کردیا اور ائمۃ ھی ازکی من ائمتکم کی بجائے امۃ ھی اربی من امۃ کردیا (یعنی تمہارے اماموں سے زیادہ پاکیزہ امام “ کی جگہ “ امت یہ دوسری امت سے بڑی “ کردیا) علی ہذاالقیاس۔ (ت)
شرح حدیث الثقلین میں ذکرکیا کلینی رافضی نے کافی میں کہ روافض کے نزدیك اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے روایت کی کسی نے امام جعفرصادق کے حضور قرآن کے کچھ لفظ ایسے پڑھے کہ لوگوں کی قراء ت میں نہ تھے امام نے فرمایا کیا ہے ان الفاظ کو نہ پڑھ جیسالوگ پڑھ رہے ہیں اسی طرح پڑھ یہاں تك کہ مہدی آکر قرآن کو ٹھیك ٹھیك پڑھیں ۔ اسی میں روایت ہے امام زین العابدین نے یہ آیت یوں پڑھی : وما ارسلنا من قبلك من رسول ولانبی ولامحدث (نہ بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہ نبی نہ محدث جس سے فرشتے باتیں کریں ) اور فرمایا مولی علی محدث تھے ۔ اسی میں روایت ہے امام جعفر صادق نے فرمایا : امۃ ھی اربی من
حوالہ / References تحفہ اثنا عشریہ فصل دوم ازباب دوم کیدسیزدہم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۸
تحفہ اثنا عشریہ تتمۃ الباب دردلائل شیعہ باب چہارم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۰
تحفہ اثنا عشریہ تتمۃ الباب دردلائل شیعہ باب چہارم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۰
تحفہ اثنا عشریہ تتمۃ الباب دردلائل شیعہ باب چہارم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۰
#12253 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
امۃ (یہ امت دوسری امت سے بڑی۔ ت) کلام اﷲ نہیں اس میں تحریف ہوئی اﷲتعالی نے یوں اتارا تھا
ائمۃ ھی ازکی من ائمتکم
(یہ ائمہ تمہارے ائمہ سے زیادہ پاکیزہ۔ ت)
یہیں شاہ صاحب نے ان ملاعنہ کازعم نقل فرمایا کہ :
لفظ ویلك قبل از لاتحزن ان اﷲ معنا نیز ساقط کردہ اند ولفظ عن ولایۃ علی بعدازیں آیت و قفوهم انهم مسـولون(۲۴)
ویملکہ بنوامیۃ بعد خیرمن الف شھر وبعلی بن ابی طالب بعد وکفی اﷲ المؤمنین القتال وال محمد ازیں لفظ وسیعلم الذین ظلموا ال محمد منقلب ینقلبون ولفظ علی بعد از ولکل قوم ھاد وذکر کل ذلك ابن شھر اشوب المازندرانی فی کتاب المثالب لہ و علی ھذا القیاس کلمات بسیار وآیات بے شمار راکردہ اند ۔ ملخصا
“ نہ ڈر اﷲتعالی ہمارے ساتھ ہے “ سے پہلے لفظ “ ویلک “ (تجھے ہلاکت ہو) ساقط کردیا۔ “ ان کوکھڑا کرو ان سے سوال کیاجائے گا “ کے بعد “ عن ولایۃ علی “ (علی کی ولایت کے بارے میں ) ساقط کردیا۔ “ اوربنوامیہ بادشاہ نہیں بنیں گے “ کو “ خیرمن الف شھر “ (ہزارمہینوں سے بہتر) کے بعد بڑھادیا ہے اور “ کفی اﷲ المؤمنین القتال “ کے بعد “ بعلی بن ابی طالب “ بڑھایا یعنی “ اﷲ تعالی مومنوں کوجنگ میں کافی “ کے بعد رافضیوں نے “ علی کی وجہ سے “ بڑھادیا۔ اور “ سیعلم الذین ظلموا کے بعد “ ال محمد “ کالفظ انہوں نے بڑھادیا یعنی “ عنقریب اﷲتعالی اپنے علم کوظالموں کے بارے میں ظاہرفرمائے گا “ کے بعد “ آل محمد پرظلم کرنے والے “ بڑھادیا۔ اور “ ہرقوم کے لئے ہادی “ کے بعد لفظ “ علی “ بڑھادیا۔ یہ سب کچھ ابن شہرآشوب المازندرانی نے اپنی کتاب “ المثالب “ میں ذکرکیا اور اسی طرح انہوں نے بہت سے کلمات اور بہت سی آیات بڑھادیں۔ (ت)
نیز کلینی نے امام جعفرصادق سے روایت کی انہوں نے امۃ ھی اربی کی جگہ ائمۃ ھی ازکی پڑھا۔ راوی کہتاہے میں نے عرض کی میں آپ پرقربان جاؤں کیا ائمۃ ہے فرمایا ہاں خدا کی قسم میں نے کہا لوگ تو اربی پڑھتے ہیں حقارت سے ہاتھ جھٹك کرفرمایا اربی کیا۔
دہم : آپ کے زعم میں بسم اﷲ شریف کاجزء ہرسورت ہونا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایۃ صحیح ہوچکا
حوالہ / References تحفہ اثناعشریہ تتمۃ الباب دردلائل شیعہ ازباب چہارم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۰
تحفہ اثناعشریہ تتمۃ الباب دردلائل شیعہ ازباب چہارم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۱
تحفہ اثناعشریہ تتمۃ الباب دردلائل شیعہ ازباب چہارم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۱۳۲
#12255 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
اور آپ تصریح کرتے ہیں کہ باتفاق مذاہب اربعہ یہاں صرف صحت روایت پرمدار ہے ائمہ حنفیہ کاحال توافادہ ۸ میں ظاہرہولیاکہ انہوں نے کیونکر آپ کے اس مدار کادمارنکالا مالکیہ سے پوچھئے وہ کیافرماتے ہیں ہمارے یہاں توباوصف جہرسور اخفا ہی کاحکم تھا امام مالك رضی اللہ تعالی عنہ کامذہب مشہوریہ کہ فرضوں میں بسم اﷲ ہرگزپڑھے ہی نہیں نہ آواز سے نہ آہستہ روایت اباحت ضعیف ہے پڑھے گا تونمازمکروہ ہوگی ہاں نفلوں میں اختیارہے کیاانہیں اپنے شہرمبارك مدینہ طیبہ کے امام قراء ت حضرت نافع کاحال معلوم نہ تھا کہ بروایت قالون بسم اﷲ پڑھتے ہیں علامہ زرقانی مالکی شرح موطائے امام مالك میں فرماتے ہیں :
