وعدہ خلافی اور اس کی صورتیں

اصل عبارتِ اعلیٰ حضرت

اگر وہ امرواجب وفرض تھا تو اس وعدہ کاخلاف کرناحرام وناجائزہے اور اگر وہ امرناجائزوحرام تھا جیسے کسی نے شراب پینے کابحلف مستحکم وعدہ بحلف کیا تو اس کاخلاف کرنا فرض وواجب ہے اور اگر وہ مباح امرتھا اور کوئی عذر پیش آیا تو خلاف وعدہ جائزہے اور بلاعذر ناپسندہے ہاں وعدہ کرتے وقت ہی دل میں تھا کہ پورا نہ کرے گا توایسا وعدہ کرنابھی حرام ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیّتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان لایفی۔ رواہ ابویعلٰی۱؎ فی مسندہ عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ یہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کہ آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کاارادہ یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے، لیکن خلاف ورزی یہ ہے کہ آدمی کسی سے وعدہ کرے اور نیت یہ ہے کہ وہ اسے پورا نہ کرے گا۔ اس کو ابویعلٰی نے اپنی مسند میں زیدبن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے بسندحسن اس کو روایت کیاہے۔ اور اﷲ تعالٰی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے۔” حوالہ: فتاویٰ رضویہ، جلد 24، مسئلہ نمبر 126

اس عبارت کی تسہیل (آسان اردو) درج ذیل ہے:

اگر وہ کام واجب اور فرض تھا تو اس وعدے کی خلاف ورزی کرنا حرام اور ناجائز ہے۔ اور اگر وہ کام ناجائز اور حرام تھا، جیسے کسی نے قسم کھا کر شراب پینے کا پکا وعدہ کیا ہو، تو اس وعدے کی خلاف ورزی کرنا (اسے توڑنا) فرض اور واجب ہے۔ اور اگر وہ کوئی جائز (مباح) کام تھا اور کوئی عذر یا مجبوری پیش آ گئی تو وعدہ پورا نہ کرنا جائز ہے، البتہ بغیر کسی عذر کے ایسا کرنا ناپسندیدہ ہے۔ ہاں، اگر وعدہ کرتے وقت ہی دل میں یہ ارادہ تھا کہ پورا نہیں کرے گا، تو ایسا وعدہ کرنا بھی حرام ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیّتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان لایفی (اسے ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر جانتا ہے)۔

یعنی وعدے کی خلاف ورزی یہ نہیں کہ آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے گا (پھر نہ کر سکے)، بلکہ اصل خلاف ورزی یہ ہے کہ آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت ہی یہ ہو کہ وہ اسے پورا نہیں کرے گا۔ اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی روایت سے عمدہ سند کے ساتھ بیان کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ سب کچھ اچھی طرح جانتا ہے۔

(حوالہ: فتاویٰ رضویہ، جلد 24، مسئلہ نمبر 126)

منگنی توڑ دینے کے احکام

“نسبت صرف ایک اقرار ووعدہ ہے، اور ایک جگہ نسبت کرکے چُھڑا لینا خلف وعدہ جس کی تین صورتیں ہیں اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی بطور دنیا سازی کیا اور اُسی وقت دل میں تھا کہ وفا نہ کریں گے توبے ضرورتِ شرعی وحالتِ مجبوری سخت گناہ وحرام ہے ایسے ہی خلافِ وعدہ کو حدیث میں علاماتِ نفاق سے شمار کیا، کما بیناہ فی رسالتنا انباء الحذاق بمسالک النفاق وھو محمل مافی الاشباہ من ان خلف الوعدہ حرام۱؎الخ۔ جیسا کہ ہم نے اس کواپنے رسالہ”انباء الحذاق بمسالک النفاق” میں بیان کیا ہے، اور وہ جو اشباہ میں ہے وعدہ خلافی حرام ہے اس کا محمل بھی یہی ہے۔الخ”
“اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا پھر کوئی عذر مقبول وسبب معقول پیدا ہواتو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا ادنٰی کراہت بھی نہیں جبکہ اس عذر ومصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی وفضیلت پر ترجیح ہو خصوصاً امر نکاح میں کہ عمر بھر کے ساتھ کا سامان اور سخت نازک معاملہ ہے خصوصاً بے چاری شریف زادیوں کے لئے خصوصاً بلادِ ہندوستان میں، پس اگر نسبت کے بعد کوئی حرج ونقصان ظاہر ہو نسبت چھڑالی جائے ورنہ اپنی زبان پالنے کےلئے ایک بے کس بے زبان کو عمر بھر مضرت میں پھنساناہوگا خصوصاً جبکہ ضرورت دینی ہومثلاً معلوم ہوا کہ جس سے نسبت قرار پائی رافضی وہابی اور کسی قسم کا بد مذہب ہے کہ اس صورت میں نسبت چُھڑالینا شرعاً لازم۔”
“اور اگر کوئی عذر ومصلحت نہیں بلاوجہ نسبت چھڑائی جاتی ہے تویہ صورت مکروہ تنزیہی ہے، وھو محمل مافی ردالمحتار من ھنا تعلم ان خلف الوعد مکروہ لاحرام وفی الذخیرۃ یکرہ تنزیھا لانہ خلف الوعد ویستحب الوفاء بالعھد۲؎۔ اور یہی محمل ہے اس کا جو ردالمحتار میں ہے، یہاں سے توجان جائے گا کہ وعدہ خلافی مکروہ نہ کہ حرام، اور ذخیرہ میں ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ یہ خلف وعد ہے اور وفاءِ عہد مستحب ہے”
“یہ بات اس تقدیر پربے جاوخلافِ مروّت ہے مگر حرام وگناہ نہیں، حضور پُرنور سیّدالعالمین صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعدالرجل ومن نیتہ ان لایفی۳؎۔ رواہ ابو یعلی فی مسند عن زید بن ارقم رضی اﷲتعالٰی عنہ بسند حسن۔ وعدہ خلافی یہ نہیں کہ مرد وعدہ کرے در انحالیکہ اس کی نیّت وعدہ کو پورا کرنے کی ہو، لیکن وعدہ خلافی یہ ہے کہ مردوعدہ کرے درانحالیکہ اس کی نیت اس وعدہ کو پورا نہ کرنے کی ہو۔ اس کو ابویعلی نے اپنے مسند میں حضرت زید ارقم رضی اﷲتعالٰی عنہ سے بسندِ حسن روایت فرمایا۔”
حوالہ: فتاویٰ رضویہ، جلد 12

