بسم اﷲ الرحمن الرحیم
پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولنا الشاہ احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عہد حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کےلئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ ماہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہےاب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ"العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ"کی ترجمہ و تخریج کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ/مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا نو سال کے مختصر عرصہ میں یہ سولھویں جلد آپکے ہاتھوں میں ہےاس سے قبل کتاب الطہارۃکتاب الصلوۃکتاب الجنائزکتاب الزکوۃکتاب الصومکتاب الحجکتاب النکاحکتاب الطلاق کتاب الایمانکتاب الحدودوالتعزیر اور کتاب السیر پر مشتمل پندرہ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولاتمجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولنا الشاہ احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عہد حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کےلئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ ماہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہےاب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ"العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ"کی ترجمہ و تخریج کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ/مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا نو سال کے مختصر عرصہ میں یہ سولھویں جلد آپکے ہاتھوں میں ہےاس سے قبل کتاب الطہارۃکتاب الصلوۃکتاب الجنائزکتاب الزکوۃکتاب الصومکتاب الحجکتاب النکاحکتاب الطلاق کتاب الایمانکتاب الحدودوالتعزیر اور کتاب السیر پر مشتمل پندرہ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولاتمجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
سولھویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم مطبوعہ سنی دارالاشاعت مبارکپور اعظم گڈھ بھارت کے صفحہ۳۲۰ سے آخر تك ۴۳۲ سوالوں کےجوابات پر مشتمل ہےنئے شامل کردہ رسائل کے علاوہ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ راقم الحروف نے کیا ہے۔اس سے قبل گیارہویںبارہویں تیرہویں جلد بھی راقم کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں۔پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب الشرکۃ اور کتاب الوقف کے مباحث جلیلہ پر مشتمل ہے تاہم متعدد ابواب فقہیہ وکلامیہ وغیرہ کے مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کےلئے تیار کر دی گئی ہے انتہائی وقیع اور گرانقدر
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم مطبوعہ سنی دارالاشاعت مبارکپور اعظم گڈھ بھارت کے صفحہ۳۲۰ سے آخر تك ۴۳۲ سوالوں کےجوابات پر مشتمل ہےنئے شامل کردہ رسائل کے علاوہ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ راقم الحروف نے کیا ہے۔اس سے قبل گیارہویںبارہویں تیرہویں جلد بھی راقم کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں۔پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب الشرکۃ اور کتاب الوقف کے مباحث جلیلہ پر مشتمل ہے تاہم متعدد ابواب فقہیہ وکلامیہ وغیرہ کے مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کےلئے تیار کر دی گئی ہے انتہائی وقیع اور گرانقدر
تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل تین رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں:
(۱) جوال العلولتبین الخلو(۱۳۳۶ھ)
خلو کی تعریف اور اس کے شرعی حکم کا بیان
(۲) التحریر الجید فی حق المسجد(۱۳۱۵ھ)
اشیاء مسجد کو فروخت کرنے اورانھیں اپنے تصرف میں لانے کا حکم
(۳) ابانۃ المتواری فی مصالحۃ عبدالباری (۱۳۳۱ھ)
مسجد کانپور کے متعلق ایك نہایت ضروری فتوی اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے اس مسجد کے بارے میں فیصلے کا رد بلیغ۔رسائل مذکورہ میں سے اول الذکرر سالہ تو پہلے سے ہی فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم کتاب الوقف میں موجود تھا جبکہ باقی دونوں رسالے اس سے قبل فتاوی رضویہ میں شامل نہ تھے موضوع کی مناسبت سے ان کو جلد ہذا میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے نیز رسالہ التحریر الجید کے بعد مسئلہ ۱۳۵۱۳۶۱۳۷۱۳۸ فتاوی افریقہ سے ماخوذ ہیںیادرہے کہ پندرھویں جلد میں کتاب السیر مکمل ہوچکی ہے اس کے بعد فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم میں کتاب المفقود تھی جس کو کتاب الطلاق کے ساتھ منسلك کرکے تیرھویں جلد(جدید)میں شامل کیا جاچکا ہے لہذا پیش نظر جلد(شانزدہم)کا آغاز کتاب الشرکۃ سے ہورہا ہے۔
جمادی الاولی ۱۴۲۰ھ حافظ محمد عبدالستار سعیدی
ستمبر۱۹۹۹ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
(۱) جوال العلولتبین الخلو(۱۳۳۶ھ)
خلو کی تعریف اور اس کے شرعی حکم کا بیان
(۲) التحریر الجید فی حق المسجد(۱۳۱۵ھ)
اشیاء مسجد کو فروخت کرنے اورانھیں اپنے تصرف میں لانے کا حکم
(۳) ابانۃ المتواری فی مصالحۃ عبدالباری (۱۳۳۱ھ)
مسجد کانپور کے متعلق ایك نہایت ضروری فتوی اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے اس مسجد کے بارے میں فیصلے کا رد بلیغ۔رسائل مذکورہ میں سے اول الذکرر سالہ تو پہلے سے ہی فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم کتاب الوقف میں موجود تھا جبکہ باقی دونوں رسالے اس سے قبل فتاوی رضویہ میں شامل نہ تھے موضوع کی مناسبت سے ان کو جلد ہذا میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے نیز رسالہ التحریر الجید کے بعد مسئلہ ۱۳۵۱۳۶۱۳۷۱۳۸ فتاوی افریقہ سے ماخوذ ہیںیادرہے کہ پندرھویں جلد میں کتاب السیر مکمل ہوچکی ہے اس کے بعد فتاوی رضویہ قدیم جلد ششم میں کتاب المفقود تھی جس کو کتاب الطلاق کے ساتھ منسلك کرکے تیرھویں جلد(جدید)میں شامل کیا جاچکا ہے لہذا پیش نظر جلد(شانزدہم)کا آغاز کتاب الشرکۃ سے ہورہا ہے۔
جمادی الاولی ۱۴۲۰ھ حافظ محمد عبدالستار سعیدی
ستمبر۱۹۹۹ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
رموز
محقق: علامہ کمال الدین ابن ہمام صاحب فتح القدیر
ح: علامہ محمد ابراہیم بن محمد الحلبی صاحب غنیۃ المستملی
ش: علامہ محمد امین ابن عابدین الشامی صاحب ردالمحتار
ط: علامہ سید احمد الطحطاوی صاحب حاشیۃ الدرالمختار وحاشیہ مراقی الفلاح
الدر: الدرالمختارعلامہ محمد علاء الدین الحصکفی
الدرر: الدرر شرح الغررملاخسر وعلامہ محمد بن فراموز
بحر: البحرالرائقعلامہ زین الدین ابن نجیم
ہندیہ: فتاوی عالمگیریجماعت علمائے احناف
نہر: النہر الفائقسراج الدین عمر بن تمیم
فتح: فتح القدیرعلامہ کمال الدین ابن ہمام
غنیہ: غنیۃ المستملیعلامہ محمد ابراہیم بن محمد الحلبی
حلیہ: حلیۃ المحلیابن امیر الحاج
محقق: علامہ کمال الدین ابن ہمام صاحب فتح القدیر
ح: علامہ محمد ابراہیم بن محمد الحلبی صاحب غنیۃ المستملی
ش: علامہ محمد امین ابن عابدین الشامی صاحب ردالمحتار
ط: علامہ سید احمد الطحطاوی صاحب حاشیۃ الدرالمختار وحاشیہ مراقی الفلاح
الدر: الدرالمختارعلامہ محمد علاء الدین الحصکفی
الدرر: الدرر شرح الغررملاخسر وعلامہ محمد بن فراموز
بحر: البحرالرائقعلامہ زین الدین ابن نجیم
ہندیہ: فتاوی عالمگیریجماعت علمائے احناف
نہر: النہر الفائقسراج الدین عمر بن تمیم
فتح: فتح القدیرعلامہ کمال الدین ابن ہمام
غنیہ: غنیۃ المستملیعلامہ محمد ابراہیم بن محمد الحلبی
حلیہ: حلیۃ المحلیابن امیر الحاج
حمد باری تعالی
الحمد للمتوحد
بجلالہ المتفرد
وصلوتہ دوما علی
خیر الانام محمد
حضرت رضابریلوی
اس خداے یکتا کی حمد وثنا
جو اپنے جلال میں یکتا ویگانہ ہے
تمام مخلوق میں سب سے اعلی انسان محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)
پر خدا کی رحمت ہمیشہ ہمیش نازل ہوتی رہے!
الحمد للمتوحد
بجلالہ المتفرد
وصلوتہ دوما علی
خیر الانام محمد
حضرت رضابریلوی
اس خداے یکتا کی حمد وثنا
جو اپنے جلال میں یکتا ویگانہ ہے
تمام مخلوق میں سب سے اعلی انسان محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)
پر خدا کی رحمت ہمیشہ ہمیش نازل ہوتی رہے!
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
کتاب الشرکۃ
(احکام شرکت کا بیان)
مسئلہ ۱: ۱۶جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے دیار میں دستور ہے کہ پاٹ سن کی ڈھیر علیحدہ علیحدہ پانی میں بھگوتے ہیں امسال کنوار کے مہینہ میں بہت سخت طوفان اور بارش کے سبب سے سب کے ڈھیر کو اکٹھا کرڈالابعدہ اکثر نے نہیں لیا بعض نے اس مال کو قبض کیا اور انتظام دے کر طیار کیا اب قبض کرنے والے بعض ان اکثر کو کہتے ہیں تمہارا جتنا ہولے لووہ لوگ کہتے ہیں جب ہمارا مال کا کوئی شناخت نہیں ہم نہیں لیتےاب قبض کرنے والے لوگ خود خرچ کریں یا فقرا ء اور مساکین کو تقسیم کردیں اور قبض کرنے والے پر حلال ہوتو فقراء اور غنا ہونے میں برابر ہے یاتفاوت ہے
الجواب:
جب وہ لوگ نہیں لیتے تو قابضین صرف اپنا حصہ لے لیں باقی فقراء پر تصدق کردیںان میں اگر کوئی فقیر ہے تو اسے بھی دے سکتے ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲: از کوہ نینی تال ۱۲جمادی الاول ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محمود بیگ و عبدالغفور بیگ دو بھائیوں کی دکان کوہ نینی تال پر تھیدونوں نے مال واسباب دکان اپنے باپ کے ترکہ سے پایا اور دونوں یکجا کارکن رہے اور یکجا ان کا
کتاب الشرکۃ
(احکام شرکت کا بیان)
مسئلہ ۱: ۱۶جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے دیار میں دستور ہے کہ پاٹ سن کی ڈھیر علیحدہ علیحدہ پانی میں بھگوتے ہیں امسال کنوار کے مہینہ میں بہت سخت طوفان اور بارش کے سبب سے سب کے ڈھیر کو اکٹھا کرڈالابعدہ اکثر نے نہیں لیا بعض نے اس مال کو قبض کیا اور انتظام دے کر طیار کیا اب قبض کرنے والے بعض ان اکثر کو کہتے ہیں تمہارا جتنا ہولے لووہ لوگ کہتے ہیں جب ہمارا مال کا کوئی شناخت نہیں ہم نہیں لیتےاب قبض کرنے والے لوگ خود خرچ کریں یا فقرا ء اور مساکین کو تقسیم کردیں اور قبض کرنے والے پر حلال ہوتو فقراء اور غنا ہونے میں برابر ہے یاتفاوت ہے
الجواب:
جب وہ لوگ نہیں لیتے تو قابضین صرف اپنا حصہ لے لیں باقی فقراء پر تصدق کردیںان میں اگر کوئی فقیر ہے تو اسے بھی دے سکتے ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲: از کوہ نینی تال ۱۲جمادی الاول ۱۳۰۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محمود بیگ و عبدالغفور بیگ دو بھائیوں کی دکان کوہ نینی تال پر تھیدونوں نے مال واسباب دکان اپنے باپ کے ترکہ سے پایا اور دونوں یکجا کارکن رہے اور یکجا ان کا
خوردو نوش تھاکوئی غیریت کسی بات میں نہ تھیمحمود بیگ مع اپنی والدہ ولایتی بیگم کے آمدنی دکان سے چھ سوروپے حج کو گیا اور سب سامان دکان عبدالغفور بیگ کے سپرد کرگیابعد ان کی واپسی کے پھر عبدالغفور بیگ اسی آمدنی سے تین سوروپے کر لے کر حج کو گیا اوراپنی زوجہ امراؤ بیگم اور ایك لڑکا یکما ہہ عبدالشکور اپنی والدہ اور بھائی کے پاس چھوڑگیاراستہ میں مقام احمد آباد میں اس کی طبیعت بگڑیکل اسباب اسٹیشن پولیس میں داخل کرکے محمود بیگ کو تار دیاوہ فورا روانہ ہواوہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ عبدالغفور بیگ نے انتقال کیاوہ روپیہ اور اسباب جو اسٹیشن میں تھامحمود بیگ واپس لایااس صورت میں اس روپے کی نسبت کیا حکم ہےیہ صرف محمود بیگ کو ملے گا یا وارثان عبدالغفور بیگ بھی اس سے حصہ پائیں گے اور کیونکر پائیں گے بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
جبکہ وہ تین سو روپیہ اسی دکان مشترك کی آمدنی تھا جس کے دونوں بھائی بحصہ مساوی مالك تھے تو وہ روپیہ بھی نصف نصف ان دونوں کی ملك تھاسائل مظہر کہ روپیہ عبدالغفور بیگ اپنے بھائی کی اجازت سے لے گیا تھا اب یہ اجازت قرض تھی خواہ ہبہ خواہ اباحتبہر حال کل یا بعض جس قدر باقی تھا جسے محمود بیگ احمد آباد سے لے آیا اس کے مقدار نصف میں محمود بیگ کا حق ہے اور نصف عبدالغفور بیگ کا کہ برتقدیر عدم موانع ووارث آخر وتقدیم مایقدم چوبیس سہام ہوکر اسکے وارثوں پر یوں تقسیم ہوگا:
امراؤ بیگم______۳ ولایتی بیگم_____۴ عبدالشکور_____۱۷
بحالت قرض تو ظاہر کہ نصف مضمون تھا تو ما کا مطالبہ محمود بیگ کا ترکہ عبدالغفور پر رہا خواہ اسی روپے سے ادا کریں یا اس کے غیر سے "لان الدیون تقضی بامثالھا"(کیونکہ قرض اپنی مثل سے ادا کیا جاتا ہے۔ت)اور بحالت اباحت بھی ظاہر کہ اباحت بعد موت باطل ہوجاتی ہے
لانھا لیست تملیکا حتی تجری فیہا الارث بل تحلیل تصرف للمباح لہفاذا مات او مات المبیح بطلت امافی الثانی فلانتقال الملك کما علل بہ فی الخیریۃ واما فی الاول فلعدم الملك لینتقل کما اشرنا الیہ۔
کیونکہ یہ تملیك نہیں ہے تاکہ اس میں وراثت جاری ہوبلکہ اس کے لئے ایك مباح چیز میں تصرف کو حلال قرار دینا ہے تو جب وہ یا مباح کرنے والا فوت ہوجائے گا تو باطل ہوگی لیکن ثانی میں تو ملکیت کے انتقال کی وجہ سے جیسا کہ فتاوی خیریہ میں اس کو وجہ بتایا ہے مگر پہلی میں ملکیت نہیں تاکہ منتقل کیا جائے جیسا کہ ہم نے اس کا اشارہ دیا ہے۔(ت)
الجواب:
جبکہ وہ تین سو روپیہ اسی دکان مشترك کی آمدنی تھا جس کے دونوں بھائی بحصہ مساوی مالك تھے تو وہ روپیہ بھی نصف نصف ان دونوں کی ملك تھاسائل مظہر کہ روپیہ عبدالغفور بیگ اپنے بھائی کی اجازت سے لے گیا تھا اب یہ اجازت قرض تھی خواہ ہبہ خواہ اباحتبہر حال کل یا بعض جس قدر باقی تھا جسے محمود بیگ احمد آباد سے لے آیا اس کے مقدار نصف میں محمود بیگ کا حق ہے اور نصف عبدالغفور بیگ کا کہ برتقدیر عدم موانع ووارث آخر وتقدیم مایقدم چوبیس سہام ہوکر اسکے وارثوں پر یوں تقسیم ہوگا:
امراؤ بیگم______۳ ولایتی بیگم_____۴ عبدالشکور_____۱۷
بحالت قرض تو ظاہر کہ نصف مضمون تھا تو ما کا مطالبہ محمود بیگ کا ترکہ عبدالغفور پر رہا خواہ اسی روپے سے ادا کریں یا اس کے غیر سے "لان الدیون تقضی بامثالھا"(کیونکہ قرض اپنی مثل سے ادا کیا جاتا ہے۔ت)اور بحالت اباحت بھی ظاہر کہ اباحت بعد موت باطل ہوجاتی ہے
لانھا لیست تملیکا حتی تجری فیہا الارث بل تحلیل تصرف للمباح لہفاذا مات او مات المبیح بطلت امافی الثانی فلانتقال الملك کما علل بہ فی الخیریۃ واما فی الاول فلعدم الملك لینتقل کما اشرنا الیہ۔
کیونکہ یہ تملیك نہیں ہے تاکہ اس میں وراثت جاری ہوبلکہ اس کے لئے ایك مباح چیز میں تصرف کو حلال قرار دینا ہے تو جب وہ یا مباح کرنے والا فوت ہوجائے گا تو باطل ہوگی لیکن ثانی میں تو ملکیت کے انتقال کی وجہ سے جیسا کہ فتاوی خیریہ میں اس کو وجہ بتایا ہے مگر پہلی میں ملکیت نہیں تاکہ منتقل کیا جائے جیسا کہ ہم نے اس کا اشارہ دیا ہے۔(ت)
اور بحالت ہبہ تین سو میں سے ڈیڑھ سو کاہبہ قابل قسمت میں ہبہ مشاع ہے کمانص علیہ علماؤنافی غیرما کتاب(جیسا کہ اس پر ہمارے علماء نے متعدد کتب میں نص فرمائی ہے۔ت)اور ایسا ہبہ مذہب صیحح پر محض بے اثر کہ بعض قبض بھی مورث ملك نہیں ہوتا جب تك جدا کرکے واہب کی طرف سے تسلیم نہ واقع ہو کما حققہ فی الخیریۃ والعقودالدریۃ وردالمحتار و غیرھا(جیسا کہ خیریہعقود دریہ اور ردالمحتار وغیرہ میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ت)تو وہ ڈیڑھ سو بدستور ملك محمود بیگ پر رہےان دونوں صورتوں میں بعینہ انہیں روپوں کانصف محمود بیگ کو ملنا چاہئےغرض باقی کی نصف مقدار میں ہر طرح محمود بیگ کااستحقاق ثابتہاں جس قدر عبدالغفور بیگ صرف کر چکا تھا اس کا نصف بھی محمود بیگ کو ملے یانہیںیہ محل نظر ہےاگر ثابت ہو کہ وہ روپے اس نے قرضا یا ہبۃ دئے تھے تو بیشك ملنا چاہئے"لضمان القرض وبطلان الھبۃ فانقلبت مضمونۃ بالاستھلاک" (قرض کے ضمان اور ہبہ کے بطلان کے سبب لہذا ہلاك کرنے پر ضمان ہوگا۔ت)اور اگر اباحۃ دئے تھے یعنی مجرالینا منظور نہ تھا نہ ان ڈیڑھ سو کاعبدالغفور بیگ کو مالك کیا تھا بلکہ جیسے بحالت اتحاد ویکجہتی ایك مال دوسرے کے خرچ میں آجاتا ہے اور اس کا معاوضہ مقصود نہیں ہوتا یوں دئے تھے تو جو صرف ہوگئے ہوگئےان کا بدل محمود بیگ کونہیں مل سکتا "لان الاباحۃ تصح فی المشاع ولاتضمن"(کیونکہ اباحت حصص والی چیز میں صحیح ہوتی ہے اور اسی پرضمان نہیں آتا ہے۔ ت)اور بیشك عرف ناس پر لحاظ سے یہاں ظاہر یہی صورت ہے اور ظاہر پر عمل واجب جب تك دلیل سے اس کا خلاف نہ ثابت ہوکہ عرف اعظم دلائل شرعیہ سے ہے۔خیریہ میں ہے:
ان کان العرف قاضیا بانھم یدفعونہ علی وجہ البدل یلزم الوفاء بہوان کان العرف بخلاف ذلك بان کانوالا ینظرون فی ذلك الی اعطاء البدل فلارجوع فیہ بعد الھلاك والاستھلاك والاصل فیہ ان المعروف عرفا کالمشروط شرعا اھ ملخصا۔
اگر عرف بتائے کہ لوگ اس کو بدلہ کے طور پر دیتے ہیں تو پھر بدلہ پورا کرنا لازم ہے اور اگر عرف اس کے خلاف ہو کہ لوگ اس میں عوض کے منتظر نہیں ہوتے تو پھر ہلاك کرنے ہلاك ہوجانے پر رجوع نہیں کیا جائے گااور اس کاقاعدہ یہ ہے کہ عرف میں مشہور معاملہ شرعا مشروط کی طرح ہوتا ہے اھ ملخصا(ت)
ظہیریہ میں امام فقیہ ابواللیث رحمۃ اللہ تعالی علیہسے منقول:
التعویل علی العرف حتی یوجد وجہ یستدل بہ علی غیرما قلنا ۔
عرف پر اعتماد ہوگا اگر موجود ہوتو یہ قابل استدلال وجہ بن سکے گا جیسا کہ بہت دفعہ ہم ذکر کرچکے ہیں(ت)
ان کان العرف قاضیا بانھم یدفعونہ علی وجہ البدل یلزم الوفاء بہوان کان العرف بخلاف ذلك بان کانوالا ینظرون فی ذلك الی اعطاء البدل فلارجوع فیہ بعد الھلاك والاستھلاك والاصل فیہ ان المعروف عرفا کالمشروط شرعا اھ ملخصا۔
اگر عرف بتائے کہ لوگ اس کو بدلہ کے طور پر دیتے ہیں تو پھر بدلہ پورا کرنا لازم ہے اور اگر عرف اس کے خلاف ہو کہ لوگ اس میں عوض کے منتظر نہیں ہوتے تو پھر ہلاك کرنے ہلاك ہوجانے پر رجوع نہیں کیا جائے گااور اس کاقاعدہ یہ ہے کہ عرف میں مشہور معاملہ شرعا مشروط کی طرح ہوتا ہے اھ ملخصا(ت)
ظہیریہ میں امام فقیہ ابواللیث رحمۃ اللہ تعالی علیہسے منقول:
التعویل علی العرف حتی یوجد وجہ یستدل بہ علی غیرما قلنا ۔
عرف پر اعتماد ہوگا اگر موجود ہوتو یہ قابل استدلال وجہ بن سکے گا جیسا کہ بہت دفعہ ہم ذکر کرچکے ہیں(ت)
حوالہ / References
∞ €& الفتاوٰی الخیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت €∞۲/ ۱۱۱€
∞ € فتاوٰی ظہیریۃ
∞ € فتاوٰی ظہیریۃ
ولہذا با آنکہ اگر زید عمرو کو کچھ روپے دے کہ خرچ کرےیااپنی حاجتوں میں اٹھایا ان سے راہ خدا میں جہاد کرتو قرض ٹھہرتا ہے اگر شوہر عورت کو دے کہ کپڑے بناکر میرے پاس پہن ہبہ ٹھہرے گایونہی طالب علم کو لکڑیاں وغیرہ دیں کہ اپنی کتابوں میں صرف کیجئے ہبہ قرار پائے گا کہ یہاں عرف قاضی تملیك ہے۔عقودالدریہ میں ہے:
دفع الیہ دراھم فقال لہ انفقھا ففعل فھو قرض کما لوقال اصرفھا الی حوائجک ۔
ایك نے دوسرے کو کچھ دراہم دئے کہ خرچ کرو تو اس سے لے کر خرچ کرلئے تو یہ قرض قرار پائے گا جیسے کوئی یوں کہے کہ یہ اپنی ضروریات میں صرف کرو(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
رجل قال لاخر خذ ھذا المال واغزفی سبیل اﷲ عزو علا فھو قرض کذافی الظہیریۃ ۔
اگر یوں کہا یہ مال لو اور فی سبیل اللہ جہاد کروتو یہ قرض شمار ہوگاظہیریہ میں یونہی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اعطی لزوجتہ دنانیر لتتخذبھا ثیابا وتلبسھا عندہ فدفعتھا معاملۃ فھی لھا قنیۃ ۔
خاوند نے بیوی کو کچھ دینار دئے کہ وہ کپڑا لے کر گھر میں لباس کے طور پہنے تو بیوی نے وہ دینار آگے معاملہ کے طور پر کسی کو دے دئے تو بیوی کو اختیار ہےقنیہ(ت)
ہندیہ میں ہے:
قال لمتفقہ اصرف ھذہ الخشبۃ الی کتبك فھو ھبۃ والصرف الی الکتب مشورۃ کذا فی القنیۃ ۔
کسی نے طالبعلم کو کہا کہ یہ لکڑی لے جا کر اپنی کتب کے لئے استعمال کروتو یہ ہبہ ہوگااور کتب کے لئے استعمال صرف مشورہ ہوگاجیسا کہ قنیہ میں ہے(ت)
اسی طرح اگر کسی کو مثلا قاب پلاؤیا اور کوئی عاریت کا نام کرکےدیا تو قرض ٹھہرے گا"لان عاریۃ مالاینتفع بہ الا بالاستھلاك قرض"(کیونکہ ایسی چیز کو عاریۃ دینا جس کو صرف کرکے ہی نفع لیا جاسکتا ہے تو وہ قرض ہوتا ہے۔ت)اور ان میں باہم دوستی و اتحاد ہے تواباحت"لمکان العرف"(اباحت ہے کیونکہ یہی عرف ہے۔ت)درمختار
دفع الیہ دراھم فقال لہ انفقھا ففعل فھو قرض کما لوقال اصرفھا الی حوائجک ۔
ایك نے دوسرے کو کچھ دراہم دئے کہ خرچ کرو تو اس سے لے کر خرچ کرلئے تو یہ قرض قرار پائے گا جیسے کوئی یوں کہے کہ یہ اپنی ضروریات میں صرف کرو(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
رجل قال لاخر خذ ھذا المال واغزفی سبیل اﷲ عزو علا فھو قرض کذافی الظہیریۃ ۔
اگر یوں کہا یہ مال لو اور فی سبیل اللہ جہاد کروتو یہ قرض شمار ہوگاظہیریہ میں یونہی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اعطی لزوجتہ دنانیر لتتخذبھا ثیابا وتلبسھا عندہ فدفعتھا معاملۃ فھی لھا قنیۃ ۔
خاوند نے بیوی کو کچھ دینار دئے کہ وہ کپڑا لے کر گھر میں لباس کے طور پہنے تو بیوی نے وہ دینار آگے معاملہ کے طور پر کسی کو دے دئے تو بیوی کو اختیار ہےقنیہ(ت)
ہندیہ میں ہے:
قال لمتفقہ اصرف ھذہ الخشبۃ الی کتبك فھو ھبۃ والصرف الی الکتب مشورۃ کذا فی القنیۃ ۔
کسی نے طالبعلم کو کہا کہ یہ لکڑی لے جا کر اپنی کتب کے لئے استعمال کروتو یہ ہبہ ہوگااور کتب کے لئے استعمال صرف مشورہ ہوگاجیسا کہ قنیہ میں ہے(ت)
اسی طرح اگر کسی کو مثلا قاب پلاؤیا اور کوئی عاریت کا نام کرکےدیا تو قرض ٹھہرے گا"لان عاریۃ مالاینتفع بہ الا بالاستھلاك قرض"(کیونکہ ایسی چیز کو عاریۃ دینا جس کو صرف کرکے ہی نفع لیا جاسکتا ہے تو وہ قرض ہوتا ہے۔ت)اور ان میں باہم دوستی و اتحاد ہے تواباحت"لمکان العرف"(اباحت ہے کیونکہ یہی عرف ہے۔ت)درمختار
حوالہ / References
∞ € العقودالدریۃ تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الھبۃ ∞تاجران کتب ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۹۱€
∞ € الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الھبۃ الباب الاول ∞نوانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۵€
∞ € ردالمحتار کتاب الھبۃ∞ €داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴/ ۵۰۹€
∞ € الفتاو ی الھندیۃ کتاب الہبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۶€
∞ € الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الھبۃ الباب الاول ∞نوانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۵€
∞ € ردالمحتار کتاب الھبۃ∞ €داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴/ ۵۰۹€
∞ € الفتاو ی الھندیۃ کتاب الہبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۶€
میں ہے:
لو اعارہ قصعۃ ثرید فقرض ولو بینھما مباسطۃ فاباحۃ ۔
اگر ثرید کا پیالہ عاریۃ دیا تو قرض ہوگا اور لین دین والوں میں بے تکلفی ہوتو یہ اباحت ہے(ت)
بالجملہ مدار عرف پر ہے اور یہاں عرف قاضی اباحت کہ جو بھائی باہم یکجا رہتے اور اتفاق رکھتے اور خورد ونوش وغیرہا مصارف میں غیریت نہیں برتتےان کی سب آمدنی یکجا رہتی ہےاور جسے جو حاجت پڑے بے تکلف خرچ کرتا اور دوسرا اس پر راضی ہوتا اور واپسی کا ارادہ نہیں رکھتانہ وہ آپس میں یہ حساب کرتے ہیں کہ اس دفعہ تیرے خرچ میں زائد آیا اتنا مجرا دےنہ صرف کے وقت ایك دوسرے سے کہتا ہے میں نے اس روپے سے اپنے حصے کا تجھے مالك کردیا بلکہ یہی خیال کرتے ہیں کہ باہم ہمارا ایك معاملہ ہے جس کا مال جس کے خرچ میں آجائے کچھ پروا نہیںاور یہ عین معنی اباحت وتحلیل ہے توجب تك اس کاخلاف دلیل سے ثابت نہ ہوگا اباحت ہی قرار دیں گے اور زر صرف شدہ کا نصف محمود بیگ کو نہ ملے گاواﷲ تعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ۳: ازریاست رام پور بلا سپوردروازہ مرسلہ شہزادہ میاں معرفت مولوی سید خواجہ احمد صاحب۱۴صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك اراضی تعدادی(۳لعہ /عگہ)پختہ کے چند اشخاص بذریعہ میراث بطور اشتراك مالك تھے اور اسی طرح چند روز تك مالك رہےمنجملہ اراضی مذکورہ کے(للعہ عگہ ۱۴بسوہ)پختہ اراضی پر منجانب سرکار قبضہ ۱۳۰۸ ف میں ہوگیایہ مقبوضہ اراضی سرکارہ وہ ہے کہ جس میں اشخاص مذکورہ بالا کے مورث نے بازار پینٹہ لگایا تھابعد ازاں اراضی مذکورہ مع اس اراضی پینٹہ والے کے ۱۳۱۴فصلی میں باہم تقسیم ہوگئی اور عملدرآمد سرکار میں بھی اس تقسیم کا ہوگیا اور حصص ہر ایك کے مشخص اور ممتاز ہوگئے۔مثلازید کے حصے میں یہ اراضی مقبوضہ سرکار پینٹہ والی مع کچھ دیگر اراضی کے(جملہ لعہ ۴ عگہ)پختہ آئی اور سب شرکاء رضامند اس تقسیم ہوگئے اور زید نے اور ایك بیگہ اراضی دیگر شرکاء سے منجملہ ے۶ بیگہ پختہ کے خرید بھی لی بعد ان معاملات کے زید نے سرکار میں چارہ جوئی کی اورچاہا کہ سرکار اپنا قبضہ اراضی پینٹہ مذکور پر سے اٹھالےسرکار نے قبضہ تو نہیں اٹھایا لیکن معاوضہ میں بجائے قبضہ اٹھانے کے دیگر اراضی دے دینے کا حکم دے دیااور سرکار کے قبضہ کو اس اراضی پر اٹھارہ۱۸ سال ہوئے سترہ۱۷ سال کے منافع کے بابت اندازہ ظاہر کرکے صرف مبلغ(۱لما للعہ نقد ۸)دے دینے کا بھی حکم صادر فرمادیا۔اب دیگر شرکاء زید جو ا سکے سابق میں شریك تھے وہ چاہتے ہیں کہ اس زر نقد سرکار کے عطیہ میں سے ہم کو بھی ملنا چاہئےجس حاکم کے قبضہ میں وہ روپیہ ہے ان کی رائے ہے کہ روپیہ مذکورہ سترہ سال پر
لو اعارہ قصعۃ ثرید فقرض ولو بینھما مباسطۃ فاباحۃ ۔
اگر ثرید کا پیالہ عاریۃ دیا تو قرض ہوگا اور لین دین والوں میں بے تکلفی ہوتو یہ اباحت ہے(ت)
بالجملہ مدار عرف پر ہے اور یہاں عرف قاضی اباحت کہ جو بھائی باہم یکجا رہتے اور اتفاق رکھتے اور خورد ونوش وغیرہا مصارف میں غیریت نہیں برتتےان کی سب آمدنی یکجا رہتی ہےاور جسے جو حاجت پڑے بے تکلف خرچ کرتا اور دوسرا اس پر راضی ہوتا اور واپسی کا ارادہ نہیں رکھتانہ وہ آپس میں یہ حساب کرتے ہیں کہ اس دفعہ تیرے خرچ میں زائد آیا اتنا مجرا دےنہ صرف کے وقت ایك دوسرے سے کہتا ہے میں نے اس روپے سے اپنے حصے کا تجھے مالك کردیا بلکہ یہی خیال کرتے ہیں کہ باہم ہمارا ایك معاملہ ہے جس کا مال جس کے خرچ میں آجائے کچھ پروا نہیںاور یہ عین معنی اباحت وتحلیل ہے توجب تك اس کاخلاف دلیل سے ثابت نہ ہوگا اباحت ہی قرار دیں گے اور زر صرف شدہ کا نصف محمود بیگ کو نہ ملے گاواﷲ تعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ۳: ازریاست رام پور بلا سپوردروازہ مرسلہ شہزادہ میاں معرفت مولوی سید خواجہ احمد صاحب۱۴صفر ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك اراضی تعدادی(۳لعہ /عگہ)پختہ کے چند اشخاص بذریعہ میراث بطور اشتراك مالك تھے اور اسی طرح چند روز تك مالك رہےمنجملہ اراضی مذکورہ کے(للعہ عگہ ۱۴بسوہ)پختہ اراضی پر منجانب سرکار قبضہ ۱۳۰۸ ف میں ہوگیایہ مقبوضہ اراضی سرکارہ وہ ہے کہ جس میں اشخاص مذکورہ بالا کے مورث نے بازار پینٹہ لگایا تھابعد ازاں اراضی مذکورہ مع اس اراضی پینٹہ والے کے ۱۳۱۴فصلی میں باہم تقسیم ہوگئی اور عملدرآمد سرکار میں بھی اس تقسیم کا ہوگیا اور حصص ہر ایك کے مشخص اور ممتاز ہوگئے۔مثلازید کے حصے میں یہ اراضی مقبوضہ سرکار پینٹہ والی مع کچھ دیگر اراضی کے(جملہ لعہ ۴ عگہ)پختہ آئی اور سب شرکاء رضامند اس تقسیم ہوگئے اور زید نے اور ایك بیگہ اراضی دیگر شرکاء سے منجملہ ے۶ بیگہ پختہ کے خرید بھی لی بعد ان معاملات کے زید نے سرکار میں چارہ جوئی کی اورچاہا کہ سرکار اپنا قبضہ اراضی پینٹہ مذکور پر سے اٹھالےسرکار نے قبضہ تو نہیں اٹھایا لیکن معاوضہ میں بجائے قبضہ اٹھانے کے دیگر اراضی دے دینے کا حکم دے دیااور سرکار کے قبضہ کو اس اراضی پر اٹھارہ۱۸ سال ہوئے سترہ۱۷ سال کے منافع کے بابت اندازہ ظاہر کرکے صرف مبلغ(۱لما للعہ نقد ۸)دے دینے کا بھی حکم صادر فرمادیا۔اب دیگر شرکاء زید جو ا سکے سابق میں شریك تھے وہ چاہتے ہیں کہ اس زر نقد سرکار کے عطیہ میں سے ہم کو بھی ملنا چاہئےجس حاکم کے قبضہ میں وہ روپیہ ہے ان کی رائے ہے کہ روپیہ مذکورہ سترہ سال پر
حوالہ / References
∞ € درمختار کتاب العاریۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۶€
بانٹا جائے۔جب سے کہ تقسیم ہوگئی ہے یعنی ۱۳۱۴ف لغایت ۱۳۲۵ فصلیتو زید کو تنہا جائےاور جتنے زمانہ تك اراضی مشترکہ یعنی از ابتداء لغایت ۱۳۱۳ف بلحاظ حصص شرکاء روپیہ تقسیم کیا جاوےاب دریافت طلب یہ امر ہے کہ اراضی پینٹہ والی اب سرکار میں خالص حق وملك زید کی قرار پائی ہے اور زید ہی نے کوشش کرکے معاوضہ کا حکم کرایااور سرکار سے روپیہ بھی تنہا زید ہی کو دے دینے کا حکم ہواایسی صورت میں کیا زمانہ اشتراك کاعذر کرکے دیگر شرکاء بھی رقم مذکورہ میں سے لینے کے مستحق ہیں یا کیاامید کہ جواب صاف صاف بلارو رعایت تحریر فرمایاجائےبینواتوجروا۔
الجواب:
حق کے سوا کسی کی رو رعایت خادمان شرع کاکام نہیںاگر وہاں کچھ فتوی نویس اسکے عادی سمجھے ہوں تو سب کو ان پر قیاس نہ کیا جائےوہ زمین اگرسب شرکاء کی طرف سے معد للاستغلال تھی اور ریاست کو اس کا علم تھا کما فی الدر عن الخیر الرملی(جیسا کہ درمختار میں خیرالدین رملی سے منقول ہے۔ت)یا اس کا ایسا ہونا عام طور پر معروف تھا کما فی ردالمحتار ویؤیدہ مسألۃ الخان والحمام فی الاشباہ والدر(جیساکہ ردالمحتار میں ہے جس کی تائید خانوت اور حمام والا مسئلہ کررہاہے جو اشباہ اور در مختار میں مذکور ہے۔ت)تو بلاشبہہ یہ معاوضہ تازمانہ شرکت حسب حصص سب شرکاء کا ہے
لان الاعداد قائم مقام الایجاب والاخذمقام القبول فکانوا کلھم عاقدین فوجب الاجرلھم جمیعا۔
کیونکہ تیار کرنا ایجاب اور لینا قبول کے قائم مقام ہوتا ہےتو یہ تمام لوگ عقد کرنے والے قرار پائینگے تو سب کے لئے معاوضہ واجب ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے یہ صورت کہ متصرف زید تھا اور وہ سب شرکاء کا کارکناور اس نے سب کے لئے اعداد کیا
فانہ اذن منھم جمیعا بحکم الاذن ولو فی ضمن العموم۔
کیونکہ وہ ان سب کی طرف سے اجازت ہوگی اگرچہ اذن عموم کے ضمن میں پایا گیا۔(ت)
اور اگر اعداد سب کی طرف سے نہ تھا زید نے تنہا اپنے لئے کیا اور اس حالت میں ریاست نے اسے لیا اوراب یہ معاوضہ دیا تو اس کا مالك تنہا زید ہے
لانہ ھوالعاقد والمنافع لاتتقوم الابالعقد فلاتکون الالہ کما فی الھندیۃ والخیریۃ والعقودالد ریۃ۔
کیونکہ وہ اکیلا ہی عاقد ہے جبکہ منافع صرف عقد سے قیمتی بنتے ہیں لہذا یہ صرف اسی کےلئے ہونگے جیساکہ ہندیہخیریہ اور درر میں ہے(ت)
مگر تازمانہ شرکت بقدر حصص شرکاء زید کےلئے ملك خبیث ہے لتصرف فی ملك غیرہ(غیر کی ملکیت میں تصرف کی وجہ سے)اس پر لازم ہے کہ اس قدر تصدق کرے یا شرکا کو دے اور یہی اولی ہے کما فی الخیریۃ
الجواب:
حق کے سوا کسی کی رو رعایت خادمان شرع کاکام نہیںاگر وہاں کچھ فتوی نویس اسکے عادی سمجھے ہوں تو سب کو ان پر قیاس نہ کیا جائےوہ زمین اگرسب شرکاء کی طرف سے معد للاستغلال تھی اور ریاست کو اس کا علم تھا کما فی الدر عن الخیر الرملی(جیسا کہ درمختار میں خیرالدین رملی سے منقول ہے۔ت)یا اس کا ایسا ہونا عام طور پر معروف تھا کما فی ردالمحتار ویؤیدہ مسألۃ الخان والحمام فی الاشباہ والدر(جیساکہ ردالمحتار میں ہے جس کی تائید خانوت اور حمام والا مسئلہ کررہاہے جو اشباہ اور در مختار میں مذکور ہے۔ت)تو بلاشبہہ یہ معاوضہ تازمانہ شرکت حسب حصص سب شرکاء کا ہے
لان الاعداد قائم مقام الایجاب والاخذمقام القبول فکانوا کلھم عاقدین فوجب الاجرلھم جمیعا۔
کیونکہ تیار کرنا ایجاب اور لینا قبول کے قائم مقام ہوتا ہےتو یہ تمام لوگ عقد کرنے والے قرار پائینگے تو سب کے لئے معاوضہ واجب ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے یہ صورت کہ متصرف زید تھا اور وہ سب شرکاء کا کارکناور اس نے سب کے لئے اعداد کیا
فانہ اذن منھم جمیعا بحکم الاذن ولو فی ضمن العموم۔
کیونکہ وہ ان سب کی طرف سے اجازت ہوگی اگرچہ اذن عموم کے ضمن میں پایا گیا۔(ت)
اور اگر اعداد سب کی طرف سے نہ تھا زید نے تنہا اپنے لئے کیا اور اس حالت میں ریاست نے اسے لیا اوراب یہ معاوضہ دیا تو اس کا مالك تنہا زید ہے
لانہ ھوالعاقد والمنافع لاتتقوم الابالعقد فلاتکون الالہ کما فی الھندیۃ والخیریۃ والعقودالد ریۃ۔
کیونکہ وہ اکیلا ہی عاقد ہے جبکہ منافع صرف عقد سے قیمتی بنتے ہیں لہذا یہ صرف اسی کےلئے ہونگے جیساکہ ہندیہخیریہ اور درر میں ہے(ت)
مگر تازمانہ شرکت بقدر حصص شرکاء زید کےلئے ملك خبیث ہے لتصرف فی ملك غیرہ(غیر کی ملکیت میں تصرف کی وجہ سے)اس پر لازم ہے کہ اس قدر تصدق کرے یا شرکا کو دے اور یہی اولی ہے کما فی الخیریۃ
وغیرھا(جیسا کہ خیریہ وغیرہ میں ہے۔ت)اور ان کے لئے طیب ہوگا لانہ نماء ملکھم(کیونکہ یہ ان کی ملکیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ت)اور اگر معدللاستغلال نہ تھی تو کسی شریك کے لئے کوئی معاوضہ ریاست کے ذمے نہ آیا لعدم الاجارۃ صراحۃ و لا دلالۃ(اس لئے کہ اجارہ نہ صراحۃ ہے نہ دلالۃ۔ت)جو کچھ دیا وہ محض ہبہ وعطیہ ہے جسے دیا تنہا اسی کاکام ہے اور تمام وکمال اس کے لئے طیب وحلال ہے
لانہ لیس عوضا من مشترك حتی یحتمل اشتراك الشرکاء فیہ۔یہ
مشترکہ چیز کا معاوضہ نہیں تاکہ اس میں شرکاء حضرات کی شرکت کااحتمال ہو۔(ت)
مگر یہ کہ شرکاء میں کوئی یتیم ہوتو البتہ اس کے حصے کے قابل بعد اخذ ریاست تاانتہائے شرکت جتنے دنوں وہ نابالغ رہا ہو اس قد ر کاحصہ اس یتیم کو دینا واجب ہے
لانہ منافع مالہ کمنافع الوقف مضمونۃ بالاستھلاك بلاشرط الاعداد کما فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر۔
کیونکہ یتیم کے مال کے منافع وقف کے منافع کی طرح ہلاك کرنے پر مضمون ہوجاتے ہیں اگرچہ یہ شرط نہ کی گئی ہو جیسا کہ درمختار وغیرہ مشہور کتب میں ہے(ت)
یہ استثناء صورت ثانیہ میں بھی جاری ہوگا اور قدر حصہ یتیم میں زید تصدق کا اختیار نہ رکھے گا بلکہ یتیم ہی کو دینا واجب واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۴ تا ۱۰: ازبنارس مسجد چوك کہنہ مرسلہ محمد سلیمان ومحمد صاحبان ۲۲جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس میں کہ خالد کے پانچ پسرزیدبکرحامدجعفر اور تین دختر ہیںخالد نے مکان مسکونہ بنوایا۔ زیدبکرعمروجنکی شادی ہوگئی تھی اور بالغ تھے کچھ روپے سے اس کی تعمیر میں خالد کے شریك ہوئے۔چند سال بعد خالد نے اپنی جائداد منقولہ وغیرمنقو لہمکانات واسباب دکانداری وغیرہ اپنی زوجہ ہندہ کے نام ہبہ کیا اور یہ مکان مسکونہ بھی اس ہبہ نامہ میں درج ہواہبہ نامہ کی تحریر کے بعد تین سال تك خالد زندہ رہا مگر جائداد منقولہ وغیر منقولہ پر جس کو وہ ہندہ کے نام ہبہ کرچکا تھا خود قابض رہا۔خالد کی حیات میں زیدبکرعمروحامد واسطے خوردونوش کے فی کس پانچ روپے دیتا تھا اورسبھوں کا کھانا یکجائی پکتا۔جعفر صغیر سن تھا اسی وجہ سے شریك نہ تھاہر پسر اپنی اپنی آمدنی علیحدہ اپنے پاس رکھتا تھا اور امور خانگی میں خود خرچ کرتا تھاصرف کھانا یکجائی تھابعد انتقال خالد ہندہ کے زمانہ میں بھی خوردونوش کا ایسا ہی انتظام رہااور دکان بلا فہرست اسباب عمرو کے سپرد ہوئی اس شرط پر کہ وہ ایك آنہ ۱/فی روپیہ دستوری لے لیا کرے جب مال فروخت ہواور وہ حساب کتاب بھی لکھتا رہے۔
تھوڑے دنوں تك عمرو نے حساب کتا ب لکھا مگر پھر خود ہی بند کردیا۔بعد وفات خالد ہندہ کے حیات میں
لانہ لیس عوضا من مشترك حتی یحتمل اشتراك الشرکاء فیہ۔یہ
مشترکہ چیز کا معاوضہ نہیں تاکہ اس میں شرکاء حضرات کی شرکت کااحتمال ہو۔(ت)
مگر یہ کہ شرکاء میں کوئی یتیم ہوتو البتہ اس کے حصے کے قابل بعد اخذ ریاست تاانتہائے شرکت جتنے دنوں وہ نابالغ رہا ہو اس قد ر کاحصہ اس یتیم کو دینا واجب ہے
لانہ منافع مالہ کمنافع الوقف مضمونۃ بالاستھلاك بلاشرط الاعداد کما فی الدر وغیرہ من الاسفار الغر۔
کیونکہ یتیم کے مال کے منافع وقف کے منافع کی طرح ہلاك کرنے پر مضمون ہوجاتے ہیں اگرچہ یہ شرط نہ کی گئی ہو جیسا کہ درمختار وغیرہ مشہور کتب میں ہے(ت)
یہ استثناء صورت ثانیہ میں بھی جاری ہوگا اور قدر حصہ یتیم میں زید تصدق کا اختیار نہ رکھے گا بلکہ یتیم ہی کو دینا واجب واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۴ تا ۱۰: ازبنارس مسجد چوك کہنہ مرسلہ محمد سلیمان ومحمد صاحبان ۲۲جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس میں کہ خالد کے پانچ پسرزیدبکرحامدجعفر اور تین دختر ہیںخالد نے مکان مسکونہ بنوایا۔ زیدبکرعمروجنکی شادی ہوگئی تھی اور بالغ تھے کچھ روپے سے اس کی تعمیر میں خالد کے شریك ہوئے۔چند سال بعد خالد نے اپنی جائداد منقولہ وغیرمنقو لہمکانات واسباب دکانداری وغیرہ اپنی زوجہ ہندہ کے نام ہبہ کیا اور یہ مکان مسکونہ بھی اس ہبہ نامہ میں درج ہواہبہ نامہ کی تحریر کے بعد تین سال تك خالد زندہ رہا مگر جائداد منقولہ وغیر منقولہ پر جس کو وہ ہندہ کے نام ہبہ کرچکا تھا خود قابض رہا۔خالد کی حیات میں زیدبکرعمروحامد واسطے خوردونوش کے فی کس پانچ روپے دیتا تھا اورسبھوں کا کھانا یکجائی پکتا۔جعفر صغیر سن تھا اسی وجہ سے شریك نہ تھاہر پسر اپنی اپنی آمدنی علیحدہ اپنے پاس رکھتا تھا اور امور خانگی میں خود خرچ کرتا تھاصرف کھانا یکجائی تھابعد انتقال خالد ہندہ کے زمانہ میں بھی خوردونوش کا ایسا ہی انتظام رہااور دکان بلا فہرست اسباب عمرو کے سپرد ہوئی اس شرط پر کہ وہ ایك آنہ ۱/فی روپیہ دستوری لے لیا کرے جب مال فروخت ہواور وہ حساب کتاب بھی لکھتا رہے۔
تھوڑے دنوں تك عمرو نے حساب کتا ب لکھا مگر پھر خود ہی بند کردیا۔بعد وفات خالد ہندہ کے حیات میں
مکان مسکونہ میں تعمیر مزید کی ضرورت ہوئی اور حامد نے کام شروع ہونے میں روپیہ دیاروپے کی کمی عمرو پوری کرتا تھا جن کے تعلق دکان تھی اور اپنی انگریزی پہری بھی پہرتا تھا مگر آمدنی دونوں کی یکجا رکھتا تھا اس اثناء میں خاص اپنا روپیہ لگا کر زید نے اپنے لئے بنگلہ ا س مکان مسکونہ میں اپنے روپے سے بنوایا جو اب تك قائم ہے ہندہ کے انتقال کے بعد حامد نے ایك بنگلہ اپنے واسطے اس مکان مسکونہ میں اپنے روپے سے بنوایااور یہ اس روپے کے علاوہ ہے جو کہ حامدنے تعمیر مزید کے شروع کرنے میں دیا تھادیگر یہ کہ زید کی وفات کے بعد اس کی بیوہ کو دو آنہ فی یوم اب تك دکان سے جو عمرو کے متعلق ہے ملتا ہے۔اور عمرو کا بیان ہے کہ دکان کے ذمہ قرض بھی ہے مگر خالد وہندہ نے کوئی قرضہ نہیں لیا تھا اب وارثان خالد وہندہ میں نزاع درپیش ہے مکان مسکونہ کس طور پر تقسیم ہوگا(۱)آیا زید وبکر وعمرو کا روپیہ جو حیات خالد وہندہ میں لگا ہے مجراہوگایانہیں
(۲)حامد کا روپیہ اور زید کا بنگلہ جس کا وقوع بعد انتقال خالد مگر ہندہ کی حیات میں ہوا ہے مجرا ہوگا یانہیں
(۳)حامد کا بنگلہ جو بعد وفات خالد وہندہ کے تعمیر ہوا مجرا ہوگایانہیں
(۴)دختروں کو مکان مسکونہ میں کس قدر حصہ پہنچ سکتا ہے صرف اس قدر مکان میں جو خالد کے انتقال کے وقت تھا یانئی تعمیر سے لے کر
(۵)عمرو کی دکان کا حساب نہ لکھنے پر کوئی الزام اس پر آسکتا ہے یانہیں
(۶)زید کے بیوہ کو دو آنہ ۲/فی یوم جو دکان سے ملتا ہے واپس ہوگا یانہیں
(۷)عمرو کو جو قرضہ دکان مجرا ہوگایانہیںفقط بینواتوجروا۔
الجواب:
جواب سوال اول:ان مسائل میں اصل کلی یہ ہے کہ جوشخص اپنے مال سے کسی کو کچھ دے اگر دیتے وقت تصریح ہوکہ یہ دینا فلاں وجہ پر ہے مثلا ہبہ یا قرض یا ادائی دین ہے جب توآپ ہی وہی وجہ متعین ہوگی اور اگر یہ کچھ ظاہر نہ کیا جائے تو دینے والے کا قول معتبر ہے کہ وہ اپنی نیت سے خوب آگاہ ہے اگر اپنی نافع نیت بتائے گا مثلا کہے میں نے قرضا دیا قرض میں دیا ہبہ مقصود نہ تھا تو اس کا قو ل قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور جو اس کے خلاف کا مدعی ہو وہ محتاج اقامت بینہ ہوگا مگر جبکہ قرائن ودلائل عرف سے اس کا یہ قول خلاف ظاہر ہو تو نہ مانیں گے اور اسی کو اقامت بینہ کی تکلیف دیں گے بکثرت مسائل اسی اصل پر متفرع ہیںمداینات العقود الدریۃ میں بزازیہ سے ہے:
القول قول الرافع لانہ اعلم بجھۃ الدفع ۔
دینے والے کی بات معتبر ہوگی کیونکہ دینے کی وجہ کو وہ بہتر جانتا ہے۔(ت)
(۲)حامد کا روپیہ اور زید کا بنگلہ جس کا وقوع بعد انتقال خالد مگر ہندہ کی حیات میں ہوا ہے مجرا ہوگا یانہیں
(۳)حامد کا بنگلہ جو بعد وفات خالد وہندہ کے تعمیر ہوا مجرا ہوگایانہیں
(۴)دختروں کو مکان مسکونہ میں کس قدر حصہ پہنچ سکتا ہے صرف اس قدر مکان میں جو خالد کے انتقال کے وقت تھا یانئی تعمیر سے لے کر
(۵)عمرو کی دکان کا حساب نہ لکھنے پر کوئی الزام اس پر آسکتا ہے یانہیں
(۶)زید کے بیوہ کو دو آنہ ۲/فی یوم جو دکان سے ملتا ہے واپس ہوگا یانہیں
(۷)عمرو کو جو قرضہ دکان مجرا ہوگایانہیںفقط بینواتوجروا۔
الجواب:
جواب سوال اول:ان مسائل میں اصل کلی یہ ہے کہ جوشخص اپنے مال سے کسی کو کچھ دے اگر دیتے وقت تصریح ہوکہ یہ دینا فلاں وجہ پر ہے مثلا ہبہ یا قرض یا ادائی دین ہے جب توآپ ہی وہی وجہ متعین ہوگی اور اگر یہ کچھ ظاہر نہ کیا جائے تو دینے والے کا قول معتبر ہے کہ وہ اپنی نیت سے خوب آگاہ ہے اگر اپنی نافع نیت بتائے گا مثلا کہے میں نے قرضا دیا قرض میں دیا ہبہ مقصود نہ تھا تو اس کا قو ل قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور جو اس کے خلاف کا مدعی ہو وہ محتاج اقامت بینہ ہوگا مگر جبکہ قرائن ودلائل عرف سے اس کا یہ قول خلاف ظاہر ہو تو نہ مانیں گے اور اسی کو اقامت بینہ کی تکلیف دیں گے بکثرت مسائل اسی اصل پر متفرع ہیںمداینات العقود الدریۃ میں بزازیہ سے ہے:
القول قول الرافع لانہ اعلم بجھۃ الدفع ۔
دینے والے کی بات معتبر ہوگی کیونکہ دینے کی وجہ کو وہ بہتر جانتا ہے۔(ت)
حوالہ / References
∞ € العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب المداینات القول قول الرافع الخ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۴۴€
فتاوی قاضی خان کتاب النکاح میں ہے:
دفع الی غیرہ دراھم فانفقھا وقال صاحب الدراھم اقرضتکھا وقال القابض لابل وھبتنی کان القول قول صاحب الد راھم ۔
ایك نے دوسرے کو کچھ درہم دئے تو اس نے لے کر خرچ کر لئےدراہم دینے والے نے کہا میں نے تجھے قرض دئے تھے اور لینے والا کہتا ہے نہیں بلکہ تو نے مجھے ہبہ دیا ہےتو دینے والے کی بات معتبر ہوگی(ت)
جامع الفصولین فصل رابع وثلثین میں ہے:
صدق الدافع بیمینہ لانہ مملک ۔
دینے والے کی بات قسم کے ساتھ مصدقہ قرار پائے گی کیونکہ وہ دینے والا ہے(ت)
وہیں ہے:
دفع الی ابنہ مالافاراداخذہ صدق انہ دفعہ قرضا لانہ مملک ۔
بیٹے کو کچھ مال دیا اب واپس لینا چاہتا ہے تو قرض کے طور پر دینا مانا جائے گا کیونکہ وہ دینے والا ہے(ت)
وہیں ہے:
یصدق المملك لانہ اعرف فقول العالم اولی بان یقبل من قول الجاہل الافیما یکذب عرفا ۔
مالك بنانے والے کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے تو جاننے والے کی بات کو ماننا اولی ہے بجائے اس کے کہ جاہل کی بات مانی جائے الایہ کہ عرف اس کو جھوٹا قرار دے(ت)
ہدایہ میں ہے:
(من بعث الی امرأتہ شیئا فقالت ھوھدیۃ وقال الزوج ھو من المھر فالقول قولہ)لانہ ھوالمملك فکان اعرف بجہۃ التملیك کیف وان الظاھر انہ یسعی فی اسقاط الواجب(الی فی الطعام الذی یؤکل)فان القول قولھا او المراد منہ مایکون مھیأ للاکل لانہ یتعارف ھدیۃ الخ۔
دفع الی غیرہ دراھم فانفقھا وقال صاحب الدراھم اقرضتکھا وقال القابض لابل وھبتنی کان القول قول صاحب الد راھم ۔
ایك نے دوسرے کو کچھ درہم دئے تو اس نے لے کر خرچ کر لئےدراہم دینے والے نے کہا میں نے تجھے قرض دئے تھے اور لینے والا کہتا ہے نہیں بلکہ تو نے مجھے ہبہ دیا ہےتو دینے والے کی بات معتبر ہوگی(ت)
جامع الفصولین فصل رابع وثلثین میں ہے:
صدق الدافع بیمینہ لانہ مملک ۔
دینے والے کی بات قسم کے ساتھ مصدقہ قرار پائے گی کیونکہ وہ دینے والا ہے(ت)
وہیں ہے:
دفع الی ابنہ مالافاراداخذہ صدق انہ دفعہ قرضا لانہ مملک ۔
بیٹے کو کچھ مال دیا اب واپس لینا چاہتا ہے تو قرض کے طور پر دینا مانا جائے گا کیونکہ وہ دینے والا ہے(ت)
وہیں ہے:
یصدق المملك لانہ اعرف فقول العالم اولی بان یقبل من قول الجاہل الافیما یکذب عرفا ۔
مالك بنانے والے کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے تو جاننے والے کی بات کو ماننا اولی ہے بجائے اس کے کہ جاہل کی بات مانی جائے الایہ کہ عرف اس کو جھوٹا قرار دے(ت)
ہدایہ میں ہے:
(من بعث الی امرأتہ شیئا فقالت ھوھدیۃ وقال الزوج ھو من المھر فالقول قولہ)لانہ ھوالمملك فکان اعرف بجہۃ التملیك کیف وان الظاھر انہ یسعی فی اسقاط الواجب(الی فی الطعام الذی یؤکل)فان القول قولھا او المراد منہ مایکون مھیأ للاکل لانہ یتعارف ھدیۃ الخ۔
حوالہ / References
∞ € فتاوٰی قاضی خاں کتاب النکاح فصل فی حبس المرأۃ نفسہا بالمہر ∞نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۷۸€
∞ € جامع الفصولین ∞فصل ۳۴ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱€۷
∞ € جامع الفصولین فصل ۳۴ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۷
جامع الفصولین فصل ۳۴ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۷
الہدایۃ کتاب النکاح باب المہر المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲/ ۳۱۷
∞ € جامع الفصولین ∞فصل ۳۴ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱€۷
∞ € جامع الفصولین فصل ۳۴ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۷
جامع الفصولین فصل ۳۴ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۷
الہدایۃ کتاب النکاح باب المہر المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲/ ۳۱۷
جس نے بیوی کو کوئی چیز بھیجی تو بیوی نے کہا یہ ہدیہ ہے اور خاوند نے کہا یہ مہر میں شمار ہےتوخاوند کی بات معتبر ہے کیونکہ وہ مالك بنانے والا ہے تو وہی تملیك کی وجہ کو بہتر جانتا ہے اس کے خلاف کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ظاہریہ ہے کہ خاوند اپنے ذمہ واجب کی ادائیگی میں کوشاں ہے ہاں کھائی جانیوالی چیز میں یہ بات ظاہر نہیں کیونکہ اس میں بیوی کی بات معتبر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز کھانے کے لئے مہیا کی گئی ہو کیونکہ عرفا ایسی چیز ہدیہ قرار پاتی ہے الخ(ت)
فتح القدیر میں ہے:
والذی یجب اعتبارہ فی دیارنا ان جمیعہ ماذکر من الحنطۃ واللوز والدقیق والسکر والشاۃ الحیۃ وباقیھا یکون القول فیہا قول المرأۃ لان المتعارف فی ذلك کلہ ارسالہ ھدیۃ فالظاھر مع المرأۃ لامعہ ولایکون القول لہ الافی نحوالثیاب والجاریۃ ۔
ہمارے دیار میں گندمبادامآٹاشکرزندہ بکریاس کا گوشت وغیرہ مذکور ہ تمام اشیاء میں بیوی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ عرف میں ان تمام چیزوں کو ہدیہ کے طور پر ارسال کیا جاتا ہے اس لئے ظاہر عورت کی تائید کرتا ہے نہ کہ مرد کیخاوند کی بات صرف کپڑوں اور لونڈی وغیرہ جیسی چیزوں میں معتبر ہوتی ہے(ت)
نہر الفائق میں ہے:
وینبغی ان لایقبل قولہ ایضافی الثیاب المحمولۃ مع السکرونحوہ للعرف
مناسب ہے کہ خاوند کی بات شکر وغیرہ کے ساتھ ارسال کئے گئے کپڑوں میں معتبرنہ ہوکیونکہ عرف یہی ہے(ت)
حاشیہ ابی السعود الازھری علی الکنز میں ہے:
ینبغی ان یکون القول لھا فی غیرالنقود للعرف المستمر ۔
مناسب ہے کہ نقود کے غیر میں بیوی کی بات معتبر ہو کیونکہ عرف میں یہی جاری ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
کذامایعطیھا من ذلك اومن دراھم
یونہی شب زفاف کی صبح کو جو درہم یا دینار دئے جاتے ہیں
فتح القدیر میں ہے:
والذی یجب اعتبارہ فی دیارنا ان جمیعہ ماذکر من الحنطۃ واللوز والدقیق والسکر والشاۃ الحیۃ وباقیھا یکون القول فیہا قول المرأۃ لان المتعارف فی ذلك کلہ ارسالہ ھدیۃ فالظاھر مع المرأۃ لامعہ ولایکون القول لہ الافی نحوالثیاب والجاریۃ ۔
ہمارے دیار میں گندمبادامآٹاشکرزندہ بکریاس کا گوشت وغیرہ مذکور ہ تمام اشیاء میں بیوی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ عرف میں ان تمام چیزوں کو ہدیہ کے طور پر ارسال کیا جاتا ہے اس لئے ظاہر عورت کی تائید کرتا ہے نہ کہ مرد کیخاوند کی بات صرف کپڑوں اور لونڈی وغیرہ جیسی چیزوں میں معتبر ہوتی ہے(ت)
نہر الفائق میں ہے:
وینبغی ان لایقبل قولہ ایضافی الثیاب المحمولۃ مع السکرونحوہ للعرف
مناسب ہے کہ خاوند کی بات شکر وغیرہ کے ساتھ ارسال کئے گئے کپڑوں میں معتبرنہ ہوکیونکہ عرف یہی ہے(ت)
حاشیہ ابی السعود الازھری علی الکنز میں ہے:
ینبغی ان یکون القول لھا فی غیرالنقود للعرف المستمر ۔
مناسب ہے کہ نقود کے غیر میں بیوی کی بات معتبر ہو کیونکہ عرف میں یہی جاری ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
کذامایعطیھا من ذلك اومن دراھم
یونہی شب زفاف کی صبح کو جو درہم یا دینار دئے جاتے ہیں
حوالہ / References
فتح القدیر باب المہر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۲۵۶
ردالمحتار بحوالہ النہر الفائق کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۶۴
فتح المعین علٰی شرح الکنز لملا مسکین کتاب النکاح باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۷۰
ردالمحتار بحوالہ النہر الفائق کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۶۴
فتح المعین علٰی شرح الکنز لملا مسکین کتاب النکاح باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۷۰
اودنا نیر صبیحۃ لیلۃ العرس ویسمی فی العرف صبیحۃ فان کل ذلك تعورف فی زمانھا کونہ ھدیۃ ۔
ان کو عرف میں صبحہ کہا جاتا ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں یہ ہدیہ ہونے پر عرف بن چکا ہے۔(ت)
پس صورت مستفسرہ میں اگر صراحۃ ثابت ہے کہ زید وعمرووبکر نے یہ روپیہ اپنے باپ کو قرضا دیا تھا تو ضرور واپس ہوگا یاصراحۃ ثابت ہوکہ بطور حسن سلوك وخدمت پدر ہبۃ دیا تھا تو ہر گز واپس نہیں ہوسکتا لتحقق موانع عدیدۃ للرجوع (رجوع کرنے میں متعدد موانع پائے جانے کی وجہ سے۔ت)یا ان کے یہاں معمول قدیم رہا ہوکہ جب کبھی ایسے صرف کی باپ کو ضرورت ہوئی ہے بیٹے اس کے شریك ہوئے ہیں اور وہ شرکت ہمیشہ بے قصد واپسی رہی ہے تو قول بقیہ ورثہ کا معتبر ہوگا کہ یہ دینا بھی اسی طرح تھاقرض نہ تھا دینے والے اگر مدعی ہوں کہ اس بارہم نے قرضا دیا تھا تو ازانجا کہ ان کا وہ عرف باہمی اس دعوے کے خلاف ہے بار ثبوت ان کے ذمہ ہے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
قدقال العلامۃ فی الاسرار امر رجلابان یعمل لہ عمل کذاولم ینطقا شیئا فی الاجر وعدمہ ان کان العامل من قبل ممن یعمل لہ او للناس مثل ھذاالعمل بغیر اجر کان متبرعا ۔
علامہ نے اسرار میں فرمایا ایك شخص نے دوسرے کو کوئی کام کرنے کو کہا اور اس پر انہوں نے معاوضہ ہونے نہ ہونے کا کوئی ذکر نہ کیا تو اگر کام کرنے والا قبل ازیں اس شخص کا کام بغیر اجرت کرتا رہتا ہے یادوسرے لوگوں کا کام بلااجرت کرتا رہتا ہے تو مفت شمار ہوگا۔(ت)
اور اگر سب کچھ نہ ہوتو عمرو بکر خود اور زید کے وارثوں کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا کہ یہ دینا بطور ہبہ نہ تھا مگر عمرو بکر کہ زندہ ہیں قطعی قسم کھائیں گے اور وارثان زید اپنے علم پر یعنی واللہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے مورث زید نے یہ روپیہ اپنے باپ خالد کو ہبۃ دیاتھا
کماعرف من الحکم فی الیمین علی فعل الغیر فانھا انما تکون علی العلم لامع البتات۔
جیسا کہ کسی دوسرے شخص کے کام کرنے کے متعلق قسم میں معلوم ہوچکا ہے کہ وہ حکم علم پر مبنی ہوتا ہے مطلقا قطعی نہیں ہوتا۔(ت)
ان کو عرف میں صبحہ کہا جاتا ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں یہ ہدیہ ہونے پر عرف بن چکا ہے۔(ت)
پس صورت مستفسرہ میں اگر صراحۃ ثابت ہے کہ زید وعمرووبکر نے یہ روپیہ اپنے باپ کو قرضا دیا تھا تو ضرور واپس ہوگا یاصراحۃ ثابت ہوکہ بطور حسن سلوك وخدمت پدر ہبۃ دیا تھا تو ہر گز واپس نہیں ہوسکتا لتحقق موانع عدیدۃ للرجوع (رجوع کرنے میں متعدد موانع پائے جانے کی وجہ سے۔ت)یا ان کے یہاں معمول قدیم رہا ہوکہ جب کبھی ایسے صرف کی باپ کو ضرورت ہوئی ہے بیٹے اس کے شریك ہوئے ہیں اور وہ شرکت ہمیشہ بے قصد واپسی رہی ہے تو قول بقیہ ورثہ کا معتبر ہوگا کہ یہ دینا بھی اسی طرح تھاقرض نہ تھا دینے والے اگر مدعی ہوں کہ اس بارہم نے قرضا دیا تھا تو ازانجا کہ ان کا وہ عرف باہمی اس دعوے کے خلاف ہے بار ثبوت ان کے ذمہ ہے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
قدقال العلامۃ فی الاسرار امر رجلابان یعمل لہ عمل کذاولم ینطقا شیئا فی الاجر وعدمہ ان کان العامل من قبل ممن یعمل لہ او للناس مثل ھذاالعمل بغیر اجر کان متبرعا ۔
علامہ نے اسرار میں فرمایا ایك شخص نے دوسرے کو کوئی کام کرنے کو کہا اور اس پر انہوں نے معاوضہ ہونے نہ ہونے کا کوئی ذکر نہ کیا تو اگر کام کرنے والا قبل ازیں اس شخص کا کام بغیر اجرت کرتا رہتا ہے یادوسرے لوگوں کا کام بلااجرت کرتا رہتا ہے تو مفت شمار ہوگا۔(ت)
اور اگر سب کچھ نہ ہوتو عمرو بکر خود اور زید کے وارثوں کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا کہ یہ دینا بطور ہبہ نہ تھا مگر عمرو بکر کہ زندہ ہیں قطعی قسم کھائیں گے اور وارثان زید اپنے علم پر یعنی واللہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے مورث زید نے یہ روپیہ اپنے باپ خالد کو ہبۃ دیاتھا
کماعرف من الحکم فی الیمین علی فعل الغیر فانھا انما تکون علی العلم لامع البتات۔
جیسا کہ کسی دوسرے شخص کے کام کرنے کے متعلق قسم میں معلوم ہوچکا ہے کہ وہ حکم علم پر مبنی ہوتا ہے مطلقا قطعی نہیں ہوتا۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۶۴
الفتاوی الخیریۃ کتاب الاجارہ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۳۳
الفتاوی الخیریۃ کتاب الاجارہ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۳۳
جامع الفصولین میں ہے:
الوارث یصدق ان الاب اعطاہ بجہۃ الدین لقیامہ مقام مورثہ فیصدق فی جھۃ التملیک ۔
وارث کی یہ بات تسلیم کرلی جائے گی کہ والد نے فلان کو چیز بطور قرض دی تھی کیونکہ وارث اپنے مورث کے قائم مقام ہوجاتا ہے اس لئے تملیك کی وجہ میں اس کی تصدیق کی جائے گی۔(ت)
اس صورت میں اگر بقیہ ورثہ خالد مدعی ہبہ ہوں گواہ دیں واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
کا مطالبہ مطلقا کرسکتا ہے کہ اگر یہ دینا قرضا تھا جب تو ظاہراور اگر بطور ہبہ ہی تھا تاہم دو طرح کا شیوع رکھتا ہے:
اولا: چند شخصوں کو روپے ہبہ کرنا۔
ثانیا: اپنے حصے کے ما ورا کاہبہ کرنا کہ اگر بالفرض سب شرکاء نہیں ایك ہی شریك کو باقیوں کے لئے ہبہ کرنا ہوتا جب بھی اپنا حصہ سے ہبہ جدا رہنے کے باعث محتمل قسمت میں مشاع تھا اور اس قسم کا شیوع صدقہ میں بھی جائز نہیں اگرچہ قسم اول یعنی چند شخصوں پر تصدق جائز ہے بخلاف ہبہ کہ اس میں دونوں قسم کا مشاع مفسد و مبطل ہے جبکہ وہ شیئ صالح تقسیم ہو۔درمختار میں ہے:
تصدق بعشرۃ دراہم اووھبھا لفقیرین صح لان الھبۃ للفقیر صدقۃ والصدقۃ یراد بھاوجہ اﷲتعالی وھو واحد فلاشیوع لالغنیین لان الصدقۃ علی الغنی ھبۃ فلاتصح للشیوع ای لاتملك حتی لوقسمھا وسلمھا صح ۔
دو فقیروں کو دس درہم بطور صدقہ یا ہبہ اکٹھے دے دئے تو صحیح ہے کیونکہ فقیر کو ہبہ بھی صدقہ ہوتا ہے اورصدقہ میں اﷲ تعالی کی رضامقصود ہوتی ہے اور وہ واحد ہے اس لئے اس میں شیوع یعنی قابل تقسیم ہونانہ پایا گیالیکن یہ صورت دوغنی حضرات کو صدقہ کرنے میں صحیح نہیں کیونکہ غنی کے لئے صدقہ بھی ہبہ ہوتا ہے جب کہ ہبہ میں شیوع درست نہیں یعنی دونو ں غنیوں میں سے کوئی بھی غیر منقسم کا تقسیم اور قبضہ سے قبل مالك نہ بنے گا(ت)
تنویر میں ہے:
الصدقۃ کالھبۃ لاتصح غیر مقبوضۃ
تقسیم کئے بغیر درست نہ ہوگا۔(ت)
الوارث یصدق ان الاب اعطاہ بجہۃ الدین لقیامہ مقام مورثہ فیصدق فی جھۃ التملیک ۔
وارث کی یہ بات تسلیم کرلی جائے گی کہ والد نے فلان کو چیز بطور قرض دی تھی کیونکہ وارث اپنے مورث کے قائم مقام ہوجاتا ہے اس لئے تملیك کی وجہ میں اس کی تصدیق کی جائے گی۔(ت)
اس صورت میں اگر بقیہ ورثہ خالد مدعی ہبہ ہوں گواہ دیں واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
کا مطالبہ مطلقا کرسکتا ہے کہ اگر یہ دینا قرضا تھا جب تو ظاہراور اگر بطور ہبہ ہی تھا تاہم دو طرح کا شیوع رکھتا ہے:
اولا: چند شخصوں کو روپے ہبہ کرنا۔
ثانیا: اپنے حصے کے ما ورا کاہبہ کرنا کہ اگر بالفرض سب شرکاء نہیں ایك ہی شریك کو باقیوں کے لئے ہبہ کرنا ہوتا جب بھی اپنا حصہ سے ہبہ جدا رہنے کے باعث محتمل قسمت میں مشاع تھا اور اس قسم کا شیوع صدقہ میں بھی جائز نہیں اگرچہ قسم اول یعنی چند شخصوں پر تصدق جائز ہے بخلاف ہبہ کہ اس میں دونوں قسم کا مشاع مفسد و مبطل ہے جبکہ وہ شیئ صالح تقسیم ہو۔درمختار میں ہے:
تصدق بعشرۃ دراہم اووھبھا لفقیرین صح لان الھبۃ للفقیر صدقۃ والصدقۃ یراد بھاوجہ اﷲتعالی وھو واحد فلاشیوع لالغنیین لان الصدقۃ علی الغنی ھبۃ فلاتصح للشیوع ای لاتملك حتی لوقسمھا وسلمھا صح ۔
دو فقیروں کو دس درہم بطور صدقہ یا ہبہ اکٹھے دے دئے تو صحیح ہے کیونکہ فقیر کو ہبہ بھی صدقہ ہوتا ہے اورصدقہ میں اﷲ تعالی کی رضامقصود ہوتی ہے اور وہ واحد ہے اس لئے اس میں شیوع یعنی قابل تقسیم ہونانہ پایا گیالیکن یہ صورت دوغنی حضرات کو صدقہ کرنے میں صحیح نہیں کیونکہ غنی کے لئے صدقہ بھی ہبہ ہوتا ہے جب کہ ہبہ میں شیوع درست نہیں یعنی دونو ں غنیوں میں سے کوئی بھی غیر منقسم کا تقسیم اور قبضہ سے قبل مالك نہ بنے گا(ت)
تنویر میں ہے:
الصدقۃ کالھبۃ لاتصح غیر مقبوضۃ
تقسیم کئے بغیر درست نہ ہوگا۔(ت)
حوالہ / References
جامع الفصولین فصل۳۴ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۷
درمختار باب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱
درمختار شرح تنویر الابصار باب الہبہ فصل فی مسائل متفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۵
درمختار باب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱
درمختار شرح تنویر الابصار باب الہبہ فصل فی مسائل متفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۵
ولافی مشاع یقسم ۔
صدقہ ہبہ کی طرح ہے لہذا بغیر قبضہ اور غیر منقسم کو
ردالمحتارمیں ہے:
فان قلت قدم ان الصدقۃ لفقیرین جائزۃ فیما یحتمل القسمۃ بقولہ وصح تصدق عشرۃ لفقیرین قلت المرادھنا من المشاع ان یھب بعضہ لواحد فقط عــــــہفحینئذ ھو مشاع یحتمل القسمۃ بخلاف الفقیرین فانہ لاشیوع کماتقدم بحر اھواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم
اگر تیرا اعتراض ہو کہ قبل ازیں کہا ہے کہ دو فقیروں کو تقسیم سے قبل قابل تقسیم چیز کاصدقہ جائز ہےمیں کہتا ہوں کہ یہاں۔۔۔۔۔۔کے معاملہ میں مشاع سے مراد یہ ہے کہ فقط اس کا کچھ ایك کو د یا ہوتو یہ مشاع(غیر منقسم جو قابل تقسیم تھا)ہوابخلاف فقیروں کے کیونکہ ان میں شیوع نہ پایاگیا جیساکہ پہلے گزرابحراھ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
جواب سوال سوم وبقیہ دوم:زید وحامد نے زمین مکان مشترك میں جو بنگلے اپنے لئے اپنے روپے سے بنائے وہ خاص انہیں کے ہیں دیگر شرکاء کا ان میں کوئی حق نہیںاگر باقی شرکاء اب قائم رہنا نہیں چاہتے تومکان وزمیں موروث مشترك تقسیم کریںاگر بنگلے کی کل زمین بنگلے ہی کے حصہ میں آکر پڑی جب تو نزاع ہی قطع ہوئی اور اگر وہ کل زمین یا اس کا بعض کسی دوسرے شریك کے حصے میں پڑے تو یا باہمی رضامندی سے زمیں والا اپنی زمین بنگلے والے کے ہاتھ بیع کر دے یا بنگلے والا اپنا بنگلہ کل یا بعض زمین والے کے ہاتھ اورکسی طرح تراضی نہ ہوتو زمین والے کو اختیار ہوگا کہ بنگلہ کل یا بعض جس قدر اس کی زمین میں واقع ہوا اکھڑوا دے اور اس کے سبب اگر زمین کو کچھ نقصان قلیل پہنچے اس کا تاوان بنگلہ والے سے لے لے اور اگر نقصان سخت کثیر پہنچے کہ زمین کو خراب وبیکار کردے تو اسے اختیار ہے کہ اس قدر عمارت بنگلہ جو اس کی زمین میں ہے اپنی ملك ٹھہرالے اگرچہ صاحب بنگلہ راضی نہ ہو اور اسے
عــــــہ:قولہ فقط ناظر الی بعضہ لا الی واحد حتی لو وھب بعضہ فقط لجماعۃ لم تجز ایضا ولو وھب کلہ لغیرہ واحد جاز فی الصدقۃ کما لایخفی۱۲منہ(م)
قولہفقطکا تعلق لفظ"بعض"سے ہے نہ کہ"واحد"سے حتی کہ بعض حصہ اگر پوری جماعت کو بھی دیا تو جائز نہ ہوگا اور اگر سارا متعدد کودے دیا تو صدقہ میں جائز ہےجیسا کہ مخفی نہیں۱۲ منہ (ت)
صدقہ ہبہ کی طرح ہے لہذا بغیر قبضہ اور غیر منقسم کو
ردالمحتارمیں ہے:
فان قلت قدم ان الصدقۃ لفقیرین جائزۃ فیما یحتمل القسمۃ بقولہ وصح تصدق عشرۃ لفقیرین قلت المرادھنا من المشاع ان یھب بعضہ لواحد فقط عــــــہفحینئذ ھو مشاع یحتمل القسمۃ بخلاف الفقیرین فانہ لاشیوع کماتقدم بحر اھواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم
اگر تیرا اعتراض ہو کہ قبل ازیں کہا ہے کہ دو فقیروں کو تقسیم سے قبل قابل تقسیم چیز کاصدقہ جائز ہےمیں کہتا ہوں کہ یہاں۔۔۔۔۔۔کے معاملہ میں مشاع سے مراد یہ ہے کہ فقط اس کا کچھ ایك کو د یا ہوتو یہ مشاع(غیر منقسم جو قابل تقسیم تھا)ہوابخلاف فقیروں کے کیونکہ ان میں شیوع نہ پایاگیا جیساکہ پہلے گزرابحراھ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
جواب سوال سوم وبقیہ دوم:زید وحامد نے زمین مکان مشترك میں جو بنگلے اپنے لئے اپنے روپے سے بنائے وہ خاص انہیں کے ہیں دیگر شرکاء کا ان میں کوئی حق نہیںاگر باقی شرکاء اب قائم رہنا نہیں چاہتے تومکان وزمیں موروث مشترك تقسیم کریںاگر بنگلے کی کل زمین بنگلے ہی کے حصہ میں آکر پڑی جب تو نزاع ہی قطع ہوئی اور اگر وہ کل زمین یا اس کا بعض کسی دوسرے شریك کے حصے میں پڑے تو یا باہمی رضامندی سے زمیں والا اپنی زمین بنگلے والے کے ہاتھ بیع کر دے یا بنگلے والا اپنا بنگلہ کل یا بعض زمین والے کے ہاتھ اورکسی طرح تراضی نہ ہوتو زمین والے کو اختیار ہوگا کہ بنگلہ کل یا بعض جس قدر اس کی زمین میں واقع ہوا اکھڑوا دے اور اس کے سبب اگر زمین کو کچھ نقصان قلیل پہنچے اس کا تاوان بنگلہ والے سے لے لے اور اگر نقصان سخت کثیر پہنچے کہ زمین کو خراب وبیکار کردے تو اسے اختیار ہے کہ اس قدر عمارت بنگلہ جو اس کی زمین میں ہے اپنی ملك ٹھہرالے اگرچہ صاحب بنگلہ راضی نہ ہو اور اسے
عــــــہ:قولہ فقط ناظر الی بعضہ لا الی واحد حتی لو وھب بعضہ فقط لجماعۃ لم تجز ایضا ولو وھب کلہ لغیرہ واحد جاز فی الصدقۃ کما لایخفی۱۲منہ(م)
قولہفقطکا تعلق لفظ"بعض"سے ہے نہ کہ"واحد"سے حتی کہ بعض حصہ اگر پوری جماعت کو بھی دیا تو جائز نہ ہوگا اور اگر سارا متعدد کودے دیا تو صدقہ میں جائز ہےجیسا کہ مخفی نہیں۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الہبہ فصل فی مسائل متفرقہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۲۲
اس تعمیر کی وہ قیمت دے دے جو روز واپسی زمین ایسی عمارت کا اس حال میں نرخ ہوجبکہ اسکے گرادینے کا حکم ہولیا ہواور اس کی معرفت کا طریقہ یہ ہے کہ اگر یہ عمارت گرادی جائے تو جس قدر عملہ ٹوٹ پھوٹ کر بعد گرانے کے نکلے اس کا بھاؤ روز واپسی کیا ہوگا اور گروانے میں کیا مزدوری جائے گی یہ مزدور اس عملہ کے بھاؤ سے گھٹا کر جو بچے وہ اس دن اس عمارت کی قیمت ہے جس کے گرانے کا حکم ہولیا۔درمختار کتاب القسمۃ میں ہے:
بنی احدالشریکین بغیر اذن الاخر(وکذالوباذنہ لنفسہ لانہ مستعیرلحصۃ الاخر وللمعیرالرجوع متی شاء رملی علی الاشباہ اھ ش) فی عقار مشترك بینھما فطلب شریکہ رفع بنائہ قسم العقار فان وقع البناء فی نصیب البانی فبہا ونعمت والاھدم البناء (اوارضاہ بدفع قیمۃ ط عن الھندیۃ)وحکم الغرس کذلك بزازیۃ اھ مزیدا من الشامی۔
مشترکہ جگہ پر ایك شریك نے دوسرے کی اجازت کے بغیرتعمیر کی دوسرے نے وہاں سے عمارت ہٹانے کا مطالبہ کیا تو زمین کو تقسیم کیا جائےاگر عمارت بنانے والے کے حصہ میں وہ عمارت آئی تو بہتر ورنہ عمارت کو گرایا جائے گا(اس پر علامہ شامی نے یہ اضافہ فرمایا یونہی شریك کی اجازت سے اپنی ذات کے لئے بنائی تو حکم یہی ہے کیونکہ اس نے گویا وہ زمین عاریۃ عمارت کے لئے اپنے شریك سے حاصل کی اور عاریتا دینے والے کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے واپس لے لے اھ رملی علی الاشباہ اور طحطاوی میں ہندیہ سے یوں ہےیاشریك کو قیمت دے کر راضی کرلے)________اور پودے لگانے کا حکم بھی یہی ہےبزازیہاھ۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اقول: وفی فتاوی قارئ الھدایۃ وان وقع البناء فی نصیب الشریك قلع وضمن مانقصت الارض بذلك اھ وقد تقدم فی کتاب الغصب متنا ان من بنی او غرس فی ارض غیرہ امر بالقلع وللمالك ان یضمن لہ قیمۃ بناء او غرس امر بقلعہ ان نقصت الارض بہ
میں کہتا ہوں اور فتاوی قارئ الھدایہ میں ہے اور اگر عمارت شریك کے حصہ میں بنائی تو ہٹائے اور بنانے والے سے زمین کے نقصان کا ضمان لے اھمتن کے کتاب الغصب میں پہلے گزر چکا ہے کہ جس نے عمارت یا پودے غیر کی زمین میں لگائے تو اسے ہٹانے کاحکم دیاجائے گا اور مالك کو اختیار ہوگا کہ اگر عمارت گرانے یا پودے اکھاڑنے سے زمین کا جو نقصان ہوا ہوتواس کا
بنی احدالشریکین بغیر اذن الاخر(وکذالوباذنہ لنفسہ لانہ مستعیرلحصۃ الاخر وللمعیرالرجوع متی شاء رملی علی الاشباہ اھ ش) فی عقار مشترك بینھما فطلب شریکہ رفع بنائہ قسم العقار فان وقع البناء فی نصیب البانی فبہا ونعمت والاھدم البناء (اوارضاہ بدفع قیمۃ ط عن الھندیۃ)وحکم الغرس کذلك بزازیۃ اھ مزیدا من الشامی۔
مشترکہ جگہ پر ایك شریك نے دوسرے کی اجازت کے بغیرتعمیر کی دوسرے نے وہاں سے عمارت ہٹانے کا مطالبہ کیا تو زمین کو تقسیم کیا جائےاگر عمارت بنانے والے کے حصہ میں وہ عمارت آئی تو بہتر ورنہ عمارت کو گرایا جائے گا(اس پر علامہ شامی نے یہ اضافہ فرمایا یونہی شریك کی اجازت سے اپنی ذات کے لئے بنائی تو حکم یہی ہے کیونکہ اس نے گویا وہ زمین عاریۃ عمارت کے لئے اپنے شریك سے حاصل کی اور عاریتا دینے والے کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ جب چاہے واپس لے لے اھ رملی علی الاشباہ اور طحطاوی میں ہندیہ سے یوں ہےیاشریك کو قیمت دے کر راضی کرلے)________اور پودے لگانے کا حکم بھی یہی ہےبزازیہاھ۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اقول: وفی فتاوی قارئ الھدایۃ وان وقع البناء فی نصیب الشریك قلع وضمن مانقصت الارض بذلك اھ وقد تقدم فی کتاب الغصب متنا ان من بنی او غرس فی ارض غیرہ امر بالقلع وللمالك ان یضمن لہ قیمۃ بناء او غرس امر بقلعہ ان نقصت الارض بہ
میں کہتا ہوں اور فتاوی قارئ الھدایہ میں ہے اور اگر عمارت شریك کے حصہ میں بنائی تو ہٹائے اور بنانے والے سے زمین کے نقصان کا ضمان لے اھمتن کے کتاب الغصب میں پہلے گزر چکا ہے کہ جس نے عمارت یا پودے غیر کی زمین میں لگائے تو اسے ہٹانے کاحکم دیاجائے گا اور مالك کو اختیار ہوگا کہ اگر عمارت گرانے یا پودے اکھاڑنے سے زمین کا جو نقصان ہوا ہوتواس کا
حوالہ / References
درمختار کتاب القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۱،ردالمحتار کتاب القسمۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۷۰
والظاھر جریان التفصیل ھنا کذلك تأمل اھ
ضمان لے اور ظاہرہے کہ یہاں وہی تفصیل ہوگیغورکرواھ
اقول: وکذلك تقدم فی کتاب العاریۃ متنا وشرحا حیث قال لواعار ارضاللبناء والغرس صح ولہ ان یرجع متی شاء ویکلفہ قلعھما الااذاکان فیہ مضرۃ بالارض فیترکان بالقیمۃ مقلوعین لئلا تتلف ارضہ اھ وھذااعنی بناء احدالشریکین لایخلو عن احد ھما اذلوبنی بغیر اذن شریکہ کان غاصبا او بہ لنفسہ کان مستعیرافلاشك فی جریان الحکم المذکور فیھما ھنا ثم ماذکرہ قاری الھدایۃ محلہ مااذاکان النقصان قلیلاغیربالغ حد افساد الارض والتملك محمول علی النقصان الفاحش کما یفیدہ تعلیل الدر بقولہ لئلا تتلف ارضہ وقد نقل المحشی عن السائحانی عن المقدسی فی الغصب تحت قول الدر من بنی اوغرس فی ارض غیربغیر اذنہ امر بالقلع
اقول:(میں کہتا ہوں)اور یونہی متن اور شرح کی کتاب العاریۃ میں گزرا ہے جہاں فرمایاکہ اگر زمیں عمارت یا پودے لگانے کے لئے عاریۃ دی تو جائز ہے اور اس کو اختیار ہوگا کہ جب چاہے واپس لے لے اور بنانے والے کو ہٹانے پرمجبور کرےہاں اگر عمارت گرانے اور پودے اکھاڑنے سے زمین کو نقصان ہو تو دونوں چیزوں کو ان کی اکھاڑی ہوئی صورت کی قیمت کے بدلے بحال رکھا جائے تاکہ مالك کی زمین تلف نہ ہو اھ اور شریکین میں سے ایك کا تعمیر کرنا دو حال سے خالی نہیں کہ بغیر اجازت تعمیر کرے گا تو غاصب ہوگا یا اجازت سے اپنی ذات کے لئے تعمیر کرے گا تو عاریۃ حاصل کرنے والا قرار پائے گا تو بلاشك دونوں صورتوں میں وہاں مذکور حکم ہی جاری ہوگاپھر قاری الھدایہ نے جو ذکر فرمایا تو اس کا محل وہ صورت ہے جب اکھاڑنے میں نقصان کم ہو جس سے زمین میں فساد پیدا نہ ہواور قیمت دے کر مالك بننے کی صورت وہ ہے جب زمین کا نقصان زیادہ ہو جیسا کہ درمختار کا یہ علت بیان کرنا"تاکہ زمین تلف نہ ہو"سے بطور فائدہ معلوم ہورہا ہے اور غصب کے باب میں محشی نے سائحانی اس نے مقدسی سے درمختار کے قول"جس نے غیر کی زمین میں بغیر اجازت عمارت بنائی یا پودے لگائے تو اسے وہاں سے اکھاڑنے
ضمان لے اور ظاہرہے کہ یہاں وہی تفصیل ہوگیغورکرواھ
اقول: وکذلك تقدم فی کتاب العاریۃ متنا وشرحا حیث قال لواعار ارضاللبناء والغرس صح ولہ ان یرجع متی شاء ویکلفہ قلعھما الااذاکان فیہ مضرۃ بالارض فیترکان بالقیمۃ مقلوعین لئلا تتلف ارضہ اھ وھذااعنی بناء احدالشریکین لایخلو عن احد ھما اذلوبنی بغیر اذن شریکہ کان غاصبا او بہ لنفسہ کان مستعیرافلاشك فی جریان الحکم المذکور فیھما ھنا ثم ماذکرہ قاری الھدایۃ محلہ مااذاکان النقصان قلیلاغیربالغ حد افساد الارض والتملك محمول علی النقصان الفاحش کما یفیدہ تعلیل الدر بقولہ لئلا تتلف ارضہ وقد نقل المحشی عن السائحانی عن المقدسی فی الغصب تحت قول الدر من بنی اوغرس فی ارض غیربغیر اذنہ امر بالقلع
اقول:(میں کہتا ہوں)اور یونہی متن اور شرح کی کتاب العاریۃ میں گزرا ہے جہاں فرمایاکہ اگر زمیں عمارت یا پودے لگانے کے لئے عاریۃ دی تو جائز ہے اور اس کو اختیار ہوگا کہ جب چاہے واپس لے لے اور بنانے والے کو ہٹانے پرمجبور کرےہاں اگر عمارت گرانے اور پودے اکھاڑنے سے زمین کو نقصان ہو تو دونوں چیزوں کو ان کی اکھاڑی ہوئی صورت کی قیمت کے بدلے بحال رکھا جائے تاکہ مالك کی زمین تلف نہ ہو اھ اور شریکین میں سے ایك کا تعمیر کرنا دو حال سے خالی نہیں کہ بغیر اجازت تعمیر کرے گا تو غاصب ہوگا یا اجازت سے اپنی ذات کے لئے تعمیر کرے گا تو عاریۃ حاصل کرنے والا قرار پائے گا تو بلاشك دونوں صورتوں میں وہاں مذکور حکم ہی جاری ہوگاپھر قاری الھدایہ نے جو ذکر فرمایا تو اس کا محل وہ صورت ہے جب اکھاڑنے میں نقصان کم ہو جس سے زمین میں فساد پیدا نہ ہواور قیمت دے کر مالك بننے کی صورت وہ ہے جب زمین کا نقصان زیادہ ہو جیسا کہ درمختار کا یہ علت بیان کرنا"تاکہ زمین تلف نہ ہو"سے بطور فائدہ معلوم ہورہا ہے اور غصب کے باب میں محشی نے سائحانی اس نے مقدسی سے درمختار کے قول"جس نے غیر کی زمین میں بغیر اجازت عمارت بنائی یا پودے لگائے تو اسے وہاں سے اکھاڑنے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القسمۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۷۰
درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۶
درمختار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۷
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۲۴
درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۶
درمختار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۷
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۲۴
والرد وللمالك ان یضمن لہ قیمۃ بناء او شجر امر بقلعہ ای مستحق القلع ان نقصت الارض بہ اھ مانصہ ای نقصانا فاحشا بحیث یفسدھا اما لو نقصھا قلیلا فیأخذارضہ ویقلع الاشجار ویضمن النقصان اھ فبذا التوفیق یتضح المرام وتزول الاوھام والجدلہ ولی الانعام۔
اور زمین واپس کرنے کا حکم دیا جائے گااور مالك کو اختیار ہوگا کہ وہ اکھاڑے ہوئے مکان یا درختوں کی قیمت کا ضامن بن جائے اگر زمین کو نقصان کاخطرہ ہو یعنی اگر نقصان ہوتو اکھاڑنے کا استحقاق ہوگا اھ محشی کی عبارت یہ ہے یعنی ایسا فحش نقصان جو زمین کے فساد کا باعث ہولیکن اگر نقصان قلیل ہوتو مالك اپنی زمین واپس لے اور درخت وغیرہ اکھاڑدے اور نقصان کا ضمان لے اھ تو اس بیان سے مذکورہ عبارات میں موافقت ہوگئیمقصود واضح ہوگیا اور اوہام ختم ہوگئے اور بزرگی نعمت کے مالك کے لئے ہے۔(ت)
نیز شامی میں ہے:
ای قیمۃ بناء اوشجر امر بقلعہ اقل من قیمتہ مقلوعا مقداراجرۃ القلع فان کانت قیمۃ المقلوع عشرۃ واجرۃ القلع دراھم بقیت تسعۃ (ملخصا)
یعنی مکان یا درخت جن کو اکھاڑنے کا حق ہے ان کھاڑے ہوئے کی قیمت سے اکھاڑنے کی مزدوری برابر منہا کرکے بقیہ قیمت دی جائےمثلا اگر اکھاڑے ہوئے کی قیمت دس درہم ہو اور مزدوری ایك درہم ہوتو نو درہم قیمت دے گا (ملخصا)۔(ت)
خیریہ میں ہے:
ان وقع بعضہ فی حصتہ وبعضہ فی حصۃ الاخر فما وقع فی حصتہ فامرہ الیہ وما وقع فی حصۃ الاخرفلہ ان یکلفہ قلعہ ۔
اگر مکان کا کچھ حصہ اپنی زمین اور کچھ حصہ دوسرے کی زمین میں ہو تو اپنی زمین والا حصہ اس کی صوابدید پر ہےاور جو حصہ دوسرے کی زمین پر واقع ہے تو دوسرے کو حق ہے کہ وہ اسے گرانے پر مجبور کرے(ت)
اور زمین واپس کرنے کا حکم دیا جائے گااور مالك کو اختیار ہوگا کہ وہ اکھاڑے ہوئے مکان یا درختوں کی قیمت کا ضامن بن جائے اگر زمین کو نقصان کاخطرہ ہو یعنی اگر نقصان ہوتو اکھاڑنے کا استحقاق ہوگا اھ محشی کی عبارت یہ ہے یعنی ایسا فحش نقصان جو زمین کے فساد کا باعث ہولیکن اگر نقصان قلیل ہوتو مالك اپنی زمین واپس لے اور درخت وغیرہ اکھاڑدے اور نقصان کا ضمان لے اھ تو اس بیان سے مذکورہ عبارات میں موافقت ہوگئیمقصود واضح ہوگیا اور اوہام ختم ہوگئے اور بزرگی نعمت کے مالك کے لئے ہے۔(ت)
نیز شامی میں ہے:
ای قیمۃ بناء اوشجر امر بقلعہ اقل من قیمتہ مقلوعا مقداراجرۃ القلع فان کانت قیمۃ المقلوع عشرۃ واجرۃ القلع دراھم بقیت تسعۃ (ملخصا)
یعنی مکان یا درخت جن کو اکھاڑنے کا حق ہے ان کھاڑے ہوئے کی قیمت سے اکھاڑنے کی مزدوری برابر منہا کرکے بقیہ قیمت دی جائےمثلا اگر اکھاڑے ہوئے کی قیمت دس درہم ہو اور مزدوری ایك درہم ہوتو نو درہم قیمت دے گا (ملخصا)۔(ت)
خیریہ میں ہے:
ان وقع بعضہ فی حصتہ وبعضہ فی حصۃ الاخر فما وقع فی حصتہ فامرہ الیہ وما وقع فی حصۃ الاخرفلہ ان یکلفہ قلعہ ۔
اگر مکان کا کچھ حصہ اپنی زمین اور کچھ حصہ دوسرے کی زمین میں ہو تو اپنی زمین والا حصہ اس کی صوابدید پر ہےاور جو حصہ دوسرے کی زمین پر واقع ہے تو دوسرے کو حق ہے کہ وہ اسے گرانے پر مجبور کرے(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے جبکہ مکان صالح تقسیماور شرکاء تقسیم پر راضی ہوں ورنہ اگر بقیہ شرکاء اس عمارت کو رکھنا نہ چاہیں تو ڈھادینے سے چارہ نہیں۔ خیریہ میں ہے:
لایخفی انہ اذالم یمکن القسمۃ اولم یرضیا بھا تعین الھدم ۔واﷲتعالی اعلم۔
یہ مخفی نہیں کہ جب زمین قابل تقسیم نہ ہو یا فریقین تقسیم پر راضی نہ ہوں تو گرائے بغیر چارہ نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
جواب سوال چہارم:دختریں مکان قدیم سے کہ وقت مرگ خالد موجود تھا ترکہ پدری پائیں گی کہ ہبہ جو خالد نے ہندہ کے نام کیا تھا بوجہ قبضہ نہ دینے کے موت خالد سے باطل ہوگیا اور ترکہ ترکہ خالد ہی ٹھہرااور اس میں سے جو حصہ ہندہ نے پایا اور نیز تعمیر مزید سے کہ زمانہ ہندہ میں سب شرکاء کے لئے ہوئی جس قدر حق ہندہ تھا ان دونوں میں سے ترکہ مادری لیں گی اور اگر زید کے ورثہ میں بہنوں کا کوئی حاجب مثلا بیٹا یا پوتا نہیں تو جب کچھ زید کو ترکہ پدری وہر دو ترکہ مادری سے پہنچا اور اس کا اپنا خاص بنگلہ ان تینوں میں سے میراث برادری کی مستحق ہوں گیواﷲتعالی اعلم۔
جواب سوال پنجم:حساب دکان لکھنا عمرو پر واجب نہ تھا اگر نہ لکھا اس پر کوئی الزام نہ ہوا
فی العقودالدریۃ عن البحرالرائق من تصرفات القیم یجوز الاخذ علی نفس الکتابۃ ولایجوز الاخذعلی نفس المحاسبۃ لان الحساب واجب علیہ اھ فافادان الکتابۃ لاتجب علیہ حتی جازلہ اخذ الاجرۃ علیہا فعلم ان الامین فی معاملۃ لایجب علیہ کتابۃ حسابہ وان کان نفس الحساب واجبا علیہ۔
عقوددریہ میں بحرالرائق سے منقول ہے کہ قیمتی تصرفات میں لکھائی پر معاوضہ لینا جائز ہے اور محض حساب پر معاوضہ لیناجائز نہیں کیونکہ حساب اس پر واجب ہےاھاس سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ وہاں لکھائی واجب نہ ہوگی جہاں اجرت لینا جائز ہوگا تو اس سے معلوم ہواکسی معاملہ منتظم پر حساب کی لکھائی واجب نہیں اگرچہ نفس حساب اس پر واجب ہے۔(ت)
بلکہ یہ قرار داد ہی کہ عمرووبقیہ شرکاء میں ہو کہ عمرو مال بیچے حساب لکھے اور اکنی روپیہ دستور ی لے محض ناجائز و حرام ہے کما لا یخفی علی الفقیہ(جیسا کہ فقہ جاننے والے پر مخفی نہیں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
لایخفی انہ اذالم یمکن القسمۃ اولم یرضیا بھا تعین الھدم ۔واﷲتعالی اعلم۔
یہ مخفی نہیں کہ جب زمین قابل تقسیم نہ ہو یا فریقین تقسیم پر راضی نہ ہوں تو گرائے بغیر چارہ نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
جواب سوال چہارم:دختریں مکان قدیم سے کہ وقت مرگ خالد موجود تھا ترکہ پدری پائیں گی کہ ہبہ جو خالد نے ہندہ کے نام کیا تھا بوجہ قبضہ نہ دینے کے موت خالد سے باطل ہوگیا اور ترکہ ترکہ خالد ہی ٹھہرااور اس میں سے جو حصہ ہندہ نے پایا اور نیز تعمیر مزید سے کہ زمانہ ہندہ میں سب شرکاء کے لئے ہوئی جس قدر حق ہندہ تھا ان دونوں میں سے ترکہ مادری لیں گی اور اگر زید کے ورثہ میں بہنوں کا کوئی حاجب مثلا بیٹا یا پوتا نہیں تو جب کچھ زید کو ترکہ پدری وہر دو ترکہ مادری سے پہنچا اور اس کا اپنا خاص بنگلہ ان تینوں میں سے میراث برادری کی مستحق ہوں گیواﷲتعالی اعلم۔
جواب سوال پنجم:حساب دکان لکھنا عمرو پر واجب نہ تھا اگر نہ لکھا اس پر کوئی الزام نہ ہوا
فی العقودالدریۃ عن البحرالرائق من تصرفات القیم یجوز الاخذ علی نفس الکتابۃ ولایجوز الاخذعلی نفس المحاسبۃ لان الحساب واجب علیہ اھ فافادان الکتابۃ لاتجب علیہ حتی جازلہ اخذ الاجرۃ علیہا فعلم ان الامین فی معاملۃ لایجب علیہ کتابۃ حسابہ وان کان نفس الحساب واجبا علیہ۔
عقوددریہ میں بحرالرائق سے منقول ہے کہ قیمتی تصرفات میں لکھائی پر معاوضہ لینا جائز ہے اور محض حساب پر معاوضہ لیناجائز نہیں کیونکہ حساب اس پر واجب ہےاھاس سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ وہاں لکھائی واجب نہ ہوگی جہاں اجرت لینا جائز ہوگا تو اس سے معلوم ہواکسی معاملہ منتظم پر حساب کی لکھائی واجب نہیں اگرچہ نفس حساب اس پر واجب ہے۔(ت)
بلکہ یہ قرار داد ہی کہ عمرووبقیہ شرکاء میں ہو کہ عمرو مال بیچے حساب لکھے اور اکنی روپیہ دستور ی لے محض ناجائز و حرام ہے کما لا یخفی علی الفقیہ(جیسا کہ فقہ جاننے والے پر مخفی نہیں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
الفتاوٰی الخیریہ کتاب القسمۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۶۰
العقود الدریۃ تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثالث ارگ بازار قندھار،افغانستان ۱/ ۲۱۵
العقود الدریۃ تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثالث ارگ بازار قندھار،افغانستان ۱/ ۲۱۵
جواب سوال ششم:خاص ہندہ کے لئے اس کے بیوہ ہو نے پر شریکوں کایہ یومیہ مقرر کرنا ظاہرابہ نیت ثواببطور مواسات بیوہ برادر ہے اگر ایسا ہی ہے تو ہرگزواپس نہیں ہوسکتا کہ وہ اس حال میں تصدق ہے اور تصدق میں اصلا رجو ع نہیں۔در مختا ر میں ہے :
لا ر جوع فیھا و لو علی غنی لا ن ا لمقصو د فیھا الثو اب لا العوض
اس میں رجو ع نہیں اگر چہ غنی پر کیا ہو کیو نکہ ا س سے مقصود ثواب ہے معاوضہ نہیں ہے(ت)
اور اگر دکان میں جو اس کا استحقاق بذریعہ ترکہ شوہری ہے اسے حق میں سمجھ کردیتے ہیں تو اگر اس کا حق اسی قدر یا اس سے زائد ہے جب بھی رجوع کے لئے کوئی معنی نہیںاور اگر ظاہر ہوکہ حق سے زائد پہنچا تو البتہ بقدر زیادت واپس لیاجائےگا
فی شرکۃ العقود الدریۃ سئل فیما اذاکان لکل من زید وعمر و عقارجارفی مبلکہ بمفردہ فتوافقاعلی ان ما یحصل من ریع العقارین بینھما نصفین واستمر علی ذلك تسع سنواتوالحال ان ریع عقار زید اکثر ویرید زید مطالبۃ عمروبالقدر الزائد الذی دفعہ لعمر وبناء علی انہ واجب علیہ بسبب الشرکۃ المزبورۃ فہل یسوغ لزید ذلک(الجواب)الشرکۃ المزبورۃ غیرمعتبرۃ فحیث کان ریع عقار زیداکثر تبین ان مادفعہ لعمرومن ذلك بناء علی ظن انہ واجب علیہ ومن دفع شیئا لیس بواجب علیہ فلہ استردادہ الا اذادفعہ علی وجہ الھبۃ واستھبلکہ القابض کما فی شرح النظم الوھبانی وغیرہ من المعتبرات ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
عقو د در یہ کی کتا ب الشر کہ میں ہے کہ زید اور عمر و ہر ایك انفر اد ی طو ر پر اپنی زمین کا ما لك ہے تو دو نو ں نے باتفاق طے کیا کہ دو نوں زمینو ں سے جو پید او ار حا صل ہو وہ دو نو ں میں نصف نصف ہو گی اسی معا ہد ہ پر نو سا ل معا ملہ چلتا رہا حا لا نکہ زید کی زمین ز یا دہ تھی اب زید اپنے زائد حصہ کا عمر و سے مطالبہ کرنا چا ہتا ہے اس مبنی پر کہ عمر و کو ادا شدہ حصہ معاہدہ مذ کو رہ کی وجہ سے واجب تھا تو کیا زید کو اس زائد اد ا شدہ کو واپس لینے کا اختیا ر ہے(الجواب)مذکو رہ شراکت معتبر نہیں تو جب زید کی زمین کا رقبہ زیا دہ ہے تو پید اوار کا زیا دہ ہونا واضح ہو گیا تو معلو م ہوا کہ اس نے عمر و کو جو زائد مقد ار دی وہ اس خیال سے دی کہ اس کی ادائیگی واجب تھی جبکہ کوئی شخص غیر وا جب چیز کو ادا کرے تو اس کی واپسی مطالبہ کاحق ہو تا ہےہاں اگر ہبہ کے طور پر دیا اور قابض نے اس کو ہلا ك کر دیا ہو تو واپسی کا حق نہیں جیسا کہ
لا ر جوع فیھا و لو علی غنی لا ن ا لمقصو د فیھا الثو اب لا العوض
اس میں رجو ع نہیں اگر چہ غنی پر کیا ہو کیو نکہ ا س سے مقصود ثواب ہے معاوضہ نہیں ہے(ت)
اور اگر دکان میں جو اس کا استحقاق بذریعہ ترکہ شوہری ہے اسے حق میں سمجھ کردیتے ہیں تو اگر اس کا حق اسی قدر یا اس سے زائد ہے جب بھی رجوع کے لئے کوئی معنی نہیںاور اگر ظاہر ہوکہ حق سے زائد پہنچا تو البتہ بقدر زیادت واپس لیاجائےگا
فی شرکۃ العقود الدریۃ سئل فیما اذاکان لکل من زید وعمر و عقارجارفی مبلکہ بمفردہ فتوافقاعلی ان ما یحصل من ریع العقارین بینھما نصفین واستمر علی ذلك تسع سنواتوالحال ان ریع عقار زید اکثر ویرید زید مطالبۃ عمروبالقدر الزائد الذی دفعہ لعمر وبناء علی انہ واجب علیہ بسبب الشرکۃ المزبورۃ فہل یسوغ لزید ذلک(الجواب)الشرکۃ المزبورۃ غیرمعتبرۃ فحیث کان ریع عقار زیداکثر تبین ان مادفعہ لعمرومن ذلك بناء علی ظن انہ واجب علیہ ومن دفع شیئا لیس بواجب علیہ فلہ استردادہ الا اذادفعہ علی وجہ الھبۃ واستھبلکہ القابض کما فی شرح النظم الوھبانی وغیرہ من المعتبرات ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
عقو د در یہ کی کتا ب الشر کہ میں ہے کہ زید اور عمر و ہر ایك انفر اد ی طو ر پر اپنی زمین کا ما لك ہے تو دو نو ں نے باتفاق طے کیا کہ دو نوں زمینو ں سے جو پید او ار حا صل ہو وہ دو نو ں میں نصف نصف ہو گی اسی معا ہد ہ پر نو سا ل معا ملہ چلتا رہا حا لا نکہ زید کی زمین ز یا دہ تھی اب زید اپنے زائد حصہ کا عمر و سے مطالبہ کرنا چا ہتا ہے اس مبنی پر کہ عمر و کو ادا شدہ حصہ معاہدہ مذ کو رہ کی وجہ سے واجب تھا تو کیا زید کو اس زائد اد ا شدہ کو واپس لینے کا اختیا ر ہے(الجواب)مذکو رہ شراکت معتبر نہیں تو جب زید کی زمین کا رقبہ زیا دہ ہے تو پید اوار کا زیا دہ ہونا واضح ہو گیا تو معلو م ہوا کہ اس نے عمر و کو جو زائد مقد ار دی وہ اس خیال سے دی کہ اس کی ادائیگی واجب تھی جبکہ کوئی شخص غیر وا جب چیز کو ادا کرے تو اس کی واپسی مطالبہ کاحق ہو تا ہےہاں اگر ہبہ کے طور پر دیا اور قابض نے اس کو ہلا ك کر دیا ہو تو واپسی کا حق نہیں جیسا کہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبہ فصل فی مسائل متفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۶
العقود الدریۃ تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ،کتاب الشرکۃ،ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۹۱
العقود الدریۃ تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ،کتاب الشرکۃ،ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۹۱
النظم الوہبانی کی شرح وغیرہ معتبر کتب میں ہے۔واﷲتعالی اعلم۔(ت)
جواب سوال ہفتم:یہ قرضہ کہ عمرودکان کے ذمے بتاتا ہے اگر یوں ہے کہ اس نے حسب عادت تجار کچھ مال قرضوں مول لیا اور ہنوز زر ثمن ادانہ کیا یادکان میں خسارہ واقع ہونے کے سبب ادا نہ ہوسکا تو یہ قرض سب شرکاء کے ذمے حصہ رسد ہوگا اور عمرو کا قول اس بارے میں قسم کے ساتھ معتبر ہوگا اور اگر یوں ہے کہ عمرو نے سر مایہ دکان بڑھانے کے لئے کچھ روپیہ قرض لے کر اور مال خریدا تو یہ قرض خاص ذمہ عمروہوگا باقی کو اس سے کچھ تعلق نہیں۔
تحقیق مسئلہ: یہ ہے کہ یہ طریقہ جو اکثر ورثاء میں معمول ہوتا ہے کہ مورث مرگیا اس کے اموال دیہات دکانات یوں ہی شرکت پر بلا تقسیم رہتے ہیں اور منجملہ ورثہ بعض وارث باقیوں کے اجازت ورضامندی سے ان میں تصرف کرتے ہیں شرکت عقد نہیں شرکت ملك ہی ہے
کما حققہ فی العقود الدریۃوقال فی ردالمحتار ھی شرکۃ ملك کما حررتہ فی تنقیح الحامدیۃ ثم رأیت التصریح بہ بعینہ فی فتاوی الحانوتی ۔
جیسا کہ عقود الدریۃ میں اس کی تحقیق کی ہے اور ردالمحتار میں فرمایا یہ شرکت ملك ہے جیسا کہ میں نے تنقیح الحامدیہ میں اس کوواضح کیا ہے اور پھر میں نے فتاوی حانوتی میں اس کی تصریح دیکھی(ت)
اور شرکت ملك میں ہر شریك دوسرے کے حصہ سے اجنبی ہوتا ہے
کما صرحوابہ قاطبۃوفی الدرالمختار کل من شرکاء الملك اجنبی فی مال صاحبہ لعدم تضمنھا الوکالۃ ۔
جیساکہ اس کا جواب مکمل طور پر گزرااوردرمختار میں ہے کہ شرکت ملك کے تمام فریق دوسرے کے مال سے اجنبی ہوتے ہیں کیونکہ یہ شرکت و کالت کو متضمن نہیں ہوتی۔(ت)
مگر یہاں کہ تصرف باجازت ورضائے باقی شرکاء ہے یہ تصرف کرنے والا اپنے حصہ میں اصیل اور باقیوں کی طرف سے وکیل ہوتا ہے
قال فی ردالمحتار یقع کثیرافی الفلاحین ونحوھم ان احدھم یموت فتقوم اولادہ علی ترکتہ بلاقسمۃ
ردالمحتار میں فرمایا:کاشتکار لوگوں میں جیسے یہ معاملہ عام ہے کہ جب ان شرکاء میں سے کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اس کی اولاد تقسیم کے بغیر ہی اپنے والد کے ترکہ
جواب سوال ہفتم:یہ قرضہ کہ عمرودکان کے ذمے بتاتا ہے اگر یوں ہے کہ اس نے حسب عادت تجار کچھ مال قرضوں مول لیا اور ہنوز زر ثمن ادانہ کیا یادکان میں خسارہ واقع ہونے کے سبب ادا نہ ہوسکا تو یہ قرض سب شرکاء کے ذمے حصہ رسد ہوگا اور عمرو کا قول اس بارے میں قسم کے ساتھ معتبر ہوگا اور اگر یوں ہے کہ عمرو نے سر مایہ دکان بڑھانے کے لئے کچھ روپیہ قرض لے کر اور مال خریدا تو یہ قرض خاص ذمہ عمروہوگا باقی کو اس سے کچھ تعلق نہیں۔
تحقیق مسئلہ: یہ ہے کہ یہ طریقہ جو اکثر ورثاء میں معمول ہوتا ہے کہ مورث مرگیا اس کے اموال دیہات دکانات یوں ہی شرکت پر بلا تقسیم رہتے ہیں اور منجملہ ورثہ بعض وارث باقیوں کے اجازت ورضامندی سے ان میں تصرف کرتے ہیں شرکت عقد نہیں شرکت ملك ہی ہے
کما حققہ فی العقود الدریۃوقال فی ردالمحتار ھی شرکۃ ملك کما حررتہ فی تنقیح الحامدیۃ ثم رأیت التصریح بہ بعینہ فی فتاوی الحانوتی ۔
جیسا کہ عقود الدریۃ میں اس کی تحقیق کی ہے اور ردالمحتار میں فرمایا یہ شرکت ملك ہے جیسا کہ میں نے تنقیح الحامدیہ میں اس کوواضح کیا ہے اور پھر میں نے فتاوی حانوتی میں اس کی تصریح دیکھی(ت)
اور شرکت ملك میں ہر شریك دوسرے کے حصہ سے اجنبی ہوتا ہے
کما صرحوابہ قاطبۃوفی الدرالمختار کل من شرکاء الملك اجنبی فی مال صاحبہ لعدم تضمنھا الوکالۃ ۔
جیساکہ اس کا جواب مکمل طور پر گزرااوردرمختار میں ہے کہ شرکت ملك کے تمام فریق دوسرے کے مال سے اجنبی ہوتے ہیں کیونکہ یہ شرکت و کالت کو متضمن نہیں ہوتی۔(ت)
مگر یہاں کہ تصرف باجازت ورضائے باقی شرکاء ہے یہ تصرف کرنے والا اپنے حصہ میں اصیل اور باقیوں کی طرف سے وکیل ہوتا ہے
قال فی ردالمحتار یقع کثیرافی الفلاحین ونحوھم ان احدھم یموت فتقوم اولادہ علی ترکتہ بلاقسمۃ
ردالمحتار میں فرمایا:کاشتکار لوگوں میں جیسے یہ معاملہ عام ہے کہ جب ان شرکاء میں سے کوئی فوت ہوجاتا ہے تو اس کی اولاد تقسیم کے بغیر ہی اپنے والد کے ترکہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۳۸
درمختار کتاب الشرکہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۰
درمختار کتاب الشرکہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۰
ویعملون فیہا من حرث وزراعۃ وشراء واستدانۃ و نحو ذلك وتارۃ یکون کبیرھم ھوالذی یتولی مھماتھم ویعملون عندہ بامرہ وکل ذلك علی وجہ الاطلاق والتفویض الخ فلاشك فی تحقق معنی التوکیل۔
پر قائم مقام بن جاتی ہے اور کھیتی باڑی اور خرید وفروخت اورلین دین جیسے امور سرانجام دیتی رہتی ہے اور کبھی ان میں سے بڑا وہ خود ہی ضروری امور کا متولی بن جاتا ہے اور چھوٹے اس کے کہنے پر عمل کرتے رہتے ہیں جبکہ یہ تمام کارروائی بطور اجازت اور تفویض ہوتی ہے الختو اس میں وکالت کے معنی پائے جانے میں شك نہیں ہے(ت)
خصوصا صورت مستفسرہ میں توصراحۃ بقیہ شرکاء کی طرف سے عمرو کو تفویض دکان واجازت اعمال تجارت ہوئی یہ معنے وکالت ہیں اور اس میں یہ شرط قرار پانا کہ جومال بکے عمرو اکنی روپیہ دستور لے اگرچہ شرط فاسد ہے کہ شریك کو مال مشترك میں تصرف کرنے کے لئے اجیر کرنا اصلا جائز نہیں
وھذا باجماع من ائمتنا خلافاللامام الشافعی رضی اﷲتعالی عنہم ثم ھل ھو باطل ام فاسد ذکرناہ فیما علقناہ علی ردالمحتارقال فی الدرالمختار لواستأجرہ لحمل طعام مشترك بینھما فلا اجرلہ لایعمل شیئا لشریکہ الاویقع بعضہ لنفسہ فلایستحق الاجر اھ وقال الامام الاتقانی فی غایۃ البیان قال الکرخی قال محمد وکل شیئ استأجر احدھما من صاحبہ ممایکون عملافانہ لایجوز وان عملہ فلا اجرلہ وکل شیئ لیس یکون عملا استأجرہ احدھما من صاحبہ فھو جائز وقال شمس الائمۃ البیہقی
اس پر ہمارے ائمہ کرام کا اجماع ہے بخلاف امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہمپھر یہ بحث کہ کیا وہ باطل ہے یافاسد ہے تو میں نے اس کو ردالمحتار پراپنے حاشیہ میں ذکر کیا ہے در مختار میں فرمایاکہ اگر ایك شریك مشترکہ سامان کو اٹھانے کے لئے اجیر بنا تو اس کو اجرت نہ ملے گی کیونکہ جو کچھ اس نے اٹھایا اس میں شریك کے ساتھ اس کا اپنا حصہ بھی تھا لہذااس اشتراك کی بنا پر وہ اجرت کا مستحق نہ ہوا اھ۔اور امام اتقانی نے غایۃ البیان میں فرمایا کہ امام کرخی نے کہا کہ امام محمد نے فرمایا کہ شریکین میں سے اگر ایك مشترکہ چیز کے کسی عمل میں اجیر بناتو یہ جائز نہیں اگر اس نے ایسا کیا تو کوئی اجرت نہ پائے گااور ایسی مشترکہ چیز جو عمل نہ بنے اس کو اگر شریك اجرت پرلیتا ہے تو جائز ہےاور شمس الائمہ بیہقی
پر قائم مقام بن جاتی ہے اور کھیتی باڑی اور خرید وفروخت اورلین دین جیسے امور سرانجام دیتی رہتی ہے اور کبھی ان میں سے بڑا وہ خود ہی ضروری امور کا متولی بن جاتا ہے اور چھوٹے اس کے کہنے پر عمل کرتے رہتے ہیں جبکہ یہ تمام کارروائی بطور اجازت اور تفویض ہوتی ہے الختو اس میں وکالت کے معنی پائے جانے میں شك نہیں ہے(ت)
خصوصا صورت مستفسرہ میں توصراحۃ بقیہ شرکاء کی طرف سے عمرو کو تفویض دکان واجازت اعمال تجارت ہوئی یہ معنے وکالت ہیں اور اس میں یہ شرط قرار پانا کہ جومال بکے عمرو اکنی روپیہ دستور لے اگرچہ شرط فاسد ہے کہ شریك کو مال مشترك میں تصرف کرنے کے لئے اجیر کرنا اصلا جائز نہیں
وھذا باجماع من ائمتنا خلافاللامام الشافعی رضی اﷲتعالی عنہم ثم ھل ھو باطل ام فاسد ذکرناہ فیما علقناہ علی ردالمحتارقال فی الدرالمختار لواستأجرہ لحمل طعام مشترك بینھما فلا اجرلہ لایعمل شیئا لشریکہ الاویقع بعضہ لنفسہ فلایستحق الاجر اھ وقال الامام الاتقانی فی غایۃ البیان قال الکرخی قال محمد وکل شیئ استأجر احدھما من صاحبہ ممایکون عملافانہ لایجوز وان عملہ فلا اجرلہ وکل شیئ لیس یکون عملا استأجرہ احدھما من صاحبہ فھو جائز وقال شمس الائمۃ البیہقی
اس پر ہمارے ائمہ کرام کا اجماع ہے بخلاف امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہمپھر یہ بحث کہ کیا وہ باطل ہے یافاسد ہے تو میں نے اس کو ردالمحتار پراپنے حاشیہ میں ذکر کیا ہے در مختار میں فرمایاکہ اگر ایك شریك مشترکہ سامان کو اٹھانے کے لئے اجیر بنا تو اس کو اجرت نہ ملے گی کیونکہ جو کچھ اس نے اٹھایا اس میں شریك کے ساتھ اس کا اپنا حصہ بھی تھا لہذااس اشتراك کی بنا پر وہ اجرت کا مستحق نہ ہوا اھ۔اور امام اتقانی نے غایۃ البیان میں فرمایا کہ امام کرخی نے کہا کہ امام محمد نے فرمایا کہ شریکین میں سے اگر ایك مشترکہ چیز کے کسی عمل میں اجیر بناتو یہ جائز نہیں اگر اس نے ایسا کیا تو کوئی اجرت نہ پائے گااور ایسی مشترکہ چیز جو عمل نہ بنے اس کو اگر شریك اجرت پرلیتا ہے تو جائز ہےاور شمس الائمہ بیہقی
حوالہ / References
رد المحتا ر کتا ب الشرکۃ دار احیا ء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۳۸
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۹
غایۃ البیان للاتقانی
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۹
غایۃ البیان للاتقانی
فی الکفایۃ والاصل ان فی کل موضع لا یستحق الاجر الا بایقاع عمل فی العین المشترك لا یجوزلانہ لا یمکن کما فی نقل الطعام المشترك بنفسہ او احبتہ اوغلامہ وکل ما یستحق بدون ایقاع عمل فی المشترك یجوز فانہ تجب الاجرۃ بوضع العین فی الدار والسفینۃ والرحی لا بایقاع عمل اھ
نے کفایہ میں فرمایا کہ قاعدہ یہ ہے کہ ایسا مقام جہاں صرف عمل کرنے پر ہی اجرت کا مستحق بنے تو وہاں کسی شریك کا اجیر بننا جائز نہیں کیونکہ مشترکہ چیز میں یہ ممکن نہیں جیسا کہ مشترکہ طعام کو خود شریك یا اس کا قریبی یا اس کا غلام منتقل کرنے کا اجیر بنے تو ناجائز ہےاور ایسا مقام جہاں مشترك چیز میں بغیر عمل اجرت کا مستحق بنے وہاں جائز ہے کیونکہ عین چیز کو گھر میں یا کشتی یا چکی کے مکان میں کرایہ پر رکھ چھوڑنے پر اجرت واجب ہوتی ہےعمل پر واجب نہیں ہوتی۔(ت)
مگر وکالت شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتیبزازیہ میں ہے:
الوکالۃ لاتبطل بالشروط الفاسدۃ ای شرط کان ۔
وکالت فاسد شرطوں سے فاسد نہیں ہوتی جو بھی شرط ہو۔(ت)
درمختار میں ہے:
مایصح ولایبطل بالشرط الفاسد الوکالۃالخ ۔
جو چیز صحیح قرار پائے اور فاسد شرطوں سے فاسد نہ ہو وہ وکالت ہے(ت)
تو وہ شرط ہی فاسد و باطل قرار پائی اور وکالت عمرو صحیح وتام رہی عالمگیریہ میں ہے:
ولوقال اشترجاریۃ بالف درھم لك علی شرائك درھم فحینئذ یصیر وکیلا ویکون الوکیل اجر مثلہ ولایزاد علی درھم ۔
اگر کہا کہ ہزار درہم سے لونڈی خرید لاؤ اور خریداری پر تجھے ایك درہم دوں گا تو ایسی صورت میں وہ شخص وکیل قرار پائے گا اور وکیل عمل پر اجرت مثل کا مستحق ہوگا جو ایك درہم سے زائد نہ ہوگی(ت)
اور وکیل بالشراء قرضوں خرید سکتا ہے
کما نصواعلیہ فی غیر ما مسئلۃو
جیسا کہ بہت سے مسائل میں فقہاء کرام نے نص
نے کفایہ میں فرمایا کہ قاعدہ یہ ہے کہ ایسا مقام جہاں صرف عمل کرنے پر ہی اجرت کا مستحق بنے تو وہاں کسی شریك کا اجیر بننا جائز نہیں کیونکہ مشترکہ چیز میں یہ ممکن نہیں جیسا کہ مشترکہ طعام کو خود شریك یا اس کا قریبی یا اس کا غلام منتقل کرنے کا اجیر بنے تو ناجائز ہےاور ایسا مقام جہاں مشترك چیز میں بغیر عمل اجرت کا مستحق بنے وہاں جائز ہے کیونکہ عین چیز کو گھر میں یا کشتی یا چکی کے مکان میں کرایہ پر رکھ چھوڑنے پر اجرت واجب ہوتی ہےعمل پر واجب نہیں ہوتی۔(ت)
مگر وکالت شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتیبزازیہ میں ہے:
الوکالۃ لاتبطل بالشروط الفاسدۃ ای شرط کان ۔
وکالت فاسد شرطوں سے فاسد نہیں ہوتی جو بھی شرط ہو۔(ت)
درمختار میں ہے:
مایصح ولایبطل بالشرط الفاسد الوکالۃالخ ۔
جو چیز صحیح قرار پائے اور فاسد شرطوں سے فاسد نہ ہو وہ وکالت ہے(ت)
تو وہ شرط ہی فاسد و باطل قرار پائی اور وکالت عمرو صحیح وتام رہی عالمگیریہ میں ہے:
ولوقال اشترجاریۃ بالف درھم لك علی شرائك درھم فحینئذ یصیر وکیلا ویکون الوکیل اجر مثلہ ولایزاد علی درھم ۔
اگر کہا کہ ہزار درہم سے لونڈی خرید لاؤ اور خریداری پر تجھے ایك درہم دوں گا تو ایسی صورت میں وہ شخص وکیل قرار پائے گا اور وکیل عمل پر اجرت مثل کا مستحق ہوگا جو ایك درہم سے زائد نہ ہوگی(ت)
اور وکیل بالشراء قرضوں خرید سکتا ہے
کما نصواعلیہ فی غیر ما مسئلۃو
جیسا کہ بہت سے مسائل میں فقہاء کرام نے نص
فی الخانیۃ الوکیل بالشراء اذااشتری بالنسیئۃ فمات الوکیل حل علیہ الثمن ویبقی الاجل فی حق المؤکل ۔ فی الدرالمختار صح بالنسیئۃ ان التوکیل بالبیع للتجارۃ وان کان للحاجۃ لایجوز ۔
فرمائی ہےاور خانیہ میں ہے کہ خریداری کے وکیل نے اگر ادھار خرید کی ہوتو وکیل کے فوت ہونے کی صورت میں موکل پر رقم کی ادائیگی آئے گی اورمدت ادھار اس کے حق میں منتقل ہوجائے گی۔(ت)
بلکہ وکیل تجارت کو موافق معمول تجارقرضوں بیچنے کا بھی اختیاردرمختار میں ہے اگر تجارت کے طور پر ادھار فروخت کرے تو جائز ہے اگر اپنی حاجت کی وجہ سے ادھار کیا تو ناجائز ہے(ت)
مگر وکیل کو روپیہ قرض لینے کا اختیار نہیںنہ قرض لینے پر توکیل روااگر لے گا خود وکیل ہی پر قرض ہوگا
فی جامع الفصولین التوکیل بالاقراض جائز لابالاستقراض الخ۔وفی رد المحتار قالوا انما لم یصح التوکیل بالاستقراض لانہ توکیل بالتکدی وھو لایصح الخ ۔
جامع الفصولین میں ہے قرض دینے کے لئے وکیل بنانا جائز ہے اور قرض حاصل کرنے کے لئے وکیل بنانا جائز نہیں الخ (ت) اور ردالمحتار میں ہے کہ فقہاء کرام نے فرمایا:قرض لینے کے لئے وکیل بناناصحیح نہیں کیونکہ یہ حاجتمندی پر توکیل ہے جو کہ صحیح نہیں ہے الخ(ت)
ہاں اگرصورت یہ ہوتی کہ بقیہ شرکاء عمرو سے کہتے ہم سب شریکوں کے لئے اتنا روپیہ قرض لے کر سرمایہ تجارت بڑھاؤ اور عمرو قرض دینے والے سے کہتا کہ ہم شرکاء کو قرض دےتو البتہ وہ قرض سب پر ہوتا اور اگر کہتا کہ مجھے ہم سب شرکاء کے لئے قرض دے تو اب بھی خاص عمرو ہی پرہوتا
الرسالۃ بالاستقراض تجوز ولو اخرج وکیل الاستقراض کلامہ مخرج الرسالۃ یقع القرض للآمر ولو مخرج الولایۃ
قرض لینے کے لئے قاصد بنانا جائز ہے
فرمائی ہےاور خانیہ میں ہے کہ خریداری کے وکیل نے اگر ادھار خرید کی ہوتو وکیل کے فوت ہونے کی صورت میں موکل پر رقم کی ادائیگی آئے گی اورمدت ادھار اس کے حق میں منتقل ہوجائے گی۔(ت)
بلکہ وکیل تجارت کو موافق معمول تجارقرضوں بیچنے کا بھی اختیاردرمختار میں ہے اگر تجارت کے طور پر ادھار فروخت کرے تو جائز ہے اگر اپنی حاجت کی وجہ سے ادھار کیا تو ناجائز ہے(ت)
مگر وکیل کو روپیہ قرض لینے کا اختیار نہیںنہ قرض لینے پر توکیل روااگر لے گا خود وکیل ہی پر قرض ہوگا
فی جامع الفصولین التوکیل بالاقراض جائز لابالاستقراض الخ۔وفی رد المحتار قالوا انما لم یصح التوکیل بالاستقراض لانہ توکیل بالتکدی وھو لایصح الخ ۔
جامع الفصولین میں ہے قرض دینے کے لئے وکیل بنانا جائز ہے اور قرض حاصل کرنے کے لئے وکیل بنانا جائز نہیں الخ (ت) اور ردالمحتار میں ہے کہ فقہاء کرام نے فرمایا:قرض لینے کے لئے وکیل بناناصحیح نہیں کیونکہ یہ حاجتمندی پر توکیل ہے جو کہ صحیح نہیں ہے الخ(ت)
ہاں اگرصورت یہ ہوتی کہ بقیہ شرکاء عمرو سے کہتے ہم سب شریکوں کے لئے اتنا روپیہ قرض لے کر سرمایہ تجارت بڑھاؤ اور عمرو قرض دینے والے سے کہتا کہ ہم شرکاء کو قرض دےتو البتہ وہ قرض سب پر ہوتا اور اگر کہتا کہ مجھے ہم سب شرکاء کے لئے قرض دے تو اب بھی خاص عمرو ہی پرہوتا
الرسالۃ بالاستقراض تجوز ولو اخرج وکیل الاستقراض کلامہ مخرج الرسالۃ یقع القرض للآمر ولو مخرج الولایۃ
قرض لینے کے لئے قاصد بنانا جائز ہے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوکالۃ نولکشور لکھنؤ ۳/ ۵۷۶
درمختار کتاب الشہادات باب الوکالۃ بالبیع والشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۷
جامع الفصولین الفصل الثلاثون فی التصرفات الفاسدہ الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷
ردالمحتار فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۵۳
جامع الفصولین الفصل الثلاثون فی التصرفات الفاسدۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷
درمختار کتاب الشہادات باب الوکالۃ بالبیع والشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۷
جامع الفصولین الفصل الثلاثون فی التصرفات الفاسدہ الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷
ردالمحتار فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۵۳
جامع الفصولین الفصل الثلاثون فی التصرفات الفاسدۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷
کتاب الوقف
(احکام وقف کا بیان)
مسئلہ۱۱: ازمقام کول مانك چوك مسئولہ زوجہ عبدالرشید خاں۲۲شعبان ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کسبی تائبہ کو کچھ جائداد پاك بعوض دین مہر کے ملی ہے یہ اس کے تئیں وقف کیا چاہتی ہے اور متولی خود اپنی حیات میں آپ ہوناچاہتی ہے اور بعد کو دوسرے کو کیا چاہتی ہےآیایہ وقف کرسکتی ہے یانہیں مگر اس جائداد میں ایك قید یہ لگی ہے کہ حین حیات اس نے پائی ہے بعد کو جس سے ملی ہے اسی پر عود کرے گی تو اس صورت سے وقف دوامی کرسکتی ہے یانہیںاور دوامی نہ کرسکے توحین حیات اپنی وقف کرسکتی ہے یانہیںاور حین حیات وقف کرکے کسی دوسرے کو متولی کرسکتی ہے یانہیںبینواتوجروا۔(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
جائداد مہر میں دینا ہبہ بالعوض ہے اور ہبہ بالعوض ابتداء و انتھاء ہر طرح بیع ہےاور بعد وفات شرط واپسی شرط فاسد ہےاور بیع شروط فاسدہ سے فاسد وحرام ہوجاتی ہےاس کا فسخ کرنا بائع ومشتری دونوں پر فرض ہوتا ہےاور ان میں کسی کے مرنے سے یہ حکم فسخ زائل نہیں ہوتااگر نہ فسخ کریں تو گنہگار رہتے ہیں اور عقد فاسد سے جوجائداد خریدی جائے مشتری اگرچہ بعد قبضہ اس کا مالك ہوجاتا ہے مگر وہ ملك خبیث ہوتی ہے اس کا ازالہ واجب ہوتا ہےعلماء کو اختلاف ہے کہ اسی حالت پر اگر مشتری اسے وقف کردے تو وقف صحیح ولازم ہوجائے گا صرف واقف کے ذمہ اس عقد فاسد کو فسخ نہ کرنے کا گناہ رہے گا جوبے توبہ نہ جائے گا یا وقف ہی مسلم نہ ہوگا بلکہ توڑ دیاجائے گا اور وہ شیئ بائع یا اس کے ورثہ دی جائے گی جب تك واقف نے اس میں تعمیر وغیرہ
(احکام وقف کا بیان)
مسئلہ۱۱: ازمقام کول مانك چوك مسئولہ زوجہ عبدالرشید خاں۲۲شعبان ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کسبی تائبہ کو کچھ جائداد پاك بعوض دین مہر کے ملی ہے یہ اس کے تئیں وقف کیا چاہتی ہے اور متولی خود اپنی حیات میں آپ ہوناچاہتی ہے اور بعد کو دوسرے کو کیا چاہتی ہےآیایہ وقف کرسکتی ہے یانہیں مگر اس جائداد میں ایك قید یہ لگی ہے کہ حین حیات اس نے پائی ہے بعد کو جس سے ملی ہے اسی پر عود کرے گی تو اس صورت سے وقف دوامی کرسکتی ہے یانہیںاور دوامی نہ کرسکے توحین حیات اپنی وقف کرسکتی ہے یانہیںاور حین حیات وقف کرکے کسی دوسرے کو متولی کرسکتی ہے یانہیںبینواتوجروا۔(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
جائداد مہر میں دینا ہبہ بالعوض ہے اور ہبہ بالعوض ابتداء و انتھاء ہر طرح بیع ہےاور بعد وفات شرط واپسی شرط فاسد ہےاور بیع شروط فاسدہ سے فاسد وحرام ہوجاتی ہےاس کا فسخ کرنا بائع ومشتری دونوں پر فرض ہوتا ہےاور ان میں کسی کے مرنے سے یہ حکم فسخ زائل نہیں ہوتااگر نہ فسخ کریں تو گنہگار رہتے ہیں اور عقد فاسد سے جوجائداد خریدی جائے مشتری اگرچہ بعد قبضہ اس کا مالك ہوجاتا ہے مگر وہ ملك خبیث ہوتی ہے اس کا ازالہ واجب ہوتا ہےعلماء کو اختلاف ہے کہ اسی حالت پر اگر مشتری اسے وقف کردے تو وقف صحیح ولازم ہوجائے گا صرف واقف کے ذمہ اس عقد فاسد کو فسخ نہ کرنے کا گناہ رہے گا جوبے توبہ نہ جائے گا یا وقف ہی مسلم نہ ہوگا بلکہ توڑ دیاجائے گا اور وہ شیئ بائع یا اس کے ورثہ دی جائے گی جب تك واقف نے اس میں تعمیر وغیرہ
زیادت سے حق فسخ کو زائل نہ کردیا ہو۔درمختار وردالمحتار ومنح الغفار وغیرہ میں قول اول اختیار کیا اور اصح اور ظاہر الروایۃ قول ثانی ہے
کما حققنا کل ذلك فیما علقنا علی ردالمحتار من اول کتاب الوقف فراجعہ فانہ مھم۔
جیسا کہ ردالمحتار کی کتاب الوقف کے ابتداء میں حاشیہ پر ہم نے اس کی تحقیق کی ہےلہذا اسے دیکھاجائے کیونکہ ضروری بحث ہے(ت)
بہر حال اس وقف میں عورت کے لئے خیر نہیں بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ عقد یعنی معاوضہ مہر میں جائداد کا لینا فسخ کرے اور از سرنو وارثان شوہر سے مہر کا مطالبہ کرےاگر اداکردیں فبہا ورنہ اس جائدادسے وصول کرےاور اگر سمجھے کہ یوں نہ ملے گا اور مقدار مہر قیمت جائداد سے زائدیامساوی ہوں تومذہب مفتی بہ بطور خود اس جائداد کو اپنے مہر میں لے لے۔
وھی مسئلۃ الظفر بخلاف جنس الحق وقد حققھا فی ردالمحتار وان الفتوی الان علی جوازالاخذ۔
یہ کسی کے پاس اپنے حق پر خلاف جنس کے ذریعہ کامیابی کی بحث ہےاس کی تحقیق ردالمحتار میں کی ہے اور موجودہ دورمیں جبرا لے لینے کے جواز پر فتوی ہے(ت)
یوں مالك ہوکر وقف تام ابدی کرے وقف کسی وقت خاص تك مقید نہیں ہوسکتا لان من شرطہ التابید(کیونکہ اس کی شرائط میں سے دائمی قرار دینا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲: ازمارہرہ مطہرہ مرسلہ حضور میاں صاحب قبلہ ۱۹ربیع الآخر ۱۳۲۳ھ
زید اپنی جائداد مقبوضہ مملوکہ کو وقف کیا چاہتا ہے مگر جائداد پر قرضہ ہے تو بغیرادائے قرضہ وقف ہوسکتی ہے یانہیںاور اگر وقف میں یہ قید لگا دیں کہ وقف بالفعل صحیح ہوجائے اور نفاذا س کا بعدا دائے قرض کے سمجھا جائے توصحیح ہوجائے گا یا بعد ادائے قرضہ ہی صحیح ہوگا
الجواب:
عرف عوام میں جائداد پر قرضہ کے دو معنی ہیںایك یہ کہ جائداد رہن ہو مرتہن کے قبضہ میں دے دی گئی ہودوسرے جسے وہ مکفول و مستغرق کہتے ہیں کہ جائداد قبضہ مالك ہی میں رہے مگر وہ دائن کو لکھ دے کہ یہ تیرے دین میں مکفول ہے تاادائے دین کہیں بیع ہبہ وغیرہ انتقالات نہ کئے جائیں گےیہ صورت ثانیہ توشرعا محض باطل وبے اثر ہے کہ مال کوکسی کے حق میں اس کے استیفا کےلئے محبوس کردینا رہن ہے اور رہن بے قبضہ تمام نہیں ہوسکتاقال تعالی : " فرهن مقبوضة " (اﷲ تعالی نے فرمایا: تو گروی قبضہ میں دیا ہوا۔ت)اگر
کما حققنا کل ذلك فیما علقنا علی ردالمحتار من اول کتاب الوقف فراجعہ فانہ مھم۔
جیسا کہ ردالمحتار کی کتاب الوقف کے ابتداء میں حاشیہ پر ہم نے اس کی تحقیق کی ہےلہذا اسے دیکھاجائے کیونکہ ضروری بحث ہے(ت)
بہر حال اس وقف میں عورت کے لئے خیر نہیں بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ عقد یعنی معاوضہ مہر میں جائداد کا لینا فسخ کرے اور از سرنو وارثان شوہر سے مہر کا مطالبہ کرےاگر اداکردیں فبہا ورنہ اس جائدادسے وصول کرےاور اگر سمجھے کہ یوں نہ ملے گا اور مقدار مہر قیمت جائداد سے زائدیامساوی ہوں تومذہب مفتی بہ بطور خود اس جائداد کو اپنے مہر میں لے لے۔
وھی مسئلۃ الظفر بخلاف جنس الحق وقد حققھا فی ردالمحتار وان الفتوی الان علی جوازالاخذ۔
یہ کسی کے پاس اپنے حق پر خلاف جنس کے ذریعہ کامیابی کی بحث ہےاس کی تحقیق ردالمحتار میں کی ہے اور موجودہ دورمیں جبرا لے لینے کے جواز پر فتوی ہے(ت)
یوں مالك ہوکر وقف تام ابدی کرے وقف کسی وقت خاص تك مقید نہیں ہوسکتا لان من شرطہ التابید(کیونکہ اس کی شرائط میں سے دائمی قرار دینا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲: ازمارہرہ مطہرہ مرسلہ حضور میاں صاحب قبلہ ۱۹ربیع الآخر ۱۳۲۳ھ
زید اپنی جائداد مقبوضہ مملوکہ کو وقف کیا چاہتا ہے مگر جائداد پر قرضہ ہے تو بغیرادائے قرضہ وقف ہوسکتی ہے یانہیںاور اگر وقف میں یہ قید لگا دیں کہ وقف بالفعل صحیح ہوجائے اور نفاذا س کا بعدا دائے قرض کے سمجھا جائے توصحیح ہوجائے گا یا بعد ادائے قرضہ ہی صحیح ہوگا
الجواب:
عرف عوام میں جائداد پر قرضہ کے دو معنی ہیںایك یہ کہ جائداد رہن ہو مرتہن کے قبضہ میں دے دی گئی ہودوسرے جسے وہ مکفول و مستغرق کہتے ہیں کہ جائداد قبضہ مالك ہی میں رہے مگر وہ دائن کو لکھ دے کہ یہ تیرے دین میں مکفول ہے تاادائے دین کہیں بیع ہبہ وغیرہ انتقالات نہ کئے جائیں گےیہ صورت ثانیہ توشرعا محض باطل وبے اثر ہے کہ مال کوکسی کے حق میں اس کے استیفا کےلئے محبوس کردینا رہن ہے اور رہن بے قبضہ تمام نہیں ہوسکتاقال تعالی : " فرهن مقبوضة " (اﷲ تعالی نے فرمایا: تو گروی قبضہ میں دیا ہوا۔ت)اگر
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۸۳
یہی صورت ہے جب تو وقف بلاشبہہ صحیح وتام نافذ ہے اگرچہ قرضہ ادا نہ کرے نہ آئندہ ادائے قرض کے لئے اس کے پاس کچھ مال بچے اگرچہ اس نے وقف میں یہ نیت بھی رکھی ہوکہ دائن کا دین ماراجائے اگرچہ وہ اس نیت فاسدہ سے سخت گنہگار ہوگا مگر وقف میں کچھ خلل نہیں کہ جب وہ جائداد رہن نہیں تو قرض اس کی ذات پر ہے نہ کہ جائداد پر۔جائداد میں اس کے تصرفات مالکانہ بلامانع نافذ ہیںاور اگر صورت اولی ہے یعنی جائداد قبضہ مرتہن میں سپرد کردی تو اب دو صورتیں ہیںاگر اس کے پاس اور مال قابل ادائے قرض موجود ہے تو اب بھی وقف قبل ادائے قرض صحیح وتام نافذ ہے حاکم اس پر جبر کرے گا کہ اپنے دوسرے مال سے قرض ادا کرے مگر وقف کو ہاتھ نہیں لگا سکتااور اگر مال نہیں تو اس صورت میں البتہ وہ وقف برقرارنہ رہے گا حاکم اسے باطل کرکے جائداد قرض میں بیع کردے گایونہی اگر مدیون مذکور مرجائے تو انہیں دونوں صورتوں پرلحاظ ہوگا اور جائداد موجود ہے تو اس سے ادائے قرض کریں گے اور وقف صحیح رہے گا ورنہ توڑدیاجائے گا۔ردالمحتار میں ہے:
فی الاسعاف وغیرہ لووقف المرھون بعد تسلیمہ صح واجبرہ القاضی علی دفع ما علیہ ان کان موسرا و ان کان معسرا ابطل الوقف وباعہ فیما علیہ اھ۔ وکذا لومات فان عن وفاء عاد الی الجہۃ والابیع وبطل الوقف کما فی الفتح بخلاف وقف مدیون صحیح فانہ یصح ولو قصد بہ المماطلۃ لانہ صادف مبلکہ کما فی انفع الوسائل عن الذخیرۃ قال فی الفتح وھو لازم لاینقضہ ارباب الدیون اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔
اسعاف وغیرہ میں ہے مرہون چیز کو قبضہ دے دینے کے بعد اگر وقف کیا جائے تو صحیح ہے جبکہ اس کو رہن کے بدلے قرض کو اداکرنے کے لئے قاضی مجبور کریگا بشرطیکہ مالدار ہو ورنہ تنگ دست ہونے کی صورت میں قاضی وقف کو باطل کرکے اس کے ذمہ قرض کی ادائیگی میں فروخت کردے گااھاوریونہی اگر مرہون کو وقف کرنے پر فوت ہوجائے تو اگر قرض کی ادائیگی کے لئے مال ترکہ چھوڑا ہوتو وقف معینہ جہت پر برقرار رہے گا ورنہ فروخت کردیا جائے گا وقف باطل قرار پائیگا جیسا کہ فتح القدیر میں ہےاس کے برخلاف مقروض شخص کا وقف کردہ بہر صورت صحیح ہے بشرطیکہ وہ تندرست ہواگرچہ وہ ادائیگی میں تاخیر کے لئے ایسا کرے کیونکہ یہ کارروائی اس کی اپنی ملکیت میں ہوئی ہے جیسا کہ انفع الوسائل میں ذخیرہ سے منقول ہےفتح القدیر میں کہا ہے کہ مقروض کا یہ وقف لازم ہوگا قرض خواہ حضرات اس کو باطل نہیں کرسکیں گے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
فی الاسعاف وغیرہ لووقف المرھون بعد تسلیمہ صح واجبرہ القاضی علی دفع ما علیہ ان کان موسرا و ان کان معسرا ابطل الوقف وباعہ فیما علیہ اھ۔ وکذا لومات فان عن وفاء عاد الی الجہۃ والابیع وبطل الوقف کما فی الفتح بخلاف وقف مدیون صحیح فانہ یصح ولو قصد بہ المماطلۃ لانہ صادف مبلکہ کما فی انفع الوسائل عن الذخیرۃ قال فی الفتح وھو لازم لاینقضہ ارباب الدیون اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔
اسعاف وغیرہ میں ہے مرہون چیز کو قبضہ دے دینے کے بعد اگر وقف کیا جائے تو صحیح ہے جبکہ اس کو رہن کے بدلے قرض کو اداکرنے کے لئے قاضی مجبور کریگا بشرطیکہ مالدار ہو ورنہ تنگ دست ہونے کی صورت میں قاضی وقف کو باطل کرکے اس کے ذمہ قرض کی ادائیگی میں فروخت کردے گااھاوریونہی اگر مرہون کو وقف کرنے پر فوت ہوجائے تو اگر قرض کی ادائیگی کے لئے مال ترکہ چھوڑا ہوتو وقف معینہ جہت پر برقرار رہے گا ورنہ فروخت کردیا جائے گا وقف باطل قرار پائیگا جیسا کہ فتح القدیر میں ہےاس کے برخلاف مقروض شخص کا وقف کردہ بہر صورت صحیح ہے بشرطیکہ وہ تندرست ہواگرچہ وہ ادائیگی میں تاخیر کے لئے ایسا کرے کیونکہ یہ کارروائی اس کی اپنی ملکیت میں ہوئی ہے جیسا کہ انفع الوسائل میں ذخیرہ سے منقول ہےفتح القدیر میں کہا ہے کہ مقروض کا یہ وقف لازم ہوگا قرض خواہ حضرات اس کو باطل نہیں کرسکیں گے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف مطلب فی وقف الراہن الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۹۵
مسئلہ۱۳: ازقصبہ ٹانڈہ ضلع فیض آباد محلہ چھجہ پور مرسلہ حافظ یارمحمد صاحب ۲۶ربیع الآخر ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایکزمانہ گزرا کہ زید نے ایك عالیشان پختہ مسجد چوك کے بیچ میں تیار کرائی اور گرد اسکے چوطرفہ دکانیں بنوائیں اور دکانوں کے محاصل کو ہمیشہ اپنے ذاتی تصرف میں رکھابعد انتقال زید کی یہ دکانیں بھی مثل اور جائداد کے ارثا اس کے اولاد کو ملیں اور ایك مدت تك یہ سلسلہ قبضے کا اس کے خاندان میں جاری رہا یعنی دکانوں کی آمدنی اور کرایہ سے خاندان زید کی اوقات بسر ہوتی رہی اور مسجد کے متعلق وہ آمدنی نہ تھی بعد ایك مدت دراز کے ان دکانوں کا وارث یعنی خالد نے بسبب افلاس کے ان دکانوں کو عمرو بکر کے ہاتھ فروخت کر ڈالا اب عمروبکر چاہتے ہیں کہ ان دکانوں کو واسطے اجرائے مدرسہ اسلامی کے مسلمانوں کے نام وقف کردیں کہ دینی مدرسہ جاری ہو اور مسجد کی ترمیم وقتا فوقتا ہوتی رہیدریافت طلب یہ امر ہے کہ وقف جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ صورت واقعہ یہ ہے اور ان دکانوں کا وقف مسجد ہونا ثابت نہیں بلکہ ملک(میراث زید ہونا ثابت ہے تو عمرو بکر کہ وارث شرعی سے بروجہ شرعی مشتری ہوئے اگروہ مسجد ومدرسہ دینیہ اسلام کے نام انہیں وقف کریں گے جس میں تعلیم دین متین مطابق مذہب اہل سنت وجماعت ہو اور اس کے مدرسین واراکین وہابیہ یاروافض یا غیر مقلد نیچری وغیرہم ضالین نہ ہوں)تو ان کے لئے اجرعظیم وصدقہ جاریہ ہے سالہا سال گزر گئے ہوں قبر میں ان کی ہڈیاں بھی نہ رہی ہوں ان کو بعونہ تابقائے مسجد و مدرسہ وجائداد برابر ثواب پہنچتارہے گا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
اذامات الانسان انقطع عنہ عملہ الامن ثلث صدقۃ جاریۃ او علم ینتفع بہ اوولد صالح یدعولہ ۔رواہ مسلم فی صحیحہ والبخاری فی الادب المفرد وابو داؤد والترمذی والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہوفی الباب احادیث کثیرۃ شہیرۃ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جب انسان فوت ہوجائے تو اس کے عمل منقطع ہوجاتے ہیں مگر تین وجہ سے جاری رہتے ہیں:صدقہ جاریہ یا نافع علم یاصالح اولاد جو اس کے لئے دعا کرے اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں اور بخاری نے ادب مفرد میںاور ابوداؤدترمذی اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا اور اس باب میں کثیراحادیث مشہورہ ہیں۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایکزمانہ گزرا کہ زید نے ایك عالیشان پختہ مسجد چوك کے بیچ میں تیار کرائی اور گرد اسکے چوطرفہ دکانیں بنوائیں اور دکانوں کے محاصل کو ہمیشہ اپنے ذاتی تصرف میں رکھابعد انتقال زید کی یہ دکانیں بھی مثل اور جائداد کے ارثا اس کے اولاد کو ملیں اور ایك مدت تك یہ سلسلہ قبضے کا اس کے خاندان میں جاری رہا یعنی دکانوں کی آمدنی اور کرایہ سے خاندان زید کی اوقات بسر ہوتی رہی اور مسجد کے متعلق وہ آمدنی نہ تھی بعد ایك مدت دراز کے ان دکانوں کا وارث یعنی خالد نے بسبب افلاس کے ان دکانوں کو عمرو بکر کے ہاتھ فروخت کر ڈالا اب عمروبکر چاہتے ہیں کہ ان دکانوں کو واسطے اجرائے مدرسہ اسلامی کے مسلمانوں کے نام وقف کردیں کہ دینی مدرسہ جاری ہو اور مسجد کی ترمیم وقتا فوقتا ہوتی رہیدریافت طلب یہ امر ہے کہ وقف جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ صورت واقعہ یہ ہے اور ان دکانوں کا وقف مسجد ہونا ثابت نہیں بلکہ ملک(میراث زید ہونا ثابت ہے تو عمرو بکر کہ وارث شرعی سے بروجہ شرعی مشتری ہوئے اگروہ مسجد ومدرسہ دینیہ اسلام کے نام انہیں وقف کریں گے جس میں تعلیم دین متین مطابق مذہب اہل سنت وجماعت ہو اور اس کے مدرسین واراکین وہابیہ یاروافض یا غیر مقلد نیچری وغیرہم ضالین نہ ہوں)تو ان کے لئے اجرعظیم وصدقہ جاریہ ہے سالہا سال گزر گئے ہوں قبر میں ان کی ہڈیاں بھی نہ رہی ہوں ان کو بعونہ تابقائے مسجد و مدرسہ وجائداد برابر ثواب پہنچتارہے گا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
اذامات الانسان انقطع عنہ عملہ الامن ثلث صدقۃ جاریۃ او علم ینتفع بہ اوولد صالح یدعولہ ۔رواہ مسلم فی صحیحہ والبخاری فی الادب المفرد وابو داؤد والترمذی والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہوفی الباب احادیث کثیرۃ شہیرۃ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جب انسان فوت ہوجائے تو اس کے عمل منقطع ہوجاتے ہیں مگر تین وجہ سے جاری رہتے ہیں:صدقہ جاریہ یا نافع علم یاصالح اولاد جو اس کے لئے دعا کرے اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں اور بخاری نے ادب مفرد میںاور ابوداؤدترمذی اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا اور اس باب میں کثیراحادیث مشہورہ ہیں۔ واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الوصیۃ باب مایلحق للانسان من الثواب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۴۱
مسئلہ۱۴: مسئولہ احمد حسن طالب علم بنگالی بروز دوشنبہ ۲۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے برائے منفعت عوام ایك تالاب بنوایا اور اسے وقف کردیا اور اس کے زمانہ حیات میں لوگ عام طور سے تاریخ معینہ پر شکار کرتے اور ہمیشہ غسل وغیرہ کرتے جیسا کہ تمام تالابوں سے نفع حاصل کیاکرتے ہیں بعد اسکی موت کے بھی عرصہ تك یہی طریقہ جاری رہا پھر ایك مدت کے بعد ایك غیر شخص نے جو اس کے خاندان سے بھی نہیں ہے اپنے زمیندار کے بندوبست میں اپنی جانب منسوب کرلیا اب اس نے اپنے واسطے اس تالاب کو مخصوص کرلیا اب دوسرا شخص کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھاسکتا تو اس بارے میں کیا حکم ہےآیا اس کاقبضہ صحیح ہے یانہیں اور کیا ہونا چاہئے
الجواب:
اگر حالت یہ ہے جو سوال میں مذکور ہوئی تو اس کا قبضہ باطل ہےشکار کرنا کوئی قربت نہیں نہ تفریح کا نہاناتو اس تالاب کے وقف ہونے میں کلام ہے بخلاف حوض مساجد کہ وضو کے لئے وقف ہےظاہرا وہ وارثان بانی کی ملك ہے جیسا وہ ہونا چاہیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵: مسئولہ حاجی سیٹھ محمد اعظم صاحب از راند یرمتصل سورت مہتمم مدرسہ برباولی ۱۶شعبان ۱۳۳۴ھ
جناب مولانا صاحب! آپ نے جو جواب روانہ فرمایا بندہ کو بتاریخ ۲۵مئی بروز جمعرات کو ملابہت خوب ہے مگر دریافت طلب یہ ہے کہ مسجد کی آمد سے جو ملکیت خرید کی گئی ہو وہ بھی در وقف گنی جائے کہ نہیں اور جب وہ وقف گنی جائے اس کے بیع کرنے کو حاکم کی منظوری کی ضرورت ہے کہ نہیں کیونکہ جو خرید نے والا ہو وہ کیا جانتا ہے کہ یہ وقف شدہ ملکیت کی آمد سے خرید کرکے وقف کی ہوئی ہے لہذا جو حاکم کی منظوری ہوتو کسی طور کا خوف نہ رہے نہ خریدنے والے کو نہ بیچنے والے کواور نہ غبن وتلف کا کوئی اندیشہ باقی رہے اور بعد میں کوئی مہتمم کو کسی طرح کا کوئی الزام نہ دے سکے اور نہ کوئی رائے لے تو بالکل خراب ہوتا ہے وہ تو مسجد کے روپوں سے مدرسہ کھولنا جواز بتاتے ہیں اور دبانے کے خیال سے ان کو یعنی اہل دول کے رائے بموجب فتوی دیتے ہیں۔
الجواب الملفوظ:
متولی نے زر وقف سے جو زمین یا جائداد وقف کے لئے خریدی وہ وقف نہیں ہوجاتی اس کی بیع جائز ہے کتابوں میں جزئیہ کی تصریح ہے ہاں بیع کے لئے ایسا ذریعہ اطمینان ضرور ہے جس میں کسی کے تغلب کا احتمال نہ رہے قاضی شرع تو یہاں کوئی نہیں اہل محلہ وعالم دیندار و مسلمانان متدین کی دینداری سے یہ کام ہودرمختار میں ہے:
اشتری المتولی بمال الوقف داراللوقف لاتلحق بالمنازل الموقوفۃ و
متولی نے وقف مال سے کوئی مکان وقف طور پر خریدا تویہ مکان وقف شدہ جائداد شمار نہ ہوگا اصح قول میں
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے برائے منفعت عوام ایك تالاب بنوایا اور اسے وقف کردیا اور اس کے زمانہ حیات میں لوگ عام طور سے تاریخ معینہ پر شکار کرتے اور ہمیشہ غسل وغیرہ کرتے جیسا کہ تمام تالابوں سے نفع حاصل کیاکرتے ہیں بعد اسکی موت کے بھی عرصہ تك یہی طریقہ جاری رہا پھر ایك مدت کے بعد ایك غیر شخص نے جو اس کے خاندان سے بھی نہیں ہے اپنے زمیندار کے بندوبست میں اپنی جانب منسوب کرلیا اب اس نے اپنے واسطے اس تالاب کو مخصوص کرلیا اب دوسرا شخص کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھاسکتا تو اس بارے میں کیا حکم ہےآیا اس کاقبضہ صحیح ہے یانہیں اور کیا ہونا چاہئے
الجواب:
اگر حالت یہ ہے جو سوال میں مذکور ہوئی تو اس کا قبضہ باطل ہےشکار کرنا کوئی قربت نہیں نہ تفریح کا نہاناتو اس تالاب کے وقف ہونے میں کلام ہے بخلاف حوض مساجد کہ وضو کے لئے وقف ہےظاہرا وہ وارثان بانی کی ملك ہے جیسا وہ ہونا چاہیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵: مسئولہ حاجی سیٹھ محمد اعظم صاحب از راند یرمتصل سورت مہتمم مدرسہ برباولی ۱۶شعبان ۱۳۳۴ھ
جناب مولانا صاحب! آپ نے جو جواب روانہ فرمایا بندہ کو بتاریخ ۲۵مئی بروز جمعرات کو ملابہت خوب ہے مگر دریافت طلب یہ ہے کہ مسجد کی آمد سے جو ملکیت خرید کی گئی ہو وہ بھی در وقف گنی جائے کہ نہیں اور جب وہ وقف گنی جائے اس کے بیع کرنے کو حاکم کی منظوری کی ضرورت ہے کہ نہیں کیونکہ جو خرید نے والا ہو وہ کیا جانتا ہے کہ یہ وقف شدہ ملکیت کی آمد سے خرید کرکے وقف کی ہوئی ہے لہذا جو حاکم کی منظوری ہوتو کسی طور کا خوف نہ رہے نہ خریدنے والے کو نہ بیچنے والے کواور نہ غبن وتلف کا کوئی اندیشہ باقی رہے اور بعد میں کوئی مہتمم کو کسی طرح کا کوئی الزام نہ دے سکے اور نہ کوئی رائے لے تو بالکل خراب ہوتا ہے وہ تو مسجد کے روپوں سے مدرسہ کھولنا جواز بتاتے ہیں اور دبانے کے خیال سے ان کو یعنی اہل دول کے رائے بموجب فتوی دیتے ہیں۔
الجواب الملفوظ:
متولی نے زر وقف سے جو زمین یا جائداد وقف کے لئے خریدی وہ وقف نہیں ہوجاتی اس کی بیع جائز ہے کتابوں میں جزئیہ کی تصریح ہے ہاں بیع کے لئے ایسا ذریعہ اطمینان ضرور ہے جس میں کسی کے تغلب کا احتمال نہ رہے قاضی شرع تو یہاں کوئی نہیں اہل محلہ وعالم دیندار و مسلمانان متدین کی دینداری سے یہ کام ہودرمختار میں ہے:
اشتری المتولی بمال الوقف داراللوقف لاتلحق بالمنازل الموقوفۃ و
متولی نے وقف مال سے کوئی مکان وقف طور پر خریدا تویہ مکان وقف شدہ جائداد شمار نہ ہوگا اصح قول میں
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
یجوز بیعھا فی الاصح ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اس کو فروخت کرنا جائز ہوگاواﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۶: بحضور عظیم البرکت اعلیحضرت مدظلہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہآج غریب اللہ صاحب
تشریف لائے ہیں فرماتے ہیں کہ مسماۃ سمی طوائف جس کی عمر اس وقت تخمینا ۵۰ برس کی ہے ۱۶ برس ہوئے میاں ناصر صاحب کی مرید ہوکر تائب ہوئیکرایہ دکانات سے گزر کرتی ہےخواہش اس کی یہ ہے کہ جائداد تیس چالیس روپیہ ماہانہ کے وقف کرنا چاہتی ہے اورحج کو جانا چاہتی ہےجس جائداد کا تاحیات خود اور بعد کو مدرسہ مالك ہے اس میں حضور کیا فرماتے ہیں کمترین قادرعلی محرر مدرسہ۴جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
الجواب:
وہ جائداد اگر اس کی اس حرام کمائی کی ہے تو اس کا طریقہ صرف یہی ہوسکتا ہے کہ وہ کسی محتاج پر تصدق کرے اور وہ محتاج بعد قبضہ اپنی طرف سے یوں وقف کرے کہ تاحیات سمی اس سے مستفید ہو اس کے بعد مدرسہ اور اس کے لئے دفع اعتراض مخالفین کے واسطے ضرور ہے کہ پہلے وہ ایك ہبہ نامہ اس محتاج کے نام تصدیق کرائے جس کا یہ مضمون ہو کہ یہ جائداد وجہ حرام سے ہے اور اب میں نے توبہ کی ہے اور شرع مطہر اس کے تصدق کا حکم فرماتی ہے لہذا میں نے فلاں کو بطور تصدق اس کا مالك مستقل کیا اور پوراقبضہ اسے دے دیااسکے بعد وہ محتاج وقف نامہ تصدیق کرائے کہ ازانجاکہ مسماۃ فلانہ نے امتثال حکم شرع کےلئے یہ جائداد بطور تصدق میری ملك کردی اور میں نے قبضہ کرلیا اور اب یہ مال شرعا طیب ہوگیامیں چاہتا ہوں کہ اسے کارخیر میں صرف کرکے ثواب حاصل کروں اور مسماۃ کو بھی فائدہ پہنچاؤں لہذا میں نے اسے تاحیات مسماۃ اس پر اور اس کے بعد مسجد مدرسہ پر وقف صحیح شرعی کیباقی عبارتیں کاغذ میں حسب دستور ہوں۔
مسئلہ۱۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ۲۹جنوری۱۹۱۷ء کو اپنی کل جائداد جس پر بارکفالت بھی تھا باظہار بار کفالت وقف عنداللہ کی اور وقف نامہ تحریر کرکے اس میں متولی اپنی زوجہ کو لکھایا بعدہ ۳۱جنوری۱۹۱۷ء کو ایك تتمہ متعلق وقف نامہ مذکور بخیال اس کے کہ زمینداری جو وقف نامہ میں وقف تھی اس کی نمبرداری کے لئے خواستگار دوسرا شریك ہوکیونکہ عورت بموجب قانون انگریزی بمقابلہ مرد کے نمبر دار نہیں ہوسکتی ہے تتمہ مذکور لکھا اور اس میں عبارت حسب ذیل درج کی:
چونکہ میں نے بذریعہ دستاویز وقف نامہ مورخہ۲۹جنوری۱۹۱۷ء کو اس کل جائداد منقولہ وغیر منقولہ دس بارہ روپیہ کو وقف کرکے تکمیل دستاویز مذکور کے بذریعہ تحریر ورجسٹری کے کرادی ہے اس دستاویز میں سہو کامل
اس کو فروخت کرنا جائز ہوگاواﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۶: بحضور عظیم البرکت اعلیحضرت مدظلہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہآج غریب اللہ صاحب
تشریف لائے ہیں فرماتے ہیں کہ مسماۃ سمی طوائف جس کی عمر اس وقت تخمینا ۵۰ برس کی ہے ۱۶ برس ہوئے میاں ناصر صاحب کی مرید ہوکر تائب ہوئیکرایہ دکانات سے گزر کرتی ہےخواہش اس کی یہ ہے کہ جائداد تیس چالیس روپیہ ماہانہ کے وقف کرنا چاہتی ہے اورحج کو جانا چاہتی ہےجس جائداد کا تاحیات خود اور بعد کو مدرسہ مالك ہے اس میں حضور کیا فرماتے ہیں کمترین قادرعلی محرر مدرسہ۴جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
الجواب:
وہ جائداد اگر اس کی اس حرام کمائی کی ہے تو اس کا طریقہ صرف یہی ہوسکتا ہے کہ وہ کسی محتاج پر تصدق کرے اور وہ محتاج بعد قبضہ اپنی طرف سے یوں وقف کرے کہ تاحیات سمی اس سے مستفید ہو اس کے بعد مدرسہ اور اس کے لئے دفع اعتراض مخالفین کے واسطے ضرور ہے کہ پہلے وہ ایك ہبہ نامہ اس محتاج کے نام تصدیق کرائے جس کا یہ مضمون ہو کہ یہ جائداد وجہ حرام سے ہے اور اب میں نے توبہ کی ہے اور شرع مطہر اس کے تصدق کا حکم فرماتی ہے لہذا میں نے فلاں کو بطور تصدق اس کا مالك مستقل کیا اور پوراقبضہ اسے دے دیااسکے بعد وہ محتاج وقف نامہ تصدیق کرائے کہ ازانجاکہ مسماۃ فلانہ نے امتثال حکم شرع کےلئے یہ جائداد بطور تصدق میری ملك کردی اور میں نے قبضہ کرلیا اور اب یہ مال شرعا طیب ہوگیامیں چاہتا ہوں کہ اسے کارخیر میں صرف کرکے ثواب حاصل کروں اور مسماۃ کو بھی فائدہ پہنچاؤں لہذا میں نے اسے تاحیات مسماۃ اس پر اور اس کے بعد مسجد مدرسہ پر وقف صحیح شرعی کیباقی عبارتیں کاغذ میں حسب دستور ہوں۔
مسئلہ۱۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ۲۹جنوری۱۹۱۷ء کو اپنی کل جائداد جس پر بارکفالت بھی تھا باظہار بار کفالت وقف عنداللہ کی اور وقف نامہ تحریر کرکے اس میں متولی اپنی زوجہ کو لکھایا بعدہ ۳۱جنوری۱۹۱۷ء کو ایك تتمہ متعلق وقف نامہ مذکور بخیال اس کے کہ زمینداری جو وقف نامہ میں وقف تھی اس کی نمبرداری کے لئے خواستگار دوسرا شریك ہوکیونکہ عورت بموجب قانون انگریزی بمقابلہ مرد کے نمبر دار نہیں ہوسکتی ہے تتمہ مذکور لکھا اور اس میں عبارت حسب ذیل درج کی:
چونکہ میں نے بذریعہ دستاویز وقف نامہ مورخہ۲۹جنوری۱۹۱۷ء کو اس کل جائداد منقولہ وغیر منقولہ دس بارہ روپیہ کو وقف کرکے تکمیل دستاویز مذکور کے بذریعہ تحریر ورجسٹری کے کرادی ہے اس دستاویز میں سہو کامل
سے کسی سبب یہ بات لکھنے سے باقی رہ گئی ہے کہ تمام جائداد مندرجہ وقف نامہ متذکرہ بالا کی بابت میں شرائط کی پابندی اسمیں درج ہے اس کا عمل درآمد اور پابندی شرائط میرے مرنے کے بعد عمل پذیر ہوگی جب تك میں مقر بقید حیات زندہ ہوں اس وقت تك میں مقرمالکانہ قابض اور متصرف رہوں گا مع تتمہ دستاویز وقف نامہ مورخہ ۲۹جنوری ۱۹۱۷ء کی بابت لکھ دیا کہ سند ہوبعدہ وہ ۱۸دسمبر۱۹۱۹ء کو ایك تتمہ دوسرا اور لکھا اور اس میں حسب ذیل عبارت تحریر کی کہ تتمہ دستاویز مورخہ ۳۱ جنوری ۱۹۱۷ء جوبابت دستاویز مورخہ ۲۹جنوری۱۹۱۷ء کے لکھایاتھا اس تتمہ دستاویز کے سطر ج کے آخر میں لفظ مقر کے بعد بوجہ سہوکتابت کے عبارت ذیل تحریر ہونے سے رہ گئی ہے وہ عبارت ذیل مذکور تتمہ مذکور یعنی دستاویز تتمہ مذکور مورخہ ۳۱جنوری ۱۹۱۷ء مذکور کا جزومتصورہوکر پڑھی جاوے:
"واقف منتظم بشرائط مندرجہ وقف نامہ بحیثیت متولی ۲۹جنوری۱۹۱۷ء"
لہذا یہ تتمہ بطور دستاویز تتمہ ۳۱جنوری ۱۹۱۷ء متصورہواس کے بعد پسر واقف نے کل جائداد واقف پر ۱۹۱۹ء میں قبضہ متولی سابق کودے دیا۔اب ۱سوال یہ ہے کہ وقف نامہ جائز ہے یانہیں اور وقف اگرجائز ہے تو وہ ۱۹۱۹ء کے تتمہ سے مانا جائے گایا ۱۹۱۷ء کے وقف نامہ سے اورتتموں سے تو کوئی اثر وقف پر نہیں پڑتا۔دوسرا سوال یہ ہےکہ درمیانی امور کے بابت واقف بحیثیت متولی مانا جائے گا یا مالك کی حیثیت اس کی ہو گی تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص وقف کردے اور متولی کو قبضہ نہ دے اور خود ہی واقف اپنا قبضہ رکھے تو اس حالت میں کیا وقف ناجائز ہے یاجائز
الجواب:
وقف صحیح ہوگیا اور پہلا تتمہ جس کا حاصل یہ ہے کہ وقف کا عملدرآمد اس کے مرنے کے بعد ہوگی زندگی بھر وہ مالکانہ قابض رہے مردود ہے وقف صحیح ہوجانے کے بعد اس میں کسی تبدیلی کا اصلا اختیار نہیں اور دوسرا تتمہ جس کاحاصل یہ ہے کہ وقف نامہ میں جسے متولی کیا تھا اس کی جگہ خود متولی رہنا چاہتا ہے یہ اس کے اختیار کی بات ہے اسے معزول کرکے آپ متولی ہوسکتا ہے۔درمختار میں ہے:
للواقف عزل الناظر مطلقا بہ یفتی ۔
مطلقا واقف کو یہ جائز ہے کہ وہ نگران کو معزول کردےاسی پر فتوی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای سواء کان بجنحۃ اولا وسواء کان
یعنی نگران کا جرم ہو یا نہ ہواور معزولی کی شرط
"واقف منتظم بشرائط مندرجہ وقف نامہ بحیثیت متولی ۲۹جنوری۱۹۱۷ء"
لہذا یہ تتمہ بطور دستاویز تتمہ ۳۱جنوری ۱۹۱۷ء متصورہواس کے بعد پسر واقف نے کل جائداد واقف پر ۱۹۱۹ء میں قبضہ متولی سابق کودے دیا۔اب ۱سوال یہ ہے کہ وقف نامہ جائز ہے یانہیں اور وقف اگرجائز ہے تو وہ ۱۹۱۹ء کے تتمہ سے مانا جائے گایا ۱۹۱۷ء کے وقف نامہ سے اورتتموں سے تو کوئی اثر وقف پر نہیں پڑتا۔دوسرا سوال یہ ہےکہ درمیانی امور کے بابت واقف بحیثیت متولی مانا جائے گا یا مالك کی حیثیت اس کی ہو گی تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص وقف کردے اور متولی کو قبضہ نہ دے اور خود ہی واقف اپنا قبضہ رکھے تو اس حالت میں کیا وقف ناجائز ہے یاجائز
الجواب:
وقف صحیح ہوگیا اور پہلا تتمہ جس کا حاصل یہ ہے کہ وقف کا عملدرآمد اس کے مرنے کے بعد ہوگی زندگی بھر وہ مالکانہ قابض رہے مردود ہے وقف صحیح ہوجانے کے بعد اس میں کسی تبدیلی کا اصلا اختیار نہیں اور دوسرا تتمہ جس کاحاصل یہ ہے کہ وقف نامہ میں جسے متولی کیا تھا اس کی جگہ خود متولی رہنا چاہتا ہے یہ اس کے اختیار کی بات ہے اسے معزول کرکے آپ متولی ہوسکتا ہے۔درمختار میں ہے:
للواقف عزل الناظر مطلقا بہ یفتی ۔
مطلقا واقف کو یہ جائز ہے کہ وہ نگران کو معزول کردےاسی پر فتوی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای سواء کان بجنحۃ اولا وسواء کان
یعنی نگران کا جرم ہو یا نہ ہواور معزولی کی شرط
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۲
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۲
شرط لہ العزل اولا ۔ واﷲتعالی اعلم۔
ہویانہ ہوبرابر ہے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۸: ازمقام چند وسی ضلع مراد آباد محلہ سنبھل دروازہ مسئولہ عبداللہ لوہار
کہ میفرمایند علمائے دین دریں مسئلہزید نے ایك منزل دکان واقع چندوسی پر گنہ بلاری میں ۱۹۰۴ء میں فی سبیل اللہ وقف کیاور یہ وقف نامہ رجسٹری شدہ تحریر کردیا ہےاس کے دو ماہ بعد ایك وصیت نامہ زید نے اور تحریر کردیا کہ میرا ارداہ بیت اللہ شریف جانے کا ہے اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں مالك ہوں اور بعد انتقال میرے کے میری عورت مسماۃ عدیا اور میرا پوتا علی حسین مالك ہے۔زید کا انتقال بیت اللہ شریف جاتے وقت راستہ میں ہوگیا اور اس کے بعد پوتا علی حسین بھی مرگیا تو اس کی بیوی عدی باقی رہی اس نے یہ جائداد کفالت کردیکفالت کے ایك سال بعد عدی عورت کا بھی انتقال ہوگیا تو اس کے پوتے علی حسین کے والد امر نے یہ جائداد بیع کردی اور اس کا روپیہ اسی نے صرف کرلیا اور چودھری محلہ ہے انہوں نے بیع نامہ پر دستخط کردئے اور اس کے بعدخریدار نے اسکو تعمیر کرلیاخریدار کو وقت بیع اور وقت تعمیر کے یہ معلوم ہوا تھا کہ یہ جائداد فی سبیل اللہ وقف ہےاہل محلہ کو جب معلوم ہوا کہ اس میں کا ایك شخص کہ جس کی وقف نامہ پر گواہی نہیں ملا اور اسی نے کہا کہ تو کوشش کرکے عدالت سے اس کی نقولیں حاصل کرینگے تو معلوم ہوگا اور مالك خریدار کا یہ بیان ہے کہ میرا روپیہ بیع وتعمیر کا دلوایا جائے تو میں قبضہ چھوڑ دوں گااور اب امر جس نے فروخت کیا ہے وہ کہتا ہے کہ میں مالك تھا فروخت کردیا۔اب ہماری شریعت مطہرہ کا اس بارے میں کیا حکم ہے
الجواب:
جب وہ دکان وقف ہوچکی تھی تو اس کی نسبت زید کو وصیت کرنے کا کوئی اختیار نہ تھانہ عورت کو مکفول کرنے کا نہ عمرو کو اس کے بیچنے کایہ سب باطل محضمشتری پر فرض ہے کہ اسے فورا چھوڑدے اپنا روپیہ عمرو سے لے لےروپے نہ ملنے تك قبضہ رکھنے کا مشتری کو کوئی اختیار نہیںایك منٹ کے لئے قابض رہنا اس پر حرام ہے اس نے جدید کرلی ہے تو اسے اکھیڑ لےاور اگر مسلمان اسے عملے کی قیمت اداکرےعملہ وقف کے لئے کرلیں تو بہتر۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۹:ازبریلی موضع بلیا
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایك شخص موضع بلیا میں امام باڑے کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میرامکان ہےاور اس میں بیل باندھنے لگااور زمیندار خود کہتے ہیں کہ تم لوگ اپنا
ہویانہ ہوبرابر ہے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۸: ازمقام چند وسی ضلع مراد آباد محلہ سنبھل دروازہ مسئولہ عبداللہ لوہار
کہ میفرمایند علمائے دین دریں مسئلہزید نے ایك منزل دکان واقع چندوسی پر گنہ بلاری میں ۱۹۰۴ء میں فی سبیل اللہ وقف کیاور یہ وقف نامہ رجسٹری شدہ تحریر کردیا ہےاس کے دو ماہ بعد ایك وصیت نامہ زید نے اور تحریر کردیا کہ میرا ارداہ بیت اللہ شریف جانے کا ہے اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں مالك ہوں اور بعد انتقال میرے کے میری عورت مسماۃ عدیا اور میرا پوتا علی حسین مالك ہے۔زید کا انتقال بیت اللہ شریف جاتے وقت راستہ میں ہوگیا اور اس کے بعد پوتا علی حسین بھی مرگیا تو اس کی بیوی عدی باقی رہی اس نے یہ جائداد کفالت کردیکفالت کے ایك سال بعد عدی عورت کا بھی انتقال ہوگیا تو اس کے پوتے علی حسین کے والد امر نے یہ جائداد بیع کردی اور اس کا روپیہ اسی نے صرف کرلیا اور چودھری محلہ ہے انہوں نے بیع نامہ پر دستخط کردئے اور اس کے بعدخریدار نے اسکو تعمیر کرلیاخریدار کو وقت بیع اور وقت تعمیر کے یہ معلوم ہوا تھا کہ یہ جائداد فی سبیل اللہ وقف ہےاہل محلہ کو جب معلوم ہوا کہ اس میں کا ایك شخص کہ جس کی وقف نامہ پر گواہی نہیں ملا اور اسی نے کہا کہ تو کوشش کرکے عدالت سے اس کی نقولیں حاصل کرینگے تو معلوم ہوگا اور مالك خریدار کا یہ بیان ہے کہ میرا روپیہ بیع وتعمیر کا دلوایا جائے تو میں قبضہ چھوڑ دوں گااور اب امر جس نے فروخت کیا ہے وہ کہتا ہے کہ میں مالك تھا فروخت کردیا۔اب ہماری شریعت مطہرہ کا اس بارے میں کیا حکم ہے
الجواب:
جب وہ دکان وقف ہوچکی تھی تو اس کی نسبت زید کو وصیت کرنے کا کوئی اختیار نہ تھانہ عورت کو مکفول کرنے کا نہ عمرو کو اس کے بیچنے کایہ سب باطل محضمشتری پر فرض ہے کہ اسے فورا چھوڑدے اپنا روپیہ عمرو سے لے لےروپے نہ ملنے تك قبضہ رکھنے کا مشتری کو کوئی اختیار نہیںایك منٹ کے لئے قابض رہنا اس پر حرام ہے اس نے جدید کرلی ہے تو اسے اکھیڑ لےاور اگر مسلمان اسے عملے کی قیمت اداکرےعملہ وقف کے لئے کرلیں تو بہتر۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۹:ازبریلی موضع بلیا
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایك شخص موضع بلیا میں امام باڑے کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میرامکان ہےاور اس میں بیل باندھنے لگااور زمیندار خود کہتے ہیں کہ تم لوگ اپنا
تیو ہار کرولیکن ان لوگوں نے زمیندار کو ۷۵روپیہ دے کر اس کو اپنے بس میں کرلیا اور وہ کہتے ہیں کہ ہم دینداری کے شریك نہیں۔ان کا کیا انتظام کیاجائے
الجواب:
امام باڑہ وقف نہیں ہوسکتا وہ جس نے بنایا اسی کی ملك ہے اسے اختیار ہے اس میں جو چاہے کرےوہ نہ رہا تو اس کے وارثوں کی ملك ہے انہیں اختیار ہےاور تعزیہ داری کو اگر کسی نے دینداری کہا اور اس نے اس کی شرکت سے انکار کیا تو کچھ بیجانہ کیا کہ تعزیہ داری ناجائز ہے اس میں شرکت جائزنہیں۔یہی اس سوال سے ظاہر ہے اور وہ معنی کہ میں اسلام کے شریك نہیں مسلمان ہرگز مراد نہ لے گاہاں اگرثابت ہوجائے کہ کسی کلمہ گو نے اسلام کی شرکت سے انکار کیا تو ضرورکافر ہوجائے گا مگر یہ معنی یہاں سے مفہوم نہیں۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰: مسئولہ عزیز الحسن قادری رضوی ازقصبہ پھپھوند ضلع اٹاوہ محلہ اونچا ٹیلہ ۱۲ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
ہندہ سنی حنفی پابند صوم وصلوۃ جو پندرہ بیس برس ہوئے کہ اپنے مادری پیشہ کسب سے توبہ کرچکیاپنی مقبوضہ کل جائداد واملاك جو اس کی ماں اور نانی کی متروکہ اور ان کو ان کے آشناؤں کی ہبہ کی ہوئی ہے مدرسہ دینیہ کی تعلیم میں یا اسکے یتیم ومفلس طلبہ کی خوردونوش کی صرف میں لانے کی غرض سے وقف کرنا چاہتی ہےپس سوال حضرات مفتیان شرع شریف سے یہ ہے کہ منتظمین مدرسہ کو یہ جائداد اپنے قبضہ میں لاکر اس کے محاصل کو ہندہ کی خواہش کے موافق صرف میں لاناشرعا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جو روپیہ بعوض زنا وغنا حاصل کیا مثل غصب حرام مطلق ہے کہ کسی طرح اس کی ملك نہیں ہوسکتا ہے وہ جائدادیں جو آشناؤں نے زانیات کو ہبہ کیں وہ ہبہ بھی محض باطل ہے وہ اصل دینے والوں کی ملك پر رہیں ان کی ملك میں نہیں آسکتیںقنیہ ودر مختارمیں ہے:
مایدفعہ المتعاشقان فھو رشوۃ ۔
عشق بازی کرنیوالے ایك دوسرے کو جو دیں وہ رشوت ہے(ت)
ہاں جو جائداد زانیہ نے خریدی ہو اور اس کے شراء میں عقدونقد دونوں زر حرام پر جمع نہ ہوئے ہوں مثلا روپیہ پیشگی دے کر کہا کہ اس روپے کے عوض جائداد دے دے بائع نے اس کے عوض بیع کردی یہ تو حرام پر عقد ہوااور وہی روپیہ زر ثمن میں دیا گیا یہ حرام کا نقد ہوا دونوں جمع ہوگئے اس صورت میں بھی وہ جائداد ان کی ملك نہ ہوگی ہاں اگر زرحرام پر عقد ونقد دونوں جمع نہ ہوئے ہوں مثلا جائداد خریدی اس وقت ثمن کی تعین خاص مال حرام سے نہ تھی نہ وہ
الجواب:
امام باڑہ وقف نہیں ہوسکتا وہ جس نے بنایا اسی کی ملك ہے اسے اختیار ہے اس میں جو چاہے کرےوہ نہ رہا تو اس کے وارثوں کی ملك ہے انہیں اختیار ہےاور تعزیہ داری کو اگر کسی نے دینداری کہا اور اس نے اس کی شرکت سے انکار کیا تو کچھ بیجانہ کیا کہ تعزیہ داری ناجائز ہے اس میں شرکت جائزنہیں۔یہی اس سوال سے ظاہر ہے اور وہ معنی کہ میں اسلام کے شریك نہیں مسلمان ہرگز مراد نہ لے گاہاں اگرثابت ہوجائے کہ کسی کلمہ گو نے اسلام کی شرکت سے انکار کیا تو ضرورکافر ہوجائے گا مگر یہ معنی یہاں سے مفہوم نہیں۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰: مسئولہ عزیز الحسن قادری رضوی ازقصبہ پھپھوند ضلع اٹاوہ محلہ اونچا ٹیلہ ۱۲ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ
ہندہ سنی حنفی پابند صوم وصلوۃ جو پندرہ بیس برس ہوئے کہ اپنے مادری پیشہ کسب سے توبہ کرچکیاپنی مقبوضہ کل جائداد واملاك جو اس کی ماں اور نانی کی متروکہ اور ان کو ان کے آشناؤں کی ہبہ کی ہوئی ہے مدرسہ دینیہ کی تعلیم میں یا اسکے یتیم ومفلس طلبہ کی خوردونوش کی صرف میں لانے کی غرض سے وقف کرنا چاہتی ہےپس سوال حضرات مفتیان شرع شریف سے یہ ہے کہ منتظمین مدرسہ کو یہ جائداد اپنے قبضہ میں لاکر اس کے محاصل کو ہندہ کی خواہش کے موافق صرف میں لاناشرعا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جو روپیہ بعوض زنا وغنا حاصل کیا مثل غصب حرام مطلق ہے کہ کسی طرح اس کی ملك نہیں ہوسکتا ہے وہ جائدادیں جو آشناؤں نے زانیات کو ہبہ کیں وہ ہبہ بھی محض باطل ہے وہ اصل دینے والوں کی ملك پر رہیں ان کی ملك میں نہیں آسکتیںقنیہ ودر مختارمیں ہے:
مایدفعہ المتعاشقان فھو رشوۃ ۔
عشق بازی کرنیوالے ایك دوسرے کو جو دیں وہ رشوت ہے(ت)
ہاں جو جائداد زانیہ نے خریدی ہو اور اس کے شراء میں عقدونقد دونوں زر حرام پر جمع نہ ہوئے ہوں مثلا روپیہ پیشگی دے کر کہا کہ اس روپے کے عوض جائداد دے دے بائع نے اس کے عوض بیع کردی یہ تو حرام پر عقد ہوااور وہی روپیہ زر ثمن میں دیا گیا یہ حرام کا نقد ہوا دونوں جمع ہوگئے اس صورت میں بھی وہ جائداد ان کی ملك نہ ہوگی ہاں اگر زرحرام پر عقد ونقد دونوں جمع نہ ہوئے ہوں مثلا جائداد خریدی اس وقت ثمن کی تعین خاص مال حرام سے نہ تھی نہ وہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃبحوالہ القنیۃ کتاب الہبۃ الباب الحادی عشر فی المتفرقات ۴/ ۴۰۳
دکھایا گیا نہ پیشگی دیا گیا مطلق روپے کے بدلے خریدی تو یہ جائداد اس خریدنے والے کی ملك صحیح وحلال ہوجائے گی اب زرثمن اس حرام مال سے ادا کیا گیا تو یہ گناہ ہو ااور بائع کو اس کا لینا حرام تھا مگر جائداد اس کی ملك میں آگئیاسی طرح جو کچھ ان کو اجرت ورشوت کے علاوہ ناچ گانے میں بطور انعام دیا جاتا ہےجسے"بیل"کہتے ہیں وہ ان پر حرام نہیں کما نص علیہ فی الھندیۃ(جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)غرض جن صورتوں میں جائداد اس کی ملك ہے اسے وقف کرسکتی ہے مہتممان مدرسہ اسے لے سکتے ہیں اور جس صورت میں جائداد اس کی ملك نہیں وہ اسے وقف نہیں کرسکتی نہ اس کے وقف کئے وقف ہواس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جائداد کسی فقیر محتاج مسلمان کو ہبہ کرکے قبضہ کرادے اگرچہ اپنے کسی عزیز قریب مثل ماں بہن وغیرہ کواور وہ وقف کردے یا یہ اس سے خرید کر اگرچہ ایك پیسے کو یا اس سے اپنے نام ہبہ کراکے قبضہ میں کرکے خود وقف کردے اب یہ وقف صحیح ہوگا اور مدرسہ میں اس کاصرف حلال۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۱:ازنگینہ ضلع بجنور متصل مسجد کھجور والیمکان حکیم مبارك حسین صاحب مرسلہ صوفی حاجی محمد ابراہیم صاحب ۴ رمضان المبارک۱۳۳۶ھ
جنازہ کے اوپر جو چادر نئی ڈالی جاتی ہے اگر پرانی ڈالی جائے تو جائز ہے یانہیںاگر کل برادری کے مردوں کے اوپر ایك ہی چادر بنا کر ڈالتے رہا کریں تو جائز ہے یانہیں اس کی قیمت مردہ کے گھر سے یعنی قلیل قیمت لے کر مقبرہ قبرستان یا مدرسہ میں لگانی جائز ہے یانہیں اور چادر مذکور اونی یاسوتی بیش قیمت جائز ہے یانہیں
الجواب:
نئی ہو یا پرانی یکساں ہےہاں مسکین پر تصدق کی نیت ہو تو نئی اولیاور اگر ایك ہی چادر معین رکھیں کہ ہر جنازے پر وہی ڈالی جائے پھر رکھ چھوڑی جائے اس میں بھی حرج نہیں بلکہ اس کے لئے کپڑا وقف کرسکتے ہیںدرمختار میں ہے:
صح وقف قدر وجنازۃ وثیابھا ۔
ہنڈیاجنازہ اور اس کے کپڑے کا وقف صحیح ہے۔(ت)
طحطاوی وردالمحتار میں ہے:
جنازۃ بالکسرالنعش وثیابھا مایغطی بہ المیت وھو فی النعش ۔
جنازہ کسرہ کے ساتھ چارپائی اور اس کے کپڑے جن سے میت کو ڈھانپا جائے۔(ت)
مسئلہ۲۱:ازنگینہ ضلع بجنور متصل مسجد کھجور والیمکان حکیم مبارك حسین صاحب مرسلہ صوفی حاجی محمد ابراہیم صاحب ۴ رمضان المبارک۱۳۳۶ھ
جنازہ کے اوپر جو چادر نئی ڈالی جاتی ہے اگر پرانی ڈالی جائے تو جائز ہے یانہیںاگر کل برادری کے مردوں کے اوپر ایك ہی چادر بنا کر ڈالتے رہا کریں تو جائز ہے یانہیں اس کی قیمت مردہ کے گھر سے یعنی قلیل قیمت لے کر مقبرہ قبرستان یا مدرسہ میں لگانی جائز ہے یانہیں اور چادر مذکور اونی یاسوتی بیش قیمت جائز ہے یانہیں
الجواب:
نئی ہو یا پرانی یکساں ہےہاں مسکین پر تصدق کی نیت ہو تو نئی اولیاور اگر ایك ہی چادر معین رکھیں کہ ہر جنازے پر وہی ڈالی جائے پھر رکھ چھوڑی جائے اس میں بھی حرج نہیں بلکہ اس کے لئے کپڑا وقف کرسکتے ہیںدرمختار میں ہے:
صح وقف قدر وجنازۃ وثیابھا ۔
ہنڈیاجنازہ اور اس کے کپڑے کا وقف صحیح ہے۔(ت)
طحطاوی وردالمحتار میں ہے:
جنازۃ بالکسرالنعش وثیابھا مایغطی بہ المیت وھو فی النعش ۔
جنازہ کسرہ کے ساتھ چارپائی اور اس کے کپڑے جن سے میت کو ڈھانپا جائے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۰
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۵
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۵
اور بیش قیمت بنظر زینت مکروہ ہے کہ میت محل تزئین نہیں اور خالص بہ نیت تصدق میں حرج نہیں کجلال الھدی(جیسا کہ ہدی(قربانی)کے جانور کے جھل۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۲: مسئولہ آفتاب الدین از مدرسہ منظر الاسلام
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندو زمیندار اپنی زمین مسجد کے لئے وقف کرے تو یہ وقف ہماری شریعت میں معتبر ہے یانہیں اور اس مسجد میں نماز جمعہ اور نماز پنجگانہ پڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
مسجد کے لئے ہندو کا وقف باطل ہے لانہ لیس قربۃ فی دینہ الباطل(کیونکہ اس کے باطل دین میں کوئی قربت نہیں۔ت) اگر یونہی مسجد بنالیں گے اسمیں نماز ہوجائے گی اور جمعہ بھی ہوجائے گا اگر شہر یا فناء شہر میں ہو اذلایشترط لھا المسجد (کیونکہ نمازوں کے لئے مسجد شرط نہیں۔ت)مگر مسجد میں پڑھنے کا ثواب نہ ملے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۳: ازموضع ڈیلاہی ڈاك خانہ لہریا سرائے ضلع دربھنگہ مرسلہ محمد عبدالجلیل خاں صاحب ۱۳رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی کچھ زمین مملوکہ کو وقف کرنا چاہتا ہے اس زمین کی آمدنی دو قسم کی ہے کچھ نقدی تحصیل ہے اور زیادہ حصہ آمدنی کا بذریعہ تاڑ وکھجور ہے یعنی جس قدر تاڑ وکھجور اس زمین میں ہیں سال بسال رعایا کے ساتھ بندوبست کئے جاتے ہیں رعایا مدت معینہ تك فائد ہ اس سے اٹھاتے ہیں اور اس مدت تك کے لئے مالك نے جو کچھ زر مقرر کیا ہے اس کو ادا کرتے ہیںاب دریافت طلب یہ امر ہے کہ زمین مذکورہ موصوفہ بصفت مسطورہ کو زید وقف شرعاکرسکتا ہے یا نہیں
الجواب:
زمین وقف کرسکتاہے کہ اسمیں کوئی معصیت نہیں اور تاڑ وکھجور تاڑی اور سیندھی نکالنے کے لئے اجارہ پردیں حرام وباطل ہےوہ نہ بعد وقف جائز ہو نہ اب جائز ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۴ تا۲۸: ازعلی گڑھ بازار موتی مسجد مرسلہ علی الدین سوداگر پارچہ ۲۹رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)اگر کوئی قطعہ کسی خاص شخص یا قوم کی پرورش کے لئے وقف خاص ہولیکن اس میں کچھ آمدنی ہو اور اس پر صدہا برس سے عام اہل اسلام اپنی مردے دفن کرتے ہوں جن کو ہزارہا قبور وبکثرت خطیرہ ومقبرہ ومتعدد مساجد وچاہات موجود ہوں اور ہنوز یہ عمل جاری ہو تو وہ اراضی وقف عام مانی جائیگی یانہیں
(۲)کیااراضی موقوفہ مذکور کے کسی متولی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی مسلمان کو مردہ دفن کرنے ومسجد و چاہ وخطیرہ
مسئلہ۲۲: مسئولہ آفتاب الدین از مدرسہ منظر الاسلام
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندو زمیندار اپنی زمین مسجد کے لئے وقف کرے تو یہ وقف ہماری شریعت میں معتبر ہے یانہیں اور اس مسجد میں نماز جمعہ اور نماز پنجگانہ پڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
مسجد کے لئے ہندو کا وقف باطل ہے لانہ لیس قربۃ فی دینہ الباطل(کیونکہ اس کے باطل دین میں کوئی قربت نہیں۔ت) اگر یونہی مسجد بنالیں گے اسمیں نماز ہوجائے گی اور جمعہ بھی ہوجائے گا اگر شہر یا فناء شہر میں ہو اذلایشترط لھا المسجد (کیونکہ نمازوں کے لئے مسجد شرط نہیں۔ت)مگر مسجد میں پڑھنے کا ثواب نہ ملے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۳: ازموضع ڈیلاہی ڈاك خانہ لہریا سرائے ضلع دربھنگہ مرسلہ محمد عبدالجلیل خاں صاحب ۱۳رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی کچھ زمین مملوکہ کو وقف کرنا چاہتا ہے اس زمین کی آمدنی دو قسم کی ہے کچھ نقدی تحصیل ہے اور زیادہ حصہ آمدنی کا بذریعہ تاڑ وکھجور ہے یعنی جس قدر تاڑ وکھجور اس زمین میں ہیں سال بسال رعایا کے ساتھ بندوبست کئے جاتے ہیں رعایا مدت معینہ تك فائد ہ اس سے اٹھاتے ہیں اور اس مدت تك کے لئے مالك نے جو کچھ زر مقرر کیا ہے اس کو ادا کرتے ہیںاب دریافت طلب یہ امر ہے کہ زمین مذکورہ موصوفہ بصفت مسطورہ کو زید وقف شرعاکرسکتا ہے یا نہیں
الجواب:
زمین وقف کرسکتاہے کہ اسمیں کوئی معصیت نہیں اور تاڑ وکھجور تاڑی اور سیندھی نکالنے کے لئے اجارہ پردیں حرام وباطل ہےوہ نہ بعد وقف جائز ہو نہ اب جائز ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۴ تا۲۸: ازعلی گڑھ بازار موتی مسجد مرسلہ علی الدین سوداگر پارچہ ۲۹رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)اگر کوئی قطعہ کسی خاص شخص یا قوم کی پرورش کے لئے وقف خاص ہولیکن اس میں کچھ آمدنی ہو اور اس پر صدہا برس سے عام اہل اسلام اپنی مردے دفن کرتے ہوں جن کو ہزارہا قبور وبکثرت خطیرہ ومقبرہ ومتعدد مساجد وچاہات موجود ہوں اور ہنوز یہ عمل جاری ہو تو وہ اراضی وقف عام مانی جائیگی یانہیں
(۲)کیااراضی موقوفہ مذکور کے کسی متولی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی مسلمان کو مردہ دفن کرنے ومسجد و چاہ وخطیرہ
بنانے سے روك دے۔
(۳)اگر منجملہ تین متولیوں کے جو کسی موقوفہ قبرستان کے ہوں دو مرد متولی زید کو مردہ دفن کرنے و مسجد و چاہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دیں اور وہ اس پر عمل کرکے مردہ دفن کرادے اور مسجد و چاہ بھی تعمیر کرادی مگر تیسری عورت متولیہ اس پر رضامند نہ ہوتو کیا دو مرد متولیوں کی اجازت کافی مانی جائے گی
(۴)کیا تیسری متولیہ کو جواجازت میں شامل نہیں ہے شرعا یہ حق حاصل ہے کہ وہ مقبرہ و مسجد و چاہ تعمیر شدہ کو تڑوادے۔
(۵)کیا موقوفہ قبرستان میں کوئی شخص بہ اجازت متولیوں کے منجملہ تین کے مردہ دفن کرنے و مسجد و چاہ تعمیر کرنے کےلئے کوئی خاص حصہ مخصوص کرسکتا ہے اور تیسری متولیہ جو اجازت میں شامل نہیں ہے وہ مخصوص کرنے کی مانع ہوسکتی ہے یا نہیں
الجواب:
جبکہ صدہا سال سے عام مسلمان بلا نکیر اس زمین میں مساجد و چاہ وقبور بناتے آئے ہیں تو وہ ضرور وقف عام ہےکس دلیل سے کہا جاتا ہے کہ کسی قوم خاص پر وقف تھاایسی حالت میں کسی متولی کو اختیار نہیں کہ سنی مسلمان کو اس میں دفن کرنے یا مسجد یا کنواں بنانے سے روکے خواہ یہ روکنے والا مرد ہو یا عورت ہواور اگردلیل شرعی سے ثابت ہوکہ حقیقۃ وہ زمین کسی قوم خاص پر وقف ہے اورعام لوگوں نے صدہا سال سے اسمیں ظالمانہ و غاصبانہ تصرفات کررکھے ہیں جس کی امید ہرگز کسی طرح نہیں تو البتہ ہر متولی اس میں خلاف اغراض وقف تصرف کرنے سے ہر شخص کوروك سکتاہے اگرچہ یہ متولی عورت ہواگر دس مردمتولی اس کی اجازت دے چکے ہوں کہ خلاف اغراض وقف اجازت باطل ہے اور اجازت دینے والا خائن ہے جسے معزول کرنا لازمواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۹ تا۳۳:ازاودے پور میواڑ راجپوتانہ مرسلہ سید احمد علی صاحب مہتمم مدرسہ نظامیہ عربیہ اسلامیہ ۶شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ایسی صورت میں کہ خالد نے ایك مدرسہ عربیہ دینیہ قائم کیا چندہ سے۔اور شہر کے لوگوں سے خالد کا چندہ بھی زائد ہے اور نقل بیع نامہ جو ہمسلك ہذا ہے اس میں خالد نے علاوہ اپنے چھ نام دیگر برائے قائمی مدرسہ درج کرائے یعنی خالدمولوی شمس الدین صاحبچڑوہ رحیم بخش صاحبحاجی محمد فاضل صاحبرسالدار حسن خاں صاحبمہاوت موتی خاں صاحبالہ بخش صاحبمنجملہ ان کے رسالدار حسن خاں صاحب اور حاجی محمد فاضل صاحب مرچکےمحمد فاضل صاحب کا جزوی روپیہ تھا
(۳)اگر منجملہ تین متولیوں کے جو کسی موقوفہ قبرستان کے ہوں دو مرد متولی زید کو مردہ دفن کرنے و مسجد و چاہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دیں اور وہ اس پر عمل کرکے مردہ دفن کرادے اور مسجد و چاہ بھی تعمیر کرادی مگر تیسری عورت متولیہ اس پر رضامند نہ ہوتو کیا دو مرد متولیوں کی اجازت کافی مانی جائے گی
(۴)کیا تیسری متولیہ کو جواجازت میں شامل نہیں ہے شرعا یہ حق حاصل ہے کہ وہ مقبرہ و مسجد و چاہ تعمیر شدہ کو تڑوادے۔
(۵)کیا موقوفہ قبرستان میں کوئی شخص بہ اجازت متولیوں کے منجملہ تین کے مردہ دفن کرنے و مسجد و چاہ تعمیر کرنے کےلئے کوئی خاص حصہ مخصوص کرسکتا ہے اور تیسری متولیہ جو اجازت میں شامل نہیں ہے وہ مخصوص کرنے کی مانع ہوسکتی ہے یا نہیں
الجواب:
جبکہ صدہا سال سے عام مسلمان بلا نکیر اس زمین میں مساجد و چاہ وقبور بناتے آئے ہیں تو وہ ضرور وقف عام ہےکس دلیل سے کہا جاتا ہے کہ کسی قوم خاص پر وقف تھاایسی حالت میں کسی متولی کو اختیار نہیں کہ سنی مسلمان کو اس میں دفن کرنے یا مسجد یا کنواں بنانے سے روکے خواہ یہ روکنے والا مرد ہو یا عورت ہواور اگردلیل شرعی سے ثابت ہوکہ حقیقۃ وہ زمین کسی قوم خاص پر وقف ہے اورعام لوگوں نے صدہا سال سے اسمیں ظالمانہ و غاصبانہ تصرفات کررکھے ہیں جس کی امید ہرگز کسی طرح نہیں تو البتہ ہر متولی اس میں خلاف اغراض وقف تصرف کرنے سے ہر شخص کوروك سکتاہے اگرچہ یہ متولی عورت ہواگر دس مردمتولی اس کی اجازت دے چکے ہوں کہ خلاف اغراض وقف اجازت باطل ہے اور اجازت دینے والا خائن ہے جسے معزول کرنا لازمواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۹ تا۳۳:ازاودے پور میواڑ راجپوتانہ مرسلہ سید احمد علی صاحب مہتمم مدرسہ نظامیہ عربیہ اسلامیہ ۶شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ایسی صورت میں کہ خالد نے ایك مدرسہ عربیہ دینیہ قائم کیا چندہ سے۔اور شہر کے لوگوں سے خالد کا چندہ بھی زائد ہے اور نقل بیع نامہ جو ہمسلك ہذا ہے اس میں خالد نے علاوہ اپنے چھ نام دیگر برائے قائمی مدرسہ درج کرائے یعنی خالدمولوی شمس الدین صاحبچڑوہ رحیم بخش صاحبحاجی محمد فاضل صاحبرسالدار حسن خاں صاحبمہاوت موتی خاں صاحبالہ بخش صاحبمنجملہ ان کے رسالدار حسن خاں صاحب اور حاجی محمد فاضل صاحب مرچکےمحمد فاضل صاحب کا جزوی روپیہ تھا
اور رسالدار حسن خاں صاحب اور مہاوت موتی خاں صاحب کا چندہ کچھ نہیں صرف احتیاطا نام درج بطور اطمینان کردئے گئے کہ کوئی مدرسہ کو ذاتی ملکیت نہ بنالیوے۔الہ بخش جی کا بھی تھوڑا روپیہ تھا وہ اور رحیم بخش جی اور فاضل جی کا تعلیم میں صرف ہوگیا زمین جو برائے مدرسہ خریدی گئی وہ سب باہر کے چندہ آوردہ خالد اور خالد کے ذاتی چندہ سے خرید کی گئیجو عمارت مدرسہ اس وقت موجود ہے وہ باہر کے چندہ آوردہ خالد اور احباب خالد سے تعمیر ہوئی ہے تو خالد کا حق دوسروں کے مقابلہ میں اس مدرسہ پر کس قدر ہے فتوی عطا ہو۔
(۲)صورت مسطورہ بالا میں واقف کل کون ہوا اور اگر وقف مشترکہ مانا جاوے تو واقف اعظم کون ہوا صاف حکم فرمایا جائےخالد حدیث شریف الدال علی الخیر کفاعلہ (نیکی بتانے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔ت)سے بھی فائدہ پائے گا یانہیں
(۳)ایسے چندہ مسطورہ بالا سے جو ہر سال آمد ہو کر تعمیر اور تعلیم میں صرف ہوتا رہا کیا وقف ہوسکتا ہے کل آمد سالانہ ہو وہ صرف ہوجائے یعنی مدرسہ وقف مانا جائے گا یا کیا۔
(۴)اگرخالد وقف بھی کرنا چاہے تو وقف مانا جائے یا کوئی صورت عارض ہوگی حالانکہ خالد نے چندہ شہر اور باہر سے خدا واسطے مانگ کر لایا اور لگایا اور اپنا وقت سفر اور حضر بلا معاوضہ صرف کیا خالد جو کہ اول سے بانی اور متولی مدرسہ ہے بلاوجہ شرعیہ گروہ جہال جنہوں نے چندہ دیایانہ دیا ہو الگ کرسکتے ہیں ذاتی عداوت سے۔
(۵)سواد اعظم میں گروہ جہال مانے جائیں گے یا پڑھے لکھے پابند اسلام
نقل بیعنامہ
تحریر از طرف پٹھان حسن خاں وحاجی محمدخان پسران خواجو خاں سکنہ شہر بنام جملہ انجمن والان مسمی رحیم بخش جی چڑوہ رنگریزمولوی سید شمس الدین جیمہاوت موتی خاں جیالہ بخش جیرسالدار حسن خاں جیقاضی احمد علیحاجی محمد فاضل جی شہر والوں کے روپیہ(ال سالہ للعہ ۱۶۴۱)اودے پوری دینا جس کے بدلہ میرے باپونیکی جگہ نیم سیم سمیت مع چبوترہ وجملہ حقوق بخشش کردئے اور قابض ومتصرف بھی کرادیا روپیہ اس طرح پر لئے(۱ل معہ معہ۱۰۷۷)تو پٹھان عمر خاں نیاز محمد خان کو رہن کے آپ نے چکائے وتحریرات رہن آپ نے لے لی اور مبلغ(مال مہ معہ ۲۷۵)چوڑی گر محمد علی کو بابت دعوی دیوانی کے آپ چکا ناکم دو یا زیادہ اور مبلغ(مال لعہ لہ ۲۸۹)ہم نے نقد آپ سے وصول کرلئے غرضکہ(ال سال للعہ ۱۶۴۱)کل بھر پائے فیس نقشہ ورجسٹری وغیرہ سب آپ کے ذمہ ہے اس جگہ
(۲)صورت مسطورہ بالا میں واقف کل کون ہوا اور اگر وقف مشترکہ مانا جاوے تو واقف اعظم کون ہوا صاف حکم فرمایا جائےخالد حدیث شریف الدال علی الخیر کفاعلہ (نیکی بتانے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔ت)سے بھی فائدہ پائے گا یانہیں
(۳)ایسے چندہ مسطورہ بالا سے جو ہر سال آمد ہو کر تعمیر اور تعلیم میں صرف ہوتا رہا کیا وقف ہوسکتا ہے کل آمد سالانہ ہو وہ صرف ہوجائے یعنی مدرسہ وقف مانا جائے گا یا کیا۔
(۴)اگرخالد وقف بھی کرنا چاہے تو وقف مانا جائے یا کوئی صورت عارض ہوگی حالانکہ خالد نے چندہ شہر اور باہر سے خدا واسطے مانگ کر لایا اور لگایا اور اپنا وقت سفر اور حضر بلا معاوضہ صرف کیا خالد جو کہ اول سے بانی اور متولی مدرسہ ہے بلاوجہ شرعیہ گروہ جہال جنہوں نے چندہ دیایانہ دیا ہو الگ کرسکتے ہیں ذاتی عداوت سے۔
(۵)سواد اعظم میں گروہ جہال مانے جائیں گے یا پڑھے لکھے پابند اسلام
نقل بیعنامہ
تحریر از طرف پٹھان حسن خاں وحاجی محمدخان پسران خواجو خاں سکنہ شہر بنام جملہ انجمن والان مسمی رحیم بخش جی چڑوہ رنگریزمولوی سید شمس الدین جیمہاوت موتی خاں جیالہ بخش جیرسالدار حسن خاں جیقاضی احمد علیحاجی محمد فاضل جی شہر والوں کے روپیہ(ال سالہ للعہ ۱۶۴۱)اودے پوری دینا جس کے بدلہ میرے باپونیکی جگہ نیم سیم سمیت مع چبوترہ وجملہ حقوق بخشش کردئے اور قابض ومتصرف بھی کرادیا روپیہ اس طرح پر لئے(۱ل معہ معہ۱۰۷۷)تو پٹھان عمر خاں نیاز محمد خان کو رہن کے آپ نے چکائے وتحریرات رہن آپ نے لے لی اور مبلغ(مال مہ معہ ۲۷۵)چوڑی گر محمد علی کو بابت دعوی دیوانی کے آپ چکا ناکم دو یا زیادہ اور مبلغ(مال لعہ لہ ۲۸۹)ہم نے نقد آپ سے وصول کرلئے غرضکہ(ال سال للعہ ۱۶۴۱)کل بھر پائے فیس نقشہ ورجسٹری وغیرہ سب آپ کے ذمہ ہے اس جگہ
حوالہ / References
جامع الترمذی باب ماجاء ان الدال علی الخیر کفاعلہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/ ۹۱
بابت ہمارے بھائی گرایہ وغیرہ کوئی دعوی جھگڑا کریں گے نہیںاگر کریں گے تو ان کا من میں مناؤں گا لہذایہ تحریر بیعنامہ سندا لکھ دی کہ وقت ضرورت کام دے۔ دستخط حسن خاں وحاجی محمد خاں مع گواہان مکرر یہ کہ زمین زیادہ قیمت کی تھی مگر مسطورہ بالاروپیہ میں آپ کو فروخت کرکے بخشش کردی کہ پھر کوئی دعویدار نہ ہوسکے (سمہ ۱۹۶۳)بکرمی کے بیساکھ بدی۷
الجواب:
ہبہ بالعوض بیع ہے بیع جتنے اشخاص کے نام ہوئی سب مالك ہوئے اگرچہ روپیہ ایك ہی دیتا وہ اوروں کے حصے کا زرثمن ادا کردینے میں متبرع ہے جبکہ ان سے واپسی قرار نہ پائی ہو جیسا یہاں ہے ہم نے اپنے فتاوی کتاب الوقف میں ثابت کیا ہے کہ زر چندہ چندہ دہندوں کی ملك پر رہتا ہے اور محصل کا ان کے اذن عرفی سے غلط کرلینا اسے مالك نہ کردے گا اور جبکہ انہوں نے مدرسہ بنانے کے لئے خالد کو چندہ دیا تو اسے شراء زمین وتعمیر کا ماذون کیا اور ان کا روپیہ ان کے اذن سے اس نے شراء وتعمیر میں صرف کیا تو وہ زمین و عمارت تمام مشتریوں اور چندہ دہندوں کی ہوئی جس کا ایك پیسہ چندہ ہو اور جس کا ہزار روپے سب شریك ہیںاور جبکہ دینی مدرسہ نفع عام مسلمین کے لئے بنانا مقصود تھا اس میں کسی کی نیت یہ نہیں ہوتی کہ میں کسی جز کا مالك رہوں اور اس سے انتفاع ایك مدت محدود تك ہو پھر میری ملك میں واپس آئے جبکہ اپنی ملك سے خارج کرکے ہمیشہ کے لئے نفع مسلمین کے واسطے کردینا مقصود ہوتا ہے اور یہی حاصل وقف ہے تو اگرچہ نصا وہ سب لفظ وقف نہیں کہتے عرفا دلالۃ وقف کرتے اور وقف ہی سمجھتے ہیںذخیرہ وخانیہ وعالمگیریہ میں ہے:
رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امرقوماان یصلوا فیہا بجماعۃ فان امرھم بالصلوۃ فیہا ابدا نصابان قال صلوا فیہا ابدا اوامرھم بالصلوۃ مطلقا ونوی الابد صارت الساحۃ مسجدا وان وقت بالشھراوالسنۃ لا تصیر مسجدا۔
ایك شخص نے اپنے خالی میدا ن میں لوگوں کوباجماعت نما ز پڑھنے کی صراحۃ ابدی اجازت دی یا مطلقا کہہ دیا کہ اس میں نماز پڑھو اور نیت ابدی کرلی تو وہ میدان مسجد قرار پائے گا اور اگرمہینے یا سال کے لئے نمازپڑھنے کو کہا تو وہ مسجد نہ قرار پائے گا۔(ت)
تو وہ ایك مکان ہے جس کی زمین وعمارت سب ان سب کی ملك مشترك ہو کر ان سب کی طرف سے وقف ہوئی اور حق کہ واقف کو وقف پر ہوتا ہے سب کو بروجہ کمال یکساں حاصل ہو ااس میں کمی بیشی چندہ پر لحاظ نہ ہوگا کہ یہ حق متجزی نہیں اور حق غیر متجزی ہر شریك کے لئے کاملا حاصل ہوتا ہے۔اشباہ والنظائر میں ہے:
الجواب:
ہبہ بالعوض بیع ہے بیع جتنے اشخاص کے نام ہوئی سب مالك ہوئے اگرچہ روپیہ ایك ہی دیتا وہ اوروں کے حصے کا زرثمن ادا کردینے میں متبرع ہے جبکہ ان سے واپسی قرار نہ پائی ہو جیسا یہاں ہے ہم نے اپنے فتاوی کتاب الوقف میں ثابت کیا ہے کہ زر چندہ چندہ دہندوں کی ملك پر رہتا ہے اور محصل کا ان کے اذن عرفی سے غلط کرلینا اسے مالك نہ کردے گا اور جبکہ انہوں نے مدرسہ بنانے کے لئے خالد کو چندہ دیا تو اسے شراء زمین وتعمیر کا ماذون کیا اور ان کا روپیہ ان کے اذن سے اس نے شراء وتعمیر میں صرف کیا تو وہ زمین و عمارت تمام مشتریوں اور چندہ دہندوں کی ہوئی جس کا ایك پیسہ چندہ ہو اور جس کا ہزار روپے سب شریك ہیںاور جبکہ دینی مدرسہ نفع عام مسلمین کے لئے بنانا مقصود تھا اس میں کسی کی نیت یہ نہیں ہوتی کہ میں کسی جز کا مالك رہوں اور اس سے انتفاع ایك مدت محدود تك ہو پھر میری ملك میں واپس آئے جبکہ اپنی ملك سے خارج کرکے ہمیشہ کے لئے نفع مسلمین کے واسطے کردینا مقصود ہوتا ہے اور یہی حاصل وقف ہے تو اگرچہ نصا وہ سب لفظ وقف نہیں کہتے عرفا دلالۃ وقف کرتے اور وقف ہی سمجھتے ہیںذخیرہ وخانیہ وعالمگیریہ میں ہے:
رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امرقوماان یصلوا فیہا بجماعۃ فان امرھم بالصلوۃ فیہا ابدا نصابان قال صلوا فیہا ابدا اوامرھم بالصلوۃ مطلقا ونوی الابد صارت الساحۃ مسجدا وان وقت بالشھراوالسنۃ لا تصیر مسجدا۔
ایك شخص نے اپنے خالی میدا ن میں لوگوں کوباجماعت نما ز پڑھنے کی صراحۃ ابدی اجازت دی یا مطلقا کہہ دیا کہ اس میں نماز پڑھو اور نیت ابدی کرلی تو وہ میدان مسجد قرار پائے گا اور اگرمہینے یا سال کے لئے نمازپڑھنے کو کہا تو وہ مسجد نہ قرار پائے گا۔(ت)
تو وہ ایك مکان ہے جس کی زمین وعمارت سب ان سب کی ملك مشترك ہو کر ان سب کی طرف سے وقف ہوئی اور حق کہ واقف کو وقف پر ہوتا ہے سب کو بروجہ کمال یکساں حاصل ہو ااس میں کمی بیشی چندہ پر لحاظ نہ ہوگا کہ یہ حق متجزی نہیں اور حق غیر متجزی ہر شریك کے لئے کاملا حاصل ہوتا ہے۔اشباہ والنظائر میں ہے:
حوالہ / References
الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۵۵
ماثبت بجماعۃ فھو بینھم علی سبیل الاشتراك الافی مسائلالاولی ولایۃ الانکاح للصغیروالصغیرۃ ثابتۃ للاولیاء علی سبیل الکمال لکل(الی ان قال) والضابط ان الحق اذاکان ممالایتجزی فانہ یثبت لکل علی الکمال فالاستخدام فی المملوك ممالا یتجزی ۔
جو چیز پوری جماعت کے نام ہوتو وہ ان سب میں مشترك ہوگی ماسوائے چند مسائل کےجن میں سے ایك نکاح دینے کی ولایت جو تمام اولیاء کو نابالغ لڑکے اورلڑکی پر حاصل ہے اور یہ ہر ایك کو مستقل حاصل ہے(آگے یہاں تك فرمایا)اس کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر حق غیر متجزی ہوتو یہ ہر ایك کو مستقل ہوگاتو مشترکہ غلام سے خدمت لینا ہر ایك کو مستقل حق ہے کیونکہ یہ بھی غیر متجزی ہے(ت)
خالد بشرط حسن نیت وقبول حضرت عزت الدال الخیر کفاعلہ (نیکی بتانے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔ت)کافائدہ روز جزائے پائے گا خالد اب اسے جدید وقف کرکے واقف کل نہیں بن سکتا وقف دوبارہ وقف نہیں ہوسکتا نہ خالد مالك کل ہے اور وقف کی شرط ملك ہےخالد کومدرسہ سے جدا کرنے کی اگر کوئی وجہ شرعی نہ ہوتو جہال ہوں یا علماء بلاوجہ محض نفسانیت سے جو کریں مسموع نہیں ہوسکتا جبکہ خود حاکم قاضی کو کسی صاحب وظیفہ تك کا بے گناہ معزول کرنا نہیں پہنچتا۔ بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
استفید من عدم صحۃ عزل الناظر بلا جنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ ۔
بغیر جرم نگر ان کی معزولی کی عدم صحت سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ وقف کا کوئی نگران باوظیفہ ہوتو بھی بغیرجرم اور نااہلیت کے بغیر معزول نہیں کیا جاسکتا(ت)
اور اگر وجہ شرعی ہوتو بلاشبہہ معزول کیا جائے گا اگرچہ خاص اپنی تنہا ملك سے وقف کیا ہوتا۔ درمختار میں ہے:
ینزع وجوبابزازیۃلو الواقفدررفغیرہ بالاولی غیرما مون اوعاجز اوظہربہ فسق کشرب الخمر و نحوہفتح ۔
لازمی طور پر معزول کیا جائےبزازیہ۔اگرچہ واقف ہی کیوں نہ ہودرر۔توغیر بطریق اولی جب وہ ناقابل اعتماد نااہلیا اس کا فسق ظاہر ہوچکا ہو مثلاشرابی ہونا وغیرہ فتح۔(ت)
جو چیز پوری جماعت کے نام ہوتو وہ ان سب میں مشترك ہوگی ماسوائے چند مسائل کےجن میں سے ایك نکاح دینے کی ولایت جو تمام اولیاء کو نابالغ لڑکے اورلڑکی پر حاصل ہے اور یہ ہر ایك کو مستقل حاصل ہے(آگے یہاں تك فرمایا)اس کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر حق غیر متجزی ہوتو یہ ہر ایك کو مستقل ہوگاتو مشترکہ غلام سے خدمت لینا ہر ایك کو مستقل حق ہے کیونکہ یہ بھی غیر متجزی ہے(ت)
خالد بشرط حسن نیت وقبول حضرت عزت الدال الخیر کفاعلہ (نیکی بتانے والا نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔ت)کافائدہ روز جزائے پائے گا خالد اب اسے جدید وقف کرکے واقف کل نہیں بن سکتا وقف دوبارہ وقف نہیں ہوسکتا نہ خالد مالك کل ہے اور وقف کی شرط ملك ہےخالد کومدرسہ سے جدا کرنے کی اگر کوئی وجہ شرعی نہ ہوتو جہال ہوں یا علماء بلاوجہ محض نفسانیت سے جو کریں مسموع نہیں ہوسکتا جبکہ خود حاکم قاضی کو کسی صاحب وظیفہ تك کا بے گناہ معزول کرنا نہیں پہنچتا۔ بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
استفید من عدم صحۃ عزل الناظر بلا جنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ ۔
بغیر جرم نگر ان کی معزولی کی عدم صحت سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ وقف کا کوئی نگران باوظیفہ ہوتو بھی بغیرجرم اور نااہلیت کے بغیر معزول نہیں کیا جاسکتا(ت)
اور اگر وجہ شرعی ہوتو بلاشبہہ معزول کیا جائے گا اگرچہ خاص اپنی تنہا ملك سے وقف کیا ہوتا۔ درمختار میں ہے:
ینزع وجوبابزازیۃلو الواقفدررفغیرہ بالاولی غیرما مون اوعاجز اوظہربہ فسق کشرب الخمر و نحوہفتح ۔
لازمی طور پر معزول کیا جائےبزازیہ۔اگرچہ واقف ہی کیوں نہ ہودرر۔توغیر بطریق اولی جب وہ ناقابل اعتماد نااہلیا اس کا فسق ظاہر ہوچکا ہو مثلاشرابی ہونا وغیرہ فتح۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب النکاح ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۴۵۔۲۴۴
جامع الترمذی باب ماجاء ان الدال علی الخیر کفاعلہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/ ۹۱
بحرالرائق کتاب الوقف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۲۷
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
جامع الترمذی باب ماجاء ان الدال علی الخیر کفاعلہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲/ ۹۱
بحرالرائق کتاب الوقف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۲۷
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
سواداعظم اہلسنت ہیں فرعیات میں حکم شرع کے خلاف کثرت وقلت جماعت پرنظر نہیں امور انتظامی جن میں شرع مطہر کی جانب سے کوئی تحدید نہ ہو ان میں کثرت رائے کا لحاظ ہوتا ہے اس میں ہرذی رائے مسلمان سنی کی رائے ملحوظ ہوگی اگرچہ عالم نہ ہو کہ معاملہ شرعیات سے نہیں بلکہ بارہا تجربہ کار کم علموں کی رائے کسی انتظامی امر میں ناتجربہ کار ذی علم کی رائے سے صائب تر ہوسکتی ہے انتم اعلم باموردنیاکم (تم اپنے دنیاوی امور کوبہتر جانتے ہو۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۴: مسئولہ مولوی ظہور حسین صاحب ساکن بریلی محلہ کنگھی ٹولہ ۲۴رجب المرجب ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی حیات میں ایك جزو زمینداری معہ ایك قطعہ مکان موسوم امام باڑہ بغرض امورات مذہبی بشرائط ذیل بنام خدائے برتر وقف کرکے وقف نامہ مصدقہ رجسٹری لکھ دیا اور قبضہ دخل جزوا و کلا اٹھاکر خدا کی ملك میں دے دیا اور کوئی تعلق اپنا کسی قسم کا نہ رکھا اور دو متولی مقرر کرکے عمل درآمد باضابطہ کرادیا اغراض وقف کے شرائط مجوزہ ہندہ واقفہ یہ ہیں:
اول یہ کہ جو منافع خالص رہے اس میں سے محفل میلاد شریف حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموحضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ ونذر ونیاز وغیرہا سید الشہداء امام حسن وامام حسین علیہما السلاموفاتحہ برسی اموات ومرمت شکست و ریخت امام باڑہ باہتمام متولیان ہو۔
دوسرے یہ کہ اگر متولیان مذکور بلا کسی کو متولی یا قائم مقام اپنا کئے فوت ہوجائیں تو اولاد ذکور لائق متولیان ہندہ سے متولی ہوگی کوئی شخص مستحق تولیت کا نہ ہوگا بلکہ یہ سلسلہ خاندانی تاقیام زمانہ نسلا قائم رہے گا کوئی کمیٹی و انجمن موقوفہ میں دست انداز نہیں ہوسکتی کیونکہ محاصل اس وقف کا بنا براجراء کار خیر ونذر ونیاز رکھاگیا ہے تاکہ نام میرا دنیا وآخرت میں ہمیشہ کو رہے اور ثواب ملتا رہے۔ ایساوقف اور یہ اصراف اوقاف شرعی یعنی بموجب شرع محمدی کے جائز ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
جبکہ وہ جائداد اوریہ مکان اس وقف کرنے کے وقت ہندہ کی ملك تھی اور اب اس نے مصارف خیر مذکورہ کے لئے وقف کر دیئے وقف جائز وصحیح ولازم ہوگیا اور مصارف مذکورہ شرعا جائز ہیں۔ ہدایہ میں ہے :
مسئلہ۳۴: مسئولہ مولوی ظہور حسین صاحب ساکن بریلی محلہ کنگھی ٹولہ ۲۴رجب المرجب ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی حیات میں ایك جزو زمینداری معہ ایك قطعہ مکان موسوم امام باڑہ بغرض امورات مذہبی بشرائط ذیل بنام خدائے برتر وقف کرکے وقف نامہ مصدقہ رجسٹری لکھ دیا اور قبضہ دخل جزوا و کلا اٹھاکر خدا کی ملك میں دے دیا اور کوئی تعلق اپنا کسی قسم کا نہ رکھا اور دو متولی مقرر کرکے عمل درآمد باضابطہ کرادیا اغراض وقف کے شرائط مجوزہ ہندہ واقفہ یہ ہیں:
اول یہ کہ جو منافع خالص رہے اس میں سے محفل میلاد شریف حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموحضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ ونذر ونیاز وغیرہا سید الشہداء امام حسن وامام حسین علیہما السلاموفاتحہ برسی اموات ومرمت شکست و ریخت امام باڑہ باہتمام متولیان ہو۔
دوسرے یہ کہ اگر متولیان مذکور بلا کسی کو متولی یا قائم مقام اپنا کئے فوت ہوجائیں تو اولاد ذکور لائق متولیان ہندہ سے متولی ہوگی کوئی شخص مستحق تولیت کا نہ ہوگا بلکہ یہ سلسلہ خاندانی تاقیام زمانہ نسلا قائم رہے گا کوئی کمیٹی و انجمن موقوفہ میں دست انداز نہیں ہوسکتی کیونکہ محاصل اس وقف کا بنا براجراء کار خیر ونذر ونیاز رکھاگیا ہے تاکہ نام میرا دنیا وآخرت میں ہمیشہ کو رہے اور ثواب ملتا رہے۔ ایساوقف اور یہ اصراف اوقاف شرعی یعنی بموجب شرع محمدی کے جائز ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
جبکہ وہ جائداد اوریہ مکان اس وقف کرنے کے وقت ہندہ کی ملك تھی اور اب اس نے مصارف خیر مذکورہ کے لئے وقف کر دیئے وقف جائز وصحیح ولازم ہوگیا اور مصارف مذکورہ شرعا جائز ہیں۔ ہدایہ میں ہے :
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الفضائل باب امتثال ما قالہ شرعًا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶۴
ووقف المشاع جائز قال فی الدرر وبہ یفتی ۔
غیر منقسم جائداد کا وقف جائز ہے درر میں ہے کہ اسی پر فتوی ہے۔(ت)
اور وقت وقف اس کا مالك ہونا ضروری ہے شامی ج ۳ص۵۵۵میں ہے:
شرطہ شرط سائر التبرعات افاد ان الواقف لابدان یکون مالکالہ وقت الوقف ملکاتاما ۔
اس کی شرط وہی ہے جو تمام تبرعات کی شرط ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ واقف کا بوقت وقف کامل مالك ہونا ضروری ہے(ت)
وقف کے لئے کتابت ضروری نہیں زبانی الفاظ کافی ہیں خیریہ میں ہے:
اما اشتراط کونہ یکتب فی حجۃ ویقید فی سجلات فلیس بلازم شرعا ومخالف للموضوع الشرعی فان اللفظ بانفرادہ کاف فی صحۃ ذلك شرعا والزیادۃ لایحتاج الیھا اھ ملتقطا
یہ کہ جہت وقف لکھی جائے اور دفتری کتب میں لکھائی تو یہ شرط شرعا لازم نہیں بلکہ شرعی طریقہ کے مخالف ہے کیونکہ صرف لفظی طور پر کہہ دینا کافی ہے اور اس سے زائد شرعا کوئی ضروری نہیں۱ھ(ت)
اور ولایت کو اپنے خاندان میں شرط کر دینا بھی صحیح ہے اور وہ اسکا متولی رہے گا جب تك کہ اس کی خیانت یا عجز یا فسق ظاہر نہ ہو ورنہ اس سے ولایت لے لی جائے گی اگر متولی خود واقف ہی ہو درمختار صفحہ۵۹۴میں ہے:
وینزع وجوبا لوکان المتولی غیرمامون او عاجزا وظہربہ فسق وان شرط عدم نزعہ او ان لاینزعہ قاض ولاسلطان لمخالفتہ لحکم الشرعی فیبطل کالوصی اھ ملخصا ومختصرا۔
اور متولی غیر معتمد علیہ ہو یانالائق ہو یا اس کا فسق ظاہر ہو چکا ہو تو اس کو معزول کرنا ضروری ہے اگرچہ معزول نہ کرنے کی شرط کی ہو یا یہ کہ قاضی اور سلطان بھی نہ معزول کرے گا تو شرع کے مخالف ہونے کی وجہ سے یہ شرط باطل ہے جیسا کہ وصی کے متعلق حکم ہے ۔اھ ملخصا مختصرا (ت)واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
غیر منقسم جائداد کا وقف جائز ہے درر میں ہے کہ اسی پر فتوی ہے۔(ت)
اور وقت وقف اس کا مالك ہونا ضروری ہے شامی ج ۳ص۵۵۵میں ہے:
شرطہ شرط سائر التبرعات افاد ان الواقف لابدان یکون مالکالہ وقت الوقف ملکاتاما ۔
اس کی شرط وہی ہے جو تمام تبرعات کی شرط ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ واقف کا بوقت وقف کامل مالك ہونا ضروری ہے(ت)
وقف کے لئے کتابت ضروری نہیں زبانی الفاظ کافی ہیں خیریہ میں ہے:
اما اشتراط کونہ یکتب فی حجۃ ویقید فی سجلات فلیس بلازم شرعا ومخالف للموضوع الشرعی فان اللفظ بانفرادہ کاف فی صحۃ ذلك شرعا والزیادۃ لایحتاج الیھا اھ ملتقطا
یہ کہ جہت وقف لکھی جائے اور دفتری کتب میں لکھائی تو یہ شرط شرعا لازم نہیں بلکہ شرعی طریقہ کے مخالف ہے کیونکہ صرف لفظی طور پر کہہ دینا کافی ہے اور اس سے زائد شرعا کوئی ضروری نہیں۱ھ(ت)
اور ولایت کو اپنے خاندان میں شرط کر دینا بھی صحیح ہے اور وہ اسکا متولی رہے گا جب تك کہ اس کی خیانت یا عجز یا فسق ظاہر نہ ہو ورنہ اس سے ولایت لے لی جائے گی اگر متولی خود واقف ہی ہو درمختار صفحہ۵۹۴میں ہے:
وینزع وجوبا لوکان المتولی غیرمامون او عاجزا وظہربہ فسق وان شرط عدم نزعہ او ان لاینزعہ قاض ولاسلطان لمخالفتہ لحکم الشرعی فیبطل کالوصی اھ ملخصا ومختصرا۔
اور متولی غیر معتمد علیہ ہو یانالائق ہو یا اس کا فسق ظاہر ہو چکا ہو تو اس کو معزول کرنا ضروری ہے اگرچہ معزول نہ کرنے کی شرط کی ہو یا یہ کہ قاضی اور سلطان بھی نہ معزول کرے گا تو شرع کے مخالف ہونے کی وجہ سے یہ شرط باطل ہے جیسا کہ وصی کے متعلق حکم ہے ۔اھ ملخصا مختصرا (ت)واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ /۶۱۸
الدررالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الوقف مطبعہ احمد کامل الکائنہ ۲ /۱۳۴
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۵۹
فتاوی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۱۶
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸۳
الدررالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الوقف مطبعہ احمد کامل الکائنہ ۲ /۱۳۴
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۵۹
فتاوی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۱۶
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸۳
مسئلہ ۳۵: ازسورت عید روس منزل خانقاہ عید روسیہ مرسلہ حضرت سید علی بن زید بن حسن عید روس سجادہ نشین خانقاہ مذکور۲۳ذیقعدہ ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلہ میں کہ مسلمانوں کے اوقاف جو ثواب کی نیت سے بترغیب حکم رب العالمین وقف کئے جاتے ہیں وہ اوقاف کل کے کل مذہبی ہیں یا مذہب کے غیر یا بعض مذہبی اور غیر مذہبی بینوا توجروا۔
الجواب:
اوقاف جائزہ مطلقا اگرچہ بے نیت ثواب کئے جائیں اگرچہ وقف کرنیوالے مسلمان بھی نہ ہوں خواہ ہمارے مذہبی تعلیم اعمال عبادات کے لئے ہوں یا غریبوں کی مدد تعلیم طبی امداد وغیرہا کےلئے علی العموم سب مذہبی ہیں اور ان میں دست اندازی مذہبی دست اندازی نیت وعدم نیت یا اسلام و کفرواقف سے یہ فرق پڑتا ہے کہ واقف اگرمسلمان ہواور ثواب کی نیت سے کرے(جیسا کہ عام اوقاف میں مسلمانوں کی یہی نیت ہوتی ہے) تو وہ اس کے لئے قربت و عمل صالح وباعث ثواب وقرب رب الارباب بلکہ اطلاق عام میں عبادت الہی ہے اور ایسا نہ ہوتو واقف کو ثواب نہ ملے گا مگر وقف فی نفسہ ضرور ہمارادینی مذہبی کام ہی رہے گا ولہذا اس میں دوشرطیں مطلقا لازم ہیں:
ایك یہ کہ وہ کام جس کےلئے یہ وقف ابتداء ہوا یا آخر میں اس کے لئے قرار پائے گا واقف کے نزدیك کار ثواب ہو وہ اس ثواب کی نیت کرے یا نہ کرے یہ اس کا فعل ہے کام مذہبی حیثیت سے ثواب کا ہونا چاہئے جیسے غرباء کی امداد اگرچہ دواوغیرہ سے ہو۔
دوسرے یہ کہ وہ کام خود ہمارے مذہب اسلام کی روسے کار ثواب ہو اگرچہ وقف کرنے والا مسلمان نہ ہو۔
(۱) اسی لئے اگر اغنیا کے چائے پانی کے لئے ہوٹل بناکر وقف کیا وقف نہ ہوگا کہ یہ کوئی ثواب کا کام نہیں۔
(۲)کافر نے مسجد کے لئے وقف کیا وقف نہ ہوگا کہ یہ اس کے خیال میں کارثواب نہیں۔
(۳)کافر نے ایك مندریا شوالے کے لئے وقف کیا وقف نہ ہوگا کہ یہ واقع میں کار ثواب نہیں۔
(۴)کافر نے ایك شوالے پر وقف کیا اس شرط پرکہ جب تك یہ باقی ہے وقف کی آمدنی اس میں خرچ ہواور جب شوالہ ٹوٹ کر ویران ہوجائے تو اس کے بعد یہ آمدنی محتاجوں پر صرف ہوا کرے وقف صحیح ہوجائے گا کہ اس کا آخر ایك ایسے کام کےلئے رکھا جو کار ثواب ہے یعنی امدا د مساکین اور آج ہی سے اس کی ساری آمدنی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلہ میں کہ مسلمانوں کے اوقاف جو ثواب کی نیت سے بترغیب حکم رب العالمین وقف کئے جاتے ہیں وہ اوقاف کل کے کل مذہبی ہیں یا مذہب کے غیر یا بعض مذہبی اور غیر مذہبی بینوا توجروا۔
الجواب:
اوقاف جائزہ مطلقا اگرچہ بے نیت ثواب کئے جائیں اگرچہ وقف کرنیوالے مسلمان بھی نہ ہوں خواہ ہمارے مذہبی تعلیم اعمال عبادات کے لئے ہوں یا غریبوں کی مدد تعلیم طبی امداد وغیرہا کےلئے علی العموم سب مذہبی ہیں اور ان میں دست اندازی مذہبی دست اندازی نیت وعدم نیت یا اسلام و کفرواقف سے یہ فرق پڑتا ہے کہ واقف اگرمسلمان ہواور ثواب کی نیت سے کرے(جیسا کہ عام اوقاف میں مسلمانوں کی یہی نیت ہوتی ہے) تو وہ اس کے لئے قربت و عمل صالح وباعث ثواب وقرب رب الارباب بلکہ اطلاق عام میں عبادت الہی ہے اور ایسا نہ ہوتو واقف کو ثواب نہ ملے گا مگر وقف فی نفسہ ضرور ہمارادینی مذہبی کام ہی رہے گا ولہذا اس میں دوشرطیں مطلقا لازم ہیں:
ایك یہ کہ وہ کام جس کےلئے یہ وقف ابتداء ہوا یا آخر میں اس کے لئے قرار پائے گا واقف کے نزدیك کار ثواب ہو وہ اس ثواب کی نیت کرے یا نہ کرے یہ اس کا فعل ہے کام مذہبی حیثیت سے ثواب کا ہونا چاہئے جیسے غرباء کی امداد اگرچہ دواوغیرہ سے ہو۔
دوسرے یہ کہ وہ کام خود ہمارے مذہب اسلام کی روسے کار ثواب ہو اگرچہ وقف کرنے والا مسلمان نہ ہو۔
(۱) اسی لئے اگر اغنیا کے چائے پانی کے لئے ہوٹل بناکر وقف کیا وقف نہ ہوگا کہ یہ کوئی ثواب کا کام نہیں۔
(۲)کافر نے مسجد کے لئے وقف کیا وقف نہ ہوگا کہ یہ اس کے خیال میں کارثواب نہیں۔
(۳)کافر نے ایك مندریا شوالے کے لئے وقف کیا وقف نہ ہوگا کہ یہ واقع میں کار ثواب نہیں۔
(۴)کافر نے ایك شوالے پر وقف کیا اس شرط پرکہ جب تك یہ باقی ہے وقف کی آمدنی اس میں خرچ ہواور جب شوالہ ٹوٹ کر ویران ہوجائے تو اس کے بعد یہ آمدنی محتاجوں پر صرف ہوا کرے وقف صحیح ہوجائے گا کہ اس کا آخر ایك ایسے کام کےلئے رکھا جو کار ثواب ہے یعنی امدا د مساکین اور آج ہی سے اس کی ساری آمدنی
امداد مساکین میں صر ف ہوگی شوالہ کو ایك پیسہ نہ دیا جائے گا اور اس قسم کے بکثرت مسائل کتب معتمدہ میں مذکور ہیں تو ثابت ہوا کہ وقف جائز کیسا ہی ہو کسی نے کیا ہو کسی طرح کیا ہو مطلقا ہم مسلمانوں کا دینی مذہبی ہے کام دو ہی قسم ہیں: دینی یا دنیوی۔ ہر شخص جانتا ہے کہ دنیوی کام میں ان دونوں شرطوں سے کوئی شرط نہیں نہ یہی ضرور کہ فاعل کے نزدیك وہ کار ثواب ہونہ یہی لازم کہ مذہب اسلام نے اسے کار ثواب مانا ہو اور وقف میں مطلقا یہ دونوں شرطیں لازم ہیں تو ظاہر ہوا کہ وہ ہر گز دنیوی کام نہیں بلکہ خاص دینی ومذہبی ہے اور یہی ہمیں ثابت کرنا تھا اور اس پر ایك صریح دلیل یہ بھی ہے کہ مسلمان اگر کیساہی وقف کسی غرض کاکرے اور پھر معاذاﷲ اسلام سے پھر جائے تو فورا اس کا ہر وقف باطل ہوجاتا ہے وہ اس کے وارثوں پر مالکانہ تقسیم کردیےجاتے ہیں یہاں تك کہ اگر مرتد ہوکر پھر اسلام لے آئے وقف عود نہ کرے گا جب تك بعد اسلام پھر از سر نو وقف نہ کرے اور یہ حکم عام ہے جس میں کسی وقف کی تخصیص نہیں تو کوئی وقف اگر ایسا بھی ہوتاجو مذہبی نہ ہو تو مذہب بدل جانے سے وہ کیوں باطل ہوجاتا تو معلوم ہوا کہ وقف کیسا ہی ہو مطلقا مذہبی ہے اب ان تمام مسائل پر عبارات کتب ملاحظہ کیجئے ردالمحتار مطبع قسطنطنیہ جلد دوم ص۴۲۳:
العتق والوقف والاضحیۃ ایضا عبادات ۔
وقف عتق اور قربانی بھی عبادات ہیں۔(ت)
ہدایہ مع فتح القدیر مطبع مصر جلد پنجم ص۵۷:
الوقف ازالۃ الملك الی اﷲ تعالی علی وجہ القربۃ ۔
اپنی ملکیت کو عبادت کے طور پر زائل کرنا اﷲ تعالی کے لئے اس کو وقف کہتے ہیں(ت)
فتح القدیر جلد مذکور ص۵۷
محاسن الوقف ظاہرۃ لما فیہ من ادامۃ العمل الصلاح کمافی الحدیث المعروف اذا مات ابن ادم انقطع عملہ الامن ثلث صدقۃ جاریۃ الحدیث۔
وقف کے محاسن ظاہر ہیں کہ اس میں نیك عمل کا دوام ہے جیسا کہ معروف حدیث میں ہے کہ انسان کے فوت ہونے پر اس کے عمل تین کے ماسوا سب منقطع ہوجاتے ہیں ان میں ایك صدقہ جاریہ ہےالحدیث(ت)
درمختار مع شامی مطبع استنبول جلد سوم ص۵۵۴:
العتق والوقف والاضحیۃ ایضا عبادات ۔
وقف عتق اور قربانی بھی عبادات ہیں۔(ت)
ہدایہ مع فتح القدیر مطبع مصر جلد پنجم ص۵۷:
الوقف ازالۃ الملك الی اﷲ تعالی علی وجہ القربۃ ۔
اپنی ملکیت کو عبادت کے طور پر زائل کرنا اﷲ تعالی کے لئے اس کو وقف کہتے ہیں(ت)
فتح القدیر جلد مذکور ص۵۷
محاسن الوقف ظاہرۃ لما فیہ من ادامۃ العمل الصلاح کمافی الحدیث المعروف اذا مات ابن ادم انقطع عملہ الامن ثلث صدقۃ جاریۃ الحدیث۔
وقف کے محاسن ظاہر ہیں کہ اس میں نیك عمل کا دوام ہے جیسا کہ معروف حدیث میں ہے کہ انسان کے فوت ہونے پر اس کے عمل تین کے ماسوا سب منقطع ہوجاتے ہیں ان میں ایك صدقہ جاریہ ہےالحدیث(ت)
درمختار مع شامی مطبع استنبول جلد سوم ص۵۵۴:
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۵۸
الھدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیہ کراچی ۲ /۶۲۳
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۱۶
الھدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیہ کراچی ۲ /۶۲۳
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۱۶
سببہ ارادۃ محبوب النفس فی الدنیا برالاحباب وفی الاخرۃ بالثواب یعنی بالنیۃ من اھلھا لانہ مباح بدلیل صحتہ من الکافر ۔
دنیا میں احباب سے بھلائی او رآخرت میں ثواب کیلئے نفس کو خوش کرنا اس کا سبب ہے یعنی ثواب کی نیت اہل نیت سے ورنہ مباح ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ وقف کرنا کافر کو بھی جائز ہے(ت)
ایضا صفحہ ۴۵۶ :
شرطہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ ۔
شرط یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں قربت ہو۔(ت)
فتاوی عالمگیری مطبع احمدی جلد سوم ص۱۱۴ :
بیان شرائط وقف منھا ان یکون قربۃ فی ذاتہ وعند المتصرف ۔
وقف کے شرائط کا بیان ایك شرط یہ ہے کہ فی نفسہ قربت ہو اور تصرف کرنے والے کے ہاں بھی قربت ہو(ت)
ردالمحتار جلد سوم ص۵۵۲:
فی النھر عن المحیط لو وقف علی الاغنیاء وحدھم لم یجز لانہ لیس بقربۃ امالو جعل اخرہ للفقراء فانہ یکون قربۃ فی الجملۃ ۔
نہر میں محیط سے منقول ہے اگر صرف اغنیاء کےلئے وقف ہو تو صحیح نہیں کیونکہ یہ قربت نہیں اگرآخر میں فقراء کے لئے کردیا تو فی الجملہ قربت ہوجائے گا۔(ت)
فتاوی ہندیہ جلد سوم ص۱۱۵:
لوجعل ذمی دارہ مسجداللمسلمین ثم مات یصیر میراثالورثتہ وھذاقول الکل کذافی جواھر الاخلاطی ولو جعل ذمی دارہ بیعۃ اوکنیسۃ اوبیت نار فی صحتہ ثم مات یصیر میراثا
اگر ذمی نے اپنے گھر کو مسلمانوں کےلئے مسجد بنایا پھر فوت ہوگیا تو وہ اس کے وارثوں کے لئے میراث ہوگی اور یہ سب کا قول ہے یونہی جواہر اخلاطی میں ہے اور اگر ذمی نے اپنا گھر بیعہ یا کنیسہ یا آتشکدہ اپنی تندرستی میں بنادیا پھر فوت ہوا تو میراث قرار پائے گا۔
دنیا میں احباب سے بھلائی او رآخرت میں ثواب کیلئے نفس کو خوش کرنا اس کا سبب ہے یعنی ثواب کی نیت اہل نیت سے ورنہ مباح ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ وقف کرنا کافر کو بھی جائز ہے(ت)
ایضا صفحہ ۴۵۶ :
شرطہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ ۔
شرط یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں قربت ہو۔(ت)
فتاوی عالمگیری مطبع احمدی جلد سوم ص۱۱۴ :
بیان شرائط وقف منھا ان یکون قربۃ فی ذاتہ وعند المتصرف ۔
وقف کے شرائط کا بیان ایك شرط یہ ہے کہ فی نفسہ قربت ہو اور تصرف کرنے والے کے ہاں بھی قربت ہو(ت)
ردالمحتار جلد سوم ص۵۵۲:
فی النھر عن المحیط لو وقف علی الاغنیاء وحدھم لم یجز لانہ لیس بقربۃ امالو جعل اخرہ للفقراء فانہ یکون قربۃ فی الجملۃ ۔
نہر میں محیط سے منقول ہے اگر صرف اغنیاء کےلئے وقف ہو تو صحیح نہیں کیونکہ یہ قربت نہیں اگرآخر میں فقراء کے لئے کردیا تو فی الجملہ قربت ہوجائے گا۔(ت)
فتاوی ہندیہ جلد سوم ص۱۱۵:
لوجعل ذمی دارہ مسجداللمسلمین ثم مات یصیر میراثالورثتہ وھذاقول الکل کذافی جواھر الاخلاطی ولو جعل ذمی دارہ بیعۃ اوکنیسۃ اوبیت نار فی صحتہ ثم مات یصیر میراثا
اگر ذمی نے اپنے گھر کو مسلمانوں کےلئے مسجد بنایا پھر فوت ہوگیا تو وہ اس کے وارثوں کے لئے میراث ہوگی اور یہ سب کا قول ہے یونہی جواہر اخلاطی میں ہے اور اگر ذمی نے اپنا گھر بیعہ یا کنیسہ یا آتشکدہ اپنی تندرستی میں بنادیا پھر فوت ہوا تو میراث قرار پائے گا۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۷
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۷
فتاوٰی ہندیۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۵۳
ردالمحتارکتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۵۷
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۷
فتاوٰی ہندیۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۵۳
ردالمحتارکتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۵۷
ھکذاذکر الخصاف فی وقفہ وھکذاذکر محمد من الزیادات کذافی المحیط (ملخصا)۔
یوں خصاف نے اپنے وقف اور امام محمد نے زیادات میں بیان کیا محیط میں ایسے ہی ہے(ملتقطا)(ت)
فتح القدیر جلد پنجم ص۳۸ و ردالمحتار جلد سوم ص۵۵۷ :
لووقف الذمی علی بیعۃ مثلا فاذا خربت یکون للفقراء کان للفقراء ابتداء ولولم یجعل اخرہ للفقراء کان میراثا عنہ نص علیہ الخصاف فی وقفہ ولم یحك خلافا ۔
اگر ذمی نے بیعہ (یہودی عبادت گاہ) کے لئے وقف کیا مثلا خرابہ ہوجانے پر فقراء کےلئے کہا تو وہ ابتداء سے فقراء کے لئے ہوگا اور اگر آخر میں (خرابہ کے وقت) فقراء کےلئے نہ کہتا تو پھر ورثاء کے لئے میراث بن جاتا اس کوخصاف نے اپنے اوقاف میں بیان کیا اور اس میں خلاف قول ذکر نہ کیا۔(ت)
عالمگیری جلد سوم ص۱۱۴ و اسعاف ص۱۱۹:
لوقال تجری غلتہا علی بیعۃکذافان خربت ھذہ البیعۃ کانت الغلۃ للفقراء والمساکین فانہ تجری غلتہا علی الفقراء والمساکین ولاینفق علی البیعۃ شیئ کذافی المحیط ۔
اگرذمی نے کہا کہ اس زمین کی آمدن فلاں بیعہ پر وقف ہے اور جب یہ بیعہ خرابہ بن جائے تو زمین کی آمدن فقراء ومساکین کےلئے جاری رہے گی تویہ آمدن شروع سے ہی فقراء ومساکین پر صرف ہوگی اور بیعہ پر کچھ بھی صرف نہ ہوگا محیط میں یونہی ہے(ت)
درمختار صفحہ۵۵۷ : ارتد المسلم بطل وقفہ (وقف کنندہ مسلمان مرتد ہوجائے تو ا سکا وقف باطل ہوجائیگا۔ت) رد المحتار صفحہ مذکورہ :
ویصیرمیراثا سواء قتل علی ردتہ اومات اوعادالی الاسلام الا ان اعادالوقف بعد عودہ الی الاسلام ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اور وہ وقف میراث قرار پائے گا خواہ ارتداد پر قتل ہوجائے یا طبعی موت مرجائے یا دوبارہ مسلمان ہوجائے مگر دوبارہ اسلام کی صورت میں اس وقف کو دوبارہ وقف کرے تو وقف رہے گا واﷲتعالی اعلم(ت)
یوں خصاف نے اپنے وقف اور امام محمد نے زیادات میں بیان کیا محیط میں ایسے ہی ہے(ملتقطا)(ت)
فتح القدیر جلد پنجم ص۳۸ و ردالمحتار جلد سوم ص۵۵۷ :
لووقف الذمی علی بیعۃ مثلا فاذا خربت یکون للفقراء کان للفقراء ابتداء ولولم یجعل اخرہ للفقراء کان میراثا عنہ نص علیہ الخصاف فی وقفہ ولم یحك خلافا ۔
اگر ذمی نے بیعہ (یہودی عبادت گاہ) کے لئے وقف کیا مثلا خرابہ ہوجانے پر فقراء کےلئے کہا تو وہ ابتداء سے فقراء کے لئے ہوگا اور اگر آخر میں (خرابہ کے وقت) فقراء کےلئے نہ کہتا تو پھر ورثاء کے لئے میراث بن جاتا اس کوخصاف نے اپنے اوقاف میں بیان کیا اور اس میں خلاف قول ذکر نہ کیا۔(ت)
عالمگیری جلد سوم ص۱۱۴ و اسعاف ص۱۱۹:
لوقال تجری غلتہا علی بیعۃکذافان خربت ھذہ البیعۃ کانت الغلۃ للفقراء والمساکین فانہ تجری غلتہا علی الفقراء والمساکین ولاینفق علی البیعۃ شیئ کذافی المحیط ۔
اگرذمی نے کہا کہ اس زمین کی آمدن فلاں بیعہ پر وقف ہے اور جب یہ بیعہ خرابہ بن جائے تو زمین کی آمدن فقراء ومساکین کےلئے جاری رہے گی تویہ آمدن شروع سے ہی فقراء ومساکین پر صرف ہوگی اور بیعہ پر کچھ بھی صرف نہ ہوگا محیط میں یونہی ہے(ت)
درمختار صفحہ۵۵۷ : ارتد المسلم بطل وقفہ (وقف کنندہ مسلمان مرتد ہوجائے تو ا سکا وقف باطل ہوجائیگا۔ت) رد المحتار صفحہ مذکورہ :
ویصیرمیراثا سواء قتل علی ردتہ اومات اوعادالی الاسلام الا ان اعادالوقف بعد عودہ الی الاسلام ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اور وہ وقف میراث قرار پائے گا خواہ ارتداد پر قتل ہوجائے یا طبعی موت مرجائے یا دوبارہ مسلمان ہوجائے مگر دوبارہ اسلام کی صورت میں اس وقف کو دوبارہ وقف کرے تو وقف رہے گا واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۵۳
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۵۳
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۷
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۰
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۵۳
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۷
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۰
مسئلہ۳۶: ازبنارس کچی باغ مرسلہ مولوی محمد ابراہیم صاحب خلف منشی لعل محمد تاجرپارچہ بنارس۴جمادی الاخری ۱۳۲۱ھ
ماقول العلماء ورثۃ الانبیاء جزاکم اﷲ تعالی یوم الجزاء اس مسئلہ میں کہ یہاں رواج ہے کہ ماہ ربیع الاول میں لوگوں سے محض بغرض ایصال ثواب روح پرفتوح حضرت نبی مکرم نور مجسم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمچندہ لیا جاتا ہے لوگ حسب استطاعت دیتے ہیں اس کا کھانا وغیرہ پکا کر مساکین وفقراء کو کھلایا جاتا ہے اب اس چندہ سے کچھ روپیہ کھانے وغیرہ کے پخت سے فاضل بچ گیا تو افسران ومہتممین کی صلاح ہوتی ہے کہ اس روپے فاضل سے دیگ آجانا چاہئے کیو نکہ ہر سال ۱۲ تاریخ ربیع الاول کو ضرورت پڑتی ہے اور بڑی تردد سے ملتی ہے کبھی مستعار کبھی کرائے پر اور اس روپے سے آجائے گی تو ہمیشہ کے واسطے آرام ہوگا معہذا یہ رائے بھی ہے کہ جس کو ضرورت دیگ کی پڑے گی اس کو کرائے پر دی جائے گی اور وہ کرایہ کی آمدنی مدرسہ میں طالب علم کی حاجتوں میں صرف کی جائے لیکن افسران مختلف ہیں جواز وعدم جواز میںلہذا علماء سے مستفسر ہیں کہ اس طرح جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
ایسے چندوں سے جو روپیہ فاضل بچے وہ چندہ دہندگان کا ہے انہیں کی طرف رجوع لازم ہے وہ دیگ وغیرہ جس امر کی اجازت دیں وہی کیا جائے ان میں جو نہ رہے اس کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کی جائے اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصص کے قدر میں معتبر ہوگی صبی ومجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا او راگر وارث بھی نہ معلوم ہوں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا اسی میں صرف کریں وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں غرض بے اجازت مالکان دیگ لینے کی اجازت نہیں درمختار میں ہے:
ان لم یکن بیت المال معمورا اومنتظما فعلی المسلمین تکفینہ فان لم یقدرواسألواالناس لہ ثوبا فان فضل شیئ ردللمتصدق ان علم والاکفن بہ مثلہ والا تصدق بہ مجتبی ۔
اگر بیت المال میں مال نہ ہو یا کوئی منتظم نہ ہوتو مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کو کفن پہنائیں اور اگر کوئی قادر نہ ہو تو لوگوں سے چندہ لیا جائے اور کفن کے چندہ سے کچھ بچ جائے تو یہ چندہ لینے والا معلوم ہوتو اسے لوٹا دیا جائے ورنہ اس سے ایسے ہی کسی فقیر کو کفن پہنادیا جائے یہ بھی نہ ہوسکے تو کسی فقیر کو صدقہ کردیاجائےمجتبی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ماقول العلماء ورثۃ الانبیاء جزاکم اﷲ تعالی یوم الجزاء اس مسئلہ میں کہ یہاں رواج ہے کہ ماہ ربیع الاول میں لوگوں سے محض بغرض ایصال ثواب روح پرفتوح حضرت نبی مکرم نور مجسم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمچندہ لیا جاتا ہے لوگ حسب استطاعت دیتے ہیں اس کا کھانا وغیرہ پکا کر مساکین وفقراء کو کھلایا جاتا ہے اب اس چندہ سے کچھ روپیہ کھانے وغیرہ کے پخت سے فاضل بچ گیا تو افسران ومہتممین کی صلاح ہوتی ہے کہ اس روپے فاضل سے دیگ آجانا چاہئے کیو نکہ ہر سال ۱۲ تاریخ ربیع الاول کو ضرورت پڑتی ہے اور بڑی تردد سے ملتی ہے کبھی مستعار کبھی کرائے پر اور اس روپے سے آجائے گی تو ہمیشہ کے واسطے آرام ہوگا معہذا یہ رائے بھی ہے کہ جس کو ضرورت دیگ کی پڑے گی اس کو کرائے پر دی جائے گی اور وہ کرایہ کی آمدنی مدرسہ میں طالب علم کی حاجتوں میں صرف کی جائے لیکن افسران مختلف ہیں جواز وعدم جواز میںلہذا علماء سے مستفسر ہیں کہ اس طرح جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
ایسے چندوں سے جو روپیہ فاضل بچے وہ چندہ دہندگان کا ہے انہیں کی طرف رجوع لازم ہے وہ دیگ وغیرہ جس امر کی اجازت دیں وہی کیا جائے ان میں جو نہ رہے اس کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کی جائے اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصص کے قدر میں معتبر ہوگی صبی ومجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا او راگر وارث بھی نہ معلوم ہوں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا اسی میں صرف کریں وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں غرض بے اجازت مالکان دیگ لینے کی اجازت نہیں درمختار میں ہے:
ان لم یکن بیت المال معمورا اومنتظما فعلی المسلمین تکفینہ فان لم یقدرواسألواالناس لہ ثوبا فان فضل شیئ ردللمتصدق ان علم والاکفن بہ مثلہ والا تصدق بہ مجتبی ۔
اگر بیت المال میں مال نہ ہو یا کوئی منتظم نہ ہوتو مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کو کفن پہنائیں اور اگر کوئی قادر نہ ہو تو لوگوں سے چندہ لیا جائے اور کفن کے چندہ سے کچھ بچ جائے تو یہ چندہ لینے والا معلوم ہوتو اسے لوٹا دیا جائے ورنہ اس سے ایسے ہی کسی فقیر کو کفن پہنادیا جائے یہ بھی نہ ہوسکے تو کسی فقیر کو صدقہ کردیاجائےمجتبی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References
درمختار باب صلوٰۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۱
(قولہ والاکفن بہ مثلہ) ھذالم یذکرہ فی المجتبی بل زادہ علیہ فی البحر عن التجنیس و الواقعات قلت وفی مختارات النوازل لصاحب الھدایۃ فقیر مات فجمع من الناس الدراھم وکفنوہ وفضل شیئ ان عرف صاحبہ یرد علیہ والایصرف الی کفن فقیر اخر اویتصدق بہ ۔ ماتن کا قول کہ اسی جیسے فقیرکو کفن پہنادیاجائے یہ عبارت مجتبی میں مذکور نہیں بلکہ یہ زائد بحرمیں تجنیس اور واقعات ے حوالے سے مذکور ہے میں کہتا ہوں اور صاحب ہدایہ کی کتاب مختارات النوازل میں ہے کہ فقیر فوت ہوا تو لوگوں نے چندہ جمع کرکے اس کو کفن دیا اور چندہ بچ گیا اگر اس زائد چندہ والا شخص معلوم ہوتو اسے واپس کیا جائے ورنہ اس کو کسی دوسرے فقیر کے کفن میں خرچ کیاجائے یا پھر صدقہ کردیا جائے(ت)
اسی طرح اور کتب میں ہے:
قلت واشارفی ردالمحتار بنقل عبارت المختارات الی انہ لم یذکر الترتیب بین التکفین والتصدق علی مافی الشرح اقول: لکن فی الخانیۃ ثم الھندیۃ ان عرف صاحب الفضل ردہ علیہ وان لم یعرف کفن بہ محتاجا اخر وان لم یقدر علی صرفہ الی الکفن یتصدق بہ علی الفقراء اھ ۔فھذانص فی الترتیب و لاشك ان باختیارہ یخرج عن العھدۃ بیقین ثم ھذا وان لم یکن وقفا فلہ شبہ بہ ولاشك ان مراعاۃ غرض المالك املك واحکم فلذاعولنا علیہ واﷲ تعالی اعلم۔
قلت (میں کہتا ہوں) ردالمحتار میں مختارات کی عبارت نقل کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ کسی فقیرکو کفن پہنانے یا صدقہ کرنے میں ترتیب مذکور نہیں ہے جیسا کہ شرح میں ہےاقول:(میں کہتا ہوں) لیکن خانیہ پھر ہندیہ میں ہے کہ اگر زائد چندے والا معلوم ہوتو اسے واپس کیا جائے اور اگر معلوم نہ ہوتو پھر کسی اور محتاج کو کفن دیا جائے اور اگر کسی کفن میں صرف کرنا مقدور نہ ہوتو پھر فقراء پر صدقہ کیا جائے اھ تو یہ عبارت ترتیب کےلئے نص ہے اس میں شك نہیں کہ اس ترتیب کو اپنانے سے یقینا عہدہ بر آہوسکتا ہے پھر یہ اگرچہ وقف نہیں تو اس کے مشابہ ہے اور اس میں شك نہیں کہ چندہ دینے والے مالك کی غرض کو پورا کرنا زیادہ محکم ہے اس لئے ہم نے اس ترتیب کو قابل اعتماد قرار دیا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
اسی طرح اور کتب میں ہے:
قلت واشارفی ردالمحتار بنقل عبارت المختارات الی انہ لم یذکر الترتیب بین التکفین والتصدق علی مافی الشرح اقول: لکن فی الخانیۃ ثم الھندیۃ ان عرف صاحب الفضل ردہ علیہ وان لم یعرف کفن بہ محتاجا اخر وان لم یقدر علی صرفہ الی الکفن یتصدق بہ علی الفقراء اھ ۔فھذانص فی الترتیب و لاشك ان باختیارہ یخرج عن العھدۃ بیقین ثم ھذا وان لم یکن وقفا فلہ شبہ بہ ولاشك ان مراعاۃ غرض المالك املك واحکم فلذاعولنا علیہ واﷲ تعالی اعلم۔
قلت (میں کہتا ہوں) ردالمحتار میں مختارات کی عبارت نقل کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ کسی فقیرکو کفن پہنانے یا صدقہ کرنے میں ترتیب مذکور نہیں ہے جیسا کہ شرح میں ہےاقول:(میں کہتا ہوں) لیکن خانیہ پھر ہندیہ میں ہے کہ اگر زائد چندے والا معلوم ہوتو اسے واپس کیا جائے اور اگر معلوم نہ ہوتو پھر کسی اور محتاج کو کفن دیا جائے اور اگر کسی کفن میں صرف کرنا مقدور نہ ہوتو پھر فقراء پر صدقہ کیا جائے اھ تو یہ عبارت ترتیب کےلئے نص ہے اس میں شك نہیں کہ اس ترتیب کو اپنانے سے یقینا عہدہ بر آہوسکتا ہے پھر یہ اگرچہ وقف نہیں تو اس کے مشابہ ہے اور اس میں شك نہیں کہ چندہ دینے والے مالك کی غرض کو پورا کرنا زیادہ محکم ہے اس لئے ہم نے اس ترتیب کو قابل اعتماد قرار دیا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب صلوٰۃ الجنازۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۸۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصلوٰۃ الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۶۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصلوٰۃ الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۶۱
مسئلہ۳۷: ازبریلی محلہ بہاری پور مسئولہ محمد علی جان خاں صاحب ۸رجب المرجب ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ مسمی کرامت علی ونیاز علی واقع تکیہ ملوکپور کے خادم تھے جنہوں نے کچھ اراضی مسمی قادر بخش کے پاس بمیعادتیس سال کے بیع بالوفاء کردی جو بعد انقضا ء میعاد مذکورہ بالا کے شیخ مذکور کے قبضہ میں اس بیعنامہ کے ذریعہ سے آگئی چنانچہ شیخ مذکور کی قبر اور ان کے بزرگان کی قبریں بھی اسمیں بنیں بعدہ تخمینا عرصہ سینتالیس سال کا ہوا کہ از جانب سرکار انگریزی تکیہ ہذا میں مردوں کے دفن کرنے کی ممانعت ہوگئی اب وہ اراضی بیکار پڑی ہے اوراس کی صفائی کا کچھ انتظام نہ تھا اس واسطے جملہ مسلمانان محلہ نے شیخ یاد علی وارث قادر بخش سے اس اراضی کا بیعنامہ مسجد کے نام جو اس کے محاذ میں واقع ہے صرف سڑك انگریزی درمیان میں واقع ہے لکھا لیا اور بعد لکھا نے بیعنامہ کے باجازت سرکار انگریزی اس اراضی کو پختہ منڈیروں سے محدود کرکے اس کے اوپر کرایہ دار کو بٹھادیا اور اس سے جو کرایہ حاصل ہوا اس کو مسجد کی مرمت وغیرہ میں صرف کیا اور وقت محدود کرنے اراضی کے اس کو ہموار کردیا تھا اب اس کے محاصل کا مسجد میں صرف کرنا جائز ہے یاناجائزبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر وہ زمین ان تکیہ داروں کی ملك نہ تھی بلکہ قبرستان عام مسلمین کی وقفی زمین تھی تو وہ بیعیں سب ناجائز ہوئیں اور بذریعہ بیع یہ صورت جو اسے متعلق مسجد کرلینے کی ہے یہ بھی ناجائز ہوئی اس میں جو قبور تھیں انہیں منہدم وہموار کرکے ان پر چلنا پھر نا سب ناجائز البتہ جو زمین اس میں قبور سے جدا تھی وہ ازانجا کہ اب وہاں دفن ممکن نہ رہا ملك اصل واقف کی طرف عود کرگئی اس کے ورثہ کو اختیار ہے ان کی اجازت سے اس قدر کو متعلق مسجد کرسکتے ہیں اور واقف نہ معلوم ہو یا ورثہ کا پتا نہیں تو مسلمانوں کا یہ فعل باستثناء مواضع قبور ممنوع نہیں واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۳۸ تا ۴۱:مسئولہ حافظ قاضی تلن خاں عرف میزان اللہ شاہ اشرفی امام ومدرس مسجد مولوی ٹولہ شہر کہنہ ۵شوال ۱۳۳۳ھ
ایك شخص کےپاس دوسو روپے امانت مسجد کا تھا کہ جس کو بلا اجازت متولی اس نے عدالت سے وصولی کرلیا تھا اور بوجہ اس کے سربرآوردہ ہونے کے متولی نے طلب اس سے نہیں کی اور جب طلب کیا تو جواب دیا کہ جس کام میں میری رائے ہوگی صرف کردوں گا چنانچہ اب اس شخص نے متصل اسی مسجد کے حجرہ کے اراضی افتادہ میں اپنا ذاتی ایك چبوترہ تعمیر کرلیا اور یہ خیال کہ اس چبوترہ کی آڑ دیوار حجرہ سے ہے اور ا س چبوترہ کے آگے بھی اراضی افتادہ ہے جس میں تین پرنالہ مسجد کے قدیم سے جاری ہیں اس اراضی کی بھی آڑ مسجد سے ہوجاوے پس ایك پاکھا فصیل مسجد پر بنانے کا ارادہ کیا چونکہ وہ تعمیر بلا ضرورت دیوار مسجد پر تھی لہذا یہ ظاہرکیا کہ مرمت مسجد کرائی جاوے
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ مسمی کرامت علی ونیاز علی واقع تکیہ ملوکپور کے خادم تھے جنہوں نے کچھ اراضی مسمی قادر بخش کے پاس بمیعادتیس سال کے بیع بالوفاء کردی جو بعد انقضا ء میعاد مذکورہ بالا کے شیخ مذکور کے قبضہ میں اس بیعنامہ کے ذریعہ سے آگئی چنانچہ شیخ مذکور کی قبر اور ان کے بزرگان کی قبریں بھی اسمیں بنیں بعدہ تخمینا عرصہ سینتالیس سال کا ہوا کہ از جانب سرکار انگریزی تکیہ ہذا میں مردوں کے دفن کرنے کی ممانعت ہوگئی اب وہ اراضی بیکار پڑی ہے اوراس کی صفائی کا کچھ انتظام نہ تھا اس واسطے جملہ مسلمانان محلہ نے شیخ یاد علی وارث قادر بخش سے اس اراضی کا بیعنامہ مسجد کے نام جو اس کے محاذ میں واقع ہے صرف سڑك انگریزی درمیان میں واقع ہے لکھا لیا اور بعد لکھا نے بیعنامہ کے باجازت سرکار انگریزی اس اراضی کو پختہ منڈیروں سے محدود کرکے اس کے اوپر کرایہ دار کو بٹھادیا اور اس سے جو کرایہ حاصل ہوا اس کو مسجد کی مرمت وغیرہ میں صرف کیا اور وقت محدود کرنے اراضی کے اس کو ہموار کردیا تھا اب اس کے محاصل کا مسجد میں صرف کرنا جائز ہے یاناجائزبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر وہ زمین ان تکیہ داروں کی ملك نہ تھی بلکہ قبرستان عام مسلمین کی وقفی زمین تھی تو وہ بیعیں سب ناجائز ہوئیں اور بذریعہ بیع یہ صورت جو اسے متعلق مسجد کرلینے کی ہے یہ بھی ناجائز ہوئی اس میں جو قبور تھیں انہیں منہدم وہموار کرکے ان پر چلنا پھر نا سب ناجائز البتہ جو زمین اس میں قبور سے جدا تھی وہ ازانجا کہ اب وہاں دفن ممکن نہ رہا ملك اصل واقف کی طرف عود کرگئی اس کے ورثہ کو اختیار ہے ان کی اجازت سے اس قدر کو متعلق مسجد کرسکتے ہیں اور واقف نہ معلوم ہو یا ورثہ کا پتا نہیں تو مسلمانوں کا یہ فعل باستثناء مواضع قبور ممنوع نہیں واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۳۸ تا ۴۱:مسئولہ حافظ قاضی تلن خاں عرف میزان اللہ شاہ اشرفی امام ومدرس مسجد مولوی ٹولہ شہر کہنہ ۵شوال ۱۳۳۳ھ
ایك شخص کےپاس دوسو روپے امانت مسجد کا تھا کہ جس کو بلا اجازت متولی اس نے عدالت سے وصولی کرلیا تھا اور بوجہ اس کے سربرآوردہ ہونے کے متولی نے طلب اس سے نہیں کی اور جب طلب کیا تو جواب دیا کہ جس کام میں میری رائے ہوگی صرف کردوں گا چنانچہ اب اس شخص نے متصل اسی مسجد کے حجرہ کے اراضی افتادہ میں اپنا ذاتی ایك چبوترہ تعمیر کرلیا اور یہ خیال کہ اس چبوترہ کی آڑ دیوار حجرہ سے ہے اور ا س چبوترہ کے آگے بھی اراضی افتادہ ہے جس میں تین پرنالہ مسجد کے قدیم سے جاری ہیں اس اراضی کی بھی آڑ مسجد سے ہوجاوے پس ایك پاکھا فصیل مسجد پر بنانے کا ارادہ کیا چونکہ وہ تعمیر بلا ضرورت دیوار مسجد پر تھی لہذا یہ ظاہرکیا کہ مرمت مسجد کرائی جاوے
چنانچہ اسی مرمت میں یہ تجویز خودکیا کہ پیش حجرہ ٹین ڈالا جاوے جس کے واسطے پاکھوں کی ضرورت ہے چنانچہ دونوں طرف حجروں کے فصیل پر پاکھے بنوائے گئے او ان کو بغرض حفاظت اراضی افتادہ بند کرنا چاہا تاکہ کوئی وضو فصیل پر نہ کرسکے جس کے مسلمان حارج ہوئے مگرکچھ نہ مانا ایك بہت اونچی جگہ پر کسی قدر ان پاکھوں کو کھولا اور ٹین پیش ہر دو حجرہ ڈلوادیا اور دوسو روپیہ اس تعمیر میں صرف کردئے۔ مسلمانوں کی رائے تھی کہ اور کچھ چندہ فراہم کرکے ایك مکان تعمیر ہوجاتا کہ جس کی آمدنی خرچ وصرف مسجد کوکافی ہوتی یہ رقم دو سو پچاس کی تھی جس میں اب صرف پچاس روپیہ انہیں کی تحویل میں باقی رہے ہیں لہذا تعمیرمکان اب دشوار ہوگئی
(۱) ایسی حالت میں یہ روپیہ بجا صرف ہوایا بےجا
(۲) اور مواخذہ دار اس کا عنداللہ وہ رہا یانہیں
(۳) اور متولی مسجد سے رسید اس روپے کی طلب کرتا ہے تو رسید دینا چاہئے یانہیں جبکہ بلامشورہ ورائے یہ روپیہ صرف ہوا مرمت مسجد میں اگر صرف بہ انتظام ہوتا تو (صہ /) سے زائد نہ صرف ہوتا اب ڈیڑھ سوروپیہ صرف دونوں طرف کے پاکھے اورٹین اور فضولیات میں صرف ہوگیا جس کی اس وقت مسجد کوکوئی ضرورت نہ تھی او ر۸ سال تك یہ روپیہ اس نے اپنے قبضہ میں رکھا
(۴) اور دونوں جانب کے در فصیل کھلوادینے چاہئیں یانہیں کیونکہ ہوا بالکل مسدود ہے اور آرام نمازیوں اور وضو کاجاتا رہا جو حکم شرع ہو وہ کیا جاوے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱) شخص مذکور کے یہ تصرفات محض ناجائز وباطل ہیں۔
(۲) روپے کا تاوان اس پر لازم ہے۔
(۳) متولی مسجد کو حرام ہے کہ اسے رسید دے۔
(۴) دونوں طرف کے دربدستور کھول دئے جائیں کہ ہوااور وضو کاآرام ہو
فی الدرالمختار والبحرالرائق والاشباہ والنظائر وغیر ھا التصریح بان المتولی مقدم علی القاضی وان کان منصوبہ فکیف بالاجنبی فکیف فی اضاعۃ المال وسد المرافق واﷲتعالی اعلم۔
درمختار بحرالرائق الاشباہ والنظائر وغیرہا میں تصریح ہے کہ متولی قاضی پر مقدم ہے اگرچہ متولی اسی قاضی کا بنایا ہوا ہو تو اجنبی کا کیا مقام ہے تو مال کاضیاع اور مفادات پر پابندی کا کیا سوال ہےواﷲ تعالی اعلم(ت)
(۱) ایسی حالت میں یہ روپیہ بجا صرف ہوایا بےجا
(۲) اور مواخذہ دار اس کا عنداللہ وہ رہا یانہیں
(۳) اور متولی مسجد سے رسید اس روپے کی طلب کرتا ہے تو رسید دینا چاہئے یانہیں جبکہ بلامشورہ ورائے یہ روپیہ صرف ہوا مرمت مسجد میں اگر صرف بہ انتظام ہوتا تو (صہ /) سے زائد نہ صرف ہوتا اب ڈیڑھ سوروپیہ صرف دونوں طرف کے پاکھے اورٹین اور فضولیات میں صرف ہوگیا جس کی اس وقت مسجد کوکوئی ضرورت نہ تھی او ر۸ سال تك یہ روپیہ اس نے اپنے قبضہ میں رکھا
(۴) اور دونوں جانب کے در فصیل کھلوادینے چاہئیں یانہیں کیونکہ ہوا بالکل مسدود ہے اور آرام نمازیوں اور وضو کاجاتا رہا جو حکم شرع ہو وہ کیا جاوے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱) شخص مذکور کے یہ تصرفات محض ناجائز وباطل ہیں۔
(۲) روپے کا تاوان اس پر لازم ہے۔
(۳) متولی مسجد کو حرام ہے کہ اسے رسید دے۔
(۴) دونوں طرف کے دربدستور کھول دئے جائیں کہ ہوااور وضو کاآرام ہو
فی الدرالمختار والبحرالرائق والاشباہ والنظائر وغیر ھا التصریح بان المتولی مقدم علی القاضی وان کان منصوبہ فکیف بالاجنبی فکیف فی اضاعۃ المال وسد المرافق واﷲتعالی اعلم۔
درمختار بحرالرائق الاشباہ والنظائر وغیرہا میں تصریح ہے کہ متولی قاضی پر مقدم ہے اگرچہ متولی اسی قاضی کا بنایا ہوا ہو تو اجنبی کا کیا مقام ہے تو مال کاضیاع اور مفادات پر پابندی کا کیا سوال ہےواﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الوقف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۲۳۵
مسئلہ۴۲ :کریم الدین واقف نے بحیثیت متولی کام نہیں کیا بلکہ مالکانہ جب سے وقف کیا جس کو عرصہ پندرہ سال کا ہوا کرتے رہے سیر اس میں کی (مہ معہ /)بیگھ زمین خود کاشت میں رکھی جو اعلی درجہ کی ہے اور کبھی اس کا لگان درج نہیں ہوا اخراجات جو لکھے ہیں چند نشان میں کبھی نہیں کی متولی بدلنے کی کہیں شرط نہیں جس صورت میں خود واقف جو متولی ہوا وہ حسب شرائط کار بندنہ ہوا پھر وقف کب ہوا مکرر یہ کہ اس نے اندراج وقف کاکاغذات پٹواری میں نہیں کرایا یہ ایك شرط اس نے اپنے ذمے لازم رکھی تھی۔
الجواب:
وقف میں کریم الدین کے لفظ صاف و بے تقیید مطلق ہیں کہ وقف دائمی کیا میں نے اور خود اپنے آپ کو متولی کیا وقف صحیح وتام ولازم ہوگیا جس کی تبدیل ناممکن ہے بعد کواگر اس نے قبضہ مالکانہ کیا ہو اور جتنی باتیں سائل نے ظاہر کیں سب سچ ہوں بلکہ بالفرض اس نے صراحۃ دعوی دائر کردیا ہو کہ میں مالك ہوں یہ وقف نہیں ہے جب بھی وقف کو آنچ نہیں پہنچ سکتی بلکہ خود اس کی خیانت ظاہر ہوتی اور واجب ہوتا کہ وقف اس سے نکال کر دوسرے کے سپرد کیا جائے نہ یہ کہ اس سے وقف باطل ہوجائے یہ نری جہالت و ضلالت ہے۔ درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا بزازیۃ لوالواقف درر فغیرہ بالاولی غیرمامون ۔
جبرا معزول کرنا واجب ہے بزازیہ اگرچہ واقف ہی ہو درر۔تو غیر شخص جو قابل اعتماد نہ ہو اس کو بطریق اولی معزول کیا جائے گا۔(ت)
شرائط کی پابندی اس پر لازم تھی کہ اگر نہ کی گنہگار ہوانہ کہ وقف ہی جاتا رہا وقف کے بعد واقف صرف ایك متولی کی حیثیت میں رہتا ہے نہ کہ مالك یا ابطال وقف پر قادر۔ کیا متولی اگر خلاف شرائط کرے تو شیئ وقف سے نکل جائے گی ایسا خیال نرے احمق بے ادراك کا خیال ہے دربارہ متولی واقف کو ایسی صورت میں ضرور تبدیل کا اختیار ہوتا ہے اگرچہ وقت وقف یا وقف نامہ میں بدلنے کی کوئی شرط نہ کی ہو۔بحرالرائق میں ہے:
التولیۃ من الواقف خارجۃ عن حکم سائر الشرائط لان لہ فیہا التغییر والتبدیل کلما بدالہ من غیر شرط۔
متولی بنانا واقف کی تمام شرائط سے الگ معاملہ ہے کیونکہ واقف جب چاہے بغیر شرط بیان کئے بھی متولی کو تبدیل کرسکتا ہے۔(ت)
الجواب:
وقف میں کریم الدین کے لفظ صاف و بے تقیید مطلق ہیں کہ وقف دائمی کیا میں نے اور خود اپنے آپ کو متولی کیا وقف صحیح وتام ولازم ہوگیا جس کی تبدیل ناممکن ہے بعد کواگر اس نے قبضہ مالکانہ کیا ہو اور جتنی باتیں سائل نے ظاہر کیں سب سچ ہوں بلکہ بالفرض اس نے صراحۃ دعوی دائر کردیا ہو کہ میں مالك ہوں یہ وقف نہیں ہے جب بھی وقف کو آنچ نہیں پہنچ سکتی بلکہ خود اس کی خیانت ظاہر ہوتی اور واجب ہوتا کہ وقف اس سے نکال کر دوسرے کے سپرد کیا جائے نہ یہ کہ اس سے وقف باطل ہوجائے یہ نری جہالت و ضلالت ہے۔ درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا بزازیۃ لوالواقف درر فغیرہ بالاولی غیرمامون ۔
جبرا معزول کرنا واجب ہے بزازیہ اگرچہ واقف ہی ہو درر۔تو غیر شخص جو قابل اعتماد نہ ہو اس کو بطریق اولی معزول کیا جائے گا۔(ت)
شرائط کی پابندی اس پر لازم تھی کہ اگر نہ کی گنہگار ہوانہ کہ وقف ہی جاتا رہا وقف کے بعد واقف صرف ایك متولی کی حیثیت میں رہتا ہے نہ کہ مالك یا ابطال وقف پر قادر۔ کیا متولی اگر خلاف شرائط کرے تو شیئ وقف سے نکل جائے گی ایسا خیال نرے احمق بے ادراك کا خیال ہے دربارہ متولی واقف کو ایسی صورت میں ضرور تبدیل کا اختیار ہوتا ہے اگرچہ وقت وقف یا وقف نامہ میں بدلنے کی کوئی شرط نہ کی ہو۔بحرالرائق میں ہے:
التولیۃ من الواقف خارجۃ عن حکم سائر الشرائط لان لہ فیہا التغییر والتبدیل کلما بدالہ من غیر شرط۔
متولی بنانا واقف کی تمام شرائط سے الگ معاملہ ہے کیونکہ واقف جب چاہے بغیر شرط بیان کئے بھی متولی کو تبدیل کرسکتا ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
بحرالرائق کتاب الوقف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۲۳۱
بحرالرائق کتاب الوقف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۲۳۱
تو بعد کو جوا قرار نامہ اس نے دربارہ تولیت لکھا اسی پر عمل درآمد واجب ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۳تا۴۵: ازبہار شریف ضلع پٹنہ ڈاکخانہ سوہ سرائے محلہ مغل کنواں مکان شیخ بہادر مہتو مرسلہ مولوی امیر حسن صاحب ۲۱ذی الحجہ ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہل سنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے وفات سے تیرہ برس پہلے اپنی جائداد کو وقف کرکے بشہادت معززین شہر ایك وثیقہ لکھوا کر حاکم وقت کی کچہری میں باضابطہ تعمیل کرادیا بعدتیرہ سال کے مرض موت میں دوسرا وثیقہ مخالف شروط وثیقہ اول لکھوایا اور دو چار پہر کے بعد قضا کرگئی چونکہ ہندہ سنیہ حنفیہ تھی لہذا فقہ حنفیہ کی معتبرہ ومشہور کتابوں سے قول مفتی بہ وصحیح کے ساتھ میرے سوالات مفصلہ ذیل کا جواب مرحمت ہو:
(۱) وثیقہ اول کی ترمیم وشروط بدلنے کا ہندہ کا اختیار تھا یانہیں
(۲) مرض موت کے وقف کا کیا حکم ہے
(۳) وثیقہ ثانی صحیح ہے یا باطل بینواتوجروا المستفتی عبداللہ
الجواب:
عامہ عــــــہ۱ شرائط معتبرہ عــــــہ۲ کا اختیار شرع مطہر نے واقف کو صرف انشائے وقف کے وقت دیا ہے مثلا جسے چاہے اس کا مصرف بنائے جسے چاہے اس سے جدا رکھے جسے جتنا چاہے دینا بتائے جس وقت یا حالت یا صفت کے ساتھ چاہے مقید کر دے جو ترتیب چاہے مقرر کرے جب تك اس انشاء میں ہے مختار ہے وقف تمام ہوتے ہی وہ تمام شروط مثل وقف لازم ہوجاتی ہیں کہ جس طرح وقف سے پھرنے یا اس کے بدلنے کا اسے اختیار نہیں رہتا یونہی ان میں سے کسی شرط سے رجوع یا اس کی تبدیل یا اس میں کمی بیشی نہیں کرسکتا ہاں اگر انشاہی کے وقت شرط لگادی تھی کہ مجھے ان تمام شروط یا خاص فلاں شرط میں تبدیل کا اختیار ہوگا تو جس شرط کے لئے بالتصریح یہ شرط کرلی تھی
عــــــہ۱: انما قال عامۃ لان التولیۃ خارجۃ عن ھذا الحکم فلہ التغییر فیہا کلما شاء ولولم یشرط شیئا کما فی البحر وقد تقدم فی فتاونا غیرمرۃ۱۲منہ(م)
عــــــہ۲: قید بالمعتبرۃ لان الشرط الباطل باطل مطلقا لاتقبل حین الانشاء ولابعدہ ۱۲منہ۔
"عا مہ" کا لفظ اس لئے کہا کیونکہ تولیت کا معاملہ اس حکم سے خارج ہے لہذا واقف کو جب چاہے متولی میں تبدیلی کا حق ہے اگرچہ اس کی شرط نہ لگائی ہو جیسا کہ بحرمیں ہے اور متعدد بار ہمارے فتاوی میں گزرچکا ہے ۱۲منہ(ت)
معتبر شرائط سے کہا کیونکہ باطل شرط ہو تو مطلقا باطل ہے وقف کرتے وقت لگائی گئی ہو یا بعد میں لگائی گئی ہو ۱۲منہ(ت)
مسئلہ۴۳تا۴۵: ازبہار شریف ضلع پٹنہ ڈاکخانہ سوہ سرائے محلہ مغل کنواں مکان شیخ بہادر مہتو مرسلہ مولوی امیر حسن صاحب ۲۱ذی الحجہ ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہل سنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے وفات سے تیرہ برس پہلے اپنی جائداد کو وقف کرکے بشہادت معززین شہر ایك وثیقہ لکھوا کر حاکم وقت کی کچہری میں باضابطہ تعمیل کرادیا بعدتیرہ سال کے مرض موت میں دوسرا وثیقہ مخالف شروط وثیقہ اول لکھوایا اور دو چار پہر کے بعد قضا کرگئی چونکہ ہندہ سنیہ حنفیہ تھی لہذا فقہ حنفیہ کی معتبرہ ومشہور کتابوں سے قول مفتی بہ وصحیح کے ساتھ میرے سوالات مفصلہ ذیل کا جواب مرحمت ہو:
(۱) وثیقہ اول کی ترمیم وشروط بدلنے کا ہندہ کا اختیار تھا یانہیں
(۲) مرض موت کے وقف کا کیا حکم ہے
(۳) وثیقہ ثانی صحیح ہے یا باطل بینواتوجروا المستفتی عبداللہ
الجواب:
عامہ عــــــہ۱ شرائط معتبرہ عــــــہ۲ کا اختیار شرع مطہر نے واقف کو صرف انشائے وقف کے وقت دیا ہے مثلا جسے چاہے اس کا مصرف بنائے جسے چاہے اس سے جدا رکھے جسے جتنا چاہے دینا بتائے جس وقت یا حالت یا صفت کے ساتھ چاہے مقید کر دے جو ترتیب چاہے مقرر کرے جب تك اس انشاء میں ہے مختار ہے وقف تمام ہوتے ہی وہ تمام شروط مثل وقف لازم ہوجاتی ہیں کہ جس طرح وقف سے پھرنے یا اس کے بدلنے کا اسے اختیار نہیں رہتا یونہی ان میں سے کسی شرط سے رجوع یا اس کی تبدیل یا اس میں کمی بیشی نہیں کرسکتا ہاں اگر انشاہی کے وقت شرط لگادی تھی کہ مجھے ان تمام شروط یا خاص فلاں شرط میں تبدیل کا اختیار ہوگا تو جس شرط کے لئے بالتصریح یہ شرط کرلی تھی
عــــــہ۱: انما قال عامۃ لان التولیۃ خارجۃ عن ھذا الحکم فلہ التغییر فیہا کلما شاء ولولم یشرط شیئا کما فی البحر وقد تقدم فی فتاونا غیرمرۃ۱۲منہ(م)
عــــــہ۲: قید بالمعتبرۃ لان الشرط الباطل باطل مطلقا لاتقبل حین الانشاء ولابعدہ ۱۲منہ۔
"عا مہ" کا لفظ اس لئے کہا کیونکہ تولیت کا معاملہ اس حکم سے خارج ہے لہذا واقف کو جب چاہے متولی میں تبدیلی کا حق ہے اگرچہ اس کی شرط نہ لگائی ہو جیسا کہ بحرمیں ہے اور متعدد بار ہمارے فتاوی میں گزرچکا ہے ۱۲منہ(ت)
معتبر شرائط سے کہا کیونکہ باطل شرط ہو تو مطلقا باطل ہے وقف کرتے وقت لگائی گئی ہو یا بعد میں لگائی گئی ہو ۱۲منہ(ت)
اسی کو بدل سکے گا پھر اسے بھی ایك ہی بار بدل سکتا ہےجب تبدیل ہولی اب دوبارہ تغیرکا اختیار نہ ہوگا کہ اسی قدر شرط کا مفادتھا وہ پورا ہوگیا اب دوبارہ تبدیل شرط شے زائد ہے لہذامقبول نہ ہوگی البتہ اگر کسی شرط پر انشائے وقف میں یہ شرط لگادی کہ میں اسے جب کبھی چاہوں ہر بار بدل سکوں گا تو اس شرط کی نسبت اختیار مستمر رہے گا کہ اب اس کا استمرار ہی مقتضائے شرط ہے غرض واقف خود اس کا قطعی پابند ہوتا ہے جو ان شرائط میں وقف کرتے وقت زبان یا قلم سے نکال چکا اس سے باہر ان میں کوئی تصرف نہیں کرسکتاامام طرابلسی اسعاف میں فرماتے ہیں:
لایجوز لہ ان یفعل الاماشرط وقت العقد ۔
یعنی واقف کو اسی قدر کرنے کی اجازت ہے جتنا وقف کرتے وقت شرط کرچکا تھا۔
اسی میں ہے:
لو شرط فی وقفہ ان یزید فی وظیفۃ من یری زیادتہ اوینقص من وظیفۃ من یری نقصانہ اویدخل معھم من یری ادخالہ اویخرج من یری اخراجہ جاز ثم اذا فعل ذلك لیس لہ ان یغیرہ لان شرطہ وقع علی فعل یراہ فاذا راہ مضاہ فقد انتہی ماراہ ۔
یعنی اگر واقف نے وقف میں شرط کرلی کہ میری رائے میں جس کا وظیفہ بڑھانا مناسب ہوگا بڑھادوں گا یا جس کا کم کرنا مناسب ہوگا کردوں گا جسے داخل کرنا آئے گا داخل کروں گا جسے خارج کردینا منظور ہوگا خارج کردوں گا تو یہ شرط جائزہے پھر جب ایك بار کرچکا اب اسے نہیں بدل سکتا کہ شرط جتنی تھی ختم ہوچکی۔
علامہ سید احمد حموی غمز العیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر میں فرماتے ہیں:
الوقف اذالزم لزم مافی ضمنہ من الشروط ۔
وقف جہاں لازم ہوا ساتھ ہی اس کے ضمن میں جتنی شرطیں ہیں سب لازم ہوجاتی ہیں۔
فتاوی امام قاضی خان میں ہے:
وقف ضیعۃ فی صحتہ علی الفقراء واخرجھا من یدہ الی المتولی ثم قال لوصیہ عندالموت اعط من غلتھا لفلان کذاولفلان کذا
یعنی ایك جائداد اپنی صحت میں فقیروں پر وقف کرکے متولی کو سپرد کردی پھر مرتے وقت وصی سے کہا اس کی آمدنی سے اتنا فلاں کو دینا اتنا فلاں کو تو اس کا
لایجوز لہ ان یفعل الاماشرط وقت العقد ۔
یعنی واقف کو اسی قدر کرنے کی اجازت ہے جتنا وقف کرتے وقت شرط کرچکا تھا۔
اسی میں ہے:
لو شرط فی وقفہ ان یزید فی وظیفۃ من یری زیادتہ اوینقص من وظیفۃ من یری نقصانہ اویدخل معھم من یری ادخالہ اویخرج من یری اخراجہ جاز ثم اذا فعل ذلك لیس لہ ان یغیرہ لان شرطہ وقع علی فعل یراہ فاذا راہ مضاہ فقد انتہی ماراہ ۔
یعنی اگر واقف نے وقف میں شرط کرلی کہ میری رائے میں جس کا وظیفہ بڑھانا مناسب ہوگا بڑھادوں گا یا جس کا کم کرنا مناسب ہوگا کردوں گا جسے داخل کرنا آئے گا داخل کروں گا جسے خارج کردینا منظور ہوگا خارج کردوں گا تو یہ شرط جائزہے پھر جب ایك بار کرچکا اب اسے نہیں بدل سکتا کہ شرط جتنی تھی ختم ہوچکی۔
علامہ سید احمد حموی غمز العیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر میں فرماتے ہیں:
الوقف اذالزم لزم مافی ضمنہ من الشروط ۔
وقف جہاں لازم ہوا ساتھ ہی اس کے ضمن میں جتنی شرطیں ہیں سب لازم ہوجاتی ہیں۔
فتاوی امام قاضی خان میں ہے:
وقف ضیعۃ فی صحتہ علی الفقراء واخرجھا من یدہ الی المتولی ثم قال لوصیہ عندالموت اعط من غلتھا لفلان کذاولفلان کذا
یعنی ایك جائداد اپنی صحت میں فقیروں پر وقف کرکے متولی کو سپرد کردی پھر مرتے وقت وصی سے کہا اس کی آمدنی سے اتنا فلاں کو دینا اتنا فلاں کو تو اس کا
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ الاسعاف کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۴۳۱
ردالمحتار بحوالہ الاسعاف کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۴۳۱
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۳۰۹
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۱۵
ردالمحتار بحوالہ الاسعاف کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۴۳۱
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۳۰۹
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۱۵
فجعلہ لاولئك باطل لانھا صارت للفقراء اولا فلا یملك ابطال حقھم الا اذاشرط فی الوقف ان یصرف غلتہا الی من شاء ۔
یہ کہنا باطل ہے کہ وقف ابتداء فقراء کےلئے ہوچکا تو ان کا حق مٹانے کا اختیار نہیں رکھتا مگریہ کہ وقف ہی میں شرط کرلی ہو کہ اس کی آمدنی سے جسے چاہوں گا دوں۔
درمختار میں ہے:
جازشرط الاستبدال بہ ثم لایستبدلھا بثانیۃ لانہ حکم ثبت بالشرط والشرط وجد فی الاولی لا الثانیۃ اھ مختصرا۔
یعنی تبدیل وقف کی شرط جائز ہے پھر جب ایك بار تبدیل کرچکا دوبارہ نہیں کرسکتا کہ یہ اجازت تو اس شرط لگانے سے حاصل ہوئی تھی اور شرط پہلی میں پائی گئی نہ کہ دوسری میں اھ مختصرا۔
ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے:
الاان یذکر عبارۃ تفید لہ ذلك دائما ۔
یعنی ہاں اگر ہمیشہ اختیار تبدیل کی شرط کرلی تو ہمیشہ مختار رہے گا۔
اس قدر سے سوال اول وسوم کا جواب واضح ہوگیا کہ شروط لازمہ کی ترمیم کا ہندہ کو کوئی اختیارنہ تھا اور دوسرا وثیقہ جہاں تك ان کی تبدیل کرتا ہو محض لغو و مہمل کہ وقف اس کی ملك سے خارج ہوچکا اور شرائط لازمہ لازم ہولیں اب ان کے متعلق نیا وثیقہ ایسا ہے جیسا ایك اجنبی راہ چلتا کچھ لکھ جائے۔ سوال دوم کو اس مسئلہ سے کچھ تعلق نہیں اور اس کا جواب یہ کہ مرض الموت میں وقف مثل وصیت بے اجازت ورثہ صرف ثلث مال میں نافذ ہوتا ہے کما فی التنویر وغیرہ عامۃ کتب المذھب (جیسا کہ تنویر وغیرہ عامہ کتب المذہب میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۶ تا۴۸: ازبدایوں مرسلہ جناب نبی بخش صاحب مہتمم مدرسہ محمدیہ ۲محرم الحرام ۱۳۲۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك جائداد مسجد و مدرسہ دینی پر وقف ہے آیا ۱متولی کو اختیار ہے کہ اس کا کوئی جز بیع کر دے یا ۲کسی کی حاجت وکار کے لیے وہ جائداد یا جزو جائداد اسے دے دے کہ وہ اپنے تصرف میں لائے اور اس کے عوض اس سے دوسری جائداد ویسی ہی یا اس سے بہتر بدل لے یا ۳اس جائداد کا کوئی ہمیشہ کےلئے کسی کو اجارہ دے دے یا چالیس سال کا پٹہ لکھ دے حالانکہ وقف آباد ہے
یہ کہنا باطل ہے کہ وقف ابتداء فقراء کےلئے ہوچکا تو ان کا حق مٹانے کا اختیار نہیں رکھتا مگریہ کہ وقف ہی میں شرط کرلی ہو کہ اس کی آمدنی سے جسے چاہوں گا دوں۔
درمختار میں ہے:
جازشرط الاستبدال بہ ثم لایستبدلھا بثانیۃ لانہ حکم ثبت بالشرط والشرط وجد فی الاولی لا الثانیۃ اھ مختصرا۔
یعنی تبدیل وقف کی شرط جائز ہے پھر جب ایك بار تبدیل کرچکا دوبارہ نہیں کرسکتا کہ یہ اجازت تو اس شرط لگانے سے حاصل ہوئی تھی اور شرط پہلی میں پائی گئی نہ کہ دوسری میں اھ مختصرا۔
ردالمحتار میں فتح القدیر سے ہے:
الاان یذکر عبارۃ تفید لہ ذلك دائما ۔
یعنی ہاں اگر ہمیشہ اختیار تبدیل کی شرط کرلی تو ہمیشہ مختار رہے گا۔
اس قدر سے سوال اول وسوم کا جواب واضح ہوگیا کہ شروط لازمہ کی ترمیم کا ہندہ کو کوئی اختیارنہ تھا اور دوسرا وثیقہ جہاں تك ان کی تبدیل کرتا ہو محض لغو و مہمل کہ وقف اس کی ملك سے خارج ہوچکا اور شرائط لازمہ لازم ہولیں اب ان کے متعلق نیا وثیقہ ایسا ہے جیسا ایك اجنبی راہ چلتا کچھ لکھ جائے۔ سوال دوم کو اس مسئلہ سے کچھ تعلق نہیں اور اس کا جواب یہ کہ مرض الموت میں وقف مثل وصیت بے اجازت ورثہ صرف ثلث مال میں نافذ ہوتا ہے کما فی التنویر وغیرہ عامۃ کتب المذھب (جیسا کہ تنویر وغیرہ عامہ کتب المذہب میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۶ تا۴۸: ازبدایوں مرسلہ جناب نبی بخش صاحب مہتمم مدرسہ محمدیہ ۲محرم الحرام ۱۳۲۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك جائداد مسجد و مدرسہ دینی پر وقف ہے آیا ۱متولی کو اختیار ہے کہ اس کا کوئی جز بیع کر دے یا ۲کسی کی حاجت وکار کے لیے وہ جائداد یا جزو جائداد اسے دے دے کہ وہ اپنے تصرف میں لائے اور اس کے عوض اس سے دوسری جائداد ویسی ہی یا اس سے بہتر بدل لے یا ۳اس جائداد کا کوئی ہمیشہ کےلئے کسی کو اجارہ دے دے یا چالیس سال کا پٹہ لکھ دے حالانکہ وقف آباد ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸۳
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۸
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۸
اور اسے حاجت نہیں نہ واقف نے وقف نامہ میں اس کی اجازت دی بلکہ صرف اتنا لکھا ہے کہ ضرورت اتفاقیہ تعمیر در صورت وقوع خرابی مسجد ومدرسہ اختیار اجارہ دینے جزوجائداد کا چند روز عارضی تا ادائے قرضہ ہوگا۔ بینواتوجروا۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ وہ جائداد جسے لوگ اپنی ضرورت کے لئے مانگتے ہیں باغ ہے وہ اس کے پیڑ کاٹ کر عمارت بنانا چاہتے ہیں فقط۔
الجواب:
یہ چاروں صورتیں حرام قطعی ہیں متولی خواہ غیر کسی کو اصلا ان کا اختیار نہیں متولی اگر ان میں سے کوئی صورت کرے گا تو خائن ہوگا اور واجب ہوگا کہ فورا نکال دیا جائے اور وقف اس کے قبضہ سے نکال کرکسی متدین خدا ترس کو حسب شرائط واقفہ سپرد کیا جائے دوسرے جو اس باغ کو لے کر اس کے پیڑ کاٹ کر کوئی عمارت بنائیں گے وقف کے غاصب ہوں گے فرض ہوگا کہ فورا وقف ان کے قبضہ ظالمانہ سے خلاص کیاجائے اور ان کی عمارت مسمار کردی جائے اور ان سے پیڑوں کا تاوان بسختی تمام بلارعایت وصول کرلیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
لیس لعرق ظالم حق ۔ ظالم کو دخل کا حق نہیں۔(ت)
پہلی صورت کی حرمت تو ظاہر ہر شخص جانتا ہے کہ:
الوقف لایملك لایباع ولایورث وقف ملکیت نہیں بن سکتا نہ فروخت ہو اور نہ وراثت بن سکتا ہے۔(ت)
دوسری صورت یوں حرام ہے کہ واقفہ نے استبدال کی اجازت نہ دی بلکہ صراحۃ لکھ دیا کہ کسی متولی خواہ مہتمم خواہ اصحاب انجمن اسلامیہ کو اختیار انتقال دائمی جائداد کا نہ ہوگا اور وقف جب تك کچھ بھی انتفاع کے قابل رہے حاکم اسلام کو بھی اسکی تبدیل حرام و باطل ومردود محض ہے درمختار میں ہے:
شرط فی البحر خروجہ عن الانتفاع بالکلیۃ و کون البدل عقاراوالمستبدل قاضی الجنۃ المفسر بذی العلم والعمل ۔
بحر میں شرط ہے کہ وہ وقف کلیۃ انتفاع کے قابل نہ رہے اور اس کابدل زمین ہو اور بدلنے والا قاضی محکمانہ ہو جس کا مطلب ہے کہ عالم باعمل ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الجواب:
یہ چاروں صورتیں حرام قطعی ہیں متولی خواہ غیر کسی کو اصلا ان کا اختیار نہیں متولی اگر ان میں سے کوئی صورت کرے گا تو خائن ہوگا اور واجب ہوگا کہ فورا نکال دیا جائے اور وقف اس کے قبضہ سے نکال کرکسی متدین خدا ترس کو حسب شرائط واقفہ سپرد کیا جائے دوسرے جو اس باغ کو لے کر اس کے پیڑ کاٹ کر کوئی عمارت بنائیں گے وقف کے غاصب ہوں گے فرض ہوگا کہ فورا وقف ان کے قبضہ ظالمانہ سے خلاص کیاجائے اور ان کی عمارت مسمار کردی جائے اور ان سے پیڑوں کا تاوان بسختی تمام بلارعایت وصول کرلیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
لیس لعرق ظالم حق ۔ ظالم کو دخل کا حق نہیں۔(ت)
پہلی صورت کی حرمت تو ظاہر ہر شخص جانتا ہے کہ:
الوقف لایملك لایباع ولایورث وقف ملکیت نہیں بن سکتا نہ فروخت ہو اور نہ وراثت بن سکتا ہے۔(ت)
دوسری صورت یوں حرام ہے کہ واقفہ نے استبدال کی اجازت نہ دی بلکہ صراحۃ لکھ دیا کہ کسی متولی خواہ مہتمم خواہ اصحاب انجمن اسلامیہ کو اختیار انتقال دائمی جائداد کا نہ ہوگا اور وقف جب تك کچھ بھی انتفاع کے قابل رہے حاکم اسلام کو بھی اسکی تبدیل حرام و باطل ومردود محض ہے درمختار میں ہے:
شرط فی البحر خروجہ عن الانتفاع بالکلیۃ و کون البدل عقاراوالمستبدل قاضی الجنۃ المفسر بذی العلم والعمل ۔
بحر میں شرط ہے کہ وہ وقف کلیۃ انتفاع کے قابل نہ رہے اور اس کابدل زمین ہو اور بدلنے والا قاضی محکمانہ ہو جس کا مطلب ہے کہ عالم باعمل ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الاحکام باب ماذکر فی احیاء الموات امین کمپنی دہلی ۱ /۱۶۶
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸۳
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸۳
یجوز للقاضی بشرط ان یخرج عن الانتفاع بالکلیۃ وان لایکون ھناك ریع للوقف یعمربہ الخ ۔
قاضی کو تبدیلی جائز ہے بشرطیکہ وقف کلیۃ ناقابل انتفاع ہوجائے اور وقف کو آباد کرنے کے لئے آمدن بھی نہ ہو الخ (ت)
اور بدلے کی چیز کا اس سے بہتر ہونا وجہ جواز نہیں ہوسکتا۔فتح القدیر میں ہے:
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان دون زیادۃ اخری و لانہ لاموجب لتجویزہ لان الموجب فی الاول الشرط وفی الثانی الضرورۃ ولاضرورۃ فی ھذا اذلاتجب الزیادۃ فیہ بل تبقیہ کما کان ۔
وقف کو اپنی اصلی حالت میں بحال رکھنا ضروری ہے اس میں کوئی زیادتی نہ کی جائے کیونکہ اس کے جواز کا کوئی موجب نہیں ہے موجب اول میں شرط ہے اور ثانی میں ضرورت ہے جبکہ یہاں کوئی ضروری نہیں اس لئے اس میں زیادتی ضروری نہیں بلکہ جیسے تھا ویسے باقی رکھے۔(ت)
شرح الاشباہ للمحقق البیری میں یہ کلام فتح سے نقل کرکے فرمایا:
ماقالہ ھذا المحقق ھوالحق والصواب ۔
جوا اس محقق نے فرمایا وہ حق وصواب ہے(ت)
تیسری صورت کی حرمت یہ کہ ہمیشہ کے لئے اجارہ میں دینا کسی مملوك شے کا بھی جائز نہیں نہ کہ وقف ظاہر ہے کہ ہمیشگی کسی شیئ کو نہیں تو معنی یہ ہوں گے کہ جب تك باقی ہے اور مدت بقامجہول ہے اور جہالت مدت سے اجارہ فاسد ہوتا ہے اور عقد فاسد حرام ہے لہذا علماء نے تصریح فرمائی کہ جب تك مدت معین نہ کی جائے اجارہ جائز نہیں کہ تعیین مدت سے مقدار منفعت معلوم ہوتی ہے پر ظاہر ہے کہ ہمیشہ کے لئے کہنا نہ کوئی تعیین مدت ہے نہ اس سے مقدار منفعت معلوم ہوسکے۔ ہدایہ میں ہے:
المنافع تارۃ تصیر معلومۃ بالمدۃ کاستیجار الدور للسکنی والارضین للزراعۃ فیصح العقد علی مدۃ معلومۃ
کبھی منافع کا تعین مدت کے تعین سے ہوتا ہے جیسے مکانات اور زرعی زمینوں کا اجارہ تو معینہ مدت جو بھی ہو اس کے مطابق عقد اجارہ جائز ہے کیونکہ مدت معلوم ہوجانے سے منافع معلوم
قاضی کو تبدیلی جائز ہے بشرطیکہ وقف کلیۃ ناقابل انتفاع ہوجائے اور وقف کو آباد کرنے کے لئے آمدن بھی نہ ہو الخ (ت)
اور بدلے کی چیز کا اس سے بہتر ہونا وجہ جواز نہیں ہوسکتا۔فتح القدیر میں ہے:
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان دون زیادۃ اخری و لانہ لاموجب لتجویزہ لان الموجب فی الاول الشرط وفی الثانی الضرورۃ ولاضرورۃ فی ھذا اذلاتجب الزیادۃ فیہ بل تبقیہ کما کان ۔
وقف کو اپنی اصلی حالت میں بحال رکھنا ضروری ہے اس میں کوئی زیادتی نہ کی جائے کیونکہ اس کے جواز کا کوئی موجب نہیں ہے موجب اول میں شرط ہے اور ثانی میں ضرورت ہے جبکہ یہاں کوئی ضروری نہیں اس لئے اس میں زیادتی ضروری نہیں بلکہ جیسے تھا ویسے باقی رکھے۔(ت)
شرح الاشباہ للمحقق البیری میں یہ کلام فتح سے نقل کرکے فرمایا:
ماقالہ ھذا المحقق ھوالحق والصواب ۔
جوا اس محقق نے فرمایا وہ حق وصواب ہے(ت)
تیسری صورت کی حرمت یہ کہ ہمیشہ کے لئے اجارہ میں دینا کسی مملوك شے کا بھی جائز نہیں نہ کہ وقف ظاہر ہے کہ ہمیشگی کسی شیئ کو نہیں تو معنی یہ ہوں گے کہ جب تك باقی ہے اور مدت بقامجہول ہے اور جہالت مدت سے اجارہ فاسد ہوتا ہے اور عقد فاسد حرام ہے لہذا علماء نے تصریح فرمائی کہ جب تك مدت معین نہ کی جائے اجارہ جائز نہیں کہ تعیین مدت سے مقدار منفعت معلوم ہوتی ہے پر ظاہر ہے کہ ہمیشہ کے لئے کہنا نہ کوئی تعیین مدت ہے نہ اس سے مقدار منفعت معلوم ہوسکے۔ ہدایہ میں ہے:
المنافع تارۃ تصیر معلومۃ بالمدۃ کاستیجار الدور للسکنی والارضین للزراعۃ فیصح العقد علی مدۃ معلومۃ
کبھی منافع کا تعین مدت کے تعین سے ہوتا ہے جیسے مکانات اور زرعی زمینوں کا اجارہ تو معینہ مدت جو بھی ہو اس کے مطابق عقد اجارہ جائز ہے کیونکہ مدت معلوم ہوجانے سے منافع معلوم
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۸۸
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۴۰
شرح الاشباہ للعلامۃ البیری
الہدایۃ کتاب الاجارات مطب یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۹۱
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۴۰
شرح الاشباہ للعلامۃ البیری
الہدایۃ کتاب الاجارات مطب یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۹۱
ای مدۃ کانت لان المدۃ اذاکانت معلومۃ کان قدر المنفعۃ فیہا معلوما اذاکانت المنفعۃ لاتتفاوت ۔
ہوجاتے ہیں جب منافع میں تفاوت نہ ہو(ت)
عنایہ میں ہے:
الظن عدم البقاء الی تلك المدۃ والظن مثل الیقین فی حق الاحکام فصارت الاجارۃ مؤبدۃ معنی والتابید یبطلھا ۔
اس مدت تك باقی نہ رہنے کا ظن ہے جبکہ احکام ظن مثل یقین ہے تو معنا یہ اجارہ دائمی ہوگا اور دائمی اجارہ عقد کو باطل کردیتاہے(ت)
چوتھی یوں حرام ہے کہ جب نہ واقف نے اجازت دی ہو نہ وقف کی اپنی کوئی ضرورت ومجبوری ہوتو زمین موقوف کو تین برس سے زیادہ پر اجارہ دینا جائز نہیں۔ ہدایہ میں ہے:
فی الاوقاف لاتجوز الاجارۃ الطویلۃ کی لایدعی المستاجر ملکھا وھی مازاد علی ثلث سنین ھو المختار ۔
اوقاف کا طویل اجارہ جائز نہیں تاکہ مستاجر کو دعوی ملکیت کےلئے گنجائش پیدا نہ ہو اور طویل مدت تین سال سے زائد کا نام ہے اور یہی مختار ہے(ت)
درمختار میں ہے:
فلواجرھا المتولی اکثرلم تصح الاجارۃ وتفسخ فی کل المدۃ لان العقد اذا فسد فی بعضہ فسد فی کلہ فتاوی قاری الھدایۃ ۔
اگر متولی نے وقفی چیز کو زیادہ مدت کیلئے اجارہ پر دیا توصحیح نہیں اور یوں تمام مدت میں اسے فسخ قرار دیا جائےگا کیونکہ جب عقد کا بعض حصہ فاسد ہوا تو تمام مدت فسخ ہوجائیگا فتاوی الہدایہ (ت)
پھر یہ حکم تو اجارہ کے تھے اور وہ جس کےلئے اس باغ کو طلب کررہے ہیں اجارہ نہیں اغارہ ہوگا یعنی وقف کا غارت کرنا وقفی پیڑ کاٹ ڈالنے کی اجازت کیونکر ہوگی تو یہ اجارہ تین برس درکنار ایك گھڑی کے لئے حلال نہیں ہوسکتا۔
ہوجاتے ہیں جب منافع میں تفاوت نہ ہو(ت)
عنایہ میں ہے:
الظن عدم البقاء الی تلك المدۃ والظن مثل الیقین فی حق الاحکام فصارت الاجارۃ مؤبدۃ معنی والتابید یبطلھا ۔
اس مدت تك باقی نہ رہنے کا ظن ہے جبکہ احکام ظن مثل یقین ہے تو معنا یہ اجارہ دائمی ہوگا اور دائمی اجارہ عقد کو باطل کردیتاہے(ت)
چوتھی یوں حرام ہے کہ جب نہ واقف نے اجازت دی ہو نہ وقف کی اپنی کوئی ضرورت ومجبوری ہوتو زمین موقوف کو تین برس سے زیادہ پر اجارہ دینا جائز نہیں۔ ہدایہ میں ہے:
فی الاوقاف لاتجوز الاجارۃ الطویلۃ کی لایدعی المستاجر ملکھا وھی مازاد علی ثلث سنین ھو المختار ۔
اوقاف کا طویل اجارہ جائز نہیں تاکہ مستاجر کو دعوی ملکیت کےلئے گنجائش پیدا نہ ہو اور طویل مدت تین سال سے زائد کا نام ہے اور یہی مختار ہے(ت)
درمختار میں ہے:
فلواجرھا المتولی اکثرلم تصح الاجارۃ وتفسخ فی کل المدۃ لان العقد اذا فسد فی بعضہ فسد فی کلہ فتاوی قاری الھدایۃ ۔
اگر متولی نے وقفی چیز کو زیادہ مدت کیلئے اجارہ پر دیا توصحیح نہیں اور یوں تمام مدت میں اسے فسخ قرار دیا جائےگا کیونکہ جب عقد کا بعض حصہ فاسد ہوا تو تمام مدت فسخ ہوجائیگا فتاوی الہدایہ (ت)
پھر یہ حکم تو اجارہ کے تھے اور وہ جس کےلئے اس باغ کو طلب کررہے ہیں اجارہ نہیں اغارہ ہوگا یعنی وقف کا غارت کرنا وقفی پیڑ کاٹ ڈالنے کی اجازت کیونکر ہوگی تو یہ اجارہ تین برس درکنار ایك گھڑی کے لئے حلال نہیں ہوسکتا۔
حوالہ / References
العنایۃ مع فتح القدیر کتاب الاجارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸/۸
الہدایۃ کتاب الاجارات مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۹۱
درمختار کتاب الاجارات مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۷
الہدایۃ کتاب الاجارات مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۹۱
درمختار کتاب الاجارات مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۷
مسئلہ۴۹:ازریاست رامپور مرسلہ حاجی محمد علی خاں صاحب جج ۲۳جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ
زید کی طرف سے وکیل نے جوخدام درگاہ غریب نواز سے ہے کمیٹی درگاہ شریف سے اجازت حاصل کرکے زید کے لئے احاطہ درگاہ معلی میں مسجد شاہجہانی کے جانب جنوب ایك حجرہ مع دو دالان کے اپنے صرف سے تیار کرائے بعد تیاری زید نے اس تعمیر پر قبضہ کرنے یا اس کے مصارف وکیل کو ادا کرنے سے قطعی انکار کیا اس پر عمرو نے وہ لاگت تعمیر دے کر حجرہ اور ہر دو دالان پرقبضہ کرلیا اور ایك حجرہ اور زمین وکیل خادم درگاہ کی معرفت اپنے ذاتی مصارف سے تیار کرواکر کل لاگت خادم موصوف کو باخذ رسید دے دیا اوربعد تیاری ان دو حجروں اور ہر دو دالان کو اس نیت سے وقف کردیا کہ جب کبھی بہ زمانہ عرس شریف یا غیر اوقات میں عمرو یا اس کی اولاد یا متعلقین یا احباب حاضر آستانہ ہواکریں توان میں قیام کیاکریں باقی زمانہ اور اوقات میں زائران صادر وارد یا فقراء میں سے جو چاہے مقیم ہو کر شرف سعادت حاصل کیا کریں چنانچہ عمرو نے اپنی تعمیر کا کندہ تاریخی پتھر برپیشانی حجرہ میں نصب کردیا اور سالہاسال یوم تعمیر سے اب تك عمرو اور اس کے متعلقین وغیرہ زمانہ عرس شریف وغیرہ میں وہاں قیام کیا کرتے ہیں اگر کوئی فقیر وغیرہ ان میں رہتا ہے تو ان کے آنے پر وہ فورا خالی کردیتا ہے اب وہی خادم درگاہ عمرو کے ان حجروں میں مقیم ہونے کے مانع ہیں اس عذر پر کہ یہ مال وقف ہے عمرو کی ملکیت نہیں فقیر جوان حجروں میں رہتے ہیں ان سے یہ حجرے خالی نہیں ہوسکتےعمرویا اس کے متعلقین یہاں ٹھہرنے کے مجاز نہیں ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین سے دریافت کیا جاتا ہے کہ عمرو کا ایسا وقف کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اور عمرو یا اس کے متعلقین بصورت متذکرہ بالاان حجروں میں مقیم ہوسکتے ہیں یانہیں اور منع کرنے والے کو خواہ وہ خدام درگاہ شریف میں سے ہو یا اور کوئی فقیر یا دیگر شخص جس نے حجروں میں سکونت اختیار کی ہو اس کو حق ممانعت ہے یانہیں اور شخص مانع ان حجروں میں متصرف اور قابض رہ سکتا ہے یانہیں اور وہ اس کے متعلق معاملات میں دخیل ہوسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
زمین احاطہ درگاہ معلی عامہ زائرین واردین صادرین کے لئے وقف یا ارصاد کالوقف بہر حال محکوم باحکام الوقف ہے کما حققہ المحقق الشامی فی ردالمحتار(جیسا کہ محقق شامی نے ردالمحتار میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) عمرو نے جو حجرہ اپنےزر خاص سے تعمیر کرایا اور جو حجرہ ودالان وکیل سے خریدے اور ان کو اسی مقصد کےلئے وقف کیا یہ وقف صحیح ہو اخاد م بائع اس عمارت سے بے تعلق ہوگیا نہ اس کو ان معاملات میں مداخلت کا کوئی حق خاص رہا
فی الدر المختار بنی علی ارض ثم وقف البناء قصدا بدونھا ان الارض
درمختار میں ہے کہ کسی نے زمین پر عمارت بنائی پھر صرف عمارت بغیر اراضی وقف کردی اگر یہ زمین
زید کی طرف سے وکیل نے جوخدام درگاہ غریب نواز سے ہے کمیٹی درگاہ شریف سے اجازت حاصل کرکے زید کے لئے احاطہ درگاہ معلی میں مسجد شاہجہانی کے جانب جنوب ایك حجرہ مع دو دالان کے اپنے صرف سے تیار کرائے بعد تیاری زید نے اس تعمیر پر قبضہ کرنے یا اس کے مصارف وکیل کو ادا کرنے سے قطعی انکار کیا اس پر عمرو نے وہ لاگت تعمیر دے کر حجرہ اور ہر دو دالان پرقبضہ کرلیا اور ایك حجرہ اور زمین وکیل خادم درگاہ کی معرفت اپنے ذاتی مصارف سے تیار کرواکر کل لاگت خادم موصوف کو باخذ رسید دے دیا اوربعد تیاری ان دو حجروں اور ہر دو دالان کو اس نیت سے وقف کردیا کہ جب کبھی بہ زمانہ عرس شریف یا غیر اوقات میں عمرو یا اس کی اولاد یا متعلقین یا احباب حاضر آستانہ ہواکریں توان میں قیام کیاکریں باقی زمانہ اور اوقات میں زائران صادر وارد یا فقراء میں سے جو چاہے مقیم ہو کر شرف سعادت حاصل کیا کریں چنانچہ عمرو نے اپنی تعمیر کا کندہ تاریخی پتھر برپیشانی حجرہ میں نصب کردیا اور سالہاسال یوم تعمیر سے اب تك عمرو اور اس کے متعلقین وغیرہ زمانہ عرس شریف وغیرہ میں وہاں قیام کیا کرتے ہیں اگر کوئی فقیر وغیرہ ان میں رہتا ہے تو ان کے آنے پر وہ فورا خالی کردیتا ہے اب وہی خادم درگاہ عمرو کے ان حجروں میں مقیم ہونے کے مانع ہیں اس عذر پر کہ یہ مال وقف ہے عمرو کی ملکیت نہیں فقیر جوان حجروں میں رہتے ہیں ان سے یہ حجرے خالی نہیں ہوسکتےعمرویا اس کے متعلقین یہاں ٹھہرنے کے مجاز نہیں ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین سے دریافت کیا جاتا ہے کہ عمرو کا ایسا وقف کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اور عمرو یا اس کے متعلقین بصورت متذکرہ بالاان حجروں میں مقیم ہوسکتے ہیں یانہیں اور منع کرنے والے کو خواہ وہ خدام درگاہ شریف میں سے ہو یا اور کوئی فقیر یا دیگر شخص جس نے حجروں میں سکونت اختیار کی ہو اس کو حق ممانعت ہے یانہیں اور شخص مانع ان حجروں میں متصرف اور قابض رہ سکتا ہے یانہیں اور وہ اس کے متعلق معاملات میں دخیل ہوسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
زمین احاطہ درگاہ معلی عامہ زائرین واردین صادرین کے لئے وقف یا ارصاد کالوقف بہر حال محکوم باحکام الوقف ہے کما حققہ المحقق الشامی فی ردالمحتار(جیسا کہ محقق شامی نے ردالمحتار میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) عمرو نے جو حجرہ اپنےزر خاص سے تعمیر کرایا اور جو حجرہ ودالان وکیل سے خریدے اور ان کو اسی مقصد کےلئے وقف کیا یہ وقف صحیح ہو اخاد م بائع اس عمارت سے بے تعلق ہوگیا نہ اس کو ان معاملات میں مداخلت کا کوئی حق خاص رہا
فی الدر المختار بنی علی ارض ثم وقف البناء قصدا بدونھا ان الارض
درمختار میں ہے کہ کسی نے زمین پر عمارت بنائی پھر صرف عمارت بغیر اراضی وقف کردی اگر یہ زمین
مملوکۃ لایصح وان موقوفۃ علی ماعین البناء لہ جاز تبعااجماعاوان الارض لجہۃ اخری فمختلف فیہ والصحیح الصحۃ کما فی المنظومۃ المجیئۃ۔
مملوکہ ہے تو وقف صحیح نہیں اگر زمین عمارت کے مقاصد کے لئے وقف ہوتو عمارت بھی تبعا وقف ہوجائیگی اور اگر زمین کسی اور مقصد کیلئے وقف ہوتو پھر مختلف فیہ ہے اور صحیح یہی ہے کہ درست ہے جیسا کہ آئندہ منظوم میں ہے۔(ت)
عمرو اور اس کے متعلقین بھی ضرور ایام حاضری بارگاہ عالی میں ان میں مقیم ہوسکتے ہیں کوئی شخص ان کو بلاوجہ شرعی اس سے منع نہیں کرسکتا کہ یہ از قبیل مسجد ومقبرہ ورباط وقنطرہ وحوض وسقایہ ہے جن سے غنی وفقیر وواقف وغیر واقف سب حسب شرط وقف متمتع ہوسکتے ہیں۔ ہندیہ میں ہے:
لافرق فی الانتفاع فی مثل ھذہ الاشیاء بین الغنی والفقیر حتی جاز للکل النزول فی الخان والرباط والشرب من السقایۃ والدفن فی المقبرۃ کذافی التبیین۔
ان چیزوں سے انتفاع میں امیر غریب کاکوئی فرق نہیں لہذا سرائے ورباط سقایہ (سبیل) تدفین(مقبرہ میں ہر ایك کو مساوی حق ہے۔
اسی میں ہے:
ولاباس بان یشرب(ای البانی) من البئر والحوض ویسقی دابتہ وبعیرہ ویتوضأ منہ کما فی الظہیریۃ ۔
بطور وقف تعمیر کرنیوالے کو کنویں حوض سے پانی پینے اپنے جانوروں کو پلانے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔(ت)
ہاں ان کو مسکن وموطن دوام بنانے کا نہ عمرو کو اختیار ہے نہ کسی فقیر وغیرہ کو کہ یہ زمین وعمارت دونوں کے مقصد کے خلاف ہے اور خدام درگاہ کو تو ان میں اقامت چند روزہ کی بھی صحیح نہیں کہ وہ باہر سے حاضرہونے والوں کے لئے بنے ہیں نہ کہ مجاوروں کے لئے۔ہندیہ میں ہے:
قال الخصاف فی وقفہ اذاجعل دارہ
امام خصاف نے وقف کے بیان میں فرمایا
مملوکہ ہے تو وقف صحیح نہیں اگر زمین عمارت کے مقاصد کے لئے وقف ہوتو عمارت بھی تبعا وقف ہوجائیگی اور اگر زمین کسی اور مقصد کیلئے وقف ہوتو پھر مختلف فیہ ہے اور صحیح یہی ہے کہ درست ہے جیسا کہ آئندہ منظوم میں ہے۔(ت)
عمرو اور اس کے متعلقین بھی ضرور ایام حاضری بارگاہ عالی میں ان میں مقیم ہوسکتے ہیں کوئی شخص ان کو بلاوجہ شرعی اس سے منع نہیں کرسکتا کہ یہ از قبیل مسجد ومقبرہ ورباط وقنطرہ وحوض وسقایہ ہے جن سے غنی وفقیر وواقف وغیر واقف سب حسب شرط وقف متمتع ہوسکتے ہیں۔ ہندیہ میں ہے:
لافرق فی الانتفاع فی مثل ھذہ الاشیاء بین الغنی والفقیر حتی جاز للکل النزول فی الخان والرباط والشرب من السقایۃ والدفن فی المقبرۃ کذافی التبیین۔
ان چیزوں سے انتفاع میں امیر غریب کاکوئی فرق نہیں لہذا سرائے ورباط سقایہ (سبیل) تدفین(مقبرہ میں ہر ایك کو مساوی حق ہے۔
اسی میں ہے:
ولاباس بان یشرب(ای البانی) من البئر والحوض ویسقی دابتہ وبعیرہ ویتوضأ منہ کما فی الظہیریۃ ۔
بطور وقف تعمیر کرنیوالے کو کنویں حوض سے پانی پینے اپنے جانوروں کو پلانے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔(ت)
ہاں ان کو مسکن وموطن دوام بنانے کا نہ عمرو کو اختیار ہے نہ کسی فقیر وغیرہ کو کہ یہ زمین وعمارت دونوں کے مقصد کے خلاف ہے اور خدام درگاہ کو تو ان میں اقامت چند روزہ کی بھی صحیح نہیں کہ وہ باہر سے حاضرہونے والوں کے لئے بنے ہیں نہ کہ مجاوروں کے لئے۔ہندیہ میں ہے:
قال الخصاف فی وقفہ اذاجعل دارہ
امام خصاف نے وقف کے بیان میں فرمایا
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸۴
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۶۶
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۶۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۶۶
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۶۵
سکنی للحاج فلیس للمجاورین ان یسکنوھا کذافی الظہیریۃ ۔
جب کسی نے اپناگھر حجاج کی رہائش کیلئے وقف کیا تو اس میں مجاورین کو رہائش کا حق نہیں ظہیریہ میں یونہی ہے(ت)
سوالات سائل کا جواب تو ہوگیا مگر یہاں ایك ضروری امر غور طلب باقی رہا جس سے اگرچہ سائل نے تصریحا سوال نہ کیا مگر بیان صورت میں اس سے تعرض موجود اور اس کی حاجت ضرور ہے وہ یہ کہ جس طرح غیر عمرو کو ممانعت عمرو متعلقین عمرو کا اختیار نہیں اس طرح آیا عمرو کو بھی دوسرے کے ممانعت کا اختیار ہے یا نہیں جبکہ وہ دوسرا نہ بطور سکونت بلکہ حسب شرط معلوم ایام موسم خواہ ان کے غیر میں پہلے سے مقیم ہواور اب عمرو یا اس کے متعلقین آجائیں تو آیا بدعوی عمارت اس سے خالی کراسکتے ہیں یانہیں ظاہرا اس کا جواب نفی ہے عمرو نے اگر یہ شرط وقف میں نہ لگائی ہو جب توظاہر مجرد نیت نہ مفید شرط ہے نہ اس کا دعوی مسلم۔ درمختار میں ہے:
لوقال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃ فاذاکان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ اھ۔
اگر کہے میں نے یہ نیت کی تھی تو اس کی تصدیق نہ ہوگی تاتارخانیہ جب وقف میں یہ معاملہ ہے توغیر وقف میں کیسے تصدیق نہ ہوگی اھ(ت)
اور اگر شرط لگائی ہو اور شرط واقف واجب الاتباع ہے اور اس کے خلاف تصرف ناجائز اور جب تاحیات صرف اپنے نفس پر وقف جائز ہے تو اوقات خاصہ میں اپنی تقدیم کی شرط بدرجہ اولی مگر یہ سب اس صورت میں ہوتا کہ زمین بھی ملك عمرو ہوتی یہاں کہ زمین اول سے عام پر وقف ہے اسے کسی وقت اپنے نفس کےلئے اسے خاص کرلینے کا اختیار نہیں عمارت اس نے وقف کی اسے اپنے لئے خاص کرسکتا اگر یہ خصوص عمارت ہی تك محدود رہتا مگر ایسا نہیں بلکہ زمین بھی ان اوقات میں اس کےلئے محصور اور عام اہل حق سے ممنوع ومحجور رہے گی بلکہ زمین ہی قیام میں اصل ہے اور عمارت تابع۔ اور زمین پر اس کو اپنی تقدیم وترجیح کاکوئی حق نہیں نہ دواما نہ کسی وقت خاص کےلئے مثلا موقف عرفات میں کوئی شخص ایك حجرہ بنائے کہ جس سال یہ حج کو جائے دوسرا وہاں وقوف نہ کرسکے اس کی ہرگز اجازت نہیں ہوسکتی۔ امام طحاوی شرح معانی الآثار پھر علامہ اتقانی غایۃ البیان شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:
المسجد الحرام لایجوز لاحد ان یبتنی فیہ بناء ولاان یحتجرفیہ موضعا و
مسجد حرام میں کسی کو اپنے لئے تعمیر کی اجازت ہے نہ ہی اپنے لئے جگہ مخصوص کرنے کا حق ہے اور یہی حکم ان تمام
جب کسی نے اپناگھر حجاج کی رہائش کیلئے وقف کیا تو اس میں مجاورین کو رہائش کا حق نہیں ظہیریہ میں یونہی ہے(ت)
سوالات سائل کا جواب تو ہوگیا مگر یہاں ایك ضروری امر غور طلب باقی رہا جس سے اگرچہ سائل نے تصریحا سوال نہ کیا مگر بیان صورت میں اس سے تعرض موجود اور اس کی حاجت ضرور ہے وہ یہ کہ جس طرح غیر عمرو کو ممانعت عمرو متعلقین عمرو کا اختیار نہیں اس طرح آیا عمرو کو بھی دوسرے کے ممانعت کا اختیار ہے یا نہیں جبکہ وہ دوسرا نہ بطور سکونت بلکہ حسب شرط معلوم ایام موسم خواہ ان کے غیر میں پہلے سے مقیم ہواور اب عمرو یا اس کے متعلقین آجائیں تو آیا بدعوی عمارت اس سے خالی کراسکتے ہیں یانہیں ظاہرا اس کا جواب نفی ہے عمرو نے اگر یہ شرط وقف میں نہ لگائی ہو جب توظاہر مجرد نیت نہ مفید شرط ہے نہ اس کا دعوی مسلم۔ درمختار میں ہے:
لوقال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃ فاذاکان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ اھ۔
اگر کہے میں نے یہ نیت کی تھی تو اس کی تصدیق نہ ہوگی تاتارخانیہ جب وقف میں یہ معاملہ ہے توغیر وقف میں کیسے تصدیق نہ ہوگی اھ(ت)
اور اگر شرط لگائی ہو اور شرط واقف واجب الاتباع ہے اور اس کے خلاف تصرف ناجائز اور جب تاحیات صرف اپنے نفس پر وقف جائز ہے تو اوقات خاصہ میں اپنی تقدیم کی شرط بدرجہ اولی مگر یہ سب اس صورت میں ہوتا کہ زمین بھی ملك عمرو ہوتی یہاں کہ زمین اول سے عام پر وقف ہے اسے کسی وقت اپنے نفس کےلئے اسے خاص کرلینے کا اختیار نہیں عمارت اس نے وقف کی اسے اپنے لئے خاص کرسکتا اگر یہ خصوص عمارت ہی تك محدود رہتا مگر ایسا نہیں بلکہ زمین بھی ان اوقات میں اس کےلئے محصور اور عام اہل حق سے ممنوع ومحجور رہے گی بلکہ زمین ہی قیام میں اصل ہے اور عمارت تابع۔ اور زمین پر اس کو اپنی تقدیم وترجیح کاکوئی حق نہیں نہ دواما نہ کسی وقت خاص کےلئے مثلا موقف عرفات میں کوئی شخص ایك حجرہ بنائے کہ جس سال یہ حج کو جائے دوسرا وہاں وقوف نہ کرسکے اس کی ہرگز اجازت نہیں ہوسکتی۔ امام طحاوی شرح معانی الآثار پھر علامہ اتقانی غایۃ البیان شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:
المسجد الحرام لایجوز لاحد ان یبتنی فیہ بناء ولاان یحتجرفیہ موضعا و
مسجد حرام میں کسی کو اپنے لئے تعمیر کی اجازت ہے نہ ہی اپنے لئے جگہ مخصوص کرنے کا حق ہے اور یہی حکم ان تمام
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۶۷
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۹
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۹
کذلك حکم جمیع المواضع التی لایقع لاحد فیہا ملك وجمیع الناس فیہا سواء الاتری ان عرفات لو اراد رجل ان یبنی فی المکان الذی یقف فیہ الناس بناء لم یکن لہ ذلك وکذلك منی لواراد ان یبنی فیہا داراکان من ذلك ممنوعا وکذلك جاء الاثر عن رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم وحدث باسنادہ الی عائشۃ رضی اللہ تعالی عنہاقال قلت یارسول اﷲ الانتخذ لك بمنی شیئا تستظل فیہ فقال یاعائشۃ انھا مناخ لمن سبق فہذا حکم المواضع التی فیہا الناس سواء ولاملك لاحد علیہا ۔
مواضع کا ہے جن میں کسی کو ملکیت کاحق نہیں اور ان میں تمام لوگ مساوی حق رکھتے ہیں کیا آپ دیکھتے نہیں کہ عرفات میں کوئی شخص مکان بنانا چاہے جو کہ لوگوں کے ٹھہرنے کے لئے ہے تو اس کو یہ حق نہیں ہے اور یونہی منی میں کوئی مکان حویلی بنانا چاہے تو ممنوع ہے یہی حضور عليهم الصلوۃ والسلام سے ماثور ہے جس کی نسبت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے انہوں نے عرض کی یارسول اللہ !کیا ہم آپ کے لئے منی میں کوئی سایہ دار جگہ بنادیں تو آپ نے فرمایا اے عائشہ!منی تمام لوگوں کےلئے ڈیرہ ہے جو بھی پہلے وہاں اتر جائے تو یہ ان مواضع کا حکم ہے جس میں تمام لوگوں کو برابر حق ہے اور کسی کی ملکیت نہیں ہے(ت)
تو یہ شرط خلاف شرع ہوئی اور واقف کی جو شرط مخالف شرع مطہر ہو نامقبول و نامعتبر ہے۔ردالمحتار میں ہے:
شرائط الواقف معتبرۃ اذالم تخالف الشرع۔
جب شرع کے مخالف نہ ہوتو وقف کی شرائط معتبر ہیں(ت)
اور یہ خیال بھی نہیں ہوسکتا کہ ایسی زمینیں اس کے لئے ہیں جس کا قبضہ پہلے ہوجائے او ریہاں عمرو کا قبضہ سابق ہے کہ اس کی عمارت موجود ہے جیسے کوئی شخص مسجد میں آیا ایك جگہ بیٹھا پھر وضو کےلئے گیا اور اپنا کپڑا وہاں چھوڑ گیا دوسرا شخص اس کپڑے کو ہٹا کر وہاں نہ بیٹھے کہ کپڑے والے کا قبضہ سابق ہولیا ہے یہاں اس کا محل نہیں جب عمارت وقف ہوچکی عمارت کا ہونا اس کا قبضہ سابقہ نہیں ٹھہر سکتا کہ نفس عمارت میں بھی یہ اور سب مسلمان برابر ہوگئے معہذا ایسا قبضہ تھوڑی دیر کےلئے مسلم ہوتا ہے جیسا کپڑا رکھ کر وضو کوجانے میں نہ یہ کہ مسجد میں اپنی کوئی چیز رکھ دیجئے اور وہ جگہ ہمیشہ آپ کےلئے مخصوص ہوجائے کہ جب آئیے دوسروں پر تقدیم پائیے یہ ہرگز نہ جائز نہ مقبول۔
مواضع کا ہے جن میں کسی کو ملکیت کاحق نہیں اور ان میں تمام لوگ مساوی حق رکھتے ہیں کیا آپ دیکھتے نہیں کہ عرفات میں کوئی شخص مکان بنانا چاہے جو کہ لوگوں کے ٹھہرنے کے لئے ہے تو اس کو یہ حق نہیں ہے اور یونہی منی میں کوئی مکان حویلی بنانا چاہے تو ممنوع ہے یہی حضور عليهم الصلوۃ والسلام سے ماثور ہے جس کی نسبت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے انہوں نے عرض کی یارسول اللہ !کیا ہم آپ کے لئے منی میں کوئی سایہ دار جگہ بنادیں تو آپ نے فرمایا اے عائشہ!منی تمام لوگوں کےلئے ڈیرہ ہے جو بھی پہلے وہاں اتر جائے تو یہ ان مواضع کا حکم ہے جس میں تمام لوگوں کو برابر حق ہے اور کسی کی ملکیت نہیں ہے(ت)
تو یہ شرط خلاف شرع ہوئی اور واقف کی جو شرط مخالف شرع مطہر ہو نامقبول و نامعتبر ہے۔ردالمحتار میں ہے:
شرائط الواقف معتبرۃ اذالم تخالف الشرع۔
جب شرع کے مخالف نہ ہوتو وقف کی شرائط معتبر ہیں(ت)
اور یہ خیال بھی نہیں ہوسکتا کہ ایسی زمینیں اس کے لئے ہیں جس کا قبضہ پہلے ہوجائے او ریہاں عمرو کا قبضہ سابق ہے کہ اس کی عمارت موجود ہے جیسے کوئی شخص مسجد میں آیا ایك جگہ بیٹھا پھر وضو کےلئے گیا اور اپنا کپڑا وہاں چھوڑ گیا دوسرا شخص اس کپڑے کو ہٹا کر وہاں نہ بیٹھے کہ کپڑے والے کا قبضہ سابق ہولیا ہے یہاں اس کا محل نہیں جب عمارت وقف ہوچکی عمارت کا ہونا اس کا قبضہ سابقہ نہیں ٹھہر سکتا کہ نفس عمارت میں بھی یہ اور سب مسلمان برابر ہوگئے معہذا ایسا قبضہ تھوڑی دیر کےلئے مسلم ہوتا ہے جیسا کپڑا رکھ کر وضو کوجانے میں نہ یہ کہ مسجد میں اپنی کوئی چیز رکھ دیجئے اور وہ جگہ ہمیشہ آپ کےلئے مخصوص ہوجائے کہ جب آئیے دوسروں پر تقدیم پائیے یہ ہرگز نہ جائز نہ مقبول۔
حوالہ / References
شرح معانی الآثار کتاب البیوع باب بیع ارض مکہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۴۶
ردالمحتار کتاب الوقف مطلب شرائط الوقف معتبرۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۱
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
ردالمحتار کتاب الوقف مطلب شرائط الوقف معتبرۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۱
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
فی الدرالمختار فی مایمنع فی المسجد تخصیص مکان لنفسہ ولیس لہ ازعاج غیرہ منہ ولومدرسا ۔
درمختار مسجد میں ممنوعات کے بیان میں ہے کہ اپنے لئے جگہ کو مخصوص کرنا اور وہاں سے کسی کو ہٹانا اگرچہ مدرس ہو منع ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی القنیۃ لہ فی المسجد موضع معین یواظب علیہ وقد شغلہ غیرہ قال الاوزاعی لہ ان یزعجہ ولیس لہ ذلك عندنا اھ ای لان المسجد لیس ملکا لاحد بحر عن النہایۃ قلت وینبغی تقیید بمااذا لم یقم عنہ علی نیۃ العود بلامھلۃ کما لوقام للوضوء مثلا ولاسیما اذا وضع فیہ ثوبہ لتحقق سبق یدہ تأمل وفی شرح السیر الکبیر للسرخسی وکذاکل مایکون المسلمون فیہ سواء کالنزول فی الرباطات والجلوس فی المساجد للصلوۃ والنزول بمنی او عرفات للحج حتی لوضرب فسطاطہ فی مکان کان ینزل فیہ غیرہ فھواحق ولیس للاخران یحولہ ۔
قنیہ میں ہے کہ مسجد میں کسی کی مخصوص جگہ جہاں وہ روزانہ بیٹھتا ہو وہاں کوئی دوسرا شخص مشغول ہوجائے تو امام اوزاعی نے فرمایا اگر وہ اس کو وہاں سے ہٹانا چاہے تو جائز ہے اور اس کو ایسا کرنے کا حق نہیں ہے ہمارے نزدیك اھ یعنی کیونکہ مسجد کسی کی ملکیت نہیں بحر میں نہایہ سے منقول قلت(میں کہتا ہوں)اس بیان کو اس بات سے مقید کرنا مناسب ہے کہ جب پہلا شخص وہاں پر فورا واپس آنیکی نیت سے نہ اٹھا ہو جیساکہ کوئی وضو کےلئے مثلا اٹھے خصوصا جب وہاں اپنا کپڑا رکھ جائےیہ اس لئے کہ وہ پہلے قبضہ کرچکا ہے غور کرو۔ اور امام سرخسی کی سیر کبیر میں ہے اور ایسے ہی ہر وہ مقام جس میں تمام مسلمان مساوی حق رکھتے ہوں جیسا کہ سراؤں میں ٹھہرنا نماز کےلئے مساجد میں بیٹھنا اور منی اور عرفات میں حج کے لئے اترنا حتی کہ اگر کسی نے ایك جگہ وہاں خیمہ لگایا اور دوسرا شخص وہاں پہلے ٹھہرگیا تو پہلے کو یہ حق نہیں کہ اسے وہاں سے منتقل کرے الخ(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوگیاکہ جس نے سبقت کی اور عمرو کے لئےاپنی حاجت جائزہ کے وقت خالی نہیں کرتا اس پر یہ اعتراض بھی نہیں ہوسکتا کہ حق غیر میں تصرف کررہا ہے یعنی عام حق توزمین میں تھا اور یہ حجروں دالا نوں میں ٹھہرکر عمارت کو بھی اپنے تصرف میں لایا اور وہ عمارت اصل مالك نے اس کے لئے جائز کی تھی جو خود اس کی حاجت کے سوا دوسرے وقت میں آئے اس کا جواب وہی ہے کہ عمارت اس کی ملك نہ رہی اور
درمختار مسجد میں ممنوعات کے بیان میں ہے کہ اپنے لئے جگہ کو مخصوص کرنا اور وہاں سے کسی کو ہٹانا اگرچہ مدرس ہو منع ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی القنیۃ لہ فی المسجد موضع معین یواظب علیہ وقد شغلہ غیرہ قال الاوزاعی لہ ان یزعجہ ولیس لہ ذلك عندنا اھ ای لان المسجد لیس ملکا لاحد بحر عن النہایۃ قلت وینبغی تقیید بمااذا لم یقم عنہ علی نیۃ العود بلامھلۃ کما لوقام للوضوء مثلا ولاسیما اذا وضع فیہ ثوبہ لتحقق سبق یدہ تأمل وفی شرح السیر الکبیر للسرخسی وکذاکل مایکون المسلمون فیہ سواء کالنزول فی الرباطات والجلوس فی المساجد للصلوۃ والنزول بمنی او عرفات للحج حتی لوضرب فسطاطہ فی مکان کان ینزل فیہ غیرہ فھواحق ولیس للاخران یحولہ ۔
قنیہ میں ہے کہ مسجد میں کسی کی مخصوص جگہ جہاں وہ روزانہ بیٹھتا ہو وہاں کوئی دوسرا شخص مشغول ہوجائے تو امام اوزاعی نے فرمایا اگر وہ اس کو وہاں سے ہٹانا چاہے تو جائز ہے اور اس کو ایسا کرنے کا حق نہیں ہے ہمارے نزدیك اھ یعنی کیونکہ مسجد کسی کی ملکیت نہیں بحر میں نہایہ سے منقول قلت(میں کہتا ہوں)اس بیان کو اس بات سے مقید کرنا مناسب ہے کہ جب پہلا شخص وہاں پر فورا واپس آنیکی نیت سے نہ اٹھا ہو جیساکہ کوئی وضو کےلئے مثلا اٹھے خصوصا جب وہاں اپنا کپڑا رکھ جائےیہ اس لئے کہ وہ پہلے قبضہ کرچکا ہے غور کرو۔ اور امام سرخسی کی سیر کبیر میں ہے اور ایسے ہی ہر وہ مقام جس میں تمام مسلمان مساوی حق رکھتے ہوں جیسا کہ سراؤں میں ٹھہرنا نماز کےلئے مساجد میں بیٹھنا اور منی اور عرفات میں حج کے لئے اترنا حتی کہ اگر کسی نے ایك جگہ وہاں خیمہ لگایا اور دوسرا شخص وہاں پہلے ٹھہرگیا تو پہلے کو یہ حق نہیں کہ اسے وہاں سے منتقل کرے الخ(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوگیاکہ جس نے سبقت کی اور عمرو کے لئےاپنی حاجت جائزہ کے وقت خالی نہیں کرتا اس پر یہ اعتراض بھی نہیں ہوسکتا کہ حق غیر میں تصرف کررہا ہے یعنی عام حق توزمین میں تھا اور یہ حجروں دالا نوں میں ٹھہرکر عمارت کو بھی اپنے تصرف میں لایا اور وہ عمارت اصل مالك نے اس کے لئے جائز کی تھی جو خود اس کی حاجت کے سوا دوسرے وقت میں آئے اس کا جواب وہی ہے کہ عمارت اس کی ملك نہ رہی اور
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ مطلب فیمن سبقت یدہ الی مباح داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۴۵
وہ شرط کہ اس نے کی تھی خلاف شرع ہوکر نامعتبر ہوئی تو اب جس کا ہاتھ سبقت کرے وہی مقدم ہے ھذا ما ظہر لی والعلم بالحق عندربی(مجھے یہ معلوم ہوا جبکہ حقیقی علم میرے رب کو ہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۰: ازنجیب آباد ضلع بجنور متصل تحصیل مرسلہ جناب محمد ظفر اللہ صاحب ۱۶ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مال وقف مسجد پر حجن کے نام سے موسوم ہے شرعا کسی کا دعوی ہوسکتا ہے یانہیں اگر اس کا کوئی شخص یا چند شخص مل کر اپنے آپ کو ولی قرار دیتے ہوں تو وہ مالك ہوسکتے ہیں یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
مال وقف پر دعوی ملك تو کسی کو نہیں ہوسکتا ہاں دعوی تصرف متولی کو ہے اگر متولی نہ ہوتو اہل محلہ کو اختیار ہے اگر انہوں نے اس شخص یا اشخاص کو متولی کردیا ہے تو اس کو اختیار مل سکتا ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۱: از مقام خاص مرزاپور محلہ چیت گنج مرسلہ حکیم احمد علی صاحب یکم ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ایك قطعہ زمین سرکاری جو کہ جنازہ مسلمانان کےلئے وقف ہے اس میں باجازت تکیہ دار کے ایك مکان ایك دوسرے فقیر نے بنایا اور اسی میں بود وباش اختیار کرنے کے بعد چندے اس مکان کو براہ خدا وقف کردیا وہ وقف شدہ مکان بقیمت مبلغ بیسعہ روپیہ کو وارث تکیہ نے خرید کیا مکان وقف شدہ کا روپیہ ایك مسجد جو کہ مکان سے علیحدہ اسی زمین میں تعمیر کی گئی ہے وہ روپیہ اسی مسجد میں خرچ کیا گیا اب وہ مکان تکیہ دارکے قبضہ میں ہے پھر دوبارہ وہی فقیر جس نے مکان تعمیر کیا تھا خریدنا چاہتا ہے شرع شریف سے جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر وہ تکیہ وقف ہے جیساکہ سائل بیان کرتا ہے تو نہ اس میں اس فقیر کو اپنا مکان سکونت بنانے کی اجازت تھی نہ اسمیں مسجد بنانا جائز ہے لان الوقف لایوقف(کیونکہ وقف شدہ دوبارہ وقف نہیں ہوتا) نہ اس مکان کی زمین کا بیچنا صحیح تھا نہ اب اس کے یا کسی اور کے ہاتھ بیع ہوسکتی ہے لان الوقف لایملک(کیونکہ وقف کسی کا مملوك نہیں ہوسکتا)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ت۵۲تا۵۳: بتاریخ یکم صفر روز پنجشنبہ ۱۳۳۴ھ
(۱) قبرستان میں مدرسہ یا کوئی مکان یا مسجد بنانا جائز یانہ
(۲) ایك بزرگ نے ایك جگہ چند بزرگوں کوبیٹھے ہوئے دیکھا وہاں ایك چبوترہ بطور مسجد بنایا اور ایك مدت تك وہاں نماز پڑھی گئی اب ایك عرصہ سے وہ جگہ خراب پڑی ہے وقف کی یانہیں کی اس کا کچھ حال معلوم نہیں
مسئلہ۵۰: ازنجیب آباد ضلع بجنور متصل تحصیل مرسلہ جناب محمد ظفر اللہ صاحب ۱۶ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مال وقف مسجد پر حجن کے نام سے موسوم ہے شرعا کسی کا دعوی ہوسکتا ہے یانہیں اگر اس کا کوئی شخص یا چند شخص مل کر اپنے آپ کو ولی قرار دیتے ہوں تو وہ مالك ہوسکتے ہیں یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
مال وقف پر دعوی ملك تو کسی کو نہیں ہوسکتا ہاں دعوی تصرف متولی کو ہے اگر متولی نہ ہوتو اہل محلہ کو اختیار ہے اگر انہوں نے اس شخص یا اشخاص کو متولی کردیا ہے تو اس کو اختیار مل سکتا ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۱: از مقام خاص مرزاپور محلہ چیت گنج مرسلہ حکیم احمد علی صاحب یکم ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ایك قطعہ زمین سرکاری جو کہ جنازہ مسلمانان کےلئے وقف ہے اس میں باجازت تکیہ دار کے ایك مکان ایك دوسرے فقیر نے بنایا اور اسی میں بود وباش اختیار کرنے کے بعد چندے اس مکان کو براہ خدا وقف کردیا وہ وقف شدہ مکان بقیمت مبلغ بیسعہ روپیہ کو وارث تکیہ نے خرید کیا مکان وقف شدہ کا روپیہ ایك مسجد جو کہ مکان سے علیحدہ اسی زمین میں تعمیر کی گئی ہے وہ روپیہ اسی مسجد میں خرچ کیا گیا اب وہ مکان تکیہ دارکے قبضہ میں ہے پھر دوبارہ وہی فقیر جس نے مکان تعمیر کیا تھا خریدنا چاہتا ہے شرع شریف سے جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر وہ تکیہ وقف ہے جیساکہ سائل بیان کرتا ہے تو نہ اس میں اس فقیر کو اپنا مکان سکونت بنانے کی اجازت تھی نہ اسمیں مسجد بنانا جائز ہے لان الوقف لایوقف(کیونکہ وقف شدہ دوبارہ وقف نہیں ہوتا) نہ اس مکان کی زمین کا بیچنا صحیح تھا نہ اب اس کے یا کسی اور کے ہاتھ بیع ہوسکتی ہے لان الوقف لایملک(کیونکہ وقف کسی کا مملوك نہیں ہوسکتا)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ت۵۲تا۵۳: بتاریخ یکم صفر روز پنجشنبہ ۱۳۳۴ھ
(۱) قبرستان میں مدرسہ یا کوئی مکان یا مسجد بنانا جائز یانہ
(۲) ایك بزرگ نے ایك جگہ چند بزرگوں کوبیٹھے ہوئے دیکھا وہاں ایك چبوترہ بطور مسجد بنایا اور ایك مدت تك وہاں نماز پڑھی گئی اب ایك عرصہ سے وہ جگہ خراب پڑی ہے وقف کی یانہیں کی اس کا کچھ حال معلوم نہیں
اب وہ جگہ کسی کو دے دی جائے کہ مکان بنائے یا مسجد بنادی جائے۔
الجواب:
(۱) قبرستان وقف میں کوئی تصرف خلاف وقف جائز نہیں مدرسہ ہو خواہ مسجد یاکچھ اور۔ اور اگر کسی کی ملك ہے تو قبور سے الگ وہ جو چاہے بناسکتا ہے۔
(۲) اگرتصریحا یا دلالۃ کسی طرح وقف کرنا ثابت نہیں تو وہ زمین مالك یا اس کے ورثہ کی ملك ہے وہ جو چاہیں کریں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۴: از ضلع سیتا پور مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی ابومحمدیوسف حسن صاحب طالب علم مدرسہ مذکور ۴صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل کے جواب میں کہ زید نے اپنی اور اپنے شریك دار کے کہ جس کی جانب سے وہ کارکن اور خود بھی حصہ دار تھا اپنے مقبوضہ مواضعات معافی کی نسبت انگریزی ہونے پر محکمہ بندوبست میں درخواست دی کہ ہمارے مواضعات حسب عمل در آمد قدیم اب بھی معاف رہیں اور اس میں حسب ذیل الفاظ سے اقرار کیا:
یہ مواضعات صدہا سال سے واسطے مصارف عرس سید شاہ فلان واقع مقام فلان ومصارف واردین و صادرین وغرباو مساکین ومجالس محرم سلاطین ماضیہ نے بطور وقف مقررومعاف ومرفوع القلم کیا ہے۔ دوسرے مقام پر اپنی درخواست میں یہ الفاظ تحریر کئے ہیں امیدوار ہوں کہ دیہاتمعافی بدستور بصیغہ وقف معاف و مرفوع القلم رہیں اور اسی مقدمہ میں اجلاس پر حاکم کے روبرو بسوال حاکم بدیں الفاظ جواب تحریر کردیا۔
سوال حاکم:تمہاری معافی بعہد نواب سعادت علی خاں والی لکھنؤ کے کس سبب سے ضبط ہوئی