المشھور من مذھب مالك کراھتھا فی الفرض ۔
امام مالك رحمۃ اللہ تعالی علیہ کامشہور مذہب یہ ہے کہ فرضوں میں یہ مکروہ ہے۔ (ت)
مقدمہ عشماویہ علامہ عبدالباری منوفی رفاعی مالکی میں ہے :
المشھور فی البسملۃ والتعوذ الکراھۃ فی الفریضۃ دون النافلۃ وعن مالك القول بالاباحۃ ۔
بسم اﷲ اور اعوذباﷲ کے بارے میں مشہورہے کہ ان کاپڑھنا فرضوں میں مکروہ ہے نفلوں میں مکروہ نہیں اور امام مالك سے ایك قول میں مباح ہے۔ (ت)
عمدۃ القاری میں ہے :
قال ابوعمر قال مالك لاتقرؤالبسملۃ فی الفرض سرا ولاجھرا وفی النافلۃ ان شاء فعل وان شاء ترک ۔
ابوعمرنے کہاکہ امام مالك نے فرمایا بسم اﷲ کوفرضوں میں نہ بلندآواز سے پڑھو نہ پست آواز سے اور نفلوں میں پڑھنے نہ پڑھنے کااختیارہے۔ (ت)
ذرا اس تفریق کوبھی اپنے مدار سے تطبیق دیجئے۔
یازدہم تاشانزدہم : تقریر شریف میں یہ فقرات عجیب ہیں کہ ۱ زمانہ قراء سبعہ زمانہ اجتہاد تھا ۲زمانہ تابعین تھا ۳ائمہ مذہب تا زمانہ قراء محتاج الیہ ومحصور نہ تھے بلکہ ۴بعد قراء کے تھے ۵قراء کامذہب پوچھنا عبث ہے ان فقرات کومقصود میں بھی کچھ دخل ہے یابرائے بیت ہیں جب آپ کے نزدیك اس مسئلے میں مذہب کواصلا دخل ہی نہیں تو زمانہ قراء زمانہ اجتہاد ہو یاعصرتقلید عہدتابعین ہو یا وقت جدید ائمہ مذہب اس وقت
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المؤطا
المقدمۃ فی الفروع المالکیۃ للعشماوی
عمدۃ القاری شرح بخاری باب مایقول بعد التکبیر حدیث ۱۳۱ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۵ / ۲۸۴
#12257 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
محتاج الیہم ہوں یابیکار معدودے چندہوں یابے شمار قراء سے سابق ہوں یالاحق قاری مجتہدہوں یامقلد ان امور سے علاقہ ہی کیا رہا اور ان کے خلاف بھی مانئے توتفاوت کیا فتوائے سامی میں اس سے پہلے تین چارسطر کی تقریر اسی کے متعلق کہ زمانہ تبع تابعین ومحدثین تك چارہیں حصرمذاہب نہ تھا مجتہدین بکثرت تھے جب اور مذہب مندرس ہوگئے مذہب اہل حق ان چارمیں محصورہوگیا اوربھی ہے کہ وہ بھی محل سے یوں ہی بیگانہ واجنبی ہے۔
ہفدہم : ثبوت دیجئے کہ قراء سبعہ سب مجتہد مطلق تھے اگرمجتہد فی المذہب بھی ہوئے تومذہب پوچھنا کیوں حماقت ہونے لگا۔
ہیجدہم : اس زمانہ میں عدم حصروکثرت مجتہدین مسلم مگرکیا اس وقت کاہرفرد بشر یاہرعالم اگرچہ کسی فن کاہو فقیہ ومجتہدتھا اس کا تو زعم نہ کرے گا مگرسخت احمق جاہل یاانتساب گوعام نہ تھا اس کابھی مدعی نہ ہوگا مگر بے خبرغافل کیا امام ابویوسف و اما م محمد وغیرہا حنفیہ اور امام اشہب و امام قاسم وغیرہما مالکیہ میں معدود نہیں (کتب طبقات ملاحظہ ہوں ) اور جب یقینا قطعا تقلید بھی تھی اختصاص بھی تھا تو اس وقت کے قاریوں کامذہب پوچھنا کیوں حمق ہوا۔
نوزدہم : درفن تاریخ ہم کمالے دارند (فن تاریخ میں بھی کمال رکھتے ہیں ۔ ت) ائمہ مذہب بعد قراء کے تھے شہب جانے دیجئے بدور ہی میں کلام کیجئے سات میں چار ہمارے امام سے وفاۃ متاخر ہیں امام ابوعمروبن العلاء بصری نے ۱۵۴ھ یا۱۵۵ھ امام حمزہ زیات نے ۱۵۴ یا۱۵۶ یا ۱۵۸ھ امام نافع مدنی نے ۱۶۹ھ امام علی کسائی نے ۱۸۹ھ امام الائمہ ابوحنیفہ نے ۱۵۰ھ میں انتقال فرمایا رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین اور یہ امام کسائی تو ہمارے امام سے چالیس پچاس برس چھوٹے ہیں امام کی ولادت ۸۰ یا۷۰ھ عــــہ میں ہے اور ان کی ۱۱۹ھ میں ۔ یہ ہمارے امام کے صاحب صغیر سیدنا امام محمد کے اقران سے ہیں دونوں صاحبوں نے ایك ہی سال انتقال فرمایا جس پر خلیفہ ہارون رشید نے کہاتھا میں نے رے میں فقہ وادب دونوں دفن کردئیے۔ اب کون جاہل کہے گا کہ امام اعظم امام محمد کے بعد ہوئے۔
بستم : ائمہ مذہب محتاج الیہ ومحصورنہ تھے یہ خاص ائمہ اربعہ رضی اللہ تعالی عنہم کی نسبت فرمایا یا مطلق اول توبداہۃ عقل سے عاطل چارکبھی بھی نامحصورنہیں ہوسکتے اور ثانی اس سے بڑھ کر شنیع وباطل زمانہ صحابہ سے آج تك کوئی وقت ایسانہیں نہ گزرا کہ ائمہ کی طرف احتیاج نہ ہو ہرزمانے میں مقلدین کاعدد مجتہدین سے بدرجہا زائد رہا ہے
عـــہ بلکہ ایك قول میں ولادت امام ۶۱ھ ہے کما فی وفیات الاعیان (جیساکہ وفیات الاعیان میں ہے۔ ت) یوں تقریبا ۶۰ برس چھوٹے ہوں گے ۱۲(م)
#12261 · وصّاف الرجیح فی بسملۃ التراویح ۱۳۱۲ھ ( تراویح میں بسم اﷲ سے متعلق راجح قول کابیان) (ختم تراویح میں ایك بار جہرسے بسملہ پڑھنے کابیان)