عبارتِ اعلیٰ حضرت کی تسہیل (آسان اردو) درجِ ذیل ہے:

نسبت (منگنی) دراصل صرف ایک اقرار اور وعدہ ہے، اور کسی جگہ نسبت طے کر کے اسے توڑ دینا وعدہ خلافی کے دائرے میں آتا ہے جس کی تین صورتیں ہیں۔ اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی طور پر دنیا دکھاوے کے لیے کیا گیا تھا اور اسی وقت دل میں یہ ارادہ تھا کہ اسے نبھائیں گے نہیں، تو بغیر کسی شرعی ضرورت اور مجبوری کے ایسا کرنا سخت گناہ اور حرام ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں ایسی ہی وعدہ خلافی کو منافقت کی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے، جیسا کہ ہم نے اسے اپنے رسالے ”انباء الحذاق بمسالک النفاق” میں بیان کیا ہے۔ اور فقہ کی کتاب ‘الاشباہ’ میں جو یہ آیا ہے کہ وعدہ خلافی حرام ہے، اس کا اصل مفہوم اور محل بھی یہی صورت ہے۔

اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا گیا تھا، پھر بعد میں کوئی قابلِ قبول عذر اور مناسب وجہ پیدا ہو گئی، تو وعدہ پورا نہ کرنے میں کوئی حرج اور معمولی سی ناپسندیدگی (کراہت) بھی نہیں ہے، جبکہ اس عذر اور مصلحت کی اہمیت وعدہ پورا کرنے کی خوبی اور فضیلت پر غالب آ جائے۔ خاص طور پر نکاح کے معاملے میں، کیونکہ یہ زندگی بھر کے ساتھ کا بندھن اور انتہائی نازک معاملہ ہے، بالخصوص شریف گھرانوں کی بے بس بیٹیوں کے لیے اور بالخصوص ہندوستان کے شہروں میں۔ لہٰذا اگر نسبت طے پانے کے بعد کوئی خرابی یا نقصان ظاہر ہو جائے تو نسبت ختم کر دینی چاہیے، ورنہ محض اپنی زبان کا پاس رکھنے کی خاطر ایک بے بس اور بے زبان انسان کو عمر بھر کے نقصان اور مصیبت میں جھونکنا پڑے گا۔ خاص طور پر جب کوئی دینی ضرورت درپیش ہو، مثلاً یہ معلوم ہو جائے کہ جس شخص سے نسبت طے ہوئی ہے وہ رافضی، وہابی یا کسی بھی قسم کا بد مذہب اور گمراہ ہے، تو ایسی صورت میں نسبت توڑ دینا شرعاً لازم اور ضروری ہے

اور اگر کوئی عذر اور مصلحت موجود نہ ہو بلکہ بلاوجہ ہی نسبت توڑی جا رہی ہو، تو یہ صورت مکروہِ تنزیہی (یعنی ناپسندیدہ) ہے۔ اور یہی وہ صورت ہے جس پر ‘رد المحتار’ کی یہ بات محمول ہے کہ “یہاں سے تم جان لو گے کہ وعدہ خلافی مکروہ ہے حرام نہیں”، اور کتاب ‘الذخیرہ’ میں ہے کہ “یہ مکروہِ تنزیہی ہے کیونکہ یہ وعدہ خلافی ہے اور وعدہ پورا کرنا مستحب ہے”۔

یہ عمل اس صورت میں نامناسب اور شرافت و مروت کے خلاف ضرور ہے مگر حرام اور گناہ نہیں ہے۔ تمام جہانوں کے سردار، حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان لایفی (اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے)۔ یعنی وعدہ خلافی یہ نہیں کہ انسان کسی سے وعدہ کرے درآنحالیکہ اس کی نیت وعدہ پورا کرنے کی ہو (پھر کسی وجہ سے نہ کر سکے)، بلکہ اصل وعدہ خلافی یہ ہے کہ آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت ہی یہ ہو کہ وہ اس وعدے کو پورا نہیں کرے گا۔ اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے عمدہ سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

*(حوالہ: فتاویٰ رضویہ، جلد 12)*

Scroll to Top