جواب: یہ معافی وقف اس واسطے ضبط نہیں ہوئی اور اسی مقدمہ تحقیقات معافی میں ایك حساب داخل کیا جس میں عبارت مسلم وقف حسب ذیل ہے اس میں مصارف میرے اور میرے عزیزوں کے مناط قوت ان کا بھی یہی ہے اور یہ سب لوگ خدمت گزار درگاہ ہیں اور یہ معافی وقف ہے اس کارروائی پر حاکم ضلع نے مصارف کی تحقیقات کرکے سفارش معافی کی کردی اور اس سفارش پر حاکم اعلے صاحب کمشنر نے یہ الفاظ تحریر کئے قابض اور ان کے موروثان سب مشہور لوگ ہیں اور مزار پیشتر بہت مشہور تھا یہ مجھ کو مذہبی وقف معلوم ہوتا ہے قبضہ سالہاسال سے ہے مسجد وامام باڑہ وخانقاہ ومسافر خانہ سب بمقام فلاں ہے اس کوسرکار سے سند معافی عطا ہوئی جس میں لفظ وقف کا نہیں تحریر ہے اور سند مطبوعہ حسب نمونہ مقررہ ہے اور تمام ایسی معافیات میں اسی طور کے اسناد اس نواح میں سرکار نے دئے ہیں اس کے بعد بندوبست پختہ میں
الجواب:
(۱) قبرستان وقف میں کوئی تصرف خلاف وقف جائز نہیں مدرسہ ہو خواہ مسجد یاکچھ اور۔ اور اگر کسی کی ملك ہے تو قبور سے الگ وہ جو چاہے بناسکتا ہے۔
(۲) اگرتصریحا یا دلالۃ کسی طرح وقف کرنا ثابت نہیں تو وہ زمین مالك یا اس کے ورثہ کی ملك ہے وہ جو چاہیں کریں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۴: از ضلع سیتا پور مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی ابومحمدیوسف حسن صاحب طالب علم مدرسہ مذکور ۴صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل کے جواب میں کہ زید نے اپنی اور اپنے شریك دار کے کہ جس کی جانب سے وہ کارکن اور خود بھی حصہ دار تھا اپنے مقبوضہ مواضعات معافی کی نسبت انگریزی ہونے پر محکمہ بندوبست میں درخواست دی کہ ہمارے مواضعات حسب عمل در آمد قدیم اب بھی معاف رہیں اور اس میں حسب ذیل الفاظ سے اقرار کیا:
یہ مواضعات صدہا سال سے واسطے مصارف عرس سید شاہ فلان واقع مقام فلان ومصارف واردین و صادرین وغرباو مساکین ومجالس محرم سلاطین ماضیہ نے بطور وقف مقررومعاف ومرفوع القلم کیا ہے۔ دوسرے مقام پر اپنی درخواست میں یہ الفاظ تحریر کئے ہیں امیدوار ہوں کہ دیہاتمعافی بدستور بصیغہ وقف معاف و مرفوع القلم رہیں اور اسی مقدمہ میں اجلاس پر حاکم کے روبرو بسوال حاکم بدیں الفاظ جواب تحریر کردیا۔
سوال حاکم:تمہاری معافی بعہد نواب سعادت علی خاں والی لکھنؤ کے کس سبب سے ضبط ہوئی
جواب: یہ معافی وقف اس واسطے ضبط نہیں ہوئی اور اسی مقدمہ تحقیقات معافی میں ایك حساب داخل کیا جس میں عبارت مسلم وقف حسب ذیل ہے اس میں مصارف میرے اور میرے عزیزوں کے مناط قوت ان کا بھی یہی ہے اور یہ سب لوگ خدمت گزار درگاہ ہیں اور یہ معافی وقف ہے اس کارروائی پر حاکم ضلع نے مصارف کی تحقیقات کرکے سفارش معافی کی کردی اور اس سفارش پر حاکم اعلے صاحب کمشنر نے یہ الفاظ تحریر کئے قابض اور ان کے موروثان سب مشہور لوگ ہیں اور مزار پیشتر بہت مشہور تھا یہ مجھ کو مذہبی وقف معلوم ہوتا ہے قبضہ سالہاسال سے ہے مسجد وامام باڑہ وخانقاہ ومسافر خانہ سب بمقام فلاں ہے اس کوسرکار سے سند معافی عطا ہوئی جس میں لفظ وقف کا نہیں تحریر ہے اور سند مطبوعہ حسب نمونہ مقررہ ہے اور تمام ایسی معافیات میں اسی طور کے اسناد اس نواح میں سرکار نے دئے ہیں اس کے بعد بندوبست پختہ میں
حسب قاعدہ مقررہ سرکار دعوی حقیت اعلی مواضعات مذکور کا زید ہی نے دائر کیا اور اس درخواست میں بربنائے قبضہ سابقہ ڈگری چاہی مگر اس مقدمہ کے بیان میں بعد درخواست مذکور مالك کا لفظ استعمال کیا اورڈگری میں بھی لفظ مالکانہ تحریر ہوگیا اس کے بعد بمقدمہ حصہ داری وتعین حصہ ہر شریك دار میں پھر یہ ظاہر کیا کہ یہ جائداد واسطے مصارف درگاہ ہے کسی حصہ دار کو اختیار انتقال کسی قسم کا نہیں بعد مصارف عرس و فواتح واردین وصادرین کے جوبچتا ہے بحصہ مساوی تقسیم ہوجاتا ہے اور آئندہ ہم لوگوں نے اقرار کنندگان کے ورثہ پر اسی طور پر ہمارے حصہ سے تقسیم ہوتا رہے گا بعدہ واجب العرض میں بھی جو بعد کارراوئی حصہ داری کے مرتب ہوئی اس میں یہ تحریر کردیا کہ یہ موضع وقف ہے ان حالات پر ازروئے شرع شریف اس جائداد پر اطلاق وقف کا ہوگا یا نہیں اور زید کے وارثوں کو اختیار انتقال اس جائداد سے ہے یانہیں واضح رہے مقدمہ تعین حصہ داری و دیگر کاغذات سرکاری میں کل حصہ داران شریك دار آمدنی نے اس کو وقف تسلیم کیا ہے اور یہ اقرار کیا ہے کہ کسی کو اختیار انتقال حاصل نہیں ہے صرف درمیانی کارروائی ڈگری حقیت اعلی میں لفظ مالك کا استعمال ہوا ہے اس سے قبل وبعد کی کل کارروائیوں میں اقرار عدم اختیار انتقال وقف کا سب کی جانب سے ہے اور یہ خاندان اولاد حضرت پیران پیر دستگیر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے اپنے کو منسوب کرتا ہے اور ایسے ہی بعض ملفوظات خاندانی وشجرہ جات خاندانی سے مانا گیا ہے اس خاندان کے لوگ بلالحاظ مستطیع وغیرمستطیع حسب قرار داد بندوبست جو باتفاق خود تعین حصص کرچکے ہیں اس اعتبار سے مستحق گزارہ ہیں یا مورث اعلی کی نسل پر ازروئے فرائض ازسر نو تعین گزارہ کا حق رکھتے ہیں اگر مستطیع کو استحقاق گزارہ بوجہ اس کی استطاعت نہ ہوتو کسی وقت بحالت نہ رہنے استطاعت کے پھر کسی سبب سے گزارہ پاسکتے ہیں اور استطاعت کا معیار کیا ہے اور کسی اولاد پر بالخصوص سادات کے کسی خاندان پر جووقف ہو اس میں جب لوگ مستطیع ہوتے جائیں گے وہ خارج از گزارہ ہوتے جائیں گے اور پھر جب غیرمستطیع ہوجائینگے داخل ہوتے جائیں گے اور اس کا سلسلہ کس طور سے جاری رہے گا تعین گزارہ کی نسبت کیا ہو اکرے گا۔ امید کہ جملہ امور کا جواب ازروئے فقہ حنفیہ مرحمت فرمایا جائے اور یہ اراضی عشری ہیں اور عشر ان پر واجب ہے یانہیں اور فی الحال یہ مواضعات کا شت کاروں کے پاس نقدی جمع سر ہیں جن مصارف کا ذکر اوپر تحریر کیا گیا ہےجیسے فواتح واعراس ومیلاد شریف ومحرم وخرچ واردین وصادرین تو جہاں تك مجالس واعراس وفواتح کو ذکر وتذکرہ قرآن خوانی وتقسیم طعام وغیرہ سے تعلق ہے وہ توظاہر ہی ہے صرف تعزیہ داری کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے ایك رواجی مقامی طریقہ ہے تو اس قدر مصرف ناجائز کے شمول سے نفس وقف پر کیا اثر ہے اور یہ فعل قابل ترك ہے اسی طور سے اعراس میں ایك صورت بعض وقت سماع کی ہے جو سب طریقہ موسیقی وراگ ومزامیر نزد احناف حرام ہیں اور یہی سواد اعظم ہے البتہ محض قصیدہ خوانی یا نعت خوش الحانی سے سننا اور سنانے والے کو کچھ دینا جیسا کہ حضور انور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اپنی ردائے مبارك حضرت حسان کو مرحمت فرمائی تھی اس کی بابت
کیاحکم ہے یہ بھی قابل ترك ایسے اوقاف سے ہے یانہیں
الجواب:
ارصادات سلاطین حکم وقف میں ہیں نہ وہ موروث ہوں نہ کسی کو ان کے بیع وانتقال کا کوئی حق ہو کما حققہ فی ردالمحتار بما لامزید علیہ(جیسا کہ اس کی تحقیق ردالمحتار میں کی ہے جس پر مزید اضافہ نہیں ہوسکتا۔ت)سندمعافی میں لفظ وقف نہ ہونا کچھ مضر نہیں نہ کسی مقدمہ میں اپنے آپ کو مالك تعبیر کرنا یا گورنمنٹی ڈگری میں لفظ مالکانہ لکھا جانا کچھ اثر رکھتا ہے کہ متولی کی طرف نسبت ملك بوجہ ملك تصرف واختیار شائع ہے۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لوادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح فی الجواب ان کانت دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ ۔
اگر حدود اربعہ کو اپنے لئے قرار دیا پھر یہ دعوی کیا کہ وقف ہے تو جواب صحیح یہ ہے اگر وقف ہونے کا دعوی تولیت کی وجہ سے ہو تو دونو ں باتوں میں موافقت ممکن ہے کیونکہ وقف کو متولی متصرف اور فریق بحث ہونے کے اعتبار سے عادتا اپنی طرف منسوب کرلیتا ہے۔(ت)
موقوف علیہ کا فقیر یا غیر ہاشمی ہونا ضرور نہیں اغنیاء وسادات بھی اوقاف عامہ رفاہ عام میں داخل ہوسکتے ہیں جیسے مسجد مقبرہ حوض کنواں سقایہ سرائے پل وغیرہا اور وہ ہر وقت میں بشرط واقف مثل استثناء فی المصروف بھی شامل ہوسکتے ہیں جس طرح خود اپنا نفس اور اپنی اولاد بالجملہ وقف کا قربت موبد کے لئے ہوناضرورہے مگر تمام آمدنی قربت ہی کےلئے معین ہوناضرور نہیں استثناء بعض علی الدوام واستثناء کل الی زمان منقطع دونوں کی گنجائش ہے اور اس کا اختیار واقف کو ہے جیسی شرط کرے گا اتباع کی جائے گی تحت قول درمختار والتصدق بالمنفعۃ ولوفی الجملۃ ( منفعت کوصدقہ قرار دینا اگرچہ کسی طرح ہو۔ت)ردالمحتار میں ہے فرمایا:
فیدخل فیہ الوقف علی نفسہ ثم علی الفقراء وکذا الوقف علی الاغنیاءثم الفقراء لما فی النھر عن المحیط لو وقف علی الاغنیاء وحدھم لم یجز لانہ لیس بقربۃ اما لوجعل اخرہ للفقراء فانہ یکون قربۃ فی الجملۃ اھ۔
اس میں اپنی ذات کےلئے وقف اور بعد میں فقراء کیلئے داخل ہوگا اسی طرح اغنیاء کیلئے پھر فقراء کیلئے وقف کی صورت بھی داخل رہے گی جیسا کہ نہر میں محیط سے منقول ہے کہ اگر صرف اغنیاء کےلئے وقف ہوتوناجائز ہوگا کیونکہ یہ قربت نہیں ہے لیکن اگرآخر میں فقراء کیلئے وقف کیا تو جائز ہوجائیگا کیونکہ یہ قربت ہے اگرچہ فی الجملہ ہے اھ(ت)
الجواب:
ارصادات سلاطین حکم وقف میں ہیں نہ وہ موروث ہوں نہ کسی کو ان کے بیع وانتقال کا کوئی حق ہو کما حققہ فی ردالمحتار بما لامزید علیہ(جیسا کہ اس کی تحقیق ردالمحتار میں کی ہے جس پر مزید اضافہ نہیں ہوسکتا۔ت)سندمعافی میں لفظ وقف نہ ہونا کچھ مضر نہیں نہ کسی مقدمہ میں اپنے آپ کو مالك تعبیر کرنا یا گورنمنٹی ڈگری میں لفظ مالکانہ لکھا جانا کچھ اثر رکھتا ہے کہ متولی کی طرف نسبت ملك بوجہ ملك تصرف واختیار شائع ہے۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لوادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح فی الجواب ان کانت دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ ۔
اگر حدود اربعہ کو اپنے لئے قرار دیا پھر یہ دعوی کیا کہ وقف ہے تو جواب صحیح یہ ہے اگر وقف ہونے کا دعوی تولیت کی وجہ سے ہو تو دونو ں باتوں میں موافقت ممکن ہے کیونکہ وقف کو متولی متصرف اور فریق بحث ہونے کے اعتبار سے عادتا اپنی طرف منسوب کرلیتا ہے۔(ت)
موقوف علیہ کا فقیر یا غیر ہاشمی ہونا ضرور نہیں اغنیاء وسادات بھی اوقاف عامہ رفاہ عام میں داخل ہوسکتے ہیں جیسے مسجد مقبرہ حوض کنواں سقایہ سرائے پل وغیرہا اور وہ ہر وقت میں بشرط واقف مثل استثناء فی المصروف بھی شامل ہوسکتے ہیں جس طرح خود اپنا نفس اور اپنی اولاد بالجملہ وقف کا قربت موبد کے لئے ہوناضرورہے مگر تمام آمدنی قربت ہی کےلئے معین ہوناضرور نہیں استثناء بعض علی الدوام واستثناء کل الی زمان منقطع دونوں کی گنجائش ہے اور اس کا اختیار واقف کو ہے جیسی شرط کرے گا اتباع کی جائے گی تحت قول درمختار والتصدق بالمنفعۃ ولوفی الجملۃ ( منفعت کوصدقہ قرار دینا اگرچہ کسی طرح ہو۔ت)ردالمحتار میں ہے فرمایا:
فیدخل فیہ الوقف علی نفسہ ثم علی الفقراء وکذا الوقف علی الاغنیاءثم الفقراء لما فی النھر عن المحیط لو وقف علی الاغنیاء وحدھم لم یجز لانہ لیس بقربۃ اما لوجعل اخرہ للفقراء فانہ یکون قربۃ فی الجملۃ اھ۔
اس میں اپنی ذات کےلئے وقف اور بعد میں فقراء کیلئے داخل ہوگا اسی طرح اغنیاء کیلئے پھر فقراء کیلئے وقف کی صورت بھی داخل رہے گی جیسا کہ نہر میں محیط سے منقول ہے کہ اگر صرف اغنیاء کےلئے وقف ہوتوناجائز ہوگا کیونکہ یہ قربت نہیں ہے لیکن اگرآخر میں فقراء کیلئے وقف کیا تو جائز ہوجائیگا کیونکہ یہ قربت ہے اگرچہ فی الجملہ ہے اھ(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۳۱
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۷
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۵۷
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۷
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۵۷
اسی میں ہے:
اذاجعل اولہ علی معینین صار کانہ استثنی ذلك من الدفع الی الفقراء کما صرحوا بہ(الی ان قال) فعلم انہ صدقۃ ابتداء ولایخرجہ عن ذلك اشتراط صرفہ لمعین ۔
جب اولا دو معین شخصوں کےلئے کیا تو گویا یہ فقراء کو دینے سے استثناء ہوجائے گا جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے (ان کا یہ بیان یہاں تك ہے کہ فرمایا) تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ ابتداء صدقہ ہے تو معین کے لئے صرف کرنے کی شرط اس کو اس سے خارج نہ کرے گی(ت)
اسی میں فتاوی امام قاضی خاں سے ہے:
لوقال ارضی صدقۃ موقوفۃ علی من یحدث لی من الولد ولیس لہ ولد یصح لان قولہ صدقۃ موقوفۃ وقف علی الفقراء وذکر الولد الحادث للاستثناء کانہ قال الاان حدث لی ولد فغلتھا لہ مابقی ۔
اگر یوں کہا میری زمین بعد میں پیدا ہونے والے میرے بچے کیلئے صدقہ ہے جبکہ اسکی اولاد نہ ہوتو وقف صحیح ہوگا کیونکہ وقف شدہ صدقہ کہنے سے فقراء کیلئے وقف ہوگیا او ربیٹے کے ذکر سے اسمیں استثناء ہوگیا گویا یوں کہا یہ صدقہ ہے مگر اگر میرا بچہ پیدا ہوتو اس کی موجودگی تك اس کے لئے وقف کرتا ہوں۔(ت)
سلطان واقف کی شرط اگر معلوم ہے کہ بعد مصارف خیر مذکورہ جو بچے اولاد شیخ فلاں تقسیم کرلیں تو ان کے فقراء واغنیاء سب اسے بحصہ مساوی لیں گے اور اگر شرط کردی ہے کہ مابقی نسل شیخ پر حسب فرائض تقسیم ہوتو حسب فرائض ہی تقسیم ہوگی اقرب ابعد کو محجوب کرے گا اور لحاظ فقر وغنانہ ہوگا اور اگر شرط یہ کی کہ باقیماندہ خاندان شیخ کے فقراء پر تقسیم ہو تو اب ان کے اغنیاء کو کچھ نہ ملے گا اور جوغنی فقیر ہوجائے اب سے وہ بھی مستحق ہو گا سنین ماضیہ کا حصہ نہ طلب کرے گا اور جو فقیر غنی ہوجائے اب سے وہ مستحق نہ رہے گا اور سالہائے گزشتہ کالیا ہوا واپس نہ دے گا لان العبرۃ الحال دون الماضی والاستقبال (کیونکہ اعتبار حال کا ہے ماضی یا مستقبل کا نہیں۔ت)اور اگر
اذاجعل اولہ علی معینین صار کانہ استثنی ذلك من الدفع الی الفقراء کما صرحوا بہ(الی ان قال) فعلم انہ صدقۃ ابتداء ولایخرجہ عن ذلك اشتراط صرفہ لمعین ۔
جب اولا دو معین شخصوں کےلئے کیا تو گویا یہ فقراء کو دینے سے استثناء ہوجائے گا جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے (ان کا یہ بیان یہاں تك ہے کہ فرمایا) تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ ابتداء صدقہ ہے تو معین کے لئے صرف کرنے کی شرط اس کو اس سے خارج نہ کرے گی(ت)
اسی میں فتاوی امام قاضی خاں سے ہے:
لوقال ارضی صدقۃ موقوفۃ علی من یحدث لی من الولد ولیس لہ ولد یصح لان قولہ صدقۃ موقوفۃ وقف علی الفقراء وذکر الولد الحادث للاستثناء کانہ قال الاان حدث لی ولد فغلتھا لہ مابقی ۔
اگر یوں کہا میری زمین بعد میں پیدا ہونے والے میرے بچے کیلئے صدقہ ہے جبکہ اسکی اولاد نہ ہوتو وقف صحیح ہوگا کیونکہ وقف شدہ صدقہ کہنے سے فقراء کیلئے وقف ہوگیا او ربیٹے کے ذکر سے اسمیں استثناء ہوگیا گویا یوں کہا یہ صدقہ ہے مگر اگر میرا بچہ پیدا ہوتو اس کی موجودگی تك اس کے لئے وقف کرتا ہوں۔(ت)
سلطان واقف کی شرط اگر معلوم ہے کہ بعد مصارف خیر مذکورہ جو بچے اولاد شیخ فلاں تقسیم کرلیں تو ان کے فقراء واغنیاء سب اسے بحصہ مساوی لیں گے اور اگر شرط کردی ہے کہ مابقی نسل شیخ پر حسب فرائض تقسیم ہوتو حسب فرائض ہی تقسیم ہوگی اقرب ابعد کو محجوب کرے گا اور لحاظ فقر وغنانہ ہوگا اور اگر شرط یہ کی کہ باقیماندہ خاندان شیخ کے فقراء پر تقسیم ہو تو اب ان کے اغنیاء کو کچھ نہ ملے گا اور جوغنی فقیر ہوجائے اب سے وہ بھی مستحق ہو گا سنین ماضیہ کا حصہ نہ طلب کرے گا اور جو فقیر غنی ہوجائے اب سے وہ مستحق نہ رہے گا اور سالہائے گزشتہ کالیا ہوا واپس نہ دے گا لان العبرۃ الحال دون الماضی والاستقبال (کیونکہ اعتبار حال کا ہے ماضی یا مستقبل کا نہیں۔ت)اور اگر
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۵۸۔۳۵۷
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۴۱۴
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۴۱۴
شرائط اصل واقف پر اطلاع نہ ہوتو عملدرآمد قدیم پر نظر ہوگی زید نے جوواجب العرض میں لکھا یا اگر اس کے مطابق ہے فبہا ورنہ اس پر اصلا لحاظ نہ ہوگا اور قدیم پر عمل رہے گا۔لانہ لیس بواقف ولاالیہ تغییرہ(کیونکہ وہ نہ واقف ہے نہ اس کو تبدیلی کا حق ہے۔ت)فتاوی خیریہ میں ہے:
اذاعلم حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف یعملون فیہ والی من یصرفونہ فیبنی علی ذلک لان الظاھر انھم کانوایفعلون ذلك علی موافقۃ شرط الواقف وھو المظنون بحال المسلمین فیعمل علی ذلک وفی انفع الوسائل ذکر فی الذخیرۃ قال سئل شیخ الاسلام عن وقف مشہور اشتبھت مصارفہ وقد رمایصرف الی مستحقیہ قال ینظر الی المعہودمن حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف یعملون ۔
جب ماضی میں اس کا حال معلوم ہے کہ منتظم اس میں کیا کرتے رہے اور کہاں خرچ کرتے ہیں تو اسی حال کو وقف کی بنیاد قرار دیا جائے گا کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ منتظم یہ عمل واقف کی شرط کے مطابق کرتے رہے ہیں مسلمانوں کے متعلق یہی گمان کیا جاسکتا ہے تو اسی عمل کو جاری رکھاجائے گا انفع الوسائل میں ذکر ہے کہ ذخیرہ میں ہے کہ شیخ الاسلام سے ایك مشہور وقف جس کے مصارف اور مقدار کے متعلق اشتباہ ہے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ گزشتہ زمانہ کا حال معلوم کیا جائے گا کہ اس کے منتظم کیسے عمل کرتے رہے ہیں۔(ت)
استطاعت کی معیار ملك نصاب زائد ازحاجت اصلیہ ہےتعزیہ ومزامیر دونوں معصیت ہیں اور معصیت میں مال وقف کاصرف دوہرا حرام ہے بلکہ تین حراموں کا مجموعہ ایك وہ معصیت دوسرے مال وقف پر تعدی تیسرے مستحق کی محرومی مگر ان مور حادثہ سے نفس وقف پر کوئی ضرر نہیں جو متولی ان میں صرف کرے گا اس قدر کا تاوان اس پر لازم ہوگا لانہ امین وکل امین بالتعدی ضمین(کیونکہ وہ امین ہے اور ہر امین ناجائز تصرف پر ضامن بنتا ہے۔ت)بلکہ اگر خود سلطان واقف منجملہ مصارف مذکورہ تصریحا تعزیہ ومزامیر کو بھی ایك مصرف مقرر کرتا کہ وقف پر جب بھی ضرر نہ تھا یہ مصرف باطل رد وساقط کرکے وہ حصہ بھی مصارف خیر ہی کیطرف مصروف ہوتا فتح القدیر پھر ردالمحتار میں ہے:
لووقف الذمی علی بیعۃ فاذا خربت یکون للفقراء کان للفقراء ابتداء ۔واﷲ تعالی اعلم۔
اگر ذمی نے مثلا بیعہ(یہودی عبادت گاہ)کیلئے وقف کیا اور کہا جب یہ خرابہ ہوجائے تو یہ فقراء کیلئے ہی ہوگا تو ابتداء ہی یہ فقراء کےلئے وقف قرار
اذاعلم حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف یعملون فیہ والی من یصرفونہ فیبنی علی ذلک لان الظاھر انھم کانوایفعلون ذلك علی موافقۃ شرط الواقف وھو المظنون بحال المسلمین فیعمل علی ذلک وفی انفع الوسائل ذکر فی الذخیرۃ قال سئل شیخ الاسلام عن وقف مشہور اشتبھت مصارفہ وقد رمایصرف الی مستحقیہ قال ینظر الی المعہودمن حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف یعملون ۔
جب ماضی میں اس کا حال معلوم ہے کہ منتظم اس میں کیا کرتے رہے اور کہاں خرچ کرتے ہیں تو اسی حال کو وقف کی بنیاد قرار دیا جائے گا کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ منتظم یہ عمل واقف کی شرط کے مطابق کرتے رہے ہیں مسلمانوں کے متعلق یہی گمان کیا جاسکتا ہے تو اسی عمل کو جاری رکھاجائے گا انفع الوسائل میں ذکر ہے کہ ذخیرہ میں ہے کہ شیخ الاسلام سے ایك مشہور وقف جس کے مصارف اور مقدار کے متعلق اشتباہ ہے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ گزشتہ زمانہ کا حال معلوم کیا جائے گا کہ اس کے منتظم کیسے عمل کرتے رہے ہیں۔(ت)
استطاعت کی معیار ملك نصاب زائد ازحاجت اصلیہ ہےتعزیہ ومزامیر دونوں معصیت ہیں اور معصیت میں مال وقف کاصرف دوہرا حرام ہے بلکہ تین حراموں کا مجموعہ ایك وہ معصیت دوسرے مال وقف پر تعدی تیسرے مستحق کی محرومی مگر ان مور حادثہ سے نفس وقف پر کوئی ضرر نہیں جو متولی ان میں صرف کرے گا اس قدر کا تاوان اس پر لازم ہوگا لانہ امین وکل امین بالتعدی ضمین(کیونکہ وہ امین ہے اور ہر امین ناجائز تصرف پر ضامن بنتا ہے۔ت)بلکہ اگر خود سلطان واقف منجملہ مصارف مذکورہ تصریحا تعزیہ ومزامیر کو بھی ایك مصرف مقرر کرتا کہ وقف پر جب بھی ضرر نہ تھا یہ مصرف باطل رد وساقط کرکے وہ حصہ بھی مصارف خیر ہی کیطرف مصروف ہوتا فتح القدیر پھر ردالمحتار میں ہے:
لووقف الذمی علی بیعۃ فاذا خربت یکون للفقراء کان للفقراء ابتداء ۔واﷲ تعالی اعلم۔
اگر ذمی نے مثلا بیعہ(یہودی عبادت گاہ)کیلئے وقف کیا اور کہا جب یہ خرابہ ہوجائے تو یہ فقراء کیلئے ہی ہوگا تو ابتداء ہی یہ فقراء کےلئے وقف قرار
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب والوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۱
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۱
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۱
پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۵۵تا۵۶: ازقصبہ گوپامؤضلع ہردوئی اورہ محلہ قنوجی مسئولہ یاور حسین صاحب یوم سہ شنبہ ۷ صفر المظفر۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حاجی نواب ناظر حسین خاں صاحب رئیس قصبہ گوپامؤ نے تقریبا دس بارہ سال سے ایك مسجد کے متعلق جو کہ ان کے مکان کے قریب محلہ قنوجی میں واقع ہے یہ انتظام کیا کہ زیر مسجد کی دکانیں جن کو مسجد کے منتظموں نے رہن بھی کرلیا تھا اور جو رہن سے بچی ہوئی تھیں وہ بالکل مسمار ہوگئی تھیں غرضکہ وہ دکانات مسجد مذکور جو کہ ایك دینی مدرسہ عربی کو بحیثیت وقف شامل تھیں ان کو تك رہن کرالیا اور مسمار شدہ کی تعمیر کرادی ایك مدرسہ اسلامیہ کی آمدنی سے جس کے وہ صدرانجمن ہے سب ادا کردیا دکانوں کو تعمیر کرایا پھر رفتہ رفتہ انہیں دکانوں کوآمدنی سے وہ کل روپیہ بھی ادا کردیا جب انجمن کا روپیہ ادا ہوگیا تو ان دکانوں کو مع تحویل باقی کے اپنے چھوٹے بھائی کو جو کہ اسی مسجد میں طلبہ کو عربی پڑھاتے ہیں بطور انتظام جائداد وقف کے حوالہ کردیا حتی کہ اس آمدنی سے وقتا فوقتا مسجد کی درستی ہوتی رہتی ہے اور اسی احاطہ مسجد میں بیرونی طلبہ کےلئے حجرے بھی حسب ضرورت تیار ہوتے رہے سال گزشتہ میں ایك مولوی صاحب کو باہر سے عربی تعلیم کےلئے بلایا گیا تھا ان کی نصف تنخواہ چندہ سے اور نصف اسی آمدنی مسجد سے سال بھر تك دی جایا کی نیز اب تك چونکہ درس وتدریس کےلئے سوائے مسجد کے اور کوئی جگہ نہ تھی اور جو کتابیں طلباء کوحسب دستور دی جاتی ہیں ان کے رکھنے کے لئے بھی مکان کی ضرورت ہوئی تو ایك مکان جانب مسجد میں اس سال بھی تعمیر کرایا گیا جوان شاء اللہ مختصرا مدرسہ وکتب خانہ دونوں کاکام دے گا علاوہ ان دکان کے کچھ خانہائے رعایا خالی کراکے اس کی زمین مسجد کو وقف کردی اور دو ایك دکانیں جدید بھی بنوادیں ایك دکان منشی بقاء اللہ صاحب وکیل سرائے میران نے بھی وقف کیا
(۱)اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں جبکہ علاوہ نیت کے عملدرآمد حسب مذکورہ بالا رہا ہے تو آیا اس آمدنی سے مسجد اور طلباء کےلئے حجرے نیز مدرس کی تنخواہ وغیرہ میں صرف کرنا شرعا جائز ہوگا یانہیں
(۲)یہ کہ انہیں نواب صاحب موصوف نے جو اپنی ذاتی دکان اور تین خانہائے رعایا کو صحن بازار مسجد کی ضرورت سے برابر کراکے نیز گردو پیش کے اپنی افتادہ زمین کو اسی مد میں مدت سے وقف کردیا ہے چنانچہ گھاس بھوسہ لکڑی کنڈا اور دیگر پلہ داروں سے جواس زمین کا محصول آتا ہے وہ بھی برابر مسجد میں ایك بنئے کے ذریعہ سے یکمشت جمع ہوتا رہتا ہے اور جو مدات مذکور میں صرف ہوتا ہے اسکے متعلق(ایك ہندورئیس جس کا نام لالہ بشمبر ناتھ
مسئلہ۵۵تا۵۶: ازقصبہ گوپامؤضلع ہردوئی اورہ محلہ قنوجی مسئولہ یاور حسین صاحب یوم سہ شنبہ ۷ صفر المظفر۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حاجی نواب ناظر حسین خاں صاحب رئیس قصبہ گوپامؤ نے تقریبا دس بارہ سال سے ایك مسجد کے متعلق جو کہ ان کے مکان کے قریب محلہ قنوجی میں واقع ہے یہ انتظام کیا کہ زیر مسجد کی دکانیں جن کو مسجد کے منتظموں نے رہن بھی کرلیا تھا اور جو رہن سے بچی ہوئی تھیں وہ بالکل مسمار ہوگئی تھیں غرضکہ وہ دکانات مسجد مذکور جو کہ ایك دینی مدرسہ عربی کو بحیثیت وقف شامل تھیں ان کو تك رہن کرالیا اور مسمار شدہ کی تعمیر کرادی ایك مدرسہ اسلامیہ کی آمدنی سے جس کے وہ صدرانجمن ہے سب ادا کردیا دکانوں کو تعمیر کرایا پھر رفتہ رفتہ انہیں دکانوں کوآمدنی سے وہ کل روپیہ بھی ادا کردیا جب انجمن کا روپیہ ادا ہوگیا تو ان دکانوں کو مع تحویل باقی کے اپنے چھوٹے بھائی کو جو کہ اسی مسجد میں طلبہ کو عربی پڑھاتے ہیں بطور انتظام جائداد وقف کے حوالہ کردیا حتی کہ اس آمدنی سے وقتا فوقتا مسجد کی درستی ہوتی رہتی ہے اور اسی احاطہ مسجد میں بیرونی طلبہ کےلئے حجرے بھی حسب ضرورت تیار ہوتے رہے سال گزشتہ میں ایك مولوی صاحب کو باہر سے عربی تعلیم کےلئے بلایا گیا تھا ان کی نصف تنخواہ چندہ سے اور نصف اسی آمدنی مسجد سے سال بھر تك دی جایا کی نیز اب تك چونکہ درس وتدریس کےلئے سوائے مسجد کے اور کوئی جگہ نہ تھی اور جو کتابیں طلباء کوحسب دستور دی جاتی ہیں ان کے رکھنے کے لئے بھی مکان کی ضرورت ہوئی تو ایك مکان جانب مسجد میں اس سال بھی تعمیر کرایا گیا جوان شاء اللہ مختصرا مدرسہ وکتب خانہ دونوں کاکام دے گا علاوہ ان دکان کے کچھ خانہائے رعایا خالی کراکے اس کی زمین مسجد کو وقف کردی اور دو ایك دکانیں جدید بھی بنوادیں ایك دکان منشی بقاء اللہ صاحب وکیل سرائے میران نے بھی وقف کیا
(۱)اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں جبکہ علاوہ نیت کے عملدرآمد حسب مذکورہ بالا رہا ہے تو آیا اس آمدنی سے مسجد اور طلباء کےلئے حجرے نیز مدرس کی تنخواہ وغیرہ میں صرف کرنا شرعا جائز ہوگا یانہیں
(۲)یہ کہ انہیں نواب صاحب موصوف نے جو اپنی ذاتی دکان اور تین خانہائے رعایا کو صحن بازار مسجد کی ضرورت سے برابر کراکے نیز گردو پیش کے اپنی افتادہ زمین کو اسی مد میں مدت سے وقف کردیا ہے چنانچہ گھاس بھوسہ لکڑی کنڈا اور دیگر پلہ داروں سے جواس زمین کا محصول آتا ہے وہ بھی برابر مسجد میں ایك بنئے کے ذریعہ سے یکمشت جمع ہوتا رہتا ہے اور جو مدات مذکور میں صرف ہوتا ہے اسکے متعلق(ایك ہندورئیس جس کا نام لالہ بشمبر ناتھ
ہے اور وہ گوپامؤ سے قریب ایك موضع تہمروان میں رہتے ہیں)کا یہ بیان سنا جاتا ہے کہ چنگی قبضہ میں ہمارے ہے لہذا یہ متفرق آمدنی ہماری ہے اس کو ہم لیں گے حالانکہ وہ اس بازار میں کسی جزء اراضی کے بھی مالك نہیں ہیں اور چنگی ان کی ہونا قاعدہ کے بھی بالکل خلاف ہے کیونکہ چنگی حق گورنمنٹ ہے کاغذات سرکاری میں بھی چنگی کا کوئی وجود نہیں دوسرے مالك زمین یعنی واقف کی طرف سے یہ زمین دراصل مسجد کی ہے ایسی حالت میں آیا ہم مسلمانوں کا فرض ہے کہ ہم دامے درمےقلمے سخنے غرض ہر مدافعانہ حیثیت سے ان کی اس ناجائز دست برد سے اگروہ کریں اس کو بچائیں یا نہیںنیزاس معاملہ جو شدائد ہمیں درپیش ہوں گے بصیغہ حفظ جائداد ووقف عنداللہ ہیں اس کا اجر ملے گا یا نہیںاور اگر مسلمان کثرت رائے سے اس کی کل یا جزء آمدنی بطور فیصلہ باہمی کے لالہ صاحب کو دینا منظور کریں تو آیاان کا یہ فعل شرعا صحیح اور قابل تسلیم ہوگا یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)اوقاف میں شرط واقف مثل نص شارع واجب الاتباع ہوتی ہے اور اس میں بلاشرط واقف یا اجازت خاصہ شرعیہ کوئی تغیر تبدل جائز نہیں مدرسہ کے مال سے مسجد کا قرض ادا نہیں کیاجاسکتا جو اداکرے گا تاوان اس پر ہے مسجد کے مال سے نہیں لے سکتا مسجد پر جو جائداد واقف نے وقف کی اگر اس سے بنائے مدرسہ ومصارف مدرسہ کی اجازت دی تھی تو جائز ہے ورنہ ناجائز۔
(۲)صورت مذکورہ میں ضرور مسلمانوں پر فرض ہے کہ حتی المقدور ہر جائز کو شش حفظ مال وقف ودفع ظلم ظالم میں صرف کریں اور اس میں جتنا وقت یا مال ان کا خرچ ہوگا یا جو کچھ محنت کرینگے مستحق اجر ہوں گے قال تعالی :
" لا یصیبهم ظما و لا نصب و لا مخمصة " (الی قولہ تعالی ) "الا کتب لہم بہ عمل صلح " ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ان کو مشقت اور مشکل نہ پہنچے گی(الی قولہ تعالی )مگر ان کےلئے نیك عمل لکھے جائیں گے(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۷: ازضلع گیا موضع پردہ چک ڈاکخانہ شمشیر نگر مسئولہ ابوالبرکات یوم شنبہ ۱۷صفر المظفر۱۳۳۴ھ
عام قبرستان میں اگر کسی نے درخت لگائے تو اسکی ملك ہے یانہیں دوسروں کو بدون اجازت استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں فقط۔
الجواب:
قبرستان اگرچہ وقف ہو مگر درخت جو اس میں لگائے جائیں اگر لگانے والا تصریحا یہ کہ بھی دے کہ میں نے
الجواب:
(۱)اوقاف میں شرط واقف مثل نص شارع واجب الاتباع ہوتی ہے اور اس میں بلاشرط واقف یا اجازت خاصہ شرعیہ کوئی تغیر تبدل جائز نہیں مدرسہ کے مال سے مسجد کا قرض ادا نہیں کیاجاسکتا جو اداکرے گا تاوان اس پر ہے مسجد کے مال سے نہیں لے سکتا مسجد پر جو جائداد واقف نے وقف کی اگر اس سے بنائے مدرسہ ومصارف مدرسہ کی اجازت دی تھی تو جائز ہے ورنہ ناجائز۔
(۲)صورت مذکورہ میں ضرور مسلمانوں پر فرض ہے کہ حتی المقدور ہر جائز کو شش حفظ مال وقف ودفع ظلم ظالم میں صرف کریں اور اس میں جتنا وقت یا مال ان کا خرچ ہوگا یا جو کچھ محنت کرینگے مستحق اجر ہوں گے قال تعالی :
" لا یصیبهم ظما و لا نصب و لا مخمصة " (الی قولہ تعالی ) "الا کتب لہم بہ عمل صلح " ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ان کو مشقت اور مشکل نہ پہنچے گی(الی قولہ تعالی )مگر ان کےلئے نیك عمل لکھے جائیں گے(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۷: ازضلع گیا موضع پردہ چک ڈاکخانہ شمشیر نگر مسئولہ ابوالبرکات یوم شنبہ ۱۷صفر المظفر۱۳۳۴ھ
عام قبرستان میں اگر کسی نے درخت لگائے تو اسکی ملك ہے یانہیں دوسروں کو بدون اجازت استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں فقط۔
الجواب:
قبرستان اگرچہ وقف ہو مگر درخت جو اس میں لگائے جائیں اگر لگانے والا تصریحا یہ کہ بھی دے کہ میں نے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۱۲۰
ان کو قبرستان پر وقف کیا جب بھی وقف نہ ہوں گے اور لگانےوالے ہی کی ملك رہیں گے اس کی اجازت کے بغیر دوسروں کو ان میں تصرف جائز نہیں اور اس کو اختیار ہے کہ اس کی لکڑی کاٹے یا جو چاہے کرے بلکہ اگر ان کے سبب مقابر پر زمین تنگ کردے تو اسے مجبور کیا جائے گا کہ درخت کاٹ کر زمین خالی کردے والمسئلۃ فی الھندیۃ وغیرہا(فتاوی ہندیہ وغیرہ میں یہ مسئلہ موجود ہے۔ت)وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ۵۸: ازضلع سیتاپور قصبہ لہر پور مدرسہ اسلامیہ قاضی ابومحمد یوسف حسین صاحب بروز چہار شنبہ ۲۱صفر ۱۳۳۴ھ
وقف والے استفتاء میں ایك لفظ"ارصادات"کا تحریر ہے جس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے اگر آپ کو معلوم ہوں تحریر فرمائے غیاث میں"رصد"کے معنی نگاہ رکھنا نکلے اور لفظ"ارصادات"نہیں نکلا"رصد"کی اگر جمع"ارصادات"لئے جائیں تو بھی اس موقع پر کام نہیں دیتے شاید لفظ تحریرات سلطانی میں کسی قسم کی تحریر کا نام ہو جیسے"سجل"یا"فرمان"وغیرہ اگر ایسا ہے تو یہ تحریرفرمائیے کہ یہ لفظ کس قسم کے اسناد کے واسطے مستعمل ہوتا ہے اصل موقع اس لفظ کا شاید آپ کے خیال میں نہ باقی ہو اس لئے میں ابتدائے مضمون استفتاء کا نقل کئے دیتا ہوں ارصادات سلاطین حکم وقف میں ہیں نہ وہ موروث ہوں نہ ان کے بیع وانتقال کا کسی کو حق ہو۔
الجواب:
مولنا اکرمکم اللہ تعالی ا لسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"ارصاد"کے معنی نگہداشتن ہی ہیں یعنی محفوظ کردینا سلاطین اسلام مواضع سلطنت سے جو دیہات مصارف خیر کے لئے وقف کرتے ہیں انہیں ارصاد کہتے ہیں یعنی سلطان نے انہیں محفوظ وممنوع التملیك کردیا ان کا حکم بعینہ مثل وقف ہے
وانما سمیت ارصادات لان الوقف شرطہ الملك والسلاطین لایملکون مافی ولایتھم ان الملك الا ﷲ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ان کو ارصادات اس لئے کہتے ہیں کہ وقف کی شرط ہے کہ پہلے کسی کی ملك میں ہو جبکہ سلاطین اپنی ولایت کے مالك نہیں ہوتے ملك توصرف اللہ تعالی کی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۵۹:تا۶۰: ازکانپور محلہ لکہنیا بازار متصل مدرسہ فیض عام مسئولہ شمس الدین محمود عرف میاں۲۲صفر۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے وقت وفات اپنے چند قطعات زمین وقف کئے اپنی ملکیت ومتروکہ سے چھوڑے سند وقف میں یہ تحریر ہے کہ خرچ مساکین ومسافرین ومسجد کے واسطے یہ وقف کیا جاتا ہے پس مورثان متوفی جو متولی جائداد موقوفہ بھی ہیں
(۱)اگر منجملہ قطعات زمین متذکرہ صدر کے کوئی جزوجو خراب وبیکار پڑا ہو ا ور اس سے کسی قسم کی آمدنی بھی نہ ہو
مسئلہ۵۸: ازضلع سیتاپور قصبہ لہر پور مدرسہ اسلامیہ قاضی ابومحمد یوسف حسین صاحب بروز چہار شنبہ ۲۱صفر ۱۳۳۴ھ
وقف والے استفتاء میں ایك لفظ"ارصادات"کا تحریر ہے جس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے اگر آپ کو معلوم ہوں تحریر فرمائے غیاث میں"رصد"کے معنی نگاہ رکھنا نکلے اور لفظ"ارصادات"نہیں نکلا"رصد"کی اگر جمع"ارصادات"لئے جائیں تو بھی اس موقع پر کام نہیں دیتے شاید لفظ تحریرات سلطانی میں کسی قسم کی تحریر کا نام ہو جیسے"سجل"یا"فرمان"وغیرہ اگر ایسا ہے تو یہ تحریرفرمائیے کہ یہ لفظ کس قسم کے اسناد کے واسطے مستعمل ہوتا ہے اصل موقع اس لفظ کا شاید آپ کے خیال میں نہ باقی ہو اس لئے میں ابتدائے مضمون استفتاء کا نقل کئے دیتا ہوں ارصادات سلاطین حکم وقف میں ہیں نہ وہ موروث ہوں نہ ان کے بیع وانتقال کا کسی کو حق ہو۔
الجواب:
مولنا اکرمکم اللہ تعالی ا لسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"ارصاد"کے معنی نگہداشتن ہی ہیں یعنی محفوظ کردینا سلاطین اسلام مواضع سلطنت سے جو دیہات مصارف خیر کے لئے وقف کرتے ہیں انہیں ارصاد کہتے ہیں یعنی سلطان نے انہیں محفوظ وممنوع التملیك کردیا ان کا حکم بعینہ مثل وقف ہے
وانما سمیت ارصادات لان الوقف شرطہ الملك والسلاطین لایملکون مافی ولایتھم ان الملك الا ﷲ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ان کو ارصادات اس لئے کہتے ہیں کہ وقف کی شرط ہے کہ پہلے کسی کی ملك میں ہو جبکہ سلاطین اپنی ولایت کے مالك نہیں ہوتے ملك توصرف اللہ تعالی کی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۵۹:تا۶۰: ازکانپور محلہ لکہنیا بازار متصل مدرسہ فیض عام مسئولہ شمس الدین محمود عرف میاں۲۲صفر۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے وقت وفات اپنے چند قطعات زمین وقف کئے اپنی ملکیت ومتروکہ سے چھوڑے سند وقف میں یہ تحریر ہے کہ خرچ مساکین ومسافرین ومسجد کے واسطے یہ وقف کیا جاتا ہے پس مورثان متوفی جو متولی جائداد موقوفہ بھی ہیں
(۱)اگر منجملہ قطعات زمین متذکرہ صدر کے کوئی جزوجو خراب وبیکار پڑا ہو ا ور اس سے کسی قسم کی آمدنی بھی نہ ہو
مسجد میں شامل کردیں۔
(۲)یا کسی جز قطعات مذکور بالا میں کچھ عمارت اس غرض سے تعمیر کردیں کہ اس کی آمدنی واسطے اخراجات مسجد کے کام آئے یا کسی خاص کام متعلق مسجد کے مثلا فرش وفروش وغیرہ متعلقہ ومملوکہ مسجد کے رکھنے یا پیش امام ومؤذن وغیرہ کسی خادم مسجد کی سکونت کے بکار ہوتو جائز ہے یانہیں اور متولی پر کوئی مواخذہ شرعی تو نہ ہوگا
الجواب:
اگر مسجد تنگ ہو جماعت کی دقت ہوتی ہے جگہ کی حاجت ہے تو یہ زمین مسجد میں شامل کردی جائے ورنہ نہیں کہ وہ مسجد کے لئے وقف ہے نہ کہ مسجد کرلینے کے لئے۔عالمگیری میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ ۔
وقف کی ہیئت کو بدلنا جائز نہیں(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی الفتح ضاق المسجد وبجنبہ ارض وقف علیہ او حانوت جاز ان یوخذ ویدخل فیہ ۔
فتح میں ہے کہ مسجد تنگ ہوجائے حالانکہ اسکے پہلومیں وقف شدہ زمین یا دکان ہے جو اسی مسجد کے نام وقف ہے تو اس کو مسجد میں شامل کرنا جائز ہے(ت)
صورت ثانیہ حسب پابندی شرائط واقف جائز ہے مثلا اس کی آمدنی مسجد میں صرف کرنے کے لئے وقف کی ہو تو اس غرض کے لئے اس میں عمارت بنانی جائز اور سکونت امام وغیرہ کےلئے ناجائز لان شرط الواقف کنص الشارع(کیونکہ واقف کی شرط شارع کی نص کی طرح ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۱: ازخیر آباد ضلع سیتا پوراودھ محلہ میاں سرائے درگاہ حضرت حاجی حافظ سید محمد علی صاحب ۲۴صفر المظفر۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ چند موضعات کو شاہان دہلی نے واسطے مصارف امور مذہبی ومدد معاش ایك خاندان کے معاف کیا تا زمان سلطنت انگلشیہ موافق نیت عطا کنندہ اس پر عملدرآمد رہا عہد سلطنت انگلشیہ زمانہ بندوبست اول میں اس معافی کی نسبت تحقیقات ہوکر معافی قدیم ثابت ہوئی اس تحقیقات میں ورثا معافی داراول نے یہ بیان کیاہے کہ یہ مواضع قدیم سے وقف ہے لیکن اب بھی وقف نامہ یا ایسی تحریر یا حکم شاہان دہلی عطا کنندہ کی معافی کا کہ جس سے واقف کا نام یامضمون وقف اس سے
(۲)یا کسی جز قطعات مذکور بالا میں کچھ عمارت اس غرض سے تعمیر کردیں کہ اس کی آمدنی واسطے اخراجات مسجد کے کام آئے یا کسی خاص کام متعلق مسجد کے مثلا فرش وفروش وغیرہ متعلقہ ومملوکہ مسجد کے رکھنے یا پیش امام ومؤذن وغیرہ کسی خادم مسجد کی سکونت کے بکار ہوتو جائز ہے یانہیں اور متولی پر کوئی مواخذہ شرعی تو نہ ہوگا
الجواب:
اگر مسجد تنگ ہو جماعت کی دقت ہوتی ہے جگہ کی حاجت ہے تو یہ زمین مسجد میں شامل کردی جائے ورنہ نہیں کہ وہ مسجد کے لئے وقف ہے نہ کہ مسجد کرلینے کے لئے۔عالمگیری میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ ۔
وقف کی ہیئت کو بدلنا جائز نہیں(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی الفتح ضاق المسجد وبجنبہ ارض وقف علیہ او حانوت جاز ان یوخذ ویدخل فیہ ۔
فتح میں ہے کہ مسجد تنگ ہوجائے حالانکہ اسکے پہلومیں وقف شدہ زمین یا دکان ہے جو اسی مسجد کے نام وقف ہے تو اس کو مسجد میں شامل کرنا جائز ہے(ت)
صورت ثانیہ حسب پابندی شرائط واقف جائز ہے مثلا اس کی آمدنی مسجد میں صرف کرنے کے لئے وقف کی ہو تو اس غرض کے لئے اس میں عمارت بنانی جائز اور سکونت امام وغیرہ کےلئے ناجائز لان شرط الواقف کنص الشارع(کیونکہ واقف کی شرط شارع کی نص کی طرح ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۱: ازخیر آباد ضلع سیتا پوراودھ محلہ میاں سرائے درگاہ حضرت حاجی حافظ سید محمد علی صاحب ۲۴صفر المظفر۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ چند موضعات کو شاہان دہلی نے واسطے مصارف امور مذہبی ومدد معاش ایك خاندان کے معاف کیا تا زمان سلطنت انگلشیہ موافق نیت عطا کنندہ اس پر عملدرآمد رہا عہد سلطنت انگلشیہ زمانہ بندوبست اول میں اس معافی کی نسبت تحقیقات ہوکر معافی قدیم ثابت ہوئی اس تحقیقات میں ورثا معافی داراول نے یہ بیان کیاہے کہ یہ مواضع قدیم سے وقف ہے لیکن اب بھی وقف نامہ یا ایسی تحریر یا حکم شاہان دہلی عطا کنندہ کی معافی کا کہ جس سے واقف کا نام یامضمون وقف اس سے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۹۰
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت۳/۳۸۴
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت۳/۳۸۴
ثابت ہوسکے پیش نہیں ہوا بلکہ جو کچھ ثبوت تحریری زبانی پیش ہوا اس سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مواضع شاہان دہلی نے بغرض مذکور بالا معافی عطا کئے تھے اسی بنیاد پر جو سند سرکار انگلشیہ سے عطا ہوئی وہ معافی مشروط کی عطا ہوئی اور منجملہ شرائط سند عطائے سرکار انگلشیہ ایك یہ بھی شرط ہے کہ درصورت عدم پابندی شرائط سند یہ معافی ضبط کرلی جائیگی اور مواضع مذکورہ کے متعلق سرکار انگلشیہ سے ڈگری حق اعلی بمقابلہ سرکار بحق معافی داران صادر ہوچکی ہے اور سرکارانگلشیہ اپنے حقوق مثل رقم سوائی وفیس سڑکانہ وشفاخانہ وغیرہ مثل دیگر زمینداران کے سالانہ معافی دار سے لیتی ہے اس کے بعد سے تاحال ورثاء معافی داران شرائط مندرجہ عطیہ سرکار انگلشیہ پابند رہ کر بطور مناسب اغراض معافی میں محاصل مواضع میں سے خرچ کرکے بقیہ محاصل کو اپنے مدد معاش میں صرف کرتے رہے بندوبست اول سے اس خاندان معافی داران میں حصص قائم ہوئے اور برابر وراثت جاری رہے اور ہر معافی دار کانام کھیوٹ وکاغذات میں بطورمالك درج ہوتا رہا۔ اب تھوڑا عرصہ ہوا کہ شرکاء معافی میں سے چند شرکاء نے حسب ذیل انقلاب کئے ایك معافی دار نے منجملہ اپنے حصہ کے ایك جزء کا وقف نامہ بنام اللہ میاں رجسٹری شدہ تحریر کیا ایك حصہ دار نے اپنا حصہ اپنے حقیقی بھائی کے نام ہبہ کردیا ایك نے وقف علی الاولاد کیااس کے بعد واقف علی الاولاد نے عدالت مجاز میں ایك دعوی دائر کیا کہ ہبہ مواضع موقوفہ میں ان میں کارروائی منتقلات جائز نہیں ہے اور اپنے عرضی دعوی میں اپنے انتقال وقف علی الاولاد کو پوشیدہ رکھا اور ہر دو انتقالات کو ظاہر کیا اور عدم جواز کی حجت کی لہذا استصواب ہے کہ مواضع عطیہ شاہی وسرکار انگلشیہ وقف سمجھے جائیں گے یا از قبیل عطیات ومعاقبات وارصادات وغیرہ متصور ہوں گے اور کارروائی انتقالات متذکرہ بالا باطل وکالعدم سمجھی جائیں گی یا جائزمتصور ہوکر آئندہ کے لئے ایسی کارروائیاں جائز رہیں گی اور اس بیان معافی داران سے جو بندوبست میں نسبت وقف ہونے جائداد کے ہوا ہے جائداد مذکورہ وقف ہوگئے یا ان کا بیان بمقابلہ نیت عطا کنندہ کے باطل وہیچ ہے اور ہبہ جائداد بصورت عطیہ و معافی وارصاد کے قائم رہیں گے اور عطیہ و ارصاد کے کیا معنی ہیں اور ان پر کیا کیا احکام جاری ہوسکتے ہیں اور کیا کیااحکام جاری نہیں ہوسکتے ہیں فقط
الجواب:
ارصادات وعطایا سلاطین میں زمین وآسمان کا فرق ہے جو مواضع سلاطین اپنی رعیت میں سے کسی کو جاگیر بخش دیں اسے اس کا مالك کردیں وہ عطا ہے عربی میں اسے اقطاع کہتے ہیں اور ہماری زبان میں معافی وجاگیر اور جو مواضع سلاطین اسلام مصارف خیر کےلئے تعین کردیں وہ ارصاد ہیں ان کا حکم بعینہ حکم وقف ہے اور بعد مصارف خیر جو کچھ بچے اس میں سے کسی قوم یا کسی شیخ کی اولاد یا کسی مزار کے خدام کی مدد معاش کرنا منافی وقف وارصاد نہیں نہ اوقاف قدیمہ کے لئے واقف کا نام معلوم ہونا ضرور نہ کوئی سند پیش کرنا لازم ورنہ لاکھوں وقف خصوصا مساجد باطل ہوجائیں خود سائل کا بیان ہے کہ مواضع سلاطین دہلی نے مصارف امور مذہبی اور ایك خاندان کی مدد معاش کےلئے
الجواب:
ارصادات وعطایا سلاطین میں زمین وآسمان کا فرق ہے جو مواضع سلاطین اپنی رعیت میں سے کسی کو جاگیر بخش دیں اسے اس کا مالك کردیں وہ عطا ہے عربی میں اسے اقطاع کہتے ہیں اور ہماری زبان میں معافی وجاگیر اور جو مواضع سلاطین اسلام مصارف خیر کےلئے تعین کردیں وہ ارصاد ہیں ان کا حکم بعینہ حکم وقف ہے اور بعد مصارف خیر جو کچھ بچے اس میں سے کسی قوم یا کسی شیخ کی اولاد یا کسی مزار کے خدام کی مدد معاش کرنا منافی وقف وارصاد نہیں نہ اوقاف قدیمہ کے لئے واقف کا نام معلوم ہونا ضرور نہ کوئی سند پیش کرنا لازم ورنہ لاکھوں وقف خصوصا مساجد باطل ہوجائیں خود سائل کا بیان ہے کہ مواضع سلاطین دہلی نے مصارف امور مذہبی اور ایك خاندان کی مدد معاش کےلئے
معاف کئے اور یہ کہ تا زمان سلطنت انگلشیہ موافق نیت عطا کنندہ اس پر عملدرآمد رہا اور یہ کہ اس کے بعد سے تاحال ورثاء معافی داران اغراض معافی میں محاصل مواضع میں سے خرچ کرکے بقیہ محاصل کو اپنی مدد معاش میں صرف کرتے رہے یہ شان وقف ہی کی ہوتی ہے اور اگر کسی خاص شخص کو جاگیر دینی ہوتی ہے تومصارف خیر کی قید نہ لگائی جاتی نہ یہ کہ ان سے جو بچے وہ مدد معاش میں صرف ہو نہ اس کے موافق قدیم سے اب تك عملدرآمد رہتا ہے تو ضرور یہ مواضع وقف ہی ہیں اور بندوبست حال میں اسمائے متولیان بخانہ ملکیت رکھنا وقف ثابت کو زائل نہ کرے گا اور یہ انتقالات جوا ن بعض متولیوں نے کئے اگر اس سے مقصود وہ محاصل ہیں جو بعد مصارف خیر ان کے حصہ میں آئیں جب تو ظاہر ہے کہ اس سے اصل وقف پر کوئی حملہ نہ ہوااگرچہ محاصل کا وقف یا قبل وصول ہبہ کرنا باطل ہےاوراگران سے نفس رقبہ جائداد کا انتقال مقصود تھا تو غایت یہ کہ ان کا ظلم باطل ومردود تھا اس سے وقف پر کیوں حرف آنے لگا گورنمنٹ کا رقوم سوائی وغیرہ لینا بھی منافی وقف نہیں یوں ہی بندوبست اول سے اجرائے وراثت اگرمحاصل میں ہے کیا بیجا ہے اور رقبہ میں ہے تو متولیوں کا ظلم ہے بلکہ بیان سائل کہ اب تك بعد مصارف خیر جو بچتا ہے تقسیم کرتے ہیں رقبہ میں اجرائے وراثت کی خود نفی کررہا ہے اورنہ بھی سہی تو ان کے مورثوں کا سب سے پہلا بیان کہ یہ جائداد وقف ہے ان کے ان تصرفات کے ابطال کو کافی ہے جائداد ملك ہو کر وقف ہوسکتی ہے مگر وقف ٹھہرکر کبھی ملك نہیں ہوسکتی اور ان کے اس بیان اول میں نیت عطا کنندہ کا کچھ خلاف نہیں بلکہ عین موافقت ہے جیسا کہ اوپر ظاہر ہوا بالجملہ شك نہیں کہ مواضع مذکورہ وقف ہیں اور ان میں کسی کو تصرفات مالکانہ یا انتقالات کا کچھ حق نہیں " و اتقوا الله الذی الیه تحشرون(۹۶)" (اور ڈرو اﷲ تعالی سے جس کی طرف تم اٹھائے جاؤگے۔ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۲: ازضلع بجنور موضع چاند پور مسئولہ محمد قطب الدین ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
مخدوم مکرم ومعظم دام ظلکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آبادی قصبہ چاند پور میں موازی ۶بسوائے یعنی(للعہ مہ)گز کل اراضی نمبری خسرہ ۲۴۸۲واقع محلہ کوئلہ موقوفہ تھی اس پر ایك دکان بنی ہوئی تھی اس کی آمدنی صرف مسجد میں آتی تھی چنانچہ بندوبست دہم یعنی ۱۸۶۷ء یا ۱۲۷۴ف میں دکان مذکورہ بخانہ مالك زمین ومالك مکان(موقوفہ)تحریر ہے اس کے کیفیت میں(دکان تصرف مسجد)تحریر ہے اس کے منتظم مولوی مجتبی حسن صاحب دیوبندی ساکن چاند پور تھے دکان منہدم ہوگئی اس پر ایك سہ دری بنائی گئی جو قیام مسافران اور درس گاہ کے کام آتی رہی اور مہتمم بدستور مولوی صاحب موصوف رہے اب اس سال سے مولوی صاحب مذکورنے اس کے اوپر ایك بالاخانہ تعمیر کرلیا اس کو زنانہ مکان کرلیا بیچ کا سابقہ حصہ یعنی سہ دری اپنی نشست گاہ خاص بنالی اﷲ اﷲخیرصلا۔
مسئلہ ۶۲: ازضلع بجنور موضع چاند پور مسئولہ محمد قطب الدین ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
مخدوم مکرم ومعظم دام ظلکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آبادی قصبہ چاند پور میں موازی ۶بسوائے یعنی(للعہ مہ)گز کل اراضی نمبری خسرہ ۲۴۸۲واقع محلہ کوئلہ موقوفہ تھی اس پر ایك دکان بنی ہوئی تھی اس کی آمدنی صرف مسجد میں آتی تھی چنانچہ بندوبست دہم یعنی ۱۸۶۷ء یا ۱۲۷۴ف میں دکان مذکورہ بخانہ مالك زمین ومالك مکان(موقوفہ)تحریر ہے اس کے کیفیت میں(دکان تصرف مسجد)تحریر ہے اس کے منتظم مولوی مجتبی حسن صاحب دیوبندی ساکن چاند پور تھے دکان منہدم ہوگئی اس پر ایك سہ دری بنائی گئی جو قیام مسافران اور درس گاہ کے کام آتی رہی اور مہتمم بدستور مولوی صاحب موصوف رہے اب اس سال سے مولوی صاحب مذکورنے اس کے اوپر ایك بالاخانہ تعمیر کرلیا اس کو زنانہ مکان کرلیا بیچ کا سابقہ حصہ یعنی سہ دری اپنی نشست گاہ خاص بنالی اﷲ اﷲخیرصلا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۹۶
مولوی صاحب کہتے ہیں ہم مکان کے مالك ہیں ہمارا تعمیر کردہ ہے تمادی بارہ سال عارضی ہے وغیرہ وغیرہ اور سب چیزیں خداکی ملکیت میں اور ہم اس کے بندے ہیں رضامندی سے وہ چھوڑنے پر رضامند نہیں ہوتے مجبورا عدالتانہ کارروائی کرنا ہوگی چونکہ مولوی صاحب موصوف اور ان کے بھائی مولوی مرتضی حسن صاحب سب مولوی ہیں(مولوی عالم فاضل ہیں) سب لوگ ان کا ادب کرتے ہیں بچتے ہیں کوئی دعوی کرنے یا مدعی بننے پر رضامند نہیں ہوتا یہاں ہم صرف دو آدمی حق کی حمایت کرسکتے ہیں البتہ واقعات کے بابت شہادت دے سکتے ہیں اگر ان کومدعی بنالیا جائے تو گواہ کون رہے سوائے اس کے نالش ہونے پر لوگوں سے توقع ہوسکتی ہے بالفعل یہ خیال ہے کہ مولوی پر ہاتھ ڈالنا گناہ کبیرہ ہے حتی کہ مولوی عبدالواسع صاحب ومیر سجاد حسین صاحب وکلا بجنور وکیل بننے سے گریز کرتے ہیں اس قحط الرجال میں آپ پر نظر دوڑتی ہے اور گزارش کیا جاتا ہے کہ ہم کو کیا کارروائی کرنا چاہئے اوراس صورت میں شرع شریف کا کیا حکم ہے اور اگر آپ کانام نامی بھی زمرہ مدعیان میں شامل کردیا جائے تو نامناسب تو نہیں ہےیا کسی اور شخص کالکھا جائےجیسی رائے عالی ہو کیا جائے جواب بواپسی ڈاك مرحمت ہو فقط۔
الجواب:
بحمد اﷲتعالی میں حکم شرعی جانتا ہوں اور وہی بتاسکتا ہوں قانون سے نہ مجھے واقفیت نہ اس کا مشورہ دے سکتا ہوں وقف میں تصرف مالکانہ حرام ہے اور متولی جب ایسا کرے تو فرض ہے کہ اسے نکال دیں اگرچہ خود واقف ہوچہ جائے دیگر۔درمختار میں ہے:
وینزع وجوبا ولو الواقف درر فغیرہ اولی لوغیر مامون بزازیہ ۔
لازما معزول کیا جائے اگرچہ واقف ہی ہودرر۔تو بطریق اولی غیر کو اگر وہ معتمد علیہ نہیں بزازیہ۔(ت)
اور وقف کا مدعی ہر مسلمان ہوسکتا ہے او جو مدعی ہو وہی شاہد ہوسکتا ہے لانہ لایحتاج الی الدعوی (کیونکہ دعوی کی ضرورت نہیں۔ت) وہاں کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وقف کو ظلم سے نجات دلائیں۔ دیوبندی عالم دین نہیں ان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں عالم دین سمجھنا خود کفر ہے علمائے حرمین شریفین نے انہیں لوگوں کے لئے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔
جو اس کے عذاب اور کفر میں شك کرے تووہ کافرہوا۔(ت)
الجواب:
بحمد اﷲتعالی میں حکم شرعی جانتا ہوں اور وہی بتاسکتا ہوں قانون سے نہ مجھے واقفیت نہ اس کا مشورہ دے سکتا ہوں وقف میں تصرف مالکانہ حرام ہے اور متولی جب ایسا کرے تو فرض ہے کہ اسے نکال دیں اگرچہ خود واقف ہوچہ جائے دیگر۔درمختار میں ہے:
وینزع وجوبا ولو الواقف درر فغیرہ اولی لوغیر مامون بزازیہ ۔
لازما معزول کیا جائے اگرچہ واقف ہی ہودرر۔تو بطریق اولی غیر کو اگر وہ معتمد علیہ نہیں بزازیہ۔(ت)
اور وقف کا مدعی ہر مسلمان ہوسکتا ہے او جو مدعی ہو وہی شاہد ہوسکتا ہے لانہ لایحتاج الی الدعوی (کیونکہ دعوی کی ضرورت نہیں۔ت) وہاں کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وقف کو ظلم سے نجات دلائیں۔ دیوبندی عالم دین نہیں ان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں عالم دین سمجھنا خود کفر ہے علمائے حرمین شریفین نے انہیں لوگوں کے لئے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔
جو اس کے عذاب اور کفر میں شك کرے تووہ کافرہوا۔(ت)
حوالہ / References
درمختارکتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی۱ /۳۸۳
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۳
حسام الحرمین مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۳
اور بالفرض کوئی عالم بھی ہوتو اس کا ادب اس کامقتضی نہیں ہوسکتا ہے کہ وقف اس کے دستبردظالمانہ میں چھوڑ دیاجائے اگرچہ عالم ہے مگروقف پرظالم ہے اوراس کی تخلیص فرض۔ یہ بہت اچھا عذر ہے کہ سب ملك خدا ہے اور ہم اس کے بندہ کیا ایسا کہنے والا اپنے املاك اور اپنے ابل میں بھی ان کے لئے یہی گمان کرے گا کہ یہ سب ملك خدا ہیں اور وہ خدا کے بندے یہ خاصہ اباحیہ کا مذہب ہے فقیر کچہری کی لیاقت نہیں رکھتا اس سے معاف فرمایا جائے اور ہزاروں مسلمان مدعی ہوسکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۳:مسئولہ مرد مان عامہ موضع باجری تحصیل کہڑ واڑ ضلع انبالہ بتوسط الہ بخش درزی ساکن باجری ۲۳جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت بیوہ نے اپنی تمام اشیاء جس میں منجملہ دیگر اشیاء کے ایك سکنی مکان بھی ہے مسجد کے نام پر خدا کے واسطے وقف کردیا اور سند کے لئے ایك کاغذ پر چند معززبرادران رشتہ کے دستخط کرو اکر ایك کاغذ بنالیا اور یہ کام کرکے وہ عورت ایك دوسرے موضع میں اپنی لڑکی کے گھر پر جارہی اور اس کے چلے جانے کے بعد میں اس عورت کے قریبی رشتہ والوں نے اس وقف شدہ مکان کی بابت فساد شروع کردیا کہ ہم یہ مکان مسجد کے نام نہیں دیں گے حالانکہ بیوہ کے کوئی اولاد ذکور میں سے صاحب حق نہیں ہے اور وہ اپنے مال وجائداد کی بلااشتراك غیرے خاوند کے مرنے کے بعد خود مختار مالك تھی لہذا اب دریافت امر خاص یہ ہے کہ آیا کوئی شخص بیوہ کی مرضی کے خلاف کچھ کاروائی کرسکتا ہےاور اگر کرسکتا ہے تو کس صورت سےورنہ ایسے بددیانت اشخاص کی کیا شرعی تعزیز ہےفقط
الجواب:
جوشئے اللہ عز وجل کےلئے وقف ہوگئی اس میں کسی کو دعوی نہیں پہنچتا یہاں سوال سے ظاہر یہ ہے کہ عورت نے اپنی حالت صحت میں یہ وقف کیا تو اب کسی رشتہ دار کا اس میں مزاحمت کرنا محض ظلم ونامسموع ہے اور یہاں کوئی کسی کو تعزیر نہیں دے سکتا بڑی تعزیر یہ ہے کہ جس سے بات واقع ہومسلمان اسے چھوڑدیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۴: ازشہر جیت پور ملك کاٹھیاوار چھوٹی چوك مسئولہ حاجی امداداحمد حامد متولی جمعہ مسجدکیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کا طریقہ ہے کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے یا فوت ہوتا ہے تو اس کی جانب سے اس کے عزیز ایك یا چند قرآن پاك مسجد میں بھیجتے ہیں اس نیت سے کہ لوگ پڑھیں تاکہ ہم کو ثواب ملےاب چونکہ جامع مسجد میں وہ بکثرت جمع ہوگئے اور بیکار رکھے ہیں جن کا انجام سوائے گلنے اور بوسیدہ ہونے کے کچھ نہیں ہے کیونکہ پڑھنے والے چند اور قرآن بکثرت جمعتو ان کو ہدیہ کرکے وہ پیسہ مسجد کے صرف میں لاسکتے ہیں یانہیںمسجد سے ملحق ایك مدرسہ قرآن ہے اور نیز شہر میں بھی قرآن کے مدرسے ہیں ان میں
مسئلہ۶۳:مسئولہ مرد مان عامہ موضع باجری تحصیل کہڑ واڑ ضلع انبالہ بتوسط الہ بخش درزی ساکن باجری ۲۳جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت بیوہ نے اپنی تمام اشیاء جس میں منجملہ دیگر اشیاء کے ایك سکنی مکان بھی ہے مسجد کے نام پر خدا کے واسطے وقف کردیا اور سند کے لئے ایك کاغذ پر چند معززبرادران رشتہ کے دستخط کرو اکر ایك کاغذ بنالیا اور یہ کام کرکے وہ عورت ایك دوسرے موضع میں اپنی لڑکی کے گھر پر جارہی اور اس کے چلے جانے کے بعد میں اس عورت کے قریبی رشتہ والوں نے اس وقف شدہ مکان کی بابت فساد شروع کردیا کہ ہم یہ مکان مسجد کے نام نہیں دیں گے حالانکہ بیوہ کے کوئی اولاد ذکور میں سے صاحب حق نہیں ہے اور وہ اپنے مال وجائداد کی بلااشتراك غیرے خاوند کے مرنے کے بعد خود مختار مالك تھی لہذا اب دریافت امر خاص یہ ہے کہ آیا کوئی شخص بیوہ کی مرضی کے خلاف کچھ کاروائی کرسکتا ہےاور اگر کرسکتا ہے تو کس صورت سےورنہ ایسے بددیانت اشخاص کی کیا شرعی تعزیز ہےفقط
الجواب:
جوشئے اللہ عز وجل کےلئے وقف ہوگئی اس میں کسی کو دعوی نہیں پہنچتا یہاں سوال سے ظاہر یہ ہے کہ عورت نے اپنی حالت صحت میں یہ وقف کیا تو اب کسی رشتہ دار کا اس میں مزاحمت کرنا محض ظلم ونامسموع ہے اور یہاں کوئی کسی کو تعزیر نہیں دے سکتا بڑی تعزیر یہ ہے کہ جس سے بات واقع ہومسلمان اسے چھوڑدیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۴: ازشہر جیت پور ملك کاٹھیاوار چھوٹی چوك مسئولہ حاجی امداداحمد حامد متولی جمعہ مسجدکیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کا طریقہ ہے کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے یا فوت ہوتا ہے تو اس کی جانب سے اس کے عزیز ایك یا چند قرآن پاك مسجد میں بھیجتے ہیں اس نیت سے کہ لوگ پڑھیں تاکہ ہم کو ثواب ملےاب چونکہ جامع مسجد میں وہ بکثرت جمع ہوگئے اور بیکار رکھے ہیں جن کا انجام سوائے گلنے اور بوسیدہ ہونے کے کچھ نہیں ہے کیونکہ پڑھنے والے چند اور قرآن بکثرت جمعتو ان کو ہدیہ کرکے وہ پیسہ مسجد کے صرف میں لاسکتے ہیں یانہیںمسجد سے ملحق ایك مدرسہ قرآن ہے اور نیز شہر میں بھی قرآن کے مدرسے ہیں ان میں
ان قرآنوں کو متولی بھیج سکتاہے یانہیں نیز اگر اس شہر کے مدارس سے بچ رہیں تو دوسرے شہر کے مدارس میں بھیجے جاسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
اگر اس بھیجنے سے مصحف شریف اس مسجد پر وقف کرنا مقصود نہیں ہوتا جب تو بھیجنے والوں کو اختیار ہے وہ مصاحف ان کی ملك میں باقی ہیں جو وہ چاہیں کریں اور اگر مسجد پر وقف مقصود ہے تو اس میں اختلاف ہے کہ ایسی صورت میں اسے دوسری مسجد بھیج سکتے ہیں یانہیںجب حالت وہ ہو جوسوال مذکور میں ہے اور تقسیم کی ضرورت سمجھی جائے تو قول جواز پرعمل کرکے دوسری مساجد ومدارس پر تقسیم کرسکتے ہیں اس شہر کی حاجت سے زائد ہو تودوسرے شہر کو بھی بھیج سکتے ہیں مگر انہیں ہدیہ کرکےان کی قیمت مسجد میں نہیں صرف کرسکتے۔درمختار میں ہے:
وقف مصحفا علی المسجد جاز ویقرأ فیہ ولایکون محصورا علی ھذاالمسجد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسجد کے نام قرآن کاوقف جائز ہے وہاں اس کی تلاوت کی جائے لیکن وہ اس مسجد کے لئے پابند نہیں ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۶۵: مسئولہ عبداللہ لوہار مقام چندوسی ضلع مراد آباد محلہ سنبھل دروازہ ۱۹جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہایك باغ(اعگہ)کے دو بھائی مسمیان خواجہ بخش وعظیم مالك تھے اور دونوں کی کوئی اولاد نہیں تھیعظیم بخش نے ایك بھتیجا لے لیا تھا مسمی حسیناور اس نے نصف باغ کا داخل خارج کاغذات سرکاری میں کرادیا عرصہ تیس سال کا ہوااور اب تك اسی کے نام داخل خارج چلاآتا ہے اب دوسرے بھائی خواجہ بخش نے بھی باغ بیت اللہ شریف کے جاتے وقت فی سبیل اللہ وقف کردیاتھا جبکہ عظیم بخش کا انتقال ہوگیا تھا ایسی صورت میں حصہ بھتیجا حسین کو پہنچ سکتا ہے یا بھائی مالك ہےبینواتوجروا
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ وہ نصف باغ بلاتقسیم عظیم بخش نے بھتیجے کے نام ہبہ کردیا تھا اور عظیم بخش نے اپنے انتقال کے بعد بھائی کے سوا کوئی وارث نہ چھوڑا تو وہ ہبہ جو بھتیجے کے نام تھا عظیم بخش کی موت سے باطل ہوگیا۔درمختار موانع رجوع میں ہے:
المیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل ۔
قبضہ دے دینے کے بعد عاقدین میں سے کسی کا فوت ہوجانا تو اگر قبضہ دینے سے پہلے فوت ہوتو عقد باطل ہوگا۔(ت)
الجواب:
اگر اس بھیجنے سے مصحف شریف اس مسجد پر وقف کرنا مقصود نہیں ہوتا جب تو بھیجنے والوں کو اختیار ہے وہ مصاحف ان کی ملك میں باقی ہیں جو وہ چاہیں کریں اور اگر مسجد پر وقف مقصود ہے تو اس میں اختلاف ہے کہ ایسی صورت میں اسے دوسری مسجد بھیج سکتے ہیں یانہیںجب حالت وہ ہو جوسوال مذکور میں ہے اور تقسیم کی ضرورت سمجھی جائے تو قول جواز پرعمل کرکے دوسری مساجد ومدارس پر تقسیم کرسکتے ہیں اس شہر کی حاجت سے زائد ہو تودوسرے شہر کو بھی بھیج سکتے ہیں مگر انہیں ہدیہ کرکےان کی قیمت مسجد میں نہیں صرف کرسکتے۔درمختار میں ہے:
وقف مصحفا علی المسجد جاز ویقرأ فیہ ولایکون محصورا علی ھذاالمسجد ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسجد کے نام قرآن کاوقف جائز ہے وہاں اس کی تلاوت کی جائے لیکن وہ اس مسجد کے لئے پابند نہیں ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۶۵: مسئولہ عبداللہ لوہار مقام چندوسی ضلع مراد آباد محلہ سنبھل دروازہ ۱۹جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہایك باغ(اعگہ)کے دو بھائی مسمیان خواجہ بخش وعظیم مالك تھے اور دونوں کی کوئی اولاد نہیں تھیعظیم بخش نے ایك بھتیجا لے لیا تھا مسمی حسیناور اس نے نصف باغ کا داخل خارج کاغذات سرکاری میں کرادیا عرصہ تیس سال کا ہوااور اب تك اسی کے نام داخل خارج چلاآتا ہے اب دوسرے بھائی خواجہ بخش نے بھی باغ بیت اللہ شریف کے جاتے وقت فی سبیل اللہ وقف کردیاتھا جبکہ عظیم بخش کا انتقال ہوگیا تھا ایسی صورت میں حصہ بھتیجا حسین کو پہنچ سکتا ہے یا بھائی مالك ہےبینواتوجروا
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ وہ نصف باغ بلاتقسیم عظیم بخش نے بھتیجے کے نام ہبہ کردیا تھا اور عظیم بخش نے اپنے انتقال کے بعد بھائی کے سوا کوئی وارث نہ چھوڑا تو وہ ہبہ جو بھتیجے کے نام تھا عظیم بخش کی موت سے باطل ہوگیا۔درمختار موانع رجوع میں ہے:
المیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل ۔
قبضہ دے دینے کے بعد عاقدین میں سے کسی کا فوت ہوجانا تو اگر قبضہ دینے سے پہلے فوت ہوتو عقد باطل ہوگا۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۱۔۳۸۰
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع عن الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۳/ ۱۶۱
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع عن الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۳/ ۱۶۱
تو کل باغ کا مالك خواجہ بخش ہوا جب اس نے وقف کردیا وقف ہوگیا اب نہ اس کا ہے نہ بھتیجے کاخالص ملك الہی ہے عز وجل ۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۶۶: از علی گڑھ محلہ دہلی دروازہ تکیہ بخشی کریم اللہ صاحب مسئولہ عبدالکریم وعبدالعزیز وغیرہ ۲۱رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں عالمان دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك تکیہ اور کچھ اراضی باڑہ کے نام سے کہ جو قدیم الایام سے واسطے فاتحہ حضرت فیض اللہ شاہ صاحب اور حضرت بانام شاہ صاحب کے وقف چلی آتی ہے اور اس کے متولی اور متصرف ہمارے اجداد سے تھے اور اس کی آمدنی سے فاتحہ اور عرس ہمیشہ ہوتا رہتا ہے اس میں پہلے یہ تصرف ہوا کہ اس زمین میں کچھ دکانیں بنوادیں گئیں اور پھر تکیہ کی زمین سے کچھ حصہ اشخاص کے ہاتھ بیع کردیا گیا اور باڑہ کی زمین میں ایك گنج آباد کراکے اس کو رہن کردیا اب استفسار طلب یہ امر ہے کہ آیایہ بیع اور رہن اس اراضی موقوفہ کا شرعاجائز ہے یانہیںاور یہ تصرف کیا حکم رکھتا ہےاس کا جواب بحوالہ کتب بیان فرمایا جائے۔بینواتوجروا(بیان کیجئے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
وقف کے رہن وبیع ناجائز ہیںدرمختار میں ہے:
فاذا تم ولزم لایملك ولایملك ولایعار ولایرھن ۔
جب وقف تام اور لازم ہوجائے تو کوئی نہ اس کا مالك بنے نہ کسی کو مالك بناسکےنہ عاریۃ دیاجائے اورنہ رہن رکھاجاسکے گا(ت)
دکانیں اگر تکیہ میں بنائی گئیں تو قطعاناجائز ہیں اور باڑے میں متولی نے منفعت وقف کےلئے بنوائیں اور ان میں کوئی مخالفت شرط وواقف وتغییر ہیئات وقف نہ تھی تو حرج نہیں ورنہ وہ بھی ناجائز ہیں کمانص علیہ فی فتح القدیر والفتاوی الھندیۃ وغیرھما(جیسا کہ اس پر فتح القدیر اور فتاوی ہندیہ وغیرہما میں تصریح کردی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۷: مرسلہ چودھری رشید الدین صاحب اشرف صاحب تعلقدار وآنریری مجسٹریٹ ازبیار ضلع بارہ بنکی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قاضی امیر اشرف صاحب مرحوم نے وفات پائی ان کے کاغذات سے ایك تحریر برآمد ہوئی جس کی نقل مطابق اصل شامل استفتاء ہذا ہے جو ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی نہیں ہے مگر جا بجا اس کے حواشی وغیرہ پر عبارت ان کے قلم کی لکھی ہوئی ہے آیا اس تحریر پر عملدرآمد شرعا
مسئلہ۶۶: از علی گڑھ محلہ دہلی دروازہ تکیہ بخشی کریم اللہ صاحب مسئولہ عبدالکریم وعبدالعزیز وغیرہ ۲۱رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں عالمان دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك تکیہ اور کچھ اراضی باڑہ کے نام سے کہ جو قدیم الایام سے واسطے فاتحہ حضرت فیض اللہ شاہ صاحب اور حضرت بانام شاہ صاحب کے وقف چلی آتی ہے اور اس کے متولی اور متصرف ہمارے اجداد سے تھے اور اس کی آمدنی سے فاتحہ اور عرس ہمیشہ ہوتا رہتا ہے اس میں پہلے یہ تصرف ہوا کہ اس زمین میں کچھ دکانیں بنوادیں گئیں اور پھر تکیہ کی زمین سے کچھ حصہ اشخاص کے ہاتھ بیع کردیا گیا اور باڑہ کی زمین میں ایك گنج آباد کراکے اس کو رہن کردیا اب استفسار طلب یہ امر ہے کہ آیایہ بیع اور رہن اس اراضی موقوفہ کا شرعاجائز ہے یانہیںاور یہ تصرف کیا حکم رکھتا ہےاس کا جواب بحوالہ کتب بیان فرمایا جائے۔بینواتوجروا(بیان کیجئے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
وقف کے رہن وبیع ناجائز ہیںدرمختار میں ہے:
فاذا تم ولزم لایملك ولایملك ولایعار ولایرھن ۔
جب وقف تام اور لازم ہوجائے تو کوئی نہ اس کا مالك بنے نہ کسی کو مالك بناسکےنہ عاریۃ دیاجائے اورنہ رہن رکھاجاسکے گا(ت)
دکانیں اگر تکیہ میں بنائی گئیں تو قطعاناجائز ہیں اور باڑے میں متولی نے منفعت وقف کےلئے بنوائیں اور ان میں کوئی مخالفت شرط وواقف وتغییر ہیئات وقف نہ تھی تو حرج نہیں ورنہ وہ بھی ناجائز ہیں کمانص علیہ فی فتح القدیر والفتاوی الھندیۃ وغیرھما(جیسا کہ اس پر فتح القدیر اور فتاوی ہندیہ وغیرہما میں تصریح کردی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۶۷: مرسلہ چودھری رشید الدین صاحب اشرف صاحب تعلقدار وآنریری مجسٹریٹ ازبیار ضلع بارہ بنکی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قاضی امیر اشرف صاحب مرحوم نے وفات پائی ان کے کاغذات سے ایك تحریر برآمد ہوئی جس کی نقل مطابق اصل شامل استفتاء ہذا ہے جو ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی نہیں ہے مگر جا بجا اس کے حواشی وغیرہ پر عبارت ان کے قلم کی لکھی ہوئی ہے آیا اس تحریر پر عملدرآمد شرعا
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۹
ہوسکتا ہے یانہیںیہ وقف سمجھاجائے گا یا وصیتاور اس کی پابندی ہر دو طریق سے کسی طریق پرورثاء کے ذمہ لازم ہے یا نہیںبینواتوجروا
الجواب:
یہ نہ وقف ہے نہ وصیتنہ کوئی شئےنہ اسکی پابندی اصلا کسی طرح وارث خواہ غیر پر کچھ لازمیہ ایك وقفنامہ نامکمل کاخاکہ ہے جو نہ قلم مورث سے ہے نہ دستاویزوں کے عنوان معروف(میں کہ فلاں بن فلاں الخ)سے اس کی ابتدانہ اس پر کوئی شہادتایسا کاغذ ایك ردی پرچے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتاخصوصا اس کا ختم اس پر ہے کہ لہذا وقفنامہ ہذا کو تکمیل ورجسٹری کرائے دیتا ہوں تاکہ سند رہے اور وقت پر کام آئےفقط۔زیادہ سے زیادہ یہ گمان ہوسکتا ہے کہ مورث نے وقف کا قصد کیا اور کسی شخص سے اس کا مسودہ کرایا اور اس میں خودترمیم کی پھررائے نہ ہوئی اور اسے موقوف رکھا ولہذا تکمیل نہ کینہ رجسٹری کرائی۔یہ اگر ہو بھی تو اس قدر سے کچھ نہیں ہوتا کہ ایك ارادہ تھا جو ہوکر رہ گیایہ بھی بفرض تسلیم ہے ورنہ ثابت اس قدر بھی نہیں کہ یہ کاغذ مورث نے لکھوایا یا مورث کی رائے سے لکھا گیاحواشی پر قلم مورث سے کچھ لکھا معلوم ہونا کوئی دلیل نہیں خط خط کے مشابہ ہوتا ہےبہرحال وہ ایك مہمل کاغذ ہے جس کا کچھ اثر نہیںاشباہ والنظائر میں ہے:
لایعتمدعلی الخط ولایعمل بمکتوب الوقف الذی علیہ خطوط القضاۃ الماضین ۔
خط پر اعتماد نہ کیاجائے اور وقف نامہ جو گزشتہ قاضی حضرات کے اس پر خطوط لکھے ہوئے ہیں ان پر عمل نہ کیا جائے گا۔(ت)
عقودالدریہ میں ہے:
کتاب الوقف انما ھو کاغذبہ خط وھو لایعتمد علیہ ولایعمل بہ کما صرح بہ کثیر من علمائنا ۔
وقف کی کتابوہ ایك کاغذ ہے اس پر خط ہے جو قابل اعتماد نہیں اور نہ اس پر عمل جائز ہے جیسا کہ ہمارے اکثرعلماء نے اس پر تصریح کی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اذاکان مصدرامعنونا فکالنطق اذااعترف ان الخط خطہ بخلاف مااذا لم یکن مصدرا معنونا وھذا ذکروہ فی الاخرس وذکر فی الکفایۃ اخر الکتاب عن الشامی ان الصحیح مثل الاخرس فاذاکان مستبینا مرسوما وثبت ذلك باقرارہ او ببینۃ فھو کالخطاب اھ والمعنون لحاضر اذاکتب علی وجہ الصکوك یقول فلان الفلانی الخ اھ ملتقطا واﷲتعالی اعلم۔
الجواب:
یہ نہ وقف ہے نہ وصیتنہ کوئی شئےنہ اسکی پابندی اصلا کسی طرح وارث خواہ غیر پر کچھ لازمیہ ایك وقفنامہ نامکمل کاخاکہ ہے جو نہ قلم مورث سے ہے نہ دستاویزوں کے عنوان معروف(میں کہ فلاں بن فلاں الخ)سے اس کی ابتدانہ اس پر کوئی شہادتایسا کاغذ ایك ردی پرچے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتاخصوصا اس کا ختم اس پر ہے کہ لہذا وقفنامہ ہذا کو تکمیل ورجسٹری کرائے دیتا ہوں تاکہ سند رہے اور وقت پر کام آئےفقط۔زیادہ سے زیادہ یہ گمان ہوسکتا ہے کہ مورث نے وقف کا قصد کیا اور کسی شخص سے اس کا مسودہ کرایا اور اس میں خودترمیم کی پھررائے نہ ہوئی اور اسے موقوف رکھا ولہذا تکمیل نہ کینہ رجسٹری کرائی۔یہ اگر ہو بھی تو اس قدر سے کچھ نہیں ہوتا کہ ایك ارادہ تھا جو ہوکر رہ گیایہ بھی بفرض تسلیم ہے ورنہ ثابت اس قدر بھی نہیں کہ یہ کاغذ مورث نے لکھوایا یا مورث کی رائے سے لکھا گیاحواشی پر قلم مورث سے کچھ لکھا معلوم ہونا کوئی دلیل نہیں خط خط کے مشابہ ہوتا ہےبہرحال وہ ایك مہمل کاغذ ہے جس کا کچھ اثر نہیںاشباہ والنظائر میں ہے:
لایعتمدعلی الخط ولایعمل بمکتوب الوقف الذی علیہ خطوط القضاۃ الماضین ۔
خط پر اعتماد نہ کیاجائے اور وقف نامہ جو گزشتہ قاضی حضرات کے اس پر خطوط لکھے ہوئے ہیں ان پر عمل نہ کیا جائے گا۔(ت)
عقودالدریہ میں ہے:
کتاب الوقف انما ھو کاغذبہ خط وھو لایعتمد علیہ ولایعمل بہ کما صرح بہ کثیر من علمائنا ۔
وقف کی کتابوہ ایك کاغذ ہے اس پر خط ہے جو قابل اعتماد نہیں اور نہ اس پر عمل جائز ہے جیسا کہ ہمارے اکثرعلماء نے اس پر تصریح کی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اذاکان مصدرامعنونا فکالنطق اذااعترف ان الخط خطہ بخلاف مااذا لم یکن مصدرا معنونا وھذا ذکروہ فی الاخرس وذکر فی الکفایۃ اخر الکتاب عن الشامی ان الصحیح مثل الاخرس فاذاکان مستبینا مرسوما وثبت ذلك باقرارہ او ببینۃ فھو کالخطاب اھ والمعنون لحاضر اذاکتب علی وجہ الصکوك یقول فلان الفلانی الخ اھ ملتقطا واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۳۳۸
العقودالدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ،کتاب الوقف ۱ /۱۱۰ وکتاب الدعوٰی ارگ بازار قندھار ۲ /۲۰
ردالمحتار باب کتاب القاضی الٰی القاضی وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۵۳
العقودالدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ،کتاب الوقف ۱ /۱۱۰ وکتاب الدعوٰی ارگ بازار قندھار ۲ /۲۰
ردالمحتار باب کتاب القاضی الٰی القاضی وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۵۳
جب ابتداء میں عنوان قائم کیا گیا ہوتو پھر زبانی گفتگو کی طرح ہوگا جب یہ اعتراف بھی ہو کہ یہ میر اخط ہے بخلاف اس کے کہ وہ عنوان سے شروع نہ کیا ہواس کو انہوں نے گونگے کے متعلق ذکرکیا ہےاور کفایہ میں کتاب الوقف کے آخر میں علامہ شامی سے نقل کرتے ہوئے ذکر کیا کہ صحیح بھی گونگے کی طرح ہے کہ جب اس کی تحریر واضح ہواور معنون لکھی گئی ہو اور اسکے اقرار یا گواہی سے ثابت ہوتو وہ خطاب کی طرح ہے اھمعنون کسی مخاطب کے نام ہو اور چیك کی لکھائی ہو اور یوں لکھے فلاں جوفلاں ہےالخ اھ ملتقطا واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶۸: ازبمبئی مرسلہ قاضی شریف عبداللطیف صاحب قاضی بمبئی ۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم حامد اومصلیا
ماقولکم ایھا العلماء الکرام(اے علمائے کرام! آپ کا کیافرمان ہے کہ۔ت)قاضی شریف عبداللطیف صاحب مرحوم مغفور ۱۸۵۰ء میں بمقام شولاپور منجانب حکومت مفتی مقرر کئے گئے ۱۸۵۶ء میں بمقام رتنا گری اسی عہدہ پر منتقل ہوگئے اسی عرصہ میں محکمہ افتا ءکے لئے کتابوں کا ذخیرہ جماعت المسلمین کی جانب سے مہیا کردیا گیا من بعد ۱۸۶۴ء میں گورنمنٹ نے عہدہ مفتی موقوف کرکے صاحب موصوف کی پنشن مقرر کردی جوان کے حین حیات تك جاری رہی۱۸۶۶ء میں بمبئی کے جماعت المسلمین کے اہل حل وعقد ورؤسا نے بالاتفاق ان ذات ستو دہ صفات کو عہدہ قضا سپردکیاکتب خانہ محکمہ افتاء رتنا گری بھی وہاں کے اکابر واصاغر مسلمین کی اجازت سے بمبئی منتقل ہوگیا بلکہ یہاں کے بزرگان اسلام نے اس کی مزید تکمیل فرمائیآج تك وہ کتب خانہ عطیہ قوم دار القضا کے متعلق سمجھا جاتا ہے اس صورت سے کہ جو شخص مسند قضا پر متمکن ہوتا ہے اس کے قبض وتصرف اور نگرانی میں بطور امانت رہتا ہےقاضی کو اس میں کسی قسم کی کمی کرنے یا کسی کتاب کے فروخت کرنے کا اختیار نہیں ہےالبتہ حسب ضرورت قومی پیسہ سے یا محکمہ قضاء کی آمد سے اضافہ کرسکتے بلکہ کرتے رہتے ہیںقاضی شریف عبداللطیف مرحوم ومغفور کے رحلت فرمانے کے بعد ان کا تمام ترکہ ورثہ میں تقسیم ہوا مگر کتب خانہ منجملہ عطا یائے قوم مخصوص برائے مسند قضا ناقابل التقسیم قرار دیا گیا قاضی صاحب مرحوم کے بعد ان کے چھوٹے صاحبزادے جناب شریف محمد صالح صاحب حسب استرضائے ارباب حل وعقد جماعت المسلمین بمبئی قضاء پر متمکن ہوئے اور کتب خانہ ان کی نگرانی میں رہا۱۳۳۶ھ میں انہوں نے بھی رحلت
مسئلہ۶۸: ازبمبئی مرسلہ قاضی شریف عبداللطیف صاحب قاضی بمبئی ۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم حامد اومصلیا
ماقولکم ایھا العلماء الکرام(اے علمائے کرام! آپ کا کیافرمان ہے کہ۔ت)قاضی شریف عبداللطیف صاحب مرحوم مغفور ۱۸۵۰ء میں بمقام شولاپور منجانب حکومت مفتی مقرر کئے گئے ۱۸۵۶ء میں بمقام رتنا گری اسی عہدہ پر منتقل ہوگئے اسی عرصہ میں محکمہ افتا ءکے لئے کتابوں کا ذخیرہ جماعت المسلمین کی جانب سے مہیا کردیا گیا من بعد ۱۸۶۴ء میں گورنمنٹ نے عہدہ مفتی موقوف کرکے صاحب موصوف کی پنشن مقرر کردی جوان کے حین حیات تك جاری رہی۱۸۶۶ء میں بمبئی کے جماعت المسلمین کے اہل حل وعقد ورؤسا نے بالاتفاق ان ذات ستو دہ صفات کو عہدہ قضا سپردکیاکتب خانہ محکمہ افتاء رتنا گری بھی وہاں کے اکابر واصاغر مسلمین کی اجازت سے بمبئی منتقل ہوگیا بلکہ یہاں کے بزرگان اسلام نے اس کی مزید تکمیل فرمائیآج تك وہ کتب خانہ عطیہ قوم دار القضا کے متعلق سمجھا جاتا ہے اس صورت سے کہ جو شخص مسند قضا پر متمکن ہوتا ہے اس کے قبض وتصرف اور نگرانی میں بطور امانت رہتا ہےقاضی کو اس میں کسی قسم کی کمی کرنے یا کسی کتاب کے فروخت کرنے کا اختیار نہیں ہےالبتہ حسب ضرورت قومی پیسہ سے یا محکمہ قضاء کی آمد سے اضافہ کرسکتے بلکہ کرتے رہتے ہیںقاضی شریف عبداللطیف مرحوم ومغفور کے رحلت فرمانے کے بعد ان کا تمام ترکہ ورثہ میں تقسیم ہوا مگر کتب خانہ منجملہ عطا یائے قوم مخصوص برائے مسند قضا ناقابل التقسیم قرار دیا گیا قاضی صاحب مرحوم کے بعد ان کے چھوٹے صاحبزادے جناب شریف محمد صالح صاحب حسب استرضائے ارباب حل وعقد جماعت المسلمین بمبئی قضاء پر متمکن ہوئے اور کتب خانہ ان کی نگرانی میں رہا۱۳۳۶ھ میں انہوں نے بھی رحلت
فرمائی اور بجائے ان کے جناب شریف عبداللطیف صاحب(ان کے فرزنداکبر)کے سپرد محکمہ قضا اور اس کے متعلق کتب خانہ کیا گیاپس دریافت طلب صرف یہ امر ہے کہ یہ کتب خانہ جو دارالقضاکے متعلق ہے اور عطیہ قوم وہ بھی مثل دیگر مال متروکہ کے ورثہ میں تقسیم ہوگا یا حسب دستور سابق محفوظ ومامون ان قاضی صاحب کے پاس رہے گا جو فی الحال خدمت قضاانجام دے رہے ہیں۔
الجواب:
جبکہ وہ کتابیں جماعت مسلمین محکمہ افتاء یا دارالقضا کے لئے جمع کیں قاضی کو ان کا مالك نہ کیا جیسا کہ تعامل مذکور سوال سے واضح ہے تو ورثہ قاضی کے ان میں کوئی حق وراثت نہیں اگر جماعت نے وقف کیں توظاہراور نہ کیں تو ملك جماعت ہیں یا نفاذ شراء علی المشتری کی صورت میں ملك مشتری اور وہ زرجماعت کاضامن ہے بہر حال ملك قاضی نہیںغیر قاضی نے جو کتابیں جماعت کے لئے خریدیں ان میں نفاذ علی المشتری کی صورت یہاں نادر ہے ہم نے اپنے فتاوی کتاب الوقف میں مبین کیا ہے کہ زر چندہ چندہ دہندوں کی ملك پر رہتا ہے اور ان کی اجازت سے صرف ہوتا ہے خریداری کتب اگر اہل جماعت نے خود نہ کی تو معہودیہ ہے کہ دوسرا ان کے امر سے کرتا ہے ثمن ان کے روپے سے ادا کیاجا تا ہے جو انہوں نے خریداری کے لئے پہلے دے دیا بعد خریداری اداکیااس صورت میں اس مشتری کے مالك کتب ہونے کےلئے یہ درکار کہ:
اولا: جماعت نے اسے کسی کتاب معین مشخص کے شراء کاوکیل نہ کیا ہویعنی کسی جلد خاص کی نسبت کہ بعینہ یہ جلد خرید دے(یہ کہنا کہ ہدایہ یا فلاں مطبع کی ہدایہ یا فلان دکان سے مصری چھاپے کی ہدایہ یہ شے معین کے لئے توکیل نہیں جبکہ اس دکان پر مصری طبع کے متعدد نسخے ہدایہ ہوں)کہ اس صورت میں وہ غیبت جماعت میں اسے اپنے لئے خرید ہی نہیں سکتا
حیث لم یکن مخالفا دفعا للغرر درمختار وبین المخالفۃ فی البحرولان فیہ عزل نفسہ فلایمبلکہ علی ما قیل الابمحضرمن الموکل ردالمحتار عن الباقانی عن الھدایۃ۔
جب مخالف نہ ہوتاکہ دھوکا کا احتمال نہ ہودرمختاراور مخالفت کو بحر میں بیان کیااور اس لئے کہ اس میں اپنے آپ کو معزول ہونا ہے جس کا وہ اپنے موکل کی حاضری کے بغیر مالك نہیںردالمحتار نے باقانی سے بحوالہ ہدایہ نقل کیا۔
ثانیا: عقد ایجاب میں جماعت کی طرف مضاف نہ ہو مثلا اس نے بائع سے کہا یہ کتاب میں نے تجھ سے جماعت
الجواب:
جبکہ وہ کتابیں جماعت مسلمین محکمہ افتاء یا دارالقضا کے لئے جمع کیں قاضی کو ان کا مالك نہ کیا جیسا کہ تعامل مذکور سوال سے واضح ہے تو ورثہ قاضی کے ان میں کوئی حق وراثت نہیں اگر جماعت نے وقف کیں توظاہراور نہ کیں تو ملك جماعت ہیں یا نفاذ شراء علی المشتری کی صورت میں ملك مشتری اور وہ زرجماعت کاضامن ہے بہر حال ملك قاضی نہیںغیر قاضی نے جو کتابیں جماعت کے لئے خریدیں ان میں نفاذ علی المشتری کی صورت یہاں نادر ہے ہم نے اپنے فتاوی کتاب الوقف میں مبین کیا ہے کہ زر چندہ چندہ دہندوں کی ملك پر رہتا ہے اور ان کی اجازت سے صرف ہوتا ہے خریداری کتب اگر اہل جماعت نے خود نہ کی تو معہودیہ ہے کہ دوسرا ان کے امر سے کرتا ہے ثمن ان کے روپے سے ادا کیاجا تا ہے جو انہوں نے خریداری کے لئے پہلے دے دیا بعد خریداری اداکیااس صورت میں اس مشتری کے مالك کتب ہونے کےلئے یہ درکار کہ:
اولا: جماعت نے اسے کسی کتاب معین مشخص کے شراء کاوکیل نہ کیا ہویعنی کسی جلد خاص کی نسبت کہ بعینہ یہ جلد خرید دے(یہ کہنا کہ ہدایہ یا فلاں مطبع کی ہدایہ یا فلان دکان سے مصری چھاپے کی ہدایہ یہ شے معین کے لئے توکیل نہیں جبکہ اس دکان پر مصری طبع کے متعدد نسخے ہدایہ ہوں)کہ اس صورت میں وہ غیبت جماعت میں اسے اپنے لئے خرید ہی نہیں سکتا
حیث لم یکن مخالفا دفعا للغرر درمختار وبین المخالفۃ فی البحرولان فیہ عزل نفسہ فلایمبلکہ علی ما قیل الابمحضرمن الموکل ردالمحتار عن الباقانی عن الھدایۃ۔
جب مخالف نہ ہوتاکہ دھوکا کا احتمال نہ ہودرمختاراور مخالفت کو بحر میں بیان کیااور اس لئے کہ اس میں اپنے آپ کو معزول ہونا ہے جس کا وہ اپنے موکل کی حاضری کے بغیر مالك نہیںردالمحتار نے باقانی سے بحوالہ ہدایہ نقل کیا۔
ثانیا: عقد ایجاب میں جماعت کی طرف مضاف نہ ہو مثلا اس نے بائع سے کہا یہ کتاب میں نے تجھ سے جماعت
حوالہ / References
درمختار باب الوکالۃ بالبیع والشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۵
ردالمحتار باب الوکالۃ بالبیع والشراء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۴۰۴
ردالمحتار باب الوکالۃ بالبیع والشراء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۴۰۴
کی طرف سے خریدی اس نے کہا میں نے بیچی یا اس نے کہا میں نے یہ کتاب جماعت کے ہاتھ بیع کی اس نے کہا میں نے خریدی کہ اس صورت میں نفس عقد جماعت ہی کے لئے ہوگا اور مشتری پر نافذ نہیں ہوسکتا۔
علی ماحققنا صورۃ بتفا صیلھا فی کتاب البیوع من فتاونا فی تحریر حافل کامل سمیناہ"عطیۃ النبی فی الاشتراء للاجنبی"بمالایوجد فی غیرہ وباﷲ التوفیق۔
جو ہم نے اپنے فتاوی کی کتاب البیوع میں اس کی تفصیلی صورتوں کی تحقیق کی ہے وہ جامع کامل تحریر ہے ہم نے اس کا نام"عطیۃ النبی فی الاشتراء للاجنبی"رکھا ہےیہ تحقیق اس کے غیر میں نہیں ملے گیاور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ (ت)
ثالثا:عقد کو مال جماعت کی طرف بھی مضاف نہ کرے فقط جماعت کا روپیہ دکھا کر کہا اس روپے کی فلاں فلاں کتاب تجھ سے خریدی۔
رابعا:خریداری میں جماعت کےلئے خرید نے کی نیت نہ کرے ورنہ وہ دیانۃ علی الاطلاق جماعت ہی کےلئے ہے۔
خامسا: قیمت میں مال جماعت نہ دے ورنہ وہ جماعت ہی کےلئے ٹھہریں گی اگرچہ اپنے لئے خریداری کی نیت بتائے
وتفصیلہ ذلك فی البحر ولخصناہ فی جدالممتار بقولی وبالجملۃ اذاکان وکیلا بشراء شیئ لابعینہ فالاضافۃ قاضیۃ فان لم توجد فالنیۃ فان لم توجد فللعاقد عند محمد ان سلم الامر ایضا عدم النیۃ وان قابل بل نوی لی حکم النفقد کما لوتخالفا فیہا وعند ابی یوسف یحکم النقد فی الوجھین وھو الراجح قدمہ قاضیخان واخر دلیلہ فی الھدایۃ فتحصل ان الحکم للاضافۃ فان لم توجد فللنیۃ فان لم توجد اوتکاذبا فیہا فللنقد واﷲ تعالی اعلم۔
اس کی تفصیل بحر میں ہےہم نے جدالممتار میں اپنے اس قول کے ساتھ اس کی تلخیص کی ہے کہ خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی غیر معین چیز کی خریداری کا وکیل ہوتو وہاں نسبت فیصل بنے گی اگر نسبت نہ ہوتوپھر نیت پر فیصلہ ہو گا اگر نیت بھی نہ ہو تو پھر خریدار کی نیت معتبر ہے جب آمر تسلیم کرلے کہ میرے لئے نیت نہ تھی اور اگر کہے خریدا ر وکیل نے میرے لئے نیت کرکے خریدا ہے تو صرف ایسی صورت میں امام محمد کے ہاں مروج سکے پر فیصلہ ہوگااور امام ابویوسف رحمہمااللہ تعالی کے ہاں دونوں صورتوں میں سکے کو فیصل قرار دیا جائے گا اور یہی راجح ہےقاضی خاں نے اسے پہلے ذکر کیا اور ہدایہ میں اسکی دلیل کو بعدمیں ذکر فرمایا۔تو حاصل یہ ہوا کہ اضافت پر حکم ہوگا ورنہ نیت پراگر نیت نہ ہو یا
علی ماحققنا صورۃ بتفا صیلھا فی کتاب البیوع من فتاونا فی تحریر حافل کامل سمیناہ"عطیۃ النبی فی الاشتراء للاجنبی"بمالایوجد فی غیرہ وباﷲ التوفیق۔
جو ہم نے اپنے فتاوی کی کتاب البیوع میں اس کی تفصیلی صورتوں کی تحقیق کی ہے وہ جامع کامل تحریر ہے ہم نے اس کا نام"عطیۃ النبی فی الاشتراء للاجنبی"رکھا ہےیہ تحقیق اس کے غیر میں نہیں ملے گیاور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ (ت)
ثالثا:عقد کو مال جماعت کی طرف بھی مضاف نہ کرے فقط جماعت کا روپیہ دکھا کر کہا اس روپے کی فلاں فلاں کتاب تجھ سے خریدی۔
رابعا:خریداری میں جماعت کےلئے خرید نے کی نیت نہ کرے ورنہ وہ دیانۃ علی الاطلاق جماعت ہی کےلئے ہے۔
خامسا: قیمت میں مال جماعت نہ دے ورنہ وہ جماعت ہی کےلئے ٹھہریں گی اگرچہ اپنے لئے خریداری کی نیت بتائے
وتفصیلہ ذلك فی البحر ولخصناہ فی جدالممتار بقولی وبالجملۃ اذاکان وکیلا بشراء شیئ لابعینہ فالاضافۃ قاضیۃ فان لم توجد فالنیۃ فان لم توجد فللعاقد عند محمد ان سلم الامر ایضا عدم النیۃ وان قابل بل نوی لی حکم النفقد کما لوتخالفا فیہا وعند ابی یوسف یحکم النقد فی الوجھین وھو الراجح قدمہ قاضیخان واخر دلیلہ فی الھدایۃ فتحصل ان الحکم للاضافۃ فان لم توجد فللنیۃ فان لم توجد اوتکاذبا فیہا فللنقد واﷲ تعالی اعلم۔
اس کی تفصیل بحر میں ہےہم نے جدالممتار میں اپنے اس قول کے ساتھ اس کی تلخیص کی ہے کہ خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی غیر معین چیز کی خریداری کا وکیل ہوتو وہاں نسبت فیصل بنے گی اگر نسبت نہ ہوتوپھر نیت پر فیصلہ ہو گا اگر نیت بھی نہ ہو تو پھر خریدار کی نیت معتبر ہے جب آمر تسلیم کرلے کہ میرے لئے نیت نہ تھی اور اگر کہے خریدا ر وکیل نے میرے لئے نیت کرکے خریدا ہے تو صرف ایسی صورت میں امام محمد کے ہاں مروج سکے پر فیصلہ ہوگااور امام ابویوسف رحمہمااللہ تعالی کے ہاں دونوں صورتوں میں سکے کو فیصل قرار دیا جائے گا اور یہی راجح ہےقاضی خاں نے اسے پہلے ذکر کیا اور ہدایہ میں اسکی دلیل کو بعدمیں ذکر فرمایا۔تو حاصل یہ ہوا کہ اضافت پر حکم ہوگا ورنہ نیت پراگر نیت نہ ہو یا
حوالہ / References
جدالممتار حاشیہ ردالمحتار
دونوں اختلاف کریں تو پھرنقد پر فیصلہ ہوگا۔واﷲتعالی اعلم۔(ت)
یہاں اگرچہ نفاذعلی المشتری سے تین مانع اول کثیر الوقوع نہیں مگر خامس ہی غالب ہے اور کتابیں لاکر سپردجماعت یا داخل کتب خانہ افتاء وقضاء کرنا رابع پر شاہد۔یونہی وہ کتابیں کہ قاضی نے قومی پیسے یاآمدنی دار القضاء سے خریدیں یہاں بھی ظاہر عبارت سوال یہ ہے کہ قاضی نے اپنے مال سے نہ خریدیں اگرچہ اس کی تنخواہ بھی اسی پیسے یا آمدنی سے ہوتی ہومگر عبارت اس سے ساکت ہے کہ قاضی کا شراء بھی بامرجماعت تھایا بطور خود۔اگر صورت اولی ہے کہ قاضی نے اس مال سے کتابیں بامرجماعت خرید کر داخل کتب خانہ مذکورہ کیں تو ان کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ وقف یا ملك جماعت ہوئیں کہ اب قاضی وہ مشتری ہے جس میں وجہ رابع وخامس مانع تملك ہیںاور اگر صورت ثانیہ ہے تو اب مانع نفاذ صرف وقت ایجاب بیع میں اضافت بجماعت ہونا ہے وبس۔اگر یہ اضافت نہ ہو تو ایجاب میں مشتری کی طرف اضافت صراحۃ دلالۃ سے چارہ نہیں ورنہ بیع ہی نہ ہوگیتجنیس ناصری وتاتارخانیہ وہندیہ میں ہے:
لوقال من فر وختم ایں بندہ بہزاردرم توخریدی فقال مجیبا لہ خریدم تم البیعاما لوقال من فروختم ایں بندہ را بہز ار درم فقال المشتری خریدم ولم یزد علی ھذا لایکون بیعا لعدم الاضافۃ اھاقول : ای اذا لم تجربینہما المساومۃ والاکفی بھادلالۃ کقولہ ھھنا توخریدی فانہ ایضالیس باضافۃ فی الایجاب انما فیہ دلالۃ علیہا وذلك اعنی الاکتفاء بدلالۃ الاستیام کما فی تجنیس الامام صاحب الھدایۃ ثم الفتح لو قال لاخر بعد ماجری بینھما مقدمات البیع بعت ھذا بالف ولم یقل
اگر کہا میں یہ غلام ہزار درم میں فروخت کرتا ہوں تو خرید یگا تو دوسرے نے جواب میں کہا میں نے خریدا تو بیع تام ہوجائے گی۔لیکن اگر یوں کہا میں یہ غلام ہزار درم میں فروخت کرتا ہوں تو دوسرے نے کہا میں نے خرید ااور اس پر کوئی زائد بات نہ کی تو بیع نہ ہو گی کیونکہ اس صورت میں خرید نے کی نسبت اس غلام کی طرف نہ ہوئی اھاقول :(میں کہتا ہوں)یہ اس صورت میں ہے کہ جب پہلے اس غلام کے متعلق سودے کا ذکر نہ ہوورنہ یہی نسبت کافی ہے جو دلالۃ موجود ہے جیسا کہ یہاں بھی ایجاب یعنی"توخریدی"میں نسبت مذکور نہیں اس میں صرف دلالۃ نسبت ہےاور یہ یعنی بھاؤلگانا نسبت کےلئے کافی ہے جیساکہ صاحب ہدایہ سے تجنیس میں پھر فتح میں ہے کہ ایك نے دوسرے کو کہا میں نے یہ ہزار میں فروخت کیا
یہاں اگرچہ نفاذعلی المشتری سے تین مانع اول کثیر الوقوع نہیں مگر خامس ہی غالب ہے اور کتابیں لاکر سپردجماعت یا داخل کتب خانہ افتاء وقضاء کرنا رابع پر شاہد۔یونہی وہ کتابیں کہ قاضی نے قومی پیسے یاآمدنی دار القضاء سے خریدیں یہاں بھی ظاہر عبارت سوال یہ ہے کہ قاضی نے اپنے مال سے نہ خریدیں اگرچہ اس کی تنخواہ بھی اسی پیسے یا آمدنی سے ہوتی ہومگر عبارت اس سے ساکت ہے کہ قاضی کا شراء بھی بامرجماعت تھایا بطور خود۔اگر صورت اولی ہے کہ قاضی نے اس مال سے کتابیں بامرجماعت خرید کر داخل کتب خانہ مذکورہ کیں تو ان کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ وقف یا ملك جماعت ہوئیں کہ اب قاضی وہ مشتری ہے جس میں وجہ رابع وخامس مانع تملك ہیںاور اگر صورت ثانیہ ہے تو اب مانع نفاذ صرف وقت ایجاب بیع میں اضافت بجماعت ہونا ہے وبس۔اگر یہ اضافت نہ ہو تو ایجاب میں مشتری کی طرف اضافت صراحۃ دلالۃ سے چارہ نہیں ورنہ بیع ہی نہ ہوگیتجنیس ناصری وتاتارخانیہ وہندیہ میں ہے:
لوقال من فر وختم ایں بندہ بہزاردرم توخریدی فقال مجیبا لہ خریدم تم البیعاما لوقال من فروختم ایں بندہ را بہز ار درم فقال المشتری خریدم ولم یزد علی ھذا لایکون بیعا لعدم الاضافۃ اھاقول : ای اذا لم تجربینہما المساومۃ والاکفی بھادلالۃ کقولہ ھھنا توخریدی فانہ ایضالیس باضافۃ فی الایجاب انما فیہ دلالۃ علیہا وذلك اعنی الاکتفاء بدلالۃ الاستیام کما فی تجنیس الامام صاحب الھدایۃ ثم الفتح لو قال لاخر بعد ماجری بینھما مقدمات البیع بعت ھذا بالف ولم یقل
اگر کہا میں یہ غلام ہزار درم میں فروخت کرتا ہوں تو خرید یگا تو دوسرے نے جواب میں کہا میں نے خریدا تو بیع تام ہوجائے گی۔لیکن اگر یوں کہا میں یہ غلام ہزار درم میں فروخت کرتا ہوں تو دوسرے نے کہا میں نے خرید ااور اس پر کوئی زائد بات نہ کی تو بیع نہ ہو گی کیونکہ اس صورت میں خرید نے کی نسبت اس غلام کی طرف نہ ہوئی اھاقول :(میں کہتا ہوں)یہ اس صورت میں ہے کہ جب پہلے اس غلام کے متعلق سودے کا ذکر نہ ہوورنہ یہی نسبت کافی ہے جو دلالۃ موجود ہے جیسا کہ یہاں بھی ایجاب یعنی"توخریدی"میں نسبت مذکور نہیں اس میں صرف دلالۃ نسبت ہےاور یہ یعنی بھاؤلگانا نسبت کےلئے کافی ہے جیساکہ صاحب ہدایہ سے تجنیس میں پھر فتح میں ہے کہ ایك نے دوسرے کو کہا میں نے یہ ہزار میں فروخت کیا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الثانی نورانی کتب خانہ کراچی ۳ /۵
فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۵۹
فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۵۹
منك وقال الاخر اشتریت صح ولزم اھ ۔
اور"تجھ سے"نہ کہااور دوسرے نے کہا میں نے خریداجبکہ دونوں میں پہلے بیع کے مقدمات(بھاؤ وغیرہ)ہوچکے ہوں تو بیع صحیح اور لازم ہوجائے گی اھ(ت)
او رجب ایجاب میں مشتری غیر مامور کی طرف اضافت ہے اگرچہ اسی قدرکہ اول قول اسی نےکیا تو بیع اسی کے حق میں نافذ ہوگئی لان الشراء متی وجد نفاذ اعلی المشتری نفذ(کیونکہ جب خریداری شیئ پر نافذ کرتے پائی جائے تو وہ مشتری پر نافذ ہوجاتی ہے۔ت) عام ازیں کہ قبول میں بھی اسی مشتری کی طرف اضافت ہو مثلا بائع کہے میں نے تیرے ہاتھ بیع کیں یا یہ کہے میں نے اپنے لئے خریدیں یا پہلے یہ کہے پھر وہ خواہ قبول میں کسی طرف اضافت نہ ہومثلا بائع کہے میں نے تیرے ہاتھ بیچیں یہ کہے میں نے لیں یا قبول کیںیا کہے میں نے اپنے لئے خریدیں وہ کہے میں نے دیں یا بیچیں خواہ قبول میں جماعت کی طرف اضافت محتملہ قابل تاویل ہو جوعقد کو جماعت کے حق میں متعین نہ کردے کہ اس صورت میں بوجہ اختلاف ایجاب وقبول بیع ہی باطل ہوگی جیسے وہ کہے میں نے تیرے ہاتھ بیع کیں یہ کہے میں نے جماعت کی طرف سے قبول کیںخانیہ میں ہے:
لوقال الفضولی اشتریت ھذالفلان بکذا اوقال البائع بعت منك الصحیح انہ باطل ۔
اگر فضولی نے کہا یہ میں نے فلاں کے لئے خریدااوربائع نے کہا میں نے تجھے فروخت کیاتو صحیح یہ ہے کہ بیع باطل ہوگی۔(ت)
بلکہ صورت یہ ہو کہ مثلا وہ کہے میں نے تیرے ہاتھ بیچیںیہ اس نے ایجابا کہااب یہ قبول میں کہے میں نے جماعت کے واسطے خریدیں کہ واسطہ لحاظ وخاطر وتمتع بہت معانی کو محتمل ہے۔عنایہ وفتح میں ہے:
ان قال اشتریت منك ھذاالعین لاجل فلان فقال بعت او قال المالك بعت منك ھذاالعین لاجل فلان فقال اشتریت لایتوقف علی اجازۃ فلان لانہ وجد نفاذاعلی المشتری حیث اضیف الیہ ظاھرافلاحاجۃ الی الایقاف علی رضاالغیر وقولہ لاجل فلان یحتمل لاجل رضاہ وشفاعتہ وغیر ذلک ۔
اگر فضولی کہے میں نے تجھ سے یہ چیز فلاں کے لئے خریدی اور بائع نے کہا میں نے فروخت کییا یوں کہ مالك کہے میں نے یہ چیز تجھے فلاں کے لئے فروخت کی تو یہ جواب میں کہے میں نے خریدیتو بیع موقوف نہ ہوگیکیونکہ جب صراحتا خریدار پر بیع کا نفاذ کیا جارہا ہے تو اب اس کی اجازت اور رضا پر موقوف رکھنے کی ضرورت نہیںاور بیع میںفلاں کے لئےکو فلاں کو سفارش پر محمول کیا جائیگا۔(ت)
اور"تجھ سے"نہ کہااور دوسرے نے کہا میں نے خریداجبکہ دونوں میں پہلے بیع کے مقدمات(بھاؤ وغیرہ)ہوچکے ہوں تو بیع صحیح اور لازم ہوجائے گی اھ(ت)
او رجب ایجاب میں مشتری غیر مامور کی طرف اضافت ہے اگرچہ اسی قدرکہ اول قول اسی نےکیا تو بیع اسی کے حق میں نافذ ہوگئی لان الشراء متی وجد نفاذ اعلی المشتری نفذ(کیونکہ جب خریداری شیئ پر نافذ کرتے پائی جائے تو وہ مشتری پر نافذ ہوجاتی ہے۔ت) عام ازیں کہ قبول میں بھی اسی مشتری کی طرف اضافت ہو مثلا بائع کہے میں نے تیرے ہاتھ بیع کیں یا یہ کہے میں نے اپنے لئے خریدیں یا پہلے یہ کہے پھر وہ خواہ قبول میں کسی طرف اضافت نہ ہومثلا بائع کہے میں نے تیرے ہاتھ بیچیں یہ کہے میں نے لیں یا قبول کیںیا کہے میں نے اپنے لئے خریدیں وہ کہے میں نے دیں یا بیچیں خواہ قبول میں جماعت کی طرف اضافت محتملہ قابل تاویل ہو جوعقد کو جماعت کے حق میں متعین نہ کردے کہ اس صورت میں بوجہ اختلاف ایجاب وقبول بیع ہی باطل ہوگی جیسے وہ کہے میں نے تیرے ہاتھ بیع کیں یہ کہے میں نے جماعت کی طرف سے قبول کیںخانیہ میں ہے:
لوقال الفضولی اشتریت ھذالفلان بکذا اوقال البائع بعت منك الصحیح انہ باطل ۔
اگر فضولی نے کہا یہ میں نے فلاں کے لئے خریدااوربائع نے کہا میں نے تجھے فروخت کیاتو صحیح یہ ہے کہ بیع باطل ہوگی۔(ت)
بلکہ صورت یہ ہو کہ مثلا وہ کہے میں نے تیرے ہاتھ بیچیںیہ اس نے ایجابا کہااب یہ قبول میں کہے میں نے جماعت کے واسطے خریدیں کہ واسطہ لحاظ وخاطر وتمتع بہت معانی کو محتمل ہے۔عنایہ وفتح میں ہے:
ان قال اشتریت منك ھذاالعین لاجل فلان فقال بعت او قال المالك بعت منك ھذاالعین لاجل فلان فقال اشتریت لایتوقف علی اجازۃ فلان لانہ وجد نفاذاعلی المشتری حیث اضیف الیہ ظاھرافلاحاجۃ الی الایقاف علی رضاالغیر وقولہ لاجل فلان یحتمل لاجل رضاہ وشفاعتہ وغیر ذلک ۔
اگر فضولی کہے میں نے تجھ سے یہ چیز فلاں کے لئے خریدی اور بائع نے کہا میں نے فروخت کییا یوں کہ مالك کہے میں نے یہ چیز تجھے فلاں کے لئے فروخت کی تو یہ جواب میں کہے میں نے خریدیتو بیع موقوف نہ ہوگیکیونکہ جب صراحتا خریدار پر بیع کا نفاذ کیا جارہا ہے تو اب اس کی اجازت اور رضا پر موقوف رکھنے کی ضرورت نہیںاور بیع میںفلاں کے لئےکو فلاں کو سفارش پر محمول کیا جائیگا۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیوع فصل فی البیع الموقوف نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۱
العنایۃ مع فتح القدیر کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۱۹۱،فتح القدیر کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۹۰
العنایۃ مع فتح القدیر کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۱۹۱،فتح القدیر کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۹۰
اس مسئلہ کی تحقیق بازغ وتنقیح بالغ ہمارے اسی رسالہ"عطیۃ النبی فی الشراء للاجنبی۱۳۳۶ھ"میں ہے اس تقدیر پر قاضی کے دل میں وقت شراء جماعت کےلئے خرید نے کی نیت ہونی یا قیمت مال جماعت سے ادا کرنی کچھ مانع نفاذ علی المشتری نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے:
لواشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ ۔
اگرغیر کےلئے خریدی تو اس پر نافذ ہوجائیگی جب بائع نے فروخت کرنے کی غیر کی طرف نسبت نہ کی ہو(ت)
فتاوی اما م قاضی خان وخزانۃ المفتین ووجیز امام کردری میں ہے:
یقول المالك بعت ھذا منك بکذافقال الفضولی قبلت اواشتریت ونوی الشراء لفلان فان الشراء ینفذ علیہ ولا یتوقف ۔
مالك کہے میں نے تجھے یہ چیز فلاں رقم پر فروخت کی اور جواب میں فضولی کہے میں نے قبول کی یاخریدی اور نیت فلاں غیرشخص کےلئے خریداری کی کیتو یہ خریداری اس فلاں کیلئے نافذ ہوجائیگی اورموقوف نہ ہوگی(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب ۔
والد کے مال سے خریداری ہو تو یہ لازم نہیں کہ خریدی ہوئی چیز والد کی ہوگی(ت)
اس صورت میں اگر کتب خانہ وقف ہے تو قاضی کا کتاب خرید کر اس میں داخل کردینا وقف کرنا ہی سمجھا جائیگا کہ اس کےلئے دلالت کافی ہے تصریحا زبان سے لفظ وقف کہنا ضرور نہیں جس طرح لوگ مسجد میں لوٹے چٹائیاں رکھ جاتے ہیں اور اگر وقف نہیں اور یہ کتابیں قاضی نے خرید کر جماعت کودے دیں تو اب ملك جماعت ہوگئیں کہ یہ دینا نہ عاریۃ تھانہ بالمعاوضہتو ہبہ قرارپائے گا اور بعد قبضہ مفید ملك ہوگا
قال فی ردالمحتار نفذ علی المشتری فان دفع المشتری الیہ واخذ الثمن کان بیعا بالتعاطی بینھما اھ وکتبت علیہ اقول : یعنی اذا
ردالمحتار میں فرمایا خریدار پر بیع نافذ ہوجائے گی تو اگر خریدار نے اس کو دے کر قیمت وصول کرلی تو یہ دونوں میں بیع بالتعاطی(عملی لین دین)ہوگی اھاقول :(میں
لواشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ ۔
اگرغیر کےلئے خریدی تو اس پر نافذ ہوجائیگی جب بائع نے فروخت کرنے کی غیر کی طرف نسبت نہ کی ہو(ت)
فتاوی اما م قاضی خان وخزانۃ المفتین ووجیز امام کردری میں ہے:
یقول المالك بعت ھذا منك بکذافقال الفضولی قبلت اواشتریت ونوی الشراء لفلان فان الشراء ینفذ علیہ ولا یتوقف ۔
مالك کہے میں نے تجھے یہ چیز فلاں رقم پر فروخت کی اور جواب میں فضولی کہے میں نے قبول کی یاخریدی اور نیت فلاں غیرشخص کےلئے خریداری کی کیتو یہ خریداری اس فلاں کیلئے نافذ ہوجائیگی اورموقوف نہ ہوگی(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب ۔
والد کے مال سے خریداری ہو تو یہ لازم نہیں کہ خریدی ہوئی چیز والد کی ہوگی(ت)
اس صورت میں اگر کتب خانہ وقف ہے تو قاضی کا کتاب خرید کر اس میں داخل کردینا وقف کرنا ہی سمجھا جائیگا کہ اس کےلئے دلالت کافی ہے تصریحا زبان سے لفظ وقف کہنا ضرور نہیں جس طرح لوگ مسجد میں لوٹے چٹائیاں رکھ جاتے ہیں اور اگر وقف نہیں اور یہ کتابیں قاضی نے خرید کر جماعت کودے دیں تو اب ملك جماعت ہوگئیں کہ یہ دینا نہ عاریۃ تھانہ بالمعاوضہتو ہبہ قرارپائے گا اور بعد قبضہ مفید ملك ہوگا
قال فی ردالمحتار نفذ علی المشتری فان دفع المشتری الیہ واخذ الثمن کان بیعا بالتعاطی بینھما اھ وکتبت علیہ اقول : یعنی اذا
ردالمحتار میں فرمایا خریدار پر بیع نافذ ہوجائے گی تو اگر خریدار نے اس کو دے کر قیمت وصول کرلی تو یہ دونوں میں بیع بالتعاطی(عملی لین دین)ہوگی اھاقول :(میں
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع فصل فی البیع الموقوف نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۱
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۱۹
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۷
جدالممتار حاشیۃ ردالمحتار
فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع فصل فی البیع الموقوف نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۱
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۱۹
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۷
جدالممتار حاشیۃ ردالمحتار
کان الدفع علی جھۃ البیع کما قید بہ فی الھدایۃ والدر المختار من الوکالۃ اما اذا دفع الیہ مجانا یکون ھبۃ کمن اشتری ثوباوقطعہ قمیصا لتلمیذہ وسلمہ الیہ مبلکہ التلمیذ کما سیأتی فی الھبۃ ۔
کہتا ہوں)یہ جب ہے کہ دینا بیع کے طور پر ہو جیسا کہ اس قید کاذکرہدایہ اور درمختار کے وکالت کے باب میں ہےلیکن اگر یہ دستی دینا بطور مفت ہوتو ہبہ قرار پائے گا جیسا کہ کوئی کپڑا خریدکر شاگرد کے لئے قمیص بنائے اور پھر شاگرد کے ہاتھ سونپ دے تو شاگرد مالك ہوجائیگا جیسا کہ ہبہ کے باب میں آئے گا۔(ت)
اقول: مگر یہ اس وقت ہے کہ قاضی جانے کہ یہ شراء مجھ پر نافذ اور کتاب کا مالك میں ہواہوں ورنہ غلط فہمی کی حالت میں اس کا اپنی ملك سے اخراج کا قصد متحقق نہیں ہوسکتا کہ اپنے آپ کو مالك ہی نہ سمجھا تھا
ولاعبرۃ بالظن البین خطؤہ اشباہ ومن رفع شیئا ظانا انہ علیہ ثم بان انہ لم یکن علیہ یستردہ کما افادہ فی الخیریۃ والعقود الدریۃ۔
گمان کاغلط ہونا واضح ہوتو اس کا اعتبار نہیںاشباہاور کسی نے کوئی چیز اس گمان سے دی کہ اس کے ذمہ ادائیگی ضرور تھیپھر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں تھا تواس کو واپس لینے کا حق ہے جیسا کہ خیریہ اورعقوددریہ نے یہ فائدہ بیان کیا۔(ت)
قنیہ وہندیہ میں ہے:
ینبغی ان یحفظ ھذافقد ابتلی بہ العامۃ والخاصۃ یستعینون بالناس فی الاحتطاب والاحتشاش فیثبت الملك للاعوان فیہا ولایعلم الکل بھا فینفقونھا قبل الاستیہاب بطریقہ او الاذن فیجب علیہم مثلھا او قیمتھا وھم لایشعرون اھ وعدم الاذن فیما ذکر وان کان لنا فیہ
ا س فائدہ کو یادرکھنا چاہئےلوگ عام وخاص اس میں مبتلا ہیں کہ لوگوں سے لکڑی اور گھاس وغیرہ کاٹنے میں مددلیتے ہیں حالانکہ مدد کرنے والوں کی ان چیزوں میں ملکیت ثابت ہوجاتی ہے اور لوگوں کو علم نہ ہونے کی بناپر وہ مدد گار کی ان چیزوں کا ہبہ اور اجازت حاصل کئے بغیر صرف کرلیتے ہیں تو ان پر ان چیزوں یا ان کی قیمت کا واپس کرنا لازم ہوتا ہے حالانکہ ان کو اس کا علم تك نہیں ہوتا اھمتذکرہ صورت میں اجازت نہ ہونااگرچہ ہمیں اس میں
کہتا ہوں)یہ جب ہے کہ دینا بیع کے طور پر ہو جیسا کہ اس قید کاذکرہدایہ اور درمختار کے وکالت کے باب میں ہےلیکن اگر یہ دستی دینا بطور مفت ہوتو ہبہ قرار پائے گا جیسا کہ کوئی کپڑا خریدکر شاگرد کے لئے قمیص بنائے اور پھر شاگرد کے ہاتھ سونپ دے تو شاگرد مالك ہوجائیگا جیسا کہ ہبہ کے باب میں آئے گا۔(ت)
اقول: مگر یہ اس وقت ہے کہ قاضی جانے کہ یہ شراء مجھ پر نافذ اور کتاب کا مالك میں ہواہوں ورنہ غلط فہمی کی حالت میں اس کا اپنی ملك سے اخراج کا قصد متحقق نہیں ہوسکتا کہ اپنے آپ کو مالك ہی نہ سمجھا تھا
ولاعبرۃ بالظن البین خطؤہ اشباہ ومن رفع شیئا ظانا انہ علیہ ثم بان انہ لم یکن علیہ یستردہ کما افادہ فی الخیریۃ والعقود الدریۃ۔
گمان کاغلط ہونا واضح ہوتو اس کا اعتبار نہیںاشباہاور کسی نے کوئی چیز اس گمان سے دی کہ اس کے ذمہ ادائیگی ضرور تھیپھر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں تھا تواس کو واپس لینے کا حق ہے جیسا کہ خیریہ اورعقوددریہ نے یہ فائدہ بیان کیا۔(ت)
قنیہ وہندیہ میں ہے:
ینبغی ان یحفظ ھذافقد ابتلی بہ العامۃ والخاصۃ یستعینون بالناس فی الاحتطاب والاحتشاش فیثبت الملك للاعوان فیہا ولایعلم الکل بھا فینفقونھا قبل الاستیہاب بطریقہ او الاذن فیجب علیہم مثلھا او قیمتھا وھم لایشعرون اھ وعدم الاذن فیما ذکر وان کان لنا فیہ
ا س فائدہ کو یادرکھنا چاہئےلوگ عام وخاص اس میں مبتلا ہیں کہ لوگوں سے لکڑی اور گھاس وغیرہ کاٹنے میں مددلیتے ہیں حالانکہ مدد کرنے والوں کی ان چیزوں میں ملکیت ثابت ہوجاتی ہے اور لوگوں کو علم نہ ہونے کی بناپر وہ مدد گار کی ان چیزوں کا ہبہ اور اجازت حاصل کئے بغیر صرف کرلیتے ہیں تو ان پر ان چیزوں یا ان کی قیمت کا واپس کرنا لازم ہوتا ہے حالانکہ ان کو اس کا علم تك نہیں ہوتا اھمتذکرہ صورت میں اجازت نہ ہونااگرچہ ہمیں اس میں
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۹۳
العقودالدریۃ کتاب الشرکۃ ۱/ ۱۹ وکتاب المداینات ۲ /۳۴۹
فتاوٰی ہندیۃ،کتاب الاجارۃ،الباب السادس،نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۵۱
العقودالدریۃ کتاب الشرکۃ ۱/ ۱۹ وکتاب المداینات ۲ /۳۴۹
فتاوٰی ہندیۃ،کتاب الاجارۃ،الباب السادس،نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۵۱
کلام بیناہ فی رسالتنا”عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ”لکنہ لایجدی ھھنا لان الاذن یطلق التصرف ویسقط الضمان لکن لایسقط ملك المالك وفیہ الکلام ھنا۔
کلام ہے جس کو ہم نے اپنے رسالہ"عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی"میں بیان کیا ہے لیکن یہاں اس کا فائدہ نہیں کیونکہ اجازت تصرف کو جائز اور ضمان کو ساقط کرتا ہے لیکن مالك کی ملکیت کو ختم نہیں کرتی جبکہ یہاں کلام اسی میں ہے(ت)
اسی طرح اگر قاضی نے جماعت کو نہ دیں بلکہ کتب خانہ غیر وقفی میں آپ داخل کردیں اگرچہ اپنی ملك بھی جانتا ہو جب بھی اس کی ملك سے خارج نہ ہوں گی پرائے مال میں اپنا مال رکھ دینا ملك زائل نہیں کرتابالجملہ صرف یہ دو صورتیں ایسی نکلیں گی جن میں بعض کتب خریدہ قاضی ملك قاضی میں رہیں مگر ازانجا کہ ثمن دوسرے کے مال سے دیا ہے اس کا تاوان ذمہ قاضی رہا جن کتابوں کی نسبت یہ صورت ثابت ہو وارثان قاضی انہیں لیں اور جو قیمت ان کی قاضی نے قومی پیسے یادار القضا کی آمد سے ادا کی وہ واپس دیں ھذا ماظہرلی والعلم بالحق عندربی(مجھے یہ معلوم ہوا ہے جبکہ حقیقی علم میرے رب کے ہاں ہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
__________________
کلام ہے جس کو ہم نے اپنے رسالہ"عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی"میں بیان کیا ہے لیکن یہاں اس کا فائدہ نہیں کیونکہ اجازت تصرف کو جائز اور ضمان کو ساقط کرتا ہے لیکن مالك کی ملکیت کو ختم نہیں کرتی جبکہ یہاں کلام اسی میں ہے(ت)
اسی طرح اگر قاضی نے جماعت کو نہ دیں بلکہ کتب خانہ غیر وقفی میں آپ داخل کردیں اگرچہ اپنی ملك بھی جانتا ہو جب بھی اس کی ملك سے خارج نہ ہوں گی پرائے مال میں اپنا مال رکھ دینا ملك زائل نہیں کرتابالجملہ صرف یہ دو صورتیں ایسی نکلیں گی جن میں بعض کتب خریدہ قاضی ملك قاضی میں رہیں مگر ازانجا کہ ثمن دوسرے کے مال سے دیا ہے اس کا تاوان ذمہ قاضی رہا جن کتابوں کی نسبت یہ صورت ثابت ہو وارثان قاضی انہیں لیں اور جو قیمت ان کی قاضی نے قومی پیسے یادار القضا کی آمد سے ادا کی وہ واپس دیں ھذا ماظہرلی والعلم بالحق عندربی(مجھے یہ معلوم ہوا ہے جبکہ حقیقی علم میرے رب کے ہاں ہے۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
__________________
رسالہ
جوال العلو لتبین الخلو ۱۳۳۶ھ
(مسئلہ خلو کی وضاحت کے لئے بلندی کی گردش)
مسئلہ۶۹تا۷۳: ازقصبہ لاہر پور ضلع سیتاپور بمکان سید شاہ ولایت احمد صاحب مرسلہ وجد الحسن صاحب ۲۰ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
(۱)اوقاف میں کسی شخص کو کچھ اراضی بطور خلو جس کا ذکر شامی ج ۴کتاب البیوع بحث خلوالحوانیت میں ہے زرپیشگی لے کر اس شرط پر دینا کہ وہ اجر مثل سال بسال اپنے زر پیشگی میں محسوب کرتارہے جائز ہے یاناجائزاور واضح رہے کہ اس حصہ اراضی موقوفہ کا لگان سالانہ جس موقوف علیہ کے واسطے مخصوص ہے اس نےا پنی ضرورت کے واسطے زر پیشگی لیا ہے اور اسی نے زر پیشگی لینے والے سے معاملت خلو کی ہے اور اس موقوف علیہ کو اس حصہ موقوفہ پر حق متولیانہ بھی حاصل ہے۔
(۲)صاحب خلو کو یعنی جس کو ایسی اراضی دی گئی ہو اراضی کالگان یعنی اجر مثل ادا کرکے جو منافع اس اجر مثل سے زائد ہولینا درست ہے یانہیں
(۳)اگرصاحب خلو خود اپنی کاشت کرکے یا اپنی کوشش سے اجر مثل کی آمدنی سے زائد آمدنی اراضی مذکور کے
جوال العلو لتبین الخلو ۱۳۳۶ھ
(مسئلہ خلو کی وضاحت کے لئے بلندی کی گردش)
مسئلہ۶۹تا۷۳: ازقصبہ لاہر پور ضلع سیتاپور بمکان سید شاہ ولایت احمد صاحب مرسلہ وجد الحسن صاحب ۲۰ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
(۱)اوقاف میں کسی شخص کو کچھ اراضی بطور خلو جس کا ذکر شامی ج ۴کتاب البیوع بحث خلوالحوانیت میں ہے زرپیشگی لے کر اس شرط پر دینا کہ وہ اجر مثل سال بسال اپنے زر پیشگی میں محسوب کرتارہے جائز ہے یاناجائزاور واضح رہے کہ اس حصہ اراضی موقوفہ کا لگان سالانہ جس موقوف علیہ کے واسطے مخصوص ہے اس نےا پنی ضرورت کے واسطے زر پیشگی لیا ہے اور اسی نے زر پیشگی لینے والے سے معاملت خلو کی ہے اور اس موقوف علیہ کو اس حصہ موقوفہ پر حق متولیانہ بھی حاصل ہے۔
(۲)صاحب خلو کو یعنی جس کو ایسی اراضی دی گئی ہو اراضی کالگان یعنی اجر مثل ادا کرکے جو منافع اس اجر مثل سے زائد ہولینا درست ہے یانہیں
(۳)اگرصاحب خلو خود اپنی کاشت کرکے یا اپنی کوشش سے اجر مثل کی آمدنی سے زائد آمدنی اراضی مذکور کے
اپنے مقابضت خلو کے زمانہ میں بڑھادے تو اس اضافہ کا صاحب خلو مستحق ہے یانہیں
(۴)نمبر۲ونمبر۳کی صورت بظاہر رہن دخلی کی سی ہے اور رہن دخلی کا منافع سود ہےپس خلو اور رہن دخلی میں کیافرق ہوا اور جواز خلو کی کیاصورت ہے اور نفس خلوکون سامعاملہ ہے اور اس کی کیا تعریف ہے
(۵)ایك وقف قدیمہ مشہور ہ خاندانی میں اہل خاندان موقوف علیہم ومتولیان نے ضرورت مصارف ضروریہ وقفی پر آمدنی وقف موجود نہ ہونے کی حالت میں اور مہاجنان سے بوجہ وقف قرضہ نہ ملنے کی وجہ سے اکثر اوقات یہ کیا کہ بعض حصص اراضیا ت وقف کو زر پیشگی لے کر زر مذکو ر دینے و الے کے قبضہ میں دے دی اور دستا ویز ٹھیکہ نامہ لکھ دی کہ اس قدر سالانہ لگان اس اراضی کاٹھیکہ دار اپنے زر پیشگی میں مجرا اور بعد وصول کل زر پیشگی مذکور ایك حصہ میعاد پر وہ اراضی صاحب خلو سے واپس ہوکر متولیان وموقوف علیہم کے قبضہ میں آگئیاس کارروائی سے منکرین وقف عدم وقف کا استدلال کرتے ہیںیہ استدلال صحیح ہے یانہیں اور معاملت ٹھیکہ داری مذکور معاملت خلو سے سمجھی جائے گی یا اس کے علاوہ ناجائز سمجھی جائے گی اور ان واقعات اور ارتکاب سے وقف کالعدم ہوجائےگا یا باقی رہے گا اور ایسے فعل کا مرتکب قابل تولیت رہے گا یا نہیںاگرکسی کے مورث نے یہ فعل کیا ہو تو اس کا وارث تولیت پائے گایانہیں
الجواب:
بسم اﷲالرحمن الرحیمالحمد ﷲ الذی لاخلو لشیئ من کرمہوالصلوۃ والسلام علی من وقف علی الکون موائد کرمہ وعلی الہ واصحابہ المتولین اجراء حکمہ وحکمہ۔
اولا: خلوخود باطل و بے اصل ہےمذہب حنفی بلکہ نوسوبرس تك مذاہب اربعہ میں کہیں اس کا پتا نہیںدسویں صدی میں ایك عالم مالکی المذہب امام ناصر الدین لقانی قدس سرہ نے اسے جائز کیااسی صدی کے نصف آخرمیں صاحب اشباہ رحمہ اﷲ تعالی نے اسے برخلاف مذہب اعتبار عرف خاص پر مبنی قرار دیااسی صدی اور اس کے بعد کے محققین مثل شیخ الاسلام علی مقدسی وعلامہ حسن شرنبلالی وعلامہ محمد آفندی زیرك زادہ وعلامہ خیرالملۃ والدین رملی وعلامہ سید احمد حموی وغیرہم رحمہم اﷲ تعالی نے اسے رد فرمادیا۔حاشیۃ الرملی علی الاشباہ میں ہے:
قولہ ویصیر الخلوفی الحانوت حقالہ الخاقول : والفتوی علی خلاف ذلکمقدسی ۔ اس کا قول کہ اور دکانوں میں خلو اس کا حق بن جاتا ہے الخ اقول:(میں کہتا ہوں)فتوی اس کے خلاف ہےمقدسی۔ (ت)
(۴)نمبر۲ونمبر۳کی صورت بظاہر رہن دخلی کی سی ہے اور رہن دخلی کا منافع سود ہےپس خلو اور رہن دخلی میں کیافرق ہوا اور جواز خلو کی کیاصورت ہے اور نفس خلوکون سامعاملہ ہے اور اس کی کیا تعریف ہے
(۵)ایك وقف قدیمہ مشہور ہ خاندانی میں اہل خاندان موقوف علیہم ومتولیان نے ضرورت مصارف ضروریہ وقفی پر آمدنی وقف موجود نہ ہونے کی حالت میں اور مہاجنان سے بوجہ وقف قرضہ نہ ملنے کی وجہ سے اکثر اوقات یہ کیا کہ بعض حصص اراضیا ت وقف کو زر پیشگی لے کر زر مذکو ر دینے و الے کے قبضہ میں دے دی اور دستا ویز ٹھیکہ نامہ لکھ دی کہ اس قدر سالانہ لگان اس اراضی کاٹھیکہ دار اپنے زر پیشگی میں مجرا اور بعد وصول کل زر پیشگی مذکور ایك حصہ میعاد پر وہ اراضی صاحب خلو سے واپس ہوکر متولیان وموقوف علیہم کے قبضہ میں آگئیاس کارروائی سے منکرین وقف عدم وقف کا استدلال کرتے ہیںیہ استدلال صحیح ہے یانہیں اور معاملت ٹھیکہ داری مذکور معاملت خلو سے سمجھی جائے گی یا اس کے علاوہ ناجائز سمجھی جائے گی اور ان واقعات اور ارتکاب سے وقف کالعدم ہوجائےگا یا باقی رہے گا اور ایسے فعل کا مرتکب قابل تولیت رہے گا یا نہیںاگرکسی کے مورث نے یہ فعل کیا ہو تو اس کا وارث تولیت پائے گایانہیں
الجواب:
بسم اﷲالرحمن الرحیمالحمد ﷲ الذی لاخلو لشیئ من کرمہوالصلوۃ والسلام علی من وقف علی الکون موائد کرمہ وعلی الہ واصحابہ المتولین اجراء حکمہ وحکمہ۔
اولا: خلوخود باطل و بے اصل ہےمذہب حنفی بلکہ نوسوبرس تك مذاہب اربعہ میں کہیں اس کا پتا نہیںدسویں صدی میں ایك عالم مالکی المذہب امام ناصر الدین لقانی قدس سرہ نے اسے جائز کیااسی صدی کے نصف آخرمیں صاحب اشباہ رحمہ اﷲ تعالی نے اسے برخلاف مذہب اعتبار عرف خاص پر مبنی قرار دیااسی صدی اور اس کے بعد کے محققین مثل شیخ الاسلام علی مقدسی وعلامہ حسن شرنبلالی وعلامہ محمد آفندی زیرك زادہ وعلامہ خیرالملۃ والدین رملی وعلامہ سید احمد حموی وغیرہم رحمہم اﷲ تعالی نے اسے رد فرمادیا۔حاشیۃ الرملی علی الاشباہ میں ہے:
قولہ ویصیر الخلوفی الحانوت حقالہ الخاقول : والفتوی علی خلاف ذلکمقدسی ۔ اس کا قول کہ اور دکانوں میں خلو اس کا حق بن جاتا ہے الخ اقول:(میں کہتا ہوں)فتوی اس کے خلاف ہےمقدسی۔ (ت)
حوالہ / References
نزہۃ النواظر علی الاشباہ والنظائر مع الاشباہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۲ /۱۴€
اسی میں ہے:
قدعلمت ان الصحیح خلافہ بقولہ ان المذھب عدم اعتبار العرف الخاص ۔ تو معلوم کرچکا ہے کہ صحیح اس کے خلاف ہے اس کے قول سے کہ عرف خاص کا اعتبار نہ ہونا مذہب ہے(ت)
شرح الاشباہ لزیرك زادہ میں ہے:
العرف لایجوز ماکان محظورافی الشرع واما بیع الخلو اذا لم یکن ملاصقا بالحانوت فجائز شرعا فانہ حق لمالکہ وما وضعہ فی الحانوت بالاجارۃ مشروع لکن الحانوت اذاکان ملکا یملك صاحبھا خراجہ منہ اذاانقضی مدتہ المعروف وان لم تکن لہ مدۃ معلومۃ تکون الاجارۃ فاسدۃ وکذااذاکان الحانوت وقفا قد نص الفقہاء علی انہ لاتجوز الاجارۃ فیہ فوق ثلاث سنین کما فی الوقایۃ فلااعتبار للعرف سواء کان خاصا او عاما حین وجد النص فی الشرع علی خلافہ وقد مرمنا تحقیقہ فتذکر ۔ عرف جب شرعا ممنوع ہوتو معتبر نہیںلیکن خلو کی بیع اگر دکانوں سے متعلق نہ ہوتو شرعا جائز ہے کیونکہ یہ خلو مالك کا حق ہے لیکن یہ دکانوں کے اجارہ میں مشروع ہے مگر دکان اگر کسی کی ملکیت ہو تو معینہ مدت ختم ہوجانے پر مالك ہی آمدن کا حقدار ہوگا اور اگر مدت معین نہ ہوتو یہ اجارہ فاسد ہوگا اور یونہی اگر دکان وقف ہوتو بھی وہ اجارہ فاسد ہوگا کیونکہ فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ وقف کا اجارہ تین سال سے زائد جائز نہیں جیسا کہ وقایہ میں ہےلہذا جب کوئی عرف شرعی نص کے خلاف ہو خواہ عرف عام ہو یا خاصتو اس کا اعتبار نہ ہوگااس میں ہماری تحقیق گزرچکی ہےاسے یاد کرو۔(ت)
اس میں اس سے ایك ورق قبل ہے:
انمایعتبر العرف والعادۃ فیما لم یرد نص الشرع علی خلافہ وسینقل فی السطر الثالث بعدھا ان الودیعۃ والعین المؤجرۃ غیر مضمونتین بحال فلا یعتبر فیہ العرف بعد النص علی خلافہ من الفقہاء اھ وہی عر ف اورعادت معتبر ہے جس کے خلاف شرعی نص نہ ہو اس کے بعد تیسری سطر میں نقل کرینگے کہ امانت اور کرایہ پر دی ہوئی عین چیز کسی حال میں مضمون نہیں ہوتی لہذا اس کے ضمان پر عرف ہوتو اس کے خلاف فقہاء کی نص ہونے کی وجہ سے یہ عرف معتبر نہیں ہوگا اھ
قدعلمت ان الصحیح خلافہ بقولہ ان المذھب عدم اعتبار العرف الخاص ۔ تو معلوم کرچکا ہے کہ صحیح اس کے خلاف ہے اس کے قول سے کہ عرف خاص کا اعتبار نہ ہونا مذہب ہے(ت)
شرح الاشباہ لزیرك زادہ میں ہے:
العرف لایجوز ماکان محظورافی الشرع واما بیع الخلو اذا لم یکن ملاصقا بالحانوت فجائز شرعا فانہ حق لمالکہ وما وضعہ فی الحانوت بالاجارۃ مشروع لکن الحانوت اذاکان ملکا یملك صاحبھا خراجہ منہ اذاانقضی مدتہ المعروف وان لم تکن لہ مدۃ معلومۃ تکون الاجارۃ فاسدۃ وکذااذاکان الحانوت وقفا قد نص الفقہاء علی انہ لاتجوز الاجارۃ فیہ فوق ثلاث سنین کما فی الوقایۃ فلااعتبار للعرف سواء کان خاصا او عاما حین وجد النص فی الشرع علی خلافہ وقد مرمنا تحقیقہ فتذکر ۔ عرف جب شرعا ممنوع ہوتو معتبر نہیںلیکن خلو کی بیع اگر دکانوں سے متعلق نہ ہوتو شرعا جائز ہے کیونکہ یہ خلو مالك کا حق ہے لیکن یہ دکانوں کے اجارہ میں مشروع ہے مگر دکان اگر کسی کی ملکیت ہو تو معینہ مدت ختم ہوجانے پر مالك ہی آمدن کا حقدار ہوگا اور اگر مدت معین نہ ہوتو یہ اجارہ فاسد ہوگا اور یونہی اگر دکان وقف ہوتو بھی وہ اجارہ فاسد ہوگا کیونکہ فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ وقف کا اجارہ تین سال سے زائد جائز نہیں جیسا کہ وقایہ میں ہےلہذا جب کوئی عرف شرعی نص کے خلاف ہو خواہ عرف عام ہو یا خاصتو اس کا اعتبار نہ ہوگااس میں ہماری تحقیق گزرچکی ہےاسے یاد کرو۔(ت)
اس میں اس سے ایك ورق قبل ہے:
انمایعتبر العرف والعادۃ فیما لم یرد نص الشرع علی خلافہ وسینقل فی السطر الثالث بعدھا ان الودیعۃ والعین المؤجرۃ غیر مضمونتین بحال فلا یعتبر فیہ العرف بعد النص علی خلافہ من الفقہاء اھ وہی عر ف اورعادت معتبر ہے جس کے خلاف شرعی نص نہ ہو اس کے بعد تیسری سطر میں نقل کرینگے کہ امانت اور کرایہ پر دی ہوئی عین چیز کسی حال میں مضمون نہیں ہوتی لہذا اس کے ضمان پر عرف ہوتو اس کے خلاف فقہاء کی نص ہونے کی وجہ سے یہ عرف معتبر نہیں ہوگا اھ
حوالہ / References
نزہۃ النواظر علی الاشباہ والنظائر مع الاشباہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی(۲)۲ /۱۵
شرح الاشباہ ∞لزیرك زاد€ہ
شرح الاشباہ ∞لزیرك زادہ€
شرح الاشباہ ∞لزیرك زاد€ہ
شرح الاشباہ ∞لزیرك زادہ€
وھذا ما اشار الیہ بقولہ وقد مرمنا تحقیقہ۔ یہ وہ عبارت ہے جس کے متعلق انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا"اور ہماری تحقیق اس میں گزری ہے۔(ت)
غمز العیون میں ہے:
(قولہ علی اعتبارہ(ای العرف الخاص)ینبغی ان یفتی بان مایقع فی بعض اسواق القاھرۃ من خلوالحوانیت لازما ویصیر الخلوحقالہ قیل علیہ کیف ینبغی ان یفتی بہ مع کونہ مخالفا لقواعد الشرع الشریفۃ انتہی وقال شیخنا(یرید العلامۃ الشرنبلالی رحمھما اﷲ تعالی فی رسالتہ"مفیدۃ الحسنی"بعد نقل کلام المصنف رحمہ اﷲ تعالی قولہ ینبغی الخ ممالاینبغی فانہ لامماثلۃ بین مااعتبرمن المسائل المبینۃ علی العرف الخاص وبین الخلو لان اعتبار العر ف الخاص علی ماقیل بہ فی جمیع تلك المسائل ضررھا التزم بہ فاعلھا مختارالنفسہ او مقتصرا فی استیفاء شرط یمنع عنہ الضررواماالوقف فناظرہ لایملك اتلافہ ولاتعطیلہ وقد ثبت ان المذہب عدم اعتبار العرف الخاص ۔ "قولہ علی اعتبارہ"یعنی عرف خاص کے اعتبار پریہ فتوی مناسب ہوگا کہ قاہرہ کے بازاروں میں جو دکانوں کا خلو ہے وہ لا زم ہو اور خلو اس کا حق بن جائےاس پر اعتراض ہے کہ یہ فتوی کیسے مناسب ہوگا جبکہ یہ شرع شریف کے قواعد کے خلاف ہے اھاور ہمارے شیخ(ان سے مراد علامہ شرنبلالی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ ہیں)نے اپنے رسالہ مفیدۃ الحسنی میں مصنف رحمہ اﷲتعالی کا کلام نقل کرنے کے بعد فرمایا "قولہ ینبغی"مناسب ہے الخیہ غیر مناسب ہے کیونکہ عرف خاص میں معتبر مسائل جو بیان ہوئے ان میں اور خلو میں کوئی مماثلت نہیں ہے کیو نکہ عرف خاص والے تمام مسائل میں یہ اعتبار ہے کہ ان میں ضرر والی چیز کو خود فاعل نے اپنے لئے پسند کیا ہے یاضرر سے مانع شرط کو پورا کرنے میں اقتصار کیاہے لیکن وقف کا ناظم تو اس میں کسی چیز کے تلف یا معطل کرنے کا ما لك نہیں ہے اور جبکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ عرف خاص کا اعتبار نہ کرنا مذہب ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قداشتھر نسبۃ مسئلۃ الخلؤ الی مذھب مسئلہ خلو کی نسبت عالم مدینہ حضرت مالك بن انس
غمز العیون میں ہے:
(قولہ علی اعتبارہ(ای العرف الخاص)ینبغی ان یفتی بان مایقع فی بعض اسواق القاھرۃ من خلوالحوانیت لازما ویصیر الخلوحقالہ قیل علیہ کیف ینبغی ان یفتی بہ مع کونہ مخالفا لقواعد الشرع الشریفۃ انتہی وقال شیخنا(یرید العلامۃ الشرنبلالی رحمھما اﷲ تعالی فی رسالتہ"مفیدۃ الحسنی"بعد نقل کلام المصنف رحمہ اﷲ تعالی قولہ ینبغی الخ ممالاینبغی فانہ لامماثلۃ بین مااعتبرمن المسائل المبینۃ علی العرف الخاص وبین الخلو لان اعتبار العر ف الخاص علی ماقیل بہ فی جمیع تلك المسائل ضررھا التزم بہ فاعلھا مختارالنفسہ او مقتصرا فی استیفاء شرط یمنع عنہ الضررواماالوقف فناظرہ لایملك اتلافہ ولاتعطیلہ وقد ثبت ان المذہب عدم اعتبار العرف الخاص ۔ "قولہ علی اعتبارہ"یعنی عرف خاص کے اعتبار پریہ فتوی مناسب ہوگا کہ قاہرہ کے بازاروں میں جو دکانوں کا خلو ہے وہ لا زم ہو اور خلو اس کا حق بن جائےاس پر اعتراض ہے کہ یہ فتوی کیسے مناسب ہوگا جبکہ یہ شرع شریف کے قواعد کے خلاف ہے اھاور ہمارے شیخ(ان سے مراد علامہ شرنبلالی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ ہیں)نے اپنے رسالہ مفیدۃ الحسنی میں مصنف رحمہ اﷲتعالی کا کلام نقل کرنے کے بعد فرمایا "قولہ ینبغی"مناسب ہے الخیہ غیر مناسب ہے کیونکہ عرف خاص میں معتبر مسائل جو بیان ہوئے ان میں اور خلو میں کوئی مماثلت نہیں ہے کیو نکہ عرف خاص والے تمام مسائل میں یہ اعتبار ہے کہ ان میں ضرر والی چیز کو خود فاعل نے اپنے لئے پسند کیا ہے یاضرر سے مانع شرط کو پورا کرنے میں اقتصار کیاہے لیکن وقف کا ناظم تو اس میں کسی چیز کے تلف یا معطل کرنے کا ما لك نہیں ہے اور جبکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ عرف خاص کا اعتبار نہ کرنا مذہب ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قداشتھر نسبۃ مسئلۃ الخلؤ الی مذھب مسئلہ خلو کی نسبت عالم مدینہ حضرت مالك بن انس
حوالہ / References
غمر العیون البصائر شرح الاشباہ والنظائرمع الاشباہ الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۵€
عالم المدینۃ مالك بن انس رضی اﷲ تعالی عنہ والحال ان لیس فیہا نص عنہ ولاعن احد من اصحابہحتی قال البدرالعراقی(مالکی)انہ لم یقع فی کلام الفقہاء التعرض بمسئلۃ الخلوفیما اعلم وانما فیہا فتیا للعلامۃ ناصر الدین اللقانی بناھا علی العرف الخ۔ رضی اﷲ تعالی عنہ کی طرف مشہور ہے حالانکہ ان کی اور ان کے کسی شاگرد کی اس میں تصریح نہیںہےبدر العراقی مالکی نے فرمایا ہے کہ میرے علم کے مطابق خلو کامسئلہ فقہاء کے کلام میں مذکور نہیںاس میں صرف علا مہ ناصر الدین لقانی کا فتوی ہے جس کو انہوں نے عرف پر مبنی قرار دیا ہے الخ(ت)
ردالمحتار میں ہے:
للعلامۃ الشرنبلالی رسالۃ ردفیہا علی الاشباہ بان الخلولم یقل بہ الامتأخرمن المالکیۃ(حتی افتی بصحۃ وقفہ ولزم منہ ان اوقاف المسلمین صارت للکافرین بسبب وقف خلوھا علی کنائسھم وبان عدم اخراج صاحب الحانوت لصاحب الخلویلزم منہ حجرالحر المکلف عن مبلکہ واتلاف مالہبل لایجوز ھذا فی الوقف وفی منع الناظرمن اخراجہ تفویت نفع الوقف وتعطیل ماشرطہ الواقف اھ ملخصاقلت وماذکرہ حق خصوصا فی زماننا ھذا ۔ علامہ شرنبلالی کا ایك رسالہ ہے جس میں الاشباہ کا رد کیا ہے اور کہا ہے کہ خلو کا قول ایك مالکی متاخر عالم کے سوا کسی نے نہیں کیا اس نے یہ فتوی تك دے دیا کہ اس کا وقف صحیح ہے حالانکہ اس فتوی سے لازم آتا ہے کہ مسلمانوں کے وقف کافروں کو منتقل ہوجائیں اس سبب سے کہ وہ خلو کو اپنے گرجوں کے لئے وقف کردینگے اور دکان کا مالك جب خلووالے کو اپنی دکان سے بیدخل نہ کرسکے گا تو لازم آئے گا کہ آزاد مکلف شخص اپنی ملکیت سے ممنوع ہوجائے اور اس کا مال تلف ہوکر رہ جائے بلکہ یہ سب کچھ وقف میں جائز نہیں ہے اور وقف کے نگران کو خلو والے کی بے دخلی سے منع کرنا وقف کے منافع کو ضائع کرنا اور واقف کی لگائی ہوئی شرط کو معطل کرنا ہے اھ ملخصااقول:(میں کہتا ہوں)انہوں نے جو فرمایا ہے وہ حق ہے خصوصا ہمارے زمانے میں۔(ت)
ثانیا: صورت سوال کو خلو سے بھی کچھ علاقہ نہیں۔خلوا س تحقیق وتنقیح پر جو بتوفیق اﷲ تعالی ہم نے اپنی تعلیقات ردالمحتار میں کی یہ ہے کہ مکان یا دکان یا زمین کامستاجر اپنا اجارہ ہمیشہ باقی رکھنے کو اس میں اپنے
ردالمحتار میں ہے:
للعلامۃ الشرنبلالی رسالۃ ردفیہا علی الاشباہ بان الخلولم یقل بہ الامتأخرمن المالکیۃ(حتی افتی بصحۃ وقفہ ولزم منہ ان اوقاف المسلمین صارت للکافرین بسبب وقف خلوھا علی کنائسھم وبان عدم اخراج صاحب الحانوت لصاحب الخلویلزم منہ حجرالحر المکلف عن مبلکہ واتلاف مالہبل لایجوز ھذا فی الوقف وفی منع الناظرمن اخراجہ تفویت نفع الوقف وتعطیل ماشرطہ الواقف اھ ملخصاقلت وماذکرہ حق خصوصا فی زماننا ھذا ۔ علامہ شرنبلالی کا ایك رسالہ ہے جس میں الاشباہ کا رد کیا ہے اور کہا ہے کہ خلو کا قول ایك مالکی متاخر عالم کے سوا کسی نے نہیں کیا اس نے یہ فتوی تك دے دیا کہ اس کا وقف صحیح ہے حالانکہ اس فتوی سے لازم آتا ہے کہ مسلمانوں کے وقف کافروں کو منتقل ہوجائیں اس سبب سے کہ وہ خلو کو اپنے گرجوں کے لئے وقف کردینگے اور دکان کا مالك جب خلووالے کو اپنی دکان سے بیدخل نہ کرسکے گا تو لازم آئے گا کہ آزاد مکلف شخص اپنی ملکیت سے ممنوع ہوجائے اور اس کا مال تلف ہوکر رہ جائے بلکہ یہ سب کچھ وقف میں جائز نہیں ہے اور وقف کے نگران کو خلو والے کی بے دخلی سے منع کرنا وقف کے منافع کو ضائع کرنا اور واقف کی لگائی ہوئی شرط کو معطل کرنا ہے اھ ملخصااقول:(میں کہتا ہوں)انہوں نے جو فرمایا ہے وہ حق ہے خصوصا ہمارے زمانے میں۔(ت)
ثانیا: صورت سوال کو خلو سے بھی کچھ علاقہ نہیں۔خلوا س تحقیق وتنقیح پر جو بتوفیق اﷲ تعالی ہم نے اپنی تعلیقات ردالمحتار میں کی یہ ہے کہ مکان یا دکان یا زمین کامستاجر اپنا اجارہ ہمیشہ باقی رکھنے کو اس میں اپنے
حوالہ / References
غمز العیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر مع الاشباہ الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۳۷€
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۶€
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۶€
مال سے نہ اپنے لئے بلکہ اسی شیئ مستاجر سے الحاق اور اس کی حیثیت بڑھاتے اس کے فوائد کی تکمیل کے واسطے کچھ زیادت کرے خواہ متصل باتصال قراریا بے اس کے جیسے عمارت یا کنواں یا روشنی کا سامان یا پانی کے نلوامثال ذلکیا خود نہ کرے مؤاجر کو اس کے روپے دے دے جو اجرت کے علاوہ ہوں اس مال کے مقابل جو اسے ابقائے اجارہ کاحق ملتا ہے اس کا نام خلو ہے۔رسالہ تحریر العبارۃ للعلامۃ الشامی میں ہے:
قال العلامہ الشلامی فی رسالتہ"تحریر العبارۃ فیمن ھواحق بالاجارہ"(تنبیہ)قد یثبت حق القرار بغیر البناء والغرس بان تکون الارض معطلۃ فیستاجرھامن المتکلم علیہا لیصلحھا للزرعۃ ویحرثھا ویکسبھا وھو المسمی بمشد المسکۃ فلا تنزع من یدہ مادام یدفع ماعلیہا من القسم المتعارف کالعشر ونحوہ واذامات عن ابن توجہ لابنہ فیقوم مقامہ فیہاوقد رأیت بخط شیخ مشائخنا خاتمۃ الفقہاء الشیخ ابراہیم السائحانی الغزی المسکۃ عبارۃ من استحقاق الحراثۃ فی ارض الغیر وذکر فی الحامدیۃ انھا لا تورث وانما توجہ للابن القادر علیہا دون البنت اھ ثم افاض فی بیان الکردار والسکنی والجدك وانھا اعیان قائمۃ فی الارض الی ان قال وھذا غیر علامہ شامی نے اپنے رسالہ"تحریر العبارۃ فیمن ھواحق بالاجارۃ"میں فرمایا(تنبیہ)کبھی تعمیر اور پودے لگائے بغیر حق استقرار ثابت ہوتا ہے مثلا یوں کہ کوئی زمین خالی پڑی ہو تو کسی خواہشمند کو اجارہ پردی جائے تاکہ وہ اس کو زراعت کےلئے تیار کرے اوراس کو کاشت کرکے آباد کرے جس کو مشدالمسکہ کہا جاتا ہے تو یہ زمین اس کاشتکار سے اس وقت تك واپس نہ لی جائے گی جب تك وہ اس کا متعارف محصول مثلا عشر وغیرہ دیتا رہے اور اگر وہ کاشت کار کوئی بیٹا چھوڑ کر فوت ہوجائے تو یہ کاشتکاری کا حق اس کو منتقل ہوجائے گا اور وہ بیٹا اپنے باپ کے قائم مقام قرار پائے گامیں نے اپنے شیخ المشائخ خاتمہ الفقہاء الشیخ ابراہیم السائحانی الغزی کا لکھا ہوا دیکھا ہے کہ"مسکہ"غیر کی زمین میں کاشتکاری کے استحقاق کا نام ہےاور حامدیہ میں ذکر کیا ہے کہ اس استحقاق میں وراثت نافذ نہ ہوگی بلکہ صرف کاشتکاری پر قادر بیٹے کو یہ حق منتقل ہوگا اور بیٹی کو استحقاق نہ ہوگااھپھر انہوں نے کرایہ داریسکنی اور جدك کی وضاحت میں فرمایا کہ یہ زمین میں باقی رہنے والے امور ہیںآگے
قال العلامہ الشلامی فی رسالتہ"تحریر العبارۃ فیمن ھواحق بالاجارہ"(تنبیہ)قد یثبت حق القرار بغیر البناء والغرس بان تکون الارض معطلۃ فیستاجرھامن المتکلم علیہا لیصلحھا للزرعۃ ویحرثھا ویکسبھا وھو المسمی بمشد المسکۃ فلا تنزع من یدہ مادام یدفع ماعلیہا من القسم المتعارف کالعشر ونحوہ واذامات عن ابن توجہ لابنہ فیقوم مقامہ فیہاوقد رأیت بخط شیخ مشائخنا خاتمۃ الفقہاء الشیخ ابراہیم السائحانی الغزی المسکۃ عبارۃ من استحقاق الحراثۃ فی ارض الغیر وذکر فی الحامدیۃ انھا لا تورث وانما توجہ للابن القادر علیہا دون البنت اھ ثم افاض فی بیان الکردار والسکنی والجدك وانھا اعیان قائمۃ فی الارض الی ان قال وھذا غیر علامہ شامی نے اپنے رسالہ"تحریر العبارۃ فیمن ھواحق بالاجارۃ"میں فرمایا(تنبیہ)کبھی تعمیر اور پودے لگائے بغیر حق استقرار ثابت ہوتا ہے مثلا یوں کہ کوئی زمین خالی پڑی ہو تو کسی خواہشمند کو اجارہ پردی جائے تاکہ وہ اس کو زراعت کےلئے تیار کرے اوراس کو کاشت کرکے آباد کرے جس کو مشدالمسکہ کہا جاتا ہے تو یہ زمین اس کاشتکار سے اس وقت تك واپس نہ لی جائے گی جب تك وہ اس کا متعارف محصول مثلا عشر وغیرہ دیتا رہے اور اگر وہ کاشت کار کوئی بیٹا چھوڑ کر فوت ہوجائے تو یہ کاشتکاری کا حق اس کو منتقل ہوجائے گا اور وہ بیٹا اپنے باپ کے قائم مقام قرار پائے گامیں نے اپنے شیخ المشائخ خاتمہ الفقہاء الشیخ ابراہیم السائحانی الغزی کا لکھا ہوا دیکھا ہے کہ"مسکہ"غیر کی زمین میں کاشتکاری کے استحقاق کا نام ہےاور حامدیہ میں ذکر کیا ہے کہ اس استحقاق میں وراثت نافذ نہ ہوگی بلکہ صرف کاشتکاری پر قادر بیٹے کو یہ حق منتقل ہوگا اور بیٹی کو استحقاق نہ ہوگااھپھر انہوں نے کرایہ داریسکنی اور جدك کی وضاحت میں فرمایا کہ یہ زمین میں باقی رہنے والے امور ہیںآگے
حوالہ / References
تحریر العبارۃ فیمن ھواحق بالاجارۃ رسالہ من رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۳۔۱۵۲€
الخلوالذی ذکرہ فی الاشباہ فانہ بمنزلۃ مشد المسکۃ المار وھو وصف لاعین قائمۃ فلایجوز بیعہ ولایورث وانما ینتقل الی الولد بطریق الاحقیۃ کمامر وما ذکرہ فی الاشباہ من جواز بیع الخلو ردوہ علیہوقد الف فی ردہ العلامۃ الشرنبلالی رسالۃ خاصۃ اھ کلام الشامی ملتقطا۔
اقول: ومن الدلیل القاطع علی کون الخلو معنی لاعینا انہ لما استدل محمد بن ھلال الحنفی علی جواز الخلو بمافی جامع الفصولین وغیرہ عن الذخیرۃ والکبری والخانیۃ والخلاصۃ وواقعات الضریری اشتری سکنی وقف فقال المتولی مااذنت لہ بالسکنی فامرہ بالرفع فلو اشتراہ بشرط القرار فلہ الرجوع علی بائعہ والافلایرجع علیہ بثمنہ ولابنقصانہ اھ رموہ عن قوس واحدۃ انہ لم یفھم معنی السکنی لان المراد بھا عین مرکبۃ
یہاں تك فرمایا کہ یہ امور اس خلو کا غیر ہیں جس کا ذکر الاشباہ میں کیا ہے کیونکہ یہ مشد المسکہ کی طرح ہے جس کابیان پہلے گزرا ہے اور وہ خلو ایك وصف ہے جو باقی رہنے والی عین چیز نہیں ہے تو مشدالمسکہ کی بیع ناجائز ہے اور وہ قابل وراثت نہیں ہے ارو صرف وہ بیٹے کو حقدار ہونے کی وجہ سے منتقل ہوتا ہے جیسا کہ گزر چکا ہے اور الاشباہ میں خلو کی بیع کاجوجواز مذکور ہوا فقہاء کرام نے اس کو رد کیا ہے اور علامہ شرنبلالی نے ایك خاص رسالہ اس کے رد میں تالیف کیا ہے۔علامہ شامی کا کلام ملتقطا ختم ہوا۔
اقول:(میں کہتا ہوں)خلو کے ایك معنوی چیز ہونے اور عین شیئ نہ ہونے پر قاطع دلیل یہ ہے کہ جامع الفصولین وغیرہ میں ذخیرہکبریخانیہخلاصہ اور واقعات ضریری سے منقول ہے اس بیان سےکہ کسی نے وقف سکنی خریدا تو متولی نے کہا کہ میں اس سکنی کی اجازت نہیں دیتا اور وہاں سے سکنی ختم کرنے کا اس نے حکم دیا تو اگر اس خریدا ر نے وہ سکنی برقرار رہنے کی شرط پر خریداتھا تو(متولی کے اس اقدام پر)وہ فروخت کرنے والے پر اپنے نقصان میں رجوع کرسکتاہے ورنہ وہ اپنی لاگت اور نقصان میں بائع پر رجوع نہیں کرسکتا اھجب محمد بن ہلال حنفی نے خلو کے جواز پر استدلال کیاتو سب نے
اقول: ومن الدلیل القاطع علی کون الخلو معنی لاعینا انہ لما استدل محمد بن ھلال الحنفی علی جواز الخلو بمافی جامع الفصولین وغیرہ عن الذخیرۃ والکبری والخانیۃ والخلاصۃ وواقعات الضریری اشتری سکنی وقف فقال المتولی مااذنت لہ بالسکنی فامرہ بالرفع فلو اشتراہ بشرط القرار فلہ الرجوع علی بائعہ والافلایرجع علیہ بثمنہ ولابنقصانہ اھ رموہ عن قوس واحدۃ انہ لم یفھم معنی السکنی لان المراد بھا عین مرکبۃ
یہاں تك فرمایا کہ یہ امور اس خلو کا غیر ہیں جس کا ذکر الاشباہ میں کیا ہے کیونکہ یہ مشد المسکہ کی طرح ہے جس کابیان پہلے گزرا ہے اور وہ خلو ایك وصف ہے جو باقی رہنے والی عین چیز نہیں ہے تو مشدالمسکہ کی بیع ناجائز ہے اور وہ قابل وراثت نہیں ہے ارو صرف وہ بیٹے کو حقدار ہونے کی وجہ سے منتقل ہوتا ہے جیسا کہ گزر چکا ہے اور الاشباہ میں خلو کی بیع کاجوجواز مذکور ہوا فقہاء کرام نے اس کو رد کیا ہے اور علامہ شرنبلالی نے ایك خاص رسالہ اس کے رد میں تالیف کیا ہے۔علامہ شامی کا کلام ملتقطا ختم ہوا۔
اقول:(میں کہتا ہوں)خلو کے ایك معنوی چیز ہونے اور عین شیئ نہ ہونے پر قاطع دلیل یہ ہے کہ جامع الفصولین وغیرہ میں ذخیرہکبریخانیہخلاصہ اور واقعات ضریری سے منقول ہے اس بیان سےکہ کسی نے وقف سکنی خریدا تو متولی نے کہا کہ میں اس سکنی کی اجازت نہیں دیتا اور وہاں سے سکنی ختم کرنے کا اس نے حکم دیا تو اگر اس خریدا ر نے وہ سکنی برقرار رہنے کی شرط پر خریداتھا تو(متولی کے اس اقدام پر)وہ فروخت کرنے والے پر اپنے نقصان میں رجوع کرسکتاہے ورنہ وہ اپنی لاگت اور نقصان میں بائع پر رجوع نہیں کرسکتا اھجب محمد بن ہلال حنفی نے خلو کے جواز پر استدلال کیاتو سب نے
حوالہ / References
تحریر العبارۃ فیمن ھواحق بالاجارۃ رسالہ من رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۵€
جامع الفصولین الفصل السادس عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۲۔۲۲۱،€نزہۃ النواظرالاشباہ والنظاہر مع الاشباہ ادارۃ القرآن ∞کراچی€ ∞۲ /۵۱۔۷۵۰€
جامع الفصولین الفصل السادس عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۲۔۲۲۱،€نزہۃ النواظرالاشباہ والنظاہر مع الاشباہ ادارۃ القرآن ∞کراچی€ ∞۲ /۵۱۔۷۵۰€
فی الحانوت وھی غیر الخلو ففی الخلاصۃ اشتری سکنی حانوت فی حانوت رجل مرکبا الخ کمافی رد المحتار عن العلامۃ الشرنبلالی قال ثم نقل عن عدۃ کتب مایدل علی ان السکنی عین قائمۃ فی الحانوت ۔
قلت وقد نقلہ فی العقود الدریۃ وفی رسالتہ المذکورۃ عن التجنیس ثم نفس العبارۃ المستدل بھا منادیۃ بذاك اعلی نداء کما اوضحہ السید الحموی مع غناہ عن الایضاح اذقال بعد نقل کلام العمادی اذا ادعی سکنی دار اوحانوت وبین حدودہ لایصح لان السکنی نقلیا فلایحدد وذکررشید الدین فی فتاواہ و ان کان السکنی نقلی لکن لما اتصل بالارض اتصال تابید کان تعریفہ بمابہ تعریف الارض لان السکنی مرکب فی البناء ترکیب قرار فالتحق بمالا یمکن نقلہ اصلااھ ایك ہی انداز سے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ محمد بن ہلال کو سکنی معنی سمجھ نہیں آیاکیونکہ سکنی سے مراد دکان میں لگائی ہوئی عین موجود چیز ہے اور وہ خلو کا مغایر ہےتوخلاصہ میں یوں ہے کہ ایك شخص کی دکان میں مرکب سکنی حانوت ہو الخجیسا کہ ردالمحتار میں علامہ شرنبلالی سے نقل کرتے ہوئے کہاانہوں نے پھر متعدد کتب سے نقل کیا کہ سکنی دکان میں قائم رہنے والی ایك موجود عین چیز ہوتی ہے۔
قلت(میں کہتا ہوں)انہوں نے اس کو عقود دریہ میں اور اپنے مذکورہ رسالہ میں تجنیس سے نقل کیاپھر استدلال کرنے والے کی نفس عبارت بھی واضح طور اس کا اعلان کررہی ہے جیسا کہ اسکو سید حموی نے واضح کیا حالانکہ وضاحت کی ضرورت نہ تھیجہاں انہوں نے عمادی کا کلام نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر کوئی شخص گھر یادکان کا سکنی کا دعوی کرکے اس کی حدود کو بیان کرے تو اس کا یہ دعوی درست نہ ہوگا کیونکہ سکنی ایك منتقل ہونے والی چیز ہے ا سلئے اس کی حد بندی نہیں ہوسکتیرشید الدین نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے کہ اگرچہ سکنی منتقل ہونے والی چیز ہے لیکن جب وہ کسی خطہ زمین سے بختہ اتصال کرے تو پھر ا سکی تعریف زمین کی تعریف کی طرح ہوگی کیونکہ سکنی عمارت کے ساتھ استقرار والی ترکیب حاصل
قلت وقد نقلہ فی العقود الدریۃ وفی رسالتہ المذکورۃ عن التجنیس ثم نفس العبارۃ المستدل بھا منادیۃ بذاك اعلی نداء کما اوضحہ السید الحموی مع غناہ عن الایضاح اذقال بعد نقل کلام العمادی اذا ادعی سکنی دار اوحانوت وبین حدودہ لایصح لان السکنی نقلیا فلایحدد وذکررشید الدین فی فتاواہ و ان کان السکنی نقلی لکن لما اتصل بالارض اتصال تابید کان تعریفہ بمابہ تعریف الارض لان السکنی مرکب فی البناء ترکیب قرار فالتحق بمالا یمکن نقلہ اصلااھ ایك ہی انداز سے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ محمد بن ہلال کو سکنی معنی سمجھ نہیں آیاکیونکہ سکنی سے مراد دکان میں لگائی ہوئی عین موجود چیز ہے اور وہ خلو کا مغایر ہےتوخلاصہ میں یوں ہے کہ ایك شخص کی دکان میں مرکب سکنی حانوت ہو الخجیسا کہ ردالمحتار میں علامہ شرنبلالی سے نقل کرتے ہوئے کہاانہوں نے پھر متعدد کتب سے نقل کیا کہ سکنی دکان میں قائم رہنے والی ایك موجود عین چیز ہوتی ہے۔
قلت(میں کہتا ہوں)انہوں نے اس کو عقود دریہ میں اور اپنے مذکورہ رسالہ میں تجنیس سے نقل کیاپھر استدلال کرنے والے کی نفس عبارت بھی واضح طور اس کا اعلان کررہی ہے جیسا کہ اسکو سید حموی نے واضح کیا حالانکہ وضاحت کی ضرورت نہ تھیجہاں انہوں نے عمادی کا کلام نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر کوئی شخص گھر یادکان کا سکنی کا دعوی کرکے اس کی حدود کو بیان کرے تو اس کا یہ دعوی درست نہ ہوگا کیونکہ سکنی ایك منتقل ہونے والی چیز ہے ا سلئے اس کی حد بندی نہیں ہوسکتیرشید الدین نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے کہ اگرچہ سکنی منتقل ہونے والی چیز ہے لیکن جب وہ کسی خطہ زمین سے بختہ اتصال کرے تو پھر ا سکی تعریف زمین کی تعریف کی طرح ہوگی کیونکہ سکنی عمارت کے ساتھ استقرار والی ترکیب حاصل
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۶€
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۶€
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۶€
مانصہ فظھرلك بھذاان السکنی ھو ما یکون مرکبا فی الحانوت متصلا بہ فھو اسم عین لااسم معنی کما فھمہ البعض ولیس فی کلامھم مایفید ماتوھمہ ھذاالبعضالاتری تمام العبارۃ الذی نص فیہا علی حقیقۃ السکنی انہ شیئ مرکب یرفع فھل یستفاد من ھذاالمعنی المعبر عنہ بالخلو ایظن ان الخلو یرفع ثم یرد علی بائعہ ویقال لواشتراہ بشرط القرار یرجع علی بائعہ بثمنہ ویرد علیہ والافلا یرجع علیہ بثمنہ ولانقصانہ الحاصل بالقلع من الدکانسبحنك ھذابھتان عظیم اھ کلام الحموی فتبین ان الخلو وصف معنوی لاعین تقلع او ترفع وتنقل۔
اقول: لکن فی حاشیۃ السیدین العلامتین ط وش علی الدر عن حواشی الاشباہ للعلامۃ السید ابی السعود رحمھم اﷲ ان الخلو
کرلیتا ہے تو اس کا شمار بھی ان چیزوں میں ہوجاتاہے جو بالکل قابل انتقال نہیں ہوتیںاس کی عبارت ختم ہوئیتو اس بیان سے آپ پر واضح ہوگیا کہ سکنی کا دکان کے ساتھ ترکیبی اتصال ہوتا ہے لہذا وہ ایك موجود عین چیز ہے نہ کوئی معنوی وصف ہے جیسا کہ بعض نے خیال کیا ہے جبکہ اس کے اس خیال کے لئے کسی کا کلام مفید نہیں ہےسکنی کی حقیقت بیان کرنے والے کی پوری عبارت آپ دیکھ نہیں رہے کہ انہوں نے کہا ہے سکنی ایك ایسی چیز ہے جومرکب ہوتی ہے جسے ختم کیا جاسکتا ہے کیا اس سے یہ خلو کا معنی سمجھا جاسکتا ہے جس سے یہ گمان کیا جاسکے کہ خلو کو ختم کیا جائے پھر وہ بائع پر واپس لوٹا دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ اگر خلو کو استقرار کی شرط پر خریدا ہو تو بائع سے رجوع کرکے رقم واپس لی جائے اور خلو کو واپس کردے ورنہ رقم واپس نہ لے اور دکان کو اکھاڑنے سے جو نقصان ہوا وہ واپس نہ لےسبحان اﷲ! یہ تو بہتان عظیم ہےحموی کا کلام ختم ہواتو واضح ہوگیا کہ خلو ایك معنوی وصف ہے اور سکنی کی طرح باقی رہنے والی مستقل چیز نہیں جس کو اکھاڑا یا ہٹایا یا ختم کیا جاسکے۔
اقول:(میں کہتا ہوں)لیکن علامہ طحطاوی اور علامہ شامی دونوں قابل احترام حضرات نے در پر اپنے حواشی میں علامہ سید ابوسعود(رحمہم اﷲ تعالی)سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہخلو کااطلاق متصل
اقول: لکن فی حاشیۃ السیدین العلامتین ط وش علی الدر عن حواشی الاشباہ للعلامۃ السید ابی السعود رحمھم اﷲ ان الخلو
کرلیتا ہے تو اس کا شمار بھی ان چیزوں میں ہوجاتاہے جو بالکل قابل انتقال نہیں ہوتیںاس کی عبارت ختم ہوئیتو اس بیان سے آپ پر واضح ہوگیا کہ سکنی کا دکان کے ساتھ ترکیبی اتصال ہوتا ہے لہذا وہ ایك موجود عین چیز ہے نہ کوئی معنوی وصف ہے جیسا کہ بعض نے خیال کیا ہے جبکہ اس کے اس خیال کے لئے کسی کا کلام مفید نہیں ہےسکنی کی حقیقت بیان کرنے والے کی پوری عبارت آپ دیکھ نہیں رہے کہ انہوں نے کہا ہے سکنی ایك ایسی چیز ہے جومرکب ہوتی ہے جسے ختم کیا جاسکتا ہے کیا اس سے یہ خلو کا معنی سمجھا جاسکتا ہے جس سے یہ گمان کیا جاسکے کہ خلو کو ختم کیا جائے پھر وہ بائع پر واپس لوٹا دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ اگر خلو کو استقرار کی شرط پر خریدا ہو تو بائع سے رجوع کرکے رقم واپس لی جائے اور خلو کو واپس کردے ورنہ رقم واپس نہ لے اور دکان کو اکھاڑنے سے جو نقصان ہوا وہ واپس نہ لےسبحان اﷲ! یہ تو بہتان عظیم ہےحموی کا کلام ختم ہواتو واضح ہوگیا کہ خلو ایك معنوی وصف ہے اور سکنی کی طرح باقی رہنے والی مستقل چیز نہیں جس کو اکھاڑا یا ہٹایا یا ختم کیا جاسکے۔
اقول:(میں کہتا ہوں)لیکن علامہ طحطاوی اور علامہ شامی دونوں قابل احترام حضرات نے در پر اپنے حواشی میں علامہ سید ابوسعود(رحمہم اﷲ تعالی)سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہخلو کااطلاق متصل
حوالہ / References
غمزالعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۷۔۱۳۶€
یصدق بہ وبغیرہ الخ فھذایفید ان من الخلو ماھو عین قائمۃ کالبناء والخشب المرکب الاان نقول السید الازھری لم یقل الخلو یصدق علی العین المتصل وانما قال یصدق بالعین وذلك ان یدفع صاحب الخلو دراہم للواقف مثلا لیبنی فی الوقف و یکون لہ بازائہ منفعۃ استبقاء الاجارۃ فالخلو ھو ھذا المعنی لاالعیننعم صدقہ بسبب العین وبھذا یفسر مافسر بہ الاجھوری الخلو فالمنفعۃ ھی حق الاستبقاء کما افادہ السید ابوالسعود بقولہ تدفع بمقابلۃ التمکن من استیفاء المنفعۃ فھذاالتمکن ھوالمراد بالمنفعۃ فی تفسیر الاجھوری لکن نقل السید الحموی فی الغمز عن فاضل متأخر مالکی انہ قال بعد نقل کلام العلامۃ نورالدین علی الاجھوری المذکور ظاھرہ سواء کانت تلك المنفعۃ عمارۃ کأن یکون فی الوقف اماکن آئلۃ الی الخراب فیکریھا ناظر الوقف لمن یعمرھاویکون ما صرفہ صادق آتا ہے الختو یہ بیان اس بات کو مفید ہے کہ خلوقائم رہنے والی عین چیز مثلا عمارت اور عمارت پر لگی ہوئی لکڑی دونوں کا نام ہےالایہ کہ ہم سید ازہری کے متعلق یہ کہیں کہ انہوں نے خلو کا صدق متصل عین پر نہیں کیا بلکہ عین چیزکے عوض پر کیا ہےیہ یوں کہ خلو والا شخص واقف کو کچھ دراہم دے کرکہے کہ ان سے وقف میں وقف کے اضافہ کے لئے کچھ تعمیر کرے اور اس کے عوض اس کے لئے اجارہ کی منفعت کو باقی رکھنا ہوگا تو خلو اس معنی کا نام ہوگا خاص عین چیز کا نام نہ ہوگاہاں اس معنی پر اس کا صدق عین چیز کے سبب سے ہواخلو کی جو تفسیر علامہ اجہوری نے کی اس کو اسی تفسیر پر محمول کیا جائیگا تو منفعت سے مراد وہاں یہی اجارہ کے حق کی بقاء کا مطالبہ ہے جیسا کہ علامہ ابوسعود نے اپنے قول" دراہم منعت کو پوراکرنے کی قدرت کے مقابلہ میں دئے جائیں" سے افادہ فرمایاعلامہ اجہوری کی تفسیر میں منفعت سے یہی تمکن مراد ہےلیکن سید حموی نے غمز میں ایك مالکی متاخر فاضل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے علامہ اجہوری کے مذکور کلام پر علامہ نورالدین کے حاشیہ کو نقل کرنے کے بعد فرمایا اجہوری کے کلام سے ظاہر ہے کہ منفعت عمارت ہو کہ وقف کی عمارت کا کوئی حصہ خراب ہورہا ہو تو اسے وقف کا ناظم کسی ایسے شخص کو کرایہ پر دے دے جو اس کی تعمیر کرکے خرچہ
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۱۰€
خلوالہ ویصیر شریکا للواقف بمازادتہ عمارتہ اوکانت المنفعۃ غیر عمارۃ کوقید مصباح مثلا ولوازمہ لاخصوص العمارۃ خلافا لمن خص المنفعۃ بھادون غیرھا اذ المعتبر انما ھو عود الدراہم لمنفعۃ فی الوقف عمارۃ کانت او غیرہا اھ ۔
اقول: فھذا نص فی ان نفس العمارۃ خلو ولایمکن تاویلہ بماذکرنا فی کلام السید الازھری ان المراد ان یعمرھا للوقف لالنفسہ کیف وانہ فسربہ المنفعۃ الواقعۃ فی تفسیر العلامۃ الاجھوری وھو یقول اسم لما یمبلکہ دافع الدراہم من المنفعۃ الخ الا ان یجعل من ھذہ للتعلیل والمنفعۃ المنفعۃ الآئلۃ الی الوقف وتنقسم الی عمارۃ وغیرہا فیکون مایمبلکہ ھو التمکن من استبقاء الاجارۃ لاجل تلك المنفعۃ التی اوصلھا الی الوقف لکن یکد رد قول الاجھوری فی مقابلتھا فان دفعہ الدراہم انما ھو بمقابلۃ ذلك التمکن
کے بدلے اپنے لئے خلوبنالے اور زائد عمارت میں وہ حصہ دار بن جائے یا وہ منفعت غیر عمارت ہو مثلا چراغ کےلئے کوئی خانہ اور اس کے لوازمات بنالے جو عمارت سے متعلق ہوں نہ کہ خاص وہ عمارتیہ عام معنی اس شخص کے برخلاف ہے جو خلو کو صرف منفعت سے مختص کرتا ہےیہ اس لئے کہ خلو دراہم کا بدل ہے خواہ وہ عمارت ہو یا کوئی اور چیز ہو۔
اقول:(میں کہتا ہوں)یہ مذکورہ کلام اس بات میں صریح نص ہے کہ خلو صرف عمارت کا نام ہےاس کی وہ تاویل جو ہم نے سید ازہری کے کلام میں کی ہے ممکن نہیں کہ وہ وقف کا اضافہ ہوذاتی ملکیت نہ ہویہ تاویل کیونکر ممکن ہوگی جبکہ وہ یہ بات علامہ اجہوری کی اس کلام کی تفسیر میں کہہ رہے ہیں جس میں اس نے کہا ہے کہ خلو اس منفعت کا نام ہے جس کا وہ دراہم کے عوض میں مالك بنتا ہے الخ الایہ کہ ہم"من المنفعۃ"کے"من"کو تعلیل کے لئے قرار دیں اور منفعت سے مراد وہ منفعت ہو جو وقف کے حق میں ہوتو خلو عمارت اور غیر عمارت دونوں پر منقسم ہوجائے تو اجارہ کی بقا کے حق کا وہ مالك اس منفعت کے عوض ہوگا جس کو اس نے وقف میں شامل کیا ہےلیکن اجہوری کا یہ قول کہ"دراہم منفعت کے مقابل ہیں"رد ہوجائیگا کیونکہ اس کے دراہم اجارہ کے دوام کے
اقول: فھذا نص فی ان نفس العمارۃ خلو ولایمکن تاویلہ بماذکرنا فی کلام السید الازھری ان المراد ان یعمرھا للوقف لالنفسہ کیف وانہ فسربہ المنفعۃ الواقعۃ فی تفسیر العلامۃ الاجھوری وھو یقول اسم لما یمبلکہ دافع الدراہم من المنفعۃ الخ الا ان یجعل من ھذہ للتعلیل والمنفعۃ المنفعۃ الآئلۃ الی الوقف وتنقسم الی عمارۃ وغیرہا فیکون مایمبلکہ ھو التمکن من استبقاء الاجارۃ لاجل تلك المنفعۃ التی اوصلھا الی الوقف لکن یکد رد قول الاجھوری فی مقابلتھا فان دفعہ الدراہم انما ھو بمقابلۃ ذلك التمکن
کے بدلے اپنے لئے خلوبنالے اور زائد عمارت میں وہ حصہ دار بن جائے یا وہ منفعت غیر عمارت ہو مثلا چراغ کےلئے کوئی خانہ اور اس کے لوازمات بنالے جو عمارت سے متعلق ہوں نہ کہ خاص وہ عمارتیہ عام معنی اس شخص کے برخلاف ہے جو خلو کو صرف منفعت سے مختص کرتا ہےیہ اس لئے کہ خلو دراہم کا بدل ہے خواہ وہ عمارت ہو یا کوئی اور چیز ہو۔
اقول:(میں کہتا ہوں)یہ مذکورہ کلام اس بات میں صریح نص ہے کہ خلو صرف عمارت کا نام ہےاس کی وہ تاویل جو ہم نے سید ازہری کے کلام میں کی ہے ممکن نہیں کہ وہ وقف کا اضافہ ہوذاتی ملکیت نہ ہویہ تاویل کیونکر ممکن ہوگی جبکہ وہ یہ بات علامہ اجہوری کی اس کلام کی تفسیر میں کہہ رہے ہیں جس میں اس نے کہا ہے کہ خلو اس منفعت کا نام ہے جس کا وہ دراہم کے عوض میں مالك بنتا ہے الخ الایہ کہ ہم"من المنفعۃ"کے"من"کو تعلیل کے لئے قرار دیں اور منفعت سے مراد وہ منفعت ہو جو وقف کے حق میں ہوتو خلو عمارت اور غیر عمارت دونوں پر منقسم ہوجائے تو اجارہ کی بقا کے حق کا وہ مالك اس منفعت کے عوض ہوگا جس کو اس نے وقف میں شامل کیا ہےلیکن اجہوری کا یہ قول کہ"دراہم منفعت کے مقابل ہیں"رد ہوجائیگا کیونکہ اس کے دراہم اجارہ کے دوام کے
حوالہ / References
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۷€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۱۰€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۱۰€
لابدل تلك المنفعۃ الآئلۃ الی الوقف وانما ھی حاصلۃ للوقف لالہ بتلك الدراہم فلامخلص الاان یقال ان ھذا کلام متاخر من المالکیۃ فیکون الخلو عندھم شاملا للعین والمعنی وعند نالیس الا المعنی والعین تسمی باسم اخر کالسکنی کیف وقد قال ھذاالمالکی بعدہ اما کونہ اجارۃلازمۃ فھذالا نزاع فیہ(ای عند ھم)و وجہہ ان الواقف لما یریدان یبنی محلا للوقف فیأتی لہ اناس یدفعون لہ دراہم علی ان یکون لکل شخص محل من تلك المواضع التی یرید الواقف بناءھا فاذا قبل منھم تلك الدراہم فکانہ باعھم تلك الحصۃ بمادفعوہ لہ وکانہ لم یقف جزء من تلك الحصۃ التی لکلوغایتہ انہ وظف علیہم کل شھر کذافلیس للواقف فیہ بعد ذلك تصرف الا بقبض الحصۃ الموظفۃ فقط ولیس لہ ان یوجھہ لغیرہ وکان رب الخلو صار شریکاللواقف فی تلك الحصۃ اھ مقابل ہیں نہ کہ وقف کےلئے منافع کے مقابل ہونگے وقف کے منافع تو صرف وقف کے لئے ہیںدراہم دینے والے کےلئے دراہم کا بدل نہیں تو اس عبارت کا کوئی مخلص نہیں سوائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ مالکی حضرات کا آخری کلام ہے تو ان کے ہاں خلوعین اور معنی دونوں کو شامل ہے اور ہمارے ہاں خلو صرف معنی کا نام ہے اور عین چیز کاہمارے ہاں کوئی اور نام ہے مثلا اسے سکنی کہا جائے گا اس حقیقت کا انکار کیسے ہوسکتا ہے جبکہ خود اس مالکی فاضل نے اس کے بعد کہا اس خلو کا اجارہ لازمہ ہونے میں نزاع نہیں(یعنی مالکیوں کے ہاں)اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب واقف نے کوئی تعمیر وقف میں کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے پاس لوگ آکر دراہم پیش کریں اور کہیں کہ ہم اس حصہ میں اپنے اپنے لئے مخصوص خطہ تعمیر کرینگے توجب واقف ان سے دراہم اس شرط پر قبول کرلے گا تو گویا اس نے یہ حصہ ان لوگوں کو معاوضہ پر فروخت کردیا اور گویا اس نے ہر ایك کا مخصوص خطہ وقف سے مستثنی کردیا اور نتیجتا اس نے ہر ایك پر ماہانہ شرح سے کچھ وظیفہ مقرر کردیا تو ا سکے بعد اب واقف کو اس حصہ میں کسی تصرف کا حق نہ رہا ماسوائے اس کے کہ وہ فقط مقررہ وظیفہ وصول کرتا رہے اور اب وہ حصہ کسی دوسرے کو دینے کامجاز نہ ہوگا گویا کہ خلو والا ہر شخص اس حصہ میں واقف کے ساتھ شریك قرار پائے گا اھ
حوالہ / References
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۸،۱۳۷€
فقد جعل الخلوعقاراو جزء من تلك الارض مبیعا من ھؤلاء مستثنی من الوقفولذا قال وفائدۃ الخلو انہ کالملك فتجری علیہ احکامہ من بیع واجارۃ وھبۃ ورھن ووفاء دین وارث ووقف الخ۔
اقول: ثم فی کلام ذلك الفاضل المالکی خدشۃ اخری فانہ جعل العمارۃ خلوا وقال فی بیانہ یکون ماصرفہ خلوا لہ وانماالمصروف الدراہم ھذاوبقی مااسلفناہ عن افندی زیرك زادہ من بیع الخلو اذالم یکن ملاصقا بالحانوت وان وضعہ فی الحانوت بالاجارۃ مشروع۔
اقول: احسن مایعتذرعنہ انہ اطلق علیہ اسم الخلو تجوزاوان الخلو یطلق علیہما وان ماکان منہ عینا مملوکۃ لصاحب الخلو فلا کلام فی جواز بیعہ بل ووقفہ ان تعورف وکانت الارض موقوفۃ او محتکرۃ والذی حدث وانکرہ المحققون ھوالخلو بمعنی المعنی واﷲ تو یوں اس فاضل نے خلو کو مکانیت سے تعبیر کیا اور وقف شدہ زمین کا ایك حصہ ان لوگوں کے ہاتھ فروخت کرکے وقف سے خارج قرار دیا اور اس لئے اس نے کہا کہ خلو کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ مملوکہ جگہ کی طرح ہوگا اور اس میں ملکیت کے احکام بیعاجارہہبہرہنقرض میں منہا کرناوراثت اور وقف جاری ہوں گے الخ
اقو ل:(میں کہتا ہوں)اس مالکی فاضل کے کلام میں ایك اور خرابی ہے کہ یہاں اس نے عمارت کو خلو کہا ہے جبکہ پہلے وہ اپنے بیان میں کہہ چکا ہے کہ مال صرف کیا ہے وہ خلو ہوگاحالانکہ جو صرف کیا ہے وہ دراہم ہیں عمارت نہیں ہےیہ قابل توجہ ہے۔زیر ك زادہ آفندی سے جو ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں اس میں ایك امرباقی ہے کہ انہوں نے کہا ہے جب خلو دکان سے ملصق نہ ہواور ویسے کرایہ کی دکان میں رکھا ہو تو اس کی بیع جائز ہے۔
اقول:(میں کہتاہوں)ان کی طرف سے بہترین تاویل یہ ہوگی کہ انہوں نے اس علیحدہ چیز کو مجازا خلو کہا ہے یا یہ کہ خلو کا اطلاق دونوں صورتوں پر کیا ہےاور اس میں شك نہیں کہ خلو والے کی کوئی مملوك عین چیز ہوتو اس کے فروخت کرنے بلکہ عرف میں وقف کی صورت ہوتو وقف کرنے کے جواز میں کوئی کلام نہیں ہے جبکہ زمین وقف یا کرایہ کی رہے گی وہ چیز جو نئی ہے اور محققین نے اس کاانکار کیا ہے وہ
اقول: ثم فی کلام ذلك الفاضل المالکی خدشۃ اخری فانہ جعل العمارۃ خلوا وقال فی بیانہ یکون ماصرفہ خلوا لہ وانماالمصروف الدراہم ھذاوبقی مااسلفناہ عن افندی زیرك زادہ من بیع الخلو اذالم یکن ملاصقا بالحانوت وان وضعہ فی الحانوت بالاجارۃ مشروع۔
اقول: احسن مایعتذرعنہ انہ اطلق علیہ اسم الخلو تجوزاوان الخلو یطلق علیہما وان ماکان منہ عینا مملوکۃ لصاحب الخلو فلا کلام فی جواز بیعہ بل ووقفہ ان تعورف وکانت الارض موقوفۃ او محتکرۃ والذی حدث وانکرہ المحققون ھوالخلو بمعنی المعنی واﷲ تو یوں اس فاضل نے خلو کو مکانیت سے تعبیر کیا اور وقف شدہ زمین کا ایك حصہ ان لوگوں کے ہاتھ فروخت کرکے وقف سے خارج قرار دیا اور اس لئے اس نے کہا کہ خلو کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ مملوکہ جگہ کی طرح ہوگا اور اس میں ملکیت کے احکام بیعاجارہہبہرہنقرض میں منہا کرناوراثت اور وقف جاری ہوں گے الخ
اقو ل:(میں کہتا ہوں)اس مالکی فاضل کے کلام میں ایك اور خرابی ہے کہ یہاں اس نے عمارت کو خلو کہا ہے جبکہ پہلے وہ اپنے بیان میں کہہ چکا ہے کہ مال صرف کیا ہے وہ خلو ہوگاحالانکہ جو صرف کیا ہے وہ دراہم ہیں عمارت نہیں ہےیہ قابل توجہ ہے۔زیر ك زادہ آفندی سے جو ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں اس میں ایك امرباقی ہے کہ انہوں نے کہا ہے جب خلو دکان سے ملصق نہ ہواور ویسے کرایہ کی دکان میں رکھا ہو تو اس کی بیع جائز ہے۔
اقول:(میں کہتاہوں)ان کی طرف سے بہترین تاویل یہ ہوگی کہ انہوں نے اس علیحدہ چیز کو مجازا خلو کہا ہے یا یہ کہ خلو کا اطلاق دونوں صورتوں پر کیا ہےاور اس میں شك نہیں کہ خلو والے کی کوئی مملوك عین چیز ہوتو اس کے فروخت کرنے بلکہ عرف میں وقف کی صورت ہوتو وقف کرنے کے جواز میں کوئی کلام نہیں ہے جبکہ زمین وقف یا کرایہ کی رہے گی وہ چیز جو نئی ہے اور محققین نے اس کاانکار کیا ہے وہ
حوالہ / References
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۸€
تعالی اعلم وبہ یحصل التوفیق بین کلامی ابن ہلال والرادین علیہ بان کلامہ فی العین القائمۃ ولاشك ان الاستشہاد علیہ بفرع السکنی صحیح اذن لایرد علیہ شیئ مماذکروا و کلامھم فی المعنی المعروف فلاخلف ان ساعدہ کلام ابن ہلال فی رسالتہ والعلم بالحق عند علام الغیوبثم من العجب قول العلامۃ المنقح فی العقود الدریۃ الخلو عبارۃ عن القدیمۃ ووضع الید اھ اقول: سبحن اﷲ مجرد کونہ واضع یدہ منذ زمان وھو المعبر عنہ فی المبتدعات قانون النصاری بحق موروثی کیف یصیر حقا وکیف یسوغ ان یقول بہ وبجواز بیعہ احد وقد قدم المنقح نفسہ قبیل ھذا مانصہ واما ما فی القنیۃ یثبت حق القرار فی ثلاثین سنۃ فی الارض السلطانیۃ والملك وفی الوقف فی ثلاث سنین ولو باع حق قرارہ فیہا جازوفی الھبۃ اختلافولو ترکھا بالاختیار تسقط قد میتہحاوی الزاھدی اھ فالمراد بہ الاعیان خلو معنوی ہےاس تاویل سے ابن ہلال اور اس کا رد کرنے والوں کے کلاموں میں موافقت ہوجائیگی کہ ابن بلال کی گفتگو قائم رہنے والی عین چیز کے متعلق ہے اور اب اس پر سکنی کے طور پر تفریع بلا شك درست ہوگی اور کوئی اعتراض نہ رہے گاور معترضین کا کلام خلو کے معروف معنی کے متعلق ہے لہذا کوئی مخالفت نہ رہی بشرطیکہ ابن بلال کی اپنے رسالہ میں گفتگو اس تاویل کا ساتھ دےحقیقت کا علم تو اﷲ تعالی علام الغیوب کے ہاں ہےپھر عقود الدریہ تنقیح کرنے والے علامہ کا یہ قول عجیب ہے کہ خلو قدیم دخل اور قبضے کا نام ہے اھ اقول:(میں کہتا ہوں)سبحن اﷲ کچھ زمانہ سے محض قابض ہونے جس کو نصاری کے قانون میں موروثی حق کہتے ہیں جو کہ ایك نئی بدعت ہےسے کیسے حق ثابت ہوسکتا ہے اس حق کے ثبوت اور اس کے بیع کے جواز کی بات کوئی کیسے کرسکتاہے جبکہ خودیہ صاحب تنقیح اس بیان سے تھوڑا پہلے کہہ چکے ہیںوہ یہ عبارت ہے کہلیکن قنیہ میں جو یہ کہا ہے کہ سلطانی زمین پر تیس سالہ قبضہ سے حق القرار اور ملکیت ثابت ہوجاتی ہے اور اگر قابض اس زمین کے حق قرار کو فروخت کرنا چاہے تو جائز ہے جبکہ ہبہ کرنے میں اختلاف ہےاور اگر قابض خود اس حق سے دستبردار ہوجائے تو قدیمی حق(حق القرار)ساقط ہوجائے گاحاوی الزاہدیاھتو اس حق سے اعیان قیمتی مراد ہیں
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ باب مشد المسکۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۱۸€
المتقومۃ لامجرد الامر المعنوی لما علمت من عدم صحۃ بیعہ ویدل علی ذلك قولہ فی البزازیۃ ولاشفعۃ فی الکردار ای البناء ویسمی بخوار زم حق القرار لانہ نقلی اھ ثم ستسمع الآن نصہ الصریح علی انکارہ فسبحن من لاینسی ھذاوقال فی ردالمحتار قد یقال ان الدراہم التی دفعھا صاحب الخلو للواقف واستعان(ای الواقف)بھا علی بناء الوقف شبیہۃ بکبس الارض بالتراب فیصیرلہ حق القرار فلا یخرج من یدہ اذاکان یدفع اجرالمثل ومثلہ ما لو کان یرم دکان الوقف ویقوم بلوازمھا من مالہ باذن الناظرامامجرد وضع الید علی الدکان ونحوھا وکونہ یستاجرھا عدۃ سنین بدون شیئ مماذکر فھو غیر معتبر(الی ان قال)وممن افتی بلزوم الخلو الذی یکون بمقابلۃ دراہم یدفعھاللمتولی او المالك العلامۃ المحقق عبد الرحمن افندی العمادی صاحب ھدیۃ ابن العماد وقال فلایملك صاحب الحانوت نہ کہ صرف معنوی امر ہے کیونکہ تو معلوم کرچکا ہے کہ امر معنوی کی بیع جائز نہیں ہے اس پر بزازیہ کا قولکہ کردار یعنی عمارت جس کوخوارزم میں حق القرار کہتے ہیں میں شفعہ کا حق نہیں ہےکیونکہ یہ حق منتقل ہونے والی چیز ہے اھاس کے اس بیان کے باوجود اب تم ان سے صریح طور پر اس بیان کا انکار سن رہے ہوپس وہی ذات پاك ہے جو بھولتی نہیں ہے یہ قابل غور ہے۔ردالمحتار میں فرمایا:خلو والا جو دراہم واقف کو دیتا ہے اور واقف بطور امداد ان دراہم کو وقف کی تعمیر پر خرچ کرتاہے اس کے متعلق کہا جائےگاکہ یہ زمین میں مٹی ڈالنے کے مشابہ ہے جس کے ذریعہ اس کو حق استقرار حاصل ہوجاتا ہے تو جب تك مثلی اجرت دیتا رہے گا اس کے قبضہ کو ختم نہیں کیا جاسکے گااسی کی مثل ہے جب وقف دکان بوسیدہ ہوجائے تو وقف کے نگران کی اجازت سے کوئی شخص اس کو اپنے مال سے مرمت کرلے تو مروج کرایہ ادا کرنے کی شرط پر استقرار حق ہوجائےلیکن دکان وغیرہ پر محض قبضہ ہونا کہ چند سالوں سے کرایہ دار ہے اور دراہم دینے کی مذکورہ صورت نہ ہوتو استقرار حق معتبرنہ ہوگا(آگے یہاں تك فرمایا) متولی یا مالك کو دئے گئے دراہم کے عوض خلو کے لزوم کا فتوی دینے والوں میں علامہ محقق عبدالرحمن آفندی عمادی صاحب ہدیہ ابن عماد ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ دکان کامالك خلو والے کا
حوالہ / References
العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ باب مشد المسکۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۱۸€
اخراجہ ولااجارتھالغیرہ مالم یدفع لہ المبلغ المرقوم فیفتی بجواز ذلك للضرورۃ قیاسا علی بیع الوفاء الذی تعارفہ المتأخرون احتیالا علی الربا الخ قلت وھو مقید ایضا بماقلنا بما اذاکان یدفع اجر المثل والا کانت سکناہ بمقابلۃ مادفعہ من الدراہم عین الرباکما قالوافیمن دفع للمقرض دارالیسکنھا اوحمارالیرکبہ الی ان یستوفی قرضہ انہ یلزمہ اجرۃ مثل الداراو الحمار علی ان مایأخذہ المتولی من الدراہم ینتفع بہ لنفسہ فلو لم یلزم صاحب الخلواجرۃ المثل للمستحقین یلزم ضیاع حقھم اللھم الا ان یکون ماقبضہ المتولی صرفہ فی عمارۃ الوقف حیث تعین ذلك طریقا الی عمارتہ ولم یوجد من یستأجر باجرۃ المثل مع دفع ذلك المبلغ اللازم للعمارۃفحینئذقد یقال بجواز سکناہ بدون اجرۃ المثل الضرورۃ ومثل ذلك یسمی فی زماننا مرصدا کما قد مناہ فی الوقف واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم اھ۔ قبضہ ختم نہ کرسکے گا اور نہ کسی اور کو کرایہ پر دے سکے گا جب تك خرچ شدہ رقم اس کو واپس نہ کردےتو اس خلو کے جواز کا ضرورت کی بنا پر فتوی دیا جائے گایہ قیاس ہوگا اس بیع وفاپر جس کو متاخرین نے سود سے بچنے کے لئے متعارف کرایا ہے الخ قلت(میں کہتاہوں)یہ جواز بھی ہمارے مذکور بیان کہ جب تك مروج کرایہ دیتا رہے گاکی قید سے مقید ہےورنہ یہ سکنی ان دراہم کے مقابلہ میں قرار پائے گا جو اس نے مالك کو دئے ہیں جو کہ عین سود ہے جیساکہ فقہاء نے فرمایا کہ کسی نے قرض دینے والے کو رہائش کے لئے مکان دیا یا سواری کےلئے گدھا دیا تھا کہ جب تك قرض واپس نہ ہو اس کے استعمال میں رہےتو اس صورت میں قرض دینے والے پرمکان یا گدھے کا مروج کرایہ ادا کرنا لازم ہوگا(ورنہ سود ہوگا)علاوہ ازیں متولی نے جو دراہم وصول کئے وہ ان کو ذاتی مفاد میں صرف کرے گا تو خلو والے پر اگر مروج کرایہ لازم نہ کیا جائے تو مستحقین وقف کا حق ضائع ہوگاہاں اگر متولی وصول کردہ دراہم کو وقف کی عمارت میں خرچ کرے جہاں وقف عمارت میں خرچ کرنے کی ضرورت واضح ہواور اس مرمت شدہ عمارت کو مروج کرایہ بمع صرف شدہ رقمدینے والا کوئی نہیں تو ایسی صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ متولی کو رقم دینے والا اس میں ضرورت کے پیش نظر بغیر کرایہ رہائش کرسکتا ہےایسی صورت کو ہمارے زمانہ میں"مرصد"کہا جاتا ہے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۶و۱۷€
اقول:قد قدم الکلام علی الوقف وانہ لابد ان یدفع اجر المثل فعودہ الیہ ثانیا وقولہ وھو مقید ایضا بما قلنا ان ارادبہ مسألۃ الواقف کما حط علیہ اخر کلامہ کان تکراراولم یکن محل لایضاد وان ارادبہ مسألۃ الملك لان کلام العمادی کان فیھما فلاحامل علی ایجاب اجر المثل الا ان یکون مال الیتیم بل لو نقص من اجر المثل فی الوقف لم یجز من جہۃ النقص لالانہ عین الربا لان تلك الدراہم لاتدفع قرضا بل اعانۃ للوقف والصرف فی مایؤل نفعہ الیہ و لاتسترد ابدا الاان یخرجہ الناظر فح یستردھا کما ذکرالمحقق العمادی وعن ھذا کانت کبیع الوفاء فالدراہم فیہ لیست قرضا عند مجوزیہ والاکان الانتفاع بہ عین الربا کما ھو المتعمد فیہ اما الدفع لیصرفہ المتولی الی نفسہ فحاش ﷲ لیس من الخلو فی شیئ بل عین رشوۃ ولیس لاحد من المسلمین جیسا کہ ہم نے وقف کے بیان میں اس کو بیان کردیا ہے واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم اقول:(میں کہتا ہوں)رد المحتار میں انہوں نے پہلے وقف کی بحث میں کلام کیا اور فرمایا کہ مثلی اجرت اور کرایہ ضروری ہےپھر ان کا دوبارہ اس کو بیان کرنا اور یہ کہنا کہ عمادی کا یہ بیان بھی ہمارے سابقہ قول کے ساتھ مقید ہےاگر اس سے وقف کا مسئلہ مراد ہے جیسا کہ انہوں نے اس پر بات ختم کی ہےتو یہ تکرار ہےاور عمادی کی مخالفت کا محل نہ ہوااگرچہ ذاتی ملکیت کا مسئلہ مراد ہو کیونکہ عمادی کا کلام دونوں صورتوں کے بیان میں ہے بہر حال مثلی اجرت کے بیان کی ضرورت نہیںہاں اگر وہ ملکیت کسی یتیم کی ہو تو مثلی اور مروج اجرت ضروری ہوگی بلکہ وقف والی صورت میں تو مروج کرایہ سے کم بھی ہوتو کمی کی وجہ سے ناجائز ہوگا نہ کہ سود ہونے کی وجہ سےکیونکہ یہ دی گئی رقم بطور قرض نہیں بلکہ وقف کے لئے اعانت کے طور پر دی گئی ہے جس کے منافع بالآخر وقف کی طرف راجع ہیں اور یہ رقم بیدخلی کے بغیر ناقابل واپسی ہے صرف بے دخلی پر واپس ہوگی جیسا کہ علامہ عمادی نے ذکر کیااسی وجہ سے یہ صورت بیع الوفاء کی مانند قرار پاتی ہے کیونکہ اس کے مجوزین حضرات کے ہاں وہ دراہم بطور قرض نہیں ہیںورنہ تو مکان دکان سے انتفاع عین سود ہے جیسا کہ یہی معتمد علیہ بات ہےلیکن یہ صورت کہ وقف کا متولی اپنی ذات کےلئے دراہم کو صرف کرےاس غرض سے دینا تو ہر گز خلو نہیں بلکہ یہ تو رشوت ہے جس کے جواز کے متعلق کوئی بھی مسلمان قول نہیں کرسکتا چہ جائیکہ اس
ان یقول بجواز مثلہ فضلا عن لزومہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ رشوت کو لازم قرار دیا جائے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
پھر اگر خلو وقف میں ہوتو شرط ہے کہ یہ عقد خود واقف یا متولی کرے دوسرے کو اختیار نہیںنیز لازم کہ وہ روپیہ خاص وقف کی منفعت صحیحہ میں صرف ہونہ کہ واقف یا متولی یاکسی اور کے کام میںنیز ضروری کہ وقف کو اس امداد کی حاجت ہواگر وقف خود اپنی منفعت کو پورا کرسکتاہے تو خلو باطل ہے۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
الموقوف علیہ الغلۃ اوالسکنی لایملك الاجارۃ الا بتولیۃ او اذن قاض لان حقہ فی الغلۃ لافی العین ۔ کسی کے لئے غلہ یا سکنی وقف ہوتو وہ زمین کو اجارہ پر دینے کامالك صرف تولیت یا قاضی کی اجازت سے ہوسکتا ہے ورنہ نہیں کیونکہ اس کاحق صرف غلہ ہے عین چیز یعنی زمین نہیں ہے۔(ت)
غمز العیون میں ہے:
شروط صحۃ الخلو ان یکون مابذل من الدراہم عائداعلی جھۃ الوقف بان ینتفع بھا فیہ فمایفعل الان من اخذ الناظر الدراہم من ذی الخلو ویصرفھا فی مصالح نفسہ ھو فھذا الخلوغیر صحیح ویرجع الدافع بدراھمہ علی الناظروان لایکون للوقف ریع یعمرمنہ فان کان یفی لعمارتہ ومصاریفہ فلایصح فیہ حینئذ خلوفلو وقع کان باطلا وللمستأجر الرجوع علی الناظر بما دفعہ من الدراہموان یثبت ذلك الصرف علی منافع خلو کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ہے کہ دراہم کے خرچ کرنے سے وقف کو فائدہ ہوکہ ان کا نفع وقف میں شامل ہو اور آج کل جو کچھ کیا جارہا ہے وہ یہ کہ وقف کا نگران خلووالے سے دراہم لے کر اپنے ذاتی مفاد میں خرچ کرتا ہے تو یہ باطل ہے لہذا دراہم دینے والے کو حق ہے کہ وہ نگران سے واپس وصول کرے اگرچہ وقف کی اتنی آمدن نہ ہو جس سے اس کی تعمیر ہو سکے اور اگر اتنی آمدن ہو جس سے وقف کی عمارت وغیرہ مصارف پورے ہوسکتے ہوں تو اب اس میں خلو صحیح نہ ہوگا اگر خلو کیا تو باطل ہوگا اور مستاجر کو دئے ہوئے اپنے دراہم واپس لینے کا حق ہوگااور اگر واقعی دراہم کے فوائد وقف کے لئے ہوں تو بھی محض نگران کی تصدیق ثبوت
پھر اگر خلو وقف میں ہوتو شرط ہے کہ یہ عقد خود واقف یا متولی کرے دوسرے کو اختیار نہیںنیز لازم کہ وہ روپیہ خاص وقف کی منفعت صحیحہ میں صرف ہونہ کہ واقف یا متولی یاکسی اور کے کام میںنیز ضروری کہ وقف کو اس امداد کی حاجت ہواگر وقف خود اپنی منفعت کو پورا کرسکتاہے تو خلو باطل ہے۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
الموقوف علیہ الغلۃ اوالسکنی لایملك الاجارۃ الا بتولیۃ او اذن قاض لان حقہ فی الغلۃ لافی العین ۔ کسی کے لئے غلہ یا سکنی وقف ہوتو وہ زمین کو اجارہ پر دینے کامالك صرف تولیت یا قاضی کی اجازت سے ہوسکتا ہے ورنہ نہیں کیونکہ اس کاحق صرف غلہ ہے عین چیز یعنی زمین نہیں ہے۔(ت)
غمز العیون میں ہے:
شروط صحۃ الخلو ان یکون مابذل من الدراہم عائداعلی جھۃ الوقف بان ینتفع بھا فیہ فمایفعل الان من اخذ الناظر الدراہم من ذی الخلو ویصرفھا فی مصالح نفسہ ھو فھذا الخلوغیر صحیح ویرجع الدافع بدراھمہ علی الناظروان لایکون للوقف ریع یعمرمنہ فان کان یفی لعمارتہ ومصاریفہ فلایصح فیہ حینئذ خلوفلو وقع کان باطلا وللمستأجر الرجوع علی الناظر بما دفعہ من الدراہموان یثبت ذلك الصرف علی منافع خلو کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ہے کہ دراہم کے خرچ کرنے سے وقف کو فائدہ ہوکہ ان کا نفع وقف میں شامل ہو اور آج کل جو کچھ کیا جارہا ہے وہ یہ کہ وقف کا نگران خلووالے سے دراہم لے کر اپنے ذاتی مفاد میں خرچ کرتا ہے تو یہ باطل ہے لہذا دراہم دینے والے کو حق ہے کہ وہ نگران سے واپس وصول کرے اگرچہ وقف کی اتنی آمدن نہ ہو جس سے اس کی تعمیر ہو سکے اور اگر اتنی آمدن ہو جس سے وقف کی عمارت وغیرہ مصارف پورے ہوسکتے ہوں تو اب اس میں خلو صحیح نہ ہوگا اگر خلو کیا تو باطل ہوگا اور مستاجر کو دئے ہوئے اپنے دراہم واپس لینے کا حق ہوگااور اگر واقعی دراہم کے فوائد وقف کے لئے ہوں تو بھی محض نگران کی تصدیق ثبوت
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۷€
الوقف بالوجہ الشرعی فلوصدقہ الناظر علی التصرف من غیر ثبوت ولاظہور عمارۃ ان کانت ھی المنفعۃ فلا عبرۃ بھذاالتصدیق لان الناظر لایقبل قولہ فی مصرف الوقف حیث کان لذلك الوقف شاہد اھ نقلہ عن ذلك الفاضل المالکی مقرابل معتمدا حیث قال ھذاخلاصۃ ماحررہ بعض فضلاء المالکیۃ فی تالیف مستقل فی ذلك واﷲ الھادی الی قوام المسالك وانما اطنبنا الکلام فی ھذا المقام لکثرۃ دوران الخلو بین الانام واحتیاج کثیر من القضاۃ الیہا وابتناء کثیر من الاحکام علیہا خصوصا قضاۃ الاوھام الذین لیس لھم شعور ولاالھام اھ
اقول:ماذکر من عدم تصدیق الناظر مسلم ان کان مسرقا مفسدااوکذبہ الظاھر کأن یدعی صرفھا الی العمارۃ ولاعمارۃ والا فلعلہ عندالمالکیۃ اما عندنا فالناظر امین والقول قول الامین مالم یکذبہ الظاھر قال فی الدرالمختارلوادعی المتولی الدفع قبل قولہ الخ وفی ردالمحتار عن الاسعاف وعن شرح الملتقی عن شروط اور موقعہ پر عمارت کے وجود کے بغیر قابل تقسیم نہیں ہے جبکہ منافع کا تعلق عمارت سے ہوکیونکہ جب وقف کے منافع قابل مشاہدہ ہوں تو مصرف کے متعلق محض نگران کا قول قابل قبول نہیں ہوتا اھاس کوغمزالعیون نے اس مالکی فاضل سے ثابت بلکہ معتمد قرار دیتے ہوئے نقل کیا جہاں انہوں نے کہا کہ بعض مالکی فضلاء نے اس بحث کو اپنے مستقل رسالہ میں جوتحریر کیا ہے یہ اس کاخلاصہ ہے اﷲ تعالی ہی مضبوط راستہ کی راہنمائی فرمانے والا ہے۔ہم نے اس بحث کو اسلئے طول دیا کہ لوگوں میں خلو رواج کثیر ہے اور بہت سے قاضی حضرات کو اس کی ضرورت درپیش ہے اور اس پر بہت سے احکام مبنی ہیں خصوصا وہم پرست قاضیوں کے لئے جن کو فہم وشعور نہیں ہے اھ۔
اقول:(میں کہتا ہوں)اس کا یہ ذکر کرنا کہ نگران کی تصدیق کافی نہیں ہے یہ وہاں درست ہے جہان نگران مفسد اور چور ہو یا ظاہر حال نگران کو جھوٹا قرار دے مثلا یہ کہ وہ عمارت پرصرف کرنے کا دعوی کرتا ہو حالانکہ موقعہ پر عمارت کا وجود ہی نہیں ہےورنہ ہوسکتا ہے کہ یہ مالکی حضرات کا موقف ہو لیکن ہمارے ہاں جب تك ظاہر حال نگران کو نہ جھٹلائے اس وقت تك نگران کو امین قرار دیا جائیگا اور اس کی بات ہی معتبر ہوگیدرمختار میں فرمایا ہے کہ اگر متولی ادا کرنے کا دعوی کرتا ہوتو اس کی بات قابل تسلیم
اقول:ماذکر من عدم تصدیق الناظر مسلم ان کان مسرقا مفسدااوکذبہ الظاھر کأن یدعی صرفھا الی العمارۃ ولاعمارۃ والا فلعلہ عندالمالکیۃ اما عندنا فالناظر امین والقول قول الامین مالم یکذبہ الظاھر قال فی الدرالمختارلوادعی المتولی الدفع قبل قولہ الخ وفی ردالمحتار عن الاسعاف وعن شرح الملتقی عن شروط اور موقعہ پر عمارت کے وجود کے بغیر قابل تقسیم نہیں ہے جبکہ منافع کا تعلق عمارت سے ہوکیونکہ جب وقف کے منافع قابل مشاہدہ ہوں تو مصرف کے متعلق محض نگران کا قول قابل قبول نہیں ہوتا اھاس کوغمزالعیون نے اس مالکی فاضل سے ثابت بلکہ معتمد قرار دیتے ہوئے نقل کیا جہاں انہوں نے کہا کہ بعض مالکی فضلاء نے اس بحث کو اپنے مستقل رسالہ میں جوتحریر کیا ہے یہ اس کاخلاصہ ہے اﷲ تعالی ہی مضبوط راستہ کی راہنمائی فرمانے والا ہے۔ہم نے اس بحث کو اسلئے طول دیا کہ لوگوں میں خلو رواج کثیر ہے اور بہت سے قاضی حضرات کو اس کی ضرورت درپیش ہے اور اس پر بہت سے احکام مبنی ہیں خصوصا وہم پرست قاضیوں کے لئے جن کو فہم وشعور نہیں ہے اھ۔
اقول:(میں کہتا ہوں)اس کا یہ ذکر کرنا کہ نگران کی تصدیق کافی نہیں ہے یہ وہاں درست ہے جہان نگران مفسد اور چور ہو یا ظاہر حال نگران کو جھوٹا قرار دے مثلا یہ کہ وہ عمارت پرصرف کرنے کا دعوی کرتا ہو حالانکہ موقعہ پر عمارت کا وجود ہی نہیں ہےورنہ ہوسکتا ہے کہ یہ مالکی حضرات کا موقف ہو لیکن ہمارے ہاں جب تك ظاہر حال نگران کو نہ جھٹلائے اس وقت تك نگران کو امین قرار دیا جائیگا اور اس کی بات ہی معتبر ہوگیدرمختار میں فرمایا ہے کہ اگر متولی ادا کرنے کا دعوی کرتا ہوتو اس کی بات قابل تسلیم
حوالہ / References
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۹۔۱۳€۸
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۹۔۱۳۸€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۲€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۹۔۱۳۸€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۲€
الظہیریۃ وعن البحر عن وقف الناصحی اذاآجر الواقف او قیمہ او وصیہ او امینہ ثم قال قبضت الغلۃ فضاعت اوفرقتھا علی الموقوف علیہم وانکروا فالقول لہ مع یمینہ اھ وفیہ عن الحامدیۃ عن بیری زادہ عن احکام الاوصیاءالقول فی الامانۃ قول الامین مع یمینہ الا ان یدعی امرایکذبہ الظاھر فحینئذ تزول الامانۃ و تظہر الخیانۃ فلایصدق اھ وفیہ عنہا عن المفتی ابی السعود انہ ان کان مفسدامبذرا لایقبل قولہ بصرف مال الوقف بیمینہ اھ بل استظھر السید الحموی نفسہ فی امانات الغمز قبول قولہ ولو بعد عزلہ مستندابمسائلمنھا ان الوصی لو ادعی بعد موت الیتیم انہ انفق علیہ کذایقبل ہوگی الخ اور ردالمحتار میں اسعاف اور شرح ملتقی سے ظہیریہ کی شروط اور بحر کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ناصحی کے وقف کے حوالہ سے کہا ہے کہ جب واقف یاناظم یا وصی یا امین نے وقف زمین کرایہ پردی اور پھر کہا میں نے غلہ(اجرت)وصول کرلی ہے جو ضائع ہوگئی یا موقوف علیہ لوگوں میں تقسیم کردی ہے وہ لوگ انکار کریں تو قسم لے کر متولی وغیرہ کی بات تسلیم کرلیجائیگی اھاور اسی ردالمحتار میں حامدیہ سے بیری زادہ کے حوالہ سے منقول ہے کہ وصی حضرات کے احکام کی بحث میں فرمایا کہ دیانت کے معاملہ میں قسم کے ساتھ ناظم کی بات تسلیم کرلی جائے گی ماسوائے ایسے معاملہ کے جس میں ظاہرا جھوٹ کا مدعی ہوتو ایسی صورت میں اس کی دیانت ختم اور خیانت واضح ہونے کی بناء پر تصدیق نہ کی جائے گی اھ اسی میں حامدیہ سے منقول ہے کہ انہوں نے مفتی ابوسعود سے نقل کیا ہے کہ اگر متولی وغیرہ مفسد اور فضول خرچ ہوتو وقف کے مال کوصرف کرنے کے متعلق اس کی قسم کے باوجود بات قبول نہ کیجائیگی اھبلکہ سید حموی نے ظاہر قرار دیتے ہوئے غمز کی امانات کی بحث میں فرمایا کہ اس کی بات قبول ہوگی اگرچہ اس کے معزول ہونے کے بعد اس کا قول ہو۔اس بات کو حموی نے کئی مسائل سے ثابت کیا ہےان میں سے ایك یہ ہے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۲۵€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۲۵€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۲۵€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۲۵€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۲۵€
قولہ وعللوہ بانہ اسندہ الی حالۃ منافیۃ للضمان اھ فکانہ سکت ھھنا معتمد اظہورہ واﷲتعالی اعلم۔ کہ وصی شخص یتیم کی موت کے بعد دعوی کرے کہ میں نے یتیم پر اتنا مال صرف کیا ہے تو اس کی بات قبول کی جائے گی اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ وصی کا یہ بیان ایسی حالت کی طرف منسوب ہے جو ضمان کے منافی ہےاس پر ان کا سکوت ظاہر پر اعتماد کی دلیل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
ظاہر ہے کہ زرمذکور فی السوال نہ ضرورت وقف کے لئے لیا گیا نہ وقف میں صرف ہوا بلکہ ایك شخص کی اپنی ذاتی غرض میں اگرچہ وہ متولی بھی ہے نہ وہ روپیہ حق استبقائے اجارہ کے بدلے ہےنہ اجرت مثل اس سے جدا ہے بلکہ اسی میں محسوب ہوا کرے گا تو کسی طر ح خلو سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا بلکہ یقینا وہ ایك قرض ہےکہ اس موقوف علیہ نے لیا اور اس کے بدلے وقف کو رہن کیا اور منافع حرام کو مقرض پر مباح کردیا وقف کا رہن خود ہی باطل ہےتنویر الابصار میں ہے:
فاذاتم ولزم لایملك ولایملك ولایعار ولایرھن ۔ جب وقف لازم وتام ہوجائے تو وہ کسی کا مملوکہ نہ کسی کو تملیك نہ عاریۃ اور نہ ہی بطور رہن دیا جاسکتاہے۔(ت)
نہ کہ رہن دخلی کہ ملك کا بھی حرام ہےتو یہ عقد حرام درحرامظلم درظلمظلمات بر ظلمات ہےواجب الرد ہے گیرندہ پر جب تك نہ چھوڑے وقف کے لئے اجر مثل تو خود ہی لازم ہوگافان منافع الوقف مضمونۃ مطلقا(کیونکہ وقف کے منافع مطلقا قابل ضمان ہوتے ہیں۔ت)اور جو کچھ اس سے زائد حاصل کرے گا وہ بھی اسے حلال نہیں وقف کردے یا تصدق کرےاور اول اولی ہے کمافی الخیریۃ والعقود الدریۃ وغیرھما(جیسا کہ خیریہ اور عقود الدریہ وغیرہ میں ہے۔ت)یہاں تك چار سوالوں کا جواب شافی ہوگیا اور پنجم کا بھی کہ اس معاملہ کو خلو سے علاقہ نہیں اگرچہ روپیہ ضروریات وقف ہی کےلئے لیا اور انہیں میں صرف کیا کہ یہ روپیہ بمقابلہ استبقائے اجارہ علاوہ اجر مثل نہیں بلکہ اتنا زر اجر پیشگی لیا ہے وقتا فوقتا اجرت میں محسوب ہوگا اس سے عدم وقف خواہ اب انعدام وقف پر استدلال صریح جہل وضلالوقف ثابت کسی کی ناجائز کارروائی سے نہ غیر ثابت ہوسکتاہے نہ زائل ورنہ ابطال اوقاف ظالموں کے اختیار میں ہوجائے جب چاہیں کوئی ناجائز کام کردیں اور وقف باطل وزائل ہوجائے۔ہاں تفتیش طلب اس کارروائی کا جواز وعدم جواز ہے اس میں مسئلہ شرعیہ یہ ہے کہ
ظاہر ہے کہ زرمذکور فی السوال نہ ضرورت وقف کے لئے لیا گیا نہ وقف میں صرف ہوا بلکہ ایك شخص کی اپنی ذاتی غرض میں اگرچہ وہ متولی بھی ہے نہ وہ روپیہ حق استبقائے اجارہ کے بدلے ہےنہ اجرت مثل اس سے جدا ہے بلکہ اسی میں محسوب ہوا کرے گا تو کسی طر ح خلو سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا بلکہ یقینا وہ ایك قرض ہےکہ اس موقوف علیہ نے لیا اور اس کے بدلے وقف کو رہن کیا اور منافع حرام کو مقرض پر مباح کردیا وقف کا رہن خود ہی باطل ہےتنویر الابصار میں ہے:
فاذاتم ولزم لایملك ولایملك ولایعار ولایرھن ۔ جب وقف لازم وتام ہوجائے تو وہ کسی کا مملوکہ نہ کسی کو تملیك نہ عاریۃ اور نہ ہی بطور رہن دیا جاسکتاہے۔(ت)
نہ کہ رہن دخلی کہ ملك کا بھی حرام ہےتو یہ عقد حرام درحرامظلم درظلمظلمات بر ظلمات ہےواجب الرد ہے گیرندہ پر جب تك نہ چھوڑے وقف کے لئے اجر مثل تو خود ہی لازم ہوگافان منافع الوقف مضمونۃ مطلقا(کیونکہ وقف کے منافع مطلقا قابل ضمان ہوتے ہیں۔ت)اور جو کچھ اس سے زائد حاصل کرے گا وہ بھی اسے حلال نہیں وقف کردے یا تصدق کرےاور اول اولی ہے کمافی الخیریۃ والعقود الدریۃ وغیرھما(جیسا کہ خیریہ اور عقود الدریہ وغیرہ میں ہے۔ت)یہاں تك چار سوالوں کا جواب شافی ہوگیا اور پنجم کا بھی کہ اس معاملہ کو خلو سے علاقہ نہیں اگرچہ روپیہ ضروریات وقف ہی کےلئے لیا اور انہیں میں صرف کیا کہ یہ روپیہ بمقابلہ استبقائے اجارہ علاوہ اجر مثل نہیں بلکہ اتنا زر اجر پیشگی لیا ہے وقتا فوقتا اجرت میں محسوب ہوگا اس سے عدم وقف خواہ اب انعدام وقف پر استدلال صریح جہل وضلالوقف ثابت کسی کی ناجائز کارروائی سے نہ غیر ثابت ہوسکتاہے نہ زائل ورنہ ابطال اوقاف ظالموں کے اختیار میں ہوجائے جب چاہیں کوئی ناجائز کام کردیں اور وقف باطل وزائل ہوجائے۔ہاں تفتیش طلب اس کارروائی کا جواز وعدم جواز ہے اس میں مسئلہ شرعیہ یہ ہے کہ
حوالہ / References
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب الامانات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۷۳€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
دیہات کاٹھیکہ جس طرح ہندوستان میں رائج ہے کہ زمین مزار عوں کے اجارہ میں رہے اور توفیر ٹھیکے میں دی جائے بلا شبہہ حرام ومردود وباطل ہے کما حققناہ لامزید علیہ فی کتاب الاجارۃ من فتاونا(جیسا کہ ہم نے اس کی آخری تحقیق اپنے فتاوی کی کتاب الاجارہ میں کردی ہے۔ت)فتاوی خیریہ لنفع البریہ میں ہے:
قریۃ وقف آجر المتکلم علیہا ثلثھا لرجل سنۃ بمال لیتناول مایتحصل من الثلث المذکور من الغلال صیفیھا وشتویھا ھذہ الاجارۃ باطلۃ غیرمنعقدۃ لما صرح بہ علماؤنا قاطبۃ من ان الاجرۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصدا لاتنعقد ولاتفید شیئا من احکام الاجارۃ فلیس للمستأجر ان یتناول شیئا من الغلال بل ذلك للوقف یصرف فی وجوھہ المعینۃ ۔ (ملتقطا) وقف گاؤں ہو اور موقوف علیہ شخص گاؤں کے تہائی حصہ کی آمدنی کو ایك سال کے لئے کسی مال کے بدلے اجارہ پر دے دے تاکہ اجارہ پر لینے والا شخص اس مال کے بدلے موسم گرما اور سرماکی آمدن کا تہائی حصہ حاصل کرلیا کرے تو یہ اجارہ باطل ہوگا اور منعقد ہی نہ ہوگا کیونکہ تمام علماء نے تصریح کی ہے کہ وہ اجارہ جوعین چیز کوقصدا تلف کرنے پر ہو وہ منعقد نہ ہوگا اور اجارہ کے احکام کے لئے مفید نہ ہوگااس لئے مذکورہ صورت میں اجارہ پر لینے والے کو اس آمدن کو لینے کا حق نہ ہوگا بلکہ یہ تمام آمدن وقف کے معینہ مصارف پر خرچ ہوگی۔ (ملتقطا)۔(ت)
اسی میں ہے:
الاجارۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصداکانت باطلۃ فلایملك المستأجر ماوجد من تلك الاعیان بل ھی علی ماکانت علیہ قبل الاجارۃ فتؤخذ من یدہ اذاتناولھا ویضمنھا بالا ستھلاك لان الباطل لایؤثر شیئا فیحرم علیہ التصرف فیہا لعدم مبلکہ وذلك کاستئجار بقرۃ لیشرب جب اعیان کو تلف کرنے پر قصدا اجارہ کیا جائے تو باطل ہوگا لہذا اجارہ پر لینے والے کو ان اعیان کو حاصل کرنے کا حق نہ ہوگا بلکہ یہ اعیان یعنی غلہ وغیرہ وہیں خرچ ہوگا جہاں وہ اجارہ سے قبل خرچ ہوتے تھے اس لئے مستاجر(اجارہ لینے والے)کے قبضہ سے واپس لے لئے جائیں گے اگر اس نے وصول کرکے خرچ کرلئے اس سے ضمان وصول کیا جائے گا کیونکہ باطل معاملہ کوئی اثر نہیں رکھتا لہذا ان میں اس کا
قریۃ وقف آجر المتکلم علیہا ثلثھا لرجل سنۃ بمال لیتناول مایتحصل من الثلث المذکور من الغلال صیفیھا وشتویھا ھذہ الاجارۃ باطلۃ غیرمنعقدۃ لما صرح بہ علماؤنا قاطبۃ من ان الاجرۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصدا لاتنعقد ولاتفید شیئا من احکام الاجارۃ فلیس للمستأجر ان یتناول شیئا من الغلال بل ذلك للوقف یصرف فی وجوھہ المعینۃ ۔ (ملتقطا) وقف گاؤں ہو اور موقوف علیہ شخص گاؤں کے تہائی حصہ کی آمدنی کو ایك سال کے لئے کسی مال کے بدلے اجارہ پر دے دے تاکہ اجارہ پر لینے والا شخص اس مال کے بدلے موسم گرما اور سرماکی آمدن کا تہائی حصہ حاصل کرلیا کرے تو یہ اجارہ باطل ہوگا اور منعقد ہی نہ ہوگا کیونکہ تمام علماء نے تصریح کی ہے کہ وہ اجارہ جوعین چیز کوقصدا تلف کرنے پر ہو وہ منعقد نہ ہوگا اور اجارہ کے احکام کے لئے مفید نہ ہوگااس لئے مذکورہ صورت میں اجارہ پر لینے والے کو اس آمدن کو لینے کا حق نہ ہوگا بلکہ یہ تمام آمدن وقف کے معینہ مصارف پر خرچ ہوگی۔ (ملتقطا)۔(ت)
اسی میں ہے:
الاجارۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصداکانت باطلۃ فلایملك المستأجر ماوجد من تلك الاعیان بل ھی علی ماکانت علیہ قبل الاجارۃ فتؤخذ من یدہ اذاتناولھا ویضمنھا بالا ستھلاك لان الباطل لایؤثر شیئا فیحرم علیہ التصرف فیہا لعدم مبلکہ وذلك کاستئجار بقرۃ لیشرب جب اعیان کو تلف کرنے پر قصدا اجارہ کیا جائے تو باطل ہوگا لہذا اجارہ پر لینے والے کو ان اعیان کو حاصل کرنے کا حق نہ ہوگا بلکہ یہ اعیان یعنی غلہ وغیرہ وہیں خرچ ہوگا جہاں وہ اجارہ سے قبل خرچ ہوتے تھے اس لئے مستاجر(اجارہ لینے والے)کے قبضہ سے واپس لے لئے جائیں گے اگر اس نے وصول کرکے خرچ کرلئے اس سے ضمان وصول کیا جائے گا کیونکہ باطل معاملہ کوئی اثر نہیں رکھتا لہذا ان میں اس کا
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۷€
لبنھا وبستان لیاکل ثمرتہ ومثلہ استئجارمافی ید المزارعین لاکل خراجہ ۔ تصرف حرام ہوگا اس لئے کہ وہ اس چیز کا مالك نہ تھااس کی مثال جیسے کہ گائے وبھینس کو دودھ کے لئے اجارہ پر لے اور مثلا باغ کو پھل کھانے کیلئے اور وقف کے مزار عین کے زیر قبضہ زمین کو غلہ کرنے کے لئے اجارہ پر لے۔(ت)
اسی میں ہے:
الالتزام والمقاطعۃ علی ما یتحصل من قریۃ الوقف من خراج بمال معلوم من احد النقدین یدفعہ الملتزم ویکون لہ مایتحصل منہا قلیلا کان اوکثیرا لاتجوز اذلاوجہ لہا شرعالکونہا لاتتصور شرعا ان تکون بیعا اذبعض المقاطع علیہ معدوم وبعضہ مجہول ولاان تکون اجارۃ لانھا بیع المنافع والواقع علیہ فی المقاطعۃ المشروحۃ اعیان لامنافع فھی باطلۃ بالاجماع (ملتقطا)۔ کسی گاؤں کی آمدنی(حصہ بٹائی)حاصل کرنے کے لئے مقررہ نقد مال پر اجارہ کا فیصلہ اور التزام کرنا کہ جو قلیل یا کثیر حصہ بٹائی گاؤں سے حاصل ہواس کو مستاجر حاصل کرے گاتو یہ جائز نہیںکیونکہ شرعا اس کے جوازکی کوئی صورت نہیںبیع اس لئے متصور نہیں ہوسکتی کہ معقود علیہ ابھی معدوم ہے اور کچھ حصہ مجہول ہےاور اجارہ اس لئے متصور نہیں ہوسکتا کہ اجارہ منافع کی بیع کا نام ہے جبکہ ذکورہ صورت میں منافع کی بجائے اعیان(غلہ)پرسوداہوا ہےلہذا یہ بالاجماع باطل ہے۔ (ملتقطا)۔(ت)
اسی میں ہے:
اذا استأجر القری والمزارع لتناول خراج المقاسمۃ اوخراج الوظیفۃ فالاجارۃ باطلۃ باجماع علمائنا (ملتقطا) جب گاؤں یا زراعت جن پر سرکاری وظیفہ یا حصہ بٹائی حاصل ہوتاہے کو اجارہ پر لینا تاکہ ان سے حاصل وظیفہ یا حصہ کو بدلے میں وصول کیا کرے تو ہمارے علماء کے ہاں بالاجماع یہ اجارہ باطل ہے۔(ملتقطا)(ت)
اسی میں ہے:
الالتزام والمقاطعۃ علی ما یتحصل من قریۃ الوقف من خراج بمال معلوم من احد النقدین یدفعہ الملتزم ویکون لہ مایتحصل منہا قلیلا کان اوکثیرا لاتجوز اذلاوجہ لہا شرعالکونہا لاتتصور شرعا ان تکون بیعا اذبعض المقاطع علیہ معدوم وبعضہ مجہول ولاان تکون اجارۃ لانھا بیع المنافع والواقع علیہ فی المقاطعۃ المشروحۃ اعیان لامنافع فھی باطلۃ بالاجماع (ملتقطا)۔ کسی گاؤں کی آمدنی(حصہ بٹائی)حاصل کرنے کے لئے مقررہ نقد مال پر اجارہ کا فیصلہ اور التزام کرنا کہ جو قلیل یا کثیر حصہ بٹائی گاؤں سے حاصل ہواس کو مستاجر حاصل کرے گاتو یہ جائز نہیںکیونکہ شرعا اس کے جوازکی کوئی صورت نہیںبیع اس لئے متصور نہیں ہوسکتی کہ معقود علیہ ابھی معدوم ہے اور کچھ حصہ مجہول ہےاور اجارہ اس لئے متصور نہیں ہوسکتا کہ اجارہ منافع کی بیع کا نام ہے جبکہ ذکورہ صورت میں منافع کی بجائے اعیان(غلہ)پرسوداہوا ہےلہذا یہ بالاجماع باطل ہے۔ (ملتقطا)۔(ت)
اسی میں ہے:
اذا استأجر القری والمزارع لتناول خراج المقاسمۃ اوخراج الوظیفۃ فالاجارۃ باطلۃ باجماع علمائنا (ملتقطا) جب گاؤں یا زراعت جن پر سرکاری وظیفہ یا حصہ بٹائی حاصل ہوتاہے کو اجارہ پر لینا تاکہ ان سے حاصل وظیفہ یا حصہ کو بدلے میں وصول کیا کرے تو ہمارے علماء کے ہاں بالاجماع یہ اجارہ باطل ہے۔(ملتقطا)(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۶€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۷€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۶€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۷€
اسی میں ہے:
قریۃ ضمنھا من لہ ولایتھا لرجل بمال معلوم لیکون لہ خراجہا فالتضمین باطل اذلایصح اجارۃ لوقوعہ علی اتلاف الاعیان قصدا ولابیعالانہ معدوم (ملتقطا) کوئی شخص مقررہ مال کے بدلے گاؤں کی آمدن کو کسی شخص کیلئے حاصل کرے تاکہ آمدن اس کے لئے ہوجائے تو یہ باطل ہے کیونکہ یہ اجارہ اس لئے نہیں ہوسکتا کہ یہ سودا منافع پر نہیں بلکہ اعیان(غلہ)کے تلف کرنے پر قصدا ہوا ہے اور بیع بھی نہیں کیونکہ یہ معدوم چیز پر سودا ہے(ملتقطا)۔(ت)
اسی میں ہے:
یتماری آجر المتحصل من تیمارہ لاخر بمبلغ معلوم لاتصح وعلی کل منھما رد ما تنا ولہ۔ کھجور کے باغ والا اپنے باغ سے حاصل ہونیوالے پھل کو مقررہ نقد پر کسی دوسرے کو اجارہ پردے دے تو صحیح نہیں ہے اور دونوں پر لازم ہے کہ ایك دوسرے کو واپس کردیں۔ (ت)
اسی میں ہے:
قد اتفقت علماؤنا علی ان الاجارۃ اذاوقعت علی تناول الاعیان اواتلافہا فھی باطلۃ فاجارۃ القری لتناول الخراج مقاسمۃ کان او وظیفۃ باطل وقد افتیت بذلك مرارا۔ (ملتقطا) ہمارے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ جب اجارہ اعیان چیزوں کے حصول یا ان کے تلف کرنے پر کیا جائے تو باطل ہوگا لہذا وظیفہ یا حصہ بٹائی والا گاؤں اجارہ پر اس لئے دینا کہ مستاجر اس کاوظیفہ اور حصہ عوض میں وصول کرلیا کرے تو یہ باطل ہے جبکہ میں نے بارہایہ فتوی دیا ہے(ملتقطا)۔(ت)
اسی میں ہے:
المقرر فی کلام مشایخنا باجمعھم ان الاجارۃ علی استھلاك الاعیان باطلۃ ہمارے مشائخ نے بالاتفاق یہ طے کیا ہے کہ اعیان چیزوں کو بطور ہلاکت قبضہ میں لینے پر اجارہ باطل ہے اور
قریۃ ضمنھا من لہ ولایتھا لرجل بمال معلوم لیکون لہ خراجہا فالتضمین باطل اذلایصح اجارۃ لوقوعہ علی اتلاف الاعیان قصدا ولابیعالانہ معدوم (ملتقطا) کوئی شخص مقررہ مال کے بدلے گاؤں کی آمدن کو کسی شخص کیلئے حاصل کرے تاکہ آمدن اس کے لئے ہوجائے تو یہ باطل ہے کیونکہ یہ اجارہ اس لئے نہیں ہوسکتا کہ یہ سودا منافع پر نہیں بلکہ اعیان(غلہ)کے تلف کرنے پر قصدا ہوا ہے اور بیع بھی نہیں کیونکہ یہ معدوم چیز پر سودا ہے(ملتقطا)۔(ت)
اسی میں ہے:
یتماری آجر المتحصل من تیمارہ لاخر بمبلغ معلوم لاتصح وعلی کل منھما رد ما تنا ولہ۔ کھجور کے باغ والا اپنے باغ سے حاصل ہونیوالے پھل کو مقررہ نقد پر کسی دوسرے کو اجارہ پردے دے تو صحیح نہیں ہے اور دونوں پر لازم ہے کہ ایك دوسرے کو واپس کردیں۔ (ت)
اسی میں ہے:
قد اتفقت علماؤنا علی ان الاجارۃ اذاوقعت علی تناول الاعیان اواتلافہا فھی باطلۃ فاجارۃ القری لتناول الخراج مقاسمۃ کان او وظیفۃ باطل وقد افتیت بذلك مرارا۔ (ملتقطا) ہمارے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ جب اجارہ اعیان چیزوں کے حصول یا ان کے تلف کرنے پر کیا جائے تو باطل ہوگا لہذا وظیفہ یا حصہ بٹائی والا گاؤں اجارہ پر اس لئے دینا کہ مستاجر اس کاوظیفہ اور حصہ عوض میں وصول کرلیا کرے تو یہ باطل ہے جبکہ میں نے بارہایہ فتوی دیا ہے(ملتقطا)۔(ت)
اسی میں ہے:
المقرر فی کلام مشایخنا باجمعھم ان الاجارۃ علی استھلاك الاعیان باطلۃ ہمارے مشائخ نے بالاتفاق یہ طے کیا ہے کہ اعیان چیزوں کو بطور ہلاکت قبضہ میں لینے پر اجارہ باطل ہے اور
حوالہ / References
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۷€
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۸€
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۹€
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۸€
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۹€
وجعل العین منفعۃ غیر متصور فالاجارۃ حیث لم یقع علی الانتفاع بالارض بالزرع ونحوہ بل علی اخذ الخراج والدراھم المضروبۃ فھو باطل باجماع ائمتنا (ملتقطا) عین چیز کو نفع قرار دینا متصور نہیں ہوسکتاتو جہاں زمین کا اجارہ زراعت وغیرہ سے انتفاع کے لئے نہ ہو بلکہ اس سے حاصل ہونے والے خراج اوروظیفہ مقررہ کو حاصل کرنے کے لئے ہوتو یہ بالاجماع باطل ہے(ملتقطا)(ت)
اسی کی کتاب الوقف میں ہے:
لاقائل من فقہاء الاسلام بصحۃ الالتزام فی اوقاف الانام لانك مھما اعتبرتہ کان باطلاوکیف ماقومتہ کان مائلافان قدرتہ بیعا فھو بیع المعدوم او المجہولوان قدرتہ اجارۃ فھی واقعۃ علی استھلاك الاعیان المعدومۃ الاتیۃ فیما یؤلوھی فی الموجودۃ لاتجوز فکیف یستأجر منھا ماسیجوز وان اعتبرتہ واھبالما سیصرف ومتھبا لما سیقبض فالھبۃ فی مال الوقف لاتجوز ولو بعوض اھ اقول:خص الکلام بالوقف لان السوال عنہ فاستدل بدلیل یخصہ والا فھبۃ المعدوم بطلانہ معلوم ولو فی الملکقال فی الخیریۃ من الھبۃ وبھذاعلم عدم صحۃ ھبۃ ما سیتحصل من محصول القریتین بالاولی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یمبلکہ اھ ۔ فقہاء اسلام میں کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں کہ سرکاری اوقاف کے وظائف کو حاصل کرنے کی ذمہ داری مقررہ نقد کے عوض حاصل کرلے کیونکہ آپ اسے جس معنی میں اعتبار کریں غلط ہوگااگر آپ بیع فرض کریں تو یہ مجہول یا معدوم چیز کی بیع قرار پائے گی ا ور اگر اجارہ فرض کریں تو یہ معدوم آئندہ پائے جانے والے اعیان کو حاصل کرنے پر اجارہ ہوگا جبکہ یہ موجودہ اعیان میں بھی جائز نہیں تو معدوم میں کیسے جائز ہوگااور اگر آئندہ موجود ہونے اور مہیا ہونے والی چیز کا ہبہ فرض کرو تو یہ وقف چیز کا ہبہ قرار پائے گا جبکہ وقف چیز کا ہبہ معاوضہ کے طور پر بھی جائز نہیںاقول:(میں کہتا ہوں)انہوں نے خاص وقف کے متعلق بات کی ہے کیونکہ سوال یہی تھا ا س لئے انہوں نے وقف سے متعلق دلیل ذکر کی ہے ورنہ تو معدوم چیز کا ہبہ معلوم البطلان ہے اگرچہ ذاتی ملکیت ہوخیریہ میں ہبہ کی بحث میں فرمایا کہ مذکورہ بحث میں معلوم ہوا کہ گاؤں کے بعدمیں حاصل ہونیوالے محصول کا ہبہ بطریق اولی صحیح نہیں کیونکہ ابھی خود مالك کو ان پر قبضہ نہیں ہے تو وہ آگے کسی کو کیا قبضہ دے گا اھ(ت)
اسی کی کتاب الوقف میں ہے:
لاقائل من فقہاء الاسلام بصحۃ الالتزام فی اوقاف الانام لانك مھما اعتبرتہ کان باطلاوکیف ماقومتہ کان مائلافان قدرتہ بیعا فھو بیع المعدوم او المجہولوان قدرتہ اجارۃ فھی واقعۃ علی استھلاك الاعیان المعدومۃ الاتیۃ فیما یؤلوھی فی الموجودۃ لاتجوز فکیف یستأجر منھا ماسیجوز وان اعتبرتہ واھبالما سیصرف ومتھبا لما سیقبض فالھبۃ فی مال الوقف لاتجوز ولو بعوض اھ اقول:خص الکلام بالوقف لان السوال عنہ فاستدل بدلیل یخصہ والا فھبۃ المعدوم بطلانہ معلوم ولو فی الملکقال فی الخیریۃ من الھبۃ وبھذاعلم عدم صحۃ ھبۃ ما سیتحصل من محصول القریتین بالاولی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یمبلکہ اھ ۔ فقہاء اسلام میں کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں کہ سرکاری اوقاف کے وظائف کو حاصل کرنے کی ذمہ داری مقررہ نقد کے عوض حاصل کرلے کیونکہ آپ اسے جس معنی میں اعتبار کریں غلط ہوگااگر آپ بیع فرض کریں تو یہ مجہول یا معدوم چیز کی بیع قرار پائے گی ا ور اگر اجارہ فرض کریں تو یہ معدوم آئندہ پائے جانے والے اعیان کو حاصل کرنے پر اجارہ ہوگا جبکہ یہ موجودہ اعیان میں بھی جائز نہیں تو معدوم میں کیسے جائز ہوگااور اگر آئندہ موجود ہونے اور مہیا ہونے والی چیز کا ہبہ فرض کرو تو یہ وقف چیز کا ہبہ قرار پائے گا جبکہ وقف چیز کا ہبہ معاوضہ کے طور پر بھی جائز نہیںاقول:(میں کہتا ہوں)انہوں نے خاص وقف کے متعلق بات کی ہے کیونکہ سوال یہی تھا ا س لئے انہوں نے وقف سے متعلق دلیل ذکر کی ہے ورنہ تو معدوم چیز کا ہبہ معلوم البطلان ہے اگرچہ ذاتی ملکیت ہوخیریہ میں ہبہ کی بحث میں فرمایا کہ مذکورہ بحث میں معلوم ہوا کہ گاؤں کے بعدمیں حاصل ہونیوالے محصول کا ہبہ بطریق اولی صحیح نہیں کیونکہ ابھی خود مالك کو ان پر قبضہ نہیں ہے تو وہ آگے کسی کو کیا قبضہ دے گا اھ(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۳۵€
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۸۵€
فتاوٰی خیریہ کتاب الہبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۱€
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۸۵€
فتاوٰی خیریہ کتاب الہبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۱€
فتاوی علامہ تاجی بعلی تلمیذ صاحب درمختار میں ہے:
ھذا اذا لم تکن الاجارۃ واردۃ علی استھلاك الاعیان قصداامااذاکانت کذلك بان کانت اراضی القریۃ فی ایدی مزارعین وانما استأجرھا المستأجر المرقوم لیأخذ ما یخصہا من خراج فھی باطلۃ کما صرح بذلك علماؤنا قاطبۃ ۔ یہ وہ صورت ہے جبکہ اعیان کو بطور ملکیت ہلاك کرنے پر اجارہ قصداوارد نہ ہوااور اگر ایسا ہوکہ کسی گاؤں کی زمین مزارعین کے پاس ہوتو ان سے مقررہ محاصل وصول کرنے پر اجارہ کیا کہ مستاجر وصول کرلیا کرے تویہ باطل ہے جیسا کہ ہمارے تمام علماء نے تصریح کی ہے۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
وانظر مافی فتاوی الشیخ خیر الدین من الاجارات فقد افتی مراراببطلان ھذہ الاجارۃ المسماۃ بالمقاطعۃ والالتزام ۔ ہمارے شیخ خیرالدین کے اجارات کی بابت فتاوی پر غور کرو انہوں نے بارہا یہ فتوی دیا ہے کہ مقاطعہ اور التزام(ذمہ داری اور فیصلہ)کے عنوان سے جواجارے کئے جاتے ہیں وہ باطل ہیں(ت)
ردالمحتار کتاب السیر میں قبیل فصل جزیہ ہے:
الواقع فی زماننا ان المستاجر یستاجر ھا لاجل اخذ خراجھا لاللزراعۃ ویسمی ذلك التزاما وھو غیر صحیح ۔ ہمارے زمانہ میں مستاجر حضرات خراج اور وظیفہ وصول کرنے کے لئے جواجارہ طے کرتے ہیں وہ مزارعت کیلئے نہیں ہے اس لئے وہ باطل ہیں جس کا نام انہوں نے التزام بنارکھا ہے(ت)
تویہ کارروائی قطعا اجماعا حرام وباطل واقع ہوئی جس کے مورث نے یہ فعل کیا اس کے وارث پر تو کوئی الزام نہیں آتانہ وہ اس وجہ سے قابلیت تولیت سے عاری ہو جبکہ فی نفسہ وبرعایت شرائط واقف لائق تولیت ہو
قال تعالی "ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔(ت)
ھذا اذا لم تکن الاجارۃ واردۃ علی استھلاك الاعیان قصداامااذاکانت کذلك بان کانت اراضی القریۃ فی ایدی مزارعین وانما استأجرھا المستأجر المرقوم لیأخذ ما یخصہا من خراج فھی باطلۃ کما صرح بذلك علماؤنا قاطبۃ ۔ یہ وہ صورت ہے جبکہ اعیان کو بطور ملکیت ہلاك کرنے پر اجارہ قصداوارد نہ ہوااور اگر ایسا ہوکہ کسی گاؤں کی زمین مزارعین کے پاس ہوتو ان سے مقررہ محاصل وصول کرنے پر اجارہ کیا کہ مستاجر وصول کرلیا کرے تویہ باطل ہے جیسا کہ ہمارے تمام علماء نے تصریح کی ہے۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
وانظر مافی فتاوی الشیخ خیر الدین من الاجارات فقد افتی مراراببطلان ھذہ الاجارۃ المسماۃ بالمقاطعۃ والالتزام ۔ ہمارے شیخ خیرالدین کے اجارات کی بابت فتاوی پر غور کرو انہوں نے بارہا یہ فتوی دیا ہے کہ مقاطعہ اور التزام(ذمہ داری اور فیصلہ)کے عنوان سے جواجارے کئے جاتے ہیں وہ باطل ہیں(ت)
ردالمحتار کتاب السیر میں قبیل فصل جزیہ ہے:
الواقع فی زماننا ان المستاجر یستاجر ھا لاجل اخذ خراجھا لاللزراعۃ ویسمی ذلك التزاما وھو غیر صحیح ۔ ہمارے زمانہ میں مستاجر حضرات خراج اور وظیفہ وصول کرنے کے لئے جواجارہ طے کرتے ہیں وہ مزارعت کیلئے نہیں ہے اس لئے وہ باطل ہیں جس کا نام انہوں نے التزام بنارکھا ہے(ت)
تویہ کارروائی قطعا اجماعا حرام وباطل واقع ہوئی جس کے مورث نے یہ فعل کیا اس کے وارث پر تو کوئی الزام نہیں آتانہ وہ اس وجہ سے قابلیت تولیت سے عاری ہو جبکہ فی نفسہ وبرعایت شرائط واقف لائق تولیت ہو
قال تعالی "ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔(ت)
حوالہ / References
العقود الدریۃ بحوالہ فتاوی علامہ التاجی البعلی کتاب الاجارۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۱۲۱€
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الاجارۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۱۲۱€
ردالمحتار کتاب الجہاد باب العشروالخراج داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۶۶€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۶۴€
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الاجارۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۱۲۱€
ردالمحتار کتاب الجہاد باب العشروالخراج داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۶۶€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۶۴€
محل نظر خود وہ متولی ہیں جو اس حرام کے مرتکب ہوئے یہاں ضرور فقیر ان وقائع کا اظہار کرے جو ۳۴برس سے آج تك کسی تحریر میں ذکر نہ کئے یہ مسئلہ کہ دیہات کا رائج ٹھیکہ حرام قطعی ہے جو کچھ محاصل ہو سب مالك قریہ کا ہے اگر گاؤں مملوك ہو یا وقف کااگر موقوف ہو ٹھیکیدار کو اس میں سے ایك حبہ لینا حرام ہے اور جس سال نشست کم ہو تو ٹھیکیدار کو جتنا وصول ہوا اسی قدر مالك یا متولی کولینا حلال ہے پوری رقم قرار یافتہ لینا حرام ہے مثلا ہزار روپے سال کو ٹھیکہ تھا اور بارہ سو تحصیل ہوئے تو یہ دو سو ٹھیکے دار کو حرام ہیں مالك یاواقف کا حق ہیں اور آٹھ سو ملے تو مالك وواقف کو اسی قدر حلالدو سوزیادہ حرام ہیں با وصف کمال وضاحت اس دارالفتن ہندوستان میں ایساخفی مسئلہ ہے جس سے یہاں کے اکابر علماء غافل محضاور خود اس میں اور اس کی تحلیل میں مبتلا ہیں چودھویں صدی کے علماء میں باعتبار حمایت دین ونصرت سنت نیز بلحاظ تفقہ حضرت مولانا مولوی محمد عبدالقادر صاحب بدایونی رحمہ اﷲتعالی کا پایہ اکثر معاصرین سے ارفع تھا ایام ندوہ میں اور اس کے بعد جب فقیر نے سرگرم حامیان دین کے خطاب تجویز کئے ہیں حضرت مولانا مولوی محمد وصی احمد صاحب کو الاسد الاسد الاشدمولوی قاضی عبد الوحید صاحب فردوسی کو ندوہ شکن ندوی فگنمولانا ہدایت رسول صاحب لکھنوی کو شیربیشہ سنت رحمہم اﷲتعالیحاجی محمد لعل خان صاحب قادری برکاتی مدراسی سلمہ اﷲتعالی کو حامی سنت ماحی بدعتاسی زمانے میں حضرت فاضل بدایونی قدس سرہ کو تاج الفحول سے تعبیر کیا جو آج تك ان کے اخلاف میں مقول و مقبول ہے اور وہ بیشك باعتبارات مذکورہ اس کے اہل تھے رحمۃ اﷲ تعالی علیہ رحمۃ واسعۃایسے فاضل جلیل کے پاس ۱۳۰۲ھ میں جب فقیرکافتوی اس ٹھیکے کی حرمت میں گیا جس میں اس وجہ سے کہ فقیر اس وقت اپنے دیہات میں تھا اور سوا خیریہ وردالمحتارکے کوئی کتاب ساتھ نہ لے گیا تھا فقط فتاوی خیریہ کی بعض عبارات تھیںحضرت موصوف نے بعد تامل بسیار اس پر صرف اس مضمون سے تصدیق تحریر فرمائی کہ نظر حاضر میں ان عبارات سے عدم جواز ہی معلوم ہوتا ہےجب فقیر شہر کو واپس آیا مفصل فتوی عبارات کثیرہ کتب عدیدہ پر مشتمل لکھ کر بھیجااب حضرت نے پورے وثوق سے تسلیم کیا اور یہ فرمابھیجا کہ اسکے جواز کے حیلہ سے اطلاع دو یہی حال اور علمائے اطراف کا ہے بعد سماع دلائل ووضوح تحریم یہی فرماتے پایا کہ حیلہ جواز نکالو یعنی عادتیں مستحکم ہوگئیں خود بھی ابتلا ہوچکا اور اس میں آرام بھی ہے لہذا حیلہ جواز کی تلاش ضرور ہوئی۔مبارك ہیں وہ بندے کہ حکم پر مطلع ہوکر حق کی طرف رجوع لائیں اور اذانیان زمان کی طرح اپنے اور اپنے آباء واساتذہ کی عادت کو شرع مطہر کے رد کے لئے حجت نہ بنائیں۔ردالمحتار کتاب الاجارہ میں ہے:
اذا تکلم احدبین الناس بذلك یعدون کلامہ منکر امن القول وھذہ بلیۃ قدیمۃفقد ذکر العلامۃ قنالی زادہ لوگوں میں جب یہ بات کی جاتی ہے تو اس کی بات کو لوگ غلط قول قرار دیتے ہیںحالانکہ یہ مصیبت قدیم سے چلی آرہی ہےچنانچہ علامہ قنالی زادہ نے ذکر کیا ہے
اذا تکلم احدبین الناس بذلك یعدون کلامہ منکر امن القول وھذہ بلیۃ قدیمۃفقد ذکر العلامۃ قنالی زادہ لوگوں میں جب یہ بات کی جاتی ہے تو اس کی بات کو لوگ غلط قول قرار دیتے ہیںحالانکہ یہ مصیبت قدیم سے چلی آرہی ہےچنانچہ علامہ قنالی زادہ نے ذکر کیا ہے
ان المسألۃ کثیرۃ الوقوع فی البلد ان واذا طلب رفع اجارتھا یتظلم المستأجرون ویزعمون انہ ظلم وھم ظالمونوبعض الصدور والا کابریعاونونھم ویزعمون ان ھذا تحرك فتنۃ علی الناس وان الصواب ابقاء الامور علی ما ھی علیہ وان شر الامور محدثا تھاولایعلمون ان الشرفی اغضاء العین عن الشرع وان احیاء السنۃ عند فساد الامۃ من افضل الجہاد واجزل القرب ۔(ملتقطا) کہ بہت سے علاقوں میں یہ مسئلہ کثیر الوقوع ہے اور جب ایسے اجارہ کو ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو مستاجر حضرات اپنے آپ کو مظلوم قرار دیتے ہیں اور اس کارروائی کو ظلم کہتے ہیں حالانکہ وہ خود ظالم ہیںاور بعض معتبر حضرات اور اکابرین ان کی مدد کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یہ کارروائی فتنہ کو ہوا دینا ہے حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ امور کو اپنی اصلی حالت پر رکھاجائے اور نئی بدعات کو شرقرار دیا جائےوہ لوگ نہیں جانتے کہ شرع سے چشم پوشی میں شرہے اور امت کے فساد کے وقت کسی سنت کو زندہ کرنا بہترین جہاد اور بڑی عبادت ہے۔(ت)
ردالمحتار وعقود الدریہ میں ہے:وھذاعلم فی ورق (یہ ایك ورق میں عظیم علم ہے۔ت)تحریر العبارۃ للعلامۃ الشامی میں ہے:
فعلم بھذاان ھذہ علۃ قدیمۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم ۔ تو معلوم ہو اکہ یہ پرانی بیماری ہےلاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔(ت)
ایسا غامض مسئلہ کہ یہاں کے فحول علماء پر مخفی ہواور عوام کی دوڑ انہیں تك ہے اگر عوام قبل اطلاع حکم اس میں مبتلا ہوں تویہ نہ کہنا چاہئے کہ انہوں نے قصدا ارتکاب حرام یا وقف کی بدخواہی کی جس سے قابل تولیت نہ رہیںواﷲ یعلم المفسد من المصلح واﷲ غفور رحیم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۴تا۷۵: مرسلہ محمد ابرہیم کنکشیر ہائی اسکول ضلع فرید پور رجب ۱۳۳۴ھ
(۱)اگر کسی ہندو نے چند جگہ مسلمان کو فقط نماز جمعہ کے واسطے وقف کردئے کہ تم لوگ اس میں قربانی مت کرنا۔اگر قربانی کے واسطے اجازت بھی دیوے تو ہندو کی وقف کردہ زمین میں مسجد بناناجائز ہے یانہیں
(۲)اگرہندو کی وقف کردہ زمین میں۲۰یا۲۵برس تك نماز جمعہ پڑھیبعدمیں معلوم کیاتو
ردالمحتار وعقود الدریہ میں ہے:وھذاعلم فی ورق (یہ ایك ورق میں عظیم علم ہے۔ت)تحریر العبارۃ للعلامۃ الشامی میں ہے:
فعلم بھذاان ھذہ علۃ قدیمۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم ۔ تو معلوم ہو اکہ یہ پرانی بیماری ہےلاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔(ت)
ایسا غامض مسئلہ کہ یہاں کے فحول علماء پر مخفی ہواور عوام کی دوڑ انہیں تك ہے اگر عوام قبل اطلاع حکم اس میں مبتلا ہوں تویہ نہ کہنا چاہئے کہ انہوں نے قصدا ارتکاب حرام یا وقف کی بدخواہی کی جس سے قابل تولیت نہ رہیںواﷲ یعلم المفسد من المصلح واﷲ غفور رحیم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۴تا۷۵: مرسلہ محمد ابرہیم کنکشیر ہائی اسکول ضلع فرید پور رجب ۱۳۳۴ھ
(۱)اگر کسی ہندو نے چند جگہ مسلمان کو فقط نماز جمعہ کے واسطے وقف کردئے کہ تم لوگ اس میں قربانی مت کرنا۔اگر قربانی کے واسطے اجازت بھی دیوے تو ہندو کی وقف کردہ زمین میں مسجد بناناجائز ہے یانہیں
(۲)اگرہندو کی وقف کردہ زمین میں۲۰یا۲۵برس تك نماز جمعہ پڑھیبعدمیں معلوم کیاتو
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۰€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۰€
تحریر العبارۃ فیمن ھو احق بالاجارۃ رسالہ من رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۷€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۰€
تحریر العبارۃ فیمن ھو احق بالاجارۃ رسالہ من رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۷€
اس مسجد کودوسری جگہ مسلمان کے لئے جاکر بناسکتا ہے یانہیں
الجواب:
(۱)مسجد کے لئے ہندو کا وقف ناممکن نامقبول ہےوہ مسجد نہ ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)وہ مسجد ہی نہیںمسلمان دوسری جگہ اپنی مسجد بنائیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
الجواب:
(۱)مسجد کے لئے ہندو کا وقف ناممکن نامقبول ہےوہ مسجد نہ ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)وہ مسجد ہی نہیںمسلمان دوسری جگہ اپنی مسجد بنائیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
___________________
مصارف وقف
(وقف کے مصارف کا بیان)
مسئلہ۷۶: ازاحمد آباد گجرات محلہ کالوپور پنچ پولی دھنکوٹ مرسلہ شیخ محمد زین الحق عرف چھٹومیاں ۴محرم ۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین و مفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ زید کے پاس ایك رقم زر نقد وقف یا ﷲ کسی کار خیر کے لئے موجود ہے مثلا مسجد کی تعمیر وغیرہ مصارف کی یا کسی بزرگ کے روضہ یا مقبرہ یا عرس وغیرہ کی آمدنی اس کے مصارف پورے طور سے ہوکر اضافہ جمع رہتی ہےیا مسجد یا مدرسہ یا یتیم خانہ تعمیر کرنے کو وہ چندہ جمع کیا گیا ہے اور اس کا خرچ پورے طور سے تمام ہوکر باقی رقم اضافہ رہی ہے وغیرہ وغیرہاس قسم کا پیسہ نقد یاملك مانند مکان و زمین وغیرہ کے ایك کار خیر کےلئے فراہم ہوا ہے یا کیا گیا ہے اس کو دوسرے کارخیر میں ﷲ یعنی مسجد کا چندہ کیا ہوا یا اس کی آمدنی میں سے بچتا رہا ہوا مقبرہ یا مدرسہ یا یتیم خانہ کے کام میں یا مقبرہ و مدرسہ ویتیم خانہ کا پیسہ مسجدکے کام میں لے سکتے ہیں یانہیں وہ ازروئے شرع شریف مع حوالہ کتب مذہب اہل سنت وجماعت کے خلاصہ بیان فرماکے اپنی مہر ودستخط فرمادیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
وقف جس غرض کےلئے ہے اسکی آمدنی اگرچہ اس کے صرف سے فاضل ہو دوسری غرض میں صرف کرنی حرام ہے وقف مسجد کی آمدنی مدرسہ میں صرف ہونی درکنار دوسری مسجد میں بھی صرف نہیں ہوسکتینہ ایک
(وقف کے مصارف کا بیان)
مسئلہ۷۶: ازاحمد آباد گجرات محلہ کالوپور پنچ پولی دھنکوٹ مرسلہ شیخ محمد زین الحق عرف چھٹومیاں ۴محرم ۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین و مفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ زید کے پاس ایك رقم زر نقد وقف یا ﷲ کسی کار خیر کے لئے موجود ہے مثلا مسجد کی تعمیر وغیرہ مصارف کی یا کسی بزرگ کے روضہ یا مقبرہ یا عرس وغیرہ کی آمدنی اس کے مصارف پورے طور سے ہوکر اضافہ جمع رہتی ہےیا مسجد یا مدرسہ یا یتیم خانہ تعمیر کرنے کو وہ چندہ جمع کیا گیا ہے اور اس کا خرچ پورے طور سے تمام ہوکر باقی رقم اضافہ رہی ہے وغیرہ وغیرہاس قسم کا پیسہ نقد یاملك مانند مکان و زمین وغیرہ کے ایك کار خیر کےلئے فراہم ہوا ہے یا کیا گیا ہے اس کو دوسرے کارخیر میں ﷲ یعنی مسجد کا چندہ کیا ہوا یا اس کی آمدنی میں سے بچتا رہا ہوا مقبرہ یا مدرسہ یا یتیم خانہ کے کام میں یا مقبرہ و مدرسہ ویتیم خانہ کا پیسہ مسجدکے کام میں لے سکتے ہیں یانہیں وہ ازروئے شرع شریف مع حوالہ کتب مذہب اہل سنت وجماعت کے خلاصہ بیان فرماکے اپنی مہر ودستخط فرمادیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
وقف جس غرض کےلئے ہے اسکی آمدنی اگرچہ اس کے صرف سے فاضل ہو دوسری غرض میں صرف کرنی حرام ہے وقف مسجد کی آمدنی مدرسہ میں صرف ہونی درکنار دوسری مسجد میں بھی صرف نہیں ہوسکتینہ ایک
مدرسہ کی آمدنی مسجد یا دوسرے مدرسہ میں۔درمختارمیں ہے:
اتحدالواقف والجہۃ وقل مرسوم بعض الموقوف علیہجاز للحاکم ان یصرف من فاضل الوقف الاخر الیہ لانھما حینئذکشیئ واحد وان اختلف احدھما بان بنی رجلان مسجدین او رجل مسجد او مدرسۃ ووقف علیہما اوقافا لایجوزلہ ذلک ۔
جب واقف ایك ہواور جہت وقف بھی ایك ہو اور آمدن کی تقسیم بعض موقوف علیہ حضرات پر کم پڑجائے توحاکم کو اختیار ہے کہ وہ دوسرے فاضل وقف سے ان پر خرچ کردے کیونکہ یہ دونوں وقف ایك جیسے ہیںاور اگر واقف یا جہت وقف دونوں کی مختلف ہو مثلا دو حضرات نے علیحدہ علیحدہ مسجد بنائی یا ایك نے مسجد اور دوسرے نے مدرسہ بنایا اور ہر ایك نے ان کے لئے علیحدہ وقف مقرر کئے تو پھر ایك کی آمدن سے دوسرے کے مصارف کے لئے خرچ کرنا جائز نہیں۔ (ت)
چندہ کا جوروپیہ کام ختم ہوکر بچے لازم ہے کہ چندہ دینے والوں کو حصہ رسد واپس دیاجائے یا وہ جس کام کے لئے اب اجازت دیں اس میں صرف ہوبے ان کی اجازت کے صرف کرنا حرام ہےہاں جب ان کا پتا نہ چل سکے تو اب یہ چاہئے کہ جس طرح کے کام کےلئے چندہ لیا تھا اسی طرح کے دوسرے کام میں اٹھائیںمثلا تعمیر مسجد کا چندہ تھا مسجد تعمیر ہوچکی تو باقی بھی کسی مسجد کی تعمیر میں اٹھائیںغیر کام مثلا تعمیر مدرسہ میں صرف نہ کریںاور اگر اس طرح کا دوسرا کام نہ پائیں تو وہ باقی روپیہ فقیروں کو تقسیم کردیں۔درمختار میں ہے:
ان فضل شیئ ردللمتصدق ان علم والاکفن بہ مثلہ والا تصدق بہ
اگر چندہ سے کچھ بچ جائے تو دینے والا اگر معلوم ہو تو اسے واپس کیا جائےگا ورنہ اس جیسے فقیر کے کفن پر صرف کیا جائے یا صدقہ کردیاجائے(ت)
اسی طرح فتاوی قاضی خاں وعالمگیری وغیرہما میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۷۷: مسئولہ ظہور حسین ساکن بریلی محلہ کٹلہے نالہ ۲۴ شعبان المعظم ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے ایك وقف نامہ غیر مستقل آمدنی کا بنام خدائے برتر لکھا اور وقف نامہ مذکور میں نسلا بعد نسل تولیت کا تذکرہ نسبت ورثاء متولیان کے اور کسی
اتحدالواقف والجہۃ وقل مرسوم بعض الموقوف علیہجاز للحاکم ان یصرف من فاضل الوقف الاخر الیہ لانھما حینئذکشیئ واحد وان اختلف احدھما بان بنی رجلان مسجدین او رجل مسجد او مدرسۃ ووقف علیہما اوقافا لایجوزلہ ذلک ۔
جب واقف ایك ہواور جہت وقف بھی ایك ہو اور آمدن کی تقسیم بعض موقوف علیہ حضرات پر کم پڑجائے توحاکم کو اختیار ہے کہ وہ دوسرے فاضل وقف سے ان پر خرچ کردے کیونکہ یہ دونوں وقف ایك جیسے ہیںاور اگر واقف یا جہت وقف دونوں کی مختلف ہو مثلا دو حضرات نے علیحدہ علیحدہ مسجد بنائی یا ایك نے مسجد اور دوسرے نے مدرسہ بنایا اور ہر ایك نے ان کے لئے علیحدہ وقف مقرر کئے تو پھر ایك کی آمدن سے دوسرے کے مصارف کے لئے خرچ کرنا جائز نہیں۔ (ت)
چندہ کا جوروپیہ کام ختم ہوکر بچے لازم ہے کہ چندہ دینے والوں کو حصہ رسد واپس دیاجائے یا وہ جس کام کے لئے اب اجازت دیں اس میں صرف ہوبے ان کی اجازت کے صرف کرنا حرام ہےہاں جب ان کا پتا نہ چل سکے تو اب یہ چاہئے کہ جس طرح کے کام کےلئے چندہ لیا تھا اسی طرح کے دوسرے کام میں اٹھائیںمثلا تعمیر مسجد کا چندہ تھا مسجد تعمیر ہوچکی تو باقی بھی کسی مسجد کی تعمیر میں اٹھائیںغیر کام مثلا تعمیر مدرسہ میں صرف نہ کریںاور اگر اس طرح کا دوسرا کام نہ پائیں تو وہ باقی روپیہ فقیروں کو تقسیم کردیں۔درمختار میں ہے:
ان فضل شیئ ردللمتصدق ان علم والاکفن بہ مثلہ والا تصدق بہ
اگر چندہ سے کچھ بچ جائے تو دینے والا اگر معلوم ہو تو اسے واپس کیا جائےگا ورنہ اس جیسے فقیر کے کفن پر صرف کیا جائے یا صدقہ کردیاجائے(ت)
اسی طرح فتاوی قاضی خاں وعالمگیری وغیرہما میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۷۷: مسئولہ ظہور حسین ساکن بریلی محلہ کٹلہے نالہ ۲۴ شعبان المعظم ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے ایك وقف نامہ غیر مستقل آمدنی کا بنام خدائے برتر لکھا اور وقف نامہ مذکور میں نسلا بعد نسل تولیت کا تذکرہ نسبت ورثاء متولیان کے اور کسی
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۰
درمختار باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۱
درمختار باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۱
کمیٹی یا انجمن کادست انداز نہ ہونا تحریر ہے آمدنی مذکور بہ تعین تعداد واسطے نذرونیاز وکارخیر جاریہ کی مقرر کردی مگر جائداد موقوفہ کی آمدنی اخراجات معینہ واقف سے زائد ہو تو وہ زائد آمدنی کیا ہوگی اور وقف پر کیا اثر ہوگا اور اس پر وراثت جاری ہوسکتی ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
وقف پر وراثت جاری نہیں ہوسکتی زائد آمدنی امانۃ جمع رہے گی جیسے زیادت ممکن ہے اور برسوں میں کمی بھی محتمل ہے وہ کمی اس سرمایہ جمع شدہ سے وقتا فوقتا پوری کی جائے گیمتولیان وورثہ بحال تولیت اگر صالح تولیت رہے تو بہترورنہ بحال جرم وخیانت وعدم لیاقت ضرور مسلمانوں کو دست اندازی پہنچے گی اور واقفہ کی اس شرط پر کچھ نظر نہ کی جائے گی نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار(درمختار وغیرہ معتمد کتب میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)درمختار جلد ۳صفحہ ۵۵۴پر ہے:
فیلزم فلا یجوز لہ ابطالہ ولا یورث عنہ وعلیہ الفتوی ابن الکمال وابن الشحنہ ۔
تو وہ لازم ہوجائے گا اب اس کا ابطال یاوراثت بنانا جائز نہیںاسی پر فتوی ہےابن کما ل وابن شحنہ۔(ت)
وعلیہ الفتوی کے تحت میں علامہ شامی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ای علی قولھما بلزومہ قال فی الفتح والحق ترجح قول عامۃ العلماء بلزومہ لان الاحادیث والاثار متظافرۃ علی ذلك واستمر عمل الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم علی ذلك فلذا ترجح علی خلاف قولہ اھ ملخصا۔
یعنی صاحبین رحمہما اﷲتعالی کے لزوم والے قول پر فتوی ہے فتح میں فرمایا حق یہی ہے کہ عام علماء کے لازم ہوجانیوالے قول کوترجیح ہوگی کیونکہ احادیث وآثار اس پر وارد ہیںاور صحابہتابعین اور ان کے بعد والوں کا اس پر عمل چلاآرہا ہے اس لئے امام صاحب کے قول کے خلاف کو یہاں ترجیح ہےاھ ملخصا(ت)
اشباہ والنظائر ص۱۹۲میں ہے:
وسئل ابوبکر عن رجل وقف دارا علی مسجد علی ان مافضل من عمارتہ
ابوبکر سے ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گی جس نے مسجد کے نام ایك حویلی وقف کی اور قرار دیا کہ اس حویلی کی
الجواب:
وقف پر وراثت جاری نہیں ہوسکتی زائد آمدنی امانۃ جمع رہے گی جیسے زیادت ممکن ہے اور برسوں میں کمی بھی محتمل ہے وہ کمی اس سرمایہ جمع شدہ سے وقتا فوقتا پوری کی جائے گیمتولیان وورثہ بحال تولیت اگر صالح تولیت رہے تو بہترورنہ بحال جرم وخیانت وعدم لیاقت ضرور مسلمانوں کو دست اندازی پہنچے گی اور واقفہ کی اس شرط پر کچھ نظر نہ کی جائے گی نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار(درمختار وغیرہ معتمد کتب میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)درمختار جلد ۳صفحہ ۵۵۴پر ہے:
فیلزم فلا یجوز لہ ابطالہ ولا یورث عنہ وعلیہ الفتوی ابن الکمال وابن الشحنہ ۔
تو وہ لازم ہوجائے گا اب اس کا ابطال یاوراثت بنانا جائز نہیںاسی پر فتوی ہےابن کما ل وابن شحنہ۔(ت)
وعلیہ الفتوی کے تحت میں علامہ شامی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
ای علی قولھما بلزومہ قال فی الفتح والحق ترجح قول عامۃ العلماء بلزومہ لان الاحادیث والاثار متظافرۃ علی ذلك واستمر عمل الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم علی ذلك فلذا ترجح علی خلاف قولہ اھ ملخصا۔
یعنی صاحبین رحمہما اﷲتعالی کے لزوم والے قول پر فتوی ہے فتح میں فرمایا حق یہی ہے کہ عام علماء کے لازم ہوجانیوالے قول کوترجیح ہوگی کیونکہ احادیث وآثار اس پر وارد ہیںاور صحابہتابعین اور ان کے بعد والوں کا اس پر عمل چلاآرہا ہے اس لئے امام صاحب کے قول کے خلاف کو یہاں ترجیح ہےاھ ملخصا(ت)
اشباہ والنظائر ص۱۹۲میں ہے:
وسئل ابوبکر عن رجل وقف دارا علی مسجد علی ان مافضل من عمارتہ
ابوبکر سے ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گی جس نے مسجد کے نام ایك حویلی وقف کی اور قرار دیا کہ اس حویلی کی
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۵۸
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۵۸
فھوللفقراء فاجتمعت الغلۃ والمسجد لایحتاج الی العمارۃ ھل تصرف الی الفقراء قال لاتصرف الی الفقراء وان اجتمعت غلۃ کثیرۃ لانہ یجوز ان یحدث للمسجد حدث والدار بحال لاتغل ۔
آمدن اگر مسجد کے تعمیری اخراجات سے زائد ہوتو فقراء پر خرچ کی جائے گیاب آمدن جمع ہوگئی اور مسجد کی عمارت کو ضرورت نہیں تو کیا وہ جمع شدہ آمدن فقراء پر صرف کردی جائےتو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ فقراء پر خرچ نہیں ہوگی اگرچہ کثیر آمدن جمع ہوچکی ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ بعد میں مسجد کی عمارت میں ضرورت پیش آئے اور حویلی کی آمدن باقی نہ رہے۔(ت)
درمختار ص۵۹۴میں فرمایا:
وینزع وجوبا ولو کان المتولی غیرمامون او عاجزا او ظھربہ فسق وان شرط عدم نزعہ وان لاینزعہ قاضی ولاسلطان لمخالفتہ لحکم الشرع فیبطل کالموصی اھ ملخصا ومختصرا۔
لازمی علیحدہ کردیاجائے اگر متولی قابل اعتماد نہ ہو یا عاجز ہو یا اس میں فسق واضح ہوجائے اگرچہ واقف نے معزول نہ کرنے کی شرط لگارکھی ہو اور یہ کہ قاضی اور سلطان بھی معزول نہ کرسکے گا کیونکہ ایسی شرط شرع کے مخالف ہونے کی وجہ سے باطل قرار پائے گی جیسا کہ وصیت کرنیوالے کی ایسی شرائط باطل ہوجاتی ہیں اھ ملخصا ومختصرا۔(ت)
مسئلہ۷۸: ازپیلی بھیت مرسلہ مولنا مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی ۲۸جمادی الآخرہ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص مسجد میں عرصہ پانچ سال سے واسطے حفاظت مسجد اور کل انتظام مسجد کے مقرر ہے اور مسجد کے وقف مال سے وظیفہ پاتا ہے اگر یہ شخص ایك سال یا کم وبیش کی رخصت لے کر اپنے مکان کو چلاجائے تو اس مدت میں وظیفہ لینے کامستحق ہے یانہیںاگر بعلت بیماری جاوے تو بھی مستحق ہے یانہیںفقط۔
الجواب:
اصل کلی شرعی یہ ہے کہ اجیر خاص پر حاضر رہنا اور اپنے نفس کو کار مقرر کے لئے سپرد کرنا لازم ہے جس دن غیر حاضر ہوگا اگرچہ مرض سے اگرچہ اور کسی ضرورت سے اس دن کے اجر کا مستحق نہیں مگر معمولی قلیل تعطیل جس قدر اس صیغہ میں معروف ومروج ہو عادۃ معاف رکھی گئی ہے اور یہ امر باختلاف حاجت مختلف ہوتا ہے درس تدریس کی حاجت
آمدن اگر مسجد کے تعمیری اخراجات سے زائد ہوتو فقراء پر خرچ کی جائے گیاب آمدن جمع ہوگئی اور مسجد کی عمارت کو ضرورت نہیں تو کیا وہ جمع شدہ آمدن فقراء پر صرف کردی جائےتو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ فقراء پر خرچ نہیں ہوگی اگرچہ کثیر آمدن جمع ہوچکی ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ بعد میں مسجد کی عمارت میں ضرورت پیش آئے اور حویلی کی آمدن باقی نہ رہے۔(ت)
درمختار ص۵۹۴میں فرمایا:
وینزع وجوبا ولو کان المتولی غیرمامون او عاجزا او ظھربہ فسق وان شرط عدم نزعہ وان لاینزعہ قاضی ولاسلطان لمخالفتہ لحکم الشرع فیبطل کالموصی اھ ملخصا ومختصرا۔
لازمی علیحدہ کردیاجائے اگر متولی قابل اعتماد نہ ہو یا عاجز ہو یا اس میں فسق واضح ہوجائے اگرچہ واقف نے معزول نہ کرنے کی شرط لگارکھی ہو اور یہ کہ قاضی اور سلطان بھی معزول نہ کرسکے گا کیونکہ ایسی شرط شرع کے مخالف ہونے کی وجہ سے باطل قرار پائے گی جیسا کہ وصیت کرنیوالے کی ایسی شرائط باطل ہوجاتی ہیں اھ ملخصا ومختصرا۔(ت)
مسئلہ۷۸: ازپیلی بھیت مرسلہ مولنا مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی ۲۸جمادی الآخرہ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص مسجد میں عرصہ پانچ سال سے واسطے حفاظت مسجد اور کل انتظام مسجد کے مقرر ہے اور مسجد کے وقف مال سے وظیفہ پاتا ہے اگر یہ شخص ایك سال یا کم وبیش کی رخصت لے کر اپنے مکان کو چلاجائے تو اس مدت میں وظیفہ لینے کامستحق ہے یانہیںاگر بعلت بیماری جاوے تو بھی مستحق ہے یانہیںفقط۔
الجواب:
اصل کلی شرعی یہ ہے کہ اجیر خاص پر حاضر رہنا اور اپنے نفس کو کار مقرر کے لئے سپرد کرنا لازم ہے جس دن غیر حاضر ہوگا اگرچہ مرض سے اگرچہ اور کسی ضرورت سے اس دن کے اجر کا مستحق نہیں مگر معمولی قلیل تعطیل جس قدر اس صیغہ میں معروف ومروج ہو عادۃ معاف رکھی گئی ہے اور یہ امر باختلاف حاجت مختلف ہوتا ہے درس تدریس کی حاجت
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوقف ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۳۱۸
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
روزانہ نہیں بلکہ طلبہ بلا تعطیل ہمیشہ پڑھے جائیں تو قلب اس محنت کا متحمل نہ ہو لہذا ہفتہ میں ایك دن یعنی جمعہ اور کہیں دو دن منگل جمعہ تعطیل ٹھہریاور رمضان المبارك میں مطالعہ کرنا سبق پڑھنا یاد کرنا دشوار ہے
وقد قال سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہان القلب اذااکرہ عمی
اور ہمارے آقا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا ہے کہ جبر کی صورت میں دل بینا نہیں رہتا۔(ت)
لہذا اسی صیغہ میں رمضان مبارك کی چھٹی بھی معمول ہوئی بخلاف خدمتگاری کہ اس کی حاجت روزانہ ہے اگر خدمتگار رمضان مبارك کا عذر کرکے گھر بیٹھ رہے ہرگز ایك حبہ تنخواہ کا مستحق نہیں انتظام وحفاظت مسجد بھی اسی قبیل سے ہے جس کی حاجت روزانہ ہے تو اس میں اتنی رخصت بھی نہیں ہو سکتی جتنی صیغہ تعلیم وتعلم میں ہے ولہذا ہمارے ائمہ نے تصریح فرمائی کہ متولی کو اگر فالج وغیرہ عارض ہوتو جتنے دن اس کے باعث اہتمام مسجد سے معذور رہے گا اجرت نہ پائے گا بلکہ صیغہ تعلیم میں بھی تصریح فرمائی کہ مدرس معمول کے علاوہ غیر حاضری پر تنخواہ کا مستحق نہیں اگرچہ وہ غیر حاضری حج فرض ادا کرنے کے لئے ہو یونہی تصریح فرمائی کہ طالب علم جو وظیفہ پاتا ہو اگرچہ بضرورت حج فرض یا صلہ رحم اسے سفر کی اجازت ہے یا شہر کے آس پاس دیہات میں کہ مدت سفر سے کم ہوں بضرورت طلب معاش دو ہفتہ یا زیادہ انتہاتین مہینے تك غیر حاضری کی رخصت ہے مگر اس رخصت کے یہ معنی کہ ان ضرورتوں کے سبب اتنی غیر حاضری کے باعث اس کا نام نہ کاٹا جائیگا معزول نہ کیا جائیگا نہ کہ ایام سفر یا دو ہفتہ خواہ زیادہ کی غیر حاضری بلا سفر پروظیفہ بھی پائے وظیفہ ان سب صورتوں میں اصلا نہ مل سکے گا اور اگر تین مہینے سے زیادہ غیر حاضر رہا اگرچہ حوالی شہر میں اگرچہ بضرورت وناچاری معزول بھی کر دیا جائے گا جب صیغہ تعلیم میں یہ احکام ہیں تو صیغہ خدمت وحفاظت واہتمام وانتظام مسجد میں کسی غیر حاضری کی تنخواہ کیونکر پاسکتا ہےہاں غایت درجہ حرج مرض کو سال میں ایك ہفتہ کی اجازت ہوسکتی ہے یازیادہ چاہے تو اپنا عوض یعنی نائب دے جائے بغیر اس کے نہ غیر حاضری کی اجازت نہ مہتممان وقف کو روا کہ اسے ایسی طویل رخصت دیں اگر دی تو تنخواہ حلال نہیں نہ اسے لینا جائزنہ ان کو دینے کا اختیار اگر دیں گے تو یہ خود مال وقف میں خائن ہوں گے اور اس کے ساتھ یہ بھی معزول کئے جائیں گےاس بیان سے جواب سوال واضح ہوگیااب مطالب مذکورہ پر علماء سنئےدرمختار میں ہے:
نظم ابن الشحنۃ الغیبۃ المسقطۃ للمعلوم المقتضیۃ للعزل ومنہ
ابن شحنہ نے اپنی نظم میں مقررہ وظیفہ کو ساقط اور استحقاق معزولیت والی غیر حاضری کو بیان فرمایا ہے
ومالیس بدمنہ ان لم یزد علی ثلاث شہور فھو یعفی ویغفر
ضروری عذر کی وجہ سے غیر حاضری اگر تین ماہ سے زائد نہ ہوتو معاف ہوگیاور علماء کا اتفاق ہے کہ گزشتہ
وقد قال سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہان القلب اذااکرہ عمی
اور ہمارے آقا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا ہے کہ جبر کی صورت میں دل بینا نہیں رہتا۔(ت)
لہذا اسی صیغہ میں رمضان مبارك کی چھٹی بھی معمول ہوئی بخلاف خدمتگاری کہ اس کی حاجت روزانہ ہے اگر خدمتگار رمضان مبارك کا عذر کرکے گھر بیٹھ رہے ہرگز ایك حبہ تنخواہ کا مستحق نہیں انتظام وحفاظت مسجد بھی اسی قبیل سے ہے جس کی حاجت روزانہ ہے تو اس میں اتنی رخصت بھی نہیں ہو سکتی جتنی صیغہ تعلیم وتعلم میں ہے ولہذا ہمارے ائمہ نے تصریح فرمائی کہ متولی کو اگر فالج وغیرہ عارض ہوتو جتنے دن اس کے باعث اہتمام مسجد سے معذور رہے گا اجرت نہ پائے گا بلکہ صیغہ تعلیم میں بھی تصریح فرمائی کہ مدرس معمول کے علاوہ غیر حاضری پر تنخواہ کا مستحق نہیں اگرچہ وہ غیر حاضری حج فرض ادا کرنے کے لئے ہو یونہی تصریح فرمائی کہ طالب علم جو وظیفہ پاتا ہو اگرچہ بضرورت حج فرض یا صلہ رحم اسے سفر کی اجازت ہے یا شہر کے آس پاس دیہات میں کہ مدت سفر سے کم ہوں بضرورت طلب معاش دو ہفتہ یا زیادہ انتہاتین مہینے تك غیر حاضری کی رخصت ہے مگر اس رخصت کے یہ معنی کہ ان ضرورتوں کے سبب اتنی غیر حاضری کے باعث اس کا نام نہ کاٹا جائیگا معزول نہ کیا جائیگا نہ کہ ایام سفر یا دو ہفتہ خواہ زیادہ کی غیر حاضری بلا سفر پروظیفہ بھی پائے وظیفہ ان سب صورتوں میں اصلا نہ مل سکے گا اور اگر تین مہینے سے زیادہ غیر حاضر رہا اگرچہ حوالی شہر میں اگرچہ بضرورت وناچاری معزول بھی کر دیا جائے گا جب صیغہ تعلیم میں یہ احکام ہیں تو صیغہ خدمت وحفاظت واہتمام وانتظام مسجد میں کسی غیر حاضری کی تنخواہ کیونکر پاسکتا ہےہاں غایت درجہ حرج مرض کو سال میں ایك ہفتہ کی اجازت ہوسکتی ہے یازیادہ چاہے تو اپنا عوض یعنی نائب دے جائے بغیر اس کے نہ غیر حاضری کی اجازت نہ مہتممان وقف کو روا کہ اسے ایسی طویل رخصت دیں اگر دی تو تنخواہ حلال نہیں نہ اسے لینا جائزنہ ان کو دینے کا اختیار اگر دیں گے تو یہ خود مال وقف میں خائن ہوں گے اور اس کے ساتھ یہ بھی معزول کئے جائیں گےاس بیان سے جواب سوال واضح ہوگیااب مطالب مذکورہ پر علماء سنئےدرمختار میں ہے:
نظم ابن الشحنۃ الغیبۃ المسقطۃ للمعلوم المقتضیۃ للعزل ومنہ
ابن شحنہ نے اپنی نظم میں مقررہ وظیفہ کو ساقط اور استحقاق معزولیت والی غیر حاضری کو بیان فرمایا ہے
ومالیس بدمنہ ان لم یزد علی ثلاث شہور فھو یعفی ویغفر
ضروری عذر کی وجہ سے غیر حاضری اگر تین ماہ سے زائد نہ ہوتو معاف ہوگیاور علماء کا اتفاق ہے کہ گزشتہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۸
وقد اطبقو ا لایاخذ السھم مطلقا لماقد مضی و الحکم فی الشرع یسفر قلت وھذاکلہ فی سکان المدرسۃ وفی غیر فرض الحج وصلۃ الرحمامافیھما فلایستحق العزل والمعلوم کما فی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی ۔ غیر حاضری کا وظیفہ مطلقا نہ لے گا اورشرع میں حکم واضح ہے۔میں کہتا ہوں یہ تمام بیان مدرسہ کےرہائشیوں کےلئے ہے اور فرض حج اور صلہ رحمی کے عذر کے علاوہ کے لئے ہے اگر دو مذکور عذر ہوں معزولی اور وظیفہ کا مستحق نہ ہوگا جیسا کہ شرنبلالی کی شرح وہبانیہ میں ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ نظم ابن الشحنۃحاصل مافی شرحہ تبعا للبزازیۃ انہ لایسقط معلومہ ولایعزل اذاکان فی المصر مشتغلا بعلم شرعی اوخرج لغیر سفر واقام دون خمسۃ عشر یوما بلا عذر علی احد قولین(ای والقول الاخر انہ یسقط معلومہ اذا خرج لرستاق بلاعذر ولواقل من اسبوعین)او خمسۃ عشرفاکثر لعذر شرعی کطلب المعاش ولم یزد علی ثلثۃ اشھر وانہ یسقط ولایعزل لوسافر لحج ونحوہ اوخرج للرستاق لغیرعذر مالم یزد علی ثلثۃ اشھر وانہ یسقط ویعزل لوخرج واقام اکثر من ثلثۃ اشھر ولو لعذر قال الخیر الرملی وکل ھذااذا لم ینصب نائبا عنہ والا قولہ ابن شحنہ کی نظماس کی شرح کا ماحاصل یہ ہے جو بزازیہ کی اتباع میں بیان کیاکہ اگر غیر حاضر ہونے والاشہر میں ہی شرعی علم یا حد سفر سے کم مسافت کےلئے شہر سے باہر گیااور بلاعذر پندرہ دن سے زیادہ باہر قیام کیا تو ایك قول کے مطابق معزول نہ کیا جائے گا اور نہ ہی مقررہ وظیفہ ساقط ہوگا یعنی دوسرا قول یہ ہے کہ جب وہ بلاعذر شہر سے متعلقہ سراؤں میں پندرہ دن سے کم غائب رہا ہویاکسی شرعی عذر کی بناء پر مثلا طلب معاش کے لئے پندرہ دن سے زائد اور تین ماہ سے کم غائب رہا ہوتو وظیفہ ساقط ہوگا اور معزول نہ ہوگا یونہی اگر فرض حج کیلئے سفر پر رہا ہو یا بغیر عذر تین ماہ سے زائد شہری سراؤں میں غائب رہا ہواور اگرشہر سے باہر تین ماہ سے زائد اگرچہ عذر کی بناء پر غائب ہوکر وہاں مقیم رہا ہو تو وظیفہ ساقط اور معزول بھی ہوگاا ور خیررملی نے فرمایا یہ تمام صورتیں تب ہوں گی جب وہ اپنا نائب مقرر نہ کرگیا ہو ورنہ
ردالمحتار میں ہے:
قولہ نظم ابن الشحنۃحاصل مافی شرحہ تبعا للبزازیۃ انہ لایسقط معلومہ ولایعزل اذاکان فی المصر مشتغلا بعلم شرعی اوخرج لغیر سفر واقام دون خمسۃ عشر یوما بلا عذر علی احد قولین(ای والقول الاخر انہ یسقط معلومہ اذا خرج لرستاق بلاعذر ولواقل من اسبوعین)او خمسۃ عشرفاکثر لعذر شرعی کطلب المعاش ولم یزد علی ثلثۃ اشھر وانہ یسقط ولایعزل لوسافر لحج ونحوہ اوخرج للرستاق لغیرعذر مالم یزد علی ثلثۃ اشھر وانہ یسقط ویعزل لوخرج واقام اکثر من ثلثۃ اشھر ولو لعذر قال الخیر الرملی وکل ھذااذا لم ینصب نائبا عنہ والا قولہ ابن شحنہ کی نظماس کی شرح کا ماحاصل یہ ہے جو بزازیہ کی اتباع میں بیان کیاکہ اگر غیر حاضر ہونے والاشہر میں ہی شرعی علم یا حد سفر سے کم مسافت کےلئے شہر سے باہر گیااور بلاعذر پندرہ دن سے زیادہ باہر قیام کیا تو ایك قول کے مطابق معزول نہ کیا جائے گا اور نہ ہی مقررہ وظیفہ ساقط ہوگا یعنی دوسرا قول یہ ہے کہ جب وہ بلاعذر شہر سے متعلقہ سراؤں میں پندرہ دن سے کم غائب رہا ہویاکسی شرعی عذر کی بناء پر مثلا طلب معاش کے لئے پندرہ دن سے زائد اور تین ماہ سے کم غائب رہا ہوتو وظیفہ ساقط ہوگا اور معزول نہ ہوگا یونہی اگر فرض حج کیلئے سفر پر رہا ہو یا بغیر عذر تین ماہ سے زائد شہری سراؤں میں غائب رہا ہواور اگرشہر سے باہر تین ماہ سے زائد اگرچہ عذر کی بناء پر غائب ہوکر وہاں مقیم رہا ہو تو وظیفہ ساقط اور معزول بھی ہوگاا ور خیررملی نے فرمایا یہ تمام صورتیں تب ہوں گی جب وہ اپنا نائب مقرر نہ کرگیا ہو ورنہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۸€
فلیس لغیرہ اخذ وظیفتہ اھ وفی القنیۃ من باب الامامۃ امام یترك الامامۃ لزیادۃ اقربائہ فی الرساتیق اسبوعا او نحوہ او لمصیبۃ او لاستراحۃ لا باس بہ ومثلہ عفو فی العادۃ والشرعوقد ذکر فی الاشباہ عبارۃ القنیۃ ھذہ وحملھا علی انہ یسامح اسبوعا والاظہر مافی اخر شرح منیۃ المصلی للحلبی ان الظاہر ان المراد فی کل سنۃ ذکر الخصاف انہ لو اصاب القیم فالج او نحوہ فان امکنہ الکلام والاخذ و الاعطاء فلہ اخذ الاجروالافلاقال الطرطوسی ومقتضاہ ان المدرس ونحوہ اذااصابہ عذرمن مرض او حج بحیث لایمکنہ المباشرۃ لایستحق المعلوم لانہ ادارالحکم فی المعلوم علی نفس المباشرۃ فان وجدت استحق المعلوم والافلاوھذا ھو الفقہ اھولاینافی مامر من المسامحۃ باسبوع ونحوہ لان القلیل مغتفر کما سومح بالبطالۃ المعتادۃ اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔ اس کا وظیفہ کوئی دوسرا وصول نہیں کرسکتا اھاور قنیہ کے امامت کے باب میں ہے کہ اگر امام نے ہفتہ بھر امامت کا ترك سراؤں میں رہائش پذیر اپنے اقرباء کی زیارت یا کسی مصیبت کی بناء پر یا آرام کرنے کےلئے کیا تو کوئی حرج نہیں شرعا اور عادۃ یہ معاف ہےاور اشباہ میں قنیہ کی مذکورہ عبارت ذکر کرکے فرمایا کہ ہفتہ کی مقدار میں چشم پوشی سے کام لیاجائےا ورزیادہ ظاہر وہ قول ہے جو منیۃالمصلی کی شرح حلبی کے آخر میں مذکور ہے کہ ہفتہ بھر پورے ایك سال میں مراد ہےخصاف نے ذکر فرمایا کہ اگر منتظم کو فالج یا کوئی مرض لاحق ہوگیا تو اس میں گفتگو اور لین دین کرنا ممکن ہو تو وہ اپنے اجر کامستحق ہوگا ورنہ نہیںاس پر طرطوسی نے فرمایا کہ اس عبارت کا تقاضا یہ ہے کہ مدرس وغیرہ کو جب کوئی عذر مثلا مرض یا فرض حج پیش آئے جس کی وجہ سے وہ فرض منصبی ادا نہ کرسکے تو مقررہ وظیفہ کا مستحق نہ ہوگا کیونکہ معاملہ فرض منصبی کی ادائیگی پر طے ہوا ہے اگر یہ پایا گیا تووظیفہ کا استحقاق ہوگا ورنہ نہیںفقہ یہی ہے اھیہ بیان ہفتہ تك کی چشم پوشی کے مذکور حکم کے منافی نہیں ہے کیونکہ قلیل معاف ہوتا ہے جیسا کہ عادت میں مقررہ تعطیلات میں چشم پوشی ہوتی ہے اھ ملخصاواﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
رالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/۸۔۴۰۷€
مسئلہ ۷۹:ازسورت عید روس منزل خانقاہ عید روسیہ مرسلہ حضرت سید علی بن زین بن حسن عید روس سجادہ نشین خانقاہ مذکور ۲۳ذیقعدہ ۱۳۲۹ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلہ میں کہ زید محض اس خیال سے کہ متولیان وقف کا مال غفلت وبے پرواہی سے خرد بر د کرجاتے ہیں گورنمنٹ کے سامنے بغیر مشورہ قرآن وحدیث کے اپنی ذاتی رائے پیش کرتا ہے کہ اوقاف رجسٹرڈ کرائے جائیں اور حساب کی جانچ پڑتال کی جائے حالانکہ گورنمنٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کو اوقاف کے لئے محض اس غرض کے واسطے مقررکیا ہوا ہے کہ اگر متولی کے متعلق کسی شخص کو اس قسم کی کوئی خرابی معلوم ہو تو وہ ایڈوکیٹ جنرل کو اس کی اطلاع دے کر اس کی منظوری سے متولی پر دعوی کرسکتا ہے باوجود اس قاعدہ کے وہ یہ چاہتا ہے کہ اوقاف رجسٹرڈ ہوں اور محکمہ کے کثیر اخراجات مثل رجسٹرڈ کرانے کی فیس اور کلرکوں وغیرہ کی تنخواہ وغیرہ وغیرہ جس قدر اخراجات ہوں وہ تمام او قاف سے دئے جائیں حالانکہ واقف کی ان کے لئے وصیت نہیں کیا زید کا یہ بل ازروئے شریعت حقہ جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ت)
الجواب:
زید کا وہ بل محض جائز و باطل ہےوہ نئے خرچ کہ زید نے بے حکم شرع وبے شرط واقف اپنے دل سے ایجاد کرکے کسی وقف پر ڈلوانے چاہے ہرگز وقف پر نہ پڑیں گےنہ کوئی وقف ان کا ذمہ دار ہوگازید تو زید حاکم وقاضی کو بھی وقف میں ایسے ایجاد کا شرعا اختیار نہیں۔عقودالدریہ مطبع مصر جلد اول صفحہ ۱۹۲:
اذا ثبت الاحداث لایعمل بتقریرہ لان القاضی لیس لہ الاحداث بدون مسوغ شرعی فکیف المتولی وقد صرح فی الذخیرۃ والولوالجیۃ وغیرہما بان القاضی اذا قررفراشا للمسجد بغیر شرط الواقف لم یحل للقاضی ذلك ولم یحل للفراش تناول المعلوم ۔ جب وقف میں نئے مصارف ثابت کئے جائیں تو ان کی تقرری پر عمل نہ کیا جائے گا کیونکہ قاضی کو شرعی جواز کے بغیر نئے امور نافذ کرنے کا اختیار نہیں تو متولی کیسے کرسکتا ہے ذخیرہولوالجیہ وغیرہما میں تصریح ہے کہ اگر قاضی نے واقف کی شرط کے بغیر مسجد کے لئے فرش کی صفائی کرنے والا مقرر کردیا تو قاضی کو یہ اختیار نہیں ہے اور اس مقرر شدہ کو بھی مقررہ وظیفہ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔(ت)
ایضا ص۱۸۸(ص۱۸۸پر بھی ہے۔ت):
واخذ القاضی واعوانہ المال کاخذ قاضی اور اس کے عملہ کا وقف مال کولینا ایسا ہی ہے
کیافر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلہ میں کہ زید محض اس خیال سے کہ متولیان وقف کا مال غفلت وبے پرواہی سے خرد بر د کرجاتے ہیں گورنمنٹ کے سامنے بغیر مشورہ قرآن وحدیث کے اپنی ذاتی رائے پیش کرتا ہے کہ اوقاف رجسٹرڈ کرائے جائیں اور حساب کی جانچ پڑتال کی جائے حالانکہ گورنمنٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کو اوقاف کے لئے محض اس غرض کے واسطے مقررکیا ہوا ہے کہ اگر متولی کے متعلق کسی شخص کو اس قسم کی کوئی خرابی معلوم ہو تو وہ ایڈوکیٹ جنرل کو اس کی اطلاع دے کر اس کی منظوری سے متولی پر دعوی کرسکتا ہے باوجود اس قاعدہ کے وہ یہ چاہتا ہے کہ اوقاف رجسٹرڈ ہوں اور محکمہ کے کثیر اخراجات مثل رجسٹرڈ کرانے کی فیس اور کلرکوں وغیرہ کی تنخواہ وغیرہ وغیرہ جس قدر اخراجات ہوں وہ تمام او قاف سے دئے جائیں حالانکہ واقف کی ان کے لئے وصیت نہیں کیا زید کا یہ بل ازروئے شریعت حقہ جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ت)
الجواب:
زید کا وہ بل محض جائز و باطل ہےوہ نئے خرچ کہ زید نے بے حکم شرع وبے شرط واقف اپنے دل سے ایجاد کرکے کسی وقف پر ڈلوانے چاہے ہرگز وقف پر نہ پڑیں گےنہ کوئی وقف ان کا ذمہ دار ہوگازید تو زید حاکم وقاضی کو بھی وقف میں ایسے ایجاد کا شرعا اختیار نہیں۔عقودالدریہ مطبع مصر جلد اول صفحہ ۱۹۲:
اذا ثبت الاحداث لایعمل بتقریرہ لان القاضی لیس لہ الاحداث بدون مسوغ شرعی فکیف المتولی وقد صرح فی الذخیرۃ والولوالجیۃ وغیرہما بان القاضی اذا قررفراشا للمسجد بغیر شرط الواقف لم یحل للقاضی ذلك ولم یحل للفراش تناول المعلوم ۔ جب وقف میں نئے مصارف ثابت کئے جائیں تو ان کی تقرری پر عمل نہ کیا جائے گا کیونکہ قاضی کو شرعی جواز کے بغیر نئے امور نافذ کرنے کا اختیار نہیں تو متولی کیسے کرسکتا ہے ذخیرہولوالجیہ وغیرہما میں تصریح ہے کہ اگر قاضی نے واقف کی شرط کے بغیر مسجد کے لئے فرش کی صفائی کرنے والا مقرر کردیا تو قاضی کو یہ اختیار نہیں ہے اور اس مقرر شدہ کو بھی مقررہ وظیفہ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔(ت)
ایضا ص۱۸۸(ص۱۸۸پر بھی ہے۔ت):
واخذ القاضی واعوانہ المال کاخذ قاضی اور اس کے عملہ کا وقف مال کولینا ایسا ہی ہے
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۲۰€
مسئلہ ۷۹:ازسورت عید روس منزل خانقاہ عید روسیہ مرسلہ حضرت سید علی بن زین بن حسن عید روس سجادہ نشین خانقاہ مذکور ۲۳ذیقعدہ ۱۳۲۹ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلہ میں کہ زید محض اس خیال سے کہ متولیان وقف کا مال غفلت وبے پرواہی سے خرد بر د کرجاتے ہیں گورنمنٹ کے سامنے بغیر مشورہ قرآن وحدیث کے اپنی ذاتی رائے پیش کرتا ہے کہ اوقاف رجسٹرڈ کرائے جائیں اور حساب کی جانچ پڑتال کی جائے حالانکہ گورنمنٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کو اوقاف کے لئے محض اس غرض کے واسطے مقررکیا ہوا ہے کہ اگر متولی کے متعلق کسی شخص کو اس قسم کی کوئی خرابی معلوم ہو تو وہ ایڈوکیٹ جنرل کو اس کی اطلاع دے کر اس کی منظوری سے متولی پر دعوی کرسکتا ہے باوجود اس قاعدہ کے وہ یہ چاہتا ہے کہ اوقاف رجسٹرڈ ہوں اور محکمہ کے کثیر اخراجات مثل رجسٹرڈ کرانے کی فیس اور کلرکوں وغیرہ کی تنخواہ وغیرہ وغیرہ جس قدر اخراجات ہوں وہ تمام او قاف سے دئے جائیں حالانکہ واقف کی ان کے لئے وصیت نہیں کیا زید کا یہ بل ازروئے شریعت حقہ جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ت)
الجواب:
زید کا وہ بل محض جائز و باطل ہےوہ نئے خرچ کہ زید نے بے حکم شرع وبے شرط واقف اپنے دل سے ایجاد کرکے کسی وقف پر ڈلوانے چاہے ہرگز وقف پر نہ پڑیں گےنہ کوئی وقف ان کا ذمہ دار ہوگازید تو زید حاکم وقاضی کو بھی وقف میں ایسے ایجاد کا شرعا اختیار نہیں۔عقودالدریہ مطبع مصر جلد اول صفحہ ۱۹۲:
اذا ثبت الاحداث لایعمل بتقریرہ لان القاضی لیس لہ الاحداث بدون مسوغ شرعی فکیف المتولی وقد صرح فی الذخیرۃ والولوالجیۃ وغیرہما بان القاضی اذا قررفراشا للمسجد بغیر شرط الواقف لم یحل للقاضی ذلك ولم یحل للفراش تناول المعلوم ۔
جب وقف میں نئے مصارف ثابت کئے جائیں تو ان کی تقرری پر عمل نہ کیا جائے گا کیونکہ قاضی کو شرعی جواز کے بغیر نئے امور نافذ کرنے کا اختیار نہیں تو متولی کیسے کرسکتا ہے ذخیرہولوالجیہ وغیرہما میں تصریح ہے کہ اگر قاضی نے واقف کی شرط کے بغیر مسجد کے لئے فرش کی صفائی کرنے والا مقرر کردیا تو قاضی کو یہ اختیار نہیں ہے اور اس مقرر شدہ کو بھی مقررہ وظیفہ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔(ت)
ایضا ص۱۸۸(ص۱۸۸پر بھی ہے۔ت):
واخذ القاضی واعوانہ المال کاخذ قاضی اور اس کے عملہ کا وقف مال کولینا ایسا ہی ہے
کیافر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلہ میں کہ زید محض اس خیال سے کہ متولیان وقف کا مال غفلت وبے پرواہی سے خرد بر د کرجاتے ہیں گورنمنٹ کے سامنے بغیر مشورہ قرآن وحدیث کے اپنی ذاتی رائے پیش کرتا ہے کہ اوقاف رجسٹرڈ کرائے جائیں اور حساب کی جانچ پڑتال کی جائے حالانکہ گورنمنٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کو اوقاف کے لئے محض اس غرض کے واسطے مقررکیا ہوا ہے کہ اگر متولی کے متعلق کسی شخص کو اس قسم کی کوئی خرابی معلوم ہو تو وہ ایڈوکیٹ جنرل کو اس کی اطلاع دے کر اس کی منظوری سے متولی پر دعوی کرسکتا ہے باوجود اس قاعدہ کے وہ یہ چاہتا ہے کہ اوقاف رجسٹرڈ ہوں اور محکمہ کے کثیر اخراجات مثل رجسٹرڈ کرانے کی فیس اور کلرکوں وغیرہ کی تنخواہ وغیرہ وغیرہ جس قدر اخراجات ہوں وہ تمام او قاف سے دئے جائیں حالانکہ واقف کی ان کے لئے وصیت نہیں کیا زید کا یہ بل ازروئے شریعت حقہ جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ت)
الجواب:
زید کا وہ بل محض جائز و باطل ہےوہ نئے خرچ کہ زید نے بے حکم شرع وبے شرط واقف اپنے دل سے ایجاد کرکے کسی وقف پر ڈلوانے چاہے ہرگز وقف پر نہ پڑیں گےنہ کوئی وقف ان کا ذمہ دار ہوگازید تو زید حاکم وقاضی کو بھی وقف میں ایسے ایجاد کا شرعا اختیار نہیں۔عقودالدریہ مطبع مصر جلد اول صفحہ ۱۹۲:
اذا ثبت الاحداث لایعمل بتقریرہ لان القاضی لیس لہ الاحداث بدون مسوغ شرعی فکیف المتولی وقد صرح فی الذخیرۃ والولوالجیۃ وغیرہما بان القاضی اذا قررفراشا للمسجد بغیر شرط الواقف لم یحل للقاضی ذلك ولم یحل للفراش تناول المعلوم ۔
جب وقف میں نئے مصارف ثابت کئے جائیں تو ان کی تقرری پر عمل نہ کیا جائے گا کیونکہ قاضی کو شرعی جواز کے بغیر نئے امور نافذ کرنے کا اختیار نہیں تو متولی کیسے کرسکتا ہے ذخیرہولوالجیہ وغیرہما میں تصریح ہے کہ اگر قاضی نے واقف کی شرط کے بغیر مسجد کے لئے فرش کی صفائی کرنے والا مقرر کردیا تو قاضی کو یہ اختیار نہیں ہے اور اس مقرر شدہ کو بھی مقررہ وظیفہ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔(ت)
ایضا ص۱۸۸(ص۱۸۸پر بھی ہے۔ت):
واخذ القاضی واعوانہ المال کاخذ قاضی اور اس کے عملہ کا وقف مال کولینا ایسا ہی ہے
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۲۰
اللصوص۔ جیسے چوروں کا لینا ہے۔(ت)
بحرالرائق مطبع مصر جلد پنجم ص۲۶۰:
فی البزازیہ المتولی لو امیا فاستاجر الکاتب لحسابہ لایجوزلہ اعطاء الاجرۃ من مال الوقف ۔ بزازیہ میں ہے کہ متولی اگر تعلیم والا نہ ہو اور حسابات کیلئے وہ کسی کو اجرت پر رکھ لے تو متولی کو اس کی اجرت وقف مال سے دینا جائز نہیں ہے۔(ت)
ایضا ص۲۴۵:
فان قلت فی تقریر الفراش مصلحۃ قلت یمکن خدمۃ المسجد بدون تقریرہ بان یستأجر المتولی فراشالہ والممنوع تقریرہ فی وظیفۃ تکون حقالہ ولذاصرح قاضیخان بان للمتولی ان یستأجر خادما للمسجد باجرۃ المثل واستفید منہ عدم صحۃ تقریر القاضی فی بقیۃ الوظائف بغیر شرط الواقف کشہادۃ ومباشرۃ وطلب بالاولی وحرمۃ المرتبات بالاوقاف بالاولی ۔ اگر تیراسوال ہو کہ مسجد کے لئے صفائی والے میں وقف کی اصلاح ہے تو میں کہوں گا کہ مسجد کی خدمت مستقل تقرری کے بغیر بھی ممکن ہے کہ متولی اجرت پر کسی سے کرالے مستقل وظیفہ پر تقرری ممنوع ہےاور اسی لئے قاضی خاں نے تصریح کی ہے کہ متولی مسجد کیلئے مروجہ اجرت پر کسی خادم سے کام لے سکتا ہے اور اس سے معلوم ہوا کہ قاضی وقف کے بقایا وظائف میں مستقل تقرری واقف کی شرط کے بغیر نہیں کرسکتامثلا شہادت اور اس کی ادائیگی اور اس کا طلب کرنا بطریق اولی اور اوقاف کے حسابات کو مرتب کرنا بطریق اولی(مستقل تقرری ممنوع ہوگی۔(ت)
ایضاص ۲۶۳:
فقد علمت ان مشروعیۃ المحاسبات للنظار انما ھی لیعرف القاضی الخائن من الامین لا لاخذ شیئ من النظار للقاضی واتباعہ والواقع بالقاہرۃ فی زماننا الثانی وقد شاھدنا تو معلوم کرچکا کہ نگران حضرات سے حساب یہ صرف اس لئے مشروع ہے کہ قاضی کو معلوم ہوسکے کہ کون خائن ہے یا امین ہے اس لئے نہیں کہ قاضی اور اس کے عملہ کے لئے نگرانوں سے کچھ وصولی کی جائے جبکہ
بحرالرائق مطبع مصر جلد پنجم ص۲۶۰:
فی البزازیہ المتولی لو امیا فاستاجر الکاتب لحسابہ لایجوزلہ اعطاء الاجرۃ من مال الوقف ۔ بزازیہ میں ہے کہ متولی اگر تعلیم والا نہ ہو اور حسابات کیلئے وہ کسی کو اجرت پر رکھ لے تو متولی کو اس کی اجرت وقف مال سے دینا جائز نہیں ہے۔(ت)
ایضا ص۲۴۵:
فان قلت فی تقریر الفراش مصلحۃ قلت یمکن خدمۃ المسجد بدون تقریرہ بان یستأجر المتولی فراشالہ والممنوع تقریرہ فی وظیفۃ تکون حقالہ ولذاصرح قاضیخان بان للمتولی ان یستأجر خادما للمسجد باجرۃ المثل واستفید منہ عدم صحۃ تقریر القاضی فی بقیۃ الوظائف بغیر شرط الواقف کشہادۃ ومباشرۃ وطلب بالاولی وحرمۃ المرتبات بالاوقاف بالاولی ۔ اگر تیراسوال ہو کہ مسجد کے لئے صفائی والے میں وقف کی اصلاح ہے تو میں کہوں گا کہ مسجد کی خدمت مستقل تقرری کے بغیر بھی ممکن ہے کہ متولی اجرت پر کسی سے کرالے مستقل وظیفہ پر تقرری ممنوع ہےاور اسی لئے قاضی خاں نے تصریح کی ہے کہ متولی مسجد کیلئے مروجہ اجرت پر کسی خادم سے کام لے سکتا ہے اور اس سے معلوم ہوا کہ قاضی وقف کے بقایا وظائف میں مستقل تقرری واقف کی شرط کے بغیر نہیں کرسکتامثلا شہادت اور اس کی ادائیگی اور اس کا طلب کرنا بطریق اولی اور اوقاف کے حسابات کو مرتب کرنا بطریق اولی(مستقل تقرری ممنوع ہوگی۔(ت)
ایضاص ۲۶۳:
فقد علمت ان مشروعیۃ المحاسبات للنظار انما ھی لیعرف القاضی الخائن من الامین لا لاخذ شیئ من النظار للقاضی واتباعہ والواقع بالقاہرۃ فی زماننا الثانی وقد شاھدنا تو معلوم کرچکا کہ نگران حضرات سے حساب یہ صرف اس لئے مشروع ہے کہ قاضی کو معلوم ہوسکے کہ کون خائن ہے یا امین ہے اس لئے نہیں کہ قاضی اور اس کے عملہ کے لئے نگرانوں سے کچھ وصولی کی جائے جبکہ
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۱۵€
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۴۱€
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۲۷€
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۴۱€
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۲۷€
فیھا من الفساد للاوقاف کثیرا بحیث تقدم کلفۃ المحاسبۃ علی العمارۃ والمستحقین وکل ذلك من علامات الساعۃ ۔ قاہرہ میں اس وقت دوسری صورت مروج ہے وار اس سلسلہ میں ہم نے اوقاف میں بہت سے فسادات کا مشاہدہ کیا ہے جہاں پر محاسبہ کے اخراجات کو اوقاف کی عمارت اور اس کے مستحقین پر تقدم حاصل ہوتا ہے جبکہ یہ تمام امور علامات قیامت سے ہیں(ت)
پھر زمانے کے حالت صدہا سال دگرگوں ہورہی ہےدیانت امانت اورروپے کے معاملے میں حرام و حلال کی پروا نادر رہ گئی ہےابھی اسی عبارت بحرالرائق میں سن چکے کہ وہ اپنے زمانہ میں جسے چار سو برس ہونے آئے قاہرہ کے اوقاف کا کیاحال بتاتے ہیں کہ اہلکاروں کے حساب فہمیوں ہی نے وقف کے وقف تباہ کردئے ابھی تو متولی تنہا ہے اور اسے حساب کا خوف لگا ہے اور ہر مسلما ن کو اس کی شکایت کا حق پہنچتا ہے اور تغلب کرے تو اس کے ہاتھ میں اپنی برأت کی کوئی دستاویز نہیںاور جب اوقاف رجسٹرڈ کرائے گئے اور حساب فہمی پر اہلکار مقرر ہوئے اور حساب رجسٹروں پر چڑھائے گئے متولیوں کو شکایت و مطالبہ سے تو اطمینان ہوگیا کہ ان کا جمع خرچ پاس ہولیا مگر ان میں جو خائن ہیں ان کا خیانت سے باز آنا معلومبلکہ وہ اپنی اغراض فاسدہ کیلئے حساب فہموں کو بھی راضی کرنا چاہیں گے اور انہیں بہت ایسے مل بھی سکیں گے اس وقت وقف میں ایك کی جگہ دس حصے ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کاصاف وہی نتیجہ ہے جو بحر میں فرمایا کہ شاھدنا فیہا من الفساد للاوقاف کثیرا (ہم نے قاہرہ میں اوقاف کا کثیر فساد دیکھا ہے۔ت)اور ان کا وہ اعتراض تو ضرور لازم ہے کہ وہ خلاف شرع فیسیں قاہرہ میں خواہی نخواہی لی گئیںوقف کی عمارت اور اس کے مستحقوں کا حق پورا ہو یانہ ہونسأل اﷲ العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیمواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۸۰: از سہسوان مسئولہ مولوی فضل احمد بدایونی ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۰ھ
اگر جائداد موقوفہ سے رجوع شرعا ناجائز ہوتو ایسے میں توسیع خرچ کی کرسکتاہے مثلا پندرہ روپے ماہوار یادس روپے ماہوار متولی کو ملتا ہے بوجہ تنگی عیال اطفال گزر مشکل ہےنوکری چاکری کی قوت یاہمت نہیں اور کام آپ ہی کرتا ہے اگر اپنے خرچ توسیع کرے جائزہے یانہیں
پھر زمانے کے حالت صدہا سال دگرگوں ہورہی ہےدیانت امانت اورروپے کے معاملے میں حرام و حلال کی پروا نادر رہ گئی ہےابھی اسی عبارت بحرالرائق میں سن چکے کہ وہ اپنے زمانہ میں جسے چار سو برس ہونے آئے قاہرہ کے اوقاف کا کیاحال بتاتے ہیں کہ اہلکاروں کے حساب فہمیوں ہی نے وقف کے وقف تباہ کردئے ابھی تو متولی تنہا ہے اور اسے حساب کا خوف لگا ہے اور ہر مسلما ن کو اس کی شکایت کا حق پہنچتا ہے اور تغلب کرے تو اس کے ہاتھ میں اپنی برأت کی کوئی دستاویز نہیںاور جب اوقاف رجسٹرڈ کرائے گئے اور حساب فہمی پر اہلکار مقرر ہوئے اور حساب رجسٹروں پر چڑھائے گئے متولیوں کو شکایت و مطالبہ سے تو اطمینان ہوگیا کہ ان کا جمع خرچ پاس ہولیا مگر ان میں جو خائن ہیں ان کا خیانت سے باز آنا معلومبلکہ وہ اپنی اغراض فاسدہ کیلئے حساب فہموں کو بھی راضی کرنا چاہیں گے اور انہیں بہت ایسے مل بھی سکیں گے اس وقت وقف میں ایك کی جگہ دس حصے ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کاصاف وہی نتیجہ ہے جو بحر میں فرمایا کہ شاھدنا فیہا من الفساد للاوقاف کثیرا (ہم نے قاہرہ میں اوقاف کا کثیر فساد دیکھا ہے۔ت)اور ان کا وہ اعتراض تو ضرور لازم ہے کہ وہ خلاف شرع فیسیں قاہرہ میں خواہی نخواہی لی گئیںوقف کی عمارت اور اس کے مستحقوں کا حق پورا ہو یانہ ہونسأل اﷲ العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیمواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۸۰: از سہسوان مسئولہ مولوی فضل احمد بدایونی ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۰ھ
اگر جائداد موقوفہ سے رجوع شرعا ناجائز ہوتو ایسے میں توسیع خرچ کی کرسکتاہے مثلا پندرہ روپے ماہوار یادس روپے ماہوار متولی کو ملتا ہے بوجہ تنگی عیال اطفال گزر مشکل ہےنوکری چاکری کی قوت یاہمت نہیں اور کام آپ ہی کرتا ہے اگر اپنے خرچ توسیع کرے جائزہے یانہیں
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۴€۳
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۴۳€
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۴۳€
الجواب:
اﷲ عز وجل فرماتا ہے:
"ومن کان فقیرا فلیاکل المعروف "
جو حاجت مند ہے وہ موافق دستورکھائے۔
اور فرماتا ہے:
" و الله یعلم المفسد من المصلح "
خداخوب جانتا ہے کون بگاڑنے والا ہے اور کون سنوارنے والا۔
اور حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
رب متخوض فیما شاءت نفسہ من مال اﷲ ورسولہ لیس لہ یوم القیمۃ الا النار ۔رواہ احمد والترمذی وقال حسن صحیح عن خولۃ بنت قیس والبیھقی فی الشعب عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم۔
بہت وہ کہ اﷲ و رسول کے مال میں اپنی خواہش نفس کے مطابق دھنستے ہیں ان کے لئے قیامت میں نہیں مگر آگ(اس کو احمد نے اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو خولہ بنت قیس سے صحیح اور حسن قرار دیا ہے اور بیہقی نے اس کو اپنی شعب میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
لوکان لابن ادم واد من ذھب لابتغی الیہ ثانیا ولوکان لہ وادیان لابتغی الیہما ثالثا ولا یملأجوف ابن ادم الا التراب ویتوب اﷲ علی من تاب ۔رواہ
اگر ابن آدم کے لئے ایك جنگل بھر سونا ہوتو دوسرا جنگل اور مانگے اور دو جنگل ہوں تو تیسرا اور چاہےاور ابن آدم کا پیٹ نہیں بھرتی مگر خاك اور تائب کی توبہ اللہ قبول کرتا ہے(اس کو
اﷲ عز وجل فرماتا ہے:
"ومن کان فقیرا فلیاکل المعروف "
جو حاجت مند ہے وہ موافق دستورکھائے۔
اور فرماتا ہے:
" و الله یعلم المفسد من المصلح "
خداخوب جانتا ہے کون بگاڑنے والا ہے اور کون سنوارنے والا۔
اور حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
رب متخوض فیما شاءت نفسہ من مال اﷲ ورسولہ لیس لہ یوم القیمۃ الا النار ۔رواہ احمد والترمذی وقال حسن صحیح عن خولۃ بنت قیس والبیھقی فی الشعب عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم۔
بہت وہ کہ اﷲ و رسول کے مال میں اپنی خواہش نفس کے مطابق دھنستے ہیں ان کے لئے قیامت میں نہیں مگر آگ(اس کو احمد نے اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو خولہ بنت قیس سے صحیح اور حسن قرار دیا ہے اور بیہقی نے اس کو اپنی شعب میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
لوکان لابن ادم واد من ذھب لابتغی الیہ ثانیا ولوکان لہ وادیان لابتغی الیہما ثالثا ولا یملأجوف ابن ادم الا التراب ویتوب اﷲ علی من تاب ۔رواہ
اگر ابن آدم کے لئے ایك جنگل بھر سونا ہوتو دوسرا جنگل اور مانگے اور دو جنگل ہوں تو تیسرا اور چاہےاور ابن آدم کا پیٹ نہیں بھرتی مگر خاك اور تائب کی توبہ اللہ قبول کرتا ہے(اس کو
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۶
القرآن الکریم ۲ /۲۲۰
جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء ان الغنی غنی النفس امین کمپنی دہلی ۲/ ۶۰
الترغیب والترھیب بحوالہ البزاز الترغیب فی الاقتصاد حدیث۳۱ مصطفی البابی مصر ۲/ ۵۴۲،صحیح البخاری باب مایتقی من فتنۃ المال قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۵۳،مسند احمد بن حنبل حدیث ابی واقد اللیثی دارالفکر بیروت ۵/ ۲۱۹
القرآن الکریم ۲ /۲۲۰
جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء ان الغنی غنی النفس امین کمپنی دہلی ۲/ ۶۰
الترغیب والترھیب بحوالہ البزاز الترغیب فی الاقتصاد حدیث۳۱ مصطفی البابی مصر ۲/ ۵۴۲،صحیح البخاری باب مایتقی من فتنۃ المال قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۵۳،مسند احمد بن حنبل حدیث ابی واقد اللیثی دارالفکر بیروت ۵/ ۲۱۹
احمد والشیخان عن ابن عباس والترمذی عن انس والبخاری عن ابن الزبیر وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ و احمد عن ابی واقد والبخاری فی التاریخ والبزار عن بریدۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔
شیخین نے ابن عباس اور ترمذی نے انس سے اور بخاری نے ابن زبیر سے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ سے اور احمد نے ابو واقد سے اور بخاری نے تاریخ میں اور بزار نے بریدہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ت)
وقف سے رجوع ناممکنپھر جو ماہوار مقرر ہوا اگر اس کے صدق سعی وحسن خدمت کے لحاظ سے بقدر اجر مثل کے نہیں تو ضرور اجر مثل کی تکمیل کردی جائے گیاور اگر واقعی اجر مثل بھی اسکے واجبی صرف کو کفایت نہ کرے تو وقف کی فاضلات سے تاحد کفایت ماہوار میں اضافہ بھی ممکنمگر نہ یوں کہ بطور خود کہ خود ہی مدعی اور خود ہی حاکم ہونا ٹھیك نہیںبلکہ وہاں کے افقہ اہل بلد عالم سنی دیندار کی طرف رجوع کرے یا متعدد معزز متدین ذی رائے مسلمانان شہر کے سپردکردے وہ بعد تحقیقات کامل اجر مثل تك حکم دیں یا بشرط صدق حاجت وعدم کفایت تاقدر کفایت اضافہ کریںاس تقدیر پر ان کو یہ بھی ملحوظ رہے کہ جب واقف خود ہی متولی ہوا اور خود ہی وقت وقف یہ ماہوار تجویز کیا تو اب کون سی بات حادث ہوئی کہ وہ ماہوار ناکافی ہوگیا
ردالمحتارمیں ہے:
الناظر بشرط الواقف فلہ ماعینہ لہ الواقف ولو اکثر من اجر المثل کمافی البحر ولوعین لہ اقل فللقاضی ان یکمل لہ اجر المثل بطلبہ کما بحثہ فی انفع الوسائلویأتی قریبا مایؤیدہوھذا مقید لقولہ الاتی لیس للمتولی اخذ زیادۃ علی ماقررلہ الواقف اصلا ۔
نگران کو واقف کی شرط کے مطابق مقررہ وظیفہ ملے گا اگرچہ یہ مروج سے زائد ہواور اگر واقف کا مقرر کردہ مروج سے کم ہو تو اس کے مطالبہ پر مروج تك مکمل کرنے کا اختیار ہے جیسا کہ اس کو انفع الوسائل نے بحث کے طور پر ذکر کیا ہے اور اس کی مزید تائید عنقریب آئے گی اور یہ اس کے آئندہ قول کے "متولی کو مقررہ پر زیادتی کا ہرگز اختیار نہیں ہے" سے مقید ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
تجوز الزیادۃ من القاضی علی معلوم جب امام کے لئے مقررہ وظیفہ کفایت نہ کرے تو
شیخین نے ابن عباس اور ترمذی نے انس سے اور بخاری نے ابن زبیر سے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ سے اور احمد نے ابو واقد سے اور بخاری نے تاریخ میں اور بزار نے بریدہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ت)
وقف سے رجوع ناممکنپھر جو ماہوار مقرر ہوا اگر اس کے صدق سعی وحسن خدمت کے لحاظ سے بقدر اجر مثل کے نہیں تو ضرور اجر مثل کی تکمیل کردی جائے گیاور اگر واقعی اجر مثل بھی اسکے واجبی صرف کو کفایت نہ کرے تو وقف کی فاضلات سے تاحد کفایت ماہوار میں اضافہ بھی ممکنمگر نہ یوں کہ بطور خود کہ خود ہی مدعی اور خود ہی حاکم ہونا ٹھیك نہیںبلکہ وہاں کے افقہ اہل بلد عالم سنی دیندار کی طرف رجوع کرے یا متعدد معزز متدین ذی رائے مسلمانان شہر کے سپردکردے وہ بعد تحقیقات کامل اجر مثل تك حکم دیں یا بشرط صدق حاجت وعدم کفایت تاقدر کفایت اضافہ کریںاس تقدیر پر ان کو یہ بھی ملحوظ رہے کہ جب واقف خود ہی متولی ہوا اور خود ہی وقت وقف یہ ماہوار تجویز کیا تو اب کون سی بات حادث ہوئی کہ وہ ماہوار ناکافی ہوگیا
ردالمحتارمیں ہے:
الناظر بشرط الواقف فلہ ماعینہ لہ الواقف ولو اکثر من اجر المثل کمافی البحر ولوعین لہ اقل فللقاضی ان یکمل لہ اجر المثل بطلبہ کما بحثہ فی انفع الوسائلویأتی قریبا مایؤیدہوھذا مقید لقولہ الاتی لیس للمتولی اخذ زیادۃ علی ماقررلہ الواقف اصلا ۔
نگران کو واقف کی شرط کے مطابق مقررہ وظیفہ ملے گا اگرچہ یہ مروج سے زائد ہواور اگر واقف کا مقرر کردہ مروج سے کم ہو تو اس کے مطالبہ پر مروج تك مکمل کرنے کا اختیار ہے جیسا کہ اس کو انفع الوسائل نے بحث کے طور پر ذکر کیا ہے اور اس کی مزید تائید عنقریب آئے گی اور یہ اس کے آئندہ قول کے "متولی کو مقررہ پر زیادتی کا ہرگز اختیار نہیں ہے" سے مقید ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
تجوز الزیادۃ من القاضی علی معلوم جب امام کے لئے مقررہ وظیفہ کفایت نہ کرے تو
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۷
الامام اذا کان لایکفیہ ۔ قاضی کو زائد کرنے کا اختیار ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الظاھر انہ یلحق بہ کل من فی قطعہ ضرر اذا کان المعین لایکفیہ کالناظر والمؤذن ومدرس المدرسۃ والبواب ونحوھم اذا لم یعملوا بدون الزیادۃیؤیدہ مافی البزازیۃ اذا کان الامام والمؤذن لایستقرلقلۃ المرسوم للحاکم الدین ان یصرف الیہ من فاضل وقف المصالح والعمارۃ باستصواب اھل الصلاح من اھل المحلۃ لو اتحد الواقف والجھۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
ظاہر ہے کہ جس کومعزول کرنے میں نقصان ہوکہ مقررہ اس کو کفایت نہ کرتا ہو تو اس کے معاملہ کو بھی اس سے لاحق کیاجائے گا مثلا نگرانمؤذنمدرسچوکیدار وغیرہ حضرات جب یہ لوگ وظیفہ زائد کئے بغیر کام نہ کریںاس کی تائید بزازیہ کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے کہ جب امام اور مؤذن وظیفہ کی قلت کی وجہ سے استقرار نہ کریں تو حاکم دین کو محلہ کے اہل لوگوں کے مشورہ سے وقف کے مصالح اور عمارت سے فاضل آمدنی میں سے ان کےلئے صرف کرنے کااختیار ہے بشرطیکہ فاضل آمدنی والے اوقاف کا واقف اور ان کی جہت ایك ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۸۱: از رام پور محلہ چاہ شورمحمود الظفر خان عرف چھمن خان ۹ربیع الثانی۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد بایں الفاظ وقف کی کہ تاحیات اپنی آمدنی جائداد موقوفہ کی اپنے مصارف میں لاتا رہوںبعد میرے اولاد اپنی ضروریات میں صرف کرتی رہےجب میرے اولاد میں سے کوئی شخص باقی نہ رہے تو علمائے صالحین محل مشروع میں صرف کرتے رہیںاب دریافت طلب یہ امر ہے کہ عمرو دائن زید مدیون کی اس آمدنی پر جو تاحیات اس کو جائداد موقوفہ سے اپنے مصارف میں لارہا ہے اجرائے ڈگری چاہتا ہے تو وہ شرعا کراسکتا ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
ہاں جائداد پر نہیں کرسکتا آمدنی جو زید کو ملتی ہے اس پر کرسکتا ہے کہ جائداد وقف ہے اور آمدنی زید کی ملک۔ردالمحتار میں ہے:
الموقوف علیہ یملك المنافع بلابدل ۔ وا ﷲتعالی اعلم۔
موقوف علیہ حضرات وقف کے منافع کے بلا عوض مالك ہوں گے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الظاھر انہ یلحق بہ کل من فی قطعہ ضرر اذا کان المعین لایکفیہ کالناظر والمؤذن ومدرس المدرسۃ والبواب ونحوھم اذا لم یعملوا بدون الزیادۃیؤیدہ مافی البزازیۃ اذا کان الامام والمؤذن لایستقرلقلۃ المرسوم للحاکم الدین ان یصرف الیہ من فاضل وقف المصالح والعمارۃ باستصواب اھل الصلاح من اھل المحلۃ لو اتحد الواقف والجھۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
ظاہر ہے کہ جس کومعزول کرنے میں نقصان ہوکہ مقررہ اس کو کفایت نہ کرتا ہو تو اس کے معاملہ کو بھی اس سے لاحق کیاجائے گا مثلا نگرانمؤذنمدرسچوکیدار وغیرہ حضرات جب یہ لوگ وظیفہ زائد کئے بغیر کام نہ کریںاس کی تائید بزازیہ کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے کہ جب امام اور مؤذن وظیفہ کی قلت کی وجہ سے استقرار نہ کریں تو حاکم دین کو محلہ کے اہل لوگوں کے مشورہ سے وقف کے مصالح اور عمارت سے فاضل آمدنی میں سے ان کےلئے صرف کرنے کااختیار ہے بشرطیکہ فاضل آمدنی والے اوقاف کا واقف اور ان کی جہت ایك ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۸۱: از رام پور محلہ چاہ شورمحمود الظفر خان عرف چھمن خان ۹ربیع الثانی۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد بایں الفاظ وقف کی کہ تاحیات اپنی آمدنی جائداد موقوفہ کی اپنے مصارف میں لاتا رہوںبعد میرے اولاد اپنی ضروریات میں صرف کرتی رہےجب میرے اولاد میں سے کوئی شخص باقی نہ رہے تو علمائے صالحین محل مشروع میں صرف کرتے رہیںاب دریافت طلب یہ امر ہے کہ عمرو دائن زید مدیون کی اس آمدنی پر جو تاحیات اس کو جائداد موقوفہ سے اپنے مصارف میں لارہا ہے اجرائے ڈگری چاہتا ہے تو وہ شرعا کراسکتا ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
ہاں جائداد پر نہیں کرسکتا آمدنی جو زید کو ملتی ہے اس پر کرسکتا ہے کہ جائداد وقف ہے اور آمدنی زید کی ملک۔ردالمحتار میں ہے:
الموقوف علیہ یملك المنافع بلابدل ۔ وا ﷲتعالی اعلم۔
موقوف علیہ حضرات وقف کے منافع کے بلا عوض مالك ہوں گے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۱
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۸
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۹۹
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۸
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۹۹
مسئلہ۸۳: ازضلع سیتا پورلاہر پور مدرسہ اسلامیہ مسئولہ ابو محمد یوسف متعلم مدرسہ اسلامیہ ۱۲صفر المظفر ۱۳۳۴ھ سہ شنبہ
والا جناب مستطاب اعلیحضرت مجدد مائۃ حاضرہ لازال شموس افضالکم تسلیم مسنون کریم مشحون معظم مقرون گزارش ہے بصدور والا نامہ فیض شمامہ عزت افزائی ہوئیجواب استفتاء بیحد تسکین بخش صادر ہوگیاا ﷲ تعالی جناب والا کی بزرگ ذات کو ہمیشہ سلامت رکھے اور اس فیض عام سے مسلمانان عالم کو فیضیاب فرماتارہے آمین بحرمۃ النبی والہ الامجادجناب مولانا خلیل الرحمن صاحب مرحوم مغفور کی خبر رحلت دریافت ہوکر بہت رنج ہواصرف ایك بات اور دریافت طلب ہے جو گزارش کی جاتی ہے ازراہ شفقت بزرگانہ ا سکے جواب سے بھی مطلع کیا جاؤںبجواب استفتاء مزامیر پر صرف ناجائز فرمایا بہت درست وبجا ارشاد ہے عین حکم شریعت ہے صرف اس قدر عرض ہے کہ صرف کسی قوال سے کوئی قصیدہ یا غزل نعتیہ یا توحید وغیرہ یا سلام وغیرہ سن کر عین حالت سماع میں یابوقت رخصت حسب شدائد قوانین سابق اوقات اوقاف سے بطور زاد راہ قلیل یا کثیر دینا جائز ہے یانہیں جیسا کہ مشائخ علیہم الرحمۃ کی مجالس عرس میں بزرگوں کا دستو رہےدرا نحالیکہ وہ مزامیر سے خالی ہوں اور اس پر حضور انور حیات رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اس فعل سے سند لینا جو حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہسے ثابت ہے کہ حضور نے حسان رضی اللہ تعالی عنہکو قصیدہ سن کر ردائے مبارك عنایت فرمائی تھی ٹھیك ہے یانہیںامید وار ہوں کہ اسی عریضہ پر یہ جواب بھی مرحمت ہوجائےعین ذرہ نوازی ہوگی فقط۔
الجواب:
قوال اگر نہ امرد ہو نہ عورتاور اشعار صحیحہ حمد ونعت ومنقبت بلا مزامیر خوش الحانی سے پڑھے یا خاص مجمع صالحین میں ان کے ساتھ تغنی کرے بالجملہ نہ کسی فتنہ پر فی الحال اشتمال نہ آئندہ اس کا صحیح احتمالتو صحیح یہ ہے کہ بلاشبہ جائز ہے اور اس پر لینادینا بھی روا اور واقعہ کعب بن زہیر رضی اﷲتعالی عنہ سے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ان سے قصیدہ نعتیہ استماع فرماکر ردائے مبارك عطا فرمائی اس پر استناد صحیح ہےاور جبکہ شدائد قدیم میں اس صورت جائزہ پر دینا چلاآیا ہے تو اب بھی دیا جائے گا بلکہ وہ صادرین وواردین میں داخل ہےاور قلیل وکثیر بھی معہود قدیم پر دائر رہے گاواﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۸۳تا۸۷: مسئولہ بدرالدین صاحب ۳۰محرم الحرام ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ جامع مسجد بمبئی کے احاطہ میں ایك دفتر خانہ ہے اور جس کے انتظام کے متعلق گیارہ اشخاص کو کنی جماعت المسلمین بمبئی کی جانب سے مشاور مقرر ہیں
والا جناب مستطاب اعلیحضرت مجدد مائۃ حاضرہ لازال شموس افضالکم تسلیم مسنون کریم مشحون معظم مقرون گزارش ہے بصدور والا نامہ فیض شمامہ عزت افزائی ہوئیجواب استفتاء بیحد تسکین بخش صادر ہوگیاا ﷲ تعالی جناب والا کی بزرگ ذات کو ہمیشہ سلامت رکھے اور اس فیض عام سے مسلمانان عالم کو فیضیاب فرماتارہے آمین بحرمۃ النبی والہ الامجادجناب مولانا خلیل الرحمن صاحب مرحوم مغفور کی خبر رحلت دریافت ہوکر بہت رنج ہواصرف ایك بات اور دریافت طلب ہے جو گزارش کی جاتی ہے ازراہ شفقت بزرگانہ ا سکے جواب سے بھی مطلع کیا جاؤںبجواب استفتاء مزامیر پر صرف ناجائز فرمایا بہت درست وبجا ارشاد ہے عین حکم شریعت ہے صرف اس قدر عرض ہے کہ صرف کسی قوال سے کوئی قصیدہ یا غزل نعتیہ یا توحید وغیرہ یا سلام وغیرہ سن کر عین حالت سماع میں یابوقت رخصت حسب شدائد قوانین سابق اوقات اوقاف سے بطور زاد راہ قلیل یا کثیر دینا جائز ہے یانہیں جیسا کہ مشائخ علیہم الرحمۃ کی مجالس عرس میں بزرگوں کا دستو رہےدرا نحالیکہ وہ مزامیر سے خالی ہوں اور اس پر حضور انور حیات رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اس فعل سے سند لینا جو حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہسے ثابت ہے کہ حضور نے حسان رضی اللہ تعالی عنہکو قصیدہ سن کر ردائے مبارك عنایت فرمائی تھی ٹھیك ہے یانہیںامید وار ہوں کہ اسی عریضہ پر یہ جواب بھی مرحمت ہوجائےعین ذرہ نوازی ہوگی فقط۔
الجواب:
قوال اگر نہ امرد ہو نہ عورتاور اشعار صحیحہ حمد ونعت ومنقبت بلا مزامیر خوش الحانی سے پڑھے یا خاص مجمع صالحین میں ان کے ساتھ تغنی کرے بالجملہ نہ کسی فتنہ پر فی الحال اشتمال نہ آئندہ اس کا صحیح احتمالتو صحیح یہ ہے کہ بلاشبہ جائز ہے اور اس پر لینادینا بھی روا اور واقعہ کعب بن زہیر رضی اﷲتعالی عنہ سے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ان سے قصیدہ نعتیہ استماع فرماکر ردائے مبارك عطا فرمائی اس پر استناد صحیح ہےاور جبکہ شدائد قدیم میں اس صورت جائزہ پر دینا چلاآیا ہے تو اب بھی دیا جائے گا بلکہ وہ صادرین وواردین میں داخل ہےاور قلیل وکثیر بھی معہود قدیم پر دائر رہے گاواﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۸۳تا۸۷: مسئولہ بدرالدین صاحب ۳۰محرم الحرام ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ جامع مسجد بمبئی کے احاطہ میں ایك دفتر خانہ ہے اور جس کے انتظام کے متعلق گیارہ اشخاص کو کنی جماعت المسلمین بمبئی کی جانب سے مشاور مقرر ہیں
ان میں سے اکثرین کی رائے سے یہ قرار داد طے ہوئی ہے کہ دفتر خانہ مذکور میں ٹیلیفون لیا جائے باوجودیکہ نہ مسجد کے ساتھ کوئی تجارتی تعلقات ہیں اور نہ کوئی دوسرے اسباب ٹیلیفون کےبلکہ اس سے فقط تضییع مال وقف ہےپس ایسے ٹیلیفون کا لینا مال وقف سے شرعا درست ہے یانہیں
دوسرا اسی کے ساتھ یہ قرار داد بھی طے ہوئی کہ دفتر خانہ مذکور میں جہاں مجلس منتظمہ مشاورین منعقد ہوتی ہے وہاں ایك برقی پنکھا اپنے آرام وتعیش کے واسطے لیا جائےآیا ایسا خرچ مال وقف میں سے کرنا جائز ہے یانہیں
تیسرا سوال یہ ہے کہ دفتر خانہ مذکور میں باوجودیکہ گیاس کی روشنی موجود ہے اس کو رد کرکے اس کی جگہ برقی روشنی کے خرچ کا مال وقف کو زیر بار کرنا شرعا کیا حکم رکھتا ہے اطلاعا یہ بھی گزارش ہے کہ مجلس منتظمہ کے اجلاس علی الدوام زمانہ قدیم سے دن کے وقف طے ہوتے ہیں اور اگر احیانا رات کوضرورت پڑی تو گیاس کی روشنی موجود ہے برقی روشنی کی بالکل ضرورت نہیں۔
چوتھا سوال یہ ہے کہ ایسے مشاورین جو مال وقف سے ایسے فضول اور اسراف بیجا کریں ان کے متعلق شریعت غراکا کیا حکم ہے
پس ان مسائل مذکورہ کے جوابات کتب شرعیہ سے مدلل بیان فرمائیں جزاکم اﷲ خیرابینواتوجروا۔
پانچواں سوال یہ ہے کہ مانعین متولیوں سے ایك نے کہا کہ اس باب میں یعنی مال اوقاف سے ان کاموں میں صرف کرنے سے علماء سے رائے لینا شرعا ضرور ہےپس متولیان مجوزین سے ایك نے کہا کہ یہاں شریعت کی کچھ ضرورت نہیں۔ اوردوسرے نے کہا میں تو عالموں کے منہ میں پیشاب کرتا ہوںاس وقت اس سے کہا گیا کہ یہ کیا کلمہ کہتا ہےخدا سے ڈر۔تو اس نے کہا کہ خدا تو اوپر ہے اور ہم زمین پراگر خدایہاں آئے توہم اس کو درست کردیں گے۔پس ایسے کلمات ناشائستہ کہنے والوں کا شرعا کیاحکم ہےمفصل ومدلل مع سند ہائے کتب شرعیہ بیان فرمائیں۔جزاکم اﷲ۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں یہ نئی بدعتیں کہ مشاورین وقف میں حادث کیا چاہتے ہیں ٹیلیفون اور برقی پنکھا اور برقی روشنی مال وقف پر بار ڈالنا محض حرام ہےفتح القدیر میں ہے:
امرنا بابقاء الوقف علی ماکان ۔ ہمیں حکم ہے کہ وقف کو گزشتہ حال پر قائم رکھیں۔(ت)
دوسرا اسی کے ساتھ یہ قرار داد بھی طے ہوئی کہ دفتر خانہ مذکور میں جہاں مجلس منتظمہ مشاورین منعقد ہوتی ہے وہاں ایك برقی پنکھا اپنے آرام وتعیش کے واسطے لیا جائےآیا ایسا خرچ مال وقف میں سے کرنا جائز ہے یانہیں
تیسرا سوال یہ ہے کہ دفتر خانہ مذکور میں باوجودیکہ گیاس کی روشنی موجود ہے اس کو رد کرکے اس کی جگہ برقی روشنی کے خرچ کا مال وقف کو زیر بار کرنا شرعا کیا حکم رکھتا ہے اطلاعا یہ بھی گزارش ہے کہ مجلس منتظمہ کے اجلاس علی الدوام زمانہ قدیم سے دن کے وقف طے ہوتے ہیں اور اگر احیانا رات کوضرورت پڑی تو گیاس کی روشنی موجود ہے برقی روشنی کی بالکل ضرورت نہیں۔
چوتھا سوال یہ ہے کہ ایسے مشاورین جو مال وقف سے ایسے فضول اور اسراف بیجا کریں ان کے متعلق شریعت غراکا کیا حکم ہے
پس ان مسائل مذکورہ کے جوابات کتب شرعیہ سے مدلل بیان فرمائیں جزاکم اﷲ خیرابینواتوجروا۔
پانچواں سوال یہ ہے کہ مانعین متولیوں سے ایك نے کہا کہ اس باب میں یعنی مال اوقاف سے ان کاموں میں صرف کرنے سے علماء سے رائے لینا شرعا ضرور ہےپس متولیان مجوزین سے ایك نے کہا کہ یہاں شریعت کی کچھ ضرورت نہیں۔ اوردوسرے نے کہا میں تو عالموں کے منہ میں پیشاب کرتا ہوںاس وقت اس سے کہا گیا کہ یہ کیا کلمہ کہتا ہےخدا سے ڈر۔تو اس نے کہا کہ خدا تو اوپر ہے اور ہم زمین پراگر خدایہاں آئے توہم اس کو درست کردیں گے۔پس ایسے کلمات ناشائستہ کہنے والوں کا شرعا کیاحکم ہےمفصل ومدلل مع سند ہائے کتب شرعیہ بیان فرمائیں۔جزاکم اﷲ۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں یہ نئی بدعتیں کہ مشاورین وقف میں حادث کیا چاہتے ہیں ٹیلیفون اور برقی پنکھا اور برقی روشنی مال وقف پر بار ڈالنا محض حرام ہےفتح القدیر میں ہے:
امرنا بابقاء الوقف علی ماکان ۔ ہمیں حکم ہے کہ وقف کو گزشتہ حال پر قائم رکھیں۔(ت)
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰
یہ وہاں فرمایا ہے کہ جہاں منافع وقف کے لئے مصارف مشروطہ پر زیادت کی جائے نہ کہ بے حاجت نہ کہ اپنا تعیش و ترفع یہ حرام در حرام ہےمال وقف حکم مال یتیم میں ہے اور رب عز وجل فرماتا ہے:
"ان الذین یاکلون امول الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نارا "
جو لوگ یتیموں کا مال ظلما کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔(ت)
یہ اسراف ہے اور اﷲ مسرفوں کو دوست نہیں رکھتا " انه لا یحب المسرفین(۱۴۱) " (اﷲ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ت) اور اﷲ عز وجل فرماتا ہے:
"ان المبذرین کانوا اخون الشیطین وکان الشیطن لربہ کفورا (۲۷)"
بیشك مال بیجااڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑاناشکرا ہے۔
یہ ان کو فرمایا جو اپنا مال بیجا اڑائیں نہ کہ وقف کا۔ایسے مشاوروں کو معزول کرنا واجب ہےدرمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولو الواقف درر فغیرہ بالاولی غیر مأمون ۔
لازمی طور پر معزول کیا جائے اگرچہ واقف ہودرر۔تو دوسرے اگر قابل اعتماد نہ ہوں تو وہ بطریق اولی معزول ہوں گے۔(ت)
یعنی اگر خود واقف کی طرف سے مال وقف پر کوئی اندیشہ ہوتو واجب ہے کہ اسے بھی نکال دیاجائےاور وقف اس کے ہاتھ سے لے لیاجائے تو غیر واقف بدرجہ اولی واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ایسے اقوال ملعونہ بکنے والا کافر مرتد ہے اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئیمسلمانوں پر اس سے میل جول حرام ہےوقف مسلماناں میں اسے دخل دینا حرام ہےاس کے پاس اٹھنا بیٹھنا حرام ہےاس کا جنازہ اٹھانا حرام ہےجنازہ کے ساتھ جانا حرام ہےاسے مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام ہےاسکی قبر پر کھڑا ہونا حرام ہےاسے کسی قسم کا ایصال ثواب کرنا کفر ہے۔
قال اﷲتعالی "ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔
ا ﷲ تعالی نے فرمایا:ان میں سے فوت ہونیوالے پر نماز جنازہ ہرگز نہ پڑھو اور نہ آپ ان کی قبر پرقیام فرمائیں(ت)
"ان الذین یاکلون امول الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نارا "
جو لوگ یتیموں کا مال ظلما کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔(ت)
یہ اسراف ہے اور اﷲ مسرفوں کو دوست نہیں رکھتا " انه لا یحب المسرفین(۱۴۱) " (اﷲ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ت) اور اﷲ عز وجل فرماتا ہے:
"ان المبذرین کانوا اخون الشیطین وکان الشیطن لربہ کفورا (۲۷)"
بیشك مال بیجااڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑاناشکرا ہے۔
یہ ان کو فرمایا جو اپنا مال بیجا اڑائیں نہ کہ وقف کا۔ایسے مشاوروں کو معزول کرنا واجب ہےدرمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولو الواقف درر فغیرہ بالاولی غیر مأمون ۔
لازمی طور پر معزول کیا جائے اگرچہ واقف ہودرر۔تو دوسرے اگر قابل اعتماد نہ ہوں تو وہ بطریق اولی معزول ہوں گے۔(ت)
یعنی اگر خود واقف کی طرف سے مال وقف پر کوئی اندیشہ ہوتو واجب ہے کہ اسے بھی نکال دیاجائےاور وقف اس کے ہاتھ سے لے لیاجائے تو غیر واقف بدرجہ اولی واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ایسے اقوال ملعونہ بکنے والا کافر مرتد ہے اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئیمسلمانوں پر اس سے میل جول حرام ہےوقف مسلماناں میں اسے دخل دینا حرام ہےاس کے پاس اٹھنا بیٹھنا حرام ہےاس کا جنازہ اٹھانا حرام ہےجنازہ کے ساتھ جانا حرام ہےاسے مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام ہےاسکی قبر پر کھڑا ہونا حرام ہےاسے کسی قسم کا ایصال ثواب کرنا کفر ہے۔
قال اﷲتعالی "ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔
ا ﷲ تعالی نے فرمایا:ان میں سے فوت ہونیوالے پر نماز جنازہ ہرگز نہ پڑھو اور نہ آپ ان کی قبر پرقیام فرمائیں(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۰
القرآن الکریم ۶ /۱۴۱
القرآن الکریم ۱۷ /۲۷
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
القرآن الکریم ۹ /۸۴
القرآن الکریم ۶ /۱۴۱
القرآن الکریم ۱۷ /۲۷
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
القرآن الکریم ۹ /۸۴
جو اسے اب بھی مسلمان جانے یا اس کے کافر مرتد ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے اس کے لئے بھی یہی احکام ہیں۔
شفائے امام قاضی عیاض وبزازیہ وبحرالرائق ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقدکفر ۔
نسأل اﷲ العفو و العافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
"ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جو اس کے کفر اور عذاب میں شك کرے تو وہ کافرہے(ت)
ہم اﷲ تعالی سے معافی اور در گزر کرنے کی درخواست کرتے ہیں لاحول ولاقوۃ ولاباﷲ العلی العظیم۔(ت)
اے ہمارے رب!ہدایت فرمانے کے بعد ہمارے دلوں کو نہ پھیر اور ا پنے فضل سے ہمیں رحمت عطاکربیشك تو بہت عطا کرنے والا ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۸تا۹۱: مرسلہ حکیم محمد حیات خاں صاحب آگرہ کوچہ حکیماں حیات منزل ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اکثر اوقاف بشمول مسجد جامع وغیر ہ آگرہ میں ایك انجمن کے ماتحت و وزیر نگرانی ہیں جس کے پانچ ممبر ہیں منجملہ ان پانچوں کے ایك ممبر صاحب انجمن ہلال احمر آگرہ کے بھی سکریٹری ہوگئے ہیںتھوڑا عرصہ ہوا کہ کچھ ترك قسطنطنیہ سے بغرض اظہار شکریہ مسلمانان آگرہ میں تشریف لائے اوربایماء ان ممبر صاحب کے جو ہلال احمر کے سکریٹری ہیں بلادریافت دیگر ممبران کمیٹی ایك جلسہ مسجد جامع آگرہ میں منعقد ہو ا اس جلسہ کے متعلق جملہ انتظامات ممبر صاحب موصوف نے ملازمان مسجد سے کرائے اور جو کچھ روشنی میں خرچ ہوا وہ انجمن اوقاف متذکرہ صدر سے دلوایا اور یہ کہا کہ چونکہ مسجد جامع مسلمان آگرہ کی ہے اور یہ جلسہ مسلمانان آگرہ کا تھا اگر مسجد میں روشنی زائد نہ ہوتی تو باعث بدنامی مسلمانان تھا اس کارروائی پر دو ممبر معترض ہوئے تو ایك چوتھے ممبر صاحب نے وہ جو روشنی میں خرچ کی گئی تھی اپنے پاس سے ادا کردی اور یہ کہا کہ میں رفع نزاع کئے دیتا ہوں پس امورات قابل استفسار یہ ہیں:
(۱)آیا اول ممبر صاحب کا یہ فعل کہ ملازمان وقف سے انجمن ہلال احمر کا کام لیں درست تھا
(۲)آیا ایسے ملازم جوذی استعداد علم دین سے بہر ور کہے جاتے ہیں اور انہوں نے خود نیز اپنے ماتحت ملازموں سے بلا ایماء انجمن اوقاف متذکرہ بالاکرائے ان ملازموں کا یہ فعل جائز تھا
شفائے امام قاضی عیاض وبزازیہ وبحرالرائق ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقدکفر ۔
نسأل اﷲ العفو و العافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
"ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جو اس کے کفر اور عذاب میں شك کرے تو وہ کافرہے(ت)
ہم اﷲ تعالی سے معافی اور در گزر کرنے کی درخواست کرتے ہیں لاحول ولاقوۃ ولاباﷲ العلی العظیم۔(ت)
اے ہمارے رب!ہدایت فرمانے کے بعد ہمارے دلوں کو نہ پھیر اور ا پنے فضل سے ہمیں رحمت عطاکربیشك تو بہت عطا کرنے والا ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۸۸تا۹۱: مرسلہ حکیم محمد حیات خاں صاحب آگرہ کوچہ حکیماں حیات منزل ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اکثر اوقاف بشمول مسجد جامع وغیر ہ آگرہ میں ایك انجمن کے ماتحت و وزیر نگرانی ہیں جس کے پانچ ممبر ہیں منجملہ ان پانچوں کے ایك ممبر صاحب انجمن ہلال احمر آگرہ کے بھی سکریٹری ہوگئے ہیںتھوڑا عرصہ ہوا کہ کچھ ترك قسطنطنیہ سے بغرض اظہار شکریہ مسلمانان آگرہ میں تشریف لائے اوربایماء ان ممبر صاحب کے جو ہلال احمر کے سکریٹری ہیں بلادریافت دیگر ممبران کمیٹی ایك جلسہ مسجد جامع آگرہ میں منعقد ہو ا اس جلسہ کے متعلق جملہ انتظامات ممبر صاحب موصوف نے ملازمان مسجد سے کرائے اور جو کچھ روشنی میں خرچ ہوا وہ انجمن اوقاف متذکرہ صدر سے دلوایا اور یہ کہا کہ چونکہ مسجد جامع مسلمان آگرہ کی ہے اور یہ جلسہ مسلمانان آگرہ کا تھا اگر مسجد میں روشنی زائد نہ ہوتی تو باعث بدنامی مسلمانان تھا اس کارروائی پر دو ممبر معترض ہوئے تو ایك چوتھے ممبر صاحب نے وہ جو روشنی میں خرچ کی گئی تھی اپنے پاس سے ادا کردی اور یہ کہا کہ میں رفع نزاع کئے دیتا ہوں پس امورات قابل استفسار یہ ہیں:
(۱)آیا اول ممبر صاحب کا یہ فعل کہ ملازمان وقف سے انجمن ہلال احمر کا کام لیں درست تھا
(۲)آیا ایسے ملازم جوذی استعداد علم دین سے بہر ور کہے جاتے ہیں اور انہوں نے خود نیز اپنے ماتحت ملازموں سے بلا ایماء انجمن اوقاف متذکرہ بالاکرائے ان ملازموں کا یہ فعل جائز تھا
حوالہ / References
درمختار باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶€
القرآن الکریم ∞۳/ ۸€
القرآن الکریم ∞۳/ ۸€
(۳)جوصرفہ آمدنی وقف سے روشنی کادلوایا گیا وہ جائز تھا
(۴)اگردیگر ممبر نے اس خرچہ کو ادا کردیا تو آمدنی وقف میں شامل کرلئے جانے میں کوئی امر مانع شریعت تو نہیں ہے
الجواب:
شرائط اوقاف پر نظرکی جائے اگر معاملہ مذکورہ ان کے تحت میں داخل ہوتا ہوتو حرج نہیں ورنہ اس ممبر کو ایسا کرنا جائز نہ تھاکام کرنیوالوں نے اگر کار اوقاف کا حرج کرکے کام کیا تو وہ بھی گنہگار ہوئےممبر جس نے معاوضہ دے دیا اپنی حسن نیت پر اجر پائے گا اور اس معاوضہ کو قبول کرلینا جائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۹۲: ازسہسرام ضلع گیامرسلہ حکیم سراج الدین احمد صاحب ۳جمادی الآخر۱۳۳۶ھ
اکثر سجادہ نشینان ومتولیان ومینجران وممبران وملازمان وقف آمدنی ہائے جائداد وقف کو اپنی ہی ملك اور اس کی زیادہ تر آمدنی کو بھی اپنے ہی مصارف میں صرف کرنا درست وحق سمجھتے ہیں درانحالیکہ وقف جائداد منقولہ وغیر منقولہ کی آمدنی کا زیادہ ترحصہ مذہبی ثواب کے کاموں میں صرف ہونا چاہئے جیسا کہ کلکتہمدراسبمبئیالہ آباد کی کونسلوں میں بھی تسلیم کیا ہےپس ان کا ایسا سمجھنا وکرنا برخلاف شرع کرنا ہے یانہیںاگر ہے تو مذکورین کےلئے کوئی وعیدبھی ہے یانہیںاگرہے تو عوام مسلمین کوان کے ساتھ کیا برتاؤکرنا چاہئے
الجواب:
وقف میں اتباع شرط واقف لازم ہے
فقد قال علماؤنا ان شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ ۔ ہمارے علماء نے فرمایا کہ واقف کی شرط پر عمل شارع کی نص پر عمل کی طرح ضروری ہے۔(ت)
اگر واقف نے یہی شرط کردی ہے کہ اکثر حصہ اس کا سجادہ نشینوں متولیوں کے صرف میں آئے تو ان کا ایسا کرنا بجا ہے اور ان پر کچھ الزام نہیںاور اگر شرائط واقف کے خلاف وہ براہ تعدی مال وقف کوظلما اپنے مصارف میں لاتے ہیں تو ظالم ہیں غاصب ہیں واجب الاخراج ہیںلازم ہے کہ وقف ان کے ہاتھ سے نکال لیا جائے۔درمختارمیں ہے:
ینزع وجوبابزازیۃولو الواقفدررفغیرہ بالاولی لو غیرمامون ۔ لازمی طور پر معزول ہوگابزازیہ۔اگرچہ واقف ہودرر۔ توغیربطریق اولی اگر وہ ناقابل اعتماد ہو(ت)
(۴)اگردیگر ممبر نے اس خرچہ کو ادا کردیا تو آمدنی وقف میں شامل کرلئے جانے میں کوئی امر مانع شریعت تو نہیں ہے
الجواب:
شرائط اوقاف پر نظرکی جائے اگر معاملہ مذکورہ ان کے تحت میں داخل ہوتا ہوتو حرج نہیں ورنہ اس ممبر کو ایسا کرنا جائز نہ تھاکام کرنیوالوں نے اگر کار اوقاف کا حرج کرکے کام کیا تو وہ بھی گنہگار ہوئےممبر جس نے معاوضہ دے دیا اپنی حسن نیت پر اجر پائے گا اور اس معاوضہ کو قبول کرلینا جائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۹۲: ازسہسرام ضلع گیامرسلہ حکیم سراج الدین احمد صاحب ۳جمادی الآخر۱۳۳۶ھ
اکثر سجادہ نشینان ومتولیان ومینجران وممبران وملازمان وقف آمدنی ہائے جائداد وقف کو اپنی ہی ملك اور اس کی زیادہ تر آمدنی کو بھی اپنے ہی مصارف میں صرف کرنا درست وحق سمجھتے ہیں درانحالیکہ وقف جائداد منقولہ وغیر منقولہ کی آمدنی کا زیادہ ترحصہ مذہبی ثواب کے کاموں میں صرف ہونا چاہئے جیسا کہ کلکتہمدراسبمبئیالہ آباد کی کونسلوں میں بھی تسلیم کیا ہےپس ان کا ایسا سمجھنا وکرنا برخلاف شرع کرنا ہے یانہیںاگر ہے تو مذکورین کےلئے کوئی وعیدبھی ہے یانہیںاگرہے تو عوام مسلمین کوان کے ساتھ کیا برتاؤکرنا چاہئے
الجواب:
وقف میں اتباع شرط واقف لازم ہے
فقد قال علماؤنا ان شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ ۔ ہمارے علماء نے فرمایا کہ واقف کی شرط پر عمل شارع کی نص پر عمل کی طرح ضروری ہے۔(ت)
اگر واقف نے یہی شرط کردی ہے کہ اکثر حصہ اس کا سجادہ نشینوں متولیوں کے صرف میں آئے تو ان کا ایسا کرنا بجا ہے اور ان پر کچھ الزام نہیںاور اگر شرائط واقف کے خلاف وہ براہ تعدی مال وقف کوظلما اپنے مصارف میں لاتے ہیں تو ظالم ہیں غاصب ہیں واجب الاخراج ہیںلازم ہے کہ وقف ان کے ہاتھ سے نکال لیا جائے۔درمختارمیں ہے:
ینزع وجوبابزازیۃولو الواقفدررفغیرہ بالاولی لو غیرمامون ۔ لازمی طور پر معزول ہوگابزازیہ۔اگرچہ واقف ہودرر۔ توغیربطریق اولی اگر وہ ناقابل اعتماد ہو(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوقف ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۳۰۵€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
مال وقف مثل مال یتیم ہے جس کی نسبت ارشادہوا کہ جواسے ظلما کھاتاہے اپنے پیٹ میں آگ بھرتا ہے اور عنقریب جہنم میں جائے گا"ان الذین یاكلون اموال الیتمى ظلما انما یاكلون فی بطونهم نارا-و سیصلون سعیرا(۱۰)" ۔اگر وہ لوگ اس حرکت سے باز نہ آئیں ان سے میل جول چھوڑدیںا ن کے پاس بیٹھنا روا نہ رکھیں۔
قال اﷲ تعالی "و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین (۶۸)" ۔واﷲتعالی اعلم۔
اللہ تعالی نے فرمایا:جب کبھی شیطان تجھے بھلادے تو پھر یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ مت بیٹھ۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۹۳تا۱۰۲: ازبہرائچ سید واڑہ بدولتکدہ حاجی احمد اللہ شاہ صاحب مرسلہ نواب علی مورخہ ۹جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں:
کسی مقام پر ایك بزرگ کا مزارہے اور اس کے متعلق وقف کی معقول آمدنی ہے خادمان وقف کی بدنظمی سے عدالت نے اس وقف کو خادموں کے ہاتھ سے نکال کر ایك کمیٹی کے سپرد کیا جو وقف کمیٹی کے نام سے موسوم ہےعدالت نے اس کمیٹی کے ممبران کےلئے جو اس میں شریك ہوں سنی المذہب ہونا ضروری رکھا ہے اور عدالت نے اس وقف کی نگرانی کے لئے قواعد وقف بھی مرتب کئے اور ان قواعد میں اخراجات کے مدات قائم کئے اور یہ شرط کردی کہ بجز ان مدات کے جو قواعد میں درج ہیں کسی دوسرے مدات غیر مندرجہ قواعد میں یہ رقم نہ صرف کی جائے۔
(۱)ان اخراجات کے مدات میں ایك مدخیرات کی بھی ہے جن کے الفا ظ وقف قواعد میں یہ ہیں دو خیراتی(الاؤنس)یعنی وظائف وخیرات وتقسیم کھانا کپڑا بغرض پرورش غربااگر ایسے خیراتی(الاؤنس)یعنی وظائف سے ان مساجد میں مؤذنوں کو تنخواہ دینا جن کا کوئی تعلق اس وقف سے نہیں ہے یا ایسے ہی دوسرے مصارف مثلا مدارس اردو انگریزی یا کسی انجمن کے اس مدرسہ کو جس کا کوئی تعلق وقف سے نہیں ہے ان کے مدرسین کو تنخواہ دینا شرعا جائز ہے
(۲)اگرممبران کمیٹی آمدنی وقف سے ایك مد کی رقم کسی دوسرے مد مندرجہ یا غیر مندرجہ مدات میں صرف
قال اﷲ تعالی "و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین (۶۸)" ۔واﷲتعالی اعلم۔
اللہ تعالی نے فرمایا:جب کبھی شیطان تجھے بھلادے تو پھر یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ مت بیٹھ۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۹۳تا۱۰۲: ازبہرائچ سید واڑہ بدولتکدہ حاجی احمد اللہ شاہ صاحب مرسلہ نواب علی مورخہ ۹جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں:
کسی مقام پر ایك بزرگ کا مزارہے اور اس کے متعلق وقف کی معقول آمدنی ہے خادمان وقف کی بدنظمی سے عدالت نے اس وقف کو خادموں کے ہاتھ سے نکال کر ایك کمیٹی کے سپرد کیا جو وقف کمیٹی کے نام سے موسوم ہےعدالت نے اس کمیٹی کے ممبران کےلئے جو اس میں شریك ہوں سنی المذہب ہونا ضروری رکھا ہے اور عدالت نے اس وقف کی نگرانی کے لئے قواعد وقف بھی مرتب کئے اور ان قواعد میں اخراجات کے مدات قائم کئے اور یہ شرط کردی کہ بجز ان مدات کے جو قواعد میں درج ہیں کسی دوسرے مدات غیر مندرجہ قواعد میں یہ رقم نہ صرف کی جائے۔
(۱)ان اخراجات کے مدات میں ایك مدخیرات کی بھی ہے جن کے الفا ظ وقف قواعد میں یہ ہیں دو خیراتی(الاؤنس)یعنی وظائف وخیرات وتقسیم کھانا کپڑا بغرض پرورش غربااگر ایسے خیراتی(الاؤنس)یعنی وظائف سے ان مساجد میں مؤذنوں کو تنخواہ دینا جن کا کوئی تعلق اس وقف سے نہیں ہے یا ایسے ہی دوسرے مصارف مثلا مدارس اردو انگریزی یا کسی انجمن کے اس مدرسہ کو جس کا کوئی تعلق وقف سے نہیں ہے ان کے مدرسین کو تنخواہ دینا شرعا جائز ہے
(۲)اگرممبران کمیٹی آمدنی وقف سے ایك مد کی رقم کسی دوسرے مد مندرجہ یا غیر مندرجہ مدات میں صرف
کریں اس وقت مسلمانوں کو ان سے باز پرس کا حق ہے یانہیں اور وہ لوگ اس رقم صرف شدہ کے اداکرنے پر شرع شریف سے مجبور ہیں یانہیں
(۳)ایسے ممبران جو ہر کارروائی وقف کمیٹی کو عام مسلمانوں سے پوشیدہ کریں یا پوشیدہ رکھنے کی کوشش کریں یا اپنی خود رائی سے اس وقف کا روپیہ کسی بیجاطورپر صرف کریں تو ایسے لوگوں کااس وقف کاممبر رہنا شرعا جائز ہے یانہیں اور عام مسلمانوں کو اوقاف کی جانچ کا اختیار ہے یانہیں
(۴)اگر وقف کمیٹی کے اکثر ممبران صدر انجمن وقف کے ہمخیال ہوں اور بوجہ اپنی کثرت رائے کے احکام شرعیہ و نیز قواعد وقف کمیٹی کے خلاف عملدرآمد کریں یا کرتے ہوں اور اسی کمیٹی کا ایك ممبر زید جو ان کا ہمخیال نہیں ہے محض اپنی ذاتی معلومات و واقفیت واطمینان کے لئے متعلق وقف کاغذات وقف کو دیکھنا چاہے اور اس کی اصلاح کرنا چاہے اس وقت وہ ممبران جو ہمخیال صدر انجمن ہیں زید کو اس کے ارادہ سے باز رکھیں یا جس کاغذ کو وہ دیکھنا چاہتا ہے اس کو ان کاغذات کے دیکھنے کی اجازت نہ دیں یا اس کو اس کے فرض منصبی ادا کرنے سے باز رکھیں تو ان کا یہ فعل شرعا جائز ہے(بحوالہ کتب فقہ)
(۵)قواعد وقف مرتبہ عدالت نے کمیٹی وقف کو اختیار دیا ہے کہ کمیٹی حسب ضرورت دوسر ے قواعد علاوہ قواعد مرتبہ عدالت مرتب کرے۔قواعد وقف مرتبہ عدالت میں کسی ممبر کمیٹی کو جانچ پڑتال کاغذات عام نگرانی کی ممانعت نہیں ہے ایسی صورت میں کیا ممبران وقف وصدر وقف کو یہ اختیار شرعا حاصل ہے کہ وہ جدید قواعد وقف ایسے مرتب کرلے کہ جس سے زید مذکور کاغذات وقف دیکھنے سے مجبور ہوجائے یا یہ کہ ممبران جو ہمخیال صدر انجمن ہیں اپنی کثرت رائے سے یہ قاعدہ پاس کردیں کہ کوئی ممبر وقف کمیٹی بغیر اجازت صدر انجمن وقف کوئی کاغذ نہیں دیکھ سکتا ان کی یہ کارروائی شرعی اعتبار سے جائز ہے یانہیں(بحوالہ کتب فقہ)
(۶)سامان روشنیفرش فروشخیمہ وقنات ودیگر فرنچی مثلا شامیانہ ومیز وکرسی وغیرہ جو وقف کی ملك ہیں اہالیان شہر کو ان کی مشروع وغیر مشروع جلسوں میں دینا یا کسی رئیس کی رہائش کے سامان اسی وقف سے دینا شرعا جائز ہے یانہیں(بحوالہ کتب فقہ)
(۷)مذہبی تقریبات میں جو شیرینی بغرض تقسیم آتی ہے وہ اس محفل کے حاضرین کے لئے مخصوص ہے یامسلم اور غیر مسلم جو اس تقریب میں شریك نہیں ہے ان کے گھروں میں وہ شیرینی بطور تبرك بھیجنا یا اہالیان شہر کی اس اوقاف کے روپیہ سے دعوت کرنا شرعا جائز ہے یانہیں(بحوالہ کتب فقہ)
(۸)اگر کوئی شے یا کتاب جو وقف کی ملك ہے کسی ملازم وقف یا ممبر وقف کمیٹی سے یا کسی غیر شخص سے
(۳)ایسے ممبران جو ہر کارروائی وقف کمیٹی کو عام مسلمانوں سے پوشیدہ کریں یا پوشیدہ رکھنے کی کوشش کریں یا اپنی خود رائی سے اس وقف کا روپیہ کسی بیجاطورپر صرف کریں تو ایسے لوگوں کااس وقف کاممبر رہنا شرعا جائز ہے یانہیں اور عام مسلمانوں کو اوقاف کی جانچ کا اختیار ہے یانہیں
(۴)اگر وقف کمیٹی کے اکثر ممبران صدر انجمن وقف کے ہمخیال ہوں اور بوجہ اپنی کثرت رائے کے احکام شرعیہ و نیز قواعد وقف کمیٹی کے خلاف عملدرآمد کریں یا کرتے ہوں اور اسی کمیٹی کا ایك ممبر زید جو ان کا ہمخیال نہیں ہے محض اپنی ذاتی معلومات و واقفیت واطمینان کے لئے متعلق وقف کاغذات وقف کو دیکھنا چاہے اور اس کی اصلاح کرنا چاہے اس وقت وہ ممبران جو ہمخیال صدر انجمن ہیں زید کو اس کے ارادہ سے باز رکھیں یا جس کاغذ کو وہ دیکھنا چاہتا ہے اس کو ان کاغذات کے دیکھنے کی اجازت نہ دیں یا اس کو اس کے فرض منصبی ادا کرنے سے باز رکھیں تو ان کا یہ فعل شرعا جائز ہے(بحوالہ کتب فقہ)
(۵)قواعد وقف مرتبہ عدالت نے کمیٹی وقف کو اختیار دیا ہے کہ کمیٹی حسب ضرورت دوسر ے قواعد علاوہ قواعد مرتبہ عدالت مرتب کرے۔قواعد وقف مرتبہ عدالت میں کسی ممبر کمیٹی کو جانچ پڑتال کاغذات عام نگرانی کی ممانعت نہیں ہے ایسی صورت میں کیا ممبران وقف وصدر وقف کو یہ اختیار شرعا حاصل ہے کہ وہ جدید قواعد وقف ایسے مرتب کرلے کہ جس سے زید مذکور کاغذات وقف دیکھنے سے مجبور ہوجائے یا یہ کہ ممبران جو ہمخیال صدر انجمن ہیں اپنی کثرت رائے سے یہ قاعدہ پاس کردیں کہ کوئی ممبر وقف کمیٹی بغیر اجازت صدر انجمن وقف کوئی کاغذ نہیں دیکھ سکتا ان کی یہ کارروائی شرعی اعتبار سے جائز ہے یانہیں(بحوالہ کتب فقہ)
(۶)سامان روشنیفرش فروشخیمہ وقنات ودیگر فرنچی مثلا شامیانہ ومیز وکرسی وغیرہ جو وقف کی ملك ہیں اہالیان شہر کو ان کی مشروع وغیر مشروع جلسوں میں دینا یا کسی رئیس کی رہائش کے سامان اسی وقف سے دینا شرعا جائز ہے یانہیں(بحوالہ کتب فقہ)
(۷)مذہبی تقریبات میں جو شیرینی بغرض تقسیم آتی ہے وہ اس محفل کے حاضرین کے لئے مخصوص ہے یامسلم اور غیر مسلم جو اس تقریب میں شریك نہیں ہے ان کے گھروں میں وہ شیرینی بطور تبرك بھیجنا یا اہالیان شہر کی اس اوقاف کے روپیہ سے دعوت کرنا شرعا جائز ہے یانہیں(بحوالہ کتب فقہ)
(۸)اگر کوئی شے یا کتاب جو وقف کی ملك ہے کسی ملازم وقف یا ممبر وقف کمیٹی سے یا کسی غیر شخص سے
تلف ہوجائے تواس وقت اس کا معاوضہ لینا شرعا جائزہے یانہیںاور معاوضہ کی کیا صورت ہوسکتی ہے
(۹)اگر ممبران وقف کمیٹی یا صدر انجمن وقف کمیٹی ملك وقف شدہ سے کوئی چیز کسی انجمن یا کسی مسجد میں جو غیر متعلق
اوقاف ہے ہمیشہ کے لئے دے دیں تو ان کا یہ فعل شرعاجائز ہ یانہیں(بحوالہ کتب فقہ)
(۱۰)اگرجدید قواعد وقف مرتب کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس وقت احکام شرعیہ کا لحاظ کرکے قواعد وقف مرتب ہوسکتے ہیں یا ممبران وقف کمیٹی کی کثرت رائے پرشرع شریف کس کے حق میں فیصلہ کرتی ہے(بحوالہ کتب فقہ)
الجواب
(۱)وقف میں شرائط واقف کا اتباع واجب ہےاشباہ والنظائر میں ہے:
شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ ۔ واجب العمل ہونے میں واقف کی شرط شارع کی نص کی طرح ہے(ت)
اگران مواقع میں صرف کرنا شرط واقف سے جدا ہے جیسا کہ ظاہر یہی ہے تو یہ صرف محض ناجائز ہے اور اگر واقف نے ہی ان مواقع میں صرف کی اجازت دی ہے جو ان میں مصرف خیر ہو اس میں صرف کرنا جائز ہے اور اگر شرائط واقف معلوم نہ ہوں تو متولیوں کے عملدرآمد قدیم پرنظر ہوگی کما فی الخیریۃ وغیرہا(جیسا کہ خیریہ وغیرہ میں ہے۔ت)
(۲)اس کا وہی جواب ہے جو اوپر گزرا جہاں انہوں نے صرف کیا اگر وہ موافق شرط واقف یا اس کے معلوم نہ ہونے کی حالت میں موافق عملدرآمد قدیم متولیان ہے تو وہ صرف جائز ہوا اور ان سے مطالبہ و باز پرس کی کوئی وجہ نہیں ورنہ ناجائز ہوا اور ضرور باز پرس ہے اور ان پر لازم ہوگا کہ اس کا تاوان وقف کےلئے ادا کریں۔
(۳)اگر روپیہ بیجا صرف کریں تو ضرور ان کا معزول کرنا واجب ہےدرمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقفبزازیہفغیرہ بالاولیدرر لوغیر مامون ۔
لازمی طور پر معزول کیا جائے اگرچہ واقف ہوبزازیہ تو غیر کو بطریق اولیدرراگر وہ قابل اعتماد نہ ہو۔(ت)
(۹)اگر ممبران وقف کمیٹی یا صدر انجمن وقف کمیٹی ملك وقف شدہ سے کوئی چیز کسی انجمن یا کسی مسجد میں جو غیر متعلق
اوقاف ہے ہمیشہ کے لئے دے دیں تو ان کا یہ فعل شرعاجائز ہ یانہیں(بحوالہ کتب فقہ)
(۱۰)اگرجدید قواعد وقف مرتب کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس وقت احکام شرعیہ کا لحاظ کرکے قواعد وقف مرتب ہوسکتے ہیں یا ممبران وقف کمیٹی کی کثرت رائے پرشرع شریف کس کے حق میں فیصلہ کرتی ہے(بحوالہ کتب فقہ)
الجواب
(۱)وقف میں شرائط واقف کا اتباع واجب ہےاشباہ والنظائر میں ہے:
شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ ۔ واجب العمل ہونے میں واقف کی شرط شارع کی نص کی طرح ہے(ت)
اگران مواقع میں صرف کرنا شرط واقف سے جدا ہے جیسا کہ ظاہر یہی ہے تو یہ صرف محض ناجائز ہے اور اگر واقف نے ہی ان مواقع میں صرف کی اجازت دی ہے جو ان میں مصرف خیر ہو اس میں صرف کرنا جائز ہے اور اگر شرائط واقف معلوم نہ ہوں تو متولیوں کے عملدرآمد قدیم پرنظر ہوگی کما فی الخیریۃ وغیرہا(جیسا کہ خیریہ وغیرہ میں ہے۔ت)
(۲)اس کا وہی جواب ہے جو اوپر گزرا جہاں انہوں نے صرف کیا اگر وہ موافق شرط واقف یا اس کے معلوم نہ ہونے کی حالت میں موافق عملدرآمد قدیم متولیان ہے تو وہ صرف جائز ہوا اور ان سے مطالبہ و باز پرس کی کوئی وجہ نہیں ورنہ ناجائز ہوا اور ضرور باز پرس ہے اور ان پر لازم ہوگا کہ اس کا تاوان وقف کےلئے ادا کریں۔
(۳)اگر روپیہ بیجا صرف کریں تو ضرور ان کا معزول کرنا واجب ہےدرمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقفبزازیہفغیرہ بالاولیدرر لوغیر مامون ۔
لازمی طور پر معزول کیا جائے اگرچہ واقف ہوبزازیہ تو غیر کو بطریق اولیدرراگر وہ قابل اعتماد نہ ہو۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوقف ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۰۵
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
اور متولیوں کا وقف کی کارروائی پوشیدہ کرنا کوئی جرم نہیںنہ ہر شخص ان سے حساب کا مطالبہ کرسکتا ہے جب تك خیانت ظاہر نہ ہو کہ وہ منجانب امین ہیں اور امین پر اعتراض نہیںواﷲ تعالی اعلمیونہی جن کی تولیت بشروط واقف نہ ہونہ شرط واقف کے خلاف ہواور عام مسلمانوں نے ان کو متولی کیا ہو یا ان کی تولیت پر راضی ہوئے ہوں۔
(۴)ان کا یہ فعل شرعا جائز نہیں اور ان پرصریح الزام ہے جبکہ وہ دربارہ وقف مخالفت شرع کریں اور دوسرے کو اس کی جانچ سے بھی باز رکھیں۔حدیث میں ہے:
من استرعی الذئب فقد ظلم۔ جس نے بھیڑئیے کو راعی بنایا تو اس نے ظلم کیا(ت)
(۵)یہ کارروائی محض ناجائز ہے کہ اس سے دفع ظلم کا سد باب مقصود ہے۔متعلق وقف نئے قوانین احداث کرنے کا کسی کواختیار نہیں جبکہ وہ شرع مطہر یا شرط واقف کے خلاف ہو نہ کہ ایسی صورت کہ مخالفت احکام شرعیہ کی جائےاور اس کی ممانعت کا دروازہ بند کرنے کو یہ قوانین وضع ہوں ایسا قانون اگر خود شرط واقف میں ہوتا مردود ہوتا وہ ہرگز نہ مانا جاتاعلماء تصریح فرماتے ہیں کہ مثلا واقف نے کسی کو متولی مقرر کیا اور یہ شرط لگادی کہ اسے کوئی معزول نہ کرسکے اور جو اسے معزول کرے اس پر اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہو اور حالت یہ ہو کہ متولی شرعا رکھنے کے قابل نہیں تو فورا نکال دیاجائے گا اور واقف کی ایك نہ سنی جائے گی اور اس کی وہ لعنت اسی پر واپس جائیگی کما فی الدرالمختار۔
(۶)حرام ہےیہاں تك کہ ایك مسجد کا سامان دوسری مسجد کو عاریۃ بھی دینا جائز نہیں کما فی العلمگیریۃ عن القنیۃ (جیسا کہ قنیہ سے عالمگیریہ میں ہے۔ت)نہ کہ زید وعمرو کو نہ کہ نامشروع جلسوں کو۔یہ سراسر وقف پرظلم ہے جو ایسا کریں وقف سے ان کا اخراج واجب ہےکمامر عن الوجیز والدرر والدر(جیسا کہ وجیزدرر اور در سے گزرا۔ت)
(۷)غیر مسلم کو مال وقف سے بھیجنا تو کسی طرح جائز نہیں کہ وقف کارخیر کے لئے ہوتا ہے اور غیر مسلم کو دینا کچھ ثواب نہیں کما فی البحرائق وغیرہ(جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں ہے۔ت)رہا غیرحاضرین مسلمانوں کے گھروں پر بھیجنااس میں وہی شرط واقف یا عملدرآمد قدیم کا لحاظ ہو گا بعض مسلمانوں کی دعوت اگرکسی مصلحت وقف کے لیے ہے تو جائز ہے جبکہ شرط واقف یا عملدرآمد کے موافق ہو یاکسی ضرورت خاصہ کےلئے ہو کما ذکرواللوصی فی مال الیتیم(جیسا کہ علماء نے یتیم کے مال میں وصی کیلئے
(۴)ان کا یہ فعل شرعا جائز نہیں اور ان پرصریح الزام ہے جبکہ وہ دربارہ وقف مخالفت شرع کریں اور دوسرے کو اس کی جانچ سے بھی باز رکھیں۔حدیث میں ہے:
من استرعی الذئب فقد ظلم۔ جس نے بھیڑئیے کو راعی بنایا تو اس نے ظلم کیا(ت)
(۵)یہ کارروائی محض ناجائز ہے کہ اس سے دفع ظلم کا سد باب مقصود ہے۔متعلق وقف نئے قوانین احداث کرنے کا کسی کواختیار نہیں جبکہ وہ شرع مطہر یا شرط واقف کے خلاف ہو نہ کہ ایسی صورت کہ مخالفت احکام شرعیہ کی جائےاور اس کی ممانعت کا دروازہ بند کرنے کو یہ قوانین وضع ہوں ایسا قانون اگر خود شرط واقف میں ہوتا مردود ہوتا وہ ہرگز نہ مانا جاتاعلماء تصریح فرماتے ہیں کہ مثلا واقف نے کسی کو متولی مقرر کیا اور یہ شرط لگادی کہ اسے کوئی معزول نہ کرسکے اور جو اسے معزول کرے اس پر اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہو اور حالت یہ ہو کہ متولی شرعا رکھنے کے قابل نہیں تو فورا نکال دیاجائے گا اور واقف کی ایك نہ سنی جائے گی اور اس کی وہ لعنت اسی پر واپس جائیگی کما فی الدرالمختار۔
(۶)حرام ہےیہاں تك کہ ایك مسجد کا سامان دوسری مسجد کو عاریۃ بھی دینا جائز نہیں کما فی العلمگیریۃ عن القنیۃ (جیسا کہ قنیہ سے عالمگیریہ میں ہے۔ت)نہ کہ زید وعمرو کو نہ کہ نامشروع جلسوں کو۔یہ سراسر وقف پرظلم ہے جو ایسا کریں وقف سے ان کا اخراج واجب ہےکمامر عن الوجیز والدرر والدر(جیسا کہ وجیزدرر اور در سے گزرا۔ت)
(۷)غیر مسلم کو مال وقف سے بھیجنا تو کسی طرح جائز نہیں کہ وقف کارخیر کے لئے ہوتا ہے اور غیر مسلم کو دینا کچھ ثواب نہیں کما فی البحرائق وغیرہ(جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں ہے۔ت)رہا غیرحاضرین مسلمانوں کے گھروں پر بھیجنااس میں وہی شرط واقف یا عملدرآمد قدیم کا لحاظ ہو گا بعض مسلمانوں کی دعوت اگرکسی مصلحت وقف کے لیے ہے تو جائز ہے جبکہ شرط واقف یا عملدرآمد کے موافق ہو یاکسی ضرورت خاصہ کےلئے ہو کما ذکرواللوصی فی مال الیتیم(جیسا کہ علماء نے یتیم کے مال میں وصی کیلئے
فرمایا۔ت)اور اگر بعض مہتمم اپنی بارات میں کسی کو کھلانا چاہیں جوان صورتوں سے جدا ہو تو کھانا بھی حرام ہے اور کھلانا بھی حرام اور کھلانے والوں پر اس کا تاوان واجب۔
(۸)متولی وقف امین وقف ہے جبکہ اس طرح کا متولی ہو جو اوپر مذکور ہوا اگر اس سے اتفاقیہ طور پر بے اپنے تقصیر وبے احتیاطی کے وقف کی کتاب یا کوئی مال تلف ہوجائے اس کا معاوضہ نہیںاور اگر قصدا تلف کردے یا اگر اپنی بےاحتیاطی سے ضائع کرے تو ضرورمعاوضہ ہےیہی حکم ملازمان وقف کا ہے جبکہ وہ تصرف جو اس نے کتاب میں کیا اس کی ملازمت میں داخلاور اسے جائز تھاورنہ اگر وقف کے کسی اور صیغہ کا ملازم ہے کتب خانہ پر اس کو اختیار نہیںاور اس نے مثلا کتاب کسی کو عاریۃ دے دی اور ضائع ہوگئی توضرور اس پرمعاوضہ ہےغیر شخص نے اگر وہ تصرف کیا تو منجانب وقف جس کی اسے اجازت تھی اور بے اس کی تقصیر کے کتاب ضائع ہو گئی مثلا کتب خانہ وقف میں جا کر کتابیں دیکھنے کی اجازت ہو اور عام طور پر معمول ہو کہ کتابیں دیکھ کر اسی مکان میں رکھ آتے ہیں یا فلاں ملازم کو سپرد کردیتے ہیں اور یہ اس قاعدہ کو بجالایا اور کتاب گم ہوگئی تو اس پر بھی معاوضہ نہیںورنہ اگر وہ تصرف کیا جس کی اسے اجازت نہ تھی یا تھی مگر اس کی تقصیر وبے احتیاطی سے کتاب گئی تو ضرور تاوان دے گااور بہر حال معاوضہ اس کتاب کی قیمت یعنی بازار کے بھاؤ سے جو اس کے دام ہوںکتاب کو علماء نے قیمتی ٹھہرایا ہے نہ مثلی مگر اس وقت تك چھاپے نہ تھےاور کہہ سکتے ہیں کہ اگر اسی چھاپے کی ہویعنی اسی بار کی چھپی ہواور کاغذ بھی ایك ہو اور جلد نہ بندھی ہو تو عجب نہیں کہ مثلی ہو سکےیعنی کتاب کے معاوضہ میں ایسی ہی کتاب دینی آئے مگرتحقیق یہ ہے کہ چھاپے اور کاغذ کی وحدت بھی مستلزم مثلیت نہیںایك کاپی ایك پتھر پر جمی ہوئی اس کے ہزار کاغذ اٹھائے جاتے ہیںکوئی ہلکا ہے کوئی بھرا ہواکوئی بہا ہوا ہے کوئی صاف ہےتو بات وہی ہے جو علماء نے فرمائی کہ کتاب قیمتی ہے۔
(۹)حرام ہےاور وہ چیز وہاں سے لی جائے گی اور نہ مل سکے تو ان سے تاوان لیاجائے گا ہم بحوالہ عالمگیری کہہ آئے کہ ایك مسجد کی چیز دوسری مسجد کو عاریۃ دینا بھی ناجائزنہ کہ غیر جگہ دے ڈالناجو ایسا کرے واجب العزل ہے۔
(۱۰)وقف کے لئے قوانین کے وضع کرنے کا حال اوپر گزرا کہ خلاف شرط واقف ہرگز جائز نہیںاور جہاں جواز ہو وہاں قطعا احکام شرعیہ ہی کا لحاظ فرض ہوگاان کے خلاف جس کسی کا بھی کہنا ہو مردود ہوگایہاں نہ کثرت رائے دیکھی جاتی ہے نہ اتفاق رائے۔اللہ عز وجل فرماتا ہے: " ان الحكم الا لله- " (حکم صرف
(۸)متولی وقف امین وقف ہے جبکہ اس طرح کا متولی ہو جو اوپر مذکور ہوا اگر اس سے اتفاقیہ طور پر بے اپنے تقصیر وبے احتیاطی کے وقف کی کتاب یا کوئی مال تلف ہوجائے اس کا معاوضہ نہیںاور اگر قصدا تلف کردے یا اگر اپنی بےاحتیاطی سے ضائع کرے تو ضرورمعاوضہ ہےیہی حکم ملازمان وقف کا ہے جبکہ وہ تصرف جو اس نے کتاب میں کیا اس کی ملازمت میں داخلاور اسے جائز تھاورنہ اگر وقف کے کسی اور صیغہ کا ملازم ہے کتب خانہ پر اس کو اختیار نہیںاور اس نے مثلا کتاب کسی کو عاریۃ دے دی اور ضائع ہوگئی توضرور اس پرمعاوضہ ہےغیر شخص نے اگر وہ تصرف کیا تو منجانب وقف جس کی اسے اجازت تھی اور بے اس کی تقصیر کے کتاب ضائع ہو گئی مثلا کتب خانہ وقف میں جا کر کتابیں دیکھنے کی اجازت ہو اور عام طور پر معمول ہو کہ کتابیں دیکھ کر اسی مکان میں رکھ آتے ہیں یا فلاں ملازم کو سپرد کردیتے ہیں اور یہ اس قاعدہ کو بجالایا اور کتاب گم ہوگئی تو اس پر بھی معاوضہ نہیںورنہ اگر وہ تصرف کیا جس کی اسے اجازت نہ تھی یا تھی مگر اس کی تقصیر وبے احتیاطی سے کتاب گئی تو ضرور تاوان دے گااور بہر حال معاوضہ اس کتاب کی قیمت یعنی بازار کے بھاؤ سے جو اس کے دام ہوںکتاب کو علماء نے قیمتی ٹھہرایا ہے نہ مثلی مگر اس وقت تك چھاپے نہ تھےاور کہہ سکتے ہیں کہ اگر اسی چھاپے کی ہویعنی اسی بار کی چھپی ہواور کاغذ بھی ایك ہو اور جلد نہ بندھی ہو تو عجب نہیں کہ مثلی ہو سکےیعنی کتاب کے معاوضہ میں ایسی ہی کتاب دینی آئے مگرتحقیق یہ ہے کہ چھاپے اور کاغذ کی وحدت بھی مستلزم مثلیت نہیںایك کاپی ایك پتھر پر جمی ہوئی اس کے ہزار کاغذ اٹھائے جاتے ہیںکوئی ہلکا ہے کوئی بھرا ہواکوئی بہا ہوا ہے کوئی صاف ہےتو بات وہی ہے جو علماء نے فرمائی کہ کتاب قیمتی ہے۔
(۹)حرام ہےاور وہ چیز وہاں سے لی جائے گی اور نہ مل سکے تو ان سے تاوان لیاجائے گا ہم بحوالہ عالمگیری کہہ آئے کہ ایك مسجد کی چیز دوسری مسجد کو عاریۃ دینا بھی ناجائزنہ کہ غیر جگہ دے ڈالناجو ایسا کرے واجب العزل ہے۔
(۱۰)وقف کے لئے قوانین کے وضع کرنے کا حال اوپر گزرا کہ خلاف شرط واقف ہرگز جائز نہیںاور جہاں جواز ہو وہاں قطعا احکام شرعیہ ہی کا لحاظ فرض ہوگاان کے خلاف جس کسی کا بھی کہنا ہو مردود ہوگایہاں نہ کثرت رائے دیکھی جاتی ہے نہ اتفاق رائے۔اللہ عز وجل فرماتا ہے: " ان الحكم الا لله- " (حکم صرف
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۲ /۴۰
اﷲ تعالی کا ہے۔ت)نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
لاطاعۃ لاحدفی معصیۃ اﷲ تعالی ۔
اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائزنہیں۔(ت)
واقف جس کے لئے تصریح ہے کہ دربارہ وقف اس کی شرط مثل نص شارع عليهم الصلوۃ والسلام واجب العمل ہے اس کا تو یہ حال ہے کہ اگر خلاف شرع شرط کرے مردود ہے ہرگز نہ مانی جائے گیپھر زید وعمرووکمیٹی کیا چیز ہےنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
مابال اقوام یشترطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ فھو رد وان کانت مائۃ شرط شرط اﷲ احق واوثق۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ایسی قوموں کا کیا حال ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں(جائز)نہیںاور جو کتاب اللہ کے خلاف شرطیں لگائے تو وہ مردود ہونگی اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں صرف اﷲ تعالی کی(مقبول)شرطیں ہی حق ہیں اور ثقہ ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۰۳تا۱۰۵: ازشہر بمبئی کا مبیکر اسٹریٹ چھاج محلہ مرسلہ بدرالدین عبداللہ ۹جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)شہر بمبئی کی جامع مسجد کے اکثر متولیوں نے یہ رائے قائم کی کہ ایك کرایہ کی زمین لے کر اس پر ایك مکان وقف کے سرمایہ سے بنایا جائےجس مکان کی لاگت ایك لاکھ چودہ ہزار روپیہ تك ہو اس حالت میں کہ شہر میں سیکڑوں مکانات دوامی بیعنامہ پر مل سکتے ہیں وقف کی اس قدر بڑی رقم ایك کرایہ کی زمین پر صرف کردینا شرعا جائز ہے یانہیں
(۲)مذکورہ بالا زمین کے مالك نے کرایہ زمین کی یہ صورت قائم کی ہے کہ زمین مذکور کی ایك خاص رقم قرار دی جائے اور قیمت پرسالانہ فیصدی للعہ ۸ روپیہ کے حساب سے جو سود ہے اس حساب سے زمین مذکور کا ماہواری کرایہ قرار دیا جائےآیا کرایہ کا یہ طریقہ شرعا جائز ہے یانہیں
(۳)چونکہ فی الحال بوجہ جنگ مزدوری لکڑی اور دیگر عمارتی اشیاء کی قیمت تین گنی بلکہ چار گنی ہوگئی ایسے وقت میں وقف مسجد کے سرمایہ کو کرایہ کی زمین پر عمارت بنانے میں صرف کرنا اور تیار شدہ عمارتیں جو کثرت
لاطاعۃ لاحدفی معصیۃ اﷲ تعالی ۔
اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائزنہیں۔(ت)
واقف جس کے لئے تصریح ہے کہ دربارہ وقف اس کی شرط مثل نص شارع عليهم الصلوۃ والسلام واجب العمل ہے اس کا تو یہ حال ہے کہ اگر خلاف شرع شرط کرے مردود ہے ہرگز نہ مانی جائے گیپھر زید وعمرووکمیٹی کیا چیز ہےنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
مابال اقوام یشترطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ فھو رد وان کانت مائۃ شرط شرط اﷲ احق واوثق۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ایسی قوموں کا کیا حال ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں(جائز)نہیںاور جو کتاب اللہ کے خلاف شرطیں لگائے تو وہ مردود ہونگی اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں صرف اﷲ تعالی کی(مقبول)شرطیں ہی حق ہیں اور ثقہ ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۰۳تا۱۰۵: ازشہر بمبئی کا مبیکر اسٹریٹ چھاج محلہ مرسلہ بدرالدین عبداللہ ۹جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)شہر بمبئی کی جامع مسجد کے اکثر متولیوں نے یہ رائے قائم کی کہ ایك کرایہ کی زمین لے کر اس پر ایك مکان وقف کے سرمایہ سے بنایا جائےجس مکان کی لاگت ایك لاکھ چودہ ہزار روپیہ تك ہو اس حالت میں کہ شہر میں سیکڑوں مکانات دوامی بیعنامہ پر مل سکتے ہیں وقف کی اس قدر بڑی رقم ایك کرایہ کی زمین پر صرف کردینا شرعا جائز ہے یانہیں
(۲)مذکورہ بالا زمین کے مالك نے کرایہ زمین کی یہ صورت قائم کی ہے کہ زمین مذکور کی ایك خاص رقم قرار دی جائے اور قیمت پرسالانہ فیصدی للعہ ۸ روپیہ کے حساب سے جو سود ہے اس حساب سے زمین مذکور کا ماہواری کرایہ قرار دیا جائےآیا کرایہ کا یہ طریقہ شرعا جائز ہے یانہیں
(۳)چونکہ فی الحال بوجہ جنگ مزدوری لکڑی اور دیگر عمارتی اشیاء کی قیمت تین گنی بلکہ چار گنی ہوگئی ایسے وقت میں وقف مسجد کے سرمایہ کو کرایہ کی زمین پر عمارت بنانے میں صرف کرنا اور تیار شدہ عمارتیں جو کثرت
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۲۳
صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الولاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۷۷،صحیح مسلم کتاب العتق باب بیان ان الولاء من اعتق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۴
صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الولاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۷۷،صحیح مسلم کتاب العتق باب بیان ان الولاء من اعتق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۴
سے ملتی ہیں انہیں نہ خریدنا شرعا جائز ہے یانہیں
الجواب:
سائل نے کچھ بیان نہ کیا کہ یہ عمارت زر مسجد سے کیوں بنائی جاتی ہے اور وہ غرض اغراض وقف مسجد میں داخل ہے یانہیں اگر ان اغراض سے خارج ہے تو نہ خریدنا جائز نہ کرایہ پر لینااور اگر داخل ہے تو اس غرض کا حصول خاص اس زمین سے تعلق رکھتا ہے جسے متولی کرایہ پر لے کر عمارت بنانا چاہتے ہیں یا اور مکانوں سے بھی حاصل ہوسکتا ہے اگر اور مکانوں سے بھی حاصل ہے اور وہ مول مل سکتے ہیں اور جدید عمارت بنانے اور کثیر کرایہ دینے سے خریداری میں نفع ہے تومتولیوں کو ہرگز جائزنہیں کہ یہ صورت کرایہ اختیارکرکے وقف کو نقصان پہنچائیں
فان الولایۃ مشروطۃ بالنظر ولانظر فی الضرر۔ ولایت مشروط بشفقت ہے اور ضرر میں شفقت نہیں ہے۔ (ت)
سود ملحوظ کرکے مقدار کرایہ معین کرنا ایك ناپاك بات اور گندہ لحاظ ہے لیکن اگر معین ہوجائے تو اس کرایہ میں حرج نہیں مثلا ہزارروپیہ کی قیمت ہے تو وہ نجس حساب لگاکر پونے چار روپیہ مہینہ کرایہ قرار دیا تو وہ نجاست اس لحاظ ہی میں رہی کرایہ میں نہ آئییہ ایسا ہوا کہ ابتداء کہتا کہ یہ زمین اتنی مدت کو پونے چار روپیہ کرایہ پر کردیتیسری بات کا جواب مضمون بالا میں آ گیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۶: ازسہسوان ضلع بدایوں قاضی محلہ مرسلہ سید پرورش علی صاحب ۱۴رجب ۱۳۳۷ھ
حضور نے تنخواہ ماہوار متولی وقف کو اجیر مثل کا فتوی لکھا ہےلہذا عرض ہے کہ مدرسہ اسلامیہ حنفیہ سہسوان کی زمین موقوفہ سہسوان سے تین کوس ہے متولی کو سواری وخوراك مع سپاہی فصل ہنگام تحصیل وقت سے ملے گینذربھیٹ روپیہپٹہ وقبولیت بھی حسب رواج ہنگام ماہوار اس کی تنخواہ کا روپیہ مناسب ہے کاشتکاروں سے وصول کرکے مدرسہ پر صرف کرنا مدرسوں کو ماہوار دیناتعمیر ومرمت وغیرہ میں خرچ کرنا مالگذاری گورنمنٹی ادا کرنا اس کا کام ہے اتنے کام کی کتنی اجرت ہوگی۔
الجواب:
وقف سے سواری اور ایام کارگزاری کی تنخواہ ملے گی اور ضرورت ہوتو ان ایام میں سپاہی کی تنخواہ بھیتنخواہ کا تعین کام کی کمی بیشی اور ہر جگہ کے عرف پر ہےپٹہ اور قبولیت کانذرانہ اور اس قسم کے زائد اور بے اصل رقوم کہ رائج ہورہی ہیں شرعا باطل ہیںواﷲ تعالی اعلم
الجواب:
سائل نے کچھ بیان نہ کیا کہ یہ عمارت زر مسجد سے کیوں بنائی جاتی ہے اور وہ غرض اغراض وقف مسجد میں داخل ہے یانہیں اگر ان اغراض سے خارج ہے تو نہ خریدنا جائز نہ کرایہ پر لینااور اگر داخل ہے تو اس غرض کا حصول خاص اس زمین سے تعلق رکھتا ہے جسے متولی کرایہ پر لے کر عمارت بنانا چاہتے ہیں یا اور مکانوں سے بھی حاصل ہوسکتا ہے اگر اور مکانوں سے بھی حاصل ہے اور وہ مول مل سکتے ہیں اور جدید عمارت بنانے اور کثیر کرایہ دینے سے خریداری میں نفع ہے تومتولیوں کو ہرگز جائزنہیں کہ یہ صورت کرایہ اختیارکرکے وقف کو نقصان پہنچائیں
فان الولایۃ مشروطۃ بالنظر ولانظر فی الضرر۔ ولایت مشروط بشفقت ہے اور ضرر میں شفقت نہیں ہے۔ (ت)
سود ملحوظ کرکے مقدار کرایہ معین کرنا ایك ناپاك بات اور گندہ لحاظ ہے لیکن اگر معین ہوجائے تو اس کرایہ میں حرج نہیں مثلا ہزارروپیہ کی قیمت ہے تو وہ نجس حساب لگاکر پونے چار روپیہ مہینہ کرایہ قرار دیا تو وہ نجاست اس لحاظ ہی میں رہی کرایہ میں نہ آئییہ ایسا ہوا کہ ابتداء کہتا کہ یہ زمین اتنی مدت کو پونے چار روپیہ کرایہ پر کردیتیسری بات کا جواب مضمون بالا میں آ گیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۶: ازسہسوان ضلع بدایوں قاضی محلہ مرسلہ سید پرورش علی صاحب ۱۴رجب ۱۳۳۷ھ
حضور نے تنخواہ ماہوار متولی وقف کو اجیر مثل کا فتوی لکھا ہےلہذا عرض ہے کہ مدرسہ اسلامیہ حنفیہ سہسوان کی زمین موقوفہ سہسوان سے تین کوس ہے متولی کو سواری وخوراك مع سپاہی فصل ہنگام تحصیل وقت سے ملے گینذربھیٹ روپیہپٹہ وقبولیت بھی حسب رواج ہنگام ماہوار اس کی تنخواہ کا روپیہ مناسب ہے کاشتکاروں سے وصول کرکے مدرسہ پر صرف کرنا مدرسوں کو ماہوار دیناتعمیر ومرمت وغیرہ میں خرچ کرنا مالگذاری گورنمنٹی ادا کرنا اس کا کام ہے اتنے کام کی کتنی اجرت ہوگی۔
الجواب:
وقف سے سواری اور ایام کارگزاری کی تنخواہ ملے گی اور ضرورت ہوتو ان ایام میں سپاہی کی تنخواہ بھیتنخواہ کا تعین کام کی کمی بیشی اور ہر جگہ کے عرف پر ہےپٹہ اور قبولیت کانذرانہ اور اس قسم کے زائد اور بے اصل رقوم کہ رائج ہورہی ہیں شرعا باطل ہیںواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۰۷: ازشہر بریلی محلہ فراشی مسئولہ مولوی عبدالعزیز قدر ت اللہ خاں صاحب ۲۱رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ کسی نے دو یاتین مسجدوں کے واسطے نام بنام الگ الگ روپیہ وصیت نامہ سے وقف کیا کہ فلاں مسجد کو اتنا اور فلاں کو اتنا ماہوار دیا جائےاب خود اس نے ایك مسجد کے نام کا روپیہ دوسری مسجد میں لگا دیا اور اس دوسری مسجد کے نام کا روپیہ بھی اسی دوسری مسجد میں لگادیادونوں مسجدوں کے نام ماہوار وقف کیاہےسوال یہ ہے کہ دوسری مسجد کے ماہوار میں سے پہلی مسجد کا روپیہ اداکرنا چاہئے یانہیں اور آئندہ بھی ایك مسجد کا ماہوار دوسری مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں اور جائز ہے تو اس کو ادا کرنا ضرور ہے یا نہیں یہ بھی واضح ہو کہ ہر ایك مسجد کے واسطے خاص خاص دکانوں کا کرایہ وقف ہے واقفہ زندہ ہے اور وصیت نامہ اسی کے قبضہ میں ہے جو رجسٹری شدہ ہے۔
الجواب:
جب وقف کی وصیت کی ہے تو اس کانفاذ بعد موت واقف ہوگازندگی میں اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۸تا۱۱۳: ازفیض آباد چوك مسجد شاہ ٹاٹ مرسلہ حافظ عبدالرحمن صاحب پیش امام ۱۶شعبان ۱۳۳۷ھ
حضرات علمائے کرام سوالات ذیل میں ازروئے شرع شریف کیا حکم فرماتے ہیں:
(۱)مسجد کے متعلق مسجد کی ضرورت سے پاخانہ بناہوا تھا اور وہی استنجا خانہ بھی تھامسجد کے متعلق ایك تھوڑا ساصحن مسجد کے دکھن جانب تھا جس کاحلقہ پختہ دیوار سے تھا اور اسی حلقہ کے گوشہ میں مسجد کا استنجاخانہ تھا جس میں نمازیان مسجد اور مسافران طہارت اور رفع حاجت کرتے تھے۔زید نے ایك مدرسہ بنانا چاہا جس کے واسطے عمرو نے اپنی ملك سے مدرسہ کےلئے مسجد کے خلف سے ملی ہوئی زمین دی تھیزید کو وہ حلقہ جو مسجد کے متعلق تھا اور پاخانہ دونوں وہ بھی زید نے کھود ڈالا اورتخمینا دو گز زمین چوڑان میں اورجتنی دور پاخانہ تھا اور اسی سیدھ اتنی ہی زمین پرچوڑان میں۵خواہ ۶ گز تك لمبان میں سب بغیر عام مسلمانوں کی اجازت کے غصب کرکے اپنا مدرسہ بڑھا کر بنالیا اور تخمینا تین ہزار اینٹ اسی حلقہ کی جو کھود ڈالی تھی وہ بھی مدرسہ میں لگائیعام مسلمانوں نے سکوت کیا بوجہ اس کے کہ چند مسلمان ہمخیال زید کے اس کے شریك رہے۔مسلمانوں نے چندہ جمع کرکے یہ سب بنوایا تھا کچھ دخل نہ دیا۔کیا شرعا زید کے لئے یہ جائز ہےکہ وہ مسجد کا پاخانہ توڑڈالے اور معہ پاخانہ کی زمین کے بغیر اجازت عام مسلمانوں کے غصب کرکے مدرسہ بنالےاینٹ پاخانہ اور حلقہ کی مدرسہ میں لگالے شرعا جائز ہے یانہیں
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ کسی نے دو یاتین مسجدوں کے واسطے نام بنام الگ الگ روپیہ وصیت نامہ سے وقف کیا کہ فلاں مسجد کو اتنا اور فلاں کو اتنا ماہوار دیا جائےاب خود اس نے ایك مسجد کے نام کا روپیہ دوسری مسجد میں لگا دیا اور اس دوسری مسجد کے نام کا روپیہ بھی اسی دوسری مسجد میں لگادیادونوں مسجدوں کے نام ماہوار وقف کیاہےسوال یہ ہے کہ دوسری مسجد کے ماہوار میں سے پہلی مسجد کا روپیہ اداکرنا چاہئے یانہیں اور آئندہ بھی ایك مسجد کا ماہوار دوسری مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں اور جائز ہے تو اس کو ادا کرنا ضرور ہے یا نہیں یہ بھی واضح ہو کہ ہر ایك مسجد کے واسطے خاص خاص دکانوں کا کرایہ وقف ہے واقفہ زندہ ہے اور وصیت نامہ اسی کے قبضہ میں ہے جو رجسٹری شدہ ہے۔
الجواب:
جب وقف کی وصیت کی ہے تو اس کانفاذ بعد موت واقف ہوگازندگی میں اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۰۸تا۱۱۳: ازفیض آباد چوك مسجد شاہ ٹاٹ مرسلہ حافظ عبدالرحمن صاحب پیش امام ۱۶شعبان ۱۳۳۷ھ
حضرات علمائے کرام سوالات ذیل میں ازروئے شرع شریف کیا حکم فرماتے ہیں:
(۱)مسجد کے متعلق مسجد کی ضرورت سے پاخانہ بناہوا تھا اور وہی استنجا خانہ بھی تھامسجد کے متعلق ایك تھوڑا ساصحن مسجد کے دکھن جانب تھا جس کاحلقہ پختہ دیوار سے تھا اور اسی حلقہ کے گوشہ میں مسجد کا استنجاخانہ تھا جس میں نمازیان مسجد اور مسافران طہارت اور رفع حاجت کرتے تھے۔زید نے ایك مدرسہ بنانا چاہا جس کے واسطے عمرو نے اپنی ملك سے مدرسہ کےلئے مسجد کے خلف سے ملی ہوئی زمین دی تھیزید کو وہ حلقہ جو مسجد کے متعلق تھا اور پاخانہ دونوں وہ بھی زید نے کھود ڈالا اورتخمینا دو گز زمین چوڑان میں اورجتنی دور پاخانہ تھا اور اسی سیدھ اتنی ہی زمین پرچوڑان میں۵خواہ ۶ گز تك لمبان میں سب بغیر عام مسلمانوں کی اجازت کے غصب کرکے اپنا مدرسہ بڑھا کر بنالیا اور تخمینا تین ہزار اینٹ اسی حلقہ کی جو کھود ڈالی تھی وہ بھی مدرسہ میں لگائیعام مسلمانوں نے سکوت کیا بوجہ اس کے کہ چند مسلمان ہمخیال زید کے اس کے شریك رہے۔مسلمانوں نے چندہ جمع کرکے یہ سب بنوایا تھا کچھ دخل نہ دیا۔کیا شرعا زید کے لئے یہ جائز ہےکہ وہ مسجد کا پاخانہ توڑڈالے اور معہ پاخانہ کی زمین کے بغیر اجازت عام مسلمانوں کے غصب کرکے مدرسہ بنالےاینٹ پاخانہ اور حلقہ کی مدرسہ میں لگالے شرعا جائز ہے یانہیں
(۲)ایسی حالت میں جبکہ وہ پاخانہ اور استنجا خانہ نماز یان مسجد اور مسافران مسجد کے لئے تھا جس کے کھودڈالنے سے نمازیوں کو برابر تکلیف رہی اور ہےزید کا پاخانہ کھودڈالنا اور مسجد کی ضروریات کا خیال نہ کرنا اور ایسی زمین کو مدرسہ میں داخل کرنا یہ سب شرعا جائز ہے یانہیں اور زید اس سے گنہگار ہوا یانہیں
(۳)زید نے مسجد کی پشت پر کاپختہ پشتہ ایك ثلث جو حفاظت دیوار مسجد کےلئے بنایا جاتا ہے کھودڈالا اور پاخانہ غسل خانہ اور اس کے بدررو(نالی)کا حوض سب مسجد کے پشت دیوار سے بالکل ملا ہوا بلکہ ایك گز مٹی نکال کر بنایا جس سے مسجد میں بو بھی آئے گیدیوار پشت مسجد میں نونا(شور)بھی لگے گا مسجد کی بیحرمتی بھی ہے کہ پشت مسجد پر پاخانہ بنا ہےآیا یہ سب فعل زید کےلئے شرعا جائز ہے یانہیں شرع دیوار مسجد میں اجازت دیتی ہے کہ مسجد کا پشتہ وزمین پاخانہ کی ضرورت کوکھودڈالاجائے کہ پاخانہ کی جگہ کچھ کم تھی یا پاخانہ بن نہ سکتا۔مسجد کی پشت پر سے مہتر آوے گا حوض کا پانی جو بالکل نجاست غلیظہ ہے جس سے مسجد دیوار پر ضرور چھینٹ پڑے گی۔
(۴)زید نے یہ سب کچھ کیا خود اور چند مسلمانوں کی مدد سےمگر مسلمانان شہر جس میں ہر قسم کے لوگ ہیں زید کی ان تمام باتوں کے خلاف یہ سب زمین مسجد پاخانہ اور وہ زمین جو اس کے متصل مسجد کے متعلق ہے اور اس کی اینٹ سب اپنے تحت تصرف میں لانا بھی سخت خلاف اور رنجیدہ ہیں اس کو جائز نہیں سمجھتے لہذا شرعا ہم سب مسلمانوں کو سکوت کرنا چاہئے یا کہ دخل دینا چاہئے اور یہ سب زمین علیحدہ کرلینا چاہئےامید کہ تشفی بخش جواب ہم غریب مسلمانوں کو مرحمت ہووے مع دلیل کے کیونکہ زید بھی مولوی ہے بغیردلیل کے وہ ہم لوگوں کی کیوں مانے گا۔
(۵)کیا زمین متعلقہ مسجد یااستنجا خانہ وغیرہ وغیرہ مسلمانوں کی اجازت سے شرعا منہدم ہوسکتا ہے ایسی حالت میں جبکہ وہ مسجد کے کام میں نہ آئے بلکہ دوسرے کام میں آئے وہ اجازت کے مجاز ہیں۔
(۶)مسجد میں پاخانہ یا پیشاب خانہ بنانے میں کچھ پورپ پچھم میں فرق ہے یانہیں اور مسجد سے کتنے فاصلہ پر پیشاب خانہ بنانا چاہئے اس کی کوئی حد شرعا جو ہو حکم فرمایا جائے اور نجاست کے پانی سے مسجد کی دیوار میں اگر اثر پہنچے تو شرعا کچھ حرج ہے یانہیں
الجواب:
(۱و۲)یہ فعل زید کا حرام قطعی ہےایك وقف جس غرض کے لئے وقف کیا گیا ہے اسی پر رکھا جائے اس میں تو تغیر نہ ہومگر ہیئت بدل دی جائے مثلا دکان کو رباط کردیں یا رباط کو دکانیہ حرام ہے۔عالمگیری میں ہے:
(۳)زید نے مسجد کی پشت پر کاپختہ پشتہ ایك ثلث جو حفاظت دیوار مسجد کےلئے بنایا جاتا ہے کھودڈالا اور پاخانہ غسل خانہ اور اس کے بدررو(نالی)کا حوض سب مسجد کے پشت دیوار سے بالکل ملا ہوا بلکہ ایك گز مٹی نکال کر بنایا جس سے مسجد میں بو بھی آئے گیدیوار پشت مسجد میں نونا(شور)بھی لگے گا مسجد کی بیحرمتی بھی ہے کہ پشت مسجد پر پاخانہ بنا ہےآیا یہ سب فعل زید کےلئے شرعا جائز ہے یانہیں شرع دیوار مسجد میں اجازت دیتی ہے کہ مسجد کا پشتہ وزمین پاخانہ کی ضرورت کوکھودڈالاجائے کہ پاخانہ کی جگہ کچھ کم تھی یا پاخانہ بن نہ سکتا۔مسجد کی پشت پر سے مہتر آوے گا حوض کا پانی جو بالکل نجاست غلیظہ ہے جس سے مسجد دیوار پر ضرور چھینٹ پڑے گی۔
(۴)زید نے یہ سب کچھ کیا خود اور چند مسلمانوں کی مدد سےمگر مسلمانان شہر جس میں ہر قسم کے لوگ ہیں زید کی ان تمام باتوں کے خلاف یہ سب زمین مسجد پاخانہ اور وہ زمین جو اس کے متصل مسجد کے متعلق ہے اور اس کی اینٹ سب اپنے تحت تصرف میں لانا بھی سخت خلاف اور رنجیدہ ہیں اس کو جائز نہیں سمجھتے لہذا شرعا ہم سب مسلمانوں کو سکوت کرنا چاہئے یا کہ دخل دینا چاہئے اور یہ سب زمین علیحدہ کرلینا چاہئےامید کہ تشفی بخش جواب ہم غریب مسلمانوں کو مرحمت ہووے مع دلیل کے کیونکہ زید بھی مولوی ہے بغیردلیل کے وہ ہم لوگوں کی کیوں مانے گا۔
(۵)کیا زمین متعلقہ مسجد یااستنجا خانہ وغیرہ وغیرہ مسلمانوں کی اجازت سے شرعا منہدم ہوسکتا ہے ایسی حالت میں جبکہ وہ مسجد کے کام میں نہ آئے بلکہ دوسرے کام میں آئے وہ اجازت کے مجاز ہیں۔
(۶)مسجد میں پاخانہ یا پیشاب خانہ بنانے میں کچھ پورپ پچھم میں فرق ہے یانہیں اور مسجد سے کتنے فاصلہ پر پیشاب خانہ بنانا چاہئے اس کی کوئی حد شرعا جو ہو حکم فرمایا جائے اور نجاست کے پانی سے مسجد کی دیوار میں اگر اثر پہنچے تو شرعا کچھ حرج ہے یانہیں
الجواب:
(۱و۲)یہ فعل زید کا حرام قطعی ہےایك وقف جس غرض کے لئے وقف کیا گیا ہے اسی پر رکھا جائے اس میں تو تغیر نہ ہومگر ہیئت بدل دی جائے مثلا دکان کو رباط کردیں یا رباط کو دکانیہ حرام ہے۔عالمگیری میں ہے:
لاتجوز تغییر الوقف عن ھیئتہ ۔
وقف جائداد کی ہیئت کوتبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے۔(ت)
نہ کہ سرے سے موقوف علیہ بدل دیا جائےمتعلق مسجد کو مدرسہ میں شامل کرلیا جائے یہ حرام ہے اور سخت حرام ہے۔
(۳)یہ بھی زید کا ویسا ہی تصرف ہےحرام وناجائز ہے۔مسجد کا پشتہ کھودنا حراماور اسے ماورائے مسجد دوسرے کام خصوصا ایسے ناپاك کام میں صرف کرنا صریح ظلم وغصب وبیحرمتی مسجد ہے۔
صحیح حدیث کا ارشاد ہے کہ جو ایك بالشت زمین غصب کرے گا زمین کے ساتوں طبقوں تك اتنا حصہ توڑکرروز قیامت اس کے گلے میں طوق ڈالاجائے گا ۔
(۴)مسلمانون کو زید کی ایسی بیجادست برد وظلم پر سکوت حرام ہے اور چارہ جوئی فرض۔لازم ہے کہ بذریعہ حکومت مسجد کی وہ پہلی زمین اور پشتہ کی زمین سب اس کے قبضہ سے نکلوائی جائے اور پہلے جس حالت پر تھی اسی حالت پر جبرا اس سے کرائی جائے اور جتنی اینٹیں اس نے تصرف میں کرلی ہیں وہ متمیز ہوں تو واپس لی جائیں ورنہ ان کی قیمت لی جائے اور جتنے دنوں یہ استنجا خانہ وپشتہ وغیرہ کی زمین اس کے قبضہ میں رہی یا تا انفصال رہے اس سب کا کرایہ اس سے مسجد کے لئے لیا جائے کما قد نصوا علیہ قاطبۃ فی الکتب المعتمدۃ(جیسا کہ تمام معتبر کتب میں اس پر نص موجود ہے۔ت)
(۵)مسلمانوں کو تغییر وقف کا کوئی اختیار نہیں تصرف آدمی اپنی ملك میں کرسکتا ہے وقف مالك حقیقی جل وعلا کی ملك خاص ہے اس کے بے اذن دوسرے کو اس میں کسی تصرف کا اختیار نہیں۔
(۶)مسجد کوبو سے بچانا واجب ہےولہذا مسجد میں مٹی کا تیل جلانا حراممسجد میں دیا سلائی سلگانا حرامحتی کہ حدیث میں ارشاد ہوا:وان یمرفیہ بلحم نیئ ۔یعنی مسجد میں کچا گوشت لے جانا جائز نہیں حالانکہ کچے گوشت کی بوبہت خفیف ہے تو جہاں سے مسجد میں بو پہنچے وہاں تك ممانعت کی جائے گیمسجد عام جماعت کیلئے بنائی جاتی ہے اور جماعت ہر مسلمان پر واجب ہے یہاں تك کہ ترك جماعت پر صحیح حدیث میں فرمایا:ظلم ہے اور کفر ہے۔اور نفاق یہ کہ آدمی اللہ کے منادی کو پکارتا سنے اور حاضر نہ ہو۔صحیح مسلم شریف میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث ہے:
وقف جائداد کی ہیئت کوتبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے۔(ت)
نہ کہ سرے سے موقوف علیہ بدل دیا جائےمتعلق مسجد کو مدرسہ میں شامل کرلیا جائے یہ حرام ہے اور سخت حرام ہے۔
(۳)یہ بھی زید کا ویسا ہی تصرف ہےحرام وناجائز ہے۔مسجد کا پشتہ کھودنا حراماور اسے ماورائے مسجد دوسرے کام خصوصا ایسے ناپاك کام میں صرف کرنا صریح ظلم وغصب وبیحرمتی مسجد ہے۔
صحیح حدیث کا ارشاد ہے کہ جو ایك بالشت زمین غصب کرے گا زمین کے ساتوں طبقوں تك اتنا حصہ توڑکرروز قیامت اس کے گلے میں طوق ڈالاجائے گا ۔
(۴)مسلمانون کو زید کی ایسی بیجادست برد وظلم پر سکوت حرام ہے اور چارہ جوئی فرض۔لازم ہے کہ بذریعہ حکومت مسجد کی وہ پہلی زمین اور پشتہ کی زمین سب اس کے قبضہ سے نکلوائی جائے اور پہلے جس حالت پر تھی اسی حالت پر جبرا اس سے کرائی جائے اور جتنی اینٹیں اس نے تصرف میں کرلی ہیں وہ متمیز ہوں تو واپس لی جائیں ورنہ ان کی قیمت لی جائے اور جتنے دنوں یہ استنجا خانہ وپشتہ وغیرہ کی زمین اس کے قبضہ میں رہی یا تا انفصال رہے اس سب کا کرایہ اس سے مسجد کے لئے لیا جائے کما قد نصوا علیہ قاطبۃ فی الکتب المعتمدۃ(جیسا کہ تمام معتبر کتب میں اس پر نص موجود ہے۔ت)
(۵)مسلمانوں کو تغییر وقف کا کوئی اختیار نہیں تصرف آدمی اپنی ملك میں کرسکتا ہے وقف مالك حقیقی جل وعلا کی ملك خاص ہے اس کے بے اذن دوسرے کو اس میں کسی تصرف کا اختیار نہیں۔
(۶)مسجد کوبو سے بچانا واجب ہےولہذا مسجد میں مٹی کا تیل جلانا حراممسجد میں دیا سلائی سلگانا حرامحتی کہ حدیث میں ارشاد ہوا:وان یمرفیہ بلحم نیئ ۔یعنی مسجد میں کچا گوشت لے جانا جائز نہیں حالانکہ کچے گوشت کی بوبہت خفیف ہے تو جہاں سے مسجد میں بو پہنچے وہاں تك ممانعت کی جائے گیمسجد عام جماعت کیلئے بنائی جاتی ہے اور جماعت ہر مسلمان پر واجب ہے یہاں تك کہ ترك جماعت پر صحیح حدیث میں فرمایا:ظلم ہے اور کفر ہے۔اور نفاق یہ کہ آدمی اللہ کے منادی کو پکارتا سنے اور حاضر نہ ہو۔صحیح مسلم شریف میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰
صحیح البخاری باب ماجاء فی سبع ارضین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۵۴
سنن ابن ماجہ ابواب المساجد باب مایکرہ فی المساجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵
صحیح البخاری باب ماجاء فی سبع ارضین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۵۴
سنن ابن ماجہ ابواب المساجد باب مایکرہ فی المساجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵
لوصلیتم فی بیوتکم کما یصلی ھذاالمتخلف لترکتم سنۃ نبیکم ولوترکتم سنۃ نبیکم لضللتم وفی روایۃ ابی داؤد لکفرتم ۔
یعنی اگر مسجد میں جماعت کو حاضر نہ ہوگے اور گھروں میں نماز پڑھو گے تو گمراہ ہوجاؤگے ایمان سے نکل جاؤگے(اور ابوداؤد کی روایت میں ہے تم کافر ہوجاؤگے۔ت)
بایں ہمہ صحیحین کی حدیث میں ارشاد ہوا:
من اکل من ھذہ الشجرۃ الخبیثۃ فلایقربن مصلانا ۔
جو اس گندے پیڑ میں سے کھالے یعنی کچا پیاز یا کچا لہسن وہ ہماری مسجد کے پاس نہ آئے۔
اور فرمایا:فان الملئکۃ تتأذی ممایتأذی منہ بنوادم ۔یعنی یہ خیال نہ کرو کہ اگر مسجد خالی ہے تو اس میں کسی بو کا داخل کرنا اس وقت جائز ہو کہ کوئی آدمی نہیں جواس سے ایذا پائے گا ایسا نہیں بلکہ ملائکہ بھی ایذا پاتے ہیں اس سے جس سے ایذاپاتا ہے انسان۔مسجد کو نجاست سے پچانا فرض ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱۴تا۱۱۹:ازبمبئی کامبیکرات اسٹریٹ المعروف چھاج محلہ مرسلہ بدرالدین عبداللہ صاحب مشاور جامع مسجد کمیٹی۱۶رجب ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفقہائے شرع متین زادہم اﷲ تعالی شرفا وتظیما ان صور مسئولہ میں جوکہ ذیل حسب نمبر مندرج ہیں:
اول: یہ کہ شہر بمبئی میں ایك مسجد عظیم الشان رفیع البنیان جامع مسجد ہے اور اس کی بنا وسط شہر میں ایسی جگہ واقع ہے جس کے چو طرف کوئی مکان نہیں ہے اور اس میں ہوابکثرت آتی کیونکہ سب اطراف اس کے فارغ ہیں بلکہ بعض اوقات بسبب کثرت ہوا مصلی دریچہائے مسجد کو بند کرتے ہیںاس مسجد کی بنا پہلے ہی سے نہایت عمدہ و شاندار تھی مگر قبل از چند سال حضرات مشاورین نے اپنی رائے سے اس میں کسی قدر تبدل وتغیر کیا اور تخمینا اس ترمیم وتبدیل میں تخمینا تین لاکھ روپیہ سے زیادہ صرف مال وقف سے کیاگیا اس
یعنی اگر مسجد میں جماعت کو حاضر نہ ہوگے اور گھروں میں نماز پڑھو گے تو گمراہ ہوجاؤگے ایمان سے نکل جاؤگے(اور ابوداؤد کی روایت میں ہے تم کافر ہوجاؤگے۔ت)
بایں ہمہ صحیحین کی حدیث میں ارشاد ہوا:
من اکل من ھذہ الشجرۃ الخبیثۃ فلایقربن مصلانا ۔
جو اس گندے پیڑ میں سے کھالے یعنی کچا پیاز یا کچا لہسن وہ ہماری مسجد کے پاس نہ آئے۔
اور فرمایا:فان الملئکۃ تتأذی ممایتأذی منہ بنوادم ۔یعنی یہ خیال نہ کرو کہ اگر مسجد خالی ہے تو اس میں کسی بو کا داخل کرنا اس وقت جائز ہو کہ کوئی آدمی نہیں جواس سے ایذا پائے گا ایسا نہیں بلکہ ملائکہ بھی ایذا پاتے ہیں اس سے جس سے ایذاپاتا ہے انسان۔مسجد کو نجاست سے پچانا فرض ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱۴تا۱۱۹:ازبمبئی کامبیکرات اسٹریٹ المعروف چھاج محلہ مرسلہ بدرالدین عبداللہ صاحب مشاور جامع مسجد کمیٹی۱۶رجب ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفقہائے شرع متین زادہم اﷲ تعالی شرفا وتظیما ان صور مسئولہ میں جوکہ ذیل حسب نمبر مندرج ہیں:
اول: یہ کہ شہر بمبئی میں ایك مسجد عظیم الشان رفیع البنیان جامع مسجد ہے اور اس کی بنا وسط شہر میں ایسی جگہ واقع ہے جس کے چو طرف کوئی مکان نہیں ہے اور اس میں ہوابکثرت آتی کیونکہ سب اطراف اس کے فارغ ہیں بلکہ بعض اوقات بسبب کثرت ہوا مصلی دریچہائے مسجد کو بند کرتے ہیںاس مسجد کی بنا پہلے ہی سے نہایت عمدہ و شاندار تھی مگر قبل از چند سال حضرات مشاورین نے اپنی رائے سے اس میں کسی قدر تبدل وتغیر کیا اور تخمینا اس ترمیم وتبدیل میں تخمینا تین لاکھ روپیہ سے زیادہ صرف مال وقف سے کیاگیا اس
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساجد باب فضل صلوٰۃ والجماعۃ وبیان التشدید الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳۲
سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب التشدید فی ترك الجماعۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸۱
صحیح مسلم کتاب المساجد باب نہی من اکل ثوما الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۹
صحیح مسلم کتاب المساجد باب نہی من اکل ثوما الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۹
سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب التشدید فی ترك الجماعۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۸۱
صحیح مسلم کتاب المساجد باب نہی من اکل ثوما الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۹
صحیح مسلم کتاب المساجد باب نہی من اکل ثوما الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۹
مسجد کی روشنی کے لئے قبل از چند سال بصرف مبلغ دس بارہ ہزار روپیہ ہانڈیاں وجھومر بلوری وغیرہ اسباب روشنی کا خرید کرکے نہایت اعلی پیمانہ پر مشاورین قدیم نے انتظام کیا تھا بعد از چند سال مشاورین جدید نے اس انتظام کو ناقابل وغیر مکتفی سمجھ کر تقریبا بیس ہزار روپیہ سے زیادہ صرف مال وقف سے گیس کی روشنی کی تجویز کی اور طبقہ زیریں اور بالاپر گیس کے نل وغیرہ سقف وجدار مسجد میں نصب کئے گئے تھے اور چند سال تك یہ گیس یعنی دخان کی روشنی کا مسجد میں انتظام رہامگر جبکہ مسجد بطریق بیان بالاترمیم وتغیر کرنے میں آئی اس وقت یہ سب گیس کی روشنی کے نل وغیرہ جو کہ سقف وجدار میں نصب کیے گئے تھے ضائع وخراب وبرباد ہوئے پھر تجدیدا حضرات مشاورین نے بکثرت رائے مشاورین نئے سرے سے گیس کی روشنی کا انتظام کیااور طبقہ زیریں میں سقف وجدار میں نل نصب کئے اس امر کو ایك سال کا عرصہ منقضی نہیں ہوا ہے کہ مشاورین مذکور چاہتے ہیں کہ مسجد میں برقی روشنی اور برقی پنکھوں کا انتظام واہتمام بصرف مال مسجد کیاجائے پس جملہ احوال سوال مذکورپر غور فرماکر بیان فرمادیں کہ یہ جو وقتا فوقتا دربارہ روشنی اخراجات کثیرہ کئے گئے ہیں یہ مال وقف میں تصرف بیجا ونازیبائے شرع ہیں یانہیں بیان فرمائیں۔
ثانی: یہ کہ جب مسجد ایسی جگہ واقع ہے جس کے چاروں طرف کوئی مکان نہیں ہے اور مسجد مذکور کے دیواروں میں دریچہائے کلاں بکثرت بنائے گئے ہیں اور ہر وقت ہوا وہاں موجود ومتموج ہے بلکہ بعض وقت حسب بیان سوال اول کھڑکیاں بسبب کثرت ہوا کے بند کی جاتی ہیںپس ایسی صورت میں مال وقف سے برقی پنکھے مسجدمیں نصب کرنا شرعا درست ہے یانہیں
تیسرے یہ کہ تجربتا یہ امر ظاہر ہے کہ جب برقی پنکھا چلایا جاتاہے اس وقت اس سے ایك آواز آتی ہے جو ضرور مخل نماز ومبطل خشوع وخضوعبناء علیہ اس طرح کے پنکھے بلاضرورت بصرف مال مسجد بنانا شرعا جائز ہیں یانہیں
(۴)یہ امر بتحقیق تمام ثبوت کو پہنچا ہے کہ پنکھا چلانے کے ڈبے میں جو گریس ڈالا جاتا ہے وہ اشیاء ناپاك ونجس سے مخلوط ہے اس صورت خاص میں بھی ان پنکھوں کے مسجد میں لگانے کا بصرف مال وقف شرعا کیا حکم ہے
(۵)یہ کہ ماہرین فن ایلیکٹری سے یہ بات بخوبی معلوم ہوئی ہے کہ بہ نسبت گیس کی روشنی کے ایلیکٹری کی روشنی وبرقی پنکھوں میں زیادہ ترخوف آتشزدگی ہےچنانچہ ایلیکٹری سے اس قسم کی آتشزدگی کے واقعات بہت ہوچکے ہیں جس سے بہت لوگ واقف ہیںپس صورت مذکور میں ایسی خوفناك وحشت آمیز چیز کا نصب کرنا شرعادرست ہے یانہیں
(۶)یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ بقول اطباء روشنی برقی مضر بصارت ہے اور برقی پنکھوں کی ہوا
ثانی: یہ کہ جب مسجد ایسی جگہ واقع ہے جس کے چاروں طرف کوئی مکان نہیں ہے اور مسجد مذکور کے دیواروں میں دریچہائے کلاں بکثرت بنائے گئے ہیں اور ہر وقت ہوا وہاں موجود ومتموج ہے بلکہ بعض وقت حسب بیان سوال اول کھڑکیاں بسبب کثرت ہوا کے بند کی جاتی ہیںپس ایسی صورت میں مال وقف سے برقی پنکھے مسجدمیں نصب کرنا شرعا درست ہے یانہیں
تیسرے یہ کہ تجربتا یہ امر ظاہر ہے کہ جب برقی پنکھا چلایا جاتاہے اس وقت اس سے ایك آواز آتی ہے جو ضرور مخل نماز ومبطل خشوع وخضوعبناء علیہ اس طرح کے پنکھے بلاضرورت بصرف مال مسجد بنانا شرعا جائز ہیں یانہیں
(۴)یہ امر بتحقیق تمام ثبوت کو پہنچا ہے کہ پنکھا چلانے کے ڈبے میں جو گریس ڈالا جاتا ہے وہ اشیاء ناپاك ونجس سے مخلوط ہے اس صورت خاص میں بھی ان پنکھوں کے مسجد میں لگانے کا بصرف مال وقف شرعا کیا حکم ہے
(۵)یہ کہ ماہرین فن ایلیکٹری سے یہ بات بخوبی معلوم ہوئی ہے کہ بہ نسبت گیس کی روشنی کے ایلیکٹری کی روشنی وبرقی پنکھوں میں زیادہ ترخوف آتشزدگی ہےچنانچہ ایلیکٹری سے اس قسم کی آتشزدگی کے واقعات بہت ہوچکے ہیں جس سے بہت لوگ واقف ہیںپس صورت مذکور میں ایسی خوفناك وحشت آمیز چیز کا نصب کرنا شرعادرست ہے یانہیں
(۶)یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ بقول اطباء روشنی برقی مضر بصارت ہے اور برقی پنکھوں کی ہوا
بھی نقصان رسان صحت ہےچنانچہ اس قبیل کا ایك مضمون اخبار طبیب مورخہ یکن جون سہہ رواں مطبوع ہے جو اخبار کہ بسر پرستی جناب حاذق الملك مولوی حکیم اجمل خاں صاحب بہادر رئیس اعظم دہلی نکلا کرتا ہےپس ایسی مضرت رساں صحت کا مسجد میں آویزاں کرنا شرعا درست ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)یہ تصرفات محض ظلم واسراف وتضییع مال اوقاف ہیں علماء نے ایك چراغ وقف کے صبح تك روشن رکھنے کو ناجائز بتایا جب تك واقف سے نصا یا عرفا اس کی اجازت ثابت نہ ہو نہ کہ بار بار یہ ہزارہا روپوں کاصرف بیکارمتولیوں کو کسی صرف جدید کے احداث کی اجازت نہیں ہوسکتیاگر بلا مسوغ شرعی اس میں مال وقف صرف کرینگے وہ صرف ان کی ذات پر پڑے گا اور جتنا مال مسجد اس میں خرچ کیا اس کا تاوان ان پر لازم ہوگاواقف نے اگرمسجد میں کنگرے نہ بنائے تھے اور متولی مال وقف سے بنائے گا گنہگار ہوگا اور تاوان دے گانمازیوں کو اگر بے منارہ کے اذان کی آواز پہنچ جاتی ہے تو متولی مال مسجد سے منارہ نہیں بناسکتابنائے گا تو اس پر تاوان آئے گاواقف نے فراش مسجد کا کوئی وظیفہ نہ رکھا تھامتولی تو متولی حاکم کو حلال نہیں کہ اس میں فراش کا وظیفہ حادث کرےنہ فراش کو وہ وظیفہ لینا حلال۔بنائے مسجد بسکہ عمدہ ومحکم تھی تو متولیوں کو اس کا شہیدکرنا اور نقشہ بدلنا اوراس میں مسجد کے تین لاکھ روپے اڑادینا اور اس کے سبب بیس ہزار کے نل برباد کرنا اور پھر گیاس کی روشنی میں بیس ہزاراور اڑانااور اب اسے بھی تباہ کرکے برقی روشنی کی کوشش کرنا اور اس میں مال مسجد برباد کرنایہ تمام افعال حرام تھے اور ہیںمتولیوں پر ان لاکھوں روپوں کاتاوان لازم ہے کہ اپنی گرہ سے ادا کریںاور واجب ہے کہ ایسے مسرف متولی معزول کئے جائیں اور ان کی جگہ مسلمان متدین ہوشیار کار گزار خداترس دیانتدار مقرر کئے جائیں۔عالمگیریہ میں ہے:
لووقف علی دھن السراج للمسجد لایجوز وضعہ جمیع اللیل بل بقدر حاجۃ المصلین ویجوز الی ثلث اللیل ونصفہ اذااحتیج الیہ للصلوۃ فیہ کذا فی السراج الوھاج ولایجوز ان یترك فیہ کل اللیل الافی موضع جرت العادۃ فیہ بذلك کمسجد بیت المقدس ومسجد النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمو المسجد الحرام
اگر مسجد کے چراغ کے تیل کے لئے کوئی وقف کیا توتمام رات چراغ روشن رکھنا جائز نہ ہوگا بلکہ صرف نمازیوں کی ضرورت کے مطابق اور تہائی رات تکاگر ضرورت ہوتو نصف رات تك روشن رکھاجائےتاکہ نمازی عبادت کرسکیںیونہی السراج الوہاج میں ہے۔اور تمام رات چراغ روشن رکھنا جائز نہیںہاں ایسے مقامات جہاں ایسی عادت جاری چلی آرہی ہےجیسا کہ مسجد بیت المقدس او مسجد نبوی اور مسجد حرام میں ہےیاواقف نے تمام
الجواب:
(۱)یہ تصرفات محض ظلم واسراف وتضییع مال اوقاف ہیں علماء نے ایك چراغ وقف کے صبح تك روشن رکھنے کو ناجائز بتایا جب تك واقف سے نصا یا عرفا اس کی اجازت ثابت نہ ہو نہ کہ بار بار یہ ہزارہا روپوں کاصرف بیکارمتولیوں کو کسی صرف جدید کے احداث کی اجازت نہیں ہوسکتیاگر بلا مسوغ شرعی اس میں مال وقف صرف کرینگے وہ صرف ان کی ذات پر پڑے گا اور جتنا مال مسجد اس میں خرچ کیا اس کا تاوان ان پر لازم ہوگاواقف نے اگرمسجد میں کنگرے نہ بنائے تھے اور متولی مال وقف سے بنائے گا گنہگار ہوگا اور تاوان دے گانمازیوں کو اگر بے منارہ کے اذان کی آواز پہنچ جاتی ہے تو متولی مال مسجد سے منارہ نہیں بناسکتابنائے گا تو اس پر تاوان آئے گاواقف نے فراش مسجد کا کوئی وظیفہ نہ رکھا تھامتولی تو متولی حاکم کو حلال نہیں کہ اس میں فراش کا وظیفہ حادث کرےنہ فراش کو وہ وظیفہ لینا حلال۔بنائے مسجد بسکہ عمدہ ومحکم تھی تو متولیوں کو اس کا شہیدکرنا اور نقشہ بدلنا اوراس میں مسجد کے تین لاکھ روپے اڑادینا اور اس کے سبب بیس ہزار کے نل برباد کرنا اور پھر گیاس کی روشنی میں بیس ہزاراور اڑانااور اب اسے بھی تباہ کرکے برقی روشنی کی کوشش کرنا اور اس میں مال مسجد برباد کرنایہ تمام افعال حرام تھے اور ہیںمتولیوں پر ان لاکھوں روپوں کاتاوان لازم ہے کہ اپنی گرہ سے ادا کریںاور واجب ہے کہ ایسے مسرف متولی معزول کئے جائیں اور ان کی جگہ مسلمان متدین ہوشیار کار گزار خداترس دیانتدار مقرر کئے جائیں۔عالمگیریہ میں ہے:
لووقف علی دھن السراج للمسجد لایجوز وضعہ جمیع اللیل بل بقدر حاجۃ المصلین ویجوز الی ثلث اللیل ونصفہ اذااحتیج الیہ للصلوۃ فیہ کذا فی السراج الوھاج ولایجوز ان یترك فیہ کل اللیل الافی موضع جرت العادۃ فیہ بذلك کمسجد بیت المقدس ومسجد النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمو المسجد الحرام
اگر مسجد کے چراغ کے تیل کے لئے کوئی وقف کیا توتمام رات چراغ روشن رکھنا جائز نہ ہوگا بلکہ صرف نمازیوں کی ضرورت کے مطابق اور تہائی رات تکاگر ضرورت ہوتو نصف رات تك روشن رکھاجائےتاکہ نمازی عبادت کرسکیںیونہی السراج الوہاج میں ہے۔اور تمام رات چراغ روشن رکھنا جائز نہیںہاں ایسے مقامات جہاں ایسی عادت جاری چلی آرہی ہےجیسا کہ مسجد بیت المقدس او مسجد نبوی اور مسجد حرام میں ہےیاواقف نے تمام
اوشرط الواقف ترکہ فیہ کل اللیل کماجرت بہ العادۃ فی زماننا کذافی البحرالرائق ۔
رات روشن رکھنے کی شرط لگار کھی ہو جیسا کہ ہمارے زمانہ میں یہ عادت بن چکی ہےبحرالرائق میں یونہی ہے(ت)
فتاوی قاضیخاں میں ہے:
لیس للقیم ان یتخذ من الوقف علی عمارۃ المسجد شرفا من ذلك ولو فعل یکون ضامنا ۔
منتظم کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ مسجدکی عمارت پر وقف مال سے کوئی بالاخانہ بنائےاگر اس نے ایساکیا تو وہ اس مال کا ضامن ہوگا۔(ت)
خزانۃ المفتین میں ہے:
یجوز ان یبنی منارۃ من غلۃ وقف المسجدان احتاج الیھا لیکون اسمع للجیران وان کانوایسمعون الاذان بدون المنارۃ فلا ۔
ارد گرد کے لوگوں کو آواز پہنچانے کے لئے مسجد کے وقف کی آمدنی سے مینار بنانا جائز ہے بشرط ضرورتاور اگر منارہ کے بغیر اذان کی آواز لوگ سن لیتے ہوں تو پھر جائز نہیں(ت)
عقودا لدریہ میں ہے:
القاضی لیس لہ الاحداث بدون مسوغ شرعی فکیف المتولی وقد صرح فی الذخیرۃ والولوالجیۃ وغیرھما بان القاضی اذا قرر فراشا للمسجد بغیر شرط الواقف لم یحل للقاضی ذلك ولم یحل للفراش تناول المعلوم قال فی البحر فان قلت فی تقریر الفراش مصلحۃ قلت یمکن خدمۃ المسجد بدون تقریرہ بان یستاجر المتولی فراشا
قاضی کو وقف میں نئی عمارت بنانا ضرورت شرعی کے بغیر جائز نہیں تو متولی کیسے کرسکتا ہے جبکہ ذخیرہ اور ولوالجیہ وغیرہما میں تصریح ہے کہ اگر قاضی نے واقف کی شرط کے بغیر مسجد کے لئے صفائی والا مقرر کیا تو اسے جائز نہیں اور اس صفائی والے کو مقرر وظیفہ لینا جائزنہیں ہے اور بحر میں فرمایا اگر تیرااعتراض ہو کہ صفائی والے کی تقرری میں اصلاح کی صورت ہےتومیں کہتا ہوں کہ اس تقرری کے بغیر بھی مسجدکی
رات روشن رکھنے کی شرط لگار کھی ہو جیسا کہ ہمارے زمانہ میں یہ عادت بن چکی ہےبحرالرائق میں یونہی ہے(ت)
فتاوی قاضیخاں میں ہے:
لیس للقیم ان یتخذ من الوقف علی عمارۃ المسجد شرفا من ذلك ولو فعل یکون ضامنا ۔
منتظم کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ مسجدکی عمارت پر وقف مال سے کوئی بالاخانہ بنائےاگر اس نے ایساکیا تو وہ اس مال کا ضامن ہوگا۔(ت)
خزانۃ المفتین میں ہے:
یجوز ان یبنی منارۃ من غلۃ وقف المسجدان احتاج الیھا لیکون اسمع للجیران وان کانوایسمعون الاذان بدون المنارۃ فلا ۔
ارد گرد کے لوگوں کو آواز پہنچانے کے لئے مسجد کے وقف کی آمدنی سے مینار بنانا جائز ہے بشرط ضرورتاور اگر منارہ کے بغیر اذان کی آواز لوگ سن لیتے ہوں تو پھر جائز نہیں(ت)
عقودا لدریہ میں ہے:
القاضی لیس لہ الاحداث بدون مسوغ شرعی فکیف المتولی وقد صرح فی الذخیرۃ والولوالجیۃ وغیرھما بان القاضی اذا قرر فراشا للمسجد بغیر شرط الواقف لم یحل للقاضی ذلك ولم یحل للفراش تناول المعلوم قال فی البحر فان قلت فی تقریر الفراش مصلحۃ قلت یمکن خدمۃ المسجد بدون تقریرہ بان یستاجر المتولی فراشا
قاضی کو وقف میں نئی عمارت بنانا ضرورت شرعی کے بغیر جائز نہیں تو متولی کیسے کرسکتا ہے جبکہ ذخیرہ اور ولوالجیہ وغیرہما میں تصریح ہے کہ اگر قاضی نے واقف کی شرط کے بغیر مسجد کے لئے صفائی والا مقرر کیا تو اسے جائز نہیں اور اس صفائی والے کو مقرر وظیفہ لینا جائزنہیں ہے اور بحر میں فرمایا اگر تیرااعتراض ہو کہ صفائی والے کی تقرری میں اصلاح کی صورت ہےتومیں کہتا ہوں کہ اس تقرری کے بغیر بھی مسجدکی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۹
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف باب جعل دارہ مسجدًا نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۱۲
خزانۃ المفتین کتاب الوقف قلمی نسخہ ۱/ ۲۱۴
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف باب جعل دارہ مسجدًا نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۱۲
خزانۃ المفتین کتاب الوقف قلمی نسخہ ۱/ ۲۱۴
لہ والممنوع تقریرہ فی وظیفۃ تکون حقالہ ۔
خدمت ممکن ہے کہ متولی کسی کو اجرت دے کر کرالے جبکہ مستقل تقرری جس پروظیفہ مقرر ہو منع ہے۔(ت)
ہندیہ پھر طحطاوی پھر شامی میں ہے:
مسجد مبنی اراد رجل ان ینقضہ ویبنیہ ثانیا احکم من البناء الاول لیس لہ ذلك لانہ لاولایۃ لہمضمراتالاان یخاف ان ینھدمتاتارخانیۃ وتاویلہ ان لم یکن البانی من اھل تلك المحلۃ اما اھلھا فلھم ان یھد موا ویجددوا بنائہ لکن من مالھم لامن مال المسجد الابامر القاضی ۔
تعمیر شدہ مسجد کو گراکر کوئی شخص نئی مضبوط عمارت بنانا چاہے تو اسے یہ اختیارات نہیں کیونکہ اس کو یہ ولایت حاصل نہیں ہےمضمرات۔مگر اس صور ت میں جب عمارت منہدم ہونے کا خطرہ ہوتاتارخانیہ۔اس کی تاویل یہ ہے کہ وہ تعمیر کرنے والا محلہ دارنہ ہواگر وہاں کا محلہ دار ہوتو محلے والوں کو اختیار ہے گراکر دوبارہ تعمیر کریں لیکن اپنے مال سےنہ کہ مسجد کے مال سےہاں اگر قاضی کی اجازت ہوتو مسجد کا مال خرچ کرسکتے ہیں۔(ت)
خلاصہ وتنویر الابصار میں ہے:
لاباس بنقشہ خلامحرابہ بجص وماء ذھب بمالہ لامن مال الوقف وضمن متولیہ لوفعل ۔
جص اور سونے کے پانی سے مسجد میں نقش ونگار محراب کو چھوڑ کر کرنا جائز ہے بشرطیکہ کوئی ذاتی مال سے کرے وقف کے مال سے جائز نہیںاگر متولی نے ایسا کیا تو ضامن ہوگا۔(ت)
بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
امامن مال الوقف فلاشك انہ لایجوز للمتولی فعلہ مطلقا لعدم الفائدۃ فیہ ۔
لیکن وقف مال سے ایسا کرنا بلاشبہ متولی کو مطلقا جائز نہیں کیونکہ اس میں وقف کا کوئی فائدہ نہیں ہے(ت)
خدمت ممکن ہے کہ متولی کسی کو اجرت دے کر کرالے جبکہ مستقل تقرری جس پروظیفہ مقرر ہو منع ہے۔(ت)
ہندیہ پھر طحطاوی پھر شامی میں ہے:
مسجد مبنی اراد رجل ان ینقضہ ویبنیہ ثانیا احکم من البناء الاول لیس لہ ذلك لانہ لاولایۃ لہمضمراتالاان یخاف ان ینھدمتاتارخانیۃ وتاویلہ ان لم یکن البانی من اھل تلك المحلۃ اما اھلھا فلھم ان یھد موا ویجددوا بنائہ لکن من مالھم لامن مال المسجد الابامر القاضی ۔
تعمیر شدہ مسجد کو گراکر کوئی شخص نئی مضبوط عمارت بنانا چاہے تو اسے یہ اختیارات نہیں کیونکہ اس کو یہ ولایت حاصل نہیں ہےمضمرات۔مگر اس صور ت میں جب عمارت منہدم ہونے کا خطرہ ہوتاتارخانیہ۔اس کی تاویل یہ ہے کہ وہ تعمیر کرنے والا محلہ دارنہ ہواگر وہاں کا محلہ دار ہوتو محلے والوں کو اختیار ہے گراکر دوبارہ تعمیر کریں لیکن اپنے مال سےنہ کہ مسجد کے مال سےہاں اگر قاضی کی اجازت ہوتو مسجد کا مال خرچ کرسکتے ہیں۔(ت)
خلاصہ وتنویر الابصار میں ہے:
لاباس بنقشہ خلامحرابہ بجص وماء ذھب بمالہ لامن مال الوقف وضمن متولیہ لوفعل ۔
جص اور سونے کے پانی سے مسجد میں نقش ونگار محراب کو چھوڑ کر کرنا جائز ہے بشرطیکہ کوئی ذاتی مال سے کرے وقف کے مال سے جائز نہیںاگر متولی نے ایسا کیا تو ضامن ہوگا۔(ت)
بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
امامن مال الوقف فلاشك انہ لایجوز للمتولی فعلہ مطلقا لعدم الفائدۃ فیہ ۔
لیکن وقف مال سے ایسا کرنا بلاشبہ متولی کو مطلقا جائز نہیں کیونکہ اس میں وقف کا کوئی فائدہ نہیں ہے(ت)
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثانی ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۲۰
فتاوی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۳
فتاوی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۳
درمختار میں ہے:
الااذاکان الواقف فعل مثلہ لقولھم انہ یعمر الوقف کما کان ۔
ہاں اگر واقف ایسا کرتا رہا ہوتو پھر وقف مال سے جائز ہے کیونکہ فقہاء نے فرمایاہے کہ متولی اسی طرح تعمیر کرے جس طرح پہلے تھی(ت)
فتح القدیر پھر شرح علامہ بیری پھر ابن عابدین میں ہے:
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ ولاموجب لتجویزہ لان الموجب الشرط والضرورۃ ولاضرورۃ فی ھذا اذلا تجب الزیادۃ بل تبقیہ کما کان ۔
وقف کو اپنی اصلی حالت پر رکھنا واجب ہے کوئی زیادتی نہ کی جائے کیونکہ اس کے جواز کاکوئی موجب نہیں ہے کیونکہ موجب صرف وقف کی شرط یا ضرورت ہے اور اس میں کسی زیادتی کی ضرورت نہیں بلکہ جیسے تھا ویسے باقی رکھے۔(ت)
(۲)اولا ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے کہ مسجد میں فرشی پنکھا لگانا مطلقا ناپسندیدہ ہےمدخل الی الشریعۃ میں ہے:
قد منع علماؤ نارحمھم اﷲ تعالی المراوحاذ ان اتخاذھا فی المسجد بدعۃ ۔
ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالی نے فرشی پنکھا مسجد میں لگانا نا جائز کہا ہے کیونکہ مسجد میں ایسا کرنا بدعت ہے۔(ت)
ثانیا: جب یہ حالت ہے کہ حاجت اصلا نہیں تو اپنے مال سے بھی جائز نہیںنہ کہ مال وقف سے۔قال اﷲ تعالی :
" و لا تسرفوا-انه لا یحب المسرفین(۱۴۱)" ۔
اسراف نہ کرو اللہ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(ت)
وقال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
ان اﷲ تعالی کرہ لکم ثلثا
اﷲ تعالی نے تمہارے لئے تین چیزوں کوناپسند
الااذاکان الواقف فعل مثلہ لقولھم انہ یعمر الوقف کما کان ۔
ہاں اگر واقف ایسا کرتا رہا ہوتو پھر وقف مال سے جائز ہے کیونکہ فقہاء نے فرمایاہے کہ متولی اسی طرح تعمیر کرے جس طرح پہلے تھی(ت)
فتح القدیر پھر شرح علامہ بیری پھر ابن عابدین میں ہے:
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ ولاموجب لتجویزہ لان الموجب الشرط والضرورۃ ولاضرورۃ فی ھذا اذلا تجب الزیادۃ بل تبقیہ کما کان ۔
وقف کو اپنی اصلی حالت پر رکھنا واجب ہے کوئی زیادتی نہ کی جائے کیونکہ اس کے جواز کاکوئی موجب نہیں ہے کیونکہ موجب صرف وقف کی شرط یا ضرورت ہے اور اس میں کسی زیادتی کی ضرورت نہیں بلکہ جیسے تھا ویسے باقی رکھے۔(ت)
(۲)اولا ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے کہ مسجد میں فرشی پنکھا لگانا مطلقا ناپسندیدہ ہےمدخل الی الشریعۃ میں ہے:
قد منع علماؤ نارحمھم اﷲ تعالی المراوحاذ ان اتخاذھا فی المسجد بدعۃ ۔
ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالی نے فرشی پنکھا مسجد میں لگانا نا جائز کہا ہے کیونکہ مسجد میں ایسا کرنا بدعت ہے۔(ت)
ثانیا: جب یہ حالت ہے کہ حاجت اصلا نہیں تو اپنے مال سے بھی جائز نہیںنہ کہ مال وقف سے۔قال اﷲ تعالی :
" و لا تسرفوا-انه لا یحب المسرفین(۱۴۱)" ۔
اسراف نہ کرو اللہ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(ت)
وقال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
ان اﷲ تعالی کرہ لکم ثلثا
اﷲ تعالی نے تمہارے لئے تین چیزوں کوناپسند
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰
المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر البدع التی الخ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۲۲۲
القرآن الکریم ۶ /۱۴۱
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰
المدخل لابن الحاج فصل فی ذکر البدع التی الخ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۲۲۲
القرآن الکریم ۶ /۱۴۱
قیل وقال وکثرہ السؤال واضاعۃ المال ۔
فرمایا ہے قیل وقالبغیر ضرورت سوالات کی کثرت اور مال کا ضیاع۔(ت)
ثالثا: یہ وقف میں صرف جدید کااحداث ہے جس کی اجازت متولی کو نہیں ہوسکتی کمابینا۔
رابعا: جب طبا اس پنکھے کی ہوا مضر صحت ہوتو اس کا کسی مسلمان کے گھر میں بھی اپنے یا اس کے مال خاص سے بھی لگانا جائز نہ ہوگا نہ کہ مسجدمیں نہ کہ مال وقف سےکمایأتی۔
(۳)بیشك مسجد میں ایسی چیزکا احداث ممنوع بلکہ ایسی جگہ نماز پڑھنا مکروہ ہے۔تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
کرہ وقت حضور طعام تاقت نفسہ الیہ وکذاکل مایشغل بالہ عن افعالھا ویخل بخشوعھا کائنا ماکان ۔
نفس کی خواہش ہوتو کھانے کے وقت نماز مکروہ ہے اور یونہی ہر وہ چیز جس سے نماز میں دل مصروف رہے اور خشوع میں خلل انداز ہوجو بھی ہو۔(ت)
نیز شرح تنویر میں ہے:ولذاتکرہ فی طاحون (اسی لئے چکی خانہ میں نماز مکروہ ہے۔ت)ردالمحتار میں ہے:
لعل وجہہ شغل البال بصوتھا ۔
ہوسکتا ہے اس کی وجہ چکی کی آواز سے دل کی مشغولیت ہو(ت)
(۴)اس صور ت میں وہ پنکھا مطلقا خود ہی ناجائز ہے اگرچہ پہلی چار وجہ نہ بھی ہوتیں۔تنویرالابصار میں ہے:
کرہ ادخال نجاسۃ فیہ فلایجوز الاستصباح بدھن نجس فیہ ۔
مسجد میں نجاست کا داخل کرنا منع ہے اس لئے ناپاك تیل سے مسجدمیں چراغ روشن کرنا جائز نہیں۔(ت)
فرمایا ہے قیل وقالبغیر ضرورت سوالات کی کثرت اور مال کا ضیاع۔(ت)
ثالثا: یہ وقف میں صرف جدید کااحداث ہے جس کی اجازت متولی کو نہیں ہوسکتی کمابینا۔
رابعا: جب طبا اس پنکھے کی ہوا مضر صحت ہوتو اس کا کسی مسلمان کے گھر میں بھی اپنے یا اس کے مال خاص سے بھی لگانا جائز نہ ہوگا نہ کہ مسجدمیں نہ کہ مال وقف سےکمایأتی۔
(۳)بیشك مسجد میں ایسی چیزکا احداث ممنوع بلکہ ایسی جگہ نماز پڑھنا مکروہ ہے۔تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
کرہ وقت حضور طعام تاقت نفسہ الیہ وکذاکل مایشغل بالہ عن افعالھا ویخل بخشوعھا کائنا ماکان ۔
نفس کی خواہش ہوتو کھانے کے وقت نماز مکروہ ہے اور یونہی ہر وہ چیز جس سے نماز میں دل مصروف رہے اور خشوع میں خلل انداز ہوجو بھی ہو۔(ت)
نیز شرح تنویر میں ہے:ولذاتکرہ فی طاحون (اسی لئے چکی خانہ میں نماز مکروہ ہے۔ت)ردالمحتار میں ہے:
لعل وجہہ شغل البال بصوتھا ۔
ہوسکتا ہے اس کی وجہ چکی کی آواز سے دل کی مشغولیت ہو(ت)
(۴)اس صور ت میں وہ پنکھا مطلقا خود ہی ناجائز ہے اگرچہ پہلی چار وجہ نہ بھی ہوتیں۔تنویرالابصار میں ہے:
کرہ ادخال نجاسۃ فیہ فلایجوز الاستصباح بدھن نجس فیہ ۔
مسجد میں نجاست کا داخل کرنا منع ہے اس لئے ناپاك تیل سے مسجدمیں چراغ روشن کرنا جائز نہیں۔(ت)
حوالہ / References
مسند احمدبن حنبل حدیث المغیرۃ بن شعبۃ دارالفکر بیروت ۴/ ۲۴۶
درمختار کتاب الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۲
درمختار کتاب الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۲
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ دارحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۵۵
درمختار شرح تنویر الابصار باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳
درمختار کتاب الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۲
درمختار کتاب الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۲
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ دارحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۵۵
درمختار شرح تنویر الابصار باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳
(۵)یہ بھی کافی وجہ اس روشنی اور پنکھے کی ممانعت کی ہےرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
اذا مراحدکم فی مسجدنا اوفی سوقنا ومعہ نبل فلیمسك علی نصالھا بکفہ لایعقر مسلما ۔رواہ البخاری ومسلم وابوداؤدو ابن ماجۃ عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جب تم ہماری مساجد وبازار سے گزرو تو اپنے نیزوں کے پھالوں کو قابو رکھو اگر پاس نیزے ہوں تا کہ کسی مسلمان کو نہ لگے۔اس کوبخاریمسلمابوداؤد اور ابن ماجہ نے ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
اذا نمتم فاطفؤ االسراج فان الفارۃ تاخذ الفتیلۃ فتحرق اھل البیت ۔ رواہ احمد والطبرانی والحاکم بسند صحیح عن عبداﷲ بن سرجس والحدیث فی الصحیحین من وجوہ۔
جب سونے کا ارادہ ہو تو چراغ کو بجھادوممکن ہے کہ چوہیا چراغ کے فتیلہ کو کھینچ کر گھروالوں کو جلادےاس کو احمدطبرانی اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے اور صحیحین میں یہ روایت کئی طرق سے مروی ہے۔(ت)
(۶)جب ازروئے طب ان کا مضر ہونا ثابت ہوتو یہ ایك اعلی وجہ عدم جواز ہے کہ اس میں مسلمانوں کو ضرر رسانی ہےاور یہ حرام ہے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
لاضرر ولاضرار ۔رواہ احمد و ابن ماجۃ عن ابن عباس وابن ماجۃ عن عبادۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔
ضرر رسانی ناجائز ہے۔اس کو احمد اور ابن ماجہ نے ابن عباس سے اور ابن ماجہ نے عبادہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔(ت)
اس میں مسلمانوں کی بدخواہی ہوئی اور یہ خلاف دین ہے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
ان الدین النصیحۃ ﷲ ولکتابہ ولرسولہ بلا شبہ دین اللہ تعالی اسکی کتاباس کے
اذا مراحدکم فی مسجدنا اوفی سوقنا ومعہ نبل فلیمسك علی نصالھا بکفہ لایعقر مسلما ۔رواہ البخاری ومسلم وابوداؤدو ابن ماجۃ عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جب تم ہماری مساجد وبازار سے گزرو تو اپنے نیزوں کے پھالوں کو قابو رکھو اگر پاس نیزے ہوں تا کہ کسی مسلمان کو نہ لگے۔اس کوبخاریمسلمابوداؤد اور ابن ماجہ نے ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
اذا نمتم فاطفؤ االسراج فان الفارۃ تاخذ الفتیلۃ فتحرق اھل البیت ۔ رواہ احمد والطبرانی والحاکم بسند صحیح عن عبداﷲ بن سرجس والحدیث فی الصحیحین من وجوہ۔
جب سونے کا ارادہ ہو تو چراغ کو بجھادوممکن ہے کہ چوہیا چراغ کے فتیلہ کو کھینچ کر گھروالوں کو جلادےاس کو احمدطبرانی اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ عبداللہ بن سرجس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے اور صحیحین میں یہ روایت کئی طرق سے مروی ہے۔(ت)
(۶)جب ازروئے طب ان کا مضر ہونا ثابت ہوتو یہ ایك اعلی وجہ عدم جواز ہے کہ اس میں مسلمانوں کو ضرر رسانی ہےاور یہ حرام ہے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
لاضرر ولاضرار ۔رواہ احمد و ابن ماجۃ عن ابن عباس وابن ماجۃ عن عبادۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔
ضرر رسانی ناجائز ہے۔اس کو احمد اور ابن ماجہ نے ابن عباس سے اور ابن ماجہ نے عبادہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔(ت)
اس میں مسلمانوں کی بدخواہی ہوئی اور یہ خلاف دین ہے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
ان الدین النصیحۃ ﷲ ولکتابہ ولرسولہ بلا شبہ دین اللہ تعالی اسکی کتاباس کے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الفتن باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلممن حمل السلاح فلیس منا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۴۷،مسند احمد بن حنبل حدیث ابوموسٰی الاشعری دارالفکر بیروت ۴/ ۳۹۷
مسند احمد بن حنبل عبداﷲ بن سرجس دارالفکر بیروت ۵/ ۸۲
مسند احمد بن حنبل اخبارعبادۃ بن الصامت دارالفکر بیروت ۵/ ۳۲۷
مسند احمد بن حنبل عبداﷲ بن سرجس دارالفکر بیروت ۵/ ۸۲
مسند احمد بن حنبل اخبارعبادۃ بن الصامت دارالفکر بیروت ۵/ ۳۲۷
ولائمۃ المسلمین وعامتھم ۔رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والنسائی عن تمیم الداری رضی اﷲ تعالی عنہواﷲتعالی اعلم۔
رسول اور مسلمانوں کے ائمہ اورعوام الناس کے لئے خلوص کانام ہے۔اس کو مسلمابوداؤدنسائی نے تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۲۰تا۱۲۱: ازبہاولپور ریاست سپر نٹنڈنٹ یتیم خانہ وسکریٹری اوقاف ۹محرم الحرام۱۳۳۴ھ پنجشنبہ
حضور ایك کمیٹی ریاست بہاولپور میں منتظم آمدنی وخرچ اوقاف مساجد کی ہے اس کودو مسئلہ کی اس وقت ضرورت ہے اس پر شرعی فتوے سے روشنی فرماکر باراحسان فرمائیں:
اول: مسجد کی جائداد وقف کی آمدنی کسی دوسری مسجدکے مصارف میں خرچ ہوسکتی ہے یانہ
دوم: اگر کوئی شخص سال تمام کے وعدہ پر دکان وقف کوکرایہ پر لے اوردرمیان سال میں بوجہ بیماری وغیرہ چھوڑدے توکیا ممبران اوقاف باقیماندہ کرایہ چھوڑ سکتے ہیںفقط۔
الجواب:
(۱)ہرگز جائز نہیں یہاں تك کہ اگر ایك مسجد میں لوٹے حاجت سے زائد ہوں اور دوسری میں نہیں تو اس کے لوٹے اس میں بھیجنے کی اجازت نہیں۔
(۲)اگر اس نے عذر صحیح شرعی سے چھوڑا تو باقیماندہ کرایہ چھوڑا جائے گا ورنہ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۲۲: ازانجمن اسلامیہ بریلی ۹جمادی الاولی۱۳۲۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ یتیم خانہ اسلامیہ بریلی میں وہ یتیم جن کی عمر ۱۶ سال ۲ماہ کی ہے ان کی یہ دریافت طلب ہے کہ اس عمر والوں کوبموجب شرع شریف کے پرورش کرنے اور روٹی کپڑا دینے کا بار یتیم خانہ کے ذمہ ضروری ہے یانہیںان لڑکوں کی حالت یہ ہے کہ سردست یہ اس قابل نہیں ہوئے کہ یتیم خانہ سے نکلتے ہی وہ خود اپنے قوت بازو سے معاش حاصل کرسکیںاور اندیشہ ہے کہ ان لوگوں کو اگر اس طرح چھوڑ دیا جائےگا تو یہ آوارہ گردی اور بداطواری میں مبتلا ہو جائیں گےاور امید ہے کہ چھ سات ماہ کوشش کرکے ان کو اس قابل کردیاجائے گا کہ وہ کوئی پیشہ یا صنعت سیکھ کر اپنی معاش وجہ حلال سے پید اکرسکیں گے اور اس عرصہ میں ان کے واسطے کوئی صورت معاش حاصل کرنے کی پیدا کردیجائے گی
رسول اور مسلمانوں کے ائمہ اورعوام الناس کے لئے خلوص کانام ہے۔اس کو مسلمابوداؤدنسائی نے تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۲۰تا۱۲۱: ازبہاولپور ریاست سپر نٹنڈنٹ یتیم خانہ وسکریٹری اوقاف ۹محرم الحرام۱۳۳۴ھ پنجشنبہ
حضور ایك کمیٹی ریاست بہاولپور میں منتظم آمدنی وخرچ اوقاف مساجد کی ہے اس کودو مسئلہ کی اس وقت ضرورت ہے اس پر شرعی فتوے سے روشنی فرماکر باراحسان فرمائیں:
اول: مسجد کی جائداد وقف کی آمدنی کسی دوسری مسجدکے مصارف میں خرچ ہوسکتی ہے یانہ
دوم: اگر کوئی شخص سال تمام کے وعدہ پر دکان وقف کوکرایہ پر لے اوردرمیان سال میں بوجہ بیماری وغیرہ چھوڑدے توکیا ممبران اوقاف باقیماندہ کرایہ چھوڑ سکتے ہیںفقط۔
الجواب:
(۱)ہرگز جائز نہیں یہاں تك کہ اگر ایك مسجد میں لوٹے حاجت سے زائد ہوں اور دوسری میں نہیں تو اس کے لوٹے اس میں بھیجنے کی اجازت نہیں۔
(۲)اگر اس نے عذر صحیح شرعی سے چھوڑا تو باقیماندہ کرایہ چھوڑا جائے گا ورنہ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۲۲: ازانجمن اسلامیہ بریلی ۹جمادی الاولی۱۳۲۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ یتیم خانہ اسلامیہ بریلی میں وہ یتیم جن کی عمر ۱۶ سال ۲ماہ کی ہے ان کی یہ دریافت طلب ہے کہ اس عمر والوں کوبموجب شرع شریف کے پرورش کرنے اور روٹی کپڑا دینے کا بار یتیم خانہ کے ذمہ ضروری ہے یانہیںان لڑکوں کی حالت یہ ہے کہ سردست یہ اس قابل نہیں ہوئے کہ یتیم خانہ سے نکلتے ہی وہ خود اپنے قوت بازو سے معاش حاصل کرسکیںاور اندیشہ ہے کہ ان لوگوں کو اگر اس طرح چھوڑ دیا جائےگا تو یہ آوارہ گردی اور بداطواری میں مبتلا ہو جائیں گےاور امید ہے کہ چھ سات ماہ کوشش کرکے ان کو اس قابل کردیاجائے گا کہ وہ کوئی پیشہ یا صنعت سیکھ کر اپنی معاش وجہ حلال سے پید اکرسکیں گے اور اس عرصہ میں ان کے واسطے کوئی صورت معاش حاصل کرنے کی پیدا کردیجائے گی
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان باب ان الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۴
پس اس صورت میں اگر ان لڑکوں کو اس عرصہ تك جب تك کہ وہ معاش پیداکرنے کے قابل ہوسکیں یتیم خانہ میں رکھاجائے اور ا ن کے ضروری مصارف خورد نوش کا تکفل یتیم خانہ سے کیاجائے تو عند الشرع یہ مصارف اسلامی چندہ کی امانت سے جو یتیموں ہی کے واسطے وصول کیا گیا ہے جائز ہوں گے یاناجائز اور اس روپیہ کے اس مدت میں صرف کرنے کا مواخذہ عندالشرع مہتممان یتیم خانہ کے ذمہ ہوگا یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
زر چندہ شرعا ملك چندہ دہندہ پر باقی رہتا ہے کما حققناہ فی فتاونا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)اس میں اجازت چندہ دہند گان پر مدار ہے اگر قدیم سے معمول یتیم خانہ رہا ہو کہ جو یتیم حدیتیم شرعی سےنکل کر بالغ ہو جائیں اور وہ بھی اپنے لئے رزق حلال کسب کرنے کے قابل ہونے تك ان کو یتیم خانہ میں رکھا جاتا اور زرچندہ سے ان کا خرچ کیا جاتا ہوچندہ دہندگان اس پر آگاہ ہوا کئے اور اس پر راضی رہا کئے تو اب بھی جائز ہے لان المعروف کالمشروط والاجازۃ دلالۃ کالاذن الصریح(کیونکہ معروف چیز مشروط چیز کی طرح ہوتی ہے اور دلالۃ اجازت بھی صریح اجازت کی طرح ہے۔ت)اور اگر پہلے سے یہ معہود اور معروف نہ رہا اور اب تمام چندہ دہندوں سے اجازت لینی ممکن ہوتو اجازت لے کر کرسکتے ہیں
لان المال لھم فیصرف باذنھم ولیس ھذاخلاف سبیل البرحتی یکرہ لھم الرجوع عنہ بل ربما یؤیدہ ویرغب الیتامی فی دخول ھذہ الجمیعۃ۔
کیونکہ مال ان کا ہے اس لئے ان کی اجازت سے خرچ کیاجائے اور یہ راہ نیکی کے خلاف نہیں ہے حتی کہ واپس لینا مکرو ہ ہے بلکہ اس میں نیکی کےلئے رغبت ہے اور یتیموں کو اس اجتماعیت میں شرکت کی رغبت ہوسکتی ہے(ت)
اور اگرسب سے اجازت نہ لے کر تو ائندہ مہینے کے چندے میں بقدر کفایت چند اشخاص سے اجازت لے لیجائے کہ تمہارا یہ چندہ جس حالت کے انقضا تك اس کام میں صرف ہوگا جو اجازت دیں ان کا چندہ باقی زرچندہ سے جدا رکھ کر خاص اس کام میں صرف کریں یہاں تك کہ پورا ہواور اگر کوئی اجازت نہ دے یا جس قدر پر اجازت پائی اس سے زیادہ اس کام میں اٹھایا جائے تو ضرور حرام ہوگا اور اس کا مواخذہ مہتمموں پر رہیگا اور جن جن کا وہ چندہ تھا ان سب کا تاوان ان پر لازم آئے گا لانھم تعدوا علی اموالھم والمتعدی غاصب والغصب مضمون(کیونکہ انہوں نے دوسرے کے مال پر تعدی کی ہے اور تعدی غصب ہے اور غاصب سے ضمان لیاجاتا ہے۔ت)اوراگر وہ یتیم حالت یتم سے یتیم خانہ میں تھے اور بعد ظہور بلوغ یا
الجواب:
زر چندہ شرعا ملك چندہ دہندہ پر باقی رہتا ہے کما حققناہ فی فتاونا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)اس میں اجازت چندہ دہند گان پر مدار ہے اگر قدیم سے معمول یتیم خانہ رہا ہو کہ جو یتیم حدیتیم شرعی سےنکل کر بالغ ہو جائیں اور وہ بھی اپنے لئے رزق حلال کسب کرنے کے قابل ہونے تك ان کو یتیم خانہ میں رکھا جاتا اور زرچندہ سے ان کا خرچ کیا جاتا ہوچندہ دہندگان اس پر آگاہ ہوا کئے اور اس پر راضی رہا کئے تو اب بھی جائز ہے لان المعروف کالمشروط والاجازۃ دلالۃ کالاذن الصریح(کیونکہ معروف چیز مشروط چیز کی طرح ہوتی ہے اور دلالۃ اجازت بھی صریح اجازت کی طرح ہے۔ت)اور اگر پہلے سے یہ معہود اور معروف نہ رہا اور اب تمام چندہ دہندوں سے اجازت لینی ممکن ہوتو اجازت لے کر کرسکتے ہیں
لان المال لھم فیصرف باذنھم ولیس ھذاخلاف سبیل البرحتی یکرہ لھم الرجوع عنہ بل ربما یؤیدہ ویرغب الیتامی فی دخول ھذہ الجمیعۃ۔
کیونکہ مال ان کا ہے اس لئے ان کی اجازت سے خرچ کیاجائے اور یہ راہ نیکی کے خلاف نہیں ہے حتی کہ واپس لینا مکرو ہ ہے بلکہ اس میں نیکی کےلئے رغبت ہے اور یتیموں کو اس اجتماعیت میں شرکت کی رغبت ہوسکتی ہے(ت)
اور اگرسب سے اجازت نہ لے کر تو ائندہ مہینے کے چندے میں بقدر کفایت چند اشخاص سے اجازت لے لیجائے کہ تمہارا یہ چندہ جس حالت کے انقضا تك اس کام میں صرف ہوگا جو اجازت دیں ان کا چندہ باقی زرچندہ سے جدا رکھ کر خاص اس کام میں صرف کریں یہاں تك کہ پورا ہواور اگر کوئی اجازت نہ دے یا جس قدر پر اجازت پائی اس سے زیادہ اس کام میں اٹھایا جائے تو ضرور حرام ہوگا اور اس کا مواخذہ مہتمموں پر رہیگا اور جن جن کا وہ چندہ تھا ان سب کا تاوان ان پر لازم آئے گا لانھم تعدوا علی اموالھم والمتعدی غاصب والغصب مضمون(کیونکہ انہوں نے دوسرے کے مال پر تعدی کی ہے اور تعدی غصب ہے اور غاصب سے ضمان لیاجاتا ہے۔ت)اوراگر وہ یتیم حالت یتم سے یتیم خانہ میں تھے اور بعد ظہور بلوغ یا
پندرہ سال کی عمر پوری ہونے کے یتیم خانہ سے ان پر صرف کیاگیا اور اجازت مذکورہ نصا یاعرفا ثابت نہ تھی تو سال بھر سے زائد یہ مواخذہ ذمہ مہتممان لازم اور تاوان ادا کرنا واجب ہوچکا صرف آئندہ سے سوال کیوں واﷲ الھادی بر دران اسلام کو احکام اسلام سے اطلاع دینی خیر خواہی ہے اورمسلمانوں کی خیرخواہی ہرمسلمان کا حق ہے والدین النصح لکل مسلم (دین تمام مسلمانوں کیلئے خلوص اوربھلائی کانام ہے۔ت)واﷲسبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۳: ازاکبر آباد جامع مسجد مسئولہ جناب مولوی محمد رمضان صاحب ۲۴صفر المظفر ۱۳۳۱ھ
حضرت مولانا بالفضل والمعرفۃ اولانامجدد مائۃ حاضرہ دام مجدکمالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہایك استفتا ارسال خدمت اقدس ہےامید ہے کہ جواب باصواب سے جلد سرفراز فرمایا جاؤںیہاں یہ مسئلہ درپیش ہے اور میری نظر سے ابھی کوئی نظیر ایسی نہیں گزری جس سے تشفی بخش جواب دیاجاسکتاخیال ہوتا ہے کہ زید وکیل بالقبض ہے مگر ساراباب وکالت کا دیکھ ڈالا یہ صورت ایسی انوکھی ہے کہ صاف جواب نہیں ملتالہذا تصدیعہ وہ خدمت اقدس عالیہ ہو ا زیادہ والتسلیم بہزارتفخیمعاجز محمد رمضان عفی عنہ واعظ جامع مسجد آگرہ۔
سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ کیا گیا عمرو نے پانچسو روپے کا ایك چك دیا جو نوٹ نہیں تھا بلکہ کتاب کا ورق تھا جس کے ذریعہ سے بنك سے روپیہ وصول کیا جاسکتا ہے کہ بنك سے روپیہ وصول کرکے اس رقم میں شامل کرلی جائے وہ چندہ زید کے پاس جمع ہوا جو اس مسجد کے متولیوں میں سے ایك متولی تھا اس نے چك کا روپیہ وصول نہیں کیا خواہ غفلت سے خواہ اس چك میں بنك کی جانب سے کوئی اعتراض ہو ازاں بعد زید کا انتقال ہوگیا اور ورثائے زیدنے بھی روپیہ وصول نہیں کیا ازاں بعد عمرو کا بھی انتقال ہوگیا باقی متولیان مسجد مذکورہ نے ورثائے زید پر اس جمع شدہ چندہ کی نالش کرکے ڈگری بھی حاصل کرلی ورثائے زید سے اس چك کا روپیہ وصول کرنا کہ ان کے مورث کی غفلت یا بنك کے کسی اعتراض کی وجہ سے وصول نہیں ہوا تھا شرعا جائز ہے یانہیںاور ایسا روپیہ مسجد کی تعمیر میں لگانا درست ہے یانا درستیہ ملحوظ رہے کہ وہ چك اب کسی کام کا نہیں رہابینوابالکتاب تؤجروا عنداﷲ احسن ثواب(کتاب سے بیان کرو اور اللہ تعالی سے اجر وثواب پاؤ۔ت)فقط۔
مسئلہ۱۲۳: ازاکبر آباد جامع مسجد مسئولہ جناب مولوی محمد رمضان صاحب ۲۴صفر المظفر ۱۳۳۱ھ
حضرت مولانا بالفضل والمعرفۃ اولانامجدد مائۃ حاضرہ دام مجدکمالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہایك استفتا ارسال خدمت اقدس ہےامید ہے کہ جواب باصواب سے جلد سرفراز فرمایا جاؤںیہاں یہ مسئلہ درپیش ہے اور میری نظر سے ابھی کوئی نظیر ایسی نہیں گزری جس سے تشفی بخش جواب دیاجاسکتاخیال ہوتا ہے کہ زید وکیل بالقبض ہے مگر ساراباب وکالت کا دیکھ ڈالا یہ صورت ایسی انوکھی ہے کہ صاف جواب نہیں ملتالہذا تصدیعہ وہ خدمت اقدس عالیہ ہو ا زیادہ والتسلیم بہزارتفخیمعاجز محمد رمضان عفی عنہ واعظ جامع مسجد آگرہ۔
سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ کیا گیا عمرو نے پانچسو روپے کا ایك چك دیا جو نوٹ نہیں تھا بلکہ کتاب کا ورق تھا جس کے ذریعہ سے بنك سے روپیہ وصول کیا جاسکتا ہے کہ بنك سے روپیہ وصول کرکے اس رقم میں شامل کرلی جائے وہ چندہ زید کے پاس جمع ہوا جو اس مسجد کے متولیوں میں سے ایك متولی تھا اس نے چك کا روپیہ وصول نہیں کیا خواہ غفلت سے خواہ اس چك میں بنك کی جانب سے کوئی اعتراض ہو ازاں بعد زید کا انتقال ہوگیا اور ورثائے زیدنے بھی روپیہ وصول نہیں کیا ازاں بعد عمرو کا بھی انتقال ہوگیا باقی متولیان مسجد مذکورہ نے ورثائے زید پر اس جمع شدہ چندہ کی نالش کرکے ڈگری بھی حاصل کرلی ورثائے زید سے اس چك کا روپیہ وصول کرنا کہ ان کے مورث کی غفلت یا بنك کے کسی اعتراض کی وجہ سے وصول نہیں ہوا تھا شرعا جائز ہے یانہیںاور ایسا روپیہ مسجد کی تعمیر میں لگانا درست ہے یانا درستیہ ملحوظ رہے کہ وہ چك اب کسی کام کا نہیں رہابینوابالکتاب تؤجروا عنداﷲ احسن ثواب(کتاب سے بیان کرو اور اللہ تعالی سے اجر وثواب پاؤ۔ت)فقط۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۵۵
الجواب:
صورت مسئولہ میں متولیان مسجد کی وہ نالش محض باطل تھی اور ڈگری سراسر خلاف شرع ہوئیوہ روپیہ مسجد میں لینا نرا حرام ہےاور اگر لے لیا ہے تو ورثائے زید کو واپس دینا فرض ہےظاہر ہے کہ روپیہ جو کوئی شخص بنك میں جمع کرتا ہے وہ بنك پر دین ہوتا ہےعمرو نے جو وہ روپیہ تعمیر مسجد کو دیا اگرمسجد موجود تھی اور اس کی تعمیر کو دیا تو یہ مسجد کے لئے ہبہ ہواعالمگیریہ میں ہے:
رجل اعطی درھما فی عمارۃ المسجد او نفقۃ المسجد اومصالح المسجد صح لانہ ان کان لایمکن تصحیحہ وقفا یمکن تصحیحہ تملیکا بالھبۃ للمسجد فاثبات الملك للمسجد علی ھذاالوجہ صحیح ویتم بالقبض کذافی الواقعات الحسامیۃ ۔
اگر کسی شخص نے مسجد کی عمارت یا اس کے اخراجات یا مصالح کے لئے بطور چندہ ایك درہم دیا تو جائز ہے کیونکہ اگر وقف کے طور پر صحیح نہ ہوتو ہبہ کے طور پر اس کی صحت ہوسکتی ہے کہ مسجد کے لئے یہ تملیك ہوجائیگی جبکہ اس طرح مسجد کے لئے تملیك صحیح ہے اور قبضہ ہوجانے پر ہبہ تمام ہوجائے گا۔حسامیہ کے واقعات میں یونہی ہے(ت)
اسی طرح خزانۃ المفتین وغیرہا میں ہے اس تقدیر پر یہ ھبۃ الدین عمن غیر من علیہ الدین مع تسلیطہ علی القبض (غیر مدیون کو قبضہ پر اختیار دے کر دین کا ہبہ کیا گیا ہے۔ت)ہوامتولیان مسجد موہوب لہ کے نائب اور عمرو کی طرف سے وکیل بقبض الدین ہوئے اور اگر ہنوز مسجد موجود نہ تھی بلکہ بنانا چاہتے تھے اسکے چندہ میں دیا تو ہبہ نہیں ٹھہراسکتے کہ معدوم کےلئے ہبہ ممکن نہیں متولی صرف وکیل بالقبض ہوئےدونوں صورتوں میں جب تك قبضہ نہ ہوا روپیہ ملك عمروپر تھاصورت ثانیہ میں توظاہر ہے کہ سرے سے ہبہ ہی نہ ہوا تو ملك مالك سے خروج کیا معنے
وقد حققنا فی فتاونا ان مایجمع من الناس لمصرف خیر بقی علی ملك المعطیین۔
ہم نے اپنے فتاوی میں یہ تحقیق کردی ہے کہ لوگوں سے کسی اچھے مصرف کےلئے جو چندہ جمع کیاجاتاہے وہ چندہ دینے والے لوگوں کی ملکیت ہی رہتا ہے۔(ت)
عالمگیری میں ذخیرہ سے ہے:
رجل جمع مالامن الناس لینفقہ کسی شخص نے لوگوں سے مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ
صورت مسئولہ میں متولیان مسجد کی وہ نالش محض باطل تھی اور ڈگری سراسر خلاف شرع ہوئیوہ روپیہ مسجد میں لینا نرا حرام ہےاور اگر لے لیا ہے تو ورثائے زید کو واپس دینا فرض ہےظاہر ہے کہ روپیہ جو کوئی شخص بنك میں جمع کرتا ہے وہ بنك پر دین ہوتا ہےعمرو نے جو وہ روپیہ تعمیر مسجد کو دیا اگرمسجد موجود تھی اور اس کی تعمیر کو دیا تو یہ مسجد کے لئے ہبہ ہواعالمگیریہ میں ہے:
رجل اعطی درھما فی عمارۃ المسجد او نفقۃ المسجد اومصالح المسجد صح لانہ ان کان لایمکن تصحیحہ وقفا یمکن تصحیحہ تملیکا بالھبۃ للمسجد فاثبات الملك للمسجد علی ھذاالوجہ صحیح ویتم بالقبض کذافی الواقعات الحسامیۃ ۔
اگر کسی شخص نے مسجد کی عمارت یا اس کے اخراجات یا مصالح کے لئے بطور چندہ ایك درہم دیا تو جائز ہے کیونکہ اگر وقف کے طور پر صحیح نہ ہوتو ہبہ کے طور پر اس کی صحت ہوسکتی ہے کہ مسجد کے لئے یہ تملیك ہوجائیگی جبکہ اس طرح مسجد کے لئے تملیك صحیح ہے اور قبضہ ہوجانے پر ہبہ تمام ہوجائے گا۔حسامیہ کے واقعات میں یونہی ہے(ت)
اسی طرح خزانۃ المفتین وغیرہا میں ہے اس تقدیر پر یہ ھبۃ الدین عمن غیر من علیہ الدین مع تسلیطہ علی القبض (غیر مدیون کو قبضہ پر اختیار دے کر دین کا ہبہ کیا گیا ہے۔ت)ہوامتولیان مسجد موہوب لہ کے نائب اور عمرو کی طرف سے وکیل بقبض الدین ہوئے اور اگر ہنوز مسجد موجود نہ تھی بلکہ بنانا چاہتے تھے اسکے چندہ میں دیا تو ہبہ نہیں ٹھہراسکتے کہ معدوم کےلئے ہبہ ممکن نہیں متولی صرف وکیل بالقبض ہوئےدونوں صورتوں میں جب تك قبضہ نہ ہوا روپیہ ملك عمروپر تھاصورت ثانیہ میں توظاہر ہے کہ سرے سے ہبہ ہی نہ ہوا تو ملك مالك سے خروج کیا معنے
وقد حققنا فی فتاونا ان مایجمع من الناس لمصرف خیر بقی علی ملك المعطیین۔
ہم نے اپنے فتاوی میں یہ تحقیق کردی ہے کہ لوگوں سے کسی اچھے مصرف کےلئے جو چندہ جمع کیاجاتاہے وہ چندہ دینے والے لوگوں کی ملکیت ہی رہتا ہے۔(ت)
عالمگیری میں ذخیرہ سے ہے:
رجل جمع مالامن الناس لینفقہ کسی شخص نے لوگوں سے مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فصل ثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۰
فی بناء المسجد فانفق من تلك الدراہم فی حاجتہ ثم ردبدلہا فی نفقۃ المسجد لایسعہ ان یفعل ذلك فان فعل فان عرف صاحب ذلك المال رد علیہ اوسألہ تجدید الاذن فیہ الخ۔
جمع کیا اور ان دراہم کو اس نے اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ کرلیا پھر اس کے بدلے مسجد کی ضرورت میں اپنامال خرچ کیا تو ایسا کرنے کا اس کو اختیار نہیں ہے اگر کرلیا تو چندہ دینے والوں کوچندہ واپس کرے یا ان سے نئی اجازت طلب کرے اگر چندہ دینے والوں کا علم ہو۔(ت)
او رصورت اولی میں اس لئے کہ ہبہ بے قبضہ تمام ومفید ملك موہوب لہ نہیں ہوتاابھی واقعات حسامیہ وہندیہ سے ہبہ مسجد میں گزرا کہ یتم بالقبض(قبضہ ہوجانے سے ہبہ تام ہوجاتا ہے۔ت)اسعاف پھر بحرالرائق پھر عالمگیریہ میں ہے:
لوان قومابنوامسجدا وفضل من خشبھم شیئ قالوایصرف الفاضل فی بنائہ ولایصرف الی الدھن والحصیر ھذا اذاسلموہ الی المتولی لیبنی بہ المسجد والایکون الفاضل لھم یصنعون بہ ماشاؤا ۔
اگر قوم نے مل کر مسجد تعمیر کی اور کچھ تعمیراتی سامان لکڑی وغیرہ بچ جائے تو فقہاء نے فرمایا کہ بچے ہوئے کو اسی عمارت میں خرچ کرے اور اس کو دوسرے مصارف مثلامسجد کی چٹائی اور تیل وغیرہ میں نہ خرچ کرےیہ اس صورت میں ہے جبکہ قوم نے متولی کویہ کہہ کر سونپا ہو کہ اس کو تعمیر میں خرچ کردوورنہ فالتوسامان ان دینے والوں کی ملکیت رہے گا وہ جہاں چاہیں صرف کریں۔(ت)
اشباہ میں ہے:
لایصح تملیکہ ای الدین من غیر من ھو علیہ الا اذاسلطہ علی قبضہ فیکون وکیلا قابضا للموکل ثم لنفسہ ۔
اس کی یعنی قرض کی مقروض کے غیر کو تملیك جائز نہیں تاوقتیکہ اس غیر کو قرض کی وصولی پر مقرر نہ کردے تاکہ یہ اس مالك کی طرف سے وصولی کا وکیل بن کر پھر اپنے لئے وصولی کا مالك بن جائے(ت)
جمع کیا اور ان دراہم کو اس نے اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ کرلیا پھر اس کے بدلے مسجد کی ضرورت میں اپنامال خرچ کیا تو ایسا کرنے کا اس کو اختیار نہیں ہے اگر کرلیا تو چندہ دینے والوں کوچندہ واپس کرے یا ان سے نئی اجازت طلب کرے اگر چندہ دینے والوں کا علم ہو۔(ت)
او رصورت اولی میں اس لئے کہ ہبہ بے قبضہ تمام ومفید ملك موہوب لہ نہیں ہوتاابھی واقعات حسامیہ وہندیہ سے ہبہ مسجد میں گزرا کہ یتم بالقبض(قبضہ ہوجانے سے ہبہ تام ہوجاتا ہے۔ت)اسعاف پھر بحرالرائق پھر عالمگیریہ میں ہے:
لوان قومابنوامسجدا وفضل من خشبھم شیئ قالوایصرف الفاضل فی بنائہ ولایصرف الی الدھن والحصیر ھذا اذاسلموہ الی المتولی لیبنی بہ المسجد والایکون الفاضل لھم یصنعون بہ ماشاؤا ۔
اگر قوم نے مل کر مسجد تعمیر کی اور کچھ تعمیراتی سامان لکڑی وغیرہ بچ جائے تو فقہاء نے فرمایا کہ بچے ہوئے کو اسی عمارت میں خرچ کرے اور اس کو دوسرے مصارف مثلامسجد کی چٹائی اور تیل وغیرہ میں نہ خرچ کرےیہ اس صورت میں ہے جبکہ قوم نے متولی کویہ کہہ کر سونپا ہو کہ اس کو تعمیر میں خرچ کردوورنہ فالتوسامان ان دینے والوں کی ملکیت رہے گا وہ جہاں چاہیں صرف کریں۔(ت)
اشباہ میں ہے:
لایصح تملیکہ ای الدین من غیر من ھو علیہ الا اذاسلطہ علی قبضہ فیکون وکیلا قابضا للموکل ثم لنفسہ ۔
اس کی یعنی قرض کی مقروض کے غیر کو تملیك جائز نہیں تاوقتیکہ اس غیر کو قرض کی وصولی پر مقرر نہ کردے تاکہ یہ اس مالك کی طرف سے وصولی کا وکیل بن کر پھر اپنے لئے وصولی کا مالك بن جائے(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی عشر فی الاوقاف التی یستغنی عنہا نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۸۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد فصل ثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین فائدہ نمبر۵ ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۱۳
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد فصل ثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین فائدہ نمبر۵ ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۱۳
جامع الفصولین میں ہے:
ھبۃ الدین ممن لیس علیہ لم تجز الااذا سلطہ علی قبضہ فیصیر کانہ وھبہ حین قبضہ ولایصح الا بقبضہ (ملتقطا)۔
قرض کا ہبہ غیر مقروض کو صرف اسی صورت میں جائز ہوگاجب وہ اس کو اپنی طرف سے قبضہ کیلئے مقرر کرےتو یوں قبضہ کرلینے کے بعد ہبہ قرار پائے گا اورپھر اس کاقبضہ ہوجانے پر صحیح ہوجائے گا(ملتقطا(ت)
یہاں اگر موت عمرو سے پہلے چك بیکار ہوگا تو ہبہ بوجہ ہلاك موہوب قبل القبض باطل ہوگیا اور اگر موت عمرو کے بعد بیکار ہوا تو بوجہ موت واہب قبل تسلیم کما فی الدرالمختار وعامۃ الاسفار(جیسا کہ درمختار اور عام کتب میں ہے۔ت)بہر حال مسجد کے لئے ملك اصلا نہ ہوئی تو متولیان مسجد کو اس کا مطالبہ کس بناء پر پہنچ سکتا تھانہ کسی طرح ان کی ڈگری ہوسکتی تھی نہ ہرگز انہیں اس کا لینا حلالنہ مسجد میں خرچ کرناحلالمعہذا غفلت اگرجرم ہے تو نہ صرف زید بلکہ سب متولیوں کا کہ جب عمرو نے وہ چك مسجد کو دیا تھا ہر متولی کو مسجد کے لئے اس کاحاصل کرنا تھا فقط زید کے پاس جمع کردینے سے کیا باقی سب تولیت مسجد سے خارج ہوگئے اگر خارج ہوگئے تو انہوں نے دعوی کس بنا پر کیا اور اگر خارج نہ ہوئے تو انہوں نے کیوں نہ وصول کیا یا کرایاکیوں مال ضائع ہونے دیاجرم ہے تو سبھی پر ہےبلکہ اگر چك بعد موت زید بیکار ہوا تو تنہاباقیوں پر الزام ہے کہ ورثاء متولی متولی نہیںان متولیوں نے کیوں تلف ہونے دیاعلاوہ بریں اگر یہ جرم تھا تو اتنا کہ ایك مال جو مسجد کی ملك ہوجاتا وصول نہ کیا نہ یہ کہ ایك مال جو مسجد کی ملك تھا تلف کردیا تو یہاں تملك سے امتناع ہے نہ کہ مملوك کا ضیاعتو ضمان کیا معنیاور جب ضمان نہیں تو زید ہی کے مال پر مطالبہ نہ آیا تو ورثاء سے مطالبہ کیسا
قال اﷲ تعالی "ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ بوجہ غفلت چك بیکار ہواہواور اگر بنك والوں نے اس میں کوئی نقص نکال کر روپیہ نہ دیا جب توظاہر ہے کہ زید بے قصور ہے بالجملہ دعوی بہر حال باطل وبے معنی ہےواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
ھبۃ الدین ممن لیس علیہ لم تجز الااذا سلطہ علی قبضہ فیصیر کانہ وھبہ حین قبضہ ولایصح الا بقبضہ (ملتقطا)۔
قرض کا ہبہ غیر مقروض کو صرف اسی صورت میں جائز ہوگاجب وہ اس کو اپنی طرف سے قبضہ کیلئے مقرر کرےتو یوں قبضہ کرلینے کے بعد ہبہ قرار پائے گا اورپھر اس کاقبضہ ہوجانے پر صحیح ہوجائے گا(ملتقطا(ت)
یہاں اگر موت عمرو سے پہلے چك بیکار ہوگا تو ہبہ بوجہ ہلاك موہوب قبل القبض باطل ہوگیا اور اگر موت عمرو کے بعد بیکار ہوا تو بوجہ موت واہب قبل تسلیم کما فی الدرالمختار وعامۃ الاسفار(جیسا کہ درمختار اور عام کتب میں ہے۔ت)بہر حال مسجد کے لئے ملك اصلا نہ ہوئی تو متولیان مسجد کو اس کا مطالبہ کس بناء پر پہنچ سکتا تھانہ کسی طرح ان کی ڈگری ہوسکتی تھی نہ ہرگز انہیں اس کا لینا حلالنہ مسجد میں خرچ کرناحلالمعہذا غفلت اگرجرم ہے تو نہ صرف زید بلکہ سب متولیوں کا کہ جب عمرو نے وہ چك مسجد کو دیا تھا ہر متولی کو مسجد کے لئے اس کاحاصل کرنا تھا فقط زید کے پاس جمع کردینے سے کیا باقی سب تولیت مسجد سے خارج ہوگئے اگر خارج ہوگئے تو انہوں نے دعوی کس بنا پر کیا اور اگر خارج نہ ہوئے تو انہوں نے کیوں نہ وصول کیا یا کرایاکیوں مال ضائع ہونے دیاجرم ہے تو سبھی پر ہےبلکہ اگر چك بعد موت زید بیکار ہوا تو تنہاباقیوں پر الزام ہے کہ ورثاء متولی متولی نہیںان متولیوں نے کیوں تلف ہونے دیاعلاوہ بریں اگر یہ جرم تھا تو اتنا کہ ایك مال جو مسجد کی ملك ہوجاتا وصول نہ کیا نہ یہ کہ ایك مال جو مسجد کی ملك تھا تلف کردیا تو یہاں تملك سے امتناع ہے نہ کہ مملوك کا ضیاعتو ضمان کیا معنیاور جب ضمان نہیں تو زید ہی کے مال پر مطالبہ نہ آیا تو ورثاء سے مطالبہ کیسا
قال اﷲ تعالی "ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ بوجہ غفلت چك بیکار ہواہواور اگر بنك والوں نے اس میں کوئی نقص نکال کر روپیہ نہ دیا جب توظاہر ہے کہ زید بے قصور ہے بالجملہ دعوی بہر حال باطل وبے معنی ہےواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الرابع والثلاثون فی الاحکامات ہبۃ الدین اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۶
القرآن الکریم ۶ /۱۶۴
القرآن الکریم ۶ /۱۶۴
مسئلہ۱۲۴: مسئولہ حافظ محمد ایاز صاحب ازقصبہ نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان ۲۵محرم الحرام۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو روپیہ بطور چندہ کانپور کے بیوگان ویتیمان وغیرہ وغیرہ کے واسطے جمع کیا ہواور اب بعد فیصلہ کانپور وہ روپیہ اکثر مرد مان کی رائے سے تعمیر مسجد میں لگا دیاجائے تو اس کے بابت کیاحکم ہے
الجواب:
چندہ جس کام کے لئے کیاگیا ہوجب اسکے بعد بچے تو وہ انہیں کی ملك ہے جنہوں نے چندہ دیا ہےکما حققناہ فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی میں کی ہے۔ت)ا ن کو حصہ رصد واپس دیا جائے یا جس کام میں وہ کہیں صرف کیا جائےاور اگر دینے والوں کا پتا نہ چل سکے کہ ان کی کوئی فہرست نہ بنائی تھی نہ یاد ہے کہ کس کس نے دیا اور کتنا کتنا دیا تو وہ مثل مال لقطہ ہے اسے مسجد میں صرف کرسکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵: ازشہر مرسلہ جناب حافظ میاں صاحب ۵ جمادی الاخری ۱۳۳۷ھ یوم دو شنبہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك ملك اور ایك باغ واسطے نیازحضور جناب امام حسین علیہ السلام اور فاتحہ پیران عظام اور مرمت شکست ریخت زیارت بغرض بقائے نشان ونیز خیرات خالصاللہ وقف کیآیا یہ وقف مذہب اہل سنت وجماعت میں جائز وصحیح ہے یانہیںبحوالہ کتب بادلیل مشرح فرمائےبینواتوجروا۔
الجواب:
خیرات خالصا ﷲ کے لئے وقف جائز وصحیح ہے یونہی نیاز وفاتحہ حضرت امام واولیائے کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے لئےجبکہ اسے مصرف خیر میں صرف کرنا ہو۔رہی مرمت زیارتاگر اس مراد وہ مکان ہے کہ مسافرینزائرینحاضرین عرس کے آرام کو بنایا گیا تو وہ مثل سرائے ومسافر خانہ قربت ہے اور اس کی مرمت مثل عمارتتو اس پر بھی وقف جائز وصحیح ہے۔
فی الدرالمختار الوقف علی ثلثۃ اوجہ اما للفقراء او للاغنیاء ثم للفقراء اویستوی فیہ الفریقان کرباط و خان ومقابر وسقایات وقناطر ونحوذلك کمساجد و طواحین وطست لاحتیاج الکل لذلك الخ ۔
درمختار میں ہے کہ وقف تین طرح ہوتا ہے:فقراء کےلئے یا پہلے اغنیاء اور پھر فقراء کےلئے یا دونوں کے لئے مساویجیسے سرائےتکیہقبرستانسبیلیں اور خیمے وغیرہ۔مثلا مساجد چکیاں اور برتن کیونکہ یہ تمام لوگوں کی ضروریات ہیں(ت)
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو روپیہ بطور چندہ کانپور کے بیوگان ویتیمان وغیرہ وغیرہ کے واسطے جمع کیا ہواور اب بعد فیصلہ کانپور وہ روپیہ اکثر مرد مان کی رائے سے تعمیر مسجد میں لگا دیاجائے تو اس کے بابت کیاحکم ہے
الجواب:
چندہ جس کام کے لئے کیاگیا ہوجب اسکے بعد بچے تو وہ انہیں کی ملك ہے جنہوں نے چندہ دیا ہےکما حققناہ فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی میں کی ہے۔ت)ا ن کو حصہ رصد واپس دیا جائے یا جس کام میں وہ کہیں صرف کیا جائےاور اگر دینے والوں کا پتا نہ چل سکے کہ ان کی کوئی فہرست نہ بنائی تھی نہ یاد ہے کہ کس کس نے دیا اور کتنا کتنا دیا تو وہ مثل مال لقطہ ہے اسے مسجد میں صرف کرسکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵: ازشہر مرسلہ جناب حافظ میاں صاحب ۵ جمادی الاخری ۱۳۳۷ھ یوم دو شنبہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك ملك اور ایك باغ واسطے نیازحضور جناب امام حسین علیہ السلام اور فاتحہ پیران عظام اور مرمت شکست ریخت زیارت بغرض بقائے نشان ونیز خیرات خالصاللہ وقف کیآیا یہ وقف مذہب اہل سنت وجماعت میں جائز وصحیح ہے یانہیںبحوالہ کتب بادلیل مشرح فرمائےبینواتوجروا۔
الجواب:
خیرات خالصا ﷲ کے لئے وقف جائز وصحیح ہے یونہی نیاز وفاتحہ حضرت امام واولیائے کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے لئےجبکہ اسے مصرف خیر میں صرف کرنا ہو۔رہی مرمت زیارتاگر اس مراد وہ مکان ہے کہ مسافرینزائرینحاضرین عرس کے آرام کو بنایا گیا تو وہ مثل سرائے ومسافر خانہ قربت ہے اور اس کی مرمت مثل عمارتتو اس پر بھی وقف جائز وصحیح ہے۔
فی الدرالمختار الوقف علی ثلثۃ اوجہ اما للفقراء او للاغنیاء ثم للفقراء اویستوی فیہ الفریقان کرباط و خان ومقابر وسقایات وقناطر ونحوذلك کمساجد و طواحین وطست لاحتیاج الکل لذلك الخ ۔
درمختار میں ہے کہ وقف تین طرح ہوتا ہے:فقراء کےلئے یا پہلے اغنیاء اور پھر فقراء کےلئے یا دونوں کے لئے مساویجیسے سرائےتکیہقبرستانسبیلیں اور خیمے وغیرہ۔مثلا مساجد چکیاں اور برتن کیونکہ یہ تمام لوگوں کی ضروریات ہیں(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۶
اور اگر مراد عام قبر کی مرمت ہے تو وہ قربت نہیں اور وقف کے لئے قربت ہونا شرط ہے
فی الدرالمختار شرطہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ ملوما منجزا الخ۔
درمختار میں ہے کہ وقف ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ عمل ذاتی طور پر نیکی ہونا واضح طور پ معلوم ہوا الخ۔(ت)
فتاوی قاضی وفتاوی سراجیہ وتنویر الابصار وغیرہا میں ہے:
اوصی بان یطین قبر فھی باطلۃ اھ مختصرا
قبر کی لپائی کی وصیت کی تو باطل ہے اھ مختصرا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الوصیۃ اماصلۃ او قربۃ ولیست ھذہ واحدۃ منھما فبطلت ۔
وصیتصلہ رحمی ہو یا پھر نیکی ہوا ور یہ دونوں میں سے نہیں ہےلہذا باطل ہے(ت)
ہاں قبور اولیاء کرام کے حفظ ونگہداشت کو جبکہ ان کی تعظیم وتکریم کے تحفظ اور توہین وپامالی سے بچانے اور مسلمانوں کے وہاں حاضرہوکر فیض ثواب وتبرکات پانے کے لئے ہو قربت کہنا اقرب بفقہ ہے۔اللہ عز وجل فرماتا ہے:
"ذلك ادنى ان یعرفن فلا یؤذین-" ۔
یہ پہچان سے قریب تر ہے تاکہ ان کو اذیت سے بچایا جائے۔ (ت)
درمختار میں ہے:
تطیین القبور لایکرہ فی المختار وقیل یکرہ وقال البزدوی لواحتج لکتابۃ کیلایذہب الاثر ولایمتھن لاباس بہ ۔
قبروں کی لپائی مکروہ نہیں ہےمختار قول میں بعض نے کہا مکروہ ہے۔بزدوی نے فرمایا اگر کتابت کےلئے ضرورت ہو تاکہ قبر کے آثار ختم نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
فی الدرالمختار شرطہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ ملوما منجزا الخ۔
درمختار میں ہے کہ وقف ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ عمل ذاتی طور پر نیکی ہونا واضح طور پ معلوم ہوا الخ۔(ت)
فتاوی قاضی وفتاوی سراجیہ وتنویر الابصار وغیرہا میں ہے:
اوصی بان یطین قبر فھی باطلۃ اھ مختصرا
قبر کی لپائی کی وصیت کی تو باطل ہے اھ مختصرا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الوصیۃ اماصلۃ او قربۃ ولیست ھذہ واحدۃ منھما فبطلت ۔
وصیتصلہ رحمی ہو یا پھر نیکی ہوا ور یہ دونوں میں سے نہیں ہےلہذا باطل ہے(ت)
ہاں قبور اولیاء کرام کے حفظ ونگہداشت کو جبکہ ان کی تعظیم وتکریم کے تحفظ اور توہین وپامالی سے بچانے اور مسلمانوں کے وہاں حاضرہوکر فیض ثواب وتبرکات پانے کے لئے ہو قربت کہنا اقرب بفقہ ہے۔اللہ عز وجل فرماتا ہے:
"ذلك ادنى ان یعرفن فلا یؤذین-" ۔
یہ پہچان سے قریب تر ہے تاکہ ان کو اذیت سے بچایا جائے۔ (ت)
درمختار میں ہے:
تطیین القبور لایکرہ فی المختار وقیل یکرہ وقال البزدوی لواحتج لکتابۃ کیلایذہب الاثر ولایمتھن لاباس بہ ۔
قبروں کی لپائی مکروہ نہیں ہےمختار قول میں بعض نے کہا مکروہ ہے۔بزدوی نے فرمایا اگر کتابت کےلئے ضرورت ہو تاکہ قبر کے آثار ختم نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۵/ ۳۷۷
درمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۰
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۴۱
القرآن الکریم ۳۳ /۵۹
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۲
درمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۳۰
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۴۱
القرآن الکریم ۳۳ /۵۹
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۲
ان کان القصد بذلك التعظیم فی اعین العامۃ حتی لایحتقر واصاحب ھذا القبر الذی وضعت علیہ الثیاب ولجلب الخشوع والادب لقلوب الزائرین الغافلین کما ذکرنا من حضور روحانیتھم المبارکۃ عندقبورھم فھو امر جائز الخ ۔ اگر مقصد یہ ہو کہ اس سے لوگوں کی نظروں میں تعظیم ہوگی اور قبر والے کی تحقیر سے حفاظت ہوگی تو اس کی قبر پر کپڑا ڈالنا اور غافل لوگوں کو وہاں خشوع کی طرف اور ادب کی طرف راغب کرناجیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ قبروں پر اصحاب قبور کی روحیں حاضر ہوتی ہیںاس لئے ہوتو یہ جائز ہے الخ (ت)
اور شك نہیں کہ ہر مباح بہ نیت محمودہ محمود وقربت ہوجاتا ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما الاعمال بالنیات ولکل امرئ مانوی ۔
اعمال نیات کے ساتھ ہیںہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جس کی وہ نیت کرے(ت)
ا س صورت میں اس مرمت کے لئے تنہا بھی وقف صحیح ہوسکتا ہے لیکن یہاں جبکہ صرف مرمت قبر پر وقف نہیں بلکہ اس میں مصارف قبر صراحۃ مذکور ہیں تو ایك مصرف جائز اگرچہ خود قربت نہیںان میں شامل کرنا وقف کو ناجائز نہیں کرسکتا غایت یہ کہ گویا اتنا روپیہ جس قدر کی حاجت کبھی مرمت قبر کےلئے واقع ہو مصارف خیر سے ایك مصرف جائز کےلئے مستثنے ہواور اس میں کچھ حرج نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
اذاجعل اولہ علی معنیین صار کانہ استثنی ذلك من الدفع الی الفقراء کما صرحوابہ ۔ جب وقف کرتے ہوئے دوچیزوں کوذکر کیاگیا توگویا یہ فقراء کو دینے سے مستثنی ہوگا جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے(ت)
فتاوی قاضی خان ردالمحتار میں ہے:
لوقال ارضی صدقۃ موقوفۃ علی من یحدث لی من الولد ولیس لہ ولد یصح لان قولہ صدقۃ موقوفۃ اگر کسی نے یوں کہا کہ میری یہ زمین آئندہ پیدا ہونیوالے میرے بچے کے لئے صدقہ ہے فی الحال اگرچہ بچہ نہ ہوتو بھی یہ صحیح ہے کیونکہ اس کاصدقہ کہنا اس کو
اور شك نہیں کہ ہر مباح بہ نیت محمودہ محمود وقربت ہوجاتا ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما الاعمال بالنیات ولکل امرئ مانوی ۔
اعمال نیات کے ساتھ ہیںہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جس کی وہ نیت کرے(ت)
ا س صورت میں اس مرمت کے لئے تنہا بھی وقف صحیح ہوسکتا ہے لیکن یہاں جبکہ صرف مرمت قبر پر وقف نہیں بلکہ اس میں مصارف قبر صراحۃ مذکور ہیں تو ایك مصرف جائز اگرچہ خود قربت نہیںان میں شامل کرنا وقف کو ناجائز نہیں کرسکتا غایت یہ کہ گویا اتنا روپیہ جس قدر کی حاجت کبھی مرمت قبر کےلئے واقع ہو مصارف خیر سے ایك مصرف جائز کےلئے مستثنے ہواور اس میں کچھ حرج نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
اذاجعل اولہ علی معنیین صار کانہ استثنی ذلك من الدفع الی الفقراء کما صرحوابہ ۔ جب وقف کرتے ہوئے دوچیزوں کوذکر کیاگیا توگویا یہ فقراء کو دینے سے مستثنی ہوگا جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے(ت)
فتاوی قاضی خان ردالمحتار میں ہے:
لوقال ارضی صدقۃ موقوفۃ علی من یحدث لی من الولد ولیس لہ ولد یصح لان قولہ صدقۃ موقوفۃ اگر کسی نے یوں کہا کہ میری یہ زمین آئندہ پیدا ہونیوالے میرے بچے کے لئے صدقہ ہے فی الحال اگرچہ بچہ نہ ہوتو بھی یہ صحیح ہے کیونکہ اس کاصدقہ کہنا اس کو
حوالہ / References
العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۵۷€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۵۷€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۵۷€
وقف علی الفقراء وذکر الولد الحادث للاستثناء ۔ فقراء کےلئے وقف قرار دے گا اور آئندہ ہونیوالے بچے کاذکر فقراء کے مصرف سے مستثنی ہوگا۔(ت)
بالجملہ صورت مذکورہ میں وہ وقف ضرورصحیح وجائز ولازم ہے۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۲۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقف علی الاولاد وقف علی النفس جائز ہیں یا نہیںاور ان کے کیا معنی ہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
شرع مطہر میں وقف علی الاولاد ووقف علی النفس سب جائز ہے یعنی اپنی جائدادیوں وقف کرے کہ تاحیات کلیۃ خود اس سے متمتع رہوں تمام آمدنی اپنے مصارف ذاتی پر صرف کروں میرے بعد میری اولاد واولاد اولاد اس سے بدیں تفصیل یا حصہ مساوی(جس طرح چاہے کہے)متمتع ہوتی رہے جب نسل میں کوئی نہ رہے تو فلاں مدرسہ یا مسجد یا فقراء یاکار خیر کےلئے ہو جس طرح کہے گا اسی طرح پابندی ہوگی اور جائداد بیع وہبہ وغیرہ انتقال کے اصلا قابل نہ رہے گی تولیت کا بھی اختیار ہے کہ اپنی حیات تك چاہے اپنے ہی نام رکھے یا اپنی اولاد کے نام اور بعدکو بھی جس طرح کی جائز شرطیں چاہے تولیت میں لگائے سب کی پابندی اسی طرح ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۷: ازبنارس محلہ پتر کنڈہ مکان ببوائن مرحومہ مرسلہ محمد مغل صاحب ۲۶ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی ایك موضع میں ۴ /حقیت زمینداری ہے جس سے انتفاع تخمینا مبلغ عہ۳۰/ روپیہ ماہوار کا ہے اور یہ اراضی ہندہ کو اپنے شوہر مرحوم سے دین مہر میں ملی ہے چونکہ ہندہ لاولد ہے اس وجہ سے اپنی جائداد مذکورہ اس طور سے وقف فی سبیل اﷲ کرنا چاہتی ہے کہ جب تك وہ زندہ ہے خود متولی رہ کر اس کی آمدنی سے بطریق مناسب خیرات کرتی رہے گی بعد اس کے مرنے کے چار شخص دیندار متدین جنکو کہ وہ نامزد کرے گی وہ لوگ متولی ہوں گے اور اس آمدنی سے ایصال ثواب جس طریقہ سے وقف نامہ میں لکھے گی کرتے رہیں گےہندہ کی تین حقیقی بہنیں ہیں سوائے ان کے کوئی عزیز قریب نہیں ہے اور یہ ہر سہ بہنیں صاحب اولاد ہیں اور ان کی ماہوار آمدنی ہندہ کے آمدنی سے زیادہ غرضکہ ہر سہ بہنیں محتاج نہیں ہیںاکثر اشخاص یہ کہتے ہیں کہ یہ وقف ازروئے شرع شریف
بالجملہ صورت مذکورہ میں وہ وقف ضرورصحیح وجائز ولازم ہے۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۲۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقف علی الاولاد وقف علی النفس جائز ہیں یا نہیںاور ان کے کیا معنی ہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
شرع مطہر میں وقف علی الاولاد ووقف علی النفس سب جائز ہے یعنی اپنی جائدادیوں وقف کرے کہ تاحیات کلیۃ خود اس سے متمتع رہوں تمام آمدنی اپنے مصارف ذاتی پر صرف کروں میرے بعد میری اولاد واولاد اولاد اس سے بدیں تفصیل یا حصہ مساوی(جس طرح چاہے کہے)متمتع ہوتی رہے جب نسل میں کوئی نہ رہے تو فلاں مدرسہ یا مسجد یا فقراء یاکار خیر کےلئے ہو جس طرح کہے گا اسی طرح پابندی ہوگی اور جائداد بیع وہبہ وغیرہ انتقال کے اصلا قابل نہ رہے گی تولیت کا بھی اختیار ہے کہ اپنی حیات تك چاہے اپنے ہی نام رکھے یا اپنی اولاد کے نام اور بعدکو بھی جس طرح کی جائز شرطیں چاہے تولیت میں لگائے سب کی پابندی اسی طرح ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۷: ازبنارس محلہ پتر کنڈہ مکان ببوائن مرحومہ مرسلہ محمد مغل صاحب ۲۶ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی ایك موضع میں ۴ /حقیت زمینداری ہے جس سے انتفاع تخمینا مبلغ عہ۳۰/ روپیہ ماہوار کا ہے اور یہ اراضی ہندہ کو اپنے شوہر مرحوم سے دین مہر میں ملی ہے چونکہ ہندہ لاولد ہے اس وجہ سے اپنی جائداد مذکورہ اس طور سے وقف فی سبیل اﷲ کرنا چاہتی ہے کہ جب تك وہ زندہ ہے خود متولی رہ کر اس کی آمدنی سے بطریق مناسب خیرات کرتی رہے گی بعد اس کے مرنے کے چار شخص دیندار متدین جنکو کہ وہ نامزد کرے گی وہ لوگ متولی ہوں گے اور اس آمدنی سے ایصال ثواب جس طریقہ سے وقف نامہ میں لکھے گی کرتے رہیں گےہندہ کی تین حقیقی بہنیں ہیں سوائے ان کے کوئی عزیز قریب نہیں ہے اور یہ ہر سہ بہنیں صاحب اولاد ہیں اور ان کی ماہوار آمدنی ہندہ کے آمدنی سے زیادہ غرضکہ ہر سہ بہنیں محتاج نہیں ہیںاکثر اشخاص یہ کہتے ہیں کہ یہ وقف ازروئے شرع شریف
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف فصل فی الوقف علی الاولاد ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۳۱€
ناقص وناجائز ہوگا اس وجہ سے کہ حقیقی بہنیں موجود ہیں اور ہندہ پر حق العباد کا مواخذہ رہے گا اوراس کو اجر وثواب اس کا نہ ہوگا بلکہ گنہگار ہوگی کہ وہ حق تلفی کرتی ہےچونکہ ہندہ جائداد مذکورہ بالاثواب وصدقہ جاریہ کے غرض سے وقف کرتی ہے پس اس صورت میں یہ وقف جائز ہوگا یا کہ ناجائز اور ہندہ وقف کرنے سے ثواب پائے گی یاحق العباد کی حق تلفی سے گنہگار ہوگی امید کہ جواب بحوالہ کتب تحریر فرمایا جائے۔بینواتوجروا۔
اسے اپنی صحت میں وقف کا اختیار ہے جس طرح وقف کرے گی کل یا بعض وقف ہوجائے گی مگر نیت اگر یہ ہے کہ بہنوں کو ترکہ سے محروم کرے تو یہ اگرچہ حق العبد میں گرفتار نہیں کہ صحت مورث میں کسی وارث کا کوئی حق ا س کے مال سے متعلق نہیں ہوتا مگر ایسی نیت ضرور مذموم وسخت شنیعہ ہےحدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ۔
جو بلاوجہ شرعی اپنے وارث کی میراث سے بھاگے اللہ تعالی جنت سے اس کا حصہ قطع کردے۔(ت)
بہنوں کا مالدار ہونا کوئی وجہ شرعی ان کے محروم کرنے کی نہیں۔راہ یہ ہے کہ یا تو وارثوں سے رضامندی لے وہ سچے دل سے اجازت دے دیں کہ تم اپنی جائداد مصارف خیر کے لئے وقف کردو یا وقف اہلی کرے کہ وقف کا بھی ثواب پائے اور وارث بھی محروم نہ ہوں یعنی یوں وقف کرے کہ یہ جائداد میں نے اپنی زندگی بھر اپنے نفس پر وقف کی اور اپنے بعد اپنے ورثہ پر اور جب وہ اور اس کا وارث کوئی نہ رہے تو فلاں فلاں مصارف خیر پر اس میں یہ بھی جائز ہوگا کہ جائداد میں سے جتنا چاہے اپنی حیات اور اپنے وارثوں کے حیات میں بھی مصارف خیر کے لئے معین کردے اتنا ان میں صرف ہوگاباقی اپنی زندگی بھر یہ لے گی اور اس کے بعد اس کے وارث۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۸: ازمدرسہ نعمانیہ دہلی مرسلہ مولوی محمد ابراہیم صاحب احمد آبادی ۲۳شوال ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے مکان کو وقف علی الاولاد کرنا چاہتا ہے کہ اس میں وراثت جاری نہ ہومنشاء زید یہ ہے کہ مکان آبائی اسی طرح قائم رہے حصہ بخرہ ہوکر خراب نہ ہو کہ ورثہ اپنے اپنے حصے بیع کردیں گےاولاد نرینہ اس میں رہا کرے اولاد اناث کو اگر ضرورت ہویعنی
اسے اپنی صحت میں وقف کا اختیار ہے جس طرح وقف کرے گی کل یا بعض وقف ہوجائے گی مگر نیت اگر یہ ہے کہ بہنوں کو ترکہ سے محروم کرے تو یہ اگرچہ حق العبد میں گرفتار نہیں کہ صحت مورث میں کسی وارث کا کوئی حق ا س کے مال سے متعلق نہیں ہوتا مگر ایسی نیت ضرور مذموم وسخت شنیعہ ہےحدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ۔
جو بلاوجہ شرعی اپنے وارث کی میراث سے بھاگے اللہ تعالی جنت سے اس کا حصہ قطع کردے۔(ت)
بہنوں کا مالدار ہونا کوئی وجہ شرعی ان کے محروم کرنے کی نہیں۔راہ یہ ہے کہ یا تو وارثوں سے رضامندی لے وہ سچے دل سے اجازت دے دیں کہ تم اپنی جائداد مصارف خیر کے لئے وقف کردو یا وقف اہلی کرے کہ وقف کا بھی ثواب پائے اور وارث بھی محروم نہ ہوں یعنی یوں وقف کرے کہ یہ جائداد میں نے اپنی زندگی بھر اپنے نفس پر وقف کی اور اپنے بعد اپنے ورثہ پر اور جب وہ اور اس کا وارث کوئی نہ رہے تو فلاں فلاں مصارف خیر پر اس میں یہ بھی جائز ہوگا کہ جائداد میں سے جتنا چاہے اپنی حیات اور اپنے وارثوں کے حیات میں بھی مصارف خیر کے لئے معین کردے اتنا ان میں صرف ہوگاباقی اپنی زندگی بھر یہ لے گی اور اس کے بعد اس کے وارث۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۸: ازمدرسہ نعمانیہ دہلی مرسلہ مولوی محمد ابراہیم صاحب احمد آبادی ۲۳شوال ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنے مکان کو وقف علی الاولاد کرنا چاہتا ہے کہ اس میں وراثت جاری نہ ہومنشاء زید یہ ہے کہ مکان آبائی اسی طرح قائم رہے حصہ بخرہ ہوکر خراب نہ ہو کہ ورثہ اپنے اپنے حصے بیع کردیں گےاولاد نرینہ اس میں رہا کرے اولاد اناث کو اگر ضرورت ہویعنی
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ باب الحیف فی الوصیۃ ادارہ احیاء السنۃ النبویۃ سرگودھا ص۱۹۸
ان کی سسرال سے کسی ناچاقی کی وجہ سے یہاں آنا ہوتو وہ بھی رہے اور خرید وفروخت ہبہ وغیرہ کا کسی کو اختیار نہ رہے البتہ شکست وریخت یا تعمیر جدید یا تغییر مکانیت مناسب کا ہمیشہ اختیار ہے زید کی ایك ہمشیرہ بھی سہیم ہے وہ اس وجہ سے کہ اس کے لڑکے شاید ناراض ہوں تحریر نہیں دیتی زبانی خاص لوگوں کے روبرو اپنا معاف کرنا بیان کرتی ہےاس صورت میں زید کا وقف کرنا صحیح ہوگا یانہیں
الجواب:
زید کو ایسے وقف کا اختیار ہے اور یہ وقف صحیح ہے اولاد نرینہ کے سامنے ہمشیرہ کا کوئی حق نہیں ہوتا تو وقف پر کہ غیرمرض موت میں کیا جائے کسی وارث کو حق اعتراض نہیںنہ حصہ معاف کرنے کی ضرورتنہ کسی تحریر دینے کی۔وہ یہ مضمون لکھ دے کہ میں نے اپنا مکان محدود بحدود چنیں وچناں اپنی زندگی بھر اپنے نفس پھر اپنی اولاد پھر فقرائے مسلمین اہل سنت وجماعت پر بایں شروط وقف صحیح شرعی لازم کیا۔
(۱)اپنی حیات بھر خود اس میں رہوں گا۔
(۲)میرے بعد میری اولاد نرینہ واولاد نرینہ واولاد نرینہ تابقائے نسل اس میں رہیں۔
(۳)اولاد اولاد اولاد میں جو اناث ہوں جب تك شادی نہ ہو یا جو بیوہ ہوجائے اور وہاں ٹھکانہ نہ رہے یا بوجہ ناچاقی
وہاں نہ رہ سکے وہ بھی تابقائے ضرورت اس میں سکونت رکھے گی۔
(۴)جب نسل میں اولاد ذکور نہ رہیں اولاد اناث کو حق ہوگا۔
(۵)جب وہ بھی نہ رہیں مکان کرائے پر دیاجایا کرے گا اور کرایہ فقرائے مسلمین اہل سنت وجماعت مطابق عقائد علمائے حرمین شریفین پر صرف ہواکرے گا۔
(۶)شکست ریخت کا صرف میری زندگی میں میرے ذمہ پھر اولاد ساکنین پھر کرایہ مکان سے ہوا کرے گا۔
(۷)کسی وقت کسی کو اس کی بیع وہبہ وانتقال وغیرہ کا اختیار نہ ہوگااور یہ جو مناسب ہوں شرائط لکھ کر وقف نامہ مکمل کردے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۹ تا۱۳۰: ازآگرہ کڑہ مسئولہ محمد نواب حسین کارخانہ دار کامدانی ۲۰محرم ۱۳۳۹ھ
(۱)زید اپنی جائداد کو وقف علی الاولاد کرناچاہتا ہے اور ایك ثلث آمدنی جائداد کا کارخیر میں دینا منظور ہے بعد منہائی دیگر اخراجات ضروری مرمت وغیرہ میں جو رقم باقی رہے اس میں سے ایك ثلث کارخیر میں صرف کرنا یاکل آمدنی میں سے۔
الجواب:
زید کو ایسے وقف کا اختیار ہے اور یہ وقف صحیح ہے اولاد نرینہ کے سامنے ہمشیرہ کا کوئی حق نہیں ہوتا تو وقف پر کہ غیرمرض موت میں کیا جائے کسی وارث کو حق اعتراض نہیںنہ حصہ معاف کرنے کی ضرورتنہ کسی تحریر دینے کی۔وہ یہ مضمون لکھ دے کہ میں نے اپنا مکان محدود بحدود چنیں وچناں اپنی زندگی بھر اپنے نفس پھر اپنی اولاد پھر فقرائے مسلمین اہل سنت وجماعت پر بایں شروط وقف صحیح شرعی لازم کیا۔
(۱)اپنی حیات بھر خود اس میں رہوں گا۔
(۲)میرے بعد میری اولاد نرینہ واولاد نرینہ واولاد نرینہ تابقائے نسل اس میں رہیں۔
(۳)اولاد اولاد اولاد میں جو اناث ہوں جب تك شادی نہ ہو یا جو بیوہ ہوجائے اور وہاں ٹھکانہ نہ رہے یا بوجہ ناچاقی
وہاں نہ رہ سکے وہ بھی تابقائے ضرورت اس میں سکونت رکھے گی۔
(۴)جب نسل میں اولاد ذکور نہ رہیں اولاد اناث کو حق ہوگا۔
(۵)جب وہ بھی نہ رہیں مکان کرائے پر دیاجایا کرے گا اور کرایہ فقرائے مسلمین اہل سنت وجماعت مطابق عقائد علمائے حرمین شریفین پر صرف ہواکرے گا۔
(۶)شکست ریخت کا صرف میری زندگی میں میرے ذمہ پھر اولاد ساکنین پھر کرایہ مکان سے ہوا کرے گا۔
(۷)کسی وقت کسی کو اس کی بیع وہبہ وانتقال وغیرہ کا اختیار نہ ہوگااور یہ جو مناسب ہوں شرائط لکھ کر وقف نامہ مکمل کردے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۹ تا۱۳۰: ازآگرہ کڑہ مسئولہ محمد نواب حسین کارخانہ دار کامدانی ۲۰محرم ۱۳۳۹ھ
(۱)زید اپنی جائداد کو وقف علی الاولاد کرناچاہتا ہے اور ایك ثلث آمدنی جائداد کا کارخیر میں دینا منظور ہے بعد منہائی دیگر اخراجات ضروری مرمت وغیرہ میں جو رقم باقی رہے اس میں سے ایك ثلث کارخیر میں صرف کرنا یاکل آمدنی میں سے۔
(۲)جو رقم ثلث آمدنی کار خیر کے واسطے نکالی جائے اس میں سے نیاز بزرگان دین کی ومحفل میلاد شریف میں خرچ کرنا وکسی مدرسہ وغیرہ میں دینا مقصود ہے یہ جائز ہوگا اس حالت میں جداگانہ زکوۃ کی توضرورت نہ رہے گی۔
الجواب:
(۱)یہ اسکی زبان پر ہےاگر وقف میں یہ شرط لگائے گا کہ کل آمدنی بلااخراج خرچ کا ثلث تو یہی واجب ہوگا اور منافع خالص کاثلث کہے گا تو خرچ نکال کر جو بچا اس کی تہائی اور اگر مطلق کہے گا تو حسب عرف منافع خالص کا ثلث سمجھاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)کارخیرمیں جو کام متعین کردے گا مثلا مسجد یا مدرسہ یا مساکین وہ ثلث اس میں صرف ہوسکے گا اور اگر نیاز بزرگان دین ومحفل میلاد شریف بھی اسی میں شامل کرے گا تو یہ بھی ہوسکے گا یہ ثلث کارخیر میں صرف کردینا بقیہ دو ثلث پر سے زکوۃ ساقط نہ کردے گا جبکہ اس کے پاس حاجات اصلیہ سے فارغ بقدر نصاب بچے اور سال گزرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
(۱)یہ اسکی زبان پر ہےاگر وقف میں یہ شرط لگائے گا کہ کل آمدنی بلااخراج خرچ کا ثلث تو یہی واجب ہوگا اور منافع خالص کاثلث کہے گا تو خرچ نکال کر جو بچا اس کی تہائی اور اگر مطلق کہے گا تو حسب عرف منافع خالص کا ثلث سمجھاجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)کارخیرمیں جو کام متعین کردے گا مثلا مسجد یا مدرسہ یا مساکین وہ ثلث اس میں صرف ہوسکے گا اور اگر نیاز بزرگان دین ومحفل میلاد شریف بھی اسی میں شامل کرے گا تو یہ بھی ہوسکے گا یہ ثلث کارخیر میں صرف کردینا بقیہ دو ثلث پر سے زکوۃ ساقط نہ کردے گا جبکہ اس کے پاس حاجات اصلیہ سے فارغ بقدر نصاب بچے اور سال گزرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
باب المسجد
(احکام مسجد کا بیان)
مسئلہ ۱۳۱: میمن محمد عبداللہ ابوبکر سوداگر زور نگل بازار انتصار گنج ریاست حیدر آباد دکن ۱۲شوال ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك چبوترہ پر عرصہ تیس سال سے اذان ونماز باجماعت وجمعہ ہواکرتی ہےاس پر محراب ومنبر بھی ہےزید کہتا ہے کہ محض چبوترہ پر نماز وغیرہ قائم ہونے سے حرمت مسجد نہیں ہوتی کیونکہ اس پر نہ چھت ہے نہ منارہ جولوازمات مسجد ہیںبکرکہتا ہے یہ لوازمات مسجد نہیں اذان ونماز پنجگانہ باجماعت وجمعہ کا قیام کافی ہےاب ازروئے شرع کیاحکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
زید کاقول محض باطل وخلاف شرع ہے مسجد کے لئے چھتمنارہدیواریں کوئی چیزلازم نہیںاس میں تو منبر محراب موجود ہےیہ بھی نہ ہوتا تو بھی مسجدیت میں خلل نہیں۔مسجد صرف اس زمین کا نام ہے جو نماز کیلئے وقف ہو یہاں تك کہ اگر کوئی شخص اپنی نری خالی زمین مسجد کو دے مسجد ہوجائے گیمسجد کا احترام اس کےلئے فرض ہوجائے گا۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوافیہا بجماعۃ ابدا او امرھم بالصلوۃ مطلقا ونوی الابد صارت الساحۃ مسجد اکذافی الذخیرۃ وھکذا فی فتاوی قاضی خان۔ (ملخصا)
کسی شخص کی خالی زمین ہے جس میں عمارت نہیں اس نے لوگوں کو کہا کہ اس میں ہمیشہ نماز باجماعت پڑھاکرویایوں کہا کہ اس میں نماز پڑھواور نیت
(احکام مسجد کا بیان)
مسئلہ ۱۳۱: میمن محمد عبداللہ ابوبکر سوداگر زور نگل بازار انتصار گنج ریاست حیدر آباد دکن ۱۲شوال ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك چبوترہ پر عرصہ تیس سال سے اذان ونماز باجماعت وجمعہ ہواکرتی ہےاس پر محراب ومنبر بھی ہےزید کہتا ہے کہ محض چبوترہ پر نماز وغیرہ قائم ہونے سے حرمت مسجد نہیں ہوتی کیونکہ اس پر نہ چھت ہے نہ منارہ جولوازمات مسجد ہیںبکرکہتا ہے یہ لوازمات مسجد نہیں اذان ونماز پنجگانہ باجماعت وجمعہ کا قیام کافی ہےاب ازروئے شرع کیاحکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
زید کاقول محض باطل وخلاف شرع ہے مسجد کے لئے چھتمنارہدیواریں کوئی چیزلازم نہیںاس میں تو منبر محراب موجود ہےیہ بھی نہ ہوتا تو بھی مسجدیت میں خلل نہیں۔مسجد صرف اس زمین کا نام ہے جو نماز کیلئے وقف ہو یہاں تك کہ اگر کوئی شخص اپنی نری خالی زمین مسجد کو دے مسجد ہوجائے گیمسجد کا احترام اس کےلئے فرض ہوجائے گا۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوافیہا بجماعۃ ابدا او امرھم بالصلوۃ مطلقا ونوی الابد صارت الساحۃ مسجد اکذافی الذخیرۃ وھکذا فی فتاوی قاضی خان۔ (ملخصا)
کسی شخص کی خالی زمین ہے جس میں عمارت نہیں اس نے لوگوں کو کہا کہ اس میں ہمیشہ نماز باجماعت پڑھاکرویایوں کہا کہ اس میں نماز پڑھواور نیت
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۵
الابد صارت الساحۃ مسجد اکذافی الذخیرۃ وھکذا فی فتاوی قاضی خان۔ (ملخصا) ہمیشگی کی کی تھی تو دونوں صورتوں میں وہ خالی زمین مسجد ہوگئی جیسا کہ ذخیرہ اور فتاوی قاضی خان میں ہے(ت)
جبکہ اس چبوترہ کا کوئی مالك ومدعی نہیں اور اس میں مدتوں سے نماز باجماعت ہوتی ہےجمعہ ہوتا ہےمنبر ہےمحراب ہےتو کوئی وجہ نہیں کہ اس کو مسجد نہ سمجھا جائے۔واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۱۳۲:ازشملہ مسجدقطب خانساماں کوہ شملہ خورد مرسلہ عالم خاں ممبر وسکریٹری مسجد مذکورہ ملازم کوٹھی آرناڈیل۶شوال ۱۳۳۵ھ
ایك شخص قطب خانساماں نے تین مسجدیں مقام کوہ شملہ تین بازار وں میں بنوائی تھیںبازار کلاں وبازار بابوگنج وبازار چھوٹا شملہخانساماں مرحوم نے خاص اپنی سعی وکوشش سے انگریز سے زمین بھی لی اور بنیاد بھی مسجد کی خود ہی ڈالیاوراپنے زر خاص سے مسجد کو بنوایااور تیار ہونے پر بھی خانساماں مغفور نے اپنی حین حیات مسجد کی خدمت وخبرگیری کی اور مسجد کے ہمیشہ خرچ کے لئے کچھ جائداد بھی مسجد کے متعلق کی جو مسجد کے خرچ کو کافی ہےاب بعد گزرجانے خانساماں مرحوم کے بے انتظامی متولیان ومنتظمان وقت کے سبب مسجد کے شہید ہوجانے پر اور پیشہ کے چند لوگوں نے چندہ جمعہ کرکے مسجد مذکور کو تعمیر کرایا اور انتظام دست بدست دیگراں رہاسواب حق زیادہ مسجد پر پہلے بنانے والے اور اسکے گروہ کا ہے یا بعد کے بنانے والوں کا اور اس کے گروہ کا اور نام روشن ہونا مسجد پہ اور مسجد کی تمام چیزوں پہ کس کا ہونا چاہئے یا کسی کا بھی نہیںاو مسجد مذکور قطب خانساماں کے نام سے پکاری جاتی ہےبعد گزرجانے خانساماں مذکور کے انتظام مسجد دست بدست دیگراں رہا جو کہ منتظم یا متولی مانے جاتے رہے ہیںبایں صورت ایك شخص بابوپندرہ بیس سال سے متولی یا منتظم قرار دیا ہوا تھا اور انتظام مسجد وآمدنی وخرچ سب اسی کے سپرد تھا سوا سکے انتظام وتولیت سے مسجد کو سراسر نقصان ہوایہاں تك کہ مسجد مقروض بھی ہوئی اگرچہ اب نہیں ہےلیکن مسجد پر خستگی اب بھی ظاہرہے اور نمازیوں کو تکلیف سامان نماز سے ہمیشہ پہنچتی رہیلہذا متولی ہذاکو معزول کرکے بجائے اس کے چند اشخاص معقول ممبر مقرر کرکے جو ایك پیشہ اور اسی بازار کے تھےانتظام مسجد وآمدنی وخرچ ان کے متعلق کیاگیااب آئندہ انتظام دستور سابق کے موافق ہونا چاہئے جو متولی معزول کے وقف میں تھا اور اسی روش پہ چلنا چاہئے یا نئے طریق سے جو مسجد کی آسودگی و نمازیوں کے آرام کی صورت ہوجو کتابیں کہ اب انتظام مسجد کے حساب وکتاب کے واسطے
جبکہ اس چبوترہ کا کوئی مالك ومدعی نہیں اور اس میں مدتوں سے نماز باجماعت ہوتی ہےجمعہ ہوتا ہےمنبر ہےمحراب ہےتو کوئی وجہ نہیں کہ اس کو مسجد نہ سمجھا جائے۔واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۱۳۲:ازشملہ مسجدقطب خانساماں کوہ شملہ خورد مرسلہ عالم خاں ممبر وسکریٹری مسجد مذکورہ ملازم کوٹھی آرناڈیل۶شوال ۱۳۳۵ھ
ایك شخص قطب خانساماں نے تین مسجدیں مقام کوہ شملہ تین بازار وں میں بنوائی تھیںبازار کلاں وبازار بابوگنج وبازار چھوٹا شملہخانساماں مرحوم نے خاص اپنی سعی وکوشش سے انگریز سے زمین بھی لی اور بنیاد بھی مسجد کی خود ہی ڈالیاوراپنے زر خاص سے مسجد کو بنوایااور تیار ہونے پر بھی خانساماں مغفور نے اپنی حین حیات مسجد کی خدمت وخبرگیری کی اور مسجد کے ہمیشہ خرچ کے لئے کچھ جائداد بھی مسجد کے متعلق کی جو مسجد کے خرچ کو کافی ہےاب بعد گزرجانے خانساماں مرحوم کے بے انتظامی متولیان ومنتظمان وقت کے سبب مسجد کے شہید ہوجانے پر اور پیشہ کے چند لوگوں نے چندہ جمعہ کرکے مسجد مذکور کو تعمیر کرایا اور انتظام دست بدست دیگراں رہاسواب حق زیادہ مسجد پر پہلے بنانے والے اور اسکے گروہ کا ہے یا بعد کے بنانے والوں کا اور اس کے گروہ کا اور نام روشن ہونا مسجد پہ اور مسجد کی تمام چیزوں پہ کس کا ہونا چاہئے یا کسی کا بھی نہیںاو مسجد مذکور قطب خانساماں کے نام سے پکاری جاتی ہےبعد گزرجانے خانساماں مذکور کے انتظام مسجد دست بدست دیگراں رہا جو کہ منتظم یا متولی مانے جاتے رہے ہیںبایں صورت ایك شخص بابوپندرہ بیس سال سے متولی یا منتظم قرار دیا ہوا تھا اور انتظام مسجد وآمدنی وخرچ سب اسی کے سپرد تھا سوا سکے انتظام وتولیت سے مسجد کو سراسر نقصان ہوایہاں تك کہ مسجد مقروض بھی ہوئی اگرچہ اب نہیں ہےلیکن مسجد پر خستگی اب بھی ظاہرہے اور نمازیوں کو تکلیف سامان نماز سے ہمیشہ پہنچتی رہیلہذا متولی ہذاکو معزول کرکے بجائے اس کے چند اشخاص معقول ممبر مقرر کرکے جو ایك پیشہ اور اسی بازار کے تھےانتظام مسجد وآمدنی وخرچ ان کے متعلق کیاگیااب آئندہ انتظام دستور سابق کے موافق ہونا چاہئے جو متولی معزول کے وقف میں تھا اور اسی روش پہ چلنا چاہئے یا نئے طریق سے جو مسجد کی آسودگی و نمازیوں کے آرام کی صورت ہوجو کتابیں کہ اب انتظام مسجد کے حساب وکتاب کے واسطے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۵€
نئی تیار ہوئی ہیں ان پر نام قطب خانساماں کا لکھا گیا ہےگروہ دوم کہتا ہے کہ ان پہ قطب خانساماں کا نام لکھنا شرك وبدعت ہے چونکہ پہلے نہ تھا اب کیوں لکھا گیاگروہ خانساماں کہتا ہے کہ کتابوں پہ نام کا ہونا شرك وبدعت نہیں ہےپہلے کا دستور قاعدہ جب لیں جو قواعد وطریق سابق سے مسجد کو آسودگی اور نمازیوں کو آرام پہنچا ہومسجد کی آمدنی کا روپیہ خانساماں کے گروہ کے پاس رہنا چاہئے یا گروہ دوم کے پاس اور زر مذکور زیادہ مالدار کے پاس رہے یا تھوڑے مالدار کے پاس
الجواب:
مسجد قیامت تك اصل بانی کے نام سے رہے گی اگرچہ اس کی شکست ریخت یا شہید ہوجانے کے بعد دوبارہ تعمیر اور لوگ کریںثواب ان کےلئے بھی ہے مگر اصل بنا بانی وقف کے واسطے خاص ہے
فان اصل المسجد الارض والعمارۃ وصف ولایکون من اعاد الوصف کمن احدث الاصل۔
کیونکہ اصل مسجد تو زمین ہے اور عمارت وصف ہے چنانچہ جس نے وصف کا اعادہ کیاوہ موجد اصل کی مانند نہیں ہوسکتا۔(ت)
کتابوں پر خانساماں کانام لکھا جانا نامناسب نہیں بلکہ بہتر ہے اور اسے شرك وبدعت کہنا بدعت ہے۔اسعاف پھر ردالمحتار میں ہے:
من قصد الواقف نسبۃ الوقف الیہ وذلك فیما ذکرنا ۔
واقف کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ وقف اس کی طرف منسوب رہےاور یہ ہماری مذکورہ صورت میں ہی ہوسکتا ہے(ت)
متولی مسجد بھی جب تك خانساماں کی اولاد یا کنبہ والوں میں کوئی شخص اس کا اہل پایا جائےاورلوگوں میں سے نہ کیا جائے گا درمختار میں ہے:
مادام احد یصلح التولیۃ من اقارب الواقف لایجعل المتولی من الاجانب لانہ اشفق ومن قصدہ نسبۃ الوقف الیہم ۔
جب تك واقف کے اقارب میں سے کوئی متولی وقف بنانے کی اہلیت رکھتا ہو بیگانوں میں سے کسی کو متولی نہ بنایا جائے کیونکہ واقف کا قریبی رشتہ دار وقف کازیادہ خیال رکھنے والا ہوگا اس لئے کہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وقف اس کے خاندان کی طرف منسوب رہے(ت)
الجواب:
مسجد قیامت تك اصل بانی کے نام سے رہے گی اگرچہ اس کی شکست ریخت یا شہید ہوجانے کے بعد دوبارہ تعمیر اور لوگ کریںثواب ان کےلئے بھی ہے مگر اصل بنا بانی وقف کے واسطے خاص ہے
فان اصل المسجد الارض والعمارۃ وصف ولایکون من اعاد الوصف کمن احدث الاصل۔
کیونکہ اصل مسجد تو زمین ہے اور عمارت وصف ہے چنانچہ جس نے وصف کا اعادہ کیاوہ موجد اصل کی مانند نہیں ہوسکتا۔(ت)
کتابوں پر خانساماں کانام لکھا جانا نامناسب نہیں بلکہ بہتر ہے اور اسے شرك وبدعت کہنا بدعت ہے۔اسعاف پھر ردالمحتار میں ہے:
من قصد الواقف نسبۃ الوقف الیہ وذلك فیما ذکرنا ۔
واقف کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ وقف اس کی طرف منسوب رہےاور یہ ہماری مذکورہ صورت میں ہی ہوسکتا ہے(ت)
متولی مسجد بھی جب تك خانساماں کی اولاد یا کنبہ والوں میں کوئی شخص اس کا اہل پایا جائےاورلوگوں میں سے نہ کیا جائے گا درمختار میں ہے:
مادام احد یصلح التولیۃ من اقارب الواقف لایجعل المتولی من الاجانب لانہ اشفق ومن قصدہ نسبۃ الوقف الیہم ۔
جب تك واقف کے اقارب میں سے کوئی متولی وقف بنانے کی اہلیت رکھتا ہو بیگانوں میں سے کسی کو متولی نہ بنایا جائے کیونکہ واقف کا قریبی رشتہ دار وقف کازیادہ خیال رکھنے والا ہوگا اس لئے کہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وقف اس کے خاندان کی طرف منسوب رہے(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۱
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
مسجد کا روپیہ اسی متولی کے اختیار میں رہے گا اسکے لئے دیانتداری کارگزار ہونا شرط ہے مالدار ہو نا ضرور نہیںمالداروں کی سپردگی میں جبکہ مسجد کی بے انتظامی اور نمازیوں کو تکلیف رہی تو اس انتظام کا بدلنا اور ہوشیار دیانت دار پرہیز گار مسلمانوں کی نگرانی میں دینا فرض تھا درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا بزازیۃلوالواقف دررفغیرہ بالاولی غیر مأمون اوعاجزا اوظھر بہ فسق کشرب خمرو نحوہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
وقف متولی کی تولیت سے نکال لینا واجب ہے(بزازیہ)اگرچہ خود واقف ہی متولی ہو(درر)جبکہ وہ غیر امین یا عاجز ہو یا اس کا فسق جیسے شراب نوشی وغیرہ ظاہر ہوجائے[جب خود واقف کا یہ حکم ہے تو]غیر واقف سے اس صورت میں وقف کا واپس لے لینا بدرجہ اولی واجب ہوگا۔(ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۳۳: ازرام پور پیلا تالاب مسجد شاہ درگاہی صاحب مرسلہ مولوی عبدالقادر صاحب بنگالی ۵صفر۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك جگہ ایك مسجد چھپر کی تھی اب ایك شخص نے ا سکو توڑ کر اپنے پاس سے روپیہ دے کے اسی جگہ میں ٹین کردیااب توڑا ہوا چھپر فروخت کرنا برائے خرچ مسجد کے یا بیٹھك خانہ بنانا درست ہے یانہیںاور اگر بیٹھك خانہ درست ہے تو ازروئے شرع شریف کے کس صورت پر جائز ہوگا فقطبینواتوجروا۔
الجواب:
حاکم اسلام اور جہاں وہ نہ ہوتو متولی مسجد واہل محلہ کو جائز ہے کہ وہ چھپر کہ اب حاجت مسجد سے فارغ ہے کسی مسلمان کےہاتھ مناسب داموں بیچ ڈالیں اورخریدنے والا مسلمان اسے اپنے مکان نشست یا باورچی خانے یا ایسے ہی کسی مکان پر جہاں بے تعظیمی نہ ہو ڈال سکتا ہےپاخانہ وغیرہ مواضع بیحرمتی پر نہ ڈالنا چاہئے کہ علمانے اس کوڑے کی بھی تعظیم کا حکم دیاہے جو مسجدسے جھاڑ کر پھینکا جاتا ہے۔جواہرالاخلاطی وفتاوی ہندیہ میں ہے:
حشیش المسجد اذاکان لہ قیمۃ فلاھل المسجدان یبیعوہ وان رفعواالی
مسجد کی گھاس کی اگر کوئی قیمت ہوتو اہل مسجد کو اختیار ہے کہ اس کو فروخت کردیں۔اگرحاکم کے پاس
ینزع وجوبا بزازیۃلوالواقف دررفغیرہ بالاولی غیر مأمون اوعاجزا اوظھر بہ فسق کشرب خمرو نحوہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
وقف متولی کی تولیت سے نکال لینا واجب ہے(بزازیہ)اگرچہ خود واقف ہی متولی ہو(درر)جبکہ وہ غیر امین یا عاجز ہو یا اس کا فسق جیسے شراب نوشی وغیرہ ظاہر ہوجائے[جب خود واقف کا یہ حکم ہے تو]غیر واقف سے اس صورت میں وقف کا واپس لے لینا بدرجہ اولی واجب ہوگا۔(ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۳۳: ازرام پور پیلا تالاب مسجد شاہ درگاہی صاحب مرسلہ مولوی عبدالقادر صاحب بنگالی ۵صفر۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك جگہ ایك مسجد چھپر کی تھی اب ایك شخص نے ا سکو توڑ کر اپنے پاس سے روپیہ دے کے اسی جگہ میں ٹین کردیااب توڑا ہوا چھپر فروخت کرنا برائے خرچ مسجد کے یا بیٹھك خانہ بنانا درست ہے یانہیںاور اگر بیٹھك خانہ درست ہے تو ازروئے شرع شریف کے کس صورت پر جائز ہوگا فقطبینواتوجروا۔
الجواب:
حاکم اسلام اور جہاں وہ نہ ہوتو متولی مسجد واہل محلہ کو جائز ہے کہ وہ چھپر کہ اب حاجت مسجد سے فارغ ہے کسی مسلمان کےہاتھ مناسب داموں بیچ ڈالیں اورخریدنے والا مسلمان اسے اپنے مکان نشست یا باورچی خانے یا ایسے ہی کسی مکان پر جہاں بے تعظیمی نہ ہو ڈال سکتا ہےپاخانہ وغیرہ مواضع بیحرمتی پر نہ ڈالنا چاہئے کہ علمانے اس کوڑے کی بھی تعظیم کا حکم دیاہے جو مسجدسے جھاڑ کر پھینکا جاتا ہے۔جواہرالاخلاطی وفتاوی ہندیہ میں ہے:
حشیش المسجد اذاکان لہ قیمۃ فلاھل المسجدان یبیعوہ وان رفعواالی
مسجد کی گھاس کی اگر کوئی قیمت ہوتو اہل مسجد کو اختیار ہے کہ اس کو فروخت کردیں۔اگرحاکم کے پاس
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
الحاکم فھواحب ثم یبیعوہ بامرہ ھو المختار ۔
اس کامرافعہ کریں تویہ زیادہ پسندیدہ ہے پھر اس کے اذن سے فروخت کریںیہی مختار ہے(ت)
فتاوی خانیہ میں ہے:
قد ذکرنا ان الصحیح من الجواب ان بیعھم بغیر امرالقاضی لایصح ان یکون فی موضع لاقاضی ھناک ۔
ہم ذکر کرچکے کہ حکم صحیح یہ ہے کہ بغیر امر قاضی کے ان لوگوں کا مسجد کی گھاس کو فروخت کرنا صحیح نہیں سوائے اس جگہ کے جہاں قاضی نہ ہو۔(ت)
درمختار میں قبیل باب المیاہ ہے:
حشیش المسجد وکناستہ لایلقی فی موضع یخل بالتعظیم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسجد کی گھاس اور کوڑا کرکٹ ایسی جگہ نہ ڈالا جائے جہاں اس کی بیحرمتی ہوتی ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
اس کامرافعہ کریں تویہ زیادہ پسندیدہ ہے پھر اس کے اذن سے فروخت کریںیہی مختار ہے(ت)
فتاوی خانیہ میں ہے:
قد ذکرنا ان الصحیح من الجواب ان بیعھم بغیر امرالقاضی لایصح ان یکون فی موضع لاقاضی ھناک ۔
ہم ذکر کرچکے کہ حکم صحیح یہ ہے کہ بغیر امر قاضی کے ان لوگوں کا مسجد کی گھاس کو فروخت کرنا صحیح نہیں سوائے اس جگہ کے جہاں قاضی نہ ہو۔(ت)
درمختار میں قبیل باب المیاہ ہے:
حشیش المسجد وکناستہ لایلقی فی موضع یخل بالتعظیم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسجد کی گھاس اور کوڑا کرکٹ ایسی جگہ نہ ڈالا جائے جہاں اس کی بیحرمتی ہوتی ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۹
فتاوی قاضیخان کتاب الوقف فصل فی المقابر والرباطات نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲۶
درمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴
فتاوی قاضیخان کتاب الوقف فصل فی المقابر والرباطات نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲۶
درمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴
رسالہ
التحریر الجید فی حق المسجد ۱۳۱۵ھ
(مسجد کے حق میں عمدہ تحریر)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ۱۳۴: بنگال ضلع نواکھالی مقام ہتیامرسلہ مولوی عباس علی عرف مولوی عبدالسلام صاحب ۲۱ذوالحجۃ الحرام ۱۳۱۵ہجری قدسیہ۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کی چیزیں فروخت کرنا جائز ہوگا یانہیں
الجواب:
مسجد کی چیزیں اس کے اجزاء ہیںیا آلات یا اوقاف یا زوائداجزاء یعنی زمین و عمارت قائمہ کی بیع تو کسی حال ممکن نہیں مگر جب مسجد معاذاﷲ ویران مطلق ہوجائے اور اس کی آبادی کی کوئی شکل نہ رہے تو ایك روایت میں باذن قاضی شرع حاکم اسلام اس کا عملہ بیچ کر دوسری مسجد میں صرف کرسکتے ہیںمواضع ضرورت میں اس روایت پر عمل جائز ہے۔
فی الدرالمختار لوخرب ماحولہ واستغنی عنہ یبقی مسجدا عند الامام
درمختار میں ہے اگر مسجد کا گردو پیش ویران ہوگیا اور مسجد کی ضرورت نہیں رہی تب بھی امام اعظم ابوحنیفہ
التحریر الجید فی حق المسجد ۱۳۱۵ھ
(مسجد کے حق میں عمدہ تحریر)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ۱۳۴: بنگال ضلع نواکھالی مقام ہتیامرسلہ مولوی عباس علی عرف مولوی عبدالسلام صاحب ۲۱ذوالحجۃ الحرام ۱۳۱۵ہجری قدسیہ۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کی چیزیں فروخت کرنا جائز ہوگا یانہیں
الجواب:
مسجد کی چیزیں اس کے اجزاء ہیںیا آلات یا اوقاف یا زوائداجزاء یعنی زمین و عمارت قائمہ کی بیع تو کسی حال ممکن نہیں مگر جب مسجد معاذاﷲ ویران مطلق ہوجائے اور اس کی آبادی کی کوئی شکل نہ رہے تو ایك روایت میں باذن قاضی شرع حاکم اسلام اس کا عملہ بیچ کر دوسری مسجد میں صرف کرسکتے ہیںمواضع ضرورت میں اس روایت پر عمل جائز ہے۔
فی الدرالمختار لوخرب ماحولہ واستغنی عنہ یبقی مسجدا عند الامام
درمختار میں ہے اگر مسجد کا گردو پیش ویران ہوگیا اور مسجد کی ضرورت نہیں رہی تب بھی امام اعظم ابوحنیفہ
والثانی ابدا وبہ یفتی وعن الثانی ینقل الی مسجد اخر باذن القاضی وفی ردالمحتار قولہ وعن الثانی الخ جزم بہ فی الاسعاف حیث قال ولو خرب المسجد وما حولہ وتفرق الناس عنہ لایعود الی ملك الواقف عند ابی یوسف فیباع نقضہ باذن القاضی ویصرف ثمنہ الی بعض المساجد اھ وفیہ ایضا الشیخ الامام امین الدین بن عبدالعال والشیخ الامام احمد بن یونس الشبلی والشیخ زین بن نجیم والشیخ محمد عبد الوفائی فمنھم من افتی بنقل بناء المسجد ومنھم من افتی بنقلہ ونقل مالہ الی مسجد اخر والذی ینبغی متابعۃ المشائخ المذکورین فی جواز النقل بلا فرق بین مسجد اوحوض کما افتی بہ الامام ابوشجاع والامام الحلوانی وکفی بھما قدوۃ ولا سیمافی زماننا فان المسجد اذالم ینقل اور امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہما کے نزدیك وہ ہمیشہ تا قیامت مسجد ہی رہے گی اور اسی پرفتوی دیاجاتا ہے۔اور امام ابویوسف کی ایك روایت یہ ہے کہ قاضی کی اجازت سے اسے دوسری مسجدکی طرف منتقل کردیا جائیگا۔ردالمحتار میں ہے کہ ماتن کا قول"وعن الثانی الخ"اسعاف میں اسی پر جزم کرتے ہوئے فرمایاکہ اگر مسجد اور اس کا گردوپیش ویران ہوجائے اور لوگ وہاں سے نقل مکانی کرجائیںتو امام ابویوسف کے نزدیك وہ واقف کی ملك میں نہیں لوٹے گی چنانچہ قاضی کی اجازت سے اس کا ملبہ فروخت کرکے ثمن کسی دوسری مسجد میں صرف کیا جائے گااھ اسی میں یہ بھی جیسے شیخ امام امین الدین بن عبدالعالشیخ امام احمد بن یونس شبلیشیخ زین بن نجیم اور شیخ محمد الوفائی ان بزرگوں میں سے بعض نے مسجد کی عمارت اور بعض نے عمارت اور اس کے مال کو دوسری مسجد کی طرف منتقل کرنے کا فتوی دیااور جو بات مناسب ہے وہ یہی ہے کہ مسجد وحوض میں فرق کئے بغیر جواز نقل میں مشائخ مذکورہ کی اتباع کی جائے جیسا کہ امام ابوشجاع اور امام حلوانی نے اس پر فتوی دیاہے اور ان دونوں اماموں کا مقتدا ہونا کافی ہے خصوصا ہمارے زمانے میںکیونکہ اگر مسجد کو منتقل نہ کیاجائے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۱€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۱€
یاخذانقاضہ اللصوص والمتغلبون کما ھو مشاھد اھ ملتقطا قلت وللعبد الضعیف ھھنا تحقیق شریف حقق فیہ بتوفیق اﷲ تعالی ان الروایۃ النادرۃ عن الثانی مفرعۃ علی قولہ المفتی بہ کما افادہ فی الدرر والدر خلافا لما فھمہ العلامۃ الشامی رحمۃ اﷲتعالی علیہ وانہ یفتی بھا فی مواضع الضرورۃ کما قررہ الشامی ومن سبقہ ممن سمی وممن لم یسم وانہ یجوز نقل الساحۃ ایضا کما نقل النقض وھو ما مر من قولہ منھم من افتی بنقلہ ونقل مالہ وان قول الدر"ینقل الی مسجد اخر" محمول علی ظاھرہ وان ذکر النقض والمال والبناء فی کلام غیرہ غیر قید وان حاصل تلك الروایۃ زوال المسجدیۃ مع بقاء الوقفیۃ فلا یعود الی ملك البانی اوورثتہ ویجوز النقل والاستبدال واﷲ تعالی اعلم بحقائق الاحوال۔ تو چوراور جبری قبضہ کرنے والے لوگ اسباب مسجد لے لیں گے جیسا کہ دیکھا جارہا ہے اھ التقاط۔قلت(میں کہتا ہوں) اس عبد ضعیف کی یہاں پر ایك نہایت شاندار تحقیق ہے جس میں اﷲ تعالی کی توفیق سے ثابت کیا گیا ہے کہ امام ابویوسف کی روایت نادرہ ان کے مفتی بہ قول پر متفرع ہے جیسا کہ اس کا فائدہ درر اور در نے دیا ہے بخلاف اس کے جو علامہ شامی نے سمجھا اور مواضع ضرورت میں اس پر فتوی دیا جتا ہے جیسا کہ علامہ شامی اور ان کے پیش روائمہ نے اس کی تقریر فرمائی ان میں سے بعض کانام علامہ شامی نے ذکر کیا اور بعض کا نام ذکر نہیں کیااور اس بات کو بھی ثابت کیا گیا کہ مسجد کے ملبہ کی طرح اس کی میدان کو بھی نقل کرنا جائز ہےاور علامہ شامی کا یہ قول گزرچکاہے کہ ان میں سے بعض نے مسجد کو نقل کرنے اور اس کے مال کو نقل کرنے کا فتوی دیاہے اور اس بات کو بھی ثابت کیا گیا کہ در کایہ قول"اس مسجد کو دوسری مسجد کی طرف نقل کیاجائے گا" اپنے ظاہر پر محمول ہے اور یہ کہ در کے غیر کے کلام میں ملبہ مال اور عمارت کاذکر بطور قید نہیں اور یہ کہ اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ وقفیت کے باقی رہنے کے باوجود مسجدیت کا زوال ہے لہذا بانی یا اس کے وارثوں کی طرف ملك عود نہیں کرے گی اور اس کا نقل کرنا اور تبدیل کرنا جائز ہے اور احوال کی حقیقتوں کو اﷲتعالی خوب جانتا ہے(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۲€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
ہاں اگر معاذ اﷲ مسجد کی کچھ بنا منہدم ہوجانے یا اس میں ضعف آجانے کے سبب خود منہدم کرکے از سر نوتجدید عمارت کریں اب جو اینٹوں کڑیوں تختوں کے ٹکڑے حاجت مسجد سے زائد بچیں کہ عمارت مسجد کے کام نہ آئیں اور دوسرے وقت حاجت عمارت کے لئے اٹھارکھنے میں ضائع ہونے کا خوف ہوتو ان دو شرطوں سے ان کی بیع میں مضائقہ نہیں مگر اذن قاضی درکار ہے اور اس کی قیمت جو کچھ ہو وہ محفوظ رکھی جائے کہ عمارت ہی کے کام آئے
فی ش عن ط عن الھندیۃ مسجد مبنی اراد رجل ان ینقضہ ویبنیہ احکملیس لہ ذلك لانہ لاولا یۃ لہمضمراتالاان یخاف ان ینھدم ان لم یھدم تاتارخانیۃوتاویلہ ان لم یکن البانی من اھل تلك المحلۃ واما اھلھافلھم ان یھدموہ ویجددوا بناءہ ویفرشوا الحصیر ویعلقو القنادیل لکن من مالھم لا من مال المسجد الابامر القاضی خلاصۃ اھ
وفی العقود الدریۃ عن البحر عن عمدۃ الفتاوی لا یجوز بیع بناء الوقف قبل ھدمہ وفی الھندیۃ عن السراجیۃ لوباعواغلۃ المسجد اونقض المسجد بغیراذن القاضی الاصح انہ لایجوزاھ وفی الدر صرف الحاکم اوالمتولی نقضہ اوثمنہ ان تعذر شامی میں ط سے بحوالہ ہندیہ مذکور ہے کہ تعمیر شدہ مسجد کو گراکر اگر کوئی شخص پہلے سے مضبوط تر بنانا چاہے تو اس کے لئے یہ جائز نہیں کیونکہ اس کو ولایت حاصل نہیں مضمرات۔ مگر اس وقت ایساکرنا جائز ہے جب یہ ڈر ہوکہ اگر وہ نہیں کرائیگا تو از خود گرجائے گیتاتارخانیہ۔تاویل اس کی یہ ہے کہ جب نئی مسجد بنانے والا اس محلہ کا باشندہ نہ ہو لیکن اہل محلہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پرانی مسجد کو گراکر اس کو نئے سرے سے تعمیر کریںاس میں چٹائیاں بچھائیں اور قند یلیں لٹکائیں لیکن یہ سب کچھ وہ اپنے مال سے کریں مسجد کے مال سے بلااجازت قاضی وہ ایسا نہیں کرسکتےخلاصہ۔اورعقود الدریہ میں بحر سے بحوالہ عمدۃ الفتاوی منقول ہے کہ گرانے سے قبل وقف کی عمارت کو فروخت کرنا جائز نہیں اھ ہندیہ میں سراجیہ کے حوالے سے مذکور ہے کہ اگر
فی ش عن ط عن الھندیۃ مسجد مبنی اراد رجل ان ینقضہ ویبنیہ احکملیس لہ ذلك لانہ لاولا یۃ لہمضمراتالاان یخاف ان ینھدم ان لم یھدم تاتارخانیۃوتاویلہ ان لم یکن البانی من اھل تلك المحلۃ واما اھلھافلھم ان یھدموہ ویجددوا بناءہ ویفرشوا الحصیر ویعلقو القنادیل لکن من مالھم لا من مال المسجد الابامر القاضی خلاصۃ اھ
وفی العقود الدریۃ عن البحر عن عمدۃ الفتاوی لا یجوز بیع بناء الوقف قبل ھدمہ وفی الھندیۃ عن السراجیۃ لوباعواغلۃ المسجد اونقض المسجد بغیراذن القاضی الاصح انہ لایجوزاھ وفی الدر صرف الحاکم اوالمتولی نقضہ اوثمنہ ان تعذر شامی میں ط سے بحوالہ ہندیہ مذکور ہے کہ تعمیر شدہ مسجد کو گراکر اگر کوئی شخص پہلے سے مضبوط تر بنانا چاہے تو اس کے لئے یہ جائز نہیں کیونکہ اس کو ولایت حاصل نہیں مضمرات۔ مگر اس وقت ایساکرنا جائز ہے جب یہ ڈر ہوکہ اگر وہ نہیں کرائیگا تو از خود گرجائے گیتاتارخانیہ۔تاویل اس کی یہ ہے کہ جب نئی مسجد بنانے والا اس محلہ کا باشندہ نہ ہو لیکن اہل محلہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پرانی مسجد کو گراکر اس کو نئے سرے سے تعمیر کریںاس میں چٹائیاں بچھائیں اور قند یلیں لٹکائیں لیکن یہ سب کچھ وہ اپنے مال سے کریں مسجد کے مال سے بلااجازت قاضی وہ ایسا نہیں کرسکتےخلاصہ۔اورعقود الدریہ میں بحر سے بحوالہ عمدۃ الفتاوی منقول ہے کہ گرانے سے قبل وقف کی عمارت کو فروخت کرنا جائز نہیں اھ ہندیہ میں سراجیہ کے حوالے سے مذکور ہے کہ اگر
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷€۰
العقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ کتاب الوقف ∞حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۱۵€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۳€
العقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ کتاب الوقف ∞حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۱۵€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۳€
اعادۃ عینہ الی عمارتہ ان احتاج والاحفظہ لیحتاج الااذاخاف ضیاعہ فیبیعہ ویمسك ثمنہ لیحتاج ۔ لوگوں نے قاضی کی اجازت کے بغیر مسجد کاغلہ یا اس کاملبہ فروخت کردیا تو اصح قول کے مطابق یہ جائز نہیں اھ۔
درمختار میں ہے حاکم یا متولی وقف کے ملبہ یا اس کی قیمت کوصرف کرے اگر وقف کا اعادہ بعینہ اس کی عمارت کی طرف متعذر ہواگر حاجت ہو مرمت کیورنہ قضائے حاجت کے لئے محفوظ رکھےمگر جب اس کے ضائع ہونے کاڈر ہوتواس کو فروخت کرکے ثمن وقف حاجت کےلئے رکھ چھوڑے۔(ت)
آلات:یعنی مسجد کا اسباب جیسے بوریامصلیفرشقندیلوہ گھاس کہ گرمی کے لئے جاڑوں میں بچھائی جاتی ہے وغیر ذلک اگر سالم وقابل انتفاع ہیں او رمسجد کو ان کی طرف حاجت ہے تو ان کے بیچنے کی اجازت نہیںاور اگر خراب وبیکار ہوگئی یا معاذاﷲ بوجہ ویرانی مسجد ان کی حاجت نہ رہیتو اگر مال مسجد سے ہیں تو متولیاور متولی نہ ہو تو اہل محلہ متدین امین باذن قاضی بیچ سکتے ہیںاور اگر کسی شخص نے اپنے مال سے مسجد کو دئے تھے تو مذہب مفتی بہ پر اس کی ملك کی طرف عود کرے گی جو وہ چاہے کرےوہ نہ رہا ہو اور اس کے وارث وہ بھی نہ رہے ہوں یا پتا نہ ہو تو ان کا حکم مثل لقطہ ہےکسی فقیر کو دے دیںخواہ باذن قاضی کسی مسجد میں صرف کردیں
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ رباط کثرت دوابہ وعظمت مؤنھا ھل للقیم ان یبیع شیئا منھا وینفق ثمنھا فی علفھا او مرمۃ الرباطفھذاعلی وجھین ان بلغ سن البعض الی حد لایصلح لما ربطت لہفلہ ذلك وما لافلا الخ وفی الخانیۃ جنازۃ او نعش
ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ ایك رباط کے جانور بہت زیادہ ہوگئے اور ان کاخرچہ بہت بڑھ گیا تو کیا متولی ان میں سے بعض کو فروخت کرکے ان کی قیمت جانوروں کے چارہ اور رباط کی مرمت پرصرف کرسکتاہے یانہیںاس مسئلہ کی دو صورتیں ہیںاگربعض جانوروں کی عمریں اس قدر زیادہ ہو چکی ہیں کہ وہ اس مقصد کی صلاحیت نہیں رکھتے جس کے لئے ان کو رباط میں باندھاگیا ہے تو متولی انہیں فروخت کرسکتاہے ورنہ
درمختار میں ہے حاکم یا متولی وقف کے ملبہ یا اس کی قیمت کوصرف کرے اگر وقف کا اعادہ بعینہ اس کی عمارت کی طرف متعذر ہواگر حاجت ہو مرمت کیورنہ قضائے حاجت کے لئے محفوظ رکھےمگر جب اس کے ضائع ہونے کاڈر ہوتواس کو فروخت کرکے ثمن وقف حاجت کےلئے رکھ چھوڑے۔(ت)
آلات:یعنی مسجد کا اسباب جیسے بوریامصلیفرشقندیلوہ گھاس کہ گرمی کے لئے جاڑوں میں بچھائی جاتی ہے وغیر ذلک اگر سالم وقابل انتفاع ہیں او رمسجد کو ان کی طرف حاجت ہے تو ان کے بیچنے کی اجازت نہیںاور اگر خراب وبیکار ہوگئی یا معاذاﷲ بوجہ ویرانی مسجد ان کی حاجت نہ رہیتو اگر مال مسجد سے ہیں تو متولیاور متولی نہ ہو تو اہل محلہ متدین امین باذن قاضی بیچ سکتے ہیںاور اگر کسی شخص نے اپنے مال سے مسجد کو دئے تھے تو مذہب مفتی بہ پر اس کی ملك کی طرف عود کرے گی جو وہ چاہے کرےوہ نہ رہا ہو اور اس کے وارث وہ بھی نہ رہے ہوں یا پتا نہ ہو تو ان کا حکم مثل لقطہ ہےکسی فقیر کو دے دیںخواہ باذن قاضی کسی مسجد میں صرف کردیں
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ رباط کثرت دوابہ وعظمت مؤنھا ھل للقیم ان یبیع شیئا منھا وینفق ثمنھا فی علفھا او مرمۃ الرباطفھذاعلی وجھین ان بلغ سن البعض الی حد لایصلح لما ربطت لہفلہ ذلك وما لافلا الخ وفی الخانیۃ جنازۃ او نعش
ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ ایك رباط کے جانور بہت زیادہ ہوگئے اور ان کاخرچہ بہت بڑھ گیا تو کیا متولی ان میں سے بعض کو فروخت کرکے ان کی قیمت جانوروں کے چارہ اور رباط کی مرمت پرصرف کرسکتاہے یانہیںاس مسئلہ کی دو صورتیں ہیںاگربعض جانوروں کی عمریں اس قدر زیادہ ہو چکی ہیں کہ وہ اس مقصد کی صلاحیت نہیں رکھتے جس کے لئے ان کو رباط میں باندھاگیا ہے تو متولی انہیں فروخت کرسکتاہے ورنہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی ∞مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی ∞مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۰€
للمسجد فسد فباعہ اھل المسجد قالوا الاولی ان یکون البیع بامرالقاضی والصحیح ان بیعہم لایصح بغیر امر القاضی اھ وفیہا بسط من مالہ حصیرا فی المسجد فخرب المسجد ووقع الاستغناء عنہ فان ذلك یکون لہ ان کان حیا ولوارثہ ان کان میتا وان بلی ذلك کان لہ ان یبیع ویشتری بثمنھا حصیرا اخروکذالو اشتری حشیشا او قندیلا للمسجد فوقع الاستغناء عنہوعندابی یوسف یباع ویصرف ثمنہ الی حوائج المسجد فان استغنی عنہ ھذاالمسجد یحول الی المسجد الاخروالفتوی علی قول محمدولو ان اھل المسجد باعوا حشیش المسجد اوجنازۃ او نعشا صار خلقا ومن فعل ذلك غائبلایجوز الاباذن القاضی ھوالصحیح اھ فی الھندیۃ
نہیں الخ۔خانیہ میں ہے مسجد کا تابوت اور مسجد کی چارپائی جو کہ خراب ہوچکی ہو پس اہل مسجد نے اسے فروخت کردیا تو مشائخ فرماتے ہیں کہ قاضی کے حکم سے بیع کا ہونا اولی ہے اور صحیح یہ ہے کہ بلااذن قاضی ان کی بیع درست نہیں ہوگی اھ اسی میں ہے کسی شخص نے اپنے مال سے مسجد میں چٹائی بچھائی پھر مسجد ویران ہوگئی اور اس چٹائی کی ضرورت نہ رہی تو وہ چٹائی بچھانے والے کی ہوگی اگر وہ زندہ ہے ورنہ اس کے وارثوں کی ہوگیاور اگر وہ چٹائی بوسیدہ ہوجائے تو بچھانے والے کواختیار ہے کہ اس کو فروخت کرکے اس کی قیمت سے نئی چٹائی خریدلے۔اسی طرح حکم ہے اگر کسی نے مسجد کےلئے گھاس یا قندیل خریدا پھر اس کی ضرورت نہ رہی ہو اور امام ابویوسف کے نزدیك ان چیزوں کو فروخت کرکے ان کی قیمت کو مسجد کی ضروریات پر صرف کیاجائے گا اور اگر اس مسجد کوضرورت نہ ہو تو دوسری مسجد کی طرف منتقل کیاجائے گااور فتوی امام محمد کے قول پر ہےاور اگراہل مسجد نے مسجد کی پرانی گھاس یا پرانا تابوت یا پرانی چارپائی فروخت کردی جبکہ یہ چیزیں مسجد کو دینے والاغائب ہے تو قاضی کی اجازت کے بغیر یہ جائز نہیں اور یہی صحیح ہے اھ ہندیہ میں ہے
نہیں الخ۔خانیہ میں ہے مسجد کا تابوت اور مسجد کی چارپائی جو کہ خراب ہوچکی ہو پس اہل مسجد نے اسے فروخت کردیا تو مشائخ فرماتے ہیں کہ قاضی کے حکم سے بیع کا ہونا اولی ہے اور صحیح یہ ہے کہ بلااذن قاضی ان کی بیع درست نہیں ہوگی اھ اسی میں ہے کسی شخص نے اپنے مال سے مسجد میں چٹائی بچھائی پھر مسجد ویران ہوگئی اور اس چٹائی کی ضرورت نہ رہی تو وہ چٹائی بچھانے والے کی ہوگی اگر وہ زندہ ہے ورنہ اس کے وارثوں کی ہوگیاور اگر وہ چٹائی بوسیدہ ہوجائے تو بچھانے والے کواختیار ہے کہ اس کو فروخت کرکے اس کی قیمت سے نئی چٹائی خریدلے۔اسی طرح حکم ہے اگر کسی نے مسجد کےلئے گھاس یا قندیل خریدا پھر اس کی ضرورت نہ رہی ہو اور امام ابویوسف کے نزدیك ان چیزوں کو فروخت کرکے ان کی قیمت کو مسجد کی ضروریات پر صرف کیاجائے گا اور اگر اس مسجد کوضرورت نہ ہو تو دوسری مسجد کی طرف منتقل کیاجائے گااور فتوی امام محمد کے قول پر ہےاور اگراہل مسجد نے مسجد کی پرانی گھاس یا پرانا تابوت یا پرانی چارپائی فروخت کردی جبکہ یہ چیزیں مسجد کو دینے والاغائب ہے تو قاضی کی اجازت کے بغیر یہ جائز نہیں اور یہی صحیح ہے اھ ہندیہ میں ہے
حوالہ / References
فتاوی قاضی خاں کتاب الوقف ∞مطبوعہ نولکشور لکھنؤ اول۷۱۶،دوم ۷۱۳،€فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۸€
فتاوی قاضی خاں کتاب الوقف ∞مطبوعہ نولکشور لکھنؤ اول۷۱۶،دوم ۷۱۳،€فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۸€
فتاوی قاضی خاں کتاب الوقف ∞مطبوعہ نولکشور لکھنؤ اول۷۱۶،دوم ۷۱۳،€فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۸€
ذکر ابواللیث فی نوازلہ حصیرالمسجد اذاصار خلقا واستغنی اھل المسجد عنہ وقد طرحہ انسان ان کان الطارح حیا فھو لہ وان کان میتا ولم یدع لہ وارث ارجو ان لاباس بان یدفع اھل المسجد الی فقیر ا و ینتفعوا بہ فی شراء حصیر اخر للمسجد والمختار انہ لایجوز لھم ان یفعلوا ذلك بغیر امر القاضی کذا فی محیط السرخسی اھ فی ردالمحتار عن البحر الفتوی علی قول محمد فی الات المسجد وعلی قول ابی یوسف فی تابید المسجد ۔ کہ ابولیث نے اپنی نوازل میں ذکرکیا کہ مسجد کی چٹائی جب پرانی ہوگئی اور اہل مسجد کو اس کی ضرورت نہ رہی جبکہ اس کو ایك شخص نے ڈلوایا تھا وہ اس کی ہوگی اگر وہ زندہ ہے اور اگر وہ مرگیا اورکوئی وارث نہیں چھوڑا تو میں امید کرتا ہوں کہ اس بات میں حرج نہیں کہ اہل مسجد وہ چٹائی کسی فقیر کو دے دیں یا اس کو بیچ کر مسجد کے لئے دوسری چٹائی خریدنے میں اس سے نفع اٹھائیںاور مختار یہ ہے کہ قاضی کی اجازت کے بغیر انہیں ایسا کرنا جائز نہیںمحیط سرخسی میں یونہی ہے اھردالمحتار میں بحوالہ بحر ہے کہ آلات مسجد کے بارے میں فتوی امام محمد کے قول پر ہے اور تابیدمسجد کے بارے میں فتوی امام ابویوسف کے قول پر ہے رحمۃ اﷲتعالی علیہما(ت)
اوقاف:جبکہ عامر وآباد نہ ہوں ان کی بیع اصلا جائز نہیں مگر بناچاری کہ ظالم نے زبردستی ان پر قبضہ کرلیا اور اس سے رہائی کی سبیل نہیں مگر وہ قیمت دینے پر راضی ہے تو بمجبوری ثمن لے کر ان کے عوض اور خرید کر ان کے قائم مقام کردیں یا جبکہ واقف نے اصل وقف میں استبدال شرط کرلیا ہو تو جائز ہے کہ انہیں بیچ کر تبدیل کرلیں
فی الدر عن الاشباہ لایجوز استبدال العامر الا فی اربع فی ردالمحتارالاولی لوشرطہ الواقف الثانیۃ اذا غصبہ غاصب واجری درمختار بحوالہ اشباہ مذکور ہے کہ چار صورتوں کے علاوہ آباد وقف کو تبدیل کرناجائزنہیںردالمحتار میں ہے (ان چار صورتوں میں سے)پہلی صورت یہ ہے کہ خود واقف نے تبدیل کرنے کی شرط لگائی ہو
اوقاف:جبکہ عامر وآباد نہ ہوں ان کی بیع اصلا جائز نہیں مگر بناچاری کہ ظالم نے زبردستی ان پر قبضہ کرلیا اور اس سے رہائی کی سبیل نہیں مگر وہ قیمت دینے پر راضی ہے تو بمجبوری ثمن لے کر ان کے عوض اور خرید کر ان کے قائم مقام کردیں یا جبکہ واقف نے اصل وقف میں استبدال شرط کرلیا ہو تو جائز ہے کہ انہیں بیچ کر تبدیل کرلیں
فی الدر عن الاشباہ لایجوز استبدال العامر الا فی اربع فی ردالمحتارالاولی لوشرطہ الواقف الثانیۃ اذا غصبہ غاصب واجری درمختار بحوالہ اشباہ مذکور ہے کہ چار صورتوں کے علاوہ آباد وقف کو تبدیل کرناجائزنہیںردالمحتار میں ہے (ان چار صورتوں میں سے)پہلی صورت یہ ہے کہ خود واقف نے تبدیل کرنے کی شرط لگائی ہو
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۸€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۱€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۴€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۱€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۴€
علیہ الماء حتی صار بحرافیضمن القیمۃ ویشتری المتولی بھا ارضابدلاالثالثۃ ان یجحدہ الغاصب ولابینۃ ای واراد دفع القیمۃ فللمتولی اخذھا لیشتری بھا بدلاالرابعۃ ان یرغب انسان فیہ ببدل اکثر غلۃ واکثر صقعا فیجوز علی قول ابی یوسف وعلیہ الفتوی کما فی فتاوی قارئ الھدایۃ
قال صاحب النھر فی کتابہ اجابۃ السائل قول قارئ الھدایۃ"والعمل علی قول ابی یوسف"معارض بما قالہ صدر الشریعۃ"نحن لانفتی بہ"وقد شاھد نا فی الاستبدال ما لایعد ویحصیفان ظلمۃ القضاۃ جعلوہ حیلۃ لابطال اوقاف المسلمین وعلی تقدیرہ فقد قال فی الاسعاف المراد بالقاضی ھو قاضی الجنۃ المفسر بذی العلم والعمل اھ ولعمری ان ھذا اعزمن الکبریت الاحمروما اراہ الالفظا یذکر فالا حری فیہ السد خوفا من مجاوزۃ الحد دوسری صورت یہ ہے کہ غاصب نے اسے غصب کرکے اس پرپانی جاری کردیا یہاں تك کہ وہ وقف دریا بن جائے تو اس صورت میں غاصب قیمت کا تاوان دے گا اور متولی اس قیمت کے بدلے دوسری زمین خریدے گا۔تیسری صورت یہ ہے کہ غاصب انکاری ہے اور گواہ نہیں ہیں یعنی غاصب وقف زمین کی قیمت دینے پر آمادہ ہے تو متولی کواختیار ہے کہ اس سے قیمت وصول کرلے تاکہ اس کے بدلے دوسری زمین خرید لے چوتھی صورت یہ ہے کوئی شخص وقف زمین میں ایسی زمین کے بدلے رغبت رکھتا ہے جو غلہ کے اعتبار سے زمین وقف سے اکثر اور محل وقوع کے اعتبار سے زیادہ خوبصورت ہوتو امام ابویوسف کے قول پر تبدیل کرلینا جائز ہے اور اسی پر فتوی ہے جیسا کہ فتاوی قاری الہدایہ میں ہےصاحب نہر نے اپنی کتاب اجابۃ السائل میں فرمایا قاری الہدایہ کا کہنا کہ عمل امام ابویوسف کے قول پر ہے صدر الشریعۃ کے اس قول کے مخالف ہے کہ ہم اس پر فتوی نہیں دیتے تحقیق ہم نے وقف کی تبدیلی میں بے شمار(خرابیاں)دیکھی ہیں کیونکہ ظالم قاضیوں نے اس کو مسلمانوں کے اوقاف باطل کرنے کا حیلہ بنالیا ہےاسی لئے اسعاف میں فرمایا کہ قاضی مستبدل سے مراد قاضی بہشت ہے جس کی تفسیر اہل علم وعمل کے ساتھ کی جاتی ہےاھ میری عمر کی قسم یہ صورت تو کبریت احمر سے بھی زیادہ نادر ہے اور میں نہیں خیال کرتاہوں اس کو
قال صاحب النھر فی کتابہ اجابۃ السائل قول قارئ الھدایۃ"والعمل علی قول ابی یوسف"معارض بما قالہ صدر الشریعۃ"نحن لانفتی بہ"وقد شاھد نا فی الاستبدال ما لایعد ویحصیفان ظلمۃ القضاۃ جعلوہ حیلۃ لابطال اوقاف المسلمین وعلی تقدیرہ فقد قال فی الاسعاف المراد بالقاضی ھو قاضی الجنۃ المفسر بذی العلم والعمل اھ ولعمری ان ھذا اعزمن الکبریت الاحمروما اراہ الالفظا یذکر فالا حری فیہ السد خوفا من مجاوزۃ الحد دوسری صورت یہ ہے کہ غاصب نے اسے غصب کرکے اس پرپانی جاری کردیا یہاں تك کہ وہ وقف دریا بن جائے تو اس صورت میں غاصب قیمت کا تاوان دے گا اور متولی اس قیمت کے بدلے دوسری زمین خریدے گا۔تیسری صورت یہ ہے کہ غاصب انکاری ہے اور گواہ نہیں ہیں یعنی غاصب وقف زمین کی قیمت دینے پر آمادہ ہے تو متولی کواختیار ہے کہ اس سے قیمت وصول کرلے تاکہ اس کے بدلے دوسری زمین خرید لے چوتھی صورت یہ ہے کوئی شخص وقف زمین میں ایسی زمین کے بدلے رغبت رکھتا ہے جو غلہ کے اعتبار سے زمین وقف سے اکثر اور محل وقوع کے اعتبار سے زیادہ خوبصورت ہوتو امام ابویوسف کے قول پر تبدیل کرلینا جائز ہے اور اسی پر فتوی ہے جیسا کہ فتاوی قاری الہدایہ میں ہےصاحب نہر نے اپنی کتاب اجابۃ السائل میں فرمایا قاری الہدایہ کا کہنا کہ عمل امام ابویوسف کے قول پر ہے صدر الشریعۃ کے اس قول کے مخالف ہے کہ ہم اس پر فتوی نہیں دیتے تحقیق ہم نے وقف کی تبدیلی میں بے شمار(خرابیاں)دیکھی ہیں کیونکہ ظالم قاضیوں نے اس کو مسلمانوں کے اوقاف باطل کرنے کا حیلہ بنالیا ہےاسی لئے اسعاف میں فرمایا کہ قاضی مستبدل سے مراد قاضی بہشت ہے جس کی تفسیر اہل علم وعمل کے ساتھ کی جاتی ہےاھ میری عمر کی قسم یہ صورت تو کبریت احمر سے بھی زیادہ نادر ہے اور میں نہیں خیال کرتاہوں اس کو
واﷲ سائل کل انسان اھ قال العلامۃ البیری بعد نقلہ اقول: وفی فتح القدیر الموجب الشرط او الضرورۃ ولاضرورۃ فی ھذا اذ لاتجب الزیادۃ بل نبقیہ کما کان اھاقول: ماقالہ ھذاالمحقق ھوالحق الصواب اھ کلام البیری وھذا ماحررہ العلامۃ القنالی اھ مافی ردالمحتار مختصرا ورأیتنی کتبت علی ھامش قولہ واجری علیہ الماء حتی صار بحرامانصہ اقول: علی ھذالم یبق عامراوفیہ کلام والصورۃ الرابعۃ سیأتی ان الحق عدم جواز الاستبدال فیہا فلم یبق الاصور تان بل لك ان تقول الثالثۃ ایضا خراب معنی وان لم یکن صورۃ فلك ان تقول ان العامر لایستبدل الابشرط کما ھو قضیۃ مگر محض لفظ جس کا ذکر کیا جاتا ہے چنانچہ حد سے تجاوز کرنے کے خوف کے پیش نظر زیادہ مناسب اس میں ممانعت ہے اور اﷲ تعالی ہر انسان سے پوچھنے والاہے اھ علامہ بیری نے اس کو نقل کرنے کے بعد کہا میں کہتا ہوں اور فتح القدیر میں ہے کہ استبدال کا موجب یا تو شرط استبدال ہے یا ضرورت استبدال جبکہ یہاں اس کی ضرورت نہیں کیونکہ وقف پر زیادتی واجب نہیں بلکہ ہم اس کو پہلی حالت پر باقی رکھیں گے اھ میں کہتاہوں جو کچھ اس محقق نے کہا وہی حق اور درست ہے اھ کلام البیری۔یہ وہ ہے جس کو علامہ قنالی نے تحریر کیا ہے اھ مختصرا ردالمحتاراور مجھے یادپڑتا ہے کہ میں نے شامی کے قول کہ"غاصب نے زمین وقف پرپانی بہایا یہاں تك کہ وہ دریا بن گئی"پر یوں حاشیہ لکھا کہ میں کہتا ہوں اس صورت میں وہ آباد نہ رہی حالانکہ کلام تو آباد زمین میں ہورہی ہےاور عنقریب چوتھی صورت کے بارے میں آرہا ہے کہ اس میں حق استبدال کا عدم جواز ہےتو اب صرف دو۲ صورتیں باقی ہیں بلکہ تو کہہ سکتا ہے کہ تیسری صورت بھی معنی خراب ہے اگرچہ صورتا نہیںلہذا تو کہہ سکتا ہے کہ آباد زمین وقف میں استبدال نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ واقف نے خود استبدال کی شرط لگادی ہو
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۹€
ماحقق المحقق فی الفتح حیث حصرہ فی الشرط اوضرورۃ خروجہ من الانتفاع بہ وان شئت اوضحت فقلت ان الوقف مھما امکن الانتفاع بہ لم یجز استبدالہ الابالشرط۔ جیسا کہ فتح القدیر میں مذکور کلام محقق کا تقاضاہے جہاں اس نے استبدال کو شرط یا انتفاع سے خارج ہونے کی ضرورت میں منحصر کیا ہے اگر توتفصیل کا طلبگار ہے تو میں کہتا ہوں کہ جب تك وقف سے انتفاع ممکن ہو بلا شرط اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔(ت)
پھر بحالت شرط استبدال بھی اس تبدیل کاجواز چند شرط سے مشروط:
اولا: یہ تبدیل کرنے والاخود واقف ہو یا وہ جس کی تبدیل اس نے شرط کی ہو مثلا اپنے لئے تبدیل شرط کی تومتولی وغیرہ کسی کو اختیار نہیں اور دوسرے کے لئے شرط کی تو واقف کو اختیار ہے۔
ثانیا: جتنی بار شرط کی اس سے زائد نہ ہو مثلا کہا کہ مجھے تبدیل کا اختیار ہے تو ایك ہی بار بدل سکتا ہے اور اگر کہا جس قدر بار چاہوں تبدیل کروں تو ہمیشہ مختارہے۔
ثالثا: تبدیل عقار یعنی جائداد غیر منقولہ سے ہونہ روپیہ اشرفی سے۔
رابعا:عقار میں تخصیص کردی ہے تو اس کے خلاف کا اختیار نہیں مثلازمین سے بدلنا شرط کیا تو مکان سے تبدیل نہیں کرسکتا اور مکان کی شرط کی زمین سے تبدیل کا اختیار نہیں رکھتا یونہی فلاں شہر یا گاؤں کی زمین یا فلاں محلہ کے مکان یا فلاں بازار کی دکان کی تخصیص کی تو معتبر رہے گی۔
خامسا: تبدیل مکان بمکان میں وہ مکان اسی محلہ کا ہو یا اس سے بہتر کایونہی دکان میں بازار وہی ہو یا اس سے بہتر۔
سادسا بیع میں غبن فاحش نہ ہو۔
سابعا: ایسے کے ہاتھ بیع نہ کرے جس کے لئے اس کی شہادت بوجہ تہمت رعایت مقبول نہ ہوجیسے باپ بیٹا۔
اقول: خلاصہ یہ کہ مخالفت شرط ومظنہ مخالفت نفع وقف سے بچے سب شرائط انہیں دو کلموں میں آگئے
اما الاولان والرابع ففی الاولی ولیس استبدالہ بنفسہ اذا شرطہ لغیرہ من باب الخلاف بہر حال پہلی دونوں اور چوتھی شرط ہے تو اول میں خود واقف کا تبدیل کرنا جبکہ وہ غیر کیلئے استبدال کی شرط کرچکا ہو خلاف شرط کے قبیلہ سے نہیں
پھر بحالت شرط استبدال بھی اس تبدیل کاجواز چند شرط سے مشروط:
اولا: یہ تبدیل کرنے والاخود واقف ہو یا وہ جس کی تبدیل اس نے شرط کی ہو مثلا اپنے لئے تبدیل شرط کی تومتولی وغیرہ کسی کو اختیار نہیں اور دوسرے کے لئے شرط کی تو واقف کو اختیار ہے۔
ثانیا: جتنی بار شرط کی اس سے زائد نہ ہو مثلا کہا کہ مجھے تبدیل کا اختیار ہے تو ایك ہی بار بدل سکتا ہے اور اگر کہا جس قدر بار چاہوں تبدیل کروں تو ہمیشہ مختارہے۔
ثالثا: تبدیل عقار یعنی جائداد غیر منقولہ سے ہونہ روپیہ اشرفی سے۔
رابعا:عقار میں تخصیص کردی ہے تو اس کے خلاف کا اختیار نہیں مثلازمین سے بدلنا شرط کیا تو مکان سے تبدیل نہیں کرسکتا اور مکان کی شرط کی زمین سے تبدیل کا اختیار نہیں رکھتا یونہی فلاں شہر یا گاؤں کی زمین یا فلاں محلہ کے مکان یا فلاں بازار کی دکان کی تخصیص کی تو معتبر رہے گی۔
خامسا: تبدیل مکان بمکان میں وہ مکان اسی محلہ کا ہو یا اس سے بہتر کایونہی دکان میں بازار وہی ہو یا اس سے بہتر۔
سادسا بیع میں غبن فاحش نہ ہو۔
سابعا: ایسے کے ہاتھ بیع نہ کرے جس کے لئے اس کی شہادت بوجہ تہمت رعایت مقبول نہ ہوجیسے باپ بیٹا۔
اقول: خلاصہ یہ کہ مخالفت شرط ومظنہ مخالفت نفع وقف سے بچے سب شرائط انہیں دو کلموں میں آگئے
اما الاولان والرابع ففی الاولی ولیس استبدالہ بنفسہ اذا شرطہ لغیرہ من باب الخلاف بہر حال پہلی دونوں اور چوتھی شرط ہے تو اول میں خود واقف کا تبدیل کرنا جبکہ وہ غیر کیلئے استبدال کی شرط کرچکا ہو خلاف شرط کے قبیلہ سے نہیں
لماصرح بہ فی الخانیۃ اخر فصل الشرط فی الوقف ان الوقف ھو الذی شرط لذلك الرجل وما شرط لغیرہ فھو مشروط لنفسہ اھ واما البواقی ففی الاخری فان النقد اسرع ھلا کا من العقار فالا ستبدال بہ نزول الی الاخس وفیہ مخالفۃ النفع والسابع مظنتھا۔ اس دلیل کی بناء پر جس کی تصریح خانیہ کے باب الوقففصل الشرط کے آخر میں کی گئی کہ بیشك واقف وہی ہے جس نے اس شخص(غیر)کے لئے استبدال کی شرط لگائی اور جو شرط اس نے غیر کے لئے لگائی وہ خود اس کے اپنے لئے بھی شرط ہوئی اھ لیکن باقی شرطوں میں سے دوسری اس لئے کہ نقدی عقار کی بنسبت جلد ہلاك ہوتی ہے تو نقدی کے ساتھ وقف زمین کا تبادلہ گھٹیاکی طرف نزول ہوگا اور اس میں نفع کی مخالفت ہے اور ساتویں شرط میں اس مخالفت کا ظن ہے۔(ت)
ہاں جو وقف ویران وخراب ہوجائے تو قاضی شرع حاکم اسلام عالم عادل متدین خداترس کو بلاشرط واقف بلکہ باوصف منع واقف بھی اسے بیچ کر دوسری جائداد اسی غرض کے لیے اس کے قائم مقام کردینے کی اجازت ہے بچند شروطچار شرطیں تو یہی کہ اوپر گزریں یعنی اول وثانی و رابع کے سوااور پانچویں شرط جو ابھی بیان کی کہ قاضی قاضی بہشت ہونہ قاضی جہنم
سادسا: وقف کا کچھ غلہ کرایہ وغیرہ ایسا نہ ہو جس سے اس کی آباد ی ہوسکے۔
سابعا: ویرانی کامل ومطلق ہو کہ اصلا قابل انتفاع نہ رہے جس غرض کے لئے وقف کیا کچھ کام نہ دے یا آمدنی اس قدر ناقص ہو کہ اس کے خرچ کو بھی غیر وافی ہو
ھذامالخصناہ بتوفیق اﷲتعالی من کلمات العلماء سنذکرکلامھم لیتضح لك جلیلۃ المال قال فی ردالمحتار اعلم ان الاستبدال علی ثلثۃ وجوہالاول ان یشترطہ الواقف لنفسہ اولغیرہ اولنفسہ یہ وہ خلاصہ ہے جو ہم نے علماء کی کلاموں سے اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ اخذ کیا ہے اب ہم ان علماء کرام کا کلام ذکر کرینگے تاکہ تیرے لئے بحث کے انجام کی عظمت واضح ہوجائےردالمحتار میں فرمایا تو جان لے کہ استبدال تین وجہوں پر ہےاول یہ کہ واقف نے اپنے لئے یا غیر کےلئے یا دونوں کے لئے
ہاں جو وقف ویران وخراب ہوجائے تو قاضی شرع حاکم اسلام عالم عادل متدین خداترس کو بلاشرط واقف بلکہ باوصف منع واقف بھی اسے بیچ کر دوسری جائداد اسی غرض کے لیے اس کے قائم مقام کردینے کی اجازت ہے بچند شروطچار شرطیں تو یہی کہ اوپر گزریں یعنی اول وثانی و رابع کے سوااور پانچویں شرط جو ابھی بیان کی کہ قاضی قاضی بہشت ہونہ قاضی جہنم
سادسا: وقف کا کچھ غلہ کرایہ وغیرہ ایسا نہ ہو جس سے اس کی آباد ی ہوسکے۔
سابعا: ویرانی کامل ومطلق ہو کہ اصلا قابل انتفاع نہ رہے جس غرض کے لئے وقف کیا کچھ کام نہ دے یا آمدنی اس قدر ناقص ہو کہ اس کے خرچ کو بھی غیر وافی ہو
ھذامالخصناہ بتوفیق اﷲتعالی من کلمات العلماء سنذکرکلامھم لیتضح لك جلیلۃ المال قال فی ردالمحتار اعلم ان الاستبدال علی ثلثۃ وجوہالاول ان یشترطہ الواقف لنفسہ اولغیرہ اولنفسہ یہ وہ خلاصہ ہے جو ہم نے علماء کی کلاموں سے اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ اخذ کیا ہے اب ہم ان علماء کرام کا کلام ذکر کرینگے تاکہ تیرے لئے بحث کے انجام کی عظمت واضح ہوجائےردالمحتار میں فرمایا تو جان لے کہ استبدال تین وجہوں پر ہےاول یہ کہ واقف نے اپنے لئے یا غیر کےلئے یا دونوں کے لئے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی مسائل الشرط فی الوقف ∞مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲۲€
وغیرہفالاستبدال فیہ جائز علی الصحیحوالثانی ان لایشرطہ سواء شرط عدمہ اوسکت لکن صار بحیث لاینتفع بہ بالکلیۃ بان لایحصل منہ شیئ اصلا اولایفی بمؤنتہ فھو ایضا جائز علی الاصح اذاکان باذن القاضی ورأیہ المصلحۃ فیہوالثالث ان لایشرطہ ایضا ولکن فیہ نفع فی الجملۃ وبدلہ خیرمنہ ریعاونفعا وھذالایجوز استبدالہ علی الاصح المختار کذاحررہ العلامۃ قنالی زادہ وھو ماخوذ من الفتح اھ ثم قال وفی البحرالمعتمد انہ بلاشرط یجوز للقاضی بشرط ان یخرج عن الانتفاع بالکلیۃ وان لایکون ھناك ریع للوقف یعمربہ وان لایکون البیع بغبن فاحش وشرط فی الاسعاف ان یکون المستبدل قاضی الجنۃ المفسر بذی العلم والعمل استبدال کی شرط لگائی ہوتو اس صورت میں صحیح قول کے مطابق استبدال جائز ہے۔دوم یہ کہ واقف نے استبدال کی شرط نہ لگائی ہو عام ازیں کہ عدم استبدال کی شرط لگائی ہو یا خاموشی اختیار کی ہولیکن وقف ایسا ہو گیا کہ اب اس سے بالکل نفع نہیں اٹھایا جاسکتا بایں طور کہ اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا یا اتنا حاصل ہوتا ہے جس سے وقف کاخرچہ پورا نہیں ہوتا تو اصح قو ل کے مطابق اس میں بھی استبدال جائز ہے بشرطیکہ قاضی اس کا اذن دے اور وہ اس میں مصلحت سمجھے۔سوم یہ کہ واقف نے استبدال کی شرط تو نہ کی ہو لیکن اس وقف میں کچھ نفع ہو اور اس کا بدل ماحول اور نفع کے اعتبار سے وقف سے بہتر ہوتو اصح ومختار قول کے مطابق اس کا استبدال جائز نہیں۔علامہ قنالی زادہ نے یوں ہی تحریر فرمایا ہے اور یہی فتح سے ماخوذ ہے اھ۔پھر فرمایا اور بحر میں ہے معتمدیہ ہے کہ یہ بلاشرط ہے جبکہ قاضی کےلئے اس شرط کے ساتھ استبدال جائز ہے کہ وقف کلی طور پر انتفاع سے خارج ہوجائے اور نہ ہی وقف کا ماحول اس قابل ہو کہ اس کے ذریعے وقف کو آباد کیاجاسکے اور نہ ہی یہ بیع غبن فاحش کے ساتھ ہو۔اسعاف میں یہ شرط لگائی گئی کہ تبدیل کرنے والا قاضی بہشت یعنی صاحب علم وعمل ہو
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۷€
ویجب ان یزاد اخر فی زماننا وھو ان یستبدل بعقار لابدراھم ودنا نیر فانا قد شاھد نا النظار یأکلونھا وافادفی البحرزیادۃ شرط سادس ان لایبیعہ ممن لا تقبل شہادتہ لہ ولاممن لہ علیہ دینحیث قال باع من رجل لہ علی المستبدل دین وباع الوقف بالدین وینبغی ان لایجوز علی قول ابی یوسف وھلال لانھما لا یجوز ان البیع بالعروض فالدین اولی اھ و ذکر عن القنیۃ مایفید شرطا سابعا حیث قال مبادلۃ دار الوقف بداراخری انما یجوز اذاکانتا فی محلۃ واحدۃ اومحلۃ الاخری خیراوبالعکس لا یجوز وان کانت المملوکۃ اکثر مساحۃ وقیمۃ واجرۃ لاحتمال خرابھا فی ادون المحلتین اھ ۔وزاد قنا لی زادہ ثامنا وھو ان یکون البدل والمبدل من جنس واحد اور ہمارے زمانے میں ایك اور شرط کااضافہ ضروری ہے وہ یہ وقف کاتبادلہ عقار کے ساتھ کیاجائے نہ کہ درہموں اور دیناروں کے ساتھکیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ متولی وقف کے عوض دراہم ودینار لے کر کھاجاتے ہیں اور بحر نے چھٹی شرط کے اضافے کا فائدہ دیاہے وہ یہ کہ وقف کی زمین ایسے شخص کے ہاتھ فروخت نہ کرے جس کے حق میں اس کی گواہی مقبول نہیں اور نہ ہی ایسے کے ہاتھ فروخت کرے جسکا یہ مقروض ہے۔جہاں صاحب بحر نے فرمایا کہ وقف کو ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کیا جسکا تبدیل کرنے والے پر قرض تھا اور اس نے قرض کے بدلے وقف کو بیچا تو امام ابویوسف اور ہلال کے نزدیك یہ بیع ناجائز ہونی چاہئے کیونکہ یہ دونوں عروض کے عوض بیع کو ناجائز مانتے ہیںتو دین کے عوض بدرجہ اولی ناجائز ہوگی اھ اور قنیہ کے حوالے سے صاحب بحر نے جو ذکر کیا وہ ساتویں شرط کا فائدہ دیتا ہے جہاں یہ فرمایا کہ وقف مکان کو دوسرے مکان سے تبدیل کرنا صرف اس صورت میں جائز ہے کہ وہ دونوں مکان ایك ہی محلہ میں واقع ہوں یا دوسرا محلہ بہتر ہو اور اس کے برعکس استبدال ناجائز ہے اگرچہ تبدیل شدہ مکان وسعتقیمت اور اجرت کے اعتبار سے وقف کی بنسبت اکثر ہو کیونکہ کمتر محلہ میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کی خرابی کا احتمال ہے اھاور قنالی زادہ نے آٹھویں شرط کا اضافہ کیا
لما فی الخانیۃ لو شرط لنفسہ استبدالھا بدارلم یکن لہ استبدالہا بارض وبالعکس او بارض البصرۃ تقید اھ فھذافیما شرطہ لنفسہ فکذایکون شرطا فیما لم یشرطہ لنفسہ بالاولی تامل ثم قال والظاہر عدم اشتراط اتحاد الجنس فی الموقوفۃ للاستغلال لان المنظور فیہا کثرۃ الریع وقلۃ المرمۃ والمؤنۃ اھ ولایخفی ان ھذہ الشروط فیما لم یشرط الواقف استبدالہ لنفسہ اوغیرہفلو شرطہ لایلزم خروجہ عن الانتفاع ولامباشرۃ القاضی لہ ولاعدم ریع یعمربہ کما لایخفی فاغتنم ھذاالتحریر اھ کلام الشامی ملخصا ورائیتنی کتبت علی ھامشہ عند ذکرہ الشرط الثامن وھواتحاد جنس البدلین وہ یہ کہ بدل اور مبدل دونوں ایك ہی جنس سے ہو ں اس دلیل کی بنا پر جو خانیہ میں ہے کہ اگر واقف نے شرط لگائی کہ وہ وقف گھر کو گھر سے بدلے گا تو اس کے بدلے میں زمین لینا اس کے لئے جائز نہیں یونہی اسکے برعکس یا یہ شرط لگائی کہ اس کے بدلے بصرہ کی زمین لے گا تویہ مقید ہوجائے گااھ یہ اس صورت میں ہے جب واقف نے اپنے لئے یہ شرط لگائی ہو اسی طرح یہ بدرجہ اولی شر ط ہوجائے گی جبکہ اس نے خاص اپنے لئے یہ شرط نہ لگائی ہوغور کرپھر فرمایا غلہ حاصل کرنے کے لئے زمین موقوفہ کے استبدال میں ظاہر اتحاد جنس کا شرط نہ ہونا ہے کیونکہ اس میں سبزہگھاس اور غلہ کی کثرت اور مرمت اور خرچہ کی قلت ملحوظ ہوتی ہے اھ اور پوشیدہ نہ رہے کہ یہ تمام شرطیں اس صورت میں ہیں جب واقف نے اپنے لئے یاغیر کے لئے استبدال کی شرط نہ لگائی ہو چنانچہ اگر واقف نے استبدال کی شرط لگائی ہے تو استبدال کےلئے وقف کا انتفاع سے خروج اور اس کے لئے قاضی کی مباشرت اور وقف کے مال کا ایسا نہ ہونا جس سے اس کو آباد کیاجاسکے کچھ بھی ضروری نہیں جیسا کہ مخفی نہیںپس اس تحریر کو غنیمت سمجھ اھ تلخیص کلام شامی۔اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے شامی
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۸€
مانصہ اقول: الذی یظھر للعبد الضعیف انہ غیر شرط الا لاتباع الشرط حتی لو شرط الاستبدال واطلق لم یتقید بالجنس کما یفیدہ کلام الاسعاف فاذن لایکون ھذامشروطا فی التبدیل بالشرطثم راجعت الخانیۃ فوجدت کلامھا انص علی مافھمت وﷲ الحمد حیث قال رضی اﷲ تعالی عنہلوقال ارضی صدقہ موقوفۃ علی ان لی ان استبدلھا بارض اخری لم یکن لہ ان یستبدلھا بدار لانہ لایملك تغیر الشرطولو قال ان لی ان استبدلھا بدارلم یکن لہ ان یستبدلھا بارضولو شرط الاستبدال ولم یذکر ارضا ولادارافباع الارض الاولی کان لہ ان یستبدلھا بجنس العقارات ماشاء من دار اوارض لاطلاق اللفظ اھ کے اس مقام پر حاشیہ لکھا جہاں علامہ شامی نے آٹھویں شرط یعنی بدلین میں اتحاد جنس کاصراحۃ ذکر کیا(اور وہ حاشیہ یوں ہے)اقول:(میں کہتا ہوں جو ا س ضعیف بند ے پر ظاہرہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ غیر شرط ہے مگر اتباع شرط کے لئے یہاں تك کہ اگر واقف نے مطلقا استبدال کی شرط لگائی تو یہ استبدال جنس کے ساتھ مقید نہ ہوگا جیسا کہ اسعاف کا کلام اس کا فائدہ دیتا ہے لہذایہ بلاشرط تبدیل میں مشروط نہیں ہوگا پھر میں نے خانیہ کی طرف رجوع کیا تو الحمد ﷲ اس کے کلا م کو اپنے فہمیدہ پر بہترنص پایا جہاں امام قاضی خاں رضی اﷲتعالی عنہ نے فرمایا اگر واقف نے کہا میری یہ زمین صدقہ موقوفہ ہے اس شرط پرکہ مجھے دوسری زمین کے ساتھ استبدال کا اختیار ہوگا تو اس کو گھر کے ساتھ استبدال کا اختیار نہ ہوگا کیونکہ وہ شرط میں تبدیلی کا مالك نہیںاور اگر اس نے کہا کہ مجھے گھر کے ساتھ استبدال کا اختیار ہوگا تو وہ دوسری زمین کے ساتھ استبدال نہیں کرسکتا اور اگر اس نے استبدال کی شرط لگائی مگر اس نے زمین یا گھر کاذکر نہیں کیا پھر پہلی زمین کو بیچ دیا تو اس کو اختیار ہوگا کہ وہ ثمن کے بدلے کوئی بھی غیر منقولہ جائداد لے سکتا ہے چاہے زمین ہو یا گھر کیونکہ اس نے لفظ مطلق
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں فصل فی مسائل الشرط فی الوقف ∞مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۲۱€
مختصرافہذا بحمداﷲ نص صریح جلی فیما فہمت اماماکتبت علیہ فتبین وﷲالحمد ان ھذاالثامن لامساغ فی استبدال القاضی بلاشرط فلذااسقطتہ من شروطہ وابدلتہ فی الشرط الرابعواسقطت من السابع فی الاول وھو الرابع فی الثانی عدم البیع بالدین لعلمی بان الثالث مغن عنہ وزدت فی سابع الثانی ان لایفی ریعہ بمؤنۃ اخذامماذکر فی ردالمحتار وقد نص علیہ فی الاسعاف والخانیۃ وعنھا فی البحر نفسہ وزدت فی الاول الشرطین الاولین لما فی الخانیۃ والاسعاف والبحرواللفظ لہ لو شرط الاستبدال لنفسہ ثم اوصی بہ الی وصیہلایملك وصیہ الاستبدال ولو وکل وکیلا فی حیاتہ صح ولو شرطہ لکل متولی صحومبلکہ کل متولی ولو شرط الاستبدال لرجل اخر مع نفسہملك الواقف الاستبدال وحدہ بولا ہے اھ اختصارا۔یہ بحمداﷲکھلی اور واضح نص ہے اس پرجو میں نے سمجھا اور جو میں نے شامی پر حاشیہ لکھا الحمد ﷲ وہ واضح ہوگیا کہ یہ جوآٹھویں شرط ہے استبدال قاضی بلا شرط میں اس گنجائش نہیں اسی لئے میں نے اس کو استبدال غیر مشروط کی شرطوں سے ساقط کردیا اور استبدال مشروط کی شرطوں میں اسے اس چیز کے ساتھ بدل دیا جو میں نے شرط رابع میں دیکھا اور میں نے اول میں ساتویں شرط جو کہ ثانی میں چوتھی ہے سے دین کے بدلے بیع کے عدم جواز کو یہ جان کر ساقط کردیا کہ تیسری شرط اس سے بے نیاز کردیتی ہے۔اور جو کچھ ردالمحتار میں مذکور ہے اس سے اخذ کرتے ہوئے میں نے ثانی کی ساتویں شرط میں یہ اضافہ کیا کہ وقف کی آمدنی سے اس کا خرچہ پورا نہ ہوتا ہو حالانکہ اسعاف اور خانیہ میں اس پر نص کی گئی ہے اور خانیہ کے حوالے خود بحر میں مذکور ہے۔اور اول میں پہلی دو شرطوں کا اضافہ میں نے اس دلیل کی بنا پر کہا جو خانیہاسعاف اور بحر میں ہے اور لفظ بحر کے ہیں کہ اگر واقف نے اپنے لئے استبدال کی شرط لگائی پھر کسی کے لئے اس کی وصیت کردی تو وصی استبدال کا مالك نہیں ہوگااور اگر اپنی زندگی میں کسی کو وکیل بنایا تو صحیح ہےاور اگر ہر متولی کے لئے استبدال کی شرط لگائی تو صحیح ہے اور ہر متولی ا س کامالك ہوگااور اگر واقف نے اپنے ساتھ دوسرے شخص کے لئے استبدال کی شرط لگائی تو واقف تنہا استبدال کا مالك
ولایمبلکہ فلان وحدہ اھ مختصرا وفی الدر وغیرہ جاز شرط الاستبدال بہ ثم لایستبد لہا بثالثۃ لانہ حکم ثبت بالشرط والشرط وجد فی الاولی لاالثانیۃ اھ قال الشامی قال فی الفتح الاان یذکر عبارۃ تفید لہ ذلك دائما اھ فاغتنم ھذاالتحریر والحمد ﷲالعلی الکبیر۔
ہوگا جبکہ دوسر اشخص تنہا اس کا مالك نہیں ہوگا اھ اختصار۔
درمختار میں ہے وقف زمین کو دوسری زمین سے بدل لینے کی شرط لگانا جائز ہے پھر اسکو تیسری زمین سے نہیں بدلے گا کیونکہ یہ حکم استبدال شرط کے ساتھ ثابت ہوا اور شرط صرف پہلی زمین میں پائی گئی نہ کہ دوسری میں شامی نے کہا فتح میں فرمایا ہے مگر واقف ایسی عبارت ذکر کرے جو اسکے لئے دائمی استبدال کا فائدہ دے اھ اس تحریر کو غنیمت سمجھاور تمام تعریفیں اﷲ بزرگ وبرتر کے لئے ہیں(ت)
یہ حکم ہر عقار موقوف کا ہے جیسے زمینمکاندکاناسی طرح اشجار موقوفہ اگر پھل دار ہوں تو جب تك ہرے ہیں ان کاکاٹنا بیچنا ناجائز اور گرپڑنے یا سوکھ جانے کے بعد رواہے کہ لکڑی بیچ کر مصارف و قف میں صرف کردیں یہاں تك اگر کوئی پھل کادرخت نصف خشك ہوگیااو رنصف قابل انتفاع ہے تو اسی نصف خشك کی بیع جائزباقی کی ممنوعمتولی اگر سبز کو کاٹے بیچے گا خائن ہے تولیت سے خارج کیا جائے گاہاں وہ پیڑ کہ پھل نہیں رکھتے بلکہ وقف کا انتفاع ان سے یونہی ہے کہ انہیں بیچ کر دام کئے جائیں ان کے سبز وخشك ہر طرح کی بیع جائز ہے
فی العقودالدریۃ عن البحر لرائق عن عمدۃ الفتاوی لایجوز بیع الاشجار الموقوفۃ المثمرۃ قبل قلعھا بخلاف غیر المثمرۃ اھ وفی الفتح سئل ابو القاسم الصفار عن شجرۃ وقف یبس بعضھا وبقی بعضھا فقال عقود دریہ میں بحوالہ بحر عمدۃ الفتاوی سے منقول ہے کہ وقف شدہ پھل دار درختوں کو گر جانے سے قبل فروخت کرنا جائز نہیں بخلاف ان درختوں کے جو پھل دار نہیں اھ۔فتح میں ہے کہ ابوالقاسم صفار سے ایسے وقف شدہ درخت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جس کا کچھ حصہ خشك ہوگیا اور کچھ ابھی باقی ہے
ہوگا جبکہ دوسر اشخص تنہا اس کا مالك نہیں ہوگا اھ اختصار۔
درمختار میں ہے وقف زمین کو دوسری زمین سے بدل لینے کی شرط لگانا جائز ہے پھر اسکو تیسری زمین سے نہیں بدلے گا کیونکہ یہ حکم استبدال شرط کے ساتھ ثابت ہوا اور شرط صرف پہلی زمین میں پائی گئی نہ کہ دوسری میں شامی نے کہا فتح میں فرمایا ہے مگر واقف ایسی عبارت ذکر کرے جو اسکے لئے دائمی استبدال کا فائدہ دے اھ اس تحریر کو غنیمت سمجھاور تمام تعریفیں اﷲ بزرگ وبرتر کے لئے ہیں(ت)
یہ حکم ہر عقار موقوف کا ہے جیسے زمینمکاندکاناسی طرح اشجار موقوفہ اگر پھل دار ہوں تو جب تك ہرے ہیں ان کاکاٹنا بیچنا ناجائز اور گرپڑنے یا سوکھ جانے کے بعد رواہے کہ لکڑی بیچ کر مصارف و قف میں صرف کردیں یہاں تك اگر کوئی پھل کادرخت نصف خشك ہوگیااو رنصف قابل انتفاع ہے تو اسی نصف خشك کی بیع جائزباقی کی ممنوعمتولی اگر سبز کو کاٹے بیچے گا خائن ہے تولیت سے خارج کیا جائے گاہاں وہ پیڑ کہ پھل نہیں رکھتے بلکہ وقف کا انتفاع ان سے یونہی ہے کہ انہیں بیچ کر دام کئے جائیں ان کے سبز وخشك ہر طرح کی بیع جائز ہے
فی العقودالدریۃ عن البحر لرائق عن عمدۃ الفتاوی لایجوز بیع الاشجار الموقوفۃ المثمرۃ قبل قلعھا بخلاف غیر المثمرۃ اھ وفی الفتح سئل ابو القاسم الصفار عن شجرۃ وقف یبس بعضھا وبقی بعضھا فقال عقود دریہ میں بحوالہ بحر عمدۃ الفتاوی سے منقول ہے کہ وقف شدہ پھل دار درختوں کو گر جانے سے قبل فروخت کرنا جائز نہیں بخلاف ان درختوں کے جو پھل دار نہیں اھ۔فتح میں ہے کہ ابوالقاسم صفار سے ایسے وقف شدہ درخت کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جس کا کچھ حصہ خشك ہوگیا اور کچھ ابھی باقی ہے
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الوقف مطبوعہ ایچ ∞ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۲۲€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۸€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۸€
مایبس منھافسبیلہ سبیل غلتھا وما بقی فمتروك علی حالھا اھ (ملخصا)
وفی العقود عن البحر عن الظہیریۃ لیس لہ ان یبیع الشجرۃ ویعمر الدار الخ وفیہا سئل فی ناظر وقف قطع اشجار بستان الوقف الیافعۃ الغیر الشالبۃ ولاالیابسۃ وباعھا بلاوجہ شرعی فھل اذاثبت ذلك علیہ بالوجہ الشرعی یستحق العزل الجواب نعم وافتی الشیخ اسمعیل بمثل ذلک ۔
تو انہو ں نے فرمایا کہ جو خشك ہوگیا ہے اس کا راستہ وہی ہے جو اس کے غلہ کا راستہ ہے اور جو باقی ہے اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے گا اھ تلخیص۔ عقود دریہ میں بحوالہ بحرظہیریہ سے منقول ہے کہ وقف درخت بیچ کر وقف گھر کی تعمیر کااختیار متولی کو نہیں الخ۔اسی میں ہے کہ ایسے متولی کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے وقف باغ کے ایسے درخت کاٹ دئے جنکا پھل پکا ہوا تھا اور وہ بے کار اور خشك نہ تھے اور انہیں بغیر کسی شرعی وجہ کے فروخت کردیا کہ اگر اس پر شرعی طریقے سے اس فعل کا ثبوت ہوجائے تو کیا وہ ا س لائق ہے کہ اس کو معزول کردیاجائےجواب:ہاںاور شیخ اسمعیل نے اسی کی مثل فتوی دیا ہے(ت)
زوائد: جیسے درختوں کے پھلزمین کا غلہ وغیرہ جن سے غرض یہ ہوتی ہے کہ انہیں بیچ کر مصارف مسجد واغراض معینہ واقف میں صرف کریں انکی بیع میں کوئی کلام نہیں مگر یہ بیع متولی کرے یا باذن قاضی شرع ہو کما قدمناہ عن الھندیۃ عن السراجیۃ(جیسا کہ ہم نے پہلے ہندیہ سے بحوالہ سراجیہ ذکر کیا ہے۔ت)ہاں جہاں جہاں ان مسائل میں اذن قاضی کی شرط مذکور ہوئی اگر قاضی شرع نہ ہوجیسے ان بلاد میںتوبضرورت مسلمانان دین دار موتمن معتمد اس بار کو اپنے اوپر اٹھاسکتے ہیں اور اﷲ حساب لینے والا ہے اور وہ مصلح و مفسدکو خوب جانتاہے
فی الخانیۃ من فصل المقابر والرباطات قد ذکرنا ان الصحیح من الجواب ان بیعھم بغیر امر القاضی لا یصح خانیہ کی فصل المقابروالرباطات میں ہے تحقیق ہم ذکر کرچکے ہیں کہ صحیح حکم یہ ہے کہ قاضی کے حکم کے بغیر ان کی بیع درست نہیں سوائے اس جگہ کے
وفی العقود عن البحر عن الظہیریۃ لیس لہ ان یبیع الشجرۃ ویعمر الدار الخ وفیہا سئل فی ناظر وقف قطع اشجار بستان الوقف الیافعۃ الغیر الشالبۃ ولاالیابسۃ وباعھا بلاوجہ شرعی فھل اذاثبت ذلك علیہ بالوجہ الشرعی یستحق العزل الجواب نعم وافتی الشیخ اسمعیل بمثل ذلک ۔
تو انہو ں نے فرمایا کہ جو خشك ہوگیا ہے اس کا راستہ وہی ہے جو اس کے غلہ کا راستہ ہے اور جو باقی ہے اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے گا اھ تلخیص۔ عقود دریہ میں بحوالہ بحرظہیریہ سے منقول ہے کہ وقف درخت بیچ کر وقف گھر کی تعمیر کااختیار متولی کو نہیں الخ۔اسی میں ہے کہ ایسے متولی کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے وقف باغ کے ایسے درخت کاٹ دئے جنکا پھل پکا ہوا تھا اور وہ بے کار اور خشك نہ تھے اور انہیں بغیر کسی شرعی وجہ کے فروخت کردیا کہ اگر اس پر شرعی طریقے سے اس فعل کا ثبوت ہوجائے تو کیا وہ ا س لائق ہے کہ اس کو معزول کردیاجائےجواب:ہاںاور شیخ اسمعیل نے اسی کی مثل فتوی دیا ہے(ت)
زوائد: جیسے درختوں کے پھلزمین کا غلہ وغیرہ جن سے غرض یہ ہوتی ہے کہ انہیں بیچ کر مصارف مسجد واغراض معینہ واقف میں صرف کریں انکی بیع میں کوئی کلام نہیں مگر یہ بیع متولی کرے یا باذن قاضی شرع ہو کما قدمناہ عن الھندیۃ عن السراجیۃ(جیسا کہ ہم نے پہلے ہندیہ سے بحوالہ سراجیہ ذکر کیا ہے۔ت)ہاں جہاں جہاں ان مسائل میں اذن قاضی کی شرط مذکور ہوئی اگر قاضی شرع نہ ہوجیسے ان بلاد میںتوبضرورت مسلمانان دین دار موتمن معتمد اس بار کو اپنے اوپر اٹھاسکتے ہیں اور اﷲ حساب لینے والا ہے اور وہ مصلح و مفسدکو خوب جانتاہے
فی الخانیۃ من فصل المقابر والرباطات قد ذکرنا ان الصحیح من الجواب ان بیعھم بغیر امر القاضی لا یصح خانیہ کی فصل المقابروالرباطات میں ہے تحقیق ہم ذکر کرچکے ہیں کہ صحیح حکم یہ ہے کہ قاضی کے حکم کے بغیر ان کی بیع درست نہیں سوائے اس جگہ کے
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الوقف الباب الاول ∞مطبوعہ حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۱€۵
العقود الدریۃ کتاب الوقف الباب الثانی ∞مطبوعہ حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۰€۰
العقود الدریۃ کتاب الوقف الباب الثالث ∞مطبوعہ حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۳۰€
العقود الدریۃ کتاب الوقف الباب الثانی ∞مطبوعہ حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۰€۰
العقود الدریۃ کتاب الوقف الباب الثالث ∞مطبوعہ حاجی عبدالغفار ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۳۰€
الاان یکون فی موضع لاقاضی ھناک ۔ جہاں کوئی قاضی نہ ہو۔(ت)
اسی طرح وہ تمام اشیاء جو متولی بطور خود مسجد کے مال سے آمدنی مسجد بڑھانے کو خریدے ان کی بیع کا بشرط مصلحت وہ ہر وقت اختیار رکھتا ہے اگرچہ وہ دکان ومکانات و دیہات ہی ہوں کہ یہ خریداری اگرچہ بنظر مصلحت جائز ہوتی ہے مگر اس کے باعث وہ چیزیں وقف مسجد نہ ہوگئیں کہ ان کی بیع ناجائز ہو
فی الخانیۃ باب الرجل یجعل دارہ مسجدا المتولی اذا اشتری من غلۃ المسجد حانوتا او دار ا اومستغلا اخر جاز لان ھذامن مصالح المسجد فاذا اراد المتولی ان یبیع ما اشتری وباع اختلفوافیہ قال بعضھم لا یجوز ھذا البیع لان ھذاصار من اوقاف المسجد وقال بعضھم یجوز ھذاالبیع وھو الصحیح لان المشتری لم یذکر شیئا من شرائط الوقف فلایکون ما اشتری من جملۃ اوقاف المسجد اھ وفی منحۃ الخالق ورد المحتار عن الفتح اعلم ان عدم جواز بیعہ الااذا تعذر الانتفاع بہانما ھوفیما ورد علیہ وقف الواقف امافیما اشتراہ المتولی من مستغلات الوقف فانہ یجوز بیعہ بلا ھذا الشرط وھذا لان فی صیرورتہ وقفا خلافا خانیہ کے"باب الرجل یجعل دارہ مسجدا"میں ہے کہ متولی اگر مسجد کی آمدنی سے دکانگھر یا دیگر منافع خریدے تو جائز ہے کیونکہ یہ مسجد کے مصالح میں سے ہے۔پھر جب متولی چاہے کہ جو اس نے خریدا اس کو فروخت کرےاور فروخت کردے تو اس میں فقہاء نے اختلاف کیابعض نے کہایہ بیع ناجائز ہے کیونکہ یہ چیز اوقاف مسجد میں سے ہوچکی ہے اور بعض نے کہا یہ بیع جائز ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ مشتری نے شرائط وقف میں سے کچھ بیان نہیں کیا لہذا جو کچھ اس نے خریدا وہ اوقاف مسجد میں سے نہیں ہوگا اھ منحۃ الخالق اور ردالمحتار میں فتح کے حوالہ سے ہے۔جان لے کہ بیشك وقف سے انتفاع کے متعذر ہوئے بغیر اسکی بیع کا عدم جواز صرف اس چیزمیں ہے جس پر واقف کا وقف وارد ہوارہی وہ چیز جس کو متولی نے وقف کی آمدنی سے خرید ا تو اس میں شرط مذکور کے بغیر بھی بیع جائز ہے کیونکہ اس کے وقف ہونے میں اختلاف ہے
اسی طرح وہ تمام اشیاء جو متولی بطور خود مسجد کے مال سے آمدنی مسجد بڑھانے کو خریدے ان کی بیع کا بشرط مصلحت وہ ہر وقت اختیار رکھتا ہے اگرچہ وہ دکان ومکانات و دیہات ہی ہوں کہ یہ خریداری اگرچہ بنظر مصلحت جائز ہوتی ہے مگر اس کے باعث وہ چیزیں وقف مسجد نہ ہوگئیں کہ ان کی بیع ناجائز ہو
فی الخانیۃ باب الرجل یجعل دارہ مسجدا المتولی اذا اشتری من غلۃ المسجد حانوتا او دار ا اومستغلا اخر جاز لان ھذامن مصالح المسجد فاذا اراد المتولی ان یبیع ما اشتری وباع اختلفوافیہ قال بعضھم لا یجوز ھذا البیع لان ھذاصار من اوقاف المسجد وقال بعضھم یجوز ھذاالبیع وھو الصحیح لان المشتری لم یذکر شیئا من شرائط الوقف فلایکون ما اشتری من جملۃ اوقاف المسجد اھ وفی منحۃ الخالق ورد المحتار عن الفتح اعلم ان عدم جواز بیعہ الااذا تعذر الانتفاع بہانما ھوفیما ورد علیہ وقف الواقف امافیما اشتراہ المتولی من مستغلات الوقف فانہ یجوز بیعہ بلا ھذا الشرط وھذا لان فی صیرورتہ وقفا خلافا خانیہ کے"باب الرجل یجعل دارہ مسجدا"میں ہے کہ متولی اگر مسجد کی آمدنی سے دکانگھر یا دیگر منافع خریدے تو جائز ہے کیونکہ یہ مسجد کے مصالح میں سے ہے۔پھر جب متولی چاہے کہ جو اس نے خریدا اس کو فروخت کرےاور فروخت کردے تو اس میں فقہاء نے اختلاف کیابعض نے کہایہ بیع ناجائز ہے کیونکہ یہ چیز اوقاف مسجد میں سے ہوچکی ہے اور بعض نے کہا یہ بیع جائز ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ مشتری نے شرائط وقف میں سے کچھ بیان نہیں کیا لہذا جو کچھ اس نے خریدا وہ اوقاف مسجد میں سے نہیں ہوگا اھ منحۃ الخالق اور ردالمحتار میں فتح کے حوالہ سے ہے۔جان لے کہ بیشك وقف سے انتفاع کے متعذر ہوئے بغیر اسکی بیع کا عدم جواز صرف اس چیزمیں ہے جس پر واقف کا وقف وارد ہوارہی وہ چیز جس کو متولی نے وقف کی آمدنی سے خرید ا تو اس میں شرط مذکور کے بغیر بھی بیع جائز ہے کیونکہ اس کے وقف ہونے میں اختلاف ہے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف فصل فی المقابر والرباطات ∞مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲€۶
فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف باب الرجل یجعل دارہ مسجدا ∞مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۱۵€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف باب الرجل یجعل دارہ مسجدا ∞مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۱۵€
والمختار انہ لایکون وقفا فللقیم ان یبیعہ متی شاء لمصلحۃ عرضت اھواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اور مختار یہ ہے کہ وہ وقف نہیں ہے لہذا متولی کو اختیار ہے کہ کسی مصلحت کے عارض ہونے پر جب چاہے اس کو فروخت کرسکتا ہے اھاور اﷲ سبحنہ وتعالی بہتر جانتا ہے۔(ت)
___________________
مسئلہ۱۳۵ تا۱۳۶:
(۱)ایك مسجد کی ملکیت دیگر مسجد میں خرچ کرنا درست ہے یانہیں
(۲)مسجد کا پیسہ مدرسہ میں خرچ کرے تو درست ہوگا یانہیں
الجواب:
دو نوں صورتیں حرام ہیں مسجد جب تك آباد ہے اس کا مال نہ کسی مدرسے میں صرف ہوسکتا ہے نہ دوسری مسجد میںیہاں تك کہ اگر ایك مسجد میں سو چٹائیاں یا لوٹے حاجت سے زیادہ ہوں اوردوسری مسجد میں ایك بھی نہ ہوتو جائز نہیں کہ یہاں کی ایك چٹائی یالوٹا دوسری مسجد میں دے دیں۔درمختار میں ہے:
اتحد الواقف والجھۃ وقل مرسوم بعض الموقوف علیہ جائز للحاکمان یصرف عن فاضل الوقف الاخر الیہ لانھما حینئذ کشیئ واحد وان اختلف احدھما بان بنی رجلان مسجدین اورجل مسجدا ومدرسۃ ووقف علیہما اوقافا لایجوز لہ ذلک ۔ دو وقفوں کا واقف بھی ایك ہو اور ایك ہی چیز پر وقف ہوںان میں ایك کی آمدنی کم ہوجائے تو حاکم کوجائز ہے کہ دوسرے وقف کی بحث سے اس پر خرچ کرے اس لئے کہ اس حالت میں وہ دونوں گویا ایك ہی چیز ہیںاور اگر واقف دوہوں یا جدا جدا چیزوں پر وقف ہوں جیسے دو شخصوں نے دو مسجدیں بنائیں یا ایك شخص نے ایك مسجد اور ایك مدرسہ بنایا اور ان پر جائداد یں وقف کیں تو اب حاکم کو بھی جائز نہیں کہ ایك کا مال دوسرے میں صرف کرے۔(ت)
___________________
مسئلہ۱۳۵ تا۱۳۶:
(۱)ایك مسجد کی ملکیت دیگر مسجد میں خرچ کرنا درست ہے یانہیں
(۲)مسجد کا پیسہ مدرسہ میں خرچ کرے تو درست ہوگا یانہیں
الجواب:
دو نوں صورتیں حرام ہیں مسجد جب تك آباد ہے اس کا مال نہ کسی مدرسے میں صرف ہوسکتا ہے نہ دوسری مسجد میںیہاں تك کہ اگر ایك مسجد میں سو چٹائیاں یا لوٹے حاجت سے زیادہ ہوں اوردوسری مسجد میں ایك بھی نہ ہوتو جائز نہیں کہ یہاں کی ایك چٹائی یالوٹا دوسری مسجد میں دے دیں۔درمختار میں ہے:
اتحد الواقف والجھۃ وقل مرسوم بعض الموقوف علیہ جائز للحاکمان یصرف عن فاضل الوقف الاخر الیہ لانھما حینئذ کشیئ واحد وان اختلف احدھما بان بنی رجلان مسجدین اورجل مسجدا ومدرسۃ ووقف علیہما اوقافا لایجوز لہ ذلک ۔ دو وقفوں کا واقف بھی ایك ہو اور ایك ہی چیز پر وقف ہوںان میں ایك کی آمدنی کم ہوجائے تو حاکم کوجائز ہے کہ دوسرے وقف کی بحث سے اس پر خرچ کرے اس لئے کہ اس حالت میں وہ دونوں گویا ایك ہی چیز ہیںاور اگر واقف دوہوں یا جدا جدا چیزوں پر وقف ہوں جیسے دو شخصوں نے دو مسجدیں بنائیں یا ایك شخص نے ایك مسجد اور ایك مدرسہ بنایا اور ان پر جائداد یں وقف کیں تو اب حاکم کو بھی جائز نہیں کہ ایك کا مال دوسرے میں صرف کرے۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف مطلب فی الوقف اذاخرب الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۲،€منحۃ الخالق علی ھامش البحرالرائق کتاب الوقف ∞مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۲€۰
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۰€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۰€
ردالمحتار میں ہے:
المسجد لایجوز نقل مالہ الی مسجد اخر ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جائز نہیں کہ ایك مسجد کا مال دوسری مسجد کو لے جائیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۷:مسجد کی کوئی چیز ایسی ہو کہ خراب ہوجاتی ہے اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت مسجد میں دیں اور وہ چیز اگر دوسرا آدمی قیمت دے کر مسجد کی چیز اپنے مکان پر رکھے تو اس کو جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے مگر اسے بے ادبی کی جگہ نہ لگائے۔درمختار میں ہے:
حشیش المسجد وکناستہ لایلقی فی موضع یخل بالتعظیم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ مسجد کا گھاس کوڑا جھاڑ کر ایسی جگہ نہ ڈالیں جس سے اس کی تعظیم میں فرق آئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۸:ایك شہر میں سب لوگوں نے اتفاق کے ساتھ ایك مکان نماز پڑھنے کے لئے بنایا اور اس کا نام عبادت گاہ رکھا گیااور مسجد نام نہیں رکھااس کی وجہ یہ کہ کبھی آدمی نماز نہ پڑھے تو وہ عبادت گاہ بدعا نہ کرےاب اس مکان میں بیٹھ کر لوگ دنیا کی باتیں کریں تو جائز ہے یانہیں اور اس مکان میں جمعہ اور عیدین کی نماز بھی ہوتی ہے اورلکڑی کا منبر بھی رکھا گیا ہے اور پیش امام بھی ہےتو اس عبادت گاہ میں فقط محراب نہیں ہے تو اس مکان کا مرتبہ مسجد کا ہوگا یانہیںاور اس میں دنیا کی باتیں کرنی درست ہیں یانہیں
الجواب:
جب وہ مکان عام مسلمین کے ہمیشہ نماز پڑھنے کے لئے بنایا اسے کسی محدود مدت سے مقید نہ کیا کہ مہینے دو مہینے یا سال دو سال اس میں نماز کی اجازت دیتے ہیں اور اس میں نماز حتی کہ جمعہ و عیدین تك ہوتے ہیں تو اس کے مسجد ہونے میں کیا شك ہےاس میں دنیا کی باتیں ناجائز اور تمام احکام احکام مسجدمسجد ہونے کے لئے زبان سے مسجد کہنا شرط نہیںنہ محراب نہ ہونا کچھ منافی مسجدیت۔مسجد الحرام شریف میں کوئی محراب نہیںخالی زمین نماز کے لئے وقف کی جائے وہ بھی مسجد ہوجائیگیاگرچہ یہ نہ کہا ہوا سے مسجد کیااس میں محراب کہاں سے آئیگیذخیرہ وہندیہ وخانیہبحروطحطاوی میں ہے:
رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوافیہا بجماعۃ فھذاعلی ثلثۃ اوجہ ان امرھم ایك شخص کی خالی زمین بے عمارت ہے اس نے کچھ لوگوں سے کہا کہ اس میں جماعت سے نماز پڑھیںاس کی تین صورتیں ہیں اگر تصریحا کہا کہ
المسجد لایجوز نقل مالہ الی مسجد اخر ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جائز نہیں کہ ایك مسجد کا مال دوسری مسجد کو لے جائیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۷:مسجد کی کوئی چیز ایسی ہو کہ خراب ہوجاتی ہے اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت مسجد میں دیں اور وہ چیز اگر دوسرا آدمی قیمت دے کر مسجد کی چیز اپنے مکان پر رکھے تو اس کو جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے مگر اسے بے ادبی کی جگہ نہ لگائے۔درمختار میں ہے:
حشیش المسجد وکناستہ لایلقی فی موضع یخل بالتعظیم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ مسجد کا گھاس کوڑا جھاڑ کر ایسی جگہ نہ ڈالیں جس سے اس کی تعظیم میں فرق آئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۸:ایك شہر میں سب لوگوں نے اتفاق کے ساتھ ایك مکان نماز پڑھنے کے لئے بنایا اور اس کا نام عبادت گاہ رکھا گیااور مسجد نام نہیں رکھااس کی وجہ یہ کہ کبھی آدمی نماز نہ پڑھے تو وہ عبادت گاہ بدعا نہ کرےاب اس مکان میں بیٹھ کر لوگ دنیا کی باتیں کریں تو جائز ہے یانہیں اور اس مکان میں جمعہ اور عیدین کی نماز بھی ہوتی ہے اورلکڑی کا منبر بھی رکھا گیا ہے اور پیش امام بھی ہےتو اس عبادت گاہ میں فقط محراب نہیں ہے تو اس مکان کا مرتبہ مسجد کا ہوگا یانہیںاور اس میں دنیا کی باتیں کرنی درست ہیں یانہیں
الجواب:
جب وہ مکان عام مسلمین کے ہمیشہ نماز پڑھنے کے لئے بنایا اسے کسی محدود مدت سے مقید نہ کیا کہ مہینے دو مہینے یا سال دو سال اس میں نماز کی اجازت دیتے ہیں اور اس میں نماز حتی کہ جمعہ و عیدین تك ہوتے ہیں تو اس کے مسجد ہونے میں کیا شك ہےاس میں دنیا کی باتیں ناجائز اور تمام احکام احکام مسجدمسجد ہونے کے لئے زبان سے مسجد کہنا شرط نہیںنہ محراب نہ ہونا کچھ منافی مسجدیت۔مسجد الحرام شریف میں کوئی محراب نہیںخالی زمین نماز کے لئے وقف کی جائے وہ بھی مسجد ہوجائیگیاگرچہ یہ نہ کہا ہوا سے مسجد کیااس میں محراب کہاں سے آئیگیذخیرہ وہندیہ وخانیہبحروطحطاوی میں ہے:
رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوافیہا بجماعۃ فھذاعلی ثلثۃ اوجہ ان امرھم ایك شخص کی خالی زمین بے عمارت ہے اس نے کچھ لوگوں سے کہا کہ اس میں جماعت سے نماز پڑھیںاس کی تین صورتیں ہیں اگر تصریحا کہا کہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۱€
درمختار کتاب الطہارۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۴€
درمختار کتاب الطہارۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۴€
بالصلوۃ فیہا ابدا نصا بان قالواصلوا فیہا ابدا اوامرھم بالصلوۃ مطلقاونوی الابدصارت الساحۃ مسجدا اوان وقت الامر بالیوم او الشھر اوالسنۃ لا تصیر مسجدا لومات یورث عنہ ۔ ہمیشہ پڑھیں یا مطلق کہا اور دل میں ہمیشگی کی نیت تھی تو وہ سادہ زمین مسجد ہوگئی اور اگر ایك دن یا مہینے یا برس کی قید لگادی کہ اتنے دن اس میں نماز پڑھ لو تو مسجد نہ ہوگیاسکے مرنے پر وارثوں کو پہنچے گی۔
درمختار میں ہے:یزول ملکہ عن المسجد بالفعل وبقولہ جعلتہ مسجدا یعنی بانی کی ملك مسجد سے دو طرح زائل ہوتی ہےایك یہ کہ زبان سے کہہ دے میں نے اسے مسجد کیادوسرے یہ کہ یہ نہ کہےاور اس میں نماز کی اجازت بلا تحدید دے اور اس میں نماز مثل مسجد ایك بار بھی ہوجائے تو اس سے بھی مسجد ہوجائے گی۔معلوم ہوا کہ لفظ مسجد کہنا شرط نہیں۔ بحرالرائق میں ہے:
لایحتاج فی جعلہ مسجدا الی قولہ وقفتہ ونحوہ لان العرف جاربا لاذن فی الصلوۃ علی وجہ العموم و التخلیۃ بکونہ وقفا علی ھذہ الجھۃ فکان کالتعبیربہ ۔ مسجد ہونے کو کچھ ضروری نہیں کہ زبان سے کہے میں نے اسے وقف کیا یا اور کوئی لفظ اس کے مثل(۔مثلا مسجد کیا)اس کے کہنے کی کچھ حاجت نہیں کہ عرف جاری ہے کہ نماز کی عام اجازت دے کر زمین اپنے قبضہ سے جدا کردینا نماز کیلئے وقف ہی کرنا ہےتو یہ ایسا ہی ہوا جیسے زبان سے کہنا کہ اسے مسجد کیا۱۲۔
اسی میں ہے:
بنی فی فنائہ فی الرستاق دکانا لاجل الصلوۃ یصلون فیہ بجماعۃ کل وقت فلہ حکم المسجد ۔ گاؤں میں اپنے پیش دروازہ کوئی چبوترہ نماز کیلئے بنالیا کہ لوگ پانچوں وقت اس میں جماعت کرتے ہیں اس چبوترے کے لئے مسجد کا حکم ہے۱۲
اقول:بلکہ اگر نماز کےلئے وقف کرے اور اس کے ساتھ صراحۃ مسجد ہونے کی نفی کردے مثلا کہے میں نے یہ زمین نماز مسلمین کے لئے وقف کی مگر میں اسے مسجد نہیں کرتا یا مگر کوئی اسے مسجد نہ سمجھے
درمختار میں ہے:یزول ملکہ عن المسجد بالفعل وبقولہ جعلتہ مسجدا یعنی بانی کی ملك مسجد سے دو طرح زائل ہوتی ہےایك یہ کہ زبان سے کہہ دے میں نے اسے مسجد کیادوسرے یہ کہ یہ نہ کہےاور اس میں نماز کی اجازت بلا تحدید دے اور اس میں نماز مثل مسجد ایك بار بھی ہوجائے تو اس سے بھی مسجد ہوجائے گی۔معلوم ہوا کہ لفظ مسجد کہنا شرط نہیں۔ بحرالرائق میں ہے:
لایحتاج فی جعلہ مسجدا الی قولہ وقفتہ ونحوہ لان العرف جاربا لاذن فی الصلوۃ علی وجہ العموم و التخلیۃ بکونہ وقفا علی ھذہ الجھۃ فکان کالتعبیربہ ۔ مسجد ہونے کو کچھ ضروری نہیں کہ زبان سے کہے میں نے اسے وقف کیا یا اور کوئی لفظ اس کے مثل(۔مثلا مسجد کیا)اس کے کہنے کی کچھ حاجت نہیں کہ عرف جاری ہے کہ نماز کی عام اجازت دے کر زمین اپنے قبضہ سے جدا کردینا نماز کیلئے وقف ہی کرنا ہےتو یہ ایسا ہی ہوا جیسے زبان سے کہنا کہ اسے مسجد کیا۱۲۔
اسی میں ہے:
بنی فی فنائہ فی الرستاق دکانا لاجل الصلوۃ یصلون فیہ بجماعۃ کل وقت فلہ حکم المسجد ۔ گاؤں میں اپنے پیش دروازہ کوئی چبوترہ نماز کیلئے بنالیا کہ لوگ پانچوں وقت اس میں جماعت کرتے ہیں اس چبوترے کے لئے مسجد کا حکم ہے۱۲
اقول:بلکہ اگر نماز کےلئے وقف کرے اور اس کے ساتھ صراحۃ مسجد ہونے کی نفی کردے مثلا کہے میں نے یہ زمین نماز مسلمین کے لئے وقف کی مگر میں اسے مسجد نہیں کرتا یا مگر کوئی اسے مسجد نہ سمجھے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد الخ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵€۵
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۴۹۔۲۴€۸
بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد∞ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/۲۵۰€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۴۹۔۲۴€۸
بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد∞ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/۲۵۰€
جب بھی مسجد ہوجائے گی اور اس کا یہ انکار باطل کہ معنی مسجد یعنی نماز کے لئے موقوف پورے ہوگئے اور مذہب صحیح پر اتنا کہتے ہی مسجد ہوگئی اب انکار مسجدیت لغو ہے کہ معنی ثابت از لفظ سے انکار یا وقف مذکور سے رجوع ہے اور وقف بعد تمامی قابل رجوع نہیںاس کی نظیریہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بی بی کی نسبت کہے میں نے اسے چھوڑ اچھوڑا چھوڑا مگر میں طلاق نہیں دیتا کوئی اسے مطلقہ نہ سمجھے۔طلاق تو دے چکا اب انکار سے کیا ہوتا ہے۔ہاں اگر یوں کہتے کہ ہم یہ زمین وقف نہیں کرتے صرف اس طور پر نماز کی اجازت دیتے ہیں کہ زمین ہماری ملك رہے اور لوگ نماز پڑھیںتو البتہ نہ وقف ہوتی نہ مسجد۔ یہاں یہ بھی معلوم ہے کہ زمین مذکور جسے بالاتفاق اہل شہر نے محل نماز کیا یا تو عام زمین ملك بیت المال ہو جس میں اتفاق مسلمان بجائے حکم امام ہے یا ان کی ملك ہو یا اصل مالك بھی شامل ہو یا اس کی اجازت سے ایسا ہو ا ہو یابعد وقوع اس نے اسے جائز ونافذ کردیا ہوورنہ اگر اہل شہر کسی شخص کی مملوك زمین بے اس کی اجازت کے نماز کے لئے وقف کردیں اور وہ جائز نہ کرےہرگز نہ وقف ہوگی نہ مسجداگرچہ سب اہل شہر نے بالاتفاق یہ بھی کہہ دیا کہ ہم نے اسے مسجد کیا۔بحرالرائق میں ہے:
فی الحاوی القدسی ومن بنی مسجدا فی ارض المملوکۃ لہ الخ فافادان من الخانیۃ لوان سلطانا اذن لقوم ان یجعلوا ارضا من اراضی البلدۃ حوانیت موقوفۃ علی المسجداو امرھم ان یزید وافی مسجدھم قالوا ان کانت البلدۃ فتحت عنوۃ وذلك لا یضر بالمارۃ والناس ینفذ امرالسلطان فیہا وان کانت فتحت صلحا لاینفذ امر السلطان لان فی الاول تصیر ملکا للغانمین فجاز امر السلطان فیہا وفی الثانی حاوی قدسی میں ہے جس نے اپنی مملوك زمین میں مسجد بنائی اس سے ثابت ہوا کہ مسجد ہونے کے لئے شرط ہے کہ بانی ا س زمین کا مالك ہواسی لئے فتاوی قاضی خاں میں فرمایا کہ اگر سلطان نے لوگوں کو اجازت دی کہ شہر کی کسی زمین پر دکانیں بنائیں جو مسجد پر وقف ہوں یا حکم دیا کہ یہ زمین مسجد میں ڈال لوعلماء نے فرمایا اگر وہ شہر بزورشمشیر فتح ہوا ہے اور وہ دکانیں بنانا یا مسجد میں اس زمین کا شامل کرلینا راستہ تنگ نہ کرے نہ عام لوگوں کا اس میں نقصان ہوتو وہ حکم سلطان نافذ ہوجائے گااور اگر شہر صلح سے فتح ہوا تو نہیں کہ پہلی صورت میں شہر کی زمین بیت المال کی ملك ہوگئی تو اس میں سلطان کا حکم جائز ہے اور دوسری صورت میں اصلا مالکوں
فی الحاوی القدسی ومن بنی مسجدا فی ارض المملوکۃ لہ الخ فافادان من الخانیۃ لوان سلطانا اذن لقوم ان یجعلوا ارضا من اراضی البلدۃ حوانیت موقوفۃ علی المسجداو امرھم ان یزید وافی مسجدھم قالوا ان کانت البلدۃ فتحت عنوۃ وذلك لا یضر بالمارۃ والناس ینفذ امرالسلطان فیہا وان کانت فتحت صلحا لاینفذ امر السلطان لان فی الاول تصیر ملکا للغانمین فجاز امر السلطان فیہا وفی الثانی حاوی قدسی میں ہے جس نے اپنی مملوك زمین میں مسجد بنائی اس سے ثابت ہوا کہ مسجد ہونے کے لئے شرط ہے کہ بانی ا س زمین کا مالك ہواسی لئے فتاوی قاضی خاں میں فرمایا کہ اگر سلطان نے لوگوں کو اجازت دی کہ شہر کی کسی زمین پر دکانیں بنائیں جو مسجد پر وقف ہوں یا حکم دیا کہ یہ زمین مسجد میں ڈال لوعلماء نے فرمایا اگر وہ شہر بزورشمشیر فتح ہوا ہے اور وہ دکانیں بنانا یا مسجد میں اس زمین کا شامل کرلینا راستہ تنگ نہ کرے نہ عام لوگوں کا اس میں نقصان ہوتو وہ حکم سلطان نافذ ہوجائے گااور اگر شہر صلح سے فتح ہوا تو نہیں کہ پہلی صورت میں شہر کی زمین بیت المال کی ملك ہوگئی تو اس میں سلطان کا حکم جائز ہے اور دوسری صورت میں اصلا مالکوں
تبقی علی ملك ملاکہا فلاینفذ امرہ فیہا ۔ کی ملك رہی تو سلطانی حکم اس میں نفاذ نہ پائیگا ۱۲
ردالمحتار میں ہے:
شرط الوقف التأبید والارض اذاکانت ملکا لغیرہ فللمالك استردادھا ۔ وقف کی شرط ہمیشگی ہے اور زمین جب دوسرے کی ملك ہو تو مالك اسے واپس لے سکتا ہے۱۲
یہ بیان بغرض تکمیل احکام تھاسوال سے ظاہر وہی پہلی صورت ہے تو اس کے مسجد ہونے میں شك نہیں اور اس کا ادب لازم۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۹: غرۃ شعبان المعظم ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بارش کے دن مسجد میں بیٹھ کر وضو کرنا اس طرح پر کہ غسالہ صحن مسجد میں گرے جائز ہے یانہیںاگر جائز ہے تو مع الکراہت یا بلا کراہتبینوا توجروا۔
الجواب:
صحن مسجد مسجد ہے کما حققناہ فی فتاونا بما لامزید علیہ(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی میں اس انداز سے کردی ہے کہ اس پر اضافہ کی گنجائش نہیں۔ت)اور مسجد میں وضوحرام۔
واستثناء موضع اعد لذلك لایصلی فیہ معناہ اذاکان الاعد ادمن الوقف قبل تمام المسجدیۃ اما بعدہ فلا یمکن منہ الواقف نفسہ فضلا عن غیرہ کما حققناہ فیما علی رد المحتار علقناہ واذاکان ذلك کذلك لم یکن الثنیاالاصور یا منقطعاکما لایخفی۔ وضو کے لئے بنائی گئی جگہ جس میں نماز نہیں پڑھی جاتی کے استثناء کا مطلب یہ ہے کہ واقف نے تمام مسجدیت سے قبل وہ جگہ وضو کے لئے بنائی ہو لیکن تمام مسجدیت کے بعد تو خود واقف بھی اس پر شرعا قادر نہیں چہ جائیکہ کوئی اور ایسا کرسکے جیسا کہ ہم نے ردالمحتار پر اپنی تعلیق میں اس کی تحقیق کی ہےاور جب صورت حال یہ ہے تو پھر یہ استثناء محض صوری ومنقطع ہوگاجیسا کہ مخفی نہیں۔(ت)
یہاں تك کہ غیر معتکف کو اس کی بھی اجازت نہیں کہ مسجد میں بیٹھ کر کسی برتن میں اس طرح وضو کرلے کہ ماء مستعمل برتن ہی میں گرےہاں صرف معتکف کو اس صورت کی رخصت دی گئی ہے بشرطیکہ کوئی بوند برتن سے باہر نہ جائے۔
ردالمحتار میں ہے:
شرط الوقف التأبید والارض اذاکانت ملکا لغیرہ فللمالك استردادھا ۔ وقف کی شرط ہمیشگی ہے اور زمین جب دوسرے کی ملك ہو تو مالك اسے واپس لے سکتا ہے۱۲
یہ بیان بغرض تکمیل احکام تھاسوال سے ظاہر وہی پہلی صورت ہے تو اس کے مسجد ہونے میں شك نہیں اور اس کا ادب لازم۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۹: غرۃ شعبان المعظم ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بارش کے دن مسجد میں بیٹھ کر وضو کرنا اس طرح پر کہ غسالہ صحن مسجد میں گرے جائز ہے یانہیںاگر جائز ہے تو مع الکراہت یا بلا کراہتبینوا توجروا۔
الجواب:
صحن مسجد مسجد ہے کما حققناہ فی فتاونا بما لامزید علیہ(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے فتاوی میں اس انداز سے کردی ہے کہ اس پر اضافہ کی گنجائش نہیں۔ت)اور مسجد میں وضوحرام۔
واستثناء موضع اعد لذلك لایصلی فیہ معناہ اذاکان الاعد ادمن الوقف قبل تمام المسجدیۃ اما بعدہ فلا یمکن منہ الواقف نفسہ فضلا عن غیرہ کما حققناہ فیما علی رد المحتار علقناہ واذاکان ذلك کذلك لم یکن الثنیاالاصور یا منقطعاکما لایخفی۔ وضو کے لئے بنائی گئی جگہ جس میں نماز نہیں پڑھی جاتی کے استثناء کا مطلب یہ ہے کہ واقف نے تمام مسجدیت سے قبل وہ جگہ وضو کے لئے بنائی ہو لیکن تمام مسجدیت کے بعد تو خود واقف بھی اس پر شرعا قادر نہیں چہ جائیکہ کوئی اور ایسا کرسکے جیسا کہ ہم نے ردالمحتار پر اپنی تعلیق میں اس کی تحقیق کی ہےاور جب صورت حال یہ ہے تو پھر یہ استثناء محض صوری ومنقطع ہوگاجیسا کہ مخفی نہیں۔(ت)
یہاں تك کہ غیر معتکف کو اس کی بھی اجازت نہیں کہ مسجد میں بیٹھ کر کسی برتن میں اس طرح وضو کرلے کہ ماء مستعمل برتن ہی میں گرےہاں صرف معتکف کو اس صورت کی رخصت دی گئی ہے بشرطیکہ کوئی بوند برتن سے باہر نہ جائے۔
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۴۹€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۹۰€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۹۰€
درمختا ر میں ہے:
یحرم فیہ(ای فی المسجد)الوضوء الا فیما اعد لذلک ۔ مسجد میں وضو حرام ہے سوائے اس جگہ کے جو وضو کے لئے بنائی گئی ہے(ت)
اشباہ میں ہے:
تکرہ المضمضۃ والوضوء فیہ الاان یکون ثمہ موضع اعد لذلك لایصلی فیہ اوفی اناء ۔ مسجد میں کلی کرنا اور وضو کرنا مکروہ ہے الایہ کہ وہاں کوئی جگہ اسی مقصد یعنی وضو کے لئے بنائی گئی ہو جس میں نماز نہ پڑھی جاتی ہو یا پھر کسی برتن میں وضو کیاجائے۔(ت)
غمزالعیون میں ہے:
فی البدائع یکرہ التوضی فی المسجد لانہ مستقذرطبعا فیجب تنزیہ المسجد عنہ کما یجب تنزیہہ عن المخاط والبلغم ۔ بدائع میں ہے کہ مسجد میں وضو کرنا مکروہ ہے اس لئے کہ اس سے طبعا گھن محسوس ہوتی ہے لہذا اس سے مسجد کو پاك رکھنا ایسے ہی واجب ہے جیسا کہ رینٹ اور بلغم سے مسجد کو پاك رکھنا(ت)
اسی میں ہے:
قولہ اوفی اناء اقول:ھذالیس علی العموم بل فی المعتکف فقط بشرط عدم تلویث المسجد ۔ اس کا کہنا کہ یا برتن میں وضو کرلےمیں کہتا ہوں کہ یہ حکم عموم پر نہیں بلکہ صرف معتکف کےلئے ہے اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ مسجد ملوث نہ ہونے پائے۔(ت)
بحرالرائق باب الاعتکاف میں ہے:
فی البدائع وان غسل المعتکف بدائع میں ہے کہ اگر معتکف مسجد میں اس طرح
یحرم فیہ(ای فی المسجد)الوضوء الا فیما اعد لذلک ۔ مسجد میں وضو حرام ہے سوائے اس جگہ کے جو وضو کے لئے بنائی گئی ہے(ت)
اشباہ میں ہے:
تکرہ المضمضۃ والوضوء فیہ الاان یکون ثمہ موضع اعد لذلك لایصلی فیہ اوفی اناء ۔ مسجد میں کلی کرنا اور وضو کرنا مکروہ ہے الایہ کہ وہاں کوئی جگہ اسی مقصد یعنی وضو کے لئے بنائی گئی ہو جس میں نماز نہ پڑھی جاتی ہو یا پھر کسی برتن میں وضو کیاجائے۔(ت)
غمزالعیون میں ہے:
فی البدائع یکرہ التوضی فی المسجد لانہ مستقذرطبعا فیجب تنزیہ المسجد عنہ کما یجب تنزیہہ عن المخاط والبلغم ۔ بدائع میں ہے کہ مسجد میں وضو کرنا مکروہ ہے اس لئے کہ اس سے طبعا گھن محسوس ہوتی ہے لہذا اس سے مسجد کو پاك رکھنا ایسے ہی واجب ہے جیسا کہ رینٹ اور بلغم سے مسجد کو پاك رکھنا(ت)
اسی میں ہے:
قولہ اوفی اناء اقول:ھذالیس علی العموم بل فی المعتکف فقط بشرط عدم تلویث المسجد ۔ اس کا کہنا کہ یا برتن میں وضو کرلےمیں کہتا ہوں کہ یہ حکم عموم پر نہیں بلکہ صرف معتکف کےلئے ہے اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ مسجد ملوث نہ ہونے پائے۔(ت)
بحرالرائق باب الاعتکاف میں ہے:
فی البدائع وان غسل المعتکف بدائع میں ہے کہ اگر معتکف مسجد میں اس طرح
حوالہ / References
درمختار باب مایفسد الصلوٰۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳€۰
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳€۰
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۳۱۔۲۳۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳€۰
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳€۰
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۳۱۔۲۳۰€
رأسہ فی المسجد فلاباس بہ اذا لم یلوث بالماء المستعمل فان کان بحیث یتلوث المسجد یمنع منہ لان تنظیف المسجد واجب ولوتوضأ فی المسجد فی اناء فہو علی ھذا التفصیل انتہی بخلاف غیر المعتکف فانہ یکرہ لہ التوضی فی المسجد ولو فی اناء ان یکون موضعا اتخذ لذلك لایصلی فیہ اھ۔ سردھوئے کہ مستعمل پانی سے مسجد ملوث نہ ہو تو حرج نہیں ورنہ ممنوع ہے کیونکہ مسجد کوپاك صاف رکھنا واجب ہے اور اگر وہ مسجد میں کسی برتن میں وضو کرے تب بھی وہی تفصیل ہے جومذکور ہوئی(انتہی)بخلاف غیرمعتکف کےکہ اس کے لئے مسجد میں وضو کرنا مکروہ ہے سوائے اس جگہ کے جو وضو کے لئے بنائی گئی ہو جس میں نماز نہ پڑھی جاتی ہواھ۔
تو اگر خروج ممکن ہے مثلا بارش خفیف ہے یا چھتری وغیرہ آلات حفاظت پاس ہیں او باہر نکلنے سے معذور نہیں تو واجب ہے کہ باہر ہی وضوکرے اور اگر عذر قوی قابل قبول ہے تو اگر کوئی برتن وغیرہ میسر ہے جس میں بلا تلویث مسجد وضو کرسکے جب بھی صحن میں وضو حرام ہے بلکہ چاہئے کہ اعتکاف کی نیت کرلے اور برتن میں اس طرح وضو کرے کہ باہر چھینٹ نہ پڑے یا جو تدبیر ممکن ہو۔ایك سال اعتکاف میں شب کے وقت بارش بشدت تمام ہورہی تھی اور کوئی برتن اس اطمینان کا نہ تھا کہ وضوکرتے میں پانی قطرہ قطرہ سب اسی میں جائےجاڑے کا موسم تھا فقیر نے تو شك پر چادر چندتہہ کرکے رکھی اور اس پر وضو کیا کہ سب پانی چادرہی میں رہا۔غرض جو طریقہ تحفظ مسجد کا ممکن ہو بجالائے ورنہ بمجبوری بضرورت در میں بیٹھ کر اس طرح وضوکرے کہ خود سائے میں رہے اور پانی تمام وکمال موقع آب ومجرائے بارش میں گرے کہ ساتھ ہی مینہ اسے بہاتا لے جائے لان من قواعد الشرع ان الضرورات تبیح المحظورات (کیونکہ شرعی قواعد میں سے ہے کہ ضرورتیں محظورات و ممنوعات کو مباح وجائز کردیتی ہیں۔ت)
وقد قال اﷲ تعالی " وما جعل علیکم فی الدین من حرج " وقد رخصت الشریعۃ لعذر المطر فی ترك الجماعۃ وحضور المسجد اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔اور تحقیق شریعت نے بارش کی وجہ سے جماعت ترك کرنے اور مسجد میں حاضر نہ ہونیکی
تو اگر خروج ممکن ہے مثلا بارش خفیف ہے یا چھتری وغیرہ آلات حفاظت پاس ہیں او باہر نکلنے سے معذور نہیں تو واجب ہے کہ باہر ہی وضوکرے اور اگر عذر قوی قابل قبول ہے تو اگر کوئی برتن وغیرہ میسر ہے جس میں بلا تلویث مسجد وضو کرسکے جب بھی صحن میں وضو حرام ہے بلکہ چاہئے کہ اعتکاف کی نیت کرلے اور برتن میں اس طرح وضو کرے کہ باہر چھینٹ نہ پڑے یا جو تدبیر ممکن ہو۔ایك سال اعتکاف میں شب کے وقت بارش بشدت تمام ہورہی تھی اور کوئی برتن اس اطمینان کا نہ تھا کہ وضوکرتے میں پانی قطرہ قطرہ سب اسی میں جائےجاڑے کا موسم تھا فقیر نے تو شك پر چادر چندتہہ کرکے رکھی اور اس پر وضو کیا کہ سب پانی چادرہی میں رہا۔غرض جو طریقہ تحفظ مسجد کا ممکن ہو بجالائے ورنہ بمجبوری بضرورت در میں بیٹھ کر اس طرح وضوکرے کہ خود سائے میں رہے اور پانی تمام وکمال موقع آب ومجرائے بارش میں گرے کہ ساتھ ہی مینہ اسے بہاتا لے جائے لان من قواعد الشرع ان الضرورات تبیح المحظورات (کیونکہ شرعی قواعد میں سے ہے کہ ضرورتیں محظورات و ممنوعات کو مباح وجائز کردیتی ہیں۔ت)
وقد قال اﷲ تعالی " وما جعل علیکم فی الدین من حرج " وقد رخصت الشریعۃ لعذر المطر فی ترك الجماعۃ وحضور المسجد اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔اور تحقیق شریعت نے بارش کی وجہ سے جماعت ترك کرنے اور مسجد میں حاضر نہ ہونیکی
حوالہ / References
بحرالرائق باب الاعتکاف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۳۰۳€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۱۸€
القرآن الکریم ∞۲۲ / ۷۸€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۱۸€
القرآن الکریم ∞۲۲ / ۷۸€
مع وجوبھما علی المعتمد کما حققناہ فی رسالۃ لنا فی حکم الجماعۃ بل فی ترك الجمعۃ مع انھا فریضۃ قطعیۃ اجماعیۃ۔ رخصت دی ہے حالانکہ مذہب معتمد پر یہ دونوں واجب ہیںجیسا کہ ہم نے حکم جماعت سے متعلق اپنے رسالے میں اسکی تحقیق کی ہےبلکہ جمعہ کو چھوڑنے کی بھی بسبب بارش رخصت دی گئی باوجودیکہ وہ فرض قطعی اجماعی ہے۔(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
لاتجب(یعنی الجماعۃ)علی من حال بینہ وبینھا مطر وطین وبردشدید ۔ اس شخص پر جماعت واجب نہیں جس کےلئے بارش کیچڑ او شدید سردی رکاوٹ بن جائے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اشار بالحیلولۃ الی ان المراد المطر الکثیر کما قیدہ بہ فی صلوۃ الجمعۃ وکذا الطین ۔ رکاوٹ بننے کے ذکر سے صاحب تنویر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مراد شدید بارش اور سخت کیچڑ ہےجیساکہ نماز جمعہ میں انہوں نے یہ قید لگائی ہے(ت)
درمختار میں ہے:
شرط لافتراضھا(ای الجمعۃ)بلوغ وعقل وعدم مطر شدید ووحل وثلج ونحوھما اھ ملتقطا وذلك ان اﷲ رؤف بالعبادوالحمدﷲواﷲتعالی اعلم۔ نماز جمعہ کی فرضیت کے لئے عاقل وبالغ ہونا اور شدید بارش کیچڑ اور برف وغیرہ کا نہ ہونا شرط ہے(التقاط)اور یہ اس لئے ہے کہ بیشك اﷲ تبارك وتعالی اپنے بندوں پر بہت مہربان ہےاور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۰: ۱۸ذی الحجہ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں حدث کرنا جائز ہے یانہیںاور معتکف کو حدث کرنا مسجد میں جائز ہے یانہیںاور کوئی طالبعلم باوجود حجرہ ہونے کے مسجد میں کتب بینی کرے اور
تنویر الابصار میں ہے:
لاتجب(یعنی الجماعۃ)علی من حال بینہ وبینھا مطر وطین وبردشدید ۔ اس شخص پر جماعت واجب نہیں جس کےلئے بارش کیچڑ او شدید سردی رکاوٹ بن جائے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اشار بالحیلولۃ الی ان المراد المطر الکثیر کما قیدہ بہ فی صلوۃ الجمعۃ وکذا الطین ۔ رکاوٹ بننے کے ذکر سے صاحب تنویر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مراد شدید بارش اور سخت کیچڑ ہےجیساکہ نماز جمعہ میں انہوں نے یہ قید لگائی ہے(ت)
درمختار میں ہے:
شرط لافتراضھا(ای الجمعۃ)بلوغ وعقل وعدم مطر شدید ووحل وثلج ونحوھما اھ ملتقطا وذلك ان اﷲ رؤف بالعبادوالحمدﷲواﷲتعالی اعلم۔ نماز جمعہ کی فرضیت کے لئے عاقل وبالغ ہونا اور شدید بارش کیچڑ اور برف وغیرہ کا نہ ہونا شرط ہے(التقاط)اور یہ اس لئے ہے کہ بیشك اﷲ تبارك وتعالی اپنے بندوں پر بہت مہربان ہےاور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں۔واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۰: ۱۸ذی الحجہ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں حدث کرنا جائز ہے یانہیںاور معتکف کو حدث کرنا مسجد میں جائز ہے یانہیںاور کوئی طالبعلم باوجود حجرہ ہونے کے مسجد میں کتب بینی کرے اور
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار باب الامامۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۲€
ردالمحتار باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۳۷۳€
درمختار باب الجمعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۲€
ردالمحتار باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۳۷۳€
درمختار باب الجمعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۲€
حدث بھی کرے تو اب اس صورت میں مسجد میں بیٹھنا افضل ہے یا حجرہ میںاور جو صاحب اس کو تسلیم نہ کریں ان کو کیاحکم ہے شریعت کابینوا توجروا۔
الجواب:
مسجد میں حدث یعنی اخراج ریح غیر معتکف کو مکروہ ہےاسے چاہئے کہ ایسے وقت باہر ہوجائے پھر چلاآئےطالب علم کو مسجد میں کتب بینی کی اجازت ہے جبکہ نمازیوں کا حرج نہ ہواور اخراج ریح کی حاجت نادر ہو تو اٹھ کر باہر چلاجائےورنہ سب سے بہتر یہ علاج ہے کہ بہ نیت اعتکاف مسجد میں بیٹھے اور کتاب دیکھے جبکہ کتاب علم دین کی ہو یا ان علوم کی جو علم دین کے آلہ ہیں اور یہ اسی نیت سے اسے پڑھتا ہوجو شخص غیر معتکف کو اخراج ریح مسجد میں خلاف ادب نہیں جانتا غلطی پر ہے اسے سمجھا دیاجائےیہ طریقہ اعتکاف کہ اوپر بیان ہوا اس کے لئے ہے جس کی ریح میں وہ بونہ ہو جس سے ہوا ئے مسجد پر اثر پڑے بعض لوگوں کی ریح میں خلقی بوئے شدید ہوتی ہے بعض کو بوجہ سوئے ہضم وغیرہا عارضی طور پر یہ بات ہوجاتی ہے ایسوں کو ایسے وقت میں مسجد میں بیٹھنا ہی جائز نہیں کہ بوئے بدسے مسجدکا بچانا واجب ہے۔
وان الملئکۃ تتأذی ممایتاذی منہ بنوادم ۔قالہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جس بات سے آدمیوں کواذیت پہنچتی ہے اس سے فرشتے بھی اذیت پاتے ہیں۔(رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۱: منشی عبدالصبور صاحب ۲۹صفر مظفر۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك مسجد زید کے آباواجداد کی تعمیر ہے اور اسی بناء پر زید اپنے کو متولی مسجد مذکور قرار دیتا ہےیہ مسجد ویران رہتی تھیمتولی ضروریات واقع کاخبر گیراں نہیں ہوتا تھااہل محلہ نے مرمت شکست ریخت کے واسطے متولی سے کہاکچھ بندوبست نہیں کیا تو اہل محلہ نے تعمیر شروع کرادیمسجد میں نماز وجماعت ہونے لگیتعمیر ناتمام تھی کہ متولی نے روکا کہ جب ہم کو مقدرت ہوگی خود بنوادیں گےتعمیر ناتمام رہیاس مسجد میں کنواں بھی نہیںمتصل شارع عام کے کنویں سے کہ ہر کس وناکس پانی بھرتا ہے مسجد میں پانی آتا ہےہنود کی بے احتیاطی دیکھ کر اب اہل محلہ کا قصد ہے کہ مسجد میں ہی کنواں تعمیر ہوجائے اور ایك حجرہ بھی سکونت جاروب کش و مؤذن کے واسطے تعمیر ہوجائے مگر متولی مانع ہوتا ہے کہ اور کوئی نہ بنوائے
الجواب:
مسجد میں حدث یعنی اخراج ریح غیر معتکف کو مکروہ ہےاسے چاہئے کہ ایسے وقت باہر ہوجائے پھر چلاآئےطالب علم کو مسجد میں کتب بینی کی اجازت ہے جبکہ نمازیوں کا حرج نہ ہواور اخراج ریح کی حاجت نادر ہو تو اٹھ کر باہر چلاجائےورنہ سب سے بہتر یہ علاج ہے کہ بہ نیت اعتکاف مسجد میں بیٹھے اور کتاب دیکھے جبکہ کتاب علم دین کی ہو یا ان علوم کی جو علم دین کے آلہ ہیں اور یہ اسی نیت سے اسے پڑھتا ہوجو شخص غیر معتکف کو اخراج ریح مسجد میں خلاف ادب نہیں جانتا غلطی پر ہے اسے سمجھا دیاجائےیہ طریقہ اعتکاف کہ اوپر بیان ہوا اس کے لئے ہے جس کی ریح میں وہ بونہ ہو جس سے ہوا ئے مسجد پر اثر پڑے بعض لوگوں کی ریح میں خلقی بوئے شدید ہوتی ہے بعض کو بوجہ سوئے ہضم وغیرہا عارضی طور پر یہ بات ہوجاتی ہے ایسوں کو ایسے وقت میں مسجد میں بیٹھنا ہی جائز نہیں کہ بوئے بدسے مسجدکا بچانا واجب ہے۔
وان الملئکۃ تتأذی ممایتاذی منہ بنوادم ۔قالہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جس بات سے آدمیوں کواذیت پہنچتی ہے اس سے فرشتے بھی اذیت پاتے ہیں۔(رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۱: منشی عبدالصبور صاحب ۲۹صفر مظفر۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك مسجد زید کے آباواجداد کی تعمیر ہے اور اسی بناء پر زید اپنے کو متولی مسجد مذکور قرار دیتا ہےیہ مسجد ویران رہتی تھیمتولی ضروریات واقع کاخبر گیراں نہیں ہوتا تھااہل محلہ نے مرمت شکست ریخت کے واسطے متولی سے کہاکچھ بندوبست نہیں کیا تو اہل محلہ نے تعمیر شروع کرادیمسجد میں نماز وجماعت ہونے لگیتعمیر ناتمام تھی کہ متولی نے روکا کہ جب ہم کو مقدرت ہوگی خود بنوادیں گےتعمیر ناتمام رہیاس مسجد میں کنواں بھی نہیںمتصل شارع عام کے کنویں سے کہ ہر کس وناکس پانی بھرتا ہے مسجد میں پانی آتا ہےہنود کی بے احتیاطی دیکھ کر اب اہل محلہ کا قصد ہے کہ مسجد میں ہی کنواں تعمیر ہوجائے اور ایك حجرہ بھی سکونت جاروب کش و مؤذن کے واسطے تعمیر ہوجائے مگر متولی مانع ہوتا ہے کہ اور کوئی نہ بنوائے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساجد باب نہی من اکل ثوماالخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۹€
جب ہم کو استطاعت ہوگی خودبنوادیں گے ایسی حالت میں تعویق تعمیر کا حق متولی کو شرعا حاصل ہے یانہیں اور تعمیر سابق بدون اجازت متولی جائز ہوئی یانہیں اور ممانعت متولی باطل تھی یاصحیحاب بدون اجازت اہل محلہ تعمیرکراسکتے ہیں یانہیںاور متولی مذکور پابند صوم وصلوۃ بھی نہیں ہے اورتعمیر ضروریات میں مانع ومزاحم ہوتاہے شرعا متولی رہ سکتا ہےیا تولیت سے معزول ہوسکتا ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں واقعی متولی کو بھی ہر گز حق نہ تھا کہ تعمیر مسجد سے اہل محلہ کو روکتانہ کہ یہ شخص جو صرف اس بناپر کہ مسجد اس کے بزرگوں کی تعمیر ہے اپنے آپ کو متولی ٹھہراتا ہےتعمیر سابق کہ مسلمانان اہل محلہ نے بے اجازت شخص مذکور کی ضرور جائز ہوئی کہ وہ باجازت قرآن عظیم ہے۔اﷲ عزوجل کی اجازت کے بعد زید وعمرو کی اجازت وعدم اجازت کیا چیز ہے اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ ولم یخش الا اللہ " خدا کی مسجدیں وہی عمارت کرتے ہیں جو اﷲ اور قیامت پر ایمان لاتے اورنماز بر پا رکھتے اور زکوۃ دیتے اور اﷲ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من بنی ﷲ مسجدا بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ ۔ جو اﷲ کے لئے مسجد بنائے اﷲ عزوجل اس کے لئے جنت میں مکان تعمیر فرمائے۔
شخص مذکور کی ممانعت محض باطل ونامسموع تھی اب بھی اہل محلہ بے اس کی اجازت کے تعمیر کرسکتے ہیںدرمختار میں ہے:
اراداھل المحلۃ نقض المسجد وبناء ہ احکم من الاول ان البانی من اھل المحلۃ لھم ذلك والالا بزازیۃ ۔ اہل محلہ نے مسجد گرانے اور پہلے سے مضبوط تر بنانے کا ارادہ کیا اگر دوبارہ بنانے والا اہل محلہ سے ہے تو انہیں ایسا کرنے کا اختیار ہے ورنہ نہیںبزازیہ۔(ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں واقعی متولی کو بھی ہر گز حق نہ تھا کہ تعمیر مسجد سے اہل محلہ کو روکتانہ کہ یہ شخص جو صرف اس بناپر کہ مسجد اس کے بزرگوں کی تعمیر ہے اپنے آپ کو متولی ٹھہراتا ہےتعمیر سابق کہ مسلمانان اہل محلہ نے بے اجازت شخص مذکور کی ضرور جائز ہوئی کہ وہ باجازت قرآن عظیم ہے۔اﷲ عزوجل کی اجازت کے بعد زید وعمرو کی اجازت وعدم اجازت کیا چیز ہے اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ ولم یخش الا اللہ " خدا کی مسجدیں وہی عمارت کرتے ہیں جو اﷲ اور قیامت پر ایمان لاتے اورنماز بر پا رکھتے اور زکوۃ دیتے اور اﷲ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من بنی ﷲ مسجدا بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ ۔ جو اﷲ کے لئے مسجد بنائے اﷲ عزوجل اس کے لئے جنت میں مکان تعمیر فرمائے۔
شخص مذکور کی ممانعت محض باطل ونامسموع تھی اب بھی اہل محلہ بے اس کی اجازت کے تعمیر کرسکتے ہیںدرمختار میں ہے:
اراداھل المحلۃ نقض المسجد وبناء ہ احکم من الاول ان البانی من اھل المحلۃ لھم ذلك والالا بزازیۃ ۔ اہل محلہ نے مسجد گرانے اور پہلے سے مضبوط تر بنانے کا ارادہ کیا اگر دوبارہ بنانے والا اہل محلہ سے ہے تو انہیں ایسا کرنے کا اختیار ہے ورنہ نہیںبزازیہ۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۹/ ۱۸€
مسند احمد بن حنبل مسند عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۲۰،€مشکوٰۃ المصابیح باب المساجد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۸€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
مسند احمد بن حنبل مسند عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۲۰،€مشکوٰۃ المصابیح باب المساجد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۸€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
فتاوی قاضی خاں پھر ردالمحتار میں ہے:
لیس لورثتہ منعھم من نقضہ والزیادۃ فیہ ولاھل المحلۃ تحویل باب المسجد ۔ واقف کے ورثاء اہل محلہ کو مسجد گراکر وسیع کرنے سے منع نہیں کرسکتے مسجد کا دروازہ تبدیل کرنے کابھی اہل محلہ کواختیار ہے(ت)
محیط امام سرخسی پھر فتاوی عالمگیری میں ہے:
رجل بنی مسجد اثم مات فاراداھل المسجد ان ینقضوہ ویزیدوافیہ فلھم ذلك ولیس لورثۃ المیت منعھم ۔ ایك شخص نے مسجد بنائی پھر وہ فوت ہوگیابعد ازاں اہل محلہ نے اس مسجد کو گرانے اور اس میں اضافہ کرنے کا ارادہ کیا تو بانی اول کے ورثاء کو منع کرنے کا اختیار نہیں(ت)
شخص مذکور ضروریات مسجد کاخبر گیراں نہیں ہوتا اور اہل محلہ کی درخواست پر بھی درستی مسجد کا کچھ بندوبست نہ کیا اور جب اہل محلہ نے تعمیر شروع کی اور مسجد میں نماز وجماعت ہونے لگی تو روکنے کو آموجودہوا اور وہ روکنا بھی یوں نہیں کہ آ پ تعمیر کرنا شروع کرتا بلکہ نراوعدہ کہ ہم بنوادیں گےوعدہ بھی کیسامحض موہوم کہ جب ہمیں مقدرت ہوگی بنوائیں گےتو ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ شخص مذکور آبادی و عمارت مسجد میں خلل انداز ہے اور وہ ضرور " مناع للخیر معتد اثیـم ﴿۱۲﴾ "
(نیکی سے بہت زیادہ منع کرنیوالا حدسے تجاوز کرنے والا گنہگار ہے۔ت)میں داخل ہے آپ تعمیر نہ کرتا ہے نہ کرسکتا ہے کہ خود اپنی مقدرت سے انکار رکھتا ہے اور مسلمانوں نے جو تعمیر کی جس سے نماز وجماعت ہونے لگی اسے روکتا ہے توصاف ویرانی مسجد کاخواستگار اور " ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا " (اس شخص سے بڑاظالم کون ہوسکتا ہے جو مساجد میں اﷲ تعالی کے ذکر سے منع کرے اور مساجد کی بربادی میں کوشاں ہو۔ت)کی وعید شدید کا سزاوار ہے۔شخص مذکور کو اگر متولی فرض بھی کرلیں تو اور مسلمانان محلہ کی تعمیر میں اس کی کوئی اہانت نہیں نہ ہرگز شرع مطہرمیں متولی کو حق دیا گیا ہے۔
لیس لورثتہ منعھم من نقضہ والزیادۃ فیہ ولاھل المحلۃ تحویل باب المسجد ۔ واقف کے ورثاء اہل محلہ کو مسجد گراکر وسیع کرنے سے منع نہیں کرسکتے مسجد کا دروازہ تبدیل کرنے کابھی اہل محلہ کواختیار ہے(ت)
محیط امام سرخسی پھر فتاوی عالمگیری میں ہے:
رجل بنی مسجد اثم مات فاراداھل المسجد ان ینقضوہ ویزیدوافیہ فلھم ذلك ولیس لورثۃ المیت منعھم ۔ ایك شخص نے مسجد بنائی پھر وہ فوت ہوگیابعد ازاں اہل محلہ نے اس مسجد کو گرانے اور اس میں اضافہ کرنے کا ارادہ کیا تو بانی اول کے ورثاء کو منع کرنے کا اختیار نہیں(ت)
شخص مذکور ضروریات مسجد کاخبر گیراں نہیں ہوتا اور اہل محلہ کی درخواست پر بھی درستی مسجد کا کچھ بندوبست نہ کیا اور جب اہل محلہ نے تعمیر شروع کی اور مسجد میں نماز وجماعت ہونے لگی تو روکنے کو آموجودہوا اور وہ روکنا بھی یوں نہیں کہ آ پ تعمیر کرنا شروع کرتا بلکہ نراوعدہ کہ ہم بنوادیں گےوعدہ بھی کیسامحض موہوم کہ جب ہمیں مقدرت ہوگی بنوائیں گےتو ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ شخص مذکور آبادی و عمارت مسجد میں خلل انداز ہے اور وہ ضرور " مناع للخیر معتد اثیـم ﴿۱۲﴾ "
(نیکی سے بہت زیادہ منع کرنیوالا حدسے تجاوز کرنے والا گنہگار ہے۔ت)میں داخل ہے آپ تعمیر نہ کرتا ہے نہ کرسکتا ہے کہ خود اپنی مقدرت سے انکار رکھتا ہے اور مسلمانوں نے جو تعمیر کی جس سے نماز وجماعت ہونے لگی اسے روکتا ہے توصاف ویرانی مسجد کاخواستگار اور " ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا " (اس شخص سے بڑاظالم کون ہوسکتا ہے جو مساجد میں اﷲ تعالی کے ذکر سے منع کرے اور مساجد کی بربادی میں کوشاں ہو۔ت)کی وعید شدید کا سزاوار ہے۔شخص مذکور کو اگر متولی فرض بھی کرلیں تو اور مسلمانان محلہ کی تعمیر میں اس کی کوئی اہانت نہیں نہ ہرگز شرع مطہرمیں متولی کو حق دیا گیا ہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۰€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷€
القرآن الکریم ∞۶۸/ ۱۲€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۱۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷€
القرآن الکریم ∞۶۸/ ۱۲€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۱۴€
کہ بوعدہ موہومہ مقدرت آپ تعمیر کرنے کے لئے مسجد کو خراب رکھے اہل محلہ کو تعمیر سے روکے۔فرض کیجئے اسے مقدر ت کبھی نہ ہوئی تو کیا ہمیشہ مسجد ویران رکھیں یااسے استطاعت دس برس یا دس مہینے یا دس دن ہی بعد ہوگی تو کون سی شریعت نے فرض کیا ہےکہ اس کی مقدرت کاانتظار کرو اور اتنی مدت مسجد خراب رکھو۔جو شخص دعوی کرتا ہے کہ بسبب وعدہ اور لوگوں کو اس کے تیار کرانے کا انتظار کرنا ہوگا اگر اپنی ہوائے نفس کا حکم دیتا ہے تومسلمانوں پر اس کا اتباع نہیںاوراگر اسے شرع مطہرہ کاحکم ٹھہراتا ہے تو صراحۃ شریعت غرا پر افتراء کرتاہےشریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں کہیں نہیں کہ ایسے مہمل وعدوں کا انتظار مسلمانوں کو کرنا ہوگا انتظار انتظار میں مسجد کوخراب رکھنا ہوگامسجد متولی یا اس کے بزرگوں کی ملك نہیں۔ قال اﷲ تعالی " و ان المسجد للہ " (اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:بیشك مسجدیں اﷲ تعالی ہی کی ہیں۔ت)فرضی یا واقعی متولی کو کیاحق حاصل ہے کہ مسلمانوں کو اپنے وعدہ فرد اکے انتظار پر مجبور کرے اور تاتریاق ازعراق کے لئے مسجد کوخراب رکھےایسے انتظار کا فتوی دینا صریح جہالت و ضلالت ہے خصوصا جبکہ مسلمان آنکھوں دیکھ چکے کہ وہ ضروریات مسجد کی خبر گیری نہیں کرتا اور باوصف درخواست اس نے کچھ پروانہ کیرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایلدغ المؤمن من جحرواحد مرتین ۔ مومن ایك سوراخ سے دوبار نہیں ڈساجاتا(ت)
اور اگر بفرض باطل تسلیم بھی کرلیں کہ اوروں کی تعمیر میں بخیال عوام اس کی کوئی اہانت ہے تو بیت اﷲ کی اہانت وخرابی سے اس کی یہ نفسانی اہانت آسان تر ہے۔بھلا متولی تو متولیعلمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ اگر خود اصل بانی مسجد اور اہل محلہ میں دربارہ امام ومؤذن نزاع ہو اور جسے اہل محلہ چاہیں وہ زیادہ مناسب ہو تو اصل بانی کے اختیار پر اہل محلہ ہی کے اختیار کوترجیح دی جائے گی۔اشباہ والنظائر میں ہے:
ان تنازعوافی نصب الامام والمؤذن مع اھل المحلۃ ان کان مااختارہ اھل المحلۃ اولی من الذی اختارہ البانی فما اختارہ اھل المحلۃ اولی ۔ بانیان مسجد اور اہل محلہ کے درمیان اما م مؤذن کی تقرری میں اختلاف واقع ہو اور جس کو اہل محلہ پسند کریں وہ بانی کے پسند کردہ سے اولی ہے تو اسی کو مقرر کرنا بہتر ہے(ت)
لایلدغ المؤمن من جحرواحد مرتین ۔ مومن ایك سوراخ سے دوبار نہیں ڈساجاتا(ت)
اور اگر بفرض باطل تسلیم بھی کرلیں کہ اوروں کی تعمیر میں بخیال عوام اس کی کوئی اہانت ہے تو بیت اﷲ کی اہانت وخرابی سے اس کی یہ نفسانی اہانت آسان تر ہے۔بھلا متولی تو متولیعلمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ اگر خود اصل بانی مسجد اور اہل محلہ میں دربارہ امام ومؤذن نزاع ہو اور جسے اہل محلہ چاہیں وہ زیادہ مناسب ہو تو اصل بانی کے اختیار پر اہل محلہ ہی کے اختیار کوترجیح دی جائے گی۔اشباہ والنظائر میں ہے:
ان تنازعوافی نصب الامام والمؤذن مع اھل المحلۃ ان کان مااختارہ اھل المحلۃ اولی من الذی اختارہ البانی فما اختارہ اھل المحلۃ اولی ۔ بانیان مسجد اور اہل محلہ کے درمیان اما م مؤذن کی تقرری میں اختلاف واقع ہو اور جس کو اہل محلہ پسند کریں وہ بانی کے پسند کردہ سے اولی ہے تو اسی کو مقرر کرنا بہتر ہے(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۷۲/ ۱۸€
مسند احمد بن حنبل مسند ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ∞۲/ ۳۷۹€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوقف ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۰۷€
مسند احمد بن حنبل مسند ابی ہریرہ رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ∞۲/ ۳۷۹€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوقف ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۰۷€
جب اصل واقف پر اہل محلہ کو صرف اس وجہ سے کہ ان کا پسند کردہ زیادہ مناسب ہے شرع مطہر نے ترجیح عطا فرمائی تو یہاں کہ آبادی وویرانی کااختلاف ہے اور شخص مذکور خود واقف بھی نہیں اور خود عمارت کرتا بھی نہیں نرے وعدہ ہی پرٹالتا ہے اور وہ وعدہ بھی ایك غیبی بات پر موقوف کہ خدا جانے ہوئی یا نہ ہوئی کیونکہ اہل محلہ کی کارروائی کے آگے جو سراسر نافع مسجد ہے کوئی چیز ٹھہرسکتی ہےاور جب اس ترجیح اہل محلہ میں خود واقف کی اہانت نہ تھی یا فرضا ہوتو شرع مطہر نے اصلا اسپر لحاظ نہ فرمایا اور محض ایك انسب بات کے لئے اہل محلہ ہی کو ترجیح بخشی تو یہاں اس غیر واقف کی اہانت کیا ہوگی یا ہو تو اس پر شرع کیا لحاظ فرمائے گی ایسے بیہودہ مخیلات کو مدار فتوی قرار دینا سخت عامیانہ سفاہت ہے جس کے لئے شرع الہی میں اصلا اصل نہیںمعہذا ظاہر ہے کہ اہل محلہ کا مقصود آبادی مسجد ہے نہ کہ اس شخص کی اہانتولہذا پہلے خود اسی سے درخواست کی جب اس نے کان نہ رکھا مجبور انہ خود عمارت شروع کی تو اہل محلہ کی یہ غرض ٹھہرالینی کہ شخص مذکور کو ذلت پہنچے کس قدر شدید سوئے ظن و جہالت ہے کیا وہ اس قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ لاینظر الی صورکم واموالکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعمالکم ۔ بیشك اﷲ تعالی تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہاری نیتوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔(ت)
کے مستحق نہیںکیا صحیح حدیث میں ارشاد رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔ بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ (ت)
کا مخالف فاسق نہیں ضرور ہے۔اور شخص مذکور جبکہ تعمیر ضروریات کا مانع ومزاحم ہے تو بدخواہی مسجد کے سبب اگر متولی بھی ہوتا اس کا معزول کرنا واجب تھا نہ کہ فقط اولاد بانی سے ہونا کہ ہرگز موجب تولیت نہیں کما لایخفی(جیسا کہ چھپا ہوا نہیں۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۲: ازمیرٹھ کوٹھی انانش خیر نگر دروازہ مرسلہ ولایت اﷲخاں ۲جمادی الاولی۱۳۲۲ھ
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت میں مسجدوں کے اوپر مینار اور برج نہیں تھےاب کیونکر بنائے جاتے ہیں
ان اﷲ لاینظر الی صورکم واموالکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعمالکم ۔ بیشك اﷲ تعالی تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہاری نیتوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔(ت)
کے مستحق نہیںکیا صحیح حدیث میں ارشاد رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔ بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ (ت)
کا مخالف فاسق نہیں ضرور ہے۔اور شخص مذکور جبکہ تعمیر ضروریات کا مانع ومزاحم ہے تو بدخواہی مسجد کے سبب اگر متولی بھی ہوتا اس کا معزول کرنا واجب تھا نہ کہ فقط اولاد بانی سے ہونا کہ ہرگز موجب تولیت نہیں کما لایخفی(جیسا کہ چھپا ہوا نہیں۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۲: ازمیرٹھ کوٹھی انانش خیر نگر دروازہ مرسلہ ولایت اﷲخاں ۲جمادی الاولی۱۳۲۲ھ
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم کے وقت میں مسجدوں کے اوپر مینار اور برج نہیں تھےاب کیونکر بنائے جاتے ہیں
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب البر باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۷€
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب تعلیم الفرائض ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۹۵€
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب تعلیم الفرائض ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۹۵€
الجواب:
واقعی زمانہ اقدس حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں مساجد کے لئے برج کنگرے اور اس طرح کے منارے جن کو لوگ مینار کہتے ہیں ہر گز نہ تھے بلکہ زمانہ اقدس میں پکے ستون نہ پکی چھتنہ پکا فرش نہ گچکارییہ امور اصلا نہ تھے کما فی صحیح البخاری فی ذکر مسجدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(جیسا کہ بخاری شریف میں نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مسجد کے ذکر میں ہے۔ت)بلکہ حدیث میں ہے:
ابنواالمساجد واتخذوھا جما ۔رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ والبیھقی فی السنن عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ مسجد یں بناؤ اور انہیں بے کنگرہ رکھو(اسے ابوبکر بن ابی شیبہ اور بیہقی نے سنن میں سیدنا حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور انہوں نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی وسلم سے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں ہے:
ابنوامساجد کم جماوابنوا مدائنکم مشرفۃ ۔رواہ ابن ابی شیبۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ اپنی مسجدیں منڈی بناؤ اور اپنے شہر کنگرہ دار۔(اس کو ابن ابی شیبہ نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا اور انہوں نے رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمایا۔ت)
مگر تغیر زمانہ سے جبکہ قلوب عوام تعظیم باطن پر تنبہ کے لئے تعظیم ظاہر کے محتاج ہوگئے اس قسم کے امور علماء وعامہ مسلمین نے مستحسن رکھےاسی قبیل سے ہے قرآن عظیم سے ہے قرآن عظیم پر سونا چڑھانا کہ صدر اول میں نہ تھا اور اب بہ نیت تعظیم واحترام قرآن مجید مستحب ہے۔یونہی مسجد میں گچگاری اور سونے کاکام
وماراہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن ۔ جس شیئ کو مسلمان اچھاسمجھیں وہ عنداﷲ بھی اچھی ہوتی ہے۔(ت)
واقعی زمانہ اقدس حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں مساجد کے لئے برج کنگرے اور اس طرح کے منارے جن کو لوگ مینار کہتے ہیں ہر گز نہ تھے بلکہ زمانہ اقدس میں پکے ستون نہ پکی چھتنہ پکا فرش نہ گچکارییہ امور اصلا نہ تھے کما فی صحیح البخاری فی ذکر مسجدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(جیسا کہ بخاری شریف میں نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مسجد کے ذکر میں ہے۔ت)بلکہ حدیث میں ہے:
ابنواالمساجد واتخذوھا جما ۔رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ والبیھقی فی السنن عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ مسجد یں بناؤ اور انہیں بے کنگرہ رکھو(اسے ابوبکر بن ابی شیبہ اور بیہقی نے سنن میں سیدنا حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور انہوں نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی وسلم سے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں ہے:
ابنوامساجد کم جماوابنوا مدائنکم مشرفۃ ۔رواہ ابن ابی شیبۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ اپنی مسجدیں منڈی بناؤ اور اپنے شہر کنگرہ دار۔(اس کو ابن ابی شیبہ نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا اور انہوں نے رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمایا۔ت)
مگر تغیر زمانہ سے جبکہ قلوب عوام تعظیم باطن پر تنبہ کے لئے تعظیم ظاہر کے محتاج ہوگئے اس قسم کے امور علماء وعامہ مسلمین نے مستحسن رکھےاسی قبیل سے ہے قرآن عظیم سے ہے قرآن عظیم پر سونا چڑھانا کہ صدر اول میں نہ تھا اور اب بہ نیت تعظیم واحترام قرآن مجید مستحب ہے۔یونہی مسجد میں گچگاری اور سونے کاکام
وماراہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن ۔ جس شیئ کو مسلمان اچھاسمجھیں وہ عنداﷲ بھی اچھی ہوتی ہے۔(ت)
حوالہ / References
مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلوٰۃ فی زینۃ المسجد وماجاء فیہا ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۰۹€
مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلوٰۃ فی زینۃ المسجد وماجاء فیہا ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۰۹،€کنزالعمال حدیث ۲۰۷۶۹ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۷/ ۶۵۶€
مسند احمد بن حنبل ازمسند عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۳۷۹€
مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الصلوٰۃ فی زینۃ المسجد وماجاء فیہا ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۰۹،€کنزالعمال حدیث ۲۰۷۶۹ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۷/ ۶۵۶€
مسند احمد بن حنبل ازمسند عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۳۷۹€
درمختار میں ہے:
جاز تحلیۃ المصحف لما فیہ من تعظیمہ کما فی نقش المسجد ۔ قرآن مجید کو مزین کرنا جائز ہے کیونکہ اس میں قرآن مجید کی تعظیم ہے جیساکہ مسجد کوتعظیما منقش کرنا جائز ہے۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
لایکرہ نقش المسجد بالجص وماء الذھب ۔ قلعی اور سونے کے پانی سے مسجد کو منقش کرنا مکروہ نہیں۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
لاباس بنقش المسجد بالجص والساج وماء الذھب والصرف الی الفقراء افضل کذافی السراجیۃ وعلیہ الفتوی کذافی المضمرات وھکذافی المحیط ۔ مسجد کوقلعیساج کی لکڑی اور سونے کے پانی سے منقش کرنے میں حرج نہیں تاہم فقراء پرصرف کرنا اولی ہے جیسا کہ سراجیہ میں ہےاور اسی پرفتوی ہےمضمرات اور محیط میں یونہی ہے(ت)
اور ان میں ایك منفعت یہ بھی کہ مسافر یا ناواقف منارے کنگرے دور سے دیکھ کر پہچان لے گا کہ یہاں مسجد ہےتواس میں مسجد کی طرف مسلمانوں کو ارشاد وہدایت اور امر دین میں ان کی امداد واعانت ہےاوراﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" وتعاونوا علی البر والتقوی ۪ " نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایك دوسرے سے تعاون کرو۔ (ت)
تیسری منفعت جلیلہ یہ ہے کہ یہاں کفار کی کثر ت ہےاکثر مسجدیں سادی گھروں کی طرح ہوں تو ممکن ہے کہ ہمسایہ کے ہنود بعض مساجد پر گھر اور مملوك ہونے کا دعوی کردیں اور جھوٹی گواہیوں سے جیت لیں بخلاف اس صورت کے کہ یہ ہیأت خود بتائے گی کہ یہ مسجد ہے تو اس میں مسجد کی حفاظت اور اعدا سے اس کی صیانت ہےوباﷲ التوفیقواﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جاز تحلیۃ المصحف لما فیہ من تعظیمہ کما فی نقش المسجد ۔ قرآن مجید کو مزین کرنا جائز ہے کیونکہ اس میں قرآن مجید کی تعظیم ہے جیساکہ مسجد کوتعظیما منقش کرنا جائز ہے۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
لایکرہ نقش المسجد بالجص وماء الذھب ۔ قلعی اور سونے کے پانی سے مسجد کو منقش کرنا مکروہ نہیں۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
لاباس بنقش المسجد بالجص والساج وماء الذھب والصرف الی الفقراء افضل کذافی السراجیۃ وعلیہ الفتوی کذافی المضمرات وھکذافی المحیط ۔ مسجد کوقلعیساج کی لکڑی اور سونے کے پانی سے منقش کرنے میں حرج نہیں تاہم فقراء پرصرف کرنا اولی ہے جیسا کہ سراجیہ میں ہےاور اسی پرفتوی ہےمضمرات اور محیط میں یونہی ہے(ت)
اور ان میں ایك منفعت یہ بھی کہ مسافر یا ناواقف منارے کنگرے دور سے دیکھ کر پہچان لے گا کہ یہاں مسجد ہےتواس میں مسجد کی طرف مسلمانوں کو ارشاد وہدایت اور امر دین میں ان کی امداد واعانت ہےاوراﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" وتعاونوا علی البر والتقوی ۪ " نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایك دوسرے سے تعاون کرو۔ (ت)
تیسری منفعت جلیلہ یہ ہے کہ یہاں کفار کی کثر ت ہےاکثر مسجدیں سادی گھروں کی طرح ہوں تو ممکن ہے کہ ہمسایہ کے ہنود بعض مساجد پر گھر اور مملوك ہونے کا دعوی کردیں اور جھوٹی گواہیوں سے جیت لیں بخلاف اس صورت کے کہ یہ ہیأت خود بتائے گی کہ یہ مسجد ہے تو اس میں مسجد کی حفاظت اور اعدا سے اس کی صیانت ہےوباﷲ التوفیقواﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵€
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المطبعۃ الکبری الامیریۃ مصر ∞۱/ ۱۶۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۹€
القرآن الکریم∞۵/ ۲€
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ المطبعۃ الکبری الامیریۃ مصر ∞۱/ ۱۶۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۹€
القرآن الکریم∞۵/ ۲€
مسئلہ۱۴۳:از ملك بنگالہ ضلع نواکھالی ڈاکخانہ قاضی ہاٹ متصل بختیارمنشی کے بازار مرسلہ مولوی عبدالعلی صاحب ۱۳جمادی الآخر۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی ہندو مشرك زمیندار اپنی زمین میں نماز پنجگانہ وجمعہ کے لئے ایك مسجد بنادے یا مسلمان کی بنائی ہوئی مسجد کو درست یا پختہ کردے یا ازروئے حیلہ کے دو سو یا چار سو کسی شخص کو مسجد بنوانے کی نیت سے دے وہ شخص زردادہ سے مسجد بنادے شرعا اس میں نمازپڑھنا درست ہوگا یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر اس نے مسجد بنوانے کی صرف نیت سے مسلمان کو روپیہ دیا یا روپیہ دیتے وقت صراحۃ کہہ بھی دیا کہ اس سے مسجد بنوادو مسلمان نے ایسا ہی کیا تو وہ مسجد ضرور ہوگئی اور اس میں نماز پڑھنی درست ہے۔
لانہ انما یکون اذناللمسلم بشراء الآلات للمسجد بمالہ وبمجرد ھذالایصیر وکیلا وان فرض التوکیل فحیث لم یعین جنس المشری لایقع الشراء الا للمسلم لان الجہالۃ الفاحشۃ تبطل الوکالۃفی الدر المختار الاصل انہا(ای الوکالۃ)ان جھلت جہالۃ فاحشۃ وھی جھالۃ الجنس کدابۃ بطلت اھ (ملخصا) ومعلوم ان الشراء متی وجد نفاذا علی المشتری نفذ علیہ فعلی کل کانت الآلات ملك المسلم وقد جعلھا مسجدافصح۔ کیونکہ یہ اس کی طرف سے مسلمان کو اس کے مال سے مسجد کےلئے سامان خریدنے کا اذن ہوا اور محض اتنی بات سے وہ وکیل نہ ہوا اور بالفرض توکیل مان بھی لیں توجب جنس شراء غیر معین ہے تو شراء مسلمان کے لئے ہی واقع ہوگی اس لئے کہ جہالت فاحشہ وکالت کو باطل کردیتی ہے۔درمختار میں ہے قاعدہ یہ ہے کہ اگر وکالت جہالت فاحشہ کے ساتھ مجہول ہو یعنی جہالت جنس ہوجیسے دابہ کا مجہول ہونا تو وکالت باطل ہوجاتی الخ(ملخصا)اوریہ بات معلوم ہے کہ شراء جب مشتری پر نفاذ پائے تو نافذ ہوجاتی ہےبہر صورت وہ خریدا ہوا سامان مسلمان کامملوك ہوا اور اس نے مسجد بنادی تو صحیح ہے۔(ت)
یونہی مسجد قدیم کی درستی ومرمت اگر کافر کرے تو اسکی مسجدیت میں نقصان نہ آئے گا لان المسجد اذاتم مسجدالا یعود غیر مسجدابدا(کیونکہ مسجدبن جانے کے بعد کبھی بھی وہ غیر مسجد نہیں بن سکتی۔ت)
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی ہندو مشرك زمیندار اپنی زمین میں نماز پنجگانہ وجمعہ کے لئے ایك مسجد بنادے یا مسلمان کی بنائی ہوئی مسجد کو درست یا پختہ کردے یا ازروئے حیلہ کے دو سو یا چار سو کسی شخص کو مسجد بنوانے کی نیت سے دے وہ شخص زردادہ سے مسجد بنادے شرعا اس میں نمازپڑھنا درست ہوگا یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر اس نے مسجد بنوانے کی صرف نیت سے مسلمان کو روپیہ دیا یا روپیہ دیتے وقت صراحۃ کہہ بھی دیا کہ اس سے مسجد بنوادو مسلمان نے ایسا ہی کیا تو وہ مسجد ضرور ہوگئی اور اس میں نماز پڑھنی درست ہے۔
لانہ انما یکون اذناللمسلم بشراء الآلات للمسجد بمالہ وبمجرد ھذالایصیر وکیلا وان فرض التوکیل فحیث لم یعین جنس المشری لایقع الشراء الا للمسلم لان الجہالۃ الفاحشۃ تبطل الوکالۃفی الدر المختار الاصل انہا(ای الوکالۃ)ان جھلت جہالۃ فاحشۃ وھی جھالۃ الجنس کدابۃ بطلت اھ (ملخصا) ومعلوم ان الشراء متی وجد نفاذا علی المشتری نفذ علیہ فعلی کل کانت الآلات ملك المسلم وقد جعلھا مسجدافصح۔ کیونکہ یہ اس کی طرف سے مسلمان کو اس کے مال سے مسجد کےلئے سامان خریدنے کا اذن ہوا اور محض اتنی بات سے وہ وکیل نہ ہوا اور بالفرض توکیل مان بھی لیں توجب جنس شراء غیر معین ہے تو شراء مسلمان کے لئے ہی واقع ہوگی اس لئے کہ جہالت فاحشہ وکالت کو باطل کردیتی ہے۔درمختار میں ہے قاعدہ یہ ہے کہ اگر وکالت جہالت فاحشہ کے ساتھ مجہول ہو یعنی جہالت جنس ہوجیسے دابہ کا مجہول ہونا تو وکالت باطل ہوجاتی الخ(ملخصا)اوریہ بات معلوم ہے کہ شراء جب مشتری پر نفاذ پائے تو نافذ ہوجاتی ہےبہر صورت وہ خریدا ہوا سامان مسلمان کامملوك ہوا اور اس نے مسجد بنادی تو صحیح ہے۔(ت)
یونہی مسجد قدیم کی درستی ومرمت اگر کافر کرے تو اسکی مسجدیت میں نقصان نہ آئے گا لان المسجد اذاتم مسجدالا یعود غیر مسجدابدا(کیونکہ مسجدبن جانے کے بعد کبھی بھی وہ غیر مسجد نہیں بن سکتی۔ت)
حوالہ / References
درمختار باب الوکالۃ بالبیع والشراء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۰۴€
اسی طرح کچھ مسجد کو اگر پکی کرادے فرش اور دیواریں پختہ بنوادے جب بھی اس کی مسجدیت میں حرج نہیں اس میں نماز درست ہے کہ یہ دیواریں اگرچہ ملك کافر رہیں گی کہ وہ مسجد کے لئے وقف کرنے کا اہل نہیں مگر دیواریں حقیقت مسجدمیں داخل نہیں
حتی لولم تکن او رفعت لم یتطرق الی المسجد خلل الاتری ان المسجد الحرام لاجدران فیہ اصلا وان بناء الکعبۃ لو رفع کما وقع فی زمن سیدنا عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہما لصحت الصلوۃ الیہا کمانصواعلیہ۔ مسجد کی دیواریں اگر بالکل نہ ہوں یا مرتفع ہوجائیں تو مسجدیت میں کوئی خلل نہیں آتاکیا تو نہیں دیکھتا کہ مسجد الحرام میں دیواریں نہیں ہیں اور اگرکعبۃ اﷲ کی عمارت اگر مرتفع ہوجائے جیسا کہ سیدنا حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہ کے زمانے میں ہوا تو تب بھی اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا جائز ہےفقہاء نے اس کی تصریح کی ہے(ت)
یوں ہی مسالہ کہ فرش پختہ کرنے کو ڈالاچٹائی کی طرح ایك شیئ زائد ہے اور جواز نماز یوں کہ اگرچہ وہ مسالہ ملك کافر پررہے گامگر اس پر نماز اس کے اذن سے ہے
فکان کالصلاۃ فی ارض الکافر باذنہ بل اولی۔ تو یہ کافر کی زمین میں اس کے اذن سے نماز پڑھنے کی مانند ہوا یا اس سے بھی اولی ہے۔(ت)
ہاں ایسی چیز کا قبول کرنا مسلمانوں کو نہ چاہئے کہ مسجد کو ملك کافر سے آلودہ کرنا ہے
وقد قال رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انا لا نستعین بمشرک ۔ تحقیق رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم مشرك سے استعانت نہیں کرتے(ت)
اور اس میں یہ بھی قباحت ہے کہ جب وہ فرش ملك کافر پر باقی ہے تو اگر کسی وقت وہ یا اس کے بعد اس کا وارث اس پر نماز سے منع کردے تو نماز ناجائز ہوجائے گی جب تك فرش کھود کر زمین صاف نہ کرلیں۔رہی پہلی صورت کہ مشرك اپنی زمین میں مسجد بنوادے اگرمشرك نے وہ زمین کسی مسلمان کو ہبہ کردی اور مسلمان نے مسجد بنوائی تو جائز ہے اور اس میں نماز مسجد میں نمازہےاور اگر بے تملیك مسلم اپنی ہی ملك رکھ کر مسجد بنوائی تو وہ مسجد شرعا مسجد نہ ہوئی
حتی لولم تکن او رفعت لم یتطرق الی المسجد خلل الاتری ان المسجد الحرام لاجدران فیہ اصلا وان بناء الکعبۃ لو رفع کما وقع فی زمن سیدنا عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہما لصحت الصلوۃ الیہا کمانصواعلیہ۔ مسجد کی دیواریں اگر بالکل نہ ہوں یا مرتفع ہوجائیں تو مسجدیت میں کوئی خلل نہیں آتاکیا تو نہیں دیکھتا کہ مسجد الحرام میں دیواریں نہیں ہیں اور اگرکعبۃ اﷲ کی عمارت اگر مرتفع ہوجائے جیسا کہ سیدنا حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہ کے زمانے میں ہوا تو تب بھی اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا جائز ہےفقہاء نے اس کی تصریح کی ہے(ت)
یوں ہی مسالہ کہ فرش پختہ کرنے کو ڈالاچٹائی کی طرح ایك شیئ زائد ہے اور جواز نماز یوں کہ اگرچہ وہ مسالہ ملك کافر پررہے گامگر اس پر نماز اس کے اذن سے ہے
فکان کالصلاۃ فی ارض الکافر باذنہ بل اولی۔ تو یہ کافر کی زمین میں اس کے اذن سے نماز پڑھنے کی مانند ہوا یا اس سے بھی اولی ہے۔(ت)
ہاں ایسی چیز کا قبول کرنا مسلمانوں کو نہ چاہئے کہ مسجد کو ملك کافر سے آلودہ کرنا ہے
وقد قال رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انا لا نستعین بمشرک ۔ تحقیق رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم مشرك سے استعانت نہیں کرتے(ت)
اور اس میں یہ بھی قباحت ہے کہ جب وہ فرش ملك کافر پر باقی ہے تو اگر کسی وقت وہ یا اس کے بعد اس کا وارث اس پر نماز سے منع کردے تو نماز ناجائز ہوجائے گی جب تك فرش کھود کر زمین صاف نہ کرلیں۔رہی پہلی صورت کہ مشرك اپنی زمین میں مسجد بنوادے اگرمشرك نے وہ زمین کسی مسلمان کو ہبہ کردی اور مسلمان نے مسجد بنوائی تو جائز ہے اور اس میں نماز مسجد میں نمازہےاور اگر بے تملیك مسلم اپنی ہی ملك رکھ کر مسجد بنوائی تو وہ مسجد شرعا مسجد نہ ہوئی
حوالہ / References
مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الجہاد باب فی الاستعانۃ بالمشرکین ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱۲/ ۳۹۵€
لان الکافر لیس اھل لوقف المسجد وفی جواھر الاخلاطی جعل ذمی دارہ مسجدا للمسلمین وبناہ کما بنی المسلمون واذن لھم بالصلوۃ فیہ فصلوافیہ ثم مات یصیر میراثا لورثتہ وھذاقول الکل۔ کیونکہ کافر مسجد کو وقف کرنے کا اہل نہیں جواہر الاخلاطی میں ہے کہ ذمی نے اپنے گھر کو مسلمانوں کے لئے مسجد بنایا اور مسلمانوں کی طرح اس کی تعمیر کرائی پھر مسلمانوں کو اس میں نماز پڑھنے کو کہا اور انہوں نے اس میں نماز پڑھی بعد ازاں وہ ذمی مرگیا تو وہ اس کے وارثوں کو بطور میراث ملے گیاوریہی سب کا قول ہے(ت)
اس میں نماز ایك کافر کے گھر میں نماز ہے جس پر نماز مسجد کا ہرگزثواب نہیں مگر جبکہ اس کے اذن سے ہے نماز درست ہے اگر منع کردے گا تو اب اجازت نہ رہے گی اور زمین غصب میں نماز کی طرح مکروہ ہوگی للتصرف فی ملك الغیر بغیر اذنہ (ملك غیر میں بلااذن مالك تصرف کرنے کی وجہ سے۔ت)وا ﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۴: ازکانپور مرسلہ مولوی عبیداﷲ صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت مسماۃ ہندہ نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرکے کسب ناجائز اختیار کرلیااور مال میں ہزار پانسو کی تجارت بھی کرتی رہی چنانچہ اس نے اسی مال سے چند دن میں متعدد مکان وغیرہ بھی خریدکئے اور وہ مال اسکے پاس کچھ بطور حلال حاصل ہوا تھا اور کچھ بطور حراملیکن یہ امر کہ مال حلال کس قدر تھا اور مال حرام کس قدر کچھ معلوم نہیںخلاصہ یہ کہ وہ مال اس کے پاس مختلط تھااس کے بعد اس مال کی وارث اس کی ماں بنیہندہ کی ماں نے محض اپنی رائے سے ایك مسجد کی تعمیر کیاب اس مسجد میں لوگ نمازپڑھنے سے پرہیزکرتے ہیںپس یہ فرمایاجائے کہ ایسی مسجد کو حکم مسجد کا دیں گے یانہیںاور یہ وقف شرعا صحیح ہے یانہیںاور یہ بھی ارشاد ہو کہ مال مختلط وراثۃ اگر شخص کو نہ ملا ہو جبکہ خود اس کے پاس مختلط اپنا ذاتی ہو جیساآج زمانے میں بکثرت لوگوں کے پاس ہے اگر ایسے سے مسجد بنوائی جائے تو کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
مال مختلط کہ مورث وجوہ مختلفہ سے جمع کرلے اور وارث کو اس کی کچھ تفصیل کا پتا نہیں چل سکا کہ کتنا حلال ہے کتناحرام ہےجو حرام ہے کس کس سے لیا ہے تو امر مجہول کامطالبہ ا س سے نہیں ہوسکتا ایسی ہی
اس میں نماز ایك کافر کے گھر میں نماز ہے جس پر نماز مسجد کا ہرگزثواب نہیں مگر جبکہ اس کے اذن سے ہے نماز درست ہے اگر منع کردے گا تو اب اجازت نہ رہے گی اور زمین غصب میں نماز کی طرح مکروہ ہوگی للتصرف فی ملك الغیر بغیر اذنہ (ملك غیر میں بلااذن مالك تصرف کرنے کی وجہ سے۔ت)وا ﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۴: ازکانپور مرسلہ مولوی عبیداﷲ صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت مسماۃ ہندہ نے اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرکے کسب ناجائز اختیار کرلیااور مال میں ہزار پانسو کی تجارت بھی کرتی رہی چنانچہ اس نے اسی مال سے چند دن میں متعدد مکان وغیرہ بھی خریدکئے اور وہ مال اسکے پاس کچھ بطور حلال حاصل ہوا تھا اور کچھ بطور حراملیکن یہ امر کہ مال حلال کس قدر تھا اور مال حرام کس قدر کچھ معلوم نہیںخلاصہ یہ کہ وہ مال اس کے پاس مختلط تھااس کے بعد اس مال کی وارث اس کی ماں بنیہندہ کی ماں نے محض اپنی رائے سے ایك مسجد کی تعمیر کیاب اس مسجد میں لوگ نمازپڑھنے سے پرہیزکرتے ہیںپس یہ فرمایاجائے کہ ایسی مسجد کو حکم مسجد کا دیں گے یانہیںاور یہ وقف شرعا صحیح ہے یانہیںاور یہ بھی ارشاد ہو کہ مال مختلط وراثۃ اگر شخص کو نہ ملا ہو جبکہ خود اس کے پاس مختلط اپنا ذاتی ہو جیساآج زمانے میں بکثرت لوگوں کے پاس ہے اگر ایسے سے مسجد بنوائی جائے تو کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
مال مختلط کہ مورث وجوہ مختلفہ سے جمع کرلے اور وارث کو اس کی کچھ تفصیل کا پتا نہیں چل سکا کہ کتنا حلال ہے کتناحرام ہےجو حرام ہے کس کس سے لیا ہے تو امر مجہول کامطالبہ ا س سے نہیں ہوسکتا ایسی ہی
حوالہ / References
جواہر الاخلاطی کتاب الوقف ∞قلمی نسخہ ص۱۲۷€
جگہ ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ:
الحرمۃ لاتتعدی بیان المسئلۃ فی الدرالمختار ورد المحتار وغیرہما من الاسفار۔ حرمت متعدی نہیں ہوتی اس مسئلہ کی وضاحت درمختار اور ردالمحتار وغیرہ کتب میں ہے(ت)
تو مسجد مذکور ضرور مسجد ہے اور اس کا وقف صحیح اور اس میں نماز جائزاور اگر خود اپنا روپیہ مختلط بلکہ حرام ہو اور اس سے مسجد یوں بنائے کہ زمین وخشت وغیرہما آلات کی خریداری میں زر حرام پرعقد ونقد جمع نہ ہو تو مذہب امام کرخی پر کہ اب وہی مفتی بہ ہے ان خریدی ہوئی اشیاء میں خباثت اثر نہ کرے گی۔
بل استحسن فی الطریقۃ المحمدیۃ الافتاء بمااوسع من ھنا وھوان الخبث لایسری فی الابدال مطلقا اذا کان ذلك فیمالایتعین فی البیع کالدراھم والدنانیر۔ بلکہ طریقہ محمدیہ میں تو اس سے وسیع ترصورت پر فتوی کو مستحسن قرار دیا ہے اور وہ یہ کہ خباثت ابدال میں مطلقا اثر نہیں کرتی جبکہ ان اشیاء میں ہوجو بیوع میں متعین نہیں ہوتیں جیسے دراہم ودنانیر۔(ت)
حرام پر عقد کے یہ معنی کہ زرحرام دکھا کر کہے اس کے عوض فلاں شیئ دے دےاور نقد کے یہ معنی کہ پھر زر حرام ہی اس کے معاوضہ میں دےا گر مطلقا بغیر روپیہ دکھائے کوئی چیز خریدے اور پھر زرحرام عوض میں دیا تو یہ دینا اگرچہ اسے حرام تھا
لانہ فیہ بادائہ الی من کان لہ وان لم یبق ھو ولاوارثہ اولم یعرف فالتصدق وھذا عدول عنھما فلایجوز۔ کیونکہ اس میں وہ مال حرام اس شخص کو واپس کرنے کا پابند تھا جس کا وہ ہے اگر وہ یا اس کا کوئی وارث باقی نہیں یا ان کاعلم نہیں توصدقہ کرنا لازم ہے جبکہ یہ مال حرام کسی کو معاوضے میں دینے اور اصل مالك کو واپس کرنے سے عدول ہوگا تو جائز نہیں(ت)
بلکہ بائع کو بھی لینا حرام تھا جبکہ اسے معلوم ہوکہ یہ روپیہ عین حرام اور اس کے پاس بلا ملك ہے جیسے غصب ورشوت واجرت زنا وغیرہ کا روپیہ مگر جبکہ حرام پر عقد نہ ہوافردمطلق پر ہواخریدی ہوئی شے میں خبث نہ آیا یونہی اگر زر حرام دکھا کر کہا اس کے عوض فلاں شیئ دے دےجب اس نے دے دی اس نے وہ روپیہ ثمن میں نہ دیا بلکہ زرحلال دیاتو اب اگرچہ عقد حرام پر ہوا مگر نقد اس کا نہ ہواان دونوں صورتوں میں مذہب مفتی بہ پر ابدال یعنی خریدی ہوئی چیزیں حلال رہتی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہاں عام خریداریاں اسی صورت اولی پر ہوتی ہیں کہ حرام پر عقد نہیں ہوتااور اگر بالفرض بعض آلات پر اتفاقا ایسا ہوا ہو تو اس کا حال معلوم نہیں
الحرمۃ لاتتعدی بیان المسئلۃ فی الدرالمختار ورد المحتار وغیرہما من الاسفار۔ حرمت متعدی نہیں ہوتی اس مسئلہ کی وضاحت درمختار اور ردالمحتار وغیرہ کتب میں ہے(ت)
تو مسجد مذکور ضرور مسجد ہے اور اس کا وقف صحیح اور اس میں نماز جائزاور اگر خود اپنا روپیہ مختلط بلکہ حرام ہو اور اس سے مسجد یوں بنائے کہ زمین وخشت وغیرہما آلات کی خریداری میں زر حرام پرعقد ونقد جمع نہ ہو تو مذہب امام کرخی پر کہ اب وہی مفتی بہ ہے ان خریدی ہوئی اشیاء میں خباثت اثر نہ کرے گی۔
بل استحسن فی الطریقۃ المحمدیۃ الافتاء بمااوسع من ھنا وھوان الخبث لایسری فی الابدال مطلقا اذا کان ذلك فیمالایتعین فی البیع کالدراھم والدنانیر۔ بلکہ طریقہ محمدیہ میں تو اس سے وسیع ترصورت پر فتوی کو مستحسن قرار دیا ہے اور وہ یہ کہ خباثت ابدال میں مطلقا اثر نہیں کرتی جبکہ ان اشیاء میں ہوجو بیوع میں متعین نہیں ہوتیں جیسے دراہم ودنانیر۔(ت)
حرام پر عقد کے یہ معنی کہ زرحرام دکھا کر کہے اس کے عوض فلاں شیئ دے دےاور نقد کے یہ معنی کہ پھر زر حرام ہی اس کے معاوضہ میں دےا گر مطلقا بغیر روپیہ دکھائے کوئی چیز خریدے اور پھر زرحرام عوض میں دیا تو یہ دینا اگرچہ اسے حرام تھا
لانہ فیہ بادائہ الی من کان لہ وان لم یبق ھو ولاوارثہ اولم یعرف فالتصدق وھذا عدول عنھما فلایجوز۔ کیونکہ اس میں وہ مال حرام اس شخص کو واپس کرنے کا پابند تھا جس کا وہ ہے اگر وہ یا اس کا کوئی وارث باقی نہیں یا ان کاعلم نہیں توصدقہ کرنا لازم ہے جبکہ یہ مال حرام کسی کو معاوضے میں دینے اور اصل مالك کو واپس کرنے سے عدول ہوگا تو جائز نہیں(ت)
بلکہ بائع کو بھی لینا حرام تھا جبکہ اسے معلوم ہوکہ یہ روپیہ عین حرام اور اس کے پاس بلا ملك ہے جیسے غصب ورشوت واجرت زنا وغیرہ کا روپیہ مگر جبکہ حرام پر عقد نہ ہوافردمطلق پر ہواخریدی ہوئی شے میں خبث نہ آیا یونہی اگر زر حرام دکھا کر کہا اس کے عوض فلاں شیئ دے دےجب اس نے دے دی اس نے وہ روپیہ ثمن میں نہ دیا بلکہ زرحلال دیاتو اب اگرچہ عقد حرام پر ہوا مگر نقد اس کا نہ ہواان دونوں صورتوں میں مذہب مفتی بہ پر ابدال یعنی خریدی ہوئی چیزیں حلال رہتی ہیں اور ظاہر ہے کہ یہاں عام خریداریاں اسی صورت اولی پر ہوتی ہیں کہ حرام پر عقد نہیں ہوتااور اگر بالفرض بعض آلات پر اتفاقا ایسا ہوا ہو تو اس کا حال معلوم نہیں
وقد قال فی الاصل بہ ناخذمالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۔ امام محمد نے اصل میں فرمایا کہ ہم اسی کو اپناتے ہیں جب تك ہمیں کسی خاص شئے کے حرام ہونے کا پتا نہ چل جائے۔(ت)
تو ایسی مساجدکی مسجدیت اور ان میں نماز کی صحت میں شك نہیں وقد فصلنا المسألۃ فی فتاونا(تحقیق ہم نے اس مسئلہ کی تفصیل اپنے فتاوی میں بیان کردی ہے۔ت)
مسئلہ۱۴۵: از شہر کہنہ ۲۳محرم شریف ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چھوٹی مسجد کو مسلمانوں نے بڑھایا جو زمین اندر آتی اس میں ایك محراب ہوتی ہے کسی حساب سے پانچ در نہیں ہوسکتےنہ تو زمین زیادہ ہے کہ دو در بن کر پانچ ہوجائیں نہ اتنا روپیہ کہ سامنے کی محرابیں توڑ کر اس زمین کو شامل کرکے تین در بنائے جائیںاب اگر ایك در تیار ہوجائے اور سب مل کر چاردر ہوجائیں تو کسی طرح کا نماز میں فتور آئے گا یانہیںشرع شریف نے کیا اجازت دی ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
اتنا ضرور ہے کہ طاق عدد اﷲ عزوجل کو محبوب ہے ان اﷲ وتریحب الوتر (اﷲ تعالی وتر یعنی طاق ہے اور طاق کو پسند کرتاہے۔ت)اور یہاں عام مسلمانوں میں مسجد کے درطاق ہی رکھنے کا رواج ہے وقد نص العلماء ان الخروج عن العادۃ شھرۃ ومکروہ(علماء نے تصریح فرمائی کہ مسلمانوں کی عادت مستمرہ سے خروج مکروہ ہے۔ت)تو جہاں تك ممکن ہو مخالفت عادت مسلمین سے احتراز کریں اور ناممکن ہو تو کوئی حرج نہیں اور نماز میں تو کسی طرح دروں کے طاق یا جفت ہونے سے کوئی فضیلت یا فتور اصلانہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۶: مرسلہ عنایت حسین ۴صفر ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك موضع میں ایك مسجد چھوٹی ہے اور ایك جانب اس کے قبرستان ہے دو جانب تالاب ہے اور ایك جانب راستہ ہے اور مرمت طلب ہےایك شخص یہ چاہتاہے کہ میں ایك مسجد بناؤں مگر شرط یہ ہے کہ اس مسجد سے بڑی ہو اور اس میں حجرہ وغیرہ
تو ایسی مساجدکی مسجدیت اور ان میں نماز کی صحت میں شك نہیں وقد فصلنا المسألۃ فی فتاونا(تحقیق ہم نے اس مسئلہ کی تفصیل اپنے فتاوی میں بیان کردی ہے۔ت)
مسئلہ۱۴۵: از شہر کہنہ ۲۳محرم شریف ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چھوٹی مسجد کو مسلمانوں نے بڑھایا جو زمین اندر آتی اس میں ایك محراب ہوتی ہے کسی حساب سے پانچ در نہیں ہوسکتےنہ تو زمین زیادہ ہے کہ دو در بن کر پانچ ہوجائیں نہ اتنا روپیہ کہ سامنے کی محرابیں توڑ کر اس زمین کو شامل کرکے تین در بنائے جائیںاب اگر ایك در تیار ہوجائے اور سب مل کر چاردر ہوجائیں تو کسی طرح کا نماز میں فتور آئے گا یانہیںشرع شریف نے کیا اجازت دی ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
اتنا ضرور ہے کہ طاق عدد اﷲ عزوجل کو محبوب ہے ان اﷲ وتریحب الوتر (اﷲ تعالی وتر یعنی طاق ہے اور طاق کو پسند کرتاہے۔ت)اور یہاں عام مسلمانوں میں مسجد کے درطاق ہی رکھنے کا رواج ہے وقد نص العلماء ان الخروج عن العادۃ شھرۃ ومکروہ(علماء نے تصریح فرمائی کہ مسلمانوں کی عادت مستمرہ سے خروج مکروہ ہے۔ت)تو جہاں تك ممکن ہو مخالفت عادت مسلمین سے احتراز کریں اور ناممکن ہو تو کوئی حرج نہیں اور نماز میں تو کسی طرح دروں کے طاق یا جفت ہونے سے کوئی فضیلت یا فتور اصلانہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۶: مرسلہ عنایت حسین ۴صفر ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك موضع میں ایك مسجد چھوٹی ہے اور ایك جانب اس کے قبرستان ہے دو جانب تالاب ہے اور ایك جانب راستہ ہے اور مرمت طلب ہےایك شخص یہ چاہتاہے کہ میں ایك مسجد بناؤں مگر شرط یہ ہے کہ اس مسجد سے بڑی ہو اور اس میں حجرہ وغیرہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲€
مسند احمد بن حنبل ازمسند علی رضی اﷲ عنہ دارالفکربیروت ∞۱/ ۱۴۳€
مسند احمد بن حنبل ازمسند علی رضی اﷲ عنہ دارالفکربیروت ∞۱/ ۱۴۳€
اور وہیں چاہ بھی ہو اور پیش امام اور مؤذن کے واسطے بھی انتظام جائداد سے کردیا جائے اور یہ جو مسجد ہے اسکے آس پاس بڑھانے کی گنجائش نہیں ہے اگر دوسری مسجد اس موضع میں تعمیرہوئی تو یہ مسجد ویران ہوجائے گی اس میں کوئی نماز ی نماز کے واسطے نہیں آئے گا اس وجہ سے کہ اس مسجد میں کوئی امام نہیں ہے اور نمازی بھی ایسے نہیں کہ اس میں امامت کرکے جماعت کرلیں ایسی حالت میں مسجد تعمیر کرنا چاہئے یانہیںاور یہ مسجد شہید کرکے اینٹ وغیرہ اس مسجد کی اس مسجد میں لگائیں یا کیاکریں
الجواب:
مسجد بنانا باعث اجر عظیم ہے جس طرح ممکن ہو کوشش کیجائے وہ مسجد بھی آباد رہے او ریہ بھی آباد ہوثواب لینا چاہتا ہے تو اس کے لئے بھی امام مقرر کرے اگرکسی طرح یہ ممکن ہوبلکہ اگر معلوم ہوکہ اس مسجد کا بننا اسے ویران کردے گا توہر گز نہ بنائے کہ مسجد کا ویران کرنا حرام قطعی ہے اور اسے شہید کرنا حرام قطعیاورآباد مسجد کی اینٹ وغیرہ دوسری مسجد میں لگادینا حرام قطعی۔
قال اﷲتعالی" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ اس سے ظالم تر کون ہوسکتا ہے جو مساجد میں اﷲکے ذکر سے روکے اور ان کی بربادی کی سعی کرے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۷: ازبدایون ۲۰صفر ۱۳۲۳ھ
زید نے قبرستان قدیم اہل اسلام کو پاٹ کر ان قبروں کی چھت پر مسجد بنانا اور اس کو ایك مسجد قدیم کے صحن میں داخل کرنے کا قصد کیا ہے اور دروازہ قدیم مسجد کو بھی پاٹ کر اسکے نیچے دکان یا حجرہ بنانا اور چھت کو مسجدکرنا چاہتا ہےآیا شرعا زید کویہ منصب ہے اور یہ سقف قبور مسجد ہوجائے گی اور مصلی کو ثواب مسجد ملے گایانہیںبینواتوجرواعندا ﷲ تعالی(بیان کیجئے اور اﷲ تعالی سے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
دروازہ پاٹ کر اس کے نیچے دکان بنانا ہرگز جائز نہیںعالمگیری میں ہے:
قیم المسجد لایجوزلہ ان یبنی حوانیت فی حد المسجداوفی فنائہ ۔ ناظم مسجدکو جائز نہیں کہ وہ مسجد کی حدود میں یا فنائے مسجد میں دکانیں بنائے(ت)
الجواب:
مسجد بنانا باعث اجر عظیم ہے جس طرح ممکن ہو کوشش کیجائے وہ مسجد بھی آباد رہے او ریہ بھی آباد ہوثواب لینا چاہتا ہے تو اس کے لئے بھی امام مقرر کرے اگرکسی طرح یہ ممکن ہوبلکہ اگر معلوم ہوکہ اس مسجد کا بننا اسے ویران کردے گا توہر گز نہ بنائے کہ مسجد کا ویران کرنا حرام قطعی ہے اور اسے شہید کرنا حرام قطعیاورآباد مسجد کی اینٹ وغیرہ دوسری مسجد میں لگادینا حرام قطعی۔
قال اﷲتعالی" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ اس سے ظالم تر کون ہوسکتا ہے جو مساجد میں اﷲکے ذکر سے روکے اور ان کی بربادی کی سعی کرے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۷: ازبدایون ۲۰صفر ۱۳۲۳ھ
زید نے قبرستان قدیم اہل اسلام کو پاٹ کر ان قبروں کی چھت پر مسجد بنانا اور اس کو ایك مسجد قدیم کے صحن میں داخل کرنے کا قصد کیا ہے اور دروازہ قدیم مسجد کو بھی پاٹ کر اسکے نیچے دکان یا حجرہ بنانا اور چھت کو مسجدکرنا چاہتا ہےآیا شرعا زید کویہ منصب ہے اور یہ سقف قبور مسجد ہوجائے گی اور مصلی کو ثواب مسجد ملے گایانہیںبینواتوجرواعندا ﷲ تعالی(بیان کیجئے اور اﷲ تعالی سے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
دروازہ پاٹ کر اس کے نیچے دکان بنانا ہرگز جائز نہیںعالمگیری میں ہے:
قیم المسجد لایجوزلہ ان یبنی حوانیت فی حد المسجداوفی فنائہ ۔ ناظم مسجدکو جائز نہیں کہ وہ مسجد کی حدود میں یا فنائے مسجد میں دکانیں بنائے(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۱۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞فصل ثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞فصل ثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲€
اور حجرہ بنانے کی اجازت ہے جبکہ زمین مسجد سے اس میں کچھ نہ لیا جائےنہ مسجد پرراہ وغیرہ کسی امر کی تنگی لازم آئے اور یہ تغییر دروازہ کرنے والے خود اہل محلہ ہوں یا ان کے اذن سے ہو۔فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:لاھل المحلۃ تحویل باب المسجد (اہل محلہ کو دراوزہ مسجد کی تبدیل کااختیار ہے۔ت)اور اس صورت میں حجرہ کی چھت مسجد ہوجائے گی جبکہ برضائے اہل محلہ ہے۔خلاصہ میں ہے:
ارض وقف علی مسجد والارض بجنب ذلك المسجد وارادوا ان یزید وا فی المسجد شیئا من الارض جاز الخ ۔ ایك زمین مسجد کے لئے وقف ہوئی اور اس مسجد کے پہلو میں زمین ہے اہل محلہ نے ارادہ کیا کہ مسجدمیں کچھ اضافہ اس زمین سے کریں تو جائز ہے الخ(ت)
فتاوی کبری پھر جامع المضمرات شرح القدوری پھر فتاوی ہندیہ میں ہے:
مسجداراد اھلہ ان یجعل الرحبۃ مسجدا وان یحولوا الباب عن موضعہ فلہم ذلك فان اختلفوا نظر ایھم اکثر وافضل فلھم ذلك اھبتلخیص۔ اہل محلہ نے چاہاکہ برآمدہ کو مسجدکردیں اوردروازہ کو اپنی جگہ سے تبدیل کردیں تو جائز ہے اور اگر ان میں باہم اختلاف ہو تو دیکھاجائے گا کہ ان میں اکثر وافضل گروہ کی کیا رائے ہے اور انہیں کو اختیاردیاجائیگااھ بتلخیص(ت)
اور اس کے نیچے حجرہ ہونا کچھ منافی مسجدیت سقف نہ ہوگاقول بحر شرط کونہ مسجداان یکون سفلہ وعلوہ مسجدا (اس کے مسجد ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس کے نیچے اور اوپر والاحصہ بھی مسجد ہو۔ت)یہاں وارد ہوگا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جمیع جہات میں حقوق مالکانہ عباد سے منقطع ہومصالح مسجد توابع مسجد ہیں خود بحر میں تتمہ عبارت مذکوریہ ہے:
لینقطع حق العبد عنہ بقولہ تعالی وان المسجدﷲ بخلاف ما اذا کان السرداب العلو موقوفا لمصالح المسجد کسرداب بیت المقدس ھذاھوظاہر تاکہ حق عبداس سے منقطع ہوجائے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی بنیاد پرکہ مسجدیں اﷲتعالی کی ہیں بخلاف اس کے کہ جب تہ خانہ یا بالاخانہ مصالح مسجد کیلئے موقوف ہوں جیسا کہ بیت المقدس کا تہہ خانہ ہے
ارض وقف علی مسجد والارض بجنب ذلك المسجد وارادوا ان یزید وا فی المسجد شیئا من الارض جاز الخ ۔ ایك زمین مسجد کے لئے وقف ہوئی اور اس مسجد کے پہلو میں زمین ہے اہل محلہ نے ارادہ کیا کہ مسجدمیں کچھ اضافہ اس زمین سے کریں تو جائز ہے الخ(ت)
فتاوی کبری پھر جامع المضمرات شرح القدوری پھر فتاوی ہندیہ میں ہے:
مسجداراد اھلہ ان یجعل الرحبۃ مسجدا وان یحولوا الباب عن موضعہ فلہم ذلك فان اختلفوا نظر ایھم اکثر وافضل فلھم ذلك اھبتلخیص۔ اہل محلہ نے چاہاکہ برآمدہ کو مسجدکردیں اوردروازہ کو اپنی جگہ سے تبدیل کردیں تو جائز ہے اور اگر ان میں باہم اختلاف ہو تو دیکھاجائے گا کہ ان میں اکثر وافضل گروہ کی کیا رائے ہے اور انہیں کو اختیاردیاجائیگااھ بتلخیص(ت)
اور اس کے نیچے حجرہ ہونا کچھ منافی مسجدیت سقف نہ ہوگاقول بحر شرط کونہ مسجداان یکون سفلہ وعلوہ مسجدا (اس کے مسجد ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس کے نیچے اور اوپر والاحصہ بھی مسجد ہو۔ت)یہاں وارد ہوگا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جمیع جہات میں حقوق مالکانہ عباد سے منقطع ہومصالح مسجد توابع مسجد ہیں خود بحر میں تتمہ عبارت مذکوریہ ہے:
لینقطع حق العبد عنہ بقولہ تعالی وان المسجدﷲ بخلاف ما اذا کان السرداب العلو موقوفا لمصالح المسجد کسرداب بیت المقدس ھذاھوظاہر تاکہ حق عبداس سے منقطع ہوجائے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی بنیاد پرکہ مسجدیں اﷲتعالی کی ہیں بخلاف اس کے کہ جب تہ خانہ یا بالاخانہ مصالح مسجد کیلئے موقوف ہوں جیسا کہ بیت المقدس کا تہہ خانہ ہے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف باب الرجل جعل دارہ مسجداً ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۱۳€
خلاصۃ الفتاوی کتاب الوقف الفصل الرابع فی المسجد ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۲۱€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶€
بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۱€
خلاصۃ الفتاوی کتاب الوقف الفصل الرابع فی المسجد ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۲۱€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶€
بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۱€
الروایۃ ۔ یہی ظاہر الروایہ میں ہے(ت)
ہدایہ میں ہے:
من جعل مسجداتحتہ سرداب اوفوقہ بیت وجعل باب المسجد الی الطریق وعزلہ عن مبلکہ فلہ ان یبیعہ وان مات یورث عنہ لانہ لم یخلص ﷲتعالی لبقاء حق العبد متعلقا بہ ولوکان السرداب لمصالح المسجد جاز ۔ جس شخص نے مسجد بنائی جس کے نیچے تہ خانہ اور اوپر مکان ہے اس نے مسجد کادروازہ راستے کی طرف بنایااور اس کو اپنی ملك سے نکال دیا تو وہ اس کو بیچنے کااختیار رکھتا ہے اگر وہ مرجائے تو اس کی میراث قرار پائے گا کیونکہ وہ خالص اﷲ تعالی کے لئے نہیں ہو ا اس سبب سے حق عبد اس کے ساتھ منسلك رہا اور اگر وہ تہ خانہ مصالح مسجد کیلئے ہوتو جائز ہے۔ (ت)
ہاں اگر زید بطور خود یہ کارروائی بے رضائے اہل محلہ کرے تو وہ چھت مسجد نہ ہوجائے گی اور اس میں نماز اگرچہ جائزہے مگر اس پر نماز مسجد کا ثواب نہ ہوگا۔ عالمگیریہ میں ہے:
متولی مسجد جعل منزلا موقوفا علی المسجد مسجدا وصلی الناس فیہ سنین ثم ترك الناس الصلوۃ فیہ فاعید منزلا مستغلا جاز لانہ لم یصح جعل المتولی ایاہ مسجدا کذا فی الواقعات الحسامیۃ ۔ ایك مسجد کے متولی نے ایك گھر جو کہ مسجد پر موقوف تھا کو مسجد بنادیا لوگ اس میں کئی برس نماز پڑھتے رہےپھر لوگوں نے اس میں نماز پڑھنا چھوڑدیا پھر وہ اپنی سابقہ حالت یعنی کرایہ پر چلنے لگا تو جائز ہے کیونکہ متولی کااس کو مسجد کردینا صحیح نہیں ہواتھایہ واقعات حسامیہ میں مذکور ہے(ت)
رہا مسلمانوں کا قبرستان قدیم کہ وہ ضرور دفن موتی کے لئے موقوف ہوتا ہےاس میں دوصورتیں ہیں اگر وہ قبرستان قابل کار ہو کہ اس میں دفن اموات کو جگہ بھی ہے اور کسی اور وجہ کے باعث اس سے استغناء بھی نہ ہوگیا نہ داخل حدود شہر ہونے کے سبب اس میں دفن کی ممانعت انگریزی طور پر ہوگئی جب تو اسے پاٹ کر دفن سے روك دینا سرے سے ناجائز وحرام ہے کہ یہ ابطال غرض وقف ہے اور وہ اصلار وا نہیں۔
ہدایہ میں ہے:
من جعل مسجداتحتہ سرداب اوفوقہ بیت وجعل باب المسجد الی الطریق وعزلہ عن مبلکہ فلہ ان یبیعہ وان مات یورث عنہ لانہ لم یخلص ﷲتعالی لبقاء حق العبد متعلقا بہ ولوکان السرداب لمصالح المسجد جاز ۔ جس شخص نے مسجد بنائی جس کے نیچے تہ خانہ اور اوپر مکان ہے اس نے مسجد کادروازہ راستے کی طرف بنایااور اس کو اپنی ملك سے نکال دیا تو وہ اس کو بیچنے کااختیار رکھتا ہے اگر وہ مرجائے تو اس کی میراث قرار پائے گا کیونکہ وہ خالص اﷲ تعالی کے لئے نہیں ہو ا اس سبب سے حق عبد اس کے ساتھ منسلك رہا اور اگر وہ تہ خانہ مصالح مسجد کیلئے ہوتو جائز ہے۔ (ت)
ہاں اگر زید بطور خود یہ کارروائی بے رضائے اہل محلہ کرے تو وہ چھت مسجد نہ ہوجائے گی اور اس میں نماز اگرچہ جائزہے مگر اس پر نماز مسجد کا ثواب نہ ہوگا۔ عالمگیریہ میں ہے:
متولی مسجد جعل منزلا موقوفا علی المسجد مسجدا وصلی الناس فیہ سنین ثم ترك الناس الصلوۃ فیہ فاعید منزلا مستغلا جاز لانہ لم یصح جعل المتولی ایاہ مسجدا کذا فی الواقعات الحسامیۃ ۔ ایك مسجد کے متولی نے ایك گھر جو کہ مسجد پر موقوف تھا کو مسجد بنادیا لوگ اس میں کئی برس نماز پڑھتے رہےپھر لوگوں نے اس میں نماز پڑھنا چھوڑدیا پھر وہ اپنی سابقہ حالت یعنی کرایہ پر چلنے لگا تو جائز ہے کیونکہ متولی کااس کو مسجد کردینا صحیح نہیں ہواتھایہ واقعات حسامیہ میں مذکور ہے(ت)
رہا مسلمانوں کا قبرستان قدیم کہ وہ ضرور دفن موتی کے لئے موقوف ہوتا ہےاس میں دوصورتیں ہیں اگر وہ قبرستان قابل کار ہو کہ اس میں دفن اموات کو جگہ بھی ہے اور کسی اور وجہ کے باعث اس سے استغناء بھی نہ ہوگیا نہ داخل حدود شہر ہونے کے سبب اس میں دفن کی ممانعت انگریزی طور پر ہوگئی جب تو اسے پاٹ کر دفن سے روك دینا سرے سے ناجائز وحرام ہے کہ یہ ابطال غرض وقف ہے اور وہ اصلار وا نہیں۔
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵€۱
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ ∞کراچی ۲/ ۶۲۴€
فتاوی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶€
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ ∞کراچی ۲/ ۶۲۴€
فتاوی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶€
عالمگیریہ میں ہے:لایجوز تغییر الوقف (وقف میں تغییر وتبدیل جائز نہیں۔ت) فتح القدیر میں ہے:
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ ۔ وقف کو حال سابق پر برقرار رکھنا واجب ہے(ت)
اور اگر وہ قابل کار نہ رہا یا اس سے استغناء ہوگیا یا وہاں دفن کی ممانعت ہوگئی جس کے سبب اب وہ اس کام میں صرف نہیں ہوسکتا یامسجد قدیم لب مقبرہ واقع ہے یہ بیرون حدود مقبرہ ستون قائم کرکے اوپر کافی بلندی پر پاٹ کر چھت کو صحن مسجد سابق سے ملا کر مسجد کردینا چاہتا ہے اس طرح کہ زمین مقبرہ نہ رکے نہ اس میں دفن موتی کرنے اور اس کی غرض سے لوگوں کے آنے جانے کی راہ رکے نہ اس چھت کے ستون قبور مسلمین پرواقع ہوں بلکہ حدود مقبرہ سے باہر ہوں تو اس میں حرج نہیں جبکہ وہ زمین جس میں ستون قائم کئے گئے متعلق مسجد ہو اور کارروائی اہل محلہ کی یا ان کے اذن سے ہو یا وہ زمین اس بانی سقف یا کسی دوسرے مسلمان کی ملك ہو اور مالك اسے ہر کام کے لئے وقف کردے یا وہ زمین افتادہ بیت المال کی ہو اور اس میں اس کارروائی سے مسلمانوں کے راستے وغیرہ کو ضرر نہ ہو کہ ان حالتوں میں اس نے کوئی بیجا تصرف نہ کیا نہ وقف کو روکا نہ اس کی زمین کو کسی دوسرے کام میں صرف کیا صرف بالائی ہوا میں کہ نہ موقوف تھی نہ مملوك ایك تصرف غیر مضر نفع مسلمین کےلئے کیا۔عالمگیریہ میں ہے:
ذکر فی المنتقی عن محمد رحمہ اﷲ تعالی فی الطریق الواسع بنی فیہ اھل المحلۃ مسجدا و ذلك لایضر بالطریق فمنعھم رجل فلا باس ان یبنواکذافی الحاوی ۔ منتقی میں حضرت امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے یوں منقول ہے کہ ایك وسیع راستہ میں اہل محلہ نے مسجد بنائی جس سے راستہ کو کچھ ضرر نہ پہنچا ایك شخص نے انہیں اس سے منع کیا تو ان کے مسجد تعمیر کرنے میں کوئی حرج نہیںحاوی میں یونہی ہے(ت)
اسی میں خزانۃ المفتین سے ہے:
قوم بنوامسجداواحتاجواالی مکان لوگوں نے مسجدبنائی تو انہیں مسجد کو وسیع کرنے
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ ۔ وقف کو حال سابق پر برقرار رکھنا واجب ہے(ت)
اور اگر وہ قابل کار نہ رہا یا اس سے استغناء ہوگیا یا وہاں دفن کی ممانعت ہوگئی جس کے سبب اب وہ اس کام میں صرف نہیں ہوسکتا یامسجد قدیم لب مقبرہ واقع ہے یہ بیرون حدود مقبرہ ستون قائم کرکے اوپر کافی بلندی پر پاٹ کر چھت کو صحن مسجد سابق سے ملا کر مسجد کردینا چاہتا ہے اس طرح کہ زمین مقبرہ نہ رکے نہ اس میں دفن موتی کرنے اور اس کی غرض سے لوگوں کے آنے جانے کی راہ رکے نہ اس چھت کے ستون قبور مسلمین پرواقع ہوں بلکہ حدود مقبرہ سے باہر ہوں تو اس میں حرج نہیں جبکہ وہ زمین جس میں ستون قائم کئے گئے متعلق مسجد ہو اور کارروائی اہل محلہ کی یا ان کے اذن سے ہو یا وہ زمین اس بانی سقف یا کسی دوسرے مسلمان کی ملك ہو اور مالك اسے ہر کام کے لئے وقف کردے یا وہ زمین افتادہ بیت المال کی ہو اور اس میں اس کارروائی سے مسلمانوں کے راستے وغیرہ کو ضرر نہ ہو کہ ان حالتوں میں اس نے کوئی بیجا تصرف نہ کیا نہ وقف کو روکا نہ اس کی زمین کو کسی دوسرے کام میں صرف کیا صرف بالائی ہوا میں کہ نہ موقوف تھی نہ مملوك ایك تصرف غیر مضر نفع مسلمین کےلئے کیا۔عالمگیریہ میں ہے:
ذکر فی المنتقی عن محمد رحمہ اﷲ تعالی فی الطریق الواسع بنی فیہ اھل المحلۃ مسجدا و ذلك لایضر بالطریق فمنعھم رجل فلا باس ان یبنواکذافی الحاوی ۔ منتقی میں حضرت امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے یوں منقول ہے کہ ایك وسیع راستہ میں اہل محلہ نے مسجد بنائی جس سے راستہ کو کچھ ضرر نہ پہنچا ایك شخص نے انہیں اس سے منع کیا تو ان کے مسجد تعمیر کرنے میں کوئی حرج نہیںحاوی میں یونہی ہے(ت)
اسی میں خزانۃ المفتین سے ہے:
قوم بنوامسجداواحتاجواالی مکان لوگوں نے مسجدبنائی تو انہیں مسجد کو وسیع کرنے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰€
فتح القدیر کتاب الوقف ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶€
فتح القدیر کتاب الوقف ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶€
لیتسع المسجد واخذوامن الطریق وادخلوہ فی المسجد ان کان یضرباصحاب الطریق لایجوز وان کان لایضربھم رجوت ان لایکون بہ بأس کذافی المضمرات وھو المختار کذافی خزانۃ المفتین ۔ کے لئے کچھ جگہ کی ضرورت پڑی اور انہوں نے راستہ سے کچھ جگہ لے کر مسجد میں داخل کرلیاگر اس سے راستہ والوں کو ضرر ہوتو ناجائز ہے اور اگر ضررنہ ہوتو مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہ ہوگا جیساکہ مضمرات میں ہے اور یہی مختار ہے خزانۃ المفتین میں یونہی ہے۔(ت)
نیز ہندیہ میں حق عام کی شے پاٹ کر مسجد اس طرح بنانے کا جس سے ان حقوق کو ضرر نہ پہنچے جزئیہ یہ ہے:
فی نوادرھشام سألت محمدالحسن عن نھر قریۃ کثیرۃ الاھل لایحصی عددھم وھو نھر قناۃ او نھر وادلھم خاصۃواراد قوم ان یعمر وابعض ھذاالنھر ویبنوا علیہ مسجدا اولا یضر ذلك بالنھر ولا یتعرض لھم احدمن اھل النھرقال محمد رحمہ اﷲ تعالی یسعھم ان یبنواذلك المسجد للعامۃ او المحلۃ کذافی المحیط ۔ ہشام نے نوادر میں کہا کہ میں نے امام محمد بن حسن رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے دریافت فرمایا کہ ایك کثیر آبادی والے قصبہ میں ایك نہر ہے جو کہ جنگل یا پہاڑ کے نالے کی صورت میں ہے اور وہ خاص انہی لوگوں کی ہے اب کچھ لوگوں کا ارادہ ہوا کہ وہ نہر کے کچھ حصہ تعمیر کرکے مسجد بنادیںاس سے نہ تو نہر کو کوئی نقصان ہے اور نہ ہی نہر والوں میں سے کسی کو کوئی اعتراض ہے تو امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو ایسی مسجد بنانے کا اختیارہے چاہے وہ مسجدا ہل محلہ کےلئے بنائیں یا عام لوگوں کے لئےجیساکہ محیط میں ہے۔(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ وہ وقف بھی مسجد ہوجائے گی اور اس میں نمازی کو ثواب مسجد ملے گا اور اس کے نیچے قبریں ہونا اس بنا پر کہ ہمارے علماء نے قبروں کے سطح بالائی کو حق میت لکھا ہے
فی العالمگیریۃ عن القنیۃ قال علاء الترجمانی یأثم بوطئ القبور لان سقف القبر حق المیت ۔ عالمگیریہ میں بحوالہ قنیہ مذکور ہے کہ علاء ترجمانی نے فرمایاقبور کوروند نا گناہ ہے کیونکہ قبروں کی بالائی سطح میت کا حق(ملکیت)ہے۔(ت)
نیز ہندیہ میں حق عام کی شے پاٹ کر مسجد اس طرح بنانے کا جس سے ان حقوق کو ضرر نہ پہنچے جزئیہ یہ ہے:
فی نوادرھشام سألت محمدالحسن عن نھر قریۃ کثیرۃ الاھل لایحصی عددھم وھو نھر قناۃ او نھر وادلھم خاصۃواراد قوم ان یعمر وابعض ھذاالنھر ویبنوا علیہ مسجدا اولا یضر ذلك بالنھر ولا یتعرض لھم احدمن اھل النھرقال محمد رحمہ اﷲ تعالی یسعھم ان یبنواذلك المسجد للعامۃ او المحلۃ کذافی المحیط ۔ ہشام نے نوادر میں کہا کہ میں نے امام محمد بن حسن رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے دریافت فرمایا کہ ایك کثیر آبادی والے قصبہ میں ایك نہر ہے جو کہ جنگل یا پہاڑ کے نالے کی صورت میں ہے اور وہ خاص انہی لوگوں کی ہے اب کچھ لوگوں کا ارادہ ہوا کہ وہ نہر کے کچھ حصہ تعمیر کرکے مسجد بنادیںاس سے نہ تو نہر کو کوئی نقصان ہے اور نہ ہی نہر والوں میں سے کسی کو کوئی اعتراض ہے تو امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو ایسی مسجد بنانے کا اختیارہے چاہے وہ مسجدا ہل محلہ کےلئے بنائیں یا عام لوگوں کے لئےجیساکہ محیط میں ہے۔(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ وہ وقف بھی مسجد ہوجائے گی اور اس میں نمازی کو ثواب مسجد ملے گا اور اس کے نیچے قبریں ہونا اس بنا پر کہ ہمارے علماء نے قبروں کے سطح بالائی کو حق میت لکھا ہے
فی العالمگیریۃ عن القنیۃ قال علاء الترجمانی یأثم بوطئ القبور لان سقف القبر حق المیت ۔ عالمگیریہ میں بحوالہ قنیہ مذکور ہے کہ علاء ترجمانی نے فرمایاقبور کوروند نا گناہ ہے کیونکہ قبروں کی بالائی سطح میت کا حق(ملکیت)ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵€۷
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵€۷
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵€۷
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱€
اور مسجد کا جمیع جہات میں حقوق العبادسے منقطع ہونا لازم ہے کما تقدم(جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)ہرگز مانع مسجدیت نہ ہوگا کہ اس حق سے مراد کسی کی ملك یا وہ حق مالکانہ ہے جس کے سبب وہ اس مسجد میں تصرف سے مانع آسکے کہ جب ایسا ہوگا تو وہ خالص لوجہ اﷲنہ ہوئیاور مسجد کاخالص لوجہ اﷲہونا ضرور ہےولہذا فتح القدیر میں عبارت مذکورہ ہدایہ کی شرح میں فرمایا:
المسجد خالص ﷲ سبحانہ لیس لاحد فیہ حقوھو منتف فیما ذکر اما اذاکان السفل مسجدافان لصاحب العلو حقافی السفل حتی منع صاحبہ ان ینقب فیہ کوۃ اویتد فیہ وتداواما اذاکان العلو مسجدا فلان ارض العلو ملك لصاحب السفل بخلاف ما اذاکان السرداب اوالعلو موقوفا لصاحب المسجد فانہ یجوز اذلا ملك فیہ لاحد اھ مختصرا۔ مسجد خالص اﷲ تعالی کے لئے ہے اس میں کسی کا حق نہیں اور یہ بات صورت مذکورہ میں منتفی ہے لیکن اگر نیچے والا حصہ مسجد ہو پھر تو ا س لئے کہ بالاخانے والا نچلے حصہ میں حق رکھتا ہے یہاں تك کہ نیچے والے کو دیواروں میں سوراخ کھودنے یا میخ گاڑنے سے منع کرسکتا ہےاور اگر اوپر والا حصہ مسجد ہوتو پھر اس لئے کہ بالاخانے کی زمین نیچے والے کی ملك ہے بخلاف اس کے اگر تہ خانہ اور بالاخانہ دونوں ہی مصلحت مسجد کےلئے وقف کردئے گئے ہوں تو صحیح ہے کیونکہ اب اس میں کسی کی ملك باقی نہیں رہا اھ مختصرا۔(ت)
مطلقا حق العبد کا تعلق اگر مانع مسجد یت ہوتو کوئی مسجد مسجد نہ ہوسکے کہ ہر مسجد میں ادائے نماز واعتکاف وغیرہ عام مسلمانوں یا خاص اس کے اہل کا بخصوصیت زائدہ حق ہے جس کے باعث وہ بحال تنگی اوروں کو اپنی مسجد محلہ میں نماز سے منع کرسکتے ہیں۔ عالمگیریہ میں ہے:
اذا ضاق المسجد کان للمصلی یزعج القاعد عن موضع لیصلی فیہ وان کان مشتغلا بالذکراوالدرس او قراءۃ القران اوالاعتکاف وکذالاھل المحلۃ ان یمنعوا من لیس منھم عن الصلوۃ فیہ اذا ضا ق بھم المسجد کذافی القنیۃ ۔ اگر مسجد تنگ ہوتو نمازی دوسرے شخص کو جو کہ وہاں بیٹھا ہوا ہے وہاں سے ہٹاکر نماز پڑھ سکتا ہے اگرچہ وہ بیٹھاہوا شخص ذکرتلاوت یا ا عتکاف میں مشغول ہو یوں ہی مسجد کی تنگی کی صورت میں اہل محلہ دوسروں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے منع کرسکتے ہیں یونہی قنیہ میں ہے۔(ت)
المسجد خالص ﷲ سبحانہ لیس لاحد فیہ حقوھو منتف فیما ذکر اما اذاکان السفل مسجدافان لصاحب العلو حقافی السفل حتی منع صاحبہ ان ینقب فیہ کوۃ اویتد فیہ وتداواما اذاکان العلو مسجدا فلان ارض العلو ملك لصاحب السفل بخلاف ما اذاکان السرداب اوالعلو موقوفا لصاحب المسجد فانہ یجوز اذلا ملك فیہ لاحد اھ مختصرا۔ مسجد خالص اﷲ تعالی کے لئے ہے اس میں کسی کا حق نہیں اور یہ بات صورت مذکورہ میں منتفی ہے لیکن اگر نیچے والا حصہ مسجد ہو پھر تو ا س لئے کہ بالاخانے والا نچلے حصہ میں حق رکھتا ہے یہاں تك کہ نیچے والے کو دیواروں میں سوراخ کھودنے یا میخ گاڑنے سے منع کرسکتا ہےاور اگر اوپر والا حصہ مسجد ہوتو پھر اس لئے کہ بالاخانے کی زمین نیچے والے کی ملك ہے بخلاف اس کے اگر تہ خانہ اور بالاخانہ دونوں ہی مصلحت مسجد کےلئے وقف کردئے گئے ہوں تو صحیح ہے کیونکہ اب اس میں کسی کی ملك باقی نہیں رہا اھ مختصرا۔(ت)
مطلقا حق العبد کا تعلق اگر مانع مسجد یت ہوتو کوئی مسجد مسجد نہ ہوسکے کہ ہر مسجد میں ادائے نماز واعتکاف وغیرہ عام مسلمانوں یا خاص اس کے اہل کا بخصوصیت زائدہ حق ہے جس کے باعث وہ بحال تنگی اوروں کو اپنی مسجد محلہ میں نماز سے منع کرسکتے ہیں۔ عالمگیریہ میں ہے:
اذا ضاق المسجد کان للمصلی یزعج القاعد عن موضع لیصلی فیہ وان کان مشتغلا بالذکراوالدرس او قراءۃ القران اوالاعتکاف وکذالاھل المحلۃ ان یمنعوا من لیس منھم عن الصلوۃ فیہ اذا ضا ق بھم المسجد کذافی القنیۃ ۔ اگر مسجد تنگ ہوتو نمازی دوسرے شخص کو جو کہ وہاں بیٹھا ہوا ہے وہاں سے ہٹاکر نماز پڑھ سکتا ہے اگرچہ وہ بیٹھاہوا شخص ذکرتلاوت یا ا عتکاف میں مشغول ہو یوں ہی مسجد کی تنگی کی صورت میں اہل محلہ دوسروں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے منع کرسکتے ہیں یونہی قنیہ میں ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الوقف فصل اختص المسجد باحکام ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۵۔۴۴€۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۲€
بلکہ حق میت کہ قبر وسقف قبر میں ہے اگر ان حقوق عباد سے ہو جن کا تعلق خلوص لوجہ اﷲتعالی سے مانع ہوتو سرے سے مقبرہ موقوفہ ہی محال ہوجائے کہ مسجد کی طرح مقبرہ میں بھی محض خلوص وانقطاع جملہ حقوق عباد شرط ہے ولہذا بالاجماع مسجد کی طرح اس میں بھی افراز شرط ہوا۔ہدایہ میں ہے:
وقف المشاع جائز عندابی یوسف الافی المسجد والمقبرۃ فانہ لایتم ایضا عند ابی یوسف لان بقاء الشرکۃ یمنع الخلوص ﷲ تعالی اھ ۔مختصرا۔ امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیك وقف مشاع جائز ہے سوائے مسجد ومقبرہ کےاور وہ بھی امام ابویوسف کے نزدیك تام نہیں ہوتا کیونکہ شرکت اس وقف کے خالص اﷲ تعالی کےلئے ہونے سے مانع ہے اھ مختصرا(ت)
فتح القدیر میں ہے:
انما اتفقواعلی منع وقف المشاع مطلقا مسجد او مقبرۃ لان الشیوع یمنع خلوص الحق ﷲ تعالی ۔ مسجد ومقبرہ میں وقف مشاع کے مطلقا ممنوع ہونے پر تمام ائمہ متفق ہیں کیونکہ شیوع وقف کے خالص اﷲ تعالی کے لئے ہونے سے مانع ہے(ت)
بلکہ میت تو کوئی حق مالکانہ نہیں رکھتا لان الموت ینافی الملک(کیونکہ موت ملکیت کے منافی ہے۔ت)نہر عام کی طرح نہر خاص اہل محلہ کا جزئیہ گزرا کہ اس کے اوپر پاٹ کر مسجد بنادینا جائزہے جبکہ ان کی نہر کو ضرر نہ پہنچے نہ وہ مانع آئیں تو اوپر مسجد ہے اور نیچے نہر بہتی ہے جس میں خاص قوم کا حق مالکانہ ہے مگر ازانجا کہ ان کے حق میں کوئی تصرف نہ کیانہ انہیں بالائے نہر اس پٹی ہوئی عمارت میں نماز سے ممانعت پہنچتی ہے کہ ان کا حق نہر میں ہے نہ کہ ہوا میںوہ مسجدصحیح وجائز ہوگئی بلکہ حق مالکانہ درکنار خاص زمین مسجد جس پر عمارت بناکر مسجد کی گئی اگر ملك غیر ہو مگر اسے حق مزاحمت اصلا نہ رہا ہو تو مذہب مفتی بہ پر وہ خالی عمارت بھی مسجد ہوجائے گی۔درمختار میں ہے:
بنی علی ارض ثم وقف البناء قصدابدونھا ان الارض مملوکۃ لایصح وقیل صح وعلیہ الفتویوان موقوفہ علی ایك شخص نے کسی زمین پر عمارت بنائی پھر بالقصد عمارت کو وقف کیا بغیر زمین کےاگر وہ زمین کسی کی مملوك ہے تو وقف صحیح نہیںاور ایك قول
وقف المشاع جائز عندابی یوسف الافی المسجد والمقبرۃ فانہ لایتم ایضا عند ابی یوسف لان بقاء الشرکۃ یمنع الخلوص ﷲ تعالی اھ ۔مختصرا۔ امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے نزدیك وقف مشاع جائز ہے سوائے مسجد ومقبرہ کےاور وہ بھی امام ابویوسف کے نزدیك تام نہیں ہوتا کیونکہ شرکت اس وقف کے خالص اﷲ تعالی کےلئے ہونے سے مانع ہے اھ مختصرا(ت)
فتح القدیر میں ہے:
انما اتفقواعلی منع وقف المشاع مطلقا مسجد او مقبرۃ لان الشیوع یمنع خلوص الحق ﷲ تعالی ۔ مسجد ومقبرہ میں وقف مشاع کے مطلقا ممنوع ہونے پر تمام ائمہ متفق ہیں کیونکہ شیوع وقف کے خالص اﷲ تعالی کے لئے ہونے سے مانع ہے(ت)
بلکہ میت تو کوئی حق مالکانہ نہیں رکھتا لان الموت ینافی الملک(کیونکہ موت ملکیت کے منافی ہے۔ت)نہر عام کی طرح نہر خاص اہل محلہ کا جزئیہ گزرا کہ اس کے اوپر پاٹ کر مسجد بنادینا جائزہے جبکہ ان کی نہر کو ضرر نہ پہنچے نہ وہ مانع آئیں تو اوپر مسجد ہے اور نیچے نہر بہتی ہے جس میں خاص قوم کا حق مالکانہ ہے مگر ازانجا کہ ان کے حق میں کوئی تصرف نہ کیانہ انہیں بالائے نہر اس پٹی ہوئی عمارت میں نماز سے ممانعت پہنچتی ہے کہ ان کا حق نہر میں ہے نہ کہ ہوا میںوہ مسجدصحیح وجائز ہوگئی بلکہ حق مالکانہ درکنار خاص زمین مسجد جس پر عمارت بناکر مسجد کی گئی اگر ملك غیر ہو مگر اسے حق مزاحمت اصلا نہ رہا ہو تو مذہب مفتی بہ پر وہ خالی عمارت بھی مسجد ہوجائے گی۔درمختار میں ہے:
بنی علی ارض ثم وقف البناء قصدابدونھا ان الارض مملوکۃ لایصح وقیل صح وعلیہ الفتویوان موقوفہ علی ایك شخص نے کسی زمین پر عمارت بنائی پھر بالقصد عمارت کو وقف کیا بغیر زمین کےاگر وہ زمین کسی کی مملوك ہے تو وقف صحیح نہیںاور ایك قول
حوالہ / References
الھدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ ∞کراچی ۲/ ۶۱۸€
فتح القدیر کتاب الوقف ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۲۶€
فتح القدیر کتاب الوقف ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۲۶€
ماعین البناء لہ جازتبعا اجماعا وان الارض لجھۃ اخرے فمختلف فیہوالصحیح الصحۃکما فی المنظومۃ المجیبۃ اھ باختصار۔ میں صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہےاور اگر زمین وقف ہے اسی پر جس کے لئے عمارت معین ہوئی تو عمارت کا تبعا وقف بالاجماع جائز ہےا ور اگر زمین کسی اور جہت کے لئے وقف ہے تو اس میں اختلاف ہے صحیح یہی ہے کہ اس صورت میں بھی عمارت کا وقف صحیح ہے جیسا کہ منظومہ مجیبہ میں ہے اھ باختصار(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ والصحیح الصحۃ ای اذاکانت الارض محتکرۃ وعن ھذاقال فی انفع الوسائل انہ لوبنی فی الارض الموقوفۃ المستأجرۃ مسجدا انہ یجوز اھ ھذاما عندیواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ ماتن کا قول "الصحیح الصحۃ"(صحیح صحت ہے)اس وقت ہے جب زمین محتکرہ ہو(یعنی جس کی اجرت بطور ماہانہ یا سالیانہ مقرر ہو)اسی بنیاد پر انفع الوسائل میں فرمایا کہ اگر کسی نے موقوفہ مستاجرہ زمین پر مسجد بنادی توجائز ہے اھ میرے نزدیك یہ ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۸: غرہ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کی مسمی عنایت اﷲ نے حجرہ مسجد کی دیوار پر ایك دیوار بناکر مکان بنا لیا ہے اور اسی دیوار کو سائبان کرلیا ہےاور مسجد کی محراب اور دیوار سے ملاکر ایك پیل پایہ کھڑا کر کے خاص دیوار مسجد میں سوراخ کر کے ایك کڑی ڈال کر چھت بنائی اور پرنالہ مسجدکی دیوار سے ملا ہوا ر کھا جس سے مسجد کا ضرر ہے اور ایك کھڑکی بھی اسی دیوار میں جو حجرہ پر بنائی گئی ہے واسطے آمدورفت چھت حجرہ کے رکھیعنایت اﷲ کو اس طریقہ سے مکان بنانا کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
حرام حرام حرامسخت گناہسخت کبیرہوہ شخص شرعا اشد سزا کا مستحق۔اس پر فرض ہے کہ حجرہ مسجد پر جو دیوار بنائی ہے ابھی ابھی ابھی فورا فورا ڈھادے مسمار کردےاور اس میں جو کچھ نقصان حجرہ مسجد یا دیوار حجرہ مسجد کوپہنچے اسے اپنے داموں سے ویسا ہی بنوادے جیسا پہلے بناہواتھا
ردالمحتار میں ہے:
قولہ والصحیح الصحۃ ای اذاکانت الارض محتکرۃ وعن ھذاقال فی انفع الوسائل انہ لوبنی فی الارض الموقوفۃ المستأجرۃ مسجدا انہ یجوز اھ ھذاما عندیواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ ماتن کا قول "الصحیح الصحۃ"(صحیح صحت ہے)اس وقت ہے جب زمین محتکرہ ہو(یعنی جس کی اجرت بطور ماہانہ یا سالیانہ مقرر ہو)اسی بنیاد پر انفع الوسائل میں فرمایا کہ اگر کسی نے موقوفہ مستاجرہ زمین پر مسجد بنادی توجائز ہے اھ میرے نزدیك یہ ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۸: غرہ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کی مسمی عنایت اﷲ نے حجرہ مسجد کی دیوار پر ایك دیوار بناکر مکان بنا لیا ہے اور اسی دیوار کو سائبان کرلیا ہےاور مسجد کی محراب اور دیوار سے ملاکر ایك پیل پایہ کھڑا کر کے خاص دیوار مسجد میں سوراخ کر کے ایك کڑی ڈال کر چھت بنائی اور پرنالہ مسجدکی دیوار سے ملا ہوا ر کھا جس سے مسجد کا ضرر ہے اور ایك کھڑکی بھی اسی دیوار میں جو حجرہ پر بنائی گئی ہے واسطے آمدورفت چھت حجرہ کے رکھیعنایت اﷲ کو اس طریقہ سے مکان بنانا کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
حرام حرام حرامسخت گناہسخت کبیرہوہ شخص شرعا اشد سزا کا مستحق۔اس پر فرض ہے کہ حجرہ مسجد پر جو دیوار بنائی ہے ابھی ابھی ابھی فورا فورا ڈھادے مسمار کردےاور اس میں جو کچھ نقصان حجرہ مسجد یا دیوار حجرہ مسجد کوپہنچے اسے اپنے داموں سے ویسا ہی بنوادے جیسا پہلے بناہواتھا
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۴€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۹۱€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۹۱€
فان کل ضرر بناء یضمن بالقیمۃ ماخلا بناء الوقف فیومر باعادتہ کماکان فی الاشباہ والنظائر والدر المختار۔ عمارت کے ہر ضرر کاضمان قیمت سے ادا کیا جاتا ہے سوائے وقف کے عمارت کے کہ اس کے اعادہ کا حکم دیاجائے گا جیسا کہ وہ عمارت پہلے تھی(الاشباہ والنظائر اوردرمختار)(ت)
دیوار مسجد میں جو سوراخ کیا ہے وہ سوراخ اسکے ایمان میں ہوگیا اس پر فرض قطعی ہے کہ اس ناپاك کڑی کو ابھی ابھی فورا نکال لے اور دیوار مسجد کی ویسی ہی اصلاح کردے جیسی تھی اور اس کے سبب اس کی چھت گرپڑے اور گرانا ہی فرض ہے اور وہ ناپاك پر نالہ کہ دیوار مسجد سے ملا ہو ابلااستحقاق شرعی رکھاہے اور اس میں مسجد کاضرر ہےلازم ہے کہ فورا اسے اکھیڑ دے اور بند کردےاور حجرہ کی چھت پر آمدورفت کا اسے کوئی استحقاق نہیںیہ ناپاك دیوار تو گرائی ہی جائے گیاگر اسے ڈھاکر خاص اپنی زمین میں کوئی دیوار اس کے متصل بنائے تو اسے اصلا اختیار نہیں کہ حجرہ کی چھت پرآنے جانے کو اس میں کھڑکی رکھییہ سب اس کی طرف سے ظلم اور سخت ظلم ہیںاوررسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق (ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں۔ت)
عنایت اﷲ اگر ان سب احکام شرعی کو فورا مانے اور اپنے یہ سب ناپاك تصرفات فورا ڈھادے مسمار کردے فبہاورنہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کی چارہ جوئی کریںاگر اس میں کمی یا دیر کرینگے تو وہاں کے سب مسلمان جوا س پر قادر تھے اور چارہ جوئی میں دیر لگائی عذاب شدید کے سزاوار ہوں گے والعیاذ باﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۹: ازریاست رامپور مرسلہ شاہ مفتاح الاسلام صاحب پانی پتی ۹شوال المکرم۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کبوتر بازیبیٹربازی وغیرہا حرکات نامشروعہ مسجد میں کرنا اور کسی غیر کا کبوتر مینار یادیوار مسجد پر بیٹھ جائے اس کے پکڑنے کے لئے اپنے کبوتر چھوڑ کر اور دانہ پانی صحن مسجد میں ڈال کر پکڑنا جائز ہے یانہیںاورایسی بے حرمتی مسجد سے فاعل ایسے فعل کےلئے اور نیز متولی ودیگر متعلقین مسجد کے واسطے جو اس امر سے مانع نہ ہوں اور سکوت کریں یا شرکت اس میں کریں یا ان افعال سے رضامند ہوں پس ان کے لئے شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے کوئی وعید ہے یانہیں اور وہ سب گنہگار ہوتے ہیں یانہیںبینوا توجروا۔
دیوار مسجد میں جو سوراخ کیا ہے وہ سوراخ اسکے ایمان میں ہوگیا اس پر فرض قطعی ہے کہ اس ناپاك کڑی کو ابھی ابھی فورا نکال لے اور دیوار مسجد کی ویسی ہی اصلاح کردے جیسی تھی اور اس کے سبب اس کی چھت گرپڑے اور گرانا ہی فرض ہے اور وہ ناپاك پر نالہ کہ دیوار مسجد سے ملا ہو ابلااستحقاق شرعی رکھاہے اور اس میں مسجد کاضرر ہےلازم ہے کہ فورا اسے اکھیڑ دے اور بند کردےاور حجرہ کی چھت پر آمدورفت کا اسے کوئی استحقاق نہیںیہ ناپاك دیوار تو گرائی ہی جائے گیاگر اسے ڈھاکر خاص اپنی زمین میں کوئی دیوار اس کے متصل بنائے تو اسے اصلا اختیار نہیں کہ حجرہ کی چھت پرآنے جانے کو اس میں کھڑکی رکھییہ سب اس کی طرف سے ظلم اور سخت ظلم ہیںاوررسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق (ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں۔ت)
عنایت اﷲ اگر ان سب احکام شرعی کو فورا مانے اور اپنے یہ سب ناپاك تصرفات فورا ڈھادے مسمار کردے فبہاورنہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کی چارہ جوئی کریںاگر اس میں کمی یا دیر کرینگے تو وہاں کے سب مسلمان جوا س پر قادر تھے اور چارہ جوئی میں دیر لگائی عذاب شدید کے سزاوار ہوں گے والعیاذ باﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۹: ازریاست رامپور مرسلہ شاہ مفتاح الاسلام صاحب پانی پتی ۹شوال المکرم۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کبوتر بازیبیٹربازی وغیرہا حرکات نامشروعہ مسجد میں کرنا اور کسی غیر کا کبوتر مینار یادیوار مسجد پر بیٹھ جائے اس کے پکڑنے کے لئے اپنے کبوتر چھوڑ کر اور دانہ پانی صحن مسجد میں ڈال کر پکڑنا جائز ہے یانہیںاورایسی بے حرمتی مسجد سے فاعل ایسے فعل کےلئے اور نیز متولی ودیگر متعلقین مسجد کے واسطے جو اس امر سے مانع نہ ہوں اور سکوت کریں یا شرکت اس میں کریں یا ان افعال سے رضامند ہوں پس ان کے لئے شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے کوئی وعید ہے یانہیں اور وہ سب گنہگار ہوتے ہیں یانہیںبینوا توجروا۔
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی ∞۲/ ۹۷€ وردالمحتار کتاب الغصب بیروت ∞۵/ ۱۱۵€
السنن الکبرٰی، کتاب الغصب ∞۱/ ۹۹€وکتاب احیاء الموات ∞ا/ ۱۴۲،۴۳،۱۴۸€ دارصادر بیروت
السنن الکبرٰی، کتاب الغصب ∞۱/ ۹۹€وکتاب احیاء الموات ∞ا/ ۱۴۲،۴۳،۱۴۸€ دارصادر بیروت
الجواب:
پرایا کبوتر پکڑنا حرام ہے اور اس کا فاعل فاسق وغاصب وظالم ہے بلکہ خالی کبوتر اڑانے والا کہ اوروں کے کبوتر نہیں پکڑتامگر اپنے کبوتر اڑانے کو ایسی بلند چھتوں پرچڑھتا ہے جس سے مسلمانوں کی بے پردگی ہوتی ہے یاان کے اڑانے کو کنکریاں پھینکتا ہے جن سے لوگوں کومالی یا جسمانی ضرر پہنچتا ہے اس کے لئے بھی شرع مطہر میں حکم ہے کہ اسے نہایت سختی سے منع کیا جائے تعزیر دی جائےاس پر بھی نہ مانے تو احتساب شرعی کا عہدہ دار اس کے کبوتر ذبح کرکے اس کے سامنے پھینك دے۔درمختارمیں ہے:
یکرہ امساك الحمامات ولو فی برجھا ان کان یضر بالناس بنظر اوجلبفان کان یطیرھا فوق السطح مطلعا علی عورات المسلمین ویکسرز جاجات الناس یرمیہ تلك الحمامات عزر ومنع اشد المنع فان لم یمتنع ذبحھا المحتسبوصرح فی الوھبانیۃ بوجوب التعزیر وذبح الحمامات ولم یقیدہ بما مرو لعلہ اعتمد عادتھم ۔ کبوتر رکھنا اگرچہ اپنے برجوں میں ہوں مکروہ ہے جبکہ کبوتر باز کے لوگوں کے گھروں میں نظر کرنے یا دوسروں کے کبوتر اپنے کبوتروں میں ملانے کے سبب سے لوگوں کو ضرر پہنچےاور اگر چھت پرچڑھ کر کبوتر اڑاتا ہے جس سے مسلمانوں کی بے پردگی ہوتی ہے یا کنکریاں پھینکتا ہے جس سے لوگوں کے برتن اور شیشے ٹوٹ جاتے ہیں تو اسے تعزیر کی جائےاگر باز نہ آئے تو حاکم محتسب اس کے کبوتروں کو ذبح کردے۔ صاحب وھبانیہ نے مطلقا وجوب تعزیر اور کبوتر کو ذبح کردینے کی تصریح کی ہے لوگوں کی بے پردگی کی قید کاذکر نہیں کیا شاید انہوں نے لوگوں کی عادت پر اعتماد کرتے ہوئے اس قید کو ترك کیا ہے۔(ت)
اقول: بلکہ ان کاخالی اڑانا کہ نہ کسی کی بے پردگی ہو نہ کنکریوں سے نقصانخود کب ظلم شدید سے خالی ہے جبکہ رواج زمانہ کے طور پر ہو کہ کبوتروں کو اڑاتے ہیں اور ان کادم بڑھانے کے لئے(جس میں اصلا دینی یا دنیوی نفع نہیں فیصدی کا خیال کہ اگلے زمانہ میں تھا اب خواب وخیال وافسانہ ہوگیا ہے نہ ہر گز یہ ان جہال کا مقصودنہ کبھی ان سے یہ کام کوئی لیتا ہے)محض بے فائدہ اپنے بیہودہ بے معنی شوق کے واسطے انہیں اترنے نہیں دیتے وہ تھك تھك کے نیچے گرتے یہ مار مار کر پھر اڑادیتے ہیں صبح کا دانہ دیر تك کی محنت شاقہ پر واز سے ہضم ہوگیا بھوك سے بیتاب ہیں اور یہ غل مچاکر بانس دکھا کر آنے نہیں دیتے خالی معدے شہپر تھکے اور کسی طرح نیچے اترنےدم لینے دانہ پانی سے اوسان ٹھکانے کرنے کاحکم نہیں۔یہاں تك کہ گھنٹوں اور گھنٹوں سے پہر وں انہیں
پرایا کبوتر پکڑنا حرام ہے اور اس کا فاعل فاسق وغاصب وظالم ہے بلکہ خالی کبوتر اڑانے والا کہ اوروں کے کبوتر نہیں پکڑتامگر اپنے کبوتر اڑانے کو ایسی بلند چھتوں پرچڑھتا ہے جس سے مسلمانوں کی بے پردگی ہوتی ہے یاان کے اڑانے کو کنکریاں پھینکتا ہے جن سے لوگوں کومالی یا جسمانی ضرر پہنچتا ہے اس کے لئے بھی شرع مطہر میں حکم ہے کہ اسے نہایت سختی سے منع کیا جائے تعزیر دی جائےاس پر بھی نہ مانے تو احتساب شرعی کا عہدہ دار اس کے کبوتر ذبح کرکے اس کے سامنے پھینك دے۔درمختارمیں ہے:
یکرہ امساك الحمامات ولو فی برجھا ان کان یضر بالناس بنظر اوجلبفان کان یطیرھا فوق السطح مطلعا علی عورات المسلمین ویکسرز جاجات الناس یرمیہ تلك الحمامات عزر ومنع اشد المنع فان لم یمتنع ذبحھا المحتسبوصرح فی الوھبانیۃ بوجوب التعزیر وذبح الحمامات ولم یقیدہ بما مرو لعلہ اعتمد عادتھم ۔ کبوتر رکھنا اگرچہ اپنے برجوں میں ہوں مکروہ ہے جبکہ کبوتر باز کے لوگوں کے گھروں میں نظر کرنے یا دوسروں کے کبوتر اپنے کبوتروں میں ملانے کے سبب سے لوگوں کو ضرر پہنچےاور اگر چھت پرچڑھ کر کبوتر اڑاتا ہے جس سے مسلمانوں کی بے پردگی ہوتی ہے یا کنکریاں پھینکتا ہے جس سے لوگوں کے برتن اور شیشے ٹوٹ جاتے ہیں تو اسے تعزیر کی جائےاگر باز نہ آئے تو حاکم محتسب اس کے کبوتروں کو ذبح کردے۔ صاحب وھبانیہ نے مطلقا وجوب تعزیر اور کبوتر کو ذبح کردینے کی تصریح کی ہے لوگوں کی بے پردگی کی قید کاذکر نہیں کیا شاید انہوں نے لوگوں کی عادت پر اعتماد کرتے ہوئے اس قید کو ترك کیا ہے۔(ت)
اقول: بلکہ ان کاخالی اڑانا کہ نہ کسی کی بے پردگی ہو نہ کنکریوں سے نقصانخود کب ظلم شدید سے خالی ہے جبکہ رواج زمانہ کے طور پر ہو کہ کبوتروں کو اڑاتے ہیں اور ان کادم بڑھانے کے لئے(جس میں اصلا دینی یا دنیوی نفع نہیں فیصدی کا خیال کہ اگلے زمانہ میں تھا اب خواب وخیال وافسانہ ہوگیا ہے نہ ہر گز یہ ان جہال کا مقصودنہ کبھی ان سے یہ کام کوئی لیتا ہے)محض بے فائدہ اپنے بیہودہ بے معنی شوق کے واسطے انہیں اترنے نہیں دیتے وہ تھك تھك کے نیچے گرتے یہ مار مار کر پھر اڑادیتے ہیں صبح کا دانہ دیر تك کی محنت شاقہ پر واز سے ہضم ہوگیا بھوك سے بیتاب ہیں اور یہ غل مچاکر بانس دکھا کر آنے نہیں دیتے خالی معدے شہپر تھکے اور کسی طرح نیچے اترنےدم لینے دانہ پانی سے اوسان ٹھکانے کرنے کاحکم نہیں۔یہاں تك کہ گھنٹوں اور گھنٹوں سے پہر وں انہیں
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۹€
اسی عذاب شدید میں رکھتے ہیںیہ خود کیا کم ظلم ہے اور ظلم بھی بے زبان بے گناہ جانور پر کہ آدمیوں کی ضرر رسانی سے کہیں سخت تر ہے
کما سیأتی وکان ھذاان شاء اﷲ تعالی ملحظ اطلاق العلامۃ ابن وھبان واﷲ المستعان۔ جیسا کہ عنقریب آئے گااور گویا کہ یہ ان شاء اﷲتعالی علامہ ابن وھبان کے اطلاق میں ملحوظ ہے اور اﷲ تعالی سے ہی مدد طلب کی جاتی ہے(ت)
بے درد کو پرائی مصیبت نہیں معلوم ہوتی اپنے اوپر قیاس کرکے دیکھیں اگر کسی ظالم کے پالے پڑیں کہ وہ میدان میں ایك دائرہ کھینچ کر گھنٹوں ان سے کا واکاٹنے کو کہے یہ جب تھکیں پست ہو کر رکیںکوڑے سے خبر لےان کا دم چڑھ جائےجان تھك جائےبھوك پیاس بیحد ستائےمگر وہ کوڑا لئے تیار ہے کہ رکنے نہیں دیتااس وقت ان کو خبر ہو کہ ہم بے زبان جانور پر کیساظلم کرتے تھےدنیا گزشتنی ہےیہاں احکام شرع جاری نہ ہونے سے خوش نہ ہوں ایك دن انصاف کاآنے والا ہے جس میں شاخدار بکری سے منڈی بکری کا حساب لیا جائے گا حالانکہ جانور غیر مکلف ہے تو تم مکلفین کہ تمہارے ہی لئے ثواب وعذاب جنت وجہنم تیار ہوئے ہیں کس گھمنڈ میں ہو وہاں اگر نار سقر میں کاوا کاٹنا پڑا کہ وہاں "" (پوری پوری جزا۔ت)ہے تو ا سوقت کے لئے طاقت مہیا کر رکھو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
دخلت امرأۃ النار فی ھرۃ ربطتھا فلم تطعمہا ولم تدعھا تأکل من خشاش الارض فوجبت لہا النار بذلک ۔رواہ البخاری عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہماوجملۃ''فوجبت''من روایۃ الامام احمد عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہما۔
ایك عورت جہنم میں گئی ایك بلی کے سبب کہ اسے باندھ رکھا تھا نہ خود کھانادیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یا جو جانور کو ملتا کھاتی اس وجہ سے اس عورت کےلئے جہنم واجب ہوگئی(اس کو امام بخاری نے سیدنا حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت کیا اور جملہ"فوجبت"(یعنی اس عورت کےلئے جہنم واجب ہوگئی)حضرت امام احمد بن حنبل نے بروایت سیدنا حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہما ذکر فرمایا۔ت)
کما سیأتی وکان ھذاان شاء اﷲ تعالی ملحظ اطلاق العلامۃ ابن وھبان واﷲ المستعان۔ جیسا کہ عنقریب آئے گااور گویا کہ یہ ان شاء اﷲتعالی علامہ ابن وھبان کے اطلاق میں ملحوظ ہے اور اﷲ تعالی سے ہی مدد طلب کی جاتی ہے(ت)
بے درد کو پرائی مصیبت نہیں معلوم ہوتی اپنے اوپر قیاس کرکے دیکھیں اگر کسی ظالم کے پالے پڑیں کہ وہ میدان میں ایك دائرہ کھینچ کر گھنٹوں ان سے کا واکاٹنے کو کہے یہ جب تھکیں پست ہو کر رکیںکوڑے سے خبر لےان کا دم چڑھ جائےجان تھك جائےبھوك پیاس بیحد ستائےمگر وہ کوڑا لئے تیار ہے کہ رکنے نہیں دیتااس وقت ان کو خبر ہو کہ ہم بے زبان جانور پر کیساظلم کرتے تھےدنیا گزشتنی ہےیہاں احکام شرع جاری نہ ہونے سے خوش نہ ہوں ایك دن انصاف کاآنے والا ہے جس میں شاخدار بکری سے منڈی بکری کا حساب لیا جائے گا حالانکہ جانور غیر مکلف ہے تو تم مکلفین کہ تمہارے ہی لئے ثواب وعذاب جنت وجہنم تیار ہوئے ہیں کس گھمنڈ میں ہو وہاں اگر نار سقر میں کاوا کاٹنا پڑا کہ وہاں "" (پوری پوری جزا۔ت)ہے تو ا سوقت کے لئے طاقت مہیا کر رکھو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
دخلت امرأۃ النار فی ھرۃ ربطتھا فلم تطعمہا ولم تدعھا تأکل من خشاش الارض فوجبت لہا النار بذلک ۔رواہ البخاری عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہماوجملۃ''فوجبت''من روایۃ الامام احمد عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہما۔
ایك عورت جہنم میں گئی ایك بلی کے سبب کہ اسے باندھ رکھا تھا نہ خود کھانادیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یا جو جانور کو ملتا کھاتی اس وجہ سے اس عورت کےلئے جہنم واجب ہوگئی(اس کو امام بخاری نے سیدنا حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت کیا اور جملہ"فوجبت"(یعنی اس عورت کےلئے جہنم واجب ہوگئی)حضرت امام احمد بن حنبل نے بروایت سیدنا حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہما ذکر فرمایا۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۷۸/ ۲۶€
صحیح البخاری کتاب بدأالخلق باب خیر مال المسلم غنم الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۶۷€
مسند احمد بن حنبل از مسند جابر رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۳۳۵€
صحیح البخاری کتاب بدأالخلق باب خیر مال المسلم غنم الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۶۷€
مسند احمد بن حنبل از مسند جابر رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۳۳۵€
اورجب کبوتر بازی بیرون مسجد اپنے گھر میں بھی حرام ہے تو مسجد میں کس درجہ اشد سخت تر حرام ہوگیبادشاہ جبار قہار کی ایك نافرمانی اپنے گھر میں بیٹھ کر کیجئے اور ایك نافرمانی خاص اس کے دربار میں کہ یہ نافرمانی کے علاوہ دربار کی توہین اور بادشاہ کو معاذ اﷲ بے قدر سمجھنے پر دال ہےاگر واقعی دل میں یہی ہوکہ مسجد کیا محل ادب ہے جس میں گناہ سے رکئے جب تو خالص کفر ہے ورنہ جرم پہلے سے اضعافا مضاعفہ ہوجانے میں شك نہیںوہ مسجد جس میں دنیا کی مباح باتیں کرنے کو بیٹھنا نیکیوں کو کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔فتح القدیر میں ہے:
الکلام المباح فیہ مکروہ یاکل الحسنات ۔ مسجد میں کلام مباح بھی مکروہ ہے اور نیکیوں کو کھاجاتا ہے۔(ت)
اشباہ میں ہے:
انہ یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب ۔ بیشك وہ نیکیوں کو یوں کھاجاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھاجاتی ہے(ت)
امام ابو عبداﷲ نسفی نے مدارك شریف میں حدیث نقل کی کہ:
الحدیث فی المسجد یأکل الحسنات کما تأکل البھیمۃ الحشیش ۔ مسجد میں دنیا کی بات نیکیوں کو اس طرح کھاجاتی ہے جیسے چوپایہ گھاس کو۔(ت)
غمزالعیون میں خزانۃ الفقہ سے ہے:
من تکلم فی المساجد بکلام الدنیا احبط اﷲ تعالی عنہ عمل اربعین سنۃ ۔ جو مسجد میں دنیا کی بات کرے اﷲ تعالی اس کے چالیس برس کے عمل اکارت فرمادے۔
اقول: ومثلہ لایقال بالرائ(میں کہتا ہوں کہ اس قسم کی بات رائے اور اٹکل سے نہیں کہی جاسکتی۔ت)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سیکون فی اخر الزمان قوم یکون حدیثھم فی مساجد ھم لیس ﷲ فیہم حاجۃ ۔رواہ ابن حبان آخر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے کہ مسجد میں دنیا کی باتیں کریں گے اﷲ عزوجل کو ان لوگوں سے کچھ کام نہیں(اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں سیدنا
الکلام المباح فیہ مکروہ یاکل الحسنات ۔ مسجد میں کلام مباح بھی مکروہ ہے اور نیکیوں کو کھاجاتا ہے۔(ت)
اشباہ میں ہے:
انہ یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب ۔ بیشك وہ نیکیوں کو یوں کھاجاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھاجاتی ہے(ت)
امام ابو عبداﷲ نسفی نے مدارك شریف میں حدیث نقل کی کہ:
الحدیث فی المسجد یأکل الحسنات کما تأکل البھیمۃ الحشیش ۔ مسجد میں دنیا کی بات نیکیوں کو اس طرح کھاجاتی ہے جیسے چوپایہ گھاس کو۔(ت)
غمزالعیون میں خزانۃ الفقہ سے ہے:
من تکلم فی المساجد بکلام الدنیا احبط اﷲ تعالی عنہ عمل اربعین سنۃ ۔ جو مسجد میں دنیا کی بات کرے اﷲ تعالی اس کے چالیس برس کے عمل اکارت فرمادے۔
اقول: ومثلہ لایقال بالرائ(میں کہتا ہوں کہ اس قسم کی بات رائے اور اٹکل سے نہیں کہی جاسکتی۔ت)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سیکون فی اخر الزمان قوم یکون حدیثھم فی مساجد ھم لیس ﷲ فیہم حاجۃ ۔رواہ ابن حبان آخر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے کہ مسجد میں دنیا کی باتیں کریں گے اﷲ عزوجل کو ان لوگوں سے کچھ کام نہیں(اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں سیدنا
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ استقبال القبلۃ بالفرج فی الخلاء ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۲۳۳€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی احکام المساجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳۳€
المدارک(تفسیر النسفی) سورۃ لقمان آیۃ ومن الناس من یشتری دارالکتاب العربی بیروت ∞۳/ ۲۷۹€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳۳€
موارد الظمآن الی زوائد ابن حبان کتاب المواقیت حدیث ۳۱۱ المطبعۃ السلفیہ ∞مدینہ منورہ ص۹۹€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی احکام المساجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳۳€
المدارک(تفسیر النسفی) سورۃ لقمان آیۃ ومن الناس من یشتری دارالکتاب العربی بیروت ∞۳/ ۲۷۹€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳۳€
موارد الظمآن الی زوائد ابن حبان کتاب المواقیت حدیث ۳۱۱ المطبعۃ السلفیہ ∞مدینہ منورہ ص۹۹€
فی صحیحہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمایا:ت)
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے:
کلام الدنیا اذاکان مباحا صدقا فی المساجد بلاضرورۃ داعیۃ الی ذلك کالمعتکف فی حاجتہ اللازمۃ مکروہ کراھۃ تحریم(ثم الحدیث وقال فی شرحہ)لیس ﷲ تعالی فیہم حاجۃ ای لایرید بھم خیراوانماھم اھل الخیبۃ والحرمان والاھانۃ والخسران ۔ یعنی دنیا کی بات جبکہ فی نفسہ مباح اور سچی ہو مسجد میں بلاضرورت کرنی حرام ہے ضرورت ایسی جیسے معتکف اپنے حوائج ضروریہ کے لئے بات کرےپھر حدیث مذکور ذکر کرکے فرمایا معنی حدیث یہ ہیں کہ اﷲ تعالی ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہ کریگا اور وہ نامراد محروم وزیاں کار اور اہانت وذلت کے سزاوار ہیں۔
اسی میں ہے:
وروی ان مسجدا من المساجد ارتفع الی السماء شاکیا من اھلہ یتکلمون فیہ بکلام الدنیا فاستقبلتہ الملئکۃ وقالوابعثنا بھلاکھم ۔ یعنی مروی ہوا کہ ایك مسجد اپنے رب کے حضور شکایت کرنے چلی کہ لوگ مجھ میں دنیا کی باتیں کرتے ہیں ملائکہ اسے آتے ملے اور بولے ہم ان کے ہلاك کرنے کو بھیجے گئے ہیں۔
اسی میں ہے:
وروی ان الملئکۃ یشکون الی اﷲ تعالی من نتن فم المغتابین والقائلین فی المساجد بکلام الدنیا ۔ یعنی روایت کیا گیا کہ جو لوگ غیبت کرتے ہیں(جو سخت حرام اور زنا سے بھی اشد ہے)اور جو لوگ مسجد میں دنیا کی باتیں کرتے ہیں ان کے منہ سے وہ گندی بدبو نکلتی ہے جس سے فرشتے اﷲعزوجل کے حضور ان کی شکایت کرتے ہیں۔
سبحان اﷲ ! جب مباح وجائز بات بلا ضرورت شرعیہ کرنے کو مسجد میں بیٹھنے پر یہ آفتیں ہیں توحرام و
حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے:
کلام الدنیا اذاکان مباحا صدقا فی المساجد بلاضرورۃ داعیۃ الی ذلك کالمعتکف فی حاجتہ اللازمۃ مکروہ کراھۃ تحریم(ثم الحدیث وقال فی شرحہ)لیس ﷲ تعالی فیہم حاجۃ ای لایرید بھم خیراوانماھم اھل الخیبۃ والحرمان والاھانۃ والخسران ۔ یعنی دنیا کی بات جبکہ فی نفسہ مباح اور سچی ہو مسجد میں بلاضرورت کرنی حرام ہے ضرورت ایسی جیسے معتکف اپنے حوائج ضروریہ کے لئے بات کرےپھر حدیث مذکور ذکر کرکے فرمایا معنی حدیث یہ ہیں کہ اﷲ تعالی ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہ کریگا اور وہ نامراد محروم وزیاں کار اور اہانت وذلت کے سزاوار ہیں۔
اسی میں ہے:
وروی ان مسجدا من المساجد ارتفع الی السماء شاکیا من اھلہ یتکلمون فیہ بکلام الدنیا فاستقبلتہ الملئکۃ وقالوابعثنا بھلاکھم ۔ یعنی مروی ہوا کہ ایك مسجد اپنے رب کے حضور شکایت کرنے چلی کہ لوگ مجھ میں دنیا کی باتیں کرتے ہیں ملائکہ اسے آتے ملے اور بولے ہم ان کے ہلاك کرنے کو بھیجے گئے ہیں۔
اسی میں ہے:
وروی ان الملئکۃ یشکون الی اﷲ تعالی من نتن فم المغتابین والقائلین فی المساجد بکلام الدنیا ۔ یعنی روایت کیا گیا کہ جو لوگ غیبت کرتے ہیں(جو سخت حرام اور زنا سے بھی اشد ہے)اور جو لوگ مسجد میں دنیا کی باتیں کرتے ہیں ان کے منہ سے وہ گندی بدبو نکلتی ہے جس سے فرشتے اﷲعزوجل کے حضور ان کی شکایت کرتے ہیں۔
سبحان اﷲ ! جب مباح وجائز بات بلا ضرورت شرعیہ کرنے کو مسجد میں بیٹھنے پر یہ آفتیں ہیں توحرام و
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ نوع ∞۴۰€ کلام الدنیا فی المساجد بلاعذر ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۱۷۔۳۱€۶
الحدیقۃ الندیۃ نوع ∞۴۰€ کلام الدنیا فی المساجد بلاعذر ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۳۱€۸
الحدیقۃ الندیۃ نوع ∞۴۰€ کلام الدنیا فی المساجد بلاعذر ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۳۱۸€
الحدیقۃ الندیۃ نوع ∞۴۰€ کلام الدنیا فی المساجد بلاعذر ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۳۱€۸
الحدیقۃ الندیۃ نوع ∞۴۰€ کلام الدنیا فی المساجد بلاعذر ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۳۱۸€
ناجائز کام کرنے کا کیا حال ہوگامسجد میں کسی چیز کا مول لینا بیچنا خرید وفروخت کی گفتگو کرنا ناجائز ہے مگر معتکف کو اپنی ضرورت کی چیز مول لینی وہ بھی جبکہ مبیع مسجد سے باہر ہی رہے مگر ایسی خفیف و نظیف وقلیل شے جس کے سبب نہ مسجد میں جگہ رکے نہ ا سکے ادب کے خلاف ہو اور اسی وقت اسے اپنے افطار یا سحری کے لئے درکار ہو
استثنیتہ تفقہا لانہ ماذون لہ فی احضار ھذاقطعا ولایؤمر بالخروج للاکل والشرب۔ اس چیز کا استثناء میں نے بطور تفقہ کیا ہے کیونکہ معتکف کو اس قسم کی اشیاء مسجد میں لانے کی قطعا اجازت ہے اور اسے کھانے پینے کے لئے خروج کا حکم نہیں کیا جائے گا۔(ت)
اور تجارت کے لئے بیع وشرا کی معتکف کو بھی اجازت نہیںاشباہ میں ہے:
یمنع من البیع والشراء لغیر معتکف ویجوزلہ بقدر حاجتہ ان لم یحضرالسلعۃ ۔ مسجد میں بیع وشراء غیر معتکف کےلئے ممنوع ہے اور معتکف کو بقدر حاجت جائز ہے جبکہ سامان مبیع مسجد میں نہ لایا جائے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
بشرط ان لایکون للتجارۃ بل یحتاجہ لنفسہ او عیالہ بدون احضار السلعۃ ۔ بشرطیکہ وہ تجارت کے لئے نہ ہوبلکہ معتکف کوا پنی ذات یا اہل وعیال کے لئے اس کی ضرورت ہو اور وہ سامان بھی مسجد میں حاضر نہ کیا گیا ہو(ت)
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جنبوامساجد کم صبیانکم ومجانینکم وشراء کم و بیعکم و خصوماتکم و رفع اصواتکم ۔رواہ ابن ماجۃ عن مکحول عن واثلۃ وعبدالرزاق فی مصنفہ عن اپنی مسجد کو بچاؤ اپنے ناسمجھ بچوں اور مجنونوں کے جانے اور خرید وفروخت اور جھگڑوں اورآواز بلند کرنے سے۔اس کو ابن ماجہ نے مکحول سے اور انہوں نے واثلہ سے روایت کیا جبکہ امام عبدالرزاق
استثنیتہ تفقہا لانہ ماذون لہ فی احضار ھذاقطعا ولایؤمر بالخروج للاکل والشرب۔ اس چیز کا استثناء میں نے بطور تفقہ کیا ہے کیونکہ معتکف کو اس قسم کی اشیاء مسجد میں لانے کی قطعا اجازت ہے اور اسے کھانے پینے کے لئے خروج کا حکم نہیں کیا جائے گا۔(ت)
اور تجارت کے لئے بیع وشرا کی معتکف کو بھی اجازت نہیںاشباہ میں ہے:
یمنع من البیع والشراء لغیر معتکف ویجوزلہ بقدر حاجتہ ان لم یحضرالسلعۃ ۔ مسجد میں بیع وشراء غیر معتکف کےلئے ممنوع ہے اور معتکف کو بقدر حاجت جائز ہے جبکہ سامان مبیع مسجد میں نہ لایا جائے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
بشرط ان لایکون للتجارۃ بل یحتاجہ لنفسہ او عیالہ بدون احضار السلعۃ ۔ بشرطیکہ وہ تجارت کے لئے نہ ہوبلکہ معتکف کوا پنی ذات یا اہل وعیال کے لئے اس کی ضرورت ہو اور وہ سامان بھی مسجد میں حاضر نہ کیا گیا ہو(ت)
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جنبوامساجد کم صبیانکم ومجانینکم وشراء کم و بیعکم و خصوماتکم و رفع اصواتکم ۔رواہ ابن ماجۃ عن مکحول عن واثلۃ وعبدالرزاق فی مصنفہ عن اپنی مسجد کو بچاؤ اپنے ناسمجھ بچوں اور مجنونوں کے جانے اور خرید وفروخت اور جھگڑوں اورآواز بلند کرنے سے۔اس کو ابن ماجہ نے مکحول سے اور انہوں نے واثلہ سے روایت کیا جبکہ امام عبدالرزاق
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن کراچی ∞۲/ ۲۳۲€
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۴۴۵€
سنن ابن ماجہ ابواب المساجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵€
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۴۴۵€
سنن ابن ماجہ ابواب المساجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵€
مکحول عن معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہما۔ نے اپنے مصنف میں مکحول سے اور انہو ں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت فرمایا۔ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذارأیتم من یبیع او یبتاع فی المسجد فقولوا لااربح اﷲ تجارتك واذا رأیتم من ینشد ضالۃ فی المسجد فقولوالارد اﷲ علیک ۔رواہ الترمذی وقال حسن صحیح والنسائی وابن خزیمۃ والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃرضی اﷲ تعالی عنہ۔ جب تم کسی کو مسجدمیں کچھ بیچتے یا مول لیتے دیکھو تو اس سے کہو اﷲ تیری تجارت میں نفع نہ دےاو رجب کسی کو دیکھو کہ اپنی کوئی گم شدہ چیز مسجد میں لوگوں سے پوچھتا ہے تو اس سے کہو اﷲ تجھے تیری چیز نہ ملائے(اس کو امام ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ حسن صحیح ہے۔نیز امام نسائیابن خزیمہ اور امام حاکم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ت)
دوسری صحیح روایت میں ارشاد فرمایا:
قولوالاردھا اﷲ علیك فان المساجد لم تبن لھذا ۔ رواہ مسلم عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اس سے کہو اﷲ تیری گمشدہ چیز تجھے نہ ملائے مسجد یں اس لئے نہیں بنی ہیں کہ ان میں آکر گمشدہ چیزوں کی تفتیش کرو(اس کو امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ت)
سبحان اﷲ! جب دوسرے کا مال بخوشی برضاورغبت دام دے کر مول لینے کی بات چیت کرنے پر یہ احکام ہیں تو پرایا مال بلارضابلااجازت غصبا پکڑلینے کے لئے مسجد میں اپنے کبوتر چھوڑنادانہ پانی ڈالناقابو چلے تو پکڑلینا کس درجہ اشد عظیم وبالوں کا موجب ہوگااور بٹیر بازی کہ ان کے لڑانے سے عبارت ہے اس سے بھی سخت تر ہے کہ وہ بلافائدہ بلاوجہ اپنے ناپاك شوق کے لئے جانوروں کو ایذا دینی ہے۔حدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن التحریش بین البھائم ۔رواہ ابوداؤد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا جانوروں کو باہم لڑانے سے(اسے ابوداؤد
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذارأیتم من یبیع او یبتاع فی المسجد فقولوا لااربح اﷲ تجارتك واذا رأیتم من ینشد ضالۃ فی المسجد فقولوالارد اﷲ علیک ۔رواہ الترمذی وقال حسن صحیح والنسائی وابن خزیمۃ والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃرضی اﷲ تعالی عنہ۔ جب تم کسی کو مسجدمیں کچھ بیچتے یا مول لیتے دیکھو تو اس سے کہو اﷲ تیری تجارت میں نفع نہ دےاو رجب کسی کو دیکھو کہ اپنی کوئی گم شدہ چیز مسجد میں لوگوں سے پوچھتا ہے تو اس سے کہو اﷲ تجھے تیری چیز نہ ملائے(اس کو امام ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ حسن صحیح ہے۔نیز امام نسائیابن خزیمہ اور امام حاکم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ت)
دوسری صحیح روایت میں ارشاد فرمایا:
قولوالاردھا اﷲ علیك فان المساجد لم تبن لھذا ۔ رواہ مسلم عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اس سے کہو اﷲ تیری گمشدہ چیز تجھے نہ ملائے مسجد یں اس لئے نہیں بنی ہیں کہ ان میں آکر گمشدہ چیزوں کی تفتیش کرو(اس کو امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمایا۔ت)
سبحان اﷲ! جب دوسرے کا مال بخوشی برضاورغبت دام دے کر مول لینے کی بات چیت کرنے پر یہ احکام ہیں تو پرایا مال بلارضابلااجازت غصبا پکڑلینے کے لئے مسجد میں اپنے کبوتر چھوڑنادانہ پانی ڈالناقابو چلے تو پکڑلینا کس درجہ اشد عظیم وبالوں کا موجب ہوگااور بٹیر بازی کہ ان کے لڑانے سے عبارت ہے اس سے بھی سخت تر ہے کہ وہ بلافائدہ بلاوجہ اپنے ناپاك شوق کے لئے جانوروں کو ایذا دینی ہے۔حدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن التحریش بین البھائم ۔رواہ ابوداؤد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا جانوروں کو باہم لڑانے سے(اسے ابوداؤد
حوالہ / References
جامع الترمذی کتاب البیوع باب النہی عن البیع فی المسجد ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۵€۸
صحیح مسلم کتاب المساجد باب عن نشد الضالۃ فی المسجد ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱۰€
جامع الترمذی کتاب الجہاد باب ماجاء فی التحریش بین البہائم ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۲۰۲€
صحیح مسلم کتاب المساجد باب عن نشد الضالۃ فی المسجد ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱۰€
جامع الترمذی کتاب الجہاد باب ماجاء فی التحریش بین البہائم ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۲۰۲€
والترمذی وقال حسن صحیح عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما اور امام ترمذی نے سیدناابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت فرمایا اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا۔ت)
علماء فرماتے ہیں مسلمان پر ظلم کرنے سے ذمی کافر پر جو پناہ سلطنت اسلام میں رہتا ہو ظلم کرنا سخت تر ہے اور ذمی کافر پر ظلم کرنے سے بھی جانور پر ظلم کرنا سخت تر ہےدرمختار میں ہے:
جاز رکوب الثور وتحمیلہ والکراب علی الحمیر بلا جھد وضرباذظلم الدابۃ اشد من الذمی وظلم الذمی اشد من المسلم ۔ بیل پر سوار ہونا اور بوجھ لادنا اور گدھے کو ہل میں جوتنا جائز ہے جبکہ مشقت وتشدد کے بغیر ہوکیونکہ جانور پرظلم ذمی پر ظلم ہے اور ذمی پر ظلم مسلمان پر ظلم سے زیادہ برا ہے(ت)
اس مسئلہ کی کمال تحقیق وتفصیل فقیر کے فتاوی مجلد چہارم فـــــــ کتاب الحظر والاباحۃ میں ملاحظہ ہوجو لوگ ان افعال شنیعہ میں شریك ہوں وہ تو ظاہر شریك ہیں اور جو شریك نہ ہوں راضی ہوں وہ بھی شریك ہیں اورگناہ وعذاب میں حصہ دار بلکہ اگر راضی بایں معنی ہوں کہ ان افعال کو خوب وپسندیدہ جانتے ہوں تو ان کا حکم سخت تر ہے کہ گناہ گناہ ہے اور اسے اچھا جاننا کفر۔اور جو لوگ باوصف قدرت منع نہ کریں انسداد نہ کریں متولی مسجد ہو خواہ اہل محلہ خواہ غیر وہ سب بھی گنہگاروماخوذ وگرفتا ر ہیں اس کی مثال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی کہ ایك جہاز میں کچھ لوگ سوار ہیں تتق والے چھتری پر پانی بھرتے آتے چھتری والے تکلیف پاتےتتق والوں نے کہا ہم نیچے جہاز میں سوراخ کر لیں کہ یہیں سے پانی بھر لیا کریں کہ اوپر جا نے میں چھتری والوں کو ایذا نہ ہواب اگر چھتری والے انہیں نہ روکیں اور سکوت کریں تو نرے وہی نہ ڈوبیں گے بلکہ یہ اور وہ سب ڈوبیں گےاور روك دیں تو یہ اور وہ سب نجات پائیں گے۔یہی حال گناہ کرنے والوں اور باوصف قدرت انہیں نہ روکنے والوں کا ہے رواہ البخاری والترمذی عن النعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہما(اس کو امام بخاری وترمذی نے نعمان بن بشیررضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)اور فرماتے ہیں
علماء فرماتے ہیں مسلمان پر ظلم کرنے سے ذمی کافر پر جو پناہ سلطنت اسلام میں رہتا ہو ظلم کرنا سخت تر ہے اور ذمی کافر پر ظلم کرنے سے بھی جانور پر ظلم کرنا سخت تر ہےدرمختار میں ہے:
جاز رکوب الثور وتحمیلہ والکراب علی الحمیر بلا جھد وضرباذظلم الدابۃ اشد من الذمی وظلم الذمی اشد من المسلم ۔ بیل پر سوار ہونا اور بوجھ لادنا اور گدھے کو ہل میں جوتنا جائز ہے جبکہ مشقت وتشدد کے بغیر ہوکیونکہ جانور پرظلم ذمی پر ظلم ہے اور ذمی پر ظلم مسلمان پر ظلم سے زیادہ برا ہے(ت)
اس مسئلہ کی کمال تحقیق وتفصیل فقیر کے فتاوی مجلد چہارم فـــــــ کتاب الحظر والاباحۃ میں ملاحظہ ہوجو لوگ ان افعال شنیعہ میں شریك ہوں وہ تو ظاہر شریك ہیں اور جو شریك نہ ہوں راضی ہوں وہ بھی شریك ہیں اورگناہ وعذاب میں حصہ دار بلکہ اگر راضی بایں معنی ہوں کہ ان افعال کو خوب وپسندیدہ جانتے ہوں تو ان کا حکم سخت تر ہے کہ گناہ گناہ ہے اور اسے اچھا جاننا کفر۔اور جو لوگ باوصف قدرت منع نہ کریں انسداد نہ کریں متولی مسجد ہو خواہ اہل محلہ خواہ غیر وہ سب بھی گنہگاروماخوذ وگرفتا ر ہیں اس کی مثال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی کہ ایك جہاز میں کچھ لوگ سوار ہیں تتق والے چھتری پر پانی بھرتے آتے چھتری والے تکلیف پاتےتتق والوں نے کہا ہم نیچے جہاز میں سوراخ کر لیں کہ یہیں سے پانی بھر لیا کریں کہ اوپر جا نے میں چھتری والوں کو ایذا نہ ہواب اگر چھتری والے انہیں نہ روکیں اور سکوت کریں تو نرے وہی نہ ڈوبیں گے بلکہ یہ اور وہ سب ڈوبیں گےاور روك دیں تو یہ اور وہ سب نجات پائیں گے۔یہی حال گناہ کرنے والوں اور باوصف قدرت انہیں نہ روکنے والوں کا ہے رواہ البخاری والترمذی عن النعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہما(اس کو امام بخاری وترمذی نے نعمان بن بشیررضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)اور فرماتے ہیں
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۹€
صحیح البخاری باب الشرکۃ ∞۱/ ۳۳۹€ وکتاب الشہادات ∞۱/ ۳۶۹ قدیمی کتب خانہ کراچی،€جامع الترمذی ابواب الفتن ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۴۰€
فـــــــ∞:€کتاب الحظر والاباحۃ∞ مکمل بارہ جلدوں میں سے اب مطبوعہ دسویں جلد ہے€۔
صحیح البخاری باب الشرکۃ ∞۱/ ۳۳۹€ وکتاب الشہادات ∞۱/ ۳۶۹ قدیمی کتب خانہ کراچی،€جامع الترمذی ابواب الفتن ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۴۰€
فـــــــ∞:€کتاب الحظر والاباحۃ∞ مکمل بارہ جلدوں میں سے اب مطبوعہ دسویں جلد ہے€۔
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:پہلا نقص بنی اسرائیل میں یہ آیا کہ ان میں ایك گناہ کرتا دوسرااسے منع تو کرتا مگر اس کے نہ ماننے پر اس کے پاس اٹھنا بیٹھنا اس کے ساتھ کھانا پینا نہ چھوڑتااسکے سبب اﷲ تعالی نے ان سب کے دل یکساں کردئے اور ان سب پر لعنت اتاری رواہ ابوداؤد والترمذی وحسنہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ(اس کو ابوداؤد وترمذی نے حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور ترمذی نے اس کو حسن قرار دیا۔ت)اور اﷲ تعالی نے فرمایا:
" کانوا لا یتناہون عن منکر فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلون ﴿۷۹﴾" ۔ یعنی ان پر لعنت اس لئے ہوئی کہ آپس میں ایك دوسرے کو برے کاموں سے روکتے نہ تھے بیشك یہ ان کا بہت ہی برا کام تھا۔
اﷲتعالی مسلمانوں کوتوفیق تو بہ نصیب فرمائےآمین ! واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵۰:ازکھٹور ضلع سورت کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمانان ہندوستان بہ تلاش معاش جنوبی افریقہ کے علاقہ ٹر نسوال میں جاکر آباد ہوئےانہوں نے اس ملك میں مسجدیں بنائیںاب وہاں کی گورنمنٹ نے ان پر طرح طرح کے ظلمی قانون نافذ کررکھے ہیں جن کی وجہ سے ان کا رہنا وہاں مشکل ہوگیا ہےپس اگر یہ لوگ وہاں سے نقل مکان کریں تو دوسرے مذہب کے لوگ یقینا مسجدوں کے مالك بن کر ان کو اپنے تصرف میں لائیں گےلہذا اس جگہ سے اثاث مسجد کو منتقل یا فروخت کرکے دوسری جگہ جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے اس سے مسجد یں بنائی جائیں تو درست ہے یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
اگر ٹرانسوال میں کبھی سلطنت اسلامی نہ ہوئی تھی جیسا کہ یہی ظاہر ہے یا ہوئی تھی اور پھر ایسی غیر قوم کا تسلط ہوگیا جس نے شعائر اسلام مثل جمعہ وجماعت واذان وغیرہما کی یکسر بندش کردی اگرچہ بعد کو اسی قوم یا اس کے بعد کسی اور قوم نامسلمان نے اجازت بھی دے دی ہوجب تو نہ مسلمان کو اس میں وطن بنانے کی اجازت ہے نہ وہ مسجدیں مسجدیں ہوئیں کما بنی مسجدا فی بریۃ کما فی الفتاوی العالمگیریۃ بل اضعف و
" کانوا لا یتناہون عن منکر فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلون ﴿۷۹﴾" ۔ یعنی ان پر لعنت اس لئے ہوئی کہ آپس میں ایك دوسرے کو برے کاموں سے روکتے نہ تھے بیشك یہ ان کا بہت ہی برا کام تھا۔
اﷲتعالی مسلمانوں کوتوفیق تو بہ نصیب فرمائےآمین ! واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵۰:ازکھٹور ضلع سورت کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمانان ہندوستان بہ تلاش معاش جنوبی افریقہ کے علاقہ ٹر نسوال میں جاکر آباد ہوئےانہوں نے اس ملك میں مسجدیں بنائیںاب وہاں کی گورنمنٹ نے ان پر طرح طرح کے ظلمی قانون نافذ کررکھے ہیں جن کی وجہ سے ان کا رہنا وہاں مشکل ہوگیا ہےپس اگر یہ لوگ وہاں سے نقل مکان کریں تو دوسرے مذہب کے لوگ یقینا مسجدوں کے مالك بن کر ان کو اپنے تصرف میں لائیں گےلہذا اس جگہ سے اثاث مسجد کو منتقل یا فروخت کرکے دوسری جگہ جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے اس سے مسجد یں بنائی جائیں تو درست ہے یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
اگر ٹرانسوال میں کبھی سلطنت اسلامی نہ ہوئی تھی جیسا کہ یہی ظاہر ہے یا ہوئی تھی اور پھر ایسی غیر قوم کا تسلط ہوگیا جس نے شعائر اسلام مثل جمعہ وجماعت واذان وغیرہما کی یکسر بندش کردی اگرچہ بعد کو اسی قوم یا اس کے بعد کسی اور قوم نامسلمان نے اجازت بھی دے دی ہوجب تو نہ مسلمان کو اس میں وطن بنانے کی اجازت ہے نہ وہ مسجدیں مسجدیں ہوئیں کما بنی مسجدا فی بریۃ کما فی الفتاوی العالمگیریۃ بل اضعف و
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ المائدۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۳۰،€سنن ابوداؤد کتاب الملاحم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۴۰€
القرآن الکریم ∞۵/ ۷۹€
القرآن الکریم ∞۵/ ۷۹€
ابطل(یہ تو جنگل میں مسجد بنانے والے شخص کی طرح ہواجیسا کہ عالمگیریہ میں ہے بلکہ ان مساجد مزعومہ کا حکم تو اس سے بھی زیادہ ضعیف اور کمزور ہے۔ت)اس حالت میں بلا تکلف ان مکانات کو جنہیں مسجد سمجھے ہوئے ہیں مع زمین وعملہ سب بیچ ڈالیں اور بیچ نہ سکیں تو عملہ توڑ کر جہاں چاہیں لے جائیں یہ عملہ یا قیمت بانیوں کی ملك ہیں اور اگر اس علاقہ میں پہلے سلطنت اسلام ہوچکی تھی اور بعد کی قوموں نے کبھی جملہ شعائر اسلام کی بندش نہ کی بعض ہمیشہ جاری رہے اور اب جاری ہیں تو اس صورت میں اگر مسلمانوں کو ان میں توطن وبنائے مسجد کی اجازت تھی مگر جب حالت وہ ہے جو سوال میں مذکور ہوئی تو عملہ بیچ کر یا بعینہ دوسری جگہ لے جانے اور وہاں اس سے مسجدبنانے کی اجازت ہے
علی مافصلہ وانقحہ العلامۃ الشامی رحمہ اﷲ تعالی فی رد المحتار وذکر ندامتہ علی افتائہ من قبل بخلاف ذلك فلیر اجع الیہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس مسئلہ کی تفصیل و تنقیح علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمائی اور اس سے قبل حکم مذکور کے خلاف اپنے جاری کردی ایك فتوے پر افسوس وندامت کا اظہار کیا اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۵۱:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میںاب ج د ہ ایك مسجد ہےا مسجدب صحن مسجدج نالی مسجد برائے وضود نالی مسجدہ متعلق صحن مسجد۔سوال یہ ہے کہ مقام ہ پر نماز پڑھنا اس قدر ثواب رکھتا ہے جس قدر مکان پر نماز پڑھنے سے ثواب ہے کیونکہ مقام ہ جمیع اہل محلہ کی رائے سے بڑھایا گیا ہے۔
الجواب:
جبکہ وہ زمین متعلق مسجد تھی اورجمیع اہل محلہ کے رائے سے جزو مسجد کرلی گئی تو اب وہ مسجد ہوگئی اور اس میں نماز کا وہی ثواب ہے جو مسجد میں۔
فی الھندیۃ عن المضمرات عن الکنزمسجد اراد اھلہ یجعل الرحبۃ مسجدا لھم ذلك اھ وفیہا عن الخلاصۃ ارض وقف علی مسجد والارض بجنب ذلك ہندیہ میں مضمرات سے بحوالہ کنز مذکور ہے کہ ایك مسجد والوں نے چاہا کہ برآمدہ کو مسجد بنا لیں توانہیں یہ اختیار ہے۔ اسی میں خلاصہ سے منقول ہے کہ ایك زمین مسجد پر وقف ہوئی اور مسجد کے پہلو میں ایك وقف
علی مافصلہ وانقحہ العلامۃ الشامی رحمہ اﷲ تعالی فی رد المحتار وذکر ندامتہ علی افتائہ من قبل بخلاف ذلك فلیر اجع الیہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس مسئلہ کی تفصیل و تنقیح علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمائی اور اس سے قبل حکم مذکور کے خلاف اپنے جاری کردی ایك فتوے پر افسوس وندامت کا اظہار کیا اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۵۱:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میںاب ج د ہ ایك مسجد ہےا مسجدب صحن مسجدج نالی مسجد برائے وضود نالی مسجدہ متعلق صحن مسجد۔سوال یہ ہے کہ مقام ہ پر نماز پڑھنا اس قدر ثواب رکھتا ہے جس قدر مکان پر نماز پڑھنے سے ثواب ہے کیونکہ مقام ہ جمیع اہل محلہ کی رائے سے بڑھایا گیا ہے۔
الجواب:
جبکہ وہ زمین متعلق مسجد تھی اورجمیع اہل محلہ کے رائے سے جزو مسجد کرلی گئی تو اب وہ مسجد ہوگئی اور اس میں نماز کا وہی ثواب ہے جو مسجد میں۔
فی الھندیۃ عن المضمرات عن الکنزمسجد اراد اھلہ یجعل الرحبۃ مسجدا لھم ذلك اھ وفیہا عن الخلاصۃ ارض وقف علی مسجد والارض بجنب ذلك ہندیہ میں مضمرات سے بحوالہ کنز مذکور ہے کہ ایك مسجد والوں نے چاہا کہ برآمدہ کو مسجد بنا لیں توانہیں یہ اختیار ہے۔ اسی میں خلاصہ سے منقول ہے کہ ایك زمین مسجد پر وقف ہوئی اور مسجد کے پہلو میں ایك وقف
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف مطلب فیما لوخرب المسجد اوغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۱€
فتاوی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶€
فتاوی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶€
المسجد وارادوا ان یزید وافی المسجد شیئا من الارض جاز لکن یرفعون الامرالی القاضی لیاذن لھم ومستغل الوقف کالدار والحانوت علی ھذا اھ ومثلہ فی ش عن البحر عن الخانیۃ وفیہ عن الفتح ولو ضاق المسجد وبجنبہ ارض وقف علیہ حانوت جاز ان یوخذو یدخل فیہ اھ ومعلوم ان الجماعۃ کالقاضی حیث لاقاضی وفی الدرالمختار لم یختص ثواب الصلوۃ فی مسجدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بما کان فی زمنہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ زمین خالی پڑی ہے مسجد والوں نے چاہا کہ اس خالی زمین کا کچھ حصہ مسجد میں شامل کرکے مسجد میں اضافہ کرلیں تو جائز ہےلیکن وہ یہ معاملہ قاضی کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ انہیں ایسا کرنے کا اذن دے دے اور وقف آمدنی کے لئے گھر اور دکان کا بھی یہی حکم ہے اھ اور اس کی مثل ش میں بحر سے بحوالہ خانیہ ہے اور اس میں فتح سے منقول ہے کہ اگر کوئی مسجد تنگ ہے اور اس کے پہلو میں اسی مسجد کےلئے ایك وقف زمین ہے جس پر دکان بنی ہوئی ہے تو اس کو(بغرض توسیع)مسجد میں داخل کرلینا جائز ہے اھ اور یہ بات معلوم ہے کہ جہاں قاضی نہ ہو وہاں جماعت مسلمین قاضی کی مانند ہے اور درمختار میں ہے کہ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب صرف اسی مسجد کے ساتھ مختص نہیں جو عہد رسالت میں تھی۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵۲: ازضلع کبرے ڈاکخانہ مونڈا سوداران مقام نجیب نگر مسئولہ سردار مجیب رحمان تعلقہ دار ۱۹شوال۱۳۲۷ھ
عالیجناب حاجی مولوی احمد رضاخان صاحب زاد فیوضکمپس از تسلیم مسنون نیاز مشحون! گزارش مدعا یہ ہے کہ راقم نے جو مسجد جدید تعمیرکرائی اس میں ایك مختصر ساباغیچہ ہے جس میں اکثر اشجار ثمر دار ہیں اور مرچیں وغیرہ بھی ہوتی ہیں۔آپ کی التماس ہے کہ براہ کرم حکم شرع شریف سے معزز فرمائیے کہ ان اشیاء کا استعمال جائز ہے یانہیںاگر استعمال جائزہے تو کس طریقہ سےجواب سے معزز
مسئلہ۱۵۲: ازضلع کبرے ڈاکخانہ مونڈا سوداران مقام نجیب نگر مسئولہ سردار مجیب رحمان تعلقہ دار ۱۹شوال۱۳۲۷ھ
عالیجناب حاجی مولوی احمد رضاخان صاحب زاد فیوضکمپس از تسلیم مسنون نیاز مشحون! گزارش مدعا یہ ہے کہ راقم نے جو مسجد جدید تعمیرکرائی اس میں ایك مختصر ساباغیچہ ہے جس میں اکثر اشجار ثمر دار ہیں اور مرچیں وغیرہ بھی ہوتی ہیں۔آپ کی التماس ہے کہ براہ کرم حکم شرع شریف سے معزز فرمائیے کہ ان اشیاء کا استعمال جائز ہے یانہیںاگر استعمال جائزہے تو کس طریقہ سےجواب سے معزز
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۶€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۴€
درمختار
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۴€
درمختار
کیا جاؤں۔
الجواب:
خاص مسجد میں باغیچہ ہونے کے تو کوئی معنی ہی نہیں۔اگر یوں ہے کہ جس زمین کا ایك قطعہ مسجد کیا ہے اس کے دوسرے قطعہ میں باغیچہ ہے تو اس صورت میں اگر باغیچہ مسجد پر وقف نہ کیا گیا تو وہ ملك اصل مالك پر باقی ہے اسے اختیار ہے کہ اس کے پھل جو چاہے کرےاور اگر وہ بھی مسجد پر وقف کردیا ہے تواب اپنے صرف میں لانا اسے جائز نہیں بلکہ پھل بیچ کر مسجد کے صرف میں لائے۔اور اگر واقف نے یہی کیا ہے کہ جس زمین میں باغیچہ ہے خود اسی کو مسجد کردیا ہے یعنی باغیچہ کو وقف علی المسجد نہ کیا بلکہ خود اس کی زمین کو مسجد کردیا تو اس کے پھل توڑ کر اپنے صرف میں لائے اور درخت کاٹ کر زمین ہموار کرکے مسجد بنائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵۳: مسئولہ منشی حاجی محمد ظہور صاحب ۲۳ربیع الآخر ۱۳۲۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اہلسنت وجماعت تابع شرع دین محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیچ اس مسئلہ کے کہ ایك مسجد لب سڑك شارع عام جس کے تین طرف راستہ اور دودروازے شرقی وجنوبی متصل بازار ہے اس کے بانی جو تھے وہ جوار رحمت میں ہیں اب مرمت وسفیدی ونگرانی اہل محلہ کرتے ہیںچند عرصہ ہواجو ایك مسماۃ نے از قول پنجابیان اس قدر مسجد میں اور اضافہ کیا ہے یعنی ایك درجہ مع مسافر خانہ زیر وبالا وچاہ اندرون مسجد ودو غسل خانہ مسقف وسقایہ و روکا ر دروازہ مسجد بلندی مینار ہائے مع کلس طلائی واز سر نو فرش واسترکاری والماریاں وحجرہ ودکانات زیریں برائے صرف مسجد تعمیر کرائیں ملحقہ مسجد مکان ایك شخص کا ہے جس نے بعد اس نو تعمیر کے چند عرصہ کے بعد اپنے مکانات کو بلند کیااور دیوار پاکہائے مسجد پر اپنے بالاخانہ کی دیواریں اور دروازے لگائے جس میں مینار مسجد کے آگئے اور بذریعہ ایك دروازہ کے جو چھت مسجد پر ہے آمدورفت آدمیوں اور کتوں کی اکثرچھت مسجد پر رہتی ہے اور مسافر خانہ کی چھت پر اپنی کھپریل رکھ لی اور حجرہ مسجد کی چھت کو اپنے بالاخانہ کے صحن میں ڈال لیا اس شخص کو ہر چند منع کیا مگر نہ مانازبانی اور تحریر کے ذریعہ سے اس نے ظاہر کیا کہ یہ مسجد وقف نہیں ہے یہ مسجددار کا حکم رکھتی ہے مثل حمام اور چاہ کے میرے مورثان کی ہے اور اب میری ہے یہ مال موقوفہ نہیں ہے میری جائداد ہے حالانکہ اس مسجد میں نمازیں باجماعت پنجگانہ اور تراویح رمضان شریف وختم قرآن مجید ونماز جمعہ وعیدین بہ ہجوم نمازیان محلہ ودیگر مسلمانان مدام پڑھتے ہیں اور پابندی امامت ومؤذنی وقیام طلبا ومسافران کی رہتی ہے تو ایسی صورتوں میں یہ مسجد حکم وقف کا رکھتی ہے یا مکان کا جو وراثۃ پہنچ سکتاہے مع حوالہ کتاب وصفحہ کے جواب عطا فرمایا جائے۔
الجواب:
خاص مسجد میں باغیچہ ہونے کے تو کوئی معنی ہی نہیں۔اگر یوں ہے کہ جس زمین کا ایك قطعہ مسجد کیا ہے اس کے دوسرے قطعہ میں باغیچہ ہے تو اس صورت میں اگر باغیچہ مسجد پر وقف نہ کیا گیا تو وہ ملك اصل مالك پر باقی ہے اسے اختیار ہے کہ اس کے پھل جو چاہے کرےاور اگر وہ بھی مسجد پر وقف کردیا ہے تواب اپنے صرف میں لانا اسے جائز نہیں بلکہ پھل بیچ کر مسجد کے صرف میں لائے۔اور اگر واقف نے یہی کیا ہے کہ جس زمین میں باغیچہ ہے خود اسی کو مسجد کردیا ہے یعنی باغیچہ کو وقف علی المسجد نہ کیا بلکہ خود اس کی زمین کو مسجد کردیا تو اس کے پھل توڑ کر اپنے صرف میں لائے اور درخت کاٹ کر زمین ہموار کرکے مسجد بنائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵۳: مسئولہ منشی حاجی محمد ظہور صاحب ۲۳ربیع الآخر ۱۳۲۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اہلسنت وجماعت تابع شرع دین محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیچ اس مسئلہ کے کہ ایك مسجد لب سڑك شارع عام جس کے تین طرف راستہ اور دودروازے شرقی وجنوبی متصل بازار ہے اس کے بانی جو تھے وہ جوار رحمت میں ہیں اب مرمت وسفیدی ونگرانی اہل محلہ کرتے ہیںچند عرصہ ہواجو ایك مسماۃ نے از قول پنجابیان اس قدر مسجد میں اور اضافہ کیا ہے یعنی ایك درجہ مع مسافر خانہ زیر وبالا وچاہ اندرون مسجد ودو غسل خانہ مسقف وسقایہ و روکا ر دروازہ مسجد بلندی مینار ہائے مع کلس طلائی واز سر نو فرش واسترکاری والماریاں وحجرہ ودکانات زیریں برائے صرف مسجد تعمیر کرائیں ملحقہ مسجد مکان ایك شخص کا ہے جس نے بعد اس نو تعمیر کے چند عرصہ کے بعد اپنے مکانات کو بلند کیااور دیوار پاکہائے مسجد پر اپنے بالاخانہ کی دیواریں اور دروازے لگائے جس میں مینار مسجد کے آگئے اور بذریعہ ایك دروازہ کے جو چھت مسجد پر ہے آمدورفت آدمیوں اور کتوں کی اکثرچھت مسجد پر رہتی ہے اور مسافر خانہ کی چھت پر اپنی کھپریل رکھ لی اور حجرہ مسجد کی چھت کو اپنے بالاخانہ کے صحن میں ڈال لیا اس شخص کو ہر چند منع کیا مگر نہ مانازبانی اور تحریر کے ذریعہ سے اس نے ظاہر کیا کہ یہ مسجد وقف نہیں ہے یہ مسجددار کا حکم رکھتی ہے مثل حمام اور چاہ کے میرے مورثان کی ہے اور اب میری ہے یہ مال موقوفہ نہیں ہے میری جائداد ہے حالانکہ اس مسجد میں نمازیں باجماعت پنجگانہ اور تراویح رمضان شریف وختم قرآن مجید ونماز جمعہ وعیدین بہ ہجوم نمازیان محلہ ودیگر مسلمانان مدام پڑھتے ہیں اور پابندی امامت ومؤذنی وقیام طلبا ومسافران کی رہتی ہے تو ایسی صورتوں میں یہ مسجد حکم وقف کا رکھتی ہے یا مکان کا جو وراثۃ پہنچ سکتاہے مع حوالہ کتاب وصفحہ کے جواب عطا فرمایا جائے۔
الجواب:
وہ مسجد یقینا مسجد ہےشخص مذکور کا اسے حکم دار میں بتانا اور اپنے مورثوں کی ملك ٹھہرانا ظلم و غصب ہے اور واحد قہار کی ملك دبابیٹھنا ہے جب وہ عام طور پرمسجد مشہور ہےمدتوں سے پنجگانہ جماعتیں جمعےعیدینتراویح وغیرہا مثل عام مساجد ہوتی ہیںکوئی حق ملك اس میں غیر خدا کے لئے ثابت نہیں تو اسے مسلمان تو مسلمان جو غیر مذہب والا بھی دیکھے گا مسجد ہی جانے گاشخص مذکور کے باپ دادا کی دار ہونے کا اصلا گمان بھی نہ کرسکے گاصورت مسجد کی صفت مسجد کیبرتاؤ مسجد کاشہرت مسجد کیایسے روشن ثبوتوں کے بعد بھی کسی غاصب کا دعوی ملکیت سن لیا جائے تو ظالم لوگ تمام جہان کی مسجدیں دبابیٹھیںجس کے گھر کے پاس جو مسجد ہو وہ کہہ دے کہ اس کے باپ کا دار یا دادا کا حمام ہےآج کل دو چار آنے تك گواہیاں سستی ہوگئی ہیں آٹھ آنے میں دو گواہ دے دےچلئے فراغت شداﷲ واحد قہار کی مسجد انکے باپ دادا کا ترکہ ہوگئیتمام ہندوستان میں وہ گنتی کی کے مسجدیں ہیں جن کے باضابطہ وقفنامے لکھے گئے ہیں اور وہ دستاویزیں محفوظ ہوں اور ان کے شاہد موجود ہوں تو یہ وہ ظالمانہ طریقہ ہے جس سے دنیا بھر کی تمام مسجدیں ظالموں غاصبوں کا گھر بن جائیں اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہو گااور ظلم بھی کیسی حماقت کا جسے مسلمین تو مسلمین کوئی سمجھ وال غیر مذہب بھی قبول نہیں کرسکتابھلا مسجد تو مسجد ہے جس کی صورت جس کی محراب جس کے منارے وغیرہا خود دور سے گواہی دیتے ہیں کہ یہ اﷲ واحد قہار کا گھر ہے۔تمام کتابوں میں تصریح ہے کہ عام وقفوں کے ثبوت کوصرف شہرت کافی ہے پھر اس سے زیادہ اور شہرت کیا ہوگی کہ تمام مسلمان اسے مسجد جانتے ہیںمسجد کہتے ہیںاذانیں ہوتی ہیںپنجگانہ جماعتیں ہوتی ہیں۔جمعہ عیدین تراویح ختم کی امامتیں ہوتی ہیں۔مسلمان اپنے مصارف سے اس کی مرمتاس میں اضافہاس کی عمارت کرتے ہیں۔ایسی حالت کا نام نہ سنایا پکا بے دین بے حیا جو ساری دنیا کی آنکھوں پر اندھیری ڈال کر خدا کا مال غصب کرنا چاہےوالعیاذ باﷲ تعالی۔درمختار جلد۳صفحہ ۶۲۴میں ہے:
تقبل فیہ الشہادۃ بالشھرۃ حفظا للاوقاف القدیمۃ عن الاستھلاک ۔ وقف میں شہادۃ شہرت بھی مقبول ہے تاکہ اوقاف قدیمہ ہلاك ہونے سے محفوظ رہیں۔(ت)
فتاوی قاضیخاں جلد چہارم ص۲۳۳میں ہے:
وہ مسجد یقینا مسجد ہےشخص مذکور کا اسے حکم دار میں بتانا اور اپنے مورثوں کی ملك ٹھہرانا ظلم و غصب ہے اور واحد قہار کی ملك دبابیٹھنا ہے جب وہ عام طور پرمسجد مشہور ہےمدتوں سے پنجگانہ جماعتیں جمعےعیدینتراویح وغیرہا مثل عام مساجد ہوتی ہیںکوئی حق ملك اس میں غیر خدا کے لئے ثابت نہیں تو اسے مسلمان تو مسلمان جو غیر مذہب والا بھی دیکھے گا مسجد ہی جانے گاشخص مذکور کے باپ دادا کی دار ہونے کا اصلا گمان بھی نہ کرسکے گاصورت مسجد کی صفت مسجد کیبرتاؤ مسجد کاشہرت مسجد کیایسے روشن ثبوتوں کے بعد بھی کسی غاصب کا دعوی ملکیت سن لیا جائے تو ظالم لوگ تمام جہان کی مسجدیں دبابیٹھیںجس کے گھر کے پاس جو مسجد ہو وہ کہہ دے کہ اس کے باپ کا دار یا دادا کا حمام ہےآج کل دو چار آنے تك گواہیاں سستی ہوگئی ہیں آٹھ آنے میں دو گواہ دے دےچلئے فراغت شداﷲ واحد قہار کی مسجد انکے باپ دادا کا ترکہ ہوگئیتمام ہندوستان میں وہ گنتی کی کے مسجدیں ہیں جن کے باضابطہ وقفنامے لکھے گئے ہیں اور وہ دستاویزیں محفوظ ہوں اور ان کے شاہد موجود ہوں تو یہ وہ ظالمانہ طریقہ ہے جس سے دنیا بھر کی تمام مسجدیں ظالموں غاصبوں کا گھر بن جائیں اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہو گااور ظلم بھی کیسی حماقت کا جسے مسلمین تو مسلمین کوئی سمجھ وال غیر مذہب بھی قبول نہیں کرسکتابھلا مسجد تو مسجد ہے جس کی صورت جس کی محراب جس کے منارے وغیرہا خود دور سے گواہی دیتے ہیں کہ یہ اﷲ واحد قہار کا گھر ہے۔تمام کتابوں میں تصریح ہے کہ عام وقفوں کے ثبوت کوصرف شہرت کافی ہے پھر اس سے زیادہ اور شہرت کیا ہوگی کہ تمام مسلمان اسے مسجد جانتے ہیںمسجد کہتے ہیںاذانیں ہوتی ہیںپنجگانہ جماعتیں ہوتی ہیں۔جمعہ عیدین تراویح ختم کی امامتیں ہوتی ہیں۔مسلمان اپنے مصارف سے اس کی مرمتاس میں اضافہاس کی عمارت کرتے ہیں۔ایسی حالت کا نام نہ سنایا پکا بے دین بے حیا جو ساری دنیا کی آنکھوں پر اندھیری ڈال کر خدا کا مال غصب کرنا چاہےوالعیاذ باﷲ تعالی۔درمختار جلد۳صفحہ ۶۲۴میں ہے:
تقبل فیہ الشہادۃ بالشھرۃ حفظا للاوقاف القدیمۃ عن الاستھلاک ۔ وقف میں شہادۃ شہرت بھی مقبول ہے تاکہ اوقاف قدیمہ ہلاك ہونے سے محفوظ رہیں۔(ت)
فتاوی قاضیخاں جلد چہارم ص۲۳۳میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸€
اذا شھد الشھود ما تجوز بہ الشھادۃ بالسماع وقالو الم نعاین ذلك ولکنہ اشتھر عندنا جازت شھادتھم جب گواہوں نے ان معاملات میں گواہی دی جن میں شہادت سماعت جائزہےاور کہا کہ ہم نے معائنہ نہیں کیا لیکن یہ ہمارے نزدیك مشہور ہےتو ان کی گواہی جائز ہے۔(ت)
فتاوی عالمگیریہ جلد سوم ص۱۳۷میں ہے:
وتقبل الشھادۃ فی الوقف بالتسامع وان صرحابہ لان الشاھد ربما یکون سنہ عشرین سنۃ وتاریخ الوقف مائۃ سنۃ فیتیقن القاضی ان الشاھد یشھد بالتسامع لابالعیان فاذن لافرق بین السکوت والافصاح اشار ظہیر الدین المرغینانی الی ھذاالمعنی کذافی الفصول العمادیۃ ۔ملتقطا۔ وقف میں شہادت تسامع یعنی سماعت کی گواہی مقبول ہے اگرچہ گواہ سماعت کی تصریح کردیں کیونکہ بسااوقات گواہ کی عمر بیس سال ہوتی ہے اور وقف سوسال سے ہوتا ہےچنانچہ قاضی کو یقین سے علم ہوتا ہے کہ گواہ سنی ہوئی گواہی دے رہاہے نہ کہ دیکھی ہوئیلہذا اس صورت میں سماع سے خاموشی اور تصریح کرنے میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ظہیرالدین مرغینانی نے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے جیسا کہ فصول عمادیہ میں ہے۔(ت)
فتاوی خیریہ جلد دوم ص۲۷میں ہے:
فی الکنز لایشھد بمالم یعاینہ الافی النسب والموت والنکاح والدخول وولایۃ القاضی واصل الوقف ومثلہ فی المختار وتنویر الابصار والکل من ھؤلاء اطلق فعم المتقادم وغیرہ الخ ۔ کنز میں ہے کہ جب تك گواہ نے معائنہ نہ کیا ہو وہ گواہی نہیں دے سکتا سوائے نسبموتنکاحدخولولایت قاضی اور اصل وقف کےاور مختار وتنویر الابصار میں بھی اسی کی مثل ہے اور ان سب نے مطلق رکھا قدیم وجدید کو عام ہیں۔(ت)
فتاوی عالمگیریہ جلد سوم ص۱۳۷میں ہے:
وتقبل الشھادۃ فی الوقف بالتسامع وان صرحابہ لان الشاھد ربما یکون سنہ عشرین سنۃ وتاریخ الوقف مائۃ سنۃ فیتیقن القاضی ان الشاھد یشھد بالتسامع لابالعیان فاذن لافرق بین السکوت والافصاح اشار ظہیر الدین المرغینانی الی ھذاالمعنی کذافی الفصول العمادیۃ ۔ملتقطا۔ وقف میں شہادت تسامع یعنی سماعت کی گواہی مقبول ہے اگرچہ گواہ سماعت کی تصریح کردیں کیونکہ بسااوقات گواہ کی عمر بیس سال ہوتی ہے اور وقف سوسال سے ہوتا ہےچنانچہ قاضی کو یقین سے علم ہوتا ہے کہ گواہ سنی ہوئی گواہی دے رہاہے نہ کہ دیکھی ہوئیلہذا اس صورت میں سماع سے خاموشی اور تصریح کرنے میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ظہیرالدین مرغینانی نے اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے جیسا کہ فصول عمادیہ میں ہے۔(ت)
فتاوی خیریہ جلد دوم ص۲۷میں ہے:
فی الکنز لایشھد بمالم یعاینہ الافی النسب والموت والنکاح والدخول وولایۃ القاضی واصل الوقف ومثلہ فی المختار وتنویر الابصار والکل من ھؤلاء اطلق فعم المتقادم وغیرہ الخ ۔ کنز میں ہے کہ جب تك گواہ نے معائنہ نہ کیا ہو وہ گواہی نہیں دے سکتا سوائے نسبموتنکاحدخولولایت قاضی اور اصل وقف کےاور مختار وتنویر الابصار میں بھی اسی کی مثل ہے اور ان سب نے مطلق رکھا قدیم وجدید کو عام ہیں۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخان کتاب الشہادات فصل فی الشاہد یشہد الخ ∞نولکشورلکھنؤ ۳/ ۵۵۵€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب السادس فی الدعوٰی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۳۸€
فتاوٰی خیریۃ کتاب الشہادات دارالفکر بیروت ∞۲/ ۲۹€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب السادس فی الدعوٰی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۳۸€
فتاوٰی خیریۃ کتاب الشہادات دارالفکر بیروت ∞۲/ ۲۹€
ہدایہ جلد دوم ص۱۰۴و۱۰۵میں ہے:
اماالوقف فالصحیح انہ تقبل الشہادۃ بالتسامع فی اصلہ دون شرائطہ لان اصلہ ھوالذی یشتھر ۔ صحیح یہ ہے کہ شہادۃ تسامع اصل وقف میں جائز ومقبول ہے نہ کہ شرائط وقف میںکیونکہ اصل وقف ہی شہرت پذیر ہوتاہے۔(ت)
بالجملہ شخص مذکور کا قول محض مدفوع وسخت باطل و نامسموع ہےاس پر فرض ہے کہ مسجدکے مناروں دیواروں اور اس کی اور اس کے حجرہ وغیرہ کی چھتوں کو اپنے ظالمانہ تصرفوں سے فورا پاك کردےجوکچھ عمارت مسجد کے پکھے وغیرہ کسی پر بنائی ہے فورا ڈھادےجتنی راہیں اس کے یا کتوں کے آنے جانے کی مسجد یا حجرہ مسجد کی سقف پر ہیں فورا بند کردےوہ نہ مانے تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ باضابطہ چار ہ جوئی کرکے اس کا دست تعدی مسجد سے کوتاہ کریں اور بالجبر ان ناپاك تصرفات کو مسجد سے دور کرادیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵۴: مرسلہ حکیم سراج الحق صاحب بریلی مسجد بدرالاسلام ۲۰جمادی الآخر ۱۳۲۸ھ دوشنبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عرصہ ۴۵ سال سے خارج ازمسجد یعنی حوالی مسجد کی اراضی میں مکان بنالیا ہے اس میں رہتا ہے اس نے چند عرصہ سے یعنی چھ ماہ سے اس مکان میں کچھ مرغیاں کے بچے واسطے اپنے کھانے کے خرید کرکے پرورش کری جب اس کو فہمائش کی گئی تو اس نے فورامرغیوں کو علیحدہ کردیا اور بحضوری قلب اﷲ تعالی سے توبہ بھی دل سے کیعلاوہ اس کے اور جو جو الزام کہ جھوٹے ذمہ زید کے لگائے گئے تھے ان سے زید توبہ کرتا ہےاور کہا کہ یہ محض مجھ پر جھوٹا اتہام ہے آیا اس توبہ حضوری قلب سے نزدیك خداوند عالم کے پاك ہوگیا یا نہیں
الجواب:
اﷲ توبہ قبول کرتا ہے اگر اس نے سچے دل سے توبہ کی ہے تو اﷲ تعالی کے نزدیك اس گناہ سے پاك ہوجائے گا مگر حوالی مسجد یعنی فنائے مسجد میں جدید مکان بطور خود بنالینا اور اس کو اپنا مسکن کرلینا اور وہیں پاخانہ پیشاب کرنا یہ بھی حرام ہے اس کی توبہ سچی جب ہے کہ اپنے ان تصرفات کو بھی زائل کرے اور مسجد کو گھر نہ بنائے حوالی مسجد کا حکم بھی مثل مسجد ہوتا۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
المسجد اذا جعل حانوتا او مسکنا تسقط یعنی مسجد کو اگر دکان یا مکان بنالیا جائے تو اس کی
اماالوقف فالصحیح انہ تقبل الشہادۃ بالتسامع فی اصلہ دون شرائطہ لان اصلہ ھوالذی یشتھر ۔ صحیح یہ ہے کہ شہادۃ تسامع اصل وقف میں جائز ومقبول ہے نہ کہ شرائط وقف میںکیونکہ اصل وقف ہی شہرت پذیر ہوتاہے۔(ت)
بالجملہ شخص مذکور کا قول محض مدفوع وسخت باطل و نامسموع ہےاس پر فرض ہے کہ مسجدکے مناروں دیواروں اور اس کی اور اس کے حجرہ وغیرہ کی چھتوں کو اپنے ظالمانہ تصرفوں سے فورا پاك کردےجوکچھ عمارت مسجد کے پکھے وغیرہ کسی پر بنائی ہے فورا ڈھادےجتنی راہیں اس کے یا کتوں کے آنے جانے کی مسجد یا حجرہ مسجد کی سقف پر ہیں فورا بند کردےوہ نہ مانے تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ باضابطہ چار ہ جوئی کرکے اس کا دست تعدی مسجد سے کوتاہ کریں اور بالجبر ان ناپاك تصرفات کو مسجد سے دور کرادیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵۴: مرسلہ حکیم سراج الحق صاحب بریلی مسجد بدرالاسلام ۲۰جمادی الآخر ۱۳۲۸ھ دوشنبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عرصہ ۴۵ سال سے خارج ازمسجد یعنی حوالی مسجد کی اراضی میں مکان بنالیا ہے اس میں رہتا ہے اس نے چند عرصہ سے یعنی چھ ماہ سے اس مکان میں کچھ مرغیاں کے بچے واسطے اپنے کھانے کے خرید کرکے پرورش کری جب اس کو فہمائش کی گئی تو اس نے فورامرغیوں کو علیحدہ کردیا اور بحضوری قلب اﷲ تعالی سے توبہ بھی دل سے کیعلاوہ اس کے اور جو جو الزام کہ جھوٹے ذمہ زید کے لگائے گئے تھے ان سے زید توبہ کرتا ہےاور کہا کہ یہ محض مجھ پر جھوٹا اتہام ہے آیا اس توبہ حضوری قلب سے نزدیك خداوند عالم کے پاك ہوگیا یا نہیں
الجواب:
اﷲ توبہ قبول کرتا ہے اگر اس نے سچے دل سے توبہ کی ہے تو اﷲ تعالی کے نزدیك اس گناہ سے پاك ہوجائے گا مگر حوالی مسجد یعنی فنائے مسجد میں جدید مکان بطور خود بنالینا اور اس کو اپنا مسکن کرلینا اور وہیں پاخانہ پیشاب کرنا یہ بھی حرام ہے اس کی توبہ سچی جب ہے کہ اپنے ان تصرفات کو بھی زائل کرے اور مسجد کو گھر نہ بنائے حوالی مسجد کا حکم بھی مثل مسجد ہوتا۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
المسجد اذا جعل حانوتا او مسکنا تسقط یعنی مسجد کو اگر دکان یا مکان بنالیا جائے تو اس کی
حوالہ / References
الھدایۃ کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۳/ ۵۹۔۱۵۸€
حرمتہ وھذالایجوز والفناء تبع للمسجد فیکون حکمہ حکم المسجد کذافی محیط السرخسی ۔ حرمت ساقط ہوگی بے ادبی بے حرمتی ہوگی اور یہ حرام ہے اور فنائے مسجد تابع مسجد ہے تو اس کا حکم بھی مثل حکم مسجد ہےایسا ہی محیط امام شمس الائمہ سرخسی میں ہے۔
اور یہ خیال کہ بہت مساجد میں مکان پیش امام و مؤذن کی سکونت کو بنے ہوئے ہیں نفع نہ دے گاعلماء نے تصریح فرمائی ہے کہ مسجد بن جانے سے پہلے اگر بانی مسجد ایسا کوئی مکان بنادے تو جائز ہے اور اس کے بعد اگر خود بانی مسجد آئے اور بنانا چاہے تو اجازت نہ دیں گے اگر چہ وہ یہ ظاہر کرے کہ اول ہی سے میری نیت اس کے بنانے کی تھیدرمختار میں ہے:
لوبنی فوقہ بیتا للامام لایضرلانہ من المصالح امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃ فاذا کان ھذافی الوقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اگر مسجدکے اوپر واقف نے امام کے لئے مکان بنایا تو حرج نہیں کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے لیکن جب مسجدیت تام ہوجائے پھر اس پر مکان بنانا چاہے تو اس کو منع کیا جائے گااگر وہ کہے کہ میں نے پہلے سے اس کا ارادہ کیا تھا تو ا سکی تصدیق نہ کی جائے گیتاتارخانیہ۔جب خود واقف کا یہ حکم ہے توغیر واقف کو کیسے اجازت ہوسکتی ہےلہذا ایسے مکان کو گرانا واجب ہے اگر چہ مسجد کی دیوارپر ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۵۵: ازاحمد آباد گھیسا محلہ خماشہ مرسلہ عبدالرحمن صاحب مع جماعت ۱۰شعبان ۱۳۲۹ھ
حضرت مولانا ومخدومنافاضل اجل عالم مولوی احمد رضاخاں صاحب!بعد آداب وتسلیمات کے آپ کی خدمت فیضدرجت میں دست بستہ ملتمس ہوں کہ یہاں احمد آباد میں اسلام رخنہ اندازہ ہورہی ہے آپ کو اﷲ عزوجل نے وارث انبیاء کیاہے واسطے اسلام میں اتفاق رکھنے کےبجائے اس کے اسلام میں نفسانیت کی وجہ سے نااتفاقی از حد پھیل رہی ہےکئی فتووں پر آپ کی مہر دیکھی جس سے معلوم ہوا کہ آپ ہر دو جانب کی گفت وشنید نہیں سنتےایك ہی طرف کی بات سن کر حکم لگانا ناانصافی ہےخیر یہاں ایك جھگڑا پڑا ہےمسجد ایك مدت سے بن گئی ہے اور
اور یہ خیال کہ بہت مساجد میں مکان پیش امام و مؤذن کی سکونت کو بنے ہوئے ہیں نفع نہ دے گاعلماء نے تصریح فرمائی ہے کہ مسجد بن جانے سے پہلے اگر بانی مسجد ایسا کوئی مکان بنادے تو جائز ہے اور اس کے بعد اگر خود بانی مسجد آئے اور بنانا چاہے تو اجازت نہ دیں گے اگر چہ وہ یہ ظاہر کرے کہ اول ہی سے میری نیت اس کے بنانے کی تھیدرمختار میں ہے:
لوبنی فوقہ بیتا للامام لایضرلانہ من المصالح امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃ فاذا کان ھذافی الوقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اگر مسجدکے اوپر واقف نے امام کے لئے مکان بنایا تو حرج نہیں کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے لیکن جب مسجدیت تام ہوجائے پھر اس پر مکان بنانا چاہے تو اس کو منع کیا جائے گااگر وہ کہے کہ میں نے پہلے سے اس کا ارادہ کیا تھا تو ا سکی تصدیق نہ کی جائے گیتاتارخانیہ۔جب خود واقف کا یہ حکم ہے توغیر واقف کو کیسے اجازت ہوسکتی ہےلہذا ایسے مکان کو گرانا واجب ہے اگر چہ مسجد کی دیوارپر ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۵۵: ازاحمد آباد گھیسا محلہ خماشہ مرسلہ عبدالرحمن صاحب مع جماعت ۱۰شعبان ۱۳۲۹ھ
حضرت مولانا ومخدومنافاضل اجل عالم مولوی احمد رضاخاں صاحب!بعد آداب وتسلیمات کے آپ کی خدمت فیضدرجت میں دست بستہ ملتمس ہوں کہ یہاں احمد آباد میں اسلام رخنہ اندازہ ہورہی ہے آپ کو اﷲ عزوجل نے وارث انبیاء کیاہے واسطے اسلام میں اتفاق رکھنے کےبجائے اس کے اسلام میں نفسانیت کی وجہ سے نااتفاقی از حد پھیل رہی ہےکئی فتووں پر آپ کی مہر دیکھی جس سے معلوم ہوا کہ آپ ہر دو جانب کی گفت وشنید نہیں سنتےایك ہی طرف کی بات سن کر حکم لگانا ناانصافی ہےخیر یہاں ایك جھگڑا پڑا ہےمسجد ایك مدت سے بن گئی ہے اور
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
ایك مسجد اب بن رہی ہےہر دو جانب کے فتوے نکلے ہیں مذکور دو فتوے آپ کی خدمت اقدس میں روانہ ہیں بغور ملاحظہ فرماکر جو حکم صحیح ہو روانہ کریںآپ کی حق تحریر آنے سے ان شاء اﷲالعزیز شرمٹ جائے ایسی امید ہےو السلام۔
نقل فتوائے بریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہر احمد آباد میں محلہ تاجپور پانچ پیلی میں سنت جماعت چھیپوں کی جماعت میں عرصہ چند روز کا ہوا اختلاف دنیویہ کی وجہ سے دو ٹکڑے ہوگئے ہیںایك طرف آٹھ سو گھر ہیں اور ایك طرف پچاس گھر ہیںدونوں فرقوں نے مکان مسجد بنانے کےلئے خرید کئےچھوٹی جماعت نے مسجد کی بنیاد ڈالنی شروع کیان کو بڑی جماعت کی جانب سے سمجھا یا گیا کہ تمہاری مسجد کی مغرب کی جانب بڑی جماعت کا مکان ہےان دونوں مکانوں کو مسجد بناؤ اور بنانے میں ہم مال کی مدد میں شریك رہیں گےانہوں نے یہ وعدہ کیا کہ ہم فی الحال مسجد بناتے ہیں اور جب مغرب کی جانب مسجد بڑی جماعت والوں کی بنے گی تو ہم بیچ کی دیوار توڑ ڈالیں گے اب بڑی جماعت کی بھی مسجد قریب تیار ہونے کے ہےاب چھوٹی جماعت کو کہا جاتا ہے کہ بیچ کی دیوار توڑ کر دونوں مسجدوں کو ایك کردواب چھوٹی جماعت کے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ بیچ کی دیوار توڑ کر دونوں مسجدوں کو ایك کرنا ناجائز ہے۔اب علمائے اہلسنت عم فیوضہم کی خدمات عالیہ میں عرض ہے کہ بیچ کی دیوار توڑ کر دونوں مسجدوں کو ایك کرنے سے نمازیوں کوگنجائش نماز کی اچھی طرح سے ہوجائے گی اب اس صورت میں بیچ کی دیوار کو توڑ کر مسجد کو ایك کرنا جائز ہے یانہیں اور مسجد کی دیوار چھوٹی جماعت والے توڑنے کا انکار کریں تو ان کی مسجد میں نماز جائز ہوگی یانہیں
الجواب:
ہاں اہل محلہ کو اختیار ہوتا ہے کہ نماز کے لئے دو مسجدوں کو ایك کردیںاس کو ناجائز کہنا محض غلط و باطل ہے۔درمختار میں ہے:
لھم ای لاھل المحلۃ نصب متولی وجعل المسجدین واحد وعکسہ لصلاۃ لالدرس اوذکر فی المسجداھ ۔ اہل محلہ کو اختیار ہے کہ وہ مسجد کا متولی مقرر کریںاور یہ بھی اختیار ہے کہ دو مسجدوں کو ایك یا ایك کو دو کرلیں نماز کےلئے نہ کہ درس وذکر کے لئے اھ(ت)
نقل فتوائے بریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہر احمد آباد میں محلہ تاجپور پانچ پیلی میں سنت جماعت چھیپوں کی جماعت میں عرصہ چند روز کا ہوا اختلاف دنیویہ کی وجہ سے دو ٹکڑے ہوگئے ہیںایك طرف آٹھ سو گھر ہیں اور ایك طرف پچاس گھر ہیںدونوں فرقوں نے مکان مسجد بنانے کےلئے خرید کئےچھوٹی جماعت نے مسجد کی بنیاد ڈالنی شروع کیان کو بڑی جماعت کی جانب سے سمجھا یا گیا کہ تمہاری مسجد کی مغرب کی جانب بڑی جماعت کا مکان ہےان دونوں مکانوں کو مسجد بناؤ اور بنانے میں ہم مال کی مدد میں شریك رہیں گےانہوں نے یہ وعدہ کیا کہ ہم فی الحال مسجد بناتے ہیں اور جب مغرب کی جانب مسجد بڑی جماعت والوں کی بنے گی تو ہم بیچ کی دیوار توڑ ڈالیں گے اب بڑی جماعت کی بھی مسجد قریب تیار ہونے کے ہےاب چھوٹی جماعت کو کہا جاتا ہے کہ بیچ کی دیوار توڑ کر دونوں مسجدوں کو ایك کردواب چھوٹی جماعت کے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ بیچ کی دیوار توڑ کر دونوں مسجدوں کو ایك کرنا ناجائز ہے۔اب علمائے اہلسنت عم فیوضہم کی خدمات عالیہ میں عرض ہے کہ بیچ کی دیوار توڑ کر دونوں مسجدوں کو ایك کرنے سے نمازیوں کوگنجائش نماز کی اچھی طرح سے ہوجائے گی اب اس صورت میں بیچ کی دیوار کو توڑ کر مسجد کو ایك کرنا جائز ہے یانہیں اور مسجد کی دیوار چھوٹی جماعت والے توڑنے کا انکار کریں تو ان کی مسجد میں نماز جائز ہوگی یانہیں
الجواب:
ہاں اہل محلہ کو اختیار ہوتا ہے کہ نماز کے لئے دو مسجدوں کو ایك کردیںاس کو ناجائز کہنا محض غلط و باطل ہے۔درمختار میں ہے:
لھم ای لاھل المحلۃ نصب متولی وجعل المسجدین واحد وعکسہ لصلاۃ لالدرس اوذکر فی المسجداھ ۔ اہل محلہ کو اختیار ہے کہ وہ مسجد کا متولی مقرر کریںاور یہ بھی اختیار ہے کہ دو مسجدوں کو ایك یا ایك کو دو کرلیں نماز کےلئے نہ کہ درس وذکر کے لئے اھ(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴€
مگر چھوٹی جماعت والے اگر خوف نزاع وجدال وغیرہ کسی مصلحت صحیحہ شرعیہ کے باعث دیوار توڑ کر مسجدیں ایك کرنے سے انکار کریں تو ان پر بھی جبر نہیں پہنچتا کہ جب ایك مسجد کو دو کرلینا جائز ہے کما تقدم عن الدر ان لھم جعل مسجد واحد مسجدین(جیسا کہ در کے حوالے سے گزرا کہ ایك مسجد کو دو کرنے صرف کا اہل محلہ کو اختیار ہے۔ت)تو دو کو دو رکھنا کیونکر ممنوع ہوسکتا ہےہاں اگر اصلا کوئی وجہ شرعی نہ ہو صرف ضد کے سبب تفریق جماعت کریں تو ان کی بات نہ سنی جائے گی کہ اس صورت میں وہ متعنت یعنی بے جا ہٹ کرنے والے ہیں اور متعنت کا قول مسموع نہیں ہوتا
فی الھدایۃ وغیرہا من القسمۃ الاول منتفع بہ فاعتبر طلبہ والثانی متعنت فلم یعتبر ۔ ہدایہ وغیرہ میں قسمت کے باب میں ہے کہ اول اس سے نفع حاصل کرنے والا ہے لہذا اس کا مطالبہ معتبر ہے اورثانی ہٹ دھرمی کرنے والا ہے اس کا مطالبہ معتبر نہیں(ت)
درمختار میں قبیل استصناع ہے:
الاصل ان من خرج کلامہ تعنتا فالقول لصاحبہ بالاتفاق ۔ قاعدہ یہ ہے کہ جس کا کلام تعنت یعنی ہٹ دھرمی پر مبنی ہو اس کے مخالف کا قول بالاتفاق معتبر ہوگا۔(ت)
تو حسب صوابدید اکثر اہل جماعت اس دیوار فاصل کو علیحدہ کردیا جائے گاردالمحتار میں ہے:
فی التتار خانیۃ سئل ابوالقاسم عن اھل مسجداراد بعضھم ان یجعلوا المسجد رحبۃ والرحبۃ مسجدا او یتخذ وا لہ بابا اویحولوا بابہ عن موضعہ وابی بعض ذلك قال اذا اجتمع اکثرھم وافضلھم لیس للاقل منعھم ۔ تاتارخانیہ میں ہے کہ امام ابوالقاسم سے یہ سوال کیا گیا کہ بعض اہل مسجد ایك مسجد کو صحن اور صحن کو مسجد بنانامسجد کا دروازہ بنانااور سابق دروازے کو اس کی جگہ سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں جبکہ بعض اس کاانکار کرتے ہیں تو کیا حکم ہےآپ نے فرمایا کہ اکثر وافضل حضرات متفق ہیں تواقل کو اختیار نہیں کہ انہیں منع کریں(ت)
فی الھدایۃ وغیرہا من القسمۃ الاول منتفع بہ فاعتبر طلبہ والثانی متعنت فلم یعتبر ۔ ہدایہ وغیرہ میں قسمت کے باب میں ہے کہ اول اس سے نفع حاصل کرنے والا ہے لہذا اس کا مطالبہ معتبر ہے اورثانی ہٹ دھرمی کرنے والا ہے اس کا مطالبہ معتبر نہیں(ت)
درمختار میں قبیل استصناع ہے:
الاصل ان من خرج کلامہ تعنتا فالقول لصاحبہ بالاتفاق ۔ قاعدہ یہ ہے کہ جس کا کلام تعنت یعنی ہٹ دھرمی پر مبنی ہو اس کے مخالف کا قول بالاتفاق معتبر ہوگا۔(ت)
تو حسب صوابدید اکثر اہل جماعت اس دیوار فاصل کو علیحدہ کردیا جائے گاردالمحتار میں ہے:
فی التتار خانیۃ سئل ابوالقاسم عن اھل مسجداراد بعضھم ان یجعلوا المسجد رحبۃ والرحبۃ مسجدا او یتخذ وا لہ بابا اویحولوا بابہ عن موضعہ وابی بعض ذلك قال اذا اجتمع اکثرھم وافضلھم لیس للاقل منعھم ۔ تاتارخانیہ میں ہے کہ امام ابوالقاسم سے یہ سوال کیا گیا کہ بعض اہل مسجد ایك مسجد کو صحن اور صحن کو مسجد بنانامسجد کا دروازہ بنانااور سابق دروازے کو اس کی جگہ سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں جبکہ بعض اس کاانکار کرتے ہیں تو کیا حکم ہےآپ نے فرمایا کہ اکثر وافضل حضرات متفق ہیں تواقل کو اختیار نہیں کہ انہیں منع کریں(ت)
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب القسمۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۱€
درمختار کتاب البیوع باب المسلم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۹€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت∞۳/ ۳۸۳€
درمختار کتاب البیوع باب المسلم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۹€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت∞۳/ ۳۸۳€
یوں ہی اگر اس دیوار وتعدد کے باعث اہل محلہ پر مسجدیں تنگی کرتی ہیں کہ ایك تو دیوار نے جگہ گھیری دوسرے دواماموں کے باعث کمی ہوئی کہ خود امام ایك صف کامل کی جگہ لیتا ہے اس وجہ سے اہل محلہ دونوں مسجدوں میں پورے نہیں آتے اور دیوار توڑ کر ایك جماعت کردینے سے وسعت ہوجائیگی تو اس صورت میں وہ دیوار خواہی نخواہی جدا کردی جائیگی کہ تنگی مسجد کی ضرورت سے اس کے قریب کی زمین یا مکان یا دکان مملوك بلارضا مندی مالك بقیمت لینے کا اختیار حاکم کوہےتو مسجد کو مسجد میں ملالینا بدرجہ اولیدرمختار میں ہے:
توخذ ارض ودار وحانوت بجنب مسجد ضاق علی الناس بالقیمۃ کرھا درر وعمادیۃ ۔ مسجداگر تنگ ہوتو اس کے پہلو میں جو زمینمکان یا دکان ہے وہ قیمت دے کر جبرامسجد میں داخل کی جاسکتی ہےدررو عمادیۃ۔(ت)
اور بہر حال چھوٹی جماعت والوں کے انکار کرنے سے ان کی مسجد میں نمازناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں خواہ ان کا انکار سنا جائے یا نہیں کہ آخر وہ مسجد ہی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
کتبہ عبدالنبی نواب مرزا عفی عنہ الجواب صحیح۔واﷲ تعالی اعلم
نقل فتوائے دہلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد جس میں پنجگانہ نماز تین ماہ سے ہورہی تھی متصل اس کے اورثانی مسجد بنائی گئی اس ضد پر کہ محلہ والوں کے دو گروہ ہوجائیں اور آپس میں تفرقہ پڑجائے اور اگلی مسجد کی آبادی میں فرق آئے پس اس ثانی مسجد کے لئے کیاحکم ہےآیا اس میں نماز جائز ہے یانہیں اور اسکو مسجد کی تعمیر کا حکم دیا جائے یانہیں
توخذ ارض ودار وحانوت بجنب مسجد ضاق علی الناس بالقیمۃ کرھا درر وعمادیۃ ۔ مسجداگر تنگ ہوتو اس کے پہلو میں جو زمینمکان یا دکان ہے وہ قیمت دے کر جبرامسجد میں داخل کی جاسکتی ہےدررو عمادیۃ۔(ت)
اور بہر حال چھوٹی جماعت والوں کے انکار کرنے سے ان کی مسجد میں نمازناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں خواہ ان کا انکار سنا جائے یا نہیں کہ آخر وہ مسجد ہی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
کتبہ عبدالنبی نواب مرزا عفی عنہ الجواب صحیح۔واﷲ تعالی اعلم
نقل فتوائے دہلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد جس میں پنجگانہ نماز تین ماہ سے ہورہی تھی متصل اس کے اورثانی مسجد بنائی گئی اس ضد پر کہ محلہ والوں کے دو گروہ ہوجائیں اور آپس میں تفرقہ پڑجائے اور اگلی مسجد کی آبادی میں فرق آئے پس اس ثانی مسجد کے لئے کیاحکم ہےآیا اس میں نماز جائز ہے یانہیں اور اسکو مسجد کی تعمیر کا حکم دیا جائے یانہیں
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۲€
الجواب:
صورت مسئولہ میں مسجد ضرار کا حکم رکھتی ہے یعنی اس میں نماز پڑھنا منع ہے اور حاکم وقت کو چاہئے کہ اس کو مسجد کی صورت میں نہ رہنے دے خواہ اس کو ہدم کرادیا جائے یا کوئی مکان دوسرا بنادے جیسا کہ تفسیر جامع البیان میں آیہ
" والذین اتخذوا مسجدا ضرارا"الخ اوروہ لوگ جنہوں نے ضرر کے لئے ایك مسجد بنائی الخ۔ت)کی تفسیر میں لکھا ہے عبارت اس کی بلفظہ یہ ہے:
فلمااتموابناء ہ اتوارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم حین رجع من تبوك وقال اتممنامسجد اللضعفاء واھل العلۃ واللیلۃ المطیرۃ نلتمس ان تصلی فیہ وتدعوبالبرکۃ فنزلت فی تکذیبہم فامر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بھدمہ فھدموہ واحرقوہ(لاتقم فیہ)فی ذلك المسجد ابدا للصلوۃ ۔ جب انہوں نے مسجد کی تعمیر مکمل کرلی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام تبوك سے واپس تشریف لائے اور کہا کہ یارسول اﷲ!ہم نے کمزوروںبیماروں اور رات کی تاریکی میں نماز پڑھنے والوں کی خاطر مسجد بنائی ہے۔ہماری التماس ہے کہ آپ اس میں برکت کےلئے دعا فرمائیںتو اﷲ تعالی نے ان لوگوں کی تکذیب میں یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی چنانچہ رسول کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس مسجد کے گرانے کا حکم دیا لہذا لوگوں نے مسجد کو گراکر جلادیااﷲتعالی نے اپنے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا کہ اس مسجد میں کبھی بھی نماز کےلئے قیام نہ فرمائیں۔ (ت)
نقل فتوائے ایران
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص محض بغرض نفسانیت اور عداوت اور ضرر مسجد مقیم(یعنی جو پہلے بنی ہوئی ہو)مسجد بنائے وہ مسجد ضرار کے حکم میں ہے یانہیںاور ایسی مسجد بنائی جائے یانہیں
صورت مسئولہ میں مسجد ضرار کا حکم رکھتی ہے یعنی اس میں نماز پڑھنا منع ہے اور حاکم وقت کو چاہئے کہ اس کو مسجد کی صورت میں نہ رہنے دے خواہ اس کو ہدم کرادیا جائے یا کوئی مکان دوسرا بنادے جیسا کہ تفسیر جامع البیان میں آیہ
" والذین اتخذوا مسجدا ضرارا"الخ اوروہ لوگ جنہوں نے ضرر کے لئے ایك مسجد بنائی الخ۔ت)کی تفسیر میں لکھا ہے عبارت اس کی بلفظہ یہ ہے:
فلمااتموابناء ہ اتوارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم حین رجع من تبوك وقال اتممنامسجد اللضعفاء واھل العلۃ واللیلۃ المطیرۃ نلتمس ان تصلی فیہ وتدعوبالبرکۃ فنزلت فی تکذیبہم فامر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بھدمہ فھدموہ واحرقوہ(لاتقم فیہ)فی ذلك المسجد ابدا للصلوۃ ۔ جب انہوں نے مسجد کی تعمیر مکمل کرلی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام تبوك سے واپس تشریف لائے اور کہا کہ یارسول اﷲ!ہم نے کمزوروںبیماروں اور رات کی تاریکی میں نماز پڑھنے والوں کی خاطر مسجد بنائی ہے۔ہماری التماس ہے کہ آپ اس میں برکت کےلئے دعا فرمائیںتو اﷲ تعالی نے ان لوگوں کی تکذیب میں یہ آیہ کریمہ نازل فرمائی چنانچہ رسول کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس مسجد کے گرانے کا حکم دیا لہذا لوگوں نے مسجد کو گراکر جلادیااﷲتعالی نے اپنے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ارشاد فرمایا کہ اس مسجد میں کبھی بھی نماز کےلئے قیام نہ فرمائیں۔ (ت)
نقل فتوائے ایران
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص محض بغرض نفسانیت اور عداوت اور ضرر مسجد مقیم(یعنی جو پہلے بنی ہوئی ہو)مسجد بنائے وہ مسجد ضرار کے حکم میں ہے یانہیںاور ایسی مسجد بنائی جائے یانہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۹/ ۱۰۷€
جامع البیان ∞تحت€ آیۃ ∞۹/ ۱۰۷€ دارنشر الکتب الاسلامیہ ∞گوجرانوالا ۱/ ۲۸۶€
جامع البیان ∞تحت€ آیۃ ∞۹/ ۱۰۷€ دارنشر الکتب الاسلامیہ ∞گوجرانوالا ۱/ ۲۸۶€
الجواب:
ھو اﷲتعالی اعلمھم بالحق والصواببلاشبہ جو مسجد بغرض نفسانیت وعداوت کے وضررمسجد قدیم کے تیار کی جائے حکم مسجدضرار رکھتی ہے اور ایسی مسجد کی بناء موجب ثواب نہیں بلکہ موجب نکال ہےچنانچہ تفسیر مدارك وکشاف میں اس آیت کے نیچے مرقوم ہے:
"والذین اتخذوا مسجدا ضرارا وکفرا وتفریقا بین المؤمنین و ارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ من قبل ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی واللہ یشہد انہم لکذبون ﴿۱۰۷﴾" ۔
قیل کل مسجد بنی مباھاۃ اوریاء او سمعۃ او لغرض سوی ابتغاء وجہ اﷲاوبمال غیر طیب فھو لاحق بمسجد الضرار انتہی ۔ اور جنہوں نے بنائی ہے ایك مسجد ضدپر اور کفر پر اور پھوٹ ڈالنے کو مسلمانوں میںاور تھانگ اس شخص کی جو لڑرہا ہے اﷲ سے اور رسول سے آگے کا اور اب قسمیں کھائیں گے کہ بھلائی چاہتے تھے اور اﷲ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔
کہا گیا ہے کہ جو مسجد بھی تفاخرریاکاریمشہوری یا طلب رضاء الہی کے علاوہ کسی غرض کے لئے بنائی جائے ناپاك مال سے بنائی جائے وہ مسجد ضرار سے ملحق ہوگی انتہی۔(ت)
اور کشاف میں ہے:
عن عطاء لما فتح اﷲ الامصار علی یدعمر امر المسلمین ان یبنوا المساجدوان لا یتخذوافی مدینۃ مسجدین یضار احدھما صاحبہ انتہی۔ حضرت عطاسے مروی ہے کہ جب اﷲتعالی نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاتھ بہت سے شہر فتح فرمائے تو آپ نے مسلمانوں کو مسجدیں بنانے کا حکم دیا اورفرمایا کہ ایك شہر میں دو مسجدیں نہ بنانا تا کہ ایك سے دوسری کو ضرر نہ پہنچے انتہی(ت)
اور صاحب تفسیر احمدی نے لکھاہے:
ھو اﷲتعالی اعلمھم بالحق والصواببلاشبہ جو مسجد بغرض نفسانیت وعداوت کے وضررمسجد قدیم کے تیار کی جائے حکم مسجدضرار رکھتی ہے اور ایسی مسجد کی بناء موجب ثواب نہیں بلکہ موجب نکال ہےچنانچہ تفسیر مدارك وکشاف میں اس آیت کے نیچے مرقوم ہے:
"والذین اتخذوا مسجدا ضرارا وکفرا وتفریقا بین المؤمنین و ارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ من قبل ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی واللہ یشہد انہم لکذبون ﴿۱۰۷﴾" ۔
قیل کل مسجد بنی مباھاۃ اوریاء او سمعۃ او لغرض سوی ابتغاء وجہ اﷲاوبمال غیر طیب فھو لاحق بمسجد الضرار انتہی ۔ اور جنہوں نے بنائی ہے ایك مسجد ضدپر اور کفر پر اور پھوٹ ڈالنے کو مسلمانوں میںاور تھانگ اس شخص کی جو لڑرہا ہے اﷲ سے اور رسول سے آگے کا اور اب قسمیں کھائیں گے کہ بھلائی چاہتے تھے اور اﷲ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔
کہا گیا ہے کہ جو مسجد بھی تفاخرریاکاریمشہوری یا طلب رضاء الہی کے علاوہ کسی غرض کے لئے بنائی جائے ناپاك مال سے بنائی جائے وہ مسجد ضرار سے ملحق ہوگی انتہی۔(ت)
اور کشاف میں ہے:
عن عطاء لما فتح اﷲ الامصار علی یدعمر امر المسلمین ان یبنوا المساجدوان لا یتخذوافی مدینۃ مسجدین یضار احدھما صاحبہ انتہی۔ حضرت عطاسے مروی ہے کہ جب اﷲتعالی نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہاتھ بہت سے شہر فتح فرمائے تو آپ نے مسلمانوں کو مسجدیں بنانے کا حکم دیا اورفرمایا کہ ایك شہر میں دو مسجدیں نہ بنانا تا کہ ایك سے دوسری کو ضرر نہ پہنچے انتہی(ت)
اور صاحب تفسیر احمدی نے لکھاہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۹/ ۱۰۷€
تفسیر النسفی(المدارک)∞تحت ۹/۱۰۷€ دارالکتاب العربی بیروت ∞۲/ ۱۴۵€
الکشاف(تفسیر)تحت ۹/۱۰۷ انتشارات ∞آفتاب تہران ایران ۲/ ۲۱۴€
تفسیر النسفی(المدارک)∞تحت ۹/۱۰۷€ دارالکتاب العربی بیروت ∞۲/ ۱۴۵€
الکشاف(تفسیر)تحت ۹/۱۰۷ انتشارات ∞آفتاب تہران ایران ۲/ ۲۱۴€
فالعجب من المشائخین المتعصبین فی زماننا یبنون فی کل ناحیۃ مساجد طلبا للاسم والرسم واستعلاء لشانھم واقتداء بابائھم ولم یتاملوافی ھذہ الایۃ والقصۃ من شناعۃ حالھم وسوء افعالھم انتہی۔ ہمارے زمانے کے متعصب مشائخ پر تعجب ہے کہ شہرت رسماپنی رفعت شان اور اپنے آباء واجداد کی اقتداء کے لئے ہر کونے میں مسجدیں بنالی ہیں اور اس آیت کریمہ اور ان لوگوں کی بدافعالی اور بدحالی کے قصے میں غور نہیں کیا انتہی(ت)
کتبہ العبد بدیع الدین ابن سید شرف الدین صاحب مشہدی ثم الاحمد آبادی عفااﷲ تعالی عنہما
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
مکرم کرم فرمایان سلمکموعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!
عنایت نامہ مع فتاوی فریقین ملافقیر نے آپ کے فرمانے سے یہاں کے فتوے پر مکرر نظر کی اور اس طرف کے فتاوی کو بھی دیکھا جو یہاں سے لکھا گیا خالص حق وصحیح ہے اس میں بحمداﷲ تعالی کسی کی طرف داری نہیں حکم شرعی بیان کیا ہے کسی کے مخالف موافق ہو اس سے بحث نہ کی نہ کی جاسکتی ہے کیا آپ نے اس میں یہ لفظ نہ دیکھے کہ چھوٹی جماعت والے اگر خوف نزاع وجدال وغیرہ کسی مصلحت شرعیہ کے باعث دیوار توڑ کر مسجدیں ایك کرنے سے انکار کریں تو ان پر جبر بھی نہیں پہنچتاکیا آپ نے اس میں یہ لفظ نہ دیکھے کہ بہرحال چھوٹی جماعت والوں کے انکار سے ان کی مسجدمیں نماز ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں ان عبارات کو دیکھ کر آپ حضرات نے فریق اول کی طرفداری سمجھیان عبارات کو دیکھ کر وہ فریق آپ کی طرفداری سمجھےخلاصہ یہ ہوگا کہ دونوں فریق کی طرفداری ہے یعنی کسی کی طرفداری نہیں صرف بیان حکم سے غرض ہے والحمد ﷲ رب العلمین۔ اور یہ الزام کہ آپ ہر دو جانب کی گفتگو نہیں سنتے ایك ہی طرف کی بات سن کر حکم لگانا ناانصافی ہے اگر آپ انصاف فرمائیں تو یہ الزام محض بے اصل ہے یہاں فتوی دیا جاتا ہے دار القضا نہیں کہ فریقین کے بیان سننا تحقیقات امر واقع کرنا لازم ہو مفتی تو صورت سوال کا جواب دے گا اس سے اسے بحث نہیں کہ واقع کیا ہےنہ فریقین کا بیان سننا اس پر لازم نہ اس کا کام۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ سوال اگر ظاہر البطلان ہوتو اس کا جواب نہ دے اور دے تو اس کی غلطی ظاہر کردے تاکہ وہ اپنے فتوے سے باطل کا مدد گار نہ بنےیہاں بحمدہ تعالی اس کا لحاظ رہتا ہے جس سوال پر بریلی سے جواب گیا اس میں کوئی
کتبہ العبد بدیع الدین ابن سید شرف الدین صاحب مشہدی ثم الاحمد آبادی عفااﷲ تعالی عنہما
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
مکرم کرم فرمایان سلمکموعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!
عنایت نامہ مع فتاوی فریقین ملافقیر نے آپ کے فرمانے سے یہاں کے فتوے پر مکرر نظر کی اور اس طرف کے فتاوی کو بھی دیکھا جو یہاں سے لکھا گیا خالص حق وصحیح ہے اس میں بحمداﷲ تعالی کسی کی طرف داری نہیں حکم شرعی بیان کیا ہے کسی کے مخالف موافق ہو اس سے بحث نہ کی نہ کی جاسکتی ہے کیا آپ نے اس میں یہ لفظ نہ دیکھے کہ چھوٹی جماعت والے اگر خوف نزاع وجدال وغیرہ کسی مصلحت شرعیہ کے باعث دیوار توڑ کر مسجدیں ایك کرنے سے انکار کریں تو ان پر جبر بھی نہیں پہنچتاکیا آپ نے اس میں یہ لفظ نہ دیکھے کہ بہرحال چھوٹی جماعت والوں کے انکار سے ان کی مسجدمیں نماز ناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں ان عبارات کو دیکھ کر آپ حضرات نے فریق اول کی طرفداری سمجھیان عبارات کو دیکھ کر وہ فریق آپ کی طرفداری سمجھےخلاصہ یہ ہوگا کہ دونوں فریق کی طرفداری ہے یعنی کسی کی طرفداری نہیں صرف بیان حکم سے غرض ہے والحمد ﷲ رب العلمین۔ اور یہ الزام کہ آپ ہر دو جانب کی گفتگو نہیں سنتے ایك ہی طرف کی بات سن کر حکم لگانا ناانصافی ہے اگر آپ انصاف فرمائیں تو یہ الزام محض بے اصل ہے یہاں فتوی دیا جاتا ہے دار القضا نہیں کہ فریقین کے بیان سننا تحقیقات امر واقع کرنا لازم ہو مفتی تو صورت سوال کا جواب دے گا اس سے اسے بحث نہیں کہ واقع کیا ہےنہ فریقین کا بیان سننا اس پر لازم نہ اس کا کام۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ سوال اگر ظاہر البطلان ہوتو اس کا جواب نہ دے اور دے تو اس کی غلطی ظاہر کردے تاکہ وہ اپنے فتوے سے باطل کا مدد گار نہ بنےیہاں بحمدہ تعالی اس کا لحاظ رہتا ہے جس سوال پر بریلی سے جواب گیا اس میں کوئی
حوالہ / References
التفسیرات الاحمدیہ ∞تحت ۹/ ۱۰۷€ المطبع الکریمی ∞بمبئی انڈیا ص۴۷۸€
امر ایسا نہ تھا کہ صورت سوال کو غلط سمجھا جاتا مگر افسوس کہ اس طرف کے فتووں میں اس امر اہم کا لحاظ اصلا نہ ہواان کے سوالوں میں صورت یہ فرض کی تھی کہ دوسری مسجد کی بناء ضد سے کہ آپس میں تفرقہ ہواور اگلی مسجد کی آبادی میں فرق آئے محض نفسانیت وعداوت وضرر مسجد قدیم کے لئے بنائی ہےظاہر ہے کہ یہ بنانے والوں کے قلب پر حکم تھا کہ ان کی نیت یہ ہے اور نہ صرف یہ بلکہ صرف یہی ہےحالانکہ نیت کا جاننا اﷲ عزوجل کا کام ہے اور مسلمان پر بدگمانی سخت حرام ہے تو مفتی صاحب کا منصب نہ تھا کہ اس صورت باطلہ کی تقدیر مان کر مسجد کے بنانے کو موجب عذاب ٹھہرائے اور حاکم وقت کو معاذ اﷲخانہ خدا کے ڈھانے پر ابھارےایسی جگہ صرف صورت پر حوالہ کا حیلہ یا اس کہدئیے کی آڑ جو چیز ایسی ہے اس کاحکم یہ ہے اہل عقل وعلم واقعات حال زمانہ کے نزدیك ہرگز کافی نہیں جبکہ صراحۃ معلوم ہے کہ ایك فریق بناواقفی حکم شرع وہ صورت گمان یا فرض کرکے فتوے لینا چاہتا ہے جس کے فرض وگمان کا شرعا اسے اصلا حق نہیںنہ دوسرے کو جائز کہ اس کی بدگمانی مقرر رکھے
"لو لا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون و المؤمنت بانفسہم خیرا " ۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنوں پر اچھا گمان کرتے(ت)
اور وہ اپنے اس فرض باطل کے ایك فریق مسلمان کو بذریعہ فتوی ضرر پہنچانا چاہتا ہے تو صرف اس صورت کا حکم بتانا اور اس کا حکم نہ بتانا صراحۃ باطل کو مدد دینا ہے جوایك جاہل مسلمان کے لائق بھی نہیں مفتی تو مفتی
ومن لم یکن عالما باھل زمانہ فھو جاھل ۔ جو اپنے اہل زمانہ کے احوال کو نہیں جانتا وہ جاہل ہے(ت)
اور حقیقت یہ کہ نہ صرف فریق دیگر بلکہ خود اس فریق کی بھی بدخواہی ہے بلکہ اس کی بدخواہی سخت تر ہےفریق اول کی نیت اگر صحیح ہے تو ان کے فرض باطل یا نا فہم مفتیوں کے اقوال ہائل سے اس کا کیا ضررمگر اس فریق کو جوبدگمانی اور مسلمانوں کو ایذارسانی کی بیماری تھی وہ مفتیوں کی تقریر وعدم انکار کے بعد پختہ ہوگئی
فھلکوا واھلکوا وانما الدین النصح وہ خود ہلاك ہوئے اور دوسروں کو ہلاك کیا دین تو
"لو لا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون و المؤمنت بانفسہم خیرا " ۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنوں پر اچھا گمان کرتے(ت)
اور وہ اپنے اس فرض باطل کے ایك فریق مسلمان کو بذریعہ فتوی ضرر پہنچانا چاہتا ہے تو صرف اس صورت کا حکم بتانا اور اس کا حکم نہ بتانا صراحۃ باطل کو مدد دینا ہے جوایك جاہل مسلمان کے لائق بھی نہیں مفتی تو مفتی
ومن لم یکن عالما باھل زمانہ فھو جاھل ۔ جو اپنے اہل زمانہ کے احوال کو نہیں جانتا وہ جاہل ہے(ت)
اور حقیقت یہ کہ نہ صرف فریق دیگر بلکہ خود اس فریق کی بھی بدخواہی ہے بلکہ اس کی بدخواہی سخت تر ہےفریق اول کی نیت اگر صحیح ہے تو ان کے فرض باطل یا نا فہم مفتیوں کے اقوال ہائل سے اس کا کیا ضررمگر اس فریق کو جوبدگمانی اور مسلمانوں کو ایذارسانی کی بیماری تھی وہ مفتیوں کی تقریر وعدم انکار کے بعد پختہ ہوگئی
فھلکوا واھلکوا وانما الدین النصح وہ خود ہلاك ہوئے اور دوسروں کو ہلاك کیا دین تو
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۲€
درمختار کتاب الوتر والنوافل ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۹€
درمختار کتاب الوتر والنوافل ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۹€
لکل مسلم ۔ محض ہر مسلمان کی خیر خواہی کا نام ہے۔(ت)
اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایك مریض نے براہ ناواقفی اپنا مرض الٹا تشخیص کیا اور اس کےلئے طبیب سے دوا پوچھیطبیب اگرا س کا اصل مرض جانتا اور سمجھتا ہے کہ یہ دوا اسے نافع نہیں بلکہ اور مضر ہوگیتو اسے ہرگز حلال نہیں کہ الٹے مرض کی اسے دوا بتاکر اس کی غلطی کو اور جمادے اور اس کے ہلاك پر معین ہو اور یہاں اتنا کہہ دینے سے کہ مرض مسئول کی دوا یہ ہے یا جسے یہ مرض ہو اس کی دوایہ ہےطبیب الزام سے بری نہیں ہوسکتا جبکہ وہ جانتا ہے کہ اسے نہ یہ مرض نہ یہ اس کی دوابلکہ یہ اس کے مرض کو اور محکم کردے گیحاشا یہ وہی کرے گا جو یاتو خود ہی طب نہیں جانتا اور خواہی نخواہی لوگوں کا گلاکاٹنے کو طبیب بن بیٹھا یا دیدہ دانستہ مریض کی غلط تشخیص مقرر رکھ کر خلاف مرض دوادے کر اسے ہلاك کیا چاہتا ہےدونوں صورتیں سخت بلا ہیںایك دوسرے سے بدترتوصاف روشن ہوا کہ انہیں فتووں میں سخت ناانصافی اور نہ ایك فریق بلکہ دونوں کی سخت بدخواہی ہوئی اگرچہ بظاہر فریق دوم کی طرفداری نظر آئے اگر کسی ذی علم عاقل خیر خواہ مسلمان سے یہ سوال ہوتا تو وہ یوں جواب دیتا کہ بھائیواس کی بناء محض نیت پر ہے اور نیت عمل قلب ہے اور قلب پر اطلاع اﷲ عزوجل کوتم نے کیونکر جانا کہ اس فریق نے یہ مسجد اﷲ کےلئے نہ بنائی بلکہ محض نفسانیت وعداوت واضرار مسجد سابق کا ارادہ اس کے دل میں ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:افلاشققت عن قلبہ تونے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا۔ باہم تفرقہ کے بعد اس کی بناء سے غایت یہ کہ تفرقہ کے باب الوقف میں ہےاور مسلمان پر بدگمانی حرام قطعیاس بیان ضروری کے بعد چاہتا تو یہ بھی لکھتا کہ ہاں اگر دلیل شرعی سے ثابت ہو جا تا کہ ان کی نیت اضرار تھی اور اسی غرض سے انھوں نے مسجد بنائی تو ضرور اس کےلئے مسجد ضرار کا حکم ہوتا مگر حاشا اس کے ثبوت کا کیا طریقہ اور اس کی طرف راہ کیاآپ کے سوال کا جواب یہ تھانہ وہ جوایرانی ودہلوی صاحب نے دیابہرحال فقیر آپ صاحبوں کا ممنون احسان ہے کہ اپنے نزدیك جو عیب اپنے بھائی مسلمان یعنی اس فقیر میں سمجھا اس سے مطلع فرمایامجھ پر فرض تھا کہ بات ٹھیك ہوتی تو تسلیم کرتا اب کہ باطل ہے اس کا بطلان آپ کو دکھادیاماننا آپ صاحبوں کا کام ہےسنیوں بھائیوں کو آپس میں ایك رہنا لازم ہےسنیوں پر دشمنان دین کے آلام کیا تھوڑے
اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایك مریض نے براہ ناواقفی اپنا مرض الٹا تشخیص کیا اور اس کےلئے طبیب سے دوا پوچھیطبیب اگرا س کا اصل مرض جانتا اور سمجھتا ہے کہ یہ دوا اسے نافع نہیں بلکہ اور مضر ہوگیتو اسے ہرگز حلال نہیں کہ الٹے مرض کی اسے دوا بتاکر اس کی غلطی کو اور جمادے اور اس کے ہلاك پر معین ہو اور یہاں اتنا کہہ دینے سے کہ مرض مسئول کی دوا یہ ہے یا جسے یہ مرض ہو اس کی دوایہ ہےطبیب الزام سے بری نہیں ہوسکتا جبکہ وہ جانتا ہے کہ اسے نہ یہ مرض نہ یہ اس کی دوابلکہ یہ اس کے مرض کو اور محکم کردے گیحاشا یہ وہی کرے گا جو یاتو خود ہی طب نہیں جانتا اور خواہی نخواہی لوگوں کا گلاکاٹنے کو طبیب بن بیٹھا یا دیدہ دانستہ مریض کی غلط تشخیص مقرر رکھ کر خلاف مرض دوادے کر اسے ہلاك کیا چاہتا ہےدونوں صورتیں سخت بلا ہیںایك دوسرے سے بدترتوصاف روشن ہوا کہ انہیں فتووں میں سخت ناانصافی اور نہ ایك فریق بلکہ دونوں کی سخت بدخواہی ہوئی اگرچہ بظاہر فریق دوم کی طرفداری نظر آئے اگر کسی ذی علم عاقل خیر خواہ مسلمان سے یہ سوال ہوتا تو وہ یوں جواب دیتا کہ بھائیواس کی بناء محض نیت پر ہے اور نیت عمل قلب ہے اور قلب پر اطلاع اﷲ عزوجل کوتم نے کیونکر جانا کہ اس فریق نے یہ مسجد اﷲ کےلئے نہ بنائی بلکہ محض نفسانیت وعداوت واضرار مسجد سابق کا ارادہ اس کے دل میں ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:افلاشققت عن قلبہ تونے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا۔ باہم تفرقہ کے بعد اس کی بناء سے غایت یہ کہ تفرقہ کے باب الوقف میں ہےاور مسلمان پر بدگمانی حرام قطعیاس بیان ضروری کے بعد چاہتا تو یہ بھی لکھتا کہ ہاں اگر دلیل شرعی سے ثابت ہو جا تا کہ ان کی نیت اضرار تھی اور اسی غرض سے انھوں نے مسجد بنائی تو ضرور اس کےلئے مسجد ضرار کا حکم ہوتا مگر حاشا اس کے ثبوت کا کیا طریقہ اور اس کی طرف راہ کیاآپ کے سوال کا جواب یہ تھانہ وہ جوایرانی ودہلوی صاحب نے دیابہرحال فقیر آپ صاحبوں کا ممنون احسان ہے کہ اپنے نزدیك جو عیب اپنے بھائی مسلمان یعنی اس فقیر میں سمجھا اس سے مطلع فرمایامجھ پر فرض تھا کہ بات ٹھیك ہوتی تو تسلیم کرتا اب کہ باطل ہے اس کا بطلان آپ کو دکھادیاماننا آپ صاحبوں کا کام ہےسنیوں بھائیوں کو آپس میں ایك رہنا لازم ہےسنیوں پر دشمنان دین کے آلام کیا تھوڑے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان الدین النصیحۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵€۵
صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر بعد قولہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۸€
صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر بعد قولہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۸€
بندھ رہے ہیں کہ آپس میں بھی خانہ جنگی کریں اور نہ ہوسکے تو اتنا ضرور ہے کہ دنیوی رنجش جانے دیں "انما المؤمنون اخوۃ" بیشك تمام مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ت)پر نظر فرماکر گلے مل لیں فریق اول کو اپنی نیت معلوم ہے اور اﷲ تعالی اس سے زائد اس کی نسبت جانتا ہے اگر واقع میں مسجد انہوں نے محض براہ نفسانیت بقصداضرار مسجد سابق بنائی ہے تو ضرور وہ مسجد ضرار ہے اسے دور کردیں اورتائب ہوں مگر فریق دوم کو ہر گز حلال نہیں کہ مسلمانوں پر اتنی سخت بدگمانی کرکے معاذاﷲ مسجد ڈھانا چاہیں اور ایسے بے معنی ناموں کے فتووں کی آڑلیں جو اس سے زیادہ اور کیا ظلم کریں گے کہ مسجد گرانے کا حکم دیتے اور حاکم وقت کو بربادی خانہ خدا پر ابھارتے ہیں والعیاذباﷲ رب العلمین ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(اﷲ تعالی رب العالمین کی پناہبلندی وعظمت والے اﷲ تعالی کی عطا کے بغیر نہ کسی کو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت۔ت)فقیر اپنے اس خط کی نقل فریق اول کو بھی بھیجے گا کہ میں نے دونوں کی خدمت میں دست بستہ عرض کیا ہے اور اصلاح کی توفیق دینے والاخداہے والسلام علی جمیع اخواننا اھل السنۃ والجماعۃ(تمام اہلسنت وجماعت پر سلامتی ہو۔ ت)فقیر احمد رضاقادری عفی عنہ۱۰شعبان المعظم یوم الاحد ۱۳۲۹ھ ہجریہ قدسیہ علی صاحبہا وآلہ افضل الصلوۃ والتحیۃ آمین!
مسئلہ ۱۵۶: ازمارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ مسئولہ جناب سید علی شاہ حسن میاں صاحب غرہ ماہ مبارك ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد مسقف میں شدت گرما کے سبب مصلیوں کو تکلیف ہوتی ہے اور پسینہ کی کثرت وحبس کی وجہ سے ادائے فرض میں نقصان اور خلل ہوتا ہے ایسی حالت میں اس کے انسداد کےلئے اگر مسجد میں سقفی بادکش لٹکایا جائے تو یہ بھی جو بحالت معذوری ومجبوری کیا گیا ہے خلاف آداب مسجد ومنافی احکام شریعت تو نہ ہوگابینوا توجروا۔
الجواب:
موسم گرما ہمیشہ سے آتا ہے اور عرب شریف میں آتا تھا ارو مکہ معظمہ میں گرمی یہاں سے سخت تر تھی اور ہےاس میں نہ کوئی معذوری ہے نہ مجبوریورنہ ہر زمانے اور ہر مقام میں اس کا علاج ملحوظ ہوتا کہ انسان سے معذور ومجبور کبھی نہیں رہا جاتانماز عبادت وبندگی ہے اور بندگی کمال تذلل وفروتنینہ کہ مخدوم بننااور عین دربار بے نیازمیں خادم کو مقرر کرنا کہ ہم کو پنکھا جھلے کچہریوں میں جو فرشی پنکھے ہوتے ہیں اس میں
مسئلہ ۱۵۶: ازمارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ مسئولہ جناب سید علی شاہ حسن میاں صاحب غرہ ماہ مبارك ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد مسقف میں شدت گرما کے سبب مصلیوں کو تکلیف ہوتی ہے اور پسینہ کی کثرت وحبس کی وجہ سے ادائے فرض میں نقصان اور خلل ہوتا ہے ایسی حالت میں اس کے انسداد کےلئے اگر مسجد میں سقفی بادکش لٹکایا جائے تو یہ بھی جو بحالت معذوری ومجبوری کیا گیا ہے خلاف آداب مسجد ومنافی احکام شریعت تو نہ ہوگابینوا توجروا۔
الجواب:
موسم گرما ہمیشہ سے آتا ہے اور عرب شریف میں آتا تھا ارو مکہ معظمہ میں گرمی یہاں سے سخت تر تھی اور ہےاس میں نہ کوئی معذوری ہے نہ مجبوریورنہ ہر زمانے اور ہر مقام میں اس کا علاج ملحوظ ہوتا کہ انسان سے معذور ومجبور کبھی نہیں رہا جاتانماز عبادت وبندگی ہے اور بندگی کمال تذلل وفروتنینہ کہ مخدوم بننااور عین دربار بے نیازمیں خادم کو مقرر کرنا کہ ہم کو پنکھا جھلے کچہریوں میں جو فرشی پنکھے ہوتے ہیں اس میں
حوالہ / References
القرآن الکریم∞۴۹ /۱۰€
اصل مقصود حاکم ہوتا ہے کہ خود وہ ایك عاجز ومحتاج ہے جسے گرمی سردی سب ستاتی ہے بلکہ اور بہت سے جفا کشوں کی نسبت وہ زیادہ محتاج ہے پنکھا اس کے لئے لگاتے ہیں خادم اس کے لئے کھینچتا ہے حاضرین بالطبع اس سے ہوا پاتے ہیں اس سبب سے وہ بے ادبی خلاف ادب دربار نہیں گناجاتا۔یوں نہ دیکھئے بلکہ یوں کہ کوئی شخص دربار شاہی میں حاضر ہو اور اپنا خادم مقرر کرے کہ بادشاہ کے سامنے مجھے دستی جھلکیا اسے بے ادب نہ کہا جائےگابیشك کہا جائے گااور اب مسئلہ میں قدرے زیادہ بیان اور ادائے فرض میں عذر خلل ونقصان کا جواب فقیر کے فتاوی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵۷: ازاحمد آباد محلہ پانچ پیلی تاجپور ۱۴رمضان ۱۳۲۹ھ
ایك مسجد جنگل میں ہے جس کی تولیت چھیپوں کی جماعت کرتی ہے اور وہ منہدم ومسمار ہوگئی ہے اور اس کی صرف ایك محراب ہی باقی ہے اور اس مسجد کے تمام پتھر لوگ چرالے گئےاب اس صورت میں وہ محراب دوسری مسجد میں لگانا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جبکہ اس مسجد شہید شدہ کا آباد کرنا فرض ہے ناممکن ہوگیا ہو اور اس کی طرف کوئی راہ میسر نہ ہو اور چور اس کے مال پر دست درازی کررہے ہیں تو ایسی صورت میں اس ضرورت میں اس کی محراب دوسری مسجد میں لگادینے کی اجازت ہوگی کما بینہ العلامۃ الشامی فی ردالمحتار وفصلناہ فی فتاونا(جیسا کہ علامہ شامی نے اس مسئلہ کو ردالمحتارمیں بیان فرمایا اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کا مفصل ذکر کیا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۵۸: ازالہ آباد بنگلہ نمبر۱۶مہابلی پر شاد سود اگر پناہی مرسلہ حاجی منشی محمد ظہور صاحب جوہری بریلوی ۱۷صفر مظفر ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کا بیان ہے کہ مسجد میرے مورثان نے بغرض نماز اپنے اور اپنے خاندان کے باستثناء عورات کے بنوائی اور اس کے ساتھ متصل اس کے اپنا مکان بنوایا اور ایك طرف کی کڑیاں مسجد کے ایك سمت کی دیوار پر اسی وقت میں رکھ لیں اب تیس سال ہوئے جو اس نے اجازت عام نمازیوں کو واسطے نماز کے دے دی اب نماز پنجگانہ اور نماز عیدین ہوتی ہے اب اس کی اولاد میں ایك شخص نے اپنے مکان کی نیچی چھت کوڈیڑھ گز اونچاکیا اور وہاں کڑیاں یا شہتیر اٹھاکر دیوار پردیوار کو بلند کرکے ڈال لیں اور بجائے ایك کھڑکی کے دو کھڑکی جانب مسجد اضافہ کی اور دیوار کو اونچا کرکے سائبان ٹین کا اپنی طرف کو ڈال لیا جس کا مگر مسجد کے دیوار پر رہا(خلاصہ)جب خانہ خدا وہ مسجد
مسئلہ۱۵۷: ازاحمد آباد محلہ پانچ پیلی تاجپور ۱۴رمضان ۱۳۲۹ھ
ایك مسجد جنگل میں ہے جس کی تولیت چھیپوں کی جماعت کرتی ہے اور وہ منہدم ومسمار ہوگئی ہے اور اس کی صرف ایك محراب ہی باقی ہے اور اس مسجد کے تمام پتھر لوگ چرالے گئےاب اس صورت میں وہ محراب دوسری مسجد میں لگانا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جبکہ اس مسجد شہید شدہ کا آباد کرنا فرض ہے ناممکن ہوگیا ہو اور اس کی طرف کوئی راہ میسر نہ ہو اور چور اس کے مال پر دست درازی کررہے ہیں تو ایسی صورت میں اس ضرورت میں اس کی محراب دوسری مسجد میں لگادینے کی اجازت ہوگی کما بینہ العلامۃ الشامی فی ردالمحتار وفصلناہ فی فتاونا(جیسا کہ علامہ شامی نے اس مسئلہ کو ردالمحتارمیں بیان فرمایا اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کا مفصل ذکر کیا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۵۸: ازالہ آباد بنگلہ نمبر۱۶مہابلی پر شاد سود اگر پناہی مرسلہ حاجی منشی محمد ظہور صاحب جوہری بریلوی ۱۷صفر مظفر ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کا بیان ہے کہ مسجد میرے مورثان نے بغرض نماز اپنے اور اپنے خاندان کے باستثناء عورات کے بنوائی اور اس کے ساتھ متصل اس کے اپنا مکان بنوایا اور ایك طرف کی کڑیاں مسجد کے ایك سمت کی دیوار پر اسی وقت میں رکھ لیں اب تیس سال ہوئے جو اس نے اجازت عام نمازیوں کو واسطے نماز کے دے دی اب نماز پنجگانہ اور نماز عیدین ہوتی ہے اب اس کی اولاد میں ایك شخص نے اپنے مکان کی نیچی چھت کوڈیڑھ گز اونچاکیا اور وہاں کڑیاں یا شہتیر اٹھاکر دیوار پردیوار کو بلند کرکے ڈال لیں اور بجائے ایك کھڑکی کے دو کھڑکی جانب مسجد اضافہ کی اور دیوار کو اونچا کرکے سائبان ٹین کا اپنی طرف کو ڈال لیا جس کا مگر مسجد کے دیوار پر رہا(خلاصہ)جب خانہ خدا وہ مسجد
عام نمازیوں کے واسطے وقف ہوگئی تو وہ دیوار مسجد جس پر کڑیاں یا شہتیر رکھا ہو اور دو مینار بھی اسی دیوار پر ہوں تو وہ دیوار بھی وقف ہوئی یانہیں اور اس دیوار سے کڑیاں اٹھاکر اور دیوار بلند کرکے پھر دوبارہ کڑیاں رکھنے یا دیوار مسجد پر دیوار بنانے یا اضافہ کرنے کا کوئی حق ہے یانہیں وارثان بانی مسجد کو ازروئے شرع شریفاور وہ حق یا تعلق جوبانی مسجد نے رکھا تھا بعد علیحدہ کرنے کے باقی رہا یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
وہ مسجد روز اول سے عام مسلمانوں کے لئے خانہ خدا ہوگئی خاص ایك قوم کےلئے نیت کرنے سے خاص نہیں ہوسکتی نہ بانی کو اس میں اپنے لئے کوئی حق یا تعلق رکھنے کااختیار ہےفتاوی عالمگیری جد ۳ص۱۳۷میں ہے:
اتفقواعلی انہ لواتخذ مسجدا علی انہ بالخیار جاز الوقف وبطل الشرط کذافی مختار الفتاویفی وقف الخصاف اذا جعل ارضہ مسجداوبناہ واشھدان لہ ابطالہ وبیعہ فہو شرط باطل ویکون مسجدا کما لو بنی مسجدا لاھل محلۃ وقال جعلت ھذا المسجد لھذہ المحلۃ خاصۃ کان لغیراھل تلك المحلۃ ان یصلی فیہ ھکذافی الذخیرۃ ۔ یعنی سب علماء کا اتفاق ہے کہ اگر مسجد بنائی اس شرط پر کہ مجھے اختیار رہے تو مسجد صحیح ہوگئی اور وہ شرط جو لگائی باطل و بے اثر ہےایسا ہی مختار الفتاوی میں ہے۔وقف خصاف میں ہے جب اپنی زمین کو مسجد کیا اور مسجد تعمیر کی اور لوگوں کو گواہ کرلیا کہ اس کا باطل کرنا اور بیچنا مجھے جائز ہوگا تو یہ شرط باطل ہے اور وہ مسجد ہوجائیگی اسی طرح اگر مسجد کسی محلہ والوں کے لئے بنائی اور کہا کہ میں نے خاص اس محلہ والوں کےلئے اسے مسجد کیا تویہ شرط بھی باطل ہے اور وہ عام مسجد ہوجائیگی ہر شخص کو اس میں نماز کا اختیار ہوگا اگرچہ وہ غیر محلہ کا ہو۔ ذخیرہ میں یونہی ہے۔
اور جب وہ دیوار مسجد کی ہے خود بیان کرنے والا کہہ رہا ہے کہ مسجد کی دیوار پر کڑیاں رکھ لیں اور اس دیوار پر مسجد کے دو منارے ہونا روشن دلیل ہے کہ وہ مسجد کی دیوار ہے تو اس دیوار کے وقف و مسجد ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہےبانی مسجد کو حرام تھا کہ مسجد کی دیوارپر اپنی کڑیاں رکھےیوں ہی اس وارث نے جو تصرفات مذکورہ کئے سب حرام ہیںاور واجب ہے کہ کڑیاں اتاردی جائیں اور ٹین جدا کر دیا جائےمسجد کی
الجواب:
وہ مسجد روز اول سے عام مسلمانوں کے لئے خانہ خدا ہوگئی خاص ایك قوم کےلئے نیت کرنے سے خاص نہیں ہوسکتی نہ بانی کو اس میں اپنے لئے کوئی حق یا تعلق رکھنے کااختیار ہےفتاوی عالمگیری جد ۳ص۱۳۷میں ہے:
اتفقواعلی انہ لواتخذ مسجدا علی انہ بالخیار جاز الوقف وبطل الشرط کذافی مختار الفتاویفی وقف الخصاف اذا جعل ارضہ مسجداوبناہ واشھدان لہ ابطالہ وبیعہ فہو شرط باطل ویکون مسجدا کما لو بنی مسجدا لاھل محلۃ وقال جعلت ھذا المسجد لھذہ المحلۃ خاصۃ کان لغیراھل تلك المحلۃ ان یصلی فیہ ھکذافی الذخیرۃ ۔ یعنی سب علماء کا اتفاق ہے کہ اگر مسجد بنائی اس شرط پر کہ مجھے اختیار رہے تو مسجد صحیح ہوگئی اور وہ شرط جو لگائی باطل و بے اثر ہےایسا ہی مختار الفتاوی میں ہے۔وقف خصاف میں ہے جب اپنی زمین کو مسجد کیا اور مسجد تعمیر کی اور لوگوں کو گواہ کرلیا کہ اس کا باطل کرنا اور بیچنا مجھے جائز ہوگا تو یہ شرط باطل ہے اور وہ مسجد ہوجائیگی اسی طرح اگر مسجد کسی محلہ والوں کے لئے بنائی اور کہا کہ میں نے خاص اس محلہ والوں کےلئے اسے مسجد کیا تویہ شرط بھی باطل ہے اور وہ عام مسجد ہوجائیگی ہر شخص کو اس میں نماز کا اختیار ہوگا اگرچہ وہ غیر محلہ کا ہو۔ ذخیرہ میں یونہی ہے۔
اور جب وہ دیوار مسجد کی ہے خود بیان کرنے والا کہہ رہا ہے کہ مسجد کی دیوار پر کڑیاں رکھ لیں اور اس دیوار پر مسجد کے دو منارے ہونا روشن دلیل ہے کہ وہ مسجد کی دیوار ہے تو اس دیوار کے وقف و مسجد ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہےبانی مسجد کو حرام تھا کہ مسجد کی دیوارپر اپنی کڑیاں رکھےیوں ہی اس وارث نے جو تصرفات مذکورہ کئے سب حرام ہیںاور واجب ہے کہ کڑیاں اتاردی جائیں اور ٹین جدا کر دیا جائےمسجد کی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۵۸۔۴۵۷€
دیوار ان تصرفات سے پاك کردی جائے۔درمختارمطبع قسطنطنیہ جلد ۳ص۵۷۳ میں ہے:
لو بنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لوتمت المسجدیۃ ثم ارادہ البناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃ فاذاکان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد ۔ یعنی اگر مسجد کی چھت پر امام کے لئے گھر بنایا تو نقصان نہیں کہ یہ بھی مصالح مسجد سے ہے مگر مسجد پوری ہونے کے بعد اگر امام کےلئے بھی گھر بنانا چاہے گا نہ بنانے دیں گے اور اگر کہے گا میری پہلے سے یہی نیت تھی جب بھی نہ مانیں گے۔ تاتارخانیہ میں ہے تو جب یہ حکم خود بانی مسجدپر ہے تو دوسرے کا کیاذکرتو اس کا ڈھادینا واجب ہے اگرچہ مسجد کی فقط دیوار ہی پر کچھ بنایا ہو۔
بحرالرائق مطبع مصر جلد ۵ص۲۷۱ میں ہے:
اذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فمن بنی بیتا علی جدار المسجد وجب ھدمہ ۔ یعنی جب خودبانی مسجد کو ممانعت ہے تو غیر بانی کیا چیزہے تو جو شخص مسجد کی دیوار پر کوئی عمارت بنائے اس کا ڈھادینا واجب ہے۔
ردالمحتار مطبع استنبول جلد ۳ص۵۷۳میں ہے:
نقل فی البحر قبلہ ولایوضع الجذع علی جدار المسجد وان کان من اوقافہ اھ قلت وبہ علم حکم مایصنعہ بعض جیران المسجد من وضع جذوع علی جدارہ فانہ لایحل ولودفع الاجرۃ ۔ یعنی بحرالرائق میں اس سے پہلے نقل فرمایا ہے کہ مسجد کی دیوار پر کڑی نہ رکھی جائے اگرچہ وہ کڑی خود مسجد ہی کی کسی وقفی مکان کی ہو اور یہیں سے معلوم ہوا کہ مسجد کے زیر سایہ رہنے والے بعض لوگ جو مسجد کی دیوار پر کڑیاں رکھ لیتے ہیں یہ حرام ہے اگرچہ وہ کرایہ بھی دیں جب بھی اجازت نہیں ہوسکتی۔واﷲ تعالی اعلم۔
لو بنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لوتمت المسجدیۃ ثم ارادہ البناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃ فاذاکان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد ۔ یعنی اگر مسجد کی چھت پر امام کے لئے گھر بنایا تو نقصان نہیں کہ یہ بھی مصالح مسجد سے ہے مگر مسجد پوری ہونے کے بعد اگر امام کےلئے بھی گھر بنانا چاہے گا نہ بنانے دیں گے اور اگر کہے گا میری پہلے سے یہی نیت تھی جب بھی نہ مانیں گے۔ تاتارخانیہ میں ہے تو جب یہ حکم خود بانی مسجدپر ہے تو دوسرے کا کیاذکرتو اس کا ڈھادینا واجب ہے اگرچہ مسجد کی فقط دیوار ہی پر کچھ بنایا ہو۔
بحرالرائق مطبع مصر جلد ۵ص۲۷۱ میں ہے:
اذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فمن بنی بیتا علی جدار المسجد وجب ھدمہ ۔ یعنی جب خودبانی مسجد کو ممانعت ہے تو غیر بانی کیا چیزہے تو جو شخص مسجد کی دیوار پر کوئی عمارت بنائے اس کا ڈھادینا واجب ہے۔
ردالمحتار مطبع استنبول جلد ۳ص۵۷۳میں ہے:
نقل فی البحر قبلہ ولایوضع الجذع علی جدار المسجد وان کان من اوقافہ اھ قلت وبہ علم حکم مایصنعہ بعض جیران المسجد من وضع جذوع علی جدارہ فانہ لایحل ولودفع الاجرۃ ۔ یعنی بحرالرائق میں اس سے پہلے نقل فرمایا ہے کہ مسجد کی دیوار پر کڑی نہ رکھی جائے اگرچہ وہ کڑی خود مسجد ہی کی کسی وقفی مکان کی ہو اور یہیں سے معلوم ہوا کہ مسجد کے زیر سایہ رہنے والے بعض لوگ جو مسجد کی دیوار پر کڑیاں رکھ لیتے ہیں یہ حرام ہے اگرچہ وہ کرایہ بھی دیں جب بھی اجازت نہیں ہوسکتی۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختارکتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۱€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۱€
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۱€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۱€
مسئلہ۱۵۹: مسئولہ مولوی صلاح الدین صاحب عرف حاجی دادا ساکن ضلع پشاور ۲۱ صفر ۱۳۳۰ھ
مسجد میں درخت بونا جائز ہے یانہیںاگر بولیا گیا تو وہ کس کی ملك شمار ہوگا
الجواب:
مسجد میں درخت بونا ناجائز ہے اگرچہ مسجد وسیع ہو اگر چہ درخت پھلدار ہو(سوااس ضرورت کے کہ زمین مسجد سخت نمناك ہو جس کے باعث اس کی عمارت کو ضرر پہنچے ستون نہ ٹھہریں یا دیواریں پھولیںاس لئے بوئے جائیں کہ ان کی جڑیں پھیل کر رطوبت کو جذب کرلیں)خلاصہ میں ہے:
غرس الاشجار فی المسجد لاباس بہ اذاکان فیہ نفع للمسجد بان کان المسجد ذانزو الا سطوانات لا تستقر بدونہا وبدون ھذالایجوز اھ ولفظ الامام ظہیر الدین بعد ذکر الحاجۃ المذکورۃ فحینئذ یجوز والا فلا اھ قال فی منحۃ الخالق قولہ والا فلا دلیل علی انہ لایجوز احداث الغرس فی المسجد ولا القائہ وفیہ لغیر ذلك العذر ولو کان المسجد واسعا و لوقصدبہ الاستغلال للمسجد الخ۔ مسجد میں درخت لگانا جائز ہے جبکہ مسجد کے نفع کے لئے ہو جیسے زمین مسجد نمناك ہو اور درختوں کے بغیر اس کے ستون قرار نہ پکڑتے ہوں اور اس ضرورت کے بغیر درخت لگانا نا جائز ہیں اھ حاجت مذکور کے ذکر کرنے کے بعد امام ظہیر الدین نے یوں فرمایا کہ اگر یہ حاجت ہوتو جائز ورنہ ناجائز اھ منحۃ الخالق میں ہے فرمایا کہ امام ظہیر الدین کا قول والالاورنہ ناجائز ہے)یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عذر مذکور کے بغیر مسجد میں ابتدا درخت لگانابھی ناجائز اور لگے ہوئے درختو ں کو باقی رکھنا بھی ناجائز ہے اگر چہ مسجد وسیع ہو اور اگرچہ اس سے مسجد کے لئے کرایہ لینا مقصود ہو الخ(ت)
ہاں اگر درخت مسجد کے مسجد ہونے سے پہلے رکھا گیا تو عدم جواز مذکور کے تحت میں داخل نہیں کہ اس تقدیر پر یہ درخت مسجد میں نہ بویا گیا بلکہ مسجد زمین درخت میں بنائی گئی اس صورت میں اگر درخت بونے والا وہی مالك زمین وبانی مسجد ہے تو درخت مسجد پر وقف ہوگانہ کسی شخص کی ملک
فی ردالمحتار یدخل فی وقف الارض ردالمحتار میں ہے زمین کے وقف وہ درخت اور
مسجد میں درخت بونا جائز ہے یانہیںاگر بولیا گیا تو وہ کس کی ملك شمار ہوگا
الجواب:
مسجد میں درخت بونا ناجائز ہے اگرچہ مسجد وسیع ہو اگر چہ درخت پھلدار ہو(سوااس ضرورت کے کہ زمین مسجد سخت نمناك ہو جس کے باعث اس کی عمارت کو ضرر پہنچے ستون نہ ٹھہریں یا دیواریں پھولیںاس لئے بوئے جائیں کہ ان کی جڑیں پھیل کر رطوبت کو جذب کرلیں)خلاصہ میں ہے:
غرس الاشجار فی المسجد لاباس بہ اذاکان فیہ نفع للمسجد بان کان المسجد ذانزو الا سطوانات لا تستقر بدونہا وبدون ھذالایجوز اھ ولفظ الامام ظہیر الدین بعد ذکر الحاجۃ المذکورۃ فحینئذ یجوز والا فلا اھ قال فی منحۃ الخالق قولہ والا فلا دلیل علی انہ لایجوز احداث الغرس فی المسجد ولا القائہ وفیہ لغیر ذلك العذر ولو کان المسجد واسعا و لوقصدبہ الاستغلال للمسجد الخ۔ مسجد میں درخت لگانا جائز ہے جبکہ مسجد کے نفع کے لئے ہو جیسے زمین مسجد نمناك ہو اور درختوں کے بغیر اس کے ستون قرار نہ پکڑتے ہوں اور اس ضرورت کے بغیر درخت لگانا نا جائز ہیں اھ حاجت مذکور کے ذکر کرنے کے بعد امام ظہیر الدین نے یوں فرمایا کہ اگر یہ حاجت ہوتو جائز ورنہ ناجائز اھ منحۃ الخالق میں ہے فرمایا کہ امام ظہیر الدین کا قول والالاورنہ ناجائز ہے)یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عذر مذکور کے بغیر مسجد میں ابتدا درخت لگانابھی ناجائز اور لگے ہوئے درختو ں کو باقی رکھنا بھی ناجائز ہے اگر چہ مسجد وسیع ہو اور اگرچہ اس سے مسجد کے لئے کرایہ لینا مقصود ہو الخ(ت)
ہاں اگر درخت مسجد کے مسجد ہونے سے پہلے رکھا گیا تو عدم جواز مذکور کے تحت میں داخل نہیں کہ اس تقدیر پر یہ درخت مسجد میں نہ بویا گیا بلکہ مسجد زمین درخت میں بنائی گئی اس صورت میں اگر درخت بونے والا وہی مالك زمین وبانی مسجد ہے تو درخت مسجد پر وقف ہوگانہ کسی شخص کی ملک
فی ردالمحتار یدخل فی وقف الارض ردالمحتار میں ہے زمین کے وقف وہ درخت اور
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلٰوۃ الفصل السادس والعشرون فی المسجد ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۲۲€۸
بحرالرائق بحوالہ الظہیریہ کتاب الصلٰوۃ فصل لما فرغ من بیان الکراہیۃفی الصلٰوۃ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳€۵
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلٰوۃ فصل لما فرغ من بیان الکراہیۃفی الصلٰوۃ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳۵€
بحرالرائق بحوالہ الظہیریہ کتاب الصلٰوۃ فصل لما فرغ من بیان الکراہیۃفی الصلٰوۃ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳€۵
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلٰوۃ فصل لما فرغ من بیان الکراہیۃفی الصلٰوۃ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۳۵€
مافیہامن الشجر والبناء الخ۔ عمارت بھی داخل ہوگی جو اس زمین موقوفہ میں ہے۔(ت)
اوراگر درخت دوسرے کا ہے تو اس کی اجازت پر موقوف رہے گا اگر مسجد پر اس کا وقف تسلیم کرلے گا تو وقف ہوجائے گا ورنہ تفریغ مسجد کا حکم کیا جائے گا۔رہا یہ کہ مسجد میں درخت بویا علماء نے فرمایا کہ درخت مسجد کے لئے ہوگا۔ ردالمحتار میں خانیہ سے ہے:
لوغرس فی المسجد یکون للمسجد لانہ لایغرس فیہ لنفسہ ۔ اگر کسی نے مسجد میں درخت بویا تو وہ مسجد کاہی ہوگا کیونکہ وہ اپنے لئے نہیں ہوسکتا ہے۔(ت)
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے:
اذا غرس شجرافی المسجد فالشجر للمسجد ۔ جب کسی نے مسجد میں د رخت لگا یا تو وہ درخت مسجد کے لئے ہوگا(ت)
اسی میں محیط سے ہے:
سئل نجم الدین عن رجل غرس قالۃ فی مسجد فکبرت بعد سنین فاراد متولی المسجدان یصرف ھذہ الشجرۃ الی عمارۃ بئر فی ھذہ السکۃ والغارس یقول ھی لی فانی ماوقفتھا علی المسجدقال الظاہران الغارس جعلھا للمسجد فلایجوز صرفھا الی البئر ولا یجوز للغارس صرفھا الی حاجۃ نفسہ ۔ نجم الدین سے پوچھا گیا کہ ایك شخص نے مسجد میں پودا لگایا جو چند برس میں بڑا درخت بن گیامتولی مسجد کا ارادہ ہے کہ وہ اس درخت کو اسی کوچہ کے کنویں کی تعمیر میں صرف کرےاور درخت لگانے والا کہتا ہے کہ یہ میراہے کیونکہ میں نے اس کو مسجد پر وقف نہیں کیاتو امام نجم الدین نے فرمایا ظاہر یہ ہے کہ اگر درخت بونے والے نے مسجد کے لئے بویا تھا تو اس کو کنویں کی تعمیر میں صرف کرنا جائز نہیں اور نہ ہی بونے والا اپنی ضرورت میں اس کو صرف کرسکتا ہے۔(ت)
اوراگر درخت دوسرے کا ہے تو اس کی اجازت پر موقوف رہے گا اگر مسجد پر اس کا وقف تسلیم کرلے گا تو وقف ہوجائے گا ورنہ تفریغ مسجد کا حکم کیا جائے گا۔رہا یہ کہ مسجد میں درخت بویا علماء نے فرمایا کہ درخت مسجد کے لئے ہوگا۔ ردالمحتار میں خانیہ سے ہے:
لوغرس فی المسجد یکون للمسجد لانہ لایغرس فیہ لنفسہ ۔ اگر کسی نے مسجد میں درخت بویا تو وہ مسجد کاہی ہوگا کیونکہ وہ اپنے لئے نہیں ہوسکتا ہے۔(ت)
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے:
اذا غرس شجرافی المسجد فالشجر للمسجد ۔ جب کسی نے مسجد میں د رخت لگا یا تو وہ درخت مسجد کے لئے ہوگا(ت)
اسی میں محیط سے ہے:
سئل نجم الدین عن رجل غرس قالۃ فی مسجد فکبرت بعد سنین فاراد متولی المسجدان یصرف ھذہ الشجرۃ الی عمارۃ بئر فی ھذہ السکۃ والغارس یقول ھی لی فانی ماوقفتھا علی المسجدقال الظاہران الغارس جعلھا للمسجد فلایجوز صرفھا الی البئر ولا یجوز للغارس صرفھا الی حاجۃ نفسہ ۔ نجم الدین سے پوچھا گیا کہ ایك شخص نے مسجد میں پودا لگایا جو چند برس میں بڑا درخت بن گیامتولی مسجد کا ارادہ ہے کہ وہ اس درخت کو اسی کوچہ کے کنویں کی تعمیر میں صرف کرےاور درخت لگانے والا کہتا ہے کہ یہ میراہے کیونکہ میں نے اس کو مسجد پر وقف نہیں کیاتو امام نجم الدین نے فرمایا ظاہر یہ ہے کہ اگر درخت بونے والے نے مسجد کے لئے بویا تھا تو اس کو کنویں کی تعمیر میں صرف کرنا جائز نہیں اور نہ ہی بونے والا اپنی ضرورت میں اس کو صرف کرسکتا ہے۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاءالتراث العربی بیروت∞۳/۳۷۳€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاءالتراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۲۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۷€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاءالتراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۲۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۷€
درمختار میں ہے:
لوغرس فی المسجد اشجاراتثمران غرسھا للسبیل فلکل مسلم الاکل والافتباع لمصالح المسجد ۔ واقف نے مسجد میں پھلدار درخت بوئے اگر تو اس نے فی سبیل اﷲ وقف کے طور پر بوئے ہیں تو ہر مسلمان کو پھل کھانا جائز ہے ورنہ ان پھلوں کو مصالح مسجد کے لئے فروخت کیا جائے گا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای وان لم یغرسھاللسبیل بان غرسھا للمسجد او لم یعلم غرضہ بحرعن الحاوی ۔ یعنی اگر اس نے فی سبیل اﷲ وقف کے طور نہیں بوئے بایں طور کہ مسجد کے لئے ان کو بویا یا اس کی غرض معلوم نہیں ہوسکیبحر بحوالہ حاوی۔(ت)
اصل یہ ہے کہ بنایا غرس زمین وقف میں اگر متولی کرے تو مطلقا وقف کے لئے ہے مگر یہ کہ اپنے ذاتی مال سے کرے اور بناو غرس سے پہلے گواہ کرلے کہ اپنے نفس کے لئے کرتا ہوں یا یہ کہ متولی خود واقف ہو اور وقف کے لئے اس کی نیت نہ کرے اور مسجد میں بونا دلالۃ مسجد کے لئے بونا ہے کہ کوئی مسجد میں اپنے لئے نہیں بوتایہ اس فرع کی تاصیل ہےدرمختار میں ہے:
المتولی بناؤہ وغرسہ للوقف مالم یشھد انہ لنفسہ قبلہ ۔ متولی کا زمین وقف میں عمارت بنانا یا درخت لگانا وقف کےلئے ہی ہوگا جب تك وہ عمارت بنانے یا درخت لگانے سے قبل اس پر گواہ نہ قائم کردے کہ میں اپنی ذات کے لئے کررہا ہوں۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ان کان البانی المتولی بمال الوقف فوقفسواء بناہ للوقف او لنفسہ اواطلقوان من مالہ للوقف او اطلق فوقف الا اذاکان عمارت بنانے والااگر خود متولی ہو اور مال وقف سے بنائے تووہ وقف کے لئے ہے چاہے وقف کیلئے بنائے یا اپنے لئے بنائے یا مطلق رکھے
لوغرس فی المسجد اشجاراتثمران غرسھا للسبیل فلکل مسلم الاکل والافتباع لمصالح المسجد ۔ واقف نے مسجد میں پھلدار درخت بوئے اگر تو اس نے فی سبیل اﷲ وقف کے طور پر بوئے ہیں تو ہر مسلمان کو پھل کھانا جائز ہے ورنہ ان پھلوں کو مصالح مسجد کے لئے فروخت کیا جائے گا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای وان لم یغرسھاللسبیل بان غرسھا للمسجد او لم یعلم غرضہ بحرعن الحاوی ۔ یعنی اگر اس نے فی سبیل اﷲ وقف کے طور نہیں بوئے بایں طور کہ مسجد کے لئے ان کو بویا یا اس کی غرض معلوم نہیں ہوسکیبحر بحوالہ حاوی۔(ت)
اصل یہ ہے کہ بنایا غرس زمین وقف میں اگر متولی کرے تو مطلقا وقف کے لئے ہے مگر یہ کہ اپنے ذاتی مال سے کرے اور بناو غرس سے پہلے گواہ کرلے کہ اپنے نفس کے لئے کرتا ہوں یا یہ کہ متولی خود واقف ہو اور وقف کے لئے اس کی نیت نہ کرے اور مسجد میں بونا دلالۃ مسجد کے لئے بونا ہے کہ کوئی مسجد میں اپنے لئے نہیں بوتایہ اس فرع کی تاصیل ہےدرمختار میں ہے:
المتولی بناؤہ وغرسہ للوقف مالم یشھد انہ لنفسہ قبلہ ۔ متولی کا زمین وقف میں عمارت بنانا یا درخت لگانا وقف کےلئے ہی ہوگا جب تك وہ عمارت بنانے یا درخت لگانے سے قبل اس پر گواہ نہ قائم کردے کہ میں اپنی ذات کے لئے کررہا ہوں۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ان کان البانی المتولی بمال الوقف فوقفسواء بناہ للوقف او لنفسہ اواطلقوان من مالہ للوقف او اطلق فوقف الا اذاکان عمارت بنانے والااگر خود متولی ہو اور مال وقف سے بنائے تووہ وقف کے لئے ہے چاہے وقف کیلئے بنائے یا اپنے لئے بنائے یا مطلق رکھے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۱۵€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۳€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۱۵€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۳€
ھو الواقف واطلق فھولہ کمافی الذخیرۃ وان من مالہ لنفسہ واشھدانہ لہ فہو لہ کما فی القنیۃ والمجتبی وان لم یکن متولیا فان بنی باذن المتولی لیرجع فوقفوالا فان بنی للوقف فوقفوان لنفسہ واطلق فلہ رفعہ ان لم یضر ۔ اور اگر اپنے مال سے وقف کے لئے بنائے یا مطلق رکھے تب بھی وقف کے لئے ہوگی ہاں اگروہ خود واقف ہو اور مطلق رکھے تو وہ اس کے اپنے لئے ہوگی(ذخیرہ)اور اگر اس نے اپنے مال سے اپنی ذات کےلئے عمارت بنائی اور اس پر گواہ بھی قائم کرلئے کہ اپنی ذات کےلئے بنارہاہوں تو وہ اسی کی ہوگی جیسا کہ قنیہ ومجتبی میں ہے۔اگر بانی خود متولی نہ ہو تو اگر اس نے متولی کی اجازت سے عمارت بنائی تاکہ متولی سے خرچہ کارجوع کرسکے تو وہ وقف کےلئے ہے ورنہ اگر وقف کےلئے بنائی تو پھر بھی وقف ہے اور اگر اپنے لئے بنائی یا مطلق رکھی تو اس کو اٹھانے کا اختیار ہے جبکہ وقف کو نقصان نہ پہنچے(ت)
اشباہ میں ہے:
وان اضرفہو المضیع لما لہ فلیتربص الی خلاصہ ۔ اور اگر اس کو اٹھالےجانے میں وقف کو نقصان ہے تونہ اٹھانے دیں گے کیونکہ اس نے اپنا مال خود ضائع کیا اب وہ انتظار کرے یہاں تك کہ وہ عمارت وقف سے خلاص ہوجائے۔(ت)
اقول:مگر یہ بنا وغرس جائز میں ہے ناجائز کےلئے حکم ہدم وقلع ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق (عرق ظالم کا کوئی حق نہیں۔ت)درمختار میں ہے:
لوبنی فوقہ بیتا للامام لایضرلانہ من المصالح اما لو تمت المسجدیۃ اگر واقف نے مسجد کے اوپر امام کا حجرہ بنادیا تو جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے لیکن تمام
اشباہ میں ہے:
وان اضرفہو المضیع لما لہ فلیتربص الی خلاصہ ۔ اور اگر اس کو اٹھالےجانے میں وقف کو نقصان ہے تونہ اٹھانے دیں گے کیونکہ اس نے اپنا مال خود ضائع کیا اب وہ انتظار کرے یہاں تك کہ وہ عمارت وقف سے خلاص ہوجائے۔(ت)
اقول:مگر یہ بنا وغرس جائز میں ہے ناجائز کےلئے حکم ہدم وقلع ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق (عرق ظالم کا کوئی حق نہیں۔ت)درمختار میں ہے:
لوبنی فوقہ بیتا للامام لایضرلانہ من المصالح اما لو تمت المسجدیۃ اگر واقف نے مسجد کے اوپر امام کا حجرہ بنادیا تو جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے لیکن تمام
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۲۹€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوقف ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۰۳۔۳۰۲€
صحیح البخاری کتاب الحرث والمزارعۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۴،€سنن ابوداؤد کتاب باب احیاء الموات ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۱،€السنن الکبرٰی کتاب الغصب باب لیس لعرق ظالم حق دارصادر بیروت ∞۶/ ۹۹€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوقف ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۰۳۔۳۰۲€
صحیح البخاری کتاب الحرث والمزارعۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۴،€سنن ابوداؤد کتاب باب احیاء الموات ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۱،€السنن الکبرٰی کتاب الغصب باب لیس لعرق ظالم حق دارصادر بیروت ∞۶/ ۹۹€
ثم ارادالبناء منعولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃفاذاکان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد ۔ مسجدیت کے بعد اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو اسے روکا جائے گا اگرچہ وہ کہے کہ میرا شروع سے یہ ارادہ تھاتو اس کی تصدیق نہیں کی جائے گیتاتارخانیہ۔جب خود واقف کا یہ حکم ہے توغیر واقف کو کیسے اجازت ہو سکتی ہے لہذا ایسی عمارت کو گرادینا واجب ہے اگرچہ وہ مسجد کی دیوار پر ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی فتاوی قاری الھدایۃ استاجردارا وقفا وجعلھا طاحونا ان لم یکن انفع ولااکثر ریعا الزم بھدم ماصنع اھ مختصرا۔ فتاوی قاری الہدایۃ میں ہے کہ ایك شخص نے مکان وقف کو کرایہ پر لے کر اس میں آٹا پیسنے کی چکی بنادی اگروہ وقف کےلئے زیادہ نفع وخوبی کا حامل نہیں تو جو کچھ اس نے بنایا اس کو گرانے پر مجبور کیا جائے گا اھ مختصرا(ت)
اور ہم بیان کرچکے بلا ضرورت مذکورہ مسجد میں پیڑبونا جائز نہیں لشغلہ موضع الصلوۃ ولشبہ البیع والکنائس (کیونکہ اسطرح نماز کی جگہ بھی مشغول ہوگی اور گرجا اور کلیسا سے مشابہت بھی ہوگی۔ت)اور یہ کہ اس کا باقی رکھنا جائز نہیں تو یہ فروع خانیہ صورت جواز پر محمول ہوں گی۔
الاتری انہ ممنوع والوقف قربۃ وانہ مقلوع والوقف مؤبد فذلك برھانان انہ لایکون للسمجد۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ ممنوع ہے جبکہ وقف عبادت ہے اور اس کو اکھاڑنا لازمجبکہ وقف کو ہمیشہ باقی رکھنا لازم ہےیہ دونوں دلیلیں ہیں اس پر کہ وہ مسجد کےلئے نہیں(ت)
اور فرع مذکور بحر وحاوی ودرمختار فنائے مسجد میں غرس پر بھی محمول ہوسکتی ہے اور اگر ثابت ہوکہ فنائے مسجد میں بونا بھی دلالۃ مسجد میں بونا بتاتا ہے تو جملہ فروع مذکورہ کا یہ دوسرا عمدہ محمل ہے ھذا ماظھرلی(یہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔ت) واﷲ تعالی اعلم
ردالمحتار میں ہے:
فی فتاوی قاری الھدایۃ استاجردارا وقفا وجعلھا طاحونا ان لم یکن انفع ولااکثر ریعا الزم بھدم ماصنع اھ مختصرا۔ فتاوی قاری الہدایۃ میں ہے کہ ایك شخص نے مکان وقف کو کرایہ پر لے کر اس میں آٹا پیسنے کی چکی بنادی اگروہ وقف کےلئے زیادہ نفع وخوبی کا حامل نہیں تو جو کچھ اس نے بنایا اس کو گرانے پر مجبور کیا جائے گا اھ مختصرا(ت)
اور ہم بیان کرچکے بلا ضرورت مذکورہ مسجد میں پیڑبونا جائز نہیں لشغلہ موضع الصلوۃ ولشبہ البیع والکنائس (کیونکہ اسطرح نماز کی جگہ بھی مشغول ہوگی اور گرجا اور کلیسا سے مشابہت بھی ہوگی۔ت)اور یہ کہ اس کا باقی رکھنا جائز نہیں تو یہ فروع خانیہ صورت جواز پر محمول ہوں گی۔
الاتری انہ ممنوع والوقف قربۃ وانہ مقلوع والوقف مؤبد فذلك برھانان انہ لایکون للسمجد۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ ممنوع ہے جبکہ وقف عبادت ہے اور اس کو اکھاڑنا لازمجبکہ وقف کو ہمیشہ باقی رکھنا لازم ہےیہ دونوں دلیلیں ہیں اس پر کہ وہ مسجد کےلئے نہیں(ت)
اور فرع مذکور بحر وحاوی ودرمختار فنائے مسجد میں غرس پر بھی محمول ہوسکتی ہے اور اگر ثابت ہوکہ فنائے مسجد میں بونا بھی دلالۃ مسجد میں بونا بتاتا ہے تو جملہ فروع مذکورہ کا یہ دوسرا عمدہ محمل ہے ھذا ماظھرلی(یہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔ت) واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت∞۳/ ۴۲۴€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت∞۳/ ۴۲۴€
مسئلہ۱۶۰: ازمیرٹھ ۸جمادی الآخر ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك رنڈی نے اپنے پیشہ کے ذریعہ سے کچھ دکانیں خریدیںچندروز کے بعد وہ رنڈی مرگئیبعد مرنے کے وہ دکانیں وراثۃ اس کی بہن کو پہنچیں جو اپنے پیشہ سے تائب اور کسی کے نکاح میں ہےاب اس کی بہن اپنی طرف سے اس جائداد کو جو وراثۃ اس کو ملی ہے کسی مسجد کے نام وقف کرنا چاہتی ہےاس صورت میں مہتممان مسجد کو ان دکانوں کا لینا اور ان کے کرایہ سے مسجد کے مصارف میں خرچ کرنا جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ وہ دکانیں بعینہا رنڈی کو اجرت زنا یاغنا میں نہ ملی تھیں بلکہ اس نے خرید کیںاگرچہ خریداری اسی زر خبیث سے ہوتو ازانجا کہ عامہ عقود رائجہ میں یہ قاعدہ نہیں کہ روپیہ دکھا کر کہا جاتا ہو اس روپے کے عوض بیع کرے یا خریدے بلکہ مطلق بیع ہوتی ہے تو عقد ونقد زر حرام پر جمع نہیں ہوتی اور مذہب کرخی مفتی بہ پر ایسی حالت میں اس شے مشتری میں خباثت بھی نہیں آتیتو وہ دکانیں خود اس رنڈی کے لئے اس صورت میں حرام نہ ہوں گینہ کہ بعد انتقال وراثت۔لہذا وقف مذکور نہ فقط صحیح بلکہ جائز ومورث ثواب ہوگا اور متولیوں کو ان کالینا اور ان کا کرایہ مسجد میں صرف وخرچ کرنا ہر طرح جائز ہوگا
والمسئلۃ قد فصلنا ھافی فتاونا ثم ان کان خبث بالاجتماع لوفرض لم یکن فیہ الاکراھۃ والوراثۃ ناقلۃ والوقف اخراج عن الملك والابحاث طویلۃ الاذیال وانما یفتی فی الوقف بما ھوانفع لہ کیف و الصحۃ لاشك فیہا قطعا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس مسئلہ کو ہم نے اپنے فتاوی میں مفصل بیان کردیا ہےپھر اگر بالفرض عقد ونقد کے اجتماع سے خبث آئے بھی تو اس میں صرف کراہت آئے گی جبکہ وراثت نقل کرنے والی اور وقف ملك سے اخراج کا نام ہے اور اس میں طویل مباحث ہیںاور بلاشبہ وقف میں فتوی اسی پر ہوتا ہے جو اس کے لئے زیادہ نفع بخش ہوتو یہاں کیونکر ایسا نہ ہوگا جبکہ اس کی صحت میں قطعا شك نہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۶۱: ازموضع ملکی پور تھانہ کٹرہ ضلع شاہجہان پور مسئولہ جملہ مسلماناں موضع ۱۵جمادی الآخر ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو عید گاہ موضع ملکی پور میں ہے وہ بہت چھوٹی ہے اور عیدین میں بفضلہ تعالی اس قدر مسلمان جمع ہوجاتے ہیں کہ نماز پڑھنے اور کھڑے ہونے کی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك رنڈی نے اپنے پیشہ کے ذریعہ سے کچھ دکانیں خریدیںچندروز کے بعد وہ رنڈی مرگئیبعد مرنے کے وہ دکانیں وراثۃ اس کی بہن کو پہنچیں جو اپنے پیشہ سے تائب اور کسی کے نکاح میں ہےاب اس کی بہن اپنی طرف سے اس جائداد کو جو وراثۃ اس کو ملی ہے کسی مسجد کے نام وقف کرنا چاہتی ہےاس صورت میں مہتممان مسجد کو ان دکانوں کا لینا اور ان کے کرایہ سے مسجد کے مصارف میں خرچ کرنا جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ وہ دکانیں بعینہا رنڈی کو اجرت زنا یاغنا میں نہ ملی تھیں بلکہ اس نے خرید کیںاگرچہ خریداری اسی زر خبیث سے ہوتو ازانجا کہ عامہ عقود رائجہ میں یہ قاعدہ نہیں کہ روپیہ دکھا کر کہا جاتا ہو اس روپے کے عوض بیع کرے یا خریدے بلکہ مطلق بیع ہوتی ہے تو عقد ونقد زر حرام پر جمع نہیں ہوتی اور مذہب کرخی مفتی بہ پر ایسی حالت میں اس شے مشتری میں خباثت بھی نہیں آتیتو وہ دکانیں خود اس رنڈی کے لئے اس صورت میں حرام نہ ہوں گینہ کہ بعد انتقال وراثت۔لہذا وقف مذکور نہ فقط صحیح بلکہ جائز ومورث ثواب ہوگا اور متولیوں کو ان کالینا اور ان کا کرایہ مسجد میں صرف وخرچ کرنا ہر طرح جائز ہوگا
والمسئلۃ قد فصلنا ھافی فتاونا ثم ان کان خبث بالاجتماع لوفرض لم یکن فیہ الاکراھۃ والوراثۃ ناقلۃ والوقف اخراج عن الملك والابحاث طویلۃ الاذیال وانما یفتی فی الوقف بما ھوانفع لہ کیف و الصحۃ لاشك فیہا قطعا۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس مسئلہ کو ہم نے اپنے فتاوی میں مفصل بیان کردیا ہےپھر اگر بالفرض عقد ونقد کے اجتماع سے خبث آئے بھی تو اس میں صرف کراہت آئے گی جبکہ وراثت نقل کرنے والی اور وقف ملك سے اخراج کا نام ہے اور اس میں طویل مباحث ہیںاور بلاشبہ وقف میں فتوی اسی پر ہوتا ہے جو اس کے لئے زیادہ نفع بخش ہوتو یہاں کیونکر ایسا نہ ہوگا جبکہ اس کی صحت میں قطعا شك نہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۶۱: ازموضع ملکی پور تھانہ کٹرہ ضلع شاہجہان پور مسئولہ جملہ مسلماناں موضع ۱۵جمادی الآخر ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو عید گاہ موضع ملکی پور میں ہے وہ بہت چھوٹی ہے اور عیدین میں بفضلہ تعالی اس قدر مسلمان جمع ہوجاتے ہیں کہ نماز پڑھنے اور کھڑے ہونے کی
جگہ نہیں رہتی عیدگاہ سے باہرنماز کے واسطے کھڑے ہوتے ہیں اور عیدگاہ قبرستان میں واقع ہے اگر یہاں وسعت دی جائے تو قبریں اندر آنے کا احتمال ہے اور جگہ بھی تحفظ کی نہیں ہےمویشی وغیرہ پیشاب وغیرہ کرتے ہیںایسی حالت میں عیدگاہ قدیمی چھوڑ کر دوسری جگہ اگر بہت بلند ہے اور فضا کی جگہ ہے اور ہر قسم کا تحفظ ہےمویشی وغیرہ بھی وہاں نہیں جاسکتےوسعت دے کر تعمیر کرائی جائے یانہیں اور عید گاہ قدیمی میں بحالت چھوڑنے قبرستان بناسکتے ہیں یانہیںازروئے شرع شریف معزز و ممتاز فرمائیے۔بینوا توجروا۔
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ یہ موضع ایك گاؤں ہےاور ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے مذہب میں گاؤں میں عیدین جائز نہیں تو وہاں عید گاہ وقف نہیں ہوسکتی کہ محض بے حاجت و بے قربت بلکہ مخالف قربت ہےتو وہ زمین وعمارت ملك بانیان ہیں انہیں اختیار ہے اس میں جو چاہیں کریںخواہ اپنا مکان بنائیں یا زراعت کریں یا قبرستان کرائیںاور اب وہاں دوسری عیدگاہ بنائیں گے اس کی بھی یہی حالت ہوگی۔درمختار میں ہے:
فی القنیۃ صلوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای اشتغال بما لایصح ۔ قنیہ میں ہے کہ گاؤں میں نماز عید مکروہ تحریمی ہے یعنی ایسی چیزمیں مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں(ت)
اسی کی کتاب الوقف میں ہے:
شر طہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ ۔ شرط وقف یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے قربت مقصودہ ہو۔(ت)
مسئلہ۱۶۲: ازاسکول بنام اسلامی مرسلہ مولوی یعقوب علی ۲۳جمادی الآخر ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا پیشہ ڈھولك فروخت کرنے کا ہےمڑھے ہوئے اور بغیر مڑھے ہوئے دونوں قسم کے ڈھولك فروخت کرتا ہے۔عمرو کو پیشہ حکمت طبابت بید حکیمی کا کرتا ہے اور قمار بازی بھی کرتا ہے اور دھوکا دہی کرکے مریضوں سے روپیہ لیتا ہے۔زید و عمرو یہ لوگ کچھ روپیہ مسجد کی مرمت یا مسجد بنوانے میں دیں تو ان کا روپیہ لے کر مسجد میں صرف کیا جائے
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ یہ موضع ایك گاؤں ہےاور ہمارے ائمہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے مذہب میں گاؤں میں عیدین جائز نہیں تو وہاں عید گاہ وقف نہیں ہوسکتی کہ محض بے حاجت و بے قربت بلکہ مخالف قربت ہےتو وہ زمین وعمارت ملك بانیان ہیں انہیں اختیار ہے اس میں جو چاہیں کریںخواہ اپنا مکان بنائیں یا زراعت کریں یا قبرستان کرائیںاور اب وہاں دوسری عیدگاہ بنائیں گے اس کی بھی یہی حالت ہوگی۔درمختار میں ہے:
فی القنیۃ صلوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای اشتغال بما لایصح ۔ قنیہ میں ہے کہ گاؤں میں نماز عید مکروہ تحریمی ہے یعنی ایسی چیزمیں مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں(ت)
اسی کی کتاب الوقف میں ہے:
شر طہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ ۔ شرط وقف یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے قربت مقصودہ ہو۔(ت)
مسئلہ۱۶۲: ازاسکول بنام اسلامی مرسلہ مولوی یعقوب علی ۲۳جمادی الآخر ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کا پیشہ ڈھولك فروخت کرنے کا ہےمڑھے ہوئے اور بغیر مڑھے ہوئے دونوں قسم کے ڈھولك فروخت کرتا ہے۔عمرو کو پیشہ حکمت طبابت بید حکیمی کا کرتا ہے اور قمار بازی بھی کرتا ہے اور دھوکا دہی کرکے مریضوں سے روپیہ لیتا ہے۔زید و عمرو یہ لوگ کچھ روپیہ مسجد کی مرمت یا مسجد بنوانے میں دیں تو ان کا روپیہ لے کر مسجد میں صرف کیا جائے
حوالہ / References
درمختار باب العیدین ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۴€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷€
یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جب تك ہمیں معلوم نہ ہو کہ یہ خاص روپیہ جو ہم کو دیتا ہے وجہ حرام سے ہے اس کا لینا اور مسجد میں صرف کرنا جائز ہے کچھ حرج نہیں
بہ نأخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ کما فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الامام محمد۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور ہم اسی کو قبول کرتے ہیں جب تك کہ کسی معین شے کے حرام ہونے کا ہمیں علم نہ ہوجیسا کہ ہندیہ میں بحوالہ ذخیرہ امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے منقول ہے۔
واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۶۳تا۱۶۵: از شمس آباد ضلع کیمل پور پنجاب علاقہ مرسلہ مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب ۱۸رجب مرجب ۱۳۳۱ھ
الاستفتاء فی حضرت مجدد المائۃ الحاضرۃ الفاضل البریلوی غوث الانام مجمع العلم والحلم والاحترام امام العلماء ومقدام الفضلاء لازال بالافادۃ والافاضۃ والعزوالا کرام!کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ زید ایك مسجد کاامام تھا بعد اس کی موت کے اس کا برادر حقیقی ایك مدت تك امام رہا جب وہ بھی انتقال کر گیا تو زیدکا بیٹابکر امام ہو امگر چونکہ وہ دوسری مسجد میں امامت کرتا تھا اس مسجد میں ا س نے برضائے مقتدیان اپنا خلیفہ مقرر کیا اور اس کے لئے معلومات امامت سے ایك شے قلیل مقرر کی اور باقی کا خود لینا ٹھہرایا چنانچہ کئی برس تك جو خلیفہ یکے بعد دیگرے آیا اسی شرط کا پابند رہا یہاں تك کہ خالد نام مولوی زید کے شاگرد علمدینی نے اپنے استاد زادے بکر سے کہا کہ مجھ کو اس مسجد میں آپ امام مقرر کیجئے میں آپ کا خلیفہ رہوں گا اور آپ کے وظائف مقررہ معہودہ میں کوئی نقصان نہ کروں گا پس بکر نے خالد کو اس اقرار پر خلیفہ مقرر کیا اور تخمینا سترہ اٹھارہ برس تك خالد یہ پابندی شرط مذکور امامتی کراتا رہا اور امور مقررہ میں کبھی چون و چرانہ کیاب چونکہ بکر کا بیٹا بالغ ہوگیا ہے اور علم امامت سے بہر مند ہے لہذا بکر خالد کو برطرف کرکے اپنے بیٹے کو امام کرنا چاہتا ہے اور ابتدائے تقرر خالد کے وقت خالد نے تسلیم کرلیا تھا کہ آپ کے بیٹے جب بالغ قابل امامت ہوں یا اور کسی امر سے جب کبھی آپ مجھ کو موقوف کردیں گے تو مثل خلفائے سابقین کے مجھ کو عذر نہ ہوگااب خالد اپنے اقرار سے فرار کرکے کہتا ہے کہ میں تمہارا کوئی خلیفہ نہیں کیونکہ جب میں نماز فرض و تراویح وعید وغیرہ خدمات مسجد ومراعات اہل محلہ ختم دعادرود سب بذات خود کرتا رہا تو میں امام مستقل ہوگیا تم کو میرے عزل کا کوئی اختیار
الجواب:
جب تك ہمیں معلوم نہ ہو کہ یہ خاص روپیہ جو ہم کو دیتا ہے وجہ حرام سے ہے اس کا لینا اور مسجد میں صرف کرنا جائز ہے کچھ حرج نہیں
بہ نأخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ کما فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الامام محمد۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور ہم اسی کو قبول کرتے ہیں جب تك کہ کسی معین شے کے حرام ہونے کا ہمیں علم نہ ہوجیسا کہ ہندیہ میں بحوالہ ذخیرہ امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے منقول ہے۔
واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۶۳تا۱۶۵: از شمس آباد ضلع کیمل پور پنجاب علاقہ مرسلہ مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب ۱۸رجب مرجب ۱۳۳۱ھ
الاستفتاء فی حضرت مجدد المائۃ الحاضرۃ الفاضل البریلوی غوث الانام مجمع العلم والحلم والاحترام امام العلماء ومقدام الفضلاء لازال بالافادۃ والافاضۃ والعزوالا کرام!کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ زید ایك مسجد کاامام تھا بعد اس کی موت کے اس کا برادر حقیقی ایك مدت تك امام رہا جب وہ بھی انتقال کر گیا تو زیدکا بیٹابکر امام ہو امگر چونکہ وہ دوسری مسجد میں امامت کرتا تھا اس مسجد میں ا س نے برضائے مقتدیان اپنا خلیفہ مقرر کیا اور اس کے لئے معلومات امامت سے ایك شے قلیل مقرر کی اور باقی کا خود لینا ٹھہرایا چنانچہ کئی برس تك جو خلیفہ یکے بعد دیگرے آیا اسی شرط کا پابند رہا یہاں تك کہ خالد نام مولوی زید کے شاگرد علمدینی نے اپنے استاد زادے بکر سے کہا کہ مجھ کو اس مسجد میں آپ امام مقرر کیجئے میں آپ کا خلیفہ رہوں گا اور آپ کے وظائف مقررہ معہودہ میں کوئی نقصان نہ کروں گا پس بکر نے خالد کو اس اقرار پر خلیفہ مقرر کیا اور تخمینا سترہ اٹھارہ برس تك خالد یہ پابندی شرط مذکور امامتی کراتا رہا اور امور مقررہ میں کبھی چون و چرانہ کیاب چونکہ بکر کا بیٹا بالغ ہوگیا ہے اور علم امامت سے بہر مند ہے لہذا بکر خالد کو برطرف کرکے اپنے بیٹے کو امام کرنا چاہتا ہے اور ابتدائے تقرر خالد کے وقت خالد نے تسلیم کرلیا تھا کہ آپ کے بیٹے جب بالغ قابل امامت ہوں یا اور کسی امر سے جب کبھی آپ مجھ کو موقوف کردیں گے تو مثل خلفائے سابقین کے مجھ کو عذر نہ ہوگااب خالد اپنے اقرار سے فرار کرکے کہتا ہے کہ میں تمہارا کوئی خلیفہ نہیں کیونکہ جب میں نماز فرض و تراویح وعید وغیرہ خدمات مسجد ومراعات اہل محلہ ختم دعادرود سب بذات خود کرتا رہا تو میں امام مستقل ہوگیا تم کو میرے عزل کا کوئی اختیار
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲€
نہیں اور قبل ہی سے جو کچھ میں نے تم کو دیا یالینے دیا وہ شرم وحیا کی وجہ سے تھا ورنہ تمہارا کوئی استحقاق نہیں ہے کہ امامت تو میں کراؤں اور منافع تم لوخلافت اور اصالت کے کیا معنی پس بکر نے علمائے اطراف کو جمع کیا تھا کہ خالد سے تحقیق کریں اور فہمائش کرکے اس کو برطرف ہونے کا حکم دیں مگر خالد ذرا چالاك آدمی ہے علماء سے کبھی امامت کی تعریفکبھی خلیفہ کے معنیکبھی وظیفہ امامت کے معنی دریافت کرتا ہے۔کبھی کہتا ہے کہ امام کی تعریف میرے پر صادق آتی ہے یا کہ بکرپر۔غرض کہ ایسی باتوں میں وقت ٹال دیتا ہےیہاں کے علماءکو یہ مسئلہ مصرحہ طور پر اور مفصل کسی کتاب میں نہیں ملتا اور ایسی طاقت نہیں کہ اجزائے مسئلہ کو ابواب مختلفہ ونظائر متفقہ سے استنباط کرکے فیصلہ کریںچونکہ حضور پر نور بفضلہ تعالی مذہب مہذب حنفی کے بلکہ جمیع مذاہب حقہ کے مجتہد ہیں اور موافق ومخالف سب کے مسلم ہیں لہذا التماس کہ خالد باوجود دینے وظائف امامت کے بکر کوبہ اقرار خلافت سولہ سترہ برس تك مثل خلفائے پیشیں کے شرعا مستقل امام متصور ہوگا۔حالانکہ مقتدی لوگ کل سوا دوچار آدمیوں کے خالد کے اس فرار عن الاقرار سے سخت ناخوش ہیں یا مثل خلفائے پیشیں کے خالد بھی خلیفہ ہی ہوگاواضح ہوکہ اس ملك میں کئی جگہ دستور ہے کہ ایك شخص ایك مسجد کا امام ہوتا ہے اور باقی مساجد میں خود امامت کا مباشر تو نہیں ہوتا مگر ایسا تصرف رکھتا ہے کہ ان مساجد کے عمدہ عمدہ منافع خود لے لیا کرتا ہے اور معمولی قسم کی آمدنی خلیفہ کو دیا کرتا ہے اور چاہتا ہے تو اسے موقوف کردیتا ہے اور دوسرا اس کی جگہ قائم کردیتا ہے اور چونکہ اول ہی سے یہ بات قرار داد بین الاصل والخلیفہ ہوا کرتی ہے اور مقتدی لوگ بکر کے اس تصرف پرکسی طرح کے معترض نہیں ہوتےکچہری انگریزی میں بھی ایك آدھ مقدمہ اس امر کاکیا گیا جس میں اصل ہی کامیاب ہوا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ مسئلہ تین مسائل پر مشتمل:اول: آیا امام دوسرے کو اپنا نائب مقرر کرسکتا ہے
دوم: اگر کرسکتا ہے تو وظائف امامت کا مستحق وہ اصل ہوگا اور نائب صرف اسی قدر لے سکے گا جو اصل نے اس کے لئے بتایا ازانجا کہ فعل وخدمات امامت یہ نائب بجالاتا ہےیہی جملہ معلومات کا مستحق ہوگا اور اصل معزول سمجھا جائے گا۔
سوم: اگر اصل معزول نہیں بلکہ وہی اصل امام اور یہ اس کا مقرر کیا ہوا نائب ہے تو آیا امام اصل کو اس نائب کے معزول کر دینے اور اس کی جگہ دوسرا نائب مقرر کرنے کا اختیار ہے یانہیں بحمداﷲ یہ تینوں مسائل واضح ومصرح ہیں۔
مسئلہ اولی: ہاں امام دو سرے کو اپنا نائب مقرر کرسکتا ہےفتاوی خلاصہ میں ہے:
الجواب:
یہ مسئلہ تین مسائل پر مشتمل:اول: آیا امام دوسرے کو اپنا نائب مقرر کرسکتا ہے
دوم: اگر کرسکتا ہے تو وظائف امامت کا مستحق وہ اصل ہوگا اور نائب صرف اسی قدر لے سکے گا جو اصل نے اس کے لئے بتایا ازانجا کہ فعل وخدمات امامت یہ نائب بجالاتا ہےیہی جملہ معلومات کا مستحق ہوگا اور اصل معزول سمجھا جائے گا۔
سوم: اگر اصل معزول نہیں بلکہ وہی اصل امام اور یہ اس کا مقرر کیا ہوا نائب ہے تو آیا امام اصل کو اس نائب کے معزول کر دینے اور اس کی جگہ دوسرا نائب مقرر کرنے کا اختیار ہے یانہیں بحمداﷲ یہ تینوں مسائل واضح ومصرح ہیں۔
مسئلہ اولی: ہاں امام دو سرے کو اپنا نائب مقرر کرسکتا ہےفتاوی خلاصہ میں ہے:
الامام یجوز استخلافہ بلااذن بخلاف القاضی وعلی ھذالاتکون وظیفتہ شاغرۃ وتصح النیابۃ ۔ اما م کے لئے بلااجازت نائب مقرر کرنا جائز ہے بخلاف قاضی کےاسی بنیاد پر اس کا وظیفہ غیر مقرر ہوتا ہے اور نیابت صحیح ہے(ت)
مسئلہ ثانیہ: وظائف امامت کا مستحق اصل ہوگا اور نائب صرف اس قدر لے سکے گا جو اصل نے اس کے لئے معین کیا۔فتاوی خیریہ میں ہے:
یجب العمل بما علیہ الناس وخصوصا مع العذروعلی ذلك جمیع المعلوم للمستنیب ولیس للنائب الا الاجرۃ التی استأجرہ بھا ۔ اس پر عمل واجب ہے جو لوگوں میں معروف ہے خصوصا عذر کی صورت میںلہذاتمام معلومات اصل امام کے لئے ہوں گے نائب کے لئے فقط اتنی ہی اجرت ہوگی جس پر اصل نے اس کو رکھا ہے۔(ت)
مسئلہ ثالثہ: صورت مذکورہ میں وہ نائب جبکہ اس کےلئے اصل کچھ مقرر کرے اصل کا اجیر ہوتا ہے پھر اگر وہ اجرت معینہ ہے تو اجارہ صحیحہ ورنہ فاسدہاور اگر کچھ مقرر نہ کرے نہ نصا نہ عرفاتو اجیر بھی نہیں محض بیگاری ہوتا ہےصورت اخیرہ میں تو ظاہر ہے کہ نائب کوئی استحقاق اصلا نہیں رکھتا اس کاکام اصل کی طرف سے ایك مفت ستخدام تھا اصل جس وقت چاہے اسے منع کرسکتاہے نہ اس صورت میں وہ کسی معاوضہ کا مستحق ہوتا ہےایسی ہی صورت پر قنیہ میں ہے:
ان النائب لایستحق شیئا من الوقف لان الاستحقاق بالتقریر ولم یوجد ۔ بیشك نائب وقف میں سے کسی شیئ کا مستحق نہیں ہوتا کیونکہ استحقاق تو مقر رکرنے سے ہوتا ہے جو پایا نہیں گیا۔(ت)
اور صورت سابقہ میں وہ نائب اجیر ہےبحرالرائق میں ہے:النائب وکیل بالاجرۃ (نائب وکیل
مسئلہ ثانیہ: وظائف امامت کا مستحق اصل ہوگا اور نائب صرف اس قدر لے سکے گا جو اصل نے اس کے لئے معین کیا۔فتاوی خیریہ میں ہے:
یجب العمل بما علیہ الناس وخصوصا مع العذروعلی ذلك جمیع المعلوم للمستنیب ولیس للنائب الا الاجرۃ التی استأجرہ بھا ۔ اس پر عمل واجب ہے جو لوگوں میں معروف ہے خصوصا عذر کی صورت میںلہذاتمام معلومات اصل امام کے لئے ہوں گے نائب کے لئے فقط اتنی ہی اجرت ہوگی جس پر اصل نے اس کو رکھا ہے۔(ت)
مسئلہ ثالثہ: صورت مذکورہ میں وہ نائب جبکہ اس کےلئے اصل کچھ مقرر کرے اصل کا اجیر ہوتا ہے پھر اگر وہ اجرت معینہ ہے تو اجارہ صحیحہ ورنہ فاسدہاور اگر کچھ مقرر نہ کرے نہ نصا نہ عرفاتو اجیر بھی نہیں محض بیگاری ہوتا ہےصورت اخیرہ میں تو ظاہر ہے کہ نائب کوئی استحقاق اصلا نہیں رکھتا اس کاکام اصل کی طرف سے ایك مفت ستخدام تھا اصل جس وقت چاہے اسے منع کرسکتاہے نہ اس صورت میں وہ کسی معاوضہ کا مستحق ہوتا ہےایسی ہی صورت پر قنیہ میں ہے:
ان النائب لایستحق شیئا من الوقف لان الاستحقاق بالتقریر ولم یوجد ۔ بیشك نائب وقف میں سے کسی شیئ کا مستحق نہیں ہوتا کیونکہ استحقاق تو مقر رکرنے سے ہوتا ہے جو پایا نہیں گیا۔(ت)
اور صورت سابقہ میں وہ نائب اجیر ہےبحرالرائق میں ہے:النائب وکیل بالاجرۃ (نائب وکیل
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ خلاصہ کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۰۸،€فتاوٰی خیریہ بحوالہ خلاصہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۵۱€
فتاوٰی خیریہ بحوالہ خلاصہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۵۱€
ردالمحتار بحوالہ القنیۃ کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۰۸،€العقود الدریۃ بحوالہ بحرالرائق کتاب الوقف الباب الثالث ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۲۵€
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۳۱€
فتاوٰی خیریہ بحوالہ خلاصہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۵۱€
ردالمحتار بحوالہ القنیۃ کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۰۸،€العقود الدریۃ بحوالہ بحرالرائق کتاب الوقف الباب الثالث ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۲۵€
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۳۱€
بالاجرۃ ہوتا ہے۔ت)پس صورت ثانیہ میں کہ اجارہ فاسد ہے آپ ہی ہر وقف اختیار فسخ ہونا درکنار خود وجوب فسخ ہے کہ اجارہ فاسدہ معصیت ہے اور معصیت کا ازالہ فرضیہاں تك کہ اصل و نائب باہم فسخ نہ کریں تو حاکم پر فرض ہے کہ جبرا اسے فسخ کردے کما عرف ذلك فی البیوع(جیسا کہ بیوع میں معلوم ہوچکا ہے۔ت)درمختار میں ہے:
ولذالایشترط فیہ قضاء قاض لان الواجب شرعا لایحتاج للقضاء درر ۔ اسی واسطے ا س میں قضا قاضی شرط نہیں کیونکہ جو شرعا واجب ہو وہ قضاء کا محتاج نہیں ہوتادرر۔(ت)
اور صورت اولی میں جبکہ عام رواج یہی ہے کہ کوئی مدت اجارہ معین نہیں کی جاتی کہ سال بھر کیلئے تجھے امام کیا یا چھ مہینے کے لئے بلکہ صرف امامت اور اس کے مقابل ماہوار اتنا پانے کا بیان ہوتا ہے تو اجارہ صرف پہلے مہینے کےلئے صحیح ہوا اور ہر سرماہ اجیر ومستاجر ہر ایك کو دوسرے کے سامنے اس کے فسخ کردینے کا اختیار ہوتا ہے۔ درمختار میں ہے:
اجر حانوتا کل شھر بکذاصح فی واحد فقط وفسد الباقی لجہالتھا واذا مضی الشھر فلکل فسخھا بشرط حضور الاخر لانتھاء العقد الصحیح ۔ دکان کرایہ پر دی کہ ہر ماہ اتنا کرایہ ہوگا تو فقط ایك ماہ کے لئے اجارہ صحیح ہوا باقی مہینوں میں بسبب جہالت کے فاسدہے اور جب مہینہ پورا ہوگیا تو دونوں میں سے ہر ایك کو دوسرے کی موجودگی میں اجارہ فسخ کرنے کا اختیار ہے کیونکہ عقد صحیح ختم ہوگیا(ت)
بہر حال اصل کو ہر سرماہ پر اس نائب کے معزول کردینے اور دوسرے کو اس کی جگہ نائب کرنے کااختیار ہے۔مسئلہ مسئولہ سائل کا تو جواب یہ ہے اور یہاں ایك امر ضروری اللحاظ یہ ہے کہ بعض جگہ معلومات ووظائف امامت ایسے مقرر ہوتے ہیں جو شرعا جائز یا صحیح نہیں ان کا استحقاق نہ اصل کو ہوگا نہ نائب کو بلکہ صرف اجرت مثل کامگر نائب ان میں بھی اصل سے اپنے لئے منازعت نہیں کرسکتا کہ وہ اسے بھی حلال نہیں صرف ا پنی اجرت مثل لے سکتا ہے۔فلیتنبہ(پس آگاہ رہنا چاہئے۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
ولذالایشترط فیہ قضاء قاض لان الواجب شرعا لایحتاج للقضاء درر ۔ اسی واسطے ا س میں قضا قاضی شرط نہیں کیونکہ جو شرعا واجب ہو وہ قضاء کا محتاج نہیں ہوتادرر۔(ت)
اور صورت اولی میں جبکہ عام رواج یہی ہے کہ کوئی مدت اجارہ معین نہیں کی جاتی کہ سال بھر کیلئے تجھے امام کیا یا چھ مہینے کے لئے بلکہ صرف امامت اور اس کے مقابل ماہوار اتنا پانے کا بیان ہوتا ہے تو اجارہ صرف پہلے مہینے کےلئے صحیح ہوا اور ہر سرماہ اجیر ومستاجر ہر ایك کو دوسرے کے سامنے اس کے فسخ کردینے کا اختیار ہوتا ہے۔ درمختار میں ہے:
اجر حانوتا کل شھر بکذاصح فی واحد فقط وفسد الباقی لجہالتھا واذا مضی الشھر فلکل فسخھا بشرط حضور الاخر لانتھاء العقد الصحیح ۔ دکان کرایہ پر دی کہ ہر ماہ اتنا کرایہ ہوگا تو فقط ایك ماہ کے لئے اجارہ صحیح ہوا باقی مہینوں میں بسبب جہالت کے فاسدہے اور جب مہینہ پورا ہوگیا تو دونوں میں سے ہر ایك کو دوسرے کی موجودگی میں اجارہ فسخ کرنے کا اختیار ہے کیونکہ عقد صحیح ختم ہوگیا(ت)
بہر حال اصل کو ہر سرماہ پر اس نائب کے معزول کردینے اور دوسرے کو اس کی جگہ نائب کرنے کااختیار ہے۔مسئلہ مسئولہ سائل کا تو جواب یہ ہے اور یہاں ایك امر ضروری اللحاظ یہ ہے کہ بعض جگہ معلومات ووظائف امامت ایسے مقرر ہوتے ہیں جو شرعا جائز یا صحیح نہیں ان کا استحقاق نہ اصل کو ہوگا نہ نائب کو بلکہ صرف اجرت مثل کامگر نائب ان میں بھی اصل سے اپنے لئے منازعت نہیں کرسکتا کہ وہ اسے بھی حلال نہیں صرف ا پنی اجرت مثل لے سکتا ہے۔فلیتنبہ(پس آگاہ رہنا چاہئے۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸€
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۸€
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۸€
مسئلہ ۱۶۶: ازنینی تال بڑا بازار مرسلہ فدا حسین صاحب سادہ کار ۶رمضان مبارك ۱۳۳۱ھ
بعالی خدمت جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب !جناب من!یہاں مسجد نینی تال میں گیس کی لالٹین روشن کی گئی ہے خاص اندرون مسجدجس وقت وہ روشن کی جاتی ہے اسپرٹ شراب ڈال کر گرم کی جاتی ہے تب وہ روشن ہوتی ہے اور ایك ہندو ان کو جلانے کے واسطے اندر جا کر جلاتا ہے جس کے پیر دھلائے جاتے ہیں اور ناپاکی سے اس کی کچھ مطلب نہیںیہ کام جائز ہے یاناجائز
الجواب:
اسپرٹ شراب ہے اور شراب ناپاك ہے اور ایسی ناپاك چیز مسجد میں لیجانا منع ہے ہر گز اجازت نہیںولہذا فتاوی عالمگیری ودرمختار وغیرہ معتبر کتابوں میں تصریح فرمائی کہ تیل کسی طرح ناپاك ہوگیا ہوتو مسجد میں اسے جلانا ہرگز جائز نہیں۔تنویر الابصار میں ہے:
یکرہ الوطی والبول والتغوط وادخال نجاسۃ فیہ فلایجوز الاستصباح بدھن نجس فیہ ۔ اور کافر کا اس میں جانا بھی بے ادبی ہے کما حققناہ فی فتاونا بتوفیقہ تعالی(جیسا کہ اﷲ تعالی کی توفیق سے اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کردی ہے۔ت)وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۶۷: ۸رمضان المبارك ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسمی سالاربخش نے محلہ بانخانہ میں مسجد تعمیر کرائی اور اس کا فرش تھوڑا درست کراکر چھوڑدیا اور چہار دیواری وغیرہ بھی ٹھیك طور پر درست نہ کرائیعرصہ قریب چھ سال کے گزر گیا مگر چند مرتبہ سالار بخش سے کہا گیا انہوں نے کچھ خیال نہ کیا اب اور چند لوگوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہ مسجد ہنوز ایسی نہیں ہے کہ اس میں نماز پڑھی جائےچنانچہ اس کو درست کریں تاکہ نماز پڑھی جائےمسمی سالار بخش کو یہ بات ظاہر ہوئی کہ اور لوگ اس مسجد کو درست کرانا چاہتے ہیں فورا ان لوگوں سے یہ لفظ کہا کہ اس کو میں خود درست کراؤں گا آپ لوگ اس میں ایك حبہ نہیں لگا سکتے ہیں اور نہ میں کسی کو روپیہ لگانے دوں گا جس وقت میرے پاس روپیہ
بعالی خدمت جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب !جناب من!یہاں مسجد نینی تال میں گیس کی لالٹین روشن کی گئی ہے خاص اندرون مسجدجس وقت وہ روشن کی جاتی ہے اسپرٹ شراب ڈال کر گرم کی جاتی ہے تب وہ روشن ہوتی ہے اور ایك ہندو ان کو جلانے کے واسطے اندر جا کر جلاتا ہے جس کے پیر دھلائے جاتے ہیں اور ناپاکی سے اس کی کچھ مطلب نہیںیہ کام جائز ہے یاناجائز
الجواب:
اسپرٹ شراب ہے اور شراب ناپاك ہے اور ایسی ناپاك چیز مسجد میں لیجانا منع ہے ہر گز اجازت نہیںولہذا فتاوی عالمگیری ودرمختار وغیرہ معتبر کتابوں میں تصریح فرمائی کہ تیل کسی طرح ناپاك ہوگیا ہوتو مسجد میں اسے جلانا ہرگز جائز نہیں۔تنویر الابصار میں ہے:
یکرہ الوطی والبول والتغوط وادخال نجاسۃ فیہ فلایجوز الاستصباح بدھن نجس فیہ ۔ اور کافر کا اس میں جانا بھی بے ادبی ہے کما حققناہ فی فتاونا بتوفیقہ تعالی(جیسا کہ اﷲ تعالی کی توفیق سے اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں کردی ہے۔ت)وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۶۷: ۸رمضان المبارك ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسمی سالاربخش نے محلہ بانخانہ میں مسجد تعمیر کرائی اور اس کا فرش تھوڑا درست کراکر چھوڑدیا اور چہار دیواری وغیرہ بھی ٹھیك طور پر درست نہ کرائیعرصہ قریب چھ سال کے گزر گیا مگر چند مرتبہ سالار بخش سے کہا گیا انہوں نے کچھ خیال نہ کیا اب اور چند لوگوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہ مسجد ہنوز ایسی نہیں ہے کہ اس میں نماز پڑھی جائےچنانچہ اس کو درست کریں تاکہ نماز پڑھی جائےمسمی سالار بخش کو یہ بات ظاہر ہوئی کہ اور لوگ اس مسجد کو درست کرانا چاہتے ہیں فورا ان لوگوں سے یہ لفظ کہا کہ اس کو میں خود درست کراؤں گا آپ لوگ اس میں ایك حبہ نہیں لگا سکتے ہیں اور نہ میں کسی کو روپیہ لگانے دوں گا جس وقت میرے پاس روپیہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳€
ہوجائیگا میں خود درست کرادوں گااب وہ مسجد اسی طرح پر ہے نہ تو کسی کو مرمت کرانے دیتے ہیں اور نہ خود درست کراتے ہیںامیدوار کہ بعد ملاحظہ جو کچھ حکم شرع شریف ہوتحریر فرما کر مہر ثبت کردی جائے۔
الجواب:
اگر سالاربخش نے مسجد کی بنا ڈالی ہے اور ابھی یہ نہ کہا کہ میں نے اسے مسجد کردیا جب تو وہ ابھی وقف نہ ہوئی سالاربخش کی ملك ہے دوسروں کو اس میں دست اندازی نہیں پہنچتی اور اگر اسے وقف کرچکا یہ کہہ چکا ہے کہ میں نے اسے مسجد کردیا جب بھی اس کے بنانے کا حق اسی کو ہے اسے چاہئے کہ خود بنائے ورنہ جو مسلمان بنانا چاہتے ہیں ان کو اجازت دے اور اگر باہم راضی ہوں تو یوں کریں کہ ان مسلمانوں سے کہے تم بناؤ اور جو کچھ اس میں صرف ہو وہ میرے ذمہ ہے اس کا حساب لکھتے رہو میں ادا کروں گا یوں مسجد بن بھی جائے گی اور وہ سب مسلمان بھی اس کے بنانے کا پورا ثواب پائیں گے اور ساری مسجد اسی کے روپے سے بنے گی سب مطلب حاصل ہوجائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۶۸: ازمارہرہ شریف سرکار خورد مرسلہ حضرت سید شاہ میاں صاحب ۹رمضان مبارک۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں عمائے اہل دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد جس کا صحن مسقف ہے اور اس سقف کے نیچے سو دو سو برس سے نماز ہوتی ہے اب اس سقف کو بالائی حصہ مسجد میں بطور صحن شامل کرلیا ہے ایسی حالت میں حسب مذہب اہلسنت وجماعت اس مسقف صحن میں نماز جائز ہے یانہیں اور حصہ زیریں جو مرتب ومسقف ہے بدستور رکھا جائے یا بھراؤ ڈال کرصحن بنالیا جائےایسی صورت میں کہ سقف نہ رکھی جائے اور ایك بنی بنائی عمارت مسمار کردی جائے شرعا خلاف ہے یانہیںبحوالہ کتب وروایات جواب لکھا جائے۔بینوا توجروا۔
الجواب:
سوال میں حصہ بالائی وحصہ زیریں کہنے سے ظاہر کہ مسجد دو طبقہ ہے:علووسفل یعنی بالاخانہ ومنزل زیریں۔اور یہ الفاظ کہ ایك مسجد جس کا صحن مسقف ہے اور اس سقف کے نیچے سودوسوبرس سے نماز ہوتی ہے بظاہر اس طرف جاتے ہیں کہ سرے سے بانی مسجد نے طبقہ سفل کا کوئی صحن نہ رکھا بلکہ اس کے دونوں درجہ اندرونی و بیرونی مسقف ہی بنائے اور بعد کے الفاظ کہ اب اس وقف کے بالائی حصہ مسجد میں بطور صحن شامل کرلیا ہے یہ بھی سقف کاحدوث نہیں بناتے بلکہ اس کا پہلے سے ہونا اور اسے طبقہ علو کے لئے بجائے صحن قرار دینے کا حدوث۔لیکن سفل جب اصل سے دو درجہ مسقف ہو اور درجہ اندرونی پر علو ہوتو درجہ بیرونی کی سقف خود ہی اس علو کےلئے بجائے صحن ہوگیاب بطور صحن شامل کرلیا ہے
الجواب:
اگر سالاربخش نے مسجد کی بنا ڈالی ہے اور ابھی یہ نہ کہا کہ میں نے اسے مسجد کردیا جب تو وہ ابھی وقف نہ ہوئی سالاربخش کی ملك ہے دوسروں کو اس میں دست اندازی نہیں پہنچتی اور اگر اسے وقف کرچکا یہ کہہ چکا ہے کہ میں نے اسے مسجد کردیا جب بھی اس کے بنانے کا حق اسی کو ہے اسے چاہئے کہ خود بنائے ورنہ جو مسلمان بنانا چاہتے ہیں ان کو اجازت دے اور اگر باہم راضی ہوں تو یوں کریں کہ ان مسلمانوں سے کہے تم بناؤ اور جو کچھ اس میں صرف ہو وہ میرے ذمہ ہے اس کا حساب لکھتے رہو میں ادا کروں گا یوں مسجد بن بھی جائے گی اور وہ سب مسلمان بھی اس کے بنانے کا پورا ثواب پائیں گے اور ساری مسجد اسی کے روپے سے بنے گی سب مطلب حاصل ہوجائیں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۶۸: ازمارہرہ شریف سرکار خورد مرسلہ حضرت سید شاہ میاں صاحب ۹رمضان مبارک۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں عمائے اہل دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد جس کا صحن مسقف ہے اور اس سقف کے نیچے سو دو سو برس سے نماز ہوتی ہے اب اس سقف کو بالائی حصہ مسجد میں بطور صحن شامل کرلیا ہے ایسی حالت میں حسب مذہب اہلسنت وجماعت اس مسقف صحن میں نماز جائز ہے یانہیں اور حصہ زیریں جو مرتب ومسقف ہے بدستور رکھا جائے یا بھراؤ ڈال کرصحن بنالیا جائےایسی صورت میں کہ سقف نہ رکھی جائے اور ایك بنی بنائی عمارت مسمار کردی جائے شرعا خلاف ہے یانہیںبحوالہ کتب وروایات جواب لکھا جائے۔بینوا توجروا۔
الجواب:
سوال میں حصہ بالائی وحصہ زیریں کہنے سے ظاہر کہ مسجد دو طبقہ ہے:علووسفل یعنی بالاخانہ ومنزل زیریں۔اور یہ الفاظ کہ ایك مسجد جس کا صحن مسقف ہے اور اس سقف کے نیچے سودوسوبرس سے نماز ہوتی ہے بظاہر اس طرف جاتے ہیں کہ سرے سے بانی مسجد نے طبقہ سفل کا کوئی صحن نہ رکھا بلکہ اس کے دونوں درجہ اندرونی و بیرونی مسقف ہی بنائے اور بعد کے الفاظ کہ اب اس وقف کے بالائی حصہ مسجد میں بطور صحن شامل کرلیا ہے یہ بھی سقف کاحدوث نہیں بناتے بلکہ اس کا پہلے سے ہونا اور اسے طبقہ علو کے لئے بجائے صحن قرار دینے کا حدوث۔لیکن سفل جب اصل سے دو درجہ مسقف ہو اور درجہ اندرونی پر علو ہوتو درجہ بیرونی کی سقف خود ہی اس علو کےلئے بجائے صحن ہوگیاب بطور صحن شامل کرلیا ہے
کا کیا محصل ہوگا یہ ظاہرا حدوث سقف کی طرف ناظر ہے مگر یہ کہ اس وقف پر نماز پہلے نہ پڑھی جاتی ہو اب پڑھنے لگے بایں معنی شامل کرنے کا حدوث بتایاہونیز صحن کا مسقف کہنا بھی حدوث سقف کا پتا دیتا ہے کہ صحن کبھی مسقف نہیں ہوتا نہ مسقف کو صحن کہیں مگر بایں معنے کہ پہلے جو صحن تھا بعد کو مسقف کرلیا ہےاسی طرح عبارت سوال کہ اس مسقف صحن میں نماز جائز ہے یانہیں نظر بالفاظ اسی درجہ بیرونی منزل زیریں سے سوال ہے کہ وہی صحن مسقف ہے اور اوپر اسی کو اس لفظ سے تعبیر کیا بھی تھامگر وہاں تو سودو سو برس سے نماز ہوتی ہے اور اس میں عدم جواز کا کوئی منشا بھی نہیں ہاں سقف کو جو حصہ بالا میں اب شامل کیا گیا اسے صحن حادثات بتایا اور یہاں سوال کے لیے منشابھی ہے شاید اسے مسقف بایں معنی کہا ہو کہ یہ درجہ زیریں کی سقف کیا گیا ہے نہ یہ کہ اس پر سقف بنائی گئی بہر حال ہم ہر احتمال پر کلام کریں۔یہ سقف اگر حادثات ہے بانی مسجدنے منزل زیریں کے سامنے صحن رکھا تھا بعدہ کسی نے اسے بھی مسقف کردیاجب توظاہر ہے کہ اس درجہ بیرونی میں جو پہلے صحن تھا اور اب مسقف ہے عدم جواز نماز کی کوئی وجہ نہیں کہ وہ بدستور مسجد ہے سقف نے اسے مسجدیت سے خارج کیاہاں اس سقف پر بلاضرورت نماز کی اجازت نہیں کہ سقف مسجد پر بے ضرورت چڑھنا ممنوع وبے ادبی ہے اور گرمی کا عذر مسموع نہ ہوگاہاں کثرت جماعت کہ طبقہ زیریں کے دونوں درجے بھر جائیں اور لوگ باقی رہیں تو سقف پر اقامت نما زکی اجازت ہوگیفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
الصعود علی سطح کل مسجد مکروہ ولہذا اذااشتد الحر یکرہ ان یصلوابالجماعۃ فوقہ الا اذا ضاق المسجد فحینئذ لایکرہ الصعود علی سطحہ للضرورۃ ۔ ہر مسجد چھت پر چڑھنا مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ شدید گرمی کے باوجود مسجد کی چھت پر باجماعت نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر جب مسجد نمازیوں کے لئے تنگ پڑگئی تو مجبورا چھت پر چڑھنا مکروہ نہیں(ت)
اور اگر یہ سقف قدیم ہے خود بانی مسجد ہی نے طبقہ زیریں کے دونوں درجے مسقف بنائے تو اب نظر لازم ہے اگر ثابت اور تحقیقا معلوم ہو کہ بانی نے اصل مسجد علو کو رکھا اور نیچے یہ دو درجے وقت ضرورت کے لئے بنا دئے کہ اگر جماعت کثیر ہو تو ان میں قیام کریں تو اس صورت میں ظاہرا سقف پر نماز مطلقا جائز ہے کہ درجہ زیریں حسب نیت بانی اصل مسجد نہیں بلکہ تابع ومعین مسجد ہے اور زیر سقف تو مطلقا جواز خود ظاہر ہے کہ وقت ضرورت کی نیت اس کے غیر میں ممانعت نہیں کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)اور اگر ثابت ہو کہ بانی نے اصل مسجد طبقہ زیریں کو کیا اور طبقہ بالا وقت ضرورت یا وقت گرمی کےلئے بنایا دونوں کو اصل مسجد کیا مثلا
الصعود علی سطح کل مسجد مکروہ ولہذا اذااشتد الحر یکرہ ان یصلوابالجماعۃ فوقہ الا اذا ضاق المسجد فحینئذ لایکرہ الصعود علی سطحہ للضرورۃ ۔ ہر مسجد چھت پر چڑھنا مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ شدید گرمی کے باوجود مسجد کی چھت پر باجماعت نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر جب مسجد نمازیوں کے لئے تنگ پڑگئی تو مجبورا چھت پر چڑھنا مکروہ نہیں(ت)
اور اگر یہ سقف قدیم ہے خود بانی مسجد ہی نے طبقہ زیریں کے دونوں درجے مسقف بنائے تو اب نظر لازم ہے اگر ثابت اور تحقیقا معلوم ہو کہ بانی نے اصل مسجد علو کو رکھا اور نیچے یہ دو درجے وقت ضرورت کے لئے بنا دئے کہ اگر جماعت کثیر ہو تو ان میں قیام کریں تو اس صورت میں ظاہرا سقف پر نماز مطلقا جائز ہے کہ درجہ زیریں حسب نیت بانی اصل مسجد نہیں بلکہ تابع ومعین مسجد ہے اور زیر سقف تو مطلقا جواز خود ظاہر ہے کہ وقت ضرورت کی نیت اس کے غیر میں ممانعت نہیں کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)اور اگر ثابت ہو کہ بانی نے اصل مسجد طبقہ زیریں کو کیا اور طبقہ بالا وقت ضرورت یا وقت گرمی کےلئے بنایا دونوں کو اصل مسجد کیا مثلا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۲€
اختلاف موسم کے خیال سے طبققہ زیرریں بالکل مسقف اورطبقہ بالامع صحن بنایا یا کچھ ثابت نہ ہوا تو ان تینوں صورتوں کا حکم مثل اس سب سے پہلی صورت حدوث سقف کے چاہئے کہ دو صورت پیشین میں تو طبقہ زیریں کا مسجد ہونا خود ہی ثابت و مرادہے تو یہ سقف سقف مسجد ہوئی اور سقف مسجد پر بے ضرورت صعود ممنوعاور صورت اخیرہ میں اگرچہ نصا ثبوت نہ ہو عرفا ثبوت ہے کہ منازل میں منزل زیریں ہی اصل ہے اور بالاخانہ تابع کہ اس کا قیام اس پر موقوف اور صحن نہ رکھنا عدم ارادہ اصالت کا موجب نہیں جیسے صورت لحاظ مواسم میں گزرابالجملہ زیر سقف نماز پڑھنا مطلقا جائزہے اور چھت پر بحال ضرورت تو مطلقا اور بلاضرورت صرف اس صورت میں کہ بانی سے تحقیق طور پر ثابت ہو کہ مسجد صرف علو کو کیا اور اسے تابع رکھاباقی صورتوں میں چھت پر نماز سے احتراز ہو۔رہابھراؤ ڈال کر حصہ زیریں کو نیست ونابود کردینا یہ کسی صورت جائز نہیں جن صورتوں میں یہی مسجد یا یہ بھی مسجد ہے جب تو ظاہر کہ یہ مسجد کا اعدام اور معاذاﷲ اس وعید شدید پر اقدام ہوگا
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا" اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو لوگوں کو مساجد میں ذکر الہی سے منع کرے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔(ت)
اور اگر نہیں تو لااقل وقف صحیح تابع مسجد ہے اور وقف کی ہیئت بدلنا تو جائز نہیںنہ کہ بالکل مسدود ومفقود کردینا۔علمگیریہ میں سراج وہاج سے ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلایجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دکانا الا اذا جعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف اھ ھذا کلہ ماظھر لی۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ وقت کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔لہذا مکان کو باغ سرائے کوحمام اور اصطبل کو دکان نہیں بنایا جائے گا ہاں اگر واقف نے خود متولی کومصلحت وقف کےلئے تبدیلی کا اختیار دیا ہو تو جائز ہے اھ یہ تمام میرے لئے ظاہر ہوا۔
واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۶۹: ۱۰ذی القعدۃ الحرام ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك زمین مسجد کہ اس میں اور مسجد میں راہ وغیرہ کوئی
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا" اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو لوگوں کو مساجد میں ذکر الہی سے منع کرے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔(ت)
اور اگر نہیں تو لااقل وقف صحیح تابع مسجد ہے اور وقف کی ہیئت بدلنا تو جائز نہیںنہ کہ بالکل مسدود ومفقود کردینا۔علمگیریہ میں سراج وہاج سے ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلایجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دکانا الا اذا جعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف اھ ھذا کلہ ماظھر لی۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ وقت کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔لہذا مکان کو باغ سرائے کوحمام اور اصطبل کو دکان نہیں بنایا جائے گا ہاں اگر واقف نے خود متولی کومصلحت وقف کےلئے تبدیلی کا اختیار دیا ہو تو جائز ہے اھ یہ تمام میرے لئے ظاہر ہوا۔
واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۶۹: ۱۰ذی القعدۃ الحرام ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك زمین مسجد کہ اس میں اور مسجد میں راہ وغیرہ کوئی
حوالہ / References
القرآ ن الکریم∞۲/ ۱۱۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰€
فاصل نہیںکثر ت جماعت کے وقت اس میں نماز بھی ہوتی ہے اور ایسے وضو وغیرہ ضروریات مسجد کےلئے ہے کیا متولی یا دیگر مسلمین کو یہ جائز ہے کہ اسے مسجد سے توڑ کر شارع عام میں شامل کردیں یا بالعوض خواہ بلاعوض سڑك بنانے کے لئے دے دیں اور ایسا کرنا حقوق مسجد پر دست درازی کرنا ہوگا یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
بیشك ایساکرنا حرام قطعی اور ضرور حقوق مسجد پر تعدی اور وقف مسجد میں ناحق دست اندازی ہے شرع مطہر میں بلا شرط واقف کہ اسی وقف کی مصلحت کےلئے ہو وقف کی ہیأت بدلنا بھی ناجائز ہے اگرچہ اصل مقصود باقی رہے تو بالکل مقصدوقف باطل کرکے ایك دوسرے کام کےلئے دینا کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔سراج وہاج وفتاوی عالمگیری وغیرہما میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلایجعل الدار بستانا ولاالخان حماما ولاالرباط دکانا الااذاجعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف ۔ وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیںلہذا مکان کو باغسرائے کو حمام اور اصطبل کو دکان نہیں بنایا جائے گامگر اس وقت یہ تبدیلی ناجائز نہ ہوگی جب واقف نے خود متولی کو اختیار دیا ہو کہ مصلحت کےلئے جو تبدیلی بہتر سمجھیں کرلیں۔ (ت)
فتح القدیر شرح ہدایہ وغیرہ کتب میں ہے:
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ۔ وقف کو اپنی حالت پر باقی رکھنا واجب ہے(ت)
خصوصا ایسی تبدیلی جس سے خاص مسلمانوں کا حق عام آدمیوں مسلم غیر مسلم سب کے لئے ہوجائے جب وہ سڑك ہوئی تو اس میں مسلم کافر سب کا حق ہوجائے گا اور پہلے وہ صرف حق مسلماناں تھی تو کیونکر جائز ہو کہ مسلمانوں کا حق چھین کر عام کردیا جائےکیا کوئی ہندو گواراکر سکتا ہے کہ اس کے شوالے یا مندر کا کچھ حـصہ توڑ کر مسلمانوں کو اس میں حقدار کردیاجائے تو عجب اس مسلمان سے کہ اپنے دین پر ایسے ظلم کا مرتکب ہویا اگر کوئی مسلمان کسی زمینمندر یا ہندو کسی زمین مسجد کے ساتھ ایسا کرے تو گورنمنٹ اسے روا
الجواب:
بیشك ایساکرنا حرام قطعی اور ضرور حقوق مسجد پر تعدی اور وقف مسجد میں ناحق دست اندازی ہے شرع مطہر میں بلا شرط واقف کہ اسی وقف کی مصلحت کےلئے ہو وقف کی ہیأت بدلنا بھی ناجائز ہے اگرچہ اصل مقصود باقی رہے تو بالکل مقصدوقف باطل کرکے ایك دوسرے کام کےلئے دینا کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔سراج وہاج وفتاوی عالمگیری وغیرہما میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلایجعل الدار بستانا ولاالخان حماما ولاالرباط دکانا الااذاجعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف ۔ وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیںلہذا مکان کو باغسرائے کو حمام اور اصطبل کو دکان نہیں بنایا جائے گامگر اس وقت یہ تبدیلی ناجائز نہ ہوگی جب واقف نے خود متولی کو اختیار دیا ہو کہ مصلحت کےلئے جو تبدیلی بہتر سمجھیں کرلیں۔ (ت)
فتح القدیر شرح ہدایہ وغیرہ کتب میں ہے:
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ۔ وقف کو اپنی حالت پر باقی رکھنا واجب ہے(ت)
خصوصا ایسی تبدیلی جس سے خاص مسلمانوں کا حق عام آدمیوں مسلم غیر مسلم سب کے لئے ہوجائے جب وہ سڑك ہوئی تو اس میں مسلم کافر سب کا حق ہوجائے گا اور پہلے وہ صرف حق مسلماناں تھی تو کیونکر جائز ہو کہ مسلمانوں کا حق چھین کر عام کردیا جائےکیا کوئی ہندو گواراکر سکتا ہے کہ اس کے شوالے یا مندر کا کچھ حـصہ توڑ کر مسلمانوں کو اس میں حقدار کردیاجائے تو عجب اس مسلمان سے کہ اپنے دین پر ایسے ظلم کا مرتکب ہویا اگر کوئی مسلمان کسی زمینمندر یا ہندو کسی زمین مسجد کے ساتھ ایسا کرے تو گورنمنٹ اسے روا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰،€ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۹€
فتح القدیر کتاب الوقف ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰€
فتح القدیر کتاب الوقف ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰€
رکھے گی ہر گز نہیں بلکہ ضرور اسے اس مسلم یا ہندو کی جبر وتعدی اور مذہبی دست اندازی قرار دے گی علی الخصوص ایسی زمین کہ اگر عین مسجد نہیں فنائے مسجد ہے۔غنیہ میں ہے:
فناء المسجد ھو المکان المتصل بہ لیس بینہ طریق ۔ فنائے مسجد وہ مکان ہے جو مسجد کے متصل ہو اور درمیان میں راستہ نہ ہو۔(ت)
اور فنائے مسجد کی حرمت مثل مسجد ہے۔فتاوی عالمگیریہ کتاب الوقف باب ۱۱میں محیط امام شمس الائمہ سرخسی سے ہے:
قیم المسجدلایجوز لہ ان یبنی حوانیت فی حد المسجد اوفی فنائہ لان المسجد اذاجعل حانوتا و مسکنا تسقط حرمتہ وھذالایجوز والفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد ۔ متولی کو مسجد کی حد یا مسجد کے فناء میں دکانیں بنانے کا اختیار نہیں کیونکہ مسجد کو جب دکان یا رہائش گاہ بنالیا جائے تو اس کا احترام ساقط ہوجاتا ہے جو کہ ناجائز ہے اور فنائے مسجد چونکہ مسجد کے تابع ہے لہذا اس کا حکم بھی وہی ہوگا جو مسجد کا ہے۔ (ت)
جب فنائے مسجد میں خود مصلحت مسجد کےلئے دکان بنانا متولی مسجد کو حراماور مسجد کی بے ادبی اور اس کی حرمت کا ساقط کرنا ہے تو فنائے مسجد کو عام سڑك کےلئے دے دینا کس درجہ سخت حرام اور مسجد کی بے حرمتی اور اس کی عظمت کا منہدم کرنا ہوگا۔وہ جو بعض کتب میں ہے کہ ضرورت و مجبوری کے وقت مسجد کو راستہ بناناجائز ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ بضرورت مسجد میں ہو کر دوسری طرف کو نکل جانا جائز ہے کہ مسجد میں دوسری طرف جانے کے لئے چلنا حرام ہے مگر بضرورت کہ راستہ گھراہوا ہے اور مسجد ہی میں سے ہوکر جا سکتا ہے جیسے موسم حج میں مسجد الحرام شریف میں واقع ہوتا ہے اس کی اجازت دی گئی ہے وہ بھی جنب یا حائض یا نفساء کو نہیں نیز گھوڑے یا بیل گاڑی کو نہیںہوکر نکل جانے کیلئے بھی ان کا جانا لے جانا ہرگز جائز نہیںنہ یہ کہ معاذ اﷲ اسے مسجدیت سے خارج کرکے گزر گاہ عام کردیاجائے کہ مسلم کافر جانور پاك ناپاك سب کےلئے شارع عام ہوجائے یہ ہرگز حلال نہیں ہوسکتا۔اشباہ والنظائر احکام المسجد میں ہے:
فناء المسجد ھو المکان المتصل بہ لیس بینہ طریق ۔ فنائے مسجد وہ مکان ہے جو مسجد کے متصل ہو اور درمیان میں راستہ نہ ہو۔(ت)
اور فنائے مسجد کی حرمت مثل مسجد ہے۔فتاوی عالمگیریہ کتاب الوقف باب ۱۱میں محیط امام شمس الائمہ سرخسی سے ہے:
قیم المسجدلایجوز لہ ان یبنی حوانیت فی حد المسجد اوفی فنائہ لان المسجد اذاجعل حانوتا و مسکنا تسقط حرمتہ وھذالایجوز والفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد ۔ متولی کو مسجد کی حد یا مسجد کے فناء میں دکانیں بنانے کا اختیار نہیں کیونکہ مسجد کو جب دکان یا رہائش گاہ بنالیا جائے تو اس کا احترام ساقط ہوجاتا ہے جو کہ ناجائز ہے اور فنائے مسجد چونکہ مسجد کے تابع ہے لہذا اس کا حکم بھی وہی ہوگا جو مسجد کا ہے۔ (ت)
جب فنائے مسجد میں خود مصلحت مسجد کےلئے دکان بنانا متولی مسجد کو حراماور مسجد کی بے ادبی اور اس کی حرمت کا ساقط کرنا ہے تو فنائے مسجد کو عام سڑك کےلئے دے دینا کس درجہ سخت حرام اور مسجد کی بے حرمتی اور اس کی عظمت کا منہدم کرنا ہوگا۔وہ جو بعض کتب میں ہے کہ ضرورت و مجبوری کے وقت مسجد کو راستہ بناناجائز ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ بضرورت مسجد میں ہو کر دوسری طرف کو نکل جانا جائز ہے کہ مسجد میں دوسری طرف جانے کے لئے چلنا حرام ہے مگر بضرورت کہ راستہ گھراہوا ہے اور مسجد ہی میں سے ہوکر جا سکتا ہے جیسے موسم حج میں مسجد الحرام شریف میں واقع ہوتا ہے اس کی اجازت دی گئی ہے وہ بھی جنب یا حائض یا نفساء کو نہیں نیز گھوڑے یا بیل گاڑی کو نہیںہوکر نکل جانے کیلئے بھی ان کا جانا لے جانا ہرگز جائز نہیںنہ یہ کہ معاذ اﷲ اسے مسجدیت سے خارج کرکے گزر گاہ عام کردیاجائے کہ مسلم کافر جانور پاك ناپاك سب کےلئے شارع عام ہوجائے یہ ہرگز حلال نہیں ہوسکتا۔اشباہ والنظائر احکام المسجد میں ہے:
حوالہ / References
غنیۃ المستملی فصل فی احکام المسجد ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۱۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲€
لایجوز اتخاذ طریق فیہ للمرور الالعذر ۔ سوائے ضرورت کے مسجد میں سے گزرنے کیلئے راستہ بنانا ناجائز ہے(ت)
اس کی شرح غمز العیون والبصائر میں ہے:
قولہ ولایجوز اتخاذ طریقہ فیہ للمرور یعنی بان یکون لہ بابان فاکثر فیدخل من ھذا ویخرج من ھذا ۔ ماتن کے قول کہ "مسجد سے گزرنے کےلئے راستہ بنانا ناجائز ہے"کا معنی یہ ہے کہ مسجد کے دو یا دوسے زیادہ دروازے ہوں تو ایك دروازے سے داخل ہو کر دوسرے سے نکل جائے(ت)
فتاوی عالمگیریہ وفتاوی خلاصہ میں ہے:
رجل یمر فی المسجد ویتخذ طریقا ان کان بغیر عذر لایجوز وبعذر یجوز ثم اذا جاز یصلی فی کل یوم مرۃ لا فی کل مرۃ ۔ ایك شخص مسجد سے گزرتا ہے اور اس کو راستہ بناتا ہے اگر عذر ہے تو جائز ہے بلا عذر ہے تو ناجائز ہے پھر اگر اس کو گزرنا جائز ہو تو ہر روز ایك مرتبہ اس میں نماز پڑھے نہ کہ ہر بار جب بھی گزرے(ت)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق للامام الزیلعی وفتاوی ہندیہ میں ہے:
اذا جعل فی المسجد ممرافانہ یجوز لتعارف اھل الا مصار فی الجوامع جاز لکل واحدان یمرفیہ حتی الکافر الا الجنب والحائض والنفساء ولیس لھم ان یدخلوافیہ الدواب ۔ اگر مسجد میں سے کوئی حصہ مسلمانوں کے لئے عام راستہ گزر گاہ بنا دیا جائے تو جائز ہے کیونکہ شہروں کے لوگوں میں جامع مسجدوں میں ایسا متعارف ہے اور ہر ایك کو اس راہ گزر سے گزرنے کی اجازت ہوگی حتی کہ کافرکو بھیمگر جنبی اور حیض ونفاس والی عورتوں کو گزرنے کی اجازت نہیں اور لوگوں کو یہ اختیار نہیں کہ اس راستے سے اپنے جانوروں کو لے کر جائیں۔(ت)
اس کی شرح غمز العیون والبصائر میں ہے:
قولہ ولایجوز اتخاذ طریقہ فیہ للمرور یعنی بان یکون لہ بابان فاکثر فیدخل من ھذا ویخرج من ھذا ۔ ماتن کے قول کہ "مسجد سے گزرنے کےلئے راستہ بنانا ناجائز ہے"کا معنی یہ ہے کہ مسجد کے دو یا دوسے زیادہ دروازے ہوں تو ایك دروازے سے داخل ہو کر دوسرے سے نکل جائے(ت)
فتاوی عالمگیریہ وفتاوی خلاصہ میں ہے:
رجل یمر فی المسجد ویتخذ طریقا ان کان بغیر عذر لایجوز وبعذر یجوز ثم اذا جاز یصلی فی کل یوم مرۃ لا فی کل مرۃ ۔ ایك شخص مسجد سے گزرتا ہے اور اس کو راستہ بناتا ہے اگر عذر ہے تو جائز ہے بلا عذر ہے تو ناجائز ہے پھر اگر اس کو گزرنا جائز ہو تو ہر روز ایك مرتبہ اس میں نماز پڑھے نہ کہ ہر بار جب بھی گزرے(ت)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق للامام الزیلعی وفتاوی ہندیہ میں ہے:
اذا جعل فی المسجد ممرافانہ یجوز لتعارف اھل الا مصار فی الجوامع جاز لکل واحدان یمرفیہ حتی الکافر الا الجنب والحائض والنفساء ولیس لھم ان یدخلوافیہ الدواب ۔ اگر مسجد میں سے کوئی حصہ مسلمانوں کے لئے عام راستہ گزر گاہ بنا دیا جائے تو جائز ہے کیونکہ شہروں کے لوگوں میں جامع مسجدوں میں ایسا متعارف ہے اور ہر ایك کو اس راہ گزر سے گزرنے کی اجازت ہوگی حتی کہ کافرکو بھیمگر جنبی اور حیض ونفاس والی عورتوں کو گزرنے کی اجازت نہیں اور لوگوں کو یہ اختیار نہیں کہ اس راستے سے اپنے جانوروں کو لے کر جائیں۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القو ل فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳۱€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ الفن الثالث القو ل فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳۱€
خلاصۃ الفتاوی کتاب الصلٰوۃ الفصل السادس والعشرون فی المسجد ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۲۲۹€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ الفن الثالث القو ل فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳۱€
خلاصۃ الفتاوی کتاب الصلٰوۃ الفصل السادس والعشرون فی المسجد ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۲۲۹€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷€
محیط امام برہان الدین وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
ان اراد وا ان یجعلواشیئا من المسجد طریقا للمسلمین فقد قیل لیس لھم ذلك وانہ صحیح ۔ اگر لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کا کوئی ٹکڑا مسلمانوں کےلئے گزر گاہ بنادیں تو کہا گیا ہے کہ انہیں ایساکرنے کا اختیار نہیںاور بیشك یہی صحیح ہے(ت)
اسی طرح فتاوی امام فقیہ ابواللیث پھر فتاوی تاتارخانیہ وغیرہا کتب معتمدہ میں ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ۱۷۰:ازمحلہ کوٹ پرگنہ سنبھل ضلع مراد آباد مکان مولوی لئیق احمد صاحب مرسلہ مطہر حسین صاحب ۲۳ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
جلسہ چندہ واسطے مصارف خیر کے مساجد میں خصوصا جامع مسجد میں جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے جبکہ چپقلش نہ ہو اور کوئی بات خلاف ادب مسجد نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۷۱: از گونڈہ محلہ گنج مکان مولوی نوازش احمد صاحب مرسلہ حافظ محمد اسحاق صاحب ۲۳ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
مسجد قدیم کہنہ کو شہید کرکے اسی مقام پر یا کچھ فاصلہ سے ہٹ کر دوسری جگہ مسجد جدید کوئی بنوادے تو اس بارے میں شرعا کیاحکم ہے
الجواب:
مسجد کو اس لئے شہید کرنا کہ وہ جگہ ترك کردیں گے اور دوسری جگہ مسجد بنائیں گے مطلقا حرام ہے قال تعالی:
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا" اس سے بڑاظالم کون ہے جو اﷲ تعالی کی مسجدوں میں اس کا ذکر کرنے سے روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔ (ت)
اور اگر اس لئے شہید کی کہ یہیں ازسر نو اس کی تعمیر کرائے تو اگر یہ امر بے حاجت وبلاوجہ صحیح شرعی ہے
ان اراد وا ان یجعلواشیئا من المسجد طریقا للمسلمین فقد قیل لیس لھم ذلك وانہ صحیح ۔ اگر لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کا کوئی ٹکڑا مسلمانوں کےلئے گزر گاہ بنادیں تو کہا گیا ہے کہ انہیں ایساکرنے کا اختیار نہیںاور بیشك یہی صحیح ہے(ت)
اسی طرح فتاوی امام فقیہ ابواللیث پھر فتاوی تاتارخانیہ وغیرہا کتب معتمدہ میں ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ۱۷۰:ازمحلہ کوٹ پرگنہ سنبھل ضلع مراد آباد مکان مولوی لئیق احمد صاحب مرسلہ مطہر حسین صاحب ۲۳ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
جلسہ چندہ واسطے مصارف خیر کے مساجد میں خصوصا جامع مسجد میں جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے جبکہ چپقلش نہ ہو اور کوئی بات خلاف ادب مسجد نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۷۱: از گونڈہ محلہ گنج مکان مولوی نوازش احمد صاحب مرسلہ حافظ محمد اسحاق صاحب ۲۳ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
مسجد قدیم کہنہ کو شہید کرکے اسی مقام پر یا کچھ فاصلہ سے ہٹ کر دوسری جگہ مسجد جدید کوئی بنوادے تو اس بارے میں شرعا کیاحکم ہے
الجواب:
مسجد کو اس لئے شہید کرنا کہ وہ جگہ ترك کردیں گے اور دوسری جگہ مسجد بنائیں گے مطلقا حرام ہے قال تعالی:
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا" اس سے بڑاظالم کون ہے جو اﷲ تعالی کی مسجدوں میں اس کا ذکر کرنے سے روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔ (ت)
اور اگر اس لئے شہید کی کہ یہیں ازسر نو اس کی تعمیر کرائے تو اگر یہ امر بے حاجت وبلاوجہ صحیح شرعی ہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷€
القرآن الکریم∞۲/ ۱۱۴€
القرآن الکریم∞۲/ ۱۱۴€
تو لغو وعبث وبے حرمتی مسجد وتضییع مال ہے اور یہ سب ناجائز ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ تعالی کرہ لکم ثلثا قیل وقال وکثرۃ السوال واضاعۃ المال وقال تعالی" ولا تبذر تبذیرا ﴿۲۶﴾ ان المبذرین کانوا اخون الشیطین وکان الشیطن لربہ کفورا ﴿۲۷﴾
" ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشك اﷲ تعالی نے تمہارے لئے تین چیزوں کو ناپسند بنایا:قیل وقال کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا۔اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ فضول خرچی مت کرو کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں(ت)
ہدایہ میں ہے:العبث حرام (فضول خرچی کرنا حرام ہے۔ت) اور اگر بمصلحت شرعی ہے مثلا اگر اس میں اور زمین شامل کرکے توسیع کیجائے گی یا بنا کمزور ہوگئی ہے محکم بنائی جائے گی تواصل بانی مسجد ورنہ اہل محلہ کو اس میں اختیار ہے کما فی الھندیۃ والدر المختار وغیرہما(جیسا کہ ہندیہ اور درمختاروغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۷۲: ازعلی گڑھ سوسائٹی کارڈن مسئولہ حمیدالدین خاں بی اے ۲۵ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ معرفت سید برکت علی صاحب:
معظمی زاد عنایتہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ تعالی وبرکاتہ ! تھوڑا عرصہ ہوا جب مجھے آپ کے ہمراہ جناب مولنا صاحب قبلہ سے شرف قدم بوسی حاصل ہوا تھا اس روز میں نے مولنا صاحب کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ ایك صاحب نے مسجدکے متعلق چند کتب احادیث کی اسناد پر یہ مواد جمع کیاہے کہ راستہ کی فراخی کے لئے مسجد میں سے کچھ حصہ بشرط گنجائش لینا جائز ہے جس میں آنجناب مولنا صاحب قبلہ نے یہ فرمایا تھا کہ وہ غلطی پر ہیں بلکہ اس مسئلہ کا منشا بحالت ہجوم مسجد کے کسی حصہ میں سے گزرنے کا جواز ہے اس پر میں نے ان صاحب کو انکی غلطی پر بذریعہ خط متنبہ کیا عرصہ کے بعد ان کا جواب آیا افسوس ہے کہ وہ اپنی جائے قیام پر نہیں ہیں اس وجہ سے ان کے پاس وہ ان کا رسالہ اور وہ کتب جن سے مواد جمع کیا تھا موجود نہ تھیں مگر جو انہوں نے مجھے اپنی یادداشت سے لکھا بجنسہ نقل کرکے ارسال خدمت کررہا ہوں۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ تعالی کرہ لکم ثلثا قیل وقال وکثرۃ السوال واضاعۃ المال وقال تعالی" ولا تبذر تبذیرا ﴿۲۶﴾ ان المبذرین کانوا اخون الشیطین وکان الشیطن لربہ کفورا ﴿۲۷﴾
" ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشك اﷲ تعالی نے تمہارے لئے تین چیزوں کو ناپسند بنایا:قیل وقال کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا۔اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ فضول خرچی مت کرو کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں(ت)
ہدایہ میں ہے:العبث حرام (فضول خرچی کرنا حرام ہے۔ت) اور اگر بمصلحت شرعی ہے مثلا اگر اس میں اور زمین شامل کرکے توسیع کیجائے گی یا بنا کمزور ہوگئی ہے محکم بنائی جائے گی تواصل بانی مسجد ورنہ اہل محلہ کو اس میں اختیار ہے کما فی الھندیۃ والدر المختار وغیرہما(جیسا کہ ہندیہ اور درمختاروغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۷۲: ازعلی گڑھ سوسائٹی کارڈن مسئولہ حمیدالدین خاں بی اے ۲۵ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ معرفت سید برکت علی صاحب:
معظمی زاد عنایتہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ تعالی وبرکاتہ ! تھوڑا عرصہ ہوا جب مجھے آپ کے ہمراہ جناب مولنا صاحب قبلہ سے شرف قدم بوسی حاصل ہوا تھا اس روز میں نے مولنا صاحب کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ ایك صاحب نے مسجدکے متعلق چند کتب احادیث کی اسناد پر یہ مواد جمع کیاہے کہ راستہ کی فراخی کے لئے مسجد میں سے کچھ حصہ بشرط گنجائش لینا جائز ہے جس میں آنجناب مولنا صاحب قبلہ نے یہ فرمایا تھا کہ وہ غلطی پر ہیں بلکہ اس مسئلہ کا منشا بحالت ہجوم مسجد کے کسی حصہ میں سے گزرنے کا جواز ہے اس پر میں نے ان صاحب کو انکی غلطی پر بذریعہ خط متنبہ کیا عرصہ کے بعد ان کا جواب آیا افسوس ہے کہ وہ اپنی جائے قیام پر نہیں ہیں اس وجہ سے ان کے پاس وہ ان کا رسالہ اور وہ کتب جن سے مواد جمع کیا تھا موجود نہ تھیں مگر جو انہوں نے مجھے اپنی یادداشت سے لکھا بجنسہ نقل کرکے ارسال خدمت کررہا ہوں۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب النہی عن کثرۃ المسائل ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۷۔۲۶€
الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ المکتبۃ العربیۃ ∞کراچی ۱/ ۱۱۸€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۷۔۲۶€
الہدایۃ کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ المکتبۃ العربیۃ ∞کراچی ۱/ ۱۱۸€
نام کتاب جس میں سے مواد حاصل کیا:اشباہ والنظائر مصنفہ امام ابراہیم باب فوائد شتی ص۴۰۴و۴۰۵مطبو عہ ۱۲۸۳ھ مطبع نظامی یا مصطفائی کانپور۔
عبارت خط:جو حوالہ میں نے آپ کو لکھا تھا وہ اس طرح ہے:
لو ضاق الطریق علی المارۃ والمسجد واسع فلہم ان یوسعوا الطریق من المسجد۔ اگر راستہ گزرنے والوں کے لئے تنگ ہو اور مسجد وسیع ہوتو انہیں مسجد کا کچھ حصہ لے کر راستہ میں توسیع کرنے کا اختیار ہے(ت)
اور دوسری جگہ:
ماضاق المرور ولوکان مسجدا واسعا یجوزانھدامہ۔ جب گزرنا دشوار ہو اور مسجد وسیع ہوتو اس کا انہدام جائز ہے۔ (ت)
قریب قریب ایسی ہی عبارت جو مجھے کل او راچھی طرح یا دنہیں ہےعبارت بالااشباہ والنظائر میں صاف لکھی ہے اور صاحب رد المحتار نے اسی کو مرجح اور معتمد لکھا ہے حکم بالا میں مسجد کے متعلق ہے فناء مسجد یعنی وضو خانہحجرہغسل خانہ میں تو بحث ہی فضول ہے۔یہ عبارت انہوں نے مجھے لکھ کر بھیجی ہے غالبا یہ کتاب آنجناب مولانا صاحب کے وسیع کتب خانہ میں ضرور موجودگی ہوگی اور اس کو دیکھ کر آں جناب ضرور اس کی صحت اور موقع پر غور فرماسکیں گے والسلام۔
دیگر گزارش یہ ہے کہ جناب مولانا صاحب قبلہ کے فیصلہ سے مجھے بھی مطلع فرمائیں تو باعث کمال عنایت ہوگا علاوہ اضافہ معلومات مجھے ان حضرت کو بھی لکھنے کا موقع مل سکے گا میراپتہ حسب ذیل ہوگا:
محمد حمید الدین خاں بی اےسوسائٹی کارڈن علی گڑھ
الجواب:
استغفر اﷲ العظیم ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم الحکیمنہ کتاب مستطاب اشباہ والنظائر کے مصنف امام ابراہیم نہ اشباہ میں معاذاﷲ کہیں ان کا پتہ کہ لوکان مسجدا واسعا یجوز انھدامہ(اگر مسجد وسیع ہوتو اس کا انہدام جائز ہے۔ت)نہ کوئی مسلمان ایسا کہہ سکے نہ کوئی
عبارت خط:جو حوالہ میں نے آپ کو لکھا تھا وہ اس طرح ہے:
لو ضاق الطریق علی المارۃ والمسجد واسع فلہم ان یوسعوا الطریق من المسجد۔ اگر راستہ گزرنے والوں کے لئے تنگ ہو اور مسجد وسیع ہوتو انہیں مسجد کا کچھ حصہ لے کر راستہ میں توسیع کرنے کا اختیار ہے(ت)
اور دوسری جگہ:
ماضاق المرور ولوکان مسجدا واسعا یجوزانھدامہ۔ جب گزرنا دشوار ہو اور مسجد وسیع ہوتو اس کا انہدام جائز ہے۔ (ت)
قریب قریب ایسی ہی عبارت جو مجھے کل او راچھی طرح یا دنہیں ہےعبارت بالااشباہ والنظائر میں صاف لکھی ہے اور صاحب رد المحتار نے اسی کو مرجح اور معتمد لکھا ہے حکم بالا میں مسجد کے متعلق ہے فناء مسجد یعنی وضو خانہحجرہغسل خانہ میں تو بحث ہی فضول ہے۔یہ عبارت انہوں نے مجھے لکھ کر بھیجی ہے غالبا یہ کتاب آنجناب مولانا صاحب کے وسیع کتب خانہ میں ضرور موجودگی ہوگی اور اس کو دیکھ کر آں جناب ضرور اس کی صحت اور موقع پر غور فرماسکیں گے والسلام۔
دیگر گزارش یہ ہے کہ جناب مولانا صاحب قبلہ کے فیصلہ سے مجھے بھی مطلع فرمائیں تو باعث کمال عنایت ہوگا علاوہ اضافہ معلومات مجھے ان حضرت کو بھی لکھنے کا موقع مل سکے گا میراپتہ حسب ذیل ہوگا:
محمد حمید الدین خاں بی اےسوسائٹی کارڈن علی گڑھ
الجواب:
استغفر اﷲ العظیم ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم الحکیمنہ کتاب مستطاب اشباہ والنظائر کے مصنف امام ابراہیم نہ اشباہ میں معاذاﷲ کہیں ان کا پتہ کہ لوکان مسجدا واسعا یجوز انھدامہ(اگر مسجد وسیع ہوتو اس کا انہدام جائز ہے۔ت)نہ کوئی مسلمان ایسا کہہ سکے نہ کوئی
عربی دان ایسی عبارت لکھے نہ کہ علامہ زین بن نجیم مصری مصنف اشباہ ان کی نسبت یہ محض تہمت ہے یا نرا اشتباہ۔کسی شخص کے اپنے تخیل میں یہ لفظ پیدا ہوئے ہوں گے جس کی عربیت فاسد اور معنی باطلکوئی آدمی ابراہیم نامی وہاں موجود یا مخیل ہوگا اور کتاب اشباہ کہیں رکھی ہوگی سب تصورات جمع ہوکر یہ یاد رہا کہ امام ابراہیم نے اشباہ میں ایسا لکھا اگرچہ نظر بواقع وہی مثال ہے کہ
چہ خوش گفتست سعدی در زلیخا الاایھا الساقی ادر کاسا ونا ولھا
(کیا خوب کہا سعدی نے زلیخا میںخبردار اے ساقی!جام کو گردش دے اور عطا کر۔ت)
بلکہ اس سے بھی ہزار درجہ بدتر ہے کہ اگرچہ نہ کتاب زلیخا شیخ سعدی رحمۃ اﷲ تعالی کی تصنیف نہ مصرع دوم ان کانہ اس کتاب کامگر آخر ہے تو ایك عارف کا قول بخلاف اس کے کہ مسجد ڈھانے کی حلت اور اشباہ کی طرف اس کی نسبتافسوس کہ ناقل نے جس کتاب کے صفحہ۴۰۴ سے پہلی عبارت نقل کی اس سے گیارہ ہی ورق اوپر صفحہ۳۸۱میں اس کے معنی کی صریح تشریح نہ دیکھی کہ "لایجوز اتخاذ طریق فیہ للمرور یعنی بان یکون لہ بابان فاکثر فیدخل من ھذا ویخرج من ھذا" یعنی مسجد میں راستہ بناناجو ناجائزہے اور عذر کی صورت میں جس کی اجازت دی گئی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ مسجد کے دو یا زیادہ دروازے ہوں ایك سے داخل ہوکر دوسرے سے نکل جائے۔ بحمد اﷲ تعالی اس یعنی نے معنی کو صاف کردیا اورجب خود اسی کتاب میں جو عبارت تھی نظر نہ آئی اور جو نہ تھی وہ متشکل ہوگئی تو اس کی کیا شکایت کہ خود انہیں امام مصنف اشباہ کی دوسری جلیل وعظیم کتاب بحرالرائق نہ دیکھی جس میں انہوں نے صاف طور پر واضح کردیا ہے کہ مسجد کو راستہ بنانے سے یہی مراد ہے کہ مسجد بحال خود قائم و برقرار رہے اور کسی کام کے لئے اس میں ہوکر نکل جائے او رصریح تصریح فرمادی ہے کہ یہ ناپاك مرد یا عورت کے لئے حلال نہیںنہ اس میں گھوڑا یا بیل وغیرہ جانور لے جاسکتے ہیں عبارت یہ ہے بحرالرائق مطبع مصر جلد پنجم ص۲۷۶:
ومعنی قولہ کعکسہ انہ اذاجعل فی المسجد ممرا فانہ یجوز لتعارف اھل الامصار فی الجوامع و جاز لکل واحد ان یمرفیہ حتی یعنی مسجد کے کسی حصہ کو راستہ بنانے سے مرادیہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد میں ہوکر مرور کےلئے جگہ ٹھہرالے تو رواہے کہ شہروں کی جامع مسجدوں میں اس کا عام رواج ہو رہا ہے اور اس میں
چہ خوش گفتست سعدی در زلیخا الاایھا الساقی ادر کاسا ونا ولھا
(کیا خوب کہا سعدی نے زلیخا میںخبردار اے ساقی!جام کو گردش دے اور عطا کر۔ت)
بلکہ اس سے بھی ہزار درجہ بدتر ہے کہ اگرچہ نہ کتاب زلیخا شیخ سعدی رحمۃ اﷲ تعالی کی تصنیف نہ مصرع دوم ان کانہ اس کتاب کامگر آخر ہے تو ایك عارف کا قول بخلاف اس کے کہ مسجد ڈھانے کی حلت اور اشباہ کی طرف اس کی نسبتافسوس کہ ناقل نے جس کتاب کے صفحہ۴۰۴ سے پہلی عبارت نقل کی اس سے گیارہ ہی ورق اوپر صفحہ۳۸۱میں اس کے معنی کی صریح تشریح نہ دیکھی کہ "لایجوز اتخاذ طریق فیہ للمرور یعنی بان یکون لہ بابان فاکثر فیدخل من ھذا ویخرج من ھذا" یعنی مسجد میں راستہ بناناجو ناجائزہے اور عذر کی صورت میں جس کی اجازت دی گئی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ مسجد کے دو یا زیادہ دروازے ہوں ایك سے داخل ہوکر دوسرے سے نکل جائے۔ بحمد اﷲ تعالی اس یعنی نے معنی کو صاف کردیا اورجب خود اسی کتاب میں جو عبارت تھی نظر نہ آئی اور جو نہ تھی وہ متشکل ہوگئی تو اس کی کیا شکایت کہ خود انہیں امام مصنف اشباہ کی دوسری جلیل وعظیم کتاب بحرالرائق نہ دیکھی جس میں انہوں نے صاف طور پر واضح کردیا ہے کہ مسجد کو راستہ بنانے سے یہی مراد ہے کہ مسجد بحال خود قائم و برقرار رہے اور کسی کام کے لئے اس میں ہوکر نکل جائے او رصریح تصریح فرمادی ہے کہ یہ ناپاك مرد یا عورت کے لئے حلال نہیںنہ اس میں گھوڑا یا بیل وغیرہ جانور لے جاسکتے ہیں عبارت یہ ہے بحرالرائق مطبع مصر جلد پنجم ص۲۷۶:
ومعنی قولہ کعکسہ انہ اذاجعل فی المسجد ممرا فانہ یجوز لتعارف اھل الامصار فی الجوامع و جاز لکل واحد ان یمرفیہ حتی یعنی مسجد کے کسی حصہ کو راستہ بنانے سے مرادیہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد میں ہوکر مرور کےلئے جگہ ٹھہرالے تو رواہے کہ شہروں کی جامع مسجدوں میں اس کا عام رواج ہو رہا ہے اور اس میں
حوالہ / References
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثالث،القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۳۱€
الکافر الا الجنب والحائض والنفساء لماعرف فی موضعہ ولیس لھم ان یدخلوا فیہ الدواب ۔ ہو کر ہر شخص کو گزرجانے کی اجازت ہوگی یہاں تك کہ کافر کو مگر جنابت والے مرد و عورت اور حیض والی عورت اور نفاس والی ان میں کسی کو وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوسکتی کہ مسجد میں ان کا جانا حرام ہونا اپنی جگہ یعنی کتاب الطہارۃ میں معلوم ہوچکا ہے اور یہ بھی انہیں اختیار نہیں کہ اس جگہ جانور لے جائیں(ت)
بعینہ اسی طرح تبیین الحقائق امام فخر الدین زیلعی ودرر الحکام ودرمختار وفتاوی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے۔اس ارشاد علماء کو ایمان کی نگاہ سے دیکھنے والے پر آفتاب کی طرح روشن ہوجائے گا کہ مسجد کو راستہ بنانے کے معنی خود انہوں نے کیاارشاد فرمائے اور کیا مراد بتائیاور یہ کہ معاذ اﷲ مسجد توڑ کر سڑك میں ڈال لو جس میں آدمیجنبحائضنفساگھوڑےگدھےغلیظ کی گاڑیاں سب گزریں اور سب کا حق مساوی ہو اور کسی کو منع نہ کرسکو نہ وہاں منڈھی ڈال کر بیٹھ سکو کہ جو آدمی گزرے اس سے پوچھو تجھے نہانے کی حاجت تو نہیںجو عورت گزرے اس سے دریافت کرو تجھے حیض تو نہیںاور جوایسا کرے بھی تو مجنون کہلائے اور فائدہ کچھ نہیں کہ کسی کو روك سکو اور روکو تو روز فساد ہو استغفراﷲ کیا ایسی بے معنی بیہودہ بات علماء نے اپنی مراد بتائی یا یہ کہ مسجد اپنے حال پر قائم و برقرار رہے اس کے تمام آداب بدستور فرض و مقرر ہیں نہ اسمیں کوئی جانور جاسکےنہ جنبنہ حائضنہ نفاس والیاور ان کے علاوہ اور آدمی ہوکر گزرجائےیہ بھی پیش نظر رہے کہ وہ جس امر کی اجازت دے رہے ہیں اسے صاف بتارہے ہیں کہ عام شہروں کی جامع مسجد وں میں اس کا رواج ہےاب یہ دیکھ لیجئے کہ جامع مسجدوں کا عام دستور کیا ہےآیا یہ کہ مسجدیں توڑ کر سڑك میں ڈال لی جاتی ہیںحاشا کوئی اندھا بھی ایسا نہیں کہہ سکتا تو بس جتنی بات کا عام شہروں کی جامع مسجدوں میں رواج چلاآتا ہے اسی کی وہ اجازت دے رہے ہیں اور وہی ان کی مراد ہے اس سے زیادہ باطل وایجاد ہے واﷲ یقول الحق ویھدی السبیل وھو حسبی ونعم الوکیل(اﷲ تعالی حق فرماتا ہے اور سیدھی راہ کی ہدایت فرماتا ہے اور وہ ہی مجھے کافی اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
بعینہ اسی طرح تبیین الحقائق امام فخر الدین زیلعی ودرر الحکام ودرمختار وفتاوی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے۔اس ارشاد علماء کو ایمان کی نگاہ سے دیکھنے والے پر آفتاب کی طرح روشن ہوجائے گا کہ مسجد کو راستہ بنانے کے معنی خود انہوں نے کیاارشاد فرمائے اور کیا مراد بتائیاور یہ کہ معاذ اﷲ مسجد توڑ کر سڑك میں ڈال لو جس میں آدمیجنبحائضنفساگھوڑےگدھےغلیظ کی گاڑیاں سب گزریں اور سب کا حق مساوی ہو اور کسی کو منع نہ کرسکو نہ وہاں منڈھی ڈال کر بیٹھ سکو کہ جو آدمی گزرے اس سے پوچھو تجھے نہانے کی حاجت تو نہیںجو عورت گزرے اس سے دریافت کرو تجھے حیض تو نہیںاور جوایسا کرے بھی تو مجنون کہلائے اور فائدہ کچھ نہیں کہ کسی کو روك سکو اور روکو تو روز فساد ہو استغفراﷲ کیا ایسی بے معنی بیہودہ بات علماء نے اپنی مراد بتائی یا یہ کہ مسجد اپنے حال پر قائم و برقرار رہے اس کے تمام آداب بدستور فرض و مقرر ہیں نہ اسمیں کوئی جانور جاسکےنہ جنبنہ حائضنہ نفاس والیاور ان کے علاوہ اور آدمی ہوکر گزرجائےیہ بھی پیش نظر رہے کہ وہ جس امر کی اجازت دے رہے ہیں اسے صاف بتارہے ہیں کہ عام شہروں کی جامع مسجد وں میں اس کا رواج ہےاب یہ دیکھ لیجئے کہ جامع مسجدوں کا عام دستور کیا ہےآیا یہ کہ مسجدیں توڑ کر سڑك میں ڈال لی جاتی ہیںحاشا کوئی اندھا بھی ایسا نہیں کہہ سکتا تو بس جتنی بات کا عام شہروں کی جامع مسجدوں میں رواج چلاآتا ہے اسی کی وہ اجازت دے رہے ہیں اور وہی ان کی مراد ہے اس سے زیادہ باطل وایجاد ہے واﷲ یقول الحق ویھدی السبیل وھو حسبی ونعم الوکیل(اﷲ تعالی حق فرماتا ہے اور سیدھی راہ کی ہدایت فرماتا ہے اور وہ ہی مجھے کافی اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الوقف فصل لما اختص المسجد باحکام ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۵€