توائمہ سے بے نیازی کیونکر ممکن بلکہ علما کی طرف حاجت توجنت میں بھی ہوگی حالانکہ وہاں احکام تکلیفی نہیں حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اھل الجنۃ یحتاجون الی العلماء فی الجنۃ وذلك انھم یزورون اﷲ تعالی فی کل جمعۃ فیقول لھم تمنوا علی ماشئتم فیلتفتون الی العلماء فیقولون ماذا نتمنی فیقولون تمنوا علیہ کذا وکذا فھم یحتاجون الیھم فی الجنۃ کما یحتاجون الیھم فی الدنیا ۔ رواہ ابن عساکر عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما اللھم انی اسألك بعلماء امۃ حبیبك محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان ترحمنا بھم فی الدنیا والاخرۃ وتررزقنا بحاھھم عندك العلم النافع والقلب الخاشع والعفو والعافیۃ والمغفرۃ وصل وسلم وبارك علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ امین والحمد ﷲ رب العلمین۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
بے شك اہل جنت جنت میں علماء کے محتاج ہوں گے یوں کہ ہرجمعہ کو انہیں اﷲ تعالی کادیدار نصیب ہوگا مولی سبحانہ وتعالی فرمائے گا جوجی میں آئے مجھ سے مانگو(اب جنت سے مکان میں جاکر کون سی حاجت باقی ہے کچھ سمجھ میں نہ آئے گا کہ کیامانگیں ) علما کی طرف منہ کرکے کہیں گے ہم کیاتمناکریں وہ فرمائیں گے اپنے رب سے یہ مانگو تولوگ جنت میں بھی علما کے محتاج ہوں گے اس کو ابن عساکر نے جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہم ا سے ذکرکیا۔ اے اﷲ! میں تجھ سے تیرے حبیب پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علماء کے وسیلے سے دعاکرتاہوں کہ توہم پران کے وسیلے سے دنیاوآخرت میں رحم فرمااور ان کوجوعزت وکرامت تیرے ہاں حاصل ہے اس کی برکت سے ہمیں نافع علم خشوع والا دل معافی عافیت اور مغفرت عنایت فرما اور درودوسلام اوربرکت ہمارے آقاومولی محمد اور ان کی آل اور صحابہ پرفرما آمین والحمدﷲ رب العالمین۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
__________________
حوالہ / References الجامع الصغیر بحوالہ ابن عساکر حدیث ۲۲۳۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۱۳۵ و ۱۳۶
تہذیب تاریخ ابن عساکر زیرعنوان صفوان ثقفی دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۴۳۷ ، مختصر تاریخ ابن عساکر زیرعنوان صفوان ثقفی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱۱ / ۹۹
#12264 · مآخذومراجع
نام مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس ۴۱۶
۲۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی ۴۴۶
۳۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی ۶۸۳
۴۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی ۹۲۳
۶۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی ۹۵۱
۷۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم ۱۲۲۵
۸۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۹۔ اشعۃ اللمعات شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی ۴۸۲
۱۱۔ الاصلاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۲۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی ۷۶۹
۱۳۔ انفع الوسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی ۷۵۸
۱۴۔ امداد الفتاح حسن بن عمار الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۔ انوارالائمۃ الشافعیہ امام یوسف الاردبیلی الشافعی ۷۹۹
۱۶۔ الایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۷۔ امالی فی الحدیث عبدالملک بن محمد بن محمد بشران ۴۳۲
۱۸۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی ۳۶۴
۱۹۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی ۴۰۷
#16952 · مآخذومراجع
ب
۲۰۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی ۵۸۷
۲۱۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۲۲۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۲۳۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی ۹۲۲
۲۴۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی ۳۷۲
۲۵۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی ۵۰۵
۲۶۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی ۸۵۵
ت
۲۷۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۲۸۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر ۵۷۱
۲۹۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۳۰۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۳۱۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام ۸۶۱
۳۲۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی ۵۴۰
۳۳۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری ۷۳۰
۳۴۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی ۸۷۹
۳۵۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی ۸۱۶
۳۶۔ تفسیر ابن جریر (جامع البیان) محمد بن جریر الطبری ۳۱۰
۳۷۔ تفسیر البیضاوی عبداللہ بن عمر البیضاوی ۶۹۱
۳۸۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۸۔ ۹۱۱
۳۹۔ تفسیر الجمل سلیمان بن عمرالعجیلی الشہیربالجمل ۱۲۰۴
