نیک لوگوں کو غیر اللہ سمجھنے کی غلطی

انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی نداندائے غیراﷲ نہیں بلکہ اﷲ ہی کی نداہے کہ وہی نسبت ملحوظ ومناط ندا ہے جس طرح کہ ملتقط ودرمختار وعالمگیریہ میں ہے : التواضع لغیراﷲ حرام۱؎۔ غیراﷲ کے لئے تواضع حرام ہے۔(۱؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵)

حالانکہ انبیاء واولیاء اورماں باپ اور اساتذہ وغیرہم کے لئے تواضع کے حکم سے قرآن وحدیث اور خود یہ کتابیں مالامال ہیں تو وجہ وہی کہ ان کے لئے تواضع غیراﷲ کی تواضع نہیں اﷲ ہی کے لئے ہے کہ اسی کی نسبت ملحوظ ہے اسی نکتہ سے غفلت کے سبب وہابیہ خذلہم اﷲ تعالٰی شرک جلی میں گرفتارہوئے اور مسلمانوں کو مشرک کہنے لگے انہیں انبیاء واولیاء وجود الٰہی کے مقابل مستقل وجود نظرآئے اور ان کی نداغیر خدا کی نداجانی، یوہیں ان سے استمداد ان کی تعظیم ہربات میں وہی غیریت واستقلال کا لحاظ رکھا اور یریدون ان یفرقوا بین اﷲ ورسلہ۲؎ (وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالٰی اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں۔ت) کے مصداق ہوئے(۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۵۰)

فتاویٰ رضویہ جلد 23

امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے

انبیاء اور اولیاء کو پکارنا اللہ ہی کو پکارنا ہے: انبیاء کرام اور اولیاء اللہ (اللہ کے نیک بندوں) کو پکارنا دراصل غیر اللہ (اللہ کے سوا کسی اور) کو پکارنا نہیں ہے، بلکہ یہ حقیقت میں اللہ ہی کو پکارنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ہستیوں کو پکارنے کی بنیاد ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص تعلق اور نسبت ہے۔
عاجزی (تواضع) کا اصول: اس بات کو ایک اصول سے سمجھا جا سکتا ہے جس میں لکھا ہے کہ: “غیر اللہ کے لیے تواضع (عاجزی اور انکساری) حرام ہے۔” لیکن دوسری طرف، قرآن و حدیث اور دیگر کتابیں انبیاء کرام، اولیاء اللہ، والدین، اور اساتذہ کے سامنے عاجزی اور انکساری کرنے کے احکامات سے بھری پڑی ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان خاص اور محترم ہستیوں کے لیے عاجزی کرنا دراصل غیر اللہ کے لیے عاجزی کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ ہی کے لیے عاجزی کرنا ہے کیونکہ اس میں اللہ ہی کے قرب اور نسبت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔
وہابیہ کی غلط فہمی: اسی اہم اور باریک بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے وہابیہ کھلے شرک میں مبتلا ہو گئے اور الٹا سچے مسلمانوں کو مشرک کہنے لگے۔ ان کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے انبیاء اور اولیاء کی ہستیوں کو اللہ کے مقابلے میں ایک الگ،  اور خود مختار ہستی سمجھ لیا۔ اسی لیے انہوں نے ان ہستیوں کو پکارنے کو “غیر اللہ کو پکارنا” قرار دے دیا۔ انہوں نے ان نیک ہستیوں سے مدد مانگنے اور ان کی تعظیم کرنے کو بھی شرک سمجھا کیونکہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ یہ ہستیاں اللہ سے بالکل الگ اور خود مختار ہیں۔ اپنی اسی غلط سوچ کی وجہ سے وہ قرآن مجید کی اس آیت کا عملی نمونہ بن گئے جس میں اللہ فرماتا ہے: “وہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق اور جدائی ڈالیں۔” (سورۃ النساء، آیت 150)
Scroll to Top