مسئلہ۱۷۳ تا ۱۸۱: مسئولہ محمد علاؤالدین صاحب مالگذار رئیس تحصیل ملتائی ضلع بیتول ملك متوسطہ ۲۵محرم الحرام۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ اس مختصر قصبہ ملتائی میں قریب سوسال سے ایك مسجد کمترین کے بزرگوں کی تعمیر کرائی ہوئی موجود ہے جس میں نماز پنجگانہ وجمعہ ہواکرتاہے یہاں مسلمانوں کی آبادی بہت کم ہے قریب ستر پچھتر مکان ہوں گے ان میں بھی صوم وصلوۃ کے پابند صرف معدودے چند اشخاص ہیں تاہم تفرقہ انداز نفوس موجودہیں امسال رمضان شریف میں روزہ جلدافطار کرنے کی کٹ حجتی پر یعنی متولی مسجد کے یوم غیم میں کچھ دیر کرکے روزہ افطار کرنے کی تنبیہ پر زید وبکر وخالدوعمرو نے مسجد قدیمی سے کنارہ کشی اختیار کرکے اور دس بیس آدمیوں کو ورغلا کر مسجد میں تراویح پڑھنے وقرآن شریف سننے سے جو حافظ صاحب نماز تراویح میں پڑھتے تھے خودبھی باز رہے اور دیگر لوگوں کو بھی باز رکھا اور ترك جماعت کرکے ایك دوسری جگہ نماز پنجگانہ وتراویح ونمازجمعہ پڑھنے لگے اور اپنی ضد وتفرقہ اندازی کی غرض سے اور چند جاہل مسلمانوں کو اکسا و ورغلا کر اپنا ہم خیال بناکر جابجا سے چندہ وصول کرکے ایك دوسری مسجد تعمیر کرنے کی فکر کر رہے ہیں بلکہ ایك ویرانی خانگی مسجد کو جو ایك خاندان کےلئے مخصوص تھی جس میں اب کوئی علامت مسجد کی باقی نہیں نہ دیوار ودر ثابت ہیں نہ منبر وغیرہ کا نشان نظر آتا ہے پچاس ساٹھ برس سے بالکل ویران پڑی ہوئی ہے اسی کوباجازت اس کے متولیوں کے از سر نو تعمیر کراکر مسجد حال کو ویران کرنے کی نیت سے اس مسجد سے بالکل کنارہ کش ہو بیٹھے ہیں اور اس اپنی منافقانہ وکافرانہ حرکت وضد کو قرین ثواب و جائز قرار دے کر اسی پر اڑے ہوئے ہیں کہ ہم دوسری مسجد بنا کر رہیں گے حالانکہ سب کے سب علم دین سے محض نابلد وجاہل مطلق ہیں کہ آیہ کریمہ قرآن پاك پ۱۱ رکوع ۲ میں جو اس قسم کی مسجد ضرار کے بارہ میں احکام الہی صاف روشن ہیں اس کا ترجمہ دیکھ کر اس کے معنی الٹے سمجھتے ہیں کہ یہ یہود ونصاری سے متعلق ہے انہیں کے لئے نازل ہوئی ہے لہذا ان کے منافقانہ تفرقہ اندازی سے باز رہنے کےلئے حسب ذیل امور کیلئے علمائے دین موجودہ حال لکھنو کے مواہیر سے مثبتہ فتوی درکار ہے اور رفع شر کے لئے ایسے فتوے کی اشد ضرورت ہےاﷲ جل شانہ نے آپ صاحبوں کو علمی فضیلت دی ہےنہایت عاجزی سے ملتجی ہوں کہ براہ عنایت وتحصیل ثواب فتوی مسندہ جلد ارسال فرماکر عنداﷲ وعندالناس مشکور ہوں گے۔
(۱)کیا مذکورہ بالا اشخاص ایك مسجدقدیمی کی ضد پر موجودہ حال وآبادی سے قریب ومتصل ہے اور اس میں پوری گنجائش نمازیوں کی کافی طور سے ہوتی ہے اور جس میں عرصہ قریب سوسال سے نماز پنجگانہ وجمعہ ادا ہوتی ہے بلکہ مذکورہ بالااشخاص وبستی کے مسلمان صرف ایك مسجد کو بھی پورے طور سے آباد نہیں رکھ سکتے ہیں باہم نفاق ڈالنے کی نیت سے بلا ضرورت دوسری مسجد تعمیرکرانا اور چند
کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ اس مختصر قصبہ ملتائی میں قریب سوسال سے ایك مسجد کمترین کے بزرگوں کی تعمیر کرائی ہوئی موجود ہے جس میں نماز پنجگانہ وجمعہ ہواکرتاہے یہاں مسلمانوں کی آبادی بہت کم ہے قریب ستر پچھتر مکان ہوں گے ان میں بھی صوم وصلوۃ کے پابند صرف معدودے چند اشخاص ہیں تاہم تفرقہ انداز نفوس موجودہیں امسال رمضان شریف میں روزہ جلدافطار کرنے کی کٹ حجتی پر یعنی متولی مسجد کے یوم غیم میں کچھ دیر کرکے روزہ افطار کرنے کی تنبیہ پر زید وبکر وخالدوعمرو نے مسجد قدیمی سے کنارہ کشی اختیار کرکے اور دس بیس آدمیوں کو ورغلا کر مسجد میں تراویح پڑھنے وقرآن شریف سننے سے جو حافظ صاحب نماز تراویح میں پڑھتے تھے خودبھی باز رہے اور دیگر لوگوں کو بھی باز رکھا اور ترك جماعت کرکے ایك دوسری جگہ نماز پنجگانہ وتراویح ونمازجمعہ پڑھنے لگے اور اپنی ضد وتفرقہ اندازی کی غرض سے اور چند جاہل مسلمانوں کو اکسا و ورغلا کر اپنا ہم خیال بناکر جابجا سے چندہ وصول کرکے ایك دوسری مسجد تعمیر کرنے کی فکر کر رہے ہیں بلکہ ایك ویرانی خانگی مسجد کو جو ایك خاندان کےلئے مخصوص تھی جس میں اب کوئی علامت مسجد کی باقی نہیں نہ دیوار ودر ثابت ہیں نہ منبر وغیرہ کا نشان نظر آتا ہے پچاس ساٹھ برس سے بالکل ویران پڑی ہوئی ہے اسی کوباجازت اس کے متولیوں کے از سر نو تعمیر کراکر مسجد حال کو ویران کرنے کی نیت سے اس مسجد سے بالکل کنارہ کش ہو بیٹھے ہیں اور اس اپنی منافقانہ وکافرانہ حرکت وضد کو قرین ثواب و جائز قرار دے کر اسی پر اڑے ہوئے ہیں کہ ہم دوسری مسجد بنا کر رہیں گے حالانکہ سب کے سب علم دین سے محض نابلد وجاہل مطلق ہیں کہ آیہ کریمہ قرآن پاك پ۱۱ رکوع ۲ میں جو اس قسم کی مسجد ضرار کے بارہ میں احکام الہی صاف روشن ہیں اس کا ترجمہ دیکھ کر اس کے معنی الٹے سمجھتے ہیں کہ یہ یہود ونصاری سے متعلق ہے انہیں کے لئے نازل ہوئی ہے لہذا ان کے منافقانہ تفرقہ اندازی سے باز رہنے کےلئے حسب ذیل امور کیلئے علمائے دین موجودہ حال لکھنو کے مواہیر سے مثبتہ فتوی درکار ہے اور رفع شر کے لئے ایسے فتوے کی اشد ضرورت ہےاﷲ جل شانہ نے آپ صاحبوں کو علمی فضیلت دی ہےنہایت عاجزی سے ملتجی ہوں کہ براہ عنایت وتحصیل ثواب فتوی مسندہ جلد ارسال فرماکر عنداﷲ وعندالناس مشکور ہوں گے۔
(۱)کیا مذکورہ بالا اشخاص ایك مسجدقدیمی کی ضد پر موجودہ حال وآبادی سے قریب ومتصل ہے اور اس میں پوری گنجائش نمازیوں کی کافی طور سے ہوتی ہے اور جس میں عرصہ قریب سوسال سے نماز پنجگانہ وجمعہ ادا ہوتی ہے بلکہ مذکورہ بالااشخاص وبستی کے مسلمان صرف ایك مسجد کو بھی پورے طور سے آباد نہیں رکھ سکتے ہیں باہم نفاق ڈالنے کی نیت سے بلا ضرورت دوسری مسجد تعمیرکرانا اور چند
انجان مسلمانوں کو ترغیب دے کر اس قدیمی مسجد سے باز رکھنا اور اپنی ایك جداگانہ جماعت قائم کرنا یہ فعل ان کا منافقانہ داخل کفر ونارواہے یا نہیں
(۲)دیگر بے شر وبے لوث مسلمانوں کےلئے ان کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے یاکیا
(۳)ان سے راہ ورسمسلام مسنون یا ان میں سے بطور قاضی کے کسی کا نکاح پڑھانا جائز یا کیا:
(۴)مسجد ضرار جوایك مسجد کی ضد پر بنائے فساد قائم کی جائے اس کے گرادینے ومنہدم کرنے کا حکم ہے یانہیں
(۵)کیا ایسا شخص مذکورہ بالا جو ایسے شرو نفاق کا بانی مبانی ہو امامت کے قابل ہوسکتا ہے کیا اس کی امامت جائز ہےـ
(۶)کیا ایسی مسجدکی تعمیر کے لئے جس کی بناضدونفاق پر ہواور جو ضرار کی تعریف میں داخل ہو کچھ چندہ دینا یا دیگر طریقہ سے مدد دینا جائزہے
(۷)کیا ذابح بقر وغنم کے پیچھے نماز پڑھنا جائزہے یعنی جو شخص اجرت لے کر ذبیحہ کرتا ہو وہ امامت کرسکتا ہے یانہیں
(۸)کیانماز جمعہ ایسی جگہ جہاں مسلمانوں کے ستر پچھتر مکان ہوں اور نمازی بمشکل تیس چالیس جمع ہوتے ہوں نمازجمعہ دو جگہ ہوسکتی ہے
(۹)جو شخص بستی وقوم میں ہر طرح معزز و رئیس ہو اور وہ متولی مسجد بھی ہو اس کے خلاف برگشتہ ہو کر معمولی حیثیث کے مسلمان کا ایسا شرپیدا کرنے کا طرز عمل جائز ہے بینواتوجروایا اولی الابصار۔
الجواب:
(۱)اگر فی الواقع ان کی نیت جماعت مسلمین کی تفریق اور مسجد قدیم کی تخریب ہو تو ضرور وہ مرتکب سخت کبیرہ ہیں اور اس تقریر پر ان کی مسجد مسجد ضرار ہوگی مگر اتنی بات پر حکم تکفیر ناممکن ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
(۲)جب ان پر حکم کفر نہیں تو ان کے ہاتھ کاذبیحہ کیوں نادرست ہوگا
(۳)جو لوگ اس تقدیر پر فساق ومرتکب کبائر ہیں ان سے ابتدابہ سلام ناجائز ہے اور بغرض زجر وتنبیہ ترك راہ ورسم بہتر ہے اور جب راہ ورسم نہ ہوگی تو اپنی شادیوں میں بلانا اور نکاح پڑھوانا بھی نہ ہوگا لیکن اگر وہ نکاح پڑھائیں تو اس نکاح میں کوئی جرم لازم نہ آئے گا۔
(۴)ضرور ہے مگر جبکہ ضرار ہونا یقینا ثابت ہو۔دو جماعتوں میں رنجش ہوئی اور ایك جماعت دوسری کی
(۲)دیگر بے شر وبے لوث مسلمانوں کےلئے ان کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے یاکیا
(۳)ان سے راہ ورسمسلام مسنون یا ان میں سے بطور قاضی کے کسی کا نکاح پڑھانا جائز یا کیا:
(۴)مسجد ضرار جوایك مسجد کی ضد پر بنائے فساد قائم کی جائے اس کے گرادینے ومنہدم کرنے کا حکم ہے یانہیں
(۵)کیا ایسا شخص مذکورہ بالا جو ایسے شرو نفاق کا بانی مبانی ہو امامت کے قابل ہوسکتا ہے کیا اس کی امامت جائز ہےـ
(۶)کیا ایسی مسجدکی تعمیر کے لئے جس کی بناضدونفاق پر ہواور جو ضرار کی تعریف میں داخل ہو کچھ چندہ دینا یا دیگر طریقہ سے مدد دینا جائزہے
(۷)کیا ذابح بقر وغنم کے پیچھے نماز پڑھنا جائزہے یعنی جو شخص اجرت لے کر ذبیحہ کرتا ہو وہ امامت کرسکتا ہے یانہیں
(۸)کیانماز جمعہ ایسی جگہ جہاں مسلمانوں کے ستر پچھتر مکان ہوں اور نمازی بمشکل تیس چالیس جمع ہوتے ہوں نمازجمعہ دو جگہ ہوسکتی ہے
(۹)جو شخص بستی وقوم میں ہر طرح معزز و رئیس ہو اور وہ متولی مسجد بھی ہو اس کے خلاف برگشتہ ہو کر معمولی حیثیث کے مسلمان کا ایسا شرپیدا کرنے کا طرز عمل جائز ہے بینواتوجروایا اولی الابصار۔
الجواب:
(۱)اگر فی الواقع ان کی نیت جماعت مسلمین کی تفریق اور مسجد قدیم کی تخریب ہو تو ضرور وہ مرتکب سخت کبیرہ ہیں اور اس تقریر پر ان کی مسجد مسجد ضرار ہوگی مگر اتنی بات پر حکم تکفیر ناممکن ہے۔واﷲتعالی اعلم۔
(۲)جب ان پر حکم کفر نہیں تو ان کے ہاتھ کاذبیحہ کیوں نادرست ہوگا
(۳)جو لوگ اس تقدیر پر فساق ومرتکب کبائر ہیں ان سے ابتدابہ سلام ناجائز ہے اور بغرض زجر وتنبیہ ترك راہ ورسم بہتر ہے اور جب راہ ورسم نہ ہوگی تو اپنی شادیوں میں بلانا اور نکاح پڑھوانا بھی نہ ہوگا لیکن اگر وہ نکاح پڑھائیں تو اس نکاح میں کوئی جرم لازم نہ آئے گا۔
(۴)ضرور ہے مگر جبکہ ضرار ہونا یقینا ثابت ہو۔دو جماعتوں میں رنجش ہوئی اور ایك جماعت دوسری کی
مسجد میں بخوف فتنہ آنا نہ چاہے اور مسجد میں نماز پڑھنا ضرورلہذا وہ اپنی مسجد بنائے تو اسے مسجد ضرار نہیں کہہ سکتےمسجد ضرار اسی صورت میں ہوگی کہ اس سے مقصود مسجد کو ضرر دینا اور جماعت مسلمین میں تفرقہ ڈالنا ہونیت امر باطن ہے محض قیاسات وقرائن کا لحاظ کرکے ایسی سخت بات کا حکم نہیں دے سکتے خصوصا اس حالت میں جبکہ وہ جدامسجد بنانا نہیں چاہتے بلکہ جو مسجد پہلے موجودتھی اس کا احیاء چاہتے ہیں۔
(۵)ایسے شخص کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمیجبکہ صورت واقعہ یہ ہوجو سائل نے ذکر کی۔واﷲتعالی اعلم۔
(۶)اگر امر مذکور ثابت ہو تو اس میں کسی طرح مدد دینا جائز نہیں۔
(۷)یہ مسئلہ لوگوں میں غلط مشہور ہے ذبح بقر کوئی جرم نہیںنہ اس پر اجرت لینا ممنوعتو اس وجہ سے امامت میں کیاحرج ہوسکتا ہے۔
(۸)نماز جمعہ کے شرائط سے ایك شرط یہ ہے کہ خود سلطان اسلام پڑھائے یا اس کا نائب یا اس کا ماذون اور جہاں یہ نہ ہوں وہاں بضرورت مسلمانوں کا کسی کو امام مقرر کرلینا معتبر رکھا ہے ایسی بستی میں جبکہ جمعہ قائم ہے اور ایك امام مقرر کر دہ مسلمین موجود ہے تو بلاوجہ شرعی چند شخصوں کا دوسرے کو امام جمعہ مقرر کرنا صحیح نہ ہوگا اور وہاں نماز جمعہ ادا نہ ہوسکے گی۔
(۹)شر پیدا کرنا کسی کو کسی کے مقابل جائز نہیں اور دینی معظم کی بلاوجہ شرعی مخالفت اور پر شر ہے ہاں جو فقط دنیوی وجاہت رکھتا ہو اسے معزز اور اس کے مقابل اور مسلمانوں کو معمولی مسلمان کہنا یہ بھی جائز نہیں۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۸۲: مسئولہ سید کمال الدین احمد صاحب جعفری وکیل ہائیکورٹ الہ آباد ۲۹محرم ۱۳۳۲ھ
عید گاہ یا مسجد میں وعظ یا چندہ اسلامی مذہبی کاموں کے لئے کرنا عام مسلمانوں کو جائز ہے اور متولی کو اس کے روکنے کا حق ہے یانہیں
الجواب:
مسجد میں کارخیر کےلئے چندہ کرناجائز ہے جبکہ شور وچپقلش نہ ہو خود احادیث صحیحہ سے اس کا جواز ثابت ہےمسجد میں وعظ کی بھی اجازت ہے جبکہ واعظ عالم دین سنی صحیح العقیدہ ہو اور نماز کا وقت نہ ہوان دونوں باتوں کو کہ منکرات سے خالی ہوں متولی یاکوئی منع نہیں کرسکتا ہےہاں اگر چندہ امر شر کے لئے ہو اگرچہ اسے کیسے ہی امر خیر کہا جائے جیسے نیچریوں کے کالج یا وہابیوں کے مدرسہ کے لئے یااس میں شور وغل ہو
(۵)ایسے شخص کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمیجبکہ صورت واقعہ یہ ہوجو سائل نے ذکر کی۔واﷲتعالی اعلم۔
(۶)اگر امر مذکور ثابت ہو تو اس میں کسی طرح مدد دینا جائز نہیں۔
(۷)یہ مسئلہ لوگوں میں غلط مشہور ہے ذبح بقر کوئی جرم نہیںنہ اس پر اجرت لینا ممنوعتو اس وجہ سے امامت میں کیاحرج ہوسکتا ہے۔
(۸)نماز جمعہ کے شرائط سے ایك شرط یہ ہے کہ خود سلطان اسلام پڑھائے یا اس کا نائب یا اس کا ماذون اور جہاں یہ نہ ہوں وہاں بضرورت مسلمانوں کا کسی کو امام مقرر کرلینا معتبر رکھا ہے ایسی بستی میں جبکہ جمعہ قائم ہے اور ایك امام مقرر کر دہ مسلمین موجود ہے تو بلاوجہ شرعی چند شخصوں کا دوسرے کو امام جمعہ مقرر کرنا صحیح نہ ہوگا اور وہاں نماز جمعہ ادا نہ ہوسکے گی۔
(۹)شر پیدا کرنا کسی کو کسی کے مقابل جائز نہیں اور دینی معظم کی بلاوجہ شرعی مخالفت اور پر شر ہے ہاں جو فقط دنیوی وجاہت رکھتا ہو اسے معزز اور اس کے مقابل اور مسلمانوں کو معمولی مسلمان کہنا یہ بھی جائز نہیں۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۸۲: مسئولہ سید کمال الدین احمد صاحب جعفری وکیل ہائیکورٹ الہ آباد ۲۹محرم ۱۳۳۲ھ
عید گاہ یا مسجد میں وعظ یا چندہ اسلامی مذہبی کاموں کے لئے کرنا عام مسلمانوں کو جائز ہے اور متولی کو اس کے روکنے کا حق ہے یانہیں
الجواب:
مسجد میں کارخیر کےلئے چندہ کرناجائز ہے جبکہ شور وچپقلش نہ ہو خود احادیث صحیحہ سے اس کا جواز ثابت ہےمسجد میں وعظ کی بھی اجازت ہے جبکہ واعظ عالم دین سنی صحیح العقیدہ ہو اور نماز کا وقت نہ ہوان دونوں باتوں کو کہ منکرات سے خالی ہوں متولی یاکوئی منع نہیں کرسکتا ہےہاں اگر چندہ امر شر کے لئے ہو اگرچہ اسے کیسے ہی امر خیر کہا جائے جیسے نیچریوں کے کالج یا وہابیوں کے مدرسہ کے لئے یااس میں شور وغل ہو
یاواعظ بدمذہب یا بے علم یا روایات موضوع کا بیان کرنے والا ہو یا لوگ نماز پڑھ رہے ہوں اور اس نے وعظ شروع کردیاکہ ان کی نماز میں خلل آتا ہو تو ایسی صورت میں متولی اور ہر مسلمان کو روك دینے کا اختیار ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۳:ازموضع منصور پور متصل ڈاکخانہ قصبہ شیش گڈھ تحصیل بہیٹری ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خاں ۳۰محرم ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك دیوار شمال وجنوب کی ہے اس کی بنیاد سے ملا کر کسی قدر اونچائی مثل چبوترہ قائم کیا گیا اور اس دیوار پر چھپر رکھواکر وہ جگہ نماز کے واسطے مخصوص کردی گئی چنانچہ جگہ مذکور پر بلانا غہ اذان ونماز ایك مدت سے ہورہی ہے یہاں تك کہ نماز جمعہ بھی ہوتی ہے منبر لکڑی کا برائے خطبہ جگہ معینہ پر موجود ہےبایں صورت فرمائے کہ اس کو مسجد کیا جائے یا کیا
الجواب:
مالك زمین نے اگر کہا کہ میں نے اس کو مسجد کردیا اور اس میں نماز پڑھ لی گئی تو وہ مسجد ہوگئی اگرچہ اس میں عمارت اصلا نہ ہو خالی ہویونہی اگر اس کے کلام سے مسجد کردینے پر دلالت پائی گئی مثلا کہا میں نے یہ زمین مسلمانوں کی نماز کےلئے کردی کہ ہمیشہ اس میں نماز ہواکرے جب بھی مسجد ہوجائیگی اور اگر ایك مدت خاص کی تحدید کی مثلا سال دو سال نماز پڑھنے کے لئے دیتا ہوں تو مسجد نہ ہوگیاور اگر زبان سے لفظ نہ ہمیشہ کا کہا نہ کسی وقت محدود کا تو دل میں اگر نیت ہمیشہ کی ہے مسجد ہوگئی ورنہ نہیںعالمگیری میں ہے:
رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوافیہا بجماعۃفھذاعلی ثلثۃ اوجہ احدھا اما ان امرھم بالصلوۃ فیہا ابدانصا بان قال صلوافیہا ابدا اوامر ھم بالصلوۃ مطلقا ونوی الابدففی ھذین الوجھین صارت الساحۃ مسجدالومات لایورث عنہ ایك شخص کی خالی زمین پڑی ہوئی تھی جس میں کوئی عمارت نہیں اس نے لوگوں کو اس زمین میں باجماعت نماز پڑھنے کو کہا تو اس کی تین صورتیں ہیں(پہلی یہ کہ)اس نے امر نماز کی تابید کی تصریح کی ہو بایں طور کہ یوں کہا ہو کہ تم اس میں ہمیشہ نماز پڑھا کرویا(دوسری صورت یہ کہ)اس نے انہیں مطلقا نماز پڑھنے کو کہا اور نیت ہمیشگی کی کرلی ان دونوں صورتوں میں وہ زمین مسجد ہوگئی اور اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث جاری نہ ہوگی اور(تیسری
مسئلہ ۱۸۳:ازموضع منصور پور متصل ڈاکخانہ قصبہ شیش گڈھ تحصیل بہیٹری ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خاں ۳۰محرم ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك دیوار شمال وجنوب کی ہے اس کی بنیاد سے ملا کر کسی قدر اونچائی مثل چبوترہ قائم کیا گیا اور اس دیوار پر چھپر رکھواکر وہ جگہ نماز کے واسطے مخصوص کردی گئی چنانچہ جگہ مذکور پر بلانا غہ اذان ونماز ایك مدت سے ہورہی ہے یہاں تك کہ نماز جمعہ بھی ہوتی ہے منبر لکڑی کا برائے خطبہ جگہ معینہ پر موجود ہےبایں صورت فرمائے کہ اس کو مسجد کیا جائے یا کیا
الجواب:
مالك زمین نے اگر کہا کہ میں نے اس کو مسجد کردیا اور اس میں نماز پڑھ لی گئی تو وہ مسجد ہوگئی اگرچہ اس میں عمارت اصلا نہ ہو خالی ہویونہی اگر اس کے کلام سے مسجد کردینے پر دلالت پائی گئی مثلا کہا میں نے یہ زمین مسلمانوں کی نماز کےلئے کردی کہ ہمیشہ اس میں نماز ہواکرے جب بھی مسجد ہوجائیگی اور اگر ایك مدت خاص کی تحدید کی مثلا سال دو سال نماز پڑھنے کے لئے دیتا ہوں تو مسجد نہ ہوگیاور اگر زبان سے لفظ نہ ہمیشہ کا کہا نہ کسی وقت محدود کا تو دل میں اگر نیت ہمیشہ کی ہے مسجد ہوگئی ورنہ نہیںعالمگیری میں ہے:
رجل لہ ساحۃ لابناء فیہا امر قوما ان یصلوافیہا بجماعۃفھذاعلی ثلثۃ اوجہ احدھا اما ان امرھم بالصلوۃ فیہا ابدانصا بان قال صلوافیہا ابدا اوامر ھم بالصلوۃ مطلقا ونوی الابدففی ھذین الوجھین صارت الساحۃ مسجدالومات لایورث عنہ ایك شخص کی خالی زمین پڑی ہوئی تھی جس میں کوئی عمارت نہیں اس نے لوگوں کو اس زمین میں باجماعت نماز پڑھنے کو کہا تو اس کی تین صورتیں ہیں(پہلی یہ کہ)اس نے امر نماز کی تابید کی تصریح کی ہو بایں طور کہ یوں کہا ہو کہ تم اس میں ہمیشہ نماز پڑھا کرویا(دوسری صورت یہ کہ)اس نے انہیں مطلقا نماز پڑھنے کو کہا اور نیت ہمیشگی کی کرلی ان دونوں صورتوں میں وہ زمین مسجد ہوگئی اور اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث جاری نہ ہوگی اور(تیسری
واما ان وقت الامر بالیوم اوالشھر او السنۃ ففی ھذا الوجہ لایصیر الساحۃ مسجد الومات یورث عنہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ صورت یہ ہے کہ)اگر اس نے امر نماز کو دنمہینے یا سال سے مقیدکیا تو اس صورت میں وہ زمین مسجد نہ ہوگی اور اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث جاری ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۸۴: مسئولہ عبدالرحیم وکریم احمد صاحبان متولیان مسجد مچھلی بازار کان پور ۲۱صفر ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو روپیہ مسجد مچھلی بازار کان پورفنڈ میں تین عنوانوں سے آیا ہے:
(۱)کچھ تو امدا د مجروحین ومقتولین کےلئے۔
(۲)کچھ مقدمہ مسجد کےلئے۔
(۳)کچھ حفاظت اور تعمیر حصہ منہدمہ مسجد کی غرض سے۔
اب بعد ختم ہوجانے مقدمہ کے اس کا صحیح مصرف از روئے شرع شریف کیاہےبینواتوجروا۔
الجواب:
امداد مجروحین ومقتولین مقدمہ ختم ہونے سے ختم نہیں ہوجاتیامداد مقتولین سے ان کی بیواؤں اور یتیموں کی امدا دمراد ہے ار وہ ہنوز باقی ہیںمقدمہ اگر ختم ہوا تو ماخوذین کا نہ مسجد کا کہ اس کا جو فیصلہ مولوی صاحب کنندہ نے کیامحض باطل و خلاف شرع ہے مسلمانوں کو اس پر سکوت جائزنہیںفرض ہے کہ اپنے تحفظ حقوق مذہبی کےلئے گورنمنٹ سے جائز چارہ جوئی کوانتہا تك پہنچائیں۔اس کے مصارف میں یہ روپیہ اٹھائیں اس کا روشن بیان "ابانۃ المتواری فی مصالحۃ عبدالباری" میں ہے جو اصل رسالہ چھپ گیا اور زمیندارمیں بھی شائع ہوچکا اور اس کا ذیل زیر طبع ہےواﷲتعالی اعلم۔
__________________
مسئلہ۱۸۴: مسئولہ عبدالرحیم وکریم احمد صاحبان متولیان مسجد مچھلی بازار کان پور ۲۱صفر ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو روپیہ مسجد مچھلی بازار کان پورفنڈ میں تین عنوانوں سے آیا ہے:
(۱)کچھ تو امدا د مجروحین ومقتولین کےلئے۔
(۲)کچھ مقدمہ مسجد کےلئے۔
(۳)کچھ حفاظت اور تعمیر حصہ منہدمہ مسجد کی غرض سے۔
اب بعد ختم ہوجانے مقدمہ کے اس کا صحیح مصرف از روئے شرع شریف کیاہےبینواتوجروا۔
الجواب:
امداد مجروحین ومقتولین مقدمہ ختم ہونے سے ختم نہیں ہوجاتیامداد مقتولین سے ان کی بیواؤں اور یتیموں کی امدا دمراد ہے ار وہ ہنوز باقی ہیںمقدمہ اگر ختم ہوا تو ماخوذین کا نہ مسجد کا کہ اس کا جو فیصلہ مولوی صاحب کنندہ نے کیامحض باطل و خلاف شرع ہے مسلمانوں کو اس پر سکوت جائزنہیںفرض ہے کہ اپنے تحفظ حقوق مذہبی کےلئے گورنمنٹ سے جائز چارہ جوئی کوانتہا تك پہنچائیں۔اس کے مصارف میں یہ روپیہ اٹھائیں اس کا روشن بیان "ابانۃ المتواری فی مصالحۃ عبدالباری" میں ہے جو اصل رسالہ چھپ گیا اور زمیندارمیں بھی شائع ہوچکا اور اس کا ذیل زیر طبع ہےواﷲتعالی اعلم۔
__________________
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۵€
رسالہ
ابانۃ عـــــــہ المتواری فی مصالحۃ عبدالباری۱۳۳۱ھ
(عبدالباری کی مصالحت میں چھپی ہوئی(خرابی)کااظہار)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۱۸۵: از لکھنؤفرنگی محل مرسلہ مولوی سلامت اﷲ صاحب نائب منصرم مجلس موید الاسلام ۳۰ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ __________گورنمنٹ کے حکام
عــــــہ: مسجد کانپور کے متعلق ایك نہایت ضروری فتویجس کا سوال لکھنؤ فرنگی محل سے آیا اور دارالافتاء نے جواب دیا اور بکمال وضوح ثابت کیا کہ مولوی صاحب نے جو فیصلہ مسجد مچھلی بازار کانپور کے متعلق دیا وہ سراسر مخالف احکام اسلام ہےاس پر مسلمانوں کومطمئن ہونا سخت گناہ وحرام ہےہر طبقہ کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ دربارہ حفظ حقوق مذہبی گورنمنٹ کی نامبدل پالیسی سے نفع لیں اور اپنے اپنے منصب کے لائق جائز چارہ جوئی میں پوری کوشش کریں مولوی صاحب کی یہ شخصی کارروائی اگر مقبول ٹھہر گئی تو ہمیشہ کے لئے مساجد ہند پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا اور ہر مسلمان کہ جائز کوشش کرسکتا تھا اور نہ کی اس کے وبال میں ماخوذ ہوگا"مسجد کانپور کے فیصلہ پر ایك نظر"کا بھی اس میں رد بلیغ ہے۔
نوٹ:علامہ امجد علی صاحب اعظمی نے"قامع الواھیات من جامع الجزئیات۱۳۳۱ھ"کے نام سے اس پر ایك عربی تذییل تحریر فرمائی ہے جو کہ مولوی صاحب فیصلہ کنندہ کی اس چھ ورقی عربی تحریر بنام"جامع جزئیات فقہ"جو اس نے اس فیصلہ کو مطابق شرع بنانے میں تحریر فرمائی تھی کے رد میں ہے اعلیحضرات احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ نے اس رسالہ میں پچاس دلائل قاہرہ پیش کئے جبکہ علامہ امجد علی صاحب اعظمی نے مزید دو سو۲۰۰ دلائل پیش کرکے ثابت کیا ہے کہ یہ فیصلہ مطابق شرع نہیں ہے اور نہ ہی مسجد توڑ کر راستہ بنالینا روا ہے۔
ابانۃ عـــــــہ المتواری فی مصالحۃ عبدالباری۱۳۳۱ھ
(عبدالباری کی مصالحت میں چھپی ہوئی(خرابی)کااظہار)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۱۸۵: از لکھنؤفرنگی محل مرسلہ مولوی سلامت اﷲ صاحب نائب منصرم مجلس موید الاسلام ۳۰ذیقعدہ ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ __________گورنمنٹ کے حکام
عــــــہ: مسجد کانپور کے متعلق ایك نہایت ضروری فتویجس کا سوال لکھنؤ فرنگی محل سے آیا اور دارالافتاء نے جواب دیا اور بکمال وضوح ثابت کیا کہ مولوی صاحب نے جو فیصلہ مسجد مچھلی بازار کانپور کے متعلق دیا وہ سراسر مخالف احکام اسلام ہےاس پر مسلمانوں کومطمئن ہونا سخت گناہ وحرام ہےہر طبقہ کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ دربارہ حفظ حقوق مذہبی گورنمنٹ کی نامبدل پالیسی سے نفع لیں اور اپنے اپنے منصب کے لائق جائز چارہ جوئی میں پوری کوشش کریں مولوی صاحب کی یہ شخصی کارروائی اگر مقبول ٹھہر گئی تو ہمیشہ کے لئے مساجد ہند پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا اور ہر مسلمان کہ جائز کوشش کرسکتا تھا اور نہ کی اس کے وبال میں ماخوذ ہوگا"مسجد کانپور کے فیصلہ پر ایك نظر"کا بھی اس میں رد بلیغ ہے۔
نوٹ:علامہ امجد علی صاحب اعظمی نے"قامع الواھیات من جامع الجزئیات۱۳۳۱ھ"کے نام سے اس پر ایك عربی تذییل تحریر فرمائی ہے جو کہ مولوی صاحب فیصلہ کنندہ کی اس چھ ورقی عربی تحریر بنام"جامع جزئیات فقہ"جو اس نے اس فیصلہ کو مطابق شرع بنانے میں تحریر فرمائی تھی کے رد میں ہے اعلیحضرات احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ نے اس رسالہ میں پچاس دلائل قاہرہ پیش کئے جبکہ علامہ امجد علی صاحب اعظمی نے مزید دو سو۲۰۰ دلائل پیش کرکے ثابت کیا ہے کہ یہ فیصلہ مطابق شرع نہیں ہے اور نہ ہی مسجد توڑ کر راستہ بنالینا روا ہے۔
کابیان ہے کہ جزء متنازعہ مسجد کانپورخارج از مسجد ہے اور اس کو بعض ٹرسٹیان نے ہم کودے دیا تھااس بناء پر انہوں نے اس کو منہدم کردیااس کے چند دنوں کے بعد بغیر اجازت چند لوگوں نے اس زمین پر جس کو میونسپلٹی نے اپنے قبضہ میں کرلیا تھا تعمیر کرنا شروع کیا اس وجہ سے پولیس نے رو کا اور فیما بین لڑائی ہوگئی کچھ مسلمان قتل کئے گئے کچھ مسلمان جن میں بے قصور بھی ہیں قید کئے گئے گورنمنٹ نے اپنے طرز عمل سے باور کرادیا کہ وہ کسی طرح قیدیوں کو نہ چھوڑے گی اور اس زمین کو جس پر میونسپلٹی نے قبضہ کرلیا ہے مسلمانوں کو واپس نہ دے گیبعد چندے اس نے مراحم خسروانہ کے لحاظ سے یا اپنے ملکی فوائد کے اعتبار سے اس امر کی خواہش کی کہ تصفیہ ایسا ہوجائے کہ مسلمان قیدیوں کو چھوڑ دیا جائے اور اس زمین پر چھتا پاٹ کے مسجد میں شامل کردیاجائے اس کو چند معتبر حضرات کے روبرو اس نے پیش کیا ایك عالم نے اس امر کی کوشش کی کہ وہ زمین جس کو اکثر مسلمان جزء مسجد کہتے ہیں محفوظ مسجد کےکام میں رہ جائے ایك مخلص کی صورت یہ نکالی کہ ادھر ہی مسجد کا دروازہ کر دیاجائے وہ زمین اس دروازہ مسجد کے کام آئے گورنمنٹ کے ممبران متعینہ نے اس امر کو نہیں مانا کہ زمین پر قبضہ مسلمانوں کا ہو بلکہ صاف کہہ دیا کہ یہ کسی طرح ممکن نہیںبعد ردوقدح کے اس عالم کی رائے سے یہ طے پایا کہ سردست ملك اس زمین پر کسی کی نہ ثابت کی جائے کیونکہ مسلمانوں کے نزدیك یہ وقف ہے قبضہ زمین پر مسلمانوں کا دلا یا جائے حق آسائش حقیقۃ مسلمانوں کوحاصل ہےاگر ظلما یا تشددا گورنمنٹ عام اجازت گزر کی دے تو ہم اس کی وجہ سے قطع مصالحت نہ کریں گے بلکہ صورت بنا اس کی میونسپلٹی کے سپرد کردیا جائے جس میں بہ غلبہ آراقوی امید ہے کہ موافق قوانین اسلام تصفیہ ہوجائےوائسرائے نے بھی تاکید کردی کہ بننے کے وقت مسلمانوں کی خوشی اور ان کے قواعد کا لحاظ کیا جائے۔سوال طلب یہ امر ہے کہ جس عالم نے بدیں تفصیل مصالحت کی ممانعت نہیں کی اور منازعت کو قطع کردیا وہ خاطی ہے یا مصیباورمسلمانوں کو آئین امن عام کے اندر رہ کے استحقاق کی چارہ جوئی کرنی چاہئے اس عالم کی رائے ہے یا جوش وہنگامہ دکھانا اور خلل اندازی امن عامہ کرنا شرعا ضروری ہے اور جو امر دوم کی کوشش کرے وہ حق پر ہے یا جو امر اول کے طرز کومسلمانوں کے لئے مفیدسمجھے۔بینوا توجروا۔
جواب ازدار الافتاء
سوال بہت مجمل ہے کچھ نہ بتایا کہ:
(۱)مصالحت کیا کی۔
جواب ازدار الافتاء
سوال بہت مجمل ہے کچھ نہ بتایا کہ:
(۱)مصالحت کیا کی۔
(۲)وہ امر جس پر مصالحت کی تجویز گورنمنٹ تھا جسے عالم مذکور نے قبول کیا یا اس عالم نے پیش کیا اور اسے گورنمنٹ نے مان لیا۔
(۳)گورنمنٹ نے خود ہی مراحم خسر وانہ کے لحاظ سے یا ملکی فوائد کے اعتبار سے قیدیوں کو آزاد کیا جیساکہ عبارت سوال سے ظاہر ہے اس کے بعد کی منازعت سوال میں مذکور نہیں کہ کیا تھی اور عالم مذکور نے کیا اور کس طرح قطع کی۔
(۴)بعد اس کے کہ ممبران متعینہ گورنمنٹ نے زمین پر مسلمانوں کا قبضہ ہر گز نہ مانا اور صاف کہہ دیا کہ یہ کسی طرح ممکن نہیں جیسا کہ سائل کا بیان ہے پھر عالم مذکور کی رائے سے یہ کیونکہ طے پایا کہ قبضہ زمین پر مسلمانوں کو دلایا جائےآیا صرف عالم مذکور کاا پنے خیال میں ایك مفہوم متخیل کرنا یا یہ کہ بعد رد وقدح عالم نے ممبران گورنمنٹ سے یہ امر طے کرالیا۔
(۵)نیز اس کی رائے سے طے پانا کہ سردست ا س زمین پر کسی کی ملك ثابت نہ کی جائے مفہوم تھا کہ اس کے اپنے ذہن میں رہا یا گورنمنٹ نے عالم مذکور کی رائے سے اسے طے کیا۔
(۶)سردست کے معنی کیالئے اور وہ بھی عالم مذکور کے خیال میں رہے یا گورنمنٹ سے طے کرلئے۔
(۷)عالم مذکور کو گورنمنٹ نے حکما مجبور کیا تھا یا مسلمانوں نے اپنی طرف سے مامور کیا تھا وہ بطور خود گیا تھا۔
جب تك ان سب باتوں کی تفصیل معلوم نہ ہو ایك نہایت مجمل گول بات کا جواب کیا دیا جائے۔ہاں اتنا امر واضح وروشن ہے کہ فتنہ پردازی اور امن عام میں خلل اندازی اور مسلمانوں کو بلا اور اسلام کو توہین کےلئے پیش کرنا ہر گز نہ شرعا جائز ہے نہ عقلا ٹھیک۔قرآن عظیم میں ارشاد فرماتا ہے:" والفتنة اشد من القتل " (فتنہ وفساد قتل سے بھی سخت ہے۔ت)اور فرماتا ہے:" و لا تلقوا بایدیكم الى التهلكةﳝ- " (اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔ت) نہ یہی کسی طرح روا ہے کہ کسی حکم مخالف شرع کو بلاجبر واکراہ خود ایك امرطے شدہ قرار دے کر جائز چارہ جوئی کا دروازہ بندکر یں یا اس میں دشواری ڈالیں اور آئندہ کے لیے بھی اسے نظیر بنائیں بلکہ حدود سلامت روی کے اندر رہ کر گورنمنٹ پر اس امر کا خلاف قوانین اسلام ہونا ظاہر کریں اور گورنمنٹ کا مستمرقانون کہ مذہبی دست اندازی نہ کرے گی یا د دلا کر بلاضرر واضرار فائدہ پائیں جو اس طریق پر چلے مصیب ہے اور جو ان دو طریقوں میں سے کسی پر چلے وہ خاطی
(۳)گورنمنٹ نے خود ہی مراحم خسر وانہ کے لحاظ سے یا ملکی فوائد کے اعتبار سے قیدیوں کو آزاد کیا جیساکہ عبارت سوال سے ظاہر ہے اس کے بعد کی منازعت سوال میں مذکور نہیں کہ کیا تھی اور عالم مذکور نے کیا اور کس طرح قطع کی۔
(۴)بعد اس کے کہ ممبران متعینہ گورنمنٹ نے زمین پر مسلمانوں کا قبضہ ہر گز نہ مانا اور صاف کہہ دیا کہ یہ کسی طرح ممکن نہیں جیسا کہ سائل کا بیان ہے پھر عالم مذکور کی رائے سے یہ کیونکہ طے پایا کہ قبضہ زمین پر مسلمانوں کو دلایا جائےآیا صرف عالم مذکور کاا پنے خیال میں ایك مفہوم متخیل کرنا یا یہ کہ بعد رد وقدح عالم نے ممبران گورنمنٹ سے یہ امر طے کرالیا۔
(۵)نیز اس کی رائے سے طے پانا کہ سردست ا س زمین پر کسی کی ملك ثابت نہ کی جائے مفہوم تھا کہ اس کے اپنے ذہن میں رہا یا گورنمنٹ نے عالم مذکور کی رائے سے اسے طے کیا۔
(۶)سردست کے معنی کیالئے اور وہ بھی عالم مذکور کے خیال میں رہے یا گورنمنٹ سے طے کرلئے۔
(۷)عالم مذکور کو گورنمنٹ نے حکما مجبور کیا تھا یا مسلمانوں نے اپنی طرف سے مامور کیا تھا وہ بطور خود گیا تھا۔
جب تك ان سب باتوں کی تفصیل معلوم نہ ہو ایك نہایت مجمل گول بات کا جواب کیا دیا جائے۔ہاں اتنا امر واضح وروشن ہے کہ فتنہ پردازی اور امن عام میں خلل اندازی اور مسلمانوں کو بلا اور اسلام کو توہین کےلئے پیش کرنا ہر گز نہ شرعا جائز ہے نہ عقلا ٹھیک۔قرآن عظیم میں ارشاد فرماتا ہے:" والفتنة اشد من القتل " (فتنہ وفساد قتل سے بھی سخت ہے۔ت)اور فرماتا ہے:" و لا تلقوا بایدیكم الى التهلكةﳝ- " (اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔ت) نہ یہی کسی طرح روا ہے کہ کسی حکم مخالف شرع کو بلاجبر واکراہ خود ایك امرطے شدہ قرار دے کر جائز چارہ جوئی کا دروازہ بندکر یں یا اس میں دشواری ڈالیں اور آئندہ کے لیے بھی اسے نظیر بنائیں بلکہ حدود سلامت روی کے اندر رہ کر گورنمنٹ پر اس امر کا خلاف قوانین اسلام ہونا ظاہر کریں اور گورنمنٹ کا مستمرقانون کہ مذہبی دست اندازی نہ کرے گی یا د دلا کر بلاضرر واضرار فائدہ پائیں جو اس طریق پر چلے مصیب ہے اور جو ان دو طریقوں میں سے کسی پر چلے وہ خاطی
ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ: باردوم ازلکھنؤ فرنگی محل مرسلہ مولوی صاحب موصوف سوم ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
مولنا المعظم دام بالمجد والکرم والسلام علیکماستفتا موصول ہوا مشکور فرمایاگوہم کو اصل مسئلہ کے متعلق جناب کی رائے سے آگاہی ہوگئی مگر جناب کے استفسارات کے باعث ضرور ہوا کہ امور مستفسرہ کا جواب دیاجائے ان کو مفصل لکھ کر ارسال کرتا ہوں امید کہ اب جواب شافی عام لوگوں کے فائدہ کی غرض سے تحریر فرمایا جائے۔
امور مستفسرہ مع تصریح
س(۱)مصالحت کیا کی
ج(۱)عالم نے مصالحت یہ کی کہ گو رنمنٹ مقدمات اٹھالے اور کسی کو قیدیوں سے معافی مانگنے کی حاجت نہ ہو
یہ امر ثابت نہ ہو کہ یہ لوگ مجرم تھےمسجد کی زمین پر گورنمنٹ اپنی ملکیت ثابت نہ کرے مسلمانوں کو اس پر قبضہ دلادے اگر جبرا گورنمنٹ اس کے مرور کو مشترك کرتی ہے تو وہ حاکم ہے خلاف احکام اسلامیہ ہے اس سے مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا اور موقع موقع اس کےلئے کوشاں رہیں گے البتہ مقدمات دیگر امور کے متعلق دربارہ ہنگامہ کانپور مسلمان کچھ نہ کرینگے۔
س(۲)وہ امر جس پر مصالحت کی تجویز گورنمنٹ تھا جسے عالم مذکور نے قبول کیا یا اس عالم نے پیش کیا اور اسے گورنمنٹ نے مان لیا۔
ج(۲)گورنمنٹ نے خود مصالحت کی خواہش کی اس امر پر کہ مسلمانوں کے اوپر جو مقدمات ہیں گورنمنٹ کی طرف سے اور مسلمانوں کو جو گورنمنٹ سے دعا وی ہیں ان کے بارے میں کوئی سمجھوتا ہوجائے تاکہ گورنمنٹ کو مسلمانوں سے بدظنی اور مسلمانوں کو گورنمنٹ سے بے اعتباری نہ ہو اور بے چینی دفع ہو۔
س(۳)گورنمنٹ نے خود ہی مراحم خسر وانہ کے لحاظ سے یا ملکی فوائد کے اعتبار سے قیدیوں کو آزاد کیا جیسا کہ عبارت سوال سے ظاہر ہے اس کے بعد کی منازعت سوال میں مذکور نہیں کہ کیا تھی اور عالم مذکور نے کیا اور کس طرح قطع کی۔
ج(۳)گورنمنٹ نے لحاظ مراحم خسروانہ یا باعتبار فوائد ملکی خود خواہش تصفیہ کی کی نہ کہ قیدیوں کو بلامقابلہ کسی امر کے چھوڑدینا چاہا کہ اس کو مشروط کیا کہ مسلمان آئندہ مقدمات نہ چلائیں اور مسجد کی
مسئلہ: باردوم ازلکھنؤ فرنگی محل مرسلہ مولوی صاحب موصوف سوم ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
مولنا المعظم دام بالمجد والکرم والسلام علیکماستفتا موصول ہوا مشکور فرمایاگوہم کو اصل مسئلہ کے متعلق جناب کی رائے سے آگاہی ہوگئی مگر جناب کے استفسارات کے باعث ضرور ہوا کہ امور مستفسرہ کا جواب دیاجائے ان کو مفصل لکھ کر ارسال کرتا ہوں امید کہ اب جواب شافی عام لوگوں کے فائدہ کی غرض سے تحریر فرمایا جائے۔
امور مستفسرہ مع تصریح
س(۱)مصالحت کیا کی
ج(۱)عالم نے مصالحت یہ کی کہ گو رنمنٹ مقدمات اٹھالے اور کسی کو قیدیوں سے معافی مانگنے کی حاجت نہ ہو
یہ امر ثابت نہ ہو کہ یہ لوگ مجرم تھےمسجد کی زمین پر گورنمنٹ اپنی ملکیت ثابت نہ کرے مسلمانوں کو اس پر قبضہ دلادے اگر جبرا گورنمنٹ اس کے مرور کو مشترك کرتی ہے تو وہ حاکم ہے خلاف احکام اسلامیہ ہے اس سے مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا اور موقع موقع اس کےلئے کوشاں رہیں گے البتہ مقدمات دیگر امور کے متعلق دربارہ ہنگامہ کانپور مسلمان کچھ نہ کرینگے۔
س(۲)وہ امر جس پر مصالحت کی تجویز گورنمنٹ تھا جسے عالم مذکور نے قبول کیا یا اس عالم نے پیش کیا اور اسے گورنمنٹ نے مان لیا۔
ج(۲)گورنمنٹ نے خود مصالحت کی خواہش کی اس امر پر کہ مسلمانوں کے اوپر جو مقدمات ہیں گورنمنٹ کی طرف سے اور مسلمانوں کو جو گورنمنٹ سے دعا وی ہیں ان کے بارے میں کوئی سمجھوتا ہوجائے تاکہ گورنمنٹ کو مسلمانوں سے بدظنی اور مسلمانوں کو گورنمنٹ سے بے اعتباری نہ ہو اور بے چینی دفع ہو۔
س(۳)گورنمنٹ نے خود ہی مراحم خسر وانہ کے لحاظ سے یا ملکی فوائد کے اعتبار سے قیدیوں کو آزاد کیا جیسا کہ عبارت سوال سے ظاہر ہے اس کے بعد کی منازعت سوال میں مذکور نہیں کہ کیا تھی اور عالم مذکور نے کیا اور کس طرح قطع کی۔
ج(۳)گورنمنٹ نے لحاظ مراحم خسروانہ یا باعتبار فوائد ملکی خود خواہش تصفیہ کی کی نہ کہ قیدیوں کو بلامقابلہ کسی امر کے چھوڑدینا چاہا کہ اس کو مشروط کیا کہ مسلمان آئندہ مقدمات نہ چلائیں اور مسجد کی
زمین پربعینہ اسی طریقہ کی عمارت نہ تعمیر کریںگورنمنٹ سے اور مسلمانوں سے مقدمات اور اس کے ضمن میں باہم کشیدگی ومنازعت تھی جس کو کہ عالم مذکور نے قطع کردیا۔
س(۴)بعد اس کے کہ ممبران متعینہ گورنمنٹ نے زمین پر مسلمانوں کاقبضہ ہرگز نہ مانا اور صاف کہہ دیا کہ یہ کسی طرح ممکن نہیں جیسا کہ سائل کا بیان ہے پھر عالم مذکور کی رائے سے یہ کیونکر طے پایا کہ قبضہ زمین پر مسلمانوں کو دلایا جائے آیا صرف عالم مذکور کا اپنے خیال میں ایك مفہوم متخیل کرنا یا یہ کہ بعد رد وقدح عالم نے ممبران گورنمنٹ سے یہ امرطے کرالیا۔
ج(۴)گورنمنٹ کے متعینہ ممبروں نے ابتداء مسجد کی زمین پر کسی قسم کا قبضہ دینے سے انکار کیا عالم کی انتہائی جدوجہد سے اس نے کہا کہ ہم عمارت کی اجازت دیں گے جو قانونا وعرفا قبضہ ہے اگرچہ گورنر جنرل لفظ قبضہ کو اپنی ز بان سے نہ کہیں یہ عالم کامتخیلہ نہیں بلکہ ممبر متعینہ نے صاف صاف کہہ دیا کہ یہی قبضہ ہے غرضکہ قبضہ خود ممبر متعینہ کی زبان سے طے کرالیا۔
س(۵)نیز اس کی رائے سے طے پانا کہ سر دست اس زمین پر کسی کی ملك نہ ثابت کی جائے ایك مفہوم تھا کہ اس کے اپنے ذہن میں رہا یا گورنمنٹ نے عالم مذکور کی رائے سے اسے طے کیا۔
ج(۵)زمین کی ملکیت جو گورنمنٹ اپنی ہی سمجھتی تھی اس کے بارے میں صرف عالم کا تخیلہ نہ تھا بلکہ ممبر متعینہ سے اس نے صاف صاف کہہ دیا اور کہلوالیا تھا کہ ملك وقف میں کسی کےلئے ثابت نہیں ہوتی اس واسطے ہم اپنے لئے بھی ثابت کرنے کے درپے نہیں ہیں بلکہ مشیر قانونی نے بھی یہی کہا کہ ہماری ملك غصب سے چلی نہیں گئی کہ ہم اپنی ملك کے ثابت کرنے کو کہیں بلکہ ہم اسی قدر چاہتے ہیں کہ گورنمنٹ اپنے لئے ملك ثابت نہ کرے چنانچہ گورنمنٹ نے ایسا ہی کیا۔
س(۶)"سردست"کے معنی کیا لئے اور وہ بھی عالم مذکور کے خیال میں رہے یا گورنمنٹ سے طے کئے۔
ج(۶)سردست کے معنی ممبر متعینہ سے صاف کہہ دئے گئے کہ ہم تخلیص شراکت مرور کے لئے ہمیشہ چارہ جوئی کرتے رہیں گے اور اس وقت تك مطمئن نہ ہوں گے جب تك کہ گورنمنٹ مسلمانوں کی خواہش پوری نہ کردے بلکہ ممبر متعینہ نے یہ بھی صاف صاف کہہ دیا کہ جب قانون بن جائے گا تو خواہ نخواہ یہ مسئلہ بھی طے ہوجائے گا اس وقت جس قدر عالمگیر جوش ملك میں ہے اور اس سے اندیشہ فریقین کے لئے مشکلات کاہے وہ دفع کردیا ہےاورہم اس وقت اس خواہش کو پورا نہیں کرسکتے ہیں ورنہ ہم کو اس میں بھی کوئی عذر نہ ہوتا۔
س(۷)عالم مذکور کو گورنمنٹ نے حکما مجبور کیا تھا یا مسلمانوں نے اپنی طرف سے مامور کیا تھا یا وہ بطور خود
س(۴)بعد اس کے کہ ممبران متعینہ گورنمنٹ نے زمین پر مسلمانوں کاقبضہ ہرگز نہ مانا اور صاف کہہ دیا کہ یہ کسی طرح ممکن نہیں جیسا کہ سائل کا بیان ہے پھر عالم مذکور کی رائے سے یہ کیونکر طے پایا کہ قبضہ زمین پر مسلمانوں کو دلایا جائے آیا صرف عالم مذکور کا اپنے خیال میں ایك مفہوم متخیل کرنا یا یہ کہ بعد رد وقدح عالم نے ممبران گورنمنٹ سے یہ امرطے کرالیا۔
ج(۴)گورنمنٹ کے متعینہ ممبروں نے ابتداء مسجد کی زمین پر کسی قسم کا قبضہ دینے سے انکار کیا عالم کی انتہائی جدوجہد سے اس نے کہا کہ ہم عمارت کی اجازت دیں گے جو قانونا وعرفا قبضہ ہے اگرچہ گورنر جنرل لفظ قبضہ کو اپنی ز بان سے نہ کہیں یہ عالم کامتخیلہ نہیں بلکہ ممبر متعینہ نے صاف صاف کہہ دیا کہ یہی قبضہ ہے غرضکہ قبضہ خود ممبر متعینہ کی زبان سے طے کرالیا۔
س(۵)نیز اس کی رائے سے طے پانا کہ سر دست اس زمین پر کسی کی ملك نہ ثابت کی جائے ایك مفہوم تھا کہ اس کے اپنے ذہن میں رہا یا گورنمنٹ نے عالم مذکور کی رائے سے اسے طے کیا۔
ج(۵)زمین کی ملکیت جو گورنمنٹ اپنی ہی سمجھتی تھی اس کے بارے میں صرف عالم کا تخیلہ نہ تھا بلکہ ممبر متعینہ سے اس نے صاف صاف کہہ دیا اور کہلوالیا تھا کہ ملك وقف میں کسی کےلئے ثابت نہیں ہوتی اس واسطے ہم اپنے لئے بھی ثابت کرنے کے درپے نہیں ہیں بلکہ مشیر قانونی نے بھی یہی کہا کہ ہماری ملك غصب سے چلی نہیں گئی کہ ہم اپنی ملك کے ثابت کرنے کو کہیں بلکہ ہم اسی قدر چاہتے ہیں کہ گورنمنٹ اپنے لئے ملك ثابت نہ کرے چنانچہ گورنمنٹ نے ایسا ہی کیا۔
س(۶)"سردست"کے معنی کیا لئے اور وہ بھی عالم مذکور کے خیال میں رہے یا گورنمنٹ سے طے کئے۔
ج(۶)سردست کے معنی ممبر متعینہ سے صاف کہہ دئے گئے کہ ہم تخلیص شراکت مرور کے لئے ہمیشہ چارہ جوئی کرتے رہیں گے اور اس وقت تك مطمئن نہ ہوں گے جب تك کہ گورنمنٹ مسلمانوں کی خواہش پوری نہ کردے بلکہ ممبر متعینہ نے یہ بھی صاف صاف کہہ دیا کہ جب قانون بن جائے گا تو خواہ نخواہ یہ مسئلہ بھی طے ہوجائے گا اس وقت جس قدر عالمگیر جوش ملك میں ہے اور اس سے اندیشہ فریقین کے لئے مشکلات کاہے وہ دفع کردیا ہےاورہم اس وقت اس خواہش کو پورا نہیں کرسکتے ہیں ورنہ ہم کو اس میں بھی کوئی عذر نہ ہوتا۔
س(۷)عالم مذکور کو گورنمنٹ نے حکما مجبور کیا تھا یا مسلمانوں نے اپنی طرف سے مامور کیا تھا یا وہ بطور خود
گیا تھا۔
ج(۷)عالم مذکور کو عام مسلمانوں نے طلب نہیں کیا تھانہ وہ ازخود گیا تھا بلکہ مقدمہ کے کارکنوں نے باصرار عالم مذکور کو خود بلایا تھا اور ممبر متعینہ نے اس سے اس معاملہ میں گفتگو شروع کی جس کے اثنا میں اس نے صاف کہہ دیا کہ میرا کام مسئلہ بتا دینے کا ہے خدا کے گھر کا معاملہ ہے میرا گھر نہیں ہے جس طرح وہ چاہے اور اس کا حکم ہو بننا چاہئے نہ کہ جس طرح میں یا آپ چاہوں علماء کو جمع کرنا چاہئے مسلمانوں کو جس سے اطمینان ہو وہ صورت اختیار کرنا چاہئے مگر ممبر متعینہ نے کہا کہ ہم کو تمہاری رائے پر اعتماد ہے ہم علماء کی مجلس نہ جمع کریں گے تم اپنی رائے کہہ دو اور ہم بالکل گفتگو منقطع کرتے ہیں اور صرف ایك گھنٹہ کی مہلت ہے چنانچہ اس عالم نے بعد سخت گفتگو کے مشورہ دیا کہ ملك سے سروکار نہ رہناچاہئے قبضہ مسلمانوں کا ثابت کردیا جائے حق مرور اگر مشترك ہو تو ہم اس کی وجہ سے اس وقت منازعت باقی رکھنا نہیں چاہتے اپنے قیدی چھڑائے لیتے ہیں اور اشتراك مرور کےلئے ہمیشہ کوشاں رہیں گے اور حسب قواعد میونسپلٹی بنوایا جائے تاکہ ہم اس سے بہترین تدبیر اپنے تحفظ جزء مسجد کی کراسکیں جس کی کامل توقع ہےان سب امور کا تصفیہ ممبر متعینہ سے کر دیا گیا جوایك مجمع میں مسلمانوں کے ہو ااور ان سب باتوں کی تصدیق وہ عالم کراسکتا ہے اس نے کسی حکم مخالف شرع کو بلا جبر واکراہ خود امر طے شدہ قرار دے کر جائز چارہ جوئی کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ جس کو جمہور علما ناجائز کہتے تھے اس کو اس نے بھی ناجائز قرار دیا اور صاف ظاہر کردیا کہ برابر اس کی چار ہ جوئی جائز طور پر کی جائے گی کسی قسم کی دشواری نہیں پیدا کی کیونکہ بے قاعدہ حرکات کو کوئی نہیں روك سکتا اور باقاعدہ احکام اسلامیہ کی چارہ جائی ہر وقت ہوسکتی ہے دیوانی کے مقدمات ہر طرح کے دائر کئے جاسکتے ہیں اور آئندہ کے لئے نظیرتو درکنار ایك مختتم قانون تحفظ معابد کا بنایا جانا قرار دلوادیا گیا ہے جس سے خود حسب تصریح ممبر متعینہ اس متنازعہ فیہ حصہ کا بھی مسلمانوں کے موافق ہونا متوقع ہے اس عالم کی رائے ہے کہ یہ قبضہ وحق مشترك مرور قابل اطمینان نہیں بلکہ حدود و سلامت روی کے اندر رہ کر گورنمنٹ پر اس امر کا خلاف قوانین اسلامیہ ہونا ظاہر کریں اور گورنمنٹ کا مستمر قانون کہ مذہبی دست اندازی نہ کرے گی یاد دلاکر بلاضرر واضرار فائدہ پائیں اس صورت میں عالم مصیب ہے یانہیںامید ہے برتقدیر صدق مستفتی جواب صاف عطا فرمایا جائے۔
ج(۷)عالم مذکور کو عام مسلمانوں نے طلب نہیں کیا تھانہ وہ ازخود گیا تھا بلکہ مقدمہ کے کارکنوں نے باصرار عالم مذکور کو خود بلایا تھا اور ممبر متعینہ نے اس سے اس معاملہ میں گفتگو شروع کی جس کے اثنا میں اس نے صاف کہہ دیا کہ میرا کام مسئلہ بتا دینے کا ہے خدا کے گھر کا معاملہ ہے میرا گھر نہیں ہے جس طرح وہ چاہے اور اس کا حکم ہو بننا چاہئے نہ کہ جس طرح میں یا آپ چاہوں علماء کو جمع کرنا چاہئے مسلمانوں کو جس سے اطمینان ہو وہ صورت اختیار کرنا چاہئے مگر ممبر متعینہ نے کہا کہ ہم کو تمہاری رائے پر اعتماد ہے ہم علماء کی مجلس نہ جمع کریں گے تم اپنی رائے کہہ دو اور ہم بالکل گفتگو منقطع کرتے ہیں اور صرف ایك گھنٹہ کی مہلت ہے چنانچہ اس عالم نے بعد سخت گفتگو کے مشورہ دیا کہ ملك سے سروکار نہ رہناچاہئے قبضہ مسلمانوں کا ثابت کردیا جائے حق مرور اگر مشترك ہو تو ہم اس کی وجہ سے اس وقت منازعت باقی رکھنا نہیں چاہتے اپنے قیدی چھڑائے لیتے ہیں اور اشتراك مرور کےلئے ہمیشہ کوشاں رہیں گے اور حسب قواعد میونسپلٹی بنوایا جائے تاکہ ہم اس سے بہترین تدبیر اپنے تحفظ جزء مسجد کی کراسکیں جس کی کامل توقع ہےان سب امور کا تصفیہ ممبر متعینہ سے کر دیا گیا جوایك مجمع میں مسلمانوں کے ہو ااور ان سب باتوں کی تصدیق وہ عالم کراسکتا ہے اس نے کسی حکم مخالف شرع کو بلا جبر واکراہ خود امر طے شدہ قرار دے کر جائز چارہ جوئی کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ جس کو جمہور علما ناجائز کہتے تھے اس کو اس نے بھی ناجائز قرار دیا اور صاف ظاہر کردیا کہ برابر اس کی چار ہ جوئی جائز طور پر کی جائے گی کسی قسم کی دشواری نہیں پیدا کی کیونکہ بے قاعدہ حرکات کو کوئی نہیں روك سکتا اور باقاعدہ احکام اسلامیہ کی چارہ جائی ہر وقت ہوسکتی ہے دیوانی کے مقدمات ہر طرح کے دائر کئے جاسکتے ہیں اور آئندہ کے لئے نظیرتو درکنار ایك مختتم قانون تحفظ معابد کا بنایا جانا قرار دلوادیا گیا ہے جس سے خود حسب تصریح ممبر متعینہ اس متنازعہ فیہ حصہ کا بھی مسلمانوں کے موافق ہونا متوقع ہے اس عالم کی رائے ہے کہ یہ قبضہ وحق مشترك مرور قابل اطمینان نہیں بلکہ حدود و سلامت روی کے اندر رہ کر گورنمنٹ پر اس امر کا خلاف قوانین اسلامیہ ہونا ظاہر کریں اور گورنمنٹ کا مستمر قانون کہ مذہبی دست اندازی نہ کرے گی یاد دلاکر بلاضرر واضرار فائدہ پائیں اس صورت میں عالم مصیب ہے یانہیںامید ہے برتقدیر صدق مستفتی جواب صاف عطا فرمایا جائے۔
جواب از دار الافتاء
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ جواب استفسارات باعث مشکوری ہے طرح و جرح منظور نہیں بلکہ انکشاف حق جس کے لئے ہر مسلمان کو مستعد رہنا چاہئےلاسیما اہل علمجوابات نہ تو کافی ہیں نہ مفید براءت اگرچہ مجھ سے صرف برتقدیر صدق مستفتی جواب چاہا گیا اور منصب افتا کی اتنی ہی ذمہ داری تھی کہ صورت مستفسرہ پر جواب دے دیا جاتا مگر میں نے ایك مدت تك تعویق کیاخبارات منگا کردیکھے کہ نظر بواقعات اس کارروائی کی کوئی صحیح تاویل پیدا ہوسکے مگر افسوس کہ جتنا خوض و تفتیش سے کام لیا اس کی شناعت ہی بڑھتی گئیناچار جواب خلاف احباب دینا پڑا کہ اظہار حق لازم تھاعالم مذکور سے مراسم قدیم حفظ حرمت اسلام ورفع غلط فہمی عوام پر بحمداﷲتعالی غالب نہ آسکتے تھے کہ ہمارے رب عزوجل نے فرمایا:
" یایہا الذین امنوا کونوا قومین بالقسط شہداء للہ ولو علی انفسکم" اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اﷲ کےلئے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو۔(ت)
بلکہ حقیقۃ حق دوستی یہی ہے کہ غلطی پر متنبہ کیا جائے۔حدیث میں ارشاد ہوا:
انصر اخاك ظالما او مظلوما قالوایارسول اﷲ وکیف ذلك قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یك ظالما فارددہ عن ظلمہ وان یك مظلوما فانصرہ رواہ الدارمی اپنے بھائی کی مدد کر و چاہے وہ ظالم ہو یامظلومصحابہ نے عرض کیا:یا رسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم یہ کیسے۔حضور نے فرمایا:ظالم ہونے کی صورت میں اسے ظلم سے روك دو اور مظلوم ہونے کی
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ جواب استفسارات باعث مشکوری ہے طرح و جرح منظور نہیں بلکہ انکشاف حق جس کے لئے ہر مسلمان کو مستعد رہنا چاہئےلاسیما اہل علمجوابات نہ تو کافی ہیں نہ مفید براءت اگرچہ مجھ سے صرف برتقدیر صدق مستفتی جواب چاہا گیا اور منصب افتا کی اتنی ہی ذمہ داری تھی کہ صورت مستفسرہ پر جواب دے دیا جاتا مگر میں نے ایك مدت تك تعویق کیاخبارات منگا کردیکھے کہ نظر بواقعات اس کارروائی کی کوئی صحیح تاویل پیدا ہوسکے مگر افسوس کہ جتنا خوض و تفتیش سے کام لیا اس کی شناعت ہی بڑھتی گئیناچار جواب خلاف احباب دینا پڑا کہ اظہار حق لازم تھاعالم مذکور سے مراسم قدیم حفظ حرمت اسلام ورفع غلط فہمی عوام پر بحمداﷲتعالی غالب نہ آسکتے تھے کہ ہمارے رب عزوجل نے فرمایا:
" یایہا الذین امنوا کونوا قومین بالقسط شہداء للہ ولو علی انفسکم" اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اﷲ کےلئے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو۔(ت)
بلکہ حقیقۃ حق دوستی یہی ہے کہ غلطی پر متنبہ کیا جائے۔حدیث میں ارشاد ہوا:
انصر اخاك ظالما او مظلوما قالوایارسول اﷲ وکیف ذلك قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یك ظالما فارددہ عن ظلمہ وان یك مظلوما فانصرہ رواہ الدارمی اپنے بھائی کی مدد کر و چاہے وہ ظالم ہو یامظلومصحابہ نے عرض کیا:یا رسول اﷲ صلی تعالی علیہ وسلم یہ کیسے۔حضور نے فرمایا:ظالم ہونے کی صورت میں اسے ظلم سے روك دو اور مظلوم ہونے کی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۳۵
صحیح البخاری کتاب الاکراہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۲۷،€صحیح مسلم،سنن الدارمی باب ∞۴۰€انصراخاک الخ نشر السنۃ ∞ملتان ۲/ ۲۲۰،مختصر تاریخ دمشق ترجمہ ۲۹ حسن بن فرج€ دارالفکر بیروت ∞۷/ ۵۹،€تہذیب ∞تاریخ دمشق ترجمہ ۲۹€ ∞حسن بن فرج€ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۴۱€
صحیح البخاری کتاب الاکراہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۲۷،€صحیح مسلم،سنن الدارمی باب ∞۴۰€انصراخاک الخ نشر السنۃ ∞ملتان ۲/ ۲۲۰،مختصر تاریخ دمشق ترجمہ ۲۹ حسن بن فرج€ دارالفکر بیروت ∞۷/ ۵۹،€تہذیب ∞تاریخ دمشق ترجمہ ۲۹€ ∞حسن بن فرج€ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۴۱€
وابن عساکر عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ صورت میں اس کی مدد کرو۔اسے دارمی اور ابن عساکر نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
لہذا امید واثق ہے کہ جواب سوال میں اظہار حق سنگ راہ مراسم قدیمہ نہ ہوگا اور زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ ہمارے قدیمی دوست عالم نے اسی معاملہ پر ایك تقریر کی ابتداء میں(جو روزانہ زمیندار ۲۱ذی الحجہ میں چھپی)یوں داد حق جوئی دی کہ"میں ان لوگوں کا دل سے اور خدا کی قسم دل سے مشکور ہوتا ہوں جو میرے عیوب مجھ سے خواہ لوگوں سے کہہ کر میرے اوپر مربیانہ شفقت کا احسان رکھتے ہیںیہ لوگ میرے محسن ہیں"جب بیان عیوب اور وہ بھی ابتداء اس درجہ موجب شکر گزاری ہے تو بیان مسئلہ شرعیہ میں اظہار حق اور وہ بھی بعد سوال مراسم قدیمہ میں کیاخلل انداز ہوسکتا ہے۔وباﷲالتوفیق۔
جواب استفسار اول پر نظر
(۱)[ف:قبضہ زمین کی بحث ]اس سوال کے جواب میں کہ عالم نے مصالحت کیا کیتین باتوں پر صلح ہونی بتائی گئی ازانجملہ اصل معاملہ کی نسبت یہ ہے کہ مسجد کی زمین پر گورنمنٹ مسلمانوں کو قبضہ دلادے کسی بات پر مصالحت ہونا فریقین میں اس کا طے ہوکر قرار پانا ہےاگر یہ امر قرار پاتا تو اسی کے مطابق وقوع میں آتا مگر ایسا نہ ہوا جو اب ایڈریس میں گورنمنٹ کے لفظ جو روزانہ ہمدرد ۱۶/اکتوبر میں چھپے صاف یہ ہیں:میں اس امر کو کچھ بھی وقیع اور اہم خیال نہیں کرتا کہ وہ زمین جس پر وہ دالان تعمیر ہوگا کس کے قبضہ میں رہے گی ع
ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا
(یہ تفاوت دیکھ کہ راستہ کہاں ہے اور تو کہاں)
(۲)ہاں اس پر چھتا بناکر چھت پر قبضہ اور زمین کو سڑك کردینا ٹھہرا ہے کیا چھت اور زمین دو مترادف لفظ ہیں یا چھت کا قبضہ زمین پر بھی قبضہ ہوتا ہےعلو وسفل کے مسائل جو عام کتب فقہیہ میں مذکور ہیں ملحوظ نظر رہیں جواب ایڈریس مذکور میں ہے کامل غور کے بعد میں اس فیصلہ پر پہنچا ہوں کہ آٹھ فٹ بلند ایك چھتا اور اس پر دالان تعمیر کردیا جائے نیچے ایك سڑك نکل آئے جس سے عمارت میں مداخلت نہ ہو۔
(۳)عالم نے اس مصالحت میں زمین پر قبضہ مسلمانان سے صرف مسلمانوں کا خالص قبضہ مراد لیا یا قبضہ عام خلائق کے ضمن میں عامہ کے ساتھ انہیں بھی ایك حق دیا جانابرتقدیر دوم یہ درخواست کتنی بیمعنے تھی
لہذا امید واثق ہے کہ جواب سوال میں اظہار حق سنگ راہ مراسم قدیمہ نہ ہوگا اور زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ ہمارے قدیمی دوست عالم نے اسی معاملہ پر ایك تقریر کی ابتداء میں(جو روزانہ زمیندار ۲۱ذی الحجہ میں چھپی)یوں داد حق جوئی دی کہ"میں ان لوگوں کا دل سے اور خدا کی قسم دل سے مشکور ہوتا ہوں جو میرے عیوب مجھ سے خواہ لوگوں سے کہہ کر میرے اوپر مربیانہ شفقت کا احسان رکھتے ہیںیہ لوگ میرے محسن ہیں"جب بیان عیوب اور وہ بھی ابتداء اس درجہ موجب شکر گزاری ہے تو بیان مسئلہ شرعیہ میں اظہار حق اور وہ بھی بعد سوال مراسم قدیمہ میں کیاخلل انداز ہوسکتا ہے۔وباﷲالتوفیق۔
جواب استفسار اول پر نظر
(۱)[ف:قبضہ زمین کی بحث ]اس سوال کے جواب میں کہ عالم نے مصالحت کیا کیتین باتوں پر صلح ہونی بتائی گئی ازانجملہ اصل معاملہ کی نسبت یہ ہے کہ مسجد کی زمین پر گورنمنٹ مسلمانوں کو قبضہ دلادے کسی بات پر مصالحت ہونا فریقین میں اس کا طے ہوکر قرار پانا ہےاگر یہ امر قرار پاتا تو اسی کے مطابق وقوع میں آتا مگر ایسا نہ ہوا جو اب ایڈریس میں گورنمنٹ کے لفظ جو روزانہ ہمدرد ۱۶/اکتوبر میں چھپے صاف یہ ہیں:میں اس امر کو کچھ بھی وقیع اور اہم خیال نہیں کرتا کہ وہ زمین جس پر وہ دالان تعمیر ہوگا کس کے قبضہ میں رہے گی ع
ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا
(یہ تفاوت دیکھ کہ راستہ کہاں ہے اور تو کہاں)
(۲)ہاں اس پر چھتا بناکر چھت پر قبضہ اور زمین کو سڑك کردینا ٹھہرا ہے کیا چھت اور زمین دو مترادف لفظ ہیں یا چھت کا قبضہ زمین پر بھی قبضہ ہوتا ہےعلو وسفل کے مسائل جو عام کتب فقہیہ میں مذکور ہیں ملحوظ نظر رہیں جواب ایڈریس مذکور میں ہے کامل غور کے بعد میں اس فیصلہ پر پہنچا ہوں کہ آٹھ فٹ بلند ایك چھتا اور اس پر دالان تعمیر کردیا جائے نیچے ایك سڑك نکل آئے جس سے عمارت میں مداخلت نہ ہو۔
(۳)عالم نے اس مصالحت میں زمین پر قبضہ مسلمانان سے صرف مسلمانوں کا خالص قبضہ مراد لیا یا قبضہ عام خلائق کے ضمن میں عامہ کے ساتھ انہیں بھی ایك حق دیا جانابرتقدیر دوم یہ درخواست کتنی بیمعنے تھی
زمین سڑك میں ڈال لینے پر بھی عام کے ساتھ مسلمانوں کو حق مرور رہتا گورنمنٹ نے کس دن کہا تھا کہ یہ سڑك خاص کفار کے لئے بنے گی کوئی مسلمان اس پر نہ چل سکے گا۔برتقدیر اول کون سا خاص قبضہ مسلمانوں کو ملنا ٹھہرا کہ جبکہ جواب ایڈریس مذکور کے صاف لفظ یہ ہیں:یہ ضروری ہے کہ عام پبلك اور نمازی اسے بطور سڑك استعمال کرنے کے مجاز ہوں۔
(۴)قبضہ زمین کا حال جواب استفسار میں خود ہی کھول دیا کہ قبضہ دلادے کے بعد متصلا کہا اگر جبرا گورنمنٹ اس کے مرور کو مشترك کرتی ہے تو خلاف احکام اسلامیہ ہے اس سے مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا موقع موقع اس کے لئے کوشاں رہیں گے۔صاف کھل گیا کہ قبضہ ہوا پر ٹھہرا ہے زمین مرور مشترك کےلئے چھوڑی ہے جسے دوسرے لفظوں میں شارع عام یا سڑك کہئے اس کا مطالبہ دور آئندہ پر اٹھا رکھنا بتایا ہے حالانکہ یہی یہاں اہم مسئلہ بلکہ تمام اصل معاملہ تھا اسی کو نظر انداز کرنا اور عالم کی مصالحت سمجھنا کس قدر عجیب ہے مصالحت رفع نزاع ہے نہ کہ اصل مبناء و منشاء نزاع مہمل و معطل اور دور آیندہ کی امید موہوم پر محول نہ ایقائے نزاع ہے نہ قطع ورفع۔ہاں اگر اس کے معنی یہ تھے کہ عالم نے مسجد سے دست برداری دی جیساکہ مولوی عبداﷲ صاحب ٹونکی وغیرہ نے اس کارروائی سے سمجھا اور پسند کیا تو ضرور قطع نزاع ہوئی اگرچہ باز دعوی دینا شرعا مفہوم صلح میں آنا دشوار ہو خیر ایں ہم بر علم۔مگر بعد کے الفاظ کہ مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا موقع موقع اس کے لئے کوشاں رہیں گے اس تاویل کو بھی نہیں چلنے دیتے تو اسے مصالحت مشہور کرنا مسلمانوں اور گورنمنٹ دونوں کو غلط بات باور کرانا ہوا۔
(۵)[ف:مصالحت خلاف حکم اسلام پر کی اور گورنمنٹ پر بھی بدگمانی کی] جب عالم کو اعتراف ہے کہ یہ کارروائی خلاف احکام اسلامیہ ہے تو اس پرمصالحت کرنا کیونکر رواہو سکتا گورنمنٹ برسر مصالحت و دلجوئی تھی نہ برسر ضد وجبر وتعدیاس وقت کیوں نہ دکھا یا گیا کہ یہ طریقہ خلاف احکام اسلامیہ ہے اس میں مذہبی دست اندازی ہے جس سے گورنمنٹ ہمیشہ دور رہنا چاہتی ہےطے ہوتا تو اس وقت بسہولت ہوتانہ ہوتا تو عالم بری الذمہ تھانہ یہ کہ اس وقت اصل معاملہ پس پشت ڈال کر بالائی باتوں پر صلح کرلیں اور اصل میں یہ دشواریاں ڈالیں کہ تم لوگ صلح کرکے پھرتے ہوتم نائب سلطنت کے فیصلہ سے اور ایسے بے بہا فیصلہ سے اب سرتابی کرتے ہوتم شکریہ کے جلسے اور روشنیاں کرکے پھر شکایت و منازعت پر اترتے ہونادر شاہی زمانہ گزر چکا تھا کہ چہلی کا سابم درکنار اینٹ پھینکنے پر بے شمار سر اڑجاتےمکانوں کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی نہ کہ بم چلےاور کا رگرپڑے اور بے تحقیق کسی سے مواخذہ نہ ہوآج حفظ حقوق مذہبی کا اس سے بہتر کیا موقع تھایہاں دلی کمزوری سے کام لینا موجودہ آزمودہ گورنمنٹ کو
(۴)قبضہ زمین کا حال جواب استفسار میں خود ہی کھول دیا کہ قبضہ دلادے کے بعد متصلا کہا اگر جبرا گورنمنٹ اس کے مرور کو مشترك کرتی ہے تو خلاف احکام اسلامیہ ہے اس سے مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا موقع موقع اس کے لئے کوشاں رہیں گے۔صاف کھل گیا کہ قبضہ ہوا پر ٹھہرا ہے زمین مرور مشترك کےلئے چھوڑی ہے جسے دوسرے لفظوں میں شارع عام یا سڑك کہئے اس کا مطالبہ دور آئندہ پر اٹھا رکھنا بتایا ہے حالانکہ یہی یہاں اہم مسئلہ بلکہ تمام اصل معاملہ تھا اسی کو نظر انداز کرنا اور عالم کی مصالحت سمجھنا کس قدر عجیب ہے مصالحت رفع نزاع ہے نہ کہ اصل مبناء و منشاء نزاع مہمل و معطل اور دور آیندہ کی امید موہوم پر محول نہ ایقائے نزاع ہے نہ قطع ورفع۔ہاں اگر اس کے معنی یہ تھے کہ عالم نے مسجد سے دست برداری دی جیساکہ مولوی عبداﷲ صاحب ٹونکی وغیرہ نے اس کارروائی سے سمجھا اور پسند کیا تو ضرور قطع نزاع ہوئی اگرچہ باز دعوی دینا شرعا مفہوم صلح میں آنا دشوار ہو خیر ایں ہم بر علم۔مگر بعد کے الفاظ کہ مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا موقع موقع اس کے لئے کوشاں رہیں گے اس تاویل کو بھی نہیں چلنے دیتے تو اسے مصالحت مشہور کرنا مسلمانوں اور گورنمنٹ دونوں کو غلط بات باور کرانا ہوا۔
(۵)[ف:مصالحت خلاف حکم اسلام پر کی اور گورنمنٹ پر بھی بدگمانی کی] جب عالم کو اعتراف ہے کہ یہ کارروائی خلاف احکام اسلامیہ ہے تو اس پرمصالحت کرنا کیونکر رواہو سکتا گورنمنٹ برسر مصالحت و دلجوئی تھی نہ برسر ضد وجبر وتعدیاس وقت کیوں نہ دکھا یا گیا کہ یہ طریقہ خلاف احکام اسلامیہ ہے اس میں مذہبی دست اندازی ہے جس سے گورنمنٹ ہمیشہ دور رہنا چاہتی ہےطے ہوتا تو اس وقت بسہولت ہوتانہ ہوتا تو عالم بری الذمہ تھانہ یہ کہ اس وقت اصل معاملہ پس پشت ڈال کر بالائی باتوں پر صلح کرلیں اور اصل میں یہ دشواریاں ڈالیں کہ تم لوگ صلح کرکے پھرتے ہوتم نائب سلطنت کے فیصلہ سے اور ایسے بے بہا فیصلہ سے اب سرتابی کرتے ہوتم شکریہ کے جلسے اور روشنیاں کرکے پھر شکایت و منازعت پر اترتے ہونادر شاہی زمانہ گزر چکا تھا کہ چہلی کا سابم درکنار اینٹ پھینکنے پر بے شمار سر اڑجاتےمکانوں کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی نہ کہ بم چلےاور کا رگرپڑے اور بے تحقیق کسی سے مواخذہ نہ ہوآج حفظ حقوق مذہبی کا اس سے بہتر کیا موقع تھایہاں دلی کمزوری سے کام لینا موجودہ آزمودہ گورنمنٹ کو
خواہی نخواہی نادر شاہی ضد اور ہٹ کا پتلا سمجھ کر ایسی عظیم حرمت دینی کو پامالی کےلئے چھوڑدینا کیونکر صواب ہوسکتا ہے۔
(۶)تمام دنیاوی سلطنتوں کا قاعدہ کہ اپنے قانون کی رو سے جس فعل کو جرم بغاوت سمجھیں اسے سب سے زیادہ سنگین بلکہ ناقابل معافی جانتی ہیں ان کے یہاں انتہائی رسوخ والاوہ ہے کہ جسے انہوں نے باغی سمجھ کر اسیر کیا ہو اس کی رہائی کی سفارش کرسکے نہ کہ ان جبروتی شرائط کے ساتھ کہ کسی کو قیدیوں سے معافی مانگنے کی حاجت نہ ہومعافی مانگنی کیسیخود یہ امر ثابت نہ ہو کہ یہ لوگ مجرم تھےیہ تو شائد شخصی سلطنتوں میں صرف محبوب خاص سلطان کی مجال ہو جو ایاز ومحمود کی نسبت رکھے اگر ایسا درجہ اختصاص حاصل ہواتھا تو اسے حفظ حرمت اسلام میں صرف کرنا تھا جس پر باقی اور متفرع ہوئے تھے نہ کہ قیدیوں کے بارے میں یہ فضول وزائد شرائط اور خاص حرمت دینی سے اغماض کیایہ
ہر چہ شاہ آں کہ او گوید حیف باشد کہ جز نکو گوید
(بادشاہ جس شخص کی بات مانتا ہے اگر وہ اچھی بات کے علاوہ کہے تو ظلم ہے)کا مصداق نہ ہوگا۔
(۷)[ف:معاملہ میں پیچیدگیاں ڈال دی گئیں] اس اغماض نے اصل مقصد میں جو پیچیدگیاں دشواریاں پیدا کیں ان کی شرح طول چاہتی ہے ادنی بات یہ ہے کہ قوم کے قلوب اس پر مطمئن ہوگئے تو سرے سے دعوی ہی گیاچارہ جوئی کون کرے اخباروں میں بکثرت مضامین اسپر اطمینان کے شائع ہوئےازاں جملہ نواب مشتاق حسین صاحب امروہی کی بسیط تحریر کہ روہیل کھنڈ گزٹ بریلی یکم نومبر۱۹۱۳ء میں شائع ہوئی جس میں وہ عالم موصوف ہی کی ایك تحریر کا حوالہ دے کر فرماتے ہیں جناب کی اس تحریر کے بعد اس مسئلہ کے مذہبی پہلو کے تحفظ سے ہم کو بالکل مطمئن ہوجانا چاہئےاسی کی ابتدامیں ہے مسلمان پبلك نے بھی اس فیصلہ کی نسبت اپنا اطمینان ظاہر کیا۔اس پر ایڈیٹر اخبار مذکور نے لکھا مولانا قبلہ نے اپنی تحریرمیں نہایت اچھی طرح ثابت کردیا کہ مذہبی نقطہ خیال سے شرائط تصفیہ نہایت مناسب ہیں روزانہ زمیندار ۱۵/ذی القعدہ ۱۳۳۱ھ نے لکھاخدا کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ مسجد کے منہدم حصہ کا تصفیہ مسلمانوں کی منشا کے مطابق ہوگیا ہے۔نیز لکھا وہ مسلمانوں کے لئے بالکل قابل اطمینان ہے۔روہیلکھنڈگزٹ کے پرچہ مذکور نے سکرٹری ونائب سکرٹری مسلم لیگ مراد آباد کی ایك مراسلت میں نقل کیا متشرع علمائے اسلام نے فقہ پر کامل غور کرکے یہ فتوی دے دیا کہ شرعا اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔پھر بالخصوص عالم مذکور کا اطمینان دلانا لکھ کر کہا پس علمائے کرام کے اطمینان کے بعد مذہبی پہلو سے تصفیہ پر نکتہ چینی اور بے اطمینانی ظاہر کرنے کا کسی کو کوئی
(۶)تمام دنیاوی سلطنتوں کا قاعدہ کہ اپنے قانون کی رو سے جس فعل کو جرم بغاوت سمجھیں اسے سب سے زیادہ سنگین بلکہ ناقابل معافی جانتی ہیں ان کے یہاں انتہائی رسوخ والاوہ ہے کہ جسے انہوں نے باغی سمجھ کر اسیر کیا ہو اس کی رہائی کی سفارش کرسکے نہ کہ ان جبروتی شرائط کے ساتھ کہ کسی کو قیدیوں سے معافی مانگنے کی حاجت نہ ہومعافی مانگنی کیسیخود یہ امر ثابت نہ ہو کہ یہ لوگ مجرم تھےیہ تو شائد شخصی سلطنتوں میں صرف محبوب خاص سلطان کی مجال ہو جو ایاز ومحمود کی نسبت رکھے اگر ایسا درجہ اختصاص حاصل ہواتھا تو اسے حفظ حرمت اسلام میں صرف کرنا تھا جس پر باقی اور متفرع ہوئے تھے نہ کہ قیدیوں کے بارے میں یہ فضول وزائد شرائط اور خاص حرمت دینی سے اغماض کیایہ
ہر چہ شاہ آں کہ او گوید حیف باشد کہ جز نکو گوید
(بادشاہ جس شخص کی بات مانتا ہے اگر وہ اچھی بات کے علاوہ کہے تو ظلم ہے)کا مصداق نہ ہوگا۔
(۷)[ف:معاملہ میں پیچیدگیاں ڈال دی گئیں] اس اغماض نے اصل مقصد میں جو پیچیدگیاں دشواریاں پیدا کیں ان کی شرح طول چاہتی ہے ادنی بات یہ ہے کہ قوم کے قلوب اس پر مطمئن ہوگئے تو سرے سے دعوی ہی گیاچارہ جوئی کون کرے اخباروں میں بکثرت مضامین اسپر اطمینان کے شائع ہوئےازاں جملہ نواب مشتاق حسین صاحب امروہی کی بسیط تحریر کہ روہیل کھنڈ گزٹ بریلی یکم نومبر۱۹۱۳ء میں شائع ہوئی جس میں وہ عالم موصوف ہی کی ایك تحریر کا حوالہ دے کر فرماتے ہیں جناب کی اس تحریر کے بعد اس مسئلہ کے مذہبی پہلو کے تحفظ سے ہم کو بالکل مطمئن ہوجانا چاہئےاسی کی ابتدامیں ہے مسلمان پبلك نے بھی اس فیصلہ کی نسبت اپنا اطمینان ظاہر کیا۔اس پر ایڈیٹر اخبار مذکور نے لکھا مولانا قبلہ نے اپنی تحریرمیں نہایت اچھی طرح ثابت کردیا کہ مذہبی نقطہ خیال سے شرائط تصفیہ نہایت مناسب ہیں روزانہ زمیندار ۱۵/ذی القعدہ ۱۳۳۱ھ نے لکھاخدا کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ مسجد کے منہدم حصہ کا تصفیہ مسلمانوں کی منشا کے مطابق ہوگیا ہے۔نیز لکھا وہ مسلمانوں کے لئے بالکل قابل اطمینان ہے۔روہیلکھنڈگزٹ کے پرچہ مذکور نے سکرٹری ونائب سکرٹری مسلم لیگ مراد آباد کی ایك مراسلت میں نقل کیا متشرع علمائے اسلام نے فقہ پر کامل غور کرکے یہ فتوی دے دیا کہ شرعا اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔پھر بالخصوص عالم مذکور کا اطمینان دلانا لکھ کر کہا پس علمائے کرام کے اطمینان کے بعد مذہبی پہلو سے تصفیہ پر نکتہ چینی اور بے اطمینانی ظاہر کرنے کا کسی کو کوئی
حق نہیں۔پھر نواب صاحب موصوف کی اسپیچ(speech)سے نقل کیا ہمارے تمام اکابر قوم و علمائے کرام اس پر اظہار مسرت کررہے ہیں۔اس قسم کے مضامین اگر جمع کئے جائیں ورقوں میں آئیں تمام اقطار ہند میں شہروں شہروں جو جو ریز ولیوشن(resolution)اظہار مسرت واطمینان کے پاس ہوئے روشنیاں ہوئیں ان کے بیانوں سے اخباروں کے کالم گونج رہے ہیں ان تمام واقعات کو اس سے کس قدر تناقض ہے کہ مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا موقع موقع اس کے لئے کوشاں رہیں گے۔
(۸)جب عالم کا قول وہ ہے کہ یہ کارروائی خلاف احکام اسلامیہ ہےاور اس عالم ہی کے اعتماد پر افراد قوم اسے بالکل بمطابق احکام اسلام سمجھ لئے اور وہ الفاظ شائع کررہے ہیں جن کا خفیف نمونہ گزرا تو عالم کا اس پر سکوتمعلوم نہیں کیا معنی رکھتا ہے۔
(۹)اس سے بھی زیادہ تعجب خیز وہ الفاظ ہیں جو خود عالم کی طرف سے شائع کئے گئے ہیں تقریر مذکور نواب صاحب امروہی میں ہے:۱۹/اکتوبر کو جو تار جناب ممدوح نے خود میرے نام ارسال کیا ہے اس میں تصفیہ کانپور کی بابت حسب ذیل الفاظ تحریر فرماتے ہیں:میں معاملات کانپور کے تصفیہ کو پسند کرتا ہوں۔تقریر مذکور اراکین مسلم لیگ مراد آباد میں عالم مذکور کی نسبت ہے:حضرت مولانا قبلہ نے اس فیصلہ سے اطمینان بذریعہ اخبارات پبلك کودلایا ہے۔فیصلہ کو خلاف احکام اسلامیہ جاننا اور پھر اسے پسند کرنا اس پر اطمینان دلانا کیونکر جمع ہوااور اطمینان دلانا اور وہ بیان کہ اس پر اطمینان نہ ہوگا کس قدر متخالف ہیں۔
(۱۰)اوروں کی نقل ونسبت کونہ دیکھئےخود عالم کی تقریر جس کا عنوان یہ ہے:"مسجد کانپور کے فیصلہ پر ایك نظر"جو ہمدرد ۱۹/اکتوبر اورزمیندار ۲۱ذی القعدہ میں شائع ہوئی اس میں فرمایا ہے:یہ مجلس سرور ہے ہم کو نہایت مسرت سے یہ عرض کرنا ہے کہ مسلمانان ہند کو اطمینان اور دل جمعی نصیب ہوئی اسی میں ہے:اول کے تینوں دفعات حسب دلخواہ طے ہوگئے۔اسی میں ہے:ہمارے حسب دلخواہ مصالحت کرالی۔اسی میں ہے:کل کا واقعہ نہایت مسرت خیز ہے اور اسلامی تاریخ کے زریں ایام سے کل کا روز ہے۔اسی میں ہے:ہر طرح اسلام عــــــہ کا احترام قائم رکھا۔
ﷲ انصاف عوام ان لفظوں کو سن کر کیوں نہ اطمینان کریں اور وہ بیانات وواقعات کہ نمبر ۴ میں گزرے کیوں نہ صادر ہوں اور وہ وعدہ بے اطمینانی کہ حسب بیان سائل نفس مصالحت میں تھا کیوں نہ نسیا منسیا ہوگورنمنٹ نہ تو مسلمان ہے
عــــــہ: پھر خداجانے کون سی بات خلاف احکام اسلامیہ ہوئی۱۲
(۸)جب عالم کا قول وہ ہے کہ یہ کارروائی خلاف احکام اسلامیہ ہےاور اس عالم ہی کے اعتماد پر افراد قوم اسے بالکل بمطابق احکام اسلام سمجھ لئے اور وہ الفاظ شائع کررہے ہیں جن کا خفیف نمونہ گزرا تو عالم کا اس پر سکوتمعلوم نہیں کیا معنی رکھتا ہے۔
(۹)اس سے بھی زیادہ تعجب خیز وہ الفاظ ہیں جو خود عالم کی طرف سے شائع کئے گئے ہیں تقریر مذکور نواب صاحب امروہی میں ہے:۱۹/اکتوبر کو جو تار جناب ممدوح نے خود میرے نام ارسال کیا ہے اس میں تصفیہ کانپور کی بابت حسب ذیل الفاظ تحریر فرماتے ہیں:میں معاملات کانپور کے تصفیہ کو پسند کرتا ہوں۔تقریر مذکور اراکین مسلم لیگ مراد آباد میں عالم مذکور کی نسبت ہے:حضرت مولانا قبلہ نے اس فیصلہ سے اطمینان بذریعہ اخبارات پبلك کودلایا ہے۔فیصلہ کو خلاف احکام اسلامیہ جاننا اور پھر اسے پسند کرنا اس پر اطمینان دلانا کیونکر جمع ہوااور اطمینان دلانا اور وہ بیان کہ اس پر اطمینان نہ ہوگا کس قدر متخالف ہیں۔
(۱۰)اوروں کی نقل ونسبت کونہ دیکھئےخود عالم کی تقریر جس کا عنوان یہ ہے:"مسجد کانپور کے فیصلہ پر ایك نظر"جو ہمدرد ۱۹/اکتوبر اورزمیندار ۲۱ذی القعدہ میں شائع ہوئی اس میں فرمایا ہے:یہ مجلس سرور ہے ہم کو نہایت مسرت سے یہ عرض کرنا ہے کہ مسلمانان ہند کو اطمینان اور دل جمعی نصیب ہوئی اسی میں ہے:اول کے تینوں دفعات حسب دلخواہ طے ہوگئے۔اسی میں ہے:ہمارے حسب دلخواہ مصالحت کرالی۔اسی میں ہے:کل کا واقعہ نہایت مسرت خیز ہے اور اسلامی تاریخ کے زریں ایام سے کل کا روز ہے۔اسی میں ہے:ہر طرح اسلام عــــــہ کا احترام قائم رکھا۔
ﷲ انصاف عوام ان لفظوں کو سن کر کیوں نہ اطمینان کریں اور وہ بیانات وواقعات کہ نمبر ۴ میں گزرے کیوں نہ صادر ہوں اور وہ وعدہ بے اطمینانی کہ حسب بیان سائل نفس مصالحت میں تھا کیوں نہ نسیا منسیا ہوگورنمنٹ نہ تو مسلمان ہے
عــــــہ: پھر خداجانے کون سی بات خلاف احکام اسلامیہ ہوئی۱۲
نہ اسلامی شرع کی عالمجب عالم خود ہی خلاف اسلامیہ کہہ کر پھر اسے حسب دلخواہ وموجب دلجمعی واطمینان ونہایت مسرت خیز اور اسلامی تاریخ کا زریں دن کہے تو گورنمنٹ کا کیا قصور اور عوام پر کیا الزام۔
(۱۱)ان تمام صاف الفاظ سے گزرکیجئے تو عالم مذکور کا تار۱۶/اکتوبر جو ہمدرد و دبدبہ سکندری ۲۰/اکتوبروغیرہ میں شائع ہوااس میں اولا فرماکر کہ یہ بات اگرچہ قابل تعریف نہیں ہے۔اخیر میں یہی فرمایا ہے کہ یہ تصفیہ اصلی مفہوم کے لحاظ سے قابل اطمینان ہے۔جب عالم کے نزدیك فیصلہ خلاف احکام اسلامیہ ہے تو احکام اسلامیہ سے بڑھ کر اور کون سا اصلی مفہوم ہے جس کے لحاظ سے قابل اطمینان ہے۔
(۱۲)باایں ہمہ عالم مذکورنے تحریر جمیع جزئیات میں کوئی دقیقہ دورازکار اس سعی بے سود کا اٹھا نہ رکھا کہ اس کارروائی کو جیسے بنے کشاں کشاں مطابق احکام اسلامیہ کر دکھائیںبہر حال تصویر کے دونوں رخ تاریك ہیں نسأل اللہ العفو والعافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے فضل وعا فیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)
[ف:روایت امام محمد مطابق مذہب جمہور ہے]خط کہ اس سوال کے ساتھ یہاں بھیجا اس میں روایت سیدنا امام محمد رحمہ اللہ تعالی کا ذکر ہے اور یہ کہ اس عالم نے بضرورت اپنی رائے میں اسی کو اختیار کیا ہے گوبخیال تحفظ مساجد ہمیشہ اتباع جمہور رہاہے یہ سخت غلط فہمی ہے یہاں روایت امام محمد رضی اللہ تعالی عنہہر گز خلاف جمہور نہیں وہ وہی فرمارہے ہیں جو جمہور ائمہ نے فرمایا ہے انکی روایت میں ایك حرف بھی قول جمہور سے زائد نہیں۔نہ ہر گز اس روایت خواہ کسی قول کسی روایت کا یہ مطلب ہے نہ ہوسکتا ہے کہ مسجد کے کسی حصہ کو سڑك میں ڈال لینا روا ہےیہ تمام ائمہ کے اجماع سے حرام قطعی و مناقض ارشاد خدا ہےروایات ائمہ درکناراقوال مشائخ مذہب بھی نظر توفیق میں یہاں مختلف نہیں ہر ایك اپنے محمل پر صحیح وبجا ہے اور بالفرض اختلاف ہے تو نہایت خفیف جو قطعی تحفظ کلی ہر حصہ مسجد پر اجماع کے بعد صرف ایك زائد بات میں ہوا ہے جس سے حفظ جملہ اراضی مساجد پر معاذاللہ کوئی اثر نہیں پڑسکتا ہم بتوفیق اﷲ تعالی ان مباحث جلیلہ کو ایك مستقل فتوے میں رنگ ایضاح دیں گے۔
[ف:فقاہت کے کیا معنی ہیں]فقہ یہ نہیں کہ کسی جزئیہ کے متعلق کتاب سے عبارت نکال کر اس کا لفظی ترجمہ سمجھ لیا جائے یوں تو ہراعرابی ہر بدوی فقیہ ہوتا کہ ان کی مادری زبان عربی ہے بلکہ فقہ بعد ملاحظہ اصول مقررہ و ضوابط محررہ ووجوہ تکلم وطرق تفاہم وتنیقح مناط و لحاظ انضباط ومواضع یسر واحتیاط وتجنب تفریط وافراط وفرق روایات ظاہرہ ونادرہ وتمیز درآیات غامضہ وظاہر ومنطوق ومفہوم وصریح ومحتمل وقول بعض وجمہور ومرسل ومعلل ووزن الفاظ مفتین وسیر مراتب
(۱۱)ان تمام صاف الفاظ سے گزرکیجئے تو عالم مذکور کا تار۱۶/اکتوبر جو ہمدرد و دبدبہ سکندری ۲۰/اکتوبروغیرہ میں شائع ہوااس میں اولا فرماکر کہ یہ بات اگرچہ قابل تعریف نہیں ہے۔اخیر میں یہی فرمایا ہے کہ یہ تصفیہ اصلی مفہوم کے لحاظ سے قابل اطمینان ہے۔جب عالم کے نزدیك فیصلہ خلاف احکام اسلامیہ ہے تو احکام اسلامیہ سے بڑھ کر اور کون سا اصلی مفہوم ہے جس کے لحاظ سے قابل اطمینان ہے۔
(۱۲)باایں ہمہ عالم مذکورنے تحریر جمیع جزئیات میں کوئی دقیقہ دورازکار اس سعی بے سود کا اٹھا نہ رکھا کہ اس کارروائی کو جیسے بنے کشاں کشاں مطابق احکام اسلامیہ کر دکھائیںبہر حال تصویر کے دونوں رخ تاریك ہیں نسأل اللہ العفو والعافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے فضل وعا فیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)
[ف:روایت امام محمد مطابق مذہب جمہور ہے]خط کہ اس سوال کے ساتھ یہاں بھیجا اس میں روایت سیدنا امام محمد رحمہ اللہ تعالی کا ذکر ہے اور یہ کہ اس عالم نے بضرورت اپنی رائے میں اسی کو اختیار کیا ہے گوبخیال تحفظ مساجد ہمیشہ اتباع جمہور رہاہے یہ سخت غلط فہمی ہے یہاں روایت امام محمد رضی اللہ تعالی عنہہر گز خلاف جمہور نہیں وہ وہی فرمارہے ہیں جو جمہور ائمہ نے فرمایا ہے انکی روایت میں ایك حرف بھی قول جمہور سے زائد نہیں۔نہ ہر گز اس روایت خواہ کسی قول کسی روایت کا یہ مطلب ہے نہ ہوسکتا ہے کہ مسجد کے کسی حصہ کو سڑك میں ڈال لینا روا ہےیہ تمام ائمہ کے اجماع سے حرام قطعی و مناقض ارشاد خدا ہےروایات ائمہ درکناراقوال مشائخ مذہب بھی نظر توفیق میں یہاں مختلف نہیں ہر ایك اپنے محمل پر صحیح وبجا ہے اور بالفرض اختلاف ہے تو نہایت خفیف جو قطعی تحفظ کلی ہر حصہ مسجد پر اجماع کے بعد صرف ایك زائد بات میں ہوا ہے جس سے حفظ جملہ اراضی مساجد پر معاذاللہ کوئی اثر نہیں پڑسکتا ہم بتوفیق اﷲ تعالی ان مباحث جلیلہ کو ایك مستقل فتوے میں رنگ ایضاح دیں گے۔
[ف:فقاہت کے کیا معنی ہیں]فقہ یہ نہیں کہ کسی جزئیہ کے متعلق کتاب سے عبارت نکال کر اس کا لفظی ترجمہ سمجھ لیا جائے یوں تو ہراعرابی ہر بدوی فقیہ ہوتا کہ ان کی مادری زبان عربی ہے بلکہ فقہ بعد ملاحظہ اصول مقررہ و ضوابط محررہ ووجوہ تکلم وطرق تفاہم وتنیقح مناط و لحاظ انضباط ومواضع یسر واحتیاط وتجنب تفریط وافراط وفرق روایات ظاہرہ ونادرہ وتمیز درآیات غامضہ وظاہر ومنطوق ومفہوم وصریح ومحتمل وقول بعض وجمہور ومرسل ومعلل ووزن الفاظ مفتین وسیر مراتب
ناقلین وعرف عام وخاص وعادات بلاد واشخاص وحال زمان ومکان واحوال رعایا و سلطان وحفظ مصالح دین ودفع مفاسد ین وعلم وجوہ تجریح واسباب ترجیح ومناہج توفیق ومدارك تطبیق ومسالك تخصیص ومناسك تقیید ومشارع قیود وشوارع مقصود وجمع کلام ونقد مرام فہم مراد کانام ہے کہ تطلع تام واطلاع عام ونظر دقیق وفکر عمیق وطول خدمت علم و ممارست فن وتیقظ وافی وذہن صافی معتاد تحقیق مؤید بتوفیق کاکام ہےاور حقیقۃ وہ نہیں مگر ایك نور کہ رب عز وجل بمحض کرم اپنے بندہ کے قلب میں القا فرماتا ہے:
"و ما یلقىها الا الذین صبروا-و ما یلقىها الا ذو حظ عظیم(۳۵)" ۔
اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کواور اسے نہیں پاتامگر بڑے نصیب والا۔(ت)
صدہا مسائل میں اضطراب شدید نظر آتا ہے کہ ناواقف دیکھ کر گھبراجاتا ہے مگر صاحب توفیق جب ان میں نظر کو جولان دیتا اور دامن ائمہ کرام مضبوط تھام کر راہ تنقیح لیتا ہے توفیق ربانی ایك سررشتہ اس کے ہاتھ رکھتی ہے جو ایك سچا سا نچا ہوجاتا ہے کہ ہر فرع خود بخود اپنے محمل پر ڈھلتی ہے اور تمام تخالف کی بدلیاں چھنٹ کر اصل مراد کی صاف شفاف چاندنی نکلتی ہے اس وقت کھل جاتا ہے کہ اقوال سخت مختلف نظرآتے تھے حقیقۃ سب ایك ہی بات فرماتے تھےالحمد ﷲ فتاوائے فقیر میں اس کی بکثرت نظیریں ملیں گی وﷲ الحمد تحدیثا بنعمۃ اﷲ وما توفیقی الا باﷲوصلی اﷲ تعالی علی من امدنا بعلمہ وایدنا بنعمہ وعلی الہ وصحبہ وبارك وسلم امین والحمدﷲ رب العلمین۔
(۱۳)[ف:اس مصالحت کی تین نظیریں] کیا کوئی ہند وروارکھے گا کہ اس کا شوالہ توڑ کر سڑك کردیا جائے جس پر عام مسلمانوں اور گوشت کے ٹکڑے لے کر قصاب گزرا کریں اوراس پر ایك چھجا یا چھتا بنے وہ ہندووں کے قبضے میں رہے کیا وہ اسے زمین شوالہ پر اپنا قبضہ سمجھے گاکیا وہ اس کارروائی کو حسب دلخواہ موجب اطمینان اور اس دن کو نہایت مسرت خیز اور ہندو دھرم کی تاریخ کا زریں دن اور ہر طرح اس کا احترام قائم رکھنا کہے گالیکن ایك اسلامی عالم نے مسجد کے ساتھ یہ کارروائی کی اور اس کی نسبت ان تمام الفاظ سے مدح سرائی کی فاعتبروایاولی الابصار۔
(۱۴)کیا اگر شوالہ کے ساتھ مسلمان ایسا کرتے تو گورنمنٹ ان پر مداخلت مذہبی اور توہین مذہب کاجرم قائم نہ کرتی ضرور کرتیکیا گورنمنٹ اپنے لئے مذہبی دست اندازی وتوہین مذہب جائزرکھتی ہے
"و ما یلقىها الا الذین صبروا-و ما یلقىها الا ذو حظ عظیم(۳۵)" ۔
اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کواور اسے نہیں پاتامگر بڑے نصیب والا۔(ت)
صدہا مسائل میں اضطراب شدید نظر آتا ہے کہ ناواقف دیکھ کر گھبراجاتا ہے مگر صاحب توفیق جب ان میں نظر کو جولان دیتا اور دامن ائمہ کرام مضبوط تھام کر راہ تنقیح لیتا ہے توفیق ربانی ایك سررشتہ اس کے ہاتھ رکھتی ہے جو ایك سچا سا نچا ہوجاتا ہے کہ ہر فرع خود بخود اپنے محمل پر ڈھلتی ہے اور تمام تخالف کی بدلیاں چھنٹ کر اصل مراد کی صاف شفاف چاندنی نکلتی ہے اس وقت کھل جاتا ہے کہ اقوال سخت مختلف نظرآتے تھے حقیقۃ سب ایك ہی بات فرماتے تھےالحمد ﷲ فتاوائے فقیر میں اس کی بکثرت نظیریں ملیں گی وﷲ الحمد تحدیثا بنعمۃ اﷲ وما توفیقی الا باﷲوصلی اﷲ تعالی علی من امدنا بعلمہ وایدنا بنعمہ وعلی الہ وصحبہ وبارك وسلم امین والحمدﷲ رب العلمین۔
(۱۳)[ف:اس مصالحت کی تین نظیریں] کیا کوئی ہند وروارکھے گا کہ اس کا شوالہ توڑ کر سڑك کردیا جائے جس پر عام مسلمانوں اور گوشت کے ٹکڑے لے کر قصاب گزرا کریں اوراس پر ایك چھجا یا چھتا بنے وہ ہندووں کے قبضے میں رہے کیا وہ اسے زمین شوالہ پر اپنا قبضہ سمجھے گاکیا وہ اس کارروائی کو حسب دلخواہ موجب اطمینان اور اس دن کو نہایت مسرت خیز اور ہندو دھرم کی تاریخ کا زریں دن اور ہر طرح اس کا احترام قائم رکھنا کہے گالیکن ایك اسلامی عالم نے مسجد کے ساتھ یہ کارروائی کی اور اس کی نسبت ان تمام الفاظ سے مدح سرائی کی فاعتبروایاولی الابصار۔
(۱۴)کیا اگر شوالہ کے ساتھ مسلمان ایسا کرتے تو گورنمنٹ ان پر مداخلت مذہبی اور توہین مذہب کاجرم قائم نہ کرتی ضرور کرتیکیا گورنمنٹ اپنے لئے مذہبی دست اندازی وتوہین مذہب جائزرکھتی ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۱ /۳۵
ہر گز نہیںمگر جب اسلامی عالم ہی اسے نہایت مسرت خیز اور زریں دن اور احترام اسلام کا پورا قیام کہے تو گورنمنٹ کی کیا خطا ہے۔
(۵)کیا اگر عالم کے مکان سکونت کے ساتھ یہ طریقہ برتا جائے کہ مکان کھود کر مسلمان یاہندو سڑك یا دنگل بنالیں اور اس پر چھت پاٹ کر ہوا دار جھرو کے عالم کے بسنے کو دیں تو عالم ان ہندو یا مسلمانوں پر نالشی نہ ہوگا کیا وہ اسے زمین مکان پر اپنا قبضہ قائم رہنا سمجھے گا کیا وہ اسے اپنے حق میں دست اندازی وتعدی نہ کہے گا۔فاعتبروا یاولی الابصار۔
(۱۶)امور مصالحت میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ کسی کو قیدیوں سے معافی مانگنے کی حاجت نہ ہو یہ امر ثابت نہ ہو کہ یہ لوگ مجرم تھے۔لیکن ا س مصالحت کے بعد جو ایڈریس پیش ہوا اس کے لفظ یہ ہیں:ہم ان لوگوں کی کارروائی کو ملامت اور نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں جنہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی۔اگر قانون کی خلاف ورزی کرنے والا قانونی مجرم نہیں تو اور کون ہے۔پھر گورنمنٹ کا جواب روزانہ ہمدرد ۱۶/اکتوبر میں یہ ہے:اب میں ان لوگوں کی نسبت کچھ کہنا چاہتا ہوں جنہوں نے۳اگست کو بلوہ کا ارتکاب کیا۔اسی میں ہے:گورنمنٹ کا فرض تھا کہ قیدیوں پر مقدمہ چلائے اور انہیں سزادے مگر وہ کافی سزا بھگت چکے ہیں۔اسی میں ہے:میں ان لوگوں پر بھی رحم کرتا ہوں جنہوں نے بلوے کی اشتعالك دی اور اس طرح سے اس نقصان رسانی کے مرتکب ہوئے جواب تك ہوچکا ہے اور اس لئے کسی خاص سلوك کے مستحق نہیں رہے۔تو ضرورمجرم وسزا وار سزا ٹھہرکر کافی سزا بھگت کر رحم کئے گئے نہ یہ کہ ان کو مجرم قرار ہی نہ دیاجائے۔
(۱۷)[ف:مصالحت مسجد سے دست برداری پر کی] امور مصالحت میں تیسری بات یہ ہے:گورنمنٹ مقدمات اٹھالے مسلمان مرور کے لئے کوشاں رہیں گے البتہ مقدمات دیگر امور کے متعلق کچھ نہ کریں گے۔اس کا حاصل طرفین سے ترك مقدمات ہے مگر مسلمانوں کے لئے دعوی مسجد کا استثنا۔یہاں دو قسم کے دعوے تھے:دعوی دیوانی دربارہ زمین مسجدکہ مسلمان کرتے دعوی فوجداری دربارہ بلوی کہ گورنمنٹ کی طرف سے دائرتھا۔مسلمانوں کو دعوی دوم میں اپنی ہی جان چھڑانی پڑی تھی نہ کہ وہ الٹے اس میں مدعی بنتےتو ادھر سے نہ تھا مگر دعوی مسجداور مصالحت میں ضرور طرفین سے ترك مقدمات قرار پایا توحاصل مصالحت صرف اتنا نکلا کہ گورنمنٹ قیدیوں کو چھوڑدے مسلمان مسجد چھوڑتے ہیںا س سے زیادہ محض الفاظ ہیں کہ یا تو مخیلہ سے باہر ہی نہ آئے یا زبان تك آکر نا مقبول رہےبہر حال ان کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان پر مصالحت کیولہذا بعد کی عملی کارروائیاں اطمینان کے جوش اور خود عالم کی تقریریں جن کا
(۵)کیا اگر عالم کے مکان سکونت کے ساتھ یہ طریقہ برتا جائے کہ مکان کھود کر مسلمان یاہندو سڑك یا دنگل بنالیں اور اس پر چھت پاٹ کر ہوا دار جھرو کے عالم کے بسنے کو دیں تو عالم ان ہندو یا مسلمانوں پر نالشی نہ ہوگا کیا وہ اسے زمین مکان پر اپنا قبضہ قائم رہنا سمجھے گا کیا وہ اسے اپنے حق میں دست اندازی وتعدی نہ کہے گا۔فاعتبروا یاولی الابصار۔
(۱۶)امور مصالحت میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ کسی کو قیدیوں سے معافی مانگنے کی حاجت نہ ہو یہ امر ثابت نہ ہو کہ یہ لوگ مجرم تھے۔لیکن ا س مصالحت کے بعد جو ایڈریس پیش ہوا اس کے لفظ یہ ہیں:ہم ان لوگوں کی کارروائی کو ملامت اور نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں جنہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی۔اگر قانون کی خلاف ورزی کرنے والا قانونی مجرم نہیں تو اور کون ہے۔پھر گورنمنٹ کا جواب روزانہ ہمدرد ۱۶/اکتوبر میں یہ ہے:اب میں ان لوگوں کی نسبت کچھ کہنا چاہتا ہوں جنہوں نے۳اگست کو بلوہ کا ارتکاب کیا۔اسی میں ہے:گورنمنٹ کا فرض تھا کہ قیدیوں پر مقدمہ چلائے اور انہیں سزادے مگر وہ کافی سزا بھگت چکے ہیں۔اسی میں ہے:میں ان لوگوں پر بھی رحم کرتا ہوں جنہوں نے بلوے کی اشتعالك دی اور اس طرح سے اس نقصان رسانی کے مرتکب ہوئے جواب تك ہوچکا ہے اور اس لئے کسی خاص سلوك کے مستحق نہیں رہے۔تو ضرورمجرم وسزا وار سزا ٹھہرکر کافی سزا بھگت کر رحم کئے گئے نہ یہ کہ ان کو مجرم قرار ہی نہ دیاجائے۔
(۱۷)[ف:مصالحت مسجد سے دست برداری پر کی] امور مصالحت میں تیسری بات یہ ہے:گورنمنٹ مقدمات اٹھالے مسلمان مرور کے لئے کوشاں رہیں گے البتہ مقدمات دیگر امور کے متعلق کچھ نہ کریں گے۔اس کا حاصل طرفین سے ترك مقدمات ہے مگر مسلمانوں کے لئے دعوی مسجد کا استثنا۔یہاں دو قسم کے دعوے تھے:دعوی دیوانی دربارہ زمین مسجدکہ مسلمان کرتے دعوی فوجداری دربارہ بلوی کہ گورنمنٹ کی طرف سے دائرتھا۔مسلمانوں کو دعوی دوم میں اپنی ہی جان چھڑانی پڑی تھی نہ کہ وہ الٹے اس میں مدعی بنتےتو ادھر سے نہ تھا مگر دعوی مسجداور مصالحت میں ضرور طرفین سے ترك مقدمات قرار پایا توحاصل مصالحت صرف اتنا نکلا کہ گورنمنٹ قیدیوں کو چھوڑدے مسلمان مسجد چھوڑتے ہیںا س سے زیادہ محض الفاظ ہیں کہ یا تو مخیلہ سے باہر ہی نہ آئے یا زبان تك آکر نا مقبول رہےبہر حال ان کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان پر مصالحت کیولہذا بعد کی عملی کارروائیاں اطمینان کے جوش اور خود عالم کی تقریریں جن کا
بیان اوپر گزرا سب استثنائے مذکور کی غلطی پر دلیل ہیں اس پر صلح ہوئی ہوتی تو اپنی مجلس مؤید الاسلام کا جلسہ خالص مسرت اور نہایت مسرت کا جلسہ نہ ہوتا بلکہ مسرت ماتم آمیز کا ایك آنکھ ہنستی تو ایك روتی یہ نہ کہا جاتا کہ مسلمانان ہند کو اطمینان اور دلجمعی نصیب ہوئی۔بلکہ یوں کہا جاتا کہ مسلمانو!فرع میں تمہاری فتح ہوئی اور اصل ہنوز باقی ہے اٹھو اور اس کے لئے انتہائی جائز کوششیں کرو۔
(۱۸)نیز اس کے غلط ہونے کی ایك کافی دلیل وہ ہے جو ہمارے سائل فاضل نے جواب استفتاء سوم میں لکھا کہ گورنمنٹ نے قیدیوں کو بلا مقابلہ کسی امر کے چھوڑنا نہ چاہا بلکہ اس کو مشروط کیا کہ مسلمان آئندہ مقدمات نہ چلائیں۔دیکھئے اس میں استثناء نہیں۔
(۱۹)آگے گورنمنٹ کی دوسری شرط بتائی کہ مسلمان مسجد کی زمین پر بعینہ اسی طریقہ کی عمارت نہ تعمیر کریں۔یہاں نفی استثنا ہوگئی اگر مسلمانوں کو دعوی زمین کی اجازت رہتی اور ضرور ممکن کہ وہ ڈگری پاتے تو بعینہ اسی طریقے کی عمارت بنانے سے کیوں ممنوع ہوتے اس کے صاف یہی معنی ہیں کہ ایسی عمارت بنالو جس کی چھت سے کام لو اور زمین پر دعوی نہ کرو۔
(۲۰)[ف:گورنمنٹ نے اسلام کو فائدہ دینا چاہا مگر مصالحت والوں نے روك دیا] جواب ایڈریس میں ہے مجھے پورے طور پر بھروسا ہکہ مسئلہ مسجد کا جو حل میں نے کیا ہے اس سے ہندوستان کی تمام مسلمان آبادی مطمئن ہوجائے گی۔گورنمنٹ کے یہ الفاظ اور صلح میں اس قرار داد کا بیان کہ مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا۔دونوں ملاکر دیکھئے صاف کھل جائے گا کہ وہ استثناء نہاں خانہ خیال ہی میں تھایاکہا اور منظور نہ ہوالا جرم تمام زوائد چھنٹ کر اصل بات نکل آئی جتنے پر عالم نے مصالحت ٹھہرائی کہ گورنمنٹ ہمارے آدمی چھوڑ دے ہم نے مسجد چھوڑدی یہ وہی دلی کمزوری اور دہلی کے بم کا تجربہ دیکھ کر بھی گورنمنٹ پر ضد اور جبر کی بدگمانی سے ناشئی ہوا حالانکہ یہ بالکل وسوسہ گورنمنٹ دونوں باتوں میں مسلمانوں کے صاف موافق تھی قیدیوں کی رہائی کےلئے جواب ایڈریس کے وہ لفظ دیکھئے:میں خاص شملہ سے اس غرض سے آیا ہوں تاکہ آپ کے واسطے پیغام امن لاؤں۔آخر میں مکر رہے:میں کانپور اسی لئے آیا ہوں تاکہ پیغام امن لاؤں۔اور مسئلہ احترام مذہبی کےلئے وہ قیمتی الفاظ پڑھئے:میرے لئے یہ بالکل غیر ضروری ہے کہ جو یقین میں نے کونسل کے اجلاس میں اس بارے میں دلائے ہیں کہ رعایا کے مذہبی عقائدکے متعلق گورنمنٹ کی پالیسی میں کوئی تغیر نہ ہو ااس کو دہراؤں اس لئے کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ ایك واقعی بات ہے۔ یہ لفظ تو عام آزادی مذہبی کے متعلق تھے اور خاص مسئلہ مساجد کے متعلق سنئے:ممکن ہے کہ سڑکوں ریل نہروں کی تعمیر مذہبی عمارتوں کے ساتھ ٹکرائے لیکن آپ کو یقین رکھنا چاہئے کہ گورنمنٹ
(۱۸)نیز اس کے غلط ہونے کی ایك کافی دلیل وہ ہے جو ہمارے سائل فاضل نے جواب استفتاء سوم میں لکھا کہ گورنمنٹ نے قیدیوں کو بلا مقابلہ کسی امر کے چھوڑنا نہ چاہا بلکہ اس کو مشروط کیا کہ مسلمان آئندہ مقدمات نہ چلائیں۔دیکھئے اس میں استثناء نہیں۔
(۱۹)آگے گورنمنٹ کی دوسری شرط بتائی کہ مسلمان مسجد کی زمین پر بعینہ اسی طریقہ کی عمارت نہ تعمیر کریں۔یہاں نفی استثنا ہوگئی اگر مسلمانوں کو دعوی زمین کی اجازت رہتی اور ضرور ممکن کہ وہ ڈگری پاتے تو بعینہ اسی طریقے کی عمارت بنانے سے کیوں ممنوع ہوتے اس کے صاف یہی معنی ہیں کہ ایسی عمارت بنالو جس کی چھت سے کام لو اور زمین پر دعوی نہ کرو۔
(۲۰)[ف:گورنمنٹ نے اسلام کو فائدہ دینا چاہا مگر مصالحت والوں نے روك دیا] جواب ایڈریس میں ہے مجھے پورے طور پر بھروسا ہکہ مسئلہ مسجد کا جو حل میں نے کیا ہے اس سے ہندوستان کی تمام مسلمان آبادی مطمئن ہوجائے گی۔گورنمنٹ کے یہ الفاظ اور صلح میں اس قرار داد کا بیان کہ مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا۔دونوں ملاکر دیکھئے صاف کھل جائے گا کہ وہ استثناء نہاں خانہ خیال ہی میں تھایاکہا اور منظور نہ ہوالا جرم تمام زوائد چھنٹ کر اصل بات نکل آئی جتنے پر عالم نے مصالحت ٹھہرائی کہ گورنمنٹ ہمارے آدمی چھوڑ دے ہم نے مسجد چھوڑدی یہ وہی دلی کمزوری اور دہلی کے بم کا تجربہ دیکھ کر بھی گورنمنٹ پر ضد اور جبر کی بدگمانی سے ناشئی ہوا حالانکہ یہ بالکل وسوسہ گورنمنٹ دونوں باتوں میں مسلمانوں کے صاف موافق تھی قیدیوں کی رہائی کےلئے جواب ایڈریس کے وہ لفظ دیکھئے:میں خاص شملہ سے اس غرض سے آیا ہوں تاکہ آپ کے واسطے پیغام امن لاؤں۔آخر میں مکر رہے:میں کانپور اسی لئے آیا ہوں تاکہ پیغام امن لاؤں۔اور مسئلہ احترام مذہبی کےلئے وہ قیمتی الفاظ پڑھئے:میرے لئے یہ بالکل غیر ضروری ہے کہ جو یقین میں نے کونسل کے اجلاس میں اس بارے میں دلائے ہیں کہ رعایا کے مذہبی عقائدکے متعلق گورنمنٹ کی پالیسی میں کوئی تغیر نہ ہو ااس کو دہراؤں اس لئے کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ ایك واقعی بات ہے۔ یہ لفظ تو عام آزادی مذہبی کے متعلق تھے اور خاص مسئلہ مساجد کے متعلق سنئے:ممکن ہے کہ سڑکوں ریل نہروں کی تعمیر مذہبی عمارتوں کے ساتھ ٹکرائے لیکن آپ کو یقین رکھنا چاہئے کہ گورنمنٹ
کافی توجہ سے تمام مطالبات پر غور کرے گی اور ہمیشہ کوشش کرے گی کہ مسئلہ متنازعہ اس طور حل کرے جو تمام اشخاص متعلقہ کے لئے قابل اطمینان ہو۔ایسی صورت میں صرف امر اول سے فائدہ لینا اور امر دوم کہ وہی اصل مرام وخاص مسئلہ احترام اسلام تھایوں چھوڑ دینا کیونکر صواب ہوسکتاہےنسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔
جواب استفسار دوم پر نظر
(۲۱)استفسار تو یہ تھا کہ جس امر پر صلح ہوئی وہ کس کی تجویز تھااس کا یہ جواب کیا ہو اکہ گورنمنٹ نے خود مصالحت کی خواہش کی اس امر پر کہ مقدمات اور دعاوی کے بارے میں کوئی سمجھوتا ہوجائےکس نے پوچھا تھا کہ خواہش صلح کدھر سے ہوئی اس سمجھوتے ہی کوپوچھا تھا کہ کس کی رائے کا ایجاد تھا اس کا کچھ جواب نہ ہوا۔
(۲۲)[ف:فیصلہ کانپور پر ایك نظر کارد بلیغ]سائل فاضل نے اگرچہ جواب استفسار نہ دیا مگر خود عالم کی تقریر کہ بعنوان"فیصلہ کانپور پر ایك نظر"ہمدرد وغیرہ میں چھپی وہ اس کے جواب کی کفیل ہے اس میں صاف اعتراف ہے کہ چھتا بناکر اس پر قبضہ ملنے اور زمین پر سڑك چلنے کی تجویز خود عالم نے اپنی طرف سے پیش کی وہی منظور ہوئی اس تجویز کا حال اوپر معلوم ہوچکااوریہ بھی کہ خود عالم کو اس کا خلاف احکام اسلامیہ ہونا مسلم ہے مگر عالم کی تقریر مذکور اس تجویز کی حالت اور بھی واضح کرتی ہے۔
[ف:عالم کی پہلی تدبیر نامنظور شدہ اور اس کا صریح باطل و خلاف شرع ہونا] تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ عالم نے پہلے تو یہ تدبیر نکالی کہ اس زمین کو مسجد کا ممربنادیں اور اس کےلئے مسجد کا دروازہ اس طرف نکالیں کہ اصل ممر مسلمانوں کےلئے ہو پھر ضمنا کوئی دوسرا بھی اس طرف سے اس طرف گزر جائے تو ہم اس کو مانع نہیں ضرورت کے وقت اجازت ہوسکتی ہے بشرطیکہ احترام اس جز کا مثل احترام دیگر اجزائے مسجد کے قائم رہےا ور غالبا اسی تحفظ و احترام کے لئے یہ چاہاتھا کہ اس حصہ زمین کو سڑك سے مرتفع بنایا جائے یعنی تاکہ پیدل کے سوااوروں کا گزرنہ ہو۔اس تدبیر میں عالم کی نظر اس مسئلہ پر تھی کہ راستہ جب پیدل پر تنگی کرے تو بضرورت مسجد میں ہوکر لوگ ادھر گزرسکتے ہیں یوں کہ مسجد بحال خود برقرار رہے اس میں کوئی فرق اصلانہ آئے ولہذا شرط ہے کہ یہ مسجد میں ہوکر نکل جانے والے جنب وحائص ونفسانہ ہوں نہ اس میں جانور لیجائیں کہ مسجد میں ان کا جانا اور ان کا لے جانا حرام ہے۔
[ف:مسئلہ ممر فی المسجد کی جلیل تحقیق اور یہ کہ وہ سلطنت اسلامیہ کے ساتھ خاص ہے ]
اقول:
جواب استفسار دوم پر نظر
(۲۱)استفسار تو یہ تھا کہ جس امر پر صلح ہوئی وہ کس کی تجویز تھااس کا یہ جواب کیا ہو اکہ گورنمنٹ نے خود مصالحت کی خواہش کی اس امر پر کہ مقدمات اور دعاوی کے بارے میں کوئی سمجھوتا ہوجائےکس نے پوچھا تھا کہ خواہش صلح کدھر سے ہوئی اس سمجھوتے ہی کوپوچھا تھا کہ کس کی رائے کا ایجاد تھا اس کا کچھ جواب نہ ہوا۔
(۲۲)[ف:فیصلہ کانپور پر ایك نظر کارد بلیغ]سائل فاضل نے اگرچہ جواب استفسار نہ دیا مگر خود عالم کی تقریر کہ بعنوان"فیصلہ کانپور پر ایك نظر"ہمدرد وغیرہ میں چھپی وہ اس کے جواب کی کفیل ہے اس میں صاف اعتراف ہے کہ چھتا بناکر اس پر قبضہ ملنے اور زمین پر سڑك چلنے کی تجویز خود عالم نے اپنی طرف سے پیش کی وہی منظور ہوئی اس تجویز کا حال اوپر معلوم ہوچکااوریہ بھی کہ خود عالم کو اس کا خلاف احکام اسلامیہ ہونا مسلم ہے مگر عالم کی تقریر مذکور اس تجویز کی حالت اور بھی واضح کرتی ہے۔
[ف:عالم کی پہلی تدبیر نامنظور شدہ اور اس کا صریح باطل و خلاف شرع ہونا] تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ عالم نے پہلے تو یہ تدبیر نکالی کہ اس زمین کو مسجد کا ممربنادیں اور اس کےلئے مسجد کا دروازہ اس طرف نکالیں کہ اصل ممر مسلمانوں کےلئے ہو پھر ضمنا کوئی دوسرا بھی اس طرف سے اس طرف گزر جائے تو ہم اس کو مانع نہیں ضرورت کے وقت اجازت ہوسکتی ہے بشرطیکہ احترام اس جز کا مثل احترام دیگر اجزائے مسجد کے قائم رہےا ور غالبا اسی تحفظ و احترام کے لئے یہ چاہاتھا کہ اس حصہ زمین کو سڑك سے مرتفع بنایا جائے یعنی تاکہ پیدل کے سوااوروں کا گزرنہ ہو۔اس تدبیر میں عالم کی نظر اس مسئلہ پر تھی کہ راستہ جب پیدل پر تنگی کرے تو بضرورت مسجد میں ہوکر لوگ ادھر گزرسکتے ہیں یوں کہ مسجد بحال خود برقرار رہے اس میں کوئی فرق اصلانہ آئے ولہذا شرط ہے کہ یہ مسجد میں ہوکر نکل جانے والے جنب وحائص ونفسانہ ہوں نہ اس میں جانور لیجائیں کہ مسجد میں ان کا جانا اور ان کا لے جانا حرام ہے۔
[ف:مسئلہ ممر فی المسجد کی جلیل تحقیق اور یہ کہ وہ سلطنت اسلامیہ کے ساتھ خاص ہے ]
اقول:
یہ گزر اصالۃ مسلمانوں کےلئے ہے کہ مسجدوں سے کافروں کو کیا علاقہ
الاتری الی تعلیلہم بانھما للمسلمین کما فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار۔
ان کایہ علت بیان کرنا آپ نے نہ دیکھا کہ یہ مسلمانوں کے لئے ہےجیسا کہ درمختار وغیرہ معتبر کتب میں ہے(ت)
مگر جبکہ راستہ پیدل تنگ ہے اور گزر کی حاجت کافر کو بھی ہے اور کافر ذمی بلکہ مستامن بھی تابع مسلم ہے تو بالتبع ضمنااسے بھی منع نہ کریں گے۔
وکم من شیئ یثبت ضمنا ولا یثبت قصداوھذا معنی قول العلماء حتی الکافر فظھر الجواب عما اعتراض بہ العلامۃ الطحطاوی علی جعلہ غایۃ وﷲ الحمد ولا حاجۃ الی مااجاب بہ العلامۃ الشامی وﷲ الحمد وظھر الجواب عما ظن العلامۃ شیخی زادہ فی مجمع الانھر من التعارض بین تعلیلیھم بان کلیہما للمسلمین و بین قولھم حتی الکافر وﷲالحمد۔
کئی چیزیں ضمنا ثابت ہوتی اور قصدا ثابت نہیں ہوتیں اور علماء کے قول(حتی الکافر)حتی کہ کافرکایہی معنی ہے تو علامہ طحطاوی نے اس کو غایت قرار دے کر جو اعتراض کیا ہےاس سے اس کا جواب ظاہر ہوگیاﷲ الحمداور علامہ شامی نے جو جواب دیا اس کی بھی حاجت نہ رہیوﷲ الحمدنیز اس سے علامہ شیخی زادہ نے مجمع الانہر میں اپنے خیال سے فقہاء کرام کی تعلیل کہ دونوں مسلمانوں کے لئےاور فقہاء کرام کے قول"حتی الکافر"میں جو تعارض سمجھا اس کا جواب بھی ظاہر ہوگیاوﷲ الحمد(ت)
مسئلہ تو یہاں تك بجا و صحیح یا کم از کم ایك قول پر ٹھیك تھا مگر موقع سے اسے متعلق سمجھنے میں ایك دو نہیں بکثرت خطائیں ہوئیں جن میں تین خود عالم کے تین لفظوں سے ظاہر ومبین(۱)ضمنا(۲)احترام(۳)ضرورت ظاہر ہے کہ اگر یہ صورت ہو تی تو اولا:کفار کا گزر ہر گز ضمنا نہ ہوتا بلکہ اصالۃ جس کا انکار صریح مکابرہ ہے اور وہ نہ صرف اس عالم کے اقرار بلکہ یقینا مراد علماء کے خلا ف ہےزمانہ ائمہ میں مساجد تو مساجد دارالاسلام کی سڑك یا افتادہ زمین ہی پر چلنے والا کافر نہ ہوتا مگر ذمی کہ مطیع اسلام ہے یا مستامن کہ سلطان اسلام سے پناہ لے کر داخل ہوااور یہ دونوں تابع اسلام ہیں آخر نہ دیکھا کہ انہیں عبارات میں علماء نے مساجد کی طرح مطلق راستوں کو بھی مسلمانوں کے لئے بتایا کہ اور ہیں تو ضمنی وتابع ہیں۔
الاتری الی تعلیلہم بانھما للمسلمین کما فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار۔
ان کایہ علت بیان کرنا آپ نے نہ دیکھا کہ یہ مسلمانوں کے لئے ہےجیسا کہ درمختار وغیرہ معتبر کتب میں ہے(ت)
مگر جبکہ راستہ پیدل تنگ ہے اور گزر کی حاجت کافر کو بھی ہے اور کافر ذمی بلکہ مستامن بھی تابع مسلم ہے تو بالتبع ضمنااسے بھی منع نہ کریں گے۔
وکم من شیئ یثبت ضمنا ولا یثبت قصداوھذا معنی قول العلماء حتی الکافر فظھر الجواب عما اعتراض بہ العلامۃ الطحطاوی علی جعلہ غایۃ وﷲ الحمد ولا حاجۃ الی مااجاب بہ العلامۃ الشامی وﷲ الحمد وظھر الجواب عما ظن العلامۃ شیخی زادہ فی مجمع الانھر من التعارض بین تعلیلیھم بان کلیہما للمسلمین و بین قولھم حتی الکافر وﷲالحمد۔
کئی چیزیں ضمنا ثابت ہوتی اور قصدا ثابت نہیں ہوتیں اور علماء کے قول(حتی الکافر)حتی کہ کافرکایہی معنی ہے تو علامہ طحطاوی نے اس کو غایت قرار دے کر جو اعتراض کیا ہےاس سے اس کا جواب ظاہر ہوگیاﷲ الحمداور علامہ شامی نے جو جواب دیا اس کی بھی حاجت نہ رہیوﷲ الحمدنیز اس سے علامہ شیخی زادہ نے مجمع الانہر میں اپنے خیال سے فقہاء کرام کی تعلیل کہ دونوں مسلمانوں کے لئےاور فقہاء کرام کے قول"حتی الکافر"میں جو تعارض سمجھا اس کا جواب بھی ظاہر ہوگیاوﷲ الحمد(ت)
مسئلہ تو یہاں تك بجا و صحیح یا کم از کم ایك قول پر ٹھیك تھا مگر موقع سے اسے متعلق سمجھنے میں ایك دو نہیں بکثرت خطائیں ہوئیں جن میں تین خود عالم کے تین لفظوں سے ظاہر ومبین(۱)ضمنا(۲)احترام(۳)ضرورت ظاہر ہے کہ اگر یہ صورت ہو تی تو اولا:کفار کا گزر ہر گز ضمنا نہ ہوتا بلکہ اصالۃ جس کا انکار صریح مکابرہ ہے اور وہ نہ صرف اس عالم کے اقرار بلکہ یقینا مراد علماء کے خلا ف ہےزمانہ ائمہ میں مساجد تو مساجد دارالاسلام کی سڑك یا افتادہ زمین ہی پر چلنے والا کافر نہ ہوتا مگر ذمی کہ مطیع اسلام ہے یا مستامن کہ سلطان اسلام سے پناہ لے کر داخل ہوااور یہ دونوں تابع اسلام ہیں آخر نہ دیکھا کہ انہیں عبارات میں علماء نے مساجد کی طرح مطلق راستوں کو بھی مسلمانوں کے لئے بتایا کہ اور ہیں تو ضمنی وتابع ہیں۔
حوالہ / References
درمختار،کتاب الوقف ۱/ ۳۸۲
درمختار کتاب الوقف ۱/ ۳۸۲
طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوقف دارالمعرفہ بیروت ۱/ ۵۴۳
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الوقف فصل اذبنی مسجداً داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۷۴۸
درمختار کتاب الوقف ۱/ ۳۸۲
طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوقف دارالمعرفہ بیروت ۱/ ۵۴۳
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الوقف فصل اذبنی مسجداً داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۷۴۸
ثانیا: یہاں احترام ناممکن تھا جنب وحائض کی ممانعت پر اصلا اختیار نہ ہوتا خصوصا کفار کو اجازت ہوکراور اس ممانعت کو مسلمانوں کے ساتھ مخصوص کرنا محض ظلم ہےصحیح یہ ہے کہ کفار بھی مکلف بالفروع ہیں۔قال اﷲ تعالی:
" یتسآءلون(۴۰) عن المجرمین(۴۱) ما سلككم فی سقر(۴۲) قالوا لم نك من المصلین(۴۳) و لم نك نطعم المسكین(۴۴) و كنا نخوض مع الخآىضین(۴۵) و كنا نكذب بیوم الدین(۴۶) "
پوچھتے ہیں مجرموں سے تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئیوہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے(ت)
اور بالفرض وہ مکلف بالفروع نہ سہی ہم تو مکلف ہیں بحال جنابت وحیض مسجد میں جانا ضرور بیت اللہ کی بیحرمتی اور دربار ملك الملوك عز وجل الہ کی بے ادبی ہے تو ہمیں کیونکر رواہوا کہ ایسی شنیع تجویز خود پیش کریں اور بیت اللہ کی حرمت پامال کرائیںجانور تو بالاجماع مکلف نہیںکیامسلمان کوروا ہے کہ کتے یا سوئر بلکہ ناسمجھ بچے یا مجنون کو مسجد میں چلتا دیکھے اور چپکا بیٹھارہے کہ وہ تو مکلف ہی نہیں حاشا حفظ مسجد پر یہ تو مکلف ہے اور ترك منع اس کا گناہ ہے کہ بے ادبی مسجد پر راضی ہوا یا کم از کم ساکت رہا حدیث میں ارشاد ہوا:
جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم رواہ ابن ماجۃ وعبدالرزاق عن واثلۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اپنی مسجدوں کو بچوں اور دیوانوں سے بچاؤ۔(اسے ابن ماجہ اور عبدالرزاق نے واثلہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
جب احتمال بے ادبی پر غیر مکلفوں کو نہ روکنا خلاف حکم حدیث ہے تو مساجد کو بیحرمتی یقینی کے لئے خود پیش کرنا کس درجہ جرم شنیع وخبیث ہے۔
ثالثا:اس میں جانوروں کا نہ جانا بھی ہر گز نہ ہوتا اگرچہ کہہ دیا جاتا کہ یہ پیدل کے لئے ہےمعہود معروف یہ ہے کہ پختہ سڑك جسے گولا کہتے ہیں اصالۃ صرف بگھیوں ٹمٹموں کے لئے بنتی ہے اور اس کے پہلوؤں پر جو راہ پیادوں کے لئے چھوڑ ی جاتی ہے بیل گاڑیوںچھکڑوںگائے بیلوںگدھوں
" یتسآءلون(۴۰) عن المجرمین(۴۱) ما سلككم فی سقر(۴۲) قالوا لم نك من المصلین(۴۳) و لم نك نطعم المسكین(۴۴) و كنا نخوض مع الخآىضین(۴۵) و كنا نكذب بیوم الدین(۴۶) "
پوچھتے ہیں مجرموں سے تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئیوہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے(ت)
اور بالفرض وہ مکلف بالفروع نہ سہی ہم تو مکلف ہیں بحال جنابت وحیض مسجد میں جانا ضرور بیت اللہ کی بیحرمتی اور دربار ملك الملوك عز وجل الہ کی بے ادبی ہے تو ہمیں کیونکر رواہوا کہ ایسی شنیع تجویز خود پیش کریں اور بیت اللہ کی حرمت پامال کرائیںجانور تو بالاجماع مکلف نہیںکیامسلمان کوروا ہے کہ کتے یا سوئر بلکہ ناسمجھ بچے یا مجنون کو مسجد میں چلتا دیکھے اور چپکا بیٹھارہے کہ وہ تو مکلف ہی نہیں حاشا حفظ مسجد پر یہ تو مکلف ہے اور ترك منع اس کا گناہ ہے کہ بے ادبی مسجد پر راضی ہوا یا کم از کم ساکت رہا حدیث میں ارشاد ہوا:
جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم رواہ ابن ماجۃ وعبدالرزاق عن واثلۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اپنی مسجدوں کو بچوں اور دیوانوں سے بچاؤ۔(اسے ابن ماجہ اور عبدالرزاق نے واثلہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ ت)
جب احتمال بے ادبی پر غیر مکلفوں کو نہ روکنا خلاف حکم حدیث ہے تو مساجد کو بیحرمتی یقینی کے لئے خود پیش کرنا کس درجہ جرم شنیع وخبیث ہے۔
ثالثا:اس میں جانوروں کا نہ جانا بھی ہر گز نہ ہوتا اگرچہ کہہ دیا جاتا کہ یہ پیدل کے لئے ہےمعہود معروف یہ ہے کہ پختہ سڑك جسے گولا کہتے ہیں اصالۃ صرف بگھیوں ٹمٹموں کے لئے بنتی ہے اور اس کے پہلوؤں پر جو راہ پیادوں کے لئے چھوڑ ی جاتی ہے بیل گاڑیوںچھکڑوںگائے بیلوںگدھوں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷۴ /۴۰تا۴۶
سنن ابن ماجہ ابواب المساجد باب مایکرہ فی المساجد ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵۵
سنن ابن ماجہ ابواب المساجد باب مایکرہ فی المساجد ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵۵
کےلئے وہی ہوتی ہےولہذا ان میں سے جو چیز سڑك پر چل رہی ہے او رکوئی بگھی آجائے تو ان سب کو اسی پیادہ کی راہ میں ہٹنا ہوتا ہے ان کا استحقاق اسی میں سمجھا جاتا ہے اور معروف مثل مشروط ہے تو پیدل کے لئے کہنے کے یہ معنی ہیں کہ گھوڑا گاڑی کے سوا سب کےلئے ہےآخر نہ دیکھا کہ جب آپ نے اس زمین کو سڑك سے کچھ مرتفع رکھنا چاہا یہ منظور نہ ہوا کہ اس میں گاڑیوں کی ممانعت تھی اور چھت آٹھ فٹ بلند ٹھہری کہ پیادہ کی حاجت سے بہت زائد ہےلطف یہ کہ آپ اب بھی اسے زیر مسئلہ مذکورہ لانا چاہتے ہیں فاعتبروایاولی الابصار۔
رابعا: بفرض غلط اگر ممانعت ہوتی تو سواریوں کے لئے مگر گائےبکریبھیڑ کے گلے کوڑے اینٹوں کے گدھے نہ سوار ہیں نہ سوارییہ قطعا پیادہ ہی میں شامل رہتے۔
خامسا: یہ بھی نہ سہی پیادہ گوروں اور جنٹلمینوں کے کتوں کا استثناء کیونکر ممکن تھا وہ تو ضرور پیادہ ہیں اور یہ ان کے دم کے ساتھ۔
سادسا: جانے دو بھنگنیں کہ ٹوکرے لئے نکلتی ہیں وہ تو ہر طرح پیادہ آدمی ہیں ان کی ممانعت کس گھر سے آتیتو آفتاب سے زیادہ روشن کہ یہ مسئلہ صرف اسلامی سلطنت کے ساتھ خاص ہے جہاں کفار تابع مسلمین ہوتے ہیں اور جہاں ہر طرح ہم احترام مساجد قائم رکھنے پر قادر ہیں غیر اسلامی عملداری میں اس کااجرا خود اصل مسئلہ کا ابطال اور مسجدوں کی صریح بیحرمتی وابتذال ہے۔
سابعا: یہاں ایك نکتہ جلیلہ دقیقہ اور ہے جس پر مطلع نہیں ہوتے مگر اہل توفیق"و ما یعقلها الا العلمون(۴۳) " (اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔ت) وہ یہ کہ مسجد میں کسی امر کا جواز اور بات ہے اور اس کا استحقاق اور۔صورت مذکورہ علماء میں حکم جواز ہے نہ حکم استحقاق کہ مساجد توجمیع حقوق عباد سے ہمیشہ کے لئے منزہ ہیں قال اﷲ تعالی "و ان المسجد لله " (اﷲ تعالی نے فرمایا:اور یہ کہ مسجد یں اللہ ہی کی ہیں۔ت)تو حکم صرف سلطنت اسلامیہ میں چل سکتا ہے غیر اسلامی سلطنت میں جو ممر بنایا جائیگا ضرور اس میں کفار خصوصاحکام کا مرور بطور دعوی واستحقاق ہوگا اور یہ قطعی ابطال مسجدیت وہتك حرمت اسلام وخلاف کلام ذی الجلال والاکرام ہے اگرچہ بفرض محال ہر طرح کا احترام قائم ہی رہے تو سلطنت غیر اسلامیہ کے لئے یہ مسئلہ قرار دینا صریح جہل وظلم عظیم ہےانہیں سات وجوہ پر نظرفرمانے سے واضح ہوسکتا ہے کہ"منالیفیعلی"کاترجمہ جان لینا فقاہت نہیں فقاہت چیزے دیگر ست۔
رابعا: بفرض غلط اگر ممانعت ہوتی تو سواریوں کے لئے مگر گائےبکریبھیڑ کے گلے کوڑے اینٹوں کے گدھے نہ سوار ہیں نہ سوارییہ قطعا پیادہ ہی میں شامل رہتے۔
خامسا: یہ بھی نہ سہی پیادہ گوروں اور جنٹلمینوں کے کتوں کا استثناء کیونکر ممکن تھا وہ تو ضرور پیادہ ہیں اور یہ ان کے دم کے ساتھ۔
سادسا: جانے دو بھنگنیں کہ ٹوکرے لئے نکلتی ہیں وہ تو ہر طرح پیادہ آدمی ہیں ان کی ممانعت کس گھر سے آتیتو آفتاب سے زیادہ روشن کہ یہ مسئلہ صرف اسلامی سلطنت کے ساتھ خاص ہے جہاں کفار تابع مسلمین ہوتے ہیں اور جہاں ہر طرح ہم احترام مساجد قائم رکھنے پر قادر ہیں غیر اسلامی عملداری میں اس کااجرا خود اصل مسئلہ کا ابطال اور مسجدوں کی صریح بیحرمتی وابتذال ہے۔
سابعا: یہاں ایك نکتہ جلیلہ دقیقہ اور ہے جس پر مطلع نہیں ہوتے مگر اہل توفیق"و ما یعقلها الا العلمون(۴۳) " (اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔ت) وہ یہ کہ مسجد میں کسی امر کا جواز اور بات ہے اور اس کا استحقاق اور۔صورت مذکورہ علماء میں حکم جواز ہے نہ حکم استحقاق کہ مساجد توجمیع حقوق عباد سے ہمیشہ کے لئے منزہ ہیں قال اﷲ تعالی "و ان المسجد لله " (اﷲ تعالی نے فرمایا:اور یہ کہ مسجد یں اللہ ہی کی ہیں۔ت)تو حکم صرف سلطنت اسلامیہ میں چل سکتا ہے غیر اسلامی سلطنت میں جو ممر بنایا جائیگا ضرور اس میں کفار خصوصاحکام کا مرور بطور دعوی واستحقاق ہوگا اور یہ قطعی ابطال مسجدیت وہتك حرمت اسلام وخلاف کلام ذی الجلال والاکرام ہے اگرچہ بفرض محال ہر طرح کا احترام قائم ہی رہے تو سلطنت غیر اسلامیہ کے لئے یہ مسئلہ قرار دینا صریح جہل وظلم عظیم ہےانہیں سات وجوہ پر نظرفرمانے سے واضح ہوسکتا ہے کہ"منالیفیعلی"کاترجمہ جان لینا فقاہت نہیں فقاہت چیزے دیگر ست۔
ایں سعادت بزور بازونیست تانہ بخشدخدائے بخشندہ
(یہ سعادت زور بازو سے حاصل نہیں ہوتی جب تك عطا فرمانے والا مالك عطانہ فرما ئے)
ثامنا: [ف:ضرورت کی بحث]رہی ضرورت تنگیاس کا حال ظاہر ہے کہ پیدل تو پیدل گاڑیوں کے لئے وسیع سڑك موجود ہے علماء نے یہاں یہی ضرورت تحریر فرمائی ہے اور یہی حکم جواز فی نفسہ کا کفیل ہےضرورت اکراہ شرعی نہ یہاں متحقق نہ اس میں یہ صورت صادقاس سے جواز شے فی نفسہ نہیں ہوتا رفع اثم ہوتا ہےوہ بھی صرف مکرہ سےوہ بھی صرف وقت اکراہوہ بھی صرف اتنی بات پر جس پر اکراہ ہوااگر بعض اوہام الٹے چلے تو ان شاء اللہ الکریم اس وقت ان مباحث جلیلہ کی تفصیل کردی جائے گی جس سے روشن ہوگا کہ یہاں ادعائے ضرورت اکراہ کیسا جہل شدید تھابالجملہ یہ تدبیر بھی محض باطل و ناصواب تھی اور اتنا خود عالم کو اسی تقریر میں اقرار ہے کہ نہایت تنزل اور بقول ضعیف اور مخلص کے طور پر صورت مجوزہ ہے بہر حال وہ بھی ممبروں نے منظورنہ کی اس وقت عالم نے یہ دوسری تجویز نکالی جس پر تصفیہ ہوا کہ چھتا مسجد اور زمین سڑک۔تقریر مذکور میں ہے:اس گفتگو میں تمام وقت صرف ہوگیا مصالحت کی امید منقطع ہوگئی اسوقت میں نے یہ صورت پیش کی کہ سردست ہم کو دالان کی چھت پر قبضہ دے دیں کہ ہم بنائیں۔اس کے بعد ایك فقرہ دھوکا دینے والا ہے کہ اور زمین بھی دے دیں اس کو بھی ہم ہی بنائیں حسب قواعد میونسپلٹی جو تمام عمارات کے واسطے عام ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ زمین ہم کو واپس مل جائے ہم اس پر پہلی سی عمارت بنالیںاس سے آسان ترکہ تدبیر اول میں تھا وہ تو ممبر نے مانا نہیں اس کے بعد اس کے کہنے کی کیا گنجائش ہوتی ہے اور کہا جاتا تو مانا کیوں جاتا اور یہ وہ کہا گیا جو مانا گیا کہ اس کی نسبت تقریر مذکور میں ہے:غرضیکہ تینوں دفعات حسب دلخواہ طے ہوگئے۔پھر باریابی گورنمنٹ اور ہار پہنانے کا ذکر کرکے کہا:اس کے بعد موافق تجویز دی روزہ تینوں مقاصدہمارے حاصل ہوئے۔یعنی جواب ایڈریس ان کے مطابق ملا تو زمین دے دیں اس کو بھی ہم ہی بنائیںکے وہ معنی ہیں جوجواب ایڈریس میں ہے کہ متولیوں کو ایك چھتا دار محراب بنالینی چاہئے اور ان عمارات کے نیچے بھی ایك گزرگاہ تعمیر کرلینی چاہئے جو میونسپل بورڈ کی مجوزہ تجاویز کے عین مطابق ہے۔غرض تجویز پیش کردہ عالم کا یہ حاصل تھا کہ ہم کو ایك چھتا بنالینے دیا جائے جو مسجد ٹھہرکر ہمارے قبضہ میں رہے اور اس کے نیچے سڑك چلے اور یہ سعادت بھی ہمیں کوبخشی جائے کہ زمین مسجد پر یہ سڑك ہم ہی تعمیر کریں جو بعینہ تجویز چونگی ہے۔
[ف:تجویز دوم کی شناعتیں] اس تجویز کا حال مجوز کا قال بتارہا ہےتدبیر اول کہ نامنظو رہوئی اسے نہایت تنزل بتایا تھا اور نہایت کے بعدکوئی درجہ باقی نہیں رہتا تو یہ تجویز کہ اس سے بدرجہا گری ہوئی ہے کسی تنزل پر بھی دائرہ حکم شرعی میں نہیں آسکتی بلکہ حکم کی صریح تبدیل ناقابل تاویل ہے
(یہ سعادت زور بازو سے حاصل نہیں ہوتی جب تك عطا فرمانے والا مالك عطانہ فرما ئے)
ثامنا: [ف:ضرورت کی بحث]رہی ضرورت تنگیاس کا حال ظاہر ہے کہ پیدل تو پیدل گاڑیوں کے لئے وسیع سڑك موجود ہے علماء نے یہاں یہی ضرورت تحریر فرمائی ہے اور یہی حکم جواز فی نفسہ کا کفیل ہےضرورت اکراہ شرعی نہ یہاں متحقق نہ اس میں یہ صورت صادقاس سے جواز شے فی نفسہ نہیں ہوتا رفع اثم ہوتا ہےوہ بھی صرف مکرہ سےوہ بھی صرف وقت اکراہوہ بھی صرف اتنی بات پر جس پر اکراہ ہوااگر بعض اوہام الٹے چلے تو ان شاء اللہ الکریم اس وقت ان مباحث جلیلہ کی تفصیل کردی جائے گی جس سے روشن ہوگا کہ یہاں ادعائے ضرورت اکراہ کیسا جہل شدید تھابالجملہ یہ تدبیر بھی محض باطل و ناصواب تھی اور اتنا خود عالم کو اسی تقریر میں اقرار ہے کہ نہایت تنزل اور بقول ضعیف اور مخلص کے طور پر صورت مجوزہ ہے بہر حال وہ بھی ممبروں نے منظورنہ کی اس وقت عالم نے یہ دوسری تجویز نکالی جس پر تصفیہ ہوا کہ چھتا مسجد اور زمین سڑک۔تقریر مذکور میں ہے:اس گفتگو میں تمام وقت صرف ہوگیا مصالحت کی امید منقطع ہوگئی اسوقت میں نے یہ صورت پیش کی کہ سردست ہم کو دالان کی چھت پر قبضہ دے دیں کہ ہم بنائیں۔اس کے بعد ایك فقرہ دھوکا دینے والا ہے کہ اور زمین بھی دے دیں اس کو بھی ہم ہی بنائیں حسب قواعد میونسپلٹی جو تمام عمارات کے واسطے عام ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ زمین ہم کو واپس مل جائے ہم اس پر پہلی سی عمارت بنالیںاس سے آسان ترکہ تدبیر اول میں تھا وہ تو ممبر نے مانا نہیں اس کے بعد اس کے کہنے کی کیا گنجائش ہوتی ہے اور کہا جاتا تو مانا کیوں جاتا اور یہ وہ کہا گیا جو مانا گیا کہ اس کی نسبت تقریر مذکور میں ہے:غرضیکہ تینوں دفعات حسب دلخواہ طے ہوگئے۔پھر باریابی گورنمنٹ اور ہار پہنانے کا ذکر کرکے کہا:اس کے بعد موافق تجویز دی روزہ تینوں مقاصدہمارے حاصل ہوئے۔یعنی جواب ایڈریس ان کے مطابق ملا تو زمین دے دیں اس کو بھی ہم ہی بنائیںکے وہ معنی ہیں جوجواب ایڈریس میں ہے کہ متولیوں کو ایك چھتا دار محراب بنالینی چاہئے اور ان عمارات کے نیچے بھی ایك گزرگاہ تعمیر کرلینی چاہئے جو میونسپل بورڈ کی مجوزہ تجاویز کے عین مطابق ہے۔غرض تجویز پیش کردہ عالم کا یہ حاصل تھا کہ ہم کو ایك چھتا بنالینے دیا جائے جو مسجد ٹھہرکر ہمارے قبضہ میں رہے اور اس کے نیچے سڑك چلے اور یہ سعادت بھی ہمیں کوبخشی جائے کہ زمین مسجد پر یہ سڑك ہم ہی تعمیر کریں جو بعینہ تجویز چونگی ہے۔
[ف:تجویز دوم کی شناعتیں] اس تجویز کا حال مجوز کا قال بتارہا ہےتدبیر اول کہ نامنظو رہوئی اسے نہایت تنزل بتایا تھا اور نہایت کے بعدکوئی درجہ باقی نہیں رہتا تو یہ تجویز کہ اس سے بدرجہا گری ہوئی ہے کسی تنزل پر بھی دائرہ حکم شرعی میں نہیں آسکتی بلکہ حکم کی صریح تبدیل ناقابل تاویل ہے
تدبیر اول کو بقول ضعیف کہا تھا تو اس کے لئے کوئی ضعیف روایت بھی نہیں محض باطل وایجاد بندہ ہے تدبیر اول کو مخلص کے طور پر کہا تھا تو یہ مخلص بھی نہیں بلکہ مجلس ہے یعنی مسجد کو ہتك حرمت کے لئے پھنسانا۔اور تقریر میں اقرار ہے کہ میں نے یہ صورت پیش کی۔یہاں ہمارے استفسار دوم کا جواب کھلاایسی باطل وحرام وہتك اسلام صورت اگر ادھر سے پیش ہوتی اور عالم جبر واکراہ تام اسے تسلیم کرلیتا تو شرعا سخت کبیرہ عظیمہ شدیدہ کا مرتکب تھا نہ کہ خود اپنی تجویز سے ایسی صورت نکالنا اور اسے پیش کرنا اس پر منظوری لینا اس کی شناعت کا کیا اندازہ ہونسأل اﷲالعفووالعافیۃ۔
(۲۳)پھر یہ نہیں کہ عالم نے اس وقت کم علمی یا نا فہمی سے اس صورت کا باطل وخلاف شرع ہونا نہ سمجھا نادانی سے اس وقت مجوز ہو بیٹھا نہیں نہیں بلکہ اس وقت بھی حکم شرعی معلوم تھا تقریر مذکور میں اس تجویز کے پیش کرنے سے پہلے کا بیان ہے کہ مسجد کے دیکھنے اور وہاں کے احوال سننے سے تسلیم کر لینا پڑا کہ جز ومتنازعہ جزو مسجد ہے اس کے بعد مجھے مخلص نکالنا بہت دشوار ہو گیا میں ہر گز کسی طرح یہ نہیں کہہ سکتا کہ مسلمانوں کو کسی جزو مسجد کو کسی دوسرے مصرف میں لانا جائز ہے تو دیدہ ودانستہ ارتکاب ہوا۔
(۲۴)پھر یہی نہیں کہ اسے صرف ابتدائی درجہ کا حرام جانا ہو بلکہ وہیں تصریح ہے کہ میں یقین کرتا ہوں کہ اس جزو کواصل مسئلہ سے زیادہ اس کے طرز انہدام نے اہم کردیا اور یہ واقعہ ہائلہ ۳/اگست نے تو احترام اسلام کا سوال پیداکردیا اور شعار اسلام کے ہتك ہونے میں کسی کوبھی شبہہ نہ رہا۔یارب یہاں تك جان کر پھر ہتك اسلام کی آپ تجویز پیش کرنے کو کیا سمجھا چاہئے فانا ﷲ واناالیہ راجعون اس قول عالم کے معنی یہ ہیں کہ ہتك حرمت مسجد ضرور ہتك شعار اسلام ہے خصوصا بحکومت کہ اس کا ہتك حرمت اسلام ہونا خود ہی واضح تر ہے جسے واقعہ ۳اگست نے سب پر ظاہرکردیا۔اس عبارت عالم کا یہ مطلب ہے ورنہ اگر عالم کے نزدیك اصل معاملہ میں ہتك حرمت اسلام نہ تھی تو واقعہ ۳/اگست کہ محض بربنائے قانون شکنی تھا اسے ہتك حرمت اسلام نہ کردیتا۔خانہ جنگی وغیرہ میں کتنے مسلمان ماخوذ وسزایاب ہوتے ہیں اسے کوئی ہتك حرمت اسلام نہیں سمجھتا کہ اصل معاملہ حرمت اسلام کا نہ تھا۔عالم کا یہ قول یادرکھنا چاہئے کہ خود اس کے منہ اس کی کارروائی کا حاصل کھلتا ہے نسأل اﷲ العفو و العافیۃ۔
(۲۵)پھر یہ نہیں کہ عالم اس وقت حالت اکراہ میں ہوکہ"الا من اكره و قلبه مطمىن بالایمان " (مگر جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو۔ت) سے فائدہ لے سکے وہ ابھی ابھی تدبیر اول پیش کرکے زیادہ کے لئے صاف جواب دے چکا تھا تقریر مذکور میں ہے:میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ احکام مذہبی میں کوئی
(۲۳)پھر یہ نہیں کہ عالم نے اس وقت کم علمی یا نا فہمی سے اس صورت کا باطل وخلاف شرع ہونا نہ سمجھا نادانی سے اس وقت مجوز ہو بیٹھا نہیں نہیں بلکہ اس وقت بھی حکم شرعی معلوم تھا تقریر مذکور میں اس تجویز کے پیش کرنے سے پہلے کا بیان ہے کہ مسجد کے دیکھنے اور وہاں کے احوال سننے سے تسلیم کر لینا پڑا کہ جز ومتنازعہ جزو مسجد ہے اس کے بعد مجھے مخلص نکالنا بہت دشوار ہو گیا میں ہر گز کسی طرح یہ نہیں کہہ سکتا کہ مسلمانوں کو کسی جزو مسجد کو کسی دوسرے مصرف میں لانا جائز ہے تو دیدہ ودانستہ ارتکاب ہوا۔
(۲۴)پھر یہی نہیں کہ اسے صرف ابتدائی درجہ کا حرام جانا ہو بلکہ وہیں تصریح ہے کہ میں یقین کرتا ہوں کہ اس جزو کواصل مسئلہ سے زیادہ اس کے طرز انہدام نے اہم کردیا اور یہ واقعہ ہائلہ ۳/اگست نے تو احترام اسلام کا سوال پیداکردیا اور شعار اسلام کے ہتك ہونے میں کسی کوبھی شبہہ نہ رہا۔یارب یہاں تك جان کر پھر ہتك اسلام کی آپ تجویز پیش کرنے کو کیا سمجھا چاہئے فانا ﷲ واناالیہ راجعون اس قول عالم کے معنی یہ ہیں کہ ہتك حرمت مسجد ضرور ہتك شعار اسلام ہے خصوصا بحکومت کہ اس کا ہتك حرمت اسلام ہونا خود ہی واضح تر ہے جسے واقعہ ۳اگست نے سب پر ظاہرکردیا۔اس عبارت عالم کا یہ مطلب ہے ورنہ اگر عالم کے نزدیك اصل معاملہ میں ہتك حرمت اسلام نہ تھی تو واقعہ ۳/اگست کہ محض بربنائے قانون شکنی تھا اسے ہتك حرمت اسلام نہ کردیتا۔خانہ جنگی وغیرہ میں کتنے مسلمان ماخوذ وسزایاب ہوتے ہیں اسے کوئی ہتك حرمت اسلام نہیں سمجھتا کہ اصل معاملہ حرمت اسلام کا نہ تھا۔عالم کا یہ قول یادرکھنا چاہئے کہ خود اس کے منہ اس کی کارروائی کا حاصل کھلتا ہے نسأل اﷲ العفو و العافیۃ۔
(۲۵)پھر یہ نہیں کہ عالم اس وقت حالت اکراہ میں ہوکہ"الا من اكره و قلبه مطمىن بالایمان " (مگر جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو۔ت) سے فائدہ لے سکے وہ ابھی ابھی تدبیر اول پیش کرکے زیادہ کے لئے صاف جواب دے چکا تھا تقریر مذکور میں ہے:میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ احکام مذہبی میں کوئی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۶
کچھ دخل نہیں دے سکتا حقیقۃ جس طرح وہ حصہ لیا گیا ہے اسی طرح واپس کیا جائے نہایت تنزل صورت مجوزہ ہے اگر اس پر بھی رضامندی نہیں ہوتی پھر حکام کو اختیار ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتا ہوں۔عالم کی اس تقریر کو ہمارے سائل فاضل نے جواب استفسار ہفتم میں یوں بیان کیا:گفتگو کے اثناء میں اس نے صاف کہہ دیا کہ میرا کام مسئلہ بتادینے کا ہے خدا کے گھر کا معاملہ ہے میرا گھر نہیں ہے جس طرح وہ چاہے اور اس کا حکم ہو بننا چاہئے نہ کہ جس طرح میں یا آپ چاہوں علماء کو جمع کرنا چاہئے مسلمانوں کو جس سے اطمینان ہو وہ کرنا چاہئے۔یہ تمام کلمات حق تھے انہیں کہہ کر پھر حق سے ایسے شدید ناحق کی طرف عدول کیوں ہوا ممبر اگر نہ مانتے اتنے ہی پر ختم کرنا فرض تھانہ عالم پرالزام رہتا نہ معاملہ میں یہ سخت پیچ پڑتامگر مشیت آڑے آئی اور عالم سے جو نہ ہونا تھا ہواولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
(۲۶)پھر اس سے بھی اشد ظلم یہ کہ اس حرام شرع کو حسب دلخواہ اور نہایت مسرت خیز وموجب اطمینان و دلجمعی مسلمانان اور مسئلہ شرعیہ کی صورت سے بھی بہتر اور اس کے دن کو اسلامی تاریخ کا زریں دن کہا گیا اور خود شعار اسلام کاہتك بتاکر بقائے احترام اسلام کہا یہ باتیں بہت سخت تر ہیں نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔
(۲۷)پھر اس کایہ شدید ضرر قاصر نہ رہابلکہ عام عوام مسلمین تك متعدی ہوا انہوں نے اس عالم ہی کے بھروسے حرام کو حلال ماتم کو مسرتہتك حرمت اسلام کو اسلام کااحترام سمجھا۔
(۲۸)ان وجوہ نے معاملہ کی گھتی بہت کری کردی اوراس نرے زبانی بیان کو کہ مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا موقع موقع کوشاں رہیں گےکہ محض برائے گفتن تھا حرف غلط کردیا مریض جب مرض کو شفا سمجھے پھر ہوس علاج جنون ہے۔
(۲۹)پھر اتنے ہی پر بس نہیں بلکہ وہ ہمیشہ کے لئے نظیر ہوگیا اسلامی عالم جسے قومی لیڈر اور گویا تمام مسلمانان ہند کا وکیل سمجھا گیا اس کی ایجاد کی ہوئی تجویز اس کی پیش کی ہوئی تجویزپھر گورنر جنرل کی منظورپھر تمام اسلامی حلقوں میں اس پر اظہار مسرت وخوشیپھر عالم کا اسے اسلامی تاریخ میں زریں دن اور بقائے احترام اسلام اور موجب دلجمعی و اطمینان ونہایت مسرت خیز کہنا اسے پتھر کی لکیر کرگیامسجدوں کاسڑکوںریلوںنہروں سے تصادم نہ کوئی نئی بات نہ کبھی منتہی جیسا کہ خود جواب ایڈریس میں مذکور ہے مگر اس پر کتنے اطمینان بخش وہ الفاظ گورنمنٹ تھے کہ گورنمنٹ ہمیشہ کوشش کرے گی کہ مسئلہ متنازعہ کو اس طور پر حل کرے جو تمام اشخاص متعلقہ کے لئے قابل اطمینان ہو۔عالم اور عوام کی ان کارروائیوں نے انہیں کتنے ہی برے معنی کی طرف پھیر دیاانہوں نے چیخ وپکار اور جلسوں روشنیوں کی بھر مار سے بتادیا کہ یہ صورت
(۲۶)پھر اس سے بھی اشد ظلم یہ کہ اس حرام شرع کو حسب دلخواہ اور نہایت مسرت خیز وموجب اطمینان و دلجمعی مسلمانان اور مسئلہ شرعیہ کی صورت سے بھی بہتر اور اس کے دن کو اسلامی تاریخ کا زریں دن کہا گیا اور خود شعار اسلام کاہتك بتاکر بقائے احترام اسلام کہا یہ باتیں بہت سخت تر ہیں نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔
(۲۷)پھر اس کایہ شدید ضرر قاصر نہ رہابلکہ عام عوام مسلمین تك متعدی ہوا انہوں نے اس عالم ہی کے بھروسے حرام کو حلال ماتم کو مسرتہتك حرمت اسلام کو اسلام کااحترام سمجھا۔
(۲۸)ان وجوہ نے معاملہ کی گھتی بہت کری کردی اوراس نرے زبانی بیان کو کہ مسلمانوں کو اطمینان نہ ہوگا موقع موقع کوشاں رہیں گےکہ محض برائے گفتن تھا حرف غلط کردیا مریض جب مرض کو شفا سمجھے پھر ہوس علاج جنون ہے۔
(۲۹)پھر اتنے ہی پر بس نہیں بلکہ وہ ہمیشہ کے لئے نظیر ہوگیا اسلامی عالم جسے قومی لیڈر اور گویا تمام مسلمانان ہند کا وکیل سمجھا گیا اس کی ایجاد کی ہوئی تجویز اس کی پیش کی ہوئی تجویزپھر گورنر جنرل کی منظورپھر تمام اسلامی حلقوں میں اس پر اظہار مسرت وخوشیپھر عالم کا اسے اسلامی تاریخ میں زریں دن اور بقائے احترام اسلام اور موجب دلجمعی و اطمینان ونہایت مسرت خیز کہنا اسے پتھر کی لکیر کرگیامسجدوں کاسڑکوںریلوںنہروں سے تصادم نہ کوئی نئی بات نہ کبھی منتہی جیسا کہ خود جواب ایڈریس میں مذکور ہے مگر اس پر کتنے اطمینان بخش وہ الفاظ گورنمنٹ تھے کہ گورنمنٹ ہمیشہ کوشش کرے گی کہ مسئلہ متنازعہ کو اس طور پر حل کرے جو تمام اشخاص متعلقہ کے لئے قابل اطمینان ہو۔عالم اور عوام کی ان کارروائیوں نے انہیں کتنے ہی برے معنی کی طرف پھیر دیاانہوں نے چیخ وپکار اور جلسوں روشنیوں کی بھر مار سے بتادیا کہ یہ صورت
ہمارے لئے نہایت قابل اطمینان ہے جب تصادم ہو مسجدیں توڑکر ہوا پر کر دواور نیچے سڑکیں ریلیں نہریں دوڑادوبس مسئلہ اس طور پر حل ہوجائے گا جو تمام اشخاص متعلقہ کے لئے قابل اطمینان ہےکیا عالم اور عوام کوکوئی منہ رہا ہے کہ اس وقت کچھ شکایت کریں یا چارہ جوئی کا نام لیںکیا ان سے نہ کہا جائے گا کہ عقل کے ناخن لویہ وہی تو نہایت مسرت خیز وموجب اطمینان واحترام اسلام اور اسلامی تاریخ کا زریں دن ہے جسے تم آپ پیش کرکے منظورکراچکے ہو۔
(۳۰)پھر نری نظیر ہی نہیں بلکہ جو قانون معابد بننابتایا جاتا ہے اس کے لئے کافی مادہ ہے احترام مساجد کو یہی دفعہ بس ہوگی کہ ان کا زمین پر رکھنا کچھ ادب نہیں بلکہ چھتوں پر اٹھا کر سروں سے اونچی کردی جائیں اور اصل مسجد یعنی زمین پر جو چاہیں بنائیں عالم وعوام اس اپنی ہی پیش کردہ پسندیدہ دفعہ کا دفع کہاں سے لائیں گےافسوس کہ یہ شدید ہتك اسلام خود فرزندان اسلام کے ہاتھوں ہو اناﷲ وانا الیہ رجعونیہیں سے ظاہر ہواکہ یہ جو بہلاوے دئے جاتے ہیں کہ ایك مختتم قانون تحفظ معابد کا بنایا جانا قرار دلوادیا گیا ہے جس سے حسب تصریح ممبر اس متنازع فیہ حصے کا بھی مسلمانوں کو موافق ہونا متوقع ہےاورفیصلہ پر ایك نظر میں یہ تاکیدی حکم سنا جانا بتایا کہ اس کی تعمیر میں احکام اسلامیہ کے احترام کو ہر طرح مدنظر رکھنا چاہئے۔سب روغن قاز کی بھی وقعت نہیں رکھتےمانا کہ قانون ضرور بنےمانا کہ تاکیدی حکم بیشك ہوا مگر احترام کے معنی تو آپ نے بتادئے کہ ہم اسے احترام اسلام کہتے ہیں جسے خود اپنے منہ سے ہتك حرمت اسلام کہہ چکے ہیںبس اسی پر قانون بنوالیجئے اور اسی کی نسبت تاکیدی حکم تصور کیجئے ع
خویشتن کردہ را علاج مخواہ
(اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں)
یارب ! معنی خود الٹے ٹھہرانا اور خالی لفظ پر عوام کو بہلانا کس لئے۔
(۳۱)[عذر بدتر از گناہ کے رد] طرفہ تر عذر بدتراز گناہ سنئےتقریر مذکور میں ہے:میں نے اسلئے اس کو اپنی صورت مجوزہ(یعنی تدبیر اول نامنظور)سے بھی بہتر خیال کیا کہ قواعد میونسپلٹی سے ممکن ہے کہ ہم کو بہتر موقع اس کے حاصل کرلینے کا ہو۔ایسے حرام وہتك اسلام کو اپنے منہ پیش کرکے منظور کرانا اور اس امیدموہوم کو کہ ممکن ہے میونسپلٹی ہمیں واپس دے اس کے ارتکاب کی نہ صرف تجویز بلکہ تحسین کا موجب ٹھہرانا عجیب فہم بلکہ تازہ شرعیت ہے۔کیا جیساکہ کہا جاتا اور مراسلات کا مرید وغیرہ میں بیان ہوا ہےیہ میونسپلٹی وہ نہیں جس نے کثرت رائے کا بھی خیال نہ کیا اور مسجد کے خلاف ہی فیصلہ دیا۔
(۳۰)پھر نری نظیر ہی نہیں بلکہ جو قانون معابد بننابتایا جاتا ہے اس کے لئے کافی مادہ ہے احترام مساجد کو یہی دفعہ بس ہوگی کہ ان کا زمین پر رکھنا کچھ ادب نہیں بلکہ چھتوں پر اٹھا کر سروں سے اونچی کردی جائیں اور اصل مسجد یعنی زمین پر جو چاہیں بنائیں عالم وعوام اس اپنی ہی پیش کردہ پسندیدہ دفعہ کا دفع کہاں سے لائیں گےافسوس کہ یہ شدید ہتك اسلام خود فرزندان اسلام کے ہاتھوں ہو اناﷲ وانا الیہ رجعونیہیں سے ظاہر ہواکہ یہ جو بہلاوے دئے جاتے ہیں کہ ایك مختتم قانون تحفظ معابد کا بنایا جانا قرار دلوادیا گیا ہے جس سے حسب تصریح ممبر اس متنازع فیہ حصے کا بھی مسلمانوں کو موافق ہونا متوقع ہےاورفیصلہ پر ایك نظر میں یہ تاکیدی حکم سنا جانا بتایا کہ اس کی تعمیر میں احکام اسلامیہ کے احترام کو ہر طرح مدنظر رکھنا چاہئے۔سب روغن قاز کی بھی وقعت نہیں رکھتےمانا کہ قانون ضرور بنےمانا کہ تاکیدی حکم بیشك ہوا مگر احترام کے معنی تو آپ نے بتادئے کہ ہم اسے احترام اسلام کہتے ہیں جسے خود اپنے منہ سے ہتك حرمت اسلام کہہ چکے ہیںبس اسی پر قانون بنوالیجئے اور اسی کی نسبت تاکیدی حکم تصور کیجئے ع
خویشتن کردہ را علاج مخواہ
(اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں)
یارب ! معنی خود الٹے ٹھہرانا اور خالی لفظ پر عوام کو بہلانا کس لئے۔
(۳۱)[عذر بدتر از گناہ کے رد] طرفہ تر عذر بدتراز گناہ سنئےتقریر مذکور میں ہے:میں نے اسلئے اس کو اپنی صورت مجوزہ(یعنی تدبیر اول نامنظور)سے بھی بہتر خیال کیا کہ قواعد میونسپلٹی سے ممکن ہے کہ ہم کو بہتر موقع اس کے حاصل کرلینے کا ہو۔ایسے حرام وہتك اسلام کو اپنے منہ پیش کرکے منظور کرانا اور اس امیدموہوم کو کہ ممکن ہے میونسپلٹی ہمیں واپس دے اس کے ارتکاب کی نہ صرف تجویز بلکہ تحسین کا موجب ٹھہرانا عجیب فہم بلکہ تازہ شرعیت ہے۔کیا جیساکہ کہا جاتا اور مراسلات کا مرید وغیرہ میں بیان ہوا ہےیہ میونسپلٹی وہ نہیں جس نے کثرت رائے کا بھی خیال نہ کیا اور مسجد کے خلاف ہی فیصلہ دیا۔
لایلدغ المؤمن من جحرواحد مرتین ۔ مومن ایك سوراخ سے دوبار نہیں ڈساجاتا(ت)
خاص گورنمنٹکون گورنمنٹوہ وہ جس نے کہا میں تمہارے لئے پیام امن لایا ہوں وہ وہ جس نے کہامذہبی باتوں کے متعلق وہی پالیسی ہے اس میں کوئی تغیر نہیںوہ وہ جس نے کہا حقوق مساجد کا ہمیشہ لحاظ رکھا جائیگا اور سب مسلمانوں کے اطمینان کے قابل فیصلہ کیا جائےگا اسے چھوڑ کر میونسپلٹی کی رحمت پر بھروسا کرنا وہاں اپنے منہ حرمت اسلامیہ کو پامالی کے لئے خود پیش کرنا اور اس کے ازالہ کی امید چونگی سے رکھنا کس درجہ بدقسمتی ہے۔
(۳۲)میونسپلٹی اگر موافق بھی ہوتی تو فیصلہ خاص گورنمنٹ کے بعد اس سے نقض کی امید کتنی غلط امید ہے۔
(۳۳)بفرض غلط اگرمیونسپلٹی آپ کو لکھ بھی دے کہ ہاں یہ زمین خاص مسجد کی ہے چونگی کا اس پر کچھ دعوی نہیں تو کیا وہ اس حکم حتمی گورنمنٹ کو بھی منسوخ کردے گی کہ یہ ضرور ہے کہ عام پبلك اور نمازی اسے بطور سڑك کے استعمال کرنے کے مجاز ہوں اور جب یہ برقرار رہا تو وہ کیا ہے جسے آپ میونسپلٹی سے خاص کرلیں گے جس کے سبب اس اپنے اقرار اشد حرام وہتك اسلام کو زائل کرلیں گے۔
(۳۴)بفرض باطل یہ بھی ممکن سہی تو ایك امید موہوم کےلئےجس کا نہ وقوع معلوم نہ سال دس سال مدت معلوماس وقت ایسا حرام وہتك اسلام کو ہتك کے لئے خود پیش کرنا کس شریعت نے جائز کیاہے۔
(۳۵)موہوم ہونے کی یہ حالت ہے کہ خود بھی اس کے حصول پر اطمینان نہیں تقریر میں عبارت مذکورہ کے متصل ہے اگر نہ ملا تو ہم مجبور ہیں ویسا ہی تصور کرینگے جیسا کہ اس وقت دہلی کی جامع مسجد میں انگریزوں کو جوتا پہنے آنے سے روك نہیں سکتے مجبور کس نے کیاآپ تجویز نکالوآپ پیش کروآپ منظور کراؤآپ خوشیاں مناؤاور پھر مجبور کے مجبور۔انگریزوں کا جوتا پہنے پھر نا اگر وہاں کے مسلمانوں کی خوشی سے ہے تو ان پر بھی الزام ہے اگرچہ آپ پر اشد ہے کہ کہاں نادرا گاہے ماہے کسی انگریز کا آنا اور کہاں یہ شبانہ روز کی پامالیگوبر لید متالیاور اگر مسلمانوں نے اس کی اجازت نہ دی تو یہ آپ کی تو خود کردہ ہے اس کا اس پر قیاس کیسا!
(۳۶)سب جانے دیجئے امید و موہوم ومظنون سب سے گزر کر بفرض محال میونسپلٹی سے اس کا استحصال
خاص گورنمنٹکون گورنمنٹوہ وہ جس نے کہا میں تمہارے لئے پیام امن لایا ہوں وہ وہ جس نے کہامذہبی باتوں کے متعلق وہی پالیسی ہے اس میں کوئی تغیر نہیںوہ وہ جس نے کہا حقوق مساجد کا ہمیشہ لحاظ رکھا جائیگا اور سب مسلمانوں کے اطمینان کے قابل فیصلہ کیا جائےگا اسے چھوڑ کر میونسپلٹی کی رحمت پر بھروسا کرنا وہاں اپنے منہ حرمت اسلامیہ کو پامالی کے لئے خود پیش کرنا اور اس کے ازالہ کی امید چونگی سے رکھنا کس درجہ بدقسمتی ہے۔
(۳۲)میونسپلٹی اگر موافق بھی ہوتی تو فیصلہ خاص گورنمنٹ کے بعد اس سے نقض کی امید کتنی غلط امید ہے۔
(۳۳)بفرض غلط اگرمیونسپلٹی آپ کو لکھ بھی دے کہ ہاں یہ زمین خاص مسجد کی ہے چونگی کا اس پر کچھ دعوی نہیں تو کیا وہ اس حکم حتمی گورنمنٹ کو بھی منسوخ کردے گی کہ یہ ضرور ہے کہ عام پبلك اور نمازی اسے بطور سڑك کے استعمال کرنے کے مجاز ہوں اور جب یہ برقرار رہا تو وہ کیا ہے جسے آپ میونسپلٹی سے خاص کرلیں گے جس کے سبب اس اپنے اقرار اشد حرام وہتك اسلام کو زائل کرلیں گے۔
(۳۴)بفرض باطل یہ بھی ممکن سہی تو ایك امید موہوم کےلئےجس کا نہ وقوع معلوم نہ سال دس سال مدت معلوماس وقت ایسا حرام وہتك اسلام کو ہتك کے لئے خود پیش کرنا کس شریعت نے جائز کیاہے۔
(۳۵)موہوم ہونے کی یہ حالت ہے کہ خود بھی اس کے حصول پر اطمینان نہیں تقریر میں عبارت مذکورہ کے متصل ہے اگر نہ ملا تو ہم مجبور ہیں ویسا ہی تصور کرینگے جیسا کہ اس وقت دہلی کی جامع مسجد میں انگریزوں کو جوتا پہنے آنے سے روك نہیں سکتے مجبور کس نے کیاآپ تجویز نکالوآپ پیش کروآپ منظور کراؤآپ خوشیاں مناؤاور پھر مجبور کے مجبور۔انگریزوں کا جوتا پہنے پھر نا اگر وہاں کے مسلمانوں کی خوشی سے ہے تو ان پر بھی الزام ہے اگرچہ آپ پر اشد ہے کہ کہاں نادرا گاہے ماہے کسی انگریز کا آنا اور کہاں یہ شبانہ روز کی پامالیگوبر لید متالیاور اگر مسلمانوں نے اس کی اجازت نہ دی تو یہ آپ کی تو خود کردہ ہے اس کا اس پر قیاس کیسا!
(۳۶)سب جانے دیجئے امید و موہوم ومظنون سب سے گزر کر بفرض محال میونسپلٹی سے اس کا استحصال
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الادب باب لایلد غ المؤمن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۵،سنن الدارمی باب لایلدغ المومن من جحر مرتین نشر السنۃ ملتان ۲/ ۲۲۷
اور مرور واستعمال کا بالکلیہ زوال سب قطعی ویقینی ٹھہرالیجئے پھر الزام کیا دفع ہواکیا کوئی گناہ حلال ہوسکتا ہے جبکہ ایك زمانہ کے بعد اس کا زوال یقینی ہویوں تو شراب وزنا بھی حلال ہوجائیں گے کہ ہمیشہ کے لئے نہ وہ مستقر نہ یہ مستمرولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔یہ ہے وہ تقریر"مسجد کانپور کے فیصلہ پر ایك نظر"جس پر عوام کو وہ کچھ وثوق وہ کچھ ناز ہے واستغفر اﷲالعظیم۔
الحمدﷲدواستفسار پیشین کے جواب میں یہی چھتیس نظریں کافی ووافی ہیں جن میں اس فیصلہ پر ایك نظر پر بھی پندرہ نظریں ہوگئیںاور نہ صرف اسی قدر بلکہ مسئلہ وفیصلہ کے پہلوؤں پر کافی روشنی پڑگئی جس کے بعدعاقل کو امتیاز حق وباطل کے لئے ان شاء اﷲ العظیم زیادہ کی حاجت نہ رہی جواب باقی استفسارات کا حال بھی یہیں سے کھل گیا لہذا ان پر بالاجمال دوچار لفظ لکھ کر کلام تمام کر یں وباﷲ التوفیق۔
متعلق جواب استفسار سوم
اس کے فقرے فقرے کا رد اوپر گزر چکاگورنمنٹ نے خود خواہش تصفیہ کیبہت اچھا کیامگر تصفیہ میں یہ تجویز جوخود عالم کے اقرار سے حرام اور بلاشبہہ ہتك حرمت اسلام ہےعالم نے آپ ہی پیش کی بہت برا کیاپھر اسے نہایت مسرت خیز و زریں روز وغیرہ وغیرہ کہا او ر سخت بر اکیا۔
(۳۷)[اس تجویز نے کیا دیا اور کیا لیا اس کا موازنہ]نہ کہ قیدیوں کو بلا مقابلہ کسی امر کے چھوڑدینا چاہاجواب ایڈریس میں کسی مقابلہ کا اشارہ تك نہیںلکھنو کے ایك انگریزی اخبار میں ہے کہ بلا شرط چھوڑاگیاممکن ہے کہ باہم خفیہ گفتگو میں ذکر شرط آیا ہواب سوال یہ ہے وہ شرط کیا تھی اور جزا کے ساتھ ہم قیمت تھی یابہت گراںہمارے سائل فاضل کا بیان ہے کہ بلکہ اس کو مشروط کیا کہ مسلمان آئندہ مقدمات نہ چلائیںیعنی زمین مسجد سے دست بردار ہوجائیں(دیکھو ہمارے بیانات میں نمبر ۱۷تا۲۰)اور مسجد کی زمین پر بعینہ اسی طریقہ کی عمارت نہ تعمیر کریں یعنی جس سے وہ مسجد کےلئے محفوظ رہے اور سڑك کے کام میں نہ آسکے ورنہ عمارت کی کسی ہیأت معینہ سے بحث کے کوئی معنی نہیں تو حاصل شرط مسجد کی مسجدیت کا ابطال اور اس کی زمین کا سڑك میں استعمال اور اس کی حرمت کا اسقاط وابتذال تھااسی کی پابندی سے عالم نے یہ اخیر ناشدنی تجویز نکالی جو منظور ہو کر نظیر ہوگئی اور جس نے ہمیشہ کے لئے تمام مساجد ہند کی حرمت بیچ ڈالی۔اب اس کا اور جزایعنی رہائی ملزمان کا موازنہ کرلیجئے خاص اشخاص کی قید ضرر خاص تھا اور وہ بھی جسمانی اور وہ بھی منقطع اور مساجد کی بیحرمتی وابطال مسجدیت اور اس کے خود پیش کرنے پھر منظور کرانےپھر اس پر اظہار رضاومسرت سے ہمیشہ کےلئے اس کا نظیر بننا کتنا سخت ضرر عام تھا اور وہ بھی دینی اور وہ بھی مستمراسی کو عالم نے خود کہا تھا
الحمدﷲدواستفسار پیشین کے جواب میں یہی چھتیس نظریں کافی ووافی ہیں جن میں اس فیصلہ پر ایك نظر پر بھی پندرہ نظریں ہوگئیںاور نہ صرف اسی قدر بلکہ مسئلہ وفیصلہ کے پہلوؤں پر کافی روشنی پڑگئی جس کے بعدعاقل کو امتیاز حق وباطل کے لئے ان شاء اﷲ العظیم زیادہ کی حاجت نہ رہی جواب باقی استفسارات کا حال بھی یہیں سے کھل گیا لہذا ان پر بالاجمال دوچار لفظ لکھ کر کلام تمام کر یں وباﷲ التوفیق۔
متعلق جواب استفسار سوم
اس کے فقرے فقرے کا رد اوپر گزر چکاگورنمنٹ نے خود خواہش تصفیہ کیبہت اچھا کیامگر تصفیہ میں یہ تجویز جوخود عالم کے اقرار سے حرام اور بلاشبہہ ہتك حرمت اسلام ہےعالم نے آپ ہی پیش کی بہت برا کیاپھر اسے نہایت مسرت خیز و زریں روز وغیرہ وغیرہ کہا او ر سخت بر اکیا۔
(۳۷)[اس تجویز نے کیا دیا اور کیا لیا اس کا موازنہ]نہ کہ قیدیوں کو بلا مقابلہ کسی امر کے چھوڑدینا چاہاجواب ایڈریس میں کسی مقابلہ کا اشارہ تك نہیںلکھنو کے ایك انگریزی اخبار میں ہے کہ بلا شرط چھوڑاگیاممکن ہے کہ باہم خفیہ گفتگو میں ذکر شرط آیا ہواب سوال یہ ہے وہ شرط کیا تھی اور جزا کے ساتھ ہم قیمت تھی یابہت گراںہمارے سائل فاضل کا بیان ہے کہ بلکہ اس کو مشروط کیا کہ مسلمان آئندہ مقدمات نہ چلائیںیعنی زمین مسجد سے دست بردار ہوجائیں(دیکھو ہمارے بیانات میں نمبر ۱۷تا۲۰)اور مسجد کی زمین پر بعینہ اسی طریقہ کی عمارت نہ تعمیر کریں یعنی جس سے وہ مسجد کےلئے محفوظ رہے اور سڑك کے کام میں نہ آسکے ورنہ عمارت کی کسی ہیأت معینہ سے بحث کے کوئی معنی نہیں تو حاصل شرط مسجد کی مسجدیت کا ابطال اور اس کی زمین کا سڑك میں استعمال اور اس کی حرمت کا اسقاط وابتذال تھااسی کی پابندی سے عالم نے یہ اخیر ناشدنی تجویز نکالی جو منظور ہو کر نظیر ہوگئی اور جس نے ہمیشہ کے لئے تمام مساجد ہند کی حرمت بیچ ڈالی۔اب اس کا اور جزایعنی رہائی ملزمان کا موازنہ کرلیجئے خاص اشخاص کی قید ضرر خاص تھا اور وہ بھی جسمانی اور وہ بھی منقطع اور مساجد کی بیحرمتی وابطال مسجدیت اور اس کے خود پیش کرنے پھر منظور کرانےپھر اس پر اظہار رضاومسرت سے ہمیشہ کےلئے اس کا نظیر بننا کتنا سخت ضرر عام تھا اور وہ بھی دینی اور وہ بھی مستمراسی کو عالم نے خود کہا تھا
کہ شعار اسلام کے ہتك ہونے میں کسی کو شبہہ نہ رہاایك مسجد کا ضرر ضرر عام ہے کہ مسجد عام مسلمانوں کی عبادت گاہ ہےنہ کسی خاص کیاور ضرر عام ضرر خاص سے اقویاسی پر مبنی ہے فتح القدیر وبحرالرائق ودرر وغرر وتنویر الابصار ودرمختار وغیرہا معتمدات اسفار کا مسئلہ کہ مسجد ضاق وبجنبہ ارض لرجل الخ(جب مسجد تنگ ہوجائے اور اس کے پہلو میں ایك شخص کی زمین ہو۔ت)جب صرف نمازیوں پر جگہ کی تنگی ایسا ضرر مہم سمجھی گئی تو مسجد کی مسجدیت کا ابطال شعار اسلام کا وہ ہتك وابتذال اور پھر نہ ایك مسجد کے بلکہ قاعدہ مستمرہ مساجد کیلئے کس درجہ اشد واشنع ضررعام مسلمین وضررنفس اسلام ودین ہے عقل ونقل وعرف وشرع کا قاعدہ تو وہ تھا کہ ضرر عام سے بچنے کو ضرر خاص کا تحمل کرتے ہیںاشباہ والنظائر میں ہے:
یتحمل الضرر الخاص لاجل دفع الضرر العام ۔ عام ضررسے بچنے کے لئے خاص ضرر کو اپنایا جاسکتاہے۔ت)
یہاں چند روزہ خفیف ضرر خاص چند اشخاص سے بچنے کو اتنا عظیم ضرر عام واضراراسلام مستمر ومدام گوارا کیااب سوا اس کے کیا کہئے کہ" یلیت قومی یعلمون(۲۶) " (کسی طرح میری قوم جانتی۔ت)
(۳۸)عموم وخصوص ضرر سے قطع نظرآخر اتنا تو عالم کو بھی اقرار ہے کہ اس میں ہتك حرمت اسلام ہے پھر کون سی شریعت ہے کہ بعض اشخاص کو قید سے چھڑانے کے لئے مسجدیں بھینٹ چڑھانا اور ان کی حرمتیں پامال کرانا اور اس پامالی کو نظیر مستمر بنانا حلال ہےزید کا باپ بیمار تھا اور بھائی کو زکامایك بڑاڈاکٹر جس کے ہاتھ میں اللہ عز وجل نے ان بیماریوں کا یقینی علاج رکھا تھا دور سے اسے سن کرآیااور آیا بھی کیسایہ کہتا آیا میں تمہارے لئے پیام شفا لایا ہوں اور خاص تصریحا برادر وپدر دونوں کا نام لے کر کہا کہ اسے بھی دوادوں گا اور اس کا بھی خاص توجہ سے پورا اطمینان بخش معالجہ کروں گابااینہمہ زید نے اپنے وہم خواہ کسی کمپوڈر کے کہنے سے یہ خیال دل میں پکا لیا کہ باپ جب تك زندہ ہے بھائی کو دوانہ دی جائیگیلہذا بھائی کازکام جانے کےلئے باپ کو قتل کردیاایسی صورت کو کیا کہیں گےیا نہ سہی یہی فرض کرلیجئے کہ ڈاکٹر نے وہ کچھ کہہ کر خود بھائی کے علاج کو باپ کی موت پر مشروط کردیاکیا اس صورت میں بھائی کا
یتحمل الضرر الخاص لاجل دفع الضرر العام ۔ عام ضررسے بچنے کے لئے خاص ضرر کو اپنایا جاسکتاہے۔ت)
یہاں چند روزہ خفیف ضرر خاص چند اشخاص سے بچنے کو اتنا عظیم ضرر عام واضراراسلام مستمر ومدام گوارا کیااب سوا اس کے کیا کہئے کہ" یلیت قومی یعلمون(۲۶) " (کسی طرح میری قوم جانتی۔ت)
(۳۸)عموم وخصوص ضرر سے قطع نظرآخر اتنا تو عالم کو بھی اقرار ہے کہ اس میں ہتك حرمت اسلام ہے پھر کون سی شریعت ہے کہ بعض اشخاص کو قید سے چھڑانے کے لئے مسجدیں بھینٹ چڑھانا اور ان کی حرمتیں پامال کرانا اور اس پامالی کو نظیر مستمر بنانا حلال ہےزید کا باپ بیمار تھا اور بھائی کو زکامایك بڑاڈاکٹر جس کے ہاتھ میں اللہ عز وجل نے ان بیماریوں کا یقینی علاج رکھا تھا دور سے اسے سن کرآیااور آیا بھی کیسایہ کہتا آیا میں تمہارے لئے پیام شفا لایا ہوں اور خاص تصریحا برادر وپدر دونوں کا نام لے کر کہا کہ اسے بھی دوادوں گا اور اس کا بھی خاص توجہ سے پورا اطمینان بخش معالجہ کروں گابااینہمہ زید نے اپنے وہم خواہ کسی کمپوڈر کے کہنے سے یہ خیال دل میں پکا لیا کہ باپ جب تك زندہ ہے بھائی کو دوانہ دی جائیگیلہذا بھائی کازکام جانے کےلئے باپ کو قتل کردیاایسی صورت کو کیا کہیں گےیا نہ سہی یہی فرض کرلیجئے کہ ڈاکٹر نے وہ کچھ کہہ کر خود بھائی کے علاج کو باپ کی موت پر مشروط کردیاکیا اس صورت میں بھائی کا
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الوقف فصل اختص المسجد باحکام مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۵،بحرالرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۵،الدررالحکام شرع غرر الاحکام کتاب الوقف مطبعۃاحمد کامل ۲/ ۱۳۶
الاشباہ والنظائر الفن الاول تنبیہ یحتمل ضرر الخاص لاجل دفع ضرر العام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۱۲۱
القرآن الکریم ۳۶ /۲۶
الاشباہ والنظائر الفن الاول تنبیہ یحتمل ضرر الخاص لاجل دفع ضرر العام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۱۲۱
القرآن الکریم ۳۶ /۲۶
زکام کھونے کو باپ کا قتل رواہے۔
(۳۹)استفسار یہ نہ تھا کہ ملزم شرط پر چھوٹے یا بلا شرطجس کا یہ جواب دیا گیابلکہ سوال یہ تھا کہ ان کی آزادی کے بعد اور کیا منازعت رہ گئی تھی جسے عالم نے قطع کیا اور کیونکر قطع کییہاں بھی بعض اصحاب نے استفسارات کو دیکھ کر کہا تھا کہ ان کی حکمت سمجھ میں نہ آئی کس کس غرض سے یہ امور دریافت کئےہیں ہمارے استفسار دوم کی حکمت اوپر معلوم ہوچکیاس سوم کا فائدہ یہ تھا کہ یہاں دو ہی نزاعیں تھیںگورنمنٹ کا ملزموں پر دعویمسلمانوں کو زمین پر دعوی۔گورنمنٹ نے عالم سے مصالحت کیمصالحت یك طرفہ تو تھی نہیں اور رہائی ملزمان کوئی فعل مشترك نہ تھاکہ فریقین نے کیااور طرفین سے قطع نزاع متحقق ہواوہ تو تنہا فعل گورنمنٹ تھا کہ خود ہی وہ اسے بجالائی اور اپنی طرف سے قطع نزاع کیاس کے بعد دوسری نزاع کیا تھی کہ ادھر سے قطع کی گئیلاجرم اس کا جواب یہی تھا کہ گورنمنٹ نے قیدی چھوڑے مسلمانوں نے مسجد چھوڑیولہذا سائل فاضل نے استفسار دوم کی طرح سوم کے جواب سے بھی پہلو تہی کی اور وہ زائد بات لکھ کر اس گول مبہم پر قناعت فرمائی کہ گورنمنٹ اور مسلمانوں سے مقدمات اور اس کے ضمن میں باہم کشیدگی ومنازعت تھی جس کو عالم نے قطع کردیا۔سوال تھا منازعت کیا تھی کیونکر قطع کیجواب ہوا کہ تھی اور قطع کی غرض یہاں کے بعض اصحاب فائدہ استفسارات نہ سمجھیں مگر سائل فاضل نے خوب سمجھا اور اپنی احتیاط کا حق ادا کیا۔
متعلق جواب استفسار چہارم
قبضہ کی کافی بحث اوپر گزری کہ زمین پر قبضہ دینا نہ ٹھہرا بلکہ ہواپر۔
(۴۰)[زعم حصول قبضہ کا رد]رہا ممبروں کا کہنا ہم عمارت کی اجازت دیں گے جو قانونا وعرفا قبضہ ہے اگرچہ گورنر جنرل لفط قبضہ کو اپنی زبان سے نہ کہیںشرعا راستہ پر چھجا نکالنے چھتا پاٹنے کاہر شخص کواختیار ہے اگر کوچہ غیر نافذہ ہو تو سب اہل کوچہ کی اجازت سےاور شارع عام ہوتو سلطان کی اجازت سے بلکہ بلااجازت سلطان بھی نکالنے سے گنہگار نہ ہوگا اگرچہ مزاحمت کے بعد تار دینا واجب ہوگا۔عالمگیری میں ہے:
ان اراد احداث الظلۃ فی سکۃ غیر نافذۃ یعتبر فیہ الاذن من اھل السکۃ وھل یباح احداث الظلۃ علی طریق العامۃ ذکر الطحاوی انہ یباح ولایاثم قبل ان یخاصمہ احدوبعد المخاصمۃ لایباح الاحداث والانتفاع ویاثم بترك الظلۃ کذافی الفصول العمادیۃولیس لاحد من اھل الدرب الذی ھو غیر نا فذ ان یشرع کنیفا ولامیزابا باذن جمیع اھل الدرب اضر ذلك بھم اولم یضرھکذا فی الخلاصۃ ۔
اگر کوئی بندگلی میں چھتہ بنانا چاہے تو گلی والوں کی اجازت معتبر ہوگیاور کیا شارع عام پر کوئی چھتہ بناسکتا ہےتو امام طحاوی نے مباح کہا ہے اور اس وقت تك گنہگار نہ ہوگا جب تك کوئی مخاصمت نہ کرے اور مخاصمت کے
(۳۹)استفسار یہ نہ تھا کہ ملزم شرط پر چھوٹے یا بلا شرطجس کا یہ جواب دیا گیابلکہ سوال یہ تھا کہ ان کی آزادی کے بعد اور کیا منازعت رہ گئی تھی جسے عالم نے قطع کیا اور کیونکر قطع کییہاں بھی بعض اصحاب نے استفسارات کو دیکھ کر کہا تھا کہ ان کی حکمت سمجھ میں نہ آئی کس کس غرض سے یہ امور دریافت کئےہیں ہمارے استفسار دوم کی حکمت اوپر معلوم ہوچکیاس سوم کا فائدہ یہ تھا کہ یہاں دو ہی نزاعیں تھیںگورنمنٹ کا ملزموں پر دعویمسلمانوں کو زمین پر دعوی۔گورنمنٹ نے عالم سے مصالحت کیمصالحت یك طرفہ تو تھی نہیں اور رہائی ملزمان کوئی فعل مشترك نہ تھاکہ فریقین نے کیااور طرفین سے قطع نزاع متحقق ہواوہ تو تنہا فعل گورنمنٹ تھا کہ خود ہی وہ اسے بجالائی اور اپنی طرف سے قطع نزاع کیاس کے بعد دوسری نزاع کیا تھی کہ ادھر سے قطع کی گئیلاجرم اس کا جواب یہی تھا کہ گورنمنٹ نے قیدی چھوڑے مسلمانوں نے مسجد چھوڑیولہذا سائل فاضل نے استفسار دوم کی طرح سوم کے جواب سے بھی پہلو تہی کی اور وہ زائد بات لکھ کر اس گول مبہم پر قناعت فرمائی کہ گورنمنٹ اور مسلمانوں سے مقدمات اور اس کے ضمن میں باہم کشیدگی ومنازعت تھی جس کو عالم نے قطع کردیا۔سوال تھا منازعت کیا تھی کیونکر قطع کیجواب ہوا کہ تھی اور قطع کی غرض یہاں کے بعض اصحاب فائدہ استفسارات نہ سمجھیں مگر سائل فاضل نے خوب سمجھا اور اپنی احتیاط کا حق ادا کیا۔
متعلق جواب استفسار چہارم
قبضہ کی کافی بحث اوپر گزری کہ زمین پر قبضہ دینا نہ ٹھہرا بلکہ ہواپر۔
(۴۰)[زعم حصول قبضہ کا رد]رہا ممبروں کا کہنا ہم عمارت کی اجازت دیں گے جو قانونا وعرفا قبضہ ہے اگرچہ گورنر جنرل لفط قبضہ کو اپنی زبان سے نہ کہیںشرعا راستہ پر چھجا نکالنے چھتا پاٹنے کاہر شخص کواختیار ہے اگر کوچہ غیر نافذہ ہو تو سب اہل کوچہ کی اجازت سےاور شارع عام ہوتو سلطان کی اجازت سے بلکہ بلااجازت سلطان بھی نکالنے سے گنہگار نہ ہوگا اگرچہ مزاحمت کے بعد تار دینا واجب ہوگا۔عالمگیری میں ہے:
ان اراد احداث الظلۃ فی سکۃ غیر نافذۃ یعتبر فیہ الاذن من اھل السکۃ وھل یباح احداث الظلۃ علی طریق العامۃ ذکر الطحاوی انہ یباح ولایاثم قبل ان یخاصمہ احدوبعد المخاصمۃ لایباح الاحداث والانتفاع ویاثم بترك الظلۃ کذافی الفصول العمادیۃولیس لاحد من اھل الدرب الذی ھو غیر نا فذ ان یشرع کنیفا ولامیزابا باذن جمیع اھل الدرب اضر ذلك بھم اولم یضرھکذا فی الخلاصۃ ۔
اگر کوئی بندگلی میں چھتہ بنانا چاہے تو گلی والوں کی اجازت معتبر ہوگیاور کیا شارع عام پر کوئی چھتہ بناسکتا ہےتو امام طحاوی نے مباح کہا ہے اور اس وقت تك گنہگار نہ ہوگا جب تك کوئی مخاصمت نہ کرے اور مخاصمت کے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الجنایات الباب الحادی عشر فی جنایۃ الحائط نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۰
بعد نہ بنانا مباح ہوگااور نہ ہی اس سے انتفاع جائز ہوگا اور اس کو باقی رکھنے سے گنہگارہو گاجیساکہ فصول عمادیہ میں ہےاور کسی کوتنگ بندگلی میں کوڑا ڈالنا اور پر نالہ لگانا گلی والوں کی اجازت کے بغیر جائز نہیں خواہ گلی والوں کو ضرر ہو یا نہ ہوخلاصہ میں یونہی ہے۔(ت)
اور غالبا انگریزی قانون میں بھی چونگی اجازت سے ایسا ہوسکتا ہے اسے کوئی عاقل راہ یا سڑك کی زمین پر قبضہ نہ کہے گا اور دور کیوں جائیے لکھنو میں بام نشینان بازار کی کثرت سنی جاتی ہے شرعا عرفا قانونا کسی طرح وہ دکانوں پرقابض نہیں۔
(۴۱)جواب ایڈریس کا وہ جملہ کہ میں اس کو کچھ وقیع والم نہیں خیال کرتا کہ زمین کس کے قبضہ میں رہے گیاس کے سمجھنے میں بہت غلطی کی گئی بحث قبضہ وقیع نہیں یعنی فضول ہے اس کی دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ قبضہ کسی خاص کا ہو اس سے ہمیں غرض نہیں۔دوسرے یہ کہ ہم کسی خاص قبضہ کو ہر گز روا نہ رکھیں گےلہذا اس کی بحث فضول ہےوہ بات کہ اگرچہ گورنر جنرل لفط قبضہ کو اپنی زبان سے نہ کہیں معنی اول بتاتی ہے حالانکہ مراد قطعا معنی ثانی میں ہے کہ اس کے متصل ہیجواب ایڈریس میں ہے مگر یہ ضرور ی ہے کہ عام پبلك اور نمازی اسے بطور سڑك کے استعمال کرنے کے مجا ز ہوں یعنی قبضہ عام ہونا ضروری ہے خصوصیت کی بحث لایعنی ہےتو ذکر نفی قبضہ کو نفی ذکر قبضہ پر حمل کرناصریح مغالطہ یا کھلی غلطی ہے۔ممبر متعینہ نے صاف صاف کہہ دیا کہ یہی قبضہ ہے یعنی ا ور میں نے مان لیا کہ سالبہ مراد ف موجبہ ہے ایسا قبضہ عالم صاحب یا کوئی مسلمان ممبر صاحب اپنے گھر کے لئے بھی گواراکریں گے یا یہ خاص اللہ عزجلالہ کے گھر کے لئے ہے غرضکہ قبضہ خود ممبر متعینہ کی زبان سے طے کرالیا۔جی نہیں بلکہ خود اپنی زبان سے قبضہ کا قضیہ طے کردیا کہ چھت ہماری اور مسجد کی زمین پر سڑك جاریلاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
اور غالبا انگریزی قانون میں بھی چونگی اجازت سے ایسا ہوسکتا ہے اسے کوئی عاقل راہ یا سڑك کی زمین پر قبضہ نہ کہے گا اور دور کیوں جائیے لکھنو میں بام نشینان بازار کی کثرت سنی جاتی ہے شرعا عرفا قانونا کسی طرح وہ دکانوں پرقابض نہیں۔
(۴۱)جواب ایڈریس کا وہ جملہ کہ میں اس کو کچھ وقیع والم نہیں خیال کرتا کہ زمین کس کے قبضہ میں رہے گیاس کے سمجھنے میں بہت غلطی کی گئی بحث قبضہ وقیع نہیں یعنی فضول ہے اس کی دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ قبضہ کسی خاص کا ہو اس سے ہمیں غرض نہیں۔دوسرے یہ کہ ہم کسی خاص قبضہ کو ہر گز روا نہ رکھیں گےلہذا اس کی بحث فضول ہےوہ بات کہ اگرچہ گورنر جنرل لفط قبضہ کو اپنی زبان سے نہ کہیں معنی اول بتاتی ہے حالانکہ مراد قطعا معنی ثانی میں ہے کہ اس کے متصل ہیجواب ایڈریس میں ہے مگر یہ ضرور ی ہے کہ عام پبلك اور نمازی اسے بطور سڑك کے استعمال کرنے کے مجا ز ہوں یعنی قبضہ عام ہونا ضروری ہے خصوصیت کی بحث لایعنی ہےتو ذکر نفی قبضہ کو نفی ذکر قبضہ پر حمل کرناصریح مغالطہ یا کھلی غلطی ہے۔ممبر متعینہ نے صاف صاف کہہ دیا کہ یہی قبضہ ہے یعنی ا ور میں نے مان لیا کہ سالبہ مراد ف موجبہ ہے ایسا قبضہ عالم صاحب یا کوئی مسلمان ممبر صاحب اپنے گھر کے لئے بھی گواراکریں گے یا یہ خاص اللہ عزجلالہ کے گھر کے لئے ہے غرضکہ قبضہ خود ممبر متعینہ کی زبان سے طے کرالیا۔جی نہیں بلکہ خود اپنی زبان سے قبضہ کا قضیہ طے کردیا کہ چھت ہماری اور مسجد کی زمین پر سڑك جاریلاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
متعلق جواب استفسار پنجم
(۴۲)[مصالحت اس پر کی کہ مسجد مسجد کیا بلکہ وقف بھی نہ ٹھہرے] عالم کی پیش کردہ دوسری تجویز جس پر فیصلہ ہوا تقریر مذکورعالم میں صرف ان لفظو ں سے ہے:اس وقت میں نے یہ صورت پیش کی کہ سردست ہم کو دالان کی چھت پرقبضہ دے دیں الخاس میں کہیں کسی کی ملك نہ ہونے کا تذکرہ نہیں مگر سائل نے اسے ان لفظوں سے بیان کیا تھا کہ بعد رد وقدح عالم کی رائے سے طے پایا ہے کہ سردست ملك اس زمین پر کسی کی ثابت نہ کی جائے کیوں کہ مسلمانوں کے نزدیك یہ وقف ہے قبضہ زمین پر مسلمانوں کا دلایا جائےاس پر یہ استفسار پنجم تھا کہ یہ کسی کی ملك ثابت نہ ہونے کی قرار داد صرف عالم کے متخیلہ میں رہا یا باتفاق فریقین طے ہوا اس کا یہ جواب ہے کہ زمین کی ملکیت گورنمنٹ اپنی ہی سمجھتی تھی ممبر سے عالم نے صاف کہہ دیا اور کہلوالیا کہ ملك وقف میں کسی کےلئے نہیں ہوتی اور اسی واسطے ہم اپنے لئے بھی ثابت کرنے کے درپے نہیں۔اس جواب میں بہت خلط مبحث ہے۔ملك کا اطلاق دو۲ معنی پر آتا ہے اول اختصاص مانع کہ ابتداء اس کے لئے قدرت تصرف شرعی ثابت کرے اور اس کے غیر کو بے اس کی اجازت کے تصرف سے مانع ہو جیسے زید کا مکان زید کی ملك ہےفتح القدیر میں ہے:
الملك ھو قدرۃ یثبتھا الشارع ابتداء علی التصرف فخرج نحوالوکیل ۔
ملکیت وہ قدرت ہے جسے شارع نے تصرف کے لئے ابتداء ثابت کیا ہو تووکیل جیسے تصرف خارج ہوگئے(ت)
اشباہ میں ہے:
وعرفہ فی الحاوی القدسی بانہ الاختصاص الحاجز ۔
اورحاوی قدسی نے اس کی تعریف یوں کی ہے وہ اختصاص جو دوسرے کی مداخلت سے مانع ہو۔(ت)
باینمعنی تمام اوقاف علی الصحیح المفتی بہ اور خصوصا مساجد باجماع امت اللہ عز وجل کے سوا کسی کی ملك نہیںقال اﷲ تعالی " و ان المسجد للہ" (اﷲ تعالی نے فرمایا:اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ت)۲دوم بمعنی قدرت تصرف شرعی عنایہ میں ہے:الملك ھو القدرۃ علی
(۴۲)[مصالحت اس پر کی کہ مسجد مسجد کیا بلکہ وقف بھی نہ ٹھہرے] عالم کی پیش کردہ دوسری تجویز جس پر فیصلہ ہوا تقریر مذکورعالم میں صرف ان لفظو ں سے ہے:اس وقت میں نے یہ صورت پیش کی کہ سردست ہم کو دالان کی چھت پرقبضہ دے دیں الخاس میں کہیں کسی کی ملك نہ ہونے کا تذکرہ نہیں مگر سائل نے اسے ان لفظوں سے بیان کیا تھا کہ بعد رد وقدح عالم کی رائے سے طے پایا ہے کہ سردست ملك اس زمین پر کسی کی ثابت نہ کی جائے کیوں کہ مسلمانوں کے نزدیك یہ وقف ہے قبضہ زمین پر مسلمانوں کا دلایا جائےاس پر یہ استفسار پنجم تھا کہ یہ کسی کی ملك ثابت نہ ہونے کی قرار داد صرف عالم کے متخیلہ میں رہا یا باتفاق فریقین طے ہوا اس کا یہ جواب ہے کہ زمین کی ملکیت گورنمنٹ اپنی ہی سمجھتی تھی ممبر سے عالم نے صاف کہہ دیا اور کہلوالیا کہ ملك وقف میں کسی کےلئے نہیں ہوتی اور اسی واسطے ہم اپنے لئے بھی ثابت کرنے کے درپے نہیں۔اس جواب میں بہت خلط مبحث ہے۔ملك کا اطلاق دو۲ معنی پر آتا ہے اول اختصاص مانع کہ ابتداء اس کے لئے قدرت تصرف شرعی ثابت کرے اور اس کے غیر کو بے اس کی اجازت کے تصرف سے مانع ہو جیسے زید کا مکان زید کی ملك ہےفتح القدیر میں ہے:
الملك ھو قدرۃ یثبتھا الشارع ابتداء علی التصرف فخرج نحوالوکیل ۔
ملکیت وہ قدرت ہے جسے شارع نے تصرف کے لئے ابتداء ثابت کیا ہو تووکیل جیسے تصرف خارج ہوگئے(ت)
اشباہ میں ہے:
وعرفہ فی الحاوی القدسی بانہ الاختصاص الحاجز ۔
اورحاوی قدسی نے اس کی تعریف یوں کی ہے وہ اختصاص جو دوسرے کی مداخلت سے مانع ہو۔(ت)
باینمعنی تمام اوقاف علی الصحیح المفتی بہ اور خصوصا مساجد باجماع امت اللہ عز وجل کے سوا کسی کی ملك نہیںقال اﷲ تعالی " و ان المسجد للہ" (اﷲ تعالی نے فرمایا:اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ت)۲دوم بمعنی قدرت تصرف شرعی عنایہ میں ہے:الملك ھو القدرۃ علی
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۵۶
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملک ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۰۲
القرآن الکریم ۷۲ /۱۸
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملک ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۰۲
القرآن الکریم ۷۲ /۱۸
التصرف فی المحل شرعا (ملکیتیہ محل تصرف شرعی کی قدرت ہے۔ت)بایں معنی متولی کو مالك اوقاف کہہ سکتے ہیں۔
خزانۃ المفتین وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لوادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح من الجواب ان کان دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ ۔
اگر پہلے محدود رقبہ کا دعوی اپنے لئے کیا پھر وقف ہونے کا دعوی کیا توصحیح جواب یہ ہے کہ اگر وقف کادعوی تولیت کی بناء پر کیا تو پھر اس کے دونوں دعووں میں موافقت پیدا کی جاسکتی ہے کیونکہ عادتا وقف متولی کی طرف تصرف اور منازعت میں منسوب ہوتاہے(ت)
یہ دونوں معنی خود اسی جواب استفسار میں موجوداول کہا:ملك وقف میں کسی کے لئے نہیں ہوتی۔اس کے متصل ہی اپنے مشیر قانونی کا قول نقل کیا کہ ہماری ملك غصب سے نہیں چلی گئی۔ظاہر ہے کہ گورنمنٹ ہر گز کسی وقت اس حصہ مسجد میں اپنی ملك بمعنی اول کی مدعی نہ ہوئی اس پر یہ کبھی نہ کہا گیا کہ یہ گورنمنٹی زمین ہے تم نے اسے مسجد کرلیا تھا اب گورنمنٹ اسے واپس لیتی ہے بلکہ دعوی اگر تھا تو اختیار تصرف کا اس کی نفی امر طے شدہ میں نہ ہرگز عالم نے کی نہ ممبر سے کہلوالی نہ صاف ناصاف بلکہ صاف صاف اس کے اثبات پر فیصلہ ہواکہ یہ امر ضروری ہے کہ عام پبلك الخ۔
(۴۳)ہر قوم اپنی اصطلاح پر کلام کرتی اورسمجھتی ہے قانون اور اہل قانون کی اصطلاح میں زمین مسجد یا وقف مسجد کو ملك مسجد کہتے ہیں بلکہ اس اصطلاح کا پتا شرع مطہر میں بھی ہے۔واقعات حسامیہ و خزانۃ المفتین وفتاوی ہندیہ میں ہے:
لایمکن تصحیحہ تملیکا بالھبۃ للمسجد فاثبات الملك للمسجد علی ھذا الوجہ صحیح ۔
مسجد کو ہبہ کرنے سے تملیك کی تصحیح ممکن نہیں جبکہ اس طریقہ سے مسجد کے لئے ملکیت کا اثبات صحیح ہے(ت)
تویہ طے کرنا ملك اس زمین پر کسی کی نہ ثابت کی جائے یہ طے کرنا ہے اسے مسجد کی شے نہ مانا جائے
خزانۃ المفتین وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لوادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح من الجواب ان کان دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ ۔
اگر پہلے محدود رقبہ کا دعوی اپنے لئے کیا پھر وقف ہونے کا دعوی کیا توصحیح جواب یہ ہے کہ اگر وقف کادعوی تولیت کی بناء پر کیا تو پھر اس کے دونوں دعووں میں موافقت پیدا کی جاسکتی ہے کیونکہ عادتا وقف متولی کی طرف تصرف اور منازعت میں منسوب ہوتاہے(ت)
یہ دونوں معنی خود اسی جواب استفسار میں موجوداول کہا:ملك وقف میں کسی کے لئے نہیں ہوتی۔اس کے متصل ہی اپنے مشیر قانونی کا قول نقل کیا کہ ہماری ملك غصب سے نہیں چلی گئی۔ظاہر ہے کہ گورنمنٹ ہر گز کسی وقت اس حصہ مسجد میں اپنی ملك بمعنی اول کی مدعی نہ ہوئی اس پر یہ کبھی نہ کہا گیا کہ یہ گورنمنٹی زمین ہے تم نے اسے مسجد کرلیا تھا اب گورنمنٹ اسے واپس لیتی ہے بلکہ دعوی اگر تھا تو اختیار تصرف کا اس کی نفی امر طے شدہ میں نہ ہرگز عالم نے کی نہ ممبر سے کہلوالی نہ صاف ناصاف بلکہ صاف صاف اس کے اثبات پر فیصلہ ہواکہ یہ امر ضروری ہے کہ عام پبلك الخ۔
(۴۳)ہر قوم اپنی اصطلاح پر کلام کرتی اورسمجھتی ہے قانون اور اہل قانون کی اصطلاح میں زمین مسجد یا وقف مسجد کو ملك مسجد کہتے ہیں بلکہ اس اصطلاح کا پتا شرع مطہر میں بھی ہے۔واقعات حسامیہ و خزانۃ المفتین وفتاوی ہندیہ میں ہے:
لایمکن تصحیحہ تملیکا بالھبۃ للمسجد فاثبات الملك للمسجد علی ھذا الوجہ صحیح ۔
مسجد کو ہبہ کرنے سے تملیك کی تصحیح ممکن نہیں جبکہ اس طریقہ سے مسجد کے لئے ملکیت کا اثبات صحیح ہے(ت)
تویہ طے کرنا ملك اس زمین پر کسی کی نہ ثابت کی جائے یہ طے کرنا ہے اسے مسجد کی شے نہ مانا جائے
حوالہ / References
العنایۃ علی ٰ ہامش فتح القدیر کتاب البیوع مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۵۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب السادس فی الدعوی الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۳۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فے المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۰
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب السادس فی الدعوی الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۳۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فے المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۰
اور اب یہ کہنا ضرورصحیح ہے کہ چنانچہ گورنمنٹ نے ایسا ہی کیا۔
متعلق جواب استفسار ششم
(۴۴)یہاں"سردست"کے معنی جس حکمت کے لئے دریافت کئے تھے وہ کار گر ہوئی بتانا پڑا کہ سردست کے معنی ممبر متعینہ سے صاف کہہ دئے گئے کہ ہم تخلیص شرکت مرور کے لئے ہمیشہ چارہ جوئی کرتے رہیں گےیعنی اس وقت ہماری یا مسجد کی ملك ثابت ہوجائے گی فی الحال کسی کی نہ رکھو تو صاف کھل گیا کہ ملك سے وہی معنی مراد لئے جو اصطلاح قانون ہے یا معنی دوم بہر حال مطلب یہ ہواکہ فی الحال زمین مسجد کو وقف نہ ٹھہرایا جائے آئندہ ہم کوشش کرینگے کہ وقف قرار پائے ایك اسلامی عالم کہ الہی گھر کی حمایت کی حمایت کو چلا ہو اس کے لئے اس سے زیادہ شنیع بات اور کیا ہوگی کہ اپنے منہ سے مسجد درکنار سرے سے فی الحال اسے وقف ہی نہ ٹھہرانے کی تجویز پیش کرے۔رہی آئندہ کی کوشش اس کا مفصل حال اوپر گزرا کہ یہ محض نہا ں خانہ خیال میں رہا یا کہا اور منظور نہ ہو اا س کا قرارداد ہر گز نہ ہوا اور جوکچھ برائے گفتن تھا تصفیہ ہوتے ہی اسے خود ہی منسوخ و ممسوح کردیا اور اس کا خیال تك مسلمانوں کے دلوں سے چھیل ڈالنے کا پور اذمہ لیا فاعتبروایاولی الابصارممبر متعینہ نے یہ بھی صاف صاف کہہ دیا کہ جب قانون بن جائے گا تو خواہ نخواہ یہ مسئلہ بھی طے ہوجائے گا۔جی مسئلہ تو ابھی طے ہوگیا اور وہی قانون کےلئے مادہ ہوگیا دیکھو نمبر۲۶تا۳۰ہم اس وقت اس خواہش کوپورا نہیں کرسکتے یعنی مسجد کو مسجد بالائے طاق وقف بھی نہیں مان سکتے۔یہ ہے جو عالم نے طے کیا ہے۔فاناﷲ وانا الیہ رجعون۔
متعلق جواب استفسار ہفتم
(۴۵)[یہ مصالحت ایك شخصی کارروائی ہے اور اس کے روشن ثبوت ] یہا ں تك بعض استفسار وں کے منشا کو سائل فاضل نے سمجھ لیا اور جواب سے اعراض یاابہام کی طرف عدول کیا جیسے استفسار دوم وسوم اور باقی میں جواب صحیح کی راہ ہی نہ تھی ان میں طریق اعتذار لیا اور بن نہ پڑا۔اس ہفتم میں بظاہر منشاء سوال خیال میں نہ آیامنشایہ تھا کہ عالم نے جس بات پر فیصلہ کیا قطعا اسی کے اقرار سے خلاف احکام وہتك حرمت اسلام ہے۔اب الزام کے لئے تین صورتیں ہیں:ایك معافی وہ صورت جبر واکراہ شرعی ہےیہ استفسار کی شق اول تھی کہ عالم کو گورنمنٹ نے حکما مجبو ر کیا۔دوم اشترك کہ الزام تام ہے مگر نہ صرف عالم بلکہ عام مسلمانان ذی تعلق پر جبکہ انہوں نے اس کارروائی کے لئے عالم کو وکیل بناکر بھیجا ہو یہ دوسری شق تھی کہ یا
متعلق جواب استفسار ششم
(۴۴)یہاں"سردست"کے معنی جس حکمت کے لئے دریافت کئے تھے وہ کار گر ہوئی بتانا پڑا کہ سردست کے معنی ممبر متعینہ سے صاف کہہ دئے گئے کہ ہم تخلیص شرکت مرور کے لئے ہمیشہ چارہ جوئی کرتے رہیں گےیعنی اس وقت ہماری یا مسجد کی ملك ثابت ہوجائے گی فی الحال کسی کی نہ رکھو تو صاف کھل گیا کہ ملك سے وہی معنی مراد لئے جو اصطلاح قانون ہے یا معنی دوم بہر حال مطلب یہ ہواکہ فی الحال زمین مسجد کو وقف نہ ٹھہرایا جائے آئندہ ہم کوشش کرینگے کہ وقف قرار پائے ایك اسلامی عالم کہ الہی گھر کی حمایت کی حمایت کو چلا ہو اس کے لئے اس سے زیادہ شنیع بات اور کیا ہوگی کہ اپنے منہ سے مسجد درکنار سرے سے فی الحال اسے وقف ہی نہ ٹھہرانے کی تجویز پیش کرے۔رہی آئندہ کی کوشش اس کا مفصل حال اوپر گزرا کہ یہ محض نہا ں خانہ خیال میں رہا یا کہا اور منظور نہ ہو اا س کا قرارداد ہر گز نہ ہوا اور جوکچھ برائے گفتن تھا تصفیہ ہوتے ہی اسے خود ہی منسوخ و ممسوح کردیا اور اس کا خیال تك مسلمانوں کے دلوں سے چھیل ڈالنے کا پور اذمہ لیا فاعتبروایاولی الابصارممبر متعینہ نے یہ بھی صاف صاف کہہ دیا کہ جب قانون بن جائے گا تو خواہ نخواہ یہ مسئلہ بھی طے ہوجائے گا۔جی مسئلہ تو ابھی طے ہوگیا اور وہی قانون کےلئے مادہ ہوگیا دیکھو نمبر۲۶تا۳۰ہم اس وقت اس خواہش کوپورا نہیں کرسکتے یعنی مسجد کو مسجد بالائے طاق وقف بھی نہیں مان سکتے۔یہ ہے جو عالم نے طے کیا ہے۔فاناﷲ وانا الیہ رجعون۔
متعلق جواب استفسار ہفتم
(۴۵)[یہ مصالحت ایك شخصی کارروائی ہے اور اس کے روشن ثبوت ] یہا ں تك بعض استفسار وں کے منشا کو سائل فاضل نے سمجھ لیا اور جواب سے اعراض یاابہام کی طرف عدول کیا جیسے استفسار دوم وسوم اور باقی میں جواب صحیح کی راہ ہی نہ تھی ان میں طریق اعتذار لیا اور بن نہ پڑا۔اس ہفتم میں بظاہر منشاء سوال خیال میں نہ آیامنشایہ تھا کہ عالم نے جس بات پر فیصلہ کیا قطعا اسی کے اقرار سے خلاف احکام وہتك حرمت اسلام ہے۔اب الزام کے لئے تین صورتیں ہیں:ایك معافی وہ صورت جبر واکراہ شرعی ہےیہ استفسار کی شق اول تھی کہ عالم کو گورنمنٹ نے حکما مجبو ر کیا۔دوم اشترك کہ الزام تام ہے مگر نہ صرف عالم بلکہ عام مسلمانان ذی تعلق پر جبکہ انہوں نے اس کارروائی کے لئے عالم کو وکیل بناکر بھیجا ہو یہ دوسری شق تھی کہ یا
مسلمانوں نے اپنی طرف سے مامور کیا اور اس میں عالم کا نفع یہ تھا کہ اگرچہ کبیرہ شدیدہ واقع ہوا مگر اوروں کو عالم پر سخت شنیع ملامتیں کرنے کا(جن کی شکایت اس سوال کے ساتھ خط میں آئی)موقع نہ ہوگا کہ وہ خود بھی اسی بلا میں مبتلاہیں۔سوم عالم ومن معہ کا انفراد اور اضرار اسلام میں استبدادیہ تیسری شق تھی کہ یا وہ بطور خود گیااس کے جواب میں دو شق اخیر کی صراحۃ اور اول کی ضمنا نفی کی کہ عالم کو عام مسلمانوں نے طلب نہ کیا نہ وہ از خود گیا بلکہ مقدمہ کانپور کے کارکنوں نے باصرار بلایایہاں سے ظاہر کہ وہ کارکن عام مسلمانوں کے صحیح نائب مناب نہ تھے ورنہ ان کا بلانا عام مسلمانوں کا طلب کرنا کیوں نہ ہوتا اور جب ایسے نہ تھے اور معاملہ عام مسلمانوں کا تھا نہ کہ تنہا ان خاص کاتو خاص کے بلائے پر جانا عام کا قائم مقام کیونکر کردے گاتو مآل وہی ہوا کہ خود گیا۔
(۴۶)بالفرض وہ کارکن عام مسلمین کے صحیح قائم مقام تھے یا خود عام مسلمانوں نے عالم کو بھیجا تو کیا انہوں نے کہہ دیا تھا کہ اصل معاملہ پر پانی پھیر دینا فیصلہ پر ایك نظر میں مسلمانوں سے گفتگو اور عالموں سے مشورہ تك توصرف تدبیر اول تھی بھیجنے والوں نے اسی کے لئے بھیجا تھاجب ممبر نے اسے نامنظور کیا عالم کی وکالت ختم ہوچکیاسے اپنی رائے سے ایسی تدبیر حرام وخلاف احکام وہتك اسلام نکالنے اور اسے مسلمانوں کے سر ڈالنے کا کیا اختیار تھالاجرم اشتراك ہرگز نہیں بلکہ اضرار اسلام میں استبداد ہے پھر ملامت مسلمانان کی شکایت کیوں
تنکی المحب وتشکو وھی ظالمۃ کالقوس تصمی الرمایاوھی مرنان
(محب کو ہلاك کرتی ہے اور شکایت کرتی ہے حالانکہ خود ظالم ہے کمان کی طرح کہ تیر ہلاك کریں اور یہ جنبش دے)
(۴۷)عالم نے خود ممبر سے یہ کہہ کر کہ میرا کام مسئلہ بتادینے کاہے خداکے گھر کا معاملہ ہے میرا گھر نہیں الخ اور تقریر عالم میں ہے احکام مذہبی میں کچھ نہیں دخل دے سکتا اگر رضامندی نہیں ہوتی حکام کو اختیار ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتااپنی وکالت کو ختم کردیا تھاپھر خودرائی کا اسے کیا اختیار تھا اس کا عذر یہ بتایا ہے کہ مگر ممبر متعینہ نے کہا ہم کو تمہاری رائے پر اعتماد ہے ہم علماء کی مجلس جمع نہ کریں گے تم اپنی رائے کہہ دو۔الحمد ﷲ ظاہر ہوگیا کہ اب یہاں سے عام مسلمانوں کا وکیل نہ تھا بلکہ فریق ثانی کا جس نے اس پر اعتماد کیاتو اس کی یہ کارروائی ہر گز مسلمانوں کی نہیں ٹھہرسکتی بلکہ ایك وکیل گورنمنٹ بلکہ ایك وکیل ممبر کی کارروائی ہے جس کا اثر صرف ممبر کی ذات تك محدود ہے۔
(۴۸)علماء سے مشورہ نہ لینے کو ممبر کے سر رکھا جاتا ہے مگر فیصلہ پر ایك نظر کی تقریر تو صاف کہہ رہی ہے کہ عالم خود ہی اس سے بازرہا اور بالقصد اس سے انحراف اور اپنی رائے پر توکل کیا تقریر مذکور میں ہے
(۴۶)بالفرض وہ کارکن عام مسلمین کے صحیح قائم مقام تھے یا خود عام مسلمانوں نے عالم کو بھیجا تو کیا انہوں نے کہہ دیا تھا کہ اصل معاملہ پر پانی پھیر دینا فیصلہ پر ایك نظر میں مسلمانوں سے گفتگو اور عالموں سے مشورہ تك توصرف تدبیر اول تھی بھیجنے والوں نے اسی کے لئے بھیجا تھاجب ممبر نے اسے نامنظور کیا عالم کی وکالت ختم ہوچکیاسے اپنی رائے سے ایسی تدبیر حرام وخلاف احکام وہتك اسلام نکالنے اور اسے مسلمانوں کے سر ڈالنے کا کیا اختیار تھالاجرم اشتراك ہرگز نہیں بلکہ اضرار اسلام میں استبداد ہے پھر ملامت مسلمانان کی شکایت کیوں
تنکی المحب وتشکو وھی ظالمۃ کالقوس تصمی الرمایاوھی مرنان
(محب کو ہلاك کرتی ہے اور شکایت کرتی ہے حالانکہ خود ظالم ہے کمان کی طرح کہ تیر ہلاك کریں اور یہ جنبش دے)
(۴۷)عالم نے خود ممبر سے یہ کہہ کر کہ میرا کام مسئلہ بتادینے کاہے خداکے گھر کا معاملہ ہے میرا گھر نہیں الخ اور تقریر عالم میں ہے احکام مذہبی میں کچھ نہیں دخل دے سکتا اگر رضامندی نہیں ہوتی حکام کو اختیار ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتااپنی وکالت کو ختم کردیا تھاپھر خودرائی کا اسے کیا اختیار تھا اس کا عذر یہ بتایا ہے کہ مگر ممبر متعینہ نے کہا ہم کو تمہاری رائے پر اعتماد ہے ہم علماء کی مجلس جمع نہ کریں گے تم اپنی رائے کہہ دو۔الحمد ﷲ ظاہر ہوگیا کہ اب یہاں سے عام مسلمانوں کا وکیل نہ تھا بلکہ فریق ثانی کا جس نے اس پر اعتماد کیاتو اس کی یہ کارروائی ہر گز مسلمانوں کی نہیں ٹھہرسکتی بلکہ ایك وکیل گورنمنٹ بلکہ ایك وکیل ممبر کی کارروائی ہے جس کا اثر صرف ممبر کی ذات تك محدود ہے۔
(۴۸)علماء سے مشورہ نہ لینے کو ممبر کے سر رکھا جاتا ہے مگر فیصلہ پر ایك نظر کی تقریر تو صاف کہہ رہی ہے کہ عالم خود ہی اس سے بازرہا اور بالقصد اس سے انحراف اور اپنی رائے پر توکل کیا تقریر مذکور میں ہے
میں نے چاہاکہ عام طور پر علماسے مشورہ لوں مگر مجھے اخفائے راز کی ذمہ داری اس سے مانع ہوئی اپنا ذاتی خانگی معاملہ ہوتا تو ایك بات تھی عام مسلمانوں کا معاملہ اور انہیں سے اخفاء گورنمنٹ کا اگر کوئی راز تھا تو کیا ضرورتھا کہ گورنمنٹ کا نام لیا جاتا اس کا کوئی خفیہ ارادہ ظاہر کیا جا تا دربارہ مسئلہ علما ء سے استشارہ کہ فلاں صورت کا کیا حکم ہے کون سا افشائے راز تھا شرعی مسئلہ اورخاص حرمت اسلام سے متعلق اور عام مسلمانوں سے اس کا تعلق اور راز کی کوٹھری میں بند۔بحمداﷲ یہ توصاف ہوگیا کہ ایك شخص کی شخصی کارروائی ہے جس میں نہ عام مسلمان شریك نہ علماء کو خبرایسی کارروائی جس قابل ہے ظاہر ہے۔
(۴۹)آگے ممبر کا قول لکھا ہم بالکل گفتگو منقطع کرتے ہیں اور صرف ایك گھنٹے کی مہلت ہے یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جلدی کی اور مہلت نہ دی اور گھبرالیا اس لئے ہم نے مسجد نہ ایك مسجد بلکہ ہندوستان کی سب مسجدیں نذرکردیںاس عذر کی خوبی ظاہرہے نزاع میں فریق ثانی سب کچھ کرتا ہے گھبرالینے پر گھبراجانا کیوں ہوامہلت کے جواب میں کیوں نہ انہیں سے مشورہ لینے کے لئے کافی مہلت ملنا ضرور ہے ورنہ گورنمنٹ کواختیار ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتایہ کہہ کر دیکھا تو ہوتا کہ آشتی خواہ گورنمنٹ کیا کہتیحرمت اسلام کیسی برقرار رہتیحفظ حقوق مذہب میں گورنمنٹ کی نامبدل پالیسی کیا کچھ نفع پہنچاتیوہ امن جس کا پیام ہی لے کر گورنمنٹ کا آنا ہوا تھا کیسا کچھ مبارك رنگ دکھاتیاسی لئے تو حدیث میں ارشاد ہوا:
التأنی من الرحمن والعجلۃ من الشیطان ۔ والعیاذ باﷲ العزیز المستعان۔
تاخیر رحمان کی طرف سے ہوتی ہے اورعجلت شیطان کی طرف سےاللہ تعالی غالب مدد گار کی پناہ۔(ت)
اس کے بعد جو کچھ کہا گیاا س کے فقرے فقرے کا رد اوپر آگیا وباﷲ التوفیق۔
(۵۰)غرض الزامات شرعیہ قطعیہ یقینا قائم ہیں اور بشدت قائمکبائر شدیدہ عدیدہ کے ارتکاب قطعا لازم ہیں اور بقوت لازم۔ اس سب پر ظلم بر ظلم برأت کی فکر وکاوش اور اس کارروائی ہتك حرمت اسلام کو صحیح وصواب بنانے کی کوشش ہے حاشا حق طلبی کی یہ راہ نہیں
دانم نرسی بکعبہ اے پشت براہ کیں راہ کہ تو میروی بہ انگلستان ست
(اے مسافرمجھے معلوم ہے کہ توکعبہ نہیں پہنچے گا کیونکہ جس راستہ پر توچل رہا ہے وہ انگلستان کا ہے)
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔
(۴۹)آگے ممبر کا قول لکھا ہم بالکل گفتگو منقطع کرتے ہیں اور صرف ایك گھنٹے کی مہلت ہے یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ جلدی کی اور مہلت نہ دی اور گھبرالیا اس لئے ہم نے مسجد نہ ایك مسجد بلکہ ہندوستان کی سب مسجدیں نذرکردیںاس عذر کی خوبی ظاہرہے نزاع میں فریق ثانی سب کچھ کرتا ہے گھبرالینے پر گھبراجانا کیوں ہوامہلت کے جواب میں کیوں نہ انہیں سے مشورہ لینے کے لئے کافی مہلت ملنا ضرور ہے ورنہ گورنمنٹ کواختیار ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتایہ کہہ کر دیکھا تو ہوتا کہ آشتی خواہ گورنمنٹ کیا کہتیحرمت اسلام کیسی برقرار رہتیحفظ حقوق مذہب میں گورنمنٹ کی نامبدل پالیسی کیا کچھ نفع پہنچاتیوہ امن جس کا پیام ہی لے کر گورنمنٹ کا آنا ہوا تھا کیسا کچھ مبارك رنگ دکھاتیاسی لئے تو حدیث میں ارشاد ہوا:
التأنی من الرحمن والعجلۃ من الشیطان ۔ والعیاذ باﷲ العزیز المستعان۔
تاخیر رحمان کی طرف سے ہوتی ہے اورعجلت شیطان کی طرف سےاللہ تعالی غالب مدد گار کی پناہ۔(ت)
اس کے بعد جو کچھ کہا گیاا س کے فقرے فقرے کا رد اوپر آگیا وباﷲ التوفیق۔
(۵۰)غرض الزامات شرعیہ قطعیہ یقینا قائم ہیں اور بشدت قائمکبائر شدیدہ عدیدہ کے ارتکاب قطعا لازم ہیں اور بقوت لازم۔ اس سب پر ظلم بر ظلم برأت کی فکر وکاوش اور اس کارروائی ہتك حرمت اسلام کو صحیح وصواب بنانے کی کوشش ہے حاشا حق طلبی کی یہ راہ نہیں
دانم نرسی بکعبہ اے پشت براہ کیں راہ کہ تو میروی بہ انگلستان ست
(اے مسافرمجھے معلوم ہے کہ توکعبہ نہیں پہنچے گا کیونکہ جس راستہ پر توچل رہا ہے وہ انگلستان کا ہے)
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب البر باب ماجاء فی التأنی امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۲،کنز العمال حدیث ۵۶۷۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۳/ ۱۰۱
بلکہ سبیل نجات اس میں منحصر کہ
اولا: عالم اور جو جو مسلم اس کارروائی میں شریك تھے سب اس شنیع وسخت فظیع کبیرہ خمیر صدہا حرام وہتك حرمت اسلام سے بصدق دل توبہ کریں رب المساجد جل جلالہ کے حضور خاك مذلت پرناك رگڑیںاپنے سروں پر خال اڑائیںسربرہنہ بادل گریاں وچشم بریاں اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا دامن پکڑ کر دست ضراعت پھیلائیں اور ہر ایك کہے:اللھم انی اتوب الیك منھا لاارجع الیھا ابدا الہی ! میں ان تمام حرکات شنیعہ سے تیری طرف توبہ کرتا ہوں اب ایسا نہ کروں گا۔
ثانیا: بکثرت اخباروں اشتہاروں میں صاف صاف بلا تاویل اپنے جرائم کا اعتراف اور اپنی توبہ اور اس کارروائی کی شناعت کی خوب اشاعت کریں کہ جس طرح عالم کے اعتماد پر عوام میں اسکی خوبی کا دند(شور)ہند کے گوشہ گوشہ میں مچا یوں ہی بچہ بچہ کے کان تك عالم کی توبہ اور اس کی شناعت کا اعلان پہنچےحدیث میں ارشاد ہوا:
اذاعملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسرو العلانیۃ بالعلانیۃ ۔ رواہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی الشعب بسند حسن جید عن معاذ بن جبل رضی اﷲتعالی عنہ عن النبی صلی اﷲعلیہ وسلم۔
جب تو برائی کرے تو اسی وقت توبہ کرمخفی کی مخفی اور علانیہ کی علانیہ۔اس کوامام احمد نے کتاب الزہد میں اور طبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حسن جید سند کے ساتھ حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بیان کیا۔(ت)
ثالثا: گورنمنٹ کو جو ایساعظیم مسئلہ غلط باور کرایا ہے جس سے ہمیشہ کےلئے مسجدوں کو سخت خطرہ کا سامنا ہے اپنی تمام ہستی ساری حیثیت پوری کوشش ہمگین طاقت اس کے رفع میں صرف کریں اور شرعی دلائلفقہی مسائلائمہ کے ارشادعلماء کے فتاوی بیش از بیش جمع کرکے یقین دلاویں کہ وہ کارروائی جو پہلے ہم نے بتائی محض باطل وحرام وہتك حرمت اسلام تھی کسی مسجد کی کوئی زمین ہرگز ہرگز راستہسڑکریل نہر غرض کسی دوسرے کام کے لئے نہیں کی جاسکتیمسجد حقیقۃ زمین کانام ہے۔
اولا: عالم اور جو جو مسلم اس کارروائی میں شریك تھے سب اس شنیع وسخت فظیع کبیرہ خمیر صدہا حرام وہتك حرمت اسلام سے بصدق دل توبہ کریں رب المساجد جل جلالہ کے حضور خاك مذلت پرناك رگڑیںاپنے سروں پر خال اڑائیںسربرہنہ بادل گریاں وچشم بریاں اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا دامن پکڑ کر دست ضراعت پھیلائیں اور ہر ایك کہے:اللھم انی اتوب الیك منھا لاارجع الیھا ابدا الہی ! میں ان تمام حرکات شنیعہ سے تیری طرف توبہ کرتا ہوں اب ایسا نہ کروں گا۔
ثانیا: بکثرت اخباروں اشتہاروں میں صاف صاف بلا تاویل اپنے جرائم کا اعتراف اور اپنی توبہ اور اس کارروائی کی شناعت کی خوب اشاعت کریں کہ جس طرح عالم کے اعتماد پر عوام میں اسکی خوبی کا دند(شور)ہند کے گوشہ گوشہ میں مچا یوں ہی بچہ بچہ کے کان تك عالم کی توبہ اور اس کی شناعت کا اعلان پہنچےحدیث میں ارشاد ہوا:
اذاعملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسرو العلانیۃ بالعلانیۃ ۔ رواہ الامام احمد فی کتاب الزھد والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی الشعب بسند حسن جید عن معاذ بن جبل رضی اﷲتعالی عنہ عن النبی صلی اﷲعلیہ وسلم۔
جب تو برائی کرے تو اسی وقت توبہ کرمخفی کی مخفی اور علانیہ کی علانیہ۔اس کوامام احمد نے کتاب الزہد میں اور طبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حسن جید سند کے ساتھ حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بیان کیا۔(ت)
ثالثا: گورنمنٹ کو جو ایساعظیم مسئلہ غلط باور کرایا ہے جس سے ہمیشہ کےلئے مسجدوں کو سخت خطرہ کا سامنا ہے اپنی تمام ہستی ساری حیثیت پوری کوشش ہمگین طاقت اس کے رفع میں صرف کریں اور شرعی دلائلفقہی مسائلائمہ کے ارشادعلماء کے فتاوی بیش از بیش جمع کرکے یقین دلاویں کہ وہ کارروائی جو پہلے ہم نے بتائی محض باطل وحرام وہتك حرمت اسلام تھی کسی مسجد کی کوئی زمین ہرگز ہرگز راستہسڑکریل نہر غرض کسی دوسرے کام کے لئے نہیں کی جاسکتیمسجد حقیقۃ زمین کانام ہے۔
حوالہ / References
الزہد لامام احمد بن حنبل دارالدیان التراث القاہرۃ ص۳۵
چھت اس کا بدل نہیں ہوسکتی نہ ہر گز کسی دوسری زمین یا دس۱۰لاکھ روپے گز قیمت خواہ کسی شے سے اس کا بدلنا روا ہوسکےاگر ایسا نہ کیا تو یہ مسجد اوراس کے سوا جب کبھی کسی مسجد کو عالم اور اس کے ساتھی مسلمانوں کی اس کارروائی سے صدمہ پہنچے گاہمیشہ ہمیشہ تا بقائے دنیا اس کی ایك ایك بیحرمتی کاروزانہ گناہ عظیم ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہوا کرے گا اللہ کی پناہ اس حالت سے کہ قبرمیں ہڈیاں بھی نہ رہیں اور ہر ہر لمحہ پر
" و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-"
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نام خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔ (ت)
کا وبال عظیم دنیا سے قبر اور قبر سے حشرتك پیچھا نہ چھوڑےاور یہ عذرمسموع نہ ہوگا کہ ہمیں اس کام کے لئے آدمی نہیں ملتے جیسا کہ یہاں خط میں لکھ کر بھیجا کام آپ کا بگاڑا ہوا ہے آپ پر اس کی تلافی فرض ہے اگرچہ کوئی ساتھ نہ دےبگاڑنے کوآپ تھے بنانے کو کوئی اور آئےاس وقت کا استبداد کہ نہ علماء سے پوچھنا نہ مسلمانوں سے کہنا اب بھی کام لائیے اور اپنی عاقبت بنائیے اور خدمت کعبہ کی الٹی بانگی مٹاکر سیدھی دکھائیےراہ یہ ہے اور توفیق اللہ عز وجل کی طرف سے ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔اس میں اپنی ذلت نہ سمجھئے اللہ عز وجل کے نزدیك عزت کہ اس کی طرف رجوع لائے اس کے گھر کی بیحرمتی کرانے سے باز آئے وہ فرماتا ہے:" و لم یصروا على ما فعلوا و هم یعلمون(۱۳۵) " (اور اپنے کئے پر جان بوجھ کراڑ نہ جائیں۔ ت)مسلمانوں کے نزدیك عزت کہ ان کے دین پر تعدی چھوڑی حفظ حقوق مذہب کی طرف باگ موڑیگورنمنٹ کے نزدیك عزت کہ ایسی عظیم حرمت اسلام کی پامالی جو اس کی نامبدل پالیسی کے بالکل خلاف اس کے مستمر وعدوں کے بالکل مناقضسات کروڑ رعایا کا دل دکھانے والی روش برطانیہ کو مذہبی دست اندازی کا عیب لگانے والی تھی اٹھادی اور جو بات غلط باور کرائی تھی حق وانصاف سے بدلوادیوالامر بیداﷲ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ(معاملہ اﷲ تعالی کے دست قدرت میں ہے لاحول ولاقوۃ الا باﷲ۔ت)میں ان صاحبوں خصوصا اپنے قدیمی دوست عالم کو اللہ عزجلالہ کی پناہ دیتا ہوں اس سے کہ انہیں بات کی پچ الٹی راہ دکھائے معاذ اﷲ” اخذته العزة بالاثم " (اسے اور ضد چڑھے گناہ کی۔ت)کی شامت آڑے آئے اور اگر خداناکردہ ایسا ہوتو علماء پر فرض ہے کہ اس کارروائی کا خلاف شرع ومضر اسلام ہونا دلائل ساطعہ سے
" و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-"
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نام خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔ (ت)
کا وبال عظیم دنیا سے قبر اور قبر سے حشرتك پیچھا نہ چھوڑےاور یہ عذرمسموع نہ ہوگا کہ ہمیں اس کام کے لئے آدمی نہیں ملتے جیسا کہ یہاں خط میں لکھ کر بھیجا کام آپ کا بگاڑا ہوا ہے آپ پر اس کی تلافی فرض ہے اگرچہ کوئی ساتھ نہ دےبگاڑنے کوآپ تھے بنانے کو کوئی اور آئےاس وقت کا استبداد کہ نہ علماء سے پوچھنا نہ مسلمانوں سے کہنا اب بھی کام لائیے اور اپنی عاقبت بنائیے اور خدمت کعبہ کی الٹی بانگی مٹاکر سیدھی دکھائیےراہ یہ ہے اور توفیق اللہ عز وجل کی طرف سے ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔اس میں اپنی ذلت نہ سمجھئے اللہ عز وجل کے نزدیك عزت کہ اس کی طرف رجوع لائے اس کے گھر کی بیحرمتی کرانے سے باز آئے وہ فرماتا ہے:" و لم یصروا على ما فعلوا و هم یعلمون(۱۳۵) " (اور اپنے کئے پر جان بوجھ کراڑ نہ جائیں۔ ت)مسلمانوں کے نزدیك عزت کہ ان کے دین پر تعدی چھوڑی حفظ حقوق مذہب کی طرف باگ موڑیگورنمنٹ کے نزدیك عزت کہ ایسی عظیم حرمت اسلام کی پامالی جو اس کی نامبدل پالیسی کے بالکل خلاف اس کے مستمر وعدوں کے بالکل مناقضسات کروڑ رعایا کا دل دکھانے والی روش برطانیہ کو مذہبی دست اندازی کا عیب لگانے والی تھی اٹھادی اور جو بات غلط باور کرائی تھی حق وانصاف سے بدلوادیوالامر بیداﷲ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ(معاملہ اﷲ تعالی کے دست قدرت میں ہے لاحول ولاقوۃ الا باﷲ۔ت)میں ان صاحبوں خصوصا اپنے قدیمی دوست عالم کو اللہ عزجلالہ کی پناہ دیتا ہوں اس سے کہ انہیں بات کی پچ الٹی راہ دکھائے معاذ اﷲ” اخذته العزة بالاثم " (اسے اور ضد چڑھے گناہ کی۔ت)کی شامت آڑے آئے اور اگر خداناکردہ ایسا ہوتو علماء پر فرض ہے کہ اس کارروائی کا خلاف شرع ومضر اسلام ہونا دلائل ساطعہ سے
واضح کریں اوہام خلاف کا رد بالغ فرمائیںاسلامی اخباروں پر فرض ہے کہ ان تحریرات علماء کو نہایت کثرت واہتمام سے شائع کریںایك ایك گوشہ میں ان کی آواز پہنچائیںاسلامی انجمنوں پر فرض ہے کہ ان کی تائید میں جلسے کریں بکثرت ریزولیوشن پاس کریں گورنمنٹ کو ان کی اطلاعیں دیںمسلمان امراء وحکام واہل وجاہت پر فرض ہے کہ گورنمنٹ کو اس طرف پے در پے توجہ دلائیںمسلمان قانون پیشہ پر فرض ہے کہ اس کے استغاثے منتھی کوپہنچائیں غرض ہر طبقہ کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ اپنے منصب کے لائق اس میں سعی جمیل بجالائیںاور بے تکان اتھك جائز کوششیں کرکے اپنی مساجد کو بےحرمتی سے بچائیںایسا کروگے تو ضرور حضرت عزت عزجلالہ سے ان شاء اﷲ القدیر المستعان کامیاب ہوگےدنیا میں سر خرو آخرت میں مثاب ہوگے کہ وہ فرماتا ہے:
" و كان حقا علینا نصر المؤمنین(۴۷) "
"ان الله لا یضیع اجر المحسنین(۱۲۰) "
اورہمارے ذمہ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانابیشك اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔(ت)
والحمد ﷲ رب العلمینوصلی اﷲ وبارك وسلم علی سیدنا ومولنا وملجأنا وماونا محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امینواﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکمکتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمد النبی الامی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
مسئلہ ۱۸۶: مسئولہ مولوی نور احمد صاحب ہزار وی از کانپور مدرسۃ البنات
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد اہل محلہ پر تنگ ہے اور اس کے گرداگردجگہ نہیں مل سکتی یا مل سکتی ہے لیکن لوگوں میں اس قدر طاقت نہیں کہ وہ اتنا روپیہ دے سکیں اور پھر مسجد بنوادیں کیونکہ روپیہ بہت خرچ ہوتا ہے اور وہ طاقت نہیں رکھتے اوروہ دوسری جگہ مسجد وسیع تیار کرسکتے ہیں بشرطیکہ پہلی مسجد کی لکڑی وغیرہ دوسری مسجد میں لگادیں وگرنہ دوسری بھی بمشکل تمام نہیں
yahan image hy
" و كان حقا علینا نصر المؤمنین(۴۷) "
"ان الله لا یضیع اجر المحسنین(۱۲۰) "
اورہمارے ذمہ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانابیشك اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔(ت)
والحمد ﷲ رب العلمینوصلی اﷲ وبارك وسلم علی سیدنا ومولنا وملجأنا وماونا محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امینواﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکمکتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمد النبی الامی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
مسئلہ ۱۸۶: مسئولہ مولوی نور احمد صاحب ہزار وی از کانپور مدرسۃ البنات
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد اہل محلہ پر تنگ ہے اور اس کے گرداگردجگہ نہیں مل سکتی یا مل سکتی ہے لیکن لوگوں میں اس قدر طاقت نہیں کہ وہ اتنا روپیہ دے سکیں اور پھر مسجد بنوادیں کیونکہ روپیہ بہت خرچ ہوتا ہے اور وہ طاقت نہیں رکھتے اوروہ دوسری جگہ مسجد وسیع تیار کرسکتے ہیں بشرطیکہ پہلی مسجد کی لکڑی وغیرہ دوسری مسجد میں لگادیں وگرنہ دوسری بھی بمشکل تمام نہیں
yahan image hy
ہوسکتیکیا اس صورت میں اہل محلہ دوسری جگہ نئی مسجد اپنے محلہ میں پہلی مسجد کے سامان سے اور زوائد روپیہ لگا کر بناسکتے ہیں یا نہاگر بناسکتے ہیں تو پہلی مسجد کی جگہ کی کس طور سے حفاظت رکھی جائےمدلل و مبرہن طور پر تحریر و بیان فرمایا جائے۔
الجواب:مسجد جب تك مسجد ہے قرآن عظیم کی نص قطعیہمارے ائمہ کرام کے اجماع سے اسے ویران کرنا سخت حرام وکبیرہ ہے اللہ عز وجل فرماتا ہے:
" و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-اولىك ما كان لهم ان یدخلوها الا خآىفین۬-لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم(۱۱۴)"
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں نام الہی کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ایسوں کو ان میں جانا ہی نہ پہنچتا تھا مگر ڈرتے ہوئےان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کےلئے آخرت میں بڑا عذاب۔
ہمارے ائمہ کرام نے بلا خلاف تصریح فرمائی کہ مسجد اگر تنگی کرے اور اس کے قریب اگر کسی شخص کی زمین ہو اور وہ دینے پر راضی نہ ہوتو بحکم سلطان بے اس کی مرضی کے لے کر مسجد میں داخل کر لی جائے اور مالك کو بازار کے بھاؤ سے قیمت دے دی جائے کما نص علیہ فی البزازیۃ والفتح والبحر والدروغیرہا (جیسا کہ اس پر بزازیہفتحبحر اور دروغیرہ میں نص فرمائی گئی۔ت)اگر تنگی کی وجہ سے یہ مسجد ویران کرکے دوسری جگہ بنالینا جائز ہوتا تو جبر ہر گز حلال نہ ہوتا اور وہ صورت کہ سوال میں فرض کی گئی اس کی بنا خود ہی متزلزل ہے جب وہ دوسری مسجد اس سے بڑی بناسکتے ہیں اگرچہ اس میں اس کے عملے سے بھی مدد لینا چاہتے ہیں تو مہربانی فرماکر بڑی نہیں ایك چھوٹی مسجد دوسری بنالیں کہ دونوں مسجدیں مل کر حاجت پوری کردیںکس نے واجب کیا ہے کہ سب ایك ہی مسجد میں نماز پڑھیںغرض جو اللہ سے ڈرے اور اس کی حرمتوں کی تعظیم کرے اللہ اس کے لئے آسانی کی راہ نکال دیتا ہے اور جو بے پروائی کرے تو اللہ تمام جہان سے بے پروا ہے
" و من یتق الله یجعل له مخرجا(۲) "
الجواب:مسجد جب تك مسجد ہے قرآن عظیم کی نص قطعیہمارے ائمہ کرام کے اجماع سے اسے ویران کرنا سخت حرام وکبیرہ ہے اللہ عز وجل فرماتا ہے:
" و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-اولىك ما كان لهم ان یدخلوها الا خآىفین۬-لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم(۱۱۴)"
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں نام الہی کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ایسوں کو ان میں جانا ہی نہ پہنچتا تھا مگر ڈرتے ہوئےان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کےلئے آخرت میں بڑا عذاب۔
ہمارے ائمہ کرام نے بلا خلاف تصریح فرمائی کہ مسجد اگر تنگی کرے اور اس کے قریب اگر کسی شخص کی زمین ہو اور وہ دینے پر راضی نہ ہوتو بحکم سلطان بے اس کی مرضی کے لے کر مسجد میں داخل کر لی جائے اور مالك کو بازار کے بھاؤ سے قیمت دے دی جائے کما نص علیہ فی البزازیۃ والفتح والبحر والدروغیرہا (جیسا کہ اس پر بزازیہفتحبحر اور دروغیرہ میں نص فرمائی گئی۔ت)اگر تنگی کی وجہ سے یہ مسجد ویران کرکے دوسری جگہ بنالینا جائز ہوتا تو جبر ہر گز حلال نہ ہوتا اور وہ صورت کہ سوال میں فرض کی گئی اس کی بنا خود ہی متزلزل ہے جب وہ دوسری مسجد اس سے بڑی بناسکتے ہیں اگرچہ اس میں اس کے عملے سے بھی مدد لینا چاہتے ہیں تو مہربانی فرماکر بڑی نہیں ایك چھوٹی مسجد دوسری بنالیں کہ دونوں مسجدیں مل کر حاجت پوری کردیںکس نے واجب کیا ہے کہ سب ایك ہی مسجد میں نماز پڑھیںغرض جو اللہ سے ڈرے اور اس کی حرمتوں کی تعظیم کرے اللہ اس کے لئے آسانی کی راہ نکال دیتا ہے اور جو بے پروائی کرے تو اللہ تمام جہان سے بے پروا ہے
" و من یتق الله یجعل له مخرجا(۲) "
" و من یتول فان الله هو الغنی الحمید(۲۴)" ۔واﷲ تعالی اعلم۔
اور جو منہ پھیرے تو اﷲ تعالی ہی بے نیاز اور ستو دہ صفات ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۸۷تا۱۸۹: مسئولہ قاضی سید احمد علی مدنی مہتمم مدرسہ اسلامیہ از بمبئی بھنڈی بازار ۲ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ایسی صورت میں کہ ایك درگا ہ شریف کے قریب ایك مسجد واقع ہےمسجد کے متولی صاحب نے درگاہ شریف کی زمین جبرادبالیاس کو شامل مسجد کرنا چاہتے ہیںمتولی درگاہ نے روکا کہ شرع شریف میں ایسا کرنا جائز نہیں ہےمگر نہیں مانتےسوایسا کرنا جائز ہے
(۲)کیاایسی جبرا مغصوبہ زمین پر مسجد بنانا درست ہے اور کیا اس میں نماز درست ہوگی حالانکہ متولی صاحب درگاہ برابر معترض ہوا کئے ہیں۔
(۳)کیا ایسے متولی مسجد جو خلاف شرع زمین غصب کرکے اس پر مسجد بنادے تو وہ عندالشرع قابل تدارك و گنہگار ہیں یانہیںجواب صحیح ازروئے کتب فقہ صاف بخشا جائے۔بینوا توجروا۔
الجواب:
سوال بہت مجمل ہے کچھ نہ لکھا کہ متولی اس زمین کو مسجدمیں کس وجہ سے شامل کرنا چاہتے ہیںآیا مسجد نمازیوں پر تنگ ہوئی ہے یہ ضرورت لاحق ہوئی ہے یا کچھ اور۔نہ یہ لکھا کہ وہ زمین درگاہ پر وقف ہے یانہیںاورہے تو کس طرح وقف ہے جسے وقف صحیح شرعی کہا جاسکے گا یانہیںنہ یہ لکھا کہ اس زمین کے شامل مسجد کرلینے سے درگاہ میں کیا نقصان ہوگااگر مسجد نے تنگی نہ کی تو متولیوں کو اس زمین کے لینے کا کوئی اختیار نہیں وہ غاصب ہوں گے اور اتنے پارہ زمین پر نمازناجائز ہوگیاور اگر مسجد تنگ ہوگئی ہے اور اس کے اپنے متعلقات کی زمینوں سے بڑھانے کی گنجائش نہیںتو اگر وہ زمین درگاہ وقف صحیح شرعی نہیں یا اسکے لینے سے درگاہ کو ضرر نہیں پہنچتا تو بقیمت لے سکتے ہیں ورنہ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۹۰تا۱۹۳: مسئولہ مولوی صابر علی صاحب از مدرسہ رفاہ المسلمین فرنگی محل لکھنؤ ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںایك مسجد قدیم کسی شیعہ کی تھی
اور جو منہ پھیرے تو اﷲ تعالی ہی بے نیاز اور ستو دہ صفات ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۸۷تا۱۸۹: مسئولہ قاضی سید احمد علی مدنی مہتمم مدرسہ اسلامیہ از بمبئی بھنڈی بازار ۲ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ایسی صورت میں کہ ایك درگا ہ شریف کے قریب ایك مسجد واقع ہےمسجد کے متولی صاحب نے درگاہ شریف کی زمین جبرادبالیاس کو شامل مسجد کرنا چاہتے ہیںمتولی درگاہ نے روکا کہ شرع شریف میں ایسا کرنا جائز نہیں ہےمگر نہیں مانتےسوایسا کرنا جائز ہے
(۲)کیاایسی جبرا مغصوبہ زمین پر مسجد بنانا درست ہے اور کیا اس میں نماز درست ہوگی حالانکہ متولی صاحب درگاہ برابر معترض ہوا کئے ہیں۔
(۳)کیا ایسے متولی مسجد جو خلاف شرع زمین غصب کرکے اس پر مسجد بنادے تو وہ عندالشرع قابل تدارك و گنہگار ہیں یانہیںجواب صحیح ازروئے کتب فقہ صاف بخشا جائے۔بینوا توجروا۔
الجواب:
سوال بہت مجمل ہے کچھ نہ لکھا کہ متولی اس زمین کو مسجدمیں کس وجہ سے شامل کرنا چاہتے ہیںآیا مسجد نمازیوں پر تنگ ہوئی ہے یہ ضرورت لاحق ہوئی ہے یا کچھ اور۔نہ یہ لکھا کہ وہ زمین درگاہ پر وقف ہے یانہیںاورہے تو کس طرح وقف ہے جسے وقف صحیح شرعی کہا جاسکے گا یانہیںنہ یہ لکھا کہ اس زمین کے شامل مسجد کرلینے سے درگاہ میں کیا نقصان ہوگااگر مسجد نے تنگی نہ کی تو متولیوں کو اس زمین کے لینے کا کوئی اختیار نہیں وہ غاصب ہوں گے اور اتنے پارہ زمین پر نمازناجائز ہوگیاور اگر مسجد تنگ ہوگئی ہے اور اس کے اپنے متعلقات کی زمینوں سے بڑھانے کی گنجائش نہیںتو اگر وہ زمین درگاہ وقف صحیح شرعی نہیں یا اسکے لینے سے درگاہ کو ضرر نہیں پہنچتا تو بقیمت لے سکتے ہیں ورنہ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۹۰تا۱۹۳: مسئولہ مولوی صابر علی صاحب از مدرسہ رفاہ المسلمین فرنگی محل لکھنؤ ۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میںایك مسجد قدیم کسی شیعہ کی تھی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵۷ /۲۴
مگر کچھ عرصے سے ویران پڑی تھیاسی حالت ویرانی میں چند قدم کے فاصلے پر ایك سنی نے دوسری مسجد بنوائی اور اس نئی سنی کی مسجد میں مسلمان سنی نماز پنج وقتہ پڑھنے لگے اس کے پانچ چھ برس کے بعد پرانی شیعہ کی مسجد کو ایك شخص نے ایك سنی کے ہاتھ فروخت کر ڈالا تو اس سنی نے اس کی مرمت وغیرہ کراکے پنج وقتہ اذان وجماعت کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کردئے۔اس کو بھی پانچ چھ برس کا عرصہ گزرگیا اب اس سنی مشتری مذکور نے اپنا ایك مکان مسجد کے مدرسہ اسلامیہ کے لئے وقف کردیا ہے اور مسجد مذکور میں بیٹھ کر لوگوں کو قرآن پڑھنے کی اجازت دیتا ہےاور مسجد مذکور میں بہت سی زمین ایسی پڑی ہے جس پر جوتا پہن کے چلتے ہیں تو اس زمین پر مدرسہ کیلئے کمروں کے بنانے کی بھی اجازت دیتا ہے تو ایسی صورت میں حسب ذیل سوالات کے جوابات مرحمت ہوں:
اول:یہ دونوں مسجدیں حکم مسجد میں ہیں یانہاور مسلمانوں کو دونوں مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ثواب مسجد حاصل ہوگا یانہ اور اگر نہ حاصل ہوگا تو پھر اس مسجد کو کس کام میں لاسکتے ہیں
دوم:طلبہ مدرسہ اسلامیہ کا اس مسجد کے اندر بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے یانہ
سوم: احاطہ مسجدکے اندر جو زمین صحن مسجد کے علاوہ جہاں جوتا پہن کے چلتے ہیں اس پر مدرسہ کے روپیہ سے کوئی کمرہ وغیرہ طلبہ کی تعلیم کےلئے یا دفتر مدرسہ کےلئے یا طلبہ کے رہنے کےلئے بنانا جائز اور اس میں ان کاموں میں سے کوئی کام کرنا جائز ہے یانہ
چہارم: مشتری مسجد کی یہ بھی تجویز ہے کہ مسجد کے اندر سے جہاں جوتا پہن کے چلتے ہیں ایك راستہ مدرسہ کےاندر جانے کا نکالا جائے کہ طلبہ وملازمین مدرسہ کو مدرسہ میں جاناآسان ہوجائے ورنہ چکر کھا کے گلیوں میں سے جانا ہوگا تو آیا یہ جائز ہے یانہیںجواب جلد اور مدلل فرمایا جائے۔بینواتوجروا
الجواب:
وہ مسجد کہ سنی نے بنوائی تھی بلاشبہ مسجد ہے اور اس کا رکھنا فرض ہے اور اس میں نماز کا ثواب وہی ہے جو مسجد میں نماز کا ثواب ہےروافض زمانہ مرتد ہیں کما حققناہ فی ردالرفضۃ(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق ردالرفضہ میں بیان کی ہے۔ت)تو وہ مسجد بنانے کے اہل نہیں۔
قال اﷲ تعالی" ماکان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ شہدین علی انفسہم بالکفر "(الی قولہ تعالی)
" انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم اﷲ تعالی نے فرمایا مشرکوں کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اﷲ تعالی کی مساجد تعمیر کریں اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں(اﷲ تعالی کے اس ارشاد تك کہ)بیشك اﷲ تعالی کی مسجدیں تو وہی لوگ تعمیرکرتے ہیں جو اﷲ تعالی
اول:یہ دونوں مسجدیں حکم مسجد میں ہیں یانہاور مسلمانوں کو دونوں مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ثواب مسجد حاصل ہوگا یانہ اور اگر نہ حاصل ہوگا تو پھر اس مسجد کو کس کام میں لاسکتے ہیں
دوم:طلبہ مدرسہ اسلامیہ کا اس مسجد کے اندر بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے یانہ
سوم: احاطہ مسجدکے اندر جو زمین صحن مسجد کے علاوہ جہاں جوتا پہن کے چلتے ہیں اس پر مدرسہ کے روپیہ سے کوئی کمرہ وغیرہ طلبہ کی تعلیم کےلئے یا دفتر مدرسہ کےلئے یا طلبہ کے رہنے کےلئے بنانا جائز اور اس میں ان کاموں میں سے کوئی کام کرنا جائز ہے یانہ
چہارم: مشتری مسجد کی یہ بھی تجویز ہے کہ مسجد کے اندر سے جہاں جوتا پہن کے چلتے ہیں ایك راستہ مدرسہ کےاندر جانے کا نکالا جائے کہ طلبہ وملازمین مدرسہ کو مدرسہ میں جاناآسان ہوجائے ورنہ چکر کھا کے گلیوں میں سے جانا ہوگا تو آیا یہ جائز ہے یانہیںجواب جلد اور مدلل فرمایا جائے۔بینواتوجروا
الجواب:
وہ مسجد کہ سنی نے بنوائی تھی بلاشبہ مسجد ہے اور اس کا رکھنا فرض ہے اور اس میں نماز کا ثواب وہی ہے جو مسجد میں نماز کا ثواب ہےروافض زمانہ مرتد ہیں کما حققناہ فی ردالرفضۃ(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق ردالرفضہ میں بیان کی ہے۔ت)تو وہ مسجد بنانے کے اہل نہیں۔
قال اﷲ تعالی" ماکان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ شہدین علی انفسہم بالکفر "(الی قولہ تعالی)
" انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم اﷲ تعالی نے فرمایا مشرکوں کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اﷲ تعالی کی مساجد تعمیر کریں اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں(اﷲ تعالی کے اس ارشاد تك کہ)بیشك اﷲ تعالی کی مسجدیں تو وہی لوگ تعمیرکرتے ہیں جو اﷲ تعالی
الاخر " ۔الایۃ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔(ت)
خصوصا بعد موت کے مرتد کے سب اوقاف باطل ہوجاتے ہیں کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیساکہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ (ت)تو وہ مسجد کہ سنی نے خریدی اسےمرمت وغیرہ کراکے اگر اس خیال سے نماز کے لئے دیا کہ یہ پہلے سے مسجد ہے تو وہ خیال باطل تھا اور وہ مسجد بدستور ایك مکان ہے جس میں ان تمام تصرفات مذکورہ فی السوال کا اختیار ہےاور اگر سنی نے خرید کر از سر نو اپنی طرف سے اسے مسجد کردیا یعنی یہ سمجھ کر کہ یہ مسجد نہیں میں اسے مسجد کرتا ہوںنہ یہ سمجھ کر کہ یہ مسجد تھی اسے کار مسجد کے لئے چھوڑتا ہوںاس صورت میں اگر شرائے صحیح سے سنی کے لئےا س کی ملك ثابت ہوگئی تھی تو یہ بھی مسجد ہوگئی مگر یہ بہت بعید ہے اس کے لئے صرف ایك صورت ہے کہ غالبا وہ واقع نہ ہوئی ہوگیوہ صورت یہ کہ زمین جسے رافضی نے مسجد کیا اس کے زمانہ اسلام کی ملك تھیاس کے بعد اس نے رفض اختیار کیایہ مسجد بنائی اور مرگیا اور اس کے قریب و بعید وارثوں میں کوئی شخص سنی مسلمان ہے کہ وہی اس کے کسب اسلام کا وارث ہوکر اس مکان کا مالك ہے اور اس نے اس سنی کے ہاتھ بیچ ڈالا تو یہ شراء صحیح ہوا اور یہ سنی اس مکان کا مالك ہوگیا اور اب جو اس نے اسے اپنی طرف سے مسجد کیا مسجد ہوگئیاس صورت بعیدہ پر وہ تصرفات مذکورہ سب ناجائز ہوں گے فانہ لایجوز تغییر الوقف عما ھولہ(کہ وقف اپنی اصلی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں۔ت) مگر طلبہ کا پڑھنا جائز جبکہ اطفال نہ ہوں اور نماز کے وقت نمازکی جگہ نہ گھیریں نہ ان کے پڑھنے سے نمازیوں کو تشویش ہو اور اگر یہ صورت نہیں بلکہ وہ مکان اس کے زمانہ رفض ہی کی ملك تھا تو یہ بیع جس شخص نے کی ہر گز مثبت ملك مشتری نہیں کہ بائع خود ہی مالك نہ تھا مرتد کے زمانہ ارتداد کی ملك اسکی موت کے بعد فیئ للمسلمین ہوجاتی ہے اس کے کسی وارث کو نہیں پہنچ سکتی اگرچہ اس کا بیٹا ہو مسلم ہو خواہ اسی کی طرح مرتد یا اور قسم کا کافرتو جب شراء صحیح نہ ہوا تواس سنی کا اسے مسجد کرنا صحیح نہ ہوا بلکہ وہ بدستور ایك زمین عام مسلمانوں کی ہےمسلمانوں کی مرضی سے اس میں مسلمین کی منفعت کے تصرفات کرسکتے ہیں۔فتاوی عالمگیری میں مبسوط سے ہے:
المرتد اذاقتل او مات او لحق بدار الحرب فما اکتسبہ فی حال اسلامہ ھو میراث لورثۃ المسلمین اما ما اکتسبہ فی حالۃ الردۃ یکون مرتد جب قتل ہوجائے یا مرجائے یا دارالحرب سے ملحق ہوجائے تو جو کچھ اس نے حالت اسلام میں کمایا تھا وہ اس کے مسلمان وارثوں کو بطور میراث ملے گا اور جو کچھ بحالت ارتداد کما یا وہ مال غنیمت ہے
خصوصا بعد موت کے مرتد کے سب اوقاف باطل ہوجاتے ہیں کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیساکہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ (ت)تو وہ مسجد کہ سنی نے خریدی اسےمرمت وغیرہ کراکے اگر اس خیال سے نماز کے لئے دیا کہ یہ پہلے سے مسجد ہے تو وہ خیال باطل تھا اور وہ مسجد بدستور ایك مکان ہے جس میں ان تمام تصرفات مذکورہ فی السوال کا اختیار ہےاور اگر سنی نے خرید کر از سر نو اپنی طرف سے اسے مسجد کردیا یعنی یہ سمجھ کر کہ یہ مسجد نہیں میں اسے مسجد کرتا ہوںنہ یہ سمجھ کر کہ یہ مسجد تھی اسے کار مسجد کے لئے چھوڑتا ہوںاس صورت میں اگر شرائے صحیح سے سنی کے لئےا س کی ملك ثابت ہوگئی تھی تو یہ بھی مسجد ہوگئی مگر یہ بہت بعید ہے اس کے لئے صرف ایك صورت ہے کہ غالبا وہ واقع نہ ہوئی ہوگیوہ صورت یہ کہ زمین جسے رافضی نے مسجد کیا اس کے زمانہ اسلام کی ملك تھیاس کے بعد اس نے رفض اختیار کیایہ مسجد بنائی اور مرگیا اور اس کے قریب و بعید وارثوں میں کوئی شخص سنی مسلمان ہے کہ وہی اس کے کسب اسلام کا وارث ہوکر اس مکان کا مالك ہے اور اس نے اس سنی کے ہاتھ بیچ ڈالا تو یہ شراء صحیح ہوا اور یہ سنی اس مکان کا مالك ہوگیا اور اب جو اس نے اسے اپنی طرف سے مسجد کیا مسجد ہوگئیاس صورت بعیدہ پر وہ تصرفات مذکورہ سب ناجائز ہوں گے فانہ لایجوز تغییر الوقف عما ھولہ(کہ وقف اپنی اصلی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں۔ت) مگر طلبہ کا پڑھنا جائز جبکہ اطفال نہ ہوں اور نماز کے وقت نمازکی جگہ نہ گھیریں نہ ان کے پڑھنے سے نمازیوں کو تشویش ہو اور اگر یہ صورت نہیں بلکہ وہ مکان اس کے زمانہ رفض ہی کی ملك تھا تو یہ بیع جس شخص نے کی ہر گز مثبت ملك مشتری نہیں کہ بائع خود ہی مالك نہ تھا مرتد کے زمانہ ارتداد کی ملك اسکی موت کے بعد فیئ للمسلمین ہوجاتی ہے اس کے کسی وارث کو نہیں پہنچ سکتی اگرچہ اس کا بیٹا ہو مسلم ہو خواہ اسی کی طرح مرتد یا اور قسم کا کافرتو جب شراء صحیح نہ ہوا تواس سنی کا اسے مسجد کرنا صحیح نہ ہوا بلکہ وہ بدستور ایك زمین عام مسلمانوں کی ہےمسلمانوں کی مرضی سے اس میں مسلمین کی منفعت کے تصرفات کرسکتے ہیں۔فتاوی عالمگیری میں مبسوط سے ہے:
المرتد اذاقتل او مات او لحق بدار الحرب فما اکتسبہ فی حال اسلامہ ھو میراث لورثۃ المسلمین اما ما اکتسبہ فی حالۃ الردۃ یکون مرتد جب قتل ہوجائے یا مرجائے یا دارالحرب سے ملحق ہوجائے تو جو کچھ اس نے حالت اسلام میں کمایا تھا وہ اس کے مسلمان وارثوں کو بطور میراث ملے گا اور جو کچھ بحالت ارتداد کما یا وہ مال غنیمت ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۹/ ۱۷،۱۸€
فیئایوضع فی بیت المال ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ جو بیت المال میں رکھا جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۹۴تا۱۹۵: از علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مرسلہ عمر احمد سودا گر پارچہ بنارسی ۴ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
(۱)ایك مسجد ہے جو زمین سے ۳ گز اونچی ہے اور اونچائی ٹھوس ہے اور صحن مسجد کا کل چوڑائی میں ۱۳ فٹ ہے جس میں ۵فٹ چوڑائی میں زینہ اور جوتیوں کی جگہ سقاوا اور غسل خانہ ہے اور ۸ فٹ جگہ میں نماز ہوتی ہےاس مسجد میں کنواں نہیں ہےسقہ سقا وے میں پانی باجرت ڈالتا ہےاور نہ کوئی آمدنی مسجد کی ہے جو تیل وغیرہ میں صرف ہواس مسجد سے ۷۴ قدم کے فاصلہ پر ایك اور مسجد ہے اس کے دس قدم پر ایك کنواں ہے گویا اس مسجد سے ۸۴ قدم پر ہوا۔زیدکہتا ہے کہ صحن مسجد جوٹھوس ہے اس کو شہید کافی کرکے اس میں دو دکانیں نکالی جائیں اس کی چھت صحن مسجد ہوجائے گااور وہ تیل بتی کو اس کی آمدنی کافی ہوگی۔عمرو کہتا ہے کہ یہ ناجائز ہے کیونکہ صحن مسجد تحت الثری تك حکم مسجد رکھتا ہےاگر دکانیں سابق سے بنائی جاتیں تو درست تھیںعمرو کی رائے ہے کہ ۵فٹ جگہ جس میں زینہ وغیرہ ہے اس میں کنواں وزینہ وغیرہ بن سکتا ہے اور ایك چھوٹی دکان بھی نکل آئے گی اور صحن بھی برقرار رہے گا اس میں مردہ کو زیادہ ثواب ہوگا کیونکہ نمازیوں کو پانی کی تکلیف جاتی رہے گی۔کیا حکم شریعت ہے اور کیا کرنا چاہئے
(۲)کنوا ں بننے کی حالت میں زمین سے ۴گز اونچا ہوکر مسجد میں ملے گازید کہتا ہے کہ زمین پر بھی ایك کھڑکی رکھی جائے جس سے عوام پانی بھریں اور مسجد کو اوپر سے پانی ملے۔عمرو کہتا ہے کہ اوپر ہی رکھنا چاہئے کیونکہ نیچے کھڑکی رکھنے سے ہندو بھی پانی بھریں گے شاید ہندو کا پانی بھرناناجائز ہو۔شریعت کا کیاحکم ہے اور کس میں زیادہ ثواب ہے
الجواب:
دکانیں بنانے کی اجازت نہیں ہےاگر پہلے سے ہوتیں حرج نہ تھا اب نہیں بن سکتیں
کما نص علیہ فی النوازل والتجنیس والخانیۃ و المحیط السرخسی وتھذیب الواقعات والاسعاف و البحر والنھر والھندیۃ وغیرھا۔
جیسا کہ اس پر نوازلتجنیسخانیہمحیط سرخسی تہذیب الواقعاتاسعافبحرنہر اورہندیہ وغیرمیں نص فرمائی گئی(ت)
۸۴قدم کا فاصلہ کچھ ایسا دور نہیںاگر بغیر کنویں کے کارروائی چل سکے یونہی چلنے دیں اوراگر
مسئلہ۱۹۴تا۱۹۵: از علی گڑھ محلہ مدار دروازہ مرسلہ عمر احمد سودا گر پارچہ بنارسی ۴ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
(۱)ایك مسجد ہے جو زمین سے ۳ گز اونچی ہے اور اونچائی ٹھوس ہے اور صحن مسجد کا کل چوڑائی میں ۱۳ فٹ ہے جس میں ۵فٹ چوڑائی میں زینہ اور جوتیوں کی جگہ سقاوا اور غسل خانہ ہے اور ۸ فٹ جگہ میں نماز ہوتی ہےاس مسجد میں کنواں نہیں ہےسقہ سقا وے میں پانی باجرت ڈالتا ہےاور نہ کوئی آمدنی مسجد کی ہے جو تیل وغیرہ میں صرف ہواس مسجد سے ۷۴ قدم کے فاصلہ پر ایك اور مسجد ہے اس کے دس قدم پر ایك کنواں ہے گویا اس مسجد سے ۸۴ قدم پر ہوا۔زیدکہتا ہے کہ صحن مسجد جوٹھوس ہے اس کو شہید کافی کرکے اس میں دو دکانیں نکالی جائیں اس کی چھت صحن مسجد ہوجائے گااور وہ تیل بتی کو اس کی آمدنی کافی ہوگی۔عمرو کہتا ہے کہ یہ ناجائز ہے کیونکہ صحن مسجد تحت الثری تك حکم مسجد رکھتا ہےاگر دکانیں سابق سے بنائی جاتیں تو درست تھیںعمرو کی رائے ہے کہ ۵فٹ جگہ جس میں زینہ وغیرہ ہے اس میں کنواں وزینہ وغیرہ بن سکتا ہے اور ایك چھوٹی دکان بھی نکل آئے گی اور صحن بھی برقرار رہے گا اس میں مردہ کو زیادہ ثواب ہوگا کیونکہ نمازیوں کو پانی کی تکلیف جاتی رہے گی۔کیا حکم شریعت ہے اور کیا کرنا چاہئے
(۲)کنوا ں بننے کی حالت میں زمین سے ۴گز اونچا ہوکر مسجد میں ملے گازید کہتا ہے کہ زمین پر بھی ایك کھڑکی رکھی جائے جس سے عوام پانی بھریں اور مسجد کو اوپر سے پانی ملے۔عمرو کہتا ہے کہ اوپر ہی رکھنا چاہئے کیونکہ نیچے کھڑکی رکھنے سے ہندو بھی پانی بھریں گے شاید ہندو کا پانی بھرناناجائز ہو۔شریعت کا کیاحکم ہے اور کس میں زیادہ ثواب ہے
الجواب:
دکانیں بنانے کی اجازت نہیں ہےاگر پہلے سے ہوتیں حرج نہ تھا اب نہیں بن سکتیں
کما نص علیہ فی النوازل والتجنیس والخانیۃ و المحیط السرخسی وتھذیب الواقعات والاسعاف و البحر والنھر والھندیۃ وغیرھا۔
جیسا کہ اس پر نوازلتجنیسخانیہمحیط سرخسی تہذیب الواقعاتاسعافبحرنہر اورہندیہ وغیرمیں نص فرمائی گئی(ت)
۸۴قدم کا فاصلہ کچھ ایسا دور نہیںاگر بغیر کنویں کے کارروائی چل سکے یونہی چلنے دیں اوراگر
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الفرائض نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۵۵
نہ چل سکے اور اس کی وجہ سے ویرانی مسجد کا احتمال قوی ہوتو اس پانچ فٹ میں ایك کنارہ کو کنواں بنالیں۔
(۲)نیچے کھڑکی نہ رکھیں کہ مسجد کے کنویں میں ہندو کی شرکت سخت معیوب ہے ان کی نجاست سے کنویں کی طہارت ہمیشہ معرض خطر شدید میں رہے گی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۹۶: ازشیر پورڈاکخانہ خاص تحصیل پورن پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ ظہیرالدین ۲۲ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك چھوٹے موضع میں ایك مسجد قدامت سے تھی اور عرصہ دس بارہ سال سے ایك دوسری مسجد اورتیار ہوگئی اور اب دونوں مسجدیں چھپرپوش اور بوسیدہ حالت میں ہیں اب مسلمانوں کی یہ رائے ہے کہ بجائے دومسجدوں کے ایك مسجد پختہ چندہ سے تعمیر کرائی جائے اور ایك مدرسہ کے واسطے دے دی جائے۔اس کی بابت شرع کیا حکم دیتی ہے اور سرمایہ بہت قلیل ہے جس سے دونوں مسجدیں تیار نہیں ہوسکتی ہیںلہذا آپ بموجب شرع احکام صادر فرمائے۔
الجواب:
مسجدوں کا پختہ کرنا فرض نہیںاور ان کا آباد رکھنا فرض ہےمسجد نہ مدرسہ کو دی جاسکتی ہے نہ دوسرے کام میں صرف ہوسکتی ہےیہ سب ناجائز وحرام ہے۔ عالمگیری میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۹۷: ۲۰ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ:
علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مسجد کافرش اور لکڑیاں جو خراب ہوجاتی ہیں سوامسجد کے اور کسی کام میں تصرف کرنا شرعا جائز ہے یانہیں آخر کیا کرنا چاہئے تحریر فرما کر مشرف فرمائیں۔فقط
الجواب:
فرش جو خراب ہوجائے کہ مسجد کے کام کا نہ رہے جس نے وہ فرش مسجد کو دیا تھا وہ اس کا مالك ہوجائے گا جو چاہے کرے اور اگر مسجد ہی کے مال سے تھا تو متولی بیچ کر مسجد کے جس کام میں چاہے
(۲)نیچے کھڑکی نہ رکھیں کہ مسجد کے کنویں میں ہندو کی شرکت سخت معیوب ہے ان کی نجاست سے کنویں کی طہارت ہمیشہ معرض خطر شدید میں رہے گی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۹۶: ازشیر پورڈاکخانہ خاص تحصیل پورن پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ ظہیرالدین ۲۲ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك چھوٹے موضع میں ایك مسجد قدامت سے تھی اور عرصہ دس بارہ سال سے ایك دوسری مسجد اورتیار ہوگئی اور اب دونوں مسجدیں چھپرپوش اور بوسیدہ حالت میں ہیں اب مسلمانوں کی یہ رائے ہے کہ بجائے دومسجدوں کے ایك مسجد پختہ چندہ سے تعمیر کرائی جائے اور ایك مدرسہ کے واسطے دے دی جائے۔اس کی بابت شرع کیا حکم دیتی ہے اور سرمایہ بہت قلیل ہے جس سے دونوں مسجدیں تیار نہیں ہوسکتی ہیںلہذا آپ بموجب شرع احکام صادر فرمائے۔
الجواب:
مسجدوں کا پختہ کرنا فرض نہیںاور ان کا آباد رکھنا فرض ہےمسجد نہ مدرسہ کو دی جاسکتی ہے نہ دوسرے کام میں صرف ہوسکتی ہےیہ سب ناجائز وحرام ہے۔ عالمگیری میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۹۷: ۲۰ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ:
علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مسجد کافرش اور لکڑیاں جو خراب ہوجاتی ہیں سوامسجد کے اور کسی کام میں تصرف کرنا شرعا جائز ہے یانہیں آخر کیا کرنا چاہئے تحریر فرما کر مشرف فرمائیں۔فقط
الجواب:
فرش جو خراب ہوجائے کہ مسجد کے کام کا نہ رہے جس نے وہ فرش مسجد کو دیا تھا وہ اس کا مالك ہوجائے گا جو چاہے کرے اور اگر مسجد ہی کے مال سے تھا تو متولی بیچ کر مسجد کے جس کام میں چاہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹
لگادے اور مسجد کی لکڑیاں یعنی چوکھٹکواڑکڑیتختہیہ بیچ کر خاص عمارت مسجد کے کام میں صرف ہو۔لوٹےرسی چراغ بتیفرش چٹائی کے کام میں نہیں لگاسکتےپھر ان چیزوں کی بیع کافر کے ہاتھ نہ ہو بلکہ مسلمان کے ہاتھ۔اور مسلمان ان کو بے ادبی کی جگہ استعمال نہ کرے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۱۹۸ تا ۲۰۱: مرسلہ مولوی عبدالمطلب صاحب از بانٹوہ کاٹھیاوار ۳۰ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ:
(۱)ایك شخص مرگیا اور اپنی عورت اور ایك لڑکی اور باقی وارث چھوڑے اور اس متوفی کی عورت نے وارثوں کے حق کو تلف کرکے ایك مسجد تعمیر کرائی اور جس زمین پر اس نے مسجد تعمیر کرائی ہے وہ زمین نیز وراثت میں داخل ہے تو اس میں نماز پڑھنا اور اس کو مسجد کہنا شرعادرست ہے یانہ
(۲)اور اگر اب بعضے وارث انہیں میں سے اپنے حق کو معاف کردیں اور بعضے نہ کریں تو نماز پڑھنا اس مسجد میں درست ہوجائے گا یانہ
(۳)اور اگر وہ وارث جانتے ہیں کہ اب جو پیسہ تھا وہ مسجد میں خرچ ہوگیا اب ہمیں ملنے والا نہیں ہے اور لوگوں کی شرم سے معاف کردیں تو درست ہے
(۴)اور اگر شرع حکم دے کہ نماز اس میں درست نہیں ہے تو اس میں رہنا گھر بناکر یا کرایہ وغیرہ پر دینا درست ہوگا بحوالہ کتب معتبرہ جواب سے سرفراز کریں۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں باجماع مسلمین وہ ہرگز مسجد نہیں بلکہ ایك زمین ہے بدستور اپنے مالکوں کی ملك پرباقیکہ جب یہ عورت تنہا اس کی مالك نہیں جیساکہ بیان سائل ہے تو وہ ساری زمین اس کے وقف کئے سے وقف نہیں ہوسکتیلان شرط الوقف الملك کما فی الھندیۃ وغیرہا(کیونکہ شرط وقف یہ ہے کہ وہ واقف کی ملك ہو جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ ت)نہ یہ ممکن کہ اس میں سے اس کے حصہ کو مسجد ٹھہرادیں باقی ملك دیگر ورثہ سمجھیں کہ جب وہ غیر منقسم ہے تو اس کا حصہ متعین نہیں اور مسجد بالاجماع مشاع نہیں ہوسکتی۔
لان من شرطہ انقطاع حقوق العباد عن جمیع جوانبہ فضلا عن نفسہ کما فی الھدایۃ وغیرہا۔ کیونکہ شرائط وقف میں سے ایك شرط یہ بھی ہے کہ اس کی تمام جوانب حقوق العباد سے منقطع ہو چہ جائیکہ خود وقف جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ اﷲ تعالی
مسئلہ۱۹۸ تا ۲۰۱: مرسلہ مولوی عبدالمطلب صاحب از بانٹوہ کاٹھیاوار ۳۰ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ:
(۱)ایك شخص مرگیا اور اپنی عورت اور ایك لڑکی اور باقی وارث چھوڑے اور اس متوفی کی عورت نے وارثوں کے حق کو تلف کرکے ایك مسجد تعمیر کرائی اور جس زمین پر اس نے مسجد تعمیر کرائی ہے وہ زمین نیز وراثت میں داخل ہے تو اس میں نماز پڑھنا اور اس کو مسجد کہنا شرعادرست ہے یانہ
(۲)اور اگر اب بعضے وارث انہیں میں سے اپنے حق کو معاف کردیں اور بعضے نہ کریں تو نماز پڑھنا اس مسجد میں درست ہوجائے گا یانہ
(۳)اور اگر وہ وارث جانتے ہیں کہ اب جو پیسہ تھا وہ مسجد میں خرچ ہوگیا اب ہمیں ملنے والا نہیں ہے اور لوگوں کی شرم سے معاف کردیں تو درست ہے
(۴)اور اگر شرع حکم دے کہ نماز اس میں درست نہیں ہے تو اس میں رہنا گھر بناکر یا کرایہ وغیرہ پر دینا درست ہوگا بحوالہ کتب معتبرہ جواب سے سرفراز کریں۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں باجماع مسلمین وہ ہرگز مسجد نہیں بلکہ ایك زمین ہے بدستور اپنے مالکوں کی ملك پرباقیکہ جب یہ عورت تنہا اس کی مالك نہیں جیساکہ بیان سائل ہے تو وہ ساری زمین اس کے وقف کئے سے وقف نہیں ہوسکتیلان شرط الوقف الملك کما فی الھندیۃ وغیرہا(کیونکہ شرط وقف یہ ہے کہ وہ واقف کی ملك ہو جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ ت)نہ یہ ممکن کہ اس میں سے اس کے حصہ کو مسجد ٹھہرادیں باقی ملك دیگر ورثہ سمجھیں کہ جب وہ غیر منقسم ہے تو اس کا حصہ متعین نہیں اور مسجد بالاجماع مشاع نہیں ہوسکتی۔
لان من شرطہ انقطاع حقوق العباد عن جمیع جوانبہ فضلا عن نفسہ کما فی الھدایۃ وغیرہا۔ کیونکہ شرائط وقف میں سے ایك شرط یہ بھی ہے کہ اس کی تمام جوانب حقوق العباد سے منقطع ہو چہ جائیکہ خود وقف جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ اﷲ تعالی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور۲/ ۵۳۔۳۵۲
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیہ کراچی ۲ /۶۲۵
القرآن الکریم ۷۲ /۱۸
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیہ کراچی ۲ /۶۲۵
القرآن الکریم ۷۲ /۱۸
قال تعالی" و ان المسجد للہ" ۔ نے فرمایا کہ بیشك مسجدیں اﷲ عزوجل کی ہیں(ت)
ہاں اگر باقی ورثہ سب عاقل بالغ ہوں اور سب بالاتفاق اس وقت مسجدیت کو جائز کردیں تو اب جائز ہوجائے گی اور کسی کی شرم سے ایسا کرنا مانع صحت نہ ہوگا فان الحیاء لیس باکراہ(کیونکہ حیاء جبر واکراہ نہیں ہے۔ت)جب تك ایسا نہ کریں کہ وہ ایك مکان ہے کہ مالکوں کو اس میں رہنا بسنا کرایہ پر دینا سب جائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰۲تا۲۰۳:
کیافرماتے ہیں علمائے عظام اس مسئلہ میں:
(۱)زید نے(مسلمان کہلائے جانے کی حالت میں)کچھ قطعہ زمین صحن مسجد اپنے مکان کی بنا مں دبالیابعض لوگ مانع آئے مگر نہ ماناایسی صورت میں زیدکے ساتھ کیا معاملہ شرعا کیاجائے اور متولیان مسجد ودیگر اہل اسلام کو مواخذہ کا حق حاصل ہے یانہیںاگر ہے تو ان پر یہ حق واجباور ضروری ہے جس کے ترك سے عاصی ہوں گے یا کیا یا زید بعوض زمین مغصوبہ بہ زر نقد بطور جرمانہ ادا کرے تو اس کا لیناجائز ہے یانہیںدریں صورت زید مواخذہ عنداﷲ سے بری ہوسکتا ہے
(۲)جو شخص ربو خوار معلن ہے زکوۃ بھی نہیں دیتا اس کا کیاحکم اور اس سے مخالطت و مرابطت و مواکلت مکروہ ہے کہ نہیں ﷲ مصرح اورعامۃ الفہم عبارت میں جواب ارشاد فرماکر عنداﷲ ماجور و عندالناس مشکور ہوں۔
الجواب:
اس صورت میں زید سخت گناہ کبیرہ وظلم شدید کا مرتکب اور اس آیہ کریمہ کی وعید کا مستوجب ہے:
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا اولئک ما کان لہم ان یدخلوہا الا خآئفین۬ لہم فی الدنیا خزی ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم﴿۱۱۴﴾" اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو ان میں اﷲ کا نام لئے جانے سے روکے اور ان کی ویرانی میں سعی کرے انہیں روانہ تھا کہ اس میں قدم رکھیں مگر ڈرتے ہوئےان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کےلئے آخرت میں بڑا عذاب۔
مسجد کا ہر ٹکڑا مسجد ہے تو جتنا پارہ زمین اس نے دبالیا اسے نماز سے روکا اور اس کی ویرانی میں
ہاں اگر باقی ورثہ سب عاقل بالغ ہوں اور سب بالاتفاق اس وقت مسجدیت کو جائز کردیں تو اب جائز ہوجائے گی اور کسی کی شرم سے ایسا کرنا مانع صحت نہ ہوگا فان الحیاء لیس باکراہ(کیونکہ حیاء جبر واکراہ نہیں ہے۔ت)جب تك ایسا نہ کریں کہ وہ ایك مکان ہے کہ مالکوں کو اس میں رہنا بسنا کرایہ پر دینا سب جائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰۲تا۲۰۳:
کیافرماتے ہیں علمائے عظام اس مسئلہ میں:
(۱)زید نے(مسلمان کہلائے جانے کی حالت میں)کچھ قطعہ زمین صحن مسجد اپنے مکان کی بنا مں دبالیابعض لوگ مانع آئے مگر نہ ماناایسی صورت میں زیدکے ساتھ کیا معاملہ شرعا کیاجائے اور متولیان مسجد ودیگر اہل اسلام کو مواخذہ کا حق حاصل ہے یانہیںاگر ہے تو ان پر یہ حق واجباور ضروری ہے جس کے ترك سے عاصی ہوں گے یا کیا یا زید بعوض زمین مغصوبہ بہ زر نقد بطور جرمانہ ادا کرے تو اس کا لیناجائز ہے یانہیںدریں صورت زید مواخذہ عنداﷲ سے بری ہوسکتا ہے
(۲)جو شخص ربو خوار معلن ہے زکوۃ بھی نہیں دیتا اس کا کیاحکم اور اس سے مخالطت و مرابطت و مواکلت مکروہ ہے کہ نہیں ﷲ مصرح اورعامۃ الفہم عبارت میں جواب ارشاد فرماکر عنداﷲ ماجور و عندالناس مشکور ہوں۔
الجواب:
اس صورت میں زید سخت گناہ کبیرہ وظلم شدید کا مرتکب اور اس آیہ کریمہ کی وعید کا مستوجب ہے:
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا اولئک ما کان لہم ان یدخلوہا الا خآئفین۬ لہم فی الدنیا خزی ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم﴿۱۱۴﴾" اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو ان میں اﷲ کا نام لئے جانے سے روکے اور ان کی ویرانی میں سعی کرے انہیں روانہ تھا کہ اس میں قدم رکھیں مگر ڈرتے ہوئےان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کےلئے آخرت میں بڑا عذاب۔
مسجد کا ہر ٹکڑا مسجد ہے تو جتنا پارہ زمین اس نے دبالیا اسے نماز سے روکا اور اس کی ویرانی میں
حوالہ / References
القرآن الکریم∞۷۲/ ۱۸€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۱۴€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۱۴€
ساعی ہوا اور دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم کا استحقاق لیارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے صحیح حدیثوں میں فرمایا ہے کہ"جو بالشت بھر زمین ناحق دبالے گا قیامت کے دن اتنا حصہ زمین کے ساتوں طبقے توڑ کر اس کے گلے میں طوق ڈالے جائیں گے "۔ ہر مسلمان خصوصا متولیان مسجد کو اس پر حق مواخذہ حاصل ہے اور فرض ہےکہ ہر جائز چارہ جوئی اس سے زمین نکال کر شامل مسجد کرنے کے لئے حد کو پہنچائیںجو باوصف قدرت اس سے بازرہے گا شریك عذاب ہوگا تاحد قدرت ہر گز حلال نہیں کہ اس سے کچھ روپیہ اس کے عوض لے کر چھوڑ دیں کہ یہ مسجد کا بیچنا ہوگا اور مسجد کی بیع باطل وحرام و ناممکن ہے قال اﷲ” و ان المسجد لله " (اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ بے شك مساجد اللہ عز وجل کی ہیں۔ت) اگر وہ لاکھ روپے ہر گز کے بدلے دے جب بھی لینا حرام ہےنہ ہرگز زید کسی طرح عنداللہ مواخذہ سے بری ہوگا جب تك زمین مسجد مسجد کو واپس نہ دے۔زید اگر ایسا نہ کرے تو مسلمان اس سے میل جولسلام کلامنشست برخاست قطع کردیں۔
قال اﷲ تعالی " و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) " ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا اور اگرشیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر قوم ظالمین کے ساتھ مت بیٹھ(ت)
یونہی ربو خوار معلن بھی اسی آیہ کریمہ کے حکم میں داخل ہےتفسیر احمد ی میں ہے:والقعود مع کلھم ممتنع (ان سب کے ساتھ مجلس کرنا ممنوع ہے۔ت)اس سے بھی قطع علاقہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰۴: مرسلہ حاجی سیٹھ یوسف بن ابراہیم بمقام گونڈل علاقہ کاٹھیاوار ۲۷محرم الحرام ۱۳۳۳ھ چہارشنبہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس معاملہ میں کہ بعض لوگوں نے مسجد بڑھانے یا پرانی کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کے لئے مسلمان جماعت کو روپے دئے ہیں اور کہا ہے کہ جس طور چاہیں مسجد میں خرچ کریں________مگر فی الحال مسجد میں خرچ کرنے کی ضرورت نہیں اور وہ روپے امانۃ پڑے ہیںاب مذکورہ روپیہ بیوپارکی کمپنی میں ڈال کر ان کا نفع بڑھا دیں تو جائز ہے یانہیںمگر
قال اﷲ تعالی " و اما ینسینك الشیطن فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸) " ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا اور اگرشیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر قوم ظالمین کے ساتھ مت بیٹھ(ت)
یونہی ربو خوار معلن بھی اسی آیہ کریمہ کے حکم میں داخل ہےتفسیر احمد ی میں ہے:والقعود مع کلھم ممتنع (ان سب کے ساتھ مجلس کرنا ممنوع ہے۔ت)اس سے بھی قطع علاقہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰۴: مرسلہ حاجی سیٹھ یوسف بن ابراہیم بمقام گونڈل علاقہ کاٹھیاوار ۲۷محرم الحرام ۱۳۳۳ھ چہارشنبہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس معاملہ میں کہ بعض لوگوں نے مسجد بڑھانے یا پرانی کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کے لئے مسلمان جماعت کو روپے دئے ہیں اور کہا ہے کہ جس طور چاہیں مسجد میں خرچ کریں________مگر فی الحال مسجد میں خرچ کرنے کی ضرورت نہیں اور وہ روپے امانۃ پڑے ہیںاب مذکورہ روپیہ بیوپارکی کمپنی میں ڈال کر ان کا نفع بڑھا دیں تو جائز ہے یانہیںمگر
حوالہ / References
صحیح البخاری باب ماجاء فی سبع ارضین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۵۴
القرآن الکریم ۷۲ /۱۸
القرآن الکریم ۶ /۶۸
التفسیرات الاحمدیۃ تحت ۶/ ۶۸ مطبع کریمی بمبئی انڈیا ص ۳۸۸
القرآن الکریم ۷۲ /۱۸
القرآن الکریم ۶ /۶۸
التفسیرات الاحمدیۃ تحت ۶/ ۶۸ مطبع کریمی بمبئی انڈیا ص ۳۸۸
یہاں کی کمپنیوں میں لین دین سود کا ہوتا ہے تو ان کا کیاحکم ہے اگراس طور وہ روپیہ بڑھ نہ سکتا ہوتو اور کوئی طریقہ ان روپوں کے بڑھنے کا ہے اور بڑھ سکتے ہیں یا نہیں یا اسی طرح سے جماعت کسی امین شخص کے پاس امانت رہنے دے اور امانت رکھنے میں چوری ہونے کاخوف ہے کہ مبادا مسجد کے روپے ضائع ہوجائیں تو ان روپوں کا مکان خرید کرکے اس کے کرایہ سے نفع اٹھایا جائے اور وقت ضرورت روپیہ وہ مکان فروخت کیا جائےمگر ان میں جماعت والوں کا اختلاف ہےبعض کہتے ہیں کہ یہ صورت نہ کرنی چاہئے اوربعض کہتے ہیں کہ اس طور کیاجائے تو ان کا حکم کیا ہےوہ برائے مہربانی مفصل طور سے ارقام فرماکر عنداللہ ماجور وعندالناس مشکور ہوں۔
الجواب:
چندہ کے روپے چندہ دینے والوں کی ملك پر رہتے ہیں ان سے اجازت لی جائےجو جائز بات وہ بتائیں اس پر عمل کیا جائے وبیان المسئلۃ وتحقیقھا فی کتاب الوقف من فتاونا(اس مسئلے کا بیان اور تحقیق ہمارے فتاوی کی کتاب الوقف میں ہے۔ت)ایسی کمپنی میں کہ سود کا لین دین کرتی ہو شامل کرکے بڑھانا حرام ہے اگرچہ چندہ دہندہ اجازت دیںفلیس لاحد ان یحل ماحرم اﷲ(کسی کو یہ اختیار نہیں کہ اس چیز کو حلال قرار دے جسے اﷲ تعالی نے حرام فرمایا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۵ تا۲۰۶: مرسلہ محمد صابر مدرس مدرسہ دارالعلوم قصبہ مئوناتھ بھنجن ضلع اعظم گڑھ۱۸صفر ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ کئی سو برس سے آباد ہے وہاں کے مسلمانوں کی مردم شماری فی الحال تقریبا آٹھ ہزار ہے اور وہاں مسجدیں تخمینا اسی کے قریب آباد ہیںان کے علاوہ اور بھی مساجد ہیںوہاں کے کل مسلمان بجز چند شیعہ کے ابتدا سے حنفی المذہب متفق الخیال متحد العقائد والمسائل باہم شیر وشکر کی طرح ملے جلے رہتے تھے ان میں کسی قسم کا مذہبی جنگ وجدال وتخالف نہ تھا مگر تقریبا تیس بتیس برس سے چند لوگ(غالبا فی الحال ان کی تعداد دوڈھائی سو ہوگی)منکر مذہبغیر مقلد ہوگئے اور باہم سخت منافرت ومخالفت پیدا ہوگئی حتی کہ بارہا فوجداری اور عدالت کی نوبت پہنچ گئیغیر مقلدین نے اپنی عید گاہ اور جامع مسجد نئی بنوالی تھیں مگر بعض بعض ایسی ہی مسجدیں ہیں جن میں دونوں فریق نماز پڑھتے ہیں ایسی مسجدوں پر اکثر مذہبی جھگڑے ہوجایا کرتے ہیں چنانچہ ان دنوں موجودہ ۱۳۳۳ھ ۱۳ محرم کو ایك مسجد میں دونوں فریق جمع ہوگئے اور اسی میں مارپیٹ لٹھم لٹھا گھوسم گھوسا کر بیٹھے بلکہ ان کے ذریعہ سے دو فوجداریاں اور بھی ہوگئیں جس سے قصبہ میں ہلچل مچ گئیپولیس اگر روك تھام نہ کرتی تو نہیں معلوم کیا ہوجاتا آئے دن کی مذہبی فوجداری سے دونوں فریق تنگ آگئے اب فریقین اس امر پرراضی ہیں کہ باہم صلح کرکے جھگڑے کو
الجواب:
چندہ کے روپے چندہ دینے والوں کی ملك پر رہتے ہیں ان سے اجازت لی جائےجو جائز بات وہ بتائیں اس پر عمل کیا جائے وبیان المسئلۃ وتحقیقھا فی کتاب الوقف من فتاونا(اس مسئلے کا بیان اور تحقیق ہمارے فتاوی کی کتاب الوقف میں ہے۔ت)ایسی کمپنی میں کہ سود کا لین دین کرتی ہو شامل کرکے بڑھانا حرام ہے اگرچہ چندہ دہندہ اجازت دیںفلیس لاحد ان یحل ماحرم اﷲ(کسی کو یہ اختیار نہیں کہ اس چیز کو حلال قرار دے جسے اﷲ تعالی نے حرام فرمایا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۵ تا۲۰۶: مرسلہ محمد صابر مدرس مدرسہ دارالعلوم قصبہ مئوناتھ بھنجن ضلع اعظم گڑھ۱۸صفر ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ کئی سو برس سے آباد ہے وہاں کے مسلمانوں کی مردم شماری فی الحال تقریبا آٹھ ہزار ہے اور وہاں مسجدیں تخمینا اسی کے قریب آباد ہیںان کے علاوہ اور بھی مساجد ہیںوہاں کے کل مسلمان بجز چند شیعہ کے ابتدا سے حنفی المذہب متفق الخیال متحد العقائد والمسائل باہم شیر وشکر کی طرح ملے جلے رہتے تھے ان میں کسی قسم کا مذہبی جنگ وجدال وتخالف نہ تھا مگر تقریبا تیس بتیس برس سے چند لوگ(غالبا فی الحال ان کی تعداد دوڈھائی سو ہوگی)منکر مذہبغیر مقلد ہوگئے اور باہم سخت منافرت ومخالفت پیدا ہوگئی حتی کہ بارہا فوجداری اور عدالت کی نوبت پہنچ گئیغیر مقلدین نے اپنی عید گاہ اور جامع مسجد نئی بنوالی تھیں مگر بعض بعض ایسی ہی مسجدیں ہیں جن میں دونوں فریق نماز پڑھتے ہیں ایسی مسجدوں پر اکثر مذہبی جھگڑے ہوجایا کرتے ہیں چنانچہ ان دنوں موجودہ ۱۳۳۳ھ ۱۳ محرم کو ایك مسجد میں دونوں فریق جمع ہوگئے اور اسی میں مارپیٹ لٹھم لٹھا گھوسم گھوسا کر بیٹھے بلکہ ان کے ذریعہ سے دو فوجداریاں اور بھی ہوگئیں جس سے قصبہ میں ہلچل مچ گئیپولیس اگر روك تھام نہ کرتی تو نہیں معلوم کیا ہوجاتا آئے دن کی مذہبی فوجداری سے دونوں فریق تنگ آگئے اب فریقین اس امر پرراضی ہیں کہ باہم صلح کرکے جھگڑے کو
مٹادیںچنانچہ برضامندی فریقین چند اشخاص حکم مقرر کئے گئے ہیں اور باتفاق فریقین اقرار نامہ ثالثی میں مضمون لکھا گیا ہے کہ ثالثان حسب شریعت وقانون ودیانتداری جو فیصلہ کردیں گے ہم فریقین کو منظو رہےاب علمائے حقانی سے یہ استفسار ہے:
(۱)چونکہ تیسوں برس کے تجربہ ومشاہدہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس قصبہ میں جب دونوں فریق ایك نزاعی مسجدمیں جمع ہوجاتے ہیں تو اکثر مذہبی شرو فساد کر بیٹھتے ہیں اگر اس شرو فساد وفتنہ و پرخاش کے مٹانے کے لئے ثالثین دونوں کو الگ کردیں اور فریقین کے لئے خاص خاص مسجدیں نامزد کریں تو کیا یہ فیصلہ خلاف شریعت ہوگا
(۲)اگر کسی نمازی کے ذریعہ سے حفظ امن میں خلل واقع ہوتا ہو اور شروفساد کااندیشہ ہو یا عام نمازیوں کو کسی قسم کی تکلیف اوراذیت پہنچتی ہوتو ایسے شخص کو بغرض حفظ امن وانسداد شر وفساد جماعت سے روك دینا کیا شرع کے خلاف ہےبینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)جو مساجد غیر مقلدوں کی بنائی ہوئی ہیں ان کے نامزد کردی جائیں مگر جو مساجد اہل سنت کی بنائی ہوئی ہیں ان میں سے کوئی مسجد غیر مقلدوں کے لئے خاص کردینا اور اہلسنت کوان سے ممنوع کرنا شرعا محض ظلم و حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی " و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه " ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالی کی مساجد میں اس کا نام لینے سے روکے۔(ت)
جبکہ وہ مسجدیں اہلسنت کی ہیں اور ان کی بنائی ہوئی ہیں تو ان پر قبضہ چاہنا اور اس کے لئے فتنہ اٹھانا غیر مقلدوں کا فساد ہوگا اور کوئی مجبور نہیں ہوسکتا کہ دوسرے کے شورش بے جا کے سبب اپنے حق سے دست بردار ہو فتنہ غیر مقلدوں کا انسداد اگر یوں نہ ہوسکتا ہو تو کچہریاں کھلی ہوئی ہیں اور وہ اسی واسطے رکھی گئی ہیں کہ فتنہ والوں کا دست تعدی کوتاہ کریں اور دوسروں کے حقوق پر دست درازی نہ کرنے دیں جوشخص یہ رائے یا فتوی دے کہ دفع فتنہ کے لئے اپنی مسجد چھوڑ دو۔کل اگر غیر مقلدین اور مفسدین ان کی جائداد اموال متاع مکانوں پر قبضہ چاہیںاور نہ دیجئے توفساد اٹھائیں کیا دفع فتنہ کو وہ لوگ اپنے گھر بار مال متاع اسباب جائداد سے دستبردار ہوجائیں گے ہر گز نہیںتو وجہ کیا ہے کہ یہ آنکھوں میں دنیا کی قد رہے دل میں دنیا
(۱)چونکہ تیسوں برس کے تجربہ ومشاہدہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس قصبہ میں جب دونوں فریق ایك نزاعی مسجدمیں جمع ہوجاتے ہیں تو اکثر مذہبی شرو فساد کر بیٹھتے ہیں اگر اس شرو فساد وفتنہ و پرخاش کے مٹانے کے لئے ثالثین دونوں کو الگ کردیں اور فریقین کے لئے خاص خاص مسجدیں نامزد کریں تو کیا یہ فیصلہ خلاف شریعت ہوگا
(۲)اگر کسی نمازی کے ذریعہ سے حفظ امن میں خلل واقع ہوتا ہو اور شروفساد کااندیشہ ہو یا عام نمازیوں کو کسی قسم کی تکلیف اوراذیت پہنچتی ہوتو ایسے شخص کو بغرض حفظ امن وانسداد شر وفساد جماعت سے روك دینا کیا شرع کے خلاف ہےبینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)جو مساجد غیر مقلدوں کی بنائی ہوئی ہیں ان کے نامزد کردی جائیں مگر جو مساجد اہل سنت کی بنائی ہوئی ہیں ان میں سے کوئی مسجد غیر مقلدوں کے لئے خاص کردینا اور اہلسنت کوان سے ممنوع کرنا شرعا محض ظلم و حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی " و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه " ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ تعالی کی مساجد میں اس کا نام لینے سے روکے۔(ت)
جبکہ وہ مسجدیں اہلسنت کی ہیں اور ان کی بنائی ہوئی ہیں تو ان پر قبضہ چاہنا اور اس کے لئے فتنہ اٹھانا غیر مقلدوں کا فساد ہوگا اور کوئی مجبور نہیں ہوسکتا کہ دوسرے کے شورش بے جا کے سبب اپنے حق سے دست بردار ہو فتنہ غیر مقلدوں کا انسداد اگر یوں نہ ہوسکتا ہو تو کچہریاں کھلی ہوئی ہیں اور وہ اسی واسطے رکھی گئی ہیں کہ فتنہ والوں کا دست تعدی کوتاہ کریں اور دوسروں کے حقوق پر دست درازی نہ کرنے دیں جوشخص یہ رائے یا فتوی دے کہ دفع فتنہ کے لئے اپنی مسجد چھوڑ دو۔کل اگر غیر مقلدین اور مفسدین ان کی جائداد اموال متاع مکانوں پر قبضہ چاہیںاور نہ دیجئے توفساد اٹھائیں کیا دفع فتنہ کو وہ لوگ اپنے گھر بار مال متاع اسباب جائداد سے دستبردار ہوجائیں گے ہر گز نہیںتو وجہ کیا ہے کہ یہ آنکھوں میں دنیا کی قد رہے دل میں دنیا
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
کی محبت ہے جگر میں دنیا کا درد ہے وہاں دفع فتنہ کو یہ تدبیر نہ سوجھے گی نہ آیات دفع فساد کے یہ معنی ذہن میں آئیں گے اور نہ دین کی قدر نہ محبت نہ دررلہذا گھاس کی طرح کتردیں گے کہ میاں ہاں اپنی مسجدیں چھوڑدو اپنے دینی حقوق سے دست بردار ہوجاؤ کسی طرح جھگڑا تو مٹے حالانکہ اوروں کے فتنہ فساد پر اگر اپنی جائداد مکاناتمالاسباب چھوڑدو تو صرف دنیوی نقصان ہے اور یہاں علاوہ اپنی دینی حق تلفی کے اس آیہ کریمہ کی وعیدشدید میں داخل ہونا اور حرام کا ارتکاب اور بحکم قرآن عظیم استحقاق رسوائی وخواری وعذاب ہے۔
قال اﷲ تعالی "لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم(۱۱۴) " والعیاذ باﷲ۔
ا ﷲتعالی نے فرمایا کہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑاعذاب ہے۔اﷲ تعالی کی پناہ۔(ت)
(۲)ہاں شرعا حکم ہے کہ ایسے لوگ مسجد سے باز رکھے جائیں
قال اﷲ تعالی " اولىك ما كان لهم ان یدخلوها الا خآىفین۬ " ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا کہ انہیں مساجد میں داخل نہیں ہونا چاہئے مگر ڈرتے ہوئے۔(ت)
درمختار میں ہے:
یمنع منہ کل مؤذولو بلسانہ ۔
ہرایذا دینے والے کو مسجد سے روکا جائیگا اگرچہ وہ ایذا زبان سے پہنچائیں(ت)
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں زیر حدیث فلایقر بن مصلانا(وہ ہر گز ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئیں۔ت)پھر ردالمحتار میں ہے:
والحق بالحدیث کل من اذی الناس بلسانہ وبہ افتی ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماوھو اصل فی نفی کل من یتاذی بہ ۔
اس حدیث کے ساتھ وہ شخص بھی ملحق ہے جو زبان سے لوگوں کو ایذاء پہنچاتا ہے اور حضرت عمر فاروق نے اسی پر فتوی دیا اور یہ اصل ہے ہر اس چیز کی نفی میں جس سے لوگوں کو ایذا ہوتی ہے(ت)
قال اﷲ تعالی "لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم(۱۱۴) " والعیاذ باﷲ۔
ا ﷲتعالی نے فرمایا کہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑاعذاب ہے۔اﷲ تعالی کی پناہ۔(ت)
(۲)ہاں شرعا حکم ہے کہ ایسے لوگ مسجد سے باز رکھے جائیں
قال اﷲ تعالی " اولىك ما كان لهم ان یدخلوها الا خآىفین۬ " ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا کہ انہیں مساجد میں داخل نہیں ہونا چاہئے مگر ڈرتے ہوئے۔(ت)
درمختار میں ہے:
یمنع منہ کل مؤذولو بلسانہ ۔
ہرایذا دینے والے کو مسجد سے روکا جائیگا اگرچہ وہ ایذا زبان سے پہنچائیں(ت)
عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں زیر حدیث فلایقر بن مصلانا(وہ ہر گز ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئیں۔ت)پھر ردالمحتار میں ہے:
والحق بالحدیث کل من اذی الناس بلسانہ وبہ افتی ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماوھو اصل فی نفی کل من یتاذی بہ ۔
اس حدیث کے ساتھ وہ شخص بھی ملحق ہے جو زبان سے لوگوں کو ایذاء پہنچاتا ہے اور حضرت عمر فاروق نے اسی پر فتوی دیا اور یہ اصل ہے ہر اس چیز کی نفی میں جس سے لوگوں کو ایذا ہوتی ہے(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۴
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۴
مگر طرفہ تحفظ کا لحاظ ضروری ہے اگر خود منع کرنے میں اندیشہ فساد ہو چارہ جوئی کرکے بند کرادیںوباﷲ التوفیق۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰۷: مرسلہ نثار احمد زمیندا ر ساکن موضع پال نگر ڈاکخانہ امر یہ ضلع پیلی بھیت ۴ربیع الاول شریف۱۳۳۳ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میںایك موضع جس میں پانچ چار گھر مسلمانوں کے اور پندرہ بیس گھر اہل ہنود کے ہیںاور قدیم الایام سے ایك مسجد تعمیر خام خس پوش موجود ہےکسی وقت میں یہ مسجد مسلمانوں کی آبادی کے اندر واقع تھی اور اس کے گرد ونواح میں مسلمان آباد تھےرفتہ رفتہ تغیر وتبدل ہوتے ہوتے مسلمانوں کی آبادی اس مقام سے ہٹتی گئی اب صورت یہ ہے کہ مسجد کے گردو نواح کوئی مسلمان کا گھر نہیں ہے اور وہ مسجد بالکل مسلمانوں کی آبادی سے ایك جانب ہنود کی آبادی کے ساتھ متصل ہے اور ہمیشہ خراب و خستہ اور ویران پڑی رہتی ہے اور عرصہ دس بیس سال سے نہ وہ آباد ہوئی اور نہ آبادی کی امید ہےاب بفضلہ تعالی اہل اسلام میں سے ایك شخص کو خداوند تعالی نے توفیق عطا فرمائی ہے وہ مسجد پختہ بنانا چاہتے ہیںاب سوال یہ ہے کہ آیایہ مسجد پختہ اسی مسجد قدیم کی تعمیر کی جائے کہ جو ایك مدت دراز سے غیر آباد اور نہ آئندہ آبادی کی امید ہےیا یہ کہ اس کو کسی طرح محفوظ محدود کرکے دوسری جگہ مسلمانوں کی آبادی کے درمیان میں مسجد پختہ تعمیر کی جائے کہ جس سے اس مسجد پختہ جدید میں نمازیوں کا پہنچنا بھی آسان ہو اور مسجد آباد رہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
حتی الامکان مسجد کا آباد کرنا فرض ہے اور ویران کرنا حرام۔اﷲ تعالی فرماتا ہے:
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-
اور اس شخص سے بڑاظالم کون ہے جو اﷲ تعالی کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکتا ہے اور ان کی بربادی کی کوشش کرتا ہے(ت)
ہندوستان کی آبادی کا قاعدہ یہ ہے شہر ہو یا گاؤں کہ مکانات قریب قریب ہوتے ہیںبیس پچیس گھر کا گاؤں اتنے فاصلہ کی آبادی نہ رکھے گا کہ مسلمانوں کو مسجد قدیم تك جانا دشوار ہوتو جو صاحب پختہ بنانا چاہتے ہیں اسی کو پختہ کریں اور آباد کریں جدا مسجد بنانے میں نفل کاثواب پائیں گے اور اس مسجد کے آباد کرنے میں فرض کاثواب
مسئلہ۲۰۷: مرسلہ نثار احمد زمیندا ر ساکن موضع پال نگر ڈاکخانہ امر یہ ضلع پیلی بھیت ۴ربیع الاول شریف۱۳۳۳ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میںایك موضع جس میں پانچ چار گھر مسلمانوں کے اور پندرہ بیس گھر اہل ہنود کے ہیںاور قدیم الایام سے ایك مسجد تعمیر خام خس پوش موجود ہےکسی وقت میں یہ مسجد مسلمانوں کی آبادی کے اندر واقع تھی اور اس کے گرد ونواح میں مسلمان آباد تھےرفتہ رفتہ تغیر وتبدل ہوتے ہوتے مسلمانوں کی آبادی اس مقام سے ہٹتی گئی اب صورت یہ ہے کہ مسجد کے گردو نواح کوئی مسلمان کا گھر نہیں ہے اور وہ مسجد بالکل مسلمانوں کی آبادی سے ایك جانب ہنود کی آبادی کے ساتھ متصل ہے اور ہمیشہ خراب و خستہ اور ویران پڑی رہتی ہے اور عرصہ دس بیس سال سے نہ وہ آباد ہوئی اور نہ آبادی کی امید ہےاب بفضلہ تعالی اہل اسلام میں سے ایك شخص کو خداوند تعالی نے توفیق عطا فرمائی ہے وہ مسجد پختہ بنانا چاہتے ہیںاب سوال یہ ہے کہ آیایہ مسجد پختہ اسی مسجد قدیم کی تعمیر کی جائے کہ جو ایك مدت دراز سے غیر آباد اور نہ آئندہ آبادی کی امید ہےیا یہ کہ اس کو کسی طرح محفوظ محدود کرکے دوسری جگہ مسلمانوں کی آبادی کے درمیان میں مسجد پختہ تعمیر کی جائے کہ جس سے اس مسجد پختہ جدید میں نمازیوں کا پہنچنا بھی آسان ہو اور مسجد آباد رہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
حتی الامکان مسجد کا آباد کرنا فرض ہے اور ویران کرنا حرام۔اﷲ تعالی فرماتا ہے:
و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-
اور اس شخص سے بڑاظالم کون ہے جو اﷲ تعالی کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکتا ہے اور ان کی بربادی کی کوشش کرتا ہے(ت)
ہندوستان کی آبادی کا قاعدہ یہ ہے شہر ہو یا گاؤں کہ مکانات قریب قریب ہوتے ہیںبیس پچیس گھر کا گاؤں اتنے فاصلہ کی آبادی نہ رکھے گا کہ مسلمانوں کو مسجد قدیم تك جانا دشوار ہوتو جو صاحب پختہ بنانا چاہتے ہیں اسی کو پختہ کریں اور آباد کریں جدا مسجد بنانے میں نفل کاثواب پائیں گے اور اس مسجد کے آباد کرنے میں فرض کاثواب
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
نفل کے ثواب کو فرض کے ثواب سے کچھ نسبت نہیں ہوسکتیبڑے گاؤں میں جو لوگ رہتے آبادی میں ہیں اور ان کی کاشت کے نمبر گاؤں کے دھری پر ہیں روزانہ جوتنےکاٹنےکے لئے دو دو میل جاتے آتے ہیں اپنے رب کے فرض ادا کرنے کو دس قدم آگے جانا کیا دشواری ہےاصل حکم یہ ہےاگر عمل اس پر واقعی ناممکن ہو تو وجوہ دشواری سے مفصل اطلاع دیں اگر معقول ہوئیں تو چارہ کار بتایا جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۰۸۲۰۹:مسئولہ حاجی محمد رمضان وابراہیم پیر زادہ وغیرہما انصاری سکنہائے قصبہ پالی مارواڑ کیریہ محلہ ناڈی ۴ذو القعدۃ ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ پالی مارواڑ محلہ ناڈی میں فقیر ٹونڈے شاہ نے اپنے مکان میں ایك چھوٹی سے مسجد خاص اپنے ہی واسطے نماز پڑھنے کےلئے بنوالی اور تازیست خود اسی میں وہ نماز پڑھتا رہاعام لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ دی۔جب ٹونڈے شاہ لاوارث مر گیا تو اس مکان کا قبالہ یعنی پٹہ سرکارراج مارواڑی نے بصیغہ لاوارثی بنام حاجی اعظم شاہ صاحب مرحوم کر دیا جس کا مضمون یہ ہے کہ ٹونڈے شاہ تونااولاد گیا لہذا اس کے مکان کاپٹہ یعنی قبالہ حاجی اعظم شاہ صاحب کے نام کردیا گیا ہے۔سواب اس مکان پر قابض اور متصرف حاجی اعظم شاہ کی اولاد رہے گی کسی دوسرے کا کوئی حق اور ملکیت اس مکان پر نہیں ہےچنانچہ تخمینا سو برس عرصہ ہو ا آج تك اولاد حاجی اعظم شاہ صاحب مرحوم اس مکان پر قابض اور متصرف ہےتھوڑا عرصہ ہوا کہ چند اشخاص ناحق شناس نے عدالت میں مسجد کو اپنے قبضہ وتصرف میں لانے کی غرض سے دعوی کیا مگر بروئے پٹہ سرکار کے عدالت نے حق اور ملکیت اس مکان اور مسجد پر اولاد حاجی اعظم شاہ مرحوم ہی کا بدستور قدیم قائم رکھااب وہی اشخاص مذکورین اولاد حاجی اعظم شاہ مرحوم کو تنگ کرتے ہیں کہ یا تو مسجد کو چھوڑدو اور نہیں تو تم کو اسلام سے خارج کرادیں گے۔لہذا اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر اس مسجد کو اولاد حاجی اعظم شاہ صاحب مرحوم سے جبرا لے لی جائے تو اس مسجد میں نماز عندالشرع صحیح ودرست ہوگی یاکیا
دوم اگر اولاد حاجی اعظم صاحب مرحوم مسجد کو نہ چھوڑیں تو مخالفین ان کو اسلام سے خارج بحکم شرع شریف کرسکتے ہیں یا کیا
اور یہ امر بھی واضح رہے کہ مسجد متنازعہ عام مسلمانوں پر وقف نہ ہونے کی وجہ سے سرکارراج مار واڑ نے اس کا پٹہ بصیغہ لاوارثی بنام حاجی اعظم شاہ صاحب مرحوم کردیا ہےاور جو مسجدیں کہ عام مسلمانوں پر وقف کی گئی ہیں ان کایہ سرکار راج مار واڑ بصیغہ لاوارث نہیں کرتی ہیںلہذا امید وار کہ اس صورت میں جوامر حق ہو ارشاد فرمائیں اور عنداللہ وعندالناس ماجور ومشکور ہوںفقط۔
مسئلہ۲۰۸۲۰۹:مسئولہ حاجی محمد رمضان وابراہیم پیر زادہ وغیرہما انصاری سکنہائے قصبہ پالی مارواڑ کیریہ محلہ ناڈی ۴ذو القعدۃ ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ پالی مارواڑ محلہ ناڈی میں فقیر ٹونڈے شاہ نے اپنے مکان میں ایك چھوٹی سے مسجد خاص اپنے ہی واسطے نماز پڑھنے کےلئے بنوالی اور تازیست خود اسی میں وہ نماز پڑھتا رہاعام لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ دی۔جب ٹونڈے شاہ لاوارث مر گیا تو اس مکان کا قبالہ یعنی پٹہ سرکارراج مارواڑی نے بصیغہ لاوارثی بنام حاجی اعظم شاہ صاحب مرحوم کر دیا جس کا مضمون یہ ہے کہ ٹونڈے شاہ تونااولاد گیا لہذا اس کے مکان کاپٹہ یعنی قبالہ حاجی اعظم شاہ صاحب کے نام کردیا گیا ہے۔سواب اس مکان پر قابض اور متصرف حاجی اعظم شاہ کی اولاد رہے گی کسی دوسرے کا کوئی حق اور ملکیت اس مکان پر نہیں ہےچنانچہ تخمینا سو برس عرصہ ہو ا آج تك اولاد حاجی اعظم شاہ صاحب مرحوم اس مکان پر قابض اور متصرف ہےتھوڑا عرصہ ہوا کہ چند اشخاص ناحق شناس نے عدالت میں مسجد کو اپنے قبضہ وتصرف میں لانے کی غرض سے دعوی کیا مگر بروئے پٹہ سرکار کے عدالت نے حق اور ملکیت اس مکان اور مسجد پر اولاد حاجی اعظم شاہ مرحوم ہی کا بدستور قدیم قائم رکھااب وہی اشخاص مذکورین اولاد حاجی اعظم شاہ مرحوم کو تنگ کرتے ہیں کہ یا تو مسجد کو چھوڑدو اور نہیں تو تم کو اسلام سے خارج کرادیں گے۔لہذا اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر اس مسجد کو اولاد حاجی اعظم شاہ صاحب مرحوم سے جبرا لے لی جائے تو اس مسجد میں نماز عندالشرع صحیح ودرست ہوگی یاکیا
دوم اگر اولاد حاجی اعظم صاحب مرحوم مسجد کو نہ چھوڑیں تو مخالفین ان کو اسلام سے خارج بحکم شرع شریف کرسکتے ہیں یا کیا
اور یہ امر بھی واضح رہے کہ مسجد متنازعہ عام مسلمانوں پر وقف نہ ہونے کی وجہ سے سرکارراج مار واڑ نے اس کا پٹہ بصیغہ لاوارثی بنام حاجی اعظم شاہ صاحب مرحوم کردیا ہےاور جو مسجدیں کہ عام مسلمانوں پر وقف کی گئی ہیں ان کایہ سرکار راج مار واڑ بصیغہ لاوارث نہیں کرتی ہیںلہذا امید وار کہ اس صورت میں جوامر حق ہو ارشاد فرمائیں اور عنداللہ وعندالناس ماجور ومشکور ہوںفقط۔
الجواب:
اس سوال میں چند باتیں معلوم ہونے کی ضرورت ہے:
(۱)وہ مسجد مکان کے اندر کس حیثیت سے ہے
(۲)مسجد تك راستہ مکان کی زمین مملوك میں ہے یاکس طرح ہے
(۳)ٹونڈے شاہ کے وقت میں اور بھی لوگ اس میں نماز پرھتے تھے یا تنہا وہ پڑھتے تھے اگر اور لوگ بھی پڑھتے تھے تو کون اس محلہ کے یا عام راہ گیر یا کیا
(۴)اس مسجد کی ہیأت کیا ہےاس میں محرابمنبربرجیاںمنارے وغیرہ ہیں یانہیں بہتر ہوکہ اس مسجد اور مکان کا شارع عام تك پورا مفصل واضح نقشہ بناکر بھیجئے۔
(۵)اس کا کیا ثبوت ہے کہ ٹونڈے شاہ نے وہ مسجد خاص اپنے لئے بنائی اور کسی کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ دی
ان باتوں کا مفصل جواب اسی ورق کی پشت پر مع نقشہ لکھ کر یہ ورق واپس کیجئے تو جواب دیا جائے ان شاء اﷲ تعالی ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۰:مسئولہ یعقو ب علی نقشبندی قادری مقام کٹہری ضلع گوڑگاؤں ڈاکخانہ دھنیہ اسٹیشن مالوسانہ ۴ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں یعنی مسجدمیں تیل خرچ سے زائد قریب تیس آثار کے جو عرصہ سے جمع ہے اس تیل کو فروخت کرکے قیمت اس کی اخراجات مسجدمیں لائی جائے یا یہ کہ اس کو محتاجوں میں تقسیم کیا جائے
الجواب:اگر مسجد کے لئے روزانہ تیل دوسری جگہ سے آتا ہے مسجد کو خریدنا نہیں ہوتا جس کے باعث یہ تیل مسجد میں کام آنے کی امید نہیں یا اس کی حفاظت میں وقت ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو اسے متولی واکثر متدین اہل محلہ امانت یا دیانت واعلان کے ساتھ بیچ کر اخراجات مسجد میں صر ف کردیںمحتاجوں میں تقسیم کرنا جائز نہیں۔وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۱۱تا۲۱۲: بروز سہ شنبہ ۸محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ:
اولا: ایك مسجد کے ایك پہلو میں فرش صحن کے نیچے دکانات کے آثار تھےمگر ان کی چھت کی بلندی
اس سوال میں چند باتیں معلوم ہونے کی ضرورت ہے:
(۱)وہ مسجد مکان کے اندر کس حیثیت سے ہے
(۲)مسجد تك راستہ مکان کی زمین مملوك میں ہے یاکس طرح ہے
(۳)ٹونڈے شاہ کے وقت میں اور بھی لوگ اس میں نماز پرھتے تھے یا تنہا وہ پڑھتے تھے اگر اور لوگ بھی پڑھتے تھے تو کون اس محلہ کے یا عام راہ گیر یا کیا
(۴)اس مسجد کی ہیأت کیا ہےاس میں محرابمنبربرجیاںمنارے وغیرہ ہیں یانہیں بہتر ہوکہ اس مسجد اور مکان کا شارع عام تك پورا مفصل واضح نقشہ بناکر بھیجئے۔
(۵)اس کا کیا ثبوت ہے کہ ٹونڈے شاہ نے وہ مسجد خاص اپنے لئے بنائی اور کسی کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ دی
ان باتوں کا مفصل جواب اسی ورق کی پشت پر مع نقشہ لکھ کر یہ ورق واپس کیجئے تو جواب دیا جائے ان شاء اﷲ تعالی ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۰:مسئولہ یعقو ب علی نقشبندی قادری مقام کٹہری ضلع گوڑگاؤں ڈاکخانہ دھنیہ اسٹیشن مالوسانہ ۴ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں یعنی مسجدمیں تیل خرچ سے زائد قریب تیس آثار کے جو عرصہ سے جمع ہے اس تیل کو فروخت کرکے قیمت اس کی اخراجات مسجدمیں لائی جائے یا یہ کہ اس کو محتاجوں میں تقسیم کیا جائے
الجواب:اگر مسجد کے لئے روزانہ تیل دوسری جگہ سے آتا ہے مسجد کو خریدنا نہیں ہوتا جس کے باعث یہ تیل مسجد میں کام آنے کی امید نہیں یا اس کی حفاظت میں وقت ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو اسے متولی واکثر متدین اہل محلہ امانت یا دیانت واعلان کے ساتھ بیچ کر اخراجات مسجد میں صر ف کردیںمحتاجوں میں تقسیم کرنا جائز نہیں۔وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۱۱تا۲۱۲: بروز سہ شنبہ ۸محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ:
اولا: ایك مسجد کے ایك پہلو میں فرش صحن کے نیچے دکانات کے آثار تھےمگر ان کی چھت کی بلندی
صحن مسجد کی عام سطح سے کہیں ممتاز نہیں تھی یعنی دکانات کی چھت اور مسجد کا بقیہ صحن سب ایك سطح مستوی تھی اور یہ کل رقبہ ایك فصیل سے محاط تھااس فصیل کے اندر اندر کل اراضی مسجد اور مصلی تھی اب وہ دکانات دوبارہ تعمیر ہوئیںفصل گرادی گئیصحن مسجد کا وہ جز جو دکانات کی چھت بنا ہوا تھا دکانات میں ڈال دیا گیااور وہ اتنی اونچی پائی گئیں کہ بقیہ صحن سے ایك قد آدم سے زیادہ بلند ہیں۔اس چھت کے پرنالے مکانات کے پچھیت پر یعنی صحن مسجد میں اتارے گئے اورصحن مسجد کے کنارے پر پچھیت کی جڑ میں ایك عرض محدود کردیا گیا جس پر وہ پرنالے گرتے ہیں اور اس نالے میں بھی لوگ وضو کرنے لگےاس چھت سے ملحق ایك بالاخانہ اور چھت کل کو ایك مکان کی حیثیت سے کرایہ پر اٹھادیا گیا تاکہ مسجد کی آمدنی میں اضافہ ہوسوال یہ ہے کہ اب یہ چھت مسجد کے حکم میں ہے یا خارج از مسجد اور اس پر ایسے تصرفات جائز ہیں یانہیں جو مسجد پر ناجائز ہوتے ہیںمثلا بود وباش رکھنا نجاست ڈالنا وغیرہ اور مذکورہ بالا پر نالے اور نالی قابل قائم رکھنے کے ہیں یانہیں
ثانیا: ایك مسجد کےصحن کا ایك جز مصلی کاٹ کر موڑ پر سے محدود کردیا گیا بدیں غرض کہ نمازی اس جگہ جو تا اتاراکریںیہ تصرف اور اس جگہ جوتے اتارنا جائز ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
وہ چھت مسجد ہے اسے مسجد سے توڑ کر دکان میں ڈال دینا ایك حرام اور اسے بالاخانہ حجرہ کا صحن وگزر گاہ کردینا دوسرا حراماور اسے کرایہ پر اٹھا دینا تیسرا حراماور اس کی آبچك کے لئے مسجد کا ایك اور حصہ توڑلیا محدود کردینا اور اس میں وضو ہونا چوتھا حرام۔غرض یہ افعال حرام در حرام حرام درحرام ہیں۔فرض ہے کہ ان تمام تصرفات باطلہ کو رد کرکے مسجد مثل سابق کردیں۔
درمختار میں ہے:
لوبنی فوقہ بیتاللامام لایضر لانہ من المصالح امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادہ البناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیہ فاذاکان ھذافی الواقف فکیف لغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد ولایجوز اخذالاجرۃ منہ ولاان اگر واقف نے مسجد کی چھت پرا مام کاحجرہ بنادیا تو جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے مگر تمام مسجدیت کے بعد اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو اسے منع کیا جائیگا اگرچہ وہ کہے کہ میں نے شروع سے اس کی نیت کی تھی اس کی تصدیق نہیں کی جائے گیتاتارخانیہتو جب خود واقف کا حکم یہ ہے تو غیر واقف کو ایسا کرنے کا اختیار کیسے ہوسکتا ہے چنانچہ اس عمارت کو گرانا واجب ہے اگرچہ وہ دیوار مسجد پر
ثانیا: ایك مسجد کےصحن کا ایك جز مصلی کاٹ کر موڑ پر سے محدود کردیا گیا بدیں غرض کہ نمازی اس جگہ جو تا اتاراکریںیہ تصرف اور اس جگہ جوتے اتارنا جائز ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
وہ چھت مسجد ہے اسے مسجد سے توڑ کر دکان میں ڈال دینا ایك حرام اور اسے بالاخانہ حجرہ کا صحن وگزر گاہ کردینا دوسرا حراماور اسے کرایہ پر اٹھا دینا تیسرا حراماور اس کی آبچك کے لئے مسجد کا ایك اور حصہ توڑلیا محدود کردینا اور اس میں وضو ہونا چوتھا حرام۔غرض یہ افعال حرام در حرام حرام درحرام ہیں۔فرض ہے کہ ان تمام تصرفات باطلہ کو رد کرکے مسجد مثل سابق کردیں۔
درمختار میں ہے:
لوبنی فوقہ بیتاللامام لایضر لانہ من المصالح امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادہ البناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیہ فاذاکان ھذافی الواقف فکیف لغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد ولایجوز اخذالاجرۃ منہ ولاان اگر واقف نے مسجد کی چھت پرا مام کاحجرہ بنادیا تو جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے مگر تمام مسجدیت کے بعد اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو اسے منع کیا جائیگا اگرچہ وہ کہے کہ میں نے شروع سے اس کی نیت کی تھی اس کی تصدیق نہیں کی جائے گیتاتارخانیہتو جب خود واقف کا حکم یہ ہے تو غیر واقف کو ایسا کرنے کا اختیار کیسے ہوسکتا ہے چنانچہ اس عمارت کو گرانا واجب ہے اگرچہ وہ دیوار مسجد پر
یجعل شیئامنہ مستغلا ولاسکنی بزازیۃ ۔ بنائی گئی ہو اور اس کی اجرت لینا یا اس میں سے کسی حصہ کو ذریعہ آمدن یا رہائش گاہ بناناجائز نہیںبزازیہ(ت)
اسی طرح دوسرے سوال میں جو تصرف کیا گیا اور مسجد کے ایك حصہ کو مسجد سے خارج کردیا گیا اور اسے جوتا اتارنے کی جگہ بنایایہ بھی تصرف باطل ومردود وحرام ہےاوقاف میں تبدیل وتغیر کی اجازت نہیں لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ (وقت کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔ت)مسجد کے بجمیع جہات حقوق العباد سے منقطع ہے قال اﷲ تعالی" و ان المسجد للہ" (اﷲ تعالی فرماتا ہے کہ بیشك مسجدیں اﷲ عزوجل کی ہیں۔ت)یہاں بھی وہی حکم ہے کہ فورا فورا اس ظلم کی منڈیر کو دور کرکے زمین مسجد شامل مسجد کریں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳: مرسلہ سعید الرحمن ناظم اتحاد ومنتظم کمیٹی جامع مسجد پیلی بھیت ۸محرم الحرام ۱۳۳۴ھ چہارشنبہ
کیاحکم ہے شریعت غراکامسائل مندرجہ ذیل میںجواب شافی سے مطمئن ومعز ز فرمایا جائے:
(۱)مسجد میں اپنے لئے سوال کرناکسی معذوربیوہ یا کسی مسجد یا خاص اسی مسجد کی ضروریات کےلئے کسی قومی یا مذہبی ضرورت کےلئے چندہ وخیرات مسجد میں مانگنا جائز ہے یانہیں
(۲) جو مکان و زمین وغیرہ کہ وقف ہے یعنی کسی مسجد ومدرسہ کی ضروریات کےلئے وقف کی گئی ہے مرور ایام یا کسی اور وجہ سے ا س میں ایساتغیر واقع ہوگیا ہے کہ اس کو رکھنے میں فی الجملہ نقصان ہے اس کو اس نیت سے کہ آئندہ اور نقصان ہوگا فروخت کرکے اس کی قیمت اس مسجد ومدرسہ میں داخل کرنا یا بجائے اس کے اس سے زیادہ نفع کی کوئی چیز اس مسجد و مدرسہ کےلئے خریدنا درست ہے یا نہیںنیز مستعمل وبیکار چیزیں نیلام کرنا یا فروخت کرنا کیسا ہے
(۳)مقامی حالت کا اندازہ کرکے کسی مسجد وغیرہ کے انتظام ونگہداشت کےلئے چند مسلمانوں کو منتخب کرکے دوسرے لوگوں کو جو اس انتظام کےلئے مخصوص نہیں کئے گئے ہیں روکنا کہ وہ بطور خود مسجد میں دست اندازی نہ کریں جس سے مقررہ انتظام میں ابتری وبرہمی پیدا ہونے کا خیال ہے یابغیر امتیاز کے
اسی طرح دوسرے سوال میں جو تصرف کیا گیا اور مسجد کے ایك حصہ کو مسجد سے خارج کردیا گیا اور اسے جوتا اتارنے کی جگہ بنایایہ بھی تصرف باطل ومردود وحرام ہےاوقاف میں تبدیل وتغیر کی اجازت نہیں لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ (وقت کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔ت)مسجد کے بجمیع جہات حقوق العباد سے منقطع ہے قال اﷲ تعالی" و ان المسجد للہ" (اﷲ تعالی فرماتا ہے کہ بیشك مسجدیں اﷲ عزوجل کی ہیں۔ت)یہاں بھی وہی حکم ہے کہ فورا فورا اس ظلم کی منڈیر کو دور کرکے زمین مسجد شامل مسجد کریں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳: مرسلہ سعید الرحمن ناظم اتحاد ومنتظم کمیٹی جامع مسجد پیلی بھیت ۸محرم الحرام ۱۳۳۴ھ چہارشنبہ
کیاحکم ہے شریعت غراکامسائل مندرجہ ذیل میںجواب شافی سے مطمئن ومعز ز فرمایا جائے:
(۱)مسجد میں اپنے لئے سوال کرناکسی معذوربیوہ یا کسی مسجد یا خاص اسی مسجد کی ضروریات کےلئے کسی قومی یا مذہبی ضرورت کےلئے چندہ وخیرات مسجد میں مانگنا جائز ہے یانہیں
(۲) جو مکان و زمین وغیرہ کہ وقف ہے یعنی کسی مسجد ومدرسہ کی ضروریات کےلئے وقف کی گئی ہے مرور ایام یا کسی اور وجہ سے ا س میں ایساتغیر واقع ہوگیا ہے کہ اس کو رکھنے میں فی الجملہ نقصان ہے اس کو اس نیت سے کہ آئندہ اور نقصان ہوگا فروخت کرکے اس کی قیمت اس مسجد ومدرسہ میں داخل کرنا یا بجائے اس کے اس سے زیادہ نفع کی کوئی چیز اس مسجد و مدرسہ کےلئے خریدنا درست ہے یا نہیںنیز مستعمل وبیکار چیزیں نیلام کرنا یا فروخت کرنا کیسا ہے
(۳)مقامی حالت کا اندازہ کرکے کسی مسجد وغیرہ کے انتظام ونگہداشت کےلئے چند مسلمانوں کو منتخب کرکے دوسرے لوگوں کو جو اس انتظام کےلئے مخصوص نہیں کئے گئے ہیں روکنا کہ وہ بطور خود مسجد میں دست اندازی نہ کریں جس سے مقررہ انتظام میں ابتری وبرہمی پیدا ہونے کا خیال ہے یابغیر امتیاز کے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰€
القرآن الکریم∞۷۲/ ۱۸€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰€
القرآن الکریم∞۷۲/ ۱۸€
ہر شخص کو وعظ کہنے کی اجازت دینا درست ہے یانہیں
الجواب:
(۱)مسجد میں اپنے لئے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایاہے یہاں تك کہ امام اسمعیل زاہد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جو مسجد کے سائل کو ایك پیسہ دے اسے چاہئے کہ ستر پیسے اﷲ تعالی کے نام پر اور دے کہ اس پیسہ کا کفارہ ہوںاور کسی دوسرے کےلئے مانگایا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کےلئے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے۔
(۲)وقف کو بیع کی اجازت نہیں ہوسکتی جب تك واقف نے استبدال کی شرط نہ لگائی ہوفی الجملہ نقصان یا آئندہ اس کا احتمال اس کی اجازت کا کفیل نہیں ہوسکتامسجد کی مستعمل چیزیں مثلا چٹائیاںدریاںلوٹے صرف مستعمل ہونے کی وجہ سے بیچنے کے کوئی معنی نہیںاور ایسی اشیاء میں سے جو بیکار ہوجائے وہ دینے والے کی طرف واپس ہوجاتی ہے اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔
(۳)بغیر امتیار وعظ کی اجازت دینا جائزنہیں اور روکنا واجب ہےان کا انتظام اگر صحیح ومطابق شرع وموافق مصالح مسجد ہوتودوسروں کو اس میں دست اندازی کی وجہ نہیں اور وہ روکے جاسکتے ہیں اور اگر ان کا انتظام خلاف شرع ہوتو ہر مسلمان اس میں دست اندازی کرسکتا ہے اور اس کے روکنے کا حق کسی کو نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۱۶: آہود ملك مارواڑ متصل ایر پتوار پیر محمد امیر الدین روز یك شنبہ ۱۲محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
پیش امام میں کون کون صفت ہونی چاہئے آیا کہ مسجد کا تیل وہ گھڑے وروٹی وغیرہ فروخت کرنا جب ان لڑکوں سے مارپیٹ کرروٹی منگانا وہ روکھی لائیں تو ان کو مارنا اور جمعے کے روز بھی لڑکوں کو اسی واسط بلوانا کہ میری ریاض کی روٹیوں میں فرق نہ پڑ جائے اور مسافر بھوکا رہے تو رہے مگر روٹی شکر وہاں نافروخت ہوئے تو دوسری موضع جاکر فروخت کرنا اور پانی کے گھڑے جو مسجد میں وضو کے واسطے موہلے والے لے کر آئیں تو امام اپنےمکان پر پانی پہنچا دے وضووالے تکلیف اٹھاتے اور مسافر وغیرہ سب تکلیف اٹھاتے تو ایسےامام کا رہنا جائز ہے یانہیںاور ہی ساتھ والے ہوکر یہ بات کرے تو جائز ہے
الجواب:
امام مسجد صحیح العقیدہصحیح الطہارۃصحیح القرأتغیر فاسق معلنعالم احکام نماز وطہارت ہونا چاہئے جس میں کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے جماعت کی قلت ونفرت پیدا ہومسجد کے گھڑے اپنے لئے فروخت کرنا حرام ہے اور مسجد کا تیل اگر دینے والوں کی اجازت ہو کہ جو خرچ سے بچے اسے
الجواب:
(۱)مسجد میں اپنے لئے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایاہے یہاں تك کہ امام اسمعیل زاہد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جو مسجد کے سائل کو ایك پیسہ دے اسے چاہئے کہ ستر پیسے اﷲ تعالی کے نام پر اور دے کہ اس پیسہ کا کفارہ ہوںاور کسی دوسرے کےلئے مانگایا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کےلئے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے۔
(۲)وقف کو بیع کی اجازت نہیں ہوسکتی جب تك واقف نے استبدال کی شرط نہ لگائی ہوفی الجملہ نقصان یا آئندہ اس کا احتمال اس کی اجازت کا کفیل نہیں ہوسکتامسجد کی مستعمل چیزیں مثلا چٹائیاںدریاںلوٹے صرف مستعمل ہونے کی وجہ سے بیچنے کے کوئی معنی نہیںاور ایسی اشیاء میں سے جو بیکار ہوجائے وہ دینے والے کی طرف واپس ہوجاتی ہے اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔
(۳)بغیر امتیار وعظ کی اجازت دینا جائزنہیں اور روکنا واجب ہےان کا انتظام اگر صحیح ومطابق شرع وموافق مصالح مسجد ہوتودوسروں کو اس میں دست اندازی کی وجہ نہیں اور وہ روکے جاسکتے ہیں اور اگر ان کا انتظام خلاف شرع ہوتو ہر مسلمان اس میں دست اندازی کرسکتا ہے اور اس کے روکنے کا حق کسی کو نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۱۶: آہود ملك مارواڑ متصل ایر پتوار پیر محمد امیر الدین روز یك شنبہ ۱۲محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
پیش امام میں کون کون صفت ہونی چاہئے آیا کہ مسجد کا تیل وہ گھڑے وروٹی وغیرہ فروخت کرنا جب ان لڑکوں سے مارپیٹ کرروٹی منگانا وہ روکھی لائیں تو ان کو مارنا اور جمعے کے روز بھی لڑکوں کو اسی واسط بلوانا کہ میری ریاض کی روٹیوں میں فرق نہ پڑ جائے اور مسافر بھوکا رہے تو رہے مگر روٹی شکر وہاں نافروخت ہوئے تو دوسری موضع جاکر فروخت کرنا اور پانی کے گھڑے جو مسجد میں وضو کے واسطے موہلے والے لے کر آئیں تو امام اپنےمکان پر پانی پہنچا دے وضووالے تکلیف اٹھاتے اور مسافر وغیرہ سب تکلیف اٹھاتے تو ایسےامام کا رہنا جائز ہے یانہیںاور ہی ساتھ والے ہوکر یہ بات کرے تو جائز ہے
الجواب:
امام مسجد صحیح العقیدہصحیح الطہارۃصحیح القرأتغیر فاسق معلنعالم احکام نماز وطہارت ہونا چاہئے جس میں کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے جماعت کی قلت ونفرت پیدا ہومسجد کے گھڑے اپنے لئے فروخت کرنا حرام ہے اور مسجد کا تیل اگر دینے والوں کی اجازت ہو کہ جو خرچ سے بچے اسے
امام یامؤذن یا مسجد کا خادم لے لیا کرے تو وہ بچا ہوا جمع کرکے بیچنا جائز ہےمسجد کی روٹی دینے والے نے جسے دی تھی اگر بطور تملیك دی تھی تو اس کو بیچنے کا اختیارہے اور اگر بطور اباحت دی جیسے کھانا سامنے لاکر رکھتے ہیں کہ جتنا پیٹ میں آئے کھا لو اسے صرف کھاناجا ئز ہے بیچنا یا دوسرے کو دیناحرام۔جبرا روٹی منگانا حرام ہے مگر جب کہ وہی نوکری کی اجرت قرار پائی ہواور اس کےلئے لڑکوں کو مارنا جائزنہیں مگر جب کہ وہی اس واجب شدہ روٹی کے لانے میں قصور کرتے ہوں اور مارنا ہاتھ سے ہو نہ کہ لکڑی سےاور تین بار سے زائد نہ ہواور منہ پر نہ ہو۔اور جمعہ کو بھی روٹی منگا سکتا ہے جب کہ وہ اجرت میں ٹھہری ہو۔اور روٹی کہ اس کی ملك ہوجائے اسے اس کے بیچنے کا اختیار ہے خواہ وہاں بیچے یا دوسری جگہ۔جو پانی مسجد میں وضو کے لئے رکھا گیا اسے اپنے گھر لے جانا جائز نہیں اگرچہ کسی کو تکلیف نہ ہو اور تکلیف ہو تو دو ہرا حرام۔جو باتیں ان میں ناجائز بتائی گئی ہیں جو امام ان کاارتکاب کرے اور باز نہ آئے اسے امام نہ رکھنا چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۱۹: ابوتراب محمد اسمعیل موضع پنچم سینگ ڈاکخانہ جعفر گنج چہارشنبہ ۸صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
ماقولکم رحمکم اﷲتعالی اس مسئلہ میں کہ گاؤں میں چار کنارہ پر چار مساجد مدت بیس بائیس برس سے جاری ہیں اور ہر مسجد میں تخمینا بیس یا پچیس آدمی نمازجمعہ کی پڑھتے چلے آئے ہیں اور ان چارمساجد میں سے ایك قدیم ہے لیکن وہ بھی موضع کے ایك کنارہ پر واقع ہے اب کوئی عالم صاحب بنظر ہدایت واصلاح دین ودنیا ورضائے خداورسول اہل موضع کو بلا کر کہے کہ بحسب حدیث نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
اتبعو السواد الاعظم وید اﷲ فوق الجماعۃ ۔
سواد اعظم کی پیروی کرو اور اﷲ تعالی کا دست رحمت جماعت پر ہوتا ہے(ت)
ان چاروں جماعت کو اکٹھا کرکے نماز جمعہ کی بطور اکمل واشرف ادا کیا کرو۔اہل موضع بالاتفاق بایں شرط اس بات میں راضی ہوئے کہ گاؤں کے بیچا بیچ میں جامع مسجد ہوبعدہ مسجد قدیم والے کچھ پس وپیش کرنے لگے کہ یہاں سب کیوں نہیں آتے مسجد قدیم کو کس طرح توڑوں مابقی تین مساجد والے بوجہ حرج مسافت وبعد مسجد قدیم کے اسمیں راضی نہیں۔اس سوال میں یہ تین باتیں ضرورت طلب ہیں:
(۱)اولعالم صاحب مذکورۃ الصدر کو ان چاروں مسجدوں کے ٹین وستونوں کواکھیڑ کے موضع کے بیچ میں ایك مسجد جامع بناکر چاروں جماعت کو لے کے اس مسجد جامع میں نماز جمعہ کی پڑھنی جائز ہے
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۱۹: ابوتراب محمد اسمعیل موضع پنچم سینگ ڈاکخانہ جعفر گنج چہارشنبہ ۸صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
ماقولکم رحمکم اﷲتعالی اس مسئلہ میں کہ گاؤں میں چار کنارہ پر چار مساجد مدت بیس بائیس برس سے جاری ہیں اور ہر مسجد میں تخمینا بیس یا پچیس آدمی نمازجمعہ کی پڑھتے چلے آئے ہیں اور ان چارمساجد میں سے ایك قدیم ہے لیکن وہ بھی موضع کے ایك کنارہ پر واقع ہے اب کوئی عالم صاحب بنظر ہدایت واصلاح دین ودنیا ورضائے خداورسول اہل موضع کو بلا کر کہے کہ بحسب حدیث نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
اتبعو السواد الاعظم وید اﷲ فوق الجماعۃ ۔
سواد اعظم کی پیروی کرو اور اﷲ تعالی کا دست رحمت جماعت پر ہوتا ہے(ت)
ان چاروں جماعت کو اکٹھا کرکے نماز جمعہ کی بطور اکمل واشرف ادا کیا کرو۔اہل موضع بالاتفاق بایں شرط اس بات میں راضی ہوئے کہ گاؤں کے بیچا بیچ میں جامع مسجد ہوبعدہ مسجد قدیم والے کچھ پس وپیش کرنے لگے کہ یہاں سب کیوں نہیں آتے مسجد قدیم کو کس طرح توڑوں مابقی تین مساجد والے بوجہ حرج مسافت وبعد مسجد قدیم کے اسمیں راضی نہیں۔اس سوال میں یہ تین باتیں ضرورت طلب ہیں:
(۱)اولعالم صاحب مذکورۃ الصدر کو ان چاروں مسجدوں کے ٹین وستونوں کواکھیڑ کے موضع کے بیچ میں ایك مسجد جامع بناکر چاروں جماعت کو لے کے اس مسجد جامع میں نماز جمعہ کی پڑھنی جائز ہے
حوالہ / References
المستدرک للحاکم کتاب العلم دارالفکر بیروت ۱/ ۱۱۵و۱۱۶
یا نہیںاور وہ عالم اس امر میں مستحق ثواب ہوگا یاعذاب
(۲)دومان چاروں مسجدوں کا متروکہ بیٹ یعنی جاگیوں کا کیاحکم
(۳)سوممسجد قدیم والے کاعذر مذکورہ مکتوبہ ازروئے شرع شریف ودین منیف مسموع یا غیر مسموع مستحسن یا غیر مستحسن بینوا توجروا۔
الجواب:
سائل نے گاؤں کے لفظ سے تعبیر کیااگر وہ واقع میں گاؤں ہے شہر یا قصبہ نہیں جب تو سرے سے مبنائے سوال باطل ہے کہ گاؤں میں جمعہ جائزنہیںاور اگر گاؤں سے بستی مراد ہے اور وہ بستی کم از کم قصبہ ہےجب یہ حرام ہے کہ اور مسجدوں کو برباد کرکے جامع مسجد بنائی جائےنہ ان مسجدوں کے ٹین وستون اس کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں۔ ردالمحتار میں ہے:
لایجوز نقلہ ولانقل مالہ الی مسجداخر ۔
مسجد اور اس کے مال کود وسری مسجد کی طرف منتقل کرنا جائزنہیں(ت)
نہ ان مسجدوں کی زمینوں کاکسی دوسرے تصرف میں لانا حلال ہوسکتا ہےجو ایساکرے گاسخت ظالم ومستحق سخت عذاب ہوگا۔
قال اﷲ تعالی " و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-" ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اﷲ تعالی کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے منع کرتا ہے اور ان کی بربادی کی کوشش کرتا ہے(ت)
اور جب کہ بعد مسافت کی وجہ سے حرج ہے تو لوگ مجبور نہیں کئے جاسکتے کہ جمعہ ایك ہی جگہ پڑھیں کہ مذہب صحیح معتمد مفتی بہ میں شہر میں تعدد جمعہ مطلقا جائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۲۰: مسئولہ حاجی کریم نور محمد جنرل مرچنٹ انوار ملوك ناگپور شہر ناگپور ۹صفر المظفر۱۳۳۴ھ
مسجد کا جو پیسہ جمع ہے اسے کسی منفعت پر خرید وفروخت تجارت کرسکتے ہیںمسجد کے جمع مال افزود کےلئے
(۲)دومان چاروں مسجدوں کا متروکہ بیٹ یعنی جاگیوں کا کیاحکم
(۳)سوممسجد قدیم والے کاعذر مذکورہ مکتوبہ ازروئے شرع شریف ودین منیف مسموع یا غیر مسموع مستحسن یا غیر مستحسن بینوا توجروا۔
الجواب:
سائل نے گاؤں کے لفظ سے تعبیر کیااگر وہ واقع میں گاؤں ہے شہر یا قصبہ نہیں جب تو سرے سے مبنائے سوال باطل ہے کہ گاؤں میں جمعہ جائزنہیںاور اگر گاؤں سے بستی مراد ہے اور وہ بستی کم از کم قصبہ ہےجب یہ حرام ہے کہ اور مسجدوں کو برباد کرکے جامع مسجد بنائی جائےنہ ان مسجدوں کے ٹین وستون اس کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں۔ ردالمحتار میں ہے:
لایجوز نقلہ ولانقل مالہ الی مسجداخر ۔
مسجد اور اس کے مال کود وسری مسجد کی طرف منتقل کرنا جائزنہیں(ت)
نہ ان مسجدوں کی زمینوں کاکسی دوسرے تصرف میں لانا حلال ہوسکتا ہےجو ایساکرے گاسخت ظالم ومستحق سخت عذاب ہوگا۔
قال اﷲ تعالی " و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-" ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اﷲ تعالی کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے منع کرتا ہے اور ان کی بربادی کی کوشش کرتا ہے(ت)
اور جب کہ بعد مسافت کی وجہ سے حرج ہے تو لوگ مجبور نہیں کئے جاسکتے کہ جمعہ ایك ہی جگہ پڑھیں کہ مذہب صحیح معتمد مفتی بہ میں شہر میں تعدد جمعہ مطلقا جائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۲۰: مسئولہ حاجی کریم نور محمد جنرل مرچنٹ انوار ملوك ناگپور شہر ناگپور ۹صفر المظفر۱۳۳۴ھ
مسجد کا جو پیسہ جمع ہے اسے کسی منفعت پر خرید وفروخت تجارت کرسکتے ہیںمسجد کے جمع مال افزود کےلئے
الجواب:
تجارت میں نفع نقصان دونوں کا احتمال ہے اور کارکنوں میں امین و خائن دونوں طرح کے ہوتے ہیں اور مال وقف میں شرط واقف سے زیادت کی اجازت نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۱: ازبرٹس کائنا مرارا پترس ہال ونچ ایسٹ بنك مسئولہ عبدالغفور ۲۴صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
اگر ایك شخص کہتا ہے کہ میں عالم ہوں اور مجرد مسجد ہونے کے ایك مکان میں پنجوقتی نماز اور عید کی نماز اور جمعہ کی نماز ادا کرتا ہے تو اس کا حکم کیا ہےاور حال یہ ہے کہ اس مکان کے مالك نے عام اجازت د ے دی ہے کہ جس کی خوشی ہو وہ آکر نماز پڑھے جمعہ اور عید اور پنجوقتی کیآیا اس مکان کو پھر اپنے تصرف میں لانا جائز ہے یانہیںفقط۔
الجواب:
اگر اس نے اس مکان کو نماز کے لئے وقف کردیاتو وہ مسجد ہی ہے اسے اس میں رہنا جائزنہیں تمام آداب مسجد لازم ہیں اور اس میں نماز کا وہی ثواب ہے جو مسجد میں ہے اور اگر صرف اتنا کہاکہ نماز پڑھنے کی اجازت دیتا ہوں مگر وقف نہیں کرتاتو اس میں نماز جائز ضرورہے اگرچہ جمعہ وعیدین کی کہ ان کے لئے بھی مسجد شرط نہیں مگر بلا عذر شرعی عیدین میں ترك سنت اور فرائض میں ترك واجب ہےیہ کہنا کہ میں عالم ہوں اگر کسی وقت کسی ضرورت ومصلحت شرعی کے سبب ہے تو حرج نہیں قال سیدنا یوسف علی نبینا الکریم وعلیہ:" انی حفیظ علیم(۵۵)" (بیشك میں حفاظت والا علم والا ہوں۔ت)اور اگر بلاضرورت ہے تو جہل اور خود نمائی ہے خود ستائی کے لئے ہے تو سخت گناہ ہے قال اﷲ تعالی "فلا تزكوا انفسكم-" (اللہ تعالی نے فرمایا کہ اپنی پاکیزگی مت بیان کرو۔ت)حدیث میں ہے:
من قال انا عالم فھو جاھل ۔ واﷲتعالی اعلم۔
جو یہ کہے کہ میں عالم ہوں وہ جاہل ہے۔واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ۲۲۲: ازمدرسہ مظہر العلوم کچی باغ بنارس مسئولہ امان اللہ مدرس یکشنبہ ۲۵صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
زید نے چند مسلمانوں سے کچھ روپیہ بطور چندہ مجتمع کیا یہ کہہ کر کہ اس روپیہ سے زمین مسجد بنانے کو خرید
تجارت میں نفع نقصان دونوں کا احتمال ہے اور کارکنوں میں امین و خائن دونوں طرح کے ہوتے ہیں اور مال وقف میں شرط واقف سے زیادت کی اجازت نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۱: ازبرٹس کائنا مرارا پترس ہال ونچ ایسٹ بنك مسئولہ عبدالغفور ۲۴صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
اگر ایك شخص کہتا ہے کہ میں عالم ہوں اور مجرد مسجد ہونے کے ایك مکان میں پنجوقتی نماز اور عید کی نماز اور جمعہ کی نماز ادا کرتا ہے تو اس کا حکم کیا ہےاور حال یہ ہے کہ اس مکان کے مالك نے عام اجازت د ے دی ہے کہ جس کی خوشی ہو وہ آکر نماز پڑھے جمعہ اور عید اور پنجوقتی کیآیا اس مکان کو پھر اپنے تصرف میں لانا جائز ہے یانہیںفقط۔
الجواب:
اگر اس نے اس مکان کو نماز کے لئے وقف کردیاتو وہ مسجد ہی ہے اسے اس میں رہنا جائزنہیں تمام آداب مسجد لازم ہیں اور اس میں نماز کا وہی ثواب ہے جو مسجد میں ہے اور اگر صرف اتنا کہاکہ نماز پڑھنے کی اجازت دیتا ہوں مگر وقف نہیں کرتاتو اس میں نماز جائز ضرورہے اگرچہ جمعہ وعیدین کی کہ ان کے لئے بھی مسجد شرط نہیں مگر بلا عذر شرعی عیدین میں ترك سنت اور فرائض میں ترك واجب ہےیہ کہنا کہ میں عالم ہوں اگر کسی وقت کسی ضرورت ومصلحت شرعی کے سبب ہے تو حرج نہیں قال سیدنا یوسف علی نبینا الکریم وعلیہ:" انی حفیظ علیم(۵۵)" (بیشك میں حفاظت والا علم والا ہوں۔ت)اور اگر بلاضرورت ہے تو جہل اور خود نمائی ہے خود ستائی کے لئے ہے تو سخت گناہ ہے قال اﷲ تعالی "فلا تزكوا انفسكم-" (اللہ تعالی نے فرمایا کہ اپنی پاکیزگی مت بیان کرو۔ت)حدیث میں ہے:
من قال انا عالم فھو جاھل ۔ واﷲتعالی اعلم۔
جو یہ کہے کہ میں عالم ہوں وہ جاہل ہے۔واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ۲۲۲: ازمدرسہ مظہر العلوم کچی باغ بنارس مسئولہ امان اللہ مدرس یکشنبہ ۲۵صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
زید نے چند مسلمانوں سے کچھ روپیہ بطور چندہ مجتمع کیا یہ کہہ کر کہ اس روپیہ سے زمین مسجد بنانے کو خرید
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۲ /۵۵
القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
المعجم الاوسط حدیث ۶۸۴۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۷/ ۴۳۳
القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
المعجم الاوسط حدیث ۶۸۴۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۷/ ۴۳۳
کی جائیگیاس نیت سے لوگوں نے چندہ دیا اور اس روپیہ سے چندہ کے ایك زمین خریدی گئیوقت بنائے مسجد قطب نماوغیرہ سے سمت قبلہ درست کرنے میں منجملہ زمین خرید شدہ چند ہاتھ زمین بسبب کجی کے احاطہ مسجد سے باہر رہ گئی مسجد بہمہ وجوہ تیار ہوگئی اس میں جمعہ جماعت جاری ہے لیکن کسی مسلمان نے نہ زبانی اب تك ایسا کہا کہ یہ سب زمین خرید شدہ ہم نے وقف کی نہ ایسی تحریر کسی منتظم مسجد یا چندہ دہندگان کیطرف سے ہوئیایسے حال میں علمائے دین سے سوال ہے کہ وہ زمین احاطہ مسجد سے باہر رہ گئی ہے زمین مسجد سمجھی جائے گی اور اس کا حکم مسجد کا ہوگا یا فقط زمین موقوفہ کہی جائے گی حکم مسجدمیں نہ ہوگیاور بہر حال اس زمین کا بیع و شراء یا اس میں تصرف مالکانہ کرنا جائز ہوگا یا ممنوع و ناجائزمنتظم مسجد نے اس زمین کو خارج مسجد سمجھ کر ہمسایہ کے ایك مسلمان سے کچھ روپیہ لے کر اس کو دے دی اور اس روپیہ کو مسجد کے متعلق خرچ کیا اور اس مسلمان نے اس زمین سے زینہ اپنے مکان کی چھت کا بنایا اس سے عام مسلمان ناراض ہیں کہ زمین مسجد یا زمین وقف میں کیوں ایسا تصرف کیا گیااب اس صورت میں حکم شرع کیا ہےآیا وہ زینہ تڑواکر زمین واپس لے لی جائے یا اس کے عوض میں جو روپیہ وہ مسلمان دے چکا ہے اس سے وہ زمین اس کی مملوکہ ہوئیزینہ تڑوانے اور زمین واپس لینے کا حق شرعا مسلمانوں کو حاصل نہیں ہے اور اگر وہ مسلمان بلانالش کرنے کے عدالت حاکم وقت میں زینہ توڑنا اور زمین واپس دینا نہ چاہے تومصارف نالش ذمہ منتظم ہوگا جس نے روپیہ لے کر زینہ بنانے کی اجازت دی ہے یا عام مسلمانان کے ذریعہ وہ خرچ ہوگا۔ہر شش سوال کا جواب عام فہم مفصل ہو دلائل ونقل عبارت مستندات درکار ہے۔بدون اس کے تشفی عام مسلمانان وصورت رفع نزاع متصور نہیںفقط
الجواب:
اگر چندہ دینے والے سب یا ان کا وکیل ماذون بعد خریداری زمین یہ کہہ دیتا کہ اس زمین کو مسجد کیا تو وہ کل مسجد ہوجاتی اور اس میں سے کسی جزو کی بیع یا کوئی تصرف مالکانہ مطلقا حرام ہوتا لیکن ظاہرا یہاں ایسا واقع نہ ہوا بلکہ زمین خریدی گئی کہ اس میں مسجد بنائی جائے گی اور بنانے میں تصحیح سمت کے سبب ایك حصہ چھوٹ گیاجس قدر بنی وہی مسجد سمجھی گئی اور ا س میں نماز جاری ہوئیحصہ متروکہ کو اگرچندہ دہندوں یا ان کے وکیل ماذون نے وقف علی المسجد کردیا تو اب بھی اس کی بیع ناجائز ہوئی مگر سوال سے اس صورت کاوقوع بھی ظاہر نہیں ہوتاصرف اتنا ہوا کہ وہ چندہ دے کر اس روپے اور زمین سے بے تعلق ہوگئے اور یہ ملك سے خارج ہونے کا موجب جب تك وقف شرع نہ پایا جائے یہ بیع اور اس روپے کا مسجدمیں صرف کرنا اگر اجازت مالکان سے تھا یا بعد وقوع انہوں نے اجازت دے دی تو دونوں تصرف صحیح ہوگئےاور اگر مشتری کی خریداری اور زینہ بنالینے کو ایك کافی زمانہ گزرا اور مالکوں نے تعرض نہ کیا تو یہ بھی
الجواب:
اگر چندہ دینے والے سب یا ان کا وکیل ماذون بعد خریداری زمین یہ کہہ دیتا کہ اس زمین کو مسجد کیا تو وہ کل مسجد ہوجاتی اور اس میں سے کسی جزو کی بیع یا کوئی تصرف مالکانہ مطلقا حرام ہوتا لیکن ظاہرا یہاں ایسا واقع نہ ہوا بلکہ زمین خریدی گئی کہ اس میں مسجد بنائی جائے گی اور بنانے میں تصحیح سمت کے سبب ایك حصہ چھوٹ گیاجس قدر بنی وہی مسجد سمجھی گئی اور ا س میں نماز جاری ہوئیحصہ متروکہ کو اگرچندہ دہندوں یا ان کے وکیل ماذون نے وقف علی المسجد کردیا تو اب بھی اس کی بیع ناجائز ہوئی مگر سوال سے اس صورت کاوقوع بھی ظاہر نہیں ہوتاصرف اتنا ہوا کہ وہ چندہ دے کر اس روپے اور زمین سے بے تعلق ہوگئے اور یہ ملك سے خارج ہونے کا موجب جب تك وقف شرع نہ پایا جائے یہ بیع اور اس روپے کا مسجدمیں صرف کرنا اگر اجازت مالکان سے تھا یا بعد وقوع انہوں نے اجازت دے دی تو دونوں تصرف صحیح ہوگئےاور اگر مشتری کی خریداری اور زینہ بنالینے کو ایك کافی زمانہ گزرا اور مالکوں نے تعرض نہ کیا تو یہ بھی
اجازت سمجھی جائے گیفقطواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۲۳ تا ۲۲۵:ازمقام قاضی کیری ڈاکخانہ نویسی ضلع بھاگلپور بمکان شیخ شمس الدین صاحب ۱۶ربیع الاول ۱۳۳۴ھ روز شنبہ۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد خام تخمینا بیس۲۰ برس سے تھی بمشورہ مسلمان موضع پختہ بنانے کی رائے ہوئیجس وقت نیو دیوار کھودی گئی قبر نکلیدریافت کرنے سے جو ضعیف موضع تھے معلوم ہوا ان سے کہ ہم نے اپنے والد وغیرہ سے سنا ہے کہ یہ سب قبرستان ہے بلکہ کل بستی قبرستان پر آباد ہےاکثر مکانوں میں بھی قبر نکلتی ہےنماز اس میں جائز ہے یانہیںاور یہ مسجدکسی صرف میں آسکتی ہے یا پرتی میدان رہے گامیدان رہنے میں ممکن ہے زمیندار کسی کو دے دے پھر اس کی حفاظت کی کیا صورت کی جائے
(۲)اس موضع کا مالك ایك کافرراجہ ہے وہ حتی الامکان دوسری جگہ مسجد بنانے سے مانع ہوگا اور یہاں رعیت کواختیاربیع وفروخت ہے راجہ کچھ نہیں کرسکتاہے صرف مالگزاری کا مستحق ہے اگر خلاف مرضی راجہ دوسری جگہ مسجد بنائی جائے تو مالگزاری جو مقرر ہے نہیں چھوڑے گاپس اس صورت میں جبکہ مالگزاری برابر زمیندار لیتا رہا حکم میں مسجد کے ہوگا یانہیں بصورت عدم جواز جو مسجد اس طرح بنی ہوکیا حکم ہےمنہدم کردیں یا کیاکریں
(۳)جب کہ کل موضع قبرستان پر آباد ہے توجو لوگ نماز گھر میں پڑھیں جائز ہوگی یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
یہ خبرکہ یہ سب قبرستان ہے بلکہ کل بستی قبرستان پر آباد ہے بہت بعید وشنیع امر کی خبراور خود اپنے مخبروں کی بے اعتباری ورد شہادت پر دلیل روشن ہےجن اشخاص نے ایسا بیان کیا اگر بے نمازی ہیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا فسق وردشہادت درکاراور اگر نمازی ہیں تو قبروں پر نماز حرام ہےیہ حرام خصوصا علی الدوام کرکے بھی فاسق ومردود الشہاد ۃ ہوئے بلکہ سب بستی قبروں پر آباد ہے تو مقابر پر چلنا پھر ناسونابیٹھناپاخانہ پیشاب کرنا کس نے حلال کیا۔دانستہ مدام ان کے ارتکاب سے بھی فسق ظاہربہر حال خبرمردود ونامسموع ہے بلکہ بالفرض اگر یہ لوگ ان محرمات کے ارتکاب سے خود محفوظ بھی ہوتے تو اور مسلمان کو ان میں مبتلا دیکھ کر مدتوں یہ شہادت ادا نہ کرنا اور اب بتانا یہ خود کیافسق کے لئے کافی نہیں۔ اشباہ ودرمختار وغیرہما میں ہے:
یجب الاداء بلا طلب لوالشھادۃ فی حقوق اﷲ تعالی ومتی اخر شاہد الحسبۃ شہادتہ بلا عذر فسق فترد ۔
بغیر طلب اداء شہادت واجب ہے اگر وہ شہادت
مسئلہ۲۲۳ تا ۲۲۵:ازمقام قاضی کیری ڈاکخانہ نویسی ضلع بھاگلپور بمکان شیخ شمس الدین صاحب ۱۶ربیع الاول ۱۳۳۴ھ روز شنبہ۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد خام تخمینا بیس۲۰ برس سے تھی بمشورہ مسلمان موضع پختہ بنانے کی رائے ہوئیجس وقت نیو دیوار کھودی گئی قبر نکلیدریافت کرنے سے جو ضعیف موضع تھے معلوم ہوا ان سے کہ ہم نے اپنے والد وغیرہ سے سنا ہے کہ یہ سب قبرستان ہے بلکہ کل بستی قبرستان پر آباد ہےاکثر مکانوں میں بھی قبر نکلتی ہےنماز اس میں جائز ہے یانہیںاور یہ مسجدکسی صرف میں آسکتی ہے یا پرتی میدان رہے گامیدان رہنے میں ممکن ہے زمیندار کسی کو دے دے پھر اس کی حفاظت کی کیا صورت کی جائے
(۲)اس موضع کا مالك ایك کافرراجہ ہے وہ حتی الامکان دوسری جگہ مسجد بنانے سے مانع ہوگا اور یہاں رعیت کواختیاربیع وفروخت ہے راجہ کچھ نہیں کرسکتاہے صرف مالگزاری کا مستحق ہے اگر خلاف مرضی راجہ دوسری جگہ مسجد بنائی جائے تو مالگزاری جو مقرر ہے نہیں چھوڑے گاپس اس صورت میں جبکہ مالگزاری برابر زمیندار لیتا رہا حکم میں مسجد کے ہوگا یانہیں بصورت عدم جواز جو مسجد اس طرح بنی ہوکیا حکم ہےمنہدم کردیں یا کیاکریں
(۳)جب کہ کل موضع قبرستان پر آباد ہے توجو لوگ نماز گھر میں پڑھیں جائز ہوگی یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
یہ خبرکہ یہ سب قبرستان ہے بلکہ کل بستی قبرستان پر آباد ہے بہت بعید وشنیع امر کی خبراور خود اپنے مخبروں کی بے اعتباری ورد شہادت پر دلیل روشن ہےجن اشخاص نے ایسا بیان کیا اگر بے نمازی ہیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا فسق وردشہادت درکاراور اگر نمازی ہیں تو قبروں پر نماز حرام ہےیہ حرام خصوصا علی الدوام کرکے بھی فاسق ومردود الشہاد ۃ ہوئے بلکہ سب بستی قبروں پر آباد ہے تو مقابر پر چلنا پھر ناسونابیٹھناپاخانہ پیشاب کرنا کس نے حلال کیا۔دانستہ مدام ان کے ارتکاب سے بھی فسق ظاہربہر حال خبرمردود ونامسموع ہے بلکہ بالفرض اگر یہ لوگ ان محرمات کے ارتکاب سے خود محفوظ بھی ہوتے تو اور مسلمان کو ان میں مبتلا دیکھ کر مدتوں یہ شہادت ادا نہ کرنا اور اب بتانا یہ خود کیافسق کے لئے کافی نہیں۔ اشباہ ودرمختار وغیرہما میں ہے:
یجب الاداء بلا طلب لوالشھادۃ فی حقوق اﷲ تعالی ومتی اخر شاہد الحسبۃ شہادتہ بلا عذر فسق فترد ۔
بغیر طلب اداء شہادت واجب ہے اگر وہ شہادت
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰
حقوق اﷲ تعالی ومتی اخر شاہد الحسبۃ شہادتہ بلا عذر فسق فترد ۔ حقوق اﷲ سے متعلق ہو اور شاہد حسبہ نے بلاعذر شہادت میں تاخیر کی تو وہ فاسق ہوگا اور اس کی گواہی مردود ہوگی (حسبہ وہ ہے جس سے ثواب آخرت کی توقع ہو)۔(ت)
غرض ان کے کہنے پر کچھ نظر نہ کی جائےمسجد بنائی جائے اوراگر قبریں نکلیں تو وہ ضرور مسجد ہے اور اس میں نماز جائز اور اس کی حفاظت واجب۔قبر جو نکلی ہے اوراس پر نمازنہ پڑھیںنہ اس کی طرف پڑھیںاس کے برابر آگے داہنے بائیں پڑھنے میں حرج نہیں بلکہ اگرقبر کسی مقبول بندے کی ہے تو اس کی قربت سے نماز میں اور برکت آئے گی
کما فی اللمعات ومجمع البحاروکثیر من الاسفار وقد بیناہ فی فتاونا۔ جیسا کہ لمعاتمجمع البحار اور متعدد کتب جلیلہ میں ہے اور تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں اس کو تفصیلا بیان کردیا ہے۔ (ت)
قبر کے شرقی جانب آدھ گز بلند ایك اینٹ کا سترہ قائم رکھیں پھر اس طرف بھی نماز جائز ہوجائیگیاور اگر ان لوگوں کا اس مسجد کی نسبت بیان صحیح نکلے کہ جابجا قبور برآمد ہون تو وہ بیشك مسجد نہیں۔
فان الوقف لایوقف اخری ولایحل اتخاذ القبور مساجد ولاتباح الصلوۃ علیھا۔ وقف کو دوبارہ وقف نہیں کیا جاسکتا اورقبور کو مسجدیں بنانا حلال نہیں اور نہ ہی قبور پر نماز پڑھنا مباح ہے(ت)
اس صورت میں دوسری جگہ مسجد بنانی لازماور راجہ اگر مالگزاری نہ چھوڑے تو اس سے مسجد میں کچھ خلل نہ آئے گا فان غایتہ الظلم والظلم لایبطل الحق(کیونکہ نتیجۃ یہ ظلم ہے اور ظلم حق کو باطل نہیں کرتا۔ت)اورپچھلی صورت میں پہلی عمارت کہ حقیقۃ مسجد نہیں ضرور منہدم کردی جائے کہ بوجہ قبور اس میں نماز جائز نہیں اور صورت مسجد باقی رہے گی تو نا واقف کو دھوکا دے گی وہ اس میں نماز پڑھے گا نماز بھی خراب ہوگی اور قبور پر چڑھنے سے ان کی بھی بے حرمتی ہوگی۔یہ دو سوالوں کا جواب ہوا۔تیسرے کی بنا اس پر ہے کہ وہ کل موضع قبرستان پر آباد مان لیا جائے اور ہم اوپر ثابت کرچکے کہ یہ خبر مدفوع ونامسموع ہے۔اگرتسلیم کی جائے تو نہ صرف نماز وہاں چلنا پھرنارہنابسناپاخانہپیشاب سب حرام ہوجائے گاکما بیناہ فی الامر باحترام المقابر(جیسا کہ ہم رسالہ"الامر باحترام المقابر"میں بیان کرچکے ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
غرض ان کے کہنے پر کچھ نظر نہ کی جائےمسجد بنائی جائے اوراگر قبریں نکلیں تو وہ ضرور مسجد ہے اور اس میں نماز جائز اور اس کی حفاظت واجب۔قبر جو نکلی ہے اوراس پر نمازنہ پڑھیںنہ اس کی طرف پڑھیںاس کے برابر آگے داہنے بائیں پڑھنے میں حرج نہیں بلکہ اگرقبر کسی مقبول بندے کی ہے تو اس کی قربت سے نماز میں اور برکت آئے گی
کما فی اللمعات ومجمع البحاروکثیر من الاسفار وقد بیناہ فی فتاونا۔ جیسا کہ لمعاتمجمع البحار اور متعدد کتب جلیلہ میں ہے اور تحقیق ہم نے اپنے فتاوی میں اس کو تفصیلا بیان کردیا ہے۔ (ت)
قبر کے شرقی جانب آدھ گز بلند ایك اینٹ کا سترہ قائم رکھیں پھر اس طرف بھی نماز جائز ہوجائیگیاور اگر ان لوگوں کا اس مسجد کی نسبت بیان صحیح نکلے کہ جابجا قبور برآمد ہون تو وہ بیشك مسجد نہیں۔
فان الوقف لایوقف اخری ولایحل اتخاذ القبور مساجد ولاتباح الصلوۃ علیھا۔ وقف کو دوبارہ وقف نہیں کیا جاسکتا اورقبور کو مسجدیں بنانا حلال نہیں اور نہ ہی قبور پر نماز پڑھنا مباح ہے(ت)
اس صورت میں دوسری جگہ مسجد بنانی لازماور راجہ اگر مالگزاری نہ چھوڑے تو اس سے مسجد میں کچھ خلل نہ آئے گا فان غایتہ الظلم والظلم لایبطل الحق(کیونکہ نتیجۃ یہ ظلم ہے اور ظلم حق کو باطل نہیں کرتا۔ت)اورپچھلی صورت میں پہلی عمارت کہ حقیقۃ مسجد نہیں ضرور منہدم کردی جائے کہ بوجہ قبور اس میں نماز جائز نہیں اور صورت مسجد باقی رہے گی تو نا واقف کو دھوکا دے گی وہ اس میں نماز پڑھے گا نماز بھی خراب ہوگی اور قبور پر چڑھنے سے ان کی بھی بے حرمتی ہوگی۔یہ دو سوالوں کا جواب ہوا۔تیسرے کی بنا اس پر ہے کہ وہ کل موضع قبرستان پر آباد مان لیا جائے اور ہم اوپر ثابت کرچکے کہ یہ خبر مدفوع ونامسموع ہے۔اگرتسلیم کی جائے تو نہ صرف نماز وہاں چلنا پھرنارہنابسناپاخانہپیشاب سب حرام ہوجائے گاکما بیناہ فی الامر باحترام المقابر(جیسا کہ ہم رسالہ"الامر باحترام المقابر"میں بیان کرچکے ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الشہادات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۰€
مسئلہ۲۲۶: ازڈھاکہ محلہ مولوی بازار کوٹھی نمبر۱۱مسئولہ برکات احمد سوداگر ۱/ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندر اس مسئلہ کےمسجد پختہ چندہ جمع کرکے بنانا کیسا ہے اور چندہ دینے والوں کو اس کا اجر کیا ملے گاوالسلام سنت اسلام۔
الجواب:
صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا:
من بنی ﷲمسجدا زاد فی روایۃ ولو کمفحص قطاۃ بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ زادفی روایۃ من در ویاقوت ۔
جو اللہ عز وجل کے لئے مسجد بنائے اگرچہ ایك چھوٹی سی چڑیا کے گھونسلے کے برابراللہ عز وجل اس کے لئے جنت میں موتی اور یا قوت کا محل تیار فرمائے گا۔
اور اس میں ہر وہ شخص جو کسی قدر چندہ سے شریك ہواداخل ہے۔ساری مسجد بنانے پر یہ ثواب موقوف نہیں۔مدینہ طیبہ میں خود حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بنائیپھر امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے اس میں زیادت فرمائیپھر امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہنے جب اس کی تعمیر میں افزائش فرمائیا س پر یہی حدیث روایت کی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۲۷: روز شنبہ ۱۰ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان خس پوش پیش مسجد وملکیت مسجد واقع ہے اس کو توڑ کر اراضی مسجد میں شامل کرلیا جائے اور امورات نیك مثل نماز جنازہ وغیرہ کے واسطے محدود کردیا جائےدوسرے ہر شخص کو وقت آمدورفت مسجد کواڑ دروازہ مسجد بھیڑ کر آنا جانا چاہئے یا نہیںپس صورت مسئولہ میں حکم شرع شریف کا کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
جائز ہے اگر خلاف شرط واقف نہ ہومسجد کے کواڑ کبھی نہ بھیڑے جائیں گے بعد فراغت نمازعشاء جبکہ کسی کے آنے کی امید نہ رہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندر اس مسئلہ کےمسجد پختہ چندہ جمع کرکے بنانا کیسا ہے اور چندہ دینے والوں کو اس کا اجر کیا ملے گاوالسلام سنت اسلام۔
الجواب:
صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا:
من بنی ﷲمسجدا زاد فی روایۃ ولو کمفحص قطاۃ بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ زادفی روایۃ من در ویاقوت ۔
جو اللہ عز وجل کے لئے مسجد بنائے اگرچہ ایك چھوٹی سی چڑیا کے گھونسلے کے برابراللہ عز وجل اس کے لئے جنت میں موتی اور یا قوت کا محل تیار فرمائے گا۔
اور اس میں ہر وہ شخص جو کسی قدر چندہ سے شریك ہواداخل ہے۔ساری مسجد بنانے پر یہ ثواب موقوف نہیں۔مدینہ طیبہ میں خود حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بنائیپھر امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے اس میں زیادت فرمائیپھر امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہنے جب اس کی تعمیر میں افزائش فرمائیا س پر یہی حدیث روایت کی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۲۷: روز شنبہ ۱۰ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان خس پوش پیش مسجد وملکیت مسجد واقع ہے اس کو توڑ کر اراضی مسجد میں شامل کرلیا جائے اور امورات نیك مثل نماز جنازہ وغیرہ کے واسطے محدود کردیا جائےدوسرے ہر شخص کو وقت آمدورفت مسجد کواڑ دروازہ مسجد بھیڑ کر آنا جانا چاہئے یا نہیںپس صورت مسئولہ میں حکم شرع شریف کا کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
جائز ہے اگر خلاف شرط واقف نہ ہومسجد کے کواڑ کبھی نہ بھیڑے جائیں گے بعد فراغت نمازعشاء جبکہ کسی کے آنے کی امید نہ رہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل مروی ازمسند عبداﷲبن عباس رضی اﷲ عنہما دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۱،سنن ابن ماجہ ابواب المساجد باب من بنی ﷲ مسجدا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۴
المعجم الاوسط حدیث ۵۰۵۵ مکتبۃ المعارف الریاض ۶/ ۲۷
المعجم الاوسط حدیث ۵۰۵۵ مکتبۃ المعارف الریاض ۶/ ۲۷
مسئلہ۲۲۸: مسئولہ عبدالرب مرامجہلیا احاطہ امریا ضلع پیلی بھیت ۶ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
گرد مسجد کس قدر زمین جنت ہے پیمائش مہرے گرتین فٹ والے کی لکھی جائےفقط۔
الجواب:
مسجد کی نسبت ایك حدیث روایت کی جاتی ہے روز قیامت تمام مساجد کی زمین جمع کرکے داخل جنت کی جائے گی
تذھب الارضون کلھا یوم القیمۃ الاالمساجد فانھا ینضم بعضھا الی بعض قال الشراح ای فتصیر بقعۃ فی الجنۃ ۔
قیامت کے دن تمام زمینیں ختم ہوجائینگی سوائے مساجد کی زمینوں کے کہ ان میں سے بعض کو بعض کے ساتھ ملادیا جائے گا یعنی اکٹھا کردیاجائے گا۔شارحین حدیث نے فرمایا کہ وہ جنت کا حصہ بنادی جائیں گی۔(ت)
اور یہ تو صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ:
اذامررتم بریاض الجنۃ فارتعوا قیل وما ریاض الجنۃ یارسول اﷲقال المساجد قیل وما الرتع قال سبحن اﷲ والحمد ﷲ ولاالہ الااﷲ واﷲ اکبر ۔رواہ الترمذی وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲعنہ۔
یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جب تم جنت کی کیاریوں پر گزروتو ان میں چرو ان کا میوہ کھاؤعرض کی گئی یا رسول اللہ جنت کی کیاریاں کیاہیںفرمایا مسجدیں۔عرض کی گئی وہ چرنا کیا ہےفرمایا یہ کہنا"سبحان اﷲ والحمد اﷲ ولاالہ الااﷲواﷲ اکبر"(اس کو ترمذی وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ت)
مگر یہ حدیث محتمل تاویل ہے اور پہلی روایت میں سخت تعلیل ہے اور مسجد کے قریب اصلا کسی حصہ کا جنت سے ہونا واردنہیں۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۲۹: مرسلہ سید محمد حسین علی قاضی سید پور علاقہ اندور محلہ جمال پورہ اور نگہ ۲۲ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد پرانی ہے اور اس کو
گرد مسجد کس قدر زمین جنت ہے پیمائش مہرے گرتین فٹ والے کی لکھی جائےفقط۔
الجواب:
مسجد کی نسبت ایك حدیث روایت کی جاتی ہے روز قیامت تمام مساجد کی زمین جمع کرکے داخل جنت کی جائے گی
تذھب الارضون کلھا یوم القیمۃ الاالمساجد فانھا ینضم بعضھا الی بعض قال الشراح ای فتصیر بقعۃ فی الجنۃ ۔
قیامت کے دن تمام زمینیں ختم ہوجائینگی سوائے مساجد کی زمینوں کے کہ ان میں سے بعض کو بعض کے ساتھ ملادیا جائے گا یعنی اکٹھا کردیاجائے گا۔شارحین حدیث نے فرمایا کہ وہ جنت کا حصہ بنادی جائیں گی۔(ت)
اور یہ تو صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ:
اذامررتم بریاض الجنۃ فارتعوا قیل وما ریاض الجنۃ یارسول اﷲقال المساجد قیل وما الرتع قال سبحن اﷲ والحمد ﷲ ولاالہ الااﷲ واﷲ اکبر ۔رواہ الترمذی وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲعنہ۔
یعنی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جب تم جنت کی کیاریوں پر گزروتو ان میں چرو ان کا میوہ کھاؤعرض کی گئی یا رسول اللہ جنت کی کیاریاں کیاہیںفرمایا مسجدیں۔عرض کی گئی وہ چرنا کیا ہےفرمایا یہ کہنا"سبحان اﷲ والحمد اﷲ ولاالہ الااﷲواﷲ اکبر"(اس کو ترمذی وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ت)
مگر یہ حدیث محتمل تاویل ہے اور پہلی روایت میں سخت تعلیل ہے اور مسجد کے قریب اصلا کسی حصہ کا جنت سے ہونا واردنہیں۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۲۹: مرسلہ سید محمد حسین علی قاضی سید پور علاقہ اندور محلہ جمال پورہ اور نگہ ۲۲ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد پرانی ہے اور اس کو
حوالہ / References
المعجم الاوسط حدیث ۴۰۲۱ مکتبۃ المعارف الریاض ۵/ ۱۸
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت مذکورہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۱/ ۴۴۶
جامع الترمذی ابواب الدعوات امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۸۹
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت مذکورہ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۱/ ۴۴۶
جامع الترمذی ابواب الدعوات امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۸۹
بنانے کےلئے اس کا پرانا سامان لکڑی وغیرہ نکالا کچھ سامان تو اس میں لگ گیا اور کچھ سامان لکڑی بچ رہے اب اس کو کس کام میں لانا چاہئے اور اس میں بہت سی لکڑی ایسی ہے کہ وہ جلانے کے سوا اور کچھ کام میں نہیں آسکتی ہے سو اس لکڑی کا جلانا جائز اور درست ہے یانہیںاور باقی جو کہ اچھی لکڑی ہے اس کودوسرے شخص معتبر کے ہاتھ فروخت کرنا جائز اور درست ہے یانہیںخلاصہ جواب تحریر فرمائے گا۔
الجواب:
مسجد کا عملہ جوبچ رہے اگر کسی دوسرے وقت مسجد کے کام میں آنے کا ہو اور رکھنے سے بگڑے نہیں تو محفوظ رکھیں ورنہ بیع کردیں اور اس کے دام مسجد کی عمار ت ہی میں لگائیں لوٹےبوریہتیل بتی وغیرہ میں صرف نہیں ہوسکتا۔یہ سب کام متولی اور دیانت دار اہل محلہ کی زیر نگرانی ہو۔بیع کسی ادب والے مسلمان کے ہاتھ ہو کہ وہ اسے کسی بے جا یا ناپاك جگہ نہ لگائے۔لکڑی کہ جلنے کے سوا کسی کام کی نہ رہی سقایہ مسجد کے صرف میں لائیں اور اگر بیع کردیں تو خریدنے والا بھی اسکو جلاسکتا ہے مگر اپلے کی معیت سے بچائیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۳۰: مرسلہ اسمعیل خاں کا رندہ موضع ریونڈہ ڈاکخانہ مونڈہ تحصیل وضلع مراد آباد ۲۳جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص گانے بجانے کاکام کرتا ہے اور فونو گراف باجا بھرنے پر بھی اجرت تنخواہ پاتا ہے اور کوئی ہندو جو زمینداربھی ہے اور سود وغیرہ کی آمدنی بھی اس کو ہوتی ہے ایسے ایسے دونوں قسم کے اشخا ص کے روپیہ سے مسجد کا وضوخانہ بنانا یا مسجد پر کلس چڑھانا شرعیہ قاعدہ سے جائز ہے یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
جو مال بعینہ حرام ہو وہ ان کاموں کے لئے لینا بھی حرام ہےاور جس کی نسبت یہ معلوم نہ ہو کہ یہ خاص مال حرام ہے اس کے لینے میں مضائقہ نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱تا۲۳۳: ازراند یر ضلع سورت مسئولہ محمداعظم ناخدا بروز شنبہ ۱۷رجب۱۳۳۴ھ
ماقولکم اندریں صورت کہ مسجد کے نقد روپے پچیس ہزار۲۵۰۰۰ جمع یعنی موجود تھے اور اسی روپے سے مسجدکی تعمیر کرنے والوں نے یعنی اہل محلہ نے ٹھہراؤ یعنی مقرر کیا ہوا تھا مگر نصف کام ہو کر روپے تمام ہوگئے لہذا مسجد کی آمد کے لئے جو ملکیت واقف نے وقف کی ہوئی ہوں اس کی آمد سے دوسری ملکیت زیادہ کی ہوں یعنی آمد سے دوسری ملکیت خرید کی ہو ان کومتولی یعنی مہتمم مسجد اہل محلہ کی صلاح سے فروخت کرکے مسجد کو تمام کردے یا بستی کے مسلمانوں کو بھی کمیٹی کرکے صلاح لے اور حاکم وقت کی منظوری درکار ہے کہ نہیں بروقت نہ ہونے قاضی کےاور واقف کی کوئی شرط یا لکھا ن ایسا نہیں ہے جسے کوئی بیچ سکے۔
الجواب:
مسجد کا عملہ جوبچ رہے اگر کسی دوسرے وقت مسجد کے کام میں آنے کا ہو اور رکھنے سے بگڑے نہیں تو محفوظ رکھیں ورنہ بیع کردیں اور اس کے دام مسجد کی عمار ت ہی میں لگائیں لوٹےبوریہتیل بتی وغیرہ میں صرف نہیں ہوسکتا۔یہ سب کام متولی اور دیانت دار اہل محلہ کی زیر نگرانی ہو۔بیع کسی ادب والے مسلمان کے ہاتھ ہو کہ وہ اسے کسی بے جا یا ناپاك جگہ نہ لگائے۔لکڑی کہ جلنے کے سوا کسی کام کی نہ رہی سقایہ مسجد کے صرف میں لائیں اور اگر بیع کردیں تو خریدنے والا بھی اسکو جلاسکتا ہے مگر اپلے کی معیت سے بچائیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۳۰: مرسلہ اسمعیل خاں کا رندہ موضع ریونڈہ ڈاکخانہ مونڈہ تحصیل وضلع مراد آباد ۲۳جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص گانے بجانے کاکام کرتا ہے اور فونو گراف باجا بھرنے پر بھی اجرت تنخواہ پاتا ہے اور کوئی ہندو جو زمینداربھی ہے اور سود وغیرہ کی آمدنی بھی اس کو ہوتی ہے ایسے ایسے دونوں قسم کے اشخا ص کے روپیہ سے مسجد کا وضوخانہ بنانا یا مسجد پر کلس چڑھانا شرعیہ قاعدہ سے جائز ہے یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
جو مال بعینہ حرام ہو وہ ان کاموں کے لئے لینا بھی حرام ہےاور جس کی نسبت یہ معلوم نہ ہو کہ یہ خاص مال حرام ہے اس کے لینے میں مضائقہ نہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱تا۲۳۳: ازراند یر ضلع سورت مسئولہ محمداعظم ناخدا بروز شنبہ ۱۷رجب۱۳۳۴ھ
ماقولکم اندریں صورت کہ مسجد کے نقد روپے پچیس ہزار۲۵۰۰۰ جمع یعنی موجود تھے اور اسی روپے سے مسجدکی تعمیر کرنے والوں نے یعنی اہل محلہ نے ٹھہراؤ یعنی مقرر کیا ہوا تھا مگر نصف کام ہو کر روپے تمام ہوگئے لہذا مسجد کی آمد کے لئے جو ملکیت واقف نے وقف کی ہوئی ہوں اس کی آمد سے دوسری ملکیت زیادہ کی ہوں یعنی آمد سے دوسری ملکیت خرید کی ہو ان کومتولی یعنی مہتمم مسجد اہل محلہ کی صلاح سے فروخت کرکے مسجد کو تمام کردے یا بستی کے مسلمانوں کو بھی کمیٹی کرکے صلاح لے اور حاکم وقت کی منظوری درکار ہے کہ نہیں بروقت نہ ہونے قاضی کےاور واقف کی کوئی شرط یا لکھا ن ایسا نہیں ہے جسے کوئی بیچ سکے۔
دیگر سوال:مسجدکی تعمیر کی کوئی ضرورت نہ ہواور مسجد کے خرچ واخراجات سے آمد بہت زائد ہوتو کیا متولی یعنی مہتمم مسجد اہل محلہ سے اجازت لے کر کے مدرسہ اس فاضل آمدنی سے کھول سکتا ہے کہ نہیںیا مہتمم مسجد اہل محلہ سے اجازت لے کر یا اہل بستی کے مسلمانوں کی کمیٹی کرکے ان کی رائے لے کر کے مدرسہ کھولے اور حاکم وقف کے حکم کی منظوری ملانا ضروری ہے کہ نہیںکیونکہ واقف کی نیت فقط یہ تھی کہ میرے وقف شدہ ملکیت کی آمدنی مسجدمیں خرچ ہو اور کوئی دلیل نہیں کہ مدرسہ کھولیں تو اس وقت میں حاکم وقت کی منظوری کی ضرورت ہوگی کہ نہیں بروقت نہ ہونے قاضی شرع کےفقط۔
سوال سوم:بنابرازیں زائد آمدنی اس مسجد کی سے دوسری مسجد میں خرچ کرسکتے ہیں کہ نہیں فقط۔
الجواب:
(۱)وہ کہ واقف نے مسجد پر وقف کیاہے اسے کوئی نہیں بیچ سکتانہ متولینہ اہل محلہنہ حاکمنہ کوئیہاں اس کی آمدنی سے جو جائداد متولی نے وقف کے لئے خریدی وہ مسجد کےلئے بیع ہوسکتی ہے۔متولی اور اہل محلہ اور سنی دیندار عالم اور دیانتدارمسلمانوں کے مشورہ سے جس میں غبن اور تغلب کا احتمال نہ رہے۔
(۲)جب کہ واقف نے صرف مسجد کے لئے وقف کیا تو وہ مسجد ہی میں صرف ہوگا اس سے مدرسہ نہیں کھول سکتےنہ خودنہ باجازت حاکم۔
(۳)نہیں کرسکتے۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۳۴: مرسلہ محمد ابراہیم ڈاك خانہ کنکشیر ہائی اسکول ضلع فرید پور رجب ۱۳۳۴ھ
مسجد کے پرانے اسباب یعنی خام اور ٹین اور بانس وغیرہ اپنے گھر کے کاروبار میں لگاسکتا ہے یانہیںاگرلگاسکے تو کس کام اور کس طور لگایاجائے
الجواب:
ستون اور ٹین کہ مثل سقف تھا اور بانس کہ سقف میں تھے اسی طرح کڑیاں اور اینٹیںغرض جو اجزائے عمارت مسجد ہوں وہ اگر حاجت مسجد سے زائد ہوجائیں اور دوبارہ ان کے اعادہ کی امید نہ رہے تو متولی ومتدین اہل محلہ کی اجتماعی رائے سے انہیں بیچ کر قیمت عمارت مسجد ہی کے کام میں صرف کی جائے مسجد کے بھی دوسر ے کام میں صرف نہیں ہوسکتیخریدنے والا انہیں اپنے صرف میں لاسکتا ہے مگر بے ادبی کی جگہ سے بچائے۔واﷲ تعالی اعلم
سوال سوم:بنابرازیں زائد آمدنی اس مسجد کی سے دوسری مسجد میں خرچ کرسکتے ہیں کہ نہیں فقط۔
الجواب:
(۱)وہ کہ واقف نے مسجد پر وقف کیاہے اسے کوئی نہیں بیچ سکتانہ متولینہ اہل محلہنہ حاکمنہ کوئیہاں اس کی آمدنی سے جو جائداد متولی نے وقف کے لئے خریدی وہ مسجد کےلئے بیع ہوسکتی ہے۔متولی اور اہل محلہ اور سنی دیندار عالم اور دیانتدارمسلمانوں کے مشورہ سے جس میں غبن اور تغلب کا احتمال نہ رہے۔
(۲)جب کہ واقف نے صرف مسجد کے لئے وقف کیا تو وہ مسجد ہی میں صرف ہوگا اس سے مدرسہ نہیں کھول سکتےنہ خودنہ باجازت حاکم۔
(۳)نہیں کرسکتے۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۳۴: مرسلہ محمد ابراہیم ڈاك خانہ کنکشیر ہائی اسکول ضلع فرید پور رجب ۱۳۳۴ھ
مسجد کے پرانے اسباب یعنی خام اور ٹین اور بانس وغیرہ اپنے گھر کے کاروبار میں لگاسکتا ہے یانہیںاگرلگاسکے تو کس کام اور کس طور لگایاجائے
الجواب:
ستون اور ٹین کہ مثل سقف تھا اور بانس کہ سقف میں تھے اسی طرح کڑیاں اور اینٹیںغرض جو اجزائے عمارت مسجد ہوں وہ اگر حاجت مسجد سے زائد ہوجائیں اور دوبارہ ان کے اعادہ کی امید نہ رہے تو متولی ومتدین اہل محلہ کی اجتماعی رائے سے انہیں بیچ کر قیمت عمارت مسجد ہی کے کام میں صرف کی جائے مسجد کے بھی دوسر ے کام میں صرف نہیں ہوسکتیخریدنے والا انہیں اپنے صرف میں لاسکتا ہے مگر بے ادبی کی جگہ سے بچائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۳۵ تا ۲۴۱: ازرائل ہوٹل لکھنؤحبیب اللہ خاں بروز شنبہ ۲۵رجب ۱۳۳۴ھ
(۱)جو شخص حافظ کسی مسجد میں واسطے امامت وحفاظت کے مقرر ہو وہ مسلمانان اہل محلہ سے جو مسجد میں نماز کوآئیں ان سے ایسی کج خلقی کا برتاؤ کرے جس کی وجہ سے مسجد میں آنا ترك کردیں اورجماعت میں خلل پڑجائےاس کے واسطے کیا حکم ہے
(۲)وہ شخص حافظ جو امام ومحافظ مسجد کا ہواور مسجد میں پنجگانہ اذان نہ خود کہے نہ کہلوائےنہ روازنہ صفائی مسجد کی کرےاور دوسرے نمازیوں کو جو صفائی مسجدمیں کریں ان کو مسجد کی خدمت کرنے سے منع کرے اور یہ کہے کہ مسجد کی خدمت کرکے کیا مسجد میں قبضہ کرنا چاہتے ہواس مسجد میں ہم جو چاہیں کریں تم لوگ کچھ نہیں کرسکتے ہو۔اس پر کیا حکم ہے
(۳)جو شخص حافظ امام مسجد ہو اس حق سے مسجد کے درخت اور گملے جو عرصہ دراز سے مسجد کی زیبائش ورونق کے واسطے لگائے ہوئے ہوں اٹھاکر اور اکھاڑ کر اپنے گھر کو لے جائے اور اپنا قبضہ ہر چیز پر جو مسجد میں ہو اس پر ظاہر کرے اس پر کیا حکم ہے
(۴)وہ حافظ جو امام مسجد ہو اورمسجد میں جو بمباپانی کا نمازیوں کے آرام اور خرچ مسجد کے واسطے لگا ہواہو اس کو اکھڑ وادے اور منع کرنے سے نہ مانے اوردوسرے مسلمان کو جو مسجد میں بمبا لگوانا چاہیں ان کو منع کرے اور نہ لگانے دے اور نمازیوں کی تکلیف پیش نظر رکھے اس پر کیا حکم ہے
(۵)مسجد میں مٹی کا تیل ٹین کی ڈبیہ میں جلائے جس سے مسجدمیں بدبو اور سیاہی ہو اور چھت سیاہ ہوجائے اس پر کیاحکم ہے
(۶)موسم گرما میں نمازی صحن مسجدمیں نماز پڑھنے کو چٹائی بچھانے کی خواہش کریں اور محافظ مسجد چٹائی حجرہ میں بندکردے بچھانے کونہ دے اور نمازی باہم چندہ کرکے بخیال رفع تکلیف وآسائش نمازیوں کے چٹائی منگا کر بچھانا چاہیں تو ان کو نہ بچھانے دے اور کہے کہ جو کوئی اس مسجدمیں چٹائی رکھے گا تو ہم اس چٹائی کو باہر مسجد کے پھینك دیں گے جس کی خوشی ہو اندر مسجد کے یا صحن مسجد میں بحالت موجودہ خواہ گرداہویا کچھ ہو نماز پڑھے یانہ پڑھے اپنی چٹائی نہیں بچھا سکتا ہےکیا مسجد میں چٹائی بچھا کر مسجد پر نمازی اپنا قبضہ کرناچاہتے ہیں جن کے بزرگوں کی مسجد بنوائی ہوئی ہے ان کی طرف سے ہم مقرر ہیں ہم چاہیں چٹائی مسجدمیں ڈالیں یانہ ڈالیں دوسروں کو ڈالنے کا اختیار ومجاز نہیں ہےاس پر کیا حکم ہےـ
(۷)جو حافظ امام مسجد ہو اور اس طرح کا عمل مذکورہ بالاکرے جس سے نمازیوں کو تکلیف ہو اور ـ
(۱)جو شخص حافظ کسی مسجد میں واسطے امامت وحفاظت کے مقرر ہو وہ مسلمانان اہل محلہ سے جو مسجد میں نماز کوآئیں ان سے ایسی کج خلقی کا برتاؤ کرے جس کی وجہ سے مسجد میں آنا ترك کردیں اورجماعت میں خلل پڑجائےاس کے واسطے کیا حکم ہے
(۲)وہ شخص حافظ جو امام ومحافظ مسجد کا ہواور مسجد میں پنجگانہ اذان نہ خود کہے نہ کہلوائےنہ روازنہ صفائی مسجد کی کرےاور دوسرے نمازیوں کو جو صفائی مسجدمیں کریں ان کو مسجد کی خدمت کرنے سے منع کرے اور یہ کہے کہ مسجد کی خدمت کرکے کیا مسجد میں قبضہ کرنا چاہتے ہواس مسجد میں ہم جو چاہیں کریں تم لوگ کچھ نہیں کرسکتے ہو۔اس پر کیا حکم ہے
(۳)جو شخص حافظ امام مسجد ہو اس حق سے مسجد کے درخت اور گملے جو عرصہ دراز سے مسجد کی زیبائش ورونق کے واسطے لگائے ہوئے ہوں اٹھاکر اور اکھاڑ کر اپنے گھر کو لے جائے اور اپنا قبضہ ہر چیز پر جو مسجد میں ہو اس پر ظاہر کرے اس پر کیا حکم ہے
(۴)وہ حافظ جو امام مسجد ہو اورمسجد میں جو بمباپانی کا نمازیوں کے آرام اور خرچ مسجد کے واسطے لگا ہواہو اس کو اکھڑ وادے اور منع کرنے سے نہ مانے اوردوسرے مسلمان کو جو مسجد میں بمبا لگوانا چاہیں ان کو منع کرے اور نہ لگانے دے اور نمازیوں کی تکلیف پیش نظر رکھے اس پر کیا حکم ہے
(۵)مسجد میں مٹی کا تیل ٹین کی ڈبیہ میں جلائے جس سے مسجدمیں بدبو اور سیاہی ہو اور چھت سیاہ ہوجائے اس پر کیاحکم ہے
(۶)موسم گرما میں نمازی صحن مسجدمیں نماز پڑھنے کو چٹائی بچھانے کی خواہش کریں اور محافظ مسجد چٹائی حجرہ میں بندکردے بچھانے کونہ دے اور نمازی باہم چندہ کرکے بخیال رفع تکلیف وآسائش نمازیوں کے چٹائی منگا کر بچھانا چاہیں تو ان کو نہ بچھانے دے اور کہے کہ جو کوئی اس مسجدمیں چٹائی رکھے گا تو ہم اس چٹائی کو باہر مسجد کے پھینك دیں گے جس کی خوشی ہو اندر مسجد کے یا صحن مسجد میں بحالت موجودہ خواہ گرداہویا کچھ ہو نماز پڑھے یانہ پڑھے اپنی چٹائی نہیں بچھا سکتا ہےکیا مسجد میں چٹائی بچھا کر مسجد پر نمازی اپنا قبضہ کرناچاہتے ہیں جن کے بزرگوں کی مسجد بنوائی ہوئی ہے ان کی طرف سے ہم مقرر ہیں ہم چاہیں چٹائی مسجدمیں ڈالیں یانہ ڈالیں دوسروں کو ڈالنے کا اختیار ومجاز نہیں ہےاس پر کیا حکم ہےـ
(۷)جو حافظ امام مسجد ہو اور اس طرح کا عمل مذکورہ بالاکرے جس سے نمازیوں کو تکلیف ہو اور ـ
جماعت میں خلل پڑے اور ان کی وجہ سے مسجد میں آنا چھوڑدیں اور وہ شخص مسجد کو اپنا مقبوضہ خیال کرے وہ شخص امام رہنے کے قابل ہے یانہیںاور اس کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیںاور اس کو خطاب کرنا چاہئےاور اس پر حد شرع کیا ہےفقط۔
الجواب:
(۱)اس صورت میں وہ گنہگار و مستحق عذاب ہے کج خلقی وغیرہ تو بڑی بات ہے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہنے اپنی مسجد میں ایك بار نماز عشاء کی قرأت طویل کی وہ ایك مقتدی کوناگوار ہوئیاس کا حال حضور میں عرض کیا گیا اس پر ایسا غضب فرمایا کہ ایسی شان جلال کم دیکھی گئی تھی ا ور معاذ رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا:
افتان انت یامعاذافتان انت یا معاذافتان انت یا معاذ ۔
اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہوکیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہوکیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو۔
(۲)اذان سنت مؤکدہ اور شعار اسلام ہے اور بغیر اس کے جماعت مکروہیہاں تك کہ اگر امام مسجد آہستہ اذان کہلوا کرجماعت پڑھ جائے وہ جماعت اولی نہ ہوگیبعد کو جو لوگ آئیں انہیں حکم کہ اعلان کے ساتھ اذان کہیں اور پھر ازسرنوجماعت کریںاس کا تارك اور لوگوں کو اس سے منع کرنے والا صریح گمراہ وفاسق ہےیونہی مسجد کی تنظیف کابھی شرع میں حکم ہے۔سنن ابوداؤد میں ہے:
امر النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ببناء المسجد فی الدور وان تنظف وتطیب ۔
نبی اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے گھروں میں مساجد بنانے اور انہیں پاك وصاف رکھنے کا حکم دیا ہے(ت)
جو نہ خود کرے اور نہ اوروں کو کرنے دے مسجد کا بدخواہ ہے۔
الجواب:
(۱)اس صورت میں وہ گنہگار و مستحق عذاب ہے کج خلقی وغیرہ تو بڑی بات ہے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہنے اپنی مسجد میں ایك بار نماز عشاء کی قرأت طویل کی وہ ایك مقتدی کوناگوار ہوئیاس کا حال حضور میں عرض کیا گیا اس پر ایسا غضب فرمایا کہ ایسی شان جلال کم دیکھی گئی تھی ا ور معاذ رضی اللہ تعالی عنہسے فرمایا:
افتان انت یامعاذافتان انت یا معاذافتان انت یا معاذ ۔
اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہوکیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہوکیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو۔
(۲)اذان سنت مؤکدہ اور شعار اسلام ہے اور بغیر اس کے جماعت مکروہیہاں تك کہ اگر امام مسجد آہستہ اذان کہلوا کرجماعت پڑھ جائے وہ جماعت اولی نہ ہوگیبعد کو جو لوگ آئیں انہیں حکم کہ اعلان کے ساتھ اذان کہیں اور پھر ازسرنوجماعت کریںاس کا تارك اور لوگوں کو اس سے منع کرنے والا صریح گمراہ وفاسق ہےیونہی مسجد کی تنظیف کابھی شرع میں حکم ہے۔سنن ابوداؤد میں ہے:
امر النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ببناء المسجد فی الدور وان تنظف وتطیب ۔
نبی اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے گھروں میں مساجد بنانے اور انہیں پاك وصاف رکھنے کا حکم دیا ہے(ت)
جو نہ خود کرے اور نہ اوروں کو کرنے دے مسجد کا بدخواہ ہے۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الادب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۰۲،صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ،باب القراۃ فی العشاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۷،سنن نسائی کتاب الامامۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۱۳۳،سنن ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ باب تخفیف الصلوٰۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۱۵
سنن ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ باب اتخاذ المساجد فی الدور آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۶۶
سنن ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ باب اتخاذ المساجد فی الدور آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۶۶
(۳)مسجد میں پیڑ بونا ممنوع ہے اور ان کا اکھاڑ ناجائز مگر اس کے لگائے ہوئے نہیں تو اپنے گھر لے جانے کا کوئی معنی نہیں۔قبضہ اگر مسجد کی اشیاء پر متولیانہ ظاہر کرے تو حرج نہیں جبکہ متولی ہو اور مالکانہ ہو تو حرام۔
(۴)مسجد ہی کے دو معنے ہیں ایك یہ کہ فنائے مسجد یعنی اس کے متعلق زمین اس کا بلاوجہ شرعی زائل کرنا اور نمازیوں کو تکلیف پہنچانا شرعا ممنوع ہےدوسرے یہ کہ عین مسجد میں اگر قبل تمام مسجدیت واقف نے لگایا تو باقی رکھا جائے گا اور اس کا ازالہ بھی ممنوع ہے اور اگر بعدتمام مسجدیت بانی نے خواہ اور کسی نے لگایا تو وہ لگانا حرام اور اکھاڑدینا واجب۔
(۵)یہ حرام ہے اور اس کا ازالہ فرضاور کرنے والا مسجد کا بدخواہاور دربارہ الہی کے ساتھ گستاخ۔
(۶)اس پر استحقاق لعنت ہے اور وہ خود ہی مسجد پر قبضہ مالکانہ کرنا چاہتا ہے دوسروں پر جھوٹا الزام رکھتا ہے۔
(۷)شنائع مذکورہ کے مرتکب فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی منعاور پڑھ لی تو پھیرنا واجباور مسجد پر سے اس قبضہ ظالمانہ کا اٹھا دینا لازماور شرعا وہ ہر اس تعزیر کا مستحق ہے جو سلطان اسلام تجویز فرماتا ہو واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۴۲: مسئولہ سیٹھ آدم جی بردردولت اعلیحضرت یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱)مسجد میں چراغ تمام شب جلانا چاہئے یا یا جہاں تك نمازیوں کی آمد ورفت ہو وہاں تک
(۲)محراب مسجد کو یادیوار قبلہ نقش ونگار اور سونے کا پانی چڑھانا اور رنگ دینا مکروہ ہے یانہیںفقط۔
الجواب:
(۱)وہاں کے عرف معہود پر عمل کیا جائے جہاں شب بھر روشن رہتا ہے جیسے مساجد طیبہمدینہ و مکہ معظمہ وبیت المقدس وہاں شب بھر روشن رکھنا چاہئے ورنہ نصف شب کے قریب تک۔
(۲)مکروہ ہے کہ باعث شغل قلب نمازیان ہے مگر واقف نے کیا ہو تو ویسا ہی کیا جائے گا اور اس میں نیت تعظیم مسجد ہوگی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۴: از وزیر آباد ضلع گوجرانوالا مسجد شیخ لعل نور عالم امام مسجد یکشنبہ ۱۶شعبان ۱۳۳۴ھ
بخدمت حامی سنتقامع بدعتعالم اہلسنت وجماعتمرجع علمائے وفضلاء جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب سلمہ اللہ تعالی ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ تعالی وبرکاتہ۔
ہماری مسجد بسبب کہنہ ہونے کے شہید کراکر ازسر نو تعمیر کرائی جارہی ہےبعض اصحاب کا خیال ہے
(۴)مسجد ہی کے دو معنے ہیں ایك یہ کہ فنائے مسجد یعنی اس کے متعلق زمین اس کا بلاوجہ شرعی زائل کرنا اور نمازیوں کو تکلیف پہنچانا شرعا ممنوع ہےدوسرے یہ کہ عین مسجد میں اگر قبل تمام مسجدیت واقف نے لگایا تو باقی رکھا جائے گا اور اس کا ازالہ بھی ممنوع ہے اور اگر بعدتمام مسجدیت بانی نے خواہ اور کسی نے لگایا تو وہ لگانا حرام اور اکھاڑدینا واجب۔
(۵)یہ حرام ہے اور اس کا ازالہ فرضاور کرنے والا مسجد کا بدخواہاور دربارہ الہی کے ساتھ گستاخ۔
(۶)اس پر استحقاق لعنت ہے اور وہ خود ہی مسجد پر قبضہ مالکانہ کرنا چاہتا ہے دوسروں پر جھوٹا الزام رکھتا ہے۔
(۷)شنائع مذکورہ کے مرتکب فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی منعاور پڑھ لی تو پھیرنا واجباور مسجد پر سے اس قبضہ ظالمانہ کا اٹھا دینا لازماور شرعا وہ ہر اس تعزیر کا مستحق ہے جو سلطان اسلام تجویز فرماتا ہو واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۴۲: مسئولہ سیٹھ آدم جی بردردولت اعلیحضرت یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱)مسجد میں چراغ تمام شب جلانا چاہئے یا یا جہاں تك نمازیوں کی آمد ورفت ہو وہاں تک
(۲)محراب مسجد کو یادیوار قبلہ نقش ونگار اور سونے کا پانی چڑھانا اور رنگ دینا مکروہ ہے یانہیںفقط۔
الجواب:
(۱)وہاں کے عرف معہود پر عمل کیا جائے جہاں شب بھر روشن رہتا ہے جیسے مساجد طیبہمدینہ و مکہ معظمہ وبیت المقدس وہاں شب بھر روشن رکھنا چاہئے ورنہ نصف شب کے قریب تک۔
(۲)مکروہ ہے کہ باعث شغل قلب نمازیان ہے مگر واقف نے کیا ہو تو ویسا ہی کیا جائے گا اور اس میں نیت تعظیم مسجد ہوگی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۴: از وزیر آباد ضلع گوجرانوالا مسجد شیخ لعل نور عالم امام مسجد یکشنبہ ۱۶شعبان ۱۳۳۴ھ
بخدمت حامی سنتقامع بدعتعالم اہلسنت وجماعتمرجع علمائے وفضلاء جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب سلمہ اللہ تعالی ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ تعالی وبرکاتہ۔
ہماری مسجد بسبب کہنہ ہونے کے شہید کراکر ازسر نو تعمیر کرائی جارہی ہےبعض اصحاب کا خیال ہے
کہ نیچے دکانیں اور اوپر مسجد تعمیر ہوتاکہ دکانوں کا کرایہ مسجد کے مصالح ومصارف پر وقتا فوقتا خر چ ہوتا رہےاور بعض اس کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں کہ مسجد کا احاطہ تحت الثری سے عرش معلی تك قابل احترام ہے دکانیں بنانے میں احترام نہیں رہتا کیونکہ مسجد کا گرداگردا بھی قابل احترام ہے۔ہاں اگر ابتداء بناء میں دکانیں بنائی جاتیں تو جائز تھا جیسا کہ لاہورمیں مسجد وزیر خاں اور سنہری مسجد۔مجوزین کہتے ہیں کہ فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ مسجد کے اوپر امام کے لئے بالاخانہ جائز ہےاور مسجد کا احترام جیسا کہ نیچے کے حصہ کا ویسا ہی اوپر کاجب بالاخانہ بنانے سے احترام میں فرق نہیں آتا تو دکانیں بنانے میں کیا حرج ہےحالانکہ فائدہ ہے۔نیز مسجد تنگ ہوتو راہ کا کچھ حصہ اس میں ملالینا اور راہ تنگ ہوتو مسجد کا کچھ حصہ راہ میں ملادینا جائز ہےجب ضرورت کے وقت بلالحاظ احترام ایسا تغیر وتبدل جائز ہے تو دکانیں بنانے میں بھی چونکہ مسجد کے مصلحت کی ضرورت ہے کیوں جائز نہیں ہے اور عدم جواز کی کیا وجہ ہےاور آج کل ضلع گوجرانوالا میں ایك مسجد شہید کراکر نیچے دکانیں بنائی گئی ہیں اکثر علماء نے فتوی جواز کا دے دیا ہے حتی کہ فیصلہ عدالت حکام میں بطور نظیر رکھا گیا ہےاور فتوی جواز عندالعلماء مسلم ہوچکا ہے۔غیر مقلدین جواز کے قائل ہیں مگر ہمارا اطمینان نہیں ہوتا کیونکہ کتابوں میں عدم جواز ہی دیکھا ہوا ہے البتہ تذبذب وتشتت ہوگیا ہے۔لہذا خدمت میں گذارش ہے کہ خدا کے واسطے مطابق کتاب وسنت اس مسئلہ کی تحقیق فرماکر جلد مرحمت فرمائیں تاکہ اس جھگڑے سے ہمیں نجات ملےجواز یا عدم جواز جو حق ہو دلائل قاطعہ سے مدلل فرماکر جلد روازنہ فرمائیں کیونکہ عمارت رکی ہوئی ہے اور دیر ہونے میں حرج ہوتا ہے۔جزاکم اﷲ فی الدنیا والآخرۃ۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ دکانیں قطعی حرام اور وہ بالاخانہ بھی قطعی حرامہاں وقت بنائے مسجد قبل تمام مسجدیت نیچے مسجد کے لئے دکانیں یا اوپر امام کے لئے بالاخانہ بانی بنائے اور اس کے بعد اسے مسجد کرے تو جائز ہے اور اگر مسجد بناکر بنانا چاہے اگرچہ مسجدکی دیوار کا صرف اسارااس میں لے اور کہے میری پہلے سے یہ نیت تھی ہرگز قبول نہ کریں گے اور اس عمارت کوڈھادیں گے۔درمختار میں ہے:
لو بنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃ فاذا کان ھذا فی الواقف
اگر واقف نے مسجد کے اوپر امام کے لئے حجرہ بنادیا تو حرج نہیں کیونکہ وہ مصالح مسجد میں سے ہے لیکن تمام مسجدیت کے بعد اگر وہ ایساکرنا چاہے تو اس کو منع کیا جائے گااگر وہ کہے کہ میرا شروع سے ارادہ تھا تو اس کی تصدیق نہیں کی جائیگی۔ (تاتارخانیہ)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ دکانیں قطعی حرام اور وہ بالاخانہ بھی قطعی حرامہاں وقت بنائے مسجد قبل تمام مسجدیت نیچے مسجد کے لئے دکانیں یا اوپر امام کے لئے بالاخانہ بانی بنائے اور اس کے بعد اسے مسجد کرے تو جائز ہے اور اگر مسجد بناکر بنانا چاہے اگرچہ مسجدکی دیوار کا صرف اسارااس میں لے اور کہے میری پہلے سے یہ نیت تھی ہرگز قبول نہ کریں گے اور اس عمارت کوڈھادیں گے۔درمختار میں ہے:
لو بنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃ فاذا کان ھذا فی الواقف
اگر واقف نے مسجد کے اوپر امام کے لئے حجرہ بنادیا تو حرج نہیں کیونکہ وہ مصالح مسجد میں سے ہے لیکن تمام مسجدیت کے بعد اگر وہ ایساکرنا چاہے تو اس کو منع کیا جائے گااگر وہ کہے کہ میرا شروع سے ارادہ تھا تو اس کی تصدیق نہیں کی جائیگی۔ (تاتارخانیہ)
فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد ولا یجوز اخذالاجرۃ منہ ولان یجعل شیئا منہ مستغلا ولاسکنی بزازیۃ۔
جب خود واقف کا حکم یہ ہے تو کسی اور کو یہ اختیار کیسے ہوسکتا ہے لہذا ایسی عمارت کو گرانا واجب ہے اگرچہ صرف دیوار مسجد پر وہ استوار کی گئی ہواس کی اجرت لینا یا مسجد کا کوئی حصہ کرایہ کے لئے یا رہائش کے لئے مقرر کرنا جائز نہیں(بزازیہ) (ت)
وقت ضرورت راہ کا حصہ مسجد میں ملالینے کے یہ معنی نہیں کہ راہ بدستور راہ ہے اور اسے مسجد کرلیا جائے جس سے مخالف احترام لازم آئے بلکہ اس پارہ راہ کو جب مسجد میں شامل کرلیا جائے گا وہ تمام احکام مسجد میں ہوجائے گا اور اسے گزرگاہ بنانا ناجائز ہوگا اور مسجد کو بایں معنی راہ بنانا کہ وہ مسجدیت سے خارج اور اس کا احترام ساقط اور راہ میں شامل ہوجائے ہرگز جائز نہیں۔مسئلہ کہ بعض کتب میں لکھا ہے اس کے معنی اور ہیں جس کی تفصیل وتحقیق دیکھنی ہوتو فقیر کا فتاوی یا ردالمحتار کا حاشیہ یارسالہ مطبوعہ"قامع الواہیات لجامع الجزئیات"ملاحظہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۴۵: ازراجبپوتانہ ریاست کوٹہ مدرسہ انجمن اسلامیہ یوسف خاں مہتمم شنبہ ۱۸شوال ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں معاملہ کہ یہاں پر قریب تین سوگز کے آبادی مسلمانوں کی ہے اور یہاں کی جامع مسجد میں علاوہ نماز جمعہ کے پنج وقتی نماز جماعت کے ساتھ ادا ہوتی ہے اس میں مسافر لوگ باہر کے نمازی وغیر نمازی آکر ٹھہراکرتے ہیں اور دن رات وہاں پر رہتے سوتے ہیںیہ عمل قریب عرصہ تین چار سال سے جاری ہےاور یہ بات مسلم ہے کہ حالت خواب میں انسان کو اپنے جسم کا خیال نہیں رہ سکتاایسے میں اگر احتلام بھی ہوجاتا ہوتو کیا عجب ہے اس کے دفع کے لئے بہت سے کوشش کی مگر ناکامی ہوئی حتی کہ ایسا عمل کرنے میں ان کے دیکھا دیکھی قصبہ کے مسلمانان بھی پورے طور پر عادی ہوگئے ہیںایسی حالت دیکھنے پر منع جو کیا گیا تو جواب ملا کہ بڑے بڑے شہروں میں یہ عمل ہوتا ہے اگر منع ہوتا تو وہاں پر لوگ ایسا نہ کرتے ہم نہیں مان سکتے جب تك کہ ہم کو کسی کتاب سے یا حدیث صحیح سے اس کے عدم جواز کے بارہ میں صاف طور آگاہ نہیں کردیا جائےعلاوہ ازیں ایك حافظ صاحب نابینا ٹونگ کے رہنے والے ہیں ان کی تو یہ حالت ہے کہ صبح سے چار بجے تك حالت خواب میں رہتے ہیںکبھی پیر قبلہ کی اور کبھی اوتر کی جانب رہتے ہیں۔گاہ بگاہ نماز جمعہ تك کے بھی ہاتھ نہیں آتے
جب خود واقف کا حکم یہ ہے تو کسی اور کو یہ اختیار کیسے ہوسکتا ہے لہذا ایسی عمارت کو گرانا واجب ہے اگرچہ صرف دیوار مسجد پر وہ استوار کی گئی ہواس کی اجرت لینا یا مسجد کا کوئی حصہ کرایہ کے لئے یا رہائش کے لئے مقرر کرنا جائز نہیں(بزازیہ) (ت)
وقت ضرورت راہ کا حصہ مسجد میں ملالینے کے یہ معنی نہیں کہ راہ بدستور راہ ہے اور اسے مسجد کرلیا جائے جس سے مخالف احترام لازم آئے بلکہ اس پارہ راہ کو جب مسجد میں شامل کرلیا جائے گا وہ تمام احکام مسجد میں ہوجائے گا اور اسے گزرگاہ بنانا ناجائز ہوگا اور مسجد کو بایں معنی راہ بنانا کہ وہ مسجدیت سے خارج اور اس کا احترام ساقط اور راہ میں شامل ہوجائے ہرگز جائز نہیں۔مسئلہ کہ بعض کتب میں لکھا ہے اس کے معنی اور ہیں جس کی تفصیل وتحقیق دیکھنی ہوتو فقیر کا فتاوی یا ردالمحتار کا حاشیہ یارسالہ مطبوعہ"قامع الواہیات لجامع الجزئیات"ملاحظہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۴۵: ازراجبپوتانہ ریاست کوٹہ مدرسہ انجمن اسلامیہ یوسف خاں مہتمم شنبہ ۱۸شوال ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں معاملہ کہ یہاں پر قریب تین سوگز کے آبادی مسلمانوں کی ہے اور یہاں کی جامع مسجد میں علاوہ نماز جمعہ کے پنج وقتی نماز جماعت کے ساتھ ادا ہوتی ہے اس میں مسافر لوگ باہر کے نمازی وغیر نمازی آکر ٹھہراکرتے ہیں اور دن رات وہاں پر رہتے سوتے ہیںیہ عمل قریب عرصہ تین چار سال سے جاری ہےاور یہ بات مسلم ہے کہ حالت خواب میں انسان کو اپنے جسم کا خیال نہیں رہ سکتاایسے میں اگر احتلام بھی ہوجاتا ہوتو کیا عجب ہے اس کے دفع کے لئے بہت سے کوشش کی مگر ناکامی ہوئی حتی کہ ایسا عمل کرنے میں ان کے دیکھا دیکھی قصبہ کے مسلمانان بھی پورے طور پر عادی ہوگئے ہیںایسی حالت دیکھنے پر منع جو کیا گیا تو جواب ملا کہ بڑے بڑے شہروں میں یہ عمل ہوتا ہے اگر منع ہوتا تو وہاں پر لوگ ایسا نہ کرتے ہم نہیں مان سکتے جب تك کہ ہم کو کسی کتاب سے یا حدیث صحیح سے اس کے عدم جواز کے بارہ میں صاف طور آگاہ نہیں کردیا جائےعلاوہ ازیں ایك حافظ صاحب نابینا ٹونگ کے رہنے والے ہیں ان کی تو یہ حالت ہے کہ صبح سے چار بجے تك حالت خواب میں رہتے ہیںکبھی پیر قبلہ کی اور کبھی اوتر کی جانب رہتے ہیں۔گاہ بگاہ نماز جمعہ تك کے بھی ہاتھ نہیں آتے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۷۹
اور یہ صاحب طلبہ خورد سالہ کو جن کو اپنے پیروں کے ناپاکی سے بچانے کا خیال تك نہیں رہتاجامع مسجد ہی میں درس دیتے ہیںاور طلبہ صبح سے لے کر چار بجے تك وہاں پر ہی حاضر رہتے ہیں ان منع کیا گیا کہ آپ سمجھدارہیں یہاں کا سونا اور بچوں کو اس جگہ تعلیم دینا بند کریں کیونکہ ان کے پیرنا پاکی میں آلود رہتے ہیں اور سونا مدرسہ اسلامیہ یا جس صاحب کے مکان پر رہتے ہیں یاجہاں پر علاوہ مسجد کے آپ پسند فرمائیں اختیار کریں جس سے نہایت غصہ میں آکر جواب دہ ہوئے کہ ہم نہیں مان سکتے تمہارا جو جی چاہے کروایسی شکل میں ہمارے واسطے مسجد میں سونا درست ہے یانہیںاب قصبہ میں یہ مرض مسلمانوں میں دیکھا دیکھی زیادہ ترقی پر ہےمسجد میں بخوبی رہتے ہیںایسی صورتہائے مذکورہ بالا میں ہمارے مذہب حنفی میں کیاحکم ہےاس کا جواب بحوالہ کتب معتبرہ بحوالہ حدیث صحیح کے نہایت شرح سے دیا جائےفقط۔
الجواب:
صحیح راجح یہ ہے کہ معتکف کے سوا کسی کو مسجد میں سونے کی اجازت نہیں۔درمختار وغیرہ میں ہے:
کرہ النوم فیہ الالمعتکف الخ واستثنی بعضھم الغریب ولاحاجۃ الیہ لانہ یقدر علی ان ینوی الاعتکاف ویذکراﷲ تعالی قدرما تیسرثم یفعل ما یشاء ۔
مسجد میں غیر معتکف کے لئے سونا جائز نہیں الخ بعض نے مسافر کو اس حکم سے مستثنی کیا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ اعتکاف کی نیت کرکے حسب استطاعت اﷲ تعالی کا ذکرکرے اور پھر جو چاہے کرے(ت)
مسجد میں ناسمجھ بچوں کے لے جانے کی ممانعت ہےحدیث میں ہے:
جنبوامساجدکم صبیانکم ومجانینکم ۔
اپنی مساجد کو اپنے ناسمجھ بچوں اور پاگلوں سے محفوظ رکھو۔ (ت)
خصوصا اگرپڑھانے والا اجرت لے کر پڑھاتا ہوتو اور بھی زیادہ ناجائز ہے کہ اب کاردنیا ہوگیا اور دنیا کی بات کے لئے مسجد میں جانا حرام ہے نہ کہ طویل کار کے لئے۔وا ﷲ تعالی اعلم
الجواب:
صحیح راجح یہ ہے کہ معتکف کے سوا کسی کو مسجد میں سونے کی اجازت نہیں۔درمختار وغیرہ میں ہے:
کرہ النوم فیہ الالمعتکف الخ واستثنی بعضھم الغریب ولاحاجۃ الیہ لانہ یقدر علی ان ینوی الاعتکاف ویذکراﷲ تعالی قدرما تیسرثم یفعل ما یشاء ۔
مسجد میں غیر معتکف کے لئے سونا جائز نہیں الخ بعض نے مسافر کو اس حکم سے مستثنی کیا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ اعتکاف کی نیت کرکے حسب استطاعت اﷲ تعالی کا ذکرکرے اور پھر جو چاہے کرے(ت)
مسجد میں ناسمجھ بچوں کے لے جانے کی ممانعت ہےحدیث میں ہے:
جنبوامساجدکم صبیانکم ومجانینکم ۔
اپنی مساجد کو اپنے ناسمجھ بچوں اور پاگلوں سے محفوظ رکھو۔ (ت)
خصوصا اگرپڑھانے والا اجرت لے کر پڑھاتا ہوتو اور بھی زیادہ ناجائز ہے کہ اب کاردنیا ہوگیا اور دنیا کی بات کے لئے مسجد میں جانا حرام ہے نہ کہ طویل کار کے لئے۔وا ﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۴
سنن ابن ماجہ ابواب الصلوٰۃ باب مایکرہ فی المساجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۴
سنن ابن ماجہ ابواب الصلوٰۃ باب مایکرہ فی المساجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵
مسئلہ۲۴۶: از شہر مظفر پور محلہ کلیانی حکیم ظہور الحق شنبہ ۱۸شوال المعظم۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ ایك محلہ میں شہر کے ایك مسجد پختہ مدت دراز سے قائم ہے اور کوئی معتبر شخص نہیں کہتا ہے کہ یہ مسجد زرحلال یا حرام سے کس طرح روپیہ سے بنی ہے اور بنانے والا کون ہے۔مگر بعض اشخاص غیر معتبر کہتے ہیں کہ یہ مسجدایك عورت کی بنوائی ہوئی ہے جس نے ایك ملازم سرکاری سے عقدکیا تھا اور بعد عقد کے ظروف گلی کے بیچنے کا پیشہ کرتی تھی اور اپنی ظروف فروشی کے حلال روپیہ سے اس نے یہ مسجد بنوائی ہے چنانچہ قبر اس عورت کی صحن مسجد کے دالان میں موجود ہے اب مرمت وغیرہ مسجد مذکور ہ کی مسلمانان محلہ کے خرچ واہتمام سے ہوتی ہے اور برابرنماز پنجگانہ جماعت سے اس میں ہوتی ہے اور ایك شخص بمشورہ مسلمانا ن محلہ ان دنوں اس کا متولی ہے اور اذان دیتا ہے اور نمازیں پڑھاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ مسجدہماری نانی کی بنوائی ہوئی ہے مگر عندالناس یہ شخص شریف النسب نہیں ہے پس اس صورت میں ا س مسجد کو مسجدکاحکم دیا جائے گا یانہیںاور نمازیں اس میں جائز ہوں گی یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
مسجد ضرور مسجد ہے اور اس میں نمازیں بے شك جائز اور بنانے والے کا شریف النسب نہ ہونااگرثابت بھی ہوتو کوئی حرج نہیں۔بانی کی شرافت نسب کوئی شرط مسجد نہیں۔
قال اﷲ تعالی ” انما یعمر مسجد الله من امن بالله" الایۃ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:مسجدیں تو وہی لوگ تعمیر کرتے ہیں جو اﷲ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔(ت)
اور جب زر حرام سے ہونا معلوم نہیں تو شبہ ووہم کو دخل دینا بے معنی ہے۔فتاوی عالمگیریہ میں فتاوی ذخیرہ سے ہے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ واﷲتعالی اعلم۔
ہم اسی کو اخذ کرتے ہیں جب تك ہمیں کسی معین شیئ کے حرام ہونے کا یقین نہ ہوجائے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ ایك محلہ میں شہر کے ایك مسجد پختہ مدت دراز سے قائم ہے اور کوئی معتبر شخص نہیں کہتا ہے کہ یہ مسجد زرحلال یا حرام سے کس طرح روپیہ سے بنی ہے اور بنانے والا کون ہے۔مگر بعض اشخاص غیر معتبر کہتے ہیں کہ یہ مسجدایك عورت کی بنوائی ہوئی ہے جس نے ایك ملازم سرکاری سے عقدکیا تھا اور بعد عقد کے ظروف گلی کے بیچنے کا پیشہ کرتی تھی اور اپنی ظروف فروشی کے حلال روپیہ سے اس نے یہ مسجد بنوائی ہے چنانچہ قبر اس عورت کی صحن مسجد کے دالان میں موجود ہے اب مرمت وغیرہ مسجد مذکور ہ کی مسلمانان محلہ کے خرچ واہتمام سے ہوتی ہے اور برابرنماز پنجگانہ جماعت سے اس میں ہوتی ہے اور ایك شخص بمشورہ مسلمانا ن محلہ ان دنوں اس کا متولی ہے اور اذان دیتا ہے اور نمازیں پڑھاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ مسجدہماری نانی کی بنوائی ہوئی ہے مگر عندالناس یہ شخص شریف النسب نہیں ہے پس اس صورت میں ا س مسجد کو مسجدکاحکم دیا جائے گا یانہیںاور نمازیں اس میں جائز ہوں گی یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
مسجد ضرور مسجد ہے اور اس میں نمازیں بے شك جائز اور بنانے والے کا شریف النسب نہ ہونااگرثابت بھی ہوتو کوئی حرج نہیں۔بانی کی شرافت نسب کوئی شرط مسجد نہیں۔
قال اﷲ تعالی ” انما یعمر مسجد الله من امن بالله" الایۃ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:مسجدیں تو وہی لوگ تعمیر کرتے ہیں جو اﷲ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔(ت)
اور جب زر حرام سے ہونا معلوم نہیں تو شبہ ووہم کو دخل دینا بے معنی ہے۔فتاوی عالمگیریہ میں فتاوی ذخیرہ سے ہے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ واﷲتعالی اعلم۔
ہم اسی کو اخذ کرتے ہیں جب تك ہمیں کسی معین شیئ کے حرام ہونے کا یقین نہ ہوجائے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۱۸
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی فی الہدایا الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی فی الہدایا الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲
مسئلہ۲۴۷ تا ۲۵۰: ازبریلی بازار صندل خاں مسئولہ نواب نثار احمد خاں صاحب یکشنبہ ۱۹شوال ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان صورتوں میں کہ:
(۱)دو شخصوں نے ایك چاہ ومسجد بخیال آرام وآسائش ادائے نماز اپنی کے تعمیر کرائی اوروقف نہ کینیز دیگر مکانات بھی اس میں پہلے بنانے والے کے ملحق مسجد واقع تھے اور اب بھی ہیںبنانے والے کے ورثاء ہمیشہ سے یکے بعد دیگرے انتظام مسجد کرتے چلے آنے ہیں اور اب بھی کرتے ہیں مگر اس میں دیگر اشخاص نماز ادا کرنے لگےاب چند اہل محلہ ان مکانات وغیرہ کو متعلق مسجد خیال کرکے اس کی آمدنی اپنی رائے سے صرف و خرد برد کرنا چاہتے ہیں اور وارثان ہر دو اشخاص جن کے مورثوں نے مسجد و چاہ تعمیر کراکر وقف نہ کی وہ ان کے خرد برد سے آمدنی کو باز رکھناچاہتے ہیں پس عندالشرع ایسے شخص غیر تعلقدار اپنی رائے سے آمدنی مسجد صرف وخرد برد کرسکتے ہیں یانہیں انتظام کس کی رائے سے ہونا چاہئے اور کس کی رائے سے نہ ہونا مناسب ہےآیا غیر شخص کی رائے یا ان مورثوں کے ورثاء کے ہاتھ سے جنہوں نے مسجد وچاہ تعمیر کرایا ہےاور اب بھی حسب ضرورت خرچ مسجد و امام وغیرہ ہی کرتے ہیںصورت بالا میں مسجد بلاایماء بنوانے والے کے وقف سمجھی جائیگی یا نہیں اور بلاایماء بنوانے والے کے یا اس کے ورثاء کے غیر اشخاص کے ادائے نماز میں کوئی سقم واقع ہوگا یانہیں
(۲)اگر کوئی شخص امام مسجد مثلا طالب علم یا دیگر اہل محلہ سے مسجد میں اگر جھگڑا کرے اور تحکمانہ برتاؤ کرے ایسی باتیں کرے جس میں کہ تمام اہل محلہ وامام مسجد نالاں ہوکر مسجد میں آنا ترك کردیں تو ایسے شخص کو مسجد میں آنے دیا جائے یانہیں باوجود مدد کرنے زر نقد وروٹی وغیرہ کےاس پر اور اس کے ہم خیال وغیرہ پر کیا حکم شرع ہے
(۳)کانٹا ولوٹا ورسی وغیرہ سامان مسجد سوائے اپنے یا اپنے میل کے اشخاص کے کسی دوسرے شخص کو دینا پسند نہ کرےاو اگر لیں توجھگڑا کرے تو ایسے شخص پر کیا حکم شرع ہے
(۴)عالم پانی بھرنے والوں کو جو چاہ مسجدمیں بھریں برا کہے اور روکے برخلاف اپنے میل کے اشخاص کےتو ایسے شخص پر کیا حکم شرع ہے
الجواب:
(۱)مسجداگر صورت مسجد پر بنائی اور راستہ اس کا شارع عام تك جدا کردیا اور مسلمانوں کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت دی تو بلاشبہ وہ مسجد ہوگئی اوراس کا یہ کہنا کہ بانی نے وقف نہ کی قابل قبول نہیںیونہی اگر کنواں بناکر متعلق مسجد کردیا اس میں نماز وارثان بانی کی محتاج اجازت نہیںہاں اگر بہ ثبوت شرعی ثابت ہوکہ بانی نے کہا تھا یہ مسجد میں اپنے لئے بناتا ہوں وقف نہیں کرتایا اس کا راستہ اسی کی ملك میں ہوکر ہو
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان صورتوں میں کہ:
(۱)دو شخصوں نے ایك چاہ ومسجد بخیال آرام وآسائش ادائے نماز اپنی کے تعمیر کرائی اوروقف نہ کینیز دیگر مکانات بھی اس میں پہلے بنانے والے کے ملحق مسجد واقع تھے اور اب بھی ہیںبنانے والے کے ورثاء ہمیشہ سے یکے بعد دیگرے انتظام مسجد کرتے چلے آنے ہیں اور اب بھی کرتے ہیں مگر اس میں دیگر اشخاص نماز ادا کرنے لگےاب چند اہل محلہ ان مکانات وغیرہ کو متعلق مسجد خیال کرکے اس کی آمدنی اپنی رائے سے صرف و خرد برد کرنا چاہتے ہیں اور وارثان ہر دو اشخاص جن کے مورثوں نے مسجد و چاہ تعمیر کراکر وقف نہ کی وہ ان کے خرد برد سے آمدنی کو باز رکھناچاہتے ہیں پس عندالشرع ایسے شخص غیر تعلقدار اپنی رائے سے آمدنی مسجد صرف وخرد برد کرسکتے ہیں یانہیں انتظام کس کی رائے سے ہونا چاہئے اور کس کی رائے سے نہ ہونا مناسب ہےآیا غیر شخص کی رائے یا ان مورثوں کے ورثاء کے ہاتھ سے جنہوں نے مسجد وچاہ تعمیر کرایا ہےاور اب بھی حسب ضرورت خرچ مسجد و امام وغیرہ ہی کرتے ہیںصورت بالا میں مسجد بلاایماء بنوانے والے کے وقف سمجھی جائیگی یا نہیں اور بلاایماء بنوانے والے کے یا اس کے ورثاء کے غیر اشخاص کے ادائے نماز میں کوئی سقم واقع ہوگا یانہیں
(۲)اگر کوئی شخص امام مسجد مثلا طالب علم یا دیگر اہل محلہ سے مسجد میں اگر جھگڑا کرے اور تحکمانہ برتاؤ کرے ایسی باتیں کرے جس میں کہ تمام اہل محلہ وامام مسجد نالاں ہوکر مسجد میں آنا ترك کردیں تو ایسے شخص کو مسجد میں آنے دیا جائے یانہیں باوجود مدد کرنے زر نقد وروٹی وغیرہ کےاس پر اور اس کے ہم خیال وغیرہ پر کیا حکم شرع ہے
(۳)کانٹا ولوٹا ورسی وغیرہ سامان مسجد سوائے اپنے یا اپنے میل کے اشخاص کے کسی دوسرے شخص کو دینا پسند نہ کرےاو اگر لیں توجھگڑا کرے تو ایسے شخص پر کیا حکم شرع ہے
(۴)عالم پانی بھرنے والوں کو جو چاہ مسجدمیں بھریں برا کہے اور روکے برخلاف اپنے میل کے اشخاص کےتو ایسے شخص پر کیا حکم شرع ہے
الجواب:
(۱)مسجداگر صورت مسجد پر بنائی اور راستہ اس کا شارع عام تك جدا کردیا اور مسلمانوں کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت دی تو بلاشبہ وہ مسجد ہوگئی اوراس کا یہ کہنا کہ بانی نے وقف نہ کی قابل قبول نہیںیونہی اگر کنواں بناکر متعلق مسجد کردیا اس میں نماز وارثان بانی کی محتاج اجازت نہیںہاں اگر بہ ثبوت شرعی ثابت ہوکہ بانی نے کہا تھا یہ مسجد میں اپنے لئے بناتا ہوں وقف نہیں کرتایا اس کا راستہ اسی کی ملك میں ہوکر ہو
اور اس نے مسجد کے لئے راہ جدانہ کی تو وہ مسجد نہ ہوئی اگرچہ صورت اخیرہ میں اس نے یہ بھی کہہ دیا ہو کہ میں نے اس کو وقف کیایوں اس میں نماز مسجد کا ثواب نہیںنہ بے اجازت مالکان دوسرا پڑھ سکتاہےرہے دیگر املاك متصل مسجد ثبوت شرعی سے ان کا مسجد پر وقف ہونا درکار ہے بے اس کے کوئی ان میں تصرف نہیں کرسکتا وہ وارثوں کی ملك ہے ان کو اختیار ہے۔
(۲)جو شخص ناحق فتنہ اٹھاتا ہو اور اس کے سبب لوگ مسجد میں آنا ترك کردیں اسے مسجد سے روکنا جائز ہے جبکہ باعث اثارت فتنہ نہ ہودرمختارمیں ہے:
ویمنع منہ کل موذ ولو بلسانہ ۔
مسجد سے ہر موذی کو روکا جائے گا اگرچہ وہ زبانی ایذا پہنچاتا ہو۔ (ت)
اور اگر وہ کسی امر ضروری حق کی طرف بلاتا ہو اور لوگ اپنی جہالت کے سبب سے اس سے ناراض ہوں تو وبال انہیں پر ہے نہ کہ اس پر۔
(۳)مال وقف پر کوئی اپنا قبضہ نہیں کرسکتااگر ایسا کرے اور نمازیوں کو مسجد کی اشیاء سے انتفاع نہ کرنے دے تو وہ بھی موذی اور قابل اخراج۔
(۴)کنویں پر سے کسی مسلمان کے روکنے کا کسی کو حق نہیںجب تك کوئی خاص وجہ شرعی نہ ہو اور جو ایسا فساد کرتا ہو بطرز مناسب اس کا انسداد واجب ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۱ تا ۲۵۳: ازالہ آباد مدرسہ سبحانیہ محمد نصیر الدین محلہ سرائے گڈھا پنجشنبہ ۲۳شوال ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد شاہی زمانہ کی لب سڑك تھی اس میں ایك درجہ پچھم جانب گنبد دار تھا اور مسجد کے پورب ودکھن جانب دکانات ہیں جن کی چھت مسجد کے فرش صحن سےاب مسجد ہذا کی از سر نو تعمیر اس طور پر کی گئی کہ پچھم کی جانب بجائے ایك درجے قائم کئے گئے اور دکانات کی بھی چھت پر عمارت بنائی گئی جس کے ہر چہار طرف بڑے بڑے دروازے جواب بنائے گئے اور مسجد کی کرسی بھی اتنی بلند کی گئی کہ دکانوں کی چھت فرش مسجد سے برابر ہوگئی صرف چھ انگشت بمقدار درسہ دکانات کی چھت سے فرش مسجد اونچی ہے مسجد ہی کی طرف سے اس چھت پرآمد ورفت ہےرمضان المبارك کے جمعوں میں اس قدر لوگوں کی کثرت ہوتی تھی کہ لوگ مسجد میں نہیں سماتے تھے سڑکوں پر صف قائم کرنے کی نوبت آتی تھی۔اس ضرورت سے مسجد دو منزلہ بنائی گئیمسجد کے اندر کے درجہ چھت پر ایك درجہ گنبدی بنایا گیا
(۲)جو شخص ناحق فتنہ اٹھاتا ہو اور اس کے سبب لوگ مسجد میں آنا ترك کردیں اسے مسجد سے روکنا جائز ہے جبکہ باعث اثارت فتنہ نہ ہودرمختارمیں ہے:
ویمنع منہ کل موذ ولو بلسانہ ۔
مسجد سے ہر موذی کو روکا جائے گا اگرچہ وہ زبانی ایذا پہنچاتا ہو۔ (ت)
اور اگر وہ کسی امر ضروری حق کی طرف بلاتا ہو اور لوگ اپنی جہالت کے سبب سے اس سے ناراض ہوں تو وبال انہیں پر ہے نہ کہ اس پر۔
(۳)مال وقف پر کوئی اپنا قبضہ نہیں کرسکتااگر ایسا کرے اور نمازیوں کو مسجد کی اشیاء سے انتفاع نہ کرنے دے تو وہ بھی موذی اور قابل اخراج۔
(۴)کنویں پر سے کسی مسلمان کے روکنے کا کسی کو حق نہیںجب تك کوئی خاص وجہ شرعی نہ ہو اور جو ایسا فساد کرتا ہو بطرز مناسب اس کا انسداد واجب ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۱ تا ۲۵۳: ازالہ آباد مدرسہ سبحانیہ محمد نصیر الدین محلہ سرائے گڈھا پنجشنبہ ۲۳شوال ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد شاہی زمانہ کی لب سڑك تھی اس میں ایك درجہ پچھم جانب گنبد دار تھا اور مسجد کے پورب ودکھن جانب دکانات ہیں جن کی چھت مسجد کے فرش صحن سےاب مسجد ہذا کی از سر نو تعمیر اس طور پر کی گئی کہ پچھم کی جانب بجائے ایك درجے قائم کئے گئے اور دکانات کی بھی چھت پر عمارت بنائی گئی جس کے ہر چہار طرف بڑے بڑے دروازے جواب بنائے گئے اور مسجد کی کرسی بھی اتنی بلند کی گئی کہ دکانوں کی چھت فرش مسجد سے برابر ہوگئی صرف چھ انگشت بمقدار درسہ دکانات کی چھت سے فرش مسجد اونچی ہے مسجد ہی کی طرف سے اس چھت پرآمد ورفت ہےرمضان المبارك کے جمعوں میں اس قدر لوگوں کی کثرت ہوتی تھی کہ لوگ مسجد میں نہیں سماتے تھے سڑکوں پر صف قائم کرنے کی نوبت آتی تھی۔اس ضرورت سے مسجد دو منزلہ بنائی گئیمسجد کے اندر کے درجہ چھت پر ایك درجہ گنبدی بنایا گیا
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
اور اس برابر آگے کا درجہ اور تمام صحن مع عمارت بالائے سقف دکانات پاٹ دیا گیا گویا کہ نیچے اوپر دو مسجدیں ہوگئیں نیچے کی مسجد مع صحن و اپنے حوالی کے پٹی ہوئی ہوگئی اور اوپر ایك درجہ پٹا ہواگنبدی اور اس کے ساتھ بہت بڑا صحن کھلا ہوا نکل آیا اور اوپر کے درجہ کے سامنے جو صحن ہے وہ محاذات مسجد سے دکھن جانب بڑھا ہو ا ہے کیونکہ دکانات کی چھت کی عمارت کی سقف بھی شامل کر لی گئی ہے۔اب دریافت طلب امریہ ہے کہ اوپر کی مسجدکا جو صحن بغرض وسعت دکھن کی طرف بالائے سقف دکانات بڑھا ہواہے وہ مسجد ہے یانہیں
۲دوم: یہ کہ دکانات مذکورہ کی چھت پریا اس کے بالائے عمارت کے سقف پر معتکف جاسکتا ہے یانہیں
۳سوم: یہ کہ اوپر کے مسجد پر صحن میں جب امام محراب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو دکھن کی جانب صف بڑھ جاتی ہے ایسی حالت میں امام کچھ ہٹ کر دکھن کی جانب کھڑا ہوتا ہے کہ دونوں جانب صف برابر رہے یا خود محراب کے سامنے کھڑا ہو اور مقتدیوں کو زائد حصہ میں دکھن کی جانب کھڑ ے ہونے سے روکے اور اپنے پیچھے دونوں طرف صف برابر قائم کرنے کاحکم دے کیونکہ امام کے پیچھے دورتك بہت جگہ باقی رہتی ہےفقط
الجواب:
اگر وہ دکانیں متعلق مسجد اور اس پر وقف ہیں اور مسلمانوں نے ان کی سقف کو داخل کرلیا تو وہ سقف بھی مسجد ہوگئی
ولایضرکون الحوانیت تحتہ لکونھا وقفا علیہ وجاز اخذ ملك الناس کرھا بالقیمۃ عند ضیق المسجد فکیف بما ھو وقف علیہ کما فی ردالمحتار۔
مسجد کے نیچے دکانوں کا ہونا مضر نہیں کیونکہ وہ مسجد پر وقف ہیںاگر مسجد تنگ ہوتو لوگوں کی مملوکہ جگہ قیمت کے بدلے جبرا لے کر مسجد میں توسیع کرنا جائز ہے تو جو مسجد پر وقف ہو اس کو شامل مسجد کرنا کیونکر جائز نہ ہوگاجیساکہ ردالمحتار میں ہے(ت)
ان دکانوں کی چھت پر اور ان کی بالائی عمارت کی سقف پر معتکف جاسکتا ہے
لانھا کانت من فناء المسجد ولاطریق فاصل بینھما فکیف وقد صارت من المسجد۔
کیونکہ وہ فناء مسجد ہے اور درمیان میں کوئی راستہ جدائی ڈالنے والا نہیں اور کیسے ناجائز ہوگا جبکہ وہ مسجد ہی کا حصہ ہوگیا ہے(ت)
۲دوم: یہ کہ دکانات مذکورہ کی چھت پریا اس کے بالائے عمارت کے سقف پر معتکف جاسکتا ہے یانہیں
۳سوم: یہ کہ اوپر کے مسجد پر صحن میں جب امام محراب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو دکھن کی جانب صف بڑھ جاتی ہے ایسی حالت میں امام کچھ ہٹ کر دکھن کی جانب کھڑا ہوتا ہے کہ دونوں جانب صف برابر رہے یا خود محراب کے سامنے کھڑا ہو اور مقتدیوں کو زائد حصہ میں دکھن کی جانب کھڑ ے ہونے سے روکے اور اپنے پیچھے دونوں طرف صف برابر قائم کرنے کاحکم دے کیونکہ امام کے پیچھے دورتك بہت جگہ باقی رہتی ہےفقط
الجواب:
اگر وہ دکانیں متعلق مسجد اور اس پر وقف ہیں اور مسلمانوں نے ان کی سقف کو داخل کرلیا تو وہ سقف بھی مسجد ہوگئی
ولایضرکون الحوانیت تحتہ لکونھا وقفا علیہ وجاز اخذ ملك الناس کرھا بالقیمۃ عند ضیق المسجد فکیف بما ھو وقف علیہ کما فی ردالمحتار۔
مسجد کے نیچے دکانوں کا ہونا مضر نہیں کیونکہ وہ مسجد پر وقف ہیںاگر مسجد تنگ ہوتو لوگوں کی مملوکہ جگہ قیمت کے بدلے جبرا لے کر مسجد میں توسیع کرنا جائز ہے تو جو مسجد پر وقف ہو اس کو شامل مسجد کرنا کیونکر جائز نہ ہوگاجیساکہ ردالمحتار میں ہے(ت)
ان دکانوں کی چھت پر اور ان کی بالائی عمارت کی سقف پر معتکف جاسکتا ہے
لانھا کانت من فناء المسجد ولاطریق فاصل بینھما فکیف وقد صارت من المسجد۔
کیونکہ وہ فناء مسجد ہے اور درمیان میں کوئی راستہ جدائی ڈالنے والا نہیں اور کیسے ناجائز ہوگا جبکہ وہ مسجد ہی کا حصہ ہوگیا ہے(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۰ و ۳۸۴
اگر امام محراب کے سامنے کھڑا ہو اور اپنے توسط کے لئے صف پوری نہ کرنے دے تو گناہ وناجائز ہے۔
قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممن وصل صفا وصلہ اﷲ ومن قطع صفا قطعہ اﷲ ۔
حضورانور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا:جو صفوں کو ملائے اللہ تعالی اس کو وصل عطا فرماتا ہے اور جو صفوں کو قطع کرے اﷲ تعالی اس کو منقطع فرماتاہے(ت)
اور خود محراب کے سامنے کھڑا ہو اور صف پوری ہوکر ایك جانب بڑھ جائے تو مکروہ اور خلاف سنت ہے
لقولہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتوسطواالامام ۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اس ارشاد کی وجہ سے کہ امام درمیان میں ہو۔(ت)
بلکہ یہ چاہئے کہ صف پوری کی جائے اور صف کا جہاں وسط ہو امام محراب چھوڑکر وہاں کھڑ اہواس بیرونی حصہ کے لئے یہی جگہ محراب ہے نص علیہ فی ردالمحتار التفصیل فی فتاونا(ردالمحتار میں(علامہ شامی)نے اس پر نص فرمائی اور تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ت)مگر یہ معلوم رہے کہ مسجد کی چھت پر بلاضرورت جانا منع ہے اگر تنگی کے سبب کہ نیچے کا درجہ بھر گیا اوپر نماز پڑھیں جائز ہے اور بلاضرورت مثلا گرمی کی وجہ سے پڑھنے کی اجازت نہیں کما نص علیہ فی الفتاوی عالمگیریۃ (جیسا کہ فتاوی عالمگیریہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۵۴: مسئولہ شمس الدین از نصیر آباد ضلع اجمیر شریف مسجد گودام چرم دو شنبہ ۱۷ذیقعدہ ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص ایك مسجد میں خلاف تہذیب وناشائستہ حرکات کرتے ہوئے مثلا کسی وقت اس میں لڑےگالی گلوچ تك نوبت پہنچی اور بہت شوروشغب کیاکسی وقت مسخرہ پن کیاایك نے دوسرے کا تہبندکھول دیابعض وقت کسی کی مقعد میں انگلی کردیکبھی مؤذن کی آواز پر ہنسے قہقہے اڑائے۔ان سب باتوں کو دیکھ کر ایك شخص نے ناصحانہ حیثیت سے محض نصیحت اور سمجھانے کے طور کہاکہ بھائیو!مسجد خانہ خدا ہے اس کے اندر تم کویہ افعال جائز نہیں ہیں اور غور کرو کہ مسجد کی حرمت اور تعظیم ہم پر اور تم پر اور ہر مسلمان پر ہر وقت ضروری اور فرض ہےتو ان لوگوں نے اس کی بات کو نصیحت اور خیر خواہی نہ سمجھ کر تعصب اور نفسانیت تصور کرکے خلاف منشاء ناصح کے جواب دیااس پر ناصح مذکور نے کہا کہ
قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممن وصل صفا وصلہ اﷲ ومن قطع صفا قطعہ اﷲ ۔
حضورانور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا:جو صفوں کو ملائے اللہ تعالی اس کو وصل عطا فرماتا ہے اور جو صفوں کو قطع کرے اﷲ تعالی اس کو منقطع فرماتاہے(ت)
اور خود محراب کے سامنے کھڑا ہو اور صف پوری ہوکر ایك جانب بڑھ جائے تو مکروہ اور خلاف سنت ہے
لقولہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتوسطواالامام ۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اس ارشاد کی وجہ سے کہ امام درمیان میں ہو۔(ت)
بلکہ یہ چاہئے کہ صف پوری کی جائے اور صف کا جہاں وسط ہو امام محراب چھوڑکر وہاں کھڑ اہواس بیرونی حصہ کے لئے یہی جگہ محراب ہے نص علیہ فی ردالمحتار التفصیل فی فتاونا(ردالمحتار میں(علامہ شامی)نے اس پر نص فرمائی اور تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ت)مگر یہ معلوم رہے کہ مسجد کی چھت پر بلاضرورت جانا منع ہے اگر تنگی کے سبب کہ نیچے کا درجہ بھر گیا اوپر نماز پڑھیں جائز ہے اور بلاضرورت مثلا گرمی کی وجہ سے پڑھنے کی اجازت نہیں کما نص علیہ فی الفتاوی عالمگیریۃ (جیسا کہ فتاوی عالمگیریہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۵۴: مسئولہ شمس الدین از نصیر آباد ضلع اجمیر شریف مسجد گودام چرم دو شنبہ ۱۷ذیقعدہ ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص ایك مسجد میں خلاف تہذیب وناشائستہ حرکات کرتے ہوئے مثلا کسی وقت اس میں لڑےگالی گلوچ تك نوبت پہنچی اور بہت شوروشغب کیاکسی وقت مسخرہ پن کیاایك نے دوسرے کا تہبندکھول دیابعض وقت کسی کی مقعد میں انگلی کردیکبھی مؤذن کی آواز پر ہنسے قہقہے اڑائے۔ان سب باتوں کو دیکھ کر ایك شخص نے ناصحانہ حیثیت سے محض نصیحت اور سمجھانے کے طور کہاکہ بھائیو!مسجد خانہ خدا ہے اس کے اندر تم کویہ افعال جائز نہیں ہیں اور غور کرو کہ مسجد کی حرمت اور تعظیم ہم پر اور تم پر اور ہر مسلمان پر ہر وقت ضروری اور فرض ہےتو ان لوگوں نے اس کی بات کو نصیحت اور خیر خواہی نہ سمجھ کر تعصب اور نفسانیت تصور کرکے خلاف منشاء ناصح کے جواب دیااس پر ناصح مذکور نے کہا کہ
حوالہ / References
سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب تسویۃ الصفوف آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۹۷
سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب مقام الامام من الصف آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۹۹،السنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ باب مقام الامام من الصف دارصاردر بیروت ۳/ ۱۰۴
سنن ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب مقام الامام من الصف آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۹۹،السنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ باب مقام الامام من الصف دارصاردر بیروت ۳/ ۱۰۴
مسجد نماز اور ذکر خدا کے لئے گئی ہے بیہودہ باتوں کے لئے نہیں ہے۔مسخرہ پن کرنا چاہتے ہوتو دوسری مسجد تلاش کرو۔اس بات پر اکڑ گئے کہ تم نے مسجد پر مالکانہ دعوی کیا اور ہم کو مسجد سے نکال دیا اور اب دوسری مسجد بنانا چاہتے ہیں اور مسجد اول کی ویرانی اور جماعت کم ہوجانے کا کچھ خیال نہیں کرتےکیا باوجود تخریب مسجد اول اورتقلیل جماعت ان کو مسجد ثانی بنانا جائز ہےیادوسری مسجد ضرار کہلائے گیفقط۔
الجواب:
اگر یہ واقعی اسی طرح ہے اور ان کی نیت فاسد ہے تو ضروردوسری مسجد بنانے کی ان کی اجازت نہیںبوجہ فساد نیت وہ مسجد حکم ضرار میں ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵ تا ۲۵۶: مرسلہ عبدالغنیحاجی کریم بخش صاحب از مقام کمپ ڈیسہ علاقہ ریاست پالن پور ۸صفر ۱۳۳۵ھ
حضرات علمائے دین کی خدمت میں مسائل شرعی دریافت طلب پیش ہیں:
مسئلہ اول:قدیمی جامع مسجد کو ترك کرکے دوسری مسجد کو مسجد جامع قرار دے سکتے ہیں یانہیںاور قدیمی جامع مسجد ترك کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس کی نسبت یہ اندیشہ ہے کہ کچھ عرصہ میں خود بخود منہدم ہوجائے کیونکہ اس کے دو جانب برساتی نالے فراخ ہوتے جاتے ہیں اور مسلمان اس قدر مقدرت نہیں رکھتے کہ نالوں کو پٹوا کر مسجد کو محفوظ کرسکیں اور اس کے علاوہ ان نالوں کو سوائے سرکار انگریزی کے دوسرے شخص کو بندکرانے کا مجاز بھی نہیںاور جس مسجد کو مسجد جامع قرار دینا چاہتے ہیں وہ جامع مسجد سے محکم اور فراخ بھی ہےتو ایسی صورت میں دوسری مسجد کو جامع قرار دینا جائز ہے یانہیں
دوسرا مسئلہ:کسی ایسے ہندو یا انگریز حاکم کا روپیہ جو اسلام کی طرف قلبی توجہ رکھتا ہو مسجد میں لگانا جائز ہے یانہیںفقط
الجواب:
(۱)جائز ہےاور اس مسجد اول کی محافظت تاحدقدرت فرض ہے۔
(۲)ایسی ضرورت کی حالت میں جیسی اوپر مذکور ہوئی کہ مسجد شہید ہوجائیگی اور مسلمانوں میں طاقت نہیں جائز ہے لان الضرورات تبیح المحظورات (کیونکہ مجبوریاں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
اگر یہ واقعی اسی طرح ہے اور ان کی نیت فاسد ہے تو ضروردوسری مسجد بنانے کی ان کی اجازت نہیںبوجہ فساد نیت وہ مسجد حکم ضرار میں ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵ تا ۲۵۶: مرسلہ عبدالغنیحاجی کریم بخش صاحب از مقام کمپ ڈیسہ علاقہ ریاست پالن پور ۸صفر ۱۳۳۵ھ
حضرات علمائے دین کی خدمت میں مسائل شرعی دریافت طلب پیش ہیں:
مسئلہ اول:قدیمی جامع مسجد کو ترك کرکے دوسری مسجد کو مسجد جامع قرار دے سکتے ہیں یانہیںاور قدیمی جامع مسجد ترك کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس کی نسبت یہ اندیشہ ہے کہ کچھ عرصہ میں خود بخود منہدم ہوجائے کیونکہ اس کے دو جانب برساتی نالے فراخ ہوتے جاتے ہیں اور مسلمان اس قدر مقدرت نہیں رکھتے کہ نالوں کو پٹوا کر مسجد کو محفوظ کرسکیں اور اس کے علاوہ ان نالوں کو سوائے سرکار انگریزی کے دوسرے شخص کو بندکرانے کا مجاز بھی نہیںاور جس مسجد کو مسجد جامع قرار دینا چاہتے ہیں وہ جامع مسجد سے محکم اور فراخ بھی ہےتو ایسی صورت میں دوسری مسجد کو جامع قرار دینا جائز ہے یانہیں
دوسرا مسئلہ:کسی ایسے ہندو یا انگریز حاکم کا روپیہ جو اسلام کی طرف قلبی توجہ رکھتا ہو مسجد میں لگانا جائز ہے یانہیںفقط
الجواب:
(۱)جائز ہےاور اس مسجد اول کی محافظت تاحدقدرت فرض ہے۔
(۲)ایسی ضرورت کی حالت میں جیسی اوپر مذکور ہوئی کہ مسجد شہید ہوجائیگی اور مسلمانوں میں طاقت نہیں جائز ہے لان الضرورات تبیح المحظورات (کیونکہ مجبوریاں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسہ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۱۸
مسئلہ۲۵۷: ازکالاکاکر ضلع پرتاب گڈھ ۲۲صفر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید مسلمان نے ایك مسجدکی بنا ایسی جگہ ڈالی ہے جہاں کبھی مسجد نہ تھی اور وہاں کے ہنود باشندے مسجد کے بننے کو روکتےلیکن زید مسلمان نے اپنی خوشامد سے مسجد کی بنیاد قائم کردی لیکن اسی مقام کا عمرو خود اس امر کی کوشش اہلکاروں زمینداروں سے کی اور ملازم زمیندار کو اس موقع پر لاحاضرکیا کہ اس مسجد کی بنیاد میرے گھر کی طرف چھ انگل بڑھی ہوئی ہےاس مسجدکی دیوار چھ انگل ادھر بنانی چاہئے لیکن باقی مسجد زید نے اپنی خوشی سے اور خوشامد کے باعث اپنی منزل مقصود کو پہنچے اور جب عمرو مسلمان اپنے مقصد کو نہ پہنچا تو ایك ہندو کو ورغلا کر اس امر پر آمادہ کیا کہ مسجد کی دیوار تیرے مکان کی دیوار کی طرف بڑھا کر اٹھائی جارہی ہے تو روك دے ورنہ تجھ کو اس مسجد کی دیوار کی وجہ سے نقصان ہوگا لیکن زید مسلمان نے اپنی چالاکی سے بمقابلہ ہندو اور عمرو مسلمان قائم ہی کردی اور عمرو مسلمان کی کچھ نہ چلیایسے شخص کے ساتھ ازروئے حکم خداورسول کیا برتاؤ رکھا جائے اور اس کے یہاں کا کھانا پینا چاہئے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
سائل نے نہ بتایا کہ واقع زید نے چھ انگل ملك عمرو زمین میں شامل کرکے اسے مسجد کرنا چاہا ہے یاواقع میں ایسا نہیں اور عمرو کا دعوی جھوٹا ہے اگر فی الواقع صورت اولی ہے تو مسجد مسجد نہیںاور عمرو نے جو کچھ برتاؤ برتے اس صورت میں اس پر الزام نہیں اور ایسا توبلاشبہ عمرو بدخواہ مسجد اور سخت سے سخت ظالموں میں ہے
قال اﷲ تعالی عز وجل :
'' و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-اولىك ما كان لهم ان یدخلوها الا خآىفین۬-لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم(۱۱۴) "
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں یاد الہی ہونے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ایسوں کو نہیں پہنچتا تھاکہ اس میں جاتے مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اورآخرت میں بڑا عذاب۔
اس حالت میں اس کے ساتھ کھانا پینامیل جول نہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید مسلمان نے ایك مسجدکی بنا ایسی جگہ ڈالی ہے جہاں کبھی مسجد نہ تھی اور وہاں کے ہنود باشندے مسجد کے بننے کو روکتےلیکن زید مسلمان نے اپنی خوشامد سے مسجد کی بنیاد قائم کردی لیکن اسی مقام کا عمرو خود اس امر کی کوشش اہلکاروں زمینداروں سے کی اور ملازم زمیندار کو اس موقع پر لاحاضرکیا کہ اس مسجد کی بنیاد میرے گھر کی طرف چھ انگل بڑھی ہوئی ہےاس مسجدکی دیوار چھ انگل ادھر بنانی چاہئے لیکن باقی مسجد زید نے اپنی خوشی سے اور خوشامد کے باعث اپنی منزل مقصود کو پہنچے اور جب عمرو مسلمان اپنے مقصد کو نہ پہنچا تو ایك ہندو کو ورغلا کر اس امر پر آمادہ کیا کہ مسجد کی دیوار تیرے مکان کی دیوار کی طرف بڑھا کر اٹھائی جارہی ہے تو روك دے ورنہ تجھ کو اس مسجد کی دیوار کی وجہ سے نقصان ہوگا لیکن زید مسلمان نے اپنی چالاکی سے بمقابلہ ہندو اور عمرو مسلمان قائم ہی کردی اور عمرو مسلمان کی کچھ نہ چلیایسے شخص کے ساتھ ازروئے حکم خداورسول کیا برتاؤ رکھا جائے اور اس کے یہاں کا کھانا پینا چاہئے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
سائل نے نہ بتایا کہ واقع زید نے چھ انگل ملك عمرو زمین میں شامل کرکے اسے مسجد کرنا چاہا ہے یاواقع میں ایسا نہیں اور عمرو کا دعوی جھوٹا ہے اگر فی الواقع صورت اولی ہے تو مسجد مسجد نہیںاور عمرو نے جو کچھ برتاؤ برتے اس صورت میں اس پر الزام نہیں اور ایسا توبلاشبہ عمرو بدخواہ مسجد اور سخت سے سخت ظالموں میں ہے
قال اﷲ تعالی عز وجل :
'' و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-اولىك ما كان لهم ان یدخلوها الا خآىفین۬-لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم(۱۱۴) "
اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں یاد الہی ہونے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ایسوں کو نہیں پہنچتا تھاکہ اس میں جاتے مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اورآخرت میں بڑا عذاب۔
اس حالت میں اس کے ساتھ کھانا پینامیل جول نہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
مسئلہ ۲۵۸: مرسلہ محمد حسن فاروقی ضلع پورنیہ ڈاکخانہ اسلام پور بھوجا گاؤں ۲۲صفر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد زمانہ دراز سے قائم تھی جس کو زید نے توڑ کر جگہ سابق سے دوسری جگہ پر یعنی دس بارہ ہاتھ یا ایك رسی کے فاصلہ پربنادی ہے اور اس مسجد کی جو لکڑی پرانی ہوگئی تھی اسکو اپنا کھانا پکانے میں جلادی ہے تو کیا مسجد ایك جگہ سے توڑ کر دوسری جگہ بنادینا اور اس کی لکڑی کو اپنے تصرف میں لانا درست ہے یانہیں
دوسرے یہ کہ جس جگہ پر وہ مسجد پہلی قائم تھی بعد توڑدینے مسجد کے وہ جگہ جہاں پر وہ مسجد تھی ویسا ہی خالی پڑی رہے یا کہ اگر کوئی چیز پیدا ہوتو بوئی جائے۔
الجواب:
یہ فعل کہ زید نے کیاحرام محض ہےمسجد نہ توڑی جاسکتی ہے نہ بدلی جاسکتی ہےنہ اس کی لکڑی وغیرہ کوئی چیز اپنے مصرف میں لائی جاسکتی ہے
قال اﷲ تعالی :
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا اولئک ما کان لہم ان یدخلوہا الا خآئفین۬ لہم فی الدنیا خزی ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم﴿۱۱۴﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲکی مسجدوں کو ان میں یاد الہی ہونے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرےایسوں کو نہیں پہنچتا کہ اس میں جاتے مگر ڈرتے ہوئےان کےلئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑاعذاب۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لایجوز نقلہ ولانقل مالہ الی مسجد اخر ۔ مسجد اور اس کے مال کو دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز نہیں(ت)
نہ اس میں کچھ بونا یا اور کوئی تصرف کسی طرح حلال ہوسکے بلکہ زید پر فرض ہے کہ اسے بدستورپہلی طرح بنادے۔
فان الضمان فی بناء الوقف باعادتہ عمارت وقف میں ضمان یہ ہے کہ اس کو پہلے کی طرح
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد زمانہ دراز سے قائم تھی جس کو زید نے توڑ کر جگہ سابق سے دوسری جگہ پر یعنی دس بارہ ہاتھ یا ایك رسی کے فاصلہ پربنادی ہے اور اس مسجد کی جو لکڑی پرانی ہوگئی تھی اسکو اپنا کھانا پکانے میں جلادی ہے تو کیا مسجد ایك جگہ سے توڑ کر دوسری جگہ بنادینا اور اس کی لکڑی کو اپنے تصرف میں لانا درست ہے یانہیں
دوسرے یہ کہ جس جگہ پر وہ مسجد پہلی قائم تھی بعد توڑدینے مسجد کے وہ جگہ جہاں پر وہ مسجد تھی ویسا ہی خالی پڑی رہے یا کہ اگر کوئی چیز پیدا ہوتو بوئی جائے۔
الجواب:
یہ فعل کہ زید نے کیاحرام محض ہےمسجد نہ توڑی جاسکتی ہے نہ بدلی جاسکتی ہےنہ اس کی لکڑی وغیرہ کوئی چیز اپنے مصرف میں لائی جاسکتی ہے
قال اﷲ تعالی :
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا اولئک ما کان لہم ان یدخلوہا الا خآئفین۬ لہم فی الدنیا خزی ولہم فی الاخرۃ عذاب عظیم﴿۱۱۴﴾" اﷲ تعالی نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲکی مسجدوں کو ان میں یاد الہی ہونے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرےایسوں کو نہیں پہنچتا کہ اس میں جاتے مگر ڈرتے ہوئےان کےلئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑاعذاب۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لایجوز نقلہ ولانقل مالہ الی مسجد اخر ۔ مسجد اور اس کے مال کو دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز نہیں(ت)
نہ اس میں کچھ بونا یا اور کوئی تصرف کسی طرح حلال ہوسکے بلکہ زید پر فرض ہے کہ اسے بدستورپہلی طرح بنادے۔
فان الضمان فی بناء الوقف باعادتہ عمارت وقف میں ضمان یہ ہے کہ اس کو پہلے کی طرح
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۱۴€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۱€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۱€
کما کان بخلاف سائر الابنیۃ کما فی الدر وغیرہ۔ دوبارہ بنائے بخلاف دیگر عمارات کے ضمان کےجیسا کہ دروغیرہ میں ہے(ت)
یہ دوسری مسجد جو اس نے بنائی اگر اپنی زمین میں بنائی اور اسے مسجد کردیا تو یہ بھی مسجد ہوگئی اس کا بھی باقی رکھنا فرض ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۵۹: مرسلہ سعادت خاں نابینا مسجد ندی قصبہ مہد پورریاست اندور ملك مالوہ یکم ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
مسجدکے احاطہ کے اندر درختوں میں سے یا مسجد کی ملك کے درختوں میں سے کسی درخت کا پھل یا پھول بلاادائے قیمت کھانا یا لینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر وہ پیڑ مسجد پر وقف ہیں تو بلاادائے قیمت جائز نہیں ورنہ مالك کی اجازت درکار ہے اگرچہ اسی قدر کہ اس نے اسی غرض سے لگائے ہوں کہ جو مسجد میں ہوں ان سے تمتع کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۶۰: مرسلہ محمد نصیر الحق امام مسجد مالدہ محلہ بی بی گاؤں ۲۲ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك قدیم جامع مسجد نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے جگہ میں اضافہ کرنے کی ضرورت لاحق ہوئی ایك قطعہ زمین اسی مسجد کی ملحق ایك مسلمان زمیندار کا تھا اور اس کو زمیندار نے ایك شخص کے ساتھ مدامی بندوبست کچھ خزانہ معینہ پر کردیا تھا خزانہ باقی رہنے کی وجہ سے زمیندار نے نالش کرکے اس زمین کو نیلام کرایااس کو ایك مسلمان نے خریدلیااور اس خریدار نے ایك حصہ اس زمین کا وقف کرکے مسجد کے ساتھ ملحق کردیاکیا وہ حصہ ملحقہ مسجد کے حکم میں ہوایانہیںیہاں کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسجد کے حکم میں نہیں ہوا حالانکہ خریدار اس زمین پر ہر قسم کے تصرف کرنے کا مجاز ہےزمیندار کو بجز زر خزانہ معینہ کے نہ تو حق انتزاع رکھاہے نہ اپنی حقیت زمینداری کے باعث اس زمین پر کسی قسم کا تصرف کرسکتا ہےاگر زمیندار اسی قطعہ زمین میں مسجد یا کنواں یا مسافر خانہ بلامرضی خریدار کے بنانا چاہے تو بالکل نہیں بناسکتا اور خریدار کو یہ سارے حقوق حاصل ہیںایسی صورت میں جو حکم شرع شریف ہو بحوالہ کتب وعبارت تحریر کیا جائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ وقف صحیح اور وہ قطعہ مسجد ہوگیا۔ردالمحتار میں ہے:
یہ دوسری مسجد جو اس نے بنائی اگر اپنی زمین میں بنائی اور اسے مسجد کردیا تو یہ بھی مسجد ہوگئی اس کا بھی باقی رکھنا فرض ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۵۹: مرسلہ سعادت خاں نابینا مسجد ندی قصبہ مہد پورریاست اندور ملك مالوہ یکم ربیع الاول ۱۳۳۵ھ
مسجدکے احاطہ کے اندر درختوں میں سے یا مسجد کی ملك کے درختوں میں سے کسی درخت کا پھل یا پھول بلاادائے قیمت کھانا یا لینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر وہ پیڑ مسجد پر وقف ہیں تو بلاادائے قیمت جائز نہیں ورنہ مالك کی اجازت درکار ہے اگرچہ اسی قدر کہ اس نے اسی غرض سے لگائے ہوں کہ جو مسجد میں ہوں ان سے تمتع کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۶۰: مرسلہ محمد نصیر الحق امام مسجد مالدہ محلہ بی بی گاؤں ۲۲ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك قدیم جامع مسجد نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے جگہ میں اضافہ کرنے کی ضرورت لاحق ہوئی ایك قطعہ زمین اسی مسجد کی ملحق ایك مسلمان زمیندار کا تھا اور اس کو زمیندار نے ایك شخص کے ساتھ مدامی بندوبست کچھ خزانہ معینہ پر کردیا تھا خزانہ باقی رہنے کی وجہ سے زمیندار نے نالش کرکے اس زمین کو نیلام کرایااس کو ایك مسلمان نے خریدلیااور اس خریدار نے ایك حصہ اس زمین کا وقف کرکے مسجد کے ساتھ ملحق کردیاکیا وہ حصہ ملحقہ مسجد کے حکم میں ہوایانہیںیہاں کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسجد کے حکم میں نہیں ہوا حالانکہ خریدار اس زمین پر ہر قسم کے تصرف کرنے کا مجاز ہےزمیندار کو بجز زر خزانہ معینہ کے نہ تو حق انتزاع رکھاہے نہ اپنی حقیت زمینداری کے باعث اس زمین پر کسی قسم کا تصرف کرسکتا ہےاگر زمیندار اسی قطعہ زمین میں مسجد یا کنواں یا مسافر خانہ بلامرضی خریدار کے بنانا چاہے تو بالکل نہیں بناسکتا اور خریدار کو یہ سارے حقوق حاصل ہیںایسی صورت میں جو حکم شرع شریف ہو بحوالہ کتب وعبارت تحریر کیا جائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ وقف صحیح اور وہ قطعہ مسجد ہوگیا۔ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۹۷،€ردالمحتار کتاب الغصب مطبوعہ بیروت ∞۵/ ۱۱۵€
الصحیح الصحۃ ای اذاکانت الارض محتکرۃ کما علمتوعن ھذا قال فی انفع الوسائل انہ لوبنی فی الارض الموقوفۃ المستاجرۃ مسجد اانہ یجوزقال واذاجاز فعلی من یکون حکرہوالظاہر انہ یکون علی المستاجر مادامت المدۃ باقیۃفاذاانقضت ینبغی ان یکون من بیت مال الخراج واخواتہ ومصالح المسلمین اھ فاذا کان ھدافی ارض مستاجرۃ وما جعل مسجداغیربناء مجرد فماظنك بارض مشتراۃ وقد جعلت ھی مسجدا فالحکراذا لم یمنع ثم فھھنا بالاولی۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
صحیح حکم صحت ہی ہے جبکہ زمین محتکرہ ہو(یعنی وہ زمین موقوف جس کی اجرت بطور ماہانہ یا سالانہ مقرر ہوگئی ہو) جیسا کہ تو جان چکا ہے اسی بنیا د پر انفع الوسائل میں فرمایا کہ اگر اجرت پر لی ہوئی زمین موقوف میں کسی نے مسجد بنادی تو جائز ہے اور جب جائز ہوگئی تو حکر کس پر ہوگی اور ظاہر یہ ہے کہ جب تك مدت اجارہ باقی ہے مستاجر پر ہوگی اور اختتام مدت کے بعد خراج وغیرہ مصالح مسلمین کےلئے بنائے ہوئے بیت المال پر ہوگی اھ توجب یہ حکم مستاجرہ زمین کا ہے اور اس میں بنائی گئی مسجد عمارت کے علاوہ کچھ نہیں تو خریدی ہوئی زمین کے بارے میں تیرا کیاخیال ہے درانحالیکہ اسے مسجد بنادیا گیا ہوتو حکر جب وہاں مانع نہیں تو یہاں بدرجہ اولی مانع نہ ہوگا۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۶۱تا۲۶۲: مرسلہ حافظ عبدالستارصاحب مچھلی بازار کانپور ۱۲جمادی الاول ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کانپورکی ایك مسجد میں پاخانہ متعلق مسجد واقع ہے اور ایك کمرہ متعلق مسجدہے اس کی نالیان پانی بہنے کی اور پاخانہ کی سنڈ اس کمانے کا راستہ سرکاری گلی میں جانب پچھم ہمیشہ سے جاری تھامیونسپل بورڈ نے جانب پچھم اور دکھن کے مکانات توسیع سڑك کے لئے لے کر راستہ بطور سڑك بنالیا اور وہ گلی جانب پچھم کی کالعدم کردی اور مسجد کے پچھم کی بقایا زمین بعد نکالے جانے سڑك کے فروخت کردیاب میونسپل بورڈ متولی مسجد کو حکم دیتا ہے کہ جس قدر جگہ جانب پچھم پاخانہ سنڈ اس کمانے کو اور نالیاں جاری رکھنے کو درکارہے جانب دکھن میونسپل بورڈ دیتا ہےمتولی مسجد سنڈاس کا رخ دوسری طرف پھیرے اور نالیاں بھی اس طرف سے جاری رکھی جائیںاگر متولی کے پاس روپیہ مسجد کانہ موجود ہو تو صرف رضا مندی دے دی جائے تاکہ میونسپل بورڈ اپنے صرفہ سے نالیاں اور سنڈا س بنادے اور کسی قسم کا حرج مسجد کا نہ ہونے پائے۔
صحیح حکم صحت ہی ہے جبکہ زمین محتکرہ ہو(یعنی وہ زمین موقوف جس کی اجرت بطور ماہانہ یا سالانہ مقرر ہوگئی ہو) جیسا کہ تو جان چکا ہے اسی بنیا د پر انفع الوسائل میں فرمایا کہ اگر اجرت پر لی ہوئی زمین موقوف میں کسی نے مسجد بنادی تو جائز ہے اور جب جائز ہوگئی تو حکر کس پر ہوگی اور ظاہر یہ ہے کہ جب تك مدت اجارہ باقی ہے مستاجر پر ہوگی اور اختتام مدت کے بعد خراج وغیرہ مصالح مسلمین کےلئے بنائے ہوئے بیت المال پر ہوگی اھ توجب یہ حکم مستاجرہ زمین کا ہے اور اس میں بنائی گئی مسجد عمارت کے علاوہ کچھ نہیں تو خریدی ہوئی زمین کے بارے میں تیرا کیاخیال ہے درانحالیکہ اسے مسجد بنادیا گیا ہوتو حکر جب وہاں مانع نہیں تو یہاں بدرجہ اولی مانع نہ ہوگا۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۶۱تا۲۶۲: مرسلہ حافظ عبدالستارصاحب مچھلی بازار کانپور ۱۲جمادی الاول ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کانپورکی ایك مسجد میں پاخانہ متعلق مسجد واقع ہے اور ایك کمرہ متعلق مسجدہے اس کی نالیان پانی بہنے کی اور پاخانہ کی سنڈ اس کمانے کا راستہ سرکاری گلی میں جانب پچھم ہمیشہ سے جاری تھامیونسپل بورڈ نے جانب پچھم اور دکھن کے مکانات توسیع سڑك کے لئے لے کر راستہ بطور سڑك بنالیا اور وہ گلی جانب پچھم کی کالعدم کردی اور مسجد کے پچھم کی بقایا زمین بعد نکالے جانے سڑك کے فروخت کردیاب میونسپل بورڈ متولی مسجد کو حکم دیتا ہے کہ جس قدر جگہ جانب پچھم پاخانہ سنڈ اس کمانے کو اور نالیاں جاری رکھنے کو درکارہے جانب دکھن میونسپل بورڈ دیتا ہےمتولی مسجد سنڈاس کا رخ دوسری طرف پھیرے اور نالیاں بھی اس طرف سے جاری رکھی جائیںاگر متولی کے پاس روپیہ مسجد کانہ موجود ہو تو صرف رضا مندی دے دی جائے تاکہ میونسپل بورڈ اپنے صرفہ سے نالیاں اور سنڈا س بنادے اور کسی قسم کا حرج مسجد کا نہ ہونے پائے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۹۱
(۱)کیا متولی شرع کے مطابق ایسی رضامندی دے سکتا ہے کہ سرکار کی طرف سے بنائی جائے۔
(۲)کیا پچھم کی طرف سے جو نالیاں یا سنڈ اس کمانے کا دروازہ ہے اس کے بدلے جانب دکھن سرکاری زمین لے کر مسجد کی آمدنی سے متولی اس کو درست کراسکتا ہے اگر مسجد کی آمدنی نہیں صرف کرسکتا ہے تو چندہ کرکے اس کام کو انجام دے سکتا ہے۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں جیسا کہ عبارت سوال سے ظاہر ہے زمین وقف میں کوئی تبدیل نہیںصرف رخ پھیرنا ہے اور کمانے کاراستہ اور پانی کا نکاس پہلے بھی زمین وقف میں تھا اس تبدیل کا جواز جائے تامل نہیںمگرمسجد کی آمدنی مصالح مسجدکےلئے ہوتی ہے اور یہ کام مصالح شارع عام کے لئے ہے مصلحت مسجد اس سے متعلق نہیںلہذا آمدنی مسجد اس میں صرف نہیں ہو سکتی۔چندہ کا اختیار ہے اور اس میں حرج نہیں کہ میونسپلٹی کی سڑکوں کے مصالح اس سے متعلق ہیں اپنے صرف سے بنا دے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۳: مرسلہ منشی ابراہیم صاحب قصبہ گودھرہ ضلع پنج محل مدرسہ فیض عام ۱۶جمادی الآخر ۱۳۳۵ھ
حضرت مولانا ومقتدانا مولوی احمد رضا خان صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایك فتوی تصحیح کے لئے دو سوال جواب کے لئے خدمت والا میں بھیجے تھے ان کا جواب نہیں ملامعلوم نہیں کہ یہ مرسلہ خطوط جناب تك پہنچے یا نہیںصاحب تفسیر بیان القرآن نے" و الذین اتخذوا مسجدا ضرارا و كفرا و تفریقا" کے تحت میں مسئلہ کرکے یہ لکھا ہے کہ بعض علمائے کہا جو فخر وریاسے مسجد بنائی جائے اس مسجد کو مسجد کہنا نہ چاہئے ان بعض علماء پر مجھ کو کلام ہےبعض علماء سے مراد کشاف ومدارك واحمدی وغیرہ ہیںاور اسی بناء پر یہ جواب لکھا گیا ہے جومرسلہ خدمت ولا ہے صاحب بیان کا اعتراض درست ہے یانہیں کیا صاحب کشاف وغیرہ کے قول پر انکے قول کو ترجیح دی جائے گیجواب کا منتظر ہوںمرسلہ سوال وجواب میں حضور کی کیا رائے ہے تحریر فرمائیں:
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایك محلہ کی مسجد میں عرصہ پندرہ بیس سال سے ایك امام مقررتھا بعض لوگوں نے بعض وجوہ سے اس کو برطرف کیابعض لوگوں کو امام قدیم کا برطرف کرنا ناگوار معلوم ہواہر چنداس فریق نے یہ چاہا کہ امام قدیم کو قائم رکھا جائےلیکن فریق اول نے جنہوں نے امام قدیم کو برطرف کیا تھا نہ مانابناء بریں جھگڑے نے ترقی پکڑی یہاں تك کہ فریق اول نے جھگڑے کے اندیشہ
(۲)کیا پچھم کی طرف سے جو نالیاں یا سنڈ اس کمانے کا دروازہ ہے اس کے بدلے جانب دکھن سرکاری زمین لے کر مسجد کی آمدنی سے متولی اس کو درست کراسکتا ہے اگر مسجد کی آمدنی نہیں صرف کرسکتا ہے تو چندہ کرکے اس کام کو انجام دے سکتا ہے۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں جیسا کہ عبارت سوال سے ظاہر ہے زمین وقف میں کوئی تبدیل نہیںصرف رخ پھیرنا ہے اور کمانے کاراستہ اور پانی کا نکاس پہلے بھی زمین وقف میں تھا اس تبدیل کا جواز جائے تامل نہیںمگرمسجد کی آمدنی مصالح مسجدکےلئے ہوتی ہے اور یہ کام مصالح شارع عام کے لئے ہے مصلحت مسجد اس سے متعلق نہیںلہذا آمدنی مسجد اس میں صرف نہیں ہو سکتی۔چندہ کا اختیار ہے اور اس میں حرج نہیں کہ میونسپلٹی کی سڑکوں کے مصالح اس سے متعلق ہیں اپنے صرف سے بنا دے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۳: مرسلہ منشی ابراہیم صاحب قصبہ گودھرہ ضلع پنج محل مدرسہ فیض عام ۱۶جمادی الآخر ۱۳۳۵ھ
حضرت مولانا ومقتدانا مولوی احمد رضا خان صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایك فتوی تصحیح کے لئے دو سوال جواب کے لئے خدمت والا میں بھیجے تھے ان کا جواب نہیں ملامعلوم نہیں کہ یہ مرسلہ خطوط جناب تك پہنچے یا نہیںصاحب تفسیر بیان القرآن نے" و الذین اتخذوا مسجدا ضرارا و كفرا و تفریقا" کے تحت میں مسئلہ کرکے یہ لکھا ہے کہ بعض علمائے کہا جو فخر وریاسے مسجد بنائی جائے اس مسجد کو مسجد کہنا نہ چاہئے ان بعض علماء پر مجھ کو کلام ہےبعض علماء سے مراد کشاف ومدارك واحمدی وغیرہ ہیںاور اسی بناء پر یہ جواب لکھا گیا ہے جومرسلہ خدمت ولا ہے صاحب بیان کا اعتراض درست ہے یانہیں کیا صاحب کشاف وغیرہ کے قول پر انکے قول کو ترجیح دی جائے گیجواب کا منتظر ہوںمرسلہ سوال وجواب میں حضور کی کیا رائے ہے تحریر فرمائیں:
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایك محلہ کی مسجد میں عرصہ پندرہ بیس سال سے ایك امام مقررتھا بعض لوگوں نے بعض وجوہ سے اس کو برطرف کیابعض لوگوں کو امام قدیم کا برطرف کرنا ناگوار معلوم ہواہر چنداس فریق نے یہ چاہا کہ امام قدیم کو قائم رکھا جائےلیکن فریق اول نے جنہوں نے امام قدیم کو برطرف کیا تھا نہ مانابناء بریں جھگڑے نے ترقی پکڑی یہاں تك کہ فریق اول نے جھگڑے کے اندیشہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۱۰۷
کی وجہ سے مسجد کے دروازہ پر پولیس کو لاکے بٹھادیا تاکہ کسی قسم کا فتنہ نہ ہونے پائے۔فریق ثانی نے پولیس کے خوف کے مارے اس وقت نماز وہاں نہ پڑھیدیگر مساجد میں پڑھیاور بعد میں بھی وہ کچھ عرصہ تك دیگر مساجد میں پڑھتے رہے اس لئے کہ یہ فریق جدید امام کے پیچھے نماز پڑھنا نہیں چاہتے تھےآخر کار ایك قدیم مسجد جو کہ ویران پڑی ہوئی تھی(اس میں کبھی کبھی نماز باجماعت ہوئی ہے)اور یہ مسجد اتنی بڑی تھی کہ جس میں سوسواسوآدمی نماز پڑھ سکیں غرضیکہ مسجد مذکور کو آباد کیااور کچھ دنوں کے بعد اس مسجد کی قدیم بناء کو گراکر او رکچھ زمین گرد سے لے کر کچھ وسعت کے ساتھ تیار کیاب اول فریق یہ کہتا ہے کہ مسجد مذکور ملك غیر میں بنی ہے اور حسدسے بنی ہے اس وجہ سے یہ مسجد ضرار ہے۔اور فریق ثانی یہ کہتا ہے کہ یہ مسجد وقف ہےپس کیا یہ مسجد ضرار ہوسکتی ہےاور اس کی بناء کو کھود کر پھینك دیا جائےبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت سوال ملاحظہ ہوئیاس مسجد کو ضرار سے علاقہ ہونے کے کیا معنیانہوں نے مسجد کا احداث بھی تو نہ کیا بلکہ مسجد قدیم کا احیاء کیا ہے اور مسجد قدیم معاذاﷲ ویران ہوجائے حتی الوسع اس کا احیاء فرض ہےکہاں فرض اور کہاں ضراراور اگر بالفرض نئی مسجد بناتے جب بھی اسے ضرار سے کوئی تعلق نہ ہوتا کہ مسجد اللہ ہی کے لئے بنائی اور نماز ہی پڑھنی مقصود ہے نہ کہ دوسری مسجد کونقصان پہنچانااور جماعت المسلمین میں تفرقہ ڈالنااس کی تحقیق ہمارے فتاوی میں ہےجو شخص بنام مسجد کوئی عمارت تیار کرے جس سے تقرب الی اللہ مقصود نہ ہو بلکہ محض ریا وتفاخر کی نیت ہو تو وہ بیشك مسجد نہیں ہوسکتی کہ مسجد وقف ہے اور اس کا قربت مقصودہ کے لئے ہوناضروراورریا وتفاخر قربت الی اللہ نہیں بلکہ بعدعن اللہ ہیںامام نسفی صاحب مدارك نے ایسی ہی مسجد کو حکم ضرار میں فرمایا ہےاور اگر مسجد بنائی اللہ ہی کےلئے اور وہی مقصود ہے اگرچہ اس کے ساتھ ریا وتفاخر کا خیال آگیا تو وہ ضرور مسجد ہے اگرچہ اس کے ثواب میں کمی ہو یا نہ ملے۔صاحب بیان القرآن کا شبہ اسی صورت پر محمول ہے والتفصیل فی فتاونا(اور تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ آیا مسجد کی دیواریں ہمسایوں کے ساتھ مشترك کرنا شرعا جائز ہے(الف)نصف لاگت دیواروں کی ہمسائے لگائیں اور نصف لاگت مسجد کا خرچ ہو(ب)کل لاگت مسجد ہو۔مسجد قدیمی کی دیوار وں پر ہمسایہ کی شہتیر رکھی ہوئی تھی اور(الف)اور نشانات اشتراك نہ تھے(ب)اور نشانا ت اشتراك تھے۔کہنہ مسجد کو مسجد کی لاگت پر گرایا گیا اور مسجد کے
الجواب:
صورت سوال ملاحظہ ہوئیاس مسجد کو ضرار سے علاقہ ہونے کے کیا معنیانہوں نے مسجد کا احداث بھی تو نہ کیا بلکہ مسجد قدیم کا احیاء کیا ہے اور مسجد قدیم معاذاﷲ ویران ہوجائے حتی الوسع اس کا احیاء فرض ہےکہاں فرض اور کہاں ضراراور اگر بالفرض نئی مسجد بناتے جب بھی اسے ضرار سے کوئی تعلق نہ ہوتا کہ مسجد اللہ ہی کے لئے بنائی اور نماز ہی پڑھنی مقصود ہے نہ کہ دوسری مسجد کونقصان پہنچانااور جماعت المسلمین میں تفرقہ ڈالنااس کی تحقیق ہمارے فتاوی میں ہےجو شخص بنام مسجد کوئی عمارت تیار کرے جس سے تقرب الی اللہ مقصود نہ ہو بلکہ محض ریا وتفاخر کی نیت ہو تو وہ بیشك مسجد نہیں ہوسکتی کہ مسجد وقف ہے اور اس کا قربت مقصودہ کے لئے ہوناضروراورریا وتفاخر قربت الی اللہ نہیں بلکہ بعدعن اللہ ہیںامام نسفی صاحب مدارك نے ایسی ہی مسجد کو حکم ضرار میں فرمایا ہےاور اگر مسجد بنائی اللہ ہی کےلئے اور وہی مقصود ہے اگرچہ اس کے ساتھ ریا وتفاخر کا خیال آگیا تو وہ ضرور مسجد ہے اگرچہ اس کے ثواب میں کمی ہو یا نہ ملے۔صاحب بیان القرآن کا شبہ اسی صورت پر محمول ہے والتفصیل فی فتاونا(اور تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۴:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ آیا مسجد کی دیواریں ہمسایوں کے ساتھ مشترك کرنا شرعا جائز ہے(الف)نصف لاگت دیواروں کی ہمسائے لگائیں اور نصف لاگت مسجد کا خرچ ہو(ب)کل لاگت مسجد ہو۔مسجد قدیمی کی دیوار وں پر ہمسایہ کی شہتیر رکھی ہوئی تھی اور(الف)اور نشانات اشتراك نہ تھے(ب)اور نشانا ت اشتراك تھے۔کہنہ مسجد کو مسجد کی لاگت پر گرایا گیا اور مسجد کے
روپوں کا امین وہی ہمسایہ تھا جس کے شہتیر مسجد کی دیواروں پر تھے۔اس نے مسجد کی لاگت سے کل دیواریں اسی طرح بنوائیں جس سے بداہۃ اشتراك معلوم ہوتا ہے یعنی اپنی طرف جالی اور الماریاں حسب مرضی خود بلارضامندی دیگر مصلیان کے رکھوالئےکیا یہ فعل لہابیہ کا شرعا جائز ہے۔بصورت(الف)وبصورت(ب)کیا ان دیواروں پر ہمسایہ مذکور بالاخانہ ہائے تیار کرسکتا ہے اور بطور ملکیت خود ان دیواروں کو استعمال کرسکتا ہےبصورت(الف)وبصورت(ب)کیا بقول لھابیہ نصف دیوار اس کی ہے نصف دیوار کی تختہ زمین چھوڑ کر ازسر نو دیواریں واحد ملکیت مسجد بلا اشتراك تحریر چڑھانا جائز ہے یا ضروری ہے کیا ایسے مشترك دیوار والی مسجد پر"الوقف لایملک"صادق آتا ہے اور ایسی مسجد میں نماز ادا کرنے سے ثواب جو مسجد میں ادا کرنے پر وارد ہوتا ہے ملتا ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اللہ عز وجل فرماتا ہے:" و ان المسجد لله " مسجدیں خاص اللہ کے لئے ہیں۔مسجد ہونے کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی شش جہت میں جمیع حقوق عباد سے منزہ ہو اگر اس کے کسی حصہ میں بھی ملك عبد باقی ہے تو مسجد نہ ہوگی۔ہدایہ میں ہے:
من جعل مسجدا تحتہ سرداباو فوقہ بیت وجعل باب المسجدا الی الطریق وعزلہ عن ملکہفلہ ان یبیعہ وان مات یورث عنہ لانھالم یخلص ﷲ تعالی لبقاء حق العبد متعلقابہ ۔
جس شخص نے مسجد بنائی جس کے نیچے تہ خانہ یا اوپر کوئی مکان ہے اور مسجد کا دروازہ اس نے بڑے راستہ کی طرف کردیا اور اس کو اپنی ملك سے الگ کردیا تو اس کو اختیار ہے کہ وہ اسے بیچ دے اور اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث جاری ہوگی کیونکہ وہ خالص اﷲ تعالی کے لئے نہیں ہوئی اس سے حق عبد متعلق ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وکذلك ان اتخذ وسط دار مسجدا واذن للناس بالدخول فیہیعنی لہ ان یبیعہ ویورث عنہ لان المسجد مالایکون لاحدفیہ حق المنع (الی ان قال) فلم یصرمسجدا لانہ ابقی الطریق لنفسہ فلم یخلص ﷲ تعالی ۔
کسی نے اپنے گھر کے درمیان میں مسجد بنائی اور لوگوں کو اس میں داخل ہونے کی اجازت دے دی
الجواب:
اللہ عز وجل فرماتا ہے:" و ان المسجد لله " مسجدیں خاص اللہ کے لئے ہیں۔مسجد ہونے کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی شش جہت میں جمیع حقوق عباد سے منزہ ہو اگر اس کے کسی حصہ میں بھی ملك عبد باقی ہے تو مسجد نہ ہوگی۔ہدایہ میں ہے:
من جعل مسجدا تحتہ سرداباو فوقہ بیت وجعل باب المسجدا الی الطریق وعزلہ عن ملکہفلہ ان یبیعہ وان مات یورث عنہ لانھالم یخلص ﷲ تعالی لبقاء حق العبد متعلقابہ ۔
جس شخص نے مسجد بنائی جس کے نیچے تہ خانہ یا اوپر کوئی مکان ہے اور مسجد کا دروازہ اس نے بڑے راستہ کی طرف کردیا اور اس کو اپنی ملك سے الگ کردیا تو اس کو اختیار ہے کہ وہ اسے بیچ دے اور اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث جاری ہوگی کیونکہ وہ خالص اﷲ تعالی کے لئے نہیں ہوئی اس سے حق عبد متعلق ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وکذلك ان اتخذ وسط دار مسجدا واذن للناس بالدخول فیہیعنی لہ ان یبیعہ ویورث عنہ لان المسجد مالایکون لاحدفیہ حق المنع (الی ان قال) فلم یصرمسجدا لانہ ابقی الطریق لنفسہ فلم یخلص ﷲ تعالی ۔
کسی نے اپنے گھر کے درمیان میں مسجد بنائی اور لوگوں کو اس میں داخل ہونے کی اجازت دے دی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷۲ /۱۸
الھدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲/ ۶۲۴
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۶۲۵
الھدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲/ ۶۲۴
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۶۲۵
لہ ان یبیعہ ویورث عنہ لان المسجد مالایکون لاحدفیہ حق المنع(الی ان قال)فلم یصرمسجدا لانہ ابقی الطریق لنفسہ فلم یخلص ﷲ تعالی ۔ اگر تو اس کا حکم بھی وہی ہے جو مذکور ہوایعنی اسے فروخت کرسکتاہے اور اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث بھی جاری ہوگی کیونکہ مسجد وہ ہوتی ہے جس سے روکنے کاحق کسی کو نہ ہو(یہاں تك کہ فرمایا)پس)چونکہ اس نے راستہ اپنے لئے باقی رکھا ہے لہذا وہ مسجد نہ ہوئی اسلئے کہ وہ خالص اﷲ تعالی کے لئے نہ ہوئی۔(ت)
پس اگر اس مسجد کی دیواریں واقع میں مشترك ہیں ان میں کچھ حصہ عبد کا بھی ہے تو وہ مسجد سرے سے مسجد ہی نہیںنہ اسمیں نماز پڑھنے سے مسجد کاثوابوہ بانی کی ملك ایك مکان ہے جسے وہ بیچ سکتا ہے اور مرجائے تو ترکہ میں تقسیم ہوگا کما مرعن الھدایۃ(جیسا کہ ہدایہ سے گزرا۔ت)اور اگرواقع میں مشترك نہیںاس متولی نے غاصبانہ اشتراك کر رکھا ہے تو فرض ہے کہ اسے تولیت سے خارج کردیں اور وہ نشانات جو اس نے اپنے اشتراك کی علامت بنائے ہیں سب مٹادیں اور شہتیر وغیرہ جو کچھ اس کا مسجد کی دیوار پر رکھا ہے سب گرادیںاور جتنے برسوں رکھا رہا اتنے کا کرایہ دیوار مسجد کا اس سے وصول کریںاور اب اگر کوئی عمارت دیوار مسجد پر بنانا چاہے نہ بنانے دیںاور اگر بنالی ہو بجبر حکومت فورا منہدم کرادیں۔ درمختار میں ہے:
وبنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لوتمت المسجدیۃ ثم اراد البناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃفاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد ۔ اگر واقف نے مسجد کے اوپرامام کا حجرہ بنادیا تو جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہےلیکن جب مسجد تام ہوگئی اب وہ حجرہ بنانا چاہے تو اس کو نہیں بنانے دیا جائے گااگر وہ کہے کہ شروع سے میرا ارادہ تھا تو اس کی تصدیق نہیں کیجائیگی (تاتارخانیہ)جب خود واقف کا یہ حکم ہے توغیر واقف کو ایسا کرنے کا اختیار کیسے ہوسکتا ہےلہذا اس کو گرانا واجب ہے اگرچہ فقط دیوار مسجد پر بنایا گیا ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی البحر لایوضع الجذع علی جدارالمسجد بحر میں ہے مسجد کی دیوار پر لکڑی نہیں رکھی جائیگی
پس اگر اس مسجد کی دیواریں واقع میں مشترك ہیں ان میں کچھ حصہ عبد کا بھی ہے تو وہ مسجد سرے سے مسجد ہی نہیںنہ اسمیں نماز پڑھنے سے مسجد کاثوابوہ بانی کی ملك ایك مکان ہے جسے وہ بیچ سکتا ہے اور مرجائے تو ترکہ میں تقسیم ہوگا کما مرعن الھدایۃ(جیسا کہ ہدایہ سے گزرا۔ت)اور اگرواقع میں مشترك نہیںاس متولی نے غاصبانہ اشتراك کر رکھا ہے تو فرض ہے کہ اسے تولیت سے خارج کردیں اور وہ نشانات جو اس نے اپنے اشتراك کی علامت بنائے ہیں سب مٹادیں اور شہتیر وغیرہ جو کچھ اس کا مسجد کی دیوار پر رکھا ہے سب گرادیںاور جتنے برسوں رکھا رہا اتنے کا کرایہ دیوار مسجد کا اس سے وصول کریںاور اب اگر کوئی عمارت دیوار مسجد پر بنانا چاہے نہ بنانے دیںاور اگر بنالی ہو بجبر حکومت فورا منہدم کرادیں۔ درمختار میں ہے:
وبنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لوتمت المسجدیۃ ثم اراد البناء منع ولو قال عنیت ذلك لم یصدق تاتارخانیۃفاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد ۔ اگر واقف نے مسجد کے اوپرامام کا حجرہ بنادیا تو جائز ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہےلیکن جب مسجد تام ہوگئی اب وہ حجرہ بنانا چاہے تو اس کو نہیں بنانے دیا جائے گااگر وہ کہے کہ شروع سے میرا ارادہ تھا تو اس کی تصدیق نہیں کیجائیگی (تاتارخانیہ)جب خود واقف کا یہ حکم ہے توغیر واقف کو ایسا کرنے کا اختیار کیسے ہوسکتا ہےلہذا اس کو گرانا واجب ہے اگرچہ فقط دیوار مسجد پر بنایا گیا ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی البحر لایوضع الجذع علی جدارالمسجد بحر میں ہے مسجد کی دیوار پر لکڑی نہیں رکھی جائیگی
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الوقف المکتبۃ العربیہ ∞کراچی ۲/ ۶۲۵€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹€
وان کان من اوقافہ اھ قلت وبہ علم حکم مایصنعہ بعض جیران المسجد من وضع جذوع علی جدارہ فانہ لایحل ولودفع الاجر ۔ اگرچہ وہ اوقاف مسجد میں سے ہو اھ میں کہتاہوں اس سے مسجد کے بعض پڑوسیوں کے اس فعل کا حکم معلوم ہوگیا جو وہ دیوار مسجد پرکڑیاں رکھتے ہیں کہ یہ ان کے لئے حلال نہیں اگرچہ وہ اس کی اجرت دیں۔(ت)
مسئلہ۲۶۵: از گونڈل کاٹھیاوار مرسلہ عبدالستار اسمعیل رضوی ۸صفر ۱۳۳۶ھ
ایك مسجد میں قریب ایك صدی سے فرش پتھر کا بچھا ہو اتھا جس کو اب لوگوں نےنکال کر دوسرا فرش بچھا یا ہےاب اس نکلے ہوئے فرش کے پتھر کو کسی اور کام میں لاسکتے ہیں یانہیںیا کوئی اور مسجد کے کسی کام میں استعمال کرسکتے ہیں یانہیںاگر اس پتھر کی ضرورت کسی اور مسجد میں بھی نہ ہواور ان کو حفاطت سے رکھنے کے لئے جگہ کی بھی تنگی ہو یاان کو سنبھال رکھنے میں اور اخراجات ہوتے ہوں تو ایسی صورت میں ان کو فروخت کرکے ان کی قیمت اس مسجد کے کام میں خرچ کرسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
انہیں فروخت کرکے وہ قیمت خاص اسی مسجد کے خاص عمارت میں صرف کی جائےتیل بتی وغیر ہ میں نہیں اور اس وقت مسجد کو عمارت کی حاجت نہ ہو تو اس کی آئندہ ضرورت کے لئے محفوظ رکھی جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۶۶تا۲۷۱:از رنگون مغل اسٹریٹ پوسٹ بکس ۲۴۲مال کمپنی مرسلہ سید فضل اﷲ ولد سید غلام رسول صاحب ۱۹ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
(۱)ایك قصبہ میں مثلا تین مسجد آباد ہیں اور نماز جمعہ وعیدین مسجد جامع میں ادا ہوتی ہیں اور اس جامع مسجد میں تمام ضروری اشیاء مثلا فرشدریچٹائیجھومرقنادیللیمپ وغیرہ اہل قصبہ چندہ فراہم کرکے خاص مسجد کے لئے خرید کرجمع رکھتے ہیں اور اسی قصبہ کے بعض تجار دوسرے ملك سے مسجد کےلئے بھیجتے رہتے ہیں اور بھیجنے والوں کے حسب منشاء وہ چیز خرید کرکے مسجد میں رکھ دی جاتی ہے یا بعض وقت خاص مال مسجد سے مذکورہ بالاچیزیں خرید کی جاتی ہیں اور یہ کل چیزیں مسجد جامع ہی میں رہتی ہیں اور بوقت ضرورت رمضان المبارك وشب قدر وشبہائے متبرکہ میں استعمال ہوتا ہے اور فرش چٹائی وغیرہ کا عیدین میں اسی مسجد میں کام آتاہے اور جملہ اسباب اسی جگہ پر رہتا ہےنہ کرایہ پر دینے کے لئے
مسئلہ۲۶۵: از گونڈل کاٹھیاوار مرسلہ عبدالستار اسمعیل رضوی ۸صفر ۱۳۳۶ھ
ایك مسجد میں قریب ایك صدی سے فرش پتھر کا بچھا ہو اتھا جس کو اب لوگوں نےنکال کر دوسرا فرش بچھا یا ہےاب اس نکلے ہوئے فرش کے پتھر کو کسی اور کام میں لاسکتے ہیں یانہیںیا کوئی اور مسجد کے کسی کام میں استعمال کرسکتے ہیں یانہیںاگر اس پتھر کی ضرورت کسی اور مسجد میں بھی نہ ہواور ان کو حفاطت سے رکھنے کے لئے جگہ کی بھی تنگی ہو یاان کو سنبھال رکھنے میں اور اخراجات ہوتے ہوں تو ایسی صورت میں ان کو فروخت کرکے ان کی قیمت اس مسجد کے کام میں خرچ کرسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
انہیں فروخت کرکے وہ قیمت خاص اسی مسجد کے خاص عمارت میں صرف کی جائےتیل بتی وغیر ہ میں نہیں اور اس وقت مسجد کو عمارت کی حاجت نہ ہو تو اس کی آئندہ ضرورت کے لئے محفوظ رکھی جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۶۶تا۲۷۱:از رنگون مغل اسٹریٹ پوسٹ بکس ۲۴۲مال کمپنی مرسلہ سید فضل اﷲ ولد سید غلام رسول صاحب ۱۹ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
(۱)ایك قصبہ میں مثلا تین مسجد آباد ہیں اور نماز جمعہ وعیدین مسجد جامع میں ادا ہوتی ہیں اور اس جامع مسجد میں تمام ضروری اشیاء مثلا فرشدریچٹائیجھومرقنادیللیمپ وغیرہ اہل قصبہ چندہ فراہم کرکے خاص مسجد کے لئے خرید کرجمع رکھتے ہیں اور اسی قصبہ کے بعض تجار دوسرے ملك سے مسجد کےلئے بھیجتے رہتے ہیں اور بھیجنے والوں کے حسب منشاء وہ چیز خرید کرکے مسجد میں رکھ دی جاتی ہے یا بعض وقت خاص مال مسجد سے مذکورہ بالاچیزیں خرید کی جاتی ہیں اور یہ کل چیزیں مسجد جامع ہی میں رہتی ہیں اور بوقت ضرورت رمضان المبارك وشب قدر وشبہائے متبرکہ میں استعمال ہوتا ہے اور فرش چٹائی وغیرہ کا عیدین میں اسی مسجد میں کام آتاہے اور جملہ اسباب اسی جگہ پر رہتا ہےنہ کرایہ پر دینے کے لئے
ہے کیونکہ چندہ دینے اور لینے والوں نے خاص اس جامع مسجد ہی میں اشیائے مذکورہ کےلئے چندہ دیا ہے پس جس کو جو میسر آیا بلا قیدوشرط وبلاتصریح دے دیااب اہل قصبہ یا اور کوئی جس نے چندہ دیا ہو یا نہ دیا ہو خود اپنے کسی کام یا کسی تقریب میں مثلا وعظمولود یا شادی وغیرہ میں مسجد کی کوئی شے مثل بتیلیمپ وفرشدریچٹائی وغیرہ اپنے کام میں برتنے کےلئے کرایہ سے یا بے کرایہ سے لے جائے تو یہ مسجد کی چیزوں کا دوسری جگہ میں استعمال جائز ہے یانہیں
(۲)اس قصبہ میں ۲۵ سال قبل عیداضحی عید گاہ میں ہوا کرتی تھی اس وقت تمام فرش ومنبر وغیرہ تمام حاجت کی چیزیں ریاست سچین سے نواب صاحب کی طرف سے آیا کرتی تھیں اور اختتام نماز پر وہ وہ کل چیزیں واپس ہمراہ لے جایا کرتےامسال جدید عید گاہ قائم ہوجانے سے عید کی نماز عید گاہ میں پڑھی اور جامع مسجد کی چٹائی وغیرہ لاکر بچھائی گئیبعد نماز ختم جو چیز یہاں کی تھی وہاں بلا نقص پہنچا دی گئی تو یہ فعل جائز ہے یانہیں
(۳)مسجد کے متصل مسجد ہی کی زمین ہے اس میں کوئی آدمی خود فائدہ اٹھانے کی غرض سے درخت لگائے اور جب وہ بڑے ہوں اور پھل پھول سے بار آور ہوں تو اس وقت یہ درخت زمین کے اعتبار سے مسجد کی ملکیت میں داخل ہوں گے یا لگانے والے کےیا مسجد کااور مسجد کی زمین میں اس طرح درخت لگادینے کا غیر کو حق حاصل ہے
(۴)مسجد کے متصل مسجد کا بوسیدہ مکان یا حجرہ ہے اس پر کوئی شخص کم یا زیادہ اپنا روپیہ لگا کر کوئی تعمیر کرے اور بلا کرایہ اپنے تصرف اور قبضہ میں لائے تو یہ فعل جائز ہے یانہیں
(۵)اس مسجد جامع کےلئے امام ہے مگر اوقات کی پابندی سے آکر نماز نہیں پڑھاتے کبھی وقت بے وقت آجاتے ہیںاور اکثر اور لوگ نماز پڑھادیتے ہیںاس لئے امام سے مسجد کی آبادی بھی نہیں ہوتی بلکہ ان کے نہ ہونے سے مسجد کی زیادہ آبادی کی امید ہےچونکہ دانت نہ ہونے کی وجہ سے مخارج صاف اور تلفظ سامع کی سمجھ میں نہیں آتے۔امام صاحب غریب خود عاجز محض ہیں اور دیندار متقی بھی نہیں۔علاوہ اس کے مسجد بھی غریب ہے اور ضروری تعمیر کی محتاج ہے اس لئے مسجد کے مال سے امام صاحب کو تنخواہ دینے پر بھی لوگ راضی نہیں مگر مجبورااور رعایت امام صاحب کے بزرگوں کی قدر کی وجہ سے چون وچرا سے عاجز ہیںاس صورت میں امام صاحب کو غریب مسجد سے تنخواہ دینا جائز ہے یانہیں
(۶)مسجد میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے جس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہےتمام بچے ننگے پیر آتے جاتے ہیںاس صورت میں بچوں کو تعلیم دینی جائز ہے یانہیں
(۲)اس قصبہ میں ۲۵ سال قبل عیداضحی عید گاہ میں ہوا کرتی تھی اس وقت تمام فرش ومنبر وغیرہ تمام حاجت کی چیزیں ریاست سچین سے نواب صاحب کی طرف سے آیا کرتی تھیں اور اختتام نماز پر وہ وہ کل چیزیں واپس ہمراہ لے جایا کرتےامسال جدید عید گاہ قائم ہوجانے سے عید کی نماز عید گاہ میں پڑھی اور جامع مسجد کی چٹائی وغیرہ لاکر بچھائی گئیبعد نماز ختم جو چیز یہاں کی تھی وہاں بلا نقص پہنچا دی گئی تو یہ فعل جائز ہے یانہیں
(۳)مسجد کے متصل مسجد ہی کی زمین ہے اس میں کوئی آدمی خود فائدہ اٹھانے کی غرض سے درخت لگائے اور جب وہ بڑے ہوں اور پھل پھول سے بار آور ہوں تو اس وقت یہ درخت زمین کے اعتبار سے مسجد کی ملکیت میں داخل ہوں گے یا لگانے والے کےیا مسجد کااور مسجد کی زمین میں اس طرح درخت لگادینے کا غیر کو حق حاصل ہے
(۴)مسجد کے متصل مسجد کا بوسیدہ مکان یا حجرہ ہے اس پر کوئی شخص کم یا زیادہ اپنا روپیہ لگا کر کوئی تعمیر کرے اور بلا کرایہ اپنے تصرف اور قبضہ میں لائے تو یہ فعل جائز ہے یانہیں
(۵)اس مسجد جامع کےلئے امام ہے مگر اوقات کی پابندی سے آکر نماز نہیں پڑھاتے کبھی وقت بے وقت آجاتے ہیںاور اکثر اور لوگ نماز پڑھادیتے ہیںاس لئے امام سے مسجد کی آبادی بھی نہیں ہوتی بلکہ ان کے نہ ہونے سے مسجد کی زیادہ آبادی کی امید ہےچونکہ دانت نہ ہونے کی وجہ سے مخارج صاف اور تلفظ سامع کی سمجھ میں نہیں آتے۔امام صاحب غریب خود عاجز محض ہیں اور دیندار متقی بھی نہیں۔علاوہ اس کے مسجد بھی غریب ہے اور ضروری تعمیر کی محتاج ہے اس لئے مسجد کے مال سے امام صاحب کو تنخواہ دینے پر بھی لوگ راضی نہیں مگر مجبورااور رعایت امام صاحب کے بزرگوں کی قدر کی وجہ سے چون وچرا سے عاجز ہیںاس صورت میں امام صاحب کو غریب مسجد سے تنخواہ دینا جائز ہے یانہیں
(۶)مسجد میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے جس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہےتمام بچے ننگے پیر آتے جاتے ہیںاس صورت میں بچوں کو تعلیم دینی جائز ہے یانہیں
الجواب:
استعمال مذکور حرام ہےچندہ دہندہ کرے یا کوئیمال وقف خود واقف کو حرام ہے کہ اپنے صرف لائےیہاں تك کہ اگر نفس وقف غیر اہلی میں اس نے شرط کرلی ہو کہ اپنی حیات تك میں اپنے صرف میں لاسکوں گاتو شرط باطل ہے اور تصرف حرامفتاوی خلاصہ جلد دوم ص۵۷۰:
رجل جعل فرسہ للسبیل علی ان یمسکہ مادام حیاان امسکہ للجھادلہ ذلك لانہ لولم یشترط کان لہ ذلك لان لجاعل السبیل ان یجاھد علیہ وان ارادہ ان ینتفع بہ غیر ذلك لم یکن لہ ذلك وصح جعلہ للسبیل ۔
ایك شخص نے اپنا گھوڑا فی سبیل اللہ وقف کیا اس شرط پر کہ جب تك وہ زندہ ہے گھوڑے کو اپنے پاس روکے رکھے گااگر تو اس نے جہاد کےلئے روکا ہے تو جائز ہے کیونکہ اگر وہ یہ شرط نہ بھی کرتا تب بھی اسے یہ حق تھا اس لئے اس گھوڑے کو فی سبیل اللہ وقف کرنے والابھی اختیار رکھتا ہے کہ وہ اس پر سوار ہوکر جہاد کرےاور اگر اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ جہاد کے علاوہ کوئی ا ور نفع حاصل کرے گا تو اس کو یہ اختیار نہیںتاہم گھوڑے کو فی سبیل اللہ وقف کرنا صحیح ہوگیا۔(ت)
بتی کا کرایہ پر دینا تو مطلقا حرام ہے اگرچہ بتی وقف نہ کی ہو خود اپنی ملك ہوشرع مطہر نے عقد اجارہ اس لئے رکھاہے کہ شیئ باقی رہے اور مستاجر اس کو برت کر ختم اجارہ پر واپس دےنہ اس لئے کہ خود اس شیئ کو خرچ و فنا کرےاور ظاہر ہے کہ بتی جب کام میں لائی جائے گی خود اس کے اجزا فنا ہوں گےایسا اجارہ حرام وباطل ہے۔فتاوی خیریہ علامہ خیرالدین رملی استاذ صاحب درمختار رحمہمااﷲ تعالی جلددوم ص۱۰۷:
الاجارۃ المذکورۃ باطلۃ غیر منتعقدۃ لما صرح بہ علماؤنا قاطبۃ من ان الاجارۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصدا لاتنعقد ولاتفید شیئا من احکام الاجارۃ ۔
اجارہ مذکور ہ باطل ہے منعقد نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے تمام علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اجارت جب قصدا اصل کے اتلاف پر واقع ہو منعقد نہیں ہوتا اور نہ ہی احکام اجارہ میں سے کسی حکم کا فائدہ دیتا ہے(ت)
استعمال مذکور حرام ہےچندہ دہندہ کرے یا کوئیمال وقف خود واقف کو حرام ہے کہ اپنے صرف لائےیہاں تك کہ اگر نفس وقف غیر اہلی میں اس نے شرط کرلی ہو کہ اپنی حیات تك میں اپنے صرف میں لاسکوں گاتو شرط باطل ہے اور تصرف حرامفتاوی خلاصہ جلد دوم ص۵۷۰:
رجل جعل فرسہ للسبیل علی ان یمسکہ مادام حیاان امسکہ للجھادلہ ذلك لانہ لولم یشترط کان لہ ذلك لان لجاعل السبیل ان یجاھد علیہ وان ارادہ ان ینتفع بہ غیر ذلك لم یکن لہ ذلك وصح جعلہ للسبیل ۔
ایك شخص نے اپنا گھوڑا فی سبیل اللہ وقف کیا اس شرط پر کہ جب تك وہ زندہ ہے گھوڑے کو اپنے پاس روکے رکھے گااگر تو اس نے جہاد کےلئے روکا ہے تو جائز ہے کیونکہ اگر وہ یہ شرط نہ بھی کرتا تب بھی اسے یہ حق تھا اس لئے اس گھوڑے کو فی سبیل اللہ وقف کرنے والابھی اختیار رکھتا ہے کہ وہ اس پر سوار ہوکر جہاد کرےاور اگر اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ جہاد کے علاوہ کوئی ا ور نفع حاصل کرے گا تو اس کو یہ اختیار نہیںتاہم گھوڑے کو فی سبیل اللہ وقف کرنا صحیح ہوگیا۔(ت)
بتی کا کرایہ پر دینا تو مطلقا حرام ہے اگرچہ بتی وقف نہ کی ہو خود اپنی ملك ہوشرع مطہر نے عقد اجارہ اس لئے رکھاہے کہ شیئ باقی رہے اور مستاجر اس کو برت کر ختم اجارہ پر واپس دےنہ اس لئے کہ خود اس شیئ کو خرچ و فنا کرےاور ظاہر ہے کہ بتی جب کام میں لائی جائے گی خود اس کے اجزا فنا ہوں گےایسا اجارہ حرام وباطل ہے۔فتاوی خیریہ علامہ خیرالدین رملی استاذ صاحب درمختار رحمہمااﷲ تعالی جلددوم ص۱۰۷:
الاجارۃ المذکورۃ باطلۃ غیر منتعقدۃ لما صرح بہ علماؤنا قاطبۃ من ان الاجارۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصدا لاتنعقد ولاتفید شیئا من احکام الاجارۃ ۔
اجارہ مذکور ہ باطل ہے منعقد نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے تمام علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اجارت جب قصدا اصل کے اتلاف پر واقع ہو منعقد نہیں ہوتا اور نہ ہی احکام اجارہ میں سے کسی حکم کا فائدہ دیتا ہے(ت)
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوقف الفصل الثالث فی صحۃ الوقف مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۱۸
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۱۷
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۱۷
باقی چیزین مثلا لیمپفرشدریچٹائیاور یونہی بتی بھیاگر اس سے مرادخالی شمعدان ہواگرچہ اپنی ذات میں قابل اجارہ ہیںمملوك ہوں تو مالك اجارہ پر دے سکتا ہے کرایہ پر دینے کے لئے وقف ہوں تو متولی دے سکتا ہے مگر وہ جو مسجد پر اس کے استعمال میں آنے کےلئے وقف ہیں انہیں کرایہ پر دینا لینا حرام کہ جو چیز جس غرض کےلئے وقف کی گئی دوسری غرض کی طرف اسے پھیرنا ناجائزہے اگرچہ وہ غرض بھی وقف ہی کے لئے فائدہ کی ہو کہ شرط واقف مثل نص شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمواجب الاتباع ہے۔ درمختار کتاب الوقف:
فروع قولھم شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ ۔ واقف کی شرط شارع علیہ الصلوہ والسلام کی نص کی طرح واجب العمل ہے(ت)
ولہذا خلاصہ میں تحریر فرمایا کہ جو گھوڑا قتال مخالفین کےلئے وقف ہوا ہو ا سے کرایہ پر چلانا ممنوع وناجائز ہےہاں اگر مسجد کو حاجت ہو مثلا مرمت کی ضرورت ہے اور روپیہ نہیں تو بمجبوری اس کا مال اسباب اتنے دنوں کرایہ پر دے سکتے ہیں جس میں وہ ضرورت رفع ہوجائےجب ضرورت نہ رہے پھرناجائز ہوجائے گا۔خلاصہ جلد ۲ص۵۷۰:
ولا یؤاجر فرس السبیل الا اذا احتیج الی النفقہ فیؤاجر بقدر ماینفق وھذہ المسألۃ دلیل علی ان المسجد اذا احتاج الی النفقۃ توأجر قطعۃ منہ بقدر ما ینفق علیہ ۔
فی سبیل اللہ وقف شدہ گھوڑا کرایہ پر نہیں دیا جاسکتا ہاں اگر اس کے اخراجات کے لئے مجبور ی ہوتو اتنے وقت کےلئے دیا جاسکتا ہے جس سے اخراجات پورے ہوسکیں اور یہ مسئلہ دلیل ہے اس پر کہ اگر اخراجات مسجد کے سلسلہ میں حاجت ہوتو ان اخراجات ضروریہ کی فراہمی کےلئے وقف کا کوئی حصہ کچھ وقت کے لئے کرایہ پر دیا جاسکتا ہے(ت)
(۲)یہ فعل ناجائز وگناہ ہےایك مسجد کی چیز دوسری مسجد میں بھی عاریۃ دینا جائز نہیںنہ کہ عید گاہ میں کہ اتصال صف کے سوا اور احکام میں وہ مسجد ہی نہیںولہذا جنب کو اس میں جانا منع نہیں۔فتاوی عالمگیریہ جلدپنجم ص۱۲۲:
یجوز للقیم شراء المصلیات للصلاۃ علیھا ولایجوز اعارتھا لمسجد اخر (ملخصا)۔
مسجد کے ناظم کو مسجد کے لئے چٹائیاں خریدنا جائز ہے تاکہ ان پر نماز پڑھی جائے اور انہیں عاریۃ دوسری مسجد کےلئے دینا جائز نہیں(ت)
فروع قولھم شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ ۔ واقف کی شرط شارع علیہ الصلوہ والسلام کی نص کی طرح واجب العمل ہے(ت)
ولہذا خلاصہ میں تحریر فرمایا کہ جو گھوڑا قتال مخالفین کےلئے وقف ہوا ہو ا سے کرایہ پر چلانا ممنوع وناجائز ہےہاں اگر مسجد کو حاجت ہو مثلا مرمت کی ضرورت ہے اور روپیہ نہیں تو بمجبوری اس کا مال اسباب اتنے دنوں کرایہ پر دے سکتے ہیں جس میں وہ ضرورت رفع ہوجائےجب ضرورت نہ رہے پھرناجائز ہوجائے گا۔خلاصہ جلد ۲ص۵۷۰:
ولا یؤاجر فرس السبیل الا اذا احتیج الی النفقہ فیؤاجر بقدر ماینفق وھذہ المسألۃ دلیل علی ان المسجد اذا احتاج الی النفقۃ توأجر قطعۃ منہ بقدر ما ینفق علیہ ۔
فی سبیل اللہ وقف شدہ گھوڑا کرایہ پر نہیں دیا جاسکتا ہاں اگر اس کے اخراجات کے لئے مجبور ی ہوتو اتنے وقت کےلئے دیا جاسکتا ہے جس سے اخراجات پورے ہوسکیں اور یہ مسئلہ دلیل ہے اس پر کہ اگر اخراجات مسجد کے سلسلہ میں حاجت ہوتو ان اخراجات ضروریہ کی فراہمی کےلئے وقف کا کوئی حصہ کچھ وقت کے لئے کرایہ پر دیا جاسکتا ہے(ت)
(۲)یہ فعل ناجائز وگناہ ہےایك مسجد کی چیز دوسری مسجد میں بھی عاریۃ دینا جائز نہیںنہ کہ عید گاہ میں کہ اتصال صف کے سوا اور احکام میں وہ مسجد ہی نہیںولہذا جنب کو اس میں جانا منع نہیں۔فتاوی عالمگیریہ جلدپنجم ص۱۲۲:
یجوز للقیم شراء المصلیات للصلاۃ علیھا ولایجوز اعارتھا لمسجد اخر (ملخصا)۔
مسجد کے ناظم کو مسجد کے لئے چٹائیاں خریدنا جائز ہے تاکہ ان پر نماز پڑھی جائے اور انہیں عاریۃ دوسری مسجد کےلئے دینا جائز نہیں(ت)
حوالہ / References
درمختار فصل یراعی شرط الواقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوقف الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۱۸
فتاوی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۲۔
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوقف الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۱۸
فتاوی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۲۔
درمختار علی ہامش ردالمحتار مطبع قسطنطنیہ جلد اول ص۶۸۷
المتخذ لصلاۃ جنازۃ او عید مسجد فی حق جواز الاقتداء وان انفصل الصفوف رفقا بالناس لافی حق غیرہ بہ یفتی نھایۃ فحل دخولہ لجنب وحائض کفناء مسجد ورباط ومدرسۃ ۔ جناز گاہ او ر عید گاہ جواز اقتداء کے حکم میں مسجد ہے اگرچہ صفوں میں فاصلہ ہو یہ حکم لوگوں کی سہولت کےلئے ہے دیگر احکام میں وہ مثل مسجد نہیںاسی پر فتوی دیا جاتا ہے نہایۃ لہذا اس میں جنبی شخص اور حیض ونفاس والی عورتوں کا داخل ہونا حلال ہے جیسا کہ فناء مسجدخانقاہ اور مدرسہ کا حکم ہے(ت)
(۳)مسجد کی زمین میں اپنے لئے درخت لگانا حرام ہے کہ وقف میں تصرف مالکانہ ہےوالواقف لایملکپھر اگر یہ مال اس نے مسجد کے مال سے لگایا تو مسجد کا ہے اور اپنے مال سے لگایا اور یہ متولی ہے تو مسجد کا ہے مگر یہ کہ لگاتے وقت لوگوں کو گواہ کرلیا ہو کہ یہ میں اپنے لئے لگاتا ہوںاور اگر غیر متولی ہے تو خود اس کا ہے مگر یہ کہ اقرار کرے کہ میں نے مسجد کے لئے لگایااب جس صورت میں پیڑ لگانے والے کا ٹھہرے اگر اس کےااکھیڑنے میں زمین وقف کا نقصان نہیں جبرا اکھڑوادیا جائے گا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق (عرق ظالم کا کوئی حق نہیں۔ت)اور اگر اس میں زمین وقف کا ضرر ہوتو درخت مسجد کی ملك کرلیا جائے گا اور اندازہ کریں گے کہ اس وقت اس درخت کی قیمت زیادہ ہے اکھیڑ کر بیچنے میں کم ہوجائے گی یا جدا کرکے بیچنے میں دام زیادہ اٹھیں گے اس وقت قیمت کم آئیگی دونوں حالتوں میں جس صورت پر کم قیمت اٹھے وہ کم قیمت مسجد کے مال سے لگانے والے کو دی جائے گی۔فتاوی خلاصہ جلد ۲ص۵۷۰:
فی الحاوی سئل ابو القاسم عمن غرس الوقف من مالہ ومات قال ان غرس من غلۃ للوقف فھو للوقف وان لم یذکر شیئا فان غرس بمالہ ان ذکر انہ غرس للوقف فھو حاوی میں ہے کہ ابوالقاسم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنے مال سے وقف زمین میں درخت بوئے اور پھر مرگیا تو ابوالقاسم نے فرمایا کہ اگر وقف کی آمدنی سے بوئے ہیں تب تو وقف کے لئے ہیں اگرچہ کسی شیئ کا ذکر نہ کیا ہو اور اگر اپنے مال سے
المتخذ لصلاۃ جنازۃ او عید مسجد فی حق جواز الاقتداء وان انفصل الصفوف رفقا بالناس لافی حق غیرہ بہ یفتی نھایۃ فحل دخولہ لجنب وحائض کفناء مسجد ورباط ومدرسۃ ۔ جناز گاہ او ر عید گاہ جواز اقتداء کے حکم میں مسجد ہے اگرچہ صفوں میں فاصلہ ہو یہ حکم لوگوں کی سہولت کےلئے ہے دیگر احکام میں وہ مثل مسجد نہیںاسی پر فتوی دیا جاتا ہے نہایۃ لہذا اس میں جنبی شخص اور حیض ونفاس والی عورتوں کا داخل ہونا حلال ہے جیسا کہ فناء مسجدخانقاہ اور مدرسہ کا حکم ہے(ت)
(۳)مسجد کی زمین میں اپنے لئے درخت لگانا حرام ہے کہ وقف میں تصرف مالکانہ ہےوالواقف لایملکپھر اگر یہ مال اس نے مسجد کے مال سے لگایا تو مسجد کا ہے اور اپنے مال سے لگایا اور یہ متولی ہے تو مسجد کا ہے مگر یہ کہ لگاتے وقت لوگوں کو گواہ کرلیا ہو کہ یہ میں اپنے لئے لگاتا ہوںاور اگر غیر متولی ہے تو خود اس کا ہے مگر یہ کہ اقرار کرے کہ میں نے مسجد کے لئے لگایااب جس صورت میں پیڑ لگانے والے کا ٹھہرے اگر اس کےااکھیڑنے میں زمین وقف کا نقصان نہیں جبرا اکھڑوادیا جائے گا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق (عرق ظالم کا کوئی حق نہیں۔ت)اور اگر اس میں زمین وقف کا ضرر ہوتو درخت مسجد کی ملك کرلیا جائے گا اور اندازہ کریں گے کہ اس وقت اس درخت کی قیمت زیادہ ہے اکھیڑ کر بیچنے میں کم ہوجائے گی یا جدا کرکے بیچنے میں دام زیادہ اٹھیں گے اس وقت قیمت کم آئیگی دونوں حالتوں میں جس صورت پر کم قیمت اٹھے وہ کم قیمت مسجد کے مال سے لگانے والے کو دی جائے گی۔فتاوی خلاصہ جلد ۲ص۵۷۰:
فی الحاوی سئل ابو القاسم عمن غرس الوقف من مالہ ومات قال ان غرس من غلۃ للوقف فھو للوقف وان لم یذکر شیئا فان غرس بمالہ ان ذکر انہ غرس للوقف فھو حاوی میں ہے کہ ابوالقاسم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنے مال سے وقف زمین میں درخت بوئے اور پھر مرگیا تو ابوالقاسم نے فرمایا کہ اگر وقف کی آمدنی سے بوئے ہیں تب تو وقف کے لئے ہیں اگرچہ کسی شیئ کا ذکر نہ کیا ہو اور اگر اپنے مال سے
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳€
صحیح البخاری کتاب الحرث والمزارعہ باب من احیا ارضامواتا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۴،€سنن ابوداؤد کتاب الخراج باب احیاء الموات ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۱€
صحیح البخاری کتاب الحرث والمزارعہ باب من احیا ارضامواتا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۴،€سنن ابوداؤد کتاب الخراج باب احیاء الموات ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۱€
لہ وان لم یذکر شیئا فھو عنہ میراث ۔ بوئے اور ذکر کیا کہ یہ وقف کیلئے ہے تو وقف کیلئے ہیں اور اگر کسی شے کا ذکر نہیں کیا تو وہ اس کی میراث ہے۔(ت)
ایضا جلد مذکور ص۵۷۳:
المتولی اذابنی فی عرصۃ الوقف ان کان من مال الوقف یکون للوقف وکذامن مال نفسہ لکن بنی للوقف فان بنی لنفسہ ان اشھد کان لہ ذلك وان بنی ولم یذکر شیئا کان للوقف بخلاف الاجنبی ۔ متولی نے مال وقف سے جب وقف زمین کے میدان میں عمارت بنادی تو وہ وقف کے لئے ہوگی یونہی اگر اس نے اپنے مال سے وقف کیلئے عمارت بنائی تب بھی وقف کے لئے ہوگی اور اگر اپنی ذات کےلئے بنائی اور اس پر گواہ کرلئے تو یہ عمارت اس کی ذات کے لئے ہوگیاور اگر عمارت بنائی مگر کسی شے کا ذکر نہ کیا تو عمارت وقف کے لئے ہوگی بخلاف اجنبی شخص کے۔(ت)
عقود الدریہ جلد اول ص۱۶۵:
حیث کان غرس عمر و المذکور لنفسہ بلااذن الناظر فللناظر علی الوقف تکلیفہ قلعہ ان لم یضرفان اضریتمبلکہ الناظر باقل القیمتین للوقف منزوعا وغیر منزوع بمال الوقف ۔ اگر عمرو مذکور نے اپنی ذات کےلئے بغیر اذن متولی درخت لگائے تو متولی کو اختیار ہے کہ وہ اسے اکھاڑنے پر مجبور کرے جبکہ وقف کوضرر نہ ہو اور اگر اکھاڑنا وقف کے لیے ضرر رساں ہے تو متولی دو قیمتوں میں سے اقل قیمت کے بدلے مال وقف سے وقف کیلئے ان درختوں کا مالك بن جائے گادو قیمتوں سے مراد زمین میں لگے ہوئے درختوں کی قیمت اور اکھاڑے ہوئے درختوں کی قیمت ہے۔(ت)
(۴)حرام ہےاور جتنے دنوں اس نے اپنے تصرف میں رکھا اتنے دنوں کا کرایہ جو حصہ وقف کا نرخ بازار سے ہوا اتنا تاوان اس پر لازم ہوگا کہ وقف کے لئے ادا کرے اور اپنا روپیہ لگا کر جو کچھ اس نے بنایا اگر وہ کوئی مالیت نہیں رکھتا وہ وقف کا مفت قرار پائے گا۔اور اگر مالیت ہے تو وہی حکم ہے کہ اگر اس کا
ایضا جلد مذکور ص۵۷۳:
المتولی اذابنی فی عرصۃ الوقف ان کان من مال الوقف یکون للوقف وکذامن مال نفسہ لکن بنی للوقف فان بنی لنفسہ ان اشھد کان لہ ذلك وان بنی ولم یذکر شیئا کان للوقف بخلاف الاجنبی ۔ متولی نے مال وقف سے جب وقف زمین کے میدان میں عمارت بنادی تو وہ وقف کے لئے ہوگی یونہی اگر اس نے اپنے مال سے وقف کیلئے عمارت بنائی تب بھی وقف کے لئے ہوگی اور اگر اپنی ذات کےلئے بنائی اور اس پر گواہ کرلئے تو یہ عمارت اس کی ذات کے لئے ہوگیاور اگر عمارت بنائی مگر کسی شے کا ذکر نہ کیا تو عمارت وقف کے لئے ہوگی بخلاف اجنبی شخص کے۔(ت)
عقود الدریہ جلد اول ص۱۶۵:
حیث کان غرس عمر و المذکور لنفسہ بلااذن الناظر فللناظر علی الوقف تکلیفہ قلعہ ان لم یضرفان اضریتمبلکہ الناظر باقل القیمتین للوقف منزوعا وغیر منزوع بمال الوقف ۔ اگر عمرو مذکور نے اپنی ذات کےلئے بغیر اذن متولی درخت لگائے تو متولی کو اختیار ہے کہ وہ اسے اکھاڑنے پر مجبور کرے جبکہ وقف کوضرر نہ ہو اور اگر اکھاڑنا وقف کے لیے ضرر رساں ہے تو متولی دو قیمتوں میں سے اقل قیمت کے بدلے مال وقف سے وقف کیلئے ان درختوں کا مالك بن جائے گادو قیمتوں سے مراد زمین میں لگے ہوئے درختوں کی قیمت اور اکھاڑے ہوئے درختوں کی قیمت ہے۔(ت)
(۴)حرام ہےاور جتنے دنوں اس نے اپنے تصرف میں رکھا اتنے دنوں کا کرایہ جو حصہ وقف کا نرخ بازار سے ہوا اتنا تاوان اس پر لازم ہوگا کہ وقف کے لئے ادا کرے اور اپنا روپیہ لگا کر جو کچھ اس نے بنایا اگر وہ کوئی مالیت نہیں رکھتا وہ وقف کا مفت قرار پائے گا۔اور اگر مالیت ہے تو وہی حکم ہے کہ اگر اس کا
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوقف الفصل الثالث ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۱۹€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوقف الفصل الرابع ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۲۳€
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثانی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۸۹€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوقف الفصل الرابع ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۴۲۳€
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثانی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۸۹€
اکھیڑ نا وقف کو مضر نہیں جتنا اس نے زیادہ کیا اکھیڑ کر پھینك دیا جائے گا وہ اپناعملہ اٹھا کر لے جائے اور اگر اس کے بنانے میں اس نے وقف کی کوئی دیوار منہدم کی تھی تو اس پر لازم ہوگا کہ اپنے صرف سے وہ دیوار ویسی ہی بنادے اور اگر ویسی نہ بن سکتی ہوبنی ہوئی دیوار کی قیمت ادا کرے اور اگر اکھیڑ نا وقف کو مضر ہے تو نظر کریں گے کہ اگر یہ عملہ اکھیڑ اجاتا تو کس قیمت کا رہ جاتااتنی قیمت مال مسجد سے اسے دیں گےاگر فی الحال اس درخت یا اس عملہ کی قیمت مسجد کے پاس نہیں تو یہ یا اور کوئی زمین متعلق مسجد یا دیگر اسباب مسجد کرایہ پر چلاکر اس کرایہ سے قیمت ادا کرینگے اس کےلئے اگر برس درکار ہوں اسے تقاضے کا اختیار نہیں کہ ظلم اس کی طرف سے ہےیہ سب اس حال میں ہے کہ وہ عمارت اس شخص کی ٹھہرے یعنی متولی تھا تو بناتے وقت گواہ کرلئے تھے کہ اپنے لئے بناتاہوں یا غیر تھا تو یہ اقرار نہ کیا کہ مسجد کے لئے بناتا ہوں ورنہ وہ عمارت خود ہی ملك وقف ہے اور یہ جو ہم نے قیمت لگانے میں اکھڑے ہوئے عملہ کا لحاظ کرنا کہا اس بنا پر ہے کہ غالبا بعد انہدام عملہ کی قیمت گھٹ جاتی ہےاور اگر حالت موجودہ ہی قیمت حالت ہدم سے کم ہوتو یہی کم لازم آئیگی۔عقود الدریہ جلد اول ص۱۵۶:
اذاثبت کونہ وقفا وجبت الاجرۃ لہ فی تلك المدۃ لان منافع الوقف مضمونۃ علی المفتی بہ ۔
جب اس کا وقف ہونا ثابت ہوگیا تو اس کی اجرت واجب ہے کیونکہ مفتی بہ قول کے مطابق منافع وقف پر ضمان لازم ہوتا ہے(ت)
اشباہ والنظائر مع الغمز صفحہ۳۰۰:
من ھدم حائط غیرہ یضمن نقصانھا ولایؤمر بعمارتھا الافی حائط المسجد کما فی کراھۃ الخانیۃ ۔
جس نے غیر کی دیوار گرادی اس کے نقصان کا ضامن ہوگا مگر اس کی تعمیر کا حکم اس کو نہیں دیاجائے گا سوائے دیوار مسجد(کہ اس کی تعمیر کا حکم دیا جائیگا)جیسا کہ خانیہ میں کتاب الکراہۃ میں ہے(ت)
ردالمحتار جلد پنجم ص۱۷۶:
فی شرح البیری اما الوقف فقد قال فی الذخیرۃ اذاغصب الدار
شرح بیری میں ہے لیکن وقف تو اس کے بارے میں ذخیرہ میں فرمایا کہ اگر کسی نے وقف شدہ گھر
اذاثبت کونہ وقفا وجبت الاجرۃ لہ فی تلك المدۃ لان منافع الوقف مضمونۃ علی المفتی بہ ۔
جب اس کا وقف ہونا ثابت ہوگیا تو اس کی اجرت واجب ہے کیونکہ مفتی بہ قول کے مطابق منافع وقف پر ضمان لازم ہوتا ہے(ت)
اشباہ والنظائر مع الغمز صفحہ۳۰۰:
من ھدم حائط غیرہ یضمن نقصانھا ولایؤمر بعمارتھا الافی حائط المسجد کما فی کراھۃ الخانیۃ ۔
جس نے غیر کی دیوار گرادی اس کے نقصان کا ضامن ہوگا مگر اس کی تعمیر کا حکم اس کو نہیں دیاجائے گا سوائے دیوار مسجد(کہ اس کی تعمیر کا حکم دیا جائیگا)جیسا کہ خانیہ میں کتاب الکراہۃ میں ہے(ت)
ردالمحتار جلد پنجم ص۱۷۶:
فی شرح البیری اما الوقف فقد قال فی الذخیرۃ اذاغصب الدار
شرح بیری میں ہے لیکن وقف تو اس کے بارے میں ذخیرہ میں فرمایا کہ اگر کسی نے وقف شدہ گھر
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثانی ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۷۹
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الغصب ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۹۷
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الغصب ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۹۷
الموقوفۃ فھدم بناء الدار للقیم ان یضمنہ قیمہ البناء اذا لم یقدر الغاصب علی ردھا ویضمن قیمۃ البناء مبنیالان الغصب وردھکذااھ ومقتضاہ انہ اذاامکنہ ردالبناء کما کان وجب ولم یفصل فیہ بین المسجد وغیرہ من الوقفولذاقال البیری فیما سبق وھذا فی غیرالوقف وفی فتاوی قاری الھدایۃ استاجر دارا وقفا فھدمھا وجعلھا طاحوناالزم بھدمہ واعادتہ الی الصفۃ الاولی اھ فظھران لافرق بین المسجد وغیرہ من الوقف بخلاف الملك اھ مختصرا ۔ غصب کیا اور اس کی دیوار گرادی تو ناظر وقف کو اختیار ہے کہ وہ اس کو عمارت کی قیمت کا ضامن ٹھہرائے اگر غاصب اس کی تعمیر پر قادر نہ ہو اور تعمیر شدہ عمارت کی قیمت کاضامن ٹھہرایا جائے گا کیونمکہ غصب اسی پر واقع ہوا اھ اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ جب غاصب سابقہ حالت پر عمارت بنانے پر قادر ہو تو ایسا کرنا واجب ہے اور اس حکم میں مسجد اور دوسرے وقف میں کوئی فرق نہیں اسی واسطے بیری نے ماقبل میں کہا کہ یہ غیر وقف کا حکم ہےفتاوی قاری الہدایہ میں ہے کہ ایك شخص نے وقفی گھر کرایہ پر لیا اور اس کو گراکر آٹا پیسنے کی چکی بنالی تو اس پر لازم قرار دیا جائے گا کہ وہ چکی کو گراکر مکان کو پہلی حالت پر لوٹائے اھ تو ظاہر ہوا کہ اس حکم میں کوئی فرق نہیں ہوگا چاہے وقف بصورت مسجد ہویا غیر مسجد بخلاف ملك کے اھ اختصارا(ت)
عقودالدریہ جلد ۱ص۱۵۹:
غصب ارض وقف وزاد فیہا زیادۃ من عند نفسہ وان کانت شیئا لیس بمال ولالہ حکم المال تو خذمنہ بلاشیئان کانت مالا قائما نحوالغراس والبناء امرالقاضی الغاصب برفعہ وقلعہالااذاکان یضر بالوقف فانہ یمنع عنہ لوارادان یفعل ویضمن کسی نے وقف کا احاطہ غصب کرکے اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کردیااگر تو وہ اضافہ مال یا حکم مال کے قبیلہ سے نہیں تو بلاعوض اس سے واپس لیا جائے گا اور اگر وہ اضافہ ایسا مال ہے جو زمین کے ساتھ قائم ہے جیسے درخت اور عمارت تو قاضی غاصب کو حکم دے گا کہ وہ اس کو اکھاڑے جبکہ اکھاڑنے سے وقف کو نقصان نہ پہنچتا ہو اور اگر نقصان پہنچتا ہے تو پھر اس کوکھاڑنے سے روکا
عقودالدریہ جلد ۱ص۱۵۹:
غصب ارض وقف وزاد فیہا زیادۃ من عند نفسہ وان کانت شیئا لیس بمال ولالہ حکم المال تو خذمنہ بلاشیئان کانت مالا قائما نحوالغراس والبناء امرالقاضی الغاصب برفعہ وقلعہالااذاکان یضر بالوقف فانہ یمنع عنہ لوارادان یفعل ویضمن کسی نے وقف کا احاطہ غصب کرکے اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کردیااگر تو وہ اضافہ مال یا حکم مال کے قبیلہ سے نہیں تو بلاعوض اس سے واپس لیا جائے گا اور اگر وہ اضافہ ایسا مال ہے جو زمین کے ساتھ قائم ہے جیسے درخت اور عمارت تو قاضی غاصب کو حکم دے گا کہ وہ اس کو اکھاڑے جبکہ اکھاڑنے سے وقف کو نقصان نہ پہنچتا ہو اور اگر نقصان پہنچتا ہے تو پھر اس کوکھاڑنے سے روکا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۱۵€
القیم اوالقاضی قیمۃ ذلك من غلۃ الواقف ان کانت والا یؤاجر الوقف ویؤتی من اجرتہ عمادیۃ ومثلہ فی الفصولین من ۱۳ جائیگا اگر وہ اکھاڑنے کا ارادہ کرےاور متولی یا قاضی اس اضافے کی قیمت کے ضامن ہوں گے اگر وقف کی کوئی آمدنی ہے تو اس سے ضمان دیں گے ورنہ وقف کوکرایہ پردے کر اس کی اجرت سے ضمان ادا کرینگےعمادیہ۔اور اسی کی مثل فصولین میں ہے(ت)
(۵)جبکہ امام التزام امامت نہیں کرتا کبھی وقت بے وقت آجاتاہے اور حرف بھی صاف مسموع نہیں ہوتےاور مسائل کابیان ہے کہ وہ دیندار متقی بھی نہیںتو نہ خدمت پوری کرتا ہے نہ خدمت کے مناسب ہےضرور مستحق معزولی ہےبلکہ دوامراخیراگر نہ بھی ہوتے توصرف پہلی بات اسے تنخواہ مقرر لینا اور مال مسجد سے دینا دونوں کے حرام کرنے کو کافی ہے
درمختار کتاب الوقف فروع فصل نہر الفائق سے:
فیجب علیہ خدمۃ وظیفۃ اوترکھا لمن یعمل والا اثم ۔ اپنے وظیفہ کی خدمت کرنا اس پر واجب ہے یا اس شخص کے لئے چھوڑ دے جو یہ خدمت کرے ورنہ گنہگار ہوگا۔(ت)
جتنی مدتوں وہ کبھی کبھی آیا اور تنخواہ پوری دی گئی حساب کرکے اوقات حاضری کی تنخواہ مجرا کرنا لازم ہےاس پر فرض ہے کہ واپس دےاور متولی پر فرض ہے کہ واپس لے۔فتاوی خیریہ جلد ۱صفحہ ۱۷۳:
سئل فی رجل بیدہ وظیفۃ امامۃ علی مسجد کل یوم بعثمانی وقد تناول جمیع المعلوم من قیم الوقف والحال انہ کان ام فی بعض الاوقات دون بعض فھل لایستحق المعلوم الابمقدار ماباشر والباقی یرجع علیہ بہ ویکون موفرالجھۃ الوقف اجاب الذی تحصل من کلام البحر ان مقتضی کلام الخصاف انہ لایستحق الابمقدار ایك شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس کے ہاتھ میں کسی مسجد کی امامت کا وظیفہ تھا بحساب ایك عثمانی(روپیہ)یومیہ اور اس نے متولی سے تمام تنخواہ اکٹھی وصول کرلی جبکہ صورت حال یہ ہے کہ وہ بعض اوقات امامت کراتا رہا اور بعض اوقات غیر حاضر رہتا تو کیا وہ صرف انہی دنوں کی تنخواہ کا مستحق ہے جن میں اس نے امامت کرائی اور باقی دنوں کی تنخواہ متولی اس سے واپس لے گا اور اس طرح وہ جہت وقف کا پورا حق اداکرنے والا ہوگاتو جواب دیا کہ کلام بحر سے جو حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ خصاف کے کلام کا تقاضا
(۵)جبکہ امام التزام امامت نہیں کرتا کبھی وقت بے وقت آجاتاہے اور حرف بھی صاف مسموع نہیں ہوتےاور مسائل کابیان ہے کہ وہ دیندار متقی بھی نہیںتو نہ خدمت پوری کرتا ہے نہ خدمت کے مناسب ہےضرور مستحق معزولی ہےبلکہ دوامراخیراگر نہ بھی ہوتے توصرف پہلی بات اسے تنخواہ مقرر لینا اور مال مسجد سے دینا دونوں کے حرام کرنے کو کافی ہے
درمختار کتاب الوقف فروع فصل نہر الفائق سے:
فیجب علیہ خدمۃ وظیفۃ اوترکھا لمن یعمل والا اثم ۔ اپنے وظیفہ کی خدمت کرنا اس پر واجب ہے یا اس شخص کے لئے چھوڑ دے جو یہ خدمت کرے ورنہ گنہگار ہوگا۔(ت)
جتنی مدتوں وہ کبھی کبھی آیا اور تنخواہ پوری دی گئی حساب کرکے اوقات حاضری کی تنخواہ مجرا کرنا لازم ہےاس پر فرض ہے کہ واپس دےاور متولی پر فرض ہے کہ واپس لے۔فتاوی خیریہ جلد ۱صفحہ ۱۷۳:
سئل فی رجل بیدہ وظیفۃ امامۃ علی مسجد کل یوم بعثمانی وقد تناول جمیع المعلوم من قیم الوقف والحال انہ کان ام فی بعض الاوقات دون بعض فھل لایستحق المعلوم الابمقدار ماباشر والباقی یرجع علیہ بہ ویکون موفرالجھۃ الوقف اجاب الذی تحصل من کلام البحر ان مقتضی کلام الخصاف انہ لایستحق الابمقدار ایك شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس کے ہاتھ میں کسی مسجد کی امامت کا وظیفہ تھا بحساب ایك عثمانی(روپیہ)یومیہ اور اس نے متولی سے تمام تنخواہ اکٹھی وصول کرلی جبکہ صورت حال یہ ہے کہ وہ بعض اوقات امامت کراتا رہا اور بعض اوقات غیر حاضر رہتا تو کیا وہ صرف انہی دنوں کی تنخواہ کا مستحق ہے جن میں اس نے امامت کرائی اور باقی دنوں کی تنخواہ متولی اس سے واپس لے گا اور اس طرح وہ جہت وقف کا پورا حق اداکرنے والا ہوگاتو جواب دیا کہ کلام بحر سے جو حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ خصاف کے کلام کا تقاضا
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثانی ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۸۳۔۱۸۲€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰€
ماباشروبہ صرح ابن وھبان فی المسافر للحج اوصلۃ الرحم حیث قال لاینعزل ولایستحق المعلوم مدۃ سفرہ مع انھا فرضان ۔ یہی ہے کہ جن دنوں کی امامت اس نے کرائی صرف انہی دنوں کی اجرت کا مستحق ہے۔ابن وھبان نے اسی کی تصریح فرمائیحج یا صلہ رحمی کےلئے سفر میں جہاں انہوں نے فرمایا کہ وہ معزول نہ ہوگا اور نہ مدت سفر کی تنخواہ کا مستحق ہوگا باوجودیکہ یہ دونوں چیزیں فرض ہیں(ت)
بلکہ انصافا وہ متولی یا مہتمم کہ اس حالت پر اسے پوری تنخواہ دیتا رہا وہ بھی مستحق عزل ہے کہ بلا استحقاق دینے سے مال مسجد پر متعدی ہے۔
(۶)حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جنبوامساجد کم صبیانکم ومجانینکم ورفع اصواتکم ۔رواہ ابن ماجۃ عن واثلۃ بن الاسقع وعبدالرزاق فی مصنفہ بسند امثل منہ عن معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہما۔ اپنی مسجدوں کو بچوں اور مجنونوں اور آوازیں بلند کرنے سے محفوظ رکھو۔(اس کو ابن ماجہ نے بروایت واثلہ بن اسقع رضی اﷲ تعالی عنہ اور اس سے زیادہ بہتر سند کے ساتھ امام عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں بروایت حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
اگر نجاست کا ظن غالب ہوتو انہیں مسجد میں آنے دینا حرام اور حالت محتمل ومشکوك ہوتو مکروہ۔اشباہ مع الغمز صفحہ ۳۸۰ودر مختار اواخر مکروھات الصلوۃ:
یحرم ادخال صبیان و مجانین حیث غلب تنجیسھم و الا فیکرہ ۔ اگر بچوں اور پاگلوں کے مسجد کو نجس کرنے کا گمان غالب ہوتو انہیں مسجد میں داخل کرنا حرام ورنہ مکروہ ہے۔(ت)
یونہی اگر بچے بلکہ بوڑھے بھی بے تمیزنامہذب ہوں غل مچائیںبے حرمتی کریںمسجد میں نہ آنے دئے جائیںدرمختار محل مذکور:
بلکہ انصافا وہ متولی یا مہتمم کہ اس حالت پر اسے پوری تنخواہ دیتا رہا وہ بھی مستحق عزل ہے کہ بلا استحقاق دینے سے مال مسجد پر متعدی ہے۔
(۶)حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جنبوامساجد کم صبیانکم ومجانینکم ورفع اصواتکم ۔رواہ ابن ماجۃ عن واثلۃ بن الاسقع وعبدالرزاق فی مصنفہ بسند امثل منہ عن معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہما۔ اپنی مسجدوں کو بچوں اور مجنونوں اور آوازیں بلند کرنے سے محفوظ رکھو۔(اس کو ابن ماجہ نے بروایت واثلہ بن اسقع رضی اﷲ تعالی عنہ اور اس سے زیادہ بہتر سند کے ساتھ امام عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں بروایت حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
اگر نجاست کا ظن غالب ہوتو انہیں مسجد میں آنے دینا حرام اور حالت محتمل ومشکوك ہوتو مکروہ۔اشباہ مع الغمز صفحہ ۳۸۰ودر مختار اواخر مکروھات الصلوۃ:
یحرم ادخال صبیان و مجانین حیث غلب تنجیسھم و الا فیکرہ ۔ اگر بچوں اور پاگلوں کے مسجد کو نجس کرنے کا گمان غالب ہوتو انہیں مسجد میں داخل کرنا حرام ورنہ مکروہ ہے۔(ت)
یونہی اگر بچے بلکہ بوڑھے بھی بے تمیزنامہذب ہوں غل مچائیںبے حرمتی کریںمسجد میں نہ آنے دئے جائیںدرمختار محل مذکور:
حوالہ / References
فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۸۸€
سنن ابن ماجہ ابواب المساجد باب مایکرہ فی المساجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵€
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳€
سنن ابن ماجہ ابواب المساجد باب مایکرہ فی المساجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵€
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳€
یحرم فیہ السوال ویکرہ الاعطاء و انشاد ضالۃ وشعرالامافیہ ذکر ورفع صوت بذکر الالمتفقھۃ ویمنع منہ کل مؤذولو بلسانہ ۔
مسجد میں سوال کرنا حرام اور سائل کو مسجد میں دینا مکروہ ہےاوراسی طرح گمشدہ چیز کا مسجد میں اعلان کرنا۔اور ایسے اشعار پڑھنا جن میں ذکر نہ ہواور فقہ کی تعلیم و تعلم کے علاوہ آواز بلند کرنا مکروہ ہےاور کل ایذا دینے والے کو مسجد سے منع کیا جائیگا اگرچہ زبان سے ایذا پہنچاتا ہو۔(ت)
اور اگر ایسے نہ ہوں تو انہیں مسجد میں غیر اوقات نماز میں پڑھانا مضائقہ نہیں رکھتا جب کہ معلم بلاتنخواہ محض لوجہ اللہ پڑھاتا ہو ورنہ ہر گز جائز نہیں اگرچہ جوان اور بوڑھے ہی پڑھیں کہ اب یہ اور پیشوں کی طرح دنیا کمانا ہے اور مسجد میں اس کی اجازت نہیں۔فتاوی عالمگیری جلد ۵ص۱۲۲:
لوجلس المعلم فی المسجد والوراق یکتب فان کان المعلم یعلم للحسبۃ والوراق یکتب لنفسہ فلاباس بہ لانہ قربۃ وان کان بالاجرۃ یکرہ الاان تقع لہما الضرورۃ کذافی محیط السرخسی ۔
اگر معلم مسجد میں بیٹھ کر تعلیم دیتا ہے اور کاتب مسجد میں بیٹھ کر لکھتا ہے اگر تو معلم ثواب کی نیت سے ایسا کرتا ہےاور کاتب اپنے لئے لکھتا ہے نہ کہ اجرت پر تو حرج نہیں کیونکہ یہ قربت وعبادت ہےاور اگر اجرت کےلئے ہے تو بلاضرورت ایسا کرنا مکروہ ہےامام سرخسی کی محیط میں بھی ایسا ہی ہے۔(ت)
اشباہ والنظائر صفحہ ۳۸۱:
تکرہ الصناعۃ فیہ من خیاطۃ وکتابۃ باجر و تعلیم صبیان باجر لا بغیرہ الالحفظ المسجد فی روایۃ ۔
مسجد میں سلائی یا کتابت کا پیشہ اجرت پر کرنا اور اجرت لے کر بچوں کو پڑھانا مکروہ ہے جبکہ بلااجرت ہوتو حرج نہیں۔ایك روایت میں ہے کہ حفاظت مسجد کیلئے بغیر اجرت پر بھی ایسا کرنے کی اجازت ہے(ت)
غمز العیون ص۳۸۱:
مسجد میں سوال کرنا حرام اور سائل کو مسجد میں دینا مکروہ ہےاوراسی طرح گمشدہ چیز کا مسجد میں اعلان کرنا۔اور ایسے اشعار پڑھنا جن میں ذکر نہ ہواور فقہ کی تعلیم و تعلم کے علاوہ آواز بلند کرنا مکروہ ہےاور کل ایذا دینے والے کو مسجد سے منع کیا جائیگا اگرچہ زبان سے ایذا پہنچاتا ہو۔(ت)
اور اگر ایسے نہ ہوں تو انہیں مسجد میں غیر اوقات نماز میں پڑھانا مضائقہ نہیں رکھتا جب کہ معلم بلاتنخواہ محض لوجہ اللہ پڑھاتا ہو ورنہ ہر گز جائز نہیں اگرچہ جوان اور بوڑھے ہی پڑھیں کہ اب یہ اور پیشوں کی طرح دنیا کمانا ہے اور مسجد میں اس کی اجازت نہیں۔فتاوی عالمگیری جلد ۵ص۱۲۲:
لوجلس المعلم فی المسجد والوراق یکتب فان کان المعلم یعلم للحسبۃ والوراق یکتب لنفسہ فلاباس بہ لانہ قربۃ وان کان بالاجرۃ یکرہ الاان تقع لہما الضرورۃ کذافی محیط السرخسی ۔
اگر معلم مسجد میں بیٹھ کر تعلیم دیتا ہے اور کاتب مسجد میں بیٹھ کر لکھتا ہے اگر تو معلم ثواب کی نیت سے ایسا کرتا ہےاور کاتب اپنے لئے لکھتا ہے نہ کہ اجرت پر تو حرج نہیں کیونکہ یہ قربت وعبادت ہےاور اگر اجرت کےلئے ہے تو بلاضرورت ایسا کرنا مکروہ ہےامام سرخسی کی محیط میں بھی ایسا ہی ہے۔(ت)
اشباہ والنظائر صفحہ ۳۸۱:
تکرہ الصناعۃ فیہ من خیاطۃ وکتابۃ باجر و تعلیم صبیان باجر لا بغیرہ الالحفظ المسجد فی روایۃ ۔
مسجد میں سلائی یا کتابت کا پیشہ اجرت پر کرنا اور اجرت لے کر بچوں کو پڑھانا مکروہ ہے جبکہ بلااجرت ہوتو حرج نہیں۔ایك روایت میں ہے کہ حفاظت مسجد کیلئے بغیر اجرت پر بھی ایسا کرنے کی اجازت ہے(ت)
غمز العیون ص۳۸۱:
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴۔۹۳
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۱
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۱
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی احکام المسجد ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۱
فی الفتح معلم الصبیان القران کالکاتب ان باجر لایجوز وحسبۃ لاباس بہ انتہیوفی شرح الجامع الصغیر للتمرتا شی لایجوز تعلیم الصبیان القران فی المسجد للمروی جنبوامجانینکم وصبیانکم مساجد کم انتہی وھو صریح فی عدم الجواز سواء کان باجر اولا اھ اقول: والتوفیق مااشرنا الیہ ان لو کانوا غیرما مونین علی المسجد لم یجز مطلقا و الاجاز حسبۃ لاباجر والدلیل علیہ استدلالہ بالحدیث وقد قرنوافیہ بالمجانین فالمراد فی الحدیث من لا یعقل اولایؤمن علیہ وفی فرع التمرتاشی غیر المأمونین خاصۃ اذمن لایعقل لایعلم واﷲ سبحنہ اعلم۔
قرآن کی تعلیم دینے والا کاتب کی طرح ہے اگر اجرت پر ہوتو ناجائز اور نیت ثواب سے ہوتو جائز ہے انتہیتمر تاشی کی شرح جامع صغیر میں ہے کہ بچوں کو مسجد میں تعلیم قرآن جائز نہیں کیونکہ مروی ہے کہ اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں اور پاگلوں سے محفوظ رکھو انتہییہ عدم جواز میں صریح ہے چاہے اجرت پر ہو یا بلا اجرت اھ اقول:(میں کہتا ہوں)کہ تطبیق جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا یہ ہے کہ اگر مسجد(کی طہارت واحترام)کے سلسلہ میں ان پر بھروسا نہیں تو مطلقاناجائز ہے ورنہ بنیت اجروثواب جائز اور اجرت پر ناجائز ہے اور اس پر دلیل اس حدیث سے استدلال ہے کہ اس میں بچوں کے ذکر کے ساتھ پاگلوں کا ذکر ہے لہذا حدیث میں بچوں سے مراد وہ ہیں جو بے عقل ہو یا ان پر(آداب مسجد کے سلسلہ میں)بھروسا نہ کیا جاسکتا ہو۔فرع تمر تاشی میں بطور خاص غیر مامون(بے بھروسا)کا ذکر ہے(نہ کہ بے عقل کا) کیونکہ جسے عقل نہیں وہ تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷۲: ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد تحصیل حسن پور مرسلہ اشرف علی خاں ۲۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
ایك شخص کے سپرد مسجد کی روشنی کا اہتمام ہے اور اس کو دوسرا شخص تیل کے لئے صرف دیتا ہے اب پہلے شخص نے جس کو روپیہ صرفہ کےلئے دیا جاتا ہے اس نے روشنی میں کمی کرکے یا زیادہ صرفہ لے کر اور کم صرف کیا اور کچھ دام بچا کر وہ اپنے ذاتی صرفہ میں لایااور اب وہ شخص جو اپنے صرفہ میں لایا ہے اس مقام سے چلا آیا اور دوسرے مقام پر موجود ہے اب اس کا خیال ہے کہ میں نے جو کچھ بچایاتھا اور صرف کیا وہ اداکردوں اور میرا یہ گناہ معاف ہوجائے تو اب اس کو کیاکرنا چاہئے آیا وہ اسی مسجد میں اسی تیل کو
قرآن کی تعلیم دینے والا کاتب کی طرح ہے اگر اجرت پر ہوتو ناجائز اور نیت ثواب سے ہوتو جائز ہے انتہیتمر تاشی کی شرح جامع صغیر میں ہے کہ بچوں کو مسجد میں تعلیم قرآن جائز نہیں کیونکہ مروی ہے کہ اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں اور پاگلوں سے محفوظ رکھو انتہییہ عدم جواز میں صریح ہے چاہے اجرت پر ہو یا بلا اجرت اھ اقول:(میں کہتا ہوں)کہ تطبیق جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا یہ ہے کہ اگر مسجد(کی طہارت واحترام)کے سلسلہ میں ان پر بھروسا نہیں تو مطلقاناجائز ہے ورنہ بنیت اجروثواب جائز اور اجرت پر ناجائز ہے اور اس پر دلیل اس حدیث سے استدلال ہے کہ اس میں بچوں کے ذکر کے ساتھ پاگلوں کا ذکر ہے لہذا حدیث میں بچوں سے مراد وہ ہیں جو بے عقل ہو یا ان پر(آداب مسجد کے سلسلہ میں)بھروسا نہ کیا جاسکتا ہو۔فرع تمر تاشی میں بطور خاص غیر مامون(بے بھروسا)کا ذکر ہے(نہ کہ بے عقل کا) کیونکہ جسے عقل نہیں وہ تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷۲: ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد تحصیل حسن پور مرسلہ اشرف علی خاں ۲۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
ایك شخص کے سپرد مسجد کی روشنی کا اہتمام ہے اور اس کو دوسرا شخص تیل کے لئے صرف دیتا ہے اب پہلے شخص نے جس کو روپیہ صرفہ کےلئے دیا جاتا ہے اس نے روشنی میں کمی کرکے یا زیادہ صرفہ لے کر اور کم صرف کیا اور کچھ دام بچا کر وہ اپنے ذاتی صرفہ میں لایااور اب وہ شخص جو اپنے صرفہ میں لایا ہے اس مقام سے چلا آیا اور دوسرے مقام پر موجود ہے اب اس کا خیال ہے کہ میں نے جو کچھ بچایاتھا اور صرف کیا وہ اداکردوں اور میرا یہ گناہ معاف ہوجائے تو اب اس کو کیاکرنا چاہئے آیا وہ اسی مسجد میں اسی تیل کو
حوالہ / References
غمز العیون البصائر الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۳۱
روشنی کے کام دے یا وہ دوسری مسجد میں جہاں وہ اب موجود ہے وہاں پر کسی مسجد شکستہ یا قلعی وغیرہ کیلئے دے دے جس سے اس کا گناہ معاف ہو۔
الجواب:
اس پر توبہ فرض ہے اور تاوان ادا کرنا فرض ہے جتنے دام اپنے صرف میں لایا تھا اگر یہ اس مسجد کا متولی تھا تو اسی مسجد کے تیل بتی میں صرف کرے دوسری مسجد میں صرف کر دینے سے بری الذمہ نہ ہوگااور اگر متولی نہ تھا تو جس نے اسے دام دئے تھےاسے واپس کرے کہ تمہارے دئے ہوئے داموں سے اتنا خرچ ہوا اور اتنا باقی رہا تھا کہ تمہیں دیتا ہوں
لانہ ان کان متولیا فقد تم التسلیم والا بقی علی ملك المعطی۔واﷲ تعالی اعلم۔
اس لئے کہ اگر وہ متولی ہے تو تسلیم تام ہوگئی ورنہ معطی کی ملك پر باقی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷۳: ازکانپور مدرسہ امدادالعلوم محلہ بانس منڈی مرسلہ شمس الہدی ۲۷ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عورت نے ایك مسجد تیار کرائی حالانکہ وہ اور اولاد سب اس کی سود ورشوت کھاتے ہیں اور قبل ان افعال ناجائز کے وہ مفلس تھے اور ۱۷۱۸ آدمی جو پرہیز گار ومتقی ہیں اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ مسجد حرام کے مال سے تیار کرائی گئی لیکن بانی مسجد اور اس کے دوچار متبع کہتے ہیں کہ حلال کے مال سے بنائی گئیبنا بران صورتوں کے چند مسلمانوں نے اتفاق ہوکر دوسرے محلہ میں ایك مسجد جدید بنائی ہے بناء علیہ کہ اس میں نماز نہیں ہوگیپس ان صورتوں میں کس میں نماز شرعاناجائزاگر ناجائز تو کون سی ناجائزاور کس میں شرعا بہتر اولیبینواتوجروا۔
الجواب:
اس بارے میں صاحب مال کا قول شرعا معتبر ہےاگر وہ کہے یہ مال مجھے وراثۃملا تھا یا میں نے قرض لے کر لگایا تو مانا جائے گا اور اس سے کوئی دلیل اس پر طلب نہ کی جائے گی کما نص علیہ فی العالمگیریۃ وغیرہا(جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)ان سترہ اٹھارہ کا کہنا اگر صرف اس بناء پر ہے کہ ان لوگوں کے پاس مال حرام ہے تو وہی لگایا ہوگا جب تو محض بے دلیل ہے ان کے پاس صرف مال حرام کب ہےسائل سود کھانا بتاتا ہے سود بلاشبہ حرام ہے مگر اس کیلئے اصل درکار ہے اصل نہ ہوگی تو سود کاہے پر لے گاسود کے حرام ہونے سے اصل کیوں حرام ہونے لگیاور بالفرض ان کے پاس صرف مال حرام ہی ہو تو کیا یہ لوگ شہادت دیں گے کہ انکے سامنے ان لوگوں نے
الجواب:
اس پر توبہ فرض ہے اور تاوان ادا کرنا فرض ہے جتنے دام اپنے صرف میں لایا تھا اگر یہ اس مسجد کا متولی تھا تو اسی مسجد کے تیل بتی میں صرف کرے دوسری مسجد میں صرف کر دینے سے بری الذمہ نہ ہوگااور اگر متولی نہ تھا تو جس نے اسے دام دئے تھےاسے واپس کرے کہ تمہارے دئے ہوئے داموں سے اتنا خرچ ہوا اور اتنا باقی رہا تھا کہ تمہیں دیتا ہوں
لانہ ان کان متولیا فقد تم التسلیم والا بقی علی ملك المعطی۔واﷲ تعالی اعلم۔
اس لئے کہ اگر وہ متولی ہے تو تسلیم تام ہوگئی ورنہ معطی کی ملك پر باقی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۷۳: ازکانپور مدرسہ امدادالعلوم محلہ بانس منڈی مرسلہ شمس الہدی ۲۷ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عورت نے ایك مسجد تیار کرائی حالانکہ وہ اور اولاد سب اس کی سود ورشوت کھاتے ہیں اور قبل ان افعال ناجائز کے وہ مفلس تھے اور ۱۷۱۸ آدمی جو پرہیز گار ومتقی ہیں اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ مسجد حرام کے مال سے تیار کرائی گئی لیکن بانی مسجد اور اس کے دوچار متبع کہتے ہیں کہ حلال کے مال سے بنائی گئیبنا بران صورتوں کے چند مسلمانوں نے اتفاق ہوکر دوسرے محلہ میں ایك مسجد جدید بنائی ہے بناء علیہ کہ اس میں نماز نہیں ہوگیپس ان صورتوں میں کس میں نماز شرعاناجائزاگر ناجائز تو کون سی ناجائزاور کس میں شرعا بہتر اولیبینواتوجروا۔
الجواب:
اس بارے میں صاحب مال کا قول شرعا معتبر ہےاگر وہ کہے یہ مال مجھے وراثۃملا تھا یا میں نے قرض لے کر لگایا تو مانا جائے گا اور اس سے کوئی دلیل اس پر طلب نہ کی جائے گی کما نص علیہ فی العالمگیریۃ وغیرہا(جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)ان سترہ اٹھارہ کا کہنا اگر صرف اس بناء پر ہے کہ ان لوگوں کے پاس مال حرام ہے تو وہی لگایا ہوگا جب تو محض بے دلیل ہے ان کے پاس صرف مال حرام کب ہےسائل سود کھانا بتاتا ہے سود بلاشبہ حرام ہے مگر اس کیلئے اصل درکار ہے اصل نہ ہوگی تو سود کاہے پر لے گاسود کے حرام ہونے سے اصل کیوں حرام ہونے لگیاور بالفرض ان کے پاس صرف مال حرام ہی ہو تو کیا یہ لوگ شہادت دیں گے کہ انکے سامنے ان لوگوں نے
اپنا مال حرام بائعوں کو دکھایا اور ان سے کہا کہ ان روپوں کے عوض ہم کو اینٹ کڑی تختہ دے دو جب انہوں نے دی وہی زر حرام انہوں نے ثمن میں دے دیا اور اس طرح کا اینٹ کڑی تختہ خریداہوا مسجد میں لگایا یونہی مسجد کی زمین اپنا مال حرام بائع کو دکھا کر خاص اس کے عوض خریدی اور وہی ثمن میں دیا اور ایسی خریدی ہوئی زمین کو مسجد کیاان سترہ اٹھارہ میں ایك بھی ایسی شہادت نہ دے سکے گا اور جب اس طرح خریداری نہ ہوتو ان کا مال حرام سہی اینٹ کڑی تختہ زمین جو کچھ خریدا حلال تھا
کما حققہ فی الطریقۃ المحمدیۃ والحدیقۃ الندیۃ بل رجح فوق ذلك وقد بیناہ فی فتاونا۔
جیسا کہ طریقہ محمدیہ اور حدیقۃ ندیہ میں اس کی تحقیق (مصنف کتاب نے)فرمائی بلکہ اس کو ترجیح دی اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کو مفصل بیان کیا ہے۔(ت)
لہذا اس مسجد کا آباد کرنا مسلمانوں پر لازماور وہ دوسری مسجد جو اللہ عز وجل کےلئے بنائی وہ بھی مسجد ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۴: ازشہر مرسلہ حافظ چھٹن محلہ ذخیرہ ۲۰ربیع الثانی ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك ہندو کے مبلغ لعہ۹ روپیہ سود ہے ایك مسلمان پر چاہئے ہیں مسلمان روپیہ دینے سے انکار کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس روپیہ نہیں ہے وہ ضامن طلب کرتا ہے ضامن بھی نادہندہے کچھ مسلمانوں نے اس ہندو سے کہا کہ یہ روپیہ مسجد کے نام تو اگر کردے تو ہم وصول کرلیں گےلہذا یہ روپیہ مسجد میں جائز ہے یاناجائز
الجواب:
جبکہ اس میں سود بھی شامل ہے تو اتنا تو حرام قطعی ہے اور اگر پہلے یہ کچھ سود میں دے چکاہو تو اتنا اصل میں مجراہونا لازم ہے جتنا باقی رہا اتنا اگر وہ ہندو اپنی خوشی سے کسی مسلمان کو دے اور اسے وصول کرنے کااختیار دے تو اب وہ روپیہ اس مسلمان کا ہے اسے مسجد میں لگادینے میں کوئی حرج نہیں اور اگر وہ کسی مسلمان کونہ دے بلکہ یہی کہے کہ وہ وصول کرکے میری طرف سے مسجد میں لگادو تو نہ لیا جائے حدیث میں فرمایا:انی نھیت عن زبد المشرکین (مجھے مشرکوں کی داد ودہش سے منع کردیا گیا ہے۔ت)
کما حققہ فی الطریقۃ المحمدیۃ والحدیقۃ الندیۃ بل رجح فوق ذلك وقد بیناہ فی فتاونا۔
جیسا کہ طریقہ محمدیہ اور حدیقۃ ندیہ میں اس کی تحقیق (مصنف کتاب نے)فرمائی بلکہ اس کو ترجیح دی اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کو مفصل بیان کیا ہے۔(ت)
لہذا اس مسجد کا آباد کرنا مسلمانوں پر لازماور وہ دوسری مسجد جو اللہ عز وجل کےلئے بنائی وہ بھی مسجد ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۴: ازشہر مرسلہ حافظ چھٹن محلہ ذخیرہ ۲۰ربیع الثانی ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك ہندو کے مبلغ لعہ۹ روپیہ سود ہے ایك مسلمان پر چاہئے ہیں مسلمان روپیہ دینے سے انکار کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس روپیہ نہیں ہے وہ ضامن طلب کرتا ہے ضامن بھی نادہندہے کچھ مسلمانوں نے اس ہندو سے کہا کہ یہ روپیہ مسجد کے نام تو اگر کردے تو ہم وصول کرلیں گےلہذا یہ روپیہ مسجد میں جائز ہے یاناجائز
الجواب:
جبکہ اس میں سود بھی شامل ہے تو اتنا تو حرام قطعی ہے اور اگر پہلے یہ کچھ سود میں دے چکاہو تو اتنا اصل میں مجراہونا لازم ہے جتنا باقی رہا اتنا اگر وہ ہندو اپنی خوشی سے کسی مسلمان کو دے اور اسے وصول کرنے کااختیار دے تو اب وہ روپیہ اس مسلمان کا ہے اسے مسجد میں لگادینے میں کوئی حرج نہیں اور اگر وہ کسی مسلمان کونہ دے بلکہ یہی کہے کہ وہ وصول کرکے میری طرف سے مسجد میں لگادو تو نہ لیا جائے حدیث میں فرمایا:انی نھیت عن زبد المشرکین (مجھے مشرکوں کی داد ودہش سے منع کردیا گیا ہے۔ت)
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب السیر باب ماجاء فی قبول ہدایا المشرکین امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۹۱
نیز فرمایا:انا لا نستعین بمشرک (بیشك ہم کسی مشرك سے مدد طلب نہیں کرتے۔ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵: ازموضع سرنیا ضلع بریلی مرسلہ شیخ امیر علی صاحب قادری رضوی ۲۹ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
کنواں سر راہ ہے اس سے سب قوم پانی پیتی ہےہندومسلمان۔اور مسجد بھی قریب ہےمسجدکے خرچ میں اسی کنویں کا پانی آتا ہےاس وقت وہ کنواں مرمت کرنے کے لائق ہےاگر ہندو اس کی مرمت کرائے تو کچھ حرج ہے یانہیں
الجواب:سائل نے بیان کیا کہ وہ کنواں مسجد کا نہیںنہ وہاں کوئی آبادی ہےمسافر لوگ مسجد میں نماز پڑھتےکنواں راہ گیروں کے لئے ہےہندو اس کی مرمت کرانا چاہتا ہے کرائےجبکہ وہ اس کی وجہ سے کوئی استحقاق اپنا ایسا نہ کرے کہ وضو وغسل میں مزاحم ہوسکے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۶: ازسہسرام ضلع گیامرسلہ حکیم سراج الدین احمدصاحب ۳جمادی الآخرہ۱۳۳۶ھ
فر ق درمیان فضائل مسجد ومدارس کے کیاہیںحضور آقائے نامدار رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بھی کوئی مدرسہ تعمیر کیا تھا یانہیں
الجواب:
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کوئی مدرسہ تعمیر نہ فرمایانہ صدر اول میں کوئی عمارت بنام مدرسہ بنانے کا دستور تھا۔ان کی مساجد ان کی مجالس یہی مدارس ہوتی تھیں۔ہاں تعلیم علم دین ضرور فرض ہے اسی لئے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوتی ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما بعثت معلما ۔
وقال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم انما حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے معلم بناکربھیجا گیا۔(ت)
حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:میں
مسئلہ ۲۷۵: ازموضع سرنیا ضلع بریلی مرسلہ شیخ امیر علی صاحب قادری رضوی ۲۹ربیع الآخر۱۳۳۶ھ
کنواں سر راہ ہے اس سے سب قوم پانی پیتی ہےہندومسلمان۔اور مسجد بھی قریب ہےمسجدکے خرچ میں اسی کنویں کا پانی آتا ہےاس وقت وہ کنواں مرمت کرنے کے لائق ہےاگر ہندو اس کی مرمت کرائے تو کچھ حرج ہے یانہیں
الجواب:سائل نے بیان کیا کہ وہ کنواں مسجد کا نہیںنہ وہاں کوئی آبادی ہےمسافر لوگ مسجد میں نماز پڑھتےکنواں راہ گیروں کے لئے ہےہندو اس کی مرمت کرانا چاہتا ہے کرائےجبکہ وہ اس کی وجہ سے کوئی استحقاق اپنا ایسا نہ کرے کہ وضو وغسل میں مزاحم ہوسکے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۶: ازسہسرام ضلع گیامرسلہ حکیم سراج الدین احمدصاحب ۳جمادی الآخرہ۱۳۳۶ھ
فر ق درمیان فضائل مسجد ومدارس کے کیاہیںحضور آقائے نامدار رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بھی کوئی مدرسہ تعمیر کیا تھا یانہیں
الجواب:
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کوئی مدرسہ تعمیر نہ فرمایانہ صدر اول میں کوئی عمارت بنام مدرسہ بنانے کا دستور تھا۔ان کی مساجد ان کی مجالس یہی مدارس ہوتی تھیں۔ہاں تعلیم علم دین ضرور فرض ہے اسی لئے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوتی ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما بعثت معلما ۔
وقال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم انما حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:مجھے معلم بناکربھیجا گیا۔(ت)
حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:میں
حوالہ / References
سنن ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی المشرک یسہم لہ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹،€سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸،€المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجہاد باب فی الاستعانۃ بالمشرکین ادارۃ القرآن ∞کراچی۱۲/ ۳۹۵€
سنن ابن ماجہ باب فضل العلماء الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰€
سنن ابن ماجہ باب فضل العلماء الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰€
انالکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم ۔
وقال عزوجل" ویعلمہم الکتب والحکمۃ" ۔ تمہارے لئے بمنزلہ والدکے ہوں تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ (ت)
اﷲ عزوجل نے فرمایاکہ وہ(نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ان لوگوں کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔(ت)
مساجد کی تعمیر واجب ہے اور مدرسہ کے نام سے کسی عمارت کا بنانا واجب نہیںہاں تعلیم علم دین واجب ہے اورمدرسہ بنانا بدعت مستحبہ تعمیر مسجد کی فضیلت بیشمار ہےنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من بنی ﷲ مسجدا بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ وفی روایۃ من درویاقوت ۔ جو اﷲ عزوجل کے لئے مسجد بنائے اس کے لئے اﷲعزوجل جنت میں موتیوں اور یاقوت کا گھر بنائے۔
مسئلہ ۲۷۷: ازویجیا نگرم ضلع وزیگا پٹم مرسلہ حاجی علی محمد عثمان ۲۰ جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
یہاں کی جامع مسجد میں اندر کے طاقوں والے ستونوں پر یہ تاریخ لکھی ہے:
از حکم مہاراج عالی لقب محمد علی حاجی خوش لقب باحداث مسجد سعی نمودکزاں مومناں راشدہ صد طرب بتاریخ اوگشت الہام حقکہ واسجد بدرگاہ رب واقتربزلطف خداوند حی وصمنمحمد ابراہیم خوئے لقب بتعمیر مسجد چوں بنمود عزم دوبارہ پئے قرب درگاہ رب۔پے تاریخ آمد بگوش۱۲۴۲نگرحکم رب واسجدواقترب۔ مہاراج بلند لقب کے حکم سے اچھے لقب والے حاجی محمد علی نے مسجد بنانے کی کوشش کی جس سے مومنوں کو سیکڑوں خوشیاں حاصل ہوئیںاس کی تاریخ کے بارے میں حق تعالی کی طرف سے یوں الہام ہوا کہ واسجد بدرگاہ واقترب(پروردگار کی بارگاہ میں سجدہ کر اور قرب حاصل کر)زندہ وبے نیاز خدا وند قدوس کی مہربانی سے پروردگار کا قرب حاصل کرنے کی خاطر محمد ابراہیم خوئے لقب نے دوبارہ مسجدکی تعمیر کا عزم کیا تو اس کی تاریخ کےلئے یہ صداکان میں آئی کہ نگر حکم رب واسجد اقترب(پروردگار کایہ حکم دیکھ کر سجدہ کر اور قریب ہوجا)۔(ت)
وقال عزوجل" ویعلمہم الکتب والحکمۃ" ۔ تمہارے لئے بمنزلہ والدکے ہوں تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ (ت)
اﷲ عزوجل نے فرمایاکہ وہ(نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)ان لوگوں کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔(ت)
مساجد کی تعمیر واجب ہے اور مدرسہ کے نام سے کسی عمارت کا بنانا واجب نہیںہاں تعلیم علم دین واجب ہے اورمدرسہ بنانا بدعت مستحبہ تعمیر مسجد کی فضیلت بیشمار ہےنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من بنی ﷲ مسجدا بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ وفی روایۃ من درویاقوت ۔ جو اﷲ عزوجل کے لئے مسجد بنائے اس کے لئے اﷲعزوجل جنت میں موتیوں اور یاقوت کا گھر بنائے۔
مسئلہ ۲۷۷: ازویجیا نگرم ضلع وزیگا پٹم مرسلہ حاجی علی محمد عثمان ۲۰ جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
یہاں کی جامع مسجد میں اندر کے طاقوں والے ستونوں پر یہ تاریخ لکھی ہے:
از حکم مہاراج عالی لقب محمد علی حاجی خوش لقب باحداث مسجد سعی نمودکزاں مومناں راشدہ صد طرب بتاریخ اوگشت الہام حقکہ واسجد بدرگاہ رب واقتربزلطف خداوند حی وصمنمحمد ابراہیم خوئے لقب بتعمیر مسجد چوں بنمود عزم دوبارہ پئے قرب درگاہ رب۔پے تاریخ آمد بگوش۱۲۴۲نگرحکم رب واسجدواقترب۔ مہاراج بلند لقب کے حکم سے اچھے لقب والے حاجی محمد علی نے مسجد بنانے کی کوشش کی جس سے مومنوں کو سیکڑوں خوشیاں حاصل ہوئیںاس کی تاریخ کے بارے میں حق تعالی کی طرف سے یوں الہام ہوا کہ واسجد بدرگاہ واقترب(پروردگار کی بارگاہ میں سجدہ کر اور قرب حاصل کر)زندہ وبے نیاز خدا وند قدوس کی مہربانی سے پروردگار کا قرب حاصل کرنے کی خاطر محمد ابراہیم خوئے لقب نے دوبارہ مسجدکی تعمیر کا عزم کیا تو اس کی تاریخ کےلئے یہ صداکان میں آئی کہ نگر حکم رب واسجد اقترب(پروردگار کایہ حکم دیکھ کر سجدہ کر اور قریب ہوجا)۔(ت)
حوالہ / References
سنن ابوداؤد کتاب الطہارۃ باب کراہیۃ استقبال القبلۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۲۹€
سنن ابن ماجہ ابواب المساجد باب من بنی ﷲ مسجداً ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۵۴،€مسند احمد بن حنبل مروی از مسند عبداﷲ بن عباس دارالفکر بیروت ∞۱/ ۲۴۱€
المعجم الاوسط حدیث ۵۰۵۵ مکتبۃ المعارف الریاض ∞۶/ ۲۷€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۲۹€
سنن ابن ماجہ ابواب المساجد باب من بنی ﷲ مسجداً ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۵۴،€مسند احمد بن حنبل مروی از مسند عبداﷲ بن عباس دارالفکر بیروت ∞۱/ ۲۴۱€
المعجم الاوسط حدیث ۵۰۵۵ مکتبۃ المعارف الریاض ∞۶/ ۲۷€
حقیقات سے معلوم ہوا کہ پہلی مرتبہ اس مسجد کی بنا حاجی محمد علی نے یہاں کے ہند وراجہ کے حکم سے کی اور حاجی محمد علی شیعہ مذہب کا تھابعد میں اس مسجد کوگراکر دوسری مرتبہ اسی جگہ پر سنی مسلمانوں نے چندہ کرکے پھر نئے سرے سے تعمیر کی گئی جس چندہ میں زیادہ حصہ محمدابراہیم خوئے لقب نے لیا جو شیعی مذہب کا ہے جس کا نام تاریخ میں لکھا ہے مگر اس مسجد میں شیعوں کا تصرف کسی قسم کا ہے نہ ان میں سے کوئی نماز کوآتا ہےامام مؤذن کی تنخواہیں راجہ کے خزانہ سے ملتی ہیں جن سے مسجد کے چراغ بتی بھی ہوتیاب ان کے احکام بیان فرمائیں کہ اس مسجد میں نماز ہوسکتی ہے یانہیںیہ مسجد مسجد جامع کاحکم رکھتی ہے یانہیں ہندو راجہ کے پیسہ سے مسجد کے چراغ بتی کا کیاحکم ہے
الجواب:
نماز اس میں ہوسکتی ہے تواصلا یہ محل اشتباہ نہیں۔نماز ہر پاك جگہ ہوسکتی ہے جہاں کوئی ممانعت شرعی نہ اگرچہ کسی کا مکان یا افتادہ زمین ہو۔رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جعلت لی الارض مسجداو طھورا فا ما رجل من امتی ادرکتہ الصلوۃ فلیصل ۔
میرے لئے زمین کو جائے نماز اور پاك کرنے والی بنایا گیا ہے لہذا میری امت میں سے کسی شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو اس کو وہاں ہی نماز پڑھ لینی چاہئے۔(ت)
اور جب وہ تقریبا سوبرس سے مسجد کہلاتیمسجد سمجھی جاتی ہے اس میں جمعہ وجماعت واذان ہوتی ہے اس کے لئے امام ومؤذن مقرر ہیں تو اب اسے مسجد سمجھنے میں شبہ پیداکرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ہندوراجہ کے حکم سے بننا اس کو مستلزم نہیں کہ اس کی مملوك زمین میں اسی کی ملك پر بنی ہے کہ مسجد نہ ہو سکے بلکہ غالب یہی ہے کہ شہر کی زمین پر جس کا کوئی شخص مالك نہیں ہوتا ہے اور والیان ملك اس میں بطور خودتصرف کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں دیتے ہیں جو چاہتے ہیں بنواتے ہیں ایسی زمین پر باجازت راجہ بنیملك کی غیر مملوکہ زمین اللہ عز وجل کی ملك ہوتی ہےبیت المال کی کہلاتی ہےراجہ ا س کا مالك نہیں ہوتارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں: عادی الارض ﷲ ولرسولہ (زمین اﷲ تعالی اور رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ملك ہوتی ہے۔ت) اور رافضی کے اہتمام سے بننا بھی اس کے مسجد ہونے میں مخل نہیںاگر اس کا رفض حد کفر تك
الجواب:
نماز اس میں ہوسکتی ہے تواصلا یہ محل اشتباہ نہیں۔نماز ہر پاك جگہ ہوسکتی ہے جہاں کوئی ممانعت شرعی نہ اگرچہ کسی کا مکان یا افتادہ زمین ہو۔رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جعلت لی الارض مسجداو طھورا فا ما رجل من امتی ادرکتہ الصلوۃ فلیصل ۔
میرے لئے زمین کو جائے نماز اور پاك کرنے والی بنایا گیا ہے لہذا میری امت میں سے کسی شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو اس کو وہاں ہی نماز پڑھ لینی چاہئے۔(ت)
اور جب وہ تقریبا سوبرس سے مسجد کہلاتیمسجد سمجھی جاتی ہے اس میں جمعہ وجماعت واذان ہوتی ہے اس کے لئے امام ومؤذن مقرر ہیں تو اب اسے مسجد سمجھنے میں شبہ پیداکرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ہندوراجہ کے حکم سے بننا اس کو مستلزم نہیں کہ اس کی مملوك زمین میں اسی کی ملك پر بنی ہے کہ مسجد نہ ہو سکے بلکہ غالب یہی ہے کہ شہر کی زمین پر جس کا کوئی شخص مالك نہیں ہوتا ہے اور والیان ملك اس میں بطور خودتصرف کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں دیتے ہیں جو چاہتے ہیں بنواتے ہیں ایسی زمین پر باجازت راجہ بنیملك کی غیر مملوکہ زمین اللہ عز وجل کی ملك ہوتی ہےبیت المال کی کہلاتی ہےراجہ ا س کا مالك نہیں ہوتارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں: عادی الارض ﷲ ولرسولہ (زمین اﷲ تعالی اور رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ملك ہوتی ہے۔ت) اور رافضی کے اہتمام سے بننا بھی اس کے مسجد ہونے میں مخل نہیںاگر اس کا رفض حد کفر تك
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التیمم ۱/ ۴۸ وکتاب الصلوٰۃ ۱/۶۲ قدیمی کتب خانہ کراچی
السنن الکبرٰی احیاء الموات دارصادر بیروت ۶/ ۱۴۳
السنن الکبرٰی احیاء الموات دارصادر بیروت ۶/ ۱۴۳
نہ تھا جب توظاہرورنہ غایت یہ کہ اس کے مسجد کرنے سے مسجد نہ ہوئیمگر جب مسلمانوں نے اسے مسجد قرار دیا اس میں نمازیں مسجد سمجھ کر پڑھیں مسجد ہوگئی
فان الارض ان کانت لبیت المال فجاز جعلھم ایاھا مسجدا والبناء ان کان من مال المسلمین فبہا او من مال المرتد فاذا مات علی ارتدادہ فصارفیئا للمسلمین او من خزانۃ الوالی فالخزانۃ لبیت المال علی ان ماکان لکافر غیر ذمی ولا مستأمن وحصل للمسلمین بغیر عذر ونقض عھد صار لھم علی ان بیدنا دلیلا ظاہرا یثبت بہ الوقف شرعا وھی الشھرۃ فدعوی خلافہ یردھا الاحتمال کما بیناہ فی فتاونا بتوفیق اﷲ۔ زمین جبکہ بیت المال کی ہوتو مسلمانوں کے لئے جائز ہے کہ اسے مسجد بنادیںاور تعمیر اگر مسلمانوں کے مال سے ہو تو فبہایا تعمیر مرتد کے مال سے ہوئی اس کے ارتداد پر مرنے کے بعد اس کا مال مسلمانوں کےلئے فے ہوگیایا والی کے خزانہ سے تعمیر ہوئی تو خزانہ بیت المال کا ہےاس بنیاد پر غیر ذمی اور غیر مستامن کافر کا مال اگر بغیر دھوکا اور بدعہدی کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہوتو وہ انہیں کا ہو جاتا ہےعلاوہ ازیں ہمارے پاس جو دلیل ہے وہ ظاہر ہے جس سے شرعا وقف ثابت ہوجاتا ہے اور وہ دلیل شہرت ہے پس اس کے خلاف دعوی کے احتمال کو رد کردیتا ہے جیسا کہ ہم نے اﷲ تعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔(ت)
یہیں سے ظاہر ہوا کہ دوبارہ بنا میں کسی شیعی کا چندہ میں زیادہ حصہ لینا اس معنی پر ہے کہ تحصیل چندہ میں زیادہ کوشش کی جب توظاہراور اگر اسی معنی پر ہو کہ زیادہ چندہ اس نے خود اپنے مال سے دیا تو مسجدیت ثابت ہوکر قیامت تك زائل نہیں ہوسکتی
الاتری ان لوانھدم مسجد فاعادبنائہ کافر بمالہ لم یخرج عن المسجدیۃ وان لم یقبل بناء ہ لکونہ غیر اھل للوقف علی المسجد ھذااذالم یکن مرتدا اما ھو فیتوقف الامر علی ان یسلم فیصح کما فی رد المحتارعن البحر کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر کوئی مسجد گرجائے اور اس کی عمارت کسی کافر نے دوبارہ اپنے مال سے بنادی تو وہ مسجدیت سے خارج نہ ہوئی اگرچہ کافر کا مسجد کو تعمیر کرنا مقبول نہیں کیونکہ وہ مسجد پر وقف کا اہل نہیںیہ اس صورت میں ہے کہ کافر غیر مرتد ہواور اگر مرتد ہوتو یہ معاملہ موقوف رہے گا حتی کہ وہ مسلمان ہوجائے تو صحیح ہوجائے گا جیسا کہ بحر سے ردالمحتار میں ہے
فان الارض ان کانت لبیت المال فجاز جعلھم ایاھا مسجدا والبناء ان کان من مال المسلمین فبہا او من مال المرتد فاذا مات علی ارتدادہ فصارفیئا للمسلمین او من خزانۃ الوالی فالخزانۃ لبیت المال علی ان ماکان لکافر غیر ذمی ولا مستأمن وحصل للمسلمین بغیر عذر ونقض عھد صار لھم علی ان بیدنا دلیلا ظاہرا یثبت بہ الوقف شرعا وھی الشھرۃ فدعوی خلافہ یردھا الاحتمال کما بیناہ فی فتاونا بتوفیق اﷲ۔ زمین جبکہ بیت المال کی ہوتو مسلمانوں کے لئے جائز ہے کہ اسے مسجد بنادیںاور تعمیر اگر مسلمانوں کے مال سے ہو تو فبہایا تعمیر مرتد کے مال سے ہوئی اس کے ارتداد پر مرنے کے بعد اس کا مال مسلمانوں کےلئے فے ہوگیایا والی کے خزانہ سے تعمیر ہوئی تو خزانہ بیت المال کا ہےاس بنیاد پر غیر ذمی اور غیر مستامن کافر کا مال اگر بغیر دھوکا اور بدعہدی کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہوتو وہ انہیں کا ہو جاتا ہےعلاوہ ازیں ہمارے پاس جو دلیل ہے وہ ظاہر ہے جس سے شرعا وقف ثابت ہوجاتا ہے اور وہ دلیل شہرت ہے پس اس کے خلاف دعوی کے احتمال کو رد کردیتا ہے جیسا کہ ہم نے اﷲ تعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔(ت)
یہیں سے ظاہر ہوا کہ دوبارہ بنا میں کسی شیعی کا چندہ میں زیادہ حصہ لینا اس معنی پر ہے کہ تحصیل چندہ میں زیادہ کوشش کی جب توظاہراور اگر اسی معنی پر ہو کہ زیادہ چندہ اس نے خود اپنے مال سے دیا تو مسجدیت ثابت ہوکر قیامت تك زائل نہیں ہوسکتی
الاتری ان لوانھدم مسجد فاعادبنائہ کافر بمالہ لم یخرج عن المسجدیۃ وان لم یقبل بناء ہ لکونہ غیر اھل للوقف علی المسجد ھذااذالم یکن مرتدا اما ھو فیتوقف الامر علی ان یسلم فیصح کما فی رد المحتارعن البحر کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر کوئی مسجد گرجائے اور اس کی عمارت کسی کافر نے دوبارہ اپنے مال سے بنادی تو وہ مسجدیت سے خارج نہ ہوئی اگرچہ کافر کا مسجد کو تعمیر کرنا مقبول نہیں کیونکہ وہ مسجد پر وقف کا اہل نہیںیہ اس صورت میں ہے کہ کافر غیر مرتد ہواور اگر مرتد ہوتو یہ معاملہ موقوف رہے گا حتی کہ وہ مسلمان ہوجائے تو صحیح ہوجائے گا جیسا کہ بحر سے ردالمحتار میں ہے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف مطلب فی وقف المرتد والکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۶۰€
اویموت علی ردتہ والعیاذ باﷲ فیعود فیئا للمسلمین۔ یا وہ حالت ارتداد پر مرجائےا ﷲ تعالی کی پناہ تو اب یہ مسلمانوں کے لئے مال غنیمت بن جائےگا(ت)
نامسلم کا عطیہ کہ اس کے اپنے مال سے ہو خصوصا اپنے اسلامی کام میں نہ لانا چاہئے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انی نھیت عن زبد المشرکین رواہ ابوداؤد و الترمذی عن عیاض بن حمار رضی اﷲتعالی عنہ وھو حدیث حسن صحیح۔ بیشك مجھے مشرکوں کے عطیہ سے منع کردیا گیا ہے۔(اس کو ابوداؤد اور ترمذی نے عیاض بن حمار رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیااور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انی لااقبل ھدیۃ مشرک ۔رواہ الطبرانی الکبیرعن کعب بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ بیشك میں مشرك کاہدیہ قبول نہیں کرتا۔(اسے طبرانی نے کبیر میں کعب بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا۔(ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انا لانقبل شیئامن المشرکین رواہ احمد والحاکم عن حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك ہم مشرکوں کی کوئی شے قبول نہیں کرتے۔(اسے احمد اور حاکم نے حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انا لانستعین بمشرک ۔رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ بیشك ہم مشرکوں سے مدد طلب نہیں کرتے۔(اس کو ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ت)
نامسلم کا عطیہ کہ اس کے اپنے مال سے ہو خصوصا اپنے اسلامی کام میں نہ لانا چاہئے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انی نھیت عن زبد المشرکین رواہ ابوداؤد و الترمذی عن عیاض بن حمار رضی اﷲتعالی عنہ وھو حدیث حسن صحیح۔ بیشك مجھے مشرکوں کے عطیہ سے منع کردیا گیا ہے۔(اس کو ابوداؤد اور ترمذی نے عیاض بن حمار رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیااور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انی لااقبل ھدیۃ مشرک ۔رواہ الطبرانی الکبیرعن کعب بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ بیشك میں مشرك کاہدیہ قبول نہیں کرتا۔(اسے طبرانی نے کبیر میں کعب بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا۔(ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انا لانقبل شیئامن المشرکین رواہ احمد والحاکم عن حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك ہم مشرکوں کی کوئی شے قبول نہیں کرتے۔(اسے احمد اور حاکم نے حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انا لانستعین بمشرک ۔رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ بیشك ہم مشرکوں سے مدد طلب نہیں کرتے۔(اس کو ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب السیر باب ماجاء فی قبول ہدایا المشرکین ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۹۱€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۳۸،۱۳۹€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۹/ ۷۰و۷۱€
مسند احمد بن حنبل مروی از حکیم بن حزام دارالفکر بیروت ∞۳/ ۴۰۳€
سنن ابوداؤد کتاب الجہا د باب فی المشرک یسہم لہ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹،€سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب ف الاستعانۃ بالمشرکین ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۳۸،۱۳۹€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۹/ ۷۰و۷۱€
مسند احمد بن حنبل مروی از حکیم بن حزام دارالفکر بیروت ∞۳/ ۴۰۳€
سنن ابوداؤد کتاب الجہا د باب فی المشرک یسہم لہ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹،€سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب ف الاستعانۃ بالمشرکین ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸€
او رحدیثیں جواز واجازت میں بھی ہیں اور توفیق بتوفیق اللہ تعالی ہمارے فتوی میں ہےمگر یہاں ضرور وہ خرچ خزانہ سے ملتا ہوگا نہ کہ راجہ کی جیب سےاور خزانہ والی ملك کی ذاتی ملکیت نہیں ہو تا تو اس کے لینے میں حرج نہیں جبکہ کسی مصلحت شرعیہ کا خلاف نہ ہوھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی(یہ وہ ہے جو میرے نزدیك ہے اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۷۸:از پوکھر ایرارائے پور ضلع مظفر پور محلہ نور الحلیم شاہ شریف آباد مرسلہ شریف الرحمن صاحب ۴شعبان ۱۳۳۶ھ
زید سندی عالم ہےمالدار ہےپانچ سات ہزار روپے کی مالیت رکھتا ہےچندہ یعنی مانگ کر مسجد بنواتا ہے۔شرعا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہےامور خیر کے لئے چندہ کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہےمالدار پر واجب نہیں کہ ساری مسجد اپنے مال سے بنائےامر خیر میں چندہ کی تحریك دلالت خیر ہے۔
ومن دل علی خیر فلہ مثل اجر فاعلہ ۔
جو کار خیر کی راہنمائی کرے اس کو بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کارخیر کرنے والے کو۔(ت)
مسئلہ۲۷۹تا۲۸۰: ازاجمیر شریف درگار مقدس مرسلہ نذیر احمد خان صاحب رامپور ی ۳رمضان ۱۳۳۶ھ
ایك وقفی جاگیر چند منتظمان کے سپرد کی گئی جس میں ایك شاہی مسجد اور اس کی جائداد بھی شامل ہےمنتظمان وقف خاص نے جائداد مسجد کی کافی آمدنی مجموعی سرمایہ وقف میں جمع کیا اور علاوہ اس مسجد کے جس کے لئے یہ جائداد وقف تھی دوسرے ابواب وقف میں صرف کردیا اور اس مسجد کو ویران رکھا۔امام مؤذن نماز اذان پنجگانہ کا انتظام کیا نہ پانی روشنی کا اہتمامحتی کہ مسجد کی ضروری مرمت و صفائی تك نہیں کرائی جاتی۔
اول: ایك وقف کی آمدنی باوجود اس کی ضروریات موجود ہونے کے غیر آباد رکھ کر دوسرے ابواب میں صرف کردینا جائز ہے یا نہیںاگر ناجائز ہے تو صرف شدہ مال مسجد کو ابواب مصروف فیہا(خواہ وقفی ہی ہوں)سے واپس لے کر اس مسجد میں صرف کرانے کا مسلمان کو حق حاصل
مسئلہ۲۷۸:از پوکھر ایرارائے پور ضلع مظفر پور محلہ نور الحلیم شاہ شریف آباد مرسلہ شریف الرحمن صاحب ۴شعبان ۱۳۳۶ھ
زید سندی عالم ہےمالدار ہےپانچ سات ہزار روپے کی مالیت رکھتا ہےچندہ یعنی مانگ کر مسجد بنواتا ہے۔شرعا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہےامور خیر کے لئے چندہ کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہےمالدار پر واجب نہیں کہ ساری مسجد اپنے مال سے بنائےامر خیر میں چندہ کی تحریك دلالت خیر ہے۔
ومن دل علی خیر فلہ مثل اجر فاعلہ ۔
جو کار خیر کی راہنمائی کرے اس کو بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کارخیر کرنے والے کو۔(ت)
مسئلہ۲۷۹تا۲۸۰: ازاجمیر شریف درگار مقدس مرسلہ نذیر احمد خان صاحب رامپور ی ۳رمضان ۱۳۳۶ھ
ایك وقفی جاگیر چند منتظمان کے سپرد کی گئی جس میں ایك شاہی مسجد اور اس کی جائداد بھی شامل ہےمنتظمان وقف خاص نے جائداد مسجد کی کافی آمدنی مجموعی سرمایہ وقف میں جمع کیا اور علاوہ اس مسجد کے جس کے لئے یہ جائداد وقف تھی دوسرے ابواب وقف میں صرف کردیا اور اس مسجد کو ویران رکھا۔امام مؤذن نماز اذان پنجگانہ کا انتظام کیا نہ پانی روشنی کا اہتمامحتی کہ مسجد کی ضروری مرمت و صفائی تك نہیں کرائی جاتی۔
اول: ایك وقف کی آمدنی باوجود اس کی ضروریات موجود ہونے کے غیر آباد رکھ کر دوسرے ابواب میں صرف کردینا جائز ہے یا نہیںاگر ناجائز ہے تو صرف شدہ مال مسجد کو ابواب مصروف فیہا(خواہ وقفی ہی ہوں)سے واپس لے کر اس مسجد میں صرف کرانے کا مسلمان کو حق حاصل
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب فضل اعانۃ الغازی فی سبیل اﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۳۷
ہے یانہیں
دوم: منتظمان وقف اس صورت میں شرعاکسی تعزیر وسزا کے مستوجب ہیں اور واجب العزل ہیں یانہیں
الجواب:
مسجد کی آمدنی دوسرے اوقاف میں صرف کرنا حرام ہے اگرچہ مسجد کو حاجت بھی نہ ہونہ کہ بحال حاجت کہ حرام حرام اشد حرام ہے۔مال مسجد اگر بعینہ موجود ہو واپس لیا جائے اگرچہ دوسرے وقف یا مسجد دیگر میں ہو اور جو صرف ہو گیا ان کا تا وان منتظمین پر لازم ہے ان سے وصول کیا جائے اور ان کا معزول کرنا واجب ہے کہ وہ غاصب وخائن ہیں اگر صورت مذکورہ واقعیہ ہے۔درمختار میں ہے:
اتحدالواقف والجھۃ وقل مرسوم بعض الموقوف علیہ جاز للحاکم ان یصرف من فاضل الوقف الاخر علیہ وان اختلف احدھما بان بنی رجلان مسجدین اورجل مسجدا ومدرسۃ ووقف علیہمااوقافا لایجوز لہ ذلک ۔
واقف وجہت وقف متحد ہو اور بعض موقوف علیہ کے مشاہر میں کمی واقع ہوجائےتو حاکم کو جائز ہے کہ دوسرے وقف کی فاضل آمدنی میں سے کچھ اس پر صر ف کرے اور اگر ان دونوں یعنی واقف وجہت میں سے کوئی ایك مختلف ہو جیسے دو شخصوں نے الگ الگ دو مسجدیں بنوائیں یا ایك ہی شخص نے ایك مسجد اور ایك مدرسہ بنوایا اور دونوں کے مصالح کےلئے الگ الگ اوقاف متعین کئے ہوں تو ایك کی آمدنی دوسرے پر خرچ کرنے کا اختیار حاکم کو نہیں۔(ت)
اس میں ہے:
ینزع وجوبا بزازیہ ولوالواقف درر فغیرہ بالاولی غیر مأمون ۔ واﷲتعالی اعلم۔
متولی سے وجوبا وقف واپس لیا جائیگا(بزازیہ)اگرچہ خود واقف ہو(درر)لہذا غیر واقف اگر متولی ہوتو بدرجہ اولی اس سے وقف واپس لیا جائیگا در انحالیکہ وہ امین نہ ہو(بلکہ خائن ہو)۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
دوم: منتظمان وقف اس صورت میں شرعاکسی تعزیر وسزا کے مستوجب ہیں اور واجب العزل ہیں یانہیں
الجواب:
مسجد کی آمدنی دوسرے اوقاف میں صرف کرنا حرام ہے اگرچہ مسجد کو حاجت بھی نہ ہونہ کہ بحال حاجت کہ حرام حرام اشد حرام ہے۔مال مسجد اگر بعینہ موجود ہو واپس لیا جائے اگرچہ دوسرے وقف یا مسجد دیگر میں ہو اور جو صرف ہو گیا ان کا تا وان منتظمین پر لازم ہے ان سے وصول کیا جائے اور ان کا معزول کرنا واجب ہے کہ وہ غاصب وخائن ہیں اگر صورت مذکورہ واقعیہ ہے۔درمختار میں ہے:
اتحدالواقف والجھۃ وقل مرسوم بعض الموقوف علیہ جاز للحاکم ان یصرف من فاضل الوقف الاخر علیہ وان اختلف احدھما بان بنی رجلان مسجدین اورجل مسجدا ومدرسۃ ووقف علیہمااوقافا لایجوز لہ ذلک ۔
واقف وجہت وقف متحد ہو اور بعض موقوف علیہ کے مشاہر میں کمی واقع ہوجائےتو حاکم کو جائز ہے کہ دوسرے وقف کی فاضل آمدنی میں سے کچھ اس پر صر ف کرے اور اگر ان دونوں یعنی واقف وجہت میں سے کوئی ایك مختلف ہو جیسے دو شخصوں نے الگ الگ دو مسجدیں بنوائیں یا ایك ہی شخص نے ایك مسجد اور ایك مدرسہ بنوایا اور دونوں کے مصالح کےلئے الگ الگ اوقاف متعین کئے ہوں تو ایك کی آمدنی دوسرے پر خرچ کرنے کا اختیار حاکم کو نہیں۔(ت)
اس میں ہے:
ینزع وجوبا بزازیہ ولوالواقف درر فغیرہ بالاولی غیر مأمون ۔ واﷲتعالی اعلم۔
متولی سے وجوبا وقف واپس لیا جائیگا(بزازیہ)اگرچہ خود واقف ہو(درر)لہذا غیر واقف اگر متولی ہوتو بدرجہ اولی اس سے وقف واپس لیا جائیگا در انحالیکہ وہ امین نہ ہو(بلکہ خائن ہو)۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۰
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸۳
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸۳
مسئلہ۲۸۱: مسئولہ آفتاب الدین ازمدرسہ منظر اسلام
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ مسلمان چاہتے ہیں کہ زمین ہندو زمیندار سے مول لے کر مسجد کے لئے وقف کریں مگر وہ زمیندار مسلمانوں کے ہاتھ نہیں بیچتا ہےتو اس صورت میں مسجد بنانے کے لئے کیا حکم ہےآیا کہ موروثی زمین پر مسجد بناکر نماز پڑھیں یا اپنے اپنے گھر نماز پڑھیں اور نماز جمعہ کے بابت کیا حکم ہے جب ہندوزمیندار اپنی زمین نہ بیچے
الجواب:
ہندو اگر بیچتا نہیں اس سے کوئی مسلمان اپنے نام ہبہ کرالے پھر یہ مسلمان اسے مسجد کردےموروثی ہونے سے زمین ملك مزارعاں نہیں ہوجاتیاور وقف کرنے کے لئے ملك ضرور ہےاگر وہ ہبہ نہ بھی کرے تو گھروں میں یاجہاں مناسب تر ہو نما ز پڑھیں اور جمعہ بھی اگر وہ جگہ شہر یا فناء شہرہو۔گاؤں میں جمعہ خود ہی جائز نہیں۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۲:ایك مسجد نہایت تنگ ہے کہ اس میں بیس آدمی سے زائد نمازی نماز نہیں پڑھ سکتےیہاں کا زمیندار ہندو ہے وہ عرض وطول میں گھٹانے بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا ہے ایسی صورت میں مسجدکو بحیثیت دو منزلہ تعمیر کرکے اور نیچے اس کے دکانیں بناکر اس کو کرایہ پر دے سکتا ہے یانہیںاور اس کرایہ کو مسجد کی صرف میں لانے کاخیال ہے اور مسجد کو دکانوں کے اوپر بناسکتا ہے یانہیںایسی صورت میں اس وقت سجدہ گاہ نیچے ہے اور پھر دکانوں کے اوپر ہو اس کے واسطے جو حکم ہو مع حوالہ حدیث قوی و مستند کے دیا جائے۔
الجواب:
مسجد کو دکانیں کردینا حرام قطعی ہےتوسیع کےلئے یہ ہوسکتا ہے کہ دو منزلیں کردی جائیں وقت ضرورت بالاخانہ پر بھی نماز ہو۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۳ تا۲۸۴: ازالہ آباد سرائے گڑھا دارالطلبہ مرسلہ محمد نصیر الدین صاحب ۱۹رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
سوال اول:ایك مسجد کے متعلق کچھ دکانیں ہیں اور مسجدکے وقف نامہ کا کچھ پتا نہیں ہے البتہ اس کی آمدنی متولی سابق اپنے و مسجد کے ضروری اخراجات میں صرف کرتے تھے ان کے زمانہ میں زیر باری بہت ہوگئی تھی تاہم رمضان المبارك کی تراویح میں قرآن شریف ختم ہونے کے بعد شیرینی منگا کر تقسیم کرتے تھے
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ مسلمان چاہتے ہیں کہ زمین ہندو زمیندار سے مول لے کر مسجد کے لئے وقف کریں مگر وہ زمیندار مسلمانوں کے ہاتھ نہیں بیچتا ہےتو اس صورت میں مسجد بنانے کے لئے کیا حکم ہےآیا کہ موروثی زمین پر مسجد بناکر نماز پڑھیں یا اپنے اپنے گھر نماز پڑھیں اور نماز جمعہ کے بابت کیا حکم ہے جب ہندوزمیندار اپنی زمین نہ بیچے
الجواب:
ہندو اگر بیچتا نہیں اس سے کوئی مسلمان اپنے نام ہبہ کرالے پھر یہ مسلمان اسے مسجد کردےموروثی ہونے سے زمین ملك مزارعاں نہیں ہوجاتیاور وقف کرنے کے لئے ملك ضرور ہےاگر وہ ہبہ نہ بھی کرے تو گھروں میں یاجہاں مناسب تر ہو نما ز پڑھیں اور جمعہ بھی اگر وہ جگہ شہر یا فناء شہرہو۔گاؤں میں جمعہ خود ہی جائز نہیں۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۲:ایك مسجد نہایت تنگ ہے کہ اس میں بیس آدمی سے زائد نمازی نماز نہیں پڑھ سکتےیہاں کا زمیندار ہندو ہے وہ عرض وطول میں گھٹانے بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا ہے ایسی صورت میں مسجدکو بحیثیت دو منزلہ تعمیر کرکے اور نیچے اس کے دکانیں بناکر اس کو کرایہ پر دے سکتا ہے یانہیںاور اس کرایہ کو مسجد کی صرف میں لانے کاخیال ہے اور مسجد کو دکانوں کے اوپر بناسکتا ہے یانہیںایسی صورت میں اس وقت سجدہ گاہ نیچے ہے اور پھر دکانوں کے اوپر ہو اس کے واسطے جو حکم ہو مع حوالہ حدیث قوی و مستند کے دیا جائے۔
الجواب:
مسجد کو دکانیں کردینا حرام قطعی ہےتوسیع کےلئے یہ ہوسکتا ہے کہ دو منزلیں کردی جائیں وقت ضرورت بالاخانہ پر بھی نماز ہو۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۳ تا۲۸۴: ازالہ آباد سرائے گڑھا دارالطلبہ مرسلہ محمد نصیر الدین صاحب ۱۹رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
سوال اول:ایك مسجد کے متعلق کچھ دکانیں ہیں اور مسجدکے وقف نامہ کا کچھ پتا نہیں ہے البتہ اس کی آمدنی متولی سابق اپنے و مسجد کے ضروری اخراجات میں صرف کرتے تھے ان کے زمانہ میں زیر باری بہت ہوگئی تھی تاہم رمضان المبارك کی تراویح میں قرآن شریف ختم ہونے کے بعد شیرینی منگا کر تقسیم کرتے تھے
دریافت طلب امریہ ہے کہ اس مسجد کی آمدنی سے اب مٹھائی اور افطاری منگانا درست ہے یانہیں
الجواب ھو الموفق و الصواب
صورت مسئولہ میں ختم کی مٹھائی اور رمضان شریف میں افطاری منگانا جائز ہے اس لئے کہ مسجد کی آمدنی کے متعلق پیشتر وقف نامہ کے شرائط کے مطابق عملدرآمد کرنا چاہئےاور اگر وقف نامہ موجود نہ ہو تو متولیان سابق کے تعامل کے مطابق عمل کرنا چاہئے اور اگر تعامل کا بھی حال معلوم نہ ہوتو جو مسجد کے ضروری اخراجات شرعا ثابت ہوں اس میں خرچ کرنا چاہئے
جیسا کہ شامی کتاب الوقف میں مذکور ہے:
وفی الخیریۃ ان کان للوقف کتاب دیوان القضاۃ المسمی فی عرفنا بالسجل وھو فی ایدیھم اتبع ما فیہ استحسانا اذا تنازع اھلہ فیہوالا ینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف کانوا یعملون وان لم یعلم الحال فیما سبق رجعنا الی المقیاس الشرعی وھوان من اثبت بالبرھان حقا حکم لہ بہ اھ فقط واﷲ تعالی اعلم کتبہ محمد عبدالکافی۔ فتاوی خیریہ میں ہے کہ اگر وقف کے لئے کوئی تحریر دفتر قضاۃ یعنی قاضی کے رجسٹر میں ہے جس کو ہمارے عرف میں سجل کہاجاتا ہے تو متولیان وقف میں اختلاف کی صورت میں استحسانا اس تحریر کے مندرجات کی اتباع کی جائیگی ورنہ دیکھا جائے گا کہ زمانہ سابقہ سے اس وقف کاحال معہود و معروف کیا چلا آرہا ہے یعنی متولیان سابق کیسے کرتے تھے اگر یہ بھی معلوم نہ ہوسکے تو پھر ہم اس قیاس شرعی کی طرف رجوع کریں گے کہ جس نے برہان سے حق ثابت کردیا اس کےلئے اس حق کا فیصلہ کردیا جائے گا اھ فقط واﷲتعالی اعلماس کو محمد عبدالکافی نے لکھاہے۔(ت)
سوال دوم:ایك مسجد کے سابق متولی سید تھےوہ بہت نیك وسادہ طبیعت تھےان کی سادگی سے کچھ لوگوں نے مسجد کو نقصانات پہنچا دئےان وجہوں سے ان کی مسجد سے علیحدگی بھی ہوگئیا ب ان کی بے عنوانیوں کو پتھر پر کندہ کراکے مسجد میں نصب کرانا جس سے ان کو صدمہ روحی ہوگا جائز ہے یانہیںگوان کا نام مذکورنہیں ہے بلکہ بجائے نام متولی سابق لکھا گیا ہے جن کو اس لقب کے ساتھ شہر کے لوگ جانتے ہیں۔
الجواب ھو الموفق و الصواب
صورت مسئولہ میں ختم کی مٹھائی اور رمضان شریف میں افطاری منگانا جائز ہے اس لئے کہ مسجد کی آمدنی کے متعلق پیشتر وقف نامہ کے شرائط کے مطابق عملدرآمد کرنا چاہئےاور اگر وقف نامہ موجود نہ ہو تو متولیان سابق کے تعامل کے مطابق عمل کرنا چاہئے اور اگر تعامل کا بھی حال معلوم نہ ہوتو جو مسجد کے ضروری اخراجات شرعا ثابت ہوں اس میں خرچ کرنا چاہئے
جیسا کہ شامی کتاب الوقف میں مذکور ہے:
وفی الخیریۃ ان کان للوقف کتاب دیوان القضاۃ المسمی فی عرفنا بالسجل وھو فی ایدیھم اتبع ما فیہ استحسانا اذا تنازع اھلہ فیہوالا ینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف کانوا یعملون وان لم یعلم الحال فیما سبق رجعنا الی المقیاس الشرعی وھوان من اثبت بالبرھان حقا حکم لہ بہ اھ فقط واﷲ تعالی اعلم کتبہ محمد عبدالکافی۔ فتاوی خیریہ میں ہے کہ اگر وقف کے لئے کوئی تحریر دفتر قضاۃ یعنی قاضی کے رجسٹر میں ہے جس کو ہمارے عرف میں سجل کہاجاتا ہے تو متولیان وقف میں اختلاف کی صورت میں استحسانا اس تحریر کے مندرجات کی اتباع کی جائیگی ورنہ دیکھا جائے گا کہ زمانہ سابقہ سے اس وقف کاحال معہود و معروف کیا چلا آرہا ہے یعنی متولیان سابق کیسے کرتے تھے اگر یہ بھی معلوم نہ ہوسکے تو پھر ہم اس قیاس شرعی کی طرف رجوع کریں گے کہ جس نے برہان سے حق ثابت کردیا اس کےلئے اس حق کا فیصلہ کردیا جائے گا اھ فقط واﷲتعالی اعلماس کو محمد عبدالکافی نے لکھاہے۔(ت)
سوال دوم:ایك مسجد کے سابق متولی سید تھےوہ بہت نیك وسادہ طبیعت تھےان کی سادگی سے کچھ لوگوں نے مسجد کو نقصانات پہنچا دئےان وجہوں سے ان کی مسجد سے علیحدگی بھی ہوگئیا ب ان کی بے عنوانیوں کو پتھر پر کندہ کراکے مسجد میں نصب کرانا جس سے ان کو صدمہ روحی ہوگا جائز ہے یانہیںگوان کا نام مذکورنہیں ہے بلکہ بجائے نام متولی سابق لکھا گیا ہے جن کو اس لقب کے ساتھ شہر کے لوگ جانتے ہیں۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجاررتہ داراحیاء التراث العربی بیروت∞۳/ ۴۰۴€
الجواب:
جب کہ سید صاحب کی علیحدگی ہوگئی اور ان کو مسجد سے کوئی تعلق نہ رہا تو ان کی برائیوں کا کندہ کرکے نصب کرنا نہ چاہئے اس لئے کہ جو کچھ ان سے غفلت ہوئی اس کو عوض ان کو مل چکا اب ہمیشہ کےلئے علانیہ پتھر پر ان کے بے عنوانیاں کندہ کراکے نصب کرانا جائز نہیں بلکہ یہ غیبت میں داخل ہے جیسا کہ درمختار میں مذکور ہے:
فی کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع وکما تکون الغیبۃ باللسان صریحا تکون ایضا بالفعل و بالتعریض وبالکتابۃ وبا لحرکۃ وبالرمز وبغمز العین والاشارۃ بالید وکل مایفھم منہ المقصود فھو داخل فی الغیبۃ وھو حرام الخ فقط واﷲ تعالی اعلم بالصوابکتبہ محمد عبدالکافی۔ کتاب الحظر والاباحۃ میں بیع کے متعلق فصل کے تحت مذکور ہے کہ غیبت جس طرح صراحتا زبان سے ہوتی ہے اسی طرح عملتعریضتحریرحرکترمزآنکھ اور ہاتھ کے اشارے سے بھی ہوتی ہے اسی طرح ہر وہ شے جس سے یہ مقصدحاصل ہوتا وہ غیبت میں داخل ہے اور غیبت حرام الخ فقط واﷲ اعلم بالصواباس کو محمد عبدالکافی نے لکھا ہے(ت)
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
(۱)ایك دو شخص کے کرنے سے تعامل ثابت نہیں ہوتااگریہ معلوم ہوکہ قدیم سے یہ مصارف متولیان مسجد مال مسجد سے کرتے آئے اب بھی کئے جائیں گے ورنہ نہیں جبکہ اور کوئی ذریعہ ثبوت شرعی نہ ہو۔فتاوی خیریہ میں ہے:
اذاوجد شرط الواقف فلا سبیل الی مخالفتہ واذا فقد عمل بالاستفاضۃ والاستیمارات العادیۃ المستمرۃ من تقادم الزمان و اگر واقف کی طرف سے کوئی شرط موجود ہے تو اس کی مخالفت کی کوئی سبیل نہیں اور اگر یہ مفقود ہے تو پرانے زمانے سے اب تك اس وقف کے بارے میں جو معاملات مشہودہ تسلسل و
جب کہ سید صاحب کی علیحدگی ہوگئی اور ان کو مسجد سے کوئی تعلق نہ رہا تو ان کی برائیوں کا کندہ کرکے نصب کرنا نہ چاہئے اس لئے کہ جو کچھ ان سے غفلت ہوئی اس کو عوض ان کو مل چکا اب ہمیشہ کےلئے علانیہ پتھر پر ان کے بے عنوانیاں کندہ کراکے نصب کرانا جائز نہیں بلکہ یہ غیبت میں داخل ہے جیسا کہ درمختار میں مذکور ہے:
فی کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع وکما تکون الغیبۃ باللسان صریحا تکون ایضا بالفعل و بالتعریض وبالکتابۃ وبا لحرکۃ وبالرمز وبغمز العین والاشارۃ بالید وکل مایفھم منہ المقصود فھو داخل فی الغیبۃ وھو حرام الخ فقط واﷲ تعالی اعلم بالصوابکتبہ محمد عبدالکافی۔ کتاب الحظر والاباحۃ میں بیع کے متعلق فصل کے تحت مذکور ہے کہ غیبت جس طرح صراحتا زبان سے ہوتی ہے اسی طرح عملتعریضتحریرحرکترمزآنکھ اور ہاتھ کے اشارے سے بھی ہوتی ہے اسی طرح ہر وہ شے جس سے یہ مقصدحاصل ہوتا وہ غیبت میں داخل ہے اور غیبت حرام الخ فقط واﷲ اعلم بالصواباس کو محمد عبدالکافی نے لکھا ہے(ت)
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
(۱)ایك دو شخص کے کرنے سے تعامل ثابت نہیں ہوتااگریہ معلوم ہوکہ قدیم سے یہ مصارف متولیان مسجد مال مسجد سے کرتے آئے اب بھی کئے جائیں گے ورنہ نہیں جبکہ اور کوئی ذریعہ ثبوت شرعی نہ ہو۔فتاوی خیریہ میں ہے:
اذاوجد شرط الواقف فلا سبیل الی مخالفتہ واذا فقد عمل بالاستفاضۃ والاستیمارات العادیۃ المستمرۃ من تقادم الزمان و اگر واقف کی طرف سے کوئی شرط موجود ہے تو اس کی مخالفت کی کوئی سبیل نہیں اور اگر یہ مفقود ہے تو پرانے زمانے سے اب تك اس وقف کے بارے میں جو معاملات مشہودہ تسلسل و
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰€
الی ھذاالوقت ۔ استمرار سے چلے آرہے ہیں ان پر عمل کیا جائیگا۔(ت)
ورنہ تمام مجہول الشرائط اوقاف ہر متولی کے استعمال وتابع افعال ہوجائیں کہ ایك کے فعل سے تعامل ثابت اور سابق سے عدم ثبوتثبوت عدم نہیں۔وھذا لایتفوہ بہ من لہ ادنی ترعرع من العامیۃ کما لایخفی(یہ ایسی بات ہے جو ادنی سوجھ بوجھ رکھنے والاایك عام آدمی بھی نہیں کہہ سکتا ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)
(۲)اگر ان باتوں میں ان کا قصور نہ تھا بلکہ اور لوگوں نے نقصان پہنچائے تو ان افعال کی ان کی طرف نسبت بہتان وافترا ہے اور اس کی اشاعت اشاعت فاحشہ ہے اور وہ حرام ہے۔
قال تعالی" ان الذین یحبون ان تشیع الفحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا و الاخرۃ " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:بیشك وہ لوگ جو مومنوں میں اشاعت فاحشہ چاہتے ہیں ان کیلئے دنیا وآخرت میں درد ناك عذاب ہے(ت)
اور اگر ان کا قصور تھا اور اس پر ان کی علیحدگی بھی ہوگئی اور اب ان بے اعتدالیوں کاپتھر پر کندہ کراکے نصب کرنا کوئی مہم مصلحت شرعیہ نہ رکھتا ہوتو اگرچہ اس حالت میں کہ و ہ باتیں معروف و مشہور ہوچکی ہوں اہل شہر ان وقائع پر مطلع ہوں ان کا لکھ کر نصب کرنا غیبت نہیں ہوسکتا ہے خصوصا منظر عامہ میں نصب کہ اشتہار چھاپ کر عام تقسیم کی طرح حد غیبت میں اس کا آنا دشوار نہ تاحیات متولی مذکور اس کے عدم جواز کی کوئی وجہ جب کہ منجر بفتنہ نہ ہو ہاں بعد موت متولی اس پتھر کا معدوم کردینا ہوگا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتذکرواموتا کم الابخیر ۔ اپنے مردوں کا ذکر بھلائی کے سوامت کرو(ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لاتسبوا الاموات فانھم قدافضواالی ماقدموا ۔ اپنے مردوں کو برانہ کہو کیونکہ وہ اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو پہنچ چکے ہیں۔(ت)
ورنہ تمام مجہول الشرائط اوقاف ہر متولی کے استعمال وتابع افعال ہوجائیں کہ ایك کے فعل سے تعامل ثابت اور سابق سے عدم ثبوتثبوت عدم نہیں۔وھذا لایتفوہ بہ من لہ ادنی ترعرع من العامیۃ کما لایخفی(یہ ایسی بات ہے جو ادنی سوجھ بوجھ رکھنے والاایك عام آدمی بھی نہیں کہہ سکتا ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)
(۲)اگر ان باتوں میں ان کا قصور نہ تھا بلکہ اور لوگوں نے نقصان پہنچائے تو ان افعال کی ان کی طرف نسبت بہتان وافترا ہے اور اس کی اشاعت اشاعت فاحشہ ہے اور وہ حرام ہے۔
قال تعالی" ان الذین یحبون ان تشیع الفحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا و الاخرۃ " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:بیشك وہ لوگ جو مومنوں میں اشاعت فاحشہ چاہتے ہیں ان کیلئے دنیا وآخرت میں درد ناك عذاب ہے(ت)
اور اگر ان کا قصور تھا اور اس پر ان کی علیحدگی بھی ہوگئی اور اب ان بے اعتدالیوں کاپتھر پر کندہ کراکے نصب کرنا کوئی مہم مصلحت شرعیہ نہ رکھتا ہوتو اگرچہ اس حالت میں کہ و ہ باتیں معروف و مشہور ہوچکی ہوں اہل شہر ان وقائع پر مطلع ہوں ان کا لکھ کر نصب کرنا غیبت نہیں ہوسکتا ہے خصوصا منظر عامہ میں نصب کہ اشتہار چھاپ کر عام تقسیم کی طرح حد غیبت میں اس کا آنا دشوار نہ تاحیات متولی مذکور اس کے عدم جواز کی کوئی وجہ جب کہ منجر بفتنہ نہ ہو ہاں بعد موت متولی اس پتھر کا معدوم کردینا ہوگا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتذکرواموتا کم الابخیر ۔ اپنے مردوں کا ذکر بھلائی کے سوامت کرو(ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لاتسبوا الاموات فانھم قدافضواالی ماقدموا ۔ اپنے مردوں کو برانہ کہو کیونکہ وہ اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو پہنچ چکے ہیں۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۲۳€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۹€
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آفات اللسان،الآفۃ الثامنۃ اللعن دارالفکر بیروت ∞۷/ ۴۹۰، ۴۹۱€
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماینہی عن سب الاموات ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۷،€سنن النسائی کتاب الجنائز، النہی عن سب الاموات، ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۲۷۴€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۹€
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آفات اللسان،الآفۃ الثامنۃ اللعن دارالفکر بیروت ∞۷/ ۴۹۰، ۴۹۱€
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماینہی عن سب الاموات ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۷،€سنن النسائی کتاب الجنائز، النہی عن سب الاموات، ∞نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۲۷۴€
بایں ہمہ جب کہ بلامصلحت شرعیہ ہے عبث ہےاور عبث سے ویسے ہی بچنا چاہئے نہ کہ وہ جس سے کسی مسلمان کو تکلیف ہو اور اگر وہ افعال وقف میں خیانت واضرار تھے اور متولی کو پھر عودکی ہوس ہے اور اس کی قوت یا بعض کی حمایت سے عودکا اندیشہ ہے اور اس پتھر کا نصب کرنا مانع ہوگا غرض اس کے نصب میں اس کا عزل ہے یا اسی طرح اور کوئی مصلحت مہمہ شرعیہ ہے تو نصب میں حرج نہیں بلکہ حاجت ہوتو اجر ہے
نظیر مافی الحدیث اترعون عن ذکر الفاجر کی یعرفہ الناس اذکرو الفاجر بما فیہ ویحذرہ الناس ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اس کی نظیر وہ ہے جو حدیث میں ہے کہ فاجر کا رد کرنے سے باز رہتے ہو تا کہ لوگ اسے پہچانتے رہیںفاجر کی فجور اوراس کی بری خصلتوں کا ذکر کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۸۵: از موضع سیاکھ تھانہ چومکہ تحصیل میرپور ریاست جموں مسئولہ محمد ابراہیم ۱۴ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
ایك قطعہ اراضی جو مسجد کے قریب واقع ہے آباء واجداد سے خادم آب مسجد اس کی کاشت کرتے ہیں اور ماحصل اس کا کھاتے ہیں اور خراج اس کا ادا کردیتے ہیں اگرخدمت ماء چھوڑدیں تو اہل دیہہ دوسرے خادم آب مسجد کو دیتے ہیں اسی طریق پر قبضہ اراضی مذکور کا بدلتا جاتا ہے معلوم نہیں ہوتا کہ آبا واجداد اہل دیہہ نے کس طرح اراضی بالا کو مقرر کیا مسجد کی تعمیر کے ساتھ ہی وقف کیا یا بعد ہ وقف کیا ہے یا بوجہ اعمال بطور خدمت مذکور دی گئی اورملك خود باقیاگر اب موجودہ اہل دیہہ اراضی مملوکہ مشترکہ سمجھ کر اس کے کئی گوشہ پر تعمیر مکان امام مسجد کرادیں اور یہ کہیں کہ یہ اراضی مشترکہ مملوکہ ہمارے آباواجداد کی ہے ہم کو اختیار ہے جو کریں خادم آب مسجد صرف مزدوری کا مالك ہے اس کی مزدوری نقد وغیرہ سے ادا کریںبالاتفاق تعمیر مذکور کرادیںآیا یہ عمارت اس قطعہ اراضی میں جائز ہے یانہیںچونکہ ہمارے ہاں لوگ جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے شروط اور ارکان وقف سے واقف نہیںپس یہ اراضی بالاکس امر پر محمول ہوگیوقف سمجھی جائے گی یا مملوکہ اہل دیہہ متصور ہوگی یا کسی اور طریق پر محمول ہوگی ہر ایك قید قیود مدنظر فرما کر بالتعجیل جواب باصواب سے ممتاز فرمائیں ہمارے لوگ اکثر جوابہائے سوال دیوبندیوں سے
نظیر مافی الحدیث اترعون عن ذکر الفاجر کی یعرفہ الناس اذکرو الفاجر بما فیہ ویحذرہ الناس ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
اس کی نظیر وہ ہے جو حدیث میں ہے کہ فاجر کا رد کرنے سے باز رہتے ہو تا کہ لوگ اسے پہچانتے رہیںفاجر کی فجور اوراس کی بری خصلتوں کا ذکر کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۸۵: از موضع سیاکھ تھانہ چومکہ تحصیل میرپور ریاست جموں مسئولہ محمد ابراہیم ۱۴ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
ایك قطعہ اراضی جو مسجد کے قریب واقع ہے آباء واجداد سے خادم آب مسجد اس کی کاشت کرتے ہیں اور ماحصل اس کا کھاتے ہیں اور خراج اس کا ادا کردیتے ہیں اگرخدمت ماء چھوڑدیں تو اہل دیہہ دوسرے خادم آب مسجد کو دیتے ہیں اسی طریق پر قبضہ اراضی مذکور کا بدلتا جاتا ہے معلوم نہیں ہوتا کہ آبا واجداد اہل دیہہ نے کس طرح اراضی بالا کو مقرر کیا مسجد کی تعمیر کے ساتھ ہی وقف کیا یا بعد ہ وقف کیا ہے یا بوجہ اعمال بطور خدمت مذکور دی گئی اورملك خود باقیاگر اب موجودہ اہل دیہہ اراضی مملوکہ مشترکہ سمجھ کر اس کے کئی گوشہ پر تعمیر مکان امام مسجد کرادیں اور یہ کہیں کہ یہ اراضی مشترکہ مملوکہ ہمارے آباواجداد کی ہے ہم کو اختیار ہے جو کریں خادم آب مسجد صرف مزدوری کا مالك ہے اس کی مزدوری نقد وغیرہ سے ادا کریںبالاتفاق تعمیر مذکور کرادیںآیا یہ عمارت اس قطعہ اراضی میں جائز ہے یانہیںچونکہ ہمارے ہاں لوگ جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے شروط اور ارکان وقف سے واقف نہیںپس یہ اراضی بالاکس امر پر محمول ہوگیوقف سمجھی جائے گی یا مملوکہ اہل دیہہ متصور ہوگی یا کسی اور طریق پر محمول ہوگی ہر ایك قید قیود مدنظر فرما کر بالتعجیل جواب باصواب سے ممتاز فرمائیں ہمارے لوگ اکثر جوابہائے سوال دیوبندیوں سے
حوالہ / References
السنن الکبرٰی کتاب الشہادات دارصادر بیروت ۱۰/ ۲۱۰
منگواتے ہیں چونکہ یہ فقیروں کی جانب سے بعض مسائل اعتقادی عمل میں گراں خاطر ہیں اس واسطے حضرت کو تکلیف دی گئی۔
الجواب:اگر وہ زمین بنام وقف مشہور ہوتو بلا شبہ وقف ہے کہ وقف شہرت سے ثابت ہوجاتا ہے اگرچہ پتا نہ چلے کہ کب اور کس نے وقف کیا جیسے قدیم مساجد کہ بلاشبہ وقف ہیں اگرچہ نہیں بتاسکتے کہ کس نے کب بنائیںدرمختار میں ہے:
تقبل فیہ الشھادۃ بالشھرۃ (ملخصا)
وقف میں شہرت کی بنیاد پر شہادت مقبول ہے(ملخصا)۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی الاسعاف عن الخانیۃ وتصح دعوی الوقف و الشھادۃ بہ من غیربیان الواقف ۔
اسعاف میں خانیہ سے منقول ہے وقف میں دعوی اور شہادت بیان واقف کے بغیر بھی صحیح ہے۔(ت)
اور اگر بنام وقف مشہور نہ ہو نہ اور کسی ذریعہ شرعیہ سے اس کا وقف ہونا ثابت ہواور یہ ثابت ہو کہ فلاں شخص کی ملك تھی اور یہ ثبوت گواہان عادل سے ہوتو وہ اس شخص کا ترکہ اور اس کے وارثوں کی ملك ہے جو چاہیں کریںاور اگر اس کا بھی ثبوت نہ ہو تو جس طرح قدیم سے خادما ن آب کے قبضے میں چلی آتی ہے یونہی رہے گیاہل دیہہ بلا ثبوت شرعی اس پر دعوی ملك یا کوئی تصرف جدید نہیں کرسکتے۔ امام ثانی مذہب سیدنا ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہکتاب الخراج میں فرماتے ہیں:
لیس للامام ان یخرج شیئا من یداحد الابحق ثابت معروف ۔
اما م کو جائز نہیں کہ بغیر حق ثابت ومعروف کے کسی کے قبضہ سے کوئی شے خارج کرے(ت)
بلکہ قدیم سے اس کا یونہی چلاآنا اور کسی کا دعوی ملك نہ کرنا حال کے لوگوں کے دعوی ملك کو ناقابل سماعت کرتا ہے۔رد المحتارمسائل شتی میں ہے:
الجواب:اگر وہ زمین بنام وقف مشہور ہوتو بلا شبہ وقف ہے کہ وقف شہرت سے ثابت ہوجاتا ہے اگرچہ پتا نہ چلے کہ کب اور کس نے وقف کیا جیسے قدیم مساجد کہ بلاشبہ وقف ہیں اگرچہ نہیں بتاسکتے کہ کس نے کب بنائیںدرمختار میں ہے:
تقبل فیہ الشھادۃ بالشھرۃ (ملخصا)
وقف میں شہرت کی بنیاد پر شہادت مقبول ہے(ملخصا)۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی الاسعاف عن الخانیۃ وتصح دعوی الوقف و الشھادۃ بہ من غیربیان الواقف ۔
اسعاف میں خانیہ سے منقول ہے وقف میں دعوی اور شہادت بیان واقف کے بغیر بھی صحیح ہے۔(ت)
اور اگر بنام وقف مشہور نہ ہو نہ اور کسی ذریعہ شرعیہ سے اس کا وقف ہونا ثابت ہواور یہ ثابت ہو کہ فلاں شخص کی ملك تھی اور یہ ثبوت گواہان عادل سے ہوتو وہ اس شخص کا ترکہ اور اس کے وارثوں کی ملك ہے جو چاہیں کریںاور اگر اس کا بھی ثبوت نہ ہو تو جس طرح قدیم سے خادما ن آب کے قبضے میں چلی آتی ہے یونہی رہے گیاہل دیہہ بلا ثبوت شرعی اس پر دعوی ملك یا کوئی تصرف جدید نہیں کرسکتے۔ امام ثانی مذہب سیدنا ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہکتاب الخراج میں فرماتے ہیں:
لیس للامام ان یخرج شیئا من یداحد الابحق ثابت معروف ۔
اما م کو جائز نہیں کہ بغیر حق ثابت ومعروف کے کسی کے قبضہ سے کوئی شے خارج کرے(ت)
بلکہ قدیم سے اس کا یونہی چلاآنا اور کسی کا دعوی ملك نہ کرنا حال کے لوگوں کے دعوی ملك کو ناقابل سماعت کرتا ہے۔رد المحتارمسائل شتی میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۸
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۰۳
کتاب الخراج فصل فی الارض فی الصلح والعنوۃ مطبع بولاق مصر ص۷۰
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۰۳
کتاب الخراج فصل فی الارض فی الصلح والعنوۃ مطبع بولاق مصر ص۷۰
فی الحامدیۃ من الولوالجیۃ رجل تصرف زمانا فی ارض ورجل اخریری الارض والتصرف ولم یدع ومات علی ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوی ولدہ فتترك علی یدالمتصرف ۔
حامدیہ میں بحوالہ ولوالجیہ ہے کہ ایك شخص کچھ عرصہ ایك زمین میں تصرف کرتا رہا اور دوسرا شخص اسے زمین میں تصرف کرتے دیکھتا رہا اور اس پر دعوی نہیں کیا پھر اسی حال میں مرگیا تو اس کے بعد اس کے بیٹے کا دعوی مسموع نہ ہوگالہذا وہ زمین حسب سابق متصرف کے قبضے میں رہنے دینگے۔(ت)
اور جبکہ کسی کی ملك ثابت نہیںنہ اب دعوی ملك سنا جائے اور متعلق مسجد ہونا قطعا معلوم کہ اسی کے خادمان آب کے تصرف میں رہتی ہے اور وہ مسجد کے لئے اس کا خراج ادا کرتے ہیں تو مسجد پر وقف ہی سمجھی جائے گی اوریہ طریقہ کہ اجرت آب میں ان کو دی جاتی ہے کہ خراج دیں او رباقی محاصل اپنی مزدوری میں لیں حرام ہے کہ اجرت مجہولہ بلکہ غرر وخطر میں ہے اور مسلمانوں کا کام حتی الامکان صلاح پر محمول کرنا واجبکما نصواعلیہ قاطبۃ فی غیرمامقام(جیسا کہ علماء نے متعدد مقامات پر اس کی صراحت کی۔ت)تو یہ تعامل قدیم یوں سمجھاجائے گا کہ واقف ہی نے زمین اسی شرط پر وقف کی کہ خادمان آب مسجد اس کی کاشت کریں اور محاصل کھائیں اور خراج مسجد کو دیں تو اس طریقے کی تبدیل کسی کے اختیار میں نہیں
فان شرط الواقف کنص الشارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
واقف کی شرط شارع عليهم الصلوۃ والسلام کی نص کی طرح ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۲۸۶: از ریاست گوالیار محلہ چوك بازار جامع مسجد مرسلہ عبدالغفور صاحب ۳ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ۱۳۱۹ھ میں شہر گوالیار میں یہیں کے شرفاء ذی علم اور معزز حضرات کی ایك انجمن قائم ہوئی گوالیار کی جامع مسجد نہایت شکستہ حالت میں بکفالت سرکار تھی۔اراکین انجمن نے واگذاشت کرانے کی کوشش کیریاست نے بکمال رعایا پروری جامع مسجد مع دکانات اور اراکین انجمن کے سپرد فرمادیاراکین انجمن نے علاوہ انتظام
حامدیہ میں بحوالہ ولوالجیہ ہے کہ ایك شخص کچھ عرصہ ایك زمین میں تصرف کرتا رہا اور دوسرا شخص اسے زمین میں تصرف کرتے دیکھتا رہا اور اس پر دعوی نہیں کیا پھر اسی حال میں مرگیا تو اس کے بعد اس کے بیٹے کا دعوی مسموع نہ ہوگالہذا وہ زمین حسب سابق متصرف کے قبضے میں رہنے دینگے۔(ت)
اور جبکہ کسی کی ملك ثابت نہیںنہ اب دعوی ملك سنا جائے اور متعلق مسجد ہونا قطعا معلوم کہ اسی کے خادمان آب کے تصرف میں رہتی ہے اور وہ مسجد کے لئے اس کا خراج ادا کرتے ہیں تو مسجد پر وقف ہی سمجھی جائے گی اوریہ طریقہ کہ اجرت آب میں ان کو دی جاتی ہے کہ خراج دیں او رباقی محاصل اپنی مزدوری میں لیں حرام ہے کہ اجرت مجہولہ بلکہ غرر وخطر میں ہے اور مسلمانوں کا کام حتی الامکان صلاح پر محمول کرنا واجبکما نصواعلیہ قاطبۃ فی غیرمامقام(جیسا کہ علماء نے متعدد مقامات پر اس کی صراحت کی۔ت)تو یہ تعامل قدیم یوں سمجھاجائے گا کہ واقف ہی نے زمین اسی شرط پر وقف کی کہ خادمان آب مسجد اس کی کاشت کریں اور محاصل کھائیں اور خراج مسجد کو دیں تو اس طریقے کی تبدیل کسی کے اختیار میں نہیں
فان شرط الواقف کنص الشارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
واقف کی شرط شارع عليهم الصلوۃ والسلام کی نص کی طرح ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۲۸۶: از ریاست گوالیار محلہ چوك بازار جامع مسجد مرسلہ عبدالغفور صاحب ۳ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ۱۳۱۹ھ میں شہر گوالیار میں یہیں کے شرفاء ذی علم اور معزز حضرات کی ایك انجمن قائم ہوئی گوالیار کی جامع مسجد نہایت شکستہ حالت میں بکفالت سرکار تھی۔اراکین انجمن نے واگذاشت کرانے کی کوشش کیریاست نے بکمال رعایا پروری جامع مسجد مع دکانات اور اراکین انجمن کے سپرد فرمادیاراکین انجمن نے علاوہ انتظام
حوالہ / References
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۷۳
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰
جامع مسجد کے اور انتظام دینی خدمات کے بھی اپنے زمہ لئے ستائیس ہزار روپیہ جامع مسجد مذکور کی مرمت و تعمیر میں صرف کیا جس میں دس ہزار عطیہ ریاست ہے اراکین انجمن نے ایك امام مسمی زید کو بمشاہرہ مبلغ ۱۰/ماہوار مقرر کیا مگر زید نے اپنے فرائض منصبی یعنی نماز وغیرہ کی پابندی نہیں کیعلاوہ عدم پابندی نماز وغیرہ کے اور بہت سی بے عنوانیاں ظاہر ہوئیں جس پر اراکین انجمن نے بہت فہمائش کے بعد زید کو کئی برس کا عرصہ ہوا برخاست کردیا اور دوسرے امام صاحب کو بیس روپیہ ماہوار تنخواہ پر مقرر کیا۔
اول یہ ہے کہ ازروئے شرع شریف ایسے امام کو جیسا کہ زید تھا اور جس کو عہدہ امامت پر اراکین انجمن نے مقرر کیا تھا برخاست کرنے کا اختیار اراکین انجمن کو تھایا نہیں اور ایسی صورت جب کہ کل انتظام جامع مسجد کا اراکین انجمن کے اختیار میں سترہ اٹھارہ برس سے ہےاراکین انجمن جس کو چاہیں امام بنا سکتے ہیں یا نہیں زید کا خیال ہے کہ منصب امامت ایك دائمی اور موروثی عہدہ ہے اور باوجود عدم پابندی نماز اور بہت سی بے عنوانیاں کے امام کسی حال میں معزول نہیں ہوسکتاکیا درحقیقت شرعا منصب امامت کوئی دائمی اور موروثی عہدہ ہےزید یہ بھی کبھی کبھی کہتا ہے کہ عوام الناس سے مشورہ میری معزولی کے وقت میں نہیں لیا گیا لہذا میں معزول نہیں ہواکیا شرعا اس کی معزولی کے لئے عوام الناس کا مشورہ ضروری تھا اور کیا بغیر عوام الناس کے مشورہ کے انجمن انتظامیہ جامع مسجد جو عرصہ سے جامع مسجد کی متولی اور منتظم ہے اور جس نے بغیر مشورہ عوام الناس کے زید کو دس روپیہ ماہوار پر امام مقرر کیا تھا اس کو معزول نہیں کرسکتی۔بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
اما مت میں میراث جاری نہیں ورنہ امام متوفی کے بعد آٹھویں دن اس کی زوجہ امامت کرےجو نماز کا پابند نہ ہولائق امامت نہیںاسے معزول کرنا واجب ہےاگر معزول نہ کرتے گنہگار رہتے۔تبین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقدوجب علیھم اھانتہ شرعا ۔
فاسق امام کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے جب کہ لوگوں پر شرعا اس کی توہین لازم ہے۔(ت)
انجمن کو ایسے شخص کے معزول کرنے میں کسی سے کچھ مشورہ کی حاجت نہ تھی بلکہ بحالت مذکورہ اگر تمام عوام الناس اس کو بحال رکھنا چاہتے تو ان کا کہنا ماننا جائز نہ تھا اور معزول کرنا واجب تھا۔رسول اللہ
اول یہ ہے کہ ازروئے شرع شریف ایسے امام کو جیسا کہ زید تھا اور جس کو عہدہ امامت پر اراکین انجمن نے مقرر کیا تھا برخاست کرنے کا اختیار اراکین انجمن کو تھایا نہیں اور ایسی صورت جب کہ کل انتظام جامع مسجد کا اراکین انجمن کے اختیار میں سترہ اٹھارہ برس سے ہےاراکین انجمن جس کو چاہیں امام بنا سکتے ہیں یا نہیں زید کا خیال ہے کہ منصب امامت ایك دائمی اور موروثی عہدہ ہے اور باوجود عدم پابندی نماز اور بہت سی بے عنوانیاں کے امام کسی حال میں معزول نہیں ہوسکتاکیا درحقیقت شرعا منصب امامت کوئی دائمی اور موروثی عہدہ ہےزید یہ بھی کبھی کبھی کہتا ہے کہ عوام الناس سے مشورہ میری معزولی کے وقت میں نہیں لیا گیا لہذا میں معزول نہیں ہواکیا شرعا اس کی معزولی کے لئے عوام الناس کا مشورہ ضروری تھا اور کیا بغیر عوام الناس کے مشورہ کے انجمن انتظامیہ جامع مسجد جو عرصہ سے جامع مسجد کی متولی اور منتظم ہے اور جس نے بغیر مشورہ عوام الناس کے زید کو دس روپیہ ماہوار پر امام مقرر کیا تھا اس کو معزول نہیں کرسکتی۔بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
اما مت میں میراث جاری نہیں ورنہ امام متوفی کے بعد آٹھویں دن اس کی زوجہ امامت کرےجو نماز کا پابند نہ ہولائق امامت نہیںاسے معزول کرنا واجب ہےاگر معزول نہ کرتے گنہگار رہتے۔تبین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقدوجب علیھم اھانتہ شرعا ۔
فاسق امام کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے جب کہ لوگوں پر شرعا اس کی توہین لازم ہے۔(ت)
انجمن کو ایسے شخص کے معزول کرنے میں کسی سے کچھ مشورہ کی حاجت نہ تھی بلکہ بحالت مذکورہ اگر تمام عوام الناس اس کو بحال رکھنا چاہتے تو ان کا کہنا ماننا جائز نہ تھا اور معزول کرنا واجب تھا۔رسول اللہ
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریۃ بولاق مصر ۱/ ۱۳۴
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۔
اﷲ تعالی کی معصیت میں کسی کی طاعت نہیں کی جائیگی۔ (ت)
زید کا یہ عذر عجیب ہےانجمن کی کارروائی بے مشورہ عوام اس کے نزدیك صحیح ہے یا باطلاگر صحیح ہے تو عذر کیا ہے اور اگر باطل ہے تو معزولی درکناراس کا تقرر ہی باطل تھا کہ وہ بھی انجمن نے بے مشورہ عوام کیا تھا اور جب تقرر باطل تھا تو جتنے دنوں مسجد کے مال سے ۱۰ /ماہوار لیا واپس دے۔اب کہے گا کہ وہ تقرر صحیح تھا تویہ معزولی بھی کہ بوجہ شرع ہے صحیح ہوئیہاں بلاوجہ شرعی مقبول نہ ہوتی۔بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
واستفید من عدم عزل الناظر بلاجنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ناظر کو بلا جرم معزول کرنے کے صحیح نہ ہونے سے معلوم ہوتا ہے کسی وقف میں کسی صاحب وظیفہ کو بلا جرم اور بغیر نااہلی کے معزول کرنا صحیح نہیںواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۸۷: ۱۸ربیع الآخر۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان سرکاری عہدہ ممبری کے ملنے کے لئے جو لوگوں کی کوشش پر موقوف ہے مسلمانوں سے کوشش کرانا چاہتا ہے کہ کوشش کنندگان یہ کہتے ہیں تم تعمیر مسجد میں اس قدر روپیہ دو برتقدیر ممبر ہوجانے کے۔تو ہم لوگ تیار کوشش پر ہیں۔یہ رقم جو حق الاجرت ہے مسجد کی تعمیر میں لگانا جائز ہے یانہیں
الجواب:
اسے حق الاجرۃ کہنا صحیح نہیں کہ ممبر کر دینا ان کا کام نہیں اور کوشش مجہول القدر ہے اور وقت معین نہ کیا تو یہ کسی طرح اجارہ جائزہ میں نہیں آسکتا ہاں اگر یوں کرے کہ وہ ان کو مہینے پندرہ روز کے لئے بتعین تنخواہ وتعین وقت مثلا تم کو دس دن کے لئے ہر روز صبح کے آٹھ بجے سے شام کے چار بجے تك
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۔
اﷲ تعالی کی معصیت میں کسی کی طاعت نہیں کی جائیگی۔ (ت)
زید کا یہ عذر عجیب ہےانجمن کی کارروائی بے مشورہ عوام اس کے نزدیك صحیح ہے یا باطلاگر صحیح ہے تو عذر کیا ہے اور اگر باطل ہے تو معزولی درکناراس کا تقرر ہی باطل تھا کہ وہ بھی انجمن نے بے مشورہ عوام کیا تھا اور جب تقرر باطل تھا تو جتنے دنوں مسجد کے مال سے ۱۰ /ماہوار لیا واپس دے۔اب کہے گا کہ وہ تقرر صحیح تھا تویہ معزولی بھی کہ بوجہ شرع ہے صحیح ہوئیہاں بلاوجہ شرعی مقبول نہ ہوتی۔بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
واستفید من عدم عزل الناظر بلاجنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
ناظر کو بلا جرم معزول کرنے کے صحیح نہ ہونے سے معلوم ہوتا ہے کسی وقف میں کسی صاحب وظیفہ کو بلا جرم اور بغیر نااہلی کے معزول کرنا صحیح نہیںواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۸۷: ۱۸ربیع الآخر۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان سرکاری عہدہ ممبری کے ملنے کے لئے جو لوگوں کی کوشش پر موقوف ہے مسلمانوں سے کوشش کرانا چاہتا ہے کہ کوشش کنندگان یہ کہتے ہیں تم تعمیر مسجد میں اس قدر روپیہ دو برتقدیر ممبر ہوجانے کے۔تو ہم لوگ تیار کوشش پر ہیں۔یہ رقم جو حق الاجرت ہے مسجد کی تعمیر میں لگانا جائز ہے یانہیں
الجواب:
اسے حق الاجرۃ کہنا صحیح نہیں کہ ممبر کر دینا ان کا کام نہیں اور کوشش مجہول القدر ہے اور وقت معین نہ کیا تو یہ کسی طرح اجارہ جائزہ میں نہیں آسکتا ہاں اگر یوں کرے کہ وہ ان کو مہینے پندرہ روز کے لئے بتعین تنخواہ وتعین وقت مثلا تم کو دس دن کے لئے ہر روز صبح کے آٹھ بجے سے شام کے چار بجے تك
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث حکم بن عمرو الغفاری دارالفکر بیروت ۵/ ۶۶،۶۷،کنز العمال بحوالہ ق۔د۔ن عن علی رضی اﷲ عنہ حدیث۱۴۸۷۴موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۷
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۶
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۶
اتنے معاوضہ پر اگرچہ وہ دس ہزار روپے ہوں نوکر رکھا پھر وقت مقرر میں جو کام چاہے لے ازاں جملہ یہ کوشش تو اس صورت میں اجارہ صحیح ہوجائے گا وقد افادھذہ الحیلۃ فی الخانیۃ والخلاصۃ وغیرہما(تحقیق اس حیلہ کا افادہ خلاصہ اور خانیہ وغیرہ میں فرمایا ہے۔ت)مگر اس صورت میں وہ بات کہ برتقدیر ممبر ہوجانے کے ہے حاصل نہ ہوگی بلکہ یہ تنخواہ واجب الادا ہوگی اگرچہ ممبری نہ ملےاور اگر یہ شرط کرلیں کہ ممبری ملنے پر یہ تنخواہ دی جائے گی تو پھر اجارہ فاسد وحرام ہوجائے گامعہذا جب کہ یہ روپیہ ان کا حق الاجرۃ ہوگا ان کی ملك ہوگا اگر مسجد میں نہ دیں ان پر الزام نہ ہوگا۔ایك صورت یہ ہے کہ مسجد کی کوئی اینٹ یا لوٹا کپڑے میں سی کر مثلا دو ہزار کو اس کے ہاتھ متولی مسجد بیع کرے اور وہ قیمت اور چیز کسی امین کے پاس رکھ دی جائیں اور یہ لوگ کوشش کریں اگر ممبری ہوجائے امین وہ چیز ممبر کو دے دے اور وہ روپیہ مسجد میں اور اگر ممبری نہ ہو تو یہ طالب ممبری اس چیز کو کھول کر اب دیکھے اور بحکم خیار رویت بیع رد کردے امین وہ چیز مسجد کو دے دے اور قیمت اس شخص کو پھیر دےاس میں یہ بھی ہوگیا کہ روپیہ برتقدیر ممبری دیا جائے گاورنہ نہیںاور جب دیا جائے گا تو مسجد ہی کی ملك ہوگادوسرا اس میں تصرف نہ کرسکے گا مگر اس میں یہ خامی ہے کہ ممبری ہوجانے پر بھی اسے اختیار ہوگا کہ چیز دیکھ کر بیع رد کردے تو ممبری بھی ہوگئی اور روپیہ بھی دینا نہ آیا۔اور اگر یوں ہو کہ طالب ممبری کہے میں اﷲ کے لئے منت مانتا ہوں کہ اگر ممبر ہوگیا تو دو ہزار روپے فلاں مسجد کی تعمیر میں دوں گا تو یہ بھی اس کے اختیار پر رہے گا کہ تعمیر مسجد کی نذر صحیح ولازم نہیں بدائع وردالمحتار میں ہے:
من شروطہ ان یکون قربۃ مقصودۃ فلا یصح النذر بالوضوء والاذان وبناء الرباطات والمساجد ۔ نذر کی شرطوں میں سے یہ ہے کہ وہ قربت مقصودہ ہو لہذا وضواذانخانقا ہوں اور مسجدوں کی تعمیر کی نذر صحیح نہیں۔(ت)
اگروہ یوں کہے کہ ممبری ملنے پر اسی دن دو ہزار فلاں مسجد کو دوں گا نہ دوں تو دس ہزار روپے فقرائے مسلمین کو دوں اگرچہ نذر مسجد لازم نہ ہوئی یہ نذر تو یقینا نذر صحیح ہے اس کے خوف سے مسجد کو دو ہزار دے گا تو یہ بھی کافی نہیں کہ یہ نذر معنی میں قسم ہےاگر مسجد کو روپیہ نہ دے تو اسے اختیار ہوگا کہ صرف قسم کا کفارہ دے دے اور بری الذمہ ہوگیادرمختار میں ہے:
ان المعلق فیہ تفصیل فان علقہ پھر نذر معلق میں تفصیل ہے اگر اس نے نذر کو
من شروطہ ان یکون قربۃ مقصودۃ فلا یصح النذر بالوضوء والاذان وبناء الرباطات والمساجد ۔ نذر کی شرطوں میں سے یہ ہے کہ وہ قربت مقصودہ ہو لہذا وضواذانخانقا ہوں اور مسجدوں کی تعمیر کی نذر صحیح نہیں۔(ت)
اگروہ یوں کہے کہ ممبری ملنے پر اسی دن دو ہزار فلاں مسجد کو دوں گا نہ دوں تو دس ہزار روپے فقرائے مسلمین کو دوں اگرچہ نذر مسجد لازم نہ ہوئی یہ نذر تو یقینا نذر صحیح ہے اس کے خوف سے مسجد کو دو ہزار دے گا تو یہ بھی کافی نہیں کہ یہ نذر معنی میں قسم ہےاگر مسجد کو روپیہ نہ دے تو اسے اختیار ہوگا کہ صرف قسم کا کفارہ دے دے اور بری الذمہ ہوگیادرمختار میں ہے:
ان المعلق فیہ تفصیل فان علقہ پھر نذر معلق میں تفصیل ہے اگر اس نے نذر کو
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الایمان مطلب فی احکام النذر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۶۷€
بشرط یریدہ کان قدم غائبی یوفی وجوبا ان وجد الشرط وان علقہ بمالم یردہ کان زنیت بفلانۃ مثلا فحنث وفی بنذرہ اوکفر لیمینہ علی المذھب لانہ نذر بظاھر ویمین بمعناہ فیخیر ضرورۃ ۔ ایسی شرط کے ساتھ معلق کیا جس کا وہ ارادہ رکھتا ہے مثلایوں کہے کہ اگر میرا غائب شخص آجائے(تو مجھ پر اتنا صدقہ لازم ہے)اس صورت میں اگر شرط پائی جا ئے تو نذر کو وجوبا پورا کرے گا اور اگر ایسی شرط کے ساتھ نذر کو معلق کیا جس کا وہ ارادہ نہیں رکھتا مثلا یوں کہے کہ اگرمیں فلاں عورت سے زنا کروں(تو مجھ پر صدقہ لازم ہے)پھر حانث ہوا تو چاہے تو نذر کو پورا کرے چاہے تو قسم کا کفارہ دے دے کیونکہ یہ ظاہرا نذر اور معنا یمین ہے لہذا اس کوازراہ ضرورت اختیار دیا جائیگا۔(ت)
اور اس کے بدلے یوں کہلوائیں کہ نہ دوں تو میرا مکان اور جائداد مسجد مذکور پر وقف ہےتو یہ بھی بیکار ہے کہ وقف کسی شرط پر معلق نہیں ہوسکتا۔ ردالمحتار میں ہے:
الوقف لایحتمل التعلیق بالحظر ۔ وقف قریب الہلاك شیئ کے ساتھ معلق ہونے کا احتمال نہیں رکھتا(ت)
ہاں باندی غلام ہوتے تویہ بندش پوری تھی کہ بشرط ممبری مثلا ایك ہفتہ کے اندر اتنا روپیہ اگر فلاں مسجد کو نہ دوں تو میرے سب غلام وکنیز آزاد ہیں مگر یہاں باندی غلام کہاںاور ایسی قسم طلاق کی نہ کھانی جائز نہ کھلانی جائز اور حدیث میں ارشاد ہوا:
ماحلف بالطلاق مومن ومااستحلف بہ الامنافق ۔ طلاق کی قسم نہیں کھاتا مسلماننہ اس کی قسم لے مگر منافق۔
بالجملہ ایسی صورت کہ ممبری نہ ہونے پر روپیہ نہ دینا ہو اور ہونے پر مجبورا دیناپڑے اور وہ مسجد ہی کاحق ہو کوئی نظر نہیں آتی سوا اس کے کہ طالب ممبری وہ روپیہ کسی امین کو دے دے اور اسے وکیل کردے کہ اگر ممبری ہوجائے تو یہ روپیہ فلاں مسجد میں دے دینا۔اب اگر ممبری نہ ہوتو وکیل اسے روپیہ واپس دے اور ہوجائے تو فورا وہ روپیہ متولی مسجد کو دے دے قبل اس کے کہ موکل اسے معزول کرسکے اس صورت میں جب وکیل وہ روپیہ مسجد کو دے چکے گا موکل کو اس کی واپسی کا کچھ اختیار
اور اس کے بدلے یوں کہلوائیں کہ نہ دوں تو میرا مکان اور جائداد مسجد مذکور پر وقف ہےتو یہ بھی بیکار ہے کہ وقف کسی شرط پر معلق نہیں ہوسکتا۔ ردالمحتار میں ہے:
الوقف لایحتمل التعلیق بالحظر ۔ وقف قریب الہلاك شیئ کے ساتھ معلق ہونے کا احتمال نہیں رکھتا(ت)
ہاں باندی غلام ہوتے تویہ بندش پوری تھی کہ بشرط ممبری مثلا ایك ہفتہ کے اندر اتنا روپیہ اگر فلاں مسجد کو نہ دوں تو میرے سب غلام وکنیز آزاد ہیں مگر یہاں باندی غلام کہاںاور ایسی قسم طلاق کی نہ کھانی جائز نہ کھلانی جائز اور حدیث میں ارشاد ہوا:
ماحلف بالطلاق مومن ومااستحلف بہ الامنافق ۔ طلاق کی قسم نہیں کھاتا مسلماننہ اس کی قسم لے مگر منافق۔
بالجملہ ایسی صورت کہ ممبری نہ ہونے پر روپیہ نہ دینا ہو اور ہونے پر مجبورا دیناپڑے اور وہ مسجد ہی کاحق ہو کوئی نظر نہیں آتی سوا اس کے کہ طالب ممبری وہ روپیہ کسی امین کو دے دے اور اسے وکیل کردے کہ اگر ممبری ہوجائے تو یہ روپیہ فلاں مسجد میں دے دینا۔اب اگر ممبری نہ ہوتو وکیل اسے روپیہ واپس دے اور ہوجائے تو فورا وہ روپیہ متولی مسجد کو دے دے قبل اس کے کہ موکل اسے معزول کرسکے اس صورت میں جب وکیل وہ روپیہ مسجد کو دے چکے گا موکل کو اس کی واپسی کا کچھ اختیار
حوالہ / References
درمختار کتاب الایمان ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۹۴و۲۹۵€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۶۰€
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن انس ∞حدیث ۴۶۳۴۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۶۸۹€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۶۰€
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن انس ∞حدیث ۴۶۳۴۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۶۸۹€
نہ رہے گا فان الصدقۃ اذا تمت لزمت(اس لئے کہ صدقہ جب تام ہوجائے تو لازم ہوجاتا ہے۔ت)ہاں بعد ممبری وکیل ابھی روپیہ مسجد کو نہ دینے پایا کہ موکل نے منع کردیا اور اس ممانعت کی اطلاع وکیل کو ہوگئی تو وکالت سے معزول ہوجائے گا اور مسجد میں نہ دے سکے گا اور اگر اس نے منع کیا اور وکیل کو ابھی اطلاع نہ ہوئی اور روپیہ مسجد کو دے دیا تو دینا صحیح ہے اور مؤکل واپس نہیں کرسکتا لان الوکیل لاینعزل بالعزل مالم یعلمہ(کیونکہ وکیل معزول کردینے سے معزول نہیں ہوتا جب تك اسے علم نہ ہوجائے۔ت)لہذا بعد ممبری وکیل فورا متولی کو دے دے یہ سب صورتیں شرعا مجبور ہونے کے متعلق تھیں اور اگر اطمینان ہوتو عنداللہ وہ اتنے وعدہ ہی سے کہ ممبری ہوجائے تو اتنا روپیہ فلاں کو دوں گا دینے پر مجبور ہے کہ اللہ واحد قہار سے وعدہ کرکے پھرنا بہت سخت ہے اوراس پر شدید وعیدقال تعالی :
"فاعقبهم نفاقا فی قلوبهم الى یوم یلقونه بما اخلفوا الله ما وعدوه و بما كانوا یكذبون(۷۷)" والعیاذباﷲتعالی۔ واﷲتعالی اعلم۔
تو اس کے پیچھے اﷲ تعالی نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تك کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہو ں نے اﷲ تعالی سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ وہ جھوٹ بولتے تھے اﷲ تعالی کی پناہ۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۸۸: ازشہر علیگڑھ مرسلہ محمد اسمعیل ومحمد یوسف سوداگران موتی مسجد ۱۰/رجب المرجب۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ زمانہ سلف کی ایك مسجد جس کی کرسی اونچی ہے ایك محلہ میں واقع ہے اس محلہ میں متعدد آدمی نمازی ہیں اور وہ بھی ناداری کی وجہ سے مسجد کے کسی خرچ کے کفیل نہیں ہوسکتے ہیںاس مسجد میں کنواں نہیں تھا کچھ عرصہ ہوا کہ ایك کنارے سے کنواں بنوایاگیا ہے جو زینہ سے اور صحن کے میل میں ہے رائے یہ ہوئی کہ اس کا زینہ کنویں کی طرف کردیا جائے اور زینہ کے نیچے ایك آدھ گز زمین فرش میں سے لے لی جائے اس آدھ گز زمین میں دیوار اٹھاکر بنوادی جائے اور بجائے زینہ کے دکانیں بنوادی جائیں جن کا کرایہ مسجد کے خرچ میں صرف کیا جائے آدھ گز زمین فرش میں سے لینے کےلئے دیوار کاٹی جارہی تھی کہ بجائے مٹی کے راکھ نکل پڑی اور اور یکایك جو حصہ صحن کا چھوڑا تھا وہ بھی آن پڑا اس طرح سے کل کرسی صحن مسجد کی آن پڑی صرف اندرونی مسجد باقی ہےاب یہ رائے ہے کہ صحن مسجد
"فاعقبهم نفاقا فی قلوبهم الى یوم یلقونه بما اخلفوا الله ما وعدوه و بما كانوا یكذبون(۷۷)" والعیاذباﷲتعالی۔ واﷲتعالی اعلم۔
تو اس کے پیچھے اﷲ تعالی نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تك کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہو ں نے اﷲ تعالی سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ وہ جھوٹ بولتے تھے اﷲ تعالی کی پناہ۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۸۸: ازشہر علیگڑھ مرسلہ محمد اسمعیل ومحمد یوسف سوداگران موتی مسجد ۱۰/رجب المرجب۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ زمانہ سلف کی ایك مسجد جس کی کرسی اونچی ہے ایك محلہ میں واقع ہے اس محلہ میں متعدد آدمی نمازی ہیں اور وہ بھی ناداری کی وجہ سے مسجد کے کسی خرچ کے کفیل نہیں ہوسکتے ہیںاس مسجد میں کنواں نہیں تھا کچھ عرصہ ہوا کہ ایك کنارے سے کنواں بنوایاگیا ہے جو زینہ سے اور صحن کے میل میں ہے رائے یہ ہوئی کہ اس کا زینہ کنویں کی طرف کردیا جائے اور زینہ کے نیچے ایك آدھ گز زمین فرش میں سے لے لی جائے اس آدھ گز زمین میں دیوار اٹھاکر بنوادی جائے اور بجائے زینہ کے دکانیں بنوادی جائیں جن کا کرایہ مسجد کے خرچ میں صرف کیا جائے آدھ گز زمین فرش میں سے لینے کےلئے دیوار کاٹی جارہی تھی کہ بجائے مٹی کے راکھ نکل پڑی اور اور یکایك جو حصہ صحن کا چھوڑا تھا وہ بھی آن پڑا اس طرح سے کل کرسی صحن مسجد کی آن پڑی صرف اندرونی مسجد باقی ہےاب یہ رائے ہے کہ صحن مسجد
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۷۷
میں ایك صف کی جگہ ٹھوس کرادی جائے اور باقی صحن میں دکانات بنوادی جائیں اور ان دکانات کا کرایہ مسجد کے صرف میں لایا جائے اور ان دکانات کی چھت ہموار کرکے بیرون صف مسجد کے ساتھ جوٹھوس ہوگی ملادی جائے۔تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ وجوہات مندرجہ بالا کے لحاظ سے جو دکانات کا تیار کرانا اور چھت کا ہموار کردینااور بیرون صف سے ملادینا اس میں شرعا تو کوئی امر مانع نہ ہوگا اور دکانات کی چھت جو ہموار ہوکر صحن مسجد ہوجائے گا اس میں نماز کی ادائیگی درست ہوگی اس کے متعلق جو اتفاق علماء کا ہو قطعی طور پر مفصل بتایا جائے اور شرعی مسئلہ کے موافق مشورہ موجودہ صورت میں تعمیر مسجد کا دیا جائے۔
الجواب:
جو زمین مسجد ہوچکی اس کے کسی حصہ کسی جز کاغیر مسجد کردینا اور اگرچہ متعلقات مسجد ہی سے کوئی چیز ہو حرام قطعی ہے قال اﷲ تعالی ” و ان المسجد لله" (اللہ تعالی نے فرمایا:بیشك مسجدیں اﷲ تعالی کی ہیں۔ت)پہلے جو ایك حصہ فرش کا زینہ میں شامل کرنا چاہا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام فرش گرگیا اب فرش مسجد کو دکانیں کرنا چاہتے ہیںیہ حرام اور سخت حرام ہےان دکانوں میں بیٹھنا حرام ہوگاان سے کوئی چیز خریدنے کےلئے جانا حرام ہوگافنائے مسجد میں دکانیں کرنے کو تو علماء نے منع فرمایا نہ کہ معاذاﷲ نفس مسجد میں۔بزازیہ اور درمختار میں ہے:
لایجوز ان یتخذ شیئ منہ مستغلا ۔
مسجد کے کسی حصہ کو کرایہ حاصل کرنے کےلئے مقرر کرنا جائز نہیں۔(ت)
مبسوط السرخسی اور عالمگیریہ میں ہے:
قیم یرید ان یبنی حوانیت فی فناء المسجد لایجوز ذلك لانہ یسقط حرمۃ المسجد لانہ فناء المسجد لہ حکم المسجد ۔واﷲتعالی اعلم۔
کوئی متولی فنائے مسجد میں دکانیں بنانا چاہتا ہے تو اسے ایسا کرنا جائز نہیں اس لئے کہ یہ حرمت مسجد کو ساقط کردیتا ہے کیونکہ فنائے مسجد کا حکم وہی ہے جو خود مسجد کا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
الجواب:
جو زمین مسجد ہوچکی اس کے کسی حصہ کسی جز کاغیر مسجد کردینا اور اگرچہ متعلقات مسجد ہی سے کوئی چیز ہو حرام قطعی ہے قال اﷲ تعالی ” و ان المسجد لله" (اللہ تعالی نے فرمایا:بیشك مسجدیں اﷲ تعالی کی ہیں۔ت)پہلے جو ایك حصہ فرش کا زینہ میں شامل کرنا چاہا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام فرش گرگیا اب فرش مسجد کو دکانیں کرنا چاہتے ہیںیہ حرام اور سخت حرام ہےان دکانوں میں بیٹھنا حرام ہوگاان سے کوئی چیز خریدنے کےلئے جانا حرام ہوگافنائے مسجد میں دکانیں کرنے کو تو علماء نے منع فرمایا نہ کہ معاذاﷲ نفس مسجد میں۔بزازیہ اور درمختار میں ہے:
لایجوز ان یتخذ شیئ منہ مستغلا ۔
مسجد کے کسی حصہ کو کرایہ حاصل کرنے کےلئے مقرر کرنا جائز نہیں۔(ت)
مبسوط السرخسی اور عالمگیریہ میں ہے:
قیم یرید ان یبنی حوانیت فی فناء المسجد لایجوز ذلك لانہ یسقط حرمۃ المسجد لانہ فناء المسجد لہ حکم المسجد ۔واﷲتعالی اعلم۔
کوئی متولی فنائے مسجد میں دکانیں بنانا چاہتا ہے تو اسے ایسا کرنا جائز نہیں اس لئے کہ یہ حرمت مسجد کو ساقط کردیتا ہے کیونکہ فنائے مسجد کا حکم وہی ہے جو خود مسجد کا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷۲ /۱۸
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲
مسئلہ۲۸۹: ازسکندرہ راو ضلع علیگڈھ محلہ نوخیل مرسلہ ایزدبخش ۱۳رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حدود جامع مسجد میں فرش مسجد سے ملحق ایك درجہ وضوخانہ کے نام سے جس کے بیرونی دروازہ عام راہ پر اور اندرونی در جن کے فرش مسجد پر نصب ہیں او رنالی واسطے خارج ہونے پانی وضو درمیان فرش مسجد وصحن ووضو خانہ مسقف تعمیر ہے جس میں وقت بارش ودھوپ نمازی وضوکرتے ہیں اب ان کے در جو جانب فرش مسجد ہیں بند کرکےایك ہندو وکیل کو جو پیشہ وکالت کرتا ہے واسطے کرنے وکالت کرایہ پردے سکتے ہیں یانہیں
الجواب:
حرام حرام حرامبوجوہ حراماگرچہ مسلمان کو جائز کار دنیوی کے لئے کرایہ پردیتے۔
عالمگیری میں ہے:لایجوز تغییرالوقف عن ھیأتہ (وقف کو اس کی ہیئت سے تبدیل کرنا جائز نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۹۰: ازپدارس پور ضلع بریلی ڈاکخانہ صدرکمپ مرسلہ سنوخاں ۲۲رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کالے خاں اس کی اینٹ تخمینا قریب چار ہزار کے تھیں اس کو ایك ڈگری دار نے قرق کرایا اور بجائے چار ہزار کے ڈھائی ہزار کا تخمینہ کیا گیااوران اینٹوں کو بضرورت مسجد نیلام میں خرید کیں اور خرید بنام سنو خاں کے لیں بعد خرید نیلام کے جب اس کا شمار کیا گیا تو چار ہزار ہوئیں اور آپس میں یہ مشورہ ہوگیا کہ اس کے اوپر کوئی دام نہ بڑھائے یہ واسطے مسجد کے خرید کی جائیں تو اب مسجد میں ڈھائی ہزار دینا چاہئے یا کل دی جائیں اور اگر ڈھائی ہزار دی گئیں مسجد میں توباقی ڈیڑھ ہزار تخمینابچیں تو اس کامالك کالے خاں ہے یامسجد کی ہوئیں
الجواب:
جو باقی بچیں ان کامالك تو یقینا کالے خاں ہے اس کو دی جائیںاور سائل نے بیان کیا کہ یہ نیلام ڈگری دار نے کرایا اور اس کا مطالبہ پور ا بھی نہ ہوا نہ کہ کچھ بچتا اور کالے خان کو دیا جاتا اور وہ لیتا تو وہ ڈھائی ہزار بھی مسجد میں صرف کرنی جائزنہیںہاں اگر کالے خاں بخوشی مسجد کو ہبہ کردے تو جائز ہے چاہے یہ ڈیڑھ ہزار بھی ہبہ کردے۔واﷲ تعالی اعلم
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حدود جامع مسجد میں فرش مسجد سے ملحق ایك درجہ وضوخانہ کے نام سے جس کے بیرونی دروازہ عام راہ پر اور اندرونی در جن کے فرش مسجد پر نصب ہیں او رنالی واسطے خارج ہونے پانی وضو درمیان فرش مسجد وصحن ووضو خانہ مسقف تعمیر ہے جس میں وقت بارش ودھوپ نمازی وضوکرتے ہیں اب ان کے در جو جانب فرش مسجد ہیں بند کرکےایك ہندو وکیل کو جو پیشہ وکالت کرتا ہے واسطے کرنے وکالت کرایہ پردے سکتے ہیں یانہیں
الجواب:
حرام حرام حرامبوجوہ حراماگرچہ مسلمان کو جائز کار دنیوی کے لئے کرایہ پردیتے۔
عالمگیری میں ہے:لایجوز تغییرالوقف عن ھیأتہ (وقف کو اس کی ہیئت سے تبدیل کرنا جائز نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۹۰: ازپدارس پور ضلع بریلی ڈاکخانہ صدرکمپ مرسلہ سنوخاں ۲۲رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کالے خاں اس کی اینٹ تخمینا قریب چار ہزار کے تھیں اس کو ایك ڈگری دار نے قرق کرایا اور بجائے چار ہزار کے ڈھائی ہزار کا تخمینہ کیا گیااوران اینٹوں کو بضرورت مسجد نیلام میں خرید کیں اور خرید بنام سنو خاں کے لیں بعد خرید نیلام کے جب اس کا شمار کیا گیا تو چار ہزار ہوئیں اور آپس میں یہ مشورہ ہوگیا کہ اس کے اوپر کوئی دام نہ بڑھائے یہ واسطے مسجد کے خرید کی جائیں تو اب مسجد میں ڈھائی ہزار دینا چاہئے یا کل دی جائیں اور اگر ڈھائی ہزار دی گئیں مسجد میں توباقی ڈیڑھ ہزار تخمینابچیں تو اس کامالك کالے خاں ہے یامسجد کی ہوئیں
الجواب:
جو باقی بچیں ان کامالك تو یقینا کالے خاں ہے اس کو دی جائیںاور سائل نے بیان کیا کہ یہ نیلام ڈگری دار نے کرایا اور اس کا مطالبہ پور ا بھی نہ ہوا نہ کہ کچھ بچتا اور کالے خان کو دیا جاتا اور وہ لیتا تو وہ ڈھائی ہزار بھی مسجد میں صرف کرنی جائزنہیںہاں اگر کالے خاں بخوشی مسجد کو ہبہ کردے تو جائز ہے چاہے یہ ڈیڑھ ہزار بھی ہبہ کردے۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰
مسئلہ ۲۹۱:از مقام فتح گڈھ ضلع فرخ آبادمرسلہ حسین خاں گھڑی ساز سابق متولی مسجد گولا ۲۵رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد جس کے متعلق کچھ دکانات ہیں مگر بوجہ ناکارہ حالت میں ہونے کے آمدنی ضروریات مسجد کے لئے کافی نہ تھی اس لئے ایك شخص اس نیت سے مدت مدید تك جدوجہد کرتا رہا کہ دکانات اچھی حالت میں ہوجائیں تو بصورت اضافہ آمدنی مسجد اپنے اخراجات کی خود کفالت کرسکے اس کی سعی وحسن نیت سے یہ نتیجہ ہوا کہ مسجد کی آمدنی بجائے چار پانچ ۱۶ /روپیہ ماہانہ ہوگئی اور جملہ اخراجات مثل شکست وریخت وتنخواہ پیش امام نیز بماہ صیام انتظام روزہ کشائی جو ۴/روزانہ کے حساب سے رہا ختم کلام اللہ پر تقسیم شیرینی وروشنی عرصہ دس بارہ سال سے برابر عمل میں آتی رہی لیکن چند سال سے بعض علماء جو ایك ہی دارالعلم کے سرچشمہ سے سیراب ہیں اور ایك مدرسے سے تعلق رکھنے کے باعث رونق افروز بمقام ہذا ہیں اور اس مسجد سے اس وجہ سے واسطے رکھتے ہیں کہ کچھ رقم پیش امام کے نام سے مدرسہ کےلئے بطور امداد لی جاتی ہے اور فرائض امامت مدرسہ ہی کے کوئی نہ کوئی مولوی صاحب ہی ادا کرتے رہتے ہیں یہ حضرات آمدنی مسجد سے روزہ کشائی کرانا اور ختم قرآن پر تقسیم شیرینی وروشنی وغیرہ کرنا ناجائز بتاتے ہیں چنانچہ گذشتہ چوتھے سال ختم قرآن مجید پر حسب طریق قدیم جب تقسیم شیرینی عمل میں نہ آئی جس کی بندش کی صورت ایسے طریقے پر کی گئی تھی جو شان عالم کے خلاف کیا بلکہ ایك دنیادار کے واسطے بھی موجب شرم تھی تو اہل اسلام میں اختلاف رونما ہو کر ایك فتنہ برپاہونے کااحتمال ہوااگر مولوی صاحب علیحدہ نہ کردئے جاتے تو یقینا تباہ کن نتائج مرتب ہوتے امسال دوسرے مولوی صاحب نے آمدنی مسجد سے روزہ کشائی ناجائز قرار دے کر مغرب کے وقت مسجد کی رونق جو بوجہ کثرت نمازیاں ہوجایا کرتی تھیاس میں اس قدر کمی پیداکردی جو گزشتہ سال کی تعداد چالیس وپچاس کے بجائے آج کل دس بارہ ہوتی ہے کیونکہ ایك دو روز تك پابند صوم نمك کی ڈلی وپانی سے روزہ کشائی کرتے رہے بعدہ دیگر مسجد میں جہاں یہ اہتمام ہوتا ہے مکدر خاطر ہوکر چلے گئےپس کیا امورات مرقومہ بالاآمدنی مسجد سے تکمیل کو پہنچانے جائزہیں یانہیںبینواتوجروا۔
ایضا
مسئلہ۲۹۲:ازفتح گڈھ کمپ ضلع فرخ آباد محلہ منگت مرسلہ محمد ایوب ومحمد یعقوب سودا گران پنجابی ۲۵/رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کا مال موقوفہ یعنی دکانیں جن کی آمدنی مسجد کے
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد جس کے متعلق کچھ دکانات ہیں مگر بوجہ ناکارہ حالت میں ہونے کے آمدنی ضروریات مسجد کے لئے کافی نہ تھی اس لئے ایك شخص اس نیت سے مدت مدید تك جدوجہد کرتا رہا کہ دکانات اچھی حالت میں ہوجائیں تو بصورت اضافہ آمدنی مسجد اپنے اخراجات کی خود کفالت کرسکے اس کی سعی وحسن نیت سے یہ نتیجہ ہوا کہ مسجد کی آمدنی بجائے چار پانچ ۱۶ /روپیہ ماہانہ ہوگئی اور جملہ اخراجات مثل شکست وریخت وتنخواہ پیش امام نیز بماہ صیام انتظام روزہ کشائی جو ۴/روزانہ کے حساب سے رہا ختم کلام اللہ پر تقسیم شیرینی وروشنی عرصہ دس بارہ سال سے برابر عمل میں آتی رہی لیکن چند سال سے بعض علماء جو ایك ہی دارالعلم کے سرچشمہ سے سیراب ہیں اور ایك مدرسے سے تعلق رکھنے کے باعث رونق افروز بمقام ہذا ہیں اور اس مسجد سے اس وجہ سے واسطے رکھتے ہیں کہ کچھ رقم پیش امام کے نام سے مدرسہ کےلئے بطور امداد لی جاتی ہے اور فرائض امامت مدرسہ ہی کے کوئی نہ کوئی مولوی صاحب ہی ادا کرتے رہتے ہیں یہ حضرات آمدنی مسجد سے روزہ کشائی کرانا اور ختم قرآن پر تقسیم شیرینی وروشنی وغیرہ کرنا ناجائز بتاتے ہیں چنانچہ گذشتہ چوتھے سال ختم قرآن مجید پر حسب طریق قدیم جب تقسیم شیرینی عمل میں نہ آئی جس کی بندش کی صورت ایسے طریقے پر کی گئی تھی جو شان عالم کے خلاف کیا بلکہ ایك دنیادار کے واسطے بھی موجب شرم تھی تو اہل اسلام میں اختلاف رونما ہو کر ایك فتنہ برپاہونے کااحتمال ہوااگر مولوی صاحب علیحدہ نہ کردئے جاتے تو یقینا تباہ کن نتائج مرتب ہوتے امسال دوسرے مولوی صاحب نے آمدنی مسجد سے روزہ کشائی ناجائز قرار دے کر مغرب کے وقت مسجد کی رونق جو بوجہ کثرت نمازیاں ہوجایا کرتی تھیاس میں اس قدر کمی پیداکردی جو گزشتہ سال کی تعداد چالیس وپچاس کے بجائے آج کل دس بارہ ہوتی ہے کیونکہ ایك دو روز تك پابند صوم نمك کی ڈلی وپانی سے روزہ کشائی کرتے رہے بعدہ دیگر مسجد میں جہاں یہ اہتمام ہوتا ہے مکدر خاطر ہوکر چلے گئےپس کیا امورات مرقومہ بالاآمدنی مسجد سے تکمیل کو پہنچانے جائزہیں یانہیںبینواتوجروا۔
ایضا
مسئلہ۲۹۲:ازفتح گڈھ کمپ ضلع فرخ آباد محلہ منگت مرسلہ محمد ایوب ومحمد یعقوب سودا گران پنجابی ۲۵/رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کا مال موقوفہ یعنی دکانیں جن کی آمدنی مسجد کے
اخراجات کو کافی نہیں ہوسکتی تھی لہذااخراجات کے پوراکرنے کے واسطے مسلمان شہر سے چندہ وصول کرکے ایك شخص کی زیرنگرانی عمارت جدید بنائے سابقہ پر تیار ہوئی بفضلہ تعالی ان کی آمدنی اخراجات مسجد کو کافی ہوتے ہوئے قدرے پس انداز ہوتا رہا بایں سبب بعض جاہل اور ناخواندہ مہتمموں نے رمضان المبارك میں ختم قرآن پاك شیرینی اور افطاری کا سامان اسی میں سے کیا اب اس مسجد کی تولیت اور اہتمام کاکام ایسے لوگوں کے سپرد ہوا جوان سے ذی علم ہیں چنانچہ ختم قرآن پاك کی شیرینی اور افطاری کا سامان اپنے پاس سے کیا اور کررہے ہیںان کا یہ خیال ہے کہ اس رقم کو جوپس انداز ہوتی رہی ہے اس کو زمین افتادہ موقوفہ زیر مسجد میں ایك مدرسہ تعمیر کرایا جائے اوراس آمدنی کو اس میں صرف کیا جائے چنانچہ آج کل میں تعمیر شروع ہونے والی ہے امسال بوجہ اغوائے شیطانی وہ شخص جس کے زیر نگرانی کچھ عرصہ تك یہ مسجد رہ چکی ہے وہ یہ کہتا ہے کہ میری نگرانی کے زمانے میں توسیع آمدنی ہوئی ہےلہذا مجھے حق حاصل ہے کہ ختم قرآن مجید کی شیرینی اور افطاری کا سامان اسی سے کروںیہاں کی افطاری کی یہ صورت ہے کہ مختلف قسم کی مٹھائی اور مختلف قسم کی اشیا ء نمکین جن کی تعداد دس بارہ سے کم نہیں ہوتی اس میں شرکت کرنے والے نصف روزہ دار اور نصف بے روزہروزہ داروں میں فیصدی پچھتر مرفہ الحال تو پچیس غریب اس صورت میں ختم قرآن پاك کی شیرینی اور افطاری کا سامان مال موقوفہ سے اس صورت خاص میں بایں ہیئت کذائی کرسکتے ہیں یانہیںاور متولیان اورمہتممان سابق بعد علیحدہ ہوجانے تولیت اوراہتمام کے مال موقوفہ میں مجاز ہوسکتے ہیں یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
دارالافتاء میں یہ سوال فریقین کی طرف سے آیا فریق اجازت خواہ ان مصارف کا آمدنی اوقاف مسجد سے ہونا ایك جگہ دس بارہ سال سے کہتا ہے دوسری جگہ طریق قدیم اور فریق منع طلب اسے محض احداث جدید اور فعل جہال کہتا ہےاور اس کے بدلے زمین موقوفہ مسجد میں مدرسہ بناکر فاضل آمدنی مسجد اس میں صرف کرنا چاہتا ہےیہاں حکم شرعی یہ ہے کہ اوقاف میں پہلی نظر شرط واقف پر ہے یہ زمین و دکانیں اس نے جس غرض کےلئے مسجد پر وقف کی ہوں ان میں صرف کیا جائے گا اگرچہ وہ افطاری و شیرینی وروشنی ختم ہو اور اس کے سوا دوسری غرض میں اس کاصرف کرنا حرام حرام سخت حرام اگرچہ وہ بناء مدرسہ دینیہ ہو فان شرط الواقف کنص الشارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (واقف کی شرط ایسے ہی واجب العمل ہے جیسے شارع عليهم الصلوۃ والسلام کی نص۔ت)حتی کہ اگر اس نے
الجواب:
دارالافتاء میں یہ سوال فریقین کی طرف سے آیا فریق اجازت خواہ ان مصارف کا آمدنی اوقاف مسجد سے ہونا ایك جگہ دس بارہ سال سے کہتا ہے دوسری جگہ طریق قدیم اور فریق منع طلب اسے محض احداث جدید اور فعل جہال کہتا ہےاور اس کے بدلے زمین موقوفہ مسجد میں مدرسہ بناکر فاضل آمدنی مسجد اس میں صرف کرنا چاہتا ہےیہاں حکم شرعی یہ ہے کہ اوقاف میں پہلی نظر شرط واقف پر ہے یہ زمین و دکانیں اس نے جس غرض کےلئے مسجد پر وقف کی ہوں ان میں صرف کیا جائے گا اگرچہ وہ افطاری و شیرینی وروشنی ختم ہو اور اس کے سوا دوسری غرض میں اس کاصرف کرنا حرام حرام سخت حرام اگرچہ وہ بناء مدرسہ دینیہ ہو فان شرط الواقف کنص الشارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (واقف کی شرط ایسے ہی واجب العمل ہے جیسے شارع عليهم الصلوۃ والسلام کی نص۔ت)حتی کہ اگر اس نے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰
صرف تعمیر مسجد کےلئے وقف کی تو مرمت شکست و ریخت کے سوا مسجد کے لوٹے چٹائی میں بھی صرف نہیں کرسکتے افطاری وغیرہ درکناراور اگر مسجد کے مصارف رائجہ فی المساجد کے لئے وقف ہے تو بقدر معہود وشیرینی وروشنی ختم میں صرف جائز افطاری ومدرسہ میں ناجائز۔نہ اسے تنخواہ مدرسین وغیرہ میں صرف کرسکتے ہیں کہ یہ اشیاء مصارف مسجد سے نہیں ولایجوز احداث مرتبۃ فی الواقف فضلا عن الاجنبی البحت(جب خود واقف کےلئے کسی نئی چیز کا احداث وقف میں جائز نہیں تو محض اجنبی شخص کیلئے کیسے ہوسکتا ہے۔ت)اور اگر اس نے ان چیزوں کی بھی صراحۃ اجازت شرائط وقف میں رکھی یا مصارف خیر کی تعمیم کردی یا یوں کہاکہ دیگر مصارف خیر حسب صوابدید متولیتو ان میں بھی مطلقا یا حسب صوابدید متولی صرف ہوسکے گا۔غرض ہر طرح اس کے شرائط کا اتباع کیا جائے گا اور اگر شرائط معلوم نہیں تو اس کے متولیوں کا قدیم سے جو عملدرآمد رہا اس پر نظر ہوگی اگر ہمیشہ سے افطاری وشیرینی وروشنی ختم کل یا بعض میں صرف ہوتا رہا اس میں اب بھی ہوگا ورنہ اصلا نہیں اور احداث مدرسہ بالکل ناجائز۔فتاوی خیریہ وغیرہ معتمدات میں ہے:
ان کان للوقف کتاب فی دیوان القضاۃ وھو فی ایدیھم اتبع مافیہ استحساناوالاینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف کانوایعملون (ملخصا)
اگر خود وقف کےلئے کوئی تحریر دیوان القضاۃ میں موجود ہے تو متولیوں کو اس کے مندرجات کے مطابق عمل کرنا مستحسن ہے ورنہ قدیم سے حال وقف میں متولیوں کا جو عملدرآمد چلا آرہا ہے اس پر نظر ہوگی(ملخصا)۔(ت)
قدیم سے ہونے کے یہ معنی کہ اس کا حدوث معلوم نہ ہو اور اگر معلوم ہے کہ یہ بلا شرط بعدکو حادث ہوا تو قدیم نہیں اگرچہ سو برس سے ہو اگرچہ نہ معلوم ہو کہ کب سے ہےیہاں بحال عدم علم شرائط واقف زمین دکانیں اگر صورت حسب بیان فریق دوم ہے کہ چند سال سے بعض بے علموں نے افطار ی و شیرینی وروشنی کا احداث کیا جسے حسب بیان فریق اول دس بارہ برس ہوئے تو ناجائز ہے اور مدرسہ بنانااور اس میں صرف کرنا بھی حرام اور اگر بیان فریق اول کے یہ معنی کہ قدیم سے یہ مصارف ہوتے آئے بیچ میں بوقت قلت آمدنی قطع ہوگئے تھے کہ بعد اضافہ دس بارہ سال سے پھر جاری ہوئے اور واقع اس کے مطابق ہوتو بلاشبہ اس سےافطاری وروشنی وشیرینی ختم جائز ہیں