۴۰۔ تفسیر القرطبی ابوعبداللہ محمد بن احمدالقرطبی ۶۷۱
۴۱۔ التفسیرالکبیر امام فخرالدین الرازی ۲۶
#16953 · مآخذومراجع
۴۲۔ التفسیر لنیشابوری نظام الدین الحسن بن محمد بن حسین النیشابوری ۷۲۸
۴۳۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۹۱۱
۴۴۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی ۸۷۹
۴۵۔ التیسیر للمناوی عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۴۶۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی ۷۴۳
۴۷۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۴۸۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۴۹۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی ۱۰۰۴
۵۰۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی ۲۹۴
۵۱۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳
۵۲۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی ۷۷۳
ج
۵۳۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی ۲۷۹
۵۴۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی ۹۶۲
۵۵۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۶۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۵۷۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری ۲۶۱
۵۸۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی ۵۸۶
۵۹۔ جامع الفصولین شیخ بدرالدین محمود بن اسرائیل بابن قاضی ۸۲۳
۶۰۔ الجامع الکبیر ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی ۳۴۰
۶۱۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی ۰
۶۲۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی ۹۸۹
۶۳۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر ۵۶۵
۶۴۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۶۵۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی ۲۳۳
۶۶۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
#16954 · مآخذومراجع
ح
۶۷۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی ۱۱۷۶
۶۸۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی ۱۰۲۱
۶۹۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی ۱۰۱۳
۷۰۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۷۱۔ حاشیۃ علی المقدمۃ العشماویۃ علامہ سفطی ۰
۷۲۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی سعداللہ بن عیسی الآفندی ۹۴۵
۷۳۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی ۱۱۴۳
۷۴۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی ۶۰۰
۷۵۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی ۳۷۲
۷۶۔ حلیۃ الاولیاء ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبحانی ۴۳۰
۷۷۔ حلیۃ المجلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج ۸۷۹
خ
۷۸۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۷۹۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۰۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی ۷۴۰کے بعد
۸۱۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی ۵۹۸
۸۲۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۳۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
د
۸۴۔ الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۸۵۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو ۸۸۵
۸۶۔ الدرالمختار علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۸۷۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
#16955 · مآخذومراجع
ذ
۸۸۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی) ۹۰۵
۸۹۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد ۶۱۶
۹۰۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱
ر
۹۱۔ الرحمانیۃ
۹۲۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۹۳۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی ۷۸۱
۹۴۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملک بن حبیب السلمی(القرطبی) ۲۳۹
۹۵۔ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء شیخ زین الدین بابن نجیم ۹۷۰
۹۶۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی ۲۸۰
ز
۹۷۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۹۸۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام ۸۶۱
۹۹۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا ۱۰۱۶
۱۰۰۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
س
۱۰۱۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۱۰۲۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ ۲۷۳
۱۰۳۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی ۲۷۳
۱۰۴۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث ۲۷۵
۱۰۵۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی ۳۰۳
۱۰۶۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
#16956 · مآخذومراجع
۱۰۷۔ السنن لدارقطنی علی عمرالدارقطنی ۳۸۵
۱۰۸۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی ۲۵۵
ش
۱۰۹۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۱۱۰۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۱۱۱۔ شرح الاربعین للنووی ابراہیم ابن عطیہ المالکی ۱۱۰۶
۱۱۲۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی ۹۷۸
۱۱۳۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری ۱۰۹۹
۱۱۴۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور ۵۹۲
۱۱۵۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی ۱۰۶۲
۱۱۶۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۱۷۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی ۵۱۶
۱۱۸۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ ۹۳۱
۱۱۹۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۲۰۔ شرح الغریبین
۱۲۱۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۲۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی ۳۲۱
۱۲۳۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ ۹۲۱
۱۲۴۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۲۵۔ شرح المنیۃ الصغیر شیخ محمدابراہیم الحلبی ۹۵۶
۱۲۶۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۷۔ شرح مؤطاامام مالک علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۸۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۹۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی ۹۳۲
۱۳۰۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود ۷۴۷
#16957 · مآخذومراجع
۱۳۱۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ ۸۹۰
۱۳۲۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر ۵۷۳
۱۳۳۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۱۳۴۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۳۵۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی ۵۳۶
ص
۱۳۶۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری ۳۹۳
۱۳۷۔ صحیح ابن حبان محمدبن حبان ۳۵۴
۱۳۸۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ ۳۱۱
۱۳۹۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا ۶۹۰
ط
۱۴۰۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۱۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۲۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن ببرعلی المروف ببرکلی ۹۸۱
۱۴۳۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
ع
۱۴۴۔ عمدۃ القاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی ۸۵۵
۱۴۵۔ العنایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی ۷۸۶
۱۴۶۔ عنایۃ القاضی شہاب الدین الخفاجی ۱۰۶۹
۱۴۷۔ عیون المسائل ابواللیث نصربن محمدالسمرقندی ۳۷۸
۱۴۸۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین لشامی ۱۲۵۲
۱۴۹۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری ۱۰۳۰
۱۵۰۔
#16958 · مآخذومراجع
غ
۱۵۱۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی ۷۵۸
۱۵۲۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۵۳۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم ۲۳۰
۱۵۴۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی ۱۰۹۸
۱۵۵۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۶۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
ف
۱۵۷۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۱۵۸۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام ۸۶۱
۱۵۹۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی ۵۳۷
۱۶۰۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۱۶۱۔ فتاوی حجہ
۱۶۲۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی ۱۰۸۱
۱۶۳۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی ۵۷۵
۱۶۴۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۱۶۵۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۱۶۶۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان ۵۹۲
۱۶۷۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۱۶۸۔ فتاوی ظہیریۃ ظہیرالدین ابوبکر محمدبن احمد ۶۱۹
۱۶۹۔ فتاوی الولوالجیہ عبد الرشید بن ابی حنیفۃ الولوالجی ۵۴۰
۱۷۰۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز ۵۳۶