ان کان للوقف کتاب فی دیوان القضاۃ وھو فی ایدیھم اتبع مافیہ استحساناوالاینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف کانوایعملون (ملخصا)
اگر خود وقف کےلئے کوئی تحریر دیوان القضاۃ میں موجود ہے تو متولیوں کو اس کے مندرجات کے مطابق عمل کرنا مستحسن ہے ورنہ قدیم سے حال وقف میں متولیوں کا جو عملدرآمد چلا آرہا ہے اس پر نظر ہوگی(ملخصا)۔(ت)
قدیم سے ہونے کے یہ معنی کہ اس کا حدوث معلوم نہ ہو اور اگر معلوم ہے کہ یہ بلا شرط بعدکو حادث ہوا تو قدیم نہیں اگرچہ سو برس سے ہو اگرچہ نہ معلوم ہو کہ کب سے ہےیہاں بحال عدم علم شرائط واقف زمین دکانیں اگر صورت حسب بیان فریق دوم ہے کہ چند سال سے بعض بے علموں نے افطار ی و شیرینی وروشنی کا احداث کیا جسے حسب بیان فریق اول دس بارہ برس ہوئے تو ناجائز ہے اور مدرسہ بنانااور اس میں صرف کرنا بھی حرام اور اگر بیان فریق اول کے یہ معنی کہ قدیم سے یہ مصارف ہوتے آئے بیچ میں بوقت قلت آمدنی قطع ہوگئے تھے کہ بعد اضافہ دس بارہ سال سے پھر جاری ہوئے اور واقع اس کے مطابق ہوتو بلاشبہ اس سےافطاری وروشنی وشیرینی ختم جائز ہیں
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۰۶
اور افطاری میں غیر روزہ دار اگر روزہ داربن کر شریك ہوتے ہیں متولیوں پر الزام نہیں۔بہتیرے غنی فقیر بن کر بھیك مانگتے اور زکوۃ لیتے ہیں دینے والے کی زکوہ ادا ہوجائے گی کہ ظاہر پر حکم ہے اورلینے والے کو حرام قطعی ہے یونہی یہاں ان غیر روزہ داروں کو اس کاکھانا حرام ہے۔وقف کا مال مثل مال یتیم ہے جسے ناحق کھانے پر فرمایا:
" انما یاكلون فی بطونهم نارا-و سیصلون سعیرا(۱۰) "
اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے۔
ہاں متولی دانستہ غیر روزہ دارکو شریك کریں تو وہ بھی عاصی ومجرم وخائن ومستحق عزل ہیں۔رہا اکثر یاکل مرفہ الحال ہونا اس میں کوئی حرج نہیں۔افطاری مطلق روزہ دار کے لئے ہے اگرچہ غنی ہو جیسے سقایہ مسجد کاپانی ہر نمازی کے غسل ووضو کو ہے اگرچہ بادشاہ ہو۔انتظامات متولیوں کے ہاتھ سے ہوں گے جبکہ وہ صالح ہوں۔متولی معزول معزول ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۹۳:ازشہر جالندھر چوك حضرت امام ناصرالدین صاحب مرسلہ ملك محمد امین صاحب ۲۷رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر بازاری عورت مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے چٹائی وغیرہ اور روزہ افطارکرنے کےلئے دودھ وغیرہ بھیجے تو اس کے لئے کیا حکم ہے
الجواب:
اگر وہ کہے کہ قرض لے کر اس سے یہ چٹائی یا افطاری خریدی ہے جب تو اصلا جائے سخن نہیں کما افادہ فی العالمگیریۃ من الحظر(جیسا کہ عالمگیریہ کے باب الحظر والاباحۃ میں اس کا افادہ فرمایا۔ت)ورنہ زرحرام کے عوض خریدی ہوئی چیز میں خباثت جب آتی ہے کہ عقد ونقد دونوں زر حرام پر جمع ہوں کہ حرام روپیہ دکھاکر کہے اس کے عوض دے دے پھر قیمت میں وہی زر حرام دےایسا بہت کم ہوتا ہےتو عام خریداریوں میں خبث آنا معلوم نہیں تو منع حکم نہیں۔سیدنا امام محمد فرماتے ہیں:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حرام بعینہ ۔
ہم اسی کو لیتے ہیں جب تك کسی معین شیئ کا حرام ہونا ہمیں معلوم نہ ہو۔(ت)
" انما یاكلون فی بطونهم نارا-و سیصلون سعیرا(۱۰) "
اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور عنقریب جہنم میں جائیں گے۔
ہاں متولی دانستہ غیر روزہ دارکو شریك کریں تو وہ بھی عاصی ومجرم وخائن ومستحق عزل ہیں۔رہا اکثر یاکل مرفہ الحال ہونا اس میں کوئی حرج نہیں۔افطاری مطلق روزہ دار کے لئے ہے اگرچہ غنی ہو جیسے سقایہ مسجد کاپانی ہر نمازی کے غسل ووضو کو ہے اگرچہ بادشاہ ہو۔انتظامات متولیوں کے ہاتھ سے ہوں گے جبکہ وہ صالح ہوں۔متولی معزول معزول ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۲۹۳:ازشہر جالندھر چوك حضرت امام ناصرالدین صاحب مرسلہ ملك محمد امین صاحب ۲۷رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر بازاری عورت مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے چٹائی وغیرہ اور روزہ افطارکرنے کےلئے دودھ وغیرہ بھیجے تو اس کے لئے کیا حکم ہے
الجواب:
اگر وہ کہے کہ قرض لے کر اس سے یہ چٹائی یا افطاری خریدی ہے جب تو اصلا جائے سخن نہیں کما افادہ فی العالمگیریۃ من الحظر(جیسا کہ عالمگیریہ کے باب الحظر والاباحۃ میں اس کا افادہ فرمایا۔ت)ورنہ زرحرام کے عوض خریدی ہوئی چیز میں خباثت جب آتی ہے کہ عقد ونقد دونوں زر حرام پر جمع ہوں کہ حرام روپیہ دکھاکر کہے اس کے عوض دے دے پھر قیمت میں وہی زر حرام دےایسا بہت کم ہوتا ہےتو عام خریداریوں میں خبث آنا معلوم نہیں تو منع حکم نہیں۔سیدنا امام محمد فرماتے ہیں:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حرام بعینہ ۔
ہم اسی کو لیتے ہیں جب تك کسی معین شیئ کا حرام ہونا ہمیں معلوم نہ ہو۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۱۰
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲
حکم یہ ہے پھر بھی ان کے یہاں کے کھانے اور افطاری سے بچنا انسب کے باعث طعن وفتح باب غیبت ہے نیز نظر عوام میں ان کے حرام کی خفتاور یہ وجہ چٹائی وغیرہ کو بھی شاملمگر جہاں بذریعہ حلال مثل قرض وغیرہ ہونا بتادیا جائے یا عرفا معہود ہو جیسے بناء مسجد میں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۹۴تا۲۹۶: ازبریلی شہر کہنہ مسئولہ محمدظہور صاحب ۱۰/شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)زید نے مسجد کے خرچ کےلئے لکڑی اینٹ وغیرہ دی ہے اور کام کے وقت کوئی شیئ صرف میں نہیں آتی رکھے رکھے سے احتمال خراب ہوجانے کا ہےایسی صورت میں جس شخص نے کہ وہ شے دی تھی واپس لے سکتا ہے یانہیں اور یا وہ شیئ فروخت کرکے اس کی قیمت مسجد کے صرف میں ہوسکتی ہے یانہیں
(۲)مسجد کا مال جو فضول وبیکار جان کر فروخت کیا جائےمسلمانوں کوخرید کرنا لازم ہے یانہیںزید کا خیال ہے کہ مسجد کاکوئی مال خفیف ہویا زیادہ اس کو قیمت یابلا قیمت کسی صورت سے لینا نہیں چاہئے۔
(۳)مسجد کا روپیہ بمدامانت بغرض تعمیر وغیرہ کسی شخص کے پاس جمع ہوتو وقت ضرورت وہ شخص اپنے خرچ میں بطریق قرض لاسکتا ہے یانہیں اگر خرچ کرلیا ہو اور پھر دے دیا ہوتو اس کو اب کیا کرنا چاہئے یعنی وہ قصور وار ہوا یانہیں
الجواب:
(۱)وہ شخص واپس نہیں لے سکتا جبکہ مسجد کے لئے مہتممان مسجد کو سپرد کرچکا ہو بلکہ وہ اشیاء حاجت مسجد کےلئے محفوظ رکھی جائیں اور اس میں دقت ہوتو بیچ کر قیمت خاص تعمیر ومرمت مسجد کے لئے محفوظ رکھیں۔تیلبتیلوٹےچٹائی میں اسے صرف نہیں کرسکتا۔اسعاف پھر بحرالرائق پھر عالمگیریہ میں ہے:
لوان قوما بنوامسجدا و فضل من خشبھم شیئ قالوا یصرف الفاضل فی بناءہ ولایصرف الی الدھن و الحصیر ھذا اذا اسلموا الی المتولی لیبنی بہ المسجد والایکون الفاضل لھم یصنعون بہ ماشاؤا۔
اگر ایك قوم نے مسجد بنائی اور اس کی لکڑیوں میں سے کچھ بچ گئیں۔مشائخ فرماتے ہیں ان کو مسجد کی تعمیر میں ہی صرف کیاجائے گامسجد کے لئے تیل اور چٹائی میں صرف نہیں کرسکتےیہ اس وقت ہے جب انہوں نے متولی کے سپردکردیا ہو کہ وہ اس سے مسجد بنوائے اگر سپرد نہیں کیا تو وہ انہی کا ہے جو چاہیں اس کے ساتھ کریں۔(ت)
مسئلہ۲۹۴تا۲۹۶: ازبریلی شہر کہنہ مسئولہ محمدظہور صاحب ۱۰/شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)زید نے مسجد کے خرچ کےلئے لکڑی اینٹ وغیرہ دی ہے اور کام کے وقت کوئی شیئ صرف میں نہیں آتی رکھے رکھے سے احتمال خراب ہوجانے کا ہےایسی صورت میں جس شخص نے کہ وہ شے دی تھی واپس لے سکتا ہے یانہیں اور یا وہ شیئ فروخت کرکے اس کی قیمت مسجد کے صرف میں ہوسکتی ہے یانہیں
(۲)مسجد کا مال جو فضول وبیکار جان کر فروخت کیا جائےمسلمانوں کوخرید کرنا لازم ہے یانہیںزید کا خیال ہے کہ مسجد کاکوئی مال خفیف ہویا زیادہ اس کو قیمت یابلا قیمت کسی صورت سے لینا نہیں چاہئے۔
(۳)مسجد کا روپیہ بمدامانت بغرض تعمیر وغیرہ کسی شخص کے پاس جمع ہوتو وقت ضرورت وہ شخص اپنے خرچ میں بطریق قرض لاسکتا ہے یانہیں اگر خرچ کرلیا ہو اور پھر دے دیا ہوتو اس کو اب کیا کرنا چاہئے یعنی وہ قصور وار ہوا یانہیں
الجواب:
(۱)وہ شخص واپس نہیں لے سکتا جبکہ مسجد کے لئے مہتممان مسجد کو سپرد کرچکا ہو بلکہ وہ اشیاء حاجت مسجد کےلئے محفوظ رکھی جائیں اور اس میں دقت ہوتو بیچ کر قیمت خاص تعمیر ومرمت مسجد کے لئے محفوظ رکھیں۔تیلبتیلوٹےچٹائی میں اسے صرف نہیں کرسکتا۔اسعاف پھر بحرالرائق پھر عالمگیریہ میں ہے:
لوان قوما بنوامسجدا و فضل من خشبھم شیئ قالوا یصرف الفاضل فی بناءہ ولایصرف الی الدھن و الحصیر ھذا اذا اسلموا الی المتولی لیبنی بہ المسجد والایکون الفاضل لھم یصنعون بہ ماشاؤا۔
اگر ایك قوم نے مسجد بنائی اور اس کی لکڑیوں میں سے کچھ بچ گئیں۔مشائخ فرماتے ہیں ان کو مسجد کی تعمیر میں ہی صرف کیاجائے گامسجد کے لئے تیل اور چٹائی میں صرف نہیں کرسکتےیہ اس وقت ہے جب انہوں نے متولی کے سپردکردیا ہو کہ وہ اس سے مسجد بنوائے اگر سپرد نہیں کیا تو وہ انہی کا ہے جو چاہیں اس کے ساتھ کریں۔(ت)
حوالہ / References
فتاوی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
(۲)مسجد کامال کہ مسجد کے کام کا نہ رہا ہو اور مہتممان مسجد جن کو اس کے بیچنے کی شرعا اجازت ہے مسجد کےلئے بیچیں اس کا خریدنا ہر مسلمان کو جائز ہے
فان اجازۃ البیع اجازۃ الشراء اذ لایتحقق البیع الابالشراء۔
اس لئے کہ اجازت بیع اجازت شراء ہے کیونکہ شراء کے بغیر بیع متحقق نہیں ہوسکتی(ت)
ہاں اسے بے تعظیمی کی جگہ نہ لگائے۔
(۳)مسجد خواہ غیر مسجد کسی کی امانت اپنے صرف میں لانا اگرچہ قرض سمجھ کر ہوحرام وخیانت ہے توبہ واستغفار فرض ہے اور تاوان لازم پھر دے دینے سے تاوان اداہوگیاوہ گناہ نہ مٹا جب تك توبہ نہ کرے۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۹۷:ازجے پور مسئولہ محمد ہدایت علی خاں سید عبدالوکیل سید معشوق حسین صاحبان سکنائے شہر جے پور۲۶شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے دو دکانیں لب سڑك بازار میں خرید کیںدونوں کی درمیانی دیوار توڑکر ایك کرلیا ان میں ایك منبرایك سقایہ بھی بنایاایك شخص مؤذن مقررکردیا وہی امامت بھی کرتا رہاسات برس سے زیادہ عرصہ تك پنجگانہ نماز باجماعت اذان واقامت سے ہوتی رہینمازیوں کی کثرت اور جگہ کی قلت کے باعث زید نے پھر ان دکانوں کی پشت پر ایك اور زمین خرید کرکے اونچی کرسی کی جامع مسجد بنوائی اور ان دکانوں میں سے جامع مسجد میں جانے کے لئے زینہ نکالااس کے بعد راج سے حکم ہواکہ ان دکانوں میں نماز نہ ہواکرے اور ان دکانوں میں ہوکر زینہ نہ رہے جو زینہ پہلے سے بنا ہوا ہے اس میں سے بدستور راستہ مسجد کا رہےاور دکانیں جیسی تھیں ویسی ہی تجارت کے کام کی کردی جائیںجو شخص مؤذن وامام تھا وہ شہادت دیتا ہے کہ میں نے سات برس سے زیادہ عرصہ تك نماز باجماعت واقامت پڑھائیپچیس تیس آدمی شہادت دیتے ہیں کہ ہم نے ان دونوں دکانوں میں مسجد سمجھ کر نماز جماعت سے پڑھی اور مسجد مشہور تھی اور سات آٹھ آدمی یہ شہادت دیتے ہیں کہ زید نے اپنی حیات میں ہم سے ان دکانات کا وقف ہونا ظاہر کیا تھا اور راج کے کاغذات نقشہ آبادی شہر اور خسرہ میں بھی مسجد درج ہے اور دونوں دکانوں کی یکجائی پیمائش ایك نمبر درج ہےپس ان حالات میں یہ دکانیں زید کی ملك قرار پائیں گی یا بوجہ مسجد ہونے کے وقف متعلقہ مسجد قرار دی جائیں گیبینواتوجروا
الجواب:
حاش ﷲ(اﷲ تعالی کی پناہ)نہ وہ زید یا کسی مخلوق کی ملك نہ وہ وقف متعلق مسجد بلکہ خود
فان اجازۃ البیع اجازۃ الشراء اذ لایتحقق البیع الابالشراء۔
اس لئے کہ اجازت بیع اجازت شراء ہے کیونکہ شراء کے بغیر بیع متحقق نہیں ہوسکتی(ت)
ہاں اسے بے تعظیمی کی جگہ نہ لگائے۔
(۳)مسجد خواہ غیر مسجد کسی کی امانت اپنے صرف میں لانا اگرچہ قرض سمجھ کر ہوحرام وخیانت ہے توبہ واستغفار فرض ہے اور تاوان لازم پھر دے دینے سے تاوان اداہوگیاوہ گناہ نہ مٹا جب تك توبہ نہ کرے۔واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۹۷:ازجے پور مسئولہ محمد ہدایت علی خاں سید عبدالوکیل سید معشوق حسین صاحبان سکنائے شہر جے پور۲۶شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے دو دکانیں لب سڑك بازار میں خرید کیںدونوں کی درمیانی دیوار توڑکر ایك کرلیا ان میں ایك منبرایك سقایہ بھی بنایاایك شخص مؤذن مقررکردیا وہی امامت بھی کرتا رہاسات برس سے زیادہ عرصہ تك پنجگانہ نماز باجماعت اذان واقامت سے ہوتی رہینمازیوں کی کثرت اور جگہ کی قلت کے باعث زید نے پھر ان دکانوں کی پشت پر ایك اور زمین خرید کرکے اونچی کرسی کی جامع مسجد بنوائی اور ان دکانوں میں سے جامع مسجد میں جانے کے لئے زینہ نکالااس کے بعد راج سے حکم ہواکہ ان دکانوں میں نماز نہ ہواکرے اور ان دکانوں میں ہوکر زینہ نہ رہے جو زینہ پہلے سے بنا ہوا ہے اس میں سے بدستور راستہ مسجد کا رہےاور دکانیں جیسی تھیں ویسی ہی تجارت کے کام کی کردی جائیںجو شخص مؤذن وامام تھا وہ شہادت دیتا ہے کہ میں نے سات برس سے زیادہ عرصہ تك نماز باجماعت واقامت پڑھائیپچیس تیس آدمی شہادت دیتے ہیں کہ ہم نے ان دونوں دکانوں میں مسجد سمجھ کر نماز جماعت سے پڑھی اور مسجد مشہور تھی اور سات آٹھ آدمی یہ شہادت دیتے ہیں کہ زید نے اپنی حیات میں ہم سے ان دکانات کا وقف ہونا ظاہر کیا تھا اور راج کے کاغذات نقشہ آبادی شہر اور خسرہ میں بھی مسجد درج ہے اور دونوں دکانوں کی یکجائی پیمائش ایك نمبر درج ہےپس ان حالات میں یہ دکانیں زید کی ملك قرار پائیں گی یا بوجہ مسجد ہونے کے وقف متعلقہ مسجد قرار دی جائیں گیبینواتوجروا
الجواب:
حاش ﷲ(اﷲ تعالی کی پناہ)نہ وہ زید یا کسی مخلوق کی ملك نہ وہ وقف متعلق مسجد بلکہ خود
مسجد ہیں۔
اولا: پچیس تیس شہادتوں سے ثابت کہ وہ مسجد مشہور تھی اور وقف شہرت سے ثابت ہوجاتا ہے۔درمختار میں ہے:
تقبل فیہ (ای فی الوقف) الشہادۃ بالشھرۃ لاثبات اصلہ ۔
اصل وقف کے اثبات کےلئے شہرت کی بنیاد پر دی گئی شہادت مقبول ہے(ت)
عامہ مساجد واوقاف کو مسجد ووقف ماننے کا ذریعہ یہی شہرت ہے اگر یہ کافی نہ ہو وہ سب باطل ہوجائیں جامع الفصولین میں ہے:
تقبل فی الوقف الشھادۃ بسماع ولو صرحا بہ اذ الشاھد ربما یکون سنہ عشرین سنۃ وتاریخ الوقف مائۃ سنۃ ۔
وقف میں سمعی شہادت مقبول ہے اگرچہ دونوں گواہوں نے اس کی صراحت کردی ہو(کہ وہ شہادت بالسمع دے رہے ہیں)بسااوقات گواہ بیس سال کا ہوتا ہے اور تاریخ وقف سو سال پرانی ہوتی ہے۔(ت)
سات آٹھ شہادتیں واقف کے اقرار وقف کی ہیں اور دربارہ وقف یہ شہادت کہ ہمارے سامنے زید نے اسے وقف کیا اور یہ شہادت کہ ہمارے سامنے زید نے اس کے وقف کا اقرارکیا دونوں یکساں ہیں۔جامع الفصولین میں ہے:
شھدا انہ اقر انہ وقف جمیع حصتہ وقفا یصیر جمیع حـصتہ وقفا ۔
گواہی دی گئی کہ واقف نے اپنا تمام حصہ وقف کرنے کا اقرار کیا ہے تو اس کا تمام حصہ وقف ہوجائے گا۔(ت)
اسی طرح ذخیرہ وظہیریہ وہندیہ وغیرہا میں ہےاور سالہاسال تك اس میں منبر ومؤذن وامام وجماعت پنجگانہ جہت وقف یعنی مسجدیت کی تعیین کرتی ہےبحرالرائق میں ہے:
بنی فی فنائہ فی الرستاق دکانا لاجل الصلوۃ یصلون فیہ بجماعۃ
متولی مسجد نے فنا ئے مسجد کی جانب میں نماز کیلئے ایك دکان بنائی لوگ اس میں ہمیشہ باجماعت
اولا: پچیس تیس شہادتوں سے ثابت کہ وہ مسجد مشہور تھی اور وقف شہرت سے ثابت ہوجاتا ہے۔درمختار میں ہے:
تقبل فیہ (ای فی الوقف) الشہادۃ بالشھرۃ لاثبات اصلہ ۔
اصل وقف کے اثبات کےلئے شہرت کی بنیاد پر دی گئی شہادت مقبول ہے(ت)
عامہ مساجد واوقاف کو مسجد ووقف ماننے کا ذریعہ یہی شہرت ہے اگر یہ کافی نہ ہو وہ سب باطل ہوجائیں جامع الفصولین میں ہے:
تقبل فی الوقف الشھادۃ بسماع ولو صرحا بہ اذ الشاھد ربما یکون سنہ عشرین سنۃ وتاریخ الوقف مائۃ سنۃ ۔
وقف میں سمعی شہادت مقبول ہے اگرچہ دونوں گواہوں نے اس کی صراحت کردی ہو(کہ وہ شہادت بالسمع دے رہے ہیں)بسااوقات گواہ بیس سال کا ہوتا ہے اور تاریخ وقف سو سال پرانی ہوتی ہے۔(ت)
سات آٹھ شہادتیں واقف کے اقرار وقف کی ہیں اور دربارہ وقف یہ شہادت کہ ہمارے سامنے زید نے اسے وقف کیا اور یہ شہادت کہ ہمارے سامنے زید نے اس کے وقف کا اقرارکیا دونوں یکساں ہیں۔جامع الفصولین میں ہے:
شھدا انہ اقر انہ وقف جمیع حصتہ وقفا یصیر جمیع حـصتہ وقفا ۔
گواہی دی گئی کہ واقف نے اپنا تمام حصہ وقف کرنے کا اقرار کیا ہے تو اس کا تمام حصہ وقف ہوجائے گا۔(ت)
اسی طرح ذخیرہ وظہیریہ وہندیہ وغیرہا میں ہےاور سالہاسال تك اس میں منبر ومؤذن وامام وجماعت پنجگانہ جہت وقف یعنی مسجدیت کی تعیین کرتی ہےبحرالرائق میں ہے:
بنی فی فنائہ فی الرستاق دکانا لاجل الصلوۃ یصلون فیہ بجماعۃ
متولی مسجد نے فنا ئے مسجد کی جانب میں نماز کیلئے ایك دکان بنائی لوگ اس میں ہمیشہ باجماعت
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۸
جامع الفصولین الفصل الثالث عشر فی دعوی الوقف الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۹
جامع الفصولین الفصل الثالث عشر فی دعوی الوقف الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۰
جامع الفصولین الفصل الثالث عشر فی دعوی الوقف الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۹
جامع الفصولین الفصل الثالث عشر فی دعوی الوقف الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۰
کل وقت فلہ حکم المسجد ۔
نمازپڑھتے ہیں تو وہ دکان حکم مسجد میں ہوگی(ت)
ثانیا راج کے سمجھنے کو اس کے کاغذات میں مسجد درج ہونا ہی بس ہے۔شرح الاشباہ محقق ہبۃ اللہ البعلی میں ہے:
لو وجد فی الدفاتران المکان الفلانی وقف علی المدرسۃ الفلانیۃ مثلا یعمل بہ من غیر بینۃ و بذلك یفتی مشایخ الاسلامی کما ھو مصرح بہ فی بھجۃ عبداﷲ افندی وغیرہا فلیحفظ ۔
اگر رجسٹروں میں مندرج ہے کہ فلاں مکان فلاں مدرسہ پر وقف ہے تو گواہوں کے بغیر اس پر عمل کیا جائے گااسی پر مشائخ اسلام نے فتوی دیا جیسا کہ عبداللہ آفندی کی بہجہ وغیرہ میں تصریح کی گئی ہےاس کو محفوظ کرلینا چاہئے۔(ت)
اس پر وارثان زید خواہ کسی کو کوئی دعوی نہیں پہنچتا اور اسے دوبارہ دکان تجارت کردینا حرام حرام سخت حراماور مذہب اسلام میں دست اندازی ہے جسے راج وغیرہ کوئی روانہ رکھے گا۔اس میں کسی کاردنیا کےلئے بیٹھنا یا اس کا کرایہ لینا دینا یا اس میں کوئی چیز بیچنا خریدنا یا بیچنے خریدنے کےلئے اس میں جانا سب حرام قطعی ہے۔درمختار میں ہے:
لایجوز اخذ الاجرۃ منہ ولاان یجعل شیئا منہ مستغلا ولاسکنیبزازیۃ ۔
اس سے اجرت لینا جائز نہیں اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ مسجد کا کوئی حصہ کرایہ یا رہائش کےلئے مقرر کیا جائےبزازیہ(ت)
اسی میں ہے:
یحرم فیہ السوال ویکرہ کل عقد الالمعتکف بشرطہ والکلام المباح وقیدہ فی الظہیریۃ بان یجلس لاجلہ ۔
حرام ہے مسجدمیں سوال کرنااور مکروہ ہے مسجد میں ہر عقد مگر معتکف کو ا س کی مشروط اجازت ہے۔مسجد میں مباح کلام مکروہ ہےاور ظہیریہ میں یہ قید لگائی کہ مسجد میں بیٹھا ہی کلام مباح کیلئے ہو تب مکروہ ہے۔(ت)
نمازپڑھتے ہیں تو وہ دکان حکم مسجد میں ہوگی(ت)
ثانیا راج کے سمجھنے کو اس کے کاغذات میں مسجد درج ہونا ہی بس ہے۔شرح الاشباہ محقق ہبۃ اللہ البعلی میں ہے:
لو وجد فی الدفاتران المکان الفلانی وقف علی المدرسۃ الفلانیۃ مثلا یعمل بہ من غیر بینۃ و بذلك یفتی مشایخ الاسلامی کما ھو مصرح بہ فی بھجۃ عبداﷲ افندی وغیرہا فلیحفظ ۔
اگر رجسٹروں میں مندرج ہے کہ فلاں مکان فلاں مدرسہ پر وقف ہے تو گواہوں کے بغیر اس پر عمل کیا جائے گااسی پر مشائخ اسلام نے فتوی دیا جیسا کہ عبداللہ آفندی کی بہجہ وغیرہ میں تصریح کی گئی ہےاس کو محفوظ کرلینا چاہئے۔(ت)
اس پر وارثان زید خواہ کسی کو کوئی دعوی نہیں پہنچتا اور اسے دوبارہ دکان تجارت کردینا حرام حرام سخت حراماور مذہب اسلام میں دست اندازی ہے جسے راج وغیرہ کوئی روانہ رکھے گا۔اس میں کسی کاردنیا کےلئے بیٹھنا یا اس کا کرایہ لینا دینا یا اس میں کوئی چیز بیچنا خریدنا یا بیچنے خریدنے کےلئے اس میں جانا سب حرام قطعی ہے۔درمختار میں ہے:
لایجوز اخذ الاجرۃ منہ ولاان یجعل شیئا منہ مستغلا ولاسکنیبزازیۃ ۔
اس سے اجرت لینا جائز نہیں اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ مسجد کا کوئی حصہ کرایہ یا رہائش کےلئے مقرر کیا جائےبزازیہ(ت)
اسی میں ہے:
یحرم فیہ السوال ویکرہ کل عقد الالمعتکف بشرطہ والکلام المباح وقیدہ فی الظہیریۃ بان یجلس لاجلہ ۔
حرام ہے مسجدمیں سوال کرنااور مکروہ ہے مسجد میں ہر عقد مگر معتکف کو ا س کی مشروط اجازت ہے۔مسجد میں مباح کلام مکروہ ہےاور ظہیریہ میں یہ قید لگائی کہ مسجد میں بیٹھا ہی کلام مباح کیلئے ہو تب مکروہ ہے۔(ت)
حوالہ / References
بحر الرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۰
شرح الاشباہ للمحقق ہبۃا ﷲالبعلی
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳و۹۴
شرح الاشباہ للمحقق ہبۃا ﷲالبعلی
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳و۹۴
ردالمحتار میں ہے:
قولہ کل عقد الظاھر ان المرادبہ عقد مبادلۃقولہ بشرطہ وھوان لایکون للتجارۃ ۔
ماتن کے قول" کل عقد"سے بظاہر مراد عقد مبادلہ ہے اور قول ماتن"بشرطہ"میں شرط سے مراد یہ ہے کہ معتکف کا عقد بیع و شراء بغرض تجارت نہ ہو(ت)
خود بانی نے کہ جامع مسجد بناکر اس مسجد کے ایك حصہ زمین میں اس کا زینہ بنایا یہ بھی ناجائز ہے کہ مسجد بعد تمامی مسجدیت کسی تبدیل کی متحمل نہیں۔واجب ہے کہ اسے بھی زائل کرکے اسے خاص مسجد ہی رکھیں۔درمختار میں ہے:
امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذلك لایصدق تاتارخانیۃفاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد ۔
لیکن مسجدیت تام ہوگئی اب واقف اس پر(حجرہ امام)تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کو روکا جائیگااگر وہ کہے کہ شروع سے میری نیت ایسا کرنے کی تھی تو اس کی تصدیق نہیں کی جائیگی تاتارخانیہجب خود واقف کا یہ حکم ہے تو غیر واقف کو ا سکی اجازت کیسے ہوسکتی ہے لہذا ایسے مکان کو گرانا واجب ہے اگرچہ فقط دیوار مسجدپر ہو۔(ت)
مسلمانوں پر اسے باقی رکھنا اور تاحد قدرت ہر جائز طریقہ سے اسے مسجد رہنے میں پوری کوشش کرنا فرض قطعی ہے جو اس میں کوتاہی کرے گا سخت عذاب الہی کا مستحق ہوگا۔
قال اﷲ تعالی "و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-اولىك ما كان لهم ان یدخلوها الا خآىفین۬-لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم(۱۱۴)"
اﷲ تعالی نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں ذکر الہی ہونے سےاور ان کی ویرانی میں کوشش کرےانہیں روانہ تھا کہ ان میں جاتے مگر ڈرتے ہوئےان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب۔والعیاذ باﷲتعالی (اﷲ تعالی کی پناہ) واﷲ تعالی اعلم۔
قولہ کل عقد الظاھر ان المرادبہ عقد مبادلۃقولہ بشرطہ وھوان لایکون للتجارۃ ۔
ماتن کے قول" کل عقد"سے بظاہر مراد عقد مبادلہ ہے اور قول ماتن"بشرطہ"میں شرط سے مراد یہ ہے کہ معتکف کا عقد بیع و شراء بغرض تجارت نہ ہو(ت)
خود بانی نے کہ جامع مسجد بناکر اس مسجد کے ایك حصہ زمین میں اس کا زینہ بنایا یہ بھی ناجائز ہے کہ مسجد بعد تمامی مسجدیت کسی تبدیل کی متحمل نہیں۔واجب ہے کہ اسے بھی زائل کرکے اسے خاص مسجد ہی رکھیں۔درمختار میں ہے:
امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذلك لایصدق تاتارخانیۃفاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد ۔
لیکن مسجدیت تام ہوگئی اب واقف اس پر(حجرہ امام)تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کو روکا جائیگااگر وہ کہے کہ شروع سے میری نیت ایسا کرنے کی تھی تو اس کی تصدیق نہیں کی جائیگی تاتارخانیہجب خود واقف کا یہ حکم ہے تو غیر واقف کو ا سکی اجازت کیسے ہوسکتی ہے لہذا ایسے مکان کو گرانا واجب ہے اگرچہ فقط دیوار مسجدپر ہو۔(ت)
مسلمانوں پر اسے باقی رکھنا اور تاحد قدرت ہر جائز طریقہ سے اسے مسجد رہنے میں پوری کوشش کرنا فرض قطعی ہے جو اس میں کوتاہی کرے گا سخت عذاب الہی کا مستحق ہوگا۔
قال اﷲ تعالی "و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-اولىك ما كان لهم ان یدخلوها الا خآىفین۬-لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم(۱۱۴)"
اﷲ تعالی نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں ذکر الہی ہونے سےاور ان کی ویرانی میں کوشش کرےانہیں روانہ تھا کہ ان میں جاتے مگر ڈرتے ہوئےان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب۔والعیاذ باﷲتعالی (اﷲ تعالی کی پناہ) واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۵
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
مسئلہ۲۹۸: ازشہر الہ آباد زیر مسجد جامع چوك مرسلہ مرزا واحدعلی خوشبو ساز ۲۹شوال۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد شاہی زمانہ کی بنی ہوئی تھی اس کے متعلق خام دکانیں بھی تھیں جن کے کرایہ کی آمدنی تیس چالیس روپے ماہوار تھی وہ آمدنی متولی سابق جو کہ اس مسجدمیں امامت بھی کرتے تھے ان کے خرچ میں اور موذن وتیل بتی وپانی وختم تراویح کی مٹھائی وغیرہ مصالح مسجد میں صرف ہوتی تھی چونکہ مسجد اور اس کی دکانیں بہت بوسیدہ ہوگئی تھیںلہذا ایك صاحب نے بمشورہ اہالیان مسجد اپنے ذاتی روپے سے دکانیں پختہ کرائیں جس سے کرایہ قریب ڈیڑھ سوکے ہوگیااسی کرایہ سے وہ صاحب قسط واراپنا روپیہ بھی وصول کرتے رہے اور مسجد بھی چندہ سے از سرنو تعمیر کرائی گئی اور انتظام مسجد کےلئے ایك کمیٹی قائم کی گئی اورمتولی سابق علیحدہ کئے گئے جن لوگوں کی کوشش سے دکانیں پختہ کرائی گئیں ان لوگوں میں نمازی مسجد اور اہل محلہ بھی شریك ہیں ان سب کے اور ممبران کمیٹی کے مشورہ سے یہ بات طے پائی کہ وہ اخراجات جو سابق میں مسجد کی آمدنی سے ہوتے تھے بدستور قائم رہیںاس کے علاوہ کچھ افطاری رمضان شریف میں نمازیوں کے واسطے بھی دی جائےدس بارہ برس ہوئے کہ اس پہ عملدرآمد چلاآرہاہےزید کہتا ہے کہ جو اخراجات مصالح مسجد میں شامل ہیں وہ قائم رہنا چاہئے اور جو اخراجات مصالح مسجد میں نہیں ہیںمثلا شیرینی ختم تراویح افطاری رمضان شریف وہ جائز نہیں ہیں بند ہونا چاہئے۔بکر کہتا ہے کہ جن اوقاف کا وقف نامہ موجود نہ ہو اور وقف کے شرائط معلوم نہ ہوں جیسے صورت مسئولہ میںتو اس میں عملدرآمد سابق پر کار بند ہونا چاہئےچونکہ شیرینی ختم قرآن شریف کی ہمیشہ متولیان سابق کے زمانے میں برابر آتی رہی لہذااب بھی ویسا ہی آنا چاہئے اور بے تکلف جائز ہےباقی رہا افطاری جو دس بارہ برس سے ممبر ان کمیٹی جو تمام مسلمانوں کی طرف سے قائم ہے ان کی تجویز سے آنے لگی ہے گو کہ یہ ایك امر جدید ہے لیکن اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں ہوتا کیونکہ جیسے بانی اول کو اوقاف کے اخراجات کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں ویسے ہی بانیان ثانی کہ جس میں نمازی مسجد واہل محلہ روپیہ خرچ کرنے والے سب شریك ہیں اور انہوں نے کوشش کرکے آمدنی بڑھائی اور مسجد از سر نوبنوائی تو ا س کو بھی اپنی بڑھائی ہوئی آمدنی میں ضرور اخراجات کے بڑھانے کا اختیار ہوناچاہئے کیونکہ اہل محلہ ونمازیوں کے تصرفات بہت وسیع ہیں اور کمیٹی انہیں کی طرف سے قائم ہے تو کمیٹی کا فعل عین ان کا فعل ہے غرض اخراجات کے بڑھانے کا اختیار ثانی کو بھی ہونا چاہئے بالخصوص ایسے موقع میں کہ باوجود ان سب اخراجات بالا کے پھر بھی آمدنی مسجد میں بچت ہوتی ہےپس دریافت طلب امریہ ہے کہ زید کا قول صحیح ہے یا بکرکا
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد شاہی زمانہ کی بنی ہوئی تھی اس کے متعلق خام دکانیں بھی تھیں جن کے کرایہ کی آمدنی تیس چالیس روپے ماہوار تھی وہ آمدنی متولی سابق جو کہ اس مسجدمیں امامت بھی کرتے تھے ان کے خرچ میں اور موذن وتیل بتی وپانی وختم تراویح کی مٹھائی وغیرہ مصالح مسجد میں صرف ہوتی تھی چونکہ مسجد اور اس کی دکانیں بہت بوسیدہ ہوگئی تھیںلہذا ایك صاحب نے بمشورہ اہالیان مسجد اپنے ذاتی روپے سے دکانیں پختہ کرائیں جس سے کرایہ قریب ڈیڑھ سوکے ہوگیااسی کرایہ سے وہ صاحب قسط واراپنا روپیہ بھی وصول کرتے رہے اور مسجد بھی چندہ سے از سرنو تعمیر کرائی گئی اور انتظام مسجد کےلئے ایك کمیٹی قائم کی گئی اورمتولی سابق علیحدہ کئے گئے جن لوگوں کی کوشش سے دکانیں پختہ کرائی گئیں ان لوگوں میں نمازی مسجد اور اہل محلہ بھی شریك ہیں ان سب کے اور ممبران کمیٹی کے مشورہ سے یہ بات طے پائی کہ وہ اخراجات جو سابق میں مسجد کی آمدنی سے ہوتے تھے بدستور قائم رہیںاس کے علاوہ کچھ افطاری رمضان شریف میں نمازیوں کے واسطے بھی دی جائےدس بارہ برس ہوئے کہ اس پہ عملدرآمد چلاآرہاہےزید کہتا ہے کہ جو اخراجات مصالح مسجد میں شامل ہیں وہ قائم رہنا چاہئے اور جو اخراجات مصالح مسجد میں نہیں ہیںمثلا شیرینی ختم تراویح افطاری رمضان شریف وہ جائز نہیں ہیں بند ہونا چاہئے۔بکر کہتا ہے کہ جن اوقاف کا وقف نامہ موجود نہ ہو اور وقف کے شرائط معلوم نہ ہوں جیسے صورت مسئولہ میںتو اس میں عملدرآمد سابق پر کار بند ہونا چاہئےچونکہ شیرینی ختم قرآن شریف کی ہمیشہ متولیان سابق کے زمانے میں برابر آتی رہی لہذااب بھی ویسا ہی آنا چاہئے اور بے تکلف جائز ہےباقی رہا افطاری جو دس بارہ برس سے ممبر ان کمیٹی جو تمام مسلمانوں کی طرف سے قائم ہے ان کی تجویز سے آنے لگی ہے گو کہ یہ ایك امر جدید ہے لیکن اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں ہوتا کیونکہ جیسے بانی اول کو اوقاف کے اخراجات کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں ویسے ہی بانیان ثانی کہ جس میں نمازی مسجد واہل محلہ روپیہ خرچ کرنے والے سب شریك ہیں اور انہوں نے کوشش کرکے آمدنی بڑھائی اور مسجد از سر نوبنوائی تو ا س کو بھی اپنی بڑھائی ہوئی آمدنی میں ضرور اخراجات کے بڑھانے کا اختیار ہوناچاہئے کیونکہ اہل محلہ ونمازیوں کے تصرفات بہت وسیع ہیں اور کمیٹی انہیں کی طرف سے قائم ہے تو کمیٹی کا فعل عین ان کا فعل ہے غرض اخراجات کے بڑھانے کا اختیار ثانی کو بھی ہونا چاہئے بالخصوص ایسے موقع میں کہ باوجود ان سب اخراجات بالا کے پھر بھی آمدنی مسجد میں بچت ہوتی ہےپس دریافت طلب امریہ ہے کہ زید کا قول صحیح ہے یا بکرکا
الجواب:جہاں شرط واقف معلوم نہ ہو عملدرآمد قدیم کا اعتبار ہے۔خیریہ میں ہے:
ینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان ان قوامہ کیف کانوایعملون ۔
دیکھا جائے گا کہ قدیم سے متولیوں کا عملدرآمد اس وقف کے بارے میں کیا چلاآرہا ہے(ت)
"قدیم"کے یہ معنی"جس کا حادث ہونا معلوم نہ ہو"۔دس بارہ برس یا سود و سو برس سے جو بات بعد واقف بے شرط واقف حادث ہوئی حادث ہی ہےاس پر عمل ناجائز ہے۔ فتح القدیر میں ہے:
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری ۔
وقف کو بغیر کسی زیادتی کے سابقہ حالت پر باقی رکھنا واجب ہے۔(ت)
شیرینی قدیم اگر اسی معنی پر قدیم ہے کہ اس کا حادث ہونا معلوم نہیںوہ اب بھی دی جائے گی اور افطاری کہ دس بارہ برس سے نوایجاد ہے نہ ہوسکے گی۔مسجد از سر نوبنوانے والوں کو تو دکانات وقف سے کچھ تعلق نہیں کہ ان کو اس میں اختیار ہواور دکانیں پختہ کرنا اسی وقف کی پختگی ہے نہ کہ وقف جدید خصوصا جبکہ وہ اپنا لگایا ہوا روپیہ وصول بھی کررہا ہے تو قرض دینے والا ہے نہ کہ واقف۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۹۹: از احمد آباد مرسلہ حکیم مولوی عبدالرحیم صاحب ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قوم نے چندہ کرکے ہزار دو ہزار روپیہ جمع کئے ہیں اب اس کے بعد تدبیر یہ کی کہ اس مال سے کپڑا سفید خریدتے ہیں اور اس کو ادھار نفع چڑھا کربیچتے ہیں اور اس سے جو نفع پیدا ہوتا ہے اس کو بھی جمع کرتے جاتے ہیں اور مقصدان حضرات کا یہ ہے کہ یہ رقم چار پانچ ہزار روپیہ کی جمع ہوجائے اس سے مکان قریب مسجد کے خریدنا ہے اور مسجد کو بڑھانا ہےاب اس مسجد کے چندہ سے اس قسم کی تجارت شرعا جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ وہ روپیہ انہوں نے متولیان مسجد کو ابھی سپرد نہ کیا تو ان کی ملك ہےاس میں تصرف جائز کا انہیں اختیار ہے قرضوں بیچنے میں نقد بیچنے سے دام زائد لینا کوئی مضائقہ نہیں رکھتایہ باہمی تراضی بائع ومشتری پر ہے
ینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان ان قوامہ کیف کانوایعملون ۔
دیکھا جائے گا کہ قدیم سے متولیوں کا عملدرآمد اس وقف کے بارے میں کیا چلاآرہا ہے(ت)
"قدیم"کے یہ معنی"جس کا حادث ہونا معلوم نہ ہو"۔دس بارہ برس یا سود و سو برس سے جو بات بعد واقف بے شرط واقف حادث ہوئی حادث ہی ہےاس پر عمل ناجائز ہے۔ فتح القدیر میں ہے:
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری ۔
وقف کو بغیر کسی زیادتی کے سابقہ حالت پر باقی رکھنا واجب ہے۔(ت)
شیرینی قدیم اگر اسی معنی پر قدیم ہے کہ اس کا حادث ہونا معلوم نہیںوہ اب بھی دی جائے گی اور افطاری کہ دس بارہ برس سے نوایجاد ہے نہ ہوسکے گی۔مسجد از سر نوبنوانے والوں کو تو دکانات وقف سے کچھ تعلق نہیں کہ ان کو اس میں اختیار ہواور دکانیں پختہ کرنا اسی وقف کی پختگی ہے نہ کہ وقف جدید خصوصا جبکہ وہ اپنا لگایا ہوا روپیہ وصول بھی کررہا ہے تو قرض دینے والا ہے نہ کہ واقف۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۹۹: از احمد آباد مرسلہ حکیم مولوی عبدالرحیم صاحب ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قوم نے چندہ کرکے ہزار دو ہزار روپیہ جمع کئے ہیں اب اس کے بعد تدبیر یہ کی کہ اس مال سے کپڑا سفید خریدتے ہیں اور اس کو ادھار نفع چڑھا کربیچتے ہیں اور اس سے جو نفع پیدا ہوتا ہے اس کو بھی جمع کرتے جاتے ہیں اور مقصدان حضرات کا یہ ہے کہ یہ رقم چار پانچ ہزار روپیہ کی جمع ہوجائے اس سے مکان قریب مسجد کے خریدنا ہے اور مسجد کو بڑھانا ہےاب اس مسجد کے چندہ سے اس قسم کی تجارت شرعا جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ وہ روپیہ انہوں نے متولیان مسجد کو ابھی سپرد نہ کیا تو ان کی ملك ہےاس میں تصرف جائز کا انہیں اختیار ہے قرضوں بیچنے میں نقد بیچنے سے دام زائد لینا کوئی مضائقہ نہیں رکھتایہ باہمی تراضی بائع ومشتری پر ہے
حوالہ / References
فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۰۶
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰
قال تعالی " الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:مگر یہ کہ تمہارے درمیان باہمی رضا مندی سے تجارت ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۰۰: ازشہر بریلی مسئولہ شوکت علی فاروقی ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس مسجد میں درخت بہی بیلاگلاب وغیرہ ہو اور بوجہ تعمیر ہونے حجرہ وغسل خانہ کے ان درختوں کو کاٹا جائے تو کوئی شخص ان درختوں کو کھود کر اپنے مکان میں لگا سکتا ہے یانہیں دوسرے یہ کہ پیال یا لرسی موسم سرما میں جو مسجدوں میں ڈالی جائے اور بعد گزرجانے موسم سرما کے اس کو نکال کر پھینك دیتے ہیں تو جو شخص اس پیال یا لرسی یا چٹائی کہنہ قابل پھینك دینے کے ہواس کو اپنے صرف میں مثل پانی گرم کرنے کے لاسکتا ہے یانہیں یہ کہ منڈیر یا فصیل مسجد جس پر وضو کرتے ہیں یا اذان دیتے ہیں وہ مسجد کے حکم میں داخل ہےکیا مثل مسجد کے بات وغیرہ کرنے کی وہاں بھی ممانعت ہوگی بینواتوجروا۔
الجواب:
ان درختوں کو مسجد سے واجبی ومناسب قیمت پر مول لے کر لگا سکتاہے۔پیال یا چٹائی بیکار شدہ کہ پھینك دی جائے لے کر صرف کرسکتاہے۔فصیل مسجد بعض باتوں میں حکم مسجد میں ہے معتکف بلا ضرورت اس پر جاسکتا ہے اس پر تھوکنے یا ناك صاف کرنے یا نجاست ڈالنے کی اجازت نہیںبیہودہ باتیںقہقہے سے ہنسنا وہاں بھی نہ چاہئے اوربعض باتوں میں حکم مسجد نہیں اس پر اذان دیں گے اس پر بیٹھ وضوکر سکتے ہیں جب تك مسجد میں جگہ باقی ہو اس پر نماز فرض میں مسجد کا ثواب نہیںدنیا کی جائز قلیل بات جس میں چپقلش ہو نہ کسی نمازی یا ذاکر کی ایذا اس میں حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۱: ۲۶صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد نیاریاں شکستہ ہے چھت اس کی بالکل خارج ہے اور کڑیاں ٹوٹ گئی ہیں اور بعض بعض خمیدہ ہوگئی ہیںمنارے جھری دے گئے ہیںلہذا ہم اہل محلہ یہ بات چاہتے ہیں کہ از سرنو تعمیر کریں۔اراضی مسجد کی افتادہ اتر وپچھم کی بڑھانا منظور ہے۔چنانچہ کچھ روپیہ جمع ہے اور باقی جو روپیہ زائد صرف ہوگا چندہ جمع کرکے انجام دیں گے اس واسطے کہ موسم بارش میں نمازیوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے موجودہ بنیاد کو نکال کر دوسری بنیاد قائم کریں۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:مگر یہ کہ تمہارے درمیان باہمی رضا مندی سے تجارت ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۰۰: ازشہر بریلی مسئولہ شوکت علی فاروقی ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس مسجد میں درخت بہی بیلاگلاب وغیرہ ہو اور بوجہ تعمیر ہونے حجرہ وغسل خانہ کے ان درختوں کو کاٹا جائے تو کوئی شخص ان درختوں کو کھود کر اپنے مکان میں لگا سکتا ہے یانہیں دوسرے یہ کہ پیال یا لرسی موسم سرما میں جو مسجدوں میں ڈالی جائے اور بعد گزرجانے موسم سرما کے اس کو نکال کر پھینك دیتے ہیں تو جو شخص اس پیال یا لرسی یا چٹائی کہنہ قابل پھینك دینے کے ہواس کو اپنے صرف میں مثل پانی گرم کرنے کے لاسکتا ہے یانہیں یہ کہ منڈیر یا فصیل مسجد جس پر وضو کرتے ہیں یا اذان دیتے ہیں وہ مسجد کے حکم میں داخل ہےکیا مثل مسجد کے بات وغیرہ کرنے کی وہاں بھی ممانعت ہوگی بینواتوجروا۔
الجواب:
ان درختوں کو مسجد سے واجبی ومناسب قیمت پر مول لے کر لگا سکتاہے۔پیال یا چٹائی بیکار شدہ کہ پھینك دی جائے لے کر صرف کرسکتاہے۔فصیل مسجد بعض باتوں میں حکم مسجد میں ہے معتکف بلا ضرورت اس پر جاسکتا ہے اس پر تھوکنے یا ناك صاف کرنے یا نجاست ڈالنے کی اجازت نہیںبیہودہ باتیںقہقہے سے ہنسنا وہاں بھی نہ چاہئے اوربعض باتوں میں حکم مسجد نہیں اس پر اذان دیں گے اس پر بیٹھ وضوکر سکتے ہیں جب تك مسجد میں جگہ باقی ہو اس پر نماز فرض میں مسجد کا ثواب نہیںدنیا کی جائز قلیل بات جس میں چپقلش ہو نہ کسی نمازی یا ذاکر کی ایذا اس میں حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۱: ۲۶صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد نیاریاں شکستہ ہے چھت اس کی بالکل خارج ہے اور کڑیاں ٹوٹ گئی ہیں اور بعض بعض خمیدہ ہوگئی ہیںمنارے جھری دے گئے ہیںلہذا ہم اہل محلہ یہ بات چاہتے ہیں کہ از سرنو تعمیر کریں۔اراضی مسجد کی افتادہ اتر وپچھم کی بڑھانا منظور ہے۔چنانچہ کچھ روپیہ جمع ہے اور باقی جو روپیہ زائد صرف ہوگا چندہ جمع کرکے انجام دیں گے اس واسطے کہ موسم بارش میں نمازیوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے موجودہ بنیاد کو نکال کر دوسری بنیاد قائم کریں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۹
الجواب
مسجد کی مرمت واجب ہےبارش کی تکلیف کہ چھت ٹپکنے سے سائل نے بتائی اس سے دفع ہوجائے گیاس قدر کےلئے اگر موجودہ روپیہ کافی نہ ہو چندہ کریں باقی اصل مسجد کی بنیادیں نکال کر شما ل ومغرب کی زمین متعلق مسجد میں مسجد بڑھانے کے لیے جدید بنیادیں قائم کرنا اگر ا س توسیع کی مسجد کو صحیح ضرورت ہے کریں ورنہ بے ضرورت بڑھانا اور مسلمانوں پر چندہ کاباربلاوجہ بہت بڑھادینا کس لئے!ہر مسجد میں جمعہ وعیدین قائم کرنا کوئی شرعی ضرورت نہیں!فتح القدیر میں ہے:
انما امرنا بابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری ۔
بیشك ہمیں حکم دیا گیاہے کہ ہم وقف کو بغیر کسی زیادتی کے حال سابق پر قائم رکھیں(ت)
مسئلہ۳۰۲: ۲ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کبیر محلہ میں بوجہ ضعف اسلام وتسامح الناس قدرے گر پھوٹ گئی ہے اور بعد کو بعون خدا تعالی مرمت کا ملہ کرادی گئی ہے اور پیش امام وغیرہ نیز بدستور مقرر کئے گئے ہیں اور صلوۃ خمسہجمعہاذان اس میں پڑھی جاتی ہے۔پس بوقت غیر آبادی وشکستگی مسجد مذکور بالا کے ایك مرد مسلم نے ایك مسجد صغیر عنقریب ومتصل اس کے چار گز کے فاصلہ پر بنائی تھی جو کہ اب تك آباد ہے اور اس میں بھی اذان صلوۃ بالفعل ہورہے ہیںکیا اس شخص کو مسجد جدید بنانی عندالشرع جائز تھی یانہاور اب اس کا گرانا جائز ہے یانہ
الجواب:
حاشا اس کا گرانا بھی جائز نہیںدونوں کا آباد رکھنا واجب ہےاسے مناسب یہ تھا کہ مسجد قدیم ہی کی تعمیر کرتا اور اتنے قریب دوسری مسجد نہ بناتا اب کہ بن گئی ہدم حلال نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۳: ازموضع سرولی ڈاکخانہ کچا ضلع نینی تال مرسلہ محمد حسین خورد ۱۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کی صف دوسری مسجد میں لاکر نماز فرض یا واجب پڑھی جائے تو ہوسکتی ہے یانہیںجیسے کہ نماز الوداع میں اکثر صفو ں کی ضرورت ہوتی ہےتو جس جگہ موضع میں دو مسجدیں ہوتی ہیں تو مسجد جامع میں دوسری مسجد کی صفیں لاکر نماز پڑھتے ہیں یا عید کی نماز پڑھی جائے تو ازروئے شرع شریف نماز دوسری مسجد کی صفوں پر ہوسکتی ہے یانہیںبینوا توجروا۔
مسجد کی مرمت واجب ہےبارش کی تکلیف کہ چھت ٹپکنے سے سائل نے بتائی اس سے دفع ہوجائے گیاس قدر کےلئے اگر موجودہ روپیہ کافی نہ ہو چندہ کریں باقی اصل مسجد کی بنیادیں نکال کر شما ل ومغرب کی زمین متعلق مسجد میں مسجد بڑھانے کے لیے جدید بنیادیں قائم کرنا اگر ا س توسیع کی مسجد کو صحیح ضرورت ہے کریں ورنہ بے ضرورت بڑھانا اور مسلمانوں پر چندہ کاباربلاوجہ بہت بڑھادینا کس لئے!ہر مسجد میں جمعہ وعیدین قائم کرنا کوئی شرعی ضرورت نہیں!فتح القدیر میں ہے:
انما امرنا بابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری ۔
بیشك ہمیں حکم دیا گیاہے کہ ہم وقف کو بغیر کسی زیادتی کے حال سابق پر قائم رکھیں(ت)
مسئلہ۳۰۲: ۲ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کبیر محلہ میں بوجہ ضعف اسلام وتسامح الناس قدرے گر پھوٹ گئی ہے اور بعد کو بعون خدا تعالی مرمت کا ملہ کرادی گئی ہے اور پیش امام وغیرہ نیز بدستور مقرر کئے گئے ہیں اور صلوۃ خمسہجمعہاذان اس میں پڑھی جاتی ہے۔پس بوقت غیر آبادی وشکستگی مسجد مذکور بالا کے ایك مرد مسلم نے ایك مسجد صغیر عنقریب ومتصل اس کے چار گز کے فاصلہ پر بنائی تھی جو کہ اب تك آباد ہے اور اس میں بھی اذان صلوۃ بالفعل ہورہے ہیںکیا اس شخص کو مسجد جدید بنانی عندالشرع جائز تھی یانہاور اب اس کا گرانا جائز ہے یانہ
الجواب:
حاشا اس کا گرانا بھی جائز نہیںدونوں کا آباد رکھنا واجب ہےاسے مناسب یہ تھا کہ مسجد قدیم ہی کی تعمیر کرتا اور اتنے قریب دوسری مسجد نہ بناتا اب کہ بن گئی ہدم حلال نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۳: ازموضع سرولی ڈاکخانہ کچا ضلع نینی تال مرسلہ محمد حسین خورد ۱۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کی صف دوسری مسجد میں لاکر نماز فرض یا واجب پڑھی جائے تو ہوسکتی ہے یانہیںجیسے کہ نماز الوداع میں اکثر صفو ں کی ضرورت ہوتی ہےتو جس جگہ موضع میں دو مسجدیں ہوتی ہیں تو مسجد جامع میں دوسری مسجد کی صفیں لاکر نماز پڑھتے ہیں یا عید کی نماز پڑھی جائے تو ازروئے شرع شریف نماز دوسری مسجد کی صفوں پر ہوسکتی ہے یانہیںبینوا توجروا۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰
الجواب:
ایك مسجد کی صفیں دوسری مسجدمیں لےجانا ممنوع وناجائز ہےنماز مکروہ وناقص ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۴: ازبریلی مسئولہ مولوی میراحمد صاحب بنگالی طالب علم مدرسہ منظر اسلام ۱۵ربیع الآخر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا پاخانہ پشت مسجد سے ملحق تھا اس کو بوجہ مسجد منہدم کرادیا اور کوئی عرصہ دو ماہ سے کچھ لوگ وہاں پر کوڑاوغیرہ ڈالنے لگے اب زید یہ چاہتا ہے کہ اس ملحق پشت مسجد زمین کی اپنی نشست گاہ بنوا دے اور مسجد کے دو پرنالوں کا پانی اپنی چھت پر لے یا اس اراضی کو اپنی ڈیوڑھی بنالے اس صورت میں ایك پر نالہ اپنی ڈیوڑھی پر لے اور دوسرے پر نالے کا پانی باہر نکال دےاور ساتھ ہی اس کے یہ واضح رہے کہ مسجد کا کوئی پشتہ نہیں اور نہ پشتہ اس جگہ ہے جہاں مسجد کے دو پر نالوں کا پانی گرتا ہےاس صورت میں کیاحکم شرع ہےنشست گاہ یا ڈیوڑھی وغیرہ بننے سے مسجد کی حفاظت بھی ہوتی ہے اور پانی مسجد کا کسی صورت میں روکا نہیں جاتا۔
الجواب:
مسجد کا پشتہ نہ ہو آبچك کے لئے زمین مسجد نے چھوڑی ہوگیاسے اپنے تصرف میں لانا حرام ہےہاں اگر ثابت ہو کہ مسجد کی کوئی زمین نہ چھوٹی تھی صرف پانی بہانے کا اس کی زمین میں حق تھا تویہ اس میں عمارت بناسکتا ہے جبکہ مسجد کا پانی نہ روکے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۵: ازالہ آباد دائرہ شاہ اجمل صاحب آوردہ مولنا مولوی سید نذیر احمد صاحب ۱۸جمادی اولی ۱۳۳۸ھ
سوال بعینہ مثل سوال ثانی ۲۹/شوال ۱۳۳۷ھ مذکور باب احکام المسجد۔
الجواب:
اس سوال کا جواب جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ پھر رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ پھر شوال ۱۳۳۷ھ میں تین بار یہاں سے جاچکااس بار اس کے ساتھ ایك اور تحریر طویل بایں خلاصہ ہے کہ اس سوال میں زید مستفتی نے اخفائے حق کیاحقیقت امریہ ہے کہ ان لوگوں نے دکانات مسجد کی چھت پر ایك مدرسہ بلا معاوضہ قائم کرلیا اور کمیٹی سے اس کی بقا کا اقرار نامہ لکھا لیا ہےیہ حالت دیکھ کر تحفظ آئندہ کے لئے یہ پتھر لگایا گیا جس میں دکانات وحمام کے وقف علی المسجد ہونے کا تذکرہ ہے کہ آئندہ کوئی متولی سابق کی طرح ان دکانوں پر دعوی نہ کر بیٹھے۔اعلان میں معلن کا نام ضرورہےگمنام اعلان ایسا نہیں ہوتالہذا بکر نے اپنا نام لکھا نہ بقصدریاء نہ طلب دعا۔یہ پتھر سجدہ کی جگہ سے دس فٹ بلند ہے تو نمازی کا سامنا
ایك مسجد کی صفیں دوسری مسجدمیں لےجانا ممنوع وناجائز ہےنماز مکروہ وناقص ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۴: ازبریلی مسئولہ مولوی میراحمد صاحب بنگالی طالب علم مدرسہ منظر اسلام ۱۵ربیع الآخر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا پاخانہ پشت مسجد سے ملحق تھا اس کو بوجہ مسجد منہدم کرادیا اور کوئی عرصہ دو ماہ سے کچھ لوگ وہاں پر کوڑاوغیرہ ڈالنے لگے اب زید یہ چاہتا ہے کہ اس ملحق پشت مسجد زمین کی اپنی نشست گاہ بنوا دے اور مسجد کے دو پرنالوں کا پانی اپنی چھت پر لے یا اس اراضی کو اپنی ڈیوڑھی بنالے اس صورت میں ایك پر نالہ اپنی ڈیوڑھی پر لے اور دوسرے پر نالے کا پانی باہر نکال دےاور ساتھ ہی اس کے یہ واضح رہے کہ مسجد کا کوئی پشتہ نہیں اور نہ پشتہ اس جگہ ہے جہاں مسجد کے دو پر نالوں کا پانی گرتا ہےاس صورت میں کیاحکم شرع ہےنشست گاہ یا ڈیوڑھی وغیرہ بننے سے مسجد کی حفاظت بھی ہوتی ہے اور پانی مسجد کا کسی صورت میں روکا نہیں جاتا۔
الجواب:
مسجد کا پشتہ نہ ہو آبچك کے لئے زمین مسجد نے چھوڑی ہوگیاسے اپنے تصرف میں لانا حرام ہےہاں اگر ثابت ہو کہ مسجد کی کوئی زمین نہ چھوٹی تھی صرف پانی بہانے کا اس کی زمین میں حق تھا تویہ اس میں عمارت بناسکتا ہے جبکہ مسجد کا پانی نہ روکے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۵: ازالہ آباد دائرہ شاہ اجمل صاحب آوردہ مولنا مولوی سید نذیر احمد صاحب ۱۸جمادی اولی ۱۳۳۸ھ
سوال بعینہ مثل سوال ثانی ۲۹/شوال ۱۳۳۷ھ مذکور باب احکام المسجد۔
الجواب:
اس سوال کا جواب جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ پھر رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ پھر شوال ۱۳۳۷ھ میں تین بار یہاں سے جاچکااس بار اس کے ساتھ ایك اور تحریر طویل بایں خلاصہ ہے کہ اس سوال میں زید مستفتی نے اخفائے حق کیاحقیقت امریہ ہے کہ ان لوگوں نے دکانات مسجد کی چھت پر ایك مدرسہ بلا معاوضہ قائم کرلیا اور کمیٹی سے اس کی بقا کا اقرار نامہ لکھا لیا ہےیہ حالت دیکھ کر تحفظ آئندہ کے لئے یہ پتھر لگایا گیا جس میں دکانات وحمام کے وقف علی المسجد ہونے کا تذکرہ ہے کہ آئندہ کوئی متولی سابق کی طرح ان دکانوں پر دعوی نہ کر بیٹھے۔اعلان میں معلن کا نام ضرورہےگمنام اعلان ایسا نہیں ہوتالہذا بکر نے اپنا نام لکھا نہ بقصدریاء نہ طلب دعا۔یہ پتھر سجدہ کی جگہ سے دس فٹ بلند ہے تو نمازی کا سامنا
نہیں ہوگا اور اندر کے محراب پرنہیں بلکہ بیرونی محرابی دروں پروہی لوگ جن سے اندیشہ ہے اس پتھر کا انعدام چاہتے ہیں کہ اس کی بقاء میں تحفظ واستحکام وقف ہے انتہی ملخصا۔
فریق ثانی کی طرف سے بھی سوال مع جواب آیا تھا کہ اس پتھر کا نصب جائز نہیں بلکہ غیبت میں داخل ہے اور اس کا جواب بھی رمضان مبارك عــــــہ ۱۳۳۶ھ میں گیا کہ اگر وہ افعال متولی سابق سے صادر ہوئے اور اہل شہر ان وقائع پر مطلع ہوں تو ان کا لکھ کر نصب کرنا غیبت نہیں ہوسکتاخصوصا منظر عامہ میں نصب کہ اشتہار چھاپ کر عام تقسیم کی طرح حد غیبت میں اس کا آنا دشوار نہ تاحیات متولی مذکور اس کے عدم جواز کی کوئی وجہ جب کہ منجر بفتنہ نہ ہوہاں اس کا نصب کوئی مہم مصلحت شرعیہ نہ رکھتا ہو تو بعد موت متولی اس پتھر کا معدوم کردینا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:لاتذکر وا امواتکم الابخیر (اپنے مردوں کا تذکرہ سوائے بھلائی کے مت کرو۔ت)اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
لاتسبو الاموات فانھم قد افضوا الی ماقدموا ۔
اپنے مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ وہ اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو پہنچ چکے ہیں۔(ت)
بایں ہمہ جبکہ بلا مصلحت شرعیہ عبث ہے عبث سے ویسے ہی بچنا چاہئے نہ کہ وہ جس سے کسی مسلمان کو تکلیف ہواگر وقف میں خیانت واضرار کا اندیشہ ہے اور اس پتھر کا نصب کرنا مانع ہوگایا اسی طرح اور کوئی مصلحت مہمہ شرعیہ ہے تو نصب میں حرج نہیں بلکہ حاجت ہوتو اجر ہےیہ اس جواب کا خلاصہ ہے جو فریق ثانی کو یہاں سے گیااب بھی یہی کہا جاتا ہے کہ محض بلامصلحت ہوتو جدا کردیں اور مصلحت شرعیہ ہے تو قائم رکھیںپھر اگر موضع نظر سے اتنا بلند ہو کہ جب تك نظر اوپر کو اٹھاکر نہ دیکھیں نظر نہ آئے کسی طرح نقش دیوار قبلہ کی کراہت میں نہیں آتایہ خود اس نمازی کا قصور ہےاسے نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا کب جائز تھارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
عــــــہ:مندرجہ صفحہ ۴۷۲۔
فریق ثانی کی طرف سے بھی سوال مع جواب آیا تھا کہ اس پتھر کا نصب جائز نہیں بلکہ غیبت میں داخل ہے اور اس کا جواب بھی رمضان مبارك عــــــہ ۱۳۳۶ھ میں گیا کہ اگر وہ افعال متولی سابق سے صادر ہوئے اور اہل شہر ان وقائع پر مطلع ہوں تو ان کا لکھ کر نصب کرنا غیبت نہیں ہوسکتاخصوصا منظر عامہ میں نصب کہ اشتہار چھاپ کر عام تقسیم کی طرح حد غیبت میں اس کا آنا دشوار نہ تاحیات متولی مذکور اس کے عدم جواز کی کوئی وجہ جب کہ منجر بفتنہ نہ ہوہاں اس کا نصب کوئی مہم مصلحت شرعیہ نہ رکھتا ہو تو بعد موت متولی اس پتھر کا معدوم کردینا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:لاتذکر وا امواتکم الابخیر (اپنے مردوں کا تذکرہ سوائے بھلائی کے مت کرو۔ت)اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
لاتسبو الاموات فانھم قد افضوا الی ماقدموا ۔
اپنے مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ وہ اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو پہنچ چکے ہیں۔(ت)
بایں ہمہ جبکہ بلا مصلحت شرعیہ عبث ہے عبث سے ویسے ہی بچنا چاہئے نہ کہ وہ جس سے کسی مسلمان کو تکلیف ہواگر وقف میں خیانت واضرار کا اندیشہ ہے اور اس پتھر کا نصب کرنا مانع ہوگایا اسی طرح اور کوئی مصلحت مہمہ شرعیہ ہے تو نصب میں حرج نہیں بلکہ حاجت ہوتو اجر ہےیہ اس جواب کا خلاصہ ہے جو فریق ثانی کو یہاں سے گیااب بھی یہی کہا جاتا ہے کہ محض بلامصلحت ہوتو جدا کردیں اور مصلحت شرعیہ ہے تو قائم رکھیںپھر اگر موضع نظر سے اتنا بلند ہو کہ جب تك نظر اوپر کو اٹھاکر نہ دیکھیں نظر نہ آئے کسی طرح نقش دیوار قبلہ کی کراہت میں نہیں آتایہ خود اس نمازی کا قصور ہےاسے نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا کب جائز تھارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
عــــــہ:مندرجہ صفحہ ۴۷۲۔
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آفات اللسان الآفۃ الثامنۃ اللعن دارالفکر بیروت ۷/ ۹۱۔۴۹۰
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماینہی عن سب الاموات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۷،سنن النسائی کتاب النہی باب ماینہی عن سب الاموات نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۲۷۴
صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماینہی عن سب الاموات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۷،سنن النسائی کتاب النہی باب ماینہی عن سب الاموات نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۲۷۴
لینتھین اقوام یرفعون ابصارھم الی السماء فی الصلوۃ اولتخطفن ابصارھم ۔رواہ مسلم۔
وہ جو نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں یا تو وہ اپنی اس حرکت سے باز آئیں گے یا ان کی نگاہ اچك لی جائے گی(اسے مسلم نے روایت کیا۔ت)
اور اگر اتنا بلند نہیں تو ضرورموقع کراہت میں ہے اور اس میں اندرونی وبیرونی محراب کا تفرقہ نہیں مسجد کا درجہ مسقفہ وصحن دونوں مسجد ہیں اس حالت میں چاہئے کہ اس تحریر پر نمازوں کے اوقات میں غلاف ڈال دیںہم نے فتوی سابقہ میں سنن ابی داؤد کی حدیث نقل کی کہ دیوار غربی کعبہ معظمہ میں(اس)مینڈھے کے(جو سیدنا اسمعیل عليهم الصلوۃ والسلام کا فدیہ ہوا)سینگ نصب تھےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا:
خمرھما فانہ لاینبغی ان یکون فی قبلۃ البیت شیئ یلھی المصلی ۔
انہیں(سینگوں کو)ڈھانك دو کہ نمازی کے سامنے کوئی ایسی چیز نہ چاہئے جسے سے دل بٹے۔
نام کا جواب بھی فتوی سابقہ میں تھا کہ ریاء کو حرام مگر بلاوجہ شرعی مسلمان پر قصد ریا کی بدگمانی بھی حراماور بنظر دعا ہے تو حرج نہیںنہ کفایت اجمال منافی طلب خصوص۔اور یہ مصلحت کہ اس تحریر میں بتائی ضرور قابل لحاظ ہے جبکہ اس کا نام وجہ اعتبار اعلان یا زیادت اعتبار ہو
وانما الاعمال بالنیات وانمالکل امرئ مانوی ۔
اعمال کا دار ومدارنیتوں پر ہے ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)
دکانات مسجد پر اقامت مدرسہ کے بارے میں بھی سوال آیا اور مفصل جواب جا چکا ہے مگر فریق ثانی کے سوال میں یہ تھا کہ مسجد میں ایك مدرسہ ہے جس میں تعلیم کلام مجید وتفسیر وفقہ وحدیث کی ہوتی ہےبعض منتظمین نے چاہا کہ تعلیم مسجد سے اٹھادی جائےاوران شرائط پر اس کے قیام کا فیصلہ ہوااس تحریر تازہ میں یہ ہے کہ بلا استحقاق وبلا معاوضہ سقف وقف پر مدرسہ کرلیا ہےایسا ہے تو بلا شبہ حرام ہے اور منتظمین مسجد کی اس پر رضامندی مردوداور اب تك کا کرایہ مدرسہ قائم کرنیوالوں پر
وہ جو نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں یا تو وہ اپنی اس حرکت سے باز آئیں گے یا ان کی نگاہ اچك لی جائے گی(اسے مسلم نے روایت کیا۔ت)
اور اگر اتنا بلند نہیں تو ضرورموقع کراہت میں ہے اور اس میں اندرونی وبیرونی محراب کا تفرقہ نہیں مسجد کا درجہ مسقفہ وصحن دونوں مسجد ہیں اس حالت میں چاہئے کہ اس تحریر پر نمازوں کے اوقات میں غلاف ڈال دیںہم نے فتوی سابقہ میں سنن ابی داؤد کی حدیث نقل کی کہ دیوار غربی کعبہ معظمہ میں(اس)مینڈھے کے(جو سیدنا اسمعیل عليهم الصلوۃ والسلام کا فدیہ ہوا)سینگ نصب تھےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا:
خمرھما فانہ لاینبغی ان یکون فی قبلۃ البیت شیئ یلھی المصلی ۔
انہیں(سینگوں کو)ڈھانك دو کہ نمازی کے سامنے کوئی ایسی چیز نہ چاہئے جسے سے دل بٹے۔
نام کا جواب بھی فتوی سابقہ میں تھا کہ ریاء کو حرام مگر بلاوجہ شرعی مسلمان پر قصد ریا کی بدگمانی بھی حراماور بنظر دعا ہے تو حرج نہیںنہ کفایت اجمال منافی طلب خصوص۔اور یہ مصلحت کہ اس تحریر میں بتائی ضرور قابل لحاظ ہے جبکہ اس کا نام وجہ اعتبار اعلان یا زیادت اعتبار ہو
وانما الاعمال بالنیات وانمالکل امرئ مانوی ۔
اعمال کا دار ومدارنیتوں پر ہے ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)
دکانات مسجد پر اقامت مدرسہ کے بارے میں بھی سوال آیا اور مفصل جواب جا چکا ہے مگر فریق ثانی کے سوال میں یہ تھا کہ مسجد میں ایك مدرسہ ہے جس میں تعلیم کلام مجید وتفسیر وفقہ وحدیث کی ہوتی ہےبعض منتظمین نے چاہا کہ تعلیم مسجد سے اٹھادی جائےاوران شرائط پر اس کے قیام کا فیصلہ ہوااس تحریر تازہ میں یہ ہے کہ بلا استحقاق وبلا معاوضہ سقف وقف پر مدرسہ کرلیا ہےایسا ہے تو بلا شبہ حرام ہے اور منتظمین مسجد کی اس پر رضامندی مردوداور اب تك کا کرایہ مدرسہ قائم کرنیوالوں پر
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب النہی عن رفع البصر الی السماء فی الصلوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۱
سنن ابوداؤد کتاب المناسک باب الصلوٰۃ فی الکعبہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۷۷،مسند احمد بن حنبل حدیث امرأۃ من بنی سلیم دارالفکر بیر وت ۴/ ۶۸
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ پشاور کراچی ۱/ ۲
سنن ابوداؤد کتاب المناسک باب الصلوٰۃ فی الکعبہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۷۷،مسند احمد بن حنبل حدیث امرأۃ من بنی سلیم دارالفکر بیر وت ۴/ ۶۸
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ پشاور کراچی ۱/ ۲
بحق مسجد لازمکما ھو منصوص علیہ فی عامۃ الکتب(جیسا کہ عام کتابوں میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۶:ازبمبئی نشان پاڑاکر اس روڈ بوساطت سید غوث پیران صاحب مرسلہ میمن آدم عبدالرحمن صاحب ۲جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دینایك حنفی المذہب عورت نے انتقال کیاجس نے اپنی جائداد کے ساتھ ایك شوہردو بیٹیاںایك حقیقی بھائی اور ایك عم زاد بہن کا بیٹا چھوڑا اس کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا۔قبل از تقسیم ترکہ مرحومہ کی وفات کے دو سال بعد اس کے شوہر نے جائداد مذکورہ سے زمین کا ایك قطعہ مسجد بنانے کے لئے وقف کردیا جس پر بتوسل جماعت مسجد تعمیر کی گئی اور پنجوقتہ نماز بھی قائم ہوگئیلیکن بعض لوگ اس میں عدم جوازنماز کے قائل ہیں کہ وقف صحیح نہ ہوا۔مرحومہ کا شوہر یہ کہتا ہے کہ مجھ سے مرحومہ نے یہ وصیت کی تھی کہ مسجد کی عمارت کےلئے ایك قطعہ زمین وقف کرے اگر شرعا یہ وقف صحیح نہ ہوگاتو میں اپنے حصہ رسدی سے اس وقف کو برقرار رکھوں گا۔صورت مذکورہ میں وقف اول صحیح ہوکر نماز پڑھنا اس میں درست ہے یانہیںبرصورت عدم جواز اپنے حصہ میراث سے وقف کا برقرار رکھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
ترکہ متوفی حسب شرائط فرائض بارہ سہام ہوکر تین سہم شوہرچار چار ہر دخترایك برادر کو ملے گا۔عم زاد بہن کا بیٹا محروم ہے۔ اگر صحیح ہے کہ مورثہ نے یہ وصیت کی تھی اور یہ قطعہ(بعد ادائے دین اگر ذمہ موروثہ ہو)ثلث متروکہ سے زائد نہیں تو وقف صحیح ونافذ ہوگیا اور وہ قطعہ مسجد اور اس میں نماز مسجد میں نماز۔یوہیں اگر ثلث متروکہ سے زائد ہو اور باقی ورثہ یعنی بیٹیاں اور بھائی سب عاقل بالغ اور سب اس وصیت کو قبول کیا اور جائز رکھاجب بھی یہی حکم ہے۔یونہی اگر وصیت ثابت نہ ہو اور شوہر نے ایك قطعہ معینہ جس میں باقی ورثہ کے بھی حصے تھے تعمیر مسجد کے لئے وقف کردیا اور باقی سب ورثہ نے بشرط عقل وبلوغ اسے جائز رکھا جب بھی یہی حکم ہے۔ان سب صورتوں میں وہ مسجد ہوگیا
وذلك لانہ فی الاخیر فضولی فی حصصھم وقد صدر منہ مالہ مجیزحین صدورہ وقد اجازوا فنفذ ولم یمنع الشیوع لعدمہ عند اجتماعھم علی تجویزہ اور یہ اس لئے ہے کہ صورت اخیرہ میں وہ(شوہر)دیگر ورثاء کے حصص کو مسجد بنانے میں فضولی ہے اور یہ فعل اس سے اس حال میں صادر ہوا کہ صدور کے وقت اسکو جائز کرنے والا موجود ہے اور انہوں نے اس کی اجازت دے کر جائز کردیا اور شیوع
مسئلہ۳۰۶:ازبمبئی نشان پاڑاکر اس روڈ بوساطت سید غوث پیران صاحب مرسلہ میمن آدم عبدالرحمن صاحب ۲جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دینایك حنفی المذہب عورت نے انتقال کیاجس نے اپنی جائداد کے ساتھ ایك شوہردو بیٹیاںایك حقیقی بھائی اور ایك عم زاد بہن کا بیٹا چھوڑا اس کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا۔قبل از تقسیم ترکہ مرحومہ کی وفات کے دو سال بعد اس کے شوہر نے جائداد مذکورہ سے زمین کا ایك قطعہ مسجد بنانے کے لئے وقف کردیا جس پر بتوسل جماعت مسجد تعمیر کی گئی اور پنجوقتہ نماز بھی قائم ہوگئیلیکن بعض لوگ اس میں عدم جوازنماز کے قائل ہیں کہ وقف صحیح نہ ہوا۔مرحومہ کا شوہر یہ کہتا ہے کہ مجھ سے مرحومہ نے یہ وصیت کی تھی کہ مسجد کی عمارت کےلئے ایك قطعہ زمین وقف کرے اگر شرعا یہ وقف صحیح نہ ہوگاتو میں اپنے حصہ رسدی سے اس وقف کو برقرار رکھوں گا۔صورت مذکورہ میں وقف اول صحیح ہوکر نماز پڑھنا اس میں درست ہے یانہیںبرصورت عدم جواز اپنے حصہ میراث سے وقف کا برقرار رکھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
ترکہ متوفی حسب شرائط فرائض بارہ سہام ہوکر تین سہم شوہرچار چار ہر دخترایك برادر کو ملے گا۔عم زاد بہن کا بیٹا محروم ہے۔ اگر صحیح ہے کہ مورثہ نے یہ وصیت کی تھی اور یہ قطعہ(بعد ادائے دین اگر ذمہ موروثہ ہو)ثلث متروکہ سے زائد نہیں تو وقف صحیح ونافذ ہوگیا اور وہ قطعہ مسجد اور اس میں نماز مسجد میں نماز۔یوہیں اگر ثلث متروکہ سے زائد ہو اور باقی ورثہ یعنی بیٹیاں اور بھائی سب عاقل بالغ اور سب اس وصیت کو قبول کیا اور جائز رکھاجب بھی یہی حکم ہے۔یونہی اگر وصیت ثابت نہ ہو اور شوہر نے ایك قطعہ معینہ جس میں باقی ورثہ کے بھی حصے تھے تعمیر مسجد کے لئے وقف کردیا اور باقی سب ورثہ نے بشرط عقل وبلوغ اسے جائز رکھا جب بھی یہی حکم ہے۔ان سب صورتوں میں وہ مسجد ہوگیا
وذلك لانہ فی الاخیر فضولی فی حصصھم وقد صدر منہ مالہ مجیزحین صدورہ وقد اجازوا فنفذ ولم یمنع الشیوع لعدمہ عند اجتماعھم علی تجویزہ اور یہ اس لئے ہے کہ صورت اخیرہ میں وہ(شوہر)دیگر ورثاء کے حصص کو مسجد بنانے میں فضولی ہے اور یہ فعل اس سے اس حال میں صادر ہوا کہ صدور کے وقت اسکو جائز کرنے والا موجود ہے اور انہوں نے اس کی اجازت دے کر جائز کردیا اور شیوع
قال فی ردالمحتار لوبینھما ارض وقفاھاودفعاھا معا الی قیم واحد جاز اتفاقا لان المانع من الجواز عند محمد ھو الشیوع وقت القبض لاوقت العقد ولم یوجد ھھنا ۔
یہاں مانع نہیں ہوگا کیونکہ جب وہ تمام اس کے جائز رکھنے پر مجتمع ہوگئے تو شیوع رہا ہی نہیںردالمحتار میں ہے دو شخصوں کی اگر مشترکہ زمین ہو اور دونوں نے معااس زمین کو وقف کرکے ایك ہی متولی کے حوالے کردیا تو بالاتفاق جائز ہےاس لئے کہ امام محمد علیہ الرحمۃ کے نزدیك مانع جواز شیوع ہے جو وقت قبض ہو نہ کہ وقت عقداور یہاں وقت قبض شیوع نہیں پایا گیا(ت)
ہاں اگر کوئی وارث غیر عاقل یانابالغ ہے یا ان بعض نے اس تصرف کو جائز نہ رکھا بے وصیت مطلقا اور بحال وصیت جبکہ ثلث سے زائد ہوتو البتہ وہ مسجد مسجد نہیں اور اس سبب سے کہ اس میں ایسے کی ملك ہے جس کی اجازت نہیں یاجس کی اجازت شرعا اجازت نہیں اس میں نماز ناجائز۔یہ حکم بھی متفق علیہ ہے کہ مسجد میں شیوع بالاجماع ممنوع
لان بقاء الشرکۃ یمنع الخلوص ﷲتعالی ش عن النھر والفتح ۔ کیونکہ بقاء شرکت اﷲ تعالی کے لئے شے کے خالص ہونے سے مانع ہےش نے نہر اور فتح سے واضح کیا۔(ت)
ہاں اگر شوہر تقسیم صحیح شرعی کرائے اور یہ قطعہ اس کے حصہ میں آئے اس کے بعد اسے یہ مسجد کرے تو اب مسجد ہوجائے گا لزوال المانع(مانع ختم ہوجانے کی وجہ سے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۷:مسئولہ سید مصباح القیوم صاحب ساکن شہر رائے پور بیجناتھ پارہ مدرسہ اصلاح المسلمین صوبہ سی پی۵جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کے متعلق طہارت خانہ وغیرہ بنانے کی غرض سے مسجد کے روپیہ سے ایك قطعہ زمین کا مسجد سے علیحدہ مگر قریب میں خریدا کیونکہ زمین بہت ہے مسجد کی ضرورت کی چیزیں بن جانے پر بھی باقی رہ گئی اور مسجد کی کوئی منفعت مقصود نہیں اور اہلسنت نے ایك مدرسہ قائم کیا ہے اس کےلئے مکان کی ضرورت ہے تو کچھ مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ زمین مذکور پر مدرسہ تعمیر کرادیں اور قیمت زمین کی مدرسہ کی آمدنی سے لے کر مسجد میں داخل کیا جائے تو شرعا یہ جائز ہے کہ نہیں اور در صورت
یہاں مانع نہیں ہوگا کیونکہ جب وہ تمام اس کے جائز رکھنے پر مجتمع ہوگئے تو شیوع رہا ہی نہیںردالمحتار میں ہے دو شخصوں کی اگر مشترکہ زمین ہو اور دونوں نے معااس زمین کو وقف کرکے ایك ہی متولی کے حوالے کردیا تو بالاتفاق جائز ہےاس لئے کہ امام محمد علیہ الرحمۃ کے نزدیك مانع جواز شیوع ہے جو وقت قبض ہو نہ کہ وقت عقداور یہاں وقت قبض شیوع نہیں پایا گیا(ت)
ہاں اگر کوئی وارث غیر عاقل یانابالغ ہے یا ان بعض نے اس تصرف کو جائز نہ رکھا بے وصیت مطلقا اور بحال وصیت جبکہ ثلث سے زائد ہوتو البتہ وہ مسجد مسجد نہیں اور اس سبب سے کہ اس میں ایسے کی ملك ہے جس کی اجازت نہیں یاجس کی اجازت شرعا اجازت نہیں اس میں نماز ناجائز۔یہ حکم بھی متفق علیہ ہے کہ مسجد میں شیوع بالاجماع ممنوع
لان بقاء الشرکۃ یمنع الخلوص ﷲتعالی ش عن النھر والفتح ۔ کیونکہ بقاء شرکت اﷲ تعالی کے لئے شے کے خالص ہونے سے مانع ہےش نے نہر اور فتح سے واضح کیا۔(ت)
ہاں اگر شوہر تقسیم صحیح شرعی کرائے اور یہ قطعہ اس کے حصہ میں آئے اس کے بعد اسے یہ مسجد کرے تو اب مسجد ہوجائے گا لزوال المانع(مانع ختم ہوجانے کی وجہ سے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰۷:مسئولہ سید مصباح القیوم صاحب ساکن شہر رائے پور بیجناتھ پارہ مدرسہ اصلاح المسلمین صوبہ سی پی۵جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کے متعلق طہارت خانہ وغیرہ بنانے کی غرض سے مسجد کے روپیہ سے ایك قطعہ زمین کا مسجد سے علیحدہ مگر قریب میں خریدا کیونکہ زمین بہت ہے مسجد کی ضرورت کی چیزیں بن جانے پر بھی باقی رہ گئی اور مسجد کی کوئی منفعت مقصود نہیں اور اہلسنت نے ایك مدرسہ قائم کیا ہے اس کےلئے مکان کی ضرورت ہے تو کچھ مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ زمین مذکور پر مدرسہ تعمیر کرادیں اور قیمت زمین کی مدرسہ کی آمدنی سے لے کر مسجد میں داخل کیا جائے تو شرعا یہ جائز ہے کہ نہیں اور در صورت
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۶۵€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۶۴€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۶۴€
عدم جواز کوئی حیلہ اس کے جواز کا ہوسکتا ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے کہ وہ باقیماندہ حاجت مسجد سے زیادہ زمین(کہ سابق سے وقف نہ تھی بلکہ مسجد کے روپیہ سے مسجد کےلئے خرید ی تھی)مدرسہ کےلئے بیع بقیمت مناسب کرکے ر ثمن داخل مسجد کیا جائے جبکہ احتیاط و امانت کاملہ سے کام لیاجائے۔عالمگیری میں ہے:
متولی المسجد اذااشتری بمال المسجد حانوتا اودارا ثم باعھا جاز اذاکانت لہ ولایۃ الشراء بناء علی ان ھذہ الداروالحانوت ھل تلتحق بالحوانیت الموقوفۃ علی المسجد معناہ ھل تصیر وقفاالمختار انہ لاکذا فی المضمرات ۔واﷲ تعالی اعلم۔
ایك مسجد کے متولی نے مسجدکے مال سے دکان یا گھر خریدا پھر بیچ دیا تو جائزہے جبکہ اس کو خرید نے کی ولایت حاصل ہویہ مبنی ہے اس بات پر کہ کیا یہ دکان اور گھر مسجد پر وقف شدہ دکانوں سے ملحق ہوگااس کا معنی یہ ہے کہ کیایہ وقف ہو جائیگامختاریہ ہے کہ نہیں ہوگا۔مضمرات میں ایسا ہی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۰۸: ۱۴شوال۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محلہ قاضی ٹولہ پرانا شہر میں ایك مسجد قاضی زادوں کی تعمیر کردہ ہے اس دروازہ پہاڑ رخ قدیمی ہے اور اس میں کچھ قبریں پختہ قاضی زادوں کے آباواجداد کی تھیںاور ایك کنواں بنجاروں کا بنایا ہوا مسجد سے پہلے کا ہے جس سے سوائے نمازیاں اور کئی محلوں کو اس کے پانی سے نفع پہنچتا ہےاس مسجد میں کئی قوم کے لوگ نماز پڑھتے ہیں قصائینداف۔ان کے مکان بھی وہیں ہیںقصابوں نے مسجد میں جو قبریں تھیں انہیں کھود کر بالکل نیست ونابود کردیادرخت موسری کا جس کے سایہ سے نمازیوں کو آرام ملتا تھا کاٹ ڈالاگول درشمال کی جانب جس سے نمازیوں کو بارش سے آرام ملتا تھا بند کر دیاکنواں جس سے مخلوق کو نفع تھا اس کی ایك سیڑھی کا راستہ بندکردیا گیا گویا ایك رخ بالکل بند کردیا جس سے بہشتیوں کو ازحد تکلیف ہے انہوں نے پانی بھر نابندکردیا۔دو دیواریں بناکر اس میں گھری لگادی ہے جس سے کچھ نفع نہیں۔یہ لوگ کس سزا کے مستحق ہیںیہ کام اچھے کئے یا برے کئے۔ندافوں میں سے ایك شخص نے کسی سے پوچھا یہ کنویں پر در ودیوار کیاہیںاس نے اپنی جہالت سے کہا کہ یہ میرا۔۔۔۔۔۔
الجواب:
جائز ہے کہ وہ باقیماندہ حاجت مسجد سے زیادہ زمین(کہ سابق سے وقف نہ تھی بلکہ مسجد کے روپیہ سے مسجد کےلئے خرید ی تھی)مدرسہ کےلئے بیع بقیمت مناسب کرکے ر ثمن داخل مسجد کیا جائے جبکہ احتیاط و امانت کاملہ سے کام لیاجائے۔عالمگیری میں ہے:
متولی المسجد اذااشتری بمال المسجد حانوتا اودارا ثم باعھا جاز اذاکانت لہ ولایۃ الشراء بناء علی ان ھذہ الداروالحانوت ھل تلتحق بالحوانیت الموقوفۃ علی المسجد معناہ ھل تصیر وقفاالمختار انہ لاکذا فی المضمرات ۔واﷲ تعالی اعلم۔
ایك مسجد کے متولی نے مسجدکے مال سے دکان یا گھر خریدا پھر بیچ دیا تو جائزہے جبکہ اس کو خرید نے کی ولایت حاصل ہویہ مبنی ہے اس بات پر کہ کیا یہ دکان اور گھر مسجد پر وقف شدہ دکانوں سے ملحق ہوگااس کا معنی یہ ہے کہ کیایہ وقف ہو جائیگامختاریہ ہے کہ نہیں ہوگا۔مضمرات میں ایسا ہی ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۰۸: ۱۴شوال۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محلہ قاضی ٹولہ پرانا شہر میں ایك مسجد قاضی زادوں کی تعمیر کردہ ہے اس دروازہ پہاڑ رخ قدیمی ہے اور اس میں کچھ قبریں پختہ قاضی زادوں کے آباواجداد کی تھیںاور ایك کنواں بنجاروں کا بنایا ہوا مسجد سے پہلے کا ہے جس سے سوائے نمازیاں اور کئی محلوں کو اس کے پانی سے نفع پہنچتا ہےاس مسجد میں کئی قوم کے لوگ نماز پڑھتے ہیں قصائینداف۔ان کے مکان بھی وہیں ہیںقصابوں نے مسجد میں جو قبریں تھیں انہیں کھود کر بالکل نیست ونابود کردیادرخت موسری کا جس کے سایہ سے نمازیوں کو آرام ملتا تھا کاٹ ڈالاگول درشمال کی جانب جس سے نمازیوں کو بارش سے آرام ملتا تھا بند کر دیاکنواں جس سے مخلوق کو نفع تھا اس کی ایك سیڑھی کا راستہ بندکردیا گیا گویا ایك رخ بالکل بند کردیا جس سے بہشتیوں کو ازحد تکلیف ہے انہوں نے پانی بھر نابندکردیا۔دو دیواریں بناکر اس میں گھری لگادی ہے جس سے کچھ نفع نہیں۔یہ لوگ کس سزا کے مستحق ہیںیہ کام اچھے کئے یا برے کئے۔ندافوں میں سے ایك شخص نے کسی سے پوچھا یہ کنویں پر در ودیوار کیاہیںاس نے اپنی جہالت سے کہا کہ یہ میرا۔۔۔۔۔۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۱۸۔۴۱۷
بنایا ہے لوگوں کے تکلیف دینے کوتو کیا یہ شخص کافر ہوگیاحالانکہ ان دیواروں کو وہ مسجد نہیں سمجھتا ہے بلکہ یہ شرارت کی دیواریں سمجھتاہے کس سزا کامستحق ہے
الجواب:
اگر یہ بیانات واقعی ہیں تو مسلمان کی قبروں کا کھودڈالنا ہرگز جائز نہ تھا اس سے وہ توہین مسلمین کی سزا کے مستحق ہیںسزا یہاں کون دے سکتا ہےاور اگر یہ قبریں اس لئے کھودیں کہ اس جگہ پر نماز پڑھی جائے تویہ نماز کو بھی خرابی میں ڈالناہےقبور کی جگہ نماز جائز نہیں جب تك اندر تك کھود کر میت کے سب اجزاء نکال نہ دئے جائیںاور مسلمان میت کے ساتھ ایسا کرنا حرام حرام سخت حرام۔درخت جو قدیم سے تھا اس کے کاٹنے کی کوئی وجہ نہ تھیبلاوجہ شرعی نمازیوں کو تکلیف دینا سخت بدہے۔شمالی دروازہ کہ قدیم سے تھا اور اس سے نمازیوں کو آرام ملتا تھااس کے بند کرنے کا بھی کوئی اختیا ر نہ تھا۔کنوئیں کی ایسی روك جس سے پانی بھرنے والوں کو تکلیف ہو اور وہ بھرنا چھوڑدیں ہر گز جائز نہیںیہ سب برے کام ہوئے۔اس نداف نے بیہودہ کہا بر اکیا اس کے سبب کافر نہیں ہوسکتا کہ اس میں مسجد کی کوئی توہین نہیںنہ وہ دیواریں مسجد کی ہیں۔اس کے لئے اتنی سزاکافی ہے کہ تونے بیہودہ بکا۔آئندہ احتیاط کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
اگر یہ بیانات واقعی ہیں تو مسلمان کی قبروں کا کھودڈالنا ہرگز جائز نہ تھا اس سے وہ توہین مسلمین کی سزا کے مستحق ہیںسزا یہاں کون دے سکتا ہےاور اگر یہ قبریں اس لئے کھودیں کہ اس جگہ پر نماز پڑھی جائے تویہ نماز کو بھی خرابی میں ڈالناہےقبور کی جگہ نماز جائز نہیں جب تك اندر تك کھود کر میت کے سب اجزاء نکال نہ دئے جائیںاور مسلمان میت کے ساتھ ایسا کرنا حرام حرام سخت حرام۔درخت جو قدیم سے تھا اس کے کاٹنے کی کوئی وجہ نہ تھیبلاوجہ شرعی نمازیوں کو تکلیف دینا سخت بدہے۔شمالی دروازہ کہ قدیم سے تھا اور اس سے نمازیوں کو آرام ملتا تھااس کے بند کرنے کا بھی کوئی اختیا ر نہ تھا۔کنوئیں کی ایسی روك جس سے پانی بھرنے والوں کو تکلیف ہو اور وہ بھرنا چھوڑدیں ہر گز جائز نہیںیہ سب برے کام ہوئے۔اس نداف نے بیہودہ کہا بر اکیا اس کے سبب کافر نہیں ہوسکتا کہ اس میں مسجد کی کوئی توہین نہیںنہ وہ دیواریں مسجد کی ہیں۔اس کے لئے اتنی سزاکافی ہے کہ تونے بیہودہ بکا۔آئندہ احتیاط کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۹: مسئولہ عظمت اللہ کوتوالی شہر بریلی شریف
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایك مسجد شریف قدیم ٹھوس تھی اہل اسلام نے اس کو منہدم کراکر مغرب کی جانب میں مسجد بنوائی اور قدیم کو اس کا صحن قرار دیا اور مسجد جدید اور صحن یعنی مسجد قدیم ہر دو کی کرسی بلند کی اور نیچے تہہ خانے بنائے اور مسجد قدیم کے تہہ خانے کے حصے کو مسجد کی دکانوں میں شریك کرنا جائز ہے یانہیںاور اس صحن میں نماز پڑھنے والوں کوثواب مسجد کا ملے گا یانہیںاور اگر یہ جائز ہے تو اس طرح مسجد جدید کے تہہ خانے کو بھی کرایہ پر دے سکتے ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
مسجد مسجد ہوجانے کے بعد دوسرے کام کےلئے کرنا حرام حرام سخت حرام ہے ان پر فرض ہے کہ مسجد قدیم کا تہہ خانہ بدستور سابق بندکردیں اور اب کہ مسجد جدید کرچکے اس کے تہ خانے کو بھی کرایہ پر دینا حرام ہے ہاں مسجد کردینے سے پہلے دکانیں وقف مسجد کےلئے بناتے اور اس کے بعد ان کی چھت کو مسجد کرتے تو جائز تھااب ہر گز حلال نہیں مسجد قدیم کو جدید کاصحن کرلیا اس میں حرج نہیں وہ بدستور مسجد ہے اور اس میں نماز مسجد میں نماز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۰: از شہرکہنہ محلہ کوٹ مسئولہ شیخ انعام اللہ ۵ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ امام باڑہ متصل زیارت شاہ صاحب کے ایك گوشہ میں واقع ہے اور گزشتہ زمانے کے شیعہ مذہب کے لوگ جو لکھنؤ کے پیروتھے ان کی تعمیر کردہ ہے۔لیکن اب مسجد مذکور اہلسنت کے قبضہ میں ہے اور کنویں مذکور سے ۳۳/۳۴گز کے فاصلہ پر ہےکنویں اور مسجد کے درمیان بوجہ کوڑے اور گھاس کیڑے وغیرہ کا احتمال رہتا ہےاسی لئے مسجد مذکور آباد نہیں ہوتیاہل محلہ چاہتے ہیں کہ مسجد مذکور کا ملبہ لب سڑك متصل کنواں اٹھالائیں اور یہاں مسجد تعمیر کرائیں تو جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر اس مسجد کا بانی رافضی تبرائی روافض حال کا ہم عقیدہ تھا اور اسی مذہب پر مرا تو مسلمانوں کو جائزہے کہ اس کا عملہ دوسری مسجد لے جائیںنیز جائزہے کہ اس مسجد کی زمین کو بیچ کر جدید مسجد میں لگائیں۔
فی الدرالمختار لو وقف المرتد فقتل اومات اوارتد المسلم بطل وقفہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اگر مرتد نے وقف کیا پھر قتل کردیا گیا یامر گیا یا مسلمان مرتد ہوگیا تو اس کا وقف باطل ہوگیا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۱۱: مسئولہ حافظ عبدالمجید از ضلع مراد آباد قصبہ بچھرایوں محلہ چودھریاں
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میرے باپ جناب قبلہ وکعبہ حاجی عبدالرحمن صاحب نے ۲جولائی ۱۸۹۹ء کو اپنی حقیت موضع کھادگوجر پرگنہ سانپور ضلع مرادآباد تعدادی مواضع چار بسوہ کو اور میرے بھائی حاجی عبد اللطیف خان صاحب اور مجھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایك مسجد شریف قدیم ٹھوس تھی اہل اسلام نے اس کو منہدم کراکر مغرب کی جانب میں مسجد بنوائی اور قدیم کو اس کا صحن قرار دیا اور مسجد جدید اور صحن یعنی مسجد قدیم ہر دو کی کرسی بلند کی اور نیچے تہہ خانے بنائے اور مسجد قدیم کے تہہ خانے کے حصے کو مسجد کی دکانوں میں شریك کرنا جائز ہے یانہیںاور اس صحن میں نماز پڑھنے والوں کوثواب مسجد کا ملے گا یانہیںاور اگر یہ جائز ہے تو اس طرح مسجد جدید کے تہہ خانے کو بھی کرایہ پر دے سکتے ہیں یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
مسجد مسجد ہوجانے کے بعد دوسرے کام کےلئے کرنا حرام حرام سخت حرام ہے ان پر فرض ہے کہ مسجد قدیم کا تہہ خانہ بدستور سابق بندکردیں اور اب کہ مسجد جدید کرچکے اس کے تہ خانے کو بھی کرایہ پر دینا حرام ہے ہاں مسجد کردینے سے پہلے دکانیں وقف مسجد کےلئے بناتے اور اس کے بعد ان کی چھت کو مسجد کرتے تو جائز تھااب ہر گز حلال نہیں مسجد قدیم کو جدید کاصحن کرلیا اس میں حرج نہیں وہ بدستور مسجد ہے اور اس میں نماز مسجد میں نماز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۰: از شہرکہنہ محلہ کوٹ مسئولہ شیخ انعام اللہ ۵ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ امام باڑہ متصل زیارت شاہ صاحب کے ایك گوشہ میں واقع ہے اور گزشتہ زمانے کے شیعہ مذہب کے لوگ جو لکھنؤ کے پیروتھے ان کی تعمیر کردہ ہے۔لیکن اب مسجد مذکور اہلسنت کے قبضہ میں ہے اور کنویں مذکور سے ۳۳/۳۴گز کے فاصلہ پر ہےکنویں اور مسجد کے درمیان بوجہ کوڑے اور گھاس کیڑے وغیرہ کا احتمال رہتا ہےاسی لئے مسجد مذکور آباد نہیں ہوتیاہل محلہ چاہتے ہیں کہ مسجد مذکور کا ملبہ لب سڑك متصل کنواں اٹھالائیں اور یہاں مسجد تعمیر کرائیں تو جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر اس مسجد کا بانی رافضی تبرائی روافض حال کا ہم عقیدہ تھا اور اسی مذہب پر مرا تو مسلمانوں کو جائزہے کہ اس کا عملہ دوسری مسجد لے جائیںنیز جائزہے کہ اس مسجد کی زمین کو بیچ کر جدید مسجد میں لگائیں۔
فی الدرالمختار لو وقف المرتد فقتل اومات اوارتد المسلم بطل وقفہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اگر مرتد نے وقف کیا پھر قتل کردیا گیا یامر گیا یا مسلمان مرتد ہوگیا تو اس کا وقف باطل ہوگیا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۱۱: مسئولہ حافظ عبدالمجید از ضلع مراد آباد قصبہ بچھرایوں محلہ چودھریاں
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میرے باپ جناب قبلہ وکعبہ حاجی عبدالرحمن صاحب نے ۲جولائی ۱۸۹۹ء کو اپنی حقیت موضع کھادگوجر پرگنہ سانپور ضلع مرادآباد تعدادی مواضع چار بسوہ کو اور میرے بھائی حاجی عبد اللطیف خان صاحب اور مجھ
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷
ظاہر نہ کرسکا تھا کہ میرٹھ اپنی ملازمت پر تشریف لے گئے وہاں سے ان کا والا نامہ صادر ہوا کہ فورا مسجد کی تعمیر کرو میں نے بخوف ان کی ناراضی کے اپنا خیال تو ظاہر نہ کیا مگر بموجب ارشاد تعمیل یہ کردیا کہ دیہات سے چار ہیگاری جمع کرکے مسجد کی نیو معین بنیاد کندہ کرائی اور زمین برابر نیو چنوادی چونکہ موسم برسات آنے والا تھا والد بزرگوار قبلہ کو بطور عریضہ یہ عرض کیا کہ بنیاد بھروادی گئی اور تعمیر مسجد بعد برسات شروع کی جائے گیا سکے بعد میں خود جناب والد صاحب قبلہ کے پاس پہنچا اور ان سے اپنا خیال ظاہر کیا کہ مسجد تو بموجب ارشاد عالی بنادی جائے گی مگر اس کی آبادی کی کون سی صورت ہےاول جناب والا وہاں پر اس کا زنانہ ومردانہ بنادیں اور میں وہاں محلہ آباد کرلوں تب مسجد تیار ہونی چاہئےانہوں نے اس بات کو بخوبی منظور فرمالیااس عرصہ میں ان کا انتقال ہوگیا مگر کنواں وپیاؤ تیار ہوگیا تھا اور بدستور جاری ہے نہ مکان تھا نہ وہ آباد ہوا۔ہم دونوں بھائی آپس میں جدا ہوگئے اور اس وقف کا بعد جناب قبلہ کے میں متولی رہا۔ایك مسجد درمیان آبادی منہدم ہوگئی تھیمیں نے اس روپیہ سے وہ مسجد از سر نو بنوائیاور وہ بنیاد مسجد جو جنگل میں بیگاروں سے بھروادی تھی اکھڑ واکر اس کی اینٹیں بھی اس میں لگواکر تیار کروادیاب اس وقف کی رقم جمع ہے اور ایك مسجد محلہ جو میرے مردانہ مکان کے پیش دروازہ ہے از حد مرمت طلب ہورہی ہے اور کوئی صاحب اس کی طرف توجہ نہیں کرتےمیرا خیال ہے کہ اگر شرع شریف اجازت دے تو میں اس مسجد کی اس روپیہ سے مرمت کرادوں۔دوسرے یہ کہ وہ مسجد جہاں جنگل میں پہلے بنیاد بھروادی تھی اور وہ اس وجہ سے کہ یہ کسی وقت کارآمد وآباد نہیں ہوسکتی اکھڑ واڈالی گئی تھیاس کا بنانا ضروری ہے یا اس مسجد کی مرمت کرادینا ضرور ہے
الجواب:
جبکہ یہ صحیح ہو کہ وہ جگہ آباد نہیں ہوسکتی اور وہ مسجد کام میں بھی نہ آئے گی تو وہ مسجد نہ ہوئیان اینٹوں اور روپے کو دوسری مسجد میں صرف کرسکتے ہیںعالمگیری میں ہے:
رجل بنی مسجدا فی مفازۃ حیث لایسکنہااحدوقل ما یمربہ انسان لم یصر مسجد العدم الحاجۃ الی صیرورتہ مسجداکذافی الغرائب ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر کسی شخص نے جنگل میں مسجد بنادی جہاں کوئی بھی نہیں رہتا اور بہت کم ہی کسی انسان کا وہاں سے گزر ہوتا ہے تو وہاں مسجد نہیں ہوئی کیونکہ اس کے مسجد ہونے کی ضرورت نہیں غرائب میں ایسا ہی ہے۔(ت)
الجواب:
جبکہ یہ صحیح ہو کہ وہ جگہ آباد نہیں ہوسکتی اور وہ مسجد کام میں بھی نہ آئے گی تو وہ مسجد نہ ہوئیان اینٹوں اور روپے کو دوسری مسجد میں صرف کرسکتے ہیںعالمگیری میں ہے:
رجل بنی مسجدا فی مفازۃ حیث لایسکنہااحدوقل ما یمربہ انسان لم یصر مسجد العدم الحاجۃ الی صیرورتہ مسجداکذافی الغرائب ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اگر کسی شخص نے جنگل میں مسجد بنادی جہاں کوئی بھی نہیں رہتا اور بہت کم ہی کسی انسان کا وہاں سے گزر ہوتا ہے تو وہاں مسجد نہیں ہوئی کیونکہ اس کے مسجد ہونے کی ضرورت نہیں غرائب میں ایسا ہی ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۰
مسئلہ۳۱۲تا۳۱۳: از شہر محلہ باغ احمد علی خاں مسئولہ منشی فتح محمد صاحب ۸محرم الحرام۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)ایك مسجد اہل سنت وجماعت کی تعمیر ہورہی ہے اور اس کا چندہ جمع ہورہا ہےاس مسجد میں کس کس مذہب کا پیسہ لگانا جائز ہے اور کس کس مذہب کا ناجائز
(۲)ایك مسجد رافضی کی تیار کی ہوئی ہے جو اس وقت ایك گوشہ میں ویران پڑی ہے اس میں اہلسنت وجماعت کی یہ رائے ہے کہ اس مسجد کو شہید کرکے دوسری جگہ مسجد تعمیر کرائی جائے اس کی زمین کا پیسہ دوسری مسجد اہلسنت وجماعت میں لگایا جائے تو جائز ہے یاناجائزاوراس مسجد کا اب کوئی فساد کرنے والا نہیں۔
الجواب:
(۱)مسجد میں صرف اہلسنت کا پیسہ لیا جائےکافروں یا مرتدوں کا ناپاك مال نہ لیا جائے۔
(۲)رافضی جو ایسا ہی مذہب رکھتا ہے جیسا کہ آج کل کے رافضیوں کا ہے اگر اس نے مسجد بنائی اور مرگیا تو اس کی مسجد کی زمین اور عملہ بیچ کر دوسری مسجد میں لگاسکتے ہیں جبکہ فساد کا اندیشہ نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۴: از حصار محمد عبدالرشید مدرسہ انجمن محاسن الاسلام احاطہ عبدالغفور خاں ۱۴محرم۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دکان مرہونہ مسجد کے نام کسی صورت میں جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
دکان کہ مسجد پر وقف کی گئی اور واقف نے شروط وقف میں اس کے بدلنے کی اجازت نہ لکھی وہ کسی طرح نہیں بك سکتیمگر یہ کہ تباہ ویران ہوجائے اورکوئی صورت اس کی آبادی کی نہ رہے تو اسے بیچ کر دوسری جگہ دکان خرید کر متعلق مسجد کردےیا دکان پر کسی ظالم کا قبضہ ہوگیا اور ا سسے کسی طرح رہائی نہیں ہوسکتی مگر دام دینے پر راضی ہے تو لیں اور دوسری دکان اس کی جگہ قائم کریں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۵: از شہر کہنہ درگاہ شاہ دانا صاحب قدس سرہ مسئولہ رحمت علی صاحب ۱۳جمادی الآخر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاہ دانا صاحب کا مزار شریف ایك چھوٹے سے احاطہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)ایك مسجد اہل سنت وجماعت کی تعمیر ہورہی ہے اور اس کا چندہ جمع ہورہا ہےاس مسجد میں کس کس مذہب کا پیسہ لگانا جائز ہے اور کس کس مذہب کا ناجائز
(۲)ایك مسجد رافضی کی تیار کی ہوئی ہے جو اس وقت ایك گوشہ میں ویران پڑی ہے اس میں اہلسنت وجماعت کی یہ رائے ہے کہ اس مسجد کو شہید کرکے دوسری جگہ مسجد تعمیر کرائی جائے اس کی زمین کا پیسہ دوسری مسجد اہلسنت وجماعت میں لگایا جائے تو جائز ہے یاناجائزاوراس مسجد کا اب کوئی فساد کرنے والا نہیں۔
الجواب:
(۱)مسجد میں صرف اہلسنت کا پیسہ لیا جائےکافروں یا مرتدوں کا ناپاك مال نہ لیا جائے۔
(۲)رافضی جو ایسا ہی مذہب رکھتا ہے جیسا کہ آج کل کے رافضیوں کا ہے اگر اس نے مسجد بنائی اور مرگیا تو اس کی مسجد کی زمین اور عملہ بیچ کر دوسری مسجد میں لگاسکتے ہیں جبکہ فساد کا اندیشہ نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۴: از حصار محمد عبدالرشید مدرسہ انجمن محاسن الاسلام احاطہ عبدالغفور خاں ۱۴محرم۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دکان مرہونہ مسجد کے نام کسی صورت میں جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
دکان کہ مسجد پر وقف کی گئی اور واقف نے شروط وقف میں اس کے بدلنے کی اجازت نہ لکھی وہ کسی طرح نہیں بك سکتیمگر یہ کہ تباہ ویران ہوجائے اورکوئی صورت اس کی آبادی کی نہ رہے تو اسے بیچ کر دوسری جگہ دکان خرید کر متعلق مسجد کردےیا دکان پر کسی ظالم کا قبضہ ہوگیا اور ا سسے کسی طرح رہائی نہیں ہوسکتی مگر دام دینے پر راضی ہے تو لیں اور دوسری دکان اس کی جگہ قائم کریں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۵: از شہر کہنہ درگاہ شاہ دانا صاحب قدس سرہ مسئولہ رحمت علی صاحب ۱۳جمادی الآخر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاہ دانا صاحب کا مزار شریف ایك چھوٹے سے احاطہ
کے اندر نور افروز ہے اور اسی احاطہ میں ایك مسجد اور ایك خانقاہ جانب شمال دو تین گز کے فاصلہ سے واقع ہے خانقاہ قدیم الایام یعنی مزار شریف کی تعمیر کے زمانہ سے اب تك واسطے ٹھہرنے سیاحین زائرین مقرر ہےچنانچہ اکثر اولیاء سابق در ویش اور سالکین استقامت کیش جو وقتافوقتا واسطے زیارت اور حاصل کرنے مراد اور برکات کے دور دراز سے سفر کرکے آتے ہیں تو اسی خانقاہ میں ٹھہراکرتے ہیں اور جو کہ ایام عرس میں تخمیناایك ہزار مرد و عورت ولڑکی لڑکے جوان بڈھے مزار اقدس میں جمع ہوتے ہیں اور یہ بھیڑبھاڑتقریبا ایك ماہ تك رہتی ہے تو اس ہنگامہ میں سوا اس مکان کے دھوپ اور بارش وغیرہ کے بچاؤ کے لئے اور کوئی مکان مطلق نہیں ہے اگر وہ مکان نہ ہوتو زائرین کو از حد پریشانی اور تکلیف ہودوسرے یہ کہ اس خانقاہ کے اندر دو ایك قبریں بھی ہیں اور ایك قبر خلیفہ ولایت علی صاحب کی بھی ہے کہ اس قبر کو ہموار کرکے اس پر لڑکے پڑھتے ہیںاب اس خانقاہ اور شرقی حصہ صحن مزار شریف کو عرصہ تقریبا دو ایك ماہ سے بلا اجازت متولی صاحب وبغیر منشا خادمین جو پشت ہا پشت سے اس پر بطور مالکانہ کے قبضہ رکھتے ہیںچند اشخاص وہابی محلہ شاہدانہ نے بتقریب تحکم مصلیان جدید اس میں جدید مدرسہ قائم کیا ہےمدرسہ کے اکثر طلبہ جو خانقاہ میں قبریں ہیں ان پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں اور صحن مزار شریف میں سوئے ادبی اور بازی اور رسہ کشی کرتے ہیں اور چھوٹے لڑکے ساتھ مسجد میں جاکر فرش مسجد اور لوٹوں کو ناپاك کرتے ہیں اس صورت میں اسلامی قانون نبوی کے مطابق مقام مذکور پر مدرسہ رکھ سکتا ہے یانہیں جبکہ بانی مبانی عمارت شریف کی یہ نیت اورمنشاء نہ ہواور متولی ان حرکات سے اور مدرسہ کے قیام سے قطعا راضی نہ ہو اور مسافرین اور زائرین کی جگہ جبراچھین لی ہواور لڑکے اس مقام متبرك پر گند باد سے بے ادبی کرتے ہوں اور قبروں کو نشست گاہ بنایا ہو۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر خانقاہ میں عاقلبالغباادبباتمیز اور قریب بلوغ متأدب لڑکوں کے لئے درس دینے کی اجازت دی جاتی اور قبور کی بیحرمتی نہ کی جاتی اور حاضرین پر ٹھہرنے کی جگہ تنگ نہ ہوتی اور ایام عرس شریف میں خانقاہ ان کے لئے خالی رہتی اور یہ سب کچھ عاریۃ ہوتا نہ کہ خانقاہ یا مسجد پر مالکانہ قبضہ تو حرج نہ تھا مگر مسجد کی بے حرمتی حرام اور اس میں بچوں کا جانا ممنوع۔
ابن ماجہ کی حدیث میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
جنبوا مساجد کم صبیانکم ومجانینکم ورفع اصواتکم ۔
اپنی مسجدوں کو اپنے بچوںپاگلوں اور اپنی آوازیں اونچی کرنے سے بچاؤ۔(ت)
الجواب:
اگر خانقاہ میں عاقلبالغباادبباتمیز اور قریب بلوغ متأدب لڑکوں کے لئے درس دینے کی اجازت دی جاتی اور قبور کی بیحرمتی نہ کی جاتی اور حاضرین پر ٹھہرنے کی جگہ تنگ نہ ہوتی اور ایام عرس شریف میں خانقاہ ان کے لئے خالی رہتی اور یہ سب کچھ عاریۃ ہوتا نہ کہ خانقاہ یا مسجد پر مالکانہ قبضہ تو حرج نہ تھا مگر مسجد کی بے حرمتی حرام اور اس میں بچوں کا جانا ممنوع۔
ابن ماجہ کی حدیث میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
جنبوا مساجد کم صبیانکم ومجانینکم ورفع اصواتکم ۔
اپنی مسجدوں کو اپنے بچوںپاگلوں اور اپنی آوازیں اونچی کرنے سے بچاؤ۔(ت)
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب المساجد باب مایکرہ فی المساجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵
اور مسلمان کی قبرپر بیٹھنا یا چلنا ناجائزہے۔حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
لان اطأ علی جمرۃ حتی مخلص الی جلدی احب الی من ان اطأ علی قبر مسلم او ماھذا معناہ ۔
مجھے چنگاری پر پاؤں رکھنا یہاں تك کہ وہ جوتا توڑ کر کھال تك پہنچ جائے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھوں۔
دوسری حدیث میں ارشاد ہوا:
لان امشی علی سیف احب الی من ان امشی علی قبر مسلم ۔اوکما قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
مجھے تلوار پر چلنا مسلمان کی قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے (جیساکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا۔ت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
یکرہ القعود علی القبر لان سقف القبر حق المیت ۔
قبر پر بیٹھنا مکروہ ہے کیونکہ قبر کی چھت میت کاحق ہے۔ (ت)
فتح القدیر ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
المرور فی سکۃ حادثۃ فی المقابر حرام ۔
قبر ستان میں جو نیاراستہ بنایا جائے اس میں چلنا حرام ہے۔ (ت)
اور مسلمان کی قبر کو ہموار کردینا اور بھی سخت حرام۔حاضرین کے لئے جگہ تنگ کرنا جنکی اصل وضع خانقاہ ہے وقف میں تصرف بے جا اور مخالفت غرض واقف ہے کہ شرعا ناجائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۶تا۳۱۸: ازضلع بردوانمقام رانی گنج مسئولہ میر ضامن سیکریٹری مدرسہ دارالعلوم ۹شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین:
لان اطأ علی جمرۃ حتی مخلص الی جلدی احب الی من ان اطأ علی قبر مسلم او ماھذا معناہ ۔
مجھے چنگاری پر پاؤں رکھنا یہاں تك کہ وہ جوتا توڑ کر کھال تك پہنچ جائے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھوں۔
دوسری حدیث میں ارشاد ہوا:
لان امشی علی سیف احب الی من ان امشی علی قبر مسلم ۔اوکما قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
مجھے تلوار پر چلنا مسلمان کی قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے (جیساکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا۔ت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
یکرہ القعود علی القبر لان سقف القبر حق المیت ۔
قبر پر بیٹھنا مکروہ ہے کیونکہ قبر کی چھت میت کاحق ہے۔ (ت)
فتح القدیر ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
المرور فی سکۃ حادثۃ فی المقابر حرام ۔
قبر ستان میں جو نیاراستہ بنایا جائے اس میں چلنا حرام ہے۔ (ت)
اور مسلمان کی قبر کو ہموار کردینا اور بھی سخت حرام۔حاضرین کے لئے جگہ تنگ کرنا جنکی اصل وضع خانقاہ ہے وقف میں تصرف بے جا اور مخالفت غرض واقف ہے کہ شرعا ناجائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۶تا۳۱۸: ازضلع بردوانمقام رانی گنج مسئولہ میر ضامن سیکریٹری مدرسہ دارالعلوم ۹شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین:
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الجنائز قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۲،سنن ابوداؤد کتاب الجنائز باب کراہیۃ القبور علی القبر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۰۴،الترغیب والترہیب الترہیب من الجلوس علی القبر مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۷۴
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۳
فتاوٰی ہندیۃ کتاب ا لکراہیۃ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱
ردالمحتار کتاب الطہارۃ فصل الاستنجاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۲۹
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۳
فتاوٰی ہندیۃ کتاب ا لکراہیۃ الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱
ردالمحتار کتاب الطہارۃ فصل الاستنجاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۲۹
(۱)مسجد کی موقوفہ جائداد کا متولی مسجدیا مسجد کے متعلق مکان میں تنہا اپنی رائے سے کسی قسم کی ترمیم کرسکتا ہے یانہیں ایسی صورت میں کہ مصلیان مسجد اس ترمیم کے سخت مخالف ہوں۔
(۲)مسجد کی کوٹھری یا حجرہ یا مسجد کا مدرسہ آیا متولی موصوف کی ملکیت ہے یاان کا نظم ونسق وغیرہ۔امام ومؤذن کی تقرری وبرخاستگی عام مصلیان مسجد کے اتفاق پر موقوف ہے مصلیان مسجد کو اس کے متعلق کوئی باز پرس کرنے کااور جمع خرچ کے سمجھنے کااختیار ہے یانہیں
(۳)مصلیان مسجد کے خلاف میں اگر کسی مسجد کا متولی دوسری مسجد کے نمازیوں کو اپنے ساتھ ملاکر مخالفت سے اس مسجد میں کوئی ناپسندیدہ کام کرنا چاہے اور اس کی قابل مرمت چیزیں خراب ہورہی ہوں تو مصلیان مسجد کو اس پر رکاوٹ کا مجاز اور متولی کو ان کا متفق الرائے کرنا ضروری ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)اگر اس ترمیم کااختیار اسے واقف نے دیا تھا تو کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔یہ بات ملاحظہ شرائط وقف سے ظاہر ہوسکتی ہے۔
(۲)مسجد اور اس کے متصل کوئی شے نہ متولی کی ملك ہے نہ مصلیوں کینہ کسی غیر خدا کیوہ سب خالص ملك الہی ہےاوقاف مسجد کا انتظام متولی کے سپرد ہے اور امام ومؤذن کا نصب وعزل بانی مسجد یا اس کی اولاد پھر مصلیوں کے متعلق ہے متولی جو بات خلاف شرائط وقف کرے مصلی بلکہ عامہ مسلمین اس سے باز پرس کرسکتے ہیں۔متولی امین ہے جب تك اس کی خیانت کا صحیح مظنہ نہ پیدا ہو وہ جمع خرچ سمجھانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔درمختار میں ہے:
سئل قارئ الھدایۃ عمن طلب محاسبۃ شریکہ فاجاب لایلزمہ بالتفصیل ومثلہ المضارب والوصی والمتولی۔نھر ۔
قارئ الہدایہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنے شریك سے محاسبہ کا سوال کرے تو قارئ ہدایہ نے جواب دیا کہ شریك پر مفصل جواب دینا لازم نہیںاس کی مثل ہے مضاربوصی اور متولینہر۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:یحمل اطلاقہ علی غیر المتھم (اس کا اطلاق اس شخص پر محمول کیا جائیگا
(۲)مسجد کی کوٹھری یا حجرہ یا مسجد کا مدرسہ آیا متولی موصوف کی ملکیت ہے یاان کا نظم ونسق وغیرہ۔امام ومؤذن کی تقرری وبرخاستگی عام مصلیان مسجد کے اتفاق پر موقوف ہے مصلیان مسجد کو اس کے متعلق کوئی باز پرس کرنے کااور جمع خرچ کے سمجھنے کااختیار ہے یانہیں
(۳)مصلیان مسجد کے خلاف میں اگر کسی مسجد کا متولی دوسری مسجد کے نمازیوں کو اپنے ساتھ ملاکر مخالفت سے اس مسجد میں کوئی ناپسندیدہ کام کرنا چاہے اور اس کی قابل مرمت چیزیں خراب ہورہی ہوں تو مصلیان مسجد کو اس پر رکاوٹ کا مجاز اور متولی کو ان کا متفق الرائے کرنا ضروری ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)اگر اس ترمیم کااختیار اسے واقف نے دیا تھا تو کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔یہ بات ملاحظہ شرائط وقف سے ظاہر ہوسکتی ہے۔
(۲)مسجد اور اس کے متصل کوئی شے نہ متولی کی ملك ہے نہ مصلیوں کینہ کسی غیر خدا کیوہ سب خالص ملك الہی ہےاوقاف مسجد کا انتظام متولی کے سپرد ہے اور امام ومؤذن کا نصب وعزل بانی مسجد یا اس کی اولاد پھر مصلیوں کے متعلق ہے متولی جو بات خلاف شرائط وقف کرے مصلی بلکہ عامہ مسلمین اس سے باز پرس کرسکتے ہیں۔متولی امین ہے جب تك اس کی خیانت کا صحیح مظنہ نہ پیدا ہو وہ جمع خرچ سمجھانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔درمختار میں ہے:
سئل قارئ الھدایۃ عمن طلب محاسبۃ شریکہ فاجاب لایلزمہ بالتفصیل ومثلہ المضارب والوصی والمتولی۔نھر ۔
قارئ الہدایہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنے شریك سے محاسبہ کا سوال کرے تو قارئ ہدایہ نے جواب دیا کہ شریك پر مفصل جواب دینا لازم نہیںاس کی مثل ہے مضاربوصی اور متولینہر۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:یحمل اطلاقہ علی غیر المتھم (اس کا اطلاق اس شخص پر محمول کیا جائیگا
حوالہ / References
درمختار کتاب الشرکۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۳
ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۴۷
ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۴۷
جس پر تہمت نہ لگائی جاتی ہو۔ت)
(۳)سائل نے ناپسندیدہ کام کی تفصیل نہ کیان کو ناپسندیدہ ہے یا شرعاجو شرعا ناپسندیدہ ہے اس کا اختیار کسی کو نہیںنہ وہ کسی کے متفق الرائے سے ہونے سے ہوسکتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۹: مولوی غلام محی الدین صاحب راندیری ۱۳شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ جام نگر(علاقہ کاٹھیاوار)میں دو مسجدیں ایسی مسلمان بائیوں(عورتوں)کے نام سے بنی ہوئی ہیں کافر راجہ نے ان کو باوجود اسلام پر قائم رہنے کے اپنی ہی مجامعت میں ہمیشہ کےلئے قائم و دائم زبردستی کرکے رکھا ایك فاطمہ بائی کی مسجد راجہ سے مال کثیر لے کر اصل پرانی مسجد پر اپنے مسلمان ناظر نوکر کے مال حوالہ کرکے مسجد بنائی ہے۔اسی طرح دوسری امرت بائی کی مسجد نو تعمیر ہوکر امرت بائی کے نام سے مشہور ہے۔دوسرے راجہ کے وقت میں قصبہ ہذا میں سات مسجدیں سات بائیوں کے نام سے پچاس سال ہوئے ہیں بنائی ہیں:
ایك دھن بائی کی مسجد جو جامع مسجد دھن بائی کی مشہور ہے پرانی مسجد پر اس کی تعمیر ہوئی۔
دوسری ناتھی بائی کی مسجد رافضی پورہ محلہ میں پرانی مسجد کو شہید کرکے نئی بنائی گئی ہے۔
تیسری جان بائی کی ٹاور کی مسجدیہ بھی ایك پرانی مسجد شہیدکرکے نئی بنائی گئی ہے۔
چوتھی دالبائی کی مسجد جو پرانی جیل کے قریب بالکل نئی تعمیر کی گئی ہے۔
پانچویں رتن بائی کی مسجد لنگھاواڑ میں نئے سرے سے بنائی گئی ہےقبل ازیں یہاں کوئی مسجد نہ تھی۔
چھٹی ہنس بائی کی مسجد جو ملك لوگوں کی مسجد تھی اس کو شہید کرکے وسیع پیمانے پر بنائی گئی ہے۔
ساتویں چھوٹی دھن بائی کی مسجد جو گجراتی واڑ میں کہنہ خورد مسجد کو شہید کرکے اسی پر بنائی گئی ہے۔
یہ عورتیں مسلمان صوم وصلوۃ کی پابند تھیں اور کافر راجاؤں کے جبر سے مرتے دم تك ان کے مکان میں رہیںاور راجاؤں سے ان عورتوں نے مال حاصل کرکے اپنے نوکر مسلمان ناظر کو مال حوالہ کردیا اور ان ناظروں نے مسجدیں بنواکر مسلمانوں کے قبضہ میں کردیں اور تا ایں دم مسلمان کے قبضہ میں ہیں۔یہ عورتیں مرچکی ہیں ان کی ہر ایك کی قبر ہر مسجد کے فنا میں بنی ہوئی ہےاور ان میں سے جو مسجدیں سابق پرانی مسجدوں کو شہیدکرکے تعمیر کی گئی ہیںان کے فنا میں اولیاء کے مزاربھی ہیںان مسجدوں کے ان بائیوں کے نام سے موسوم ہونے پر کافر کاروپیہ لگنے کے باعث اگرچہ ان عورتوں میں سے ہر ایك نے اپنے نوکر ناظر مسلمان کو حوالہ کرکے مسجد کی تعمیر کرائی ہے اور مسلمانوں کے قبضہ میں کردی گئی ہیں
(۳)سائل نے ناپسندیدہ کام کی تفصیل نہ کیان کو ناپسندیدہ ہے یا شرعاجو شرعا ناپسندیدہ ہے اس کا اختیار کسی کو نہیںنہ وہ کسی کے متفق الرائے سے ہونے سے ہوسکتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۱۹: مولوی غلام محی الدین صاحب راندیری ۱۳شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ جام نگر(علاقہ کاٹھیاوار)میں دو مسجدیں ایسی مسلمان بائیوں(عورتوں)کے نام سے بنی ہوئی ہیں کافر راجہ نے ان کو باوجود اسلام پر قائم رہنے کے اپنی ہی مجامعت میں ہمیشہ کےلئے قائم و دائم زبردستی کرکے رکھا ایك فاطمہ بائی کی مسجد راجہ سے مال کثیر لے کر اصل پرانی مسجد پر اپنے مسلمان ناظر نوکر کے مال حوالہ کرکے مسجد بنائی ہے۔اسی طرح دوسری امرت بائی کی مسجد نو تعمیر ہوکر امرت بائی کے نام سے مشہور ہے۔دوسرے راجہ کے وقت میں قصبہ ہذا میں سات مسجدیں سات بائیوں کے نام سے پچاس سال ہوئے ہیں بنائی ہیں:
ایك دھن بائی کی مسجد جو جامع مسجد دھن بائی کی مشہور ہے پرانی مسجد پر اس کی تعمیر ہوئی۔
دوسری ناتھی بائی کی مسجد رافضی پورہ محلہ میں پرانی مسجد کو شہید کرکے نئی بنائی گئی ہے۔
تیسری جان بائی کی ٹاور کی مسجدیہ بھی ایك پرانی مسجد شہیدکرکے نئی بنائی گئی ہے۔
چوتھی دالبائی کی مسجد جو پرانی جیل کے قریب بالکل نئی تعمیر کی گئی ہے۔
پانچویں رتن بائی کی مسجد لنگھاواڑ میں نئے سرے سے بنائی گئی ہےقبل ازیں یہاں کوئی مسجد نہ تھی۔
چھٹی ہنس بائی کی مسجد جو ملك لوگوں کی مسجد تھی اس کو شہید کرکے وسیع پیمانے پر بنائی گئی ہے۔
ساتویں چھوٹی دھن بائی کی مسجد جو گجراتی واڑ میں کہنہ خورد مسجد کو شہید کرکے اسی پر بنائی گئی ہے۔
یہ عورتیں مسلمان صوم وصلوۃ کی پابند تھیں اور کافر راجاؤں کے جبر سے مرتے دم تك ان کے مکان میں رہیںاور راجاؤں سے ان عورتوں نے مال حاصل کرکے اپنے نوکر مسلمان ناظر کو مال حوالہ کردیا اور ان ناظروں نے مسجدیں بنواکر مسلمانوں کے قبضہ میں کردیں اور تا ایں دم مسلمان کے قبضہ میں ہیں۔یہ عورتیں مرچکی ہیں ان کی ہر ایك کی قبر ہر مسجد کے فنا میں بنی ہوئی ہےاور ان میں سے جو مسجدیں سابق پرانی مسجدوں کو شہیدکرکے تعمیر کی گئی ہیںان کے فنا میں اولیاء کے مزاربھی ہیںان مسجدوں کے ان بائیوں کے نام سے موسوم ہونے پر کافر کاروپیہ لگنے کے باعث اگرچہ ان عورتوں میں سے ہر ایك نے اپنے نوکر ناظر مسلمان کو حوالہ کرکے مسجد کی تعمیر کرائی ہے اور مسلمانوں کے قبضہ میں کردی گئی ہیں
باوجود اس کے مسلمانوں کے دو گروہ ازاں دم تا ایں دم چلے آتے ہیںایك گروہ ان مسجدوں میں نماز پڑھنا جائز سمجھتا ہے اور دوسرا گروہ بوجوہ بالاناجائز سمجھ کر ان میں نماز نہیں پڑھتا اور پڑھنے والے کو روکتا ہےمعترض گروہ نے اپنے استدلال میں ایك عربی رسالہ بھی لکھا ہے جو منسلك استفتاء ہذا ہے۔قائلین جواز اکثر فتاوی کی عبارت پیش کرتے ہیں۔یہ مسجدیں اپنے مصارف کےلئے قطعا کسی کی محتاج نہیں ہیں کیونکہ ہر مسجد اپنے تعلق میں دکانیں رکھتی ہے۔موجودہ کافر راجہ کو اگر یہ معلوم ہوجائے کہ ان مسجدوں میں بحکم شرع شریف نماز ناجائز ہے تو وہ ان کے انہدام میں ایك لمحہ دیر نہ لگائے اور مسجدیں دکانیں جن کی عمارت تقریبا ۵لاکھ بلکہ زائد ہوگی مسلمانوں کے قبضہ وتصرف سے نکل جائینگی اور مزارات اولیاء کرام جوان مسجدوں کی فناء میں واقع ہیں مسمار کردئے جائینگےآپ نہایت تفصیل سے عام فہم زبان میں ارشاد فرمائیں کہ حکم شرع شریف کیا ہے تاکہ مسلمانوں میں فساد مذکورہ بالاکی بیخ کنی ہوجائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
وہ مسجدیں شرعا مساجد ہیں اور ان میں نماز قطعا جائزاور ان کا ہدم ظلم شدیداور ان نماز پڑھنے سے روکناان کی ویرانی میں کوشش کرنا حرام۔
قال اﷲ تعالی " و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-" ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں نام الہی لینے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کی۔
عربی رسالے میں اجرت زنا کی حرمت کا بیا ن ہے اس میں کسے کلام ہے مگر اسے یہاں سے کیا علاقہاور ان مسجدوں کی ابطال مسجدیت سے تو اسے اصلا مس نہیںیہاں نہ اجارہ ہو انہ وہ مال کہ ان عورتوں نے پایا اجرت تھانہ ان کے لئے حکم حرمت تھااور بالفرض ہوتا تو ان مسجدوں کو مسجد نہ ماننا جہالت تھااولا: اجارہ کہ بیع منافع ہے مثل بیع محتاج ایجاب وقبول وتراضی طرفین ہےاور سوال میں زبردستی کرکے رکھاکافر راجاؤں کے جبر سے رہیں تو نہ کوئی اجارہ تھا نہ ایجاب و قبولخود رسالہ عربیہ میں اقرار کیا ہے کہ صورت مبحوث عنھا میں عقد اجارہ نہیں تو مسئلہ اجرت زنا کی بحث بیکار تھی۔رہا رسالہ کا یہ گمان کہ جب بے عقد ہے تو بدرجہ اولی حرام ہے کہ اب اس کی حرمت پر اتفاق ہےذخیرۃ العقبی میں ہے:
الجواب:
وہ مسجدیں شرعا مساجد ہیں اور ان میں نماز قطعا جائزاور ان کا ہدم ظلم شدیداور ان نماز پڑھنے سے روکناان کی ویرانی میں کوشش کرنا حرام۔
قال اﷲ تعالی " و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-" ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں نام الہی لینے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کی۔
عربی رسالے میں اجرت زنا کی حرمت کا بیا ن ہے اس میں کسے کلام ہے مگر اسے یہاں سے کیا علاقہاور ان مسجدوں کی ابطال مسجدیت سے تو اسے اصلا مس نہیںیہاں نہ اجارہ ہو انہ وہ مال کہ ان عورتوں نے پایا اجرت تھانہ ان کے لئے حکم حرمت تھااور بالفرض ہوتا تو ان مسجدوں کو مسجد نہ ماننا جہالت تھااولا: اجارہ کہ بیع منافع ہے مثل بیع محتاج ایجاب وقبول وتراضی طرفین ہےاور سوال میں زبردستی کرکے رکھاکافر راجاؤں کے جبر سے رہیں تو نہ کوئی اجارہ تھا نہ ایجاب و قبولخود رسالہ عربیہ میں اقرار کیا ہے کہ صورت مبحوث عنھا میں عقد اجارہ نہیں تو مسئلہ اجرت زنا کی بحث بیکار تھی۔رہا رسالہ کا یہ گمان کہ جب بے عقد ہے تو بدرجہ اولی حرام ہے کہ اب اس کی حرمت پر اتفاق ہےذخیرۃ العقبی میں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
مااخذتہ الزانیۃ ان کان بعقد الاجارۃ فحرام عندھما وان کان بغیر عقد فحرام اتفاقا لانھا اخذتہ بغیر حق کذا فی المحیط ۔
جو کچھ زانیہ نے لیا اگر عقد اجارہ کے طور پر ہے صاحبین کے نزدیك حرام ہے اور اگر بلا عقد ہے تو بالاتفاق حرام ہے کیونکہ زانیہ نے اس کو ناحق لیا ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت)
اقول: یہ ہی وہ نافہمی ہے جس نے غلطی میں ڈالابلاوجہ کسی کا مال لے لینا کہ بالاتفاق حرام ہے مال معصوم میں ہے جو کہ مسلمان یا ذمی یا مستأمن کا مال ہے ان کے غیر کامال کہ بلاعذر ملے خصوصا جو خود اس کی رضا سے ہو اس کی حرمت کی کوئی وجہ نہیں اگرچہ بلاوجہ محض بلکہ بنام وجہ فاسد وناجائز مثل ربا وقمار وغیرہما ہو۔ہدایہ وفتح القدیر میں ہے:
(مالھم مباح)واطلاق النصوص فی مال محظورو انما یحرم علی المسلم اذا کان بطریق الغدر(فاذالم یاخذ غدرا فبای طریق یاخذہ حل) بعد کونہ برضا ۔
(ان کا مال مباح ہے)اور نصوص کا اطلاق مال ممنوع پر ہوتا ہے اور بیشك وہ(کافر حربی کا مال)مسلمان پر اسی صورت میں حرام ہوتا ہے جب بطور غدر لیا جائےاور اگر غدر ودھوکے سے نہ لے تو جس طرح بھی حاصل کرے حلال ہے بشرطیکہ اس کا فر کی رضامندی سے ہو۔(ت)
مبسوط میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہکا کفار مکہ سے نصرت مسلمین پر شرط باندھ کر مال لینا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا اسے جائز رکھنا بلکہ خود بحکم حضور شرط میں اضافہ کرنا مذکور۔محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں:
وھو القمار بعینہ بین ابی بکر ومشرکی مکۃ وکانت مکۃ دار شرک ۔
اور وہ سید صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہاور مشرکین کے درمیان بعینہ جواتھا اور مکہ دار شرك تھا۔(ت)
ثانیا: جب ان کا رہنا بجبر واکراہ تھا تو عقد درکنار شرط زنا پر لینا بھی نہ ہوا تو رسالہ عربیہ کا
جو کچھ زانیہ نے لیا اگر عقد اجارہ کے طور پر ہے صاحبین کے نزدیك حرام ہے اور اگر بلا عقد ہے تو بالاتفاق حرام ہے کیونکہ زانیہ نے اس کو ناحق لیا ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت)
اقول: یہ ہی وہ نافہمی ہے جس نے غلطی میں ڈالابلاوجہ کسی کا مال لے لینا کہ بالاتفاق حرام ہے مال معصوم میں ہے جو کہ مسلمان یا ذمی یا مستأمن کا مال ہے ان کے غیر کامال کہ بلاعذر ملے خصوصا جو خود اس کی رضا سے ہو اس کی حرمت کی کوئی وجہ نہیں اگرچہ بلاوجہ محض بلکہ بنام وجہ فاسد وناجائز مثل ربا وقمار وغیرہما ہو۔ہدایہ وفتح القدیر میں ہے:
(مالھم مباح)واطلاق النصوص فی مال محظورو انما یحرم علی المسلم اذا کان بطریق الغدر(فاذالم یاخذ غدرا فبای طریق یاخذہ حل) بعد کونہ برضا ۔
(ان کا مال مباح ہے)اور نصوص کا اطلاق مال ممنوع پر ہوتا ہے اور بیشك وہ(کافر حربی کا مال)مسلمان پر اسی صورت میں حرام ہوتا ہے جب بطور غدر لیا جائےاور اگر غدر ودھوکے سے نہ لے تو جس طرح بھی حاصل کرے حلال ہے بشرطیکہ اس کا فر کی رضامندی سے ہو۔(ت)
مبسوط میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہکا کفار مکہ سے نصرت مسلمین پر شرط باندھ کر مال لینا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا اسے جائز رکھنا بلکہ خود بحکم حضور شرط میں اضافہ کرنا مذکور۔محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں:
وھو القمار بعینہ بین ابی بکر ومشرکی مکۃ وکانت مکۃ دار شرک ۔
اور وہ سید صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہاور مشرکین کے درمیان بعینہ جواتھا اور مکہ دار شرك تھا۔(ت)
ثانیا: جب ان کا رہنا بجبر واکراہ تھا تو عقد درکنار شرط زنا پر لینا بھی نہ ہوا تو رسالہ عربیہ کا
حوالہ / References
ذخیرۃ العقبٰی کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدہ نولکشور کانپور ۳/ ۵۱۲
فتح القدیر کتاب البیوع باب الرباء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۷۸
فتح القدیر کتاب البیوع باب الرباء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۷۸
فتح القدیر کتاب البیوع باب الرباء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۷۸
فتح القدیر کتاب البیوع باب الرباء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۷۸
کہنا کہ:
ماتاخذہ الزانیۃ علی الزنا بغیر عقد الاجارۃ حرام اتفاقا وھو المبحوث عنہ۔
جو کچھ زانیہ زنا پر بغیر عقد اجارہ کے لے وہ بالاتفاق حرام ہے اور یہ زیر بحث ہے(ت)
یوں بھی صحیح نہیں اور اب مال کافر کی بھی قید نہ رہی
ففی الھندیۃ عن المحیط عن المنتقی ابراہیم عن محمد امرأۃ نائحۃ اوصاحب طبل او مزماراکتسب مالا قال ان کان علی شرط ردہ علی اصحابہ لانہ اذا کان الاخذ علی الشرط کان المال بمقابلۃ المعصیۃ فکان الاخذ معصیۃ والسبیل فی المعاصی ردھااما اذا لم یکن الاخذ علی الشرط لم یکن الاخذ معصیۃ والدفع حصل من المالك برضاہ فیکون لہ ویکون حلالالہ ۔
پس ہندیہ میں محیط سے بحوالہ منتقی ابراہیم سے بروایت امام محمد منقول ہے کہ نوحہ کرنے والی عورتڈھول بجانے والے اور سارنگی بجانے والے نے جومال کمایا اگر وہ کسی شرط پر تھا تو وہ مالکوں کو واپس کریں کیونکہ جب اس کا لینا شرط پر ہوا تو وہ معصیت کے مقابلہ میں ہوا اور معاصی میں چھٹکارے کی سبیل اس کو مالکوں کی طرف لوٹانا ہے اور اگر وہ شرط کی بنیاد پر نہ تھا اس کا لینا معصیت نہ ہوااور یہ دینا خود مالك کی طرف سے اس کی رضاکے ساتھ متحقق ہوا لہذا وہ اس کے لئے حلال ہوگا۔(ت)
ثالثا: حقیقت امریہ ہے کہ نواب وراجہ جو عورتیں رکھتے اور انہیں اپنا پابند کرتے ہیں اپنے زعم مردود میں انہیں مثل ازواج وکنیزاں رکھتے ہیں اور جو کچھ ادرار وما ہوار انہیں دیتے ہیں نہ بعوض زنا ہوتا ہے نہ بشرط زنا بلکہ نفقہ ازواج کی طرح جزاء احتباس سمجھ کردیتے ہیں ولہذا اگر ان میں بعض کی صورت بھی مہینوں نہ دیکھنے میں آئی ادرار میں فرق نہیں آتا یہ حبس ضرور ظلم و حرام ہےاور اگر برضائے زنا ہوتو قطعا یہ بھی عاصیہ کہ رضابالحرام حرام ہے لیکن جب بالجبر ہے تو اس کی طرف سے معصیت نہیں
قال تعالی " و من یكرههن فان الله من بعد اكراههن غفور رحیم(۳۳)" ۔
اللہ تعالی نے فرمایا:اور جوان پر جبر واکراہ کرے تو اﷲ تعالی ان عورتوں کے مجبور ہونے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے۔ (ت)
ماتاخذہ الزانیۃ علی الزنا بغیر عقد الاجارۃ حرام اتفاقا وھو المبحوث عنہ۔
جو کچھ زانیہ زنا پر بغیر عقد اجارہ کے لے وہ بالاتفاق حرام ہے اور یہ زیر بحث ہے(ت)
یوں بھی صحیح نہیں اور اب مال کافر کی بھی قید نہ رہی
ففی الھندیۃ عن المحیط عن المنتقی ابراہیم عن محمد امرأۃ نائحۃ اوصاحب طبل او مزماراکتسب مالا قال ان کان علی شرط ردہ علی اصحابہ لانہ اذا کان الاخذ علی الشرط کان المال بمقابلۃ المعصیۃ فکان الاخذ معصیۃ والسبیل فی المعاصی ردھااما اذا لم یکن الاخذ علی الشرط لم یکن الاخذ معصیۃ والدفع حصل من المالك برضاہ فیکون لہ ویکون حلالالہ ۔
پس ہندیہ میں محیط سے بحوالہ منتقی ابراہیم سے بروایت امام محمد منقول ہے کہ نوحہ کرنے والی عورتڈھول بجانے والے اور سارنگی بجانے والے نے جومال کمایا اگر وہ کسی شرط پر تھا تو وہ مالکوں کو واپس کریں کیونکہ جب اس کا لینا شرط پر ہوا تو وہ معصیت کے مقابلہ میں ہوا اور معاصی میں چھٹکارے کی سبیل اس کو مالکوں کی طرف لوٹانا ہے اور اگر وہ شرط کی بنیاد پر نہ تھا اس کا لینا معصیت نہ ہوااور یہ دینا خود مالك کی طرف سے اس کی رضاکے ساتھ متحقق ہوا لہذا وہ اس کے لئے حلال ہوگا۔(ت)
ثالثا: حقیقت امریہ ہے کہ نواب وراجہ جو عورتیں رکھتے اور انہیں اپنا پابند کرتے ہیں اپنے زعم مردود میں انہیں مثل ازواج وکنیزاں رکھتے ہیں اور جو کچھ ادرار وما ہوار انہیں دیتے ہیں نہ بعوض زنا ہوتا ہے نہ بشرط زنا بلکہ نفقہ ازواج کی طرح جزاء احتباس سمجھ کردیتے ہیں ولہذا اگر ان میں بعض کی صورت بھی مہینوں نہ دیکھنے میں آئی ادرار میں فرق نہیں آتا یہ حبس ضرور ظلم و حرام ہےاور اگر برضائے زنا ہوتو قطعا یہ بھی عاصیہ کہ رضابالحرام حرام ہے لیکن جب بالجبر ہے تو اس کی طرف سے معصیت نہیں
قال تعالی " و من یكرههن فان الله من بعد اكراههن غفور رحیم(۳۳)" ۔
اللہ تعالی نے فرمایا:اور جوان پر جبر واکراہ کرے تو اﷲ تعالی ان عورتوں کے مجبور ہونے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس عشر فی الکسب نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۹
القرآن الکریم ۲۴ /۳۳
القرآن الکریم ۲۴ /۳۳
تو وہ ان کےلئے کسی طرح مقابل معصیت نہیں اور امام محمد کا ارشاد بلا دقت صادق کہ مال برضاء مالك ملا تو ان کے لئے حرام نہیں۔علاوہ ماہوار بعض منظورات نظر کو اور اموال جو زائد دیتے ہیں مسلم کی طرف سے ہوتے تو ضرور حرام ہوتے کہ رشوت تھی
والراشی والمرتشی کلاھما فی النار ۔
رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔(ت)
لینے والی مالك نہ ہوتی اور ان کا دینے والے کو واپس دینا فرض ہوتا۔ہندیہ میں قنیہ سے ہے:
المتعاشقان یدفع کل واحد منھما لصاحبہ اشیاء فھی رشوۃ لایثبت الملك فیہا وللدافع استردادھا ۔
باہمی معاشقہ کرنے والوں میں سے ہر ایك نے جو دوسرے کودیا وہ رشوت ہے اس سے ملك ثابت نہیں ہوتی اور دینے والے کو اختیار ہے کہ واپس لے لے۔(ت)
یہاں کہ دینے والا حربی غیر مستأمن ہے اور ان کی طرف سے غدر نہیں بلکہ برضائے مالك ہے تو بحکم استیلاء ان کی ملك ثابت اور ہدایہ کا ارشاد صادق کہ:
بای طریق اخذہ المسلم اخذمالا مباحا اذالم یکن فیہ غدر ۔
مسلمان جس طرح بھی لے ایك مال مباح لیتا ہے جبکہ اس میں غدر نہ ہو۔
خصوصا وہ روپیہ کہ راجہ سے مسجد کےلئے مانگ کرلیا اور اس نے بخوشی دیا اسے زبردستی زیر حرمت مان لینا کیا معنی۔
رابعا: بالفرض یہ روپیہ حرام ہی ہوتا تو امام کرخی کے مذہب مفتی بہ پر مسجد کی طرف اس کی خباثت سرایت نہ کرسکتی جب تك اس پر عقد ونقد جمع نہ ہوتے یعنی وہ روپیہ دکھاکر بائعوں سے اینٹ کڑیاں زمین وغیرہا خریدی جاتیں کہ اس روپے کے عوض میں دے پھر وہی زرحرام ثمن میں ادا کیا جاتا۔ظاہر ہے کہ عام خریداریاں اس طور پر نہیں ہوتیں تو اب بھی ان مسجدوں میں اثر حرام ماننا جزاف و باطل تھا۔تنویر الابصار میں ہے:
تصدق بالفلۃ لو تصرف فی المغصوب اوالودیعۃ وربح اذاکان متعینا بالاشارۃ اوبالشراء بدراہم الودیعۃ او الغصب ونقدھاوان اشارالیہا و نقد غیرہا اوالی غیرہا اواطلق ونقدھا لاوبہ یفتی ۔
اور باقیماندہ منفعت کو صدقہ کرےاگر اس نے مغصوب اور
والراشی والمرتشی کلاھما فی النار ۔
رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔(ت)
لینے والی مالك نہ ہوتی اور ان کا دینے والے کو واپس دینا فرض ہوتا۔ہندیہ میں قنیہ سے ہے:
المتعاشقان یدفع کل واحد منھما لصاحبہ اشیاء فھی رشوۃ لایثبت الملك فیہا وللدافع استردادھا ۔
باہمی معاشقہ کرنے والوں میں سے ہر ایك نے جو دوسرے کودیا وہ رشوت ہے اس سے ملك ثابت نہیں ہوتی اور دینے والے کو اختیار ہے کہ واپس لے لے۔(ت)
یہاں کہ دینے والا حربی غیر مستأمن ہے اور ان کی طرف سے غدر نہیں بلکہ برضائے مالك ہے تو بحکم استیلاء ان کی ملك ثابت اور ہدایہ کا ارشاد صادق کہ:
بای طریق اخذہ المسلم اخذمالا مباحا اذالم یکن فیہ غدر ۔
مسلمان جس طرح بھی لے ایك مال مباح لیتا ہے جبکہ اس میں غدر نہ ہو۔
خصوصا وہ روپیہ کہ راجہ سے مسجد کےلئے مانگ کرلیا اور اس نے بخوشی دیا اسے زبردستی زیر حرمت مان لینا کیا معنی۔
رابعا: بالفرض یہ روپیہ حرام ہی ہوتا تو امام کرخی کے مذہب مفتی بہ پر مسجد کی طرف اس کی خباثت سرایت نہ کرسکتی جب تك اس پر عقد ونقد جمع نہ ہوتے یعنی وہ روپیہ دکھاکر بائعوں سے اینٹ کڑیاں زمین وغیرہا خریدی جاتیں کہ اس روپے کے عوض میں دے پھر وہی زرحرام ثمن میں ادا کیا جاتا۔ظاہر ہے کہ عام خریداریاں اس طور پر نہیں ہوتیں تو اب بھی ان مسجدوں میں اثر حرام ماننا جزاف و باطل تھا۔تنویر الابصار میں ہے:
تصدق بالفلۃ لو تصرف فی المغصوب اوالودیعۃ وربح اذاکان متعینا بالاشارۃ اوبالشراء بدراہم الودیعۃ او الغصب ونقدھاوان اشارالیہا و نقد غیرہا اوالی غیرہا اواطلق ونقدھا لاوبہ یفتی ۔
اور باقیماندہ منفعت کو صدقہ کرےاگر اس نے مغصوب اور
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ طب ص عن ابن عمر حدیث ۱۵۰۷۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۱۱۳،الترغیب والترھیب ترھیب الراشی والمرتشی مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۸۰
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الھبۃ الباب الحادی عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۰۳
الھدایۃ کتاب البیوع باب الربو مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۸۷
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۰۶۔۲۰۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الھبۃ الباب الحادی عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۰۳
الھدایۃ کتاب البیوع باب الربو مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۸۷
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۰۶۔۲۰۵
ودیعت میں تصرف کیااور اس سے نفع حاصل ہوا جبکہ وہ مغصوب یا و دیعت متعین ہو چاہے اشارہ سے متعین ہو یا غصب و ودیعت کے دراہم کے بدلے خریدنے اور انہی دراہم کو اداکرنے سے متعین ہواور اگر اشارہ دراہم غصب و ودیعت کی طرف کیا اور ادا دوسرے درھم کئے یا اشارہ دراھم غصب وودیعت کے غیر کی طرف کیا اور ادا دراہم غصب و ودیعت کئے یاذکر مطلق دراہم کا کیا بلااشارہ کے اور ادا دراہم غصب وودیعت کئے تو ان تینوں صورتوں میں منفعت صدقہ نہ کرےاسی پر فتوی دیا گیاہے۔(ت)
خامسا: پورے تنزل کے بعد بالفرض سرایت خبث بھی سہی تو یہ خبث بوجہ فساد ملك ہوگا نہ بوجہ عدم ملك کہ بسبب استیلاء ملك زناں میں شبہ نہیں۔ درمختار میں ہے:
دخل مسلم دارالحرب بامان حرم تعرضہ لشیئ منھم فلو اخرج شیئا مبلکہ ملکا حراما للغدر فیتصدق بہ ۔
اگر کوئی مسلمان دارالحرب میں امان لے کر داخل ہوا توان کی کسی چیز سے تعرض کرنا اس کو حرام ہے اگر وہ ان حربی کافروں کی کوئی چیز نکال لایا تو دغابازی کی وجہ سے اس کا مالك بہ ملك حرام ہوا لہذا اس کو صدقہ کردے۔(ت)
تو اس صورت میں بھی صحت مسجدیت وجواز نماز کےلئے روایات کثیرہ جلیلہ موجود ہیں۔متفرقات وقف عالمگیریہ میں محیط سے ہے:
لواشتری ارضا شراء فاسدا فقبضھا و اتخذھا مسجدا وصلی الناس فیہ ذکر ھلال رحمہ اﷲ تعالی فی وقفہ انہ مسجد وعلی المشتری قیمتھا ولاترد الی البائع قال ھلال ھذا قول اصحابنا
اگر کسی نے شراء فاسد کے ساتھ کوئی زمین خریدی اور اس پر قبضہ کرکے اس کو مسجد بنادیا اور لوگوں نے اس میں نماز پڑھ لی تو ھلال رحمۃ اللہ تعالی علیہنے وقف میں فرمایا کہ وہ مسجد ہے اور اس کی قیمت مشتری کے ذمے ہے اس کو بائع کی طرف نہیں لوٹایا جائے گاہلال رحمہ اللہ نے
خامسا: پورے تنزل کے بعد بالفرض سرایت خبث بھی سہی تو یہ خبث بوجہ فساد ملك ہوگا نہ بوجہ عدم ملك کہ بسبب استیلاء ملك زناں میں شبہ نہیں۔ درمختار میں ہے:
دخل مسلم دارالحرب بامان حرم تعرضہ لشیئ منھم فلو اخرج شیئا مبلکہ ملکا حراما للغدر فیتصدق بہ ۔
اگر کوئی مسلمان دارالحرب میں امان لے کر داخل ہوا توان کی کسی چیز سے تعرض کرنا اس کو حرام ہے اگر وہ ان حربی کافروں کی کوئی چیز نکال لایا تو دغابازی کی وجہ سے اس کا مالك بہ ملك حرام ہوا لہذا اس کو صدقہ کردے۔(ت)
تو اس صورت میں بھی صحت مسجدیت وجواز نماز کےلئے روایات کثیرہ جلیلہ موجود ہیں۔متفرقات وقف عالمگیریہ میں محیط سے ہے:
لواشتری ارضا شراء فاسدا فقبضھا و اتخذھا مسجدا وصلی الناس فیہ ذکر ھلال رحمہ اﷲ تعالی فی وقفہ انہ مسجد وعلی المشتری قیمتھا ولاترد الی البائع قال ھلال ھذا قول اصحابنا
اگر کسی نے شراء فاسد کے ساتھ کوئی زمین خریدی اور اس پر قبضہ کرکے اس کو مسجد بنادیا اور لوگوں نے اس میں نماز پڑھ لی تو ھلال رحمۃ اللہ تعالی علیہنے وقف میں فرمایا کہ وہ مسجد ہے اور اس کی قیمت مشتری کے ذمے ہے اس کو بائع کی طرف نہیں لوٹایا جائے گاہلال رحمہ اللہ نے
حوالہ / References
درمختار کتاب الجہاد باب المستأمن مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۶
فی المسجد والوقف علی قیاسہ ۔
فرمایا کہ ہمارے اصحاب کا یہ قول مسجد کے بارے میں ہے اور وقف کو اسی پر قیاس کیا جائیگا(ت)
فتاوی قاضیخاں نیز ہندیہ اوائل الوقف میں ہے:
لواشتری رجل داراشراء فاسداوقبضہا ثم وقفھا علی الفقراء والمساکین جاز وتصیر وقفا علی ماوقفت وعلیہ قیمتھا ۔
اگر کسی نے شراء فاسد کے ساتھ گھر خریدا اور اس نے قبضہ کرلیا پھر اس کو فقراء ومساکین پر وقف کردیا تو جائز ہے اور وہ ان پر وقف ہوجائیگا جن پر اس نے وقف کیا اور اس کی قیمت اسی مشتری پر لاز م ہوگی۔(ت)
تنویر الابصار احکام البیع الفاسد میں ہے:
فان وقفہ وقفا صحیحا نفذ ۔
اگر اس کو وقف صحیح کے ساتھ وقف کیا تو نافذ ہوجائے گا۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
لانہ استھبلکہ حین وقفہ واخرجہ عن مبلکہ ومافی جامع الفصولین علی خلاف ھذاغیر صحیح کما بسطہ المصنف ۔
اس لئے کہ اس نے وقف کرکے اس کو ہلاك کر ڈالا اور اس کو اپنی ملك سے خارج کردیااور وہ جو جامع الفصولین میں اس کے خلاف آیا ہے وہ صحیح نہیں جیساکہ مصنف نے اس کو تفصیل سے بیان کیا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی جامع الفصولین لو وقفہ او جعلہ مسجدا لایبطل حق الفسخ مالم یبن اھ ای فالمانع من الفسخ ھو البناء حملہ فی
جامع الفصولین میں ہے کہ اگر مشتری نے اس کو وقف کیا یا مسجد بنایا تو جب تك عمارت نہ بنادے حق فسخ باطل نہیں ہوتااھ یعنی مانع فسخعمارت ہے
فرمایا کہ ہمارے اصحاب کا یہ قول مسجد کے بارے میں ہے اور وقف کو اسی پر قیاس کیا جائیگا(ت)
فتاوی قاضیخاں نیز ہندیہ اوائل الوقف میں ہے:
لواشتری رجل داراشراء فاسداوقبضہا ثم وقفھا علی الفقراء والمساکین جاز وتصیر وقفا علی ماوقفت وعلیہ قیمتھا ۔
اگر کسی نے شراء فاسد کے ساتھ گھر خریدا اور اس نے قبضہ کرلیا پھر اس کو فقراء ومساکین پر وقف کردیا تو جائز ہے اور وہ ان پر وقف ہوجائیگا جن پر اس نے وقف کیا اور اس کی قیمت اسی مشتری پر لاز م ہوگی۔(ت)
تنویر الابصار احکام البیع الفاسد میں ہے:
فان وقفہ وقفا صحیحا نفذ ۔
اگر اس کو وقف صحیح کے ساتھ وقف کیا تو نافذ ہوجائے گا۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
لانہ استھبلکہ حین وقفہ واخرجہ عن مبلکہ ومافی جامع الفصولین علی خلاف ھذاغیر صحیح کما بسطہ المصنف ۔
اس لئے کہ اس نے وقف کرکے اس کو ہلاك کر ڈالا اور اس کو اپنی ملك سے خارج کردیااور وہ جو جامع الفصولین میں اس کے خلاف آیا ہے وہ صحیح نہیں جیساکہ مصنف نے اس کو تفصیل سے بیان کیا۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی جامع الفصولین لو وقفہ او جعلہ مسجدا لایبطل حق الفسخ مالم یبن اھ ای فالمانع من الفسخ ھو البناء حملہ فی
جامع الفصولین میں ہے کہ اگر مشتری نے اس کو وقف کیا یا مسجد بنایا تو جب تك عمارت نہ بنادے حق فسخ باطل نہیں ہوتااھ یعنی مانع فسخعمارت ہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فے المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۸۵۔۴۸۴
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول فی تعریفہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۵۴
درمختار شرح تنویر ابصار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۹
درمختار شرح تنویر ابصار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۹
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول فی تعریفہ نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۵۴
درمختار شرح تنویر ابصار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۹
درمختار شرح تنویر ابصار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۹
النھر علی احدی روایتین وھو اولی من التغلیط وحملہ فی البحر علی مااذا لم یقض بہقلت لکن المسجد یلزم بدون القضاء اتفاقا ۔
صاحب نہر نے اس کودو روایتوں میں سے ایك پرمحمول کیا اور یہ اس کی تغلیط سے اولی ہے اور بحر میں اس کو اس پر محمول کیا کہ جب تك اس کے ساتھ قضاء واقع نہ ہو۔میں کہتا ہوں لیکن مسجد توبغیر قضاء قاضی کے لازم وثابت ہوجاتی ہے بالاتفاق۔(ت)
اسی کے اوائل وقف میں ہے:
صح وقف ماشراہ فاسدا بعد القبض ۔
قبضہ کے بعد اس چیز کا وقف صحیح ہے جس کو شرا فاسد کے ساتھ خریدا ہو۔(ت)
نظر بحالت مذکورہ سوال انہیں پر فتوی واجب ہوتا اذلایفتی فی الوقف الابما ھو انفع لہ (وقف میں صرف اسی پر فتوی دیا جاتا ہے جو اس کے حق میں زیادہ نافع ہو اس کے غیر پر فتوی نہیں دیا جاتا۔ت)نہ کہ ان مباحث عظیمہ کے ساتھ جوہم نے ابتداء ذکر کیں جن کے بعد شبہ کو اصلا گنجائش نہیںوﷲ الحمدواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۰: ازلکھنؤجھوائی ٹولہ بادشاہ محل کی ڈیوڑھی مسئولہ منشی انور علی ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص موذن مسجد ہے اور اس شخص مؤذن نے حجرہ مسجد جو وقف تھا اس میں اپنا دخل اور تصرف مالکانہ کرکے ایك مکان اوپر اس حجرہ کے بنایا اور حجرہ وقف کو اپنے مالکانہ تصرف اور ماتحت میں لاتا اور اس میں خانہ داری وسکونت کرتا ہےآیا عندالشرع الشریف یہ جائز ہے یانہ اور اہل محلہ اس کو خارج کرسکتے ہیں یانہبینواتوجروا۔
الجواب:
حجرہ اگر سکونت مؤذن کےلئے واقف نے وقف کیا تھا اور اس نے اس کے اوپر کوئی عمارت اپنے روپے سے وقف کے لئے بناکر اس میں سکونت کی تواس پر الزام نہیںنہ یہ کوئی تصرف مالکانہ ہے بلکہ مطابق شرط واقف ہے اور اگر حجرہ مسجد کے دیگر مصارف کےلئے وقف ہوا تھا جن میں سکونت مؤذن داخل نہیںتو بیشك ناجائز ہے اور مہتممان مسجد اسے خارج کرسکتے ہیں۔ واﷲتعالی اعلم۔
صاحب نہر نے اس کودو روایتوں میں سے ایك پرمحمول کیا اور یہ اس کی تغلیط سے اولی ہے اور بحر میں اس کو اس پر محمول کیا کہ جب تك اس کے ساتھ قضاء واقع نہ ہو۔میں کہتا ہوں لیکن مسجد توبغیر قضاء قاضی کے لازم وثابت ہوجاتی ہے بالاتفاق۔(ت)
اسی کے اوائل وقف میں ہے:
صح وقف ماشراہ فاسدا بعد القبض ۔
قبضہ کے بعد اس چیز کا وقف صحیح ہے جس کو شرا فاسد کے ساتھ خریدا ہو۔(ت)
نظر بحالت مذکورہ سوال انہیں پر فتوی واجب ہوتا اذلایفتی فی الوقف الابما ھو انفع لہ (وقف میں صرف اسی پر فتوی دیا جاتا ہے جو اس کے حق میں زیادہ نافع ہو اس کے غیر پر فتوی نہیں دیا جاتا۔ت)نہ کہ ان مباحث عظیمہ کے ساتھ جوہم نے ابتداء ذکر کیں جن کے بعد شبہ کو اصلا گنجائش نہیںوﷲ الحمدواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۰: ازلکھنؤجھوائی ٹولہ بادشاہ محل کی ڈیوڑھی مسئولہ منشی انور علی ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص موذن مسجد ہے اور اس شخص مؤذن نے حجرہ مسجد جو وقف تھا اس میں اپنا دخل اور تصرف مالکانہ کرکے ایك مکان اوپر اس حجرہ کے بنایا اور حجرہ وقف کو اپنے مالکانہ تصرف اور ماتحت میں لاتا اور اس میں خانہ داری وسکونت کرتا ہےآیا عندالشرع الشریف یہ جائز ہے یانہ اور اہل محلہ اس کو خارج کرسکتے ہیں یانہبینواتوجروا۔
الجواب:
حجرہ اگر سکونت مؤذن کےلئے واقف نے وقف کیا تھا اور اس نے اس کے اوپر کوئی عمارت اپنے روپے سے وقف کے لئے بناکر اس میں سکونت کی تواس پر الزام نہیںنہ یہ کوئی تصرف مالکانہ ہے بلکہ مطابق شرط واقف ہے اور اگر حجرہ مسجد کے دیگر مصارف کےلئے وقف ہوا تھا جن میں سکونت مؤذن داخل نہیںتو بیشك ناجائز ہے اور مہتممان مسجد اسے خارج کرسکتے ہیں۔ واﷲتعالی اعلم۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۶
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۵۹
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۵۹
مسئلہ۳۲۱: ازگرواڑہ ریاست بڑودہ مسئولہ یوسف علی خاں بہادر ۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے عرصہ دس سال سے اپنی کتابیں جامع مسجد بڑودہ میں فی سبیل اللہ وقف کردی ہیںعرصہ دس سال سےا نجمن اصلاح اہلسنت وجماعت کے قبضے میں ہیں اب وہ شخص رافضی کی طرفداری میں ہوکر کتب خانہ موقوف کو واپس اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہے تو وہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ انجمن اہل سنت وجماعت کا قبضہ چھڑ ا کر اپنا قبضہ کرے یا کتابوں کو دوسری مسجد یا مدرسہ کی طرف منتقل کردے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر اس نے کتابیں مسجد جامع پر وقف کیں تو جائز نہیں کہ وہ کسی مدرسہ یا دوسری مسجد کی طرف منتقل کی جائیں۔ردالمحتا رمیں ہے:
ظاہرہ انہ یکون مقصوراعلی ذلك المسجد وھذاھو الظاہر حیث کان الواقف عین ذلك المسجد ۔
ظاہر اس کا یہی ہے کہ وہ اسی مسجد کے لئے مختص ہے اور یہی ظاہر ہے جبکہ خود واقف نے اسی مسجد کے لئے معین کردیا تھا۔ (ت)
قنیہ میں ہے:
سبل مصحفا فی مسجد بعینہ للقرائہ لیس لہ بعد ذلك ان یدفعہ الی اخر من غیر اھل تلك المحلۃ للقرائۃ ۔
کسی شخص نے قرآن مجید ایك خاص مسجد میں تلاوت کےلئے صدقہ کیا تو اب اس کو اختیار نہیں کہ وہ اس مسجد کے اہل محلہ کے علاوہ کسی دوسرے کو پڑھنے کےلئے دے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
وبہ عرف حکم نقل کتب الاوقاف من محالھا للانتفاع بھاوالفقہاء بذلك مبتلون فان وقفھا علی مستحقی وقفہ لم یجز نقلھا و
اسی سے کتب اوقاف کے انتفاع کی غرض کا اپنے مکانات سے منتقل کرنے کا حکم معلوم ہوگیا اور فقہاء اس کے ساتھ مبتلی ہیں پس اگر توواقف نے صرف اپنے وقف(یعنی اپنی مسجد و مدرسہ)کے
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے عرصہ دس سال سے اپنی کتابیں جامع مسجد بڑودہ میں فی سبیل اللہ وقف کردی ہیںعرصہ دس سال سےا نجمن اصلاح اہلسنت وجماعت کے قبضے میں ہیں اب وہ شخص رافضی کی طرفداری میں ہوکر کتب خانہ موقوف کو واپس اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہے تو وہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ انجمن اہل سنت وجماعت کا قبضہ چھڑ ا کر اپنا قبضہ کرے یا کتابوں کو دوسری مسجد یا مدرسہ کی طرف منتقل کردے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر اس نے کتابیں مسجد جامع پر وقف کیں تو جائز نہیں کہ وہ کسی مدرسہ یا دوسری مسجد کی طرف منتقل کی جائیں۔ردالمحتا رمیں ہے:
ظاہرہ انہ یکون مقصوراعلی ذلك المسجد وھذاھو الظاہر حیث کان الواقف عین ذلك المسجد ۔
ظاہر اس کا یہی ہے کہ وہ اسی مسجد کے لئے مختص ہے اور یہی ظاہر ہے جبکہ خود واقف نے اسی مسجد کے لئے معین کردیا تھا۔ (ت)
قنیہ میں ہے:
سبل مصحفا فی مسجد بعینہ للقرائہ لیس لہ بعد ذلك ان یدفعہ الی اخر من غیر اھل تلك المحلۃ للقرائۃ ۔
کسی شخص نے قرآن مجید ایك خاص مسجد میں تلاوت کےلئے صدقہ کیا تو اب اس کو اختیار نہیں کہ وہ اس مسجد کے اہل محلہ کے علاوہ کسی دوسرے کو پڑھنے کےلئے دے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
وبہ عرف حکم نقل کتب الاوقاف من محالھا للانتفاع بھاوالفقہاء بذلك مبتلون فان وقفھا علی مستحقی وقفہ لم یجز نقلھا و
اسی سے کتب اوقاف کے انتفاع کی غرض کا اپنے مکانات سے منتقل کرنے کا حکم معلوم ہوگیا اور فقہاء اس کے ساتھ مبتلی ہیں پس اگر توواقف نے صرف اپنے وقف(یعنی اپنی مسجد و مدرسہ)کے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۶
القنیۃ المنیۃ للتتمیم الغنیۃ کتاب الوقف کلکتہ انڈیا ص۲۱۳
القنیۃ المنیۃ للتتمیم الغنیۃ کتاب الوقف کلکتہ انڈیا ص۲۱۳
ان علی طلبۃ العلم وجعل مقرھا فی خزانتہ التی فی مکان کذا ففی جواز النقل تردد نھر ۔
مستحقوں کےلئے ان کتابوں کو وقف کیا ہے تو ان کو منتقل کرنا جائز نہیں اور اگر مطلقا طالبان علم کیلئے وقف کیا اور ٹھکانا ان کتابوں کا اپنے اس خزانہ میں مقرر کیا جو فلاں مکان میں ہے تو منتقل کرنے کے جواز میں تردد ہےنہر(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الذی تحـصل من کلامہ انہ اذا وقف کتبا وعین موضعھا فان وقفھا علی اھل ذلك الموضع لم یجز نقلھا منہ لالھم ولا بغیرھموظاہرہ انہ لایحل لغیرھم الانتفاع بھاوان وقفھا علی طلبۃ العلم فلکل طالب الانتفاع بھا فی محلہا وامانقلھا منہ ففیہ تردد ناشیئ مماقدمہ عن الخلاصۃ من حکایۃ القولین من انہ لو وقف المصحف علی المسجد ای بلاتعیین اھلہ قیل یقرأفیہ ای یختص باھلہ المترددین الیہ وقیل لایختص بہ ای فیجوز نقلہ الی غیرہ وقد علمت تقویۃ القول الاول بمامر عن القنیۃ ۔
اس کے کلام سے جو معنی حاصل ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر واقف نے کتابوں کووقف کیا اور ان کےلئے مکان معین کردیا پھراگر صرف اسی جگہ والوں کےلئے وقف کیا تو اب منتقل نہیں کرسکتا نہ ان لوگوں کےلئے نہ دوسروں کےلئے۔ اس کا ظاہر یہ ہے کہ ان لوگوں کے غیر کےلئے ان کتب موقوفہ سے انتفاع حلال نہیں اور اگر ان کتب کو طالبان علم پر وقف کیا تو ان کتب کے محل معین میں ان سے ہر طالب علم کو انتفاع کا حق ہے لیکن ان کتابوں کو اس محل معین سے منتقل کرنے میں تردد ہے جو خلاصہ کے حوالہ سے ان دو قولوں سے پیدا ہوا جن کی سابق میں حکایت کی جاچکی ہے یہ کہ اگر کسی شخص نے قرآن مجید کسی مسجد پر وقف کیا مگر اس مسجد والوں کی تعیین نہیں کی تو ایك قول یہ ہے کہ اس کے ساتھ مختص نہیں لہذا اس کو منتقل کرنا جائز ہے تو تحقیق تو قول اول کی تقویت قنیہ کی تائید سے پہلے ہی جان چکا ہے۔(ت)
واقف کتب اگر کتابیں اسی مسجد میں رکھنا چاہتا اور قبضہ انجمن سے نکال کر اپناقبضہ متولیانہ رکھتا تو اس کے جواز کی طرف راہ تھیامام ابویوسف کے نزدیك جائز تھااشباہ میں فرمایا بہ یفتی(اس پر فتوی ہے۔ت)اور امام محمد کے نزدیك ناجائز تھا جب تك وقت وقف یہ شرط نہ کرلیتا کہ متولی کے
مستحقوں کےلئے ان کتابوں کو وقف کیا ہے تو ان کو منتقل کرنا جائز نہیں اور اگر مطلقا طالبان علم کیلئے وقف کیا اور ٹھکانا ان کتابوں کا اپنے اس خزانہ میں مقرر کیا جو فلاں مکان میں ہے تو منتقل کرنے کے جواز میں تردد ہےنہر(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الذی تحـصل من کلامہ انہ اذا وقف کتبا وعین موضعھا فان وقفھا علی اھل ذلك الموضع لم یجز نقلھا منہ لالھم ولا بغیرھموظاہرہ انہ لایحل لغیرھم الانتفاع بھاوان وقفھا علی طلبۃ العلم فلکل طالب الانتفاع بھا فی محلہا وامانقلھا منہ ففیہ تردد ناشیئ مماقدمہ عن الخلاصۃ من حکایۃ القولین من انہ لو وقف المصحف علی المسجد ای بلاتعیین اھلہ قیل یقرأفیہ ای یختص باھلہ المترددین الیہ وقیل لایختص بہ ای فیجوز نقلہ الی غیرہ وقد علمت تقویۃ القول الاول بمامر عن القنیۃ ۔
اس کے کلام سے جو معنی حاصل ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر واقف نے کتابوں کووقف کیا اور ان کےلئے مکان معین کردیا پھراگر صرف اسی جگہ والوں کےلئے وقف کیا تو اب منتقل نہیں کرسکتا نہ ان لوگوں کےلئے نہ دوسروں کےلئے۔ اس کا ظاہر یہ ہے کہ ان لوگوں کے غیر کےلئے ان کتب موقوفہ سے انتفاع حلال نہیں اور اگر ان کتب کو طالبان علم پر وقف کیا تو ان کتب کے محل معین میں ان سے ہر طالب علم کو انتفاع کا حق ہے لیکن ان کتابوں کو اس محل معین سے منتقل کرنے میں تردد ہے جو خلاصہ کے حوالہ سے ان دو قولوں سے پیدا ہوا جن کی سابق میں حکایت کی جاچکی ہے یہ کہ اگر کسی شخص نے قرآن مجید کسی مسجد پر وقف کیا مگر اس مسجد والوں کی تعیین نہیں کی تو ایك قول یہ ہے کہ اس کے ساتھ مختص نہیں لہذا اس کو منتقل کرنا جائز ہے تو تحقیق تو قول اول کی تقویت قنیہ کی تائید سے پہلے ہی جان چکا ہے۔(ت)
واقف کتب اگر کتابیں اسی مسجد میں رکھنا چاہتا اور قبضہ انجمن سے نکال کر اپناقبضہ متولیانہ رکھتا تو اس کے جواز کی طرف راہ تھیامام ابویوسف کے نزدیك جائز تھااشباہ میں فرمایا بہ یفتی(اس پر فتوی ہے۔ت)اور امام محمد کے نزدیك ناجائز تھا جب تك وقت وقف یہ شرط نہ کرلیتا کہ متولی کے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۱
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۶
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۶
بدلنے کا مجھے اختیار ہے۔صاحب ہدایہ نے تجنیس میں فرمایا:الفتوی علی قول محمد(فتوی امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر ہے۔ت)اور اسی پر علامہ قاسم نے تصحیح القدوری اور خود صاحب اشباہ نے اپنے رسائل میں جزم فرمایا کہ ناجائز ہےلیکن اگر وہ قبضہ اس لئے چاہتا ہے کہ کتابیں دوسری جگہ منتقل کردے تو اس کی اجازت نہ دیں گے اور اگر رافضی کو متولی کرنے کے لئے یہ حیلہ کرتا ہے تو بالاتفاق ہر گز ہرگز جائز نہیں کہ رافضی کا متولی کرنا حرام محض ہے کما حققناہ فی الفتوی الاولی(جیسا کہ پہلے فتوے میں ہم اس کی تحقیق کرچکے ہیں۔ت)اس صورت میں اگر واقف خود پہلے سے متولی ہوتا فورا وہ خود نکال لیا جاتا کہ اس سے وقف کی بدخواہی ثابت ہوئی ہے کما تقدم من الدر ینزع وجوبا ولوالواقف غیرمامون (جیساکہ در کے حوالے سے گزرچکاہے کہ وقف متولی سے وجوبا لے لیا جائے گا اگرچہ خود واقف ہو جب وہ امانت دار نہ ہو۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۲: ازاودے پور میواڑ مہارانی ہائی اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب ۱۸صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کافر اگر اپنی خوشی سے زمین دے کہ اس زمین میں مسجد بنالو یا کوئی سامان دے کہ مسجد میں لگالویا روپیہ دے کہ اس کو بھی مسجد میں لگاناتو اس کی یہ چیزیں مسجد میں لگاناجائز ہے یانہیں
الجواب:
کافر اگر زمین اپنی ملك رکھ کر مسلمانوں کو اس پر مسجد بنانے کی اجازت دےتو وہ مسجد مسجد ہی نہ ہوگی فان الکافر لیس اھلا لوقف المسجد(کیونکہ کافر وقف مسجد کی اہلیت نہیں رکھتا۔ت)ہاں اگر کافر کسی مسلمان کو اپنی زمین ہبہ کرکے قبضہ دے دے کہ مسلمان مالك ہوجائے اور وہ مسلمان اپنی طرف سے اسے مسجد کرے تو صحیح ہے سامان اگرکافر نے ایسادیا کہ بعینہ مسجد میں لگایا جائے گا جیسے کڑیاں یا اینٹیں تو جائزنہیں کہ وہ مسجد کےلئے وقف کا اہل نہیں وہ مال اسی کی ملك رہے گا اور مسجد میں ملك غیر کا خلط صحیح نہیںہاں یہاں بھی اگر مسلمان کو تملیك کردے اور مسلمان اپنی طرف سے لگائے تو حرج
مسئلہ۳۲۲: ازاودے پور میواڑ مہارانی ہائی اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب ۱۸صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کافر اگر اپنی خوشی سے زمین دے کہ اس زمین میں مسجد بنالو یا کوئی سامان دے کہ مسجد میں لگالویا روپیہ دے کہ اس کو بھی مسجد میں لگاناتو اس کی یہ چیزیں مسجد میں لگاناجائز ہے یانہیں
الجواب:
کافر اگر زمین اپنی ملك رکھ کر مسلمانوں کو اس پر مسجد بنانے کی اجازت دےتو وہ مسجد مسجد ہی نہ ہوگی فان الکافر لیس اھلا لوقف المسجد(کیونکہ کافر وقف مسجد کی اہلیت نہیں رکھتا۔ت)ہاں اگر کافر کسی مسلمان کو اپنی زمین ہبہ کرکے قبضہ دے دے کہ مسلمان مالك ہوجائے اور وہ مسلمان اپنی طرف سے اسے مسجد کرے تو صحیح ہے سامان اگرکافر نے ایسادیا کہ بعینہ مسجد میں لگایا جائے گا جیسے کڑیاں یا اینٹیں تو جائزنہیں کہ وہ مسجد کےلئے وقف کا اہل نہیں وہ مال اسی کی ملك رہے گا اور مسجد میں ملك غیر کا خلط صحیح نہیںہاں یہاں بھی اگر مسلمان کو تملیك کردے اور مسلمان اپنی طرف سے لگائے تو حرج
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
نہیںمسجد میں لگانے کو روپیہ اگراس طور پردیتا ہے کہ مسجد یا مسلمانوں پر احسان رکھتا ہے یا اس کے سبب مسجد میں اس کی کوئی مداخلت رہے گی تو لینا جائز نہیں اور اگر نیاز مندانہ طور پر پیش کرتا ہے تو حرج نہیں جب کہ اس کے عوض کوئی چیز کافر کی طرف سے خرید کر مسجد میں نہ لگائی جائے بلکہ مسلمان بطور خود خریدیں یاراجوں مزدوروں کی اجرت میں دیں اور اس میں بھی اسلم وہی طریقہ ہے کہ کافر مسلمان کو ہبہ کردے مسلمان اپنی طرف سے لگائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۳تا۳۲۴: ازبریلی مدرسہ منظر اسلام مسئولہ مولوی رمضان علی بنگالی ۲۰صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)ایك محلہ میں دو مسجد ہیں اور دونوں مسجد کے متولی ایك ہی آدمی ہیں فی الحال محلہ کے سب آدمی بالاتفاق دونوں مسجد کے اسباب سے ایك مسجد تیار کرنی چاہتے ہیںشرعا دونوں مسجد کو ایك مسجد بنانا جائزہے یانہیں
(۲)کسی مسجد میں کڑیچونااینٹ وغیرہ زائد ہے کسی کام میں صرف نہیں ہوتا اگر بہ رائے سب مصلی کے اس اسباب کو دوسری مسجد میں بھیجنے یا کوئی شخص اپنے کام کےلئے خرید کرلے جائے یامحلہ کے آدمی تقسیم کرکے لے جائیں تو جائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)اگر یہ چاہتے ہیں کہ دونوں مسجدوں کو معدوم کرکے تیسری جگہ مسجد بنائیں تو یہ حرام حرام سخت حرام اشد ظلم ہے
قال اﷲ تعالی " و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-" ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں اللہ کا نام لئے جانے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ایسوں کے لئے دنیامیں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب۔
اور اگر دونوں مسجدیں متصل ہیں یہ چاہتے ہیں کہ بیچ کی دیوار ہٹاکر دونوں کو ایك کرلیں تو یہ جائز ہے۔ اشباہ ودرمختار میں ہے:
لاھل المحلۃ جعل المسجدین واحدا ۔
اہل محلہ کو اختیار ہے کہ دو مسجدوں کو ایك کرلیں۔(ت)
(۲)اہل محلہ یا کوئی اسے اپنے تصرف میں کرلے یہ حراماسے دوسری مسجد میں دے دیں یہ حرام۔اسے بیچ کر اس کی قیمت اسی مسجد کی تعمیر و مرمت کےلئے محفوظ رکھیں یہ جائز۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۳تا۳۲۴: ازبریلی مدرسہ منظر اسلام مسئولہ مولوی رمضان علی بنگالی ۲۰صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)ایك محلہ میں دو مسجد ہیں اور دونوں مسجد کے متولی ایك ہی آدمی ہیں فی الحال محلہ کے سب آدمی بالاتفاق دونوں مسجد کے اسباب سے ایك مسجد تیار کرنی چاہتے ہیںشرعا دونوں مسجد کو ایك مسجد بنانا جائزہے یانہیں
(۲)کسی مسجد میں کڑیچونااینٹ وغیرہ زائد ہے کسی کام میں صرف نہیں ہوتا اگر بہ رائے سب مصلی کے اس اسباب کو دوسری مسجد میں بھیجنے یا کوئی شخص اپنے کام کےلئے خرید کرلے جائے یامحلہ کے آدمی تقسیم کرکے لے جائیں تو جائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)اگر یہ چاہتے ہیں کہ دونوں مسجدوں کو معدوم کرکے تیسری جگہ مسجد بنائیں تو یہ حرام حرام سخت حرام اشد ظلم ہے
قال اﷲ تعالی " و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-" ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں اللہ کا نام لئے جانے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ایسوں کے لئے دنیامیں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب۔
اور اگر دونوں مسجدیں متصل ہیں یہ چاہتے ہیں کہ بیچ کی دیوار ہٹاکر دونوں کو ایك کرلیں تو یہ جائز ہے۔ اشباہ ودرمختار میں ہے:
لاھل المحلۃ جعل المسجدین واحدا ۔
اہل محلہ کو اختیار ہے کہ دو مسجدوں کو ایك کرلیں۔(ت)
(۲)اہل محلہ یا کوئی اسے اپنے تصرف میں کرلے یہ حراماسے دوسری مسجد میں دے دیں یہ حرام۔اسے بیچ کر اس کی قیمت اسی مسجد کی تعمیر و مرمت کےلئے محفوظ رکھیں یہ جائز۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
مسئلہ۳۲۵: از ریاست گوالیار محلہ حویلی پچھواڑہ مسئولہ نورمحمد خاں ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میںکیاکسی مجبوری کی حالت میں بموجب شریعت یہ جائز ہے کہ عمارت مسجد پختہ یا خام دوسری جگہ منتقل کردی جائے اور زمین مسجد پر مکان یا راستہ وغیرہ بنالیا جائے اور اس کے عوض میں دوہری جگہ مناسب زمین لے کر اس پر مسجد بنوادی جائے اور اس کا ملبہ وغیرہ سب اسی میں لگادیا جائے اور خوبصورت بنوادی جائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنا اور اس کی زمین پر راستہ یا مکان بنانا سب اشد حرام قطعی ہے اگرچہ اس کے عوض دوسری جگہ سونے کی مسجد بنوادی جائےمجبوری کی تفصیل لکھی جائے کہ اس پر جواب ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۶: ازبیلپور ضلع پیلی بھیت مرسلہ مولوی عرفان علی صاحب رضوی سلمہ ۱/شوال۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندؤوں کو مسجد کے کنویں سے پانی بھرنے کی اجازت دینے کا کیاحکم ہے اور کیا شرعا وہ مسجدکے کنویں سے پانی بھرسکتے ہیں یہاں خلافت کمیٹی والوں نے ہندو مسلم اتحاد کی بناء پر کچہری کلکٹری کی مسجد کے کنویں سے ہندوؤں کو پانی بھرنے کی اجازت دی ہےکنواں مسجد میں ہے تین طرف عین مسجد یعنی فرش مسجد ہے اور ایك جانب فصیل اور وضو کے پانی کی نالی ہے۔خلافت کمیٹی والے کہتے ہیں کہ فناء مسجد یعنی نالی اور فصیل کی جانب سے داخل ہوکر ہندو پانی بھرسکتےہیں اگرچہ آنکھوں سے دیکھا گیا کہ اہل ہنود برابر عین مسجد میں داخل ہوتے ہیں اور پانی بھرتے ہیںکیامسلمانان شہر پر فرض ہے کہ حتی الامکان مسجد کو اہل ہنود کی دسترس سے بچائیں۔
الجواب:
بلاشبہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجد کو مشرکین کی بے حرمتی سے محفوظ کریں اورخلافت کمیٹی کی ہندوپرستی پر لحاط نہ کریں۔ان لوگوں نے مسجدمیں جاکر پانی بھر نادر کنار بارہا مساجد میں ہندؤوں کولے جاکر مسلمانوں کا واعظ بنایا ہےفصیل مسجد بھی حکم مسجد میں ہے۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
الفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد کذا فی محیط السرخسی ۔واﷲ تعالی اعلم۔
فناء مسجد مسجد کے تابع ہوتا ہے لہذااس کاحکم وہی ہے جو مسجد کا ہوتا ہے جیساکہ محیط سرخسی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
کیافر ماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میںکیاکسی مجبوری کی حالت میں بموجب شریعت یہ جائز ہے کہ عمارت مسجد پختہ یا خام دوسری جگہ منتقل کردی جائے اور زمین مسجد پر مکان یا راستہ وغیرہ بنالیا جائے اور اس کے عوض میں دوہری جگہ مناسب زمین لے کر اس پر مسجد بنوادی جائے اور اس کا ملبہ وغیرہ سب اسی میں لگادیا جائے اور خوبصورت بنوادی جائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنا اور اس کی زمین پر راستہ یا مکان بنانا سب اشد حرام قطعی ہے اگرچہ اس کے عوض دوسری جگہ سونے کی مسجد بنوادی جائےمجبوری کی تفصیل لکھی جائے کہ اس پر جواب ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۲۶: ازبیلپور ضلع پیلی بھیت مرسلہ مولوی عرفان علی صاحب رضوی سلمہ ۱/شوال۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندؤوں کو مسجد کے کنویں سے پانی بھرنے کی اجازت دینے کا کیاحکم ہے اور کیا شرعا وہ مسجدکے کنویں سے پانی بھرسکتے ہیں یہاں خلافت کمیٹی والوں نے ہندو مسلم اتحاد کی بناء پر کچہری کلکٹری کی مسجد کے کنویں سے ہندوؤں کو پانی بھرنے کی اجازت دی ہےکنواں مسجد میں ہے تین طرف عین مسجد یعنی فرش مسجد ہے اور ایك جانب فصیل اور وضو کے پانی کی نالی ہے۔خلافت کمیٹی والے کہتے ہیں کہ فناء مسجد یعنی نالی اور فصیل کی جانب سے داخل ہوکر ہندو پانی بھرسکتےہیں اگرچہ آنکھوں سے دیکھا گیا کہ اہل ہنود برابر عین مسجد میں داخل ہوتے ہیں اور پانی بھرتے ہیںکیامسلمانان شہر پر فرض ہے کہ حتی الامکان مسجد کو اہل ہنود کی دسترس سے بچائیں۔
الجواب:
بلاشبہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجد کو مشرکین کی بے حرمتی سے محفوظ کریں اورخلافت کمیٹی کی ہندوپرستی پر لحاط نہ کریں۔ان لوگوں نے مسجدمیں جاکر پانی بھر نادر کنار بارہا مساجد میں ہندؤوں کولے جاکر مسلمانوں کا واعظ بنایا ہےفصیل مسجد بھی حکم مسجد میں ہے۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
الفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد کذا فی محیط السرخسی ۔واﷲ تعالی اعلم۔
فناء مسجد مسجد کے تابع ہوتا ہے لہذااس کاحکم وہی ہے جو مسجد کا ہوتا ہے جیساکہ محیط سرخسی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲
مسئلہ۳۲۷تا۳۲۸: ازمحمد پور وڈہرہ والا تحصیل احمد پور ڈاکخانہ خاص مسئولہ مولوی غلام فرید ۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱)ایك مسجد کہنہ مسقف جس کے یمین شمال مشرق میں میدان پڑا ہے جس کے جوانب محدود بدیوار ہائے پختہ ہیں گنبد ہائے مسجد گر گئے ہیں اور دیوار جنوبی بھی گرگئی ہے جس کی خشتہائے پختہ بہت عرصہ سے خراب ہورہی ہیںکیا بموجب شرع شریف یہ خشتہا کسی دوسری مسجد پریا ان کو بیچ کراسی مسجد کہنہ کی تعمیر پر رقم صرف کرنا جائز ہے ورنہ مسجد میں بھی یوں ہی منہدم رہے گی اور خشتہا بھی ضائع ہوجائینگی۔
(۲)سامان مسجد شریف مثل خشتہائے پختہ وکڑی ہائے کہنہ وغیرہ آوارہ پڑی ہیں اور مسجدشریف بھی اس سامان سے مستغنی ہے تو کیا وہ سامان مسجد کا دوسری مسجد پر لگایا جائے یا نہیںاگر لگایا جائے تو کسی کی اجازت سے قیمت لی جائے یا خیراتی بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)ان اینٹوں کا دوسری مسجدمیں دینا حرام ہے اسی مسجد کی تعمیر میں صرف کی جائیںاور اگر اس مسجد کی تعمیر میں ان کی حاجت نہ ہو مثلادیوار شکستہ بن چکی یا اور مضبوط اینٹوں یا پتھروں سے بنانے کا ارادہ ہے تو انہیں متولی یا متدین جماعت محلہ بکمال امانت ودیانت بیچ کر اسی مسجد کی تعمیر ہی میں صرف کریں مسجد کے دوسرے کام میں اس قیمت کا خرچ کرنا حرام ہوگا والتفصیل الکامل فی فتاونا(تفصیل کامل ہمارے فتاوی میں ہے۔ت)
(۲)ان انقاض کا دوسری مسجد میں دے دینا حرام ہے کسی کی اجازت سے نہیں دے سکتے ہاں جب کہ یہ مسجدان سے مستغنی ہے تو بیع کئے جائیں اور دوسری مسجد کے ہاتھ بیع کرنا اولی ہے کہ بدستور معظم رہیں گے وہ قیمت اسی مسجد کی تعمیر میں صرف ہو اور اس وقت تعمیر کی حاجت نہ ہو تو متولی امین متدین کے پاس اسی مسجد کی حاجت تعمیر کےلئے امانت رہے اور کام میں صرف کرنا ہر گز جائز نہیں۔بیع متولی کرے اگر وہ نہ ہو تو امین متدین جماعت محلہ۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۳۲۹: ازسر شتہ اسلام کمیٹی آگرہ جامع مسجد مسئولہ عبدالرشید سرشتہ دار کمیٹی ۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س بارے میں کہ نماز یان مسجد کی رائے ہے کہ صحن مسجد کی توسیع کےلئے دکانات متعلقہ مسجد کی چھت پرایك کمرہ تعمیر کیا جائے تا کہ اوپر کی چھت پر مسجد کا صحن ہوجائے اور نیچے اس کے ایك کمرہ ہوجائے مسجد بہت اونچی ہے جب دکانوں پر کمرہ بنے گا تو کمرہ کی چھت صحن مسجد سے برابر ملے گیاس طرح توسیع صحن کرنا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱)ایك مسجد کہنہ مسقف جس کے یمین شمال مشرق میں میدان پڑا ہے جس کے جوانب محدود بدیوار ہائے پختہ ہیں گنبد ہائے مسجد گر گئے ہیں اور دیوار جنوبی بھی گرگئی ہے جس کی خشتہائے پختہ بہت عرصہ سے خراب ہورہی ہیںکیا بموجب شرع شریف یہ خشتہا کسی دوسری مسجد پریا ان کو بیچ کراسی مسجد کہنہ کی تعمیر پر رقم صرف کرنا جائز ہے ورنہ مسجد میں بھی یوں ہی منہدم رہے گی اور خشتہا بھی ضائع ہوجائینگی۔
(۲)سامان مسجد شریف مثل خشتہائے پختہ وکڑی ہائے کہنہ وغیرہ آوارہ پڑی ہیں اور مسجدشریف بھی اس سامان سے مستغنی ہے تو کیا وہ سامان مسجد کا دوسری مسجد پر لگایا جائے یا نہیںاگر لگایا جائے تو کسی کی اجازت سے قیمت لی جائے یا خیراتی بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)ان اینٹوں کا دوسری مسجدمیں دینا حرام ہے اسی مسجد کی تعمیر میں صرف کی جائیںاور اگر اس مسجد کی تعمیر میں ان کی حاجت نہ ہو مثلادیوار شکستہ بن چکی یا اور مضبوط اینٹوں یا پتھروں سے بنانے کا ارادہ ہے تو انہیں متولی یا متدین جماعت محلہ بکمال امانت ودیانت بیچ کر اسی مسجد کی تعمیر ہی میں صرف کریں مسجد کے دوسرے کام میں اس قیمت کا خرچ کرنا حرام ہوگا والتفصیل الکامل فی فتاونا(تفصیل کامل ہمارے فتاوی میں ہے۔ت)
(۲)ان انقاض کا دوسری مسجد میں دے دینا حرام ہے کسی کی اجازت سے نہیں دے سکتے ہاں جب کہ یہ مسجدان سے مستغنی ہے تو بیع کئے جائیں اور دوسری مسجد کے ہاتھ بیع کرنا اولی ہے کہ بدستور معظم رہیں گے وہ قیمت اسی مسجد کی تعمیر میں صرف ہو اور اس وقت تعمیر کی حاجت نہ ہو تو متولی امین متدین کے پاس اسی مسجد کی حاجت تعمیر کےلئے امانت رہے اور کام میں صرف کرنا ہر گز جائز نہیں۔بیع متولی کرے اگر وہ نہ ہو تو امین متدین جماعت محلہ۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۳۲۹: ازسر شتہ اسلام کمیٹی آگرہ جامع مسجد مسئولہ عبدالرشید سرشتہ دار کمیٹی ۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س بارے میں کہ نماز یان مسجد کی رائے ہے کہ صحن مسجد کی توسیع کےلئے دکانات متعلقہ مسجد کی چھت پرایك کمرہ تعمیر کیا جائے تا کہ اوپر کی چھت پر مسجد کا صحن ہوجائے اور نیچے اس کے ایك کمرہ ہوجائے مسجد بہت اونچی ہے جب دکانوں پر کمرہ بنے گا تو کمرہ کی چھت صحن مسجد سے برابر ملے گیاس طرح توسیع صحن کرنا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جائز ہےاس میں کوئی حرج نہیںاور مسجد جب بھرجائے تو اس کمرے کی چھت پر پڑھنے والوں کو بھی مسجد ہی کا ثواب ملے گا اگرچہ وہ کمرہ صرف وقف علی المسجد رہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۳۳۰: ازدو کوہہ ڈاك خانہ چھاؤنی جالندھری مسئولہ سید حاجی منور شاہ ۲۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ ایك گاؤں میں ایك مسجد تقریبا پچاس برس سے موجود ہے جس کو اس گاؤں کے اہل سنت نے مل کر تعمیر کیا تھا جب سے اب تك ہر نماز اس میں ادا کرتے ہیں چند سال سے اس گاؤں میں چند لوگ رافضی ہوجانے کے سبب اہلسنت سے ہمیشہ چھیڑ چھاڑ رکھتے ہیں کچھ عرصہ سے ان لوگوں نے اس بناپر کہ اس مسجد کی تعمیر میں ہمارے آباواجداد بھی شامل تھے اس لئے ہمیں بھی اذان و نماز کا حق حاصل ہےقرائن سے یہ معلوم ہوتاہے کہ مسجد پر قبضہ کرلینا چاہتے ہیں اور سنیوں کو بے تعلق کرنا منظور ہےجھگڑے فساد کا یقین کامل ہےاستفتاء یہ ہے کہ مسجد مذکور میں اہلسنت وروافض اذان ونماز اداکرسکتے ہیں یانہیں اور روافض کے سنی آبا واجداد کے تعمیر مسجد میں شریك ہونے سے انہیں مسجدپر دخل وتصرف کا حق حاصل ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
روافض زمانہ علی العموم کفار مرتدین ہیں کما حققناہ فی ردالرفضۃ بما لامزید علیہ(جیسا کہ ہم اس کی تحقیق اپنے رسالہ"ردالرفضہ"میں اس انداز سے کرچکے ہیں جس پر کسی اضافہ کی ضرورت نہیں۔ت)فتاوی خلاصہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
الرافضی اذاکان یسب الشیخین اویلعنھما والعیاذ باﷲ فھو کافر ۔
رافضی جب شیخین کریمین(صدیق وعمر)رضی اللہ تعالی عنہماکو گالیاں بکے یاان پرلعنت بھیجے تو وہ کافر ہے(ت)
قال اﷲ تعالی ” ان اولیآؤه الا المتقون " ۔
اللہ تعالی نے فرمایا:اس کے اولیاء تو پرہیز گار ہی ہیں۔(ت)
نہ ان کی اذان اذاننہ ان کی نماز نماز۔
قال اﷲ تعالی ” و قدمنا الى ما عملوا من عمل فجعلنه هبآء منثورا(۲۳)"
اﷲ تعالی نے فرمایا:جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے
جائز ہےاس میں کوئی حرج نہیںاور مسجد جب بھرجائے تو اس کمرے کی چھت پر پڑھنے والوں کو بھی مسجد ہی کا ثواب ملے گا اگرچہ وہ کمرہ صرف وقف علی المسجد رہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۳۳۰: ازدو کوہہ ڈاك خانہ چھاؤنی جالندھری مسئولہ سید حاجی منور شاہ ۲۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ ایك گاؤں میں ایك مسجد تقریبا پچاس برس سے موجود ہے جس کو اس گاؤں کے اہل سنت نے مل کر تعمیر کیا تھا جب سے اب تك ہر نماز اس میں ادا کرتے ہیں چند سال سے اس گاؤں میں چند لوگ رافضی ہوجانے کے سبب اہلسنت سے ہمیشہ چھیڑ چھاڑ رکھتے ہیں کچھ عرصہ سے ان لوگوں نے اس بناپر کہ اس مسجد کی تعمیر میں ہمارے آباواجداد بھی شامل تھے اس لئے ہمیں بھی اذان و نماز کا حق حاصل ہےقرائن سے یہ معلوم ہوتاہے کہ مسجد پر قبضہ کرلینا چاہتے ہیں اور سنیوں کو بے تعلق کرنا منظور ہےجھگڑے فساد کا یقین کامل ہےاستفتاء یہ ہے کہ مسجد مذکور میں اہلسنت وروافض اذان ونماز اداکرسکتے ہیں یانہیں اور روافض کے سنی آبا واجداد کے تعمیر مسجد میں شریك ہونے سے انہیں مسجدپر دخل وتصرف کا حق حاصل ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
روافض زمانہ علی العموم کفار مرتدین ہیں کما حققناہ فی ردالرفضۃ بما لامزید علیہ(جیسا کہ ہم اس کی تحقیق اپنے رسالہ"ردالرفضہ"میں اس انداز سے کرچکے ہیں جس پر کسی اضافہ کی ضرورت نہیں۔ت)فتاوی خلاصہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
الرافضی اذاکان یسب الشیخین اویلعنھما والعیاذ باﷲ فھو کافر ۔
رافضی جب شیخین کریمین(صدیق وعمر)رضی اللہ تعالی عنہماکو گالیاں بکے یاان پرلعنت بھیجے تو وہ کافر ہے(ت)
قال اﷲ تعالی ” ان اولیآؤه الا المتقون " ۔
اللہ تعالی نے فرمایا:اس کے اولیاء تو پرہیز گار ہی ہیں۔(ت)
نہ ان کی اذان اذاننہ ان کی نماز نماز۔
قال اﷲ تعالی ” و قدمنا الى ما عملوا من عمل فجعلنه هبآء منثورا(۲۳)"
اﷲ تعالی نے فرمایا:جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
القرآن الکریم ۸ /۳۴
القرآن الکریم ۲۵ /۲۳
القرآن الکریم ۸ /۳۴
القرآن الکریم ۲۵ /۲۳
ہم نے قصد فرماکر انہیں باریك باریك غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔ (ت)
اور ان کے باپ دادا جبکہ اہلسنت تھے ا ورانہوں نے مذہب رفض اختیار کیا تو نہ وہ ان کے باپ رہے نہ یہ ان کی اولادنہ ان کے ذریعہ سے انہیں کوئی دعوی پہنچتا ہے
قال اﷲ تعالی " انه لیس من اهلك-انه عمل غیر صالح ﲦ " ۔واﷲتعالی اعلم۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے نوح ! وہ تیرے گھروالوں میں نہیں بیشك اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۳۱: ۱۶محرم الحرام۱۳۳۴ھ
عبدالکریم خاں نے جو وارث چھوڑے وہ حسب تفصیل ہیں:عبدالشکورخاں وعبدالحکیم خاں وعبدالنبی خاں وکالے خاں پسران ومسماۃ مندھو زوجہ اپنے کو چھوڑا۔ایك منزل مکان عبدالکریم خان نے اپنے زوجہ کو بعوض دین مہر کے دیا اور اس کا بیعنامہ مسماۃ مندھو کے نام تحریر کردیا۔مسماۃ مندھو نے اس مکان کو بدست فدا حسین خاں ولد کالے خاں کے بیع کردیا جس کا لا دعوی مسماۃ مشہدی سے لکھوایاگیا۔مسماۃ مندھونے جو وارث چھوڑے حسب تفصیل ذیل ہیں:عبدالشکور خاں وعبدالحکیم خاں وعبدالنبی خاں وکالے خاں پسران عبدالنبی خان فوت ہوئے انکے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:عبدالنبی خان وعلی محمد خاں وولی محمد خاں پسران۔عبدالنبی خاں ومسماۃ کناومسماۃ اولیا بیگم زوجہ عبدالنبی خاں اور دختران عمراؤ واقبال کو چھوڑا۔عبدالحکیم خان فوت ہوئے اس کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:حاجی عبدالرحمن وعبدالرحیم خان ننھے خان پسران عبدالحکیم خان ولایتی بیگم وچھوٹی بیگم دختران عبدالحکیم خان وزوجہ معلوم کو چھوڑا۔کالے خان فوت ہوئے ان کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:فدا حسین خاں پسر کالے خان کو اپنا وارث چھوڑا۔فدا حسین خاں فوت ہوئے ان کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:زوجہ اولی کا انتقال فدا حسین خان کے سامنے ہوگیا تھایہ نہیں معلوم کہ دین مہر ادا ہوایا معاف ہوا اور زوجہ اولی کے فوت ہونے کے بعد زوجہ ثانی کے ساتھ عقد ہوا جس کانام مشہدی بیگم ہے۔مسماۃ مشہدی بیگم نے مہر معاف نہیں کیا ہے۔زوجہ مشہدی بیگم لاولد اور زوجہ اولی بھی لاولد اور ایك چچاحقیقی عبدالشکور خان وعبدالمجید خاں وعبدالوحید خاں وعبدالعزیز خان پسران عبدالشکور خان اور چچازاد بھائی
اور ان کے باپ دادا جبکہ اہلسنت تھے ا ورانہوں نے مذہب رفض اختیار کیا تو نہ وہ ان کے باپ رہے نہ یہ ان کی اولادنہ ان کے ذریعہ سے انہیں کوئی دعوی پہنچتا ہے
قال اﷲ تعالی " انه لیس من اهلك-انه عمل غیر صالح ﲦ " ۔واﷲتعالی اعلم۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے نوح ! وہ تیرے گھروالوں میں نہیں بیشك اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۳۱: ۱۶محرم الحرام۱۳۳۴ھ
عبدالکریم خاں نے جو وارث چھوڑے وہ حسب تفصیل ہیں:عبدالشکورخاں وعبدالحکیم خاں وعبدالنبی خاں وکالے خاں پسران ومسماۃ مندھو زوجہ اپنے کو چھوڑا۔ایك منزل مکان عبدالکریم خان نے اپنے زوجہ کو بعوض دین مہر کے دیا اور اس کا بیعنامہ مسماۃ مندھو کے نام تحریر کردیا۔مسماۃ مندھو نے اس مکان کو بدست فدا حسین خاں ولد کالے خاں کے بیع کردیا جس کا لا دعوی مسماۃ مشہدی سے لکھوایاگیا۔مسماۃ مندھونے جو وارث چھوڑے حسب تفصیل ذیل ہیں:عبدالشکور خاں وعبدالحکیم خاں وعبدالنبی خاں وکالے خاں پسران عبدالنبی خان فوت ہوئے انکے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:عبدالنبی خان وعلی محمد خاں وولی محمد خاں پسران۔عبدالنبی خاں ومسماۃ کناومسماۃ اولیا بیگم زوجہ عبدالنبی خاں اور دختران عمراؤ واقبال کو چھوڑا۔عبدالحکیم خان فوت ہوئے اس کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:حاجی عبدالرحمن وعبدالرحیم خان ننھے خان پسران عبدالحکیم خان ولایتی بیگم وچھوٹی بیگم دختران عبدالحکیم خان وزوجہ معلوم کو چھوڑا۔کالے خان فوت ہوئے ان کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:فدا حسین خاں پسر کالے خان کو اپنا وارث چھوڑا۔فدا حسین خاں فوت ہوئے ان کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:زوجہ اولی کا انتقال فدا حسین خان کے سامنے ہوگیا تھایہ نہیں معلوم کہ دین مہر ادا ہوایا معاف ہوا اور زوجہ اولی کے فوت ہونے کے بعد زوجہ ثانی کے ساتھ عقد ہوا جس کانام مشہدی بیگم ہے۔مسماۃ مشہدی بیگم نے مہر معاف نہیں کیا ہے۔زوجہ مشہدی بیگم لاولد اور زوجہ اولی بھی لاولد اور ایك چچاحقیقی عبدالشکور خان وعبدالمجید خاں وعبدالوحید خاں وعبدالعزیز خان پسران عبدالشکور خان اور چچازاد بھائی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۱ /۴۶
عبدالغنی خان وعلی محمد خان وولی محمد خان پسران عبدالنبی خان مرحوم یہ وارث چھوڑے۔یہ جائداد جس قدر وقف ہوئی علاوہ مکان مسماۃ مندھو کے یہ کالےخان کی پیدا کی ہوئی تھی اور مکان جس کا بیعنامہ مسماۃ مندھو نے بنام فداحسین خان کیا عبدالکریم خان کا پیدا کردہ ہے جس سے مسماۃ مشہدی بیگم سے لادعوی لکھوادیا ہے اقرار نامہ پیش کرتا ہوں۔
منکہ مسماۃ مشہدی بیگم زوجہ فداحسین خان مرحوم وعبدالشکور خاں ولد عبدالکریم مرحوم وحاجی عبدالرحمان خاں وننھے خان وعبدالرحیم خاں پسران عبدالحکیم خان ساکن بریلی محلہ بہاریپور کے ہیں جو کہ جائداد مفصلہ ذیل مالیتی دو ہزار روپے حاجی کالے خاں مرحوم مورث اعلی ہمارے واقع محلہ بہاری پور بریلی کے ہیں اس کا تصفیہ باہمی رضامندی ہم سب ورثائے کالے خاں کے یہ قرار پایا کہ جائداد مذکورالصدر تاحیات مسماۃ مشہدی بیگم زوجہ فداحسین خاں کے قبضہ اورتصرف میں رہے گی اور اس کی آمدنی سے وہ تصرفات اپنے کرتی رہے اور علاوہ آمدنی کرایہ جائداد موقوفہ کے ایك روپیہ ماہواری تاحیات اپنی عبدالشکور خان وایك روپیہ ماہواری تاحیات مسماۃ حاجی عبدالرحمن دیا کریں اگر مسماۃ مشہدی بیگم دوسرا نکاح کرے یا عفت وعصمت سے گزربسرنہ کرے تو اس کو حق قبضہ اور آمدنی کرایہ جائداد مذکور اور وصول از ماہوار مقررہ عبدالشکور خان وحاجی عبدالرحمان خان باقی نہیں رہے گا اور بحال عقد ثانی اور فوت مسماۃکے یہ جائداد واسطے مصرف مسجد بی بی جی صاحبہ واقع بریلی محلہ بہاری پور وقف متصور ہوگی۔مسماۃ خواہ دیگر ورثا کو حق وصول زر کرایہ دکانات ومکانات کا حاصل نہ ہوگا۔جو شخص متولی مسجد ہے یا آئندہ کو ہوگا وہی متولی جائداد مذکور کا ہوگاہم مقران یا کسی متولی کو منصب انتقال جائداد بذریعہ بیع ورہن وغیرہ کے نہ ہوگا مرمت شکست ریخت دکانات ومکانات کے مسماۃ اپنے پاس سے کرتی رہے گی اگر خدانخواستہ کوئی دکان و مکان بالکل منہدم ہوجائے تو اس کی تعمیر مسجد بی بی صاحبہ اپنے سرمایہ سے بذریعہ متولی مسجدکے کرے گیمکان خام موروثی مسکونہ عبدالشکور خاں وعبدالرحیم خاں وننھے خاں وغیرہ میں مسماۃ مذکور کو کچھ تعلق اور دعوی نہ ہوگا لہذا ان سب مراتب پر اقرار لاکر یہ اقرار نامہ لکھ دیا کہ سند ہو۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فداحسین خاں ولد کالے خاں نے زوجہ مشہدی بیگم اور چچا عبدالشکور چھوڑ کر انتقال کیا عبدالحکیم خاں کے دوسرے چچا تھے جو فدا حسین خان سے پہلے گزرگئے جائداد کہ فداحسین خان کی پیداکردہ ہے اور مکان کہ فداحسین خان نے اپنی دادی مندھو سے خریدا جو اسے اس کے شوہر نے دین مہر میں دیا تھا ان متروکات فداحسین خاں کے نسبت ایك اقرار نامہ مشہدی بیگم وعبدالشکور خان اور پسران عبدالحکیم خان حاجی عبدالرحمن خاں وعبدالرحیم خاں وننھے خاں
منکہ مسماۃ مشہدی بیگم زوجہ فداحسین خان مرحوم وعبدالشکور خاں ولد عبدالکریم مرحوم وحاجی عبدالرحمان خاں وننھے خان وعبدالرحیم خاں پسران عبدالحکیم خان ساکن بریلی محلہ بہاریپور کے ہیں جو کہ جائداد مفصلہ ذیل مالیتی دو ہزار روپے حاجی کالے خاں مرحوم مورث اعلی ہمارے واقع محلہ بہاری پور بریلی کے ہیں اس کا تصفیہ باہمی رضامندی ہم سب ورثائے کالے خاں کے یہ قرار پایا کہ جائداد مذکورالصدر تاحیات مسماۃ مشہدی بیگم زوجہ فداحسین خاں کے قبضہ اورتصرف میں رہے گی اور اس کی آمدنی سے وہ تصرفات اپنے کرتی رہے اور علاوہ آمدنی کرایہ جائداد موقوفہ کے ایك روپیہ ماہواری تاحیات اپنی عبدالشکور خان وایك روپیہ ماہواری تاحیات مسماۃ حاجی عبدالرحمن دیا کریں اگر مسماۃ مشہدی بیگم دوسرا نکاح کرے یا عفت وعصمت سے گزربسرنہ کرے تو اس کو حق قبضہ اور آمدنی کرایہ جائداد مذکور اور وصول از ماہوار مقررہ عبدالشکور خان وحاجی عبدالرحمان خان باقی نہیں رہے گا اور بحال عقد ثانی اور فوت مسماۃکے یہ جائداد واسطے مصرف مسجد بی بی جی صاحبہ واقع بریلی محلہ بہاری پور وقف متصور ہوگی۔مسماۃ خواہ دیگر ورثا کو حق وصول زر کرایہ دکانات ومکانات کا حاصل نہ ہوگا۔جو شخص متولی مسجد ہے یا آئندہ کو ہوگا وہی متولی جائداد مذکور کا ہوگاہم مقران یا کسی متولی کو منصب انتقال جائداد بذریعہ بیع ورہن وغیرہ کے نہ ہوگا مرمت شکست ریخت دکانات ومکانات کے مسماۃ اپنے پاس سے کرتی رہے گی اگر خدانخواستہ کوئی دکان و مکان بالکل منہدم ہوجائے تو اس کی تعمیر مسجد بی بی صاحبہ اپنے سرمایہ سے بذریعہ متولی مسجدکے کرے گیمکان خام موروثی مسکونہ عبدالشکور خاں وعبدالرحیم خاں وننھے خاں وغیرہ میں مسماۃ مذکور کو کچھ تعلق اور دعوی نہ ہوگا لہذا ان سب مراتب پر اقرار لاکر یہ اقرار نامہ لکھ دیا کہ سند ہو۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فداحسین خاں ولد کالے خاں نے زوجہ مشہدی بیگم اور چچا عبدالشکور چھوڑ کر انتقال کیا عبدالحکیم خاں کے دوسرے چچا تھے جو فدا حسین خان سے پہلے گزرگئے جائداد کہ فداحسین خان کی پیداکردہ ہے اور مکان کہ فداحسین خان نے اپنی دادی مندھو سے خریدا جو اسے اس کے شوہر نے دین مہر میں دیا تھا ان متروکات فداحسین خاں کے نسبت ایك اقرار نامہ مشہدی بیگم وعبدالشکور خان اور پسران عبدالحکیم خان حاجی عبدالرحمن خاں وعبدالرحیم خاں وننھے خاں
نے اس مضمون کالکھا کہ جو کہ جائداد مفصلہ ذیل حاجی کالے خاں مرحوم ہمارے مورث عالی کی ہے اس کا تصفیہ برضامندی ہم سے ورثائے کالے خاں کے یہ قرارپایا کہ جائداد مذکور الصدر تاحیات مشہدی بیگم کے قبضہ وتصرف میں رہے گی اس کی آمدنی سے وہ اپنے تصرفات کرتی رہے اور علاوہ آمدنی کرایہ جائداد موقوفہ کے ایك روپیہ ماہوار تاحیات اپنی عبدالشکور خان اور ایك روپیہ ماہوار تاحیات مسماۃ حاجی عبدالرحمن خان دیا کریں اگرمشہدی بیگم دوسرا نکاح کرے یا عفت وعصمت سے گزر نہ کرے تو ان کوقبضہ اور آمدنی کرایہ جائداد مذکور اور وصول ماہوار مقررہ نہ رہے گا اور بحالت عقد ثانی اور فوت مسماۃکے یہ جائداد واسطے مصارف مسجد بی بی جی صاحبہ کے وقف متصور ہوگی مسماۃ دیگر ورثاکو حق وصول زر کرایہ دکانات کا حاصل نہ ہوگا مرمت شکست ریخت مکانات دکانات کی مسماۃ اپنے پاس سے کرتی رہے گیاگر کوئی دکان مکان بالکل منہدم ہوجائے اس کی تعمیر مسجد اپنے سرمایہ سے کرے گی مکان خام موروثی مسکونہ عبدالشکور خاں وعبدالرحیم خاں وغیرہ میں مسماۃ کو کچھ دعوی نہ ہوگا فقط۔
اس صورت میں یہ دکان ومکان وقف ہوگئے یانہیںمشہدی بیگم کس چیز کی مستحق ہے اگر وہ نکاح ثانی کرے تو ا س کاکیا اثر ہے مکان خرید کردہ فداحسین خاں جس سے لادعوی لکھایا گیاہے وہ ہو ایا نہیںمشہدی بیگم ماہوار مذکور عبدالشکور خان وحاجی عبدالرحمن خاں سے پانے کی مستحق ہے یا نہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
عبارت اقرار نامہ عجب مختل ہے صورت واقعہ اگر وہ ہے کہ سوال میں مذکور ہوئی تو وہ جائداد حاجی کالے خان کی ہےنہ عبدالشکور وپسران عبدالحکیم خاں حاجی کالے خان کے وارث ہیں اس کا وارث ننھا فدا حسین خان تھا اور جائداداس کی بھی نہیں فدا حسین خان کی ذاتی یا خرید کردہ ہے بہر حال اس کا مالك صرف فداحسین خاں تھا جسکے وارث فقط مشہدی بیگم زوجہ اور عبدالشکور خان چچا ہیںمگر اس کا اس اقرار میں شریك ہونا قضاءان پرحجت ہوگا اور جائداد متروکہ کالے خاں قرار پائے گی لیکن اس سے بھی پسران عبدالحکیم خاں کو اس سے تعلق ثانت نہ ہوگا کہ کالے خان کا بیٹا فداحسین خاں موجود تھا اس کے ہوتے بھتیجوں کا وارث ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا پھر جائداد کی نسبت ابتداء میں بطور اشارۃ النص لفظ موقوفہ واقع ہوا مذہب مفتی بہ میں اگرچہ صرف اسی قدر سے وقف ہوجاتا ہے۔درمختار میں ہے:
اکتفی ابویوسف بلفظ موقوفۃ فقط قال الشھید ونحن نفتی امام ابویوسف نے وقف کے لئے صرف لفظ موقوفہ پر اکتفاء فرمایاشہید نے کہا کہ ہم عرف کی بناء پر
اس صورت میں یہ دکان ومکان وقف ہوگئے یانہیںمشہدی بیگم کس چیز کی مستحق ہے اگر وہ نکاح ثانی کرے تو ا س کاکیا اثر ہے مکان خرید کردہ فداحسین خاں جس سے لادعوی لکھایا گیاہے وہ ہو ایا نہیںمشہدی بیگم ماہوار مذکور عبدالشکور خان وحاجی عبدالرحمن خاں سے پانے کی مستحق ہے یا نہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
عبارت اقرار نامہ عجب مختل ہے صورت واقعہ اگر وہ ہے کہ سوال میں مذکور ہوئی تو وہ جائداد حاجی کالے خان کی ہےنہ عبدالشکور وپسران عبدالحکیم خاں حاجی کالے خان کے وارث ہیں اس کا وارث ننھا فدا حسین خان تھا اور جائداداس کی بھی نہیں فدا حسین خان کی ذاتی یا خرید کردہ ہے بہر حال اس کا مالك صرف فداحسین خاں تھا جسکے وارث فقط مشہدی بیگم زوجہ اور عبدالشکور خان چچا ہیںمگر اس کا اس اقرار میں شریك ہونا قضاءان پرحجت ہوگا اور جائداد متروکہ کالے خاں قرار پائے گی لیکن اس سے بھی پسران عبدالحکیم خاں کو اس سے تعلق ثانت نہ ہوگا کہ کالے خان کا بیٹا فداحسین خاں موجود تھا اس کے ہوتے بھتیجوں کا وارث ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا پھر جائداد کی نسبت ابتداء میں بطور اشارۃ النص لفظ موقوفہ واقع ہوا مذہب مفتی بہ میں اگرچہ صرف اسی قدر سے وقف ہوجاتا ہے۔درمختار میں ہے:
اکتفی ابویوسف بلفظ موقوفۃ فقط قال الشھید ونحن نفتی امام ابویوسف نے وقف کے لئے صرف لفظ موقوفہ پر اکتفاء فرمایاشہید نے کہا کہ ہم عرف کی بناء پر
بہ للعرف ۔ اس کے ساتھ فتوی دیتے ہیں۔(ت)
مگر آگے عبارۃ النص یہ ہے کہ اگر مشہدی بیگم دوسرانکاح کریں یا عفت سے گزر نہ کریں تو یہ جائداد وقف متصورہوگییہ صراحۃ وقف کی تعلیق ہے اور دستاویز واحد کا اول وآخر کلام واحد ہے کما نص علیہ فی الخیریۃ(جیساکہ اس پر خیریہ میں نص کی گئی ہے۔ت)تو وہ لفظ موقوفہ کا اطلاق اس شرط سے مقید ہوا اور وقف کا کسی شرط پر تعلق کرنا اسے باطل کردیتا ہے۔
درمختار میں ہے:
شرطہ ان یکون منجزالامعلقاالابکائن ۔(ملتقطا) وقف کی شرط یہ ہے کہ وہ منجز ہو معلق نہ ہو ہاں شرط موجود کے ساتھ معلق ہوسکتا ہے(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
اذاجاء غدا اواذاجاء راس الشھر اواذاکلمت فلانا او اذاتزوجت فلانۃ فارضی ھذہ صدقۃ موقوفۃ اوان شئت اواجبت یکون الوقف باطلا لان الوقف لا یحتمل التعلیق بالخطر اھ من الوقف ومن اواخر البیوع۔ واقف نے کہا جب کل کا دن آئے یا جب میں فلاں سے کلام کروں یا فلاں عورت سے شادی کروں تو میری یہ زمین صدقہ موقوفہ ہوگی یا یوں کہا کہ اگر میں چاہوں یا پسند کروںتو وقف باطل ہوجائیگا کیونکہ وقف قریب الہلاکت چیز سے معلق ہونے کا احتمال نہیں رکھتا اھ وقف اور اواخر کتاب البیوع۔(ت)
لیکن آگے یہ عبارت ہے کہ مرمت مسماۃ اپنے پاس سے کرتی رہے گی منہدم کی تعمیر مسجد کرے گی یہ اس صورت سے متعلق نہیں کہ مشہدی بیگم نکاح کرے یا مرجائےموت کے بعد مرمت ناممکن اور بعد نکاح اسے جائداد سے بالکل بے تعلق ٹھہرایا گیا ہے اس کے ذمہ مرمت رکھنے کے کیا معنیتو یہ ضرور اس کی حیات قبل نکاح کاذکر ہے اور اس وقت کے لئے کہا کہ منہدم کی تعمیر مسجد اپنے سرمایہ سے کرے گی اگر مسجد پر وقف نہیں تو تعمیر منہدم ذمہ مسجد ہونے کے کیا معنیتوبعد تنقیح تام اس مختل عبارت کامحصل یہ نکلاکہ مقرین نے یہ تمام جائداد فی الحال وقف کی اور مصارف میں یہ شرط لگائی کہ تاحیات مشہدی بیگم کے تصرف میں رہیں بشرطیکہ وہ بہ عفت بسر
مگر آگے عبارۃ النص یہ ہے کہ اگر مشہدی بیگم دوسرانکاح کریں یا عفت سے گزر نہ کریں تو یہ جائداد وقف متصورہوگییہ صراحۃ وقف کی تعلیق ہے اور دستاویز واحد کا اول وآخر کلام واحد ہے کما نص علیہ فی الخیریۃ(جیساکہ اس پر خیریہ میں نص کی گئی ہے۔ت)تو وہ لفظ موقوفہ کا اطلاق اس شرط سے مقید ہوا اور وقف کا کسی شرط پر تعلق کرنا اسے باطل کردیتا ہے۔
درمختار میں ہے:
شرطہ ان یکون منجزالامعلقاالابکائن ۔(ملتقطا) وقف کی شرط یہ ہے کہ وہ منجز ہو معلق نہ ہو ہاں شرط موجود کے ساتھ معلق ہوسکتا ہے(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
اذاجاء غدا اواذاجاء راس الشھر اواذاکلمت فلانا او اذاتزوجت فلانۃ فارضی ھذہ صدقۃ موقوفۃ اوان شئت اواجبت یکون الوقف باطلا لان الوقف لا یحتمل التعلیق بالخطر اھ من الوقف ومن اواخر البیوع۔ واقف نے کہا جب کل کا دن آئے یا جب میں فلاں سے کلام کروں یا فلاں عورت سے شادی کروں تو میری یہ زمین صدقہ موقوفہ ہوگی یا یوں کہا کہ اگر میں چاہوں یا پسند کروںتو وقف باطل ہوجائیگا کیونکہ وقف قریب الہلاکت چیز سے معلق ہونے کا احتمال نہیں رکھتا اھ وقف اور اواخر کتاب البیوع۔(ت)
لیکن آگے یہ عبارت ہے کہ مرمت مسماۃ اپنے پاس سے کرتی رہے گی منہدم کی تعمیر مسجد کرے گی یہ اس صورت سے متعلق نہیں کہ مشہدی بیگم نکاح کرے یا مرجائےموت کے بعد مرمت ناممکن اور بعد نکاح اسے جائداد سے بالکل بے تعلق ٹھہرایا گیا ہے اس کے ذمہ مرمت رکھنے کے کیا معنیتو یہ ضرور اس کی حیات قبل نکاح کاذکر ہے اور اس وقت کے لئے کہا کہ منہدم کی تعمیر مسجد اپنے سرمایہ سے کرے گی اگر مسجد پر وقف نہیں تو تعمیر منہدم ذمہ مسجد ہونے کے کیا معنیتوبعد تنقیح تام اس مختل عبارت کامحصل یہ نکلاکہ مقرین نے یہ تمام جائداد فی الحال وقف کی اور مصارف میں یہ شرط لگائی کہ تاحیات مشہدی بیگم کے تصرف میں رہیں بشرطیکہ وہ بہ عفت بسر
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۶۰€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۶۰€
کرے اور دوسرانکاح نہ کرے اس وقت تك آمدنی اس کے لئے ہے اور شکست ریخت کی مرمت اس کے ذمہ ہے منہدم کی تعمیر مسجد خود کرےتو اگرچہ جائدادفی الحال وقف ہے مگرآمدنی سے حق مشہدی بیگم بشرط مذکور متعلق ہے اگر یہ شرط مفقود ہو یعنی مشہدی بیگم نکاح کرلے یا عفت سے بسر نہ کرے تو اس وقت یہ جائداد ذات و منافع دونوں کے لحاظ سے خالص مسجد پر وقف متصور ہوگی یعنی آمدنی سے بھی مشہدی بیگم کوکوئی تعلق نہ رہے گایہ اس اقرار نامہ کا محصل منقح ہے
وتصحیح الکلام اولی من اھمالہ مھما امکن کما نصوا لہ علیہ فی الاشباہ وغیرہا۔
کلام کو حتی الامکان صحیح بنانا اس کو مہمل بنانے سے اولی ہے جیساکہ اشباہ وغیرہ میں مشائخ نے اس پر نص فرمائی ہے(ت)
لہذا جائداد مذکور تمام وکمال مسجد بی بی جی صاحبہ پر وقف صحیح تمام نافذ ہوگئی مشہدی بیگم تا حیات وپابندی شرط مذکور صرف آمدنی کی مستحق ہے اور شرط مذکورکی پابندی نہ کرے تو آمدنی بھی خالص صرف مسجد کی ہوگی مشہدی بیگم کو اس سے تعلق نہ رہے گاماہوار کہ عبدالشکور خان وحاجی عبدالرحمن خان نے مقررکیا وہ ایك وعدہ ہے جس کا نباہنا ان کو مناسب ہے مگر مشہدی بیگم اس پر مجبور نہیں کرسکتی اگرچہ وہ شرط مذکور کی پابند بھی رہے مکان سے لادعوی صحیح نہیں لان الابراء عن الاعیان باطلۃ(کیونکہ اعیان سے برائت باطل ہے۔ت)اگر وہ داخل وقف نہ تھا تو حسب شرائط فرائض بعد ادائے مہر وغیرہ اس کا چہارم مشہدی بیگم کا اور تین حصے عبدالشکور خاں کے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۳۲:ہدایت یارخاں از شاہ پور جہلم رسالہ چھاؤنی نمبر۵ڈاکخانہ چك نمبر۳۸رسالہ براہ ملك پنجاب ۹جمادی الثانی ۱۳۳۴ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمیافتاحبخدمت فضیلت پناہعالی دستگاہجناب فیض مآب پیر صاحبدام اﷲ تعالی فیضکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ علیکمواضح رائے عالی ہو کہ ایك مسجد شریف ایك آبادی میں تھیاب وہ لوگ وہاں سے چلے گئے اور وہ مسجد جنگل میں رہ گئی اس مسجد قدیم کا اسباب اٹھاکر دوسری مسجد جو بنائی جائے درست ہے یا نہیںبینواتوجروا۔خداتعالی سایہ رحمت تا دیر برسر ماغریباں قائم رکھےآمین ثم آمین!
وتصحیح الکلام اولی من اھمالہ مھما امکن کما نصوا لہ علیہ فی الاشباہ وغیرہا۔
کلام کو حتی الامکان صحیح بنانا اس کو مہمل بنانے سے اولی ہے جیساکہ اشباہ وغیرہ میں مشائخ نے اس پر نص فرمائی ہے(ت)
لہذا جائداد مذکور تمام وکمال مسجد بی بی جی صاحبہ پر وقف صحیح تمام نافذ ہوگئی مشہدی بیگم تا حیات وپابندی شرط مذکور صرف آمدنی کی مستحق ہے اور شرط مذکورکی پابندی نہ کرے تو آمدنی بھی خالص صرف مسجد کی ہوگی مشہدی بیگم کو اس سے تعلق نہ رہے گاماہوار کہ عبدالشکور خان وحاجی عبدالرحمن خان نے مقررکیا وہ ایك وعدہ ہے جس کا نباہنا ان کو مناسب ہے مگر مشہدی بیگم اس پر مجبور نہیں کرسکتی اگرچہ وہ شرط مذکور کی پابند بھی رہے مکان سے لادعوی صحیح نہیں لان الابراء عن الاعیان باطلۃ(کیونکہ اعیان سے برائت باطل ہے۔ت)اگر وہ داخل وقف نہ تھا تو حسب شرائط فرائض بعد ادائے مہر وغیرہ اس کا چہارم مشہدی بیگم کا اور تین حصے عبدالشکور خاں کے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۳۲:ہدایت یارخاں از شاہ پور جہلم رسالہ چھاؤنی نمبر۵ڈاکخانہ چك نمبر۳۸رسالہ براہ ملك پنجاب ۹جمادی الثانی ۱۳۳۴ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمیافتاحبخدمت فضیلت پناہعالی دستگاہجناب فیض مآب پیر صاحبدام اﷲ تعالی فیضکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ علیکمواضح رائے عالی ہو کہ ایك مسجد شریف ایك آبادی میں تھیاب وہ لوگ وہاں سے چلے گئے اور وہ مسجد جنگل میں رہ گئی اس مسجد قدیم کا اسباب اٹھاکر دوسری مسجد جو بنائی جائے درست ہے یا نہیںبینواتوجروا۔خداتعالی سایہ رحمت تا دیر برسر ماغریباں قائم رکھےآمین ثم آمین!
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ التاسعۃ ادارۃ القرآن الکریم ۱ /۱۶۸
الجواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اگر اس مسجد کے آباد رکھنےحفاظت کرنے کا کوئی طریقہ نہ ہو اور یوں جنگل میں چھوڑ دی جائے گی تو چور اور متغلب لوگ اس کا مال لے جائیں گے تو جائز ہے کہ اس کا اسباب وہاں سے اٹھاکر دوسری جگہ مسجد بنائیں اور یہ کام ہوشیار اور دیانتدار مسلمانوں کی نگرانی میں ہو وھو اعلم فقط۔
مسئلہ ۳۳۳: ۱۳ذی القعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جب میت کے واسطے دفن کرنے کے لے جاؤاور دفن کرو تو اجازت متولی قبرستان کی واسطے دفن کرنے میت کے لینا ضرورہے اور عمرو کہتا ہے کہ قبرستان اور مسجد وقف ہیں وہ کسی کی ملکیت نہیں ہوتے ہیں اجازت لینے کی کچھ ضرورت نہیںاگر قبرستان میں اجازت کی ضرورت ہوگی تو مسجد میں بھی بلااجازت نماز پڑھنا درست نہ ہوگامتولی صرف مسجد کے جھاڑو وغیرہ دینے کو ہوتا ہے ایسے ہی تکیہ میں واسطے صفائی کے ہوتا ہے جس کو تکیہ دار کے نام سے پکارتے ہیں تکیہ اور مسجدعام مسلمانوں پر وقف ہے جس کا دل چاہے جس مسجد میں نمازپڑھے اور جس قبرستان میں چاہے اپنا مردہ دفن کرے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
زید غلط کہتا ہےاس کا قول شرع شریف پرمحض افتراء ہےمقبرہ عام مسلمانوں کے لئے وقف ہوتا ہےہر مسلمان کو اس میں دفن کاحق پہنچتا ہےمقبرہ کا متولی کوئی چیز نہیںنہ اس کی اجازت کی حاجت نہ ممانعت کی پرواہ ہے۔ عالمگیری میں ہے:
لافرق فی الانتفاع فی مثل ھذہ الاشیاء بین الغنی و الفقیر حتی جازللکل النزول فی الخان والرباط و الشرب من السقایۃ والدفن فی المقبرۃ کذافی التبیین ۔
ان اشیاء سے انتفاع حاصل کرنے غنی وفقیر کے درمیان کوئی فرق نہیں یہاں تك کہ ہر شخص کو سرائے اور خانقاہ میں نزول کاحق ہے اسی طرح ہرشخص وقف سبیل سے پانی پی سکتا ہے اور قبرستان میں مردہ دفن کرسکتا ہے۔یونہی تبیین میں ہے (ت)
اسی میں ہے:
لوبنی مسجدا لاھل محلۃ وقال جعلت
اگر کسی نے ایك محلہ والوں کےلئے مسجد بنائی اور
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اگر اس مسجد کے آباد رکھنےحفاظت کرنے کا کوئی طریقہ نہ ہو اور یوں جنگل میں چھوڑ دی جائے گی تو چور اور متغلب لوگ اس کا مال لے جائیں گے تو جائز ہے کہ اس کا اسباب وہاں سے اٹھاکر دوسری جگہ مسجد بنائیں اور یہ کام ہوشیار اور دیانتدار مسلمانوں کی نگرانی میں ہو وھو اعلم فقط۔
مسئلہ ۳۳۳: ۱۳ذی القعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جب میت کے واسطے دفن کرنے کے لے جاؤاور دفن کرو تو اجازت متولی قبرستان کی واسطے دفن کرنے میت کے لینا ضرورہے اور عمرو کہتا ہے کہ قبرستان اور مسجد وقف ہیں وہ کسی کی ملکیت نہیں ہوتے ہیں اجازت لینے کی کچھ ضرورت نہیںاگر قبرستان میں اجازت کی ضرورت ہوگی تو مسجد میں بھی بلااجازت نماز پڑھنا درست نہ ہوگامتولی صرف مسجد کے جھاڑو وغیرہ دینے کو ہوتا ہے ایسے ہی تکیہ میں واسطے صفائی کے ہوتا ہے جس کو تکیہ دار کے نام سے پکارتے ہیں تکیہ اور مسجدعام مسلمانوں پر وقف ہے جس کا دل چاہے جس مسجد میں نمازپڑھے اور جس قبرستان میں چاہے اپنا مردہ دفن کرے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
زید غلط کہتا ہےاس کا قول شرع شریف پرمحض افتراء ہےمقبرہ عام مسلمانوں کے لئے وقف ہوتا ہےہر مسلمان کو اس میں دفن کاحق پہنچتا ہےمقبرہ کا متولی کوئی چیز نہیںنہ اس کی اجازت کی حاجت نہ ممانعت کی پرواہ ہے۔ عالمگیری میں ہے:
لافرق فی الانتفاع فی مثل ھذہ الاشیاء بین الغنی و الفقیر حتی جازللکل النزول فی الخان والرباط و الشرب من السقایۃ والدفن فی المقبرۃ کذافی التبیین ۔
ان اشیاء سے انتفاع حاصل کرنے غنی وفقیر کے درمیان کوئی فرق نہیں یہاں تك کہ ہر شخص کو سرائے اور خانقاہ میں نزول کاحق ہے اسی طرح ہرشخص وقف سبیل سے پانی پی سکتا ہے اور قبرستان میں مردہ دفن کرسکتا ہے۔یونہی تبیین میں ہے (ت)
اسی میں ہے:
لوبنی مسجدا لاھل محلۃ وقال جعلت
اگر کسی نے ایك محلہ والوں کےلئے مسجد بنائی اور
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی عشر فی الرباطات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۶
ھذاالمسجد لاھل ھذاالمحلۃ خاصۃکان لغیراھل تلك المحلۃ ان یصلی فیہ ھکذا فی الذخیرۃ ۔
کہہ دیا کہ میں نے یہ مسجد خاص اس محلہ والوں کےلئے بنائی ہے تو اس محلہ والوں کے غیر کوبھی اس میں نماز پرھنے کا اختیار ہےاسی طرح ذخیرہ میں ہے۔(ت)
بلکہ مقبرہ کا عموم مسجد کے عموم سے بھی بہت زیادہ ہے بہت لوگ ہیں جنہیں مسجد سے روکنے کا حکم ہے مثلا جذامی اور ابرص جس کا برص شائع ہو یا جس کے منہ یا بدن یا لباس میں بدبو ہو یا جس کے آنے سے فتنہ اٹھے جیسے غیر مقلد وہابی یا رافضی وغیرہمدرمختار میں ہے:
اکل نحوثوم یمنع منہ(ای من المسجد)وکذاکل موذ ولو بلسانہ ۔
تھوم کھانے والے کو مسجد سے روکا جائے گا اسی طرح ہر موذی کو روکا جائے گا اگرچہ وہ زبان سے ایذاپہنچاتا ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قال الامام العینی فی شرحہ علی صحیح البخاری یلحق بمانص علیہ فی الحدیث کل مالہ رائحۃ کریھۃ ماکولا او غیرہوکذلك الحق بعضہم من بفیہ بخراوبہ جرح لہ رائحۃ وکذلك القصاب والسماك والمجذوم والابرص اولی بالالحاقوقال سحنون لااری الجمعۃ علیھماواحتج بالحدیث و الحق بالحدیث کل من اذی الناس بلسانہ وبہ افتی ابن عمر(رضی اﷲ تعالی عنہما)وھو
امام عینی نے اپنی شرح صحیح بخاری میں فرمایا کہ حدیث کے ساتھ ہر اس شیئ کو ملحق کیا جائے گا جس میں ناگوار بدبو ہو چاہے کھانے کی چیز یا کوئی اوراسی طرح بعض نے ملحق کیا اس شخص کو بھی جس کے منہ سے بدبو آتی ہو یا اس کوایسا زخم ہو جس سے ناپسندیدہ بو آتی ہواسی طرح قصابمچھلی کا گوشت بیچنے والا اور جذام وبرص کا مریض۔تو الحاق کےلئے اولی ہے۔اور سحنون نے کہاکہ میں ان دونوں(مجذوم و ابرص)پر جمعہ فرض نہیں سمجھتا اور دلیل حدیث کو قرار دیا اور حدیث کے ساتھ زبان سے لوگوں کو ایذادینے والے ہر شخص کو ملحق کیا گیا ہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمانے اس پر ہی فتوی دیا اور
کہہ دیا کہ میں نے یہ مسجد خاص اس محلہ والوں کےلئے بنائی ہے تو اس محلہ والوں کے غیر کوبھی اس میں نماز پرھنے کا اختیار ہےاسی طرح ذخیرہ میں ہے۔(ت)
بلکہ مقبرہ کا عموم مسجد کے عموم سے بھی بہت زیادہ ہے بہت لوگ ہیں جنہیں مسجد سے روکنے کا حکم ہے مثلا جذامی اور ابرص جس کا برص شائع ہو یا جس کے منہ یا بدن یا لباس میں بدبو ہو یا جس کے آنے سے فتنہ اٹھے جیسے غیر مقلد وہابی یا رافضی وغیرہمدرمختار میں ہے:
اکل نحوثوم یمنع منہ(ای من المسجد)وکذاکل موذ ولو بلسانہ ۔
تھوم کھانے والے کو مسجد سے روکا جائے گا اسی طرح ہر موذی کو روکا جائے گا اگرچہ وہ زبان سے ایذاپہنچاتا ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قال الامام العینی فی شرحہ علی صحیح البخاری یلحق بمانص علیہ فی الحدیث کل مالہ رائحۃ کریھۃ ماکولا او غیرہوکذلك الحق بعضہم من بفیہ بخراوبہ جرح لہ رائحۃ وکذلك القصاب والسماك والمجذوم والابرص اولی بالالحاقوقال سحنون لااری الجمعۃ علیھماواحتج بالحدیث و الحق بالحدیث کل من اذی الناس بلسانہ وبہ افتی ابن عمر(رضی اﷲ تعالی عنہما)وھو
امام عینی نے اپنی شرح صحیح بخاری میں فرمایا کہ حدیث کے ساتھ ہر اس شیئ کو ملحق کیا جائے گا جس میں ناگوار بدبو ہو چاہے کھانے کی چیز یا کوئی اوراسی طرح بعض نے ملحق کیا اس شخص کو بھی جس کے منہ سے بدبو آتی ہو یا اس کوایسا زخم ہو جس سے ناپسندیدہ بو آتی ہواسی طرح قصابمچھلی کا گوشت بیچنے والا اور جذام وبرص کا مریض۔تو الحاق کےلئے اولی ہے۔اور سحنون نے کہاکہ میں ان دونوں(مجذوم و ابرص)پر جمعہ فرض نہیں سمجھتا اور دلیل حدیث کو قرار دیا اور حدیث کے ساتھ زبان سے لوگوں کو ایذادینے والے ہر شخص کو ملحق کیا گیا ہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہمانے اس پر ہی فتوی دیا اور
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشرفی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۵۸۔۴۵۷
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴
اصل فی نفی کل من یتأذی بہ اھ بالاختصار۔
یہ اصل ہے ہر اس چیز کی نفی میں جس سے اذیت پہنچتی ہو اھ(اختصارا)۔(ت)
مگر مقبرہ اہلسنت میں کسی سنی مسلمان کو ممانعت نہیں ہوسکتی
لعدم الوجہ وحصول الاذن من جھۃ الشرع۔واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ ممانعت کی کوئی وجہ نہیں اور شرع کی طرف سے اذن حاصل ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۳۴: ازبانٹوہ ملك کاٹھیاوار مرسلہ مولوی محمد عبدالمطلب ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ(کیافرماتے ہیں علمائے دین اور شرع متین کے مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ۔ت)ایك مرد نے مقبرہ بنایایعنی گنبد پختہ سطح دار اوراس میں صندوقیں تیار کرائیں اور ایك مسجد نیز اس مقبرہ کے جوار میں بناء کی اوراب وہ چاہتا ہے کہ اس مقبرہ مذکورکو مسجد کے سطح کے ساتھ ملاکر برائے بانگ ونماز وقف کردیا جائے اور اب ایسے مقبرہ کی سطح پر نماز پڑھنا درست ہے کہ جس میں حالا دو تین میت مدفون کی گئی ہیں اور آئندہ نیز ہوں گی اور اس کی سطح کو مسجد سے ملانا اور وقف کرنا برائے بانگ نماز شرعا درست ہے یانہبحوالہ کتب معتبرہ جواب سے مشکور وممنون فرمائیں۔
الجواب:
اگر زمین مقبرہ اس کی ملك ہے اور اب تك اس نے وقف نہ کی اگرچہ بعض اموات اس میں دفن ہوگئیں تو اگر صرف اس کی چھت کو وقف کرے گا اور زمین بدستور اپنی ملك رکھے گا تو وہ چھت وقف نہ ہوگی لکونہ وقف منقول قصدامن دون تعارف(کیونکہ یہ وقف منقول ہے قصدا بغیر تعارف کے۔ت)اور اگر زمین کو بھی مسجد کے لئے وقف کردے گاتو چھت کا وقف بھی صحیح ہوجائے گا اور اگر زمین کو مقبرہ کیلئے وقف کرچکا ہے تو عمارت مقبرہ قبل از وقف بنائی ہے یابعداگر قبل از وقف بنائی ہے تو کچھ حرج نہیںچھت کو اذان ونماز کے لئے وقف کردے ہوجائے گی
لحصول التابید بوقفیۃ الاخری وان کانت موقوفۃ علی جھۃ اخری علی ماھو الاصح ووقف البناء علی المقابر لایصح کما فی الخانیۃ والھندیۃ
کیونکہ دوسری مرتبہ وقف کرنے سے تابید ودوام حاصل ہوجائے گا اگرچہ وہ دوسری جہت پر موقوف تھی زیادہ صحیح قول کے مطابق اور عمارت کو قبرستان پر وقف کرنا صحیح نہیں جیسا کہ خانیہ وہندیہ
یہ اصل ہے ہر اس چیز کی نفی میں جس سے اذیت پہنچتی ہو اھ(اختصارا)۔(ت)
مگر مقبرہ اہلسنت میں کسی سنی مسلمان کو ممانعت نہیں ہوسکتی
لعدم الوجہ وحصول الاذن من جھۃ الشرع۔واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ ممانعت کی کوئی وجہ نہیں اور شرع کی طرف سے اذن حاصل ہے۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۳۴: ازبانٹوہ ملك کاٹھیاوار مرسلہ مولوی محمد عبدالمطلب ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ(کیافرماتے ہیں علمائے دین اور شرع متین کے مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ۔ت)ایك مرد نے مقبرہ بنایایعنی گنبد پختہ سطح دار اوراس میں صندوقیں تیار کرائیں اور ایك مسجد نیز اس مقبرہ کے جوار میں بناء کی اوراب وہ چاہتا ہے کہ اس مقبرہ مذکورکو مسجد کے سطح کے ساتھ ملاکر برائے بانگ ونماز وقف کردیا جائے اور اب ایسے مقبرہ کی سطح پر نماز پڑھنا درست ہے کہ جس میں حالا دو تین میت مدفون کی گئی ہیں اور آئندہ نیز ہوں گی اور اس کی سطح کو مسجد سے ملانا اور وقف کرنا برائے بانگ نماز شرعا درست ہے یانہبحوالہ کتب معتبرہ جواب سے مشکور وممنون فرمائیں۔
الجواب:
اگر زمین مقبرہ اس کی ملك ہے اور اب تك اس نے وقف نہ کی اگرچہ بعض اموات اس میں دفن ہوگئیں تو اگر صرف اس کی چھت کو وقف کرے گا اور زمین بدستور اپنی ملك رکھے گا تو وہ چھت وقف نہ ہوگی لکونہ وقف منقول قصدامن دون تعارف(کیونکہ یہ وقف منقول ہے قصدا بغیر تعارف کے۔ت)اور اگر زمین کو بھی مسجد کے لئے وقف کردے گاتو چھت کا وقف بھی صحیح ہوجائے گا اور اگر زمین کو مقبرہ کیلئے وقف کرچکا ہے تو عمارت مقبرہ قبل از وقف بنائی ہے یابعداگر قبل از وقف بنائی ہے تو کچھ حرج نہیںچھت کو اذان ونماز کے لئے وقف کردے ہوجائے گی
لحصول التابید بوقفیۃ الاخری وان کانت موقوفۃ علی جھۃ اخری علی ماھو الاصح ووقف البناء علی المقابر لایصح کما فی الخانیۃ والھندیۃ
کیونکہ دوسری مرتبہ وقف کرنے سے تابید ودوام حاصل ہوجائے گا اگرچہ وہ دوسری جہت پر موقوف تھی زیادہ صحیح قول کے مطابق اور عمارت کو قبرستان پر وقف کرنا صحیح نہیں جیسا کہ خانیہ وہندیہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۴
وغیرہما فھو علی مبلکہ ولہ وقفہ علی مایشاء۔
وغیرہ میں ہے چنانچہ وہ اس کی ملك میں ہے اور اس کو اختیار ہے جس پر چاہے وقف کرے(ت)
اوراگر بعد وقف بنائی ہے تو یہ عمارت خود ہی ناجائز ہے کہ مقابر موقوفہ میں عمارت بنانے کی اجازت نہیں تو اس پر اذان وغیرہ کےلئے بھی چھت بنانا بھی نہیں ہوسکتا لانہ یستحق الازالۃ لاالادامۃ(کیونکہ وہ مستحق ہے اس بات کی کہ اس کو زائل کیا جائے نہ کہ اس کو دوام بخشا جائے۔ت)اسی طرح وہ زمین مقبرہ اس کی ملك نہ تھی بلکہ وہ قبرستان وقف تھا جس میں اس نے عمارت بنالی جب بھی حکم عدم جواز ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۳۵: مسئولہ سید مظفر علی صاحب مدرس مدرسہ کریمہ خانقاہ سلون ضلع رائے بریلی ۳۰ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وواقفان شرع متین اس مسئلہ میںقبرستان کہ جس میں بہت سی قبریں مومنین ومومنات کی ہیں ستون سے مسقف کرکے کہ سب قبریں چھت کے نیچے رہیں اس چھت پر چلے پھرے اور بیٹھے اٹھے اور دوسرے حوائج انسانی ادا کرے تو عندالشرع جائز ہے یاناجائزبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر وہ قبرستان وقف ہے جیسے کہ عام مقابر ہوتے ہیں تو زمین وقف میں اس کے خلاف تصرف کی اجازت نہیں ہوسکتی فی الھندیۃ لایجوز تغییرہ الوقف عن ھیأتہ (ہندیہ میں ہے کہ وقف کو اس کی ہیأت سے متغیر کرنا جائزنہیں۔ت)اور اگر ملك غیر ہے تو اس میں بے اجازت مالك تصرف ناجائز ہے
قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لیس لعرق ظالم حق ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ عرق ظالم کا کوئی حق نہیں(ت)
اور اگر اس کی اپنی ملك ہے تو اس طرح مسقف کرنا کہ دیوار یا پایہ عین کسی قبر پر نصب ہو جائز نہیں کہ اس میں میت کی ایذاء ہے کما نطقت بہ احادیث اوردناھافی الامر باحترام المقابر(جیسا کہ متعدد حدیثیں اس پر ناطق ہیں جن کو ہم نے"الامر باحترام المقابر"میں ذکرکیا ہے۔ت)اور مسلمان کی ایذاحیاہو یا میتا ہرطرح حرام ہے
وغیرہ میں ہے چنانچہ وہ اس کی ملك میں ہے اور اس کو اختیار ہے جس پر چاہے وقف کرے(ت)
اوراگر بعد وقف بنائی ہے تو یہ عمارت خود ہی ناجائز ہے کہ مقابر موقوفہ میں عمارت بنانے کی اجازت نہیں تو اس پر اذان وغیرہ کےلئے بھی چھت بنانا بھی نہیں ہوسکتا لانہ یستحق الازالۃ لاالادامۃ(کیونکہ وہ مستحق ہے اس بات کی کہ اس کو زائل کیا جائے نہ کہ اس کو دوام بخشا جائے۔ت)اسی طرح وہ زمین مقبرہ اس کی ملك نہ تھی بلکہ وہ قبرستان وقف تھا جس میں اس نے عمارت بنالی جب بھی حکم عدم جواز ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۳۵: مسئولہ سید مظفر علی صاحب مدرس مدرسہ کریمہ خانقاہ سلون ضلع رائے بریلی ۳۰ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وواقفان شرع متین اس مسئلہ میںقبرستان کہ جس میں بہت سی قبریں مومنین ومومنات کی ہیں ستون سے مسقف کرکے کہ سب قبریں چھت کے نیچے رہیں اس چھت پر چلے پھرے اور بیٹھے اٹھے اور دوسرے حوائج انسانی ادا کرے تو عندالشرع جائز ہے یاناجائزبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر وہ قبرستان وقف ہے جیسے کہ عام مقابر ہوتے ہیں تو زمین وقف میں اس کے خلاف تصرف کی اجازت نہیں ہوسکتی فی الھندیۃ لایجوز تغییرہ الوقف عن ھیأتہ (ہندیہ میں ہے کہ وقف کو اس کی ہیأت سے متغیر کرنا جائزنہیں۔ت)اور اگر ملك غیر ہے تو اس میں بے اجازت مالك تصرف ناجائز ہے
قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لیس لعرق ظالم حق ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ عرق ظالم کا کوئی حق نہیں(ت)
اور اگر اس کی اپنی ملك ہے تو اس طرح مسقف کرنا کہ دیوار یا پایہ عین کسی قبر پر نصب ہو جائز نہیں کہ اس میں میت کی ایذاء ہے کما نطقت بہ احادیث اوردناھافی الامر باحترام المقابر(جیسا کہ متعدد حدیثیں اس پر ناطق ہیں جن کو ہم نے"الامر باحترام المقابر"میں ذکرکیا ہے۔ت)اور مسلمان کی ایذاحیاہو یا میتا ہرطرح حرام ہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰
صحیح البخاری کتاب الحرث والمزارعۃ باب من احیاء ارضا ومواتا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۴،سنن ابوداؤد کتاب الخراج باب احیاء التراث العربی بیروت آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۸۱
صحیح البخاری کتاب الحرث والمزارعۃ باب من احیاء ارضا ومواتا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۴،سنن ابوداؤد کتاب الخراج باب احیاء التراث العربی بیروت آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۸۱
قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمیا صاحب القبر انزل من علی القبر لاتؤذی صاحب القبر ولایؤذیك وفی حدیث عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہانی اکرہ اذی المسلم فی مماتہ کما اکرہ اذاہ فی حیاتہ ۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمایا کہ قبر سے اترجانہ تو صاحب قبر کو ایذاء پہنچا نہ وہ تجھے ایذاء پہنچائے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں ہے کہ میں بعد از موت مسلمان کی ایذا کو اتنا ہی مکروہ جانتا ہوں جتنا حالت حیات میں اسے ایذاء دینا مکروہ خیال کرتا ہوں۔(ت)
مگر اس صورت میں کہ قبور بے اجازت کے غصبا بنی ہوں تو اسے اختیار ہے کہ زمین خالی کرے یا صبر کرے یہاں تك کہ میت بالکل خاك ہوجائے اور اس کےلئے بہت زمانہ دراز درکار ہے اس وقت ان قبور پر عمارت بناسکتا ہے
کما فی الدرجاز زرعہ والبناء علیہ وقد حققناہ فی اھلاك الوھابیین علی توھین قبور المسلمین۔
جیساکہ درمیں ہے کہ اس میں زراعت کرنا اور عمارت بنانا جائزہے اور بے شك ہم نے توہین قبور مسلمین کی تحقیق رسالہ"اھلاك الوہابیین علی قبور المسلمین"میں کردی ہے۔(ت)
اور اگر زمین اس کی ملك ہے اور قبور کے باہر باہر دیواریں یا ستون قائم کرکے مسقف کرتا ہے تو جائز ہے اور اس چھت پر چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھناوغیرہا افعال کی بھی اجازت ہے کہ یہ سقف مکان ہے سقف قبر نہیں کما نصوابجواز الصعود علی سطح بیت فیہ مصحف کما فی الدرروغیرہ(جیساکہ مشائخ نے اس پر نص کی ہے کہ اس مکان کی چھت پر چڑھناجائز ہے جس میں قرآن مجید ہوجیساکہ درر وغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۳۵تا۳۳۷:ازجاودضلع نیمچ مرسلہ عبدالمجید خلف الرشید حافظ عبدالکریم صاحب مرحوم پیش امام مسجد چھیپان ۵رجب ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں:
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمایا کہ قبر سے اترجانہ تو صاحب قبر کو ایذاء پہنچا نہ وہ تجھے ایذاء پہنچائے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث میں ہے کہ میں بعد از موت مسلمان کی ایذا کو اتنا ہی مکروہ جانتا ہوں جتنا حالت حیات میں اسے ایذاء دینا مکروہ خیال کرتا ہوں۔(ت)
مگر اس صورت میں کہ قبور بے اجازت کے غصبا بنی ہوں تو اسے اختیار ہے کہ زمین خالی کرے یا صبر کرے یہاں تك کہ میت بالکل خاك ہوجائے اور اس کےلئے بہت زمانہ دراز درکار ہے اس وقت ان قبور پر عمارت بناسکتا ہے
کما فی الدرجاز زرعہ والبناء علیہ وقد حققناہ فی اھلاك الوھابیین علی توھین قبور المسلمین۔
جیساکہ درمیں ہے کہ اس میں زراعت کرنا اور عمارت بنانا جائزہے اور بے شك ہم نے توہین قبور مسلمین کی تحقیق رسالہ"اھلاك الوہابیین علی قبور المسلمین"میں کردی ہے۔(ت)
اور اگر زمین اس کی ملك ہے اور قبور کے باہر باہر دیواریں یا ستون قائم کرکے مسقف کرتا ہے تو جائز ہے اور اس چھت پر چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھناوغیرہا افعال کی بھی اجازت ہے کہ یہ سقف مکان ہے سقف قبر نہیں کما نصوابجواز الصعود علی سطح بیت فیہ مصحف کما فی الدرروغیرہ(جیساکہ مشائخ نے اس پر نص کی ہے کہ اس مکان کی چھت پر چڑھناجائز ہے جس میں قرآن مجید ہوجیساکہ درر وغیرہ میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۳۵تا۳۳۷:ازجاودضلع نیمچ مرسلہ عبدالمجید خلف الرشید حافظ عبدالکریم صاحب مرحوم پیش امام مسجد چھیپان ۵رجب ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں:
حوالہ / References
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی الترھیب من الجلو س علی القبر مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۷۴،مرقاۃ المفاتیح بحوالہ الطبرانی باب فی دفن المیت الفصل الاول مکتبہ امدادیہ ملتان ۴/ ۶۹،مجمع الزوائد باب البناء علی القبور دارالکتاب بیروت ۳/ ۶۱
مرقاۃ المفاتیح بحوالہ سعید بن منصور،باب فی دفن المیت الفصل الاول،مکتبۃ امدادیہ ملتان ۴/ ۶۹و۷۹
الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۶
مرقاۃ المفاتیح بحوالہ سعید بن منصور،باب فی دفن المیت الفصل الاول،مکتبۃ امدادیہ ملتان ۴/ ۶۹و۷۹
الدرالمختار باب صلٰوۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۶
(۱)مسلمان قصبہ جاودسکونت پذیرہوئے اس وقت فرمانروائی قصبہ مذکور میں رانا صاحب والی ریاست اودے پور تھی مسلمانوں کے قبرستان کے واسطے دو سو بیگھ اراضی نسلا بعدنسل ازروئے سندکے مرحمت کی بعد حصول سند پختہ کے جملہ اقوام اہل اسلام نے بطور ملکیت کے اپنا قبضہ پاکر قبرستان تجویز کیاہے اور مردے اپنے اس میں دفن کرتے رہے اور اسی سندکی رو سے اس وقت موتی دفن ہوتے ہیں اوربامید ثواب اس قبرستان میں درخت ثمری وغیر ثمری لگائے جاتے ہیں اوربارش میں گھاس اگتا ہے بعد خشك ہونے گھاس کے اور بیکار ہونے لکڑی قبرستان کے محافظ قبرستان یعنی فقیرکو صدقۃ دے دی گئی اور جملہ اہل اسلام کی اجازت سے یہ صدقہ قدیم سے لے رہاہےبعد حکومت رانا صاحب کے گورنمنٹ دور قائم ہوابعد ازاں سیندھیا صاحب بہادر کا تسلط ہوگیا لیکن موافق عطائے سند قبرستان میں عمل در آمد مسلمانوں کا چلا آتا ہے اور اسی طریق سے تمام ممالك ہند میں مسلمان قبرستان کی اراضی پر ملکیت کے زمرہ میں اپنا قبضہ حاصل کئے ہوئے ہیں کسی غیر مذہب کو اس میں دخل نہیں ہےقصبہ جاود کے زمینداران ہنود نے چند عرصہ کے بعد اپنی حقیت وملکیت زمینداری قبرستان مسلموں میں اراضی بشمول موضع قرار دے کر لکڑی وگھاس قبرستان سے حاصل کرنے کے واسطے دعویدار ہوئےبعہد راناصاحب یہ زمینداری قائم نہ تھیاس عہد کے بعد ٹھیکہ ہوا ہے لیکن کبھی قبرستان کی لکڑی وگھاس غیر مذہب کو نہیں دیا گیااور نہ غیر مذہب اس کا مستحق ہے کیونکہ یہ شیئ بطور صدقہ کے ہےاب زمینداروں کا یہ دعوی ہے کہ مسلمان اپنے مردے قبرستان میں دفن کرتے رہیں لکڑی وگھاس قبرستان سے ہم زمیندارلیں گے اور مویشی چرائیں گےاسی صورت غیر مذہب کی مداخلت سے بے حرمتی قبرستان اور مویشیوں کے چرنے سے منہدم ہونا قبروں کا ظاہر ہے شرعا اس بات میں کیا حکم ہے اور ہنود کا قبرستان کی لکڑی وگھاس پر حقیت جدید قائم کرکے لینا کیسا ہے
(۲)بغرض رفع فساد یا ناواقفیت مسئلہ کے مابین تنازعہ کے فریقین نے اس امر کا اقرار نامہ لکھاکہ افتادہ زمین میں بلحاظ راستہ قبرستان کے کاشتکاری نہ کی جائے گی صرف اس اراضی میں مسلمان اپنے مردے دفن کرتے رہیں اور زمیندار اپنے مویشی چراتے رہیں اب وہ اراضی بھی افتادہ نہ رہی مردے دفن ہوگئے قبریں تعمیر ہوگئیںاس ہیئت پر مویشی چرائے جائیں تو تمام قبریں منہدم ہوجائیں گیاقرار نامہ قابل فسخ کے ہے یا اسی پر عملدرآمد ہوگا
الجواب:
جب وہ زمین مسلمانوں کو نسلا بعد نسل ہمیشہ کےلئے دی گئی اور مسلمانوں نے اس پر بطور ملك قبضہ کرکے اسے قبرستان کردیا اور مردہ دفن ہو اوہ زمین ہمیشہ ہمیشہ قبرستان مسلمین کےلئے وقف ہوگئی
(۲)بغرض رفع فساد یا ناواقفیت مسئلہ کے مابین تنازعہ کے فریقین نے اس امر کا اقرار نامہ لکھاکہ افتادہ زمین میں بلحاظ راستہ قبرستان کے کاشتکاری نہ کی جائے گی صرف اس اراضی میں مسلمان اپنے مردے دفن کرتے رہیں اور زمیندار اپنے مویشی چراتے رہیں اب وہ اراضی بھی افتادہ نہ رہی مردے دفن ہوگئے قبریں تعمیر ہوگئیںاس ہیئت پر مویشی چرائے جائیں تو تمام قبریں منہدم ہوجائیں گیاقرار نامہ قابل فسخ کے ہے یا اسی پر عملدرآمد ہوگا
الجواب:
جب وہ زمین مسلمانوں کو نسلا بعد نسل ہمیشہ کےلئے دی گئی اور مسلمانوں نے اس پر بطور ملك قبضہ کرکے اسے قبرستان کردیا اور مردہ دفن ہو اوہ زمین ہمیشہ ہمیشہ قبرستان مسلمین کےلئے وقف ہوگئی
کسی زمیندار کا اس پر کوئی حق ودعوی نہ رہاہندو ہو یا مسلمان۔زمیندار اگر مسلمان ہوتو عام مسلمانوں کی طرح اتنا حق اسے بھی ہوگا کہ اپنے مردے دفن کرےاس سے زیادہ اسے اپنی حقیت و ملکیت وہ بھی نہیں ٹھہراسکتاتمام جہان جانتا ہےکہ وقف کسی کی ملك نہیں ہوتا خالص ملك الہی جل جلالہ ہوتا ہے الوقف لایملک (وقف کسی کی ملکیت نہیں ہوتا۔ت)ایك عام زبان زدحکم ہے جسے بچے بھی جانتے ہیں۔درمختار میں ہے:
عندھما ھو حبسھا ای العین علی حکم ملك اﷲ تعالی وصرف منفعتھا علی من احب ولو غنیا فیلزم فلایجوزلہ ابطالہ ولایورث عنہ وعلیہ الفتوی ابن الکمال وابن الشحنۃ ۔
اور صاحبین کے نزدیك وقف نام ہے عین کو اﷲ تعالی کی ملکیت کے حکم پر حبس کرنے اور اس کی منفعت کو اس پر صرف کرنے کا جس پر واقف چاہے اگرچہ وہ موقوف علیہ غنی ہو پس وہ وقف لازم ہوجائیگا اور واقف اس کو باطل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس میں میراث جاری ہوگی اور اسی پر فتوی ہے(ابن کمال وابن شحنہ)۔(ت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
فی العیون والیتیمۃ ان الفتوی علی قولھما کذافی شرح الشیخ ابی المکارم للنقایۃ ۔
عیون او یتیمہ میں ہے کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے جیسا کہ شیخ ابو المکارم کی شرح نقایہ میں ہے۔(ت)
فتاوی امام قاضی خان میں ہے:
عندھما الوقف لازم بغیر ھذہ التکلفاتوالناس لم یأخذوابقول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ فی ھذا للاثار المشہورۃ عن رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمو الصحابۃ وتعامل الناس باتخاذ الرباطات و الخانات اولھا وقف
صاحبین کے نزدیك وقف ان تکلفات کے بغیر لازم ہوجاتا ہے اور لوگوں نے اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کے قول کو نہیں اپنایاکیونکہ متعدد آثار رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم سے اور لوگوں کا تعامل خانقاہیں اور سرائیں بنانے کے بارے میں منقول ہے
عندھما ھو حبسھا ای العین علی حکم ملك اﷲ تعالی وصرف منفعتھا علی من احب ولو غنیا فیلزم فلایجوزلہ ابطالہ ولایورث عنہ وعلیہ الفتوی ابن الکمال وابن الشحنۃ ۔
اور صاحبین کے نزدیك وقف نام ہے عین کو اﷲ تعالی کی ملکیت کے حکم پر حبس کرنے اور اس کی منفعت کو اس پر صرف کرنے کا جس پر واقف چاہے اگرچہ وہ موقوف علیہ غنی ہو پس وہ وقف لازم ہوجائیگا اور واقف اس کو باطل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس میں میراث جاری ہوگی اور اسی پر فتوی ہے(ابن کمال وابن شحنہ)۔(ت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
فی العیون والیتیمۃ ان الفتوی علی قولھما کذافی شرح الشیخ ابی المکارم للنقایۃ ۔
عیون او یتیمہ میں ہے کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے جیسا کہ شیخ ابو المکارم کی شرح نقایہ میں ہے۔(ت)
فتاوی امام قاضی خان میں ہے:
عندھما الوقف لازم بغیر ھذہ التکلفاتوالناس لم یأخذوابقول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ فی ھذا للاثار المشہورۃ عن رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمو الصحابۃ وتعامل الناس باتخاذ الرباطات و الخانات اولھا وقف
صاحبین کے نزدیك وقف ان تکلفات کے بغیر لازم ہوجاتا ہے اور لوگوں نے اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کے قول کو نہیں اپنایاکیونکہ متعدد آثار رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم سے اور لوگوں کا تعامل خانقاہیں اور سرائیں بنانے کے بارے میں منقول ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۵۰
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۵۰
الخلیل صلوات اﷲ وسلامہ علیہ ۔
ان میں سے پہلا وقف حضرت خلیل علیہ الصلوات والسلام کا ہے۔(ت)
اور جب اس زمین میں زمینداروں کا اصلا کوئی حق نہیں تو اس کی لکڑی اور گھاس پر ان کو کیا دعوی پہنچ سکتا ہےزمین خالص خدا کی ملك ہے گھاس بھیاور لکڑی کے مالك پیڑوں کے بونے والے ہیں جو انہوں نے فقیر پر تصدق کردئےبہرحال زمینداروں کا ان میں کچھ دعوی نہیں۔فتاوی قاضیخان میں ہے:
مقبرۃ فیھا اشجاران علم غارسھا کانت للغارس اھ مختصرا۔
ایك قبرستان میں کچھ درخت ہیں اگر ان کا بونے والا معلوم ہے تو اسی کے ہیں اھ مختصرا(ت)
قبرستان میں جو گھاس اگتی ہے جب تك سبز ہے اسے کاٹنے کی اجازت نہیں۔جب سوکھ جائے تو کاٹ کر جانوروں کےلئے بھیج سکتے ہیں مگر جانوروں کا قبرستان میں چرانا کسی طرح جائز نہیں مطلقا حرام ہے قبروں کی بے ادبی ہےمذہب اسلام کی توہین ہےکھلی مذہبی دست اندازی ہےردالمحتار میں بحرالرائق اور درر الحکام اورغنیہ اورامداد الفتاح اورفتاوی قاضیخان سے ہے:
یکرہ قطع النبات الرطب من المقبرۃ دون الیابس ۔
قبرستان سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے خشك کاٹنا مکروہ نہیں۔ (ت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
لوکان فیہا حشیش یحش ویرسل الی الدواب ولا ترسل الدواب فیہا کذافی البحرالرائق ۔
اگر قبرستان میں گھاس ہوتو کاٹ کر چو پاؤں کی طرف ڈالی جائے نہ کہ چوپاؤں کو اس کی طرف چھوڑاجائےجیسا کہ البحر الرائق میں ہے(ت)
زمینداروں سے معاہدہ افتادہ زمین کی بابت ہوا تھا جب وہاں قبریں ہوگئیں زمین افتادہ کب رہیاور اگر کوئی غلط وباطل وخلاف شرع حق تلفی اموات مسلمین کا معاہدہ کسی نے اپنی جہالت
ان میں سے پہلا وقف حضرت خلیل علیہ الصلوات والسلام کا ہے۔(ت)
اور جب اس زمین میں زمینداروں کا اصلا کوئی حق نہیں تو اس کی لکڑی اور گھاس پر ان کو کیا دعوی پہنچ سکتا ہےزمین خالص خدا کی ملك ہے گھاس بھیاور لکڑی کے مالك پیڑوں کے بونے والے ہیں جو انہوں نے فقیر پر تصدق کردئےبہرحال زمینداروں کا ان میں کچھ دعوی نہیں۔فتاوی قاضیخان میں ہے:
مقبرۃ فیھا اشجاران علم غارسھا کانت للغارس اھ مختصرا۔
ایك قبرستان میں کچھ درخت ہیں اگر ان کا بونے والا معلوم ہے تو اسی کے ہیں اھ مختصرا(ت)
قبرستان میں جو گھاس اگتی ہے جب تك سبز ہے اسے کاٹنے کی اجازت نہیں۔جب سوکھ جائے تو کاٹ کر جانوروں کےلئے بھیج سکتے ہیں مگر جانوروں کا قبرستان میں چرانا کسی طرح جائز نہیں مطلقا حرام ہے قبروں کی بے ادبی ہےمذہب اسلام کی توہین ہےکھلی مذہبی دست اندازی ہےردالمحتار میں بحرالرائق اور درر الحکام اورغنیہ اورامداد الفتاح اورفتاوی قاضیخان سے ہے:
یکرہ قطع النبات الرطب من المقبرۃ دون الیابس ۔
قبرستان سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے خشك کاٹنا مکروہ نہیں۔ (ت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
لوکان فیہا حشیش یحش ویرسل الی الدواب ولا ترسل الدواب فیہا کذافی البحرالرائق ۔
اگر قبرستان میں گھاس ہوتو کاٹ کر چو پاؤں کی طرف ڈالی جائے نہ کہ چوپاؤں کو اس کی طرف چھوڑاجائےجیسا کہ البحر الرائق میں ہے(ت)
زمینداروں سے معاہدہ افتادہ زمین کی بابت ہوا تھا جب وہاں قبریں ہوگئیں زمین افتادہ کب رہیاور اگر کوئی غلط وباطل وخلاف شرع حق تلفی اموات مسلمین کا معاہدہ کسی نے اپنی جہالت
حوالہ / References
فتاوٰی امام قاضی خاں کتاب الوقف نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۰۹
فتاوٰی امام قاضی خاں کتاب الوقف فصل فی الاشجار نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲۴
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۶
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۱
فتاوٰی امام قاضی خاں کتاب الوقف فصل فی الاشجار نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲۴
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۶
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۱
سے خواہ دیدہ ودانستہ کرلیا تو وہ معاہدہ مردود ہے اس پر عملدرآمد ہر گز نہ ہوگا نہ اس کے فسخ کی ضرورت ہےفسخ تو جب کیا جائے کہ وہ معاہدہ سمجھا بھی جائے وہ معاہدہ ہی نہیں ایك بیہودہ و بے معنی تحریر ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
مابال اناس یشترطون شروطالیست فی کتاب اﷲ من اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲ فلیس لہ (وفی روایۃ فھو باطل) وان شرط مائۃ مرۃ شرط اﷲ احق و اوثق رواہ الشیخان عن ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا۔واﷲتعالی اعلم۔
ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اﷲ تعالی کی کتاب میں نہیںجس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیںتو وہ اس کےلئے نہ ہوگیاور ایك روایت میں ہے کہ وہ باطل ہےاگر سوبارشرط لگائے اﷲ تعالی کی شرط زیادہ حق والی اور زیادہ پختگی والی ہے۔اس کو شیخین نے ام المومنین(سیدہ عائشہ صدیقہ)رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کیا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۳۸: ازقصبہ جائس ضلع رائے بریلی محلہ غور یاں کلاں مرسلہ محمد حسن صاحب ۸جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
اہالیان جائس کا دستور قدیم رہا ہے کہ اپنے مقابر میں مساجد بھی بنادیا کرتے تھے جس پر مسافران و خود اہالیان قصبہ وقف بے وقف نماز ادا کیا کرتے تھے زمانہ کے دستبرد سے بعض ایسی مسجدیں تودہ خشت بن کر رہ گئیں اور بعض اب بھی موجود ہیں ایسے تود ہائے خاك وخشت کو فضیلت مسجد حاصل ہے یانہیں اور وہ مسجد کے حکم میں ہے یا نہیں اگرنہیں ہے تو آیا وہاں اینٹوں کو فروخت کرکے اپنے صرف میں لانایا اس قطعہ زمین میں اپنا مسکن بنانا یا مزروعہ کرکے کاشت میں لانادرست ہے یانہیںاور اگر کسی نے ایسا کیا ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے
الجواب:
مقبرہ اگر وقف ہے اور مقابر عامہ غالبا وقف ہی ہوتے ہیں تو جو مسجد واقف نے قبل وقف بنائی کہ اتنے حصہ کو مسجد اور باقی کو مقبرہ کیا وہ ابد الآباد تك مسجد ہے اگرچہ ویران ہوجائے ھو الصحیح وبہ یفتی(یہی درست ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ت)اس حالت میں تو اس کا آباد کرناواجب
مابال اناس یشترطون شروطالیست فی کتاب اﷲ من اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲ فلیس لہ (وفی روایۃ فھو باطل) وان شرط مائۃ مرۃ شرط اﷲ احق و اوثق رواہ الشیخان عن ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا۔واﷲتعالی اعلم۔
ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اﷲ تعالی کی کتاب میں نہیںجس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیںتو وہ اس کےلئے نہ ہوگیاور ایك روایت میں ہے کہ وہ باطل ہےاگر سوبارشرط لگائے اﷲ تعالی کی شرط زیادہ حق والی اور زیادہ پختگی والی ہے۔اس کو شیخین نے ام المومنین(سیدہ عائشہ صدیقہ)رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کیا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۳۸: ازقصبہ جائس ضلع رائے بریلی محلہ غور یاں کلاں مرسلہ محمد حسن صاحب ۸جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
اہالیان جائس کا دستور قدیم رہا ہے کہ اپنے مقابر میں مساجد بھی بنادیا کرتے تھے جس پر مسافران و خود اہالیان قصبہ وقف بے وقف نماز ادا کیا کرتے تھے زمانہ کے دستبرد سے بعض ایسی مسجدیں تودہ خشت بن کر رہ گئیں اور بعض اب بھی موجود ہیں ایسے تود ہائے خاك وخشت کو فضیلت مسجد حاصل ہے یانہیں اور وہ مسجد کے حکم میں ہے یا نہیں اگرنہیں ہے تو آیا وہاں اینٹوں کو فروخت کرکے اپنے صرف میں لانایا اس قطعہ زمین میں اپنا مسکن بنانا یا مزروعہ کرکے کاشت میں لانادرست ہے یانہیںاور اگر کسی نے ایسا کیا ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے
الجواب:
مقبرہ اگر وقف ہے اور مقابر عامہ غالبا وقف ہی ہوتے ہیں تو جو مسجد واقف نے قبل وقف بنائی کہ اتنے حصہ کو مسجد اور باقی کو مقبرہ کیا وہ ابد الآباد تك مسجد ہے اگرچہ ویران ہوجائے ھو الصحیح وبہ یفتی(یہی درست ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ت)اس حالت میں تو اس کا آباد کرناواجب
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الولاء قدیمی کتب خانہ پشاور ۱/ ۳۷۷،صحیح مسلم کتاب العتق باب بیان ان الولاء لمن اعتق قدیمی کتب خانہ پشاور ۱/ ۴۹۴
اور اس میں آداب مسجد لازماور اسے زراعت وغیرہ سے اپنے تصرف میں لانا حراماوراگر زمین مقبرہ کےلئے وقف ہوچکی تھیاس کے بعد اس کے کسی حصہ کو مسجد کیا اگرچہ خود واقف نے تو وہ مسجد نہیں ہوسکتانہ آداب مسجد کا مستحقمگر ذاتی تصرف زراعت وغیرہ اس میں بھی حرام کہ وہ مقبرہ کےلئے وقف ہے اور مقبرہ تصرفات سے آزاداور اگر وہ مقبرہ وقف نہیں جیسے دیہات میں مالکان دیہہ کی اجازت سے لوگ دفن ہوتے ہیں بے اسکے کوئی قطعہ مقابرکے لئے معین کرکے وقف کیا جائے اس میں اگر مالك نے مسجد بنائی یا دوسرے نےاور مالك نے اسے جائز کیا تو وہ مسجد ہوگئیاور اس کا وہی حکم ہے جو پہلے گزرا کہ اس کا ادب لازماور اس میں تصرف حرامبشرطیکہ وہ زمین خالی میں بنائی گئی ہونہ قبور پر کہ قبروں کی زمین صالح مسجد یت نہیں اور اگر غیر مالك نے بنائی اور مالك نے جائز نہ کیا تو وہ مسجد نہیںمالك کو اس میں تصرف کا اختیار ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۳۹: ازشہر محلہ بہاری پور مسئولہ غلام ربانی صاحب ۴شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ(کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں۔ت)کہ قبرستان کی آمدنی کا روپیہ مسجد میں صرف کرنا چاہئے یانہیں اور قبرستان کی مالك مسجد ہوسکتی ہے یانہیںہماری شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے
تفصیل آمدنی:(۱)میت کی چادروں کی قیمت(۲)چادر کے ہمراہ مالك میت نقد دیتا ہے۔(۳)قبرستان میں جو درخت ہیں ان کی لکڑی کی قیمت۔
تفصیل خرچ:مسجد کے کسی حصہ کی تعمیر میں فرشلوٹےروغنرسییا رمضان المبارك کے اخراجات میں یہ روپیہ لانا۔
الجواب:
نہ مسجدقبرستان کی مالك ہوسکتی ہے نہ قبرستان کسی مال کا مالك ہوتا ہے۔سائل نے بیان کیا کہ اہل میت اہل محلہ میں کسی کو چادریں اور کچھ نقد دیتے ہیں اور دینے والوں کو معلوم ہے کہ یہ مسجد کے لئے لیتے ہیںاور درخت بہت قدیم ہے بونے والے کا پتانہیںجو لکڑی سوکھ جاتی ہے گر پڑتی ہے مسجد کے سقائے وغیرہ میں صرف کی جاتی ہےاس صورت میں ان سب چیزوں سے مسجد کے وہ سب صرف جائز ہیں کوئی حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۴۰: ازمئوناتھ بھنجن ضلع اعظم گڑھ محلہ الہ داد پورہ مسئولہ صابر حسین صاحب ۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ قبرستان کا مسلمانوں کے کیاحکم ہے اور کیا کرنا چاہئےکوئی شخص اس
مسئلہ۳۳۹: ازشہر محلہ بہاری پور مسئولہ غلام ربانی صاحب ۴شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ(کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں۔ت)کہ قبرستان کی آمدنی کا روپیہ مسجد میں صرف کرنا چاہئے یانہیں اور قبرستان کی مالك مسجد ہوسکتی ہے یانہیںہماری شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے
تفصیل آمدنی:(۱)میت کی چادروں کی قیمت(۲)چادر کے ہمراہ مالك میت نقد دیتا ہے۔(۳)قبرستان میں جو درخت ہیں ان کی لکڑی کی قیمت۔
تفصیل خرچ:مسجد کے کسی حصہ کی تعمیر میں فرشلوٹےروغنرسییا رمضان المبارك کے اخراجات میں یہ روپیہ لانا۔
الجواب:
نہ مسجدقبرستان کی مالك ہوسکتی ہے نہ قبرستان کسی مال کا مالك ہوتا ہے۔سائل نے بیان کیا کہ اہل میت اہل محلہ میں کسی کو چادریں اور کچھ نقد دیتے ہیں اور دینے والوں کو معلوم ہے کہ یہ مسجد کے لئے لیتے ہیںاور درخت بہت قدیم ہے بونے والے کا پتانہیںجو لکڑی سوکھ جاتی ہے گر پڑتی ہے مسجد کے سقائے وغیرہ میں صرف کی جاتی ہےاس صورت میں ان سب چیزوں سے مسجد کے وہ سب صرف جائز ہیں کوئی حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۴۰: ازمئوناتھ بھنجن ضلع اعظم گڑھ محلہ الہ داد پورہ مسئولہ صابر حسین صاحب ۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ قبرستان کا مسلمانوں کے کیاحکم ہے اور کیا کرنا چاہئےکوئی شخص اس
پر کوئی کام دیدہ دانستہ دنیاوی کرے مثلاتجارتاور اصرار کرے کہ ہم قبرستان ہی پر کاروبار کرینگے دوسری جگہ نہیں کرینگےیہ کسی کو برا معلوم ہویا بھلااور ساتھ اس کے ہنود کو ملاکر زور دے کہ اس کو کھیت بنائیں اور کسی مصرف میں لے لیں اور مسلمانوں کو بے قبضہ کردیں اور وہاں کے اشجار پربھی قبضہ کرلیں اور یہی کوشش کررہے ہوں اور بصورت انکار قبر کو عندالتحقیقات کھدوادیں وغیرہ وغیرہ تو اس شخص کے ایمان کا کیا حال ہے اور ایسے شخص کی ناحق پر تائید کرنا کیا ہے اور کس جر م کا مرتکب ہوگا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
مسلمانوں کاعام قبرستان وقف ہوتا ہے اور اس میں سوائے دفن کے اور تصرف کی اجازت نہیں اسے تجارت گاہ بنانا یا اس پر کھیت کرنا سب حرام ہے۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ ۔
وقف کی ہیئت کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔(ت)
اشباہ وغیرہامیں ہے:
شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ ۔
واقف کی شرط وجوب عمل میں شارع علیہ الصلوۃ والسلام کی نص کی مثل ہے(ت)
اور مسلمان کی قبر کو کھودنا تو نہایت سخت شدید جرم ہےاسلامی سلطنت ہو تو ایسا شخص سخت تعزیر کا مستحق ہے یہاں تك کہ سلطان اسلام کی اگر رائے ہوتو جو ایسی حرکات کا مرتکب ہواکرتا ہوا سے سزائے قتل دے سکتا ہےجو شخص ناحق پر اس کی تائید کرتے ہیں سب اسی کی طرح مرتکب جرم ومستحق سزا ہیں۔
قال اﷲ تعالی ” و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪ "
اللہ تعالی نے فرمایا:گناہ اور ظلم پر تعاون مت کرو۔(ت)
حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقہ ربقۃ الاسلام ۔
جو دانستہ کسی ظالم کی امداد کو چلے اس نے اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دی۔واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
مسلمانوں کاعام قبرستان وقف ہوتا ہے اور اس میں سوائے دفن کے اور تصرف کی اجازت نہیں اسے تجارت گاہ بنانا یا اس پر کھیت کرنا سب حرام ہے۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ ۔
وقف کی ہیئت کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔(ت)
اشباہ وغیرہامیں ہے:
شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ ۔
واقف کی شرط وجوب عمل میں شارع علیہ الصلوۃ والسلام کی نص کی مثل ہے(ت)
اور مسلمان کی قبر کو کھودنا تو نہایت سخت شدید جرم ہےاسلامی سلطنت ہو تو ایسا شخص سخت تعزیر کا مستحق ہے یہاں تك کہ سلطان اسلام کی اگر رائے ہوتو جو ایسی حرکات کا مرتکب ہواکرتا ہوا سے سزائے قتل دے سکتا ہےجو شخص ناحق پر اس کی تائید کرتے ہیں سب اسی کی طرح مرتکب جرم ومستحق سزا ہیں۔
قال اﷲ تعالی ” و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪ "
اللہ تعالی نے فرمایا:گناہ اور ظلم پر تعاون مت کرو۔(ت)
حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقہ ربقۃ الاسلام ۔
جو دانستہ کسی ظالم کی امداد کو چلے اس نے اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دی۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰
الاشباہ والنظائر کتاب الوقف الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۰۵
القرآن الکریم ۵ /۲
المعجم الکبیر حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱/ ۲۲۷ وکنز العمال حدیث ۱۴۹۵۵بیروت ۶/ ۸۵،والفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۵۷۰۹ دارالباز مکۃ المکرمۃ سعودی عرب ۳/ ۵۴۷
الاشباہ والنظائر کتاب الوقف الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۰۵
القرآن الکریم ۵ /۲
المعجم الکبیر حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱/ ۲۲۷ وکنز العمال حدیث ۱۴۹۵۵بیروت ۶/ ۸۵،والفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۵۷۰۹ دارالباز مکۃ المکرمۃ سعودی عرب ۳/ ۵۴۷
مسئلہ۳۴۱تا۳۴۴: مسئولہ احمد نبی خاں صاحب از مراد آباد ۲۲صفر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین سوالات مفصلہ میں:
(۱)جزوجائداداراضی موقوفہ کاروپیہ معاوضہ سرکار انگریزی سے متولی جائداد کو ملااس روپیہ کو متولی کو کیا کرنا چاہئے آیا جائداد خرید کرکے شامل جائداد موقوفہ کرنا چاہئے یا کسی مصارف خاص میں یا عام مصارف جائز میں اس رقم کا صرف کرنا جائز ہے
(۲)متولی فوت ہوگیا اور اس نے اپنے زمانہ حیات میں اس روپیہ معاوضہ مذکور سے کوئی جائداد خریدکرکے شامل جائداد موقوفہ نہیں کی اور روپیہ معاوضہ مذکور کا کوئی مصرف جائز بھی کسی قسم کااس کی حیات میں ظاہر نہیں ہوا اور اکثر اوقات متولی متوفی اور اس کے مختار عام اور سربراہ کاریہ ظاہرکرتے رہے کہ ہنوز کوئی جائداد متصل موقوفہ کے دستیاب نہیں ہوئی ہے کوشش کی جاتی ہے جس وقت کوئی جائداد فروخت ہوئی خرید کرکے شامل وقف کی جائے گی۔
(۳)متولی متوفی نے اپنی جائداد مملوکہ ومقبوضہ چھوڑی ہے جس پر اس کے وارثان قابض ودخیل ہیں۔
(۴)متولی حال کا بحالت موجودہ کیا فرض ہےآیا وارثان متولی متوفی سے روپیہ مذکور طلب کرنے اور اس کی جائداد متروکہ سے وصول کرنے کا عندالشرع مستحق ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں متولی سابق پر اس زر معاوضہ کا تاوان لازم ہے جو اس کی جائداد متروکہ سے وصول کیا جائے گا متولی حال پر لازم ہے کہ اسے وصول کرے اور اس میں سستی کو راہ نہ دے بعد وصول جب کہ وہ روپیہ خود عین اراضی موقوفہ کا بدل ہے کسی مصرف میں صرف نہیں ہوسکتا بلکہ لازم ہے کہ اس سے ویسی ہی جائداد خرید کی جائے کہ جائداد رفتہ کی جگہ وقف ہو۔در مختاروعقود الدریہ میں ہے:
الناظر لو مات مجھلا لمال البدل ضمنہ کما فی الاشباہ ای لثمن الارض المستبدلۃ ۔
ناظر اگر مرجائے مال بدل مجہول چھوڑ کر تو تبدیل شدہ زمین کے ثمن کاضامن ہوگا جیسا کہ اشباہ میں ہے۔(ت)
نیزدرمختار وردالمحتار میں ہے:
(لایجوز استبدال العامر الافی اربع)الاولی لوشرطہ الواقف
زمین وقف کا بدلنا جائز نہیں سوائے چار صورتوں کےپہلی صورت یہ کہ واقف نے اگر استبدال
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین سوالات مفصلہ میں:
(۱)جزوجائداداراضی موقوفہ کاروپیہ معاوضہ سرکار انگریزی سے متولی جائداد کو ملااس روپیہ کو متولی کو کیا کرنا چاہئے آیا جائداد خرید کرکے شامل جائداد موقوفہ کرنا چاہئے یا کسی مصارف خاص میں یا عام مصارف جائز میں اس رقم کا صرف کرنا جائز ہے
(۲)متولی فوت ہوگیا اور اس نے اپنے زمانہ حیات میں اس روپیہ معاوضہ مذکور سے کوئی جائداد خریدکرکے شامل جائداد موقوفہ نہیں کی اور روپیہ معاوضہ مذکور کا کوئی مصرف جائز بھی کسی قسم کااس کی حیات میں ظاہر نہیں ہوا اور اکثر اوقات متولی متوفی اور اس کے مختار عام اور سربراہ کاریہ ظاہرکرتے رہے کہ ہنوز کوئی جائداد متصل موقوفہ کے دستیاب نہیں ہوئی ہے کوشش کی جاتی ہے جس وقت کوئی جائداد فروخت ہوئی خرید کرکے شامل وقف کی جائے گی۔
(۳)متولی متوفی نے اپنی جائداد مملوکہ ومقبوضہ چھوڑی ہے جس پر اس کے وارثان قابض ودخیل ہیں۔
(۴)متولی حال کا بحالت موجودہ کیا فرض ہےآیا وارثان متولی متوفی سے روپیہ مذکور طلب کرنے اور اس کی جائداد متروکہ سے وصول کرنے کا عندالشرع مستحق ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں متولی سابق پر اس زر معاوضہ کا تاوان لازم ہے جو اس کی جائداد متروکہ سے وصول کیا جائے گا متولی حال پر لازم ہے کہ اسے وصول کرے اور اس میں سستی کو راہ نہ دے بعد وصول جب کہ وہ روپیہ خود عین اراضی موقوفہ کا بدل ہے کسی مصرف میں صرف نہیں ہوسکتا بلکہ لازم ہے کہ اس سے ویسی ہی جائداد خرید کی جائے کہ جائداد رفتہ کی جگہ وقف ہو۔در مختاروعقود الدریہ میں ہے:
الناظر لو مات مجھلا لمال البدل ضمنہ کما فی الاشباہ ای لثمن الارض المستبدلۃ ۔
ناظر اگر مرجائے مال بدل مجہول چھوڑ کر تو تبدیل شدہ زمین کے ثمن کاضامن ہوگا جیسا کہ اشباہ میں ہے۔(ت)
نیزدرمختار وردالمحتار میں ہے:
(لایجوز استبدال العامر الافی اربع)الاولی لوشرطہ الواقف
زمین وقف کا بدلنا جائز نہیں سوائے چار صورتوں کےپہلی صورت یہ کہ واقف نے اگر استبدال
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثالث ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۱۸
الثانیۃ غصبہ غاصب واجری علیہ الماء حتی صار بحرافیضمن القیمۃ ویشتری المتولی بھا ارضا بدلا الثالثۃ ان یجحدہ الغاصب ولابینہ ای اراد دفع القیمۃ فللمتولی اخذھا لیشتری بھا بدلاالخ واﷲ تعالی اعلم۔ کی شرط کی ہو۔دوسری صورت یہ ہے کہ غاصب نے اس کو غصب کیا اور اس پر اتنا پانی بہایاکہ وہ دریا بن گئی تو متولی اس سے ضمان لے کر اس کے بدلے میں دوسری زمین خریدے۔ تیسری صورت یہ کہ زمین وقف کا غاصب انکاری ہے اور متولی کے پاس گواہ نہیں اور غاصب قیمت دینا چاہتا ہے تو غاصب سے قیمت لےکر اس کے عوض متولی دوسری زمین خریدلے الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۴۵: مسئولہ مجیداﷲ صاحب بتوسط عطا احمد صاحب مولوی محلہ بدایوں ۲۸جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی ایك جائداد بلا تخصیص مقام ہر جگہ کے مسلمانوں کی تعلیم کےلئے وقف کی اور ایك خاص قصبہ مدرسہ بنانے کےلئے نامزد کردیا کہ اس قصبہ میں تعلیم گاہ بنائی جائے لیکن کوئی خاص اراضی تعمیر مدرسہ کےلئے وقف نہیں کی گئی اب کسی مجبوری ونیز اس وجہ سے کہ جو قصبہ مدرسہ بنانے کےلئے وقف نامہ میں معین کیا گیاتھا عام مسلمانوں کی تعلیم میں وہاں سہولت نہیں ہے دوسری جگہ اسی غرض تعلیمی کےلئے وہ مدرسہ بنانا چاہتا ہے جہاں عام مسلمانوں کےلئے سہولت ہوپس یہ تبدیلی مقام شرعا جائزہے یانہیںیعنی اگر اس تبدیل شدہ جدید مقام پر مدرسہ بناکر جائداد موقوفہ کی آمدنی اس پر خرچ کی جائے تو جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
واقف کو ایسی تغییر جائز ہے جبکہ مصلحت وقف اس میں نہیں اس کے خلاف میں ہے۔ردالمحتار میں ہے:
فی فتاوی مؤید زادہ اذالم یکونوا اصلح اوفی امرھم تھاون فیجوز للواقف الرجوع عن ھذاالشرط اھ و ھکذا نقلہ عنھا فی شرحہ علی الملتقی فتاوی مؤیدزادہ میں ہے کہ اگر موقوف علیہ زیادہ صلاحیت والے لوگ نہ ہوں یا وہ اپنے معاملے میں غفلت کرتے ہوں تو واقف کو اس شرط سے رجوع کرلینا جائز ہے اھ اسی طرح ماتن نے فتاوی موید زادہ سے ملتقی پر اپنی شرح میں
مسئلہ۳۴۵: مسئولہ مجیداﷲ صاحب بتوسط عطا احمد صاحب مولوی محلہ بدایوں ۲۸جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی ایك جائداد بلا تخصیص مقام ہر جگہ کے مسلمانوں کی تعلیم کےلئے وقف کی اور ایك خاص قصبہ مدرسہ بنانے کےلئے نامزد کردیا کہ اس قصبہ میں تعلیم گاہ بنائی جائے لیکن کوئی خاص اراضی تعمیر مدرسہ کےلئے وقف نہیں کی گئی اب کسی مجبوری ونیز اس وجہ سے کہ جو قصبہ مدرسہ بنانے کےلئے وقف نامہ میں معین کیا گیاتھا عام مسلمانوں کی تعلیم میں وہاں سہولت نہیں ہے دوسری جگہ اسی غرض تعلیمی کےلئے وہ مدرسہ بنانا چاہتا ہے جہاں عام مسلمانوں کےلئے سہولت ہوپس یہ تبدیلی مقام شرعا جائزہے یانہیںیعنی اگر اس تبدیل شدہ جدید مقام پر مدرسہ بناکر جائداد موقوفہ کی آمدنی اس پر خرچ کی جائے تو جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
واقف کو ایسی تغییر جائز ہے جبکہ مصلحت وقف اس میں نہیں اس کے خلاف میں ہے۔ردالمحتار میں ہے:
فی فتاوی مؤید زادہ اذالم یکونوا اصلح اوفی امرھم تھاون فیجوز للواقف الرجوع عن ھذاالشرط اھ و ھکذا نقلہ عنھا فی شرحہ علی الملتقی فتاوی مؤیدزادہ میں ہے کہ اگر موقوف علیہ زیادہ صلاحیت والے لوگ نہ ہوں یا وہ اپنے معاملے میں غفلت کرتے ہوں تو واقف کو اس شرط سے رجوع کرلینا جائز ہے اھ اسی طرح ماتن نے فتاوی موید زادہ سے ملتقی پر اپنی شرح میں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف مطلب لایستبدل العامر الافی اربع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۹€
ثم نقل عن الخلاصۃ لایجوز الرجوع عن الوقف اذاکان مسجلا ولکن یجوز الرجوع عن الموقوف علیہ وتغییرہ وان کان مشروطا کالمؤذن والامام و المعلم ان لم یکونوااصلح اوتھا ونوافی امرھم فیجوز للواقف مخالفۃ الشرط اھ واﷲ تعالی اعلم۔ نقل کیاپھر خلاصہ سے یوں نقل کیا کہ وقف جب رجسٹرڈ ہوتو اس سے رجوع جائز نہیں لیکن موقوف علیہ سے رجوع اور ا سکو تبدیل کرنا جائز ہے اگرچہ مشروط ہو جیسے مؤذنامام اور معلماگر وہ وقف کی زیادہ صلاحیت نہ رکھتے ہوں یا وہ اپنے معاملات میں غفلت اور سستی کا ارتکاب کرتے ہوں تو واقف کے لئے شرط کی مخالفت کرنا جائز ہے اھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۴۶تا۳۴۷: ازشیخ پور مرسلہ شیخ امین الدین حیدررئیس ۲۹جمادی اولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں:
(۱)وقف نامہ ہمرشتہ کے کسی شرط کو واقفان بذریعہ تتمہ دستاویز تبدیل یا ترمیم کرسکتے ہیں یا نہیں
(۲)اگر واقفان کسی مصلحت سے مدرسہ کا مقام رقبہ شیخ پور سے کسی دوسرے موضع یا شہر کے رقبہ میں تبدیل کردیں اور مصرف وغرض وقف فوت نہ ہوتو وقف میں نقصان نہ واقع ہوگا۔
الجواب:
(۱)وقف نامہ میں واقفوں نے اگر شرط کردی ہوتی کہ ہم کو تبدیل شرائط کا اختیار ہے تو اختیار ہوتااب کہ یہ شرط نہ کی بلاضرورت صحیحہ واجازت شرعیہ کسی تبدیل وترمیم کا اختیار نہیں۔ردالمحتار میں حموی سے ہے:
الوقف اذالزم لزم مافی ضمنہ من الشروط ۔ وقف جب لازم ہوتا ہے تو اس کے ضمن میں پائی جانے والی تمام شرطیں لازم ہوجاتی ہیں(ت)
(۲)اگر شیخ پور میں ہونا اغراض وقف کےلئے مفید نہ ہوا اوردوسری جگہ مصلحت شرعی ہوتو واقفوں کو اس تبدیل کی اجازت ہےعالمگیریہ میں ہے:
اشتراط الاستبدال بارض من البصرۃ اگر یہ شرط لگائی گئی کہ زمین وقف کوبصرہ زمین سے
مسئلہ۳۴۶تا۳۴۷: ازشیخ پور مرسلہ شیخ امین الدین حیدررئیس ۲۹جمادی اولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں:
(۱)وقف نامہ ہمرشتہ کے کسی شرط کو واقفان بذریعہ تتمہ دستاویز تبدیل یا ترمیم کرسکتے ہیں یا نہیں
(۲)اگر واقفان کسی مصلحت سے مدرسہ کا مقام رقبہ شیخ پور سے کسی دوسرے موضع یا شہر کے رقبہ میں تبدیل کردیں اور مصرف وغرض وقف فوت نہ ہوتو وقف میں نقصان نہ واقع ہوگا۔
الجواب:
(۱)وقف نامہ میں واقفوں نے اگر شرط کردی ہوتی کہ ہم کو تبدیل شرائط کا اختیار ہے تو اختیار ہوتااب کہ یہ شرط نہ کی بلاضرورت صحیحہ واجازت شرعیہ کسی تبدیل وترمیم کا اختیار نہیں۔ردالمحتار میں حموی سے ہے:
الوقف اذالزم لزم مافی ضمنہ من الشروط ۔ وقف جب لازم ہوتا ہے تو اس کے ضمن میں پائی جانے والی تمام شرطیں لازم ہوجاتی ہیں(ت)
(۲)اگر شیخ پور میں ہونا اغراض وقف کےلئے مفید نہ ہوا اوردوسری جگہ مصلحت شرعی ہوتو واقفوں کو اس تبدیل کی اجازت ہےعالمگیریہ میں ہے:
اشتراط الاستبدال بارض من البصرۃ اگر یہ شرط لگائی گئی کہ زمین وقف کوبصرہ زمین سے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۳۱€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۲۰€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۲۰€
لیس لہ ان یستبدل من غیرہاوینبغی ان کانت احسن ان یجوزلانہ خلاف الی خیرکذافی فتح القدیر ۔ بدلوں گا تو بصرہ کے ماسوا دوسری زمین سے بدلنے کا واقف کو اختیار نہ ہوگا مگر چاہئے یہ کہ کہ اگر دوسری جگہ کی زمین اس کے بدلے میں زیادہ بہتر ہے تو جائز ہو کیونکہ یہ خلاف کرنا بہتری کی طرف ہے فتح القدیرمیں اسی طرح ہے۔(ت)
ردالمحتار میں بحوالہ درمنتقی خلاصۃ الفتاوی سے ہے:
یجوز الرجوع عن الموقوف علیہ وتغییرہ وانکان شروطا کالمؤذن والامام والمعلم ان لم یکونو ا اصلح اوتھاونوا فی امرھم فیجوز للواقف مخالفۃ الشرط ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ موقوف علیہ سے رجوع اور اس میں تبدیلی جائز ہے اگرچہ وہ مشروط ہو جسیے مؤذنامام اور معلم اگر یہ لوگ وقف کے لئے زیادہ صلاحیت کے حامل نہ ہوں یا اپنے معاملات میں سستی کرتے ہوں تو واقف کےلئے جائز ہے کہ شرط کی مخالفت کرے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۴۸: مسئولہ بدرالدین صاحب ۳۰محرم الحرام۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس صورت میں کہ جامع مسجد بمبئی کے گیارہ مشاورین میں سے اکثرین نے یہ قرار داد منظور کی کہ مسجد کے اوقاف کی آمدسے مسجدکے احاطہ میں جو کھلی جگہ ہے وہاں باغیچہ قائم کیا جائے اور درخت اور کنڈیاں نصب کئے جائیں اور اس کے انتظام کےلئے ایك باغبان مشاہرہ سے رکھا جائےاطلاعا گزارش ہے کہ جس زمین پر باغیچہ تیار کرنا منظور ہے وہ جگہ پیش تر سے نماز پڑھنے کے لئے عیدین اور یوم الجمعہ میں استعمال کی جاتی ہے پس اس حالت میں مشاورین مسجد کو اوقاف مسجد سے ایسا خرچ کرنا جائز ہے یانہیںاور جس زمین پر زمانہ قدیم سے نمازیں ہوتی تھیں اس پر باغیچہ بناکر لوگوں کو ادائے نماز سے روکنا مشاورین مسجد کے لئے شرعا جائز ہے یانہیںبناء علی عدم جواز مرتکبین اس فعل کے اپنے عہدہ ہائے مفوضہ سے معزول ہونگے یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
وقف کو اس کی ہیئت سے بدلنا جائز نہیں اگرچہ مقصود واحد ہو مثلا کسی مسجد پر دکانیں وقف
ردالمحتار میں بحوالہ درمنتقی خلاصۃ الفتاوی سے ہے:
یجوز الرجوع عن الموقوف علیہ وتغییرہ وانکان شروطا کالمؤذن والامام والمعلم ان لم یکونو ا اصلح اوتھاونوا فی امرھم فیجوز للواقف مخالفۃ الشرط ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ موقوف علیہ سے رجوع اور اس میں تبدیلی جائز ہے اگرچہ وہ مشروط ہو جسیے مؤذنامام اور معلم اگر یہ لوگ وقف کے لئے زیادہ صلاحیت کے حامل نہ ہوں یا اپنے معاملات میں سستی کرتے ہوں تو واقف کےلئے جائز ہے کہ شرط کی مخالفت کرے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۴۸: مسئولہ بدرالدین صاحب ۳۰محرم الحرام۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس صورت میں کہ جامع مسجد بمبئی کے گیارہ مشاورین میں سے اکثرین نے یہ قرار داد منظور کی کہ مسجد کے اوقاف کی آمدسے مسجدکے احاطہ میں جو کھلی جگہ ہے وہاں باغیچہ قائم کیا جائے اور درخت اور کنڈیاں نصب کئے جائیں اور اس کے انتظام کےلئے ایك باغبان مشاہرہ سے رکھا جائےاطلاعا گزارش ہے کہ جس زمین پر باغیچہ تیار کرنا منظور ہے وہ جگہ پیش تر سے نماز پڑھنے کے لئے عیدین اور یوم الجمعہ میں استعمال کی جاتی ہے پس اس حالت میں مشاورین مسجد کو اوقاف مسجد سے ایسا خرچ کرنا جائز ہے یانہیںاور جس زمین پر زمانہ قدیم سے نمازیں ہوتی تھیں اس پر باغیچہ بناکر لوگوں کو ادائے نماز سے روکنا مشاورین مسجد کے لئے شرعا جائز ہے یانہیںبناء علی عدم جواز مرتکبین اس فعل کے اپنے عہدہ ہائے مفوضہ سے معزول ہونگے یانہیںبینواتوجروا
الجواب:
وقف کو اس کی ہیئت سے بدلنا جائز نہیں اگرچہ مقصود واحد ہو مثلا کسی مسجد پر دکانیں وقف
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۰€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۳۱€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۳۱€
ہیں کہ ان کا کرایہ مسجد میں صرف ہوتا ہے انہیں حمام کردیا جائےا ور اس کا کرایہ مسجد کو دیا جائے یا حمام کا کرایہ مسجد پر وقف تھا اسے دکانیں کردیا جائے یہ ناجائزہے حالانکہ مقصودیعنی کرایہ واحد ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیئتہ فلایجعل الدکان خاناالخ ۔
وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں لہذا دکان کو سرائے بنادینا جائز نہیں الخ(ت)
نہ کہ خلاف مقصود اوروہ بھی محض سود مردودباغیچہ امراء کے مکانوں کی زینت ہوتا ہےبیت اللہ کی زینت ذکر اللہ ہےولہذا علماء نے مساجد میں پیڑلگانا منع فرمایا اور فرمایا کہ مساجد کو یہود ونصاری کے کنیسوں گرجوں سے مشابہ نہ کروپھر اس میں نمازیوں پر جمعہ وعیدین میں تنگی ہے اورجو مسلمانوں پر تنگی کرے گا اللہ اس پر تنگی کرے گا من ضیق ضیق اﷲعلیہ(جس نے تنگی کی اللہ تعالی اس پر تنگی فرمائیگا۔ت)اس میں منع خیر ہے اور مناع للخیر کی مذمت کلام اللہ میں ہےاس میں متعلق مسجد کو نماز سے روکنا ہے۔اور اللہ عز وجل فرماتا ہے:
"و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-اولىك ما كان لهم ان یدخلوها الا خآىفین۬-لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم(۱۱۴)"
اس سے بڑھ کرظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں نام الہی لئے جانے سے روکے اور انکی ویرانی میں کوشش کرے ان کو اس زمین میں قدم دھرنا نہ تھا مگر ڈرتے ہوئے ایسوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔
ایسے مشاور اگر باز نہ آئیں واجب العزل ہیں من استرعی الذئب فقد ظلم جس نے بھیڑئیے کوچرواہا بنایا اس نے بکریوں پر ظلم کیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۴۹: مسئولہ منشی خلیل الرحمن صاحب پارچہ فروش ازنگینہ ۳۰محرم الحرام ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد ایك محلہ کے اندر واقع ہے کہ جس میں کچھ اراضی زائد فرش سے ہے اور اس اراضی میں ایك مزار شریف بھی ہےاس مسجد کی خبر گیری اہل محلہ جس میں چند قوم کے آدمی ہیں کرتے ہیں منجملہ چند اقوام کے ایك قوم ایك مدرسہ خاص قومی
لایجوز تغییر الوقف عن ھیئتہ فلایجعل الدکان خاناالخ ۔
وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں لہذا دکان کو سرائے بنادینا جائز نہیں الخ(ت)
نہ کہ خلاف مقصود اوروہ بھی محض سود مردودباغیچہ امراء کے مکانوں کی زینت ہوتا ہےبیت اللہ کی زینت ذکر اللہ ہےولہذا علماء نے مساجد میں پیڑلگانا منع فرمایا اور فرمایا کہ مساجد کو یہود ونصاری کے کنیسوں گرجوں سے مشابہ نہ کروپھر اس میں نمازیوں پر جمعہ وعیدین میں تنگی ہے اورجو مسلمانوں پر تنگی کرے گا اللہ اس پر تنگی کرے گا من ضیق ضیق اﷲعلیہ(جس نے تنگی کی اللہ تعالی اس پر تنگی فرمائیگا۔ت)اس میں منع خیر ہے اور مناع للخیر کی مذمت کلام اللہ میں ہےاس میں متعلق مسجد کو نماز سے روکنا ہے۔اور اللہ عز وجل فرماتا ہے:
"و من اظلم ممن منع مسجد الله ان یذكر فیها اسمه و سعى فی خرابها-اولىك ما كان لهم ان یدخلوها الا خآىفین۬-لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم(۱۱۴)"
اس سے بڑھ کرظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو ان میں نام الہی لئے جانے سے روکے اور انکی ویرانی میں کوشش کرے ان کو اس زمین میں قدم دھرنا نہ تھا مگر ڈرتے ہوئے ایسوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔
ایسے مشاور اگر باز نہ آئیں واجب العزل ہیں من استرعی الذئب فقد ظلم جس نے بھیڑئیے کوچرواہا بنایا اس نے بکریوں پر ظلم کیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۴۹: مسئولہ منشی خلیل الرحمن صاحب پارچہ فروش ازنگینہ ۳۰محرم الحرام ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد ایك محلہ کے اندر واقع ہے کہ جس میں کچھ اراضی زائد فرش سے ہے اور اس اراضی میں ایك مزار شریف بھی ہےاس مسجد کی خبر گیری اہل محلہ جس میں چند قوم کے آدمی ہیں کرتے ہیں منجملہ چند اقوام کے ایك قوم ایك مدرسہ خاص قومی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
القرآن الکریم ۲ /۱۱۴
اس اراضی موقوفہ میں بنانا چاہتی ہے کہ جس میں دوسری قوم کا تعلیم نہیں پائے گا احیانا کسی وقف میں اس اراضی موقوفہ کی ضرورت مسجد کو ہوئے تو وہ تعمیر مدرسہ اٹھواکر اپنے تصرف خواہ کسی قسم کا تصرف ہو لاسکتے ہیں یانہیںجس قوم کا مدرسہ تعمیر ہوتا ہے اس قوم کے چند لوگ مہتمم ومتولی ہیں وہ ایك اقرار نامہ بدیں مضمون لکھتے ہیں کہ اگر کسی وقت میں مسجد کو ضرورت اراضی کی ہو تو وہ نہیں لے سکتی یہ اقرار ان کا لکھنا جائز ہو گا یانہیںعلاوہ اس قوم کے دیگر اقوام یا دیگر محلہ یہ چاہیں کہ مدرسہ قومی خاص نہ رہے تو وہ اس عمارت میں مدرسہ ہذارہنے دے سکتے ہیں یانہیںاور یہ مدرسہ خصوصیت قوم کے ساتھ تعمیر کیا جاتا ہے اوراسی قوم کے بچے مستفیض ہوں گے جواب خلاصہ ومشرح مرحمت فرمایاجائےمکرر عرض ہے جواب کے ارسال میں دیر نہ فرمائی جائےمکرر عرض ہے کسی وجہ سے کل کو وہاں مدرسہ نہ رکھاگیا تو اس تعمیر کی مالك قوم یا اہل مدرسہ ہوگا یانہیں یا مسجدکی ہی ملکیت ہوجائے گی مدرسہ کو اختیار اس کے کرایہ پر دینے کا رہے گا یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
جو زمین متعلق مسجد ہے وہ مسجد ہی کے کام لائی جاسکتی ہے اور اس کے بھی اسی کام میں جس کے لئے واقف نے وقف کیوقف کو اس کے مقصد سے بدلنا جائز نہیںشرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ (واقف کی شرط وجوب عمل میں شارع علیہ الصلوۃ والسلام کی نص کی مثل ہے۔ت) واقف نے اگر یہ مدرسہ بنانے کی اجازت نہ دی تو اس میں عام مدرسہ بھی نہیں بن سکتا نہ کہ خاصاور اگر خلاف اجازت ایسا تصرف کرینگے غاصب ہوں گے اور وہ عمارت منہدم کرادینے کے قابل ہوگی اور بعد انہدام جو کچھ اینٹیں کڑیاں ہوں اس کے مالك وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے عمار ت بنوائی تھی۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۵۰: ازمارہرہ شریف ضلع ایٹہ مرسلہ حافظ عبدالحمید امام مسجد کمبوہ ۲۱ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنی زمینداری کے ایك قطعہ کو جوعہ/بیگھ خام ہے اور اس کا سالانہ منافع /ہے اس تصریح کے ساتھ کہ ۴ /سالانہ اس محلہ کی مسجد میں جس میں واقف رہتا ہے صرف ہواکریں اور ۴ /سالانہ غرباء ومساکین کے لڑکوں کی تعلیم جو قرآن شریف اور دینیات پڑھتے ہیں قرآن شریف یا متفرق پارہ اور کتب دینیہ خرید کر امداد کی جائے اور اس مصرف میں ہمیشہ صرف ہوتے رہیں اور۴ /
الجواب:
جو زمین متعلق مسجد ہے وہ مسجد ہی کے کام لائی جاسکتی ہے اور اس کے بھی اسی کام میں جس کے لئے واقف نے وقف کیوقف کو اس کے مقصد سے بدلنا جائز نہیںشرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ (واقف کی شرط وجوب عمل میں شارع علیہ الصلوۃ والسلام کی نص کی مثل ہے۔ت) واقف نے اگر یہ مدرسہ بنانے کی اجازت نہ دی تو اس میں عام مدرسہ بھی نہیں بن سکتا نہ کہ خاصاور اگر خلاف اجازت ایسا تصرف کرینگے غاصب ہوں گے اور وہ عمارت منہدم کرادینے کے قابل ہوگی اور بعد انہدام جو کچھ اینٹیں کڑیاں ہوں اس کے مالك وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے عمار ت بنوائی تھی۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۳۵۰: ازمارہرہ شریف ضلع ایٹہ مرسلہ حافظ عبدالحمید امام مسجد کمبوہ ۲۱ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنی زمینداری کے ایك قطعہ کو جوعہ/بیگھ خام ہے اور اس کا سالانہ منافع /ہے اس تصریح کے ساتھ کہ ۴ /سالانہ اس محلہ کی مسجد میں جس میں واقف رہتا ہے صرف ہواکریں اور ۴ /سالانہ غرباء ومساکین کے لڑکوں کی تعلیم جو قرآن شریف اور دینیات پڑھتے ہیں قرآن شریف یا متفرق پارہ اور کتب دینیہ خرید کر امداد کی جائے اور اس مصرف میں ہمیشہ صرف ہوتے رہیں اور۴ /
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوقف ادارۃ القرآن الکریم ۱ /۳۰۵
سالانہ یتیماں وبیوگاں کی تیاری پارچہ سرما وغیرہ صرف کئے جائیاپنے دل میں مذکورہ مصارف کی نیت کرکے وقف کردیااور ایك سال سے اس کا منافع بھی کاشتکار سے وصول نہیں کیا اور وقف کی کوئی تحریر بھی نہیں لکھیاب زید یہ چاہتا ہے کہ قطعہ اراضی مذکورہ بالا سے جس کے وقف کی نیت کی ہے بہتر اور عمدہ اور زیادہ منافع کی دیگراراضی کو جو اس کی ملکیت ہے بجائے اس کے وقف کردے اوربموجب شرع شریف کے تحریر وتکمیل کردے اور متولی اس کا مقرر کرکے اس کے قبضہ میں اس زمین کو دے دے کہ منافع اس کا مصارف مذکور میں صرف کیا کرے اور آئندہ متولی اس کا زید کے رشتہ داران اور نمازیان مسجد محلہ کے مشورہ سے مقررہوا کرے گااس صورت میں امید ہے کہ /سالانہ سے زیادہ منافع سالانہ وقف کاہوگا صرف نیت وقف کرلینے سے جو خاص قطعہ اراضی کی نسبت کی ہے اوراس کی تحریر بھی نہیں لکھی اور اراضی جو اس سے بہتر اور عمدہ زیادہ منافع کی ہے وقف کرکے تحریر کردے شرع ممانعت تو نہیں کرتی
الجواب:
تحریرتو شرعا کوئی ضروری چیز نہیںنہ اس پر وقف موقوفاگر اس نے زبان سے کہہ دیا تھا کہ میں نے اس کو اللہ کےلئے وقف کردیاتو وقف ہوگئی اب اس سے رجوع نہیں کرسکتا مگر یہ کہ وقت وقف شرط استبدال کرلی ہو یعنی مجھے اختیار ہے کہ جب چاہوں اس زمین کے بدلے اور زمین وقف کردوں تو البتہ اس حالت میں تبدیل کااختیار ہےاگر زبان سے بھی نہیں کہا تھا صرف دل سے نیت کی تھی تو وہ زمین وقف نہ ہوئیگر واقعی اس سے بہتراور زیادہ منافع کی زمین وقف کرنا چاہتاہے تو اس پر کچھ الزام نہیںقال اﷲ تعالی " ما علی المحسنین من سبیل " (اللہ تعالی نے فرمایا:نیکی کرنے والوں پر(مواخذہ کی)کوئی راہ نہیں۔ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۳۵۱: ازشہر مسئولہ محمدخلیل اللہ صاحب ۱۴شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ ایك موقع پر ایك جائداد موقوفہ متعلق مسجد واقع ہے تو علاوہ بیع کے جو ہر طرح ناجائز ہے آیا اس موقع پر جائداد مذکورہ سے تبادلہ کا جواز اسی قلیل قیمت اور حیثیت کی جائداد سے یا کسی دیگرنوع سے کسی صورت بھی ہوسکتا ہے یانہیں
الجواب:
اس خاص وقف کرتے وقت واقف نے استبدال کی شرط نہ کرلی ہوتو ہرگز کسی حال میں
الجواب:
تحریرتو شرعا کوئی ضروری چیز نہیںنہ اس پر وقف موقوفاگر اس نے زبان سے کہہ دیا تھا کہ میں نے اس کو اللہ کےلئے وقف کردیاتو وقف ہوگئی اب اس سے رجوع نہیں کرسکتا مگر یہ کہ وقت وقف شرط استبدال کرلی ہو یعنی مجھے اختیار ہے کہ جب چاہوں اس زمین کے بدلے اور زمین وقف کردوں تو البتہ اس حالت میں تبدیل کااختیار ہےاگر زبان سے بھی نہیں کہا تھا صرف دل سے نیت کی تھی تو وہ زمین وقف نہ ہوئیگر واقعی اس سے بہتراور زیادہ منافع کی زمین وقف کرنا چاہتاہے تو اس پر کچھ الزام نہیںقال اﷲ تعالی " ما علی المحسنین من سبیل " (اللہ تعالی نے فرمایا:نیکی کرنے والوں پر(مواخذہ کی)کوئی راہ نہیں۔ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۳۵۱: ازشہر مسئولہ محمدخلیل اللہ صاحب ۱۴شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ ایك موقع پر ایك جائداد موقوفہ متعلق مسجد واقع ہے تو علاوہ بیع کے جو ہر طرح ناجائز ہے آیا اس موقع پر جائداد مذکورہ سے تبادلہ کا جواز اسی قلیل قیمت اور حیثیت کی جائداد سے یا کسی دیگرنوع سے کسی صورت بھی ہوسکتا ہے یانہیں
الجواب:
اس خاص وقف کرتے وقت واقف نے استبدال کی شرط نہ کرلی ہوتو ہرگز کسی حال میں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۹۱
جائزنہیں جب تك اس سے انتفاع ممکن ہے اگرچہ دوسری کی اس کے بدلے میں ملے اس سے قیمت حیثیت ومنفعت میں بہت زائد ہو
فانا امرنا بابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری ۔کما حققہ المحقق فی الفتح۔واﷲ تعالی اعلم۔
ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم وقف کو سابقہ ہیأت پر باقی رکھیں نہ کہ دیگر زیادت کوجیسا کہ محقق علیہ الرحمۃ نے فتح القدیر میں اس کی تحقیق فرمائی ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۳۵۲: ۱۰جمادی الاخری۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ منشی کریم الدین کی دو بیویاں تھیں اور دونوں سے اولاد ہےپہلی بیوی سے تین لڑکیاں اور ایك لڑکااور دوسری بیوی سے دو لڑکیاں تھیںمنشی صاحب مرحوم نے ایك باغایك موضعایك مدرسہ اور کچھ دکانیں پہلی بیوی کے انتقال ہونے کے بعد وقف کیں اس طرح پر کہ میرے بعد میری زوجہ متولی رہے اور زوجہ کے بعد لڑکا جو کہ پہلی بیوی سے تھا اور لڑکے کے بعد ان کی اولادچونکہ لڑکا ان کی حیات میں فوت ہوگیااور لڑکے کی اولاد میں ایك لڑکی تھی وہ لڑکی ناقابل انتظام تھی اور اس کا شوہر بوجہ بدچلنی کے ناقابل انتظام تھا اس وجہ سے منشی صاحب نے ایك اقرار نامہ وقف نامہ کی تحریر کے بارہ سال بعد اس طرح تحریرکردیا کہ میرے بعد میری دوسری زوجہ متولی رہے اور اس کے بعد اس کی بڑی لڑکی اور لڑکی کے بعد اس کی اولاد میں بڑالڑکا جو لائق ہو متولی رہے اس طرح سلسلہ برابرجاری رہے اس اقرار نامہ کی تحریر کو عرصہ دو سال ہوگیا اور وقف نامہ کو چودہ سالاس وقت منشی صاحب مرحوم کی دوسری زوجہ حیات ہے اورمنشی صاحب نے جائداد مذکورہ مفصلہ ذیل اخراجات کے واسطے وقف کی ہےمولود شریفگیارھویں شریففاتحہ حسنینخرچ مدرسہ وتکیہ وغیرہ چونکہ پہلی بیوی کی لڑکیاں اور منشی صاحب کے لڑکے کی لڑکی حیات ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ بروئے وقف نامہ کے جائداد مذکورہ کے ہم متولی ہیں اس لئے التماس ہے کہ شرعا اس وقت جائداد مذکورہ کا متولی کون شخص قرار دیا جائے گا اور اس کے بعد کوناقرار نامہ کا قانونا بھی داخل خارج ہوگیا ہے بموجب حکم شرع شریف تحریر فرمایا جائے۔فقط
الجواب:
تولیت کوئی ترکہ نہیں کہ ہر وارث کا اس میں حق ہو تو لیت واقف کے اختیار کی ہے جسے متولی کردے
فانا امرنا بابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری ۔کما حققہ المحقق فی الفتح۔واﷲ تعالی اعلم۔
ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم وقف کو سابقہ ہیأت پر باقی رکھیں نہ کہ دیگر زیادت کوجیسا کہ محقق علیہ الرحمۃ نے فتح القدیر میں اس کی تحقیق فرمائی ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۳۵۲: ۱۰جمادی الاخری۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ منشی کریم الدین کی دو بیویاں تھیں اور دونوں سے اولاد ہےپہلی بیوی سے تین لڑکیاں اور ایك لڑکااور دوسری بیوی سے دو لڑکیاں تھیںمنشی صاحب مرحوم نے ایك باغایك موضعایك مدرسہ اور کچھ دکانیں پہلی بیوی کے انتقال ہونے کے بعد وقف کیں اس طرح پر کہ میرے بعد میری زوجہ متولی رہے اور زوجہ کے بعد لڑکا جو کہ پہلی بیوی سے تھا اور لڑکے کے بعد ان کی اولادچونکہ لڑکا ان کی حیات میں فوت ہوگیااور لڑکے کی اولاد میں ایك لڑکی تھی وہ لڑکی ناقابل انتظام تھی اور اس کا شوہر بوجہ بدچلنی کے ناقابل انتظام تھا اس وجہ سے منشی صاحب نے ایك اقرار نامہ وقف نامہ کی تحریر کے بارہ سال بعد اس طرح تحریرکردیا کہ میرے بعد میری دوسری زوجہ متولی رہے اور اس کے بعد اس کی بڑی لڑکی اور لڑکی کے بعد اس کی اولاد میں بڑالڑکا جو لائق ہو متولی رہے اس طرح سلسلہ برابرجاری رہے اس اقرار نامہ کی تحریر کو عرصہ دو سال ہوگیا اور وقف نامہ کو چودہ سالاس وقت منشی صاحب مرحوم کی دوسری زوجہ حیات ہے اورمنشی صاحب نے جائداد مذکورہ مفصلہ ذیل اخراجات کے واسطے وقف کی ہےمولود شریفگیارھویں شریففاتحہ حسنینخرچ مدرسہ وتکیہ وغیرہ چونکہ پہلی بیوی کی لڑکیاں اور منشی صاحب کے لڑکے کی لڑکی حیات ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ بروئے وقف نامہ کے جائداد مذکورہ کے ہم متولی ہیں اس لئے التماس ہے کہ شرعا اس وقت جائداد مذکورہ کا متولی کون شخص قرار دیا جائے گا اور اس کے بعد کوناقرار نامہ کا قانونا بھی داخل خارج ہوگیا ہے بموجب حکم شرع شریف تحریر فرمایا جائے۔فقط
الجواب:
تولیت کوئی ترکہ نہیں کہ ہر وارث کا اس میں حق ہو تو لیت واقف کے اختیار کی ہے جسے متولی کردے
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰
وہی ہوگا۔درمختار میں ہے:ولایۃ نصب القیم الی الواقف (متولی مقرر کرنے کی ولایت واقف کو حاصل ہے۔ت)تو اس میں شك نہیں کہ فی الحال وقف کی متولی صرف زوجہ ثانیہ ہے کہ وقف نامہ اور اقرار نامہ دونوں اپنے بعد اس کو متولی لکھا ہے اور جب زوجہ کا انتقال ہوتو حسب شرط اقرارنامہ اسی زوجہ کی بڑی لڑکی پھر اس کے بعد اس لڑکی کی اولاد میں جو بڑالڑکا لائق ہو ورنہ جو لائق ہوں بہر حال پہلی بیوی کی لڑکیوں کا تو کوئی استحقاق تولیت میں سرے سے نہ تھا کہ وقف نامہاقرار نامہ کسی میں ان کی تولیت نہیں رہی پسر متوفی کی لڑکی اگرچہ وقفنامہ میں اپنے بعد پسر پھر اولاد پسر کی تولیت لکھی تھی مگر وہ واقف کے سامنے مرگیا اور اب اس نے ان شرائط کو تبدیل کردیا اور دوبارہ تولیت واقف کو تغیر وتبدل کا اختیار ہے تو اب عمل بموجب اقرارنامہ ہوگا۔ردالمحتار میں ہے:
التولیۃ من الواقف خارجۃ من حکم سائر الشرائط لانہ لہ فیہا التغییر والتبدیل کلما بدالہ من غیر شرط فی عقدۃ الوقف ۔واﷲ تعالی اعلم۔
واقف کی تولیت تمام شرائط کے حکم سے خارج ہے کیونکہ واقف کو ان شرائط میں تبدیلی کا اختیار ہے جب بھی وہ مناسب سمجھے اگرچہ اس نے عقد وقف میں اس کی شرط نہ لگائی ہو۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۵۳:
question
rangoon, the 19th may 1908, 1908.
to
moulvi haji ahmad khan,
esqur, bareeilly,
united provinces.
hunoured sir
we desir to place prepare you a certain religious matter on which we solicit your valuable opinion. the facts are briefly these . there is a chulian a
التولیۃ من الواقف خارجۃ من حکم سائر الشرائط لانہ لہ فیہا التغییر والتبدیل کلما بدالہ من غیر شرط فی عقدۃ الوقف ۔واﷲ تعالی اعلم۔
واقف کی تولیت تمام شرائط کے حکم سے خارج ہے کیونکہ واقف کو ان شرائط میں تبدیلی کا اختیار ہے جب بھی وہ مناسب سمجھے اگرچہ اس نے عقد وقف میں اس کی شرط نہ لگائی ہو۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۵۳:
question
rangoon, the 19th may 1908, 1908.
to
moulvi haji ahmad khan,
esqur, bareeilly,
united provinces.
hunoured sir
we desir to place prepare you a certain religious matter on which we solicit your valuable opinion. the facts are briefly these . there is a chulian a
حوالہ / References
درمختا رکتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجازتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجازتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۰
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجازتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۰
mosque in moung taulay street at this place. thereare five duly elected trustees or mutawallis who manage the affairs of the said mosque according to a scheme framed by the chief court of lower burma. the trustees are given the power of discharging the imam, muazzin and clerks of the mosque. in virtue of the said power. the trustess at a meeting discharged thier imam. one syed muckbool for irregularity misconduct and disbidience. after the discharge the trustees failed a suit in the chief court of lower burma for declaration that the discharge of the imam may be confirmed. the imam now questions the authority of the trustees and maintains power badly. he may misconduct himself, they have no power to discharge him. having placed the facts briefly we request you most humbly to give your fatwa as to whether the trustees have the power to discharge the imam when they find it necessary to do so. this a vital point which is at present engaging the attention of the leading member of the chulian sunni mohmmadan community and we shall thank you very much if you can send your fatwa before the ist week of june thanking you in anticipation we beg to remain, honoured sir, your most obedient and humble followers in m qadir gani. president the madras muslim association no37.tocckay mq tualay street.
answer
from brieilly,
the 28th of may, 1908.
to m.qadir gani.
president
the madras muslim association
sir. with refrence to your letter datted 19th of may, 1908, i send my fatwa for your perusal the trustees can discharge an imam by their authority when such indifference is found in him which be the sufficient reason of"shara"for him to be dismissed. vide lisanul hukkam printed at mier page no.123,
answer
from brieilly,
the 28th of may, 1908.
to m.qadir gani.
president
the madras muslim association
sir. with refrence to your letter datted 19th of may, 1908, i send my fatwa for your perusal the trustees can discharge an imam by their authority when such indifference is found in him which be the sufficient reason of"shara"for him to be dismissed. vide lisanul hukkam printed at mier page no.123,
فی فتاوی قاضی خان اذاعرض للامام اوللمؤذن عذر منعہ عن المباشرۃ مدۃ ستۃ اشھر فللمتولی ان یعزلہ ویولی غیرہ وانکان للمعزول نائب ۔
translation:- there is in fatwa qazi khan when an imam or muazzin has some certain business which may be the cause of six months absence from the mosque, not with standing he may have given some person for him to act. at such opportunity the trustee can discharge him and may establish or appoint another imam in his place"(tahtawi printed misr and shami printed constantinople volume 3, page 639(
وتقدم مایدل علی جواز عزلہ اذا مضی شھربیری
translation:-allama birizada has said that the books aforesaid style shows that a trustee can discharge an imam on account of a month absence from the mosque the trustees had no need of taking sanntion of discharging the imam from the court or from any higher officer or governor because the authority of trustees in these matters is over the powers of a muhammadan governor although the same mutawalis or trustees may have been fixed by the same muhammadan governor see ashbahunnazair printed lucknow page.179 copies from the fatwa of imam rashiduddin.
لایملك القاضی التصرف فی الوقف مع وجود ناظرہ ولو من قبلہ ۔
translation:-"a qazi can not interfere a waqf in the presence of a trustees although the trustees may have been fixed by the same qazi hamawi sharah asbah printed lucknow page no.179 copies from fatwa imam zahiruddin"
قاضی البلد اذا نصب رجلا متولیا للوقف بعد ماقلدہ الحاکم الحکومۃ فلیس للحاکم علی الوقف سبیل حتی لایملك الاجارۃ ولاغیرھا ۔
translation:- there is in fatwa qazi khan when an imam or muazzin has some certain business which may be the cause of six months absence from the mosque, not with standing he may have given some person for him to act. at such opportunity the trustee can discharge him and may establish or appoint another imam in his place"(tahtawi printed misr and shami printed constantinople volume 3, page 639(
وتقدم مایدل علی جواز عزلہ اذا مضی شھربیری
translation:-allama birizada has said that the books aforesaid style shows that a trustee can discharge an imam on account of a month absence from the mosque the trustees had no need of taking sanntion of discharging the imam from the court or from any higher officer or governor because the authority of trustees in these matters is over the powers of a muhammadan governor although the same mutawalis or trustees may have been fixed by the same muhammadan governor see ashbahunnazair printed lucknow page.179 copies from the fatwa of imam rashiduddin.
لایملك القاضی التصرف فی الوقف مع وجود ناظرہ ولو من قبلہ ۔
translation:-"a qazi can not interfere a waqf in the presence of a trustees although the trustees may have been fixed by the same qazi hamawi sharah asbah printed lucknow page no.179 copies from fatwa imam zahiruddin"
قاضی البلد اذا نصب رجلا متولیا للوقف بعد ماقلدہ الحاکم الحکومۃ فلیس للحاکم علی الوقف سبیل حتی لایملك الاجارۃ ولاغیرھا ۔
حوالہ / References
لسان الحکام مع معین الحکام الفصل العاشرفی الوقف مصطفی البابی مصر ص۲۹۸
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۲
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۹۲
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۹۲
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۲
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۹۲
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۹۲
translation:-"a king appointed a qazi and after it the qazi fixed a trustee on a waqf, now the king has no connection on with the waqf nor has he any power of it contract etc. another stlye from lisanul hukkam copies from fatwa imam sowri.
لاتدخل ولایۃ السلطان علی ولایۃ المتولی فی الوقف ۔
translation:- aking cannot interfere a waqf against a trustee authorities in this case the higher officers or governors are not muhammadan ones and therefor they do not know the schemes of shara as a muhammadan trustee knows the trustees can discharge an imam when the imam leave sunnia doctrine or commets an open sin against shara or there may be found in him something which may be the cause of abhorrence which decreases the number of people at prayer or he may be disobedint against the managing rules of affairs of the mosques. or assesmble of persons at prayers or there may be somthing such in him. otherwise he will not be discharged without fault. see raddul muhtar printed constantinople volume 3 page 597.
قال فی البحر واستفید من عدم صحۃ عزل الناظر بلا جنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ ۔
translation:-it is said in bahrur raiq that as a mutawali can not be dismissed without fault. from this it is manifest that any receiver of a salary of a waqf can not be discharged until his fault be proved or he may be proved to be unfit for his duties.
امربرقمہ عبدہ احمد رضاالبریلوی عفی عنہ بمحمد ن
المصطفی النبی الامی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
لاتدخل ولایۃ السلطان علی ولایۃ المتولی فی الوقف ۔
translation:- aking cannot interfere a waqf against a trustee authorities in this case the higher officers or governors are not muhammadan ones and therefor they do not know the schemes of shara as a muhammadan trustee knows the trustees can discharge an imam when the imam leave sunnia doctrine or commets an open sin against shara or there may be found in him something which may be the cause of abhorrence which decreases the number of people at prayer or he may be disobedint against the managing rules of affairs of the mosques. or assesmble of persons at prayers or there may be somthing such in him. otherwise he will not be discharged without fault. see raddul muhtar printed constantinople volume 3 page 597.
قال فی البحر واستفید من عدم صحۃ عزل الناظر بلا جنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ ۔
translation:-it is said in bahrur raiq that as a mutawali can not be dismissed without fault. from this it is manifest that any receiver of a salary of a waqf can not be discharged until his fault be proved or he may be proved to be unfit for his duties.