۱۷۱۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی ۱۵۰
۱۷۲۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
۱۷۳۔ فتح المعین شرح قرۃ العین زین الدین بن علی بن احمد الشافعی ۹۲۸
#16959 · مآخذومراجع
۱۷۴۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی ۶۳۸
۱۷۵۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی ۱۲۲۵
۱۷۶۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی ۴۱۴
۱۷۷۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۷۸۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۱۷۹۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ ۲۶۷
ق
۱۸۰۔ القاموس محمدبن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۱۸۱۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری ۹۲۸
۱۸۲۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی ۶۵۸
۱۸۳۔ القرآن
ک
۱۸۴۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد ۳۳۴
۱۸۵۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی ۳۶۵
۱۸۶۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۱۸۷۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۸۸۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری ۱۸۲
۱۸۹۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۱۹۰۔ کتاب السواک ابونعیم احمدبن عبداللہ ۴۳۰
۱۹۱۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی ۱۰۵۰
۱۹۲۔ کتاب الطہور لابی عبید
۱۹۳۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی ۳۲۷
۱۹۴۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۹۵۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
#16960 · مآخذومراجع
۱۹۶۔ کشف الاسرار علاء الدین عبدالعزیز بن احمدالبخاری ۷۳۰
۱۹۷۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۱۹۸۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی ۷۶۸
۱۹۹۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین ۹۷۵
۲۰۰۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا ۸۰۰
۲۰۱۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۲۰۲۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود ۷۱۰
۲۰۳۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۰۴۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی ۷۸۶
۲۰۵۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی ۳۵۴
۲۰۶۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان ۱۹۸
۲۰۷۔ کتاب الصمت عبداللہ بن محمدابن ابی الدنیاالقرشی ۲۸۱
۲۰۸۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارک ۱۸۰
۲۰۹۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری ۵۳۸
ل
۲۱۰۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۲۱۱۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی ۹۱۱
م
۲۱۲۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملک ۸۰۱
۲۱۳۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی ۴۸۳
۲۱۴۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی ۴۸۳
۲۱۵۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی تقریبا ۹۹۵
۲۱۶۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی ۹۸۱
۲۱۷۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی ۵۵۰
۲۱۸۔ مجمع الانہر الشیخ عبداللہ بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی ۱۰۷۸
#16961 · مآخذومراجع
۲۱۹۔ المحیط البرہانی امام برہان الدین محمود بن تاج الدین ۶۱۶
۲۲۰۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی ۶۷۱
۲۲۱۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی ۵۹۳
۲۲۲۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی ۶۶۰
۲۲۳۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد ۶۴۳
۲۲۴۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۵۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری ۷۳۷
۲۲۶۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۲۷۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری ۱۰۱۴
۲۲۸۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۹۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۲۳۰۔ المستدرک للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۳۱۔ المستصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی ۷۱۰
۲۳۲۔ مسلم الثبوت محب اللہ البہاری ۱۱۱۹
۲۳۳۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی ۲۰۴
۲۳۴۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی ۳۰۷
۲۳۵۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ ۲۳۸
۲۳۶۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱
۲۳۷۔ مسندالبزار ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار ۲۹۲
۲۳۸۔ مسند عبدبن حمید ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی ۲۹۴
۲۳۹۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی ۵۵۸
۲۴۰۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی ۷۷۰
۲۴۱۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۴۲۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی ۲۳۵
۲۴۳۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی ۲۱۱
۲۴۴۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی ۶۵۰
#16962 · مآخذومراجع
۲۴۵۔ معرفۃ الصحابۃ ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۲۴۶۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۷۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۸۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۹۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری ۷۴۹
۲۵۰۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی ۷۴۲
۲۵۱۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی ۶۹۱
۲۵۲۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی ۶۱۰
۲۵۳۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی ۴۲۸
۲۵۴۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدی علی ۹۳۱
۲۵۵۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی ۵۰۲
۲۵۶۔ المقدمۃ العشماویۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
۲۵۷۔ الملتقط(فی فتاوی ناصری) ناصرالدین محمد بن یوسف الحسینی ۵۵۶
۲۵۸۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی ۸۰۷
۲۵۹۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۲۶۰۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود ۳۰۷
۲۶۱۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد ۳۳۴
۲۶۲۔ منحۃ الخالق محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۶۳۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی ۱۰۰۴
۲۶۴۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی ۹۵۶
۲۶۵۔ منہاج شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۶۶۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی ۶۹۴
۲۶۷۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۲۶۸۔ المبسوط عبدالعزی بن احمد الحلوانی ۴۵۶
۲۶۹۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی ۵۱۰
#16963 · مآخذومراجع
۲۷۰۔ المسند الکبیر یعقوب بن شیبۃ السدوسی ۲۶۲
۲۷۱۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری ۷۰۵
۲۷۲۔ موطاامام مالک امام مالک بن انس المدنی ۱۷۹
۲۷۳۔ مواردالظمأن نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی ۸۰۷
۲۷۴۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی ۶۴۲
۲۷۵۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی ۴۷۶
۲۷۶۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۷۷۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۲۷۸۔ المستخرج علی الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ ۴۱۰
۲۷۹۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی ۳۲۷
ن
۲۸۰۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود ۷۴۵
۲۸۱۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی ۷۶۲
۲۸۲۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۸۳۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی ۷۱۱
۲۸۴۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارک بن محمدالجزری ابن اثیر ۶۰۶
۲۸۵۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری ۱۰۰۵
۲۸۶۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی ۲۰۱
۲۸۷۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ ۱۰۳۱
۲۸۸۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی ۳۷۶
۲۸۹۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی ۲۵۵
#16964 · مآخذومراجع
و
۲۹۰۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۹۱۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۲۹۲۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ ۶۷۳
۲۹۳۔ الوسیط فی الفروع ابی حامد محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
ھ
۲۹۴۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
ی
۲۹۵۔ الیواقیت والجواہر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۹۶۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی ۷۶۹
__________________
Scroll to Top