امربرقمہ عبدہ احمد رضاالبریلوی عفی عنہ بمحمد ن
المصطفی النبی الامی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References
لسان الحکام مع معین الحکام الفصل العاشر فی الوقف مصطفی البابی مصر ص۲۹۶
ردالمحتار کتاب الوقف مطبع لایصح عزل صاحب وظیفۃ بلاجنحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۶
ردالمحتار کتاب الوقف مطبع لایصح عزل صاحب وظیفۃ بلاجنحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۶
ترجمہ مسئلہ۳۵۳: از رنگون مورخہ ۱۹مئی ۱۹۰۸ء
بخدمت جناب مولوی حاجی احمد رضا خاں صاحب محلہ سوداگران بریلییوپی۔
مولانائے محترم ! ہم سب آپ کی خدمت میں چند مذہبی امورکے بارہ میں رائے عالی جاننے کےلئے یہ پیش کررہے ہیں اور مختصرا واقعہ کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں۔یہاں ایك مسجد چولیان مونگ تلااسٹریٹ میں واقع ہے جس کے چنے ہوئے پانچ متولیان ہیں جومسجد کا انتظام اس قانون کے تحت انجام دے رہے ہیں جس کوعدالت العالیہ برمانے مرتب کیا ہے جس کے مطابق متولیوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اماممؤذن اور عملہ کو برخاست کرسکیںاس قانون کے مطابق متولیان نے ایك مجلس شوری کے اندر سید مقبول امام مسجد کو ان کی بیضابطگیبرے چال چلن اور حکم عدولی کے باعث برخاست کردیااس برخاستگی کے بعدمتولیوں نے ایك مقدمہ استقراریہ اس امر کا عدالت العالیہ برما میں دائر کیا کہ امام کی برخاستگی مستقل کردی جائےاب امام نے یہ باز پرس متولیوں کی مجلس قانون سے کی ہےقانون کاناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہےان لوگوں کو برخاست کرنے کا حق نہیں ہے۔اس مختصرواقعہ کو پیش کرتے ہوئے نہایت ادب سے التجا کرتے ہیں کہ آپ اس کے متعلق اپنا فتوی مرحمت فرمائیںکیا متولیان کوامام کی برخاستگی کا حق حاصل ہے کہ جب وہ چاہیں برخاست کردیں۔یہ آج کل بہت بڑامسئلہ ممبران چولیان سنی محمڈن کمیونٹی کا بنا ہواہےہم لوگ بیحدشکر گزار ہوں گے اگرآپ اپنا فتوی ماہ جون کے اوائل ہفتہ میں روانہ فرمادیں فقط۔
آپ کا فرمانبردار خاکسار معتقد
قادر غنی صدر مدرس مسلم ایسوسی ایشنمونگ تلااسٹریٹ۔
الجواب:
بریلی مورخہ۲۸/مئی۱۹۰۸ء
بخدمت جناب ایم قادر غنی صدر مدرس مسلم ایسو سی ایشن
محترم! آپ کے مراسلہ مورخہ ۱۹/مئی ۱۹۰۸کے مطابق میں اپنا فتوی برائے ملاحظہ ارسال کررہاہوںمتولیاں ایك امام کو برخاست کرسکتے ہیں جبکہ کوئی ایسا اختلاف اور وجہ معقول شرعی طور پر پائی جائے(لسان الحکام مطبوعہ مصرص۱۲۳)
ترجمہ:فتاوی قاضی خان میں ہے کہ جب امام یا مؤذن کے درمیان کوئی ایسی چیز عارض ہو جس کی وجہ سے وہ چھ ماہ تك مسجد سے غیر حاضر رہے اور ا س نے اپنا کوئی بدل نہ دیا ہو تو اس وقت متولی اس کو برطرف کرسکتا ہے اور دوسرا امام اس کی جگہ مقرر کرسکتا ہے(طحطاوی مطبوعہ مصراور شامی مطبوعہ قسطنطنیہ جلد۳
بخدمت جناب مولوی حاجی احمد رضا خاں صاحب محلہ سوداگران بریلییوپی۔
مولانائے محترم ! ہم سب آپ کی خدمت میں چند مذہبی امورکے بارہ میں رائے عالی جاننے کےلئے یہ پیش کررہے ہیں اور مختصرا واقعہ کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں۔یہاں ایك مسجد چولیان مونگ تلااسٹریٹ میں واقع ہے جس کے چنے ہوئے پانچ متولیان ہیں جومسجد کا انتظام اس قانون کے تحت انجام دے رہے ہیں جس کوعدالت العالیہ برمانے مرتب کیا ہے جس کے مطابق متولیوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اماممؤذن اور عملہ کو برخاست کرسکیںاس قانون کے مطابق متولیان نے ایك مجلس شوری کے اندر سید مقبول امام مسجد کو ان کی بیضابطگیبرے چال چلن اور حکم عدولی کے باعث برخاست کردیااس برخاستگی کے بعدمتولیوں نے ایك مقدمہ استقراریہ اس امر کا عدالت العالیہ برما میں دائر کیا کہ امام کی برخاستگی مستقل کردی جائےاب امام نے یہ باز پرس متولیوں کی مجلس قانون سے کی ہےقانون کاناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہےان لوگوں کو برخاست کرنے کا حق نہیں ہے۔اس مختصرواقعہ کو پیش کرتے ہوئے نہایت ادب سے التجا کرتے ہیں کہ آپ اس کے متعلق اپنا فتوی مرحمت فرمائیںکیا متولیان کوامام کی برخاستگی کا حق حاصل ہے کہ جب وہ چاہیں برخاست کردیں۔یہ آج کل بہت بڑامسئلہ ممبران چولیان سنی محمڈن کمیونٹی کا بنا ہواہےہم لوگ بیحدشکر گزار ہوں گے اگرآپ اپنا فتوی ماہ جون کے اوائل ہفتہ میں روانہ فرمادیں فقط۔
آپ کا فرمانبردار خاکسار معتقد
قادر غنی صدر مدرس مسلم ایسوسی ایشنمونگ تلااسٹریٹ۔
الجواب:
بریلی مورخہ۲۸/مئی۱۹۰۸ء
بخدمت جناب ایم قادر غنی صدر مدرس مسلم ایسو سی ایشن
محترم! آپ کے مراسلہ مورخہ ۱۹/مئی ۱۹۰۸کے مطابق میں اپنا فتوی برائے ملاحظہ ارسال کررہاہوںمتولیاں ایك امام کو برخاست کرسکتے ہیں جبکہ کوئی ایسا اختلاف اور وجہ معقول شرعی طور پر پائی جائے(لسان الحکام مطبوعہ مصرص۱۲۳)
ترجمہ:فتاوی قاضی خان میں ہے کہ جب امام یا مؤذن کے درمیان کوئی ایسی چیز عارض ہو جس کی وجہ سے وہ چھ ماہ تك مسجد سے غیر حاضر رہے اور ا س نے اپنا کوئی بدل نہ دیا ہو تو اس وقت متولی اس کو برطرف کرسکتا ہے اور دوسرا امام اس کی جگہ مقرر کرسکتا ہے(طحطاوی مطبوعہ مصراور شامی مطبوعہ قسطنطنیہ جلد۳
ص۶۳۹)
ترجمہ:"علامہ بیری زادہ کتاب مذکور میں فرماتےہیں کہ متولی ایك امام کو مسجد سے ایك ماہ کی غیرحاضری پر برطرف کرسکتا ہے"متولی کو کوئی ضرورت امام کی برطرفی کےلئے عدالت یا کسی افسر بالایا گورنر سے اجازت لینے کی نہیں ہے کیونکہ متولی اپنے اختیار خصوصی سے ان معاملات میں خود اسلامی گورنر جیسا اختیار رکھتا ہے جبکہ متولیان خود ایك اسلامی گورنر کے مقرر کردہ ہوں(اشباہ والنظائر مطبوعہ لکھنؤص۱۷۹منقولہ از فتاوی امام رشید الدین)
ترجمہ:ایك قاضی وقف کے کسی معاملہ میں متولی کی موجودگی میں دخل نہیں دے سکتا جبکہ اسی قاضی نے اس کو متولی بنایا ہو۔(حموی شرح اشباہ مطبوعہ لکھنؤ ص۱۷۹منقولہ از فتاوی امام ظہیرالدین)
ترجمہ:ایك بادشاہ نے ایك قاضی مقرر کیا اور اس کے بعد قاضی نے وقف کا ایك متولی مقرر کیااب بادشاہ کوکوئی تعلق اس وقف سے نہ رہا اور نہ کوئی اختیار اس کو رد وبدل کا باقی رہا۔(لسان الحکاممنقولہ از فتاوی امام ثوری)
ترجمہ:ایك بادشاہ ایك متولی کے معاملہ میں دخیل نہیں ہوسکتاجبکہ حکام بالا یا گورنر جو کہ مسلمان نہیں اور جو اس قانون تولیت سے واقفیت بمقابلہ متولی نہیں رکھتے اس وقت متولی امام کو برخاست کرسکتا ہے جبکہ امام عقائد سنیہ کو ترك کردیتا ہے یا بر ملا شرع کی خلاف ورزی کرتا ہو یا کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو جس سے نماز جماعت میں کمی واقع ہویا کمیٹی کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہو جو مسجدسے متعلق ہو برخاست ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ بغیر کسی قصور کے برخاست نہیں کیاجاسکتا۔(ردالمحتار مطبوعہ قسطنطنیہ ج ۳ص۵۹۷)
ترجمہ:بحرالرائق میں ہے کہ ایك متولی بغیر امام کسی قصور کے برخاست نہیں کیا جاسکتااس سے ظاہرہوتا ہے کہ ایك وقف سے تنخواہ پانے والاشخص بغیر کسی قصور کے برخاست نہیں کیاجاسکتا یاجب تك یہ نہ ثابت ہو کہ وہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں قاصر ہے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
امر برقمہ عبدہ المذنب احمد رضاالبریلوی عفی عنہ
بمحمد ن المصطفی النبی الامی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
مسئلہ۳۵۴: ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد مرسلہ منشی ہدایت اللہ صاحب ۲۴صفر۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس امر میں کہ نواب غلام چشی خان صاحب رئیس قصبہ حسن پور ضلع مراد آباد موضع عیسی پور بطریق زکوۃریاست وموضع بچی کہیر ابطور خیرات حقیت اپنی کواول وقف کیا
ترجمہ:"علامہ بیری زادہ کتاب مذکور میں فرماتےہیں کہ متولی ایك امام کو مسجد سے ایك ماہ کی غیرحاضری پر برطرف کرسکتا ہے"متولی کو کوئی ضرورت امام کی برطرفی کےلئے عدالت یا کسی افسر بالایا گورنر سے اجازت لینے کی نہیں ہے کیونکہ متولی اپنے اختیار خصوصی سے ان معاملات میں خود اسلامی گورنر جیسا اختیار رکھتا ہے جبکہ متولیان خود ایك اسلامی گورنر کے مقرر کردہ ہوں(اشباہ والنظائر مطبوعہ لکھنؤص۱۷۹منقولہ از فتاوی امام رشید الدین)
ترجمہ:ایك قاضی وقف کے کسی معاملہ میں متولی کی موجودگی میں دخل نہیں دے سکتا جبکہ اسی قاضی نے اس کو متولی بنایا ہو۔(حموی شرح اشباہ مطبوعہ لکھنؤ ص۱۷۹منقولہ از فتاوی امام ظہیرالدین)
ترجمہ:ایك بادشاہ نے ایك قاضی مقرر کیا اور اس کے بعد قاضی نے وقف کا ایك متولی مقرر کیااب بادشاہ کوکوئی تعلق اس وقف سے نہ رہا اور نہ کوئی اختیار اس کو رد وبدل کا باقی رہا۔(لسان الحکاممنقولہ از فتاوی امام ثوری)
ترجمہ:ایك بادشاہ ایك متولی کے معاملہ میں دخیل نہیں ہوسکتاجبکہ حکام بالا یا گورنر جو کہ مسلمان نہیں اور جو اس قانون تولیت سے واقفیت بمقابلہ متولی نہیں رکھتے اس وقت متولی امام کو برخاست کرسکتا ہے جبکہ امام عقائد سنیہ کو ترك کردیتا ہے یا بر ملا شرع کی خلاف ورزی کرتا ہو یا کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو جس سے نماز جماعت میں کمی واقع ہویا کمیٹی کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہو جو مسجدسے متعلق ہو برخاست ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ بغیر کسی قصور کے برخاست نہیں کیاجاسکتا۔(ردالمحتار مطبوعہ قسطنطنیہ ج ۳ص۵۹۷)
ترجمہ:بحرالرائق میں ہے کہ ایك متولی بغیر امام کسی قصور کے برخاست نہیں کیا جاسکتااس سے ظاہرہوتا ہے کہ ایك وقف سے تنخواہ پانے والاشخص بغیر کسی قصور کے برخاست نہیں کیاجاسکتا یاجب تك یہ نہ ثابت ہو کہ وہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں قاصر ہے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
امر برقمہ عبدہ المذنب احمد رضاالبریلوی عفی عنہ
بمحمد ن المصطفی النبی الامی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
مسئلہ۳۵۴: ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد مرسلہ منشی ہدایت اللہ صاحب ۲۴صفر۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس امر میں کہ نواب غلام چشی خان صاحب رئیس قصبہ حسن پور ضلع مراد آباد موضع عیسی پور بطریق زکوۃریاست وموضع بچی کہیر ابطور خیرات حقیت اپنی کواول وقف کیا
سال ۱۲۸۴ھ میں اس حقیت موقوفہ کے بابت ایك وصیت نامہ سادہ تحریر کیا جس میں انتظام واہتمام تولیت جائداد موقوف اور مصارف خیر کی بابت شرائط درج کئےچنانچہ تاحیارت اپنی خود واقف ہر دو مواضعات مذکورہ کے مہتمم رہے اور بعض فوت ان کے نواب محمد عبدالکریم خان صاحب مرحوم یکے از واقف مہتمم مقرر ہو ئےوصیت نامہ میں واقف نے یہ شرط تحریر کی ہے اقرار یہ ہے کہ حین حیات اپنی آمدنی وپیداوار مواضعات مذکور جو لائق ہووے نسلا بعد نسل اور بطنا بعد بطن حسب دستور بطریقہ مستعملہ مجھ گنہگار کے صر ف کرتا ہے۲۱/اکتوبر ۱۹۰۸ء کو مہتمم ثانی نے وفات پائیاب دریافت طلب یہ مسئلہ ہے کہ فقرہ نسلا بعد نسل کے کیا معنی اور مطلباور نسل سے منشا واقف کا اپنی اولاد سے ہے یا مہتمم ثانی کی اولاد سےاور شرعا بعد فوت ہونے مہتمم ثانی کے اصل واقف کے اولاد میں سے مہتمم مقرر ہونا چاہئے یا مہتمم ثانی کی اولاد میں سے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جب تك واقف کی اولاد صلبی سے کوئی مرد لائق باقی رہے گا اولاد اولاد کو تولیت نہ پہنچے گیجب ان میں کوئی نہ رہے گا اس وقت اولاد اولاد سے کوئی لائق متولی کیا جائے گا اور ان میں جب تك کوئی رہا تیسرے درجہ سے مقررر نہ کیا جائے گا وعلی ھذا القیاس نسلا بعدنسل اور بطنا بعد بطن کے یہی معنی ہیں اس میں واقف کی اپنی اولاد واولاد اولاد واولاد اولاداولاد سب داخل ہیں مگر بترتیب کہ سب سے مقدم اولاد پھر اولاد اولاداولاد اولاد اولاد الی آخر الدہر۔ اسعاف میں ہے:
لایکون للبطن الاسفل شیئ مابقی من البطن الاعلی احدوھکذا الحکم فی کل بطن حتی تنتہی البطون موتا ۔واﷲسبحانہ وتعالی اعلم۔
بطن اسفل کو کچھ حق نہ ملے گا جب تك بطن اعلی میں سے کوئی ایك موجود ہےاور یہی حکم تمام بطنوں کا ہے حتی کہ موت کے سبب بطون منتفی ہوجائیں۔واﷲسبحانہ وتعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۳۵۵تا۳۵۶: مرسلہ حاجی محمد حسین صاحب رئیس ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد ۱۸ربیع الاول ۱۳۲۷ھ
سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك جائداد وقف کی اور دربارہ تولیت یہ شرط تحریر کی کہ بعد میرے میری اولاد سے ایك شخص از قسم ذکور جو لائق ہو
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جب تك واقف کی اولاد صلبی سے کوئی مرد لائق باقی رہے گا اولاد اولاد کو تولیت نہ پہنچے گیجب ان میں کوئی نہ رہے گا اس وقت اولاد اولاد سے کوئی لائق متولی کیا جائے گا اور ان میں جب تك کوئی رہا تیسرے درجہ سے مقررر نہ کیا جائے گا وعلی ھذا القیاس نسلا بعدنسل اور بطنا بعد بطن کے یہی معنی ہیں اس میں واقف کی اپنی اولاد واولاد اولاد واولاد اولاداولاد سب داخل ہیں مگر بترتیب کہ سب سے مقدم اولاد پھر اولاد اولاداولاد اولاد اولاد الی آخر الدہر۔ اسعاف میں ہے:
لایکون للبطن الاسفل شیئ مابقی من البطن الاعلی احدوھکذا الحکم فی کل بطن حتی تنتہی البطون موتا ۔واﷲسبحانہ وتعالی اعلم۔
بطن اسفل کو کچھ حق نہ ملے گا جب تك بطن اعلی میں سے کوئی ایك موجود ہےاور یہی حکم تمام بطنوں کا ہے حتی کہ موت کے سبب بطون منتفی ہوجائیں۔واﷲسبحانہ وتعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۳۵۵تا۳۵۶: مرسلہ حاجی محمد حسین صاحب رئیس ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد ۱۸ربیع الاول ۱۳۲۷ھ
سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك جائداد وقف کی اور دربارہ تولیت یہ شرط تحریر کی کہ بعد میرے میری اولاد سے ایك شخص از قسم ذکور جو لائق ہو
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ بحوالہ الاسعاف کتاب الوقف ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۵۳
نسلا بعد نسل اور بطنا بعد بطن حسب دستور مجھ گنہگار کے صرف کرتا رہےآیا اس عبارت مذکورہ سے واقف کا منشا کسی خاص اولاد کی نسبت یعنی بیٹیوں کی پوتوں کی نسبت ہے یا ا س میں کوئی خصوصیت نہیں ہے۔
سوال دوم:جائداد موقوفہ کے اشخاص ذیل متولی ہوسکتے ہیں یانہیں اور شرعالفظ لائق کن اشخاص سے مراد ہے
(۱)جو باوصف استطاعت بائیس سال سے نہ حج کرتا ہو نہ زکوۃ اور نہ عشر دے۔
(۲)جو علانیہ فسق وفجور مبتلا ہو۔
(۳)کیا تارك جماعت لائق متولی ہوسکتا ہے۔
(۴)جو طمع نفسانی سے متولی ہونا چاہے اور جس کو بیحد کوشش تولیت کی ہو۔
(۵)جوسود جائز سمجھ کرلیتا ہو۔
(۶)جو شطرنج اور تاش بازی میں مصروف رہتا ہو وہ قابل تولیت ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)نہ اس میں ایسا خصوص ہے کہ بعضے طبقات اولاد کواصلا شامل نہ ہونہ ایسا عموم کہ ہر طبقہ کی اولاد معا مستحق ہو بلکہ وہ جمیع طبقات کو بشرط ترتیب عام ہے یعنی جب تك خاص اولاد صلبی واقف سے کوئی مردلائق تولیت باقی رہے گا پوتے اگرچہ لائق ہوں بلکہ الیق ہوں نہ پاسکیں گے لان الواقف انما شرط اللائق دون الالیق(واقف نے تولیت کےلئے لائق کی شرط لگائی ہے نہ کہ لائق ترین کی۔ت)اور جب اولاد صلبی سے کوئی مرد نہ ہو یاجتنے باقی ہوں ان میں کوئی لائق تولیت نہ ہو تو پوتوں میں جو لائق ہو اسے پہنچے گی اب ان میں کا جب تك کوئی لائق باقی رہے گا پرپوتوں کا استحقاق نہ ہوگا وعلی ھذاالقیاس الی انقراض النسل(اور اسی پر قیاس کرتے چلو یہاں تك کہ اس کی نسل ختم ہوجائے۔ت)اور نواسے بہر حال مستحق نہ ہوں گے جس نے نواسوں کو بھی شمول لکھ دیاخطا کی۔فتاوی امام قاضیخاں میں ہے:
ان قال علی ولدی وولد ولدی یصرف الی اولادہ ابدا ما تنا سلوا الاقرب والابعد فیہ سواء الا ان یذکر الا قرب
اگر واقف نے کہا کہ یہ چیز میری اولاد اور اولاد کی اولاد پر وقف ہےتو یہ وقف اس کی اولاد کی طرف ہی پھیراجائےگا جب تك اس کی اولاد کا سلسلہ جاری رہے گا۔قریب وبعید والے
سوال دوم:جائداد موقوفہ کے اشخاص ذیل متولی ہوسکتے ہیں یانہیں اور شرعالفظ لائق کن اشخاص سے مراد ہے
(۱)جو باوصف استطاعت بائیس سال سے نہ حج کرتا ہو نہ زکوۃ اور نہ عشر دے۔
(۲)جو علانیہ فسق وفجور مبتلا ہو۔
(۳)کیا تارك جماعت لائق متولی ہوسکتا ہے۔
(۴)جو طمع نفسانی سے متولی ہونا چاہے اور جس کو بیحد کوشش تولیت کی ہو۔
(۵)جوسود جائز سمجھ کرلیتا ہو۔
(۶)جو شطرنج اور تاش بازی میں مصروف رہتا ہو وہ قابل تولیت ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)نہ اس میں ایسا خصوص ہے کہ بعضے طبقات اولاد کواصلا شامل نہ ہونہ ایسا عموم کہ ہر طبقہ کی اولاد معا مستحق ہو بلکہ وہ جمیع طبقات کو بشرط ترتیب عام ہے یعنی جب تك خاص اولاد صلبی واقف سے کوئی مردلائق تولیت باقی رہے گا پوتے اگرچہ لائق ہوں بلکہ الیق ہوں نہ پاسکیں گے لان الواقف انما شرط اللائق دون الالیق(واقف نے تولیت کےلئے لائق کی شرط لگائی ہے نہ کہ لائق ترین کی۔ت)اور جب اولاد صلبی سے کوئی مرد نہ ہو یاجتنے باقی ہوں ان میں کوئی لائق تولیت نہ ہو تو پوتوں میں جو لائق ہو اسے پہنچے گی اب ان میں کا جب تك کوئی لائق باقی رہے گا پرپوتوں کا استحقاق نہ ہوگا وعلی ھذاالقیاس الی انقراض النسل(اور اسی پر قیاس کرتے چلو یہاں تك کہ اس کی نسل ختم ہوجائے۔ت)اور نواسے بہر حال مستحق نہ ہوں گے جس نے نواسوں کو بھی شمول لکھ دیاخطا کی۔فتاوی امام قاضیخاں میں ہے:
ان قال علی ولدی وولد ولدی یصرف الی اولادہ ابدا ما تنا سلوا الاقرب والابعد فیہ سواء الا ان یذکر الا قرب
اگر واقف نے کہا کہ یہ چیز میری اولاد اور اولاد کی اولاد پر وقف ہےتو یہ وقف اس کی اولاد کی طرف ہی پھیراجائےگا جب تك اس کی اولاد کا سلسلہ جاری رہے گا۔قریب وبعید والے
فالا قرب او یقول بطنا بعد بطن فیبدابما بدأبہ الواقف (ملخصا)
اس میں برابر ہوں گے یا ا س نے یوں کہا یہ وقف ایك بطن کے بعد دوسر ے بطن کے لئے ہے تو اسی سے ابتداء کریں گے جس سے واقف نے ابتداء کی ہے(ملخصا)۔(ت)
اسی میں ہے:
ولدی لایدخل فیہ ولدالبنت فی ظاھر الروایۃ وبہ اخذھلال والصحیح ظاہر الروایۃ (ملخصا)
واقف کے کلام میں لفظ"ولدی"میں بیٹی کی اولاد داخل نہیں ظاہر الروایۃ کے مطابق اسی کو ھلال نے لیا ہے اور صحیح ظاہرالروایۃہے(ملخصا)۔(ت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
وقال ولدی وولد ولدی لایدخل فیہ اولاد البنات فی ظاہر الروایۃ وعلیہ الفتوی ھکذا فی محیط للسرخسی ۔
واقف نے اگر اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد کاذکر کیا توظاہر الروایۃ کے مطابق بیٹی کی اولاد اس میں داخل نہیںاور اسی پر فتوی ہے۔اور محیط سرخسی میں اسی طرح ہے۔(ت)
(۲)لائق وہ ہے کہ دیانت کار گزار ہوشیار ہو جس پر دربارہ حفاظت وخیرخواہی وقف اطمینان کافی ہوفاسق نہ ہو جس سے بطمع نفسانی یا بے پروائی یاناحفاظتی یا انہماك لہو ولعب وقف کو ضرر پہنچانے یا پہنچنے کا اندیشہ ہو بدعقل یا عاجز یا کاہل نہ ہو کہ اپنی حماقت یا نادانی یا کام نہ کرسکنے یا محنت سے بچنے کے باعث وقف کو خراب کرےفاسق اگرچہ کیسا ہی ہوشیار کارگزار مالدار ہو ہر گز لائق تولیت نہیں کہ جب وہ نافرمانی شرع کی پروانہیں رکھتا کسی کاردینی میں اس پر کیا اطمینان ہوسکتا ہےولہذا حکم ہے کہ اگر خود واقف فسق کرے واجب ہے کہ وقف اس کے قبضہ سے نکال لیا جائے اورکسی امین متدین کو سپردکیاجائے پھر دوسرا تو دوسرا ہے۔ردالمحتار میں ہے:
قال فی الاسعاف ولا یولی الاامین قادربنفسہ او بنائبہ لان
اسعاف میں فرمایا ہے کہ متولی صرف اسی کو بنایا جائے گا جوامین ہو اور بذات خود یا اپنے نائب
اس میں برابر ہوں گے یا ا س نے یوں کہا یہ وقف ایك بطن کے بعد دوسر ے بطن کے لئے ہے تو اسی سے ابتداء کریں گے جس سے واقف نے ابتداء کی ہے(ملخصا)۔(ت)
اسی میں ہے:
ولدی لایدخل فیہ ولدالبنت فی ظاھر الروایۃ وبہ اخذھلال والصحیح ظاہر الروایۃ (ملخصا)
واقف کے کلام میں لفظ"ولدی"میں بیٹی کی اولاد داخل نہیں ظاہر الروایۃ کے مطابق اسی کو ھلال نے لیا ہے اور صحیح ظاہرالروایۃہے(ملخصا)۔(ت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
وقال ولدی وولد ولدی لایدخل فیہ اولاد البنات فی ظاہر الروایۃ وعلیہ الفتوی ھکذا فی محیط للسرخسی ۔
واقف نے اگر اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد کاذکر کیا توظاہر الروایۃ کے مطابق بیٹی کی اولاد اس میں داخل نہیںاور اسی پر فتوی ہے۔اور محیط سرخسی میں اسی طرح ہے۔(ت)
(۲)لائق وہ ہے کہ دیانت کار گزار ہوشیار ہو جس پر دربارہ حفاظت وخیرخواہی وقف اطمینان کافی ہوفاسق نہ ہو جس سے بطمع نفسانی یا بے پروائی یاناحفاظتی یا انہماك لہو ولعب وقف کو ضرر پہنچانے یا پہنچنے کا اندیشہ ہو بدعقل یا عاجز یا کاہل نہ ہو کہ اپنی حماقت یا نادانی یا کام نہ کرسکنے یا محنت سے بچنے کے باعث وقف کو خراب کرےفاسق اگرچہ کیسا ہی ہوشیار کارگزار مالدار ہو ہر گز لائق تولیت نہیں کہ جب وہ نافرمانی شرع کی پروانہیں رکھتا کسی کاردینی میں اس پر کیا اطمینان ہوسکتا ہےولہذا حکم ہے کہ اگر خود واقف فسق کرے واجب ہے کہ وقف اس کے قبضہ سے نکال لیا جائے اورکسی امین متدین کو سپردکیاجائے پھر دوسرا تو دوسرا ہے۔ردالمحتار میں ہے:
قال فی الاسعاف ولا یولی الاامین قادربنفسہ او بنائبہ لان
اسعاف میں فرمایا ہے کہ متولی صرف اسی کو بنایا جائے گا جوامین ہو اور بذات خود یا اپنے نائب
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف فصل فی الوقف علی الاولاد نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲۹
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف فصل فی الوقف علی الاولاد نولکشور لکھنؤ ۴/ ۲۹۔۷۲۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثالث فی المصارف نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۷۴
فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف فصل فی الوقف علی الاولاد نولکشور لکھنؤ ۴/ ۲۹۔۷۲۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثالث فی المصارف نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۷۴
الولایۃ مقیدۃ بشرط النظر ولیس من النظر تولیۃ الخائن لانہ یخل بالمقصود وکذاتولیۃ العاجزلان المقصود لایحصل بہ ۔
کے اعتبار سے وقف کی حفاظت پر قادر ہو کیونکہ ولایت نگرانی کی شرط سے مقید ہے اور خائن کو متولی بنانے میں نگرانی کا فقدان ہے کیونکہ خائن کی تولیت مخل مقصود ہے یہی حال عاجز کو متولی بنانے کا ہے کہ اس سے مقصود حاصل نہیں ہوتا۔ (ت)
درمختار میں ہے:
(وینزع وجوبا بزازیۃ(لو)الواقف درر فغیرہ بالاولی (غیر مامون)او عاجز ااو ظھربہ فسق کشرب خمر و نحوہفتح ۔
متولی سے ولایت وقف وجوبا واپس لے لی جائیگی(بزازیہ اگرچہ وہ خود واقف ہو(درر)تو غیر واقف سے بدرجہ اولی واپس لے لی جائیگی جب کہ وہ امین نہ ہو یا عاجز ہو یا اس کا فسق شراب نوشی وغیرہ ظاہر ہوچکاہو(فتح)۔(ت)
سود لینا گناہ کبیرہ ہے تو اس کا ارتکاب اگرچہ ایك ہی بار یقینا اجماعا فاسق وبددیانت کردیگا جب کہ حرام جان کرکرے اور دارالاسلام میں جائز سمجھا تو فسق درکنار صریح کافر مرتد ہوجائے گا لاستحلالہ ماعلم حرمتہ ضرورۃ من الدین(اس چیز کو حلال جاننے کی وجہ سے جس کی حرمت ضروریات دین سے معلوم ہے۔ت)یونہی جو بلا عذر صحیح شرعی ترك جماعت کیا کرے فاسق ومردود الشہادۃ ہے۔غنیہ میں ہے:
تارکھابلاعذر یعزر وتردشھادتہ ۔
بلاعذر ترك جماعت کرنے والے پر تعزیز لگائی جائے اور اس کی شہادت رد کردی جائے گی۔(ت)
نہر الفائق میں ہے:
ترکہامرۃ بلاعذر یوجب اثما فی قول العراقیین والخرا سانیون علی انہ یاثم اذا اعتاد الترك کما فی القنیۃ ۔
بلاعذر ایك بار جماعت کو چھوڑنا عراقیوں کے قول کے مطابق موجب گناہ ہے اور خراسانی تب اس کو گناہگار قرار دیتے ہیں جب وہ ترك جماعت کو عادت بنالےجیسا کہ قنیہ میں ہے۔ (ت)
کے اعتبار سے وقف کی حفاظت پر قادر ہو کیونکہ ولایت نگرانی کی شرط سے مقید ہے اور خائن کو متولی بنانے میں نگرانی کا فقدان ہے کیونکہ خائن کی تولیت مخل مقصود ہے یہی حال عاجز کو متولی بنانے کا ہے کہ اس سے مقصود حاصل نہیں ہوتا۔ (ت)
درمختار میں ہے:
(وینزع وجوبا بزازیۃ(لو)الواقف درر فغیرہ بالاولی (غیر مامون)او عاجز ااو ظھربہ فسق کشرب خمر و نحوہفتح ۔
متولی سے ولایت وقف وجوبا واپس لے لی جائیگی(بزازیہ اگرچہ وہ خود واقف ہو(درر)تو غیر واقف سے بدرجہ اولی واپس لے لی جائیگی جب کہ وہ امین نہ ہو یا عاجز ہو یا اس کا فسق شراب نوشی وغیرہ ظاہر ہوچکاہو(فتح)۔(ت)
سود لینا گناہ کبیرہ ہے تو اس کا ارتکاب اگرچہ ایك ہی بار یقینا اجماعا فاسق وبددیانت کردیگا جب کہ حرام جان کرکرے اور دارالاسلام میں جائز سمجھا تو فسق درکنار صریح کافر مرتد ہوجائے گا لاستحلالہ ماعلم حرمتہ ضرورۃ من الدین(اس چیز کو حلال جاننے کی وجہ سے جس کی حرمت ضروریات دین سے معلوم ہے۔ت)یونہی جو بلا عذر صحیح شرعی ترك جماعت کیا کرے فاسق ومردود الشہادۃ ہے۔غنیہ میں ہے:
تارکھابلاعذر یعزر وتردشھادتہ ۔
بلاعذر ترك جماعت کرنے والے پر تعزیز لگائی جائے اور اس کی شہادت رد کردی جائے گی۔(ت)
نہر الفائق میں ہے:
ترکہامرۃ بلاعذر یوجب اثما فی قول العراقیین والخرا سانیون علی انہ یاثم اذا اعتاد الترك کما فی القنیۃ ۔
بلاعذر ایك بار جماعت کو چھوڑنا عراقیوں کے قول کے مطابق موجب گناہ ہے اور خراسانی تب اس کو گناہگار قرار دیتے ہیں جب وہ ترك جماعت کو عادت بنالےجیسا کہ قنیہ میں ہے۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۵
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۰۹
بحوالہ الغنیۃ المنیۃ باب فی الجماعۃ مطبوعہ کلکتہ انڈیا ص۳۶
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۰۹
بحوالہ الغنیۃ المنیۃ باب فی الجماعۃ مطبوعہ کلکتہ انڈیا ص۳۶
ردالمحتار صدرواجبات میں ہے:
الجماعۃ واجب کما فی البحر وصرحوابفسق تارکھا ۔
راجح قول کے مطابق جماعت واجب ہے یا حکم واجب میں ہے جیسا کہ بحر میں ہےاور مشائخ نے تصریح کی ہے کہ تارك جماعت فاسق ہے۔(ت)
مذہب صحیح ومعتمد پر زکوۃ کا وجوب فوری ہے تو جو اس سال کی زکوۃ نہ دے یہاں تك کہ دوسرا سال گزرجائے گنہگار ہےیونہی قول اصح وارجح پر حج کا وجوبتو جس سال استطاعت ہو اسی سال جائے ورنہ گنہگار ہوگااور اگر زکوۃ یا حج بعد وجو ب بلاعذر صحیح تین سال تك ادا نہ کرے تو فاسق ہے نہ کہ بائیس سال۔تنویر الابصار کتاب الزکوۃ میں ہے:
افتراضھا فوری وعلیہ الفتوی فیاثم بتاخیرھا وترد شہادتہ ۔
زکوۃ کی فرضیت فوری ہوتی ہے اور اسی پر فتوی ہے تاخیر کرنے والا گنہگار ہے اور اس کی گواہی مردود ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی البدائع عن المنتقی بالنون اذا لم یؤد حتی مضی حولان فقد اساء واثم۔
بدائع میں بحوالہ منتقی ہے کہ کسی نے زکوۃ ادا نہیں کی یہاں تك کہ اگلا سال ختم ہو گیا تو براکیا اور گنہگار ہو ا۔(ت)
درمختار کتاب الحج میں ہے:
فرض علی الفور فی العام الاول عند الثانی واصح الروایتین عن الامام ومالك واحمد فیفسق وترد شہادتہ بتاخیرہ ای سنینا لان تاخیرہ صغیرۃ و بارتکابہ مرۃ لایفسق الابالاصراربحر ۔
حج کی فرضیت علی الفور ہوتی ہے اور پہلے ہی سال ادا کرنا چاہئے امام ابویوسف کے نزدیکاور امام ابوحنیفہ سے منقول دو روایتوں میں سے اصح روایت کے مطابق اور امام مالك واحمد کے مطابق چند سال مؤخر کرنے سے فاسق قرار دیا جائے گا اور اس کی شہادت مردود ہوگی کیونکہ تاخیر حج گناہ صغیرہ ہے اس کے مرتکب کو اس پر اصرار کے بغیر فاسق قرار نہیں دیا جائے گابحر۔(ت)
الجماعۃ واجب کما فی البحر وصرحوابفسق تارکھا ۔
راجح قول کے مطابق جماعت واجب ہے یا حکم واجب میں ہے جیسا کہ بحر میں ہےاور مشائخ نے تصریح کی ہے کہ تارك جماعت فاسق ہے۔(ت)
مذہب صحیح ومعتمد پر زکوۃ کا وجوب فوری ہے تو جو اس سال کی زکوۃ نہ دے یہاں تك کہ دوسرا سال گزرجائے گنہگار ہےیونہی قول اصح وارجح پر حج کا وجوبتو جس سال استطاعت ہو اسی سال جائے ورنہ گنہگار ہوگااور اگر زکوۃ یا حج بعد وجو ب بلاعذر صحیح تین سال تك ادا نہ کرے تو فاسق ہے نہ کہ بائیس سال۔تنویر الابصار کتاب الزکوۃ میں ہے:
افتراضھا فوری وعلیہ الفتوی فیاثم بتاخیرھا وترد شہادتہ ۔
زکوۃ کی فرضیت فوری ہوتی ہے اور اسی پر فتوی ہے تاخیر کرنے والا گنہگار ہے اور اس کی گواہی مردود ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی البدائع عن المنتقی بالنون اذا لم یؤد حتی مضی حولان فقد اساء واثم۔
بدائع میں بحوالہ منتقی ہے کہ کسی نے زکوۃ ادا نہیں کی یہاں تك کہ اگلا سال ختم ہو گیا تو براکیا اور گنہگار ہو ا۔(ت)
درمختار کتاب الحج میں ہے:
فرض علی الفور فی العام الاول عند الثانی واصح الروایتین عن الامام ومالك واحمد فیفسق وترد شہادتہ بتاخیرہ ای سنینا لان تاخیرہ صغیرۃ و بارتکابہ مرۃ لایفسق الابالاصراربحر ۔
حج کی فرضیت علی الفور ہوتی ہے اور پہلے ہی سال ادا کرنا چاہئے امام ابویوسف کے نزدیکاور امام ابوحنیفہ سے منقول دو روایتوں میں سے اصح روایت کے مطابق اور امام مالك واحمد کے مطابق چند سال مؤخر کرنے سے فاسق قرار دیا جائے گا اور اس کی شہادت مردود ہوگی کیونکہ تاخیر حج گناہ صغیرہ ہے اس کے مرتکب کو اس پر اصرار کے بغیر فاسق قرار نہیں دیا جائے گابحر۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صفۃ الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۰۷
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۰
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۱۳
درمختار کتاب الحج مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۰۔۱۵۹
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۰
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۱۳
درمختار کتاب الحج مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۰۔۱۵۹
عشر بھی ایك نوع زکوۃ ہے یا کم از کم اس کا حکم حکم زکوۃ ہے اور اسی طرح بعینہ اسی دلیل سے اس کا وجوب بھی فوری اور تین برس تك نہ دینے میں فسق۔ردالمحتار میں ہے:
العشر ذکرہ فی الزکوۃ لانہ منھا قال فی الفتح لاشك انہ زکوۃ حتی یصرف مصارفھا اھ وایدہ الشیخ اسمعیل بانہ یجب فیما لایؤخذ منہ سواہ ولایجامع الزکوۃ بتسمیتہ فی الحدیث صدقۃ واختلافھم فی وجو بہ علی الفور اوالتراخی کما فی الزکوۃ ۔ عشر کو ماتن نے زکوۃ میں ذکرکیا کیونکہ یہ زکوۃ میں سے ہی ہے۔فتح میں کہا کہ بے شك عشر زکوۃ ہے یہاں تك کہ اس کو مصارف زکوۃ پر صرف کیا جاتا ہے اھ اور شیخ اسمعیل نے اس کی تائید کی بایں طور کہ عشر انہی چیزوں میں واجب ہوتا ہے جن میں اس کے سواکچھ نہیں لیا جاتا اور یہ زکوۃ کے ساتھ جمع نہیں ہوتااور حدیث میں عشر کا نام صدقہ رکھنے اور زکوۃ کی طرح اس کے وجوب علی الفور اور وجوب علی التراخی میں فقہاء کے اختلاف سے بھی اس کا زکوۃ ہونا ہی معلوم ہوتا ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
الامر بالصرف الی الفقیر معہ قرینۃ الفور وھی انہ لدفع حاجتہ وھی معجلۃ فمتی لم تجب علی الفور لم یحصل المقصود من الایجاب علی وجہ التمام وتمامہ فی الفتح ۔ عشر کو فقیر پر صرف کرنے کا حکم قرینہ ہے اس کے وجوب علی الفور پرکیونکہ یہ دفع حاجت کےلئے ہے اور حاجت معجل ہے تو اگر اس کا وجوب علی الفور نہ ہو تو اس کے ایجاب کا مقصود پوری طرح حاصل نہیں ہوسکتا اس کی تفصیل فتح میں ہے(ت)
شطرنج اگر ترك جماعت وغیرہ منکرات کی طرف مؤدی یا ان پر مشتمل ہو بالاتفاق حرام ہے اور اس کی عادت مطلقا ممنوع اور بحکم تجربہ ضرور داعی معاصیاور تاش اور اسی طرح گنجفہ بوجہ اشتمال واعزاز تصاویر مطلقا بلاشرط ممنوع وناجائز ہے اور مصروف رہنا فسق۔درمختار میں ہے:
کرہ کل لھولقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کل لھو المسلم حرام الاثلثۃ ہر کھیل مکروہ ہے حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی بنا پر کہ مسلمان کا ہر کھیل حرام
العشر ذکرہ فی الزکوۃ لانہ منھا قال فی الفتح لاشك انہ زکوۃ حتی یصرف مصارفھا اھ وایدہ الشیخ اسمعیل بانہ یجب فیما لایؤخذ منہ سواہ ولایجامع الزکوۃ بتسمیتہ فی الحدیث صدقۃ واختلافھم فی وجو بہ علی الفور اوالتراخی کما فی الزکوۃ ۔ عشر کو ماتن نے زکوۃ میں ذکرکیا کیونکہ یہ زکوۃ میں سے ہی ہے۔فتح میں کہا کہ بے شك عشر زکوۃ ہے یہاں تك کہ اس کو مصارف زکوۃ پر صرف کیا جاتا ہے اھ اور شیخ اسمعیل نے اس کی تائید کی بایں طور کہ عشر انہی چیزوں میں واجب ہوتا ہے جن میں اس کے سواکچھ نہیں لیا جاتا اور یہ زکوۃ کے ساتھ جمع نہیں ہوتااور حدیث میں عشر کا نام صدقہ رکھنے اور زکوۃ کی طرح اس کے وجوب علی الفور اور وجوب علی التراخی میں فقہاء کے اختلاف سے بھی اس کا زکوۃ ہونا ہی معلوم ہوتا ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
الامر بالصرف الی الفقیر معہ قرینۃ الفور وھی انہ لدفع حاجتہ وھی معجلۃ فمتی لم تجب علی الفور لم یحصل المقصود من الایجاب علی وجہ التمام وتمامہ فی الفتح ۔ عشر کو فقیر پر صرف کرنے کا حکم قرینہ ہے اس کے وجوب علی الفور پرکیونکہ یہ دفع حاجت کےلئے ہے اور حاجت معجل ہے تو اگر اس کا وجوب علی الفور نہ ہو تو اس کے ایجاب کا مقصود پوری طرح حاصل نہیں ہوسکتا اس کی تفصیل فتح میں ہے(ت)
شطرنج اگر ترك جماعت وغیرہ منکرات کی طرف مؤدی یا ان پر مشتمل ہو بالاتفاق حرام ہے اور اس کی عادت مطلقا ممنوع اور بحکم تجربہ ضرور داعی معاصیاور تاش اور اسی طرح گنجفہ بوجہ اشتمال واعزاز تصاویر مطلقا بلاشرط ممنوع وناجائز ہے اور مصروف رہنا فسق۔درمختار میں ہے:
کرہ کل لھولقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کل لھو المسلم حرام الاثلثۃ ہر کھیل مکروہ ہے حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی بنا پر کہ مسلمان کا ہر کھیل حرام
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۸€
درمختار کتاب الزکوٰۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۱۔۱۳۰€
درمختار کتاب الزکوٰۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۱۔۱۳۰€
ملا عبتہ اھلہ وتادیبہ لفرسہ ومناضلتہ بقوسہ ۔ ہے سوائے تین کھیلوں کے:اپنی بیوی سے ملاعبت کرنا اور اپنے گھوڑے کی تعلیم وتادیب کرنا اور سبقت کےلئے اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا۔(ت)
رہا وہ شخص کہ اپنے لئے تولیت کی کوشش کرے اگر ثابت ہو کہ یہ کوشش بطمع نفسانی و نیت فاسدہ ہے جب تو ظاہر ہے کہ اسے متولی بناناحرام لان الشرط کونہ امینا والطالب لطمع غیرامین(تولیت کےلئے شرط ہے کہ متولی امین ہو اور حرص وہوا کے لئے تولیت کا مطالبہ کرنے والا غیر امین ہے۔ت)اور ایسا نہیں تو اگر اس کےلئے تولیت ثابت ہے صرف اس کا نفاذچاہتاہے تو کوئی حرج نہیں اگرچہ کسی قدر کوشش کرے کہ یہ کوشش حق کےلئے ہے اور حق کےلئے کوشش حق ہے مثلا واقف نے شرط کی کہ میری اولاد ذکور سے جو لائق ہو متولی ہویہ شخص اس کی اولاد ذکور سے ہے اور جملہ شرائط مذکورہ لیاقت کاجامع ہے تو اس کی کوشش بے جانہیںاور اگر اس کےلئے تولیت ثابت نہیں پھر تحصیل تولیت کےلئے کوشش کرتا ہے تو اسے متولی نہ کرنا چاہئے اگرچہ کیسا ہی لائق ہو۔درمختار میں ہے:
طالب التولیۃ لایولی الاالمشروط لہ النظر لانہ مولی فیرید التنفیذنھر ۔ طالب تولیت کو متولی نہیں بنایا جائے گاسوائے اس کے جس کے لئے تولیت مشروط ہوچکی ہوکیونکہ وہ بسبب شرط کے متولی ہوچکا ہے اور اب اس کی تنفیذ چاہتا ہےنہر۔(ت)
رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انالن نستعمل علی عملنا من ارادہ ۔رواہ احمد و البخاری وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہم ہرگز اپنے دینی کام پر اسے مقرر نہ کریں گے جو خود اس کی خواہش کرے(اس کو امام احمد بخاریابوداؤد اور نسائی نے سیدنا حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
ردالمحتار میں ہے:
رہا وہ شخص کہ اپنے لئے تولیت کی کوشش کرے اگر ثابت ہو کہ یہ کوشش بطمع نفسانی و نیت فاسدہ ہے جب تو ظاہر ہے کہ اسے متولی بناناحرام لان الشرط کونہ امینا والطالب لطمع غیرامین(تولیت کےلئے شرط ہے کہ متولی امین ہو اور حرص وہوا کے لئے تولیت کا مطالبہ کرنے والا غیر امین ہے۔ت)اور ایسا نہیں تو اگر اس کےلئے تولیت ثابت ہے صرف اس کا نفاذچاہتاہے تو کوئی حرج نہیں اگرچہ کسی قدر کوشش کرے کہ یہ کوشش حق کےلئے ہے اور حق کےلئے کوشش حق ہے مثلا واقف نے شرط کی کہ میری اولاد ذکور سے جو لائق ہو متولی ہویہ شخص اس کی اولاد ذکور سے ہے اور جملہ شرائط مذکورہ لیاقت کاجامع ہے تو اس کی کوشش بے جانہیںاور اگر اس کےلئے تولیت ثابت نہیں پھر تحصیل تولیت کےلئے کوشش کرتا ہے تو اسے متولی نہ کرنا چاہئے اگرچہ کیسا ہی لائق ہو۔درمختار میں ہے:
طالب التولیۃ لایولی الاالمشروط لہ النظر لانہ مولی فیرید التنفیذنھر ۔ طالب تولیت کو متولی نہیں بنایا جائے گاسوائے اس کے جس کے لئے تولیت مشروط ہوچکی ہوکیونکہ وہ بسبب شرط کے متولی ہوچکا ہے اور اب اس کی تنفیذ چاہتا ہےنہر۔(ت)
رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انالن نستعمل علی عملنا من ارادہ ۔رواہ احمد و البخاری وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہم ہرگز اپنے دینی کام پر اسے مقرر نہ کریں گے جو خود اس کی خواہش کرے(اس کو امام احمد بخاریابوداؤد اور نسائی نے سیدنا حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۸€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹€
صحیح البخاری کتاب الاجارات باب استیجارالرجل الصالح ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۱€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹€
صحیح البخاری کتاب الاجارات باب استیجارالرجل الصالح ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۱€
طالب التولیۃ لایولی کمن طلب القضاء لایقلد فتح وھل المرادانہ لاینبغی اولایحل استظھر فی البحر الاول تأمل واﷲ تعالی اعلم۔
طالب تولیت کو متولی نہیں بنایا جائے گا جیسا کہ طالب قضاء کا مطالبہ نہیں مانا جاتافتحکیا اس سے مراد یہ ہے کہ مناسب نہیں یہ مراد ہے کہ حلال نہیںبحر میں پہلے قول کو ترجیح دی ہےغور کر۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۵۷: مرسلہ مولوی سلیمان صاحب اکبر آبادی ۲۳ شعبان ۱۳۲۸ھ
زید ایك انجمن اسلامیہ کا سکرٹری ہے اور پیشہ وکالت کرتا ہے اور لوگوں کو سود کی ڈگریاں دلواتا ہے اور خلاف حق مقدمات میں کوشش کرنے سے نہیں بچتا اور اکثر اوقات عقائد سرسید احمد خان کا مداح رہتا ہے ایسا شخص آیا منتظم امور اہل اسلام یعنی سکریٹری انجمن اسلامیہ رہ سکتا ہے یانہیںاور جو اہل اسلام اس کو اپنا سکریٹری بنائیں ان کا کیاحکم
الجواب:
امور بالا سے تو یہ شخص فاسق فاجر ہوتا مگر عقائد کفریہ کافر کا مداح خود کافر ومرتد ہے اور کافر کسی طرح مسلمانوں کے کسی کام کا والی نہیں ہوسکتا۔اللہ عز وجل فرماتا ہے:
" و لن یجعل الله للكفرین على المؤمنین سبیلا(۱۴۱)" ۔
اور ہر گز اﷲ تعالی کافروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا۔(ت)
ان سے استعانت ناجائز ہےرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:انالانستعین بمشرک (بیشك ہم کسی مشرك سے مدد طلب نہیں کرتے۔ت)جو ایسے کی سپردگی میں مسلمانوں کا کام دے اس نے اللہ ورسول اور سب مسلمانوں کی خیانت کی۔حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
من استعمل علی عصابۃ رجلا وفیہم من ھوارضی منہ ﷲ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
طالب تولیت کو متولی نہیں بنایا جائے گا جیسا کہ طالب قضاء کا مطالبہ نہیں مانا جاتافتحکیا اس سے مراد یہ ہے کہ مناسب نہیں یہ مراد ہے کہ حلال نہیںبحر میں پہلے قول کو ترجیح دی ہےغور کر۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۵۷: مرسلہ مولوی سلیمان صاحب اکبر آبادی ۲۳ شعبان ۱۳۲۸ھ
زید ایك انجمن اسلامیہ کا سکرٹری ہے اور پیشہ وکالت کرتا ہے اور لوگوں کو سود کی ڈگریاں دلواتا ہے اور خلاف حق مقدمات میں کوشش کرنے سے نہیں بچتا اور اکثر اوقات عقائد سرسید احمد خان کا مداح رہتا ہے ایسا شخص آیا منتظم امور اہل اسلام یعنی سکریٹری انجمن اسلامیہ رہ سکتا ہے یانہیںاور جو اہل اسلام اس کو اپنا سکریٹری بنائیں ان کا کیاحکم
الجواب:
امور بالا سے تو یہ شخص فاسق فاجر ہوتا مگر عقائد کفریہ کافر کا مداح خود کافر ومرتد ہے اور کافر کسی طرح مسلمانوں کے کسی کام کا والی نہیں ہوسکتا۔اللہ عز وجل فرماتا ہے:
" و لن یجعل الله للكفرین على المؤمنین سبیلا(۱۴۱)" ۔
اور ہر گز اﷲ تعالی کافروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا۔(ت)
ان سے استعانت ناجائز ہےرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:انالانستعین بمشرک (بیشك ہم کسی مشرك سے مدد طلب نہیں کرتے۔ت)جو ایسے کی سپردگی میں مسلمانوں کا کام دے اس نے اللہ ورسول اور سب مسلمانوں کی خیانت کی۔حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
من استعمل علی عصابۃ رجلا وفیہم من ھوارضی منہ ﷲ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۰
القرآن الکریم ۴ /۱۴۱
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹،سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد الاستعانۃ بالمشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸،المصنف لابن ابی شیبہ حدیث۱۵۰۰۹ کتا ب الجہاد ادارۃ القرآن کراچی ۱۲/ ۳۹۵
المستدرک للحاکم کتاب الاحکام الامارۃ اماتہ دارالفکربیروت ۴/ ۹۳۔۹۲
القرآن الکریم ۴ /۱۴۱
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹،سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد الاستعانۃ بالمشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸،المصنف لابن ابی شیبہ حدیث۱۵۰۰۹ کتا ب الجہاد ادارۃ القرآن کراچی ۱۲/ ۳۹۵
المستدرک للحاکم کتاب الاحکام الامارۃ اماتہ دارالفکربیروت ۴/ ۹۳۔۹۲
وسلم اورتمام مومنوں سے خیانت کی۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۵۸: مرسلہ احمد نبی خان از مراد آباد ۲۶شعبان ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك اہل اسلام عادل اور ثقہ نے بلاتحریر وقف نامہ کے ایك جائداد جس کو عرصہ زائد ایك سوسال کا ہوابدون مصارف کے وقف کیا اگرچہ وقف واقف کا کوئی گواہ زندہ نہیں ہے مگر بعد وفات واقف کے تمام مرد عورت عادل وصالح اہل خاندان واقف کے وقتا فوقتا متولی ہوتے رہے کبھی کوئی شخص غیر خاندان کا متولی نہیں ہوا اور باعتبار اس عملدرآمد کے منشائے واقف بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ سوائے اہل خاندان صالح اور عادل کے اور کوئی متولی نہ کیا جائےاب ایك مسماۃ متولیہ اہل خاندان کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے ایك شخص غیر خاندان کے نام ایك وصیت نامہ لکھ دیا ہے کہ بعد میرے وہ متولی کیا جائے اہل خاندان واقف جن میں اکثر مرد صالح اور عادل ہیں یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ شخص جس کو متولی ہونا بیان کیا جاتا ہے فاسق اورغیر خاندان واقف سے ہےاس کو بمقابلہ اہل خاندان صالح کے حق تولیت حسب وصیت حاصل ہے یانہیں
الجواب:
جس وقف کے شرائط واقف معلوم نہ ہوں اور طول مدت کے سبب گواہان مشاہدہ نہ رہے ہوں اس میں عملدرآمد قدیم پر کارروائی کی جائے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
قد صرح فی الذخیرۃ بانہ اذااشتبھت مصارف الوقف ینظر الی المعہود من حالہ فیما سبق من الزمان فیبنی علی ذلك لان الظاہر انھم کانوا یفعلون ذلك علی موافقۃ شرط الواقف وھوالمظنون بحال المسلمین فیعمل علی ذلک ۔
تحقیق ذخیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ اگر مصارف وقف میں اشتباہ ہو تو زمانہ قدیم سے اس وقف میں جاری معلوم کو دیکھا جائے گا اور اسی پر بناء کی جائے گی کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ متولیان سابقہ شرط واقف کے مطابق ہی ایساکرتے ہوں گے اور مسلمانوں کے حال کے بارے میں یہی گمان غالب ہے لہذا اسی پر عمل کیا جائیگا۔(ت)
اسی میں کتاب الوقف للخصاف سے ہے:
اذاوجد شرط الواقف فلاسبیل الی مخالفتہواذافقد عمل بالاستفاضۃ والاستیمارات العامۃ المستمرۃ من تقادم الزمان ۔
جب واقف کی شرط موجود ہوتو اس کی مخالفت کی
مسئلہ۳۵۸: مرسلہ احمد نبی خان از مراد آباد ۲۶شعبان ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك اہل اسلام عادل اور ثقہ نے بلاتحریر وقف نامہ کے ایك جائداد جس کو عرصہ زائد ایك سوسال کا ہوابدون مصارف کے وقف کیا اگرچہ وقف واقف کا کوئی گواہ زندہ نہیں ہے مگر بعد وفات واقف کے تمام مرد عورت عادل وصالح اہل خاندان واقف کے وقتا فوقتا متولی ہوتے رہے کبھی کوئی شخص غیر خاندان کا متولی نہیں ہوا اور باعتبار اس عملدرآمد کے منشائے واقف بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ سوائے اہل خاندان صالح اور عادل کے اور کوئی متولی نہ کیا جائےاب ایك مسماۃ متولیہ اہل خاندان کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے ایك شخص غیر خاندان کے نام ایك وصیت نامہ لکھ دیا ہے کہ بعد میرے وہ متولی کیا جائے اہل خاندان واقف جن میں اکثر مرد صالح اور عادل ہیں یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ شخص جس کو متولی ہونا بیان کیا جاتا ہے فاسق اورغیر خاندان واقف سے ہےاس کو بمقابلہ اہل خاندان صالح کے حق تولیت حسب وصیت حاصل ہے یانہیں
الجواب:
جس وقف کے شرائط واقف معلوم نہ ہوں اور طول مدت کے سبب گواہان مشاہدہ نہ رہے ہوں اس میں عملدرآمد قدیم پر کارروائی کی جائے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
قد صرح فی الذخیرۃ بانہ اذااشتبھت مصارف الوقف ینظر الی المعہود من حالہ فیما سبق من الزمان فیبنی علی ذلك لان الظاہر انھم کانوا یفعلون ذلك علی موافقۃ شرط الواقف وھوالمظنون بحال المسلمین فیعمل علی ذلک ۔
تحقیق ذخیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ اگر مصارف وقف میں اشتباہ ہو تو زمانہ قدیم سے اس وقف میں جاری معلوم کو دیکھا جائے گا اور اسی پر بناء کی جائے گی کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ متولیان سابقہ شرط واقف کے مطابق ہی ایساکرتے ہوں گے اور مسلمانوں کے حال کے بارے میں یہی گمان غالب ہے لہذا اسی پر عمل کیا جائیگا۔(ت)
اسی میں کتاب الوقف للخصاف سے ہے:
اذاوجد شرط الواقف فلاسبیل الی مخالفتہواذافقد عمل بالاستفاضۃ والاستیمارات العامۃ المستمرۃ من تقادم الزمان ۔
جب واقف کی شرط موجود ہوتو اس کی مخالفت کی
حوالہ / References
فتاوی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۳۔۱۲۲
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۲۳
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۲۳
الی مخالفتہواذافقد عمل بالاستفاضۃ والاستیمارات العامۃ المستمرۃ من تقادم الزمان ۔ کوئی راہ نہیں اور اگر شرط واقف مفقود ہو تو قدیم زمانوں سے متولیوں کا جو عملدرآمد اور معمول اس وقف کے بارے میں مشہور ومعروف چلاآرہا ہے اسی پر عمل کیاجائےگا۔(ت)
علاوہ بریں خود حکم شرع ہے کہ جب تك اقربائے واقف میں کوئی شخص لائق تولیت ہو بیگانہ آدمی متولی نہ کیا جائےدرمختار میں ہے:
مادام احد یصلح للتولیۃ من اقارب الواقف لایجعل المتولی من الاجانبلانہ اشفق ومن قصدہ نسبۃ الوقف الیھم ۔ جب تك واقف کے قریبی رشتہ داروں میں کوئی صالح تولیت موجود ہو اجنبیوں میں سے کسی کو متولی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ یہ وقف کے معاملہ میں زیادہ شفیق واقع ہوگا اور اس کا مقصد یہ ہوگا کہ وقف کی نسبت اس کے خاندان کی طرف قائم رہے۔(ت)
پھر اس شخص غیر کا فاسق ہونا سب پر طرہ ہے فسق کے بعد تو خود واقف اگر متولی ہوتو وہ بھی معزول کردیا جائے گا نہ کہ اجنبی فاسق کو متولی کیاجائے۔درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ بالاولی غیرمامون او عاجز او ظھربہ فسق کشرب خمرونحوہفتح ۔ متولی سے ولایت وقف بطور وجوب واپس لی جائیگی اگرچہ خود واقف ہو جبکہ وہ امین نہ ہو یا عاجزہو یا اس سے کوئی فسق شراب نوشی وغیرہ کی مانند ظاہرہو(جب واقف کا حال یہ ہے) تو غیر واقف سے بدرجہ اولی ولایت وقف صورت مذکورہ میں واپس لینا واجب ہوگافتح۔(ت)
لہذا وصیت پر عمل نہیں بلکہ خاندان واقف سے کسی صالح متدین ہوشیار کارگزار کو متولی کیا جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۵۹: مولوی حشمت علی ساکن گڈھیا ۲/رجب المرجب ۱۳۳۱ھ
کیاہندو وغیرہ کفار متولی مسجد وغیرہ اوقاف ہوسکتے ہیں اگر نہیں توعالمگیری کی اس عبارت
علاوہ بریں خود حکم شرع ہے کہ جب تك اقربائے واقف میں کوئی شخص لائق تولیت ہو بیگانہ آدمی متولی نہ کیا جائےدرمختار میں ہے:
مادام احد یصلح للتولیۃ من اقارب الواقف لایجعل المتولی من الاجانبلانہ اشفق ومن قصدہ نسبۃ الوقف الیھم ۔ جب تك واقف کے قریبی رشتہ داروں میں کوئی صالح تولیت موجود ہو اجنبیوں میں سے کسی کو متولی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ یہ وقف کے معاملہ میں زیادہ شفیق واقع ہوگا اور اس کا مقصد یہ ہوگا کہ وقف کی نسبت اس کے خاندان کی طرف قائم رہے۔(ت)
پھر اس شخص غیر کا فاسق ہونا سب پر طرہ ہے فسق کے بعد تو خود واقف اگر متولی ہوتو وہ بھی معزول کردیا جائے گا نہ کہ اجنبی فاسق کو متولی کیاجائے۔درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ بالاولی غیرمامون او عاجز او ظھربہ فسق کشرب خمرونحوہفتح ۔ متولی سے ولایت وقف بطور وجوب واپس لی جائیگی اگرچہ خود واقف ہو جبکہ وہ امین نہ ہو یا عاجزہو یا اس سے کوئی فسق شراب نوشی وغیرہ کی مانند ظاہرہو(جب واقف کا حال یہ ہے) تو غیر واقف سے بدرجہ اولی ولایت وقف صورت مذکورہ میں واپس لینا واجب ہوگافتح۔(ت)
لہذا وصیت پر عمل نہیں بلکہ خاندان واقف سے کسی صالح متدین ہوشیار کارگزار کو متولی کیا جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۵۹: مولوی حشمت علی ساکن گڈھیا ۲/رجب المرجب ۱۳۳۱ھ
کیاہندو وغیرہ کفار متولی مسجد وغیرہ اوقاف ہوسکتے ہیں اگر نہیں توعالمگیری کی اس عبارت
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۲۳€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
ولایشترط الحریۃ والاسلام الخ (اس میں حریت واسلام شرط نہیں الخ۔ت)کا کیا مطلب لیا جائیگا اور ایك ہندو مسجد کا حوض اپنے روپے سے بناناچاہتا ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
فقیر نے یہاں حاشیہ ردالمحتار میں لکھا:
اقول:وباﷲ التوفیق عدم اشتراط للصحۃ لا یستلزم عدم اشتراطہ للحل وقدتقدم فی کتاب الزکوۃ باب العاشر تحریم جعل کافر عاشر ا لان فیہ تعظیمہ وھو حرام وعن شرح السیر الکبیر ان امیر المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہکتب الی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہلاتتخذ احدامن المشرکین کاتباعلی المسلمین قال وبہ ناخذ لقولہ تعالی لا تتخذوابطانۃ من دونکم ویأتی فی الاضحیۃ کرہ ذبح الکتابی وتعلیلہ بانہ لاینبغی ان یستعان بالکافر فی امور الدین وقد صح عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمانا لانستعین بمشرك وقد علم تحریم تولیۃ الخائن وھذاربنا عز وجل یقول”لا یالونکم خبالا”واﷲ الموفق اھ ماکتبت علیہ۔
میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں کہ صحت کے لئے شرط نہ ہونا حل کے لئے شرط نہ ہونے کو مستلزم نہیں اور کتاب الزکوۃ باب العاشر میں گزرچکا ہے کہ کافر کو عاشر مقرر کرنا حرام ہے کیونکہ اسے عاشر بنانے میں اس کی تعظیم ہے اور کافر کی تعظیم حرام ہے سیر کبیر کی شرح سے منقول ہے کہ امیر المومنین(عمر)رضی اللہ تعالی عنہنے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہکو لکھا کہ مسلمانوں کے معاملات کیلئے کسی مشرك کو کاتب مت بنانا اور شارح سیر کبیر نے کہا کہ ہم اسی کو اخذ کرتے ہیں بدلیل اس ارشاد الہی کہ"(اے ایمان والو!)غیروں کو اپنا رازدار مت بناؤ"۔ کتاب الاضحیہ میں آرہا ہے کہ کتابی کا ذبیحہ مکروہ ہے اور اس کی علت یہ بیان کی گئی کہ امور دینیہ میں کافر سے مدد نہیں مانگنی چاہئےاور حضور عليهم الصلوۃ والسلام سے منقول یہ حدیث مرتبہ صحت کو پہنچ چکی ہے کہ بیشك ہم مشرك سے مدد نہیں طلب کرتےاور تحقیق خائن کو متولی بنانے کی حرمت معلوم ہوچکی ہے اور ہمارا رب عز وجل یہ ارشاد فرماتا ہے کہ"وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے"اور اﷲ تعالی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔ردالمحتار پر میراحاشیہ ختم ہوا۔(ت)
اس سے حکم مسئلہ واضح ہوگیا کہ کافر کو متولی کیا جائے تو ہوجائے گا مگر اسے متولی کرناکوئی امردینی
الجواب:
فقیر نے یہاں حاشیہ ردالمحتار میں لکھا:
اقول:وباﷲ التوفیق عدم اشتراط للصحۃ لا یستلزم عدم اشتراطہ للحل وقدتقدم فی کتاب الزکوۃ باب العاشر تحریم جعل کافر عاشر ا لان فیہ تعظیمہ وھو حرام وعن شرح السیر الکبیر ان امیر المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہکتب الی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہلاتتخذ احدامن المشرکین کاتباعلی المسلمین قال وبہ ناخذ لقولہ تعالی لا تتخذوابطانۃ من دونکم ویأتی فی الاضحیۃ کرہ ذبح الکتابی وتعلیلہ بانہ لاینبغی ان یستعان بالکافر فی امور الدین وقد صح عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمانا لانستعین بمشرك وقد علم تحریم تولیۃ الخائن وھذاربنا عز وجل یقول”لا یالونکم خبالا”واﷲ الموفق اھ ماکتبت علیہ۔
میں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں کہ صحت کے لئے شرط نہ ہونا حل کے لئے شرط نہ ہونے کو مستلزم نہیں اور کتاب الزکوۃ باب العاشر میں گزرچکا ہے کہ کافر کو عاشر مقرر کرنا حرام ہے کیونکہ اسے عاشر بنانے میں اس کی تعظیم ہے اور کافر کی تعظیم حرام ہے سیر کبیر کی شرح سے منقول ہے کہ امیر المومنین(عمر)رضی اللہ تعالی عنہنے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہکو لکھا کہ مسلمانوں کے معاملات کیلئے کسی مشرك کو کاتب مت بنانا اور شارح سیر کبیر نے کہا کہ ہم اسی کو اخذ کرتے ہیں بدلیل اس ارشاد الہی کہ"(اے ایمان والو!)غیروں کو اپنا رازدار مت بناؤ"۔ کتاب الاضحیہ میں آرہا ہے کہ کتابی کا ذبیحہ مکروہ ہے اور اس کی علت یہ بیان کی گئی کہ امور دینیہ میں کافر سے مدد نہیں مانگنی چاہئےاور حضور عليهم الصلوۃ والسلام سے منقول یہ حدیث مرتبہ صحت کو پہنچ چکی ہے کہ بیشك ہم مشرك سے مدد نہیں طلب کرتےاور تحقیق خائن کو متولی بنانے کی حرمت معلوم ہوچکی ہے اور ہمارا رب عز وجل یہ ارشاد فرماتا ہے کہ"وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے"اور اﷲ تعالی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔ردالمحتار پر میراحاشیہ ختم ہوا۔(ت)
اس سے حکم مسئلہ واضح ہوگیا کہ کافر کو متولی کیا جائے تو ہوجائے گا مگر اسے متولی کرناکوئی امردینی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الخامس فی ولایۃ الوقف نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۸
جدالممتار علٰی ردالمحتار
جدالممتار علٰی ردالمحتار
اس کو اختیار میں دینا حرام ہے اور اسے معزول کرنا واجبنہ کہ خاص مسجد پر کہ اعظم اوقاف دینیہ ہے
مؤذن گریباں گرفتش کہ ہین سگ ومسجد اے فارغ از عقل ودیں(مؤذن نے اس(بے دین)کا گریبان پکڑا کہ خبردار!کتے اور مسجد کا کیا تعلق اے عقل اور دین نہ رکھنے والے۔ت)
ہندو سے کسی کار دینی میں مدد نہ لی جائے گی وہ اس میں مسجد ومسلمانان پر اپنا احسان سمجھے گا۔اللھم لاتجعل لفاجرعلی یدا (اے اللہ ! مجھ پر کسی فاجر کا احسان مت رکھ۔ت)دعائے ماثورہ ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۰ تا ۳۶۵: ازمراد آباد بتوسط حاجی امیر اللہ صاحب ۱۶/ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)زید ایك مسجد کا جس کی آمدنی مستقل زائد از بیس روپے ماہوار ہے مدت سے متولی ہےمسجد میں قطعی بندوبست نماز کا بغیر صلوۃ جمعہ نہیںجس کا دل چاہا خواہ فاسق معلن ہو یا بے علم اس نے امامت کرلیاور اکثر اوقات نزاع وفساد دربارہ امامت ووقت رہتا ہےمتولی مذکور صراحۃ وکنایۃ ان مکروہات کے انسداد کے واسطے فہمائش منجانب مصلیان ہوئی بھی تو قطعی خیال نہ کیازیادہ سے زیادہ مسجد کے خرچ میں درمیان پانچ یا چھ روپیہ ماہوار کے آتا ہےعلاوہ اس کے مسجد کی خدمت دربارہ صفائی بھی کماحقہ نہیں ہوتی بلکہ پانی سقایہ ونیز اس کا سرما میں گرم ہونا بیشتر چندہ سے ہوتا ہے۔پس ایسی حالت میں متولی مذکور قابل رہنے کے ہے یانہیں
(۲)مسجد کی آمدنی کا روپیہ کس شخص کوخواہ متولی ہو یا دیگر اپنے خرچ میں لانا جائزہے یانہیں
(۳)جس مسجد کی آمدنی اتنی معقول ہو اس میں اگر دوسرا شخص بطور چندہ یااپنی طرف سے مسجد کی خدمت کرے تو وہ ماجور ہوگا یانہیں اور مسجد اس چندہ کو شرعا قبول کرسکتی ہے یانہیں
(۴)اگر متولی لطائف الحیل سے ضروریات مسجد کو ٹال دے یعنی نماز وامامت اور باوجود ضروریات دین اور نیز فہمائش کے مسجد کی خدمت کماحقہ ادا نہ کرے نہ خود امامت کرے بلکہ دن رات نفسانی ہو اوہوس میں مشغول رہے اور اسی بناء پر امامت سے اعراض کرے تو اس کا کیاحکم ہے و شرع شریف کے نزدیك ایسا متولی قابل رکھنے کے ہے یانہیں
مؤذن گریباں گرفتش کہ ہین سگ ومسجد اے فارغ از عقل ودیں(مؤذن نے اس(بے دین)کا گریبان پکڑا کہ خبردار!کتے اور مسجد کا کیا تعلق اے عقل اور دین نہ رکھنے والے۔ت)
ہندو سے کسی کار دینی میں مدد نہ لی جائے گی وہ اس میں مسجد ومسلمانان پر اپنا احسان سمجھے گا۔اللھم لاتجعل لفاجرعلی یدا (اے اللہ ! مجھ پر کسی فاجر کا احسان مت رکھ۔ت)دعائے ماثورہ ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۰ تا ۳۶۵: ازمراد آباد بتوسط حاجی امیر اللہ صاحب ۱۶/ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)زید ایك مسجد کا جس کی آمدنی مستقل زائد از بیس روپے ماہوار ہے مدت سے متولی ہےمسجد میں قطعی بندوبست نماز کا بغیر صلوۃ جمعہ نہیںجس کا دل چاہا خواہ فاسق معلن ہو یا بے علم اس نے امامت کرلیاور اکثر اوقات نزاع وفساد دربارہ امامت ووقت رہتا ہےمتولی مذکور صراحۃ وکنایۃ ان مکروہات کے انسداد کے واسطے فہمائش منجانب مصلیان ہوئی بھی تو قطعی خیال نہ کیازیادہ سے زیادہ مسجد کے خرچ میں درمیان پانچ یا چھ روپیہ ماہوار کے آتا ہےعلاوہ اس کے مسجد کی خدمت دربارہ صفائی بھی کماحقہ نہیں ہوتی بلکہ پانی سقایہ ونیز اس کا سرما میں گرم ہونا بیشتر چندہ سے ہوتا ہے۔پس ایسی حالت میں متولی مذکور قابل رہنے کے ہے یانہیں
(۲)مسجد کی آمدنی کا روپیہ کس شخص کوخواہ متولی ہو یا دیگر اپنے خرچ میں لانا جائزہے یانہیں
(۳)جس مسجد کی آمدنی اتنی معقول ہو اس میں اگر دوسرا شخص بطور چندہ یااپنی طرف سے مسجد کی خدمت کرے تو وہ ماجور ہوگا یانہیں اور مسجد اس چندہ کو شرعا قبول کرسکتی ہے یانہیں
(۴)اگر متولی لطائف الحیل سے ضروریات مسجد کو ٹال دے یعنی نماز وامامت اور باوجود ضروریات دین اور نیز فہمائش کے مسجد کی خدمت کماحقہ ادا نہ کرے نہ خود امامت کرے بلکہ دن رات نفسانی ہو اوہوس میں مشغول رہے اور اسی بناء پر امامت سے اعراض کرے تو اس کا کیاحکم ہے و شرع شریف کے نزدیك ایسا متولی قابل رکھنے کے ہے یانہیں
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین کتاب المحبۃ بیان حقیقۃ المحبۃ الخ دارالفکر بیروت ۹/ ۵۵۴
(۵)محض خالصا لوجہ اللہ والناس جواب ہونا چاہئے انہیں صورتوں میں جب کہ امام مقتدیوں سے ضروریات شرعیہ میں ہر طرح سے کم ہے اور پھر بھی امام بنا ہے تو علاوہ نماز خراب ہونے کے متولی بھی اس گناہ میں ماخوذ ہوگا یانہیںاور اول مقتدیوں کی نماز جو اس امام سے علم وفضل میں زائد ہیں کس درجہ تك ناقص ہوگی یا قطعی نہ ہوگی
(۶)اگر کوئی شخص شرارتا وباغوائے متولی قبروں پر مع جوتیاں چڑھتا ہو اور ہانڈی کا دھوونپان کی اگالاستنجا قبروں پر کرتا ہو تاکہ اوروں کو جو اس شرارت سے روکتے ہیں ایذا ہوتو ایسے شخص اور متولی کے واسطے کیا حکم ہے
الجواب:
(۱)جب کہ مسجد کی آمدنی بیس۲۰ روپیہ ماہوار سے زائد ہے اور متولی صرف پانچ چھ روپے خرچ کرتا ہے باقی کا پتا نہیں دیتا اور مسجد کی ضروریات مثل صفائی وغیرہ معطل رہتے ہیں یا چندہ سے ہوتے ہیں تو اسکا ظاہر حال خیانت ہے اگروجہ معقول وحساب صحیح پیش نہ کرے معزول کرنا لازم ہے۔درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ اولی لو غیر مأمون ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
متولی خائن سے ولایت وجوبا واپس لے لی جائیگی اگر وہ خود واقف ہو لہذا غیر واقف سے توبدجہ اولی ولایت واپس لینا واجب ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)مسجد کی آمدنی کو کوئی شخص اپنے ذاتی صرف میں نہیں لاسکتا مگر متولی بقدر اجرت مثل یعنی اتنے کام پر عرف میں کیا ماہوار ہوتا ہے اتنا پاسکتا ہے۔
(۳)پاك مال نیك نیت سے مسجد کی خدمت کرنے والا ضرور ماجور ہے اور مسجد اسے قبول کرسکتی ہے اگرچہ مسجد کی آمدنی کثیرہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)امامت ذمہ متولی لازم نہیں اورہواو ہوس اگر تاحد فسق نہ ہو مانع تولیت نہیں اور ضروری خدمتوں میں تقصیر یا بربنائے عجز ہوگی یا بربنائے بے پروائی دونوں صورتوں میں لائق عزل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)مفضول فاضل کی امامت کرسکتا ہے جب کہ شرائط صحت وجواز امامت کا جامع ہو اس سے فاضل کی نفس نماز میں کوئی نقص آئے گا نہ متولی پر اس کا الزام ہےہاں اگر متولی دیدہ دانستہ افضل
(۶)اگر کوئی شخص شرارتا وباغوائے متولی قبروں پر مع جوتیاں چڑھتا ہو اور ہانڈی کا دھوونپان کی اگالاستنجا قبروں پر کرتا ہو تاکہ اوروں کو جو اس شرارت سے روکتے ہیں ایذا ہوتو ایسے شخص اور متولی کے واسطے کیا حکم ہے
الجواب:
(۱)جب کہ مسجد کی آمدنی بیس۲۰ روپیہ ماہوار سے زائد ہے اور متولی صرف پانچ چھ روپے خرچ کرتا ہے باقی کا پتا نہیں دیتا اور مسجد کی ضروریات مثل صفائی وغیرہ معطل رہتے ہیں یا چندہ سے ہوتے ہیں تو اسکا ظاہر حال خیانت ہے اگروجہ معقول وحساب صحیح پیش نہ کرے معزول کرنا لازم ہے۔درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ اولی لو غیر مأمون ۔ واﷲ تعالی اعلم۔
متولی خائن سے ولایت وجوبا واپس لے لی جائیگی اگر وہ خود واقف ہو لہذا غیر واقف سے توبدجہ اولی ولایت واپس لینا واجب ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)مسجد کی آمدنی کو کوئی شخص اپنے ذاتی صرف میں نہیں لاسکتا مگر متولی بقدر اجرت مثل یعنی اتنے کام پر عرف میں کیا ماہوار ہوتا ہے اتنا پاسکتا ہے۔
(۳)پاك مال نیك نیت سے مسجد کی خدمت کرنے والا ضرور ماجور ہے اور مسجد اسے قبول کرسکتی ہے اگرچہ مسجد کی آمدنی کثیرہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)امامت ذمہ متولی لازم نہیں اورہواو ہوس اگر تاحد فسق نہ ہو مانع تولیت نہیں اور ضروری خدمتوں میں تقصیر یا بربنائے عجز ہوگی یا بربنائے بے پروائی دونوں صورتوں میں لائق عزل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)مفضول فاضل کی امامت کرسکتا ہے جب کہ شرائط صحت وجواز امامت کا جامع ہو اس سے فاضل کی نفس نماز میں کوئی نقص آئے گا نہ متولی پر اس کا الزام ہےہاں اگر متولی دیدہ دانستہ افضل
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
کے ہوتے ہوئے مفضول کو امام کرے تو وہ اس حدیث کا مورد ہے کہ:
من استعمل علی عشرۃ من فیھم ارضی منہ ﷲ تعالی فقد خان اﷲ ورسولہ و المؤمنین ۔واﷲ تعالی اعلم۔
جس نے دس شخصوں پر کسی ایسے کو افسر کیا کہ نظر شرع میں اس سے بہتر ان میں موجود تھا تو اس نے اللہ ورسول اور مسلمان سب کی خیانت کی۔
(۶)قبر مسلم کا ادب واجب ہے اس پر استنجا کرنا حرام ہے اس پر اگال یا دھون ڈالنا توہین ہےاس پر بلاضرورت و مجبوری شرعی پاؤں رکھنا ناجائز ہےنہ کہ معاذاللہ اس پر جوتا پہنے چڑھنا۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
لان یجلس احدکم علی جمرۃ فتحرق ثیابہ فتخلص الی جلدہ خیرلہ من ان یجلس علی قبر ۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
بیشك تم میں کسی کا چنگاری پر بیٹھنا کہ وہ اس کے کپڑے جلا کر اس کی کھال تك پہنچ جائے اس کے حق میں قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔(اس کو مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
لان امشی علی جمرۃ او سیف احب الی من ان امشی علی قبر مسلم ۔
بیشك مجھے آگ یا تلوار پر چلنا مسلمانوں کی قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے۔
اس میں بکثر ت احادیث وروایات ہمارے رسالہ اھلاك الوھابیین میں ایسا کرنے والا سب سے سخت عذاب کا مستحق ہے اور متولی کہ ایسے فعل کا اغواکرتا ہے اس سے بھی بدتر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
من استعمل علی عشرۃ من فیھم ارضی منہ ﷲ تعالی فقد خان اﷲ ورسولہ و المؤمنین ۔واﷲ تعالی اعلم۔
جس نے دس شخصوں پر کسی ایسے کو افسر کیا کہ نظر شرع میں اس سے بہتر ان میں موجود تھا تو اس نے اللہ ورسول اور مسلمان سب کی خیانت کی۔
(۶)قبر مسلم کا ادب واجب ہے اس پر استنجا کرنا حرام ہے اس پر اگال یا دھون ڈالنا توہین ہےاس پر بلاضرورت و مجبوری شرعی پاؤں رکھنا ناجائز ہےنہ کہ معاذاللہ اس پر جوتا پہنے چڑھنا۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
لان یجلس احدکم علی جمرۃ فتحرق ثیابہ فتخلص الی جلدہ خیرلہ من ان یجلس علی قبر ۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
بیشك تم میں کسی کا چنگاری پر بیٹھنا کہ وہ اس کے کپڑے جلا کر اس کی کھال تك پہنچ جائے اس کے حق میں قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔(اس کو مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم:
لان امشی علی جمرۃ او سیف احب الی من ان امشی علی قبر مسلم ۔
بیشك مجھے آگ یا تلوار پر چلنا مسلمانوں کی قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے۔
اس میں بکثر ت احادیث وروایات ہمارے رسالہ اھلاك الوھابیین میں ایسا کرنے والا سب سے سخت عذاب کا مستحق ہے اور متولی کہ ایسے فعل کا اغواکرتا ہے اس سے بھی بدتر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ع عن حذیفہ حدیث ۴۱۶۵۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۱۹
کنز العمال میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:ایما رجل استعمل رجلا علی عشرۃ انفس علم ان فی العشرۃ افضل ممن استعمل فقد غشی اﷲ وغشی رسولہ وغشی جماعۃ المسلمین___جبکہ مستدرک حاکم میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:من استعمل رجلا من عصابۃ وفی تلک العصابۃ من ھو ارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ وخان رسولہ وخان المومنین۔ملاحظہ ہو جلد ۴ص۹۲مطبعہ دارالفکر بیروت۔
صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی النہی عن الجلوس علی القبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۲
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۳
رسالہ ہذا(اھلاک الوھابیین)فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن جلد ۹ص۴۲۹پر موجودہے۔
کنز العمال میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:ایما رجل استعمل رجلا علی عشرۃ انفس علم ان فی العشرۃ افضل ممن استعمل فقد غشی اﷲ وغشی رسولہ وغشی جماعۃ المسلمین___جبکہ مستدرک حاکم میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:من استعمل رجلا من عصابۃ وفی تلک العصابۃ من ھو ارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ وخان رسولہ وخان المومنین۔ملاحظہ ہو جلد ۴ص۹۲مطبعہ دارالفکر بیروت۔
صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی النہی عن الجلوس علی القبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۲
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۳
رسالہ ہذا(اھلاک الوھابیین)فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن جلد ۹ص۴۲۹پر موجودہے۔
مسئلہ۳۶۶: از بریلی بہاری پور معماران مسئولہ رحیم بخش صاحب ۵صفر المظفر۱۳۳۲ھ
ایك شخص کی معرفت جو بہت معزز صاحب تھے کام مسجد کے واسطے خشت خریدی گئی اور وہ خشت مسجد کے کام میں آئیروپیہ اسکا جو مسجد کے چندہ کا جمع تھا ان صاحب کو دے دیا گیا۔اس شخص نے روپیہ مالك بھٹہ کو نہیں دیا اپنے پاس صرف کرلیا۔مالك بھٹہ نے نالش مہتمم مسجد پر کردی آخر کارڈ گری مہتمم مسجد پر ہوگئی اور اس کا روپیہ جس قدر تھا وہ مہتمم مسجد نے فی الحال دیا اب مہتمم مسجد وہ روپیہ کس طرح سے وصول کرے اور وہ شخص کہ جس نے روپیہ اپنے پاس صرف کرلیا ہے۔زیادہ حدادب۔
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہوتا ہے کہ نالش کا روپیہ اس نے اپنے مال سے دیا اس کا معاوضہ زر مسجد سے نہیں لے سکتاوہ شخص جس نے روپیہ مار لیااس سے حتی الامکان مسجد کا روپیہ وصول کرے وہ غاصب ہےمرتکب غصب مستحق غضب ہے۔والعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ۳۶۷تا۳۷۴:ازسہسوان ضلع بدایوں مرسلہ مولوی سید پرورش علی صاحب ولد مولوی سید عبدالعزیز صاحب ۷رمضان المبارك ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
(۱)متولی وقف کے مسکن وصندوق سے مال وقف چور ی گیا تاوان لازم یانہیں
(۲)مدرسین وقف کودوچار چھ ماہ کی پیشگی تنخواہ دیناروایا ناروا
(۳)متولی کو مال وقف بطورقرض اپنے صرف میں لانا پھر ادا کرنا روایا نا روا
(۴)مال وقف سے کسی مسلمان کو قرضہ دینا روایا ناروا
(۵)کتب وقف ایك مدرسہ دوسری جگہ مستعار دینا روا یا ناروا
(۶)دو مدرسوں کے متولی کو ایك وقف کا مال دوسرے میں صرف کرنا بطور قرض روایا ناروا اور واقف دونوں وقف کے جدا جدا ہیں۔
(۷)زمین مشترك کا روپیہ ایك شریك وصول کرتا ہے قبل تقسیم اپنے صرف میں لانایاکسی مسلمان کو اس میں سے قرض دینا جائز یانہ
(۸)تعمیر مدرسہ کے واسطے بمشورہ مسلمین قرض لینا روایا ناروا حنفی کی معتمدات سے جواب عنایت ہو مع حوالہ کتاب۔بینوا توجروا۔
ایك شخص کی معرفت جو بہت معزز صاحب تھے کام مسجد کے واسطے خشت خریدی گئی اور وہ خشت مسجد کے کام میں آئیروپیہ اسکا جو مسجد کے چندہ کا جمع تھا ان صاحب کو دے دیا گیا۔اس شخص نے روپیہ مالك بھٹہ کو نہیں دیا اپنے پاس صرف کرلیا۔مالك بھٹہ نے نالش مہتمم مسجد پر کردی آخر کارڈ گری مہتمم مسجد پر ہوگئی اور اس کا روپیہ جس قدر تھا وہ مہتمم مسجد نے فی الحال دیا اب مہتمم مسجد وہ روپیہ کس طرح سے وصول کرے اور وہ شخص کہ جس نے روپیہ اپنے پاس صرف کرلیا ہے۔زیادہ حدادب۔
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہوتا ہے کہ نالش کا روپیہ اس نے اپنے مال سے دیا اس کا معاوضہ زر مسجد سے نہیں لے سکتاوہ شخص جس نے روپیہ مار لیااس سے حتی الامکان مسجد کا روپیہ وصول کرے وہ غاصب ہےمرتکب غصب مستحق غضب ہے۔والعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ۳۶۷تا۳۷۴:ازسہسوان ضلع بدایوں مرسلہ مولوی سید پرورش علی صاحب ولد مولوی سید عبدالعزیز صاحب ۷رمضان المبارك ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
(۱)متولی وقف کے مسکن وصندوق سے مال وقف چور ی گیا تاوان لازم یانہیں
(۲)مدرسین وقف کودوچار چھ ماہ کی پیشگی تنخواہ دیناروایا ناروا
(۳)متولی کو مال وقف بطورقرض اپنے صرف میں لانا پھر ادا کرنا روایا نا روا
(۴)مال وقف سے کسی مسلمان کو قرضہ دینا روایا ناروا
(۵)کتب وقف ایك مدرسہ دوسری جگہ مستعار دینا روا یا ناروا
(۶)دو مدرسوں کے متولی کو ایك وقف کا مال دوسرے میں صرف کرنا بطور قرض روایا ناروا اور واقف دونوں وقف کے جدا جدا ہیں۔
(۷)زمین مشترك کا روپیہ ایك شریك وصول کرتا ہے قبل تقسیم اپنے صرف میں لانایاکسی مسلمان کو اس میں سے قرض دینا جائز یانہ
(۸)تعمیر مدرسہ کے واسطے بمشورہ مسلمین قرض لینا روایا ناروا حنفی کی معتمدات سے جواب عنایت ہو مع حوالہ کتاب۔بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)اگر متولی نے کوئی بے احتیاطی نہ کی تو اس پر تاوان نہیں لانہ کالوصی امین فالقول قولہ بیمین (کیونکہ وہ(متولی)وصی کی طرح امین ہے تو قسم کے ساتھ اس کی بات مان لی جائے گی۔ت)اور اگر بے احتیاطی کی مثلا صندوق کھلا چھوڑدیا غیر محفوظ جگہ رکھا تو اس پرتاوان ہے لان الامین بالتعدی ضمین(کیونکہ تعدی کی وجہ سے امین پر ضمان لازم ہوتا ہے۔ت)
(۲)روانہیں مگر جہاں اجازت واقف یا تعامل قدیم ہو لانہ یحمل علی المعھود من عند الواقف(کیونکہ یہ خود واقف کی طرف سے معہود پر محمول ہوگا۔ت)
(۳)حرام حرام لانہ تعدی علی الوقف والقیم اقیم حافظ لامتلف(کیونکہ یہ وقف پر تعدی ہے حالانکہ متولی کو بطور محافظ مقرر کیا جاتا ہے نہ کہ ضائع کرنے والا۔ت)
(۴)نہلانہ صرف فی غیر المصرف(کیونکہ یہ غیر مصرف میں صرف کرنا ہوا۔ت)
(۵)شر ط واقف کا اتباع کیا جائے گا اگر منع کردیا ناجائز ہےاور اگر یہ شرط کردی کہ کتاب جو عاریۃ لے جانا چاہے اتنا مال اس کے عوض گویا بطور گروی رکھا جائے تو یونہی کیا جائے گا بے اس کی اجازت نہیں اور اگر بلاشرط عاریۃ کی اجازت قوم یا اشخاص خاص کو دی تو انہیں کےلئے اجازت ہوگی اور عام تو عام لقولھم شرط الواقف کنص الشارع والمسألۃ فی الاشباہ والنھر والدرالمختار وردالمحتار وھذاحاصل ماتقرر(بسبب فقہاء کے اس قول کے کہ شرط واقف وجوب عمل میں شارع عليهم الصلوۃ والسلام کی نص کی طرح ہے اور یہ مسئلہ اشباہنہردرمختاراور ردالمحتار میں ہے جو کچھ اس پر وہاں تقریر کی گئی یہ اس کا خلاصہ ہے۔ت)(۶)ناجائز ہے
لان الاقراض تبرع والتبرع اتلاف فی الحال والناظر للنظر لاللاتلاف ومسألۃ اختلاف الواقف اوالجھۃ مذکورۃ فی التنویر والدرودائرۃ فی الاسفار الغر۔
قرض دینا تبرع ہے اور تبرع فی الحال تلف کرنا ہے جبکہ متولی تو حفاظت کے لئے ہوتا ہے نہ کہ تلف کرنے کےلئے اور واقف وجہت وقف کے اختلاف کا مسئلہ تنویردر اور جلیل القدر ضخیم کتابوں میں مذکور ہے۔(ت)
(۱)اگر متولی نے کوئی بے احتیاطی نہ کی تو اس پر تاوان نہیں لانہ کالوصی امین فالقول قولہ بیمین (کیونکہ وہ(متولی)وصی کی طرح امین ہے تو قسم کے ساتھ اس کی بات مان لی جائے گی۔ت)اور اگر بے احتیاطی کی مثلا صندوق کھلا چھوڑدیا غیر محفوظ جگہ رکھا تو اس پرتاوان ہے لان الامین بالتعدی ضمین(کیونکہ تعدی کی وجہ سے امین پر ضمان لازم ہوتا ہے۔ت)
(۲)روانہیں مگر جہاں اجازت واقف یا تعامل قدیم ہو لانہ یحمل علی المعھود من عند الواقف(کیونکہ یہ خود واقف کی طرف سے معہود پر محمول ہوگا۔ت)
(۳)حرام حرام لانہ تعدی علی الوقف والقیم اقیم حافظ لامتلف(کیونکہ یہ وقف پر تعدی ہے حالانکہ متولی کو بطور محافظ مقرر کیا جاتا ہے نہ کہ ضائع کرنے والا۔ت)
(۴)نہلانہ صرف فی غیر المصرف(کیونکہ یہ غیر مصرف میں صرف کرنا ہوا۔ت)
(۵)شر ط واقف کا اتباع کیا جائے گا اگر منع کردیا ناجائز ہےاور اگر یہ شرط کردی کہ کتاب جو عاریۃ لے جانا چاہے اتنا مال اس کے عوض گویا بطور گروی رکھا جائے تو یونہی کیا جائے گا بے اس کی اجازت نہیں اور اگر بلاشرط عاریۃ کی اجازت قوم یا اشخاص خاص کو دی تو انہیں کےلئے اجازت ہوگی اور عام تو عام لقولھم شرط الواقف کنص الشارع والمسألۃ فی الاشباہ والنھر والدرالمختار وردالمحتار وھذاحاصل ماتقرر(بسبب فقہاء کے اس قول کے کہ شرط واقف وجوب عمل میں شارع عليهم الصلوۃ والسلام کی نص کی طرح ہے اور یہ مسئلہ اشباہنہردرمختاراور ردالمحتار میں ہے جو کچھ اس پر وہاں تقریر کی گئی یہ اس کا خلاصہ ہے۔ت)(۶)ناجائز ہے
لان الاقراض تبرع والتبرع اتلاف فی الحال والناظر للنظر لاللاتلاف ومسألۃ اختلاف الواقف اوالجھۃ مذکورۃ فی التنویر والدرودائرۃ فی الاسفار الغر۔
قرض دینا تبرع ہے اور تبرع فی الحال تلف کرنا ہے جبکہ متولی تو حفاظت کے لئے ہوتا ہے نہ کہ تلف کرنے کےلئے اور واقف وجہت وقف کے اختلاف کا مسئلہ تنویردر اور جلیل القدر ضخیم کتابوں میں مذکور ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰،الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۴۳ وکتاب التعریف ۱/ ۳۰۵
(۷)اپنے حق تك صرف کرسکتا ہے۔
(۸)متولی کو وقف پر قرض لینے کی دو شرط سے اجازت ہے ایك یہ کہ امر ضروری ومصالح لابدی وقف کے لئے باذن قاضی شرع قرض لے اگر وہاں قاضی نہ ہو خود لے سکتا ہےد وسرا یہ کہ وہ حاجت سوائے قرض اور کسی سہل طریقہ سے پوری نہ ہوتی ہو مثلا وقف کا کوئی ٹکڑا اجارہ پر دے کر کام نکال لینا۔درمختا رمیں ہے:
لاتجوز الاستدانۃ علی الوقف الااذااحتیج الیھا لمصلحۃ الوقف کتعمیر وشراء بذر فیجوز بشرطین الاول اذن القاضی فلو یبعد منہ یستدین بنفسہ الثانی ان لاتتیسر اجارۃ العین والصرف من اجرتھا و الاستدانۃ القرض والشراء نسیئۃ ۔
وقف پر قرض لینا متولی کو جائز نہیں مگر اس وقت جائز ہے جبکہ اس کی حاجت ہو جیسے وقف کی مرمت یا زمین وقف میں کاشت کے لئے بیج خریدناتو اس صورت میں دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے شرط اول یہ ہے کہ اذن قاضی سے قرض لے اگر قاضی دور ہو تو متولی از خود قرض لے سکتا ہےشرط ثانی یہ ہے کہ عین وقف کو اجارہ پر دینا اور اس کی اجرت سے خرچ کرنا ممکن نہ ہو۔استدانت سے مراد قرض لینا اور شراء سے مرد ادھار پر خریدنا ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
المختار انہ اذالم یکن من الاستدانۃ بد تجوز بامرالقاضی ان لم یکن بعیداعنہامامالہ منہ بد کالصرف علی المستحقین فلا کما فی القنیۃ الاالامام و الخطیب والمؤذن فیما یظھر لقولہ فی جامع الفصولین لضرورۃ مصالح المسجد اھ والا الحصیر والزیت بناء علی القول بانھما من المصالح وھو الراجحھذاخلاصۃ ما اطال فی البحر اھ واﷲ تعالی اعلم۔
مختار یہ ہے کہ اگر قرض کرلینے سے چھٹکارا نہ ہو تو قاضی کی اجازت سے جائز ہے جبکہ قاضی دور نہ ہو لیکن اگر اس سے چھٹکارا ہوسکتا ہے تو جائز نہیں جیسے مستحقین پر خرچ کرنے کے لئے قرض لینا جیسا کہ قنیہ میں ہے۔مگر امامخطیب اور مؤذن پر خرچ کرنے کے لئے قرض لینا جائز ہے جیسا کہ جامع الفصولین کے قول سے ظاہرہے کیونکہ اس میں مسجد کی مصلحت ہے اھ اور اسی طرح مسجد کے لئے چٹائی اور تیل وغیرہ کےلئےقرض لینا بھی جائزاس قول کی بناء پر کہ یہ مصالح مسجد میں سے ہیں اور یہی راجح ہےیہ بحر کی طویل بحث کا خلاصہ ہے اھ واﷲ اعلم(ت)
(۸)متولی کو وقف پر قرض لینے کی دو شرط سے اجازت ہے ایك یہ کہ امر ضروری ومصالح لابدی وقف کے لئے باذن قاضی شرع قرض لے اگر وہاں قاضی نہ ہو خود لے سکتا ہےد وسرا یہ کہ وہ حاجت سوائے قرض اور کسی سہل طریقہ سے پوری نہ ہوتی ہو مثلا وقف کا کوئی ٹکڑا اجارہ پر دے کر کام نکال لینا۔درمختا رمیں ہے:
لاتجوز الاستدانۃ علی الوقف الااذااحتیج الیھا لمصلحۃ الوقف کتعمیر وشراء بذر فیجوز بشرطین الاول اذن القاضی فلو یبعد منہ یستدین بنفسہ الثانی ان لاتتیسر اجارۃ العین والصرف من اجرتھا و الاستدانۃ القرض والشراء نسیئۃ ۔
وقف پر قرض لینا متولی کو جائز نہیں مگر اس وقت جائز ہے جبکہ اس کی حاجت ہو جیسے وقف کی مرمت یا زمین وقف میں کاشت کے لئے بیج خریدناتو اس صورت میں دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے شرط اول یہ ہے کہ اذن قاضی سے قرض لے اگر قاضی دور ہو تو متولی از خود قرض لے سکتا ہےشرط ثانی یہ ہے کہ عین وقف کو اجارہ پر دینا اور اس کی اجرت سے خرچ کرنا ممکن نہ ہو۔استدانت سے مراد قرض لینا اور شراء سے مرد ادھار پر خریدنا ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
المختار انہ اذالم یکن من الاستدانۃ بد تجوز بامرالقاضی ان لم یکن بعیداعنہامامالہ منہ بد کالصرف علی المستحقین فلا کما فی القنیۃ الاالامام و الخطیب والمؤذن فیما یظھر لقولہ فی جامع الفصولین لضرورۃ مصالح المسجد اھ والا الحصیر والزیت بناء علی القول بانھما من المصالح وھو الراجحھذاخلاصۃ ما اطال فی البحر اھ واﷲ تعالی اعلم۔
مختار یہ ہے کہ اگر قرض کرلینے سے چھٹکارا نہ ہو تو قاضی کی اجازت سے جائز ہے جبکہ قاضی دور نہ ہو لیکن اگر اس سے چھٹکارا ہوسکتا ہے تو جائز نہیں جیسے مستحقین پر خرچ کرنے کے لئے قرض لینا جیسا کہ قنیہ میں ہے۔مگر امامخطیب اور مؤذن پر خرچ کرنے کے لئے قرض لینا جائز ہے جیسا کہ جامع الفصولین کے قول سے ظاہرہے کیونکہ اس میں مسجد کی مصلحت ہے اھ اور اسی طرح مسجد کے لئے چٹائی اور تیل وغیرہ کےلئےقرض لینا بھی جائزاس قول کی بناء پر کہ یہ مصالح مسجد میں سے ہیں اور یہی راجح ہےیہ بحر کی طویل بحث کا خلاصہ ہے اھ واﷲ اعلم(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۱
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت۳/ ۴۱۹
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت۳/ ۴۱۹
مسئلہ ۳۷۵: مسئولہ فیض رسول خاں ساکن چاند پور
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ولی حسین خاں نے عرصہ اکتیس سال سے تحریر تولیت نامہ حقیت موضع پر تیت پور پر گنہ نواب گنج محلہ باغ کے قابض کرکے متولی مقرر کردیابعدہ پندرہ برس کے ولی حسین خان فوت ہوئے اس کے بعد کو بھی متولی بدستور پندرہ سال تك اور کام تولیت کا انجام دیتا ہے اور اب تك قابل انجام وہی کام تولیت کے ہے۔اب تقی حسین خاں پسر ولی حسین خاں نے جبر ناجائز دے کر متولی سے دستبرداری لکھائی اور جائداد موقوفہ سے ایك باغ رد کراکر اپنے ملازم سے مشتری باغ ظاہر کرایااور آمدنی خیر کو مصارف ناجائز میں صرف کرنا شروع کیا۔جواب بالا میں متولی سابق برخاست ہوسکتا ہے اور تقی حسین خاں قابل تولیت کے ہوسکتا ہے اور تصرف ناجائز آمدنی خیر میں عنداﷲ وعندالرسول کے کیا احکام ہیں
الجواب:
دستاویز دست برداری ملاحظہ ہوئی وہ دست برداری مطلق نہیں بلکہ بحق تقی حسین خاں ہے اور پیش قاضی بقبول قاضی نہیں بلکہ بطور خود ہے اور مرض الموت متولی میں نہیں بلکہ اس نے اپنی صحت میں کی ہے اور دستاویز وقف ملا حظہ ہوئیاس میں واقف سے متولی کوکوئی اختیار اپنے عزل اور دوسرے کے نصب کا نہیں دیا۔پس دست برداری مذکور محض مردود و باطل ہے اس سے نہ فیض رسول خاں کی تولیت زائل نہ تقی حسین خاں کو اصلا کوئی حق حاصل بلکہ فیض رسول خان بدستور متولی اور تقی حسین خان نرا اجنبی ہے اگرچہ وہ بددیانتی بھی نہ کرے اور بحال بددیانتی جیسا کہ سوال میں مذکور ہے خود واقف بھی اگر متولی ہوتا فورا نکال دیا جاتا نہ کہ دوسرا شخص۔درمختار میں ہے:
اراد المتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ ان کان التفویض لہ بالشرط عاما صح والا لایصح (ملخصا) متولی نے اپنی زندگی میں کسی اور کو اپنی جگہ متولی بنانا چاہا اگرتو اس کو واقف کی طرف شرط کے تحت عام تفویض تولیت کی اجازت حاصل ہے تو صحیح ورنہ نہیں۔(ملخصا)۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
معنی العموم کما فی انفع الوسائل انہ عموم کا معنی جیسا کہ انفع الوسائل میں ہے یہ ہے
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ولی حسین خاں نے عرصہ اکتیس سال سے تحریر تولیت نامہ حقیت موضع پر تیت پور پر گنہ نواب گنج محلہ باغ کے قابض کرکے متولی مقرر کردیابعدہ پندرہ برس کے ولی حسین خان فوت ہوئے اس کے بعد کو بھی متولی بدستور پندرہ سال تك اور کام تولیت کا انجام دیتا ہے اور اب تك قابل انجام وہی کام تولیت کے ہے۔اب تقی حسین خاں پسر ولی حسین خاں نے جبر ناجائز دے کر متولی سے دستبرداری لکھائی اور جائداد موقوفہ سے ایك باغ رد کراکر اپنے ملازم سے مشتری باغ ظاہر کرایااور آمدنی خیر کو مصارف ناجائز میں صرف کرنا شروع کیا۔جواب بالا میں متولی سابق برخاست ہوسکتا ہے اور تقی حسین خاں قابل تولیت کے ہوسکتا ہے اور تصرف ناجائز آمدنی خیر میں عنداﷲ وعندالرسول کے کیا احکام ہیں
الجواب:
دستاویز دست برداری ملاحظہ ہوئی وہ دست برداری مطلق نہیں بلکہ بحق تقی حسین خاں ہے اور پیش قاضی بقبول قاضی نہیں بلکہ بطور خود ہے اور مرض الموت متولی میں نہیں بلکہ اس نے اپنی صحت میں کی ہے اور دستاویز وقف ملا حظہ ہوئیاس میں واقف سے متولی کوکوئی اختیار اپنے عزل اور دوسرے کے نصب کا نہیں دیا۔پس دست برداری مذکور محض مردود و باطل ہے اس سے نہ فیض رسول خاں کی تولیت زائل نہ تقی حسین خاں کو اصلا کوئی حق حاصل بلکہ فیض رسول خان بدستور متولی اور تقی حسین خان نرا اجنبی ہے اگرچہ وہ بددیانتی بھی نہ کرے اور بحال بددیانتی جیسا کہ سوال میں مذکور ہے خود واقف بھی اگر متولی ہوتا فورا نکال دیا جاتا نہ کہ دوسرا شخص۔درمختار میں ہے:
اراد المتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ ان کان التفویض لہ بالشرط عاما صح والا لایصح (ملخصا) متولی نے اپنی زندگی میں کسی اور کو اپنی جگہ متولی بنانا چاہا اگرتو اس کو واقف کی طرف شرط کے تحت عام تفویض تولیت کی اجازت حاصل ہے تو صحیح ورنہ نہیں۔(ملخصا)۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
معنی العموم کما فی انفع الوسائل انہ عموم کا معنی جیسا کہ انفع الوسائل میں ہے یہ ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹€
ولاہ واقامہ مقام نفسہوجعل لہ ان یسندہ الی من شاء ففی ھذہ الصورۃ یجوز التفویض منہ فی حال الحیوۃ ۔ کہ واقف نے اس کو متولی بنایا اور اس کو اپنے قائم مقام کردیا اور اسے اختیار دیا کہ وقف کو جس کی طرف چاہے منسوب کردے تو اس صورت میں اس کو اپنی زندگی میں تفویض تولیت جائز ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
الفراغ مع التقریر من القاضی عزل لاتفویض ویدل علیہ قولہ فی البحر اذاعزل نفسہ عندالقاضی فانہ ینصب غیرہ وبہ ظھران قولہم لایصح اقامۃ المتولی غیرہ مقامہ فی حیاتہ وصحتہ مقید بمااذالم یکن عند القاضیولایرد ان العزل یکفی فیہ مجرد علم القاضی لان الفراغ عزل خاص مشروط فانہ لم یرض بعزل نفسہ الا لتصیر الوظیفۃ لمن نزل لہ عنھا اھ مختصرا۔ متولی کا فارغ ہونا جبکہ قاضی د وسرے کو مقرر کرے عزل ہے تفویض نہیں اسی پر دلالت کرتا ہے بحر میں اس کا قول کہ اگر متولی نے قاضی کے پاس خود کو معزول کرلیا تو قاضی کسی دوسرے کو مقرر کرےاسی سے ظاہر ہوا کہ فقہاء کا یہ قول کہ متولی اپنی زندگی میں حالت صحت میں غیر کو اپنے قائم مقام نہیں کرسکتا مقید ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ قائم مقام کرنا قاضی کے پاس نہ ہو۔اس پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ عزل میں توصرف قاضی کو علم ہونا کافی ہے عدم ورودکی وجہ یہ ہے کہ فراغ ایك خاص مشروط عزل ہے کیونکہ متولی اپنی معزولی پر صرف اس صورت میں رضامند ہواکہ ولایت اسی کی طرف منتقل ہو جس کے لئے اس نے معزولی اختیار کی اھ اختصارا(ت)
درمختا رمیں ہے:
وینزع وجوبا بزازیۃلو الواقف دررفغیرہ بالاولی غیر مامون ۔واﷲ تعالی اعلم۔ خائن متولی سے وجوبا ولایت لے لی جائےگی(بزازیہ)اگر وہ متولی خودواقف ہو(درر)تو خیانت کے سبب غیرواقف سے بدرجہ اولی ولایت لے لینا واجب ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
اسی میں ہے:
الفراغ مع التقریر من القاضی عزل لاتفویض ویدل علیہ قولہ فی البحر اذاعزل نفسہ عندالقاضی فانہ ینصب غیرہ وبہ ظھران قولہم لایصح اقامۃ المتولی غیرہ مقامہ فی حیاتہ وصحتہ مقید بمااذالم یکن عند القاضیولایرد ان العزل یکفی فیہ مجرد علم القاضی لان الفراغ عزل خاص مشروط فانہ لم یرض بعزل نفسہ الا لتصیر الوظیفۃ لمن نزل لہ عنھا اھ مختصرا۔ متولی کا فارغ ہونا جبکہ قاضی د وسرے کو مقرر کرے عزل ہے تفویض نہیں اسی پر دلالت کرتا ہے بحر میں اس کا قول کہ اگر متولی نے قاضی کے پاس خود کو معزول کرلیا تو قاضی کسی دوسرے کو مقرر کرےاسی سے ظاہر ہوا کہ فقہاء کا یہ قول کہ متولی اپنی زندگی میں حالت صحت میں غیر کو اپنے قائم مقام نہیں کرسکتا مقید ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ قائم مقام کرنا قاضی کے پاس نہ ہو۔اس پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ عزل میں توصرف قاضی کو علم ہونا کافی ہے عدم ورودکی وجہ یہ ہے کہ فراغ ایك خاص مشروط عزل ہے کیونکہ متولی اپنی معزولی پر صرف اس صورت میں رضامند ہواکہ ولایت اسی کی طرف منتقل ہو جس کے لئے اس نے معزولی اختیار کی اھ اختصارا(ت)
درمختا رمیں ہے:
وینزع وجوبا بزازیۃلو الواقف دررفغیرہ بالاولی غیر مامون ۔واﷲ تعالی اعلم۔ خائن متولی سے وجوبا ولایت لے لی جائےگی(بزازیہ)اگر وہ متولی خودواقف ہو(درر)تو خیانت کے سبب غیرواقف سے بدرجہ اولی ولایت لے لینا واجب ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۱۲۔۴۱۱€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۱۲۔۴۱۱€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۱۲۔۴۱۱€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
مسئلہ۳۷۶: مسئولہ فیض محمد صاحب محلہ بہادر گنج شاہجہان پور ۳۰شوال۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کی تحویل کاروپیہ رشوت میں صرف کیا جائے اور اپنے تصرف میں لایا جائے تو آیا ایسی صورت میں تحویل رکھنے والا یا مشورت میں شریك ہونے والا شرعا کس تعزیر کا مستوجب ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
کیا شرعی تعزیرات یہاں جاری ہیںکیا کوئی دے سکتا ہے تحویل اس سے نکال لینی واجب ہےاور جو اپنے صرف میں لایا یا خاص کار ضروری مسجدبحالت مجبوری محض کے سوا رشوت میں اٹھایا اس کا تاوان اس پر لازم ہے مسلمان اس سے توبہ لیںنہ مانے تو اس سے میل جول چھوڑدیں ہاں اگر نہ اپنے صرف میں لایانہ اور کوئی تصرف بیجا کیا کسی معاملہ میں مسجد کو ضرر شدید پہنچاتھا اور بے کچھ دئے لئے کسی طرح نجات نہ تھی یوں صرف کیا تو مسجد کا اس پر کچھ الزام نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۷۷: مسئولہ حاجی کریم نور محمد جنرل مرچنٹ اتوار ملوك ناگپور شہرناگپور ۹صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
متولی مسجد کا کون شخص ہوسکتا ہے اور اس کے لئے کیا حقوق خدمات مسجد کے ہیں
الجواب:
متولی مسجد ایك قادر متدین ہونا چاہئے کہ ہوشیاری دیانتداری سے کام کرسکے اوقاف مسجد کا سب نظم ونسق اس کے سپردہوگا نیز مسجد کی نگہداشت غور پر داخت۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۳۷۸: ازسہسوان ضلع بدایوں عبداللطیف مدرس قرآن شریف ۱۲صفر المظفر۱۳۳۴ھ
محمود الاقران نعمان الزمان دامت برکاتہم السلام علیکم وعلی من لدیکممتولی وقف کو مال وقف بطو رقرض اپنے تصرف میں لانا یا کسی مسلمان کو قرض دینا روا یا ناروابینواتوجروا۔
الجواب:
متولی کو روا نہیں کہ مال وقف کسی کو قرض یا بطور قرض اپنے تصرف میں لائے۔
مسئلہ ۳۷۹ تا ۳۸۱: از شہر آگرہ محلہ کھڑکی مسئولہ محمود حسن صاحب امام جامع مسجد سابق یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱)ایك شخص خانقاہ کی سجادگی حاصل کرکے اپنے بھائی کو ہبہ مشاع اس شرط پر کرے کہ موہوب لہ سجادہ نشین رہے اور واہب مسند نشیں اور آمد ہر قسم سرکاری ونذر وفتوح وغیرہ سب بالتنصیف تقسیم رہے اور یہ سلسلہ نسلا بعد نسل چلا جائیگا مگر اس موہوب لہ سجادہ نشین کی اولاد اصل واہب کی اولاد کی منع مسند نشینی کے ساتھ نذر وفتوح وغیرہ کو بالتنصیف نہیں دیتی ہے کیا ایسی حالت میں
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کی تحویل کاروپیہ رشوت میں صرف کیا جائے اور اپنے تصرف میں لایا جائے تو آیا ایسی صورت میں تحویل رکھنے والا یا مشورت میں شریك ہونے والا شرعا کس تعزیر کا مستوجب ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
کیا شرعی تعزیرات یہاں جاری ہیںکیا کوئی دے سکتا ہے تحویل اس سے نکال لینی واجب ہےاور جو اپنے صرف میں لایا یا خاص کار ضروری مسجدبحالت مجبوری محض کے سوا رشوت میں اٹھایا اس کا تاوان اس پر لازم ہے مسلمان اس سے توبہ لیںنہ مانے تو اس سے میل جول چھوڑدیں ہاں اگر نہ اپنے صرف میں لایانہ اور کوئی تصرف بیجا کیا کسی معاملہ میں مسجد کو ضرر شدید پہنچاتھا اور بے کچھ دئے لئے کسی طرح نجات نہ تھی یوں صرف کیا تو مسجد کا اس پر کچھ الزام نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۷۷: مسئولہ حاجی کریم نور محمد جنرل مرچنٹ اتوار ملوك ناگپور شہرناگپور ۹صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
متولی مسجد کا کون شخص ہوسکتا ہے اور اس کے لئے کیا حقوق خدمات مسجد کے ہیں
الجواب:
متولی مسجد ایك قادر متدین ہونا چاہئے کہ ہوشیاری دیانتداری سے کام کرسکے اوقاف مسجد کا سب نظم ونسق اس کے سپردہوگا نیز مسجد کی نگہداشت غور پر داخت۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ۳۷۸: ازسہسوان ضلع بدایوں عبداللطیف مدرس قرآن شریف ۱۲صفر المظفر۱۳۳۴ھ
محمود الاقران نعمان الزمان دامت برکاتہم السلام علیکم وعلی من لدیکممتولی وقف کو مال وقف بطو رقرض اپنے تصرف میں لانا یا کسی مسلمان کو قرض دینا روا یا ناروابینواتوجروا۔
الجواب:
متولی کو روا نہیں کہ مال وقف کسی کو قرض یا بطور قرض اپنے تصرف میں لائے۔
مسئلہ ۳۷۹ تا ۳۸۱: از شہر آگرہ محلہ کھڑکی مسئولہ محمود حسن صاحب امام جامع مسجد سابق یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱)ایك شخص خانقاہ کی سجادگی حاصل کرکے اپنے بھائی کو ہبہ مشاع اس شرط پر کرے کہ موہوب لہ سجادہ نشین رہے اور واہب مسند نشیں اور آمد ہر قسم سرکاری ونذر وفتوح وغیرہ سب بالتنصیف تقسیم رہے اور یہ سلسلہ نسلا بعد نسل چلا جائیگا مگر اس موہوب لہ سجادہ نشین کی اولاد اصل واہب کی اولاد کی منع مسند نشینی کے ساتھ نذر وفتوح وغیرہ کو بالتنصیف نہیں دیتی ہے کیا ایسی حالت میں
واہب موہوب لہ سے شے موہوب واپس لے سکتا ہے
(۲)جو اس سجادگی حاصلہ موہوبہ ومسند نشینی سے پہلے تھے ان کے حقوق وغیرہ معافیات بدستور قائم رہے اس میں کچھ رقم متعلق مرمت خانقاہ رہی موہوب لہ سجادہ نشین نے ان سوابق کوخانقاہ میں آنے اور خدمت کرنے سے منع کرادیا یا کردیا یاایسے اسباب ڈالے جس سے مجبورا ممنوع ہوئے اور مرمت وغیرہ بھی ان کی جانب سے نہ ہونے دی اور نہ کرنے دی اب سوابق مستحقین کے اولاد سے وہ(رقم مرمت جو پاتے رہے ہیں اولاد سجاد ہ نشین(موہوب لہ)لینا چاہتی ہےکیا لے سکتی ہے یانہیںباوجودیکہ وہ لوگ اپنی ذات سے خدمت اور مرمت کرنا چاہتے ہیں۔
(۳)بعدنظر ڈالنے ہر دو قلم یہ بھی دریافت طلب ہے کہ شرعا اس خانقاہ کا اصل راس یا مکھیا کس کو سمجھا جائے اور کون ہے اولاد سوابق مستحقین موہوب لہ کی اولادمسند نشین اصل واہب کی اولاد
الجواب:
نذر وفتوح جو جسے دے اس کی ملك ہیں واہب ہو یا موہوب لہ یا ان میں کسی کی اولادسجادہ نشین یا کسے باشد۔رہا معاہدہ تنصیف وہ ایك وعدہ ہے جس کی وفا پر اصل وعدہ کنندہ بھی حکما مجبور نہ کیا جاتا نہ کہ اس کی اولاد۔فقد نصواعلی انہ لاجبر علی الوفاء بالوعد (مشائخ نے اس پر نص کی ہے وفاء عہد پر جبر نہیں کیا جاتا۔ت)مگر یہاں ایك دقیقہ ہے کہ آگے ظاہر ہوگا بیان سائل سے معلوم ہوا کہ شے موہوب ملك واہب نہ تھی بلکہ جائداد وقف خانقاہ تھی اور سجادہ نشین حسب دستور اس کا متولیاس نے اپنے بھائی کو یہ نصف ہبہ کیا۔ظاہر ہے کہ یہ ہبہ باطل محض ہوا کہ جائداد موقوف اس کی ملك نہ تھی جسے ہبہ کرسکتا اور حق تولیت قابل ہبہ نہیںمتولی اپنی صحت میں دوسرے کو قائم مقام نہیں کرسکتامگراس حالت میں کہ جہت واقف سے اسے اس کا اختیارعام دیا گیا ہو۔درمختار میں ہے:
ارادالمتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی صحتہ ان کان التفویض لہ بالشرط عاما صح والالا۔
متولی نے اپنی زندگی میں حالت صحت میں کسی کو اپنا قائم مقام بنانے کا ارادہ کیااگر واقف کی طرف سے شرط کے سبب سے عام تفویض کاحق حاصل ہے توصحیح ہے ورنہ نہیں(ت)
تو اگر واہب کے لئے اختیار حسب شرط واقف یا تعامل قدیم کی دلیل شرط واقف ہے حاصل نہ تھا تو اس کا
(۲)جو اس سجادگی حاصلہ موہوبہ ومسند نشینی سے پہلے تھے ان کے حقوق وغیرہ معافیات بدستور قائم رہے اس میں کچھ رقم متعلق مرمت خانقاہ رہی موہوب لہ سجادہ نشین نے ان سوابق کوخانقاہ میں آنے اور خدمت کرنے سے منع کرادیا یا کردیا یاایسے اسباب ڈالے جس سے مجبورا ممنوع ہوئے اور مرمت وغیرہ بھی ان کی جانب سے نہ ہونے دی اور نہ کرنے دی اب سوابق مستحقین کے اولاد سے وہ(رقم مرمت جو پاتے رہے ہیں اولاد سجاد ہ نشین(موہوب لہ)لینا چاہتی ہےکیا لے سکتی ہے یانہیںباوجودیکہ وہ لوگ اپنی ذات سے خدمت اور مرمت کرنا چاہتے ہیں۔
(۳)بعدنظر ڈالنے ہر دو قلم یہ بھی دریافت طلب ہے کہ شرعا اس خانقاہ کا اصل راس یا مکھیا کس کو سمجھا جائے اور کون ہے اولاد سوابق مستحقین موہوب لہ کی اولادمسند نشین اصل واہب کی اولاد
الجواب:
نذر وفتوح جو جسے دے اس کی ملك ہیں واہب ہو یا موہوب لہ یا ان میں کسی کی اولادسجادہ نشین یا کسے باشد۔رہا معاہدہ تنصیف وہ ایك وعدہ ہے جس کی وفا پر اصل وعدہ کنندہ بھی حکما مجبور نہ کیا جاتا نہ کہ اس کی اولاد۔فقد نصواعلی انہ لاجبر علی الوفاء بالوعد (مشائخ نے اس پر نص کی ہے وفاء عہد پر جبر نہیں کیا جاتا۔ت)مگر یہاں ایك دقیقہ ہے کہ آگے ظاہر ہوگا بیان سائل سے معلوم ہوا کہ شے موہوب ملك واہب نہ تھی بلکہ جائداد وقف خانقاہ تھی اور سجادہ نشین حسب دستور اس کا متولیاس نے اپنے بھائی کو یہ نصف ہبہ کیا۔ظاہر ہے کہ یہ ہبہ باطل محض ہوا کہ جائداد موقوف اس کی ملك نہ تھی جسے ہبہ کرسکتا اور حق تولیت قابل ہبہ نہیںمتولی اپنی صحت میں دوسرے کو قائم مقام نہیں کرسکتامگراس حالت میں کہ جہت واقف سے اسے اس کا اختیارعام دیا گیا ہو۔درمختار میں ہے:
ارادالمتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی صحتہ ان کان التفویض لہ بالشرط عاما صح والالا۔
متولی نے اپنی زندگی میں حالت صحت میں کسی کو اپنا قائم مقام بنانے کا ارادہ کیااگر واقف کی طرف سے شرط کے سبب سے عام تفویض کاحق حاصل ہے توصحیح ہے ورنہ نہیں(ت)
تو اگر واہب کے لئے اختیار حسب شرط واقف یا تعامل قدیم کی دلیل شرط واقف ہے حاصل نہ تھا تو اس کا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاجارہ الباب السابع فی الاجارۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۲۷
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
اپنے بھائی کو سجادہ نشین کرنا باطل محض ہوا بلکہ وہی واہب بدستور سجادہ نشین رہا
فانہ جعلہ مستقلا لاوکیلا عنہ حتی یجوز ولاینعزل بعزل نفسہ الاعند قاضی الشرع ولاقاضی ثمہ۔ اس لئے کہ اس نے اسے مستقل کیا ہے نہ کہ وکیل حتی کہ جائز ہوتا اور خود کو معزول کرلینے سے معزول نہیں ہوتامگر اس وقت جبکہ قاضی شرع کے پاس ایسا کرے اور یہاں قاضی شرع موجود نہیں(ت)
اس صورت میں جو نذور وفتوح موہوب لہ کو دی جائیں اگر دینے والا خود ا س کی ذات کو دیتے وہ اس کی ملك تھیں اور اگر نذر سجادہ بحیثیت سجادہ نشینی دیتے تو اس کو ان کا لینا جائز نہ تھا کہ وہ واقع میں سجادہ نشین نہ ہوا
ومن اعطی احدابظن وصف ولم یکن فیہ لم یحل لہ اخذہ کما حققہ فی احیاء العلوم وغیرہ۔ اگر کوئی شخص کسی شخص میں کوئی وصف گمان کرکے عطیہ دے اور وہ وصف موہوب لہ میں نہ ہوتو اس کو یہ عطیہ لیناجائز نہیںجیساکہ احیاء العلوم وغیرہ میں اس کی تحقیق کی گئی ہے(ت)
اس صورت میں واپس لینے کے کوئی معنی نہیں کہ وہ دینا ہی صحیح نہ ہوا واپسی تو دینے کے بعد ہے۔ہاں اگر واہب کو حسب شرط واقف اس کا اختیاربھی تھا تو بھائی کی شرکت صحیح ہوگئی اور واپسی کا اختیار نہیں مگر یہ کہ واقف نے یہ اختیار بھی دیا ہو۔درمختار میں ہے:
ان کان التفویض لہ عاماصح ولایملك عزلہ الااذاکان الواقف جعل لہ التویض والعزل ۔ اگر اس کو تفویض عام حاصل ہے تو صحیح ہے اوروہ اس کو معزول نہیں کرسکتا سوائے اس کے کہ واقف نے اس متولی کو تفویض وعزل دونوں کا اختیار دیاہو(ت)
(۲)جو بحکم واقف یا حسب عملدرآمد قدیم اوقاف میں کوئی حق شرعی رکھتے تھے وہ بلاوجہ شرعی کسی کے ممنوع کئے ممنوع نہیں ہوسکتے۔بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
استفید من عدم صحۃ عزل الناظر متولی وقف کو بلاجرم معزول کرنے کی عدم صحت
فانہ جعلہ مستقلا لاوکیلا عنہ حتی یجوز ولاینعزل بعزل نفسہ الاعند قاضی الشرع ولاقاضی ثمہ۔ اس لئے کہ اس نے اسے مستقل کیا ہے نہ کہ وکیل حتی کہ جائز ہوتا اور خود کو معزول کرلینے سے معزول نہیں ہوتامگر اس وقت جبکہ قاضی شرع کے پاس ایسا کرے اور یہاں قاضی شرع موجود نہیں(ت)
اس صورت میں جو نذور وفتوح موہوب لہ کو دی جائیں اگر دینے والا خود ا س کی ذات کو دیتے وہ اس کی ملك تھیں اور اگر نذر سجادہ بحیثیت سجادہ نشینی دیتے تو اس کو ان کا لینا جائز نہ تھا کہ وہ واقع میں سجادہ نشین نہ ہوا
ومن اعطی احدابظن وصف ولم یکن فیہ لم یحل لہ اخذہ کما حققہ فی احیاء العلوم وغیرہ۔ اگر کوئی شخص کسی شخص میں کوئی وصف گمان کرکے عطیہ دے اور وہ وصف موہوب لہ میں نہ ہوتو اس کو یہ عطیہ لیناجائز نہیںجیساکہ احیاء العلوم وغیرہ میں اس کی تحقیق کی گئی ہے(ت)
اس صورت میں واپس لینے کے کوئی معنی نہیں کہ وہ دینا ہی صحیح نہ ہوا واپسی تو دینے کے بعد ہے۔ہاں اگر واہب کو حسب شرط واقف اس کا اختیاربھی تھا تو بھائی کی شرکت صحیح ہوگئی اور واپسی کا اختیار نہیں مگر یہ کہ واقف نے یہ اختیار بھی دیا ہو۔درمختار میں ہے:
ان کان التفویض لہ عاماصح ولایملك عزلہ الااذاکان الواقف جعل لہ التویض والعزل ۔ اگر اس کو تفویض عام حاصل ہے تو صحیح ہے اوروہ اس کو معزول نہیں کرسکتا سوائے اس کے کہ واقف نے اس متولی کو تفویض وعزل دونوں کا اختیار دیاہو(ت)
(۲)جو بحکم واقف یا حسب عملدرآمد قدیم اوقاف میں کوئی حق شرعی رکھتے تھے وہ بلاوجہ شرعی کسی کے ممنوع کئے ممنوع نہیں ہوسکتے۔بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
استفید من عدم صحۃ عزل الناظر متولی وقف کو بلاجرم معزول کرنے کی عدم صحت
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب الزہد والفقر ∞۴/ ۲۰۸،€کتاب الحلال والحرام∞۲/ ۱۵۴،€کتاب اسرار الزکوٰۃ∞۱/ ۲۲۳€ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ مصر
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹€
بلاجنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ ۔ سے معلوم ہوا کہ وقف میں کسی صاحب وظیفہ کوجرم اور عدم اہلیت کے بغیر معزول کرنا صحیح نہیں۔(ت)
(۳)مستحقین اپنے اپنے حقوق لینے تك کے مختار ہوتے ہیں اصل و رأس وہی متولی اوقاف ہے جس کا بیان جواب سوال اول میں گزرا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۸۲: مرسلہ نقی احمد صاحب قصبہ سندیلہ ضلع ہردوئی محلہ اشراف ۱۹صفر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل میں:
(۱)زید منتظم وبانی جائداد انجمن اسلامیہ جو کہ منجانب گروہ اسلام قائم ہوئی تھی تھا اور عمرو امین جائداد کاتھا۔
(۲)بکر وغیرہ جو کہ متولی گروہ اسلام تھے پانچ سال کے حساب فہمی کا دعوی زید منتظم وعمرو امین پر کیا اور کاغذات طلب کئے۔
(۳)ہر دو مدعا علیہم نے جواب دیا کہ تم مستحق حساب فہمی نہیں ہو کیونکہ کل جائداد میرے اہتمام وکوشش سے حاصل ہوئی۔
(۴)عدالت سے کاغذات طلب ہوئے عمروامین روپوش ہوگیا اور کاغذات نہیں دئے عدالت نے بہ ثبوت یك طرفہ مدعاعلیہم پر ڈگری کر دی۔
(۵)بعد ڈگری اس ڈگری کی بابت ثالثی ہوئی جس میں زر ڈگری چوتھائی قائم رہا اور زید منتظم نے بوجہ روپوش ہونے عمرو کے کل روپیہ مطابق فیصلہ ثالثی اداکردیا۔
(۶)اب زید منتظم وعمرو امین کا انتقال ہوگیا اور جو کاغذات امین کے قبضہ میں تھے وہ برآمد ہوئے ان کاغذات کی رو سے بمقابلہ اداشدہ رقم کے بہت کم روپیہ مطالبہ مدعیان کا ذمہ منتظم وامین بر آمد ہوتا ہے آیا شرعا بروئے کاغذات بقدرمطالبہ ذمہ منتظم وامین نکلے تو رقم ادا شدہ کے بعد جس قدر باقی رہے ان کے ورثہ سے جب کہ جائداد چھوڑی ہو مدعیان رقم پانے کے شرعا مستحق ہیں یا نہیں اور اسی طرح اگر منتظم نے زائد روپیہ داخل کیا ہو تو شرعا واپس پانے کا حق ورثاء منتظم کوہے یانہیںبینوا توجروا ۔
الجواب:
جس قدر مطالبہ واجبی ثابت ہو اگر اس سے کم ادا ہوتا ہے باقی ان کے ترکہ سے لیاجائے گا اور اگر اول سے زیادہ لے لیا گیا ہے تو جتنا زیادہ ہو انہیں واپس دینا واجب ہے۔
(۳)مستحقین اپنے اپنے حقوق لینے تك کے مختار ہوتے ہیں اصل و رأس وہی متولی اوقاف ہے جس کا بیان جواب سوال اول میں گزرا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۸۲: مرسلہ نقی احمد صاحب قصبہ سندیلہ ضلع ہردوئی محلہ اشراف ۱۹صفر۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل میں:
(۱)زید منتظم وبانی جائداد انجمن اسلامیہ جو کہ منجانب گروہ اسلام قائم ہوئی تھی تھا اور عمرو امین جائداد کاتھا۔
(۲)بکر وغیرہ جو کہ متولی گروہ اسلام تھے پانچ سال کے حساب فہمی کا دعوی زید منتظم وعمرو امین پر کیا اور کاغذات طلب کئے۔
(۳)ہر دو مدعا علیہم نے جواب دیا کہ تم مستحق حساب فہمی نہیں ہو کیونکہ کل جائداد میرے اہتمام وکوشش سے حاصل ہوئی۔
(۴)عدالت سے کاغذات طلب ہوئے عمروامین روپوش ہوگیا اور کاغذات نہیں دئے عدالت نے بہ ثبوت یك طرفہ مدعاعلیہم پر ڈگری کر دی۔
(۵)بعد ڈگری اس ڈگری کی بابت ثالثی ہوئی جس میں زر ڈگری چوتھائی قائم رہا اور زید منتظم نے بوجہ روپوش ہونے عمرو کے کل روپیہ مطابق فیصلہ ثالثی اداکردیا۔
(۶)اب زید منتظم وعمرو امین کا انتقال ہوگیا اور جو کاغذات امین کے قبضہ میں تھے وہ برآمد ہوئے ان کاغذات کی رو سے بمقابلہ اداشدہ رقم کے بہت کم روپیہ مطالبہ مدعیان کا ذمہ منتظم وامین بر آمد ہوتا ہے آیا شرعا بروئے کاغذات بقدرمطالبہ ذمہ منتظم وامین نکلے تو رقم ادا شدہ کے بعد جس قدر باقی رہے ان کے ورثہ سے جب کہ جائداد چھوڑی ہو مدعیان رقم پانے کے شرعا مستحق ہیں یا نہیں اور اسی طرح اگر منتظم نے زائد روپیہ داخل کیا ہو تو شرعا واپس پانے کا حق ورثاء منتظم کوہے یانہیںبینوا توجروا ۔
الجواب:
جس قدر مطالبہ واجبی ثابت ہو اگر اس سے کم ادا ہوتا ہے باقی ان کے ترکہ سے لیاجائے گا اور اگر اول سے زیادہ لے لیا گیا ہے تو جتنا زیادہ ہو انہیں واپس دینا واجب ہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۶€
قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم علی الیدما اخذت حتی تردھا وقال تعالی "و لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل و تدلوا بها الى الحكام لتاكلوا فریقا من اموال الناس" ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا:ہاتھ پر وہ چیز واجب ہے جو اس نے لییہاں تك کہ وہ اس کو اداکردے۔ اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ آپس میں ایك دوسرے کا مال ناجائز طور پر مت کھاؤ اور نہ ان کا مقدمہ حاکموں کے پاس اس لئے لے جاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناحق کھالو۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
من دفع شیئا ظانا انہ علیہ کان لہ ان یستردہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
کسی شخص نے دوسرے کو کوئی شے دی یہ گمان کرتے ہوئے کہ اس کویہ شے دینا مجھ پرلازم ہے تو اس کو واپس لینے کا اختیار ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۳۸۳: مرسلہ حکیم محمد حیات خان صاحب آگرہ کوچہ حکیماں حیات منزل ۱۱ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ منجملہ پانچ متولیان اوقاف کے جو بحیثیت ایك انجمن کے کثرت رائے پر کام کرتے ہوں اگرچہ ایك علانیہ سود کھاتے ہوں اور خلاف منشاء واقف خرچ کئے جانے پر مصر ہوں اس قابل ہیں کہ عندالشرع متولی رہ سکیں۔متذکرہ بالا متولی صاحب کا جو علانیہ سود کھاتے ہیں یہ فعل کہ مسجد جامع وغیرہ میں جوان کے زیر نگرانی ہیں حسب موقع اپنے خرچہ سے عام مسلمانوں کو برف وغیرہ پلواتے ہیں آیا عندالشرع اس قابل ہے کہ دیگر متولیان اسے روکیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ وہ شخص ہر گز متولی رہنے کے قابل نہیں اوراس کا معزول کرنا واجب۔درمختار میں ہے:
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا:ہاتھ پر وہ چیز واجب ہے جو اس نے لییہاں تك کہ وہ اس کو اداکردے۔ اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ آپس میں ایك دوسرے کا مال ناجائز طور پر مت کھاؤ اور نہ ان کا مقدمہ حاکموں کے پاس اس لئے لے جاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناحق کھالو۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
من دفع شیئا ظانا انہ علیہ کان لہ ان یستردہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
کسی شخص نے دوسرے کو کوئی شے دی یہ گمان کرتے ہوئے کہ اس کویہ شے دینا مجھ پرلازم ہے تو اس کو واپس لینے کا اختیار ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۳۸۳: مرسلہ حکیم محمد حیات خان صاحب آگرہ کوچہ حکیماں حیات منزل ۱۱ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ منجملہ پانچ متولیان اوقاف کے جو بحیثیت ایك انجمن کے کثرت رائے پر کام کرتے ہوں اگرچہ ایك علانیہ سود کھاتے ہوں اور خلاف منشاء واقف خرچ کئے جانے پر مصر ہوں اس قابل ہیں کہ عندالشرع متولی رہ سکیں۔متذکرہ بالا متولی صاحب کا جو علانیہ سود کھاتے ہیں یہ فعل کہ مسجد جامع وغیرہ میں جوان کے زیر نگرانی ہیں حسب موقع اپنے خرچہ سے عام مسلمانوں کو برف وغیرہ پلواتے ہیں آیا عندالشرع اس قابل ہے کہ دیگر متولیان اسے روکیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ وہ شخص ہر گز متولی رہنے کے قابل نہیں اوراس کا معزول کرنا واجب۔درمختار میں ہے:
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء ان العاریۃ موداۃ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۵۲
القرآن الکریم ۲ /۱۸۸
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الشرکۃ ۱/ ۹۱ وکتاب الوقف ۱/ ۲۲۷،۲۲۹ وکتاب المداینات ۲/ ۲۴۹ ارگ بازار قندھار افغانستان
القرآن الکریم ۲ /۱۸۸
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الشرکۃ ۱/ ۹۱ وکتاب الوقف ۱/ ۲۲۷،۲۲۹ وکتاب المداینات ۲/ ۲۴۹ ارگ بازار قندھار افغانستان
ینزع وجوبا لوالواقف درر فغیرہ بالاولی غیر مامون ۔
اس کو وجوبا وقف سے نکال دیاجائےگا اگرچہ وہ خود واقف ہی ہو(درر)جبکہ وہ امین نہ ہو توغیر واقف اگر خائن ہو تو بدرجہ اولی اس کو نکال دینا واجب ہوگا۔(ت)
اپنے خرچ سے مسلمانوں کو برف پلانا کوئی امر معیوب نہیں بلکہ نیت حسن ہوتو مستحسن ہے مگر وقف کی آمدنی سے حرام ہے جبکہ شرائط وقف کے تحت میں داخل نہ ہو اور مسجد میں بہ مجمع نہ ہونا چاہئے کہ غل شور کا بھی احتمال ہےاور مسجد میں غیر معتکف کو کھانا پینا بھی نہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۸۴: ازموضع درؤ ضلع نینی تال تحصیل کچھا مسئولہ ثروت یارخاں صاحب ۲۶شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ایك جائداد وقف کے متولی واحد کے انتقال پر تین متولیان بموجب شرط دستاویز وقف پیدا ہوئیں اور دیگر جائداد میں چھ وارث قائم ہوئے مقدمہ داخل خارج وقف پر منجملہ چھ وارثوں کے دو وارثو ں نے جائداد وقف کو متروکہ قرار دیا اور وقف کے خلاف کوشش کی اور منجملہ انہیں چھ۶ وارثوں کے تین وارث جائداد وقف کے متولیان میں سے دو متولیان نے وقف قائم رکھنے کی کوشش کی اور وہ کامیاب ہوئے ایك متولی خاموش رہا جن وارثوں نے کوشش خلاف وقف متروکہ قائم ہونے کےلئے کی تھی وہ دونوں حقیقی بھائی تھے اور ایك بھائی کے لڑکے کی وہ متولیہ جوکہ خاموش رہی وقت داخل خارج وقف مذکور منکوحہ تھی جس سے یہ اندیشہ دو۲ متولیان اورمسلمانان کو تھا اور ہے کہ اگرجائداد وقف متروکہ قرار پائی گئی تو متولیہ خاموش کو یہ نفع ذاتی پہنچے کہ اس کے دونوں خسر جووارث ہیں حصہ دار جائداد وقف میں بن جائیں اور وقف کو نقصان پہنچے کہ اس وجہ سے آئندہ بھی نقصان کاخیال ہے اب دوسرا مقدمہ واسطے نمبرداری برائے تعمیل شرائط وقف چل رہا ہے تو ایسی صورت میں جو کہ اوپر ظاہر کی گئی ہے کون متولیہ نمبردار مقرر ہونے کے لائق ہے اور کون تولیت سے خارج ہونے کے قابل ہے اور وہ شخص جو خاموش متولیہ کی طرف سے سربراہ کار مقرر ہونا چاہتا ہے جو خسر اس کا ہے اور وقف کے خلاف متروکہ قائم ہونے کی کوشش کرچکا ہے سربراہ کار مقرر ہوسکتا ہے یانہیں
الجواب:
جو خلاف وقف کوشش کرچکاوہ ہر گز سربراہ کار نہیں کیا جاسکتا یہاں تك کہ اگر خود متولی یا خود واقف ایسا کرتا واجب تھا کہ فورا نکال دیا جاتا۔درمختار میں ہے:
اس کو وجوبا وقف سے نکال دیاجائےگا اگرچہ وہ خود واقف ہی ہو(درر)جبکہ وہ امین نہ ہو توغیر واقف اگر خائن ہو تو بدرجہ اولی اس کو نکال دینا واجب ہوگا۔(ت)
اپنے خرچ سے مسلمانوں کو برف پلانا کوئی امر معیوب نہیں بلکہ نیت حسن ہوتو مستحسن ہے مگر وقف کی آمدنی سے حرام ہے جبکہ شرائط وقف کے تحت میں داخل نہ ہو اور مسجد میں بہ مجمع نہ ہونا چاہئے کہ غل شور کا بھی احتمال ہےاور مسجد میں غیر معتکف کو کھانا پینا بھی نہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۸۴: ازموضع درؤ ضلع نینی تال تحصیل کچھا مسئولہ ثروت یارخاں صاحب ۲۶شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ایك جائداد وقف کے متولی واحد کے انتقال پر تین متولیان بموجب شرط دستاویز وقف پیدا ہوئیں اور دیگر جائداد میں چھ وارث قائم ہوئے مقدمہ داخل خارج وقف پر منجملہ چھ وارثوں کے دو وارثو ں نے جائداد وقف کو متروکہ قرار دیا اور وقف کے خلاف کوشش کی اور منجملہ انہیں چھ۶ وارثوں کے تین وارث جائداد وقف کے متولیان میں سے دو متولیان نے وقف قائم رکھنے کی کوشش کی اور وہ کامیاب ہوئے ایك متولی خاموش رہا جن وارثوں نے کوشش خلاف وقف متروکہ قائم ہونے کےلئے کی تھی وہ دونوں حقیقی بھائی تھے اور ایك بھائی کے لڑکے کی وہ متولیہ جوکہ خاموش رہی وقت داخل خارج وقف مذکور منکوحہ تھی جس سے یہ اندیشہ دو۲ متولیان اورمسلمانان کو تھا اور ہے کہ اگرجائداد وقف متروکہ قرار پائی گئی تو متولیہ خاموش کو یہ نفع ذاتی پہنچے کہ اس کے دونوں خسر جووارث ہیں حصہ دار جائداد وقف میں بن جائیں اور وقف کو نقصان پہنچے کہ اس وجہ سے آئندہ بھی نقصان کاخیال ہے اب دوسرا مقدمہ واسطے نمبرداری برائے تعمیل شرائط وقف چل رہا ہے تو ایسی صورت میں جو کہ اوپر ظاہر کی گئی ہے کون متولیہ نمبردار مقرر ہونے کے لائق ہے اور کون تولیت سے خارج ہونے کے قابل ہے اور وہ شخص جو خاموش متولیہ کی طرف سے سربراہ کار مقرر ہونا چاہتا ہے جو خسر اس کا ہے اور وقف کے خلاف متروکہ قائم ہونے کی کوشش کرچکا ہے سربراہ کار مقرر ہوسکتا ہے یانہیں
الجواب:
جو خلاف وقف کوشش کرچکاوہ ہر گز سربراہ کار نہیں کیا جاسکتا یہاں تك کہ اگر خود متولی یا خود واقف ایسا کرتا واجب تھا کہ فورا نکال دیا جاتا۔درمختار میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
ینزع وجوبالوالواقف فغیرہ باولی غیر مامون ۔
متولی وقف اگر امین نہ ہو تو اس کو ولایت سے نکال دینا واجب ہے اگرچہ وہ خود واقف ہواگر متولی غیر واقف ہے توبدرجہ اولی نکالنا واجب ہے(ت)
ایك متولیہ کاخاموش رہنا اگرثابت ہو کہ اس نیت فاسدہ سے تھا تو اس کا اخراج بھی واجب ہےہاں اگر بوجہ مجبوری ساکت رہی تو حرج نہیںنمبرداری شرعی مسئلہ نہیںہاں جائز متولیوں سے باہر کوئی شخص نہ ہو۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸۵ تا ۳۸۸: ازجبلپور اومتی کاپل مرسلہ محمد نمیر خاں ۷ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
(۱)زید نے اپنی زمین مسجد کےلئے وقف کردی اور کچھ پتھر بھی برائے تعمیر مسجد دئےزمین اور پتھروں کی قیمت تقریبا ۲۰۰مالہ/ہوں گےاور عمرو نے اپنی ذات خاص سے بالکل مسجد باقاعدہ اور ایك حجرہ بھی تیار کرکے دونوں کو وقف کردیاجس میں غالبا پانچ ہزار روپیہ صرف ہوا ہوگا بعدہ زید کے کہنے سے عمرو نے زید کے نام سے واسطے نگرانی مسجد ایك کاغذرجسٹری شدہ تحریر کردیا اور مسجد تیار ہوئے بارہ برس ہوئے جب سے ہر طرح کے خرچ کا کفیل مثل چراغ تنخواہ امام ومؤذن ورمضان شریف میں حافظ کی خدمت وتقسیم شیرینی اور بھی درمیان میں مسجد کے متعلق جوضرورت ہوا کرتی ہے عمرو صرف اپنی ذات سے صرف کرتا ہے اور عمرو نہایت خلیق پابند صوم وصلوۃ باخدا شخص ہے اور عمرو زید کے افعال سے واقف نہ تھا کیونکہ زید بڑا فتنہ انگیزحاسدغیبت کنندہجماعت میں تفرقہ ڈالنے والا اور مسجد پر اپنی حکومت جتانے والاایك نہ ایك شرارت پیداکرنے والا ہےاس صورت میں متولی کس کو شرع شریف قرار دیتی ہے اور وہ رجسٹری زید کی بموجب شرع شریف کار آمدہے حالانکہ اہل محلہ اور اہل جماعت عمرو کا متولی ہونا پسند کرتی ہیں
(۲)صرف زید کے حکم سے پیش امام ومؤذن مقررہوسکتے ہیں یا برخاست ہوسکتے ہیں یا کل اہل جماعت کی رائے سے
(۳)پیش امام کے موجود ہوتے ہوئے زید شرارتا امامت کرتا ہے زید کے پیچھے نماز درست ہوسکتی ہے
(۴)زید کی امامت درست ہے یانمازی اپنی اپنی نمازبوجہ کراہت دہرالیا کریں
متولی وقف اگر امین نہ ہو تو اس کو ولایت سے نکال دینا واجب ہے اگرچہ وہ خود واقف ہواگر متولی غیر واقف ہے توبدرجہ اولی نکالنا واجب ہے(ت)
ایك متولیہ کاخاموش رہنا اگرثابت ہو کہ اس نیت فاسدہ سے تھا تو اس کا اخراج بھی واجب ہےہاں اگر بوجہ مجبوری ساکت رہی تو حرج نہیںنمبرداری شرعی مسئلہ نہیںہاں جائز متولیوں سے باہر کوئی شخص نہ ہو۔واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸۵ تا ۳۸۸: ازجبلپور اومتی کاپل مرسلہ محمد نمیر خاں ۷ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
(۱)زید نے اپنی زمین مسجد کےلئے وقف کردی اور کچھ پتھر بھی برائے تعمیر مسجد دئےزمین اور پتھروں کی قیمت تقریبا ۲۰۰مالہ/ہوں گےاور عمرو نے اپنی ذات خاص سے بالکل مسجد باقاعدہ اور ایك حجرہ بھی تیار کرکے دونوں کو وقف کردیاجس میں غالبا پانچ ہزار روپیہ صرف ہوا ہوگا بعدہ زید کے کہنے سے عمرو نے زید کے نام سے واسطے نگرانی مسجد ایك کاغذرجسٹری شدہ تحریر کردیا اور مسجد تیار ہوئے بارہ برس ہوئے جب سے ہر طرح کے خرچ کا کفیل مثل چراغ تنخواہ امام ومؤذن ورمضان شریف میں حافظ کی خدمت وتقسیم شیرینی اور بھی درمیان میں مسجد کے متعلق جوضرورت ہوا کرتی ہے عمرو صرف اپنی ذات سے صرف کرتا ہے اور عمرو نہایت خلیق پابند صوم وصلوۃ باخدا شخص ہے اور عمرو زید کے افعال سے واقف نہ تھا کیونکہ زید بڑا فتنہ انگیزحاسدغیبت کنندہجماعت میں تفرقہ ڈالنے والا اور مسجد پر اپنی حکومت جتانے والاایك نہ ایك شرارت پیداکرنے والا ہےاس صورت میں متولی کس کو شرع شریف قرار دیتی ہے اور وہ رجسٹری زید کی بموجب شرع شریف کار آمدہے حالانکہ اہل محلہ اور اہل جماعت عمرو کا متولی ہونا پسند کرتی ہیں
(۲)صرف زید کے حکم سے پیش امام ومؤذن مقررہوسکتے ہیں یا برخاست ہوسکتے ہیں یا کل اہل جماعت کی رائے سے
(۳)پیش امام کے موجود ہوتے ہوئے زید شرارتا امامت کرتا ہے زید کے پیچھے نماز درست ہوسکتی ہے
(۴)زید کی امامت درست ہے یانمازی اپنی اپنی نمازبوجہ کراہت دہرالیا کریں
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
الجواب:
(۱)اگریہ امر واقعی ہے کہ زید فتنہ گرشریرمفرق جماعت ہے تو وہ ہرگز تولیت مسجد کے قابل نہیںاس کا معزول کرنا واجب ہے۔درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا لوالواقف غیر مامون ۔
خائن متولی کو ولایت وقف سے نکال دینا واجب ہے اگرچہ وہ خود واقف ہو۔(ت)
(۲)مؤذن وامام جس کے مقرر کئے شرعاان منصوبوں کے لئے زیادہ لائق ہوں انہیں کو ترجیح ہوگی اور اگر یکساں ہوں تو زید کے مقرر کردہ مرجح ہیں کہ اصل مسجد یعنی زمین اسی کی وقف ہےدرمختارمیں ہے:
البانی للمسجد اولی من القوم بنصب الامام والمؤذن فی المختار الااذاعین القوم اصلح ممن عینہ البانی ۔
مسجد کا بانی مسجد کے امام ومؤذن کی تقرری میں باقی لوگوں کی بنسبت اولی ہے یہی قول مختار ہے مگر جب قوم کا مقرر کیا ہو اامام یامؤذن بانی کے مقرر کئے ہوئے سے افضل اور زیادہ صلاحیت کاحامل ہو تو وہی بہتر ہے۔(ت)
مگر جب کہ مؤذن وامام تنخواہ دار ہیں اور تنخواہ انہیں عمر و دیتا ہے تو استحقاق تنخواہ اسی کو ہوگا جسے عمرو مقرر کرےاس پر لازم ہے کہ اسے پسند کرے جو شرعا زیادہ مناسب ہو اور تنخواہ دار کی برخاستگی بھی عمرو کی رائے پر ہوگیلانہ ھوا لمستاجر فلیس لثالث فسخھا(کیونکہ وہی کرایہ پر لینے والا ہے تو تیسرے شخص کو فسخ اجارہ کا حق نہیں۔ت)
(۳و۴)اگر زید سے علانیہ فسق ثابت ہو تو اس کی امامت اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔
تبیین الحقائق میں ہے:
فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔
فاسق کو امامت کےلئے مقدم کرنے میں اس کی تعـظیم ہے جبکہ شرعا مسلمانوں پر فاسقوں کی توہین واجب ہے(ت)
اوراگرزید میں کوئی وجہ مانع امامت نہیں مگر امام مقرر کردہ اس سے افضل واولی ہے اور اس وجہ سے
(۱)اگریہ امر واقعی ہے کہ زید فتنہ گرشریرمفرق جماعت ہے تو وہ ہرگز تولیت مسجد کے قابل نہیںاس کا معزول کرنا واجب ہے۔درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا لوالواقف غیر مامون ۔
خائن متولی کو ولایت وقف سے نکال دینا واجب ہے اگرچہ وہ خود واقف ہو۔(ت)
(۲)مؤذن وامام جس کے مقرر کئے شرعاان منصوبوں کے لئے زیادہ لائق ہوں انہیں کو ترجیح ہوگی اور اگر یکساں ہوں تو زید کے مقرر کردہ مرجح ہیں کہ اصل مسجد یعنی زمین اسی کی وقف ہےدرمختارمیں ہے:
البانی للمسجد اولی من القوم بنصب الامام والمؤذن فی المختار الااذاعین القوم اصلح ممن عینہ البانی ۔
مسجد کا بانی مسجد کے امام ومؤذن کی تقرری میں باقی لوگوں کی بنسبت اولی ہے یہی قول مختار ہے مگر جب قوم کا مقرر کیا ہو اامام یامؤذن بانی کے مقرر کئے ہوئے سے افضل اور زیادہ صلاحیت کاحامل ہو تو وہی بہتر ہے۔(ت)
مگر جب کہ مؤذن وامام تنخواہ دار ہیں اور تنخواہ انہیں عمر و دیتا ہے تو استحقاق تنخواہ اسی کو ہوگا جسے عمرو مقرر کرےاس پر لازم ہے کہ اسے پسند کرے جو شرعا زیادہ مناسب ہو اور تنخواہ دار کی برخاستگی بھی عمرو کی رائے پر ہوگیلانہ ھوا لمستاجر فلیس لثالث فسخھا(کیونکہ وہی کرایہ پر لینے والا ہے تو تیسرے شخص کو فسخ اجارہ کا حق نہیں۔ت)
(۳و۴)اگر زید سے علانیہ فسق ثابت ہو تو اس کی امامت اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔
تبیین الحقائق میں ہے:
فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔
فاسق کو امامت کےلئے مقدم کرنے میں اس کی تعـظیم ہے جبکہ شرعا مسلمانوں پر فاسقوں کی توہین واجب ہے(ت)
اوراگرزید میں کوئی وجہ مانع امامت نہیں مگر امام مقرر کردہ اس سے افضل واولی ہے اور اس وجہ سے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۱/ ۱۳۴
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۱/ ۱۳۴
اہل جماعت امام کے ہوتے زید کی امامت مکروہ وناپسند رکھتے ہیں تو زید کو جائز نہیں کہ امامت کے لئے تقدم کرے لانہ ممن ام قوما وھم لہ کارھون (کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جس نے کسی قوم کی امامت کی حالانکہ وہ اس کی امامت کو ناپسند جانتے ہیں۔ت)مگر اس صورت میں نمازمیں خلل نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۸۹:ازگنگا جھدی ڈاکخانہ دونی واڑہ تحصیل گوند یا ضلع بھنڈارہ ملك متوسط مرسلہ محمد اسمعیل خان۲۵ربیع الاول۱۳۳۶ھ
متولی مسجد نے مسجد کے پیسہ میں خیانت کی ایسے شخص کو متولی رکھنا جائز ہے یانہیں یا متولی نے جھوٹی شہادت دی تو تولیت اسے دینا جائز ہوگی یانہیں
الجواب:
جس نے جھوٹی شہادت کہی اس میں تو بہت احتمال ہیں کہ واقعی جھوٹی نہ ہو لوگ اسے جھوٹی سمجھیں یا واقع میں جھوٹی ہو مگر شہادت دینے والے نے اپنے نزدیك سچی سمجھ کر دی ہو یا کسی مصلحت اعظم کےلئے کوئی پہلو دار بات کہی ہو یا راستی فتنہ انگیز سے بچنے کےلئے مرتکب ہو اہو یا اس شہادت سے اسے حمایت وقف مقصود ہواسی طرح بہت احتمال نکل سکتے ہیں جن کے باعث وہ معزولی متولی کا سبب نہ ہوگی مگر پہلی بات بالکل صاف ہے جب ا س نے مال وقف میں خیانت کی اس کا معزول کرنا واجب۔درمختارمیں ہے:
ینزع وجوبا لوالواقف درر فغیرہ بالاولی غیر مامون بزازیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
متولی اگر امین نہ ہو تو اس کو ولایت وقف سے نکال دیناواجب ہے اگرچہ وہ خود واقف ہو(درر)لہذا غیر واقف کو بدرجہ اولی نکال دینا واجب ہوگا(بزازیہ)واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۹۰: اجمیر شریف محلہ خادمان چاہ ارٹھ مرسلہ سید امتیاز علی صاحب ۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایك شخص مسمی سید امیر علی متولی درگاہ تھا اور اس کی چار بیبیاں منکوحہ تھیں اول زوجہ اس کے چچا کی دختر تھی اور دوسری پٹھانی اور تیسری کاشت کار قوم چتیہ کی لڑکی چھوٹی قوم سے تھیاول زوجہ سے ایك دختر اور دوسری سے ایك پسر مسمی شریف حسین اور تیسری سے دو دختراناور متولی مذکور کے ایك برادر علاتی پٹھانی بیوی سے ہیں جب کہ متولی مذکورالصد رنے انتقال کیا تو اولاد مندرجہ برادر علاتی کو چھوڑ ا اب برادر علاتی
مسئلہ۳۸۹:ازگنگا جھدی ڈاکخانہ دونی واڑہ تحصیل گوند یا ضلع بھنڈارہ ملك متوسط مرسلہ محمد اسمعیل خان۲۵ربیع الاول۱۳۳۶ھ
متولی مسجد نے مسجد کے پیسہ میں خیانت کی ایسے شخص کو متولی رکھنا جائز ہے یانہیں یا متولی نے جھوٹی شہادت دی تو تولیت اسے دینا جائز ہوگی یانہیں
الجواب:
جس نے جھوٹی شہادت کہی اس میں تو بہت احتمال ہیں کہ واقعی جھوٹی نہ ہو لوگ اسے جھوٹی سمجھیں یا واقع میں جھوٹی ہو مگر شہادت دینے والے نے اپنے نزدیك سچی سمجھ کر دی ہو یا کسی مصلحت اعظم کےلئے کوئی پہلو دار بات کہی ہو یا راستی فتنہ انگیز سے بچنے کےلئے مرتکب ہو اہو یا اس شہادت سے اسے حمایت وقف مقصود ہواسی طرح بہت احتمال نکل سکتے ہیں جن کے باعث وہ معزولی متولی کا سبب نہ ہوگی مگر پہلی بات بالکل صاف ہے جب ا س نے مال وقف میں خیانت کی اس کا معزول کرنا واجب۔درمختارمیں ہے:
ینزع وجوبا لوالواقف درر فغیرہ بالاولی غیر مامون بزازیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔
متولی اگر امین نہ ہو تو اس کو ولایت وقف سے نکال دیناواجب ہے اگرچہ وہ خود واقف ہو(درر)لہذا غیر واقف کو بدرجہ اولی نکال دینا واجب ہوگا(بزازیہ)واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۳۹۰: اجمیر شریف محلہ خادمان چاہ ارٹھ مرسلہ سید امتیاز علی صاحب ۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایك شخص مسمی سید امیر علی متولی درگاہ تھا اور اس کی چار بیبیاں منکوحہ تھیں اول زوجہ اس کے چچا کی دختر تھی اور دوسری پٹھانی اور تیسری کاشت کار قوم چتیہ کی لڑکی چھوٹی قوم سے تھیاول زوجہ سے ایك دختر اور دوسری سے ایك پسر مسمی شریف حسین اور تیسری سے دو دختراناور متولی مذکور کے ایك برادر علاتی پٹھانی بیوی سے ہیں جب کہ متولی مذکورالصد رنے انتقال کیا تو اولاد مندرجہ برادر علاتی کو چھوڑ ا اب برادر علاتی
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۲۱۷۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۲۸۲
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
مسمی نثار احمد بمقابلہ پسر مسمی شریف حسین کے دعویدار ہے کہ میں عہدہ تولیت کا مستحق ہوںاب شرعا لڑکا ہونا چاہئے یا برادربینواتوجروا۔
الجواب:
اگر مال کی کوئی وراثت ہوتو بیٹے کے آگے بھائی محروم ہے مگر وقف کی تولیت کوئی ترکہ نہیںاس میں شرائط واقف پھر عملدرآمد سابق پھر صوابدید مسلمانان پر نظر ہوگی ان کے اعتبار سے جسے ترجیح ہوگی وہی متولی ہو گا بیٹا ہو یا بھائی یا غیر۔ردالمحتار میں ہے:
(من جھلھم) قولھم خبز الاب لابنہ ۔واﷲ تعالی اعلم
ان کی جہالت کی بناء پر ہے ان کا یہ قول کہ باپ کی روٹی بیٹے کی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۹۱ تا ۳۹۸: ازاودے پور میواڑراجپوتانہ دہلی دروازہ مرسلہ سید ضامن علی صاحب ۸ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)ایك شہر میں مسلمانوں نے باتفاق باہمی قومی سرمایہ سے ایك مدرسہ موسومہ مدرسہ حنفیہ تعلیم دینیات جاری کیا اور اس پر انجمن اسلام کی نگرانی قائم کی گئی اور زید کو معمولی اختیاروں کے ساتھ بہ نفاذ ایك دستور العمل مہتمم مدرسہ مقرر کیا۔
(۲)زید نے بظاہر بصلہ حسن کار گزاری تیسرے سال مربیت اور پانچویں سال متولیت کا ادعا حاصل کیا۔
(۳)چھٹے سال بلا استصواب قوم مدرسہ حنفیہ کو مدرسہ نظامیہ سے وابستہ کرکے روداد سالانہ میں بجائے حنفیہ کے نظامیہ لکھنا شروع کیا تا کہ زید کے تعلقات خاندان نظامیہ سے مدرسہ مخصوص سمجھاجائے۔
(۴)اس کے بعد زید نے دستور العمل نظام مدرسہ کی پابندی سے انحراف کرنا شروع کیا اور ارباب انجمن کو یکے بعد دیگرے ممبرانہ حیثیت سے گرانا شروع کیا۔
(۵)نویں دسویں سال اسی قوم کے جذبات مذہی کو بذریعہ تحریر صدمہ پہنچانے لگا یعنی کھلے لفظوں میں یہ لکھ کر اطراف ہندوستان میں شائع کردیا کہ فلاں شہر کے مسلمان کلمہ کی جگہ بتوں کا نام لیتے ہیں سجدہ کی جگہ دہوك دیتے ہیںروزہ نماز کے وہ پابندنہیںنہ ان لوگوں کو خوف خدا ورسول ہےیہ مذہب سے سراسرآزاد ہیںمیں نے ان کے لئے اسلام کی بنیاد کا پتھر رکھا ہے حالانکہ یہ بہتان عظیم ہے اور واقعات سراسراس کے خلاف ہیں۔
الجواب:
اگر مال کی کوئی وراثت ہوتو بیٹے کے آگے بھائی محروم ہے مگر وقف کی تولیت کوئی ترکہ نہیںاس میں شرائط واقف پھر عملدرآمد سابق پھر صوابدید مسلمانان پر نظر ہوگی ان کے اعتبار سے جسے ترجیح ہوگی وہی متولی ہو گا بیٹا ہو یا بھائی یا غیر۔ردالمحتار میں ہے:
(من جھلھم) قولھم خبز الاب لابنہ ۔واﷲ تعالی اعلم
ان کی جہالت کی بناء پر ہے ان کا یہ قول کہ باپ کی روٹی بیٹے کی ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۹۱ تا ۳۹۸: ازاودے پور میواڑراجپوتانہ دہلی دروازہ مرسلہ سید ضامن علی صاحب ۸ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)ایك شہر میں مسلمانوں نے باتفاق باہمی قومی سرمایہ سے ایك مدرسہ موسومہ مدرسہ حنفیہ تعلیم دینیات جاری کیا اور اس پر انجمن اسلام کی نگرانی قائم کی گئی اور زید کو معمولی اختیاروں کے ساتھ بہ نفاذ ایك دستور العمل مہتمم مدرسہ مقرر کیا۔
(۲)زید نے بظاہر بصلہ حسن کار گزاری تیسرے سال مربیت اور پانچویں سال متولیت کا ادعا حاصل کیا۔
(۳)چھٹے سال بلا استصواب قوم مدرسہ حنفیہ کو مدرسہ نظامیہ سے وابستہ کرکے روداد سالانہ میں بجائے حنفیہ کے نظامیہ لکھنا شروع کیا تا کہ زید کے تعلقات خاندان نظامیہ سے مدرسہ مخصوص سمجھاجائے۔
(۴)اس کے بعد زید نے دستور العمل نظام مدرسہ کی پابندی سے انحراف کرنا شروع کیا اور ارباب انجمن کو یکے بعد دیگرے ممبرانہ حیثیت سے گرانا شروع کیا۔
(۵)نویں دسویں سال اسی قوم کے جذبات مذہی کو بذریعہ تحریر صدمہ پہنچانے لگا یعنی کھلے لفظوں میں یہ لکھ کر اطراف ہندوستان میں شائع کردیا کہ فلاں شہر کے مسلمان کلمہ کی جگہ بتوں کا نام لیتے ہیں سجدہ کی جگہ دہوك دیتے ہیںروزہ نماز کے وہ پابندنہیںنہ ان لوگوں کو خوف خدا ورسول ہےیہ مذہب سے سراسرآزاد ہیںمیں نے ان کے لئے اسلام کی بنیاد کا پتھر رکھا ہے حالانکہ یہ بہتان عظیم ہے اور واقعات سراسراس کے خلاف ہیں۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۵
(۶)گیارھویں سال کی روداد میں حسب معمول زید نے لفظ انجمن نہیں لکھا تاکہ بادی النظر میں مدرسہ انجمن کی نگرانی میں نہ سمجھا جائے۔
(۷)تعلیم وتربیت کے اعتبار سے مدرسہ نے کچھ بھی ترقی نہ کی۔
(۸)حالات صدر کومحسوس کرکے جب قوم نے چند اشخاص کو کاروبار مدرسہ میں شریك کرنا چاہا تو زید نے انکارکردیا اور خدمت مہتممی سے علیحدہ کردئے جانے کے بعد زید نے کچہری میں مدرسہ پر قبضہ دلاپانے کا دعوی کیا لہذا واقعات اور حالات حاضرہ کی روسے زید کی نیت سے یہ ثابت ہوچکا کہ جو کچھ وہ کرتا رہا قومی نقطہ نظر کے خلاف کرتا رہا اس کو ترقی تعلیم وخدمت اسلام مد نظر نہ تھی بلکہ اس کو اس پر دہ میں اپنی نام آوری اور مفادذاتی منظور تھاپس زید کی نسبت شریعت حقہ میں کیا حکم ہے
الجواب:
اگر یہ بیان واقعی ہے تو زید حقوق اللہ و حقوق العباد دونوں میں گرفتاراور شریعت مطہرہ کے نزدیك سخت سزا کا سزوار ہے کہ اس نے مسلمانوں پر اتہام رکھے اور ان کی دینی حیثیت سے بدنام کیا اور مدرسہ وقفی کو اپنی ذاتی اغراض کا ذریعہ بنانا چاہا وہ جب ایك دستور العمل کی پابندی سے مشروط کرکے مہتمم کیا گیا تھا اور اس نے بلاوجہ شرعی اس کی پابندی نہ کی مہتممی سے خارج ہوگیا اذا فات الشرط فات المشروط(جب شرط فوت ہوئی تو مشروط فوت ہوگیا۔ت)اور اب کہ اسے اس بارے میں اتنی طمع ہے کہ کچہری میں نالشی ہو کر مدرسہ پر قبضہ کرنا چاہا تو ہر گز اس قابل نہیں کہ مدرسہ میں اس کو دخل دیا جائےدرمختار وغیرہ کتب معتبرہ میں ہے:طالب التولیۃ لایولی (تولیت کا طلبگار کو متولی نہیں بنایا جائے گا۔ت)رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
انالن نستعمل علی عملنا من ارادہ رواہ الائمۃ احمد والبخاری وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔واﷲتعالی اعلم۔
بیشك ہم ہر گز اپنے معاملات کا عامل اس کو نہیں بناتے جو اس کی خواہش رکھتا ہو۔(اس کو امام احمدبخاریابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۷)تعلیم وتربیت کے اعتبار سے مدرسہ نے کچھ بھی ترقی نہ کی۔
(۸)حالات صدر کومحسوس کرکے جب قوم نے چند اشخاص کو کاروبار مدرسہ میں شریك کرنا چاہا تو زید نے انکارکردیا اور خدمت مہتممی سے علیحدہ کردئے جانے کے بعد زید نے کچہری میں مدرسہ پر قبضہ دلاپانے کا دعوی کیا لہذا واقعات اور حالات حاضرہ کی روسے زید کی نیت سے یہ ثابت ہوچکا کہ جو کچھ وہ کرتا رہا قومی نقطہ نظر کے خلاف کرتا رہا اس کو ترقی تعلیم وخدمت اسلام مد نظر نہ تھی بلکہ اس کو اس پر دہ میں اپنی نام آوری اور مفادذاتی منظور تھاپس زید کی نسبت شریعت حقہ میں کیا حکم ہے
الجواب:
اگر یہ بیان واقعی ہے تو زید حقوق اللہ و حقوق العباد دونوں میں گرفتاراور شریعت مطہرہ کے نزدیك سخت سزا کا سزوار ہے کہ اس نے مسلمانوں پر اتہام رکھے اور ان کی دینی حیثیت سے بدنام کیا اور مدرسہ وقفی کو اپنی ذاتی اغراض کا ذریعہ بنانا چاہا وہ جب ایك دستور العمل کی پابندی سے مشروط کرکے مہتمم کیا گیا تھا اور اس نے بلاوجہ شرعی اس کی پابندی نہ کی مہتممی سے خارج ہوگیا اذا فات الشرط فات المشروط(جب شرط فوت ہوئی تو مشروط فوت ہوگیا۔ت)اور اب کہ اسے اس بارے میں اتنی طمع ہے کہ کچہری میں نالشی ہو کر مدرسہ پر قبضہ کرنا چاہا تو ہر گز اس قابل نہیں کہ مدرسہ میں اس کو دخل دیا جائےدرمختار وغیرہ کتب معتبرہ میں ہے:طالب التولیۃ لایولی (تولیت کا طلبگار کو متولی نہیں بنایا جائے گا۔ت)رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
انالن نستعمل علی عملنا من ارادہ رواہ الائمۃ احمد والبخاری وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔واﷲتعالی اعلم۔
بیشك ہم ہر گز اپنے معاملات کا عامل اس کو نہیں بناتے جو اس کی خواہش رکھتا ہو۔(اس کو امام احمدبخاریابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
صحیح البخاری کتاب الاجارۃ باب استیجارالرجل الصالح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۱
صحیح البخاری کتاب الاجارۃ باب استیجارالرجل الصالح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۱
مسئلہ ۳۹۹: از جوناگڑھ محلہ کتبانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمد حسین ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جو شخص تقدیر اور وسیلہ پکڑنے کے خلاف ہو ایسا آزاد شخص حنفیوں کے مدرسہ کا خیر خواہ ہوسکتا ہے یانہیں
الجواب:
تقدیر کا منکر رافضی معتزلی گمراہ ہے اور محبوبان خدا سے توسل کا منکر نجدی وہابی بدراہ ہے جو شخص ایسا ہو اس سے مدرسہ اہلسنت کی خیر خواہی کی کیا امید ہوسکتی ہےنہ اسے مدرسہ پر کسی قسم کا اختیار دیا جائےامیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے اپنے زمانہ خیر میں کہ اسلام کاآفتاب نصف النہار پر تھا اور کفار ہر طرح ذلیل و خوارایك نصرانی کو کہ حساب وسیاق میں طاق تھا اور صوبہ یمن میں ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہاسے محرری پر نوکر رکھنا چاہتے تھے امیر المومنین سے اجازت چاہی منع فرمایا انہوں نے پھر عرضی بھیجیاس پر تحریر فرمایا:مات النصرانیوالسلام (نصرانی ہلاك ہواوالسلام۔ت)غرض کسی طرح اجازت نہ فرمائیتو اس وقت ضعف اسلام میں کسی مخالف عقیدہ کو اختیار دینا کس درجہ مضر ہے کہ بوجہ کلمہ گوئی کافروں سے اس کا ضرر زائد ہوگا پھر اس ز مانہ میں اس کی مغلوبی تھی اور اب مطلق العنانی۔اور وہ ایك محرری کی خدمت تھی اور یہ افسریجب وہ اس وقت میں قبول نہ فرمائی تو یہ اس وقت میں کیونکر مقبول ہوسکتی ہےحدیث میں ہے:
من استعمل علی عشرۃ من فیہم ارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ و المؤمنین ۔جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔
جس نے دس شخصوں پر کسی ایسے کو افسر کیا کہ نظر شرع میں اس سے زیادہ پسندیدہ کوئی دوسرا موجود تھا تو اس نے اللہ ورسول اور مسلمانوں سب کی خیانت کیجل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰۰ تا ۴۰۳:ازبمبئی محلہ شیخ بھائی بلڈنگ کھانڈبازار جوناکولی مرسلہ یوسف عبدالرحمن مروٹھی۲۱ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)متولی مسجد کو یہ حق حاصل ہے کہ امام مسجد کو بغیر کسی عذر شرعی کے خارج کردے۔
جو شخص تقدیر اور وسیلہ پکڑنے کے خلاف ہو ایسا آزاد شخص حنفیوں کے مدرسہ کا خیر خواہ ہوسکتا ہے یانہیں
الجواب:
تقدیر کا منکر رافضی معتزلی گمراہ ہے اور محبوبان خدا سے توسل کا منکر نجدی وہابی بدراہ ہے جو شخص ایسا ہو اس سے مدرسہ اہلسنت کی خیر خواہی کی کیا امید ہوسکتی ہےنہ اسے مدرسہ پر کسی قسم کا اختیار دیا جائےامیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے اپنے زمانہ خیر میں کہ اسلام کاآفتاب نصف النہار پر تھا اور کفار ہر طرح ذلیل و خوارایك نصرانی کو کہ حساب وسیاق میں طاق تھا اور صوبہ یمن میں ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہاسے محرری پر نوکر رکھنا چاہتے تھے امیر المومنین سے اجازت چاہی منع فرمایا انہوں نے پھر عرضی بھیجیاس پر تحریر فرمایا:مات النصرانیوالسلام (نصرانی ہلاك ہواوالسلام۔ت)غرض کسی طرح اجازت نہ فرمائیتو اس وقت ضعف اسلام میں کسی مخالف عقیدہ کو اختیار دینا کس درجہ مضر ہے کہ بوجہ کلمہ گوئی کافروں سے اس کا ضرر زائد ہوگا پھر اس ز مانہ میں اس کی مغلوبی تھی اور اب مطلق العنانی۔اور وہ ایك محرری کی خدمت تھی اور یہ افسریجب وہ اس وقت میں قبول نہ فرمائی تو یہ اس وقت میں کیونکر مقبول ہوسکتی ہےحدیث میں ہے:
من استعمل علی عشرۃ من فیہم ارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ و المؤمنین ۔جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔
جس نے دس شخصوں پر کسی ایسے کو افسر کیا کہ نظر شرع میں اس سے زیادہ پسندیدہ کوئی دوسرا موجود تھا تو اس نے اللہ ورسول اور مسلمانوں سب کی خیانت کیجل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰۰ تا ۴۰۳:ازبمبئی محلہ شیخ بھائی بلڈنگ کھانڈبازار جوناکولی مرسلہ یوسف عبدالرحمن مروٹھی۲۱ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)متولی مسجد کو یہ حق حاصل ہے کہ امام مسجد کو بغیر کسی عذر شرعی کے خارج کردے۔
حوالہ / References
لباب التاویل فی معانی التنزیل(تفسیر الخازن)تحت آیۃ۵/ ۵۱ مصطفی البابی مصر۲/ ۶۳۔۶۲
کنز العمال بحوالہ عن حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۴۱۶۵۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۱۹،المستدرک للحاکم کتاب الاحکام الامامۃ امانۃ دارلفکربیروت ۴/ ۹۳۔۹۲
کنز العمال بحوالہ عن حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۴۱۶۵۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۱۹،المستدرک للحاکم کتاب الاحکام الامامۃ امانۃ دارلفکربیروت ۴/ ۹۳۔۹۲
(۲)امام مسجد نوکر مانا جائیگا یا سردارقوم اور اس کو نمازیوں کی تابعداری کرنا چاہئےیانمازی اس کی تابعداری کریںمثلا اوقات صوم وصلوۃ سے بخوبی واقف ہے وہ برابر لوگوں کو وقت پر افطاری کراتا ہو اور امساك کا حکم کرتا ہو اور نمازوں میں بہت احتیاط اوقات میں کرتا ہو تو قوم اس کو کہے کہ ہم کو فلاں وقت جماعت ملنا چاہئے فلاں وقت اذان ہونا چاہئے اس میں امام کیا ان کی اطاعت کرے یا موافق مسائل شرعی کار بند رہے۔
(۳)نصاری کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی طرف سے مسجد کے متولی بنائے اور ان کو قوانین کا پابند کرے اگرچہ وہ قوانین خلاف مذہب اہلسنت و جماعت واحناف ہوں۔
(۴)اگر نصاری کا مقرر کردہ متولی اپنی نفسانیت سے امام کو اپنا نوکر قرار دے کر نکلوانا چاہے اور قوم ا سکی مخالفت کرے اور مقدمہ کرے اس مقدمہ میں وہ متولی یہ کہے کہ میں مسائل شرعیہ کو مانتا ہوں میں قانون سے اس کو نکلواتا ہوں وہ میرا نوکر ہے یہ جملہ کہ"میں مسائل شرعیہ کو نہیں مانتا"اس وقت کہے جب کہ اس کو مسئلہ بتلایا جائے کہ امام مسجد نوکر نہیں ہے یہ نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہے اور بغیر کسی عذر شرعی کے نہیں جدا ہوسکتا تو اس کے مقابلہ میں یہ لفظ کہے ایسا متولی قابل ہے متولی بننے کے
الجواب:
بغیر عذر شرعی کے امام کو خارج کرنیکا متولی وغیرہ کسی کو حق نہیں۔درمختار میں ہے:
لایجوز عزل صاحب وظیفۃ بغیر جنحۃ ۔
کسی صاحب وظیفہ کو بغیر جرم کے معزول کرنا جائز نہیں۔ (ت)
(۲)امام اگر کسی قوم کا تنخواہ دار ہے تو وہ ان کا نوکر ضرور ہے مگر نہ خدمت گار بلکہ مخدوم جیسے علماء وقضاۃ وسلاطین کہ بیت المال سے وظیفہ پاتے ہیں مگر وہ رعایا کے خدمت گار نہیں ہوسکتے۔ حدیث میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
اجعلواائمتکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم و بین ربکم ۔
اپنے افضلوں کو اپنا امام بناؤ کہ وہ تم میں اور تمہارے رب میں واسطہ عرضداشت ہیں۔
(۳)نصاری کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی طرف سے مسجد کے متولی بنائے اور ان کو قوانین کا پابند کرے اگرچہ وہ قوانین خلاف مذہب اہلسنت و جماعت واحناف ہوں۔
(۴)اگر نصاری کا مقرر کردہ متولی اپنی نفسانیت سے امام کو اپنا نوکر قرار دے کر نکلوانا چاہے اور قوم ا سکی مخالفت کرے اور مقدمہ کرے اس مقدمہ میں وہ متولی یہ کہے کہ میں مسائل شرعیہ کو مانتا ہوں میں قانون سے اس کو نکلواتا ہوں وہ میرا نوکر ہے یہ جملہ کہ"میں مسائل شرعیہ کو نہیں مانتا"اس وقت کہے جب کہ اس کو مسئلہ بتلایا جائے کہ امام مسجد نوکر نہیں ہے یہ نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہے اور بغیر کسی عذر شرعی کے نہیں جدا ہوسکتا تو اس کے مقابلہ میں یہ لفظ کہے ایسا متولی قابل ہے متولی بننے کے
الجواب:
بغیر عذر شرعی کے امام کو خارج کرنیکا متولی وغیرہ کسی کو حق نہیں۔درمختار میں ہے:
لایجوز عزل صاحب وظیفۃ بغیر جنحۃ ۔
کسی صاحب وظیفہ کو بغیر جرم کے معزول کرنا جائز نہیں۔ (ت)
(۲)امام اگر کسی قوم کا تنخواہ دار ہے تو وہ ان کا نوکر ضرور ہے مگر نہ خدمت گار بلکہ مخدوم جیسے علماء وقضاۃ وسلاطین کہ بیت المال سے وظیفہ پاتے ہیں مگر وہ رعایا کے خدمت گار نہیں ہوسکتے۔ حدیث میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
اجعلواائمتکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم و بین ربکم ۔
اپنے افضلوں کو اپنا امام بناؤ کہ وہ تم میں اور تمہارے رب میں واسطہ عرضداشت ہیں۔
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۵۱،ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت۳/ ۳۸۶و۴۱۹
سنن الدار قطنی باب تخفیف القرأۃ لحاجۃ نشر السنۃ ملتان ۲/ ۸۸
سنن الدار قطنی باب تخفیف القرأۃ لحاجۃ نشر السنۃ ملتان ۲/ ۸۸
ہاں بایں معنے امام و علماء وقضاۃ وسلاطین سب خادم ہوسکتے ہیں کہ سید القوم خادمھم قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے یعنی اسے قوم کے آرام و تربیت کی ہر وقت ایسی فکر چاہئے جیسے خادم کو مخدوم کے کام کی۔ امام جب کہ اوقات کا عالم ہے تو امساك و افطار میں اس کے حکم کا اتباع لازم ہےرہی نماز اس کے اوقات میں امام پر تکثیر جماعت کی رعایت لازم ہے جہاں تك کراہت لازم نہ آئے وہ وقت مقرر کرے جس میں اس کے اہل مسجد زیادہ جمع ہوسکیںخود حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب ملاحظہ فرماتے کہ لوگ جمع ہوگئے نماز میں جلدی فرماتےایسا ہی امام کو چاہئے کہ قوم کے واقعی اعذار کا لحاظ رکھے۔ہاں بعض لوگ بلاوجہ ضد کرتے ہوں تو اس کا اعتبار نہیں۔
(۳)قانون میں یہ بات بھی داخل ہے کہ مذہب میں دست اندازی نہ کی جائے گی لہذا امر مذکور فی الحال متوقع نہیں اور اگر واقع ہوتو اس کی باضابطہ چارہ جوئی کی جائے کہ مساجد کے متولی حسب شرط بانی مقرر ہوں وہ نہ رہا ہو تو اسکی اولادورنہ نمازیان مسجد کی صوابدید سےاور یہ کہ امور مسجد میں کسی خلاف مذہب کو دخل دینے سے معاف رکھا جائے۔
(۴)جو شخص مسائل شرعیہ کے مقابلہ میں کہے کہ وہ مسائل شرعیہ کو نہیں مانتا وہ اسلام سے خارج ہوگیااور اسے امور اسلامی میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں رہا اسے تولیت سے جداکرنا لازم ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۰۴: ازدھام پور ضلع بجنور مرسلہ عبدالحفیظ ٹھیکہ دار ۲۱ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جو شخص سود لیتا ہے آیا وہ متولی جائداد موقوفہ ہوسکتا ہے یانہیںاورکسی کو حساب نہ دیتا ہو اور خرچ ضروری مسجد بھی نہ کرتا ہو۔
الجواب:
جب ضروری خرچ مسجد کے نہیں کرتا اور مسجد کی آمدنی کافی ہو اور اس کے سود کھانے سے ظاہر کہ وہ حلال و حرام کی پرواہ نہیں کرتاتوظاہر حال یہی ہے کہ وہ تغلب کرتا ہے تو اس پر اطمینان نہ ہوااور جس متولی پر اطمینان نہ ہو اس کا اخراج واجب ہے۔در مختار میں ہے:
ینزع وجوبا لوالواقف بزازیۃ فغیرہ بالاولی درر غیر مأمون ۔واﷲ تعالی اعلم۔
خائن او رغیرامین متولی کو ولایت وقف سے وجوبانکال دیا جائیگا اگرچہ متولی واقف ہو لہذا غیر واقف اگر خائن ہو تو بدرجہ اولی نکالنا واجب ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۳)قانون میں یہ بات بھی داخل ہے کہ مذہب میں دست اندازی نہ کی جائے گی لہذا امر مذکور فی الحال متوقع نہیں اور اگر واقع ہوتو اس کی باضابطہ چارہ جوئی کی جائے کہ مساجد کے متولی حسب شرط بانی مقرر ہوں وہ نہ رہا ہو تو اسکی اولادورنہ نمازیان مسجد کی صوابدید سےاور یہ کہ امور مسجد میں کسی خلاف مذہب کو دخل دینے سے معاف رکھا جائے۔
(۴)جو شخص مسائل شرعیہ کے مقابلہ میں کہے کہ وہ مسائل شرعیہ کو نہیں مانتا وہ اسلام سے خارج ہوگیااور اسے امور اسلامی میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں رہا اسے تولیت سے جداکرنا لازم ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۰۴: ازدھام پور ضلع بجنور مرسلہ عبدالحفیظ ٹھیکہ دار ۲۱ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جو شخص سود لیتا ہے آیا وہ متولی جائداد موقوفہ ہوسکتا ہے یانہیںاورکسی کو حساب نہ دیتا ہو اور خرچ ضروری مسجد بھی نہ کرتا ہو۔
الجواب:
جب ضروری خرچ مسجد کے نہیں کرتا اور مسجد کی آمدنی کافی ہو اور اس کے سود کھانے سے ظاہر کہ وہ حلال و حرام کی پرواہ نہیں کرتاتوظاہر حال یہی ہے کہ وہ تغلب کرتا ہے تو اس پر اطمینان نہ ہوااور جس متولی پر اطمینان نہ ہو اس کا اخراج واجب ہے۔در مختار میں ہے:
ینزع وجوبا لوالواقف بزازیۃ فغیرہ بالاولی درر غیر مأمون ۔واﷲ تعالی اعلم۔
خائن او رغیرامین متولی کو ولایت وقف سے وجوبانکال دیا جائیگا اگرچہ متولی واقف ہو لہذا غیر واقف اگر خائن ہو تو بدرجہ اولی نکالنا واجب ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
کنز العمال حدیث ۱۷۵۱۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۷۱۰
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
مسئلہ ۴۰۵ تا۴۰۸: ازپیلی بھیت مرسلہ عبدالعزیز صاحب ۲۶جمادی الآخرہ۱۳۳۶ھ
زید نے کسی جائداد کو اپنی ملکیت سے علیحدہ کرکے وقف کیا اور تاحیات اپنے کو متولی کیا اور بعد اپنے شخص غیر کو تولیت تحریر کردی او راپنے پسر و نبیرہ کو حق تولیت میں شریك نہیں کیا لیکن وقف کنندہ نے یہ وقفی کارروائی حالت بیماری و ناتوانی وبدحواسی میں کی ہے بعد صحت اب واقف کہتا ہے کہ میں مضامین وقف نامہ کو نہیں سمجھا اور نہ مجھے سمجھنے کی اس وقت قابلیت تھی وقف کرنا میں نہیں چاہتا ہوںکیازید کی وقفی کارروائی ازروئے شرع شریف جائز ہے یانہیں
(۲)زید نے بحالت غم وغصہ اپنے پسر کو تولیت سے محروم کرکے غیر شخص کو متولی مقرر کیا اب جب کہ غم وغصہ اس کا فرو ہو ا اور اپنے پسر سے رضامندہوا تو شخص غیر جس کو وہ غصہ میں متولی بناچکا تھا علیحدہ کرکے اپنے پسر کو کیا متولی مقرر کرسکتا ہے
(۳)اگر واقف بدحواسی کی حدکو نہیں پہنچا لیکن سفیہ ضرور ہے تو ایسی کارروائی وقف وتولیت کی جو سفاہت سے ہوئی ہے جائز رہ سکتی ہے یانہیں
(۴)اگر درحقیقت زید کے حواس وقت وقف نامہ درست تھے اور قبل نفاذ وقف نامہ اس کی نیت خراب ہوئی اور وہ وقف نامہ کو منسوخ کرنا چاہتا ہے تو کیا وقف نامہ منسوخ ہوجائے گا یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر یہ وقف صحیح شرعی ہوتوسوالات سائل کا جواب یہ ہے کہ ناتوانی کچھ مانع صحت وقف نہیںنہ بیماری کا کچھ اثر رہا جب کہ سائل لکھتا ہے کہ اس کے بعد تندرست ہوگیارہا بدحواسی کا دعوی وہ غیر بینہ عادلہ شاہدان ثقہ شرعی کی شہادت کے مقبول نہیں ہوسکتا ورنہ ہر شخص وقفبیعاجارہنکاحطلاق تمام تصرفات کرکے یونہی پھر جائے اور کہہ دے کہ میں اس وقت بدحواس تھا رجسٹری بھی بدحواسی میں ہوئیہاں اگر معلوم و معروف ہو کہ اس مرض میں اس کی عقل زائل ہوجاتی ہےبدحواس و مجنون ہوجاتا ہےپہلے بھی ایسا واقع ہوچکا ہے اور اب کہے کہ اس باربھی میری یہی حالت ہوگئی تھی تو اس کا قول حلف کے ساتھ قبول کرلیں گے۔ردالمحتار میں فتاوی خیریہ سے ہے:
سئل فیمن طلق وھو مغتاظ مدھوش فاجاب ان الدھش من اقسام الجنون فلایقعواذا کان
سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو اس حال میں طلاق دی جب غضبناك اور بدحواس تھا تو جواب دیا کہ بدحواسی جنون کی قسموں میں سے ہے
زید نے کسی جائداد کو اپنی ملکیت سے علیحدہ کرکے وقف کیا اور تاحیات اپنے کو متولی کیا اور بعد اپنے شخص غیر کو تولیت تحریر کردی او راپنے پسر و نبیرہ کو حق تولیت میں شریك نہیں کیا لیکن وقف کنندہ نے یہ وقفی کارروائی حالت بیماری و ناتوانی وبدحواسی میں کی ہے بعد صحت اب واقف کہتا ہے کہ میں مضامین وقف نامہ کو نہیں سمجھا اور نہ مجھے سمجھنے کی اس وقت قابلیت تھی وقف کرنا میں نہیں چاہتا ہوںکیازید کی وقفی کارروائی ازروئے شرع شریف جائز ہے یانہیں
(۲)زید نے بحالت غم وغصہ اپنے پسر کو تولیت سے محروم کرکے غیر شخص کو متولی مقرر کیا اب جب کہ غم وغصہ اس کا فرو ہو ا اور اپنے پسر سے رضامندہوا تو شخص غیر جس کو وہ غصہ میں متولی بناچکا تھا علیحدہ کرکے اپنے پسر کو کیا متولی مقرر کرسکتا ہے
(۳)اگر واقف بدحواسی کی حدکو نہیں پہنچا لیکن سفیہ ضرور ہے تو ایسی کارروائی وقف وتولیت کی جو سفاہت سے ہوئی ہے جائز رہ سکتی ہے یانہیں
(۴)اگر درحقیقت زید کے حواس وقت وقف نامہ درست تھے اور قبل نفاذ وقف نامہ اس کی نیت خراب ہوئی اور وہ وقف نامہ کو منسوخ کرنا چاہتا ہے تو کیا وقف نامہ منسوخ ہوجائے گا یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
اگر یہ وقف صحیح شرعی ہوتوسوالات سائل کا جواب یہ ہے کہ ناتوانی کچھ مانع صحت وقف نہیںنہ بیماری کا کچھ اثر رہا جب کہ سائل لکھتا ہے کہ اس کے بعد تندرست ہوگیارہا بدحواسی کا دعوی وہ غیر بینہ عادلہ شاہدان ثقہ شرعی کی شہادت کے مقبول نہیں ہوسکتا ورنہ ہر شخص وقفبیعاجارہنکاحطلاق تمام تصرفات کرکے یونہی پھر جائے اور کہہ دے کہ میں اس وقت بدحواس تھا رجسٹری بھی بدحواسی میں ہوئیہاں اگر معلوم و معروف ہو کہ اس مرض میں اس کی عقل زائل ہوجاتی ہےبدحواس و مجنون ہوجاتا ہےپہلے بھی ایسا واقع ہوچکا ہے اور اب کہے کہ اس باربھی میری یہی حالت ہوگئی تھی تو اس کا قول حلف کے ساتھ قبول کرلیں گے۔ردالمحتار میں فتاوی خیریہ سے ہے:
سئل فیمن طلق وھو مغتاظ مدھوش فاجاب ان الدھش من اقسام الجنون فلایقعواذا کان
سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو اس حال میں طلاق دی جب غضبناك اور بدحواس تھا تو جواب دیا کہ بدحواسی جنون کی قسموں میں سے ہے
یعتادہ بان عرف منہ الدھش مرۃ یصدق بلا برھان (ملخصا)
لہذا طلاق واقع نہ ہوگی اور جب بدحواسی اس کی عادت ہے بایں طور کہ پہلے بھی اس سے یہ بدحواسی دیکھنے میں آچکی ہے اور معروف ہے تو بغیر دلیل حلف کے ساتھ اس کے قول کی تصدیق کردی جائیگی(ملخصا)۔(ت)
اسی میں ہے:
وکذایقال فیمن اختل عقلہ لمرض او لمصیبۃ فاجأتہ ۔
اور یہی کہا جائے گا اس شخص کے بارے میں جس کی عقل میں کسی بیماری یا اچانك صدمہ کی وجہ سے خلل واقع ہوگیا ہو(ت)
(۲)یہ دوسرا سوال دوسرا پہلو ہے اور بدحواسی کو دفع کرتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ غصہ میں دوسرے کو متولی کیا تھا یا رضامندی میں بہر حال اسے اس کے معزول کرنے اور پنے پسر خواہ جس کو چاہے متولی کرنے کا اختیار ہے۔بحرالرائق میں ہے:
التولیۃ من الواقف خارجۃ عن حکم سائر الشرائط لان لہ فیہا التغییر والتبدیل کلما بدالہ من غیر شرط فی عقدۃ الوقف ۔
واقف کی تولیت تمام شرائط وقف کے حکم سے خارج ہیں کیونکہ واقف کو اس میں جب مناسب سمجھے تبدیلی و ترمیم کا اختیار ہے اگرچہ عقد وقف میں اس کی شرط نہ کی ہو۔(ت)
(۳)یہ تیسرا پہلو ہے سائل نے سفیہ کہا اور یہ نہ بتایا کہ اس سے کیا مراد لیلوگ احمق غبی کندذہن کو سفیہ کہتے ہیں صرف اس قدر مانع صحت تصرف نہیں۔
(۴)وقف جب کہ صحیح واقع ہو واقف کو اس سے رجوع کا کوئی اختیار نہیں رہا کہ اب وہ اس کی ملك سے نکل گیا
ویتم الوقف بمجرد القول عند الامام ابی یوسف سلمہ اﷲ تعالی وعلیہ الفتوی وبہ یفتی۔
امام ابویوسف سلمہ اﷲ تعالی کے نزدیك محض زبانی کہہ دینے سے وقف تام ہوجاتا ہے اسی پر فتوی ہے اور اسی پر فتوی دیا جائے گا(ت)
لہذا طلاق واقع نہ ہوگی اور جب بدحواسی اس کی عادت ہے بایں طور کہ پہلے بھی اس سے یہ بدحواسی دیکھنے میں آچکی ہے اور معروف ہے تو بغیر دلیل حلف کے ساتھ اس کے قول کی تصدیق کردی جائیگی(ملخصا)۔(ت)
اسی میں ہے:
وکذایقال فیمن اختل عقلہ لمرض او لمصیبۃ فاجأتہ ۔
اور یہی کہا جائے گا اس شخص کے بارے میں جس کی عقل میں کسی بیماری یا اچانك صدمہ کی وجہ سے خلل واقع ہوگیا ہو(ت)
(۲)یہ دوسرا سوال دوسرا پہلو ہے اور بدحواسی کو دفع کرتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ غصہ میں دوسرے کو متولی کیا تھا یا رضامندی میں بہر حال اسے اس کے معزول کرنے اور پنے پسر خواہ جس کو چاہے متولی کرنے کا اختیار ہے۔بحرالرائق میں ہے:
التولیۃ من الواقف خارجۃ عن حکم سائر الشرائط لان لہ فیہا التغییر والتبدیل کلما بدالہ من غیر شرط فی عقدۃ الوقف ۔
واقف کی تولیت تمام شرائط وقف کے حکم سے خارج ہیں کیونکہ واقف کو اس میں جب مناسب سمجھے تبدیلی و ترمیم کا اختیار ہے اگرچہ عقد وقف میں اس کی شرط نہ کی ہو۔(ت)
(۳)یہ تیسرا پہلو ہے سائل نے سفیہ کہا اور یہ نہ بتایا کہ اس سے کیا مراد لیلوگ احمق غبی کندذہن کو سفیہ کہتے ہیں صرف اس قدر مانع صحت تصرف نہیں۔
(۴)وقف جب کہ صحیح واقع ہو واقف کو اس سے رجوع کا کوئی اختیار نہیں رہا کہ اب وہ اس کی ملك سے نکل گیا
ویتم الوقف بمجرد القول عند الامام ابی یوسف سلمہ اﷲ تعالی وعلیہ الفتوی وبہ یفتی۔
امام ابویوسف سلمہ اﷲ تعالی کے نزدیك محض زبانی کہہ دینے سے وقف تام ہوجاتا ہے اسی پر فتوی ہے اور اسی پر فتوی دیا جائے گا(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۷
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۷
بحرالرائق کتاب الوقف ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵/ ۲۳۱
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۷
بحرالرائق کتاب الوقف ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵/ ۲۳۱
یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ وہ وقف صحیح شرعی ہو جیسا کہ عبارت سوال کا مفاد ہے ورنہ بحالت بطلان ان سوالات کا کوئی محل ہی نہ ہوگا کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۰۹ تا۴۱۰: از قصبہ لاہر پور مکان شاہ ولایت احمد صاحب مرسلہ احمد حسین صاحب عثمانی ۳۰ذی الحجہ۱۳۳۶ھ
(۱)ایك درگاہ صدہا سال سے ایك بزرگ کی ہے جن کی اولاد کے چند شاخوں میں پیری مریدی بسلسلہ صحیح وباجازت وخلافت جاری ہے مگر سجادگی اس درگاہ کی ایك بیٹے کی اولاد میں چلی آتی ہےگو سلسلہ خلافت عن اب و جد صاحب درگاہ سے اس شاخ میں باقی نہیں رہا تھا مگر دوسرے خلفائے سلسلہ سے بھی صاحب سجادہ درگاہ نے اجازت وخلافت حاصل کرلی تھی اور اب دو پشتوں سے ہر باپ سے بیٹے کو اجازت وغیرہ حاصل ہوا کیاس خلفائے سلسلہ سے بھی صاحب درگاہ کا سلسلہ جاری رہاصاحب درگاہ کا خاندان طریقت قادریہ وچشتیہ ہےاس سلسلہ کے شائق اورصاحب درگاہ کے موروثی معتقدین کو اس کا پورا موقع رہا ہے کہ اس سلسلہ میں داخل ہوسکیںآخر صاحب سجادہ لاولد تھے انہوں نے اپنے حقیقی بھانجے کو اپنے بعد کے واسطے سجادگی تجویز کی جن کو اس خاندان میں بیعت وغیرہ حاصل ہےدوران علالت میں ان کو دوسرے اعزائے خاندانی سے مشورہ کے واسطے ایك دوسرے دور دراز مقام پر بھیجا اور تیمارداری ان کی متعلق ان کے بعض اعزا کے تھی جو اخیافی بھانجے ہوتے ہیں وہ دو بھائی حقیقی ایك بہن ہے جن کے قبضہ میں وہ بحالت مرض تھے جب علالت زیادہ ہوئی تو اہالیان قصبہ کو جمع کرکے درگاہ کے اندر پھر اپنے حقیقی بھانجے مذکورہ بالاکی نسبت اظہار وصیت کیا ایسے مجمع میں ان اخیافی بھانجوں میں سےایك نے بطور مغالطہ دہی کہا کہ والدین اس کے جس کے واسطے سجادگی تجویز کی جاتی ہے دودھ شریك بھائی بہن تھے اس لئے اس کا نکاح ناجائز ہوا وہ حرامی ہوئے ان کے پیچھے نماز مکروہ ہے صاحب سجادہ نے اس واقعہ رضاعت سے انکار کیا اور کہا کہ جھوٹ ہے بلکہ ضعف بیماری میں ان کو سخت صدمہ اس دروغ گوئی پر ہوا جس سے وہ کوئی مزید تقریر نہ کرسکے اور مجمع برخاست ہوگیاجب علالت کا سلسلہ زیادہ طویل ہواان دونوں ا خیافی بھانجوں کی جانب سے حصول سجادگی کی ایك بھائی کے واسطے مزید کوشش شروع ہوئی اور بعض موافقین کے مشورہ سے ایك بڑی درگاہ کے صاحب سجادہ کو طلب کیا جو ان صاحب سجادہ کے پیر کی درگاہ کے صاحب سجادہ ہیں اور ان سے کہا کہ منجملہ ان ہر دو بھائیوں کے بڑے بھائی کے پگڑی باندھ دیجئے انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ صاحب سجادہ سے اجازت لے لیں جب ان سے دریافت کیا تب انہوں نے منہ پھیرلیا کوئی جواب نہ دیا کچھ دیر کے بعد جب پہلو بدلا پھر استفسار کیا اب بھی وہ جواب خود نہ سمجھےمگر موافقین اشخاص نے ہر دو بھائیوں کے جو موجود تھے بالاتفاق
مسئلہ۴۰۹ تا۴۱۰: از قصبہ لاہر پور مکان شاہ ولایت احمد صاحب مرسلہ احمد حسین صاحب عثمانی ۳۰ذی الحجہ۱۳۳۶ھ
(۱)ایك درگاہ صدہا سال سے ایك بزرگ کی ہے جن کی اولاد کے چند شاخوں میں پیری مریدی بسلسلہ صحیح وباجازت وخلافت جاری ہے مگر سجادگی اس درگاہ کی ایك بیٹے کی اولاد میں چلی آتی ہےگو سلسلہ خلافت عن اب و جد صاحب درگاہ سے اس شاخ میں باقی نہیں رہا تھا مگر دوسرے خلفائے سلسلہ سے بھی صاحب سجادہ درگاہ نے اجازت وخلافت حاصل کرلی تھی اور اب دو پشتوں سے ہر باپ سے بیٹے کو اجازت وغیرہ حاصل ہوا کیاس خلفائے سلسلہ سے بھی صاحب درگاہ کا سلسلہ جاری رہاصاحب درگاہ کا خاندان طریقت قادریہ وچشتیہ ہےاس سلسلہ کے شائق اورصاحب درگاہ کے موروثی معتقدین کو اس کا پورا موقع رہا ہے کہ اس سلسلہ میں داخل ہوسکیںآخر صاحب سجادہ لاولد تھے انہوں نے اپنے حقیقی بھانجے کو اپنے بعد کے واسطے سجادگی تجویز کی جن کو اس خاندان میں بیعت وغیرہ حاصل ہےدوران علالت میں ان کو دوسرے اعزائے خاندانی سے مشورہ کے واسطے ایك دوسرے دور دراز مقام پر بھیجا اور تیمارداری ان کی متعلق ان کے بعض اعزا کے تھی جو اخیافی بھانجے ہوتے ہیں وہ دو بھائی حقیقی ایك بہن ہے جن کے قبضہ میں وہ بحالت مرض تھے جب علالت زیادہ ہوئی تو اہالیان قصبہ کو جمع کرکے درگاہ کے اندر پھر اپنے حقیقی بھانجے مذکورہ بالاکی نسبت اظہار وصیت کیا ایسے مجمع میں ان اخیافی بھانجوں میں سےایك نے بطور مغالطہ دہی کہا کہ والدین اس کے جس کے واسطے سجادگی تجویز کی جاتی ہے دودھ شریك بھائی بہن تھے اس لئے اس کا نکاح ناجائز ہوا وہ حرامی ہوئے ان کے پیچھے نماز مکروہ ہے صاحب سجادہ نے اس واقعہ رضاعت سے انکار کیا اور کہا کہ جھوٹ ہے بلکہ ضعف بیماری میں ان کو سخت صدمہ اس دروغ گوئی پر ہوا جس سے وہ کوئی مزید تقریر نہ کرسکے اور مجمع برخاست ہوگیاجب علالت کا سلسلہ زیادہ طویل ہواان دونوں ا خیافی بھانجوں کی جانب سے حصول سجادگی کی ایك بھائی کے واسطے مزید کوشش شروع ہوئی اور بعض موافقین کے مشورہ سے ایك بڑی درگاہ کے صاحب سجادہ کو طلب کیا جو ان صاحب سجادہ کے پیر کی درگاہ کے صاحب سجادہ ہیں اور ان سے کہا کہ منجملہ ان ہر دو بھائیوں کے بڑے بھائی کے پگڑی باندھ دیجئے انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ صاحب سجادہ سے اجازت لے لیں جب ان سے دریافت کیا تب انہوں نے منہ پھیرلیا کوئی جواب نہ دیا کچھ دیر کے بعد جب پہلو بدلا پھر استفسار کیا اب بھی وہ جواب خود نہ سمجھےمگر موافقین اشخاص نے ہر دو بھائیوں کے جو موجود تھے بالاتفاق
کہا کہ اجازت دے دی انہوں نے پگڑی باندھ دیایسی نازك حالت تیمارداری میں قبل واپس آنے ان کے حقیقی بھانجے نامزد شدہ سجادہ نشینی کے ان سجادہ نشین نے وفات پائیمعاملہ رضاعت کے عینی شہادت موجود نہیں ہےجن لوگوں کے وقت میں عقد ہوا وہ مقدس و مکرم وعابد و زاہد اشخاص تھے بالخصوص سجادہ نشیں مذکور کے پدر حافظ قرآن صاحب سجادہ متوکل درویش صاحب رشد وہدایت ومقدس تھے جن کی دختر وبھتیجے کا نکاح باہم انہیں کے زیر اہتمام ہواتھا دیگر اکابر خاندان اہل اسلام معزز ومعتبرو نمازی شریك نکاح تھےیہ الزام صرف نامزد شدگی کی نااہلی ثابت کرنے اور خود سجادگی حاصل کرنے کے ضرورت سے لگایا جاتا تھا اور چونکہ دونوں بھائیوں نے ایك اپنی ذاتی دکان درگاہ کے واسطے وقف کی ہے اس پر دوسرے سجادہ نشیں کا قبضہ نہ ہونے کے خیال سے اپنے واسطے سجادگی کی خواہش تھی حالانکہ واقف وقف کا خود متولی رہ سکتا ہے اور حیات میں دوسرا متولی مقرر کرنے کااختیار ہے مگر غالبا وہ مسئلہ کی ناواقفیت کی وجہ سے وہ پریشان ہوئے کہ شائد سجادگی کے ساتھ تولیت میری وقف کردہ جائداد کی بھی انہیں صاحب سجادہ کے متعلق ہو جائے ایسا اختیار کیاان کو اب تك کسی سے اجازت وخلافت بھی نہیں ہے اور صاحب درگاہ کی شاخ کے سلسلہ کے مشائخ سے غالبا اب بھی اجازت و خلافت حاصل کرنے پر تیار نہیں ہیں:پس سوال یہ ہے کہ ایسی سجادگی جو اس طور سے حاصل کی گئی ہو جائز ہے یانہیںاور وہ سلسلہ صاحب درگاہ کے علاوہ کسی دوسرے خاندان سے بیعت واجازت وغیرہ حاصل کرلیں تو جائز ہوگی یانہیںمگر اس صورت میں صاحب درگاہ کا سلسلہ صاحب سجادہ سے جاری نہ ہونے کی وجہ سے ضرورت سجادگی فوت ہوجائے گی صرف متولیانہ حیثیت ایسے شخص کی باقی رہے گی۔مگر تولیت درگاہ ایسے متولی کی جس نے ترکیب مذکورہ بالا سے سجادگی وتولیت حاصل کی ہو کہاں تك جائز ہوگیاور ایسی حالت میں خاندان صاحب درگاہ وصاحب طریقت سلسلہ صاحب درگاہ کوبقائے سلسلہ صاحب درگاہ کے واسطے کیا کرناچاہئےآیا منجملہ اولاد صاحب درگاہ جس سے سلسلہ جاری ہو اسے خلافت دلواکر یا دیگر کوئی صاحب سجادہ ومتولی مقرر کرسکتے ہیں یانہیںاور اول نامزدشدہ کو ترجیح ہوسکتی ہے یانہیں
(۲)ایك احاطہ میں ایك بزرگ کا مزار اور ایك خانقاہ اور ایك مسجد واقع ہے خانقاہ میں مدرسہ اسلامیہ ایك وقف سے جاری ہے جس کے طلبہ بھی اس مسجد میں مثل دیگر اہل محلہ پنجوقتہ نماز پڑھتے ہیں نماز جمعہ یہاں عرصہ سے نہیں ہوتی ہےدوسری جامع مسجد میں ہوتی ہےا س درگاہ کے صاحب سجادہ ہیں وہ مع دیگر اشخاص کے چند لوگ اس وقف کے متولی ہیں جس سے ضروریات مسجد و مدرسہ مذکورہ کا صرفہ ہوتا ہےمنجملہ ان کے زید بھی متولی ہے اور نیز ایك دوسرے وقف کا بھی
(۲)ایك احاطہ میں ایك بزرگ کا مزار اور ایك خانقاہ اور ایك مسجد واقع ہے خانقاہ میں مدرسہ اسلامیہ ایك وقف سے جاری ہے جس کے طلبہ بھی اس مسجد میں مثل دیگر اہل محلہ پنجوقتہ نماز پڑھتے ہیں نماز جمعہ یہاں عرصہ سے نہیں ہوتی ہےدوسری جامع مسجد میں ہوتی ہےا س درگاہ کے صاحب سجادہ ہیں وہ مع دیگر اشخاص کے چند لوگ اس وقف کے متولی ہیں جس سے ضروریات مسجد و مدرسہ مذکورہ کا صرفہ ہوتا ہےمنجملہ ان کے زید بھی متولی ہے اور نیز ایك دوسرے وقف کا بھی
زید مذکور تنہا متولی ہے اس سے بھی مسجد مذکور کے آب وغیرہ کا انتظام ہوتا ہے اور زید ہی کے ذمہ بوجہ حاضر باشی زائد اس مسجد کے اوقات نماز میں موسمی وضروری تغیرات مقامی کی وجہ سے تعین کرتا ہے اور اس مسجد کاموذن و امام معین ہیں ایام تشریق میں زیادہ تر لوگ بوجہ ادائے نماز جماعت مستحبہ التزاما پنجوقتہ شریك ہونے کے عادی ہیںانہیں ایام میں بعض اشخاص نے بلا انتظام امام معین و مقتدین قدیم بلا اس کے کہ مؤذن ومکبر معین تکبیر اقامت کہے معینہ مقام پر جماعت کرلی زید کو یہاں کا مقامی تجربہ ہے کہ عوام تہدید پسند ہیں اس خیال پر اس نے الفاظ ذیل تہدید کے لئے کہے اور مکرر جماعت مع ان قدیم مقتدیوں کے جو باقی تھے اسی مقام پر پھر ادا کی اس خیال سے کہ سابق پڑھنے والے غیر معین تھے اور کہا کہ جس کسی کو اس جماعت میں شریك ہونا نہ منظور ہو وہ ہماری مسجد میں نہ آئےکیا استحقاق ان لوگوں کو ہے جنہوں نے بلاانتظار امام معین اور جماعت و مقتدین قدیم نماز پڑھ لیپس لفظ"ہماری"کا جو مسجد کی طرف منسوب کیا حالانکہ وہ خانہ خدا ہے اور لفظ"نہ آنے"کا جو استعمال کیا حالانکہ مساجد میں اذن عام ہے اس سے زید کیا کرے صرف ندامت کافی ہے یاکوئی کفارہ اس پر لازم آیا اگر کفارہ ہے تو کیابلحاظ تجربہ زید یہ ہوا کہ بعد تہدید مذکور پھر جماعت اسی طور سے جیسی ہمیشہ سے چلی آتی تھی مسجد میں قائم ہےاور جو لوگ بعدادائے فرض عشاء جو سابقہ جماعت سے پڑھ چکے تھے مکرر جماعت میں زید کی تقریر کے بعد شریك ہوگئے ان کی یہ مکرر نماز کیا ہوئی اس دوسری جماعت کی نماز ز ید نے پڑھائی تھی اس میں ایك اور متولی وقف مذکور شریك تھے جن کو پہلے جماعت نہیں ملی تھیمگر دوران نماز میں انہیں یہ خیال رہا کہ زید نے مسجد کی اپنی طرف نسبت کی اور اذن عام کے خلاف تقریر کی اگر میں اس کے پیچھے نماز نہ پڑھتا تو اچھا تھا پس اس وقت گویا اس نے باستکراہ اقتدا کی اس لئے اس کی نماز ہوئی یانہیں ہوئیبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)سجادہ نشینی خلافت خاصہ ہے جس میں اجرائے سلسلہ سجادہ و تولیت اوقاف درگاہ اور جملہ نظم ونسق ورتق وفتق وجمع و فرق ونصب وعزل عملہ میں صاحب سجادہ کی نیابت مطلقہ سب داخلاور کوئی خاص بے عام متحقق نہیں ہوتااور شرعا معروف کا لمشروط ہےمعروف یہی ہے کہ سجادہ نشیں وہی ہوسکتا ہے جو اس سلسلہ میں ماذون ومجاز ہوکہ اس کا بڑا مقصد اس سلسلہ کا احیاء ہے نہ کہ مجرد تولیتولہذا جو سلسلہ صاحب درگاہ میں خلافت صحیحہ نہ رکھتا ہو کہیں سجادہ نشیں نہیں کیا جاتا اگرچہ دوسرے کسی سلسلہ کا مجاز ہونہ کہ وہ جو رأسا مجاز ہی نہیں یوں تو سجادہ نشینی نری ممبری رہ جائے گی تواخیافی بھانجہ غیر مجاز فی السلسلۃ بلکہ فی سلسلۃ سجادہ نشین نہیں ہوسکتااور بعد کو اجازت لینی اس سجادہ نشینی کی تصحیح نہیں کرسکتی"فان الشرط یتقدم و العام لایتأخر"(کیونکہ شرط مقدم ہوتی ہے اور عام متاخر نہیں ہوتا۔ت)حضرت اسد العارفین سید نا شاہ حمزہ عینی
الجواب:
(۱)سجادہ نشینی خلافت خاصہ ہے جس میں اجرائے سلسلہ سجادہ و تولیت اوقاف درگاہ اور جملہ نظم ونسق ورتق وفتق وجمع و فرق ونصب وعزل عملہ میں صاحب سجادہ کی نیابت مطلقہ سب داخلاور کوئی خاص بے عام متحقق نہیں ہوتااور شرعا معروف کا لمشروط ہےمعروف یہی ہے کہ سجادہ نشیں وہی ہوسکتا ہے جو اس سلسلہ میں ماذون ومجاز ہوکہ اس کا بڑا مقصد اس سلسلہ کا احیاء ہے نہ کہ مجرد تولیتولہذا جو سلسلہ صاحب درگاہ میں خلافت صحیحہ نہ رکھتا ہو کہیں سجادہ نشیں نہیں کیا جاتا اگرچہ دوسرے کسی سلسلہ کا مجاز ہونہ کہ وہ جو رأسا مجاز ہی نہیں یوں تو سجادہ نشینی نری ممبری رہ جائے گی تواخیافی بھانجہ غیر مجاز فی السلسلۃ بلکہ فی سلسلۃ سجادہ نشین نہیں ہوسکتااور بعد کو اجازت لینی اس سجادہ نشینی کی تصحیح نہیں کرسکتی"فان الشرط یتقدم و العام لایتأخر"(کیونکہ شرط مقدم ہوتی ہے اور عام متاخر نہیں ہوتا۔ت)حضرت اسد العارفین سید نا شاہ حمزہ عینی
واسطی قدس سرہ فص الکلمات شریف میں فرماتے ہیں:
شیخے ازیں عالم نقل کردو کسے راخلیفہ نگر فت قوم و قبیلہ وارثے یا مریدے کہ بخلافت وے تجویز نمایند ایں خلافت نزدیك مشائخ روانیست وایں نوع خلافت را خلافت افترائی گویند ۔
ایك شیخ نے اس جہاں سے انتقال فرمایا اور کسی کو خلیفہ نہ بنایاقوم اور قبیلہ نے اس کے کسی وارث یا مرید کو خلیفہ تجویز کیا تو یہ خلافت مشائخ کے نزدیك جائز نہیںخلافت کی اس قسم کو خلافت افترائی کہتے ہیں۔(ت)
رہی تو لیت وہ بھی شرعاحقیقی بھانجے کوحاصل کہ سجادہ نشین متولی نے اپنے مرض الموت میں اس کے لئے وصیت کیاور دربارہ تو بلیت وصیت متولی ماخوذ ومعتمد ہے۔ردالمحتار میں ہے:
انما صح اذافوض فی مرض موتہ وان لم یکن لہ التفویض عاما لما فی الخانیہ من انہ بمنزلۃ الوصی وللوصی ان یوصی الی غیرہ ۔
تفویض تولیت صرف اس صورت میں صحیح ہوگی جب متولی اپنی مرض الموت میں تفویض کرے اگرچہ اس کو تفویض عام حاصل نہ ہو اس دلیل کی بنیاد پر جو خانیہ میں ہے کہ وہ بمنزلہ وصی کے ہے اور وصی کو اختیار ہوتا ہے کہ دوسرے کو وصیت کرے۔
فتاوی تتمہ وغیرہا پھر اشباہ والنظائر پھر درمختار میں ہے:
اسناد الناظر النظر لغیرہ بلا شرط فی مرض الموت صحیح ۔
نگران وقف کا مرض الموت میں بلاشرط نگرانی کسی دوسرے کے سپرد کرنا صحیح ہے۔(ت)
یہاں تك کہ متولی نے جس کے لئے وصیت کی اس کے ہوتے ہوئے حاکم شرعی دوسرے کو متولی نہ کرے گا۔بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
شرط فی المجتبی ان لایکون المتولی اوصی بہ لآخر عند موتہ فان اوصی لاینصب القاضی ۔
مجتبی میں شرط لگائی کہ متولی نے اپنی موت کے وقت کسی دوسرے کو متولی بنانے کی وصیت نہ کی ہو اور اگر اس نے وصیت کی ہے تو قاضی کسی اور کو مقرر نہ کرے۔(ت)
شیخے ازیں عالم نقل کردو کسے راخلیفہ نگر فت قوم و قبیلہ وارثے یا مریدے کہ بخلافت وے تجویز نمایند ایں خلافت نزدیك مشائخ روانیست وایں نوع خلافت را خلافت افترائی گویند ۔
ایك شیخ نے اس جہاں سے انتقال فرمایا اور کسی کو خلیفہ نہ بنایاقوم اور قبیلہ نے اس کے کسی وارث یا مرید کو خلیفہ تجویز کیا تو یہ خلافت مشائخ کے نزدیك جائز نہیںخلافت کی اس قسم کو خلافت افترائی کہتے ہیں۔(ت)
رہی تو لیت وہ بھی شرعاحقیقی بھانجے کوحاصل کہ سجادہ نشین متولی نے اپنے مرض الموت میں اس کے لئے وصیت کیاور دربارہ تو بلیت وصیت متولی ماخوذ ومعتمد ہے۔ردالمحتار میں ہے:
انما صح اذافوض فی مرض موتہ وان لم یکن لہ التفویض عاما لما فی الخانیہ من انہ بمنزلۃ الوصی وللوصی ان یوصی الی غیرہ ۔
تفویض تولیت صرف اس صورت میں صحیح ہوگی جب متولی اپنی مرض الموت میں تفویض کرے اگرچہ اس کو تفویض عام حاصل نہ ہو اس دلیل کی بنیاد پر جو خانیہ میں ہے کہ وہ بمنزلہ وصی کے ہے اور وصی کو اختیار ہوتا ہے کہ دوسرے کو وصیت کرے۔
فتاوی تتمہ وغیرہا پھر اشباہ والنظائر پھر درمختار میں ہے:
اسناد الناظر النظر لغیرہ بلا شرط فی مرض الموت صحیح ۔
نگران وقف کا مرض الموت میں بلاشرط نگرانی کسی دوسرے کے سپرد کرنا صحیح ہے۔(ت)
یہاں تك کہ متولی نے جس کے لئے وصیت کی اس کے ہوتے ہوئے حاکم شرعی دوسرے کو متولی نہ کرے گا۔بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
شرط فی المجتبی ان لایکون المتولی اوصی بہ لآخر عند موتہ فان اوصی لاینصب القاضی ۔
مجتبی میں شرط لگائی کہ متولی نے اپنی موت کے وقت کسی دوسرے کو متولی بنانے کی وصیت نہ کی ہو اور اگر اس نے وصیت کی ہے تو قاضی کسی اور کو مقرر نہ کرے۔(ت)
حوالہ / References
فص الکلمات شاہ حمزہ عینی واسطی
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۱
درمختار کتاب الاقرار فصل فی مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۱
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۰
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۱
درمختار کتاب الاقرار فصل فی مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۱
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۰
نہ کہ ایسے لوگ جن کو طلب تولیت میں یہ کچھ غلو ہو کہ اس کے لئے محصنات مومنات غافلات کو قذف کریں بلاوجہ مسلمان کو حرامی بنائیں۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
انا لن نستعمل علی عملنا من ارادہ ۔رواہ البخاری و احمد وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
بیشك ہم ہر گز اپنے کسی کام پر اسے عامل نہ بنائیں گے جو اس کا طالب ہو(اس کو بخاری اور احمد اور ابوداؤد اور نسائی نے ابوموسی الاشعری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ت)
درمختار میں ہے:
طالب التولیۃ لایولی الاالمشروط لہ النظر لانہ مولی فیرید التنفیذ ۔
طالب تولیت کومتولی نہیں بنایا جائے گا مگر اس وقت جب واقف نے اس کو متولی بنانے کی شرط کی ہو تو اس وقت اس کو متولی بنائیں گے کیونکہ وہ شرط کے سبب بن چکا ہے اور اب اس کے نفاذ کا طلب گار ہے۔(ت)
رضاعت بے شہادت عادلہ مثل شہادت مال کے دو مرد یا ایك مرد و دوعورت سب ثقہ عادل اپنے معائنہ کی گواہی دیں ثابت نہیں ہوسکتی اور اگر مجرد کسی کاکہہ دینا کافی ہو تو آج زید نے عمرو کو کہا کل عمرو یا بکر زید کو کہہ دے گا کہ اس کے ماں باپ رضاعی باپ بیٹی تھے۔درمختار میں ہے:
الرضاع حجتہ حجۃ المال وھی شہادۃ عدلین او عدل وعدلتین ۔
حجت مال ہی حجت رضاعت ہے اور وہ دو عادل مردوں یا ایك عادل مرد اور دو عادل عورتوں کی شہادت ہے(ت)
استفسار پر منہ پھیر لینا صریح دلیل انکار ہے دوبارہ پوچھنے پر کچھ کہنا اور مستفسر کا نہ سمجھنا اور ساعیوں کا کہہ دینا کہ اجازت دے دی معتبر نہیں تمام قرائن سابقہ عدم رضا پر صاف دال ہیں اور ساعی اپنے قول میں متہم۔پس صورت مستفسرہ میں اخیافی کو نہ سجادگی ہے نہ تولیتاور حقیقی بھانجہ ہی سجادہ نشین و متولی صحیح شرعی ہےیہ صورت سوال کا حکم ہے اگر واقعہ اسی طرح ہو۔
انا لن نستعمل علی عملنا من ارادہ ۔رواہ البخاری و احمد وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
بیشك ہم ہر گز اپنے کسی کام پر اسے عامل نہ بنائیں گے جو اس کا طالب ہو(اس کو بخاری اور احمد اور ابوداؤد اور نسائی نے ابوموسی الاشعری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ت)
درمختار میں ہے:
طالب التولیۃ لایولی الاالمشروط لہ النظر لانہ مولی فیرید التنفیذ ۔
طالب تولیت کومتولی نہیں بنایا جائے گا مگر اس وقت جب واقف نے اس کو متولی بنانے کی شرط کی ہو تو اس وقت اس کو متولی بنائیں گے کیونکہ وہ شرط کے سبب بن چکا ہے اور اب اس کے نفاذ کا طلب گار ہے۔(ت)
رضاعت بے شہادت عادلہ مثل شہادت مال کے دو مرد یا ایك مرد و دوعورت سب ثقہ عادل اپنے معائنہ کی گواہی دیں ثابت نہیں ہوسکتی اور اگر مجرد کسی کاکہہ دینا کافی ہو تو آج زید نے عمرو کو کہا کل عمرو یا بکر زید کو کہہ دے گا کہ اس کے ماں باپ رضاعی باپ بیٹی تھے۔درمختار میں ہے:
الرضاع حجتہ حجۃ المال وھی شہادۃ عدلین او عدل وعدلتین ۔
حجت مال ہی حجت رضاعت ہے اور وہ دو عادل مردوں یا ایك عادل مرد اور دو عادل عورتوں کی شہادت ہے(ت)
استفسار پر منہ پھیر لینا صریح دلیل انکار ہے دوبارہ پوچھنے پر کچھ کہنا اور مستفسر کا نہ سمجھنا اور ساعیوں کا کہہ دینا کہ اجازت دے دی معتبر نہیں تمام قرائن سابقہ عدم رضا پر صاف دال ہیں اور ساعی اپنے قول میں متہم۔پس صورت مستفسرہ میں اخیافی کو نہ سجادگی ہے نہ تولیتاور حقیقی بھانجہ ہی سجادہ نشین و متولی صحیح شرعی ہےیہ صورت سوال کا حکم ہے اگر واقعہ اسی طرح ہو۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الاجارات باب استیجار الرجل الصالح قدیمی کتب خانہ پشاور ۱/ ۳۰۱
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
درمختار کتاب النکاح باب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۱۴
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
درمختار کتاب النکاح باب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۱۴
(۲)جماعت اولی امام وجماعت معینہ کا حق ہے ان سے پہلے اگر کچھ لوگ جماعت کرجائیں ان کو اعادہ جماعت کا حق ہے اور جماعت اولی یہی ہوگی جو انہوں نے کی جبکہ امام جامع شرائط جواز وحل امامت ہو۔متن غرر اور اس کی شرح درر میں ہے:
لاتکرر الجماعۃ فی مسجد محلۃ باذان واقامۃ الا اذا صلی فیہ اولا غیر اھلہ لان حقھم لایسقط بفعل غیرھم ۔
مسجد محلہ میں اذان واقامت کے ساتھ تکرار جماعت نہ کیا جائے مگر جب اہل محلہ کے غیر نے پہلے جماعت کرالی ہو تو اہل محلہ کو اذان واقامت کے ساتھ دوسری جماعت کرانے کا حق ہے جو دوسروں کے فعل سے ساقط نہیں ہوتا۔(ت)
جن لوگوں نے بے انتظار امام ومؤذن وجماعت معین ومقام امام راتب پر جماعت کرلی اگر کسی صحیح ضرورت سے شرعی سے تھی مضائقہ نہ تھا مگر مقام امام پر قیام نہ چاہئے تھااور اگر بلاضرورت محض عجلت کے لئے ایسا کیا برا کیا تفریق جماعت کے مرتکب ہوئے اور وہ شرع مطہر کو سخت ناپسند ہے اور اگر خود اسی تفریق کی نیت سے اس کے مرتکب ہوئے تو ان پر اشد وبال اور تفریقا بین المومنین کا صدق ہےوالعیاذباﷲ تعالی ۔بہر حال امام جماعت معینہ کو اعادہ جماعت کا ہر طرح حق تھا پھر اگر واقع دو صورت اخیرہ تھیں تو ضروروہ پہلی جماعت مستحق رد وانکار تھی اور ازا نجا کہ وقت وقت عشاء تھا کہ اس میں اور ظہر میں اعادہ نماز روا ہے تو اس پر رد کایہ اچھا طریقہ تھا کہ جو پڑھ چکے تھے وہ بھی دوبارہ شریك کئے جائیں کہ آئندہ عوام اس تفریق میں شرکت سے بازرہیں اور ایسی جگہ تہدید کو کہنا کہ ہماری مسجد میں نہ آئے قابل مواخذہ نہیں بلکہ اصل شرعی رکھتا ہےرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموسلم فرماتے ہیں:
من کان لہ سعۃ ولم یضح فلایقربن مصلانا ۔رواہ الامام احمد واسحق بن راہویۃ وابو بکر بن ابی شیبۃ وابن ماجۃ و ابویعلی والدار قطنی والحاکم و صححہ عن ابی ھریرۃ وفی الباب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم۔
جس کا ہاتھ پہنچتا ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہر گز ہماری مسجد کے پاس نہ آئے۔(اس کو امام احمداسحق بن راہویہابو بکر بن ابی شیبۃابن ماجۃابویعلیدارقطنی اور حاکم نے روایت کیا اور امام حاکم نے اس کو ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے صحیح قرار
لاتکرر الجماعۃ فی مسجد محلۃ باذان واقامۃ الا اذا صلی فیہ اولا غیر اھلہ لان حقھم لایسقط بفعل غیرھم ۔
مسجد محلہ میں اذان واقامت کے ساتھ تکرار جماعت نہ کیا جائے مگر جب اہل محلہ کے غیر نے پہلے جماعت کرالی ہو تو اہل محلہ کو اذان واقامت کے ساتھ دوسری جماعت کرانے کا حق ہے جو دوسروں کے فعل سے ساقط نہیں ہوتا۔(ت)
جن لوگوں نے بے انتظار امام ومؤذن وجماعت معین ومقام امام راتب پر جماعت کرلی اگر کسی صحیح ضرورت سے شرعی سے تھی مضائقہ نہ تھا مگر مقام امام پر قیام نہ چاہئے تھااور اگر بلاضرورت محض عجلت کے لئے ایسا کیا برا کیا تفریق جماعت کے مرتکب ہوئے اور وہ شرع مطہر کو سخت ناپسند ہے اور اگر خود اسی تفریق کی نیت سے اس کے مرتکب ہوئے تو ان پر اشد وبال اور تفریقا بین المومنین کا صدق ہےوالعیاذباﷲ تعالی ۔بہر حال امام جماعت معینہ کو اعادہ جماعت کا ہر طرح حق تھا پھر اگر واقع دو صورت اخیرہ تھیں تو ضروروہ پہلی جماعت مستحق رد وانکار تھی اور ازا نجا کہ وقت وقت عشاء تھا کہ اس میں اور ظہر میں اعادہ نماز روا ہے تو اس پر رد کایہ اچھا طریقہ تھا کہ جو پڑھ چکے تھے وہ بھی دوبارہ شریك کئے جائیں کہ آئندہ عوام اس تفریق میں شرکت سے بازرہیں اور ایسی جگہ تہدید کو کہنا کہ ہماری مسجد میں نہ آئے قابل مواخذہ نہیں بلکہ اصل شرعی رکھتا ہےرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلموسلم فرماتے ہیں:
من کان لہ سعۃ ولم یضح فلایقربن مصلانا ۔رواہ الامام احمد واسحق بن راہویۃ وابو بکر بن ابی شیبۃ وابن ماجۃ و ابویعلی والدار قطنی والحاکم و صححہ عن ابی ھریرۃ وفی الباب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم۔
جس کا ہاتھ پہنچتا ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہر گز ہماری مسجد کے پاس نہ آئے۔(اس کو امام احمداسحق بن راہویہابو بکر بن ابی شیبۃابن ماجۃابویعلیدارقطنی اور حاکم نے روایت کیا اور امام حاکم نے اس کو ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے صحیح قرار
حوالہ / References
الدررالحکام شرح غرر الاحکام کتاب الصلوٰۃ فصل فی الامامۃ مطبعہ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادۃ مصر ۱/ ۸۵
سنن ابن ماجہ ابواب الاضاحی باب الاضاحی واجبۃ ھی ام لا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۲
سنن ابن ماجہ ابواب الاضاحی باب الاضاحی واجبۃ ھی ام لا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۲
دیا ہے اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے۔ت)
وہی"ہماری مسجد"کا لفظ ہے اور وہی آنے سے ممانعت بلکہ"ہرگز"اور"پاس نہ آئے"دو لفظ زائد ارشاد ہوئے ہیں یہاں"ہماری"سے اضافت ملك مراد نہیں ہوتیہاں اگر صورت صورت اولی تھی یعنی ان لوگوں کا پہلے پڑھ لینا بضرورت صحیحہ شرعیہ تھا اور زید کو اس پر اطلاع نہ تھی اس نے ان پر تفریق جماعت کا گمان کرکے ایسا کہا تو زید پر اس کہنے کا مواخذہ نہیں بلکہ بلاتحقیق مسلمانوں پر بدگمانی کی جس سے توبہ لازم ہے۔
قال اﷲ تعالی " یایها الذین امنوا اجتنبوا كثیرا من الظن-ان بعض الظن اثم" ۔
اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو زیادہ گمان سے پرہیز کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔(ت)
اور اگر ان پر بدگمانی نہ کی مگر یہ خیال کہ مبادا عوام حقیقت امر سے غافل ہو کر کہیں تفریق کے عادی نہ ہوجائیں تو یہ الزام بھی نہیں
فانہ انما ارادتحفظہموانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔
کیونکہ اس نے تو محض مسلمانوں کے تحفظ کا ارادہ کیا اور اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور ہرشخص کےلئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)
اس جماعت میں جو پہلے پڑھ کر شریك ہوئے یہ ان کے نفل ہوئے اوروہ متولی جس نے بکراہت اقتدا کی اور یہ خیال رہا کہ نہ کرتا تو بہتر تھا اس کی بھی نماز ہوگئی جبکہ نہ ابتداء فقط شرم ولحاظ سے ظاہرا بے نیت اقتدا شریك ہواہو نہ بعد کو قطع اقتدا کی نیت کرلی ہو
وذلك لانہ فعل لا ترك فیعمل فیہ نیۃ القطع کالصلوۃ دون الصوم کما یظھر بمراجعۃ الاشباہ و غیرہا۔
اور ایسا اس لئےہے کہ بیشك یہ فعل ہے نہ کہ ترك تو اس میں نیت قطع عمل کرتی ہے جیسے نماز نہ کہ روزہ جیسا کہ اشباہ وغیرہ کی طرف رجوع کرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔(ت)
اس لئے کہ یہ لفظ کہ"نہ کرتا تو بہتر ہوتا"خوداس پر دلیل ہے کہ اقتدا کی اور اس پر مستمر رہاا گرچہ بکراہت جیسے فاسق کے پیچھے نماز کہ یہ اپنے زعم میں ان الفاظ کے سبب اسے مثل فاسق ہی سمجھتا تھا۔احادیث کثیرہ صحیحہ میں ہے
وہی"ہماری مسجد"کا لفظ ہے اور وہی آنے سے ممانعت بلکہ"ہرگز"اور"پاس نہ آئے"دو لفظ زائد ارشاد ہوئے ہیں یہاں"ہماری"سے اضافت ملك مراد نہیں ہوتیہاں اگر صورت صورت اولی تھی یعنی ان لوگوں کا پہلے پڑھ لینا بضرورت صحیحہ شرعیہ تھا اور زید کو اس پر اطلاع نہ تھی اس نے ان پر تفریق جماعت کا گمان کرکے ایسا کہا تو زید پر اس کہنے کا مواخذہ نہیں بلکہ بلاتحقیق مسلمانوں پر بدگمانی کی جس سے توبہ لازم ہے۔
قال اﷲ تعالی " یایها الذین امنوا اجتنبوا كثیرا من الظن-ان بعض الظن اثم" ۔
اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو زیادہ گمان سے پرہیز کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔(ت)
اور اگر ان پر بدگمانی نہ کی مگر یہ خیال کہ مبادا عوام حقیقت امر سے غافل ہو کر کہیں تفریق کے عادی نہ ہوجائیں تو یہ الزام بھی نہیں
فانہ انما ارادتحفظہموانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔
کیونکہ اس نے تو محض مسلمانوں کے تحفظ کا ارادہ کیا اور اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور ہرشخص کےلئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)
اس جماعت میں جو پہلے پڑھ کر شریك ہوئے یہ ان کے نفل ہوئے اوروہ متولی جس نے بکراہت اقتدا کی اور یہ خیال رہا کہ نہ کرتا تو بہتر تھا اس کی بھی نماز ہوگئی جبکہ نہ ابتداء فقط شرم ولحاظ سے ظاہرا بے نیت اقتدا شریك ہواہو نہ بعد کو قطع اقتدا کی نیت کرلی ہو
وذلك لانہ فعل لا ترك فیعمل فیہ نیۃ القطع کالصلوۃ دون الصوم کما یظھر بمراجعۃ الاشباہ و غیرہا۔
اور ایسا اس لئےہے کہ بیشك یہ فعل ہے نہ کہ ترك تو اس میں نیت قطع عمل کرتی ہے جیسے نماز نہ کہ روزہ جیسا کہ اشباہ وغیرہ کی طرف رجوع کرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔(ت)
اس لئے کہ یہ لفظ کہ"نہ کرتا تو بہتر ہوتا"خوداس پر دلیل ہے کہ اقتدا کی اور اس پر مستمر رہاا گرچہ بکراہت جیسے فاسق کے پیچھے نماز کہ یہ اپنے زعم میں ان الفاظ کے سبب اسے مثل فاسق ہی سمجھتا تھا۔احادیث کثیرہ صحیحہ میں ہے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۹ /۱۲
صحیح البخاری باب کیف بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۲
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۴۷تا۵۰
صحیح البخاری باب کیف بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۲
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۴۷تا۵۰
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق رؤسھم شبرا رجل ام قوما وھم لہ کارھون ۔ھذالفظ ابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما بسند حسن۔
تین شخصوں کی نماز قبول نہیں ہوتیایك وہ کہ کسی جماعت کی امامت کرے اور انہیں اس کی اقتدا ناگوار ہو(یہ لفظ امام ابن ماجہ کے ہیں انہوں نے اس کو سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے سندحسن کے ساتھ روایت فرمایا۔ ت)
توباآنکہ مقتدیوں کے دل میں کراہت ہے اور ناگواری کے ساتھ اس کے مقتدی ہوئے ان کی نماز میں نقص نہ فرمایا بلکہ امام کی نماز میں جب کہ ان کی کراہت بوجہ شرعی ہو ورنہ وبال ان پر ہے کما فی الدر وغیرہ(جیسا کہ در وغیرہ میں ہے۔ت)
اقول:وبالجملۃ النیۃ ھو القصد الجازم فاذاوجد وجدت وربما یقصد الانسان شیئا وھو لہ کارہ وعن ھذا نص علماؤنا ان الارادۃ ترجح احد المتساویین بل ربما ترجح المرجوح لمن عن لہ طریقان احدھما احسن فعمدالی الاخری وقد قال اﷲ تعالی ”" كتب علیكم القتال و هو كره لكم- " “ ۔
اقول:(میں کہتاہوں کہ)نیت قصد جازم کو کہتے ہیںجب قصد جازم پایا گیا تو نیت پائی گئی بسااوقات انسان کسی شیئ کا قصد کرتا ہے حالانکہ وہ اسے ناگوار ہوتی ہےاس کی بنیاد پر ہمارے علماء نے نص فرمائی کہ ارادہ دو مساوی چیزوں میں سے ایك کو ترجیح دیتا ہے بلکہ بعض دفعہ مرجوح کو ترجیح دیتا ہے اس شخص کے لئے جس کو دو راستے در پیش ہیں جن میں سے ایك احسن ہے تو اس نے دوسرے کا ارادہ کرلیا اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ تم پر جہاد فرض کردیا گیا حالانکہ وہ تمہیں ناگوارہے۔(ت)
مسئلہ ۶۱۱: از اٹاوہ بازار ہوم گنج دکان حاجی عبداللہ خاں مرسلہ محمد خان صاحب ۱۷جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد واقع میں محلہ چوکر کنواں اٹاوہ میں پیش دروازہ ایك اراضی ملك مسجد ایسی ہے کہ جس پر ٹال لکڑی رکھی جاتی ہے دو شخص وارث علی وغیاث الدین اس کے متولی ہیں جنہوں نے اولا چار سال کے واسطے مسمی رحیم خاں کو ٹال رکھنے کے واسطے مبلغ مے /ماہوار کرایہ پر
ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق رؤسھم شبرا رجل ام قوما وھم لہ کارھون ۔ھذالفظ ابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما بسند حسن۔
تین شخصوں کی نماز قبول نہیں ہوتیایك وہ کہ کسی جماعت کی امامت کرے اور انہیں اس کی اقتدا ناگوار ہو(یہ لفظ امام ابن ماجہ کے ہیں انہوں نے اس کو سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے سندحسن کے ساتھ روایت فرمایا۔ ت)
توباآنکہ مقتدیوں کے دل میں کراہت ہے اور ناگواری کے ساتھ اس کے مقتدی ہوئے ان کی نماز میں نقص نہ فرمایا بلکہ امام کی نماز میں جب کہ ان کی کراہت بوجہ شرعی ہو ورنہ وبال ان پر ہے کما فی الدر وغیرہ(جیسا کہ در وغیرہ میں ہے۔ت)
اقول:وبالجملۃ النیۃ ھو القصد الجازم فاذاوجد وجدت وربما یقصد الانسان شیئا وھو لہ کارہ وعن ھذا نص علماؤنا ان الارادۃ ترجح احد المتساویین بل ربما ترجح المرجوح لمن عن لہ طریقان احدھما احسن فعمدالی الاخری وقد قال اﷲ تعالی ”" كتب علیكم القتال و هو كره لكم- " “ ۔
اقول:(میں کہتاہوں کہ)نیت قصد جازم کو کہتے ہیںجب قصد جازم پایا گیا تو نیت پائی گئی بسااوقات انسان کسی شیئ کا قصد کرتا ہے حالانکہ وہ اسے ناگوار ہوتی ہےاس کی بنیاد پر ہمارے علماء نے نص فرمائی کہ ارادہ دو مساوی چیزوں میں سے ایك کو ترجیح دیتا ہے بلکہ بعض دفعہ مرجوح کو ترجیح دیتا ہے اس شخص کے لئے جس کو دو راستے در پیش ہیں جن میں سے ایك احسن ہے تو اس نے دوسرے کا ارادہ کرلیا اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ تم پر جہاد فرض کردیا گیا حالانکہ وہ تمہیں ناگوارہے۔(ت)
مسئلہ ۶۱۱: از اٹاوہ بازار ہوم گنج دکان حاجی عبداللہ خاں مرسلہ محمد خان صاحب ۱۷جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد واقع میں محلہ چوکر کنواں اٹاوہ میں پیش دروازہ ایك اراضی ملك مسجد ایسی ہے کہ جس پر ٹال لکڑی رکھی جاتی ہے دو شخص وارث علی وغیاث الدین اس کے متولی ہیں جنہوں نے اولا چار سال کے واسطے مسمی رحیم خاں کو ٹال رکھنے کے واسطے مبلغ مے /ماہوار کرایہ پر
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلوات باب من ام قوما وھم لہ کارھون ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۶۹
القرآن الکریم ۲ /۲۱۶
القرآن الکریم ۲ /۲۱۶
دی تھی جس کی میعاد منقضی ہوگئی پھر کرایہ اضافہ کرنے کے بابت رحیم خاں مذکور سے کہا گیا اس نے اضافہ کرنے سے قطعی انکار کردیا اور کہا جو اس سے زیادہ دے اس کو اراضی کرایہ پر دے دو حسن اتفاق سے ایك دوسر ا شخص مسمی رحیم خان لہ عہ/ماہواری پر لینے کوآمادہ ہوادونوں متولیوں نے رحیم خاں ثانی کو لہ عہ/ ماہوار پر دو سال کے لئے کرایہ نامہ لکھا کر رجسٹری کرادی مگر سابق کرایہ دار نے ہنوز زمین کو خالی نہیں کیا جو جدید کرایہ دار کو اس پر قبضہ دیا جائےغیاث الدین متولی ثانی کرایہ دار سابق کا ہم خیال ہوگیاہے اور اسکادلی مقصد یہ ہے کہ اراضی اس کرایہ پرسابق کرایہ دار ہی کے پاس رہے وارث علی متولی اول نے کچہری دیوانی اٹاوہ میں خالی کرانے اراضی مسجد کی نالش رحیم خان سابق کرایہ دار پر دائر کر دی ہے جس میں متولی ثانی نے شرکت سے قطعی انکار کردیا ایسی صورت میں غیاث الدین متولی ثانی مذکور قابل متولی رہنے کے ہے یانہیںاور وارث علی متولی اول کا یہ فعل موافق شرع شریف کے ہے یا نہیں اور رحیم خان سابق قابل بے دخلی ہے یا نہیں نیز مسجد کے نفع کے خیال سے لہ عہ / ماہوار زمین اٹھانا متولی اول کی رائے کے موافق اولی ہے یا مے/ماہوار پرحسب رائے متولی ثانی کی اور ایسی صورت میں کون کرایہ دار قابل ترجیح ہے مقدمہ چونکہ کچہری دیوانی میں زیر تجویز ہےلہذا درخواست کی جاتی ہے جلد جواب مرحمت فرمایاجائے۔
الجواب:
جبکہ رحیم خاں ثانی نے تین روپے ماہوار اضافہ کرکے دو سال کے لئے رجسٹری کرالی ظاہر ہوا کہ وہ متعنت نہیں اور جبکہ غیاث الدین بھی اسے اجارہ دینے میں شریك تھا یہ اجارہ ضرور تام ونافذ ہوگیا اب غیاث الدین کو اس سے پھرنے کا کوئی استحقاق نہیںرحیم خاں سابق کی بےدخلی واجب ہے غیاث الدین کے اب اس کا طرفدار ہوکر وقف کا نقصان اور اس کا فائدہ چاہتا اور خود اپنی تمام شدہ کارروائی کو باطل کرنے کا خواستگار ہےتو اپنے ذاتی نفع کےلئے جو کچھ اضرار کرے تھوڑا ہے ایسا شخص امین نہ ہوگا بلکہ خائن اور خائن کا معزول کرنا واجب اگرچہ خود واقف ہودرمختارمیں ہے:
وینزع وجوبا بزازیۃ ولو الواقف درر فغیرہ بالاولی غیرمامون ۔
خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوبانکال دیا جائیگا(بزازیہ) اگرچہ وہ خود وقف کرنے والاہو(درر)تو غیر واقف کو بصورت بدرجہ اولی نکال دینا واجب ہوگا۔(ت)
الجواب:
جبکہ رحیم خاں ثانی نے تین روپے ماہوار اضافہ کرکے دو سال کے لئے رجسٹری کرالی ظاہر ہوا کہ وہ متعنت نہیں اور جبکہ غیاث الدین بھی اسے اجارہ دینے میں شریك تھا یہ اجارہ ضرور تام ونافذ ہوگیا اب غیاث الدین کو اس سے پھرنے کا کوئی استحقاق نہیںرحیم خاں سابق کی بےدخلی واجب ہے غیاث الدین کے اب اس کا طرفدار ہوکر وقف کا نقصان اور اس کا فائدہ چاہتا اور خود اپنی تمام شدہ کارروائی کو باطل کرنے کا خواستگار ہےتو اپنے ذاتی نفع کےلئے جو کچھ اضرار کرے تھوڑا ہے ایسا شخص امین نہ ہوگا بلکہ خائن اور خائن کا معزول کرنا واجب اگرچہ خود واقف ہودرمختارمیں ہے:
وینزع وجوبا بزازیۃ ولو الواقف درر فغیرہ بالاولی غیرمامون ۔
خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوبانکال دیا جائیگا(بزازیہ) اگرچہ وہ خود وقف کرنے والاہو(درر)تو غیر واقف کو بصورت بدرجہ اولی نکال دینا واجب ہوگا۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
ہاں اگر کوئی وجہ معقول قابل قبول بیان کرے کہ ثانی کو کرایہ پر دینے میں وقف کا یہ ضرر ہے اگر بظاہر معہ عہ / روپے کا نفع ہے مگر وہ ضرر شدید اس سے زیادہ ہے لہذا اب میں اس اجارہ کو فسخ کرنا چاہتا ہوں اور یہ امر ثابت ہوجائے تو اس پر الزام نہ رہے گا بلکہ اس کا خیال قابل پیروی ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۱۲: ازعلی گڑھ بازار موتی مسجد مرسلہ علی الدین سوداگر پارچہ ۲۹رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کیا پردہ نشیں عورت کسی ایسے ولی کی درگاہ کی کہ جس کا سالانہ عرس اور فاتحہ خوانی ہوتی ہے متولی ہوسکتی ہےکیا پردہ نشیں عورت کسی ایسے قبرستان کو کہ جس میں چند مساجد ہوں اور اس میں نماز پنجگانہ ادا ہوتی ہو تو متولی ہوسکتی ہے
الجواب:
عورت بھی متولی اوقاف ہوسکتی ہے ذکورت شرط تولیت نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۱۳ تا ۴۱۶: ازہلدوانی نینی تال مرسلہ عزیز الرحمن صاحب ۲۳جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
(۱)ناخواندہ شخص سود کے روپے سےروز گارکرنے والا اور ذاتی رنجش کی بنا پر موقوفہ آمدنی کو بے جا بلا قاعدہ صرف کرنے والا اور اوقاف کی آمدنی کے روپے کواپنی تجارت میں خلاف قاعدہ انجمن شامل کرکے ذاتی فائدہ حاصل کرنے والا انجمن اسلامیہ کوئی عہدہ دار یا منتظم یا امین ہوسکتا ہے یانہیں
(۲)شخص مقروض معقول تعداد کا ہضم کرنے والا جو دیوالیہ ہوچکا ہے اور پابند صوم وصلوۃ بھی نہ ہو اور ضدی بھی امین یا اعلی عہدہ دار ہوسکتا ہے
(۳)انجمن اسلامیہ مذہبی خدمات کے واسطے کم از کم احتیاط کا شخص عہدیدار یا منتظم یا امین یا اہل ہوسکتا ہے
(۴)اکثر علمائے ہند کے فتووں کے خلا ف اور مقامی مسلمانان کے خلاف اپنے ذاتی نفع ونمائش واغراض کے لحاظ سے معبد گاہ یعنی مسجد کو زیب و زینت دے کر دیگر مذاہب کے اشخاص کومدعو کرکے فرش مسجد پر مستعمل جوتوں سے گزرتے ہوئے لے جا کر احاطہ مسجد میں جلسہ قرار دے کر اپنے مخالفوں کی حمد وثنا کرنا اور تالیاں بجا کر خوش وخرم ذکر کرنا اس قسم کے افعال کے اشخاص انجمن اسلامیہ کے عہدیدار ہوسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
(۱)نہیںدرمختار میں ہے:
وینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ اولی لو خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوبا نکال دیا جائیگا اگرچہ وہ خود وقف کرنے والا ہو تو غیر واقف کو
مسئلہ۴۱۲: ازعلی گڑھ بازار موتی مسجد مرسلہ علی الدین سوداگر پارچہ ۲۹رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کیا پردہ نشیں عورت کسی ایسے ولی کی درگاہ کی کہ جس کا سالانہ عرس اور فاتحہ خوانی ہوتی ہے متولی ہوسکتی ہےکیا پردہ نشیں عورت کسی ایسے قبرستان کو کہ جس میں چند مساجد ہوں اور اس میں نماز پنجگانہ ادا ہوتی ہو تو متولی ہوسکتی ہے
الجواب:
عورت بھی متولی اوقاف ہوسکتی ہے ذکورت شرط تولیت نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۱۳ تا ۴۱۶: ازہلدوانی نینی تال مرسلہ عزیز الرحمن صاحب ۲۳جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
(۱)ناخواندہ شخص سود کے روپے سےروز گارکرنے والا اور ذاتی رنجش کی بنا پر موقوفہ آمدنی کو بے جا بلا قاعدہ صرف کرنے والا اور اوقاف کی آمدنی کے روپے کواپنی تجارت میں خلاف قاعدہ انجمن شامل کرکے ذاتی فائدہ حاصل کرنے والا انجمن اسلامیہ کوئی عہدہ دار یا منتظم یا امین ہوسکتا ہے یانہیں
(۲)شخص مقروض معقول تعداد کا ہضم کرنے والا جو دیوالیہ ہوچکا ہے اور پابند صوم وصلوۃ بھی نہ ہو اور ضدی بھی امین یا اعلی عہدہ دار ہوسکتا ہے
(۳)انجمن اسلامیہ مذہبی خدمات کے واسطے کم از کم احتیاط کا شخص عہدیدار یا منتظم یا امین یا اہل ہوسکتا ہے
(۴)اکثر علمائے ہند کے فتووں کے خلا ف اور مقامی مسلمانان کے خلاف اپنے ذاتی نفع ونمائش واغراض کے لحاظ سے معبد گاہ یعنی مسجد کو زیب و زینت دے کر دیگر مذاہب کے اشخاص کومدعو کرکے فرش مسجد پر مستعمل جوتوں سے گزرتے ہوئے لے جا کر احاطہ مسجد میں جلسہ قرار دے کر اپنے مخالفوں کی حمد وثنا کرنا اور تالیاں بجا کر خوش وخرم ذکر کرنا اس قسم کے افعال کے اشخاص انجمن اسلامیہ کے عہدیدار ہوسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
(۱)نہیںدرمختار میں ہے:
وینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ اولی لو خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوبا نکال دیا جائیگا اگرچہ وہ خود وقف کرنے والا ہو تو غیر واقف کو
غیر مامون ۔ بصورت خیانت بدرجہ اولی نکال دینا واجب ہوگا۔(ت)
(۲)نہ رقم ہضم کرنے والا امین ہوسکے نہ غیر پابند صوم وصلوۃ کو افسری مل سکے۔تبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔ فاسق کو مقدم کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ مسلمانوں پر شرعا اس کی توہین واجب ہے۔(ت)
(۳)سنیذی علمپرہیز گاردیانتدارہوشیارکارگزار۔
(۴)ایسے اشخاص ادنی عہدہ دار بھی نہیں ہوسکتے کہ فاسق مجاہر وبیباك ومبتلائے غضب رب الارباب ہیںحدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذامدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلك العرش ۔ جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور عرش الہی ہل جاتا ہے۔
مدح فاسق پر یہ حال ہے مخالفان اسلام مثل ہنود(جن کے مناقب آج لیڈر پکارتے ہیں اور ان کی جے بولتے ہیں اور وہی مساجد میں زینت مجلس بلکہ منبر پرواعظ مسلمین بنائے جارہے ہیں)ان کی جے پکارنے اور حمد گانے اور مسجد میں اس پر خوشی کی تالیاں بجانے پر اسلام بھی قائم رہنا دشوار ہے انجمن اسلامیہ کی عہدہ داری تو درکنارہے۔ فتاوی ظہیر یہ و اشباہ والنظائر ومجمع الانہر وتنویر الابصار ودرمختار وغیرہ میں ہے:
لو سلم علی الذمی تبجیلا کفر ولو قال لمجوسی یا استاذی تبجیلا کفر ۔ اگر ذمی کافر کو مسلمان بطورتعظیم سلام کہے تو کافر ہوجائے گا اور مجوسی کو تعظیما کہا اے میرے استاذ تو کافر ہوگیا۔(ت)
ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنا بھی قرآن عظیم نے ناجائز فرمایا:
و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالم قوم کے ساتھ مت بیٹھ۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)نہ رقم ہضم کرنے والا امین ہوسکے نہ غیر پابند صوم وصلوۃ کو افسری مل سکے۔تبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔ فاسق کو مقدم کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ مسلمانوں پر شرعا اس کی توہین واجب ہے۔(ت)
(۳)سنیذی علمپرہیز گاردیانتدارہوشیارکارگزار۔
(۴)ایسے اشخاص ادنی عہدہ دار بھی نہیں ہوسکتے کہ فاسق مجاہر وبیباك ومبتلائے غضب رب الارباب ہیںحدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذامدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلك العرش ۔ جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور عرش الہی ہل جاتا ہے۔
مدح فاسق پر یہ حال ہے مخالفان اسلام مثل ہنود(جن کے مناقب آج لیڈر پکارتے ہیں اور ان کی جے بولتے ہیں اور وہی مساجد میں زینت مجلس بلکہ منبر پرواعظ مسلمین بنائے جارہے ہیں)ان کی جے پکارنے اور حمد گانے اور مسجد میں اس پر خوشی کی تالیاں بجانے پر اسلام بھی قائم رہنا دشوار ہے انجمن اسلامیہ کی عہدہ داری تو درکنارہے۔ فتاوی ظہیر یہ و اشباہ والنظائر ومجمع الانہر وتنویر الابصار ودرمختار وغیرہ میں ہے:
لو سلم علی الذمی تبجیلا کفر ولو قال لمجوسی یا استاذی تبجیلا کفر ۔ اگر ذمی کافر کو مسلمان بطورتعظیم سلام کہے تو کافر ہوجائے گا اور مجوسی کو تعظیما کہا اے میرے استاذ تو کافر ہوگیا۔(ت)
ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنا بھی قرآن عظیم نے ناجائز فرمایا:
و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالم قوم کے ساتھ مت بیٹھ۔(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریۃ ∞مصر ۲/ ۲۵۱€
شعب الایمان باب فی حفظ اللسان ∞حدیث ۴۸۸۶€ دارالکتاب العلمیہ بیروت ∞۴/ ۲۳۰€
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۱€
القرآن الکریم ∞۶ /۶۸€
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریۃ ∞مصر ۲/ ۲۵۱€
شعب الایمان باب فی حفظ اللسان ∞حدیث ۴۸۸۶€ دارالکتاب العلمیہ بیروت ∞۴/ ۲۳۰€
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۱€
القرآن الکریم ∞۶ /۶۸€
مسئلہ۴۱۷: از بدایوں ۷جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك وقف عرصہ دراز سے چلا آتا ہے شرائط و حالات وقف کچھ معلوم نہیں ہیں بجز اس قدر کے تولیت ہمیشہ سے ایك خاندان خاص میں بلالحاظ وراثت چلی آتی ہے متولی حال نے اپنے ایك اہل خاندان کو اپنا خلیفہ اور سجادہ نشین بنایا اور بعد اپنے اپنا جانشین اور متولی قرار دیااس کی وفات کے بعدا س کا بھتیجا باستحقاق وراثت دعویدار تولیت ہےدرانحالیکہ اس کا باپ حقیت موقوفہ سے برطرف کیا جاچکا ہے اور اقرار لکھ چکا ہے کہ کبھی معاملات وقف میں دست اندازی نہ کرے گا نیز بھتیجا مذکور متولی کو ضرر شدید پہنچانے میں سزا یاب ہوچکا ہے اور باہم متولی اور اس کے بھتیجے کے وقت وفات متولی ایك سخت دشمنی اور عداوت تھیکیاشرعا ایسا بھتیجا حقیت موقوفہ کا بمقابلہ جانشین نامزد شدہ کے متولی مقرر ہوگا یامتولی متوفی کانامزد شدہ شخص مرجح ہوگا
الجواب:
تولیت میں توریث جاری نہیں محض بربنائے وراثت ادعائے تولیت باطل ومردود ہے۔ردالمحتار میں ہے:
واعتقادھم ان خبز الاب لابنہ لایفیدلما فیہ من تغییر حکم الشرع ۔
اور ان کا یہ اعتقاد مفید نہیں کہ باپ کی روٹی بیٹے کی ہے کیونکہ اس میں حکم شرع کی تبدیلی ہے۔(ت)
متولی حال نے جسے اپنے بعد متولی کیا متولی ہوگیا اگر یہ وصیت مرض موت میں کی جب تو ظاہر ہے کہ وہ جانشین بعد موت متولی ہوگیااور بلاوجہ شرعی کسی کو اس سے منازعت اصلا جائز نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
صح اذافوض فی مرض موتہ وان لم یکن التفویض لہ عاما لما فی الخانیۃ انہ بمنزلۃ الوصی وللوصی ان یوصی الی غیرہ اھ۔
متولی نے اپنی مرض موت میں کسی دوسرے کو ولایت سونپ دی تو صحیح ہے اگرچہ اس کےلئے تفویض عام نہ ہو اس دلیل کی بنیاد پر جو خانیہ میں ہے کہ متولی بمنزلہ وصی کے ہے اوروصی کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کو وصیت کرے۔ اھ(ت)
اور اگر اپنی حالت صحت میں کی اور قدیم سےاس وقف کے متولیوں میں اس کا دستور چلا آیا ہے کہ متولی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك وقف عرصہ دراز سے چلا آتا ہے شرائط و حالات وقف کچھ معلوم نہیں ہیں بجز اس قدر کے تولیت ہمیشہ سے ایك خاندان خاص میں بلالحاظ وراثت چلی آتی ہے متولی حال نے اپنے ایك اہل خاندان کو اپنا خلیفہ اور سجادہ نشین بنایا اور بعد اپنے اپنا جانشین اور متولی قرار دیااس کی وفات کے بعدا س کا بھتیجا باستحقاق وراثت دعویدار تولیت ہےدرانحالیکہ اس کا باپ حقیت موقوفہ سے برطرف کیا جاچکا ہے اور اقرار لکھ چکا ہے کہ کبھی معاملات وقف میں دست اندازی نہ کرے گا نیز بھتیجا مذکور متولی کو ضرر شدید پہنچانے میں سزا یاب ہوچکا ہے اور باہم متولی اور اس کے بھتیجے کے وقت وفات متولی ایك سخت دشمنی اور عداوت تھیکیاشرعا ایسا بھتیجا حقیت موقوفہ کا بمقابلہ جانشین نامزد شدہ کے متولی مقرر ہوگا یامتولی متوفی کانامزد شدہ شخص مرجح ہوگا
الجواب:
تولیت میں توریث جاری نہیں محض بربنائے وراثت ادعائے تولیت باطل ومردود ہے۔ردالمحتار میں ہے:
واعتقادھم ان خبز الاب لابنہ لایفیدلما فیہ من تغییر حکم الشرع ۔
اور ان کا یہ اعتقاد مفید نہیں کہ باپ کی روٹی بیٹے کی ہے کیونکہ اس میں حکم شرع کی تبدیلی ہے۔(ت)
متولی حال نے جسے اپنے بعد متولی کیا متولی ہوگیا اگر یہ وصیت مرض موت میں کی جب تو ظاہر ہے کہ وہ جانشین بعد موت متولی ہوگیااور بلاوجہ شرعی کسی کو اس سے منازعت اصلا جائز نہیں۔ردالمحتار میں ہے:
صح اذافوض فی مرض موتہ وان لم یکن التفویض لہ عاما لما فی الخانیۃ انہ بمنزلۃ الوصی وللوصی ان یوصی الی غیرہ اھ۔
متولی نے اپنی مرض موت میں کسی دوسرے کو ولایت سونپ دی تو صحیح ہے اگرچہ اس کےلئے تفویض عام نہ ہو اس دلیل کی بنیاد پر جو خانیہ میں ہے کہ متولی بمنزلہ وصی کے ہے اوروصی کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کو وصیت کرے۔ اھ(ت)
اور اگر اپنی حالت صحت میں کی اور قدیم سےاس وقف کے متولیوں میں اس کا دستور چلا آیا ہے کہ متولی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۵
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۱
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۱
اپنی حیات وصحت میں اپنے جانشین کو اپنے بعدمتولی بنالیتے ہیں اور وہ متولی ہوتا ہے جب بھی ظاہر ہے کہ یہی جانشین بشرط اہلیت شرعیہ متولی ہوگیا۔دوسرا س کی منازعت نہیں کرسکتا۔ردالمحتار میں ہے:
فی الذخیرۃ سئل شیخ الاسلام عن وقف مشہور اشتبھت مصارفہقال ینظر الی المعہود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف یعملون فیہ فیبنی علی ذلک ۔ ذخیرہ میں ہے شیخ الاسلام سے اس وقف مشہو رکے بارے میں پوچھا گیا جس کے مصارف مشتبہ ہوگئےہیں توشیخ الاسلام نے فرمایا کہ قدیم زمانہ سے اس وقف کے بارے میں جو معمول چلا آرہا ہے اس پر نظر کی جائیگی کہ متولیان سابقہ اس میں کیا عملدر آمد کرتے تھے پس اسی پر بناء کی جائے گی۔ (ت)
اور اگر یہ معمول قدیم نہیں تو متولی اپنی صحت میں خود وقف سے جدا ہونا اور دوسرے کو اپنی جگہ قائم کرنا ممنوع ہوتا کہ اس کے لئے اس کی اجازت جانب واقف سے بوجہ اشتباہ شرائط ثابت نہیں۔درمختار میں ہے:
اراد المتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ وصحتہ ان کانت التفویض لہ عاما صح والالا ۔ متولی نے ارادہ کیا کہ کسی اور شخص کو اپنی حیات وصحت میں اپنا قائم مقام کرے اگر اس کے لئے تفویض عام ہے تو صحیح ہے ورنہ نہیں(ت)
مگر یہاں ایسا نہیں بلکہ اپنے بعد اسکے لئے وصیت تولیت کی ہے تو یہ مطلقا ہر صورت میں جائز وصحیح ہونا چاہئے جب تك مخالف شرع نہ ہو کہ بوجہ عدم علم شرائط مخالفت شرائط واقف سے محفوظ ہے وہی عبارت قاضیخان للوصی ان یوصی الی غیرہ (وصی کواختیار ہے کہ کسی اور شخص کو وصیت کرے۔ت)اس کے لئے کافی ہے
وترك السابقین لایدل علی شرط العدم بل علی عدم الشرط و المتبع العمل دون الترك الذی لیس من افعال المکلفین ولامقدورالھم کمافی اور سابقین کا کسی چیز کو ترك کرنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ اس کا نہ ہونا شرط ہے بلکہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا ہوناشرط نہیں اور اتباع عمل کی کی جاتی ہے نہ کہ ترك کی جو افعال مکلفین میں سے نہیں۔
فی الذخیرۃ سئل شیخ الاسلام عن وقف مشہور اشتبھت مصارفہقال ینظر الی المعہود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف یعملون فیہ فیبنی علی ذلک ۔ ذخیرہ میں ہے شیخ الاسلام سے اس وقف مشہو رکے بارے میں پوچھا گیا جس کے مصارف مشتبہ ہوگئےہیں توشیخ الاسلام نے فرمایا کہ قدیم زمانہ سے اس وقف کے بارے میں جو معمول چلا آرہا ہے اس پر نظر کی جائیگی کہ متولیان سابقہ اس میں کیا عملدر آمد کرتے تھے پس اسی پر بناء کی جائے گی۔ (ت)
اور اگر یہ معمول قدیم نہیں تو متولی اپنی صحت میں خود وقف سے جدا ہونا اور دوسرے کو اپنی جگہ قائم کرنا ممنوع ہوتا کہ اس کے لئے اس کی اجازت جانب واقف سے بوجہ اشتباہ شرائط ثابت نہیں۔درمختار میں ہے:
اراد المتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ وصحتہ ان کانت التفویض لہ عاما صح والالا ۔ متولی نے ارادہ کیا کہ کسی اور شخص کو اپنی حیات وصحت میں اپنا قائم مقام کرے اگر اس کے لئے تفویض عام ہے تو صحیح ہے ورنہ نہیں(ت)
مگر یہاں ایسا نہیں بلکہ اپنے بعد اسکے لئے وصیت تولیت کی ہے تو یہ مطلقا ہر صورت میں جائز وصحیح ہونا چاہئے جب تك مخالف شرع نہ ہو کہ بوجہ عدم علم شرائط مخالفت شرائط واقف سے محفوظ ہے وہی عبارت قاضیخان للوصی ان یوصی الی غیرہ (وصی کواختیار ہے کہ کسی اور شخص کو وصیت کرے۔ت)اس کے لئے کافی ہے
وترك السابقین لایدل علی شرط العدم بل علی عدم الشرط و المتبع العمل دون الترك الذی لیس من افعال المکلفین ولامقدورالھم کمافی اور سابقین کا کسی چیز کو ترك کرنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ اس کا نہ ہونا شرط ہے بلکہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا ہوناشرط نہیں اور اتباع عمل کی کی جاتی ہے نہ کہ ترك کی جو افعال مکلفین میں سے نہیں۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۴۰۴€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف فصل فی اجارۃ الاوقاف ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۳۸€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۴۷€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف فصل فی اجارۃ الاوقاف ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۳۸€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۴۷€
غمز العیون وشتان ما الترك والکف ولم یثبت۔ اور نہ ہی ان کی قدرت میں ہے جیسا کہ غمز العیون میں ہے کف بمعنی روکنا ترك سے مختلف ہے اور کف ثابت نہیں ہوا (بلکہ ترك ثابت ہواہے۔(ت)
بالجملہ پہلی دو صورتوں میں جانشین مذکور کی صحت تولیت اصلا محل شبہ نہیں جبکہ شرعا اس کا اہل ہواور تیسری صورت میں بھی ظاہر یہی ہے کہ اس کی تولیت صحیح ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۸: ازشہر محلہ چڑھائی نیب مسئولہ منشی محمدظہور صاحب ۱۶صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ ایك بزرگ نے اپنی حیات میں جائداد موقوفہ کا زید کو بذریعہ تملیك نامہ کے متولی کیا اور یہ لکھا کہ تاحیات یہ متولی رہے اور بعد اس کے جو متولی یا سجادہ نشین ہوئے اس کو بھی اسی تحریر کا کاربند رہناچاہئے اور درصورت خلاف ورزی کے میرے مریدان سر برآوردہ جس کو مناسب سمجھیں مقرر کریںان بزرگ نے پردہ فرمایا اور بعد ایك زمانہ کے زید کابھی کا انتقال ہوگیا اب زید کا لڑکا یہ چاہتا ہے کہ میں اپنے باپ کا قائم مقام بنوں اور ان بزرگ کے وارثان شرعی یہ چاہتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص ہونا چاہئےتو ایسی صورت میں ازروئے شرع شریف کے وارثان متولی کا حق ہے یا وارثان بزرگ کااور فقیر کی گدی پر وراثت کسی کی جائزہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ وہ جائداد پہلے زبانی وقف ہوچکی تھی اس کی توثیق کےلئے یہ وقف نامہ لکھا گیا ہے جسے غلطی یا ناواقفی سے تملیك نامہ لکھ دیا اس میں متولی مذکورکے بعد دربارہ تولیت کسی شرط کی تصریح نہیں ہےایسی صورت میں وارثان متولی مذکور کو تولیت پر کوئی دعوی نہیں پہنچتاتولیت ترکہ نہیں کہ وارثوں میں تقسیم ہو بلکہ حتی الامکان وارثان وقف میں سے جو لائق ہو متولی کیا جائے گا اگر ان میں کوئی نہ ہو تو اہل الرائے اہل علم مسلمانوں کے مشورہ سے کوئی دیندار ہوشیار کارگزار متولی کیاجائے گا۔در مختارمیں ہے:
(ومادام احد یصلح للتولیۃ من اقارب الواقف لا یجعل المتولی من الاجانب)لانہ اشفق ومن قصدہ نسبۃ الوقف الیہم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جب تك واقف کے اقارب میں سے کوئی ایك بھی تولیت کی صلاحیت والا موجود رہے گا اجنبی لوگوں میں سے کسی کو متولی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ واقف کا قریبی متولی وقف پر زیادہ شفقت کرنیوالا ہوگا کیونکہ اس کا مقصود یہ ہوگا کہ وقف کی نسبت اس کے خاندان کی طرف بنی رہے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
بالجملہ پہلی دو صورتوں میں جانشین مذکور کی صحت تولیت اصلا محل شبہ نہیں جبکہ شرعا اس کا اہل ہواور تیسری صورت میں بھی ظاہر یہی ہے کہ اس کی تولیت صحیح ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۸: ازشہر محلہ چڑھائی نیب مسئولہ منشی محمدظہور صاحب ۱۶صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ ایك بزرگ نے اپنی حیات میں جائداد موقوفہ کا زید کو بذریعہ تملیك نامہ کے متولی کیا اور یہ لکھا کہ تاحیات یہ متولی رہے اور بعد اس کے جو متولی یا سجادہ نشین ہوئے اس کو بھی اسی تحریر کا کاربند رہناچاہئے اور درصورت خلاف ورزی کے میرے مریدان سر برآوردہ جس کو مناسب سمجھیں مقرر کریںان بزرگ نے پردہ فرمایا اور بعد ایك زمانہ کے زید کابھی کا انتقال ہوگیا اب زید کا لڑکا یہ چاہتا ہے کہ میں اپنے باپ کا قائم مقام بنوں اور ان بزرگ کے وارثان شرعی یہ چاہتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص ہونا چاہئےتو ایسی صورت میں ازروئے شرع شریف کے وارثان متولی کا حق ہے یا وارثان بزرگ کااور فقیر کی گدی پر وراثت کسی کی جائزہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ وہ جائداد پہلے زبانی وقف ہوچکی تھی اس کی توثیق کےلئے یہ وقف نامہ لکھا گیا ہے جسے غلطی یا ناواقفی سے تملیك نامہ لکھ دیا اس میں متولی مذکورکے بعد دربارہ تولیت کسی شرط کی تصریح نہیں ہےایسی صورت میں وارثان متولی مذکور کو تولیت پر کوئی دعوی نہیں پہنچتاتولیت ترکہ نہیں کہ وارثوں میں تقسیم ہو بلکہ حتی الامکان وارثان وقف میں سے جو لائق ہو متولی کیا جائے گا اگر ان میں کوئی نہ ہو تو اہل الرائے اہل علم مسلمانوں کے مشورہ سے کوئی دیندار ہوشیار کارگزار متولی کیاجائے گا۔در مختارمیں ہے:
(ومادام احد یصلح للتولیۃ من اقارب الواقف لا یجعل المتولی من الاجانب)لانہ اشفق ومن قصدہ نسبۃ الوقف الیہم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جب تك واقف کے اقارب میں سے کوئی ایك بھی تولیت کی صلاحیت والا موجود رہے گا اجنبی لوگوں میں سے کسی کو متولی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ واقف کا قریبی متولی وقف پر زیادہ شفقت کرنیوالا ہوگا کیونکہ اس کا مقصود یہ ہوگا کہ وقف کی نسبت اس کے خاندان کی طرف بنی رہے۔واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف فی اجارتہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹€
مسئلہ۴۱۹: ازریاست رامپور شتر خانہ کہنہ احاطہ صابری مسئولہ واحد حسن صاحب ۶رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مزار کا زید متولی تھا مزار کی جائداد اراضی بحق خدمت مزار موصوفہ معاف ہےزید کا صاحب مزار سے کوئی سلسلہ نسبی وسلسلہ طریق کوئی تعلق نہیں تھا اب زید کاانتقال ہوگیا زید کا بیٹا عمرو جو بالکل خدمت مزار کا اہل نہیں ہے اور تمام جائداد کی آمدنی تغلب وتصرف کرلی ہے ایك حبہ صرف نہیں کیا تولیت کا خواستگار ہے۔بکر یہ کہتا ہے کہ میں ان خدمات کا اہل ہوں اور صاحب مزار سلسلہ طریقت اور میرے خاندان کا مزار ہےعمرو نے اکثر سامان تلف کردیاعمرواخبث ہے اور خدمات انجام دینے کا اہل ہی نہیں ہے اور نہ مسلك درویشی عمرو کا ہے عندالقاضی صورت مسئولہ میں ہر دو فریق میں سے کون لائق تولیت نہیں اور کس کے نام جائداد کا اندراج ہونا چاہئےعندالقاضی بکر کی اہلیت ثابت ہوچکی۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
بیان مذکور اگر واقعی ہے تو عمروتو کسی طرح متولی ہو ہی نہیں سکتا اگرچہ خود واقف نے اسے متولی کیا ہوتا بلکہ اگرچہ وہ خودہی واقف ہوتا کہ وہ متغلب ہے۔درمختارمیں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ بالاولی غیرمامون ۔ خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوبا نکال دیا جائیگا اگرچہ وہ خود واقف ہوتو غیر واقف بدرجہ اولی نکال دیا جائے گا۔(ت)
اور بکر اگرچہ اہل ہو خواستگار تولیت ہے اور خواستگار تولیت کو متولی نہیں کرتے۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انالن نستعمل علی عملنا من ارادہ رواہ احمد و الشیخان وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہم اپنے کام پر اس کے خواستگار کو ہر گز مقرر نہ کریں گے(اس کو امام احمدشیخین وابوداؤداور نسائی نے حضرت ابو موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
درمختا رمیں ہے:
طالب التولیۃ لایولی الاالمشروط لہ طالب تولیت کو متولی نہیں بنایا جائے گا سوائے اس کے
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مزار کا زید متولی تھا مزار کی جائداد اراضی بحق خدمت مزار موصوفہ معاف ہےزید کا صاحب مزار سے کوئی سلسلہ نسبی وسلسلہ طریق کوئی تعلق نہیں تھا اب زید کاانتقال ہوگیا زید کا بیٹا عمرو جو بالکل خدمت مزار کا اہل نہیں ہے اور تمام جائداد کی آمدنی تغلب وتصرف کرلی ہے ایك حبہ صرف نہیں کیا تولیت کا خواستگار ہے۔بکر یہ کہتا ہے کہ میں ان خدمات کا اہل ہوں اور صاحب مزار سلسلہ طریقت اور میرے خاندان کا مزار ہےعمرو نے اکثر سامان تلف کردیاعمرواخبث ہے اور خدمات انجام دینے کا اہل ہی نہیں ہے اور نہ مسلك درویشی عمرو کا ہے عندالقاضی صورت مسئولہ میں ہر دو فریق میں سے کون لائق تولیت نہیں اور کس کے نام جائداد کا اندراج ہونا چاہئےعندالقاضی بکر کی اہلیت ثابت ہوچکی۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
بیان مذکور اگر واقعی ہے تو عمروتو کسی طرح متولی ہو ہی نہیں سکتا اگرچہ خود واقف نے اسے متولی کیا ہوتا بلکہ اگرچہ وہ خودہی واقف ہوتا کہ وہ متغلب ہے۔درمختارمیں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ بالاولی غیرمامون ۔ خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوبا نکال دیا جائیگا اگرچہ وہ خود واقف ہوتو غیر واقف بدرجہ اولی نکال دیا جائے گا۔(ت)
اور بکر اگرچہ اہل ہو خواستگار تولیت ہے اور خواستگار تولیت کو متولی نہیں کرتے۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انالن نستعمل علی عملنا من ارادہ رواہ احمد و الشیخان وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہم اپنے کام پر اس کے خواستگار کو ہر گز مقرر نہ کریں گے(اس کو امام احمدشیخین وابوداؤداور نسائی نے حضرت ابو موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
درمختا رمیں ہے:
طالب التولیۃ لایولی الاالمشروط لہ طالب تولیت کو متولی نہیں بنایا جائے گا سوائے اس کے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
صحیح البخاری کتاب الاجارات باب استیجار الرجل الصالح ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۱€
صحیح البخاری کتاب الاجارات باب استیجار الرجل الصالح ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۱€
النظر لانہ مولی فیریدبہ التنفیذ ۔ کہ واقف نے اس کومتولی بنانے کی شرط کردی ہو کیونکہ وہ واقف کی شرط کی وجہ سے متولی بن چکاہے اور اب اس کے نفاذ کاطلبگار ہے(ت)
لہذا کوئی اور کہ ہر طرح اہل ہو تلاش کرکے متولی کیا جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۲۰: ازحیدرآباد دکن محلہ سلطان پور مسئولہ سید فصیح اﷲ صاحب ۵رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ کیا متولی اور منتظم مساجد مساجد کے مداخل ومخارج میں حسب خواہش بلا امتیاز طریق جائز و ناجائز بذات خود بلا مشاورتاہل اسلام دست تصرف دراز رکھ سکتے ہیں اور یقینی تغلب اور غبن فاحش کے باوجود مسلمانوں کی درخواست پر آمد و خرچ کے حساب کے عدم معاینہ کی بابت ان کا انکار واعراض جائز ہےبینواتوجروا
الجواب:
متولی اور منتظم پر اتباع شرع و شرائط ضروری ہے ان کے خلاف کسی فعل کا ان کو اختیار نہیںاور اگر کریں تو مسلمانوں کو ان کی مزاحمت چاہئےاور اگر خیانت یا ان کے باعث وقف پر ضرر ثابت ہوتوفورا نکال دئے جائیں۔درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ بالاولی غیرمامون ۔ خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوبانکال دیاجائیگا اگرچہ خود واقف ہواور غیر واقف ہوتوبدرجہ اولی نکال دیا جائے گا۔ (ت)
غبن وتغلب یقینی درکنار اگرمظنون بھی ہوتو مسلمانوں کو ان سے حساب سمجھنے کا حق پہنچتا ہے اور انکا اعراض سخت قابل اعتراض۔درمختار میں ہے:
لاتلزم المحاسبۃ فی کل عام ویکتفی القاضی منہ بالاجمال لومعروفابالامانۃ ولو متھما یجبرہ علی التعیین شیئا فشیئا ۔ متولی اگر امانت میں معروف ہوتو ہر سال تفصیلی محاسبہ اس پر لازم نہیں بلکہ قاضی اس سے اجمالی حساب طلب کرنے پر اکتفاء کرے گا اور اگر وہ متہم بالخیانت ہے تو قاضی اس کو ایك ایك شیئ کا تفصیلی حساب بتانے پر مجبور کرے گا۔(ت)
لہذا کوئی اور کہ ہر طرح اہل ہو تلاش کرکے متولی کیا جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۴۲۰: ازحیدرآباد دکن محلہ سلطان پور مسئولہ سید فصیح اﷲ صاحب ۵رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ کیا متولی اور منتظم مساجد مساجد کے مداخل ومخارج میں حسب خواہش بلا امتیاز طریق جائز و ناجائز بذات خود بلا مشاورتاہل اسلام دست تصرف دراز رکھ سکتے ہیں اور یقینی تغلب اور غبن فاحش کے باوجود مسلمانوں کی درخواست پر آمد و خرچ کے حساب کے عدم معاینہ کی بابت ان کا انکار واعراض جائز ہےبینواتوجروا
الجواب:
متولی اور منتظم پر اتباع شرع و شرائط ضروری ہے ان کے خلاف کسی فعل کا ان کو اختیار نہیںاور اگر کریں تو مسلمانوں کو ان کی مزاحمت چاہئےاور اگر خیانت یا ان کے باعث وقف پر ضرر ثابت ہوتوفورا نکال دئے جائیں۔درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ بالاولی غیرمامون ۔ خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوبانکال دیاجائیگا اگرچہ خود واقف ہواور غیر واقف ہوتوبدرجہ اولی نکال دیا جائے گا۔ (ت)
غبن وتغلب یقینی درکنار اگرمظنون بھی ہوتو مسلمانوں کو ان سے حساب سمجھنے کا حق پہنچتا ہے اور انکا اعراض سخت قابل اعتراض۔درمختار میں ہے:
لاتلزم المحاسبۃ فی کل عام ویکتفی القاضی منہ بالاجمال لومعروفابالامانۃ ولو متھما یجبرہ علی التعیین شیئا فشیئا ۔ متولی اگر امانت میں معروف ہوتو ہر سال تفصیلی محاسبہ اس پر لازم نہیں بلکہ قاضی اس سے اجمالی حساب طلب کرنے پر اکتفاء کرے گا اور اگر وہ متہم بالخیانت ہے تو قاضی اس کو ایك ایك شیئ کا تفصیلی حساب بتانے پر مجبور کرے گا۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۲€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳€
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۲€
صورت مذکورہ میں وہ مجبور کئے جائیں گے تفصیلی حساب دکھائیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۱ تا ۴۲۷:ازلشکر گاہ بنگلور ملك میسور مسئولہ چودھری محمد حسین بکر قصاب صاحبان مسجد اعظم ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند آدمی مل کر ایك زمین خرید کر بالاتفاق بہ نیت وقف اس پر مسجد آباد کریںامام مؤذن بھی مقرر کرلیں۔بارہ سال سب واقفین باہم متفق رہےنماز جماعت وجمعہ وغیرہ میں شریك رہےمسجد کے لئے اوقاف واسطے آمدنی کے بھی خرید کر مسجد کے نام واسطے محاصل کے دے چکےان لوگوں میں سے ایك گروہ نے بارہ سال بعد مسجد دور ہونے کے باعث ایك اور مسجد بھی فاصلہ بعید سے بنواڈالی اور دونوں مسجدوں میں شریك رہےخدمات اور خرچ بھی محاصل اور ذات سے خرچ کرتے رہے وہ گروہ عرصہ ۲۵ سال سے ذاتی چندہ اس دوسری مسجد میں دیتے ہیں اور پہلی مسجد کے اوقاف برحال خود جاری ہیں اب یہ لوگ جو جدا ہوئے ہیں ان کو پہلی مسجد والے حقوق وقف سے علیحدہ تصور کرتے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ ہم متولی اپنی رضامندی سے مقرر کرتے ہیں اور دوسری مسجد والے کہتے ہیں ہمارا حق ہے کہ ہم سب واقف ہیں اور تولیت کا اختیار سب واقفین کو ہےدوسرے گروہ والے کہتے ہیں کہ تمہارا حق بسبب جدا ہونے اور الگ بنوانے مسجد کے نہیں رہا سوال یہ ہے کہ پہلے واقفین کا حق ساقط ہے یاباقی
(۲)متولی کا مقرر کرنا مسجد کے لئے ضروریات سے ہے یانہیں
(۳)ایك سے زیادہ متولی مقرر کرسکتے ہیں یا نہیں
(۴)جب واقفین میں اختلاف ہو بعض زید کو متولی کریں بعض عمرو کو تو اکثرکو ترجیح ہے یا اقل کواور برتقدیر مساوات کس کو اختیار نصب متولی کا ہے
(۵)واقف سے مراد سطح مسجد کا واقف مراد ہے یا آبادی کرنے والا اور عمارت بنوانے والا
(۶)قوم کو نصب امام وموذن وآبادی مسجد وغیرہ کا اختیار ہے یا واقفین کو
(۷)واقفین کے لئے ضرور ہے کہ ہمیشہ عملدرآمد اورقابض اپنے موقوف پر رہیں کیا قبضہ چھوڑنے سے حق واقفیت ساقط ہوجاتا ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)جب ان سب نے مل کروہ مسجد بنائی سب اس کے واقف ہوئے جو حقوق کہ واقف کے ہیں سب کے لئے ہیں ایك فریق کے مسجد بنالینے سے پہلے کا حق زائل نہ ہوا یہ محض ظلم ہے۔
(۲)مسجد کے لئے متولی کا مقرر کرنا کچھ ضرور نہیں البتہ اوقاف کے لئے ضروری ہے۔
(۳)متولی متعدد بھی ہوسکتے ہیں وہ سب مل کر کام کریں گے ہر ایك مستقل نہ ہوگا۔
مسئلہ ۴۲۱ تا ۴۲۷:ازلشکر گاہ بنگلور ملك میسور مسئولہ چودھری محمد حسین بکر قصاب صاحبان مسجد اعظم ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند آدمی مل کر ایك زمین خرید کر بالاتفاق بہ نیت وقف اس پر مسجد آباد کریںامام مؤذن بھی مقرر کرلیں۔بارہ سال سب واقفین باہم متفق رہےنماز جماعت وجمعہ وغیرہ میں شریك رہےمسجد کے لئے اوقاف واسطے آمدنی کے بھی خرید کر مسجد کے نام واسطے محاصل کے دے چکےان لوگوں میں سے ایك گروہ نے بارہ سال بعد مسجد دور ہونے کے باعث ایك اور مسجد بھی فاصلہ بعید سے بنواڈالی اور دونوں مسجدوں میں شریك رہےخدمات اور خرچ بھی محاصل اور ذات سے خرچ کرتے رہے وہ گروہ عرصہ ۲۵ سال سے ذاتی چندہ اس دوسری مسجد میں دیتے ہیں اور پہلی مسجد کے اوقاف برحال خود جاری ہیں اب یہ لوگ جو جدا ہوئے ہیں ان کو پہلی مسجد والے حقوق وقف سے علیحدہ تصور کرتے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ ہم متولی اپنی رضامندی سے مقرر کرتے ہیں اور دوسری مسجد والے کہتے ہیں ہمارا حق ہے کہ ہم سب واقف ہیں اور تولیت کا اختیار سب واقفین کو ہےدوسرے گروہ والے کہتے ہیں کہ تمہارا حق بسبب جدا ہونے اور الگ بنوانے مسجد کے نہیں رہا سوال یہ ہے کہ پہلے واقفین کا حق ساقط ہے یاباقی
(۲)متولی کا مقرر کرنا مسجد کے لئے ضروریات سے ہے یانہیں
(۳)ایك سے زیادہ متولی مقرر کرسکتے ہیں یا نہیں
(۴)جب واقفین میں اختلاف ہو بعض زید کو متولی کریں بعض عمرو کو تو اکثرکو ترجیح ہے یا اقل کواور برتقدیر مساوات کس کو اختیار نصب متولی کا ہے
(۵)واقف سے مراد سطح مسجد کا واقف مراد ہے یا آبادی کرنے والا اور عمارت بنوانے والا
(۶)قوم کو نصب امام وموذن وآبادی مسجد وغیرہ کا اختیار ہے یا واقفین کو
(۷)واقفین کے لئے ضرور ہے کہ ہمیشہ عملدرآمد اورقابض اپنے موقوف پر رہیں کیا قبضہ چھوڑنے سے حق واقفیت ساقط ہوجاتا ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)جب ان سب نے مل کروہ مسجد بنائی سب اس کے واقف ہوئے جو حقوق کہ واقف کے ہیں سب کے لئے ہیں ایك فریق کے مسجد بنالینے سے پہلے کا حق زائل نہ ہوا یہ محض ظلم ہے۔
(۲)مسجد کے لئے متولی کا مقرر کرنا کچھ ضرور نہیں البتہ اوقاف کے لئے ضروری ہے۔
(۳)متولی متعدد بھی ہوسکتے ہیں وہ سب مل کر کام کریں گے ہر ایك مستقل نہ ہوگا۔
(۴)فقیر اس وقت کتابوں سے دور حالت سفر میں ہے جزئیہ پیش نظر نہیںاور ظاہر یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں زید وعمرو دونوں متولی ہوجائیں گے اور مل کر کام کرینگے کہ نصب متولی کی ولایت واقف کو ہے۔تنویر الابصار میں ہے:
ولایۃ نصب القیم الی الواقف ۔
متولی مقرر کرنے کی ولایت واقف کو ہے(ت)
اور وہ سب واقف ہیں اور نصب متولی متجزی نہیں تو ہر ایك کو اختیار کامل ہے تو دونوں متولی ہوجائیں گے۔اشباہ والنظائر میں ہے:
ماثبت لجماعۃ فھو بینھم علی سبیل الاشتراك الافی مسائل الاولی ولایۃ الانکاح للصغیر والصغیرۃ ثابتۃ للاولیاء علی سبیل الکمال لکل (الی ان قال) والضابط ان الحق اذاکان ممالایتجزی فانہ یثبت لکل علی الکمال فالاستخدام فی المملوك ممالایتجزی ۔
جو چیز جماعت کےلئے ثابت ہو وہ ان سب میں مشترك طور پر ہوتی ہے سوائے چند مسائل کے جن میں سے پہلا مسئلہ نابالغ ونابالغہ کے نکاح کی ولایت کا ہے کہ وہ اولیاء میں سے ہر ایك کےلئے کامل طور پرثابت ہوتی ہے(صاحب اشباہ کے اس قول تك کہ فرمایا)ضابطہ یہ ہے بیشك جو حق ناقابل تجزی ہو وہ ہر ایك کے لئے بطور کمال ثابت ہوتا ہے اور مملوك سے خدمت لینے کا حق ناقابل تجزی ہے۔(ت)
(۵)اصل مسجد زمین ہے تو زمین کا واقف اصل مسجد کا واقف ہے اور جس نے اس میں عمارت بناکر وقف کی وہ بنا کا واقف ہے اور بنا اگرچہ وصف ہے اس کے لیے حکم جز ہے تو وہ بھی وقف مسجد میں شریك ہے۔
(۶)عمارت ومرمت مسجد کا اختیار واقفین کو ہے اور انہیں کے امام ومؤذن مقرر کئے ہوئے اولی ہیں مگر یہ کہ جن کو قوم مقرر کرے وہ شرعا مرجح ہوں تو انہیں کو ترجیح ہوگی۔درمختار میں ہے:
البانی للمسجد اولی من القوم بنصب الامام و المؤذن فی المختار الااذاعین القوم اصلح ممن عینہ البانی ۔
قول مختار کے مطابق مسجد کا بانی امام ومؤذن کے تقرر میں بنسبت قوم کے اولی ہے سوائے اس کے کہ قوم کا مقرر کردہ امام ومؤذن بانی کے مقرر کردہ سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہو۔ (ت)
ولایۃ نصب القیم الی الواقف ۔
متولی مقرر کرنے کی ولایت واقف کو ہے(ت)
اور وہ سب واقف ہیں اور نصب متولی متجزی نہیں تو ہر ایك کو اختیار کامل ہے تو دونوں متولی ہوجائیں گے۔اشباہ والنظائر میں ہے:
ماثبت لجماعۃ فھو بینھم علی سبیل الاشتراك الافی مسائل الاولی ولایۃ الانکاح للصغیر والصغیرۃ ثابتۃ للاولیاء علی سبیل الکمال لکل (الی ان قال) والضابط ان الحق اذاکان ممالایتجزی فانہ یثبت لکل علی الکمال فالاستخدام فی المملوك ممالایتجزی ۔
جو چیز جماعت کےلئے ثابت ہو وہ ان سب میں مشترك طور پر ہوتی ہے سوائے چند مسائل کے جن میں سے پہلا مسئلہ نابالغ ونابالغہ کے نکاح کی ولایت کا ہے کہ وہ اولیاء میں سے ہر ایك کےلئے کامل طور پرثابت ہوتی ہے(صاحب اشباہ کے اس قول تك کہ فرمایا)ضابطہ یہ ہے بیشك جو حق ناقابل تجزی ہو وہ ہر ایك کے لئے بطور کمال ثابت ہوتا ہے اور مملوك سے خدمت لینے کا حق ناقابل تجزی ہے۔(ت)
(۵)اصل مسجد زمین ہے تو زمین کا واقف اصل مسجد کا واقف ہے اور جس نے اس میں عمارت بناکر وقف کی وہ بنا کا واقف ہے اور بنا اگرچہ وصف ہے اس کے لیے حکم جز ہے تو وہ بھی وقف مسجد میں شریك ہے۔
(۶)عمارت ومرمت مسجد کا اختیار واقفین کو ہے اور انہیں کے امام ومؤذن مقرر کئے ہوئے اولی ہیں مگر یہ کہ جن کو قوم مقرر کرے وہ شرعا مرجح ہوں تو انہیں کو ترجیح ہوگی۔درمختار میں ہے:
البانی للمسجد اولی من القوم بنصب الامام و المؤذن فی المختار الااذاعین القوم اصلح ممن عینہ البانی ۔
قول مختار کے مطابق مسجد کا بانی امام ومؤذن کے تقرر میں بنسبت قوم کے اولی ہے سوائے اس کے کہ قوم کا مقرر کردہ امام ومؤذن بانی کے مقرر کردہ سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہو۔ (ت)
حوالہ / References
درمختا شرح تنویر الابصار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
الاشباہ والنظائر کتاب النکاح الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۴۴تا۲۴۶
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰
الاشباہ والنظائر کتاب النکاح الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۴۴تا۲۴۶
درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰
(۷)واقف کےلئے وقف پر ہمیشہ قابض رہناضرور نہیں بارہا واقف دوسرے کو متولی کرتا ہے قبضہ متولی کارہتا ہے مگر حق واقف ساقط نہیں ہوتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۸:ازبڑودہ ناگروارہ گجرات مرسلہ یوسف علی خاں صاحب بہادر صدر انجمن اہلسنت وجماعت ۳ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہلسنت وجماعت کویہ جائزہے کہ روافض کو جامع مسجد یا غیر مساجد کا متولی اور متصرف بنائیں اور ان کو اپنے ساتھ نماز میں شریك کریں اور جو مسلمان ایسا کریں ان کےلئے ازروئے شرع کیاحکم ہےبینوا توجروا۔
الجواب:
اہلسنت کی کسی مسجد خصوصا مسجد جامع کا متولی رافضی کو کرنا شریعت مطہرہ و قرآن عظیم واحادیث صحیحہ و فقہ حنفی کی روسے اصلا کسی طرح جائز نہیں حرام قطعی ہے۔
(۱)یہ روافض نہ اہل قبلہ ہیں نہ مسلمان بلکہ بالیقین کفار مرتدین ہیںردالرفضہ میں بکثرت کتب معتمدہ حنفی وعقائد اہلسنت سے ان کے کافر مرتد ہونے کے روشن ثبوت دئے ہیں۔بدائع امام ملك العلماء وفتاوے امام طاہر عبد الرشید وشرح الکنز امام فخر الدین زیلعی وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
وھذانصاھا قال المرغینانی یجوز الصلاۃ خلف صاحب ھوی وبدعۃ ولاتجوز خلف الرافضی و الجھمی والقدری والمشبھۃ ومن یقول بخلق القران وحاصلہ ان کان ھوی لایکفر بہ صاحبہ تجوز الصلوۃ خلفہ مع الکراھۃ والافلا ھکذافی التبیین والخلاصۃ وھو الصحیح ھکذا فی البدائع ۔
یعنی امام مرغینانی صاحب ہدایہ نے فرمایا:بدمذہب بدعتی کے پیچھے نماز جائز ہے اور رافضی وجہمی وقدری اور مشبہہ اور وہ جو قرآن عظیم کو مخلوق مانتے ہیں ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور حاصل یہ ہے کہ جس میں ایسی بدمذہبی ہو جس کے سبب اسے کافر نہ کہا جائے اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی مگر مکروہ ہوگی اور اگر اس کی بدمذہبی حد کفر تك پہنچی ہے جیسے رافضی وغیرہ مذکورین کہ یہ سب کافر ہیں اس کے پیچھے نماز ہوگی ہی نہیںایسا ہی تبیین الحقائق اور فتاوی خلاصہ میں ہے اور یہی صحیح ہے ایسا ہی بدائع میں ہے۔(ت)
نیز فتاوی خلاصہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
مسئلہ ۴۲۸:ازبڑودہ ناگروارہ گجرات مرسلہ یوسف علی خاں صاحب بہادر صدر انجمن اہلسنت وجماعت ۳ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہلسنت وجماعت کویہ جائزہے کہ روافض کو جامع مسجد یا غیر مساجد کا متولی اور متصرف بنائیں اور ان کو اپنے ساتھ نماز میں شریك کریں اور جو مسلمان ایسا کریں ان کےلئے ازروئے شرع کیاحکم ہےبینوا توجروا۔
الجواب:
اہلسنت کی کسی مسجد خصوصا مسجد جامع کا متولی رافضی کو کرنا شریعت مطہرہ و قرآن عظیم واحادیث صحیحہ و فقہ حنفی کی روسے اصلا کسی طرح جائز نہیں حرام قطعی ہے۔
(۱)یہ روافض نہ اہل قبلہ ہیں نہ مسلمان بلکہ بالیقین کفار مرتدین ہیںردالرفضہ میں بکثرت کتب معتمدہ حنفی وعقائد اہلسنت سے ان کے کافر مرتد ہونے کے روشن ثبوت دئے ہیں۔بدائع امام ملك العلماء وفتاوے امام طاہر عبد الرشید وشرح الکنز امام فخر الدین زیلعی وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
وھذانصاھا قال المرغینانی یجوز الصلاۃ خلف صاحب ھوی وبدعۃ ولاتجوز خلف الرافضی و الجھمی والقدری والمشبھۃ ومن یقول بخلق القران وحاصلہ ان کان ھوی لایکفر بہ صاحبہ تجوز الصلوۃ خلفہ مع الکراھۃ والافلا ھکذافی التبیین والخلاصۃ وھو الصحیح ھکذا فی البدائع ۔
یعنی امام مرغینانی صاحب ہدایہ نے فرمایا:بدمذہب بدعتی کے پیچھے نماز جائز ہے اور رافضی وجہمی وقدری اور مشبہہ اور وہ جو قرآن عظیم کو مخلوق مانتے ہیں ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور حاصل یہ ہے کہ جس میں ایسی بدمذہبی ہو جس کے سبب اسے کافر نہ کہا جائے اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی مگر مکروہ ہوگی اور اگر اس کی بدمذہبی حد کفر تك پہنچی ہے جیسے رافضی وغیرہ مذکورین کہ یہ سب کافر ہیں اس کے پیچھے نماز ہوگی ہی نہیںایسا ہی تبیین الحقائق اور فتاوی خلاصہ میں ہے اور یہی صحیح ہے ایسا ہی بدائع میں ہے۔(ت)
نیز فتاوی خلاصہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
حوالہ / References
فتاوی ہندیۃ کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۸۴
الرافضی اذاکان یسب الشیخین ویلعنھما العیاذ باﷲفھو کافر وان کان یفضل علیا کرم اﷲتعالی وجہہ علی ابی بکر رضی اﷲ عنہ لایکون کافرا الا انہ مبتدع ۔
رافضی اگر صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی تعالی عنہما کو معاذاللہ براکہتا اور تبرابکتا ہو تو وہ کافر ہے اور اگرصدیق اکبر سے مولی علی کو فقط افضل کہتا ہوتو کافر نہ ہوگا مگر گمراہ ہے۔ (ت)
فتاوی بزازیہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
یجب اکفارھم باکفارعثمن وعلی وطلحۃ وزبیر وعائشۃ رضی اﷲ عنہم ۔
یعنی جولوگ حضرت عثمانعلیطلحہزبیراور عائشہ رضی اللہ عنہم کو کافرکہتے ہیں واجب ہے کہ ہم ان کافر کہنے والوں کو کافر کہیں۔
فتاوی ظہیریہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا وبقولھم فی خروج امام باطن(الی قولہ) وھؤلاء قوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکام المرتدین ۔
یعنی رافضیوں کو کافر کہنا واجب ہے ان کے اس قول میں کہ اموات دنیاکی طرف لوٹیں گے اور اس قول میں کہ ایك چھپا ہوا امام نکلے گا اور یہ لوگ ملت اسلام سے خارج ہیں اور ان کے وہی حکم ہیں جو مرتدوں کے ہوتے ہیں۔
شرح مقاصد شرح تحریر الاصول و ردالمحتار علی الدر المختار وغیرہا میں ہے:
اھل القبلۃ معناہ الذین اتفقوا علی ماھومن ضروریات الاسلام واختلفوافی اصول سواھا والا فلا نزاع فی کفر اھل القبلۃ المواظب طول العمر علی الطاعات بصدور شیئ من موجبات الکفر عنہ اھ مختصرا ۔
یعنی اہل قبلہ کے یہ معنی ہیں کہ جو تمام ضروریات دین کو مانتا ہو اور ان کے سوابعض عقائد میں خلاف رکھتا ہو ورنہ اس میں کچھ خلاف نہیں کہ جس اہل قبلہ سے کوئی موجب کفر صادر ہو وہ کافر ہے اگرچہ تمام عبادتوں پر مداومت کرے۔
رافضی اگر صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی تعالی عنہما کو معاذاللہ براکہتا اور تبرابکتا ہو تو وہ کافر ہے اور اگرصدیق اکبر سے مولی علی کو فقط افضل کہتا ہوتو کافر نہ ہوگا مگر گمراہ ہے۔ (ت)
فتاوی بزازیہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
یجب اکفارھم باکفارعثمن وعلی وطلحۃ وزبیر وعائشۃ رضی اﷲ عنہم ۔
یعنی جولوگ حضرت عثمانعلیطلحہزبیراور عائشہ رضی اللہ عنہم کو کافرکہتے ہیں واجب ہے کہ ہم ان کافر کہنے والوں کو کافر کہیں۔
فتاوی ظہیریہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا وبقولھم فی خروج امام باطن(الی قولہ) وھؤلاء قوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکام المرتدین ۔
یعنی رافضیوں کو کافر کہنا واجب ہے ان کے اس قول میں کہ اموات دنیاکی طرف لوٹیں گے اور اس قول میں کہ ایك چھپا ہوا امام نکلے گا اور یہ لوگ ملت اسلام سے خارج ہیں اور ان کے وہی حکم ہیں جو مرتدوں کے ہوتے ہیں۔
شرح مقاصد شرح تحریر الاصول و ردالمحتار علی الدر المختار وغیرہا میں ہے:
اھل القبلۃ معناہ الذین اتفقوا علی ماھومن ضروریات الاسلام واختلفوافی اصول سواھا والا فلا نزاع فی کفر اھل القبلۃ المواظب طول العمر علی الطاعات بصدور شیئ من موجبات الکفر عنہ اھ مختصرا ۔
یعنی اہل قبلہ کے یہ معنی ہیں کہ جو تمام ضروریات دین کو مانتا ہو اور ان کے سوابعض عقائد میں خلاف رکھتا ہو ورنہ اس میں کچھ خلاف نہیں کہ جس اہل قبلہ سے کوئی موجب کفر صادر ہو وہ کافر ہے اگرچہ تمام عبادتوں پر مداومت کرے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
شرح المقاصد المبحث السابع فی مخالف الحق من اہل القبلۃ دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/ ۲۶۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴
شرح المقاصد المبحث السابع فی مخالف الحق من اہل القبلۃ دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۲/ ۲۶۹
شرح فقہ اکبر علی قاری میں ہے:
لایخفی ان المراد بقول علمائنا لاتجوز تکفیر اھل القبلۃ بذنب لیس مجرد التوجہ الی القبلۃ فان الغلاۃ من الروافض وان صلوا الی القبلۃ لیسوا بمؤمنین ۔
یعنی پوشیدہ نہیں کہ ہمارے علماء کے اس قول میں کہ اہل قبلہ کو کسی گناہ کے سبب کافر کہنا جائز نہیں فقط نماز میں قبلہ کو منہ کرلینا مراد نہیں کہ غالی رافضی اگرچہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہیں بلاشہ کافر ہیں۔
اور مساجد اہلسنت خصوصا مسجد جامع کا اسے متولی کرنا اور مسلمانوں کے ایسے عظیم دینی تصرفات اس کے ہاتھ میں رکھنا اس کی عظیم تعظیم ہے اور اس کی تعظیم سخت حرام ہے بلکہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے۔تبیین الحقائق وطحطاوی علی مراقی الفلاح وغیرہما میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۔
اس لئے کہ اسے گواہ بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں اس کی توہین واجب ہے۔
فتاوی ظہیریہ واشباہ والنظائر ودرمختار میں ہے:تبجیل الکافرکفر کافر کی تعظیم کفر ہے۔
(۲)اس میں اسے مسلمانوں پر ایك افسری دینا ہے اور یہ حرام ہے۔ فتح القدیر ودرمختار وغیرہما میں ہے:
یمنع من استکتاب ومباشرۃ یکون بھا معظما عند المسلمین ۔
یعنی ذمی کافر کو بھی منشی بنانایا اور کوئی ایسا عمل سپرد کرنا جس سے مسلمانوں میں اس کی بڑائی ہو جائز نہیں۔
حاوی قدسی وبحرالرائق ودرمختار میں ہے:
والنظم لہ ینبغی ان یلازم الصغار فیما یکون بینہ و بین المسلمین فی کل شیئوعلیہ فیمنع من القعود حال قیام المسلم عندہ بحرویحرم تعظیمہ ۔
یعنی کافر اورمسلمان کے ہر معاملہ میں کافر کو دبا ہوا ذلیل رکھنا چاہئےمسلمان کھڑا ہوتو اسے بیٹھنے نہ دیںایسا ہی بحر میں ہے اور اس کی تعظیم حرام ہے۔
لایخفی ان المراد بقول علمائنا لاتجوز تکفیر اھل القبلۃ بذنب لیس مجرد التوجہ الی القبلۃ فان الغلاۃ من الروافض وان صلوا الی القبلۃ لیسوا بمؤمنین ۔
یعنی پوشیدہ نہیں کہ ہمارے علماء کے اس قول میں کہ اہل قبلہ کو کسی گناہ کے سبب کافر کہنا جائز نہیں فقط نماز میں قبلہ کو منہ کرلینا مراد نہیں کہ غالی رافضی اگرچہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہیں بلاشہ کافر ہیں۔
اور مساجد اہلسنت خصوصا مسجد جامع کا اسے متولی کرنا اور مسلمانوں کے ایسے عظیم دینی تصرفات اس کے ہاتھ میں رکھنا اس کی عظیم تعظیم ہے اور اس کی تعظیم سخت حرام ہے بلکہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے۔تبیین الحقائق وطحطاوی علی مراقی الفلاح وغیرہما میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۔
اس لئے کہ اسے گواہ بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں اس کی توہین واجب ہے۔
فتاوی ظہیریہ واشباہ والنظائر ودرمختار میں ہے:تبجیل الکافرکفر کافر کی تعظیم کفر ہے۔
(۲)اس میں اسے مسلمانوں پر ایك افسری دینا ہے اور یہ حرام ہے۔ فتح القدیر ودرمختار وغیرہما میں ہے:
یمنع من استکتاب ومباشرۃ یکون بھا معظما عند المسلمین ۔
یعنی ذمی کافر کو بھی منشی بنانایا اور کوئی ایسا عمل سپرد کرنا جس سے مسلمانوں میں اس کی بڑائی ہو جائز نہیں۔
حاوی قدسی وبحرالرائق ودرمختار میں ہے:
والنظم لہ ینبغی ان یلازم الصغار فیما یکون بینہ و بین المسلمین فی کل شیئوعلیہ فیمنع من القعود حال قیام المسلم عندہ بحرویحرم تعظیمہ ۔
یعنی کافر اورمسلمان کے ہر معاملہ میں کافر کو دبا ہوا ذلیل رکھنا چاہئےمسلمان کھڑا ہوتو اسے بیٹھنے نہ دیںایسا ہی بحر میں ہے اور اس کی تعظیم حرام ہے۔
حوالہ / References
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر مطلب یجب معرفۃ لمکفرات الاجتنابہاالخ مصطفی البابی مصر ص۱۶۲
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۱/ ۱۳۴
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱
درمختار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۲
درمختار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۲
تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۱/ ۱۳۴
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱
درمختار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۲
درمختار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۲
(۳)مساجد واوقاف کا متولی بنانا کیسے عظیم دینی کاموں میں ان سے استعانت ہے اوریہ ان تشریحات جلیلہ پر کہ المحجۃ المؤتمنہ میں مذکور ہوئیں حرام ہےقرآن عظیم فرماتا ہے:
" و لا تتخذوا منهم ولیا و لا نصیرا(۸۹) "
غیروں میں سے کسی کو نہ اپنا دوست بناؤ نہ مددگار۔
تفسیر ارشاد العقل السلیم علامہ ابوسعود عمادی وتفسری فتوحات الہیہ میں ہے:
نھواعن موالاتھم لقربۃ اوصداقۃ جاھلیۃ ونحوھما من اسباب المصادقۃ والمعاشرۃ وعن الاستعانۃ بھم فی الغزووسائر الامور الدینیۃ ۔
یعنی مسلمان منع کئے گئے کافروں کی دوستی سے خواہ وہ رشتہ داری کے سبب ہو یا اسلام سے پہلے کے یارانے خواہ یاری اور میل جول کے اور کسی سبب سے اور منع کئے گئے اس سے کہ جہاد یا کسی دینی کام میں کافروں سے استعانت کریں۔
(۴)عقیلی وابن حبان وغیرہما کی حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا:
سیأتی قوم لھم نبز یقال الرافضۃ لایشھدون جمعۃ ولاجماعۃ ویطعنون علی السلف فلاتجالسوا ۔
عنقریب کچھ لوگ آئیں گے ان کا بدلقب ہوگا انہیں رافضی کہا جائے گا نہ جمعہ میں حاضر ہوں گے نہ جماعت میں اور سلف صالح کو بر اکہیں گے تم ان کے پاس نہ بیٹھنا نہ ان کے ساتھ کھانا پینا۔
مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:
اذمجالسۃ الاغیار تجرالی غایۃ البوار ونھایۃ الخسار ۔
اس لئے کہ غیروں کے پاس بیٹھنا حد درجہ کی بربادی اور انتہا درجہ کے نقصان کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔
جب ان کے پاس بیٹھنا نری بربادی ہے تو انہیں مساجد واوقاف کا متولی کرنا کس درجہ کس قدر عظیم تباہی ہے۔
(۵)مسلمانوں کا ایسا عظیم کام اس کے سپرد کرنے میں اسے راز دار ودخیل کار بنانا ہے اور یہ حرام ہے۔
" و لا تتخذوا منهم ولیا و لا نصیرا(۸۹) "
غیروں میں سے کسی کو نہ اپنا دوست بناؤ نہ مددگار۔
تفسیر ارشاد العقل السلیم علامہ ابوسعود عمادی وتفسری فتوحات الہیہ میں ہے:
نھواعن موالاتھم لقربۃ اوصداقۃ جاھلیۃ ونحوھما من اسباب المصادقۃ والمعاشرۃ وعن الاستعانۃ بھم فی الغزووسائر الامور الدینیۃ ۔
یعنی مسلمان منع کئے گئے کافروں کی دوستی سے خواہ وہ رشتہ داری کے سبب ہو یا اسلام سے پہلے کے یارانے خواہ یاری اور میل جول کے اور کسی سبب سے اور منع کئے گئے اس سے کہ جہاد یا کسی دینی کام میں کافروں سے استعانت کریں۔
(۴)عقیلی وابن حبان وغیرہما کی حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا:
سیأتی قوم لھم نبز یقال الرافضۃ لایشھدون جمعۃ ولاجماعۃ ویطعنون علی السلف فلاتجالسوا ۔
عنقریب کچھ لوگ آئیں گے ان کا بدلقب ہوگا انہیں رافضی کہا جائے گا نہ جمعہ میں حاضر ہوں گے نہ جماعت میں اور سلف صالح کو بر اکہیں گے تم ان کے پاس نہ بیٹھنا نہ ان کے ساتھ کھانا پینا۔
مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:
اذمجالسۃ الاغیار تجرالی غایۃ البوار ونھایۃ الخسار ۔
اس لئے کہ غیروں کے پاس بیٹھنا حد درجہ کی بربادی اور انتہا درجہ کے نقصان کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔
جب ان کے پاس بیٹھنا نری بربادی ہے تو انہیں مساجد واوقاف کا متولی کرنا کس درجہ کس قدر عظیم تباہی ہے۔
(۵)مسلمانوں کا ایسا عظیم کام اس کے سپرد کرنے میں اسے راز دار ودخیل کار بنانا ہے اور یہ حرام ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۸۹
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود) تحت آیۃ ۳/ ۲۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۳،الفتوحات الالٰہیۃ الشہیر بالجمل تحت آیۃ ۳/ ۲۸ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۵۷
العلل المتناہیۃ حدیث ۲۵۷،دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور۱/ ۱۶۱ والضعفاء الکبیر،حدیث ۱۵۳ ۱/ ۱۲۶
مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان تحت حدیث ۱۰۸ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۳۰۹
ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود) تحت آیۃ ۳/ ۲۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۳،الفتوحات الالٰہیۃ الشہیر بالجمل تحت آیۃ ۳/ ۲۸ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۵۷
العلل المتناہیۃ حدیث ۲۵۷،دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور۱/ ۱۶۱ والضعفاء الکبیر،حدیث ۱۵۳ ۱/ ۱۲۶
مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان تحت حدیث ۱۰۸ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۳۰۹
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" ام حسبتم ان تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جہدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولارسولہ ولا المؤمنین ولیجۃ واللہ خبیر بما تعملون ﴿۱۶﴾"
کیا اس گھمنڈ میں ہو کہ یونہی چھوڑدئے جاؤگے اور ابھی وہ لوگ علانیہ ظاہر نہ ہوئے جو تم سے راہ خدا میں پوری کوشش کریں اور اﷲ ورسول ومسلمین کے سواکسی کو اپنا راز دار ودخیل کار نہ بنائیں اور اﷲ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
تفسیر کبیرمیں ہے:
نھی اﷲ تعالی المؤمنین ان یتخذوابطانۃ من غیر المؤمنین فیکون ذلك نھیا عن جمیع الکفار وممایؤکدذلك انہ قیل لعمر رضی تعالی عنہ ھھنا رجل من اھل الحیرۃ نصرانی لایعرف اقوی حفظا ولا احسن خطامنہ فان رأیت ان نتخذہ کاتبا فامتنع عمر من ذلك وقال اذا اتخذت بطانۃ من غیر المؤمنین ۔ یعنی اﷲ تعالی نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ غیر مسلم کو اپنا راز دار نہ بناؤ تویہ تمام کفار سے ممانعت ہے اور تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے عرض کی گئی کہ شہر حیرہ میں ایك نصرانی ہے اس کا ساحافظہ اور عمدہ خط کسی کا معلوم نہیں حضور کی رائے ہوتو ہم اسے محرر بنالیںامیر المومین نے اسے قبول نہ فرمایا اورارشاد فرمایا کہ ایسا ہوتو میں غیر مسلم کو راز دار بنانے والا ٹھہروں گا۔
تفسیرلباب التاویل وغیرہ پارہ۶میں ہے:
روی ان اباموسی الاشعری رضی اﷲتعالی عنہ قال قلت لعمر بن خطاب رضی اﷲ تعالی عنہ ان لی کاتبا نصرانیا فقال مالك ولہ قاتلك اﷲ الااتخذت حنیفا یعنی مسلما اما سمعت قول اﷲ یعنی ابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہوا کہ میں نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم سے عرض کی میرا ایك محرر نصرانی ہےفرمایا تمہیں اس سے کیاعلاقہ خدا تم سے سمجھے کیوں نہ کسی کھرے مسلمان کو محرر بنایا کیا تم نے یہ ارشاد الہی نہ سنا کہ اے ایمان والو!
" ام حسبتم ان تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جہدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولارسولہ ولا المؤمنین ولیجۃ واللہ خبیر بما تعملون ﴿۱۶﴾"
کیا اس گھمنڈ میں ہو کہ یونہی چھوڑدئے جاؤگے اور ابھی وہ لوگ علانیہ ظاہر نہ ہوئے جو تم سے راہ خدا میں پوری کوشش کریں اور اﷲ ورسول ومسلمین کے سواکسی کو اپنا راز دار ودخیل کار نہ بنائیں اور اﷲ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
تفسیر کبیرمیں ہے:
نھی اﷲ تعالی المؤمنین ان یتخذوابطانۃ من غیر المؤمنین فیکون ذلك نھیا عن جمیع الکفار وممایؤکدذلك انہ قیل لعمر رضی تعالی عنہ ھھنا رجل من اھل الحیرۃ نصرانی لایعرف اقوی حفظا ولا احسن خطامنہ فان رأیت ان نتخذہ کاتبا فامتنع عمر من ذلك وقال اذا اتخذت بطانۃ من غیر المؤمنین ۔ یعنی اﷲ تعالی نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ غیر مسلم کو اپنا راز دار نہ بناؤ تویہ تمام کفار سے ممانعت ہے اور تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے عرض کی گئی کہ شہر حیرہ میں ایك نصرانی ہے اس کا ساحافظہ اور عمدہ خط کسی کا معلوم نہیں حضور کی رائے ہوتو ہم اسے محرر بنالیںامیر المومین نے اسے قبول نہ فرمایا اورارشاد فرمایا کہ ایسا ہوتو میں غیر مسلم کو راز دار بنانے والا ٹھہروں گا۔
تفسیرلباب التاویل وغیرہ پارہ۶میں ہے:
روی ان اباموسی الاشعری رضی اﷲتعالی عنہ قال قلت لعمر بن خطاب رضی اﷲ تعالی عنہ ان لی کاتبا نصرانیا فقال مالك ولہ قاتلك اﷲ الااتخذت حنیفا یعنی مسلما اما سمعت قول اﷲ یعنی ابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہوا کہ میں نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم سے عرض کی میرا ایك محرر نصرانی ہےفرمایا تمہیں اس سے کیاعلاقہ خدا تم سے سمجھے کیوں نہ کسی کھرے مسلمان کو محرر بنایا کیا تم نے یہ ارشاد الہی نہ سنا کہ اے ایمان والو!
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۹ /۱۶€
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) ∞تحت€ آیۃ ∞۳/ ۱۱۸€ المطبعۃ البیہۃ المصریۃ ∞مصر۸/ ۲۱۰€
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) ∞تحت€ آیۃ ∞۳/ ۱۱۸€ المطبعۃ البیہۃ المصریۃ ∞مصر۸/ ۲۱۰€
عزوجل" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا الیہود والنصری اولیاء "قلت لہ دینہ ولی کتابتہ قال لا اکرمھم اذااھانھم اﷲ ولااعزھم اذااذلھم اﷲ ولا ادینھم اذا بعدھم اﷲ قلت لایتم امرالبصرۃ الا بہ فقال مات النصرانی والسلام یعنی ھب انہ مات فما تصنع بعدفما تعمل بعد موتہ فاعلمہ الان واستغن عنہ بغیرہ من المسلمین ۔ یہود ونصاری کو یار نہ بناؤمیں نے عرض کی اس کا دین اس کے لئے ہے مجھے تو اس کی محرری سے کام ہےفرمایا میں کافروں کو گرامی نہ کروں گا جبکہ انہیں اﷲ نے خوار کیانہ انہیں عزت دوں گا جب کہ اﷲ نے انہیں ذلیل کیانہ ان کو قرب دوں گا جب کہ اﷲ نے انہیں دور کیا۔میں نے عرض کی بصرہ کا کام بے اس کے پورا نہ ہوگا۔فرمایا مرگیانصرانییعنی فرض کرلو کہ وہ مرگیا اس کے بعد کیاکروگے جو جب کروگے اب کرو اور کسی مسلمان کو مقرر کرکے اس سے بے پروا ہوجاؤ۔
شرح سیر کبیر پھر ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے:
بہ ناخذ فان الوالی ممنوع من ان یتخذ کاتبا من غیر المسلمین لقولہ تعالی" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم" ۔ ہم امیر المومنین کے اسی ارشاد پر فتوی دیتے ہیں بیشك والی کو جائز نہیں کہ کسی کافر کو محرربنائیں کہ اﷲ تعالی فرماتاہے اپنے سوا اور وں کو راز دار نہ بناؤ۔
سبحن اﷲ ! جب ان کو محرر تك بنانا ناجائز وخلاف قرآن عظیم ہے تو مساجد مسلمین ان کے ہاتھ میں سپردکرنا اور اتنا عظیم منصب دینا کس درجہ سخت حرام ہونا لازم۔
(۶)متولی کرناحرام ہے مگر اسے کہ امین وخیر خواہ ہویہاں تك کہ خود واقف پر اگر اطمینان نہ ہو وقف سے اسے باہرنکال دینا واجب ہے۔اسعاف فی حکم الاوقاف میں ہے:
لایولی الا امین لان الولایۃ مقیدۃ بشرط النظر و لیس من النظر تولیۃ الخائن لانہ یخل بالمقصود ۔ متولی نہ کیا جائے مگر جس پر پورا اطمینان ہو کہ تولیت میں وقف کا فائدہ دیکھنے کی شرط ہے اور جس پر اطمینان نہ ہو اس کا متولی کرنا رعائت فائد ہ سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا کہ وہ اصل مقصود میں خلل ڈالتا ہے۔
شرح سیر کبیر پھر ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے:
بہ ناخذ فان الوالی ممنوع من ان یتخذ کاتبا من غیر المسلمین لقولہ تعالی" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم" ۔ ہم امیر المومنین کے اسی ارشاد پر فتوی دیتے ہیں بیشك والی کو جائز نہیں کہ کسی کافر کو محرربنائیں کہ اﷲ تعالی فرماتاہے اپنے سوا اور وں کو راز دار نہ بناؤ۔
سبحن اﷲ ! جب ان کو محرر تك بنانا ناجائز وخلاف قرآن عظیم ہے تو مساجد مسلمین ان کے ہاتھ میں سپردکرنا اور اتنا عظیم منصب دینا کس درجہ سخت حرام ہونا لازم۔
(۶)متولی کرناحرام ہے مگر اسے کہ امین وخیر خواہ ہویہاں تك کہ خود واقف پر اگر اطمینان نہ ہو وقف سے اسے باہرنکال دینا واجب ہے۔اسعاف فی حکم الاوقاف میں ہے:
لایولی الا امین لان الولایۃ مقیدۃ بشرط النظر و لیس من النظر تولیۃ الخائن لانہ یخل بالمقصود ۔ متولی نہ کیا جائے مگر جس پر پورا اطمینان ہو کہ تولیت میں وقف کا فائدہ دیکھنے کی شرط ہے اور جس پر اطمینان نہ ہو اس کا متولی کرنا رعائت فائد ہ سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا کہ وہ اصل مقصود میں خلل ڈالتا ہے۔
حوالہ / References
لباب التاویل فی معانی التنزیل(تفسیر الخاذن) ∞تحت€ آیۃ ∞۵/ ۵۱€ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۶۳۔۶۲€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۳۸€
ردالمحتار بحوالہ الاسعاف فی حکم الاوقاف کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۵€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۳۸€
ردالمحتار بحوالہ الاسعاف فی حکم الاوقاف کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۵€
فتاوی بزازیہ ودرر وغرروتنویر الابصار ودرمختار وغیرہا میں ہے:
ینزع وجوبا لوالواقف فغیرہ اولی غیر مامون ۔
یعنی اگر خود واقف قابل اطمینان نہ ہو تو اسے نکال دینا واجبپھر دوسرے کا کیاذکر۔
اور قرآن عظیم شاہد ہے کہ غیر مسلم ہر گز کسی معاملہ کا خیر خواہ نہ ہوگااﷲ تعالی فرماتا ہے:
" یایها الذین امنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم لا یالونكم خبالا-ودوا ما عنتم-قد بدت البغضآء من افواههم ﭕ و ما تخفی صدورهم اكبر-قد بینا لكم الایت ان كنتم تعقلون(۱۱۸) "
اے ایمان والو ! اپنے غیروں سے کسی کو راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے تمہارا مشقت میں پڑنادشمنی ان کے مونہوں سے ظاہر ہوچکی ہے اور جوان کے سینوں میں دبی ہے وہ بڑی ہےہم نے تمہارے سامنے نشانیاں صاف بیان فرمادیں اگر تمہیں عقل ہو۔
(۷)تنویر الابصار وغیرہ متون میں ہے:العاشرحرمسلم (یعنی عشر تحصیل کرنیوالے کی تعریف میں آزاد اورمسلمان ہونا داخل ہے۔غایۃ البیان امام اتقانی شرح ہدایہ وبحرالرائق شرح کنز الدقائق وردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے:
لایصح ان یکون کافرا لانہ لایلی علی مسلم بالایۃ۔
یعنی تحصیل عشر پر کسی کافر کو مقرر کرنا باطل محض ہے کہ بنص قرآن اسے کسی مسلم پر کوئی اختیار نہیں مل سکتا۔
عشر لینے والا راستوں پر مقرر کیا جاتا ہے کہ تاجروں سے عشر تحصیلےراہ کی حفاظت کرےجیسے بلاتشبیہہ یہاں چونگی کا محرر اورراستوں کی چوکی کا پولیس مین۔جب اتنی خفیف دنیوی خدمت پر انہیں مقرر کرنا اصلا درست نہیں تو ایسے عظیم دینی کام پر تقرر کیونکر ممکن۔(خاص تصریحات مسئلہ) (۸)لاجرم صریح تصریحیں لیجئے۔ درمختار میں ہے:
بھذا یعلم حرمۃ تولیۃ الیھود علی الاعمال ۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ اسلامی کاموں پر یہودی(یعنی کسی کافر کا متولی کرنا حرام ہے۔
ینزع وجوبا لوالواقف فغیرہ اولی غیر مامون ۔
یعنی اگر خود واقف قابل اطمینان نہ ہو تو اسے نکال دینا واجبپھر دوسرے کا کیاذکر۔
اور قرآن عظیم شاہد ہے کہ غیر مسلم ہر گز کسی معاملہ کا خیر خواہ نہ ہوگااﷲ تعالی فرماتا ہے:
" یایها الذین امنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم لا یالونكم خبالا-ودوا ما عنتم-قد بدت البغضآء من افواههم ﭕ و ما تخفی صدورهم اكبر-قد بینا لكم الایت ان كنتم تعقلون(۱۱۸) "
اے ایمان والو ! اپنے غیروں سے کسی کو راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے تمہارا مشقت میں پڑنادشمنی ان کے مونہوں سے ظاہر ہوچکی ہے اور جوان کے سینوں میں دبی ہے وہ بڑی ہےہم نے تمہارے سامنے نشانیاں صاف بیان فرمادیں اگر تمہیں عقل ہو۔
(۷)تنویر الابصار وغیرہ متون میں ہے:العاشرحرمسلم (یعنی عشر تحصیل کرنیوالے کی تعریف میں آزاد اورمسلمان ہونا داخل ہے۔غایۃ البیان امام اتقانی شرح ہدایہ وبحرالرائق شرح کنز الدقائق وردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے:
لایصح ان یکون کافرا لانہ لایلی علی مسلم بالایۃ۔
یعنی تحصیل عشر پر کسی کافر کو مقرر کرنا باطل محض ہے کہ بنص قرآن اسے کسی مسلم پر کوئی اختیار نہیں مل سکتا۔
عشر لینے والا راستوں پر مقرر کیا جاتا ہے کہ تاجروں سے عشر تحصیلےراہ کی حفاظت کرےجیسے بلاتشبیہہ یہاں چونگی کا محرر اورراستوں کی چوکی کا پولیس مین۔جب اتنی خفیف دنیوی خدمت پر انہیں مقرر کرنا اصلا درست نہیں تو ایسے عظیم دینی کام پر تقرر کیونکر ممکن۔(خاص تصریحات مسئلہ) (۸)لاجرم صریح تصریحیں لیجئے۔ درمختار میں ہے:
بھذا یعلم حرمۃ تولیۃ الیھود علی الاعمال ۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ اسلامی کاموں پر یہودی(یعنی کسی کافر کا متولی کرنا حرام ہے۔
حوالہ / References
α €درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
α €القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
α €درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۶
α €ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۸
α €درمختار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۶
α €القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
α €درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۶
α €ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۸
α €درمختار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۶
بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
لاشك فی حرمۃ ذلک ۔ اس کے حرام ہونے میں کوئی شك نہیں۔
شامی میں ہے:
ای لان فی ذلك تعظیمہ وقد نصواعلی حرمۃ تعظیمہ ۔ یعنی اس لئے کہ اس میں اس کی تعظیم ہے اور بیشك ائمہ دین نے تصریحیں فرمائیں کہ کافر کی تعظیم حرام ہے۔
شرنبلالیہ علی الدرر پھر ردالمحتار میں ہے:
علم مماذکرناہ حرمۃ تولیۃ الفسقۃ فضلا عن الیھود والکفرۃ ۔ یعنی جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ فاسقوں کو متولی کرنا حرام ہے چہ جائیکہ یہودی ودیگر کفار۔
(۹)تمام عبارات ودلائل کہ یہاں تك مذکور ہوئے مطلقا ہر کافر میں ہیں اگرچہ کافر ذمی ہو جو سلطنت اسلامیہ میں فرمانبردار وجزیہ گزار ہوکر رہتا ہے اور اکثر معاملات میں اس کاحکم مسلمانوں کا سار کھا گیا ہے نہ کہ حربی جس سے انقطاع کلی کا حکم ہے اور امان لے کر بھی دارالاسلام میں سال بھر تك رہ ہی نہیں سکتا کہ مرتد جسے سلطان اسلام فورا قتل کرے گا اور اگر غور کے لئے مہلت مانگے تو تین دن کی مہلت دے گا اور ان میں بھی قید ہی رکھے گامتولی کس وقت کرے گا۔تنویر الابصار میں ہے:
لایمکن حربی مستأمن فیناسنۃ ۔ حربی مستامن ہمارے درمیان ایك سال نہیں ٹھہرسکتا۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
من ارتد عرض الحاکم علیہ الاسلام وتکشف شبھتہ ویحبس وجوبا ثلثۃ ایام ان طلب المھلۃ والا قتلہ من ساعتہ الااذارجی جو مرتد ہوجائے حاکم اس پر اسلام پیش کرے گا اور اس کے شبہ کاازالہ کرے گا اگر وہ مہلت طلب کرے تو لازمی طور پر تین دن قید رکھاجائے گا ورنہ حاکم اسلام اسی وقت اس کو قتل کردے گا سوائے
لاشك فی حرمۃ ذلک ۔ اس کے حرام ہونے میں کوئی شك نہیں۔
شامی میں ہے:
ای لان فی ذلك تعظیمہ وقد نصواعلی حرمۃ تعظیمہ ۔ یعنی اس لئے کہ اس میں اس کی تعظیم ہے اور بیشك ائمہ دین نے تصریحیں فرمائیں کہ کافر کی تعظیم حرام ہے۔
شرنبلالیہ علی الدرر پھر ردالمحتار میں ہے:
علم مماذکرناہ حرمۃ تولیۃ الفسقۃ فضلا عن الیھود والکفرۃ ۔ یعنی جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ فاسقوں کو متولی کرنا حرام ہے چہ جائیکہ یہودی ودیگر کفار۔
(۹)تمام عبارات ودلائل کہ یہاں تك مذکور ہوئے مطلقا ہر کافر میں ہیں اگرچہ کافر ذمی ہو جو سلطنت اسلامیہ میں فرمانبردار وجزیہ گزار ہوکر رہتا ہے اور اکثر معاملات میں اس کاحکم مسلمانوں کا سار کھا گیا ہے نہ کہ حربی جس سے انقطاع کلی کا حکم ہے اور امان لے کر بھی دارالاسلام میں سال بھر تك رہ ہی نہیں سکتا کہ مرتد جسے سلطان اسلام فورا قتل کرے گا اور اگر غور کے لئے مہلت مانگے تو تین دن کی مہلت دے گا اور ان میں بھی قید ہی رکھے گامتولی کس وقت کرے گا۔تنویر الابصار میں ہے:
لایمکن حربی مستأمن فیناسنۃ ۔ حربی مستامن ہمارے درمیان ایك سال نہیں ٹھہرسکتا۔ (ت)
درمختارمیں ہے:
من ارتد عرض الحاکم علیہ الاسلام وتکشف شبھتہ ویحبس وجوبا ثلثۃ ایام ان طلب المھلۃ والا قتلہ من ساعتہ الااذارجی جو مرتد ہوجائے حاکم اس پر اسلام پیش کرے گا اور اس کے شبہ کاازالہ کرے گا اگر وہ مہلت طلب کرے تو لازمی طور پر تین دن قید رکھاجائے گا ورنہ حاکم اسلام اسی وقت اس کو قتل کردے گا سوائے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۳۸€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۳۸€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۳۸€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الجہاد فصل فی استیمان الکافر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۶€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۳۸€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العاشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۳۸€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الجہاد فصل فی استیمان الکافر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۶€
( مطلب عبارات رد المحتار)
اسلامہ بدائع ۔ اس کے کہ اس کے اسلام کی امید ہوبدائع۔(ت)
عبارت ردالمحتار یشترط للصحۃ بلوغہ وعقلہ لاحریتہ واسلامہ صراحۃ (صحت تولیت کے لئے بلوغ اور عقل شرط ہے حریت اور صراحتا مسلمان ہونا نہیں۔ت)خاص دربارہ ذمی ہے یعنی متولی بن سکنے کے لئے اسلام شرط نہیں کہ کافر ذمی بھی اگر متولی کیاجائے گا ہوجائے گا نہ یہ کہ کوئی کافر کیسا ہی ہو متولی ہوسکتا ہےاس عبارت کے متصل ہی خود اس میں اس کی سند یہ لکھی:
لما فی الاسعاف لواوصی الی صبی تبطل فی القیاس مطلقا وفی الاستحسان ھی باطلۃ مادام صغیراولوکان عبدایجوز قیاسا واستحساناثم الذمی فی الحکم کالعبد فلواخرجھما القاضی ثم عتق العبدواسلم الذمی لاتعود الیہمااھ بحر ونحوہ فی النھر ۔ یعنی اسلام شرط نہ ہونے کی سند وہ ہے جو اسعاف میں فرمایا کہ اگر کسی نابالغ کو وصی کیا تو قیاس میں مطلقا باطل ہے اور استحسان یہ ہے کہ اس کے نابالغ رہنے تك باطل ہے اور اگر غلام ہوتو قیاس و استحسان دونوں میں صحیح ہے اورحکم میں ذمی مثل غلام ہےپھر اگر حاکم نے انہیں وصایت سے نکال دیا اور اس کے بعد غلام آزاد ہو اور ذمی اسلام لے آیا تو وصی نہ ہوجائینگےیہ بحر میں ہے اور اسی کے مثل نہر میں۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لاتشترط الحریۃ والاسلام للصحۃ لما فی الاسعاف و لو کان عبدایجوز قیاسا واستحسانا والذمی فی الحکم کالعبد فلو اخرجھما القاضی ثم اعتق العبد واسلم الذمی لایعود الولایۃ الیہما کذافی البحر الرائق ۔ یعنی متولی بن سکنے کےلئے آزادی واسلام ا س سند سے شرط نہیں کہ اسعاف میں فرمایا کہ اگر غلام ہوتو قیاس واستحسان دونوں میں اس کی وصایت ممکن ہے اور حکم میں ذمی بھی غلام کے مثل ہے اور اگرقاضی نے انہیں نکال دیا پھر غلام آزاد اور ذمی مسلمان ہوا تو اس سے وصایت ان کی طرف عود نہ کرآئے گیایسا ہی بحرالرائق میں ہے۔
دیکھو صراحۃ کلام کافرذمی میں ہے اور مرتد ہر گز اس کی مثل نہیں وہ سب کافروں سے بدتر ہے۔
اسلامہ بدائع ۔ اس کے کہ اس کے اسلام کی امید ہوبدائع۔(ت)
عبارت ردالمحتار یشترط للصحۃ بلوغہ وعقلہ لاحریتہ واسلامہ صراحۃ (صحت تولیت کے لئے بلوغ اور عقل شرط ہے حریت اور صراحتا مسلمان ہونا نہیں۔ت)خاص دربارہ ذمی ہے یعنی متولی بن سکنے کے لئے اسلام شرط نہیں کہ کافر ذمی بھی اگر متولی کیاجائے گا ہوجائے گا نہ یہ کہ کوئی کافر کیسا ہی ہو متولی ہوسکتا ہےاس عبارت کے متصل ہی خود اس میں اس کی سند یہ لکھی:
لما فی الاسعاف لواوصی الی صبی تبطل فی القیاس مطلقا وفی الاستحسان ھی باطلۃ مادام صغیراولوکان عبدایجوز قیاسا واستحساناثم الذمی فی الحکم کالعبد فلواخرجھما القاضی ثم عتق العبدواسلم الذمی لاتعود الیہمااھ بحر ونحوہ فی النھر ۔ یعنی اسلام شرط نہ ہونے کی سند وہ ہے جو اسعاف میں فرمایا کہ اگر کسی نابالغ کو وصی کیا تو قیاس میں مطلقا باطل ہے اور استحسان یہ ہے کہ اس کے نابالغ رہنے تك باطل ہے اور اگر غلام ہوتو قیاس و استحسان دونوں میں صحیح ہے اورحکم میں ذمی مثل غلام ہےپھر اگر حاکم نے انہیں وصایت سے نکال دیا اور اس کے بعد غلام آزاد ہو اور ذمی اسلام لے آیا تو وصی نہ ہوجائینگےیہ بحر میں ہے اور اسی کے مثل نہر میں۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لاتشترط الحریۃ والاسلام للصحۃ لما فی الاسعاف و لو کان عبدایجوز قیاسا واستحسانا والذمی فی الحکم کالعبد فلو اخرجھما القاضی ثم اعتق العبد واسلم الذمی لایعود الولایۃ الیہما کذافی البحر الرائق ۔ یعنی متولی بن سکنے کےلئے آزادی واسلام ا س سند سے شرط نہیں کہ اسعاف میں فرمایا کہ اگر غلام ہوتو قیاس واستحسان دونوں میں اس کی وصایت ممکن ہے اور حکم میں ذمی بھی غلام کے مثل ہے اور اگرقاضی نے انہیں نکال دیا پھر غلام آزاد اور ذمی مسلمان ہوا تو اس سے وصایت ان کی طرف عود نہ کرآئے گیایسا ہی بحرالرائق میں ہے۔
دیکھو صراحۃ کلام کافرذمی میں ہے اور مرتد ہر گز اس کی مثل نہیں وہ سب کافروں سے بدتر ہے۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۵۶۔۳۵۵€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۵€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۸€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۵€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۸€
اشباہ والنظائر میں ہے:
المرتد اقبح کفرا من الکافر الاصلی ۔
یعنی مرتد کفر میں کافر اصلی سے بدتر ہے۔
شرط اسلام نہ ہونے کے لئے ایك قسم کے کافر کا کسی ایك صورت میں متولی بن سکنا کافی ہے نہ کہ شرطیت اسلام جبھی نہ ہوگی کہ ہر قسم کاکافر متولی بن سکے مگر کم علمی ونافہمی عجب چیز ہے پھر صحت کے لئے شرط نہ ہونے سے اتنا ہی تو ہوا کہ بن سکنا محتمل ہے نہ یہ کہ اسے متولی بنانا جائز وحلال ہے۔ابھی ابھی اسی ردالمحتار ودیگر معتمدات سے صاف تصریحیں گزریں کہ کسی کافر کو متولی بنانا مطلقا حرام ہے اور اسی میں کلام ہےجو امر ہمارے دین میں حرام ہے اسے روارکھنا صریح مذہبی دست اندازی وبدخواہی اسلام ہے۔
(۱۰)پھر یہ بھی اس حالت میں ہے کہ اس کے ذمہ صرف نگہداشت یا ضروری اشیاء کی خرید وفروخت حساب کی لکھت پڑھت ہوکسی مسلمان پر اسے کوئی اختیار نہ دیا گیا ہو اس صورت میں متولی اگرچہ ہوسکے گا مگر کرناحرام ہے۔ردالمحتار کی عبارت مذکورہ اسی صورت میں متعلق ہے اور اگر اسے کوئی اختیار دیا جائے مثلا امام یا مؤذن یا فراش یا اور کسی ملازم کی موقوفی یا بحال یا اضافہ یا کمی یا رخصت یا معطل میں کچھ دخل۔جب تو اس کی تولیت نہ صرف حرام بلکہ باطل محض ہے ہوسکتی ہی نہیں جیسا کہ ابھی اسی ردالمحتاروبحرالرائق وغایۃ البیان سے گزرا اور انہیں کتابوں میں اس پر اس آیہ کریمہ سے دلیل لائے:
"لن یجعل الله للكفرین على المؤمنین سبیلا(۱۴۱) " ۔
یعنی شریعت الہیہ ہرگز کسی کافر کو کسی مسلمان پر کوئی اختیار نہ دے گی۔
(خلاصہ حکم مسئلہ) بالجملہ رافضی کو مسجد خواہ کسی وقف کا ذی اختیار متولی کرنا جس سے کسی مسلمان ملازم وغیرہ پر اسے کوئی اختیار ملے یہ تو ممکن ہی نہیں اگر کیا جائے نہ ہوسکے گا اور اس کی تولیت باطل محض ہوگی اور محض بے اختیار متولی کیا جائے یہ بھی کم از کم قطعا حرام اور مذہبی دست اندازی وبدخواہی اسلام ہے۔بفرض غلط اگررافضی کافر نہ بھی ہوتا تو مجرد فاسق عملی سے تو یقینا بدتر ہے کما نص علیہ فی الغنیہ شرح المنیہاور ابھی شرنبلالیہ وردالمحتار سے گزرا کہ فاسق کا متولی کرنا بھی حرام ہے۔یہ ہے مسئلہ کی تحقیق وباﷲ التوفیق۔
(۱۱)روافض کواپنے ساتھ نماز میں شریك کرنا ہر گز جائزنہیں کہ جب وہ شرعا مسلمان ہی نہیں تووہ نہ اہل عبادت ہیں نہ ان کی نماز نماز کہ عبادت کی پہلی شرط اسلام ہے اور جب ان کی نماز باطل محض ہے
المرتد اقبح کفرا من الکافر الاصلی ۔
یعنی مرتد کفر میں کافر اصلی سے بدتر ہے۔
شرط اسلام نہ ہونے کے لئے ایك قسم کے کافر کا کسی ایك صورت میں متولی بن سکنا کافی ہے نہ کہ شرطیت اسلام جبھی نہ ہوگی کہ ہر قسم کاکافر متولی بن سکے مگر کم علمی ونافہمی عجب چیز ہے پھر صحت کے لئے شرط نہ ہونے سے اتنا ہی تو ہوا کہ بن سکنا محتمل ہے نہ یہ کہ اسے متولی بنانا جائز وحلال ہے۔ابھی ابھی اسی ردالمحتار ودیگر معتمدات سے صاف تصریحیں گزریں کہ کسی کافر کو متولی بنانا مطلقا حرام ہے اور اسی میں کلام ہےجو امر ہمارے دین میں حرام ہے اسے روارکھنا صریح مذہبی دست اندازی وبدخواہی اسلام ہے۔
(۱۰)پھر یہ بھی اس حالت میں ہے کہ اس کے ذمہ صرف نگہداشت یا ضروری اشیاء کی خرید وفروخت حساب کی لکھت پڑھت ہوکسی مسلمان پر اسے کوئی اختیار نہ دیا گیا ہو اس صورت میں متولی اگرچہ ہوسکے گا مگر کرناحرام ہے۔ردالمحتار کی عبارت مذکورہ اسی صورت میں متعلق ہے اور اگر اسے کوئی اختیار دیا جائے مثلا امام یا مؤذن یا فراش یا اور کسی ملازم کی موقوفی یا بحال یا اضافہ یا کمی یا رخصت یا معطل میں کچھ دخل۔جب تو اس کی تولیت نہ صرف حرام بلکہ باطل محض ہے ہوسکتی ہی نہیں جیسا کہ ابھی اسی ردالمحتاروبحرالرائق وغایۃ البیان سے گزرا اور انہیں کتابوں میں اس پر اس آیہ کریمہ سے دلیل لائے:
"لن یجعل الله للكفرین على المؤمنین سبیلا(۱۴۱) " ۔
یعنی شریعت الہیہ ہرگز کسی کافر کو کسی مسلمان پر کوئی اختیار نہ دے گی۔
(خلاصہ حکم مسئلہ) بالجملہ رافضی کو مسجد خواہ کسی وقف کا ذی اختیار متولی کرنا جس سے کسی مسلمان ملازم وغیرہ پر اسے کوئی اختیار ملے یہ تو ممکن ہی نہیں اگر کیا جائے نہ ہوسکے گا اور اس کی تولیت باطل محض ہوگی اور محض بے اختیار متولی کیا جائے یہ بھی کم از کم قطعا حرام اور مذہبی دست اندازی وبدخواہی اسلام ہے۔بفرض غلط اگررافضی کافر نہ بھی ہوتا تو مجرد فاسق عملی سے تو یقینا بدتر ہے کما نص علیہ فی الغنیہ شرح المنیہاور ابھی شرنبلالیہ وردالمحتار سے گزرا کہ فاسق کا متولی کرنا بھی حرام ہے۔یہ ہے مسئلہ کی تحقیق وباﷲ التوفیق۔
(۱۱)روافض کواپنے ساتھ نماز میں شریك کرنا ہر گز جائزنہیں کہ جب وہ شرعا مسلمان ہی نہیں تووہ نہ اہل عبادت ہیں نہ ان کی نماز نماز کہ عبادت کی پہلی شرط اسلام ہے اور جب ان کی نماز باطل محض ہے
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۱
القرآن الکریم ۴ /۱۴۱
القرآن الکریم ۴ /۱۴۱
تو انہیں شریك کرنا صف کا قطع کرنا ہوگا کہ غیرنمازی صف میں کھڑا ہے اور صف کا قطع کرنا حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں:
من قطع صفا قطعہ اﷲ ۔رواہ النسائی والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ عنہما بسند صحیح۔
جو کسی صف کو قطع کرے اللہ اسے قطع کردے۔اس کو امام نسائی اور امام حاکم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا۔ت)
رافضیوں کے بارے میں حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بتخریج عقیلی وابن حبان گزری اس کی روایت ابن حبان میں ہے:
ولاتصلوا علیہم ولاتصلوا معھم ۔
نہ رافضیوں کے جنازے کی نماز پڑھو نہ رافضی کے ساتھ نماز پڑھو۔
(۱۲)جو لوگ ان احکام شرعیہ کی مخالفت کریں رافضی کو متولی بنائیں یا اسے نماز میں داخل کریں صراحۃ شریعت کے بدلنے والے اور احکام الہی کے خلاف چلنے والے اور مستحق تعزیر شدید وعذاب مدید ہیں یہ بھی جب کہ ان روافض کے عقائد پر مطلع ہوکر انہیں کافر جانیں اور براہ خباثت نفس اپنے کسی دنیوی علاقہ کے سبب ان امور کے مرتکب ہوں ورنہ ایسی حالت میں انہیں مسلمان جانیں توخود ہرگز مسلمان نہ رہیں گے۔بزازیہ وذخیرۃ العقبی ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہ میں ہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔
جوان کے عذاب اور کفر میں شك کرے خود کافر ہے۔
تنبیہ:یہ احکام کہ ہم نے لکھے یعنی مسجد خواہ کسی وقف کا ادنی ذی اختیار متولی اصلا نہ ہوسکنا اور غیر ذی اختیار متولی کرنا بھی حرام ہونا اور اسلامی کسی کام میں انہیں دخل دینا باطل ومردود ہونا اور نماز میں انہیں داخل کرنے کی تحریم اور یہ کہ ان کی نماز نماز نہیںیونہی جملہ احکام ارتداد کے ان کے تمام اعمال حبط اور ان کے نکاح باطل وفسخاور یہ کہ جہاں بھر میں کسی سے ایسے عقیدہ کے مرد یا عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا نہ مسلمان سے نہ کافر سے نہ مرتد سےجس سے ہوگا زنائے محض ہوگااور یہ کہ وہ اپنے کسی مورث کے اصلا وارث نہیں ہوسکتے اگرچہ ان کا باپ یا بیٹا ہو اور یہ کہ انہیں کسی بالغ یا نابالغ
من قطع صفا قطعہ اﷲ ۔رواہ النسائی والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ عنہما بسند صحیح۔
جو کسی صف کو قطع کرے اللہ اسے قطع کردے۔اس کو امام نسائی اور امام حاکم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہماسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا۔ت)
رافضیوں کے بارے میں حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بتخریج عقیلی وابن حبان گزری اس کی روایت ابن حبان میں ہے:
ولاتصلوا علیہم ولاتصلوا معھم ۔
نہ رافضیوں کے جنازے کی نماز پڑھو نہ رافضی کے ساتھ نماز پڑھو۔
(۱۲)جو لوگ ان احکام شرعیہ کی مخالفت کریں رافضی کو متولی بنائیں یا اسے نماز میں داخل کریں صراحۃ شریعت کے بدلنے والے اور احکام الہی کے خلاف چلنے والے اور مستحق تعزیر شدید وعذاب مدید ہیں یہ بھی جب کہ ان روافض کے عقائد پر مطلع ہوکر انہیں کافر جانیں اور براہ خباثت نفس اپنے کسی دنیوی علاقہ کے سبب ان امور کے مرتکب ہوں ورنہ ایسی حالت میں انہیں مسلمان جانیں توخود ہرگز مسلمان نہ رہیں گے۔بزازیہ وذخیرۃ العقبی ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہ میں ہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔
جوان کے عذاب اور کفر میں شك کرے خود کافر ہے۔
تنبیہ:یہ احکام کہ ہم نے لکھے یعنی مسجد خواہ کسی وقف کا ادنی ذی اختیار متولی اصلا نہ ہوسکنا اور غیر ذی اختیار متولی کرنا بھی حرام ہونا اور اسلامی کسی کام میں انہیں دخل دینا باطل ومردود ہونا اور نماز میں انہیں داخل کرنے کی تحریم اور یہ کہ ان کی نماز نماز نہیںیونہی جملہ احکام ارتداد کے ان کے تمام اعمال حبط اور ان کے نکاح باطل وفسخاور یہ کہ جہاں بھر میں کسی سے ایسے عقیدہ کے مرد یا عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا نہ مسلمان سے نہ کافر سے نہ مرتد سےجس سے ہوگا زنائے محض ہوگااور یہ کہ وہ اپنے کسی مورث کے اصلا وارث نہیں ہوسکتے اگرچہ ان کا باپ یا بیٹا ہو اور یہ کہ انہیں کسی بالغ یا نابالغ
حوالہ / References
سنن النسائی کتاب الامامۃ والجماعۃ باب من وصل صفا نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۱۳۱
کنز العمال بحوالہ ابن النجار عن انس الخ حدیث ۲۹۔۳۲۵۲۸ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/ ۵۴۰
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
کنز العمال بحوالہ ابن النجار عن انس الخ حدیث ۲۹۔۳۲۵۲۸ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/ ۵۴۰
درمختار باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶
پر اگرچہ ان کی اولاد ہو کوئی ولایت نکاح وغیرہ کی نہیں ہوسکتی اور یہ کہ ان سے میل جول حرام اور یہ کہ ان کی حیات یا موت میں کوئی اسلامی برتاؤان سے حرام۔یہ تمام احکام نہ صرف ان رافضیوں بلکہ ان جمیع فرق واشخاص کے لئے ہیں جو باوصف کلمہ گوئی اپنے کسی عقیدہ یا عمل میں کفر رکھتے ہیں جیسے ہر قسم کے وہابی اور نیچری او رقادیانی اور چکڑالوی اور حلول یا اتحاد بکنے والے جھوٹے صوفی اور اب سب سے نئے اکثر گاندھوی کہ یہ سب مرتدین ہیں اور ان سب پر وہی احکام جیسا کہ علمائے حرمین طیبین کے دونوں مشہور فتاوی الحرمین وحسام الحرمین وغیرہما اور المحجۃ المؤتمنہ سے ظاہر ہے۔
واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی حق ارشاد فرماتاہے اور وہی سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے اور ہمیں اﷲ تعالی کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
اوقاف کے اجارہ کا بیان
مسئلہ ۴۲۹: ازپیلی بھیت مرسلہ جناب مولنا محدث سورتی دام فیضہ ۱۹صفر۱۳۲۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك موضع وقفی پانچ برس کو ممبران انجمن اسلامیہ سے ایك توفیر معین پر ٹھیکہ لیاعلاوہ شرائط ٹھیکہ کے ایك درخواست ٹھیکہ دار نے بعد ایك سال کے اس مضمون کی دی کہ چونکہ انجمن کے ممبر وغیرہ زائد از پانچ سال کو ٹھیکہ شرعانہیں دے سکتے لہذابغرض کار گزاری آئندہ مجھ سے معاہدہ تحریری کرالیا جائے کہ آئندہ پانچ برس کوبھی ٹھیکہ مجھی کو دیا جائےچنانچہ معاہدی تحریری دستخطی کرلیا گیا کہ اگر اسامیان موضع کو ٹھیکہ دار رضامند رکھے اور باغ کی توفیر زیادہ کرے گا اور محافظت کرے گا تو آئندہ کو بھی اسی تو فیر پر دیا جاسکتا ہے مگر توفیر باغ کو بدستور رہی اور اسامیان راضی نہیںپس ایسی صورت میں اراکین انجمن کو پابندی لازم ہے یانہیں باینہمہ کہ اور اشخاص کی درخواستیں ٹھیکہ جدید کی زائد از سابق موجود ہیں جس میں مسجد ومدرسہ کا نفع ظاہر ہےعلاوہ ازیں اگر ٹھیکہ والے سابق نے پابندی معاہدہ کی موافق کی ہو یعنی اسامیان دیہہ کو راضی رکھنے کا اہتمام کیاہواور باغ کی توفیر کی زیادتی میں سعی کی ہو مگر اتفاق سے ان کی رضامندی نہ ہوسکی اور توفیر میں ترقی نہ ہوسکی تو کیا ایسی صورت میں معاہدہ کی پابندی اراکین انجمن اسلامیہ کو لازم ہوگی اور اس کو اسی توفیر پر ٹھیکہ دینا جائز ہے گو مسجد مدرسہ کانقصان ہو۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اراکین پر اس معاہدہ کی پابندی نہ صرف غیر ضروری بلکہ محض ناجائز وممنوع وگناہ ہے وہ معاہدہ
واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی حق ارشاد فرماتاہے اور وہی سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے اور ہمیں اﷲ تعالی کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
اوقاف کے اجارہ کا بیان
مسئلہ ۴۲۹: ازپیلی بھیت مرسلہ جناب مولنا محدث سورتی دام فیضہ ۱۹صفر۱۳۲۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك موضع وقفی پانچ برس کو ممبران انجمن اسلامیہ سے ایك توفیر معین پر ٹھیکہ لیاعلاوہ شرائط ٹھیکہ کے ایك درخواست ٹھیکہ دار نے بعد ایك سال کے اس مضمون کی دی کہ چونکہ انجمن کے ممبر وغیرہ زائد از پانچ سال کو ٹھیکہ شرعانہیں دے سکتے لہذابغرض کار گزاری آئندہ مجھ سے معاہدہ تحریری کرالیا جائے کہ آئندہ پانچ برس کوبھی ٹھیکہ مجھی کو دیا جائےچنانچہ معاہدی تحریری دستخطی کرلیا گیا کہ اگر اسامیان موضع کو ٹھیکہ دار رضامند رکھے اور باغ کی توفیر زیادہ کرے گا اور محافظت کرے گا تو آئندہ کو بھی اسی تو فیر پر دیا جاسکتا ہے مگر توفیر باغ کو بدستور رہی اور اسامیان راضی نہیںپس ایسی صورت میں اراکین انجمن کو پابندی لازم ہے یانہیں باینہمہ کہ اور اشخاص کی درخواستیں ٹھیکہ جدید کی زائد از سابق موجود ہیں جس میں مسجد ومدرسہ کا نفع ظاہر ہےعلاوہ ازیں اگر ٹھیکہ والے سابق نے پابندی معاہدہ کی موافق کی ہو یعنی اسامیان دیہہ کو راضی رکھنے کا اہتمام کیاہواور باغ کی توفیر کی زیادتی میں سعی کی ہو مگر اتفاق سے ان کی رضامندی نہ ہوسکی اور توفیر میں ترقی نہ ہوسکی تو کیا ایسی صورت میں معاہدہ کی پابندی اراکین انجمن اسلامیہ کو لازم ہوگی اور اس کو اسی توفیر پر ٹھیکہ دینا جائز ہے گو مسجد مدرسہ کانقصان ہو۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اراکین پر اس معاہدہ کی پابندی نہ صرف غیر ضروری بلکہ محض ناجائز وممنوع وگناہ ہے وہ معاہدہ
محض باطل وشرعا مردود وناروا تھا اور باطل کا حق یہ ہے کہ مٹایا جائے نہ کہ پابندی ہودیہات کا ٹھیکہ جس طرح ہندوستان میں رائج ہے باجماع مذاہب اربعہ باطل وناجائز ہےاس ٹھیکہ میں زمین تو اجارہ مزارعین میں ہوتی ہے اور توفیر آئندہ کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے اور یہ حرام ہے عقد اجارہ شرع نے منافع کےلئے رکھا ہےنہ عین کےلئےمنفعت جیسے مکان میں رہنا گھوڑے پر چڑھنا اور عین جیسے روپیہ غلہ پھل وغیرہاتو جواجارہ استہلاك عین پر واقع ہو مردود و باطل ہے
الاماخصہ الشرع کاجارۃ الضرع للارضاع فانہا علی اللبن و اللبن عین لکن ورد الشرع باباحتہا علی خلاف الاصل فیقتصر علی موردہ۔
مگر جس کو شرع نے مخصوص کردیا ہو جیسے دودھ پلانے کے لئے کوئی دودھ والا جانور اجرت پر لینا کیونکہ یہ اجارہ دودھ پر واقع ہوا اور دودھ عین ہے لیکن شرع خلاف قیاس اس کی اباحت پروارد ہے لہذا یہ حکم اپنے مورد پر بندرہے گا(ت)
فتاوی خیریہ وعقود الدریہ ودرمختار وردالمحتار وغیرہا میں اس کی تصریح ہے اورفتاوی فقیر میں اس کی کامل تفصیل وتنقیح۔اور اگر اس سے قطع نظر ہی کریں تو اولا:اراکین کی وہ تحریر صرف ایك وعدہ تھی اور وفائے وعدہ پر جبر نہیں کما فی الاشباہ و الھندیۃ وغیرھما(جیسا کہ اشباہ اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت)
ثانیا: وہ وعدہ بھی لفظ ان شاء اللہ کے ساتھ تھا جو حلف کے اثر کو بھی باطل کردیتاہے۔
ثالثا: اراکین کو کوئی اختیار نہ تھا نہ ہے کہ وقف کے نقصان کا وعدہ کرلیں اور اپنے وعدہ کے نباہ کے لئے وقف کا نفع کھوئیں۔
بالجملہ وہ تحریر تو محض مہمل اور یہ رائج ٹھیکہ باطل و حرام ہےاراکین کو چاہئے کہ دیہات میں جس وقت سال تمام ہوتا ہے اس وقت نظر کریں کہ بعض مزارعین سے پٹہ کی میعاد باقی ہے یا سب کی ختم ہوگئی یا کل یا بعض ایسے ہیں جن سے کسی میعاد معین کا معاہدہ نہ ہو اسال بسال زراعت کرتے اور اجرت دیتے ہیںیہ تین صورتیں ہیں۔صورت دوم میں تو ظاہر ہے کہ زمین دیہہ اجارہ سے پاك وخالص ہوگئیاور صورت سوم میں تمام مزارعوں کو اطلاع دے دیں کہ سال آئندہ زمین ہماری طرف سے تم کو اجارہ میں نہ دی جائے گی بلکہ ہم کل زمین دیہہ فلاں مستاجر کو اجارہ دیں گے اس کی طرف سے تم کو بدستور اجارہ ملے گی جس سے تمہارے معمول میں فرق نہ آئے گا یوں زمین دیہہ خالص ہوجائے گیصورت اول میں البتہ دقت ہے اس کا علاج یہ ہے کہ جس جس کی میعاد باقی ہے اسے بلا کر سمجھایاجائے
الاماخصہ الشرع کاجارۃ الضرع للارضاع فانہا علی اللبن و اللبن عین لکن ورد الشرع باباحتہا علی خلاف الاصل فیقتصر علی موردہ۔
مگر جس کو شرع نے مخصوص کردیا ہو جیسے دودھ پلانے کے لئے کوئی دودھ والا جانور اجرت پر لینا کیونکہ یہ اجارہ دودھ پر واقع ہوا اور دودھ عین ہے لیکن شرع خلاف قیاس اس کی اباحت پروارد ہے لہذا یہ حکم اپنے مورد پر بندرہے گا(ت)
فتاوی خیریہ وعقود الدریہ ودرمختار وردالمحتار وغیرہا میں اس کی تصریح ہے اورفتاوی فقیر میں اس کی کامل تفصیل وتنقیح۔اور اگر اس سے قطع نظر ہی کریں تو اولا:اراکین کی وہ تحریر صرف ایك وعدہ تھی اور وفائے وعدہ پر جبر نہیں کما فی الاشباہ و الھندیۃ وغیرھما(جیسا کہ اشباہ اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت)
ثانیا: وہ وعدہ بھی لفظ ان شاء اللہ کے ساتھ تھا جو حلف کے اثر کو بھی باطل کردیتاہے۔
ثالثا: اراکین کو کوئی اختیار نہ تھا نہ ہے کہ وقف کے نقصان کا وعدہ کرلیں اور اپنے وعدہ کے نباہ کے لئے وقف کا نفع کھوئیں۔
بالجملہ وہ تحریر تو محض مہمل اور یہ رائج ٹھیکہ باطل و حرام ہےاراکین کو چاہئے کہ دیہات میں جس وقت سال تمام ہوتا ہے اس وقت نظر کریں کہ بعض مزارعین سے پٹہ کی میعاد باقی ہے یا سب کی ختم ہوگئی یا کل یا بعض ایسے ہیں جن سے کسی میعاد معین کا معاہدہ نہ ہو اسال بسال زراعت کرتے اور اجرت دیتے ہیںیہ تین صورتیں ہیں۔صورت دوم میں تو ظاہر ہے کہ زمین دیہہ اجارہ سے پاك وخالص ہوگئیاور صورت سوم میں تمام مزارعوں کو اطلاع دے دیں کہ سال آئندہ زمین ہماری طرف سے تم کو اجارہ میں نہ دی جائے گی بلکہ ہم کل زمین دیہہ فلاں مستاجر کو اجارہ دیں گے اس کی طرف سے تم کو بدستور اجارہ ملے گی جس سے تمہارے معمول میں فرق نہ آئے گا یوں زمین دیہہ خالص ہوجائے گیصورت اول میں البتہ دقت ہے اس کا علاج یہ ہے کہ جس جس کی میعاد باقی ہے اسے بلا کر سمجھایاجائے
کہ ہم صحت شرعی کے لئے یہ کارروائی کرتے ہیں جس کا کوئی اثر تمہارے خلاف نہ پڑے گا تم زبانی کہہ دو کہ ہم نے بقیہ میعاد کے اجارہ زمین سے دست برداری کیاس سے تمہیں ضرر نہ ہوگا زمین بدستور تمہیں کو ملے گی کاغذی عملدرآمد میں تبدیل نہ ہوگی شرعی طور پر سال آئندہ سے ہمارے بدلے فلاں مستاجر سے تم کو زمین اجارہ میں ملے گی جب وہ اس پر راضی ہوکر فسخ اجارہ کر دیں یوں تمام زمین خالص ہوجائے گیبعد مستاجر سے کہا جائے کہ ہم نے اس تمام دیہہ کی زمین پانچ برس کے لئے فی سال اتنے روپے کے عوض تمہارے اجارہ میں دی وہ قبول کرے یہ عقد صحیح وجائز شرعی ہوگا اور زر ٹھیکہ وقف کےلئے حلال ہوگا جو بچا مستاجر کےلئے حلال ہوگا ورنہ طرفین گنہگاراور نشست کم ہوئی تو اصل منافع موجودہ سے جتنا زائد آئے گا وقف کےلئے حرام ہوگا وہ ملك مستاجر ہے اور نشست زیادہ ہو تو جتنا بچا وہ مستاجر کےلئے حرام ہوگا وہ مال وقف ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳۰: مسئولہ ظہورالدین صاحب وکیل بریلی محلہ خواجہ قطب ۲۵جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کی تعمیر زیر تجویز ہے جس کی اوپرکی منزل پر تعمیر ہونا قرارپایا ہے لیکن مسجد کو وسیع بنانے اور ا س کا ٹھیك رخ قائم کرنے میں ایك جز ومکان دوسرے شخص کا بھی آتا ہے یہ جز وایك چھوٹے مثلث کی شکل میں ہے یہ شخص مالك مکان اس مثلث کو وقف کرنے کو تیار ہے لیکن یہ کہتا ہے کہ تعمیر مسجد جو اوپر بنے گی نیچے کے قطعہ مثلث کو اس کو دوامی طور پر کرایہ یا چانٹی پر دے دیا جائے تاکہ وہ شخص اس پر تعمیر نیچے نیچے کرلے اس کا یہ خیال ہے کہ میرامکان جو مثلث قطعہ دینے سے کوٹھا ٹوٹ کرناقص ہوجائے گا پھر نیچے نیچے کوٹھے کی تعمیر کرنے سے درست رہے زمین موقوفہ رہے گی اور اس کا کرایہ وہ اداکیا کرے گاذیل میں ایك نقشہ بغرض سہولت فہم بنادیا گیا ہے جس میں ابج سے اراضی استفتا طلب دکھائی ہے آیا بعد وقف کے اس کو اراضی اس طور سے کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں کرایہ ضرور مسجدمیں صرف ہوگانقشہ یہ ہے:
yahan image hy
مسئلہ ۴۳۰: مسئولہ ظہورالدین صاحب وکیل بریلی محلہ خواجہ قطب ۲۵جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کی تعمیر زیر تجویز ہے جس کی اوپرکی منزل پر تعمیر ہونا قرارپایا ہے لیکن مسجد کو وسیع بنانے اور ا س کا ٹھیك رخ قائم کرنے میں ایك جز ومکان دوسرے شخص کا بھی آتا ہے یہ جز وایك چھوٹے مثلث کی شکل میں ہے یہ شخص مالك مکان اس مثلث کو وقف کرنے کو تیار ہے لیکن یہ کہتا ہے کہ تعمیر مسجد جو اوپر بنے گی نیچے کے قطعہ مثلث کو اس کو دوامی طور پر کرایہ یا چانٹی پر دے دیا جائے تاکہ وہ شخص اس پر تعمیر نیچے نیچے کرلے اس کا یہ خیال ہے کہ میرامکان جو مثلث قطعہ دینے سے کوٹھا ٹوٹ کرناقص ہوجائے گا پھر نیچے نیچے کوٹھے کی تعمیر کرنے سے درست رہے زمین موقوفہ رہے گی اور اس کا کرایہ وہ اداکیا کرے گاذیل میں ایك نقشہ بغرض سہولت فہم بنادیا گیا ہے جس میں ابج سے اراضی استفتا طلب دکھائی ہے آیا بعد وقف کے اس کو اراضی اس طور سے کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں کرایہ ضرور مسجدمیں صرف ہوگانقشہ یہ ہے:
yahan image hy
الجواب:
وہ شخص اپنا خاص جزو مکان اس مسجد کے نام وقف کردے اور وقف نامہ رجسٹری کرادے پھر مصارف مسجد کے لئے یہ خاص ٹکڑا اس شخص کو اجرت مثل پر اجارہ میں دے دیا جائے اور ہر تین سال کے بعد کرایہ نامہ کی تجدید کی جائےاور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ وقف کرتے وقت وقفنامہ میں متولی مسجد کو یہ اجازت لکھ دے کہ یہ خاص ٹکڑا زیادہ مدت کےلئے بھی مجھ کو اجارہ میں دیا جاسکے اس صورت میں تین سال کی قید نہ رہے گی مگر وقف کیلئے زیادہ احتیاط اسی پہلی صورت میں ہےدرمختار میں ہے:
یراعی شرط الواقف فی اجارتہ فلواھمل الواقف مدتھا قیل تطلق الزیادۃ للقیم وقیل تقید بسنۃ مطلقا وبھا ای بالسنۃ یفتی فی الدار وبثلاث سنین فی الارض الا اذا کانت المصلحۃ بخلاف ذلک ۔واﷲ تعالی اعلم۔
وقف کے اجارہ میں شرط واقف کو ملحوظ رکھا جائے گا اگر واقف نے مدت اجارہ کا تعین نہیں کیا تو ایك قول یہ ہے کہ متولی کے لئے زیادتی کی اجازت مطلق رکھی جائے گی اور ایك قول یہ ہے کہ ایك سال کے ساتھ مقید ہوگی اور ایك سال کی مدت پر ہی فتوی دیاجائے گامکان کے بارے میں اور تین سال کی مدت پر فتوی دیا جائے گا زمین کے بارے میں سوائے اس کے کہ مصلحت اس کے خلاف میں ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۴۳۱: از پیلی بھیت محلہ کھکرا مرسلہ حمید الدین خان صاحب کارندہ اکبری بیگم ۶رمضان مبارك ۱۳۲۶ھ
قبلہ دو جہاں وکعبہ دین وایماں دامت برکاتہم بعد تمنائے قدمبوسی عارضیبی بی صاحبہ نے جائداد وقف کی ہے وارث سے اندیشہ ہے کہ بعد وفات منسوخ کراکر قبضہ مالکانہ کریں حضور سے دریافت کیا کہ یہ تحریر شرعا درست ہے اگر اس میں کوئی شك ہے تو دوسرا کاغذ رجسٹری کرادیا جائےوقف نامہ معہ صہ/ کے اسٹامپ پر تحریرہے اس کی نقل واسطے ملاحظہ اقدس ارسال خدمت ہے جس وقت حضور کا جواب آئے گا تب داخل خارج کی درخواست دی جائے گی بی بی صاحبہ نے اپنی دوسری جائداد سے حصہ وارثان کو دے دیا ہےیہ جائداد وقف کی ہے۔(وقف نامہ)
خلاصہ وقف نامہ:میں اکبری بیگم فارسی خواندہ بنت عبدالرشید خاں مرحوم ساکنہ پیلی بھیت محلہ کھکرابحالت صحت نفس وثبات عقل اپنی خوشی سے اس وقت اپنی جائداد حسبۃ ﷲ واسطے مصارف
وہ شخص اپنا خاص جزو مکان اس مسجد کے نام وقف کردے اور وقف نامہ رجسٹری کرادے پھر مصارف مسجد کے لئے یہ خاص ٹکڑا اس شخص کو اجرت مثل پر اجارہ میں دے دیا جائے اور ہر تین سال کے بعد کرایہ نامہ کی تجدید کی جائےاور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ وقف کرتے وقت وقفنامہ میں متولی مسجد کو یہ اجازت لکھ دے کہ یہ خاص ٹکڑا زیادہ مدت کےلئے بھی مجھ کو اجارہ میں دیا جاسکے اس صورت میں تین سال کی قید نہ رہے گی مگر وقف کیلئے زیادہ احتیاط اسی پہلی صورت میں ہےدرمختار میں ہے:
یراعی شرط الواقف فی اجارتہ فلواھمل الواقف مدتھا قیل تطلق الزیادۃ للقیم وقیل تقید بسنۃ مطلقا وبھا ای بالسنۃ یفتی فی الدار وبثلاث سنین فی الارض الا اذا کانت المصلحۃ بخلاف ذلک ۔واﷲ تعالی اعلم۔
وقف کے اجارہ میں شرط واقف کو ملحوظ رکھا جائے گا اگر واقف نے مدت اجارہ کا تعین نہیں کیا تو ایك قول یہ ہے کہ متولی کے لئے زیادتی کی اجازت مطلق رکھی جائے گی اور ایك قول یہ ہے کہ ایك سال کے ساتھ مقید ہوگی اور ایك سال کی مدت پر ہی فتوی دیاجائے گامکان کے بارے میں اور تین سال کی مدت پر فتوی دیا جائے گا زمین کے بارے میں سوائے اس کے کہ مصلحت اس کے خلاف میں ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۴۳۱: از پیلی بھیت محلہ کھکرا مرسلہ حمید الدین خان صاحب کارندہ اکبری بیگم ۶رمضان مبارك ۱۳۲۶ھ
قبلہ دو جہاں وکعبہ دین وایماں دامت برکاتہم بعد تمنائے قدمبوسی عارضیبی بی صاحبہ نے جائداد وقف کی ہے وارث سے اندیشہ ہے کہ بعد وفات منسوخ کراکر قبضہ مالکانہ کریں حضور سے دریافت کیا کہ یہ تحریر شرعا درست ہے اگر اس میں کوئی شك ہے تو دوسرا کاغذ رجسٹری کرادیا جائےوقف نامہ معہ صہ/ کے اسٹامپ پر تحریرہے اس کی نقل واسطے ملاحظہ اقدس ارسال خدمت ہے جس وقت حضور کا جواب آئے گا تب داخل خارج کی درخواست دی جائے گی بی بی صاحبہ نے اپنی دوسری جائداد سے حصہ وارثان کو دے دیا ہےیہ جائداد وقف کی ہے۔(وقف نامہ)
خلاصہ وقف نامہ:میں اکبری بیگم فارسی خواندہ بنت عبدالرشید خاں مرحوم ساکنہ پیلی بھیت محلہ کھکرابحالت صحت نفس وثبات عقل اپنی خوشی سے اس وقت اپنی جائداد حسبۃ ﷲ واسطے مصارف
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۶
خیر اطعام مساکین وپارچہائے سرماو گرمائے مساکین وتجہیز وتکفین غربائے اسلام وجہیز دختران مساکین وصرف خیر مساجد ومدارس دینی وحرمین شریفین زادہمااللہ شرفا وتعظیما وقف لوجہ اللہ کرتی ہوں تاحیات خود متولی رہوں گی بعد میرے فیاض الدین احمد خاںبعد ان کے ان کی اولاد ذکور جو پابند شرع شریف ہو بمعیت حکیم خلیل الرحمن خاں ومولوی وصی احمد صاحب رہیں گےمتولیان سو روپے سال اصغری بیگم کو جو میری چھوٹی بہن ہے دیتے رہیں بعد ان کے ان کی اولاد ذکور کو جوپابند شرع شریف ہو دیتے رہیں نیز یہ بھی شرط ہے کہ میری رائے میں بحالت تولیت میری اس حقیت کا بیع یارہن کرنا یا ٹھیکہ دینا اور اس سے دوسری جائداد یا اور کوئی شے مفید واسطے منافع اغراض وقف کے خرید کرناضرور معلوم ہوتو ایسا کرنے کا حسب شرائط دستاویز ہذ ا مجھے اختیار ہوگا اس لئے کہ موت کا وقت مقرر نہیں ہے لہذا انتظاما و احتیاطا یہ وقف نامہ لکھا گیا افضل خیرات شرعا یہ ہے کہ جائداد مذکورہ کسی قیمت مناسب پر فروخت کرکے وقتا فوقتا خود اپنے ہاتھ سے خیرات کرتیلہذا تاحیات اپنی مجھ کو اختیار ہوگا کہ جس وقت چاہوں فروخت کرکے حسب رائے خود خرچ کروں اور جو کچھ بعد میں باقی رہے گا اس سے شرائط وقفنامہ ہذا متعلق ہوں گے اگر میری حیات میں متولیان سے کوئی فوت ہوجائے تو مجھ کو متولی مقررکرنے کاخود اختیار ہوگامتولیان کو چاہئے /سال بطور خیرات تا حیات اس کے مسماۃ بنی کو جو اس وقت میرے پاس ہے بعد میرے دیا کریں گے بعد وفات اس کے یہ روپیہ دیگر خیرات میں شامل کیا جائے اگر خدانخواستہ ملك حجاز اپنی بدقسمتی سے نہ پہنچ سکوں تومیری قبر کسی بزرگ کے قریب بنوائی جائے اور محفوظ ممیز کر دی جائے اور ایصال ثواب قرآن شریف وکلمہ ودرود میں سال تك خرچ کیا جائے چونکہ آمدنی جائداد کی تعیین نہیں ہوسکتی میری رائے میں منہائے اخراجات متعلق جائداد کے ایك ثلث حرمین شریفین میں واسطے خیرات کے دیا جائےاور ایك ثلث طلبائے علم دین ومصارف مساجد پیلی بھیت ومدرسہ عربی واقع پیلی بھیتایك ثلث فقراء ومساکین واطعام وغیرہاور واسطے ایصال ثواب شاہ محمد شیر صاحب کے /روپے سالانہ یا جس قدر زائد گنجائش ہو کیا جائے مجھے حکام سے امید ہے کہ بوقت دورہ اس جائداد موقوفہ کی نگرانی فرمادیںمتولیان کے پاس رجسٹرحساب جمع خرچ باقاعدہ درست رہنا ضرورہےمیرے وارث یا قائم مقام کو اس کے تبدیل تغییر کا اختیار نہ ہوگا۔لہذا یہ وقف نامہ بتعین مالیت معمہ ھما روپیہ دیا کہ سند ہو۔مورخہ ۱۲ستمبر ۱۹۰۶ء رجسٹری شدہ ہے۔
الجواب:
یہ کاغذ باطل محض ہے اس میں انشائے وقف کے دو۲ جملے ہیں:
الجواب:
یہ کاغذ باطل محض ہے اس میں انشائے وقف کے دو۲ جملے ہیں:
اول: وقف لوجہ اﷲ کرتی ہوں اور راس میں یہ شرط لگائی کہ اسے بیچ کر جائداد یا اور کوئی شے مفید اغراض وقف خرید کرنے کا مجھے اختیارہوگا شرط استبدال اگرچہ جائز ہے مگر یوں کہ اس کے عوض دوسری جائداد ہی لی جائے جو انہیں مقاصد پر وقف ٹھہرے نہ کہ علاوہ جائداد مطلقا جو شے چاہے جیسا کہ اس کاغذ میں تحریر ہے ایسی شرط سے وقف باطل ہوجاتا ہے۔عالمگیری میں ہے:
اذا شرط فی اصل الوقف ان یستبدل بہ ارضا اخری اذا شاء فتکون وقفا مکانہافالوقف والشرط جائز ان عند ابی یوسف وکذالوشرط ان یبیعھا ویستبدل بثمنھا مکانھاوفی واقعات القاضی الامام فخرالدین قول ھلال مع ابی یوسف رحمہما اﷲ تعالی وعلیہ الفتوی کذافی الخلاصۃوان قال علی ان ابیعھا بما بدا لی من الثمن من قلیل اوکثیر او علی ان ابیعھا و اشتری بثمنھا عبداو قال ابیعھا ولم یزد علی ذلک قال ھلال ھذاالشرط فاسد یفسد بہ الوقف کذافی فتاوی قاضی خانولوشرط الاستبدال ولم یذکر ارضا ولادارالہ ان یستبدل بجنس العقار ماشاء اگر واقف نے اصل وقف میں یہ شرط عائد کی کہ جب چاہے گا اس زمین کے بدلے دوسری زمین لے گا اور وہ اس پہلی زمین موقوفہ کی جگہ وقف ہوگی تو امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیك وقف وشرط دونوں جائز ہیںاور اسی طرح اگر یہ شرط کی کہ اس کو فروخت کرکے اس کے ثمن کے بدلے دوسری زمین خریدے گا جو اس کی جگہ وقف ہوگی تو بھی جائز ہے اور واقعات قاضی امام فخر الدین رحمۃ اﷲ تعالی علیہ میں ابو یوسف کے قول کے ساتھ شیخ ہلال علیہ الرحمۃ کا قول بھی مذکور ہے اور اسی پر فتوی ہے یہ خلاصہ میں ہےاور اگر واقف نے اصل وقف میں یوں کہا کہ اس شر ط پروقف کرتا ہوں کہ میں اس وقف کواپنی رائے کے مطابق کثیر یا قلیل ثمن کے بدلے فروخت کرں گا یا یوں کہا کہ اس شرط پر میں اس کو فروخت کروں گااور اس کے ثمن کے بدلے غلام خریدوں گا یا یوں کہا کہ اس شرط پر کہ میں اس کو فروخت کروں گا اس سے زیادہ کچھ نہ کہا تو شیخ ھلال نے فرمایا کہ یہ شرط فاسد ہے اور اس سے وقف فاسد ہوگا یہ فتاوی قاضیخان میں ہےاور اگر اس نے فقط استبدال کی شرط کی اور یہ بیان نہ کیا اس کے بدلے زمین یا دار لے گا تو اس کو اختیار
اذا شرط فی اصل الوقف ان یستبدل بہ ارضا اخری اذا شاء فتکون وقفا مکانہافالوقف والشرط جائز ان عند ابی یوسف وکذالوشرط ان یبیعھا ویستبدل بثمنھا مکانھاوفی واقعات القاضی الامام فخرالدین قول ھلال مع ابی یوسف رحمہما اﷲ تعالی وعلیہ الفتوی کذافی الخلاصۃوان قال علی ان ابیعھا بما بدا لی من الثمن من قلیل اوکثیر او علی ان ابیعھا و اشتری بثمنھا عبداو قال ابیعھا ولم یزد علی ذلک قال ھلال ھذاالشرط فاسد یفسد بہ الوقف کذافی فتاوی قاضی خانولوشرط الاستبدال ولم یذکر ارضا ولادارالہ ان یستبدل بجنس العقار ماشاء اگر واقف نے اصل وقف میں یہ شرط عائد کی کہ جب چاہے گا اس زمین کے بدلے دوسری زمین لے گا اور وہ اس پہلی زمین موقوفہ کی جگہ وقف ہوگی تو امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیك وقف وشرط دونوں جائز ہیںاور اسی طرح اگر یہ شرط کی کہ اس کو فروخت کرکے اس کے ثمن کے بدلے دوسری زمین خریدے گا جو اس کی جگہ وقف ہوگی تو بھی جائز ہے اور واقعات قاضی امام فخر الدین رحمۃ اﷲ تعالی علیہ میں ابو یوسف کے قول کے ساتھ شیخ ہلال علیہ الرحمۃ کا قول بھی مذکور ہے اور اسی پر فتوی ہے یہ خلاصہ میں ہےاور اگر واقف نے اصل وقف میں یوں کہا کہ اس شر ط پروقف کرتا ہوں کہ میں اس وقف کواپنی رائے کے مطابق کثیر یا قلیل ثمن کے بدلے فروخت کرں گا یا یوں کہا کہ اس شرط پر میں اس کو فروخت کروں گااور اس کے ثمن کے بدلے غلام خریدوں گا یا یوں کہا کہ اس شرط پر کہ میں اس کو فروخت کروں گا اس سے زیادہ کچھ نہ کہا تو شیخ ھلال نے فرمایا کہ یہ شرط فاسد ہے اور اس سے وقف فاسد ہوگا یہ فتاوی قاضیخان میں ہےاور اگر اس نے فقط استبدال کی شرط کی اور یہ بیان نہ کیا اس کے بدلے زمین یا دار لے گا تو اس کو اختیار
من دار اوارض کذافی الخلاصۃواذاقال علی ان استبدل ارضا اخری لیس لہ ان یجعل البدل دارا و کذا علی العکس کذافی فتح القدیر وذکر الخصاف فی وقفہ لو شرط ان یبیعھا ویصرف ثمنھا الی مارأی من ابواب الخیرفالوقف باطل کذافی الذخیرۃ ۔ ہوگا کہ جنس عقار سے جو چاہے اس کے بدلے میں لے لے چاہے زمین یا مکانیوں ہی خلاصہ میں ہے۔اور اگراس نے کہا اس شرط پر کہ میں اس کے بدلے دوسری زمین لوں گا تو اب اس کے بدلے مکان نہیں لے سکتا اور نہ ہی اسکا عکس کرسکتا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں ہےامام خصاف نے اپنی وقف میں ذکر فرمایا کہ اگر واقف نے یہ شرط کی کہ میں وقف کو فروخت کرکے ثمن کارہائے خیر میں جہاں چاہوں گا خرچ کروں گا تو وقف باطل ہوگاذخیرہ میں یونہی ہے۔(ت)
دوم: جو کچھ بعد میرے باقی رہے گا اس سے شرائط وقفنامہ متعلق ہوں گے اس کا حاصل یہ ہے کہ فی الحال اس جائداد کا کوئی حصہ وقف نہیں میں جب چاہوں بیچوں اور جہاں چاہوں خرچ کروں میرے بعد اس بیع وخرچ سے کچھ باقی بچے تو وہ وقف ہوظاہر ہے کہ یہاں کچھ معلوم نہیں کہ بعد زندگی اس کے بیع وخرچ سے کوئی حصہ جائداد باقی رہے یا کچھ نہ رہے اور رہے تو کیا اور کس قدرتو یہ ایك مجہول چیز کا وقف کرنا ہو اور مجہول کا وقف باطل ہے پھر وہ بھی ایك احتمال بات پر معلق رہا اور ایسی تعلیق کا وقف باطل ہے۔درمختار میں ہے:
شرطہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ معلوما لامعلقا الا بکائن ۔ شرط وقف یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے قربت ہواور معلوم ہو معلق نہ ہو ہاں شرط موجود کے ساتھ معلق ہوسکتا ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حتی لووقف شیئا من ارضہ ولم یسمہ لایصح و لو بین بعدذلک ۔ یہاں تك کہ اگر کسی نے اپنی زمین کا کچھ حصہ وقف کیا اور اس کو متعین نہ کیا تو وقف صحیح نہ ہوگا اگرچہ بعدمیں بیان کردے(ت)
دوم: جو کچھ بعد میرے باقی رہے گا اس سے شرائط وقفنامہ متعلق ہوں گے اس کا حاصل یہ ہے کہ فی الحال اس جائداد کا کوئی حصہ وقف نہیں میں جب چاہوں بیچوں اور جہاں چاہوں خرچ کروں میرے بعد اس بیع وخرچ سے کچھ باقی بچے تو وہ وقف ہوظاہر ہے کہ یہاں کچھ معلوم نہیں کہ بعد زندگی اس کے بیع وخرچ سے کوئی حصہ جائداد باقی رہے یا کچھ نہ رہے اور رہے تو کیا اور کس قدرتو یہ ایك مجہول چیز کا وقف کرنا ہو اور مجہول کا وقف باطل ہے پھر وہ بھی ایك احتمال بات پر معلق رہا اور ایسی تعلیق کا وقف باطل ہے۔درمختار میں ہے:
شرطہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ معلوما لامعلقا الا بکائن ۔ شرط وقف یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے قربت ہواور معلوم ہو معلق نہ ہو ہاں شرط موجود کے ساتھ معلق ہوسکتا ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حتی لووقف شیئا من ارضہ ولم یسمہ لایصح و لو بین بعدذلک ۔ یہاں تك کہ اگر کسی نے اپنی زمین کا کچھ حصہ وقف کیا اور اس کو متعین نہ کیا تو وقف صحیح نہ ہوگا اگرچہ بعدمیں بیان کردے(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۰۔۳۹€۹
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۲€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۶۰€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۲€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۶۰€
اسی میں اسعاف سے ہے:
الوقف لایحتمل التعلیق بالخطر ۔
وقف ایسی شیئ کے ساتھ معلق ہونے کااحتمال نہیں رکھتا جو محتمل الہلاك ہو(ت)
فتح القدیر میں ہے:
لو قال اذا مت من مرضی ھذا فقد وقفت ارضی الی اخرہ فمات لم تصروقفا ۔
جب کہا کہ اگر میں اپنی اس مرض میں مرگیا تو میں نے اپنی یہ زمین وقف کردیپھر مرگیا تو زمین وقف نہ ہوئی(ت)
اس کے بعد جو لکھا کہ حکام سے امید ہے کہ اس جائداد موقوفہ کی نگرانی کریں اور اخیرمیں کہا کہ یہ وقف نامہ لکھ دیا اور متولیوں کو مصارف بتائے ان میں کسی سے انشائے وقف نہ مقصود ہے نہ مفہوم بلکہ یہ سب اپنے اسی خیال کی بناپر ہے کہ اسے وقف سمجھا حالانکہ وہ شرعا ہنوز وقف نہ ہوئی اور غلط خیالی کی بنا پر جو الفاظ کہے جائیں کچھ اثرنہیں رکھتے اشباہ قاعدہ لاعبرۃ بالظن البین خطوہ میں ہے:
لواقربطلاق زوجتہ ظانا الوقوع بافتاء المفتی فتبین عدمہ لم یقع کمافی القنیۃ ۔
اگر کسی نے مفتی کے فتوی دینے کی وجہ سے وقوع طلاق کا گمان کرتے ہوئے اپنی بیوی کی طلاق کا اقرار کیا پھر اس کا عدم ظاہر ہوگیا تو طلاق واقع نہیں ہوئی جیسا کہ قنیہ میں ہے(ت)
پس اس طالبہ ثواب کو چاہئے کہ اسے از سر نو وقف فرمائے اور بعد موت پر معلق نہ کرے کہ وہ اس میں اگرثلث متروکہ سے زائد ہوتو پھر وارثوں کی اجازت کا جھگڑا ہے اور واقفہ استبدال کی شرط لگانا چاہے تو اختیار ہے مگر صرف اس طرح کہ اسے دوسری جائداد سے بدل لیں خواہ بیچ کر اس کے عوض دوسری جائداد خرید لیںاور اب وہ دوسری فورا انہیں شرائط پر وقف ہوجائے گیاور ماورائے جائداد کسی اور چیز سے تبدیل کا ذکر ہر گز نہ ہو ورنہ وقف جاتا رہے گااور یہ خیال نہ کریں کہ اپنی حیات میں بیچ کر خرچ کردوں تو ثواب زیادہ ہےنہیں بلکہ اپنی حیات میں وقف کامل کریں اور شرط کرلیں کہ زندگی بھر
الوقف لایحتمل التعلیق بالخطر ۔
وقف ایسی شیئ کے ساتھ معلق ہونے کااحتمال نہیں رکھتا جو محتمل الہلاك ہو(ت)
فتح القدیر میں ہے:
لو قال اذا مت من مرضی ھذا فقد وقفت ارضی الی اخرہ فمات لم تصروقفا ۔
جب کہا کہ اگر میں اپنی اس مرض میں مرگیا تو میں نے اپنی یہ زمین وقف کردیپھر مرگیا تو زمین وقف نہ ہوئی(ت)
اس کے بعد جو لکھا کہ حکام سے امید ہے کہ اس جائداد موقوفہ کی نگرانی کریں اور اخیرمیں کہا کہ یہ وقف نامہ لکھ دیا اور متولیوں کو مصارف بتائے ان میں کسی سے انشائے وقف نہ مقصود ہے نہ مفہوم بلکہ یہ سب اپنے اسی خیال کی بناپر ہے کہ اسے وقف سمجھا حالانکہ وہ شرعا ہنوز وقف نہ ہوئی اور غلط خیالی کی بنا پر جو الفاظ کہے جائیں کچھ اثرنہیں رکھتے اشباہ قاعدہ لاعبرۃ بالظن البین خطوہ میں ہے:
لواقربطلاق زوجتہ ظانا الوقوع بافتاء المفتی فتبین عدمہ لم یقع کمافی القنیۃ ۔
اگر کسی نے مفتی کے فتوی دینے کی وجہ سے وقوع طلاق کا گمان کرتے ہوئے اپنی بیوی کی طلاق کا اقرار کیا پھر اس کا عدم ظاہر ہوگیا تو طلاق واقع نہیں ہوئی جیسا کہ قنیہ میں ہے(ت)
پس اس طالبہ ثواب کو چاہئے کہ اسے از سر نو وقف فرمائے اور بعد موت پر معلق نہ کرے کہ وہ اس میں اگرثلث متروکہ سے زائد ہوتو پھر وارثوں کی اجازت کا جھگڑا ہے اور واقفہ استبدال کی شرط لگانا چاہے تو اختیار ہے مگر صرف اس طرح کہ اسے دوسری جائداد سے بدل لیں خواہ بیچ کر اس کے عوض دوسری جائداد خرید لیںاور اب وہ دوسری فورا انہیں شرائط پر وقف ہوجائے گیاور ماورائے جائداد کسی اور چیز سے تبدیل کا ذکر ہر گز نہ ہو ورنہ وقف جاتا رہے گااور یہ خیال نہ کریں کہ اپنی حیات میں بیچ کر خرچ کردوں تو ثواب زیادہ ہےنہیں بلکہ اپنی حیات میں وقف کامل کریں اور شرط کرلیں کہ زندگی بھر
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۰
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۲۳
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السابعہ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۹۴
فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۲۳
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السابعہ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۹۴
اس کے تمام مصارف میرے ہاتھ سے ہوں گے اور میری رائے واختیار پر رہیں گے میرے بعد فلاں فلان متولی ہوں اور اتنا اتنا فلاں مصرف میں صرف کیا کریں یوں اپنی رائے سے زندگی بھر جیساچاہے صرف کا اختیار رہا اور بعد کو بھی تابقائے جائداد ثواب پہنچا کیا۔عالمگیری میں ہے:
رجل ارادان یجعل مالہ بوجہ القربۃ فبناء الرباط للمسلمین افضل من عتق الرقاب لانہ ادوموقیل التصدق علی المساکین وقلت قد کنا قلنا لمن اراد ذلك ان یشتری الکتب ویضع فی دارالکتب لیکتب العلم لانہ ادومفکان افضل من غیرہ ولوارادان یتخذ دارا لہ وقفا علی الفقراءفالتصدق بثمنہا افضل ولوکان مکان الدار ضیعۃ فالوقف افضل کذا فی المضمرات ۔(ملخصا) ایك شخص نے ارادہ کیا کہ اپنا مال قرب الہی میں کردے تو اس کا مسلمانوں کے لئے رباط بناناغلام آزاد کرنے سے بہتر ہے کیونکہ رباط کو دوام زیادہ ہےاور بعض نے کہا کہ اس کو مساکین پر صدقہ کرنا افضل ہے اور تحقیق ہم نے ایسا ارادہ کرنے والے کو کہا تھا کہ وہ کتابیں خرید کر لائبریری میں رکھے کیونکہ اس میں زیادہ دوام ہے لہذا یہ اپنے غیر سے افضل ہے اور اگر کسی نے ارادہ کیا کہ اپنا گھر فقیروں پر وقف کردے تو اس کے ثمن کو صدقہ کرنا افضل ہے اور اگر بجائے گھر کے زمین موقوف ہوتو وقف افضل ہےایسے ہی مضمرات میں ہے(ملخصا)۔(ت)
فتاوی امام قاضی خان میں ہے:
رجل جاء الی المفتی وارادان یتقرب الی اﷲ تعالی بدارہ فسأل ابیعھا واتصدق بثمنھا اواشتری بثمنھا عبیدا فاعتقھم او اجعلھا دارالمسلمین ای ذلك یکون افضلقالوایقال لہ ان بنیت رباطا وتجعل لہا وقفا ومستغلا لعمارتھا فالرباط افضل فانہ ادوم و اعم نفعاوان لم تجعل للرباط مستغلا ایك مفتی کے پاس ایسا شخص آیا جو اپنے گھر کے ذریعے اﷲ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کا ارادہ رکھتاہے اس نے کہا کہ میں اس کو فروخت کرکے اس کے ثمن صدقہ کروں یا اس کے ثمنوں سے غلام خرید کر آزاد کروں یا اس کو مسلمانوں کے لئے گھر کردوں ان میں سے کیا افضل ہے تو مشائخ نے کہا کہ اس کو یہ جواب دیا جائے گاکہ اگر تو رباط بنا کر اس کی آمدنی کےلئے کوئی شے وقف کردے تو رباط افضل
رجل ارادان یجعل مالہ بوجہ القربۃ فبناء الرباط للمسلمین افضل من عتق الرقاب لانہ ادوموقیل التصدق علی المساکین وقلت قد کنا قلنا لمن اراد ذلك ان یشتری الکتب ویضع فی دارالکتب لیکتب العلم لانہ ادومفکان افضل من غیرہ ولوارادان یتخذ دارا لہ وقفا علی الفقراءفالتصدق بثمنہا افضل ولوکان مکان الدار ضیعۃ فالوقف افضل کذا فی المضمرات ۔(ملخصا) ایك شخص نے ارادہ کیا کہ اپنا مال قرب الہی میں کردے تو اس کا مسلمانوں کے لئے رباط بناناغلام آزاد کرنے سے بہتر ہے کیونکہ رباط کو دوام زیادہ ہےاور بعض نے کہا کہ اس کو مساکین پر صدقہ کرنا افضل ہے اور تحقیق ہم نے ایسا ارادہ کرنے والے کو کہا تھا کہ وہ کتابیں خرید کر لائبریری میں رکھے کیونکہ اس میں زیادہ دوام ہے لہذا یہ اپنے غیر سے افضل ہے اور اگر کسی نے ارادہ کیا کہ اپنا گھر فقیروں پر وقف کردے تو اس کے ثمن کو صدقہ کرنا افضل ہے اور اگر بجائے گھر کے زمین موقوف ہوتو وقف افضل ہےایسے ہی مضمرات میں ہے(ملخصا)۔(ت)
فتاوی امام قاضی خان میں ہے:
رجل جاء الی المفتی وارادان یتقرب الی اﷲ تعالی بدارہ فسأل ابیعھا واتصدق بثمنھا اواشتری بثمنھا عبیدا فاعتقھم او اجعلھا دارالمسلمین ای ذلك یکون افضلقالوایقال لہ ان بنیت رباطا وتجعل لہا وقفا ومستغلا لعمارتھا فالرباط افضل فانہ ادوم و اعم نفعاوان لم تجعل للرباط مستغلا ایك مفتی کے پاس ایسا شخص آیا جو اپنے گھر کے ذریعے اﷲ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کا ارادہ رکھتاہے اس نے کہا کہ میں اس کو فروخت کرکے اس کے ثمن صدقہ کروں یا اس کے ثمنوں سے غلام خرید کر آزاد کروں یا اس کو مسلمانوں کے لئے گھر کردوں ان میں سے کیا افضل ہے تو مشائخ نے کہا کہ اس کو یہ جواب دیا جائے گاکہ اگر تو رباط بنا کر اس کی آمدنی کےلئے کوئی شے وقف کردے تو رباط افضل
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۸۲۔۴۸۱€
للعمارۃ فالافضل ان تبیع وتتصدق بثمنہ علی المساکین ۔ ہے کیونکہ اس میں دوام زیادہ اور اس کا نفع عام ہے اور اگر تو رباط کی آمدنی کے لئے کوئی چیز وقف نہ کرسکے تو پھر اس کو فروخت کرکے ثمن مسکینوں پر صدقہ کرنا افضل ہے(ت)
عالمگیریہ میں اسے نقل کرکے فرمایا:
ودون ذلك فی الفضل ان یشتری بثمنھا عبیدا فیعتقہم کذافی الظہیریۃ ۔ اور اس سے کمتر فضیلت اس میں ہے کہ اس کے ثمنوں سے غلام خرید کر آزاد کردے۔ظہیریہ میں ایسے ہی ہے۔(ت)
وجیز کردری پھر بحرالرائق پھر ہندیہ میں ہے:
وقف الضیعۃ اولی من بیعہا والتصدق بثمنھا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قطعہ اراضی کو وقف کرنا اس کو بیچ کر ثمنوں کو صدقہ کرنے سے اولی ہے۔واﷲ اتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۳۲: ازشہر چڑھائی نیب مسئولہ منشی محمد ظہور صاحب ۲۲صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے کہ دستاویز"ا"جائز ہے یانہیںاوراگر ہے تو یہ تملیك نامہ میں شمار ہوگی یا وقف نامہ میں یا تولیت نامہ میںدوسرے یہ کہ زید نے دستاویز"ب"اپنے پسر عمرو کو اسی مضمون کو پلٹ کر لکھ دی تو متولی یا مہتمم کو اختیار تھا یا نہیںاب چونکہ زید کا انتقال ہوگیا جس کی نسبت لکھا تھا کہ زید تاحیات متولی رہے گا بعد اس کے جو متولی یا سجادہ یا مہتمم ہوگا یکے بعدد یگرے اس کو بھی پابند اس تحریر کا رہنا ہوگا اب چونکہ دو دعویدار پیداہوئے ایك بکر خاندانی بزرگ جس کی عمر تخمینا ۷۵سال کی ہے اورمرید بھی کرتے ہیں دوسرا زیدکا لڑکا عمرو جو مرید نہیں کرتا ہے جس کی عمر۱۹سال کی ہے جس کے حق میں دستاویز"ب"متولی نے تحریر کی ہے اب ان ہر دو میں ترجیح کس کو ہے اور کون مستحق جانشینی کاہے اور متولی اور سجادہ نشیں جدا جدا ہونا چاہئے یا ایك ہی شخص مستحق ہے بموجب تحریر متذکرہ کے
عالمگیریہ میں اسے نقل کرکے فرمایا:
ودون ذلك فی الفضل ان یشتری بثمنھا عبیدا فیعتقہم کذافی الظہیریۃ ۔ اور اس سے کمتر فضیلت اس میں ہے کہ اس کے ثمنوں سے غلام خرید کر آزاد کردے۔ظہیریہ میں ایسے ہی ہے۔(ت)
وجیز کردری پھر بحرالرائق پھر ہندیہ میں ہے:
وقف الضیعۃ اولی من بیعہا والتصدق بثمنھا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قطعہ اراضی کو وقف کرنا اس کو بیچ کر ثمنوں کو صدقہ کرنے سے اولی ہے۔واﷲ اتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۴۳۲: ازشہر چڑھائی نیب مسئولہ منشی محمد ظہور صاحب ۲۲صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے کہ دستاویز"ا"جائز ہے یانہیںاوراگر ہے تو یہ تملیك نامہ میں شمار ہوگی یا وقف نامہ میں یا تولیت نامہ میںدوسرے یہ کہ زید نے دستاویز"ب"اپنے پسر عمرو کو اسی مضمون کو پلٹ کر لکھ دی تو متولی یا مہتمم کو اختیار تھا یا نہیںاب چونکہ زید کا انتقال ہوگیا جس کی نسبت لکھا تھا کہ زید تاحیات متولی رہے گا بعد اس کے جو متولی یا سجادہ یا مہتمم ہوگا یکے بعدد یگرے اس کو بھی پابند اس تحریر کا رہنا ہوگا اب چونکہ دو دعویدار پیداہوئے ایك بکر خاندانی بزرگ جس کی عمر تخمینا ۷۵سال کی ہے اورمرید بھی کرتے ہیں دوسرا زیدکا لڑکا عمرو جو مرید نہیں کرتا ہے جس کی عمر۱۹سال کی ہے جس کے حق میں دستاویز"ب"متولی نے تحریر کی ہے اب ان ہر دو میں ترجیح کس کو ہے اور کون مستحق جانشینی کاہے اور متولی اور سجادہ نشیں جدا جدا ہونا چاہئے یا ایك ہی شخص مستحق ہے بموجب تحریر متذکرہ کے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف باب الرجل یجعل دارہ مسجداًالخ ∞نولکشور لکھنو ۴/ ۷۱۴€
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر ∞نورانی کتب خانہ،پشاور ۲/ ۴۷۰€
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر ∞نورانی کتب خانہ،پشاور ۲/ ۴۷۰€
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر ∞نورانی کتب خانہ،پشاور ۲/ ۴۷۰€
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر ∞نورانی کتب خانہ،پشاور ۲/ ۴۷۰€
الجواب:
دونوں دستاویزیں سنیں اول وقفنامہ ہے اگرچہ غلطی سے اسے تملیك نامہ لکھا ہے اس کی عبارت یہ ہے:"میں نے بحالت صحت نفس وثبات عقل اراضی ومکان وغیرہ مذکورہ بالا کو اپنی ملکیت سے جدا کرکے واسطے امور واغراض مذہبی متذکرہ آئندہ کے تملیك کرکے اقرار کرتا ہوں کہ مجھ کو اور میرے کسی وارث شرعی کو نسبت جائداد مذکور کے دعوی نہ ہوگا ننھے خاں اپنی حیات تك متولی جائداد مذکور کے رہیں گے اور ان کے بعد جو شخص سجادہ نشیں یکے بعد دیگرے میرا ہوگا سجادہ نشین ومتولی جائدادمذکو رکا رہے گا کسی متولی کو کسی وقت رہن وبیع کسی قسم کے انتقال کا اختیار نہ ہوگا یہ جائداد تملیك شدہ بطور وقف خاص مذہبی کام کے متصورہوگیاس میں کبھی وراثت جاری نہ ہوگی"تو شك نہیں کہ وقف نامہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)دستاویز"ب"کے ملاحظہ سے ظاہر کہ زید نے جو اصل واقف کا مقررشدہ متولی تھا اپنی حالت حیات وصحت میں تولیت سے دستکشی کرکے اپنے بیٹے کو جانشین ومتولی کیا شرعا اسے کچھ اختیار نہ تھا
اولا: متولی کو جائز نہیں کہ اپنی حیات وصحت میں دوسرے کو اپنی جگہ قائم کرے جب تك کہ واقف نے صراحۃ اسے اس کا اختیار نہ دیا ہو اور یہاں اسے اس کا اختیار نہ دیا تھا بلکہ عبارت وقف نامہ سے صاف ظاہر کہ واقف نے تاحیات زید اسی کا متولی رہنا لکھا اس کے بعد اوروں کی جانشینی تحریر کیدرمختار میں ہے:
ارادالمتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ وصحتہ ان کان التفویض لہ بالشرط عاما صحوالافان فوض فی صحتہ لایصح ۔
متولی نے اپنی حیات وصحت میں دوسرے کو اپنا قائم مقام بنانے کا ارادہ کیا تو اگر اس کو شرط واقف کے ذریعے تفویض عام حاصل ہے تب تو صحیح ہے ورنہ حالت صحت میں تفویض صحیح نہ ہوگی(ت)
ثانیا: پسرزیدکی جانشینی بھی خلاف شرط وقف نامہ عمل میں آئی جیسا کہ عبارت مذکورہ سے ظاہر ہے لہذا دستاویز"ب"محض مہمل وناقابل عملہ ہے تحریر وقف نامہ سے روشن ہے کہ متولی وسجادہ نشین ایك ہی شخص ہواور اس کی نسبت واقف نے کوئی تعیین نہ کی تو مصالح شرعیہ دینیہ کے اعتبار سے اقربائے واقف میں سے جو شخص سنی پرہیز گاردینداردیانتدار علماء وصلحائے اہلسنت کے اتفاق رائے سے اس کام کےلئے
دونوں دستاویزیں سنیں اول وقفنامہ ہے اگرچہ غلطی سے اسے تملیك نامہ لکھا ہے اس کی عبارت یہ ہے:"میں نے بحالت صحت نفس وثبات عقل اراضی ومکان وغیرہ مذکورہ بالا کو اپنی ملکیت سے جدا کرکے واسطے امور واغراض مذہبی متذکرہ آئندہ کے تملیك کرکے اقرار کرتا ہوں کہ مجھ کو اور میرے کسی وارث شرعی کو نسبت جائداد مذکور کے دعوی نہ ہوگا ننھے خاں اپنی حیات تك متولی جائداد مذکور کے رہیں گے اور ان کے بعد جو شخص سجادہ نشیں یکے بعد دیگرے میرا ہوگا سجادہ نشین ومتولی جائدادمذکو رکا رہے گا کسی متولی کو کسی وقت رہن وبیع کسی قسم کے انتقال کا اختیار نہ ہوگا یہ جائداد تملیك شدہ بطور وقف خاص مذہبی کام کے متصورہوگیاس میں کبھی وراثت جاری نہ ہوگی"تو شك نہیں کہ وقف نامہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)دستاویز"ب"کے ملاحظہ سے ظاہر کہ زید نے جو اصل واقف کا مقررشدہ متولی تھا اپنی حالت حیات وصحت میں تولیت سے دستکشی کرکے اپنے بیٹے کو جانشین ومتولی کیا شرعا اسے کچھ اختیار نہ تھا
اولا: متولی کو جائز نہیں کہ اپنی حیات وصحت میں دوسرے کو اپنی جگہ قائم کرے جب تك کہ واقف نے صراحۃ اسے اس کا اختیار نہ دیا ہو اور یہاں اسے اس کا اختیار نہ دیا تھا بلکہ عبارت وقف نامہ سے صاف ظاہر کہ واقف نے تاحیات زید اسی کا متولی رہنا لکھا اس کے بعد اوروں کی جانشینی تحریر کیدرمختار میں ہے:
ارادالمتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ وصحتہ ان کان التفویض لہ بالشرط عاما صحوالافان فوض فی صحتہ لایصح ۔
متولی نے اپنی حیات وصحت میں دوسرے کو اپنا قائم مقام بنانے کا ارادہ کیا تو اگر اس کو شرط واقف کے ذریعے تفویض عام حاصل ہے تب تو صحیح ہے ورنہ حالت صحت میں تفویض صحیح نہ ہوگی(ت)
ثانیا: پسرزیدکی جانشینی بھی خلاف شرط وقف نامہ عمل میں آئی جیسا کہ عبارت مذکورہ سے ظاہر ہے لہذا دستاویز"ب"محض مہمل وناقابل عملہ ہے تحریر وقف نامہ سے روشن ہے کہ متولی وسجادہ نشین ایك ہی شخص ہواور اس کی نسبت واقف نے کوئی تعیین نہ کی تو مصالح شرعیہ دینیہ کے اعتبار سے اقربائے واقف میں سے جو شخص سنی پرہیز گاردینداردیانتدار علماء وصلحائے اہلسنت کے اتفاق رائے سے اس کام کےلئے
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
زیادہ مناسب ہو وہی سجادہ نشین ومتولی کیا جائےعلمتقوی ودیانت واہلیت کا لحاظ سب سے مقدم ہوگا اور جب تك اقارب واقف میں سے ایسامل سکے اجنبیوں میں سے نہ کیا جائے گا۔درمختار میں ہے:
ومادام احد یصالح للتولیۃ من اقارب الواقف لا یجعل المتولی من الاجانبومن قصدہ نسبۃ الوقف الیھم ۔
جب تك وقف کرنیوالے کے اقارب میں کوئی متولی بننے کی صلاحیت رکھنے والا موجود ہے کسی اجنبی کو متولی وقف نہیں بنایاجائے گا۔واقف کے قریبی رشتہ دار متولی کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ وقف اس کے خاندان کی طرف منسوب رہے۔(ت)
عرفا اس سلسلے کا مجاز وماذون ہونا بھی ضرورہے اگر ان سب باتوں میں مساوات ہوتو باعتبار سن ترجیح ہوگی
کمانصوا ان الاحق بالامامۃ اعلمھم بالکتاب و السنۃ ثم وثم وثم اسنھم واﷲ تعالی اعلم۔
جیسا کہ مشائخ نے نص فرمائی کہ لوگوں میں سب سے بڑاعالم امامت کا زیادہ حقدار ہے پھر فلاںپھر فلاں پھران میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ واﷲتعالی اعلم(ت)
_______________________
نوٹ:
سولھویں جلد کتاب الشرکۃ وکتاب الوقف پر ختم ہوئی
سترہویں جلد کا آغاز کتاب البیوع سے ہوگا۔
____________________
ومادام احد یصالح للتولیۃ من اقارب الواقف لا یجعل المتولی من الاجانبومن قصدہ نسبۃ الوقف الیھم ۔
جب تك وقف کرنیوالے کے اقارب میں کوئی متولی بننے کی صلاحیت رکھنے والا موجود ہے کسی اجنبی کو متولی وقف نہیں بنایاجائے گا۔واقف کے قریبی رشتہ دار متولی کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ وقف اس کے خاندان کی طرف منسوب رہے۔(ت)
عرفا اس سلسلے کا مجاز وماذون ہونا بھی ضرورہے اگر ان سب باتوں میں مساوات ہوتو باعتبار سن ترجیح ہوگی
کمانصوا ان الاحق بالامامۃ اعلمھم بالکتاب و السنۃ ثم وثم وثم اسنھم واﷲ تعالی اعلم۔
جیسا کہ مشائخ نے نص فرمائی کہ لوگوں میں سب سے بڑاعالم امامت کا زیادہ حقدار ہے پھر فلاںپھر فلاں پھران میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ واﷲتعالی اعلم(ت)
_______________________
نوٹ:
سولھویں جلد کتاب الشرکۃ وکتاب الوقف پر ختم ہوئی
سترہویں جلد کا آغاز کتاب البیوع سے ہوگا۔
____________________
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۰۱،درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۲
الہدایۃ کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۰۱،درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۲
بان اضافۃ الی نفسہ یقع للوکیل ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اور اگر قرض لینے کے لئے بنائے وکیل نے قاصد ہونے کا اظہار کرتے ہوئے قرض لیا تو یہ قرض وکیل بنانے پر ہوگااور اگر وکیل نے وکالت کا اظہار کرتے ہوئے کہ قرض لیا کہ اپنی طرف منسوب کیا تو قرض وکیل کے ذمہ آئے گاواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
__________________
اور اگر قرض لینے کے لئے بنائے وکیل نے قاصد ہونے کا اظہار کرتے ہوئے قرض لیا تو یہ قرض وکیل بنانے پر ہوگااور اگر وکیل نے وکالت کا اظہار کرتے ہوئے کہ قرض لیا کہ اپنی طرف منسوب کیا تو قرض وکیل کے ذمہ آئے گاواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
__________________
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الثلاثون فی التصرفات الفاسدۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷







