بسم الله الرحمن الرحیم ط
پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ الله تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا۔
اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا تیرہ۱۳ سال کے مختصر عرصہ میں تئیسویں۲۳ جلد اپ کے ہاتھ میں ہے۔اس سے قبل کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر کتاب السیر کتا ب الشرکۃ کتاب الوقف کتاب البیوع کتا ب الحوالہ کتاب الشہادۃ کتاب القضاء والدعاوی کتا ب الوکالۃ کتاب الاقرار کتاب الصلح کتاب المضاربہ کتاب الامانات کتاب العاریہ کتاب الہبہ کتاب الاجارہ کتا ب الاکراہ کتاب الحجر کتاب الغصب کتاب الشفعۃ کتاب القسمۃ کتاب المزارعہ کتاب الصید کتا ب الذبائح کتاب الاضحیہ اور کتاب الحظروالاباحۃ کے حصہ اول ودوم پرمشتمل بائیس۲۲ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے۔
پیش لفظ
الحمد ﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا شاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمۃ الله تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظر عام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضا فاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکا ہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔فتاوی مذکورہ کی اشاعت کاآغاز شعبا ن المعظم ۱۴۱۰ھ /مارچ ۱۹۹۰ء میں ہوا تھا۔
اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا تیرہ۱۳ سال کے مختصر عرصہ میں تئیسویں۲۳ جلد اپ کے ہاتھ میں ہے۔اس سے قبل کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر کتاب السیر کتا ب الشرکۃ کتاب الوقف کتاب البیوع کتا ب الحوالہ کتاب الشہادۃ کتاب القضاء والدعاوی کتا ب الوکالۃ کتاب الاقرار کتاب الصلح کتاب المضاربہ کتاب الامانات کتاب العاریہ کتاب الہبہ کتاب الاجارہ کتا ب الاکراہ کتاب الحجر کتاب الغصب کتاب الشفعۃ کتاب القسمۃ کتاب المزارعہ کتاب الصید کتا ب الذبائح کتاب الاضحیہ اور کتاب الحظروالاباحۃ کے حصہ اول ودوم پرمشتمل بائیس۲۲ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے۔
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلحکتاب المضاربۃکتاب الاماناتکتاب العاریۃکتاب الھبہکتاب الاجارۃکتاب الاکراہکتاب الحجرکتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلحکتاب المضاربۃکتاب الاماناتکتاب العاریۃکتاب الھبہکتاب الاجارۃکتاب الاکراہکتاب الحجرکتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہکتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضافاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس جلدوں میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ(جلد نہم دہم یازدہم دواز دہم)کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء ومشائخ سے استشارہ و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ آئندہ شائع ہونے والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایا جائے عام طو پر فقہ وفتاوی رضویہ کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظروالاباحۃ کا عنوان ذکر کیا جاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیہ پر ہوا لہذا اکیسویں۲۱ جلد سے مسائل حظرو اباحت کی اشاعت کا آغاز کیا گیا۔اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبدالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی تحقیق انیق کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس سے بھرپور استفادہ اور راہنمائی حاصل کررہے ہیں۔
یاد ررہے کہ فتاوی رضویہ قدیم جلد میں کتاب الحظروالاباحۃ کے عنوان پر مشتمل جلد جس کی مکتبہ رضا ایوان عرفان بیسلپور نے جلد دہم اور رضا اکیڈمی بمبئی نے جلد نہم کے نام سے شائع کیا ہے وہ غیر مرتب اور غیر مبوب ہے اس میں شامل بعض رسائل کی ابتداء وانتہا ممتاز نہیں کچھ رسائل بے نام شامل ہیں جبکہ بعض رسالوں کے مندرجات یکجا ہونے کی بجائے متفرق منتشر طو رپر مذکور ہیں اس جلد میں شامل دونوں حصوں کے عنوانات ومسائل ایك جیسے ہونے کے باوجود دونوں کی فہرست یکجا نہیں کی گئی۔لہذا اس کی ترتیب وتبویب خاصا مشکل اور دقت طلب معاملہ تھا۔راقم نے متوکلا علی اﷲ اس پر کام شروع کیا تو الله تعالی کے فضل وکرم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی نظر عنایت اور اعلیحضرت علیہ الرحمۃ کے روحانی تصرف وکرامت کے صدقے میں توقع سے بھی کم وقت میں یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔الحمدﷲ علی ذلك۔
۲۱ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ اول) ۲۹۱ ۹ ربیع الاول _____۱۴۲۳ _____مئی ۲۰۰۲ ۶۷۶
۲۲ کتاب الحظر و لاباحۃ(حصہ دوم) ۲۴۱ ۶ جمادی الاخری____۱۴۲۳___اگست ۲۰۰۲ ۶۹۲
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضافاؤنڈیشن کی طرف سے شائع ہونے والی بیس جلدوں میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چار مطبوعہ(جلد نہم دہم یازدہم دواز دہم)کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء ومشائخ سے استشارہ و استفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ آئندہ شائع ہونے والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایا جائے عام طو پر فقہ وفتاوی رضویہ کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظروالاباحۃ کا عنوان ذکر کیا جاتاہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیہ پر ہوا لہذا اکیسویں۲۱ جلد سے مسائل حظرو اباحت کی اشاعت کا آغاز کیا گیا۔اس سلسلہ میں بحر العلوم حضرت مولانا مفتی عبدالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی تحقیق انیق کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس سے بھرپور استفادہ اور راہنمائی حاصل کررہے ہیں۔
یاد ررہے کہ فتاوی رضویہ قدیم جلد میں کتاب الحظروالاباحۃ کے عنوان پر مشتمل جلد جس کی مکتبہ رضا ایوان عرفان بیسلپور نے جلد دہم اور رضا اکیڈمی بمبئی نے جلد نہم کے نام سے شائع کیا ہے وہ غیر مرتب اور غیر مبوب ہے اس میں شامل بعض رسائل کی ابتداء وانتہا ممتاز نہیں کچھ رسائل بے نام شامل ہیں جبکہ بعض رسالوں کے مندرجات یکجا ہونے کی بجائے متفرق منتشر طو رپر مذکور ہیں اس جلد میں شامل دونوں حصوں کے عنوانات ومسائل ایك جیسے ہونے کے باوجود دونوں کی فہرست یکجا نہیں کی گئی۔لہذا اس کی ترتیب وتبویب خاصا مشکل اور دقت طلب معاملہ تھا۔راقم نے متوکلا علی اﷲ اس پر کام شروع کیا تو الله تعالی کے فضل وکرم رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی نظر عنایت اور اعلیحضرت علیہ الرحمۃ کے روحانی تصرف وکرامت کے صدقے میں توقع سے بھی کم وقت میں یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔الحمدﷲ علی ذلك۔
کتاب الحظروالاباحۃ کی ترتیب میں ہم نے جن امور کو بطور خاص ملحوظ رکھا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
(ا)حظرواباحت سے متعلق فتاوی رضویہ قدیم کے دونوں مطبوعہ حصوں کی(استفتاء میں مذکور)مسائل کے اعتبار سے یکجا تبویب کردی ہے۔
(ب)ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق مسائل مذکور ہونے کی صورت میں ہر مسئلہ کو مستفتی کے نام سمیت متعلق باب کے تحت درج کیا ہے۔
(ج)فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل مسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(د)رسائل کی ابتداء وانتہاء کو ممتاز کیا ہے۔
(ھ)بے نام رسائل کے ناموں کو ظاہر کیا ہے۔
(و)جن رسائل کے مندرجات ومشمولات یکجا نہ تھے ان کو اکٹھا کردیا ہے۔
(ز)حظرواباحت سے متعلقہ بعض رسائل اعلیحضرت جوفتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کو بھی مناسب جگہ پرشامل اشاعت کردیا ہے۔
(ح)تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذا پوری کتاب کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے تیار کرنا پڑی۔
(ط)جلد ہذا میں شامل تمام رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست مرتب کی گئی
(ی)اعلیحضرت رحمۃ الله تعالی علیہ بعض مقامات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے تبحر علمی کے پیش نظر ایسے مسائل بھی زیر بحث لے آتے ہیں جو متعلقہ ابواب میں سے کسی کے تحت مندرج نہیں ہوسکے ایسے مسائل کے لئے مفصل فہرست کے بعد ہم نے ضمنی مسائل کے عنوان سے الگ فہرست مرتب کی ہے۔
کتاب الحظروالاباحۃ کے مترجم
سوائے ان رسائل کے جن کو اب فتاوی میں نئے سرے سے شامل کیا گیا ہے پوری"کتاب الحظروالاباحۃ"کی عربی اور فارسی عبارات کا مکمل ترجمہ جامع منقول و معقول فاضل جلیل محقق شہیر مصنف کتب کثیرہ فخر المدرسین حضرت مولانا علامہ مفتی قاضی محمد سیف الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کیا ہے جو استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مولانا محمد عبدالسبحان بن مولانا مظہر جمیل بن مولانا مفتی محمد غوث
(ا)حظرواباحت سے متعلق فتاوی رضویہ قدیم کے دونوں مطبوعہ حصوں کی(استفتاء میں مذکور)مسائل کے اعتبار سے یکجا تبویب کردی ہے۔
(ب)ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق مسائل مذکور ہونے کی صورت میں ہر مسئلہ کو مستفتی کے نام سمیت متعلق باب کے تحت درج کیا ہے۔
(ج)فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل مسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیا ہے۔
(د)رسائل کی ابتداء وانتہاء کو ممتاز کیا ہے۔
(ھ)بے نام رسائل کے ناموں کو ظاہر کیا ہے۔
(و)جن رسائل کے مندرجات ومشمولات یکجا نہ تھے ان کو اکٹھا کردیا ہے۔
(ز)حظرواباحت سے متعلقہ بعض رسائل اعلیحضرت جوفتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کو بھی مناسب جگہ پرشامل اشاعت کردیا ہے۔
(ح)تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذا پوری کتاب کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے تیار کرنا پڑی۔
(ط)جلد ہذا میں شامل تمام رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست مرتب کی گئی
(ی)اعلیحضرت رحمۃ الله تعالی علیہ بعض مقامات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے تبحر علمی کے پیش نظر ایسے مسائل بھی زیر بحث لے آتے ہیں جو متعلقہ ابواب میں سے کسی کے تحت مندرج نہیں ہوسکے ایسے مسائل کے لئے مفصل فہرست کے بعد ہم نے ضمنی مسائل کے عنوان سے الگ فہرست مرتب کی ہے۔
کتاب الحظروالاباحۃ کے مترجم
سوائے ان رسائل کے جن کو اب فتاوی میں نئے سرے سے شامل کیا گیا ہے پوری"کتاب الحظروالاباحۃ"کی عربی اور فارسی عبارات کا مکمل ترجمہ جامع منقول و معقول فاضل جلیل محقق شہیر مصنف کتب کثیرہ فخر المدرسین حضرت مولانا علامہ مفتی قاضی محمد سیف الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کیا ہے جو استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مولانا محمد عبدالسبحان بن مولانا مظہر جمیل بن مولانا مفتی محمد غوث
(کھلا بٹ ہزارہ)کے صاحبزادے اور استاذالاساتذہ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد خلیل صاحب محدث ہزاروی کے نواسے ہیں آپ نے تمام درسیات اپنے والد گرامی سے پڑھیں فارغ التحصیل ہوتے ہی در س وتدریس سے وابستہ ہوگئے اور سالہا سال آپ نے اہلسنت کے معروف ادارے جامعہ رحمانیہ ہری پور میں بطور شیخ الحدیث تدریسی فرائض سرانجام دئے آپ کے آباء واجداد نے ڈنکے کی چوٹ پر احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ سرا نجام دیا چنانچہ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا قاضی محمد عبدالسبحان صاحب اور برادر اکبر حضرت مولانا قاضی غلام محمود صاحب رحمۃالله تعالی علیہما کی متعد درسی وغیر درسی تصانیف ارباب علم میں معروف ہیں۔مناظرہ ورد بد مذہباں خصوصا رد وہابیہ میں ان بزرگوں کی خدمات کو اہل سنت وجماعت میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔
تئیسویں۲۳ جلد
یہ جلد"کتاب الحظروالاباحۃ"کاتیسرا حصہ ہے جو ۴۰۹ سوالوں کے جوابات اور مجموعی طور پر ۷۶۸ صفحات پرمشتمل ہے اس جلد میں بنیادی طور پر جن ابواب کوزیربحث لایاگیا وہ یہ ہیں:
طہارت نماز روزہ حج زکوۃ جنائز زیارت قبور ایصال ثواب صدقہ وخیرات سوال ذکرودعا نکاح وطلاق نسب رسم ورواج حدودتعزیر آداب زینت کسب وحصول مال علم وتعلیم اور مجالس ومحافل۔
دیگر کئی ایك ابواب سے متعلق مسائل کثیرہ پرضمنا گفتگو واقع ہوئی لہذا راقم الحروف نے مسائل رسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کی سہولت کے لئے تیارکردی ہے نیز اس جلدمیں شامل مستقل ابواب سے متعلق مسائل اگر کہیں ایك دوسرے کے تحت ضمنا مندرج تھے تو ان کی فہرست ہم نے متعلقہ باب کی مفصل فہرست کے آخرمیں بطورضمیمہ ذکرکردی ہے تاکہ ان مسائل کی تلاش میں دقت وابہام پیدانہ ہو۔
انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل سات رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں:
(۱)الکشف شافیا حکم فونو جرافیا (۱۳۲۸ھ)
فونوگراف میں قرآن پاك بھرنے اور سننے نیز اس سے مزامیر وغیرہ کی آوازیں سننے کاحکم
(۲)حك العیب فی حرمۃ تسوید الشیب(۱۳۰۷ھ)
سیاہ خضاب کی حرمت کاسولہ حدیثوں اور اقوال ائمہ سے ثبوت
تئیسویں۲۳ جلد
یہ جلد"کتاب الحظروالاباحۃ"کاتیسرا حصہ ہے جو ۴۰۹ سوالوں کے جوابات اور مجموعی طور پر ۷۶۸ صفحات پرمشتمل ہے اس جلد میں بنیادی طور پر جن ابواب کوزیربحث لایاگیا وہ یہ ہیں:
طہارت نماز روزہ حج زکوۃ جنائز زیارت قبور ایصال ثواب صدقہ وخیرات سوال ذکرودعا نکاح وطلاق نسب رسم ورواج حدودتعزیر آداب زینت کسب وحصول مال علم وتعلیم اور مجالس ومحافل۔
دیگر کئی ایك ابواب سے متعلق مسائل کثیرہ پرضمنا گفتگو واقع ہوئی لہذا راقم الحروف نے مسائل رسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کی سہولت کے لئے تیارکردی ہے نیز اس جلدمیں شامل مستقل ابواب سے متعلق مسائل اگر کہیں ایك دوسرے کے تحت ضمنا مندرج تھے تو ان کی فہرست ہم نے متعلقہ باب کی مفصل فہرست کے آخرمیں بطورضمیمہ ذکرکردی ہے تاکہ ان مسائل کی تلاش میں دقت وابہام پیدانہ ہو۔
انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل سات رسائل بھی اس جلد کی زینت ہیں:
(۱)الکشف شافیا حکم فونو جرافیا (۱۳۲۸ھ)
فونوگراف میں قرآن پاك بھرنے اور سننے نیز اس سے مزامیر وغیرہ کی آوازیں سننے کاحکم
(۲)حك العیب فی حرمۃ تسوید الشیب(۱۳۰۷ھ)
سیاہ خضاب کی حرمت کاسولہ حدیثوں اور اقوال ائمہ سے ثبوت
(۳)راد القحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء(۱۳۱۲ھ)
مشترکہ طور پر مسلمان محلہ داروں کے صدقہ وخیرات کی ایك صورت کابیان
(۴)اراءۃ الادب لفاضل النسب (۱۳۲۹ھ)
فضیلت نسب کے شرعا معتبرہونے یانہ ہونے کابیان
(۵)ھادی الناس فی رسوم الاعراس(۱۳۱۲ھ)
شادیوں کی بعض رسوم مثلا سہراوغیرہ پرحکم شرعی کاروشن بیان
(۶)الادلۃ الطاعنہ فی اذان الملاعنہ(۱۳۰۶ھ)
روافض کی اذان اہل سنت وجماعت کوسنناکیساہے
(۷)خیرالامال فی حکم الکسب والسوال(۱۳۱۸ھ)
روپیہ کمانا کب فرض کب مستحب کب مکروہ کب حرام اور سوال کرناکب جائزاور کب ناجائزہے۔
ان میں سے مقدم الذکر دورسالے پہلے سے فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل تھے جبکہ باقی پانچ رسائل اب شامل کئے گئے ہیں۔مسئلہ میلاد سے متعلق ایك انتہائی اہم فتوی بھی اس جلد میں شامل کیاگیاہے جو صفحہ ۷۵۹ پرمسئلہ ۴۰۹ زیرعنوان"مجالس ومحافل"مذکورہے۔
ذوالحجہ ۱۴۲۳ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
فروری ۲۰۰۳ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
مشترکہ طور پر مسلمان محلہ داروں کے صدقہ وخیرات کی ایك صورت کابیان
(۴)اراءۃ الادب لفاضل النسب (۱۳۲۹ھ)
فضیلت نسب کے شرعا معتبرہونے یانہ ہونے کابیان
(۵)ھادی الناس فی رسوم الاعراس(۱۳۱۲ھ)
شادیوں کی بعض رسوم مثلا سہراوغیرہ پرحکم شرعی کاروشن بیان
(۶)الادلۃ الطاعنہ فی اذان الملاعنہ(۱۳۰۶ھ)
روافض کی اذان اہل سنت وجماعت کوسنناکیساہے
(۷)خیرالامال فی حکم الکسب والسوال(۱۳۱۸ھ)
روپیہ کمانا کب فرض کب مستحب کب مکروہ کب حرام اور سوال کرناکب جائزاور کب ناجائزہے۔
ان میں سے مقدم الذکر دورسالے پہلے سے فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل تھے جبکہ باقی پانچ رسائل اب شامل کئے گئے ہیں۔مسئلہ میلاد سے متعلق ایك انتہائی اہم فتوی بھی اس جلد میں شامل کیاگیاہے جو صفحہ ۷۵۹ پرمسئلہ ۴۰۹ زیرعنوان"مجالس ومحافل"مذکورہے۔
ذوالحجہ ۱۴۲۳ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
فروری ۲۰۰۳ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
نماز وطہارت
(امامتجماعتاستنجاءوضوغسلتیمم وغیرہ)
مسئلہ۱: از کلی ناگر ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر علی صاحب ۶ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو مولوی واعظ داں ہوکر گاؤں درگاؤں ہندوؤں کے یہاں کھانا کھائے اور ایك عورت کو ساتھ لئے پھرے اس کے پیچھے نماز درست ہے یانہیں اور وہ امام کے قابل ہے یانہیں
الجواب:
ہندوں کے یہاں کا گوشت حرام ہے جب تك وہ گوشت اس جانور کا نہ ہو جسے مسلمان نے ذبح کیا اور اس وقت تك مسلمان کی نظر سے غائب نہ ہوا باقی کھانے اگر ان میں وجہ حرمت نہ معلوم ہو تو حلال ہیں ایك عورت کو ساتھ لئے پھرنا نہایت گول لفظ ہے کیسی عورت کیونکر ساتھ لئے پھرنا خادمہ بناکر یا زوجہ بنا کر یا معاذالله فاسد طریقے پراور خامہ ہے تو نوجوان ہے یا حد شہوت سے گزری ہوئی بڑھیااور اس سے فقط پکانے وغیرہ کی معمولی خدمت لیتا ہے یا تنہائی میں یکجائی کا بھی اتفاق ہوتاہے۔اور زوجہ ہے تو پردہ میں رکھتا ہے یا بے پردہ لئے پھرتاہےاگر حدشہوت سے گزری ہوئی بڑھیاہے۔یا جوان ہے اور اس سے معمولی خدمت لیتاہے اور ساتھ اور لوگ بھی ہیں کہ اتفاق خلوت میں نہیں ہوتا یا زوجہ ہے او اسے پردے میں ساتھ رکھتاہے تو حرج نہیں۔والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
(امامتجماعتاستنجاءوضوغسلتیمم وغیرہ)
مسئلہ۱: از کلی ناگر ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر علی صاحب ۶ جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو مولوی واعظ داں ہوکر گاؤں درگاؤں ہندوؤں کے یہاں کھانا کھائے اور ایك عورت کو ساتھ لئے پھرے اس کے پیچھے نماز درست ہے یانہیں اور وہ امام کے قابل ہے یانہیں
الجواب:
ہندوں کے یہاں کا گوشت حرام ہے جب تك وہ گوشت اس جانور کا نہ ہو جسے مسلمان نے ذبح کیا اور اس وقت تك مسلمان کی نظر سے غائب نہ ہوا باقی کھانے اگر ان میں وجہ حرمت نہ معلوم ہو تو حلال ہیں ایك عورت کو ساتھ لئے پھرنا نہایت گول لفظ ہے کیسی عورت کیونکر ساتھ لئے پھرنا خادمہ بناکر یا زوجہ بنا کر یا معاذالله فاسد طریقے پراور خامہ ہے تو نوجوان ہے یا حد شہوت سے گزری ہوئی بڑھیااور اس سے فقط پکانے وغیرہ کی معمولی خدمت لیتا ہے یا تنہائی میں یکجائی کا بھی اتفاق ہوتاہے۔اور زوجہ ہے تو پردہ میں رکھتا ہے یا بے پردہ لئے پھرتاہےاگر حدشہوت سے گزری ہوئی بڑھیاہے۔یا جوان ہے اور اس سے معمولی خدمت لیتاہے اور ساتھ اور لوگ بھی ہیں کہ اتفاق خلوت میں نہیں ہوتا یا زوجہ ہے او اسے پردے میں ساتھ رکھتاہے تو حرج نہیں۔والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۲: از برہما ملك بنگالہ مرسلہ عبدالرشید
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی جاہل نے کسی مسجد کے پیش امام عالم کی غیبت کی اور اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑدیا اور دوسرے مکانوں میں اس امام کو جو کھانا وغیرہ مقرر تھے اس نے ان لوگوں سے امام کی برائیاں بیان کرکے سب موقوف کرادیا جب لوگوں نے اس امام کی برائی پر گواہ طلب کیا وہ قاصر ہوگیا۔ان سب صورتوں میں وہ مرتکب گناہ کبیرہ ہوا یا نہیں برتقدیر اول حسب شرع اس پر کیا سزا لازم آتی ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ سوال سب مجمل ہے او ر حال زمانہ مختل ہے۔سب لوگ عالم کہلاتے ہیں اور وہ بوجہ وغیرہ بدمذہب ہونے کے ہزار درجہ فاسق جاہل ہے بد تر ہیں اور آج کل وہابیہ وغیرہم مبتدعین میں تقیہ بہت رائج ہےخصوصا جہاں روٹی کا معاملہ ہوروتی کےلئے دین بیچنا ان کے نزدیك بہت آسان بات ہے۔معاملہ غیر ملك کا ہے۔اور غیب کا علم خدا کو ہے اگر صورت واقعہ کہیں یہی ہوں کہ عالم بننے والا پیش امام تقیہ کئے ہوئے سنیوں کی مسجد میں نماز پڑھاتا ہو اور کسی سنی کو اس کے حال باطن پر اطلاع ہوگئی تو اس کی تشہیر اور اس کے اخراج کی تدبیر جو کچھ اس سنی نے کی اس پر اجر عظیم کا مستحق ہے اور گواہ نہ پاسکا کہ تقیہ والوں کی حالت پر گواہوں کا ملنا بہت دشوار ہوتاہے تو اس پر کوئی الزام نہیںحدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ۔ کیا تم بدکار کا تذکرہ کرنے کے سلسلے میں رعایت کرتے ہو تو پھر لوگ اسے کب پہچانیں گے لہذا بدکار جو جرم کرے اس کا ذکر کیا کرو تاکہ لوگ اس سے ہوشیار رہیں اور بچ سکیں۔(ت)
اور اگر واقع میں وہ عالم سنی ہےاور اس نے جس عیب کی اشاعت کی اس کے سبب سے مسلمانوں کو ضرر تھا اور اطلاع دینے میں اس کا دفع تھا اور اس نے اس کے ضرر ہی کی نیت سے محض بغرض خیر خواہی مسلمین یہ کاروائی کی جب بھی اس پر الزام نہیں نہ شرعا ایسی غیبت ممنوع ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی جاہل نے کسی مسجد کے پیش امام عالم کی غیبت کی اور اس امام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑدیا اور دوسرے مکانوں میں اس امام کو جو کھانا وغیرہ مقرر تھے اس نے ان لوگوں سے امام کی برائیاں بیان کرکے سب موقوف کرادیا جب لوگوں نے اس امام کی برائی پر گواہ طلب کیا وہ قاصر ہوگیا۔ان سب صورتوں میں وہ مرتکب گناہ کبیرہ ہوا یا نہیں برتقدیر اول حسب شرع اس پر کیا سزا لازم آتی ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ سوال سب مجمل ہے او ر حال زمانہ مختل ہے۔سب لوگ عالم کہلاتے ہیں اور وہ بوجہ وغیرہ بدمذہب ہونے کے ہزار درجہ فاسق جاہل ہے بد تر ہیں اور آج کل وہابیہ وغیرہم مبتدعین میں تقیہ بہت رائج ہےخصوصا جہاں روٹی کا معاملہ ہوروتی کےلئے دین بیچنا ان کے نزدیك بہت آسان بات ہے۔معاملہ غیر ملك کا ہے۔اور غیب کا علم خدا کو ہے اگر صورت واقعہ کہیں یہی ہوں کہ عالم بننے والا پیش امام تقیہ کئے ہوئے سنیوں کی مسجد میں نماز پڑھاتا ہو اور کسی سنی کو اس کے حال باطن پر اطلاع ہوگئی تو اس کی تشہیر اور اس کے اخراج کی تدبیر جو کچھ اس سنی نے کی اس پر اجر عظیم کا مستحق ہے اور گواہ نہ پاسکا کہ تقیہ والوں کی حالت پر گواہوں کا ملنا بہت دشوار ہوتاہے تو اس پر کوئی الزام نہیںحدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ۔ کیا تم بدکار کا تذکرہ کرنے کے سلسلے میں رعایت کرتے ہو تو پھر لوگ اسے کب پہچانیں گے لہذا بدکار جو جرم کرے اس کا ذکر کیا کرو تاکہ لوگ اس سے ہوشیار رہیں اور بچ سکیں۔(ت)
اور اگر واقع میں وہ عالم سنی ہےاور اس نے جس عیب کی اشاعت کی اس کے سبب سے مسلمانوں کو ضرر تھا اور اطلاع دینے میں اس کا دفع تھا اور اس نے اس کے ضرر ہی کی نیت سے محض بغرض خیر خواہی مسلمین یہ کاروائی کی جب بھی اس پر الزام نہیں نہ شرعا ایسی غیبت ممنوع ہے
حوالہ / References
& €∞تاریخ بغداد للبغدادی ترجمہ جارود بن یزیز ۷۳۴۵ و حسن بن احمد ۷۳۵۱€& بیروت €∞۷/ ۲۶۲ و ۲۶۸،تاریخ بغداد للبغدادی ترجمہ محمد بن احمد ۳۴۸€& دارالکتب العربی بیروت €∞۱/ ۳۸۲€
اوراگریہ بھی نہ تھا بلکہ صرف اس عالم کی غیبت چنی اور اسے ضرر رسانی کی غرض سے ایسی حرکت کی تو یہ شخص سخت کبیرکا مرتکب ہے اور حاکم شرع کے حضور سخت سزا کا مستحق ہے۔حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ثلثۃ لایستخف بحقھم الامنافق ذوالعلم وذو الشیبۃ فی الاسلام وامام مقسط ۔واﷲ تعالی اعلم۔ تین شخصوں کا حق ہلکا نہ جائے گا مگر منافق ایك عالمدوسرا وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیاتیسرا بادشاہ اسلام عادل۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ ذیل میں کہ زید امامت کا بہت شائق ہے جس وقت مقررہ(امام)مسجد نہیں ہوتے ہیں وہ تو وہ باوصف اس کے کہ اس سے(افضل)جماعت میں ہوتے ہیں خود جرأت کرکے مصلی امام پر لپك جاتاہے اکثر نمازی اس کی اقتداء سے متنفر ہوکر علیحدہ ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کی سچی شہادتوں سے تحقیق ہوچکا ہے کہ زید ولدالزنا ہے علاوہ اس کے جھوٹی گواہیاں عدالتوں میں دیتاہے اور لباس وصورت اس کی خلاف شر ع ہے لیکن بعض شخص بوجہ عدم واقفیت اور بعض بسبب قرابت ورعایت کے سکوت کرکے اقتدا کرلیتے ہیں اس کی صورت اور لباس کا نقشہ یہ ہے سر کے بال کترے ہوئےنہ منڈائے نہ درازداڑھی ایك مشت سے کم جس پر سیاہ خضابلباس اچکن بٹن دارجیب گھڑی لگی ہوئیپاجامہ نیچاٹخنے چھپے ہوئےپاؤں میں بوٹبائیں ہاتھ میں کبڑی لکڑی ہے اور وہ علم اور تعزیوں اور میلوں میں جایاکرتاہے اوررقص و نشاط کے جلسوں میں بھی شریك رہتاہے بلکہ اپنے یہاں کی تقریبوں میں ڈھول باجا ناچ رنگ کراتاہے حضرت محمد شیر میاں مرحوم کا مرید ہے صرف اس بیعت سے اپنے آپ کو افضل الخلائق گمان کرتاہے اور قابل الامامت سمجھتاہے اگر انصاف کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو پیر کی بھی اطاعت اس میں مطلق نہیں ہے کیا ایسا شخص جو عقیدہ اور عمل اور صورتا اور سیرتا زید جیسا ہو امامت کے اور اہتمام مسجد کے قابل شرعا ہو سکتا ہے اور کیا ان لوگوں کی نماز جو اس کی اقتداء کرتے ہیں فساد وکراہت سے خالی ہو گی احکام شرع مبین جواب تحریر فرمائیں اور زید فرائض وواجبات اور سنن اور مکروہات ومفسدات نماز نہیں جانتا ہے۔
الجواب:
سر کے بال ترشواکرچھوٹے چھوٹے رکھنا مکروہ تنزیہی ہے کہ خلاف ستن ہے اور پائچے ٹخنے سے نیچے بھی مکروہ تنزیہی یعنی صرف خلاف اولی جبکہ بہ نیت تکبر نہ ہو۔
ثلثۃ لایستخف بحقھم الامنافق ذوالعلم وذو الشیبۃ فی الاسلام وامام مقسط ۔واﷲ تعالی اعلم۔ تین شخصوں کا حق ہلکا نہ جائے گا مگر منافق ایك عالمدوسرا وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیاتیسرا بادشاہ اسلام عادل۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ ذیل میں کہ زید امامت کا بہت شائق ہے جس وقت مقررہ(امام)مسجد نہیں ہوتے ہیں وہ تو وہ باوصف اس کے کہ اس سے(افضل)جماعت میں ہوتے ہیں خود جرأت کرکے مصلی امام پر لپك جاتاہے اکثر نمازی اس کی اقتداء سے متنفر ہوکر علیحدہ ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کی سچی شہادتوں سے تحقیق ہوچکا ہے کہ زید ولدالزنا ہے علاوہ اس کے جھوٹی گواہیاں عدالتوں میں دیتاہے اور لباس وصورت اس کی خلاف شر ع ہے لیکن بعض شخص بوجہ عدم واقفیت اور بعض بسبب قرابت ورعایت کے سکوت کرکے اقتدا کرلیتے ہیں اس کی صورت اور لباس کا نقشہ یہ ہے سر کے بال کترے ہوئےنہ منڈائے نہ درازداڑھی ایك مشت سے کم جس پر سیاہ خضابلباس اچکن بٹن دارجیب گھڑی لگی ہوئیپاجامہ نیچاٹخنے چھپے ہوئےپاؤں میں بوٹبائیں ہاتھ میں کبڑی لکڑی ہے اور وہ علم اور تعزیوں اور میلوں میں جایاکرتاہے اوررقص و نشاط کے جلسوں میں بھی شریك رہتاہے بلکہ اپنے یہاں کی تقریبوں میں ڈھول باجا ناچ رنگ کراتاہے حضرت محمد شیر میاں مرحوم کا مرید ہے صرف اس بیعت سے اپنے آپ کو افضل الخلائق گمان کرتاہے اور قابل الامامت سمجھتاہے اگر انصاف کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو پیر کی بھی اطاعت اس میں مطلق نہیں ہے کیا ایسا شخص جو عقیدہ اور عمل اور صورتا اور سیرتا زید جیسا ہو امامت کے اور اہتمام مسجد کے قابل شرعا ہو سکتا ہے اور کیا ان لوگوں کی نماز جو اس کی اقتداء کرتے ہیں فساد وکراہت سے خالی ہو گی احکام شرع مبین جواب تحریر فرمائیں اور زید فرائض وواجبات اور سنن اور مکروہات ومفسدات نماز نہیں جانتا ہے۔
الجواب:
سر کے بال ترشواکرچھوٹے چھوٹے رکھنا مکروہ تنزیہی ہے کہ خلاف ستن ہے اور پائچے ٹخنے سے نیچے بھی مکروہ تنزیہی یعنی صرف خلاف اولی جبکہ بہ نیت تکبر نہ ہو۔
حوالہ / References
المعجم الکبیر ∞حدیث ۷۸۱۸€ المکتبۃ الفیصلیۃبیروت ∞۸/ ۲۱۳۸€
صرح بہ فی العلمیگیریۃ وفیہ حدیث فی صحیح البخاری انك لست ممن یصنعہ خیلاء ۔ فتاو ی عالمگیری میں(مسئلہ مذکور ہ کی)تصریح کی گئی اور اس بارے میں صحیح بخاری کی حدیث موجود ہے تم ان لوگوں میں سے نہیں جو بربنائے تکبر تخنوں سے نیچے ازارلٹکاتے ہیں۔ (ت)
[حضرت ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کے سوال پر حضور انور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایاتھا]
اور ولد الزناء کے پیچھے بنی نماز مکروہ تنزیہی ہے جبکہ وہ سب حاضرین سے مسائل نماز وطہارت کا علم زیادہ نہ رکھتا ہو اورکبڑی لکڑی بھی رکھنا فی نفسہ برا نہیں جبکہ نیچریہ ونصاری سے تشبہ مقصود نہ ہو اور بٹن دار اچکن اور جیب اور اس کی گھڑی مباح ہے مگر انگریزی وضع کا بوٹ ممنوع ہے اور داڑھی کترواکر ایك مشت سے کم رکھنا حرام ہے سیاہ خضاب حرام ہےعلم تعزیوں اور فسق کے میلوں اور رقص کے جلسوں میں جانا حرام ہے۔اپنی تقریبوں میں ڈھول جس طرح فساق میں رائج ہے بجواناناچ کرانا حرام ہے۔ان افعال کا مرتکب ضروف فاسق معلن ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا جائز نہیں اور پڑھی ہو تو پھیرنا واجب ہے نہ ایسے شخص کو مہتمم مسجد بنانے کی اجازت والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴:علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے پیر پر الزام زنارکھے اور پیر سے وہ گناہ صادر نہ ہو اور پیر مرشد اس بات کو سن کر اس مرید کو عاق کردے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں
الجواب:
مسلمان پر زنا کی جھوٹی تہمت رکھنا گناہ کبیرہ ہے۔قرآن عظیم نے اس کو فاسق فرمایا ہے اگر وہ اپنے اس ناپاك حرکت پر اصرار کرے اور تائب نہ ہو تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور اس کا پھیرنا واجب۔ والله تعالی اعلم۔
[حضرت ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کے سوال پر حضور انور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایاتھا]
اور ولد الزناء کے پیچھے بنی نماز مکروہ تنزیہی ہے جبکہ وہ سب حاضرین سے مسائل نماز وطہارت کا علم زیادہ نہ رکھتا ہو اورکبڑی لکڑی بھی رکھنا فی نفسہ برا نہیں جبکہ نیچریہ ونصاری سے تشبہ مقصود نہ ہو اور بٹن دار اچکن اور جیب اور اس کی گھڑی مباح ہے مگر انگریزی وضع کا بوٹ ممنوع ہے اور داڑھی کترواکر ایك مشت سے کم رکھنا حرام ہے سیاہ خضاب حرام ہےعلم تعزیوں اور فسق کے میلوں اور رقص کے جلسوں میں جانا حرام ہے۔اپنی تقریبوں میں ڈھول جس طرح فساق میں رائج ہے بجواناناچ کرانا حرام ہے۔ان افعال کا مرتکب ضروف فاسق معلن ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا جائز نہیں اور پڑھی ہو تو پھیرنا واجب ہے نہ ایسے شخص کو مہتمم مسجد بنانے کی اجازت والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴:علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے پیر پر الزام زنارکھے اور پیر سے وہ گناہ صادر نہ ہو اور پیر مرشد اس بات کو سن کر اس مرید کو عاق کردے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں
الجواب:
مسلمان پر زنا کی جھوٹی تہمت رکھنا گناہ کبیرہ ہے۔قرآن عظیم نے اس کو فاسق فرمایا ہے اگر وہ اپنے اس ناپاك حرکت پر اصرار کرے اور تائب نہ ہو تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور اس کا پھیرنا واجب۔ والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۳۳€
صحیح البخاری کتاب اللباس باب من جرازارہ من غیر خیلاء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۶۰€
صحیح البخاری کتاب اللباس باب من جرازارہ من غیر خیلاء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۶۰€
مسئلہ ۵: مسئولہ عبدالرحیم خاں صاحب از بہرام پور ضلع مرشد آباد بنگال ۲۱ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین زید دعوی کرتاہے کہ میں سنی ہوںاور امامت بھی کرتاہے دلدلکے آگے مرثیہ پڑھتاہوا کربلا تك گیا۔ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنی کیسی ہے
الجواب:
دلدل بدعت ہے اور یہ رائج مرثیے معصیت ہیں اور یہ ساختہ کربلا مجمع بدعات ہےایسا شخص فاسق ہے جب تك توبہ نہ کرے اسے امام بنانا گناہ ہے۔غنیہ میں فتاوی حجہ سے ہےلوقد موا فاسقا یأثمون (اور لوگ اگر کسی فاسق کو امامت کے لئے آگے کریں تو گنہگارہوں گے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶: مسئولہ حافظ نبو علی صاحب از خاص ضلع بھنڈارہ محلہ کہم تالاب متوسط ضلع ناگپور
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ خاص ضلع بھنڈارہ محلہ کہتم تالاب میں ایك مولوی صاحب جو کہ مسجد میں پیش امام اور واعظ او ر مشائخ بھی ہیں یہ تینوں صفتیں ہوکر جہاں ناٹك گانا بجنا ہو ایسی جگہ بشوق جاتے ہیں اور آپ مدرسہ انجمن کے مدرس اعظم بھی ہیں یہ فعل شرع میں جائز ہے کیا اور اگر ناجائز ہے تو ایسے پیش امام اور واعظ اور مشائخ کے لئے کیا حکم ہے ایسے شخص کی پیش امامی جائز ہے یانہیں
الجواب:
ناٹك مجمع فسقیات ہے اور اس میں جانا ضرور خنیع العذار خفیف الحرکات نامہذب بے باك ہونے کی دلیل کافی ہے اور بعد تعود صراحۃ فسق بالا علان ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا گناہ اور جتنی پڑھی ہو پھیرنا واجب۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۷: از شہر بریلی محلہ بہاری پور مرسلہ علی احمد قادری ۲۹ شوال ۱۳۳۲ھ
بے نماز اور وہ شخص جو بال انگریزی رکھوائے اس کے واسطے کیا شریعت کا حکم ہونا چاہئے
الجواب:
بے نماز سخت شقی فاسق فاجر مرتکب کبائر مستحق جہنم ہے وہ ایسا مسلمان ہے جیسا تصویر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین زید دعوی کرتاہے کہ میں سنی ہوںاور امامت بھی کرتاہے دلدلکے آگے مرثیہ پڑھتاہوا کربلا تك گیا۔ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنی کیسی ہے
الجواب:
دلدل بدعت ہے اور یہ رائج مرثیے معصیت ہیں اور یہ ساختہ کربلا مجمع بدعات ہےایسا شخص فاسق ہے جب تك توبہ نہ کرے اسے امام بنانا گناہ ہے۔غنیہ میں فتاوی حجہ سے ہےلوقد موا فاسقا یأثمون (اور لوگ اگر کسی فاسق کو امامت کے لئے آگے کریں تو گنہگارہوں گے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶: مسئولہ حافظ نبو علی صاحب از خاص ضلع بھنڈارہ محلہ کہم تالاب متوسط ضلع ناگپور
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ خاص ضلع بھنڈارہ محلہ کہتم تالاب میں ایك مولوی صاحب جو کہ مسجد میں پیش امام اور واعظ او ر مشائخ بھی ہیں یہ تینوں صفتیں ہوکر جہاں ناٹك گانا بجنا ہو ایسی جگہ بشوق جاتے ہیں اور آپ مدرسہ انجمن کے مدرس اعظم بھی ہیں یہ فعل شرع میں جائز ہے کیا اور اگر ناجائز ہے تو ایسے پیش امام اور واعظ اور مشائخ کے لئے کیا حکم ہے ایسے شخص کی پیش امامی جائز ہے یانہیں
الجواب:
ناٹك مجمع فسقیات ہے اور اس میں جانا ضرور خنیع العذار خفیف الحرکات نامہذب بے باك ہونے کی دلیل کافی ہے اور بعد تعود صراحۃ فسق بالا علان ہے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا گناہ اور جتنی پڑھی ہو پھیرنا واجب۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۷: از شہر بریلی محلہ بہاری پور مرسلہ علی احمد قادری ۲۹ شوال ۱۳۳۲ھ
بے نماز اور وہ شخص جو بال انگریزی رکھوائے اس کے واسطے کیا شریعت کا حکم ہونا چاہئے
الجواب:
بے نماز سخت شقی فاسق فاجر مرتکب کبائر مستحق جہنم ہے وہ ایسا مسلمان ہے جیسا تصویر
حوالہ / References
غنیہ المستملی فصل الاول بالامامۃ ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳€
کا گھوڑا ہے کہ شکل گھوڑے کی اور کام کچھ نہیںانگریزی بال رکھنا مکروہ وخلاف سنت ووضع فساق ہے ممنوع ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸ و ۹: بروز شنبہ ۷ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)ایك عورت بیوہ مسلمان ہے خواہ مذہب شیعہ ہو خواہ مذہب اہلسنت وجماعت نکاح ثانی نہیں کیا اور کسی مسلمان شخص سے مبتلا ہے اس کے گھر کا کھانا پینا جائز ہے یانہیں یا وہ عورت کسی ایك مشرك کے ساتھ گرفتا رہے ایسی عورت کے یہاں کھانا جائز ہے یا ایسی عورت کے گھر میں اگر کوئی پیش امام دعوت کھائے اس کی امامت جائز ہے یانہیں اور اس پیش امام کے لئے کچھ کفارہ ہوتاہے یانہیں
(۲)جو شخص فال کھولتاہو لوگوں کو کہتاہوں تمھارا کام ہوجائے گا یا یہ کام تمھارے واسطے اچھا ہوگا یا براہوگا یا اس میں نفع ہوگا یا نقصان اس کی امامت جائز ہے یانہیں
الجواب:
(۱)آج کل کے روافض تو اسلام سے خارج ہیں اور جو عورت بلا نکاح کسی شخص کے پاس رہے فاسقہ ہے اور وہ شخص مشرك ہو تو اس کا فسق او ر سخت اور فاسق کے یہاں کھانا اگر وجہ حلال سے ہو فی نفسہ حرام نہیںمگر فاسقوں سے میل جول نہ چاہئے خصوصا مقتدا کوپھر اگر دو یا ایك بار ایسا واقع ہو تو ایسا الزام نہیں جس کے سبب اس کے پیچھے نماز میں حرج ہووالله تعالی اعلم۔
(۲)اگر یہ احکام قطع ویقین کے ساتھ لگاتا ہو جب تووہ مسلمان ہی نہیںاس کی تصدیق کرنیوالے کو صحیح حدیث میں فرمایا:
قد کفر بما نزل علی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ اس نے اس چیز کے ساتھ کفر کیا جو محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم پراتاری گئی۔
اوراگر یقین نہیں کرتا جب بھی عام طور پر جو فال دیکھنا رائج ہے معصیت سے خالی نہیں۔ایسے شخص کو امامت جائز جب تك کوئی فساد عقیدہ نہ ہووالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸ و ۹: بروز شنبہ ۷ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)ایك عورت بیوہ مسلمان ہے خواہ مذہب شیعہ ہو خواہ مذہب اہلسنت وجماعت نکاح ثانی نہیں کیا اور کسی مسلمان شخص سے مبتلا ہے اس کے گھر کا کھانا پینا جائز ہے یانہیں یا وہ عورت کسی ایك مشرك کے ساتھ گرفتا رہے ایسی عورت کے یہاں کھانا جائز ہے یا ایسی عورت کے گھر میں اگر کوئی پیش امام دعوت کھائے اس کی امامت جائز ہے یانہیں اور اس پیش امام کے لئے کچھ کفارہ ہوتاہے یانہیں
(۲)جو شخص فال کھولتاہو لوگوں کو کہتاہوں تمھارا کام ہوجائے گا یا یہ کام تمھارے واسطے اچھا ہوگا یا براہوگا یا اس میں نفع ہوگا یا نقصان اس کی امامت جائز ہے یانہیں
الجواب:
(۱)آج کل کے روافض تو اسلام سے خارج ہیں اور جو عورت بلا نکاح کسی شخص کے پاس رہے فاسقہ ہے اور وہ شخص مشرك ہو تو اس کا فسق او ر سخت اور فاسق کے یہاں کھانا اگر وجہ حلال سے ہو فی نفسہ حرام نہیںمگر فاسقوں سے میل جول نہ چاہئے خصوصا مقتدا کوپھر اگر دو یا ایك بار ایسا واقع ہو تو ایسا الزام نہیں جس کے سبب اس کے پیچھے نماز میں حرج ہووالله تعالی اعلم۔
(۲)اگر یہ احکام قطع ویقین کے ساتھ لگاتا ہو جب تووہ مسلمان ہی نہیںاس کی تصدیق کرنیوالے کو صحیح حدیث میں فرمایا:
قد کفر بما نزل علی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ اس نے اس چیز کے ساتھ کفر کیا جو محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم پراتاری گئی۔
اوراگر یقین نہیں کرتا جب بھی عام طور پر جو فال دیکھنا رائج ہے معصیت سے خالی نہیں۔ایسے شخص کو امامت جائز جب تك کوئی فساد عقیدہ نہ ہووالله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی کراھیۃ اتیان الحائض ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۹€
مسئلہ ۱۰: حاجی عبدالغنی صاحب طالب علم بنگالی مدرسہ اہلسنت وجماعت بریلی بتاریخ ۱۳ ذی القعدہ ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو غسل کی حاجت تھی ہمراہ کپڑے ناپاك غسل کیا بعد اس پاجامہ کو اتار کر دھونا چاہا جب دھونے لگا تو اس ناپاك ہاتھ سے جو پاجامہ کے استعمال سے ناپاك ہوگیا تھا گھڑے اور لوٹا کر چھوا تویہ گھڑا بدھنا بھی ناپاك ہوا دوسرے شخص نے اس گمان سے کہ زید نے ناپاك ہاتھ لگایا ہے اس گھڑے بدھنے کو توڑ ڈالاآیا اب اس کو عوض زید پر لازم ہوگا یا عمر پر جس نے توڑ ڈالا ہے۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
گھڑا جس نے توڑدیا اس پر تاوان ہے اور اگر پاجامہ پاك کرنے کے بعد ہاتھ لگایا تو یہ ناپاك بھی نہ ہوا کہ جوچیز ہاتھ سے پاك کی جائے اس کے پاك ہونے کے ساتھ ہاتھ بھی پاك ہوجاتاہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱: مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل صاحب از گونڈل کاٹھیا واڑ یکم صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں ایسے کپڑے جو مرد کو ناجائز ہوں ان کے ساتھ نماز پڑھناکیسا ہے مثلا زری کی مغرق ٹوپی یا سدری ریشمی پاجامہ انگر کھا یا پیراہن انگشت میں سونے کی انگوٹی بدن پر سونے کا چین وغیرہبینوا توجروا
الجواب:
ناجائز لباس کے ساتھ نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے کہ اس کا اعادہ واجبوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲: از قصبہ بابلکہ ضلع بلند شہر مرسلہ صالح محمد خان صاحب مورخہ ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا حال ہے ایسے شخص کا جو گناہان مندرجہ ذیل کا مرتکب ہواوہ شخص مسلمان رہا یا نہیں اور نما ز اس کے پیچھے جائز ہے یانہیں
(۱)ایك شخص نے جان بوجھ کر بسبب دنیوی رنجش کے قصد فعل حلال شرعی کو حرام کردیا
(۲)غیر مقلدین کو جو اپنے کو عامل بالحدیث مشہور کرتے ہیں اور امامان مجتہدین رحمہم الله کو بدعتی اور اصحاب الرائے کہتے ہیں ان کو دربارہ شخصے خلاف شرع مدد دی۔
(۳)شرعی معاملہ میں عمدا بحلف جھوٹی شہادت دی۔
(۴)چار مسلمان اہلسنت وجماعت حنفی مذہب واقف مسائل شرعی کے رو برو شرعی فعل حلال و جائز کو برحق اور سچا تسلیم کرکے پھر اس کلمہ حق سے منحرف ہوکر ناجواز کا قائل ہوا اور یہ شخص پیش امام مسجد بھی ہے آیا نماز پیچھے اس کے جائز ہے یانہیں مع دلیل وحوالہ کتاب الله وحدیث
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو غسل کی حاجت تھی ہمراہ کپڑے ناپاك غسل کیا بعد اس پاجامہ کو اتار کر دھونا چاہا جب دھونے لگا تو اس ناپاك ہاتھ سے جو پاجامہ کے استعمال سے ناپاك ہوگیا تھا گھڑے اور لوٹا کر چھوا تویہ گھڑا بدھنا بھی ناپاك ہوا دوسرے شخص نے اس گمان سے کہ زید نے ناپاك ہاتھ لگایا ہے اس گھڑے بدھنے کو توڑ ڈالاآیا اب اس کو عوض زید پر لازم ہوگا یا عمر پر جس نے توڑ ڈالا ہے۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
گھڑا جس نے توڑدیا اس پر تاوان ہے اور اگر پاجامہ پاك کرنے کے بعد ہاتھ لگایا تو یہ ناپاك بھی نہ ہوا کہ جوچیز ہاتھ سے پاك کی جائے اس کے پاك ہونے کے ساتھ ہاتھ بھی پاك ہوجاتاہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱: مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل صاحب از گونڈل کاٹھیا واڑ یکم صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں ایسے کپڑے جو مرد کو ناجائز ہوں ان کے ساتھ نماز پڑھناکیسا ہے مثلا زری کی مغرق ٹوپی یا سدری ریشمی پاجامہ انگر کھا یا پیراہن انگشت میں سونے کی انگوٹی بدن پر سونے کا چین وغیرہبینوا توجروا
الجواب:
ناجائز لباس کے ساتھ نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے کہ اس کا اعادہ واجبوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲: از قصبہ بابلکہ ضلع بلند شہر مرسلہ صالح محمد خان صاحب مورخہ ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا حال ہے ایسے شخص کا جو گناہان مندرجہ ذیل کا مرتکب ہواوہ شخص مسلمان رہا یا نہیں اور نما ز اس کے پیچھے جائز ہے یانہیں
(۱)ایك شخص نے جان بوجھ کر بسبب دنیوی رنجش کے قصد فعل حلال شرعی کو حرام کردیا
(۲)غیر مقلدین کو جو اپنے کو عامل بالحدیث مشہور کرتے ہیں اور امامان مجتہدین رحمہم الله کو بدعتی اور اصحاب الرائے کہتے ہیں ان کو دربارہ شخصے خلاف شرع مدد دی۔
(۳)شرعی معاملہ میں عمدا بحلف جھوٹی شہادت دی۔
(۴)چار مسلمان اہلسنت وجماعت حنفی مذہب واقف مسائل شرعی کے رو برو شرعی فعل حلال و جائز کو برحق اور سچا تسلیم کرکے پھر اس کلمہ حق سے منحرف ہوکر ناجواز کا قائل ہوا اور یہ شخص پیش امام مسجد بھی ہے آیا نماز پیچھے اس کے جائز ہے یانہیں مع دلیل وحوالہ کتاب الله وحدیث
رسول الله باعبارت فقہیہ کے مرتب فرماکر مزین بمہر خاص فرمادیںبینوا توجروا(بیان فرماؤاجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ایسے لوگ سخت گنہگار بلکہ گمراہ ہیں کہ حق کے مقابل باطل کی اعانت کرتے ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز ناجائز ہے بلکہ جب تك توبہ نہ کریں مسلمانوں کو ان سے بالکل قطع علاقہ کردینا چاہئے کہ وہ ظالم ہیں اورظالم بھی کس پردین پراورالله عزوجل فرتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اور اگر تمھیں شیطان بھلاوے میں مبتلا کردے تو پھر یاد آنے کے بعد کبھی ظالموں کے پاس مت بیٹھو(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳:از جھونا مارکیٹ کرانچی بند ر مرسلہ حضرت پیر سید ابراہیم صاحب گیلانی قادری بغدادی مدظلہ الاقدس ۱۵ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اپنے وطن سے نکل کرنا واقف مسلمانوں کے پاس آکر بحیلہ تعلیم امور دینی وطریق درویشانہ پیر ی ومریدی سلیقہ جاری رکھا حتی کہ اپنے مرید خاص خوجے موچی کے گھر میں رہ کر ان کی لڑکی جو کہ منکوحہ الغیر تھی مع شیر خوار بچے کو بھگاکر دوسرے ملك میں لے گیا اور شیر خوار بچے جو کہ خوجے موچی کا لڑکا ہے سید بنایا اورر فتہ رفتہ ان سے چند اولاد ہوئے ایسے شخص کے بارے میں حد شریعت کون سی قائم ہوگی اور فاجر وفاسق ہے یانہیں اور اس کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر یہ امر واقعی ہے تو ایسا شخص سخت فاسق فاجر مرتکب کبائر ہے مستحق عذاب جہنم ہے اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکرہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس کے پاس مال حلال بھی ہے یعنی اپنی زمین میں زراعت ہوتی ہے اور سود بھی کھاتاہے اس قسم کے لوگوں کا ہدیہ قبول کرنا اور اس کے دعوات کھانا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ایسے لوگ سخت گنہگار بلکہ گمراہ ہیں کہ حق کے مقابل باطل کی اعانت کرتے ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز ناجائز ہے بلکہ جب تك توبہ نہ کریں مسلمانوں کو ان سے بالکل قطع علاقہ کردینا چاہئے کہ وہ ظالم ہیں اورظالم بھی کس پردین پراورالله عزوجل فرتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اور اگر تمھیں شیطان بھلاوے میں مبتلا کردے تو پھر یاد آنے کے بعد کبھی ظالموں کے پاس مت بیٹھو(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳:از جھونا مارکیٹ کرانچی بند ر مرسلہ حضرت پیر سید ابراہیم صاحب گیلانی قادری بغدادی مدظلہ الاقدس ۱۵ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اپنے وطن سے نکل کرنا واقف مسلمانوں کے پاس آکر بحیلہ تعلیم امور دینی وطریق درویشانہ پیر ی ومریدی سلیقہ جاری رکھا حتی کہ اپنے مرید خاص خوجے موچی کے گھر میں رہ کر ان کی لڑکی جو کہ منکوحہ الغیر تھی مع شیر خوار بچے کو بھگاکر دوسرے ملك میں لے گیا اور شیر خوار بچے جو کہ خوجے موچی کا لڑکا ہے سید بنایا اورر فتہ رفتہ ان سے چند اولاد ہوئے ایسے شخص کے بارے میں حد شریعت کون سی قائم ہوگی اور فاجر وفاسق ہے یانہیں اور اس کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر یہ امر واقعی ہے تو ایسا شخص سخت فاسق فاجر مرتکب کبائر ہے مستحق عذاب جہنم ہے اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکرہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس کے پاس مال حلال بھی ہے یعنی اپنی زمین میں زراعت ہوتی ہے اور سود بھی کھاتاہے اس قسم کے لوگوں کا ہدیہ قبول کرنا اور اس کے دعوات کھانا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
الجواب:
سود خور کو امام بنانا او ر اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب اور اس کی دعوت قبول کرنے سے احتراز چاہئے۔پھر بھی دعوت وہدیہ میں فتوی جواز ہے جب تك معلوم نہ ہو کہ شے جو ہمارے سامنے پیش کی گئی بعینہ وجہ حرام سے ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵: از مراد آباد حسن پور مرسلہ عبدالرحمن مدرس ۸ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
جمعہ فرضوں کی اور سنتوں کی اول واخر کی نیت تحریر فرمادیجئے۔بینوا توجروا
الجواب:
جمعہ کی نیت میں فرض جمعہ اور چاہے یہ بھی بڑھائے واسطے اسقاط ظہر کے۔اورقبل کی سنتوں میں سنت قبل جمعہ اور بعد کی سنتوں میں سنت بعد جمعہ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶: از شہر محلہ سوداگران مسئولہ احسان علی طالب علم مدرسہ منظر الاسلام ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شوہر کسی کام کے کرنے کاحکم دے اور وقت نماز اتنا ہے کہ اگر اس کے حکم کی تعمیل کرے تو پھر نماز کا وقت باقی نہیں رہے گا تو اس صورت میں عورت نماز پڑھے یا حکم شوہر بجالائے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
نماز پڑھے ایساحکم ماننا حرام ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷: از شہر کہنہ محلہ سیلانی مرسلہ جناب محمد حسین صاحب رضوی مورخہ ۸ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بکر کے پاس آیا جس کو عرصہ پانچ یا چھ یوم کا ہوا اور دیگر اشخاص بھی زید کے ساتھ تھے یہ بیان کیا کہ ایك صف پر دو یا تین یا دس آدمی برابر فرض علیحدہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔بکر نے کہا نماز نہیں ہوگی جماعت کرناچاہئے۔بکر سے زید نے کہا کہ نماز ہوجائے گی میں نے مسئلہ اپنے مولوی سے دریافت کرلیا ہے اس پر بکر نے کہا کہ میں تم کو کافر جانتاہوں کیونکہ تم لوگ دیوبند اور گنگوہ کے علماء کی تقلید کرتے ہو اور وہ تو ہین سرکار مدینہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی کرتے ہیں لہذا میں توہین کے کرنے والوں کو اور جو ان سے میل جول رکھتے ہیں کافر جانتا ہوں اور میں وہابی سے بات نہیں کرنا چاہتا اور زید میلاد شریف میں قیام کا منکر ہے اور کہتاہے وہ بدعت ہےاب زید علمائے دین سے فتوی اس مضمون کا لایا ہے کہ بکر نے مجھ کو کافر کہا وجہ کوئی فتوی میں تحریر نہیں کی کہ کس وجہ سے کافر کہا ہے اب فتوی سب کو دکھاتاہے اور بیان کرتاہے کہ بکر توبہ کرے اور جدید
سود خور کو امام بنانا او ر اس کے پیچھے نماز پڑھنی مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب اور اس کی دعوت قبول کرنے سے احتراز چاہئے۔پھر بھی دعوت وہدیہ میں فتوی جواز ہے جب تك معلوم نہ ہو کہ شے جو ہمارے سامنے پیش کی گئی بعینہ وجہ حرام سے ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵: از مراد آباد حسن پور مرسلہ عبدالرحمن مدرس ۸ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
جمعہ فرضوں کی اور سنتوں کی اول واخر کی نیت تحریر فرمادیجئے۔بینوا توجروا
الجواب:
جمعہ کی نیت میں فرض جمعہ اور چاہے یہ بھی بڑھائے واسطے اسقاط ظہر کے۔اورقبل کی سنتوں میں سنت قبل جمعہ اور بعد کی سنتوں میں سنت بعد جمعہ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶: از شہر محلہ سوداگران مسئولہ احسان علی طالب علم مدرسہ منظر الاسلام ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شوہر کسی کام کے کرنے کاحکم دے اور وقت نماز اتنا ہے کہ اگر اس کے حکم کی تعمیل کرے تو پھر نماز کا وقت باقی نہیں رہے گا تو اس صورت میں عورت نماز پڑھے یا حکم شوہر بجالائے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
نماز پڑھے ایساحکم ماننا حرام ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷: از شہر کہنہ محلہ سیلانی مرسلہ جناب محمد حسین صاحب رضوی مورخہ ۸ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بکر کے پاس آیا جس کو عرصہ پانچ یا چھ یوم کا ہوا اور دیگر اشخاص بھی زید کے ساتھ تھے یہ بیان کیا کہ ایك صف پر دو یا تین یا دس آدمی برابر فرض علیحدہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔بکر نے کہا نماز نہیں ہوگی جماعت کرناچاہئے۔بکر سے زید نے کہا کہ نماز ہوجائے گی میں نے مسئلہ اپنے مولوی سے دریافت کرلیا ہے اس پر بکر نے کہا کہ میں تم کو کافر جانتاہوں کیونکہ تم لوگ دیوبند اور گنگوہ کے علماء کی تقلید کرتے ہو اور وہ تو ہین سرکار مدینہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی کرتے ہیں لہذا میں توہین کے کرنے والوں کو اور جو ان سے میل جول رکھتے ہیں کافر جانتا ہوں اور میں وہابی سے بات نہیں کرنا چاہتا اور زید میلاد شریف میں قیام کا منکر ہے اور کہتاہے وہ بدعت ہےاب زید علمائے دین سے فتوی اس مضمون کا لایا ہے کہ بکر نے مجھ کو کافر کہا وجہ کوئی فتوی میں تحریر نہیں کی کہ کس وجہ سے کافر کہا ہے اب فتوی سب کو دکھاتاہے اور بیان کرتاہے کہ بکر توبہ کرے اور جدید
نکاح کرے لہذا آپ فرمائیں کہ بکر توبہ کرے یا زیدبکر زید کو وہابی جانتاہے اور دیگر دیوبندیوں کو جو کہ توہین کرتے ہیں اور یہ لوگ ان کی تقلید کرتے ہیں سب کو کافر جانتاہے۔بینوا توجروا
الجواب:
کیا الله کی لعنت سے نہیں ڈرتے وہ لوگ جو شریعت کو دھوکا دیتے ہیں اور جھوٹا سوال بنا کر الٹا فتوی لیتے ہیں اس صورت میں بکر پر وہ حکم ہر گز نہیں ہے بلکہ زید اور اس کے ہم مذہب توہین کرنے والوں پر ہے کہ وہ اسلام سے خارج ہیںبکر کہ نبی سرور عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں کو کافر جانتاہے بیشك حق پر ہے والله تعالی اعلم۔اور نماز کا مسئلہ یہ ہے کہ ابھی جماعت نہ ہوئی اور کچھ لوگ ایك جگہ تنہا تنہا پڑھیں اور ان میں کوئی امامت کے قابل ہے تو بوجہ ترك جماعت کے گنہگار ہوں گے فرض ادا ہوجائیں گے اور اگر جماعت اولی ہوچکی ہے اور کچھ لو گ اتفاق سے رہ گئے جب بھی انھیں چاہئے کہ مصلے سے ہٹ کر ز جماعت کریں اور رافضیوں اور گنگوہی کی طرح ایك جگہ الگ الگ نہ پڑھیںوالله تعالی اعلم۔
الجواب:
کیا الله کی لعنت سے نہیں ڈرتے وہ لوگ جو شریعت کو دھوکا دیتے ہیں اور جھوٹا سوال بنا کر الٹا فتوی لیتے ہیں اس صورت میں بکر پر وہ حکم ہر گز نہیں ہے بلکہ زید اور اس کے ہم مذہب توہین کرنے والوں پر ہے کہ وہ اسلام سے خارج ہیںبکر کہ نبی سرور عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں کو کافر جانتاہے بیشك حق پر ہے والله تعالی اعلم۔اور نماز کا مسئلہ یہ ہے کہ ابھی جماعت نہ ہوئی اور کچھ لوگ ایك جگہ تنہا تنہا پڑھیں اور ان میں کوئی امامت کے قابل ہے تو بوجہ ترك جماعت کے گنہگار ہوں گے فرض ادا ہوجائیں گے اور اگر جماعت اولی ہوچکی ہے اور کچھ لو گ اتفاق سے رہ گئے جب بھی انھیں چاہئے کہ مصلے سے ہٹ کر ز جماعت کریں اور رافضیوں اور گنگوہی کی طرح ایك جگہ الگ الگ نہ پڑھیںوالله تعالی اعلم۔
روزہ و زکوۃ و حج
مسئلہ ۱۸: مسئولہ عبدالستار بن اسمعیل از شہر گونڈل کاٹھیا وار مورخہ ۹ شعبان یکشنبہ ۱۳۳۴ھ
بعض لوگ اس ملك میں بعد نماز عصر کے اذان مغرب تك کچھ کھاتے پیتے نہیں ہیںاور اس کو عصر کا روزہ کہتے ہیں اس کے فوائد بہت بیان کئے جاتے ہیں ایك فائدہ یہ بیان کرتے ہیں کہ وقت سکرات جب شیطان پانی لے کر دھوکا دینے کوآئے گا اس وقت اس روزہ رکھنے والے کو وقت عصر کا معلوم ہوگا اور روزہ کاخیال رہے گا تب کہہ دے گا میں روزہ سے ہوں ہرگز تیرا پانی نہ پیوں گا چنانچہ شیطان لاچار ہوکر چلا جائے گا اور اس روزہ کا رکھنے والا گمراہی سے بچ جائے گااب کیا یہ روزہ اور اس کے فوائد صحیح ہیں یانہیں کسی معتبر کتاب میں اس کی کچھ اصل ہے یانہیں اگر نہیں تو اس پر ثواب سمجھ کر عمل کرنا کیسا ہے فقط۔
الجواب:
حدیث فقہ میں اس کی اصل نہیں معمولات بعض مشائخ سے ہے اور اس پرعمل میں حرج نہیں انسان جتنی دیر شہوات نفسی سے بچے بہتر ہےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹: از اجمیر شریف متصل امام باڑہ مکان میرگلزار علی صاحب مرسلہ فیاض حسین صاحب ۲۹ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکوۃ اور فطرہ خلافت فنڈ میں دینا نیز آمدنی تھیٹر
مسئلہ ۱۸: مسئولہ عبدالستار بن اسمعیل از شہر گونڈل کاٹھیا وار مورخہ ۹ شعبان یکشنبہ ۱۳۳۴ھ
بعض لوگ اس ملك میں بعد نماز عصر کے اذان مغرب تك کچھ کھاتے پیتے نہیں ہیںاور اس کو عصر کا روزہ کہتے ہیں اس کے فوائد بہت بیان کئے جاتے ہیں ایك فائدہ یہ بیان کرتے ہیں کہ وقت سکرات جب شیطان پانی لے کر دھوکا دینے کوآئے گا اس وقت اس روزہ رکھنے والے کو وقت عصر کا معلوم ہوگا اور روزہ کاخیال رہے گا تب کہہ دے گا میں روزہ سے ہوں ہرگز تیرا پانی نہ پیوں گا چنانچہ شیطان لاچار ہوکر چلا جائے گا اور اس روزہ کا رکھنے والا گمراہی سے بچ جائے گااب کیا یہ روزہ اور اس کے فوائد صحیح ہیں یانہیں کسی معتبر کتاب میں اس کی کچھ اصل ہے یانہیں اگر نہیں تو اس پر ثواب سمجھ کر عمل کرنا کیسا ہے فقط۔
الجواب:
حدیث فقہ میں اس کی اصل نہیں معمولات بعض مشائخ سے ہے اور اس پرعمل میں حرج نہیں انسان جتنی دیر شہوات نفسی سے بچے بہتر ہےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹: از اجمیر شریف متصل امام باڑہ مکان میرگلزار علی صاحب مرسلہ فیاض حسین صاحب ۲۹ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکوۃ اور فطرہ خلافت فنڈ میں دینا نیز آمدنی تھیٹر
جو شرعا ناجائز ہے اس میں دینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
زکوۃ مسجد میں دے تو ادا ہونہیں سکتی اسے خلافت میں کیسے دیا جاسکتاہے زکوۃ کارکن تملیك فقیر ہے۔درمختار میں ہے:
لاصرف الی مسجد لعدم التملیك وھوالرکن ۔ کسی مسجد میں مال زکوۃ خرچ کرنا درست نہیں اس لئے کہ اس میں محتاج کو مالك بنانا نہیں پایا جاتا جبکہ تملیك فقیر زکوۃ من رکن ہے۔(ت)
تھیٹر کا روپیہ کہ تماشہ کی اجرت میں لیا جاتاہے قطعی حرام اور اشد قسم کا حرام ہے مگر سوال بے منشاہے خلافت فنڈ اگر بالفرض ایسوں کے ہاتھوں میں ہے جو الله کو الله رسول کو رسولحلال کو حلالحرام کو حرم جانتے ہوں تو وہ خود ہی ایسا مال نہ لیں گےاور اگرایسوں کے ہاتھوں میں ہو جن کے نزدیك اسلام وکفر میں کوئی وجہ امتیاز نہ ہیں سب برائے نام ہیں جو اپنے اسلام سے بھی صراحۃ انکار کریںجو کفر کا بول بالا کرنے کے لئے شعا ر اسلام کی بندش چاہیں جو مشرکوں کے مجمع میں مشرك کی جے بولیںجو مشروکوں کے ہاتھ سے پانے ماتھے پر قشقے لگوائیںجو اپنے آپ کو لالہ وپنڈت کہیں جو مساجد میں منبروں پر مشرکوں سے لیکچر دلوائیں جو مشرکوں کی خوشی کے لئے رام لچھمن پر پھول چڑھائیںجو سخت اشد وہابیوں منکران رحمۃ العالمین صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اپنی مجلس کاجسے بزعم خود دینی مجلس سمجھیں صدر بنائیںجو ایسوں کو کہ اپنے معبود کا ظالم جاہل چور شرابی ہونا جائز رکھیں ایسے کو الله جانیں یہ ان کو شیخ الہند وشیخ الاسلام بتائیں جو صاف لکھ دین کہ ہم ایك ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہیں جو بتوں کے معبد کو مقدس بنائے گا تو سوال محض فضول ہے انھیں احتراز کی کیا وجہ اور ان پر اعتراض کا کیا موقع جنھیں کفر واسلام میں امتیاز نہیں حلال وحرام میں امتیاز کیا معنیبلکہ جن کے نزدیك اسلام کفر اور کفر اسلام ہے ان کے یہاں آپ ہی حرام حلال اور حلال حرام ہے۔ما علی مثلہ الخطاءواﷲ تعالی اعلم(اس قسم کے شخص سے خطا بعید نہیںاور الله تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔ت)
مسئلہ ۲۰: از شہر محلہ سوداگران مسئولہ احسان علی طالب علم مدرسہ منظرا لاسلام ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر عورت حج کو جانا چاہتی ہے
الجواب:
زکوۃ مسجد میں دے تو ادا ہونہیں سکتی اسے خلافت میں کیسے دیا جاسکتاہے زکوۃ کارکن تملیك فقیر ہے۔درمختار میں ہے:
لاصرف الی مسجد لعدم التملیك وھوالرکن ۔ کسی مسجد میں مال زکوۃ خرچ کرنا درست نہیں اس لئے کہ اس میں محتاج کو مالك بنانا نہیں پایا جاتا جبکہ تملیك فقیر زکوۃ من رکن ہے۔(ت)
تھیٹر کا روپیہ کہ تماشہ کی اجرت میں لیا جاتاہے قطعی حرام اور اشد قسم کا حرام ہے مگر سوال بے منشاہے خلافت فنڈ اگر بالفرض ایسوں کے ہاتھوں میں ہے جو الله کو الله رسول کو رسولحلال کو حلالحرام کو حرم جانتے ہوں تو وہ خود ہی ایسا مال نہ لیں گےاور اگرایسوں کے ہاتھوں میں ہو جن کے نزدیك اسلام وکفر میں کوئی وجہ امتیاز نہ ہیں سب برائے نام ہیں جو اپنے اسلام سے بھی صراحۃ انکار کریںجو کفر کا بول بالا کرنے کے لئے شعا ر اسلام کی بندش چاہیں جو مشرکوں کے مجمع میں مشرك کی جے بولیںجو مشروکوں کے ہاتھ سے پانے ماتھے پر قشقے لگوائیںجو اپنے آپ کو لالہ وپنڈت کہیں جو مساجد میں منبروں پر مشرکوں سے لیکچر دلوائیں جو مشرکوں کی خوشی کے لئے رام لچھمن پر پھول چڑھائیںجو سخت اشد وہابیوں منکران رحمۃ العالمین صلی الله تعالی علیہ وسلم کو اپنی مجلس کاجسے بزعم خود دینی مجلس سمجھیں صدر بنائیںجو ایسوں کو کہ اپنے معبود کا ظالم جاہل چور شرابی ہونا جائز رکھیں ایسے کو الله جانیں یہ ان کو شیخ الہند وشیخ الاسلام بتائیں جو صاف لکھ دین کہ ہم ایك ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہیں جو بتوں کے معبد کو مقدس بنائے گا تو سوال محض فضول ہے انھیں احتراز کی کیا وجہ اور ان پر اعتراض کا کیا موقع جنھیں کفر واسلام میں امتیاز نہیں حلال وحرام میں امتیاز کیا معنیبلکہ جن کے نزدیك اسلام کفر اور کفر اسلام ہے ان کے یہاں آپ ہی حرام حلال اور حلال حرام ہے۔ما علی مثلہ الخطاءواﷲ تعالی اعلم(اس قسم کے شخص سے خطا بعید نہیںاور الله تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔ت)
مسئلہ ۲۰: از شہر محلہ سوداگران مسئولہ احسان علی طالب علم مدرسہ منظرا لاسلام ۱۸ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر عورت حج کو جانا چاہتی ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۴۱۔۱۴€۰
اور شوہر اس کا اس کو منع کرے کسی عذرسےتو جاسکتی ہے بغیر اجازت شوہر کے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اگر محرم ساتھ رہے اور حج اس پر فرض ہے تو جائے گی ورنہ نہیں۔والله تعالی اعلم۔
الجواب:
اگر محرم ساتھ رہے اور حج اس پر فرض ہے تو جائے گی ورنہ نہیں۔والله تعالی اعلم۔
جنائز و زیارت قبور و مزارات اولیاء
مسئلہ ۲۱: از درؤ تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خاں ۲۲ رجب ۱۳۱۵ھ
زیارت اولیاء الله کے واسطے جانا کیسا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤاجر پاؤ۔ت)
الجواب:
قطعا جائز لاطلاق قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم:
الافزوروھا ۔
وقد فصلہ الامام حجۃ الاسلام فی الاحیاء وغیرہ فی غیرہ والمسألۃ افردت بالتالیف۔واﷲ تعالی اعلم۔ لوگو!اب قبروں کی زیارت کیا کرو۔ت)
حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ الله تعالی نے احیاء العلوم میں اور دیگر ائمہ نے اپنی اپنی کتب میں اس مسئلہ کو تفصیلا بیان کیا ہے اور خاص اس مسئلہ میں مستقل کتب لکھی گئی ہیں۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۲: از بنگالہ ضلع نواکھالی موضع بھولاکوٹ مرسلہ حیدر علی صاحب ۱۳ شعبان ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو مولود از شکم مادر مردہ شود تو کس طرح دفن کیا جائے۔آیا کہ نال کٹواکر دفن کریںمع الدلیل بالتفصیل۔بینوا توجروا۔
مسئلہ ۲۱: از درؤ تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خاں ۲۲ رجب ۱۳۱۵ھ
زیارت اولیاء الله کے واسطے جانا کیسا ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤاجر پاؤ۔ت)
الجواب:
قطعا جائز لاطلاق قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم:
الافزوروھا ۔
وقد فصلہ الامام حجۃ الاسلام فی الاحیاء وغیرہ فی غیرہ والمسألۃ افردت بالتالیف۔واﷲ تعالی اعلم۔ لوگو!اب قبروں کی زیارت کیا کرو۔ت)
حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ الله تعالی نے احیاء العلوم میں اور دیگر ائمہ نے اپنی اپنی کتب میں اس مسئلہ کو تفصیلا بیان کیا ہے اور خاص اس مسئلہ میں مستقل کتب لکھی گئی ہیں۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۲: از بنگالہ ضلع نواکھالی موضع بھولاکوٹ مرسلہ حیدر علی صاحب ۱۳ شعبان ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو مولود از شکم مادر مردہ شود تو کس طرح دفن کیا جائے۔آیا کہ نال کٹواکر دفن کریںمع الدلیل بالتفصیل۔بینوا توجروا۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب لجنائز فصل فی الذھاب الی زیارت القبور ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۴€
الجواب:
اس کا نال کاٹنے کی حاجت نہیں کہ ایذائے بے سبب ہے
اخرج الامام محمد فی کتاب الاثار و ابوعبید القاسم بن سلام وابراہیم الحربی کلاھما فی غریب الحدیث عن ابراھیم النخعی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہما انما سئلت عن المیت یسرح رأسہ فقالت علام تنصون میتکم واخرج عبدالرزاق فی مصفنہ عنھا رضی اﷲ تعالی عنہا رأت امرأۃ یکدون رأسھا فقالت علام تنصون میتکم فاذا کان ھذا فی تسریح شعرہ فما ظنك بقطع بضعۃ منہ مع غیر حاجۃ الیہ ولا نفع کمالاتخفی واﷲ تعالی اعلم۔ امام محمد نے کتاب الآثار میں ابوعبیدقاسم بن سلام اور ابراہیم حربی نے غریب الحدیث میں ابراہیم نخعی کے حوالے سے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے تخرج کی کہ ان سے اس عورت کی میت کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اس کے سر کے بالوں میں کنگھی کی جاسکتی ہے ارشاد فرمایا:کاہے کے لئے تم میت کے بالوں میں کنگھی کرتے ہو(اور اسے تکلیف پہنچاتے ہو یعنی ایسا کرنا مناسب اور ٹھیك نہیں)محدث عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں انہی سے تخریج کی ہے کہ مانی صاحب نے ایك مردہ عورت دیکھی کہ اس کے سر کے بالوں میں لوگ کنگھی کرتے تھے تو آپ نے فرمایاکیوں اپنے مردہ کے بالوں میں کنگھی کرکے اسے تکلیف پہنچاتے ہوجب بالوں میں کنگھی کے بارے میں یہ حکم ہے تو پھر اس کے جسم سے گوشت کا ٹکڑا کاٹنے کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے باوجود یہ کہ اس کی ضرورت بھی نہیں اور اس میں کوئی فائدہ بھی نہیںاور الله تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۳: مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب مدرس اول مدرسہ قادریہ احمد آباد گجرات دکن محلہ جمال پور ۲۸ صفر ۱۳۳۹ھ
مولانا موصوف نے ایك رجسٹری بھیجی جس میں بحرالرائق تصحیح المسائل مولانا فضل رسول صاحب
اس کا نال کاٹنے کی حاجت نہیں کہ ایذائے بے سبب ہے
اخرج الامام محمد فی کتاب الاثار و ابوعبید القاسم بن سلام وابراہیم الحربی کلاھما فی غریب الحدیث عن ابراھیم النخعی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہما انما سئلت عن المیت یسرح رأسہ فقالت علام تنصون میتکم واخرج عبدالرزاق فی مصفنہ عنھا رضی اﷲ تعالی عنہا رأت امرأۃ یکدون رأسھا فقالت علام تنصون میتکم فاذا کان ھذا فی تسریح شعرہ فما ظنك بقطع بضعۃ منہ مع غیر حاجۃ الیہ ولا نفع کمالاتخفی واﷲ تعالی اعلم۔ امام محمد نے کتاب الآثار میں ابوعبیدقاسم بن سلام اور ابراہیم حربی نے غریب الحدیث میں ابراہیم نخعی کے حوالے سے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا سے تخرج کی کہ ان سے اس عورت کی میت کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اس کے سر کے بالوں میں کنگھی کی جاسکتی ہے ارشاد فرمایا:کاہے کے لئے تم میت کے بالوں میں کنگھی کرتے ہو(اور اسے تکلیف پہنچاتے ہو یعنی ایسا کرنا مناسب اور ٹھیك نہیں)محدث عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں انہی سے تخریج کی ہے کہ مانی صاحب نے ایك مردہ عورت دیکھی کہ اس کے سر کے بالوں میں لوگ کنگھی کرتے تھے تو آپ نے فرمایاکیوں اپنے مردہ کے بالوں میں کنگھی کرکے اسے تکلیف پہنچاتے ہوجب بالوں میں کنگھی کے بارے میں یہ حکم ہے تو پھر اس کے جسم سے گوشت کا ٹکڑا کاٹنے کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے باوجود یہ کہ اس کی ضرورت بھی نہیں اور اس میں کوئی فائدہ بھی نہیںاور الله تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۳: مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب مدرس اول مدرسہ قادریہ احمد آباد گجرات دکن محلہ جمال پور ۲۸ صفر ۱۳۳۹ھ
مولانا موصوف نے ایك رجسٹری بھیجی جس میں بحرالرائق تصحیح المسائل مولانا فضل رسول صاحب
حوالہ / References
کتاب الاثار باب الجنائز ∞حدیث ۲۲۷€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ص۴۶€
المصنف لعبدالرزاق ∞حدیث ۶۲۳۲€ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۲۳۷€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۶€
المصنف لعبدالرزاق ∞حدیث ۶۲۳۲€ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۲۳۷€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۶€
رحمۃ الله علیہ کے حوالے سے عورتوں کے لئے زیارت قبور کی اجازت پر زوردیا تھا ان کو یہ جواب بھیجا گیا۔
الجواب:
بسم الله الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مولینا المکرم مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب زید کرمہمالسلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہآپ کی دو رجسٹریاں آئیںتین مہینے سے زائد ہوئے کہ میری آنکھ اچھی نہیں میری رائے اس میں خلاف پر ہے مدت ہوئیاس بارے میں میرا فتوی تحفہ حنفیہ میں چھپ چکامیں اس رخصت کو جو بحرالرائق میں لکھی مان کر نظر بحالات نساء سوائے حاضری روضہ انور کے کہ واجب یا قریب بواجب ہے۔مزارات اولیاء یا دیگرقبور کی زیارت کہ عورتوں کا جانا باتباع غنیہ علامہ محقق ابراہیم ہر گز پسند نہیں کرتا خصوصا اس طوفان بے تمیزی رقص ومزامیر وسرود میں جو آج کل جہال نے اعراس طیبہ میں برپا کررکھا ہے اس کی شرکت تومیں عوم رجال کو بھی پسند نہیں رکھتا کہ وہ جن کو انجشہ رضی الله تعالی عنہ کی حدی خوابی بالحان خوشی پر عورتوں کے سامنے ممانعت فرماکر تھیں نازك شیشیاں فرمایا گیا۔والسلام
مسئلہ ۲۴ تا ۲۶: از امرتسر کٹرہ مہان سنگھ ہنسلی گلی کوچہ کمی مسئولہ حاجی غلام محمد صاحب ۶ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص خاندانی سارق اور بڑا مشہور ومعروف و بدمعاش ہو بلکہ گورنمنٹی دفاتر میں نمبر ۱۰ کے بدمعاشوں میں نامزد ہو اور تمام عمر اس کا ذریعہ معاش چوری اور جوا رہا ہو اور صوم وصلوۃ کا بھی تارك ہو غرض کہ اس نے اپنی تمام عمر چوری اور جوا اور دیگر افعال قبیحہ میں بسر کی ہو اور آخر کار بلاتوبہ فوت ہوگیا ہو تو ایسے شخص کے جنازہ پڑھنے یاپڑھانے کے متعلق بروئے فقہ واحادیث نبویہ شرعا کیا حکم ہے
(۲)متوفی مذکور کی جائداد منقولہ وغیرہ منقولہ جو اس نے ذرائع حرام سے جیسے چوری اور جوئے سے پیدا کی ہو اس کا بصورت ختم جمعہ وچہلم وغیرہ خورد ونوش کرنے کے کون لوگ مستحق ہیں اور ان کے لئے کیاحکم ہے
(۳)اگر کوئی شخص بحیثیت امام مسجد ہونے کے اس کا جنازہ پڑھے یا پڑھائے اور متوفی مذکور کی جائداد اور مندرجہ ضمن نمبر ۲ جان بوجھ کر بطریق ختم اور چہلم وغیرہا خورد نوش کرے تو ا س کے لئے شرع کیا حکم ہے اور وہ قابل امامت رہ سکتا ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
بسم الله الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مولینا المکرم مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب زید کرمہمالسلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہآپ کی دو رجسٹریاں آئیںتین مہینے سے زائد ہوئے کہ میری آنکھ اچھی نہیں میری رائے اس میں خلاف پر ہے مدت ہوئیاس بارے میں میرا فتوی تحفہ حنفیہ میں چھپ چکامیں اس رخصت کو جو بحرالرائق میں لکھی مان کر نظر بحالات نساء سوائے حاضری روضہ انور کے کہ واجب یا قریب بواجب ہے۔مزارات اولیاء یا دیگرقبور کی زیارت کہ عورتوں کا جانا باتباع غنیہ علامہ محقق ابراہیم ہر گز پسند نہیں کرتا خصوصا اس طوفان بے تمیزی رقص ومزامیر وسرود میں جو آج کل جہال نے اعراس طیبہ میں برپا کررکھا ہے اس کی شرکت تومیں عوم رجال کو بھی پسند نہیں رکھتا کہ وہ جن کو انجشہ رضی الله تعالی عنہ کی حدی خوابی بالحان خوشی پر عورتوں کے سامنے ممانعت فرماکر تھیں نازك شیشیاں فرمایا گیا۔والسلام
مسئلہ ۲۴ تا ۲۶: از امرتسر کٹرہ مہان سنگھ ہنسلی گلی کوچہ کمی مسئولہ حاجی غلام محمد صاحب ۶ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص خاندانی سارق اور بڑا مشہور ومعروف و بدمعاش ہو بلکہ گورنمنٹی دفاتر میں نمبر ۱۰ کے بدمعاشوں میں نامزد ہو اور تمام عمر اس کا ذریعہ معاش چوری اور جوا رہا ہو اور صوم وصلوۃ کا بھی تارك ہو غرض کہ اس نے اپنی تمام عمر چوری اور جوا اور دیگر افعال قبیحہ میں بسر کی ہو اور آخر کار بلاتوبہ فوت ہوگیا ہو تو ایسے شخص کے جنازہ پڑھنے یاپڑھانے کے متعلق بروئے فقہ واحادیث نبویہ شرعا کیا حکم ہے
(۲)متوفی مذکور کی جائداد منقولہ وغیرہ منقولہ جو اس نے ذرائع حرام سے جیسے چوری اور جوئے سے پیدا کی ہو اس کا بصورت ختم جمعہ وچہلم وغیرہ خورد ونوش کرنے کے کون لوگ مستحق ہیں اور ان کے لئے کیاحکم ہے
(۳)اگر کوئی شخص بحیثیت امام مسجد ہونے کے اس کا جنازہ پڑھے یا پڑھائے اور متوفی مذکور کی جائداد اور مندرجہ ضمن نمبر ۲ جان بوجھ کر بطریق ختم اور چہلم وغیرہا خورد نوش کرے تو ا س کے لئے شرع کیا حکم ہے اور وہ قابل امامت رہ سکتا ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)شخص مذکور اگر چہ کیسا ہی فاسق فاجر تھا اگر چہ بے توبہ مراجبکہ مسلمان تھا اس کے جنازہ کی نماز لازم تھی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الصلوۃ واجبۃ علی کل مسلم براکان او فاجرا و ان ھو عمل الکبائر ۔ ہر مسلمان خواہ نیك ہو یا بداس کی نماز جنازہ پڑھنی واجب ہے اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو(ت)
درمختار میں ہے:
وھی فرض علی کل مسلم مات خلااربعۃ الخ ولیس ھذا منھم واﷲ تعالی اعلم۔ جب کوئی مسلمان مر جائے تو اس پر نماز پڑھنی فرض (کفایہ) ہے سوائے چار آدمیوں کے کہ ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور یہ ان میں سے نہیںوالله تعالی اعلم۔(ت)
(۲)جو مال اس نے بعینہ چوری یاجوئے سے حاصل کیا اس پر ختم وفاتحہ پڑھنا حرام ہے اور اس کا کھانا حرام ہے مگر اسے جس سے وہ مال لیا گیا یا وہ معلوم نہ ہو تو فقیر کو بحیثیت مال لاوارثی نہ بحیثیت ایصال ثواب سمجھ کر کھایا وہ قابل امامت نہیں جب تك تائب نہ ہو بلکہ اسے جدید اسلام کا حکم ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
لوتصدق علی فقیر بشیئ من مال الحرام یرجوا الثواب یکفر ولو علم الفقیر بذلك فد عالہ وامن المعطی فقد کفر کذا فی المحیط ۔ اگر کسی محتاج پر حرام مال میں سے کچھ خیرات کرے اور ثواب کی امید رکھے تو کافر ہوجائے گااگر محتاج کو اس مال کے حرام ہونے کا علم ہو پھر اسے مال دینے کے لئے کوئی بلائے اور وہ اس کے لئے دعا کرے اور دینے والا آمین کہے تو دونوں کافر ہوئے محیط میں یہی مذکور ہے۔(ت)
(۱)شخص مذکور اگر چہ کیسا ہی فاسق فاجر تھا اگر چہ بے توبہ مراجبکہ مسلمان تھا اس کے جنازہ کی نماز لازم تھی نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الصلوۃ واجبۃ علی کل مسلم براکان او فاجرا و ان ھو عمل الکبائر ۔ ہر مسلمان خواہ نیك ہو یا بداس کی نماز جنازہ پڑھنی واجب ہے اگرچہ وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو(ت)
درمختار میں ہے:
وھی فرض علی کل مسلم مات خلااربعۃ الخ ولیس ھذا منھم واﷲ تعالی اعلم۔ جب کوئی مسلمان مر جائے تو اس پر نماز پڑھنی فرض (کفایہ) ہے سوائے چار آدمیوں کے کہ ان کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور یہ ان میں سے نہیںوالله تعالی اعلم۔(ت)
(۲)جو مال اس نے بعینہ چوری یاجوئے سے حاصل کیا اس پر ختم وفاتحہ پڑھنا حرام ہے اور اس کا کھانا حرام ہے مگر اسے جس سے وہ مال لیا گیا یا وہ معلوم نہ ہو تو فقیر کو بحیثیت مال لاوارثی نہ بحیثیت ایصال ثواب سمجھ کر کھایا وہ قابل امامت نہیں جب تك تائب نہ ہو بلکہ اسے جدید اسلام کا حکم ہے۔عالمگیریہ میں ہے:
لوتصدق علی فقیر بشیئ من مال الحرام یرجوا الثواب یکفر ولو علم الفقیر بذلك فد عالہ وامن المعطی فقد کفر کذا فی المحیط ۔ اگر کسی محتاج پر حرام مال میں سے کچھ خیرات کرے اور ثواب کی امید رکھے تو کافر ہوجائے گااگر محتاج کو اس مال کے حرام ہونے کا علم ہو پھر اسے مال دینے کے لئے کوئی بلائے اور وہ اس کے لئے دعا کرے اور دینے والا آمین کہے تو دونوں کافر ہوئے محیط میں یہی مذکور ہے۔(ت)
حوالہ / References
سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الصلٰوۃ خلف من لایحمدہ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۱۲۱€
درمختار کتاب الجنائز ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۲€
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع ∞نورانی کتب کانہ پشاور ۲/ ۲۷۲€
درمختار کتاب الجنائز ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۲€
فتاوٰی ہندیہ الباب التاسع ∞نورانی کتب کانہ پشاور ۲/ ۲۷۲€
اور اگر اس کے پاس مال حلال بھی تھا اور اس کا خاص حرام سے ہونا معلوم نہیں یا زر حرام سے خریدی ہوئی کوئی چیزہے جس کی خریداری میں زرحرام پر عقد ونقد جمع نہ ہوئے یعنی یہ نہ ہوا کہ حرام روپیہ دکھا کر کہا ہو کہ اس کے عوض دے دے پھر وہی روپیہ اس کے ضمن میں دیا ہو تو اس پر فاتحہ پڑھنے اور کھانے میں حرج نہیں اگر چہ صورت مذکورہ میں خلاف احتیاط ضرور ہے۔عالمگیریہ میں ذخیرہ سے ہے امام محمد فرماتے ہیں:
بہ ناخذ مالم نعرف شیأا حرام بیعنہ ۔ ہم اس کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین شے کے حرام ہونے کو نہ پہچانیں(ت)اگر یہ صورت تھی تو امام پر الزام نہیں۔والله تعالی اعلم۔
____________________
بہ ناخذ مالم نعرف شیأا حرام بیعنہ ۔ ہم اس کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین شے کے حرام ہونے کو نہ پہچانیں(ت)اگر یہ صورت تھی تو امام پر الزام نہیں۔والله تعالی اعلم۔
____________________
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب لکراھیۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲€
ایصال ثواب و صدقہ وخیرات وسوال
مسئلہ ۲۷: ۲۱ صفر یوم سہ شنبہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بزرگان دین کی نذرونیاز مثل مولود شریف وغیرہ کے ہندؤوں کی بنائی ہوئی شیرینی پر چاہئے یا مسلمان کی اور جہاں مسلمان حلوائی بھی ہوں تو مسلمان کو کن سے خریدنا اولی ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
شك نہیں ہنود وعموما سخت ناپاکیوں میں آلودہ رہتے ہیں دھوتیوں میں پیشاب کرتے ہیں اور انھیں اپنے کنوؤں کی من پر کھڑے ہو کر ایك لٹیا پانی بھینچتے ہیں سب چھینٹیں کنویں میں جاتی ہیںپاخانے میں ڈھیلے لے جانا تو انھیں کہاں نصیبچھوٹی سی لٹیا ہوتی ہے وہ بھی بارہا آدھی یا پونیپھر اس میں آبدست اسی میں ہاتھ دھونااور اتنا بچالا ئے جس سے بارہ کلاکئےمشاہدہ ہوا کہ ان کے حلوائیوں نے اپنی اسی بے احتیاطی کے پانی سے کڑاہی دھوئی اور اسی انگوچے سے پونچھ لی جو سال سال بھر بدلا نہیں جاتا اور اس میں تولوں بلکہ چھٹنکیوں موت ہوتاہے علاوہ بریں ان کے مذہب میں گائے بھینس کا گوبر اور بچھیا کا موت متر پاك بلکہ پبتر یعنی پاك کرنے والا ہوتاہے تو اس سے احتراز کیا معنی بلکہ اسے مشك وعطر کی جگہ استعمال کرنا ان سے بعید نہیں ایسی حالتوں میں اگر چہ اس شریعت سمحہ سہلہ غرابیضا صلی اﷲ تعالی علی صاحبہا وآلہ وبارك وسلم نے جب تك کسی خاص شیئ میں وقوع نجاست کا یقین نہ ہوبحکم قاعدہ کلیہ الاصل الطہارۃ و
مسئلہ ۲۷: ۲۱ صفر یوم سہ شنبہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بزرگان دین کی نذرونیاز مثل مولود شریف وغیرہ کے ہندؤوں کی بنائی ہوئی شیرینی پر چاہئے یا مسلمان کی اور جہاں مسلمان حلوائی بھی ہوں تو مسلمان کو کن سے خریدنا اولی ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
شك نہیں ہنود وعموما سخت ناپاکیوں میں آلودہ رہتے ہیں دھوتیوں میں پیشاب کرتے ہیں اور انھیں اپنے کنوؤں کی من پر کھڑے ہو کر ایك لٹیا پانی بھینچتے ہیں سب چھینٹیں کنویں میں جاتی ہیںپاخانے میں ڈھیلے لے جانا تو انھیں کہاں نصیبچھوٹی سی لٹیا ہوتی ہے وہ بھی بارہا آدھی یا پونیپھر اس میں آبدست اسی میں ہاتھ دھونااور اتنا بچالا ئے جس سے بارہ کلاکئےمشاہدہ ہوا کہ ان کے حلوائیوں نے اپنی اسی بے احتیاطی کے پانی سے کڑاہی دھوئی اور اسی انگوچے سے پونچھ لی جو سال سال بھر بدلا نہیں جاتا اور اس میں تولوں بلکہ چھٹنکیوں موت ہوتاہے علاوہ بریں ان کے مذہب میں گائے بھینس کا گوبر اور بچھیا کا موت متر پاك بلکہ پبتر یعنی پاك کرنے والا ہوتاہے تو اس سے احتراز کیا معنی بلکہ اسے مشك وعطر کی جگہ استعمال کرنا ان سے بعید نہیں ایسی حالتوں میں اگر چہ اس شریعت سمحہ سہلہ غرابیضا صلی اﷲ تعالی علی صاحبہا وآلہ وبارك وسلم نے جب تك کسی خاص شیئ میں وقوع نجاست کا یقین نہ ہوبحکم قاعدہ کلیہ الاصل الطہارۃ و
ضابطہ عام الیقین لایزول بالشک(اشیاء میں اصلا پاکیزگی اور طہارت ہے اور اس کے لئے عام قاعدہ یہ ہے کہ یقین شك سے زائل نہیں ہوتا)حکم فتوی آسانی فرمائی مگر شبہہ نہیں کہ تقوی حتی الامکان اس سے بچنا ہے خصوصا جبکہ وہ باوصف اپنی گندگیوں ناپاکیوں کے پاك ستھرے نظیف مسلمانوں سے کس درجہ پرہیز رکھتے اور بحکم المرء یقیس علی نفسہ(ہر شخص دوسرے کے بارے میں اپنی ذات کے حوالے سے قیاس کرتاہے۔ت)معاذالله انھیں مچھ سمجھتے ہیں عجب کہ ناپاکوں کو پاکوں سے احتراز ہو اور پاك ناپاك سے اختلاط رکھیں اور ان کی ایسی اوندھی اندھی چھوت پر بھی غیرت نہ کریں مانا کہ اپنے نفس کے لئے نہ بچیں مگر بیشك حضرات بزرگان دین صلی الله تعالی علیہ وسلم علی سیدھم ومولاھم وعلیہم اجمعین کی نذرونیاز بلکہ عموما وصدقات وامور خیرات میں اس سے احتراز چاہئے کہ یہ امور بامید قبول کیے جاتے ہیں اور حدیث میں ارشاد ہوا:
ان اﷲ طیب لایقبل الاالطیب ۔ بیشك الله عزوجل طیب ہے نہیں قبول فرماتا مگر پاکی ستھری چیز کو۔
تو اگر علم الہی میں ان شیرینیوں کی ناپاکی معاذالله باعث عدم قبول ہوئی کیسا خسارہ ہے۔غرض جہاں تك ممکن ہو ہنود کی ایسی اشیاء سے کھانے پینے عموما اور نذر ونیاز فاتحہ صدقات میں خصوصا احتراز اولی ہے اور جب مسلمان حلوائی بھی موجود ہوں تو خواہ مخواہ ہنود کی طرف جھکنے کی وجہ کیا ہےان سے خریدنے میں علاوہ ان خوبیوں کے یہ کیسا فائدہ ہے کہ اپنے مال کا نفع اپنے بھائی مسلمان ہی کو پہنچافتاوی ذخیرہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے:
یکرہ الاکل والشرب فی اوانی المشرکین قبل الغسل لان الغالب والظاھر من حال اوانیھم النجاسۃ فانھم یستحلون الخمر ویاکلون المیتۃ ولحم الخنزیر ویشربون ذلك ویاکلون فی قصاعھم واوانیھم فیکرہ الاکل والشرب مشرکین کے برتن بغیر دھوئے استعمال کرنا مکروہ ہے اس لئے کہ غالبا ان کے برتن بظاھر ناپاك ہوتے ہیں بایں وجہ کہ وہ شراب پینا حلال جانتے اور مردار اور سور وغیرہ کھاتے ہیں اور اس مقصد کے لئے اپنے برتن استعمال کرتے ہیں لہذا انھیں دھوئے بغیر ان میں کھانا پینا مکروہ ہے۔ظاہر
ان اﷲ طیب لایقبل الاالطیب ۔ بیشك الله عزوجل طیب ہے نہیں قبول فرماتا مگر پاکی ستھری چیز کو۔
تو اگر علم الہی میں ان شیرینیوں کی ناپاکی معاذالله باعث عدم قبول ہوئی کیسا خسارہ ہے۔غرض جہاں تك ممکن ہو ہنود کی ایسی اشیاء سے کھانے پینے عموما اور نذر ونیاز فاتحہ صدقات میں خصوصا احتراز اولی ہے اور جب مسلمان حلوائی بھی موجود ہوں تو خواہ مخواہ ہنود کی طرف جھکنے کی وجہ کیا ہےان سے خریدنے میں علاوہ ان خوبیوں کے یہ کیسا فائدہ ہے کہ اپنے مال کا نفع اپنے بھائی مسلمان ہی کو پہنچافتاوی ذخیرہ وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے:
یکرہ الاکل والشرب فی اوانی المشرکین قبل الغسل لان الغالب والظاھر من حال اوانیھم النجاسۃ فانھم یستحلون الخمر ویاکلون المیتۃ ولحم الخنزیر ویشربون ذلك ویاکلون فی قصاعھم واوانیھم فیکرہ الاکل والشرب مشرکین کے برتن بغیر دھوئے استعمال کرنا مکروہ ہے اس لئے کہ غالبا ان کے برتن بظاھر ناپاك ہوتے ہیں بایں وجہ کہ وہ شراب پینا حلال جانتے اور مردار اور سور وغیرہ کھاتے ہیں اور اس مقصد کے لئے اپنے برتن استعمال کرتے ہیں لہذا انھیں دھوئے بغیر ان میں کھانا پینا مکروہ ہے۔ظاہر
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب ان اسم الصدقۃ یقع الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۶،€السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب صلٰوۃ الاستستقاء باب الخروج من المظالم دارصادر بیروت ∞۳/ ۳۴۶€
فیھا قبل الغسل اعتبارا للظاھر کما کرہ الترضئ بسور الدجاجۃ المخلاۃ لانھا لاتتوقی عن النجاسۃ فی الغالب الا ان الاصل فی الاشیاء الطہارۃ وتشککنا فی النجاسۃ فلم تثبت النجاسۃ بالشك ھذا حاصل ماذکر عن الذخیرۃ ۔ حال کا اعتبار کرتے ہوئے جیسے اس مرغی کے جھوٹے سے وضو کرنا مکروہ ہے جو گلی کوچوں میں آزاد پھرنے والی ہے اس لئے کہ وہ گندگی سے محفوظ نہیں ہوتی البتہ اصل اشیاء میں طہارت ہوتی ہے اور ہمیں نجاست کامحض شك ہوجائے تو شك سے نجاست ثابت نہیں ہوتی خلاصہ از ذخیرہ مذکور ہوا۔(ت)
نصاب الاحتساب میں ہے:
قال العبد اصلحہ اﷲ تعالی وما اتبلینا من شراء السمن والخل واللبن و الجبن وسائر المائعات من الھنود علی ھذا الاحتمال تلویث اواینھم وان نسائھم لاتتوقین عن السرقین وکذا یاکلون لحم ماقتلوہ وذلك میتۃ فالا باحۃ فتوی والتحرز تقوی اھ ملخصا واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب۔ بندہ کہتاہے کہ الله تعالی اس کی اصلاح فرمائے اور ہم گھیسرکہپنیردودھ اور دیگر تمام سیال چیزیں ہندؤوں سے خریدتے ہیں۔ان کی عورتیں گوبروغیرہ سے پرہیز نہیں کرتیں اور ہندو لوگ بغیر ذبح کئے مارڈالے جانے والے جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں اس لئے ان کے برتنوں کے ناپاك ہونے کا احتمال ہوتاہے ان کے برتنوں کے استعمال کی اباحت ہمارے لئے بربتائے فتوی ہے جب کہ ان سے پرہیز کرنا تقوی ہے ملخصا۔الله تعالی پاك برتر اور خوب جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۸: از پیلی بھیت محلہ پکریا مرسلہ شیخ عبدالوہاب صاحب ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
حامی دین ومفتی شرع متین جناب مولوی محمد احمد رضاخاں صاحب انار الله برہانہ بعد سلام علیك ورحمۃ الله غرض ہے کہ مسئلہ حل طلب ارسال حضور ہے براہ کرم جلد جواب سے مشرف فرمائےبعد ختم بیان ولادت جناب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اگر پنج آیت پرھ کر شیرینی تقسیم کی جائے تو جائز ہے یاناجائز اعتراض یہ ہے کہ پنج آیت مخصوص محفل غم کے واسطے ہیں نہ کہ محفل شادی کے
نصاب الاحتساب میں ہے:
قال العبد اصلحہ اﷲ تعالی وما اتبلینا من شراء السمن والخل واللبن و الجبن وسائر المائعات من الھنود علی ھذا الاحتمال تلویث اواینھم وان نسائھم لاتتوقین عن السرقین وکذا یاکلون لحم ماقتلوہ وذلك میتۃ فالا باحۃ فتوی والتحرز تقوی اھ ملخصا واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب۔ بندہ کہتاہے کہ الله تعالی اس کی اصلاح فرمائے اور ہم گھیسرکہپنیردودھ اور دیگر تمام سیال چیزیں ہندؤوں سے خریدتے ہیں۔ان کی عورتیں گوبروغیرہ سے پرہیز نہیں کرتیں اور ہندو لوگ بغیر ذبح کئے مارڈالے جانے والے جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں اس لئے ان کے برتنوں کے ناپاك ہونے کا احتمال ہوتاہے ان کے برتنوں کے استعمال کی اباحت ہمارے لئے بربتائے فتوی ہے جب کہ ان سے پرہیز کرنا تقوی ہے ملخصا۔الله تعالی پاك برتر اور خوب جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۸: از پیلی بھیت محلہ پکریا مرسلہ شیخ عبدالوہاب صاحب ۱۵ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
حامی دین ومفتی شرع متین جناب مولوی محمد احمد رضاخاں صاحب انار الله برہانہ بعد سلام علیك ورحمۃ الله غرض ہے کہ مسئلہ حل طلب ارسال حضور ہے براہ کرم جلد جواب سے مشرف فرمائےبعد ختم بیان ولادت جناب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اگر پنج آیت پرھ کر شیرینی تقسیم کی جائے تو جائز ہے یاناجائز اعتراض یہ ہے کہ پنج آیت مخصوص محفل غم کے واسطے ہیں نہ کہ محفل شادی کے
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ النوع الرابع ∞مکتبہ نوریہ رضویہ لائلپور ۲/ ۷۱۲€
نصاب الاحتساب
نصاب الاحتساب
چنانچہ سوم میں بعد ختم کلام مجید پنج آیت پڑھ کے شیرینی تقسیم کرتے ہیں محفل میلاد میں پرھنا موجب کراہت ہے بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
پنج آیت میں شادی وغمی کا تفرقہ اور اسے مجلس غم سے مخصوص ماننا محض باطل وبے اصل ہے صحابہ کرام کی عادت کریمہ تھی جب کسی مجلس میں جمع ہوتے کسی سے کچھ آیات کلام مجید پڑھ کر سنتےعالمگیریہ میں ہے:
لوقرأ طمعا فی الدنیا فی المجالس یکرہ وان قرأ لوجہ اﷲ تعالی لایکرہ وقد کان اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ واصحابہ اذاجتمعوا امروا احدھم ان یقرأسورۃ من القران کذا فی الغرائب ۔ اگر دنیوی لالچ اور طمع کی بنا پر مجلس میں قرآن مجید پڑھا جائے تو یہ مکروہ ہے۔اور اگر الله تعالی کی رضا جوئی کے لئے پڑھا جائے تو مکروہ نہیں اور بے شك اصحاب رسول(صلی الله تعالی علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم)جب کسی مجلس میں جمع ہوتے تو اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایك کو فرمایا کرتے تھے کہ وہ قرآن مجید کی کوئی سورت تلاوت کرے۔یونہ غرائب میں ہے۔(ت)
حدیث میں ہے حضور پر نور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ھذا القران مأدبۃ اﷲ فاقبلوا مادبتہ ما استطعتم رواہ الحاکم وصححہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بیشك یہ قرآن الله عزوجل کی طرف سے تمھاری دعوت ہے تو جہاں تك ہوسکے اس کی دعوت قبول کرو(حاکم نے حضرت عبدالله ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے اسے روایت کرکے اس کی تصحیح فرمائی۔ت)
دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
کل مؤدب یحب ان یؤتی ادبہ وادب اﷲ القران فلا تھجروہ(رواہ ہر دعورت کرنے والا دوست رکھتا ہے کہ لوگ اس کی دعورت میں آئیں اور الله عزوجل کا خوان نعمت قرآن ہے تو اسے نہ چھوڑو(اس کی
الجواب:
پنج آیت میں شادی وغمی کا تفرقہ اور اسے مجلس غم سے مخصوص ماننا محض باطل وبے اصل ہے صحابہ کرام کی عادت کریمہ تھی جب کسی مجلس میں جمع ہوتے کسی سے کچھ آیات کلام مجید پڑھ کر سنتےعالمگیریہ میں ہے:
لوقرأ طمعا فی الدنیا فی المجالس یکرہ وان قرأ لوجہ اﷲ تعالی لایکرہ وقد کان اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ واصحابہ اذاجتمعوا امروا احدھم ان یقرأسورۃ من القران کذا فی الغرائب ۔ اگر دنیوی لالچ اور طمع کی بنا پر مجلس میں قرآن مجید پڑھا جائے تو یہ مکروہ ہے۔اور اگر الله تعالی کی رضا جوئی کے لئے پڑھا جائے تو مکروہ نہیں اور بے شك اصحاب رسول(صلی الله تعالی علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم)جب کسی مجلس میں جمع ہوتے تو اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایك کو فرمایا کرتے تھے کہ وہ قرآن مجید کی کوئی سورت تلاوت کرے۔یونہ غرائب میں ہے۔(ت)
حدیث میں ہے حضور پر نور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ھذا القران مأدبۃ اﷲ فاقبلوا مادبتہ ما استطعتم رواہ الحاکم وصححہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بیشك یہ قرآن الله عزوجل کی طرف سے تمھاری دعوت ہے تو جہاں تك ہوسکے اس کی دعوت قبول کرو(حاکم نے حضرت عبدالله ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ سے اسے روایت کرکے اس کی تصحیح فرمائی۔ت)
دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
کل مؤدب یحب ان یؤتی ادبہ وادب اﷲ القران فلا تھجروہ(رواہ ہر دعورت کرنے والا دوست رکھتا ہے کہ لوگ اس کی دعورت میں آئیں اور الله عزوجل کا خوان نعمت قرآن ہے تو اسے نہ چھوڑو(اس کی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۶€
المستدرک للحاکم کتاب فضائل القرآن القرآن مأدبۃاللہ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۵۵۵€
المستدرک للحاکم کتاب فضائل القرآن القرآن مأدبۃاللہ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۵۵۵€
البیہقی عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ)۔ امام بیہقی نے حضرت سمرہ بن جندب رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
کیا الله عزوجل کی دعوت قبول کرنا اور اس کے خوان نعمت سے بہرہ مند ہونا صرف غمی میں چاہئے شادی میں نہیںلاجرم مجلس میلاد مبارك میں تلاوت قرآن مجید ہمشہ سے معمول علمائے کرام و بلاد اسلام ہے۔ امام جلال الملۃ والدین سیوطی رحمۃ الله تعالی نے اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:
اصل المولد الذی ھو اجتماع الناس و قرأۃ ماتیسر من القران وروایۃ الاخبار الواردۃ فی مبدأ امر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماوقع فیہ من الایات الخ۔ میلاد شریف کی اصل لوگوں کا مجمع ہوناقرآن مجید کا تلاوت کیا جانااور ان آیات واحادیث و روایات کو بیان کرنا ہے جو آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں وارد ہوئی ہیں الخ۔(ت)
امام حافظ ابن حجر عسقلانی استخراج اصل عمل مولد مبارك میں فرماتے ہیں:
والشکر ﷲ تعالی یحصل بانواع العبادۃ کالسجود و الصیام والصدقۃ والتلاوۃ وای نعمۃ اعظم من النعمۃ ببروز ھذا النبی الکریم نبی الرحمۃ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی ذلك الیوم ۔ الله تعالی کا شکر کئی قسم کی عبادات مثلا صیامسجودتلاوت صدقہ خیرات وغیرہ کے ذریعے ادا ہوجاتاہے اور نبی کریم جو رحمت والے نبی ہیں ان کے ظہور سے بڑی نعمت اور کون سی ہوسکتی ہے۔(ت)
سیرت علامہ شامی میں ہے:
عمل المولد الذی استحسناہ فانہ لیس فیہ شیئ سوی قرأۃ القران واطعام الطعام وذلك خیر وبرو قربۃ ۔ میلاد شریف منانا کہ جس کو ہم نے مستحسن قرار دیا ہے اس میں قرآن مجید کی تلاوت(ذکر خدا وذکر رسول)اور کھانا کھلانے کے اہتمام کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔اور یہ کام تو کار خیر ہے اورنیکی وقربت الہی کا ذیعہ ہے۔(ت)
کیا الله عزوجل کی دعوت قبول کرنا اور اس کے خوان نعمت سے بہرہ مند ہونا صرف غمی میں چاہئے شادی میں نہیںلاجرم مجلس میلاد مبارك میں تلاوت قرآن مجید ہمشہ سے معمول علمائے کرام و بلاد اسلام ہے۔ امام جلال الملۃ والدین سیوطی رحمۃ الله تعالی نے اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں:
اصل المولد الذی ھو اجتماع الناس و قرأۃ ماتیسر من القران وروایۃ الاخبار الواردۃ فی مبدأ امر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماوقع فیہ من الایات الخ۔ میلاد شریف کی اصل لوگوں کا مجمع ہوناقرآن مجید کا تلاوت کیا جانااور ان آیات واحادیث و روایات کو بیان کرنا ہے جو آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کی شان میں وارد ہوئی ہیں الخ۔(ت)
امام حافظ ابن حجر عسقلانی استخراج اصل عمل مولد مبارك میں فرماتے ہیں:
والشکر ﷲ تعالی یحصل بانواع العبادۃ کالسجود و الصیام والصدقۃ والتلاوۃ وای نعمۃ اعظم من النعمۃ ببروز ھذا النبی الکریم نبی الرحمۃ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی ذلك الیوم ۔ الله تعالی کا شکر کئی قسم کی عبادات مثلا صیامسجودتلاوت صدقہ خیرات وغیرہ کے ذریعے ادا ہوجاتاہے اور نبی کریم جو رحمت والے نبی ہیں ان کے ظہور سے بڑی نعمت اور کون سی ہوسکتی ہے۔(ت)
سیرت علامہ شامی میں ہے:
عمل المولد الذی استحسناہ فانہ لیس فیہ شیئ سوی قرأۃ القران واطعام الطعام وذلك خیر وبرو قربۃ ۔ میلاد شریف منانا کہ جس کو ہم نے مستحسن قرار دیا ہے اس میں قرآن مجید کی تلاوت(ذکر خدا وذکر رسول)اور کھانا کھلانے کے اہتمام کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔اور یہ کام تو کار خیر ہے اورنیکی وقربت الہی کا ذیعہ ہے۔(ت)
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ھب عن سمرۃ رضی اللہ عنہ ∞حدیث ۲۲۸۶€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱/ ۵۱۴€
الحاوی للفتاوٰی حسن المقصد فی عمل المولد دارالفکر بیروت ∞۱/ ۱۸۹€
الحاوی للفتاوٰی بحوالہ ابن حجر حسن المقصد فی عمل المولد دارالفکر بیروت ∞۱/ ۱۹۶€
الحاوی للفتاوٰی بحوالہ سیرت الشامی حسن المقصد فی عمل المولد دارالکتب بیروت ∞۱/ ۱۹۵€
الحاوی للفتاوٰی حسن المقصد فی عمل المولد دارالفکر بیروت ∞۱/ ۱۸۹€
الحاوی للفتاوٰی بحوالہ ابن حجر حسن المقصد فی عمل المولد دارالفکر بیروت ∞۱/ ۱۹۶€
الحاوی للفتاوٰی بحوالہ سیرت الشامی حسن المقصد فی عمل المولد دارالکتب بیروت ∞۱/ ۱۹۵€
غرض اس مجلس ملائك مانس کے مجلس شادی ہونے کے سبب اس میں قرأت پنج آیت پرانکار محض بے معنی ہے۔
نعم حیث یکون منھا اھداؤ ثوابھا للحضرۃ العلیۃ النبویۃ علیہ افضل الصلوۃ والسلام والتحیۃ فھذا و ان کان مما نازع فیہ ابن تیمیۃ ووافقہ بعض لکن الحق الصحیح ماعلیہ الجمہور من جواز ذلك منھم الامام الاجل تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی والامام البارزی والامام ابن عقیلی الحنبلی والامام الاجل العارف باﷲ علی ابن الموفق والامام ابوالعباس محمد بن اسحق السراج النیشاپوری و الامام سلطان العلماء عزالدین بن عبدالسلام والامام ابن حجر المکی کما فی عقود الدریۃ والامام النویری والامام شہاب الدین احمد بن الشلبی الحنفی کما فی ردالمحتار وشیخ الاسلام القایاتی والامام شرف الدین المناوی والامام کمال الدین محمد بن الھمام المحقق المجتھد کما یستفاد منہ الامام العارف باﷲ ابوالمواھب سیدی محمد الشاذلی والامام العارف عبدالوھاب الشعرانی کما سیأتی وغیرھم من العلماء الاجلۃ المتقدمین والمتأخرین ہاں البتہ جہاں آیات مبارك کا ثواب بطور ہدیہ بارگاہ عالیہ نبویہ میں پہنچا نا مقصو دہواس میں اگر چہ حافظ ابن تیمیہ اور ان کے بعض موافقین نے نزاع اور اختلاف کیا ہے مگر حق اور صحیح بات یہی ہے جس پر ائمہ جمہور قائم ہیں کہ آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کو کلام پاك کا ثواب پہنچانا جائز ہے۔ جن بزرگوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے ان میں(۱)جلیل القدر امام تقی الدین علی بن عبدالکافی سبکی(شافعی)ہیں (۲)امام بارزی(۳)امام ابن عقیلی حنبلی(۴)امام کبیر عارف بالله علی بن موفق(۵)ابوالعباس امام محمد بن اسحق سراج نیشاپوری(۶)سلطان العلماء امام عزالدین بن عبدالسلام (۷)امام ابن حجر مکی جیسا کہ عقود الدریہ میں ہے۔(۸)امام نویری(۹)امام شہاب الدین احمد بن شلبی حنفی جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے(۱۰)شیخ الاسلام امام قایانی(۱۱)امام شرف الدین مناوی(۱۲)امام کمال الدین محمد ابن ہمام محقق ومجتہد جیسا کہ ان کے کلام سے مستفاد ہوتاہے(۱۳)عارف بالله امام ابوالمواہب سیدی محمد شاذلی(۱۴)امام عارف عبدالوہاب شعرانی جیسا کہ عنقریب ذکر ہوگا۔ان کے علاوہ دیگر جلیل القدر علماء کرام متقدمین ومتأخرین
نعم حیث یکون منھا اھداؤ ثوابھا للحضرۃ العلیۃ النبویۃ علیہ افضل الصلوۃ والسلام والتحیۃ فھذا و ان کان مما نازع فیہ ابن تیمیۃ ووافقہ بعض لکن الحق الصحیح ماعلیہ الجمہور من جواز ذلك منھم الامام الاجل تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی والامام البارزی والامام ابن عقیلی الحنبلی والامام الاجل العارف باﷲ علی ابن الموفق والامام ابوالعباس محمد بن اسحق السراج النیشاپوری و الامام سلطان العلماء عزالدین بن عبدالسلام والامام ابن حجر المکی کما فی عقود الدریۃ والامام النویری والامام شہاب الدین احمد بن الشلبی الحنفی کما فی ردالمحتار وشیخ الاسلام القایاتی والامام شرف الدین المناوی والامام کمال الدین محمد بن الھمام المحقق المجتھد کما یستفاد منہ الامام العارف باﷲ ابوالمواھب سیدی محمد الشاذلی والامام العارف عبدالوھاب الشعرانی کما سیأتی وغیرھم من العلماء الاجلۃ المتقدمین والمتأخرین ہاں البتہ جہاں آیات مبارك کا ثواب بطور ہدیہ بارگاہ عالیہ نبویہ میں پہنچا نا مقصو دہواس میں اگر چہ حافظ ابن تیمیہ اور ان کے بعض موافقین نے نزاع اور اختلاف کیا ہے مگر حق اور صحیح بات یہی ہے جس پر ائمہ جمہور قائم ہیں کہ آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم کو کلام پاك کا ثواب پہنچانا جائز ہے۔ جن بزرگوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے ان میں(۱)جلیل القدر امام تقی الدین علی بن عبدالکافی سبکی(شافعی)ہیں (۲)امام بارزی(۳)امام ابن عقیلی حنبلی(۴)امام کبیر عارف بالله علی بن موفق(۵)ابوالعباس امام محمد بن اسحق سراج نیشاپوری(۶)سلطان العلماء امام عزالدین بن عبدالسلام (۷)امام ابن حجر مکی جیسا کہ عقود الدریہ میں ہے۔(۸)امام نویری(۹)امام شہاب الدین احمد بن شلبی حنفی جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے(۱۰)شیخ الاسلام امام قایانی(۱۱)امام شرف الدین مناوی(۱۲)امام کمال الدین محمد ابن ہمام محقق ومجتہد جیسا کہ ان کے کلام سے مستفاد ہوتاہے(۱۳)عارف بالله امام ابوالمواہب سیدی محمد شاذلی(۱۴)امام عارف عبدالوہاب شعرانی جیسا کہ عنقریب ذکر ہوگا۔ان کے علاوہ دیگر جلیل القدر علماء کرام متقدمین ومتأخرین
رحمۃ اﷲ علیھم اجمعین۔ ہیں۔الله تعالی ان سب پر فردا فردا رحمت فرمائے۔(ت)
فتاوی حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے:
مایفعلہ الناس الان من سوالھم من اﷲ تعالی ان یوصل مثل ثواب مایقرؤون الی النبی علیہ الصلوۃ والسلام وآلہ وصحبہ وتابعیھم حسن لا اعتراض علیہ خلاف لمن زعمہ کما بینتہ فی افتاء طویل غیرھذا اقول: وزیادہ لفظ مثل علی مذھب الشافعیہ اما عند نافلا حاجۃ الیھا کما قدعرفت فی موضعہ ۔ اب جو کچھ لوگ کرتے ہیں کہ الله تعالی سے سوال کیا جاتاہے کہ جوکچھ وہ پڑھتے ہیں الله تعالی اس کی مثل کا ثواب نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلمان کی سب اولادان کے سب ساتھیوں اور ان کے تابعین کو پہنچادےتویہ ایك اچھا طریقہ ہے پس اس پر کسی اعتراض اور اشکال کی گنجائش نہیںالبتہ اختلاف اس میں اس نے کیا ہے جس نے اس کو جائز نہیں سمجھا جیسا کہ اس کے علاوہ میں نے ایك طویل فتوی میں اس کو بیان کیا ہے_________میں کہتاہوں لفظ"مثل"کا اضافہ شوافع کے مذہب کے مطابق ہے ورنہ ہمارے نزدیك اس اضافہ کی کوئی ضرورت نہیں جیسا کہ تم اپنی جگہ اس کو پہچان چکے ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ذکر ابن حجر فی الفتاوی الفقھیہ ان الحافظ ابن تیمیۃ زعم منع اھداء ثواب القراء ۃ للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لان جنابہ الرفیع لایتجری علیہ الابما اذن فیہ الا تری ان ابن عمر کان یعتمر عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عمرا بعد علامہ ابن حجر نے اپنے فقہی فتاوی میں ذکر فرمایا حافظ ابن تیمیہ نے یہ گمان کیاہے کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کو قراءت کے ثواب کا ہدیہ پیش کرنا منع ہے اس لئے کہ ان کی بلند پایہ ذات پر وہی جرأت کی جاسکتی ہے جس کی ان کے بارے میں اجازت دی گئی ہے [لیکن یہ نظریہ باطل ہے] کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضرت عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما نے آپ کے
فتاوی حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے:
مایفعلہ الناس الان من سوالھم من اﷲ تعالی ان یوصل مثل ثواب مایقرؤون الی النبی علیہ الصلوۃ والسلام وآلہ وصحبہ وتابعیھم حسن لا اعتراض علیہ خلاف لمن زعمہ کما بینتہ فی افتاء طویل غیرھذا اقول: وزیادہ لفظ مثل علی مذھب الشافعیہ اما عند نافلا حاجۃ الیھا کما قدعرفت فی موضعہ ۔ اب جو کچھ لوگ کرتے ہیں کہ الله تعالی سے سوال کیا جاتاہے کہ جوکچھ وہ پڑھتے ہیں الله تعالی اس کی مثل کا ثواب نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلمان کی سب اولادان کے سب ساتھیوں اور ان کے تابعین کو پہنچادےتویہ ایك اچھا طریقہ ہے پس اس پر کسی اعتراض اور اشکال کی گنجائش نہیںالبتہ اختلاف اس میں اس نے کیا ہے جس نے اس کو جائز نہیں سمجھا جیسا کہ اس کے علاوہ میں نے ایك طویل فتوی میں اس کو بیان کیا ہے_________میں کہتاہوں لفظ"مثل"کا اضافہ شوافع کے مذہب کے مطابق ہے ورنہ ہمارے نزدیك اس اضافہ کی کوئی ضرورت نہیں جیسا کہ تم اپنی جگہ اس کو پہچان چکے ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ذکر ابن حجر فی الفتاوی الفقھیہ ان الحافظ ابن تیمیۃ زعم منع اھداء ثواب القراء ۃ للنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لان جنابہ الرفیع لایتجری علیہ الابما اذن فیہ الا تری ان ابن عمر کان یعتمر عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عمرا بعد علامہ ابن حجر نے اپنے فقہی فتاوی میں ذکر فرمایا حافظ ابن تیمیہ نے یہ گمان کیاہے کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کو قراءت کے ثواب کا ہدیہ پیش کرنا منع ہے اس لئے کہ ان کی بلند پایہ ذات پر وہی جرأت کی جاسکتی ہے جس کی ان کے بارے میں اجازت دی گئی ہے [لیکن یہ نظریہ باطل ہے] کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضرت عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما نے آپ کے
حوالہ / References
الفتاوٰی الحدیثیہ
موتہ من غیر وصیۃ وحج ابن الموفق وھو فی طبقۃ الجنید عنہ سبعین حجۃ وختم ابن السراج عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکثر من عشر الاف ختمۃ وضحی عنہ مثل ذلك اھ قلت و رأیت نحو ذلك بخط مفتی الحنفیۃ الشہاب احمد بن الشلبی شیخ البحر نقلا عن شرح الطیبۃ للنویری ومن جملۃ مانقلہ ان ابن عقیل من الحنابلۃ قال یستحب اھداؤھا لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قلت واقول علماءنا لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ یدخل فیہ النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فانہ احق بذلك حیث انقذنا من الضلالۃ ففی ذلك نوع شکر واھداء جمیل لہ و الکامل قابل الزیادۃ الکمال الخ۔ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وصیت کے بغیر آپ کے وصال کے آپ کی طرف سے کئی عمرے کئےاور حضرت علی بن موفق جو طائفہ جنیدیہ میں سے ہیںنے آپ کی طرف سے ستر حج ادا کئےاور ابن سراج نے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طرف سے دس ہزار سے زائد ختم قرآن مجید کئے اوردس ہزار سے زائد حضور کی طرف سے قربانیاں کیںمیں کہتاہوں کہ میں نے اس طرح مفتی احناف شہاب احمد بن شلبی صحاب بحرالرائق کے استاذ کے اپنے خط سے لکھا ہوا دیکھا ہے کہ جو انھوں نے"طیبہ"کی شرح امام نویری سے نقل فرمائی ہے جو کچھ انھوں نے نقل کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حنابلہ میں سے علامہ ابن عقیل نے فرمایا کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کو تلاوت قرآن مجید کا ثواب بطور ہدیہ پیش کرنا مستحب ہے اھمیں کہتاہوں ہمارے علمائے کرام کرام کا یہ فرمانا کہ آدمی کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے عمل صالح کا ثواب کسی دوسرے کردے سکتاہے [پس اس عموم میں] حضور نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم بھی داخل ہیں کیونکہ آپ اس کے زیادہ لائق اور مستحق ہیں کہ آپ نے ہمیں ہر نوع کی گمراہی سے بچایا اور چھڑایااس میں ایك گونہ شکر بھی پایاجاتا ہے اور یہ آپ کے لئے خوبصورت ہدیہ ہے اور کامل زیادت کمال کو قبول کرتاہے۔الخ(ت)
لواقع الانوار فی طبقات الاخیار ذکر سیدی ابوالمواہب قدسی سرہمیں ہے:
کان رضی اﷲ تعالی عنہ یقول حضرت ابوالمواہب رضی الله تعالی عنہ فرماتے تھے
لواقع الانوار فی طبقات الاخیار ذکر سیدی ابوالمواہب قدسی سرہمیں ہے:
کان رضی اﷲ تعالی عنہ یقول حضرت ابوالمواہب رضی الله تعالی عنہ فرماتے تھے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۰۶۔۶۰۵€
رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال لی انت تشفع لمائۃ الف قلت لہ بم استو جبت ذلك یا رسول اﷲ قال باعطائك لی ثواب الصلاۃ علی ۔ کہ میں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو دیکھاحضور اقدس نے مجھ سے فرمایا کہ قیامت کے دن تم ایك لاکھ بندوں کی شفاعت کرو گےمیں نے عرض کی:یا رسول الله صلی الله تعالی علیك وسلم ! میں کیسے اس قابل ہوا! ارشاد ہوا:تم مجھ پر جو درود پڑھتے ہو اس کا ثواب مجھے دے ڈالتے ہو(یہ شان اس اس نیك اور اعلی عمل کا نتیجہ ہے)۔(ت)
اسی میں ہے:
کان رضی اﷲ تعالی عنہ یقول رأیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقلت یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیك وسلم قدوھبت لك ثواب صلاتی علیك و ثواب کذا وکذا من اعمالی ان کان ذلك ما اردتہ بقولك للسائل الذی قال لک(افاجعل لك ثواب صلاتی کلھا فقلت لہ ذا تکفی ھمك ویغفرلك ذنبک) فقال لی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نعم ذلك اردت ولکن ابق لنفسك ثواب الکذا والکذا فانی غنی عنہ ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ وہ فرماتے تھے(الله تعالی ان سے راضی ہو)میں نے حضور نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی زیارت کی اورآپ کی خدمت میں عرض کی کہ اے الله کے رسول! میں آپ پر جو درود پڑھتاہوں میں نے اس کا ثوآپ کو بخش دیا اور اپنے فلاں فلاں عمل کا ثواب بھی بخش دیااگر آپ نے یہی ارادہ کیا تھا اپنے قول سے اس سائل کے لئے جس نے آپ سے عرض کی تھی کیا میں اپنے پڑھے ہوئے تمام درود کا ثواب آپ کو دے ڈالوں تو آپ نے اس سے فرمایا پھر تو یہ تیرے غموں کے لئے کفایت کرے گا اور تیرے گناہ بخش دئے جائیں گے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں میں نے یہی ارادہ کیا تھا لیکن تو اپنی ذات کے لئے اتنا اتنا ثواب باقی رہنے دے کیونکہ میں اس سے بے نیاز ہوںاور الله تعالی پاکبرتر اور خوب اچھی طرح جاننے والا ہے اور اس بڑی عزت والے کا علم نہایت درجہ کامل اور بڑاپختہ ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
کان رضی اﷲ تعالی عنہ یقول رأیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقلت یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیك وسلم قدوھبت لك ثواب صلاتی علیك و ثواب کذا وکذا من اعمالی ان کان ذلك ما اردتہ بقولك للسائل الذی قال لک(افاجعل لك ثواب صلاتی کلھا فقلت لہ ذا تکفی ھمك ویغفرلك ذنبک) فقال لی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نعم ذلك اردت ولکن ابق لنفسك ثواب الکذا والکذا فانی غنی عنہ ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ وہ فرماتے تھے(الله تعالی ان سے راضی ہو)میں نے حضور نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی زیارت کی اورآپ کی خدمت میں عرض کی کہ اے الله کے رسول! میں آپ پر جو درود پڑھتاہوں میں نے اس کا ثوآپ کو بخش دیا اور اپنے فلاں فلاں عمل کا ثواب بھی بخش دیااگر آپ نے یہی ارادہ کیا تھا اپنے قول سے اس سائل کے لئے جس نے آپ سے عرض کی تھی کیا میں اپنے پڑھے ہوئے تمام درود کا ثواب آپ کو دے ڈالوں تو آپ نے اس سے فرمایا پھر تو یہ تیرے غموں کے لئے کفایت کرے گا اور تیرے گناہ بخش دئے جائیں گے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں میں نے یہی ارادہ کیا تھا لیکن تو اپنی ذات کے لئے اتنا اتنا ثواب باقی رہنے دے کیونکہ میں اس سے بے نیاز ہوںاور الله تعالی پاکبرتر اور خوب اچھی طرح جاننے والا ہے اور اس بڑی عزت والے کا علم نہایت درجہ کامل اور بڑاپختہ ہے۔(ت)
حوالہ / References
لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ذکر الشیخ محمد ابوالمواہب مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۷۳و ۷۵€
لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ذکر الشیخ محمد ابوالمواہب مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۷۳و ۷۵€
لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ذکر الشیخ محمد ابوالمواہب مصطفی البابی ∞مصر ۱/ ۷۳و ۷۵€
مسئلہ ۲۹ و ۳۰: از محمد گنج ضلع بریلی مرسلہ عبدالقادر خاں صاحب رامپوری ۱۹ ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)تین برس کے بچے کی فاتحہ دو جے کی ہونا چاہئے یا سوئم کی ہونا چاہئے
(۲)اگر کسی کھانے پر یا شرینی پربچے کی فاتحہ دے کر مسکینوں کو کھلادے تب اس کھانے کی فاتحہ یا شیرینی کامیت کو ثواب ملے گا یا نہیں۔جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)شریعت میں ثواب پہنچانا ہے دوسرے دن ہو خواہ تیسرے دنباقی یہ تعیین عرفی ہیں جب چاہیں کریں انھیں دنوں کی گنتی شرعی جاننا جہالت ہے وبدعت عــــــہ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
(۲)ضرور جائز ہے اور بیشك ثواب پہنچتاہے اہلسنت کا یہی مذہب ہے
والصبی لاشك انہ من اھل الثواب ونصوص الحدیث وارشادات العلماء مطلقۃ لاتخصیص فیھا واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ اس میں کوئی شك نہیں کہ بچہ اہل ثواب میں سے ہے (کیونکہ)حدیث شریف کی تصریحات اور علمائے کرام کے ارشادات اس میں بارے میں علمائے کرام کے ارشادات اس بارے میں مطلق مذکور ہیں(کوئی قید مذکور نہیں۔ مترجم) کہ جن میں کوئی تخصیص نہیںاور الله تعالی پاك برتر اور سب سے زیادہ جاننے والا ہے(ت)
مسئلہ ۳۱: مسئولہ حافظ محمود حسین ۹ جمادی الاولی ۱۳۱۶ھ
نقالوں کو دینا جیسا کہ تقریب نکاح وغیرہ میں آتے اور گھیرتے ہیں اور مانگتے ہیں دینا ان کو
عــــــہ: ایك نجدی شخص رامپور سے آیا منافقانہ سنی بن کر بعض استفتا کئے جن کا جواب اسی جلد میں تھا دارالافتاء سے اسے یہ جلد دی گئی کہ جواب نقل کرلےاس نے یہ لفظ"بدعت"اضافہ کیا ہے سطر میں جگہ نہ پائی تو نیچے اور بین السطور ہیںفتاوی گنگوہی حصہ اول میں یہ فتوی مع اضافہ مفتری نقل کیا اور عبارت"جہالت ہے وبدعت"غلط تھی جس سے ہر ذی عقل نے بھی لیا کہ یہ عبارت فتاوی رضویہ کی نہیں لہذا براہ چالا کی کہ وہابیہ کی شعار ہے اسے یوں بنالیا"جہالت وبدعت ہے"مسلمانو! وہابیہ کے یہ شیوے ہیں ۱۲۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)تین برس کے بچے کی فاتحہ دو جے کی ہونا چاہئے یا سوئم کی ہونا چاہئے
(۲)اگر کسی کھانے پر یا شرینی پربچے کی فاتحہ دے کر مسکینوں کو کھلادے تب اس کھانے کی فاتحہ یا شیرینی کامیت کو ثواب ملے گا یا نہیں۔جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)شریعت میں ثواب پہنچانا ہے دوسرے دن ہو خواہ تیسرے دنباقی یہ تعیین عرفی ہیں جب چاہیں کریں انھیں دنوں کی گنتی شرعی جاننا جہالت ہے وبدعت عــــــہ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
(۲)ضرور جائز ہے اور بیشك ثواب پہنچتاہے اہلسنت کا یہی مذہب ہے
والصبی لاشك انہ من اھل الثواب ونصوص الحدیث وارشادات العلماء مطلقۃ لاتخصیص فیھا واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ اس میں کوئی شك نہیں کہ بچہ اہل ثواب میں سے ہے (کیونکہ)حدیث شریف کی تصریحات اور علمائے کرام کے ارشادات اس میں بارے میں علمائے کرام کے ارشادات اس بارے میں مطلق مذکور ہیں(کوئی قید مذکور نہیں۔ مترجم) کہ جن میں کوئی تخصیص نہیںاور الله تعالی پاك برتر اور سب سے زیادہ جاننے والا ہے(ت)
مسئلہ ۳۱: مسئولہ حافظ محمود حسین ۹ جمادی الاولی ۱۳۱۶ھ
نقالوں کو دینا جیسا کہ تقریب نکاح وغیرہ میں آتے اور گھیرتے ہیں اور مانگتے ہیں دینا ان کو
عــــــہ: ایك نجدی شخص رامپور سے آیا منافقانہ سنی بن کر بعض استفتا کئے جن کا جواب اسی جلد میں تھا دارالافتاء سے اسے یہ جلد دی گئی کہ جواب نقل کرلےاس نے یہ لفظ"بدعت"اضافہ کیا ہے سطر میں جگہ نہ پائی تو نیچے اور بین السطور ہیںفتاوی گنگوہی حصہ اول میں یہ فتوی مع اضافہ مفتری نقل کیا اور عبارت"جہالت ہے وبدعت"غلط تھی جس سے ہر ذی عقل نے بھی لیا کہ یہ عبارت فتاوی رضویہ کی نہیں لہذا براہ چالا کی کہ وہابیہ کی شعار ہے اسے یوں بنالیا"جہالت وبدعت ہے"مسلمانو! وہابیہ کے یہ شیوے ہیں ۱۲۔
شرعا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اگر انھیں ممنوعات شرعیہ سے اپنے یہاں باز رکھا جائے اور بغیر کسی امر ممنوع شرعی کی اجرت کے احسانا دیا جائے تو جائز ہے بلکہ اگر اس نیت سے دیں کہ یہ مسلمان اس مال حلال کو پاکر اکل حلال سے بہرہ مند ہوں اور شاید اس کی برکت سے الله تعالی ان کو تو بہ نصیب فرمائے تو محمود وحسن وباعث اجر ہے۔صحیح بخاری وصحیح مسلم کی حدیث:
اللھم لك الحمد علی زانیۃ اللھم لك الحمد علی سارق ۔ یا اللہ! تیرے لئے ہی تعریف وثنا ہے کہ مال توبدکار کے ہاتھ میں گیااے اللہ! تیرے ہی لئے حمد وستائش کہ مال تو چور کے ہاتھ لگ گیا۔(ت)
اس پر شاہد عدل ہے اس صورت میں دینے والے کو دینا اور لینے والے کو لینا حلال وطیب ہےعالمگیری وغیرہ میں اس کی تصریح ہے اور اگر یہ صورت ہے کہ نہ دے گا تو اسے مطعون کرتے پھرینگے اس کا مضحکہ اڑائیں گے جیساکہ ان کی عادت سے معروف ومشہور ہے تو اس صورت میں بھی اپنے تحفظ کے لئے دینا جائز وحلال ہے اگر چہ انھیں لینا حرام ہے اس کے جواز پر وہ حدیث شاہد کہ ایك شاعر نے بارگاہ رسالت میں آکر سوال کیا حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے بلال رضی الله تعالی عنہ کو ارشاد فرمایا:
اقطع عنی لسانہ ۔ میری طرف سے اس کی زبان کاٹ دے۔
درمختار وغیرہا میں بھی اس کا جواز مصرح ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲: پختنی حلوہ شب برات کی کیا تخصیص ہے
الجواب:
یہ تخصیص عرفی ہے لازم شرعی نہیں۔ہاں اگر کوئی جاہل اسے شرعا لازم جانے کہ بے حلوے کے
الجواب:
اگر انھیں ممنوعات شرعیہ سے اپنے یہاں باز رکھا جائے اور بغیر کسی امر ممنوع شرعی کی اجرت کے احسانا دیا جائے تو جائز ہے بلکہ اگر اس نیت سے دیں کہ یہ مسلمان اس مال حلال کو پاکر اکل حلال سے بہرہ مند ہوں اور شاید اس کی برکت سے الله تعالی ان کو تو بہ نصیب فرمائے تو محمود وحسن وباعث اجر ہے۔صحیح بخاری وصحیح مسلم کی حدیث:
اللھم لك الحمد علی زانیۃ اللھم لك الحمد علی سارق ۔ یا اللہ! تیرے لئے ہی تعریف وثنا ہے کہ مال توبدکار کے ہاتھ میں گیااے اللہ! تیرے ہی لئے حمد وستائش کہ مال تو چور کے ہاتھ لگ گیا۔(ت)
اس پر شاہد عدل ہے اس صورت میں دینے والے کو دینا اور لینے والے کو لینا حلال وطیب ہےعالمگیری وغیرہ میں اس کی تصریح ہے اور اگر یہ صورت ہے کہ نہ دے گا تو اسے مطعون کرتے پھرینگے اس کا مضحکہ اڑائیں گے جیساکہ ان کی عادت سے معروف ومشہور ہے تو اس صورت میں بھی اپنے تحفظ کے لئے دینا جائز وحلال ہے اگر چہ انھیں لینا حرام ہے اس کے جواز پر وہ حدیث شاہد کہ ایك شاعر نے بارگاہ رسالت میں آکر سوال کیا حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے بلال رضی الله تعالی عنہ کو ارشاد فرمایا:
اقطع عنی لسانہ ۔ میری طرف سے اس کی زبان کاٹ دے۔
درمختار وغیرہا میں بھی اس کا جواز مصرح ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲: پختنی حلوہ شب برات کی کیا تخصیص ہے
الجواب:
یہ تخصیص عرفی ہے لازم شرعی نہیں۔ہاں اگر کوئی جاہل اسے شرعا لازم جانے کہ بے حلوے کے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب ثبوت اجر المتصدق الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۹€
السنن الکبرٰی کتاب الشہادات باب ماجاء فی اعطاء الشعراء دارا صادر بیروت ∞۱۰/ ۲۴۱€
السنن الکبرٰی کتاب الشہادات باب ماجاء فی اعطاء الشعراء دارا صادر بیروت ∞۱۰/ ۲۴۱€
ثواب نہ پہنچے گا تو وہ خطا پر ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳:از بنگالہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك موضع میں ایك شخص نے کمال جدودجہد سے ایك مدرسہ اس طور پر قائم کیا کہ از راہ تسہیل امر اطراف کے لوگوں سے استدعا کی کہ جے مرتبہ گھروں میں کھانا روزانہ پکایا جایا کرے وے مرتبہ ایك مٹھی ہر اجناس سے یعنی چاول وغیرہ علیحدہ ذخیرہ کردیا کریں اور ختم ماہ پر مدرسہ کے مصارف میں دے دیا کریںاسی طرح مدت سے یہ مدرسہ جاری ہے اب یہ اعتراض پیدا ہوا ہے کہ یہ طریقہ ناجائزہے بلکہ غیر الله یا شرك یا بدعۃ کے مشابہ ہے۔پس دینے والوں اور تائیدکرنے والوں کو گنہگار بتاتے ہیں آیا عمل مذکورہ شرعا جائز ہے یانہیں اگر جائز ہے تو دہندہ اور تائید کنندہ اس عمل کا مستحق عذاب ہوگا یا ثواب اگر مستحق عذاب ہوتو اس امر نیك کے باز رکھنے والے اور کارخیر کے روکنے والے پر حسب شرع شریف کیا حکم ہے کیا وہ صورت مذکورہ مشابہ غیر الله یا شرك یا بدعت کے ہوتی ہے یا نہیں اگر بدعۃ ہو تو کسی قسم کی بدعۃ ہے بادلائل قرآن اور احادیث اور اقوال علماء اور ائمہ مجتہدین مستنبطین کے بیان فرمایا جائے۔ بینوا توجروا عنداللہ(بیان فرماؤ تاکہ تم الله تعالی کے ہاں اجر وثواب کے مستحق بن جاؤ۔ت)
الجواب:
صورت مذکورہ بلا شبہہ جائز مستحب ومندوب ہے۔اور اس طرح اعانت مدرسہ کرنے والے اور جولوگ اس اعانت پرمؤید ہوئے سب کے لئے اجر جزیل وثواب جمیل ہے جبکہ وہ مدرستہ مدرسہ دینیہ اور دینے والوں تائید کرنے والے کی نیت محمودہ ہو اسے بدعت کہنا گناہ بتانا سخت جہالت بلکہ امر محمود شرعی کی تحریم ومذمت ہے اور اسے " " وما اہل بہ لغیر اللہ (الله تعالی نے تم پر حرام کردیا)وہ جانور جسے ذبح کرتے ہوئے اس پر غیر الله کا نام پکارا گیا۔ت)سمجھنا جسے جاہلان بے خبر صرف لغیر الله کہا کرتے نرا جنون ہے۔جب علم دین کی اعانت وتائید معاذالله غیر اﷲ کے لئے ٹھہرے تو وہ کون سی چیز ہے جو الله کے لئے ہوگیایسے جہال سے پوچھا جائے کہ عبادت تو الله کے لئے ہے یا اسے بھی غیر الله کے لئے جانتے ہو۔جب وہ الله کے لئے ہے تو علم دین تو اس سے بھی بہتر و افضل ہے وہ کیونکر غیرالله کے لئے ہوسکتا ہے۔متعدد حدیثوں میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم
مسئلہ ۳۳:از بنگالہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك موضع میں ایك شخص نے کمال جدودجہد سے ایك مدرسہ اس طور پر قائم کیا کہ از راہ تسہیل امر اطراف کے لوگوں سے استدعا کی کہ جے مرتبہ گھروں میں کھانا روزانہ پکایا جایا کرے وے مرتبہ ایك مٹھی ہر اجناس سے یعنی چاول وغیرہ علیحدہ ذخیرہ کردیا کریں اور ختم ماہ پر مدرسہ کے مصارف میں دے دیا کریںاسی طرح مدت سے یہ مدرسہ جاری ہے اب یہ اعتراض پیدا ہوا ہے کہ یہ طریقہ ناجائزہے بلکہ غیر الله یا شرك یا بدعۃ کے مشابہ ہے۔پس دینے والوں اور تائیدکرنے والوں کو گنہگار بتاتے ہیں آیا عمل مذکورہ شرعا جائز ہے یانہیں اگر جائز ہے تو دہندہ اور تائید کنندہ اس عمل کا مستحق عذاب ہوگا یا ثواب اگر مستحق عذاب ہوتو اس امر نیك کے باز رکھنے والے اور کارخیر کے روکنے والے پر حسب شرع شریف کیا حکم ہے کیا وہ صورت مذکورہ مشابہ غیر الله یا شرك یا بدعت کے ہوتی ہے یا نہیں اگر بدعۃ ہو تو کسی قسم کی بدعۃ ہے بادلائل قرآن اور احادیث اور اقوال علماء اور ائمہ مجتہدین مستنبطین کے بیان فرمایا جائے۔ بینوا توجروا عنداللہ(بیان فرماؤ تاکہ تم الله تعالی کے ہاں اجر وثواب کے مستحق بن جاؤ۔ت)
الجواب:
صورت مذکورہ بلا شبہہ جائز مستحب ومندوب ہے۔اور اس طرح اعانت مدرسہ کرنے والے اور جولوگ اس اعانت پرمؤید ہوئے سب کے لئے اجر جزیل وثواب جمیل ہے جبکہ وہ مدرستہ مدرسہ دینیہ اور دینے والوں تائید کرنے والے کی نیت محمودہ ہو اسے بدعت کہنا گناہ بتانا سخت جہالت بلکہ امر محمود شرعی کی تحریم ومذمت ہے اور اسے " " وما اہل بہ لغیر اللہ (الله تعالی نے تم پر حرام کردیا)وہ جانور جسے ذبح کرتے ہوئے اس پر غیر الله کا نام پکارا گیا۔ت)سمجھنا جسے جاہلان بے خبر صرف لغیر الله کہا کرتے نرا جنون ہے۔جب علم دین کی اعانت وتائید معاذالله غیر اﷲ کے لئے ٹھہرے تو وہ کون سی چیز ہے جو الله کے لئے ہوگیایسے جہال سے پوچھا جائے کہ عبادت تو الله کے لئے ہے یا اسے بھی غیر الله کے لئے جانتے ہو۔جب وہ الله کے لئے ہے تو علم دین تو اس سے بھی بہتر و افضل ہے وہ کیونکر غیرالله کے لئے ہوسکتا ہے۔متعدد حدیثوں میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۷۳€
فرماتے ہیں:
العلم افضل من العبادۃ رواہ الخطیب وابن عبداﷲ فی کتاب العلم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
العلم خیر من العبادۃ ابوعمر فیہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
العلم افضل من العمل البیھقی فی الشعب عن البعض الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔
العلم خیر من العمل ابوالشیخ عن عبادۃ الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ۔ علم عبادت سے افضل ہے(اس کو خطیب نے روایت کیا اور ابن عبدالله نے کتاب العلم میں حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے اس کی روایت کی۔ت)
علم عبادت سے بہتر ہے۔(ابوعمر نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ کے حوالہ سے ذکرکیا ہے۔ت)
علم عمل سے افضل ہے(امام بیہقی نے شعب الایمان میں بعض صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم سے اسے روایت کیا۔ت)
علم عمل سے بہتر ہے(ابوالشیخ نے حضرت عبادہ بن صامت رضی الله تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
وفی الباب احادیث یعسرا حصاؤھا(اس باب میں احادیث کا شمار مشکل ہے۔ت)امور خیر کے لئے مسلمانوں سے اس طرح چندہ کرنا بدعت نہیں بلکہ سنت ہے ثابت ہے جو لوگ اس سے روکتے ہیں " مناع للخیر معتد اثیـم ﴿۱۲﴾" (بھلائی اور امور خیر سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا اور گنہگا رہے۔ت)میں داخل ہوتے ہیں۔صحیحین میں جریر رضی الله تعالی عنہ
العلم افضل من العبادۃ رواہ الخطیب وابن عبداﷲ فی کتاب العلم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔
العلم خیر من العبادۃ ابوعمر فیہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
العلم افضل من العمل البیھقی فی الشعب عن البعض الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم۔
العلم خیر من العمل ابوالشیخ عن عبادۃ الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ۔ علم عبادت سے افضل ہے(اس کو خطیب نے روایت کیا اور ابن عبدالله نے کتاب العلم میں حضرت ابن عباس رضی الله تعالی عنہما سے اس کی روایت کی۔ت)
علم عبادت سے بہتر ہے۔(ابوعمر نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ کے حوالہ سے ذکرکیا ہے۔ت)
علم عمل سے افضل ہے(امام بیہقی نے شعب الایمان میں بعض صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم سے اسے روایت کیا۔ت)
علم عمل سے بہتر ہے(ابوالشیخ نے حضرت عبادہ بن صامت رضی الله تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
وفی الباب احادیث یعسرا حصاؤھا(اس باب میں احادیث کا شمار مشکل ہے۔ت)امور خیر کے لئے مسلمانوں سے اس طرح چندہ کرنا بدعت نہیں بلکہ سنت ہے ثابت ہے جو لوگ اس سے روکتے ہیں " مناع للخیر معتد اثیـم ﴿۱۲﴾" (بھلائی اور امور خیر سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا اور گنہگا رہے۔ت)میں داخل ہوتے ہیں۔صحیحین میں جریر رضی الله تعالی عنہ
حوالہ / References
تاریخ بغداد للخطیب ∞ترجمہ ۲۳۳۸€ احمد بن محمد ابن الخفاف دارالکتب العربیہ بیروت ∞۴/ ۴۳۶،€جامع بیان العلم وفضلہ باب تفضیل العلم من العبادۃ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۲۷€
جامع بیان العلم وفضلہ باب تفضیل العلم من العبادۃ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۲۷€
شعب الایمان ∞حدیث ۳۸۸۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳/ ۴۰۳€
کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ عن عبادہ بن صامت مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۰/۱۸۲€
القرآن الکریم ∞۶۸/ ۱۲€
جامع بیان العلم وفضلہ باب تفضیل العلم من العبادۃ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۲۷€
شعب الایمان ∞حدیث ۳۸۸۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳/ ۴۰۳€
کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ عن عبادہ بن صامت مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۰/۱۸۲€
القرآن الکریم ∞۶۸/ ۱۲€
سے ہے کچھ برہنہ پا برہنہ بدن صرف ایك کملی کفنی کی طرح چیر کر گلے میں ڈالے خدمت اقدس حضور پر نور سید عالم صلی الله صلی الله تعالی علیہ وسلم میں حاضر ہوئے حضور پر نور رحمت عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان کی محتاجی دیکھی چہرہ انور کا رنگ بدل گیا۔بلا رضی الله تعالی عنہ کو اذان کاحکم بعد نماز خطبہ فرمایا بعد تلاوت آیات ارشاد کیا:
تصدق رجل من دینارہ من ورھمۃ من ثوبہ من صاع برہ من صاع تمرۃ حتی قال ولوبشق تمرۃ۔ کوئی شخص اپنی اشرفی سے صدقہ کرے کوئی روپے سے کوئی کپڑے سےکوئی اپنے قلیل گیہوں سے کوئی اپنے تھوڑے چھوہاروں سےیہاں تك فرمایا:اگر چہ آدھا چھوہارا۔
اس ارشاد کو سن کر ایك انصاری رضی الله تعالی عنہ روپوں کو تھیلا اٹھالائے جس کے اٹھانے میں ان کے ہاتھ تك گئے پھر لوگ پے د ر پے صدقات لانے لگے یہاں تك کہ دو انبار کھانے اور کپڑے کے ہوگئے یہاں تك کہ میں نے دیکھا کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا چہرہ انور خوشی کے باعث کندن کی طرح دمکنے لگا اور ارشاد فرمایا:
من سن لی الاسلام سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجر من عمل بھا بعدہ من غیر ان ینقص من جورھم شیئ ۔ جو شخص اسلام میں کوئی اچھی راہ نکالے اس کے لئے اس کا ثواب ہے اور اس کے بعدجتنے لوگ اس راہ پر عمل کریں گے سب کا ثواب اس کے لئے ہے بغیر اس کے کہ ان کے ثوابوں میں کچھ کمی ہو۔
غزوہ تبوك وغیرہ میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا مسلمانوں کو حکم صدقات دینا اور ہر ایك کا کثیر وقلیل حسب مقدرت حاضر لانا منافقین کا تھوڑالانے والوں پر اعتراض کرنا کہ الله تعالی اس کے صدقہ سے غنی ہے زیادہ لانے والوں پر اعتراض کرنا کہ یہ ریاء کے لئے ہے اور اس پر آیہ کریمہ:
"الذین یلمزون المطوعین من المؤمنین فی الصدقت والذین بے شك لوگ ان ایمانداروں پر جو اپنے دل کے شوق اور خوشی سے خیرات کرتے ہیں الزام
تصدق رجل من دینارہ من ورھمۃ من ثوبہ من صاع برہ من صاع تمرۃ حتی قال ولوبشق تمرۃ۔ کوئی شخص اپنی اشرفی سے صدقہ کرے کوئی روپے سے کوئی کپڑے سےکوئی اپنے قلیل گیہوں سے کوئی اپنے تھوڑے چھوہاروں سےیہاں تك فرمایا:اگر چہ آدھا چھوہارا۔
اس ارشاد کو سن کر ایك انصاری رضی الله تعالی عنہ روپوں کو تھیلا اٹھالائے جس کے اٹھانے میں ان کے ہاتھ تك گئے پھر لوگ پے د ر پے صدقات لانے لگے یہاں تك کہ دو انبار کھانے اور کپڑے کے ہوگئے یہاں تك کہ میں نے دیکھا کہ رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کا چہرہ انور خوشی کے باعث کندن کی طرح دمکنے لگا اور ارشاد فرمایا:
من سن لی الاسلام سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجر من عمل بھا بعدہ من غیر ان ینقص من جورھم شیئ ۔ جو شخص اسلام میں کوئی اچھی راہ نکالے اس کے لئے اس کا ثواب ہے اور اس کے بعدجتنے لوگ اس راہ پر عمل کریں گے سب کا ثواب اس کے لئے ہے بغیر اس کے کہ ان کے ثوابوں میں کچھ کمی ہو۔
غزوہ تبوك وغیرہ میں حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا مسلمانوں کو حکم صدقات دینا اور ہر ایك کا کثیر وقلیل حسب مقدرت حاضر لانا منافقین کا تھوڑالانے والوں پر اعتراض کرنا کہ الله تعالی اس کے صدقہ سے غنی ہے زیادہ لانے والوں پر اعتراض کرنا کہ یہ ریاء کے لئے ہے اور اس پر آیہ کریمہ:
"الذین یلمزون المطوعین من المؤمنین فی الصدقت والذین بے شك لوگ ان ایمانداروں پر جو اپنے دل کے شوق اور خوشی سے خیرات کرتے ہیں الزام
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب الخف علی الصدقۃ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۷،€سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ باب التحریض علی الصدقۃ ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۵۶۔۳۵۵€
لایجدون الا جہدہم" لگاتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی نشانہ طعن بنانے ہیں جو اپنی محنت وکوشش سے جو کچھ حاصل کرپاتے ہیں راہ خدا میں خرچ کردیتے ہیں۔(ت)
کانازل ہوناایك بار یوہیں صدقات کا چندہ ہونا اس کا انبار ہوجاناایك صحابی کا صرف ایك خوشہ لانا حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا اسے سب سے اوپر رکھنا وغیرہ وغیرہ وقائع کثیرہ صحاح وغیرہا کتب احادیث میں مذکور ومشہور ہے۔والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴ تا ۳۶: ۲۱ ربیع الاول ۱۳۲۳ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بروز پنچشنبہ فاتحہ اور کھانے کا ثواب میت کی روح کو بخش کو جو کچھ ممکن ہو سکے مساکینوں کوبھی دے دیا جائے اس کی نسبت کیا حکم ہے
(۲)میت کے سیم میں چنوں پر کلمہ شریف پڑھنا اور پھر ان کو اور بتاشوں کو تقسیم کرنا چاہئے یانہیں
(۳)میت کے سیم کے چنے وبتاشے سوائے مساکین کے دوسرے کو لینا اور کھانا چاہئے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)جائز اورمستحسن ہے اور باعث اجروثواب ہے اس کے لئے بھی اور اس میت مسلمان کے لئے بھیاور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۔ جوکوئی تم میں سے اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکے تو اسے نفع پہنچائے(ت)
(۲و ۳)جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ صرف مساکین کو دئے جائیں اغنیاء کا نہ لینا بہتر ہے۔والله تعالی اعلم۔
کانازل ہوناایك بار یوہیں صدقات کا چندہ ہونا اس کا انبار ہوجاناایك صحابی کا صرف ایك خوشہ لانا حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کا اسے سب سے اوپر رکھنا وغیرہ وغیرہ وقائع کثیرہ صحاح وغیرہا کتب احادیث میں مذکور ومشہور ہے۔والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴ تا ۳۶: ۲۱ ربیع الاول ۱۳۲۳ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بروز پنچشنبہ فاتحہ اور کھانے کا ثواب میت کی روح کو بخش کو جو کچھ ممکن ہو سکے مساکینوں کوبھی دے دیا جائے اس کی نسبت کیا حکم ہے
(۲)میت کے سیم میں چنوں پر کلمہ شریف پڑھنا اور پھر ان کو اور بتاشوں کو تقسیم کرنا چاہئے یانہیں
(۳)میت کے سیم کے چنے وبتاشے سوائے مساکین کے دوسرے کو لینا اور کھانا چاہئے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)جائز اورمستحسن ہے اور باعث اجروثواب ہے اس کے لئے بھی اور اس میت مسلمان کے لئے بھیاور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۔ جوکوئی تم میں سے اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکے تو اسے نفع پہنچائے(ت)
(۲و ۳)جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ صرف مساکین کو دئے جائیں اغنیاء کا نہ لینا بہتر ہے۔والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۹/ ۷۹€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۳۱۵،€صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیہ من العین الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۳€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۳۱۵،€صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیہ من العین الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۳€
مسئلہ ۳۷: از سرونج مسئولہ جناب محمد عبدالرشید خان صاحب ۱۹ محرم الحرام ۱۳۲۱ھ
زید کے پاس روپیہ کچھ روپیہ تو جو حلال کا ہے اور کچھ ناجائز کا روپیہ اکٹھا جمع ہے زید یہ بات بھول گیا ہے کہ اس روپے میں جائز طور کا کتنا ہے اور ناجائز طور کا کتنا روپیہ ہے۔اب اگر زید اس روپے سے خیرات کرنا چاہئے تو کس طور سےت کرے
الجواب:
تحری کرے زیادہ سے زیادہ تك ناجائز روپیہ اسے حاصل مالکوں یا وارثوں کو واپس دے اگر ان کا پتا نہ ہو تو اس قدر کل تصدق کردے باقی جتنا روپیہ اس کا رہ گیا ہے اس کا یہ مختار ہے تصدق وغیرہ جس صرف میں چاہے اٹھائےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸:
کراچی میں مسلمانوں کا یك یتیم خانہ کھلنے والا ہے جس میں وہابینیچریرافضیلامذہب سب جمع ہیںسنی مسلمانوں کو اس یتیم خانہ میں شامل ہونا چاہئے یانہیں اوراگر فی سبیل الله زکوۃ خیرات کی مد سے اس یتیم خانے مین چندہ دیا تو زکوۃ ادا ہوئی یا نہیں اور وہ چندہ باعث ثواب ہوا یاموجب عذاب بینوا توجروا
الجواب:
اس میں احتمالا دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ یتیموں وتربیت کا تمام اتنظام صرف اہلسنت کے ہاتھوں میں رہے کسی بدمذہب کا اس میں دخل نہ ہونہ ان کی صحبت بچوں کو رہے کہ وہ انھیں اغوا کرسکیں صرف بالائی باتوں میں ان کی شرکت ہودوسرے یہ کہ ان امور میں بھی انھیں مداخلت دی جائے یا کم از کم ان کی صحبت بد رہے جس سے بچوں کی گمراہی مظنہ ہوصورت ثانیہ تو مطلقا قطعی حرام وبدخواہی اسلام ہے اور اس میں چندہ دینا موجب عذاب وآثاراور صورت اولی شاید محض ایك خیالی ہو واقع کبھی نہ ہو کہ جب وہ برابر کے شریك ہیں ہر کام میں برابر کی شرکت چاہیں گے کیا وجہ ہے کہ وہ نرے غلام بن کررہنے پر راضی ہوں اور بغرض باطل اگر ایسا ہو بھی تو ان کی صحبت بد سے کیونکر مفر اور علماء تصریح فرماتے ہیں:
ان الاحکام تبنی علی الغالب ولایعتبر النادر فضلا عن الموھوم کما فی احکامغالب حالات پر مبنی ہواکرتے ہیں لہذا کسی نادر صورت کا اعتبار نہیں کیا جاتا چہ جائیکہ کسی رسمی اور فرضی صورت کا اعتبار ہو
زید کے پاس روپیہ کچھ روپیہ تو جو حلال کا ہے اور کچھ ناجائز کا روپیہ اکٹھا جمع ہے زید یہ بات بھول گیا ہے کہ اس روپے میں جائز طور کا کتنا ہے اور ناجائز طور کا کتنا روپیہ ہے۔اب اگر زید اس روپے سے خیرات کرنا چاہئے تو کس طور سےت کرے
الجواب:
تحری کرے زیادہ سے زیادہ تك ناجائز روپیہ اسے حاصل مالکوں یا وارثوں کو واپس دے اگر ان کا پتا نہ ہو تو اس قدر کل تصدق کردے باقی جتنا روپیہ اس کا رہ گیا ہے اس کا یہ مختار ہے تصدق وغیرہ جس صرف میں چاہے اٹھائےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸:
کراچی میں مسلمانوں کا یك یتیم خانہ کھلنے والا ہے جس میں وہابینیچریرافضیلامذہب سب جمع ہیںسنی مسلمانوں کو اس یتیم خانہ میں شامل ہونا چاہئے یانہیں اوراگر فی سبیل الله زکوۃ خیرات کی مد سے اس یتیم خانے مین چندہ دیا تو زکوۃ ادا ہوئی یا نہیں اور وہ چندہ باعث ثواب ہوا یاموجب عذاب بینوا توجروا
الجواب:
اس میں احتمالا دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ یتیموں وتربیت کا تمام اتنظام صرف اہلسنت کے ہاتھوں میں رہے کسی بدمذہب کا اس میں دخل نہ ہونہ ان کی صحبت بچوں کو رہے کہ وہ انھیں اغوا کرسکیں صرف بالائی باتوں میں ان کی شرکت ہودوسرے یہ کہ ان امور میں بھی انھیں مداخلت دی جائے یا کم از کم ان کی صحبت بد رہے جس سے بچوں کی گمراہی مظنہ ہوصورت ثانیہ تو مطلقا قطعی حرام وبدخواہی اسلام ہے اور اس میں چندہ دینا موجب عذاب وآثاراور صورت اولی شاید محض ایك خیالی ہو واقع کبھی نہ ہو کہ جب وہ برابر کے شریك ہیں ہر کام میں برابر کی شرکت چاہیں گے کیا وجہ ہے کہ وہ نرے غلام بن کررہنے پر راضی ہوں اور بغرض باطل اگر ایسا ہو بھی تو ان کی صحبت بد سے کیونکر مفر اور علماء تصریح فرماتے ہیں:
ان الاحکام تبنی علی الغالب ولایعتبر النادر فضلا عن الموھوم کما فی احکامغالب حالات پر مبنی ہواکرتے ہیں لہذا کسی نادر صورت کا اعتبار نہیں کیا جاتا چہ جائیکہ کسی رسمی اور فرضی صورت کا اعتبار ہو
فتح القدیر وغیرہ۔ جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں مذکور ہے۔(ت)
لہذا حکم وہی ہے کہ ایسی کھچڑی مطلقا حرام ہے اور اس کی اعانت ہر طرح ناجائزمعہذا اگر فرض کرلیں کہ صورت اولی واقع ہو تو اس میں اہلسنت کو ان بے دینوں کی مجالست مصاحبت توقیر سے چارہ نہ ہوگا اوریہ خود حرام ہے۔قال اﷲ تعالی:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔(ت)
اور حدیث میں ہے:
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔ جس نے کسی بدعتی آدمی کی تعظیم کی اس نے بلا شبہہ اسلام کے گرانے(مٹانے)پر امداد کی۔(ت)
رہی زکوۃ اگر بطور چندہ دی گئی اور چندہ میں خلط کرلی گئی اور عام مصارف میں بلالحاظ تملیك فقیر اٹھتی رہی جب تو ہر گز ادا نہ ہوگی اگرچہ یتیم خانہ خاص اہلسنت کا ہو۔
لماصرحوا بہ ان رکنھا التملیك فلا تجوز فی بناء مسجد اوتکفین میت وغیر ذلك وصرحوا ان الخلط استھلك فلا تتادی بہ کما فی الفتاوی العالمگیریۃ وغیرھا۔ اس لئے کہ ائمہ فقہ نے اس مسئلہ کی تصریح فرمائی کہ زکوۃ کارکن تملیك ہے(یعنی زکوۃ لینے والے کو مال زکوۃ کا مالك بنا دینا)لہذا تعمیر مسجد اور تکفین میت اور اس نوع کی دوسری صورتوں میں زکوۃ جائز نہ ہوگی(اس لئے کہ ان میں تملیك نہیں پائی جاتی)اور یہ بھی انھوں نے تصریح فرمائی کہ ایك مال کو دوسرے مال میں خلط کرنا یعنی ملانا اسے نیست ونابود کردینا ہے لہذاس سے زکوۃ ادا نہ ہوگیجیسا کہ فتاوی عالمگیری وغیر میں مزکور ہے۔(ت)
اور اگر بطور زکوۃ دی جائے اور جدا رکھی جائے اور یتیموں فقیروں کے قبضہ میں دے کہ تملیك
لہذا حکم وہی ہے کہ ایسی کھچڑی مطلقا حرام ہے اور اس کی اعانت ہر طرح ناجائزمعہذا اگر فرض کرلیں کہ صورت اولی واقع ہو تو اس میں اہلسنت کو ان بے دینوں کی مجالست مصاحبت توقیر سے چارہ نہ ہوگا اوریہ خود حرام ہے۔قال اﷲ تعالی:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔(ت)
اور حدیث میں ہے:
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔ جس نے کسی بدعتی آدمی کی تعظیم کی اس نے بلا شبہہ اسلام کے گرانے(مٹانے)پر امداد کی۔(ت)
رہی زکوۃ اگر بطور چندہ دی گئی اور چندہ میں خلط کرلی گئی اور عام مصارف میں بلالحاظ تملیك فقیر اٹھتی رہی جب تو ہر گز ادا نہ ہوگی اگرچہ یتیم خانہ خاص اہلسنت کا ہو۔
لماصرحوا بہ ان رکنھا التملیك فلا تجوز فی بناء مسجد اوتکفین میت وغیر ذلك وصرحوا ان الخلط استھلك فلا تتادی بہ کما فی الفتاوی العالمگیریۃ وغیرھا۔ اس لئے کہ ائمہ فقہ نے اس مسئلہ کی تصریح فرمائی کہ زکوۃ کارکن تملیك ہے(یعنی زکوۃ لینے والے کو مال زکوۃ کا مالك بنا دینا)لہذا تعمیر مسجد اور تکفین میت اور اس نوع کی دوسری صورتوں میں زکوۃ جائز نہ ہوگی(اس لئے کہ ان میں تملیك نہیں پائی جاتی)اور یہ بھی انھوں نے تصریح فرمائی کہ ایك مال کو دوسرے مال میں خلط کرنا یعنی ملانا اسے نیست ونابود کردینا ہے لہذاس سے زکوۃ ادا نہ ہوگیجیسا کہ فتاوی عالمگیری وغیر میں مزکور ہے۔(ت)
اور اگر بطور زکوۃ دی جائے اور جدا رکھی جائے اور یتیموں فقیروں کے قبضہ میں دے کہ تملیك
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب مایفسد الصوم ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کراچی ص۳۷۰€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ∞مجتبائی دہلی ص۳۱،€شعب الایمان ∞حدیث ۹۴۶۴€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۷/ ۶۱€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ∞مجتبائی دہلی ص۳۱،€شعب الایمان ∞حدیث ۹۴۶۴€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۷/ ۶۱€
کردی جائے پھر ان کے مصارف میں اٹھائی جائے تو ادا ہوجائے گی وان کان بعض المنتظمین من غیر اھل الدین(اگر چہ بعض انتظام کرنے والے دیندار نہ ہوں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹:از مقام کیلا کھیڑا تحصیل باندپور ضلع نینی تال مسئولہ عبدالمجید خاں مدرسہ زنانہ بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
جمعرات کی فاتحہ یا بزرگوں کے عرس وغیرہ کا صحیح طور سے تحریر فرمائیں۔زیادہ حد ادب۔
الجواب:
جمعرات کی فاتحہ جائز ہے۔یوہیں عرس اگر منکرات شرعیہ مثل مزامیر وغیرہا سے خالی ہو۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰: مسئولہ ماجد حسین ناظم انجمن تہذیب الاسلام بہرائچ پنجشنبہ ۲ شعبان ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام ومفتیان اعلام اس مسئلہ میں کہ ماہ شعبان کی چودھویں تاریخ کو عوام اہلسنت میں مدت مدید سے دستور چلاآرہا ہے کہ حلوا پکا کر اس پرحضرت اویس قرنی وحضرت حمزہ سید الشہداء رضی الله تعالی عنہما اور اپنے دوسرے خاندانی لوگوں کا فاتحہ کرتے ہیں اور کچھ حصہ محتاجوں کو اور باقی اعزاواقارب میں تقسیم کیا کرتے ہیں اور اس رسم کو لوگ بطور اتباع سلف کرتے ہیںبعض علماء نے اس رسم کو بے اصل اور ہنود کی رسوم کے مشابہ فرماکر روکتے ہیں اور بعض اس رواج کو بے ضرر جان کر منع نہیں فرماتے اور بعض کو اصرار ہے کہ یہ رواج قدیم بے سبب نہیں ہے لہذا تارك کو خاطی کہتے ہیں جواب دندان شکن مفصل مدلل ارشاد فرمایا جائے۔یہ رواج مسلمانوں میں کس زمانہ سے شروع ہوا ہے اور اس کی شریعت اسلامیہ میں کوئی اصلیت ہے یا نہیں فقط
الجواب:
شریعت اسلامیہ میں ایصال ثواب کی اصل ہے اور صدقات مالیہ کا ثواب باجماع ائمہ اہلسنت پہنچتاہے اور تخصیصات عرفیہ کوحدیث نے جائز فرمایا کہ:
صوم یوم السبت لالك ولا علیك ۔ سنیچر کا روزہ نہ تجھے مفید ہے اور نہ تیرے لئے نقصان دہ ہے۔(ت)
مانعین کی یہ جہالت ہے کہ جواز خصوصی کے لئے دلیل خصوصی مانگتے ہیں اور منع خصوص کے لئے
مسئلہ ۳۹:از مقام کیلا کھیڑا تحصیل باندپور ضلع نینی تال مسئولہ عبدالمجید خاں مدرسہ زنانہ بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
جمعرات کی فاتحہ یا بزرگوں کے عرس وغیرہ کا صحیح طور سے تحریر فرمائیں۔زیادہ حد ادب۔
الجواب:
جمعرات کی فاتحہ جائز ہے۔یوہیں عرس اگر منکرات شرعیہ مثل مزامیر وغیرہا سے خالی ہو۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰: مسئولہ ماجد حسین ناظم انجمن تہذیب الاسلام بہرائچ پنجشنبہ ۲ شعبان ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام ومفتیان اعلام اس مسئلہ میں کہ ماہ شعبان کی چودھویں تاریخ کو عوام اہلسنت میں مدت مدید سے دستور چلاآرہا ہے کہ حلوا پکا کر اس پرحضرت اویس قرنی وحضرت حمزہ سید الشہداء رضی الله تعالی عنہما اور اپنے دوسرے خاندانی لوگوں کا فاتحہ کرتے ہیں اور کچھ حصہ محتاجوں کو اور باقی اعزاواقارب میں تقسیم کیا کرتے ہیں اور اس رسم کو لوگ بطور اتباع سلف کرتے ہیںبعض علماء نے اس رسم کو بے اصل اور ہنود کی رسوم کے مشابہ فرماکر روکتے ہیں اور بعض اس رواج کو بے ضرر جان کر منع نہیں فرماتے اور بعض کو اصرار ہے کہ یہ رواج قدیم بے سبب نہیں ہے لہذا تارك کو خاطی کہتے ہیں جواب دندان شکن مفصل مدلل ارشاد فرمایا جائے۔یہ رواج مسلمانوں میں کس زمانہ سے شروع ہوا ہے اور اس کی شریعت اسلامیہ میں کوئی اصلیت ہے یا نہیں فقط
الجواب:
شریعت اسلامیہ میں ایصال ثواب کی اصل ہے اور صدقات مالیہ کا ثواب باجماع ائمہ اہلسنت پہنچتاہے اور تخصیصات عرفیہ کوحدیث نے جائز فرمایا کہ:
صوم یوم السبت لالك ولا علیك ۔ سنیچر کا روزہ نہ تجھے مفید ہے اور نہ تیرے لئے نقصان دہ ہے۔(ت)
مانعین کی یہ جہالت ہے کہ جواز خصوصی کے لئے دلیل خصوصی مانگتے ہیں اور منع خصوص کے لئے
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن الصماء بنت یسر رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ∞۶/ ۳۶۸€
دلیل خصوصی نہیں دیتے ان سے پوچھئے تم جو منع کرتے ہوآیا الله ورسول نے منع کیا ہے یا اپنی طرف سے کہتے ہیں اگر الله تعالی ورسول نے منع فرمایا ہے تو دکھاؤں کہ کون سی آیت وحدیث میں ہے کہ حلوا ممنوع ہے یا حضرت سید الشہداء حمزہ یا حضرت خیر التابعین اویس قرنی رضی الله تعالی عنہما کو اس کا ثواب پہنچانا ممنوع ہے یا اعزہ واحبا میں اس کا تقسیم کرنا ممنوع ہے اور جب نہیں دکھاسکتے تو جو بات الله ورسول نے منع نہیں فرمائی تم اس کے منع کرنے والے کون " اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون ﴿۵۹﴾" (کیا الله تعالی نے تمھیں(اس کی اجازت دی ہے یا تم الله تعالی کے ذمہ جھوٹ لگاتے ہو۔ت)والله تعالی اعلم۔
______________________
______________________
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۰/ ۵۹€
رسالہ
رادالقحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء ۱۳۱۲ھ
(پڑوسیوں کی دعوت اور فقیروں کی غمخواری کے ذریعے قحط اور وباء کو لوٹادینے والا)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۴۱:از کانپور مدرسہ فیض عام مرسلہ مولوی احمد اﷲ تلمیذ مولوی احمد حسن صاحب ۱۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے دیار عــــــہ میں اس طرح کا رواج ہے کہ کوئی بلاد میں ہیضہچیچکوقحط سالی وغیرہ آجائے تو دفع بلا کے واسطے جمیع محلہ والے مل کر فی سبیل اﷲ اپنی اپنی حسب استطاعت چاول گیہوں وپیسہ وغیرہ اٹھا کر کھانا پکاتے ہیں اور مولویوں اور ملاؤں کو بھی دعوت کرکے ان لوگوں کو بھی کھلاتے ہیں اور جمیع محلہ دار بھی کھاتے ہیںآیا اس صورت میں محلہ دار کو طعام مطبوخہ کا کھانا جائز ہوگا یا نہ طعام مطبوخہ کھانے کے لئے مانع وغیر مانع پر کیا حکم دیا جاتاہے بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔)
عــــــہ: یعنی بنگالہ میں کہ یہ سوال کانپورمیں وہیں سے آیا تھا کانپور سے بغرض تحریر جواب بھیجا گیا ۱۲۔
رادالقحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء ۱۳۱۲ھ
(پڑوسیوں کی دعوت اور فقیروں کی غمخواری کے ذریعے قحط اور وباء کو لوٹادینے والا)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۴۱:از کانپور مدرسہ فیض عام مرسلہ مولوی احمد اﷲ تلمیذ مولوی احمد حسن صاحب ۱۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے دیار عــــــہ میں اس طرح کا رواج ہے کہ کوئی بلاد میں ہیضہچیچکوقحط سالی وغیرہ آجائے تو دفع بلا کے واسطے جمیع محلہ والے مل کر فی سبیل اﷲ اپنی اپنی حسب استطاعت چاول گیہوں وپیسہ وغیرہ اٹھا کر کھانا پکاتے ہیں اور مولویوں اور ملاؤں کو بھی دعوت کرکے ان لوگوں کو بھی کھلاتے ہیں اور جمیع محلہ دار بھی کھاتے ہیںآیا اس صورت میں محلہ دار کو طعام مطبوخہ کا کھانا جائز ہوگا یا نہ طعام مطبوخہ کھانے کے لئے مانع وغیر مانع پر کیا حکم دیا جاتاہے بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔)
عــــــہ: یعنی بنگالہ میں کہ یہ سوال کانپورمیں وہیں سے آیا تھا کانپور سے بغرض تحریر جواب بھیجا گیا ۱۲۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمد ﷲ الذی وضع البرکۃ فی جماعۃ الاخوان وقطع الھلکۃ بتواصل الاحباء والجیران و الصلوۃ والسلام علی صاحب الشفاعۃ مجیب الدعوۃ ومحب الجماعۃ دافع البلاد والوباء والقحط و المجاعۃ وعلی الہ وصحبہ و جماعۃ المسلمین وعلینا فیھم یاارحم الراحمین امین امین امین یاربنا امین۔ تما م تعریفیں اس ذات کے لئے جس نے بھائیوں کے اجتماع میں برکت فرمائی اور اہل محبت اور پڑوسیوں کی ملاقات وصلہ میں مصیبت کو قطع فرمایا اور صلوۃ وسلام مالك شفاعت دعوت قبولجماعت سے محبتمصیبت و وبلاء اور بھوك اور قحط کو دفع کرنے والی ذات پر اور ان کی آل واصحاب اور مسلمانوں کی جماعت اور ان کے ساتھ ہم پر یا ارحم الراحمین آمین آمین اے ہمارے رب آمین!
فعل مذکور بقصہ مسطور اور اہل دعوت کو وہ کھانا کھانا شرعا جائز و روا جس کی ممانعت شرع مطہر میں اصلا نہیں۔قال اﷲ تعالی:
" لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا " تم پر کچھ گناہ نہیں کہ کھاؤ مل کر یا الگ الگ۔
تو بے منع شرع ارتکاب ممانعت جہالت وجرأت۔
وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اور میں کہتاہوں اورتوفیق اﷲ سے ہے۔ت)نظر کیجئے تو یہ عمل چند دواؤں کا نسخہ جامعہ ہے کہ اس سے مساکین وفقراء بھی کھائیں گےعلماء وصلحاء بھی عزیز ورشتہ دار بھی قریب واہل جوار بھی تو اس میں بعد وابواب جنت اٹھ خوبیاں ہیں:
(۱)فضیلت صدقہ (۲)خدمت صلحاء (۳)صلہ رحم (۴)مواساۃ جار
(۵)سلوك نیك سے مسلمانوں خصوصا غرباء کا دل خوش کرنا (۶)ان کی مرغوب چیزیں ان کے لئے مہیا کرنا۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمد ﷲ الذی وضع البرکۃ فی جماعۃ الاخوان وقطع الھلکۃ بتواصل الاحباء والجیران و الصلوۃ والسلام علی صاحب الشفاعۃ مجیب الدعوۃ ومحب الجماعۃ دافع البلاد والوباء والقحط و المجاعۃ وعلی الہ وصحبہ و جماعۃ المسلمین وعلینا فیھم یاارحم الراحمین امین امین امین یاربنا امین۔ تما م تعریفیں اس ذات کے لئے جس نے بھائیوں کے اجتماع میں برکت فرمائی اور اہل محبت اور پڑوسیوں کی ملاقات وصلہ میں مصیبت کو قطع فرمایا اور صلوۃ وسلام مالك شفاعت دعوت قبولجماعت سے محبتمصیبت و وبلاء اور بھوك اور قحط کو دفع کرنے والی ذات پر اور ان کی آل واصحاب اور مسلمانوں کی جماعت اور ان کے ساتھ ہم پر یا ارحم الراحمین آمین آمین اے ہمارے رب آمین!
فعل مذکور بقصہ مسطور اور اہل دعوت کو وہ کھانا کھانا شرعا جائز و روا جس کی ممانعت شرع مطہر میں اصلا نہیں۔قال اﷲ تعالی:
" لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا " تم پر کچھ گناہ نہیں کہ کھاؤ مل کر یا الگ الگ۔
تو بے منع شرع ارتکاب ممانعت جہالت وجرأت۔
وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اور میں کہتاہوں اورتوفیق اﷲ سے ہے۔ت)نظر کیجئے تو یہ عمل چند دواؤں کا نسخہ جامعہ ہے کہ اس سے مساکین وفقراء بھی کھائیں گےعلماء وصلحاء بھی عزیز ورشتہ دار بھی قریب واہل جوار بھی تو اس میں بعد وابواب جنت اٹھ خوبیاں ہیں:
(۱)فضیلت صدقہ (۲)خدمت صلحاء (۳)صلہ رحم (۴)مواساۃ جار
(۵)سلوك نیك سے مسلمانوں خصوصا غرباء کا دل خوش کرنا (۶)ان کی مرغوب چیزیں ان کے لئے مہیا کرنا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۶۱€
(۷)مسلمان بھائیوں کو کھانا دینا (۸)مسلمانوں کا کھانے پر مجتمع ہونا۔
اور ان سب امور کو جب بہ نیت صالحہ ہوں باذن اﷲ تعالی رضائےھ خدا عفوو خطاء ودفع بلا میں دخل تام ہے ظاہر ہے کہ قحطوباءہر مصیبت وبلا گناہ کے سبب آتی ہے۔
قال اﷲ تعالی "و ما اصبکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفوا عن کثیر ﴿۳۰﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور تمھیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتاہے۔(ت)
تواسباب مغفرت ورضاورحمت بلا شبہ اس کے عمدہ علاج ہیں۔اب بتوفیق اﷲ تعالی احادیث سنئے:
حدیث ۱:حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الصدقہ لتطفئ غضب الرب و تدفع میتۃ السوءرواہ الترمذی و حسنۃ وابن حبان فی صحیحہ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بیشك صدقہ رب عزوجل کے غضب کو بجھاتا اور بری موت کو دفع کرتاہے(اسے ترمذیاور ابن حبان نے اپنی صحیح میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاترمذی نے اس کی تحسین کی۔ت)
حدیث ۲:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اتقوا لناروالو بشق تمرۃ فانھا تقیم العوج وتدفع میتۃ السوءالحدیث رواہ ابویعلی والبزار عن الصدیق الاکبر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ دوزخ سے بچو اگر چہ آدھا چھوہارا دے کر کہ وہ کجی کو سیدھا اور بری موت کو دور کرتاہے الحدیث(ابویعلی اور بزار نے اسے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اور ان سب امور کو جب بہ نیت صالحہ ہوں باذن اﷲ تعالی رضائےھ خدا عفوو خطاء ودفع بلا میں دخل تام ہے ظاہر ہے کہ قحطوباءہر مصیبت وبلا گناہ کے سبب آتی ہے۔
قال اﷲ تعالی "و ما اصبکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفوا عن کثیر ﴿۳۰﴾" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اور تمھیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتاہے۔(ت)
تواسباب مغفرت ورضاورحمت بلا شبہ اس کے عمدہ علاج ہیں۔اب بتوفیق اﷲ تعالی احادیث سنئے:
حدیث ۱:حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الصدقہ لتطفئ غضب الرب و تدفع میتۃ السوءرواہ الترمذی و حسنۃ وابن حبان فی صحیحہ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بیشك صدقہ رب عزوجل کے غضب کو بجھاتا اور بری موت کو دفع کرتاہے(اسے ترمذیاور ابن حبان نے اپنی صحیح میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاترمذی نے اس کی تحسین کی۔ت)
حدیث ۲:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اتقوا لناروالو بشق تمرۃ فانھا تقیم العوج وتدفع میتۃ السوءالحدیث رواہ ابویعلی والبزار عن الصدیق الاکبر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ دوزخ سے بچو اگر چہ آدھا چھوہارا دے کر کہ وہ کجی کو سیدھا اور بری موت کو دور کرتاہے الحدیث(ابویعلی اور بزار نے اسے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴۲/ ۳۰€
جامع الترمذی ابواب الزکوٰۃ باب ماجاء فی فضل الصدقہ ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۸۴،€کنز العمال بحوالہ ت حب عن انس ∞حدیث ۱۵۹۹۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۳۴۸ و ۳۷۱€
مسند ابی یعلی عن ابی بکر ∞حدیث ۸۰€ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ∞۱/ ۷۵،€کشف الاستار عن زوائد البزار ∞حدیث ۹۳۳€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱/ ۴۴۲€
جامع الترمذی ابواب الزکوٰۃ باب ماجاء فی فضل الصدقہ ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۸۴،€کنز العمال بحوالہ ت حب عن انس ∞حدیث ۱۵۹۹۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۳۴۸ و ۳۷۱€
مسند ابی یعلی عن ابی بکر ∞حدیث ۸۰€ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ∞۱/ ۷۵،€کشف الاستار عن زوائد البزار ∞حدیث ۹۳۳€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱/ ۴۴۲€
حدیث ۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان صدقۃ المسلم تزید فی العمر وتمنع میتۃ السوءرواہ الطبرانی وابوبکر بن مقیم فی جزئہ عن عمرو بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك مسلمان کا صدقہ عمر کو بڑھاتا ہے اور بری موت کو روکتاہے۔(اسے طبرانی اورابوبکر بن مقیم نے اپنی جزء میں عمرو بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۴ و ۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقۃ تطفئ الخطیئۃ وتقی میتۃ السوء رواہ الطبرانی فی الکبیر عن رافع بن مکیث الجہنی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ صدقہ گناہ کو بجھاتاہے اور بری موت سے بچاتاہے(اسے طبرانی نے کبیر میں رافع بن مکیث الجہنی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
دوسری روایت میں ہے:
الصدقۃ تمنع میتۃ السوءرواہ احمد عنہ والقضاعی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ صدقہ بری موت کو روکتا ہے(اسے احمد نے رافع بن مکیث سے اور قضاعی نے ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ لیدرؤ بالصدقۃ سبعین بابا من میتۃ السوءرواہ الامام عبداﷲ بن مبارك فی کتاب البر عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك عزوجل صدقہ کے سبب سے ستر دروازے بری موت کے دفع فرماتاہے(اسے امام عبداﷲ بن مبارك نے کتاب البر میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقۃ تسد سبعین بابا من السوء۔ صدقہ ستر دروازے برائی کے بند کرتاہے۔
ان صدقۃ المسلم تزید فی العمر وتمنع میتۃ السوءرواہ الطبرانی وابوبکر بن مقیم فی جزئہ عن عمرو بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك مسلمان کا صدقہ عمر کو بڑھاتا ہے اور بری موت کو روکتاہے۔(اسے طبرانی اورابوبکر بن مقیم نے اپنی جزء میں عمرو بن عوف رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۴ و ۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقۃ تطفئ الخطیئۃ وتقی میتۃ السوء رواہ الطبرانی فی الکبیر عن رافع بن مکیث الجہنی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ صدقہ گناہ کو بجھاتاہے اور بری موت سے بچاتاہے(اسے طبرانی نے کبیر میں رافع بن مکیث الجہنی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
دوسری روایت میں ہے:
الصدقۃ تمنع میتۃ السوءرواہ احمد عنہ والقضاعی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ صدقہ بری موت کو روکتا ہے(اسے احمد نے رافع بن مکیث سے اور قضاعی نے ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ لیدرؤ بالصدقۃ سبعین بابا من میتۃ السوءرواہ الامام عبداﷲ بن مبارك فی کتاب البر عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك عزوجل صدقہ کے سبب سے ستر دروازے بری موت کے دفع فرماتاہے(اسے امام عبداﷲ بن مبارك نے کتاب البر میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقۃ تسد سبعین بابا من السوء۔ صدقہ ستر دروازے برائی کے بند کرتاہے۔
حوالہ / References
المعجم الکبیر ∞حدیث ۳۱€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۷/۲۲ و ۲۳€
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی فی الکبیر الترغیب فی الصدقۃ ∞حدیث ۴۱€ مصطفی البابی ∞مصر ۲ /۲۱€
کنز العمال بحوالہ القضاعی عن ابی ہریرہ ∞حدیث ۱۵۹۸۱€ موسسۃالرسالہ بیروت ∞۶ /۳۴۵€
الترغیب والترھیب بحوالہ ابن البر فی کتاب البر الترغیب فے الصدقۃ ∞حدیث ۲۱€ مصطفی البابی ∞مصر ۲ /۱۲€
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی فی الکبیر الترغیب فی الصدقۃ ∞حدیث ۴۱€ مصطفی البابی ∞مصر ۲ /۲۱€
کنز العمال بحوالہ القضاعی عن ابی ہریرہ ∞حدیث ۱۵۹۸۱€ موسسۃالرسالہ بیروت ∞۶ /۳۴۵€
الترغیب والترھیب بحوالہ ابن البر فی کتاب البر الترغیب فے الصدقۃ ∞حدیث ۲۱€ مصطفی البابی ∞مصر ۲ /۱۲€
رواہ الطبرانی فی الکبیر عن رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالی عنہ۔ (اسے طبرانی نے کبیر میں رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
حدیث ۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقۃ تمنع سبیعن نوعا من انواع البلاء اھونھا الجذام والبرصرواہ الخطیب عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ صدقہ ستر بلا کو روکتا ہے جن کی آسان تر بدن بگڑنا اور سپید داغ ہیں(والعیاذ باﷲ تعالی)(اسے خطیب نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۹۔۱۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
باکروابالصدقۃ فان البلاء لایخطاھارواہ الطبرانی عن امیر المومنین علی والبیھقی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ صبح تڑکے صدقہ دو کہ بلا صدقہ سے آگے قدم نہیں بڑھاتی (اسے طبرانی نے امیر المومنین حضرت علی اور بیہقی نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقات بالغدوات یذھبن بالعاھات رواہ الدیلمی عن انس رضی اﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ صبح کے صدقے آفتوں کو دفع کردیتے ہیں۔(اس کو ویلمی نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۲:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقۃ تمنع القضاء السوء صدقہ بری قضا کو ٹال دیتاہے۔(اس کو
حدیث ۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقۃ تمنع سبیعن نوعا من انواع البلاء اھونھا الجذام والبرصرواہ الخطیب عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ صدقہ ستر بلا کو روکتا ہے جن کی آسان تر بدن بگڑنا اور سپید داغ ہیں(والعیاذ باﷲ تعالی)(اسے خطیب نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۹۔۱۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
باکروابالصدقۃ فان البلاء لایخطاھارواہ الطبرانی عن امیر المومنین علی والبیھقی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ صبح تڑکے صدقہ دو کہ بلا صدقہ سے آگے قدم نہیں بڑھاتی (اسے طبرانی نے امیر المومنین حضرت علی اور بیہقی نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقات بالغدوات یذھبن بالعاھات رواہ الدیلمی عن انس رضی اﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ صبح کے صدقے آفتوں کو دفع کردیتے ہیں۔(اس کو ویلمی نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۲:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقۃ تمنع القضاء السوء صدقہ بری قضا کو ٹال دیتاہے۔(اس کو
حوالہ / References
المعجم الکبیر عن رافع بن خدیج ∞حدیث ۴۴۰۲€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۴/ ۲۷۴€
تاریخ البغداد ∞ترجمہ ۴۳۲۶€ الحارث بن نعمان دارالکتب العربی بیروت ∞۸/ ۲۰۸€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۵۶۳۹€ مکتبہ المعارف ریاض ∞۶/ ۲۹۹،€السنن الکبرٰی کتاب الزکوٰۃ باب فضل من اصبح صائما الخ دارصادر بیروت ∞۴/ ۱۸۹€
الفردوس بما ثور الخطاب ∞حدیث ۳۷۳۷€ دارالکتب العربی بیروت ∞۲/ ۴۱۴،€الجامع الصغیر بحوالہ الفردوس عن انس ∞حدیث ۵۱۴۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲/ ۳۱۷€
تاریخ البغداد ∞ترجمہ ۴۳۲۶€ الحارث بن نعمان دارالکتب العربی بیروت ∞۸/ ۲۰۸€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۵۶۳۹€ مکتبہ المعارف ریاض ∞۶/ ۲۹۹،€السنن الکبرٰی کتاب الزکوٰۃ باب فضل من اصبح صائما الخ دارصادر بیروت ∞۴/ ۱۸۹€
الفردوس بما ثور الخطاب ∞حدیث ۳۷۳۷€ دارالکتب العربی بیروت ∞۲/ ۴۱۴،€الجامع الصغیر بحوالہ الفردوس عن انس ∞حدیث ۵۱۴۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲/ ۳۱۷€
(رواہ ابن عساکر عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ) ابن عساکر نے جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صلوا الذی بینکم وبین ربکم بکثرۃ ذکرکم لہ وکثرۃ الصدقۃ بالسروالعلانیۃ ترزقوا وتنصروا وتجبروا۔رواہ ابن ماجۃ عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲ عزوجل کے ساتھ اپنی نسبت درست کرو اس کی یاد کی کثرت اور خفیہ وظاہر صدقہ کی تکثیر سے کہ ایسا کرو گے تو روزی اور مدد دئیے جاؤ گےتمھاری شکستگیاں درست کی جائیں گی(اسے ابن ماجہ نے جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۴ تا ۱۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقۃ تطفئ الخطیئۃ کما یطفئ الماء الناررواہ الترمذی وقال حسن صحیح عن معاذ بن جبل ونحوۃ ابن حباب فی صحیحہ عن کعب بن عجرۃ و کابی یعلی بسند صحیح عن جابر رضی اﷲ تعالی عنھم وابن المبارك عن عکرمۃ مرسلا بسند حسن۔ صدقہ گناہ کو بجھادیتاہے جیسے پانی آگ کو(روایت کیا اسے ترمذی نے اور حسن صحیح کہامعاذبن جبل سے اور ایسے ہی ابن حباب نے اپنی صحیح میں کعب بن عجرہ سےجیسے ابی یعلی نے بسند صحیح جابر رضی اﷲ تعالی عنہم سے اور ابن مبارك نے عکرمہ سے مرسلا بسند حسن۔ت)
حدیث ۱۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
مثل المؤمن ومثل الایمان کمثل الفرس فی اخبتہ یجول ثم مسلمان اور ایمان کی کہاوت ایسی ہے جیسے چراگاہ میں گھوڑا اپنی رسی سے بندھا ہوا کہ
حدیث ۱۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صلوا الذی بینکم وبین ربکم بکثرۃ ذکرکم لہ وکثرۃ الصدقۃ بالسروالعلانیۃ ترزقوا وتنصروا وتجبروا۔رواہ ابن ماجۃ عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲ عزوجل کے ساتھ اپنی نسبت درست کرو اس کی یاد کی کثرت اور خفیہ وظاہر صدقہ کی تکثیر سے کہ ایسا کرو گے تو روزی اور مدد دئیے جاؤ گےتمھاری شکستگیاں درست کی جائیں گی(اسے ابن ماجہ نے جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۱۴ تا ۱۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الصدقۃ تطفئ الخطیئۃ کما یطفئ الماء الناررواہ الترمذی وقال حسن صحیح عن معاذ بن جبل ونحوۃ ابن حباب فی صحیحہ عن کعب بن عجرۃ و کابی یعلی بسند صحیح عن جابر رضی اﷲ تعالی عنھم وابن المبارك عن عکرمۃ مرسلا بسند حسن۔ صدقہ گناہ کو بجھادیتاہے جیسے پانی آگ کو(روایت کیا اسے ترمذی نے اور حسن صحیح کہامعاذبن جبل سے اور ایسے ہی ابن حباب نے اپنی صحیح میں کعب بن عجرہ سےجیسے ابی یعلی نے بسند صحیح جابر رضی اﷲ تعالی عنہم سے اور ابن مبارك نے عکرمہ سے مرسلا بسند حسن۔ت)
حدیث ۱۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
مثل المؤمن ومثل الایمان کمثل الفرس فی اخبتہ یجول ثم مسلمان اور ایمان کی کہاوت ایسی ہے جیسے چراگاہ میں گھوڑا اپنی رسی سے بندھا ہوا کہ
حوالہ / References
تہذیب تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ الخضرا لبزاز داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۶۸€
سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلٰوۃ باب فرض الجمعۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۷€
جامع الترمذی ابواب الایمان باب ماجاء فی حرمۃ الصلٰوۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۸۶،€موارد الظمان ∞حدیث ۱۵۶۹€ المکتبۃالسلفیہ مکۃ المکرمۃ ∞ص۳۷۸€
سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلٰوۃ باب فرض الجمعۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۷€
جامع الترمذی ابواب الایمان باب ماجاء فی حرمۃ الصلٰوۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۸۶،€موارد الظمان ∞حدیث ۱۵۶۹€ المکتبۃالسلفیہ مکۃ المکرمۃ ∞ص۳۷۸€
یرجع الی اخبتہ وان المؤمن یسھو ثم یرجع الی الایمان فاطعموا طعامکم الاتقیاء ولو معروفکم المؤمنین رواہ البیھقی فی شعب الایمان و ابونعیم فی الحلیۃ عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ چاروں طرف چر کر پھر اپنی بندش کی طرف پلٹ اتا ہے یوں ہی مسلمان سے بھول ہوجاتی ہے پھر ایمان کی طرف رجوع لاتاہے تو اپنا کھانا پرہیزگاروں کو کھلاؤ اور اپنا نیك سلوك سب مسلمانوں کو دو۔(اسے بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اس حدیث سے ظاہر کہ معالجہ گناہ میں نیکوں کو کھانا کھلانا اور عام مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوك کرنا چاہئے۔
حدیث ۱۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان الصدقۃ وصلۃ الرحم یزید اﷲ بھما فی العمر ویدفع بھما میتۃ السوء ویدفع بھما المکروہ المحذوررواہ ابویعلی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك صدقہ اور صلہ رحم ان دونوں سے اﷲ تعالی عمر بڑھاتاہے اور بر ی موت کو دفع کرتا ہے اور مکروہ اور اندیشہ کو دور کرتاہے۔(اسے ابویعلی نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۰:فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من احب ان یبسط لہ فی رزقہ وینسألہ فی اثرہ فلیصل رحمہرواہ البخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو چاہتاہے کہ اس کے رزق میں وسعت مال میں برکت ہو وہ اپنے رشتہ داروں سے نیك سلوك کرے(اسے امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اس حدیث سے ظاہر کہ معالجہ گناہ میں نیکوں کو کھانا کھلانا اور عام مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوك کرنا چاہئے۔
حدیث ۱۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان الصدقۃ وصلۃ الرحم یزید اﷲ بھما فی العمر ویدفع بھما میتۃ السوء ویدفع بھما المکروہ المحذوررواہ ابویعلی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك صدقہ اور صلہ رحم ان دونوں سے اﷲ تعالی عمر بڑھاتاہے اور بر ی موت کو دفع کرتا ہے اور مکروہ اور اندیشہ کو دور کرتاہے۔(اسے ابویعلی نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۰:فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من احب ان یبسط لہ فی رزقہ وینسألہ فی اثرہ فلیصل رحمہرواہ البخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو چاہتاہے کہ اس کے رزق میں وسعت مال میں برکت ہو وہ اپنے رشتہ داروں سے نیك سلوك کرے(اسے امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References
شعب الایمان ∞حدیث۱۰۹۶۴€ دارلکتب العلمیہ بیروت ∞۷/ ۴۵۲،€حلیۃ الاولیاء ∞ترجمہ ۳۹۷€ عبداﷲ بن مبارک دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۸/ ۱۷۹€
مسند ابویعلٰی عن انس بن مالک ∞حدیث ۴۹۰€ موسسۃ علوم القرآن بیروت ∞۴/ ۱۴۷،€مجمع الزوائد بحوالہ ابویعلی باب صلۃ الرحم وقطعہا دارالکتاب بیروت ∞۸/ ۱۵۱€
صحیح البخاری کتا ب الادب باب من بسط لہ فی الرزق الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۵€
مسند ابویعلٰی عن انس بن مالک ∞حدیث ۴۹۰€ موسسۃ علوم القرآن بیروت ∞۴/ ۱۴۷،€مجمع الزوائد بحوالہ ابویعلی باب صلۃ الرحم وقطعہا دارالکتاب بیروت ∞۸/ ۱۵۱€
صحیح البخاری کتا ب الادب باب من بسط لہ فی الرزق الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۵€
حدیث ۲۱ و ۲۲:فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من سرہ ان یمدلہ فی عمرہ ویوسع لہ فی رزقہ ویدفع عنہ میتۃ السؤ فلیتق اﷲ ولیصل رحمہ۔رواہ عبد اﷲ ابن الامام فی زوائد المستدرك والبزار بسند جید والحاکم فی المستدرك عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ والحاکم تحوہ فی حدیث عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جسےخوش آئے کہ اس کی عمر دراز ہو۔رزق وسیع ہو اور بری موت دفع ہو وہ اﷲ سے ڈرے اور اپنے رشتہ داروں سے نیك سلوك کرے(اسے عبداﷲ ابن امام نے زوائد المسند میں اور بزار نے بسند جید اورحاکم نے مستدرك میں امیر المؤمنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے اور یونہی حاکم نے حدیح عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۳:فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صلۃ القرابۃ مثراۃ فی المال محبۃ فی الاھل منسأۃ فی الاجل رواہ الطبرانی بسند صحیح عن عمرو بن سھل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قریبی رشتہ داروں سے سلوکمال کا بہت بڑھانے والاآپس میں بہت محبت کرنے والا عمر کا زیادہ کرنے والا ہے۔(اسے طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ عمرو بن سہل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۴:فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صلۃ الرحم تزید فی العمر رواہ القضاعی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ صلہ رحم سے عمر بڑھتی ہے(اسے قضاعی نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من سرہ ان یمدلہ فی عمرہ ویوسع لہ فی رزقہ ویدفع عنہ میتۃ السؤ فلیتق اﷲ ولیصل رحمہ۔رواہ عبد اﷲ ابن الامام فی زوائد المستدرك والبزار بسند جید والحاکم فی المستدرك عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ والحاکم تحوہ فی حدیث عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جسےخوش آئے کہ اس کی عمر دراز ہو۔رزق وسیع ہو اور بری موت دفع ہو وہ اﷲ سے ڈرے اور اپنے رشتہ داروں سے نیك سلوك کرے(اسے عبداﷲ ابن امام نے زوائد المسند میں اور بزار نے بسند جید اورحاکم نے مستدرك میں امیر المؤمنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے اور یونہی حاکم نے حدیح عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۳:فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صلۃ القرابۃ مثراۃ فی المال محبۃ فی الاھل منسأۃ فی الاجل رواہ الطبرانی بسند صحیح عن عمرو بن سھل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قریبی رشتہ داروں سے سلوکمال کا بہت بڑھانے والاآپس میں بہت محبت کرنے والا عمر کا زیادہ کرنے والا ہے۔(اسے طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ عمرو بن سہل رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۴:فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صلۃ الرحم تزید فی العمر رواہ القضاعی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ صلہ رحم سے عمر بڑھتی ہے(اسے قضاعی نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References
الترغیب والترھیب بحوالہ زوائد مسند والبزار والحاکم الترغیب فی صلۃ الرحم مصطفی الباب ∞مصر ۳/ ۳۳۵،€المستدرک کتاب البروالصلۃ دارالفکر بیروت ∞۴/ ۱۶۰€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۷۸۰۶€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۸/ ۳۹۷€
کنز العمال بحوالہ القضاعی عن ابن مسعود ∞حدیث ۶۹۰۹€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۳/ ۳۵۶€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۷۸۰۶€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۸/ ۳۹۷€
کنز العمال بحوالہ القضاعی عن ابن مسعود ∞حدیث ۶۹۰۹€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۳/ ۳۵۶€
ان اعجل البرثوابا سلۃ الرحم حتی ان اھل البیت لیکونون فجرۃ فتنمو اموالھم ویکثر عددھم اذاتواصلوارواہ الطبرانی عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك سب نیکیوں میں جلد تر ثواب میں صلہ رحم ہے یہاں تك کہ گھر والے فاسق بھی ہو تو ان کے مال زیادہ ہوتے ہیں اور ان کے شمار بڑھتے ہیں جب آپس میں صلہ رحم کریں (اسے طبرانی نے ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
دوسری روایت میں اتنا اور ہے:
ومامن اھل بیت یتواصلون فیحتاجون رواہ ابن حبان فی صحیحہ۔ کوئی گھروالے ایسے نہیں کہ آپس میں صلہ رحم کریں پھر محتاج ہوجائیں۔(اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۶:فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صلۃ الرحم وحسن الخلق وحسن الجوار یعمرن الدیار ویزدن فی الاعمار۔رواہ الامام احمد و البیھقی فی الشعب بسند صحیح علی اصولنا عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ صلہ رحم اورنیك خوئی اور ہمسایہ سے نیك سلوك شہروں کو آباد اورعمروں کو زیادہ کرتے ہیں(اسے امام احمداور بیہقی نے شعب عن بسند صحیح ہمارے اصول پر ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صنائع العروف تقی مصارع السوء والافات الھلکات واھل المعروف فی نیك سلوك کے کام بری موتوں آفتوں ہلاکتوں سے بچاتے ہیں اور دنیا میں احسان والے
دوسری روایت میں اتنا اور ہے:
ومامن اھل بیت یتواصلون فیحتاجون رواہ ابن حبان فی صحیحہ۔ کوئی گھروالے ایسے نہیں کہ آپس میں صلہ رحم کریں پھر محتاج ہوجائیں۔(اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۶:فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صلۃ الرحم وحسن الخلق وحسن الجوار یعمرن الدیار ویزدن فی الاعمار۔رواہ الامام احمد و البیھقی فی الشعب بسند صحیح علی اصولنا عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ صلہ رحم اورنیك خوئی اور ہمسایہ سے نیك سلوك شہروں کو آباد اورعمروں کو زیادہ کرتے ہیں(اسے امام احمداور بیہقی نے شعب عن بسند صحیح ہمارے اصول پر ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صنائع العروف تقی مصارع السوء والافات الھلکات واھل المعروف فی نیك سلوك کے کام بری موتوں آفتوں ہلاکتوں سے بچاتے ہیں اور دنیا میں احسان والے
حوالہ / References
مجمع الزوائد کتاب البروالصلۃ باب صلۃ الرحم وقطعا دارالکتب بیروت ∞۱/ ۱۵۲،€المعجم الاوسط حدیث مکتبہ المعارف ∞ریاض ۲/ ۵۶€
موار دالظمان باب صلۃ الرحم ∞حدیث ۲۰۳۸€ المطبعۃ السلفیۃ مکۃ المکرمۃ ∞ص۴۹۹€
شعب الایمان ∞حدیث ۷۹۶۹€ دارالکتب العربیہ بیروت ∞۶/ ۲۲۶،€کنز العمال بحوالہ حم ھب عن عائشہ ∞حدیث ۶۹۱۰€ موسسۃالرسالہ بیروت ∞۳/ ۳۵۶€
موار دالظمان باب صلۃ الرحم ∞حدیث ۲۰۳۸€ المطبعۃ السلفیۃ مکۃ المکرمۃ ∞ص۴۹۹€
شعب الایمان ∞حدیث ۷۹۶۹€ دارالکتب العربیہ بیروت ∞۶/ ۲۲۶،€کنز العمال بحوالہ حم ھب عن عائشہ ∞حدیث ۶۹۱۰€ موسسۃالرسالہ بیروت ∞۳/ ۳۵۶€
الدنیا ھم اھل المعروف الاخرۃ رواہ الحاکم فی المستدرك عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ وہی آخرت میں احسان والے ہوں گے(اسے حاکم نے مستدرك میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۸:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صنائع المعروف تقی مصارع السوء والصدقۃ خفیا تطفئ غضب الرب وصلۃ الرحم زیادہ فی العمر وکل معروف صدقۃ واھل المعروف فی الدنیا ھم اھل المعروف فی الاخرۃ واھل المنکر فی الدنیا ھم اھل المنکر فی الاخرۃ واول من یدکل الجنۃ اھل المعروف رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ام المومنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ بھلائیوں کے کام بری موتوں سے بچاتے ہیں اور پوشیدہ خیرات رب کا غضب بجھاتی ہے اور رشتہ داروں سے اچھا سلوك عمر میں برکت ہے اور ہر نیك سلوک(کچھ ہو کسی کے ساتھ ہو)سب صدقہ ہے اور دنیا میں احسان والے وہی آخرت میں احسان پائیں گے اور دنیا میں بدی والے وہی عقبی میں بدی دیکھیں گے اور سب میں پہلے جو بہشت میں جائیں گے وہ نیك برتاؤ والے ہیں(اسے طبرانی نے اوسط میں ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان من موجبات المغفرۃ ادخالك السرور علی اخیك المسلم رواہ الطبرانی فی الکبیر والاوسط عن الامام سیدنا الحسن بن علی کرم اﷲ تعالی وجوھہما۔ بے شك مغفرت واجب کردینے والی چیزوں میں ہے تیرا اپنے بھائی مسلمان کا جی خوش کرنا(اسے طبرانی نے کبیر میں اور اوسط میں امام سید نا حسن بن علی کرم اﷲ وجوھہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۸:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
صنائع المعروف تقی مصارع السوء والصدقۃ خفیا تطفئ غضب الرب وصلۃ الرحم زیادہ فی العمر وکل معروف صدقۃ واھل المعروف فی الدنیا ھم اھل المعروف فی الاخرۃ واھل المنکر فی الدنیا ھم اھل المنکر فی الاخرۃ واول من یدکل الجنۃ اھل المعروف رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ام المومنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ بھلائیوں کے کام بری موتوں سے بچاتے ہیں اور پوشیدہ خیرات رب کا غضب بجھاتی ہے اور رشتہ داروں سے اچھا سلوك عمر میں برکت ہے اور ہر نیك سلوک(کچھ ہو کسی کے ساتھ ہو)سب صدقہ ہے اور دنیا میں احسان والے وہی آخرت میں احسان پائیں گے اور دنیا میں بدی والے وہی عقبی میں بدی دیکھیں گے اور سب میں پہلے جو بہشت میں جائیں گے وہ نیك برتاؤ والے ہیں(اسے طبرانی نے اوسط میں ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۲۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان من موجبات المغفرۃ ادخالك السرور علی اخیك المسلم رواہ الطبرانی فی الکبیر والاوسط عن الامام سیدنا الحسن بن علی کرم اﷲ تعالی وجوھہما۔ بے شك مغفرت واجب کردینے والی چیزوں میں ہے تیرا اپنے بھائی مسلمان کا جی خوش کرنا(اسے طبرانی نے کبیر میں اور اوسط میں امام سید نا حسن بن علی کرم اﷲ وجوھہما سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ک فی المستدرک ∞حدیث ۱۵۹۶۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۳۴۳€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۶۰۷۲€ مکتبہ المعارف ∞ریاض ۷/ ۵۰ و ۵۱€
المجمع الکبیر ∞حدیث ۲۷۳۱ و ۲۷۳۸€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۳/ ۷۳ و ۸۵،€المعجم الاوسط ∞حدیث ۸۲۴۱€ مکتبہ المعارف ∞ریاض ۹/ ۱۱۶€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۶۰۷۲€ مکتبہ المعارف ∞ریاض ۷/ ۵۰ و ۵۱€
المجمع الکبیر ∞حدیث ۲۷۳۱ و ۲۷۳۸€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۳/ ۷۳ و ۸۵،€المعجم الاوسط ∞حدیث ۸۲۴۱€ مکتبہ المعارف ∞ریاض ۹/ ۱۱۶€
حدیث ۳۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
احب الاعمال الی اﷲ تعالی بعد الفرائض ادخال السرور علی المسلم رواہ فیھما عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اﷲ تعالی کے فرضوں کے بعد سب اعمال سے زیادہ پیارا عمل مسلمانوں کا جی خوش کرنا ہے۔(طبرانی دونوں میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳۱ تا ۳۳: کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
افضل الاعمال ادخال السرور علی المؤمن کسوت عورتہ او اشبعت جوعتہ اقضیت لہ حاجۃ رواہ فی الاوسط عن امیر المؤمنین عمر الفاروق الاعظم و نحوہ ابوالشیخ فی الثواب و الاصبھانی فی حدیث عن ابنہ عبداﷲ و ابن ابی الدنیا بعض اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ سب سے افضل کام مسلمانوں کا جی خوش کرنا ہے کہ تو اس کا بدن ڈھانکے یا بھوك میں پیٹ بھرے یا اس کا کوئی کام پورا کرے۔(اسے اوسط میں امیر المومنین عمر فاروق اعظم سے اور ایسے ہی ابوالشیخ نے ثواب اور اصبہانی نے اپنے بیٹے عبداﷲ کی حدیث میں اور ابن ابی الدنیا نے بعض اصحاب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من وافق من اخیہ شھوۃ غفرلہ رواہ العقیلی والبزار والطبرانی فی الکبیر عن ابی الدراء رضی اﷲ تعالی عنہ ولہ یعنی جس مسلمان کا جی کسی کھانے پینے یا کسی قسم حلال چیز کو چاہتاہو اتفاق سے دوسرا اس کے لئے وہی شیئ مہیا کردے اﷲ تعالی عزوجل اس کے لئے مغفرت فرمادے(اسے عقیلیبزار
احب الاعمال الی اﷲ تعالی بعد الفرائض ادخال السرور علی المسلم رواہ فیھما عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اﷲ تعالی کے فرضوں کے بعد سب اعمال سے زیادہ پیارا عمل مسلمانوں کا جی خوش کرنا ہے۔(طبرانی دونوں میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳۱ تا ۳۳: کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
افضل الاعمال ادخال السرور علی المؤمن کسوت عورتہ او اشبعت جوعتہ اقضیت لہ حاجۃ رواہ فی الاوسط عن امیر المؤمنین عمر الفاروق الاعظم و نحوہ ابوالشیخ فی الثواب و الاصبھانی فی حدیث عن ابنہ عبداﷲ و ابن ابی الدنیا بعض اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ سب سے افضل کام مسلمانوں کا جی خوش کرنا ہے کہ تو اس کا بدن ڈھانکے یا بھوك میں پیٹ بھرے یا اس کا کوئی کام پورا کرے۔(اسے اوسط میں امیر المومنین عمر فاروق اعظم سے اور ایسے ہی ابوالشیخ نے ثواب اور اصبہانی نے اپنے بیٹے عبداﷲ کی حدیث میں اور ابن ابی الدنیا نے بعض اصحاب نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من وافق من اخیہ شھوۃ غفرلہ رواہ العقیلی والبزار والطبرانی فی الکبیر عن ابی الدراء رضی اﷲ تعالی عنہ ولہ یعنی جس مسلمان کا جی کسی کھانے پینے یا کسی قسم حلال چیز کو چاہتاہو اتفاق سے دوسرا اس کے لئے وہی شیئ مہیا کردے اﷲ تعالی عزوجل اس کے لئے مغفرت فرمادے(اسے عقیلیبزار
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ الطبرانی فی الکبیر کتاب الادب الباب الثالث دارالفکر بیروت ∞۶/ ۲۹۳،€المعجم الاوسط حدیث ۷۹۰۷ مکتبہ المعارف ∞ریاض ۸/ ۴۴۳€
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی فی الاوسط التڑغیب فی حوائج المسلمین ∞حدیث ۱۹€ مصطفی البابی ∞مصر۳/ ۳۹۴€
الضعفاء الکبیر ترجمہ نصر بن نجیح الباہلی دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۴/ ۲۹۶،€مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی والبزار کتاب الاطعمہ باب فیمن وافق من اخیہ شہوۃ دارالکتاب بیروت ∞۵/ ۱۸€
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی فی الاوسط التڑغیب فی حوائج المسلمین ∞حدیث ۱۹€ مصطفی البابی ∞مصر۳/ ۳۹۴€
الضعفاء الکبیر ترجمہ نصر بن نجیح الباہلی دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۴/ ۲۹۶،€مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی والبزار کتاب الاطعمہ باب فیمن وافق من اخیہ شہوۃ دارالکتاب بیروت ∞۵/ ۱۸€
شواھد فی اللالی۔ اور طبرانی نے کبیر میں ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور لآلی میں اس کے شواہد ہیں۔ت)
حدیث ۳۵: کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من اطعم اخاہ المسلم شھوتہ حرمہ اﷲ علی النار رواہ البیھقی فی شعب الایمان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو اپنے بھائی مسلمان کو اس کی چاہت کی چیز کھلائے اﷲ تعالی اسے دوزخ پر حرم کردے(اسے بیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳۶:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من موجبات الرحمۃ اطعام المسلم المسکین۔رواہ الحاکم وصححہ ونحوہ البیھقی وابواشیخ فی الثواب عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ رحمت الہی واجب کردینے والی چیزوں میں سے غریب مسلمانوں کو کھانا کھلانا ہے(روایت کیا اسے حاکم نے اور اس کی تصحیح کیاور ایسے ہی بیہقی اور ابوالشیخ نے ثواب میں جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔ت)
حدیث ۳۷ تا ۴۶: فرماتےصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الدرجات افشاء السلام واطعام الطعام والصلوۃ باللیل والناس نیام قطعۃ من حدیث جلیل نفیس جمیل مشہور مستفید مفید مفیضرواہ امام الائمۃ ابوحنیفۃ والامام احمد وعبدالرزاق فی مصنفہ والترمذی والطبرانی عن ابن عباس یعنی اﷲ عزوجل کے یہاں درجہ بلند کرنے والے ہیں سلام کا پھیلانا اور ہر طرح کے لوگوں کو کھانا کھلانا اور رات کو لوگوں کے سوتے میں نماز پڑھنا(یہ حدیث جلیل نفس جمیل مشہور و مستفید مفید مفیض کا ایك ٹکڑہ ہے۔روایت کیا اسے امام الائمہ ابوحنیفہ اور امام احمد اور عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں اور ترمذی اور طبرانی نے ابن عباس سے
حدیث ۳۵: کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من اطعم اخاہ المسلم شھوتہ حرمہ اﷲ علی النار رواہ البیھقی فی شعب الایمان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو اپنے بھائی مسلمان کو اس کی چاہت کی چیز کھلائے اﷲ تعالی اسے دوزخ پر حرم کردے(اسے بیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳۶:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من موجبات الرحمۃ اطعام المسلم المسکین۔رواہ الحاکم وصححہ ونحوہ البیھقی وابواشیخ فی الثواب عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ رحمت الہی واجب کردینے والی چیزوں میں سے غریب مسلمانوں کو کھانا کھلانا ہے(روایت کیا اسے حاکم نے اور اس کی تصحیح کیاور ایسے ہی بیہقی اور ابوالشیخ نے ثواب میں جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔ت)
حدیث ۳۷ تا ۴۶: فرماتےصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الدرجات افشاء السلام واطعام الطعام والصلوۃ باللیل والناس نیام قطعۃ من حدیث جلیل نفیس جمیل مشہور مستفید مفید مفیضرواہ امام الائمۃ ابوحنیفۃ والامام احمد وعبدالرزاق فی مصنفہ والترمذی والطبرانی عن ابن عباس یعنی اﷲ عزوجل کے یہاں درجہ بلند کرنے والے ہیں سلام کا پھیلانا اور ہر طرح کے لوگوں کو کھانا کھلانا اور رات کو لوگوں کے سوتے میں نماز پڑھنا(یہ حدیث جلیل نفس جمیل مشہور و مستفید مفید مفیض کا ایك ٹکڑہ ہے۔روایت کیا اسے امام الائمہ ابوحنیفہ اور امام احمد اور عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں اور ترمذی اور طبرانی نے ابن عباس سے
حوالہ / References
شعب الایمان ∞حدیث ۲۳۸۲€ دارلکتب العلمیہ بیروت ∞۳/ ۲۲۲€
المستدرک للحاکم کتاب التفسیر تحت سورۃ البلد دارالفکر بیروت ∞۲/ ۵۲۴،€شعب الایمان ∞حدیث ۳۳۶۶€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳/ ۲۱۷،€الترغیب والترھیب بحوالہ الحاکم والبیہقی الترغیب فے اطعام الطعام ∞حدیث ۹€ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۶۴€
جامع الترمذی ابواب تفسیر سورۃ ص ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۵۵€ و مسند احمد بن حنبل ∞۱/ ۳۶۸€
المستدرک للحاکم کتاب التفسیر تحت سورۃ البلد دارالفکر بیروت ∞۲/ ۵۲۴،€شعب الایمان ∞حدیث ۳۳۶۶€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳/ ۲۱۷،€الترغیب والترھیب بحوالہ الحاکم والبیہقی الترغیب فے اطعام الطعام ∞حدیث ۹€ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۶۴€
جامع الترمذی ابواب تفسیر سورۃ ص ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۵۵€ و مسند احمد بن حنبل ∞۱/ ۳۶۸€
واحمد والترمذی والطبرانی وابن مردویۃ عن معاذ بن جبل وابن خزیمۃ و الدارمی والبغوی وابن السکن وابونعیم وابن بسطۃ عن عبدالرحمن بن عایش واحمد والطبرانی عنہ عن صحابی و البزار عن ابن عمر وعن ثوبان والطبرانی عن ابی امامۃ وابن قانع عن ابی عبیدۃ بن الجراح والدراقطنی وابوبکر النیسابوری فی الزیادات عن انس وابو الفرج فی العلل تعلیقا عن ابی ھریرۃ وابن ابی شیبۃ مرسلا عن عبد الرحمن بن سابط رضی اﷲ تعالی عنہم۔ اور احمد اور ترمذی نے اور طبرانی اور ابن مردویہ نے معاذ بن جبل سے اور ابن خزیمہ اور دارمی اور بغوی اور ابن سکن اورابونعیم اورابن بسطہ نے عبدالرحمن بن عایش سے اور احمد اور طبرانی نے اس سے صحابی سے اور بزار نے ابن عمرو سے ابن عمرو نے ثوبان سےاورطبرانی نے ابوامامہ سےاور ابن قانع نے ابو عبیدہ بن جراح اوردارقطنی اور ابوبکر نیشاپوری نے زیادات میں حضرت انس سے اورابوالفرج نے علل میں حضرت ابوھریرہ سے تعلیقا اور ابن ابی شیبہ نے مرسلا حضرت عبدالرحمن بن سابط رضی اﷲ تعالی عنہم۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب التفسیر تفسیر سورۃ ص ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۵۶،€مسند احمد بن حنبل حدیث معاذ بن جبل المکتب الاسلامی بیروت ∞۵/ ۲۴۳€
مسند احمد بن حنبل عن عبدالرحمن عن بعض اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۱۶۶€
مجمع الزوائد عن ثوبان وابن عمرو کتاب التعبیر باب ماجاء فیما راٰہ النبی فی المنام دارالکتاب بیروت ∞۷/ ۷۸۔۱۷۷€
المعجم الکبیر عن ابی امامہ ∞حدیث ۸۱۱۷€ المکتبۃ الفیصلیۃبیروت ∞۸/ ۳۴۹€
الدارلمنثور بحوالہ الخطیب عن ابی عبیدۃ سوۃ ص مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی ∞قم ایران ۵/ ۳۲۰،€العلل المتناھیۃ باب فی ذکر الصورۃ ∞حدیث ۱۰€ دارانشر الکتب الاسلامیہ ∞لاہور ۱/ ۱۶€
کنز العمال عن انس ∞حدیث ۴۴۳۲۱€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۲۴۵،۲۴۶€
العلل المتناھیۃ عن ابی ہریرۃ باب فی ذکر الصورۃ دارنشر الکتب الاسلامیہ ∞لاہور ۱ /۲۰€
العلل المتناہیۃ باب فی ذکر الصورۃ دارنشر الکتب الاسلامیہ ∞لاہور ۱/ ۲۰€
مسند احمد بن حنبل عن عبدالرحمن عن بعض اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۱۶۶€
مجمع الزوائد عن ثوبان وابن عمرو کتاب التعبیر باب ماجاء فیما راٰہ النبی فی المنام دارالکتاب بیروت ∞۷/ ۷۸۔۱۷۷€
المعجم الکبیر عن ابی امامہ ∞حدیث ۸۱۱۷€ المکتبۃ الفیصلیۃبیروت ∞۸/ ۳۴۹€
الدارلمنثور بحوالہ الخطیب عن ابی عبیدۃ سوۃ ص مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی ∞قم ایران ۵/ ۳۲۰،€العلل المتناھیۃ باب فی ذکر الصورۃ ∞حدیث ۱۰€ دارانشر الکتب الاسلامیہ ∞لاہور ۱/ ۱۶€
کنز العمال عن انس ∞حدیث ۴۴۳۲۱€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۲۴۵،۲۴۶€
العلل المتناھیۃ عن ابی ہریرۃ باب فی ذکر الصورۃ دارنشر الکتب الاسلامیہ ∞لاہور ۱ /۲۰€
العلل المتناہیۃ باب فی ذکر الصورۃ دارنشر الکتب الاسلامیہ ∞لاہور ۱/ ۲۰€
فی رؤیۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رب عزوجل ووضعہ تعالی کفہ کما یلیق بجلالہ العظیم بین کتفیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فتجلی لی کل شیئ و عرفت وفی روایۃ فعلمت مافی السموت والارض و فی اخری مابین المشرق والمغرب وقد ذکرنا ہ مع تفاصیل طرقہ وتنوع الفاظہ فی کتابنا المبارك ان شاء اﷲ تعالی سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری و الحمد ﷲ مااولی۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اﷲ تعالی کے دیدار والی روایت میں جس میں ہے"اور اﷲ تعالی نے اپنی شایان شان کف مبارك کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے کندھوں کے درمیان رکھا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں تو میرے لئے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی"دوسری روایت میں ہے"میں نے معلوم کرلی جو چیز بھی زمین وآسمان میں ہے "اور ایك رویات میں ہے"مشرق ومغرب میں جو کچھ ہے "اور ہم نے اس حدیث کو اس کے طرق کے تفصیل اور اختلاف الفاظ کو اپنی مبارك کتاب"سلطنت مصطفی فی ملکوت کل الوری"میں ذکر کردیا ہے۔الحمد للہ(ت)
مرقاۃ شریف میں ہے:
اطعام الطعام ای اعطاہ للانام من الخاص والعام ۔ کھانا کھلانا یعنی ہر خاص وعام کو کھانا دینا مراد ہے۔(ت)
حدیث ۴۷:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الکفارات اطعام وافشاء السلام والصلوۃ باللیل و الناس نیامرواہ الھاکم وصحح سندہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ گناہ مٹانے والے ہیں کھانا کھلانا اور سلام ظاہر کرنا اور شب کو لوگوں کے سوتے میں نماز پڑھنا(اسے حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
مرقاۃ شریف میں ہے:
اطعام الطعام ای اعطاہ للانام من الخاص والعام ۔ کھانا کھلانا یعنی ہر خاص وعام کو کھانا دینا مراد ہے۔(ت)
حدیث ۴۷:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الکفارات اطعام وافشاء السلام والصلوۃ باللیل و الناس نیامرواہ الھاکم وصحح سندہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ گناہ مٹانے والے ہیں کھانا کھلانا اور سلام ظاہر کرنا اور شب کو لوگوں کے سوتے میں نماز پڑھنا(اسے حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References
العلل المتاہیہ باب فی ذکر ∞حدیث ۱۳€ دارنشر الکتب الاسلامیہ ∞لاہور ۱/ ۲۰€
مجمع الزوائد باب فیما راٰہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب بیروت ∞۷/ ۱۷۶€
جامع الترمذی ابواب التفسیر تفسیر سوۃ ص ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۵۶€
مرقاۃ المفاتیح کتاب الصلٰوۃ باب المساجد المکتبہ ∞حبیبہ کوئٹہ ۲/ ۴۳۲،۴۵۶€
المستدرک للحاکم کتاب الاطعمہ فضیلۃ اطعام الطعام دارالفکر بیروت ∞۴/ ۱۲۹€
مجمع الزوائد باب فیما راٰہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب بیروت ∞۷/ ۱۷۶€
جامع الترمذی ابواب التفسیر تفسیر سوۃ ص ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۵۶€
مرقاۃ المفاتیح کتاب الصلٰوۃ باب المساجد المکتبہ ∞حبیبہ کوئٹہ ۲/ ۴۳۲،۴۵۶€
المستدرک للحاکم کتاب الاطعمہ فضیلۃ اطعام الطعام دارالفکر بیروت ∞۴/ ۱۲۹€
حدیث ۴۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من اطعم اخاہ حتی یشبعہ وسقاہ من الماء حتی یرویہ باعداﷲ من النار سبع خنادق مابین کل خندقین مسیرۃ خمس مائۃ عام۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابوالشیخ فی الثواب والحاکم مصححا سندہ والبیھقی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جو اپنے مسلمان بھائی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے پیاس بھر پانی پلائے اﷲ تعالی اسے دوزخ سے سات کھائیاں دور کردے ہر کھائی سر دوسری تك پانچسو برس کی راہ(اسے طبرانی نے کبیر میں اور ابوالشیخ نے ثواب میں اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ اور بیہقی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۴۹:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ عزوجل یباھی ملئکۃ بالذین یطعمون الطعام من عبیدہ رواہ ابوالشیخ عن الحسن البصری مرسلا۔ اﷲ تعالی اپنے بندوں سے جو لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں فرشتوں کے ساتھ مباہات فرماتاہے)کہ دیکھو فضیلت اسے کہتے ہیں)(اسے ابوالشیخ نے حسن بصری سے مرسلا روایت کیا۔ت)
حدیث ۵۰ و ۵۱: کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الخیر اسرع الی البیت الذی یوکل فیہ من الشفرۃ الی سنام البعیررواہ ابن ماجۃ عن ابن عباس وابن ابی الدنیا عن خیر وبرکت اس گھر کی طرف جس میں لوگوں کو کھانا کھلایا جائے اس سے بھی زیادہ جلد پہنچتی ہے جتنی جلد چھری کوہان شتر کی طرف(کہ اونٹ ذبح کرکے سب سے پہلے اس کا کوہان تراشتے ہیں)(اسے
من اطعم اخاہ حتی یشبعہ وسقاہ من الماء حتی یرویہ باعداﷲ من النار سبع خنادق مابین کل خندقین مسیرۃ خمس مائۃ عام۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابوالشیخ فی الثواب والحاکم مصححا سندہ والبیھقی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جو اپنے مسلمان بھائی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے پیاس بھر پانی پلائے اﷲ تعالی اسے دوزخ سے سات کھائیاں دور کردے ہر کھائی سر دوسری تك پانچسو برس کی راہ(اسے طبرانی نے کبیر میں اور ابوالشیخ نے ثواب میں اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ اور بیہقی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۴۹:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ عزوجل یباھی ملئکۃ بالذین یطعمون الطعام من عبیدہ رواہ ابوالشیخ عن الحسن البصری مرسلا۔ اﷲ تعالی اپنے بندوں سے جو لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں فرشتوں کے ساتھ مباہات فرماتاہے)کہ دیکھو فضیلت اسے کہتے ہیں)(اسے ابوالشیخ نے حسن بصری سے مرسلا روایت کیا۔ت)
حدیث ۵۰ و ۵۱: کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الخیر اسرع الی البیت الذی یوکل فیہ من الشفرۃ الی سنام البعیررواہ ابن ماجۃ عن ابن عباس وابن ابی الدنیا عن خیر وبرکت اس گھر کی طرف جس میں لوگوں کو کھانا کھلایا جائے اس سے بھی زیادہ جلد پہنچتی ہے جتنی جلد چھری کوہان شتر کی طرف(کہ اونٹ ذبح کرکے سب سے پہلے اس کا کوہان تراشتے ہیں)(اسے
حوالہ / References
الترغیب والترغیب الترغیب فی الطعام الطعام ∞حدیث ۱۴€ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۶۵،€مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر باب فیمن اطعم مسلما اوسقاہ دارالکتاب بیروت ∞۳/ ۱۳۰،€المستدرک للحاکم کتاب الابطعمہ فضیلۃ اطعام الطعام دارافکر بیروت ∞۴/ ۱۲۹،€شعب الایمان حدیث ۳۳۶۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳/ ۲۱۸€
الترغیب والترہب بحوالہ الشیخ فی الثواب مرسلا مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۶۸€
سنن ابی ماجہ ابواب الالطعمہ بب الضیافۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴۸،۲۴۹،€الترغیب والترھیب بحوالہ ابن ماجۃ وابن ابی الدنیا مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۳۷۲€
الترغیب والترہب بحوالہ الشیخ فی الثواب مرسلا مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۶۸€
سنن ابی ماجہ ابواب الالطعمہ بب الضیافۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴۸،۲۴۹،€الترغیب والترھیب بحوالہ ابن ماجۃ وابن ابی الدنیا مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۳۷۲€
انس رضی اﷲ تعالی عنہم۔ ابن ماجہ نے ابن عباس سے اور ابن ابی الدنیا نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۵۲:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الملائکۃ تصل علی احمد کم مادامت مائدتہ موضوعۃرواہ الاصبھانی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ جب تك تم میں سے کسی کا دسترخوان بچھا ہے اتنی دیر فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں(اسے اصبہانی نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۵۳:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الضیف یاتی یرزقہ ویرتحل بذنوب القوم یمحص عنھم ذنوبھم رواہ ابوالشیخ عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔ مہمان اپنا رزق لے کر آتا ہے اور کھلانے والوں کے گناہ لے کر جاتاہے ان کے گناہ مٹادیتا ہے(اسے ابوالشیخ نے ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کا۔ت)
حدیث ۵۴:سید نا امام حسن مجتبی صلی اﷲ تعالی علی جدہ الکریم و علیہ وبارك وسلم کی حدیث میں ہے:
لان اطعم اخالی فی اﷲ لقمۃ احب الی من ان تصدق علی مسکین بدرھم ولان اعطی اخالی فی اﷲ درھما احب الی من ان تصدق علی مسکین بمائۃ درھمرواہ ابوالشیخ فی الشوارب عنہ عن جدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بے شك میرا اپنے کسی دینی بھائی کو ایك نوالہ کھلانا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ مسکین کو ایك روپیہ دوںاور اپنے بھائی بھائی کو ایك روپیہ دینا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہے کہ مسکین کو سوروپیہ خیرات کروںا(اسے ابوالشیخ نے ثواب میں امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ سے انھوں نے اپنے نانا جان صلی اﷲ تعالی
حدیث ۵۲:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الملائکۃ تصل علی احمد کم مادامت مائدتہ موضوعۃرواہ الاصبھانی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ جب تك تم میں سے کسی کا دسترخوان بچھا ہے اتنی دیر فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں(اسے اصبہانی نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۵۳:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الضیف یاتی یرزقہ ویرتحل بذنوب القوم یمحص عنھم ذنوبھم رواہ ابوالشیخ عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔ مہمان اپنا رزق لے کر آتا ہے اور کھلانے والوں کے گناہ لے کر جاتاہے ان کے گناہ مٹادیتا ہے(اسے ابوالشیخ نے ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کا۔ت)
حدیث ۵۴:سید نا امام حسن مجتبی صلی اﷲ تعالی علی جدہ الکریم و علیہ وبارك وسلم کی حدیث میں ہے:
لان اطعم اخالی فی اﷲ لقمۃ احب الی من ان تصدق علی مسکین بدرھم ولان اعطی اخالی فی اﷲ درھما احب الی من ان تصدق علی مسکین بمائۃ درھمرواہ ابوالشیخ فی الشوارب عنہ عن جدہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بے شك میرا اپنے کسی دینی بھائی کو ایك نوالہ کھلانا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ مسکین کو ایك روپیہ دوںاور اپنے بھائی بھائی کو ایك روپیہ دینا مجھے اس سے زیادہ پیارا ہے کہ مسکین کو سوروپیہ خیرات کروںا(اسے ابوالشیخ نے ثواب میں امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ سے انھوں نے اپنے نانا جان صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References
الترغیب والترھیب بحوالہ اصبہانی ∞حدیث ۱۳€ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۳۷۲€
کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ عن ابی الدردائ ∞حدیث ۲۵۸۳۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۹/ ۲۴۲€
الترغیب والترھیب بحوالہ ابی الشیخ فی الثواب ∞حدیث ۲۴€ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۶۸€
کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ عن ابی الدردائ ∞حدیث ۲۵۸۳۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۹/ ۲۴۲€
الترغیب والترھیب بحوالہ ابی الشیخ فی الثواب ∞حدیث ۲۴€ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۶۸€
ولعل عــــــہ الاظھر وقفہ کلاذی یلیہ۔ علیہ وسلم سے روایت کیا اورظاہرا یہ حدیث موقوف ہے بعد والی حدیث کی طرح۔(ت)
حدیث ۵۵:سیدنا امیرالمومنین مولی المسلمین علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ تعالی وجہہ الاسنی فرماتے ہیں:
لان اجمع نفرا من اخوانی علی صاع او صاعین من طعام احب الی من ادخل سوقکم فاشتری رقبۃ فاعتقھا ۔رواہ منہ وقفا علیہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں اپنے چند بردار ان دینی کو تین سیر چھ سیر کھانے پر اکٹھا کروں تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ تمھارے بازار میں جاؤں اور ایك غلام خرید کر آزاد کردوںاسے ابوالشیخ نے حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مرفوعا روایت کیا۔
حدیث ۵۶:کہ صحابی رضی اﷲ تعالی عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ! ہم کھاتے ہیں اور سیر نہیں ہوتے فرمایا:اکھٹے ہو کر کھانا کھاتے ہو یا الگ الگ عرض کی:الگ الگ۔فرمایا:
اجتمعوا علی طعامکم واذکرواسم اﷲ یبارك لکم فیہ۔رواہ ابوداؤد ابن ماجۃ وحبان عن وحشی بن حرب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جمع ہوکر کھانا کھاؤ اوراﷲ تعالی کا نام لو تمھارے لئے اسی میں برکت رکھی جائے گی(اسے ابوداؤدابن ماجہ اور حبان نے وحشی حرب رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۵۷:فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم :
کلوا جمیعا ولا تفرقوا فان البرکۃ مع الجماعۃ رواہ ابن ماجۃ والعسکری مل کر کھاؤ اور جد انہ ہو کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔ (اسے ابن ماجہ اور عسکری نے مواعظ
عــــــہ:اظہر یہ ہے کہ یہ حدیث ائندہ حدیث کی طرح حضرت حسن رضی اﷲ تعالی عنہ پر موقوف ہے یعنی انکار فرمان ہے ۱۲ ۔
حدیث ۵۵:سیدنا امیرالمومنین مولی المسلمین علی مرتضی کرم اﷲ وجہہ تعالی وجہہ الاسنی فرماتے ہیں:
لان اجمع نفرا من اخوانی علی صاع او صاعین من طعام احب الی من ادخل سوقکم فاشتری رقبۃ فاعتقھا ۔رواہ منہ وقفا علیہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں اپنے چند بردار ان دینی کو تین سیر چھ سیر کھانے پر اکٹھا کروں تو یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ تمھارے بازار میں جاؤں اور ایك غلام خرید کر آزاد کردوںاسے ابوالشیخ نے حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے مرفوعا روایت کیا۔
حدیث ۵۶:کہ صحابی رضی اﷲ تعالی عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ! ہم کھاتے ہیں اور سیر نہیں ہوتے فرمایا:اکھٹے ہو کر کھانا کھاتے ہو یا الگ الگ عرض کی:الگ الگ۔فرمایا:
اجتمعوا علی طعامکم واذکرواسم اﷲ یبارك لکم فیہ۔رواہ ابوداؤد ابن ماجۃ وحبان عن وحشی بن حرب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جمع ہوکر کھانا کھاؤ اوراﷲ تعالی کا نام لو تمھارے لئے اسی میں برکت رکھی جائے گی(اسے ابوداؤدابن ماجہ اور حبان نے وحشی حرب رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۵۷:فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم :
کلوا جمیعا ولا تفرقوا فان البرکۃ مع الجماعۃ رواہ ابن ماجۃ والعسکری مل کر کھاؤ اور جد انہ ہو کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔ (اسے ابن ماجہ اور عسکری نے مواعظ
عــــــہ:اظہر یہ ہے کہ یہ حدیث ائندہ حدیث کی طرح حضرت حسن رضی اﷲ تعالی عنہ پر موقوف ہے یعنی انکار فرمان ہے ۱۲ ۔
حوالہ / References
الترغیب والترھیب بحوالہ ابی الشیخ فی الثواب ∞حدیث ۲۳€ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۶۸€
سنن ابی داؤد کتاب الاطعمہ باب فی الاجتماع علی الطعام ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۷۲،€سنن ابن ماجہ ابواب الطعام باب فی الاجتماع علی الطعام ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴۴€
سنن ابن ماجہ ابواب الطعام باب فی الاجتماع علی الطعام ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴۴€
کنز العمال بحوالہ العسکری فی المواعظ ∞حدیث ۴۰۷۲۳€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵ /۲۳۵€
سنن ابی داؤد کتاب الاطعمہ باب فی الاجتماع علی الطعام ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۷۲،€سنن ابن ماجہ ابواب الطعام باب فی الاجتماع علی الطعام ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴۴€
سنن ابن ماجہ ابواب الطعام باب فی الاجتماع علی الطعام ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴۴€
کنز العمال بحوالہ العسکری فی المواعظ ∞حدیث ۴۰۷۲۳€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵ /۲۳۵€
فی المواعظ امیر المؤمنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ میں امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
حدث ۵۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
البرکۃ فی ثلثۃ فی الجماعۃ والثرید والمسحور رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی شعب عن سلمان رضی اﷲ تعالی عنہ۔ برکت تین چیزوں میں ہے مسلمانوں کے اجتماع اور طعام ثرید اورطعام سحری میں(اسے طبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے شعب میں سلمان رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۵۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
طعام الواحد یکفی الاثنین وطعام الاثنین یکفی الاربعۃ ویداﷲ علی الجماعۃ۔رواہ البزار عن سمرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ایك آدمی کی خوار کی دو کو کفایت کرتی ہے اور دو کی خوراك چار کواﷲ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔(اسے بزار نے سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۶۰:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم :
ان احب الطعام الی اﷲ تعالی ماکثرت علیہ الایدی رواہ ابویعلی والطبرانی وابوالشیخ عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك سب کھانوں میں زیادہ پیارا اﷲ عزوجل کو وہ کھانا ہے جس پر بہت سے ہاتھ ہوں(یعنی جتنے آدمی مل کر کھائیں گے اتنا ہی اﷲ تعالی کو زیادہ پسند ہوگا)(اسے ابویعلی اورطبرانی اور ابوالشیخ نے جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ جو مسلمان اس عمل نیك نیت پاك مال سے
حدث ۵۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
البرکۃ فی ثلثۃ فی الجماعۃ والثرید والمسحور رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی شعب عن سلمان رضی اﷲ تعالی عنہ۔ برکت تین چیزوں میں ہے مسلمانوں کے اجتماع اور طعام ثرید اورطعام سحری میں(اسے طبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے شعب میں سلمان رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۵۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
طعام الواحد یکفی الاثنین وطعام الاثنین یکفی الاربعۃ ویداﷲ علی الجماعۃ۔رواہ البزار عن سمرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ایك آدمی کی خوار کی دو کو کفایت کرتی ہے اور دو کی خوراك چار کواﷲ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے۔(اسے بزار نے سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۶۰:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم :
ان احب الطعام الی اﷲ تعالی ماکثرت علیہ الایدی رواہ ابویعلی والطبرانی وابوالشیخ عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك سب کھانوں میں زیادہ پیارا اﷲ عزوجل کو وہ کھانا ہے جس پر بہت سے ہاتھ ہوں(یعنی جتنے آدمی مل کر کھائیں گے اتنا ہی اﷲ تعالی کو زیادہ پسند ہوگا)(اسے ابویعلی اورطبرانی اور ابوالشیخ نے جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ جو مسلمان اس عمل نیك نیت پاك مال سے
حوالہ / References
المعجم الکبیر عن مسلمان ∞حدیث ۶۱۲۷€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۶/ ۱۵۱،€شعب الایمان ∞حدیث ۷۵۲۰€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۶/ ۶۸€
کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الاطعمہ باب الاجتماع علی الطعام موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۳/ ۳۳۳€
الترغیب والترھیب بحوالہ ابی یعلی والطبرانی وابی الشیخ عن جابر مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۱۳۴€
کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الاطعمہ باب الاجتماع علی الطعام موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۳/ ۳۳۳€
الترغیب والترھیب بحوالہ ابی یعلی والطبرانی وابی الشیخ عن جابر مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۱۳۴€
شریك ہوں گے انھیں کرم الہی وانعام حضرت رسالت پناہی تعالی ربہ وتکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ۲۵ فائدے ملنے کی امید ہے:
(۱)باذنہ تعالی بری موت سے بچیں گے(حدیث ۱۔۲۔۳۔۴۔۵۔۶۔۱۹۔۲۱۔۲۲۔۲۷۔۲۸ گیارہ حدیثیں)ستر دروازے بری موت کے بند ہوں گے۔حدیث ۶
(۲)عمریں زیادہ ہوں گی۔حدیث ۳۔۱۹۔۲۰۔۲۱۔۲۲۔۲۴۔۲۸۔نوحدیثیں۔
(۳)ان کی گنتی بڑھے گی۔حدیث ۲۵۔یہ تین فائدے خاص دفع وباسے متعلق ہیں۔
(۴)رزق کی وسعت مال کی کثرت ہوگی۔حدیث ۱۳۔۲۰۲۱۲۲۔۲۵۔چھ حدیثیں۔اس کی عادت سے کبھی محتاج نہ ہوں گے۔حدیث ۲۵۔
(۵)خیرو برکت پائیں گے۔حدیث ۵۰۵۱۵۶۵۷۵۸۔پانچ حدیثیںیہ دونوں فائدے دفع قحط سے متعلق ہیں۔
(۶)آفتیں بلائیں دور ہوں گی۔حدیث ۷۔۸۔۹۔۱۰۔۱۱۔۱۲۲۷۔سات حدیثیں۔
بری قضا ٹلے گی حدیث ۲۔ ستر دروازے برائی کے بند ہوں گے حدیث۷۔ ستر قسم کی بلا دور ہوگی حدیث۶۔
(۷)ان کے شہر آباد ہوں گے حدیث ۲۶۔
(۸)شکستہ ھال دور ہوگی حدیث ۱۳۔
(۹)خوف اندیشہ زائل اور اطمینان خاطر حاصل ہوگا۔حدیث ۱۹۔
(۱۰)عدد الہی شامل حال ہوگی۔حدیث ۱۳۔۵۹دو۲حدیثیں۔
(۱۱)رحمت الہی ان کے لئے واجب ہوگی۔حدیث ۳۶
(۱۲)ملائکہ ان پر دورد بھیجیں گے حدیث ۵۲۔
(۱۳)رضائے الہی کے کا کریں گے۔حدیث ۳۰۳۱۳۲۳۳۶۰۔پانچ حدیثیں ۔
(۱۴)غضب الہی ان پر سے زائل ہوگا۔حدیث ۱۔
(۱۵)ان کے گناہ بخش جائیں گے۔حدیث ۴۔۵۔۱۴۱۵۱۶۱۷۔۱۸۔۲۹۔۳۴۔۴۷۔۵۳۔گیارہ حدیثیں۔مغفرت ان کے لئے واجب ہوگی حدیث ۲۹۔ان کے گناہوں کی آگ بجھ جائے گی حدیث ۴۔۵۔۱۴۔۱۵۔۱۶۔۱۷۔چھ حدیثیں یہ دس فائدے دفع قحط دوباہر گونہ امراض وبلاد قضائے حاجات وبرکات وسعادات کو مفید ہیں۔
(۱)باذنہ تعالی بری موت سے بچیں گے(حدیث ۱۔۲۔۳۔۴۔۵۔۶۔۱۹۔۲۱۔۲۲۔۲۷۔۲۸ گیارہ حدیثیں)ستر دروازے بری موت کے بند ہوں گے۔حدیث ۶
(۲)عمریں زیادہ ہوں گی۔حدیث ۳۔۱۹۔۲۰۔۲۱۔۲۲۔۲۴۔۲۸۔نوحدیثیں۔
(۳)ان کی گنتی بڑھے گی۔حدیث ۲۵۔یہ تین فائدے خاص دفع وباسے متعلق ہیں۔
(۴)رزق کی وسعت مال کی کثرت ہوگی۔حدیث ۱۳۔۲۰۲۱۲۲۔۲۵۔چھ حدیثیں۔اس کی عادت سے کبھی محتاج نہ ہوں گے۔حدیث ۲۵۔
(۵)خیرو برکت پائیں گے۔حدیث ۵۰۵۱۵۶۵۷۵۸۔پانچ حدیثیںیہ دونوں فائدے دفع قحط سے متعلق ہیں۔
(۶)آفتیں بلائیں دور ہوں گی۔حدیث ۷۔۸۔۹۔۱۰۔۱۱۔۱۲۲۷۔سات حدیثیں۔
بری قضا ٹلے گی حدیث ۲۔ ستر دروازے برائی کے بند ہوں گے حدیث۷۔ ستر قسم کی بلا دور ہوگی حدیث۶۔
(۷)ان کے شہر آباد ہوں گے حدیث ۲۶۔
(۸)شکستہ ھال دور ہوگی حدیث ۱۳۔
(۹)خوف اندیشہ زائل اور اطمینان خاطر حاصل ہوگا۔حدیث ۱۹۔
(۱۰)عدد الہی شامل حال ہوگی۔حدیث ۱۳۔۵۹دو۲حدیثیں۔
(۱۱)رحمت الہی ان کے لئے واجب ہوگی۔حدیث ۳۶
(۱۲)ملائکہ ان پر دورد بھیجیں گے حدیث ۵۲۔
(۱۳)رضائے الہی کے کا کریں گے۔حدیث ۳۰۳۱۳۲۳۳۶۰۔پانچ حدیثیں ۔
(۱۴)غضب الہی ان پر سے زائل ہوگا۔حدیث ۱۔
(۱۵)ان کے گناہ بخش جائیں گے۔حدیث ۴۔۵۔۱۴۱۵۱۶۱۷۔۱۸۔۲۹۔۳۴۔۴۷۔۵۳۔گیارہ حدیثیں۔مغفرت ان کے لئے واجب ہوگی حدیث ۲۹۔ان کے گناہوں کی آگ بجھ جائے گی حدیث ۴۔۵۔۱۴۔۱۵۔۱۶۔۱۷۔چھ حدیثیں یہ دس فائدے دفع قحط دوباہر گونہ امراض وبلاد قضائے حاجات وبرکات وسعادات کو مفید ہیں۔
(۱۶)خدمت اہل دین میں صدقے سے بڑھ کر ثواب پائیں گے۔حدیث ۵۴۔
(۱۷)غلام آزادکرنے سے زیادہ اجر لیں گے۔حدیث ۵۵۔
(۱۸)ان کے ٹیڑھے کام درست ہوں گے۔حدیث ۲۔
(۱۹)آپس میں محبتیں بڑھیں گے جو ہر خوبی کی متبع ہیں۔حدیث ۲۳۔
(۲۰)تھوڑے صرف میں بہت کا پیٹ بھرے گا کہ تنہا کھاتے تو دونا اٹھتاحدیث ۵۹۔وفیہ احادیث لم نذکرھا(اس بارے میں اور بھی احادیث ہیں جن کو ہم نے ذکر نہیں کیا۔ت)
(۲۱)اﷲ عزوجل کے حضور درجے بلند ہوں گے حدیث ۳۷ تا ۴۶۔دس حدیثیں۔
(۲۲)مولی تبارك وتعالی ملائکہ سے ان کے ساتھ مباہات فرمائے گا۔حدیث ۴۹
(۲۳)روز قیامت دوزخ سے امان میں رہیں گے۔حدیث ۲۔۳۵۔۴۸۔تین حدیثیں ہیں۔
آتش دوزخ ان پر حرام ہوگی۔حدیث ۳۵۔
(۲۴)آخرت میں احسان الہی سے بہرہ مند ہوں گے کہ نہایت مقاصد وغایت مراد ات ہے۔حدیث ۲۷۔۲۸۔
(۱۵)خدا نے چاہا تو اس مبارك گروہ میں ہوں گے جو حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعل اقدس کے تصدق میں سب سے پہلے داخل جنت ہے۔حدیث ۲۸
اﷲ اکبرغور کیجئے بحمداﷲ کیسانخسۃ جلیلہ۔جمیلہجامعہکافیہشافیہصافیہوافیہ ہے کہ ایك مفرد دو اور اس قدر منافع جانفزاوفضل اﷲ اوسع واکبر واطیب واکثر(اﷲ عزوجل کا فضل بہت بڑا بہت وسیعبہت پاکیزہ اور بہت زیادہ ہے)علماء تو بفرض حصول شفاء ودفع بلا متفرق اشیاء جمع فرماتے ہیں کہ اپنی زوجہ کہ اس کا مہر کل یا بعض دے وہ اس میں سے کچھ بطیب خاطر اسے ہبہ کردے ان داموں کو شہد وروغن زیتون خریدے بعض آیات قرآنیہ خصوصا سورۃ فاتحہ اور آیات شفا رکابی میں لکھ کر آب باراں اور وہ نہ ملے تو آب دریا سے دھوئےقدرے وہ روغن وشہد ملا کرپئےبعونہ تعالی ہر مرض سے شفا پائے کہ اس نے دو شفائیں قرآن وشہددو برکتیں باران وزیت اور ہنی ومری زر موہوب مہر پانچ چیزیں جمع کیں۔
لقولہ تعالی "وننزل من القران ما ہو شفاء و رحمۃ للمؤمنین "
وقولہ تعالی "فیہ یعنی ہم اتارتے ہں قرآن سے وہ چیز کہ شفا ورحمت ہے ایمان والوں کے لئے شہد میں
(۱۷)غلام آزادکرنے سے زیادہ اجر لیں گے۔حدیث ۵۵۔
(۱۸)ان کے ٹیڑھے کام درست ہوں گے۔حدیث ۲۔
(۱۹)آپس میں محبتیں بڑھیں گے جو ہر خوبی کی متبع ہیں۔حدیث ۲۳۔
(۲۰)تھوڑے صرف میں بہت کا پیٹ بھرے گا کہ تنہا کھاتے تو دونا اٹھتاحدیث ۵۹۔وفیہ احادیث لم نذکرھا(اس بارے میں اور بھی احادیث ہیں جن کو ہم نے ذکر نہیں کیا۔ت)
(۲۱)اﷲ عزوجل کے حضور درجے بلند ہوں گے حدیث ۳۷ تا ۴۶۔دس حدیثیں۔
(۲۲)مولی تبارك وتعالی ملائکہ سے ان کے ساتھ مباہات فرمائے گا۔حدیث ۴۹
(۲۳)روز قیامت دوزخ سے امان میں رہیں گے۔حدیث ۲۔۳۵۔۴۸۔تین حدیثیں ہیں۔
آتش دوزخ ان پر حرام ہوگی۔حدیث ۳۵۔
(۲۴)آخرت میں احسان الہی سے بہرہ مند ہوں گے کہ نہایت مقاصد وغایت مراد ات ہے۔حدیث ۲۷۔۲۸۔
(۱۵)خدا نے چاہا تو اس مبارك گروہ میں ہوں گے جو حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعل اقدس کے تصدق میں سب سے پہلے داخل جنت ہے۔حدیث ۲۸
اﷲ اکبرغور کیجئے بحمداﷲ کیسانخسۃ جلیلہ۔جمیلہجامعہکافیہشافیہصافیہوافیہ ہے کہ ایك مفرد دو اور اس قدر منافع جانفزاوفضل اﷲ اوسع واکبر واطیب واکثر(اﷲ عزوجل کا فضل بہت بڑا بہت وسیعبہت پاکیزہ اور بہت زیادہ ہے)علماء تو بفرض حصول شفاء ودفع بلا متفرق اشیاء جمع فرماتے ہیں کہ اپنی زوجہ کہ اس کا مہر کل یا بعض دے وہ اس میں سے کچھ بطیب خاطر اسے ہبہ کردے ان داموں کو شہد وروغن زیتون خریدے بعض آیات قرآنیہ خصوصا سورۃ فاتحہ اور آیات شفا رکابی میں لکھ کر آب باراں اور وہ نہ ملے تو آب دریا سے دھوئےقدرے وہ روغن وشہد ملا کرپئےبعونہ تعالی ہر مرض سے شفا پائے کہ اس نے دو شفائیں قرآن وشہددو برکتیں باران وزیت اور ہنی ومری زر موہوب مہر پانچ چیزیں جمع کیں۔
لقولہ تعالی "وننزل من القران ما ہو شفاء و رحمۃ للمؤمنین "
وقولہ تعالی "فیہ یعنی ہم اتارتے ہں قرآن سے وہ چیز کہ شفا ورحمت ہے ایمان والوں کے لئے شہد میں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۸۲€
شفاء للناس " ۔وقولہ تعالی"و نزلنا من السماء ماء مبرکا"
۔ وقولہ تعالی "شجرۃ مبرکۃ زیتونۃ" ۔وقولہ تعالی فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ہنیــا مریــا ﴿۴﴾ " ۔ شفاء ہے لوگوں کے لئےاور اتار ہم نے آسماں سے برکت والا پانی اور مبارك پیڑ زیتون کاپھر اگر عورتیں اپنے جی کی خوشی کے ساتھ تمھیں مہر میں سے کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا
ان مبارك ترکیبوں کی طرف حضرت امیر المومنین مولی المسلمین علی مرتضی شیر خدا مشکل کشاکرم اﷲ تعالی وجہہ الاسنی وحضرت سیدنا عوف بن مالك اشجعی رضی اﷲ تعالی عنہ نے ہدایت فرمائی ابن ابی حاتم اپنی تفسیر میں بسند حسن حضرت مولی علی رضی اﷲ تعالی سے روای کہ انھوں نے فرمایا:
اذا اشتکی احدکم فلیستوھب من امرأتہ من صداقھا درھما فلیشتربہ عسلا ثم یأخذ ماء السماء فیجمع ھنیئا مریئا مبارکا ۔ جب تم میں کوئی بیمار ہو تو اسے چاہئے اپنی عورت سے اس کے مہر میں سے ایك درہم ہبہ کرائے اس کا شہد مول لے پھر آسمان کا پانی لے کر رچتا بچتا برکت ولا جمع کرے گا۔
ایك بار فرمایا:
اذا اراد احد کم الشفاء فلیکتب ایۃ من کتاب اﷲ فی صحفۃ ولیغسلھا بماء السماء ولیاخذ من امرأتہ ورھما عن طیب نفس منھما فلیشتربہ عسلا فلیشر بہ فانہ شفاءذکرہ الامام القسطلانی فی المواھب اللدینۃ۔ جب تم میں سے کوئی شخص شفا چاہے تو قرآن عظیم کی کوئی آیت رکابی مکیں لکھے اور آب باراں سے دھوئے اور اپنی عورت سے ایك درہم اس کی خوشی سے لے اس کا شہد خرید کر پئے کہ بیشك شفا ہے۔(امام قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں اسے ذکر کیا ہے۔ت)
علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
مرض عوف بن مالك الاشجعی الصحابی عوف بن مالك اشجعی صحابی رضی اﷲ تعالی عنہ
۔ وقولہ تعالی "شجرۃ مبرکۃ زیتونۃ" ۔وقولہ تعالی فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ہنیــا مریــا ﴿۴﴾ " ۔ شفاء ہے لوگوں کے لئےاور اتار ہم نے آسماں سے برکت والا پانی اور مبارك پیڑ زیتون کاپھر اگر عورتیں اپنے جی کی خوشی کے ساتھ تمھیں مہر میں سے کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا
ان مبارك ترکیبوں کی طرف حضرت امیر المومنین مولی المسلمین علی مرتضی شیر خدا مشکل کشاکرم اﷲ تعالی وجہہ الاسنی وحضرت سیدنا عوف بن مالك اشجعی رضی اﷲ تعالی عنہ نے ہدایت فرمائی ابن ابی حاتم اپنی تفسیر میں بسند حسن حضرت مولی علی رضی اﷲ تعالی سے روای کہ انھوں نے فرمایا:
اذا اشتکی احدکم فلیستوھب من امرأتہ من صداقھا درھما فلیشتربہ عسلا ثم یأخذ ماء السماء فیجمع ھنیئا مریئا مبارکا ۔ جب تم میں کوئی بیمار ہو تو اسے چاہئے اپنی عورت سے اس کے مہر میں سے ایك درہم ہبہ کرائے اس کا شہد مول لے پھر آسمان کا پانی لے کر رچتا بچتا برکت ولا جمع کرے گا۔
ایك بار فرمایا:
اذا اراد احد کم الشفاء فلیکتب ایۃ من کتاب اﷲ فی صحفۃ ولیغسلھا بماء السماء ولیاخذ من امرأتہ ورھما عن طیب نفس منھما فلیشتربہ عسلا فلیشر بہ فانہ شفاءذکرہ الامام القسطلانی فی المواھب اللدینۃ۔ جب تم میں سے کوئی شخص شفا چاہے تو قرآن عظیم کی کوئی آیت رکابی مکیں لکھے اور آب باراں سے دھوئے اور اپنی عورت سے ایك درہم اس کی خوشی سے لے اس کا شہد خرید کر پئے کہ بیشك شفا ہے۔(امام قسطلانی نے مواہب اللدنیہ میں اسے ذکر کیا ہے۔ت)
علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
مرض عوف بن مالك الاشجعی الصحابی عوف بن مالك اشجعی صحابی رضی اﷲ تعالی عنہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۶/ ۶۹€
القرآن الکریم ∞۵۰/ ۹€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۳۵€
القرآن الکریم ∞۴/ ۴€
تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم تحت آیۃ فکلوا ھنیئا مریئا مکتبہ بزار مصطفی البارنکتۃ المکرمۃ ∞۳/ ۸۶۲،€المواھب اللدنیہ بحوالہ ابن ابی حاتم فی التفسیر المقصد الثامن الفصل الاول النوع الثانی المکتب الاسلامی بیروت ∞۳ /۴۷۹€
المواہب اللدنیہ بحوالہ ابن ابی حاتم فی التفسیر المقصد الثامن الفصل الاول النوع الثانی المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۴۷۹€
القرآن الکریم ∞۵۰/ ۹€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۳۵€
القرآن الکریم ∞۴/ ۴€
تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم تحت آیۃ فکلوا ھنیئا مریئا مکتبہ بزار مصطفی البارنکتۃ المکرمۃ ∞۳/ ۸۶۲،€المواھب اللدنیہ بحوالہ ابن ابی حاتم فی التفسیر المقصد الثامن الفصل الاول النوع الثانی المکتب الاسلامی بیروت ∞۳ /۴۷۹€
المواہب اللدنیہ بحوالہ ابن ابی حاتم فی التفسیر المقصد الثامن الفصل الاول النوع الثانی المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۴۷۹€
رضی اﷲ تعالی عنہ فقال ائتونی بماء فان اﷲ تعالی یقول ونزلنا من السماء ماء مبارکاثم قال ائتونی بعسل وتلاالآیۃ فیہ شفاء اللناس ثم قال ائتونی بزیت وتلا من شجرۃ مبرکۃ فخلط ذلك بعضہ ببعض شربہ فشفاء ۔ علیل ہوئےفرمایا پانی لاؤ کہ اﷲ تعالی فرماتاہے ہم نے اتارا آسمان سے برکت والا پانیپھر فرمایا شہد لاؤ۔اورآیت پرھ کہ اس میں شفا ہے لوگوں کے لئے پھر فرمایا:روغن زیتون لاؤ۔ اور آیت پرھی کہ برکت والے پیڑ سے پھر ان سب کو ملا کر نوش فرمایا شفا پائی۔
تو جب متفرقات کا جمع کرنا جائز ونافع ہے تو یہ ایك ہی دوا سب خوبیوں کی جامع ہے اس کی کامل نظیر نسخہ امام اجل حضرت سیدنا عبداﷲ بن مبارك شاگرد رشیدحضرت امام الائمہ سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما و نسخہ جلیلہ رؤیائے حضور پر نور سید المرسلین رحمۃ العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے۔علی بن حسین بن شقیق کہتے ہیں میرے سامنے ایك شخص نے امام عبداﷲ بن مبارك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے عرض کی:اے عبدالرحمن! سات برس سے میرے ایك زانوں میں پھـوڑا ہے قسم قسم کے علاج کئے طبیبوں سے رجوع کی کچھ نفع نہ ہوا۔فرمایا:
اذھب فانظر موضعا یحتاج الناس الی الماء فاحفر ھناك بئرا فانی ارجوا ان تنبع لك ھناك عین و یمسلك عنك الدمففعل الرجل فبرأرواہ الامام البیھقی عن علی قال سمعت ابن المبارك وسئلہ الرجل فذکرہ۔ جا ایسی جگہ دیکھ جہاں لوگوں کو پانی کی حاجت ہووہاں ایك کنواں کھوداور(براہ کرامت یہ بھی)ارشاد فرمایا کہ میں امید کرتاہوں کہ وہاں تیرے لئے ایك چشمہ نکلے گا اور تیرا یہ خون بہنا تھم جائے گااس شخص نے ایسا ہی کیا اور اچھا ہوگیا(اسے امام بیہقی نے علی سے روایت کیا فرمایا میں نے ابن مبارك سے سنا ان سے ایك شخص نے سوال کیا تو انھوں نے اس حدیث کو ذکر کیا۔(ت)
امام بیہقی فرماتے ہیں اسی قبیل سے ہمارے استاد ابوعبداﷲ حاکم(صاحب مستدرك کی حکایت ہے کہ ان کے منہ پر پھوڑے نکلےطرح طرح کے علاج کئے نہ گئےقریب ایك سال کے اس حال میں گزرا انھوں نے ایك جمعہ کو امام استاذ ابوعثمان صابونی رحمۃ اﷲ تعالی سے ان کی مجلس میں
تو جب متفرقات کا جمع کرنا جائز ونافع ہے تو یہ ایك ہی دوا سب خوبیوں کی جامع ہے اس کی کامل نظیر نسخہ امام اجل حضرت سیدنا عبداﷲ بن مبارك شاگرد رشیدحضرت امام الائمہ سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما و نسخہ جلیلہ رؤیائے حضور پر نور سید المرسلین رحمۃ العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے۔علی بن حسین بن شقیق کہتے ہیں میرے سامنے ایك شخص نے امام عبداﷲ بن مبارك رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے عرض کی:اے عبدالرحمن! سات برس سے میرے ایك زانوں میں پھـوڑا ہے قسم قسم کے علاج کئے طبیبوں سے رجوع کی کچھ نفع نہ ہوا۔فرمایا:
اذھب فانظر موضعا یحتاج الناس الی الماء فاحفر ھناك بئرا فانی ارجوا ان تنبع لك ھناك عین و یمسلك عنك الدمففعل الرجل فبرأرواہ الامام البیھقی عن علی قال سمعت ابن المبارك وسئلہ الرجل فذکرہ۔ جا ایسی جگہ دیکھ جہاں لوگوں کو پانی کی حاجت ہووہاں ایك کنواں کھوداور(براہ کرامت یہ بھی)ارشاد فرمایا کہ میں امید کرتاہوں کہ وہاں تیرے لئے ایك چشمہ نکلے گا اور تیرا یہ خون بہنا تھم جائے گااس شخص نے ایسا ہی کیا اور اچھا ہوگیا(اسے امام بیہقی نے علی سے روایت کیا فرمایا میں نے ابن مبارك سے سنا ان سے ایك شخص نے سوال کیا تو انھوں نے اس حدیث کو ذکر کیا۔(ت)
امام بیہقی فرماتے ہیں اسی قبیل سے ہمارے استاد ابوعبداﷲ حاکم(صاحب مستدرك کی حکایت ہے کہ ان کے منہ پر پھوڑے نکلےطرح طرح کے علاج کئے نہ گئےقریب ایك سال کے اس حال میں گزرا انھوں نے ایك جمعہ کو امام استاذ ابوعثمان صابونی رحمۃ اﷲ تعالی سے ان کی مجلس میں
حوالہ / References
شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الثامن الاول دارالمعرفۃ بیروت ∞۷/ ۱۲۳€
شعب الایمان ∞حدیث ۳۳۸۱€ دارالکتب العربی بیروت ∞۳/ ۲۲۱€
شعب الایمان ∞حدیث ۳۳۸۱€ دارالکتب العربی بیروت ∞۳/ ۲۲۱€
دعا کی درخواست کی۔امام نے دعا فرمائی اور حاضرین نے بکثرت آمین کہیدوسرا جمعہ ہوا کسی بی بی نے ایك رقعہ مجلس میں ڈال دیا اس میں لکھا تھا کہ میں اپنے گھر پلٹ کر گئی اورشب کو ابوعبداﷲ حاکم کے لئے دعا میں کوشش کی میں خواب میں جمال جہاں آرائے حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئی گویا مجھے ارشادفرماتے ہیں:قولی لابی عبد اﷲ یوسع الماء علی المسلمین(ابوعبداﷲ سے کہہ مسلمانوں پر پانی کی وسعت کرےامام بیہقی فرماتے ہیں وہ رقعہ اپنے استاد حاکم کے پاس لے گیا انھوں نے انے دروازے پر ایك سقایہ بنانے کاحکم دیا۔جب بن چکا اس میں پانی بھروادیا اور برف ڈالی اور لوگوں نے پینا شروع کیا ایك ہفتہ نہ گزرا تھا کہ شفاء ظاہر ہوئی پھوڑے جاتے رہے چہرہ اس اچھے سے اچھے حال پر ہوگیا جیسا کبھی نہ تھا۔اس کے بعد برسوں زندہ رہے ۔
بالجملہ مسلمانوں کو چاہئے اس پاك مبارك عمل میں چند باتوں کا لحاظ واجب جانیں کہ ان منافع جلیلہ دنیا وآخرت سے بہرہ مند ہوں:
(۱)تصحیح نیت کہ آدمی کی جیسی نیت ہوتی ہے ویساہی پھل جاتاہے نیك کام کیا اور نیت بری تو وہ کچھ کام نہیں انما لاعمال بالنیات (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ت)تو لازم کہ ریا یا ناموری وغیرہ اغراض فاسدہ کو اصلا دخل نہ دیں ورنہ نفع درکنار نقصان کے سزاوار ہوں گے۔والعیاذ باﷲ تعالی
(۲)صرف اپنے سر سے بلا ٹالنے کی نیت نہ کریں کہ جس نیك کام میں چند طرح کے اچھے مقاصد ہوں اور آدمی ان میں ایك ہی کی نیت کرے تو اسی لائق ثمرہ کا مستحق ہوگا انما لکل امرئ مانوی (ہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جس کی وہ نیت کرے۔ت) جب کام کچھ بڑھتا نہیں صرف نیت کرلینے میں ایك نیك کام کے دس ہوجاتے ہیں تو ایك ہی نیت نہ کرنا کیسی حماقت اور بلاوجہ اپنا نقصان ہے۔ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ اس عمل میں کتنی نیکیوں کی نیت ہوسکتی ہے ان سب کا قصد کریں کہ سب کے منافع پائیں بلکہ حقیقتا اس عمل سے بلا ٹلنا بھی انہی نیتوں کا پھل ہے جیسا کہ ہم نے احادیث سے روشن کردیا تو بغیر ان نیتوں اعنی صدقہ فقراء وخدمت صلحا وصلہ رحم واحسان جار
بالجملہ مسلمانوں کو چاہئے اس پاك مبارك عمل میں چند باتوں کا لحاظ واجب جانیں کہ ان منافع جلیلہ دنیا وآخرت سے بہرہ مند ہوں:
(۱)تصحیح نیت کہ آدمی کی جیسی نیت ہوتی ہے ویساہی پھل جاتاہے نیك کام کیا اور نیت بری تو وہ کچھ کام نہیں انما لاعمال بالنیات (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ت)تو لازم کہ ریا یا ناموری وغیرہ اغراض فاسدہ کو اصلا دخل نہ دیں ورنہ نفع درکنار نقصان کے سزاوار ہوں گے۔والعیاذ باﷲ تعالی
(۲)صرف اپنے سر سے بلا ٹالنے کی نیت نہ کریں کہ جس نیك کام میں چند طرح کے اچھے مقاصد ہوں اور آدمی ان میں ایك ہی کی نیت کرے تو اسی لائق ثمرہ کا مستحق ہوگا انما لکل امرئ مانوی (ہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جس کی وہ نیت کرے۔ت) جب کام کچھ بڑھتا نہیں صرف نیت کرلینے میں ایك نیك کام کے دس ہوجاتے ہیں تو ایك ہی نیت نہ کرنا کیسی حماقت اور بلاوجہ اپنا نقصان ہے۔ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ اس عمل میں کتنی نیکیوں کی نیت ہوسکتی ہے ان سب کا قصد کریں کہ سب کے منافع پائیں بلکہ حقیقتا اس عمل سے بلا ٹلنا بھی انہی نیتوں کا پھل ہے جیسا کہ ہم نے احادیث سے روشن کردیا تو بغیر ان نیتوں اعنی صدقہ فقراء وخدمت صلحا وصلہ رحم واحسان جار
حوالہ / References
شعب الایمان تحت ∞حدیث ۳۳۸۱€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳/ ۲۲۲€
صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
وغیرہ مذکورات کے بلاٹلنے کی خالی نیت پوست بے مغزہے۔
(۳)اپنے مال کی پاکی میں حد درجہ کی کوشش بجالائیں کہ اس کام میں پاك رہی مال لگایا جائے اﷲ عزوجل پاك ہے پاك ہی کو قبول فرماتاہے:
الشیخان ولانسائی والترمذی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ عن ابی ھریررۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم لا یقبل اﷲ الاالطیب ھوقطعہ حدیث وفی الباب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ شیخیننسائیترمذیابن ماجہ اور ابن خزیمہ نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمایا:اﷲ تعالی قبول نہیں کرتا مگر پاك کویہ حدیث کا ایك ٹکڑا ہے اور اس باب میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے بھی حدیث مروی ہے۔ (ت)
ناپاك مال والوں کو یہ رونا کیا تھوڑا ہے کہ ان کا صدقہ خیراتفاتحہنیاز کچھ قبول نہیں والعیاذ باﷲ تعالی۔
(۴)زنہار زنہار ایسانہ کر کہ کھاتے پیو کہ بلائیں محتاجون کو چھوڑیں کہ زیادہ مستحق وہی ہیں اور انھیں اس کی حاجت ہے تو ان کا چھوڑنا انھیں ایذا دینا اور دل دکھانا ہے۔مسلمانوں کی دل شکنی معاذاﷲ وہ بلا ئے عظیم ہے کہ سارے عمل کو خاك کردے گی۔ایسے کھانے کوحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سب سے بدتر کھانا فرمایا کہ پیٹ بھرنے بلائے جائیں جنھیں پرواہ نہیں اور بھوکے چھوڑ دئے جائیں جو آنا چاہتے ہیں۔
مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صل اﷲ تعالی علیہ وسلم شرالطعام طعام الولیمۃ یمنعھا من یاتیھا ویدعی الیھا من یاباھا وللطبرانی فی الکبیر مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے سے بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:بدترین کھانا اس دعوت ولیمہ کا کھانا ہے کہ جو اس میں آنا چاہتاہے اسے روك دیا جاتاہے اور جو نہیں آنا چاہتا اسے بلایا جاتاہے۔
(۳)اپنے مال کی پاکی میں حد درجہ کی کوشش بجالائیں کہ اس کام میں پاك رہی مال لگایا جائے اﷲ عزوجل پاك ہے پاك ہی کو قبول فرماتاہے:
الشیخان ولانسائی والترمذی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ عن ابی ھریررۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم لا یقبل اﷲ الاالطیب ھوقطعہ حدیث وفی الباب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ شیخیننسائیترمذیابن ماجہ اور ابن خزیمہ نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرمایا:اﷲ تعالی قبول نہیں کرتا مگر پاك کویہ حدیث کا ایك ٹکڑا ہے اور اس باب میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے بھی حدیث مروی ہے۔ (ت)
ناپاك مال والوں کو یہ رونا کیا تھوڑا ہے کہ ان کا صدقہ خیراتفاتحہنیاز کچھ قبول نہیں والعیاذ باﷲ تعالی۔
(۴)زنہار زنہار ایسانہ کر کہ کھاتے پیو کہ بلائیں محتاجون کو چھوڑیں کہ زیادہ مستحق وہی ہیں اور انھیں اس کی حاجت ہے تو ان کا چھوڑنا انھیں ایذا دینا اور دل دکھانا ہے۔مسلمانوں کی دل شکنی معاذاﷲ وہ بلا ئے عظیم ہے کہ سارے عمل کو خاك کردے گی۔ایسے کھانے کوحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سب سے بدتر کھانا فرمایا کہ پیٹ بھرنے بلائے جائیں جنھیں پرواہ نہیں اور بھوکے چھوڑ دئے جائیں جو آنا چاہتے ہیں۔
مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صل اﷲ تعالی علیہ وسلم شرالطعام طعام الولیمۃ یمنعھا من یاتیھا ویدعی الیھا من یاباھا وللطبرانی فی الکبیر مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے سے بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:بدترین کھانا اس دعوت ولیمہ کا کھانا ہے کہ جو اس میں آنا چاہتاہے اسے روك دیا جاتاہے اور جو نہیں آنا چاہتا اسے بلایا جاتاہے۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ ∞۱/ ۱۸۹€ صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ ∞۱/ ۳۲۶،€جامع الترمذی کتاب الزکوٰۃ ∞۱/ ۸۴€ سنن ابن ماجہ کتاب الزکوٰۃ ∞ص۱۳۳€
صحیح مسلم کتاب النکاح باب الامر باجابۃ الداعی الی دعوۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶۳€
صحیح مسلم کتاب النکاح باب الامر باجابۃ الداعی الی دعوۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶۳€
والدیلمی فی مسند الفردوس بسند حسن عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلفظ یدعی الیہ الشعبان ویحبس عنہ الجائع وفی الباب غیرھما۔ طبرانی نے کبیر میں اور دیلمی نے مسند الفردوس میں سند حسن کے ساتھ ابن عبا س رضی اﷲ تعالی عنہما کے واسطہ سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد گرامی اس لفظ سے نقل کیا کہ سیر شدہ کو دعوت دی جائے اور بھوکے کو روکاجائے اس باب میں دوسروں نے بھی احادیث روایت کی ہیں۔(ت)
(۵)فقراء کہ آئیں کہ ان کی مدارات وخاطر داری میں سعی جمیل کریں اپنا احسان ان پر نہ رکھیں بلکہ آنے میں ان کا احسان اپنے اوپر جانیں کہ وہ اپنا رزق کھاتے اور تمھارے گناہ مٹاتے ہیں اٹھانے بٹھانے بلانے کھلانے کسی بات میں برتاؤ ایسا نہ کریں جس سے ان کا دل دکھے کہ احسان رکھنے ایذا دینے سے صدقہ بالکل اکارت جاتاہے۔ قال اﷲ تعالی:
"الذین ینفقون امولہم فی سبیل اللہ ثم لا یتبعون ما انفقوا منا ولا اذی لہم اجرہم عند ربہم ولا خوف علیہم ولا ہم یحزنون﴿۲۶۲﴾ قول معروف ومغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعہا اذی واللہ غنی حلیم﴿۲۶۳﴾ یایہا الذین امنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی کالذی ینفق مالہ رئاء الناس"الآیۃ ۔ جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال خدا کی راہ میں پھر اپنے دئے کے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ دل دکھانا ان کے لئے ان کا ثواب ہے اپنے رب کے پاسنہ ان پرخوف اور نہ وہ غم کھائیںاچھی بات(کہ یہ ہاتھ نہ پہنچا تو میٹھی زبان سے سائل کو پھیردیا)اور درگزرے(کہ فقیر نے ناحق ہٹ یا کوئی بے جاحرکت کی تو اس پر خیال نہ کیا اسے دکھ نہ دیا)یہ اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل ستانا ہو اور اﷲ تعالی بے پرواہ ہے(کہ تمھارے صدقہ وخیرات کی پرواہ نہیں رکھتااحسان کس پر کرتے ہو)حلم والا ہے کہ تمھیں بے شمار نعمتیں دے کر تمھاری سخت نافرمانیوں سے درگزر فرماتاہے تم ایك نوالہ محتاج کو دے کر وجہ بے وجہ اسے ایذا دیتے ہو)اے ایمان والو! اپنی خیرات اکارت نہ کرو احسان رکھنے اور
(۵)فقراء کہ آئیں کہ ان کی مدارات وخاطر داری میں سعی جمیل کریں اپنا احسان ان پر نہ رکھیں بلکہ آنے میں ان کا احسان اپنے اوپر جانیں کہ وہ اپنا رزق کھاتے اور تمھارے گناہ مٹاتے ہیں اٹھانے بٹھانے بلانے کھلانے کسی بات میں برتاؤ ایسا نہ کریں جس سے ان کا دل دکھے کہ احسان رکھنے ایذا دینے سے صدقہ بالکل اکارت جاتاہے۔ قال اﷲ تعالی:
"الذین ینفقون امولہم فی سبیل اللہ ثم لا یتبعون ما انفقوا منا ولا اذی لہم اجرہم عند ربہم ولا خوف علیہم ولا ہم یحزنون﴿۲۶۲﴾ قول معروف ومغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعہا اذی واللہ غنی حلیم﴿۲۶۳﴾ یایہا الذین امنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی کالذی ینفق مالہ رئاء الناس"الآیۃ ۔ جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال خدا کی راہ میں پھر اپنے دئے کے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ دل دکھانا ان کے لئے ان کا ثواب ہے اپنے رب کے پاسنہ ان پرخوف اور نہ وہ غم کھائیںاچھی بات(کہ یہ ہاتھ نہ پہنچا تو میٹھی زبان سے سائل کو پھیردیا)اور درگزرے(کہ فقیر نے ناحق ہٹ یا کوئی بے جاحرکت کی تو اس پر خیال نہ کیا اسے دکھ نہ دیا)یہ اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل ستانا ہو اور اﷲ تعالی بے پرواہ ہے(کہ تمھارے صدقہ وخیرات کی پرواہ نہیں رکھتااحسان کس پر کرتے ہو)حلم والا ہے کہ تمھیں بے شمار نعمتیں دے کر تمھاری سخت نافرمانیوں سے درگزر فرماتاہے تم ایك نوالہ محتاج کو دے کر وجہ بے وجہ اسے ایذا دیتے ہو)اے ایمان والو! اپنی خیرات اکارت نہ کرو احسان رکھنے اور
حوالہ / References
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۲۷۵۴€ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ∞۱۲/ ۱۵۹،€الفردوس بمأثور الخطاب ∞حدیث ۳۶۶۱€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲/ ۳۷۲€
القرآن الکریم ∞۲/ ۶۶۲ تا ۲۶۴€
القرآن الکریم ∞۲/ ۶۶۲ تا ۲۶۴€
دل ستانے سے اس کی طرح جو مال خرچ کرتاہے لوگوں کے دکھاوے کو(کہ اس کا صدقہ سرسے اکارت ہے والعیاذ باﷲ رب العالمین)
ان سب باتوں کے لحاظ کے ساتھ اس عمل کو ایك ہی بارنہ کریں بار بار بجالائیں کہ جتنی کثرت ہوگی اتنی ہی فقراء وغربا کی مفعت ہوگی اتنی اپنے لئے ودنیاوی وجسمی وجانی رحمت وبرکت و نعمت وسعادت ہوگی خصوصا ایام قحط میں۔تو جب تك عیاذ باﷲ قحط رہے روزانہ ایسا ہی کرنا مناسب کہ اس میں نہایت سہل طور پر غرباء ومساکین کی خبر گیری ہوجائے گی اپنے کھانے میں ان کا کھانا بھی نکل جائے گادیتے ہوئے نفس کو معلوم بھی نہ ہوگا اور جماعت کی وجہ سے سو کا کھانا دو سو کو کفایت کرے گا۔قحط عام الرماد میں حضرت سیدنا امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کا قصد ظاہر فرمایا۔وباﷲ التوفیق وہدایۃ الطریق۔
الحمدﷲ کہ یہ متفرد جواب نفیس ولاجواب عشرہ اوسط ماہ فاخر ربیع الآخر کے تین جلسوں میں تسویدا وتبیضا تمام اور بلحاظ تاریخ رادالقحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء ۱۳۱۲ھ نام ہوا۔
واخر دعونا ان المحمد ﷲ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین
محمد والہ وصحبہ اجمعین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
_________________________
رسالہ
رادالمقحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواء ماۃ الفقراء
ختم شد
ان سب باتوں کے لحاظ کے ساتھ اس عمل کو ایك ہی بارنہ کریں بار بار بجالائیں کہ جتنی کثرت ہوگی اتنی ہی فقراء وغربا کی مفعت ہوگی اتنی اپنے لئے ودنیاوی وجسمی وجانی رحمت وبرکت و نعمت وسعادت ہوگی خصوصا ایام قحط میں۔تو جب تك عیاذ باﷲ قحط رہے روزانہ ایسا ہی کرنا مناسب کہ اس میں نہایت سہل طور پر غرباء ومساکین کی خبر گیری ہوجائے گی اپنے کھانے میں ان کا کھانا بھی نکل جائے گادیتے ہوئے نفس کو معلوم بھی نہ ہوگا اور جماعت کی وجہ سے سو کا کھانا دو سو کو کفایت کرے گا۔قحط عام الرماد میں حضرت سیدنا امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کا قصد ظاہر فرمایا۔وباﷲ التوفیق وہدایۃ الطریق۔
الحمدﷲ کہ یہ متفرد جواب نفیس ولاجواب عشرہ اوسط ماہ فاخر ربیع الآخر کے تین جلسوں میں تسویدا وتبیضا تمام اور بلحاظ تاریخ رادالقحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقراء ۱۳۱۲ھ نام ہوا۔
واخر دعونا ان المحمد ﷲ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین
محمد والہ وصحبہ اجمعین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم
_________________________
رسالہ
رادالمقحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواء ماۃ الفقراء
ختم شد
ذکر ودعا
مسئلہ ۴۲: از بمبئی مرسلہ مولوی محمد عمر الدین صاحب مع رسالہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ہمارے اس ملك سندھ اور نیز بمبئی میں قدیم الایام سے یہ مروج ہے کہ جنازہ کے آگے کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کا ذکر کرتے ہوئے چند آدمی میت کو قبرستان لے جاتے ہیں اور قبرستان پہنچ کر اس میت کو بخش دیتے ہیں او جب واپس لوٹتے ہیں تو اس طرح کلمہ طیبہ پڑھتے آتے ہیں اور اس کا ثواب میت کے مکان پر پہنچ کر اس کو بخش دیتے ہیں آیا اس کلمہ کا ذکر میت کے آگے اور واپسی کے وقت جہرا پڑھنا جائز ہے یانہیں اور میت کو اس سے فائدہ ہوتاہے یا نہیں اور جو شخص اسے کفر وشرك یاحرام قطعی کہے اور مسلمانوں کو اس کے باعث مستحق لعن وطعنہ جانے وہ خاطی ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
تحریر فقیر بررسالہ مذکور
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
اللھم لك الحمد(اے اللہ! تیرے ہی لئے تعریف ہے۔ت)فی الواقع لوگوں کو ذکر مذکور سے منع نہ کیا جائےمسئلہ جہر مختلف فیہا ہے اور اطلاقات قرآن عظیم اور شادات احادیث کثیر
مسئلہ ۴۲: از بمبئی مرسلہ مولوی محمد عمر الدین صاحب مع رسالہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ہمارے اس ملك سندھ اور نیز بمبئی میں قدیم الایام سے یہ مروج ہے کہ جنازہ کے آگے کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کا ذکر کرتے ہوئے چند آدمی میت کو قبرستان لے جاتے ہیں اور قبرستان پہنچ کر اس میت کو بخش دیتے ہیں او جب واپس لوٹتے ہیں تو اس طرح کلمہ طیبہ پڑھتے آتے ہیں اور اس کا ثواب میت کے مکان پر پہنچ کر اس کو بخش دیتے ہیں آیا اس کلمہ کا ذکر میت کے آگے اور واپسی کے وقت جہرا پڑھنا جائز ہے یانہیں اور میت کو اس سے فائدہ ہوتاہے یا نہیں اور جو شخص اسے کفر وشرك یاحرام قطعی کہے اور مسلمانوں کو اس کے باعث مستحق لعن وطعنہ جانے وہ خاطی ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
تحریر فقیر بررسالہ مذکور
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
اللھم لك الحمد(اے اللہ! تیرے ہی لئے تعریف ہے۔ت)فی الواقع لوگوں کو ذکر مذکور سے منع نہ کیا جائےمسئلہ جہر مختلف فیہا ہے اور اطلاقات قرآن عظیم اور شادات احادیث کثیر
مثل حدیث قدسی:
وان ذکر نی فی ملأذکرتہ فی ملأ خیر منھم رواہ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ واحمد عن انس بسند صحیح والطبرانی۳ فی الکبیر والبزار فی المسند باسناد جید و البیھقی فی اشعب کلھم عن ابن عباس والطبرانی ۴فیہ بسند حسن عن معاذ بن انس رضی اﷲ تعالی عنہم ولفظ ھذا لایذکر فی ملأ الا ذکرتہ فی الرفیق الاعلی وحدیث۵ اذا مررتم بریاض الجنۃ فارتعوا قالوا و ماریاض الجنۃ قال حلق الذکراخرجہ احمد والترمذی اگر اس نے مجھے کسی مجلس میں یاد کیا تو میں اس سے بہتر مجلس میں یاد کروں گا(یعنی فرشتوں کی محفل میں) بخاری مسلمترمذینسائی اور ابن ماجہ نے اس کو حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا۔امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ حضرت انس سے روایت کیا ہے امام طبرانی نے الکبیر میں بزار نے عمدہ سند سے اپنی منہ میں اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں پھر ان سب نے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے اسے روایت کیا۔ طبرانی نے"الکبیر"میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن انس رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں لایذکر فی الخ وہ مجھے کسی محفل میں یاد نہیں کرے گا مگر میں رفیق اعلی میں اسے یاد کروں گا(حدیث ۵) لوگو! جب تم جنت کے باغیچوں سے گزرنے لوگو تو چر چگ لیا کرو۔اس پر صحابہ نے عرض کیا:حضور! جنت کے باغیچے کیا ہیں
وان ذکر نی فی ملأذکرتہ فی ملأ خیر منھم رواہ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ واحمد عن انس بسند صحیح والطبرانی۳ فی الکبیر والبزار فی المسند باسناد جید و البیھقی فی اشعب کلھم عن ابن عباس والطبرانی ۴فیہ بسند حسن عن معاذ بن انس رضی اﷲ تعالی عنہم ولفظ ھذا لایذکر فی ملأ الا ذکرتہ فی الرفیق الاعلی وحدیث۵ اذا مررتم بریاض الجنۃ فارتعوا قالوا و ماریاض الجنۃ قال حلق الذکراخرجہ احمد والترمذی اگر اس نے مجھے کسی مجلس میں یاد کیا تو میں اس سے بہتر مجلس میں یاد کروں گا(یعنی فرشتوں کی محفل میں) بخاری مسلمترمذینسائی اور ابن ماجہ نے اس کو حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا۔امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ حضرت انس سے روایت کیا ہے امام طبرانی نے الکبیر میں بزار نے عمدہ سند سے اپنی منہ میں اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں پھر ان سب نے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے اسے روایت کیا۔ طبرانی نے"الکبیر"میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن انس رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں لایذکر فی الخ وہ مجھے کسی محفل میں یاد نہیں کرے گا مگر میں رفیق اعلی میں اسے یاد کروں گا(حدیث ۵) لوگو! جب تم جنت کے باغیچوں سے گزرنے لوگو تو چر چگ لیا کرو۔اس پر صحابہ نے عرض کیا:حضور! جنت کے باغیچے کیا ہیں
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الذکر باب الحث علی ذکر اﷲ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۳،۳۴۱،€جامع الترمذی ابواب الدعوات ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰۰،€سنن ابن ماجہ ابواب الدعوات باب فضل العمل ∞ایچ ایم سعید کمپنی ص۲۷۹،€صحیح البخاری کتاب الرد علی الجہمیۃ باب قول ویحذر کم اﷲ نفسہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۰۱€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۳۹۱€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت∞ ۲۰/ ۱۸۲€
مسند احمد بن حنبل عن انس بن مالك المکتب الاسلامی بیروت ∞۳ / ۱۵۰،€جامع الترمذی ابواب الدعوۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۸۹€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۳۹۱€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت∞ ۲۰/ ۱۸۲€
مسند احمد بن حنبل عن انس بن مالك المکتب الاسلامی بیروت ∞۳ / ۱۵۰،€جامع الترمذی ابواب الدعوۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۸۹€
وحسنہ والبیھقی فی الشعب عن انس۔وابن شاھین ۶ فی الترغیب فی الذکر عنہ وعن ابی ھریرۃرضی اﷲ تعالی عنھما وحدیث۷ یا ایھا الناس ان ﷲ سرایا من الملئکۃ تحل وتقف عن مجالس الذکر فی الارض فارتعوا فی ریاض الجنۃ قالوا واین ریاض الجنۃقال مجالس الذکر الحدیث رواہ ابن ابی الدنیا و ابویعلی والبزار والطبرانی فی الاوسط والحکیم والحاکم والبیھقی فی الشعب وابن شاھین وابن عساکر عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما صحح الحاکم سندہ وحدیث۸ لایقعد قوم یذکرون اﷲ الا حفتھم الملئکۃ وغشیتھم الرحمۃ ونزلت علیھم السکینۃ وذکرھم اﷲ تعالی فیمن عندہ۔اخرجہ فرمایا:ذکر کے حلقےامام احمد اور ترمذی نے اس کی تخریج فرمائی اور اس کے ساتھ ہی اس کی تحسین بھی فرمائی امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس کے حوالے سے اسے روایت کیا۔
ابن شاہین نے ترغیب فی الذکر"میں حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا اے لوگو! اﷲ تعالی کے فرشتے اس کا لشکر ہیں جو زمین پر ذکر کی مجالس میں اتر تے ہیں لہذا جنت کے باغیچوں میں سے کھاپی لیا کرو یعنی ذکر اذکار میں حصہ لے لیا کروصحابہ نے عرض کی باغات جنت کہاں ہیں تو فرمایا کہ ذکر کی محفلیں باغات جنت ہیں(الحدیث)ابن ابی الدنیاابویعلی بزارطبرانی نے الاوسط میں حکیمحاکم اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابن شاہین اور ابن عساکر نے جابر بن عبداﷲ سے اسے روایت کیا۔حاکم نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے(حدیث ۸)جب بھی لوگ اﷲ تعالی کاذکر کرنے کے لئے کہیں بیٹھتے ہیں تو ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ خدا کے فرشتے چاروں طرف سے انھیں گھیر لیتے ہیں اور رحمت الہی انھیں ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکون کا نزول ہوتاہے اور اﷲ تعالی ان لوگوں میں ان کا تذکرہ فرماتاہے جو اس کی بارگاہ میں حاضر
ابن شاہین نے ترغیب فی الذکر"میں حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا اے لوگو! اﷲ تعالی کے فرشتے اس کا لشکر ہیں جو زمین پر ذکر کی مجالس میں اتر تے ہیں لہذا جنت کے باغیچوں میں سے کھاپی لیا کرو یعنی ذکر اذکار میں حصہ لے لیا کروصحابہ نے عرض کی باغات جنت کہاں ہیں تو فرمایا کہ ذکر کی محفلیں باغات جنت ہیں(الحدیث)ابن ابی الدنیاابویعلی بزارطبرانی نے الاوسط میں حکیمحاکم اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابن شاہین اور ابن عساکر نے جابر بن عبداﷲ سے اسے روایت کیا۔حاکم نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے(حدیث ۸)جب بھی لوگ اﷲ تعالی کاذکر کرنے کے لئے کہیں بیٹھتے ہیں تو ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ خدا کے فرشتے چاروں طرف سے انھیں گھیر لیتے ہیں اور رحمت الہی انھیں ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکون کا نزول ہوتاہے اور اﷲ تعالی ان لوگوں میں ان کا تذکرہ فرماتاہے جو اس کی بارگاہ میں حاضر
حوالہ / References
الترغیب والترھیب بحوالہ ابن ابی الدنیا وابی یعلٰی والبزار وغیرہ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۴۰۵€
احمد ومسلم والترمذی وابن ماجۃ وابن حبان وابونعیم فی الحلیۃ کلھم عن ابی ھریرۃ و عن ابی سعید۹ الخدری جمیعا رضی اﷲ تعالی عنہما وحدیث۱۰ اکثر وا ذکر اﷲ تعالی تحتی یقولوا مجنون رواہ احمد وابویعلی وابن حبان و الحاکم والبیھقی فی الشعب عن ابی سعید رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح وحدیث۱۱ اکثر وا ذکر اﷲ حتی یقول المنافقون انکم مراؤن اخرجہ سعید بن منصور فی سننہ واحمد فی کتا ب الزھد الکبیر والبیھقی فی الشعب عن ابی الجوزاء اوس بن عبداﷲ الرابعی مرسلا۔ووصلہ الطبرانی فی الکبیر وابن شارھین فی ترغیب الذکر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما بالفظ اذکر واﷲ ذکرا رہنے والے ہوتے ہیں۔امام احمد مسلمترمذیابن ماجہابن حبان اور ابونعیم نے"الحلیۃ"میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے تخریج فرمائی۔(حدیث ۱۰)اﷲ تعالی کا کثرت سے ذکر کیا کرو یہاں تك کہ لوگ دیوانہ کہنے لگیں۔امام احمد ابویعلیابن حبانحاکم اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں اچھی سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا ہے۔(حدیث ۱۱)اﷲ تعالی کا بہت زیادہ ذکر کیا کرو یہاں تك کہ منافق کہنے لگیں تم ریا کار ہوسعید بن منصور نے اپنی سنن میں امام احمد نے الزہد الکبیر میں امام بیہقی نے "شعب الایمان"میں ابوالجوزاء اوس بن عبداﷲ ربعی کے حوالے سے اس کو مرسل(یعنی منقطع سند)تخریج فرمایا۔
امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابن شاہین نے ترغیب الذکر میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ان الفاظ کے ساتھ"موصولا"ذکر
امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابن شاہین نے ترغیب الذکر میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ان الفاظ کے ساتھ"موصولا"ذکر
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الذکر باب فضل الاجتماع الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۵،€جامع الترمذی ابواب الدعوات ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۷۳،€سنن ابن ماجہ ابواب الدعوات باب فضل الذکر ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۷€
مسنداحمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۶۸ و ۷۱،€شعب الایمان ∞حدیث ۵۲۶€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۳۹۷€
شعب الایمان ∞حدیث ۵۲۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۳۹۷€
مسنداحمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۶۸ و ۷۱،€شعب الایمان ∞حدیث ۵۲۶€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۳۹۷€
شعب الایمان ∞حدیث ۵۲۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۳۹۷€
یقول المنافقون انکم تراؤن وحدیث۱۲غنیمۃ مجالس اھل الذکر الجنۃ رواہ احمد و الطبرانی فی الکبیر عن عبداﷲ بن عمرو وبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسن و حدیث۱۳یقول الرب عزوجل یوم القیمۃ سیعلم اھل الجمع من اھل الکرم فقیل ومن اھل الکرم یا رسول اﷲ قال اھل مجالس الذکر فی المساجد اخرجہ احمد و ابویعلی وسعیدوابن حبان وابن شاھین والبیھقی عن ابی سعید رضی اﷲ تعالی۔وحدیث۱۴ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خرج علی حلقۃ من اصحابہ فقال مااجلسکم ھھنا قالوا جلسنا نذکر اﷲ قال اتانی جبریل فاخبر نی ان اﷲ عزوجل فرمایا لوگو! اﷲ تعالی کا خوب ذکر کیا کروا کہ منافق بول اٹھیں کہ تم دکھاوا کرتے ہو(حدیث ۱۲)ذکر کرنیوالوں کی مجلسوں کا مال غنیمت ہے۔امام احمد نے امام طبرانی نے مجمع کبیر میں اس کو سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو)(حدیث ۱۳)پروردگار عالم جو غابلب اور بڑا ہے قیامت کے دن ارشاد فرمائیگایہاں جمع ہونیوالے لوگ جلد جان لیں گے کہ اہل کرم کون لوگ ہیں پوچھا گیا یا رسول اللہ! اہل کرم سے مراد کون لوگ ہیں ارشاد فرمایا مساجد میں ذکرکی مجلسیں قائم کرنیوالے۔امام احمدابویعلیسعید بن منصورابن حبانابن شاہیناور امام بیہقی نے حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی۔(حدیث ۱۴)حضور علیہ الصلوۃ والسلام صحابہ کرام کے حلقہ ذکر میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کہ یہاں کیوں بیٹھے ہو انھوں نے عرض کی اکہ ہم یہاں اﷲ تعالی کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔اس پر ارشاد فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل
حوالہ / References
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۲۷۸۶€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۲/ ۱۶۹€
مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو بن العاص المکتب اسلامی بیروت ∞۲/ ۱۷۷ و ۱۹۰€
مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب اسلامی بیروت ∞۳/ ۶۸€
مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو بن العاص المکتب اسلامی بیروت ∞۲/ ۱۷۷ و ۱۹۰€
مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب اسلامی بیروت ∞۳/ ۶۸€
یباھی بکم الملئکۃ رواہ مسلم والترمذی و النسائی عن معویۃ بن ابی سفین رضی اﷲ تعالی عنہما ھذا مختصر وحدیث۱۵ یرحم اﷲ ابن رواحۃ انہ یحب المجالس التی یتباھی بھا الملئکۃ اخرجہ الحمد بسند حسن عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ و فی الحدیث قصۃ فیہ التداعی الی مجالس الذکرو استحسان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ذلک۔وحدیث۱۶عن یمین الرحمن وکلتایدیہ یمین رجال لیسوا بانبیاء ولا شھداء یغشی بیاض وجوھھم نظر الناظرین یغبطھم النبیون والشھداء بمقعدھم و قربھم من اﷲ عزوجل قیل یار سول اﷲ من ھم قال ھم علیہ السلام تشریف لائے اور مجھے بتایا کہ اﷲ تعالی تم لوگوں کے ساتھ فرشتوں پر فخر کررہاہے۔امام مسلمترمذی اور نسائی نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اﷲ تعالی عنہما سے اسے مختصرا روایت فرمایا(حدیث ۱۵)اﷲ تعالی ابن رواحہ پر رحم فرمائے کہ وہ ان مجالس کو پسند کرتاہے جن کے سبب فرشتوں پر فخر ظاہر کیا جاتاہے۔امام احمد نے سید حسن کے ساتھ حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی۔حدیث میں ایك قصہ مذکور ہے اور اس میں وہ باتیں بیان ہوئیں ہیں۔پہلی بات کہ یہ مجالس ذکر کی طرف دوسروں کو دعوت دینا اور دوسری بات حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اس عمل کو مستحسن قرار دینا ہے۔
(حدیث ۱۶)اﷲ تعالی کے دائیں ہاتھ کی طرف)(جبکہ اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں)کچھ ایسے مرد ہوں گے جو اگر چہ انبیاء وشہداء میں سے نہیں ہوں گے مگ اس قدر بلند شان کے مالك ہوں گے کہ ان کے چہروں کی تاہانی دیکھنے والوں کی نگاہوں پر چھاجائیگی ان کے اس تقریب اور شان کو دیکھ کر انبیاء اور شہداء ان پر شك کریں گے آپ سے
(حدیث ۱۶)اﷲ تعالی کے دائیں ہاتھ کی طرف)(جبکہ اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں)کچھ ایسے مرد ہوں گے جو اگر چہ انبیاء وشہداء میں سے نہیں ہوں گے مگ اس قدر بلند شان کے مالك ہوں گے کہ ان کے چہروں کی تاہانی دیکھنے والوں کی نگاہوں پر چھاجائیگی ان کے اس تقریب اور شان کو دیکھ کر انبیاء اور شہداء ان پر شك کریں گے آپ سے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب فضل الاجتماع الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۶،€جامع الترمذی ابواب الدعوات ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۷۴€
مسند احمد بن حنبل عن انس بن مالك المکتب اسلامی بیروت ∞۳/ ۲۶۵€
مسند احمد بن حنبل عن انس بن مالك المکتب اسلامی بیروت ∞۳/ ۲۶۵€
جماع من نوازع القبائل یجتمعون علی ذکر اﷲ تعالی فینتقون الطائب الکلام کما ینتقی اکل التمر طائبہ رواہ الطبرانی فی الکبیر بسند لاباس بہ عن عمرو بن عبسۃ ونحوہ بسند حسن عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہما وحدیث۱۸ کل مجلس یذکر اسم اﷲ تعالی فیہ تحف بہ الملئکۃ حتی ان الملئکۃ بقولون زید وازادکم اﷲ ولذکر یصعد بینھم وھم ناشروا اجنحتھم اخرجہ ابوالشیخ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔وحدیث۱۹ مامن قوم اجتمعوا یذکرون اﷲ عزوجل لایریدون بذلك الاوجہہ الا ناداھم مناد من السماء ان قوموا مغفورکم قد بدلت دریافت کیا گیا کہ وہ کون لوگ ہوں گے آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ قبائل کے پڑوس والوں کا بڑا گروہ ہوگاجو ذکر الہی کے لئے جمع ہوتے ہیں ان سے پاکیزہ کلام جھڑتا ہے جس طرح کجھوریں کھانے والا عمدہ کھجوریں جھاڑتا ہے۔امام طبرانی نے معجم الکبیر میں حضرت عمرو بن عبسہ کے حوالے سے ایسی سند کے ساتھ اس کو روایت فرمایا جس میں کوئی اشتباہ نہیں اور سند حسن کے ساتھ اسی طرح کی حدیث حضرت ابو الدردارضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے۔(حدیث ۱۸)ہر اس مجلس کو فرشتے گھیرلیتے ہیں جس میں اﷲ تعالی کا ذکر کیا جا ئے اور کہتے ہیں کہ خوب ذکر کرو اﷲ تعالی تمھارے اجر میں اضافہ کرے اور ذکر ان کے درمیان بلند ہوتاہے(یعنی اوپر چڑھتاہے)اور وہ اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ابوالشیخ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی کی سند سے اس کی تخریج کی۔(حدیث ۱۹)جو لوگ جمع ہو کر اﷲ تعالی کا ذکر کرتے ہیں اور مقصد صرف اﷲ تعالی کی رضا ہوتاہے انھیں آسمان سے ندا کرنے والا ندا کرتا ہے کہ اٹھو تمھاری بخشش ہو گئی ہے۔میں نے
حوالہ / References
الترغیب والترھیب الطبرانی الترغیب فی حضور مجالس الذکر حدیث ۱۱ مصطفی البای ∞مصر ۲/ ۴۰۶،€کنز العمال بحوالہ طب عن عمر بن عبسۃ ∞حدیث ۳۹۳۲۶€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۰/ ۲۴۸€
کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ عن ابی ہریرہ ∞حدیث ۱۸۸۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱/ ۴۳۶€
کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ عن ابی ہریرہ ∞حدیث ۱۸۸۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱/ ۴۳۶€
سیاتکم حسنات رواہ احمد بسند حسن وابویعلی سعید بن منصور والطبرانی فی الاوسط والبزار وابن شاھین والضیاء فی المختارۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ والحسن۲۰ بن سفیان والطبرانی فی الکبیر والبیھقی۲۱ فی الشعب عن المحنطلیۃ بن الحنظلۃ والعسکری۲۲وابوموسی کلاھما فی الصحابۃ عن حنظلۃ العشمی والبیھقی فی شعب عن عبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ تعالی عنہم وحدیث۲۳طویل ملئکۃ سیاحین سیارۃ فضل رواہ الشیخان وغیرھما عن ابی ھریرۃ والبزار۲۴ عن انس والطبرانی۲۵ فی الصغیر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین وغیر ذلک۔ تمھارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا ہے۔امام احمد نے اس کو اچھی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور دیگرائمہ ابو یعلیسعید بن منصور امام طبرانی نے"الاوسط" میں بزار ابن شاہین اور ضیاء نے المختارہ میں حضرت انس بن سفیان سے روایت کیا ہے۔اسی۲۰طرح حسن بن سفیان اما م طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بیہقی۲۱نے شعب الایمان میں محظلیہ بن حنظلہ سے عسکری۲۲اور ابوموسی (یہ دونوں صحابہ ہیں) حنظلہ عشمی سے مروی ہے امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عبداﷲ ابن مغفل کے حوالے سے اس کو روایت کیا ہے(اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو) لمبی حدیث۲۳ہے:کچھ فرشتے فضل وشرف کو تلاش کرنے کے لئے(زمین میں) گھومتے اور چکر لگاتے ہیں۔ بخاریمسلم وغیرہما اور دوسرے ائمہ نے حضرت ابوہریرہ سے اس کی روایت فرمائی۔ بزار۲۴نے حضرت انس سے اور طبرانی ۲۵نے معجم صغیر میں حضر ت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے اسے روایت کیا ہے۔ اور ان کے علاوہ اور حدیثیں بھی ہیں۔ (ت)
جانب جواز وندب ہونے کے علاوہ حق یہ ہے کہ نفس ذکر خدا ورسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی حد ذاتہ اصلا متعلق نہی وقبح نہیںنہ وہ ہر گز غیر معقول کے معنی بلکہ ذکر اہم واعظم مقاصد
جانب جواز وندب ہونے کے علاوہ حق یہ ہے کہ نفس ذکر خدا ورسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی حد ذاتہ اصلا متعلق نہی وقبح نہیںنہ وہ ہر گز غیر معقول کے معنی بلکہ ذکر اہم واعظم مقاصد
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن انس بن مالك المکتب اسلامی بیروت ∞۳/ ۱۴۲€
صحیح البخاری کتاب الدعوات باب فضل ذکر اﷲ تعالٰی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۴۸،€صحیح مسلم کتاب الذکر والدعا باب فضل مجالس الذکر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۴،€مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۲۵۲€
صحیح البخاری کتاب الدعوات باب فضل ذکر اﷲ تعالٰی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۴۸،€صحیح مسلم کتاب الذکر والدعا باب فضل مجالس الذکر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۴،€مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۲۵۲€
شرع مطہر سے ہے بلکہ اپنے زعم پروہی اہم واعظم مقاصد بلکہ حقیقۃ وہی مراد و مقصود ومرجع ومآل جملہ مقاصد ہے نہی عارض بوجہ عارض راجع بعارض ہوگی۔نہ عائد بذکر۔جیسے محل ریاء وسمعہ میں ذکر جہر یا بقید عارض تاعروض عارض مختص بافراد مختصہ بعارض جیسے کہ کنف وغیرہا موضع نجاسات میں ذکر لسان یا ہنگام اغارت من المشرکین یاقصداخفامن المعاندین ذکر بالاعلان۔
کما بین طرفا منہ المحقق العلامۃ خیر الملۃ والدین الرملی فی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ اقول: ولا یذھبن عنك انا لانقول بالمفہوم فالتمسك بمثلہ قولہ عزوجل "واذکر ربک فی نفسک" لااراہ یتم علی اصولنا واما قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خیر الذکر الخفی فالخیر لاینفی الخیربل ھو ظاہر فی الجواز کما تری وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم . . .. . . . .. . . .ازس . . . . . علی انفسکم فی . . . . . . . وقد حمل علی بعض ماذکرنا کما بینہ فی الوجیز وغیرہ وبالجملۃ فا . . . . . ذات . . . . . . . . ان یصیر سفرا مجلدا۔ جیسا کہ اس کا کچھ حصہ محقق کبیر علامہ خیر الملۃ والدین رملی نے الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ(بھلائی پھیلانے والا فتاوی مخلوق کے فائدے کے لئے۔ت)میں بیان فرمایا۔میں کہتاہوں کہ تمھارا ذہن اس طرف نہ جائے کیونکہ ہم مفہوم مخالف کے قائل نہیں کہ اس جیسے ارشاد خداوندی سے دلیل پیش کی جائےاپنے رب کو اپنے دل میں یاد کیجئےمیں یہ گمان نہیں کرتا کہ یہ ہمارے اصول و قواعد کے مطابق ہورہا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ بہتر ذکر آہستگی والا ہے "میں "خیر"کسی کی نفی نہیں بلکہ یہ جواز میں ظاہر ہےجیسا کہ تم دیکھتے ہوحضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد .... ازس....علی انفسکم فی....بیشك وہ کسی بعض اس بات پر محمول کیا گیا جس کو ہم نے بیان کیا جیسا کہ "الوجیز"وغیرہ میں اس کو بیان فرمایا ....وبالجملۃ ....فا.... وہ ایك ضخیم اور بڑی جلد ہوجاتی۔(ت)
کما بین طرفا منہ المحقق العلامۃ خیر الملۃ والدین الرملی فی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ اقول: ولا یذھبن عنك انا لانقول بالمفہوم فالتمسك بمثلہ قولہ عزوجل "واذکر ربک فی نفسک" لااراہ یتم علی اصولنا واما قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خیر الذکر الخفی فالخیر لاینفی الخیربل ھو ظاہر فی الجواز کما تری وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم . . .. . . . .. . . .ازس . . . . . علی انفسکم فی . . . . . . . وقد حمل علی بعض ماذکرنا کما بینہ فی الوجیز وغیرہ وبالجملۃ فا . . . . . ذات . . . . . . . . ان یصیر سفرا مجلدا۔ جیسا کہ اس کا کچھ حصہ محقق کبیر علامہ خیر الملۃ والدین رملی نے الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ(بھلائی پھیلانے والا فتاوی مخلوق کے فائدے کے لئے۔ت)میں بیان فرمایا۔میں کہتاہوں کہ تمھارا ذہن اس طرف نہ جائے کیونکہ ہم مفہوم مخالف کے قائل نہیں کہ اس جیسے ارشاد خداوندی سے دلیل پیش کی جائےاپنے رب کو اپنے دل میں یاد کیجئےمیں یہ گمان نہیں کرتا کہ یہ ہمارے اصول و قواعد کے مطابق ہورہا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ بہتر ذکر آہستگی والا ہے "میں "خیر"کسی کی نفی نہیں بلکہ یہ جواز میں ظاہر ہےجیسا کہ تم دیکھتے ہوحضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد .... ازس....علی انفسکم فی....بیشك وہ کسی بعض اس بات پر محمول کیا گیا جس کو ہم نے بیان کیا جیسا کہ "الوجیز"وغیرہ میں اس کو بیان فرمایا ....وبالجملۃ ....فا.... وہ ایك ضخیم اور بڑی جلد ہوجاتی۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۷/ ۲۰۵€
مسند احمد بن حنبل عن سعد المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۷۲،۱۸۰،۱۸۷€
مسند احمد بن حنبل عن سعد المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۷۲،۱۸۰،۱۸۷€
پھر جہاں عوارض ظاہرہ ہوں مجرد عوارض خفیہ قلبیہ کی بناء پر مادہ خاصہ میں حکم دینا اساءت ظن بالمسلمین ہے جس کی طرف سبیل نہیں۔قال تعالی:
"و لا تقف ما لیس لک بہ علم " وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم.... عن قلبہ وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث۔ اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمھیں کچھ علم نہ ہو۔(ت)
اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے ....اس کے دل سے۔اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگو! بدگمانی سے بچوبے شك بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔الحدیث(ت)
عجب کہ کراہت مختلف فیہا پر احتساب اور حرمت مجمع علیھا کاارتکاب "ان ہذا لشیء عجاب ﴿۵﴾" (بے شك یہ تو بڑی عجب بات ہے۔ت)مقاصد شرعیہ پر متطلع مطلع کہ جو امر فی نفسہ شرعا خیرو مندوب اور کراہت مجاورہ مختلف فیہا یا مشکوك ہو اور تجربۃ اس کا ترك منجر بہ منہیات اجماعیہ ہو تو ہر گز اس سے منع نصیحت نہیںبلکہ مقصد شرع سے بعد بعید ہے۔ ولہذا علمائے کرام فرماتے ہیں عوام کو صلوۃ عند الطلوع سے منع نہ کریں۔ درمختارمیں ہے:
الا العوام فلا یمنعون من فعلھا لانھم یترکونھا والاداء الجائز عند البعض اولی من الترك کما فی القنیۃ وغیرھما ۔ عوام کو طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے نہ روکا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے وہ اسے بالکل چھوڑ دینگے اور جو ادا بعض اہل علم کے نزدیك جائز ہے وہ نماز چھوڑدینے سے بہتر ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں مذکور ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
"و لا تقف ما لیس لک بہ علم " وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم.... عن قلبہ وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث۔ اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمھیں کچھ علم نہ ہو۔(ت)
اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے ....اس کے دل سے۔اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگو! بدگمانی سے بچوبے شك بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔الحدیث(ت)
عجب کہ کراہت مختلف فیہا پر احتساب اور حرمت مجمع علیھا کاارتکاب "ان ہذا لشیء عجاب ﴿۵﴾" (بے شك یہ تو بڑی عجب بات ہے۔ت)مقاصد شرعیہ پر متطلع مطلع کہ جو امر فی نفسہ شرعا خیرو مندوب اور کراہت مجاورہ مختلف فیہا یا مشکوك ہو اور تجربۃ اس کا ترك منجر بہ منہیات اجماعیہ ہو تو ہر گز اس سے منع نصیحت نہیںبلکہ مقصد شرع سے بعد بعید ہے۔ ولہذا علمائے کرام فرماتے ہیں عوام کو صلوۃ عند الطلوع سے منع نہ کریں۔ درمختارمیں ہے:
الا العوام فلا یمنعون من فعلھا لانھم یترکونھا والاداء الجائز عند البعض اولی من الترك کما فی القنیۃ وغیرھما ۔ عوام کو طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے نہ روکا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے وہ اسے بالکل چھوڑ دینگے اور جو ادا بعض اہل علم کے نزدیك جائز ہے وہ نماز چھوڑدینے سے بہتر ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں مذکور ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۳۶€
صحیح البخاری کتاب الوصایا ∞۱/ ۳۸۴€ وکتاب الادب ∞۲/ ۱۹۶ قدیمی کتب خانہ کراچ€ی
القرآن الکریم ∞۳۸/ ۵€
درمختار کتاب الصلٰوۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۱€
صحیح البخاری کتاب الوصایا ∞۱/ ۳۸۴€ وکتاب الادب ∞۲/ ۱۹۶ قدیمی کتب خانہ کراچ€ی
القرآن الکریم ∞۳۸/ ۵€
درمختار کتاب الصلٰوۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۱€
وعزاہ صاحب المصفی الی الامام حمید الدین عن شیخہ الامام المحبوبی والی شمس الائمۃ الحلوانی فی النسفی الخ۔ صاحب مصفی نے اس کو امام حمید الدین انھوں نے اپنے شیخ امام محبوبی کی طرف منسوب کیا ہے نیزا نھوں نے شمس الائمہ حلوانی اور امام نسفی کی طرف نسبت کی ہے۔الخ(ت)
اور تجارت متطاولہ شاہد کہ عوام اگر مشتغل بذکر الہی نہیں ہوتے مشتغل بفضول کلام ہزل و لغو ہوتے ہیں کہ اجماعا مکروہ وممنوعاور ذکر الہی سے روکنا ہر گز مصلحت شرعیہ نہیںخصوصا یہاں تو حکمائے شریعت علمائے امت نے عدم منع کو ابتلا بمکروہ اجماع پر بھی موقوف نہ رکھا بلکہ اس میں ذکر خدا ورسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے فی نفسہ خیریت خیر کی طرف عوام کی قلت رغبت پر بنائے کار رکھی اور باوصف بیان حکم مسئلہ انھیں منع نہ کرنے کی تصریح کی۔امام شمس الائمہ کردری وجیز میں فتاوی سے نقل فرماتے ہیں:
ان الذکر بالجھر فی المسجد لایمنع احتراز عن الدخول تحت قولہ تعالی ومن اظلم ممن منع مسجد اﷲ ان یذکر فیھا اسمہ الخ۔ مسجد میں بآواز بلند ذکر کرنے سے نہ روکا جائے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کے باعث کہ اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اﷲ تعالی کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے لوگوں کو منع کرے۔الخ(ت)
تبیین الحقائق وفتح القدیر ودررالحکام وبحرالرائق ومجمع الانہر وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
قال الفقیہ ابوجعفر لاینبغی ان یمنع العامۃ عن ذلك لقلۃ رغبتھم فی الخیرات ۔ فقیہ ابوجعفر نے فرمایا عوام کو بلند آواز کے ساتھ ذکر کرنے سے نہ روکا جائے اس لئے کہ نیك کاموں کی طرف(پہلے ہی) ان کی رغبت کم ہوتی ہے۔(ت)
اور تجارت متطاولہ شاہد کہ عوام اگر مشتغل بذکر الہی نہیں ہوتے مشتغل بفضول کلام ہزل و لغو ہوتے ہیں کہ اجماعا مکروہ وممنوعاور ذکر الہی سے روکنا ہر گز مصلحت شرعیہ نہیںخصوصا یہاں تو حکمائے شریعت علمائے امت نے عدم منع کو ابتلا بمکروہ اجماع پر بھی موقوف نہ رکھا بلکہ اس میں ذکر خدا ورسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے فی نفسہ خیریت خیر کی طرف عوام کی قلت رغبت پر بنائے کار رکھی اور باوصف بیان حکم مسئلہ انھیں منع نہ کرنے کی تصریح کی۔امام شمس الائمہ کردری وجیز میں فتاوی سے نقل فرماتے ہیں:
ان الذکر بالجھر فی المسجد لایمنع احتراز عن الدخول تحت قولہ تعالی ومن اظلم ممن منع مسجد اﷲ ان یذکر فیھا اسمہ الخ۔ مسجد میں بآواز بلند ذکر کرنے سے نہ روکا جائے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کے باعث کہ اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اﷲ تعالی کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے لوگوں کو منع کرے۔الخ(ت)
تبیین الحقائق وفتح القدیر ودررالحکام وبحرالرائق ومجمع الانہر وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
قال الفقیہ ابوجعفر لاینبغی ان یمنع العامۃ عن ذلك لقلۃ رغبتھم فی الخیرات ۔ فقیہ ابوجعفر نے فرمایا عوام کو بلند آواز کے ساتھ ذکر کرنے سے نہ روکا جائے اس لئے کہ نیك کاموں کی طرف(پہلے ہی) ان کی رغبت کم ہوتی ہے۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۴۸€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاستحسان ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۷۸€
تبیین الحقائق باب صلٰوۃ العیدین ∞۱/ ۲۲۴€ و الدررالحکام باب صلٰوۃ العیدین ∞۱/ ۱۴۲،€وفتح القدیر باب صلٰوۃ العیدین ∞۲/ ۴۱€ و بحرالرائق باب صلٰوۃ العیدین ∞۲/ ۱۶۰،€ومجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب صلٰوۃ العیدین ∞۱/ ۱۷۳€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاستحسان ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۷۸€
تبیین الحقائق باب صلٰوۃ العیدین ∞۱/ ۲۲۴€ و الدررالحکام باب صلٰوۃ العیدین ∞۱/ ۱۴۲،€وفتح القدیر باب صلٰوۃ العیدین ∞۲/ ۴۱€ و بحرالرائق باب صلٰوۃ العیدین ∞۲/ ۱۶۰،€ومجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب صلٰوۃ العیدین ∞۱/ ۱۷۳€
محیط پھر ہندیہ میں ہے:
قال الفقیہ ابوجعفر سمعت شیخی ابابکر یقول سئل ابراھیم عن تکبیر ایام التشریق علی الاسواق و الجھربھا قال ذلك تکبیر الحوکۃ وقال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی انہ یجوز قال الفقیہ وانا لا امنعھم عن ذلك کذا فی المحیط۔ فقیہ ابوجعفر نے فرمایا اپنے شیخ ابوبکر سے سنا کہ وہ فرماتے تھے امام ابراہیم سے بازاروں میں بلند آواز سے تکبیرات ایام تشریق کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ یہ جولاہوں کی تکبیر ہے____قاضی ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا کہ یہ جائز ہے۔اورفقیہ نے کہا کہ میں لوگوں کو اس سے منع نہیں کرتا محیط میں یوں ہے۔(ت)
بحر ودرمیں ہے:
ھذا کلہ انماھو بحسب حال الانسان واما العوام فلا یمنعون من تکبیروکذا التنفل قبلھا مختصرا۔ یہ تمام طریقے انسان کے حال پر مبنی ہیں رہے عوام تو وہ تکبیر کہنے سے نہ روکے جائیں اسی طرح نماز عید سے قبل نفل پڑھنے سے بھی نہ روکے جائیں مختصرا(ت)
طحطاوی وشامی میں زیر قول درہذا للخواص لکھا:
الظاھر ان المراد الذین لایؤثر عندھم الزجر غلا ولا کسلا حتی یفضی بھم الی الترك اصلا ۔ ظاہر یہ ہے کہ خواص سے وہ لوگ مراد ہیں کہ جن کے نزدیك ممانعتکھوٹ اور سستی کو نہیں لاتی یہاں تك کہ وہ ان کو بالکل چھوڑنے کی طرف لے جائے۔(ت)
غنیہ میں ہے:
قال الفقیہ ابوجعفر سمعت شیخی ابابکر یقول سئل ابراھیم عن تکبیر ایام التشریق علی الاسواق و الجھربھا قال ذلك تکبیر الحوکۃ وقال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی انہ یجوز قال الفقیہ وانا لا امنعھم عن ذلك کذا فی المحیط۔ فقیہ ابوجعفر نے فرمایا اپنے شیخ ابوبکر سے سنا کہ وہ فرماتے تھے امام ابراہیم سے بازاروں میں بلند آواز سے تکبیرات ایام تشریق کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ یہ جولاہوں کی تکبیر ہے____قاضی ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا کہ یہ جائز ہے۔اورفقیہ نے کہا کہ میں لوگوں کو اس سے منع نہیں کرتا محیط میں یوں ہے۔(ت)
بحر ودرمیں ہے:
ھذا کلہ انماھو بحسب حال الانسان واما العوام فلا یمنعون من تکبیروکذا التنفل قبلھا مختصرا۔ یہ تمام طریقے انسان کے حال پر مبنی ہیں رہے عوام تو وہ تکبیر کہنے سے نہ روکے جائیں اسی طرح نماز عید سے قبل نفل پڑھنے سے بھی نہ روکے جائیں مختصرا(ت)
طحطاوی وشامی میں زیر قول درہذا للخواص لکھا:
الظاھر ان المراد الذین لایؤثر عندھم الزجر غلا ولا کسلا حتی یفضی بھم الی الترك اصلا ۔ ظاہر یہ ہے کہ خواص سے وہ لوگ مراد ہیں کہ جن کے نزدیك ممانعتکھوٹ اور سستی کو نہیں لاتی یہاں تك کہ وہ ان کو بالکل چھوڑنے کی طرف لے جائے۔(ت)
غنیہ میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۹€
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب العیدین ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۶۰€
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۵۵۸،€الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۳۵۳€
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب العیدین ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۶۰€
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۵۵۸،€الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ باب العیدین دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۳۵۳€
قال الفقیہ ابو جعفر الذی عندنا انہ لاینبغی ان یمنع العامۃ من ذلك لقلۃ رغبتھم الی الخیرات وبہ ناخذ یعنی انھم اذا منعوا عن الجھربہ لایفعلونہ سرافینقطعون عن الخیر بخلاف العالم الذی یعلم ان الاسرار ھو الافضل ۔ فقیہ ابوجعفر نے فرمایا ہمارے نزدیك مناسب نہیں کہ عوام کو تکبیر سے روك دیا جائے اس لئے کہ بھلائی کے کاموں میں وہ کم رغبت رکھتے ہیں لہذا ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں یعنی مراد یہ ہے کہ جب وہ ذکر بالجہر سے روك دئے گئے تو وہ آہستہ ذکر بھی نہ کریں گے بخلاف اس عالم کے جو یہ جانتا ہے کہ آہستہ ذکر کرنا افضل ہے۔(ت)
رحمانیہ میں ذخیرہ سے ہے:
بہ اخذ الفقیہ ابواللیث ۔ فقیہ ابواللیث نے اسی کو اختیار کیا ہے۔(ت)
ان عبارات علماء سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جہر میں کراہت بھی ہے تو نہ اس قدر کہ خوبی ذکر کی مقاومت کرسکے ولہذا جب منع جہر میں ترك ذکر کا مظنہ ہو خوبی ذکر کو ترجیح دیں گے اور کراہت جہر کا لحاظ نہ کریں گے۔انصافا یہ شان صرف کراہت تنزیہہ میں ہوسکتی ہے جس کا حاصل خلاف اولی ہے نہ کہ ممنوع وناجائز۔
کیف وقد علم ونصوا علیہ ان ترك ذرۃ مما نہی اﷲ تعالی عنہ افضل من عبادۃ الثقلین ۔ حالانکہ یہ معلوم ہوگیا ہے اور اہل علم نے اس کی تصریح فرمادی ہے کہ کسی معمولی سی چیز کو چھوڑدینا کہ جس سے اﷲ تعالی نے منع فرمایا۔جن و انس کی عبادت سے افضل ہے۔(ت)
بالجملہ اس سے منع کرنا ہی خلاف مصالح شرعیہ ہے فان افسادہ اکثر من اصلاحہ(اس لئے کہ اس کا بگاڑ اس کی اصلاح سے زیادہ ہے۔ت)نہ کہ معاذاﷲ وہ جبروتی احکام کفر وشرك و ضلال وحرام کہ نجدیت وجہالت فاضحہ ہیں حکم بحرمت قطعیہ کا بھی محل نہیں چہ جائے ضلالت و کفروالعیاذ باﷲ تعالیبفرض باطل اگر ذکر مذکور بالا تفاق مکروہ ہی ہوتا ہم ایسے احکام باطلہ کی شناعت اس سے ہزا ردرجہ سخت وبدتر تھی یہ دقائق تدلیس وتلبیس ابلیس لعین سے ہے۔
رحمانیہ میں ذخیرہ سے ہے:
بہ اخذ الفقیہ ابواللیث ۔ فقیہ ابواللیث نے اسی کو اختیار کیا ہے۔(ت)
ان عبارات علماء سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جہر میں کراہت بھی ہے تو نہ اس قدر کہ خوبی ذکر کی مقاومت کرسکے ولہذا جب منع جہر میں ترك ذکر کا مظنہ ہو خوبی ذکر کو ترجیح دیں گے اور کراہت جہر کا لحاظ نہ کریں گے۔انصافا یہ شان صرف کراہت تنزیہہ میں ہوسکتی ہے جس کا حاصل خلاف اولی ہے نہ کہ ممنوع وناجائز۔
کیف وقد علم ونصوا علیہ ان ترك ذرۃ مما نہی اﷲ تعالی عنہ افضل من عبادۃ الثقلین ۔ حالانکہ یہ معلوم ہوگیا ہے اور اہل علم نے اس کی تصریح فرمادی ہے کہ کسی معمولی سی چیز کو چھوڑدینا کہ جس سے اﷲ تعالی نے منع فرمایا۔جن و انس کی عبادت سے افضل ہے۔(ت)
بالجملہ اس سے منع کرنا ہی خلاف مصالح شرعیہ ہے فان افسادہ اکثر من اصلاحہ(اس لئے کہ اس کا بگاڑ اس کی اصلاح سے زیادہ ہے۔ت)نہ کہ معاذاﷲ وہ جبروتی احکام کفر وشرك و ضلال وحرام کہ نجدیت وجہالت فاضحہ ہیں حکم بحرمت قطعیہ کا بھی محل نہیں چہ جائے ضلالت و کفروالعیاذ باﷲ تعالیبفرض باطل اگر ذکر مذکور بالا تفاق مکروہ ہی ہوتا ہم ایسے احکام باطلہ کی شناعت اس سے ہزا ردرجہ سخت وبدتر تھی یہ دقائق تدلیس وتلبیس ابلیس لعین سے ہے۔
حوالہ / References
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی باب العیدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۶۷€
رحمانیہ
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدہ الخامس ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۲۵€
رحمانیہ
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدہ الخامس ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۲۵€
اد می کو نیکی کے پردے میں منکر اشد و انکر کا مرتکب کردیتا ہےولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم(گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں سوائے اس کے کہ اﷲ تعالی عظیم وبرتر کی توفیق میسر ہو۔ت)تحفۃ اثنا عشریہ میں ہے:
ہر کہ باجود ایں ہمہ قول جازم نماید بے باك و بے احتیاط ست وہمیں ست شان محتاطین از علمائے راسخین کہ دراجتہاد یات مختلف فیہا جزم باحدالطرفین نمی کنند ۔ جو کوئی ان تمام باتوں کے باوجود کسی ایك طرف پختہ یقین دکھائے تو وہ بیباك نڈر اور بے احتیاط ہے۔پس راسخ علماء او ر محتاط حضرات کی یہی پہچان ہے کہ وہ مختلف اجتہادی مسائل میں کسی ایك طرف یقین نہیں رکھتے۔(ت)
علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں:
المسئلۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فلیست بمنکر یجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ما وقع الاجماع علی حرمتہ والنھی عنہ اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ جب کسی مسئلہ کو چنداقوال میں سے کسی ایك قول پر حمل کیا جاسکے تو وہ ایسا جرم اور گناہ نہیں کہ جس سے روکنا اور جس کا انکار کرنا ضروری ہو لیکن منکر یعنی گناہ وہ ہے جس کی حرمت پر اجماع اور نہی واقع ہواھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۳: ۱۳ محرم الحرام ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مں کہ لوگ وقت پھیلنے وباء وبلیات وآندھی و طوفان شدید وغیرہ کے اذان کہتے ہیںیہ امر شرعا جائز ہے یانہیں بادلہ شافیہ مع حوالہ کتب معتبرہ کے بیان فرمائے۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
جائز ہے اور جواز کے لئے حدیث صحیح:
مامن شیئ انجی من عذاب اﷲ ذکر الہی سے زیادہ کوئی شے اﷲ تعالی کے
ہر کہ باجود ایں ہمہ قول جازم نماید بے باك و بے احتیاط ست وہمیں ست شان محتاطین از علمائے راسخین کہ دراجتہاد یات مختلف فیہا جزم باحدالطرفین نمی کنند ۔ جو کوئی ان تمام باتوں کے باوجود کسی ایك طرف پختہ یقین دکھائے تو وہ بیباك نڈر اور بے احتیاط ہے۔پس راسخ علماء او ر محتاط حضرات کی یہی پہچان ہے کہ وہ مختلف اجتہادی مسائل میں کسی ایك طرف یقین نہیں رکھتے۔(ت)
علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں:
المسئلۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فلیست بمنکر یجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ما وقع الاجماع علی حرمتہ والنھی عنہ اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ جب کسی مسئلہ کو چنداقوال میں سے کسی ایك قول پر حمل کیا جاسکے تو وہ ایسا جرم اور گناہ نہیں کہ جس سے روکنا اور جس کا انکار کرنا ضروری ہو لیکن منکر یعنی گناہ وہ ہے جس کی حرمت پر اجماع اور نہی واقع ہواھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۳: ۱۳ محرم الحرام ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مں کہ لوگ وقت پھیلنے وباء وبلیات وآندھی و طوفان شدید وغیرہ کے اذان کہتے ہیںیہ امر شرعا جائز ہے یانہیں بادلہ شافیہ مع حوالہ کتب معتبرہ کے بیان فرمائے۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
جائز ہے اور جواز کے لئے حدیث صحیح:
مامن شیئ انجی من عذاب اﷲ ذکر الہی سے زیادہ کوئی شے اﷲ تعالی کے
حوالہ / References
∞ تحفہ اثنا عشری€ہ
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ القسم النوع الثالث والثلاثون ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۳۰۹€
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ القسم النوع الثالث والثلاثون ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۳۰۹€
من ذکر اﷲ فاذا رأیتم ذلك فافزعوا الی ذکر اﷲ ۔ عذاب سے چھڑانے والی نہیں۔پھر جب تم عذاب دیکھو تو اس(گھبراہٹ کی)حالت میں اﷲ تعالی کے ذکر کے ذریعے پناہ حاصل کرو۔(ت)
اور آیہ کریمہ:
" الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ﴿۲۸﴾" سن لو!اﷲ تعالی کے ذکر ہی سے دلوں کو چین واطمینان نصیب ہوتاہے۔(ت)
مسئلہ ۴۴: ۲۹ جمادی الآخرہ ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص نے مل کر پانچ شخصوں کو مجلس میلاد شریف سے روکا یعنی نہ آنے دیا۔ ذکر الہی سننے سے روکنے ولا کون ہے اور ذکر الہی خاص ہے یا عام لوگوں کے واسطے ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ذکرالہی سب مسلمانوں کے لئے ہے اور مجلس میلاد مبارك جو مطابق رواج حرمین شریفین معتبر روایتوں سے پڑھی جائے اور منکرات شرعیہ سے خالی ہو اس سے روکنا ذکر خدا سے روکنا ہے ایسا شخص اگر بے عذر صحیح مقبول وقابل قبول روکے تو وہ " مناع للخیر معتد اثیـم ﴿۱۲﴾" ہے یعنی خیر سے روکنے ولا خدا کی باندھی ہوئی حدوں سے بڑھنے والا گناہ میں بالقصد پڑھنے والا۔والعیاذ باﷲ تعالی۔ہاں بضرورت شرعیہ مستحب سے کسی اور امر اہم کے لئے روکے تو الزام نہیں مثل باپ یا ماں علیل ہے بیٹے کے ذمے تیمار داری ہے وہ مجلس شریف سننے جائے تو یہ تکلیف میں رہیں یا اسی قسم کی اور صورتیں تو یہاں روکنے کااختیار ہے۔یوہیں مولی اپنے خاوند اور آقا اپنے ملازم کو کام کی غرض سے روك سکتاہے۔
فقد نصوا فی اجیر الواحد علی ماھو اکبر من ھذا وھی الصلوۃ النافلۃ فما ظن بالعبد۔واﷲ تعالی سبحنہ وتعالی فقہائے کرام نے تصریح فرمائی کہ اجرت پر کام کرنے والا ادمی یعنی مزدور اوقات مزدوری میں نفلی نماز نہ ادا کرے جب مزدور کے بارے میں یہ حکم ہے جبکہ وہ زر خریدا اور مملوك بھی نہیں تو زر خرید غلام اور مملوك آدمی کے بارے
اور آیہ کریمہ:
" الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ﴿۲۸﴾" سن لو!اﷲ تعالی کے ذکر ہی سے دلوں کو چین واطمینان نصیب ہوتاہے۔(ت)
مسئلہ ۴۴: ۲۹ جمادی الآخرہ ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص نے مل کر پانچ شخصوں کو مجلس میلاد شریف سے روکا یعنی نہ آنے دیا۔ ذکر الہی سننے سے روکنے ولا کون ہے اور ذکر الہی خاص ہے یا عام لوگوں کے واسطے ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ذکرالہی سب مسلمانوں کے لئے ہے اور مجلس میلاد مبارك جو مطابق رواج حرمین شریفین معتبر روایتوں سے پڑھی جائے اور منکرات شرعیہ سے خالی ہو اس سے روکنا ذکر خدا سے روکنا ہے ایسا شخص اگر بے عذر صحیح مقبول وقابل قبول روکے تو وہ " مناع للخیر معتد اثیـم ﴿۱۲﴾" ہے یعنی خیر سے روکنے ولا خدا کی باندھی ہوئی حدوں سے بڑھنے والا گناہ میں بالقصد پڑھنے والا۔والعیاذ باﷲ تعالی۔ہاں بضرورت شرعیہ مستحب سے کسی اور امر اہم کے لئے روکے تو الزام نہیں مثل باپ یا ماں علیل ہے بیٹے کے ذمے تیمار داری ہے وہ مجلس شریف سننے جائے تو یہ تکلیف میں رہیں یا اسی قسم کی اور صورتیں تو یہاں روکنے کااختیار ہے۔یوہیں مولی اپنے خاوند اور آقا اپنے ملازم کو کام کی غرض سے روك سکتاہے۔
فقد نصوا فی اجیر الواحد علی ماھو اکبر من ھذا وھی الصلوۃ النافلۃ فما ظن بالعبد۔واﷲ تعالی سبحنہ وتعالی فقہائے کرام نے تصریح فرمائی کہ اجرت پر کام کرنے والا ادمی یعنی مزدور اوقات مزدوری میں نفلی نماز نہ ادا کرے جب مزدور کے بارے میں یہ حکم ہے جبکہ وہ زر خریدا اور مملوك بھی نہیں تو زر خرید غلام اور مملوك آدمی کے بارے
حوالہ / References
جامع الترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فی فضل الذکر ∞امین کمنپی دہلی ۲/ ۱۷۳€
القرآن الکریم ∞۱۳/ ۲۸€
القرآن الکریم ∞۶۸/ ۱۲€
القرآن الکریم ∞۱۳/ ۲۸€
القرآن الکریم ∞۶۸/ ۱۲€
اعلم۔ میں آپ کیا خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔اور اﷲ پاك و برتر اور سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۴۵: از صاحب گنج گیا مسئولہ چراغ علی صاحب ۲۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۱ھ
مولانا صاحب دام مجدہ السلام علیکم!
مسلمان شخص جب دشمن کسی مسلمان کا ہو تو اس کے کہنے پر بغیر تعیین وتشخص کے خواہ مسلمان کا ہو یا کافرکا اس کے لئے اللھم خیرلنا وشر لاعدائنا(اے اللہ! یہ ہمارے لئے بھلائی کا ذریعہ ہو اور ہمارے دشمنوں کے لئے موجب شر ہو۔ت)پڑھنا چاہئےیا نہیں ونیز واطمس علی وجوہ اعدائنا(اے اﷲ ہمارے دشمنوں کے چہروں کو مٹادے۔ت)ونیز اللھم نجعلك فی نحورھم ونعوذ بك من شرورھم(اے اللہ! ہم تیرا وار ان کے سینوں میں پیوست کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔ت)وغیرہ وغیرہ۔
الجواب:
اللھم انا نجعلك فی نحورھم ونعوذبك من شرورھم ۔ اے اللہ! ہم تیرا وار ان کے سینوں میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔(ت)
اپنے تحفظ کی دعا ہےیہ ہر مخالف کے مقابل روا ہے۔باقی دعائے شر کافروبدمذہب پر کی جائے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من احب ﷲ وابغض ﷲ واعطی ﷲ ومنع ﷲ فقد استکمل الایمان ۔ جس نے اﷲ تعالی کے لئے(کسی سے)محبت کی اور اﷲ تعالی کے لئے کسی سے بغض رکھا اور اﷲ ہی کے لئے کچھ دیا اور اﷲ ہی کے لئے کچھ روکا تو یقینا اس نے ایمان مکمل کرلیا۔(ت)
مسئلہ ۴۵: از صاحب گنج گیا مسئولہ چراغ علی صاحب ۲۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۱ھ
مولانا صاحب دام مجدہ السلام علیکم!
مسلمان شخص جب دشمن کسی مسلمان کا ہو تو اس کے کہنے پر بغیر تعیین وتشخص کے خواہ مسلمان کا ہو یا کافرکا اس کے لئے اللھم خیرلنا وشر لاعدائنا(اے اللہ! یہ ہمارے لئے بھلائی کا ذریعہ ہو اور ہمارے دشمنوں کے لئے موجب شر ہو۔ت)پڑھنا چاہئےیا نہیں ونیز واطمس علی وجوہ اعدائنا(اے اﷲ ہمارے دشمنوں کے چہروں کو مٹادے۔ت)ونیز اللھم نجعلك فی نحورھم ونعوذ بك من شرورھم(اے اللہ! ہم تیرا وار ان کے سینوں میں پیوست کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔ت)وغیرہ وغیرہ۔
الجواب:
اللھم انا نجعلك فی نحورھم ونعوذبك من شرورھم ۔ اے اللہ! ہم تیرا وار ان کے سینوں میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔(ت)
اپنے تحفظ کی دعا ہےیہ ہر مخالف کے مقابل روا ہے۔باقی دعائے شر کافروبدمذہب پر کی جائے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من احب ﷲ وابغض ﷲ واعطی ﷲ ومنع ﷲ فقد استکمل الایمان ۔ جس نے اﷲ تعالی کے لئے(کسی سے)محبت کی اور اﷲ تعالی کے لئے کسی سے بغض رکھا اور اﷲ ہی کے لئے کچھ دیا اور اﷲ ہی کے لئے کچھ روکا تو یقینا اس نے ایمان مکمل کرلیا۔(ت)
حوالہ / References
الاذکار المنتخبۃ من کلام سید الابرار باب مایقول اذخاف قوما دارالکتب العلمیہ بیروت ∞ص۱۱۴،€الاذکار المنتخبۃ من کلام سید الابرار باب مایدعوبہ اذاخاف ناسا وغیرھم دارالکتب العلمیہ بیروت ∞ص۲۰۲€
سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی ردالارجاء ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۸۷،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۷۶۱۴ و ۷۷۳۷€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۸/ ۱۵۹ و ۲۰۸€
سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی ردالارجاء ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۸۷،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۷۶۱۴ و ۷۷۳۷€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۸/ ۱۵۹ و ۲۰۸€
سنی صحیح العقیدہ پرنہ کی جائے اگر چہ اپنا کتنا ہی مخالف ہو۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا کونوا عباداﷲ اخوانا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ (لوگو!)ایك دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ ایك دوسرے سے حسد کرو اورنہ ایك دوسرے سے پیٹھ پھیرو بلکہ اﷲ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن جاؤواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئہ ۴۶: از قصبہ بشارت گنج ضلع بریلی متصل بڑی مسجد مرسلہ نجوخان فوجدار یعنی باقی والا ۲۵ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك رکعت نماز قاضی الحاجات کے جواہر خمسہ میں مرقوم ہے طریقہ پڑھنے کا یہ ہے کہ اول ایك رکعت کے نیت کرکے اول اس رکعت میں بیس بار الحمد شریف پڑھے ایك بار قل ھو اﷲ شریف پڑھےبعد سلام کے بیالیس بار یہ پڑھے الہی بحرمت وہ وقت کہ تو تھا دوسرا کوئی نہ تھا۔اور سرکے ٹوپی دہنی طرف رکھ دے اور بیالس باریہ اسم اعظم پڑھے گا آگے بائیں طرف ٹوپی سر کے رکھ دے پھر یہ پڑھے الہی بحرمت وہ وقت کہ تو ہوئے دوسرا کوئی نہ ہوئے۔پھردعا اور مناجات کرے۔اگر حدیث شریف سے ثبوت نہ ہواور کوئی طریق سے یہ نماز جائز ہے یانہیں اگر جائز نہ ہو تا جواہر خمسہ میں کیوں لکھتا۔جواہر خمسہ قابل دید کتاب نہیں ہے
الجواب:
ایك رکعت تنہا پڑھنی ہمارے مذہب حنفی میں ممنوع ہے۔ حدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن البتیراء ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایك رکعت پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔(ت)
جواھر خمسہ بہت عمدہ ومستند کتاب ہے مگر اس میں جو کچھ اعمال ارشاد ہوئے ہیں عام
لاتباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا کونوا عباداﷲ اخوانا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ (لوگو!)ایك دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ ایك دوسرے سے حسد کرو اورنہ ایك دوسرے سے پیٹھ پھیرو بلکہ اﷲ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن جاؤواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئہ ۴۶: از قصبہ بشارت گنج ضلع بریلی متصل بڑی مسجد مرسلہ نجوخان فوجدار یعنی باقی والا ۲۵ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك رکعت نماز قاضی الحاجات کے جواہر خمسہ میں مرقوم ہے طریقہ پڑھنے کا یہ ہے کہ اول ایك رکعت کے نیت کرکے اول اس رکعت میں بیس بار الحمد شریف پڑھے ایك بار قل ھو اﷲ شریف پڑھےبعد سلام کے بیالیس بار یہ پڑھے الہی بحرمت وہ وقت کہ تو تھا دوسرا کوئی نہ تھا۔اور سرکے ٹوپی دہنی طرف رکھ دے اور بیالس باریہ اسم اعظم پڑھے گا آگے بائیں طرف ٹوپی سر کے رکھ دے پھر یہ پڑھے الہی بحرمت وہ وقت کہ تو ہوئے دوسرا کوئی نہ ہوئے۔پھردعا اور مناجات کرے۔اگر حدیث شریف سے ثبوت نہ ہواور کوئی طریق سے یہ نماز جائز ہے یانہیں اگر جائز نہ ہو تا جواہر خمسہ میں کیوں لکھتا۔جواہر خمسہ قابل دید کتاب نہیں ہے
الجواب:
ایك رکعت تنہا پڑھنی ہمارے مذہب حنفی میں ممنوع ہے۔ حدیث میں ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن البتیراء ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایك رکعت پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔(ت)
جواھر خمسہ بہت عمدہ ومستند کتاب ہے مگر اس میں جو کچھ اعمال ارشاد ہوئے ہیں عام
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الادب با ب ماینہی عن التحاسد الخ ∞ص ۸۹۶€ و باب الہجرۃ ∞ص ۸۹۷ قدیمی کتب خانہ کراچی،€صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب تحریم التحاسد الخ وباب تحریم الظن الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۶۔۳۱۵€
المقاصدۃ الحسنۃ ∞حدیث ۲۸۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞ص۱۴۲€
المقاصدۃ الحسنۃ ∞حدیث ۲۸۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞ص۱۴۲€
مسلمانوں کی منفعت کے لئے ہیں نہ کہ کسی خاص گروہ کے واسطے۔یہ نماز اگر ہمارے یہاں ناجائز تو شافعیہ کے نزدیك ایك جائز ہے وہ اس سے فائدہ لے سکتے ہیں۔ان کتابوں کی نظیر بلا تشبیہہ قرابا دین اطباء کی طرح ہے کہ وہ ایك مرض کے متعدد نسخے لکھتے ہیں جو نسخہ جس مریض کے مزاج و حالات کے مطابق ہو وہ اسے استعمال کرے کسی مریض کا یہ کہنا کہ اس میں فلاں جزو میرے خلاف ہے یا میرے مذہب میں روا نہیں یہ نسخہ کیوں لکھا محض بے جا ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۷: مسئولہ محمد رئیس الدین صاحب از رہتك ۲۲ صفر ۱۳۳۲ھ
ضلع رہتك کے ایك گاؤں میں جس کانام پونہی ہے ایك مسجد میں سب لوگ بعد نماز کلمہ شریف بآواز بلند چار پانچ مرتبہ پڑھتے ہیں یہ درست ہے یاکیا اس کا حکم ہے اور جو شخص یا امام منع کرے اس کا کیاحکم ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ذکر الہی افضل الاعمال بلکہ اصل جملہ اعمال حسنہ صالحہ ہے یہاں تك کہ بعد ایمان اعظم ارکان اسلام نماز سے بھی وہی مقصود ہے
قال اﷲ تعالی " اقم الصلوۃ لذکری ﴿۱۴﴾ " ۔ میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔(ت)
اور کلمہ طیبہ کہ اصل الاصول اور افضل الاذکار ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم افضل الذکر لا الہ الا اﷲ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا سب سے اچھا ذکر لا لہ الا اﷲ ہے۔(ت)
اﷲ عزوجل نے قرآن مجید میں ذکر کا مطلق حکم فرمایا اور تعمیم احوال فرمائی:
" الذین یذکرون اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبہم " (اﷲ تعالی کے مقبول بندے)وہ ہیں جو اﷲ تعالی کو کھڑے بیٹھے اور لیٹے یاد کرتے ہیں یعنی ہر حال میں خدا کاذکر کرتے ہیں۔(ت)
بلکہ اس کی تکثیر کاحکم فرمایا:
مسئلہ ۴۷: مسئولہ محمد رئیس الدین صاحب از رہتك ۲۲ صفر ۱۳۳۲ھ
ضلع رہتك کے ایك گاؤں میں جس کانام پونہی ہے ایك مسجد میں سب لوگ بعد نماز کلمہ شریف بآواز بلند چار پانچ مرتبہ پڑھتے ہیں یہ درست ہے یاکیا اس کا حکم ہے اور جو شخص یا امام منع کرے اس کا کیاحکم ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ذکر الہی افضل الاعمال بلکہ اصل جملہ اعمال حسنہ صالحہ ہے یہاں تك کہ بعد ایمان اعظم ارکان اسلام نماز سے بھی وہی مقصود ہے
قال اﷲ تعالی " اقم الصلوۃ لذکری ﴿۱۴﴾ " ۔ میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔(ت)
اور کلمہ طیبہ کہ اصل الاصول اور افضل الاذکار ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم افضل الذکر لا الہ الا اﷲ ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا سب سے اچھا ذکر لا لہ الا اﷲ ہے۔(ت)
اﷲ عزوجل نے قرآن مجید میں ذکر کا مطلق حکم فرمایا اور تعمیم احوال فرمائی:
" الذین یذکرون اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبہم " (اﷲ تعالی کے مقبول بندے)وہ ہیں جو اﷲ تعالی کو کھڑے بیٹھے اور لیٹے یاد کرتے ہیں یعنی ہر حال میں خدا کاذکر کرتے ہیں۔(ت)
بلکہ اس کی تکثیر کاحکم فرمایا:
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۰/ ۱۴€
سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب الحامدین ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۸€
القرآن الکریم ∞۳/ ۱۹۱€
سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب الحامدین ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۸€
القرآن الکریم ∞۳/ ۱۹۱€
قال اﷲ تعالی " و اذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون ﴿۱۰﴾ " ۔
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکثرواذکر اﷲ حتی یقولوا انہ مجنون ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)اﷲ کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔(ت)
(رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا)اﷲ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ کہنے لگیں یہ تو دیوانہ ہے۔
جس چیز کی تکثیر شارع کو مطلوب ہو اس کی تقلیل نہ چاہے گا مگر وہ جسے شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے ضد ہے۔رہا خوف ریا وہ متعلق بہ قلب ہے ریا سے اگر نماز ہو تو وہ بھی ناجائز ہے۔مگر عقل ودین والا ریا سے منع کرے گا نماز سے نہ روکے گاحضرت سیدی شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس اﷲ سرہ کے حضور کسی طالب خدا نے عرضی لکھی کہ:
یاسیدی ان عملت داخلنی الریا وان ترکت اخلات الی ارض البطالۃ۔ اے میرے سردار! میں عمل کرتاہوں جب تو ریا آجاتاہے اور چھوڑ دیتاہوں تو بیکاری کی زمین پر گرا پڑتا ہوں۔
جواب ارشادفرمایا:
اعمل وتب الی اﷲ ۔ کام کئے جاؤ اور ریا سے اﷲ کی طرف تو بہ کرو۔
ہاں دوسرے مسلمانوں کی ایذا نہ ہونے کا لحاظ لازم ہے سو توں کی نیند میں خلل نہ ہونمازیوں کی نماز میں تشویش نہ ہوکما نص علیہ فی البحرالرائق وردالمحتار وغیرھا(جیسا کہ بحرالرائق اور ردالمحتار میں اس پر نص ہے۔ت)جب وقت لوگوں کی نیند کاہو یا کچھ نماز پڑھ رہے ہوں تو ذکر کرو جس طرح مگر نہ اتنی آواز سے کہ ان کو ایذا ہو اور جب اس سے خالی ہو تو مختار مطلق ہو کرو اور اتنی کثرت سے کرو کہ منافق مجنون کہیں اوروہابی بدعتواﷲ تعالی اعلم۔
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکثرواذکر اﷲ حتی یقولوا انہ مجنون ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)اﷲ کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔(ت)
(رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا)اﷲ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ کہنے لگیں یہ تو دیوانہ ہے۔
جس چیز کی تکثیر شارع کو مطلوب ہو اس کی تقلیل نہ چاہے گا مگر وہ جسے شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے ضد ہے۔رہا خوف ریا وہ متعلق بہ قلب ہے ریا سے اگر نماز ہو تو وہ بھی ناجائز ہے۔مگر عقل ودین والا ریا سے منع کرے گا نماز سے نہ روکے گاحضرت سیدی شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس اﷲ سرہ کے حضور کسی طالب خدا نے عرضی لکھی کہ:
یاسیدی ان عملت داخلنی الریا وان ترکت اخلات الی ارض البطالۃ۔ اے میرے سردار! میں عمل کرتاہوں جب تو ریا آجاتاہے اور چھوڑ دیتاہوں تو بیکاری کی زمین پر گرا پڑتا ہوں۔
جواب ارشادفرمایا:
اعمل وتب الی اﷲ ۔ کام کئے جاؤ اور ریا سے اﷲ کی طرف تو بہ کرو۔
ہاں دوسرے مسلمانوں کی ایذا نہ ہونے کا لحاظ لازم ہے سو توں کی نیند میں خلل نہ ہونمازیوں کی نماز میں تشویش نہ ہوکما نص علیہ فی البحرالرائق وردالمحتار وغیرھا(جیسا کہ بحرالرائق اور ردالمحتار میں اس پر نص ہے۔ت)جب وقت لوگوں کی نیند کاہو یا کچھ نماز پڑھ رہے ہوں تو ذکر کرو جس طرح مگر نہ اتنی آواز سے کہ ان کو ایذا ہو اور جب اس سے خالی ہو تو مختار مطلق ہو کرو اور اتنی کثرت سے کرو کہ منافق مجنون کہیں اوروہابی بدعتواﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶۲/ ۱۰€
المستدرك للحاکم کتاب الدعاء باب اکثر واذکر اﷲ الخ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۴۹۹€
المستدرك للحاکم کتاب الدعاء باب اکثر واذکر اﷲ الخ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۴۹۹€
مسئلہ ۴۸: مسئولہ عبدالحمید ساکن لوشدی تدی پاڑہ ضلع پترہ ڈاکخانہ سیف اﷲ کندی بروز دو شنبہ تاریخ ۱۹ رجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین رحمہم اﷲ تعالی سوالات مرقومہ ذیل اول جہر مفرط کے ساتھ ذکر کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اور جہر مفرط کا حد کیا ہے اور اگر چند لوگ جمع ہو کر ایسے زور سے ذکر کریں کہ نماز وتلاوت ونیند وغیرہ میں خلل واقع ہو جائے تو اس طرح کاذکر کرنا جائز ہوگا یا نہیں اور اس دیار میں بعض لوگ اس طرح ذکر کیا کرتے ہیں کہ ان کے ذکرمیں اکثر لا الہ الا ال ھملق کا تلفظ سنا جاتاہے یہ بحسب شرع روا ہے یانہیں اور اجتماع ہو کر ذکر کرنا کیساہے
الجواب:
اجتماع ہوکر ذکر حسن ہے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ رب عزوجل فرماتاہے:
وان ذکرنی فی ملا ذکرتہ فی ملأ خیر منہ ۔ اگر کسی شخص نے مجھے کسی مجلس میں یاد کیا(یعنی میرا ذکر کیا)تو میں اس سے بہتر اور اعلی مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں (ت)
ذکر بجہر صحیح یہ ہے کہ جائز ہے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مررتم بریاض الجنۃ فارتعوا قالوا وماریاض الجنۃقال حلق الذکر ۔ (لوگو!)جب تم جنت کے باغیچوں سے گزرنے لگو تو اچھی طرح کھاپی لیا کرو۔لوگوں نے عرض کی(اے اﷲ تعالی کے حبیب علیہ الصلوۃ والسلام!)جنت کے باغیچے کیا ہیں ارشادفرمایا:ذکر کے حلقے۔(ت)
مگر ایسا ہو جس سے کسی کی نماز یا تلاوت یا نیند میں خلل آئے یا مریض کو ایذا پہنچے ناجائز ہے اور یہ بھی ممنوع ہے کہ طاقت سے زیادہ جہر کرے جس سے اپنے دل ودماغ کو صدمہ پہنچے اسی کا نام جہر مفرط ہے اور وہ الفاظ بے معنی کہ سائل نے لکھے اگر وہ کہتے ہی یہ ہیں تو جہل ہے اوراگر کہتے صحیح الفاظ ہیں اور جہر کے غل سے سننے میں ایسا آتا ہے تو الزام نہیں۔فقط۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین رحمہم اﷲ تعالی سوالات مرقومہ ذیل اول جہر مفرط کے ساتھ ذکر کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اور جہر مفرط کا حد کیا ہے اور اگر چند لوگ جمع ہو کر ایسے زور سے ذکر کریں کہ نماز وتلاوت ونیند وغیرہ میں خلل واقع ہو جائے تو اس طرح کاذکر کرنا جائز ہوگا یا نہیں اور اس دیار میں بعض لوگ اس طرح ذکر کیا کرتے ہیں کہ ان کے ذکرمیں اکثر لا الہ الا ال ھملق کا تلفظ سنا جاتاہے یہ بحسب شرع روا ہے یانہیں اور اجتماع ہو کر ذکر کرنا کیساہے
الجواب:
اجتماع ہوکر ذکر حسن ہے سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ رب عزوجل فرماتاہے:
وان ذکرنی فی ملا ذکرتہ فی ملأ خیر منہ ۔ اگر کسی شخص نے مجھے کسی مجلس میں یاد کیا(یعنی میرا ذکر کیا)تو میں اس سے بہتر اور اعلی مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں (ت)
ذکر بجہر صحیح یہ ہے کہ جائز ہے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مررتم بریاض الجنۃ فارتعوا قالوا وماریاض الجنۃقال حلق الذکر ۔ (لوگو!)جب تم جنت کے باغیچوں سے گزرنے لگو تو اچھی طرح کھاپی لیا کرو۔لوگوں نے عرض کی(اے اﷲ تعالی کے حبیب علیہ الصلوۃ والسلام!)جنت کے باغیچے کیا ہیں ارشادفرمایا:ذکر کے حلقے۔(ت)
مگر ایسا ہو جس سے کسی کی نماز یا تلاوت یا نیند میں خلل آئے یا مریض کو ایذا پہنچے ناجائز ہے اور یہ بھی ممنوع ہے کہ طاقت سے زیادہ جہر کرے جس سے اپنے دل ودماغ کو صدمہ پہنچے اسی کا نام جہر مفرط ہے اور وہ الفاظ بے معنی کہ سائل نے لکھے اگر وہ کہتے ہی یہ ہیں تو جہل ہے اوراگر کہتے صحیح الفاظ ہیں اور جہر کے غل سے سننے میں ایسا آتا ہے تو الزام نہیں۔فقط۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الردعلی الجہمیۃ باب قول اﷲ تعالٰی ویحذرکم اﷲ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۰۱،€صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب الحث علی ذکر اﷲ تعالٰی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۱€
جامع الترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فی عقد التسبیح الخ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۸۹€
جامع الترمذی کتاب الدعوات باب ماجاء فی عقد التسبیح الخ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۸۹€
مسئلہ ۴۹: از شہر محلہ گندہ نالہ مکان مرزاغلام حیدر بیگ صاحب مرحوم مرسلہ احمد بخش ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
نعت شریف اور حمد جس کی بابت حدیث شریف میں صاف پاك مکان اور جس کے یہاں کلام پاك پڑھا جائے عقیدت درست ہوناشرط ہے اب بجائے اس کے عام راستوں پر جہاں پاکی اور ناپاکی تصدیق نہیں ایسی صورت میں نعت وحمد پڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض و ابتغوا من فضل اللہ و اذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون ﴿۱۰﴾ " جب جمعہ کی نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اﷲ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت ذکر الہی کرو کہ تم فلاح پاؤ۔
جمعہ کے نمازیوں کو حکم ہے کہ جمعہ پڑھ کر باہر نکلو تو زمین میں اپنے اپنے کاموں کو پھیل جاؤ اور ذکر الہی بکثرت کروراستوں میں بھی ذکر الہی کا یہاں سے صریح حکم نکلا اور جس جگہ کی پاکی ناپاکی تحقیق نہیں وہ پاك ہی ہے یہاں تك کہ اس پر نماز جائزہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جعلت لی الارض مسجداوطھورا فایما رجل من امتی ادرکتہ الصلوۃ فلیصل ۔واﷲ تعالی اعلم۔ میرے لئے زمین مسجد اور پاك کرنیوالی بنائی گئی تو میرے امتی کو جہاں کہیں نماز کا وقت آئے نماز پڑھے۔
مسئلہ ۵۰: از بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب بنگال ۱۶ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز کے اکثر آدمی ایك جگہ بیٹھ کر ذکر جلی کرتے ہیں اور سب پر حالت وجد طاری ہوگئی اپنے جسم تك کا خیال باقی نہیں رہا۔ایك دوسرے پر گر پڑتے ہیں کیا اس طرح کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اگر ذکر جائز ہو تو کس طرح جائز ہو بینوا توجروا(بیان کرو اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اگر بناوٹ ہے حرام اور سخت حرام ہے۔اور
نعت شریف اور حمد جس کی بابت حدیث شریف میں صاف پاك مکان اور جس کے یہاں کلام پاك پڑھا جائے عقیدت درست ہوناشرط ہے اب بجائے اس کے عام راستوں پر جہاں پاکی اور ناپاکی تصدیق نہیں ایسی صورت میں نعت وحمد پڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض و ابتغوا من فضل اللہ و اذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون ﴿۱۰﴾ " جب جمعہ کی نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اﷲ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت ذکر الہی کرو کہ تم فلاح پاؤ۔
جمعہ کے نمازیوں کو حکم ہے کہ جمعہ پڑھ کر باہر نکلو تو زمین میں اپنے اپنے کاموں کو پھیل جاؤ اور ذکر الہی بکثرت کروراستوں میں بھی ذکر الہی کا یہاں سے صریح حکم نکلا اور جس جگہ کی پاکی ناپاکی تحقیق نہیں وہ پاك ہی ہے یہاں تك کہ اس پر نماز جائزہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جعلت لی الارض مسجداوطھورا فایما رجل من امتی ادرکتہ الصلوۃ فلیصل ۔واﷲ تعالی اعلم۔ میرے لئے زمین مسجد اور پاك کرنیوالی بنائی گئی تو میرے امتی کو جہاں کہیں نماز کا وقت آئے نماز پڑھے۔
مسئلہ ۵۰: از بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب بنگال ۱۶ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز کے اکثر آدمی ایك جگہ بیٹھ کر ذکر جلی کرتے ہیں اور سب پر حالت وجد طاری ہوگئی اپنے جسم تك کا خیال باقی نہیں رہا۔ایك دوسرے پر گر پڑتے ہیں کیا اس طرح کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اگر ذکر جائز ہو تو کس طرح جائز ہو بینوا توجروا(بیان کرو اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اگر بناوٹ ہے حرام اور سخت حرام ہے۔اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶۲/ ۱۰€
صحیح البخاری کتاب التیمم قول اﷲ عزوجل فلم تجدوا ماء الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۸€
صحیح البخاری کتاب التیمم قول اﷲ عزوجل فلم تجدوا ماء الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۸€
واقعی بے اختیار ی ہے تو مواخذہ نہیں۔ذکر اس طرح ہو کہ نہ ریا ہو نہ کسی کو ایذا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۱: از اجمیر شریف ڈاکخانہ گریج علاقہ نمبر ۳۰ مرسلہ کمال محمد ۱۴ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
بددعا کرنا گناہگاروں کے واسطے جائز ہے یا حرام
الجواب:
سنی مسلمان اگر کسی پر ظالم نہیں تو اس کے لئے بددعا نہ چاہئے بلکہ دعائے ہدایت کی جائے کہ جو گناہ کرتاہے چھوڑ دے۔اور اگر ظالم ہے اور مسلمانوں کو اس سے ایذا ہے تو اس پربد دعا میں حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ذکر جلی کرنا جائز ہے یانہیں اور آواز کس قدر بلند کرسکتاہے کوئی حد معین ہے یانہیں حلقہ باندھ کر ذکر کرتے وقت ذکر کرتے کرتے کھڑے ہوجانا اور سینہ پر ہاتھ مارنا ایك دوسرے پر گر پڑنالپٹ جانارونازاری کی دھوم مچانا کیسا ہے
الجواب:
ذکر جلی جائز ہے۔حدمعین یہ ہے کہ اتنی آواز نہ ہو جس سے اپنے آقا کو ایذا ہو یا کسی نمازی یا مریض یا سوتے کو تکلیف پہنچے اور ذکر کرتے کرتے کھڑے ہو جانا وغیرہا افعال مذکورہ اگر بحالت وجد صحیح ہیں تو کوئی حرج نہیں اور معاذاﷲ ریا کے لئے بناوٹ ہیں تو حرام وما بینھما وسط لا یذکر للعوام(اور ان دونوں کے درمیان کچھ درمیانی درجات ہیں جو عوام کے لئے ذکر نہیں کئے جاسکتے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
____________________
مسئلہ ۵۱: از اجمیر شریف ڈاکخانہ گریج علاقہ نمبر ۳۰ مرسلہ کمال محمد ۱۴ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
بددعا کرنا گناہگاروں کے واسطے جائز ہے یا حرام
الجواب:
سنی مسلمان اگر کسی پر ظالم نہیں تو اس کے لئے بددعا نہ چاہئے بلکہ دعائے ہدایت کی جائے کہ جو گناہ کرتاہے چھوڑ دے۔اور اگر ظالم ہے اور مسلمانوں کو اس سے ایذا ہے تو اس پربد دعا میں حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ذکر جلی کرنا جائز ہے یانہیں اور آواز کس قدر بلند کرسکتاہے کوئی حد معین ہے یانہیں حلقہ باندھ کر ذکر کرتے وقت ذکر کرتے کرتے کھڑے ہوجانا اور سینہ پر ہاتھ مارنا ایك دوسرے پر گر پڑنالپٹ جانارونازاری کی دھوم مچانا کیسا ہے
الجواب:
ذکر جلی جائز ہے۔حدمعین یہ ہے کہ اتنی آواز نہ ہو جس سے اپنے آقا کو ایذا ہو یا کسی نمازی یا مریض یا سوتے کو تکلیف پہنچے اور ذکر کرتے کرتے کھڑے ہو جانا وغیرہا افعال مذکورہ اگر بحالت وجد صحیح ہیں تو کوئی حرج نہیں اور معاذاﷲ ریا کے لئے بناوٹ ہیں تو حرام وما بینھما وسط لا یذکر للعوام(اور ان دونوں کے درمیان کچھ درمیانی درجات ہیں جو عوام کے لئے ذکر نہیں کئے جاسکتے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
____________________
نکاح وطلاق
محرماتمہرعدتکفوولایت
مسئلہ ۵۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کا خاوند مرگیا اور اس عورت نے دوسرا خاوند کرلیا ہو تو وہ عورت جنت میں کون سے خاوند کے پاس ہوگی بینوا توجروا(بیان فرمائے اجر پائے۔ت)
الجواب:
عورت اپنے آخر ازواج کے لئے ہے۔
مسئلہ ۵۴: از شاہجہانپور مرسلہ مولوی ریاست علی خاں صاحب ۲۲ ربیع الآخر ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر زید دس بارہ سال سے برہما کو چلا گیازوجہ کی کچھ خبر گیری نہیں کرتا نہ نان نفقہ دیتا ہے نہ کبھی آتاہے۔چند آدمی مسلم غیر ثقہ اس کے پاس سے ہو کر آئے تو وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ زید مرتدہوگیا یعنی دین اسلام چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کیا۔تو اس صورت میں کیا ایك یا دو آدمی غیر ثقہ مسلم کی خبر سے عورت مذکورہ اپنا نکاح کسی دوسرے شخص سے کرسکتی ہے یانہیں اور دوسرے شخص کو بنا بر قول ہندہ کے کہ میں نے فلاں شخص سے سنا ہے کہ میرا شوہر مرتد ہوگیا ہے یا بنا بر قول اس شخص کے جو زید کے پاس ہو کر آیا اور کہتاہے کہ زید نصرانی ہوگیا ہے
محرماتمہرعدتکفوولایت
مسئلہ ۵۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کا خاوند مرگیا اور اس عورت نے دوسرا خاوند کرلیا ہو تو وہ عورت جنت میں کون سے خاوند کے پاس ہوگی بینوا توجروا(بیان فرمائے اجر پائے۔ت)
الجواب:
عورت اپنے آخر ازواج کے لئے ہے۔
مسئلہ ۵۴: از شاہجہانپور مرسلہ مولوی ریاست علی خاں صاحب ۲۲ ربیع الآخر ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر زید دس بارہ سال سے برہما کو چلا گیازوجہ کی کچھ خبر گیری نہیں کرتا نہ نان نفقہ دیتا ہے نہ کبھی آتاہے۔چند آدمی مسلم غیر ثقہ اس کے پاس سے ہو کر آئے تو وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ زید مرتدہوگیا یعنی دین اسلام چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کیا۔تو اس صورت میں کیا ایك یا دو آدمی غیر ثقہ مسلم کی خبر سے عورت مذکورہ اپنا نکاح کسی دوسرے شخص سے کرسکتی ہے یانہیں اور دوسرے شخص کو بنا بر قول ہندہ کے کہ میں نے فلاں شخص سے سنا ہے کہ میرا شوہر مرتد ہوگیا ہے یا بنا بر قول اس شخص کے جو زید کے پاس ہو کر آیا اور کہتاہے کہ زید نصرانی ہوگیا ہے
نکاح ہندہ مذکورہ سے بلا ظن غالب یابہ ظن غالب کرسکتا ہے یانہیں اور اگر ظن غالب کی خبر مذکور میں ضرورت ہے تو صرف ظن غالب ہندہ مذکورہ کا خبر مذکورہ میں اس شخص کے لئے جو نکاح ہندہ سے کرتا ہے کافی ہوگا یا اس شخص کو بھی غلبہ ظن کی اس خبر ارتداد میں ضرورت پڑے گی بینوا توجروا(بیان فرمائے اجر پائے۔ت)
الجواب:
اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ نکاح پر فساد طاری کی خبر جبکہ اس کا کوئی معارض ومنکر ظاہر نہ ہو تو دو شرطوں میں ایك کے ساتھ مقبول ہے یا تو مخبر ثقہ عادل ہو یا صاحب معاملہ جسے خبر دی گئی تحری کرے اور اس کے قلب میں اس کا صدق واقع ہو اوراگر نہ مخبر ثقہ نہ اس کےدل میں اس کا صدق آتاہے تو ایسی خبر پر عمل ناروا ہے۔اور اس احدالشرطین کی ضرورت جس طرح عورت کو ہے جو اس خبر کی بنا پر اپنا نکاح ثانی کیا چاہتی ہے یوہیں دوسرے ناکح کو بھی اور اس کے سامنے بھی نفس واقع سے اخبار چاہئے خواہ وہ مخبر بیان کریں خواہ عورت تاکہ مخبر عن الواقع یا تحری قلب کو مساع ہو مجرداخبار عن الاخبار کوئی شے نہیں۔اور تحری قلب باب احتیاط سے ہے ایك کاظن دوسرے کے حق میں کافی نہیں خود اپنے دل کی شہادت چاہئے۔فتاوی ہندیہ میں ہے:
لو ان رجلا تزوج امرأۃ فلم یدخل بھا حتی غاب عنھا واخبر مخبر انھا قد ارتدت فان کان المخبر عندہ ثقۃ وھو حر اومملوك اومحدود فی قذف وسعہ ان یصدق المخبرو یتزوج اربعا سواھا وان لم یکن المخبر ثقۃ وفی اکبر رأیہ انہ صادق فکذلك وان کان فی اکبر رأیہ انہ کاذب لم یتزوج اکثر من ثلاث ولو ان مخبرا اخبر اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور ہمبستری کئے بغیر کہیں چلا جائے اور اسے یہ اطلاع ملے کہ اس کی بیوی مرتد ہوگئی ہے اور اطلاع دینے والا اس کےخیال میں ثقہ یعنی معتبر ہو خواہ آزاد ہو یا غلام تو وہ شخص بیك وقت چا ر عورتوں سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتا ہے کیونکہ وہ عورت بوجہ مرتدہ ہونے کے اس کی بیوی ہی متصور نہیں ہوگی ہاں اگر اطلاع ارتداد دینے والا قابل اعتماد آدمی نہ ہو لیکن اگر مخبر معتبر آدمی نہ ہو
الجواب:
اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ نکاح پر فساد طاری کی خبر جبکہ اس کا کوئی معارض ومنکر ظاہر نہ ہو تو دو شرطوں میں ایك کے ساتھ مقبول ہے یا تو مخبر ثقہ عادل ہو یا صاحب معاملہ جسے خبر دی گئی تحری کرے اور اس کے قلب میں اس کا صدق واقع ہو اوراگر نہ مخبر ثقہ نہ اس کےدل میں اس کا صدق آتاہے تو ایسی خبر پر عمل ناروا ہے۔اور اس احدالشرطین کی ضرورت جس طرح عورت کو ہے جو اس خبر کی بنا پر اپنا نکاح ثانی کیا چاہتی ہے یوہیں دوسرے ناکح کو بھی اور اس کے سامنے بھی نفس واقع سے اخبار چاہئے خواہ وہ مخبر بیان کریں خواہ عورت تاکہ مخبر عن الواقع یا تحری قلب کو مساع ہو مجرداخبار عن الاخبار کوئی شے نہیں۔اور تحری قلب باب احتیاط سے ہے ایك کاظن دوسرے کے حق میں کافی نہیں خود اپنے دل کی شہادت چاہئے۔فتاوی ہندیہ میں ہے:
لو ان رجلا تزوج امرأۃ فلم یدخل بھا حتی غاب عنھا واخبر مخبر انھا قد ارتدت فان کان المخبر عندہ ثقۃ وھو حر اومملوك اومحدود فی قذف وسعہ ان یصدق المخبرو یتزوج اربعا سواھا وان لم یکن المخبر ثقۃ وفی اکبر رأیہ انہ صادق فکذلك وان کان فی اکبر رأیہ انہ کاذب لم یتزوج اکثر من ثلاث ولو ان مخبرا اخبر اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور ہمبستری کئے بغیر کہیں چلا جائے اور اسے یہ اطلاع ملے کہ اس کی بیوی مرتد ہوگئی ہے اور اطلاع دینے والا اس کےخیال میں ثقہ یعنی معتبر ہو خواہ آزاد ہو یا غلام تو وہ شخص بیك وقت چا ر عورتوں سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتا ہے کیونکہ وہ عورت بوجہ مرتدہ ہونے کے اس کی بیوی ہی متصور نہیں ہوگی ہاں اگر اطلاع ارتداد دینے والا قابل اعتماد آدمی نہ ہو لیکن اگر مخبر معتبر آدمی نہ ہو
المرأۃ ان زوجھا قد ارتد ذکر فی الاستحسان من الاصل ان لھا ان تتزوج بزوج اخری وسوی بین الرجل والمرأۃ وذکر فی السیر لیس لہا ان تتزوج بزوج اخر حتی یشھد عندھا رجلان اورجل وامرأتان وذکر شمس الائمۃ السرخسی رحمہ اﷲ تعالی الصحیح ان لھا ان تتزوج لان المقصود من ھذا الخبر وقوع الفرقۃ بین الزوجین وفی ھذا لا فرق بین ردۃ المرأۃ والزوج وکذا لو کانت المرأۃ صغیرۃ فاخبرہ انسان انھا ارتضعت من امہ واختہ صح ھذا الخبر ولوا خبرہ انسان انہ تزوجھا وھی مرتدۃ یوم تزوجھا اوکانت اختہ من الرضاعۃ و مگر اس کی غالب رائے میں وہ سچا ہو تو پھر بھی وہی حکم لاگو ہوگا اوراگر وہ اس کی غالب رائے میں جھوٹا ہو تو اس صورت میں یہ شخص تین عورتوں سے زائد کے ساتھ بیك وقت نکاح نہیں کرسکتا اسی طرح اگر بتانے والے نے کسی عورت کو یہ اطلاع دی کہ اس کا شوہر مرتد ہوگیا ہے(یعنی دین اسلام سے پھر گیا ہے)تو اصل کی بحث استحسان میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس عورت کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلےایسی صورت حال میں مرد اورعورت کے درمیان مساوات رکھی گئی ہے اور"سیر"میں مذکور ہے کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح اس وقت تك نہیں کرسکتی جب تك کہ اس کے پاس دو مرد یا ایك مرد اوردو عورتیں بطور گواہ برائے توثیق موجود نہ ہوںشمس الائمہ سرخسی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ صحیح یہ ہے کہ عورت مذکورہ اگر دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے کیونکہ اس خبر سے مقصود میاں اور بیوی دونوں میں وقوع فرقت (جدائی)ہے اوراس صورت میں مرد عورت دونوں میں سے کسی ایك کے مرتد ہونے میں کوئی فرق نہیں۔یونہی اگر عورت چھوٹی ہو اور خاوند کو کوئی آدمی یہ بتائے کہ اس بیوی نے تیری والدہ یا بہن کا دودھ پی رکھا ہے تو اس خبر کو صحیح اوردرست تسلیم کیا جائے گا اور اگر مردکو کسی نے یہ اطلاع دی
المخبر ثقۃ لاینبغی لہ ان یتزوج اربعا سواھا مالم یشھد بذلك عندہ شاھدا عدل لانہ اخبر بفساد عقد کان محکوما بصحتہ ظاھرا فلا یبطل ذلك بخبر الواحد بخلاف الاول فان شھد عندہ شاھداعدل بذلك وسعہ ان یتزوج اربعا سواھا ولو اتاھا رجل فاخبر ھا ان اصل نکاحھا کان فاسدا اوان زوجھا کان اخالھا من الرضاعۃ او کان مرتدالم یسعھا ان تتزوج بقولہ وان کان ثقۃ کذا فی فتاوی قاضی خاں اذا کانت الزوجۃ مشتھاۃ فاخبرہ رجل ان اباالزوج اوابنہ قبلھا بشھوۃ ووقع فی قلبہ انہ صادق لہ ان یتزوج باختھا اواربع سواھا بخلاف مالواخبرہ بسبق الرضاع والمصاھرۃ علی کہ جس عورت سے اس نے نکاح کیا ہے بوقت نکاح وہ عورت مرتدہ تھی یا وہ اس کی رضاعی بہن ہے اور اطلاع دینے والا قابل اعتبار آدمی ہو تو ایسی صورت میں مرد کے لئے دو عادل مرد گواہوں سے تصدیق حاصل کرنا ضروری ہے اس لئے کہ ایك آدمی نے فساد عقد کی اطلاع دی جو بظاہر محکوم بصحت ہے(یعنی صحت عقد ظاہر ہے)لہذا یہ محض ایك شخص کے کہنے سے باطل نہیں ہوگا بخلاف پہلی صورت کے لہذا اگر اس کے پاس دو عادل آدمی گواہی دیں تو پھر اس کے لئے گنجائش ہے کہ عورت مذکورہ کے علاوہ بیك وقت چار عورتیں عقد میں رکھے اگر عورت کوکوئی شخص یہ آکر بتائے کہ اس کا اصل نکاح فاسد تھا یا اس کا شوہر دراصل اس کا رضاعی بھائی ہے یا وہ مرتد ہے توعورت کو محض اس شخص کے کہنے سے دوسری شادی کرلینے کی اجازت نہیں خواہ اطلاع دینے والا ثقہ(معتبر)ہی کیوں نہ ہو فتاوی قاضی خاں میں اسی طرح مذکور ہے۔جب زوجہ مشتہاۃ(قابل شہوت)ہو اور اس کے شوہر کو کوئی یہ اطلاع بہم پہنچائے کہ اس کے باپ یا بیٹے نے شہوت سے اس کا بوسہ لیا ہے اور شوہر کے دل میں یہ خیال پیداہو کہ خبر دینے والا سچاآدمی ہے تو اس صورت میں وہ اس عورت کی بہن سے نکاح کرسکتا ہے
النکاح لان الزوج ثمہ ینازعہ وفی العارض لاینازعہ لعدم العلم فان وقع عندہ صدقہ وجب قبولہ ھکذا فی الوجیز الکردری امرأۃ غاب زوجھا فاتاھا مسلم غیر ثقۃ بکتاب الطلاق من زوجھا ولا تدری انہ کتابہ ام لا الا ان اکبر رأیھا انہ حق فلا باس ان تعتد ثم تتزوج کذا فی محیط السرخسی اذا غاب الرجل عن امرأتہ فاتاھا مسلم عدل فاخبرھا ان زوجھا طلقھا ثلثا اومات عنھا فلھا ان تعتدو تتزوج بزوج اخر وان کان المخبر فاسقاتتحری ثم اذا اخبر ھا عدل مسلم انہ مات زوجھا انما تعتمد علی خبرہ اذا قال عاینتہ میتا او قال شہدت جنازتہ اما اذا قال اخبر نی اور وہ بیك وقت اس کے علاوہ چار عورتوں کو عقد میں رکھ سکتا ہے(کیونکہ اس کی بیوی کا عقد باقی نہیں رہا)بخلاف اس صورت کے کہ اگر کوئی اسے یہ بتائے کہ نکاح سے پہلے ہی رضاعت(شیرنوشی)یامصاہرت(حرمت دامادی)موجود تھی اس لئے کہ اس جگہ زوج(شوہر)کو اس معاملہ مں صورت نزاع ہے اور پیدا ہونے والی صورت میں شکل نزاع نہیں پائی جاتی اس لئے کہ اس کا علم ہی نہیں پھر اگر اس کے نزدیک(اس صورت میں)وقوع صدق ہے تو اس کی بات کو قبول کرنا واجب ہے۔امام کردری کی ''وجیز'' میں یونہی مذکور ہے۔ایك عورت کا شوہر مفقود ہوگیا پھر ایك غیر معتبر مسلمان نے اسے شوہر کی طرف سے طلاق نامہ لاکر دیا لیکن اسے علم نہیں کہ طلاق نامہ اس کے شوہر کا اپنا تحریر کردہ ہے یا کسی اور کا مگر اس کا غالب خیال یہ ہے کہ حقیقت پر مبنی ہے اس صورت میں کوئی حرج نہیں کہ عورت عدت گزار کر نکاح ثانی کرلےامام سرخسی کی محیط میں اسی طرح مذکور ہے جب شوہر اپنی بیوی سے غائب ہوجائے اور کوئی عادل مسلمان اس عورت کو یہ اطلاع پہنچائے کہ اس کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دے ڈالی ہیں یا وہ وفات پاگیا ہے تو اس عورت کے لئے جائز ہے کہ عدت گزار کرکسی سے نکاح ثانی کرلے اور اگر خبر دینے والا فاسق اور غیر معتبر
مخبر لاتعتمد علی خبرہ کذا فی المحیطواذا شھد عد لان للمرأۃ ان زوجھا طلقھا ثلثا وھو یجحد ثم غابا اوماتا قبل الشھادۃ عند القاضی لم یسع المرأۃ ان تقیم معہ وان تدعہ ان یقربھا و لایسعھا ان تتزوج کذا فی المحیط السرخسی۔واذا شھد شاھد ان عند المرأۃ بالطلاق فان کان الزوج غائبا وسعھا ان تعتدوتتزوج بزوج اخر وان کان حاضرا لیس لھا ذلك ولکن لیس لھا ان تمکن من زوجھا کذا فی المحیط ولو ان امرأۃ قالت لرجل ان زوجی طلقنی ثلثا انقضت عدتی فان کانت عدلۃ وسعہ ان یتزوجھا وان کانت فاسقۃ تحری وعمل بما وقع تحریہ آدمی ہو تو غور و خوض کرے۔اور انتظار کرے پھرجب اسے کسی عادل اور معتبر مسلمان کی طرف سے خاوند کے وفات پاجانے کی اطلاع میسر ہو جائے تو اس کی خبر پر اعتماد کیا جائے مگروہ بھی اس صورت میں جبکہ وہ یوں اطلاع دے کہ میں نے خود اس کے شوہر کو مرا ہوا دیکھا ہے یا اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی ہے لیکن اگر وہ اس طرح اطلاع نہیں دیتا بلکہ یوں کہتاہے کہ مجھے بتانے والے نے بتایا تو اس صورت میں اس کی خبر ناقابل اعتماد خیال کی جائے گی۔محیط میں یوں ہی مذکور ہے۔اور اگر دو عادل شخص عورت کے روبرو یہ گواہی دیں کہ اس کے شوہر نے اسے تین طلاق دے دی ہیں لیکن شوہر انکاری ہو اور قاضی کے روبرو گواہ شہادت دینے سے پہلے ہی غائب ہوجائیں یا وفات پاجائیں تو عورت کے لئے اس مرد کے ہاں ٹھہرنے کی کوئی گنجائش نہیں وہ اس سے علیحدگی اختیار کرلے تاکہ مرد اس سے قربت نہ کرنے پائے۔ لیکن اس عورت کے لئے یہ گنجائش نہیں کہ وہ کہیں اور نکاح کرلے محیط میں امام سرخسی سے اسی طرح مذکور ہے۔ جب دو گواہ عورت کے روبرو طلاق کی گواہی دیں اگر مرد غیر حاضر ہوتو عورت کے لئے گنجائش ہے کہ عدت سے گزرے اور کسی اور مرد سے نکاح کرلے لیکن اگر شوہر موجود ہو تو پھر اسے یہ اجازت نہیں لیکن عورت کو یہ اجازت حاصل ہے
علیہ کذا فی الذخیرۃ المرأۃ الحرۃ اذا تزوجت رجلا ثم قالت لرجل ان نکاحی کان فاسدا لما ان زوجھا علی غیرالاسلام لایسع لھذا ان یقبل قولھا ولا ان یتزوجھا لانھا اخبرت بامر مستنکر وان قالت طلقنی بعد النکاح علی او ارتد عن الاسلام وسعہ ان یعتمد علی خبرھا ویتزوجھا لانھا اخبرت بخبر محتمل واذا اخبرت ببطلان النکاح الاول لایقبل قولھا وان اخبرت بالحرمۃ بامرعارض بعد النکاح من رضاع طاری او غیر ذلك فان کانت ثقۃ عندہ اولم تکن ثقۃ ووقع فی قلبہ انھا صادقۃ فلا باس بان یتزوجھا کذا فی فتاوی قاضی خان اھ مختصر کہ وہ شوہر کو اپنے اوپر قابو نہ پانے دے۔محیط میں یونہی مذکور ہے اگر کسی عورت نے کسی مرد سے کہا کہ میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور میری عدت بھی گزر گئی ہے تو وہ مرد اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے بشرطیکہ عورت عادلہ ہواورا گر عورت فاسقہ ہو یا ناقابل اعتبار ہو تو شخص مذکور غور وفکر سے کام لے اور بعد از غور وفکر اس کے دل میں جو بات آئے(عقد کرلینے یانہ کرنے کی)تو اس پر عمل کرے۔ذخیرہ میں اسی طرح مذکور ہے جب کوئی آزاد عورت کسی مرد سے شادی کرے اور پھر کسی اور آدمی سے کہے کہ میرا نکاح فاسد تھا یا یہ کہ میرا شوہر مسلمان نہیں تو اس شخص کے لئے گنجائش نہیں کہ عورت مذکور کی بات قبول کرے(مانے)اور نہ یہ گنجائش ہے کہ اس سے نکاح کرلے۔
کیونکہ اس عورت نے ایك منکر بات کی خبر دی ہے اور اگر کہے شوہر نے نکاح کرنے کے بعد طلاق دے دی تھی یا وہ دین اسلام سے پھر گیا تھا(یعنی مرتد ہوگیا)تو اس صورت میں اس کی خبر پر اعتماد کرنے کی گنجائش ہے اوروہ اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے کیونکہ اس صورت میں عورت نے ایك محتمل خبر دی(جس میں دونوں پہلوں کی گنجائش ہے)لیکن جب وہ پہلے نکاح کے بطلان کی خبر دے تو اس کا قول نہیں مانا جائے گا لیکن اگر نکاح ہونے کے بعد کسی عارضی حرمت(نوپیدا شدہ حرمت)کی خبر دے جیسے طاری رضاعت یااس طرح کے کسی دوسرے امر کی تو اگر اس کے خیال میں قابل اعتماد ہو یا نہ ہو مگر مر دکے دل میں یہ بات آجائے کہ وہ عورت سچی ہے تو پھر ایسی صورت میں اس سے نکاح کرلینے میں کوئی حرج نہیں یونہی فتاوی قاضی خاں میں مذکور ہے۔اھ مختصرا(ت)
کیونکہ اس عورت نے ایك منکر بات کی خبر دی ہے اور اگر کہے شوہر نے نکاح کرنے کے بعد طلاق دے دی تھی یا وہ دین اسلام سے پھر گیا تھا(یعنی مرتد ہوگیا)تو اس صورت میں اس کی خبر پر اعتماد کرنے کی گنجائش ہے اوروہ اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے کیونکہ اس صورت میں عورت نے ایك محتمل خبر دی(جس میں دونوں پہلوں کی گنجائش ہے)لیکن جب وہ پہلے نکاح کے بطلان کی خبر دے تو اس کا قول نہیں مانا جائے گا لیکن اگر نکاح ہونے کے بعد کسی عارضی حرمت(نوپیدا شدہ حرمت)کی خبر دے جیسے طاری رضاعت یااس طرح کے کسی دوسرے امر کی تو اگر اس کے خیال میں قابل اعتماد ہو یا نہ ہو مگر مر دکے دل میں یہ بات آجائے کہ وہ عورت سچی ہے تو پھر ایسی صورت میں اس سے نکاح کرلینے میں کوئی حرج نہیں یونہی فتاوی قاضی خاں میں مذکور ہے۔اھ مختصرا(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃالباب الاول الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۳۔۳۱۲€
تبیین الحقائق میں اکثر صورمذکورہ اور فساد طاری ومقارن کا تفرقہ مسطورہ بیان کر کے فرمایا:
وعلی ھذا الاصل یدور الفرق ۔ اور اسی اصل پر فرق گھومتا ہے(یعنی اس کا دارومدار ہے)۔ (ت)
تنویر الابصار میں ہے:
المعتبر اکبر رأی المبتلی بہ ۔ جو کوئی جس حادثہ میں مبتلا ہے اس کی اپنی غالب رائے معتبر سمجھی جاتی ہے۔(ت)
فتح القدیر وبحرالرائق وردالمحتارمیں ہے:
وھو لایلزم غیرہ بل یختلف باختلاف مایقع فی قلب کل ۔ اور وہ دوسرے پر لازم نہیں بلکہ ہر شخص کے دل میں جو کچھ واقع ہوتا ہے(طبیعتوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے اس میں اختلاف ہوا کرتاہے۔(ت)
ان عبارات سے کل مقاصد واصول کہ فقیر نے ذکر کئے واضح ہوگئےپس صورت مستفسرہ میں اگر ہندہ ان لوگوں کا بیان سچا جانتی ہے اس کا قلب ان کے صدق پر جمتا ہے تو اسے نکاح ثانی روا ہے ناکح دوم سے اگر ہندہ نے کہا کہ اس کا شوہر مرتد ہوگیا یا ان لوگوں نے بیان کیا اور ہندہ منکر نہیں اور اس کے قلب میں ہندہ یا ان مخبروں کا صدق واقع ہو تو اسے بھی ہندہ سے نکاح روا۔اور اگر ہندہ نے کہا میں نے سنا کہ وہ مرتد ہوگیا تو صرف اس قدر پر اسے روا نہیں کہ ہندہ سے نکاح پر اقدام کرے۔یوہیں اگر ہندہ یا ان مخبروں نے اسے ارتداد زید کی خبر دی اور اس کا دل ان کے صدق پر نہیں جمتا تو اسے ہندہ سے نکاح روا نہیں اگر چہ ہندہ کے نزدیك وہ لوگ صادق ہوں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: ازموضع سرنیا مسئولہ امیر علی صاحب ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نکاح حرام سے پیدا
وعلی ھذا الاصل یدور الفرق ۔ اور اسی اصل پر فرق گھومتا ہے(یعنی اس کا دارومدار ہے)۔ (ت)
تنویر الابصار میں ہے:
المعتبر اکبر رأی المبتلی بہ ۔ جو کوئی جس حادثہ میں مبتلا ہے اس کی اپنی غالب رائے معتبر سمجھی جاتی ہے۔(ت)
فتح القدیر وبحرالرائق وردالمحتارمیں ہے:
وھو لایلزم غیرہ بل یختلف باختلاف مایقع فی قلب کل ۔ اور وہ دوسرے پر لازم نہیں بلکہ ہر شخص کے دل میں جو کچھ واقع ہوتا ہے(طبیعتوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے اس میں اختلاف ہوا کرتاہے۔(ت)
ان عبارات سے کل مقاصد واصول کہ فقیر نے ذکر کئے واضح ہوگئےپس صورت مستفسرہ میں اگر ہندہ ان لوگوں کا بیان سچا جانتی ہے اس کا قلب ان کے صدق پر جمتا ہے تو اسے نکاح ثانی روا ہے ناکح دوم سے اگر ہندہ نے کہا کہ اس کا شوہر مرتد ہوگیا یا ان لوگوں نے بیان کیا اور ہندہ منکر نہیں اور اس کے قلب میں ہندہ یا ان مخبروں کا صدق واقع ہو تو اسے بھی ہندہ سے نکاح روا۔اور اگر ہندہ نے کہا میں نے سنا کہ وہ مرتد ہوگیا تو صرف اس قدر پر اسے روا نہیں کہ ہندہ سے نکاح پر اقدام کرے۔یوہیں اگر ہندہ یا ان مخبروں نے اسے ارتداد زید کی خبر دی اور اس کا دل ان کے صدق پر نہیں جمتا تو اسے ہندہ سے نکاح روا نہیں اگر چہ ہندہ کے نزدیك وہ لوگ صادق ہوں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: ازموضع سرنیا مسئولہ امیر علی صاحب ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نکاح حرام سے پیدا
حوالہ / References
تبیین الحقائق کتاب الکراہیۃ فصل فی البیع المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞مصر ۶/ ۲۷€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الطہارۃ باب المیاہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۲۸€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الطہارۃ باب المیاہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۲۸€
ہوا تھا باپ زید کا فوت ہوگیا اور والدہ زندہ موجود ہے اب اس لڑکے کی شادی ہے تو اب شادی میں اہل برادری کا شامل ہونا اور سائل کا شامل ہوناا ور بکر کا لڑکی نکاح میں دینا زید کو امامت کرنا اور پیشتر جو شخص زید کے باپ کے نکاح میں شریك ہوئے تھے ان سب کے لئے کیا حکم ہے
الجواب:
اس کی شادی میں شامل ہونا کچھ جرم نہیں۔باپ اگر مصلحت جانے اپنی لڑکی کا نکاح بھی اس سے کرسکتا ہے زید کی امامت بلا کراہت جائز ہے جبکہ سب موجودین جماعت میں اسی کو نماز وطہارت کے مسائل کا علم ہو ورنہ دوسرے کی امامت اولی ہے زید کے باپ کے اس حرام نکاح کرانے میں جو دانستہ شریك ہوئے تھے سخت گنہگارہیں ورنہ اگر اس کا فسق علانیہ تھا جب بھی اسے بچنا اولی تھا واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۶:ایك شخص نے اپنی لڑکی اپنے بھانجے کو دی تھی محض منگنی ہوئی تھی۔جب اس شخص کو معلوم ہوا کہ اس کا بھانجا ایك غیرمقلدپیر کا راسخ الاعتقاد مرید ہے اور خود بھی غیر مقلد ہے اب اس نے اپنی لڑکی دینے سے انکار کردیا اور کہتاہے کہ شرعا نکاح نہ ہوگا اس پر جماعت نے اسے اپنی جماعت سے خارج کردیا ہے کہ یا تو لڑکی اسے ہی دے یا تو جماعت سے خارج ہواس صورت میں جماعت کا کیاحکم ہے۔اور نکاح شرعا جائز ہوگا یانہیں بینوا تو جروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
غیر مقلد سے نکاح محض ناجائز ہے کما حققناہ فی ازالۃ العار(جیسا کہ ہم نے ازالۃ العار میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت) اس صورت میں جماعت سخت ظالم اور زنا کی ساعیاور خود دنیا میں جماعت سے خارج اور آخر ت میں نار میں داخل کرنے کی مستحق ہے۔والعیا ذبا ﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۷: از یرتا پور ضلع بریلی مرسلہ مولوی امیر عالم حسن عرف نوشتہ میاں
زید نے نکاح اپنا کسی عورت سے کرلیابعد چند مدت کے پھر اس کی بہن حقیقی سے کرلیادونوں بہنیں اس کے نکاح میں حیات ہیں۔اب نہیں معلوم کہ نکاح دونوں کا درست ہے یاحرام قاضی نے تطمع ولالچ نکاح پڑھا دیا۔اور وہی نماز بھی پڑھاتاہے اور کہتا ہے میں نے عالموں سے دریافت کرکے نکاح پڑھایا ہے ایسانکاح درست ہے۔اب اس کا پورا ثبوت خادماں کو کیوں نہ
الجواب:
اس کی شادی میں شامل ہونا کچھ جرم نہیں۔باپ اگر مصلحت جانے اپنی لڑکی کا نکاح بھی اس سے کرسکتا ہے زید کی امامت بلا کراہت جائز ہے جبکہ سب موجودین جماعت میں اسی کو نماز وطہارت کے مسائل کا علم ہو ورنہ دوسرے کی امامت اولی ہے زید کے باپ کے اس حرام نکاح کرانے میں جو دانستہ شریك ہوئے تھے سخت گنہگارہیں ورنہ اگر اس کا فسق علانیہ تھا جب بھی اسے بچنا اولی تھا واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۶:ایك شخص نے اپنی لڑکی اپنے بھانجے کو دی تھی محض منگنی ہوئی تھی۔جب اس شخص کو معلوم ہوا کہ اس کا بھانجا ایك غیرمقلدپیر کا راسخ الاعتقاد مرید ہے اور خود بھی غیر مقلد ہے اب اس نے اپنی لڑکی دینے سے انکار کردیا اور کہتاہے کہ شرعا نکاح نہ ہوگا اس پر جماعت نے اسے اپنی جماعت سے خارج کردیا ہے کہ یا تو لڑکی اسے ہی دے یا تو جماعت سے خارج ہواس صورت میں جماعت کا کیاحکم ہے۔اور نکاح شرعا جائز ہوگا یانہیں بینوا تو جروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
غیر مقلد سے نکاح محض ناجائز ہے کما حققناہ فی ازالۃ العار(جیسا کہ ہم نے ازالۃ العار میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت) اس صورت میں جماعت سخت ظالم اور زنا کی ساعیاور خود دنیا میں جماعت سے خارج اور آخر ت میں نار میں داخل کرنے کی مستحق ہے۔والعیا ذبا ﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۷: از یرتا پور ضلع بریلی مرسلہ مولوی امیر عالم حسن عرف نوشتہ میاں
زید نے نکاح اپنا کسی عورت سے کرلیابعد چند مدت کے پھر اس کی بہن حقیقی سے کرلیادونوں بہنیں اس کے نکاح میں حیات ہیں۔اب نہیں معلوم کہ نکاح دونوں کا درست ہے یاحرام قاضی نے تطمع ولالچ نکاح پڑھا دیا۔اور وہی نماز بھی پڑھاتاہے اور کہتا ہے میں نے عالموں سے دریافت کرکے نکاح پڑھایا ہے ایسانکاح درست ہے۔اب اس کا پورا ثبوت خادماں کو کیوں نہ
دیا جائے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا یا نکاح پڑھوانا درست ہے یانہیں اورحاضران مجلس جو اس میں شریك تھے مع وکیل وشاہد وغیرہ ان کے ذمہ کیا الزام آسکتاہے
الجواب:
یہ نکاح بنص صریح قرآن مجید حرام قطعی حرام قطعی حرام قطعی ہے
قال اﷲ تعالی " و ان تجمعوا بین الاختین " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:دو بہنوں کو(نکاح میں)جمع نہ کرو۔(ت)
اس نکاح کو درست کہنا صریح کلمہ کفر ہے۔اس قاضی پر لازم ہے کہ نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھے اور اپنے اس قول نجس سے توبہ کرے اگر عورت رکھتا ہے تو بعد تجدید اسلام اس سے از سرنو نکاح کرے۔اس لفظ کے بعد جتنی نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہیں سب باطل ہوئیں جس جس نے جو جو نماز پڑھی اس کا پھیرنا اس پر لازم ہے۔اور اب جب تك تجدید اسلام نہ کرے اس کے پیچھے نماز باطل محض ہے کہ پڑھنا حرام اور پڑھ لی ہو تو پھیرنا فرضاور اس سے نکاح ہر گز نہ پڑھوایا جائےتبیین امام زیلعی میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۔ اس لئے کہ فاسق کو(نماز کے لئے)آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا لوگوں پر اس کی توہین واجب ہے۔ (ت)
وکیل وشاہد حاضرین سے جسے یہ معلوم نہ تھا کہ اس کی بہن اس کے نکاح میں ہے اس پر الزام نہیںاور جسے معلوم تھا حرام جان کر شریك ہو اوہ سخت گناہ کامرتکب اور شدید عذاب کا مستوجب ہوا اور جس نے اسے حلال ٹھہرایا اس کا حکم اس قاضی کے مثل ہے اس پر بھی تجدید اسلام لازم اور اس کے بعد خود اپنے نکاح کی تجدید کرے اس مرد پر فرض ہے کہ فورا اس دوسری بہن کو جدا کردے اوراگر اس سے قربت کرچکا تو اب وہ پہلی بھی اس پر حرام ہوگئی جب تك اس دوسری کو چھوڑ کر اس کی عدت نہ گزرجائے پہلی کو بھی ہاتھ لگانا حرام ہے جب اس کی عدت گزر جائے گی اس وقت وہ پہلی اس کے لئے حلال ہوگی۔ بحر الرائق۔وحلبی علی الدرالمختار میں ہے:
الثانی باطل ولہ وطئ (الگ الگ عقد نکاح سے دوبہنوں کو جمع کرنا)
الجواب:
یہ نکاح بنص صریح قرآن مجید حرام قطعی حرام قطعی حرام قطعی ہے
قال اﷲ تعالی " و ان تجمعوا بین الاختین " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:دو بہنوں کو(نکاح میں)جمع نہ کرو۔(ت)
اس نکاح کو درست کہنا صریح کلمہ کفر ہے۔اس قاضی پر لازم ہے کہ نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھے اور اپنے اس قول نجس سے توبہ کرے اگر عورت رکھتا ہے تو بعد تجدید اسلام اس سے از سرنو نکاح کرے۔اس لفظ کے بعد جتنی نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہیں سب باطل ہوئیں جس جس نے جو جو نماز پڑھی اس کا پھیرنا اس پر لازم ہے۔اور اب جب تك تجدید اسلام نہ کرے اس کے پیچھے نماز باطل محض ہے کہ پڑھنا حرام اور پڑھ لی ہو تو پھیرنا فرضاور اس سے نکاح ہر گز نہ پڑھوایا جائےتبیین امام زیلعی میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۔ اس لئے کہ فاسق کو(نماز کے لئے)آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعا لوگوں پر اس کی توہین واجب ہے۔ (ت)
وکیل وشاہد حاضرین سے جسے یہ معلوم نہ تھا کہ اس کی بہن اس کے نکاح میں ہے اس پر الزام نہیںاور جسے معلوم تھا حرام جان کر شریك ہو اوہ سخت گناہ کامرتکب اور شدید عذاب کا مستوجب ہوا اور جس نے اسے حلال ٹھہرایا اس کا حکم اس قاضی کے مثل ہے اس پر بھی تجدید اسلام لازم اور اس کے بعد خود اپنے نکاح کی تجدید کرے اس مرد پر فرض ہے کہ فورا اس دوسری بہن کو جدا کردے اوراگر اس سے قربت کرچکا تو اب وہ پہلی بھی اس پر حرام ہوگئی جب تك اس دوسری کو چھوڑ کر اس کی عدت نہ گزرجائے پہلی کو بھی ہاتھ لگانا حرام ہے جب اس کی عدت گزر جائے گی اس وقت وہ پہلی اس کے لئے حلال ہوگی۔ بحر الرائق۔وحلبی علی الدرالمختار میں ہے:
الثانی باطل ولہ وطئ (الگ الگ عقد نکاح سے دوبہنوں کو جمع کرنا)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۲۳€
تبیین الحقائق باب الامامہ والحدث فی الصلوٰۃ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۱/ ۱۳۴€
تبیین الحقائق باب الامامہ والحدث فی الصلوٰۃ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۱/ ۱۳۴€
الاولی الا ان یطأ الثانیۃ فتحرم الاولی الی انقضاء عدۃ الثانیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر پہلی سے نکاح کرنا یاد ہو تو دوسری سے نکاح باطل ہے۔ لہذا پہلی سے مرد ہمبستری کرسکتا ہے لیکن اگر مرد نے دوسری سے ہمبستری کرلی تو پھر دوسری کی عدت گزرنے تك اس پر پہلی حرام ہوجائے گی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۸: از قصبہ بابلکہ ضلع بلند شہر مرسلہ صالح محمد خاں صاحب مورخہ ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر قاضی شہر کے علاوہ دوسراکوئی شخص مطابق شرع شریف نکاح پڑھادے لیکن اندراج اس کا رجسٹر قاضی شہر مذکور میں نہ ہو تو وہ نکاح جائز وصحیح ہے یانہیں جواب مرحمت ہو۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
قاضی کا رجسٹر شرعا کوئی شرط نکاح نہیں رجسٹر آج سے نکلے ہیں۔پہلے نکاح کیونکر ہوتے تھے۔ہاں یادداشت کے لئے درج ہونابہتر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۹: مولوی نذیر احمد صاحب ساکن سموہان پرگنہ نواب گنج بریلی مورخہ ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ ماہ محرم اورخصوصا ۹ تاریخ ماہ مذکورہ کی شب میں نکاح کرنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۰: مولوی نذیر احمد ساکن سموہان پرگنہ نواب گنج ضلع بریلی ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ عورتوں کے محارم کون کون ہیں اور رضاعی محارم کون کون اور محارم صہری کون کون ہیں اور ہنسی اور مذاق بھی عورتوں کو کرنا جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو کس کس سے بینوا توجروا
مسئلہ ۵۸: از قصبہ بابلکہ ضلع بلند شہر مرسلہ صالح محمد خاں صاحب مورخہ ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر قاضی شہر کے علاوہ دوسراکوئی شخص مطابق شرع شریف نکاح پڑھادے لیکن اندراج اس کا رجسٹر قاضی شہر مذکور میں نہ ہو تو وہ نکاح جائز وصحیح ہے یانہیں جواب مرحمت ہو۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
قاضی کا رجسٹر شرعا کوئی شرط نکاح نہیں رجسٹر آج سے نکلے ہیں۔پہلے نکاح کیونکر ہوتے تھے۔ہاں یادداشت کے لئے درج ہونابہتر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۹: مولوی نذیر احمد صاحب ساکن سموہان پرگنہ نواب گنج بریلی مورخہ ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ ماہ محرم اورخصوصا ۹ تاریخ ماہ مذکورہ کی شب میں نکاح کرنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۰: مولوی نذیر احمد ساکن سموہان پرگنہ نواب گنج ضلع بریلی ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ عورتوں کے محارم کون کون ہیں اور رضاعی محارم کون کون اور محارم صہری کون کون ہیں اور ہنسی اور مذاق بھی عورتوں کو کرنا جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو کس کس سے بینوا توجروا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح فصل فی المحرمات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۸۶€
الجواب:
فروع یعنی اپنی اولاد واولاد اولاد اور اصول جس کی اولاد میں خود ہے اگر چہ وہ کتنے ہی دور ہوں اور اپنے ماں باپ کی اولاد کتنے ہی دور فاصلہ پر ہوں اور اپنے دادناناپرنانادادیپر دادینانیپرنانیکی خاص صلبی یا بطنی اولاد یہ سب محارم ہیں اوریہی رشتے دودھ سے بھی مرضعہ ماں ہے اور اس کا شوہر جس کے نطفہ سے دودھ تھا باپ ہے اور جسے دودھ پلا یا وہ اولاد ہے تو اپنی یہ اولاد اور اس کی نسبی ورضاعی کتنی ہی دور اور اپنے ان ماں باپ کے اصول نسبی اورضاعی کی بلا واسطہ اولاد نسبیورضاعی یہ سب رضاعی محرم ہیں۔اور صہری محرم شوہر کے اصول وفروع نسبی اوررضاعی اور اپنے اصول مثلا ماںدادینانیپر دادیپر نانی کے شوہر اور اپنی فروع مثلا بیٹیپوتینواسیپرپوتیپر نواسی کے شوہرجائز ہنسی مذاق جس میں نہ فحش ہونہ ایذا ئے مسلمنہ بڑوں کی بے ادبینہ چھوٹوں سے بدلحاظینہ وقت ومحل کے نظر سے بے موقع نہ اس کی کثرت اپنی ہمسر عورتوں سے جائز ہے اور شوہر کے ساتھ موجوب اجر اور یہاں کثرت میں بھی حرج نہیں اگر اس کے خلاف مرضی نہ ہوواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۱: از کچھا علاقہ خام ضلع نینی تال مسئولہ محمد الیاس صاحب ۲۷ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بکر نے اپنی عورت منکوحہ کو طلاق دے دی اور ایام عدت بھی گزر گئے اب بکر کا باپ سوتیلا اس عورت سے نکاح کرنا چاہتاہے اور وہ عورت بھی اپنے خسرو سوتیلے سے رضامند ہے۔موافق شریعت کے ان کا نکاح درست ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ہاں درست ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۲: ا ز ناتھ دوارہ ریاست اودے پور ملك میواڑ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ ایك شخص علم وفقہ وحدیث کے جاننے والے اور وعظ وپند کرنیوالے انھوں نے بسبب ناراضگی کے اپنی زوجہ کو ایك جلسہ میں تین طلاق معہ گواہان کے روبرو اس کو گھر سے علیحدہ علیحدہ کردینا عورت مذکورہ دیگر جگہ سکونت اختیار کرکے ایك سال کامل مدت گزارنا بعد ایك سال کے پھر اسی عورت کو انھیں عالم بالامذکور نے رضیت حاصل کرکے پھر اپنے مکان میں لے آنا اورپھر اسے اولاد ہونا یہ امرشرع شریف میں جائز ہے یانہیں۔اگر جائز ہے تو جو اولاد کہ پیدا ہوئی وہ ولد الزنا ہے یا حلال ہے اگر ولد الزناہے تو ایسا شخص ایسے امر کرنے سے مرتکب گناہ کا ہوتاہے یانہیں اور
فروع یعنی اپنی اولاد واولاد اولاد اور اصول جس کی اولاد میں خود ہے اگر چہ وہ کتنے ہی دور ہوں اور اپنے ماں باپ کی اولاد کتنے ہی دور فاصلہ پر ہوں اور اپنے دادناناپرنانادادیپر دادینانیپرنانیکی خاص صلبی یا بطنی اولاد یہ سب محارم ہیں اوریہی رشتے دودھ سے بھی مرضعہ ماں ہے اور اس کا شوہر جس کے نطفہ سے دودھ تھا باپ ہے اور جسے دودھ پلا یا وہ اولاد ہے تو اپنی یہ اولاد اور اس کی نسبی ورضاعی کتنی ہی دور اور اپنے ان ماں باپ کے اصول نسبی اورضاعی کی بلا واسطہ اولاد نسبیورضاعی یہ سب رضاعی محرم ہیں۔اور صہری محرم شوہر کے اصول وفروع نسبی اوررضاعی اور اپنے اصول مثلا ماںدادینانیپر دادیپر نانی کے شوہر اور اپنی فروع مثلا بیٹیپوتینواسیپرپوتیپر نواسی کے شوہرجائز ہنسی مذاق جس میں نہ فحش ہونہ ایذا ئے مسلمنہ بڑوں کی بے ادبینہ چھوٹوں سے بدلحاظینہ وقت ومحل کے نظر سے بے موقع نہ اس کی کثرت اپنی ہمسر عورتوں سے جائز ہے اور شوہر کے ساتھ موجوب اجر اور یہاں کثرت میں بھی حرج نہیں اگر اس کے خلاف مرضی نہ ہوواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۱: از کچھا علاقہ خام ضلع نینی تال مسئولہ محمد الیاس صاحب ۲۷ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بکر نے اپنی عورت منکوحہ کو طلاق دے دی اور ایام عدت بھی گزر گئے اب بکر کا باپ سوتیلا اس عورت سے نکاح کرنا چاہتاہے اور وہ عورت بھی اپنے خسرو سوتیلے سے رضامند ہے۔موافق شریعت کے ان کا نکاح درست ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ہاں درست ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۲: ا ز ناتھ دوارہ ریاست اودے پور ملك میواڑ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ ایك شخص علم وفقہ وحدیث کے جاننے والے اور وعظ وپند کرنیوالے انھوں نے بسبب ناراضگی کے اپنی زوجہ کو ایك جلسہ میں تین طلاق معہ گواہان کے روبرو اس کو گھر سے علیحدہ علیحدہ کردینا عورت مذکورہ دیگر جگہ سکونت اختیار کرکے ایك سال کامل مدت گزارنا بعد ایك سال کے پھر اسی عورت کو انھیں عالم بالامذکور نے رضیت حاصل کرکے پھر اپنے مکان میں لے آنا اورپھر اسے اولاد ہونا یہ امرشرع شریف میں جائز ہے یانہیں۔اگر جائز ہے تو جو اولاد کہ پیدا ہوئی وہ ولد الزنا ہے یا حلال ہے اگر ولد الزناہے تو ایسا شخص ایسے امر کرنے سے مرتکب گناہ کا ہوتاہے یانہیں اور
شرع شریف میں ایسے شخص کو کیا کہنا لازم اور کونسی سزا کا سزاوار ہے۔مسلمان کو ایسے شخص کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرنا چاہئے۔یا لازم آتا ہے اس کا جواب باصواب مع حدیث وفقہ آیت کلام اﷲ سے تحریر فرمادیں۔اﷲ تعالی آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔
الجواب:
تین طلاق کے بعد بے حلالہ اسے پھر رکھنا حرام ہے اور اس سے وطی زنا او ر اولاد ولدالزنااور وہ مرد عورت دونوں فاسق۔اور ان کی سزا بہت سخت ہے جو یہاں بیان نہیں ہوسکتی اور اﷲ عزوجل کا عذاب شدید ہےان مرد عورت پر فرض ہے کہ فورا جدا ہوجائیں ورنہ مسلمان ان سے میل جول چھوڑ دیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
الجواب:
تین طلاق کے بعد بے حلالہ اسے پھر رکھنا حرام ہے اور اس سے وطی زنا او ر اولاد ولدالزنااور وہ مرد عورت دونوں فاسق۔اور ان کی سزا بہت سخت ہے جو یہاں بیان نہیں ہوسکتی اور اﷲ عزوجل کا عذاب شدید ہےان مرد عورت پر فرض ہے کہ فورا جدا ہوجائیں ورنہ مسلمان ان سے میل جول چھوڑ دیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
نسب
مسئلہ ۶۳: مرسلہ عبدالعزیز تاجر چرم مقام قصبہ ٹنکاری محلہ شاہ گنج ضلع گیا بروز دو شنبہ ۱۶ ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
ایك شخص مجہول النسب کہ جس کے حسب ونسب سے وہاں کے باشندے پوری آگاہی رکھتے ہیں اور وہ شخص مولوی ہو اور غیر جگہ اپنے کو سید کہتاہو اورا پنے مکان پر خط اپنے قلم سے سید کرکے اپنا نام لکھتا ہو اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے
الجواب:
سائل نے اول تو مجہول النسب کہا۔پھر یہ کہ اس کے نسب سے وہاں کے باشندے پوری آگاہی رکھتے ہیں یہ دونوں باتیں متناقض ہیں شاید یہ مطلب ہو کہ وہاں کے سب باشندوں پر اس کا نسب مخفی ہے لہذا سب اسے مجہول النسب سمجھتے ہیں اس تقدیر پر اس کا اپنے آپ کو سیدبنانا کہنالکھنا ہمارے علم میں جرم کی حد پر نہیں بلکہ وہ کہتا ہے اور ہمیں اس کا خلاف معلوم وثابت ومتحقق نہیں تو ہم اسے سچاہی خیال کریں گے کہ الناس علی انسابھم(لوگ اپنے نسبوں پر قائم ہیں۔ت)اور ارشاد ہوتاہے:
" لو لا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون و ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم لوگوں نے وہ افواہ سنی
مسئلہ ۶۳: مرسلہ عبدالعزیز تاجر چرم مقام قصبہ ٹنکاری محلہ شاہ گنج ضلع گیا بروز دو شنبہ ۱۶ ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
ایك شخص مجہول النسب کہ جس کے حسب ونسب سے وہاں کے باشندے پوری آگاہی رکھتے ہیں اور وہ شخص مولوی ہو اور غیر جگہ اپنے کو سید کہتاہو اورا پنے مکان پر خط اپنے قلم سے سید کرکے اپنا نام لکھتا ہو اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے
الجواب:
سائل نے اول تو مجہول النسب کہا۔پھر یہ کہ اس کے نسب سے وہاں کے باشندے پوری آگاہی رکھتے ہیں یہ دونوں باتیں متناقض ہیں شاید یہ مطلب ہو کہ وہاں کے سب باشندوں پر اس کا نسب مخفی ہے لہذا سب اسے مجہول النسب سمجھتے ہیں اس تقدیر پر اس کا اپنے آپ کو سیدبنانا کہنالکھنا ہمارے علم میں جرم کی حد پر نہیں بلکہ وہ کہتا ہے اور ہمیں اس کا خلاف معلوم وثابت ومتحقق نہیں تو ہم اسے سچاہی خیال کریں گے کہ الناس علی انسابھم(لوگ اپنے نسبوں پر قائم ہیں۔ت)اور ارشاد ہوتاہے:
" لو لا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون و ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم لوگوں نے وہ افواہ سنی
المؤمنت بانفسہم خیرا " تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں کے بارے میں اچھا گمان کیا ہوتا۔(ت)
ہاں جو واقع میں سید نہ ہو اور دیدہ ودانستہ بنتا ہو وہ ملعون ہے نہ اس کا فرض قبول ہو نہ نفل۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من ادعی الی غیر ابیہ او انتمی الی غیر موالیہ فعلیہ لعنۃ اﷲ و الملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا ۔ جو کوئی اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کا دعوی کرے یا کسی غیر والی کی طرف اپنے آپ کو پہنچائے تو اس پر اﷲ تعالیفرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔اور اﷲ تعالی اس کے فرائض اور نوافل قبول نہ فرمائے گا۔(ت)
مگر یہ اس کا معاملہ اﷲ عزوجل کے یہاں ہے ہم بلادلیل تکذیب نہیں کرسکتےالبتہ ہمارے علم تحقیق طور پر معلوم ہے کہ یہ سید نہ تھا اور اب سید بن بیٹھا تو اسے ہم بھی فاسق ومرتکب کبیرہ و مستحق لعنت جانیں گے۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے اور اس کا علم کہ جس کی شان بڑی ہے زیادہ کامل اور بڑا پختہ ہے۔ت)
مسئلہ ۶۴: بروزشنبہ تاریخ ۵ ذوالقعدہ ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مولوی عنایت احمد صاحب نے اپنی کتاب جنان الفردوس کے چودہ۱۴ صفحہ میں تحریر کیا ہے۔بیان جھوٹی نسب کاف: جھوٹ ظاہر کرنا نسب کا بھی بڑا گناہ ہے۔مثلا شیخ سے سید بن جاناصحیحین میں ہے کہ جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا دوسرے کو باپ کرے اس پر جنت حرام ہے ۔اور چودہ صفحہ کے حاشیہ پر یہ تحریر ہے بیان جھوٹی نسب کا ۳۱ ح
ہاں جو واقع میں سید نہ ہو اور دیدہ ودانستہ بنتا ہو وہ ملعون ہے نہ اس کا فرض قبول ہو نہ نفل۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من ادعی الی غیر ابیہ او انتمی الی غیر موالیہ فعلیہ لعنۃ اﷲ و الملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا ۔ جو کوئی اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کا دعوی کرے یا کسی غیر والی کی طرف اپنے آپ کو پہنچائے تو اس پر اﷲ تعالیفرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔اور اﷲ تعالی اس کے فرائض اور نوافل قبول نہ فرمائے گا۔(ت)
مگر یہ اس کا معاملہ اﷲ عزوجل کے یہاں ہے ہم بلادلیل تکذیب نہیں کرسکتےالبتہ ہمارے علم تحقیق طور پر معلوم ہے کہ یہ سید نہ تھا اور اب سید بن بیٹھا تو اسے ہم بھی فاسق ومرتکب کبیرہ و مستحق لعنت جانیں گے۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے اور اس کا علم کہ جس کی شان بڑی ہے زیادہ کامل اور بڑا پختہ ہے۔ت)
مسئلہ ۶۴: بروزشنبہ تاریخ ۵ ذوالقعدہ ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مولوی عنایت احمد صاحب نے اپنی کتاب جنان الفردوس کے چودہ۱۴ صفحہ میں تحریر کیا ہے۔بیان جھوٹی نسب کاف: جھوٹ ظاہر کرنا نسب کا بھی بڑا گناہ ہے۔مثلا شیخ سے سید بن جاناصحیحین میں ہے کہ جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا دوسرے کو باپ کرے اس پر جنت حرام ہے ۔اور چودہ صفحہ کے حاشیہ پر یہ تحریر ہے بیان جھوٹی نسب کا ۳۱ ح
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۲€
صحیح مسلم کتاب الحج باب فضائل المدینہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۴۲،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۶۴€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۷/ ۳۴€
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب من ادعی الی غیر ابیہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۰۱،€صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من رغب عن ابیہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷€
صحیح مسلم کتاب الحج باب فضائل المدینہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۴۲،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۶۴€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۷/ ۳۴€
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب من ادعی الی غیر ابیہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۰۱،€صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من رغب عن ابیہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷€
مشارق ۳۲ ح اعتصام ف۱ سوال۔جولاہے کو شیخ نہ کہے تو جولا ہا کہنا چاہئے۔اگر جولاہا نہ کہے تو کیا کہنا چاہئے فقط۔
الجواب:
یہ حدیث بیشك صحیح ہے اور دوسری حدیث اس سے سخت ترہے کہ"جو اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف اپنا نسب منسوب کرے اس پر اﷲ تعالی اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ تعالی نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل "یہ حکم شامل ہے ہر اس شخص کو کہ سید نہیں اور سید بن بیٹھے۔شیخ قرشی یا انصاری نہیں اوراپنے آپ کو ایسا شیخ کہے مگر لفظ شیخ کا استعمال متعدد معنی پر ہے۔۱پیراور ۲بزرگ اور ۳استاد اور ۴چار شریف اقوام مشہورہ ہند سے ایك قوم اور ۵سید مغل پٹھان کے سوا ہر مسلمان اس پانچویں معنی پر جولاہے۔دھنیے ہر قوم کے مسلمان شیخ کہلاتے ہیں اس معنی پر وہ اپنے آپ کو شیخ کہے تو اس حکم کے نیچے داخل نہیںہاں اگر جولاہا اور اپنے آپ کو چوتھے معنی پر شیخ کہے کہ ان چار شریف قوموں میں سے میری قوم ہے تو وہ ضرور اس حدیث کے بیچ میں داخل ہوگا اگر واقع میں وہ ایسا نہیں اور اگر واقع میں وہ انھیں شریف اقوام میں سے ہے مثلا شیخانصاری یا علوی یا عباسی یا عثمانی یا فاروقی یا صدیقی ہے اور کپڑا بننے کا پیشہ کرتا ہے تو وہ ضرور سچا ہے اور اس پر کچھ الزام نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۵: از جھونا مارکیٹ کرانچی بندر مرسلہ حضرت پیر سید ابراہیم صاحب گیلانی قادری بغدادی مدظلہ الاقدس ۱۵ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص ذات کا فقیر ہے اور کسی خانقاہ میں مجاور ہے بغداد شریف میں جاکر ایك پیر صاحب جو کہ عرصہ دراز سے مفقود الخبر معلوم کرنا اور ہندوستان میں آکر اپنے اصلی باپ کا نام بدل کر اس پیر مرحوم کا فرزند بننانیز سیادت وطریقت کے دم مارتا تاکہ اس دھوکے وفریب سے اپنا مرید بنائے اور زر وعزت دنیاوی حاصل کرنا ایسے شخص سے جوکہ بلا شبہہ اپنے آپ کو سید کہتا ہو اور اپنی نسب کو چھوڑ کر غوث الاعظم کے نسب میں داخل ہو ازروئے شریعت اسلامیہ مرید بنانا اور نماز پڑھانا جائز ہے یاہوسکتاہے یانہیں
الجواب:
یہ حدیث بیشك صحیح ہے اور دوسری حدیث اس سے سخت ترہے کہ"جو اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف اپنا نسب منسوب کرے اس پر اﷲ تعالی اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ تعالی نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل "یہ حکم شامل ہے ہر اس شخص کو کہ سید نہیں اور سید بن بیٹھے۔شیخ قرشی یا انصاری نہیں اوراپنے آپ کو ایسا شیخ کہے مگر لفظ شیخ کا استعمال متعدد معنی پر ہے۔۱پیراور ۲بزرگ اور ۳استاد اور ۴چار شریف اقوام مشہورہ ہند سے ایك قوم اور ۵سید مغل پٹھان کے سوا ہر مسلمان اس پانچویں معنی پر جولاہے۔دھنیے ہر قوم کے مسلمان شیخ کہلاتے ہیں اس معنی پر وہ اپنے آپ کو شیخ کہے تو اس حکم کے نیچے داخل نہیںہاں اگر جولاہا اور اپنے آپ کو چوتھے معنی پر شیخ کہے کہ ان چار شریف قوموں میں سے میری قوم ہے تو وہ ضرور اس حدیث کے بیچ میں داخل ہوگا اگر واقع میں وہ ایسا نہیں اور اگر واقع میں وہ انھیں شریف اقوام میں سے ہے مثلا شیخانصاری یا علوی یا عباسی یا عثمانی یا فاروقی یا صدیقی ہے اور کپڑا بننے کا پیشہ کرتا ہے تو وہ ضرور سچا ہے اور اس پر کچھ الزام نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۵: از جھونا مارکیٹ کرانچی بندر مرسلہ حضرت پیر سید ابراہیم صاحب گیلانی قادری بغدادی مدظلہ الاقدس ۱۵ رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص ذات کا فقیر ہے اور کسی خانقاہ میں مجاور ہے بغداد شریف میں جاکر ایك پیر صاحب جو کہ عرصہ دراز سے مفقود الخبر معلوم کرنا اور ہندوستان میں آکر اپنے اصلی باپ کا نام بدل کر اس پیر مرحوم کا فرزند بننانیز سیادت وطریقت کے دم مارتا تاکہ اس دھوکے وفریب سے اپنا مرید بنائے اور زر وعزت دنیاوی حاصل کرنا ایسے شخص سے جوکہ بلا شبہہ اپنے آپ کو سید کہتا ہو اور اپنی نسب کو چھوڑ کر غوث الاعظم کے نسب میں داخل ہو ازروئے شریعت اسلامیہ مرید بنانا اور نماز پڑھانا جائز ہے یاہوسکتاہے یانہیں
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الحج باب فضائل مدینہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۴۲،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۶۴€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۷/ ۳۴€
الجواب:
اپنے باپ کے سوا دوسرے کو اپنا باپ بتانے کے لئے حدیث صحیح میں فرمایا ہے کہ اس پر اﷲ اور فرشتوں اورآدمیوں کی لعنت ہے اﷲ نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل۔من انتمی الی غیر ابیہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولا عدلا اور جو مسلمانوں کو دھوکا دے اسے فرمایا ہمارے گروہ سے نہیں من غشنا فلیس منا ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت ناجائز اور اس کی امامت مکروہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
اپنے باپ کے سوا دوسرے کو اپنا باپ بتانے کے لئے حدیث صحیح میں فرمایا ہے کہ اس پر اﷲ اور فرشتوں اورآدمیوں کی لعنت ہے اﷲ نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل۔من انتمی الی غیر ابیہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولا عدلا اور جو مسلمانوں کو دھوکا دے اسے فرمایا ہمارے گروہ سے نہیں من غشنا فلیس منا ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت ناجائز اور اس کی امامت مکروہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
رسالہ
اراءۃ الادب لفاضل النسب ۱۳۲۹ھ
(نسبی فضیلت والے کو ادب کی راہ دکھانا)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۶۶: افضل الفضلاء اکمل اکملا مولانا مفتی صاحب ! تسلیم۔
ایں کہ استفتائے ترسیل خدمت عالی مے شود از دستخط ومہر خویش واز دیگر علماء مزین نمودہ برمنت نہ نہندچونکہ مسلمان ایں زمان سبب جہالت ازاکثر حرفہ وپیشہ انحراف مے دارندوصاحب پیشہ راحقیر می شمارند و روز برروز بدائرہ ادبار پامی کشند بربناعلیہ برائے اصلاح قوم مصلحۃ ایں استفتاء نوشتہ شد زیادہ والسلام یہ استفتاء جو کہ خدمت عالی میں بھیجا جارہا ہے اپنے اور دوسرے علماء کے دستخط ومہر سے مزین کرکے مجھ پر احسان کریںچونکہ اس زمانہ کے مسلمان جہالت کے سبب سے اکثر ہنر وپیشہ سے گریز کرتے ہیںاور صاحب پیشہ کو حقیر جانتے ہیں اور روزانہ دائرہ پستی میں پاؤں رکھتے ہیاسی بناء پر اصلاح قوم کےلئے مصلحتا یہ استفتا لکھا گیا۔والسلام (محمد لطف الرحمن البردوانی)
اراءۃ الادب لفاضل النسب ۱۳۲۹ھ
(نسبی فضیلت والے کو ادب کی راہ دکھانا)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۶۶: افضل الفضلاء اکمل اکملا مولانا مفتی صاحب ! تسلیم۔
ایں کہ استفتائے ترسیل خدمت عالی مے شود از دستخط ومہر خویش واز دیگر علماء مزین نمودہ برمنت نہ نہندچونکہ مسلمان ایں زمان سبب جہالت ازاکثر حرفہ وپیشہ انحراف مے دارندوصاحب پیشہ راحقیر می شمارند و روز برروز بدائرہ ادبار پامی کشند بربناعلیہ برائے اصلاح قوم مصلحۃ ایں استفتاء نوشتہ شد زیادہ والسلام یہ استفتاء جو کہ خدمت عالی میں بھیجا جارہا ہے اپنے اور دوسرے علماء کے دستخط ومہر سے مزین کرکے مجھ پر احسان کریںچونکہ اس زمانہ کے مسلمان جہالت کے سبب سے اکثر ہنر وپیشہ سے گریز کرتے ہیںاور صاحب پیشہ کو حقیر جانتے ہیں اور روزانہ دائرہ پستی میں پاؤں رکھتے ہیاسی بناء پر اصلاح قوم کےلئے مصلحتا یہ استفتا لکھا گیا۔والسلام (محمد لطف الرحمن البردوانی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر جد اعلی کسی کا کاشت کاریا نورباف یا ماہی فروش ہو بعدہ اس کی نسل میں یہ پیشہ معمول رہا ہو یا متروك ہوگیا ہو تو اس صورت میں ان کی اولاد کو ماشا یا جولا ہا یا شکاری یا اطراف کہہ کر پکارنا جس سے ان کی دل شکنی ہوتی ہے درست ہے یانہیں اور علاوہ صحابی النسل کے دوسری قوم کو شیخ کہنا رواہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
بداں کہ قولہ تعالی" جعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم " (۱)وقول النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من ابطأبہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ وقول دیگر اعملی یافاطمۃ ولا تقولی انی بنت الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باعلی صوت ندا کند کہ شرافت نسب کہ اکثر جہال بہ سبب جہالت وحماقت واز عدم واقفیت حالات بزرگان دین وسلف صالحین وصحابہ کاملین وانبیاء مرسلین بداں مباہات میکند نزد حق سبحانہ وتعالی بہ چیزے نمی ارزد و بہ منزلہ ھباء منثورا باشد کما قال اﷲ تعالی
" و الذین اوتوا العلم درجت [" اﷲ تعالی فرماتاہے:تمھیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشك اﷲ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گارہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا فرمان ہے جس نے شریعت کے مطابق عمل کرنا چھوڑ دیا اس کا نسب کام نہ دے گا دوسرا قول ہے کہ شرعیت پر عمل کرواے فاطمہ! اور یہ نہ کہو کہ رسول اﷲ کی بیٹی ہوںبلند آواز سے اعلان کررہا ہے کہ شرافت نسب کہ اکثر جاہل لوگ جہالت وحماقت اور حالات بزرگان دین اور سلف صالحین اور صحابہ کاملین اور انبیاء مرسلین کے حالات سے ناواقفیت کی وجہ سے اس پر فخر کرتے ہیں اﷲ تعالی کے نزدیك بے وقعت ہے مثل ہبا منثوراہے۔البتہ مرد کی شرافت علم سے ہوتی ہے اور جنھیں علم دیا گیا وہ درجوں میں ہیں
الجواب:
بداں کہ قولہ تعالی" جعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم " (۱)وقول النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من ابطأبہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ وقول دیگر اعملی یافاطمۃ ولا تقولی انی بنت الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باعلی صوت ندا کند کہ شرافت نسب کہ اکثر جہال بہ سبب جہالت وحماقت واز عدم واقفیت حالات بزرگان دین وسلف صالحین وصحابہ کاملین وانبیاء مرسلین بداں مباہات میکند نزد حق سبحانہ وتعالی بہ چیزے نمی ارزد و بہ منزلہ ھباء منثورا باشد کما قال اﷲ تعالی
" و الذین اوتوا العلم درجت [" اﷲ تعالی فرماتاہے:تمھیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشك اﷲ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گارہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا فرمان ہے جس نے شریعت کے مطابق عمل کرنا چھوڑ دیا اس کا نسب کام نہ دے گا دوسرا قول ہے کہ شرعیت پر عمل کرواے فاطمہ! اور یہ نہ کہو کہ رسول اﷲ کی بیٹی ہوںبلند آواز سے اعلان کررہا ہے کہ شرافت نسب کہ اکثر جاہل لوگ جہالت وحماقت اور حالات بزرگان دین اور سلف صالحین اور صحابہ کاملین اور انبیاء مرسلین کے حالات سے ناواقفیت کی وجہ سے اس پر فخر کرتے ہیں اﷲ تعالی کے نزدیك بے وقعت ہے مثل ہبا منثوراہے۔البتہ مرد کی شرافت علم سے ہوتی ہے اور جنھیں علم دیا گیا وہ درجوں میں ہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴۹/ ۱۳€
سنن ابی داؤد کتاب العلم باب فی فضل العلم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۷،€موارد الظمان کتاب العلم ∞حدیث ۷۸€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۴۸€
اتحاف السادۃ المتقین دارالفکر بیروت ∞۷/ ۷۷ و ۲۸۱،€صحیح مسلم کتاب الایمان ∞۱/ ۱۱۴€ وکنز العمال ∞حدیث ۴۳۷۵۳ ۱۶/ ۱۹€
القرآن الکریم ∞۵۸/ ۱۱€
سنن ابی داؤد کتاب العلم باب فی فضل العلم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۷،€موارد الظمان کتاب العلم ∞حدیث ۷۸€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۴۸€
اتحاف السادۃ المتقین دارالفکر بیروت ∞۷/ ۷۷ و ۲۸۱،€صحیح مسلم کتاب الایمان ∞۱/ ۱۱۴€ وکنز العمال ∞حدیث ۴۳۷۵۳ ۱۶/ ۱۹€
القرآن الکریم ∞۵۸/ ۱۱€
" انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤا " (۲)وقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما العلماء ورثۃ الانبیاء وان فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادناکم (۳)بلکہ شرافت علم فوق شرافت نسب مے باشد کما فی الدر المختار لان شرفۃ العلم فوق شرف النسب و المال کما جزم بہ البزازی و ارتضاہ الکمال وغیرہ اگر کسے عالم صالح ماہر رابالفاظ مذکورۃ الصدر طعنا وتحقیرا مخاطب سازدبدائر کفر پانہادہ باشد اﷲ تعالی سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اورعالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمھارے ادنی پر۔بلکہ علم کی شرافت نسب کی شرافت پر فوقیت رکھتی ہے جیسا کہ درمختارمیں ہے:اس لئے کہ علم کی شرافت نسب ومال کی شرافت سے اولی ہے۔جیسا کہ اس پر بزازی نے جزم فرمایا ہے اگر کوئی شخص عالم صالح ماہر کو الفاظ مندرجہ بالا سے طعن وتحقیر کے طورپر مخاطب کرے تو دائرہ کفر میں پاؤں رکھے گا۔
حررہ العاجز الفاقر الجانی محمد لطف الرحمن البردوانی المخاطب شمس العلماء مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ(بنگال)
نسب میں افضل کون
(از اعلیحضرت مجدددین وملت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ)
اللھم لك الحمد یامن خلق الانسانفجعلہ نسبا و صھرا وکنت قد یراصل علی من ارسلتہ من خیر فریقین من خیر شعوب من خیر یا اﷲ تیرے لئے حمد ہے اور وہ ذات جس نے انسان کو پیدا فرمایا تو اس کا نسب اور رشتہ دار بنایا اور تیری ذات قادر ہے اور رحمتیں نازل فرما اس ذات پر جس کو تو نے دو فریقوں میں بہتر
حررہ العاجز الفاقر الجانی محمد لطف الرحمن البردوانی المخاطب شمس العلماء مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ(بنگال)
نسب میں افضل کون
(از اعلیحضرت مجدددین وملت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ)
اللھم لك الحمد یامن خلق الانسانفجعلہ نسبا و صھرا وکنت قد یراصل علی من ارسلتہ من خیر فریقین من خیر شعوب من خیر یا اﷲ تیرے لئے حمد ہے اور وہ ذات جس نے انسان کو پیدا فرمایا تو اس کا نسب اور رشتہ دار بنایا اور تیری ذات قادر ہے اور رحمتیں نازل فرما اس ذات پر جس کو تو نے دو فریقوں میں بہتر
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۵/ ۲۷€
سنن ابن ماجہ باب فضل العلماء الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰€
جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۳€
الدرالمختار کتاب النکاح باب الکفائۃ ∞مطبع مجتائی دہلی ۱/ ۱۹۵€
سنن ابن ماجہ باب فضل العلماء الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰€
جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۳€
الدرالمختار کتاب النکاح باب الکفائۃ ∞مطبع مجتائی دہلی ۱/ ۱۹۵€
قبائل من خیر بیوتا بشیرا ونذیراوملکتہ نفع عترتہ وقرابتہ وخدمہ وامتہ وکل من یلوذ بحضرتہ دنیا واخریوعلی الہ خیر ال وصحبہ خیر صحب وبارك وسلم تسلیما کثیرا کثیرا۔ بناکر بھیجا اور بہتر شریعت اور بہتر قبائل اور بہتر گھروں میں بشیر ونذیر بنایا اور اس کی اولاد قرابتخادموںامت اور دنیا و آخرت میں ان کے حضور ہر پناہ لینے والے کے نفع کے لئے تو نے اس کو مالك بنایا اور ان کی بہترین آل پاك اور بہترین صحابہ کرام پر اور برکتیں اور سلامتی کثیر درکثیر نازل فرما۔(ت)
کسی مسلمان بلکہ کافر ذمی کو بھی بلاحاجت شرعیہ ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل شکنی ہو اسے ایذاء پہنچے شرعا ناجائز وحرام ہے۔اگر چہ بات فی نفسہ سچی ہوفان کل حق صدق ولیس کل صدق حقا(ہر حق سچ ہے مگر ہر سچ حق نہیں) ابن السنی عمیر بن سعد رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا رجلا بغیر اسمہ لعنتہ الملائکۃ فی التیسیر ای بلقب یکرھا لابنحو یا عبداﷲ ۔ جو شخص کسی کو اس کانام بدل کر پکارے فرشتے اس پر لعنت کریں تیسیر میں ہے یعنی کسی بد لقب سے جو اسے برا لگے نہ کہ اے بندہ خدا وغیرہ سے۔
طبرانی معجم اوسط میں بسند حسن انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذا دی۔
سنن ابی داؤد میں متعدد اصحاب کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کسی مسلمان بلکہ کافر ذمی کو بھی بلاحاجت شرعیہ ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل شکنی ہو اسے ایذاء پہنچے شرعا ناجائز وحرام ہے۔اگر چہ بات فی نفسہ سچی ہوفان کل حق صدق ولیس کل صدق حقا(ہر حق سچ ہے مگر ہر سچ حق نہیں) ابن السنی عمیر بن سعد رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا رجلا بغیر اسمہ لعنتہ الملائکۃ فی التیسیر ای بلقب یکرھا لابنحو یا عبداﷲ ۔ جو شخص کسی کو اس کانام بدل کر پکارے فرشتے اس پر لعنت کریں تیسیر میں ہے یعنی کسی بد لقب سے جو اسے برا لگے نہ کہ اے بندہ خدا وغیرہ سے۔
طبرانی معجم اوسط میں بسند حسن انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذا دی۔
سنن ابی داؤد میں متعدد اصحاب کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
عمل الیوم واللیلۃ باب الوعید فی ان یدعی الرجل بغیر اسمہ ∞حدیث ۳۹۶ نورمحمد کارخانہ کراچی ص۱۳۷€
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث من دعا رجلا بغیر اسمہ مکتبہ الامام الشافعی ∞ریاض ۲/ ۴۱۶€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۳۶۳۲€ و مکتبہ المعارف ∞ریاض ۴/۳۷۳€
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث من دعا رجلا بغیر اسمہ مکتبہ الامام الشافعی ∞ریاض ۲/ ۴۱۶€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۳۶۳۲€ و مکتبہ المعارف ∞ریاض ۴/۳۷۳€
من ظلم معاھدا فانا حجیجہ یوم القیمۃ ۔ جو کسی ذمی پر زیادتی کرے تو روز قیامت میں اس سے جھگڑا کروں گا۔
بحرالرائق ودرمختار میں ہے:
فی القنیۃ قال لیھودی اومجوسی یاکافر یاثم ان شق علیہ ومقتضاہ انہ یعزر لارتکابہ الاثم ۔ جس نے کسی ذمی یہودی یامجوسی سے کہا اے کافراور یہ بات اسے گراں گزری تو کہنے والا گنہگار ہوگا اور اس کا تقاضایہ ہے کہ اسے تعزیر کی جائے گی قنیہ۔
تحقیق مقام ومقال بکمال اجمال یہ ہے کہ مدار نجات تقوی پر ہے علی تبائن مراتبھا و ثمراتھا(فرق مراتب اور اس کے نتائج کے لحاظ سے)نہ کہ محض نسبومایضاھیہ من الفضائل موھوباتھا ومکسوباتھا(جو فضائل کے مشابہ ہو ان کے وہبی اور کسبی چیزوں میں)لہذا محض تقوی بس ہے۔اگرچہ شرف نسب وتکمیل علوم سمیہ نہ ہو اور مجرد شریف القوم یا ملا صاحب کہلانا کافی نہیں جبکہ تقوی اصلا نہ ہو۔
ان الزبانیۃ اسرع الی فسقۃ القراء منھم الی عبدۃ الاوثان ۔ بیشك عذاب کے سپاہی فاسق علماء کی طرف سبقت کریں گے اور یا جیسےبتوں کے پجاری کی طرف جو عمل میں سست ہوگا فضل نسب میں آگے نہ ہوگا۔
حدیث من ابطأبہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ کے یہی معنی ہیں نہ یہ کہ فضل نسب شرعا محض باطل ومہجور وہبا منثور یا شرافت وسیادتنہ دنیاوی احکام شرعیہ میں وجہ امتیازنہ آخرت میں اصلا نافع وباعث اعزاز ____ حاشا ایسا نہیں بلکہ شرع مطہر نے متعدد احکام میں فرق نسب کو معتبر لکھا ہے۔اور سلسلہ طاہرہ ذریت عاطرہ میں انسلاك وانتساب ضرور آخرت میں بھی نفع
بحرالرائق ودرمختار میں ہے:
فی القنیۃ قال لیھودی اومجوسی یاکافر یاثم ان شق علیہ ومقتضاہ انہ یعزر لارتکابہ الاثم ۔ جس نے کسی ذمی یہودی یامجوسی سے کہا اے کافراور یہ بات اسے گراں گزری تو کہنے والا گنہگار ہوگا اور اس کا تقاضایہ ہے کہ اسے تعزیر کی جائے گی قنیہ۔
تحقیق مقام ومقال بکمال اجمال یہ ہے کہ مدار نجات تقوی پر ہے علی تبائن مراتبھا و ثمراتھا(فرق مراتب اور اس کے نتائج کے لحاظ سے)نہ کہ محض نسبومایضاھیہ من الفضائل موھوباتھا ومکسوباتھا(جو فضائل کے مشابہ ہو ان کے وہبی اور کسبی چیزوں میں)لہذا محض تقوی بس ہے۔اگرچہ شرف نسب وتکمیل علوم سمیہ نہ ہو اور مجرد شریف القوم یا ملا صاحب کہلانا کافی نہیں جبکہ تقوی اصلا نہ ہو۔
ان الزبانیۃ اسرع الی فسقۃ القراء منھم الی عبدۃ الاوثان ۔ بیشك عذاب کے سپاہی فاسق علماء کی طرف سبقت کریں گے اور یا جیسےبتوں کے پجاری کی طرف جو عمل میں سست ہوگا فضل نسب میں آگے نہ ہوگا۔
حدیث من ابطأبہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ کے یہی معنی ہیں نہ یہ کہ فضل نسب شرعا محض باطل ومہجور وہبا منثور یا شرافت وسیادتنہ دنیاوی احکام شرعیہ میں وجہ امتیازنہ آخرت میں اصلا نافع وباعث اعزاز ____ حاشا ایسا نہیں بلکہ شرع مطہر نے متعدد احکام میں فرق نسب کو معتبر لکھا ہے۔اور سلسلہ طاہرہ ذریت عاطرہ میں انسلاك وانتساب ضرور آخرت میں بھی نفع
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الامارۃ باب تعشیر اھل الذمۃ اذا اختلفوا بالتجارۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۷۷€
الدرالمختار کتاب الحدود باب التعزیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۲۹€
کنز العمال برمز طب حل ∞حدیث ۲۹۰۰۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۰/ ۱۹۱€
سنن ابی داود کتاب العلم باب فی فضل العلم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۷،€موارد الظمان کتاب العلم ∞حدیث ۷۸€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۴۸€
الدرالمختار کتاب الحدود باب التعزیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۲۹€
کنز العمال برمز طب حل ∞حدیث ۲۹۰۰۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۰/ ۱۹۱€
سنن ابی داود کتاب العلم باب فی فضل العلم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۷،€موارد الظمان کتاب العلم ∞حدیث ۷۸€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۴۸€
دینے والا ہے۔کتاب النکاح میں سارا باب کفاءت تو خاص اسی اعتبار تفرقہ ومزیت پر مبنی ہے۔سید زادی اگر کسی مغل پٹھان یا شیخ انصاری سے بے رضائے ولی نکاح کرے گی نکاح ہی نہیں ہوگا جب تك بہ سبب فضل علم دین مکافات ہو کر کفاءت نہ ہوگئی ہو۔یونہی اگر غیرا ب وجد بشرائط معلومہ نابالغہ کا ایسا نکاح کردیں وہ بھی باطل ومردود محض ہے۔اسی طرح اگرمغلانی۔پٹھانی نابالغہ کسی جولاہے یا دھنیے سے نکاح کرلے۔یا ولی غیر ملزم نابالغہ کا نکاح کردے یہ سب باطل ونامنعقد ہیں والمسائل مصرح بہا متونا وشروحا وفتاوی(یہ مسائل دیگر متداول کتب متون وشروح اور کتب فتاوی میں تفصیل سے درج ہیں)یوں ہی امامت صغری کی ترتیب میں شرف نسب وجہ ترجیح ہے۔تنویرالابصارمیں ہے:
الاحق بالامامۃ الاعلم الی قولہ ثم الاشرف نسبا ثم الانظف ثوبا ۔ سب سے زیادہ مستحق امامت وہ ہے جو زیادہ علم رکھتاہو (مصنف کے اس قول تک)پھر وہ جو باعتبار نسب کے زیادہ شریف ہوپھر وہ جس کے کپڑے زیادہ ستھرے ہوں۔
درمختارمیں ہے:
الاشرف نسبا ثم الاحسن صوتا الخ۔ وہ جو باعتبار نسب کے زیادہ شریف پھر جس کی آواز بہتر ہو۔
قریش کی خلافت
اور امامت کبری میں تو شرع مطہر نے اس درجہ کا لحاظ فرمایا ہے کہ اسے صرف قریش کے ساتھ مخصوص فرمادیا۔غیر قریش اگر چہ عالم اجل ہو امام وخلیفہ نہیں ہوسکتا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الائمۃ من قریش رواہ تمام خلفاء قریش ہوں گے۔اس کو روایت
الاحق بالامامۃ الاعلم الی قولہ ثم الاشرف نسبا ثم الانظف ثوبا ۔ سب سے زیادہ مستحق امامت وہ ہے جو زیادہ علم رکھتاہو (مصنف کے اس قول تک)پھر وہ جو باعتبار نسب کے زیادہ شریف ہوپھر وہ جس کے کپڑے زیادہ ستھرے ہوں۔
درمختارمیں ہے:
الاشرف نسبا ثم الاحسن صوتا الخ۔ وہ جو باعتبار نسب کے زیادہ شریف پھر جس کی آواز بہتر ہو۔
قریش کی خلافت
اور امامت کبری میں تو شرع مطہر نے اس درجہ کا لحاظ فرمایا ہے کہ اسے صرف قریش کے ساتھ مخصوص فرمادیا۔غیر قریش اگر چہ عالم اجل ہو امام وخلیفہ نہیں ہوسکتا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الائمۃ من قریش رواہ تمام خلفاء قریش ہوں گے۔اس کو روایت
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸€۲
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۲€
مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۱۸۳،€المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ∞۴/ ۷۶،€السنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ باب من قال یؤمہم ذونسب الخ دارصادر بیروت ∞۳/ ۱۲۱،€السنن الکبرٰی کتاب قتال اہل البغی،باب الائمۃ من قریش دارصادر بیروت ∞۸/ ۱۴۳،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۷۲۵€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱/ ۲۵۲€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۲€
مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۱۸۳،€المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ∞۴/ ۷۶،€السنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ باب من قال یؤمہم ذونسب الخ دارصادر بیروت ∞۳/ ۱۲۱،€السنن الکبرٰی کتاب قتال اہل البغی،باب الائمۃ من قریش دارصادر بیروت ∞۸/ ۱۴۳،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۷۲۵€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱/ ۲۵۲€
احمد وابن ابی شیبہ والنسائی و ابن جریر والحاکم والبیھقی والضیاء فی المختارۃ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ وابوبکر بن ابی شیبہ ونعیم بن حماد و ابن السنی فی کتاب الاخوۃ والبیھقی عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ۔ کیا ہے احمدابن ابی شیبہنسائیابن جریرحاکم اور بیہقی نے اور ضیاء نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے مختارہ میں اور طبرانی نے حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور ابوبکر بن ابی شیبہ اور نعیم بن حماد اور ابن السنی نے کتاب الاخوۃ میں اور بیہقی نے امیر المومین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کیا۔
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان ھذا الامرفی قریش لایعادیھم احد الا اکبہ اﷲ علی وجہہ فی الناررواہ الائمۃ احمد وبخاری و مسلم عن امیر معویۃ وصدرہ ابوبکر ابن ابی شیبہ عن ابی موسی الاشعری وابن جریر عن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك خلافت قریش میں ہے جو ان میں سے بیر رکھے گا اﷲ تعالی اسے منہ کے بل جہنم میں اندھا دے گا۔اسے روایت کیا ہے امام احمد اور بخاری اور مسلم نے امیر معاویہ سے حدیث کے ابتدائی حصہ کوابوبکر بن ابی شیبہ نے ابی موسی اشعری سے اور ابن جریر نے کعب رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الا ان الامراء من قریش۔رواہ ابویعلی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریمواحمد والحاکم والطبرانی بلفظ الامراء من قریش سن لوامراء وحکام اسلام قریش سے ہیںاس کو روایت کیا ابو یعلی نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے احمدحاکم اور طبرانی نے اس لفظ کے ساتھ کہ
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان ھذا الامرفی قریش لایعادیھم احد الا اکبہ اﷲ علی وجہہ فی الناررواہ الائمۃ احمد وبخاری و مسلم عن امیر معویۃ وصدرہ ابوبکر ابن ابی شیبہ عن ابی موسی الاشعری وابن جریر عن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك خلافت قریش میں ہے جو ان میں سے بیر رکھے گا اﷲ تعالی اسے منہ کے بل جہنم میں اندھا دے گا۔اسے روایت کیا ہے امام احمد اور بخاری اور مسلم نے امیر معاویہ سے حدیث کے ابتدائی حصہ کوابوبکر بن ابی شیبہ نے ابی موسی اشعری سے اور ابن جریر نے کعب رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الا ان الامراء من قریش۔رواہ ابویعلی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریمواحمد والحاکم والطبرانی بلفظ الامراء من قریش سن لوامراء وحکام اسلام قریش سے ہیںاس کو روایت کیا ابو یعلی نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے احمدحاکم اور طبرانی نے اس لفظ کے ساتھ کہ
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المناقب باب مناقب قریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۷،صحیح البخاری کتاب الاحکام باب الامراء من قریش قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۵۷،مسند احمد بن حنبل عن معاویہ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۹۴،المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الفضائل حدیث ۱۲۴۳۹ ادارۃ القرآن کراچی ۱۲/ ۱۷۰
مسند ابویعلی عن علی رضی اﷲ عنہ حدیث ۵۶۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۸۴
مسند ابویعلی عن علی رضی اﷲ عنہ حدیث ۵۶۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۸۴
الامراء من قریش عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ امراء قریش ہیں"اس کو ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ نے بھی روایت کیا ہے۔
اہل قریش کی فضیلت اور مقام ومرتبہ
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قریش ولاۃ ھذا الامر رواہ احمد عن ابی بکر الصدیق وعن سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنھما۔ اسلامی حکومت کے والی قریش ہیں۔اس کو روایت کیا ہے احمد نے حضرت ابوبکر صدیق سے اور سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قدموا قریشا ولا تقدموھا رواہ الامام الشافعی والامام احمد عن عبداﷲ بن خطب والطبرانی فی الکبیر عن عبداﷲ بن السائب والبزار عن امیر المومنین علی وابن عدی عن ابی ھریرۃ وابن جریر عن الحارث بن عبداﷲ وسیأتی فی حدیث عن انس و الشافعی والبیھقی فی معرفۃ الصحابۃ عن الزھری مرسلا رضی اﷲ تعالی عنہم۔ قریش کو تقدیم دو اور قریش پر تقدیم نہ کرو۔اس کو روایت کیا ہے امام شافعی اور امام احمد نے عبداﷲ بن خطب سے اور طبرانی نے کبیرمیں عبداﷲ بن سائب سے اور بزار نے امیر المومنین علی سے اور ابن عدی نے ابوہریرہ اور ابن جریر نے حارث بن عبداﷲ سے___ اور عنقریب آئے گا حضرت انس کی حدیث اور شافعی اور بیہقی نے معرفۃ صحابۃ میں زہری سے مرسلا روایت کیا۔رضی اﷲ تعالی عنہم۔
بلکہ ایك روایت میں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اہل قریش کی فضیلت اور مقام ومرتبہ
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قریش ولاۃ ھذا الامر رواہ احمد عن ابی بکر الصدیق وعن سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنھما۔ اسلامی حکومت کے والی قریش ہیں۔اس کو روایت کیا ہے احمد نے حضرت ابوبکر صدیق سے اور سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قدموا قریشا ولا تقدموھا رواہ الامام الشافعی والامام احمد عن عبداﷲ بن خطب والطبرانی فی الکبیر عن عبداﷲ بن السائب والبزار عن امیر المومنین علی وابن عدی عن ابی ھریرۃ وابن جریر عن الحارث بن عبداﷲ وسیأتی فی حدیث عن انس و الشافعی والبیھقی فی معرفۃ الصحابۃ عن الزھری مرسلا رضی اﷲ تعالی عنہم۔ قریش کو تقدیم دو اور قریش پر تقدیم نہ کرو۔اس کو روایت کیا ہے امام شافعی اور امام احمد نے عبداﷲ بن خطب سے اور طبرانی نے کبیرمیں عبداﷲ بن سائب سے اور بزار نے امیر المومنین علی سے اور ابن عدی نے ابوہریرہ اور ابن جریر نے حارث بن عبداﷲ سے___ اور عنقریب آئے گا حضرت انس کی حدیث اور شافعی اور بیہقی نے معرفۃ صحابۃ میں زہری سے مرسلا روایت کیا۔رضی اﷲ تعالی عنہم۔
بلکہ ایك روایت میں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث ابوبرزہ اسلمی المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۴۲۴،المستدرك للحاکم کتاب الفتن والملاحم دارالفکر بیروت ۵/ ۵۰۱،کنزالعمال بحوالہ(ک)حم طب عن ابی موسٰی الاشعری حدیث ۳۳۸۲۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲/ ۲۸
مسند احمد بن حنبل عن ابی بکر المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۵
کنز العمال بحوالہ الشافعی البیہقی فی معرفۃ الصحابہ والبزار عن علی الخ (حدیث ۹۱۔۹۰۔۳۳۷۸۹)۱۲/ ۲۲
مسند احمد بن حنبل عن ابی بکر المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۵
کنز العمال بحوالہ الشافعی البیہقی فی معرفۃ الصحابہ والبزار عن علی الخ (حدیث ۹۱۔۹۰۔۳۳۷۸۹)۱۲/ ۲۲
یا ایھا الناس لاتتقدموا قریشا فتھلکوا رواہ البیھقی عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اے لوگو! قریش پر سبقت نہ کرو کہ ہلاك ہوجاؤ گے اسے روایت کیا ہے۔بیہقی نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
دوسری روایت میں ہے:
فتغلبوا رواہ ابن ابی طالب عن الامام الباقر رضی اﷲ تعالی عنہ مرسلا وھو عندہ باللفظ الاول عن سھل بن ابی خیثمۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی قریش پر سبقت نہ کرو کہ گمراہ ہوجاؤ گےاسے روایت کیا ہے ابن ابی طالب نے امام باقر رضی اﷲ تعالی عنہ سے مرسلااور ان کے نزدیك پہلے الفاظ کے ساتھ سہل بن ابی خثیمہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
اور فرماتاہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الناس تبع لقریش فی ھذا الشانرواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ واحمد ومسلم عن جابر والطبرانی فی الاوسط والضیاء عن سھل بن سعد وعبداﷲ بن احمد واحمد وابن ابی شیبۃ عن معاویۃ رضی اﷲ تعالی عنہم وھذا عن سعید بن ابراھیم بلاغا۔ سب لوگ اس کام میں قریش کے تابع ہیں اسے روایت کیا ہے امام بخاری ومسلم نے ابوہریرہ سے اور احمد ومسلم نے جابرسے اور طبرانی نے اوسط میں اور ضیانے سہل بن سعد سے اور عبداﷲ بن احمد اور احمدوابن ابی شیبہ نے معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہم سےاوریہ سعیدبن ابراہیم سے بلا غاروایت کی گئی ہے۔
حدیث ۲۶: کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
دوسری روایت میں ہے:
فتغلبوا رواہ ابن ابی طالب عن الامام الباقر رضی اﷲ تعالی عنہ مرسلا وھو عندہ باللفظ الاول عن سھل بن ابی خیثمۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی قریش پر سبقت نہ کرو کہ گمراہ ہوجاؤ گےاسے روایت کیا ہے ابن ابی طالب نے امام باقر رضی اﷲ تعالی عنہ سے مرسلااور ان کے نزدیك پہلے الفاظ کے ساتھ سہل بن ابی خثیمہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
اور فرماتاہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الناس تبع لقریش فی ھذا الشانرواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ واحمد ومسلم عن جابر والطبرانی فی الاوسط والضیاء عن سھل بن سعد وعبداﷲ بن احمد واحمد وابن ابی شیبۃ عن معاویۃ رضی اﷲ تعالی عنہم وھذا عن سعید بن ابراھیم بلاغا۔ سب لوگ اس کام میں قریش کے تابع ہیں اسے روایت کیا ہے امام بخاری ومسلم نے ابوہریرہ سے اور احمد ومسلم نے جابرسے اور طبرانی نے اوسط میں اور ضیانے سہل بن سعد سے اور عبداﷲ بن احمد اور احمدوابن ابی شیبہ نے معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہم سےاوریہ سعیدبن ابراہیم سے بلا غاروایت کی گئی ہے۔
حدیث ۲۶: کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References
صحیح البخاری باب المناقب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۶،€صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۹،€مسند احمد بن حنبل عن انس المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۳۳۱ و ۳۷۹،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۵۵۹۲€ مکتبہ المعارف ∞ریاض ۶/ ۲۷۷€
قریش صلاح الناس ولا یصلح الناس الابھم رواہ ابن عدی عن ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنھا۔ قریش آدمیوں کی سنوار ہیں لوگ نہ سنوریں گے مگر قریش سے۔روایت کیاہے ابن عدی نے ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا سے۔
حدیث ۲۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قریش خالصۃ اﷲ تعالی رواہ ابن عساکرعن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قریش برگزیدہ خداہیں۔اس کوروایت کیا ہے ابن عساکر نے عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۲۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من یرد ھوا ن قریش اھان اﷲ تعالی رواہ احمد وابن ابی شیبۃ والترمذی والعدنی والطبرانی وابویعلی والحاکم وابونعیم فی المعرفۃ عن سعد بن ابی وقاص و تمام وابونعیم والضیاء عن ابن عباس جو قریش کی ذلت چاہے اﷲ اسے ذلیل کرے اسے روایت کیا ہے احمدابن ابی شیبہ ترمذیعدنیطبرانیابویعلیحاکم اور ابونعیم نے معرفۃ میں سعد بن ابی وقاص سے اور تمام وابونعیم اور ضیاء نے ابن عباس سے اور طبرانی نے
حدیث ۲۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قریش خالصۃ اﷲ تعالی رواہ ابن عساکرعن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قریش برگزیدہ خداہیں۔اس کوروایت کیا ہے ابن عساکر نے عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۲۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من یرد ھوا ن قریش اھان اﷲ تعالی رواہ احمد وابن ابی شیبۃ والترمذی والعدنی والطبرانی وابویعلی والحاکم وابونعیم فی المعرفۃ عن سعد بن ابی وقاص و تمام وابونعیم والضیاء عن ابن عباس جو قریش کی ذلت چاہے اﷲ اسے ذلیل کرے اسے روایت کیا ہے احمدابن ابی شیبہ ترمذیعدنیطبرانیابویعلیحاکم اور ابونعیم نے معرفۃ میں سعد بن ابی وقاص سے اور تمام وابونعیم اور ضیاء نے ابن عباس سے اور طبرانی نے
حوالہ / References
الکامل لابن عدی ترجمہ عمر بن حبیب العدوی دارالفکر بیروت ∞۵/ ۱۶۹۶،€کنز العمال بحوالہ عد عن عائشہ ∞حدیث ۳۳۷۹۲€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۲۲€
تہذیب دمشق الکبیر ترجمہ اسحاق بن یعقوب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۵۹،€تہذیب دمشق الکبیر ترجمہ سلمہ بن العیار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۶/ ۲۳۵،€کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن عمرو بن العاص ∞حدیث ۳۳۸۱۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۲۶€
جامع الترمذی ابواب المناقب فضل الانصار وقریش ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۳۳۰،€المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ∞۴/ ۷۴،€مسند احمد بن حنبل عن سعد بن ابی وقاص المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۷۱ و ۱۷۶ و ۱۸۳،€تہذیب دمشق الکبیر ترجمہ اسحاق بن یعقوب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۵۹،€کنز العمال بحوالہ حم ش والعدنی ت طب،ع ك وابی نعیم فی المعرفۃ عن سعد بن ابی وقاص وتمام وابی نعیم،ص عن ابن عباس کر عن عمرو بن ابی العاص موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۳۸€
تہذیب دمشق الکبیر ترجمہ اسحاق بن یعقوب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۵۹،€تہذیب دمشق الکبیر ترجمہ سلمہ بن العیار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۶/ ۲۳۵،€کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن عمرو بن العاص ∞حدیث ۳۳۸۱۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۲۶€
جامع الترمذی ابواب المناقب فضل الانصار وقریش ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۳۳۰،€المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ∞۴/ ۷۴،€مسند احمد بن حنبل عن سعد بن ابی وقاص المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۷۱ و ۱۷۶ و ۱۸۳،€تہذیب دمشق الکبیر ترجمہ اسحاق بن یعقوب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۵۹،€کنز العمال بحوالہ حم ش والعدنی ت طب،ع ك وابی نعیم فی المعرفۃ عن سعد بن ابی وقاص وتمام وابی نعیم،ص عن ابن عباس کر عن عمرو بن ابی العاص موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۳۸€
والطبرانی فی الکبیر عن انس وابن عساکر عن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالی عنہم۔ کبیر میں انس سے اور ابن عساکر نے عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالی عنہم سے۔
حدیث۲۹ تا ۳۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قوۃ الرجل من قریش قوۃ رجلین ۔رواہ احمد وابن ابی شیبۃ والطیالسی وابویعلی وابن ابی عاصم و الباوردی والطبرانی فی الکبیر والحاکم فی المستدرك والبیھقی فی المعرفۃ والضیاء فی المختارہ وابو نعیم فی الحلیۃ عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ ھذافیھا عن علی کرم اﷲ وجہہ والطبرانی عن ابن ابی خیثمہ وابن النجار فی حدیث طویل عن انس رضی اﷲ تعالی عنہما اولہ یا ایھا الناس قدموا قریشا ولاتقدموھا وھوایضا قطعۃ من حدیث ابی بکر المار عن سھل۔ ایك مرد قریش کو قوت دو مردوں کے برابر ہے۔اس کو روایت کیا ہے احمدابن ابی شیبہطیالسیابویعلیابن ابی عاصم ماوردی اور طبرانی نے کبیر میںاور حاکم نے مستدرك میں اور بیہقی نے معرفۃ میں۔اور ضیاء نے مختارہ میں اور ابونعیم نے حلیہ میں جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی سے یہی الفاظ حلیہ میں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے اور طبرانی نے ابن ابی خیثمہ سے اور ابن نجار نے طویل حدیث میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہما سے کہ اے لوگو! قریش کو مقدم کرو اور خود مقدم نہ بنویہ بھی مذکور ابوبکر عن سہل والی حدیث کاحصہ ہے۔
حدیث ۳۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لاتؤموا قریشا وائتموھا ولا تعلموا قریشا قریش کو اپنا پیرو نہ بناؤ اور ان کی پیروی کرو۔
حدیث۲۹ تا ۳۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قوۃ الرجل من قریش قوۃ رجلین ۔رواہ احمد وابن ابی شیبۃ والطیالسی وابویعلی وابن ابی عاصم و الباوردی والطبرانی فی الکبیر والحاکم فی المستدرك والبیھقی فی المعرفۃ والضیاء فی المختارہ وابو نعیم فی الحلیۃ عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ ھذافیھا عن علی کرم اﷲ وجہہ والطبرانی عن ابن ابی خیثمہ وابن النجار فی حدیث طویل عن انس رضی اﷲ تعالی عنہما اولہ یا ایھا الناس قدموا قریشا ولاتقدموھا وھوایضا قطعۃ من حدیث ابی بکر المار عن سھل۔ ایك مرد قریش کو قوت دو مردوں کے برابر ہے۔اس کو روایت کیا ہے احمدابن ابی شیبہطیالسیابویعلیابن ابی عاصم ماوردی اور طبرانی نے کبیر میںاور حاکم نے مستدرك میں اور بیہقی نے معرفۃ میں۔اور ضیاء نے مختارہ میں اور ابونعیم نے حلیہ میں جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی سے یہی الفاظ حلیہ میں حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے اور طبرانی نے ابن ابی خیثمہ سے اور ابن نجار نے طویل حدیث میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہما سے کہ اے لوگو! قریش کو مقدم کرو اور خود مقدم نہ بنویہ بھی مذکور ابوبکر عن سہل والی حدیث کاحصہ ہے۔
حدیث ۳۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لاتؤموا قریشا وائتموھا ولا تعلموا قریشا قریش کو اپنا پیرو نہ بناؤ اور ان کی پیروی کرو۔
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن جبیر بن مطعم المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۸۱ و ۸۳€
المصنف لابن ابی شیبہ ∞حدیث ۱۲۴۳۵ ۱۲/ ۱۶۸€ و مسند ابی داؤد الطیالسی ∞حدیث ۱۹۵۱€ الجزء الرابع∞/۱۲۸،€حلیۃ الاولیاء ترجمہ الامام الشافعی ∞۴۱۵€ دارالکتب العربی بیروت ∞۹/ ۶۴،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۴۹۰€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۴،€کنز العمال بحوالہ ط حم وابن نعیم وابن ابی عاصم والماوردی حب کر طب ق فی المعرفۃ عن جبیر بن مطعم ∞حدیث ۳۳۸۶۴ و ۳۳۸۶۵ و ۳۳۸۶۶€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۳۴€
المصنف لابن ابی شیبہ ∞حدیث ۱۲۴۳۵ ۱۲/ ۱۶۸€ و مسند ابی داؤد الطیالسی ∞حدیث ۱۹۵۱€ الجزء الرابع∞/۱۲۸،€حلیۃ الاولیاء ترجمہ الامام الشافعی ∞۴۱۵€ دارالکتب العربی بیروت ∞۹/ ۶۴،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۴۹۰€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۴،€کنز العمال بحوالہ ط حم وابن نعیم وابن ابی عاصم والماوردی حب کر طب ق فی المعرفۃ عن جبیر بن مطعم ∞حدیث ۳۳۸۶۴ و ۳۳۸۶۵ و ۳۳۸۶۶€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۳۴€
وتعلموا منھا فان امانۃ الامین من قریش تعدل امانۃ امینین ۔رواہ ابن عساکر عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ وھو ایضا بمعناہ قطعۃ من حدیث انس۔ قریش پر دعوی استادی نہ رکھو اور ان کی شاگردی کرو کہ قریش میں ایك امین کی امانت دوامینوں کے برابرہے۔اسے روایت کیا ابن عسا کر نے امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے یہ بھی اپنے معنی کے اعتبار سے حدیث انس کا حصہ ہے۔
حدیث ۳۷ و ۳۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اعطیت قریش مالم یعط الناس رواہ الحسن بن سفیان فی مسندہ ابونعیم فی معرفۃ الصحابۃ عن الحلیس رضی اﷲ تعالی عنہ ونعیم بن حماد عن ابی الزاھریۃ مرسلا وصلہ الدیلمی عنہ عن خنیس رضی اﷲ تعالی عنہ ھکذا فیما نقلت عنہ بمعجمۃ فنون رواہ مصحفا عن حلیس بمھلۃ فلام۔ واﷲ تعالی اعلم۔ قریش کو وہ عطا ہوا جو کسی کو نہ ہوا۔اس کو روایت کیا ہے حسن بن سفیان نے اپنی مسند میںابو نعیم نے معرفۃ الصحابہ میں حلیس رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور نعیم بن حماد نے ابی زاہریہ سے مرسلا اور اس کو دیلمی نے عن حلیس عن خنیس رضی اﷲ تعالی عنھما کہہ کر متصل بنایا ہے"خ"کے بعد"ن" منقول ہے انھوں نے"ح"کے بعد لام سے "حلیس"کہہ کر روایت کیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
حدیث ۳۹ و ۴۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
فضل اﷲ قریشا بسبع خصال لم یعطھا احد قبلھم ولایعطاھا احد بعد ھم۔ اﷲ تعالی نے قریش کو ایسی سات باتوں سے فضلیت دی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملیں نہ ان کے بعد کسی کو عطا ہوں۔
انی منھم ایك تو یہ ہے کہ میں قریش ہوں(یہ تمام فضائل سے ارفع واعلی ہے)___ وفیھم الخلافۃ والحجابۃ والسقایۃ اور انھیں میں خلافت اور کعبہ معظمہ کی دربانی اور حاجیوں کا سقایہ _____ونصرھم علی الفیل اور انھیں اصحاب فیل پر نصرت بخشی _____ وعبدوا اﷲ عشر سنین لایعبدہ غیرھم اور انھوں نے دس سال اﷲ کی عبادت تنہا کی کہ ان کے سوا روئے زمین پر کسی اور
حدیث ۳۷ و ۳۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اعطیت قریش مالم یعط الناس رواہ الحسن بن سفیان فی مسندہ ابونعیم فی معرفۃ الصحابۃ عن الحلیس رضی اﷲ تعالی عنہ ونعیم بن حماد عن ابی الزاھریۃ مرسلا وصلہ الدیلمی عنہ عن خنیس رضی اﷲ تعالی عنہ ھکذا فیما نقلت عنہ بمعجمۃ فنون رواہ مصحفا عن حلیس بمھلۃ فلام۔ واﷲ تعالی اعلم۔ قریش کو وہ عطا ہوا جو کسی کو نہ ہوا۔اس کو روایت کیا ہے حسن بن سفیان نے اپنی مسند میںابو نعیم نے معرفۃ الصحابہ میں حلیس رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور نعیم بن حماد نے ابی زاہریہ سے مرسلا اور اس کو دیلمی نے عن حلیس عن خنیس رضی اﷲ تعالی عنھما کہہ کر متصل بنایا ہے"خ"کے بعد"ن" منقول ہے انھوں نے"ح"کے بعد لام سے "حلیس"کہہ کر روایت کیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
حدیث ۳۹ و ۴۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
فضل اﷲ قریشا بسبع خصال لم یعطھا احد قبلھم ولایعطاھا احد بعد ھم۔ اﷲ تعالی نے قریش کو ایسی سات باتوں سے فضلیت دی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملیں نہ ان کے بعد کسی کو عطا ہوں۔
انی منھم ایك تو یہ ہے کہ میں قریش ہوں(یہ تمام فضائل سے ارفع واعلی ہے)___ وفیھم الخلافۃ والحجابۃ والسقایۃ اور انھیں میں خلافت اور کعبہ معظمہ کی دربانی اور حاجیوں کا سقایہ _____ونصرھم علی الفیل اور انھیں اصحاب فیل پر نصرت بخشی _____ وعبدوا اﷲ عشر سنین لایعبدہ غیرھم اور انھوں نے دس سال اﷲ کی عبادت تنہا کی کہ ان کے سوا روئے زمین پر کسی اور
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن علی ∞حدیث ۳۳۸۴۴€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۳۱€
کنز العمال بحوالہ حسن بن سفیان وابونعیم فی المعرفۃ الخ ∞حدیث ۳۳۸۰۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۲۴€
کنز العمال بحوالہ حسن بن سفیان وابونعیم فی المعرفۃ الخ ∞حدیث ۳۳۸۰۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۲۴€
خاندان کے لوگ اس وقت عبادت نہ کرتے تھے(یہی تھے یا ان کے عبید وموالی)___ وانزل اﷲ فیھم سورۃ من القران لم یذکر فیھا احد غیرھم لایلف قریش اور اﷲ تعالی نے ان میں ایك سورۃ قرآن عظیم کی اتاری کہ اس میں صرف انھیں کا ذ کر فرمایا اور وہ سورۃ لایلف قریش ہے ____
رواہ البخاری فی التاریخ والطبرانی فی الکبیر و الحاکم فی المستدرك والبیھقی فی الخلافیات عن ام ھانی وفی الاوسط عن سید نا الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہ ولفظھا ھذا ملفق منھما۔ اس کو روایت کیا ہے بخاری نے تاریخ میں اور طبرانی نے کبیر میں اورحاکم نے مستدرك میں اور بیہقی نے ام ہانی سے خلافیات میں اور اوسط میں سیدنا زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما سےاور اس کے الفاظ ان دونوں سے مختلف ہیں۔
حدیث ۴۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
یا معشر الناس احبوا قریشا فان من احب قریشا فقد احبنی ومن ابغض قریشا فقد ابغضنی وان اﷲ تعالی حبب الی قومی فلا اتعجل لھم نقمۃ ولا استکثر لھم نعمۃ ۔ اے گروہ مردم! قریش سے محبت رکھو کہ قریش کا دوست میرا دوست ہے اور قریش کا دشمن میرا دشمن ہے۔اور بیشك اﷲ تعالی نے میری قوم کی محبت میرے دل میں ڈالی کہ ان پر کسی انتقام کی جلدی نہیں کرتا نہ ان کے لئے کسی نعمت کو بہت سمجھوں۔
قریش برکت کے درخت
الاان اﷲ تعالی علم مافی قلبی من حبی لقومی فسرنی فیھم قال اﷲ تعالی وانہ لذکرلك سن لو بیشك اﷲ تعالی نے جانا جیسی میرے دل میں میری قوم کی محبت ہے۔تو اس نے مجھے ان کے بارے میں شاد کیا کہ ارشاد فرمایا"بیشك
رواہ البخاری فی التاریخ والطبرانی فی الکبیر و الحاکم فی المستدرك والبیھقی فی الخلافیات عن ام ھانی وفی الاوسط عن سید نا الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہ ولفظھا ھذا ملفق منھما۔ اس کو روایت کیا ہے بخاری نے تاریخ میں اور طبرانی نے کبیر میں اورحاکم نے مستدرك میں اور بیہقی نے ام ہانی سے خلافیات میں اور اوسط میں سیدنا زبیر رضی اﷲ تعالی عنہما سےاور اس کے الفاظ ان دونوں سے مختلف ہیں۔
حدیث ۴۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
یا معشر الناس احبوا قریشا فان من احب قریشا فقد احبنی ومن ابغض قریشا فقد ابغضنی وان اﷲ تعالی حبب الی قومی فلا اتعجل لھم نقمۃ ولا استکثر لھم نعمۃ ۔ اے گروہ مردم! قریش سے محبت رکھو کہ قریش کا دوست میرا دوست ہے اور قریش کا دشمن میرا دشمن ہے۔اور بیشك اﷲ تعالی نے میری قوم کی محبت میرے دل میں ڈالی کہ ان پر کسی انتقام کی جلدی نہیں کرتا نہ ان کے لئے کسی نعمت کو بہت سمجھوں۔
قریش برکت کے درخت
الاان اﷲ تعالی علم مافی قلبی من حبی لقومی فسرنی فیھم قال اﷲ تعالی وانہ لذکرلك سن لو بیشك اﷲ تعالی نے جانا جیسی میرے دل میں میری قوم کی محبت ہے۔تو اس نے مجھے ان کے بارے میں شاد کیا کہ ارشاد فرمایا"بیشك
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ تخ طب ك البیہقی فی الخلافیات ∞حدیث ۳۳۸۱۹€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۲۷،€کنز العمال بحوالہ المعجم الاوسط ∞حدیث ۳۳۸۲۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۲۷،€المستدرك للحاکم کتاب التفسیر تفسیر سورۃ قریش دارالفکر بیروت ∞۲/ ۵۳۶€
کنز العمال ∞حدیث ۳۳۸۷۲€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۳۵€
کنز العمال ∞حدیث ۳۳۸۷۲€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۳۵€
ولقومک"فجعل الذکر والشرف لقومی فی کتابہ فالحمد ﷲ الذی جعل الصدیق من قومی والشھید من قومی والائمۃ من قومی ان اﷲ تعالی قلب العباد ظھر البطن فکان خیر العرب قریشا وھی الشجرۃ المبارکۃ التی قال اﷲ عزوجل فی کتابہ"مثل کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ"یعنی بھا قریش"اصلھا ثابت یقول اصلھا کرم وفرعھا فی السماء"الشرف الذی شرفھم اﷲ بالاسلام الذی ھداھم وجعلھم اھلہرواہ الطبرانی فی الکبیر وابن مردویۃ فی التفسیر عن عدی بن حاتم رضی اﷲ تعالی عنہ وھذا مختصرا۔ یہ قرآن ناموری ہے تیری اور تیری قوم کی"تو اسے اپنی کتاب کریم میں میری قوم کے لئے ذکر وشرف رکھا اﷲ کے لئے حمد ہے جس نے میری قوم میں سے صدیق کیا اور میری قوم سے شہیداورمیری قوم سے امام بیشك اﷲ تعالی نے تمام بندوں کے ظاہر وباطن پر نظر فرمائی تو سب عرب سے بہتر قریش نکلے اور وہی برکت والے درخت ہیں۔جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے کہ پاکیزہ بات کی کہاوت ایسی ہے جیسے ستھرا درخت یعنی قریش کہ اس کی جڑ پائدار ہے یعنی ان کی اصل کرم ہے جس کی شاخیں آسمان میں ہیں یعنی وہ جو اﷲ نے ان کو اسلام کا شرف بخشا اور انھیں اس کا اہل کیااس کو طبرانی نے کبیر میں اور ابن مردویہ نے تفسیر میں عدی بن حاتم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔اور یہ مختصرا ہے۔
عزت داری اور بہتر قریش ہیں
حدیث ۴۲:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
کنانۃ عزالعرب رواہ الدیلمی وابن عساکر عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بنی کنانہ سارے عرب کی عزت ہیں۔اس کو روایت کیا ہے دیلمی اور ابن عساکر نے حضرت ابوذر سے۔
عزت داری اور بہتر قریش ہیں
حدیث ۴۲:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
کنانۃ عزالعرب رواہ الدیلمی وابن عساکر عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بنی کنانہ سارے عرب کی عزت ہیں۔اس کو روایت کیا ہے دیلمی اور ابن عساکر نے حضرت ابوذر سے۔
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ طب وابن مردویہ عن عدی بن حاتم ∞حدیث ۳۳۸۷۲€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۳۵€
الفردوس بمأثور الخطاب ∞حدیث ۴۹۱۲€ دارالکتب العلمیہ یبروت ∞۳/ ۳۰۳،€کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن ابی ذر ∞حدیث ۳۳۹۷۱و ۳۴۰۳۹ €موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۵۵۔۶۹€
الفردوس بمأثور الخطاب ∞حدیث ۴۹۱۲€ دارالکتب العلمیہ یبروت ∞۳/ ۳۰۳،€کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن ابی ذر ∞حدیث ۳۳۹۷۱و ۳۴۰۳۹ €موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۵۵۔۶۹€
حدیث ۴۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قریش سادۃ العرب۔رواہ الرامھر مزی فی کتاب الامثال عن الوضین بن مسلم مرسلا۔ قریش سارے عرب کے سردار ہیں۔اس کو روایت کیا ہے رامہر مزی نے کتاب الامثال میں وضین بن مسلم سے مرسلا
حدیث ۴۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
عبد مناف عز قریش وقریش تبع لولد قصی والناس تبع لقریش ۔رواہ ایضا کذلك عن بن الضحاك ھذا مختصر۔ بنی عبد مناف سارے قریش کی عزت ہیں اور قریش اولاد قصی کے تابع ہیں۔اور تمام آدمی قریش کے تابع ہیں اسے بھی رامھرمزی نے کتاب الامثال میں عثمان بن ضحاك سے مرسلا روایت کیا۔یہ مختصر ہے۔
حدیث ۴۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
باابا الدرداء اذا فاخرت ففاخر بقریش رواہ عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ تمام فی فوائدہ وابن عساکر اے ابودرداء! جب تو فخرکرے تو قریش سے فخر کر۔اس کو روایت کیا ہے ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے تمام نے فوائد میں اور ابن عساکر نے۔
حدیث ۴۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
خیر الناس العرب وخیر العرب قریش وخیر قریش بنوھاشم۔رواہ الدیلمی عن امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ سب آدمیوں سے بہتر عرب ہیں اور سب عرب سے بہتر قرشیاور سب قریش سے بہتر بنی ہاشماس کو دیلمی نے امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
قریش سادۃ العرب۔رواہ الرامھر مزی فی کتاب الامثال عن الوضین بن مسلم مرسلا۔ قریش سارے عرب کے سردار ہیں۔اس کو روایت کیا ہے رامہر مزی نے کتاب الامثال میں وضین بن مسلم سے مرسلا
حدیث ۴۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
عبد مناف عز قریش وقریش تبع لولد قصی والناس تبع لقریش ۔رواہ ایضا کذلك عن بن الضحاك ھذا مختصر۔ بنی عبد مناف سارے قریش کی عزت ہیں اور قریش اولاد قصی کے تابع ہیں۔اور تمام آدمی قریش کے تابع ہیں اسے بھی رامھرمزی نے کتاب الامثال میں عثمان بن ضحاك سے مرسلا روایت کیا۔یہ مختصر ہے۔
حدیث ۴۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
باابا الدرداء اذا فاخرت ففاخر بقریش رواہ عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ تمام فی فوائدہ وابن عساکر اے ابودرداء! جب تو فخرکرے تو قریش سے فخر کر۔اس کو روایت کیا ہے ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے تمام نے فوائد میں اور ابن عساکر نے۔
حدیث ۴۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
خیر الناس العرب وخیر العرب قریش وخیر قریش بنوھاشم۔رواہ الدیلمی عن امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ سب آدمیوں سے بہتر عرب ہیں اور سب عرب سے بہتر قرشیاور سب قریش سے بہتر بنی ہاشماس کو دیلمی نے امیر المومنین علی رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ الرامھرمزی فی الامثال ∞حدیث ۳۴۱۱۴€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۸۸€
کنز العمال بحوالہ الرامھرمزی فی الامثال ∞حدیث ۳۴۱۱۲€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۸۸€
کنز العمال بحوالہ تمام وابن عساکر ∞حدیث ۳۴۱۲۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۸۹،€تہذیب تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ العباس بن عبداﷲ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۷/ ۲۲۸€
الفردوس بمأثور الخطاب ∞حدیث ۲۸۹۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲/ ۱۷۸€
کنز العمال بحوالہ الرامھرمزی فی الامثال ∞حدیث ۳۴۱۱۲€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۸۸€
کنز العمال بحوالہ تمام وابن عساکر ∞حدیث ۳۴۱۲۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۸۹،€تہذیب تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ العباس بن عبداﷲ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۷/ ۲۲۸€
الفردوس بمأثور الخطاب ∞حدیث ۲۸۹۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲/ ۱۷۸€
اﷲ تعالی کا انتخاب اور اس کی پسند
حدیث ۴۷ و ۴۸:کہ فرماتےہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ اختار من ادم العرب واختار من العرب مضر ومن مضر قریشا واختار من قریش بنی ھاشم واختارنی من بنی ھاشم رواہ البیھقی وابن عدی عن ابن عمر والحکیم الترمذی والطبرانی فی الکبیر وابن عساکر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ بیشك اﷲ تعالی نے بنی آدم میں سے عرب کو چنااور عرب سے مضراور مضر سے قریشاور قریش سے بنی ہاشماور بنی ہاشم سے مجھ کواس کو روایت کیا ہے بیہقی نے اور ابن عدی نے ابن عمر سے اورحکیم ترمذی نے اور طبرانی نے کبیر میں اور ابن عساکر نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۴۹ تا ۵۱:فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ تعالی خلق خلقہ فجعلھم فریقین فجعلنی فی خیر الفریقین ثم جعلھم قبائل فجعلنی فی خیر قبیلۃ ثم جعلھم بیوتا فجعلنی فی خیر ھم بیتا فانا خیرکم قبیلۃ وخیرکم بیتا۔رواہ احمد والترمذی عن المطلب بن ابی وداعۃ والترمذی اﷲ عزوجل نے خلق بنا کر دو فریق کیمجھے بہتر فریق میں رکھا پھر ان کے قبیلے قبیلے جدا کئے مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا پھر قبیلوں میں خاندان بنائےمجھے سب سے بہتر گھر میں رکھاپھر میرا قبیلہ تمھارے قبیلوں سے بہتر اور میرا گھر تمھارے گھروں سے بہتراسے روایت کیا ہے احمد اور ترمذی
حدیث ۴۷ و ۴۸:کہ فرماتےہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ اختار من ادم العرب واختار من العرب مضر ومن مضر قریشا واختار من قریش بنی ھاشم واختارنی من بنی ھاشم رواہ البیھقی وابن عدی عن ابن عمر والحکیم الترمذی والطبرانی فی الکبیر وابن عساکر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ بیشك اﷲ تعالی نے بنی آدم میں سے عرب کو چنااور عرب سے مضراور مضر سے قریشاور قریش سے بنی ہاشماور بنی ہاشم سے مجھ کواس کو روایت کیا ہے بیہقی نے اور ابن عدی نے ابن عمر سے اورحکیم ترمذی نے اور طبرانی نے کبیر میں اور ابن عساکر نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۴۹ تا ۵۱:فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ تعالی خلق خلقہ فجعلھم فریقین فجعلنی فی خیر الفریقین ثم جعلھم قبائل فجعلنی فی خیر قبیلۃ ثم جعلھم بیوتا فجعلنی فی خیر ھم بیتا فانا خیرکم قبیلۃ وخیرکم بیتا۔رواہ احمد والترمذی عن المطلب بن ابی وداعۃ والترمذی اﷲ عزوجل نے خلق بنا کر دو فریق کیمجھے بہتر فریق میں رکھا پھر ان کے قبیلے قبیلے جدا کئے مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا پھر قبیلوں میں خاندان بنائےمجھے سب سے بہتر گھر میں رکھاپھر میرا قبیلہ تمھارے قبیلوں سے بہتر اور میرا گھر تمھارے گھروں سے بہتراسے روایت کیا ہے احمد اور ترمذی
حوالہ / References
نوادرالاصول الاصل السابع والستون دارصادر بیروت ∞ص۹۶،€المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ∞۴/ ۷۳،€کنز العمال بحوالہ ك عن ابن عمر ∞حدیث ۳۳۹۱۸€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۴۳€
جامع الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰۱،€مسند احمد بن حنبل عن المطلب المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۲۱۰ و ۴/ ۱۶۶،€المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۲۴۷€
جامع الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰۱،€مسند احمد بن حنبل عن المطلب المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۲۱۰ و ۴/ ۱۶۶،€المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۲۴۷€
عن العباس بن عبدالمطلب والحاکم عن ربیعۃ بن الحارث رضی اﷲ تعالی عنہم۔ نے مطلب بن ابی وداعہ سے اور ترمذی نے عباس بن عبدالمطلب سے اور حاکم نے ربیعہ بن حارث رضی اﷲ تعالی عنہم سے۔
حدیث ۵۲ و ۵۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ اختار العرب فاختار منھم کنانۃ واختار قریشا من کنانۃ و اختار بنی ھاشم من قریش و اختارنی من بنی ہاشم وفی لفظ ثم اختار بنی عبد المطلب من بنی ھاشم ثم اختار نی من بنی عبد المطلب رواہ ابن سعد عن عبداﷲ بن عمیر مرسلا وھو البیہقی وحسنہ عن الامام الباقر وھوباللفظ الاخیر ابن سعد عن جعفر عن ابیہ۔ بے شك اﷲ عزوجل نے عرب کو پسند فرمایاپھر عرب سے کنانہ اور کنانہ سے قریش اور قریش سے بنی ہاشم اور بنی ہاشم سے مجھے پسند کیا۔بالفاظ دیگر پھر بنی ہاشم میں سے بنی عبدالمطلب کو چنا پھر عبدالمطلب سے مجھے چنااس کو روایت کیا ہے ابن سعد نے عبداﷲ بن عمیر سے مرسلا اور اس نے اور بیہقی نے امام باقر سے اس کی تحسین کی اور یہ آخری الفاظ ابن سعد نے جعفر سے انھوں نے اپنے باپ سے۔
حدیث ۵۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ عزوجل اصطفی کنانۃ من ولد اسمعیل واصطفی قریشا من کنانۃ واصطفی من قریش بنی ھاشم واصطفانے من بنی ہاشم رواہ مسلم والترمذی بے شك اﷲ عزوجل نے اولاد اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام سے کنانہ کو چنا اور کنانہ سے قریش کو چنا اور قریش سے بنی ہاشم کو چنابنی ہاشم سے مجھ کو چن لیاروایت کیا اسے مسلم اور ترمذی نے
حدیث ۵۲ و ۵۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ اختار العرب فاختار منھم کنانۃ واختار قریشا من کنانۃ و اختار بنی ھاشم من قریش و اختارنی من بنی ہاشم وفی لفظ ثم اختار بنی عبد المطلب من بنی ھاشم ثم اختار نی من بنی عبد المطلب رواہ ابن سعد عن عبداﷲ بن عمیر مرسلا وھو البیہقی وحسنہ عن الامام الباقر وھوباللفظ الاخیر ابن سعد عن جعفر عن ابیہ۔ بے شك اﷲ عزوجل نے عرب کو پسند فرمایاپھر عرب سے کنانہ اور کنانہ سے قریش اور قریش سے بنی ہاشم اور بنی ہاشم سے مجھے پسند کیا۔بالفاظ دیگر پھر بنی ہاشم میں سے بنی عبدالمطلب کو چنا پھر عبدالمطلب سے مجھے چنااس کو روایت کیا ہے ابن سعد نے عبداﷲ بن عمیر سے مرسلا اور اس نے اور بیہقی نے امام باقر سے اس کی تحسین کی اور یہ آخری الفاظ ابن سعد نے جعفر سے انھوں نے اپنے باپ سے۔
حدیث ۵۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ عزوجل اصطفی کنانۃ من ولد اسمعیل واصطفی قریشا من کنانۃ واصطفی من قریش بنی ھاشم واصطفانے من بنی ہاشم رواہ مسلم والترمذی بے شك اﷲ عزوجل نے اولاد اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام سے کنانہ کو چنا اور کنانہ سے قریش کو چنا اور قریش سے بنی ہاشم کو چنابنی ہاشم سے مجھ کو چن لیاروایت کیا اسے مسلم اور ترمذی نے
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ابن سعد عن عبداﷲ بن عبید حدیث ۳۲۱۱۹،۳۲۱۲۰،۳۲۱۲۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۴۵۰،الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر من انتمی الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارصادر بیروت ∞۱/ ۲۰ و ۲۱،€السنن الکبرٰی کتاب النکاح باب اعتبار النسب فی الکفاءۃ دارصادر بیروت ∞۷/ ۱۳۴€
صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فضل نسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کرچی ۲/ ۲۴۵،€جامع الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞امین کمپنی کراچی ۲/ ۲۰۱€
صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فضل نسب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کرچی ۲/ ۲۴۵،€جامع الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞امین کمپنی کراچی ۲/ ۲۰۱€
عن واثلۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ واثلہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حضور افضل ترین قبیلہ میں پیدا ہوئے
حدیث ۵۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
بعثت من خیر قرون بنی آدم قرنا فقرنا حتی کنت فی القرن الذی کنت فیہ۔رواہ البخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں ہرقرن وطبقہ میں بنی آدم کے بہترین طبقات میں بھیجا گیا یہاں تك کہ اس طبقے میں آیا جس میں پیدا ہواصلی اﷲ تعالی علیہ وسلماسے بخاری نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حدیث ۵۶:کہ فرمایا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
خرجت من افضل حیین من العرب ھاشم وزھرۃ رواہ ابن عساکر عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں عرب کے دو سب سے افضل قبیلوں بنی ہاشم وبنی زہرہ سے پیدا ہوا۔اس کو روایت کیا ابن عساکر نے ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۵۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:جب معد بن عدنان کی اولاد میں چالیس ۴۰ مرد ہوگئے ایك بار انھوں نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے لشکر پر حملہ کرکے مال لے لیا۔موسی علیہ السلام نے ان کے ضرر کی دعا فرمائی۔اب عزوجل نے وحی بھیجی اے موسی! انھیں بد دعا نہ کرو کہ انھیں میں سے وہ نبی امی بشیر ونذیر ہوگا جو میرا پیارا ہے اور انھیں میں سے امت مرحومہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہوگی جو مجھ سے تھوڑے رزق پر راضی اور میں ان سے تھوڑے عمل پر راضی ہوں گافقط ایمان پر انھیں جنت دوں گا کہ ان میں ان کے نبی محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب ہوں گے(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)جو باوصف کمال ورعب دار ہونے کے متواضع ہوں گے۔
اخرجتہ من خیر جیل من امتہ میں نے ان کو سب سے بہتر گروہ قریش سے
حضور افضل ترین قبیلہ میں پیدا ہوئے
حدیث ۵۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
بعثت من خیر قرون بنی آدم قرنا فقرنا حتی کنت فی القرن الذی کنت فیہ۔رواہ البخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں ہرقرن وطبقہ میں بنی آدم کے بہترین طبقات میں بھیجا گیا یہاں تك کہ اس طبقے میں آیا جس میں پیدا ہواصلی اﷲ تعالی علیہ وسلماسے بخاری نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حدیث ۵۶:کہ فرمایا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
خرجت من افضل حیین من العرب ھاشم وزھرۃ رواہ ابن عساکر عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں عرب کے دو سب سے افضل قبیلوں بنی ہاشم وبنی زہرہ سے پیدا ہوا۔اس کو روایت کیا ابن عساکر نے ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۵۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:جب معد بن عدنان کی اولاد میں چالیس ۴۰ مرد ہوگئے ایك بار انھوں نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے لشکر پر حملہ کرکے مال لے لیا۔موسی علیہ السلام نے ان کے ضرر کی دعا فرمائی۔اب عزوجل نے وحی بھیجی اے موسی! انھیں بد دعا نہ کرو کہ انھیں میں سے وہ نبی امی بشیر ونذیر ہوگا جو میرا پیارا ہے اور انھیں میں سے امت مرحومہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہوگی جو مجھ سے تھوڑے رزق پر راضی اور میں ان سے تھوڑے عمل پر راضی ہوں گافقط ایمان پر انھیں جنت دوں گا کہ ان میں ان کے نبی محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب ہوں گے(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)جو باوصف کمال ورعب دار ہونے کے متواضع ہوں گے۔
اخرجتہ من خیر جیل من امتہ میں نے ان کو سب سے بہتر گروہ قریش سے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المناقب باب صفۃالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۰۳€
تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر طہارۃ مولدہ وطیب اصلہ،داراحیاء التراث العربی بیروت∞،۳/ ۲۲۶€
تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر طہارۃ مولدہ وطیب اصلہ،داراحیاء التراث العربی بیروت∞،۳/ ۲۲۶€
قریشا ثم اخرجتہ من بنی ہاشم صفوۃ قریش فھم خیر من خیر رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ پیدا کیا۔پھر قریش میں ان کے برگزیدہ بنی ہاشم سے۔وہ بہتر سے بہتر ہیں اس کو روایت کیا ہے طبرانی نے کبیر میں ابی امامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
نفس میں سب سے بہتر جان حضور
حدیث ۵۸۵۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اتا نی جبریل فقال یامحمد ان اﷲ بعثنی فطفت شرق الارض وغربھا وسہلھا وجبلھا فلم اجد حیاخیرا من العرب ثم امرنی فطفت فی العرب فلم اجد حیاخیرا من مضر ثم امرنی فطفت فی مضر فلم اجد حیاخیرا من کنانۃ ثم امرنی فطفت فی کنانۃ فلم اجد حیا خیرا من قریش ثم امرنی فطفت فی قریش فلم اجد حیاخیرا من بنی ہاشم ثم امرنی ان اختار من انفسھم فلم اجد فیھا نفسا خیرا من نفسکرواہ الامام حکیم عن الامام الصادق عن الامام الباقر وصدرہ الی مضر الدیلمی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جبریل(علیہ السلام)نے حاضر ہو کر مجھ سے عرض کی کہ اﷲ عزوجل نے مجھے بھیجا میں زمین کے پوربپچھمنرم وکوہ ہر حصے میں پھراکوئی قبیلہ عرب سے بہتر نہ پایاپھر اس نے مجھے حکم دیا کہ میں نے تمام عرب کا دورہ کیا تو کوئی قبیلہ مضر سے بہتر نہ پایاپھر حکم فرمایامیں نے مضر میں تفتیش کی کوئی قبیلہ کنانہ سے بہتر نہ پایاپھر حکم دیا میں نے کنانہ میں گشت کیاکوئی قبیلہ قریش سے بہتر نہ پایاپھر حکم دیا میں قریش میں پھرا کوئی قبیلہ بنی ہاشم سے بہتر نہ پایاپھر حکم دیا کہ سب میں بہتر نفس تلاش کرو تو کوئی جان حضور کی جان سے بہتر نہ پائیصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔اسے روایت کیا ہے امام حکیم نے امام صادق سے انھوں نے امام باقر سے اور اس کی ابتداء سے مضر تك دیلمی نے ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے۔
نفس میں سب سے بہتر جان حضور
حدیث ۵۸۵۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اتا نی جبریل فقال یامحمد ان اﷲ بعثنی فطفت شرق الارض وغربھا وسہلھا وجبلھا فلم اجد حیاخیرا من العرب ثم امرنی فطفت فی العرب فلم اجد حیاخیرا من مضر ثم امرنی فطفت فی مضر فلم اجد حیاخیرا من کنانۃ ثم امرنی فطفت فی کنانۃ فلم اجد حیا خیرا من قریش ثم امرنی فطفت فی قریش فلم اجد حیاخیرا من بنی ہاشم ثم امرنی ان اختار من انفسھم فلم اجد فیھا نفسا خیرا من نفسکرواہ الامام حکیم عن الامام الصادق عن الامام الباقر وصدرہ الی مضر الدیلمی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جبریل(علیہ السلام)نے حاضر ہو کر مجھ سے عرض کی کہ اﷲ عزوجل نے مجھے بھیجا میں زمین کے پوربپچھمنرم وکوہ ہر حصے میں پھراکوئی قبیلہ عرب سے بہتر نہ پایاپھر اس نے مجھے حکم دیا کہ میں نے تمام عرب کا دورہ کیا تو کوئی قبیلہ مضر سے بہتر نہ پایاپھر حکم فرمایامیں نے مضر میں تفتیش کی کوئی قبیلہ کنانہ سے بہتر نہ پایاپھر حکم دیا میں نے کنانہ میں گشت کیاکوئی قبیلہ قریش سے بہتر نہ پایاپھر حکم دیا میں قریش میں پھرا کوئی قبیلہ بنی ہاشم سے بہتر نہ پایاپھر حکم دیا کہ سب میں بہتر نفس تلاش کرو تو کوئی جان حضور کی جان سے بہتر نہ پائیصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔اسے روایت کیا ہے امام حکیم نے امام صادق سے انھوں نے امام باقر سے اور اس کی ابتداء سے مضر تك دیلمی نے ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے۔
حوالہ / References
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر کتاب علامات نبوت باب فی کرامۃالنبی دارالکتاب بیروت ∞۸/ ۲۱۸€
نوادرالاصول الاصل السابع والستون دارصادر بیروت ∞ص۹۶€
نوادرالاصول الاصل السابع والستون دارصادر بیروت ∞ص۹۶€
حدیث ۶۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قال لی جبریل قلبت مشارق الارض ومغاربہا فلم اجدافضل من محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و قلبت مشارق الارض ومغاربھا فلم اجدحیا افضل من بنی ھاشم رواہ الحاکم فی الکنی وابن عساکر عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا بسند صحیح۔ (مجھ سے جبریل نے کہا)میں نے زمین کے پورب پچھم سے تلپٹ کئے کوئی شخص محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے افضل نہ پایانہ کوئی قبیلہ بنی ہاشم سے بہتراس کو روایت کیاہے حاکم نے کنی میں اور ابن عساکر نے ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے صحیح سند کے ساتھ۔
حدیث ۶۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الخلافۃ فی قریش رواہ احمد و الطبرانی فی الکبیر عن عتبۃ بن عبدان رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ خلافت قریش میں ہے۔اس کو روایت کیا ہے احمداور طبرانی نے کبیر میں عتبہ بن عبدان رضی اﷲ تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ۔
ہم نے احادیث کو اسی مضمون سے شروع کیا تھا اور اسی پر ختم کیا کہ اول بآخر نسبتے دارد(کہ اول آخر کے ساتھ نسبت رکھتاہے)
احکامات اور نکات
اور اب بعض دیگر احکام میں فرق دکھا کر اخلاق فاضلہ پھر نفع اخروی کی طرف توجہ کریں۔تین حکم تو یہ تھے:
(۱)نکاح
(۲)امامت صغری
(۳)امامت کبری
قال لی جبریل قلبت مشارق الارض ومغاربہا فلم اجدافضل من محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و قلبت مشارق الارض ومغاربھا فلم اجدحیا افضل من بنی ھاشم رواہ الحاکم فی الکنی وابن عساکر عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا بسند صحیح۔ (مجھ سے جبریل نے کہا)میں نے زمین کے پورب پچھم سے تلپٹ کئے کوئی شخص محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے افضل نہ پایانہ کوئی قبیلہ بنی ہاشم سے بہتراس کو روایت کیاہے حاکم نے کنی میں اور ابن عساکر نے ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے صحیح سند کے ساتھ۔
حدیث ۶۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الخلافۃ فی قریش رواہ احمد و الطبرانی فی الکبیر عن عتبۃ بن عبدان رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ خلافت قریش میں ہے۔اس کو روایت کیا ہے احمداور طبرانی نے کبیر میں عتبہ بن عبدان رضی اﷲ تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھ۔
ہم نے احادیث کو اسی مضمون سے شروع کیا تھا اور اسی پر ختم کیا کہ اول بآخر نسبتے دارد(کہ اول آخر کے ساتھ نسبت رکھتاہے)
احکامات اور نکات
اور اب بعض دیگر احکام میں فرق دکھا کر اخلاق فاضلہ پھر نفع اخروی کی طرف توجہ کریں۔تین حکم تو یہ تھے:
(۱)نکاح
(۲)امامت صغری
(۳)امامت کبری
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ حاکم فی الکنی وابن عساکر عن عائشہ ∞حدیث ۳۲۱۲۱€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱/ ۴۵۱€
مسند احمد بن حنبل عن عتبہ بن عبدان المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۱۸۵،€المعجم الکبیر عن عتبہ بن عبدان ∞حدیث ۲۹۸€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۷/ ۱۲۱€
مسند احمد بن حنبل عن عتبہ بن عبدان المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۱۸۵،€المعجم الکبیر عن عتبہ بن عبدان ∞حدیث ۲۹۸€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۷/ ۱۲۱€
(۴)حکم چہارمعرب کبھی بحال کفر بھی غلام نہ بنائے جائیں گے۔
(۵)حکم پنجمان کے مشرکوں پر جزیہ نہ رکھا جائے گا کہ ان میں جو غلام نہ بن سکے اس پر جزیہ بھی نہیں
(۶)حکم ششمان کی زمین سے کبھی خراج بھی نہیں لیا جائے گا وہ بہر حال عشری ہےدرمختار میں ہے:
قتل الاساری ان شاء ان لم یسلموا او استرقھم او ترکھم احرارا ذمۃ لنا الامشرکی العرب ۔ مشرکین عرب کے علاوہ دیگر عرب نژاد اگر اسلام نہ لائیں تو ان کے بارے اختیار ہے کہ قتل کریں یاآزا د یا انھیں غلام بنائے ہمارے ذمے چھوڑدے
اسی کی فصل فی الجزیہ میں ہے:
توضع علی کتابی ومجوسی ووثنی عجمی لجواز استرقاقہ فجاز ضرب الجزیۃ علیہ لاعلی وثنی عربی ۔ جزیہ مقرر کیاجائے گا کتابیمجوسیاور بت پرست پرکیونکہ ان کا غلام بنانا جائز ہےتو ان پر جزیہ مقرر کرنا جائز ہے نہ کہ عربی بت پرست پر۔
اسی کے باب العشر میں ہے:
ارض العرب عشریۃ ۔ عرب کی زمین عشری ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
لان کمالارق علیھم لاخراج علی اراضیھم نھر و تمامہ فی الفتح ۔ اس لئے کہ جیسا کہ ان پر غلامی نہیں ہے ان کی زمینوں پر خراج بھی نہیںنہر اس کی کامل بحث فتح میں ہے۔
حدیث ۶۲:کہ حضور اقدس صلی اﷲ تالی علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس میں فرمایا:
لوکان ثابتا علی احد من العرب رق کان الیوم اگر کوئی عرب غلام بن سکتا تو آج بنایاجاتا۔
(۵)حکم پنجمان کے مشرکوں پر جزیہ نہ رکھا جائے گا کہ ان میں جو غلام نہ بن سکے اس پر جزیہ بھی نہیں
(۶)حکم ششمان کی زمین سے کبھی خراج بھی نہیں لیا جائے گا وہ بہر حال عشری ہےدرمختار میں ہے:
قتل الاساری ان شاء ان لم یسلموا او استرقھم او ترکھم احرارا ذمۃ لنا الامشرکی العرب ۔ مشرکین عرب کے علاوہ دیگر عرب نژاد اگر اسلام نہ لائیں تو ان کے بارے اختیار ہے کہ قتل کریں یاآزا د یا انھیں غلام بنائے ہمارے ذمے چھوڑدے
اسی کی فصل فی الجزیہ میں ہے:
توضع علی کتابی ومجوسی ووثنی عجمی لجواز استرقاقہ فجاز ضرب الجزیۃ علیہ لاعلی وثنی عربی ۔ جزیہ مقرر کیاجائے گا کتابیمجوسیاور بت پرست پرکیونکہ ان کا غلام بنانا جائز ہےتو ان پر جزیہ مقرر کرنا جائز ہے نہ کہ عربی بت پرست پر۔
اسی کے باب العشر میں ہے:
ارض العرب عشریۃ ۔ عرب کی زمین عشری ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
لان کمالارق علیھم لاخراج علی اراضیھم نھر و تمامہ فی الفتح ۔ اس لئے کہ جیسا کہ ان پر غلامی نہیں ہے ان کی زمینوں پر خراج بھی نہیںنہر اس کی کامل بحث فتح میں ہے۔
حدیث ۶۲:کہ حضور اقدس صلی اﷲ تالی علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس میں فرمایا:
لوکان ثابتا علی احد من العرب رق کان الیوم اگر کوئی عرب غلام بن سکتا تو آج بنایاجاتا۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الجہاد باب الغنم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۲€
درمختار کتاب الجہاد فصل فی الجزیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۱€
درمختار کتاب الجہاد باب العشروالخراج والجزیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۷،۳۴۸€
ردالمحتار کتاب الجہاد باب العشروالخراج والجزیہ داراحیاء التراث العربی بیرت ∞۳/ ۲۵۴€
کنز العمال بحوالہ طب عن معاذ ∞حدیث ۳۳۹۳۸€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۴۷€
درمختار کتاب الجہاد فصل فی الجزیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۱€
درمختار کتاب الجہاد باب العشروالخراج والجزیہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۴۷،۳۴۸€
ردالمحتار کتاب الجہاد باب العشروالخراج والجزیہ داراحیاء التراث العربی بیرت ∞۳/ ۲۵۴€
کنز العمال بحوالہ طب عن معاذ ∞حدیث ۳۳۹۳۸€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۴۷€
(۷)حکم ہفتمنہایۃ وتبیین وشافی وفتح ودرر وغیرہا میں ہے:
تعزیر اشراف الاشراف وھم العلماء والعلویۃ بالاعلام بان یقول لہ القاضی بلغنی انك تفعل کذا فینزجر ۔ یعنی علماء سادات سب سے اعلی درجہ کے اشراف ہیں ان سے اگر کوئی تقصیر موجب تعزیر واقع ہو کہ اراذل کرتے تو ضرب و حبس کے مستحق ہوتےان کے علاوہ کے لئے اس قدر بس ہے کہ قاضی کہے مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں اس قدر ان کے زجر کو بس ہے۔
لغزشیں
حدیث ۶۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اقیلوا الکرام عثراتھم رواہ ابن عساکر عن ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا قطعۃ من حدیث۔ کریموں کی لغزشوں سے در گزر کرواس کو روایت کیا ہے ابن عساکر نے حضرت ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا سے یہ حدیث کا ایك ٹکڑا ہے۔
حدیث ۶۳ تا ۶۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
تجافوا عن عقوبۃذی المروءۃ الا فی حد من حدود اﷲ تعالی ۔رواہ الطبرانی فی الاوسط عن زید بن ثابت وصدرہ لہ فی کتاب مکارم الاخلاق اصحاب مروت کی سزا سے درگزر کرو مگر حدود الہیہ سے کسی میں۔اسے روایت کیا ہے طبرانی نے اوسط میں زید بن ثابت سے اور اس کا ابتدائی حصہ ان کی کتاب مکارم الاخلاق میں ہے اور
تعزیر اشراف الاشراف وھم العلماء والعلویۃ بالاعلام بان یقول لہ القاضی بلغنی انك تفعل کذا فینزجر ۔ یعنی علماء سادات سب سے اعلی درجہ کے اشراف ہیں ان سے اگر کوئی تقصیر موجب تعزیر واقع ہو کہ اراذل کرتے تو ضرب و حبس کے مستحق ہوتےان کے علاوہ کے لئے اس قدر بس ہے کہ قاضی کہے مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں اس قدر ان کے زجر کو بس ہے۔
لغزشیں
حدیث ۶۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اقیلوا الکرام عثراتھم رواہ ابن عساکر عن ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا قطعۃ من حدیث۔ کریموں کی لغزشوں سے در گزر کرواس کو روایت کیا ہے ابن عساکر نے حضرت ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا سے یہ حدیث کا ایك ٹکڑا ہے۔
حدیث ۶۳ تا ۶۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
تجافوا عن عقوبۃذی المروءۃ الا فی حد من حدود اﷲ تعالی ۔رواہ الطبرانی فی الاوسط عن زید بن ثابت وصدرہ لہ فی کتاب مکارم الاخلاق اصحاب مروت کی سزا سے درگزر کرو مگر حدود الہیہ سے کسی میں۔اسے روایت کیا ہے طبرانی نے اوسط میں زید بن ثابت سے اور اس کا ابتدائی حصہ ان کی کتاب مکارم الاخلاق میں ہے اور
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۱۷۸،€تبیین الحقائق بحوالہ نہایۃ کتاب الحدود باب التعزیر المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۳/ ۲۰۸،€فتح القدیر کتاب الحدود باب التعزیر ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۱۱۲€
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن عائشہ رضی اﷲ عنہا حدیث ۱۵۰۵۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۱۱۰€
کنز العمال بحوالہ طس عن زید بن ثابت ∞حدیث ۱۲۹۸۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۵/ ۳۱۰،€کنز العمال بحوالہ طب فی مکارم الاخلاق وابی بکر بن المزربان ∞۱۲۹۸۱€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۵/ ۳۱۱€
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن عائشہ رضی اﷲ عنہا حدیث ۱۵۰۵۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۱۱۰€
کنز العمال بحوالہ طس عن زید بن ثابت ∞حدیث ۱۲۹۸۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۵/ ۳۱۰،€کنز العمال بحوالہ طب فی مکارم الاخلاق وابی بکر بن المزربان ∞۱۲۹۸۱€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۵/ ۳۱۱€
ولا بی بکر بن المرزبان فی کتاب المروءۃ عن ابن عمر ولمعناہ مع زیادۃ لھذا عن الامام جعفر الصادق رضی اﷲ تعالی عنہم وفی الباب غیرھم۔ ابوبکر بن مرزبان کی کتاب"المروءۃ"میں ابن عمر سے اور اسی معنی کے ساتھ کچھ زیادہ امام جعفر صادق رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہے اور اس باب میں ان کے غیر سے روایت ہے۔
حدیث ۶۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اقبلوا ذوی الھیئات عثراتھم الا الحدود۔رواہ احمد و البخاری فی الادب المفرد وابوداؤد عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ عزت داروں کی لغزشیں معاف کرو مگر حدوداس کو احمد اور بخاری نے ادب المفرد میں اور ابوداؤد نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔
تذییل:تعظیم
حدیث ۶۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لایقوم الرجل من مجلسہ الا لبنی ھاشم رواہ الخطیب عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ آدمی اپنی جگہ چھوڑ کر کسی کے لئے نہ اٹھے سوائے بنی ہاشم کے۔اسے روایت کیا ہے خطیب نے ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
دوسری روایت میں ہے:
یقوم الرجل من مجلسہ لاخیہ الابنی ھاشم لا یقومون لاحد رواہ ہر شخص اپنے بھائی کے لئے اپنی مجلس سے اٹھے مگر بنی ہاشم کسی کے لئے نہ اٹھیںاس کو
حدیث ۶۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اقبلوا ذوی الھیئات عثراتھم الا الحدود۔رواہ احمد و البخاری فی الادب المفرد وابوداؤد عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔ عزت داروں کی لغزشیں معاف کرو مگر حدوداس کو احمد اور بخاری نے ادب المفرد میں اور ابوداؤد نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔
تذییل:تعظیم
حدیث ۶۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لایقوم الرجل من مجلسہ الا لبنی ھاشم رواہ الخطیب عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ آدمی اپنی جگہ چھوڑ کر کسی کے لئے نہ اٹھے سوائے بنی ہاشم کے۔اسے روایت کیا ہے خطیب نے ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
دوسری روایت میں ہے:
یقوم الرجل من مجلسہ لاخیہ الابنی ھاشم لا یقومون لاحد رواہ ہر شخص اپنے بھائی کے لئے اپنی مجلس سے اٹھے مگر بنی ہاشم کسی کے لئے نہ اٹھیںاس کو
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ∞۶/ ۱۸۱،€الادب المفرد ∞حدیث ۴۶۵ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ص۱۳۳،€سنن ابوداؤد کتاب الحدود باب فی الحد یشفع فیہ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۴۵،€کنز العمال بحوالہ حم خد عن عائشہ ∞حدیث ۱۲۹۷۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۵/ ۳۰۹€
تاریخ بغداد ترجمہ محمد بن علی ∞۱۰۷۶€ دارالکتب العربی بیروت ∞۳/ ۸۸€
تاریخ بغداد ترجمہ محمد بن علی ∞۱۰۷۶€ دارالکتب العربی بیروت ∞۳/ ۸۸€
الطبرانی فی الکبیر والخطیب۔ طبرانی نے کبیر میں اور خطیب نے روایت کیا۔
اخلاق فاضلہ
مشاہدہ شاہد اور تجربہ گواہ ہے کہ شریف قومیں بحیثیت مجموعی دیگر اقوام سے حیاحمیتتہذیبمروتسخاوتشجاعتسیر چشمیفتوتحوصلہہمتصفائے قریحت وغیرہا بکثرت اخلاق حمیدہموہوبہمکسوبہمیں زائد ہوتی ہیں اور سب کا آدم وحوا علیہما الصلوۃ والسلام ایك ماں باپ سے ہونا جس طرح تفاوت افراد کا نافی نہیں ایك آدمی لاکھ کے برابر ہوتاہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس شیئ خیرا من الف مثلہ الاالانساناخرجہ الطبرانی فی الکبیر والضیاء فی المختارۃ عن سلمان الفارسی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ انسان کے سوا کوئی چیز اس کی ہم جنس ہزار کے برابر نہیں ہوسکتیاس کو بیان کیا ہے طبرانی نے کبیرمیں اورضیاء نے مختارہ میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
یوں ہی تفاوت اصناف واقوام کامنافی نہیں۔قریش کی جرأتشجاعتسماحتفتوتقوتشہامتاسلام وجاہلیت دونوں میں شہرہ آفاق رہی ہے۔اور ان میں بالخصوص بنی ہاشم یوں ہی جاہلیت میں بنی باہلہ خست ودناءت سے معروف تھے۔حتی قال قائلھم(ان میں سے ایك نے کہا۔ت):
وما ینفع الاصل بنی ھاشم اذا کانت النفس من باھلہ
ولو قیل للکلب یابا ھلی عوی الکلب من لؤم ھذا النسب
(بنی ہاشم سے اصل کا ہونا نافع نہیں جب وہ بنی باہلہ کافرد ہو۔جب کتے کو"یاباہلی"کہا جائے تو وہ اس نسب کی شرمساری سے ماند ہوجاتاہے۔ت)
اخلاق فاضلہ
مشاہدہ شاہد اور تجربہ گواہ ہے کہ شریف قومیں بحیثیت مجموعی دیگر اقوام سے حیاحمیتتہذیبمروتسخاوتشجاعتسیر چشمیفتوتحوصلہہمتصفائے قریحت وغیرہا بکثرت اخلاق حمیدہموہوبہمکسوبہمیں زائد ہوتی ہیں اور سب کا آدم وحوا علیہما الصلوۃ والسلام ایك ماں باپ سے ہونا جس طرح تفاوت افراد کا نافی نہیں ایك آدمی لاکھ کے برابر ہوتاہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس شیئ خیرا من الف مثلہ الاالانساناخرجہ الطبرانی فی الکبیر والضیاء فی المختارۃ عن سلمان الفارسی رضی اﷲ تعالی عنہ۔ انسان کے سوا کوئی چیز اس کی ہم جنس ہزار کے برابر نہیں ہوسکتیاس کو بیان کیا ہے طبرانی نے کبیرمیں اورضیاء نے مختارہ میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالی عنہ۔
یوں ہی تفاوت اصناف واقوام کامنافی نہیں۔قریش کی جرأتشجاعتسماحتفتوتقوتشہامتاسلام وجاہلیت دونوں میں شہرہ آفاق رہی ہے۔اور ان میں بالخصوص بنی ہاشم یوں ہی جاہلیت میں بنی باہلہ خست ودناءت سے معروف تھے۔حتی قال قائلھم(ان میں سے ایك نے کہا۔ت):
وما ینفع الاصل بنی ھاشم اذا کانت النفس من باھلہ
ولو قیل للکلب یابا ھلی عوی الکلب من لؤم ھذا النسب
(بنی ہاشم سے اصل کا ہونا نافع نہیں جب وہ بنی باہلہ کافرد ہو۔جب کتے کو"یاباہلی"کہا جائے تو وہ اس نسب کی شرمساری سے ماند ہوجاتاہے۔ت)
حوالہ / References
المعجم الکبیر ∞حدیث ۷۹۴۶€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۸ /۲۸۹،€کنز العمال بحوالہ طب والخطیب عن ابی امامۃ ∞حدیث ۳۳۹۱۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۴۳€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۶۰۹۵€ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ∞۶ /۲۳۸،€کنز العمال بحوالہ طب والضیاء عن سلمان ∞حدیث ۳۴۶۱۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۱۹۱€
سیر اعلام النبلاء ترجمہ قتیبہ بن مسلم ∞۱۶۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۴ /۱۱۔۴۱۰€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۶۰۹۵€ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ∞۶ /۲۳۸،€کنز العمال بحوالہ طب والضیاء عن سلمان ∞حدیث ۳۴۶۱۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۱۹۱€
سیر اعلام النبلاء ترجمہ قتیبہ بن مسلم ∞۱۶۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۴ /۱۱۔۴۱۰€
اسی تفاوت ہمت کے باعث ہے کہ دنیاودین دونوں کی سلطنتیں یعنی سلطنت ملك وسلطنت علم ہمیشہ شریف ہی اقوام میں رہی دوسری قوموں کا اس میں حصہ معدوم یا کالمعدوم ہے۔عجم میں جو شریف قومیں تھیں اور ہیں خصوصا اہل فارس ___ حدیث ۴۶ کے تتمہ میں ہے:وخیر العجم فارس (عجمیوں میں بہتر فارس ہیں)تو مصداق حدیث صحیح:
لوکان العلم معلق بالثر یالینالہ رجل من اھل فارس۔اصل الحدیث فی الصحیحین عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ولفظ مسلم لو کان الدین عند الثریالذھب بہ رجل من فارس اوقال من ابناء فارس حتی یتناولہ اعنی امام الائمۃ مالك الازمۃ کاشف الغمۃسراج الامۃ سید نا امام ابوحنیفۃ و رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ علم اگر اثر یا پر(کہ آٹھویں آسمان کے ستاروں سے ہے) آویزاں ہوتا تو ایك مرد فارسی وہاں سے لے آتا۔اصل حدیث بخاری ومسلم میں ابوہریرہ سے ہے اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں اگر دین ثریا پر ہوتا تب بھی فارس کاایك شخص اس کو حاصل کرلیتا۔یا فرمایا:فارس کی اولاد میں سے اس کو حاصل کرلیتا۔وہ شخص امام الائمہمالك الازمہکاشف الغمہسراج الامۃ سیدنا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ ہیں اور ا س کو طبرانی نے کبیر میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔
سیدناامام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا فارسی ہونا کیا مضرخصوصا اولاد کسری کہ فارس کی اعلی نسل شمار ہوتی ہے جو ہزار ہا سال صاحب تاج وتخت رہی اور ان کی مجوسیت شریف قوم گنے جانے کے منافی نہیںجیسے قریش کہ زمانہ جاہلیت میں بت پرست تھے اور بلا شبہ وہ تمام جہان کی اقوام سے افضل قوم ہے۔انھیں فارسیوں میں امام بخاری بھی ہیں(رحمۃ اﷲ تعالی علیہ) یونہی خراسانی کہ وہ بھی فارسی ہیں۔بلکہ تیسیر میں زیر حدیث:
لوکان الایمان عند الثریا لتنا ولہ رجال اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہو تا تو اس کے علاقے
لوکان العلم معلق بالثر یالینالہ رجل من اھل فارس۔اصل الحدیث فی الصحیحین عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ولفظ مسلم لو کان الدین عند الثریالذھب بہ رجل من فارس اوقال من ابناء فارس حتی یتناولہ اعنی امام الائمۃ مالك الازمۃ کاشف الغمۃسراج الامۃ سید نا امام ابوحنیفۃ و رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ علم اگر اثر یا پر(کہ آٹھویں آسمان کے ستاروں سے ہے) آویزاں ہوتا تو ایك مرد فارسی وہاں سے لے آتا۔اصل حدیث بخاری ومسلم میں ابوہریرہ سے ہے اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں اگر دین ثریا پر ہوتا تب بھی فارس کاایك شخص اس کو حاصل کرلیتا۔یا فرمایا:فارس کی اولاد میں سے اس کو حاصل کرلیتا۔وہ شخص امام الائمہمالك الازمہکاشف الغمہسراج الامۃ سیدنا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ ہیں اور ا س کو طبرانی نے کبیر میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔
سیدناامام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا فارسی ہونا کیا مضرخصوصا اولاد کسری کہ فارس کی اعلی نسل شمار ہوتی ہے جو ہزار ہا سال صاحب تاج وتخت رہی اور ان کی مجوسیت شریف قوم گنے جانے کے منافی نہیںجیسے قریش کہ زمانہ جاہلیت میں بت پرست تھے اور بلا شبہ وہ تمام جہان کی اقوام سے افضل قوم ہے۔انھیں فارسیوں میں امام بخاری بھی ہیں(رحمۃ اﷲ تعالی علیہ) یونہی خراسانی کہ وہ بھی فارسی ہیں۔بلکہ تیسیر میں زیر حدیث:
لوکان الایمان عند الثریا لتنا ولہ رجال اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہو تا تو اس کے علاقے
حوالہ / References
الفردوس بماثور الخطاب ∞حدیث ۲۸۹۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۱۷۸،€کنز العمال ∞حدیث ۳۴۱۰۹€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۸۷€
صحیح مسلم کتاب الفضائل ∞باب فضل فارس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱€۲
المعجم الکبیر عبداﷲ ابن عباس ∞حدیث ۱۰۴۷۰€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۰ /۲۵۱€
صحیح مسلم کتاب الفضائل ∞باب فضل فارس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱€۲
المعجم الکبیر عبداﷲ ابن عباس ∞حدیث ۱۰۴۷۰€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۰ /۲۵۱€
من فارس۔ (یعنی فارس)کے لوگ اس کو حاصل کرلیتے۔
قیل ارادبفارس ھنا اھل خراسان (کہا جاتاہے فارس سے مراد یہاں اہل خراسان ہیں۔ت)اور نسب بلاد مثل خراساں و بلخ ومرو دتتر کا ذکر خارج ازبحث ہے۔شرافت ودناء ت کسی شہر کے سکونت پر نہیںنہ بعض اکابر کا کوئی پیشہ کرنا اس کے جواز سے زائد دلیل نادر پر حکم۔فرق ہے اس میں کہ فلاں امام نے نساجی کی اور فلاں نساج کہ قوم نساجین سے تھا امام ہوگیا۔تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نے بکریاں چرائیںاور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ فلاں گڈریا نبی ہوگیا۔اور سو بات کی ایك بات وہ ہے جس کی طرف ہم نے صدر کلام میں اشارہ کیا کہ مواز نہ بحیثیت مجموعی ہے نہ کہ فردا فردا۔اور حکم کے لئے غالب بلکہ اغلب کافی۔اور شك نہیں کہ یوں اخلاق فاضلہ میں شریف قوموں کا حصہ غالب ہے۔اور احادیث کثیرہ اس پر ناطق متعدد احادیث سے گزرا کہ:ایك قریش کی قوت دو مردوں کے برابر ہوتی ہے۔اور ایك قریش کی امانت دو آدمیوں کے مثل۔
حدیث ۶۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اذا اختلف الناس فالعدل فی مضر۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس۔ جب لوگ مختلف ہوں تو عدل قوم مضر میں ہے۔(جس میں سے قریش ہیں)۔اس کو روایت کیا ہے طبرانی نے کبیرمیں ابن عباس سے۔
حدیث ۷۰:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قسم الحیاء عشرۃ اجزاء فتسعۃ فی العرب وجزء فی سائر الناسرواہ الخطیب فی البخلاء عن محمد بن مسلم۔ حیاء کے دس حصے کئے گئے ان میں سے نو حصے عرب میں ہیں اور ایك باقی تمام لوگوں میںاس کوروایت کیا ہے خطیب نے بخلاء میں محمد بن مسلم سے۔
قیل ارادبفارس ھنا اھل خراسان (کہا جاتاہے فارس سے مراد یہاں اہل خراسان ہیں۔ت)اور نسب بلاد مثل خراساں و بلخ ومرو دتتر کا ذکر خارج ازبحث ہے۔شرافت ودناء ت کسی شہر کے سکونت پر نہیںنہ بعض اکابر کا کوئی پیشہ کرنا اس کے جواز سے زائد دلیل نادر پر حکم۔فرق ہے اس میں کہ فلاں امام نے نساجی کی اور فلاں نساج کہ قوم نساجین سے تھا امام ہوگیا۔تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نے بکریاں چرائیںاور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ فلاں گڈریا نبی ہوگیا۔اور سو بات کی ایك بات وہ ہے جس کی طرف ہم نے صدر کلام میں اشارہ کیا کہ مواز نہ بحیثیت مجموعی ہے نہ کہ فردا فردا۔اور حکم کے لئے غالب بلکہ اغلب کافی۔اور شك نہیں کہ یوں اخلاق فاضلہ میں شریف قوموں کا حصہ غالب ہے۔اور احادیث کثیرہ اس پر ناطق متعدد احادیث سے گزرا کہ:ایك قریش کی قوت دو مردوں کے برابر ہوتی ہے۔اور ایك قریش کی امانت دو آدمیوں کے مثل۔
حدیث ۶۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اذا اختلف الناس فالعدل فی مضر۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس۔ جب لوگ مختلف ہوں تو عدل قوم مضر میں ہے۔(جس میں سے قریش ہیں)۔اس کو روایت کیا ہے طبرانی نے کبیرمیں ابن عباس سے۔
حدیث ۷۰:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قسم الحیاء عشرۃ اجزاء فتسعۃ فی العرب وجزء فی سائر الناسرواہ الخطیب فی البخلاء عن محمد بن مسلم۔ حیاء کے دس حصے کئے گئے ان میں سے نو حصے عرب میں ہیں اور ایك باقی تمام لوگوں میںاس کوروایت کیا ہے خطیب نے بخلاء میں محمد بن مسلم سے۔
حوالہ / References
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث لوکان الایمان عند الثریا مکتبہ الامام الشافعی ∞ریاض ۲ /۳۰۹€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۱۴۱۸€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۱/ ۱۷۸€
کنز العمال بحوالہ الخطیب فے کتاب البخلاء ∞حدیث ۳۴۱۱۷€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۸۸€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۱۴۱۸€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۱/ ۱۷۸€
کنز العمال بحوالہ الخطیب فے کتاب البخلاء ∞حدیث ۳۴۱۱۷€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۸۸€
حدیث۷۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان فلانا اھدی الی ناقۃ فعوضتہ منھا ست بکرات فظل ساخطالقد ھممت ان لا اقبل ھدیۃ الا من قریشی او انصاری اوثقفی اودوسیالحدیث۔رواہ احمد والترمذی والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔قال المناوی فی التیسیر لانھم لمکارم اخلاقہم وشرف نفوسھم وطیب عنصر ھم لا تطمح نفوسھم الی ماینتظر الیہ السفلۃ والرعاع من استکثار العوض علی الھدیۃ ۔ بے شك فلاں شخص نے ایك ناقہ نذر دیا تھا میں نے اس کے بدلے چھ جوان ناقے عطا فرمائے اور وہ ناراض ہی رہابے شك میرا ارادہ ہوا کہ ہدیہ قبول نہ کروں مگر قریشی یا انصاری یا ثقفی یا دوسی کاالحدیث۔اس کو روایت کیا ہے احمد اور ترمذی اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھمناوی نے تیسیر میں کہا کہ وہ اپنے کرم اخلاق اور شرافت کے باعث کمینوں کی طرح ہدیہ پر زیادہ معاوضے کی نگران نہیں رہتے۔
امانت دار
حدیث ۷۲:حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لایملی مصاحفنا الاغلمان قریش وغلمان ثقیف۔ رواہ ابونعیم عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہمارے مصحف نہ لکھیں مگر قریش وثقیف کے لڑکے(یہ باب امانت سے ہوا)اسے ابونعیم نے جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حدیث ۷۳ و ۷۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان فلانا اھدی الی ناقۃ فعوضتہ منھا ست بکرات فظل ساخطالقد ھممت ان لا اقبل ھدیۃ الا من قریشی او انصاری اوثقفی اودوسیالحدیث۔رواہ احمد والترمذی والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔قال المناوی فی التیسیر لانھم لمکارم اخلاقہم وشرف نفوسھم وطیب عنصر ھم لا تطمح نفوسھم الی ماینتظر الیہ السفلۃ والرعاع من استکثار العوض علی الھدیۃ ۔ بے شك فلاں شخص نے ایك ناقہ نذر دیا تھا میں نے اس کے بدلے چھ جوان ناقے عطا فرمائے اور وہ ناراض ہی رہابے شك میرا ارادہ ہوا کہ ہدیہ قبول نہ کروں مگر قریشی یا انصاری یا ثقفی یا دوسی کاالحدیث۔اس کو روایت کیا ہے احمد اور ترمذی اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے صحیح سند کے ساتھمناوی نے تیسیر میں کہا کہ وہ اپنے کرم اخلاق اور شرافت کے باعث کمینوں کی طرح ہدیہ پر زیادہ معاوضے کی نگران نہیں رہتے۔
امانت دار
حدیث ۷۲:حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لایملی مصاحفنا الاغلمان قریش وغلمان ثقیف۔ رواہ ابونعیم عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہمارے مصحف نہ لکھیں مگر قریش وثقیف کے لڑکے(یہ باب امانت سے ہوا)اسے ابونعیم نے جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حدیث ۷۳ و ۷۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب المناقب باب فی ثقیف وبنی حنفیہ ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۲۳۳،€مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۲۹۲€
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ان فلانا اھدی لی ناقۃ الخ مکتبہ الامام الشافعی ∞ریاض ۱ /۳۲۴€
کنز العمال بحوالہ ابی نعیم عن جابر ∞حدیث ۳۷۹۸۳€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۴ /۷۷€
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ان فلانا اھدی لی ناقۃ الخ مکتبہ الامام الشافعی ∞ریاض ۱ /۳۲۴€
کنز العمال بحوالہ ابی نعیم عن جابر ∞حدیث ۳۷۹۸۳€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۴ /۷۷€
ان قریشا اھل صدق وامانۃ فمن بغی لھم العواثرکبہ اﷲ علی وجہہ رواہ الامام الشافعی وابو بکر ابن ابی شیبۃ والامام احمد والبخاری فی الادب المفرد وابن جریر والشاشی و الطبرانی والضیاء عن رفاعۃ بن رافع الزرنی وابن النجار عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بیشك قریش راستی وامانت والے ہیں تو جو ان کی لغزشیں چاہے اﷲ اسے منہ کے بل اوندھا کردے۔اسے روایت کیا ہے امام شافعی اور ابوبکر بن ابی شیبہ اور امام احمد اور بخاری نے ادب المفرد میں اور ابن جریر اور شاشی اور طبرانی اور ضیاء نے رفاعہ بن رافع الزرنی سے اور ابن النجار نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
چارخصلتیں
حدیث۷۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان فیھم لخصالا اربعا انھم اصلح الناس عند فتنۃ و اسرعھم اقامۃ بعد مصیبۃ واوشکھم کرۃ بعد فرۃ و خیرھم لمسکین ویتیم وامنعھم من ظلم المملوک رواہ ابونعیم فی الحلیۃ عن المستورد الفھری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی قریش یا بنی ہاشم میں چار خصلتیں ہیں فتنہ کے وقت وہ سب سے زائد صلاح پر ہوتے ہیں مصیبت کے بعد سب سے پہلے ٹھیك ہوجاتے اورلڑائی میں پسپا بھی ہوں تو سب سے جلد تر دشمن پر پلٹ پڑتے ہیں اور مسکین ویتیم ومملوك کے حق میں سب سے بہتر ہے۔اس کو روایت کیا ہے ابونعیم نے حلیہ میں المستورد الفہری رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
چارخصلتیں
حدیث۷۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان فیھم لخصالا اربعا انھم اصلح الناس عند فتنۃ و اسرعھم اقامۃ بعد مصیبۃ واوشکھم کرۃ بعد فرۃ و خیرھم لمسکین ویتیم وامنعھم من ظلم المملوک رواہ ابونعیم فی الحلیۃ عن المستورد الفھری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی قریش یا بنی ہاشم میں چار خصلتیں ہیں فتنہ کے وقت وہ سب سے زائد صلاح پر ہوتے ہیں مصیبت کے بعد سب سے پہلے ٹھیك ہوجاتے اورلڑائی میں پسپا بھی ہوں تو سب سے جلد تر دشمن پر پلٹ پڑتے ہیں اور مسکین ویتیم ومملوك کے حق میں سب سے بہتر ہے۔اس کو روایت کیا ہے ابونعیم نے حلیہ میں المستورد الفہری رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث رفاعہ بن رافع المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۳۴۰،€المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الفضائل ∞حدیث ۱۲۴۳۳€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱۲ /۱۶۸،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۴۵۴۴ و ۴۵۴۵€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۵ /۴۵ و ۴۶€
حلیۃ الاولیاء ترجمہ عبداﷲ بن وہب ∞۴۲۵€ دارالکتب العربی بیروت ∞۸ /۳۲۹،€کنز العمال بحوالہ حل عن المستورد والفہری حدیث ۳۳۸۸۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۳۸،€کنز العمال بحوالہ حل عن المستورد والفہری ∞حدیث ۳۳۹۰۳€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۴۰ و ۴۱€
حلیۃ الاولیاء ترجمہ عبداﷲ بن وہب ∞۴۲۵€ دارالکتب العربی بیروت ∞۸ /۳۲۹،€کنز العمال بحوالہ حل عن المستورد والفہری حدیث ۳۳۸۸۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۳۸،€کنز العمال بحوالہ حل عن المستورد والفہری ∞حدیث ۳۳۹۰۳€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۴۰ و ۴۱€
نیك عورتیں
حدیث ۷۶ تا ۷۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
خیر الناس رکبن الابل صالح النساء قریش احناہ علی ولد فی صغرہ وارعاہ علی زوج فی ذات یدہ۔رواہ احمد والبخاری ومسلم عن ابی ھریرۃ و ابوبکر ابی شیبۃ عن مکحول مرسلا وابن سعد فی طبقاتہ عن ابن ابی نوفل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ عرب کی سب عورتوں میں بہتر قریش کی نیك بیویاں ہیں اپنے چھوٹے چھوٹے بچے پر سب سے زیادہ مہربان اور اپنے شوہر کے مال کی سب سے بڑھ کر نگہبان اسے روایت کیا ہے احمد اور بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ سے اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے مکحول سے مرسلا اور ابن سعد نے اپنے طبقات میں ابن ابی نوفل رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۷۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الناس معادن کمعادن الذھب و الفضۃ والعرق دساس وادب السوء کعرق السوء رواہ البیھقی فی شعب الایمان والخطیب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جیسے سونے چاندی کی مختلف کانیں ہوتی ہیں یونہی آدمیوں کی ہیں۔اور رگ خفیہ اپنا کام کرتی ہے اور برا ادب بری رگ کی طرح ہے۔اس کو روایت کیا بیہقی نے شعب الایمان اور خطیب نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہماسے۔
یہیں سے کہتے ہیں کہ:اصل بد ازخطاء خطانہ کند(بد اصل غلطی کا مرتکب رہتا ہے۔ت)
کف میں شادی
حدیث ۸۰ تا ۸۲:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
حدیث ۷۶ تا ۷۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
خیر الناس رکبن الابل صالح النساء قریش احناہ علی ولد فی صغرہ وارعاہ علی زوج فی ذات یدہ۔رواہ احمد والبخاری ومسلم عن ابی ھریرۃ و ابوبکر ابی شیبۃ عن مکحول مرسلا وابن سعد فی طبقاتہ عن ابن ابی نوفل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ عرب کی سب عورتوں میں بہتر قریش کی نیك بیویاں ہیں اپنے چھوٹے چھوٹے بچے پر سب سے زیادہ مہربان اور اپنے شوہر کے مال کی سب سے بڑھ کر نگہبان اسے روایت کیا ہے احمد اور بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ سے اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے مکحول سے مرسلا اور ابن سعد نے اپنے طبقات میں ابن ابی نوفل رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۷۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الناس معادن کمعادن الذھب و الفضۃ والعرق دساس وادب السوء کعرق السوء رواہ البیھقی فی شعب الایمان والخطیب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جیسے سونے چاندی کی مختلف کانیں ہوتی ہیں یونہی آدمیوں کی ہیں۔اور رگ خفیہ اپنا کام کرتی ہے اور برا ادب بری رگ کی طرح ہے۔اس کو روایت کیا بیہقی نے شعب الایمان اور خطیب نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہماسے۔
یہیں سے کہتے ہیں کہ:اصل بد ازخطاء خطانہ کند(بد اصل غلطی کا مرتکب رہتا ہے۔ت)
کف میں شادی
حدیث ۸۰ تا ۸۲:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب النفقات باب حفظ المرأۃ زوجھا فی ذات یدہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۰۸،€صحیح مسلم کتاب الفضائل باب من فضائل نساء قریش ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۔۳۰۷،€مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۲۶۹۔۳۱۹۔ ۳۹۳۔۵۰۲€
شعب الایمان ∞حدیث ۱۰۹۷۴€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۷ /۴۵۵،€تاریخ بغداد ترجمہ احمد بن اسحاق بن صالح الخ دارالکتب العربی بیروت ∞۴ /۳۰€
شعب الایمان ∞حدیث ۱۰۹۷۴€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۷ /۴۵۵،€تاریخ بغداد ترجمہ احمد بن اسحاق بن صالح الخ دارالکتب العربی بیروت ∞۴ /۳۰€
تخیرو ا لنطفکم فانکحوا الا کفاء وانکحوا الیھم وفی لفظ فان النساء یلدن اشباہ اخوانھن و اخواتھنرواہ ابن ماجۃ والحاکم والبیھقی و الحاکم فی السننوباللفظ الاخر ابن عدی وابن عساکر کلھم عن ام المومنین الصدیقۃ صدرہ عند تمام والضیاء وابی نعیم فی الحلیۃ عن انس وعند ابن عدی والدیلمی عن ابن عمر۔ اپنے نطفے کے لئے اچھی جگہ تلاش کرو۔کف میں بیاہ ہو اور کف سے بیاہ کر لاؤ کہ عورتیں اپنے ہی کنبے کے مشابہ جنتی ہیں۔اس کو روایت کیا ہے ابن ماجہ اور حاکم اور بیہقی نے اور حاکم نے سنن میں اور دوسرے الفاظ میں ابن عدی اور ابن عساکر سب نے ام المومنین صدیقہ سے۔حدیث کاابتدائی حصہ تمام ضیاء اور ابونعیم کی حلیہ میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور ابن عدی ودیلمی کے ہاں ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۸۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
تزوجوا فی الحجزالصالح فان العرق دساسرواہ ابن عدی والدار قطنی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اچھی نسل میں شادی کرو کہ رگ خفیہ اپنا کام کرتی ہے۔اس کو روایت کیا ہے ابن عدی اور داقطنی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۸۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ایاکم وخضراء الدمن المرأۃ الحسناء فی المنبت السوء رواہ گھوڑے کی ہریالی سے بچوبری نسل میں خوب صورت عورت ___ اس کو روایت
حدیث ۸۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
تزوجوا فی الحجزالصالح فان العرق دساسرواہ ابن عدی والدار قطنی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اچھی نسل میں شادی کرو کہ رگ خفیہ اپنا کام کرتی ہے۔اس کو روایت کیا ہے ابن عدی اور داقطنی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۸۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ایاکم وخضراء الدمن المرأۃ الحسناء فی المنبت السوء رواہ گھوڑے کی ہریالی سے بچوبری نسل میں خوب صورت عورت ___ اس کو روایت
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب الاکفاء ∞ص ۱۴۲€ والسنن الکبرٰی کتاب النکاح باب اعتبار الکفاءۃ ∞۷ /۱۳۳،€المستدرك للحاکم کتاب النکاح باب تخیر وا لنطفکم الخ دارالفکر بیروت ∞۲ /۱۶۳€
الکامل لابن عدی ترجمہ عیسٰی بن عبداﷲ الخ دارالفکر بیروت ∞۵ /۱۸۸۳،€کنز العمال بحوالہ عد وابن عساکر عن عائشہ ∞حدیث ۴۴۵۵۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶ /۲۹۵€
الکامل لابن عدی ترجمہ ولید بن محمد الموقوی دارالفکر بیروت ∞۷ /۲۵۳۵،€کنز العمال بحوالہ عن انس ∞حدیث ۴۴۵۵۹€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶ /۲۹۶€
الکامل لابن عدی ترجمہ عیسٰی بن عبداﷲ الخ دارالفکر بیروت ∞۵ /۱۸۸۳،€کنز العمال بحوالہ عد وابن عساکر عن عائشہ ∞حدیث ۴۴۵۵۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶ /۲۹۵€
الکامل لابن عدی ترجمہ ولید بن محمد الموقوی دارالفکر بیروت ∞۷ /۲۵۳۵،€کنز العمال بحوالہ عن انس ∞حدیث ۴۴۵۵۹€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶ /۲۹۶€
الرامھرمزی فی الامثال والدارقطنی فی الافراد و الدیلمی فی مسند الفردوس عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کیا ہے رامہر مزی نے امثال میں اور دارقطنی نے افراد میں اور دیلمی نے مسند الفردوس میں ابی سعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۸۵ و ۸۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
العرب للعرب اکفاء والموالی للموالی اکفاء الاحائك اوحجام رواہ البیھقی عن ام المومنین وعن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم۔ عرب عرب کے کفو ہیں اور موالی موالی کے۔مگر جولاہا یاحجاماس کو روایت کیا ہے بیہقی نے ام المومنین وابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سے۔
نفع آخرت
ظاہر ہے کہ اخلاق فاضلہ باعث اعمال صالحہ ہیں۔اور اعمال صالحہ نفع آخرت اور اس خصوص میں خصوص بکثرت۔
حدیث ۸۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قریش علی مقدمۃ الناس یوم القیمۃ ولو لاان تبطر قریش لاخبر تھا بما لمحسنھا من الثواب عند اﷲ۔ رواہ ابن عدی عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قریش روز قیامت سب لوگوں سے آگے ہوں گے اور اگر قریش کے اترا جانے کا خیال نہ ہو تا تو میں انھیں بتادیتا کہ ان کے نیك کے لئے اﷲ کے یہاں کیا ثواب ہے۔اس کو روایت کیا ہے ابن عدی نے جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۸۵ و ۸۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
العرب للعرب اکفاء والموالی للموالی اکفاء الاحائك اوحجام رواہ البیھقی عن ام المومنین وعن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم۔ عرب عرب کے کفو ہیں اور موالی موالی کے۔مگر جولاہا یاحجاماس کو روایت کیا ہے بیہقی نے ام المومنین وابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم سے۔
نفع آخرت
ظاہر ہے کہ اخلاق فاضلہ باعث اعمال صالحہ ہیں۔اور اعمال صالحہ نفع آخرت اور اس خصوص میں خصوص بکثرت۔
حدیث ۸۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
قریش علی مقدمۃ الناس یوم القیمۃ ولو لاان تبطر قریش لاخبر تھا بما لمحسنھا من الثواب عند اﷲ۔ رواہ ابن عدی عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قریش روز قیامت سب لوگوں سے آگے ہوں گے اور اگر قریش کے اترا جانے کا خیال نہ ہو تا تو میں انھیں بتادیتا کہ ان کے نیك کے لئے اﷲ کے یہاں کیا ثواب ہے۔اس کو روایت کیا ہے ابن عدی نے جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حوالہ / References
الفردوس بما ثور الخطاب ∞حدیث ۱۵۳۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۳۸۲،€کنز العمال بحوالہ الرامہر مزی فی الامثال ∞حدیث ۴۴۵۸۷€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶ /۳۰۰€
السنن الکبرٰی کتاب النکاح باب اعتبار الصنعۃ فی الکفاء ۃ دار صادر بیروت ∞۷ /۱۳۴ و ۱۳۵€
الکامل لابن عدی ترجمہ اسمعیل بن یحٰیی مدنی دارالفکر بیروت ∞۱ /۲۹۹،€کنز العمال بحوالہ عن جابر ∞حدیث ۳۳۱۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۲۵€
السنن الکبرٰی کتاب النکاح باب اعتبار الصنعۃ فی الکفاء ۃ دار صادر بیروت ∞۷ /۱۳۴ و ۱۳۵€
الکامل لابن عدی ترجمہ اسمعیل بن یحٰیی مدنی دارالفکر بیروت ∞۱ /۲۹۹،€کنز العمال بحوالہ عن جابر ∞حدیث ۳۳۱۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۲۵€
روز قیامت حضور سے قریب تر قریش ہوں گے
حدیث ۸۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان لواء الحمد یوم القیامۃ بیدی وان اقرب الخلق من لوائی یومئذ العرب۔رواہ الامام والترمذی الحکیم والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی شعب الایمان عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك روز قیامت لواء الحمد میرے ہاتھ میں ہوگا۔اور بے شك اس دن تمام مخلوق میں عرب میرے نشان سے زیادہ قریب ہوں گے اسے روایت کیا ہے امام ترمذی حکیم نے اور طبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۸۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اول من اشفع لہ یوم القیمۃ من امتی اھل بیتی ثم الاقرب فالاقرب من قریش ثم الانصارثم من امن بی واتبعنی من الیمن ثم من سائر العرب ثم الاعاجم ومن اشفع لہ اولا افضل رواہ الطبرانی فی الکبیر والدار قطنی فی الافراد والمخلص فی الفوائد عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ روز قیامت میں سب سے پہلے اہل بیت کی شفاعت فرماؤں گا۔ پھر درجہ بدرجہ زیادہ نزدیك ہیں قریش تک۔پھر انصار۔پھر وہ اہل یمن جو کہ مجھ پر ایمان لائے اور میری پیروی کیپھر باقی عربپھر اہل عجم۔اور میں جس کی شفاعت پہلے کروں وہ افضل ہے اس کو روایت کیا ہے طبرانی نے کبیر میں اور دارقطنی نے افراد میں اور مخلص نے فوائد میں ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔
حدیث ۸۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان لواء الحمد یوم القیامۃ بیدی وان اقرب الخلق من لوائی یومئذ العرب۔رواہ الامام والترمذی الحکیم والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی شعب الایمان عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك روز قیامت لواء الحمد میرے ہاتھ میں ہوگا۔اور بے شك اس دن تمام مخلوق میں عرب میرے نشان سے زیادہ قریب ہوں گے اسے روایت کیا ہے امام ترمذی حکیم نے اور طبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۸۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اول من اشفع لہ یوم القیمۃ من امتی اھل بیتی ثم الاقرب فالاقرب من قریش ثم الانصارثم من امن بی واتبعنی من الیمن ثم من سائر العرب ثم الاعاجم ومن اشفع لہ اولا افضل رواہ الطبرانی فی الکبیر والدار قطنی فی الافراد والمخلص فی الفوائد عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ روز قیامت میں سب سے پہلے اہل بیت کی شفاعت فرماؤں گا۔ پھر درجہ بدرجہ زیادہ نزدیك ہیں قریش تک۔پھر انصار۔پھر وہ اہل یمن جو کہ مجھ پر ایمان لائے اور میری پیروی کیپھر باقی عربپھر اہل عجم۔اور میں جس کی شفاعت پہلے کروں وہ افضل ہے اس کو روایت کیا ہے طبرانی نے کبیر میں اور دارقطنی نے افراد میں اور مخلص نے فوائد میں ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔
حوالہ / References
شعب الایمان ∞حدیث ۱۶۱۳€ دارالکتب العلمیہ بیرت ∞۲ /۲۳۲،€کنز العمال بحوالہ الحکیم طب ھب ∞حدیث ۳۳۹۲۹€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۴۶،€مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب المناقب باب ماجاء فی فضل العرب دارالکتاب بیروت ∞۱۰ /۵۲€
المعجم الکبیر عن ابن عمر ∞حدیث ۱۳۵۵۰€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۲ /۴۲۱،€کنز العمال بحوالہ طب ك ∞حدیث ۳۴۱۴۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۹۴€
المعجم الکبیر عن ابن عمر ∞حدیث ۱۳۵۵۰€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۲ /۴۲۱،€کنز العمال بحوالہ طب ك ∞حدیث ۳۴۱۴۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۹۴€
ترجیح قریش کی ہوگی
حدیث ۹۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لو انی اخدت بحلقۃ باب الجنۃ مابدأت الابکم یابنی ھاشمرواہ الخطیب عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں دروازہ بہشت کی زنجیر ہاتھ میں لوں تو اے بنی ہاشم ! پہلے میں تمھیں سے شروع کروں۔اسے روایت کیا ہے خطیب نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۹۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اترون انی اذا تعلقت بحلق ابواب الجنۃ اوثر علی بنی عبدالمطلب احدا۔رواہ ابن النجار عن ابن عاس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ کیا یہ خیال کرتے ہو کہ جب میں درہائے جنت کی زنجیر ہاتھ میں لوں اس وقت اولاد عبدالمطلب پر کسی اور کو ترجیح دوں گا۔اس کو روایت کیا ہے ابن النجار نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔
حضور سے قرابت
حدیث ۹۲ تا ۹۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
کل سبب ونسب منقطع یوم القیمۃ الا سببی ونسبی رواہ البزار والطبرانی فی الکبیر والحاکم فی المستدرك ہر علاقہ اور رشتہ روز قیامت قطع ہوجائے گا مگر میرا علاقہ اور رشتہاسے روایت کیا ہے بزار اور طبرانی نے کبیر میں اور حاکم نے مستدرك
حدیث ۹۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لو انی اخدت بحلقۃ باب الجنۃ مابدأت الابکم یابنی ھاشمرواہ الخطیب عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں دروازہ بہشت کی زنجیر ہاتھ میں لوں تو اے بنی ہاشم ! پہلے میں تمھیں سے شروع کروں۔اسے روایت کیا ہے خطیب نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۹۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اترون انی اذا تعلقت بحلق ابواب الجنۃ اوثر علی بنی عبدالمطلب احدا۔رواہ ابن النجار عن ابن عاس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ کیا یہ خیال کرتے ہو کہ جب میں درہائے جنت کی زنجیر ہاتھ میں لوں اس وقت اولاد عبدالمطلب پر کسی اور کو ترجیح دوں گا۔اس کو روایت کیا ہے ابن النجار نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔
حضور سے قرابت
حدیث ۹۲ تا ۹۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
کل سبب ونسب منقطع یوم القیمۃ الا سببی ونسبی رواہ البزار والطبرانی فی الکبیر والحاکم فی المستدرك ہر علاقہ اور رشتہ روز قیامت قطع ہوجائے گا مگر میرا علاقہ اور رشتہاسے روایت کیا ہے بزار اور طبرانی نے کبیر میں اور حاکم نے مستدرك
حوالہ / References
تاریخ بغداد ترجمہ عبداﷲ بن الحسن ∞۵۰۵۸€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۹ /۴۳۹€
کنز العمال بحوالہ ابن النجار عن ابن عباس ∞حدیث ۳۳۹۰۴€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۴۱€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۲۶۳۳ تا ۲۶۳۵€ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ∞۳ /۴۵ و حدیث ۱۱۶۲۱ ۱۱ /۲۴۳،€السنن الکبرٰی کتاب النکاح بیروت ∞۷ /۱۱۴€ و المستدرك کتاب معرفۃ الصحابۃ ∞۳/ ۱۴۲€کنز العمال ∞حدیث ۳۱۹۱۴€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱ /۴۰۹€
کنز العمال بحوالہ ابن النجار عن ابن عباس ∞حدیث ۳۳۹۰۴€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۴۱€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۲۶۳۳ تا ۲۶۳۵€ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ∞۳ /۴۵ و حدیث ۱۱۶۲۱ ۱۱ /۲۴۳،€السنن الکبرٰی کتاب النکاح بیروت ∞۷ /۱۱۴€ و المستدرك کتاب معرفۃ الصحابۃ ∞۳/ ۱۴۲€کنز العمال ∞حدیث ۳۱۹۱۴€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱ /۴۰۹€
وصححہ وقال الذھبی اسنادہ صالح والدارقطنی و البیھقی فی السنن والضیاء فی المختارۃ عن امیر المومنین عمروالطبرانی عن ابن عباس وعن المسور بن مخرمۃ رضی اﷲ تعالی عنھموھو عند احمد و الحاکم والبیھقی عن المسعر فی حدیث اولہ فاطمۃ بضغۃ منی وحدیث الفاروق مع قصۃ تزوجہ سیدتنا ام کلثوم بنت علی رضی اﷲ تعالی عنہم رواہ سعید بن منصور فی سننہ وابن سعد فی الطبقات و ابونعیم فی المعرفۃ وابن عساکر بطرق ابن راھویۃ مختصرا۔ میں اور اسے صحیح کہااور ذہبی نے کہا اس کی سند صالح ہے۔ اور دار قطنی اور بیہقی نے سنن میں اور ضیاء نے مختارہ میں امیرالمومنین عمر سےاور طبرانی نے ابن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے اور یہ حدیث احمدحاکم اور بیہقی کے ہاں مسعر سے مروی ہے اس حدیث کے اول میں ہے فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہا میرے گوشت کا قطعہ ہے۔اور حدیث فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث مع قصہ حضرت سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اﷲ تعالی عنہا کا اپنے ساتھ نکاح مروی ہے۔سعید بن منصور سے سنن میں اور ابن سعد نے طبقات میں اور ابونعیم نے معرفۃ الصحابہ میں اور ابن عساکر نے متعدد طرق سے اور ابن راہویہ نے مختصرا روایت کیا ہے۔
حدیث ۹۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
کل نسب وصھر ینقطع یوم القیمۃ الا نسبی و صھری۔رواہ ابن عساکر عن عبداﷲ بن امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ ٹوپی اور پائچے کے سب رشتے قیامت میں منقطع ہوجائیں گے مگرمیرے رشتے۔اس کو روایت کیا ابن عساکر نے عبداﷲ بن امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔
ایك روایت میں یوں ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا:
مابال اقوام یزعمون ان قرابتی کیا حال ہے ان لوگوں کا کہ زعم کرتے ہیں کہ میری
حدیث ۹۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
کل نسب وصھر ینقطع یوم القیمۃ الا نسبی و صھری۔رواہ ابن عساکر عن عبداﷲ بن امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ ٹوپی اور پائچے کے سب رشتے قیامت میں منقطع ہوجائیں گے مگرمیرے رشتے۔اس کو روایت کیا ابن عساکر نے عبداﷲ بن امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔
ایك روایت میں یوں ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا:
مابال اقوام یزعمون ان قرابتی کیا حال ہے ان لوگوں کا کہ زعم کرتے ہیں کہ میری
حوالہ / References
السنن الکبرٰی کتاب النکاح ∞۷ /۶۴€ والمستدرك کتاب معرفۃ الصحابۃ ∞۳ /۱۵۸،€کنز العمال بحوالہ حم ك ∞حدیث ۳۴۲۲۳€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲ /۱۰۸€
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر ∞حدیث ۳۹۱۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱ /۴۰۹€
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر ∞حدیث ۳۹۱۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱ /۴۰۹€
لاتنفع کل سبب ونسب منقطع یوم القیمۃ الا نسبی وسببی فانھا موصولۃ فی الدنیا والاخرۃ۔رواہ البزار ۔ قرابت نفع نہ دے گی۔ہر علاقہ ورشتہ قیامت میں منقطع ہو جائے گا مگرمیرا رشتہ اور علاقہ کہ دنیا وآخرت میں جڑا ہوا ہے۔اس کو بزار نے روایت کیا ہے۔
دوسری حدیث صحیح میں یوں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے برسر منبر فرمایا:
مابال رجال یقولون ان رحم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تنفع قومہ یوم القیمۃ بلی واﷲ ان رحمی موصولۃ فی الدنیا والاخرۃ۔رواہ الحاکم عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ وصححہ ابن حجر فی غیر مامقام۔ کیا خیال ہے ان شخصوں کا کہ کہتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قرابت روز قیامت ان کی قوم کو نفع نہ دے گی خدا کی قسم میری قرابت دنیا وآخرت میں پیوستہ ہے۔اسے روایت کیا ہے حاکم نے ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو ابن حجر نے کئی مقام پر صحیح قرار دیا ہے۔
حدیث ۹۷ تا ۱۰۱:کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور فرمایا:
مابال اقوام یزعمون ان رحمی لا تنفع بل حتی حاء و حکم۔رواہ الحاکم و ابن عساکر عن ابی بردۃ و معناہ عند الطبرانی وابن مندۃ والدیلمی عن ابی ھریرۃ وابن عمر وعمار معا رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین وبوجہ اخر عند الطبرانی فی الکبیر عن ام ھانی رضی اﷲ تعالی عنہا وسیاتی۔ کیا حال ہے ان لوگوں کا کہ گمان کرتے ہیں کہ میری قرابت نفع نہ دے گی ہاں نفع دے گی یہاں تك کہ قبائل حاء وحکم دو قبیلہ یمن کواسے روایت کیاہے ابن عساکر نے ابی بردہ سے۔اسی معنی کو طبرانیابن مندہ اور دیلمی نے حضرت ابو ہریرہ ابن عمر اور عمار سے اجتماعی طو ر پر روایت کیا ہے رضی اﷲ تعالی عنہم اور ایك اور طریق سے طبرانی نے کبیرمیں ام ہانی رضی اﷲ تعالی عنہا سے اور ابھی یہ روایت آئے گی۔
دوسری حدیث صحیح میں یوں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے برسر منبر فرمایا:
مابال رجال یقولون ان رحم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تنفع قومہ یوم القیمۃ بلی واﷲ ان رحمی موصولۃ فی الدنیا والاخرۃ۔رواہ الحاکم عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ وصححہ ابن حجر فی غیر مامقام۔ کیا خیال ہے ان شخصوں کا کہ کہتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قرابت روز قیامت ان کی قوم کو نفع نہ دے گی خدا کی قسم میری قرابت دنیا وآخرت میں پیوستہ ہے۔اسے روایت کیا ہے حاکم نے ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو ابن حجر نے کئی مقام پر صحیح قرار دیا ہے۔
حدیث ۹۷ تا ۱۰۱:کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور فرمایا:
مابال اقوام یزعمون ان رحمی لا تنفع بل حتی حاء و حکم۔رواہ الحاکم و ابن عساکر عن ابی بردۃ و معناہ عند الطبرانی وابن مندۃ والدیلمی عن ابی ھریرۃ وابن عمر وعمار معا رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین وبوجہ اخر عند الطبرانی فی الکبیر عن ام ھانی رضی اﷲ تعالی عنہا وسیاتی۔ کیا حال ہے ان لوگوں کا کہ گمان کرتے ہیں کہ میری قرابت نفع نہ دے گی ہاں نفع دے گی یہاں تك کہ قبائل حاء وحکم دو قبیلہ یمن کواسے روایت کیاہے ابن عساکر نے ابی بردہ سے۔اسی معنی کو طبرانیابن مندہ اور دیلمی نے حضرت ابو ہریرہ ابن عمر اور عمار سے اجتماعی طو ر پر روایت کیا ہے رضی اﷲ تعالی عنہم اور ایك اور طریق سے طبرانی نے کبیرمیں ام ہانی رضی اﷲ تعالی عنہا سے اور ابھی یہ روایت آئے گی۔
حوالہ / References
مجمع الزوائد بحوالہ البزار کتاب علامات النبوۃ باب فی کرامتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتاب بیروت ∞۸ /۲۱۶€
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ من اھان قریشیا اھانہ اﷲ دارالفکر بیروت ∞۴ /۷۴،€مجمع الزوائد باب ماجاء فی حوض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتاب بیروت ∞۱۰ /۳۶۴€
مجمع الزوائد کتاب المناقب باب مناقب ام ہانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالکتاب بیروت ∞۹ /۲۵۷€
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ من اھان قریشیا اھانہ اﷲ دارالفکر بیروت ∞۴ /۷۴،€مجمع الزوائد باب ماجاء فی حوض النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتاب بیروت ∞۱۰ /۳۶۴€
مجمع الزوائد کتاب المناقب باب مناقب ام ہانی رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالکتاب بیروت ∞۹ /۲۵۷€
جنت میں بلند درجے والا کون!
حدیث ۱۰۲ و ۱۰۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
رأیت کانی دخلت الجنۃ فرأیت الجعفر درجۃ فوق درجۃ زید فقلت ماکنت اظن ان زیدا دون جعفر فقال جبریل ان زیدا لیس بدون جعفر ولکنا فضلنا جعفرا لقرابتہ منک۔رواہ الحاکم عن ابن عباس وابن سعد فی الطبقات عن محمد بن عمر بن علی المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہم مرسلا۔وھذا لفظ ملفق بینھما۔ میں جنت میں گیا تو ملاحطہ فرمایا کہ جعفر بن ابی طالب کا درجہ زید بن ثابت کے درجے سے اوپر ہے۔میں نے کہا مجھے گمان نہ تھا کہ زید جعفر سے کم ہے۔جبریل نے عرض کی زید جعفر سے کم تو نہیں مگر ہم نے جعفر کا درجہ اس لئے زیادہ کیا ہے کہ انھیں حضور سے قرابت ہے۔اس کو روایت کیا ہے حاکم نے ابن عباس سے اور ابن سعد نے طبقات میں محمد بن عمر بن علی المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہم سے مرسلا اور یہ لفظ دو نوں میں مختلف ہیں۔
حدیث ۱۰۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من قرأالقران فاستظھرہ فاحل حلالہ وحرم حرامہ ادخلہ اﷲ بہ الجنۃ وشفعہ فی عشرۃ من اھلہ بیتہ کلھم قدوجبت لہ النار۔رواہ ابن ماجۃ والترمذی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ۔ جس نے قرآن حفظ کیا اور اس کے حلال کوحلال اور حرام کو حرام ٹھہرایا اﷲ تعالی اس کی برکت سے اسے جنت میں داخل کرے گا اور اس کے اہل خانہ کے دس افراد کے متعلق اس کی سفارش قبول ہوگی جن پر جہنم واجب ہوچکی تھی۔اس کو روایت کیا ہے ابن ماجہ اور ترمذی نے امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے۔
حدیث ۱۰۲ و ۱۰۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
رأیت کانی دخلت الجنۃ فرأیت الجعفر درجۃ فوق درجۃ زید فقلت ماکنت اظن ان زیدا دون جعفر فقال جبریل ان زیدا لیس بدون جعفر ولکنا فضلنا جعفرا لقرابتہ منک۔رواہ الحاکم عن ابن عباس وابن سعد فی الطبقات عن محمد بن عمر بن علی المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہم مرسلا۔وھذا لفظ ملفق بینھما۔ میں جنت میں گیا تو ملاحطہ فرمایا کہ جعفر بن ابی طالب کا درجہ زید بن ثابت کے درجے سے اوپر ہے۔میں نے کہا مجھے گمان نہ تھا کہ زید جعفر سے کم ہے۔جبریل نے عرض کی زید جعفر سے کم تو نہیں مگر ہم نے جعفر کا درجہ اس لئے زیادہ کیا ہے کہ انھیں حضور سے قرابت ہے۔اس کو روایت کیا ہے حاکم نے ابن عباس سے اور ابن سعد نے طبقات میں محمد بن عمر بن علی المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہم سے مرسلا اور یہ لفظ دو نوں میں مختلف ہیں۔
حدیث ۱۰۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من قرأالقران فاستظھرہ فاحل حلالہ وحرم حرامہ ادخلہ اﷲ بہ الجنۃ وشفعہ فی عشرۃ من اھلہ بیتہ کلھم قدوجبت لہ النار۔رواہ ابن ماجۃ والترمذی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ۔ جس نے قرآن حفظ کیا اور اس کے حلال کوحلال اور حرام کو حرام ٹھہرایا اﷲ تعالی اس کی برکت سے اسے جنت میں داخل کرے گا اور اس کے اہل خانہ کے دس افراد کے متعلق اس کی سفارش قبول ہوگی جن پر جہنم واجب ہوچکی تھی۔اس کو روایت کیا ہے ابن ماجہ اور ترمذی نے امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے۔
حوالہ / References
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ترجمہ جعفر بن ابی طالب دارصادر بیروت ∞۴ /۳۸،€المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ∞۳ /۲۱۰€
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن باب ماجاء فی فضل قاری القرآن ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۱۴،€سنن ابن ماجہ باب فضل من تعلم القرآن وعلمہ الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹€
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن باب ماجاء فی فضل قاری القرآن ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۱۴،€سنن ابن ماجہ باب فضل من تعلم القرآن وعلمہ الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹€
شفاعت اور مغفرت
حدیث ۱۰۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الحاج یشفع فی اربع مائۃ من اھل بیت اوقال من اھلہ بیتہ ویخرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ۔رواہ البزار عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ چارسو عزیزوں قریبوں کے حق میں حاجی کی شفاعت قبول ہوگی۔حاجی گناہ سے ایسے نکل جاتاہے جیسا جس دن ماں کی پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔اس کو روایت کیا ہے بزار نے ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۱۰۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الشھید یشفع فی سبعین من اھل بیتہ رواہ ابوداؤد وابن حبان فی صحیحہ عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔ شہید کی شفاعت اس کے ستر اقارب کے بارے میں مقبول ہوگی۔اس کو ابوداؤد اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابو الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حدیث ۱۰۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الشھید یغفرلہ اول دفقۃ من دمہ ویزوج حوراوین ویشفع فی سبعین من اھل بیتہ رواہ الطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن ابی ھریرۃ شہید کے بدن سے پہلی بارجو خون نکلتا ہے اس کے ساتھ ہی اس کی مغفرت فرمادی جاتی ہے۔اور دم نکلتے ہی دو۲ حوریں اس کی خدمت کو آجاتی ہیں اور اپنے گھروالوں سے ستر اشخاص کی شفاعت کا اسے اختیار دیا جاتاہے اسے
حدیث ۱۰۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الحاج یشفع فی اربع مائۃ من اھل بیت اوقال من اھلہ بیتہ ویخرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ۔رواہ البزار عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ چارسو عزیزوں قریبوں کے حق میں حاجی کی شفاعت قبول ہوگی۔حاجی گناہ سے ایسے نکل جاتاہے جیسا جس دن ماں کی پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔اس کو روایت کیا ہے بزار نے ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۱۰۶:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الشھید یشفع فی سبعین من اھل بیتہ رواہ ابوداؤد وابن حبان فی صحیحہ عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ۔ شہید کی شفاعت اس کے ستر اقارب کے بارے میں مقبول ہوگی۔اس کو ابوداؤد اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابو الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حدیث ۱۰۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الشھید یغفرلہ اول دفقۃ من دمہ ویزوج حوراوین ویشفع فی سبعین من اھل بیتہ رواہ الطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن ابی ھریرۃ شہید کے بدن سے پہلی بارجو خون نکلتا ہے اس کے ساتھ ہی اس کی مغفرت فرمادی جاتی ہے۔اور دم نکلتے ہی دو۲ حوریں اس کی خدمت کو آجاتی ہیں اور اپنے گھروالوں سے ستر اشخاص کی شفاعت کا اسے اختیار دیا جاتاہے اسے
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ البزار عن ابی موسٰی ∞حدیث ۱۱۸۴۱€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۵ /۱۴،€الترغیب والترھیب بحوالہ البزار کتاب الحج حدیث ۱۵ مصطفی البابی ∞مصر ۲ /۱۶۶،€مجمع الزوائد بحوالہ البزار باب دعاء الحجاج والعمار دارالکتاب بیروت ∞۳ /۲۱۱€
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی الشہید یشفع ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴۱،€موارد الظمان ∞حدیث ۱۶۱۲€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۳۸۸€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۳۳۲۳€ مکتبہ المعارف ∞ریاض ۴ /۱۸۱€
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی الشہید یشفع ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴۱،€موارد الظمان ∞حدیث ۱۶۱۲€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص۳۸۸€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۳۳۲۳€ مکتبہ المعارف ∞ریاض ۴ /۱۸۱€
رضی اﷲ تعالی عنہ۔ طبرانی نے اوسط میں بسند حسن ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حدیث ۱۰۸ و ۱۰۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
للشھید عنداﷲ سبع خصال(الی ان قال)ویشفع فی سبعین انسانا من اقاربہ۔رواہ احمد بسند حسن و الطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامت و الترمذی وصححہ وابن ماجۃ عن المقدام بن معدیکرب رضی اﷲ عنھما۔ شہید کے لئے اﷲ تعالی کے یہاں سات کرامتیں ہیں۔ہفتم یہ کہ اس کے اقربا سے ستر شخصوں کے حق میں اسے شفیع بنایا گیا۔اس کو احمد نے بسند حسن اور طبرانی نے کبیر میں عبادہ بن صامت سے اور ترمذی نے اور اسے صحیح کہا اور ابن ماجہ نے مقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔
حدیث ۱۱۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
یصف الناس یوم القیمۃ صفوفا فیمر الرجل من اھل النار علی الرجل فیقول یافلان اماتذکر یوم استسقیت فسقیتك شربۃ فیشفع لہ ویمر الرجل علی الرجل فیقول اماتذکر یوم ناولتك طھورا فیشفع لہ ویقول یافلان اماتذکر یوم بعثتنی فی حاجۃ کذا فذھبت لك فیشفع لہ رواہ ابن ماجۃ عن انس لوگ روز قیامت پرے باندھے ہوں گے ایك دوزخی ایك جنتی پر گزرے گا۔اس سے کہے گا کیا آپ کو یاد نہیں آپ نے ایك دن مجھ سے پانی پینے کو مانگا میں نے پلایا تھا۔اتنی سی بات پر وہ جنتی اس دوزخی کی شفاعت کرے گا۔ایك دوسرے پر گزرے گا کہے گا آپ کو یا دنہیں کہ ایك دن میں نے آپ کو وضو کو پانی دیا تھا اتنے ہی پروہ اس کا شفیع ہوجائے گا ایك کہے گا آپ کو یاد نہیں کہ فلاں دن آپ نے مجھے فلاں
حدیث ۱۰۸ و ۱۰۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
للشھید عنداﷲ سبع خصال(الی ان قال)ویشفع فی سبعین انسانا من اقاربہ۔رواہ احمد بسند حسن و الطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامت و الترمذی وصححہ وابن ماجۃ عن المقدام بن معدیکرب رضی اﷲ عنھما۔ شہید کے لئے اﷲ تعالی کے یہاں سات کرامتیں ہیں۔ہفتم یہ کہ اس کے اقربا سے ستر شخصوں کے حق میں اسے شفیع بنایا گیا۔اس کو احمد نے بسند حسن اور طبرانی نے کبیر میں عبادہ بن صامت سے اور ترمذی نے اور اسے صحیح کہا اور ابن ماجہ نے مقدام بن معدیکرب رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔
حدیث ۱۱۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
یصف الناس یوم القیمۃ صفوفا فیمر الرجل من اھل النار علی الرجل فیقول یافلان اماتذکر یوم استسقیت فسقیتك شربۃ فیشفع لہ ویمر الرجل علی الرجل فیقول اماتذکر یوم ناولتك طھورا فیشفع لہ ویقول یافلان اماتذکر یوم بعثتنی فی حاجۃ کذا فذھبت لك فیشفع لہ رواہ ابن ماجۃ عن انس لوگ روز قیامت پرے باندھے ہوں گے ایك دوزخی ایك جنتی پر گزرے گا۔اس سے کہے گا کیا آپ کو یاد نہیں آپ نے ایك دن مجھ سے پانی پینے کو مانگا میں نے پلایا تھا۔اتنی سی بات پر وہ جنتی اس دوزخی کی شفاعت کرے گا۔ایك دوسرے پر گزرے گا کہے گا آپ کو یا دنہیں کہ ایك دن میں نے آپ کو وضو کو پانی دیا تھا اتنے ہی پروہ اس کا شفیع ہوجائے گا ایك کہے گا آپ کو یاد نہیں کہ فلاں دن آپ نے مجھے فلاں
حوالہ / References
الترغیب والترھیب بحوالہ احمد والطبرانی کتاب الجہاد ∞حدیث ۲۷€ مصطفی البابی ∞مصر ۲ /۳۲۰،€جامع الترمذی ابواب فضائل الجہاد ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۱۹۹ و ۲۰۰،€سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب فضل الشہادت فی سبیل اﷲ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۶€
سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب فضل صدقہ الماء ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۰€
سنن ابن ماجہ کتاب الادب باب فضل صدقہ الماء ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۰€
رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کام کو بھیجا میں چلا گیا تھا اسی قدر پریہ اس کی شفاعت کریگا۔ اس کو ابن ماجہ نے حضرت انس سے روایت کیا۔
ایك روایت میں ہے کہ"جنتی جھانك کر دوزخی کو دیکھے گا ایك دوزخی اس سے کہے گا"آپ مجھے نہیں جانتے"وہ کہے گا"واللہ! میں تو تجھے نہیں پہچانتاافسوس تجھ پر تو کون ہے"وہ کہے گا میں وہ ہوں کہ آپ ایك دن میری طرف سے ہو کر گزرے اور مجھ سے پانی مانگا اور میں نے پلا دیا تھا اس کے صلہ میں اپنے رب کے حضور میری شفاعت کیجئے"وہ جنتی اﷲ عزوجل کے زائروں میں اس کے حضور حاضر ہو کر یہ حال عرض کریگا۔یا رب شفعنی اے میرے رب ! تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما"فیشفعہ اﷲ مولی عزوجل اس کے حق میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا۔رواہ ابویعلی عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ"
دو۲ یتیموں کی دیوار اور اصلاح اعمال
جب مقبولان خدا سے اتنا ساعلاقہ کہ کبھی ان کو پانی پلادیا یا وضو کو پانی دے دیا۔عمر میں اس کا کوئی کام کردیا۔آخر میں ایسا نفع دے گا تو خود ان کا جزہونا کس درجہ نافع ہونا چاہئے بلکہ دنیا و آخرت میں صالحین سے علاقہ نسب کا ہونا قرآن عظیم سے ثابت ہے:
" و اما الجدار فکان لغلمین یتیمین فی المدینۃ وکان تحتہ کنز لہما وکان ابوہما صلحا فاراد ربک ان یبلغا اشدہما و یستخرجا کنزہما ٭ رحمۃ من ربک " ۔ وہ دیوار شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیك تھا تو میرے رب نے اپنی رحمت سے چاہا کہ یہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں۔
خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ایك دیوار گرتے دیکھی اور ہاتھ لگا کر اسے قائم کردیا اور وہاں والوں نے ان کو اور موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو مہمانی دینے سے انکار کردیا تھا اور ان کو کھانے کی حاجت تھی اس پر موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا کہ"آپ چاہتے تو اس پر اجرت لیتے"خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا یہ جواب دیا کہ:
ایك روایت میں ہے کہ"جنتی جھانك کر دوزخی کو دیکھے گا ایك دوزخی اس سے کہے گا"آپ مجھے نہیں جانتے"وہ کہے گا"واللہ! میں تو تجھے نہیں پہچانتاافسوس تجھ پر تو کون ہے"وہ کہے گا میں وہ ہوں کہ آپ ایك دن میری طرف سے ہو کر گزرے اور مجھ سے پانی مانگا اور میں نے پلا دیا تھا اس کے صلہ میں اپنے رب کے حضور میری شفاعت کیجئے"وہ جنتی اﷲ عزوجل کے زائروں میں اس کے حضور حاضر ہو کر یہ حال عرض کریگا۔یا رب شفعنی اے میرے رب ! تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما"فیشفعہ اﷲ مولی عزوجل اس کے حق میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا۔رواہ ابویعلی عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ"
دو۲ یتیموں کی دیوار اور اصلاح اعمال
جب مقبولان خدا سے اتنا ساعلاقہ کہ کبھی ان کو پانی پلادیا یا وضو کو پانی دے دیا۔عمر میں اس کا کوئی کام کردیا۔آخر میں ایسا نفع دے گا تو خود ان کا جزہونا کس درجہ نافع ہونا چاہئے بلکہ دنیا و آخرت میں صالحین سے علاقہ نسب کا ہونا قرآن عظیم سے ثابت ہے:
" و اما الجدار فکان لغلمین یتیمین فی المدینۃ وکان تحتہ کنز لہما وکان ابوہما صلحا فاراد ربک ان یبلغا اشدہما و یستخرجا کنزہما ٭ رحمۃ من ربک " ۔ وہ دیوار شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیك تھا تو میرے رب نے اپنی رحمت سے چاہا کہ یہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں۔
خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ایك دیوار گرتے دیکھی اور ہاتھ لگا کر اسے قائم کردیا اور وہاں والوں نے ان کو اور موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو مہمانی دینے سے انکار کردیا تھا اور ان کو کھانے کی حاجت تھی اس پر موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا کہ"آپ چاہتے تو اس پر اجرت لیتے"خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا یہ جواب دیا کہ:
حوالہ / References
مسند ابویعلٰی ∞حدیث ۳۹۹۳€ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ∞۴ /۱۱۶€
القرآن الکریم ∞۱۸ /۸۲€
القرآن الکریم ∞۱۸ /۸۲€
"یہ دیوار دو یتیموں کی ہے جو ایك مرد صالح کی اولاد میں ہیں اور اس میں نیچے ان کا خزانہ ہے دیوارگرجاتی تو خزانہ ظاہر ہوجاتا لوگ لے جاتے۔لہذا آپ کے رب عزوجل نے اپنی رحمت سے چاہا کہ دیوار قائم اور خزانہ محفوظ رہے کہ وہ جو ان ہو کر نکالیںان کے صالح باپ کے صدقہ میں ان پر رحمت ہوئی"
علماء فرماتے ہیں وہ ان بچوں کاآٹھواں یا دسواں باپ تھا۔
حدیث ۱۱۱:عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں:
حفظ الصلاح لابیھما وماذکر عنھما صلاحا۔ ان کے باپ کی صلاح کا لحاظ فرمایا گیا۔ان کی اپنی صلاح کا کوئی ذکر نہ فرمایا۔
یعنی وہ اگرچہ خود بھی صالح ہوں اور کیوں نہ ہوں گے کہ ان کے لئے خزانہ لازوال محفوظ رکھا تھا سونے کی تختی پر لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ لکھا۔اور کچھ نصائح و مواعظ۔
کما رواہ ابنا ابی حاتم ومردویۃ فی تفاسیرھما عن ابی ذر وھذا عن علی رضی اﷲ تعالی عنہما کلاھما عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والشیرازی فی الالقاب والخرائطی فی قمع الحرص وابن عساکر فی التاریخ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما من قولہ۔ جیساکہ اسے روایت کیا ہے ابن حاتم ومردویۃ نے اپنی تفاسیر میں ابی ذر سے اور یہ حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔ دونوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے۔ اور شیرازی نے القاب میں اور خرائطی نے قمع الحرص میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی رضی اﷲ تعالی عنہما کے قول سے۔
مگر یہ صلاح کا سبب تھا نہ کہ نتیجہ۔نتیجہ ان کے باپ کی صلاح کا تھا۔
رواہ الامام عبداﷲ بن المبارك و اس کو روایت کیا ہے عبداﷲ بن مبارك اور
علماء فرماتے ہیں وہ ان بچوں کاآٹھواں یا دسواں باپ تھا۔
حدیث ۱۱۱:عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں:
حفظ الصلاح لابیھما وماذکر عنھما صلاحا۔ ان کے باپ کی صلاح کا لحاظ فرمایا گیا۔ان کی اپنی صلاح کا کوئی ذکر نہ فرمایا۔
یعنی وہ اگرچہ خود بھی صالح ہوں اور کیوں نہ ہوں گے کہ ان کے لئے خزانہ لازوال محفوظ رکھا تھا سونے کی تختی پر لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ لکھا۔اور کچھ نصائح و مواعظ۔
کما رواہ ابنا ابی حاتم ومردویۃ فی تفاسیرھما عن ابی ذر وھذا عن علی رضی اﷲ تعالی عنہما کلاھما عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والشیرازی فی الالقاب والخرائطی فی قمع الحرص وابن عساکر فی التاریخ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما من قولہ۔ جیساکہ اسے روایت کیا ہے ابن حاتم ومردویۃ نے اپنی تفاسیر میں ابی ذر سے اور یہ حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔ دونوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے۔ اور شیرازی نے القاب میں اور خرائطی نے قمع الحرص میں اور ابن عساکر نے تاریخ میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی رضی اﷲ تعالی عنہما کے قول سے۔
مگر یہ صلاح کا سبب تھا نہ کہ نتیجہ۔نتیجہ ان کے باپ کی صلاح کا تھا۔
رواہ الامام عبداﷲ بن المبارك و اس کو روایت کیا ہے عبداﷲ بن مبارك اور
حوالہ / References
جامع البیان(تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ وکان ابوھما صالحا المطبعۃ المیمنۃ ∞مصر ۱۶/۶،€الدرالمنثور بحوالہ ابن مبارك وسعید بن منصور واحمد فی الزہد وابن المنذر وابن ابی حاتم الخ ∞۴ /۲۳۵،€الدرالمنثور بحوالہ حاتم وابن مردویہ والبزار عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ مکتبہ آیۃ اﷲ ∞قم ایران ۴ /۲۳۴،€الدرالمنثور بحوالہ الخرائطی فی قمع الحرص وابن عساکر فی التاریخ عن ابن عباس ∞۴ /۲۳۵،€تفسیر ابن ابی حاتم تحت آیۃ وکان ابوھما صالحا ∞مکتبہ نزار€ مصطفی الباز مکۃ المکرمۃ ∞۷ /۲۳۷۵€
الامام احمد فی الزھد وسعید ابن منصور فی سننہ وابنا المنذر و ابی حاتم فی تفاسیر ھما والحاکم فی المستدرک۔ امام احمد نے زہد میں اور سعید ابن منصور نے اپنی سنن میں اور ابن منذروابن ابی حاتم نے اپنی اپنی تفسیروں میں اور حاکم نے مستدرك میں۔
حدیث ۱۱۲ تا ۱۱۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ یصلح بصلاح الرجل ولدہ وولد ولدہ ویحفظہ فی ذریتہ والدویرات حولہ فما یزالون فی ستر من اﷲ و عافیۃرواہ ابن مردویۃ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما مرفوعا وابن ابی حاتم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما من قولہ وھذا لفظ والمرفوع بمعناہ ونحوہ لابن المبارك و ابن ابی شیبۃ عن محمد بن المنکدر موقوفا۔ بے شك اﷲ تعالی آدمی کی صلاح سے اس کی اولاد اور اولاد اولاد کی صلاح فرمادیتا ہے اور اس کی نسل اور اس کے ہمسایوں میں اس کی رعایت فرمادیتا ہے کہ اﷲ تعالی کی طرف سے پردہ پوشی و امان میں رہتے ہیں۔اس کو روایت کیاہے ابن مردویہ نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے مرفوعا اور ابن ابی حاتم ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما سے ان کا قول روایت کیایہ اس کے الفاظ ہیں اور مرفوع حدیث اس کے معنی میں ہے اور اسی کی مثل ابن مبارك اور ابن ابی شیبہ نے محمد بن منکدر سے موقوفا روایت کیا۔
اولاد کا ثواب اور اس کا اجر
حدیث ۱۱۵:کعب احبار نے فرمایا:
ان اﷲ یخلف العبد المومن فی ولدہ ثمانین عاما۔ رواہ احمد فی الزھد۔ اﷲ تعالی بندہ مومن کی اولاد میں اسی برس تك اس کی رعایت کرتاہے۔اس کو احمد نے زہد میں روایت کیا ہے۔
حدیث ۱۱۲ تا ۱۱۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ یصلح بصلاح الرجل ولدہ وولد ولدہ ویحفظہ فی ذریتہ والدویرات حولہ فما یزالون فی ستر من اﷲ و عافیۃرواہ ابن مردویۃ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما مرفوعا وابن ابی حاتم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما من قولہ وھذا لفظ والمرفوع بمعناہ ونحوہ لابن المبارك و ابن ابی شیبۃ عن محمد بن المنکدر موقوفا۔ بے شك اﷲ تعالی آدمی کی صلاح سے اس کی اولاد اور اولاد اولاد کی صلاح فرمادیتا ہے اور اس کی نسل اور اس کے ہمسایوں میں اس کی رعایت فرمادیتا ہے کہ اﷲ تعالی کی طرف سے پردہ پوشی و امان میں رہتے ہیں۔اس کو روایت کیاہے ابن مردویہ نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے مرفوعا اور ابن ابی حاتم ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما سے ان کا قول روایت کیایہ اس کے الفاظ ہیں اور مرفوع حدیث اس کے معنی میں ہے اور اسی کی مثل ابن مبارك اور ابن ابی شیبہ نے محمد بن منکدر سے موقوفا روایت کیا۔
اولاد کا ثواب اور اس کا اجر
حدیث ۱۱۵:کعب احبار نے فرمایا:
ان اﷲ یخلف العبد المومن فی ولدہ ثمانین عاما۔ رواہ احمد فی الزھد۔ اﷲ تعالی بندہ مومن کی اولاد میں اسی برس تك اس کی رعایت کرتاہے۔اس کو احمد نے زہد میں روایت کیا ہے۔
حوالہ / References
الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی حاتم تحت آیۃ وکان ابوھما صالحا مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی ∞قم ایراان ۴/ ۲۳€۵
تفسیر ابن ابی حاتم تحت آیۃ وکان ابوھما صالحا ∞مکتبہ نزار€ مصطفی الباز مکۃ المکرمۃ ∞۷ /۲۳۷۵،€الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی حاتم عن ابن عباس وابن مردویہ عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہما ∞۴ /۲۳۵،€الدرالمنثور بحوالہ ابن مبارك وابن ابی شیبہ عن محمد بن المنکدر موقوفا ∞۴ /۲۳۵€
الدرالمنثور بحوالہ احمد فی الزھد تحت آیۃ وکان ابوھما صالحا ∞۴ /۲۳۵€
تفسیر ابن ابی حاتم تحت آیۃ وکان ابوھما صالحا ∞مکتبہ نزار€ مصطفی الباز مکۃ المکرمۃ ∞۷ /۲۳۷۵،€الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی حاتم عن ابن عباس وابن مردویہ عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہما ∞۴ /۲۳۵،€الدرالمنثور بحوالہ ابن مبارك وابن ابی شیبہ عن محمد بن المنکدر موقوفا ∞۴ /۲۳۵€
الدرالمنثور بحوالہ احمد فی الزھد تحت آیۃ وکان ابوھما صالحا ∞۴ /۲۳۵€
حدیث ۱۱۶:سیدنا عیسی ابن مریم علیہما الصلوۃ والسلام نے فرمایا:
طوبی لذریۃ المومن ثم طوبی لھم کیف یحفظون من بعدہ۔ مومن کی ذریت کے لئے خوبی وخوشی ہے پھر خوبی وخوشی ہے کیسی۔اس کے بعد ان کی حفاظت ہوتی ہے۔
اس پر خیثمہ نے وہی آیت تلاوت کی فکان ابوھما صالحا۔
اخرجہ ابن ابی شیبۃ واحمد فی الزھد و ابی ابی حاتم عن خیثمۃ۔ اسے روایت کیا ابن ابی شیبہ اور احمد نے زہد میں اور ابن ابی حاتم نے خثیمہ سے۔
وقال اﷲ عزوجل(اور اﷲ عزوجل نے فرمایا):
" والذین امنوا و اتبعتہم ذریتہم بایمن الحقنا بہم ذریتہم و ما التنہم من عملہم من شیء " ۔ اور وہ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد ایمان میں ان کی تابع ہوئی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی اور ان کے ثواب سے کچھ کم نہ کیا
حدیث ۱۱۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ یرفع ذریۃ المومن الیہ فی درجتہ وان کانوا دونہ فی العمل لتقربھم عینیہ۔ بیشك اﷲ تعالی مومن کی ذریت کو اس کے درجہ میں اس کے پاس اٹھالے گا اگرچہ وہ عمل میں اس سے کم ہو تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔
پھر یہی آیت کریمہ من شیئ تك تلاوت کی۔اور اس کی تفسیر میں فرمایا:
مانقصنا الاباء بما اعطینا البنین۔رواہ البزار وابن مردویہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو عند سعید بن منصور وھنادا بناء جریر والمنذر وابن ابی حاتم والحاکم ہم نے جو اولاد کو عطا کیا اس کے سبب والدین کو کچھ اجر کم نہ فرمایا۔اسے روایت کیا بزار اور ابن مردویہ نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے انھوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اور اس کو سعید بن منصورھنادابن جریر اور ابن منذر ابن ابی حاتم
طوبی لذریۃ المومن ثم طوبی لھم کیف یحفظون من بعدہ۔ مومن کی ذریت کے لئے خوبی وخوشی ہے پھر خوبی وخوشی ہے کیسی۔اس کے بعد ان کی حفاظت ہوتی ہے۔
اس پر خیثمہ نے وہی آیت تلاوت کی فکان ابوھما صالحا۔
اخرجہ ابن ابی شیبۃ واحمد فی الزھد و ابی ابی حاتم عن خیثمۃ۔ اسے روایت کیا ابن ابی شیبہ اور احمد نے زہد میں اور ابن ابی حاتم نے خثیمہ سے۔
وقال اﷲ عزوجل(اور اﷲ عزوجل نے فرمایا):
" والذین امنوا و اتبعتہم ذریتہم بایمن الحقنا بہم ذریتہم و ما التنہم من عملہم من شیء " ۔ اور وہ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد ایمان میں ان کی تابع ہوئی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی اور ان کے ثواب سے کچھ کم نہ کیا
حدیث ۱۱۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ یرفع ذریۃ المومن الیہ فی درجتہ وان کانوا دونہ فی العمل لتقربھم عینیہ۔ بیشك اﷲ تعالی مومن کی ذریت کو اس کے درجہ میں اس کے پاس اٹھالے گا اگرچہ وہ عمل میں اس سے کم ہو تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔
پھر یہی آیت کریمہ من شیئ تك تلاوت کی۔اور اس کی تفسیر میں فرمایا:
مانقصنا الاباء بما اعطینا البنین۔رواہ البزار وابن مردویہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو عند سعید بن منصور وھنادا بناء جریر والمنذر وابن ابی حاتم والحاکم ہم نے جو اولاد کو عطا کیا اس کے سبب والدین کو کچھ اجر کم نہ فرمایا۔اسے روایت کیا بزار اور ابن مردویہ نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے انھوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اور اس کو سعید بن منصورھنادابن جریر اور ابن منذر ابن ابی حاتم
حوالہ / References
الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ واحمدفی الزہد وابن ابی حاتم تحت آیۃ وکان ابوھما صالحا ∞۴ /۲۳۸،€الزہد للامام احمد بن حنبل من مواعظ عیسٰی علیہ السلام دارالدیان للتراث ∞قاہرہ ص۷۲€
القرآن الکریم ∞۵۲ /۲۱€
الدرالمنثور بحوالہ البزدوی وابن مردویہ عن ابن عباس تحت آیۃ والدین اٰمنوا واتبعتہم ذریاتہم الخ ∞۶ /۱۱۹،€الدرالمنثور بحوالہ سعید بن منصور وابناء جریر والمنذر ابی حاتم والحاکم والبیہقی تحت آیۃ والدین اٰمنوا واتبعتہم ذریاتہم الخ ∞۶/۱۱۹€
القرآن الکریم ∞۵۲ /۲۱€
الدرالمنثور بحوالہ البزدوی وابن مردویہ عن ابن عباس تحت آیۃ والدین اٰمنوا واتبعتہم ذریاتہم الخ ∞۶ /۱۱۹،€الدرالمنثور بحوالہ سعید بن منصور وابناء جریر والمنذر ابی حاتم والحاکم والبیہقی تحت آیۃ والدین اٰمنوا واتبعتہم ذریاتہم الخ ∞۶/۱۱۹€
والبیھقی فی سننہ عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ من قولہ۔ حاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے موقوفا روایت کیا ہے۔
حدیث ۱۱۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اذا دخل الرجل الجنۃ سأل عن ابویہ وذریتہ وولدہ فیقال انھم لم یبلغوا درجتك وعملك فیقول یارب قد عملت لی ولھم فیؤمر بالحاقھم بہ۔رواہ عنہ الطبرانی وابن مردویہ۔ جب آدمی جنت میں جائے گا اپنے ماں باپ اور اولاد کو پوچھے گا۔ارشاد ہوگا کہ وہ تیرے درجے اور عمل کو نہ پہنچے۔عرض کرے گا اے رب میرے! میں نے اپنے اور ان کے سب کے نفع کے لئے اعمال کئے تھے۔اس پر حکم ہوگا کہ وہ اس سے ملادئے جائیں۔اسے طبرانی نے وابن مردویہ نے اس سے روایت کیا۔
اس کی تصدیق میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کریمہ مذکورہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ھم ذریۃ المومن یموتون علی الاسلام فان کانت منازل ابائھم ارفع من منازلھم لحقو ابائھم ولم ینقصوا من اعمالھم التی عملوا شیئا۔رواہ عنہ ابن ابی حاتم ۔ یہ ذریت مومن کا حال ہے جو اسلام پرمریں۔اگر ان کے باپ داد کے درجے ان منزلوں سے بلند تر ہوئے تو یہ اپنے باپ دادا سے ملادئے جائیں گے اور ان کے اعمال میں کوئی کمی نہ ہوگی۔اسے روایت کیا ابن عباس سے ابن ابی حاتم نے۔
صحابہ اور اہل بیت کی اولاد کے درجات
جب عام صالحین کی صلاح ان کی نسل واولاد کو دین ودنیا وآخرت میں نفع دیتی ہے تو صدیق وفاروق وعثمان وعلی وجعفر وعباس وانصارکرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی صلاح کا کیا کہنا۔جن کی اولاد میں شیخ۔صدیقی وفاروقی وعثمانی وعلوی وجعفری وعباسی وانصاری ہیں۔یہ کیوں نہ اپنے نسب کریم سے دین ودنیا وآخرت میں نفع پائیں گے۔پھر اﷲ اکبر حضرات علیہ سادات کرام۔
حدیث ۱۱۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اذا دخل الرجل الجنۃ سأل عن ابویہ وذریتہ وولدہ فیقال انھم لم یبلغوا درجتك وعملك فیقول یارب قد عملت لی ولھم فیؤمر بالحاقھم بہ۔رواہ عنہ الطبرانی وابن مردویہ۔ جب آدمی جنت میں جائے گا اپنے ماں باپ اور اولاد کو پوچھے گا۔ارشاد ہوگا کہ وہ تیرے درجے اور عمل کو نہ پہنچے۔عرض کرے گا اے رب میرے! میں نے اپنے اور ان کے سب کے نفع کے لئے اعمال کئے تھے۔اس پر حکم ہوگا کہ وہ اس سے ملادئے جائیں۔اسے طبرانی نے وابن مردویہ نے اس سے روایت کیا۔
اس کی تصدیق میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کریمہ مذکورہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ھم ذریۃ المومن یموتون علی الاسلام فان کانت منازل ابائھم ارفع من منازلھم لحقو ابائھم ولم ینقصوا من اعمالھم التی عملوا شیئا۔رواہ عنہ ابن ابی حاتم ۔ یہ ذریت مومن کا حال ہے جو اسلام پرمریں۔اگر ان کے باپ داد کے درجے ان منزلوں سے بلند تر ہوئے تو یہ اپنے باپ دادا سے ملادئے جائیں گے اور ان کے اعمال میں کوئی کمی نہ ہوگی۔اسے روایت کیا ابن عباس سے ابن ابی حاتم نے۔
صحابہ اور اہل بیت کی اولاد کے درجات
جب عام صالحین کی صلاح ان کی نسل واولاد کو دین ودنیا وآخرت میں نفع دیتی ہے تو صدیق وفاروق وعثمان وعلی وجعفر وعباس وانصارکرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی صلاح کا کیا کہنا۔جن کی اولاد میں شیخ۔صدیقی وفاروقی وعثمانی وعلوی وجعفری وعباسی وانصاری ہیں۔یہ کیوں نہ اپنے نسب کریم سے دین ودنیا وآخرت میں نفع پائیں گے۔پھر اﷲ اکبر حضرات علیہ سادات کرام۔
حوالہ / References
الدرالمنثور بحوالہ الطبرانی وابن مردویۃ تحت آیۃ والذین اٰمنوا واتبعتہم ذریاتہم الخ ∞۶/ ۱۱۹€
الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی حاتم تحت آیۃ والذین اٰمنوا واتبعتہم ذریاتہم الخ ∞۶/ ۱۱۹€
الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی حاتم تحت آیۃ والذین اٰمنوا واتبعتہم ذریاتہم الخ ∞۶/ ۱۱۹€
اولاد امجاد حضرت خاتون جنت بتول زہرا کہ حضرت پر نور سیدالصالحین سید العالمین سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بیٹے ہیں کہ ان کی شان تو ارفع واعلی وبلند وبالا ہے ____ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" انما یرید اللہ لیـذہب عنکم الرجس اہل البیت و یطہرکم تطہیرا ﴿۳۳﴾" اﷲ یہی چاہتاہے کہ تم سے ناپاکی دور رکھے اے نبی کے گھر والواور تمھیں ستھرا کردے خوب پاك فرماکر۔
حدیث ۱۲۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان فاطمۃ احصنت فحرمھا اﷲ وذریتھا علی النار۔رواہ تمام فی فوائدہ والبزار وابویعلی والطبرانی والحاکم وصححہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك فاطمہ نے اپنی حرمت پر نگاہ رکھی تو اﷲ تعالی نے اسے اور اس کی تمام نسل کو آگ پر حرام فرمادیا۔اسے روایت کیا ہے تمام نے اپنی فوائد میں اور بزارابویعلی اور طبرانی اورحاکم نے اور اس کی تصحیح کی ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۱۲۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
سألت ربی ان لایدخل احدا من اھل بیتی النار فاعطا نیھا۔رواہ ابوالقاسم بن بشران فی امالیہ عن عمران بن حصین رضی اﷲ تعالی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا۔ میں نے اپنے رب عزوجل سے مانگا کہ میرے اہل بیت سے کسی کو دوزخ میں نہ لے جائے۔اس نے میری یہ مراد عطا فرمائی اس کو روایت کیا ہے ابوالقاسم بن بشران نے اپنی امالی میں عمران بن حصین رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور تمام صحابہ سے۔
حدیث ۱۲۲:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بتول زہرا سے فرمایا:
" انما یرید اللہ لیـذہب عنکم الرجس اہل البیت و یطہرکم تطہیرا ﴿۳۳﴾" اﷲ یہی چاہتاہے کہ تم سے ناپاکی دور رکھے اے نبی کے گھر والواور تمھیں ستھرا کردے خوب پاك فرماکر۔
حدیث ۱۲۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان فاطمۃ احصنت فحرمھا اﷲ وذریتھا علی النار۔رواہ تمام فی فوائدہ والبزار وابویعلی والطبرانی والحاکم وصححہ عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك فاطمہ نے اپنی حرمت پر نگاہ رکھی تو اﷲ تعالی نے اسے اور اس کی تمام نسل کو آگ پر حرام فرمادیا۔اسے روایت کیا ہے تمام نے اپنی فوائد میں اور بزارابویعلی اور طبرانی اورحاکم نے اور اس کی تصحیح کی ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۱۲۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
سألت ربی ان لایدخل احدا من اھل بیتی النار فاعطا نیھا۔رواہ ابوالقاسم بن بشران فی امالیہ عن عمران بن حصین رضی اﷲ تعالی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا۔ میں نے اپنے رب عزوجل سے مانگا کہ میرے اہل بیت سے کسی کو دوزخ میں نہ لے جائے۔اس نے میری یہ مراد عطا فرمائی اس کو روایت کیا ہے ابوالقاسم بن بشران نے اپنی امالی میں عمران بن حصین رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور تمام صحابہ سے۔
حدیث ۱۲۲:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بتول زہرا سے فرمایا:
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۳۳€
کنز العمال بحوالہ البزار ع طب ك عن ابن مسعود ∞حدیث ۳۴۲۲۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۱۰۸،€المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ زہد فاطمۃ رضی اﷲ عنہما دارالفکر بیروت ∞۳/ ۱۵۲€
کنز العمال بحوالہ ابی القاسم بن بشران فی امالیہ ∞حدیث ۳۴۱۴۹€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۹۵€
کنز العمال بحوالہ البزار ع طب ك عن ابن مسعود ∞حدیث ۳۴۲۲۰€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۱۰۸،€المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ زہد فاطمۃ رضی اﷲ عنہما دارالفکر بیروت ∞۳/ ۱۵۲€
کنز العمال بحوالہ ابی القاسم بن بشران فی امالیہ ∞حدیث ۳۴۱۴۹€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۹۵€
ان اﷲ غیر معذبك ولا ولدک۔رواہ الطبرانی بسند صحیح عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك اﷲ تعالی نہ تجھے عذاب فرمائے گا نہ تیری اولاد کو۔اس کو طبرانی نے بسند صحیح ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حدیث ۱۲۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انما سمیت فاطمۃ لان اﷲ فطمھا وذریتھا عن النار یوم القیمۃ رواہ ابن عساکر عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ فاطمہ زہرا کا نام فاطمہ اس لئے ہوا کہ اﷲ تعالی نے اسے اور اس کی نسل کو قیامت میں آگ سے محفوظ فرمادیا۔اس کو روایت کیا ہے ابن عساکر نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حضور اور اہلبیت سے محبت کرنے والے جنتی ہیں
حدیث ۱۲۴:عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ کریمہ ولسوف یعطیك ربك فترضی کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
من رضا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان لا یدخل احد من اھل بیتہ النار۔رواہ ابن ابن جریر عنہ من طریق السدی۔ یعنی اﷲ عزوجل حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے وعدہ فرماتاہے کہ بے شك عنقریب تمھارا رب اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رضا یہ ہے کہ حضور کے اہل بیت سے کوئی شخص دوزخ میں نہ جائے۔اسے روایت کیا ہے ابن جریر نے سدی کے حوالے سے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۱۲۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
حدیث ۱۲۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انما سمیت فاطمۃ لان اﷲ فطمھا وذریتھا عن النار یوم القیمۃ رواہ ابن عساکر عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ فاطمہ زہرا کا نام فاطمہ اس لئے ہوا کہ اﷲ تعالی نے اسے اور اس کی نسل کو قیامت میں آگ سے محفوظ فرمادیا۔اس کو روایت کیا ہے ابن عساکر نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حضور اور اہلبیت سے محبت کرنے والے جنتی ہیں
حدیث ۱۲۴:عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ کریمہ ولسوف یعطیك ربك فترضی کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
من رضا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان لا یدخل احد من اھل بیتہ النار۔رواہ ابن ابن جریر عنہ من طریق السدی۔ یعنی اﷲ عزوجل حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے وعدہ فرماتاہے کہ بے شك عنقریب تمھارا رب اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رضا یہ ہے کہ حضور کے اہل بیت سے کوئی شخص دوزخ میں نہ جائے۔اسے روایت کیا ہے ابن جریر نے سدی کے حوالے سے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔
حدیث ۱۲۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
حوالہ / References
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۱۶۸۵€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۱/ ۲۶۳€
فیض القدیر تحت ∞حدیث ۲۰۳،€دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۶۸€
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیۃ ولسوف یعطیك ربك فترضی المطبعۃ المیمنۃ ∞مصر ۳۰/ ۱۲۸،€الدرالمنثور بحوالہ ابن جریر عن السدی تحت آیۃ ولسوف یعطیك ربك فترضٰی مکتبہ آیۃ اﷲ ∞قم ایران ۶/ ۳۶۱€
فیض القدیر تحت ∞حدیث ۲۰۳،€دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۱۶۸€
جامع البیان(تفسیر ابن جریر)تحت آیۃ ولسوف یعطیك ربك فترضی المطبعۃ المیمنۃ ∞مصر ۳۰/ ۱۲۸،€الدرالمنثور بحوالہ ابن جریر عن السدی تحت آیۃ ولسوف یعطیك ربك فترضٰی مکتبہ آیۃ اﷲ ∞قم ایران ۶/ ۳۶۱€
وعدنی ربی فی اھل بیتی من اقر منھم بالتوحید ولی بالبلاغ ان لایعذبھم رواہ الحاکم عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ وصححہ ھوثم ابن حجر فی صواعقہ۔ والحمدﷲ رب العالمین۔ میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے اہل بیت سے جوشخص اﷲ کی وحدانیت اور میری رسالت پر ایمان لائے گا اسے عذاب نہ فرمائے گا۔اس کو روایت کیا ہے حاکم نے انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور اسے صحیح کہاپھر ابن حجر نے اپنی صواعق میں۔اور اﷲ ہی کے لئے خوبیاں ہیں جو دونوں جہاں کار ب ہے۔
حدیث ۱۲۶ و ۱۲۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
یا علی ان اول اربعۃ یدخلون الجنۃ انا وانت و الحسن والحسین وذرار ینا خلف ظھورنارواہ ابن عساکر عن علی والطبرانی فی الکبیر عن ابی رافع رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اے علی! سب میں پہلے وہ چار کہ جنت میں داخل ہوں گے میں ہوں اور تمحسن اور حسیناور ہماری ذریتیں۔ہمارے پس پشت ہوں گی۔اسے روایت کیا ہے ابن عساکر نے علی سے اور طبرانی نے کبیرمیں ابی رافع رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔
حدیث ۱۲۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اول من یرد علی الحوض اھل بیتی ومن احبنی من امتی۔رواہ الدیلمی عن علی کرم اﷲ تعالی وجہہ۔ سب سے پہلے میرے پاس حوض کوثر پر آنیوالے میرے اہل بیت ہیں اور میری امت سے میرے چاہنے والے۔اسے روایت کیا ہے دیلمی نے علی کرم اﷲ وجہہ سے۔
حدیث ۱۲۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا کی:
حدیث ۱۲۶ و ۱۲۷:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
یا علی ان اول اربعۃ یدخلون الجنۃ انا وانت و الحسن والحسین وذرار ینا خلف ظھورنارواہ ابن عساکر عن علی والطبرانی فی الکبیر عن ابی رافع رضی اﷲ تعالی عنہما۔ اے علی! سب میں پہلے وہ چار کہ جنت میں داخل ہوں گے میں ہوں اور تمحسن اور حسیناور ہماری ذریتیں۔ہمارے پس پشت ہوں گی۔اسے روایت کیا ہے ابن عساکر نے علی سے اور طبرانی نے کبیرمیں ابی رافع رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔
حدیث ۱۲۸:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اول من یرد علی الحوض اھل بیتی ومن احبنی من امتی۔رواہ الدیلمی عن علی کرم اﷲ تعالی وجہہ۔ سب سے پہلے میرے پاس حوض کوثر پر آنیوالے میرے اہل بیت ہیں اور میری امت سے میرے چاہنے والے۔اسے روایت کیا ہے دیلمی نے علی کرم اﷲ وجہہ سے۔
حدیث ۱۲۹:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دعا کی:
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۱۵۰€
تہذیب تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ حسین بن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۲۱،€کنز العمال بحوالہ طب عن محمد بن عبید اﷲ ∞حدیث ۳۴۲۰۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۱۰۴€
کنز العمال بحوالہ الدیلمی عن علی ∞حدیث ۳۴۱۷۸€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۱۰۰€
تہذیب تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ حسین بن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۲۱،€کنز العمال بحوالہ طب عن محمد بن عبید اﷲ ∞حدیث ۳۴۲۰۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۱۰۴€
کنز العمال بحوالہ الدیلمی عن علی ∞حدیث ۳۴۱۷۸€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۱۰۰€
اللھم انھم عترۃ رسولك فھب مسیئھم لمحسنھم وھبہم لی۔ الہی! وہ تیرے رسول کی آل ہیں تو ان کے بدکار ان کے نکو کاروں کو دے ڈال اور ان سب کو مجھے ہبہ فرمادے۔
پھر فرمایا:ففعل مولی تعالی نے ایسا ہی کیا۔امیر المومنین نے عرض کی:ما فعل کیاکیا فرمایا:
فعلہ ربکم بکم ویفعلہ بمن بعد کم۔رواہ الحافظ المحب الطبرانی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ۔ یہ تمھارے ساتھ تمھارے رب نے کیا جو تمھارے بعد آنے والے ہیں ان کے ساتھ بھی ایساہی کرے گا اس کو روایت کیا حافظ محب طبرانی نے امیر المومنین مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے۔
تنبیہ نبیہ اور نتیجہ
اقول:ان نصوص جلیلہ قرآن عظیم واحادیث نبی کریم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم سے روشن ہوا کہ:
(۱)حدیث مسلم:
عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ من ابطأبہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جو عمل میں پیچھے ہوا سکا نسب نفع بخش نہ ہوگا۔
میں نفی نفع مطلق ہے نہ کہ نفع نفی مطلقورنہ معاذ اﷲ کریمہ " الحقنا بہم ذریتہم " (ہم نے ان کی ذریت کو ان سے ملادیا) کے صریح معارض ہوگی۔
(۲)نہ کہ کریمہ " " فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینہم یومئذ و لا یتساءلون ﴿۱۰۱﴾ (تو جب صور پھونکا جائے گا تو نہ ان میں رشتے رہیں گے نہ ایك دوسرے کی بات پوچھے)کہ ایك وقت مخصوص کے لئے ہے۔
پھر فرمایا:ففعل مولی تعالی نے ایسا ہی کیا۔امیر المومنین نے عرض کی:ما فعل کیاکیا فرمایا:
فعلہ ربکم بکم ویفعلہ بمن بعد کم۔رواہ الحافظ المحب الطبرانی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ۔ یہ تمھارے ساتھ تمھارے رب نے کیا جو تمھارے بعد آنے والے ہیں ان کے ساتھ بھی ایساہی کرے گا اس کو روایت کیا حافظ محب طبرانی نے امیر المومنین مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے۔
تنبیہ نبیہ اور نتیجہ
اقول:ان نصوص جلیلہ قرآن عظیم واحادیث نبی کریم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم سے روشن ہوا کہ:
(۱)حدیث مسلم:
عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ من ابطأبہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جو عمل میں پیچھے ہوا سکا نسب نفع بخش نہ ہوگا۔
میں نفی نفع مطلق ہے نہ کہ نفع نفی مطلقورنہ معاذ اﷲ کریمہ " الحقنا بہم ذریتہم " (ہم نے ان کی ذریت کو ان سے ملادیا) کے صریح معارض ہوگی۔
(۲)نہ کہ کریمہ " " فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینہم یومئذ و لا یتساءلون ﴿۱۰۱﴾ (تو جب صور پھونکا جائے گا تو نہ ان میں رشتے رہیں گے نہ ایك دوسرے کی بات پوچھے)کہ ایك وقت مخصوص کے لئے ہے۔
حوالہ / References
طبرانی
صحیح مسلم کتاب الذکروالدعاء باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۵€
القرآن الکریم ∞۵۲/ ۲۱€
القرآن الکریم ∞۲۳/ ۱۰۱€
صحیح مسلم کتاب الذکروالدعاء باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۵€
القرآن الکریم ∞۵۲/ ۲۱€
القرآن الکریم ∞۲۳/ ۱۰۱€
الا تری قولہ تعالی(کیا آپ دیکھ نہیں رہے اﷲ تعالی کے ارشاد کی طرف۔ت)ولا یتساءلون(اور نہ ایك دوسرے کی بات پوچھے۔ت)مع قولہ عزوجل " و اقبل بعضہم علی بعض یتساءلون ﴿۲۵﴾ " (اور ان میں ایك نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے۔ت)
روی سعید بن منصور فی سننہ وابناء حمید والمنذر وابی حاتم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔قال انھا مواقف فاما الموقف الذی لاانساب بینھم ولا یتساءلون عندالصعقۃ الاولی لا انساب بینھم فیہا اذا صعقوا فاذا کانت النفخۃ الآخر فاذا ھم قیام یتساءلون ۔ سعید ابن منصور نے اپنی سنن میں اور پسران حمیدو منذر اور ابی حاتم نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا: مواقف(منازل حضوری)چند ہیں لیکن وہ موقف جس میں نہ رشتے کام آئیں نہ ان کے ذریعہ سفارشوہ صعقہ اولی(پہلی کڑک)ہے اس میں رشتے کام نہ آئیں گے جب لوگ گھبرائے ہوئے اٹھیں گے۔اور جب صعقہ ثانیہ ہوگا تو سب کھڑے ہوکر رشتوں سے سوال کریں گے۔
(۳)جبکہ احادیث متواترہ سے فضل نسبفرق احکام ونفع آخرت بلا شبہ ثابتتو امثال حدیث۔الا لا فضل لعربی علی عجمی ولا لاحمر علی اسود (نہ عربی کی فضیلت عجمی پر ہے اور نہ ہی سفید کی کالے پر)وحدیثانظر فانك لست بخیر من احمر والا سود الا ان تفضلہ بتقوی (بے شك تم سفید اور کالے سے بہتر نہیں ہو مگر تم کو صرف تقوی سے فضیلت حاصل ہے)میں مثل کریمہ: " ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم " (بے شك تم میں اﷲ تعالی کے نزدیك مکرم وہ ہے جو پرہیزگار ہے) سلب فضل کلی ہے نہ کہ سلب کلی فضل۔
(۴)حدیث:لا اغنی عنکم من اﷲ شیئا (میں تم کو اﷲ سے کچھ بے نیاز
روی سعید بن منصور فی سننہ وابناء حمید والمنذر وابی حاتم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔قال انھا مواقف فاما الموقف الذی لاانساب بینھم ولا یتساءلون عندالصعقۃ الاولی لا انساب بینھم فیہا اذا صعقوا فاذا کانت النفخۃ الآخر فاذا ھم قیام یتساءلون ۔ سعید ابن منصور نے اپنی سنن میں اور پسران حمیدو منذر اور ابی حاتم نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا: مواقف(منازل حضوری)چند ہیں لیکن وہ موقف جس میں نہ رشتے کام آئیں نہ ان کے ذریعہ سفارشوہ صعقہ اولی(پہلی کڑک)ہے اس میں رشتے کام نہ آئیں گے جب لوگ گھبرائے ہوئے اٹھیں گے۔اور جب صعقہ ثانیہ ہوگا تو سب کھڑے ہوکر رشتوں سے سوال کریں گے۔
(۳)جبکہ احادیث متواترہ سے فضل نسبفرق احکام ونفع آخرت بلا شبہ ثابتتو امثال حدیث۔الا لا فضل لعربی علی عجمی ولا لاحمر علی اسود (نہ عربی کی فضیلت عجمی پر ہے اور نہ ہی سفید کی کالے پر)وحدیثانظر فانك لست بخیر من احمر والا سود الا ان تفضلہ بتقوی (بے شك تم سفید اور کالے سے بہتر نہیں ہو مگر تم کو صرف تقوی سے فضیلت حاصل ہے)میں مثل کریمہ: " ان اکرمکم عند اللہ اتقىکم " (بے شك تم میں اﷲ تعالی کے نزدیك مکرم وہ ہے جو پرہیزگار ہے) سلب فضل کلی ہے نہ کہ سلب کلی فضل۔
(۴)حدیث:لا اغنی عنکم من اﷲ شیئا (میں تم کو اﷲ سے کچھ بے نیاز
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵۲/ ۲۵€
الدرالمنثور بحوالہ سعید بن منصور وابناء حمید والمنذر وابی حاتم تحت آیۃ فلا انساب بینہم ∞۵/ ۱۵€
الترغیب والترھیب الترھیب من احقار المسلم الخ حدیث ۹ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۶۱۲€
الترغیب والترھیب الترھیب من احقار المسلم الخ حدیث ۹ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۶۱۲€
القرآن الکریم ∞۴۹/ ۱۳€
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان مات علی الکفر الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۴€
الدرالمنثور بحوالہ سعید بن منصور وابناء حمید والمنذر وابی حاتم تحت آیۃ فلا انساب بینہم ∞۵/ ۱۵€
الترغیب والترھیب الترھیب من احقار المسلم الخ حدیث ۹ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۶۱۲€
الترغیب والترھیب الترھیب من احقار المسلم الخ حدیث ۹ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۶۱۲€
القرآن الکریم ∞۴۹/ ۱۳€
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان مات علی الکفر الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۴€
نہیں کروں گا)میں نفی اغنائے ذاتی ہے نہ کہ معاذاﷲ سلب اغنائے عطائی کہ حدیث متواترہ شفاعتواجماع اہل سنت کے خلاف ہے۔جیسا کہ وہ طاغی باغی سرکش اپنی تقویۃ الایمان میں لکھتا ہے:"پیغمبر نے سب کو اپنی بیٹی تك کو کھول کر سنادیا کہ قرابت کا حق ادا کرنا اسی چیز میں ہوسکتا ہے کہ اپنے اختیار کی ہوسو یہ میرا مال موجود ہے اس میں مجھ کو کچھ بخل نہیں۔اور اﷲ کے یہاں کا معاملہ میرے اختیار سے باہر ہے وہاں میں کسی کی حمایت نہیں کرسکتا اور کسی کا وکیل نہیں بن سکتا سو وہاں کا معاملہ ہر کوئی اپنا اپنا درست کرے اور دوزخ سے بچنے کی ہر کوئی تدبیر کرے "انا ﷲ وانا الیہ راجعوناس کا رد بلیغ تو فقیر کی کتاب"الامن والعلی لنا عتی المصطفی بدافع البلاء"میں دیکھئے اور یہاں خاص اس لفظ پر بعض حدیثیں سنئے۔اس میں حدیث پوری یوں ہے کہ:امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کی بہن حضرت ام ہانی رضی اﷲ تعالی عنہا کی بالیاں ایك بار ظاہر ہوگئیں اس پر ان سے کہا گیا:
ان محمدالا یغنی عنك من اﷲ شیئا۔ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمھیں نہ بچائیں گے۔
وہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے یہ واقعہ عرض کیاحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
مابال اقوام یزعمون ان شفاعتی لاتنال اھل بیتی وان شفاعتی تنال حاء وحکمرواہ الطبرانی فی الکبیر عن ام ھانی رضی اﷲ تعالی عنہا۔ کیاحال ہے ان لوگوں کا جو زعم کرتے ہیں کہ میری شفاعت میرے اہل بیت کو نہ پہنچے گی۔بے شك میری شفاعت ضرور قبیلہ حاء وحکم کو بھی شامل ہے۔اس کو روایت کیا ہے طبرانی نے کبیر میں ام ہانی رضی اﷲ تعالی عنہا سے۔
(۵)حدیث ۹۵ کے بعد جو ایك روایت بزار سے گزری اس کے قصے میں اس کی نظیر حضرت صفیہ
ان محمدالا یغنی عنك من اﷲ شیئا۔ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تمھیں نہ بچائیں گے۔
وہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے یہ واقعہ عرض کیاحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
مابال اقوام یزعمون ان شفاعتی لاتنال اھل بیتی وان شفاعتی تنال حاء وحکمرواہ الطبرانی فی الکبیر عن ام ھانی رضی اﷲ تعالی عنہا۔ کیاحال ہے ان لوگوں کا جو زعم کرتے ہیں کہ میری شفاعت میرے اہل بیت کو نہ پہنچے گی۔بے شك میری شفاعت ضرور قبیلہ حاء وحکم کو بھی شامل ہے۔اس کو روایت کیا ہے طبرانی نے کبیر میں ام ہانی رضی اﷲ تعالی عنہا سے۔
(۵)حدیث ۹۵ کے بعد جو ایك روایت بزار سے گزری اس کے قصے میں اس کی نظیر حضرت صفیہ
حوالہ / References
تقویۃ الایمان الفصل الثالث فی ذکرردالاشراك فی التصرف ∞مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۵۰€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۰۶۰€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۲۴/ ۴۳۴€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۰۶۰€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۲۴/ ۴۳۴€
بنت عبدالمطلب رضی اﷲ تعالی عنہما کے لئے مروی ہے کہ وہ اپنے پسر کی وفات پر بآواز روئیںان سے وہی کہا گیا:
ان قرابتك من محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تغنی عنك من اﷲ شیئا ۔ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قرابت اﷲ کے یہاں کچھ کام نہ دے گی۔
حضور سے رشتہ وعلاقہ مضبوط تر ہے
ایك موقعہ پر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کو جمع فرماکر بر سر منبر ان کا وہ رد جلیل ارشاد فرمایا کہ:"کیا ہوا انھیں جو میری قرابت نافع نہیں بتاتے۔ہر رشتہ وعلاقہ قیامت سے قطع ہو جائے گا مگر میرا رشتہ وعلاقہ کہ دنیا وآخر ت میں پیوستہ ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم"رواہ کما تقدم البزار ۔امام ابن حجر مکی صواعق میں فرماتے ہیں:
قال المحب الطبری وغیرہ من العلماء انہ صلی اﷲ تعالی علیہ لایملك لاحد شیئا لا نفعا ولا ضررالکن عزوجل یملك نفع اقاربہ بل وجمیع امتہ بالشفاعۃ العامۃ والخاصۃ فھو لایملك الا مایملکہ لہ مولاہ کما اشارالیہ بقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غیر ان لکم رحما سابلھا بلالھا وکذا معنی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محب طبری وغیرہ علماء نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(بنفسہ)کسی چیز کے مالك نہیں۔نہ نفع کے نہ نقصان کے ہاں اﷲ عزوجل نے ان کو مالك بنایا ہے اپنے اقارب بلکہ اپنی تمام امت کے نفع کا شفاعت عامہ وخاصہ کے ذریعہتو وہ بذات خود مالك نہیں ہیں۔ہاں انکے مولی نے ان کو مالك بنایا ہے جیسا کہ اس طرف اشارہ فرمایا اپنے اس ارشاد گرامی میں(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)مگر یہ کہ تمھارے لئے ایك تعلق ہے _________ اور یہی معنی ہیں حضور صلی اﷲ تعالی
ان قرابتك من محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تغنی عنك من اﷲ شیئا ۔ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قرابت اﷲ کے یہاں کچھ کام نہ دے گی۔
حضور سے رشتہ وعلاقہ مضبوط تر ہے
ایك موقعہ پر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم کو جمع فرماکر بر سر منبر ان کا وہ رد جلیل ارشاد فرمایا کہ:"کیا ہوا انھیں جو میری قرابت نافع نہیں بتاتے۔ہر رشتہ وعلاقہ قیامت سے قطع ہو جائے گا مگر میرا رشتہ وعلاقہ کہ دنیا وآخر ت میں پیوستہ ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم"رواہ کما تقدم البزار ۔امام ابن حجر مکی صواعق میں فرماتے ہیں:
قال المحب الطبری وغیرہ من العلماء انہ صلی اﷲ تعالی علیہ لایملك لاحد شیئا لا نفعا ولا ضررالکن عزوجل یملك نفع اقاربہ بل وجمیع امتہ بالشفاعۃ العامۃ والخاصۃ فھو لایملك الا مایملکہ لہ مولاہ کما اشارالیہ بقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غیر ان لکم رحما سابلھا بلالھا وکذا معنی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محب طبری وغیرہ علماء نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(بنفسہ)کسی چیز کے مالك نہیں۔نہ نفع کے نہ نقصان کے ہاں اﷲ عزوجل نے ان کو مالك بنایا ہے اپنے اقارب بلکہ اپنی تمام امت کے نفع کا شفاعت عامہ وخاصہ کے ذریعہتو وہ بذات خود مالك نہیں ہیں۔ہاں انکے مولی نے ان کو مالك بنایا ہے جیسا کہ اس طرف اشارہ فرمایا اپنے اس ارشاد گرامی میں(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)مگر یہ کہ تمھارے لئے ایك تعلق ہے _________ اور یہی معنی ہیں حضور صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References
مجمع الزوائد بحوالہ البزار کتاب علامات النبوۃ باب فی کرامۃ اصلہ دارالکتاب بیروت ∞۸/ ۲۱۶€
مجمع الزوائد بحوالہ البزار کتاب علامات النبوۃ باب فی کرامۃ اصلہ دارالکتاب بیروت ∞۸/ ۲۱۶€
مجمع الزوائد بحوالہ البزار کتاب علامات النبوۃ باب فی کرامۃ اصلہ دارالکتاب بیروت ∞۸/ ۲۱۶€
لااعنی عنکم من اﷲ شیئا ای بمجرد نفسی من غیر ما یکر منی بہ اﷲ تعالی من نحو شفاعۃ اومغفرۃ وخاطبھم بذلك رعایۃ لمقام التخویف والحث علی العمل والحرص علی ان یکونوا اولی الناس حظا فی تقوی اﷲ تعالی وخشیتہ ثم اوما الی حق رحمہ اشارۃ الی ادخال نوع طمانیۃ علیھم وقیل ھذا قبل علمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بان الانتساب الیہ ینفع و بانہ یشفع فی ادخال قوم الجنۃ بغیر حساب ورفع درجات اخرین واخراج قوم من النار ۔ علیہ وسلم کے اس قول کے کہ میں اﷲ کے نزدیك تمھیں کسی کام نہ آؤں گا یعنی بطور خودماسوائے اس کے جس کی اﷲ تعالی مجھے کرامت بخشے گا جیسے شفاعت یا مغفرتاور ان سے خطاب فرمایا اس کے ساتھ(تمھیں نفع نہ دوں گا)مقام تخویف کی رعایت کرتے ہوئے اور عمل پر ابھارنے اور اس بات پر حرص دلانے کے لئے کہ وہ اﷲ تعالی سے ڈرنے اور اس کی خشیت میں لوگوں میں بہتر نصیبے والے ہوںپھر اشارہ فرمایا اپنے حق تعلق کی جانباشارہ فرمایا اس قول تك کہ فرمایا انھیں اطمینان دلادیا اور کہا گیا کہ یہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس بات کے جاننے سے پہلے کی بات ہے کہ آپ کی طرف انتساب نفع دیتاہے اور اس بات کے جاننے سے پہلے کہ وہ امت کو جنت میں بغیر حساب داخل کرے گا۔اوردرجوں پر درجہ بلند کرنے اور امت کو دوزخ سے نکالنے میں شفیع ہوں گے۔(ت)
اسی میں بعض احادیث نفع نسب کریم ذکرکرکے فرماتے ہیں:
ولا ینافی ھذہ الاحادیث ما فی الصحیحین وغیرھما انہ لما انزل قولہ تعالی وانذر عشیرتك الاقربین فجمع قومہ ثم عم وخص بقولہ لااغنی عنکم من اﷲ شیئا حتی قال یافاطمۃ بنت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھا وسلم الخ اما لان اور یہ احادیث منافی نہیں ہے ان احادیث کے جو صحیحین وغیرہ میں ہیں کہ جب اﷲ تعالی کافرمان وانذر عشیرتك الاقربین نازل ہوا تو آپ نے اپنی قوم کو جمع فرمایا پھر اپنے قول لااغنی عنکم من اﷲ شیئا کو عام وخاص دونوں طریقے سے بیان فرمایا کہ اے فاطمہ بنت محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھا وسلم) یا تو اس لئے کہ
اسی میں بعض احادیث نفع نسب کریم ذکرکرکے فرماتے ہیں:
ولا ینافی ھذہ الاحادیث ما فی الصحیحین وغیرھما انہ لما انزل قولہ تعالی وانذر عشیرتك الاقربین فجمع قومہ ثم عم وخص بقولہ لااغنی عنکم من اﷲ شیئا حتی قال یافاطمۃ بنت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھا وسلم الخ اما لان اور یہ احادیث منافی نہیں ہے ان احادیث کے جو صحیحین وغیرہ میں ہیں کہ جب اﷲ تعالی کافرمان وانذر عشیرتك الاقربین نازل ہوا تو آپ نے اپنی قوم کو جمع فرمایا پھر اپنے قول لااغنی عنکم من اﷲ شیئا کو عام وخاص دونوں طریقے سے بیان فرمایا کہ اے فاطمہ بنت محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھا وسلم) یا تو اس لئے کہ
حوالہ / References
الصواعق المحرقہ الباب الحادی عشر الفصل الاول ∞مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۱۵۸€
ھذہ الروایۃ محمولۃ علی من مات کافرا اوانھا اخرجت مخرج التغلیظ والتنفیر اوانھا قبل علمہ بانہ یشفع عموما وخصوصا ۔ یہ روایت محمول ہے اس شخص پر جو کافر مرا یا یہ کہ روایت تغلیظ وتنفیر کے طور پر بیان ہوئی یا یہ کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس بات کے علم سے پہلے کی بات ہے کہ وہ شفاعت عامہ وخاصہ فرمائیں گے(م)
علامہ مناوی تیسیر میں زیر حدیث"کل سبب ونسب"فرماتے ہیں:
لایعارضہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاھل بیتہ لا اغنی عنکم من اﷲ شیئا لان معناہ انہ لایملك لھم نفعالکن اﷲ یملکہ نفعھم بالشفاعۃ فھو لایمبلکہ الا ماملکہ ربہ ۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اپنے اہلبیت سے لااغنی عنکم فرمانا اس حدیث کے معارض نہیں اس لئے کہ معنی یہ ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے نفع کے مالك نہیں لیکن اﷲ تعالی شفاعت کے ذریعہ ان کے نفع کامالك بنائیگا پس وہ نہیں ہیں مالك مگر اس کے جس کا ان کو ان کے رب نے مالك بنایا۔
حضرت شیخ محقق قدس سرہ اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
غایت وانذارومبالغہ درآنست ولافضل بعضے ازیں مذکورین ودرآمد ایشاں بہشت را شفاعت آں سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مرعصاۃ امت را چہ جائے اقربائے خویشاں وے باحادیث صحیحہ ثابت شدہ است وباوجود آں خوف لاابالی باقیست وایں مقام تقاضائے ایں حال گردو تواند کہ احادیث فضل وشفاعت بعد ازاں ودرودیافتہ باشند وبالجملہ مامور شداز جانب پروردگار تعالی بانذار اس میں غایت اور انذار اور مبالغہ ہے اور ان مذکور حضرات کی دیگر بعض سے فضلیت نہیں اور آنا ان کا بہشت میں اور سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ہم گنہ گار امت کی شفاعت کرنا چہ جائے کہ اپنے اقرباء کی احادیث صحیحہ سے ثابت ہوئی ہے اور باوجود خوف لاابالی باقی ہے اوریہ مقام اس حال کا متقاضی ہے اور معلوم ہوناچاہئے کہ فضیلت وشفاعت والی احادیث اس کے بعد وارد ہوئی ہیںخلاصہ یہ کہ اﷲ تعالی کی طرف
علامہ مناوی تیسیر میں زیر حدیث"کل سبب ونسب"فرماتے ہیں:
لایعارضہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاھل بیتہ لا اغنی عنکم من اﷲ شیئا لان معناہ انہ لایملك لھم نفعالکن اﷲ یملکہ نفعھم بالشفاعۃ فھو لایمبلکہ الا ماملکہ ربہ ۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اپنے اہلبیت سے لااغنی عنکم فرمانا اس حدیث کے معارض نہیں اس لئے کہ معنی یہ ہیں کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے نفع کے مالك نہیں لیکن اﷲ تعالی شفاعت کے ذریعہ ان کے نفع کامالك بنائیگا پس وہ نہیں ہیں مالك مگر اس کے جس کا ان کو ان کے رب نے مالك بنایا۔
حضرت شیخ محقق قدس سرہ اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
غایت وانذارومبالغہ درآنست ولافضل بعضے ازیں مذکورین ودرآمد ایشاں بہشت را شفاعت آں سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مرعصاۃ امت را چہ جائے اقربائے خویشاں وے باحادیث صحیحہ ثابت شدہ است وباوجود آں خوف لاابالی باقیست وایں مقام تقاضائے ایں حال گردو تواند کہ احادیث فضل وشفاعت بعد ازاں ودرودیافتہ باشند وبالجملہ مامور شداز جانب پروردگار تعالی بانذار اس میں غایت اور انذار اور مبالغہ ہے اور ان مذکور حضرات کی دیگر بعض سے فضلیت نہیں اور آنا ان کا بہشت میں اور سرکار دو عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ہم گنہ گار امت کی شفاعت کرنا چہ جائے کہ اپنے اقرباء کی احادیث صحیحہ سے ثابت ہوئی ہے اور باوجود خوف لاابالی باقی ہے اوریہ مقام اس حال کا متقاضی ہے اور معلوم ہوناچاہئے کہ فضیلت وشفاعت والی احادیث اس کے بعد وارد ہوئی ہیںخلاصہ یہ کہ اﷲ تعالی کی طرف
حوالہ / References
الصواعق المحرقۃ باب الحث علی جسم والقیام لواجب حقہم ∞مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۲۳۰€
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث کل سبب ونسب الخ مکتبہ الامام الشافعی ∞ریاض ۲/ ۳۱۳€
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث کل سبب ونسب الخ مکتبہ الامام الشافعی ∞ریاض ۲/ ۳۱۳€
پس امتثال کرد ایں امرار ۔ سے آپ اس انداز کو بیان کرنے پر مامور تھے۔پس آپ نے اس امر کو واضح طور پر پورا کیا۔
تفاضل انساب
بالجملہ تفاضل انساب بھی یقینا ثابتاور شرعا اس کا اعتبار بھی ثابتاور انساب کریمہ کا آخرت میں نفع دینا بھی جزما ثابتا ور نسب کو مطلقا محض بے قدر وضائع وبرباد جاننا سخت مردود وباطل۔خصوصا اس نظر سے کہ اس کا عموم عرب بلکہ قریش بلکہ بنی ہاشمبلکہ سادات کرام کو بھی شاملاب یہ قول اشد غضب وہلاك دیوار سے ہائل اور اسی پر نظر فقیر غفرلہ القدیر کو اس قدر تطویل پر حامل کہ نسب عرب نہ کہ قریش نہ کہ ہاشمنہ کہ سادات کرام کی حمایت ہر مسلمان پر فرض کامل۔
تعظیم نہ کرنے والے پر لعنت اور وعید
حدیث ۱۳۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من لم یعرف عترتی والانصار والعرب فھو لا حدی ثلث اما منافق واما لزنیۃ و اما لغیر فھو حملتہ وامہ علی غیر طھر رواہ الباوردی وابن عدی والبیھقی فی الشعب واخرون عن علی کرم اﷲ وجہہ۔ جومیری عترت اور انصار اور عرب کا حق نہ پہچانے وہ تین حال سے خالی نہیںیا تو منافق ہے یاحرامی یا حیضی بچہ۔اسے روایت کیا ہے باوردی اور ابن عدی اور بیہقی نے شعب میں اور ان کے علاوہ دوسروں نے علی کرم اﷲ وجہہ سے۔
حدیث ۱۳۱ تا ۱۳۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ستۃ لعنتھم لعنھم اﷲ ولکل نبی مجاب الزائد فی کتاب اﷲ والمکذب بقدر اﷲ والمتسلط بالجبروت لیعزبذلك من اذل اﷲ و چھ شخص ہیں جن پر میں نے لعنت کی اﷲ انھیں لعنت فرمائے اور ہر نبی کی دعا قبول ہے۔کتاب اﷲ میں بڑھانے والا(جیسے رافضی کچھ آیتیں سورتیں جدا بتاتے ہیں)اور تقدیر الہی کا
تفاضل انساب
بالجملہ تفاضل انساب بھی یقینا ثابتاور شرعا اس کا اعتبار بھی ثابتاور انساب کریمہ کا آخرت میں نفع دینا بھی جزما ثابتا ور نسب کو مطلقا محض بے قدر وضائع وبرباد جاننا سخت مردود وباطل۔خصوصا اس نظر سے کہ اس کا عموم عرب بلکہ قریش بلکہ بنی ہاشمبلکہ سادات کرام کو بھی شاملاب یہ قول اشد غضب وہلاك دیوار سے ہائل اور اسی پر نظر فقیر غفرلہ القدیر کو اس قدر تطویل پر حامل کہ نسب عرب نہ کہ قریش نہ کہ ہاشمنہ کہ سادات کرام کی حمایت ہر مسلمان پر فرض کامل۔
تعظیم نہ کرنے والے پر لعنت اور وعید
حدیث ۱۳۰:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من لم یعرف عترتی والانصار والعرب فھو لا حدی ثلث اما منافق واما لزنیۃ و اما لغیر فھو حملتہ وامہ علی غیر طھر رواہ الباوردی وابن عدی والبیھقی فی الشعب واخرون عن علی کرم اﷲ وجہہ۔ جومیری عترت اور انصار اور عرب کا حق نہ پہچانے وہ تین حال سے خالی نہیںیا تو منافق ہے یاحرامی یا حیضی بچہ۔اسے روایت کیا ہے باوردی اور ابن عدی اور بیہقی نے شعب میں اور ان کے علاوہ دوسروں نے علی کرم اﷲ وجہہ سے۔
حدیث ۱۳۱ تا ۱۳۳:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ستۃ لعنتھم لعنھم اﷲ ولکل نبی مجاب الزائد فی کتاب اﷲ والمکذب بقدر اﷲ والمتسلط بالجبروت لیعزبذلك من اذل اﷲ و چھ شخص ہیں جن پر میں نے لعنت کی اﷲ انھیں لعنت فرمائے اور ہر نبی کی دعا قبول ہے۔کتاب اﷲ میں بڑھانے والا(جیسے رافضی کچھ آیتیں سورتیں جدا بتاتے ہیں)اور تقدیر الہی کا
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتا ب الرقاق باب در لواحق ومتممات الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/ ۲۷€۲
الفردوس بما ثور الخطاب ∞حدیث ۵۹۵۵€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳/ ۶۲۶€
الفردوس بما ثور الخطاب ∞حدیث ۵۹۵۵€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳/ ۶۲۶€
یذل من اعزاﷲ والمستحل لحرم اﷲ والمستحل من عترتی ماحرم اﷲ و التارك سنتی رواہ الترمذی و الحاکم عن ام المومنین والحاکم عن علی و الطبرانی عن عمرو بن سعواء رضی اﷲ تعالی عنہم اولہ سبعۃ لعنتھم وزاد المستأثر بالفئ وسندہ حسن ۔ جھٹلانے والااوروہ جو ظلم کے ساتھ تسلط کرے کہ جسے خدا نے ذلیل بنایا اسے عزت دے۔اور جسے خدا نے معزز کیا اسے ذلیل کرے۔اور اﷲ تعالی کے حرام کردہ کو حلال جاننے والا اور میری عترت کی ایذاء وبے تعظیمی روارکھنے والااور جو میری سنت کو براٹھہرا کر چھوڑےاسے روایت کیا ہے ترمذی اور حاکم نے ام المومنین سے اور حاکم نے علی سے اور طبرانی نے عمرو بن سعواء رضی اﷲ تعالی عنہم سے جس کا آغاز یوں ہے سبعۃ لعنتہم اس میں والمستأثر بالفئ کا اضافہ ہے اور اس کی سند حسن ہے۔(ت)
حدیث ۱۳۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من احب ان یبارك لہ فی اجلہ و ان یمتعہ اﷲ بما خولہ فلیخلفنی فی اھلی خلافۃ حسنۃومن لم یخلفنی فیھم بتك امرہ و ورد علی یوم القیمۃ مسودا وجھہ۔رواہ ابوالشیخ فی تفسیرہ وابونعیم عن عبداﷲ بن بدرالخطمی۔ جسے پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت ہو خدا اسے اپنی دی ہوئی نعمت سے بہرہ مند کرے تو اسے لازم ہے کہ میرے بعد میرے اہل بیت سے اچھا سلوك کرے۔جو ایسا نہ کرے اس کی عمر کی برکت اڑجائے اور قیامت میں میرےسامنے کالامنہ لے کر آئے۔اس کو روایت کیا ابوالشیخ نے اپنی تفسیر میں اور ابونعیم نے عبداﷲ بن بدرخطمی سے۔
حدیث ۱۳۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ عزوجل ثلث حرمات فمن حفظھن حفظہ اﷲ دینہ ودنیاہ بے شك اﷲ عزوجل کی تین حرمتیں ہیں۔جو ان کی حفاظت کرے اﷲ تعالی اس کے دین و دنیا
حدیث ۱۳۴:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من احب ان یبارك لہ فی اجلہ و ان یمتعہ اﷲ بما خولہ فلیخلفنی فی اھلی خلافۃ حسنۃومن لم یخلفنی فیھم بتك امرہ و ورد علی یوم القیمۃ مسودا وجھہ۔رواہ ابوالشیخ فی تفسیرہ وابونعیم عن عبداﷲ بن بدرالخطمی۔ جسے پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت ہو خدا اسے اپنی دی ہوئی نعمت سے بہرہ مند کرے تو اسے لازم ہے کہ میرے بعد میرے اہل بیت سے اچھا سلوك کرے۔جو ایسا نہ کرے اس کی عمر کی برکت اڑجائے اور قیامت میں میرےسامنے کالامنہ لے کر آئے۔اس کو روایت کیا ابوالشیخ نے اپنی تفسیر میں اور ابونعیم نے عبداﷲ بن بدرخطمی سے۔
حدیث ۱۳۵:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ عزوجل ثلث حرمات فمن حفظھن حفظہ اﷲ دینہ ودنیاہ بے شك اﷲ عزوجل کی تین حرمتیں ہیں۔جو ان کی حفاظت کرے اﷲ تعالی اس کے دین و دنیا
حوالہ / References
سنن الترمذی کتاب القدر ∞باب ۱۷ حدیث ۲۱۶۱€ دارالفکر بیروت ∞۴/ ۶۱،€المستدرك للحاکم کتاب الایمان ∞۱/ ۳۶€ وکتا ب التفسیر ∞۲/ ۵۲۵€ و کتاب الاحکام ∞۴/ ۹۰€
المعجم الکبیر حدیث ۸۹ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۷/ ۴۳€
کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ وابی نعیم ∞حدیث ۳۴۱۷۱€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۹۹€
المعجم الکبیر حدیث ۸۹ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۷/ ۴۳€
کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ وابی نعیم ∞حدیث ۳۴۱۷۱€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۹۹€
ومن لم یحفظھن لم یحفظ اﷲ دینہ ولا دنیاہ حرمۃ الاسلام وحرمتی وحرمۃ رحمی۔رواہ ابوالشیخ و ابن حبان والطبرانی۔ محفوظ رکھےاور جو ان کی حفاظت نہ کرے اﷲ اس کے دین کی حفاظت فرمائے نہ دنیا کی ایك اسلام کی حرمتدوسری میری حرمتتیسری میری قرابت کی حرمتاسے روایت کیا ہے ابوالشیخ ابن حبان اور طبرانی نے۔
نسب پر فخر کرنا جائز نہیں
o ہاں نسب پر فخر جائز نہیں۔
o نسب کے سبب اپنے آپ کو بڑا جانناتکبر کرنا جائز نہیں۔
o دوسروں کے نسب پر طعن جائز نہیں۔
o انھیں کم نسبی کے سبب حقیر جاننا جائز نہیں۔
o نسب کو کسی کے حق میں عار یا گالی سمجھنا جائز نہیں۔
o اس کے سبب کسی مسلمان کا دل دکھانا جائز نہیں۔
احادیث جو اس باب میں آئیں انھیں معانی کی طرف ناظر ہیں وباﷲ التوفیق خدمت گاری اہلبیت مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے یہ بیان ایك رسالہ ہوگیا لہذا بلحاظ تاریخ اس کا نام اراء ۃ الادب لفاضل النسب رکھناانسبواﷲ تعالی اعلم۔
شیخ بنظر عمر ہر بوڑھا ہے اور بنظر فضل ہر عالم وصالح اگر چہ جوان ہو اوربنظر نسب ہندوستان میں دو محاورے ہیں ایك یہ کہ سید مغل پٹھان کے سوا باقی ہر قوم کا مسلمان شیخ ہے یوں اس کا اطلاق عام ہے جیسے ابتداء ہند میں ہر مسلمان کو ترك کہتے تھےاسی محاورے پر مولانا قدس سرہ فرماتے ہیں:
گفت من آئینہ ام مصقول دوست ترك وہند ودرمن آں بیند کہ اوست
(اس نے کہا اے دوست ! میں صاف شیشہ ہوں کہ ترك اورہندوستان کے لوگ مجھ میں اسے دیکھتے ہیں۔ت)
نسب پر فخر کرنا جائز نہیں
o ہاں نسب پر فخر جائز نہیں۔
o نسب کے سبب اپنے آپ کو بڑا جانناتکبر کرنا جائز نہیں۔
o دوسروں کے نسب پر طعن جائز نہیں۔
o انھیں کم نسبی کے سبب حقیر جاننا جائز نہیں۔
o نسب کو کسی کے حق میں عار یا گالی سمجھنا جائز نہیں۔
o اس کے سبب کسی مسلمان کا دل دکھانا جائز نہیں۔
احادیث جو اس باب میں آئیں انھیں معانی کی طرف ناظر ہیں وباﷲ التوفیق خدمت گاری اہلبیت مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے یہ بیان ایك رسالہ ہوگیا لہذا بلحاظ تاریخ اس کا نام اراء ۃ الادب لفاضل النسب رکھناانسبواﷲ تعالی اعلم۔
شیخ بنظر عمر ہر بوڑھا ہے اور بنظر فضل ہر عالم وصالح اگر چہ جوان ہو اوربنظر نسب ہندوستان میں دو محاورے ہیں ایك یہ کہ سید مغل پٹھان کے سوا باقی ہر قوم کا مسلمان شیخ ہے یوں اس کا اطلاق عام ہے جیسے ابتداء ہند میں ہر مسلمان کو ترك کہتے تھےاسی محاورے پر مولانا قدس سرہ فرماتے ہیں:
گفت من آئینہ ام مصقول دوست ترك وہند ودرمن آں بیند کہ اوست
(اس نے کہا اے دوست ! میں صاف شیشہ ہوں کہ ترك اورہندوستان کے لوگ مجھ میں اسے دیکھتے ہیں۔ت)
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ طب وابی نعیم عن ابی سعید ∞حدیث ۳۰۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱/ ۷۷،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۲۸۸۱ ۳/ ۱۲۶€ و المعجم الاوسط ∞حدیث ۲۰۵ ۱/ ۱۶۲€
∞ مثنوی معنوی دربیان آنکہ جنیدن ہر کسے از آنجاست کہ ویست ہر کسے نورانی کتب خانہ پشاور دفتر اول ۶€۲
∞ مثنوی معنوی دربیان آنکہ جنیدن ہر کسے از آنجاست کہ ویست ہر کسے نورانی کتب خانہ پشاور دفتر اول ۶€۲
دوسرے چارشریف قوموں سے ایك اس طرح البتہ جو ان میں کانہ ہو اور اپنے آپ کو شیخ بتائے وہ وعید شدید:
من ادعی الی غیرا بیہ فالجنۃ علیہ حرامرواہ احمد والبخاری و مسلم وابوداؤد وابن ماجۃ عن سعد و عن ابی بکرۃ معا رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جوا پنے باپ کے سوا دوسرے کو اپنا باپ بنائے اس پر جنت حرام ہے اس کو روایت کیا ہے احمد اور بخاری اور مسلم اور ابوداؤد اور ابن ماجہ نے سعد سے اور ابی بکرہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے معا میں داخل ہے________
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من ادعی الی غیر ابیہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ یوم القیمۃ صرفا ولا عدلا۔ رواہ الستۃ الا ابن ماجۃ عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ وصدرہ احمد وابن ماجۃ وابن حبان عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔واﷲ تعالی اعلم۔ جو دوسروں کو اپنا باپ بنائے اس پر اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت۔اﷲ تعالی روز قیامت نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل اس کو ابن ماجہ کے علاوہ صحاح ستہ نے روایت کیا علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سےاور اس کا ابتدائی حصہ امام احمدابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
کتبہ عبدہ المذنب عبدالمصطفی احمد رضا عفی عنہ بمحمدن المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
____________________________
رسالہ اراءۃ الادب لفاضل النسب ختم ہوا
من ادعی الی غیرا بیہ فالجنۃ علیہ حرامرواہ احمد والبخاری و مسلم وابوداؤد وابن ماجۃ عن سعد و عن ابی بکرۃ معا رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جوا پنے باپ کے سوا دوسرے کو اپنا باپ بنائے اس پر جنت حرام ہے اس کو روایت کیا ہے احمد اور بخاری اور مسلم اور ابوداؤد اور ابن ماجہ نے سعد سے اور ابی بکرہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے معا میں داخل ہے________
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من ادعی الی غیر ابیہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ یوم القیمۃ صرفا ولا عدلا۔ رواہ الستۃ الا ابن ماجۃ عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ وصدرہ احمد وابن ماجۃ وابن حبان عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔واﷲ تعالی اعلم۔ جو دوسروں کو اپنا باپ بنائے اس پر اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت۔اﷲ تعالی روز قیامت نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل اس کو ابن ماجہ کے علاوہ صحاح ستہ نے روایت کیا علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سےاور اس کا ابتدائی حصہ امام احمدابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
کتبہ عبدہ المذنب عبدالمصطفی احمد رضا عفی عنہ بمحمدن المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
____________________________
رسالہ اراءۃ الادب لفاضل النسب ختم ہوا
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب المغازی ∞۲/ ۶۱۹€ وکتاب الفرائض باب من ادعی الی غیر ابیہ ∞۲/ ۱۰۰۱،€صحیح مسلم کتاب الایمان باب حال من رغب عن ابیہ وھو یعلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷،€سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الرجل ینتمی الی غیر موالیہ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۴۱،€سنن ابن ماجہ کتاب الحدود ص∞۱۹۱€ ومسند احمد بن حنبل عن سعد بن ابی وقاص ∞۱/ ۱۶۹،۱۷۴،۱۷۹€
صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ ∞۱/ ۴۴۲€ وکتا ب الفسق باب تحریم تولی العقیق غیرموالیہ ∞۱/ ۴۹۵،€سنن ابن ماجہ کتاب الحدود باب من ادعی الی غیر ابیہ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۱،€مسند احمد ابن حنبل عبداﷲ بن عباس المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۳۲۸€
صحیح مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ ∞۱/ ۴۴۲€ وکتا ب الفسق باب تحریم تولی العقیق غیرموالیہ ∞۱/ ۴۹۵،€سنن ابن ماجہ کتاب الحدود باب من ادعی الی غیر ابیہ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۱،€مسند احمد ابن حنبل عبداﷲ بن عباس المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۳۲۸€
رسم ورواج
ریاء وتفاخر وبدعت واسراف وغیرہ
مسئلہ ۶۷: از اوجین مکان میر خادم علی اسسٹنٹ مرسلہ محمد یعقوب علی خاں ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۰۹ھ
چہ می فرمایند علمائے اکمل الکاملین شریعت و مفتیان افضل الفضلاء طریقت دریں مسئلہ کہ درماہ رمضان المبارك کہ شب بست وہفتم مساجدرابقنادیل وبہ تقریب جلسہ مولد شریف مکان رامنقش وآلات بلادتصویر وفانوس وغیرہ منور سازند سوائے مال وقف وبراعراس خانقاہ بزرگان دین ومزار نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بروشنی روشن نمایند درست ست یا حرامبیان فرمایند بسند عبارت کتب رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین۔ کیا فرماتے ہیں علماء کاملین علماء شریعت اور فاضلین مفتیان طریقت اس مسئلہ میں کہ لوگوں کا ستائیسویں شب رمضان کے موقع پر مساجد کو آراستہ کرنا روشنیوں کا خصوصی اہتمام کرنا میلاد شریف کی تقریبات کے لئے مکانات کو سجانا فانوس اور پھول وغیرہ لگانابزرگان دین کے سالانہ عرسوں میں خانقاہوں پر اور آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مزار پر انوار پر اس قسم کا بندوبست کرنا سوائے مال وقف کے درست ہے یا حرام بحوالہ کتب مدلل جواب مرحمت فرمایا جائے اﷲ تعالی سب پر رحمت فرمائے۔(ت)
ریاء وتفاخر وبدعت واسراف وغیرہ
مسئلہ ۶۷: از اوجین مکان میر خادم علی اسسٹنٹ مرسلہ محمد یعقوب علی خاں ۲۷ ربیع الاول شریف ۱۳۰۹ھ
چہ می فرمایند علمائے اکمل الکاملین شریعت و مفتیان افضل الفضلاء طریقت دریں مسئلہ کہ درماہ رمضان المبارك کہ شب بست وہفتم مساجدرابقنادیل وبہ تقریب جلسہ مولد شریف مکان رامنقش وآلات بلادتصویر وفانوس وغیرہ منور سازند سوائے مال وقف وبراعراس خانقاہ بزرگان دین ومزار نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بروشنی روشن نمایند درست ست یا حرامبیان فرمایند بسند عبارت کتب رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین۔ کیا فرماتے ہیں علماء کاملین علماء شریعت اور فاضلین مفتیان طریقت اس مسئلہ میں کہ لوگوں کا ستائیسویں شب رمضان کے موقع پر مساجد کو آراستہ کرنا روشنیوں کا خصوصی اہتمام کرنا میلاد شریف کی تقریبات کے لئے مکانات کو سجانا فانوس اور پھول وغیرہ لگانابزرگان دین کے سالانہ عرسوں میں خانقاہوں پر اور آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مزار پر انوار پر اس قسم کا بندوبست کرنا سوائے مال وقف کے درست ہے یا حرام بحوالہ کتب مدلل جواب مرحمت فرمایا جائے اﷲ تعالی سب پر رحمت فرمائے۔(ت)
تزئین مذکورشرعا جائز ست قال تعالی
" قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ " ہمچناں روشنی بقدر حاجت و مصلحت نیز وحاجت باختلاف ضیق وسعت مکان وقلت وکثرت مردمان ووحدت و تعدد منازل وغیر ذلك مختلف گردددر منزلے تنگ ومجمع قلیل دوسہ چراغ باہمیں یکے بسند ست ودردار وسیع ومجمع کثیر و منازل عدیدہ حاجت تابدہ وبست و بیشتر می رسد امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ بماہ رمضان شب بمسجد درآمد چراغاں دید کہ مسجد درخشاں نورافشاں شدہ است امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ رابہ دعایاد کردوگفت نورت مساجدنا نور اﷲ قبرك یابن الخطاب ای بن خطاب مساجد مارا نور آگیں کردی خدائے گورت پر نور کند ومسئلہ شمعہ در مقابرومزارات افر و ختن را فقیر در رسالہ مستقلہ مسمی بہ طوالح النور فی حکم السرج علی القبور ہرچہ مذکورہ زیب وزینت شرعا جائز ہے۔اﷲ تعالی کا ارشاد ہے فرمادیجئے کہ اس زینت وزیبائش کو کس نے حرام ٹھہرادیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے ظاہر فرمائی ہے۔اسی طرح ضرورت اور مصلحت کے مطابق روشنی کا انتظام کرنا بھی جائز ہے(مختلف حالات کے لحاظ سے ضرورت بدلتی رہتی ہے) مثلا مکان کی تنگی اور کشادگی۔لوگوں کی قلت وکثرتمنازل کی وحدت وتعدد وغیرہ ان صورتوں میں ضرورت اور حاجت میں تبدیل آجاتی ہے۔تنگ منزل اور تھوڑے مجمع میں دو تین چراغ بلکہ ایك بھی کافی ہوتاہے۔کشادہ اور بڑے گھر زیادہ لوگوں اور متعدد منزلوں کے لئے دس بیس بلکہ ان سے بھی زیادہ کی ضرورت پڑتی ہےامیر المومنین سیدنا حضرت علی کرم اﷲ وجہہ رمضان شریف میں رات کے وقت مسجد نبوی میں تشریف لائے تو مسجد کو چراغوں سے منور اور جگمگاتے ہوئے دیکھا کہ ہر سمت روشنی پھیل رہی تھی آپ نے امیر المومنین سیدناحضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کو بذریعہ دعا یاد فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اے فرزند خطاب! تم نے ہماری مساجد کو منور وروشن کیا اﷲ تعالی تمھاری قبر کو منور
" قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ " ہمچناں روشنی بقدر حاجت و مصلحت نیز وحاجت باختلاف ضیق وسعت مکان وقلت وکثرت مردمان ووحدت و تعدد منازل وغیر ذلك مختلف گردددر منزلے تنگ ومجمع قلیل دوسہ چراغ باہمیں یکے بسند ست ودردار وسیع ومجمع کثیر و منازل عدیدہ حاجت تابدہ وبست و بیشتر می رسد امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ بماہ رمضان شب بمسجد درآمد چراغاں دید کہ مسجد درخشاں نورافشاں شدہ است امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ رابہ دعایاد کردوگفت نورت مساجدنا نور اﷲ قبرك یابن الخطاب ای بن خطاب مساجد مارا نور آگیں کردی خدائے گورت پر نور کند ومسئلہ شمعہ در مقابرومزارات افر و ختن را فقیر در رسالہ مستقلہ مسمی بہ طوالح النور فی حکم السرج علی القبور ہرچہ مذکورہ زیب وزینت شرعا جائز ہے۔اﷲ تعالی کا ارشاد ہے فرمادیجئے کہ اس زینت وزیبائش کو کس نے حرام ٹھہرادیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے ظاہر فرمائی ہے۔اسی طرح ضرورت اور مصلحت کے مطابق روشنی کا انتظام کرنا بھی جائز ہے(مختلف حالات کے لحاظ سے ضرورت بدلتی رہتی ہے) مثلا مکان کی تنگی اور کشادگی۔لوگوں کی قلت وکثرتمنازل کی وحدت وتعدد وغیرہ ان صورتوں میں ضرورت اور حاجت میں تبدیل آجاتی ہے۔تنگ منزل اور تھوڑے مجمع میں دو تین چراغ بلکہ ایك بھی کافی ہوتاہے۔کشادہ اور بڑے گھر زیادہ لوگوں اور متعدد منزلوں کے لئے دس بیس بلکہ ان سے بھی زیادہ کی ضرورت پڑتی ہےامیر المومنین سیدنا حضرت علی کرم اﷲ وجہہ رمضان شریف میں رات کے وقت مسجد نبوی میں تشریف لائے تو مسجد کو چراغوں سے منور اور جگمگاتے ہوئے دیکھا کہ ہر سمت روشنی پھیل رہی تھی آپ نے امیر المومنین سیدناحضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کو بذریعہ دعا یاد فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اے فرزند خطاب! تم نے ہماری مساجد کو منور وروشن کیا اﷲ تعالی تمھاری قبر کو منور
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۷/ ۳۲€
تاریخ الخلفاء فصل فی اولیات عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ص۹۷€
تاریخ الخلفاء فصل فی اولیات عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ص۹۷€
تمامتر روشن وپرنور کردہ ام ونیز آنجاتحقیق نمودہ کہ حدیث والمتخذین علیھا السرج کہ مخالفان دریں باب بادچنگ زنند بقطع نظرا ز انکہ درسند اوباذام ضعیف درایۃ نیز مخالف راغیر نافع ست آرے روشنی لغووفضول راچنانکہ بعضے مراد مان شب ختم قرآن یا در بعض اعراس بزرگان کنند کہ صدہا چراغ بترتیب عجیب ووضع غریب زیر وبالا برابر نہند درکتب فقہیہ ہمچو غمزالعیون وغیرہ بنظر اسراف منع فرمودہ اند وشك نیست کہ جائیکہ اسراف صادق ست اجتناب قطعا لازم ولائق است۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ فرمائےقبرستان اور مزارات پر شمع جلانے کے مسئلہ کو فقیر نے اپنے مالك مستقل رسالہ میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے رسالے کا نام ہے طوالع النور فی حکم السرج علی القبور(نور کے نورانی مطالع قبروں پر چراغاں کرنے کے حکم کے بیان میں۔ ت) میں نے اس میں یہ تحقیق بھی پیش کی ہے کہ حدیث میں قبروں پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی جانے والی روایت سے مخالفین جو استدلال اور سہارا لیتے ہیں اس کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔قطع نظر اس سے کہ اس حدیث کی سند میں باذام نامی راوی ضعیف ہے۔از روئے عقل بھی مخالفین کے لئے مفید نہیںالبتہ روشنی کا بے فائدہ اور فضول استعمال جیسا کہ بعض لوگ ختم قرآن والی رات یا بزرگوں کے عرسوں کے مواقع پر کرتے ہیں سیکڑوں چراغ عجیب وغریب وضع وترتیب کے ساتھ اوپر نیچے اور باہم برابر طریقوں سے رکھتے ہیں محل نظر ہے اور اسراف کے زمرے میں آتا ہے چنانچہ فقہائے کرام نے کتب فقہ مثلا غمز العیون وغیرہ میں اسراف(فضول خرچی)کی بنا پر ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔اس میں کوئی شك نہیں کہ جہاں اسراف صادق آئے گا وہاں پرہیز ضروری ہے۔اﷲ تعالی پاک۔برتر اور خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۶۸: از جالندھر محلہ راستہ پھگوڑہ دروازہ مرسلہ شیخ محمد شمس الدین صاحب ۲۲ رجب ۱۳۱۰ھ
بعض لوگ جناب پیران پیر کا پیوند دیتے ہیں کیفیت اس کی اس طرح ہے کہ جب لڑکا پیدا ہوتا ہے توا س کا نام پیوندی رکھتے ہیں اور جب سال کا ہوا اس کے گلے میں ہنسلی ڈال دیتے ہیں اور اس طرح دوسرے برس ۱۴ یا ۱۵ سال تك جب وہ لڑکا اس عمر تك پہنچادے وہ ہنسلیاں اور لڑکے
مسئلہ ۶۸: از جالندھر محلہ راستہ پھگوڑہ دروازہ مرسلہ شیخ محمد شمس الدین صاحب ۲۲ رجب ۱۳۱۰ھ
بعض لوگ جناب پیران پیر کا پیوند دیتے ہیں کیفیت اس کی اس طرح ہے کہ جب لڑکا پیدا ہوتا ہے توا س کا نام پیوندی رکھتے ہیں اور جب سال کا ہوا اس کے گلے میں ہنسلی ڈال دیتے ہیں اور اس طرح دوسرے برس ۱۴ یا ۱۵ سال تك جب وہ لڑکا اس عمر تك پہنچادے وہ ہنسلیاں اور لڑکے
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل عن ابن عباس دارالفکر بیروت ∞۱/ ۲۲۹،€جامع الترمذی باب کراھیۃ ان یتخذ علی القبر مسجدا ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۴۳€
کی قیمت کرواکے اس کا دسواں حصہ جناب پیران پیر کے نام سے دیتے ہیں اور اعتقاد یہ ہوتا ہے کہ ایسا کرنے سے لڑکا جیتا رہتا ہے اور ایسا ہی جانوروں اگر بیل ہے یا بھینسا ہے تو اسے ہل جوتنے کے وقت اور اگر مادہ ہے تو اس کے بیاہنے کے وقت قیمت کا دسواں حصہ دیتے ہیں اور نیز درختوں کو پیر صاحب کا کرکے اس کا جلانا اور دیگر استعمال میں لانا حرام سمجھتے ہیں حتی کہ وہ یودہا ہوکر گرپڑے اور پڑا پڑا یودہا ہوجائے اور کھیتوں سے بھی حصہ پیر صاحب کے نام دیتے ہیں جائز ہے یا نہیں اور ایسے شخص کے حق میں کیا حکم ہے اور نیز بودی یعنی چوٹی مثلا قوم ہنود بچوں کے سروں پر رکھتے ہیں اگر پوچھا جائے یہ کیا ہے تو پیر صاحب کی بودی بتلاتے ہیں اور ایسے ہی مدار پیر کی چٹا پھر مدت معہود کے بعد اسے پیر صاحب کی منت دے کر نہایت ادب کے ساتھ اپنی رسمیں پور ی کرکے منڈواتے ہیں اور جو شخص اس دسوندھی بچہ وغیرہ کی قیمت پاتاہے اس قیمت اور ہنسلیاں کے دسویں حصہ سے نیازلیتاہے آیا ایسے شخص کی امامت اور بیعت درست ہے یانہیں
الجواب:
(۱)دسوندی نام کفار ہنود سے ماخوذ ہے اور مسلمان کو ممانعت ہے کہ کافروں کے نام رکھے کما صرحوا بہ فی التسمی بیوحنا وغیرہ(جیسا کہ یوحنا نام رکھنے کے متعلق فقہاء نے تصریح فرمائی ہے۔ت)اور لڑکے کو ہنسلی وغیرہ زیور پہنانا حرام ہے فان ما حرم اخذہ حرم اعطاء ہ (کیونکہ جس چیز کا لینا حرام اس کا دینا بھی حرام ہے۔ت)اور لڑکے کے قیمت کرنی جہالت ہے اور یہ اعتقاد کہ ایسا کرنے سے لڑکا جیتا ہے اگر اس معنی پر سمجھے ہیں کہ یوں کرینگے تو جئے گا ورنہ مرجائے گا تو سخت جہل بے بہبود اعتقاد مردود ومشابہ خرافات ہنود وغیرہم کفار عنود ہے۔ہاں اگر ان بیہودہ باتوں کو چھوڑ کر صرف اس قدر کرتے کہ مولی عزوجل کے نام پر محتاجین کو صدقہ دیتے اور اس کا ثواب نذر روح پر فتوح حضور پر نور غوث الثقلین غیث الکونین صلی اﷲ تعالی علی جدہ الکریم وعلیہ وبارك وسلم کرتے اور نیت یہ ہوتی کہ رب تبارك و تعالی صدقے کے سبب بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور بوجہ ایصال ثواب سرکار غوثیت رضی اﷲ تعالی عنہ کے برکات رضا ودعا وتوجہ شامل حال ہوں گے اور ان پر محبوب کریم رضوان اﷲ تعالی علیہ کی بارگاہ میں عقیدت ونیاز مندی کے اظہار سے اﷲ سبحانہ وتعالی خوش ہوگا اور اس کی خوشی جالب رحمت وسالب زحمت ہوگی اور حیات نہ ہوگی مگر وقت معہود تك اور موت نہ رکے گی مگر اجل معلوم تك تویہ اعتقاد وعمل
الجواب:
(۱)دسوندی نام کفار ہنود سے ماخوذ ہے اور مسلمان کو ممانعت ہے کہ کافروں کے نام رکھے کما صرحوا بہ فی التسمی بیوحنا وغیرہ(جیسا کہ یوحنا نام رکھنے کے متعلق فقہاء نے تصریح فرمائی ہے۔ت)اور لڑکے کو ہنسلی وغیرہ زیور پہنانا حرام ہے فان ما حرم اخذہ حرم اعطاء ہ (کیونکہ جس چیز کا لینا حرام اس کا دینا بھی حرام ہے۔ت)اور لڑکے کے قیمت کرنی جہالت ہے اور یہ اعتقاد کہ ایسا کرنے سے لڑکا جیتا ہے اگر اس معنی پر سمجھے ہیں کہ یوں کرینگے تو جئے گا ورنہ مرجائے گا تو سخت جہل بے بہبود اعتقاد مردود ومشابہ خرافات ہنود وغیرہم کفار عنود ہے۔ہاں اگر ان بیہودہ باتوں کو چھوڑ کر صرف اس قدر کرتے کہ مولی عزوجل کے نام پر محتاجین کو صدقہ دیتے اور اس کا ثواب نذر روح پر فتوح حضور پر نور غوث الثقلین غیث الکونین صلی اﷲ تعالی علی جدہ الکریم وعلیہ وبارك وسلم کرتے اور نیت یہ ہوتی کہ رب تبارك و تعالی صدقے کے سبب بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور بوجہ ایصال ثواب سرکار غوثیت رضی اﷲ تعالی عنہ کے برکات رضا ودعا وتوجہ شامل حال ہوں گے اور ان پر محبوب کریم رضوان اﷲ تعالی علیہ کی بارگاہ میں عقیدت ونیاز مندی کے اظہار سے اﷲ سبحانہ وتعالی خوش ہوگا اور اس کی خوشی جالب رحمت وسالب زحمت ہوگی اور حیات نہ ہوگی مگر وقت معہود تك اور موت نہ رکے گی مگر اجل معلوم تك تویہ اعتقاد وعمل
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۸۹€
صحیح وبے خلل ہوتےواﷲ یہدی من یشاء الی صراط مستقیم(اﷲ تعالی جسے چاہتاہے سیدھا راستہ دکھاتاہے یعنی ہدایت نصیب فرماتاہے۔ت)
(۲)یوہیں جانوروں کی قیمت کا دسواں حصہ اگر ان خیالات باطلہ کے طور پر ہے تو مذموم اور صرف اس طریق صحیح پر ہو تو ایك تصدق ہے جس سے دفع بلا مقصود اور بیشك صدقہ رد بلاکرتا اور باذنہ تعالی موت سے بچاتا ہے اگر چہ قضائے الہی کاکوئی پھیرنے والا نہیں نطقت بذلك احادیث جمۃ تغنیك عن سرد ھا شھرتھا فی الامۃ(ان باتوں پر جملہ احادیث ناطق ہیں کہ جن کا امت میں مشہور ہونا ہی تمھیں ان کی تفصیل پیش کرنے کی ضرورت سے بے نیاز کردے گا۔ت)رہی ہل جوتنے اوربیاہنے کے وقت کی خصوصیت وہ اگر کسی اعتقاد عمل باطل کے ساتھ نہیں نہ اسے تخصیص شرعی وضروری سمجھا جائے تو لاینفع ولا یضر(نہ وہ مفید نہ مضر۔ت)کسائر التخصیصات العرفیہ التی لاحاجز علیہا من الشرع(باقی تخصیصات عرفیہ کی طرح کہ شریعت میں جن کی کوئی رکاوٹ نہیں۔ت)
(۳)درختوں کو رب خواہ عبد کسی کے نام کا ٹھہرا کر ان کا جلانا اور صرف میں لانا حرام سمجھنا اپنی طرف سے شریعت جدیدہ نکالنا اور بحیرہ وسائبہ مشرکین کی پیروی کرنا ہے جس پر رد وانکار شدید خود قرآن مجید میں موجود۔
وقال تعالی" و قالوا ہذہ انعم و حرث حجر ٭ لا یطعمہا الا من نشاء بزعمہم و انعم حرمت ظہورہا و انعم لا یذکرون اسم اللہ علیہا افتراء علیہ سیجزیہم بما کانوا یفترون ﴿۱۳۸﴾ " ۔ اﷲ تعالی کاارشاد ہے:اور مشرك اپنے خیال میں کہنے لگے یہ چوپائے اور کھیتی جن کی بندش کردی گئی ہے ان کو وہی کھائے گا یا کھاسکے گا جسے ہم چاہیں اﷲ تعالی کے اس ارشاد تک: عنقریب اﷲ تعالی انھیں سزا دے گا اس جھوٹ کی جو وہ بناتے رہتے ہیں۔(ت)
مسلمانوں پر ایسی بدعت شنیعہ باطلہ سے احتراز فرض ہے اﷲ تعالی سے ڈریں اور جلد توبہ کریں۔
(۴)کھیت میں سے حضور پر نور رضی اﷲ تعالی عنہ کے نام پاك پر حصہ دینا اگر یوں ہے کہ حضور کو اس حصہ کا مالك سمجھا جاتاہے یا اس دینے سے تصدق لوجہ اﷲ منظور نہیں بلکہ حضور کی طرف تقرب بالذات مقصود یا یہ سمجھتے ہیں کہ یوں نہ کریں گے تو حضور معاذاﷲ ناراض ہوکر مضرت دیں گے کوئی بلا پہنچے گی تو یہ سب اعتقاد باطلہ وفاسدہ وبدعات سیئہ ہیں اور اگر یوں نہیں بلکہ اﷲ عزوجل کے لئے تصدق منظورتو کھیتوں سے ایسا حصہ دینا خود قرآن عظیم میں مطلوب۔
(۲)یوہیں جانوروں کی قیمت کا دسواں حصہ اگر ان خیالات باطلہ کے طور پر ہے تو مذموم اور صرف اس طریق صحیح پر ہو تو ایك تصدق ہے جس سے دفع بلا مقصود اور بیشك صدقہ رد بلاکرتا اور باذنہ تعالی موت سے بچاتا ہے اگر چہ قضائے الہی کاکوئی پھیرنے والا نہیں نطقت بذلك احادیث جمۃ تغنیك عن سرد ھا شھرتھا فی الامۃ(ان باتوں پر جملہ احادیث ناطق ہیں کہ جن کا امت میں مشہور ہونا ہی تمھیں ان کی تفصیل پیش کرنے کی ضرورت سے بے نیاز کردے گا۔ت)رہی ہل جوتنے اوربیاہنے کے وقت کی خصوصیت وہ اگر کسی اعتقاد عمل باطل کے ساتھ نہیں نہ اسے تخصیص شرعی وضروری سمجھا جائے تو لاینفع ولا یضر(نہ وہ مفید نہ مضر۔ت)کسائر التخصیصات العرفیہ التی لاحاجز علیہا من الشرع(باقی تخصیصات عرفیہ کی طرح کہ شریعت میں جن کی کوئی رکاوٹ نہیں۔ت)
(۳)درختوں کو رب خواہ عبد کسی کے نام کا ٹھہرا کر ان کا جلانا اور صرف میں لانا حرام سمجھنا اپنی طرف سے شریعت جدیدہ نکالنا اور بحیرہ وسائبہ مشرکین کی پیروی کرنا ہے جس پر رد وانکار شدید خود قرآن مجید میں موجود۔
وقال تعالی" و قالوا ہذہ انعم و حرث حجر ٭ لا یطعمہا الا من نشاء بزعمہم و انعم حرمت ظہورہا و انعم لا یذکرون اسم اللہ علیہا افتراء علیہ سیجزیہم بما کانوا یفترون ﴿۱۳۸﴾ " ۔ اﷲ تعالی کاارشاد ہے:اور مشرك اپنے خیال میں کہنے لگے یہ چوپائے اور کھیتی جن کی بندش کردی گئی ہے ان کو وہی کھائے گا یا کھاسکے گا جسے ہم چاہیں اﷲ تعالی کے اس ارشاد تک: عنقریب اﷲ تعالی انھیں سزا دے گا اس جھوٹ کی جو وہ بناتے رہتے ہیں۔(ت)
مسلمانوں پر ایسی بدعت شنیعہ باطلہ سے احتراز فرض ہے اﷲ تعالی سے ڈریں اور جلد توبہ کریں۔
(۴)کھیت میں سے حضور پر نور رضی اﷲ تعالی عنہ کے نام پاك پر حصہ دینا اگر یوں ہے کہ حضور کو اس حصہ کا مالك سمجھا جاتاہے یا اس دینے سے تصدق لوجہ اﷲ منظور نہیں بلکہ حضور کی طرف تقرب بالذات مقصود یا یہ سمجھتے ہیں کہ یوں نہ کریں گے تو حضور معاذاﷲ ناراض ہوکر مضرت دیں گے کوئی بلا پہنچے گی تو یہ سب اعتقاد باطلہ وفاسدہ وبدعات سیئہ ہیں اور اگر یوں نہیں بلکہ اﷲ عزوجل کے لئے تصدق منظورتو کھیتوں سے ایسا حصہ دینا خود قرآن عظیم میں مطلوب۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۳۸€
قال تعالی " واتوا حقہ یوم حصادہ ۫ " ۔ (لوگو!)کھیتی سے(حقداروں کا)حق اس کی کٹائی والے دن ادا کردیا کرو۔(ت)
اور اس کے روکنے کی مذمت قصہ اصحاب الجنہ میں مذکور۔
قال تعالی "فتنـادوا مصبحین ﴿۲۱﴾ ان اغدوا علی حرثکم ان کنتـم صرمین ﴿۲۲﴾ فانـطلقوا و ہم یتخفتـون ﴿۲۳﴾ ان لا یدخلنـہا الیـوم علیکم مسکین ﴿۲۴﴾ " الایات
اﷲ تعالی نے فرمایا:وہ باغ والے صبح ہوتے ہی سویرے سویرے ایك دوسرے کو بلانے لگے کہ سویرے اپنی کھیتی کی طرف چلو اگر تم اسے کاٹنے کا ارادہ رکھتے ہو پھر وہ چلنے لگے جبکہ وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہہ رہے تھے کہ آج تمھارے پاس کوئی محتاج نہیں آنا چاہئے۔(یعنی کسی محتاج کو اپنے قریب نہ آنا دیا جائے)(ت)
اور اس کا ثواب نذر روح اقدس کرنا اس عمل طیب میں طیب وخوبی ہی بڑھائے گا جبکہ کسی عقیدہ باطلہ کے ساتھ نہ ہو اس صورت میں اسے:
"و جعلوا للہ مما ذرا من الحرث و الانعم نصیبا فقالوا ہذا للہ بزعمہم وہذا لشرکائنا " الایۃ۔ جو کھیتی اور جانور اﷲ تعالی نے پیدا کئے ان میں انھوں نے اﷲ تعالی کا ایك حصہ مقرر کیا ہے۔پھر وہ اپنے خیال میں باطل کی بناء پر کہنے لگے یہ اﷲ تعالی کا حصہ ہے اور ہمارے شریکوں کا الآیۃ(ت)
میں داخل سمجھنا محض جہالت وزبان زوری ہے کما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)
(۵)لڑکوں کے سر پر چوٹی رکھنی ناجائز اور فعل مذکور رسوم ملعونہ کفار سے تشبہ ہے جس سے احترازلازم۔
(۶)جو شخص اپنے احوال مذکورہ بروجوہ مذمومہ سے صدقہ لیتا ہے اگر ان اعتقادات باطلہ میں ان کا شریك تو خود بھی فاسق ومبتدع ہے جس کی امامت مکروہ اور اس کے ہاتھ پر بیعت جہالت ورنہ ان کے لینے سے احتراز چاہئے مگر ان کے فسق وبدعت کا وبال اس کے سر نہ ہوگا۔
قال تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔
اور اس کے روکنے کی مذمت قصہ اصحاب الجنہ میں مذکور۔
قال تعالی "فتنـادوا مصبحین ﴿۲۱﴾ ان اغدوا علی حرثکم ان کنتـم صرمین ﴿۲۲﴾ فانـطلقوا و ہم یتخفتـون ﴿۲۳﴾ ان لا یدخلنـہا الیـوم علیکم مسکین ﴿۲۴﴾ " الایات
اﷲ تعالی نے فرمایا:وہ باغ والے صبح ہوتے ہی سویرے سویرے ایك دوسرے کو بلانے لگے کہ سویرے اپنی کھیتی کی طرف چلو اگر تم اسے کاٹنے کا ارادہ رکھتے ہو پھر وہ چلنے لگے جبکہ وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہہ رہے تھے کہ آج تمھارے پاس کوئی محتاج نہیں آنا چاہئے۔(یعنی کسی محتاج کو اپنے قریب نہ آنا دیا جائے)(ت)
اور اس کا ثواب نذر روح اقدس کرنا اس عمل طیب میں طیب وخوبی ہی بڑھائے گا جبکہ کسی عقیدہ باطلہ کے ساتھ نہ ہو اس صورت میں اسے:
"و جعلوا للہ مما ذرا من الحرث و الانعم نصیبا فقالوا ہذا للہ بزعمہم وہذا لشرکائنا " الایۃ۔ جو کھیتی اور جانور اﷲ تعالی نے پیدا کئے ان میں انھوں نے اﷲ تعالی کا ایك حصہ مقرر کیا ہے۔پھر وہ اپنے خیال میں باطل کی بناء پر کہنے لگے یہ اﷲ تعالی کا حصہ ہے اور ہمارے شریکوں کا الآیۃ(ت)
میں داخل سمجھنا محض جہالت وزبان زوری ہے کما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)
(۵)لڑکوں کے سر پر چوٹی رکھنی ناجائز اور فعل مذکور رسوم ملعونہ کفار سے تشبہ ہے جس سے احترازلازم۔
(۶)جو شخص اپنے احوال مذکورہ بروجوہ مذمومہ سے صدقہ لیتا ہے اگر ان اعتقادات باطلہ میں ان کا شریك تو خود بھی فاسق ومبتدع ہے جس کی امامت مکروہ اور اس کے ہاتھ پر بیعت جہالت ورنہ ان کے لینے سے احتراز چاہئے مگر ان کے فسق وبدعت کا وبال اس کے سر نہ ہوگا۔
قال تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۴۱€
القرآن الکریم ∞۶۸/ ۲۱ تا ۲۴€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۳۶€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۶۴€
القرآن الکریم ∞۶۸/ ۲۱ تا ۲۴€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۳۶€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۶۴€
اور اگر وہ صدقات ان شرعی طریقوں پر ہیں جو ہم ذکر کر آئے اور یہ شخص محل صدقہ لینے میں اصلا حرج نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۹: از بریلی مرسلہ میلاد خواں یکشنبہ ۱۷ شوال ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ھذا میں کہ اکثر برادری میں جو کھانے ہوتے ہیں ان کا قاعدہ یہ ہے کہ بسا اوقات نیت اس کے اندرریاء وتفاخر کی ہوتی ہے اور اس رسم کو ایسا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص برادری والا ناداری کی وجہ سے نہ کھلا سکے تو اس کو طعنہ دیتے ہیں اور اس کو ایسا لازمی امر خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر نہ کھلائیں گے تو برادری میں ہماری ناك کٹی ہوجائے گی اور اگر پاس نہیں ہو تا تو اس کام کے لئے سودی روپیہ قرض لیتے ہیں پس عرض ہے کہ اس کھلانے کا طعنہ دینے والے کا شرعا کیا حکم ہے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائے۔ت)
الجواب:
یہ کھلانا اگرریاء وتفاخر کی نیت سے ہے تو حرام ہے۔اگر طعنہ بے جا سے بچنے کو ہے تو اسے مباح اور طعنہ دینے والوں مجبور کرنے والوں کو حرام
لحدیث اقطع عنی لسانہ وصرح العلماء باستثنائہ من قاعدۃ ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ ۔ بوجہ حدیث مجھ سے اس کی زبان کاٹ دیجئے یعنی اس کا منہ بند کردیجئےاور علماء کرام نے اس قاعدہ(کہ جس کالینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے)سے مستثنی قرار دیا ہے۔(ت)
اگر ان وجوہ سے پاك بطور صلہ رحم وسلوك حسن وشکر نعمت ومواسات جیران واحبا مواقع فرحت وسرور جائز شرعی میں ہو تو حسن ومستحب۔
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۰: ربیع الاول شریف ۱۳۱۶ھ
نیا مکان بنایا جائے تو ارتفاع اس کا سات گز سے زیادہ بنانا شرعا جائز ہے یانہیں اگر ممنوع ہو تو بحوالہ کتاب جواب مرحمت فرمایاجائے۔
مسئلہ ۶۹: از بریلی مرسلہ میلاد خواں یکشنبہ ۱۷ شوال ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ھذا میں کہ اکثر برادری میں جو کھانے ہوتے ہیں ان کا قاعدہ یہ ہے کہ بسا اوقات نیت اس کے اندرریاء وتفاخر کی ہوتی ہے اور اس رسم کو ایسا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص برادری والا ناداری کی وجہ سے نہ کھلا سکے تو اس کو طعنہ دیتے ہیں اور اس کو ایسا لازمی امر خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر نہ کھلائیں گے تو برادری میں ہماری ناك کٹی ہوجائے گی اور اگر پاس نہیں ہو تا تو اس کام کے لئے سودی روپیہ قرض لیتے ہیں پس عرض ہے کہ اس کھلانے کا طعنہ دینے والے کا شرعا کیا حکم ہے بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائے۔ت)
الجواب:
یہ کھلانا اگرریاء وتفاخر کی نیت سے ہے تو حرام ہے۔اگر طعنہ بے جا سے بچنے کو ہے تو اسے مباح اور طعنہ دینے والوں مجبور کرنے والوں کو حرام
لحدیث اقطع عنی لسانہ وصرح العلماء باستثنائہ من قاعدۃ ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ ۔ بوجہ حدیث مجھ سے اس کی زبان کاٹ دیجئے یعنی اس کا منہ بند کردیجئےاور علماء کرام نے اس قاعدہ(کہ جس کالینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے)سے مستثنی قرار دیا ہے۔(ت)
اگر ان وجوہ سے پاك بطور صلہ رحم وسلوك حسن وشکر نعمت ومواسات جیران واحبا مواقع فرحت وسرور جائز شرعی میں ہو تو حسن ومستحب۔
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۰: ربیع الاول شریف ۱۳۱۶ھ
نیا مکان بنایا جائے تو ارتفاع اس کا سات گز سے زیادہ بنانا شرعا جائز ہے یانہیں اگر ممنوع ہو تو بحوالہ کتاب جواب مرحمت فرمایاجائے۔
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدہ الرابع عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۸۹€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
عمارات خیرمیں جبکہ نیت خیربروجہ خیر ہو محمود ہے اور اپنے سکونت وغیرہا کے مکانات میں اگر بحاجت ہو تو مباح اور بہ نیت تفاخر بالدنیا ہو تو حرامتتطاول فی البنیان(عمارتوں کی بلندی اور درازی۔ت)علامات قیامت سے ہے۔یہی محمل ہے اس حدیث کا کہ جب کوئی شخص سات گز سے زیادہ دیوار اٹھاتا ہے فرشتہ کہتا ہے اے منافق! کہاں تك بلند کرے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۱:۱۵ ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ مسئولہ مولوی علی احمد صاحب مصنف تہذیب البیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ناواقف جاہل لوگ بنام نہاد طاق شہید طاق پرستی کرتے ہیں منتیں مانتے ہیں ریوڑیگٹاپھولہار طاق پر چڑھاتے ہیںجھك جھك کر سلام کرتے ہیں اپنی حاجت روائی طاق سے چاہتے ہیں۔اس میں اور بت پرستی میں کیا فرق ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کے لئے شرع شریف میں کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
یہ سب رسوم جہالت وحماقت وممنوعات بیہودہ ہیں مگر بت پرستی میں اور اس میں زمین آسمان کا فرق ہے یہ جہال پرستش بمعنی حقیقی نہیں کرتے کہ کافر ہوجائیں گے ہاں گنہ گار ومبتدع ہیں والعیاذ باﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۲: ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پختہ مکان بنوانا جائز ہے یانہیں
الجواب:
پختہ مکان اگر نیك کاموں کے لئے ہو جیسے مسجد ومدرسہ وخانقاہ وسرا تو ثواب ہے اور اپنی ضرورت وحاجت کے ہو تو مباحاور تفاخر وتکبر کی نیت سے ہو تو حرامواﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۳: مسئولہ زین العابدین از بنگالہ ضلع پابنا قصبہ سراج گنج ۴ رجب المرجب ۱۳۲۰ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں رسوم کہ در ملك بنگال چنانست کہ مردمان برائے تولہ فرزندان خانہ دیگر از خانہ بود وباش جداگانہ بنامی کنند و زادن فرزند درخانہ بود وباش بدفالی شمارند علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس رسم کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ بنگال میں یہ رواج ہے کہ نومولود کی ولادت کے لئے اس کی ولادت سے قبل الگ کمرہ تعمیر کیا جاتاہے اور پہلے سے تعمیرشدہ مکان جہاں وہ رہائش پذیر
مسئلہ ۷۱:۱۵ ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ مسئولہ مولوی علی احمد صاحب مصنف تہذیب البیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ناواقف جاہل لوگ بنام نہاد طاق شہید طاق پرستی کرتے ہیں منتیں مانتے ہیں ریوڑیگٹاپھولہار طاق پر چڑھاتے ہیںجھك جھك کر سلام کرتے ہیں اپنی حاجت روائی طاق سے چاہتے ہیں۔اس میں اور بت پرستی میں کیا فرق ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کے لئے شرع شریف میں کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
یہ سب رسوم جہالت وحماقت وممنوعات بیہودہ ہیں مگر بت پرستی میں اور اس میں زمین آسمان کا فرق ہے یہ جہال پرستش بمعنی حقیقی نہیں کرتے کہ کافر ہوجائیں گے ہاں گنہ گار ومبتدع ہیں والعیاذ باﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۲: ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پختہ مکان بنوانا جائز ہے یانہیں
الجواب:
پختہ مکان اگر نیك کاموں کے لئے ہو جیسے مسجد ومدرسہ وخانقاہ وسرا تو ثواب ہے اور اپنی ضرورت وحاجت کے ہو تو مباحاور تفاخر وتکبر کی نیت سے ہو تو حرامواﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۳: مسئولہ زین العابدین از بنگالہ ضلع پابنا قصبہ سراج گنج ۴ رجب المرجب ۱۳۲۰ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں رسوم کہ در ملك بنگال چنانست کہ مردمان برائے تولہ فرزندان خانہ دیگر از خانہ بود وباش جداگانہ بنامی کنند و زادن فرزند درخانہ بود وباش بدفالی شمارند علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس رسم کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ بنگال میں یہ رواج ہے کہ نومولود کی ولادت کے لئے اس کی ولادت سے قبل الگ کمرہ تعمیر کیا جاتاہے اور پہلے سے تعمیرشدہ مکان جہاں وہ رہائش پذیر
چنیں قسم خانہ مخصوص درہر بار بنا نمودن شرعا درست است یا نہ ودر زمانہ سیدنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بود یانہ ہوتے ہیں اس میں نئے بچے کی ولادت منحوس خیال کی جاتی ہے۔کیا ان کا یہ اقدام شرعا جائز ہے یانہیں اور حضرت سیدنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے عہد مبارك میں ایسے ہوتا تھا یا نہیں(ت)
الجواب:
ایں رسم شنیع در آں زمان پاك اصلا نہ بود بلکہ بعد آں نیز تا قرون متطاولہ بلکہ ہنوز ہم درعامہ ولایت اسلام ازاں نشانے نیست ایں برسم مشرکین وہنود ماند بلکہ ازاں ہم بالاتر رفتہ است ہند وان نیزا یں چنیں نہ کنند ایں کار اگر بخیال ضلال بد فال نبودی اسراف بودے واﷲ تعالی یقول " ولا تسرفوا انہ لایحب المسرفین ﴿۳۱﴾" اسراف نکنید کہ خدائے دوست ندارد واسراف کنندگان را بلکہ بوجوہ خلوا ز فائدہ تبذیر بودے واﷲ تعالی یقول
" ان المبذرین کانوا اخون الشیطین " مال بے سود برباد دہندگان برادران شیاطین اند حالانکہ مبتنی براں وہم شیطانی ست ضلالی دگر برآں افروز سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یہ قبیح رسم اس پاك زمانے میں بالکل نہ تھی بلکہ اس کے بعد بھی عرصہ دراز تك بلکہ اب تك عام اسلامی ممالك میں اس کا نام ونشان تك نہیں پایا جاتایہ ہندوانہ اور مشرکانہ رسوم کے مشابہ بلکہ ان سے بھی بدتر ہے کیونکہ ہندو بھی ایسا نہیں کرتے اگر یہ عمل بدفالی اور گمراہی کے خیال سے نہ ہو تب بھی بوجہ اسراف معیوب ہے جبکہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے کہ لوگو! بے جا خرچ کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ اﷲ تعالی کو فضول خرچ کرنے والے لوگ پسند نہیں تم اسراف نہ کیا کرو اﷲ تعالی اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں بناتایہ اقدام متعدد وجوہ کی بنا پر فائدے اور بھلائی سے خالی ہے اور تبذیر کے زمرے میں آتاہے جبکہ اﷲ تعالی کا فرمان ہے کہ"مال کو بے مقصد بربادکرنے والے شیطان کے بھائی ہیں"اس وہم کی بنیاد شیطانی ہے مزید یہ کہ اس میں بدفالی
الجواب:
ایں رسم شنیع در آں زمان پاك اصلا نہ بود بلکہ بعد آں نیز تا قرون متطاولہ بلکہ ہنوز ہم درعامہ ولایت اسلام ازاں نشانے نیست ایں برسم مشرکین وہنود ماند بلکہ ازاں ہم بالاتر رفتہ است ہند وان نیزا یں چنیں نہ کنند ایں کار اگر بخیال ضلال بد فال نبودی اسراف بودے واﷲ تعالی یقول " ولا تسرفوا انہ لایحب المسرفین ﴿۳۱﴾" اسراف نکنید کہ خدائے دوست ندارد واسراف کنندگان را بلکہ بوجوہ خلوا ز فائدہ تبذیر بودے واﷲ تعالی یقول
" ان المبذرین کانوا اخون الشیطین " مال بے سود برباد دہندگان برادران شیاطین اند حالانکہ مبتنی براں وہم شیطانی ست ضلالی دگر برآں افروز سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یہ قبیح رسم اس پاك زمانے میں بالکل نہ تھی بلکہ اس کے بعد بھی عرصہ دراز تك بلکہ اب تك عام اسلامی ممالك میں اس کا نام ونشان تك نہیں پایا جاتایہ ہندوانہ اور مشرکانہ رسوم کے مشابہ بلکہ ان سے بھی بدتر ہے کیونکہ ہندو بھی ایسا نہیں کرتے اگر یہ عمل بدفالی اور گمراہی کے خیال سے نہ ہو تب بھی بوجہ اسراف معیوب ہے جبکہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے کہ لوگو! بے جا خرچ کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ اﷲ تعالی کو فضول خرچ کرنے والے لوگ پسند نہیں تم اسراف نہ کیا کرو اﷲ تعالی اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں بناتایہ اقدام متعدد وجوہ کی بنا پر فائدے اور بھلائی سے خالی ہے اور تبذیر کے زمرے میں آتاہے جبکہ اﷲ تعالی کا فرمان ہے کہ"مال کو بے مقصد بربادکرنے والے شیطان کے بھائی ہیں"اس وہم کی بنیاد شیطانی ہے مزید یہ کہ اس میں بدفالی
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۷/ ۳۱€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۷€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۷€
فرمود الطیرۃ من الشرك بدفال گرفتن وبراں کاربند شدن شیوہ مشرکان رواہ الا ئمۃ الاحمد فی المسند والبخاری فی الادب المفرد وابوداؤد و الترمذی والنسائی وابن ماجۃ والحاکم فی صحاحھم کلھم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح ومعنی الحدیث علی مافسرنا کما افصحت عنہ الاحادیث وحققہ العقول۔واﷲ تعالی اعلم۔ وبد شگونی والی گمراہی بھی شامل ہے۔آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بری فال نکالنا اور اس پر کار بندہونا مشرکین کا طریقہ اور دستور ہےچنانچہ ائمہ کرام مثلا امام احمد نے مسند میں امام بخاری نے الادب المفرد میں ابو داؤدترمذینسائیابن ماجہ اور حاکم نے اپنی صحاح میں بحوالہ حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے سند صحیح کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے حدیث کے وہی معنی ہیں جو ہم نے بیان کردئیے ہیں جیسا کہ احادیث سے واضح اور عیاں ہے۔اور"عقول"نے اس کی تحقیق کی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۴: از اتروالی ضلع اعظم گڑھ محلہ مغلاں مرسلہ اکرام عظیم صاحب ۱۸ جمادی الاولی ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائےدین وملت محمدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو مسلمان جوابات شرعیہ کو نہ مانے اور اپنے رواجہائے قدیمہ پر اڑا رہے وہ گنہ گار ہے یاکیا ہے
الجواب:
جو احکام شرع کے مقابل اپنے رواج پر اڑے وہ سخت گنہ گار ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۵۷۶: مرسلہ ولی محمد ابونوی والہ از مقام دھوراجی متصل اسکول ملك کاٹھیا واڑ سہ شنبہ ۲۲ شعبان ۱۳۳۳ھ
(۱)حضرت مولانا مقتدانا جناب مولانا مفتی احمد رضاخاں صاحب شمس العلماء دام افضالہ بعد ادائے آداب دست بستہ ملتمس می دارم کہ یہاں عام طور سے تمام شہر متفق ہے کہ درخت پپیتہ جس کو
مسئلہ ۷۴: از اتروالی ضلع اعظم گڑھ محلہ مغلاں مرسلہ اکرام عظیم صاحب ۱۸ جمادی الاولی ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائےدین وملت محمدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جو مسلمان جوابات شرعیہ کو نہ مانے اور اپنے رواجہائے قدیمہ پر اڑا رہے وہ گنہ گار ہے یاکیا ہے
الجواب:
جو احکام شرع کے مقابل اپنے رواج پر اڑے وہ سخت گنہ گار ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۵۷۶: مرسلہ ولی محمد ابونوی والہ از مقام دھوراجی متصل اسکول ملك کاٹھیا واڑ سہ شنبہ ۲۲ شعبان ۱۳۳۳ھ
(۱)حضرت مولانا مقتدانا جناب مولانا مفتی احمد رضاخاں صاحب شمس العلماء دام افضالہ بعد ادائے آداب دست بستہ ملتمس می دارم کہ یہاں عام طور سے تمام شہر متفق ہے کہ درخت پپیتہ جس کو
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن مسعود المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۴۳۸،€جامع الترمذی ابواب السیر ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۹۴،€کنز العمال بحوالہ ط،حم،و ھ،ك ∞حدیث ۲۸۵۶۸،۲۸۵۶۹،€موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۰/ ۱۱۳€
ارنڈ خرپزہ کہتے ہیں مکان مسکونہ میں لگانا منحوس ہے اور منع ہے چونکہ یہاں یہ بکثرت اور نہایت لذیذ ہیں لہذا التماس ہے کہ اس بارے میں احکام شرعی سے مع حوالہ کتب بالتشریح خبردار کیجئے
(۲)دیگر اگر خواب میں کوئی ریل میں سفر کرتاہوا خود کو دیکھے اس کی کیا تعبیر ہے
الجواب:
(۱)شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیںشرع نے نہ اسے منحوس ٹھہرایا نہ مبارکہاں جسے عام لوگ نحس سمجھ رہے ہیں اس سے بچنا مناسب ہے کہ اگر حسب تقدیر اسے کوئی آفت پہنچے ان کا باطل عقیدہ اور مستحکم ہوگا کہ دیکھو یہ کام کیا تھا اس کا یہ نتیجہ ہوا اور ممکن کہ شیطان اس کے دل میں بھی وسوسہ ڈالے ردالمحتارمیں ہے:
اماالدبسی والصلصل والعقعق واللقلق واللحام فلا یستحب اکلھا وان کانت فی الاصل حلالالتعارف الناس باصابۃ آفۃ لاکلھا فینبغی ان یتحرز عنہ الخ نقلہ عن غرر الافکار۔ الدبسی(کبوتر کی مانند ایك چھوٹا سا پرندہ ہے در حقیقت یہ جنگلی کبوتر کی ایك قسم ہے)الصلصل(امام جوہری نے کہا کہ یہ فاختہ ہے)العقق(کوے کی شکل پر کبوتر کے برابر ایك پرندہ ہے لیکن اس کی دم کبوتر کی دم سے دراز ہوتی ہے اور پر بھی اس سے بڑے ہوتے ہیں۔اس کا رنگ سیاہ اور سفید ہوتا ہے) اللقلق(عجمی نام والا پرندہ ہے جو سانپ کھاتاہے اس کی حلت اور حرمت میں اختلاف ہے چنانچہ بعض کے نزدیك حلال ہے اور بعض کے نزدیك حرام)اللحم(ایك قسم کی بڑی مچھلی ہے جو سونڈ سے تلوار کی طرح کاٹ دیتی ہے)ماخوذ از حیات الحیوان اول ودوم) _________ان سب کا کھانا بہتر نہیں اگر چہ درحقیقت یہ حلال ہیں اس لئے کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ ان کے کھانے سے مصیبت آتی ہے لہذا ان کے کھانے سے پرہیز کیا جائے(اگر کھالیا اور تقدیر سے مصیبت آگئی تو عام لوگوں کا عقیدہ خراب ہوجائے گا)علامہ شامی نے غررا لافکارسے اسے نقل فرمایا(ت)
(۲)خواب میں سفر اگر مذموم بات کے لئے نہ ہو تو دلیل ظفر اور مرض سے صحت ہے لحدیث سافروا تصحوا (سفر کرو تاکہ تندرست رہو۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)دیگر اگر خواب میں کوئی ریل میں سفر کرتاہوا خود کو دیکھے اس کی کیا تعبیر ہے
الجواب:
(۱)شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیںشرع نے نہ اسے منحوس ٹھہرایا نہ مبارکہاں جسے عام لوگ نحس سمجھ رہے ہیں اس سے بچنا مناسب ہے کہ اگر حسب تقدیر اسے کوئی آفت پہنچے ان کا باطل عقیدہ اور مستحکم ہوگا کہ دیکھو یہ کام کیا تھا اس کا یہ نتیجہ ہوا اور ممکن کہ شیطان اس کے دل میں بھی وسوسہ ڈالے ردالمحتارمیں ہے:
اماالدبسی والصلصل والعقعق واللقلق واللحام فلا یستحب اکلھا وان کانت فی الاصل حلالالتعارف الناس باصابۃ آفۃ لاکلھا فینبغی ان یتحرز عنہ الخ نقلہ عن غرر الافکار۔ الدبسی(کبوتر کی مانند ایك چھوٹا سا پرندہ ہے در حقیقت یہ جنگلی کبوتر کی ایك قسم ہے)الصلصل(امام جوہری نے کہا کہ یہ فاختہ ہے)العقق(کوے کی شکل پر کبوتر کے برابر ایك پرندہ ہے لیکن اس کی دم کبوتر کی دم سے دراز ہوتی ہے اور پر بھی اس سے بڑے ہوتے ہیں۔اس کا رنگ سیاہ اور سفید ہوتا ہے) اللقلق(عجمی نام والا پرندہ ہے جو سانپ کھاتاہے اس کی حلت اور حرمت میں اختلاف ہے چنانچہ بعض کے نزدیك حلال ہے اور بعض کے نزدیك حرام)اللحم(ایك قسم کی بڑی مچھلی ہے جو سونڈ سے تلوار کی طرح کاٹ دیتی ہے)ماخوذ از حیات الحیوان اول ودوم) _________ان سب کا کھانا بہتر نہیں اگر چہ درحقیقت یہ حلال ہیں اس لئے کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ ان کے کھانے سے مصیبت آتی ہے لہذا ان کے کھانے سے پرہیز کیا جائے(اگر کھالیا اور تقدیر سے مصیبت آگئی تو عام لوگوں کا عقیدہ خراب ہوجائے گا)علامہ شامی نے غررا لافکارسے اسے نقل فرمایا(ت)
(۲)خواب میں سفر اگر مذموم بات کے لئے نہ ہو تو دلیل ظفر اور مرض سے صحت ہے لحدیث سافروا تصحوا (سفر کرو تاکہ تندرست رہو۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الذبائح تحت قول الماتن قیل الخفاش داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۹۴€
مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۳۸۰€
مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲/ ۳۸۰€
مسئلہ ۷۷: از شہر محلہ ملوکپور مسئولہ واحد یار خاں ۴ صفر المظفر ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك قوم میں یہ دستور ہے کہ وقت شادی یا غمی کے دس بیس روپے اپنے پاس ہوتے ہیں تو سو پچاس روپے سودی لے کر واسطے برادری کے کھانے پینے کا سامان کرتے ہیں اور جب لڑکی اپنے شوہر کے مکان پر جاتی ہے لڑکی کا باپ اہنے ہمراہ سو دوسو آدمی لیجاتاہے وہ سب لوگ لڑکی کے شوہر کے مکان پر کھانا کھاتے ہیں بعد کھانا کھانے کے لڑکی کا باپ اپنا نیوتہ وصول کرتا ہے پس جس قدر آدمی زیادہ ہوں گے نیوتہ کا روپیہ زیادہ آئے گا اگر قرضدار ہوا یا برباد ہوا تو اس سے کچھ غرض نہیں لڑکاباپ یا برادر جب تك چار بار روٹی نہ کھائیں نیوتہ نہ دیں گے یعنی مندہا اور اور برات اور لودایہ وقت کھانوں کے مقرر ہیں برادری زور دے کر کھانے لیتی ہے خیر جب لڑکے کا باپ شادی سے فارغ ہو کر قرض ادا کرنے کی طرف متوجہ ہوا تو یہ بات ظاہر ہے کہ گھروالوں کو غریب آدمی کے مکان پر پیٹ بھر کر روٹی اور تن بھر کپڑا جب تك قرض ادا نہ ہوجائے درمیان میں یہ فساد پیدا ہوجاتا ہے کہ لڑکی اپنے ماں باپ کے مکان پر جا بیٹھتی ہے کہ روٹی کپڑا تو ہے نہیں ایسے شوہر کے مکان پر جا کر کیا کروں اور بڑے سے بڑے فساد پیدا ہوجاتے ہیں کہ جن کو بیان نہ کرنا بہتر ہے یہ رسم شرعا یا جہالت کی۔زید کہتا ہے سودی روپیہ جو دے اس پر خدا کی لعنت اور جو کوئی واسطے شان وشوکت کے لئے اس پر بھی خدا کی لعنت اور جو برادر کہ جانتے ہیں کہ یہ کھانا پینا سودی روپیہ لے کر ہمارے واسطے کیا گیا ہے پھر جان کر کھائیں تو ان کھانے والوں کے واسطے کیا حکم ہے اور جو اس قوم کاآدمی بغیر توبہ کے مرجائے تو اس کی نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں اور اگر یہ قوم توبہ نہ کرے تو داخل امت محمدی میں ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
بیشك سود کھانے والے پر حدیث میں لعنت فرمائی ہےاور بے ضرورت ومجبوری شرعی جو سود دے سودی قرض لے اس پر بھی لعنت فرمائی اور غم میں تو برادری کا کھانا دینا گناہ ہے اور شادی میں اگر چہ جائز ہے مگر سودی قرض اس کے لئے لینا حرام وباعث لعنت ہے۔اہل برادری کو معلوم ہو تو انھیں اس کھانے میں شرکت نہ چاہئے کہ انھیں کے لئے وہ اس گناہ کا مرتکب ہوااگر لوگ جانیں کہ سودی قرض لے کر جو کھانا کیاجائے برادری اسے نہ کھائے گی تو ہر گز ایسی حرکت نہ کریںپھر بھی یہ باتیں معاذاﷲ کفر نہیں کہ تو بہ نہ کریں تو امت میں نہ رہیں یا اس پر جنازہ کی نماز نہ ہویہ سب غلط خیال ہیں۔نیوتہ وصول کرنا شرعا جائز ہے اور دینا ضروری ہے کہ وہ قرض ہے اور سو دو سو آدمی دعوت کے لئے ہمراہ لینا بھی جائز ہے جب تك دعوت دینے والے کی مرضی سے ہو وہاں اگر اس کے خلاف مرضی ہو اور مجبوری کے لئے شرما شرمی دے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك قوم میں یہ دستور ہے کہ وقت شادی یا غمی کے دس بیس روپے اپنے پاس ہوتے ہیں تو سو پچاس روپے سودی لے کر واسطے برادری کے کھانے پینے کا سامان کرتے ہیں اور جب لڑکی اپنے شوہر کے مکان پر جاتی ہے لڑکی کا باپ اہنے ہمراہ سو دوسو آدمی لیجاتاہے وہ سب لوگ لڑکی کے شوہر کے مکان پر کھانا کھاتے ہیں بعد کھانا کھانے کے لڑکی کا باپ اپنا نیوتہ وصول کرتا ہے پس جس قدر آدمی زیادہ ہوں گے نیوتہ کا روپیہ زیادہ آئے گا اگر قرضدار ہوا یا برباد ہوا تو اس سے کچھ غرض نہیں لڑکاباپ یا برادر جب تك چار بار روٹی نہ کھائیں نیوتہ نہ دیں گے یعنی مندہا اور اور برات اور لودایہ وقت کھانوں کے مقرر ہیں برادری زور دے کر کھانے لیتی ہے خیر جب لڑکے کا باپ شادی سے فارغ ہو کر قرض ادا کرنے کی طرف متوجہ ہوا تو یہ بات ظاہر ہے کہ گھروالوں کو غریب آدمی کے مکان پر پیٹ بھر کر روٹی اور تن بھر کپڑا جب تك قرض ادا نہ ہوجائے درمیان میں یہ فساد پیدا ہوجاتا ہے کہ لڑکی اپنے ماں باپ کے مکان پر جا بیٹھتی ہے کہ روٹی کپڑا تو ہے نہیں ایسے شوہر کے مکان پر جا کر کیا کروں اور بڑے سے بڑے فساد پیدا ہوجاتے ہیں کہ جن کو بیان نہ کرنا بہتر ہے یہ رسم شرعا یا جہالت کی۔زید کہتا ہے سودی روپیہ جو دے اس پر خدا کی لعنت اور جو کوئی واسطے شان وشوکت کے لئے اس پر بھی خدا کی لعنت اور جو برادر کہ جانتے ہیں کہ یہ کھانا پینا سودی روپیہ لے کر ہمارے واسطے کیا گیا ہے پھر جان کر کھائیں تو ان کھانے والوں کے واسطے کیا حکم ہے اور جو اس قوم کاآدمی بغیر توبہ کے مرجائے تو اس کی نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں اور اگر یہ قوم توبہ نہ کرے تو داخل امت محمدی میں ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
بیشك سود کھانے والے پر حدیث میں لعنت فرمائی ہےاور بے ضرورت ومجبوری شرعی جو سود دے سودی قرض لے اس پر بھی لعنت فرمائی اور غم میں تو برادری کا کھانا دینا گناہ ہے اور شادی میں اگر چہ جائز ہے مگر سودی قرض اس کے لئے لینا حرام وباعث لعنت ہے۔اہل برادری کو معلوم ہو تو انھیں اس کھانے میں شرکت نہ چاہئے کہ انھیں کے لئے وہ اس گناہ کا مرتکب ہوااگر لوگ جانیں کہ سودی قرض لے کر جو کھانا کیاجائے برادری اسے نہ کھائے گی تو ہر گز ایسی حرکت نہ کریںپھر بھی یہ باتیں معاذاﷲ کفر نہیں کہ تو بہ نہ کریں تو امت میں نہ رہیں یا اس پر جنازہ کی نماز نہ ہویہ سب غلط خیال ہیں۔نیوتہ وصول کرنا شرعا جائز ہے اور دینا ضروری ہے کہ وہ قرض ہے اور سو دو سو آدمی دعوت کے لئے ہمراہ لینا بھی جائز ہے جب تك دعوت دینے والے کی مرضی سے ہو وہاں اگر اس کے خلاف مرضی ہو اور مجبوری کے لئے شرما شرمی دے
تو وہ کھانا حرام ہے اور اتنے آدمی لے جانا حرام ہے جانے والے چورین کرجائیں گےاور لٹیرے بن کر نکلیں گے یہ حدیث کا ارشاد ہے نہ کہ جب دبا کر لیں کہ اس کے صریح حرام ہونے میں کیا کلام ہے اور چار وقت کے کھانے کابوجھ بلا مرضی ڈالنا اور بغیر اس کے نیوتہ نہ دینا یہ بھی حرام ہے۔ایسی ناپاك رسموں کا ترك فرض ہے واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔اور اس کا علم جس کی بزرگی بڑی ہے زیادہ کامل اورزیادہ پختہ ہے۔ت)
مسئلہ ۷۸ تا ۸۰:از ضلع برسیاں ملك بنگال پوسٹ آفس سامر ہاٹھ کاؤ گوریدی مسئولہ رکن الدین احمد روز پنجشنبہ ۱۵ صفر المظفر ۱۳۲۴ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعد ولادت مولود ناری چھید کرنا آیا دائی جو گاؤں میں مقرر ہوتی ہے یا جنائی جو ہر گھر کی عورتیں ہوتی ہیں انھوں کے ساتھ کچھ خصوصیت ہے یا جوں توں کرسکتاہے برتقدیر ثانی وثالث منکرین پر شرعا کیا حکم ہے
(۲)اگر اہل محلہ دائی کے ساتھ خصوصیت جان کر اس فعل قبیحہ خاص کے لئے ایمان دار بھائیوں کو اہانت اور بے عزت کریں مثلا ان لوگوں کے ساتھ اٹھك بیٹھك کھانا پینا نہ کریں بلکہ کہیں کہ اگرشرع میں بھی ہے تو بھی نہ کرنا کیونکہ رواج کے خلاف ہے اور خاص کرکے اس فعل خاص پر رواج کے پابند ہونا ضرور ہے تو شرع میں ان لوگوں پرکیا حکم ہے
(۳)شریعت کے خلاف جو رواج ہو اپنے نام وناموس کی رعایت سے اسی رواج کی پاسداری کرنا جائز ہے یانہیں برتقدیر اولی کیوں جائز اور اس کی کیا دلیل برتقدیر ثانی مبنین رواج مذمومہ پر شرعا کیا حکم ہے بینو ا حکم الکتاب توجروا یوم الحساب(کتاب کاحکم بیان کرو تاکہ روز حساب اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)بچہ کی ناری چھیدنا سنت ہے اور اس کی خصوصیت کوئی نہیں کہ یہ کام دائی جنائی کرے یا باپ بھائی کرے۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دائی جنائی کے ساتھ خاص ہے اوروں کو جائز نہیں وہ دل سے مسئلہ نکالتے ہیں اور شریعت پر افتراء کے گنہگار ہوتے ہیں۔
قال اﷲ تعالی " و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:تمھاری زبانیں جو کچھ جھوٹ بیان کرتی ہیں اس کے بارے میں یہ نہ کہا کرو کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے تاکہ تم اﷲ تعالی پر
مسئلہ ۷۸ تا ۸۰:از ضلع برسیاں ملك بنگال پوسٹ آفس سامر ہاٹھ کاؤ گوریدی مسئولہ رکن الدین احمد روز پنجشنبہ ۱۵ صفر المظفر ۱۳۲۴ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعد ولادت مولود ناری چھید کرنا آیا دائی جو گاؤں میں مقرر ہوتی ہے یا جنائی جو ہر گھر کی عورتیں ہوتی ہیں انھوں کے ساتھ کچھ خصوصیت ہے یا جوں توں کرسکتاہے برتقدیر ثانی وثالث منکرین پر شرعا کیا حکم ہے
(۲)اگر اہل محلہ دائی کے ساتھ خصوصیت جان کر اس فعل قبیحہ خاص کے لئے ایمان دار بھائیوں کو اہانت اور بے عزت کریں مثلا ان لوگوں کے ساتھ اٹھك بیٹھك کھانا پینا نہ کریں بلکہ کہیں کہ اگرشرع میں بھی ہے تو بھی نہ کرنا کیونکہ رواج کے خلاف ہے اور خاص کرکے اس فعل خاص پر رواج کے پابند ہونا ضرور ہے تو شرع میں ان لوگوں پرکیا حکم ہے
(۳)شریعت کے خلاف جو رواج ہو اپنے نام وناموس کی رعایت سے اسی رواج کی پاسداری کرنا جائز ہے یانہیں برتقدیر اولی کیوں جائز اور اس کی کیا دلیل برتقدیر ثانی مبنین رواج مذمومہ پر شرعا کیا حکم ہے بینو ا حکم الکتاب توجروا یوم الحساب(کتاب کاحکم بیان کرو تاکہ روز حساب اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)بچہ کی ناری چھیدنا سنت ہے اور اس کی خصوصیت کوئی نہیں کہ یہ کام دائی جنائی کرے یا باپ بھائی کرے۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دائی جنائی کے ساتھ خاص ہے اوروں کو جائز نہیں وہ دل سے مسئلہ نکالتے ہیں اور شریعت پر افتراء کے گنہگار ہوتے ہیں۔
قال اﷲ تعالی " و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:تمھاری زبانیں جو کچھ جھوٹ بیان کرتی ہیں اس کے بارے میں یہ نہ کہا کرو کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے تاکہ تم اﷲ تعالی پر
الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾
" واﷲ تعالی اعلم جھوٹ باندھوبیشك جو لوگ اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں۔اور اﷲ تعالی بڑے علم والا ہے۔(ت)
(۲)یہ بلاوجہ اپنے بھائیوں سے انقطاع اور مسلمانوں کی ایذاء او رکئی وجہ سے حرام ہے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ تعالی کو ایذا دی(ت)
دوسرے فریق کو بھی چاہئے جب لوگ اس قدر اس سے پریشان ہوتے اور نفرت کرتے ہیں تو کیوں ایسی بات کریں جس سے ایك مباح کے پیچھے باہم تفرقہ وفتنہ ہو ہاں ان میں جو اہل علم ومقتداو صاحب اثر ہوں وہ کریں تاکہ لوگوں کے قلب سے یہ غلط بات رفع ہوجائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)یہ رواج کہ خود نہیں کرتے بجائے خود کچھ خلاف شرع نہیں کہ شریعت نے یہ کام خودکرنا واجب نہ کیا ہاں یہ سمجھنا کہ خود کرنا جائز نہیں اعتقاد باطل ہے اور اگر جائز تو جانتے ہیں مگر بلحاظ عوام بدنامی ومطعونی سے بچنے کو اس پر اصرار کرتے ہیں تو ایك وجہ رکھتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۱: ﷲ ٹھٹیرا مرادآباد مسئولہ حافظ محمود حسن روز دوشنبہ بتاریخ ۲۶ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ صفر کے اخیر چہار شنبہ کے متلعق عوام میں مشہور ہے کہ اس روز حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مرض سے صحت پائی تھی بنابر اس کے اس روز کھانا اور شیرینی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور جنگل کی سیر کو جاتے ہیں علی ہذا القیاس مختلف جگہوں میں مختلف معمولات ہیں کہیں اس روز کو نحس ونامبارك جان کر گھر کے پرانے برتن گلی تڑوالیتے ہیں اور تعویذ وچھلہ وچاندی کہ اس روز کی صحت بخشی جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں مریضوں کو استعمال کراتے ہیں یہ جملہ امور بربنائے صحت یا بی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عمل میں لائے جاتے ہیں لہذا اصل اس کی شرع میں ثابت ہے کہ نہیں اور فاعل عامل اس کا بربنائے ثبوت یاعدم ثبوت گرفتار معصیت ہوگا یا قابل ملامت وتادیب بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
" واﷲ تعالی اعلم جھوٹ باندھوبیشك جو لوگ اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں۔اور اﷲ تعالی بڑے علم والا ہے۔(ت)
(۲)یہ بلاوجہ اپنے بھائیوں سے انقطاع اور مسلمانوں کی ایذاء او رکئی وجہ سے حرام ہے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذادی اس نے اﷲ تعالی کو ایذا دی(ت)
دوسرے فریق کو بھی چاہئے جب لوگ اس قدر اس سے پریشان ہوتے اور نفرت کرتے ہیں تو کیوں ایسی بات کریں جس سے ایك مباح کے پیچھے باہم تفرقہ وفتنہ ہو ہاں ان میں جو اہل علم ومقتداو صاحب اثر ہوں وہ کریں تاکہ لوگوں کے قلب سے یہ غلط بات رفع ہوجائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)یہ رواج کہ خود نہیں کرتے بجائے خود کچھ خلاف شرع نہیں کہ شریعت نے یہ کام خودکرنا واجب نہ کیا ہاں یہ سمجھنا کہ خود کرنا جائز نہیں اعتقاد باطل ہے اور اگر جائز تو جانتے ہیں مگر بلحاظ عوام بدنامی ومطعونی سے بچنے کو اس پر اصرار کرتے ہیں تو ایك وجہ رکھتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۱: ﷲ ٹھٹیرا مرادآباد مسئولہ حافظ محمود حسن روز دوشنبہ بتاریخ ۲۶ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس امر میں کہ صفر کے اخیر چہار شنبہ کے متلعق عوام میں مشہور ہے کہ اس روز حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مرض سے صحت پائی تھی بنابر اس کے اس روز کھانا اور شیرینی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور جنگل کی سیر کو جاتے ہیں علی ہذا القیاس مختلف جگہوں میں مختلف معمولات ہیں کہیں اس روز کو نحس ونامبارك جان کر گھر کے پرانے برتن گلی تڑوالیتے ہیں اور تعویذ وچھلہ وچاندی کہ اس روز کی صحت بخشی جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں مریضوں کو استعمال کراتے ہیں یہ جملہ امور بربنائے صحت یا بی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عمل میں لائے جاتے ہیں لہذا اصل اس کی شرع میں ثابت ہے کہ نہیں اور فاعل عامل اس کا بربنائے ثبوت یاعدم ثبوت گرفتار معصیت ہوگا یا قابل ملامت وتادیب بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۶/ ۱۱۶€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۳۶۳۳€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۴/ ۳۷۳€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۳۶۳۳€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۴/ ۳۷۳€
الجواب:
آخری چہار شنبہ کی کوئی اصل نہیں نہ اس دن صحت یابی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کوئی ثبوت بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارك ہوئی اس کی ابتداء اسی دن سے بتائی جاتی ہے اور ایك حدیث مرفوع میں آیا ہے:
آخر اربعاء فی الشھر یوم نحس مستمر ۔ ماہ صفر کا آخری چہار شنبہ دائمی نحوست والا دن ہے۔(ت)
اور مروی ہواکہ ابتدا ابتلائے سیدنا ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام اسی دن تھی اور اسے نحس سمجھ کر مٹھی کے برتن توڑدینا گناہ و اضاعت مال ہے۔بہر حال یہ سب باتیں بے اصل وبے معنی ہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۲: مسئولہ طوطی ہند اسرار الحق خان وسہیل ہند غلام قطب الدین صاحب ا ز جبلپور چہار شنبہ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
ماہ صفر کے اخیر چہارشنبہ کو ساتوں سلام یعنی " سلم قولا من رب رحیم ﴿۵۸﴾" وغیرہ جلسہ میں پڑھ کر اور آم کے ساتھ پتوں پر لکھ کر ایك نئے گھڑے میں پانی منگا کر اس میں پتے دھو کر بطور تبرك سب کو پلانا جائز ہے یانہیں
الجواب:
قرآن عظیم کی ہر آیت ہمیشہ نوروہدی وبرکت وشفاء ہے اور ا س چہار شنبہ کی تخصیص محض بے معنیبہر حال نفس فعل میں حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۳: از کیلا کھیڑا ڈاکخانہ باز پور ضلع نینی تال مرسلہ محمد عبدالمجید خان صاحب ۱۱ ذی ۱۳۳۵ھ
یہ جو بعض جہلا غرض ڈورے کیا کرتے ہیں اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ خاتون جنت ہرکسی گھر ماہ ساون بھادوں میں جایا کرتی اور ایك ایك ڈورا ان کے کان میں باندھ کر یہ کہاکرتیں کہ پوریاں پکا کر فاتحہ دلا کر لانا اس کی کچھ سند ہے یا واہیات ہے
الجواب:
یہ ڈوروں کی رسم محض بے اصل ومردود ہے اور حضرت خاتون جنت رضی اﷲ تعالی عنہا کی طرف
آخری چہار شنبہ کی کوئی اصل نہیں نہ اس دن صحت یابی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کوئی ثبوت بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارك ہوئی اس کی ابتداء اسی دن سے بتائی جاتی ہے اور ایك حدیث مرفوع میں آیا ہے:
آخر اربعاء فی الشھر یوم نحس مستمر ۔ ماہ صفر کا آخری چہار شنبہ دائمی نحوست والا دن ہے۔(ت)
اور مروی ہواکہ ابتدا ابتلائے سیدنا ایوب علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام اسی دن تھی اور اسے نحس سمجھ کر مٹھی کے برتن توڑدینا گناہ و اضاعت مال ہے۔بہر حال یہ سب باتیں بے اصل وبے معنی ہیں واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۲: مسئولہ طوطی ہند اسرار الحق خان وسہیل ہند غلام قطب الدین صاحب ا ز جبلپور چہار شنبہ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
ماہ صفر کے اخیر چہارشنبہ کو ساتوں سلام یعنی " سلم قولا من رب رحیم ﴿۵۸﴾" وغیرہ جلسہ میں پڑھ کر اور آم کے ساتھ پتوں پر لکھ کر ایك نئے گھڑے میں پانی منگا کر اس میں پتے دھو کر بطور تبرك سب کو پلانا جائز ہے یانہیں
الجواب:
قرآن عظیم کی ہر آیت ہمیشہ نوروہدی وبرکت وشفاء ہے اور ا س چہار شنبہ کی تخصیص محض بے معنیبہر حال نفس فعل میں حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۳: از کیلا کھیڑا ڈاکخانہ باز پور ضلع نینی تال مرسلہ محمد عبدالمجید خان صاحب ۱۱ ذی ۱۳۳۵ھ
یہ جو بعض جہلا غرض ڈورے کیا کرتے ہیں اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اﷲ تعالی عنہا کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ خاتون جنت ہرکسی گھر ماہ ساون بھادوں میں جایا کرتی اور ایك ایك ڈورا ان کے کان میں باندھ کر یہ کہاکرتیں کہ پوریاں پکا کر فاتحہ دلا کر لانا اس کی کچھ سند ہے یا واہیات ہے
الجواب:
یہ ڈوروں کی رسم محض بے اصل ومردود ہے اور حضرت خاتون جنت رضی اﷲ تعالی عنہا کی طرف
حوالہ / References
کنز العمال ∞حدیث ۲۹۳۱€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۲/۱۱€
القرآن الکریم ∞۳۶/ ۵۸€
القرآن الکریم ∞۳۶/ ۵۸€
اس کی نسبت محض جھوٹ برا افترا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۴: از کمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدا بخش زردوز مالك فلور مل اسلامیہ ۲۰ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
اکثر لوگ ۳۱۳ یا ۲۳۸۱۸۲۸ وغیرہ تواریخ پنجشنبہ ویك شنبہ و چہارشنبہ وغیرہ ایام کو شادی وغیرہ نہیں کرتےاعتقاد یہ ہے کہ سخت نقصان پہنچے گاان کا کیاحکم
الجواب:
یہ سب باطل وبے اصل ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۵: از مقام را م باغ ڈاکخانہ خاص ضلع دیرہ دون مرسلہ حکیم محمد فضل الرحمن صاحب مورخہ ۱۶ جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جیسے یہ مثال یا مثلہ اہل اسلام میں رائج عملدرآمد کے ساتھ ہے کہ بہن کے گھر بھائی کتا اور خوشدامن کے گھر داماد کتاجہاں تك دریافت ہوا ظاہر ہوتاہے کہ یہ مثال ہنود کے یہاں قطعی طور پرا رئج ہے مگر اہل اسلام میں نہایت سرگرمی کے ساتھ شامل کرلیا ہے اور اس پر عملدرآمد کیاجاتاہے وہ لوگ جو بہن کے گھر یا خوشدامن کے گھر رہتے ہیں نہایت بری نظر او ر بے عزتی کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں آیا ازروئے شرع شریعت بہن کے گھر بھائی کا رہنا جائز ہے یا نہیں اور خوشدامن کے گھر داماد کا رہنا جائز ہے یانہیں کن وجوہات سے اس کا رواج اسلام میں یا اتفاق سے ہندوستان کے ہر طبقہ میں پھیلا ہوا ہے اس کی اصلیت کیا ہے امید کہ بواپسی مطلع فرمایا جائے۔فقط
الجواب:
رسم مردود ہنود یہ ہے یہ ہے کہ بہن بیٹی کے گھر کا پانی پینا برا جانتے ہیں کھانا تو بڑی چیز ہے یہ رسم ضرور ناپاك ومردود ہے۔ مولی سبحانہ وتعالی قرآن کریم میں فرماتاہے:
" لیس علی الاعمی حرج و لا علی الاعرج حرج و لا علی المریض حرج و لا علی انفسکم ان تاکلوا من بیوتکم او بیوت ابائکم او بیوت امہتکم او بیوت اخونکم او بیوت اخوتکم او بیوت نہ اندھے پر تنگی نہ لنگڑے پر نہ بیمار پر نہ آپ تم پر کہ اپنی اولاد کے گھر کھانا کھاؤ یا اپنے باپ کے گھر یا ماں کے گھر یا بھائیوں کے گھر یا بہنوں کے گھر یا چچا کے گھر یا پھوپی کے گھر یا ماموں کے گھر یا خالہ کے گھر یا جس کی کنجیاں تمھارے
مسئلہ ۸۴: از کمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدا بخش زردوز مالك فلور مل اسلامیہ ۲۰ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
اکثر لوگ ۳۱۳ یا ۲۳۸۱۸۲۸ وغیرہ تواریخ پنجشنبہ ویك شنبہ و چہارشنبہ وغیرہ ایام کو شادی وغیرہ نہیں کرتےاعتقاد یہ ہے کہ سخت نقصان پہنچے گاان کا کیاحکم
الجواب:
یہ سب باطل وبے اصل ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۵: از مقام را م باغ ڈاکخانہ خاص ضلع دیرہ دون مرسلہ حکیم محمد فضل الرحمن صاحب مورخہ ۱۶ جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جیسے یہ مثال یا مثلہ اہل اسلام میں رائج عملدرآمد کے ساتھ ہے کہ بہن کے گھر بھائی کتا اور خوشدامن کے گھر داماد کتاجہاں تك دریافت ہوا ظاہر ہوتاہے کہ یہ مثال ہنود کے یہاں قطعی طور پرا رئج ہے مگر اہل اسلام میں نہایت سرگرمی کے ساتھ شامل کرلیا ہے اور اس پر عملدرآمد کیاجاتاہے وہ لوگ جو بہن کے گھر یا خوشدامن کے گھر رہتے ہیں نہایت بری نظر او ر بے عزتی کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں آیا ازروئے شرع شریعت بہن کے گھر بھائی کا رہنا جائز ہے یا نہیں اور خوشدامن کے گھر داماد کا رہنا جائز ہے یانہیں کن وجوہات سے اس کا رواج اسلام میں یا اتفاق سے ہندوستان کے ہر طبقہ میں پھیلا ہوا ہے اس کی اصلیت کیا ہے امید کہ بواپسی مطلع فرمایا جائے۔فقط
الجواب:
رسم مردود ہنود یہ ہے یہ ہے کہ بہن بیٹی کے گھر کا پانی پینا برا جانتے ہیں کھانا تو بڑی چیز ہے یہ رسم ضرور ناپاك ومردود ہے۔ مولی سبحانہ وتعالی قرآن کریم میں فرماتاہے:
" لیس علی الاعمی حرج و لا علی الاعرج حرج و لا علی المریض حرج و لا علی انفسکم ان تاکلوا من بیوتکم او بیوت ابائکم او بیوت امہتکم او بیوت اخونکم او بیوت اخوتکم او بیوت نہ اندھے پر تنگی نہ لنگڑے پر نہ بیمار پر نہ آپ تم پر کہ اپنی اولاد کے گھر کھانا کھاؤ یا اپنے باپ کے گھر یا ماں کے گھر یا بھائیوں کے گھر یا بہنوں کے گھر یا چچا کے گھر یا پھوپی کے گھر یا ماموں کے گھر یا خالہ کے گھر یا جس کی کنجیاں تمھارے
اعممکم او بیوت عمتکم او بیوت اخولکم او بیوت خلتکم او ما ملکتم مفاتحہ او صدیقکم " اختیار میں ہیں یا اپنے دوست کے یہاں۔
اس اجازت میں جیسے ایك وقت کا کھانا داخل ہے یوں ہی بشرط رضا وعدم بارچند وقت کا خصوصا جبکہ بہن یا ساس یا ان لوگوں کا مکان دوسرے شہر میں ہو اور یہ بعد مدت ملنے کو جائے جب تك یہ نہ جانے کہ ان پر باروناگوار نہ ہوگا جہاں تك ایسے تعلقات میں ایسے بعد سے اتنے دنوں بعد مہمان داری معروف ہے بلا شبہہ رہ سکتاہے ہاں اتنا رہنا کہ اکتا جائے اور ناگوار ہو ناجائز اور وہ کھانا بھی ناجائز اگر چہ ماں باپ ہی کا گھر ہوہاں ماں باپ جبکہ محتاج ہو مالدار اولاد کے یہاں جتنے دن چاہیں رہ سکتے ہیں اگرچہ اسے ناگوار ہوکہ اس کے مال میں اتنا ان کا حق ہے اس کی بے مرضی بھی لے سکتے ہیں یہ سب عارضی طور پر رہنے میں کلام تھا اب جو لوگ معیوب جانتے ہوں ان کا زعم بالکل مردود واتباع کفار ہنود ہے۔رہا دوسرے کے یہاں سکونت اختیار کرنا یہ سوا محتاج ماں باپ کے کسی کے گھر بے اس کی رضا کے اصلا حلال نہیں اگر چہ بھائی یا باپ کے یہاں ہو اگر چہ فقط سکونت ہو کھائے اپنا مگر وہ کسب سے عاجز و محتاج جس کا نفقہ شرع نے اس صاحب مکان پر واجب کیا یہ رہ سکے گا اور کھانا بھی اسی کے سر کھائیگا اسے گوارہ ہو خواہ ناگواربھائی ہو یا بہنساس اس میں داخل نہیں کہ اس کے ذمہ اس کا نفقہ نہیں ہوسکتا ہاں عاجز محتاج کا نفقہ جس پر شرعا لازم ہے اگر نہ وہ اس کی اولاد میں ہے نہ یہ اس کی اولاد میں تو بے اس کی رضا کے جبرا اس کا بار اس پر ڈالنا بحکم حاکم ہوگا خو د یہ اس کا اختیار نہیں رکھتاردالمحتار میں ہے:
نفقۃ قرابۃ غیر الولاد وجوبھا لایثبت الا بالقضاء او الرضاء ۔ ایسے رشتے دار کا خرچہ جو اولاد میں شامل نہ ہو اس کے خرچے کا وجوب فیصلہ قاضی یا خرچہ دینے والے کی رضا مندی کے بغیر ثابت نہیں ہوسکتا۔
حکم شرع یہ ہے اس کے خلاف جو کچھ ہو باطل ہے ظاہرا یہ تخصیص اس خیال سے ہو کہ بہن کا اپنا گھر اور مال غالبا نہیں ہوتا بلکہ اس کے شوہر کا اور وہ اگر ناگواری نہ ظاہر کرے تو غالبا مروت اور اپنی
اس اجازت میں جیسے ایك وقت کا کھانا داخل ہے یوں ہی بشرط رضا وعدم بارچند وقت کا خصوصا جبکہ بہن یا ساس یا ان لوگوں کا مکان دوسرے شہر میں ہو اور یہ بعد مدت ملنے کو جائے جب تك یہ نہ جانے کہ ان پر باروناگوار نہ ہوگا جہاں تك ایسے تعلقات میں ایسے بعد سے اتنے دنوں بعد مہمان داری معروف ہے بلا شبہہ رہ سکتاہے ہاں اتنا رہنا کہ اکتا جائے اور ناگوار ہو ناجائز اور وہ کھانا بھی ناجائز اگر چہ ماں باپ ہی کا گھر ہوہاں ماں باپ جبکہ محتاج ہو مالدار اولاد کے یہاں جتنے دن چاہیں رہ سکتے ہیں اگرچہ اسے ناگوار ہوکہ اس کے مال میں اتنا ان کا حق ہے اس کی بے مرضی بھی لے سکتے ہیں یہ سب عارضی طور پر رہنے میں کلام تھا اب جو لوگ معیوب جانتے ہوں ان کا زعم بالکل مردود واتباع کفار ہنود ہے۔رہا دوسرے کے یہاں سکونت اختیار کرنا یہ سوا محتاج ماں باپ کے کسی کے گھر بے اس کی رضا کے اصلا حلال نہیں اگر چہ بھائی یا باپ کے یہاں ہو اگر چہ فقط سکونت ہو کھائے اپنا مگر وہ کسب سے عاجز و محتاج جس کا نفقہ شرع نے اس صاحب مکان پر واجب کیا یہ رہ سکے گا اور کھانا بھی اسی کے سر کھائیگا اسے گوارہ ہو خواہ ناگواربھائی ہو یا بہنساس اس میں داخل نہیں کہ اس کے ذمہ اس کا نفقہ نہیں ہوسکتا ہاں عاجز محتاج کا نفقہ جس پر شرعا لازم ہے اگر نہ وہ اس کی اولاد میں ہے نہ یہ اس کی اولاد میں تو بے اس کی رضا کے جبرا اس کا بار اس پر ڈالنا بحکم حاکم ہوگا خو د یہ اس کا اختیار نہیں رکھتاردالمحتار میں ہے:
نفقۃ قرابۃ غیر الولاد وجوبھا لایثبت الا بالقضاء او الرضاء ۔ ایسے رشتے دار کا خرچہ جو اولاد میں شامل نہ ہو اس کے خرچے کا وجوب فیصلہ قاضی یا خرچہ دینے والے کی رضا مندی کے بغیر ثابت نہیں ہوسکتا۔
حکم شرع یہ ہے اس کے خلاف جو کچھ ہو باطل ہے ظاہرا یہ تخصیص اس خیال سے ہو کہ بہن کا اپنا گھر اور مال غالبا نہیں ہوتا بلکہ اس کے شوہر کا اور وہ اگر ناگواری نہ ظاہر کرے تو غالبا مروت اور اپنی
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۶۱€
ردالمحتار کتاب الطلاق باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۸۱€
ردالمحتار کتاب الطلاق باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۸۱€
زوجہ کی رعایت سے اور ساس جو کچھ کرے گی اپنی بیٹی کے دباؤ سے اور یہ جائز نہیں لہذا اس سے احتراز کرنا چاہئے اگر چہ ناگواری ظاہر نہ ہو کہ ظاہر ناگواری ہے اور بہن فقط مثال ہے بیٹی بھتیجی بھانجی کا بھی یہی حال ہے جبکہ مال ومکان ان کے شوہروں کا ہو شرعا بھائی بھتیجے بھانجے کا بھی یہی حاکم ہے جبکہ مروت وخاطر مع ناگواری باطن ہو مگر یہاں مروت خود اس کی ذات کے باعث ہے اور وہاں دی ہوئی بیٹی کے ذریعہ سے لہذا اسے زیادہ معیوب سمجھا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۶ تا ۸۸: از شہر کوٹہ راجپوتانہ محلہ لاڈپورہ معرفت گانس بہرو کے مسئولہ الہی بخش لوہار ۲۸ جمادی الاولی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)شادی میں ہندؤوں کی رسم کے موافق گانے اور باجے کے ساتھ کمھار کے گھر سے برتن لانے کے واسطے کیا حکم ہے
(۲)شادی میں کپڑا پہناتے وقت ہندوؤں کی طرح پیشانی میں ہلدی کا ٹیکا لگانا کیسا ہے
(۳)لڑکے کی سالگرہ کے روزلچھے میں عمر کی گرہ لگانا کیسا ہے
الجواب:
(۱)ناجائز ہے وگناہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ناجائز وگناہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)ناجائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۹: از دیوگڑھ میواڑ راجپوتانہ مرسلہ عبدالعزیز صاحب ۸ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں دونوں عیدوں پر مسلمان بڑے تزك واحتشام سے اسلام کی شان وشوکت ظاہر کرتے ہیں یعنی نماز کے لئے جاتے وقت توپوں کے فیر ہوتے ہیں اور نشان و گھوڑا وتاشے بجتے ہوئے عیدگاہ کو جاتے ہیں اور قاضی صاحب شاہی جامہ پہنتے ہیں بعد فراغت نماز دوسرے دروازہ سے شہر میں داخل ہوتے ہیں یہ محض اسلامی شان وشوکت بمقابلہ کفا ر کی جاتی ہے اور تمام لوازمہ منجانب رئیس ریاست یہاں کے آتاہے۔اگر تاشے وغیرہ موقوف کئے جائیں تو فتنہ وفساد برپاہونے کی صورت میں اس میں کوئی خرابی تو لازم نہیں آتی ہے
الجواب:
عید کے لئے نشان لے جانا اور عمدہ لباس پہننا تو سنت ہے اور گھوڑے کی سواری بھی فی نفسہ
مسئلہ ۸۶ تا ۸۸: از شہر کوٹہ راجپوتانہ محلہ لاڈپورہ معرفت گانس بہرو کے مسئولہ الہی بخش لوہار ۲۸ جمادی الاولی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)شادی میں ہندؤوں کی رسم کے موافق گانے اور باجے کے ساتھ کمھار کے گھر سے برتن لانے کے واسطے کیا حکم ہے
(۲)شادی میں کپڑا پہناتے وقت ہندوؤں کی طرح پیشانی میں ہلدی کا ٹیکا لگانا کیسا ہے
(۳)لڑکے کی سالگرہ کے روزلچھے میں عمر کی گرہ لگانا کیسا ہے
الجواب:
(۱)ناجائز ہے وگناہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ناجائز وگناہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)ناجائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۹: از دیوگڑھ میواڑ راجپوتانہ مرسلہ عبدالعزیز صاحب ۸ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں دونوں عیدوں پر مسلمان بڑے تزك واحتشام سے اسلام کی شان وشوکت ظاہر کرتے ہیں یعنی نماز کے لئے جاتے وقت توپوں کے فیر ہوتے ہیں اور نشان و گھوڑا وتاشے بجتے ہوئے عیدگاہ کو جاتے ہیں اور قاضی صاحب شاہی جامہ پہنتے ہیں بعد فراغت نماز دوسرے دروازہ سے شہر میں داخل ہوتے ہیں یہ محض اسلامی شان وشوکت بمقابلہ کفا ر کی جاتی ہے اور تمام لوازمہ منجانب رئیس ریاست یہاں کے آتاہے۔اگر تاشے وغیرہ موقوف کئے جائیں تو فتنہ وفساد برپاہونے کی صورت میں اس میں کوئی خرابی تو لازم نہیں آتی ہے
الجواب:
عید کے لئے نشان لے جانا اور عمدہ لباس پہننا تو سنت ہے اور گھوڑے کی سواری بھی فی نفسہ
مسنون ہے اگر چہ عید گاہ جانے کے لئے وارد نہیں اور مصلحت کے لئے وہاں ہاتھی کی سواری یا کوتل ہاتھی گھوڑے اور توپوں کے فیر میں بھی حرج نہیں ایسے شہر میں ایسی رسم کو بند کرنا سراسر خلاف مصلحت ہے اس میں صرف غازیوں کا ساطبل ہو جسے دہل کہتے ہیں تاشے نہ ہوں۔
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔ کاموں کا مدار ارادوں پر ہے اور ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا۔(ت)
اظہار شوکت کی اصل حج میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا رمل واضطباع اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو اس کا حکم فرمانا اور شك نہیں کہ وہاں اس طریقہ کے بند کرنے میں مشرکین کی فرحت شادی اور ان کی نگاہوں میں معاذاﷲ اسلام کی سبکی کا باعث ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔ کاموں کا مدار ارادوں پر ہے اور ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا۔(ت)
اظہار شوکت کی اصل حج میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا رمل واضطباع اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو اس کا حکم فرمانا اور شك نہیں کہ وہاں اس طریقہ کے بند کرنے میں مشرکین کی فرحت شادی اور ان کی نگاہوں میں معاذاﷲ اسلام کی سبکی کا باعث ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
رسالہ
ھادی الناس فی رسوم الاعراس
(شادیوں کی رسومات کے بارے میں لوگوں کے لئے راہنما)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۹۰: از کانپور مدرسہ فیض عام مرسلہ مولوی احمد حسن صاحب ۲۱ جمادی الاولی ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ ہمارے دیار میں اس طرح کا رواج ہے کہ شادی کے دن طرح بطرح کا تماشا کرتے ہیں یعنی آتشبازی وبندوق اور گانا بجانااور لکڑی کھیلنا وغیرہ ان سب سامان کے ساتھ نوشاہ کو پالکی پر سوار کرکے تماشا کرتے ہوئے دلہن کے مکان میں جاتے ہیں۔آیا یہ سب امور مذکورہ بحسب شرع شریف جائز ہیں یا نہیں فقط۔
الجواب:
نوشہ کو پالکی میں سوار کرنا مباح وجائز ہے لان من الرسوم العامۃ التی لا مضر فیھا من الشرع اس لئے کہ یہ ان عادی رسموں میں سے ہے شریعت میں جن پر کوئی طعن نہیں۔ت)اور لکڑی پھینکنا بندوقیں چھوڑنا اور اس قسم کے سب کھیل جائز ہیں جبکہ اپنے اور دوسرے کی مضرت کا اندیشہ نہ ہواور ان سے مقصود ان کوئی غرض محمود جیسے فن سپہگری کی مہارت ہونہ مجرد لہو ولعب لانہما من جنس المنضال المستثنی فی الحدیث(کیونکہ یہ وہ کھیل ہیں جن کو حدیث میں مستثنی قراردیا گیا ہے۔ت)اور اگر
ھادی الناس فی رسوم الاعراس
(شادیوں کی رسومات کے بارے میں لوگوں کے لئے راہنما)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۹۰: از کانپور مدرسہ فیض عام مرسلہ مولوی احمد حسن صاحب ۲۱ جمادی الاولی ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ ہمارے دیار میں اس طرح کا رواج ہے کہ شادی کے دن طرح بطرح کا تماشا کرتے ہیں یعنی آتشبازی وبندوق اور گانا بجانااور لکڑی کھیلنا وغیرہ ان سب سامان کے ساتھ نوشاہ کو پالکی پر سوار کرکے تماشا کرتے ہوئے دلہن کے مکان میں جاتے ہیں۔آیا یہ سب امور مذکورہ بحسب شرع شریف جائز ہیں یا نہیں فقط۔
الجواب:
نوشہ کو پالکی میں سوار کرنا مباح وجائز ہے لان من الرسوم العامۃ التی لا مضر فیھا من الشرع اس لئے کہ یہ ان عادی رسموں میں سے ہے شریعت میں جن پر کوئی طعن نہیں۔ت)اور لکڑی پھینکنا بندوقیں چھوڑنا اور اس قسم کے سب کھیل جائز ہیں جبکہ اپنے اور دوسرے کی مضرت کا اندیشہ نہ ہواور ان سے مقصود ان کوئی غرض محمود جیسے فن سپہگری کی مہارت ہونہ مجرد لہو ولعب لانہما من جنس المنضال المستثنی فی الحدیث(کیونکہ یہ وہ کھیل ہیں جن کو حدیث میں مستثنی قراردیا گیا ہے۔ت)اور اگر
صرف کھیل کود مقصود ہو تو مکروہ۔
فی الدرالمختار کرہ کل لھو لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام کل لھو المسلم حرام الا ثلاثہ ملا عبتہ باھلہ وتادیبہ لفرسہ و مناضلتہ بقوسہ اھوفی رد المحتار فی الجواھر قد جاء الا ثر فی رخصتہ المصارعۃ لتحصیل القدرۃ علی المقاتلۃ دون التلھی فانہ مکروہ اھ والظاھر انہ یقال مثل ذلك فی تادیب الفرس والمناضلۃ بالقوس اھ وفیہ عن القھستانی عن الملتقط من لعب بالصولجان برید الفروسیۃ یجوز اھ وفی الدرالمصارعۃ لیست ببدعۃ الا للتلھی فتکرہ برجندی وفیہ وکذا یحل کل لعب خطر لحاذق تغلب سلامتہ درمختار میں ہے ہر کھیل مکروہ ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ مسلمان کے لئے ہرکھیل حرام ہے سوائے تین کے(یعنی مسلمان کے لئے سوائے تین کے باقی ہر کھیل حرام اور ممنوع ہے اور جو تین کھیل مباح ہیں وہ یہ ہیں)(۱)خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا(دل لگی کرنا) (۲) اپنے گھوڑے سے کھیلنا(اس کی تربیت اور سکھلائی کرنا) اور (۳)اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا اھفتاوی شامی میں الجواہر کے حوالہ سے ہے کہ حدیث میں باہم کشتی کرنے کی اجازت موجود ہے یعنی جنگ وجہاد کے لئے قوت حاصل کرنے کے لیے نہ کہ کھیل کود کے لیے کیونکہ محض کھیل کود تو مکروہ ہے اھ اور ظاہر یہ ہے کہ اس طرح کا اطلاق گھوڑے کو سکھانے اور کمان سے تیر اندازی کرنے پر کیا جاتاہے اھاسی میں قہستانی سے بحوالہ الملتقط مرقوم ہے جس کسی نے صولجان یعنی گھڑ دوڑ کا کھیل کیا تو یہ جائز ہے اھ۔درمختار میں ہے کہ باہم کشتی کرنا بدعت نہیں مگر یہ کہ محض کھیل کود کے لئے نہ ہو برجندی اھ اور اسی میں ہے کہ ہرایسا
فی الدرالمختار کرہ کل لھو لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام کل لھو المسلم حرام الا ثلاثہ ملا عبتہ باھلہ وتادیبہ لفرسہ و مناضلتہ بقوسہ اھوفی رد المحتار فی الجواھر قد جاء الا ثر فی رخصتہ المصارعۃ لتحصیل القدرۃ علی المقاتلۃ دون التلھی فانہ مکروہ اھ والظاھر انہ یقال مثل ذلك فی تادیب الفرس والمناضلۃ بالقوس اھ وفیہ عن القھستانی عن الملتقط من لعب بالصولجان برید الفروسیۃ یجوز اھ وفی الدرالمصارعۃ لیست ببدعۃ الا للتلھی فتکرہ برجندی وفیہ وکذا یحل کل لعب خطر لحاذق تغلب سلامتہ درمختار میں ہے ہر کھیل مکروہ ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ مسلمان کے لئے ہرکھیل حرام ہے سوائے تین کے(یعنی مسلمان کے لئے سوائے تین کے باقی ہر کھیل حرام اور ممنوع ہے اور جو تین کھیل مباح ہیں وہ یہ ہیں)(۱)خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا(دل لگی کرنا) (۲) اپنے گھوڑے سے کھیلنا(اس کی تربیت اور سکھلائی کرنا) اور (۳)اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا اھفتاوی شامی میں الجواہر کے حوالہ سے ہے کہ حدیث میں باہم کشتی کرنے کی اجازت موجود ہے یعنی جنگ وجہاد کے لئے قوت حاصل کرنے کے لیے نہ کہ کھیل کود کے لیے کیونکہ محض کھیل کود تو مکروہ ہے اھ اور ظاہر یہ ہے کہ اس طرح کا اطلاق گھوڑے کو سکھانے اور کمان سے تیر اندازی کرنے پر کیا جاتاہے اھاسی میں قہستانی سے بحوالہ الملتقط مرقوم ہے جس کسی نے صولجان یعنی گھڑ دوڑ کا کھیل کیا تو یہ جائز ہے اھ۔درمختار میں ہے کہ باہم کشتی کرنا بدعت نہیں مگر یہ کہ محض کھیل کود کے لئے نہ ہو برجندی اھ اور اسی میں ہے کہ ہرایسا
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۸€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۳ و ۲۵۸€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۸€
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۹€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۳ و ۲۵۸€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۸€
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۹€
کرمی الرام وصید لحیۃ ویحل التفرج علیھم حینئذ اھ وفیہ عند المباحات والسباحۃ و الصولجان والبندق ورمی الحجر واشالتہ بالید و الشباك والوقوف علی رجل الخ فی الشامیۃ البندق المتخذ من الطین ط و مثلہ المتخذ من الرصاص ۔ کھیل جو کسی ماہر کو کھٹکے میں ڈال دے مگراس میں سلامتی غالب ہو وہ جائز ہے جیسے کسی تیر انداز کے لئے تیر اندازی کرنا اور کسی قبیلہ کے لئے شکار کرناپھر ان پر اس وقت خوشی کرنا جائز ہے اھ انہی مباح کاموں کو شمارکرنے کے سلسلہ میں ہے تیرناگھڑ دوڑ کرناڈھیلے پھینکناتیرمارنا(الشباک)آپس میں ایك دوسرے کی بند مٹھیاں کھولنا اور ایك پاؤں پر کھڑا ہونا وغیرہ الخ(یہ سب کھیل جائز اور مباح ہیں)فتاوی شامی میں ہے"البندق"جو گارے سے تیار کیاجائے اور اسی کی مانند وہ ہے جو سیسہ سے بنایا جائے۔(ت)
آتشبازی جس طرح شادیوں اور شب برأت میں رائج ہے بیشك حرام اور پوراجرم ہے کہ اس میں تضییع مال ہے۔قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا۔
قال اﷲ تعالی" ولا تبذر تبذیرا ﴿۲۶﴾ ان المبذرین کانوا اخون الشیطین وکان الشیطن لربہ کفورا ﴿۲۷﴾ " اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:کسی طرح بے جا نہ خرچ کیا کرو کیونکہ بے جا خرچ کرنیوالے شیاطین کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بہت بڑا ناشکر گزار ہے۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی کرہ لکم ثلثا قیل وقال واضاعۃ المال وکثرۃ السوالرواہ البخاری عن المغیرۃ بن بے شك اﷲ تعالی نے تمھارے لئے تین کاموں کو ناپسند فرمایا:(۱)فضول باتیں کرنا(۲)مال کو ضائع کرنا(۳)بہت زیادہ سوال کرنا اور
آتشبازی جس طرح شادیوں اور شب برأت میں رائج ہے بیشك حرام اور پوراجرم ہے کہ اس میں تضییع مال ہے۔قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا۔
قال اﷲ تعالی" ولا تبذر تبذیرا ﴿۲۶﴾ ان المبذرین کانوا اخون الشیطین وکان الشیطن لربہ کفورا ﴿۲۷﴾ " اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:کسی طرح بے جا نہ خرچ کیا کرو کیونکہ بے جا خرچ کرنیوالے شیاطین کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بہت بڑا ناشکر گزار ہے۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی کرہ لکم ثلثا قیل وقال واضاعۃ المال وکثرۃ السوالرواہ البخاری عن المغیرۃ بن بے شك اﷲ تعالی نے تمھارے لئے تین کاموں کو ناپسند فرمایا:(۱)فضول باتیں کرنا(۲)مال کو ضائع کرنا(۳)بہت زیادہ سوال کرنا اور
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴€۹
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۹€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۹€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۶ و ۲۷€
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ با ب قول اﷲ تعالٰی لا یسئلون الناس الحافا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۰ و ۲/ ۸۸۴،€صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب النہی عن کثرۃ المسائل ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵ و ۷۶€
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۹€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۵۹€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۶ و ۲۷€
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ با ب قول اﷲ تعالٰی لا یسئلون الناس الحافا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۰ و ۲/ ۸۸۴،€صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب النہی عن کثرۃ المسائل ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵ و ۷۶€
شعبۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ مانگناامام بخاری نے اس کو حضرت مغیرہ بن بن شعبہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے(ت)
شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی ماثبت بالسنۃ میں فرماتے ہیں:
من البدع الشنیعۃ ماتعارف الناس فی اکثر بلاد الہند من اجتماعھم للھو واللعب بالنارواحراق الکبریت اھ مختصرا۔ بری بدعات میں سے یہ اعمال ہیں جو ہندوستان کے زیادہ تر شہروں میں متعارف اور رائج ہیں جیسے آگ کے ساتھ کھیلنا اور تماشہ کرنے کے لئے جمع ہونا گندھك جلانا وغیرہ اھ مختصرا (ت)
اسی طرح یہ گانے بجانے کہ ان بلاد میں معمول ورائج ہیں بلا شبہہ ممنوع وناجائز ہیں خصوصا وہ ناپاك وملعون رسم کہ بہت خران بے تمیز احمق جاہلوں نے شیاطین ہنود ملاعین بے بہبود سے سیکھی یعنی فحش گالیوں کے گیت گوانا اور مجلس کے حاضرین وحاضرات کو لچھے دار سنانا سمدھیانہ کی عفیف و پاکدامن عورتوں کو الفاظ زنا سے تعبیر کرنا کرانا خصوصا اس ملعون بے حیا رسم کا مجمع زنان میں ہونا ان کا اس ناپاك فاحشہ حرکت پر ہنسناقہقہے اڑانااپنی کنواری لڑکیوں کو یہ سب کچھ سناکر بدلحاظیاں سکھانابے حیابے غیرتخبیثبے حمیت مردوں کا اس شہدہ پن کو جائز رکھناکبھی برائے نام لوگوں کو دکھاوے کہ جھوٹ سچ ایك آدھ بار جھڑك دینامگر بندوبست قطعی نہ کرنایہ وہ شنیعگندی اور مردود رسم ہے جس پر صدہا لعنتیں اﷲ عزوجل کی اترتی ہیں اس کے کرنے والے اس پر راضی ہونے والے۔اپنے یہاں اس کا کافی انسداد نہ کرنے والے سب فاسق فاجرمرتکب کبائر مستحق غضب جبار و عذاب نار ہیں والعیاذ باﷲ تبارك وتعالیاﷲ تعالی مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمینجس شادی میں یہ حرکتیں ہوں مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس میں ہر گز شریك نہ ہوں اور اگر نادانستہ شریك ہوگئے تو جس وقت اس قسم کی باتیں شروع ہوں یا ان لوگوں کا ارادہ معلوم ہو تو سب مسلمان مردوں عورتوں پر لازم ہے کہ فورا اسی وقت اٹھ جائیں اور اپنی جورو بیٹی ماںبہن کو گالیاں نہ دلوائیںفحش نہ سنوائیںورنہ یہ بھی ان ناپاکیوں میں شریك ہوں گے اور غضب الہی سے حصہ لیں گے والعیاذ باﷲ رب العالمین۔زنہار زنہار اس معاملہ میں حقیقی بہن بھائی
شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی ماثبت بالسنۃ میں فرماتے ہیں:
من البدع الشنیعۃ ماتعارف الناس فی اکثر بلاد الہند من اجتماعھم للھو واللعب بالنارواحراق الکبریت اھ مختصرا۔ بری بدعات میں سے یہ اعمال ہیں جو ہندوستان کے زیادہ تر شہروں میں متعارف اور رائج ہیں جیسے آگ کے ساتھ کھیلنا اور تماشہ کرنے کے لئے جمع ہونا گندھك جلانا وغیرہ اھ مختصرا (ت)
اسی طرح یہ گانے بجانے کہ ان بلاد میں معمول ورائج ہیں بلا شبہہ ممنوع وناجائز ہیں خصوصا وہ ناپاك وملعون رسم کہ بہت خران بے تمیز احمق جاہلوں نے شیاطین ہنود ملاعین بے بہبود سے سیکھی یعنی فحش گالیوں کے گیت گوانا اور مجلس کے حاضرین وحاضرات کو لچھے دار سنانا سمدھیانہ کی عفیف و پاکدامن عورتوں کو الفاظ زنا سے تعبیر کرنا کرانا خصوصا اس ملعون بے حیا رسم کا مجمع زنان میں ہونا ان کا اس ناپاك فاحشہ حرکت پر ہنسناقہقہے اڑانااپنی کنواری لڑکیوں کو یہ سب کچھ سناکر بدلحاظیاں سکھانابے حیابے غیرتخبیثبے حمیت مردوں کا اس شہدہ پن کو جائز رکھناکبھی برائے نام لوگوں کو دکھاوے کہ جھوٹ سچ ایك آدھ بار جھڑك دینامگر بندوبست قطعی نہ کرنایہ وہ شنیعگندی اور مردود رسم ہے جس پر صدہا لعنتیں اﷲ عزوجل کی اترتی ہیں اس کے کرنے والے اس پر راضی ہونے والے۔اپنے یہاں اس کا کافی انسداد نہ کرنے والے سب فاسق فاجرمرتکب کبائر مستحق غضب جبار و عذاب نار ہیں والعیاذ باﷲ تبارك وتعالیاﷲ تعالی مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمینجس شادی میں یہ حرکتیں ہوں مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس میں ہر گز شریك نہ ہوں اور اگر نادانستہ شریك ہوگئے تو جس وقت اس قسم کی باتیں شروع ہوں یا ان لوگوں کا ارادہ معلوم ہو تو سب مسلمان مردوں عورتوں پر لازم ہے کہ فورا اسی وقت اٹھ جائیں اور اپنی جورو بیٹی ماںبہن کو گالیاں نہ دلوائیںفحش نہ سنوائیںورنہ یہ بھی ان ناپاکیوں میں شریك ہوں گے اور غضب الہی سے حصہ لیں گے والعیاذ باﷲ رب العالمین۔زنہار زنہار اس معاملہ میں حقیقی بہن بھائی
حوالہ / References
ماثبت بالسنۃ ذکر شہر شعبان المقالۃ الثالثۃ ∞ادارہ نعیمیہ رضویہ موچی گیٹ لاہور ص۲۸۲€
بلکہ ماں باپ کی بھی رعایت ومروت روانہ رکھیں کہ:
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۔ اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔(ت)
ہاں شرع مطہر نے شادی میں بغرض اعلان نکاح صرف دف کی اجازت دی ہے جبکہ مقصود شرع سے تجاوز کرکے لہو مکروہ و تحصیل لذت شیطانی کی حد تك نہ پہنچےولہذا علماء شرط لگاتے ہیں کہ قواعد موسیقی پر نہ بجایا جائےتال سم کی رعایت نہ ہو نہ اس میں جھانج ہوں کہ وہ خوا ہی نخواہی مطرب وناجائز ہیں۔پھر اس کا بجانا بھی مردوں کو ہر طرح مکروہ ہے۔نہ شرف والی بیبیوں کے مناسب بلکہ نابالغہ چھوٹی چھوٹی بچیاں یا لونڈیاں باندیاں بجائیںاور اگر اس کے ساتھ کچھ سیدھے سادے اشعار یا سہرے سہاگ ہوں جن میں اصلا نہ فحش ہو نہ کسی بے حیائی کا ذکرنہ فسق وفجور کی باتیںنہ مجمع زنان یافاسقان میں عشقیات کے چرچے نہ نامحرم مردوں کو نغمہ عورات کی آواز پہنچےغرض ہر طرح منکرات شرعیہ ومظان فتنہ سے پاك ہوںتو اس میں مضائقہ نہیں۔جیسے انصار کرام کی شادیوں میں سمدھیانے جاکر یہ شعر پڑھاجاتاتھا
اتینا کم اتیناکم فحیانا وحیاکم
یعنی ہم تمھارے پاس آئے ہم تمھارے پاس آئےاﷲ ہمیں زندہ رکھے تمھیں بھی جلائے یعنی زندہ رکھے۔
پس اس قسم کے پاك وصاف مضمون ہوںاصل حکم میں تو اسی قدر کی رخصت ہے مگر حال زمانہ کے مناسب یہ ہے کہ مطلق بندش کی جائے کہ جہال حال خصوصا زنان زمان سے کسی طرح امید نہیں کہ انھیں جو حد باندھ کر اجازت دی جائے اس کی پابند رہیں اور حد مکروہ وممنوع تك تجاوز نہ کریں۔لہذا سرے سے فتنہ کا دروازہ ہی بند کیا جائے نہ انگلی ٹیکنے کی جگہ پائیں گی نہ آگے پاؤں پھیلائیں گیخصوصا بازاری فاجرہ فاحشہ عورتوںرنڈیوںڈومنیوں کو تو ہر گز ہر گز قدم نہ رکھنے دیں کہ ان سے حد شرع کی پابندی محال عادی ہے۔وہ بے حیائیوں فحش سرائیوں کی خوگرہوتی ہیں
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۔ اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔(ت)
ہاں شرع مطہر نے شادی میں بغرض اعلان نکاح صرف دف کی اجازت دی ہے جبکہ مقصود شرع سے تجاوز کرکے لہو مکروہ و تحصیل لذت شیطانی کی حد تك نہ پہنچےولہذا علماء شرط لگاتے ہیں کہ قواعد موسیقی پر نہ بجایا جائےتال سم کی رعایت نہ ہو نہ اس میں جھانج ہوں کہ وہ خوا ہی نخواہی مطرب وناجائز ہیں۔پھر اس کا بجانا بھی مردوں کو ہر طرح مکروہ ہے۔نہ شرف والی بیبیوں کے مناسب بلکہ نابالغہ چھوٹی چھوٹی بچیاں یا لونڈیاں باندیاں بجائیںاور اگر اس کے ساتھ کچھ سیدھے سادے اشعار یا سہرے سہاگ ہوں جن میں اصلا نہ فحش ہو نہ کسی بے حیائی کا ذکرنہ فسق وفجور کی باتیںنہ مجمع زنان یافاسقان میں عشقیات کے چرچے نہ نامحرم مردوں کو نغمہ عورات کی آواز پہنچےغرض ہر طرح منکرات شرعیہ ومظان فتنہ سے پاك ہوںتو اس میں مضائقہ نہیں۔جیسے انصار کرام کی شادیوں میں سمدھیانے جاکر یہ شعر پڑھاجاتاتھا
اتینا کم اتیناکم فحیانا وحیاکم
یعنی ہم تمھارے پاس آئے ہم تمھارے پاس آئےاﷲ ہمیں زندہ رکھے تمھیں بھی جلائے یعنی زندہ رکھے۔
پس اس قسم کے پاك وصاف مضمون ہوںاصل حکم میں تو اسی قدر کی رخصت ہے مگر حال زمانہ کے مناسب یہ ہے کہ مطلق بندش کی جائے کہ جہال حال خصوصا زنان زمان سے کسی طرح امید نہیں کہ انھیں جو حد باندھ کر اجازت دی جائے اس کی پابند رہیں اور حد مکروہ وممنوع تك تجاوز نہ کریں۔لہذا سرے سے فتنہ کا دروازہ ہی بند کیا جائے نہ انگلی ٹیکنے کی جگہ پائیں گی نہ آگے پاؤں پھیلائیں گیخصوصا بازاری فاجرہ فاحشہ عورتوںرنڈیوںڈومنیوں کو تو ہر گز ہر گز قدم نہ رکھنے دیں کہ ان سے حد شرع کی پابندی محال عادی ہے۔وہ بے حیائیوں فحش سرائیوں کی خوگرہوتی ہیں
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث حکم بن عمرو الغفاری المکتب الاسلامی بیروت ∞۵/ ۶۶،۶۷،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۳۱۵۰€ المکتبۃ الفیصلیۃبیروت ∞۳/ ۲۰۸،€المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ∞۳/ ۱۲۳€
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح با ب فی الغناء والدف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۸€
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح با ب فی الغناء والدف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۸€
منع کرتے کرتے اپنا کام کر گزریں گی بلکہ شریف زادیوں کا ان آوارہ بدوضعوں کے سامنے آنا ہی سخت بیہودہ وبیجا ہے۔صحبت بد زہر قاتل ہے اور عورتیں نازك شیشیاں ہیں جن کے ٹوٹ جانے کے لئے ایك ادنی سی ٹھیس بھی بہت ہوتی ہے اسی لئے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یا انجشۃ رویدا بالقواریر (اے انجشہ! ٹھہر جاؤ کہیں کانچ کی شیشیاں ٹوٹ نہ جائیں۔ت) فرمایا۔
ھذا کلہ ظاھر بین عند من نور اﷲ تعالی بصیرتہ وجمیع مانھینا عنہ فان علیہ دلائل ساطعۃ من القران العظیم والحدیث الکریم والفقۃ القویم بیدان وضوح الحکم اغنانا عن سردھا فلنذکر بعض دلائل علی ماذکرنا اباحتہ فانا نری ناسا یشد دون الامر یطلقون القول بالتحریم و منھم من یبیح ضرب الدف بشرط ان لایکون معہ شیئ من الشعر وانما یکون محض دف مع ان الاحادیث ترد ذلك کما ستعلم مماھنالك اخرج الامام البخاری فی صحیحہ من الربیع بنت معوذ بن عفرا قالت جاء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم یہ سب کچھ اچھی طرح واضح ہے ہر اس بندے پر جس کو اﷲ تعالی نے دل کی روشنی بخشی ہے اور تمام وہ باتیں جن سے ہم نے منع کیا ہے کیونکہ اس پر قرآن عظیمحدیث مبارك اور فقہ قویم کے روشن دلائل موجود ہیں لہذا واضع حکم نے ہمیں اس کی تفصیل سے بے نیاز کردیا ہے پھر ہم بعض دلائل بیان کرتے ہیں اس مسئلہ پر جس کی اباحت ہم نے پہلے ذکرکر دی کیونکہ کچھ لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ معاملہ میں سختی کرتے ہیں اور مطلق تحریم کا قول ذکر کرتے ہیں(قول بالتحریم مطلق بیان کرتے ہیں)اور کچھ وہ لوگ ہیں جو دف بجانا مباح کہتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ اشعار نہ پڑھے جائیں بلکہ صرف دف بجائی جائے حالانکہ حدیث میں اس کی تردید آئی ہے اور جو کچھ یہاں مذکور ہوگا عنقریب تم جان لوگے امام بخاری نے اپنی صحیح میں ربیع بنت معوذ بن عفراء کے حوالہ سے تخریج فرمائی کہ اس بی بی نے فرمایا کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے ہاں
ھذا کلہ ظاھر بین عند من نور اﷲ تعالی بصیرتہ وجمیع مانھینا عنہ فان علیہ دلائل ساطعۃ من القران العظیم والحدیث الکریم والفقۃ القویم بیدان وضوح الحکم اغنانا عن سردھا فلنذکر بعض دلائل علی ماذکرنا اباحتہ فانا نری ناسا یشد دون الامر یطلقون القول بالتحریم و منھم من یبیح ضرب الدف بشرط ان لایکون معہ شیئ من الشعر وانما یکون محض دف مع ان الاحادیث ترد ذلك کما ستعلم مماھنالك اخرج الامام البخاری فی صحیحہ من الربیع بنت معوذ بن عفرا قالت جاء النبی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم یہ سب کچھ اچھی طرح واضح ہے ہر اس بندے پر جس کو اﷲ تعالی نے دل کی روشنی بخشی ہے اور تمام وہ باتیں جن سے ہم نے منع کیا ہے کیونکہ اس پر قرآن عظیمحدیث مبارك اور فقہ قویم کے روشن دلائل موجود ہیں لہذا واضع حکم نے ہمیں اس کی تفصیل سے بے نیاز کردیا ہے پھر ہم بعض دلائل بیان کرتے ہیں اس مسئلہ پر جس کی اباحت ہم نے پہلے ذکرکر دی کیونکہ کچھ لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ معاملہ میں سختی کرتے ہیں اور مطلق تحریم کا قول ذکر کرتے ہیں(قول بالتحریم مطلق بیان کرتے ہیں)اور کچھ وہ لوگ ہیں جو دف بجانا مباح کہتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ اشعار نہ پڑھے جائیں بلکہ صرف دف بجائی جائے حالانکہ حدیث میں اس کی تردید آئی ہے اور جو کچھ یہاں مذکور ہوگا عنقریب تم جان لوگے امام بخاری نے اپنی صحیح میں ربیع بنت معوذ بن عفراء کے حوالہ سے تخریج فرمائی کہ اس بی بی نے فرمایا کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کے ہاں
حوالہ / References
صحیح بخاری کتا ب الادب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۔۹۰۸،€صحیح مسلم کتاب الفضائل باب رحمتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم النساء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۵۵،€مسنداحمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۲۵۴€
فدخل حسین بن علی فجلس علی فراشی کمجلسك منی فجعلت جویریات لنا یضربن بالدف ویندبن من قتل من ابائی یوم بدر الحدیث۔
واخرج ایضا عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا انھا زفت امرأۃ الی رجل من الانصار فقال نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماکان معکم لھو فان الانصار یعجبھم اللھو
واخرج القاضی المحاملی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما فی ھذاالحدیث انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ادرکیھا یا زینب امرأۃ کانت تغنی بالمدینۃ ۔ تشریف لائے تو حضرت حسین بن علی حاضر خدمت ہوئے اور میرے بچھونے پر اس طرح تشریف فرماہوئے جیسے تمھارا میرے پاس بیٹھنا ہے اور ہماری کچھ بچیاں دف بجا بجا کر ہمارے اکابر شہداء بدرکے مرثیے پڑھتی رہیں۔الحدیث۔
اور یہ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی سند سے تخریج فرمائی کہ ایك دلہن اپنے انصاری شوہر کے گھر رخصت کی گئی تو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمھارے پاس کوئی کھیل(گانے بجانے)کا سامان نہ تھا کیونکہ انصار اس سے جوش میں آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیںقاضی محاملی نے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اس حدیث کی تخریج فرمائی کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے زینب! کسی ایسی عورت سے رسائی حاصل کرو جو مدینہ منورہ میں گانے والی ہومحدث ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے تخریج فرمائی(اﷲ تعالی دونوں سے راضی ہو)انھوں نے فرمایا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے قبیلہ انصار میں اپنی ایك قربتدار کا نکاح کیا تو حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم
واخرج ایضا عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا انھا زفت امرأۃ الی رجل من الانصار فقال نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماکان معکم لھو فان الانصار یعجبھم اللھو
واخرج القاضی المحاملی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما فی ھذاالحدیث انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال ادرکیھا یا زینب امرأۃ کانت تغنی بالمدینۃ ۔ تشریف لائے تو حضرت حسین بن علی حاضر خدمت ہوئے اور میرے بچھونے پر اس طرح تشریف فرماہوئے جیسے تمھارا میرے پاس بیٹھنا ہے اور ہماری کچھ بچیاں دف بجا بجا کر ہمارے اکابر شہداء بدرکے مرثیے پڑھتی رہیں۔الحدیث۔
اور یہ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی سند سے تخریج فرمائی کہ ایك دلہن اپنے انصاری شوہر کے گھر رخصت کی گئی تو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمھارے پاس کوئی کھیل(گانے بجانے)کا سامان نہ تھا کیونکہ انصار اس سے جوش میں آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیںقاضی محاملی نے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اس حدیث کی تخریج فرمائی کہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے زینب! کسی ایسی عورت سے رسائی حاصل کرو جو مدینہ منورہ میں گانے والی ہومحدث ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے تخریج فرمائی(اﷲ تعالی دونوں سے راضی ہو)انھوں نے فرمایا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے قبیلہ انصار میں اپنی ایك قربتدار کا نکاح کیا تو حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب النکاح باب ضرب الدف بالنکاح ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷€۳
صحیح البخاری با ب النسوۃ اللاتی یہدین المرأۃ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷۵€
فتح الباری بحوالہ المحاملی کتاب النکاح با ب النسوۃ اللاتی یہدین المرأۃ الخ مصطفی البابی ∞مصر ۱۱/ ۱۳،€عمدۃ القاری کتاب النکاح با ب النسوۃ اللاتی یہدین المرأۃ الخ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃبیروت ∞۲۰/ ۱۴۹€
صحیح البخاری با ب النسوۃ اللاتی یہدین المرأۃ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷۵€
فتح الباری بحوالہ المحاملی کتاب النکاح با ب النسوۃ اللاتی یہدین المرأۃ الخ مصطفی البابی ∞مصر ۱۱/ ۱۳،€عمدۃ القاری کتاب النکاح با ب النسوۃ اللاتی یہدین المرأۃ الخ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃبیروت ∞۲۰/ ۱۴۹€
واخرج ابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما قال انکحت عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا ذات قرابۃ لھا من الانصار فجاء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال اھدیتم الفتاۃ قالوا نعم قال الا ارسلتم معھا من تغنی قالت لا فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان الانصار قوم فیھم غزل فلو بعثتم معھا من یقول اتینکم اتینکم فحیا نا و حیاکم فاخرج الطبرانی عن السائب بن یزید رضی اﷲ تعالی عنہ قال لقی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جواری یتغنین یقلن تحیونا نحییکم فقال لاتقولوا ھکذا ولکن قولوا حیانا وایاکم فقال رجل یارسول اﷲ اترخص للناس فی ھذا قال نعم انہ نکاح لا سفاح واخرج احمد والترمذی و النسائی وابن ماجۃ عن محمد بن حاطب الجمحی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فصل مابین الحلال والحرام الصوت تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کیا تم نے اس نوجوان لڑکی کو کوئی ہدیہ(تحفہ)دیا ہے گھروالوں نے عرض کی:جی ہاںپھر فرمایا:کیا تم نے اس کے ساتھ کوئی گانے والی بھیجی ہے سیدہ نے عرض کی:جی نہیں۔حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:انصار کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جن میں غزلیات پڑھنے کا رواج ہے لہذا اگر تم لوگ اس دلہن کے ساتھ کوئی ایسا شخص بھیجتے جو کہتا اتیناکم اتیناکم الخ یعنی ہم تمھارے پاس آگئے اﷲ تعالی ہمیں بھی زندہ رکھے اور تمھیں بھی زندہ رکھےاما م طبرانی نے حضرت سائب بن یزید رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے تخرج فرمائی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ملاقات چند بچیوں سے ہوئی جو گارہی تھیں اور یہ کہہ رہی تھیں کہ ہم تمھیں اپنی زندگی بخشتی ہیں تو ہمیں بخشو آپ نے فرمایا:یوں نہ کہو بلکہ یوں کہو حیانا وایاکم اﷲ تعالی ہمیں بھی زندہ رکھے اور تمھیں بھی زندہ رکھے۔ایك شخص نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی وسلم! کیا آپ لوگوں کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں فرمایا:ہاں اے برادر یہ نکاح ہے کوئی بدکاری تو نہیں ہے۔
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب الغناء والدف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳€۸
المعجم الکبیر ∞حدیث ۶۶۶۶€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۷/ ۱۵۲€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۶۶۶۶€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۷/ ۱۵۲€
والدف فی النکاح ۔ واخرج النسائی عن عامر بن سعد قال دخلت علی قرظۃ بن کعب وابی مسعود الانصاری رضی اﷲ تعالی عنہما فی عرس واذا جوار یغنین فقلت انتما صاحبا رسول اﷲ تعالی وسلم ومن اھل بدر یفعل ھذا عندکم فقالا اجلس ان شئت فاسمع معنا وان شئت فاذھب قدرخص لنافی اللھو عند العرس قال الامام البدر محمود العینی فی عمدۃ القاری تحت الحدیث الاول فی الحدیث فوائد(الی ان قال)منھا الضرب بالدف بحضرۃ الشارع الملۃ ومبین الحل
امام احمدترمذینسائی اور ابن ماجہ نے محمد بن حاطب جمحی کے حوالے سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے تخریج فرمائیآپ نے ارشاد فرمایا حلال اور حرام کے درمیان فرق نکاح میں اعلان اور دف بجانے کا ہے۔ امام نسائی نے عامر بن سعد کے حوالہ سے تخریج فرمائی کہ انھوں نے فرمایا کہ میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما کے پاس ایك تقریب شادی میں گیا میں نے دیکھا کہ چند لڑکیاں گارہی تھیں میں نے کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اے دو ساتھیو! اور غزوہ بدر میں شریك ہونے والو! تمھارے ہاں یہ کچھ کیا جارہا ہے انھوں نے فرمایا اگر پسند کرتا ہے تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر سن لو اور اگر نہیں پسند کرتا اور نہیں چاہتا تو واپس چلا جا کیونکہ شادیوں میں ہمیں اس کی رخصت دی گئی ہے۔امام بدرالدین محمود عینی نے عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کی پہلی حدیث کے ذیل میں فرمایا حدیث میں بہت سے فوائد ہیں(وہ سب شمار کرتے ہوئے)یہاں تك فرمایا ان میں سے
امام احمدترمذینسائی اور ابن ماجہ نے محمد بن حاطب جمحی کے حوالے سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے تخریج فرمائیآپ نے ارشاد فرمایا حلال اور حرام کے درمیان فرق نکاح میں اعلان اور دف بجانے کا ہے۔ امام نسائی نے عامر بن سعد کے حوالہ سے تخریج فرمائی کہ انھوں نے فرمایا کہ میں قرظہ بن کعب اور ابومسعود انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما کے پاس ایك تقریب شادی میں گیا میں نے دیکھا کہ چند لڑکیاں گارہی تھیں میں نے کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اے دو ساتھیو! اور غزوہ بدر میں شریك ہونے والو! تمھارے ہاں یہ کچھ کیا جارہا ہے انھوں نے فرمایا اگر پسند کرتا ہے تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر سن لو اور اگر نہیں پسند کرتا اور نہیں چاہتا تو واپس چلا جا کیونکہ شادیوں میں ہمیں اس کی رخصت دی گئی ہے۔امام بدرالدین محمود عینی نے عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کی پہلی حدیث کے ذیل میں فرمایا حدیث میں بہت سے فوائد ہیں(وہ سب شمار کرتے ہوئے)یہاں تك فرمایا ان میں سے
حوالہ / References
جامع الترمذی ابوب النکاح باب ماجاء فی اعلان النکاح ∞امین کمپنی کراچی ۱/ ۱۲۹،€سنن النسائی کتاب النکاح اعلان النکاح بالصوت وضرب الدف ∞نورمحمد کارخانہ کراچی ۲/ ۹۰،€سنن ابن ماجہ ابواب النکاح اعلان النکاح ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۸،€مسند احمد بن حنبل حدیث محمد بن حاطب المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۴۱۸و ۴/ ۲۵€۹
سنن النسائی کتاب النکاح اللہو والغناء عند العرس ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کراچی ۲/ ۹۲€
سنن النسائی کتاب النکاح اللہو والغناء عند العرس ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کراچی ۲/ ۹۲€
من الحرمۃ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واعلان النکاح بالدف والغناء المباح فرقا بینہ وبین مایستتر بہ من السفاح اھوفی المرقاۃ قیل تلك البنات لم یکن بالغات حد الشھوۃ وکان دفھن غیر مصحوب بالجلاجل قال اکمل الدین الدف بضم الدال اشھر و افصح ویروی بالفتح ایضا وفیہ دلیل علی جواز ضرب الدف عند النکاح والزفاف للاعلانوالحق بعضھم الختان و العیدین والقدوم من السفر و مجتمع الاحباب المسروروقال المراد بہ الدف الذی کان فی زمن المتقدمین واما ماعلیہ الجلاجل فینبغی ان تکون مکروہا بالاتفاق اھ وفی العینی تحت الحدیث الثانی فی التوضیح اتفق العلماء علی جواز اللھو فی ولیمۃ ایك فائدہ یہ ہے کہ شارع ملت کی موجودگی میں دف بجائی گئی اور حلت وحرمت ظاہر کرنے والے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایسا کیا گیااور دف بجاکر اور مباح گانا گا کر نکاح کا اعلان کرو تاکہ نکاح اورخفیہ بدکاری(حلال وحرام)کا فرق واضح ہوجائےمرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے کہا گیا کہ وہ بچیاں نابالغہ تھیں حد بلوغت کو پہنچی ہوئی نہ تھیں اور ان کی دفیں بھی جہار والی نہ تھیںامام اکمل الدین نے فرمایا الدف حرکت پیش کے ساتھ زیادہ مشہور ہے اور دال پر زبر کی حرکت کی روایت بھی ہے اور یہ دلیل ہے کہ نکاح کرنے اور دلہن کو رخصت کرنے کے وقت اعلان کے لئے دف بجانا جائز ہے اور بعض نے تقریب ختنہعیدینسفر سے واپسی اور دوستوں کے اجتماع کو بھی تقریب شادی سے ملحق کیا ہے یعنی ان تمام مواقع پر بھی دف بجانے کی اصل اجازت ہے اور فرمایا کہ اس سے وہ دف مراد ہے جو گزشتہ زمانے میں مروج تھیاور جہار والی دف بجانا بالاتفاق مکروہ ہے۔علامہ عینی دوسری حدیث کی وضاحت فرماتے ہیں ولیمہ و نکاح کے موقع پر کھیل کود کو اہل علم بالاتفاق
حوالہ / References
عمدۃ االقاری شرح صحیح البخاری کتاب النکاح باب ضرب الدف فی النکاح ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ∞۲۰/ ۱۳۶€
مرقاۃ المفاتیح کتاب النکاح باب اعلان النکاح الفصل الاول ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶/ ۳۰۱€
مرقاۃ المفاتیح کتاب النکاح باب اعلان النکاح الفصل الاول ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶/ ۳۰۱€
النکاح کضرب الدف وشبھہ الخ وفی المرقاۃ تحت الحدیث الثانی ماکان معکم لھو"ای الم یکن معکم ضرب دف وقراء ۃ شعر لیس فیہ اثم وھذا رخصۃ عند العرس کذا قیل والاظھر ماقال الطیبی فیہ معنی التحضیض کما فی حدیث عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا الا ارسلتم معھم من یقول اتیناکم الحدیث اھ ملخصا۔وفیھا تحت الحدیث السابع ای وان اﷲ یحب ان تؤتی رخصۃ کما یحب ان تؤتی عزائمہ اھ قلت فالتحضیض کالتخضیض علی الرخصۃ لا لانہ الافضل فافھم وفی اشعۃ اللمعات تحت الحدیث السادس تغنی مباح است درنکاح مثل دف اھ وفی حظر ردالمحتار قبیل فصل اللبس عن الحسن لا بأس بالدف فی العرس یشتھرو فی السراجیۃ مباح اور جائز قرار دیتے ہیں جیسے دف بجانا یا اس کے مشابہ کسی الہ لہو کو استعمال کرنا الخمرقاۃ میں ان الفاظ(ماکان معکم لھو)کے ذیل میں ہے۔کیا تمھارے پاس کوئی دف بجانے والا نہیں اورنہ ایسا کوئی اشعار پڑھنے والا ہے کہ جن میں کوئی گناہ نہیںشادیوں میں اس کی اجازت ہے یونہی کہا گیا۔اور زیادہ ظاہر وہ بات ہے جو علامہ طیبی نے ارشاد فرمائی کہ حدیث میں تحضیض یعنی ابھار نے اور اکسانے کا مفہوم پایا جاتا ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی روایت میں"الا ارسلتم الخ"کے الفاظ ہیں یعنی کیا تم نے اس لڑکی کے ساتھ اس کو نہ بھیجا جو یوں کہتا(اتیناکم الحدیث) ملخص پورا ہو گیا۔اور اسی میں ساتویں حدیث کے ذیل میں ہے یعنی اﷲ تعالی پسند کرتا ہے کہ رخصت پر عمل کیا جائے جیسا کہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی عزیمتوں کو ادا کیا جائے (عبارت مکمل)میں کہتا ہوں یہ تحضیض اسی طرح ہے جیسے رخصت پر تحضیضیہ نہیں کہ وہ افضل ہو اس کو سمجھ لیا جائےاشعۃ اللمعات میں چھٹی حدیث کے ذیل میں ہے
حوالہ / References
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب النکاح باب النسوۃ اللاتی یہدین الخ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ∞۳۰/ ۱۴۹€
مرقاۃ المفاتیح کتاب النکاح باب اعلان النکاح الفصل الاول ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶/ ۳۰€۲
مرقاۃ المفاتیح کتاب النکاح باب اعلان النکاح الفصل الثالث ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶/ ۳۱۹€
اشعۃ اللمعات کتاب النکاح باب اعلان النکاح الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۲۰€
مرقاۃ المفاتیح کتاب النکاح باب اعلان النکاح الفصل الاول ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶/ ۳۰€۲
مرقاۃ المفاتیح کتاب النکاح باب اعلان النکاح الفصل الثالث ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶/ ۳۱۹€
اشعۃ اللمعات کتاب النکاح باب اعلان النکاح الفصل الثانی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۲۰€
ھذا اذا لم یکن لہ جلاجل ولم یضرب علی ھیأۃ التطرب اھ وفی الھندیۃ سئل ابویوسف عن الدف أتکرھہ فی غیر العرس بان تضرب المرأۃ فی غیر فسق للصبی قال لااکرھہ واما اللذی یجیئ منہ اللعب الفاحش للغناء فانی اکرھہ کذا فی محیط السرخسی ولا باس بضرب الدف یوم العید کما فی خزانۃ المفتین اھ وفی شھادات ردالمحتار جواز ضرب الدف فیہ(ای فی العرس)خاص بالنساء کما فی البحر عن المعراج بعد ذکرہ انہ مباح فی النکاح ومافی معناہ من حادث سرور قال ھو مکروہ للرجال علی کل حال للتشبہ بالنساء واﷲ تعالی اعلم۔ کہ نکاح میں گانا بجانا مباح ہے جیسے دف بجانا اھ ________فتاوی شامی کی بحث حظر میں ہے جو فصل اللبس سے کچھ پہلے حضرت حسن سے روایت ہے کہ تشہیر کے لئے تقریب میں دف بجائی جاسکتی ہے اور دف کے بجائے میں کوئی حرج نہیں سراجیہ میں ہےکہ یہ اجازت اس صورت میں ہے کہ دف بآواز جہار نہ ہواور وہ گانے کی طرز پر نہ بجائی جائے(عبارت مکمل)اور فتاوی عالمگیری میں ہے امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے دف کے بجانے کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا آپ تقریب شادی کے بغیر اس کو ناپسند کرتے ہیں کہ عورت بغیر حالت فسق کے صرف بچہ کے لئے بجائےفرمایا میں اس کو ناپسند نہیں کرتا لیکن وہ جو گانے کے لئے فحش کھیل کے طور پر بجائے تو وہ ناپسندیدہ ہے۔محیط سرخسی میں یونہی مذکور ہے۔عید کے دن دف بجانے میں کوئی مضائقہ نہیں اسی طرح خزانہ المفتین میں ہے اھردالمحتار کی بحث شہادت میں ہے کہ شادی میں دف بجانا عورتوں کے ساتھ خاص ہے اس وجہ سے جو بحرالرائق میں معراج سے منقول ہے بعد اس ذکر کرنے کے کہ وہ تقریب نکاح اور خوشی کے موقع سے جو مناسبت رکھتاہو اس میں دف بجانا مباح ہے۔اور فرمایا مردوں کے لئے وہ ہر حال میں مکروہ ہے کیونکہ اس میں عورتوں سے مشابہت پائی جاتی ہے اور اﷲ تعالی بڑا علم والا ہے۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۳€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ البا ب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۲€
ردالمحتار کتاب الشہادات باب قبول الشہادت داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۸۲€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ البا ب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۲€
ردالمحتار کتاب الشہادات باب قبول الشہادت داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۸۲€
مسئلہ ۹۱ و ۹۲: ا زموضع ہر نمیگل کمرلا علاقہ بنگالہ مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۲ ربیع الاول
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
سوال اول:کیا شادی وغیرہ میں آتشبازی چھوڑنا جائز ہے یانہیں
سوال دوم:اعلان کے لئے شادی میں بندوق چھوڑنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جواب سوال اول:ناجائز ہےاﷲ تعالی فرماتا ہے:
" ولا تبذر تبذیرا ﴿۲۶﴾ ان المبذرین کانوا اخون الشیطین وکان الشیطن لربہ کفورا ﴿۲۷﴾ بے جا خرچ نہ کرو کیونکہ بے جا اور فضول خرچ کرنیوالے شیاطین کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی حرم علیکم عقوق الامھات و وأدالبنات ومنعاوھات وکرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال و اضاعۃ المالرواہ الشیخان عن المغیرۃ بن شعبۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك اﷲ تعالی نے تم پر ماؤں کی نافرمانی حرام کردی اور بچیوں کو زندہ درگور کرنا اور بخل کرنا اور گدا گری کرنا اور ادھر ادھر کی فضول باتیں کرنا تم پر حرام کردیا ہے۔اور فرمایا زیادہ سوال کرنا اور مال کو ضائع کرنا بھی حرام کردیا گیا ہے۔ بخاری ومسلم نے اس کو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
جواب سوال دوم:جائز ہے۔
اخرج الترمذی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قالت قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امام ترمذی نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے تخریج فرمائی کہ آپ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
سوال اول:کیا شادی وغیرہ میں آتشبازی چھوڑنا جائز ہے یانہیں
سوال دوم:اعلان کے لئے شادی میں بندوق چھوڑنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جواب سوال اول:ناجائز ہےاﷲ تعالی فرماتا ہے:
" ولا تبذر تبذیرا ﴿۲۶﴾ ان المبذرین کانوا اخون الشیطین وکان الشیطن لربہ کفورا ﴿۲۷﴾ بے جا خرچ نہ کرو کیونکہ بے جا اور فضول خرچ کرنیوالے شیاطین کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی حرم علیکم عقوق الامھات و وأدالبنات ومنعاوھات وکرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال و اضاعۃ المالرواہ الشیخان عن المغیرۃ بن شعبۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بے شك اﷲ تعالی نے تم پر ماؤں کی نافرمانی حرام کردی اور بچیوں کو زندہ درگور کرنا اور بخل کرنا اور گدا گری کرنا اور ادھر ادھر کی فضول باتیں کرنا تم پر حرام کردیا ہے۔اور فرمایا زیادہ سوال کرنا اور مال کو ضائع کرنا بھی حرام کردیا گیا ہے۔ بخاری ومسلم نے اس کو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔اور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔(ت)
جواب سوال دوم:جائز ہے۔
اخرج الترمذی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قالت قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امام ترمذی نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے تخریج فرمائی کہ آپ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۶ و ۲۷€
صحیح البخاری کتاب الادب باب عقوق الوالدین الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۴،€صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب النہی من کثرۃ المسائل الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵،۷۶€
صحیح البخاری کتاب الادب باب عقوق الوالدین الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۴،€صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب النہی من کثرۃ المسائل الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵،۷۶€
اعلنوا ھذا النکاح واجعلوہ فی المساجد واضربوا علیہ بالدفوف ۔وروی احمد بسند صحیح وابن حبان فی صحیحہ و الطبرانی فی الکبیر وابونعیم فی الحلیۃ والحاکم فی المستدرك عن عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اعلنوا النکاح ۔واﷲ تعالی اعلم۔ لوگو! نکاح کااعلان کیا کرو(یعنی اس کی تشہیر کیا کرو)اور مسجدوں میں نکاح کیا کرواور اس کی تشہیر کے لئے دف بجایا کرو۔امام احمد نے سند صحیح سے ابن حبان نے اپنی صحیح میں طبرانی نے الکبیر میں اور ابونعیم نے الحلیۃ میں اور حاکم نے المستدرك میں حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمائی کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ نکاح کا اعلان کیا کرواﷲ تعالی تو بخوبی واقف اور آگاہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۹۳: مسئولہ سید محمودالحسن صاحب نبیرہ ڈپٹی اشفاق حسین صاحب ۲۵رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آتشبازی بنانا اور چھوڑنا حرام ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان کرو اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ممنوع وگناہ ہے:
لقولہ تعالی" ولا تبذر تبذیرا ﴿۲۶﴾ " ولقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل لھو المسلم حرام الاثلثا ۔ کیونکہ اﷲ تعالی کا قول ہے بے جاخرچ نہ کیا کرو اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے مسلمان کا ہر لہوحرام ہے سوائے تین کے(ت)
مسئلہ ۹۳: مسئولہ سید محمودالحسن صاحب نبیرہ ڈپٹی اشفاق حسین صاحب ۲۵رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آتشبازی بنانا اور چھوڑنا حرام ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان کرو اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ممنوع وگناہ ہے:
لقولہ تعالی" ولا تبذر تبذیرا ﴿۲۶﴾ " ولقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل لھو المسلم حرام الاثلثا ۔ کیونکہ اﷲ تعالی کا قول ہے بے جاخرچ نہ کیا کرو اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے مسلمان کا ہر لہوحرام ہے سوائے تین کے(ت)
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب النکاح باب ماجاء فی اعلان النکاح ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۲۹€
المستدرك للحاکم کتاب النکاح الامر باعلان النکاح دارالفکر بیروت ∞۲/ ۱۸۳،€مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن الزبیر المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۵،€حلیۃ الاولیاء ∞ترجمہ ۴۲۸€ عبداﷲ بن وہب دارالکتاب العربی بیروت ∞۸/ ۳۲۸،€مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر کتاب النکاح باب اعلان النکاح دارالکتاب بیروت ∞۴/ ۲۸۹،€موارد الظمان ∞حدیث ۱۲۸۵ ۱/ ۳۱۳€ و کنز العمال ∞حدیث ۴۴۵۳۴ ۱۶/ ۲۹۱€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۶€
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۸،€جامع الترمذی ابواب فضائل الجہاد ۱/ ۱۹۷ وسنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ∞ص۲۰۷€
المستدرك للحاکم کتاب النکاح الامر باعلان النکاح دارالفکر بیروت ∞۲/ ۱۸۳،€مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن الزبیر المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۵،€حلیۃ الاولیاء ∞ترجمہ ۴۲۸€ عبداﷲ بن وہب دارالکتاب العربی بیروت ∞۸/ ۳۲۸،€مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر کتاب النکاح باب اعلان النکاح دارالکتاب بیروت ∞۴/ ۲۸۹،€موارد الظمان ∞حدیث ۱۲۸۵ ۱/ ۳۱۳€ و کنز العمال ∞حدیث ۴۴۵۳۴ ۱۶/ ۲۹۱€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۶€
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۸،€جامع الترمذی ابواب فضائل الجہاد ۱/ ۱۹۷ وسنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ∞ص۲۰۷€
مگر جو صورت خاصہ لہو ولعب وتبذیرواسراف سے خالی ہوجیسے اعلان ہلالیا جنگل میں یا وقت حاجت شہر میں بھی دفع جانوران موذی یاکھیت یا میوے کے درختوں سے جانوروں کے بھگانے اڑانے کو ناڑیاں پٹاخے تو مڑیاں چھوڑنا۔
فان الامور بمقاصد ھا وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات وانمالکل امری مانوی واﷲ تعالی اعلم۔ اس لئے کہ امور اپنے مقاصد پر مبنی ہوا کرتے ہیں اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اعمال کی بنیاد ارادوں اور نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۴: از موضع بیشکٹالی ضلع کمرلا ملك بنگالہ مرسلہ مولوی محمد الہی بخش ۲۴ شوال ۱۳۱۴ھ
قبلہ شفقت ومرحمت وکعبہ عاطفت وراحت واسطہ حصول عزت ووجہانی وسیلہ وصول سعادت جاودانی ایداﷲ افضالہم وعم نوالہ دامت شموس عنایاتہم بازغۃ ناصیۃ فدویت وارادت رابغازہ مفاخرت وسعادت مانند گل رنگیں ساختہ بگزارش مدعا پرداختہ کہ ایں احقر رابرائے چند مسائل بغایت ضرورت افتادلہذابسیار حیران وسرگرداں ستونیز کسے راچنداں غربانوازنمے بیند کہ بخوب ترین جواب از کتب معتبرہ ار زانی داشتہ خاطراین فدوی را تسکین دہدوہم تشفی خاطرباشدلہذا بچا د شان کیوان ایوان معروض داردکہ ازروئے بند ہ نوازی جواب مسائل ذیل رابطریق فتاوے عطا فرمایند۔ قبلہ شفقت ورحمت کعبہ عاطفت ورافت دونوں جہان کی عزت کے حصول کا واسطہہمیشگی سعادت کی رسائی کا وسیلہاﷲ تعالی ان کے جو د وکرم کو دوام بخشےان کی عنایات کا سورج چمکتا رہے۔ارادت وغلامی کی پیشانیفخر وسعادت کے پوڈر سے رنگین پھول کی طرح ہوجائے وہ اپنے مدعا کی گزارش کرتاہے کہ اس عاجز کو چند مسائل کی انتہائی ضرورت پیش آگئی لہذا بہت حیران اور پریشان ہے نیز اس قدر کسی کو غرباء پرو رنہیں سمجھتا کہ بہت عمدہ جواب معتبر کتابوں سے نکال کر مفت پیش فرمادیںجو اس غلام کے دل کو تسکین دے اور قلبی تشفی کا باعث ہولہذا غلامانہ حیثیت سے بلند وبالا آسمان ہفتم کی سی بارگاہ میں عرض کناں ہوں کہ بندہ پروری کرتے ہوئے مسائل ذیل کا جواب بصورت فتوی عنایت فرمائیں۔(ت)
فان الامور بمقاصد ھا وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات وانمالکل امری مانوی واﷲ تعالی اعلم۔ اس لئے کہ امور اپنے مقاصد پر مبنی ہوا کرتے ہیں اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اعمال کی بنیاد ارادوں اور نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۴: از موضع بیشکٹالی ضلع کمرلا ملك بنگالہ مرسلہ مولوی محمد الہی بخش ۲۴ شوال ۱۳۱۴ھ
قبلہ شفقت ومرحمت وکعبہ عاطفت وراحت واسطہ حصول عزت ووجہانی وسیلہ وصول سعادت جاودانی ایداﷲ افضالہم وعم نوالہ دامت شموس عنایاتہم بازغۃ ناصیۃ فدویت وارادت رابغازہ مفاخرت وسعادت مانند گل رنگیں ساختہ بگزارش مدعا پرداختہ کہ ایں احقر رابرائے چند مسائل بغایت ضرورت افتادلہذابسیار حیران وسرگرداں ستونیز کسے راچنداں غربانوازنمے بیند کہ بخوب ترین جواب از کتب معتبرہ ار زانی داشتہ خاطراین فدوی را تسکین دہدوہم تشفی خاطرباشدلہذا بچا د شان کیوان ایوان معروض داردکہ ازروئے بند ہ نوازی جواب مسائل ذیل رابطریق فتاوے عطا فرمایند۔ قبلہ شفقت ورحمت کعبہ عاطفت ورافت دونوں جہان کی عزت کے حصول کا واسطہہمیشگی سعادت کی رسائی کا وسیلہاﷲ تعالی ان کے جو د وکرم کو دوام بخشےان کی عنایات کا سورج چمکتا رہے۔ارادت وغلامی کی پیشانیفخر وسعادت کے پوڈر سے رنگین پھول کی طرح ہوجائے وہ اپنے مدعا کی گزارش کرتاہے کہ اس عاجز کو چند مسائل کی انتہائی ضرورت پیش آگئی لہذا بہت حیران اور پریشان ہے نیز اس قدر کسی کو غرباء پرو رنہیں سمجھتا کہ بہت عمدہ جواب معتبر کتابوں سے نکال کر مفت پیش فرمادیںجو اس غلام کے دل کو تسکین دے اور قلبی تشفی کا باعث ہولہذا غلامانہ حیثیت سے بلند وبالا آسمان ہفتم کی سی بارگاہ میں عرض کناں ہوں کہ بندہ پروری کرتے ہوئے مسائل ذیل کا جواب بصورت فتوی عنایت فرمائیں۔(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوجی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
شخصے اکثر اوقات بعض طائفہ می بیند ودر مجلس ایشاں نشیند ونیز در لہو ولعب غیر مشروعہ کہ در مذہب حنفیہ حرمتش ثابت شدہ مستغرق استمرتکب ایں محرمات فاسق است یانہ۔فاسقیت رابخوب ترین دلائل ثابت فرمایندونیز آں شخص تنباك کشی مے کنند وکراہت تنباك کشی ثابت کردہ باشندودرصلوۃ اقتدا بایں شخص کراہیت است یا نہزیادہ آفتاب بندہ نوازی ازافق مرحمت گستری درخشاں باد عرضداشت فدوی محمد الہی بخش عفی عنہ سوال:ایك شخص اکثر اوقات ناچنے والے گروہ کا ناچ دیکھتا ہے اوران کی محفل میں شرکت کرتاہے نیز ناجائز کھیل و تماشہ جن کی حرمت حنفی مذہب میں ثابت شدہ ہے ان میں مستغرق رہتاہےکیا ایسا شخص شرعا فاسق کے زمرے میں آتاہے یا نہیں اگر فاسق قرار پاتا ہے تو اس کے فسق کو قوی دلائل سے ثابت فرمایا جائے اور وہ شخص تمباکو نوش بھی ہے لہذا تمباکو پینے والے کے عمل کی کراہت ثابت فرمائی جائےکیا ایسے شخص کی اقتداء نماز میں مکروہ ہے یا نہیں بندہ پروری کاآفتاب رحمت نثار کرنیوالے افق سے ہمیشہ چمکتارہے۔
عرضداشت فدوی محمد الہی بخش عفی عنہ(ت)
الجواب:
اللھم اغفرلنا درفاسق وفاجر مرتکب کبائر بودن ایں کس چہ جائے سخن ومجال دم زدنقال اﷲ تعالی فرمان ایزدی ست: قل للمؤمنین یغضوا من ابصرہم و یحفظوا فروجہم ذلک ازکی لہم ان اللہ خبیر بما یصنعون ﴿۳۰﴾ اےنبی! مسلماناں رافرمائے تاچشمان خود بپوشندوشرمگاہ خود رانگاہ دارندایں پاکیزہ تراست مرایشاں را ہر آئینہ خدائے آگاہ است کہ بہر کارے می کنندوقال اﷲ تعالی
" و من الناس من یشتری لہو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ٭ و یتخذہا یا اﷲ بخش دیجئےاس شخص کے فاسق وفاجر ہونے میں بوجہ کبائرکے مرتکب ہونے کے کیا شك باقی رہ جاتا ہے چنانچہ اﷲ تعالی کا ارشاد:اے محبوب نبی! مسلمانوں سے فرمادیجئے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنے ستر کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے زیادہ بہتر اور پاکیزہ طریقہ ہے یقینا اﷲ تعالی پوری طرح باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کیا کرتے ہیں نیز اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا لوگوں میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو باقاعدہ کھیل کود کی باتیں خریدتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو بربنائے جہالت
عرضداشت فدوی محمد الہی بخش عفی عنہ(ت)
الجواب:
اللھم اغفرلنا درفاسق وفاجر مرتکب کبائر بودن ایں کس چہ جائے سخن ومجال دم زدنقال اﷲ تعالی فرمان ایزدی ست: قل للمؤمنین یغضوا من ابصرہم و یحفظوا فروجہم ذلک ازکی لہم ان اللہ خبیر بما یصنعون ﴿۳۰﴾ اےنبی! مسلماناں رافرمائے تاچشمان خود بپوشندوشرمگاہ خود رانگاہ دارندایں پاکیزہ تراست مرایشاں را ہر آئینہ خدائے آگاہ است کہ بہر کارے می کنندوقال اﷲ تعالی
" و من الناس من یشتری لہو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ٭ و یتخذہا یا اﷲ بخش دیجئےاس شخص کے فاسق وفاجر ہونے میں بوجہ کبائرکے مرتکب ہونے کے کیا شك باقی رہ جاتا ہے چنانچہ اﷲ تعالی کا ارشاد:اے محبوب نبی! مسلمانوں سے فرمادیجئے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنے ستر کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے زیادہ بہتر اور پاکیزہ طریقہ ہے یقینا اﷲ تعالی پوری طرح باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کیا کرتے ہیں نیز اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا لوگوں میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو باقاعدہ کھیل کود کی باتیں خریدتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو بربنائے جہالت
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۳۰€
ہزوا اولئک لہم عذاب مہین ﴿۶﴾" از مردمان کسے است کہ مے خرد سخن لاغ وبازی تابر اندازد از راہ خدائے نادانستہ وسخر گیرد آں رامرایں کسان کیفرے است خوار کنند حضرت عبداﷲ بن مسعود وعبداﷲ بن عباس وامام حسن بصری وسعید بن جبیر و عکرمہ ومجاہد ومکحول وغیرہم ائمہ صحابہ وتابعین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین دریں آیۃ کریمہ سخن لاغ وبازی رابہ غنا وسرور تفسیر فرمودہ اند۔چنانچہ ابو الصبہا گوئد ابن مسعودر ضی اﷲ تعالی عنہما ازیں آیت پر سپیدم گفت ھو الغناء واﷲ الذی لا الہ الا ھو او سرود است سوگند بخدائے کہ ہیچ خدائے نیست جز ا ویرددھا ثلث مرات سہ بار ہمیں سخن وسوگند راتکرار فرمود بلکہ خود درحدیث آمدہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمود لایحل تعلیم المغنیات ولا بیعھن واثما نھن حرام وفی مثل ھذا نزلت ومن الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اﷲ الحدیث(ترجمہ)روا نیست زنان سرآئندہ را آموختن ونہ آنہارا خریدن راہ خدا سے بہکادے اور اس کو یعنی اﷲ تعالی کے راستے کو ہنسی مذاق بنادےان لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والی سزا ہے حضرت عبداﷲ بن مسعودحضرت عبداﷲ بن عباسخواجہ حسن بصریسعید بن جبیرعکرمہمجاہدمکحولاور ان کے علاوہ دوسرے ائمہصحابہ کرام اور تابعین(اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو)اس آیت کریموں میں بیہودگی اور کھیل کی بات سے گانا بجانا مراد لیتے ہیں اور اس کی یہی تفسیر فرماتے ہیں۔ابوالصبہاء فرماتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما سے آیت مذکور کے متعلق پوچھاتو آپ نے فرمایا کہ اس سے گانا مراد ہےاس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبودنہیںچنانچہ اس بات اور قسم کا تین مرتبہ تکرار فرمایا بلکہ خود حدیث پاك میں آیا ہے کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گویا عورتوں کو تعلیم دینا جائز نہیں اور نہ ہی ان کا خرید وفروخت کرنا جائز ہے بلکہ ان کی قیمت وصول کرنا بھی حرام ہے اسی سلسلہ میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ لوگوں میں کوئی وہ شخص ہے جو یاوہ گوئی والی
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۱/ ۶€
وفروختن وبہاء آنہا حرام است ودر ہمچنیں کارایں آیت فرمود آمدہ ست کہ برخے ازمردم سخن لاگ مے خرند تا مردماں رااز راہ خدا اے دور برندرواہ الامام البغوی عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی تعالی عنہ۔وقال اﷲ تعالی:
" قال اذہب فمن تبعک منہم فان جہنم جزاؤکم جزاء موفورا ﴿۶۳﴾ و استفزز من استطعت منہم بصوتک و اجلب علیہم بخیلک ورجلک وشارکہم فی الامول و الاولد وعدہم و ما یعدہم الشیطن الا غرورا ﴿۶۴﴾ ان عبادی لیس لک علیہم سلطن " حق جل وعلامر ابلیس لعین رافرمود درشوپس ہر کہ از فرزندان عالم ترا پیروی کند پس ہر آئینہ دوزخ پاداش ہمہ شما است پاداش کامل وسبك سارکن وبلغزاں ہر کہ برودست یابی از ایشاں بآواز خودالآیۃامام مجاہد کہ ازاجلہ تلامذہ سلطان المفسرین عبداﷲ بن عباس است رضی اﷲ تعالی عنہم دریں آیۃکریمہ آواز شیطان رابغنا ومزامیر تفسیر کردہ است۔وقال تعالی:
" و لیضربن بخمرہن علی جیوبہن ۪ و لا یبدین زینتہن الا باتیں خریدتاہے تاکہ لوگوں کو اﷲ تعالی کے راستے سے دور کردےچنانچہ امام بغوی نے حضرت ابوامامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:ابلیس لعین کو مخاطب کرتے ہوئے حکم فرمایا کہ یہاں سے چلا جا پھر اولاد آدم میں جو کوئی تیرے پیچھے جائیگا یقینا دوزخ ان سب کے لئے پوری اور کامل سزا ہے۔پھر ان میں سے جس پر تو قابو پائے اپنی آواز سے اسے ہلکا پھلکا کرتے ہوئے پھیلادے اور ان پر لام باندھ لا اپنے سواروں اور اپنے پیادوں کااور ان کا ساجھی ہو مالوں اور بچوں میں اور انھیں وعدہ دے اور شیطان انھیں وعدہ نہیں دیتا مگر فریب سے۔ بیشك جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ قابونہیں۔ امام مجاہدجو مفسرین کے بادشاہ حضرت عبداﷲ ابن عباس کے جلیل القدر شاگردوں میں سے ہیں اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو)وہ اس آیت کریمہ میں مذکور شیطان کی آواز سے گانا بجانا اور اس کے آلات وغیرہ مراد لیتے ہیں۔
اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا اے نبی مکرم! مسلمان عورتوں سے فرمادیجئے کہ وہ اپنے دوپٹے
" قال اذہب فمن تبعک منہم فان جہنم جزاؤکم جزاء موفورا ﴿۶۳﴾ و استفزز من استطعت منہم بصوتک و اجلب علیہم بخیلک ورجلک وشارکہم فی الامول و الاولد وعدہم و ما یعدہم الشیطن الا غرورا ﴿۶۴﴾ ان عبادی لیس لک علیہم سلطن " حق جل وعلامر ابلیس لعین رافرمود درشوپس ہر کہ از فرزندان عالم ترا پیروی کند پس ہر آئینہ دوزخ پاداش ہمہ شما است پاداش کامل وسبك سارکن وبلغزاں ہر کہ برودست یابی از ایشاں بآواز خودالآیۃامام مجاہد کہ ازاجلہ تلامذہ سلطان المفسرین عبداﷲ بن عباس است رضی اﷲ تعالی عنہم دریں آیۃکریمہ آواز شیطان رابغنا ومزامیر تفسیر کردہ است۔وقال تعالی:
" و لیضربن بخمرہن علی جیوبہن ۪ و لا یبدین زینتہن الا باتیں خریدتاہے تاکہ لوگوں کو اﷲ تعالی کے راستے سے دور کردےچنانچہ امام بغوی نے حضرت ابوامامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:ابلیس لعین کو مخاطب کرتے ہوئے حکم فرمایا کہ یہاں سے چلا جا پھر اولاد آدم میں جو کوئی تیرے پیچھے جائیگا یقینا دوزخ ان سب کے لئے پوری اور کامل سزا ہے۔پھر ان میں سے جس پر تو قابو پائے اپنی آواز سے اسے ہلکا پھلکا کرتے ہوئے پھیلادے اور ان پر لام باندھ لا اپنے سواروں اور اپنے پیادوں کااور ان کا ساجھی ہو مالوں اور بچوں میں اور انھیں وعدہ دے اور شیطان انھیں وعدہ نہیں دیتا مگر فریب سے۔ بیشك جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ قابونہیں۔ امام مجاہدجو مفسرین کے بادشاہ حضرت عبداﷲ ابن عباس کے جلیل القدر شاگردوں میں سے ہیں اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو)وہ اس آیت کریمہ میں مذکور شیطان کی آواز سے گانا بجانا اور اس کے آلات وغیرہ مراد لیتے ہیں۔
اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا اے نبی مکرم! مسلمان عورتوں سے فرمادیجئے کہ وہ اپنے دوپٹے
حوالہ / References
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن ∞تحت آیۃ ۳۱ / ۶€ مصطفی البابی ∞مصر ۵/ ۱۴۔۲۱۳€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۶۳ تا ۶۵€
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۶۳ تا ۶۵€
" لبعولتہن او ابائہن " الایۃ۔ یعنی اے نبی! زنان مومنات رافرماے کہ بزنند سراند از ہائے خود رابرگریبان ہائے خود(تاسر وموو سینہ وگلو ہمہ نہاں ماند)و نہ نمایند آرائش خود را مگر بشوہر ان یامحارم۔
وقال اﷲ تعالی فی اخر الکریمۃ
" ولا یضربن بارجلہن لیعلم ما یخفین من زینتہن و توبوا الی اللہ جمیعا ایہ المؤمنون لعلکم تفلحون ﴿۳۱﴾"
(ترجمہ)وزنان نزنند پاہائے خویش راتا دانستہ شود آنچہ نہاں مے دارند از آرائش خود وہمہ باز گردید بسوئے خدا ئے تعالی اے مسلمانان تابکام رسید(نجات یابید)
وقال تعالی: " ولا تقربوا الفوحش ما ظہر منہا وما بطن "
(ترجمہ) ونزدیك مشوید کارہائے بے حیائی راہر چہ از آنہا آشکارا استدہر چہ نہاں است ایں ہمہ آیات وغیر اینہا در تحریم ہمہ اجزائے ایں کار شنیع نص منیع استودر احادیث خود کثرتے است کہ احصانتواں کرد۔ اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھا کریں تا کہ سربالسینہ اور گلا سب با پردہ ہوجائیں اور اپنی زیبائش کو نمایاں نہ کیا کریں بجز ان کے جوان کے شوہر یا دیگر محارم ہیں۔
اور اﷲ تعالی نے ایت کریمہ کے آخر میں ارشاد فرمایا عورتیں اپنے پاؤں زور سے زمین پر نہ ماریں جس سے ان کی مخفی زینت ظاہر ہونے لگے۔اور اے مسلمانو! تم سب اﷲ تعالی کی طرف لوٹ جاؤ تاکہ مراد پالو۔
نیز ارشاد خداوندی ہے:لوگو ! بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی مت جاؤ خواہ وہ ظاہر ہوں یا مخفییہ تمام آیات اور ان کے علاوہ دوسری آیتیں اس برے کام کے تمام اجزاء کے حرام قرار دینے کے لئے قوی اور مضبوط نصوص ہیںرہا احادیث کا معاملہتو وہ اس کثرت سے ہیں کہ ان کو احاطہ شمار میں نہیں لایا جاسکتا۔
وقال اﷲ تعالی فی اخر الکریمۃ
" ولا یضربن بارجلہن لیعلم ما یخفین من زینتہن و توبوا الی اللہ جمیعا ایہ المؤمنون لعلکم تفلحون ﴿۳۱﴾"
(ترجمہ)وزنان نزنند پاہائے خویش راتا دانستہ شود آنچہ نہاں مے دارند از آرائش خود وہمہ باز گردید بسوئے خدا ئے تعالی اے مسلمانان تابکام رسید(نجات یابید)
وقال تعالی: " ولا تقربوا الفوحش ما ظہر منہا وما بطن "
(ترجمہ) ونزدیك مشوید کارہائے بے حیائی راہر چہ از آنہا آشکارا استدہر چہ نہاں است ایں ہمہ آیات وغیر اینہا در تحریم ہمہ اجزائے ایں کار شنیع نص منیع استودر احادیث خود کثرتے است کہ احصانتواں کرد۔ اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھا کریں تا کہ سربالسینہ اور گلا سب با پردہ ہوجائیں اور اپنی زیبائش کو نمایاں نہ کیا کریں بجز ان کے جوان کے شوہر یا دیگر محارم ہیں۔
اور اﷲ تعالی نے ایت کریمہ کے آخر میں ارشاد فرمایا عورتیں اپنے پاؤں زور سے زمین پر نہ ماریں جس سے ان کی مخفی زینت ظاہر ہونے لگے۔اور اے مسلمانو! تم سب اﷲ تعالی کی طرف لوٹ جاؤ تاکہ مراد پالو۔
نیز ارشاد خداوندی ہے:لوگو ! بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی مت جاؤ خواہ وہ ظاہر ہوں یا مخفییہ تمام آیات اور ان کے علاوہ دوسری آیتیں اس برے کام کے تمام اجزاء کے حرام قرار دینے کے لئے قوی اور مضبوط نصوص ہیںرہا احادیث کا معاملہتو وہ اس کثرت سے ہیں کہ ان کو احاطہ شمار میں نہیں لایا جاسکتا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۳۱€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۳۱€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۵۱€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۳۱€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۵۱€
بالجملہ زن اجنبیہ را ایں چنین بے حجابانہ بمجلس مردان را ہ دادن(یکے)وہرچہ تمام تر ہر ہفت وآراستہ بودنش(دو) مردمان رابسوئے او بنظر تلذذدیدن(سہ)وباعضائے عورت او از سر ومو ومساعد وبازو وسینہ وگلونگر یستن(چہارم)وسرود وزمزمہ اش(پنج)ولفظ مزامیر برآں آتش تیز وتند(شش) وپائے کوبی آن زن خاصہ با آواز خلخال و زنگلہ زیور(ہفت) ودیگر حرکات فتنہ انگیز وشہوت خیز(ہشت)ایں ہمہ ہا در شرع محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حرام وحرام وحرام است " ظلمت بعضہا فوق بعض" ۔
الحاصل حرمت ایں فاحشہ شنیعہ از ضروریات دین محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تاآنکہ ہر کہ او راحلال داند بالقطع و الیقین کافرشودوالعیاذ باﷲ تعالی ودیگر لہو ہائے نامشروعہ را سائل تفصیل نہ کرد بعضے از لہو ہائے ممنوعہ کبیرہ باشدوبعضے صغیرہ کہ باصرار کبیرہ شودوعلی الاجمال در حدیث مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم آمدہ است (خلاصہ کلام)اس برے عمل میں بہت سی خرابیاں ہیں(۱) غیر محرم عورت کا اس طرح بے پردہمردوں کی محفل میں جاناہیجان خیز اور فتنے کا باعث ہے(۲)اس کا آراستہ و پیراستہ ہونا اور بن ٹھن کرنکلنا(۳)مردوں کا اسے شہوت کی نگاہ سے حصول لذت کے لئے دیکھنا(۴)اس کے اعضاء مثلا سربالبازوسینہ اور گلاان سب کی طرف دیکھنا(۵)اس کا ترنم سے گیت گانا(۶)گانے بجانے کے آلات استعمال کرنایہ ان پر مزید تند وتیز آگ ہے(۷)اس خاص عورت کا زور سے پاؤں زمین پر مارنا کہ جس سے اس کے زیورات کی جھنکار محسوس ہونے لگے(۸)ان سب کے علاوہدوسری فتنہ برپا کرنے والی حرکت اور شہوت خیز انداز یہ سب کام حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شریعت میں حرامحرام اور حرام ہیں اور یہ ایك دوسرے پر مزید اندھیرے ہیں۔(ت)
خلاصہ یہ ہے کہ اس برے اور بے حیائی کے کام کی حرمت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دین میں واضح ہے۔یہاں تك کہ جوکوئی اس کو حلال جانے وہ قطعی اور یقینی طور پر کافر ہوجائیگا اﷲ تعالی کی پناہاور دوسرے ناجائز کھیلوں کی سائل نے کوئی تفصیل ذکر نہیں کی لیکن ان میں سے بعض ممنوع اور گناہ کبیرہ ہیں اور بعض گناہ صغیرہ کے زمرے میں آتے ہیں۔
الحاصل حرمت ایں فاحشہ شنیعہ از ضروریات دین محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تاآنکہ ہر کہ او راحلال داند بالقطع و الیقین کافرشودوالعیاذ باﷲ تعالی ودیگر لہو ہائے نامشروعہ را سائل تفصیل نہ کرد بعضے از لہو ہائے ممنوعہ کبیرہ باشدوبعضے صغیرہ کہ باصرار کبیرہ شودوعلی الاجمال در حدیث مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم آمدہ است (خلاصہ کلام)اس برے عمل میں بہت سی خرابیاں ہیں(۱) غیر محرم عورت کا اس طرح بے پردہمردوں کی محفل میں جاناہیجان خیز اور فتنے کا باعث ہے(۲)اس کا آراستہ و پیراستہ ہونا اور بن ٹھن کرنکلنا(۳)مردوں کا اسے شہوت کی نگاہ سے حصول لذت کے لئے دیکھنا(۴)اس کے اعضاء مثلا سربالبازوسینہ اور گلاان سب کی طرف دیکھنا(۵)اس کا ترنم سے گیت گانا(۶)گانے بجانے کے آلات استعمال کرنایہ ان پر مزید تند وتیز آگ ہے(۷)اس خاص عورت کا زور سے پاؤں زمین پر مارنا کہ جس سے اس کے زیورات کی جھنکار محسوس ہونے لگے(۸)ان سب کے علاوہدوسری فتنہ برپا کرنے والی حرکت اور شہوت خیز انداز یہ سب کام حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شریعت میں حرامحرام اور حرام ہیں اور یہ ایك دوسرے پر مزید اندھیرے ہیں۔(ت)
خلاصہ یہ ہے کہ اس برے اور بے حیائی کے کام کی حرمت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دین میں واضح ہے۔یہاں تك کہ جوکوئی اس کو حلال جانے وہ قطعی اور یقینی طور پر کافر ہوجائیگا اﷲ تعالی کی پناہاور دوسرے ناجائز کھیلوں کی سائل نے کوئی تفصیل ذکر نہیں کی لیکن ان میں سے بعض ممنوع اور گناہ کبیرہ ہیں اور بعض گناہ صغیرہ کے زمرے میں آتے ہیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۴۰€
کل شیئ یلھوبہ الرجل باطل الارمیہ بقوسہ وتادیبہ فرسہ وملاعبتہ بامرأتہ فانھن من الحق یعنی ہمہ بازی ہا باطل است مگر تیراندازی واسپ تازی وبازن خود بازی کہ اینہا از حق است رواہ احمد والدارمی و ابوداؤد و الترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن عقبۃ بن عامر و الحاکم فی المستدرك عن ابی ھریرہ والطبرانی فی الاوسط عن امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہم۔وخود مومن را ایں حدیث عام وتام وجامع ونافع بسند است کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم فرمود الدنیا ملعونۃ وملعون مافیھا الاماکان منھا ﷲ عزوجل یعنی بر دنیا نفرین وبر ہر چہ درآن است نفرین مگر آں چہ ازاں برائے خدائے عزوجل باشدرواہ ابو نعیم فی الحلیۃ ۔والضیاء فی المختارۃ عن جابر مگر بار بار کرنے سے وہ بھی کبیرہ ہوجائیں گےاجمالی طریقہ سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد میں سے ایك ارشاد یوں ہے کہ جس کھیل میں بھی آدمی مشغول ہو وہ ناجائز ہے مگر تین قسم کے کھیل جائز ہیں:(۱)کمان سے تیر اندازی کرنا (۲)اپنے گھوڑے کو جہاد کے لئے تیار کرنا(۳)اپنی منکوحہ یعنی بیوی سے کھیلنا۔امام احمددارمی۔ابوداؤدترمذینسائی اور ابن ماجہ نے حضرت عقبہ بن عامر کے حوالے سے یہ حدیث روایت کی ہے اور حاکم نے مستدرك میں حضرت ابوہریرہ سے اور طبرانی نے اوسط میں حضرت امیرالمومنین عمر فاروق سے اسے روایت کیا ہے(اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو)خود مرد مومن کے لئے یہ حدیث عامتام اور یقینی حیثیت کی وجہ سے کافی ہے کہ سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے اﷲ تعالی بزرگ وبرتر کی یاد کے سند حسن کے ساتھ اس حدیث کو ابونعیم نے الحلیہ میں ضیاء مقدسی نے
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب فضائل الجہاد باب ماجاء فی فضل الرمی الخ ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۹۷،€سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب الرمی فی سبیل اﷲ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۷،€سنن الدارمی کتاب الجہاد باب فی فضل الرمی ∞حدیث ۲۴۱۰€ دارالمحاسن للطباعۃ ∞قاہرۃ ۲/ ۱۲۴،€مسند احمد بن حنبل عن عقبہ بن عامر المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۱۴۴ و ۱۴۸€
حلیۃ الاولیاء ∞ترجمہ ۲۳۰€ محمد بن المنکدر دارالکتاب العربی بیروت ∞۳/ ۱۵۷ و ۷/۹۰€
حلیۃ الاولیاء ∞ترجمہ ۲۳۰€ محمد بن المنکدر دارالکتاب العربی بیروت ∞۳/ ۱۵۷ و ۷/۹۰€
بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما بسند حسن۔
درحدیث دیگر فرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:الدنیا ملعونۃ ملعون مافیھاالا ماابتغی بہ وجہ اﷲ تعالی یعنی بردنیا لعنت وبر ہر چہ درآں ست لعنت جزآنچہ باو رضا ئے خدا خواستہ شودرواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی الدردا رضی اﷲ تعالی عنہ باسناد حسن۔
درحدیث آخر ست کہ فرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:الدنیا ملعونۃ ملعون مافیھا الاذکر اﷲ وما والاہ وعالما اومتعلما یعنی دنیا ملعونہ است وہر چہ درواست ہمہ ملعونہ جز یادخدا تعالی آنچہ پسندیدہ اوست وعالمے یا علم آموزےروہ ابن ماجہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
ودر حدیث آخرست کہ فرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم: الدنیا ملعونۃ ملعون مافیھا الا امرا بمعروف اونھیا عن منکر اوذکر اﷲ یعنی دنیا ملعونہ وہر چیز دنیا ملعونہ جز بہ نیکی فرمودن واز بدی باز داشتن المختارہ میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔
اورایك دوسری حدیث میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:دنیا اور جوکچھ اس میں ہے سب ملعون ہے بجز اس کے کہ جس میں اﷲ تعالی کی رضا جوئی مقصود ومطلوب ہوامام طبرانی نے"الکبیر"میں اچھی سند کے ساتھ حضرت ابوالدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔
ایك اور حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے یہ ارشاد مروی ہے کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب قابل لعنت ہے سوائے اﷲ تعالی کی یاد اور اس چیز کے جسے اس نے پسند فرمایاعالم اور علم حاصل کرنے والا ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔
اور ایك اور حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے مگر بھلائی کرنے کا حکم دینااور برے کام سے روکنا اور اﷲ تعالی کی یاد اس سے مستثنی ہیں
درحدیث دیگر فرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:الدنیا ملعونۃ ملعون مافیھاالا ماابتغی بہ وجہ اﷲ تعالی یعنی بردنیا لعنت وبر ہر چہ درآں ست لعنت جزآنچہ باو رضا ئے خدا خواستہ شودرواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی الدردا رضی اﷲ تعالی عنہ باسناد حسن۔
درحدیث آخر ست کہ فرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:الدنیا ملعونۃ ملعون مافیھا الاذکر اﷲ وما والاہ وعالما اومتعلما یعنی دنیا ملعونہ است وہر چہ درواست ہمہ ملعونہ جز یادخدا تعالی آنچہ پسندیدہ اوست وعالمے یا علم آموزےروہ ابن ماجہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
ودر حدیث آخرست کہ فرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم: الدنیا ملعونۃ ملعون مافیھا الا امرا بمعروف اونھیا عن منکر اوذکر اﷲ یعنی دنیا ملعونہ وہر چیز دنیا ملعونہ جز بہ نیکی فرمودن واز بدی باز داشتن المختارہ میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔
اورایك دوسری حدیث میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:دنیا اور جوکچھ اس میں ہے سب ملعون ہے بجز اس کے کہ جس میں اﷲ تعالی کی رضا جوئی مقصود ومطلوب ہوامام طبرانی نے"الکبیر"میں اچھی سند کے ساتھ حضرت ابوالدرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔
ایك اور حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے یہ ارشاد مروی ہے کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب قابل لعنت ہے سوائے اﷲ تعالی کی یاد اور اس چیز کے جسے اس نے پسند فرمایاعالم اور علم حاصل کرنے والا ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔
اور ایك اور حدیث میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے مگر بھلائی کرنے کا حکم دینااور برے کام سے روکنا اور اﷲ تعالی کی یاد اس سے مستثنی ہیں
حوالہ / References
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر کتاب الزہد باب فی الرباء دارلکتاب بیروت ∞۱۰/ ۲۲۲€
سنن ابن ماجہ ابواب الزبد باب مثل الدنیا ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۱۲ و ۳۱۳€
سنن ابن ماجہ ابواب الزبد باب مثل الدنیا ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۱۲ و ۳۱۳€
ویاد خدائے تعالی جل جلالہ رواہ البزار عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ وعند الطبرانی فی الاوسط کحدیث ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ونماز پس فاسق بکراہت شدیدہ مکروہ است کما فی الغنیۃ وغیرھا وقد فصلناہ فی رسالتنا النھی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید۔
وقلیان کشید ن اگر بعقل وحواس فتور آورد چنانکہ وقت افطار رمضان معمول جہال ہندوستان استخو دحرام است لحدیث ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن کل مسکرو مفتر رواہ احمد وابوداؤد بسند صحیح ورنہ اگر تعاھد نکنند ورائحہ کریہہ آردمکروہ تنزیہی وخلاف اولی باشد آنچنانکہ (یہ تینوں کام قابل تحسین ہیں)محدث بزار نے اس کو حضرت عبداﷲ ابن مسعود(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو)سے روایت کیا ہے۔اور امام طبرانی نے ان سے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔رہی یہ بات کہ نماز کا کیا حکم ہے تو واضح ہو کہ فاسق کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہے جیسا کہ الغنیہ وغیرہ میں مذکور ہے ہم نے اس مسئلہ کو اپنے رسالہ النہی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
رہا حقہ نوشی کا تمباکو نوشی کا مسئلہتو اگر وہ عقل اور حواس میں فتور پیدا کرے جیسا کہ رمضان شریف میں افطار کے وقت ہندوستان کے جاہلوں کا معمول ہے تو یہ بطور خود حرام ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی ایك حدیث کی وجہ سے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر نشہ اور فتورپیدا کرنے والی چیز کا استعمال ممنوع ہے۔امام احمد اور ابو داؤد نے سند صحیح کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے ورنہ اگر اسے معمول نہ بنائیں لیکن قابل نفرت
وقلیان کشید ن اگر بعقل وحواس فتور آورد چنانکہ وقت افطار رمضان معمول جہال ہندوستان استخو دحرام است لحدیث ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنہا نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن کل مسکرو مفتر رواہ احمد وابوداؤد بسند صحیح ورنہ اگر تعاھد نکنند ورائحہ کریہہ آردمکروہ تنزیہی وخلاف اولی باشد آنچنانکہ (یہ تینوں کام قابل تحسین ہیں)محدث بزار نے اس کو حضرت عبداﷲ ابن مسعود(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو)سے روایت کیا ہے۔اور امام طبرانی نے ان سے الاوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔رہی یہ بات کہ نماز کا کیا حکم ہے تو واضح ہو کہ فاسق کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہے جیسا کہ الغنیہ وغیرہ میں مذکور ہے ہم نے اس مسئلہ کو اپنے رسالہ النہی الاکید عن الصلوۃ وراء عدی التقلید میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
رہا حقہ نوشی کا تمباکو نوشی کا مسئلہتو اگر وہ عقل اور حواس میں فتور پیدا کرے جیسا کہ رمضان شریف میں افطار کے وقت ہندوستان کے جاہلوں کا معمول ہے تو یہ بطور خود حرام ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی ایك حدیث کی وجہ سے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر نشہ اور فتورپیدا کرنے والی چیز کا استعمال ممنوع ہے۔امام احمد اور ابو داؤد نے سند صحیح کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے ورنہ اگر اسے معمول نہ بنائیں لیکن قابل نفرت
حوالہ / References
الجامع الصغیر بحوالہ البزار عن ابن مسعود ∞حدیث ۴۲۸۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲/ ۲۶۰€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۴۰۸۴ مکتبہ المعارف ریاض ۵/ ۴€۹
غنیہ المستملی فصل فی الامامۃ ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳€
سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب ماجاء فی السکر ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۶۳،€مسند احمد بن حنبل عن ام سلمہ المکتبہ الاسلامی بیروت ∞۶/ ۳۰۹€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۴۰۸۴ مکتبہ المعارف ریاض ۵/ ۴€۹
غنیہ المستملی فصل فی الامامۃ ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳€
سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب ماجاء فی السکر ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۶۳،€مسند احمد بن حنبل عن ام سلمہ المکتبہ الاسلامی بیروت ∞۶/ ۳۰۹€
سیر و پیاز خامواگر ازیں ہم خالی است مباح استکما حققہ المولوی عبدالغنی النابلسی فی الحدیقۃ وغیرہا وقد فصلنا القول فی فتاوناواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ بدبو پیدا ہو جائے تو مکروہ تنزیہہ اور خلاف اولی ہے جیسے کچا لہسن اور پیاز استعمال کرنا اور اگر اس سے بھی خالی ہو یعنی بدبو وغیرہ نہ ہو تو مباح ہے جیسا کہ مولانا عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ وغیرہ میں اس کی تحقیق فرمائی ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس قول کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔اﷲ تعالی پاك وبرتر سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے اور اس عظیم شان والے کا علم بڑا کامل اور محکم ہے۔
مسئلہ ۹۵: از کوہ سباتھوآکسفورڈ رجمنٹ مرسلہ امداد علی صاحب رجمنٹ اسکوتوالی ۲۸ ربیع الاول ۱۳۲۲ھ
عالم علوم ظاہری وباطنی دام فیوضکم۔تسلیم بصد تعظیمجناب عالی! یہاں ایك امر میں دو فریق بر سر جنگ ہیںوہ یہ ہے کہ بوقت نکاح زید کو خوشبو لگانا اور پھولوں کا گلے میں ڈالنا مسنون ہے یا ممنوعیہاں ایك مولوی کاشمیری پھولوں کا گلے میں ڈالنا ناجائزفرماتے ہیں اوربہت زور دیتے ہیںلہذا امیدوار کو جناب از راہ شفقت بزرگانہ جوبات حق ہو جواب سے مشرف فرمائیں۔
الجواب:
خوشبو لگانا سنت ہے اور خوشبو کی چیزیں پھول پتی وغیرہ پسند بارگاہ رسالت ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی آلہ وبارك وسلم۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حبب الی من دنیا کم النساء والطیب وجعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ رواہ الامام احمد والنسائی و الحاکم والبیھقی عن انس رضی اﷲ یعنی تمھاری دنیا میں سے دو چیزوں کی محبت میرے دل میں ڈالی گئینکاح اور خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈك نماز میں رکھی گئی(امام احمدنسائیحاکم اور بہیقی نے سند جید کے ساتھ حضرت
مسئلہ ۹۵: از کوہ سباتھوآکسفورڈ رجمنٹ مرسلہ امداد علی صاحب رجمنٹ اسکوتوالی ۲۸ ربیع الاول ۱۳۲۲ھ
عالم علوم ظاہری وباطنی دام فیوضکم۔تسلیم بصد تعظیمجناب عالی! یہاں ایك امر میں دو فریق بر سر جنگ ہیںوہ یہ ہے کہ بوقت نکاح زید کو خوشبو لگانا اور پھولوں کا گلے میں ڈالنا مسنون ہے یا ممنوعیہاں ایك مولوی کاشمیری پھولوں کا گلے میں ڈالنا ناجائزفرماتے ہیں اوربہت زور دیتے ہیںلہذا امیدوار کو جناب از راہ شفقت بزرگانہ جوبات حق ہو جواب سے مشرف فرمائیں۔
الجواب:
خوشبو لگانا سنت ہے اور خوشبو کی چیزیں پھول پتی وغیرہ پسند بارگاہ رسالت ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی آلہ وبارك وسلم۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حبب الی من دنیا کم النساء والطیب وجعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ رواہ الامام احمد والنسائی و الحاکم والبیھقی عن انس رضی اﷲ یعنی تمھاری دنیا میں سے دو چیزوں کی محبت میرے دل میں ڈالی گئینکاح اور خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈك نماز میں رکھی گئی(امام احمدنسائیحاکم اور بہیقی نے سند جید کے ساتھ حضرت
حوالہ / References
سنن النسائی کتاب عشرۃ النساء حب النساء ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۹۳،€مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۱۲۸€
تعالی عنہ بسند جید۔ انس رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من عرض علیہ ریحان فلا یردہ فانہ خفیف المحمل طیب الریح۔رواہ مسلم وابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی جس کے سامنے خوشبو نبات پھول پتی وغیرہ پیش کی جائے تو اسے رد نہ کرے کہ اس کا بوجھ ہلکا اور بو اچھی ہے(بوجھ ہلکا یہ کہ پیش کرنے والے پر مشقت نہیں کوئی بھاری احسان نہیں) (امام مسلم اور امام ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اربع من سنن المرسلین الختان والتعطر والنکاح والسواکرواہ الامام احمد والترمذی والبیھقی فی شعب الایمان عن ابی ایوب الانصاری رضی اﷲ تعالی عنہ۔قال الترمذی ھذا حدیث حسن غریب صحیح ۔ یعنی چار باتیں انبیائے مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کی سنتوں میں سے ہیں:ختنہ کرنا اور خوشبو لگانا اور نکاح اور مسواك (امام احمدترمذی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو ایوب رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت فرمایا اور امام ترمذی نے فرمایا حدیث حسن غریب صحیح ہے۔(ت)
بخاری شریف میں ہے:
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان لایرد الطیب یعنی بیشك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خوشبو کی چیز رد نہ فرماتے تھے
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من عرض علیہ ریحان فلا یردہ فانہ خفیف المحمل طیب الریح۔رواہ مسلم وابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی جس کے سامنے خوشبو نبات پھول پتی وغیرہ پیش کی جائے تو اسے رد نہ کرے کہ اس کا بوجھ ہلکا اور بو اچھی ہے(بوجھ ہلکا یہ کہ پیش کرنے والے پر مشقت نہیں کوئی بھاری احسان نہیں) (امام مسلم اور امام ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اربع من سنن المرسلین الختان والتعطر والنکاح والسواکرواہ الامام احمد والترمذی والبیھقی فی شعب الایمان عن ابی ایوب الانصاری رضی اﷲ تعالی عنہ۔قال الترمذی ھذا حدیث حسن غریب صحیح ۔ یعنی چار باتیں انبیائے مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کی سنتوں میں سے ہیں:ختنہ کرنا اور خوشبو لگانا اور نکاح اور مسواك (امام احمدترمذی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو ایوب رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اسے روایت فرمایا اور امام ترمذی نے فرمایا حدیث حسن غریب صحیح ہے۔(ت)
بخاری شریف میں ہے:
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان لایرد الطیب یعنی بیشك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خوشبو کی چیز رد نہ فرماتے تھے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب الالفاظ من الادب باب استعمال المسك الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳۹،€سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی ردالطیب ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۹€
جامع الترمذی ابواب النکاح ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۲۸،€شعب الایمان ∞حدیث ۷۷۱۹€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۶/ ۱۳۷€
جامع الترمذی ابواب النکاح ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۲۸،€شعب الایمان ∞حدیث ۷۷۱۹€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۶/ ۱۳۷€
رواہ ھوالامام احمد والترمذی و النسائی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ (بخاریامام احمدترمذی اور نسائی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
ہار کہ گلے میں پہنیں ان میں پھولوں سے اسی قدر زائد ہے کہ ایك ڈورے میں پرولیا ہے اور گلے میں ڈالنا وہی خوشبو سے فائدہ لینا ہے او ر اپنے جلیس آدمیوں اور فرشتوں کو فرحت پہنچانا ہے کہ کسی برتن میں رکھیں تو اس کا ساتھ لئے پھرنا دقت سے خالی نہیں اور ہاتھ میں لئے رہیں تو ہاتھ بھی رکے اور پھول بھی جلد کملا جائیں۔تو اس قدر سے ممانعت وحرمت وناجوازی کس طرف سے آگئی۔امام ابن امیر الحاج محمد محمد محمد حلبی حلیہ میں احادیث متعد ذکر کرکے فرماتے ہیں:
عن سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ انہ دخل مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی امرأۃ و بین یدیھا نوی اوحصی تسبح بہ فقال الا اخبرك بما ھو ایسر علیك من ھذا او افضل فقال سبحان اﷲ عدد ماخلق اﷲ فی السماء وسبحان اﷲ عدد ما خلق اﷲ فی الارضوسبحان اﷲ عدد مابین ذلک وسبحان اﷲ عدد ماھو خالق واﷲ اکبر مثل ذلك لا الہ مثل ذلك ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی معیت میں ایك عورت کے پاس گئے اس کے آگے گٹھلیاں اور کنکریاں پڑی ہوئی تھیں کہ جن پر وہ تسبیح پڑھتی تھی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کیا میں تمھیں وہ طریقہ عمل نہ بتادوں جو اس سے زیادہ آسان اور زیادہ بہتر ہے۔پھر ارشاد فرمایا:پاك ہے اﷲ تعالی اس تعداد کے مطابق جو اس نے آسمان میں پیدا فرمائیاﷲ تعالی پاك ہے اس تعداد کے مطابق جو اس نے زمین میں پیدا فرمائیاور اﷲ تعالی پاك ہے اس تعداد کے مطابق جو ان دونوں کے درمیان ہے اﷲ تعالی پاك ہے اس تعداد کے مطابق جس کا
ہار کہ گلے میں پہنیں ان میں پھولوں سے اسی قدر زائد ہے کہ ایك ڈورے میں پرولیا ہے اور گلے میں ڈالنا وہی خوشبو سے فائدہ لینا ہے او ر اپنے جلیس آدمیوں اور فرشتوں کو فرحت پہنچانا ہے کہ کسی برتن میں رکھیں تو اس کا ساتھ لئے پھرنا دقت سے خالی نہیں اور ہاتھ میں لئے رہیں تو ہاتھ بھی رکے اور پھول بھی جلد کملا جائیں۔تو اس قدر سے ممانعت وحرمت وناجوازی کس طرف سے آگئی۔امام ابن امیر الحاج محمد محمد محمد حلبی حلیہ میں احادیث متعد ذکر کرکے فرماتے ہیں:
عن سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ انہ دخل مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی امرأۃ و بین یدیھا نوی اوحصی تسبح بہ فقال الا اخبرك بما ھو ایسر علیك من ھذا او افضل فقال سبحان اﷲ عدد ماخلق اﷲ فی السماء وسبحان اﷲ عدد ما خلق اﷲ فی الارضوسبحان اﷲ عدد مابین ذلک وسبحان اﷲ عدد ماھو خالق واﷲ اکبر مثل ذلك لا الہ مثل ذلك ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی معیت میں ایك عورت کے پاس گئے اس کے آگے گٹھلیاں اور کنکریاں پڑی ہوئی تھیں کہ جن پر وہ تسبیح پڑھتی تھی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کیا میں تمھیں وہ طریقہ عمل نہ بتادوں جو اس سے زیادہ آسان اور زیادہ بہتر ہے۔پھر ارشاد فرمایا:پاك ہے اﷲ تعالی اس تعداد کے مطابق جو اس نے آسمان میں پیدا فرمائیاﷲ تعالی پاك ہے اس تعداد کے مطابق جو اس نے زمین میں پیدا فرمائیاور اﷲ تعالی پاك ہے اس تعداد کے مطابق جو ان دونوں کے درمیان ہے اﷲ تعالی پاك ہے اس تعداد کے مطابق جس کا
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الہبہ باب مالا یرد من الہدیۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۵۱،€صحیح البخاری کتاب اللباس باب من لم یرد الطیب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۸،€مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۱۳۳ و ۲۶۱€
مثل ذلک۔رواہ ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن حبان فی صحیحہ والحاکم وقال صحیح الاسناد فلم ینھا عن ذلك وانما ارشدھا الی ماھو ایسر وافضل و لو کان مکروھا لبین لھا ذلك ثم ھذہ الاحادیث مما تشھد بجواز اتخاذ السبحۃ المعروفۃ لاحصاء عدد التسبیح وغیرہ من الاذکار من غیران یتوقف علی و رود شیئ خاص فیھا بعینھا بل حدیث سعد ھذا کالنص فی ذلك اذ لا تزید السبحۃ علی مضمونہ بضم النوی و نحرہ فی خیط ومثل ذلك لایظھر تاثیرہ فی المنع فلا جرم ان نقل اتخاذ ھا والعمل بھا عن جماعۃ من السادۃ الاخیار۔واﷲ سبحانہ الموفق ۔ وہ پیدا کرنے والا ہے۔(اور اﷲ اسی کے مطابق سب سے بڑا ہے) اﷲ اکبر اسی کے مطابق ہے لا الہ الا اﷲ اسی کے مطابق ہے اور لاحول ولا قوۃ الا باﷲ اسی کے مطابق ہے(اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسی کے مطابق گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں سوائے اﷲ تعالی کی توفیق کے) ابوداؤد ترمذی نسائی اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحاح میں اور حاکم نے اسے روایت کیا اور فرمایا اس کی اسناد صحیح ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عورت مذکورہ کو مذکورہ طریق سے تسبیح کرتا دیکھ کر اسے منع نہیں فرمایا بلکہ زیادہ آسان اور افضل طریقہ کی رہنمائی فرمائیاگر آپ کو اس کا طریقہ پسند نہ ہوتا تو اس کو منع فرمادیتےیہ احادیث مروجہ تسبیح کے جواز پر دلالت کرتی اور شہادت دیتی ہیںیہ تسبیح اعداد وشمار اذکار کے لئے بنائی جاتی ہے البتہ اور اورادووظائف کا پڑھنا محض اسی پر موقوف نہیںحضرت سعد کی حدیث اس کے جواز کے سلسلے میں نص کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ تسبیح مروجہ میں صرف یہی چیز زائد ہے کہ گٹھلیاں کسی دھاگے میں پرو کر مطلوبہ تعداد کے مطابق اسے تیار کرلیا جاتا ہے اور اس نوعیت کے اضافہ میں کوئی تاثیر منع ظاہر نہیں ہوتی۔بلا شبہہ تسبیح بنانا اور اس کے ذریعے ذکر واذکار کا شغل رکھنا(ایك اچھا عمل ہے)اور عمدہ اکابرین امت کے ایك بڑے گروہ سے منقول ہے اور اﷲ تعالی پاك ہے اور بندوں کو امور خیر کی توفیق دیتا ہے(ت)
جو اسے ناجائز کہتاہے وہ شریعت مطہرہ پر افتراء کرتاہے اگر سچا ہے تو بتائے کہ
جو اسے ناجائز کہتاہے وہ شریعت مطہرہ پر افتراء کرتاہے اگر سچا ہے تو بتائے کہ
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
اﷲ تعالی ورسول علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے کہاں منع فرمایا ہے۔اور جب اﷲ ورسول نے منع نہ فرمایا تو پھر دوسرا اپنی طرف سے منع کرنے والا کون جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۶:از شاہجہانپور محلہ خلیل مرسلہ مولوی ریاست علی خاں صاحب واز رامپور خانقاہ مولینا ارشاد حسین مرسلہ مولوی سلامت اﷲ صاحب غرہ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام رحمکم اﷲ فی ھذا المرام ان ضرب الدف و البنادیق فی العرس لغرض اعلان النکاح اوفخریۃ ھل یجوز عند الشرع املا۔ بینوا بمسند الکتاب توجروا یوم الحساب۔ اے علماء کرام اﷲ تعالی تم پر رحم وکرم فرمائےاس مسئلہ میں تم کیا فرماتے ہو کہ شادی میں اعلان نکاح کی غرض سے دف بجانا جائز ہے یا نہیں اور بندوقوں سے ہوائی فائرنگ کرنا خواہ اعلان نکاح کے لئے ہو یا فخریہ طور پر ہو کیسا ہے کتاب وسنت کے حوالے سے بیان فرماؤ تاکہ بروز حساب اﷲ تعالی کے ہاں اجر وثواب پاؤ۔(ت)
خلاصۃ جواب المولوی ریاست علی خان
یجوز ضرب الدف بلا جلاجل و البنادیق بغرض اعلان النکاح ولا یجوز فخریۃ ولا تطربا فی الحدیث اضربوا علیہ الدفوف وضرب المدفع یجوز لاعلان افطار الصوم ولزوم الصوم واختتام وقت سحری و وقت نصف النہار وغیرھا کما ھو معتاد مروج فی اکثر بلاد الاسلام خصوصا اعلان نکاح کی غرض سے دف بجانا جائز ہے جبکہ اس کی آواز گھنگھرو اور گھنٹی کی جھنکار کے ساتھ نہ ہو یا اس کے مشابہ نہ ہو اسی طرح ہوائی فائرنگ بھی جائز ہے مگر فخر وغرر کے طو رپر جائز نہیںچنانچہ حدیث پاك میں ہے کہ نکاح کی تشہیر کے لئے دف بجایا کرو روزہ کے وقت کے آغاز کا اعلان کرنے کے لئے سحری کے وقتروزہ افطاری کے وقت اور دوپہر وغیرہ کے وقت توپ کا گولہ چھوڑنا جائز ہے جیسا کہ اکثر اسلامی ممالك اور مدائن
مسئلہ ۹۶:از شاہجہانپور محلہ خلیل مرسلہ مولوی ریاست علی خاں صاحب واز رامپور خانقاہ مولینا ارشاد حسین مرسلہ مولوی سلامت اﷲ صاحب غرہ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام رحمکم اﷲ فی ھذا المرام ان ضرب الدف و البنادیق فی العرس لغرض اعلان النکاح اوفخریۃ ھل یجوز عند الشرع املا۔ بینوا بمسند الکتاب توجروا یوم الحساب۔ اے علماء کرام اﷲ تعالی تم پر رحم وکرم فرمائےاس مسئلہ میں تم کیا فرماتے ہو کہ شادی میں اعلان نکاح کی غرض سے دف بجانا جائز ہے یا نہیں اور بندوقوں سے ہوائی فائرنگ کرنا خواہ اعلان نکاح کے لئے ہو یا فخریہ طور پر ہو کیسا ہے کتاب وسنت کے حوالے سے بیان فرماؤ تاکہ بروز حساب اﷲ تعالی کے ہاں اجر وثواب پاؤ۔(ت)
خلاصۃ جواب المولوی ریاست علی خان
یجوز ضرب الدف بلا جلاجل و البنادیق بغرض اعلان النکاح ولا یجوز فخریۃ ولا تطربا فی الحدیث اضربوا علیہ الدفوف وضرب المدفع یجوز لاعلان افطار الصوم ولزوم الصوم واختتام وقت سحری و وقت نصف النہار وغیرھا کما ھو معتاد مروج فی اکثر بلاد الاسلام خصوصا اعلان نکاح کی غرض سے دف بجانا جائز ہے جبکہ اس کی آواز گھنگھرو اور گھنٹی کی جھنکار کے ساتھ نہ ہو یا اس کے مشابہ نہ ہو اسی طرح ہوائی فائرنگ بھی جائز ہے مگر فخر وغرر کے طو رپر جائز نہیںچنانچہ حدیث پاك میں ہے کہ نکاح کی تشہیر کے لئے دف بجایا کرو روزہ کے وقت کے آغاز کا اعلان کرنے کے لئے سحری کے وقتروزہ افطاری کے وقت اور دوپہر وغیرہ کے وقت توپ کا گولہ چھوڑنا جائز ہے جیسا کہ اکثر اسلامی ممالك اور مدائن
فی مکۃ المعظمۃ فعلی ھذا ای تامل فی جواز ضرب البنادیق لغرض اعلان النکاح لانہ مامور باعلان عن لسان صاحب الشرع و فی ردالمحتار ان المدفع یفید غلبۃ الظن وان کان ضاربہ فاسقا لان العادۃ ان الموقت یذھب الی دارالحکم اخر النھار فیعین لہ وقت ضربہ فیغلب بھذہ القرائن عدم الخفاء وعدم قصد الافساد والا لزم تاثیم الناس وایضا فیہ والظاھر انہ یلزم اھل القری الصوم بسماع المدافع من المصر لانہ علامۃ ظاھرۃ تفید غلبۃ الظن حجۃ موجبۃ للعمل فثبت ان ضرب المدافع مروج مشروعوایضا فی ردالمحتار الۃ اللھو لیست محرمۃ لعینھا بل لقصد اللھو منھا اما من میں معمول ہے بالخصوص مکہ مکرمہ میں یہ طریقہ رائج ہے پس اس بناء پر تشہیر نکاح کے لئے فائرنگ وغیرہ کے جوازکے بارے میں کیا اشکال ہوسکتا ہے(یعنی یہ بلا شبہہ جائز ہے۔ (مترجم)کیونکہ صاحب شرع کی زبان سے اس کے اعلان کا حکم ہےفتاوی شامی میں ہے توپ کا گولہ مفید غلبہ ظن ہے اگرچہ توپ چلانے والا فاسق ہو اس لئے عادۃ اس کا م پر مقرر آدمی دن کے آخری حصے میں دار قضا کی طرف جاتا ہے پھر اس کے لئے چھوڑنے کا وقت مقرر کیا جاتاہے لہذا ان قرائن کی وجہ سے غلطی کا ارتکاب نہ ہونے اور فساد پھیلانے کا ارادہ نہ ہونے کا غالب گمان ہوتا ہے ورنہ لوگوں کا گناہگار ہونا لازم آئے گااور اسی میں یہ بھی مذکور ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ دیہات والے اگر شہر کی طرف سے توپ کے گولے کی آواز (بطور اعلان شہادت رؤیت چاند)سنیں تو ان پر روزہ رکھنا لازم ہوجائے گا اس لئے کہ یہ ایك ظاہری علامت ہے جو غلبہ ظن کا فائدہ دیتی ہے اور غلبہ ظن ایك ایسی دلیل ہے جو عمل کرنا واجب کردیتی ہے لہذا ثابت ہوا کہ اس مقصد کے لئے توپیں چلانا مباح اور جائز ہے نیز فتاوی شامی میں ہے کہ کھیل کود کے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۱۰۶€
ردالمحتار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۹۱€
ردالمحتار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۹۱€
سامعھا اومن المشتغل بھا اھ قلت وحرمۃ الات اللھو لقصد اللھو فی غیر العرس واما فی العرس فاللھو مباح من حدیث عائشہ زفت امرأۃ الی رجل من الانصار فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماکان معکم لھو فان الانصار لیعجبھم اللھو رواہ البخاری وھذ اعلی تسلیم ان البنادیق من الات اللھو والا فلا شناعۃ فیھا من قبلواﷲ سبحانہ اعلم۔ آلات فی نفسہ حرام نہیں بلکہ کھیل تماشے کے ارادے سے ان کا استعمال کرنا حرام ہے خواہ"قصد لہو"سامع کی طرف سے ہو یا انھیں استعمال کرنے اور ان سے شغل رکھنے والے کی طرف سے ہو اھمیں کہتاہوں آلات لہو کی حرمت۔لہو ولعب کے قصد سے موقع شادی کے علاوہ ہے۔جہاں تك شادی کا تعلق ہے تو ان کا استعمال حدیث عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی وجہ سے مباح ہےچنانچہ ام المومنین نے ارشاد فرمایا کہ ایك عورت کو(تیار کرکے)ایك انصاری کے پاس بھیجا گیا تو حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد فرمایا:کیا تمھارے پاس کھیل کود کا سامان نہیں تھا کیونکہ انصار کو کھیل کود سے خوشی ہوتی ہےامام بخاری نے اس کو روایت کیا ہے اور یہ اس بناء پر ہے کہ اگر یہ تسلیم کرلیں کہ بندوقوں سے فائرنگ وغیرہ"آلات لہو"میں شامل ہے ورنہ اس سے پہلے ان میں کوئی قباحت نہیںاور اﷲ تعالی پاك سب کچھ اچھی طرح جاننے والا ہے(جواب مولوی ریاست علی خان مکمل ہوگیا ہے)
خلاصہ جواب الشاہ سلامت اﷲ فی تائیدہ
لاریب فی جواز ضرب الدف لاعلان النکاح بل فی سنتہ فی الفتاوی الغیاثیۃ ضرب الدف فی النکاح اعلان وتشہیرا سنۃ و یجب ان یکون بلاسنجات وجلا جل اھ اعلان نکاح کے لئے دف بجانا کے جواز بلکہ اس کے سنت ہونے میں کوئی شك وشبہ نہیں۔فتاوی غیاثیہ میں ہے:نکاح کے موقعہ پر دف اس کے اعلان اور تشہیر کے لئے سنت ہے اور ضروری ہے کہ دف کی آواز گھنگھرو ٹلیوں
خلاصہ جواب الشاہ سلامت اﷲ فی تائیدہ
لاریب فی جواز ضرب الدف لاعلان النکاح بل فی سنتہ فی الفتاوی الغیاثیۃ ضرب الدف فی النکاح اعلان وتشہیرا سنۃ و یجب ان یکون بلاسنجات وجلا جل اھ اعلان نکاح کے لئے دف بجانا کے جواز بلکہ اس کے سنت ہونے میں کوئی شك وشبہ نہیں۔فتاوی غیاثیہ میں ہے:نکاح کے موقعہ پر دف اس کے اعلان اور تشہیر کے لئے سنت ہے اور ضروری ہے کہ دف کی آواز گھنگھرو ٹلیوں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۳€
صحیح البخاری کتاب النکاح باب النسوۃ اللاتی تہدین المرأۃ الی زوجھا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷۵€
فتاوٰی غیاثیہ کتاب الاستحسان الفصل الرابع ∞مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۰۹€
صحیح البخاری کتاب النکاح باب النسوۃ اللاتی تہدین المرأۃ الی زوجھا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۷۵€
فتاوٰی غیاثیہ کتاب الاستحسان الفصل الرابع ∞مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۰۹€
وکذا الطبل قال المحقق العینی والطبل انما کان منھیا اذا کان للھو اما لغیرہ فلا بأس کطبل الغزاۃ و العرس وقد صح ضرب الدف لیلۃ العرس وفی الاعیاد عند النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واکد ذلك بما رواہ احمد و الترمذی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فصل مابین الحلال والحرام الصوت والدف فی النکاح وبما رواہ النسائی عن عامر بن سعد قال دخلت علی قرظۃ وابی مسعود الانصاری فی عرس واذا جوار یغنین فقلت انتما صاحبا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومن اھل بدر یفعل ھذا عندکم فقال اجلس ان شئت فاسمع معنا وان شنت اذھب رخص لنا کے مشابہ زور دار نہ ہو اھ۔اور طبلہ بھی اسی طرح ہے محقق عینی نے فرمایا:طبلہ اس وقت منع ہے جب لہو ولعب کے لئے ہو اگر اس مقصد کے لئے نہ ہو تو کوئی حرج نہیں جیسے اگر اعلان جہاد کے لئے یا شادی وغیرہ کے موقع پر اس کا استعمال اور شادی والی رات دف بجانا جائز ہے اور عید کے مواقع پر حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے روبرو دف بجائی گئی اور اس کی تاکید کی گئی اس حدیث سے جو امام احمد اور امام ترمذی نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کی آپ نے ارشادفرمایا حلال اور حرام میں فر ق نکاح میں دف بجانے اور گیت گانے سے ہےاور وہ حدیث جس کو امام نسائی نے عامر بن سعد سے روایت کیا ہے انھوں نے فرمایا میں ایك شادی میں قرظہ اور ابومسعود انصاری کے ہاں گیا وہاں چند بچیاں گیت گارہی تھیں میں نے(یہ منظر دیکھ کر)کہا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اے بدری ساتھیو! تمھارے ہاں یہ کام ہورہاہے انھوں نے فرمایا کہ اگر مرضی ہو تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر تم بھی سنو اور اگر مرضی نہیں ہے تو یہاں سے چلے جاؤ(اور ہمیں نہ ٹوکو)کیونکہ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب النکاح باب ماجاء فی اعلان النکاح ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۲۹،€مسند احمد بن حنبل حدیث محمد بن حاطب رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۴۱۸ و ۴/ ۲۵۹€
فی اللھو عند العرس ۔وفی خزانۃ المفتین لا بأس بان یکون لیلۃ العرس دف یضرب للشہرۃ و اعلان النکاح۔وقال الفقیۃ ابواللیث ھذا اذالم یکن علیہ جلاجل اما اذا کان فیکرہ کذا فی الظھیریۃ اقول: اطلاق الاحادیث ینادی بجوازہ مع الجلاجل ایضا ولعل القول بالکراہۃ لعلۃ اخری وقد ظھر من کلام المحقق العینی ان دف العرس وطبلہ لیسا داخلین فی اللھو ولو کانا جاز ایضا فی النکاح بنص الحدیث کما افادہ الفاضل المجیب وقد منا التصریح بذلك فی روایۃ النسائی وکذا لاشبھۃ فی جواز ضرب البنادیق والمدافع فی العرس وامثالہ۔
ہمیں شادیوں کے مواقع پر کھیل کود کی رخصت دی گئی ہے۔ اور خزانۃ المفتین میں ہے کہ شادی والی رات اعلان نکاح اور شہرت کے لئے اگر دف بجائی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیںفقیہ ابواللیث نے فرمایا کہ یہ جواز اس وقت ہے یا اس صورت میں ہے کہ جب دف کی آواز گھنٹی کی جھنکار جیسی ہو لیکن وہ آواز اگر گھنٹی کے مشابہ اور جھنکار والی ہو تو اس کے استعمال(یعنی دف بجانا)مکروہ ہےیونہی فتاوی ظہیریہ میں بھی ہے اھ۔میں کہتاہوں کہ حدیثوں کا علی الاطلاق وارد ہونا اس بات کا اعلان کررہا ہے کہ"جلاجل"گھنٹی کی جھنکار جیسی آواز ہونے کے باوجود اس کا استعمال جائز ہے اور کراہت والا قول شاید کسی دوسری وجہ سے ہو نیز محقق عینی کے کلام سے ظاہر ہوا کہ شادی میں دف اور طبلہ بجانا لہو میں شمار نہیں ہوتااور اگر شمار ہو بھی تو نص حدیث کی وجہ سے ان کا استعمال جائز ہے اور کراہت والا قول شاید کسی دوسری وجہ سے ہونیز محقق عینی کے کلام سے ظاہر ہوا کہ شادی میں دف اور طبلہ بجانا لہو میں شمار نہیں ہوتا اور اگر شمار ہو بھی تو نص حدیث کی وجہ سے ان کا استعمال جائز ہے جیسا کہ فاضل مجیب نے افادہ پیش کیا ہے اور روایت نسائی کے حوالہ سے ہم نے اس کی تصریح قبل ازیں
ہمیں شادیوں کے مواقع پر کھیل کود کی رخصت دی گئی ہے۔ اور خزانۃ المفتین میں ہے کہ شادی والی رات اعلان نکاح اور شہرت کے لئے اگر دف بجائی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیںفقیہ ابواللیث نے فرمایا کہ یہ جواز اس وقت ہے یا اس صورت میں ہے کہ جب دف کی آواز گھنٹی کی جھنکار جیسی ہو لیکن وہ آواز اگر گھنٹی کے مشابہ اور جھنکار والی ہو تو اس کے استعمال(یعنی دف بجانا)مکروہ ہےیونہی فتاوی ظہیریہ میں بھی ہے اھ۔میں کہتاہوں کہ حدیثوں کا علی الاطلاق وارد ہونا اس بات کا اعلان کررہا ہے کہ"جلاجل"گھنٹی کی جھنکار جیسی آواز ہونے کے باوجود اس کا استعمال جائز ہے اور کراہت والا قول شاید کسی دوسری وجہ سے ہو نیز محقق عینی کے کلام سے ظاہر ہوا کہ شادی میں دف اور طبلہ بجانا لہو میں شمار نہیں ہوتااور اگر شمار ہو بھی تو نص حدیث کی وجہ سے ان کا استعمال جائز ہے اور کراہت والا قول شاید کسی دوسری وجہ سے ہونیز محقق عینی کے کلام سے ظاہر ہوا کہ شادی میں دف اور طبلہ بجانا لہو میں شمار نہیں ہوتا اور اگر شمار ہو بھی تو نص حدیث کی وجہ سے ان کا استعمال جائز ہے جیسا کہ فاضل مجیب نے افادہ پیش کیا ہے اور روایت نسائی کے حوالہ سے ہم نے اس کی تصریح قبل ازیں
حوالہ / References
سنن النسائی کتاب النکاح اللہو والغناء عند العِرس ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۹۲€
خزانہ المفتین کتاب الکراھیۃ ∞قلمی نسخہ ۲/ ۲۱۱€
خزانہ المفتین کتاب الکراھیۃ ∞قلمی نسخہ ۲/ ۲۱۱€
کردی ہے اور اسی طرح شادی وغیرہ میں بندوقوں سے فائرنگ کرنے اور توپ سے گولہ باری کرنے کے جواز میں بھی کوئی شبہہ نہیں۔
الجواب:
اللھم لك الحمد والیك الصمد صل علی حبیبك النور مانح السرور وعلی الہ وصحبہ الی یوم النشور ضرب الدف لاعلان النکاح واظھار السرور فی مستحبات الافراح جائز ومباح مافیہ جناح بل مندوب ومطلوب بالقصد المحبوب لکن یکرہ للرجال بکل حال وانما جواز للنساء علی ماقالہ فحول العلماء وانما ینبغی لنحو الجواری من الاماء و الذراری دون السردات ذوات الھیأت۔فی الدر المختار جاز ضرب الدف فیہ اھ یرید العرس قال فی ردالمحتار جواز ضرب الدف فیہ خاص بالنساء کما فی البحر عن المعراج بعد ذکرہ انہ مباح فی النکاح ومافی معناہ من حادث سرور قال وھو مکروہ للرجال علی اے اللہ! تیرے ہی لئے سب تعریف ہے اور تیری ہی طرف بندوں کا قصد ہے اور اپنے مبارك حبیب پر رحمت بھیج جو خوشی عطا کرنیوالے شرانگیز کاموں سے روکنے والے اور قیامت کے دن تك ان کی آل اور ساتھیوں پر نزول رحمت ہو۔ہاں اعلان نکاح اور اظہار خوشی کے لئے مستحب مواقع میں دف بجانا جائز اور مباح ہے بلکہ اچھے ارادے سے مندوب ومطلوب ہے لیکن مردوں کے لئے ناپسند یدہ ہے البتہ عورتوں کے لئے جائز ہے جیسا کہ اکابر علماء نے ارشاد فرمایا۔اسی طرح چھوٹی بچیوں کے لئے خواہ آزاد ہوں یا لونڈیاں دف بجانا جائز ہے نہ کہ ان معزز شکل وشباہت رکھنے والی خواتین کے لئے۔چنانچہ درمختار میں ہے۔شادیوں میں دف بجانا جائز ہے۔علامہ شامی نے اپنے فتاوی میں لکھا ہے کہ شادیوں میں دف بجانا عورتوں کے ساتھ خاص ہے اس لئے کہ البحرالرائق میں معراج الدرایہ کے حوالے سے منقول ہے کہ اس مسئلہ کے ذکر کرنے کے بعد کہ نکاح اور اس جیسی خوشی کے موقع پر اگرچہ دف بجانا مباح ہے
الجواب:
اللھم لك الحمد والیك الصمد صل علی حبیبك النور مانح السرور وعلی الہ وصحبہ الی یوم النشور ضرب الدف لاعلان النکاح واظھار السرور فی مستحبات الافراح جائز ومباح مافیہ جناح بل مندوب ومطلوب بالقصد المحبوب لکن یکرہ للرجال بکل حال وانما جواز للنساء علی ماقالہ فحول العلماء وانما ینبغی لنحو الجواری من الاماء و الذراری دون السردات ذوات الھیأت۔فی الدر المختار جاز ضرب الدف فیہ اھ یرید العرس قال فی ردالمحتار جواز ضرب الدف فیہ خاص بالنساء کما فی البحر عن المعراج بعد ذکرہ انہ مباح فی النکاح ومافی معناہ من حادث سرور قال وھو مکروہ للرجال علی اے اللہ! تیرے ہی لئے سب تعریف ہے اور تیری ہی طرف بندوں کا قصد ہے اور اپنے مبارك حبیب پر رحمت بھیج جو خوشی عطا کرنیوالے شرانگیز کاموں سے روکنے والے اور قیامت کے دن تك ان کی آل اور ساتھیوں پر نزول رحمت ہو۔ہاں اعلان نکاح اور اظہار خوشی کے لئے مستحب مواقع میں دف بجانا جائز اور مباح ہے بلکہ اچھے ارادے سے مندوب ومطلوب ہے لیکن مردوں کے لئے ناپسند یدہ ہے البتہ عورتوں کے لئے جائز ہے جیسا کہ اکابر علماء نے ارشاد فرمایا۔اسی طرح چھوٹی بچیوں کے لئے خواہ آزاد ہوں یا لونڈیاں دف بجانا جائز ہے نہ کہ ان معزز شکل وشباہت رکھنے والی خواتین کے لئے۔چنانچہ درمختار میں ہے۔شادیوں میں دف بجانا جائز ہے۔علامہ شامی نے اپنے فتاوی میں لکھا ہے کہ شادیوں میں دف بجانا عورتوں کے ساتھ خاص ہے اس لئے کہ البحرالرائق میں معراج الدرایہ کے حوالے سے منقول ہے کہ اس مسئلہ کے ذکر کرنے کے بعد کہ نکاح اور اس جیسی خوشی کے موقع پر اگرچہ دف بجانا مباح ہے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الشہادت باب قبول الشہادۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۹۶€
کل حال للتشبہ بالنساء اھواخرج ابن حبان فی صحیحہ عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا قالت کانت عندی جاریۃ من الانصار زوجتھا فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا عائشہ الا تغنین فان ھذا الحی من الانصار یحبون الغناء قالت القاری قال التورپشتی یحتمل ان یکون علی خطاب الغیبۃ بجماعۃ النساء والمراد منھن من تبعھا فی ذلك من الاماء والسفلۃ فان الحرائر لیستنکفن من ذلك وان یکون علی خطاب الحضور لھن ویکون من اضافۃ الفعل الی الامربہ والاذن فیہ قلت ویؤیدہ الروایۃ الاتیہ ارسلتم معھا من تغنی الخ اما لیکن ہر حال میں مردوں کے لئے مکروہ ہے کیونکہ اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت پیدا ہوتی ہے اھ۔چنانچہ ابن حبان نے اپنی صحیح میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے حوالے سے تخریج فرمائی مائی صاحبہ نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس قبیلہ انصار کی ایك بچی تھی میں نے اپنی نگرانی میں اس کی شادی کرائی حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم گاتی نہیں ہو کیونکہ انصار تو گانے کو پسند کرتے ہیں۔ملا علی قاری نے فرمایا کہ محدث تو رپشتی نے کہا یہاں اس لفظ"تغنین"میں احتمال ہے کہ غیبت کے طریقے پر عورتوں کی جماعت سے خطاب ہو اور ان سے وہ باندیاں اور معمولی عورتیں مراد ہوں جو اس بچی کے ساتھ بارات میں گئیں اس لئے کہ آزاد عورتیں اس کام سے نفرت کرتی تھیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لفظ صیغہ حاضر کے طریقہ پر ہو جس کی مخاطب عورتیں ہوں اور فعل کی اضافت آمر اور اجازت دینے والے کی طرف ہومیں کہتاہوں کہ آئندہ کی روایت اس کی تائید کرتی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں کیا تم نے دلھن کے ساتھ کسی گویا عورت کو بھیجا ہے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشہادات با ب قبول الشہادۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۳۸۲€
موارد الظمان زوائد ابن حبان باب الغناء واللعب فی العرس ∞حدیث ۲۰۲۱€ المطبعۃ السلفیہ ص۴۹۴،مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ ابن حبان فی صحیحہ کتاب النکاح باب اعلان النکاح ∞مطبع مجتبائی دہلی ص۲۷۲€
مرقاۃ المفاتیح کتاب النکاح باب اعلان النکاح الفصل الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶/ ۳۱۴€
موارد الظمان زوائد ابن حبان باب الغناء واللعب فی العرس ∞حدیث ۲۰۲۱€ المطبعۃ السلفیہ ص۴۹۴،مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ ابن حبان فی صحیحہ کتاب النکاح باب اعلان النکاح ∞مطبع مجتبائی دہلی ص۲۷۲€
مرقاۃ المفاتیح کتاب النکاح باب اعلان النکاح الفصل الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶/ ۳۱۴€
الجلاجل فمن اللھو الباطل و النھی عنھا مشھور وفی ز برالصدور مزبور وذلك لما فیھا من التطریب وقد کرھواضرب الساذج علی ھیئۃ الطرب فکیف بمابہ فی نفسہ معیب وقد قدم الفاضل المجیب عن العلامۃ الشامی عن الفتاوی السراجیۃ ان ھذا ای جواز ضرب الدف فی العرس اذا لم تکن لہ جلاجل ولم یضرب علی ھیئۃ التطرب اھ ولم یثبت وجودھا فی الدفوف فی زمن الحدیث والرسالۃ بل ھو لھو حدیث اخترعہ بعدہ اھل اللعب والبطالۃ فی المرقاۃ شرح المشکوۃ (فجعلت جویر یات لنا)بالتصغیر قیل المراد بھن بنات الانصار لا المملوکات(یضربن بالدف) قیل تلك البنات لم یکن بالغات حد الشھوۃ وکان دفھن غیر مصحوب بالجلاجلقال اکمل الدین المراد بہ رہا یہ کہ دف کی آواز گھنگھر و اور گھنٹی کی جھنکار کی طرح ہو تو یہ لہو باطل میں شمار ہے اور اس سے ممانعت مشہور ہے چنانچہ یہ سینوں کی تختیوں پرلکھا ہوا ہے اس لئے کہ اس میں خوش آوازی اور سر یلا پن ہے۔حالانکہ فقہائے کرام نے کسی سادہ چیز کو گانے کی شکل اورہیئت پر بجانے کو مکرہ قراردیا ہے پھر اس کا کیا کہنا جو بذاتہ عیب دار ہوچنانچہ فاضل مجیب علامہ شامی سے بحوالہ فتاوی سراجیہ پہلے نقل کیا ہے کہ شادی میں دف بجانے کا جواز اس شرط سے مشروط ہے کہ اس میں ٹن ٹن کی آواز نہ ہو اور وہ گانے کی ہیت پر بھی نہ بجایا جائے اور حدیث اور رسالت کے زمانے میں دف کے لئے ٹن ٹن کی سریلی آواز نہ تھی بلکہ یہ کھیل تماشے کی باتیں زمانہ رسالت کے بعد ارباب باطل نے ایجاد واختراع کرلیں چنانچہ مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے کہ ہمارے ہاں چند چھوٹی بچیاں تھیں جو دف بجا رہی تھیںیہاں حدیث میں لفظ جویریات ہے جو جویریہ کی جمع اور صیغہ تصغیر ہے کہا گیا کہ ان سے انصار کی چھوٹی بچیاں مراد ہیں لہذا باندیاں مراد نہیںاور یہ بھی کہا گیا کہ مکمل جوان نہ تھیں اور ان کی دف کی آواز سریلی اور ٹن ٹن والی نہ تھیچنانچہ علامہ اکمل الدین نے فرمایا ان کی دف سے زمانہ متقدمین
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۳€
الدف الذی کان فی زمن المتقدمین واما ماعلیہ الجلاجل فینبغی ان یکون مکروھا بالاتفاق اھ ملخصاولا یذھبن عنك ان اللھو حقیقتہ حرام کلھا دقھا وجلتھا اما ماابیح فی العرس ونحوہ من ضرب الدف وانشاد الاشعار المباحۃ بہ القصد المباح اوالمندوب لاللتلھی واللعب المعیوب فانما سمی لھوا صورۃ کما سمیت السنن الثلث ملاعبۃ الفرس والمرأۃ والرمی بذلك لذلك بالضرورۃ فلا منا فاۃ بین حدیث قرظۃ بن کعب وابی مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما وقول المحقق العینی وغیرہ انما کان منھیا اذا کان للھو اما لغیرہ فلا باس کطبل الغزاۃ والعرس ۔ قال فی ردالمحتار نقلا عن الکفایۃ شرح الہدایۃ اللھو حرام بالنص قال علیہ الصلوۃ والسلام لھو المؤمن باطل الا فی ثلث تادیبہ فرسہ کی دف مراد ہے۔رہی وہ دف کہ جس کی گھنٹی جیسی آواز اور جھنکار ہو تو وہ بالاتفاق مکروہ ہے(ملخص پورا ہوگیا)یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ درحقیقت ہر لہو حرام ہے خواہ آلات لہو کی آواز باریك ہو یا موٹیرہی یہ بات کہ شادی وغیرہ کے موقع پر دف بجانا مباح ہے اور مندوب ارادے سے جائز اشعار پڑھنا بشرطیکہ معیوب طریقے پر نہ ہوتو ان تمام باتوں کے مباح ہونے کا حکم ہے البتہ اسے صورۃ لہو کہا گیا جیسا کہ تین کاموں کو(یعنی عورت اور گھوڑے سے کھیلنا اور تیز اندازی کرنا)جو درحقیقت سنت ہیںاسی وجہ سے اس ضرورت کی بناء پر انھیں لہو کا نام دیا گیا لہذا قرظہ بن کعب اور ابومسعود بدری رضی اﷲ تعالی عنہما کی حدیث اورمحقق عینی وغیرہ کے کلام میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ دف بجانے کا جواز اس صورت میں ہے کہ جب بطور لہو نہ ہو ورنہ منع ہے۔اس کی مثال جیسے غازیوں کا طبلہ اور شادیوں میں دف بجانا ہے۔
علامہ شامی نے کفایہ شرح ہدایہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ نص کی بنیاد پر لہو حرام ہے چنانچہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ تین کھیلوں کے علاوہ مسلمان کا ہر کھیل باطل ہے:(۱)گھوڑے
علامہ شامی نے کفایہ شرح ہدایہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ نص کی بنیاد پر لہو حرام ہے چنانچہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ تین کھیلوں کے علاوہ مسلمان کا ہر کھیل باطل ہے:(۱)گھوڑے
حوالہ / References
مرقات المفاتیح کتاب النکاح باب اعلان الفصل الاول ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶/ ۳۰۱€
وفی روایۃ ملاعبتہ بفرسہ ورمیہ عن قوسہ وملاعبتہ مع اھلہ اھ قلت رواہ الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلفظ کل شیئ من لھو الدنیا باطل الاثلثۃ انتضالك بقوسك وتادیبك فرسك وملا عبتك اھلك فانھا من الحق ھذا مختصر وقال صحیح علی شرط مسلم ۔ونازعہ الذھبی وصحح ابو حاتم و ابوزرعۃ ارسلہ من طریق محمد بن عجلان عن عبداﷲ بن عبدالرحمن بن ابی حسین قال بلغنی ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فذکرہ فی نصب الرایۃ۔قلت محمد صدوق من رجال مسلم (عبد اﷲ ثقۃ عالم کو ادب سکھانا یعنی جہاد کے لئے تیار کرناایك دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے کہ اپنے گھوڑے سے کھیلنا(۲)کمان سے تیر اندازی کرنا(۳)اپنی بیوی سے کھیلنا اھ میں کہتاہوں کہ امام حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے حدیث مذکور کو ان الفاظ میں روایت کیا ہے:سوائے تین کھیلوں کے دنیا کا ہر کھیل باطل ہے(۱)اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا(۲)اپنے گھوڑے کو شائستگی سکھانا(۳)اپنی گھر والی یعنی اہلیہ کے ساتھ کھیلنایہ تینوں جائز ہیں۔یہ حدیث مختصر ہے۔حاکم نے کہا کہ یہ شرط مسلم کے مطابق صحیح ہے۔علامہ ذہبی نے اس میں نزاع کیا ہے پھر ابوحاتم نے اور ابوزرعہ نے اس کے ارسال کو صحیح قرار دیا ہے جو محمد بن عجلان کے طریقے سے عبداﷲ بن عبد الرحمن بن ابی حسین سے مروی ہے چنانچہ اس نے کہا کہ مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا پھر اس نے حدیث مذکور بیان کینصب الرایۃ میں یہی کہا گیا ہے۔میں کہتاہوں کہ محمد نامی راوی سچا ہےمسلم کے رجال میں سے ہے عبداﷲ راوی ثقہ اورعالم
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۲۲€
المستدرك للحاکم کتاب الجہاد دارالفکر بیروت ∞۲/ ۹۵€
نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتا ب الکراہیۃ فصل فی البیع المکتبۃ الاسلامیہ ∞ریاض ۴/ ۲۷۴€
المستدرك للحاکم کتاب الجہاد دارالفکر بیروت ∞۲/ ۹۵€
نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتا ب الکراہیۃ فصل فی البیع المکتبۃ الاسلامیہ ∞ریاض ۴/ ۲۷۴€
من رجال الستۃ کلاھما من صغار التابعین فالحدیث صحیح علی اصولنا علی ان النسائی روی بسند حسن عن جابر بن عبداﷲ وجابر بن عمیر رضی اﷲ تعالی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال کل شیئ لیس من ذکر اﷲ فھو لھو ولعب الا ان یکون اربعۃ ملاعبۃ الرجل امرأتہ وتادیب الرجل فرسہ و مشی الرجل بین الغرضین وتعلیم الرجل السباحۃ واخرج الطبرانی فی الاوسط عن امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل لھو یکرہ الا ملا عبۃ الرجل امرأتہ ومشیہ بین الھدفین وتعلیمہ فرسہ ۔ فالحدیث صحیح لاشك وکان ھذا ھو مراد الفاضلین الکاملین ذوی الریاسۃ والسلامۃ النفاسۃ والکرامۃ المجیب ہےصحاح ستہ کے رجال میں سے ہے دونوں اشخاص مذکور چھوٹے تابعین میں سے ہیں لہذا حدیث ہمارے اصول وقواعد کے مطابق صحیح ہے اس کے علاوہ امام نسائی نے اچھی سند کے ساتھ اسے جابر بن عبداﷲ اور جابر بن عمیر رضی اﷲ تعالی عنہم کے حوالے سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا:"ہر وہ چیز جس میں ذکر الہی نہ ہو وہ کھیل اور تماشہ ہے لیکن چار چیزیں اس سے مستثنی ہیں(۱)مرد کا اپنی بیوی سے کھیلنا(۲)اپنے گھوڑے کو شائستگی سیکھانا (۳)مرد کا دونشانوں کے درمیان چلنا(۴)تیرا کی سیکھنا اما م طبرانی نے"الاوسط"میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ تخریج فرمائی کہ ہر کھیل مکروہ ہے سوائے تین کاموں کے(۱)مرد کا اپنی بیوی سے کھیلنا(۲)تیر اندازی کے دونشانوں کے درمیان چلنا(۳)اپنے گھوڑے کو سکھانا لہذا حدیث بلا شبہہ صحیح ہے اور دو فاضلوں کاملوں کیشادی کے لہو مباح ہونے سے یہی مراد ہے جو ریاست سلامت نفاست کرامت والے ہیں ایك جواب دینے والا اور دوسرا
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ن النسائی عن جابر بن عبداﷲ وجابر بن عمیر ∞حدیث ۴۰۶۱۲€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۵/ ۲۱۱€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۷۱۷۹€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۸/ ۹۰€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۷۱۷۹€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۸/ ۹۰€
والمؤید باباحۃ اللہوفی العرساما ضرب بندقۃ الرصاص لاعلان النکاح فلا شك ان الاعلان مطلوب فیہ مندوب الیہ فصلا بین النکاح والسفاح الذی یکتم ولا یعلم والمقصود اعلام الاباعد والا قاصی فان الحضور یعلمونہ بالحضور ولذا امر بضرب الدفوف واضطراب الاصوات علی وجہ المعروف فان العلم للقاضی انما یحصل بما ھو متعارف عندھم وقد شملہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فصل مابین الحلال والحرام الصوت والدف فی النکاح رواہ الائمۃ احمد والترمذی و النسائی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن محمد بن حاطب الجمحی رضی اﷲ تعالی حسنہ الترمذی و صححہ ابن حبان والدارقطنی والحاکم وابن طاھر فلم یخص بالدف بل اطلق الصوت
اس کی تائید کرنے والا ہے۔رہی یہ بات کہ قلعی کی رائفل سے نکاح کی تشہیر اور اعلان کرنا تو یہ مطلوب و مندوب ہے تاکہ نکاح اور بد کاری میں امتیاز ہوجائے کیونکہ بدکاری کو چھپا یا جاتاہے بتایا اورظاہر نہیں کیا جاتاجبکہ نکاح کی تشہیر کی جاتی ہے کیونکہ اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ انتہائی دور والے لوگ بھی آگاہ ہوجائیں کیونکہ قریب کے لوگ تو قرب وجوار میں ہونے کی وجہ سے اس معاملے کو بخوبی جانتے ہیں اس لئے دف بجانے اور آوازوں کے پھیلانے کا حکم طریقہ معروف کے مطابق دیا گیا ہے تاکہ قاضی کے لئے حصول علم اس کے مطابق ہوجائے جولوگوں میں متعارف ہے اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد اس کو شامل ہے کہ حلال حرام میں فرق نکاح کے موقع پر اعلان کرنے اور دف بجانے سے ہے۔چنانچہ ائمہ کرام مثلا احمدنسائیترمذی ابن ماجہابن حبان اور حاکم نے محمد بن حاطب جمحی کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے امام ترمذی نے اس کی تحسین فرمائی۔ابن حباندارقطنیحاکم اور ابن طاہر نے اس کو صحیح قرار دیا ہے لہذا اعلان نکاح کو شارع نے دف بجانے کے ساتھ
اس کی تائید کرنے والا ہے۔رہی یہ بات کہ قلعی کی رائفل سے نکاح کی تشہیر اور اعلان کرنا تو یہ مطلوب و مندوب ہے تاکہ نکاح اور بد کاری میں امتیاز ہوجائے کیونکہ بدکاری کو چھپا یا جاتاہے بتایا اورظاہر نہیں کیا جاتاجبکہ نکاح کی تشہیر کی جاتی ہے کیونکہ اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ انتہائی دور والے لوگ بھی آگاہ ہوجائیں کیونکہ قریب کے لوگ تو قرب وجوار میں ہونے کی وجہ سے اس معاملے کو بخوبی جانتے ہیں اس لئے دف بجانے اور آوازوں کے پھیلانے کا حکم طریقہ معروف کے مطابق دیا گیا ہے تاکہ قاضی کے لئے حصول علم اس کے مطابق ہوجائے جولوگوں میں متعارف ہے اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد اس کو شامل ہے کہ حلال حرام میں فرق نکاح کے موقع پر اعلان کرنے اور دف بجانے سے ہے۔چنانچہ ائمہ کرام مثلا احمدنسائیترمذی ابن ماجہابن حبان اور حاکم نے محمد بن حاطب جمحی کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے امام ترمذی نے اس کی تحسین فرمائی۔ابن حباندارقطنیحاکم اور ابن طاہر نے اس کو صحیح قرار دیا ہے لہذا اعلان نکاح کو شارع نے دف بجانے کے ساتھ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب النکاح باب ماجاء فی اعلان النکاح ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۲۹،€سنن النسائی کتاب النکاح اعلان النکاح بالصوت الخ ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۹۰،€سنن ابن ماجہ ابواب النکاح اعلان النکاح بالصوت الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۸،€مسند احمد بن حنبل حدیث محمد بن حاطب رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۴۱۸ و ۴/ ۲۵۹€
وغایر بالعطف والبندقۃ صوت یحصل بہ الاعلام بل ادخل فی المرام قال القاری ابن الملك المراد الترغیب الی اعلان امرالنکاح بحیث لایخفی علی الاباعد قال فی شرح السنۃ معناہ اعلان النکاح واضطراب الصوت بہ والذکر فی الناس کما یقال فلان قد ذھب صوتہ فی الناس اھ فالنھی مفقود ویفید المقصود فالجواز موجود المنع مردود و ھل لاحد ان ینھی عما لم ینہ عنہ اﷲ ورسولہ جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔اما زعم بعض جھلۃ الوھابیۃ ولعمری مافی الوھابیۃ الا الجھلۃ انہ اسراف و الاسراف حرام فجھل منھم بمعنی الاسراف و مخصوص نہیں کیا بلکہ صورت کو مطلق رکھا گیا اور دونوں میں حرف"و"تغایر کے لئے بڑھا یاگیا اور رائفل سے ایسی آواز پیدا ہوتی ہے کہ جس سے آگاہی نصیب ہوتی ہے بلکہ اسے مقصود میں زیادہ دخل ہے۔ملا علی قاری نے فرمایا علامہ ابن ملك نے کہا کہ اس سے امر نکاح کے اعلان کرنے کی رغبت مقصود ہے تاکہ دور دراز والے لوگوں پر یہ معاملہ پوشیدہ نہ رہے۔شرح السنۃ میں فرمایا گیا کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نکاح کا اعلان اور اس کی آواز کی نشر واشاعت ہوجائے اور لوگوں میں اس کا تذکرہ ہو جیسے کہا جاتاہے کہ فلاں شخص کی آواز لوگوں میں پھیل گئی اور ان تك پہنچ گئیخلاصہ کلام یہ کہ نہی مفقود اور افادہ مقصود ہے اور جواز موجود اور ممانعت مردود ہے کیا کسی کے لئے گنجائش ہے کہ جس کام سے اﷲ تعالی اور اس کے رسول گرامی منع نہ فرمائیں اس سے لوگوں کو روکے ہر گز ایسا نہیں ہوسکتااﷲ تعالی کی شان عظیم ہے اور اس کے رسول کریم پر اس کی طرف سے ہدیہ درود وتسلیم ہو
رہا بعض جاہل وہابیوں کا یہ خیال کہ یہ اسراف ہے(مجھے اپنی بقا کی قسم وہابیوں میں سوائے جہالت کے کچھ نہیںلہذا قول وہابیہ کہ یہ اسراف ہے اور اسراف حرام ہے۔تو
رہا بعض جاہل وہابیوں کا یہ خیال کہ یہ اسراف ہے(مجھے اپنی بقا کی قسم وہابیوں میں سوائے جہالت کے کچھ نہیںلہذا قول وہابیہ کہ یہ اسراف ہے اور اسراف حرام ہے۔تو
حوالہ / References
مرقاۃ المفاتیح کتاب النکاح باب اعلان النکاح الفصل الثانی ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶/ ۳۱۴€
اعظم منہ ان اجھلھم تلا فی تحریمہ ایۃ " ان المبذرین کانوا اخون الشیطین " "ولم یدر المسکین مافی الانفاق فی غرض محمود وفی مذموم او فی عبث من بون مبین ولو کان کل انفاق شیئ فی غرض مباح بل ومحمود اسرافا مذموما اذا امکن حصولہ باقل منہ لکان کل توسع فی مأکل او مشرب او منکح او مرکب اوملبس او مسکن حراما وھو خلاف الاجماع والنصوص الصریحۃ بغیر نزاع وھذا ربنا عزوجل قائلا " قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت
" وھذا نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم قائلا ان اﷲ تعالی یحب ان یری اثر نعمتہ ان کا یہ قول معنی اسراف سے جہالت ہے اور اس سے بھی عظیم جہالت ان کے بڑے جاہل سے صادر ہوئی اس نے کام کی حرمت میں قرآن مجید کی آیۃ مبارك پڑھ لی"بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں"اور وہ بیچارہ یہ نہ سمجھا کہ اچھی اور بری غرض اور بے فائدہ کام میں خرچ کرنے میں کتنا واضح اور کھلا فرق ہے اگر ہر خرچ کرنا مباح کام میں بلکہ اچھی غرض میں اسراف اور مذموم ہوتا تو جب اسی کا اس سے معمولی درجہ میں بھی حصول ممکن ہوتا پھر کھانےپینےنکاح کرنےسواریلباس اور جائے سکونت اور ان سب میں وسعت اختیار کرناحرام ہو تا حالانکہ یہ اتفاق امت کے بالکل خلاف ہے اور صریح نصوص اس میں بغیر کسی نزاع کے وارد ہیں۔غور کیجئے کہ ہمارا پروردگار عزت وعظمت کا مالك اپنے محبوب کریم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمارہا ہےفرما دیجئے کس نے حرام کردی اﷲ تعالی کی وہ زیب و زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے ظاہر فرمائی اور وہ پاکیزہ کھانے کی چیزیں۔ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلا شبہہ اﷲ تعالی اس بات کو پسند
" وھذا نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم قائلا ان اﷲ تعالی یحب ان یری اثر نعمتہ ان کا یہ قول معنی اسراف سے جہالت ہے اور اس سے بھی عظیم جہالت ان کے بڑے جاہل سے صادر ہوئی اس نے کام کی حرمت میں قرآن مجید کی آیۃ مبارك پڑھ لی"بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں"اور وہ بیچارہ یہ نہ سمجھا کہ اچھی اور بری غرض اور بے فائدہ کام میں خرچ کرنے میں کتنا واضح اور کھلا فرق ہے اگر ہر خرچ کرنا مباح کام میں بلکہ اچھی غرض میں اسراف اور مذموم ہوتا تو جب اسی کا اس سے معمولی درجہ میں بھی حصول ممکن ہوتا پھر کھانےپینےنکاح کرنےسواریلباس اور جائے سکونت اور ان سب میں وسعت اختیار کرناحرام ہو تا حالانکہ یہ اتفاق امت کے بالکل خلاف ہے اور صریح نصوص اس میں بغیر کسی نزاع کے وارد ہیں۔غور کیجئے کہ ہمارا پروردگار عزت وعظمت کا مالك اپنے محبوب کریم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمارہا ہےفرما دیجئے کس نے حرام کردی اﷲ تعالی کی وہ زیب و زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے ظاہر فرمائی اور وہ پاکیزہ کھانے کی چیزیں۔ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلا شبہہ اﷲ تعالی اس بات کو پسند
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۷/ ۲۷€
القرآن الکریم ∞۷/ ۳۲€
القرآن الکریم ∞۷/ ۳۲€
علی عبدہ رواہ الترمذی و حسنہ والحاکم وصححہ عن عبداﷲ ابن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما مع قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الحدیث الصحیح بحسب ابن ادم القیمات یقمن صلبہ الحدیثوجعل لمن ابی التثلیث وقد اجمعوا علی جوازہ حتی الشبعو انت تری ھؤلاء الناھین المجترین علی اﷲ تعالی " لما تصف السنتکم الکذب " ۔ ان ھذا حرام وھذا ممنوع یاکلون الالوان ویلبسون الرقاق ویفعلون یفعلون ولو اجترأوا بعشر ما انفقوا لکفی وضرب الدف ایضا لا یخلو عن نفقۃ اما ثمن واما اجرۃ فرماتا ہے کہ اپنے کسی بندے پر آثار نعمت دیکھےچنانچہ امام ترمذی نے اس کو روایت کرکے اس کی تحسین فرمائیاور حاکم نے اس کو عبداﷲ بن عمرو سے روایت کیا اور اس کو صحیح قرار دیا۔اس کے باوجود کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا حدیث صحیح میں یہ ارشاد موجود ہے ابن آدم کے لئے غذا کے چند لقمے کا فی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں(الحدیث)۔یہ اس کے لئے مقرر فرمایا جس نے تین لقموں کا انکار کیاتم دیکھتے ہو کہ ان روکنے والوں اﷲ تعالی پر جرأت کرنے والوں کو ایسی چیز سے جو ان کی زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ یہ حرام ہے اور یہ منع ہے کہ لوگ رنگا رنگ کھانے کھاتے ہیں باریك اور پتلا لباس پہنتے ہیں اور یہ اور وہ کرتے ہیں۔کاش وہ لوگ اس دسویں حصے پر اکتفا کرتے جو انھوں نے خرچ کیا تو کافی تھا۔اور یہ بھی خیال رہے کہ دف بجانا بھی خرچ سے خالی
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان اﷲ یحب ان یری اثرہ الخ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۵،€المستدرك للحاکم کتاب الاطعمۃ باب ماجاء ان اﷲ یحب ان یری اثرہ الخ دارالفکر بیروت ∞۴/ ۱۳۵€
جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء فی کراہیۃ کثرۃ الاکل ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۶۰،€سنن ابن ماجہ ابواب الاطعمہ باب الاقتصار فی الاکل ∞ایچ ایم سعید کراچی ص۲۴۸،€الترغیب والترھیب الترہیب من الامعان فی الشبع مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۱۳۶€
القرآن الکریم ∞۱۶/ ۶۲€
جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء فی کراہیۃ کثرۃ الاکل ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۶۰،€سنن ابن ماجہ ابواب الاطعمہ باب الاقتصار فی الاکل ∞ایچ ایم سعید کراچی ص۲۴۸،€الترغیب والترھیب الترہیب من الامعان فی الشبع مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۱۳۶€
القرآن الکریم ∞۱۶/ ۶۲€
ولعلہ قد یفوق ثمن البارود وانما السرف الصرف الی غرض لایحمد وتعدی القصد وتجاوز الحد فانظر ان ھذا من ذلك واﷲ یتولی ھداك نعم من اراد التفاخر فذلك الحرام جملۃ واحدۃ
" ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورۨا ﴿۳۶﴾ " والاختصاص لھذا بالدف والبندقۃ بل لو تلاقران ونوی التفاخر لکان حراما محظورا والتالی اثما موزورا کما لایخفی فھذا ما عندنا فی الباب و ربنا سبحانہ اعلم بالصواب وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا والال والاصحاب امین۔ نہیں یا تو دف خریدنے پر خرچ آئے گا یا بجانے کی اجرت دینی پڑے گی اور شاید بارود کی قیمت سے زیادہ ہواور خالص اسراف یہ ہے کہ ایسی غرض کے لئے خرچ کیا جائے جس میں کوئی حسن و خرابی اور فائدہ نہ ہو اور یہ میا نہ روی سے متجاوز ہو لہذا غور کیجئے کہ یہ کہاں اور وہ کہاں(بلکہ دونوں میں واضح فرق ہے)اور اﷲ تعالی تیری ہدایت کا مالك ہے۔ہاں اگر کسی نے آپس کے خرچ کرنے سے فخر کرنے کا ارادہ کیا تو یہ بالکل حرام ہے کیونکہ اﷲ تعالی اترانے والے فخر کرنیوالے کو پسندنہیں کرتالہذا حرمت کا دف اور بندوق سے کوئی اختصاص نہیں بلکہ اگر آپس میں تفاخر سے تلاوت کلام پاك کی جائے تو یہ بھی حرام اور ممنوع ہے۔پس اس صور ت میں تلاوت کرنے والا گنہ گار اور گناہ برداشتہ ہوگا جیسا کہ مخفی نہیں لہذا اس باب میں ہماری یہی تحقیق ہے۔اور ہمارا پاك پروردگارراہ صواب کو اچھی طرح جانتا ہے۔ہمارے آقا وسردار اور ان کی آل اولاد وصحابہ پر اﷲ تعالی کی خصوصی باران رحمت ہو۔ آمین!(ت)
مسئلہ ۹۷: از مدراس جنتا دھاری دسگ شب گرامیں اسٹریٹ مرسلہ مولوی حاجی سید عبدالغفار صاحب بنگلوری۔
پھولوں کا سہرا جس میں نلکیاں اور پنی وغیرہ نہ ہو جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
پھولوں کا سہرا جیسا سوال میں مذکور رسوم دنیویہ سے ا یك رسم ہے جس کی ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہیں نہ شرع میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے تو مثل اور تمام عادات ورسوم مباحہ کے مباح رہے گا۔
" ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورۨا ﴿۳۶﴾ " والاختصاص لھذا بالدف والبندقۃ بل لو تلاقران ونوی التفاخر لکان حراما محظورا والتالی اثما موزورا کما لایخفی فھذا ما عندنا فی الباب و ربنا سبحانہ اعلم بالصواب وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا والال والاصحاب امین۔ نہیں یا تو دف خریدنے پر خرچ آئے گا یا بجانے کی اجرت دینی پڑے گی اور شاید بارود کی قیمت سے زیادہ ہواور خالص اسراف یہ ہے کہ ایسی غرض کے لئے خرچ کیا جائے جس میں کوئی حسن و خرابی اور فائدہ نہ ہو اور یہ میا نہ روی سے متجاوز ہو لہذا غور کیجئے کہ یہ کہاں اور وہ کہاں(بلکہ دونوں میں واضح فرق ہے)اور اﷲ تعالی تیری ہدایت کا مالك ہے۔ہاں اگر کسی نے آپس کے خرچ کرنے سے فخر کرنے کا ارادہ کیا تو یہ بالکل حرام ہے کیونکہ اﷲ تعالی اترانے والے فخر کرنیوالے کو پسندنہیں کرتالہذا حرمت کا دف اور بندوق سے کوئی اختصاص نہیں بلکہ اگر آپس میں تفاخر سے تلاوت کلام پاك کی جائے تو یہ بھی حرام اور ممنوع ہے۔پس اس صور ت میں تلاوت کرنے والا گنہ گار اور گناہ برداشتہ ہوگا جیسا کہ مخفی نہیں لہذا اس باب میں ہماری یہی تحقیق ہے۔اور ہمارا پاك پروردگارراہ صواب کو اچھی طرح جانتا ہے۔ہمارے آقا وسردار اور ان کی آل اولاد وصحابہ پر اﷲ تعالی کی خصوصی باران رحمت ہو۔ آمین!(ت)
مسئلہ ۹۷: از مدراس جنتا دھاری دسگ شب گرامیں اسٹریٹ مرسلہ مولوی حاجی سید عبدالغفار صاحب بنگلوری۔
پھولوں کا سہرا جس میں نلکیاں اور پنی وغیرہ نہ ہو جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
پھولوں کا سہرا جیسا سوال میں مذکور رسوم دنیویہ سے ا یك رسم ہے جس کی ممانعت شرع مطہر سے ثابت نہیں نہ شرع میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے تو مثل اور تمام عادات ورسوم مباحہ کے مباح رہے گا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۳۶€
شرع شریف کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جس چیز کو خدا ورسول اچھا بتائیں وہ اچھی ہے اور جسے برافرمائیں وہ بری ہے اور جس سے سکوت فرمائیں یعنی شرع سے نہ اس کی خوبی نکلے نہ برائی وہ اباحت اصلیہ پر رہتی ہے کہ اس کے فعل وترك میں ثواب نہ عقابیہ قاعدہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ اکثر جگہ کام آئے گا آجکل مخالفین اہلسنت نے یہ روش اختیار کرلی ہے۔جس چیز کو چاہا شرکحرامبدعتضلالت کہنا شروع کردیا اگر چہ وہ فعل صحابہ کرام یا تابعین عظام یا ائمہ اعلام سے ثابت ہواگر چہ وہ فعل اس نیك بات کے عموم واطلاق میں داخل ہو جس کی خوبیاں صریح قرآن مجید وحدیث شریف میں مذکور ہیں پھر سہرے وغیرہ رسمی باتوں کی تو کیا حقیقت ہے اور اس پر طرہ یہ ہوتا ہے کہ اہلسنت سے پوچھتے ہیں تم جو ان چیزوں کو جائز بتاتے ہو قرآن وحدیث میں کہاں جائز لکھا ہے حالانکہ ان کو اپنی خوش فہمی سے اتنی خبر نہیں کہ جائز کہنے والا دلیل خاص کا محتاج نہیںجو ناجائز کہے وہ قرآن حدیث میں دکھائے کہ ان افعال کو کہاں ناجائز کہا ہے۔کیا اہلسنت پر لازم ہے کہ وہ جس چیز کو جائز ومباح بتائیں اس کی خاص صورت کا حکم صریح قرآن مجید واحادیث شریف میں دکھائیں اور تم پر کچھ ضرور نہیں کہ جس چیز کو حرام بدعت گمراہی کہو خاص اس کی نسبت ان حکموں کی تصریح کتاب وسنت میں دکھادو۔ان امور کی قدرے تفصیل مسئلہ قیام میں فقیر نے ذکر کی اور تحقیق کامل تصانیف علمائے اہلسنت میں ہے۔شکر اﷲ تعالی مساعیھم الجمیلۃ۔
جب یہ قاعدہ شرعیہ معلوم ہولیا تو سہرے کا حکم خود ہی کھل گیا۔اب جو ناجائزحرامبدعتضلالت بتائے وہ خود قرآن مجید وحدیث شریف سے ثابت کر دکھائے ورنہ جان برادر! شرع تمھاری زبان کا نام نہیں کہ جسے چاہو بے دلیل حرام وممنوع کہہ دواور سفہائے مخالفین جو اس قسم کے مسائل میں حدیث من احدث فی امرنا وغیرہ پیش کرتے ہیں محض بے محل واغوائے جہال کہ اس قدر تو طائفہ اسمعیلہ کو بھی مسلم کہ بدعت ضلالت وہی ہے جو بات دین میں نئی پیدا ہو اور دنیوی رسوم وعادت پر حکم بدعت نہیں ہوسکتا مثلا انگرکھا پہنناپلاؤ کھانا یا دولھا کو جامہ پہنانادلہن کو پالکی میں بٹھانااسی طرح سہرا کہ اسے بھی کوئی دینی بات سمجھ کر نہیں کرتانہ بغرض ثواب کیا جاتاہے بلکہ سب ایك رسم ہی جان کر کرتے ہیں ہاں اگر کوئی جاہل اجہل ایسا ہو کہ اسے دینی بات جانے تو اس کی اس بیہودہ سمجھ پر اعتراض صحیح ہے اسی طرح سہرے کے باب میں حدیث من تشبہ بقوم فھو منھم (جو کسی قسم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہوجائے گا۔ت)
جب یہ قاعدہ شرعیہ معلوم ہولیا تو سہرے کا حکم خود ہی کھل گیا۔اب جو ناجائزحرامبدعتضلالت بتائے وہ خود قرآن مجید وحدیث شریف سے ثابت کر دکھائے ورنہ جان برادر! شرع تمھاری زبان کا نام نہیں کہ جسے چاہو بے دلیل حرام وممنوع کہہ دواور سفہائے مخالفین جو اس قسم کے مسائل میں حدیث من احدث فی امرنا وغیرہ پیش کرتے ہیں محض بے محل واغوائے جہال کہ اس قدر تو طائفہ اسمعیلہ کو بھی مسلم کہ بدعت ضلالت وہی ہے جو بات دین میں نئی پیدا ہو اور دنیوی رسوم وعادت پر حکم بدعت نہیں ہوسکتا مثلا انگرکھا پہنناپلاؤ کھانا یا دولھا کو جامہ پہنانادلہن کو پالکی میں بٹھانااسی طرح سہرا کہ اسے بھی کوئی دینی بات سمجھ کر نہیں کرتانہ بغرض ثواب کیا جاتاہے بلکہ سب ایك رسم ہی جان کر کرتے ہیں ہاں اگر کوئی جاہل اجہل ایسا ہو کہ اسے دینی بات جانے تو اس کی اس بیہودہ سمجھ پر اعتراض صحیح ہے اسی طرح سہرے کے باب میں حدیث من تشبہ بقوم فھو منھم (جو کسی قسم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہوجائے گا۔ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الصلح ∞۱/ ۳۷۱€ و صحیح مسلم کتاب الاقضیہ ∞۲/ ۷۷€
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۳€
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۳€
پیش کرنا اور یہ کہنا کہ ہندو بھی سہرا باندھتے ہیں تو ان سے مشابہت نکلے گی محض غلط کہ حدیث میں لفظ تشبہ مذکور ہے اور اس کے معنی اپنے آپ کو کسی کے مشابہ بنانا تو حقیقۃ یاحکما قصد مشابہت پایا جانا ضرور ہے۔مثلا ایك شخص کوئی فعل خاص اس نیت سے کرے کہ کفار کی سی شکل پیدا ہو اگر چہ وہ یہ ارادہ نہ کرے مگروہ فعل شعار کفار اور ان کی علامت خاصہ ہو جس سے وہ پہچانے جاتے ہوںجیسے سر پر چوٹیاںماتھے پر ٹیکہگلے میں جینواالٹے پردے کا انگرکھا و علی ہذا القیاستو بیشك ان صورتوں میں ذم ووعید وارداور حدیث"من تشبہ"اس پر صادقنہ یہ کہ مطلقا کسی بات میں اشتراك موجب ممانعت ہویوں تو انگر کھا ہم بھی پہنتے ہیں ہندو بھی پہنتے ہیں پھر کیا اس وجہ سے انگر کھا پہننا ہم پر حرام ہوجائے گا اور اگر پردے کا فرق کفایت کرے تو کیا نلکیوں اور پنی کا نہ ہونا اور اس سہرے کی صورت ان کے سہرے سے جد اہونا کافی نہ ہوگااصل بات یہ ہے کہ بربنائے تشبہ کسی فعل کی ممانعت اسی وقت صحیح ہے کہ جب فاعل کا قصد مشابہت ہو یا وہ فعل اہل باطل کاشعار وعلامت خاصہ ہو جس کے سبب سے وہ پہچانے جاتے ہوںیااگر خود اس فعل کی مذمت شرع مطہر سے ثابت ہو تو برا کہا جائے گا ورنہ ہرگز نہیں اور سہرا ان سب باتوں سے پاك ہے۔یہ قاعدہ بھی ضرور یاد رکھنے کا ہے جس سے مخالفین کے اکثر اوہام کا علاج ہوتا ہے۔ درمختار میں بحرالرائق سے منقول:
التشبہ بھم لا یکرہ فی کل شیئ بل فی المذموم وفیما یقصد بہ التشبہ ۔ اہل کتاب سے تشبہ ہر چیز میں مکروہ نہیں بلکہ بری بات میں اور وہاں کہ ان سے مشابہت کا قصد کیا جائے۔
مولنا علی قاری شرح فقہ اکبر امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں فرماتے ہیں:
انا ممنوعون عن التشبیہ بالکفرۃ واھل البدعۃ فی شعارھملا منھیون عن کل بدعۃ ولو کانت مباحۃ سواء کانت من افعال اھل السنۃ اومن ہم کو یہ منع ہے کہ کفار واہل بدعت کے شعار میں تشبہ کریں نہ یہ کہ ہر بدعت منع ہو اگر چہ مباح ہو اب چاہے وہ اہلسنت کے افعال سے ہو یا کفارو مبتدعین کے فعلوں سے تو مدار کار
التشبہ بھم لا یکرہ فی کل شیئ بل فی المذموم وفیما یقصد بہ التشبہ ۔ اہل کتاب سے تشبہ ہر چیز میں مکروہ نہیں بلکہ بری بات میں اور وہاں کہ ان سے مشابہت کا قصد کیا جائے۔
مولنا علی قاری شرح فقہ اکبر امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں فرماتے ہیں:
انا ممنوعون عن التشبیہ بالکفرۃ واھل البدعۃ فی شعارھملا منھیون عن کل بدعۃ ولو کانت مباحۃ سواء کانت من افعال اھل السنۃ اومن ہم کو یہ منع ہے کہ کفار واہل بدعت کے شعار میں تشبہ کریں نہ یہ کہ ہر بدعت منع ہو اگر چہ مباح ہو اب چاہے وہ اہلسنت کے افعال سے ہو یا کفارو مبتدعین کے فعلوں سے تو مدار کار
حوالہ / References
الدرالمختار باب یفسد الصلوٰۃ الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۰€
افعال الکفرۃ واھل البدعۃ فالمدار علی الشعار ۔ شعار پر ہے۔
بالجملہ خلاصہ یہ ہے کہ سہرا نہ شرعا منع نہ شرعا ضروری یا مستحببلکہ ایك دنیوی رسم ہے۔کی تو کیانہ کی توکیااس کے سوا جو کوئی اسے حرام گناہ بدعت ضلالت بتائے وہ سخت جھوٹابر سر باطل اور جو اسے ضروری لازم اور ترك کو شرعا موجب تشنیع جانے وہ نرا جاہل۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب الفقیر احمد رضا البریلوی عفی عنہ
____________________
رسالہ
ھادی الناس فی رسوم الاعراس
ختم ہوا
بالجملہ خلاصہ یہ ہے کہ سہرا نہ شرعا منع نہ شرعا ضروری یا مستحببلکہ ایك دنیوی رسم ہے۔کی تو کیانہ کی توکیااس کے سوا جو کوئی اسے حرام گناہ بدعت ضلالت بتائے وہ سخت جھوٹابر سر باطل اور جو اسے ضروری لازم اور ترك کو شرعا موجب تشنیع جانے وہ نرا جاہل۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب الفقیر احمد رضا البریلوی عفی عنہ
____________________
رسالہ
ھادی الناس فی رسوم الاعراس
ختم ہوا
حوالہ / References
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی ∞مصر ص۱۸۵€
حدود وتعزیرات
مسئلہ۹۸: مسئولہ مولوی عبدالمنان صاحب از بنگالہ ۲۲ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید نے کئی روز عمرو سے کوئی بات کی تنازع کیا بعد ازاں عمرو کے اوپرسراء محفل محلہ کے انھوں نے تہمت دیا اور کہا کہ اہل مجلس نے اگر اس کو کھائے تو میں نہیں ہوں اہل مجلس نے کہا کیوں اسی قدر زید نے جواب دیا کہ عمرو بدکار ہے اس کی کے ساتھ پھر عمرو نے اس بات پر مقدمہ دائر کیا حاکم سے ممبر کے پاس حکم آیا کہ یہ مقدمہ صحیح ہے یا نہیں۔بعد اس کے ممبر نے محلہ والوں کو پہنچایا کہ یہ معاملہ صحیح ہے یا نہیں ان کو کون نے کہا کے کہا ہاں یہ جو مقدمہ عمرو نے دائر کیا صحیح ہے پھر وہاں زید نے حاضر ہو کر کہا میں اہل مجلس سے اور پچٹین صاحب سے خواستگار ہوں کہ یہ میں نے افترااورجھوٹ کہا معافی کا خواستگار اس حالت میں عمرو کو اہل محلہ اور ممبر صاحب نے بلوایا اورکہا ان کو معاف کردو اور انھوں نے ان لوگوں کی بات کو معاف کردیا بعد اس کے قریب ایك سال یا دس ماہ کے پھر کہا زید نے عمرو سے لے کر کھانے میں نہیں ہوں تب سرداران اہل مجلس نے کہا کیا سبب ہے فورا جواب دیا کہ میں نے پہلے جو بات ظاہر کیا تھا وہی ہے تب سرداران اہل محلہ نے گواہ طلب کیا اس نے کہا ہے فلاں فلاں شخص اس مجلس میں حاضر ہے ان لوگوں نے بھی کہا کہ آپ کی زبان سے اگلے سال سنا تھا فی الحال ہم لوگ کچھ نہیں جانتے پھر اہل مجلس نے کہا کہ آپ کے اور کوئی گواہ ہے انھوں نے جواب دیا کہ ہے عمرو بکر خالد عبداﷲ وغیرہ ان لوگوں نے ان سب نے پوچھا یہ بات زید نے جو کہا صحیح ہے یا نہیں عمرو بکر و غیرہا نے کہا ہم لوگوں نے ایك عورت سے
مسئلہ۹۸: مسئولہ مولوی عبدالمنان صاحب از بنگالہ ۲۲ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید نے کئی روز عمرو سے کوئی بات کی تنازع کیا بعد ازاں عمرو کے اوپرسراء محفل محلہ کے انھوں نے تہمت دیا اور کہا کہ اہل مجلس نے اگر اس کو کھائے تو میں نہیں ہوں اہل مجلس نے کہا کیوں اسی قدر زید نے جواب دیا کہ عمرو بدکار ہے اس کی کے ساتھ پھر عمرو نے اس بات پر مقدمہ دائر کیا حاکم سے ممبر کے پاس حکم آیا کہ یہ مقدمہ صحیح ہے یا نہیں۔بعد اس کے ممبر نے محلہ والوں کو پہنچایا کہ یہ معاملہ صحیح ہے یا نہیں ان کو کون نے کہا کے کہا ہاں یہ جو مقدمہ عمرو نے دائر کیا صحیح ہے پھر وہاں زید نے حاضر ہو کر کہا میں اہل مجلس سے اور پچٹین صاحب سے خواستگار ہوں کہ یہ میں نے افترااورجھوٹ کہا معافی کا خواستگار اس حالت میں عمرو کو اہل محلہ اور ممبر صاحب نے بلوایا اورکہا ان کو معاف کردو اور انھوں نے ان لوگوں کی بات کو معاف کردیا بعد اس کے قریب ایك سال یا دس ماہ کے پھر کہا زید نے عمرو سے لے کر کھانے میں نہیں ہوں تب سرداران اہل مجلس نے کہا کیا سبب ہے فورا جواب دیا کہ میں نے پہلے جو بات ظاہر کیا تھا وہی ہے تب سرداران اہل محلہ نے گواہ طلب کیا اس نے کہا ہے فلاں فلاں شخص اس مجلس میں حاضر ہے ان لوگوں نے بھی کہا کہ آپ کی زبان سے اگلے سال سنا تھا فی الحال ہم لوگ کچھ نہیں جانتے پھر اہل مجلس نے کہا کہ آپ کے اور کوئی گواہ ہے انھوں نے جواب دیا کہ ہے عمرو بکر خالد عبداﷲ وغیرہ ان لوگوں نے ان سب نے پوچھا یہ بات زید نے جو کہا صحیح ہے یا نہیں عمرو بکر و غیرہا نے کہا ہم لوگوں نے ایك عورت سے
سنا تھا اس عورت سے بھی پوچھا تو عورت اس وقت مانع ہے پھر جمعہ کے دن سب مصلیوں کے مقابلہ زید سے پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں میں نے بھی سنا اور جو میرا شاہد ہے وہ بھی مانع ہے بلکہ بعضوں کی طرف اشارہ کیا تھا انھوں نے مسجد ہی میں منع کیا اس حال میں زید پر حد قذف لازم آتاہے یا نہیں۔اگر آتاتو بالمال ہوسکتا ہے یا نہیں _________________ اگر تعزیرات ساتھ مال کے ہو کس قدر ہوتاہے کوئی مقدار معین ہو لینا اور اس مال کامستحق کون ہے از روئے شرع کے مع الدلائل بیان فرمائے اگر وہ شخص توبہ کرے معافی کی امید ہے یانہیں بینوا بالکتاب وتوجروا یوم الحساب(کتاب سے بیان فرمائیے اور روز حساب اجر پائیے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زید ضرور مرتکب قذف کا ہوا اس نے سخت گناہ کبیرہ کیا اسلامی سلطنت میں وہ اسی کوڑوں کا سزاوار تھا۔
قال اﷲ" فاجلدوہم ثمنین جلدۃ و لا تقبلوا لہم شہدۃ ابدا و اولئک ہم الفسقون ﴿۴﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تہمت لگانے والوں کو اسی کوڑے لگاؤ پھر کبھی بھی ان کی گواہی نہ مانواور وہی نافرمان ہیں۔(ت)
مگریہاں نہ اسلامی سلطنت ہے نہ حدود جاری ہو سکتے ہیں نہ غیر سلطان کو حد کا اختیار ہے اور تعزیر بالمال منسوخ ہے کما حققہ الامام الطحطاوی رحمہ اﷲ تعالی(جیسا کہ امام طحطاوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے اس کی تحقیق کی ہے۔ت)اور منسوخ پر عمل جائز نہیں صرف چارہ کاریہ ہے کہ اسے برادری سے خارج کریں مسلمان اس سے میل جول چھوڑدیں جب تك تو بہ نہ کرے اگر توبہ کرے تو اﷲ عزوجل قبول فرمانے والا ہے۔خود کریمہ مذکورہ میں " الا الذین تابوا " کااستثناء ہے مگر اس کی توبہ صرف یہی نہ ہوگی کہ اﷲ عزوجل کے حضور تائب ہو بلکہ لازم ہوگا کہ عمرو سے اپنے قصور کی معافی مانگے کہ وہ نہ صرف حق اﷲ بلکہ حق العبد میں بھی گرفتار ہے اور تنہائی میں توبہ بھی کافی نہ ہوگی اس نے مجمع میں گناہ کیا ہے مجمع ہی میں توبہ کرے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا عملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسرو العلانیۃ بالعلانیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جب تو کوئی گناہ کرے تو چھپے گناہ کی خفیہ اور بر ملا گناہ کی اعلانیہ توبہ کرو۔واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زید ضرور مرتکب قذف کا ہوا اس نے سخت گناہ کبیرہ کیا اسلامی سلطنت میں وہ اسی کوڑوں کا سزاوار تھا۔
قال اﷲ" فاجلدوہم ثمنین جلدۃ و لا تقبلوا لہم شہدۃ ابدا و اولئک ہم الفسقون ﴿۴﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تہمت لگانے والوں کو اسی کوڑے لگاؤ پھر کبھی بھی ان کی گواہی نہ مانواور وہی نافرمان ہیں۔(ت)
مگریہاں نہ اسلامی سلطنت ہے نہ حدود جاری ہو سکتے ہیں نہ غیر سلطان کو حد کا اختیار ہے اور تعزیر بالمال منسوخ ہے کما حققہ الامام الطحطاوی رحمہ اﷲ تعالی(جیسا کہ امام طحطاوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے اس کی تحقیق کی ہے۔ت)اور منسوخ پر عمل جائز نہیں صرف چارہ کاریہ ہے کہ اسے برادری سے خارج کریں مسلمان اس سے میل جول چھوڑدیں جب تك تو بہ نہ کرے اگر توبہ کرے تو اﷲ عزوجل قبول فرمانے والا ہے۔خود کریمہ مذکورہ میں " الا الذین تابوا " کااستثناء ہے مگر اس کی توبہ صرف یہی نہ ہوگی کہ اﷲ عزوجل کے حضور تائب ہو بلکہ لازم ہوگا کہ عمرو سے اپنے قصور کی معافی مانگے کہ وہ نہ صرف حق اﷲ بلکہ حق العبد میں بھی گرفتار ہے اور تنہائی میں توبہ بھی کافی نہ ہوگی اس نے مجمع میں گناہ کیا ہے مجمع ہی میں توبہ کرے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا عملت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسرو العلانیۃ بالعلانیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جب تو کوئی گناہ کرے تو چھپے گناہ کی خفیہ اور بر ملا گناہ کی اعلانیہ توبہ کرو۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۴€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۵ €
کنز العمال ∞حدیث ۱۰۱۸۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۴/ ۲۰€۹
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۵ €
کنز العمال ∞حدیث ۱۰۱۸۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۴/ ۲۰€۹
مسئلہ ۹۹:مرسلہ نور اﷲ پیش امام وعبدالحق زمیندار وغیرہا ساکنان سردار نگر تھانہ جہان آباد ضلع پیلی بھیت ۲۳ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمکیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مدد علی نام قوم فقیر ساکن سردار نگر ایك عورت نکاحی بھگالایا اور عرصہ دو برس سے اس سے زنا کرتا ہے جب اس کو ہم لوگوں اور برادری نے تنگ کیا تو مسمی مذکور کو مبلغ سو روپیہ عورت کو لے کر موضع ہر پور پنچایت گیا اور کہا کہ یہ عورت اوریہ روپیہ موجود ہے میرا فیصلہ کرادو مسمی کلن شاہ وبھلن شاہ وغیرہ ساکنان ہرپور پنچوں نے روپیہ لے کر اپنے پاس جمع کرلیا اور عورت مسمی مذکور کو واپس دے دی اور جس کی بیوی تھی اس کو نہیں دی اور نہ اس کو روپیہ دے کر استعفاء لیا اب جو ہم گاؤں والوں نے مسمی مدد علی کو سخت کیا تو وہ کہتا ہے میں کیا کروں میرا روپیہ پنچوں میں جمع ہے نہ وہ نہ استعفاء دلاتے ہیں اور نہ روپیہ مجھ کو واپس دیتے ہیں کہ میں خود مدعی کو راضی کرلوںایسے جھگڑے میں دو برس ہوگئے اب ہم گاؤں والے اس کا کیا تدارك کریں کیونکہ انگریزی عملداری ہے اگر اس کا حقہ پانی بند کریں تووہ عدالت میں نالشی ہوگا لہذا جواب سے مشرف فرمائے جائیں۔فقط۔
الجواب:
اس شخص پر فرض ہے کہ اس عورت کو اپنے سے جدا کردے اور یہ اس کا عذرجھوٹا ہے کہ میں کیا کروں میرا روپیہ پنچوں کے پاس جمع ہے روپیہ جمع کردینے سے زنا حلال نہیں ہوسکتااگر وہ اسے نہ نکالے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اس سے میل جول ترك کردیں برادری سے خارج کردیں اور اس میں ان پر کوئی جرم عائد نہیں ہوسکتا یہ قانون نہیں ہے کہ جو زانی کو اپنا پانی نہ دے وہ مجرم ہے اپنے حقے پانی کا ہر شخص کو اختیار ہے جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے اور اس صورت میں فقط وہی شخص مجرم نہیں بلکہ ان پنچوں پر بھی شرعی الزام بشدت قائم ہے جنھوں نے اس کا روپیہ لے کر دبالیا اورعوت زنا کے لے اسے واپس دی وہ سب عذاب الہی کے مستحق ہیں ان پر فرض ہے کہ اس کا روپیہ واپس دیں اور توبہ کریں اور قدرت رکھتے ہوں تو عورت کو اس سے چھڑا کر اس کے شوہر کے پاس بھیج دیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰: مسئولہ احمد الدین کمپ بوند شنبہ ۱۲ شوال المکرم ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ زید ایك مسجد میں پیش امام ہے اور عام لوگوں نے یہ شہرت دی ہے کہ زید نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور جب حلفیہ شہادت
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمکیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مدد علی نام قوم فقیر ساکن سردار نگر ایك عورت نکاحی بھگالایا اور عرصہ دو برس سے اس سے زنا کرتا ہے جب اس کو ہم لوگوں اور برادری نے تنگ کیا تو مسمی مذکور کو مبلغ سو روپیہ عورت کو لے کر موضع ہر پور پنچایت گیا اور کہا کہ یہ عورت اوریہ روپیہ موجود ہے میرا فیصلہ کرادو مسمی کلن شاہ وبھلن شاہ وغیرہ ساکنان ہرپور پنچوں نے روپیہ لے کر اپنے پاس جمع کرلیا اور عورت مسمی مذکور کو واپس دے دی اور جس کی بیوی تھی اس کو نہیں دی اور نہ اس کو روپیہ دے کر استعفاء لیا اب جو ہم گاؤں والوں نے مسمی مدد علی کو سخت کیا تو وہ کہتا ہے میں کیا کروں میرا روپیہ پنچوں میں جمع ہے نہ وہ نہ استعفاء دلاتے ہیں اور نہ روپیہ مجھ کو واپس دیتے ہیں کہ میں خود مدعی کو راضی کرلوںایسے جھگڑے میں دو برس ہوگئے اب ہم گاؤں والے اس کا کیا تدارك کریں کیونکہ انگریزی عملداری ہے اگر اس کا حقہ پانی بند کریں تووہ عدالت میں نالشی ہوگا لہذا جواب سے مشرف فرمائے جائیں۔فقط۔
الجواب:
اس شخص پر فرض ہے کہ اس عورت کو اپنے سے جدا کردے اور یہ اس کا عذرجھوٹا ہے کہ میں کیا کروں میرا روپیہ پنچوں کے پاس جمع ہے روپیہ جمع کردینے سے زنا حلال نہیں ہوسکتااگر وہ اسے نہ نکالے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اس سے میل جول ترك کردیں برادری سے خارج کردیں اور اس میں ان پر کوئی جرم عائد نہیں ہوسکتا یہ قانون نہیں ہے کہ جو زانی کو اپنا پانی نہ دے وہ مجرم ہے اپنے حقے پانی کا ہر شخص کو اختیار ہے جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے اور اس صورت میں فقط وہی شخص مجرم نہیں بلکہ ان پنچوں پر بھی شرعی الزام بشدت قائم ہے جنھوں نے اس کا روپیہ لے کر دبالیا اورعوت زنا کے لے اسے واپس دی وہ سب عذاب الہی کے مستحق ہیں ان پر فرض ہے کہ اس کا روپیہ واپس دیں اور توبہ کریں اور قدرت رکھتے ہوں تو عورت کو اس سے چھڑا کر اس کے شوہر کے پاس بھیج دیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰: مسئولہ احمد الدین کمپ بوند شنبہ ۱۲ شوال المکرم ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ زید ایك مسجد میں پیش امام ہے اور عام لوگوں نے یہ شہرت دی ہے کہ زید نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور جب حلفیہ شہادت
لی گئی عینی شہادت کوئی نہیں دیتا ہے اور کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں سے سنا ہے اور اس سے پوچھو تو وہ یہ کہتاہے کہ میں نے فلاں سے سنا ہے عینی شہادت کوئی نہیں بیان کرتا ہے ایسی صورت میں بعض اشخاص نے زید کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی ہے اگر احتیاطا ایسی حالت میں زید سے توبہ واستغفار کرائی جائے تو اس کی امامت درست ہوگی یا نہیں اور عام لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب تك علماء فتوی نہ دیں گے تو ہم اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں گے آیا ایسی حالت میں وہ تو بہ واستغفار کرے اور پھر نماز پڑھائے تو زید کے پیچھے نماز جائز ہوگی یا نہیں اور اگر زنا پر عندالشرع شریف کے گواہوں کی ضرورت ہے اور وہ کیسے ہوں فقط
الجواب:
مسلمان پر بدگمانی حرام ہے
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" ۔ اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ کچھ گمان گناہ ہیں۔(ت)
خاص معائنہ کے چار گواہ مرد ثقہ متقی پرہیز گار درکار ہیں بغیر اس کے جو اسے متہم بزناکرے گا شرعا اسی کوڑوں کا مستحق ہوگازید کی امامت میں کوئی حرج نہیں اور توبہ واستغفار مسلمان کو ہر حال میں چاہئے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱: مرسلہ محمد ظہور سودا گر پارچہ الموڑہ متصل جامع مسجد کارخانہ بازار ۱۵ ربیع الآخرشریف ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
بوڑھے زانی کی کیا سزا ہے حالانکہ اس کی جو ان اور تندرست بی بی اس کے پاس موجود ہو اور وہ ایك مشرکہ سے زنا کرے۔بینوا توجروا
الجواب:
زنا کی سزا آخرت میں عذاب نار ہے اور دنیا میں حد ہے جس کا سلطان اسلام کو اختیار ہے۔حدیث میں ارشاد ہوا:"اﷲ تعالی کے سب سے زیادہ دشمن تین شخص ہیں:مفلس متکبر اور بوڑھا زانی اور جھوٹ بولنے والا بادشاہ" واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
مسلمان پر بدگمانی حرام ہے
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" ۔ اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ کچھ گمان گناہ ہیں۔(ت)
خاص معائنہ کے چار گواہ مرد ثقہ متقی پرہیز گار درکار ہیں بغیر اس کے جو اسے متہم بزناکرے گا شرعا اسی کوڑوں کا مستحق ہوگازید کی امامت میں کوئی حرج نہیں اور توبہ واستغفار مسلمان کو ہر حال میں چاہئے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۱: مرسلہ محمد ظہور سودا گر پارچہ الموڑہ متصل جامع مسجد کارخانہ بازار ۱۵ ربیع الآخرشریف ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
بوڑھے زانی کی کیا سزا ہے حالانکہ اس کی جو ان اور تندرست بی بی اس کے پاس موجود ہو اور وہ ایك مشرکہ سے زنا کرے۔بینوا توجروا
الجواب:
زنا کی سزا آخرت میں عذاب نار ہے اور دنیا میں حد ہے جس کا سلطان اسلام کو اختیار ہے۔حدیث میں ارشاد ہوا:"اﷲ تعالی کے سب سے زیادہ دشمن تین شخص ہیں:مفلس متکبر اور بوڑھا زانی اور جھوٹ بولنے والا بادشاہ" واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴۹/ ۱۲€
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۱،€کنز العمال ∞حدیث ۴۳۹۳۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۵۹€
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۱،€کنز العمال ∞حدیث ۴۳۹۳۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۵۹€
مسئلہ ۱۰۲: ا ز امرتسر سید بڈھے شاہ صاحب ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جنھوں نے زنا کاری اور ناچنا گانا اپنا پیشہ بنا رکھا ہے بلکہ پیشہ کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس فعل شنیع پر اصرار کئے بیٹھے ہیں اور اسی پر ان کی عمر گزرتی ہے اور اس زنا کی آمدنی پر ان کا کھانا پینا پہننا اور تمام امور ہوتے ہیں اہل اسلام کو ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہئے ان کے ساتھ میل جول بات چیت کرنا ان کے یہاں سے کچھ کھانا پینا یا ان کی خیرات صدقات سے کچھ حاصل کرنا یا ان کا کوئی کام کرنا اس کی اجرت لینا یا ان کا جنازہ پڑھنا یا شریك جنازہ ہونا یا انھیں غسل دینا یا ان کے ہاتھ کوئی چیز اس آمدنی کے عوض فروخت کرنا یا ان سے خریدنا وغیرہ وغیرہ شرعا کیا حکم رکھتاہے
الجواب:
ان سے میل جول نہ چاہئے
قال اﷲ تعالی و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾"" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگر تمھیں شیطان کسی بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آجانے کے بعد کبھی ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔(ت)
بلکہ اور بہت فاسقوں سے اس بارے میں ان کا حکم اشد ہے کہ ان سے ملنے میں آدمی متہم ہوتا ہے اور موضع تہمت سے بچنے کا حکم مؤکد ہے۔حدیث میں ہے:
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یقفن مواقع التھم ۔ جو کوئی اﷲ تعالی اور دن قیامت پر یقین رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ مقامات تہمت میں نہ ٹھہرے(ت)
زنا وغنا پر جو مال حاصل کیا جاتا ہے وہ ان لوگوں کی ملك نہیں ہوتا ان کے ہاتھ میں مثل مغصوب ہوتا ہے کما صرح بہ فی الفتاوی العالمگیریۃ وغیرھا(جیسا کہ فتاوی عالمگیری اور دوسرے فتاوی میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت)نہ اس کا اجرت میں لینا جائز نہ کسی چیز کی قیمت میں لینا جائزصدقہ وہدیہ تو دوسری بات ہے بلکہ وہ جو کچھ کسی فقیر کو دے اسے خیرات کہنا حرام ہے۔اس پر امید ثواب رکھنے کو علماء نےکفر لکھا ہے۔اور جو مال بعینہ انھوں نے ان حرام افعال کے عوض حاصل کیا اس کا خریدنا بھی حرام اس کا کھانا بھی حرامہاں اگر یہ مال انھوں نے خریدا ہو اگر چہ اپنے زر حرام سے اور اس پر
جنھوں نے زنا کاری اور ناچنا گانا اپنا پیشہ بنا رکھا ہے بلکہ پیشہ کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس فعل شنیع پر اصرار کئے بیٹھے ہیں اور اسی پر ان کی عمر گزرتی ہے اور اس زنا کی آمدنی پر ان کا کھانا پینا پہننا اور تمام امور ہوتے ہیں اہل اسلام کو ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہئے ان کے ساتھ میل جول بات چیت کرنا ان کے یہاں سے کچھ کھانا پینا یا ان کی خیرات صدقات سے کچھ حاصل کرنا یا ان کا کوئی کام کرنا اس کی اجرت لینا یا ان کا جنازہ پڑھنا یا شریك جنازہ ہونا یا انھیں غسل دینا یا ان کے ہاتھ کوئی چیز اس آمدنی کے عوض فروخت کرنا یا ان سے خریدنا وغیرہ وغیرہ شرعا کیا حکم رکھتاہے
الجواب:
ان سے میل جول نہ چاہئے
قال اﷲ تعالی و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾"" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگر تمھیں شیطان کسی بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آجانے کے بعد کبھی ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔(ت)
بلکہ اور بہت فاسقوں سے اس بارے میں ان کا حکم اشد ہے کہ ان سے ملنے میں آدمی متہم ہوتا ہے اور موضع تہمت سے بچنے کا حکم مؤکد ہے۔حدیث میں ہے:
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یقفن مواقع التھم ۔ جو کوئی اﷲ تعالی اور دن قیامت پر یقین رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ مقامات تہمت میں نہ ٹھہرے(ت)
زنا وغنا پر جو مال حاصل کیا جاتا ہے وہ ان لوگوں کی ملك نہیں ہوتا ان کے ہاتھ میں مثل مغصوب ہوتا ہے کما صرح بہ فی الفتاوی العالمگیریۃ وغیرھا(جیسا کہ فتاوی عالمگیری اور دوسرے فتاوی میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت)نہ اس کا اجرت میں لینا جائز نہ کسی چیز کی قیمت میں لینا جائزصدقہ وہدیہ تو دوسری بات ہے بلکہ وہ جو کچھ کسی فقیر کو دے اسے خیرات کہنا حرام ہے۔اس پر امید ثواب رکھنے کو علماء نےکفر لکھا ہے۔اور جو مال بعینہ انھوں نے ان حرام افعال کے عوض حاصل کیا اس کا خریدنا بھی حرام اس کا کھانا بھی حرامہاں اگر یہ مال انھوں نے خریدا ہو اگر چہ اپنے زر حرام سے اور اس پر
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
مراقی الفلاح علی ہامش حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضۃ ∞نورمحمد کارخانہ کراچی ص۲۴۹€
مراقی الفلاح علی ہامش حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضۃ ∞نورمحمد کارخانہ کراچی ص۲۴۹€
عقد ونقد جمع نہ ہوئے ہوں یعنی یہ نہ ہوا ہو کہ وہ حرام روپیہ دکھا کر کہا کہ اس کے عوض دے دے اور وہی روپیہ ثمن میں دے دیا کہ یوں تو جو کچھ وہ خریدیں وہ بھی حرام ہے علی ماقالہ الامام الکرخی علیہ الفتوی(اس بناء پر جو کچھ امام کرخی علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا اور اسی پر فتوی ہے۔ت)ہاں اگر یوں ہوا مثلا کہا ایك روپیہ کی فلاں چیز دے دے اس نے دے دی اس نے اپنا زر حرام ثمن میں دیا تو اگر چہ اسے ثمن میں صرف کرنا حرام تھا مگر جو چیز خریدی وہ حرام نہ ہوئی ایسی خریدی ہوئی چیز کا ان سے خریدنا جائز ہے اور ناج وغیرہ اس طور پر خرید کر پکایا ہو تو اس کا کھانا بھی حرام نہیں مگر ان کے یہاں کھانا پینا ویسے ہی ممنوع ہے۔رہا جنازہ اور ا سکی نمازاگر یہ لوگ مسلمان ہوں تو ضرور فرض ہے۔حدیث میں ارشاد ہوا:
الصلوۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم یموت براکان او فاجرا وان ھو عمل الکبائر ۔ تم پر ہر مسلمان کے جنازے کی نماز فرض ہے وہ نیك ہو یا بد اگرچہ اس نے کبیرہ گناہ کئے ہوں۔
مگر اس قسم کے جو پیشہ ور لوگ ہیں ان کا ایمان سلامت رہنا بہت دشوار معلوم ہوتا ہے ان کے یہاں کی رسم سنی گئی ہے کہ جب لڑکی سے اول بار زنا کراتے ہیں اسے دلھن بناتے ہیں اور نیاز دلاتے ہیں اور مبارك سلامت ہوتی ہے ایسا ہے تو یقینا وہ سب کافر ہوجاتے ہیں ان پر نماز حرام ان کے جنازہ کی شرکت حرامنسأل اﷲ العفووالعافیہ(ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲ و ۱۰۴: از دبابوں کے تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ مرسلہ محمد قاسم صاحب مدرس مدرسہ ۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)زید نے بکر کو زنا کی تہمت لگائی۔
(۲)ایك عورت زانیہ اپنے گناہ سے ایك عالم متدین کے ہاتھ پر تائب ہوگئی ہے لیکن اب بھی چند ایك آدمی اسی کی برادری میں سے اس کو گزشتہ گناہ کے ساتھ منسوب کرتے ہیں اور میرا سمجھ کر اس کو اس کے خاوند کے گھر میں آباد نہیں ہونے دیتے حالانکہ اس کا خاوند اس کے
الصلوۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم یموت براکان او فاجرا وان ھو عمل الکبائر ۔ تم پر ہر مسلمان کے جنازے کی نماز فرض ہے وہ نیك ہو یا بد اگرچہ اس نے کبیرہ گناہ کئے ہوں۔
مگر اس قسم کے جو پیشہ ور لوگ ہیں ان کا ایمان سلامت رہنا بہت دشوار معلوم ہوتا ہے ان کے یہاں کی رسم سنی گئی ہے کہ جب لڑکی سے اول بار زنا کراتے ہیں اسے دلھن بناتے ہیں اور نیاز دلاتے ہیں اور مبارك سلامت ہوتی ہے ایسا ہے تو یقینا وہ سب کافر ہوجاتے ہیں ان پر نماز حرام ان کے جنازہ کی شرکت حرامنسأل اﷲ العفووالعافیہ(ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۲ و ۱۰۴: از دبابوں کے تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ مرسلہ محمد قاسم صاحب مدرس مدرسہ ۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)زید نے بکر کو زنا کی تہمت لگائی۔
(۲)ایك عورت زانیہ اپنے گناہ سے ایك عالم متدین کے ہاتھ پر تائب ہوگئی ہے لیکن اب بھی چند ایك آدمی اسی کی برادری میں سے اس کو گزشتہ گناہ کے ساتھ منسوب کرتے ہیں اور میرا سمجھ کر اس کو اس کے خاوند کے گھر میں آباد نہیں ہونے دیتے حالانکہ اس کا خاوند اس کے
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی الفزدمع المۃ الجور ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۴۳€
اباد کرنے میں راضی ہے۔ایسے اشخاص کے واسطے از روئے شرع شریف کیا حکم ہے
الجواب:
(۱)مسلمان کو زنا کی تہمت بے ثبوت شرع لگانے والا فاسق مردود الشہادۃاسی کوڑوں کا شرعا سزاوار ہے یہاں دنیا میں نہیں ہوسکتےآخرت میں استحقاق عذاب نار ہے۔
(۲)گناہ سے توبہ کرنے والے کو اگلے گناہ سے عیب لگانا سخت حرام ہے ایسے کی نسبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ مرے گا جب تك خود اس گناہ کا مرتکب نہ ہو
اخرج الترمذی وحسنہ عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من عیر اخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ قال المناوی المرادمن ذنب قد تاب منہ کما فسرہ بہ ابن منیع اھوقد جاء کذا مقیدا فی روایۃ ذکرھا فی الشرعۃ قالہ فی الحدیقۃ الندیہ۔ امام ترمذی نے حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت فرمائی جبکہ امام ترمذی نے اس حدیث کی تحسین فرمائی جو کوئی اپنے بھائی کو کسی گزشتہ گناہ پر عار دلائے وہ نہ مرے گا مگر جبکہ خود اس گناہ کا مرتکب ہوامام مناوی نے فرمایا کہ حدیث پاك میں گناہ سے وہ گناہ مراد ہے جس سے کرنے والے نے توبہ کر ڈالیجیسا کہ ابن منیع نے اس کی وضاحت فرمائی اھ۔اور ایك دوسری روایت میں ذنب کے ساتھ قید مذکور ہے جس کو شرعۃ الاسلام میں نقل فرمایا۔چنانچہ حدیقہ ندیہ میں اس کو بیان فرمایا۔(ت)
اور زن وشو میں جدائی ڈالنا شیطان کا کام ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا رواہ ابوداؤد و الحاکم بسند وہ آدمی ہم میں سے نہیں کہ جو دغا بازی سے عورت کو شوہر کے خلاف کردے۔ابوداؤد اور حاکم نے
الجواب:
(۱)مسلمان کو زنا کی تہمت بے ثبوت شرع لگانے والا فاسق مردود الشہادۃاسی کوڑوں کا شرعا سزاوار ہے یہاں دنیا میں نہیں ہوسکتےآخرت میں استحقاق عذاب نار ہے۔
(۲)گناہ سے توبہ کرنے والے کو اگلے گناہ سے عیب لگانا سخت حرام ہے ایسے کی نسبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ مرے گا جب تك خود اس گناہ کا مرتکب نہ ہو
اخرج الترمذی وحسنہ عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من عیر اخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ قال المناوی المرادمن ذنب قد تاب منہ کما فسرہ بہ ابن منیع اھوقد جاء کذا مقیدا فی روایۃ ذکرھا فی الشرعۃ قالہ فی الحدیقۃ الندیہ۔ امام ترمذی نے حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت فرمائی جبکہ امام ترمذی نے اس حدیث کی تحسین فرمائی جو کوئی اپنے بھائی کو کسی گزشتہ گناہ پر عار دلائے وہ نہ مرے گا مگر جبکہ خود اس گناہ کا مرتکب ہوامام مناوی نے فرمایا کہ حدیث پاك میں گناہ سے وہ گناہ مراد ہے جس سے کرنے والے نے توبہ کر ڈالیجیسا کہ ابن منیع نے اس کی وضاحت فرمائی اھ۔اور ایك دوسری روایت میں ذنب کے ساتھ قید مذکور ہے جس کو شرعۃ الاسلام میں نقل فرمایا۔چنانچہ حدیقہ ندیہ میں اس کو بیان فرمایا۔(ت)
اور زن وشو میں جدائی ڈالنا شیطان کا کام ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من خبب امرأۃ علی زوجھا رواہ ابوداؤد و الحاکم بسند وہ آدمی ہم میں سے نہیں کہ جو دغا بازی سے عورت کو شوہر کے خلاف کردے۔ابوداؤد اور حاکم نے
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب صفۃ القیامۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۷۳€
التیسیر شرح جامع الصغیر تحت حدیث من عیر اخاہ الخ مکتبہ امام الشافعی ∞ریاض ۲/ ۴۳۲€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی من خبب مملوکا الخ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۴۷،€المستدرك للحاکم کتاب الطلاق دارالفکر بیروت ∞۲/ ۱۹۶،€معجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۸۰۱۸€ مکتبہ المعارف الریاض ∞۹/ ۱۲€
التیسیر شرح جامع الصغیر تحت حدیث من عیر اخاہ الخ مکتبہ امام الشافعی ∞ریاض ۲/ ۴۳۲€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی من خبب مملوکا الخ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۴۷،€المستدرك للحاکم کتاب الطلاق دارالفکر بیروت ∞۲/ ۱۹۶،€معجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۸۰۱۸€ مکتبہ المعارف الریاض ∞۹/ ۱۲€
صحیح عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الصغیر عن ابن عمر وفی الاوسط کابی یعلی الراوی بسند صحیح عن ابن عباس رضی اﷲ عنھم۔واﷲ تعالی اعلم۔ صحیح سند سے اس کو حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا۔اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں عبداﷲ ابن عمر سے اور معجم اوسط میں ابویعلی کی طرح صحیح سند سے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵: از ناتھ دوارہ ریاست اودےپور ملك میواڑ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص صاحب علم امر ونہی سے واقف ہیں مگر وہ شخص نہ کبھی رمضان المبارك کے روزے رکھتے ہیں اور نہ کبھی نماز پڑھتے ہیںجمعہ کے روز بطور ریا کاری مسجد میں آکر جمعہ ادا کرتے ہیں تو اس شخص کے واسطے کیاحکم ہے۔اس شخص کو کیا کہنا چاہئے اور مسلمانوں کو اس کے ساتھ کیا برتاؤ لازم ہے۔اس کا جواب مع حدیث وفقہ کے مرقوم فرمائیں کہ اﷲ تعالی آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
الجواب:
وہ شخص سخت فاسق فاجر مستحق جہنم ہے۔مسلمانوں کو اس سے احتراز چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۶: از پوسٹ آفس موضع شرشدی ضلع نواکھالی بنگال مرسلہ سید عبدالرحمن صاحب یکم ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
قبلہ من مدظلہ بعد سلام وقدمبوسی عرض ہے ایك شخص نے چار پائے وطی کیا اس پر ایك عالم نے کہا کہ تم اتنے روپیہ بطور زجر کے اداکرو تاکہ آئندہ کوئی آدمی مرتکب گناہ نہ ہو اس سے روپیہ لے کرمسجد کے لئے چٹائی خرید کر دیا گیا اب وہ شرعا درست ہے یانہیں بینوا(بیان فرمائیے۔ت)فتوی کی عبارت ذرا لمبا اور فتوی لمبا ہونے سے عوام زیادہ اعتبار کرتا ہےچونکہ اس وطی کے لئے کفارہ کاحکم نہیں ہے۔اگر کفارہ ہوتا بیشك غریب کا حق تھا یہ روپیہ زجرا یا عبرتا لیا گیا ہے اور وہ نیك کام میں صرف کیا گیا بعض اس پر معترض ہیںامید ہے حضور عالی جس طرح درست ہو ایسا تحریر فرما کر ایك فتوی بہت جلد بیرنگ روانہ فرمادیں۔ چارپائے کو حسب شرع جیسا کرنا ہے کیا گیا ہے اس پرکوئی معترض نہیں صرف اس سے جو روپیہ لیا گیا اس کو مسجد میں صرف کیا گیا ہے اس پر اعتراض ہے کہ کفارہ مسجد میں خرچ نہیں ہوسکتا ہے جناب عالی! حسب مناسب سوال تحریر فرماکر اس کے جواب جواب بدلیل کتب فقہ تحریر فرماکر بہت جلد روانہ بیرنگ کریں تاکہ رفع فساد ہو بہت جلد درکار ہے جس طرح درست ہو مسجد کے لئے خرچ کرنا درست ہے تحریر
مسئلہ ۱۰۵: از ناتھ دوارہ ریاست اودےپور ملك میواڑ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص صاحب علم امر ونہی سے واقف ہیں مگر وہ شخص نہ کبھی رمضان المبارك کے روزے رکھتے ہیں اور نہ کبھی نماز پڑھتے ہیںجمعہ کے روز بطور ریا کاری مسجد میں آکر جمعہ ادا کرتے ہیں تو اس شخص کے واسطے کیاحکم ہے۔اس شخص کو کیا کہنا چاہئے اور مسلمانوں کو اس کے ساتھ کیا برتاؤ لازم ہے۔اس کا جواب مع حدیث وفقہ کے مرقوم فرمائیں کہ اﷲ تعالی آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
الجواب:
وہ شخص سخت فاسق فاجر مستحق جہنم ہے۔مسلمانوں کو اس سے احتراز چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۶: از پوسٹ آفس موضع شرشدی ضلع نواکھالی بنگال مرسلہ سید عبدالرحمن صاحب یکم ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
قبلہ من مدظلہ بعد سلام وقدمبوسی عرض ہے ایك شخص نے چار پائے وطی کیا اس پر ایك عالم نے کہا کہ تم اتنے روپیہ بطور زجر کے اداکرو تاکہ آئندہ کوئی آدمی مرتکب گناہ نہ ہو اس سے روپیہ لے کرمسجد کے لئے چٹائی خرید کر دیا گیا اب وہ شرعا درست ہے یانہیں بینوا(بیان فرمائیے۔ت)فتوی کی عبارت ذرا لمبا اور فتوی لمبا ہونے سے عوام زیادہ اعتبار کرتا ہےچونکہ اس وطی کے لئے کفارہ کاحکم نہیں ہے۔اگر کفارہ ہوتا بیشك غریب کا حق تھا یہ روپیہ زجرا یا عبرتا لیا گیا ہے اور وہ نیك کام میں صرف کیا گیا بعض اس پر معترض ہیںامید ہے حضور عالی جس طرح درست ہو ایسا تحریر فرما کر ایك فتوی بہت جلد بیرنگ روانہ فرمادیں۔ چارپائے کو حسب شرع جیسا کرنا ہے کیا گیا ہے اس پرکوئی معترض نہیں صرف اس سے جو روپیہ لیا گیا اس کو مسجد میں صرف کیا گیا ہے اس پر اعتراض ہے کہ کفارہ مسجد میں خرچ نہیں ہوسکتا ہے جناب عالی! حسب مناسب سوال تحریر فرماکر اس کے جواب جواب بدلیل کتب فقہ تحریر فرماکر بہت جلد روانہ بیرنگ کریں تاکہ رفع فساد ہو بہت جلد درکار ہے جس طرح درست ہو مسجد کے لئے خرچ کرنا درست ہے تحریر
فرمادیں کیونکہ اس کام میں کفارہ واجب نہیں ایك روپیہ بطور استادی خدمت کے روانہ کیا جاتا ہے دس پانچ عالم کا مہر ودستخط کرا دیں۔سوال جس پیرا میں حضور تجویز کریں مگر وہ روپیہ مسجد کے خرچ میں درست ہونا درکار ہے۔حضور تو بحرالعلوم ہیں جن کا اسم گرامی تمام جہاں میں مشہور ہے بیرنگ روانہ کرنے سے جلد مل جائے گا مگر لفافہ پر کاتب کانام ضروری ہے ورنہ ڈاك والا روانہ نہیں کرتا ہے۔
الجواب:
وہ روپیہ کہ اس شخص سے زجرا لیا گیا حرام ہے کہ تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل حرام۔تنویر الابصار میں ہے:
التعزیر تأدیب دون الحد واکثرہ تسعۃ و ثلاثون سوطا ویکون بہ وبالصفح لا باخذ مال فی المذھب ۔ تعزیر ادب سکھانا ہے جو حد سے کم سزا ہے اس میں زیادہ سے زیادہ انتالیس ۳۹ کوڑے ہیں اور یہ کوڑے یا مکے مارنے سے ادا ہوتی ہے۔معتمد مذہب میں اس میں مال لینا نہیں۔(ت)
بحرالرائق ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
افاد فی البزازیۃ ان معنی التعزیر باخذ المال علی القول بہ امساك شیئ من مالہ منہ مدۃ لینزجر ثم یعیدہ الحاکم الیہ لا ان یاخذہ الحاکم لنفسہ او بیت المال کما یتوھمہ الظلمۃ اذا لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی وفی شرح الآثار(اللامام الطحاوی رحمہ اﷲ تعالی)التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ۔ فتاوی بزازیہ میں یہ افادہ پیش فرمایا کہ مال لے کر تعزیر قائم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ مجرم کے مال میں سے کچھ مدت کے لئے مال حاکم اپنے پاس رکھ لے تاکہ وہ جرائم سے باز آجائے۔پھر سدھر جانے پر حاکم وہ مال اس کولوٹا دے یہ مطلب نہیں کہ حاکم اپنی ذات کے لئے یا بیت المال کے لئے مال جرمانہ اس سے وصول کرے جیسا کہ بعض ظالموں نے وہم کیا ہے کیونکہ مسلمانوں میں سے کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ بغیر کسی سبب شرعی کے کسی کا مال حاصل کرےاور شرح آثار امام طحاوی رحمہ اﷲ تعالی میں ہے کہ مالی تعزیر شروع اسلام میں تھی پھر منسوخ ہوگئی۔(ت)
الجواب:
وہ روپیہ کہ اس شخص سے زجرا لیا گیا حرام ہے کہ تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل حرام۔تنویر الابصار میں ہے:
التعزیر تأدیب دون الحد واکثرہ تسعۃ و ثلاثون سوطا ویکون بہ وبالصفح لا باخذ مال فی المذھب ۔ تعزیر ادب سکھانا ہے جو حد سے کم سزا ہے اس میں زیادہ سے زیادہ انتالیس ۳۹ کوڑے ہیں اور یہ کوڑے یا مکے مارنے سے ادا ہوتی ہے۔معتمد مذہب میں اس میں مال لینا نہیں۔(ت)
بحرالرائق ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
افاد فی البزازیۃ ان معنی التعزیر باخذ المال علی القول بہ امساك شیئ من مالہ منہ مدۃ لینزجر ثم یعیدہ الحاکم الیہ لا ان یاخذہ الحاکم لنفسہ او بیت المال کما یتوھمہ الظلمۃ اذا لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی وفی شرح الآثار(اللامام الطحاوی رحمہ اﷲ تعالی)التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ۔ فتاوی بزازیہ میں یہ افادہ پیش فرمایا کہ مال لے کر تعزیر قائم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ مجرم کے مال میں سے کچھ مدت کے لئے مال حاکم اپنے پاس رکھ لے تاکہ وہ جرائم سے باز آجائے۔پھر سدھر جانے پر حاکم وہ مال اس کولوٹا دے یہ مطلب نہیں کہ حاکم اپنی ذات کے لئے یا بیت المال کے لئے مال جرمانہ اس سے وصول کرے جیسا کہ بعض ظالموں نے وہم کیا ہے کیونکہ مسلمانوں میں سے کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ بغیر کسی سبب شرعی کے کسی کا مال حاصل کرےاور شرح آثار امام طحاوی رحمہ اﷲ تعالی میں ہے کہ مالی تعزیر شروع اسلام میں تھی پھر منسوخ ہوگئی۔(ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحدود باب التعزیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۲۶€
ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۷۹۔۱۷۸€
ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۷۹۔۱۷۸€
اور مسجد میں اس روپے کا صرف کرنا حرام۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب۔رواہ الترمذی وغیرہ عن سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یقینا اﷲ پاك ہے وہ سوائے پاك کے کسی چیز کو قبول نہیں فرماتاہے۔امام ترمذی وغیرہ نے سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت فرمایا ہے۔(ت)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" " اس لئے کہ اﷲ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے(ت)
یعنی اس مسجد میں صرف کرنے کا یہ فعل حرام ہے اور صرف کرنے والا مبتلائے آثام ہے اس پر فرض تھا اور ہے کہ یہ روپیہ جس سے لیا اسے واپس دے نہ یہ کہ اسے دوسرے کام خصوصا مسجد میں صرف کرے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
علی الید مااخذت حتی تودیہرواہ الامام احمد فی مسندہ والائمۃ ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ فی سننھم و الحاکم فی صحیحہ المستدرك عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جو کچھ ہاتھ نے لیا اس پر ضروری ہے کہ اسے ادا کردے۔امام احمد نے اپنی مسند میں اور دوسرے ائمہ ابوداؤدترمذینسائی اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اس کو روایت کیا ہےاور حاکم نے اپنی صحیح مستدرك میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن اس کو روایت فرمایا ہے۔(ت)
رہیں وہ چٹائیاں کہ اس روپیہ سے خرید کر مسجد میں دیں ان پر اگر عقد ونقد جمع نہ ہوئے تھے تو
ان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب۔رواہ الترمذی وغیرہ عن سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یقینا اﷲ پاك ہے وہ سوائے پاك کے کسی چیز کو قبول نہیں فرماتاہے۔امام ترمذی وغیرہ نے سعدبن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت فرمایا ہے۔(ت)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" " اس لئے کہ اﷲ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے(ت)
یعنی اس مسجد میں صرف کرنے کا یہ فعل حرام ہے اور صرف کرنے والا مبتلائے آثام ہے اس پر فرض تھا اور ہے کہ یہ روپیہ جس سے لیا اسے واپس دے نہ یہ کہ اسے دوسرے کام خصوصا مسجد میں صرف کرے ۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
علی الید مااخذت حتی تودیہرواہ الامام احمد فی مسندہ والائمۃ ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ فی سننھم و الحاکم فی صحیحہ المستدرك عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جو کچھ ہاتھ نے لیا اس پر ضروری ہے کہ اسے ادا کردے۔امام احمد نے اپنی مسند میں اور دوسرے ائمہ ابوداؤدترمذینسائی اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اس کو روایت کیا ہےاور حاکم نے اپنی صحیح مستدرك میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن اس کو روایت فرمایا ہے۔(ت)
رہیں وہ چٹائیاں کہ اس روپیہ سے خرید کر مسجد میں دیں ان پر اگر عقد ونقد جمع نہ ہوئے تھے تو
حوالہ / References
السنن الکبرٰی کتاب صلوٰۃ الاستسقاء دارصادر بیروت ∞۳/ ۳۴۵€
القرآن الکریم ∞۸/ ۳۷€
جامع الترمذی کتاب البیوع باب ماجاء ان العاریۃ موداۃ ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۵۲،€مسند احمد بن حنبل عن سمرۃ بن جندب المکتب الاسلامی بیروت ∞۵ /۸€
القرآن الکریم ∞۸/ ۳۷€
جامع الترمذی کتاب البیوع باب ماجاء ان العاریۃ موداۃ ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۵۲،€مسند احمد بن حنبل عن سمرۃ بن جندب المکتب الاسلامی بیروت ∞۵ /۸€
مسجد میں ان کا لینا اور استعمال کرنا اور ان پر نماز پڑھنا سب درست ہے اس میں کچھ حرج نہیں عقد ونقد جمع ہونے کے یہ معنی کہ وہی خبیث روپیہ بائع کو دکھا کر کہا ہو کہ اس روپے کے بدلے چٹائیاں دے دےیہ اس روپیہ پر عقد ہوا پھر وہی روپیہ ثمن میں دے دیا گیا ہو یہ اس روپے کا نقد ہواظاہر کہ یہاں خرید وفروخت میں ایسا بہت نادر ہے غالبا چیز مانگتے ہیں کہ ایك روپیہ کے یہ دے دو پھر زر ثمن ادا کرتے ہیں یہ اگر اس مال خبیث سے ہوا ہو تو اس کا صرف نقد ہوا اس پر عقد نہ ہوا اور اس صورت میں ان چٹائیوں میں کوئی خباثت نہ آئی اور مسجد پر ان کا وقف صحیح ہوگیا اور وہ دینے والے کو واپس نہیں دی جاسکتیں جب تك مسجد میں قابل استعمال ہیں۔تنویر الابصار میں ہے:
غصب عبدا وآجر ہ تصدق بالغلۃ کما لوتصرف فی المغصوب والودیعۃ وربح اذا کان مستفیدا بالاجارۃ اوبالشراء بدراہم الودیعۃ اوالغصب ونقدھا وان اشار الیہا ونقد غیرھا اوالی غیرھا اواطلق ونقدھا لا وبہ یفتی ۔ جیسا کہ اگر کسی نے کوئی غلام غصب کیا(یعنی کسی سے اس کا غلام زبردستی چھین لیا) پھر اسے مزدوری پر لگایا(اور ٹھیکہ پر دیا)اورغلہ ہو تو پھر اجرت اور غلہ دونوں خیرات کردے جیسا کہ کسی نے غصب کردہ چیز یا امانت میں(بغیر اجازت مالک)کچھ تصرف کیا(بایں طور کہ اسے فروخت کردیا)اور اس سے نفع کمایا اگروہ متعین ہو اور اس کے تعین کی صورت اشارہ ہے اور امانت یا غصب کردہ دراہم سے اسے خریدنا ہے(یعنی عقد اور نقد دونوں میں زر حرام جمع ہو تو پھر وہ خرید کردہ چیز حرام ہوگی۔پس اس کا استعمال کرناجائز نہ ہوگا)پس تعین بالاشارہ اور خرید میں وہی حرام نقدی ہو تو اس حاصل شدہ نفع کو خیرات کردے)اوراگر اوپر والی صورت مذکورہ نہ ہو تو پھر اس کی تین صورتیں ہیں:
(۱)عقد کے وقت زر حرام کی طرف اشارہ کیا مگر ادائیگی کے وقت کوئی اور نقدی دے دی۔(۲)بوقت عقد کسی اور مال کی طرف اشارہ کیا مگر ادائیگی کے وقت وہی مال حرام دے دیا۔(۳)عقد کرتے وقت ثمن میں اطلاق(یعنی بغیر کسی قید لگانے کے کہہ دیا کہ اتنی رقم فلاں چیز دے دو)لیکن ثمن دیتے وقت وہی زرحرام دے دیا۔پس ان تینوں صورتوں میں خیرات نہ کرے(کیونکہ حرمت نہیں پیدا ہوئی جیسا کہ ظاہر ہے)اور اسی قول پر فتوی دیا جاتاہے۔(ت)
غصب عبدا وآجر ہ تصدق بالغلۃ کما لوتصرف فی المغصوب والودیعۃ وربح اذا کان مستفیدا بالاجارۃ اوبالشراء بدراہم الودیعۃ اوالغصب ونقدھا وان اشار الیہا ونقد غیرھا اوالی غیرھا اواطلق ونقدھا لا وبہ یفتی ۔ جیسا کہ اگر کسی نے کوئی غلام غصب کیا(یعنی کسی سے اس کا غلام زبردستی چھین لیا) پھر اسے مزدوری پر لگایا(اور ٹھیکہ پر دیا)اورغلہ ہو تو پھر اجرت اور غلہ دونوں خیرات کردے جیسا کہ کسی نے غصب کردہ چیز یا امانت میں(بغیر اجازت مالک)کچھ تصرف کیا(بایں طور کہ اسے فروخت کردیا)اور اس سے نفع کمایا اگروہ متعین ہو اور اس کے تعین کی صورت اشارہ ہے اور امانت یا غصب کردہ دراہم سے اسے خریدنا ہے(یعنی عقد اور نقد دونوں میں زر حرام جمع ہو تو پھر وہ خرید کردہ چیز حرام ہوگی۔پس اس کا استعمال کرناجائز نہ ہوگا)پس تعین بالاشارہ اور خرید میں وہی حرام نقدی ہو تو اس حاصل شدہ نفع کو خیرات کردے)اوراگر اوپر والی صورت مذکورہ نہ ہو تو پھر اس کی تین صورتیں ہیں:
(۱)عقد کے وقت زر حرام کی طرف اشارہ کیا مگر ادائیگی کے وقت کوئی اور نقدی دے دی۔(۲)بوقت عقد کسی اور مال کی طرف اشارہ کیا مگر ادائیگی کے وقت وہی مال حرام دے دیا۔(۳)عقد کرتے وقت ثمن میں اطلاق(یعنی بغیر کسی قید لگانے کے کہہ دیا کہ اتنی رقم فلاں چیز دے دو)لیکن ثمن دیتے وقت وہی زرحرام دے دیا۔پس ان تینوں صورتوں میں خیرات نہ کرے(کیونکہ حرمت نہیں پیدا ہوئی جیسا کہ ظاہر ہے)اور اسی قول پر فتوی دیا جاتاہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۰۶۔۲۰۵€
ردالمحتار میں ہے:
وبہ یفتی قالہ فی الذخیرۃ وغیرھا کما فی القھستانی ومشی علیہ فی الغرر والمختصر والوقایۃ والاصلاح والیعقوبیۃ عن المحیط ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اوریہی قول قابل فتوی ہے۔چنانچہ ذخیرہ وغیرہ میں یہی ارشاد فرمایا جیسا کہ جامع الرموز(قہستانی)میں مذکور ہے۔ الغرر المختصرالوقایہ اور الاصلاح میں یہی روش اور طرز اختیار فرمائی اور یعقوبیہ میں المحیط سے یہی منقول ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
وبہ یفتی قالہ فی الذخیرۃ وغیرھا کما فی القھستانی ومشی علیہ فی الغرر والمختصر والوقایۃ والاصلاح والیعقوبیۃ عن المحیط ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اوریہی قول قابل فتوی ہے۔چنانچہ ذخیرہ وغیرہ میں یہی ارشاد فرمایا جیسا کہ جامع الرموز(قہستانی)میں مذکور ہے۔ الغرر المختصرالوقایہ اور الاصلاح میں یہی روش اور طرز اختیار فرمائی اور یعقوبیہ میں المحیط سے یہی منقول ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۲۱€
آداب
مجلس وعظمسجدقبلہاذان واقامتتلاوتسجدہ تلاوتدرود وسلامخطبہ اوراد و وظائفعملیات سفراستخارہفالجماعسفارشمصحفکتب اور سونے وغیرہ امور سے متعلق آداب
مسئلہ ۱۰۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ الله تعالی فرماتاہے:
" لا یمسہ الا المطہرون ﴿۷۹﴾" ۔ اسے نہ چھوئیں مگر پاکیزہ لوگ۔(ت)
اور بعض علماء چارپائی پر لیٹے یا بیٹھے ہوتے ہیں اور لڑکے کتابیں لئے ہوئے جن میں بسم اﷲ شریف و دیگر آیات قرآنیہ ہوتی ہیں نیچے چٹائی پر بیٹھے رہتے ہیںپس یہ فعل کیسا ہے اور وہ کتابیں قابل تعظیم ہیں یا نہیں اور شروع پر بسم الله لکھنے سے کلام الناس ہوجاتی ہے یا کلام اللہ بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
مجلس وعظمسجدقبلہاذان واقامتتلاوتسجدہ تلاوتدرود وسلامخطبہ اوراد و وظائفعملیات سفراستخارہفالجماعسفارشمصحفکتب اور سونے وغیرہ امور سے متعلق آداب
مسئلہ ۱۰۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ الله تعالی فرماتاہے:
" لا یمسہ الا المطہرون ﴿۷۹﴾" ۔ اسے نہ چھوئیں مگر پاکیزہ لوگ۔(ت)
اور بعض علماء چارپائی پر لیٹے یا بیٹھے ہوتے ہیں اور لڑکے کتابیں لئے ہوئے جن میں بسم اﷲ شریف و دیگر آیات قرآنیہ ہوتی ہیں نیچے چٹائی پر بیٹھے رہتے ہیںپس یہ فعل کیسا ہے اور وہ کتابیں قابل تعظیم ہیں یا نہیں اور شروع پر بسم الله لکھنے سے کلام الناس ہوجاتی ہے یا کلام اللہ بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵۶/ ۷۹€
ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ نفس حروف قابل ادب ہیں اگر چہ جدا جدا لکھے ہوں جیسے تختی یا وصلی پر خواہ ان میں کوئی برا نام لکھا ہو جیسے فرعونابوجہل وغیرہماتاہم حرفوں کی تعظیم کی جائے اگر چہ ان کافروں کانام لائق اہانت وتذلیل ہے۔
فی الہندیہ اذا کتب اسم فرعون اوکتب ابوجھل علی غرض یکرہ ان یرموا الیہ لان لتلك الحروف حرمۃ کذ ا فی السراجیۃ ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے جب فرعون اور ابوجہل وغیرہ کے نام کسی غرض کے لئے لکھے جائیں تو مکروہ ہے کہ انھیں کہیں پھونك دیں اس لئے کہ ان حروف کی عزت وتوقیر ہے جیسا کہ"سراجیہ"میں مذکور ہے۔(ت)
اور تصریح فرماتے ہیں کہ کتاب پر دوات رکھنا منع ہے مگر جب لکھتے وقت ضرورت ہو۔
فی الدرالمختار یکرہ وضع المقلمۃ علی الکتاب الا للکتابۃ ملخصافی ردالمحتار قولہ الاللکتابۃ الظاھر ان ذلك عند الحاجۃ الی الوضع اھ۔ درمختار میں ہے کتاب پر دوات رکھنا مکروہ ہے مگر جبکہ لکھنے کی حاجت ہو تو اس وقت ایسا کرنا جائز ہے۔اھ ملخصا۔ردالمحتار میں مصنف درمختار کے قول"الا للکتابۃ"کے ذیل میں فرمایا ظاہر یہ ہے کہ جب تك رکھنے کی ضرورت ہو اس وقت تك اجازت ہے۔اھ(ت)
اور تصریح فرماتے ہیں کہ اگر کسی صندوق یاا لماری میں کتابیں رکھی ہوں تو ادب یہ ہے کہ اس کے اوپر کپڑے نہ رکھے جائیں۔
فی العالمگیریۃ:
حانوت اوتابوت فیہ کتب فالادب ان لایضع الثیاب فوقہ ۔ کسی صندوق یا الماری میں کتابیں رکھی ہوں تو ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ان پر کپڑے نہ رکھے(ت)
فی الہندیہ اذا کتب اسم فرعون اوکتب ابوجھل علی غرض یکرہ ان یرموا الیہ لان لتلك الحروف حرمۃ کذ ا فی السراجیۃ ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے جب فرعون اور ابوجہل وغیرہ کے نام کسی غرض کے لئے لکھے جائیں تو مکروہ ہے کہ انھیں کہیں پھونك دیں اس لئے کہ ان حروف کی عزت وتوقیر ہے جیسا کہ"سراجیہ"میں مذکور ہے۔(ت)
اور تصریح فرماتے ہیں کہ کتاب پر دوات رکھنا منع ہے مگر جب لکھتے وقت ضرورت ہو۔
فی الدرالمختار یکرہ وضع المقلمۃ علی الکتاب الا للکتابۃ ملخصافی ردالمحتار قولہ الاللکتابۃ الظاھر ان ذلك عند الحاجۃ الی الوضع اھ۔ درمختار میں ہے کتاب پر دوات رکھنا مکروہ ہے مگر جبکہ لکھنے کی حاجت ہو تو اس وقت ایسا کرنا جائز ہے۔اھ ملخصا۔ردالمحتار میں مصنف درمختار کے قول"الا للکتابۃ"کے ذیل میں فرمایا ظاہر یہ ہے کہ جب تك رکھنے کی ضرورت ہو اس وقت تك اجازت ہے۔اھ(ت)
اور تصریح فرماتے ہیں کہ اگر کسی صندوق یاا لماری میں کتابیں رکھی ہوں تو ادب یہ ہے کہ اس کے اوپر کپڑے نہ رکھے جائیں۔
فی العالمگیریۃ:
حانوت اوتابوت فیہ کتب فالادب ان لایضع الثیاب فوقہ ۔ کسی صندوق یا الماری میں کتابیں رکھی ہوں تو ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ان پر کپڑے نہ رکھے(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۳€
درمختار کتاب الطہارت ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۳€
ردالمحتار کتاب الطہارت داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۱۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۴€
درمختار کتاب الطہارت ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۳€
ردالمحتار کتاب الطہارت داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۱۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۴€
تو کیونکر ادب ہوگا کہ کتابیں نیچے رکھی ہوں اور آپ اوپر بیٹھیں کیا ایسے لوگوں کو بے ادبی کی شامت سے خوف نہیںحروف تہجی خود کلام الله ہیں کہ ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئے۔
کما فی ردالمحتار للعلامۃ الشامی عن سیدی عبدالغنی النابلسی عن کتاب الاشارات فی علم القرآء ت للامام القسطلانی رحمہم اﷲ تعالی۔ جیسا کہ علامہ فتاوی شامی میں سیدی عبدالغنی نابلسی کے حوالے سے"کتاب الاشارات فی علم القراءت"میں امام قسطلانی رحمہم الله تعالی سے مروی ہے۔(ت)
البتہ کتب دینیہ کو بے وضو ہاتھ لگانے کے بارے میں علماء مختلف ہیں بعض علماء مطلقا جائز فرماتے ہیں اور بعض مطلقا مکروہ اور بعض تفصیل کرتے ہیں کہ کتب تفسیر میں مکروہ اور غیر جائز بشرطیکہ ان میں جہاں کوئی آیت لکھی ہو خاص اس پر ہاتھ نہ رکھے اس کی ممانعت میں کوئی کلام نہیں اور یہی تفصیل زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
فی ردالمحتار الاظھر والاحوط القول الثالث ای کراھتہ فی التفسیر دون غیرہ وتمامہ فیہ عن السراج عن الایضاح لا یجوز مس موضع القران منھا الخ۔ ردالمحتار(فتاوی شامی)میں ہے کہ زیادہ ظاہر اور زیادہ احتیاط تیسرے قول میں ہے یعنی کتب تفسیر کو بے وضو ہاتھ نہ لگانا جبکہ دوسری کتابوں کوہاتھ لگانے میں کراہت نہیں الخ اور اس کی پوری بحث ردالمحتار میں سراج بواسطہ ایضاح سے منقول ہے کتابوں میں جہاں قرآن مجید کا کوئی حصہ لکھا ہو وہاں ہاتھ لگانا جائز نہیں الخ(ت)
اور بسم اﷲ کہ شروع پرلکھتے ہیں غالبا اس سے تبرك وافتتاح تحریر مراد ہوتا ہے۔نہ کتابت آیات قرآنیہاور ایسی جگہ تغییر قصد سے تغییر حکم ہوجاتاہے ولہذا جنب کو آیات دعا وثنا نہ نیت قرآن بلکہ بہ نیت ذکر ودعا پڑھنا جائز ہے۔
فی الدرالمختار لو قصد الدعاء والثناء درمختار میں ہے اگر تسمیہ وغیرہا سے دعاثناء
کما فی ردالمحتار للعلامۃ الشامی عن سیدی عبدالغنی النابلسی عن کتاب الاشارات فی علم القرآء ت للامام القسطلانی رحمہم اﷲ تعالی۔ جیسا کہ علامہ فتاوی شامی میں سیدی عبدالغنی نابلسی کے حوالے سے"کتاب الاشارات فی علم القراءت"میں امام قسطلانی رحمہم الله تعالی سے مروی ہے۔(ت)
البتہ کتب دینیہ کو بے وضو ہاتھ لگانے کے بارے میں علماء مختلف ہیں بعض علماء مطلقا جائز فرماتے ہیں اور بعض مطلقا مکروہ اور بعض تفصیل کرتے ہیں کہ کتب تفسیر میں مکروہ اور غیر جائز بشرطیکہ ان میں جہاں کوئی آیت لکھی ہو خاص اس پر ہاتھ نہ رکھے اس کی ممانعت میں کوئی کلام نہیں اور یہی تفصیل زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
فی ردالمحتار الاظھر والاحوط القول الثالث ای کراھتہ فی التفسیر دون غیرہ وتمامہ فیہ عن السراج عن الایضاح لا یجوز مس موضع القران منھا الخ۔ ردالمحتار(فتاوی شامی)میں ہے کہ زیادہ ظاہر اور زیادہ احتیاط تیسرے قول میں ہے یعنی کتب تفسیر کو بے وضو ہاتھ نہ لگانا جبکہ دوسری کتابوں کوہاتھ لگانے میں کراہت نہیں الخ اور اس کی پوری بحث ردالمحتار میں سراج بواسطہ ایضاح سے منقول ہے کتابوں میں جہاں قرآن مجید کا کوئی حصہ لکھا ہو وہاں ہاتھ لگانا جائز نہیں الخ(ت)
اور بسم اﷲ کہ شروع پرلکھتے ہیں غالبا اس سے تبرك وافتتاح تحریر مراد ہوتا ہے۔نہ کتابت آیات قرآنیہاور ایسی جگہ تغییر قصد سے تغییر حکم ہوجاتاہے ولہذا جنب کو آیات دعا وثنا نہ نیت قرآن بلکہ بہ نیت ذکر ودعا پڑھنا جائز ہے۔
فی الدرالمختار لو قصد الدعاء والثناء درمختار میں ہے اگر تسمیہ وغیرہا سے دعاثناء
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۲۰€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۱۹€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۱۸ و ۱۱۹€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۱۹€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۱۸ و ۱۱۹€
او افتتاح امر حل فی الاصح حتی لو قصد بالفاتحۃ الثناء فی الجنازۃ لم یکرہ الخ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ یا کسی کام کے شروع کرنے کا ارادہ کیا جائے تو زیادہ صحیح قول میں جنبی اس کو پڑھ سکتا ہے یہاں تك کہ فرمایا کہ نماز جنازہ میں فاتحہ سے ثناء کا ارادہ کیا جائے تو نماز جنازہ میں فاتحہ کا پڑھنا مکروہ نہیں الخ ملخصا۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۰۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص متدین متبع سنت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے پارہائے کہنہ فرسودہ قرآن شریف اور قواعد بغدادی او ر قواعد ابجد کو جو لڑکوں کے دست مالش سے پھٹے ہوئے تھے اس مصلحت سے کہ ان کی بے ادبی نہ ہو اور پاؤں کے تلے نہ آئیں بدون قصد توہین کے بسند حدیث بخاری کے جو باب جمع القرآن میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے:
امربما سواہ من القران فی کل صحیفۃ اومصحف ان یحرق ۔ قرآن مجید کے موجودہ متعارف نسخہ کے علاوہ باقی ہر صحیفہ یا مصحف موجود تھا سب کے متعلق خلیفہ سوم نے جلادئیے جانے کاحکم جاری کیا(ت)
ان کو جلادیا آیا یہ شخص اہل سنت کے نزدیك بلحاظ مصلحت وسند مذکور وادلہ شرعیہ کے صواب پر ہے یا خطا پر کتب معتبرہ سے جواب فرمائیں۔بینوا توجروا۔
الجواب:
احراق مصحف بوسیدہ وغیر منتفع علماء میں مختلف فیہ ہے اور فتوی اس پر ہے کہ جائز نہیں۔
قال فی الفتاوی العالمگیریۃ المصحف اذا صارخلقا وتعذرت القراء ۃ منہ لایحرق بالنار اشار الشیبانی الی ھذا فی السیر الکبیر وبہ فتاوی عالمگیری میں فرمایا گیا جب مصحف پر انا اور بوسیدہ ہوجائے اور وہ پڑھے جانے کے لائق نہ رہے تب بھی اسے آگ میں نہ جلایا جائےچنانچہ امام محمد شیبانی نے سیر کبیر میں اس کی طرف اشارہ
مسئلہ ۱۰۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص متدین متبع سنت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے پارہائے کہنہ فرسودہ قرآن شریف اور قواعد بغدادی او ر قواعد ابجد کو جو لڑکوں کے دست مالش سے پھٹے ہوئے تھے اس مصلحت سے کہ ان کی بے ادبی نہ ہو اور پاؤں کے تلے نہ آئیں بدون قصد توہین کے بسند حدیث بخاری کے جو باب جمع القرآن میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے:
امربما سواہ من القران فی کل صحیفۃ اومصحف ان یحرق ۔ قرآن مجید کے موجودہ متعارف نسخہ کے علاوہ باقی ہر صحیفہ یا مصحف موجود تھا سب کے متعلق خلیفہ سوم نے جلادئیے جانے کاحکم جاری کیا(ت)
ان کو جلادیا آیا یہ شخص اہل سنت کے نزدیك بلحاظ مصلحت وسند مذکور وادلہ شرعیہ کے صواب پر ہے یا خطا پر کتب معتبرہ سے جواب فرمائیں۔بینوا توجروا۔
الجواب:
احراق مصحف بوسیدہ وغیر منتفع علماء میں مختلف فیہ ہے اور فتوی اس پر ہے کہ جائز نہیں۔
قال فی الفتاوی العالمگیریۃ المصحف اذا صارخلقا وتعذرت القراء ۃ منہ لایحرق بالنار اشار الشیبانی الی ھذا فی السیر الکبیر وبہ فتاوی عالمگیری میں فرمایا گیا جب مصحف پر انا اور بوسیدہ ہوجائے اور وہ پڑھے جانے کے لائق نہ رہے تب بھی اسے آگ میں نہ جلایا جائےچنانچہ امام محمد شیبانی نے سیر کبیر میں اس کی طرف اشارہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الطہارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۳€
صحیح البخاری کتاب فضائل لقرآن باب جمع القرآن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۴۶€
صحیح البخاری کتاب فضائل لقرآن باب جمع القرآن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۴۶€
ناخذ کما فی الذخیرۃ ۔ فرمایا ہے لہذا اسی کو ہم اختیار کرتے ہیںکتاب ذخیرہ میں اس طرح مذکور ہے۔(ت)
بلکہ ایسے مصاحف کو پاك کپڑے میں لپیٹ کر دفن کرنا چاہئے۔
فیھا ایضا المصحف اذا صار خلقا لایقرؤمنہ ویخاف ان یضیع یجعل فی خرقۃ طاھرۃ ویدفن ودفنہ اولی من وضعہ موضعا یخاف ان یقع علیہ النجاسۃ اونحو ذلك ویلحد لہ لانہ لو شق ودفن یحتاج الی اھالۃ التراب علیہ فی ذلك نوع تحقیر الا اذا جعل فوقہ سقف بحیث لایصل التراب الیہ فھو حسن ایضا کذا فی الغرائب ۔ اس میں بھی لکھا ہے جب مصحف بوسیدہ ہوجائے اور اسے نہ پڑھا جاسکے اور یہ اندیشہ ہو کہ کہیں گر کر بکھر جائے گا اور بے ادبی ہونے لگے گی تو اسے کسی پاك کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ دفن کردیا جائے اور اسے دفن کرنا زیادہ بہتر ہے بنسبت کسی ایسی جگہ رکھ دینے کے جہاں اسی پر گندگی پڑے اور آلودہ ہوجائے اور لاعلمی میں پاؤں کے نیچے روندا جانے لگے۔نیز اس کی تدفین کے لئے صندوقچی قبر کی بجائے بغلی قبر بنائی جائے اس لئے کہ اگر صندوق نما قبر بنائی گئی تو دفن کرنے کے لئے اس پرمٹی ڈالنے کی ضرورت پیش آئے گی اور یہ عمل ایك لحاظ سے بے ادبی والا ہے۔ہاں اگر مصحف شریف کو قبر میں رکھ کر اوپر چھت بنادی جائے تاکہ اس پر مٹی نہ پڑے اور نہ اس تك مٹی پہنچے تو بھی اچھی تدبیر ہے اسی طرح فتاوی الغرائب میں مذکور ہے۔(ت)
اور صحابہ رضی الله تعالی عنہم سے کہ احراق واقع ہوا کمافی حدیث البخاری(جیسا کہ بخاری کی حدیث میں ہے۔ت)بغرض رفع فتنہ وفساد تھا اور بالکلیہ رفع اس کا اسی طریقہ پر منحصر کہ صورت دفن میں ان لوگوں سے جنھیں مصاحف محرقہ اور ان کی ترتیب خلاف واقع پر اصرار تھا احتمال اخراج تھا بخلاف مانحن فیہ کہ یہاں مقصود حفظ مصحف ہے۔بے ادبی اور ضائع ہوجانے سے اور یہ امر طریقہ دفن میں کہ مختار علماء ہے کما امر بنھج احسن(جیساکہ اس کی تفصیل بہت اچھے انداز سے گزر چکی۔ت) حاصل البتہ قواعد بغدادی وابجد اور سب کتب غیر منتفع بہا ماورائے مصحف کریم کو جلادینا بعد محو اسمائے باری عزاسمہ اور اسمائے رسل وملائکہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اجمعین کے جائز ہے
بلکہ ایسے مصاحف کو پاك کپڑے میں لپیٹ کر دفن کرنا چاہئے۔
فیھا ایضا المصحف اذا صار خلقا لایقرؤمنہ ویخاف ان یضیع یجعل فی خرقۃ طاھرۃ ویدفن ودفنہ اولی من وضعہ موضعا یخاف ان یقع علیہ النجاسۃ اونحو ذلك ویلحد لہ لانہ لو شق ودفن یحتاج الی اھالۃ التراب علیہ فی ذلك نوع تحقیر الا اذا جعل فوقہ سقف بحیث لایصل التراب الیہ فھو حسن ایضا کذا فی الغرائب ۔ اس میں بھی لکھا ہے جب مصحف بوسیدہ ہوجائے اور اسے نہ پڑھا جاسکے اور یہ اندیشہ ہو کہ کہیں گر کر بکھر جائے گا اور بے ادبی ہونے لگے گی تو اسے کسی پاك کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ دفن کردیا جائے اور اسے دفن کرنا زیادہ بہتر ہے بنسبت کسی ایسی جگہ رکھ دینے کے جہاں اسی پر گندگی پڑے اور آلودہ ہوجائے اور لاعلمی میں پاؤں کے نیچے روندا جانے لگے۔نیز اس کی تدفین کے لئے صندوقچی قبر کی بجائے بغلی قبر بنائی جائے اس لئے کہ اگر صندوق نما قبر بنائی گئی تو دفن کرنے کے لئے اس پرمٹی ڈالنے کی ضرورت پیش آئے گی اور یہ عمل ایك لحاظ سے بے ادبی والا ہے۔ہاں اگر مصحف شریف کو قبر میں رکھ کر اوپر چھت بنادی جائے تاکہ اس پر مٹی نہ پڑے اور نہ اس تك مٹی پہنچے تو بھی اچھی تدبیر ہے اسی طرح فتاوی الغرائب میں مذکور ہے۔(ت)
اور صحابہ رضی الله تعالی عنہم سے کہ احراق واقع ہوا کمافی حدیث البخاری(جیسا کہ بخاری کی حدیث میں ہے۔ت)بغرض رفع فتنہ وفساد تھا اور بالکلیہ رفع اس کا اسی طریقہ پر منحصر کہ صورت دفن میں ان لوگوں سے جنھیں مصاحف محرقہ اور ان کی ترتیب خلاف واقع پر اصرار تھا احتمال اخراج تھا بخلاف مانحن فیہ کہ یہاں مقصود حفظ مصحف ہے۔بے ادبی اور ضائع ہوجانے سے اور یہ امر طریقہ دفن میں کہ مختار علماء ہے کما امر بنھج احسن(جیساکہ اس کی تفصیل بہت اچھے انداز سے گزر چکی۔ت) حاصل البتہ قواعد بغدادی وابجد اور سب کتب غیر منتفع بہا ماورائے مصحف کریم کو جلادینا بعد محو اسمائے باری عزاسمہ اور اسمائے رسل وملائکہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اجمعین کے جائز ہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ البا ب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲€۳
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ البا ب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۳€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ البا ب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۲۳€
کما فی الدرالمختار الکتب التی لاینتفع بھا یمحی عنھا اسم اﷲ وملئکتہ ورسولہ ویحرق الباقی ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ عزاسمہ اتم۔ درمختار میں ہے وہ کتابیں اور کاغذات جن سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ہے ان سے الله تعالی اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کے مقدس نام کسی طرح مٹاکر باقی حصہ جلادیا جائے الله تعالی خوب جانتاہے اور اس کا علم سب سے زیادہ مکمل ہے جس کانام غالب اور باعزت ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۰۹: از اوجین محلہ مرزا واڑی مرسلہ شیخ آفتاب حسین وشیخ حامد علی صاحبان ۲۱ محرم الحرام ۱۳۱۵ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمد اﷲ رب العالمین و الصلوۃ والسلام علی رسول محمد والہ واصحابہ اجمعین۔ الله تعالی کے مقدس نام سے شروع جو بیحد رحم کرنے والا مہربان ہےسب تعریف اس الله تعالی کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور درود وسلام اس کے رسول مقبول پر ہو اور ان کی تمام اولاد اور ساتھیوں پر۔(ت)
اما بعد گزارش خاکسار یہ کہ چند مسئلہ کتب فقہیہ امام اعظم صاحب علیہ الرحمۃ مثل ہدایہ شرح وقایہ وفتاوی قاضی خاں ودرمختار وردالمحتار وفتاوی علمگیری وفتاوی برہنہ وفتاوی سراجیہ خلاف حدیث رسول خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم ہیں من جملہ مسائل خلافیہ کے ایك یہ مسئلہ اس میں لکھا ہے کہ قرآن شریف کی آیت کا پیشاب سے لکھنا جائز ہے میں اس کا ثبوت دے سکتا ہوں یہ عبارت کتب مذکورہ میں ہے یا اتہام اس کے حق میں کیا حکم ہے بیان فرمادیں۔(محمد رفیع الدین)
الجواب:
الحمد ﷲ رب العالمین وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی سید المرسلین سیدنا ومولانا محمد والہ واصحابہ وعلماء امتہ و مجتہدی ملتہ اجمعین امین۔ تمام خوبیاں الله تعالی کے لئے ہیں جو پرورش کرنے والا ہے تمام جہانوں کیاور سب سے بہتر درود اور سب سے کامل سلام رسولوں کے سردار پر ہو جو ہمارے آقا ومولا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیںاور ان کی آل اصحابعلمائے امت اور مجتہدین مذہب ان سب پر(بالواسطہ)درود وسلام ہو۔آمین
مسئلہ ۱۰۹: از اوجین محلہ مرزا واڑی مرسلہ شیخ آفتاب حسین وشیخ حامد علی صاحبان ۲۱ محرم الحرام ۱۳۱۵ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم الحمد اﷲ رب العالمین و الصلوۃ والسلام علی رسول محمد والہ واصحابہ اجمعین۔ الله تعالی کے مقدس نام سے شروع جو بیحد رحم کرنے والا مہربان ہےسب تعریف اس الله تعالی کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور درود وسلام اس کے رسول مقبول پر ہو اور ان کی تمام اولاد اور ساتھیوں پر۔(ت)
اما بعد گزارش خاکسار یہ کہ چند مسئلہ کتب فقہیہ امام اعظم صاحب علیہ الرحمۃ مثل ہدایہ شرح وقایہ وفتاوی قاضی خاں ودرمختار وردالمحتار وفتاوی علمگیری وفتاوی برہنہ وفتاوی سراجیہ خلاف حدیث رسول خدا صلی الله تعالی علیہ وسلم ہیں من جملہ مسائل خلافیہ کے ایك یہ مسئلہ اس میں لکھا ہے کہ قرآن شریف کی آیت کا پیشاب سے لکھنا جائز ہے میں اس کا ثبوت دے سکتا ہوں یہ عبارت کتب مذکورہ میں ہے یا اتہام اس کے حق میں کیا حکم ہے بیان فرمادیں۔(محمد رفیع الدین)
الجواب:
الحمد ﷲ رب العالمین وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی سید المرسلین سیدنا ومولانا محمد والہ واصحابہ وعلماء امتہ و مجتہدی ملتہ اجمعین امین۔ تمام خوبیاں الله تعالی کے لئے ہیں جو پرورش کرنے والا ہے تمام جہانوں کیاور سب سے بہتر درود اور سب سے کامل سلام رسولوں کے سردار پر ہو جو ہمارے آقا ومولا محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیںاور ان کی آل اصحابعلمائے امت اور مجتہدین مذہب ان سب پر(بالواسطہ)درود وسلام ہو۔آمین
حوالہ / References
درمختار کتا ب الحظروالاباحۃ باب البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۳€
اقول: وبالله التوفیق(میں الله تعالی کی توفیق سے کہتاہوںت)معترض نے اس عبارت میں متعدد طور پر دھوکے دینے سے کام لیا ہے۔
اولا: ایہام کیا کہ ہدایہ وغیرہ سب کتب مذکورہ میں یہ مسئلہ لکھا ہے۔حالانکہ نہ ہدایہ میں اس کا پتا نہ شرع وقایہ میں نشاننہ درمختار میں وجودنہ عالمگیری میں ذکر بول موجودیہ سب معترض صاحب مغالطہ دہی ہے فتاوی برہنہ فقیر کے پاس نہیں۔نہ وہ کوئی معتبر کتابوں میں معدود۔
ثانیا: سراجیہ میں اس کے بعد صراحۃ لکھ دیا لکن لم ینقل مگر یہ منقول نہ ہوااسی طرح ردالمحتار میں نقل فرمایا۔تو ان کی طرف حکم جواز کی نسبت کردینی محض افترا ہے حکم کسی شرط پر مشروط کرکے وجود شرط حکم کو تسلیم نہ کرنا ہے نہ کہ حکم دینا کما لایخفی علی جاھل فضلا عن فاضل(جیسا کہ کسی ان پڑھ سے بھی پوشیدہ نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل سے پوشیدہ ہو۔ت)
ثالثا: فتاوی قاضی خاں میں صاف بتادیا کہ یہ مسئلہ نہ امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا ارشاد ہے نہ ان کے اصحاب کانہ شاگردان کا نہ شاگردان شاگرد کے کسی شاگرد کابلکہ شیخ ابوبکر اسکاف بلخی کا قول ہے کہ چوتھی صدی کے مشائخ سے تھے وہ بھی نہ اس طور پر جس طرح معترض نے بیان کیا جیسا کہ عنقریب آتا ہے تو اس کے باعث یہ ایہام کرنا کہ فقہ امام اعظم کا یہ حکم ہے صحیح فریب دہی ہے۔رابعا: فتاوی قاضی خان کی عبارت یہ ہے:
الذی رعف فلا یرقا دمہ فاراد ان یکتب بدمہ علی جبھتہ شیئا من القرانقال ابوبکر الاسکاف رحمہ اﷲ تعالی یجوز قیل لوکنت بالبولقال لوکان فیہ شفاء لابأس بہ قیل لوکتب علی جلد میتۃ قال ان کان فیہ شفاء جاز وعن ابی نصر بن سلام جس شخص کی نکسیر آئے کہ خون بند نہ ہو پھر اس نے اپنے خون سے قرآن مجید کا کوئی حصہ اپنی پیشانی پر لکھنے کا ارادہ کیا ہو (تو شرعا کیا حکم ہے)ابوبکر اسکاف رحمۃ الله تعالی علیہ نے فرمایا کہ جائز ہے۔پھر ان سے پوچھا گیا اگر پیشاب سے لکھے (تو پھر کیا حکم ہے)فرمایا اگر اس میں شفاء معلوم ہو تو کچھ حرج نہیںپھر کہا گیا کہ اگر مردار کی کھال پر لکھےتوفرمایا اگر اس میں بھی شفاء معلوم ہو تو جائز ہے۔ابوالنصر بن سلام
اولا: ایہام کیا کہ ہدایہ وغیرہ سب کتب مذکورہ میں یہ مسئلہ لکھا ہے۔حالانکہ نہ ہدایہ میں اس کا پتا نہ شرع وقایہ میں نشاننہ درمختار میں وجودنہ عالمگیری میں ذکر بول موجودیہ سب معترض صاحب مغالطہ دہی ہے فتاوی برہنہ فقیر کے پاس نہیں۔نہ وہ کوئی معتبر کتابوں میں معدود۔
ثانیا: سراجیہ میں اس کے بعد صراحۃ لکھ دیا لکن لم ینقل مگر یہ منقول نہ ہوااسی طرح ردالمحتار میں نقل فرمایا۔تو ان کی طرف حکم جواز کی نسبت کردینی محض افترا ہے حکم کسی شرط پر مشروط کرکے وجود شرط حکم کو تسلیم نہ کرنا ہے نہ کہ حکم دینا کما لایخفی علی جاھل فضلا عن فاضل(جیسا کہ کسی ان پڑھ سے بھی پوشیدہ نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل سے پوشیدہ ہو۔ت)
ثالثا: فتاوی قاضی خاں میں صاف بتادیا کہ یہ مسئلہ نہ امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا ارشاد ہے نہ ان کے اصحاب کانہ شاگردان کا نہ شاگردان شاگرد کے کسی شاگرد کابلکہ شیخ ابوبکر اسکاف بلخی کا قول ہے کہ چوتھی صدی کے مشائخ سے تھے وہ بھی نہ اس طور پر جس طرح معترض نے بیان کیا جیسا کہ عنقریب آتا ہے تو اس کے باعث یہ ایہام کرنا کہ فقہ امام اعظم کا یہ حکم ہے صحیح فریب دہی ہے۔رابعا: فتاوی قاضی خان کی عبارت یہ ہے:
الذی رعف فلا یرقا دمہ فاراد ان یکتب بدمہ علی جبھتہ شیئا من القرانقال ابوبکر الاسکاف رحمہ اﷲ تعالی یجوز قیل لوکنت بالبولقال لوکان فیہ شفاء لابأس بہ قیل لوکتب علی جلد میتۃ قال ان کان فیہ شفاء جاز وعن ابی نصر بن سلام جس شخص کی نکسیر آئے کہ خون بند نہ ہو پھر اس نے اپنے خون سے قرآن مجید کا کوئی حصہ اپنی پیشانی پر لکھنے کا ارادہ کیا ہو (تو شرعا کیا حکم ہے)ابوبکر اسکاف رحمۃ الله تعالی علیہ نے فرمایا کہ جائز ہے۔پھر ان سے پوچھا گیا اگر پیشاب سے لکھے (تو پھر کیا حکم ہے)فرمایا اگر اس میں شفاء معلوم ہو تو کچھ حرج نہیںپھر کہا گیا کہ اگر مردار کی کھال پر لکھےتوفرمایا اگر اس میں بھی شفاء معلوم ہو تو جائز ہے۔ابوالنصر بن سلام
حوالہ / References
فتاوٰی سراجیہ کتاب الکراھیۃ باب التداوی والعلاج ∞نولکشور لکھنؤ ص۷۵€
ردالمحتار کتاب الطھارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۴۰€
ردالمحتار کتاب الطھارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۱۴۰€
رحمہ اﷲ تعالی معنی قولہ علیہ الصلوۃ والسلام ان اﷲ لم یجعل شفاء کم فیما حرم علیکم انما قال ذلك فی الاشیاء التی لایکون فیہ شفاء فاما اذا کان فیہا شفاء فلا بأس بہ قال الاتری ان العطشان یحل لہ شرب الخمر حال الاضطرار ۔ رحمہ الله تعالی نے فرمایا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد کہ"بے شك الله تعالی نے جو کچھ تم پر حرام فرمایا ہے اس میں تمھارے لئے شفا نہیں رکھی"کا مفہوم یہ ہےکہ یہ ان چیزوں سے متعلق ہے جن میں فی الواقع شفاء نہیں لیکن جن میں شفا موجود ہے تو ان کے استعمال میں کیا حرج ہے کیا تم دیکھتے نہیں کہ پیا سے آدمی کے لئے اضطراری حالت میں شراب کا پینا بھی حلال ہے۔(ت)
اس عبارت سے واضح کہ فقیہ ممدوح سے اس حالت کا سوال ہوا تھا کہ کسی کے دماغ سے ناك کی راہ خون جاری ہے اور کس طرح نہیں تھمتا اس حالت میں اس کی جان بچانے کو اگر خون یا بول سے لکھیں تو اجازت ہے یانہیں فقیہ موصوف نے فرمایا اگر اس سے شفا ہو جانا معلوم ہو تو مضائقہ نہیں اور اس کی نظیر یہ بتائی گئی کہ پیاس سے جان جاتی ہو اور سوا شراب کے کوئی چیز موجود نہیں یا بھوك سے دم نکلتا ہو اور سوا مردار کے کچھ پاس نہیں تو اس وقت بمقدار جان بچانے کے شراب ومردار کے استعمال کی شرع مطہر نے رخصت دی ہے تو فقیہ موصوف کا یہ حکم حقیقۃ تین شرطوں سے مشروط تھا:
اول: یہ کہ جان جانے کا خوف ہوجیساکہ عبارت قاضی خان فلا یرقادمہ(اس کا خون بند نہ ہو۔ت)سے ظاہر ہے اور اسی رد المحتار میں کہ اس کا نام بھی معترض نے گن دیا۔ عبارت یوں ہے:
نص مافی الحاوی القدسی اذا سال الدم من انف انسان ولا ینقطع حتی یخشی علیہ الموت ۔ (حاوی قدسی میں تصریح فرمائی)یعنی خون ناك سے جاری ہے اور نہیں تھمتا یہاں تك کہ اس کے مرجانے کا اندیشہ ہو۔
اس عبارت سے واضح کہ فقیہ ممدوح سے اس حالت کا سوال ہوا تھا کہ کسی کے دماغ سے ناك کی راہ خون جاری ہے اور کس طرح نہیں تھمتا اس حالت میں اس کی جان بچانے کو اگر خون یا بول سے لکھیں تو اجازت ہے یانہیں فقیہ موصوف نے فرمایا اگر اس سے شفا ہو جانا معلوم ہو تو مضائقہ نہیں اور اس کی نظیر یہ بتائی گئی کہ پیاس سے جان جاتی ہو اور سوا شراب کے کوئی چیز موجود نہیں یا بھوك سے دم نکلتا ہو اور سوا مردار کے کچھ پاس نہیں تو اس وقت بمقدار جان بچانے کے شراب ومردار کے استعمال کی شرع مطہر نے رخصت دی ہے تو فقیہ موصوف کا یہ حکم حقیقۃ تین شرطوں سے مشروط تھا:
اول: یہ کہ جان جانے کا خوف ہوجیساکہ عبارت قاضی خان فلا یرقادمہ(اس کا خون بند نہ ہو۔ت)سے ظاہر ہے اور اسی رد المحتار میں کہ اس کا نام بھی معترض نے گن دیا۔ عبارت یوں ہے:
نص مافی الحاوی القدسی اذا سال الدم من انف انسان ولا ینقطع حتی یخشی علیہ الموت ۔ (حاوی قدسی میں تصریح فرمائی)یعنی خون ناك سے جاری ہے اور نہیں تھمتا یہاں تك کہ اس کے مرجانے کا اندیشہ ہو۔
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتا ب الحظروالاباحۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۸۰€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۴۰€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۴۰€
دوم: اس تدبیر سے اسے شفا ہوجانا بھی معلوم ہو جیسا کہ عبارت قاضی خاں لوکان فیہ شفاء (اگر اس میں شفا ء معلوم ہو۔ ت)سے ظاہر اور اسی ردالمحتار میں بعد عبارت مذکورہ ہے:وقد علم انہ لو کتب ینقطع بتحقیق معلوم ہو کہ لکھا جائے تو خون منقطع ہوجائے گا
سوم: اس کے سوا کوئی اور تدبیر شفا نہ ہو جیساکہ عبارت قاضی خاں حال الاضطرار سے ظاہر اور اس ردالمحتار میں ہے:
فی النھایۃ عن الذخیرۃ یجوز ان علم فیہ شفاء ولم یعلم دواء اخر ۔ (نہایہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے)جب جائز ہے کہ اس سے شفا ہوجانا معلوم ہو اور دوسری کوئی دوا نہ معلوم ہو۔
اسی میں ہے:
ھذا لمصرح فی عبارۃ النھایۃ کما مرولیس فی عبارۃ الحاوی الا انہ یفاد من قولہ کما رخص الخ لان حل الخمر والمیتۃ حیث لم یوجد مایقدم مقامھما ۔ عبارت نہایہ میں یہ تصریح کی گئی جیسا کہ بیان گزر چکالیکن عبارت حاوی قدسی میں یہ تصریح موجود نہیں مگر یہ کہ اس کے قول"کما رخص"سے افادہ کیا جائےا لخ اس لئے کہ شراب اور مردار(وہاں)حلال ہیں جہاں کوئی نعم البدل نہ پایا جائے لہذا بصورت دیگر وہ حلال نہیں(ت)
اہل انصاف غور کریں کہ جو حکم ان تین شرطوں کے ساتھ مشروط ہو جن کے بعد اس میں اصلا استبداد نہیں کہ الضرورات تبیح المحظورات(ضرورتیں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں۔ت)شرع وعقل وعرف سب کا مجمع علیہ قاعدہ ہے ان تمام شرائط کو اڑا کر مطلقا یوں کہہ دینا کہ ان کتابوں میں لکھا ہے کہ قرآن شریف کی آیت کا پیشاب سے لکھنا جائز ہے کون سی ایمان وامانت ودین ودیانت کا مقتضا ہے یہ تو ایسا ہوا کہ کوئی کافر نصرانی یہودی بك دے کہ قرآن مجید میں سور کھانا حلال لکھا ہے۔
سوم: اس کے سوا کوئی اور تدبیر شفا نہ ہو جیساکہ عبارت قاضی خاں حال الاضطرار سے ظاہر اور اس ردالمحتار میں ہے:
فی النھایۃ عن الذخیرۃ یجوز ان علم فیہ شفاء ولم یعلم دواء اخر ۔ (نہایہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے)جب جائز ہے کہ اس سے شفا ہوجانا معلوم ہو اور دوسری کوئی دوا نہ معلوم ہو۔
اسی میں ہے:
ھذا لمصرح فی عبارۃ النھایۃ کما مرولیس فی عبارۃ الحاوی الا انہ یفاد من قولہ کما رخص الخ لان حل الخمر والمیتۃ حیث لم یوجد مایقدم مقامھما ۔ عبارت نہایہ میں یہ تصریح کی گئی جیسا کہ بیان گزر چکالیکن عبارت حاوی قدسی میں یہ تصریح موجود نہیں مگر یہ کہ اس کے قول"کما رخص"سے افادہ کیا جائےا لخ اس لئے کہ شراب اور مردار(وہاں)حلال ہیں جہاں کوئی نعم البدل نہ پایا جائے لہذا بصورت دیگر وہ حلال نہیں(ت)
اہل انصاف غور کریں کہ جو حکم ان تین شرطوں کے ساتھ مشروط ہو جن کے بعد اس میں اصلا استبداد نہیں کہ الضرورات تبیح المحظورات(ضرورتیں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں۔ت)شرع وعقل وعرف سب کا مجمع علیہ قاعدہ ہے ان تمام شرائط کو اڑا کر مطلقا یوں کہہ دینا کہ ان کتابوں میں لکھا ہے کہ قرآن شریف کی آیت کا پیشاب سے لکھنا جائز ہے کون سی ایمان وامانت ودین ودیانت کا مقتضا ہے یہ تو ایسا ہوا کہ کوئی کافر نصرانی یہودی بك دے کہ قرآن مجید میں سور کھانا حلال لکھا ہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۸۰،€دالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۴۰€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۴۰€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۴۰€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۴۰€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۴۰€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۴۰€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۴۰€
اور ثبوت میں یہ آیت پیش کرے کہ:
" فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ" پھر کوئی بیقرار ہوگیا بشرطیکہ بغاوت اور زیادتی کرنیوالا نہ ہو تو اس پر(مردار کھالینے کا)کوئی گناہ نہیں۔(ت)
یا کوئی مردود نیچری یوں جھك کمارے کہ کفر کے بول بولنا الله تعالی نے جائز فرمادیا ہے اور سند میں یہ آیت سناد ے کہ:
" الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن" مگر اس کو کلمہ کفر کہنے کی اجازت ہے کہ جس کو مجبور کیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو۔(ت)
ان مفتری کذابوں سے یہی کہا جائے گا کہ قرآن عظیم نے تو سوئر کھانا اور کلمہ کفر بکنا قطعی حرام کئے ہیں یہ تیرا محض افتراء و بہتان ہےہاں دم نکلتا ہو اور کچھ اور میسر نہیں تو جان بچانے کو حرام چیز کھانے کی اجازت دینی یا کوئی ظالم بغیر کفر کے ظاہر کئے مارے ڈالتا ہو یا آنکھیں پھوڑتا یا ہاتھ پاؤں کاٹتا ہو تو دل میں خاص ایمان کے ساتھ حفظ جسم وجان کے لئے کچھ ظاہر کرنے کی رخصت فرمائی یہ قطعا حق وعین رحمت ومصلحت ہے اور اسے تیرا اس طور پر تعبیر کرنا یقینا بہتان وصریح شرارت وخباثت ہے بعینہ یہی جواب ان غیر مقلد صاحبوں کے اعتراض کا سمجھ لیجئے۔
خامسا: فقیر کہتا ہے غفر الله تعالی لہ اگر الله عزوجل نظر غائر وقت شناس نصیب فرمائے تو عندالتحقیق ا س کلام علماء کا مرجع ومآل صاف ممانعت ہے نہ تجویز واجازت کہ وہ شرط فرماتے ہیں کہ جب اس سے شفاء ہوجانا معلوم ہو حالانکہ اس علم کا کوئی ذریعہ نہیںاگرعلم بمعنی یقین لیجئے جب تو ظاہر کہ یقین تو ظاہر وواضح ومجرب ومعقول الا ثرداؤں میں بھی نہیں نہایت کارظن ہے۔
اسی ردالمحتار میں ہے:
قدعلمت ان قول الاطباء ولا یحصل بہ العلم ۔ بیشك تو نے جان لیا کہ طبیبوں کے قول سے علم حاصل نہیں ہوتا۔(ت)
" فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ" پھر کوئی بیقرار ہوگیا بشرطیکہ بغاوت اور زیادتی کرنیوالا نہ ہو تو اس پر(مردار کھالینے کا)کوئی گناہ نہیں۔(ت)
یا کوئی مردود نیچری یوں جھك کمارے کہ کفر کے بول بولنا الله تعالی نے جائز فرمادیا ہے اور سند میں یہ آیت سناد ے کہ:
" الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن" مگر اس کو کلمہ کفر کہنے کی اجازت ہے کہ جس کو مجبور کیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو۔(ت)
ان مفتری کذابوں سے یہی کہا جائے گا کہ قرآن عظیم نے تو سوئر کھانا اور کلمہ کفر بکنا قطعی حرام کئے ہیں یہ تیرا محض افتراء و بہتان ہےہاں دم نکلتا ہو اور کچھ اور میسر نہیں تو جان بچانے کو حرام چیز کھانے کی اجازت دینی یا کوئی ظالم بغیر کفر کے ظاہر کئے مارے ڈالتا ہو یا آنکھیں پھوڑتا یا ہاتھ پاؤں کاٹتا ہو تو دل میں خاص ایمان کے ساتھ حفظ جسم وجان کے لئے کچھ ظاہر کرنے کی رخصت فرمائی یہ قطعا حق وعین رحمت ومصلحت ہے اور اسے تیرا اس طور پر تعبیر کرنا یقینا بہتان وصریح شرارت وخباثت ہے بعینہ یہی جواب ان غیر مقلد صاحبوں کے اعتراض کا سمجھ لیجئے۔
خامسا: فقیر کہتا ہے غفر الله تعالی لہ اگر الله عزوجل نظر غائر وقت شناس نصیب فرمائے تو عندالتحقیق ا س کلام علماء کا مرجع ومآل صاف ممانعت ہے نہ تجویز واجازت کہ وہ شرط فرماتے ہیں کہ جب اس سے شفاء ہوجانا معلوم ہو حالانکہ اس علم کا کوئی ذریعہ نہیںاگرعلم بمعنی یقین لیجئے جب تو ظاہر کہ یقین تو ظاہر وواضح ومجرب ومعقول الا ثرداؤں میں بھی نہیں نہایت کارظن ہے۔
اسی ردالمحتار میں ہے:
قدعلمت ان قول الاطباء ولا یحصل بہ العلم ۔ بیشك تو نے جان لیا کہ طبیبوں کے قول سے علم حاصل نہیں ہوتا۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲ /۱۷۳€
القرآن الکریم ∞۱۶/ ۱۰۶€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۴۰€
القرآن الکریم ∞۱۶/ ۱۰۶€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب المیاد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۴۰€
اور اگر ظن کو بھی شامل کیجئے تو یہ لکھنا غایت درجہ از قبیل رقیہ ہوگا نہ از قبیل معالجات ورضحہ طبیہ اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایسے معالجات سے شفاء معلوم ہونا درکنار مظنون بھی نہیں صرف موہوم ہے۔اسی عالمگیری میں فصول عمادی سے ہے:
الاسباب المزیلۃ للضرر تنقسم الی مقطوع بہ کالماء للعطش والخبز للجوع والی مظنون کا لفصد والحجامۃ وشرب المسھل وسائر ابواب الطب یعنی معالجۃ البرودۃ بالحرارۃ ومعالجۃ الحرارۃ بالبرودۃ وھی الاسباب الظاھرۃ فی الطب والی موھوم کالکی والرقیۃ ۔ جن اسباب سے ضرور دور ہوتاہے وہ دو قسم کے ہیں(۱)یقینی جیسے پانی پیاس دورکرنے کے لئے اور کھانا بھوك کو رفع کرنے کے لئے(۲)ظنیجیسے خون نکلواناپچھنے لگواناجلاب آور دوا پینا اور دیگر ابواب طب یعنی سردی کا گرمی سے علاج کرنااور گرمی کا سردی سےاور علم طب میں یہ ظاہری اسباب ہیں اور وہمی اسباب جیسے داغ لگانااور جھاڑ پھونك یعنی دم کرنا۔(ت)
تو دیکھو علمائے تصریح فرمائی کہ یہ لکھنا جائز جب ہو کہ اس سے شفاء معلوم ہو اور ساتھ ہی یہ بھی تصریح فرمائی کہ اس سے شفا ء معلوم نہیں تو کیا حاصل یہ نکلا کہ یہ لکھناجائز ہے یا یہ کہ ہر گز جائز نہیں صحیح حدیث میں ہے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے دربارہ رمل سوال ہوا ارشاد فرمایا:
کان نبی من الانبیاء یخط فمن وافق خطہ فذاك رواہ مسلم فی صحیحہ واحمد ابودؤد والنسائی عن معاویۃ بن الحکم رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بعض انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کچھ خط کھینچا کرتے تھے تو جس کی لکیریں ان کے خطوں سے موافق ہوں وہ ٹھیك ہے(امام مسلم نے اپنی صحیح مسلم میں امام محمدابوداؤد اور نسائی نے معاویہ بن حکم رضی الله تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
اب اس حدیث سے ٹھہرادینا کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے رمل پھینکنے کی اجازت دی ہے حالانکہ حدیث صراحۃ مفید ممانعت ہے کہ جب حضورا قدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس کا جواز مواقف خط انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے مشروط فرمایا اور وہ معلوم نہیں تو جواز بھی نہیں۔امام نووی رحمہ الله تعالی نے کتاب الصلوۃ باب تحریم الکلام میں زیر حدیث مذکور فرماتے ہیں:
الاسباب المزیلۃ للضرر تنقسم الی مقطوع بہ کالماء للعطش والخبز للجوع والی مظنون کا لفصد والحجامۃ وشرب المسھل وسائر ابواب الطب یعنی معالجۃ البرودۃ بالحرارۃ ومعالجۃ الحرارۃ بالبرودۃ وھی الاسباب الظاھرۃ فی الطب والی موھوم کالکی والرقیۃ ۔ جن اسباب سے ضرور دور ہوتاہے وہ دو قسم کے ہیں(۱)یقینی جیسے پانی پیاس دورکرنے کے لئے اور کھانا بھوك کو رفع کرنے کے لئے(۲)ظنیجیسے خون نکلواناپچھنے لگواناجلاب آور دوا پینا اور دیگر ابواب طب یعنی سردی کا گرمی سے علاج کرنااور گرمی کا سردی سےاور علم طب میں یہ ظاہری اسباب ہیں اور وہمی اسباب جیسے داغ لگانااور جھاڑ پھونك یعنی دم کرنا۔(ت)
تو دیکھو علمائے تصریح فرمائی کہ یہ لکھنا جائز جب ہو کہ اس سے شفاء معلوم ہو اور ساتھ ہی یہ بھی تصریح فرمائی کہ اس سے شفا ء معلوم نہیں تو کیا حاصل یہ نکلا کہ یہ لکھناجائز ہے یا یہ کہ ہر گز جائز نہیں صحیح حدیث میں ہے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم سے دربارہ رمل سوال ہوا ارشاد فرمایا:
کان نبی من الانبیاء یخط فمن وافق خطہ فذاك رواہ مسلم فی صحیحہ واحمد ابودؤد والنسائی عن معاویۃ بن الحکم رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بعض انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کچھ خط کھینچا کرتے تھے تو جس کی لکیریں ان کے خطوں سے موافق ہوں وہ ٹھیك ہے(امام مسلم نے اپنی صحیح مسلم میں امام محمدابوداؤد اور نسائی نے معاویہ بن حکم رضی الله تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
اب اس حدیث سے ٹھہرادینا کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نے رمل پھینکنے کی اجازت دی ہے حالانکہ حدیث صراحۃ مفید ممانعت ہے کہ جب حضورا قدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس کا جواز مواقف خط انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے مشروط فرمایا اور وہ معلوم نہیں تو جواز بھی نہیں۔امام نووی رحمہ الله تعالی نے کتاب الصلوۃ باب تحریم الکلام میں زیر حدیث مذکور فرماتے ہیں:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵€
صحیح مسلم کتاب المساجد باب تحریم الکلام فی الصلٰوۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۳€
صحیح مسلم کتاب المساجد باب تحریم الکلام فی الصلٰوۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰۳€
معناہ من وافق خطہ فھو مباح لہ ولکن لاطریق لنا الی العلم الیقینی بالموافقۃ فلا یباح والمقصود انہ حرام لانہ لایباح الابیقین بالموافقۃ ولیس لنا یقین بھا ۔ حدیث پاك کا مفہو م اور مراد یہ ہے کہ جس آدمی کی لکیریں بعض انبیاء کرام کی لکیروں کے موافق ہوجائیں تو اس کے لئے(علم رمل)مباح ہے لیکن حصول موافقت کے لئے ہمارے پاس یقینی علم تك رسائی کاکوئی راستہ نہیں لیکن علم مذکور(ہمارے لئے)مباح نہیں اور مقصد یہ ہے کہ وہ حرام ہے کیونکہ یقینی موافقت کے بغیر وہ مباح نہیں ہوسکتا اور یقنی موافقت کا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔(ت)
یعنی مقصود حدیث تحریم رمل ہےکہ اباحت بشرط موافقت ہے۔اور وہ نامعلوم تو اباحت معدوم۔علامہ علی قاری مرقاۃ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
حاصلہ ان فی ھذا لزمان حرام لان الموافقۃ معدومۃ او موھومۃ ۔ یعنی حاصل حدیث یہ ہے کہ رمل اس شریعت میں حرام ہے کہ موافقت معدوم ہے یا موہوم۔
اسی میں امام ابن حجر سے انھوں نے اکثر علماء سے نقل فرمایا:
لایستدل بھذا الحدیث علی اباحتہ لانہ علق الاذن فیہ علیہ موافقۃ خط ذلك النبی صلی موافقۃ غیر معلومۃ فاتضح تحریمہ ۔ یعنی اس حدیث سے رمل کی اباحت پر استدلال نہ کیا جائے کہ اس میں تو اجازت ان نبی کے خط سے موافقت پر موقوف فرمائی ہے اور یہ موافقت معلوم نہیں تو اس کا حرام ہونا روشن ہوگیا۔
بعینہ یہی حالت اس قول علماء کی ہے کہ جب اجازت کتابت علم شفا سے مشروط فرماتے ہیں اور وہ معدوم یا موہوم ہو تو اباحت معدوم۔
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق ثم بعد کتا بتی لھذا المحل یونہی تحقیق کرنی چاہئے اور الله تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔ پھر میں نے یہ جگہ لکھنے کے بعد
یعنی مقصود حدیث تحریم رمل ہےکہ اباحت بشرط موافقت ہے۔اور وہ نامعلوم تو اباحت معدوم۔علامہ علی قاری مرقاۃ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
حاصلہ ان فی ھذا لزمان حرام لان الموافقۃ معدومۃ او موھومۃ ۔ یعنی حاصل حدیث یہ ہے کہ رمل اس شریعت میں حرام ہے کہ موافقت معدوم ہے یا موہوم۔
اسی میں امام ابن حجر سے انھوں نے اکثر علماء سے نقل فرمایا:
لایستدل بھذا الحدیث علی اباحتہ لانہ علق الاذن فیہ علیہ موافقۃ خط ذلك النبی صلی موافقۃ غیر معلومۃ فاتضح تحریمہ ۔ یعنی اس حدیث سے رمل کی اباحت پر استدلال نہ کیا جائے کہ اس میں تو اجازت ان نبی کے خط سے موافقت پر موقوف فرمائی ہے اور یہ موافقت معلوم نہیں تو اس کا حرام ہونا روشن ہوگیا۔
بعینہ یہی حالت اس قول علماء کی ہے کہ جب اجازت کتابت علم شفا سے مشروط فرماتے ہیں اور وہ معدوم یا موہوم ہو تو اباحت معدوم۔
ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق ثم بعد کتا بتی لھذا المحل یونہی تحقیق کرنی چاہئے اور الله تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔ پھر میں نے یہ جگہ لکھنے کے بعد
حوالہ / References
شرح صحیح البخاری للنوعی مع صحیح مسلم کتا ب المساجد باب تحریم الکلام فی الصلٰوۃ ∞۱ /۲۰۳€
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ االمصابیح کتاب الصلٰوۃ باب مالایجوز من العمل الخ ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۶۴€
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ االمصابیح کتاب الصلٰوۃ باب مالایجوز من العمل الخ ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۶۴€
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ االمصابیح کتاب الصلٰوۃ باب مالایجوز من العمل الخ ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۶۴€
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ االمصابیح کتاب الصلٰوۃ باب مالایجوز من العمل الخ ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۶۴€
الشامی نقل عن البحر عن الفتح مانصہ واھل الطب یثبتون لبن البنت نقعا لوجع العین واختلف المشائخ فیہ قیل لا یجوز وقیل یجوز العلم انہ یزول بہ الرمد ولا یخفی ان حقیقۃ العلم متعذرۃ فالمراد اذا غلب علی الظن والاظھر معنی المنع اھ اقول: وانت تعلم ان لاوجہ فیما نحن فیہ بغلبۃ الظن ایضا فھو معنی المنع قطعا وھذا عین مافھمت وﷲ الحمد۔ فتاوی شامی کو دیکھا اس میں بحرالرائق بحوالہ فتح القدیر نقل کیا کہ جس کی اس نے تصریح فرمائی کہ اہل طب نے لڑکی کے دودھ کو درد کے لئے مفید قراردیا ہے اور مشائخ کرام نے اس میں اختلاف کیا ہے __________ چنانچہ کہاگیا ہے کہ یہ جائز نہیںاور یہ بھی کہا گیا کہ جائز ہے۔جبکہ یہ علم ہوجائے کہ ا سے درد چشم زائل ہوجائے گا لیکن یہ پوشیدہ نہیں کہ حقیقت علم تك رسائی مشکل ہے اور مراد یہ ہے کہ جب غالب گمان ہو ورنہ یہی منع کا مفہوم ہے۔اھ اقول:(میں کہتاہوں)کہ تم جانتے ہو کہ یہاں غلبہ ظن کی کوئی وجہ نہیں لہذا یہی قطعی طور پر مفہوم منع ہے اور یہ بعینہ وہی ہے جس کو میں نے سمجھااور خدا ہی کے لئے تمام خوبیاں ہیں۔(ت)
سادسا طرہ یہ کہ معترض نے چوتھی صدی کے ایك فقیہ کاقول بہزاران عیار سب شرائط اڑا کر طرح طرح کی تہمت وبہتان کے ساتھ فقیہ اعظم رضی الله تعالی عنہ پر بزعم خود اعتراض جمانے کے لئے نقل کیااور اسی درمختار و ردالمحتار وقاضی خاں وعالمگیری وغیرہا عامہ کتب معتمدہ مذہب متون و شروح وفتاوی میں جوخود ہمارے امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا اصل مذہب کہ ظاہرالروایۃ ومعتمد فی المذہب ہے اور اس پر تصریحات کثیرہ ہیں وہ سب اڑا گیا کہ بے علم بیچاروں کو دھوکے دے کہ امام الائمہ امام اعظم معاذ الله ایسے موحش حکم دیتے تھے معترض اگر کچھ پڑھا لکھا ہے اور اس نے ان کتابوں کے نام کسی سن کریا رجمایا بالغیب آنکھیں بند کرکے نہ لکھ دے تو ایمان سے کہے کہ اسی درمختار میں یہیں یعنی کتاب الطہارۃ میں یہ عبارت تو نہ تھی اختلف فی التداوی بالحرام وظاھر المذھب المنع حرام چیز دواء استعمال کرنے میں اختلاف ہے اور ہمارے ائمہ کا اصل مذہب ظاہر الروایۃ
سادسا طرہ یہ کہ معترض نے چوتھی صدی کے ایك فقیہ کاقول بہزاران عیار سب شرائط اڑا کر طرح طرح کی تہمت وبہتان کے ساتھ فقیہ اعظم رضی الله تعالی عنہ پر بزعم خود اعتراض جمانے کے لئے نقل کیااور اسی درمختار و ردالمحتار وقاضی خاں وعالمگیری وغیرہا عامہ کتب معتمدہ مذہب متون و شروح وفتاوی میں جوخود ہمارے امام اعظم رضی الله تعالی عنہ کا اصل مذہب کہ ظاہرالروایۃ ومعتمد فی المذہب ہے اور اس پر تصریحات کثیرہ ہیں وہ سب اڑا گیا کہ بے علم بیچاروں کو دھوکے دے کہ امام الائمہ امام اعظم معاذ الله ایسے موحش حکم دیتے تھے معترض اگر کچھ پڑھا لکھا ہے اور اس نے ان کتابوں کے نام کسی سن کریا رجمایا بالغیب آنکھیں بند کرکے نہ لکھ دے تو ایمان سے کہے کہ اسی درمختار میں یہیں یعنی کتاب الطہارۃ میں یہ عبارت تو نہ تھی اختلف فی التداوی بالحرام وظاھر المذھب المنع حرام چیز دواء استعمال کرنے میں اختلاف ہے اور ہمارے ائمہ کا اصل مذہب ظاہر الروایۃ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح باب الرضاع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۴۰۴€
الدالمختار کتاب الطہارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸€
الدالمختار کتاب الطہارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸€
کہ جائز نہیں۔ اسی درمختارکتاب الرضاع میں یہ عبارت تو نہ تھی:
فی البحر لا یجوز التداوی بالمحرم فی ظاھر المذھب ۔ یعنی بحرالرائق میں ہےکہ مذہب حنفی ظاہر الروایہ میں حرام چیز سے علاج کرنا جائز نہیں۔
اسی درمختار میں کتاب الحظروالاباحۃمیں یہ عبارت تو نہ تھی:
جاز الحقنہ للتداوی بطاھر لا بنجس وکذا کل تداو لا یجوز ۔ حقنہ بغرض دوا پاك چیز سے جائز ہے ناپاك سے نہیںاسی طرح کوئی علاج ناپاك چیز سے جائز نہیں۔
اسی ردالمحتار میں بحوالہ درمنتقی قول جواز ذکر کرکے یہ تو نہ تھا کہ المذھب خلافۃ مذہب حنفی اسی قول کے جواز کے خلاف ہے۔ اسی عالمگیری میں یہ عبارت تو نہ تھی:
تکرہ ابوال الابل ولحم الفرس للتداوی کذا فی الجامع الصغیر ۔ اونٹ کا پیشاب اور گھوڑے کا گوشت دوا میں بھی مکروہ ہے ایسا ہی جامع صغیر میں امام محمد میں ہے۔
اسی میں یہ تو نہ تھا:
قال لہ الطیب الحاذق علتك لا تندفع الا باکل القنفذ اوالحیۃ اودواء یحل فیہ الحیۃ لایحل اکلہ ۔ یعنی ساہی یا سانپ یا ایسی دوا جس میں سانپ ڈالا جائے علاج کے لئے بھی کھانا حلال نہیں۔اگر چہ حکم حاذق کہے کہ تیرا مرض بغیر اس کے نہ جائے گا۔
اسی عالمگیری میں اسی فتاوی قاضی خاں سے یہ نہ تھا:
تکرہ البان الا تان للمرض وغیرہ وکذلك لحومھا وکذلك التداوی گدھی کا دودھ اور گوشت مرض وغیرہ کسی میں مباح نہیں اور ایسے ہی حرام چیز سے علاج
فی البحر لا یجوز التداوی بالمحرم فی ظاھر المذھب ۔ یعنی بحرالرائق میں ہےکہ مذہب حنفی ظاہر الروایہ میں حرام چیز سے علاج کرنا جائز نہیں۔
اسی درمختار میں کتاب الحظروالاباحۃمیں یہ عبارت تو نہ تھی:
جاز الحقنہ للتداوی بطاھر لا بنجس وکذا کل تداو لا یجوز ۔ حقنہ بغرض دوا پاك چیز سے جائز ہے ناپاك سے نہیںاسی طرح کوئی علاج ناپاك چیز سے جائز نہیں۔
اسی ردالمحتار میں بحوالہ درمنتقی قول جواز ذکر کرکے یہ تو نہ تھا کہ المذھب خلافۃ مذہب حنفی اسی قول کے جواز کے خلاف ہے۔ اسی عالمگیری میں یہ عبارت تو نہ تھی:
تکرہ ابوال الابل ولحم الفرس للتداوی کذا فی الجامع الصغیر ۔ اونٹ کا پیشاب اور گھوڑے کا گوشت دوا میں بھی مکروہ ہے ایسا ہی جامع صغیر میں امام محمد میں ہے۔
اسی میں یہ تو نہ تھا:
قال لہ الطیب الحاذق علتك لا تندفع الا باکل القنفذ اوالحیۃ اودواء یحل فیہ الحیۃ لایحل اکلہ ۔ یعنی ساہی یا سانپ یا ایسی دوا جس میں سانپ ڈالا جائے علاج کے لئے بھی کھانا حلال نہیں۔اگر چہ حکم حاذق کہے کہ تیرا مرض بغیر اس کے نہ جائے گا۔
اسی عالمگیری میں اسی فتاوی قاضی خاں سے یہ نہ تھا:
تکرہ البان الا تان للمرض وغیرہ وکذلك لحومھا وکذلك التداوی گدھی کا دودھ اور گوشت مرض وغیرہ کسی میں مباح نہیں اور ایسے ہی حرام چیز سے علاج
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح باب الرضاع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۱۲€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۲€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۴۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ البا ب الثامن عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ البا ب الثامن عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۲€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۴۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ البا ب الثامن عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ البا ب الثامن عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵€
بکل حرام ۔ علاج۔
اسی عالمگیری میں اسی ہدایہ سے یہ تو نہ تھا:
لایجوز ان یداوی بالخمر جرحا اودبر دابۃ ولا ان یسقی ذمیا ولا ان یسقی صبیا للتداوی والوبال علی من سقاہ ۔ جائز نہیں کہ شراب سے کسی زخم یا جانور کی لگی ہوئی پیٹھ کا علاج کرنے نہ کسی ذمی کافر کو پلانا جائز نہ دوا کے لئے بچے کو پلانا اور بچے کو پلانا میں وبال پلانے والے پر ہے۔
غیر مقلد صاحبو! خدارا انصافجو ائمہ دین تمھارے حقنہ کے لئے بھی کسی ناپاك چیز کا استعمال جائز نہ جانیں وہ قرآن عظیم کی آیات کا ناپاك چیز سے لکھنا کیسےجائز بتائیں گےذرا خدا سے ڈر کر بات کیا کرو ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیمواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(گناہوں سے محفوظ رہنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں بجز علم والا ہے اور اس کا علم جس کی شان عظیم ہے سب سے زیادہ کامل اور نہایت پختہ ہے۔ت)
مسئلہ ۱۱۰: از علیگڑھ ۱۵ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں قبلہ رو اپنی عورت سے صحبت کرنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر کپڑا اوڑھے ہے بدن چھپا ہوا ہے تو کچھ حرج نہیں اور اگر برہنہ ہے تو ایك تو برہنہ جماع کرنا خود مکروہ حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے وقت جماع مردوزن کو کپڑا اوڑھ لینے کا حکم دیا اور فرمایا:ولایتجردان تجرد العیر گدھے کی طرح برہنہ نہ ہو۔دوسرے بحالت برہنگی قبلہ کو منہ یا پیٹھ کرنا دوسرا مکروہ وخلاف ادب۔
اسی عالمگیری میں اسی ہدایہ سے یہ تو نہ تھا:
لایجوز ان یداوی بالخمر جرحا اودبر دابۃ ولا ان یسقی ذمیا ولا ان یسقی صبیا للتداوی والوبال علی من سقاہ ۔ جائز نہیں کہ شراب سے کسی زخم یا جانور کی لگی ہوئی پیٹھ کا علاج کرنے نہ کسی ذمی کافر کو پلانا جائز نہ دوا کے لئے بچے کو پلانا اور بچے کو پلانا میں وبال پلانے والے پر ہے۔
غیر مقلد صاحبو! خدارا انصافجو ائمہ دین تمھارے حقنہ کے لئے بھی کسی ناپاك چیز کا استعمال جائز نہ جانیں وہ قرآن عظیم کی آیات کا ناپاك چیز سے لکھنا کیسےجائز بتائیں گےذرا خدا سے ڈر کر بات کیا کرو ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیمواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(گناہوں سے محفوظ رہنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں بجز علم والا ہے اور اس کا علم جس کی شان عظیم ہے سب سے زیادہ کامل اور نہایت پختہ ہے۔ت)
مسئلہ ۱۱۰: از علیگڑھ ۱۵ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں قبلہ رو اپنی عورت سے صحبت کرنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر کپڑا اوڑھے ہے بدن چھپا ہوا ہے تو کچھ حرج نہیں اور اگر برہنہ ہے تو ایك تو برہنہ جماع کرنا خود مکروہ حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے وقت جماع مردوزن کو کپڑا اوڑھ لینے کا حکم دیا اور فرمایا:ولایتجردان تجرد العیر گدھے کی طرح برہنہ نہ ہو۔دوسرے بحالت برہنگی قبلہ کو منہ یا پیٹھ کرنا دوسرا مکروہ وخلاف ادب۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵€۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵€
کنز العمال بحوالہ ابن سعد ∞حدیث ۴۴۸۶۳€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۳۴۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۵۵€
کنز العمال بحوالہ ابن سعد ∞حدیث ۴۴۸۶۳€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۳۴۸€
فی الدرالمختار کرہ تحریما استقبال قبلۃ و استدبارھا الاجل بول اوغائط فلو للاستنجاء لم یکرہ فی ردالمحتار تحریما لما فی المنیۃ ان ترکہ ادب ولما مر فی الغسل ان من ادابہ ان لایستقبل القبلۃ لانہ یکون غالبا مع کشف العورۃ حتی لو کانت مستورۃ لاباس بہ ولقولھم یکرہ مدالرجلین الی القبلۃ فی النوم وغیرہ عمدا وکذا فی حال مواقعۃ اھلہ اھ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ درمختار کےآداب استنجاء میں ہےکہ پیشاب اور پاخانہ کی ضرورت کے وقت قبلہ رخ ہوکر یا اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر استنجاء کے لئے بیٹھنا پڑے تو مکروہ نہیں۔ردالمحتار میں ہےلم یکرہ یعنی مکروہ تحریمی نہیں اس لئےکہ منیۃ المصلی میں ہے استنجا کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرنا مستحب ہےبحث غسل میں گزرا ہےکہ غسل کرنے میں ادب اور مستحب یہ ہے کہ قبلہ کی طرف منہ نہ کرےکیونکہ وہ غالبا کشف عورت کے ساتھ ہوگا(یعنی غسل کرتے وقت اسی کی شرمگاہ ننگی ہوگی حتی کہ اگر شرمگاہ پوشیدہ اور ڈھکی ہوئی ہو تو کچھ حرج نہیں)اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے نیند وغیرہ میں دانستہ طور پر قبلہ کی طرف پاؤں پھیلانا مکروہ ہے اسی طرح اپنی بیوی سے ہمبستری کے وقت (پاؤں پھیلانا)۔(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۱: ۶ ربیع الثانی ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اکثر مساجد میں رنڈیاں چراغ جلاتی ہیں آیا انکا چراغ مسجد میں جلانا جائز ہے یاناجائز
الجواب:
اس قوم کی عادت سنی گئی کہ ایسے مصارف خیر میں جو کچھ صرف کریں اپنے مال خبیث سے نہیں ہوتا بلکہ قرض لے کر صرف کیا جاتا اور اس کا معاوضہ اپنے مال سے دیا جاتاہے اوراگر ایسا ہے جب تو اس کے جواز میں اصلا شبہ نہیں اور اس امر میں کہ یہ صرف اپنے مال سے نہیں قرض سے ہے اس کا قول مقبول ومسموع ہے کما نص علیہ فی الہندیۃ من الکراھیۃ وغیرھا وبیناہ فی فتاونا جیسا کہ
ا
مسئلہ ۱۱۱: ۶ ربیع الثانی ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اکثر مساجد میں رنڈیاں چراغ جلاتی ہیں آیا انکا چراغ مسجد میں جلانا جائز ہے یاناجائز
الجواب:
اس قوم کی عادت سنی گئی کہ ایسے مصارف خیر میں جو کچھ صرف کریں اپنے مال خبیث سے نہیں ہوتا بلکہ قرض لے کر صرف کیا جاتا اور اس کا معاوضہ اپنے مال سے دیا جاتاہے اوراگر ایسا ہے جب تو اس کے جواز میں اصلا شبہ نہیں اور اس امر میں کہ یہ صرف اپنے مال سے نہیں قرض سے ہے اس کا قول مقبول ومسموع ہے کما نص علیہ فی الہندیۃ من الکراھیۃ وغیرھا وبیناہ فی فتاونا جیسا کہ
ا
حوالہ / References
درمختار کتاب الطہارۃ فصل الاستنجاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۷€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ فصل الاستنجاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۲۷€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ فصل الاستنجاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۲۲۷€
فتاوی عالمگیری بحث کراہت وغیرہ میں اس کی تصریح ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کو بیان کیا ہے۔ت)اور اگر یہ صورت نہ ہو بلکہ وہ تیل یا چراغ بعینہ انھیں اجرت افعال محرمہ میں ملے ہیں تو حرام ہیںاسی طرح اگر اپنے حرام مال سے یوں خریدے کہ وہ مال حرم بائع کے سامنے پیش کیا کہ اس کے عوض مثلا تیل دے دے اس نے دے دیا اس نے وہی مال حرام ثمن میں دیا جب بھی امام کرخی کے قول مفتی بہ پر وہ خرید کی ہوئی چیز حرام وخبیث اور اگر ایسا نہیں بلکہ مطلقا تیل وغیرہ بغیر کسی مال حرام کے دکھائے خریدا اگر قیمت دیتے وقت وہی مال حرام دیا جیسا کہ غالب خرید وفروخت کا یہی دستور ہے تو دو قول مصحح ومفتی بہ پر وہ چیزخرید کردہ حلال ہے۔
کما بینہ فی الدرالمختار واوضحہ الامام عبدالغنی النابلسی فی الحدیقۃ الندیۃ وفصلناہ فی الحظر من فتاونا۔ جیسا کہ درمختار میں اس کا بیان فرمایا اور امام عبدالغنی نابلسی نے اس کو"الحدیقۃ الندیہ"میں واضح فرمایا اور ہم نے اپنے فتاوی کی بحث حضر واباحت میں اس کو مفصل بیان کردیا ہے(ت)
اور اگر حالت معلوم نہ ہو تو فتوی جواز اور تقوی احتراز۔
کما افادہ فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الامام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ واوضحنا فی فتاونا بما یتعین المراجعۃ الیہ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری بحوالہ ذخیرہ امام محمد رضی الله تعالی عنہ نے اس کا افادہ پیش کیا اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسے ایسے طریقہ سے واضح کیا کہ اس کی طرف مراجعت سے وہ متعین ہوجاتاہےاور الله تعالی پاك برتر اور سب کچھ جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۱۲ و ۱۱۳: از ملك بنگالہ ضلع کمرالہ ڈاکخانہ چاند پور مرسلہ منشی عبدالرحمن ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)ایك مجلس میں چند آدمی ہوکر قرآن مجید ساتھ آواز بلند کے ہایا خفی کے پڑھنا جائز ہے یا نہیں
(۲)قرآن مجید کو چند آدمی مل کر اس طور پر پڑھنا کہ ایك آدمی کو ئی سورت کے نصف یا ربع یا ایك دو آیت شروع کردے باقی آیتوں کو باقی لوگ انتہائے سورت تك ختم کردیں پس میں آواز ملا کر تقریر جائز ہے یانہیں بینوا بالدلیل مع حوالۃ
کما بینہ فی الدرالمختار واوضحہ الامام عبدالغنی النابلسی فی الحدیقۃ الندیۃ وفصلناہ فی الحظر من فتاونا۔ جیسا کہ درمختار میں اس کا بیان فرمایا اور امام عبدالغنی نابلسی نے اس کو"الحدیقۃ الندیہ"میں واضح فرمایا اور ہم نے اپنے فتاوی کی بحث حضر واباحت میں اس کو مفصل بیان کردیا ہے(ت)
اور اگر حالت معلوم نہ ہو تو فتوی جواز اور تقوی احتراز۔
کما افادہ فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الامام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ واوضحنا فی فتاونا بما یتعین المراجعۃ الیہ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری بحوالہ ذخیرہ امام محمد رضی الله تعالی عنہ نے اس کا افادہ پیش کیا اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسے ایسے طریقہ سے واضح کیا کہ اس کی طرف مراجعت سے وہ متعین ہوجاتاہےاور الله تعالی پاك برتر اور سب کچھ جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۱۲ و ۱۱۳: از ملك بنگالہ ضلع کمرالہ ڈاکخانہ چاند پور مرسلہ منشی عبدالرحمن ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱)ایك مجلس میں چند آدمی ہوکر قرآن مجید ساتھ آواز بلند کے ہایا خفی کے پڑھنا جائز ہے یا نہیں
(۲)قرآن مجید کو چند آدمی مل کر اس طور پر پڑھنا کہ ایك آدمی کو ئی سورت کے نصف یا ربع یا ایك دو آیت شروع کردے باقی آیتوں کو باقی لوگ انتہائے سورت تك ختم کردیں پس میں آواز ملا کر تقریر جائز ہے یانہیں بینوا بالدلیل مع حوالۃ
الکتب توجروا بالتحقیق(بحوالہ کتب دلیل کے ساتھ بیان کرو تاکہ یقینی طو ر پر اجر وثواب کے مستحق قرار پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)قرآن مجید پڑھا جائے اسے کان لگا کر غور سے سننا اور خاموش رہنا فرض ہے:
قال اﷲ تعالی " واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون ﴿۲۰۴﴾" ۔ الله تعالی نے ارشاد فرمایا:جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر(بغور)سنو اور خاموشی اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(ت)
علماء کو اختلاف ہے کہ یہ استماع وخاموش فرض عین ہے کہ جلسہ میں جس قدر حاضر ہوں سب پر لازم ہے کہ ان میں جو کوئی اس کے خلاف کچھ بات کرے مرکتب حرم وگنہگار ہوگا یا فرض کفایہ ہے کہ اگر ایك شخص بغور متوجہ ہو کر خاموش بیٹھا سن رہا ہے تو باقی پر سے فرضیت ساقطثانی اوسع اور اول احوط ہے۔
فی ردالمحتار فی شرح المنیۃ والاصل ان الاستماع للقران فرض کفایۃ لانہ لاقامۃ حقہ بان یکون ملتفتا الیہ غیر مضیع وذلك یحصل بانصات البعض الخ نقل الحموی عن استاذہ قاضی القضاۃ یحیی شھیرۃ بمنقاری زادہ ان لہ رسالۃ حقق فیھا ان استماع القران فرض عین ۔ دوسرے قول میں زیادہ وسعت اور گنجائش ہے جبکہ پہلے قول میں زیادہ احتیاط ہے ردالمحتار میں شرح منیہ کے حوالے سے فرمایا اصل یہ ہے کہ قرآن مجید سننا(شرعا)فرض کفایہ تاکہ اس کا حق قائم ہوجائے اس کی صورت یہ ہے کہ اس کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو اس کو ضائع نہ کرے اور بعض کے خاموش رہنے سے بھی یہ مقصد حاصل ہوجاتاہے الخ۔علامہ حموی سے بھی یہ مقصد حاصل ہوجاتاہے الخ۔علامہ حموی نے اپنے استاذ قاضی القضاۃ یحیی سے(جو منقاری زادہ کے نام سے مشہور تھے)نقل کیا ہے کہ انھوں نے اپنے رسالہ میں تحقیق فرمائی کہ قرآن مجید کا سننا فرض عین ہے۔(ت)
اقول:وبالله التوفیق(میں الله تعالی کے توفیق دینے سے کہتاہوں۔ت)ظاہر
الجواب:
(۱)قرآن مجید پڑھا جائے اسے کان لگا کر غور سے سننا اور خاموش رہنا فرض ہے:
قال اﷲ تعالی " واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون ﴿۲۰۴﴾" ۔ الله تعالی نے ارشاد فرمایا:جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر(بغور)سنو اور خاموشی اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(ت)
علماء کو اختلاف ہے کہ یہ استماع وخاموش فرض عین ہے کہ جلسہ میں جس قدر حاضر ہوں سب پر لازم ہے کہ ان میں جو کوئی اس کے خلاف کچھ بات کرے مرکتب حرم وگنہگار ہوگا یا فرض کفایہ ہے کہ اگر ایك شخص بغور متوجہ ہو کر خاموش بیٹھا سن رہا ہے تو باقی پر سے فرضیت ساقطثانی اوسع اور اول احوط ہے۔
فی ردالمحتار فی شرح المنیۃ والاصل ان الاستماع للقران فرض کفایۃ لانہ لاقامۃ حقہ بان یکون ملتفتا الیہ غیر مضیع وذلك یحصل بانصات البعض الخ نقل الحموی عن استاذہ قاضی القضاۃ یحیی شھیرۃ بمنقاری زادہ ان لہ رسالۃ حقق فیھا ان استماع القران فرض عین ۔ دوسرے قول میں زیادہ وسعت اور گنجائش ہے جبکہ پہلے قول میں زیادہ احتیاط ہے ردالمحتار میں شرح منیہ کے حوالے سے فرمایا اصل یہ ہے کہ قرآن مجید سننا(شرعا)فرض کفایہ تاکہ اس کا حق قائم ہوجائے اس کی صورت یہ ہے کہ اس کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو اس کو ضائع نہ کرے اور بعض کے خاموش رہنے سے بھی یہ مقصد حاصل ہوجاتاہے الخ۔علامہ حموی سے بھی یہ مقصد حاصل ہوجاتاہے الخ۔علامہ حموی نے اپنے استاذ قاضی القضاۃ یحیی سے(جو منقاری زادہ کے نام سے مشہور تھے)نقل کیا ہے کہ انھوں نے اپنے رسالہ میں تحقیق فرمائی کہ قرآن مجید کا سننا فرض عین ہے۔(ت)
اقول:وبالله التوفیق(میں الله تعالی کے توفیق دینے سے کہتاہوں۔ت)ظاہر
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۷ /۲۰۴€
درمختار کتا ب الصلٰوۃ فصل فی القرأۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۶۷۔۳۶۶€
درمختار کتا ب الصلٰوۃ فصل فی القرأۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۶۷۔۳۶۶€
یہ ہے والله تعالی اعلم کہ اگر کوئی شخص اپنے لئے تلاوت قرآن عظیم بآواز کررہا ہے اور باقی لوگ اس کے سننے کو جمع ہوئے بلکہ اپنے اغراض متفرقہ میں ہیں تو ایك شخص تالی کے پاس بیٹھابغور سن رہاہے ادائے حق ہوگیا باقیوں پر کوئی الزام نہیںاوراگر وہ سب اسی غرض واحد کے لئے ایك مجلس میں مجتمع ہیں تو سب پر سننے کا لزوم چاہئے جس طرح نماز میں جماعت مقتدیان کہ ہر شخص پر استماع وانصات جداگانہ فرض ہے یا جس طرح جلسہ خطبہ کہ ان میں ایك شخص مذکر اور باقیوں کو یہی حیثیت واحدہ تذکیر جامع ہے تو بالاتفاق ان سب پر سننا فرض ہے نہ یہ کہ استماع بعض کافی ہو جب تذکیر میں کلام بشیر کا سننا سب حاضرین پر فرض عین ہوا تو کلام الہی کاا ستماع بدرجہ اولی۔
ولا یفرق بافتراض الخطبۃ و رودالامر بقولہ تعالی " فاسعوا الی ذکر اللہ" بخلاف التلاوۃ فان المعتمد وجوب الاستماع لکل خطبۃ ولو خطبۃ ختم القران ولو خطبۃ النکاح کما فی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار وان حملنا القولین علی ماذکرنا من الصورتین یحصل التوفیق۔ خطبہ کی سماعت فرض ہونے میں الله تعالی کے اپنے اس ارشاد" فاسعوا الی ذکر اللہ " (الله تعالی کے ذکر(خطبہ)کی طرف جلدی سے جاؤ)میں امروارد ہونے سے فرق نہ کیا جائے گا بخلاف تلاوت کے کیونکہ سماع خطبہ میں ہر خطبہ شامل ہے اور سماعت واجب ہے خواہ ختم قرآن کا خطبہ ہو یا خطبہ نکاح ہو جیسا کہ فتاوی شامی وغیرہ بڑی کتابوں میں مرقوم ہے۔اگر ہم دوقولوں کو ان دو صورتوں پر حمل کریں کہ جنھیں ہم نے(پہلے بیان کردیا تو دونوں اقوال میں موافقت پیدا ہوجائے گی۔(ت)
بہر حال اس قدر میں شك نہیں کہ قرآن عظیم کا ادب وحفظ حرمت لازم اور اس میں لغو ولغط حرام و ناجائز پس صورت اولی میں جہاں مقصود تلاوت وختم قران ہے۔نہ حاضرین کو سنانا اگرسب آہستہ پڑھیں کہ ایك کی آواز دوسرے کو نہ جائے تو عین ادب واحسن واجب ہے۔اس کی خوبی میں کیا کلاماور اگر چند آدمی بآواز پڑھ رہے ہیں یوں ہی قاری کے پاس ایك یا چند مسلمان بغور سن رہے ہیں اور ان میں باہم اتنا فاصلہ ہے کہ ایك کی آواز سے دوسرے کا دھیان نہیں بٹتا تو قول اوسع پر اس میں بھی حرج نہیں اوراگر کوئی سننے والانہیںیا بعض کی تلاوت بعض اشخاص سن رہے ہیں بعض کی کوئی نہیں سنتا یا قریب آوازیں مختلف ومختلف ہیں کہ جدا جدا سننا میسرہی نہ رہا تو یہ صورتیں بالاتفاق ناجائز و
ولا یفرق بافتراض الخطبۃ و رودالامر بقولہ تعالی " فاسعوا الی ذکر اللہ" بخلاف التلاوۃ فان المعتمد وجوب الاستماع لکل خطبۃ ولو خطبۃ ختم القران ولو خطبۃ النکاح کما فی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار وان حملنا القولین علی ماذکرنا من الصورتین یحصل التوفیق۔ خطبہ کی سماعت فرض ہونے میں الله تعالی کے اپنے اس ارشاد" فاسعوا الی ذکر اللہ " (الله تعالی کے ذکر(خطبہ)کی طرف جلدی سے جاؤ)میں امروارد ہونے سے فرق نہ کیا جائے گا بخلاف تلاوت کے کیونکہ سماع خطبہ میں ہر خطبہ شامل ہے اور سماعت واجب ہے خواہ ختم قرآن کا خطبہ ہو یا خطبہ نکاح ہو جیسا کہ فتاوی شامی وغیرہ بڑی کتابوں میں مرقوم ہے۔اگر ہم دوقولوں کو ان دو صورتوں پر حمل کریں کہ جنھیں ہم نے(پہلے بیان کردیا تو دونوں اقوال میں موافقت پیدا ہوجائے گی۔(ت)
بہر حال اس قدر میں شك نہیں کہ قرآن عظیم کا ادب وحفظ حرمت لازم اور اس میں لغو ولغط حرام و ناجائز پس صورت اولی میں جہاں مقصود تلاوت وختم قران ہے۔نہ حاضرین کو سنانا اگرسب آہستہ پڑھیں کہ ایك کی آواز دوسرے کو نہ جائے تو عین ادب واحسن واجب ہے۔اس کی خوبی میں کیا کلاماور اگر چند آدمی بآواز پڑھ رہے ہیں یوں ہی قاری کے پاس ایك یا چند مسلمان بغور سن رہے ہیں اور ان میں باہم اتنا فاصلہ ہے کہ ایك کی آواز سے دوسرے کا دھیان نہیں بٹتا تو قول اوسع پر اس میں بھی حرج نہیں اوراگر کوئی سننے والانہیںیا بعض کی تلاوت بعض اشخاص سن رہے ہیں بعض کی کوئی نہیں سنتا یا قریب آوازیں مختلف ومختلف ہیں کہ جدا جدا سننا میسرہی نہ رہا تو یہ صورتیں بالاتفاق ناجائز و
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶۲ /۹€
گناہ ہیں اور صورت ثانیہ میں جہاں مقصود سنانا ہے اگر قول احوط پر عمل کیجئے تو چند آدمیوں کا معا آواز سے پڑھنا صریح حرام ہے اوراگر توفیق مذکور پر نظر کی جائے تو جب بھی یہ صورت سب پر لزوم خاموشی کی ہے اور اگر اس سے قطع نظر کرکے قول اوسع ہی لیجئے تاہم اس صورت کے بدعت وشنیع ہونے میں کلام نہیں۔آوازیں ملاناگانے وغیرہ کے مناسب حال ہے۔قرآن عظیم میں یہ ایك نوپیدا امر ہے جس کے لئے دین میں کوئی اصل نہیں اور اس کی تجویز وتزویج میں ایك اور فتنہ عظیم کا اندیشہ صحیحہ ہے آوازیں بنا کر آوازیں ملا کر آوازیں ملا کر گانے کی طرح قرآن پڑھناہوگا تو ایسے لوگ عبارت کو اپنے لہجوں پر منطبق کرنے کے لئے جگہ جگہ آواز گھٹانے بڑھانے کے عادی ہوتے ہیں نظم میں خیریت ہے قرآن عظیم میں جب ایسا اتار چڑھاؤ کیا جائے گا قطعا اجماعا حرام ہوگا لہذا ہر طرح سے ممانعت ہی لازم ہے۔عالمگیری میں ہے:
یکرہ للقوم ان یقرو ا القران جملۃ لتضمنھا ترك الاستماع والا نصات الما مور بھما اھ اقول: وبما قران تبیین ان روایۃ القنیۃ ھذہ ھی التی ینبغی اختیار ھا فیما نحن فیہ دون رواتھا الاخری لاباس باجتماعہم علی قراء ۃ الاخلاص جھرا عند ختم القراں ولو قرأ واھد واستمع الباقون فھو اولی اھ فافھم واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ لوگوں کے لئے قرآن مجید کو جملۃ(یعنی بغیر وقفہ کے)پڑھنا مکروہ ہے اس لئے کہ یہ ترك سماع اور ترك سکوت پر مشتمل ہے حالانکہ دونوں مامور بہ ہیں اھ میں کہتاہوں کہ جو کچھ ہم نے(قارئین کے روبرو)پڑھا اس سے ظاہر ہوگیا کہ قنیہ کی یہی روایت ہماری اس بحث میں اختیار کرنے کے قابل اور مناسب ہے نہ کہ دوسری روایت(کہ جس میں یہ آیا ہے کہ)ختم قرآن کے وقت کسی مجلس اور اجتماع میں سورہ اخلاص بلند آواز سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر ایك شخص پڑھے اور باقی سنیں تو یہ زیادہ بہتر ہے اھ۔الله تعالی پاك برتر اور سب سے زیادہ علم والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۱۴: از بڑودہ ملك گجرات محلہ مغلواڑہ نعلبند وان کاچورہ مکان استاد غریب الله ملازم راجہ بڑودہ مرسلہ مولوی محمد اسرار الحق صاحب دہلوی ۷ رجب المرجب ۱۳۱۷ھ
افضل العماء واکمل الکملاء آیۃ من آیات الله برکۃ من برکات الله مجدد دین نائب سید المرسلین
یکرہ للقوم ان یقرو ا القران جملۃ لتضمنھا ترك الاستماع والا نصات الما مور بھما اھ اقول: وبما قران تبیین ان روایۃ القنیۃ ھذہ ھی التی ینبغی اختیار ھا فیما نحن فیہ دون رواتھا الاخری لاباس باجتماعہم علی قراء ۃ الاخلاص جھرا عند ختم القراں ولو قرأ واھد واستمع الباقون فھو اولی اھ فافھم واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ لوگوں کے لئے قرآن مجید کو جملۃ(یعنی بغیر وقفہ کے)پڑھنا مکروہ ہے اس لئے کہ یہ ترك سماع اور ترك سکوت پر مشتمل ہے حالانکہ دونوں مامور بہ ہیں اھ میں کہتاہوں کہ جو کچھ ہم نے(قارئین کے روبرو)پڑھا اس سے ظاہر ہوگیا کہ قنیہ کی یہی روایت ہماری اس بحث میں اختیار کرنے کے قابل اور مناسب ہے نہ کہ دوسری روایت(کہ جس میں یہ آیا ہے کہ)ختم قرآن کے وقت کسی مجلس اور اجتماع میں سورہ اخلاص بلند آواز سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر ایك شخص پڑھے اور باقی سنیں تو یہ زیادہ بہتر ہے اھ۔الله تعالی پاك برتر اور سب سے زیادہ علم والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۱۴: از بڑودہ ملك گجرات محلہ مغلواڑہ نعلبند وان کاچورہ مکان استاد غریب الله ملازم راجہ بڑودہ مرسلہ مولوی محمد اسرار الحق صاحب دہلوی ۷ رجب المرجب ۱۳۱۷ھ
افضل العماء واکمل الکملاء آیۃ من آیات الله برکۃ من برکات الله مجدد دین نائب سید المرسلین
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۱۷€
القنیۃ المنیۃ لتتمیم الغنیہ کتاب الکراھیۃ والاستحسان باب القرا ء ۃ والدعاء ∞مطبوعہ کلکتہ انڈیا ص۱۵۱€
القنیۃ المنیۃ لتتمیم الغنیہ کتاب الکراھیۃ والاستحسان باب القرا ء ۃ والدعاء ∞مطبوعہ کلکتہ انڈیا ص۱۵۱€
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت مولانا صاحب بریلوی معظمنا ومکرمنا ادامہ الله المنان علی رؤس اھل الایمان من الانس والجان بطول حیاتہ من بعد آداب تسلیمات خادمانہ دست بستہ معروض خدمت فیضد رجت بوجہ تکلیف دہی جناب قبلہ وکعبہ یہی ہے کہ یہاں ایك بہت بڑا فساد ایك امر میں پھیلا ہوا ہے اور فیصلہ اس کا یہاں علماء وجہلا نے آں قبلہ کی تحریر مبارك پر رکھا ہے لہذا جناب تکلیف فرمایا کر اس کا جواب مع دلائل روانہ فرمائیں۔
نحمدہونصلی علی رسول الکریمکیا فرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ ایك شخص واعظ ہے اور وعظ کے درمیان اشعار مدحیہ نبوت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم خوش الحانی کے ساتھ پڑھتا ہے یا وعظ میں حدیثوں کا ترجمہ لحن کے ساتھ نظم میں پڑھتا ہے اور درمیان میں قرآن شریف کی آیات کا لحن عرب میں پڑھتاہے۔آیا اس طرح کا پڑھنے والا گنہگار تو نہ ہوگا اور کوئی شخص قرآن شریف کو ذرا بھی لحن کے ساتھ پڑھے گا یا قصائد حسنہ وترجمہ حدیث نظم کو جیسے کہ اکثر اطفال وجوان وپیر قصائد وغیرہ زور سے پڑھتے ہیں اور اسی کے سننے والے اگر اس پر تعریف کریں یا واہ واہ یا سبحان الله کہیں گے تو کافر ہوجائیں گے اور ان کی عورتیں نکاح سے باہر ہوجائیں گی یا نہیں یہبات صحیح ہے یا غلط بینواتوجروا
الجواب:
یہ حکم تکفیر وزوال نکاح صریح غلط وخطا سخت مردود وناسزا شرع مطہرہ پر کھلا افتراء مسلمانوں کو ناحق ناروا۔کافر بنائنے پر اجترا ہے۔ایسا کہنے والوں پر توبہ فرض ہے قرآن عظیم خوش الحانی سے پڑھنا جس میں لہجہ خوشنما دلکش پسندیدہدل آویزغافل دلوں پر اثر ڈالنے والا ہواور معاذالله رعایت اوزان موسیقی کے لئے ہیئت نظم قرآنی کو بدلا نہ جائےممدود کا مقصور مقصور کا ممدود نہ بنایا جائےحروف مد کو کثیر فاحش کشش جسے اصطلاح موسیقیان میں تان کہتے ہیں نہ دی جائے زمزمہ پیدا کرنے کے لئے بے محل غنہ ونون نہ بڑھا جائےغرض طرز ادا میں تبدیل وتحریف راہ نہ پائے بیشك جائز ومرغوب بلکہ شرعا محبوب ومندوب بلکہ بتاکید اکید مطلوب اعلی درجہ کی زمانہ صحابہ وتابعین وائمہ دین رضی الله تعالی عنہم اجمعین سے آج تك اس کے جواز و استحسان پر اجماع علماء ہے۔
صحیح حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مااذن اﷲ لشیئ مااذن لنبی حسن الصوت یتغنی الله تبارك وتعالی کس چیز کو ایسی توجہ ورضا کے ساتھ نہیں سنتا جیسا کسی خوش آواز نبی کے
نحمدہونصلی علی رسول الکریمکیا فرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ ایك شخص واعظ ہے اور وعظ کے درمیان اشعار مدحیہ نبوت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم خوش الحانی کے ساتھ پڑھتا ہے یا وعظ میں حدیثوں کا ترجمہ لحن کے ساتھ نظم میں پڑھتا ہے اور درمیان میں قرآن شریف کی آیات کا لحن عرب میں پڑھتاہے۔آیا اس طرح کا پڑھنے والا گنہگار تو نہ ہوگا اور کوئی شخص قرآن شریف کو ذرا بھی لحن کے ساتھ پڑھے گا یا قصائد حسنہ وترجمہ حدیث نظم کو جیسے کہ اکثر اطفال وجوان وپیر قصائد وغیرہ زور سے پڑھتے ہیں اور اسی کے سننے والے اگر اس پر تعریف کریں یا واہ واہ یا سبحان الله کہیں گے تو کافر ہوجائیں گے اور ان کی عورتیں نکاح سے باہر ہوجائیں گی یا نہیں یہبات صحیح ہے یا غلط بینواتوجروا
الجواب:
یہ حکم تکفیر وزوال نکاح صریح غلط وخطا سخت مردود وناسزا شرع مطہرہ پر کھلا افتراء مسلمانوں کو ناحق ناروا۔کافر بنائنے پر اجترا ہے۔ایسا کہنے والوں پر توبہ فرض ہے قرآن عظیم خوش الحانی سے پڑھنا جس میں لہجہ خوشنما دلکش پسندیدہدل آویزغافل دلوں پر اثر ڈالنے والا ہواور معاذالله رعایت اوزان موسیقی کے لئے ہیئت نظم قرآنی کو بدلا نہ جائےممدود کا مقصور مقصور کا ممدود نہ بنایا جائےحروف مد کو کثیر فاحش کشش جسے اصطلاح موسیقیان میں تان کہتے ہیں نہ دی جائے زمزمہ پیدا کرنے کے لئے بے محل غنہ ونون نہ بڑھا جائےغرض طرز ادا میں تبدیل وتحریف راہ نہ پائے بیشك جائز ومرغوب بلکہ شرعا محبوب ومندوب بلکہ بتاکید اکید مطلوب اعلی درجہ کی زمانہ صحابہ وتابعین وائمہ دین رضی الله تعالی عنہم اجمعین سے آج تك اس کے جواز و استحسان پر اجماع علماء ہے۔
صحیح حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مااذن اﷲ لشیئ مااذن لنبی حسن الصوت یتغنی الله تبارك وتعالی کس چیز کو ایسی توجہ ورضا کے ساتھ نہیں سنتا جیسا کسی خوش آواز نبی کے
بالقران یجھربہرواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ پڑھنے کو جو خوش الحانی سے کلام الہی کی تلاوت بآواز کرتاہے۔ (ائمہ کرام مثلا امام احمدبخاریمسلمابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
دوسری حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ﷲ اشدا اذ نا الی الرجل احسن الصوت بالقراں یجھر بہ من صاحب القینۃ الی قینۃرواہ ابن ماجۃ وابن حبان والحاکم وقال صحیح علی شرطھما والبیھقی کلھم عن فضالۃ بن عبید رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی جس شوق ورغبت سے گانے کا شوقین اپنی گائن کنیز کا گانا سنتاہے بیشك الله عزوجل اس سے زیادہ پسند ورضا واکرام کے ساتھ اپنے بندے کا قرآن سنتا ہے جو اسے خوش آوازی سے جہر کے ساتھ پڑھے(ابن ماجہابن حبان اور حاکم نے اس کو روایت کیا ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری ومسلم دونوں کی شرط پر صحیح ہے اور امام بیہقی نے بھی اس کو روایت کیا ہے تمام نے حضرت فضالہ بن عبیدرضی الله تعالی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت فرمایا ہے۔(ت)
تیسری حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تعلموا کتاب اﷲ وتعاھدوہ وتغنوا بہرواہ الامام احمد عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قران مجید سیکھو اور اس کی نگہداشت رکھو اسے اچھے لہجے پسندیدہ الحان سے پڑھو(امام احمد نے حضرت عقبہ بن عامر رضی الله تعالی عنہ کی سند سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
دوسری حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ﷲ اشدا اذ نا الی الرجل احسن الصوت بالقراں یجھر بہ من صاحب القینۃ الی قینۃرواہ ابن ماجۃ وابن حبان والحاکم وقال صحیح علی شرطھما والبیھقی کلھم عن فضالۃ بن عبید رضی اﷲ تعالی عنہ۔ یعنی جس شوق ورغبت سے گانے کا شوقین اپنی گائن کنیز کا گانا سنتاہے بیشك الله عزوجل اس سے زیادہ پسند ورضا واکرام کے ساتھ اپنے بندے کا قرآن سنتا ہے جو اسے خوش آوازی سے جہر کے ساتھ پڑھے(ابن ماجہابن حبان اور حاکم نے اس کو روایت کیا ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری ومسلم دونوں کی شرط پر صحیح ہے اور امام بیہقی نے بھی اس کو روایت کیا ہے تمام نے حضرت فضالہ بن عبیدرضی الله تعالی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت فرمایا ہے۔(ت)
تیسری حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تعلموا کتاب اﷲ وتعاھدوہ وتغنوا بہرواہ الامام احمد عن عقبۃ بن عامر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قران مجید سیکھو اور اس کی نگہداشت رکھو اسے اچھے لہجے پسندیدہ الحان سے پڑھو(امام احمد نے حضرت عقبہ بن عامر رضی الله تعالی عنہ کی سند سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن ∞۲ /۷۵۱€ وصحیح مسلم کتاب فضائیل القرآن ∞۱ /۲۶۸،€سن ابی داؤد باب کیف یستحب الترتیل فی القرائۃ ∞۱ /۲۰۷€
المستدرک للحاکم کتاب فضائل القرآن دارالفکر بیروت ∞۱ /۵۷۱،€سنن ابن ماجہ باب فی حسن الصوت بالقرآن ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۹۶،€السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الشہادات تحسین الصوت القراٰن دار صادر بیروت ∞۱۰ /۲۳۰€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۱۴۶€
المستدرک للحاکم کتاب فضائل القرآن دارالفکر بیروت ∞۱ /۵۷۱،€سنن ابن ماجہ باب فی حسن الصوت بالقرآن ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۹۶،€السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الشہادات تحسین الصوت القراٰن دار صادر بیروت ∞۱۰ /۲۳۰€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۱۴۶€
چوتھی حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
زینوا القران باصواتکم فان الصوت الحسن یزید القران حسنا ۔واہ الدارمی فی سننہ ومحمد بن نصر فی کتاب الصلوۃ بلفظ حسنوا و باللفظین رواہ الحاکم فی المستدرك کلھم من البراء بن عازب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو کہ خوش آوازی قرآن کا حسن بڑھا دیتی ہے(امام دارمی نے اپنی سنن میں اور محمد بن نصر نے کتاب الصلوۃ میں حسنوا کے الفاظ سے اس کو روایت کیا ہے اور دونوں لفظوں سے امام حاکم نے المستدرك میں روایت کیا ہے اور سب نے براء بن عازب رضی الله تعالی عنہ کے حوالہ سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
پانچ حدیثوں صحیح رفعی جلیل میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من لم یتغن بالقران رواہ البخاری عن ابوھریرۃ وابوداؤد عن ابی لبابۃ عبدالمنذر وھو کاحمد وابن حبان عن سعد بن ابی وقاص و الحاکم عنہ وعن عائشہ وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم۔ ہمارے طریقے پر نہیں جو قرآن خوش الحانی سے آواز بنا کر نہ پڑھے (امام بخاری نے اس کو حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا جبکہ امام ابوداؤد نے حضرت ابولبابہ عبدالمنذر سے اسے روایت کیا۔نیز اس نے امام احمد اور ابن حبان کی طرح حضرت سعد بن ابی وقاص سے بھی وایت کی ہے اور حاکم نے ان سے یعنی سعد بن ابی وقاص سیدہ عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن عباس(تینوں)سے روایت کی ہے الله تعالی ان سب سے راضی ہو۔(ت)
دسویں حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ھذا القران نزل بحزن بیشك یہ قرآن غم وحزن کے ساتھ اترا
زینوا القران باصواتکم فان الصوت الحسن یزید القران حسنا ۔واہ الدارمی فی سننہ ومحمد بن نصر فی کتاب الصلوۃ بلفظ حسنوا و باللفظین رواہ الحاکم فی المستدرك کلھم من البراء بن عازب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو کہ خوش آوازی قرآن کا حسن بڑھا دیتی ہے(امام دارمی نے اپنی سنن میں اور محمد بن نصر نے کتاب الصلوۃ میں حسنوا کے الفاظ سے اس کو روایت کیا ہے اور دونوں لفظوں سے امام حاکم نے المستدرك میں روایت کیا ہے اور سب نے براء بن عازب رضی الله تعالی عنہ کے حوالہ سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
پانچ حدیثوں صحیح رفعی جلیل میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس منا من لم یتغن بالقران رواہ البخاری عن ابوھریرۃ وابوداؤد عن ابی لبابۃ عبدالمنذر وھو کاحمد وابن حبان عن سعد بن ابی وقاص و الحاکم عنہ وعن عائشہ وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم۔ ہمارے طریقے پر نہیں جو قرآن خوش الحانی سے آواز بنا کر نہ پڑھے (امام بخاری نے اس کو حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا جبکہ امام ابوداؤد نے حضرت ابولبابہ عبدالمنذر سے اسے روایت کیا۔نیز اس نے امام احمد اور ابن حبان کی طرح حضرت سعد بن ابی وقاص سے بھی وایت کی ہے اور حاکم نے ان سے یعنی سعد بن ابی وقاص سیدہ عائشہ صدیقہ اور حضرت ابن عباس(تینوں)سے روایت کی ہے الله تعالی ان سب سے راضی ہو۔(ت)
دسویں حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان ھذا القران نزل بحزن بیشك یہ قرآن غم وحزن کے ساتھ اترا
حوالہ / References
سننن الدارمی باب ∞۳۳€ باب التغنی بالقرآن ∞حدیث ۳۵۰۴€ نشر السنۃ ∞ملتان ۲ /۳۴۰،€المستدرک للحاکم کتاب فضائل القرآن دارالفکر بیروت ∞۱ /۵۷۵€
کنز العمال بحوالہ الدارمی ابن نصر ∞حدیث ۲۷۶۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱ /۶۰۵€
صحیح البخاری کتاب التوحید ∞۲ /۱۱۲۳€ وسنن ابی داؤد باب استحباب الترتیل فی القرآن ∞۱ /۲۰۷،€مسند احمد بن حنبل ∞۱ /۱۷۲€ وکنز العمال ∞حدیث ۲۷۶۹ ۱ /۶۰۵،€المستدرک للحاکم کتاب فضائل القرآن ∞۱ /۵۶۹€
کنز العمال بحوالہ الدارمی ابن نصر ∞حدیث ۲۷۶۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱ /۶۰۵€
صحیح البخاری کتاب التوحید ∞۲ /۱۱۲۳€ وسنن ابی داؤد باب استحباب الترتیل فی القرآن ∞۱ /۲۰۷،€مسند احمد بن حنبل ∞۱ /۱۷۲€ وکنز العمال ∞حدیث ۲۷۶۹ ۱ /۶۰۵،€المستدرک للحاکم کتاب فضائل القرآن ∞۱ /۵۶۹€
وکابۃ فاذا قرأتموہ فابکوافان لم تبکوا فتباکوا وتغنوا بہ فمن لم یتغن بہ فلیس منا رواہ ابن ماجۃ و محمد بن نصرفی الصلوۃ والبیھقی فی شعب الایمان عن سعد بن مالك رضی اﷲتعالی عنہ۔ تو جب اسے پڑھو گریہ کرو اگر رونا نہ آئے بتکلیف روؤ اور قرآن کو خوش الحانی سے پرھو جو اسے الحان خوش سے نہ پڑھے وہ ہمارے طریقے پر نہیں(ابن ماجہ اور محمد بن نصر نے کتاب الصلوۃ میں اور امام بہیقی نے شعب الایمان میں حضرت سعد ابن مالك کے حوالے سے اس کو راویت کیا ہے۔ت)
پھر اس کے ساتھ اگر اس کی قراءت بلا قصد اوزان موسیقی سے کسی وزن کے موافق نکلے تو اصلاح حرج والزام نہیں حتی کہ نماز میں بھی ایسی تلاوت جائز وحسن ومستحسن ہے۔علامہ خیر الملۃ والدین رملی ستاذ صاحب درمختار کے فتاوی خیریہ لنفع البریۃ میں ہے:
سئل فی امام یقرأ فی الجھریات بصوت حسن علی القواعد المقررۃ عند اھل العلم بحیث لا یخل بحکم من احکام القراء ۃ لکن یصادف ان یخرج قراءتہ علی طبق نغم من الانغام المقررۃ فی الموسیقی من غیر لحن وتطریب ھل یجوز ذلك واذا قلتم بالجواز ھل یکرہ ام لااجاب نعم یجوز ذلك ولا یکرہ اذتحسین الصوت بالقرأۃ مطلوب کما صرح بہ المحقق ابن الھمام فی فتح القدیر وقال فی البحر نقلا عن الخلاصۃ وتحسین الصوت لا باس بہ من غیر تغن اس امام کے متعلق پوچھا گیا جو جہری نمازوں میں اچھی آواز کے ساتھ اہل علم کے ہاں ثابت شد قواعد کے مطابق قرآن مجید کی تلاوت کرتاہے اور ایسا طریقہ اپناتا ہے کہ قرأت کے کسی حکم میں خلل پیدا نہیں ہوتا لیکن اس کے باجود وہ اس خوف کے پیش نظر کتراتا اور اعرض کرتاہے کہ کہیں اس کی قرأت موسییقی کے نغموں یا گانے کی سروں سے مشابہ نہ ہو کیا اس کا ایسا پڑھنا جائز ہے بصورت جواز کیا یہ مکروہ بھی نہیں ہے اس نے جواب دیا کہ ہاں یہ جائز ہے اور مکروہ بھی نہیں کیونکہ خوبصورت آواز میں قرآن مجید پڑھنا شرعا مطلوب ہے جیسا کہ محقق ابن الہمام نے فتح القدیر میں تصریح فرمائی۔ بحرالرائق میں خلاصہ سے نقل کیا گیا کہ تحسین صوت میں کوئی حرج نہیں جبکہ بغیر گانے کے ہو۔اور
پھر اس کے ساتھ اگر اس کی قراءت بلا قصد اوزان موسیقی سے کسی وزن کے موافق نکلے تو اصلاح حرج والزام نہیں حتی کہ نماز میں بھی ایسی تلاوت جائز وحسن ومستحسن ہے۔علامہ خیر الملۃ والدین رملی ستاذ صاحب درمختار کے فتاوی خیریہ لنفع البریۃ میں ہے:
سئل فی امام یقرأ فی الجھریات بصوت حسن علی القواعد المقررۃ عند اھل العلم بحیث لا یخل بحکم من احکام القراء ۃ لکن یصادف ان یخرج قراءتہ علی طبق نغم من الانغام المقررۃ فی الموسیقی من غیر لحن وتطریب ھل یجوز ذلك واذا قلتم بالجواز ھل یکرہ ام لااجاب نعم یجوز ذلك ولا یکرہ اذتحسین الصوت بالقرأۃ مطلوب کما صرح بہ المحقق ابن الھمام فی فتح القدیر وقال فی البحر نقلا عن الخلاصۃ وتحسین الصوت لا باس بہ من غیر تغن اس امام کے متعلق پوچھا گیا جو جہری نمازوں میں اچھی آواز کے ساتھ اہل علم کے ہاں ثابت شد قواعد کے مطابق قرآن مجید کی تلاوت کرتاہے اور ایسا طریقہ اپناتا ہے کہ قرأت کے کسی حکم میں خلل پیدا نہیں ہوتا لیکن اس کے باجود وہ اس خوف کے پیش نظر کتراتا اور اعرض کرتاہے کہ کہیں اس کی قرأت موسییقی کے نغموں یا گانے کی سروں سے مشابہ نہ ہو کیا اس کا ایسا پڑھنا جائز ہے بصورت جواز کیا یہ مکروہ بھی نہیں ہے اس نے جواب دیا کہ ہاں یہ جائز ہے اور مکروہ بھی نہیں کیونکہ خوبصورت آواز میں قرآن مجید پڑھنا شرعا مطلوب ہے جیسا کہ محقق ابن الہمام نے فتح القدیر میں تصریح فرمائی۔ بحرالرائق میں خلاصہ سے نقل کیا گیا کہ تحسین صوت میں کوئی حرج نہیں جبکہ بغیر گانے کے ہو۔اور
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلٰوۃ باب فی حسن الصوت بالقرآن ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۹۶€
وفی التبیان فی آداب حملۃ القران اجمع العلماء رضی اﷲ تعالی عنہم من السلف والخلف من الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من علماء الامصار ائمہ المسلمین علی استحسان تحسین الصوت بالقران واقوالھم وافعالھم مشہورۃ نھایۃ الشھرۃ فنحن مستغنون عن نقل شیئ من افرادھا دلائل ھذا من حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مستفیضۃ عندا لخاصۃ والعامۃ کحدیث زینوا القران باصواتکم وحدیث ابوموسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لہ لقد اوتیت مزمارامن مزامیر داؤد راوہ البخاری ومسلم وفی روایۃ المسلم ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لہ لورأیتنی وانا اسمع لقرأتك البارحۃ رواہ مسلم ایضا من روایۃ بریدۃ بن الحصیب(ثم ذکر الحدیثین الاولین ببعض ماذکرنا لھما من التخاریج ثم قال)وحدیث ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال تبیان فی آداب حملۃ القرآن"میں ہے سلف خلف صحابہ اور تابعین اور ان کے بعد جتنے شہروں میں علماء کرام اور مسلمانوں کے امام ہوئے ہیں ان سب کا اچھی اور خوبصور ت آواز کے ساتھ قراآن مجید پڑھنے کے مستحسن ہونے پر اتفاق ہے۔اور اس سلسلے میں ان کے اقوال وافعال بہت مشہور ہیں پس ہم ان کے کسی حصہ کو نقل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔اس کے دلائل حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کی حدیث سے عام اور خاص سب لوگوں میں مشہور ہیں جیسا کہ حدیث زینوا القران باصواتکم یعنی اپنی آوازوں سے قرآن مجید کو زینت بخشو(مراد یہ کہ خوبصورت لہجے کے ساتھ قرآن مجید پرھو)اور حضرت ابوموسی اشعری رضی الله تعالی عنہ نے ان سے فرمایا کہ تجھے حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام جیسی خوش الحانی عطا ہوئی ہے۔اس کو امام بخاری نے روایت کیا ہے اور مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کاش تو مجھے دیکھتا جب میں گزشتہ رات تیری قرأت سن رہا تھا۔نیز امام مسلم نے اس کو حضرت بریدہ بن حصیب سے بھی روایت کیا ہے پھر وہ دو پہلی احادیث ان تخرجات کے ساتھ ذکر فرمائیں جن کا کچھ حصہ ہم نے ذکر کیا تھا۔پھر فرمایا حضرت ابوامامہ رضی الله تعالی عنہ کی حدیث کہ نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
من لم یتغن بالقران فلیس منا رواہ ابوداؤد باسناد جید قال جمھور العلماء معنی لم یتغن لم یحسن صوتہ الخ۔ جو کوئی خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید نہ پڑھے وہ ہمارے طریقے پر نہیں۔امام ابوداؤد نے جید سند کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے جمہور علماء کرام کہتے ہیں کہ لم یتغن کا مفہوم لم یحسن صوتہ یعنی اچھی اور خوبصورت آواز کے ساتھ نہ پڑھنا ہے الخ(ت)
اسی میں ہے:
اما تحسین الصوت فلا اظن ان قائلا مایمنعہ لعدم وجہہ بل کان جماعۃ من السلف یطلبون من اصحاب القرأۃ بالاصوات الحسنۃ ان یقرؤا وھم یستمعون وھذا متفق علی استحبابہ وھو عادۃ الاخیار والمتعبدین وعباداﷲ الصالحین ۔ جہاں تك اچھی اور خوبصورت آواز کا تعلق ہے تو میں نہیں خیال کرتا کہ کوئی اس سے منع کرتا ہو اس لئے کہ اس ممانعت کی کوئی وجہ نہیں بلکہ سلف میں ایك جماعت ایسی ہونی ہے جو پڑھنے والوں سے اچھی آواز کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کا مطالبہ اور تقاضہ کیاکرتی تھی تاکہ وہ لطف اندوز ہوں چنانچہ اس کے مستحب ہونے پر اتفاق پایا جاتاہے اور یہ اچھے لوگوں عبادت گزاروں اور الله تعالی کے نیك بندوں کی عادت اور روش رہی ہے۔(ت)
تو ایسے امر محمود ومسعود کی تحسین پر جو خود ائمہ رسول کو محبوب اورباجماع صحابہ وتابعین وائمہ دین مستحسن ومندوب ہے معاذالله کفر وبطلان نکاح کا حکم دینا خیال کیجئے کہاں تك پہنچتاہے فرق اجماع امت ہے تکفیر جملہ امت کی خبر دیتاہے۔خود ان قائلوں کو چاہئے کہ بعد توبہ اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں ہاں معاذالله بالقصد راگنی پر قرآن عظیم ٹھیك کرنا اس کی درستی کو بے جگہ مدیا حرکت یا غنہ وغیرہا بڑھانا گھٹانا تانیں لینا یہ ضرور حرام اور اس کی تحسین اس پر سبحانہ الله وافریں اس سے زیادہ حرام تر ومجمع آثام ہے والعیاذ بالله تعالی(الله تعالی کی پناہ۔ت)حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اسی میں ہے:
اما تحسین الصوت فلا اظن ان قائلا مایمنعہ لعدم وجہہ بل کان جماعۃ من السلف یطلبون من اصحاب القرأۃ بالاصوات الحسنۃ ان یقرؤا وھم یستمعون وھذا متفق علی استحبابہ وھو عادۃ الاخیار والمتعبدین وعباداﷲ الصالحین ۔ جہاں تك اچھی اور خوبصورت آواز کا تعلق ہے تو میں نہیں خیال کرتا کہ کوئی اس سے منع کرتا ہو اس لئے کہ اس ممانعت کی کوئی وجہ نہیں بلکہ سلف میں ایك جماعت ایسی ہونی ہے جو پڑھنے والوں سے اچھی آواز کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کا مطالبہ اور تقاضہ کیاکرتی تھی تاکہ وہ لطف اندوز ہوں چنانچہ اس کے مستحب ہونے پر اتفاق پایا جاتاہے اور یہ اچھے لوگوں عبادت گزاروں اور الله تعالی کے نیك بندوں کی عادت اور روش رہی ہے۔(ت)
تو ایسے امر محمود ومسعود کی تحسین پر جو خود ائمہ رسول کو محبوب اورباجماع صحابہ وتابعین وائمہ دین مستحسن ومندوب ہے معاذالله کفر وبطلان نکاح کا حکم دینا خیال کیجئے کہاں تك پہنچتاہے فرق اجماع امت ہے تکفیر جملہ امت کی خبر دیتاہے۔خود ان قائلوں کو چاہئے کہ بعد توبہ اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں ہاں معاذالله بالقصد راگنی پر قرآن عظیم ٹھیك کرنا اس کی درستی کو بے جگہ مدیا حرکت یا غنہ وغیرہا بڑھانا گھٹانا تانیں لینا یہ ضرور حرام اور اس کی تحسین اس پر سبحانہ الله وافریں اس سے زیادہ حرام تر ومجمع آثام ہے والعیاذ بالله تعالی(الله تعالی کی پناہ۔ت)حدیث میں ہے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الکراھیۃ والاستحسان دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۱۷۷ و ۱۷۶€
فتاوٰی خیریہ کتاب الکراھیۃ والاستحسان دارالمعفرۃ بیروت ∞۲ /۱۷۷€
فتاوٰی خیریہ کتاب الکراھیۃ والاستحسان دارالمعفرۃ بیروت ∞۲ /۱۷۷€
اقرؤا القران بلحون لعرب واصواتھا ویاکم ولحون اھل الکتابین واھل الفسق فانہ سیجیئ بعدی قوم یرجعون بالقران ترجیع الغناء والرھبانیۃ والنوح لایجاوز حناجرھم مفتونۃ قلوبھم وقلوب من یعجبھم شانھم رواہ الطبرانی فی الاوسط والبیھقی فی الشعب عن حذیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ قرآن مجید عرب کے لحنوں میں پڑھو اور یہود ونصاری اہل فسق کے لحنوں سے بچو کہ میرے بعد کچھ لوگ آنے والے ہیں جو قرآن آ آ کرکے پڑھیں گے جیسے گانے کی تانیں اور راہبوں اور مرثیہ خوانوں کی اتار چڑھاؤ قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا یعنی ان کے دلوں پر کچھ اثر نہ کرے گا فنتے میں ہوں گے ان کے دل اور جنھیں ان کی یہ حرکت پسند آئے گی ان کے دل(طبرانی نے الاوسط میں اور بہیقی نے شعب الایمان میں حضرت حذیفہ رضی الله تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
تیسیر شرح جامع الصغیر میں ہے:
(واھل الفسق)من المسلمین الذین یخرجون القران عن موضوعہ بالتمطیط بحیث یزید او ینقص حرفا فانہ حرام اجماعا ۔ مسلمانوں میں فاسق وہ لوگ ہیں جو قرآن مجید کی تلاوت اور آدائیگی میں کمی بیشی کرتے ہیں یعنی الفاظ وحروف گھٹا یا بڑھا دیتے ہیں اور ایسا کرنابالاتفاق حرام ہے۔(ت)
خیریہ میں بعد عبارت مذکورہ سابقا ہے:
ثم قال(ای فی التبیان)قال العلماء رحمہم اﷲ یستحب تحسین الصوت بالقراء ۃ تزیینھا مالم یخرج عن حد القرأۃ بالتمطیط فان افرط حتی زاد حرفا اواخفاہ نھو حرام انتھی فان قلت پھر تبیان میں فرمایا علماء کرام(الله تعالی ان پر رحم فرمائے) کہتے ہیں کہ خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کو بنا سنوا ر کر پڑھنا مستحب ہے بشرطیکہ قراءت کی حد سے تجاوز نہ کرتے ہوئے باہر نہ نکلے پھر اگر اس نے افراط سے کام لیا یعنی کوئی حرف بڑھا دیا یا کم اور پست کردیا تو ایسا کرنا
تیسیر شرح جامع الصغیر میں ہے:
(واھل الفسق)من المسلمین الذین یخرجون القران عن موضوعہ بالتمطیط بحیث یزید او ینقص حرفا فانہ حرام اجماعا ۔ مسلمانوں میں فاسق وہ لوگ ہیں جو قرآن مجید کی تلاوت اور آدائیگی میں کمی بیشی کرتے ہیں یعنی الفاظ وحروف گھٹا یا بڑھا دیتے ہیں اور ایسا کرنابالاتفاق حرام ہے۔(ت)
خیریہ میں بعد عبارت مذکورہ سابقا ہے:
ثم قال(ای فی التبیان)قال العلماء رحمہم اﷲ یستحب تحسین الصوت بالقراء ۃ تزیینھا مالم یخرج عن حد القرأۃ بالتمطیط فان افرط حتی زاد حرفا اواخفاہ نھو حرام انتھی فان قلت پھر تبیان میں فرمایا علماء کرام(الله تعالی ان پر رحم فرمائے) کہتے ہیں کہ خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کو بنا سنوا ر کر پڑھنا مستحب ہے بشرطیکہ قراءت کی حد سے تجاوز نہ کرتے ہوئے باہر نہ نکلے پھر اگر اس نے افراط سے کام لیا یعنی کوئی حرف بڑھا دیا یا کم اور پست کردیا تو ایسا کرنا
حوالہ / References
المعجم الاوسط ∞حدیث ۷۲۱۹ مکتبہ المعارف ریاض ۸ /۱۰۸،€شعب الایمان ∞حدیث ۲۶۴۹€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۵۴۰€
التیسیرشرح الجامع الصغیر حرف الہمزۃ تحت حدیث اقراء القرآن مکتبہ الامام الشافعی الریاض ∞۱ /۱۹۴€
التیسیرشرح الجامع الصغیر حرف الہمزۃ تحت حدیث اقراء القرآن مکتبہ الامام الشافعی الریاض ∞۱ /۱۹۴€
ماتصنع فیما نص علیہ فی البزازیۃ وغیرھا من کتاب الاستحسان قراء ۃ القراں بالالحان معصیۃ والتالی والسامع اثمان قلت محلہ اذ اخرج لفظ القران عن صیغتہ بادخال حرکات فیہ اواخراج حرکات منہ او قصر ممدود او مد مقصور اوتمطیط یخفی بہ القظ او یلبس بہ المعنی فھو دراء یفسق بہ القاری ویأثم بہ المستمع لانہ عدل بہ عن نھجہ القویم الی الاعو جاج واﷲ تعالی یقول قرانا عربیا غیر ذی عوج وان لم یخرجہ اللحن عن لفظہ قرأتہ علی ترتیلہ کان مباحا لانہ زاد بالحانہ فی تحسینہ ویؤید ذلك تفسیر کثیر من علمائنا التغنی فی کلام ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما فی الاذان بالتطریب الذی ھو اخراج الکلام عن موضوعہ الاصلی و صیغتہ واماتحسین الصوت فلا اظن ان قائلا ما یمنعہ الی اخر مامر۔ حرام ہے اھ اگر تو یہ کہے کہ بزازیہ وغیرہ کی"کتاب الاستحسان"میں بیان کردہ صراحت کا کیا جواب ہوگا جس میں یہ مذکور ہے کہ قرآن مجید غیرموزوں لہجوں کے ساتھ بگاڑ کر پرھنا گناہگار ہوں گےمیں کہتاہوں اورجواب دیتا ہوں کہ اس کا محل یہ ہے کہ جب لفظ قرآن کو اس کے مخرج سے نکالتے ہوئے اس میں کچھ حرکات داخل یا خارج کردے یا حروف ممدودہ کو مختصر کردے یا غیر ضروری درازی کردے جس سے لفظ کی ہیئت بدل جائے یا اس کے معانی میں اشتباہ پیدا ہوجائے تو ایسا کرنا حرام ہے اس طرح کاپڑھنےوالا فاسق اور سننے والا گنہ گار ہوگا کیونکہ اس طرح کرنے سے اس نے اس لفظ کو اس کے درست مقام سے ہٹا کر بدل ڈالاجبکہ الله تعالی کا ارشاد ہے کہ یہ عربی زبان میں قرآن ہے جس میں بالکل کجی اور ٹیڑھا پن نہیں ہے۔اور اگر لہجہ اس لفظ کو اس کی ترتیل کے مطابق پڑھتے ہوئے نہ نکالے تو یہ مباح ہے کیونکہ اس نے اپنے لہجہ سے اس کے حسن میں اضافہ کیا ہے اور اس کی تائید تغنی کی اس تفسیر سے ہوتی ہے جو متعدد علماء کرام نے حضرت عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما کے کلام التطریب فی الاذان سے فرمائی ہے یعنی وہ اذن میں تطریب کیا کرتے تھےاور اصل تطریب کلام کو اس کے ٹھکانے اور صیغے سے نکالنے کا نام ہے(اوریہاں صرف خوش الحانی سے آواز بلند کرنا ہے)
ریا تحسین صوت(آواز کو بنا سنوار کرخوبصورت بنا کر پڑھنا)میراخیال ہے کہ کوئی بھی اس کو منع کرنے والا نہ ہوگا۔پھر آخر تك وہی کلام دہرایا گیا جو گزر چکا ہے۔(ت)
اشعار حسنہ محمودہ کا پڑھنا جن میں حمد الہی ونعت رسالت پناہی جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلم ومنقبت آل واصحاب واولیاء وعلمائے دین رضی الله تعالی عنہم اجمعین بروجہ صحیح اور نجیع مقبول شرعی یا ذکر موت وتذکیر آخرت واہوال قیامت وغیر ذلك مقاصد شرعیہ ہو قطعا جائز وروا اور خود زمانہ اقدس حضور پر نورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے آج تك تمام ائمہ دین وعباد الله الصالحین میں رائج دیا ہے۔صحیح بخاری شریف میں ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق صلی الله تعالی علی زوجہا الکریم و ابیہا وعلیہا وسلم سے ہے:
قالت کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ یؤید حسان بروح القدس مانا فح او فاخر عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ یعنی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حسان بن ثابت انصاری رضی الله تعالی عنہ کے لئے مسجد اقدس نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم میں منبر بچھاتے حسان اوپر کھڑے ہو کر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے فضائل ومفاخر بیان کرتے حضور کی طرف سے طعنا ئے کفا کا رد کرتے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے جب تك حسان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طر ف سے اس مفاخرت یا مدافعت میں مشغول رہتاہے الله عزوجل جبریل امین سے اس کی مدد فرماتا ہے۔
پھر ظاہر کہ وعظ کے اشعار حدیث کے ترجمے اس قسم میں داخل ہیں تو ایسی شعر خوانی کا جواز بالیقین ہے اور جب خوش الحانی خودقرآن عظیم میں مطلوب ومندوب ہوئی تویہ شعر ہے یہاں اگر الحان کے لئے مدقصر وحرکات وسکنات وغیرہ ہئیات حروف میں کچھ تغیر بھی ہو تو حرج نہیں جب کہ صرف سالہ دہ خوش الحانی ہوا ور تمام منکرات شرعیہ سے خالی اس قدر بھی احکام شدید مذکورہ تکفیر و زوال نکاح میں تقریبا ویسی ہی ناپاکی وبیباکی ہے حلال کو حرام مسلمان کو کافر بتانا کس شریعت نے مانا اس قدر کو عرف میں پڑھنا کہتے ہیں نہ کہ گانا کہ موسیقی کے اوزان مقررہ نغمان محررہ طرقات مطربہ قرعات معجبہ اتار چڑھاؤ زیرو بم تان گٹکری تال سم کی رعایت سے رنڈیوں ڈومنیوں مراثیوں ڈھاریوں نقالوں قوالوں وغیرہم میں معمول اور باوضع شرفاء مہذبین صنعا میں معیوب ومخذول محمود ومباح
اشعار حسنہ محمودہ کا پڑھنا جن میں حمد الہی ونعت رسالت پناہی جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلم ومنقبت آل واصحاب واولیاء وعلمائے دین رضی الله تعالی عنہم اجمعین بروجہ صحیح اور نجیع مقبول شرعی یا ذکر موت وتذکیر آخرت واہوال قیامت وغیر ذلك مقاصد شرعیہ ہو قطعا جائز وروا اور خود زمانہ اقدس حضور پر نورسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے آج تك تمام ائمہ دین وعباد الله الصالحین میں رائج دیا ہے۔صحیح بخاری شریف میں ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق صلی الله تعالی علی زوجہا الکریم و ابیہا وعلیہا وسلم سے ہے:
قالت کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اﷲ یؤید حسان بروح القدس مانا فح او فاخر عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ یعنی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم حسان بن ثابت انصاری رضی الله تعالی عنہ کے لئے مسجد اقدس نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم میں منبر بچھاتے حسان اوپر کھڑے ہو کر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے فضائل ومفاخر بیان کرتے حضور کی طرف سے طعنا ئے کفا کا رد کرتے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے جب تك حسان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کی طر ف سے اس مفاخرت یا مدافعت میں مشغول رہتاہے الله عزوجل جبریل امین سے اس کی مدد فرماتا ہے۔
پھر ظاہر کہ وعظ کے اشعار حدیث کے ترجمے اس قسم میں داخل ہیں تو ایسی شعر خوانی کا جواز بالیقین ہے اور جب خوش الحانی خودقرآن عظیم میں مطلوب ومندوب ہوئی تویہ شعر ہے یہاں اگر الحان کے لئے مدقصر وحرکات وسکنات وغیرہ ہئیات حروف میں کچھ تغیر بھی ہو تو حرج نہیں جب کہ صرف سالہ دہ خوش الحانی ہوا ور تمام منکرات شرعیہ سے خالی اس قدر بھی احکام شدید مذکورہ تکفیر و زوال نکاح میں تقریبا ویسی ہی ناپاکی وبیباکی ہے حلال کو حرام مسلمان کو کافر بتانا کس شریعت نے مانا اس قدر کو عرف میں پڑھنا کہتے ہیں نہ کہ گانا کہ موسیقی کے اوزان مقررہ نغمان محررہ طرقات مطربہ قرعات معجبہ اتار چڑھاؤ زیرو بم تان گٹکری تال سم کی رعایت سے رنڈیوں ڈومنیوں مراثیوں ڈھاریوں نقالوں قوالوں وغیرہم میں معمول اور باوضع شرفاء مہذبین صنعا میں معیوب ومخذول محمود ومباح
حوالہ / References
احیاء العلوم بحوالہ صحیحین کتاب آداب السماع والوجد مطبعۃ المشہد الحسینی ∞۲ /۲۷۴€
اشعار کا سادہ خوش الحانی سے پڑھنا بھی زمانہ صحابہ وتابعین وائمہ دین مجوزہ مقبول ہے بلکہ خود بعض صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم اجمعین سے ماثور ومنقول بلکہ خود حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سامنے ہونا حضور سنتے اور انکار نہ فرماتے بارگاہ رسالت میں حدی خوانی پر صحابہ مقرر تھے۔کہ اپنی خوش الحانیوں دلکش صدی خوانیوں سے اونٹوں کو راہ روی میں وارفتہ بناتےانس بن مالك رضی الله تعالی عنہ کے برادر اکرم سیدنا براء بن مالك رضی الله تعالی عنہ خود موکب اقدس کے حدی خواں تھے عجب آواز دلکش رکھتے اور بہت خوبی سے اشعار حدی پڑھتے یہ اجلہ صحابہ کرام سے ہیں بدر کے سوا سب مشاہد میں حاضر ہوئے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ان کی نسبت فرمایا:بہت الجھے بال میلے کپڑے والے جن کی کوئی پروا نہ کرے ایسے ہیں کہ الله عزوجل پر کسی بات میں قسم کھالیں تو خدا ان کی قسم سچی ہی کرے انھیں میں سے برادر بن مالك ہے "
ایك روز انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ ان کے پاس گئے اس وقت اشعار اپنے الحال سے پڑھ رہے تھے انھوں نے کہا کہ آپ کو الله عزوجل نے وہ چیز عطا فرمائی جو اس سے بہتر یعنی قرآن عظیم فرمایاکیا یہ ڈرتے ہو کہ بچھونے پر مروں گا خدا کی قسم الله مجھے شہادت سے محروم نہ کرے گا سو کا فر تو میں نے نہا قتل کئے ہیں اور جو شرکت میں مارے ہیں وہ علاوہ جب خلافت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ میں قلہ تستر پر جہاد ہوا ہے اور مسلمانوں کو سخت دقت پیش آئی حدیث مذکور سنے ہوئے تھے ان سے کہا اپنے رب قسم کھائے انھوں قسم کھائی کہ اے رب میرے! کافروں پر ہمیں قابوں دے کہ ہم ان کی مشکیں کس لیں اور مجھے اپنے نبی سے ملایہ کہہ کر حملہ آور ہوئے اور ان کے ساتھ مسلمانوں نے حملہ کیا ایرانیوں کا سپہ سالار ہر مزان مارا گیا کافر بھاگ گئے اور براء شہید ہوئے رضی الله تعالی عنہ اور بیبیوں کے ہودجوں پر انجشہ حبشی رضی الله تعالی عنہ حدی خوانی کرتے ان کی خوش آوازی مشہور تھی حجۃ الوداع شریف میں حدی پڑھی ہے اور اونٹ گرمائے بہت تیز چل نکلےسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اے انجشہ! آہستہشیشیوں کے ساتھ نرمی کر شیشیوں سے مراد عورتیں ہیںیعنی اونٹ اتنے تیز نہ کروکہ تکلیف ہوگی یا عورتوں کا مجمع ہے خوش الحانی حد سے نہ گزاروان کے سوا سیدنا عبدالله بن رواحہ سیدنا عامر بن الاکوع رضی الله تعالی عنہما بھی حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے آگے حدی خوانی کرتے چلتےروز عمرۃ القضاء جب لشکر ظفر پیکر محبوب اکبر صلی الله
ایك روز انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ ان کے پاس گئے اس وقت اشعار اپنے الحال سے پڑھ رہے تھے انھوں نے کہا کہ آپ کو الله عزوجل نے وہ چیز عطا فرمائی جو اس سے بہتر یعنی قرآن عظیم فرمایاکیا یہ ڈرتے ہو کہ بچھونے پر مروں گا خدا کی قسم الله مجھے شہادت سے محروم نہ کرے گا سو کا فر تو میں نے نہا قتل کئے ہیں اور جو شرکت میں مارے ہیں وہ علاوہ جب خلافت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ میں قلہ تستر پر جہاد ہوا ہے اور مسلمانوں کو سخت دقت پیش آئی حدیث مذکور سنے ہوئے تھے ان سے کہا اپنے رب قسم کھائے انھوں قسم کھائی کہ اے رب میرے! کافروں پر ہمیں قابوں دے کہ ہم ان کی مشکیں کس لیں اور مجھے اپنے نبی سے ملایہ کہہ کر حملہ آور ہوئے اور ان کے ساتھ مسلمانوں نے حملہ کیا ایرانیوں کا سپہ سالار ہر مزان مارا گیا کافر بھاگ گئے اور براء شہید ہوئے رضی الله تعالی عنہ اور بیبیوں کے ہودجوں پر انجشہ حبشی رضی الله تعالی عنہ حدی خوانی کرتے ان کی خوش آوازی مشہور تھی حجۃ الوداع شریف میں حدی پڑھی ہے اور اونٹ گرمائے بہت تیز چل نکلےسید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اے انجشہ! آہستہشیشیوں کے ساتھ نرمی کر شیشیوں سے مراد عورتیں ہیںیعنی اونٹ اتنے تیز نہ کروکہ تکلیف ہوگی یا عورتوں کا مجمع ہے خوش الحانی حد سے نہ گزاروان کے سوا سیدنا عبدالله بن رواحہ سیدنا عامر بن الاکوع رضی الله تعالی عنہما بھی حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کے آگے حدی خوانی کرتے چلتےروز عمرۃ القضاء جب لشکر ظفر پیکر محبوب اکبر صلی الله
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب البراء بن مالک ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۶۲€۶
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ ترجمہ البراء بن مالک دارصادر بیروت ∞۱ /۱۴۳€
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ ترجمہ البراء بن مالک دارصادر بیروت ∞۱ /۱۴۳،€شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ المقصد الثانی الفصل السابع دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۷۷€
شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ المقصد الثانی الفصل السابع دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۷۷€
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ ترجمہ البراء بن مالک دارصادر بیروت ∞۱ /۱۴۳€
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ ترجمہ البراء بن مالک دارصادر بیروت ∞۱ /۱۴۳،€شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ المقصد الثانی الفصل السابع دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۷۷€
شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ المقصد الثانی الفصل السابع دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۷۷€
تعالی علیہ وسلم باہزاراں جاہ وجلال داخل مکہ ہوا ہے عبدالله بن رواحہ رضی الله تعالی عنہ آگے آگے رجز کے اشعار سناتے کافروں کے جگہ پر تیر رساتے جارہے تھے امیر المومنین عمر رضی الله تعالی عنہ نے منع کیا کہ اے ابن رواحہ! رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کے آگے اور الله جل جلالہ کے حرم کیں یہ شعر خوانی۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:پڑھنے دو کہ یہ ان پر تیروں سے زیادہ کار گر ہے۔اور ایك حدیث میں آیا ارشد فرمایا:اے عمر! ہم سن رہے ہیں تم بھی خاموش رہو بالجملہ ممانعت منازعت جو کچھ ہے گانے میں ہے یا معاذالله اشعار ہی خود برے ہوں اگر چہ بظاہر نعت و حقیقت کا نام ہو جیسے بے قیدوں کے خلاف شرع شعر کو توہین انبیائے کرام وملائکہ عظام علیہم الصلوۃ والسلام بلکہ تنقیص شان سیدالانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام بلکہ گستاخی وبے ادبی بار گاہ عزت ذی الجلال والاکرام کچھ اٹھانہ رکھیں اور نعت و منقبت کا نام بد نام یا محل محل فتنہ خواہ فطنہ فتنہ ہو جیسے زن اجنبیہ کا مردوں کے جلسے میں خوش الحانی کرنا یا خارج سے امور نامشروعہ کا قدم درمیان ہو مثلا مزامیرتالیاںلچکاتوڑابھاؤبتانا جیسے آج کل بعض بے شرم واعظان نیچری مشرب آزادی مذہب نے اپنی مجلس گرم کرنے کا اندازبنا رکھا ہے۔اشعار گائیں مثنوی مولانا روم کے اور رنگ رچائیں مثنوی میر حسن کی دھوم کے الی غیر ذلك من المحذورات والمجتنبۃ والمحظورات المتجلیۃ(ا سکے علاوہ اجتناب کردہ محرمات اور لائے ہوئے ممنوعات ہیں۔ت)یہ تیرہ وتیرہ برت کہ جو چاہے حلال کو حرام کرے ورنہ سادہ خوش الحانی کے ساتھ جائز شعر خوانی کے جواز میں اصلا جائے کلام نہیں بلکہ اشعار مجموعہ بہ نیت محمودہ اعمال محمودہ ہیں معدود باعث اجر وضائے رب ودود ہیں۔مواہب اللدنیہ وشروح علامہ زرقانی میں ہے:
کان یحدوبین یدیہ علیہ الصلوۃ والسلام فی السفر عبداﷲ بن رواحۃ الامیر المستشھدبموتۃ ای یقول الحداء بضم المھملۃ وھو ا لغناءللابل(وفی الترمذی عن انس انہ صلی اﷲ تعالی علیہ حضرت عبدالله بن رواحہ سفر میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے حدی خوانی کیا کرتے تھے یہ امیر لشکر تھے جو غزوہ موتہ شہید ہوئے کان یحدو ای یقول الحداء بعضم المھملۃ وھو الغناء للابل)یعنی"کان یحدو"کے معنی ہیں وہ اونٹوں کی تیز رفتاری کے لئے خوش الحانی سے گیت گایا کرتے تھےالحداء بے نقطہ صرف"ح"کی پیش کے ساتھ اونٹوں کے لئے گیت گانے کو
کان یحدوبین یدیہ علیہ الصلوۃ والسلام فی السفر عبداﷲ بن رواحۃ الامیر المستشھدبموتۃ ای یقول الحداء بضم المھملۃ وھو ا لغناءللابل(وفی الترمذی عن انس انہ صلی اﷲ تعالی علیہ حضرت عبدالله بن رواحہ سفر میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے حدی خوانی کیا کرتے تھے یہ امیر لشکر تھے جو غزوہ موتہ شہید ہوئے کان یحدو ای یقول الحداء بعضم المھملۃ وھو الغناء للابل)یعنی"کان یحدو"کے معنی ہیں وہ اونٹوں کی تیز رفتاری کے لئے خوش الحانی سے گیت گایا کرتے تھےالحداء بے نقطہ صرف"ح"کی پیش کے ساتھ اونٹوں کے لئے گیت گانے کو
وسلم دخل مکۃ فی عمرۃ القضیۃ(ابن رواحۃ یمشی بین یدیہ ویقول
خلو بنی الکفار عن سبیلہ
الیوم نضربکم علی تنزیلہ
ضربا یزیل الھام عن مقیلہ
ویذھل الخلیل عن خلیلہ
فقال عمر یا ابن رواحۃ بین یدی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وفی حرم اﷲ تقول الشعر فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خل عنہ یا عمر فلھی فیھم اسرع من نضح النبلوفی روایۃ انہ لما النبل وفی روایہ انہ لما انکر عمر علیہ قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا عمرانی اسمع فاسکت یا عمر(وعامر بن اکوع)کان یحدو بین یدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(واستشھد یوم خیبر و انجشہ العبد الاسود) کان حسن الحداء وفی الصحیح عن انس کان حسن الصوت(قال انس)فی الصحیحین(کان براء بن مالک)اخو انس کہا جاتاہے جامع ترمذی میں حضرت انس سے روایت ہے کہ جب حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم عمرۃ القضاء کی ادائیگی کے لئے مکۃ المکرمہ میں داخل ہوئے تو حضرت عبدالله بن رواحہ آپ سے آگے آگے چل رہے تھے اور یہ فرماتے جاتے تھے کہ اے کفار کی اولاد! ان کا راستہ کھلا چھوڑ دو آج ہم تمھیں ایسی مارمارینگے کہ کھوپڑیاں تن سے جدا ہوجائیں گی اور دوست اپنے دوست کو بھول جائیگااس پر حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:کیا تو رسول الله صل الله تعالی علیہ وسلم کے سامنے ان کے روبرو الله کے حرم میں اشعار پڑھتا ہے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! اسے چھوڑ دو کہ یہ رجزیہ اشعار دشمن پر تیر اندازی سے بھی زیادہ موثر ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ جب عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ نے انکار فرمایا تو حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے عمرو! میں تو سن رہا ہوں لہذا تم خاموش رہواور حدیث عامر بن اکوع رضی الله تعالی عنہ حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سامنے حدی خوانی کیا کرتے تھے اور یہ خیبر میں شہید ہوئے اور حضرت انجشہ حبشی غلام تھے یہ بہتر ین حدی خواں تھے صحیح میں ہے حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت انجشہ کی آواز خوبصورت تھی صحیح میں حضرت انس رضی الله تعالی عنہ کی روایت ہے
خلو بنی الکفار عن سبیلہ
الیوم نضربکم علی تنزیلہ
ضربا یزیل الھام عن مقیلہ
ویذھل الخلیل عن خلیلہ
فقال عمر یا ابن رواحۃ بین یدی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وفی حرم اﷲ تقول الشعر فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خل عنہ یا عمر فلھی فیھم اسرع من نضح النبلوفی روایۃ انہ لما النبل وفی روایہ انہ لما انکر عمر علیہ قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا عمرانی اسمع فاسکت یا عمر(وعامر بن اکوع)کان یحدو بین یدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(واستشھد یوم خیبر و انجشہ العبد الاسود) کان حسن الحداء وفی الصحیح عن انس کان حسن الصوت(قال انس)فی الصحیحین(کان براء بن مالک)اخو انس کہا جاتاہے جامع ترمذی میں حضرت انس سے روایت ہے کہ جب حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم عمرۃ القضاء کی ادائیگی کے لئے مکۃ المکرمہ میں داخل ہوئے تو حضرت عبدالله بن رواحہ آپ سے آگے آگے چل رہے تھے اور یہ فرماتے جاتے تھے کہ اے کفار کی اولاد! ان کا راستہ کھلا چھوڑ دو آج ہم تمھیں ایسی مارمارینگے کہ کھوپڑیاں تن سے جدا ہوجائیں گی اور دوست اپنے دوست کو بھول جائیگااس پر حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا:کیا تو رسول الله صل الله تعالی علیہ وسلم کے سامنے ان کے روبرو الله کے حرم میں اشعار پڑھتا ہے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! اسے چھوڑ دو کہ یہ رجزیہ اشعار دشمن پر تیر اندازی سے بھی زیادہ موثر ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ جب عمر فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ نے انکار فرمایا تو حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے عمرو! میں تو سن رہا ہوں لہذا تم خاموش رہواور حدیث عامر بن اکوع رضی الله تعالی عنہ حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کے سامنے حدی خوانی کیا کرتے تھے اور یہ خیبر میں شہید ہوئے اور حضرت انجشہ حبشی غلام تھے یہ بہتر ین حدی خواں تھے صحیح میں ہے حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت انجشہ کی آواز خوبصورت تھی صحیح میں حضرت انس رضی الله تعالی عنہ کی روایت ہے
شہد المشاھد الا بدرا قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رب اشعث اغبر لایؤبہ لہ لواقسم علی اﷲ لابرہ منھم البراء بن مالك قال انس فلما کان یوم تستر من بلاد فارس انکشف الناس فقال المسلمون یابراء قسم علی ربك فقال اقسم علیك یار ب لما منحتنا اکتافھم و الحقتنی بنبیك فحل وحمل الناس معہ فقتل ھر مزان من عظماء الفرس واخذ سلبہ وانھزم الفرس وقتل البراء رواہ الترمذی والحاکم وذلك فی خلاصۃ عمر سنۃ عشرین (ایحدو بالرجال وانجشہ بالنساء وقد کان یحدو وینشد القریض والرجز)وفی الصحیحین عن انس ان انجشہ حدا بالنساء فی حجۃ الوداع فاسرعت الابل فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا انجشۃ رفقا بالقواریر(ای النساء فشبھھن بالقواریر من الزجاج لانہ یسرع الیھا الکسر فلم یأمن علیہ فرمایا:حضرت براء بن مالک(جو حضرت انس کے بھائی تھے) سوائے بدر کے تمام غزوات میں حاضر رہے اور آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا بہت سے لوگ بکھرے ہوئے بالوں والے خاك الودجن کی کوئی پروا نہیں کرتا(عند اللہ)ایسے(اہم)ہیں کہ اگر کسی معاملے میں الله تعالی کی قسم کھابیٹھیں تو الله تعالی ان کی قسم سچی کردیتاہےاور انہی میں سے ایك براء بن مالك بھی ہیں۔حضرت انس نے فرمایا کہ ایران میں قلعہ تستر پر جس دن حملہ کیا گیا لوگ تتر بتر ہوگئے اس موقع پر حضرت براء سے کہا گیا کہ اپنے پروردگا کے بھروسا پر اس کی قسم کھائیںچنانچہ حضرت براء نے قسم کھائی اور فرمایا:اے میرے پرودگار! میں تیری ذات کی قسم کھاکر کہتاہوں کہ تو نے ہمیں کافروں کے کندھے باندھنے کی طاقت بخشی اور تو نے مجھے اپنے نبی مکرم سے ملایا ہے۔اس کے بعد حضرت براء نے عام لوگوں کے ساتھ مل کر ایرانیوں پر حملہ کیا ان کا سپہ سالار ہر مزان ماراگیا ایرانیوں کو شکست ہوئی اور فرار ہونے لگے اس کا سامان قبضے میں لے لیا گیا اور حضرت براء شہید ہوگئےامام ترمذی اور حاکم نے اس کو روایت کیا۔یہ معرکہ حضرت فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ کے دورخلافت میں ۲۰ھ میں ہواحضرت براء مردوں کے لئے حدی خوانی کیا کرتے تھے جبکہ انجشہ عورتوں کے
الصلوۃ والسلام ان یقع فی قلوبھن حداؤہ وقیل نھاہ لان النساء یضعفن عن شدۃ الحرکۃ)قال الدمامینی وحملہ ھذا اقرب الی ظاھر لفظہ من الحمل علی الاول اھ ملخصا۔ کجاووں کے قریب جا کر حدی خوانی کرتےچنانچہ بخاری ومسلم میں حضرت انس رضی الله تعالی عنہ کی روایت ہے کہ حضرت انجشہ نے حجۃ الوداع کے موقع پر عورتوں کی سواریوں کے پا س جا کر حدی خوانی کیجس کے نتیجے میں اونٹ تیز رفتار ہوگئےاس پر حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اے انجشہ! کانچ کی شیشیوں کے ساتھ نرمی اختیار کروتمھیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمھارے ساتھ کانچ کی شیشیاں(بوتلیں)بھی ہیں(مراد عورتیں ہیں)کہیں جلدی ٹوٹ نہ جائیں آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم نے عورتوں کو کانچ کی بوتلوں سے تشبیہ دے کر یہ اشارہ فرمایا وہ حدی خوانی اور خوش الحانی سے متاثر نہ ہوجائیں اور یہ مفہوم بھی ہے کہ سواریوں کے بوجہ حدی خوانی تیز رفتار ہوجانے سے وہ کہیں گھبرانہ جائیں کیونکہ وہ فطرتا کمزور ہوتی ہیںعلامہ دمامینی نے فرمایا اس کو ظاہری الفاظ پر حمل کرنا بنسبت قول اول کے زیادہ مناسب ہے اور موزوں ہے اھ ملخصا(ت)
اصابہ فی معرفۃ الصحابہ میں ہے:
روی البغوی باسناد صحیح عن محمد بن سیرین عن انس قال دخلت علی البراء بن مالك وھو یتغنی فقلت لہ قد ابدلك اﷲ ما ھو خیر منہ فقال اترھب ان اموت علی فراشی لا واﷲ ماکان اﷲ لیحرمنی ذلك وقد قتلت مانۃ منفردا سوی من شارکت فیہ ۔ امام بغوی باسناد صحیح محمد بن سیرین کے حوالے سے حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا میں حضرت براء بن مالك کے پاس گیا وہ خوبصورت انداز میں اشعار پڑھ رہے تھے میں نے ان سے کہا بلاشبہہ الله تعالی نے اس کے بجائے ااپ کو وہ چیز عطا فرمائی ہے جو اس سے کہیں بہتر ہے(یعنی قرآن مجید)فرمایا کیا تمھیں یہ خوف ہے کہ میں اپنے بستر پر ہی مرجاؤں گا خدا کی قسم ایسا نہیں ہوگا کیونکہ الله تعالی ایسا نہیں کہ مجھے شہادت سے محروم کردے ایك سو کافر تو خود میرے ہاتھوں
اصابہ فی معرفۃ الصحابہ میں ہے:
روی البغوی باسناد صحیح عن محمد بن سیرین عن انس قال دخلت علی البراء بن مالك وھو یتغنی فقلت لہ قد ابدلك اﷲ ما ھو خیر منہ فقال اترھب ان اموت علی فراشی لا واﷲ ماکان اﷲ لیحرمنی ذلك وقد قتلت مانۃ منفردا سوی من شارکت فیہ ۔ امام بغوی باسناد صحیح محمد بن سیرین کے حوالے سے حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا میں حضرت براء بن مالك کے پاس گیا وہ خوبصورت انداز میں اشعار پڑھ رہے تھے میں نے ان سے کہا بلاشبہہ الله تعالی نے اس کے بجائے ااپ کو وہ چیز عطا فرمائی ہے جو اس سے کہیں بہتر ہے(یعنی قرآن مجید)فرمایا کیا تمھیں یہ خوف ہے کہ میں اپنے بستر پر ہی مرجاؤں گا خدا کی قسم ایسا نہیں ہوگا کیونکہ الله تعالی ایسا نہیں کہ مجھے شہادت سے محروم کردے ایك سو کافر تو خود میرے ہاتھوں
حوالہ / References
المواھب اللدینہ المقصد الثانی الفصل الرابع ∞۲ /۱۶۳€ وشرح الزرقانی علی المواھب للدنیۃ ∞۳ /۳۷۶ و ۳۷۷€
الاصابہ فی تمیز الصحابۃ حرف الباء ∞ترجمہ ۶۲۰€ البراء بن مالک دار صادر بیروت ∞۱ /۱۴۳€
الاصابہ فی تمیز الصحابۃ حرف الباء ∞ترجمہ ۶۲۰€ البراء بن مالک دار صادر بیروت ∞۱ /۱۴۳€
قتل ہوئے ہیں اور ان کے علاوہ جن کے قتل میں میری شراکت اور معاونت ہوئی وہ مزید ہیں۔(ت)
امام ابن حجر مکی کف الرعاع عن محرمات اللہو والسماع میں فرماتے ہیں:
قال جمع من الشافعیۃ والمالکیۃ منھم الاذرعی فی توسطہ والقرطبی فی شرح مسلم الغناء انشادا و استما عا علی قسمین القسم الاول مااعتاد الناس استعمالہ لمحاولۃ عمل وحمل ثقیل وقطع مفاوز سفر ترویحا للنفوس وتنشیطا لھا کحداء الاعراب بابلھم وغناء النساء لتسکین صغار ھن ولعب الجواری بلعیھن فھذا اذا سلم المغنی بہ من فحش وذکر محرم کو صف الخمور و الغینات لا شك فی جوازہ ولا یختلف فیہ وربما یندب الیہ اذا نشط علی فعل خیر کالحداء فی الحج الغزوومن ثم ارتجز صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھوالصحابۃ رضوان اﷲ تعالی علیہم فی بناء المسجد وحفر الخندق وغیرھما کما ھو مشہور وقد امر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نساء الانصار ان شوافع اور مالکیہ کے ایك گروہ نے فرمایا ان میں سے امام اذرعی نے توسط میں اور قرطبی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا:راگگانا اور سننااس کی دوقسمیں ہیں۔پہلی قسم وہ ہے جس کے استعمال کی لوگوں کو عادت ہے کوئی کام کرتے ہوئے بھاری وزن اٹھاتے ہوئےسفر طے کرتے ہوئے بیابان سے گزرتے ہوئے سواریوں کو تیز قدم کرنے کے لئے دیہاتیوں کا حدی خوانی کرنااپنا دل بہلانے اور تسکین وراحت پہنچانے کے لئے خوش الحانی کے ساتھ نغمہ سنج ہونا اور اشعار پڑھنا بشرطیکہ فحش گوئی پر مبنی نہ ہو یہ ہر گز منع نہیںعورتوں کا بچوں کو بہلانے اور سلانے کے لئے لوریاں دیناگیت الاپنا اور باندیوں کا کھیل تماشا کرنا بوجہ حد سے تجاوز نہ کرنے کے جائز ہے۔حد سے تجاوز کرنے سے مرادشراب کی تعریف گانے والی عورتوں کا تذکرہ وغیرہ ہے۔یہ امور اگر نہ ہوں تو حدی خوانی کے جائز ہونے میں کوئی شبہہ نہیںاور اس میں کوئی اختلاف بھی نہیں بلکہ بعض حالات میں یہ فعل مندوب ہوتا ہے یعنی اچھے کام کے لئے راغب کرے جیسے حج جہاد وغیرہ میں حدی خوانی یہی وجہ ےہ کہ تعمیر مسجد نبوی اور خندق کھودے جانے کے موقع پر خود آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم نے
امام ابن حجر مکی کف الرعاع عن محرمات اللہو والسماع میں فرماتے ہیں:
قال جمع من الشافعیۃ والمالکیۃ منھم الاذرعی فی توسطہ والقرطبی فی شرح مسلم الغناء انشادا و استما عا علی قسمین القسم الاول مااعتاد الناس استعمالہ لمحاولۃ عمل وحمل ثقیل وقطع مفاوز سفر ترویحا للنفوس وتنشیطا لھا کحداء الاعراب بابلھم وغناء النساء لتسکین صغار ھن ولعب الجواری بلعیھن فھذا اذا سلم المغنی بہ من فحش وذکر محرم کو صف الخمور و الغینات لا شك فی جوازہ ولا یختلف فیہ وربما یندب الیہ اذا نشط علی فعل خیر کالحداء فی الحج الغزوومن ثم ارتجز صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھوالصحابۃ رضوان اﷲ تعالی علیہم فی بناء المسجد وحفر الخندق وغیرھما کما ھو مشہور وقد امر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نساء الانصار ان شوافع اور مالکیہ کے ایك گروہ نے فرمایا ان میں سے امام اذرعی نے توسط میں اور قرطبی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا:راگگانا اور سننااس کی دوقسمیں ہیں۔پہلی قسم وہ ہے جس کے استعمال کی لوگوں کو عادت ہے کوئی کام کرتے ہوئے بھاری وزن اٹھاتے ہوئےسفر طے کرتے ہوئے بیابان سے گزرتے ہوئے سواریوں کو تیز قدم کرنے کے لئے دیہاتیوں کا حدی خوانی کرنااپنا دل بہلانے اور تسکین وراحت پہنچانے کے لئے خوش الحانی کے ساتھ نغمہ سنج ہونا اور اشعار پڑھنا بشرطیکہ فحش گوئی پر مبنی نہ ہو یہ ہر گز منع نہیںعورتوں کا بچوں کو بہلانے اور سلانے کے لئے لوریاں دیناگیت الاپنا اور باندیوں کا کھیل تماشا کرنا بوجہ حد سے تجاوز نہ کرنے کے جائز ہے۔حد سے تجاوز کرنے سے مرادشراب کی تعریف گانے والی عورتوں کا تذکرہ وغیرہ ہے۔یہ امور اگر نہ ہوں تو حدی خوانی کے جائز ہونے میں کوئی شبہہ نہیںاور اس میں کوئی اختلاف بھی نہیں بلکہ بعض حالات میں یہ فعل مندوب ہوتا ہے یعنی اچھے کام کے لئے راغب کرے جیسے حج جہاد وغیرہ میں حدی خوانی یہی وجہ ےہ کہ تعمیر مسجد نبوی اور خندق کھودے جانے کے موقع پر خود آنحضرت صلی الله تعالی علیہ وسلم نے
یقلن فی عرس لھن
اتینا کم اتینا کم
فحیانا وحیاکم
و کالاشعار المزھدۃ فی الدنیا الراغبۃ فی الاخرۃ فھی من انفع الواعظ فالحاصل علیھا اعظم الاجر ویؤید مانقلہ من نفی الخلاف فی ھذا القسم ان ابن عبدالبر وغیرہ قالوا لاخلاف فی اباحۃ الحداء واستماعہ وھو مایقال خلف نحو الابل من الشعر سوی الرجز وغیرہ لینشطھا علی السیر ومن اوھم کلامہ نقل الخلاف فیہ فھو شاذ اومؤول علی حالۃ یخشی منھا شیئ خیر لائق القسم الثانی ماینتحلہ المغنون العارفون یصنعۃ الغناء المختارون المدن من غزل اشعر مع تلحینہ بالتلحینات الانیقۃ وتقطیعہ لھا علی النغمات الرقیقۃ اور صحابہ کرام نے اشعار پڑھے اور نہ صرف ان دو موقعوں پر بلکہ ان کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی آپ نے اور آپ کے صحابہ نے رجزیہ اشعار پڑھے ہیں اور حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انصار کی خواتین کو یہ حکم فرمایا تھا کہ اپنی شادیوں میں عمدہ اشعار پڑھا کریں"ہم تمھارے پاس آئے ہم تمھارے پاس آئے الله تعالی ہمیں بھی زندہ رکھے اور تمھیں بھی زندہ رکھے"اسی طرح ان شعار کا استعمال بھی جائز ہے جو دنیا سے رغبت ہٹا کر آخرت کی رغبت دلانے والے ہوںاسی قسم کے اچھے اشعار پڑھنابہترین وعظ ہے اور باعث اجر وثواب ہے اور اس کی تائید اس قول سے ہوتی ہے جو امام موصوف نے اس قسم کی نفی کی خلاف کیا کہ علامہ ابن عبدالبر وغیرہ نے کہا کہ حدی خوانی اور اس کے سننے کے مباح ہونے میں کوئی اختلاف نہیں یہ وہ اشعار گوئی اور حدی خوانی ہوتی تھی جو اونٹوں کو ہانکتے وقت ان کے پیچھے پیچھے کی جاتی تھی بجز رجز وغیرہ کےاورمقصد یہ ہوتا تھا کہ اونٹوں کو چلنے میں خوش اور چست رکھا جائے اور جو اس سلسلے میں وہم اور اختلاف نقل ہوا ہے وہ شاذ ہے یا اس کی بھی تاویل کردی گئی کہ یہ اس حالت پر محمول ہے جس میں نامناسب بات کا اندیشہ کیا گیا ہو دوسری قسم(جس کی نسبت گانے والے کی طرف کریں)جو گانیوالوں
اتینا کم اتینا کم
فحیانا وحیاکم
و کالاشعار المزھدۃ فی الدنیا الراغبۃ فی الاخرۃ فھی من انفع الواعظ فالحاصل علیھا اعظم الاجر ویؤید مانقلہ من نفی الخلاف فی ھذا القسم ان ابن عبدالبر وغیرہ قالوا لاخلاف فی اباحۃ الحداء واستماعہ وھو مایقال خلف نحو الابل من الشعر سوی الرجز وغیرہ لینشطھا علی السیر ومن اوھم کلامہ نقل الخلاف فیہ فھو شاذ اومؤول علی حالۃ یخشی منھا شیئ خیر لائق القسم الثانی ماینتحلہ المغنون العارفون یصنعۃ الغناء المختارون المدن من غزل اشعر مع تلحینہ بالتلحینات الانیقۃ وتقطیعہ لھا علی النغمات الرقیقۃ اور صحابہ کرام نے اشعار پڑھے اور نہ صرف ان دو موقعوں پر بلکہ ان کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی آپ نے اور آپ کے صحابہ نے رجزیہ اشعار پڑھے ہیں اور حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم نے انصار کی خواتین کو یہ حکم فرمایا تھا کہ اپنی شادیوں میں عمدہ اشعار پڑھا کریں"ہم تمھارے پاس آئے ہم تمھارے پاس آئے الله تعالی ہمیں بھی زندہ رکھے اور تمھیں بھی زندہ رکھے"اسی طرح ان شعار کا استعمال بھی جائز ہے جو دنیا سے رغبت ہٹا کر آخرت کی رغبت دلانے والے ہوںاسی قسم کے اچھے اشعار پڑھنابہترین وعظ ہے اور باعث اجر وثواب ہے اور اس کی تائید اس قول سے ہوتی ہے جو امام موصوف نے اس قسم کی نفی کی خلاف کیا کہ علامہ ابن عبدالبر وغیرہ نے کہا کہ حدی خوانی اور اس کے سننے کے مباح ہونے میں کوئی اختلاف نہیں یہ وہ اشعار گوئی اور حدی خوانی ہوتی تھی جو اونٹوں کو ہانکتے وقت ان کے پیچھے پیچھے کی جاتی تھی بجز رجز وغیرہ کےاورمقصد یہ ہوتا تھا کہ اونٹوں کو چلنے میں خوش اور چست رکھا جائے اور جو اس سلسلے میں وہم اور اختلاف نقل ہوا ہے وہ شاذ ہے یا اس کی بھی تاویل کردی گئی کہ یہ اس حالت پر محمول ہے جس میں نامناسب بات کا اندیشہ کیا گیا ہو دوسری قسم(جس کی نسبت گانے والے کی طرف کریں)جو گانیوالوں
التی تھیج النفوس وتطربھا کحمیا الکوؤس فھذا ھو الغناء المختلف علی اقوال العلماء احدھا انہ حرام قال القرطبی وھو مذھب مالک(الی قولہ)وھو مذھب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وسائر اھل الکوفۃ ۔ کی طرف منسوب ہوجو فن موسیقی سے ماہر ہوں شائستگی سے غزل شعر کو پسند کریں اپنے لہجہ کے ساتھ خوشنما لہجوں سے اور ان کی تقطیع کریں نغمات رقیقہ پر جونفوس کو ابھاریں اور آمادہ کریں اور انھیں شراب کے جاموں کا شوق دلائیں پس یہ وہی راگ ہے جس میں علماء کے اقوال مختلف ہیں ان اقوال میں سے ایك قول یہ ہے کہ وہ حرام ہے۔علامہ قرطبی نے فرمایا کہ امام مالك کا یہی مذہب ہے بلکہ فرمایا کہ یہی امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ اور باقی اہل کوفہ مذہب ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قال الاذرعی ومانسب الی اولئك الصحابۃ اکثرہ لم یثبت ولو ثبت منہ شیئ لم یظھر منہ ان ذلك الصحابی یبیح الغناء المتنازع فیہ فالمروی عنہ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ان غلاما دخل علیہ فوجدہ یترنم ببیت اونحو ذلك فعجب منہ فقال اذا خلونا قلنا کما تقول الناس فاﷲ اعلم ماکان ذلك البیت وما کان ترنمہ وصفتہ وصح عن عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ امام اذرعی نے فرمایا ان لوگوں اور صحابہ کرام کی طرف جو کچھ منسوب کیا گیا ہے ان میں اکثر حصہ ثابت نہیں اور اگر کچھ ثابت بھی ہوجائے تو اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ صحابہ راگ متنازع فیہ کو مباح کہتے تھے چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایك غلام ان کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے دیکھا کہ وہ خوش الحانی سے اشعار پڑھ رہے تھے اسے تعجب ہوا تو آپ نے فرمایا کہ جب ہم اکیلے اور تنہا ہوتے ہیں تو وہی کچھ کہتے ہیں جو لوگ کہتے ہیں پس الله تعالی خوب جانتا ہے کہ وہ اشعار کیا تھے اور ان کا حال اور کیفیت کیا تھی۔حضرت عثمان رضی الله تعالی عنہ سے
اسی میں ہے:
قال الاذرعی ومانسب الی اولئك الصحابۃ اکثرہ لم یثبت ولو ثبت منہ شیئ لم یظھر منہ ان ذلك الصحابی یبیح الغناء المتنازع فیہ فالمروی عنہ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ان غلاما دخل علیہ فوجدہ یترنم ببیت اونحو ذلك فعجب منہ فقال اذا خلونا قلنا کما تقول الناس فاﷲ اعلم ماکان ذلك البیت وما کان ترنمہ وصفتہ وصح عن عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ امام اذرعی نے فرمایا ان لوگوں اور صحابہ کرام کی طرف جو کچھ منسوب کیا گیا ہے ان میں اکثر حصہ ثابت نہیں اور اگر کچھ ثابت بھی ہوجائے تو اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ صحابہ راگ متنازع فیہ کو مباح کہتے تھے چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایك غلام ان کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے دیکھا کہ وہ خوش الحانی سے اشعار پڑھ رہے تھے اسے تعجب ہوا تو آپ نے فرمایا کہ جب ہم اکیلے اور تنہا ہوتے ہیں تو وہی کچھ کہتے ہیں جو لوگ کہتے ہیں پس الله تعالی خوب جانتا ہے کہ وہ اشعار کیا تھے اور ان کا حال اور کیفیت کیا تھی۔حضرت عثمان رضی الله تعالی عنہ سے
حوالہ / References
کف الرعاع عن محرمات اللہو والسماع دارالکتب العلمیہ بیروت ∞ص۵۹ تا ۶۱€
ماتمنیت ای زینت فاطلاق القول بنسبۃ الغناء المتنازع فیہ واستماعہ الی ائمۃ الھدی تجاسرولا یفھم الجاہل منہ ھذا الغناء الذی یتعا طاہ المغنون المخنثون ونحوھم وقال الشیخ الامام ابراھیم المروزی فی تعلیقہ وعن عمرو عبدالرحمن بن عوف وابی عبیدۃ بن الجراح وابی مسعود الانصاری انھم کانوا یترنمون بالاشعار فی الاسفار وکذلك عن اسامۃ بن زیدو عبداﷲ بن ارقم وعبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہم والترنم کذلك لیس فی محل النزاع اذھو من انواع القسم الاول من القسمین السابقین وقد مر انہ لاخلاف وبہ یعلم ان الظاھر الذی یتعین القطع بہ ان غالب ماحکی عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم وعمن بعدھم من الائمۃ انما مومن ھذا القسم الذی لاخلاف فیہ وتمامہ فیہ وفیما ذکرنا کفایۃواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ بصحت ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ میں گیت گاتاہوں تو اسے میں بنا سنوار لیتاہ ہوں لہذا غنا متنازع فیہ اور اس کے سننے کی اجازت کی نسبت ہدایت یافتہ اماموں کی طرف کرنا بہت بڑی جرأت ہے اور جاہل آدمی اس سے یہ غنا نہیں سمجھتا جو گانے والے ہیجڑے وغیرہ اختیار کرتے ہیں شیخ امام ابراہیم مروزی نے اپنی تعلیق میں فرمایا حضرت عمر فاروق حضرت عبدالرحمن ابن عوفحضرت ابوعبیدہ بن الجراح اور حضرت ابومسعود انصاری رضی الله تعالی عنہم یہ سب اپنے سفروں کے دوران خوش الحانی سے اشعار پرھا کرتے تھے اسی طرح حضرت اسامہ بن زید حضرت عبدالله بن ارقم اور حضرت عبدالله ابن زبیر رضی الله تعالی عنہم سے روایت ہے پس اس طرح کا ترنم محل نزاع نہیں کیونکہ وہ سابقہ دو قسموں سے پہلی قسم میں داخل ہے۔اور پہلے یہ بیان کیا جاچکا ہےکہ اس کے جواز میں کوئی اختلاف نہیںاور اس سے یہ معلوم ہوا کہ ظاہر بات جس کا قطعی ہونا متعین ہو یہ ہے کہ جس کی حکایت صحابہ کرام اور ان کے بعد ائمہ حضرات کی طرف کی گئی غالبا ا سے یہی قسم مراد ہے جس کے جواز میں کوئی اختلاف نہیںپوری بحث اس میں موموجود ہے اور ہم نے جو کچھ بیان کیا وہ کافی ہے اور الله تعالی پاك برتر اور سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
حوالہ / References
کف الرعاع عن محرمات اللہو والسماع دارالکتب العلمیہ بیروت ∞ص۶۷۔۶۶€
مسئلہ ۱۱۵: از کلکتہ دھرم تلا ۱۲۴ مرسلہ جناب محمد یونس صاحب ۸رجب ۱۳۲۷ھ
علمائے دین سے سوال یہ ہے کہ اس شخص کا کیاحال ہے کہ عمرو دو زوجہ رکھتا ہے اور دونوں سے مباشرت ایك مکان میں بے پردہ کرتا ہے اور جو اس سے کہا جاتاہے تو کہتا ہے اپنی بی بی سے کیا حجاب۔
الجواب:
یہ امر مکروہ وبے حیائی ہے مرد کو بی بی سے حجاب نہیں تو بی بی کو بی بی سے تو ستر فرض ہے اور حیا لازم ہے۔بحرالرائق وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
یکرہ ان یطأ احدھما بحضرۃ الاخری حتی اوطلب وطاھألم یلزمھا الاجابۃ ولا تصیر فی الامتناع ناشرۃ ولا خلاف فی ھذہ المسائل ۔ دو بیویوں میں سے کسی ایك سے دوسری کی موجودگی میں ہمبستری کرنا مکروہ ہے اگر شوہر ایك بیوی سے دوسری بیوی کی موجودگی میں اس قسم کا تقاضا کرے تو بیوی کے لئے اس کا تقاضا پورا کرنا ضروری نہیںاور اس انکار یا رکاوٹ کے سبب وہ نافرمان نہیں ہوگی۔ان مسائل میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔(ت)
ردالمحتار شرح ملتقی اس میں امام قاضیخاں اس میں منتقی امام حاکم الشہید سے ہے:
یکرہ للرجل ان یطأ امرأتہ وعندھا صبی یعقل او اعمی اوضرتھا اوامتھا او امتہ ۔ کسی ذی عقل وذی فہم بچےکسی اندھےاپنی بیوی کی سوکن اور اپنی یا بیوی کی لونڈی کی موجودگی میں بیوی کے ساتھ ہمسبتر ہونا مرد کے لئے مکروہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۱۶: بہیڑ ضلع بریلی مرسلہ طابل حسین خان ۲۷ ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
قبر پر اذان کہنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اور ثواب حاصل کیجئے۔ت)
علمائے دین سے سوال یہ ہے کہ اس شخص کا کیاحال ہے کہ عمرو دو زوجہ رکھتا ہے اور دونوں سے مباشرت ایك مکان میں بے پردہ کرتا ہے اور جو اس سے کہا جاتاہے تو کہتا ہے اپنی بی بی سے کیا حجاب۔
الجواب:
یہ امر مکروہ وبے حیائی ہے مرد کو بی بی سے حجاب نہیں تو بی بی کو بی بی سے تو ستر فرض ہے اور حیا لازم ہے۔بحرالرائق وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
یکرہ ان یطأ احدھما بحضرۃ الاخری حتی اوطلب وطاھألم یلزمھا الاجابۃ ولا تصیر فی الامتناع ناشرۃ ولا خلاف فی ھذہ المسائل ۔ دو بیویوں میں سے کسی ایك سے دوسری کی موجودگی میں ہمبستری کرنا مکروہ ہے اگر شوہر ایك بیوی سے دوسری بیوی کی موجودگی میں اس قسم کا تقاضا کرے تو بیوی کے لئے اس کا تقاضا پورا کرنا ضروری نہیںاور اس انکار یا رکاوٹ کے سبب وہ نافرمان نہیں ہوگی۔ان مسائل میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔(ت)
ردالمحتار شرح ملتقی اس میں امام قاضیخاں اس میں منتقی امام حاکم الشہید سے ہے:
یکرہ للرجل ان یطأ امرأتہ وعندھا صبی یعقل او اعمی اوضرتھا اوامتھا او امتہ ۔ کسی ذی عقل وذی فہم بچےکسی اندھےاپنی بیوی کی سوکن اور اپنی یا بیوی کی لونڈی کی موجودگی میں بیوی کے ساتھ ہمسبتر ہونا مرد کے لئے مکروہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۱۶: بہیڑ ضلع بریلی مرسلہ طابل حسین خان ۲۷ ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
قبر پر اذان کہنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اور ثواب حاصل کیجئے۔ت)
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب النکاح باب القسم ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۲۱،€فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۴۱€
ردالمحتار کتاب النکاح با ب القسم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۴۹۲€
ردالمحتار کتاب النکاح با ب القسم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۴۹۲€
الجواب:
قبر پر اذان کہنے میں میت کا دل بہلتا اور اس پر رحمت الہی کا اترنا اور سوال جواب کے وقت شیطان کا دور ہونا اور ان کے سوا اور بہت فائدے ہیں جن کی تفصیل ہمارے رسالہ"ایذان الاجر فی اذان القبر"میں ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷ تا ۱۲۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)زید فجر کے بعد پانچ بجے کے مسجد میں چراغ بغرض رونق وزینت مسجدنہ کہ بغرض تلاوت اور مطالعہ کتب دینیہ جلادیتاہے حالانکہ روشنی کی اس وقت ضرورت نہیں ہوتی ہے کیونکہ نمازیوں کی آمد پونے چھ بجے اور جماعت بعد چھ بجے طلوع روشنی صبح صادق میں ہوتی ہے اور علاوہ اس کے سرکاری لالٹین کی روشنی تینوں دروں میں مسجد کے اور صحن میں کافی طور سے ہوتی ہے عمرو جو مہتمم قدیم مسجد کا ہے اور سیکڑوں روپیہ اپنی کوشش موفورہ سے فراہم کرکے مسجد کی ترمیم ودیگر اخراجات میں لگاتارہا ہے بلکہ اب بھی مرمت کرارہا ہے زید کو اس وقت کے فضول بلا ضرورت چراغ جلانے سے منع کرتا ہے اور کہتاہے کہ مسجد کے مال میں اسراف نہ چاہئے مگر زید نہیں مانتا پس ایسی صورت میں چراغ جلانا چاہئے یا نہیں
(۲)زید نے مسجد کی مرمت کے نام سے مسلمانوں سے کچھ چندہ جمع کیا اور عمرو مہتمم سے بھی دس روپیہ مرمت کے بہانے سے لئے جو اس کے پاس مرمت مسجد کے لئے رکھے تھے اس روپیہ سے اپنے چچا کی قبر جو مسجد سے باہر تھی پختہ بنواکر مسجد کے اندر داخل کرلی اور بقیہ روپیہ خورد ونوش کرلیا حساب نہیں سمجھا یا مسجد کی مرمت کا روپیہ قبر یا اپنے صرف میں لانا کیساہے اور وہ شخص شرعا کسی مواخذہ کے قابل ہے بینوا توجروا۔
(۳)زید کہتا ہے کہ تلاوت قرآن مجید مسجد کے اندر گناہنہیں چاہئے۔عمرو کہتا ہے کہ گناہ نہیں ہے۔اگر جماعت ہوتی ہو یا کوئی نماز پڑھتا ہو تو دل میں آہستہ پڑھنا اور جبکہ یہ امر مانع نہ ہوں تو بآواز پڑھنا بھی جائز ہے گناہ نہیںزید کا قول درست ہے یاعمرو کا بینوا توجروا
(۴)زید اپنا اثاث البیت مسجد کے حجرہ میں رکھ لیتا ہے جس سے مسجد کے اسباب کو پراگندگی اور مسافروں اور طلباء کو تکلیف ہوتی ہے اور بہنوئی اس کا اکثر اوقات مسجد کے اندر سورہتا ہے یہ فعل زید کا کیسا ہے بینوا توجروا
قبر پر اذان کہنے میں میت کا دل بہلتا اور اس پر رحمت الہی کا اترنا اور سوال جواب کے وقت شیطان کا دور ہونا اور ان کے سوا اور بہت فائدے ہیں جن کی تفصیل ہمارے رسالہ"ایذان الاجر فی اذان القبر"میں ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷ تا ۱۲۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)زید فجر کے بعد پانچ بجے کے مسجد میں چراغ بغرض رونق وزینت مسجدنہ کہ بغرض تلاوت اور مطالعہ کتب دینیہ جلادیتاہے حالانکہ روشنی کی اس وقت ضرورت نہیں ہوتی ہے کیونکہ نمازیوں کی آمد پونے چھ بجے اور جماعت بعد چھ بجے طلوع روشنی صبح صادق میں ہوتی ہے اور علاوہ اس کے سرکاری لالٹین کی روشنی تینوں دروں میں مسجد کے اور صحن میں کافی طور سے ہوتی ہے عمرو جو مہتمم قدیم مسجد کا ہے اور سیکڑوں روپیہ اپنی کوشش موفورہ سے فراہم کرکے مسجد کی ترمیم ودیگر اخراجات میں لگاتارہا ہے بلکہ اب بھی مرمت کرارہا ہے زید کو اس وقت کے فضول بلا ضرورت چراغ جلانے سے منع کرتا ہے اور کہتاہے کہ مسجد کے مال میں اسراف نہ چاہئے مگر زید نہیں مانتا پس ایسی صورت میں چراغ جلانا چاہئے یا نہیں
(۲)زید نے مسجد کی مرمت کے نام سے مسلمانوں سے کچھ چندہ جمع کیا اور عمرو مہتمم سے بھی دس روپیہ مرمت کے بہانے سے لئے جو اس کے پاس مرمت مسجد کے لئے رکھے تھے اس روپیہ سے اپنے چچا کی قبر جو مسجد سے باہر تھی پختہ بنواکر مسجد کے اندر داخل کرلی اور بقیہ روپیہ خورد ونوش کرلیا حساب نہیں سمجھا یا مسجد کی مرمت کا روپیہ قبر یا اپنے صرف میں لانا کیساہے اور وہ شخص شرعا کسی مواخذہ کے قابل ہے بینوا توجروا۔
(۳)زید کہتا ہے کہ تلاوت قرآن مجید مسجد کے اندر گناہنہیں چاہئے۔عمرو کہتا ہے کہ گناہ نہیں ہے۔اگر جماعت ہوتی ہو یا کوئی نماز پڑھتا ہو تو دل میں آہستہ پڑھنا اور جبکہ یہ امر مانع نہ ہوں تو بآواز پڑھنا بھی جائز ہے گناہ نہیںزید کا قول درست ہے یاعمرو کا بینوا توجروا
(۴)زید اپنا اثاث البیت مسجد کے حجرہ میں رکھ لیتا ہے جس سے مسجد کے اسباب کو پراگندگی اور مسافروں اور طلباء کو تکلیف ہوتی ہے اور بہنوئی اس کا اکثر اوقات مسجد کے اندر سورہتا ہے یہ فعل زید کا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)جبکہ اس وقت مسجد میں کوئی نہیں آتا چراغ جلانا فضول وممنوع ہے خصوصا جبکہ لالٹین کی روشنی ہوتی ہے۔والله تعالی اعلم۔
(۲)مسجد کے روپیہ سے اپنے چچا کی قبر پکی بنانا حرام تھا اور دھوکا دے کر لینا اور بھی سخت حرامایسا شخص فاسق فاجر مرتکب کبائر ہے۔والله تعالی اعلم۔
(۳)زید کا قول غلط ہے مسجد میں قرآن عظیم کی تلاوت بیشك جائز ہے اور کسی کے نماز وظیفہ میں خلل نہ آئے تو بآواز پڑھنا بھی جائز ہے۔والله تعالی اعلم۔
(۴)مسجد کاا سباب پر اگندہ اور مسافروں اور طلباء کوناحق تکلیف دینا حرام ہے۔اور بے اعتکاف کے مسجد میں سونے کی اجازت نہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۱: بعد نماز فجر اور آفتاب طلوع ہونے سے قبل قرآن شریف کی تلاوت کرنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
بیشك جائز ہے بلکہ بہت اعلی وقت ہے جبکہ آفتاب طلوع نہ کرے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۲: از افریقہ حاجی عبدالله ویعقوب علی ۲۴ محرم ۱۳۳۱ھ
راستے میں چلے جانا اور قرآن مجید پڑھتے جانارستے میں نجس مکان بھی آتے ہیں جن کی بد بو سے چلنا بھی مشکل ہوتاہے کیا ایسے مکانوں سے چلے جانا اور قرآن مجید پڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
راستے میں قرآن شریف کی تلاوت دوشرط سے جائز ہے۔ایك یہ کہ وہاں کوئی نجاست نہ ہوندوسرے یہ کہ راہ چلنا اسے قرآن عظیم پڑھنے سے غافل نہ کرے جہاں نجاست یا بدبو ہو وہاں خاموش رہے جب وہ جگہ نکل جائے پھر پڑھےواﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اور الله تعالی سب سے زیادہ جانتا ہے اور اس بزرگی والے کا علم سب سے زیادہ کامل اور زیادہ پختہ ہے۔ت)
مسئلہ ۱۲۳: از سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۴ رجب ۱۳۳۱ھ
سونے سے اٹھ کر آیۃ الکرسی پڑھنا کیساہے بعض استاد حقہ پیتے ہیں اور شاگرد کو پڑھاتے جاتے ہیں۔بینوا توجروا
(۱)جبکہ اس وقت مسجد میں کوئی نہیں آتا چراغ جلانا فضول وممنوع ہے خصوصا جبکہ لالٹین کی روشنی ہوتی ہے۔والله تعالی اعلم۔
(۲)مسجد کے روپیہ سے اپنے چچا کی قبر پکی بنانا حرام تھا اور دھوکا دے کر لینا اور بھی سخت حرامایسا شخص فاسق فاجر مرتکب کبائر ہے۔والله تعالی اعلم۔
(۳)زید کا قول غلط ہے مسجد میں قرآن عظیم کی تلاوت بیشك جائز ہے اور کسی کے نماز وظیفہ میں خلل نہ آئے تو بآواز پڑھنا بھی جائز ہے۔والله تعالی اعلم۔
(۴)مسجد کاا سباب پر اگندہ اور مسافروں اور طلباء کوناحق تکلیف دینا حرام ہے۔اور بے اعتکاف کے مسجد میں سونے کی اجازت نہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۱: بعد نماز فجر اور آفتاب طلوع ہونے سے قبل قرآن شریف کی تلاوت کرنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
بیشك جائز ہے بلکہ بہت اعلی وقت ہے جبکہ آفتاب طلوع نہ کرے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۲: از افریقہ حاجی عبدالله ویعقوب علی ۲۴ محرم ۱۳۳۱ھ
راستے میں چلے جانا اور قرآن مجید پڑھتے جانارستے میں نجس مکان بھی آتے ہیں جن کی بد بو سے چلنا بھی مشکل ہوتاہے کیا ایسے مکانوں سے چلے جانا اور قرآن مجید پڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
راستے میں قرآن شریف کی تلاوت دوشرط سے جائز ہے۔ایك یہ کہ وہاں کوئی نجاست نہ ہوندوسرے یہ کہ راہ چلنا اسے قرآن عظیم پڑھنے سے غافل نہ کرے جہاں نجاست یا بدبو ہو وہاں خاموش رہے جب وہ جگہ نکل جائے پھر پڑھےواﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اور الله تعالی سب سے زیادہ جانتا ہے اور اس بزرگی والے کا علم سب سے زیادہ کامل اور زیادہ پختہ ہے۔ت)
مسئلہ ۱۲۳: از سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۴ رجب ۱۳۳۱ھ
سونے سے اٹھ کر آیۃ الکرسی پڑھنا کیساہے بعض استاد حقہ پیتے ہیں اور شاگرد کو پڑھاتے جاتے ہیں۔بینوا توجروا
الجواب:
سونے سے اٹھ کر ہاتھ دھوکر کلی کرلے اس کے بعد آیۃ الکرسی پڑھےاگر منہ میں حقہ وغیرہ کی بدبو ہو یا کوئی کھانے پینے کی چیز ہو تو بغیر کلی کئے تلاوت نہ کرے جو استاد ایسا کرتے ہیں برا کرتے ہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴: از موضع منصور پور متصل ڈاك خانہ قصبہ شیش گڈھ بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خان ۳۰محرم۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر صاحبان کو دیکھا گیا ہے کہ کعبہ شریف کی جانب پشت کرکے دیوا رمسجد کے سہارے سے بیٹھ کر تسبیح وغیرہ پڑھتے ہیں ایسے صاحبان کے واسطے کیا حکم ہے
الجواب:
یہ نامناسب ہے حدیث میں ہے:
افضل المجالس مااستقبل بہ القبلۃ واﷲ تعالی اعلم۔ سب میں بہتر نشست رو بہ قبلہ ہے۔(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵ و ۱۲۶: مسئلہ حافظ عبدالطیف صاحب مدرس مدرسہ حنفیہ سہسوان از سہسوان ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ
(۱)مصحف مجید جو نہایت بوسیدہ ہوجائے اس کو اولی دفن یا احراق اور اگر دفن ہو تو کس جگہ
(۲)اسبند پر بعض حفاظ کوئی آیت پڑھ کر پھونکتے ہیں پھر وہ جلایا جاتاہے یہ فعل کیسا ہے بینوا تو جروا(بیان فرمائے اجر پائے۔ت)
الجواب:
(۱)مصحف کریم کا احراق جائز نہیں نص علیہ فی الدرالمختار(درمختار میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ت)بلکہ حفاظت کی جگہ دفن کیا جائے جہاں پاؤں نہ پڑیںاور اگر تھوڑے اوراق ہوں تو اولی یہ ہے کہ مسلمانوں کے بچوں کو ان کی تعویذ تقسیم کردئے جائیں۔
(۲)اسپند پر کوئی آیت دم کرکے جلانے میں حرج نہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۷ و ۱۲۸: از دانا پور کمپ مسئو لہ پیر خیر شاہ صاحب ۲۹ صفر ۱۳۳۲ھ
(۱)زید اپنی زوجہ کی پستان منہ میں رکھ کر جماع کرتاہے اور کہتا ہے کہ لذت زیادہ حاصل ہوتی
سونے سے اٹھ کر ہاتھ دھوکر کلی کرلے اس کے بعد آیۃ الکرسی پڑھےاگر منہ میں حقہ وغیرہ کی بدبو ہو یا کوئی کھانے پینے کی چیز ہو تو بغیر کلی کئے تلاوت نہ کرے جو استاد ایسا کرتے ہیں برا کرتے ہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴: از موضع منصور پور متصل ڈاك خانہ قصبہ شیش گڈھ بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خان ۳۰محرم۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر صاحبان کو دیکھا گیا ہے کہ کعبہ شریف کی جانب پشت کرکے دیوا رمسجد کے سہارے سے بیٹھ کر تسبیح وغیرہ پڑھتے ہیں ایسے صاحبان کے واسطے کیا حکم ہے
الجواب:
یہ نامناسب ہے حدیث میں ہے:
افضل المجالس مااستقبل بہ القبلۃ واﷲ تعالی اعلم۔ سب میں بہتر نشست رو بہ قبلہ ہے۔(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵ و ۱۲۶: مسئلہ حافظ عبدالطیف صاحب مدرس مدرسہ حنفیہ سہسوان از سہسوان ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ
(۱)مصحف مجید جو نہایت بوسیدہ ہوجائے اس کو اولی دفن یا احراق اور اگر دفن ہو تو کس جگہ
(۲)اسبند پر بعض حفاظ کوئی آیت پڑھ کر پھونکتے ہیں پھر وہ جلایا جاتاہے یہ فعل کیسا ہے بینوا تو جروا(بیان فرمائے اجر پائے۔ت)
الجواب:
(۱)مصحف کریم کا احراق جائز نہیں نص علیہ فی الدرالمختار(درمختار میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ت)بلکہ حفاظت کی جگہ دفن کیا جائے جہاں پاؤں نہ پڑیںاور اگر تھوڑے اوراق ہوں تو اولی یہ ہے کہ مسلمانوں کے بچوں کو ان کی تعویذ تقسیم کردئے جائیں۔
(۲)اسپند پر کوئی آیت دم کرکے جلانے میں حرج نہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۷ و ۱۲۸: از دانا پور کمپ مسئو لہ پیر خیر شاہ صاحب ۲۹ صفر ۱۳۳۲ھ
(۱)زید اپنی زوجہ کی پستان منہ میں رکھ کر جماع کرتاہے اور کہتا ہے کہ لذت زیادہ حاصل ہوتی
حوالہ / References
کنز العمال برمز طب عن ابن عباس ∞حدیث ۲۵۴۰۱€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۹ /۱۳۹€
ہے کیا اس کو کسی طرح کا ہرج نکاح میں آسکتا ہے یا اس کو ہر حال میں ہمیشہ کے لئے مباح ہے
(۲)زید اپنی زوجہ سے کہتا ہے کہ تیری پستان بالکل خورد تری ہیں مجھ کو لذت جماع حاصل نہیں ہوتی اس کی زوجہ نے خاوند کی رضا کے لئے اپنے پستان خود ہی چوسنا اور پینا شروع کیا یہاں تك کہ اس کے پستان بوجہ دودھ آنے کے خوبصورت بن گئے۔اب وہ خاوند خوش ہوگیا وہ عورت ایسا کرسکتی ہے کیا اپنا دودھ پی سکتی ہے جواب کتب معتبرہ سے عنایت فرمائیں۔
الجواب:
(۱)صورت مستفسرہ جائز ہے بلکہ اگر نیت محمود ہو تو امید اجر ہے جیسا کہ ہمارے امام اعظم رضی الله تعالی عنہ نے باہم زوجین میں مس شرمگاہ یك دگر فرمایا:ارجو انھما یوجران علیہ میں امید کرتاہوں کہ وہ دونوں اس پر اجر دئے جائیں گے۔
اصل یہ ہے کہ شرع مطہر کو جس طرح اپنی حرام فرمائی ہوئی چیز یعنی زناء کے دواعی مبغوض ہیں ویسے ہی اپنی حلال کی ہوئی چیز یعنی جماع زوجہ کے دواعی محبوب ہیں ہاں اگر عورت شیر دار ہو تو ایسا چوسنا نہ چاہئے جس سے دودھ حلق میں چلا جائے اور اگر منہ میں آجائے اور حلق میں نہ جانے دے تو مضائقہ نہیں کہ شیر زن حرام ہے نجس نہیں البتہ روزے میں اس صورت خاص سے احتراز چاہئے۔کما نصوا علی کراھۃ ذوق شیئ الا ضرورۃ(جیسا کہ کسی چیز کا چکھنا بغیرکسی ضرورت کے ائمہ فقہ نے اس کے مکروہ ہونے کی تصریح فرمائی۔ت)والله تعالی اعلم۔
(۲)یہاں جو بات فرض کی ہے دو وجہ سے مستبعد ہے۔ایك چھوٹی پستان کا ایسا ہونا کہ عورت جسے خود پی سکے دوسرے اپنے پینے کی وجہ سے دودھ اتر آنابہر حال اگر خالی پستان پی لیا مضائقہ نہیں اوراگر دودھ پیا تو حرام ہے بلکہ دودھ کی پستان پینے سے خوبصورت ہوجانا خلاف واقع ہے۔دودھ بھرے ہونے سے خوبصورتی ہوگی اور خالی ہوکر اور بدصورتی ہوجائے گی۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۹: مسئولہ معطم علی صاحب پیش امام جامع مسجد حیدر آباد دکن ۷ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جامع مسجد بلدہ حیدرآباد دکن میں منبر کے پاس جو مصلے کا محراب ہے اس کے گردا گرد آیات قرآنی بخط طغرا سنگ سیاہ پرکندہ ہیں اگر خطیب صاحب منبر پر خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے رہے تو آیت قرآنی نیچے ہوتی ہیں تو کیا آیات قرآنی بوجہ منبر کے نیچے ہونے کے بے ادبی وبے حرمتی ہوتی ہے اگر بے ادبی ہے تو ان آیات کو
(۲)زید اپنی زوجہ سے کہتا ہے کہ تیری پستان بالکل خورد تری ہیں مجھ کو لذت جماع حاصل نہیں ہوتی اس کی زوجہ نے خاوند کی رضا کے لئے اپنے پستان خود ہی چوسنا اور پینا شروع کیا یہاں تك کہ اس کے پستان بوجہ دودھ آنے کے خوبصورت بن گئے۔اب وہ خاوند خوش ہوگیا وہ عورت ایسا کرسکتی ہے کیا اپنا دودھ پی سکتی ہے جواب کتب معتبرہ سے عنایت فرمائیں۔
الجواب:
(۱)صورت مستفسرہ جائز ہے بلکہ اگر نیت محمود ہو تو امید اجر ہے جیسا کہ ہمارے امام اعظم رضی الله تعالی عنہ نے باہم زوجین میں مس شرمگاہ یك دگر فرمایا:ارجو انھما یوجران علیہ میں امید کرتاہوں کہ وہ دونوں اس پر اجر دئے جائیں گے۔
اصل یہ ہے کہ شرع مطہر کو جس طرح اپنی حرام فرمائی ہوئی چیز یعنی زناء کے دواعی مبغوض ہیں ویسے ہی اپنی حلال کی ہوئی چیز یعنی جماع زوجہ کے دواعی محبوب ہیں ہاں اگر عورت شیر دار ہو تو ایسا چوسنا نہ چاہئے جس سے دودھ حلق میں چلا جائے اور اگر منہ میں آجائے اور حلق میں نہ جانے دے تو مضائقہ نہیں کہ شیر زن حرام ہے نجس نہیں البتہ روزے میں اس صورت خاص سے احتراز چاہئے۔کما نصوا علی کراھۃ ذوق شیئ الا ضرورۃ(جیسا کہ کسی چیز کا چکھنا بغیرکسی ضرورت کے ائمہ فقہ نے اس کے مکروہ ہونے کی تصریح فرمائی۔ت)والله تعالی اعلم۔
(۲)یہاں جو بات فرض کی ہے دو وجہ سے مستبعد ہے۔ایك چھوٹی پستان کا ایسا ہونا کہ عورت جسے خود پی سکے دوسرے اپنے پینے کی وجہ سے دودھ اتر آنابہر حال اگر خالی پستان پی لیا مضائقہ نہیں اوراگر دودھ پیا تو حرام ہے بلکہ دودھ کی پستان پینے سے خوبصورت ہوجانا خلاف واقع ہے۔دودھ بھرے ہونے سے خوبصورتی ہوگی اور خالی ہوکر اور بدصورتی ہوجائے گی۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۹: مسئولہ معطم علی صاحب پیش امام جامع مسجد حیدر آباد دکن ۷ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جامع مسجد بلدہ حیدرآباد دکن میں منبر کے پاس جو مصلے کا محراب ہے اس کے گردا گرد آیات قرآنی بخط طغرا سنگ سیاہ پرکندہ ہیں اگر خطیب صاحب منبر پر خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے رہے تو آیت قرآنی نیچے ہوتی ہیں تو کیا آیات قرآنی بوجہ منبر کے نیچے ہونے کے بے ادبی وبے حرمتی ہوتی ہے اگر بے ادبی ہے تو ان آیات کو
حوالہ / References
فتاوی قاضی خاں کتا ب الحظرولاباحۃ فصل فیما یکرہ من النظر والمس الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۸۳€
سیمنٹ یا چونے سے پوشیدہ کردیں تو کوئی گناہ تو نہیں
الجواب:
دیواروں پر کتابت قرآن عظیم میں رجحان جانب ممانعت ہے اور اگر منبر پر کھڑے ہونے میں اس طرف امام کی پیٹھ ہوتی ہے تو ضرور خلاف ادب ہے اور اگر پاؤں یا مجلس سے بلاسائر نیچے ہیں تو اور زیادہ سوء اور ادب ہے ان حالتوں میں ان کا سمینٹ یا چونے کسی پاك چیز سے بند کردینا حرج نہیں رکھتا بلکہ بہ نیت ادب محمود ہے اور اگر نہ نیچے ہیں نہ پیچھے جب بھی اگر اس قول راجح کے لحاظ سے یا اس لئے کہ محراب میں کوئی شے شاغل۔نظر نہ ہونی چائے بند کرنے میں حرج معلوم نہیں ہوتا۔
فان الامور بمقاصدھا وانما لکل امرئ مانوی ۲ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ کام اپنے مقاصد پر مبنی ہیںاور ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا۔اور الله تعالی سب کچھ خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳۰: مسئولہ محمود الحسن گوالیار بروز شنبہ تاریخ ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
جامع مسجد میں وعظ کسی کی اجازت سے ہونا چاہئے یا اگر کوئی تقریروغیرہ کرنا چاہئے اور اس کی قابلیت علم علوم دینیہ میں کافی نہ ہو اور اس کی تقریر اشتعال انگیز ہو کیا اس کو امام مسجد تقریر کرنے سے بند کرسکتاہے
الجواب:
وعظ میں اور ہر بات میں سب سے مقدم اجازت الله ورسول ہے جل الله وصلی الله تعالی علیہ وسلم جو کافی علم نہ رکھتا ہو اسے واعظ کہنا حرام ہے او اس کا وعظ سننا جائز نہیں اور اگر کوئی معاذا لله بد مذہب ہے تو وہ نائب شیطان ہے اس کی بات سننی سخت حرام ہے اور اگر کسی کے بیان سے فتنہ اٹھتا ہو تو اسے بھی رو کنے کا امام اور اہل مسجد سب کو حق ہے۔اور اگر پوری عالم سنی صحیح العقیدہ وعظ فرمائے تو اسے روکنے کا کسی کو حق نہیں۔بقولہ تعالی:
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ " ۔
واﷲ تعالی اعلم۔ اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو الله تعالی کے گھروں میں اس کانام لینے سے روکےاور الله تالی سب کچھ اچھی طرح جانتا ہے۔(ت)
الجواب:
دیواروں پر کتابت قرآن عظیم میں رجحان جانب ممانعت ہے اور اگر منبر پر کھڑے ہونے میں اس طرف امام کی پیٹھ ہوتی ہے تو ضرور خلاف ادب ہے اور اگر پاؤں یا مجلس سے بلاسائر نیچے ہیں تو اور زیادہ سوء اور ادب ہے ان حالتوں میں ان کا سمینٹ یا چونے کسی پاك چیز سے بند کردینا حرج نہیں رکھتا بلکہ بہ نیت ادب محمود ہے اور اگر نہ نیچے ہیں نہ پیچھے جب بھی اگر اس قول راجح کے لحاظ سے یا اس لئے کہ محراب میں کوئی شے شاغل۔نظر نہ ہونی چائے بند کرنے میں حرج معلوم نہیں ہوتا۔
فان الامور بمقاصدھا وانما لکل امرئ مانوی ۲ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ کام اپنے مقاصد پر مبنی ہیںاور ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا۔اور الله تعالی سب کچھ خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳۰: مسئولہ محمود الحسن گوالیار بروز شنبہ تاریخ ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
جامع مسجد میں وعظ کسی کی اجازت سے ہونا چاہئے یا اگر کوئی تقریروغیرہ کرنا چاہئے اور اس کی قابلیت علم علوم دینیہ میں کافی نہ ہو اور اس کی تقریر اشتعال انگیز ہو کیا اس کو امام مسجد تقریر کرنے سے بند کرسکتاہے
الجواب:
وعظ میں اور ہر بات میں سب سے مقدم اجازت الله ورسول ہے جل الله وصلی الله تعالی علیہ وسلم جو کافی علم نہ رکھتا ہو اسے واعظ کہنا حرام ہے او اس کا وعظ سننا جائز نہیں اور اگر کوئی معاذا لله بد مذہب ہے تو وہ نائب شیطان ہے اس کی بات سننی سخت حرام ہے اور اگر کسی کے بیان سے فتنہ اٹھتا ہو تو اسے بھی رو کنے کا امام اور اہل مسجد سب کو حق ہے۔اور اگر پوری عالم سنی صحیح العقیدہ وعظ فرمائے تو اسے روکنے کا کسی کو حق نہیں۔بقولہ تعالی:
" ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ " ۔
واﷲ تعالی اعلم۔ اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو الله تعالی کے گھروں میں اس کانام لینے سے روکےاور الله تالی سب کچھ اچھی طرح جانتا ہے۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۸۳€
صحیح البخاری باب کیف بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۱۴€
صحیح البخاری باب کیف بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۱۴€
مسئلہ ۱۳۱: از مقام اہورملك مارواڑ متصل آئر نپورا پیرمحمد امیر الدین بروزیك شنبہ بتاریخ ۱۲ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
بروز جمعہ کو مکتوب کے لڑکوں کو چھٹی ہے یا نہیں اگر ہے تو مع حدیث وآیت کے آگاہ فرمائیں فقط۔
الجواب:
جمعہ کی چھٹی ہمیشہ معمول علمائے اسلام ہے اور اسی قدر اس کی سند کے لئے کافی۔ایسی جگہ بالخصوص آیت یا حدیث ہونا ضرور نہیں اور آیت وحدیث سے یوں نکال بھی سکتے ہیں کہ حدیث صحیح میں جمعہ کی پہلی ساعت سے جمعہ کی طرف جانے کی ترغیب فرمائی توصبح سے فراغ جمعہ تك تو وقت اہتمام وانتظار جمہ میں گزرا پڑھنے کا کیا وقت ہے اگر کہئیے مسجد میں جاکر پڑھے تو قبل جمعہ حلقہ سے ممانعت فرمائی بعد نماز فرمایا گیا:
" فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض و ابتغوا من فضل اللہ " ۔ جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور الله کا فضل تلاش کرو۔
یہاں بھی تجارت وکسب حلال کا ذکر فرمایا نہ کہ تعلیم علم کا تو معلوم ہوا کہ وہ دن چھٹی کا ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۲:از بدایوں کچہری کلکٹری محافظ تھانہ صدر مسئولہ سلامت الله نائب محافظ دفتر پٹواری بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ذیل کے مسئلہ میں اگر مرد کو معلوم ہو کہ میری بی بی حاملہ ہے تو کس مدت تك عورت سے صحبت کرنا جائز ہے فقط
الجواب:
جب تك بچہ پیدا نہ ہو۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳: از شاہجہانپور بازار سبزی منڈی محمد رضا خاں سوداگر بروز دوشنبہ ۱۹ رجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جامع مسجد اور عیدگاہ میں واسطے ترمیم ان دونوں مسجدوں کی یا کسی اور مسجد کی خواہ اسی شہر میں ہو یا دوسرے شہر میںجائز ہے یا ناجائز اور اگر کوئی سائل اپنی ذاتی حاجت کے واسطے چندہ طلب کرے یا مؤذن اور امام مسجد اس کے واسطے اعلان
بروز جمعہ کو مکتوب کے لڑکوں کو چھٹی ہے یا نہیں اگر ہے تو مع حدیث وآیت کے آگاہ فرمائیں فقط۔
الجواب:
جمعہ کی چھٹی ہمیشہ معمول علمائے اسلام ہے اور اسی قدر اس کی سند کے لئے کافی۔ایسی جگہ بالخصوص آیت یا حدیث ہونا ضرور نہیں اور آیت وحدیث سے یوں نکال بھی سکتے ہیں کہ حدیث صحیح میں جمعہ کی پہلی ساعت سے جمعہ کی طرف جانے کی ترغیب فرمائی توصبح سے فراغ جمعہ تك تو وقت اہتمام وانتظار جمہ میں گزرا پڑھنے کا کیا وقت ہے اگر کہئیے مسجد میں جاکر پڑھے تو قبل جمعہ حلقہ سے ممانعت فرمائی بعد نماز فرمایا گیا:
" فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض و ابتغوا من فضل اللہ " ۔ جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور الله کا فضل تلاش کرو۔
یہاں بھی تجارت وکسب حلال کا ذکر فرمایا نہ کہ تعلیم علم کا تو معلوم ہوا کہ وہ دن چھٹی کا ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۲:از بدایوں کچہری کلکٹری محافظ تھانہ صدر مسئولہ سلامت الله نائب محافظ دفتر پٹواری بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ذیل کے مسئلہ میں اگر مرد کو معلوم ہو کہ میری بی بی حاملہ ہے تو کس مدت تك عورت سے صحبت کرنا جائز ہے فقط
الجواب:
جب تك بچہ پیدا نہ ہو۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳: از شاہجہانپور بازار سبزی منڈی محمد رضا خاں سوداگر بروز دوشنبہ ۱۹ رجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جامع مسجد اور عیدگاہ میں واسطے ترمیم ان دونوں مسجدوں کی یا کسی اور مسجد کی خواہ اسی شہر میں ہو یا دوسرے شہر میںجائز ہے یا ناجائز اور اگر کوئی سائل اپنی ذاتی حاجت کے واسطے چندہ طلب کرے یا مؤذن اور امام مسجد اس کے واسطے اعلان
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶۲ /۱۰€
کردے توجائز ہوگا یا ناجائز یا جامع مسجد یا عیدگاہ میں چندہ طلب کرنا وقت قراء ت خطبہ کے حکم جواز میں ہے یا عدم جواز میں اور رافضی کی مسجد میں سنی المذہب کا نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز مکروہ یاغیر مکروہ اگر روافض نے مسجد بنوادی ہے اور اس میں روافض نماز کے واسطے کسی وقت حاجر نہ ہوسکے اور سنی لوگ اس کے گردو پیش سکونت رکھتے ہوں اور اس مسجد میں نماز پنجوقتہ پڑھا کریں تو سنیوں کے واسطے موجب قباحت شرعا ہے یانہیں نمازاس مسجد میں سنیوں کی بکراہت اد اہوگی یا بلا کراہت اور علماء جو وعظ مساجد جامع یا غیر جامع میں کہتے ہیں اور حاضرین کو پند ونصائح سناتے ہیں اور وہ ان کی خدمت وتواضع نقود وغیرہ سے کرتے ہیں یہ آمدنی ان کو جائز ہے یا ناجائز اور بعضے صرف حمد ونعت پڑھتے ہیں اور سامعین ان کی خدمت گزاری نقد وجنس سے کرتے ہیں یہ امر مساجد وغیر مساجد میں مباح و درست ہے یانہیں اور یہ آمدنی ان کے واسطے درجہ جواز میں ہے یا عدم جواز میں یہ لوگ ماتحت آیہ کریمہ " اولئک الذین اشتروا الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ ۫ " (یہی وہ لوگ ہیں کہ جنھوں نے دنیاوی زندگی کو آخرت کے بدلے میں خریدلیا ہے۔ت)کے داخل ہیں یا خارج اس سے تین حاملین کہ مقصود طرفین الصاع اور انتفاع اور نفع رسانی اور مہمان نوازی اور مسافر پروری ہوبینو ا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
خطبہ کے وقت چندہ مانگنا خواہ کوئی بات کرنا حرام ہے اور خالی وقت میں مسجد یا اور کسی دینی کام یا کسی مسلمان حاجتمند کے لئے مانگے جس سے نمازیوں کی نماز میں خلل نہ آئے سنت سے ثابت ہے اور اپنے لئے مانگنے کی مسجد میں اجازت نہیںروافض کی بنائی ہوئی مسجد شرعا مسجد نہیں نماز اسی ہوگی جیسے کسی گھر میں اگر محلہ میں کوئی مسجد اہلسنت کی ہے تو اسے چھوڑ کر اس میں پڑھنا ترك مسجد ہوگا اور ترك مسجد بلاعذر شرعی جائز نہیں۔حدیث میں ہے:
لاصلوۃ لجارا المسجدالا فی المسجد ۔ مسجد کے پڑوسی کی نماز سوائے مسجد نہیں ہوتی۔(ت)
اور اگر کوئی مسجد نہیں تو اپنی مسجد بنائیں یا اسی کو مول لےکر وقف کردیں اس میں تین صورتیں ہیں اگر وعظ کہنے اور حمد ونعت پڑھنے سے مقصود یہی ہے کہ لوگوں سے کچھ مال حاصل کریں تو بیشك اس ایہ الکریمہ کے تحت میں داخل ہیں اور حکم " ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا ۫" (میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام
الجواب:
خطبہ کے وقت چندہ مانگنا خواہ کوئی بات کرنا حرام ہے اور خالی وقت میں مسجد یا اور کسی دینی کام یا کسی مسلمان حاجتمند کے لئے مانگے جس سے نمازیوں کی نماز میں خلل نہ آئے سنت سے ثابت ہے اور اپنے لئے مانگنے کی مسجد میں اجازت نہیںروافض کی بنائی ہوئی مسجد شرعا مسجد نہیں نماز اسی ہوگی جیسے کسی گھر میں اگر محلہ میں کوئی مسجد اہلسنت کی ہے تو اسے چھوڑ کر اس میں پڑھنا ترك مسجد ہوگا اور ترك مسجد بلاعذر شرعی جائز نہیں۔حدیث میں ہے:
لاصلوۃ لجارا المسجدالا فی المسجد ۔ مسجد کے پڑوسی کی نماز سوائے مسجد نہیں ہوتی۔(ت)
اور اگر کوئی مسجد نہیں تو اپنی مسجد بنائیں یا اسی کو مول لےکر وقف کردیں اس میں تین صورتیں ہیں اگر وعظ کہنے اور حمد ونعت پڑھنے سے مقصود یہی ہے کہ لوگوں سے کچھ مال حاصل کریں تو بیشك اس ایہ الکریمہ کے تحت میں داخل ہیں اور حکم " ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا ۫" (میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۸۶€
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الصلٰوۃ باب الماموم یصلی خارج المسجد الخ دارصادر بیروت ∞۳ /۱۱۱€
القرآن الکریم ∞۲ /۴۱€
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الصلٰوۃ باب الماموم یصلی خارج المسجد الخ دارصادر بیروت ∞۳ /۱۱۱€
القرآن الکریم ∞۲ /۴۱€
نہ وصول کرو۔ت)کے مخالف۔وہ آمدنی ان کے حق میں خبیث ہے خصوصا جبکہ ایسے حاجتمند نہ ہوں جن کو سوال کی اجازت ہے کہ اب تو بے ضرورت سوال دوسرا حرام ہوگا اور وہ آمدنی خبیث تر وحرام مثل غصب ہے عالمگیریہ میں ہے:
ماجمع السائل بالتکدی فھو خبیث ۔ سائل نے کدوکاوش سے جوکچھ جمع کیا وہ ناپاك ہے۔(ت)
دوسرے یہ کہ وعظ حمد ونعت سے ان کا مقصود محض الله ہے اور مسلمان بطور خود ان کی خدمت کریں تو یہ جائز ہے اور وہ مال حلالتیسرے یہ کہ وعظ سے مقصود تو الله ہی ہو مگر ہے حاجتمند اورعادۃ معلوم ہے کہ لوگ خدمت کریں گے اس خدمت کی طمع بھی ساتھ لگی ہوئی ہے تو اگرچہ یہ صورت دوم کے مثل محمود نہیں مگر صور اولی کی طرح مذموم بھی نہیں جسے درمختار میں فرمایا:
الوعظ لجمع المال من ضلالۃ الیھود و النصاری ۔ مال جمع کرنے کے لئے وعظ کہنا یہود ونصاری کی گمراہیوں سے ہے۔
یہ تیسری صور ت بین بین ہے اور دوم سے بہ نسبت اولی کے قریب تر ہے جس طرح حج کو جائے اور تجارت کا کچھ مال بھی ساتھ لے جائے جسے" لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم " (تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے پروردگار کا فضل(یعنی رزق حلال)تلاش کرو۔ت)فرمایا۔ لہذا فتوی اس کے جواز پر ہے۔
افتی بہ الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالی کما فی الخانیۃ والہندیۃ وغیرھما والذی ذکرتہ توفیق بین القولین وباﷲ التوفیق واﷲ تعالی اعلم۔ حضرت فقیہ ابواللیث سمر قندی رحمہ الله تعالی نے اس پر فتوی دیا ہے جیسا کہ فتاوی قاضی خاں اور فتاوی عالمگیری وغیرہ میں مذکور ہے اور جو کچھ میں نے بیان کیا ہے یہ دو۲ قولوں کے درمیان موافقت پیدا کرنا ہے اور الله تعالی ہی سے توفیق ہے۔ والله تعالی اعلم۔(ت)
ماجمع السائل بالتکدی فھو خبیث ۔ سائل نے کدوکاوش سے جوکچھ جمع کیا وہ ناپاك ہے۔(ت)
دوسرے یہ کہ وعظ حمد ونعت سے ان کا مقصود محض الله ہے اور مسلمان بطور خود ان کی خدمت کریں تو یہ جائز ہے اور وہ مال حلالتیسرے یہ کہ وعظ سے مقصود تو الله ہی ہو مگر ہے حاجتمند اورعادۃ معلوم ہے کہ لوگ خدمت کریں گے اس خدمت کی طمع بھی ساتھ لگی ہوئی ہے تو اگرچہ یہ صورت دوم کے مثل محمود نہیں مگر صور اولی کی طرح مذموم بھی نہیں جسے درمختار میں فرمایا:
الوعظ لجمع المال من ضلالۃ الیھود و النصاری ۔ مال جمع کرنے کے لئے وعظ کہنا یہود ونصاری کی گمراہیوں سے ہے۔
یہ تیسری صور ت بین بین ہے اور دوم سے بہ نسبت اولی کے قریب تر ہے جس طرح حج کو جائے اور تجارت کا کچھ مال بھی ساتھ لے جائے جسے" لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم " (تم پر کچھ گناہ نہیں کہ تم اپنے پروردگار کا فضل(یعنی رزق حلال)تلاش کرو۔ت)فرمایا۔ لہذا فتوی اس کے جواز پر ہے۔
افتی بہ الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالی کما فی الخانیۃ والہندیۃ وغیرھما والذی ذکرتہ توفیق بین القولین وباﷲ التوفیق واﷲ تعالی اعلم۔ حضرت فقیہ ابواللیث سمر قندی رحمہ الله تعالی نے اس پر فتوی دیا ہے جیسا کہ فتاوی قاضی خاں اور فتاوی عالمگیری وغیرہ میں مذکور ہے اور جو کچھ میں نے بیان کیا ہے یہ دو۲ قولوں کے درمیان موافقت پیدا کرنا ہے اور الله تعالی ہی سے توفیق ہے۔ والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۳€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۹۸€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۳€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۹۸€
مسئلہ ۱۳۴: مسئولہ عبدالرحمن از گگرہ ضلع کھیری بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ شعبان المعظم۱۳۳۴ھ
چہ میفرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ(کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں۔ت) کہ زید عرصہ اٹھارہ سال سے سفرحضر معمولی علالت میں بہ پابندی بعد ادائے نماز فجرتلاوت قرآن مجید کیا کرتا ہے گو دنیاوی تعلقات اور گونا گوں تفکرات اسے بہت ہی لاحق ہیں مگر وہ اس فرض کو ہرحالت میں انجام دیتا رہتا ہے مگر بوجہ کم استعداد ہونے کے وہ مطالب سے لاعلم رہتا ہے اسی صورت میں وہ مترجم قرآن مجید لفظی اردو یا فارسی کا ترجمہ دیکھ کر روزانہ بجائے دو پارہ ایك ربع یا اس سے کم وبیش تلاوت کرے یا حسب معمول روزانہ دو پارہ تلاوت کرے۔دونوں میں سے کون افضل ہے بینوا توجروا
الجواب:
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
احب الاعمال الی اﷲ ادومھا وان قل ۔ الله عزوجل کو سب سے زیادہ وہ عمل پسندہے جو ہمیشہ ہو اگرچہ کم ہو۔
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لا تکن مثل فلان کان یقوم اللیل ثم ترك قیام اللیل ۔ فلاں کی طرح نہ ہونا تہجد پڑھاکرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔
مہینے میں دو ختم خیر کثیر ہے اور جب اٹھارہ سال سے اس کا التزام ہے تو اس میں کمی ہر گز نہ کی جائے وفیہ حدیث عبداﷲ ابن عمر و رضی اﷲ تعالی عنہما(اور اس بارے میں حضرت عبدالله ابن عمرو رضی الله تعالی عنہما کی حدیث موجود ہے۔ت)قرآن عظیم کے مطالب سمجھنا بلا شبہہ مطلوب اعظم ہے مگر بے علم کثیرہ کافی کے ترجمہ دیکھ کر سمجھ لینا ممکن نہیں بلکہ اس کے نفع سے اس کا ضرر بہت زیادہ ہے جب تك کسی عالم ماہر کامل سنی دیندار سے نہ پڑھے خصوصا اس حالت میں کہ ترجمہ شیخ سعدی رضی الله تعالی عنہ کے سوا آج تك اردو فارسی جتنے ترجمے چھپے ہیں کوئی صحیح نہیں بلکہ ان باتوں پر مشتمل ہیں کہ بے علم بلکہ کم علم کو بھی گمراہ کردیں۔واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل حسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔
چہ میفرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین دریں مسئلہ(کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں۔ت) کہ زید عرصہ اٹھارہ سال سے سفرحضر معمولی علالت میں بہ پابندی بعد ادائے نماز فجرتلاوت قرآن مجید کیا کرتا ہے گو دنیاوی تعلقات اور گونا گوں تفکرات اسے بہت ہی لاحق ہیں مگر وہ اس فرض کو ہرحالت میں انجام دیتا رہتا ہے مگر بوجہ کم استعداد ہونے کے وہ مطالب سے لاعلم رہتا ہے اسی صورت میں وہ مترجم قرآن مجید لفظی اردو یا فارسی کا ترجمہ دیکھ کر روزانہ بجائے دو پارہ ایك ربع یا اس سے کم وبیش تلاوت کرے یا حسب معمول روزانہ دو پارہ تلاوت کرے۔دونوں میں سے کون افضل ہے بینوا توجروا
الجواب:
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
احب الاعمال الی اﷲ ادومھا وان قل ۔ الله عزوجل کو سب سے زیادہ وہ عمل پسندہے جو ہمیشہ ہو اگرچہ کم ہو۔
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
لا تکن مثل فلان کان یقوم اللیل ثم ترك قیام اللیل ۔ فلاں کی طرح نہ ہونا تہجد پڑھاکرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔
مہینے میں دو ختم خیر کثیر ہے اور جب اٹھارہ سال سے اس کا التزام ہے تو اس میں کمی ہر گز نہ کی جائے وفیہ حدیث عبداﷲ ابن عمر و رضی اﷲ تعالی عنہما(اور اس بارے میں حضرت عبدالله ابن عمرو رضی الله تعالی عنہما کی حدیث موجود ہے۔ت)قرآن عظیم کے مطالب سمجھنا بلا شبہہ مطلوب اعظم ہے مگر بے علم کثیرہ کافی کے ترجمہ دیکھ کر سمجھ لینا ممکن نہیں بلکہ اس کے نفع سے اس کا ضرر بہت زیادہ ہے جب تك کسی عالم ماہر کامل سنی دیندار سے نہ پڑھے خصوصا اس حالت میں کہ ترجمہ شیخ سعدی رضی الله تعالی عنہ کے سوا آج تك اردو فارسی جتنے ترجمے چھپے ہیں کوئی صحیح نہیں بلکہ ان باتوں پر مشتمل ہیں کہ بے علم بلکہ کم علم کو بھی گمراہ کردیں۔واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل حسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومۃ علی العمل ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۵€۷
سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلٰوۃ باب ماجاء فی قیام اللیل ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۹۵€
سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلٰوۃ باب ماجاء فی قیام اللیل ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۹۵€
(اور الله تعالی حق ارشاد فرماتاہے اور وہی سیدھی راہ دکھاتاہے ہمیں الله تعالی کافی ہےاور وہ اچھا کارساز ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۵: از ملك کاٹھیاواڑ مقام اڑتیان امین احمد پنجشنبہ ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
قرآن شریف کی تلاوت آواز سے کرنا یا آہستہ چاہئے
الجواب:
قرآن عظیم کی تلاوت آواز سے کرنا بہتر ہے مگر نہ اتنی آواز سے کہ اپنے آپ کو تکلیف یا کسی نمازی یا ذاکر کے کام میں خلل ہو یا کسی جائز نیند سونے والےکی نیند میں خلل آئے یا کسی بیمار کو تکلیف پہنچے یا بازار یا سرایا عام سڑك ہو یا لوگ اپنے کام کاج میں مشغول ہیں اور کوئی سننے کے لئے حاضر نہ رہے گا ان صورتوں میں آہستہ ہی پڑھنے کا حکم ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۶: مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل صاحب از گونڈل کاٹھیا واڑ یکم صفر ۱۳۳۵ھ
اکثر لوگ اپنی اپنی جوتیوں کو بغرض حفاظت مسجد کے اندر لیجاکر اپنے قریب یا کسی گوشہ میں رکھتے ہیں یہ جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جوتے جن میں نجاست نہ ہو اگر کسی شہ میں رکھ دئے جائیں یااپنے پاؤں کے سامنے تو حرج نہیں مگر سجدہ کے سامنے نہ ہو کہ نمازی کی طرف رحمت الہی موجود ہوتی ہے نہ دہنی طرف کو ادھر ملائکہ ہیں نہ بائیں طرف کہ دوسرے کے دہنی طرف ہوں گےہاں اگر یہ کنارہ پر کھڑا ہے کہ اس کے بائیں طرف کوئی نہیں اور دیوار کے ساتھ متصل ہے کہ کسی کے آنے کا بھی احتمال نہیں تو رکھ سکتا ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۷: مرسلہ محمود احمد صاحب از قصبہ دیوی شریف ضلع بارہ بنکی ۱۰ صفر المظفر ۱۳۳۵ھ
کیا ارشاد فرماتے ہیں حضرات علمائے دین اسلام ومفتیان شریعت خیر الانام علیہ الصلوۃ والسلام کہ جس طرح آگرہ میں مقبرہ تاج محل کے بیرونی پھاٹك واندرونی درو پر ونیز دہلی کی جامع مسجد کے در پر اور بعض دیگر مقدس مقامات ومساجد کے دروں پر آیات قرآن مجید کندہ ہیں اگر کسی بزرگ وبرگزیدہ خدا کے مقبرہ کے دروں پر بایں احتیاط کہ زمین سے سات فٹ بلندی پر جہاں کسی قسم کی بے ادبی کا گمان بھی نہ ہو قرآن مجید کی کوئی سورہ یا اسماء جناب احدیت جل جلالہ سنگ مرمر کے ایسے مضبوط مصالحہ سے لکھے جائیں جو مثل پتھر کے مستحکم ہوں اور جن کا رنگ دھوپ یا پانی سےکبھی تبدیل نہ ہو سکے اور حروف ہمیشہ بدستور قائم ہریں تو شرعا جائز ہے نہیں بینوا توجروا
مسئلہ ۱۳۵: از ملك کاٹھیاواڑ مقام اڑتیان امین احمد پنجشنبہ ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
قرآن شریف کی تلاوت آواز سے کرنا یا آہستہ چاہئے
الجواب:
قرآن عظیم کی تلاوت آواز سے کرنا بہتر ہے مگر نہ اتنی آواز سے کہ اپنے آپ کو تکلیف یا کسی نمازی یا ذاکر کے کام میں خلل ہو یا کسی جائز نیند سونے والےکی نیند میں خلل آئے یا کسی بیمار کو تکلیف پہنچے یا بازار یا سرایا عام سڑك ہو یا لوگ اپنے کام کاج میں مشغول ہیں اور کوئی سننے کے لئے حاضر نہ رہے گا ان صورتوں میں آہستہ ہی پڑھنے کا حکم ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۶: مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل صاحب از گونڈل کاٹھیا واڑ یکم صفر ۱۳۳۵ھ
اکثر لوگ اپنی اپنی جوتیوں کو بغرض حفاظت مسجد کے اندر لیجاکر اپنے قریب یا کسی گوشہ میں رکھتے ہیں یہ جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جوتے جن میں نجاست نہ ہو اگر کسی شہ میں رکھ دئے جائیں یااپنے پاؤں کے سامنے تو حرج نہیں مگر سجدہ کے سامنے نہ ہو کہ نمازی کی طرف رحمت الہی موجود ہوتی ہے نہ دہنی طرف کو ادھر ملائکہ ہیں نہ بائیں طرف کہ دوسرے کے دہنی طرف ہوں گےہاں اگر یہ کنارہ پر کھڑا ہے کہ اس کے بائیں طرف کوئی نہیں اور دیوار کے ساتھ متصل ہے کہ کسی کے آنے کا بھی احتمال نہیں تو رکھ سکتا ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۷: مرسلہ محمود احمد صاحب از قصبہ دیوی شریف ضلع بارہ بنکی ۱۰ صفر المظفر ۱۳۳۵ھ
کیا ارشاد فرماتے ہیں حضرات علمائے دین اسلام ومفتیان شریعت خیر الانام علیہ الصلوۃ والسلام کہ جس طرح آگرہ میں مقبرہ تاج محل کے بیرونی پھاٹك واندرونی درو پر ونیز دہلی کی جامع مسجد کے در پر اور بعض دیگر مقدس مقامات ومساجد کے دروں پر آیات قرآن مجید کندہ ہیں اگر کسی بزرگ وبرگزیدہ خدا کے مقبرہ کے دروں پر بایں احتیاط کہ زمین سے سات فٹ بلندی پر جہاں کسی قسم کی بے ادبی کا گمان بھی نہ ہو قرآن مجید کی کوئی سورہ یا اسماء جناب احدیت جل جلالہ سنگ مرمر کے ایسے مضبوط مصالحہ سے لکھے جائیں جو مثل پتھر کے مستحکم ہوں اور جن کا رنگ دھوپ یا پانی سےکبھی تبدیل نہ ہو سکے اور حروف ہمیشہ بدستور قائم ہریں تو شرعا جائز ہے نہیں بینوا توجروا
الجواب:
دیواروں پر کتابت سے علماء نے منع فرمایا ہے کما فی الہندیۃ وغیرھا(جیساکہ فتاوی عالمگیری وغیرہ میں ہے۔ت)اس سے احتراز ہی اسلم ہے۔اگر چھوٹ کر نہ بھی گریں تو بارش میں پانی ان پر گزر کر زمین پر آئے گا اور پامال ہوگا غرض مفسدہ کا احتمال ہے او رمصلحت کچھ بھی نہیں لہذا اجتناب ہی چاہئے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸:جناب مولوی صاحب یہ عرض ہے اگر چلے کے اندر عورت مرد سے بولے پھر عورت چالیس دن کا چلہ نہائے تو عورت پاك ہوجائے گی اور نماز روزہ اورقرآن شریف کی عبادتوں کے لائق ہوجائے گی۔چلے کے اندر عورت نے انکار کیا مرد ناراض ہو یا کہے کہ جی میں آتاہے کہ میں نکاح کرلوںعورت کو ان باتوں کا خیال ہو اور بلوالے اس کا مسئلہاس سے بہت ڈر معلوم ہوتاہے۔
الجواب:
بچہ پیدا ہونے کے بعد جس وقت خون بند ہوجائے اگر چلے کے اندر پھر نہ آئے تو اسی وقت عورت پاك ہوجاتی ہے مثلا فقط ایك منٹ بھر خون آیا پھر نہ آیا تو بچہ پیدا ہونے کے اسی ایك منٹ تك ناپاکی تھی پھر پاك ہوگئینہا کے نماز پڑھے روزہ رکھےپھر اگر چلے کے اندر خون نہ آیا تو یہ نماز روزے سب صحیح ہوگئے اور اگر پھر آگیا تو نمازروزے پھر چھوڑدے۔اب اگر پورے چلے یا اس سے کم پر جا کر بند ہوا تو شروع پیدائش سے اس وقت تك سب دن خون کے سمجھے جائیں گے وہ نمازیں جو پڑھیں بیکار گئیں اوروہ فرضی روزے جو رکھے قضا کئے جائیں گے اور اگر چلے سے بھی باہر جاکر بند ہوا اس سے پہلے بچہ پیدا ہونے میں جتنے دن خون آیا تھا اتنے دن ناپاکی کے سمجھے جائیں گے باقی پاکی کے۔مثلا گھڑی بھر خون آیا اور بندہوگیا پھر پچیس دن بعدآیا اور چالیس دن سے پاؤ گھڑی زیادہ تك آیا کہ شروع پیدائش بچہ سے اس وقت تك چالیس دن پاؤ گھڑی کا عرصہ ہوا تو اس سے پہلے اگر کوئی بچہ نہ ہوا تھا جب تو پورا چلہ ناپاکی کا ہوگا فقط پاؤ گھڑی یا جتنا چلے سے بڑھا استحاضہ ہے اس میں وضو کرکے نماز پڑھ سکتی ہے اور روزہ تو بہر حال روا ہے۔اور اگر پہلے بچہ پر مثلا بیس دن خون آیا تھا تو بیس دن ناپاکی کے ہیں باقی دن پاکی کے ہیں ان میں نماز روزے نہ رکھے ہوں قضا کرنے ہوں گے یہ حکم ہے۔اور عورتوں میں جو مشہور ہے کہ خون آئے یا بند ہوجائے چلہ پورا ہی کرکے نہاتی ہیں اور جب تك نمازیں قضا کرتی ہیں یہ سخت حرام ہے۔رہا خاوند کے پاس جانا اگر چلہ کے اندر خون بند ہوجائے اور اتنے دنوں سے کم ہو جتنے دن اس سے پہلے بچہ میں آیا تھا تو خاوند کے پاس جانا حرام ہے۔اور اس کا یہ کہنا عورت کسی طرح نہیں مان سکتی مانے گی تو سخت
دیواروں پر کتابت سے علماء نے منع فرمایا ہے کما فی الہندیۃ وغیرھا(جیساکہ فتاوی عالمگیری وغیرہ میں ہے۔ت)اس سے احتراز ہی اسلم ہے۔اگر چھوٹ کر نہ بھی گریں تو بارش میں پانی ان پر گزر کر زمین پر آئے گا اور پامال ہوگا غرض مفسدہ کا احتمال ہے او رمصلحت کچھ بھی نہیں لہذا اجتناب ہی چاہئے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸:جناب مولوی صاحب یہ عرض ہے اگر چلے کے اندر عورت مرد سے بولے پھر عورت چالیس دن کا چلہ نہائے تو عورت پاك ہوجائے گی اور نماز روزہ اورقرآن شریف کی عبادتوں کے لائق ہوجائے گی۔چلے کے اندر عورت نے انکار کیا مرد ناراض ہو یا کہے کہ جی میں آتاہے کہ میں نکاح کرلوںعورت کو ان باتوں کا خیال ہو اور بلوالے اس کا مسئلہاس سے بہت ڈر معلوم ہوتاہے۔
الجواب:
بچہ پیدا ہونے کے بعد جس وقت خون بند ہوجائے اگر چلے کے اندر پھر نہ آئے تو اسی وقت عورت پاك ہوجاتی ہے مثلا فقط ایك منٹ بھر خون آیا پھر نہ آیا تو بچہ پیدا ہونے کے اسی ایك منٹ تك ناپاکی تھی پھر پاك ہوگئینہا کے نماز پڑھے روزہ رکھےپھر اگر چلے کے اندر خون نہ آیا تو یہ نماز روزے سب صحیح ہوگئے اور اگر پھر آگیا تو نمازروزے پھر چھوڑدے۔اب اگر پورے چلے یا اس سے کم پر جا کر بند ہوا تو شروع پیدائش سے اس وقت تك سب دن خون کے سمجھے جائیں گے وہ نمازیں جو پڑھیں بیکار گئیں اوروہ فرضی روزے جو رکھے قضا کئے جائیں گے اور اگر چلے سے بھی باہر جاکر بند ہوا اس سے پہلے بچہ پیدا ہونے میں جتنے دن خون آیا تھا اتنے دن ناپاکی کے سمجھے جائیں گے باقی پاکی کے۔مثلا گھڑی بھر خون آیا اور بندہوگیا پھر پچیس دن بعدآیا اور چالیس دن سے پاؤ گھڑی زیادہ تك آیا کہ شروع پیدائش بچہ سے اس وقت تك چالیس دن پاؤ گھڑی کا عرصہ ہوا تو اس سے پہلے اگر کوئی بچہ نہ ہوا تھا جب تو پورا چلہ ناپاکی کا ہوگا فقط پاؤ گھڑی یا جتنا چلے سے بڑھا استحاضہ ہے اس میں وضو کرکے نماز پڑھ سکتی ہے اور روزہ تو بہر حال روا ہے۔اور اگر پہلے بچہ پر مثلا بیس دن خون آیا تھا تو بیس دن ناپاکی کے ہیں باقی دن پاکی کے ہیں ان میں نماز روزے نہ رکھے ہوں قضا کرنے ہوں گے یہ حکم ہے۔اور عورتوں میں جو مشہور ہے کہ خون آئے یا بند ہوجائے چلہ پورا ہی کرکے نہاتی ہیں اور جب تك نمازیں قضا کرتی ہیں یہ سخت حرام ہے۔رہا خاوند کے پاس جانا اگر چلہ کے اندر خون بند ہوجائے اور اتنے دنوں سے کم ہو جتنے دن اس سے پہلے بچہ میں آیا تھا تو خاوند کے پاس جانا حرام ہے۔اور اس کا یہ کہنا عورت کسی طرح نہیں مان سکتی مانے گی تو سخت
گنہگار ہوگی تو بہ کرے۔اور اگر اتنے دن پورے ہولئے جتنے دنوں اس سے پہلے بچہ میں آیا تھا اس کے بعد بند ہوا اور چلہ ابھی پورا نہ ہوا تو جب عورت نہالے گی یا ایك نمازکا وقت اس پر گزر جائے گا اس وقت خاوند کے پاس جاسکتی ہے۔ورنہ ہر گز نہیں۔
مسئلہ ۱۳۹: از جالندھر شہر چوك مرسلہ محمد آمین مؤرخہ ۲۴ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
قطب کی طرف پاؤں کرکے سونا چاہئے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
کوئی حرج نہیں وہ ایك ستارہ ہے ستارے سب طرف ہیں۔فقط
مسئلہ ۱۴۰: از محلہ نالہ بریلی بنن خاں مؤرخہ ۲۸ ذی القعدہ
ایك شخص نے طرف کعبہ شریف کے پیر کئے لیکن اس کوخیال تھا جب اٹھوں گا تو میرا منہ زیارت مقدسہ کی طرف ہوگا میں پڑھتا اٹھوں گا۔
الجواب:
کعبہ معظمہ کی طرف پاؤں کرکے سونا بلکہ اس طرف پاؤں پھیلانا سونے میں ہو خواہ جاگنے میں۔لیٹے ہوخواہ بیٹھے میں۔ہر طرح ممنوع و بے ادبی ہے۔اور یہ اس کا خیال حماقت ہے۔سنت یوں ہے کہ قطب کی طرف سر کرے اور سیدھی کروٹ پر سوئے کہ سونے میں بھی معنہ کعبہ کو ہی رہے۔ہاں وہ مریض جس میں اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہیں اس کی نماز کے لئے ایك طریقہ یہ رکھا گیا ہے کہ پائنتی قبلہ کی طرف ہو اور سرکے نیچے اونچا تکیہ رکھ دیں کہ منہ کعبہ معظمہ کو ہو پھر یہ ضرورت کے واسطےغیر مریض اپنے آپ کو اس پر قیاس نہیں کرسکتا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۱ و ۱۴۲: مولوی نذیر احمد صاحب ساکن سموہان پر گنہ نواب گنج بریلی مؤرخہ ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسائل مفصلہ ذیل میں:
(۱)بی بی سے ہمبستری کس طرح سنت ہے
(۲)دن میں بی بی سے ہمبستر ہونا کیساہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)جو وقت تمام شرعی ممانعتوں سے خالی ہو اس میں تین نیتوں سے:۱طلب ولد صالح کہ توحید و رسالت شہید دے تکثیر امت مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کرے۔۲عورت کا ادائے حق اور اسے پریشان خاطری وپریشان نظری سے بچانا۳یا د الہی واعمال صالحہ کے لئے اپنے قلب کا
مسئلہ ۱۳۹: از جالندھر شہر چوك مرسلہ محمد آمین مؤرخہ ۲۴ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
قطب کی طرف پاؤں کرکے سونا چاہئے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
کوئی حرج نہیں وہ ایك ستارہ ہے ستارے سب طرف ہیں۔فقط
مسئلہ ۱۴۰: از محلہ نالہ بریلی بنن خاں مؤرخہ ۲۸ ذی القعدہ
ایك شخص نے طرف کعبہ شریف کے پیر کئے لیکن اس کوخیال تھا جب اٹھوں گا تو میرا منہ زیارت مقدسہ کی طرف ہوگا میں پڑھتا اٹھوں گا۔
الجواب:
کعبہ معظمہ کی طرف پاؤں کرکے سونا بلکہ اس طرف پاؤں پھیلانا سونے میں ہو خواہ جاگنے میں۔لیٹے ہوخواہ بیٹھے میں۔ہر طرح ممنوع و بے ادبی ہے۔اور یہ اس کا خیال حماقت ہے۔سنت یوں ہے کہ قطب کی طرف سر کرے اور سیدھی کروٹ پر سوئے کہ سونے میں بھی معنہ کعبہ کو ہی رہے۔ہاں وہ مریض جس میں اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہیں اس کی نماز کے لئے ایك طریقہ یہ رکھا گیا ہے کہ پائنتی قبلہ کی طرف ہو اور سرکے نیچے اونچا تکیہ رکھ دیں کہ منہ کعبہ معظمہ کو ہو پھر یہ ضرورت کے واسطےغیر مریض اپنے آپ کو اس پر قیاس نہیں کرسکتا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۱ و ۱۴۲: مولوی نذیر احمد صاحب ساکن سموہان پر گنہ نواب گنج بریلی مؤرخہ ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسائل مفصلہ ذیل میں:
(۱)بی بی سے ہمبستری کس طرح سنت ہے
(۲)دن میں بی بی سے ہمبستر ہونا کیساہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)جو وقت تمام شرعی ممانعتوں سے خالی ہو اس میں تین نیتوں سے:۱طلب ولد صالح کہ توحید و رسالت شہید دے تکثیر امت مصطفی صلی الله تعالی علیہ وسلم کرے۔۲عورت کا ادائے حق اور اسے پریشان خاطری وپریشان نظری سے بچانا۳یا د الہی واعمال صالحہ کے لئے اپنے قلب کا
اس تشویش سے فارغ کرنا یوں کہ نہ اپنی برہنگی ہو نہ عورت کی کہ حدیث میں فرمایا:
ولا یتجردان تجرد العیر ۔ دونوں(میاں بیوی)گدھوں کی طرح ننگے نہ ہوں(ہمبستری کے وقت)۔(ت)
اور اس وقت نہ رو بقبلہ ہو نہ پشت بقبلہعورت چت ہو اور یہ اکڑوں بیٹھے اور بوس وکنار و مساعی و ملاعبت سے شروع کرےجب اسے بھی متوجہ پائے بسم اﷲ الرحمن الرحیم جنبنا الشیطن و جنب الشیطان مارزقتنا (الله تعالی کے نام سے ابتداء جو بیحد رحم کرنے والا مہربان ہے۔اے الله ہمیں شیطان کے وار سے بچائے اور جو کچھ تو نے ہمیں عطا فرمایا اس میں شیطان کو ہم سے دور رکھے۔ت)کہہ کر آغاز کرے اور اس وقت کلام اور فرج پر نظر نہ کرے۔بعد فراغ فورا جدا نہ ہو یہاں تك کہ عورت کی بھی حاجت پوری ہو حدیث میں اس کا بھی حکم ہے۔
الله عزوجل کی بے شمار درودیں ان پر جنھوں نے ہم کو ہر باب میں تعلیم دی اور ہماری کشتی حاجت دینی ودنیوی کومہمل نہ چھوڑاصلی الله تعالی علیہ وسلم وبارك علیہ والہ وصحبہ اجمعین۔
(۲)جائز ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۳: از ریاست جموں کشمیر خاص محلہ رانگریزاں بخانہ منشی ابراہیم براستہ جہلم مرسلہ محمد یوسف صاحب ۲۲ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
اگر کوئی مولوی صاحب مجلس وعظ میں جو کہ قرآن شریف وحدیث شریف سے ہو کہیں کہ ہماری چارپائی دور بچھادو تاکہ ہمارے کان میں آواز وعظ نہ آئے تکبر اور عناداتو ایسے شخص کا کیاحکم ہے
الجواب:
اگر یہ واقعی ہے کہ وہ واعظ سنی العقیدہ پورا علم صحیح البیان تھا اور اس شخص نے بلاوجہ شرعی محض تکبر وعناد کے سبب وہ الفاظ کہے تو ضرور گنہگار اور سخت مواخذہ کا سزا وار ہوگا۔
" فما لہم عن التذکرۃ معرضین ﴿۴۹﴾ کانہم حمر مستنفرۃ ﴿۵۰﴾ فرت من قسورۃ ﴿۵۱﴾"
" انھیں کیا ہواکہ وعظ سے منہ پھیرتے ہیں گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہیں کہ شیر سے بھاگے ہوں۔
ولا یتجردان تجرد العیر ۔ دونوں(میاں بیوی)گدھوں کی طرح ننگے نہ ہوں(ہمبستری کے وقت)۔(ت)
اور اس وقت نہ رو بقبلہ ہو نہ پشت بقبلہعورت چت ہو اور یہ اکڑوں بیٹھے اور بوس وکنار و مساعی و ملاعبت سے شروع کرےجب اسے بھی متوجہ پائے بسم اﷲ الرحمن الرحیم جنبنا الشیطن و جنب الشیطان مارزقتنا (الله تعالی کے نام سے ابتداء جو بیحد رحم کرنے والا مہربان ہے۔اے الله ہمیں شیطان کے وار سے بچائے اور جو کچھ تو نے ہمیں عطا فرمایا اس میں شیطان کو ہم سے دور رکھے۔ت)کہہ کر آغاز کرے اور اس وقت کلام اور فرج پر نظر نہ کرے۔بعد فراغ فورا جدا نہ ہو یہاں تك کہ عورت کی بھی حاجت پوری ہو حدیث میں اس کا بھی حکم ہے۔
الله عزوجل کی بے شمار درودیں ان پر جنھوں نے ہم کو ہر باب میں تعلیم دی اور ہماری کشتی حاجت دینی ودنیوی کومہمل نہ چھوڑاصلی الله تعالی علیہ وسلم وبارك علیہ والہ وصحبہ اجمعین۔
(۲)جائز ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۳: از ریاست جموں کشمیر خاص محلہ رانگریزاں بخانہ منشی ابراہیم براستہ جہلم مرسلہ محمد یوسف صاحب ۲۲ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
اگر کوئی مولوی صاحب مجلس وعظ میں جو کہ قرآن شریف وحدیث شریف سے ہو کہیں کہ ہماری چارپائی دور بچھادو تاکہ ہمارے کان میں آواز وعظ نہ آئے تکبر اور عناداتو ایسے شخص کا کیاحکم ہے
الجواب:
اگر یہ واقعی ہے کہ وہ واعظ سنی العقیدہ پورا علم صحیح البیان تھا اور اس شخص نے بلاوجہ شرعی محض تکبر وعناد کے سبب وہ الفاظ کہے تو ضرور گنہگار اور سخت مواخذہ کا سزا وار ہوگا۔
" فما لہم عن التذکرۃ معرضین ﴿۴۹﴾ کانہم حمر مستنفرۃ ﴿۵۰﴾ فرت من قسورۃ ﴿۵۱﴾"
" انھیں کیا ہواکہ وعظ سے منہ پھیرتے ہیں گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہیں کہ شیر سے بھاگے ہوں۔
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ابن سعد عن ابی قلابہ∞ حدیث ۴۴۸۶۳€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶ /۳۴۸€
کنز العمال بحوالہ حم،ق عن ابن عباس ∞حدیث ۴۴۸۴۷€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶ /۳۴۵€
القرآن الکریم ∞۷۴ /۴۹ تا ۵۱€
کنز العمال بحوالہ حم،ق عن ابن عباس ∞حدیث ۴۴۸۴۷€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶ /۳۴۵€
القرآن الکریم ∞۷۴ /۴۹ تا ۵۱€
اور اگر وہ واعظ بد مذہب تھا یا جاہل تھا یا غلط سلط بیان کرتا یا عالم کہ کسی طمع وغیرہ کے سبب الٹی کہتا اس وجہ سے احتراز کیا تو بجا کیا۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۴۴:از جوالا پور ڈاك خانہ خاص تحصیل رڑکی ضلع سہانپور مرسلہ سید امتیاز علی نائب مدرس مدرسہ پرائمری اسکول ۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عاجز نے کار ثواب سمجھ کر کیا مگر بعد کو چند اصحاب سے معلوم ہوا کہ یہ کام بالکل نا جائز ہے لیکن اکثر جائز بھی بتلاتے ہیں جس کی وجہ سے بندہ بحر تذبذب میں شب وروز غوطہ زن ہے امید کہ حضرت اس کو مبدل بخوشی کریں گے دراصل حقیقت یہ ہے کہ بندہ نے اپنے ہر دو ہاتھوں پر ہتھیلی سے چھ چھ انگشت کے فاصلہ پر ایك ہاتھ پر یا الله دست ثانی پر یا محمد بذریعہ مشین کھدوا لیا ہے۔بندہ کو الله محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم سے محبت قلبی ہے۔بندہ خاندان چشت اہل بہشت نیز ہر چہار خاندان کے زمرہ میں ہے بندہ نے اس غرض سے یہ کام کیا تھاکہ بندہ کے دل سے الله ومحمد(عزوجل وصلی الله تعالی علیہ وسلم)ہر دم نکلتارہے نیز جو شخص اس کو دیکھے اس کی زبان سے ایك مرتبہ کم از کم یا الله یا محمد نکلےبندہ کی عقل ناقص اس قدر ہے کہ جو کہ ظاہر کی گئیامید کہ اس مشتبہ کو حضور بندہ کے دل سے دور کرینگے نیز عرض ہے کہ اگر یہ ناجائز ہو تو بندہ کو مطلع کرنا کہ کیا کام کیا جائے گا کہ الله جل شانہ بزرگ برتر اپنی رحمت کاملہ سے اس بار عظیم سے سبکدوش کردے یہ مٹانے سے مٹ اور چھیلنے سے چھل بھی نہیں سکتا۔
الجواب:
یہ غالبا خون نکال کر اسے روك کر کیا جاتاہے جیسے نیل گدوانااگریہی صورت ہو تو اس کے ناجائز ہونے میں کلام نہیں اور جبکہ اس کا ازالہ ناممکن ہے تو سوا توبہ واستغفار کے کیا علاج ہے مولی تعالی عزوجل توبہ قبول فرماتاہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۵:ازمراد آباد مدرسہ اہلسنت بازا دیوان مرسلہ مولوی عبدالودود صاحب بنگالی قادری برکاتی رضوی طالب عالم مدرسہ مذکور ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
لوگوں کے نام کے آگے جو محمد ہے اس پر حرف(ص) اس طرح لکھنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
حرف(ص)لکھنا جائز نہیں نہ لوگوں کے نام پر نہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اسم کریم پر
مسئلہ ۱۴۴:از جوالا پور ڈاك خانہ خاص تحصیل رڑکی ضلع سہانپور مرسلہ سید امتیاز علی نائب مدرس مدرسہ پرائمری اسکول ۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عاجز نے کار ثواب سمجھ کر کیا مگر بعد کو چند اصحاب سے معلوم ہوا کہ یہ کام بالکل نا جائز ہے لیکن اکثر جائز بھی بتلاتے ہیں جس کی وجہ سے بندہ بحر تذبذب میں شب وروز غوطہ زن ہے امید کہ حضرت اس کو مبدل بخوشی کریں گے دراصل حقیقت یہ ہے کہ بندہ نے اپنے ہر دو ہاتھوں پر ہتھیلی سے چھ چھ انگشت کے فاصلہ پر ایك ہاتھ پر یا الله دست ثانی پر یا محمد بذریعہ مشین کھدوا لیا ہے۔بندہ کو الله محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم سے محبت قلبی ہے۔بندہ خاندان چشت اہل بہشت نیز ہر چہار خاندان کے زمرہ میں ہے بندہ نے اس غرض سے یہ کام کیا تھاکہ بندہ کے دل سے الله ومحمد(عزوجل وصلی الله تعالی علیہ وسلم)ہر دم نکلتارہے نیز جو شخص اس کو دیکھے اس کی زبان سے ایك مرتبہ کم از کم یا الله یا محمد نکلےبندہ کی عقل ناقص اس قدر ہے کہ جو کہ ظاہر کی گئیامید کہ اس مشتبہ کو حضور بندہ کے دل سے دور کرینگے نیز عرض ہے کہ اگر یہ ناجائز ہو تو بندہ کو مطلع کرنا کہ کیا کام کیا جائے گا کہ الله جل شانہ بزرگ برتر اپنی رحمت کاملہ سے اس بار عظیم سے سبکدوش کردے یہ مٹانے سے مٹ اور چھیلنے سے چھل بھی نہیں سکتا۔
الجواب:
یہ غالبا خون نکال کر اسے روك کر کیا جاتاہے جیسے نیل گدوانااگریہی صورت ہو تو اس کے ناجائز ہونے میں کلام نہیں اور جبکہ اس کا ازالہ ناممکن ہے تو سوا توبہ واستغفار کے کیا علاج ہے مولی تعالی عزوجل توبہ قبول فرماتاہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۵:ازمراد آباد مدرسہ اہلسنت بازا دیوان مرسلہ مولوی عبدالودود صاحب بنگالی قادری برکاتی رضوی طالب عالم مدرسہ مذکور ۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
لوگوں کے نام کے آگے جو محمد ہے اس پر حرف(ص) اس طرح لکھنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
حرف(ص)لکھنا جائز نہیں نہ لوگوں کے نام پر نہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کے اسم کریم پر
لوگوں کے نام پر تو یوں نہیں کہ وہ اشارہ ودرود کا ہے اور غیر انبیاء وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام پر بالاستقلال درود جائز نہیں اور نام اقدس پر یوں نہیں کہ وہاں پورے درود شریف کا حکم ہے صلی الله تعالی علیہ وسلم لکھے فقط ص یا صلم یا صلعم جو لوگ لکھتے ہیں سخت شنیع وممنوع ہے یہاں تك کہ تاتارخانیہ میں اس کو تخفیف شان اقدس ٹھہرایا والعیاذ بالله تعالی۔
مسئلہ ۱۴۶: از کوہ منصوری ڈاك خانہ کلہڑی کام اپرانڈیا گیٹ مستری حکیم الله ۳۰ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
پردیس میں بال بچے دار کو کب تك رہنا چاہئے
الجواب:
بلا ضرورت سفر میں زیادہ رہنا کسی کونہ چاہئےحدیث میں حکم فرمایا ہے کہ جب کام ہوچکے سفر سے جلد واپس آؤ اور جو وطن میں زوجہ چھوڑ آیا ہو اسے حکم ہے کہ جہاں تك بن پڑے چار ماہ کے اندر اندر واپس آئے بذلك امر امیر المومنین الفاروق الاعظم علیہ الرضوان(مومنوں کے حکمرانحق اور باطل میں سب سے بڑے فرق کرنے والے حضرت عمر نے مسلمانوں کو یہی حکم فرمایا تھا انھیں الله تعالی کی خوشنودی حاصل ہو۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷: از سورت برہان پوری بھاگل مرسلہ سید زین القاری ۳۰ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
تاریخ کا پتھر جماعت خانہ کے صحن کے پتھر کے نیچے کھڑ انصب کیا گیا ہے کہ جس پتھر پر دو سرا پتھر بچھایا گیا ہے اور یہ دوسرا اوپر کاپتھر نیچے کے کھڑے نصب کئے ہوئے پتھر کے اوپر دو دو انچ لمبا بڑھا ہوا ہے اور اس اوپر کے پتھر سے لوگوں کا گزر ہوتاہے یعنی اس پر قدم گرتے ہیں مذکور منصوب پتھر پر ماہ رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ کندہ ہے اس کندہ حرفوں پر لوگوں کے قدم گرتے نہیں ہیں تو آیا اس میں کسی طرح کا حرج ہے کیونکہ لوگ رمضان المبارك لفظ قرآن شریف کا ہونے کی بہت بحث کرتے ہیں عوام الناس میں بہت بری افواہیں پھیل رہی ہیں اور نفاق کی صورت ہے۔
الجواب:
اولا:"رمضان"اور"المبارک"دونوں کا لفظ کلام شریف کے ہیںثانیا: رمضان المبارک"کانام خود واجب التعظیم ہے بلکہ حدیث میں آیا کہ"رمضان"اسماء الہیہ سے ہے۔ثالثا: کچھ نہ ہوتا تو حروف کی تعظیم خود لازم ہے اگر چہ ان میں کچھ لکھا ہو فتاوی عالمگیری میں ہے:
اذا کتب اسم فرعون اوکتب اسم ابی جھل علی غرض یکرہ جب فرعون یا ابوجہل کانام لکھا جائےکسی غرض کے لئے لکھا جائے تو پھر یہ مکروہ(ناپسندیدہ)ہے۔
مسئلہ ۱۴۶: از کوہ منصوری ڈاك خانہ کلہڑی کام اپرانڈیا گیٹ مستری حکیم الله ۳۰ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
پردیس میں بال بچے دار کو کب تك رہنا چاہئے
الجواب:
بلا ضرورت سفر میں زیادہ رہنا کسی کونہ چاہئےحدیث میں حکم فرمایا ہے کہ جب کام ہوچکے سفر سے جلد واپس آؤ اور جو وطن میں زوجہ چھوڑ آیا ہو اسے حکم ہے کہ جہاں تك بن پڑے چار ماہ کے اندر اندر واپس آئے بذلك امر امیر المومنین الفاروق الاعظم علیہ الرضوان(مومنوں کے حکمرانحق اور باطل میں سب سے بڑے فرق کرنے والے حضرت عمر نے مسلمانوں کو یہی حکم فرمایا تھا انھیں الله تعالی کی خوشنودی حاصل ہو۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷: از سورت برہان پوری بھاگل مرسلہ سید زین القاری ۳۰ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
تاریخ کا پتھر جماعت خانہ کے صحن کے پتھر کے نیچے کھڑ انصب کیا گیا ہے کہ جس پتھر پر دو سرا پتھر بچھایا گیا ہے اور یہ دوسرا اوپر کاپتھر نیچے کے کھڑے نصب کئے ہوئے پتھر کے اوپر دو دو انچ لمبا بڑھا ہوا ہے اور اس اوپر کے پتھر سے لوگوں کا گزر ہوتاہے یعنی اس پر قدم گرتے ہیں مذکور منصوب پتھر پر ماہ رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ کندہ ہے اس کندہ حرفوں پر لوگوں کے قدم گرتے نہیں ہیں تو آیا اس میں کسی طرح کا حرج ہے کیونکہ لوگ رمضان المبارك لفظ قرآن شریف کا ہونے کی بہت بحث کرتے ہیں عوام الناس میں بہت بری افواہیں پھیل رہی ہیں اور نفاق کی صورت ہے۔
الجواب:
اولا:"رمضان"اور"المبارک"دونوں کا لفظ کلام شریف کے ہیںثانیا: رمضان المبارک"کانام خود واجب التعظیم ہے بلکہ حدیث میں آیا کہ"رمضان"اسماء الہیہ سے ہے۔ثالثا: کچھ نہ ہوتا تو حروف کی تعظیم خود لازم ہے اگر چہ ان میں کچھ لکھا ہو فتاوی عالمگیری میں ہے:
اذا کتب اسم فرعون اوکتب اسم ابی جھل علی غرض یکرہ جب فرعون یا ابوجہل کانام لکھا جائےکسی غرض کے لئے لکھا جائے تو پھر یہ مکروہ(ناپسندیدہ)ہے۔
ان یرموا الیہ لأن لتلك الحروف حرمۃ ۔ کہ لوگ انھیں پھینك دیں کیونکہ ان حروف کی تعظیم ہے۔(ت)
ان حرفوں پر اگر چہ پاؤں رکھنے میں نہیں آتا پاؤں ان سے اونچا ہوتاہے یہ خلاف ادب ہے پتھر یہاں سے نکال کر اونچا نصب کریں کہ سر سے بلند رہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۸: از الہ آباد سرائے گڈھا دار الطلبہ مرسلہ محمد امیر حسن ۱۸ جمادی الآخری ۱۳۳۶ھ
چند پتھروں میں مسجد کے مختصر تاریخی ونیز تاریخ تعمیرچوب قلم سے کندہ کراکے مسجد کی مغربی دیوار میں محراب کے اوپر نصب کرنا جس سے نمازیوں کی نظر اس پر پڑنے کا احتمال ہے اور نمازمیں خیالات بٹنے کا اندیشہ ہے بلاکراہت جائز ہے نہیں
ایك صاحب نے چندہ مسجد بنوانے کی کوشش کی اسی وجہ سے اپنا نام بھی پتھر میں کندہ کرانا چاہتے ہیں آیا نام کا کندہ کرانا شرعا درست ہے یانہیں
الجواب:
نام کندہ کرانے کا حکم اختلاف نیت سے مختلف ہوتا ہے اگر نیت ریا ونمود ہے حرام و مردود ہے۔اور اگر نیت یہ ہے کہ تابقائے نام مسلمان دعا سے یاد کریں تو حرج نہیںاور حتی الامکان مسلمان کا کام محمل نیك ہی پر محمول کیا جائے گاپتھر جبکہ محراب سے اونچا ہوگا نماز میں اس پر نظر پڑنے کی کوئی وجہ نہیںنماز میں سجدہ کی جگہ نظر رکھنے کا حکم ہے اور اوپر نگاہ اٹھانا توجائزہی نہیںحدیث میں فرمایا گیا کہ ان کی نگاہ اوپر ہی اچك لی جائے اور واپس نہ دی جائے ۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹ و ۱۵۰: از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ علی بخش صاحب محرر رجسٹری ۲۳ شوال ۱۳۳۶ھ
(۱)صحابہ رضی الله تعالی عنہم کے سوا ائمہ مجتہدین وشہداء وصالحین خصوصا اولیائے کاملین وعلمائے متقین کی شان میں ان کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ کا لفظ کہنا کیسا ہے۔چاہئے یا نہیں
(۲)شرعا انبیاء ومرسلین وملائکہ ومقربین کے نام کے ساتھ علیہ السلام اور صحابہ کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ اور اولیاء وعلماء کے ساتھ رحمۃ الله علیہ کہنے کا کیا حکم ہے
ان یرموا الیہ لأن لتلك الحروف حرمۃ ۔ کہ لوگ انھیں پھینك دیں کیونکہ ان حروف کی تعظیم ہے۔(ت)
ان حرفوں پر اگر چہ پاؤں رکھنے میں نہیں آتا پاؤں ان سے اونچا ہوتاہے یہ خلاف ادب ہے پتھر یہاں سے نکال کر اونچا نصب کریں کہ سر سے بلند رہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۸: از الہ آباد سرائے گڈھا دار الطلبہ مرسلہ محمد امیر حسن ۱۸ جمادی الآخری ۱۳۳۶ھ
چند پتھروں میں مسجد کے مختصر تاریخی ونیز تاریخ تعمیرچوب قلم سے کندہ کراکے مسجد کی مغربی دیوار میں محراب کے اوپر نصب کرنا جس سے نمازیوں کی نظر اس پر پڑنے کا احتمال ہے اور نمازمیں خیالات بٹنے کا اندیشہ ہے بلاکراہت جائز ہے نہیں
ایك صاحب نے چندہ مسجد بنوانے کی کوشش کی اسی وجہ سے اپنا نام بھی پتھر میں کندہ کرانا چاہتے ہیں آیا نام کا کندہ کرانا شرعا درست ہے یانہیں
الجواب:
نام کندہ کرانے کا حکم اختلاف نیت سے مختلف ہوتا ہے اگر نیت ریا ونمود ہے حرام و مردود ہے۔اور اگر نیت یہ ہے کہ تابقائے نام مسلمان دعا سے یاد کریں تو حرج نہیںاور حتی الامکان مسلمان کا کام محمل نیك ہی پر محمول کیا جائے گاپتھر جبکہ محراب سے اونچا ہوگا نماز میں اس پر نظر پڑنے کی کوئی وجہ نہیںنماز میں سجدہ کی جگہ نظر رکھنے کا حکم ہے اور اوپر نگاہ اٹھانا توجائزہی نہیںحدیث میں فرمایا گیا کہ ان کی نگاہ اوپر ہی اچك لی جائے اور واپس نہ دی جائے ۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹ و ۱۵۰: از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ علی بخش صاحب محرر رجسٹری ۲۳ شوال ۱۳۳۶ھ
(۱)صحابہ رضی الله تعالی عنہم کے سوا ائمہ مجتہدین وشہداء وصالحین خصوصا اولیائے کاملین وعلمائے متقین کی شان میں ان کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ کا لفظ کہنا کیسا ہے۔چاہئے یا نہیں
(۲)شرعا انبیاء ومرسلین وملائکہ ومقربین کے نام کے ساتھ علیہ السلام اور صحابہ کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ اور اولیاء وعلماء کے ساتھ رحمۃ الله علیہ کہنے کا کیا حکم ہے
ان یرموا الیہ لأن لتلك الحروف حرمۃ ۔ کہ لوگ انھیں پھینك دیں کیونکہ ان حروف کی تعظیم ہے۔(ت)
ان حرفوں پر اگر چہ پاؤں رکھنے میں نہیں آتا پاؤں ان سے اونچا ہوتاہے یہ خلاف ادب ہے پتھر یہاں سے نکال کر اونچا نصب کریں کہ سر سے بلند رہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۸: از الہ آباد سرائے گڈھا دار الطلبہ مرسلہ محمد امیر حسن ۱۸ جمادی الآخری ۱۳۳۶ھ
چند پتھروں میں مسجد کے مختصر تاریخی ونیز تاریخ تعمیرچوب قلم سے کندہ کراکے مسجد کی مغربی دیوار میں محراب کے اوپر نصب کرنا جس سے نمازیوں کی نظر اس پر پڑنے کا احتمال ہے اور نمازمیں خیالات بٹنے کا اندیشہ ہے بلاکراہت جائز ہے نہیں
ایك صاحب نے چندہ مسجد بنوانے کی کوشش کی اسی وجہ سے اپنا نام بھی پتھر میں کندہ کرانا چاہتے ہیں آیا نام کا کندہ کرانا شرعا درست ہے یانہیں
الجواب:
نام کندہ کرانے کا حکم اختلاف نیت سے مختلف ہوتا ہے اگر نیت ریا ونمود ہے حرام و مردود ہے۔اور اگر نیت یہ ہے کہ تابقائے نام مسلمان دعا سے یاد کریں تو حرج نہیںاور حتی الامکان مسلمان کا کام محمل نیك ہی پر محمول کیا جائے گاپتھر جبکہ محراب سے اونچا ہوگا نماز میں اس پر نظر پڑنے کی کوئی وجہ نہیںنماز میں سجدہ کی جگہ نظر رکھنے کا حکم ہے اور اوپر نگاہ اٹھانا توجائزہی نہیںحدیث میں فرمایا گیا کہ ان کی نگاہ اوپر ہی اچك لی جائے اور واپس نہ دی جائے ۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹ و ۱۵۰: از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ علی بخش صاحب محرر رجسٹری ۲۳ شوال ۱۳۳۶ھ
(۱)صحابہ رضی الله تعالی عنہم کے سوا ائمہ مجتہدین وشہداء وصالحین خصوصا اولیائے کاملین وعلمائے متقین کی شان میں ان کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ کا لفظ کہنا کیسا ہے۔چاہئے یا نہیں
(۲)شرعا انبیاء ومرسلین وملائکہ ومقربین کے نام کے ساتھ علیہ السلام اور صحابہ کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ اور اولیاء وعلماء کے ساتھ رحمۃ الله علیہ کہنے کا کیا حکم ہے
ان حرفوں پر اگر چہ پاؤں رکھنے میں نہیں آتا پاؤں ان سے اونچا ہوتاہے یہ خلاف ادب ہے پتھر یہاں سے نکال کر اونچا نصب کریں کہ سر سے بلند رہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۸: از الہ آباد سرائے گڈھا دار الطلبہ مرسلہ محمد امیر حسن ۱۸ جمادی الآخری ۱۳۳۶ھ
چند پتھروں میں مسجد کے مختصر تاریخی ونیز تاریخ تعمیرچوب قلم سے کندہ کراکے مسجد کی مغربی دیوار میں محراب کے اوپر نصب کرنا جس سے نمازیوں کی نظر اس پر پڑنے کا احتمال ہے اور نمازمیں خیالات بٹنے کا اندیشہ ہے بلاکراہت جائز ہے نہیں
ایك صاحب نے چندہ مسجد بنوانے کی کوشش کی اسی وجہ سے اپنا نام بھی پتھر میں کندہ کرانا چاہتے ہیں آیا نام کا کندہ کرانا شرعا درست ہے یانہیں
الجواب:
نام کندہ کرانے کا حکم اختلاف نیت سے مختلف ہوتا ہے اگر نیت ریا ونمود ہے حرام و مردود ہے۔اور اگر نیت یہ ہے کہ تابقائے نام مسلمان دعا سے یاد کریں تو حرج نہیںاور حتی الامکان مسلمان کا کام محمل نیك ہی پر محمول کیا جائے گاپتھر جبکہ محراب سے اونچا ہوگا نماز میں اس پر نظر پڑنے کی کوئی وجہ نہیںنماز میں سجدہ کی جگہ نظر رکھنے کا حکم ہے اور اوپر نگاہ اٹھانا توجائزہی نہیںحدیث میں فرمایا گیا کہ ان کی نگاہ اوپر ہی اچك لی جائے اور واپس نہ دی جائے ۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹ و ۱۵۰: از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ علی بخش صاحب محرر رجسٹری ۲۳ شوال ۱۳۳۶ھ
(۱)صحابہ رضی الله تعالی عنہم کے سوا ائمہ مجتہدین وشہداء وصالحین خصوصا اولیائے کاملین وعلمائے متقین کی شان میں ان کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ کا لفظ کہنا کیسا ہے۔چاہئے یا نہیں
(۲)شرعا انبیاء ومرسلین وملائکہ ومقربین کے نام کے ساتھ علیہ السلام اور صحابہ کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ اور اولیاء وعلماء کے ساتھ رحمۃ الله علیہ کہنے کا کیا حکم ہے
ان یرموا الیہ لأن لتلك الحروف حرمۃ ۔ کہ لوگ انھیں پھینك دیں کیونکہ ان حروف کی تعظیم ہے۔(ت)
ان حرفوں پر اگر چہ پاؤں رکھنے میں نہیں آتا پاؤں ان سے اونچا ہوتاہے یہ خلاف ادب ہے پتھر یہاں سے نکال کر اونچا نصب کریں کہ سر سے بلند رہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۸: از الہ آباد سرائے گڈھا دار الطلبہ مرسلہ محمد امیر حسن ۱۸ جمادی الآخری ۱۳۳۶ھ
چند پتھروں میں مسجد کے مختصر تاریخی ونیز تاریخ تعمیرچوب قلم سے کندہ کراکے مسجد کی مغربی دیوار میں محراب کے اوپر نصب کرنا جس سے نمازیوں کی نظر اس پر پڑنے کا احتمال ہے اور نمازمیں خیالات بٹنے کا اندیشہ ہے بلاکراہت جائز ہے نہیں
ایك صاحب نے چندہ مسجد بنوانے کی کوشش کی اسی وجہ سے اپنا نام بھی پتھر میں کندہ کرانا چاہتے ہیں آیا نام کا کندہ کرانا شرعا درست ہے یانہیں
الجواب:
نام کندہ کرانے کا حکم اختلاف نیت سے مختلف ہوتا ہے اگر نیت ریا ونمود ہے حرام و مردود ہے۔اور اگر نیت یہ ہے کہ تابقائے نام مسلمان دعا سے یاد کریں تو حرج نہیںاور حتی الامکان مسلمان کا کام محمل نیك ہی پر محمول کیا جائے گاپتھر جبکہ محراب سے اونچا ہوگا نماز میں اس پر نظر پڑنے کی کوئی وجہ نہیںنماز میں سجدہ کی جگہ نظر رکھنے کا حکم ہے اور اوپر نگاہ اٹھانا توجائزہی نہیںحدیث میں فرمایا گیا کہ ان کی نگاہ اوپر ہی اچك لی جائے اور واپس نہ دی جائے ۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹ و ۱۵۰: از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ علی بخش صاحب محرر رجسٹری ۲۳ شوال ۱۳۳۶ھ
(۱)صحابہ رضی الله تعالی عنہم کے سوا ائمہ مجتہدین وشہداء وصالحین خصوصا اولیائے کاملین وعلمائے متقین کی شان میں ان کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ کا لفظ کہنا کیسا ہے۔چاہئے یا نہیں
(۲)شرعا انبیاء ومرسلین وملائکہ ومقربین کے نام کے ساتھ علیہ السلام اور صحابہ کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ اور اولیاء وعلماء کے ساتھ رحمۃ الله علیہ کہنے کا کیا حکم ہے
ان یرموا الیہ لأن لتلك الحروف حرمۃ ۔ کہ لوگ انھیں پھینك دیں کیونکہ ان حروف کی تعظیم ہے۔(ت)
ان حرفوں پر اگر چہ پاؤں رکھنے میں نہیں آتا پاؤں ان سے اونچا ہوتاہے یہ خلاف ادب ہے پتھر یہاں سے نکال کر اونچا نصب کریں کہ سر سے بلند رہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۸: از الہ آباد سرائے گڈھا دار الطلبہ مرسلہ محمد امیر حسن ۱۸ جمادی الآخری ۱۳۳۶ھ
چند پتھروں میں مسجد کے مختصر تاریخی ونیز تاریخ تعمیرچوب قلم سے کندہ کراکے مسجد کی مغربی دیوار میں محراب کے اوپر نصب کرنا جس سے نمازیوں کی نظر اس پر پڑنے کا احتمال ہے اور نمازمیں خیالات بٹنے کا اندیشہ ہے بلاکراہت جائز ہے نہیں
ایك صاحب نے چندہ مسجد بنوانے کی کوشش کی اسی وجہ سے اپنا نام بھی پتھر میں کندہ کرانا چاہتے ہیں آیا نام کا کندہ کرانا شرعا درست ہے یانہیں
الجواب:
نام کندہ کرانے کا حکم اختلاف نیت سے مختلف ہوتا ہے اگر نیت ریا ونمود ہے حرام و مردود ہے۔اور اگر نیت یہ ہے کہ تابقائے نام مسلمان دعا سے یاد کریں تو حرج نہیںاور حتی الامکان مسلمان کا کام محمل نیك ہی پر محمول کیا جائے گاپتھر جبکہ محراب سے اونچا ہوگا نماز میں اس پر نظر پڑنے کی کوئی وجہ نہیںنماز میں سجدہ کی جگہ نظر رکھنے کا حکم ہے اور اوپر نگاہ اٹھانا توجائزہی نہیںحدیث میں فرمایا گیا کہ ان کی نگاہ اوپر ہی اچك لی جائے اور واپس نہ دی جائے ۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹ و ۱۵۰: از غازی پور محلہ میاں پورہ مرسلہ علی بخش صاحب محرر رجسٹری ۲۳ شوال ۱۳۳۶ھ
(۱)صحابہ رضی الله تعالی عنہم کے سوا ائمہ مجتہدین وشہداء وصالحین خصوصا اولیائے کاملین وعلمائے متقین کی شان میں ان کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ کا لفظ کہنا کیسا ہے۔چاہئے یا نہیں
(۲)شرعا انبیاء ومرسلین وملائکہ ومقربین کے نام کے ساتھ علیہ السلام اور صحابہ کے نام کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ اور اولیاء وعلماء کے ساتھ رحمۃ الله علیہ کہنے کا کیا حکم ہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۲۳€
صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع البصر الی السماء فی الصلٰوۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۔۱۰۳€
صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع البصر الی السماء فی الصلٰوۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۔۱۰۳€
ہر ایك کے لئے یہ الفاظ تخصیص کے ساتھ کردئے گئے ہیں یا جس جس کے نام کے ساتھ جو الفاظ چاہیں کہہ سکتے ہیں
الجواب:
(۲)رضی الله تعالی عنہم صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم کو تو کہا ہی جائے گا ائمہ واولیائے وعلمائے دین کو بھی کہہ سکتے ہیں کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف وجملہ تصانیف امام عارف بالله سیدی عبدالوہاب شعرانی وغیرہ اکابر میں یہ شائع وذائع ہے۔تنویر الابصار میں ہے:
یستحب الترضی للصحابۃ والترحم للتابعین ومن بعدھم من العلماء والاخیار وکذا یجوز عکسہ علی الراجح ۔ صحابہ کرام کے اسمائے گرامی کے ساتھ"رضی الله تعالی عنہ" کہنا یا لکھنا مستحب ہے تابعین اور بعد والے علماء کرام اور شرفاء کے لئے رحمۃ الله تعالی علیہ"کہنا یالکھنا مستحب ہے اور اس کا الٹ بھی راجح قول کی بناء پر جائز ہے یعنی صحابہ کرام کے ساتھ رحمۃ الله تعالی علیہ اور دوسروں کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ۔ (ت)
(۲)صلوۃ والسلام بالاستقلال انبیاء وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا کسی کے لئے نہیںہاں بہ تبعیت جائز ہے جیسے اللھم صلی وسلم علی سیدنا ومولینا محمد وعلی آل سیدنا ومولینا محمد۔اور صحابہ رضی الله تعالی عنہم کے لئے رضی الله تعالی عنہ کہا جائے اولیاء وعلماء کو رحمۃ الله تعالی علیہم یا قدست اسرارہماور اگر رضی الله تعالی عنہم کہے جب بھی مضائقہ نہیں جیسا کہ ابھی تنویر سے گزرا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱: از حیدر آباد دکن مرسلہ محمد اکبر علی صاحب مدیر صحیفہ روزنہ ۱۳ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مونو گرام بنانا چاہتا ہے جس کا نقشہ درج ذیل ہے
دریافت طلب یہ ہے کہ اس مہر کے چوتھے درجہ میں ایك آیۃ قرآنیہ لکھی ہوئی ہے اس کے اوپر کے تین درجوں میں انگریزی میں اخبار روزانہ صحیفہ حیدر آباد دکن درج ہیں اس میں کوئی امر آیۃ قرآنیہ کی توہین کا تو نہیں ہے اگر ہے تو کس آیت یا حدیث کی بناء پرہے اگر انگریزی کے عوضچینیجاپانی یا اطالوی زبان میں خاص ان کے حروف میں کوئی عبارت لکھ کر نیچے آیۃقرآنیہ لکھی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ ہے
الجواب:
(۲)رضی الله تعالی عنہم صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم کو تو کہا ہی جائے گا ائمہ واولیائے وعلمائے دین کو بھی کہہ سکتے ہیں کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار شریف وجملہ تصانیف امام عارف بالله سیدی عبدالوہاب شعرانی وغیرہ اکابر میں یہ شائع وذائع ہے۔تنویر الابصار میں ہے:
یستحب الترضی للصحابۃ والترحم للتابعین ومن بعدھم من العلماء والاخیار وکذا یجوز عکسہ علی الراجح ۔ صحابہ کرام کے اسمائے گرامی کے ساتھ"رضی الله تعالی عنہ" کہنا یا لکھنا مستحب ہے تابعین اور بعد والے علماء کرام اور شرفاء کے لئے رحمۃ الله تعالی علیہ"کہنا یالکھنا مستحب ہے اور اس کا الٹ بھی راجح قول کی بناء پر جائز ہے یعنی صحابہ کرام کے ساتھ رحمۃ الله تعالی علیہ اور دوسروں کے ساتھ رضی الله تعالی عنہ۔ (ت)
(۲)صلوۃ والسلام بالاستقلال انبیاء وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا کسی کے لئے نہیںہاں بہ تبعیت جائز ہے جیسے اللھم صلی وسلم علی سیدنا ومولینا محمد وعلی آل سیدنا ومولینا محمد۔اور صحابہ رضی الله تعالی عنہم کے لئے رضی الله تعالی عنہ کہا جائے اولیاء وعلماء کو رحمۃ الله تعالی علیہم یا قدست اسرارہماور اگر رضی الله تعالی عنہم کہے جب بھی مضائقہ نہیں جیسا کہ ابھی تنویر سے گزرا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱: از حیدر آباد دکن مرسلہ محمد اکبر علی صاحب مدیر صحیفہ روزنہ ۱۳ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مونو گرام بنانا چاہتا ہے جس کا نقشہ درج ذیل ہے
دریافت طلب یہ ہے کہ اس مہر کے چوتھے درجہ میں ایك آیۃ قرآنیہ لکھی ہوئی ہے اس کے اوپر کے تین درجوں میں انگریزی میں اخبار روزانہ صحیفہ حیدر آباد دکن درج ہیں اس میں کوئی امر آیۃ قرآنیہ کی توہین کا تو نہیں ہے اگر ہے تو کس آیت یا حدیث کی بناء پرہے اگر انگریزی کے عوضچینیجاپانی یا اطالوی زبان میں خاص ان کے حروف میں کوئی عبارت لکھ کر نیچے آیۃقرآنیہ لکھی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ ہے
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار مسائل شتٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۰€
یا نہیں
دوسرا امر یہ ہے کہ اس مونو گرام کو اخبار کے بیرونی طبقی اور دوسرے خط وکتابت کے لفافہ جات پر چھپوایا جاسکتاہے یا نہیں اس لئے کہ طبلق اور لفافہ مثل ملفوفہ کے حفاظت سے نہیں رکھے جاتے ہیں بلکہ ان کو چاك کرکے ردی میں پھینکا جاتاہے۔اس صورت میں اگر لفافہ جات وطبلق وغیرہ پر اسے چھپوایا جائے تو کیا کوئی حرج شرعی لازم آتاہے اگر آتاہے تو کس آیت یا حدیث کی بناء پر المستفتی الفقیر الی الله الولی محمد اکبر علی مدیر صحیفہ روزانہ
الجواب:
تعظیم قرآن عظیم ایمان مسلم ہے۔اس کے لئے کسی خاص آیت وحدیث کی کیا حاجتاور تعظیم و بے تعظیمی میں بڑا دخل عرف کو ہے۔محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
یحال علی المعھود ۔ یہ معاملہ عرف اور رواج کے حوالے کیا جاتاہے۔(ت)
حال قصد التعظیم انگریزیچینیجاپانیجرمنیلاطینیجو زبان غیر اسلامی ہو جسے اسلام نے فارسی اور اردو کی طرح اپنا خادم نہ کرلیا جس کی وہ زبان نہ ہو اسے بلا ضرورت اس میں کلام نہ چاہئے۔امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
ایاکم ورطانۃ الاعاجم رواہ البیھقی ۔ عجمی لوگوں کی زبانیں بولنے سے بچوامام بیہقی نے اس کو روایت کیا۔(ت)
عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما کی حدیث میں ہے۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
فانہ یورث النفاق رواہ الحاکم فی صحیحہ المستدرك ۔ کیونکہ یہ چیز نفاق پیدا کردیتی ہے حاکم نے اپنی صحیح مستدرك میں اس کوروایت کیا۔(ت)
نہ قرآن مجید کا اس سے ملانا کہ ضم شرعا وعقلا وعرفا مجانست ہے لہذا علمائے کرام نے زمحشری معتزلی کا تفسیر میں بعض ابیات ہزل لانا اگر چہ بروجہ استشہاد سخت مذموم ومعیوب وخلاف ادب
دوسرا امر یہ ہے کہ اس مونو گرام کو اخبار کے بیرونی طبقی اور دوسرے خط وکتابت کے لفافہ جات پر چھپوایا جاسکتاہے یا نہیں اس لئے کہ طبلق اور لفافہ مثل ملفوفہ کے حفاظت سے نہیں رکھے جاتے ہیں بلکہ ان کو چاك کرکے ردی میں پھینکا جاتاہے۔اس صورت میں اگر لفافہ جات وطبلق وغیرہ پر اسے چھپوایا جائے تو کیا کوئی حرج شرعی لازم آتاہے اگر آتاہے تو کس آیت یا حدیث کی بناء پر المستفتی الفقیر الی الله الولی محمد اکبر علی مدیر صحیفہ روزانہ
الجواب:
تعظیم قرآن عظیم ایمان مسلم ہے۔اس کے لئے کسی خاص آیت وحدیث کی کیا حاجتاور تعظیم و بے تعظیمی میں بڑا دخل عرف کو ہے۔محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
یحال علی المعھود ۔ یہ معاملہ عرف اور رواج کے حوالے کیا جاتاہے۔(ت)
حال قصد التعظیم انگریزیچینیجاپانیجرمنیلاطینیجو زبان غیر اسلامی ہو جسے اسلام نے فارسی اور اردو کی طرح اپنا خادم نہ کرلیا جس کی وہ زبان نہ ہو اسے بلا ضرورت اس میں کلام نہ چاہئے۔امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
ایاکم ورطانۃ الاعاجم رواہ البیھقی ۔ عجمی لوگوں کی زبانیں بولنے سے بچوامام بیہقی نے اس کو روایت کیا۔(ت)
عبدالله ابن عمر رضی الله تعالی عنہما کی حدیث میں ہے۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
فانہ یورث النفاق رواہ الحاکم فی صحیحہ المستدرك ۔ کیونکہ یہ چیز نفاق پیدا کردیتی ہے حاکم نے اپنی صحیح مستدرك میں اس کوروایت کیا۔(ت)
نہ قرآن مجید کا اس سے ملانا کہ ضم شرعا وعقلا وعرفا مجانست ہے لہذا علمائے کرام نے زمحشری معتزلی کا تفسیر میں بعض ابیات ہزل لانا اگر چہ بروجہ استشہاد سخت مذموم ومعیوب وخلاف ادب
حوالہ / References
فتح القدیر
المصنف لعبدا لرزاق باب الصلٰوۃ فی البیعۃ ∞حدیث ۴۱۱€ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱ /۴۱۱€
المستدرک للحاکم کتاب معرفۃالصحابۃ فضل کافۃ العرب الخ مکتب المطوعات الاسلامیہ ∞۴ /۸۷€
المصنف لعبدا لرزاق باب الصلٰوۃ فی البیعۃ ∞حدیث ۴۱۱€ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱ /۴۱۱€
المستدرک للحاکم کتاب معرفۃالصحابۃ فضل کافۃ العرب الخ مکتب المطوعات الاسلامیہ ∞۴ /۸۷€
جانا۔علامہ برہان الدین حیدر بن الہروی تلمیذ علامہ تفتازانی پھر فاضل شمس الدین اصبہانی اپنی تفسیر جامع بین الکبیر والکشاف میں کشاف کے محاسن لکھ کر فرماتے ہیں:
الا انہ لاخطانہ سلوك الطرق الادبیۃ المتزم فی کتابہ امورا ادھشت رونقہ و ابطلت منظرہ فتکدرت مشارعہ و تنزلت زینتہ منھا انہ لشغفہ باظھار الفضائل والکمالات وان یعرف انہ مع تبحرہ فی العلوم موصوف بلطائف المحارۃ ونفاس المحاضرۃ اورد فیہ ابیاتابنی علی الھزل والفکاھۃ اساسھا وھذا امر من الشرع والعقل بعید اھ ملتقطا۔ مگر یہ کہ زمحشری اس وجہ سے ادبی طریقوں پر چلنے سے غلط ہوگیا کہ اس نے اپنی کتاب میں ایسے امور کا اہتمام کیا کہ جن سے ان کی رونق دہشت زدہ ہوگئی اور ان کا منظر باطل ہوگیا اور اس کے پانی کی نالیاں گدلی ہوگئیں اور اس کی زیب وزینت نیچی ہوگئی۔ان میں سے ایك بات یہ ہے کہ وہ فضائل وکمالات کے اظہار کا دلدادہ ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کا تعارف ہوجائے کہ وہ علوم میں سمندر کی حیثیت رکھنے کے باوجود دلچسپ محاورہ اور نفیس چٹکلوں سے موصوف ہے۔ اس لئے اس نے کتاب میں کچھ ایسے اشعار پیش کئے کہ جن کی بنیاد ہنسی مذاق اور خوش طبعی پر ہے۔اور یہ بات شریعت اور عقل کے اعتبار سے امربعید ہے اھ ملتقطا۔(ت)
نہ کہ انگریزی کا اوپر اور آئہ کریمہ کا نیچے ہونا نہ کہ تین درجے بلندی یہاں علو وسفل ضرور عرفا تعظیم و بے تعظیمی کا مشعر ہوتا ہے ولہذا مروی ہوا کہ انگشتری مبارك حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم میں کہ محمد رسول الله منقوش تھا سطر بالا میں کلہ جلالت تھا اور سطر دوم میں رسول سوم میں نام اقدس اس شکل پر ظاہر جبھی سے مہروں میں یہ رسم ہے کہ نیچے سے اوپر کو پڑھی جاتی ہے۔علامہ اسنوی پھر علامہ ابن رجب وغیرہما فرماتے ہیں:
کتابتہ کانت من اسفل الی فوق یعنی الجلالۃ اعلی الاسطر الثلاثۃ ومحمد اسفلھا ویقرا من اسفل ۔ مہر میں لکھائی نیچے سے اوپر کی طرف ہوتی ہے یعنی الله تعالی کا بارعب نام تین سطروں میں اوپر مذکور ہے اور حضور پاك کا اس گرامی سب سے نیچے ہے اور پھر نیچے کی طرف سے پڑھا جاتاہے۔(ت)
الا انہ لاخطانہ سلوك الطرق الادبیۃ المتزم فی کتابہ امورا ادھشت رونقہ و ابطلت منظرہ فتکدرت مشارعہ و تنزلت زینتہ منھا انہ لشغفہ باظھار الفضائل والکمالات وان یعرف انہ مع تبحرہ فی العلوم موصوف بلطائف المحارۃ ونفاس المحاضرۃ اورد فیہ ابیاتابنی علی الھزل والفکاھۃ اساسھا وھذا امر من الشرع والعقل بعید اھ ملتقطا۔ مگر یہ کہ زمحشری اس وجہ سے ادبی طریقوں پر چلنے سے غلط ہوگیا کہ اس نے اپنی کتاب میں ایسے امور کا اہتمام کیا کہ جن سے ان کی رونق دہشت زدہ ہوگئی اور ان کا منظر باطل ہوگیا اور اس کے پانی کی نالیاں گدلی ہوگئیں اور اس کی زیب وزینت نیچی ہوگئی۔ان میں سے ایك بات یہ ہے کہ وہ فضائل وکمالات کے اظہار کا دلدادہ ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کا تعارف ہوجائے کہ وہ علوم میں سمندر کی حیثیت رکھنے کے باوجود دلچسپ محاورہ اور نفیس چٹکلوں سے موصوف ہے۔ اس لئے اس نے کتاب میں کچھ ایسے اشعار پیش کئے کہ جن کی بنیاد ہنسی مذاق اور خوش طبعی پر ہے۔اور یہ بات شریعت اور عقل کے اعتبار سے امربعید ہے اھ ملتقطا۔(ت)
نہ کہ انگریزی کا اوپر اور آئہ کریمہ کا نیچے ہونا نہ کہ تین درجے بلندی یہاں علو وسفل ضرور عرفا تعظیم و بے تعظیمی کا مشعر ہوتا ہے ولہذا مروی ہوا کہ انگشتری مبارك حضور سید المرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم میں کہ محمد رسول الله منقوش تھا سطر بالا میں کلہ جلالت تھا اور سطر دوم میں رسول سوم میں نام اقدس اس شکل پر ظاہر جبھی سے مہروں میں یہ رسم ہے کہ نیچے سے اوپر کو پڑھی جاتی ہے۔علامہ اسنوی پھر علامہ ابن رجب وغیرہما فرماتے ہیں:
کتابتہ کانت من اسفل الی فوق یعنی الجلالۃ اعلی الاسطر الثلاثۃ ومحمد اسفلھا ویقرا من اسفل ۔ مہر میں لکھائی نیچے سے اوپر کی طرف ہوتی ہے یعنی الله تعالی کا بارعب نام تین سطروں میں اوپر مذکور ہے اور حضور پاك کا اس گرامی سب سے نیچے ہے اور پھر نیچے کی طرف سے پڑھا جاتاہے۔(ت)
حوالہ / References
فتح الباری کتاب اللباس باب ھل یجعل نقش الخاتم الخ مصطفی البابی ∞مصر ۱۲ /۴۴۸€
مشیخ محقق اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں:
بود نقش خاتم سہ سطر یك سطر پایاں محمد وسطر میانہ رسول وسطر دیگر بالاالله شیخ محی الدین نووی گفتہ سطر اول الله وسطر دوم رسول وسطر سوم محمد بدیں ہیأت ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی انگوٹھی نقش مبارك کچھ اس طرح تھا کہ ایك سطر میں سب سے نیچے حضور کا اسم گرامی اور درمیانی سطر میں لفظ رسول اور سب سے اوپر والی سطر میں لفظ"اللہ"درج تھا۔شیخ محی الدین نووی نے فرمایا:حضور پاك کی مہر نقش مبارک(نقشہ مذکور کی طرح تھا)پہلی سطر میں لفظ اللہدوسری سطر میں لفظ رسول اور تیسری سطر میں لفظ محمد اس شکل میں درج تھا ۔
علامہ ابن عزیز الدین بن جماعہ فرماتے ہیں:انہ انیق بکمال ادبہ (کمال ادب عزت وعظمت کے یہی زیادہ لائق ہے۔ت)
اور پھر آیہ کریمہ کہ اخبار کی طبلق یا کارڈ یا لفافوں پر چھپوانا ضرور بے ادبی کو مستلزم اور حرام کی طرف منجررہے اسس پر چھٹی رسانوں وغیرہم بے وضو بلکہ جنب بلکہ کفار کے ہاتھ لگیں گے جو ہمیشہ جنب رہتے ہیں اور یہ حرام ہے۔
قال تعالی "لا یمسہ الا المطہرون ﴿۷۹﴾" الله تعالی نے فرمایا:قرآن مجید کو صرف پاك لوگ ہی ہاتھ لگاتے ہیں۔(ت)
ممہریں لگانے کے لئے زمین پر رکھے جائیں گے پھاڑ کر ردی میں پھینکے جائیں گے ان بے حرمتیوں پر آیت کا پیش کرنا اس کا فعل ہوا
کردم از عقل سوالے کہ بگہ ایمان چیست عقل درگوش ودلم گفت کہ ایمان ادب ست
(میں نے عقل سے یہ سوال کیا کہ تو یہ بتادے کہ ایمان کیا ہے۔عقل نے میرے دل کےکانوں مں کہا کہ ایمان ادب کا نام ہے۔ت)
بود نقش خاتم سہ سطر یك سطر پایاں محمد وسطر میانہ رسول وسطر دیگر بالاالله شیخ محی الدین نووی گفتہ سطر اول الله وسطر دوم رسول وسطر سوم محمد بدیں ہیأت ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی انگوٹھی نقش مبارك کچھ اس طرح تھا کہ ایك سطر میں سب سے نیچے حضور کا اسم گرامی اور درمیانی سطر میں لفظ رسول اور سب سے اوپر والی سطر میں لفظ"اللہ"درج تھا۔شیخ محی الدین نووی نے فرمایا:حضور پاك کی مہر نقش مبارک(نقشہ مذکور کی طرح تھا)پہلی سطر میں لفظ اللہدوسری سطر میں لفظ رسول اور تیسری سطر میں لفظ محمد اس شکل میں درج تھا ۔
علامہ ابن عزیز الدین بن جماعہ فرماتے ہیں:انہ انیق بکمال ادبہ (کمال ادب عزت وعظمت کے یہی زیادہ لائق ہے۔ت)
اور پھر آیہ کریمہ کہ اخبار کی طبلق یا کارڈ یا لفافوں پر چھپوانا ضرور بے ادبی کو مستلزم اور حرام کی طرف منجررہے اسس پر چھٹی رسانوں وغیرہم بے وضو بلکہ جنب بلکہ کفار کے ہاتھ لگیں گے جو ہمیشہ جنب رہتے ہیں اور یہ حرام ہے۔
قال تعالی "لا یمسہ الا المطہرون ﴿۷۹﴾" الله تعالی نے فرمایا:قرآن مجید کو صرف پاك لوگ ہی ہاتھ لگاتے ہیں۔(ت)
ممہریں لگانے کے لئے زمین پر رکھے جائیں گے پھاڑ کر ردی میں پھینکے جائیں گے ان بے حرمتیوں پر آیت کا پیش کرنا اس کا فعل ہوا
کردم از عقل سوالے کہ بگہ ایمان چیست عقل درگوش ودلم گفت کہ ایمان ادب ست
(میں نے عقل سے یہ سوال کیا کہ تو یہ بتادے کہ ایمان کیا ہے۔عقل نے میرے دل کےکانوں مں کہا کہ ایمان ادب کا نام ہے۔ت)
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتا ب اللباس باب الخاتم الفصل الاول ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۶۰€
حاشیۃ البجریمی کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ المعدن والرکاز المکتبہ الاسلامی ہ ∞دیار بکر ترکیا ۲ /۳۲€
القرآن الکریم ∞۵۶ /۷۹€
حاشیۃ البجریمی کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ المعدن والرکاز المکتبہ الاسلامی ہ ∞دیار بکر ترکیا ۲ /۳۲€
القرآن الکریم ∞۵۶ /۷۹€
نسأل اﷲ حسن التوفیق(ہم الله تعالی سے اچھی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ت)اس سوال کا منشا ہی اس کے جواب کو بس تھا کہ قلب کی حالت ایمانی نے ان دونوں باتوں میں خدشہ جانا اور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:الاثم ماحاك فی صدرك (گناہ وہ جو تیرے دل میں کھٹکے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۲: از ریاست چھتاری مدرسہ محمودیہ ضلع بلند شہر مرسلہ امیر حسین صاحب طالب علم ۱۴ رجب ۱۳۳۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اندر ینکہ سامعین را درمجلس وعظ ونصیحت اندرون وعظ درود شریف خواندن برروح پر فتوح صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جائز است یاچہ علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ وعظ ونصیحت کی مجلس کے دوران سننے والوں کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا اسم گرامی سن کر درود شریف پڑھنا جائز ہے یا نہیں
الجواب:
درو شریف خواندن بروح پر فتوح صلی الله تعالی علیہ وسلم درمجلس وعظ وپند بلا شك و بلا شبہ جائز است بلکہ مستحب حصول ثواب است کما فی ردالمحتار ونص العلماء علی استحبابھا فی مواضع یوم الجمعۃ وغیر ذلك ومنھا الوعظ وشر ذمہ قلیلہ وجہلا عدیدہ کہ ایشاں از ضوابط دیں و قواعد شرع متین بہر کامل وحظ اوفر نمی دارند بدون تفرقہ وبغیر امتیاز حق وباطل درود شریف را ازقبیل بدعتۃ ضلالہ شمار دہ برعدم جواز فتوی دادہ اند قابل اعتبار اصلا نیست چونکہ مخالف کتب شرعیہ است۔الله تعالی اعلم بالصواب کتبہ فدوی محمد امیر حسین عفی عنہ۔ حضور کی روح پر فتوح صلی الله تعالی علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنا مجلس وعظ ونصیحت میں بے شك وشبہہ نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے اور اجر وثواب کا ذریعہ ہے جیسا کہ فتاوی شامی میں مذکو رہے۔چنانچہ علمائے کرام نے درود شریف چند مقامات میں پڑھنے کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائیمثلا جمعہ کے دن اور وعظ و نصیحت کے دوران اور ان دو کے علاوہ باقی اچھے مقامات میں لیکن ایك چھوٹی سی جماعت جو چند جاہلوں پر مشتمل ہے کہ جو دین کے ضابطوں اور شرع متین کے قائدوں سے پوری طرح واقف نہیں اور انھیں اچھی طرح نہیں جانتےاور نہ دین سے پورا حصہ رکھتے ہیں اور وہ تفرقہ اور حق وباطل کے درمیان امتیاز کئے بغیر درود شریف کوایك گمراہ کن بدعت شمار کرکے اس کے ناجائز
مسئلہ ۱۵۲: از ریاست چھتاری مدرسہ محمودیہ ضلع بلند شہر مرسلہ امیر حسین صاحب طالب علم ۱۴ رجب ۱۳۳۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اندر ینکہ سامعین را درمجلس وعظ ونصیحت اندرون وعظ درود شریف خواندن برروح پر فتوح صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جائز است یاچہ علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ وعظ ونصیحت کی مجلس کے دوران سننے والوں کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا اسم گرامی سن کر درود شریف پڑھنا جائز ہے یا نہیں
الجواب:
درو شریف خواندن بروح پر فتوح صلی الله تعالی علیہ وسلم درمجلس وعظ وپند بلا شك و بلا شبہ جائز است بلکہ مستحب حصول ثواب است کما فی ردالمحتار ونص العلماء علی استحبابھا فی مواضع یوم الجمعۃ وغیر ذلك ومنھا الوعظ وشر ذمہ قلیلہ وجہلا عدیدہ کہ ایشاں از ضوابط دیں و قواعد شرع متین بہر کامل وحظ اوفر نمی دارند بدون تفرقہ وبغیر امتیاز حق وباطل درود شریف را ازقبیل بدعتۃ ضلالہ شمار دہ برعدم جواز فتوی دادہ اند قابل اعتبار اصلا نیست چونکہ مخالف کتب شرعیہ است۔الله تعالی اعلم بالصواب کتبہ فدوی محمد امیر حسین عفی عنہ۔ حضور کی روح پر فتوح صلی الله تعالی علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنا مجلس وعظ ونصیحت میں بے شك وشبہہ نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے اور اجر وثواب کا ذریعہ ہے جیسا کہ فتاوی شامی میں مذکو رہے۔چنانچہ علمائے کرام نے درود شریف چند مقامات میں پڑھنے کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائیمثلا جمعہ کے دن اور وعظ و نصیحت کے دوران اور ان دو کے علاوہ باقی اچھے مقامات میں لیکن ایك چھوٹی سی جماعت جو چند جاہلوں پر مشتمل ہے کہ جو دین کے ضابطوں اور شرع متین کے قائدوں سے پوری طرح واقف نہیں اور انھیں اچھی طرح نہیں جانتےاور نہ دین سے پورا حصہ رکھتے ہیں اور وہ تفرقہ اور حق وباطل کے درمیان امتیاز کئے بغیر درود شریف کوایك گمراہ کن بدعت شمار کرکے اس کے ناجائز
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الکراھیۃ والاستحسان دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۷۷€
ہونے کا فتوی دیتے ہیں۔لہذا ان کا یہ فتوی غیر معتبر ہے کیونکہ وہ اسلامی نصاب اور کتب شرعی کے خلاف ہے الله تعالی راہ صواب کو اچھی طرح جانتا ہے۔کتبہ فدوی محمد امیر حسین عفی عنہ۔
الجواب:
فی الواقع درود شریف از اعظم مطلوبات و اجل مندوبات وافضل مثوبات است واعظ از او منع نکند مگر گمراہ و دربارہ سامعین خود احادیث کثیرہ ناطق است کہ ہنگام سماع ذکر اقدس ہر کہ درود نفر ستد وعید براوصادق است آرے باید کہ جہر نکنند تادرسماع وعظ خلل نہ یفتد فی الدرالمختار والصواب انہ یصلی علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عند سماع اسمہ فی نفسہ وفی ردالمحتار وکذا اذا ذکر النبی صلی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایجوز ان یصلوا علیہ بالجہر بل بالقلب وعلیہ الفتوی رملی ہمدرانست قولہ(فی نفسہ)ای بان یسمع نفسہ او یصحح الحروف فانھم فسروہ بہ وعن ابی یوسف قلبا الخ قلت وعلی الاول عمل المسلمین فی الوعظ۔والله تعالی اعلم۔ واقعی درود شریف سب سے بڑا مطلوببڑی شان والا مستحب اور سب سے افضل ثوابلہذا وہی واعظ درود شریف پڑھنے سے منع کرے گا جو گمراہ ہواور وعظ سننے والوں کے متعلق بیشمار حدیثیں ناطق ہیں(یعنی دوران وعظ ان کا درود شریف پڑھنا بتارہی ہیں)کہ حضور اطہر کا ذکر اقدس سن کر جوآدمی ان پر درود نہ بھیجے اس پر عذاب کی دھمکی(جو حدیث میں آئی ہے)بلا شبہ صادقہاں یہ ضرور خیال رکھیں کہ بلند آواز سے نہ پڑھیں تاکہ وعظ ونصیحت سننے سے نقصان پیدا نہ وہچنانچہ درمختار میں ہے صواب یہ ہے کہ حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا اسم گرامی سن کر آپ پر دل میں درود شریف پڑھےفتاوی شامی میں ہے یونہی جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر چھڑ جاتے ہیں توآپ بلکہ دل میں پڑھیں اور اسی پر فتوی ہے۔رملی۔اسی میں ہے قولہ یعنی مصنف کا "فی نفسہ"کہنااس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا نفس سنے(اور اسے سنائے)یا حروف کو صحت کے ساتھ ادا کرے کیونکہ اہل علم نے
الجواب:
فی الواقع درود شریف از اعظم مطلوبات و اجل مندوبات وافضل مثوبات است واعظ از او منع نکند مگر گمراہ و دربارہ سامعین خود احادیث کثیرہ ناطق است کہ ہنگام سماع ذکر اقدس ہر کہ درود نفر ستد وعید براوصادق است آرے باید کہ جہر نکنند تادرسماع وعظ خلل نہ یفتد فی الدرالمختار والصواب انہ یصلی علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عند سماع اسمہ فی نفسہ وفی ردالمحتار وکذا اذا ذکر النبی صلی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایجوز ان یصلوا علیہ بالجہر بل بالقلب وعلیہ الفتوی رملی ہمدرانست قولہ(فی نفسہ)ای بان یسمع نفسہ او یصحح الحروف فانھم فسروہ بہ وعن ابی یوسف قلبا الخ قلت وعلی الاول عمل المسلمین فی الوعظ۔والله تعالی اعلم۔ واقعی درود شریف سب سے بڑا مطلوببڑی شان والا مستحب اور سب سے افضل ثوابلہذا وہی واعظ درود شریف پڑھنے سے منع کرے گا جو گمراہ ہواور وعظ سننے والوں کے متعلق بیشمار حدیثیں ناطق ہیں(یعنی دوران وعظ ان کا درود شریف پڑھنا بتارہی ہیں)کہ حضور اطہر کا ذکر اقدس سن کر جوآدمی ان پر درود نہ بھیجے اس پر عذاب کی دھمکی(جو حدیث میں آئی ہے)بلا شبہ صادقہاں یہ ضرور خیال رکھیں کہ بلند آواز سے نہ پڑھیں تاکہ وعظ ونصیحت سننے سے نقصان پیدا نہ وہچنانچہ درمختار میں ہے صواب یہ ہے کہ حضور اکرم صلی الله تعالی علیہ وسلم کا اسم گرامی سن کر آپ پر دل میں درود شریف پڑھےفتاوی شامی میں ہے یونہی جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر چھڑ جاتے ہیں توآپ بلکہ دل میں پڑھیں اور اسی پر فتوی ہے۔رملی۔اسی میں ہے قولہ یعنی مصنف کا "فی نفسہ"کہنااس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا نفس سنے(اور اسے سنائے)یا حروف کو صحت کے ساتھ ادا کرے کیونکہ اہل علم نے
حوالہ / References
درمختار کتا ب الصلٰوۃ باب الجمعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۳€
ردالمختار کتا ب الصلٰوۃ باب الجمعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۵۵۰€
ردالمحتار کتا ب الصلٰوۃ باب الجمعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۵۵۱€
ردالمختار کتا ب الصلٰوۃ باب الجمعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۵۵۰€
ردالمحتار کتا ب الصلٰوۃ باب الجمعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۵۵۱€
اس کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔اور قاضی امام ابویوسف علیہ الرحمۃ نے اس کی تفسیر(قلبا الخ)مروی ہے یعنی دل میں پڑھے وعظ میں پہلی بات پر مسلمانوں کا عمل ہے۔(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۳: ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے ایك جوان لڑکی ہے اور وہ مسجد بنواتاہے آیا اس پر مسجد بنوانا لازمہ یا لڑکی کا نکاح کرنا۔فقط۔
الجواب:
مسجد بنانا خیر کثیر ہے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من بنی اﷲ مسجدا بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ ۔ جو الله کے لئے مسجد بنائے الله اس کے لئے جنت میں گھر بنائے۔
خصوصا اگر وہاں مسجد کی حاجت ہو تو اس کے فضل کی حد ہی نہیں۔نکاحوں میں کثرت مصارف شرعا کچھ ضرور نہیں یہ لوگوں نے اپنی رسمیں نکال لی ہیںرسم کو آدمی جہاں ضروری جانےپورا کرتا ہی ہے مسجد بنانے سے نہ روکا جائے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴: از میرٹھ مرسلہ مولوی محمد حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس مدرسہ قومیہ
گم شدہ شے کے دریافت کرنے کے لئے یسین شریف سے نام نکالا جاتاہے یا کسی اور طرح چور کا پتا معلوم کرنے کے لئے یہ طریقہ ٹھیك ہے یانہیں
الجواب:
یہ طریقے نامحمود ومضر ہیں اور ان سے جس کا نام نکلے اسے چور سمجھ لینا حرام۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" ۔ الله تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو!بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔(ت)
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث واﷲ تعالی اعلم۔ گمان سے بچو کیونکہ گمان سے زیادہ جھوٹی بات ہے الحدیث۔ والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۳: ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے ایك جوان لڑکی ہے اور وہ مسجد بنواتاہے آیا اس پر مسجد بنوانا لازمہ یا لڑکی کا نکاح کرنا۔فقط۔
الجواب:
مسجد بنانا خیر کثیر ہے نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من بنی اﷲ مسجدا بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ ۔ جو الله کے لئے مسجد بنائے الله اس کے لئے جنت میں گھر بنائے۔
خصوصا اگر وہاں مسجد کی حاجت ہو تو اس کے فضل کی حد ہی نہیں۔نکاحوں میں کثرت مصارف شرعا کچھ ضرور نہیں یہ لوگوں نے اپنی رسمیں نکال لی ہیںرسم کو آدمی جہاں ضروری جانےپورا کرتا ہی ہے مسجد بنانے سے نہ روکا جائے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴: از میرٹھ مرسلہ مولوی محمد حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس مدرسہ قومیہ
گم شدہ شے کے دریافت کرنے کے لئے یسین شریف سے نام نکالا جاتاہے یا کسی اور طرح چور کا پتا معلوم کرنے کے لئے یہ طریقہ ٹھیك ہے یانہیں
الجواب:
یہ طریقے نامحمود ومضر ہیں اور ان سے جس کا نام نکلے اسے چور سمجھ لینا حرام۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" ۔ الله تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو!بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔(ت)
رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث واﷲ تعالی اعلم۔ گمان سے بچو کیونکہ گمان سے زیادہ جھوٹی بات ہے الحدیث۔ والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
معجم الکبیر للطبرانی ∞حدیث ۳۲۷۳€ مکتبۃ المعارف ∞۴ /۱۶۳€
القرآن الکریم ∞۴۹ /۱۲€
صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظن والتجسس ∞۲ /۳۱۶€
القرآن الکریم ∞۴۹ /۱۲€
صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظن والتجسس ∞۲ /۳۱۶€
مسئلہ ۱۵۵: از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب مسجد جامع خیر نگر مدرس قومیہ
فال کیا ہے جائز ہے یا نہیں سعدی وحافظ وغیرہ کے فالنامے صحیح ہیں یا نہیں
الجواب:
فال ایك قسم استخارہ ہےاستخارہ کی اصل کتب احادیث میں بکثرت موجود ہے مگر یہ فالنامے جو عوام میں مشہوراوراکابر کی طرف منسوب ہیں بے اصل وباطل ہیںاور قرآن عظیم سے فال کھولنا منع ہے۔اور دیوان حافظ وغیرہ سے بطور تفاول جائز ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۶: از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس مدرسہ قمویہ
انگریزی قلم رورشنائی سے تعویز لکھنا کچھ عیب ہے یا حرج ہے۔اور ہندوستانی قلم وسیاہی کیا ضروری ہے
الجواب:
ہاں تعویذات واعمال میں ایسی اشیاء سے احتراز ضرور ہے جس میں ناپاك چیز کا میل ہو اگر چہ بروجہ شہرت وشبہہ جیسے پڑیا کی رنگت اس سے تعویز نہ لکھا جائے بلکہ ہندوستانی سیاہی سے لکھا جائے رہا قلم وہ مثل سیاہی تعویز کا جز ونہیں ہوجاتا۔لہذا اس میں کوئی حرج نہیںہاں ان کاموں میں انگریزی اشیاء سے احتراز مطلقا بہتر ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۷:از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس مدرسہ قومیہ غیر مذہب کو آیت قرآنی لکھ کر دینا بطور تعویز جائز ہے یانہیں اگر نہیں تو کیا تدبیر کی جائے
الجواب:غیر مسلم کو آیات قرآنی لکھ کر دینا ہر گز نہ دی جائیں کہ اساءت ادب کا مظنہ ہے مطلقا اسماء الہیہ و ونقوش مطہرہ نہ دین کہ ان کی بھی تعظیم واجببلکہ دیں تو ان کے اعداد لکھ دیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۷: از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس مدرسہ قومیہ
اعمال میں ایام ووقت مثلا حب کے لئے عروج ماہ وقت عشاء بعض کے لئے نزول ماہ وقت ظہر فتوح و دست غیب کے ئے ثابت ماہ وقت صبح وغیرہ وغیرہ کچھ اصل رکھتی ہیں بعض اعمال میں زکوۃ وورد ہے اگر ناغہ ہو توعمل ہاتھ سے جاتا رہتا ہے بعض کو جلالی با پرہیز اور بعض کو جمالی بے پرہیز بتایا جاتاہے بعض میں چکی اور کسی میں کتے کی آواز کی قید ہے۔یہ سب کیسی باتیں ہیں
الجواب:
اوقات عشاء وظہروصبح کی قید ان اجناس میں مطلقہ میں نہیں ہاں عمل فتوح کے لئے ماہ ثابت اور حب کے لئے دو جسدیں اور تفریق کے لئے منقلب اور دواول کے لئے عروج قمر اور آخر کے لئے نزول قمر
فال کیا ہے جائز ہے یا نہیں سعدی وحافظ وغیرہ کے فالنامے صحیح ہیں یا نہیں
الجواب:
فال ایك قسم استخارہ ہےاستخارہ کی اصل کتب احادیث میں بکثرت موجود ہے مگر یہ فالنامے جو عوام میں مشہوراوراکابر کی طرف منسوب ہیں بے اصل وباطل ہیںاور قرآن عظیم سے فال کھولنا منع ہے۔اور دیوان حافظ وغیرہ سے بطور تفاول جائز ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۶: از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس مدرسہ قمویہ
انگریزی قلم رورشنائی سے تعویز لکھنا کچھ عیب ہے یا حرج ہے۔اور ہندوستانی قلم وسیاہی کیا ضروری ہے
الجواب:
ہاں تعویذات واعمال میں ایسی اشیاء سے احتراز ضرور ہے جس میں ناپاك چیز کا میل ہو اگر چہ بروجہ شہرت وشبہہ جیسے پڑیا کی رنگت اس سے تعویز نہ لکھا جائے بلکہ ہندوستانی سیاہی سے لکھا جائے رہا قلم وہ مثل سیاہی تعویز کا جز ونہیں ہوجاتا۔لہذا اس میں کوئی حرج نہیںہاں ان کاموں میں انگریزی اشیاء سے احتراز مطلقا بہتر ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۷:از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس مدرسہ قومیہ غیر مذہب کو آیت قرآنی لکھ کر دینا بطور تعویز جائز ہے یانہیں اگر نہیں تو کیا تدبیر کی جائے
الجواب:غیر مسلم کو آیات قرآنی لکھ کر دینا ہر گز نہ دی جائیں کہ اساءت ادب کا مظنہ ہے مطلقا اسماء الہیہ و ونقوش مطہرہ نہ دین کہ ان کی بھی تعظیم واجببلکہ دیں تو ان کے اعداد لکھ دیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۷: از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس مدرسہ قومیہ
اعمال میں ایام ووقت مثلا حب کے لئے عروج ماہ وقت عشاء بعض کے لئے نزول ماہ وقت ظہر فتوح و دست غیب کے ئے ثابت ماہ وقت صبح وغیرہ وغیرہ کچھ اصل رکھتی ہیں بعض اعمال میں زکوۃ وورد ہے اگر ناغہ ہو توعمل ہاتھ سے جاتا رہتا ہے بعض کو جلالی با پرہیز اور بعض کو جمالی بے پرہیز بتایا جاتاہے بعض میں چکی اور کسی میں کتے کی آواز کی قید ہے۔یہ سب کیسی باتیں ہیں
الجواب:
اوقات عشاء وظہروصبح کی قید ان اجناس میں مطلقہ میں نہیں ہاں عمل فتوح کے لئے ماہ ثابت اور حب کے لئے دو جسدیں اور تفریق کے لئے منقلب اور دواول کے لئے عروج قمر اور آخر کے لئے نزول قمر
اور ہر زکوۃ کے لئے التزام ورد مقرر اور اسماء الیہ جمالیہ میں صرف ماکولات جلالی یعنی حیوان کا پرہیز کہ لحم وبیض وغسل و سمك کو شامل ہے اور اسماء الہیہ جلالیہ میں جلالی وجمالی دونوں اعنی حیوان وما یخرج منہ(جانور اور جو کچھ اس سے برآمد ہو)کا پرہیز اور سوم کا التزام مع اعتکاف تام شرط ہے اور یہ از قبیل استخراج مشائخ بسبب مناسب جلیہ یاخفیہ ہے اور امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالی عنہ سے ماثور ہے کہ دعاء استسقا کے لئے فرماتے ہیں منزل قمر کا لحاظ کرلوہاں معازالله جوان ساعات کو واکب کومؤثر سمجھے اس کے لئے حرام ہے نیز ان اکابر ان قیود کا اکل وشرب وخلوت وبعد عن الخلق سے اصل مقصود اور ہے اکثر عوام آخرت کے لئے سعی نہیں کرتے اور دنیوی مطلوب کے لئے جان مصیبت میں ڈالنا آسان سمجھتے ہیں لہذا انھوں نے اسماء واذکار الہیہ مقاصد عوام کی تحصیل کو مقرر کئے اور یہ قیدیں لگائیں جس سے انھیں کم خوری وکم خوابی وگوشہ نشینی کی عادت پڑے اگر ذکر الہی کی برکت مقصود اصلی کی طرف کھینچ لے گئی تو عین مراد ہے ورنہ کم از کم یہ فائدہ نقد وقت ہے کہ کمی اختلاط خلق سے گناہ کم ہوں گے سخت دخشن کھانے اور روزوں کی کثرت سے شہوات نفسانیہ کمزور پڑینگے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۹: از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس قومیہ
اعمال حب وبغض وحاجات وغیرہ مسجدمیں پڑھے جائیں یا خارج بعض کہتے ہیں مسجد میں پڑھنے سے عبادت میں شمار ہوتے ہیں
الجواب:
اعمال مسجد وخارج مسجد دونوں جگہ جائز ہیں جبکہ اس کے لئے مسجد کی جگہ نہ روکے کہ یہ جائز نہیں اور وہ عمل بھی جائز ہو اور اس سے مقصود بھی امر جائز ہو اور اگر عمل اصلا یا قصدا ناجائز ہو تو مسجد میں اور بھی سخت تر حکم رکھے گا مثلا زن وشو میں بغض پیدا کرنا اس کے لئے عمل حرام ہے تو اسے مسجد میں پڑھنا حرام تر ہوگایوہیں اعمال سفلیہ کہ اصل میں حرام ہیں مقصود محمود کے لئے بھی مسجد میں حرام تر ہوں گے پھر جو جائز عمل جائز نیت سے ہے اس میں حالتیں دو ہیںایك اہل علم کی کہ وہ اسماء الہیہ سے تو سل اور اپنے جائز مقصد کے لئے الله عزوجل کی طرف تضرع کرتے ہیں یہ دعا ہے اور دعا مغز عبادت ہے مسجد میں ہو خواہ دوسری جگہدو م عوام نافہم کہ ان کا مطح نظر اپنا مطلب دنیوی ہوتاہے اور عمل کو نہ بطور دعا بلکہ بطور تد بیر بجالاتے ہیں ولہذا حب اثر نہ دیکھیں اس سے بے اعتقاد ہوجاتے ہیں اگر دعا سمجھتے بے اعتقادی کے کیا معنی تھے کہ حاکم پر حکم کس کا ایسے اعمال نہ مسجد میں عبادت ہوسکتے ہیں نہ غیر میں بلکہ جب کسی دنیوی مطلب کے لئے ہوں مسجد میں نہ پڑھنا چاہئے فان المساجد لم تبن لھدی (اس لئے کہ مساجد اس کام
مسئلہ ۱۵۹: از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس قومیہ
اعمال حب وبغض وحاجات وغیرہ مسجدمیں پڑھے جائیں یا خارج بعض کہتے ہیں مسجد میں پڑھنے سے عبادت میں شمار ہوتے ہیں
الجواب:
اعمال مسجد وخارج مسجد دونوں جگہ جائز ہیں جبکہ اس کے لئے مسجد کی جگہ نہ روکے کہ یہ جائز نہیں اور وہ عمل بھی جائز ہو اور اس سے مقصود بھی امر جائز ہو اور اگر عمل اصلا یا قصدا ناجائز ہو تو مسجد میں اور بھی سخت تر حکم رکھے گا مثلا زن وشو میں بغض پیدا کرنا اس کے لئے عمل حرام ہے تو اسے مسجد میں پڑھنا حرام تر ہوگایوہیں اعمال سفلیہ کہ اصل میں حرام ہیں مقصود محمود کے لئے بھی مسجد میں حرام تر ہوں گے پھر جو جائز عمل جائز نیت سے ہے اس میں حالتیں دو ہیںایك اہل علم کی کہ وہ اسماء الہیہ سے تو سل اور اپنے جائز مقصد کے لئے الله عزوجل کی طرف تضرع کرتے ہیں یہ دعا ہے اور دعا مغز عبادت ہے مسجد میں ہو خواہ دوسری جگہدو م عوام نافہم کہ ان کا مطح نظر اپنا مطلب دنیوی ہوتاہے اور عمل کو نہ بطور دعا بلکہ بطور تد بیر بجالاتے ہیں ولہذا حب اثر نہ دیکھیں اس سے بے اعتقاد ہوجاتے ہیں اگر دعا سمجھتے بے اعتقادی کے کیا معنی تھے کہ حاکم پر حکم کس کا ایسے اعمال نہ مسجد میں عبادت ہوسکتے ہیں نہ غیر میں بلکہ جب کسی دنیوی مطلب کے لئے ہوں مسجد میں نہ پڑھنا چاہئے فان المساجد لم تبن لھدی (اس لئے کہ مساجد اس کام
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ باب النہی عن انشاط الضوال فی المسجد ∞ص۵۶€ و صحیح مسلم کتا ب المساجد باب النہی عن نشد الضالۃ الخ ∞۱/ ۲۳€
کے لئے نہیں بنائی گئیں۔ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۰: از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس مدرسہ قومیہ
اوراد و وظائف مقررہ کو اتفاقیہ بلاوضو پڑھ سکتے ہیں یا نہیں اگر ناغہ ہوں تو دوسرے وقت قضاء ہوسکتے ہیں یا نہیں اور پڑھتے میں اگر کوئی شخص سلام کرے یاہم کلام ہو تو اس کا جواب دیا جائے یا نہیں
الجواب:
وظائف جو احادیث میں ارشاد ہوئے یا مشائخ کرام نے بطور ذکر الہی بتائے انھیں بلا وضو بھی پڑھ سکتے ہیں اور باوضو بہتران میں حسب حاجت بات بھی کرسکتاہے یعنی نیك بات مگر وہ وظیفہ جس میں عدم کلام کی شرط فرمادی ہے جیسے صبح و عصر کی نماز کے بعد بغیر پاؤں بدلے بغیر بات کئے دس بار"لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد بیدك الخیر یحی ویمیت وھو علی کلی شیئ قدیر پڑھنا"اس میں بات نہ کی جائے۔اور ذاکر پر سلام کرنا مطلقا منع ہے اور اگر کوئی کرے تو ذاکر کواختیار ہے کہ جواب دے یا نہ دے۔ہاں اگر کسی کے سلام یا جائز کلام کا جواب نہ دینا اس کی دل شکنی کا موجب ہو تو جواب دے کہ مسلمان کی دلدادی وظیفہ میں بات نہ کرنے سے اہم واعظم ہے۔یہ وظائف اگر وقت خاص سے مختص ہیں اور وہ وقت نکل گیا تو ان کی قضا نہیں ورنہ دوسرے وقت پڑھ لئے جائیں کہ ثواب ملے اور عادت نہ چھوٹےیہ احکام وظائف واذکار کے تھے رہے اعمال کہ ارباب عزائم مقرر کرتے ہیں ان کی زکوۃ میں تو روزانہ غسل شرط ہے وہ بھی غسل پاك یعنی بحالت طہارت نہانا یہاں تك کہ اگر نہانے کی حاجت ہوجائے تو غسل جنابت کرکے دوبارہ پھر نہائے اور ان کی ورد میں کہ عم بجا رہنے کے لئے مقررکیا جاتاہے وضوشر ط ہے بلاوضو نہیں پڑھ سکتا نہ ان کی زکوۃ یا ورد میں ہر گز بات کرسکتا ہے مگر جو بات شرعا فی الحال فرض ہو اس کے لئے بمجبوری قطع قراءت لازممثل یہ عمل پڑھ رہا ہے اور ماں باپ نے آواز دی جواب دینا فرض ہے۔یا کسی کافر نہ کے کہا مجھے مسلمان کرلے قطع عمل فرض ہے یہاں تك کہ جو مسلمان ہونا مانگے اس کے لئے تو فرض نماز کی نیت فورا توڑ دینی واجب ہے یا کوئی مسلمان کنویں میں گرا جاتاہے کسی لکڑی یا اینٹ سے رکا ہوا ہے اگر دیر کی جائے گی گر پڑے گا اور وہ آواز دے یا یہ دیکھے اور بچانا اس پر متعین ہو تو فرض ہے کہ عمل بلکہ فرض نماز قطع کرے اور اسے بچائے وقس علیہ مگر ان سب صورتوں میں جتنا پڑھ لیا تھا محسوب نہ ہوگا بلکہ از سر نو پڑھے اعمال میں قضا بھی نہیں اگر وسط زکوۃ میں کئی دن ناغہ ہوگیا تو زکوۃ نہ ہوئی پھر ادا کرے اور کسی دن کا ورد ناغہ ہونے کو ہو تو اس کی نیت سے اس دن ایك بار سورۃ فاتحہ ایك بار آیۃ الکرسی پڑھ لے وہ ناغہ نہ گنا جائے گا نہ اس کی قضا ہوگی
مسئلہ ۱۶۰: از میرٹھ مرسلہ مولوی حبیب الله صاحب قادری رضوی خطیب جامع مسجد خیر نگر مدرس مدرسہ قومیہ
اوراد و وظائف مقررہ کو اتفاقیہ بلاوضو پڑھ سکتے ہیں یا نہیں اگر ناغہ ہوں تو دوسرے وقت قضاء ہوسکتے ہیں یا نہیں اور پڑھتے میں اگر کوئی شخص سلام کرے یاہم کلام ہو تو اس کا جواب دیا جائے یا نہیں
الجواب:
وظائف جو احادیث میں ارشاد ہوئے یا مشائخ کرام نے بطور ذکر الہی بتائے انھیں بلا وضو بھی پڑھ سکتے ہیں اور باوضو بہتران میں حسب حاجت بات بھی کرسکتاہے یعنی نیك بات مگر وہ وظیفہ جس میں عدم کلام کی شرط فرمادی ہے جیسے صبح و عصر کی نماز کے بعد بغیر پاؤں بدلے بغیر بات کئے دس بار"لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد بیدك الخیر یحی ویمیت وھو علی کلی شیئ قدیر پڑھنا"اس میں بات نہ کی جائے۔اور ذاکر پر سلام کرنا مطلقا منع ہے اور اگر کوئی کرے تو ذاکر کواختیار ہے کہ جواب دے یا نہ دے۔ہاں اگر کسی کے سلام یا جائز کلام کا جواب نہ دینا اس کی دل شکنی کا موجب ہو تو جواب دے کہ مسلمان کی دلدادی وظیفہ میں بات نہ کرنے سے اہم واعظم ہے۔یہ وظائف اگر وقت خاص سے مختص ہیں اور وہ وقت نکل گیا تو ان کی قضا نہیں ورنہ دوسرے وقت پڑھ لئے جائیں کہ ثواب ملے اور عادت نہ چھوٹےیہ احکام وظائف واذکار کے تھے رہے اعمال کہ ارباب عزائم مقرر کرتے ہیں ان کی زکوۃ میں تو روزانہ غسل شرط ہے وہ بھی غسل پاك یعنی بحالت طہارت نہانا یہاں تك کہ اگر نہانے کی حاجت ہوجائے تو غسل جنابت کرکے دوبارہ پھر نہائے اور ان کی ورد میں کہ عم بجا رہنے کے لئے مقررکیا جاتاہے وضوشر ط ہے بلاوضو نہیں پڑھ سکتا نہ ان کی زکوۃ یا ورد میں ہر گز بات کرسکتا ہے مگر جو بات شرعا فی الحال فرض ہو اس کے لئے بمجبوری قطع قراءت لازممثل یہ عمل پڑھ رہا ہے اور ماں باپ نے آواز دی جواب دینا فرض ہے۔یا کسی کافر نہ کے کہا مجھے مسلمان کرلے قطع عمل فرض ہے یہاں تك کہ جو مسلمان ہونا مانگے اس کے لئے تو فرض نماز کی نیت فورا توڑ دینی واجب ہے یا کوئی مسلمان کنویں میں گرا جاتاہے کسی لکڑی یا اینٹ سے رکا ہوا ہے اگر دیر کی جائے گی گر پڑے گا اور وہ آواز دے یا یہ دیکھے اور بچانا اس پر متعین ہو تو فرض ہے کہ عمل بلکہ فرض نماز قطع کرے اور اسے بچائے وقس علیہ مگر ان سب صورتوں میں جتنا پڑھ لیا تھا محسوب نہ ہوگا بلکہ از سر نو پڑھے اعمال میں قضا بھی نہیں اگر وسط زکوۃ میں کئی دن ناغہ ہوگیا تو زکوۃ نہ ہوئی پھر ادا کرے اور کسی دن کا ورد ناغہ ہونے کو ہو تو اس کی نیت سے اس دن ایك بار سورۃ فاتحہ ایك بار آیۃ الکرسی پڑھ لے وہ ناغہ نہ گنا جائے گا نہ اس کی قضا ہوگی
اور اگر یہ بھی نہ کیا تو عمل ہاتھ سے نکل جائے گا پھر زکوۃ دے غرض ارباب عزائم کے یہاں ہر طرح تشدد ہے اور الله ورسول کے یہاں تیسیرولله الحمد جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلم۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۱: از بریلی عقب کوتوالی مسئولہ شاہ محمد خاں ۲۴ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سفر کے جانے کے کس قدر دن ہیں اور اگر کسی وجہ سے اس روز نہ جانا ہوسکے تو اپنا اسباب اور خود بیرون شہر کردینے سے سفر کا جانا مانا جائزے گا یا نہیں۔اسباب باہر چھوڑا اور خود شہر میں چلا آیا تو یہ سفر کی صورت ٹھیك ہے یانہیں ورنہ جیسا حکم ہو اس کا کاربند ہوجاؤںبینوا توجروا(بیان فرمائے اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ہر سفر پر جانے کو دو شنبہپنجشنبہشنبہ بہتر ہیں نہ ایسے کہ ان کی رعایت واجب ہو بلکہ حرج نہ ہو تو اولی ہے اور حرج ہو تو جس دن بھی ہو الله پر توکل کرے اور اسباب باہر چھوڑ کر خود شہر میں آجانا کسی طرح سفر کی حد میں نہیں آسکتا نہ ایسے ٹوٹکو کی حاجتوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲: از شہر کہنہ بریلی مسئولہ سید گوھر علی حسین قائم مقام معتمد انجمن خادم المسلمین بریلی ۴ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اردو اخبار کی ردی بازاری دکانداروں کے ہاتھ فروخت کی جائے یا نہیں کیونکہ عموما اسلامی اخبارات وہندو اخبارات ودیگر صحائف میں اسلامی معاملات پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور آیات واحادیث واسمائے مقدسہ کا اندراج ہوتا ہے چونکہ فی الحال انجمن خادم المسلمین بریلی کے دارالمطالعہ میں انگریزی اور اردو اخبارات کی ردی موجود ہے لہذا ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ استفتاء حاصل کیا جائے۔
الجواب:
جبکہ ان میں آیت یا حدیث یا اسمائے معظمہ یا مسائل فقہ ہوں تو جائز نہیں ورنہ حرج نہیں ان اوراق کو دیکھ کر اشیائے مذکورہ میں ان سے علیحدہ کرلیں پھر بیچ سکتے ہیں۔عالمگیری میں ہے:
لایجوز لف شیئ فی کاغذ فیہ مکتوب من الفقہ وفی الکلام الاولی ان لایفعل وفی کتب الطب یجوز ولو کان فیہ اسم اﷲ کسی چیز کو کسی ایسے کاغذ میں لپیٹنا کہ جس میں علم فقہ کے مسائل لکھے ہوں جائز نہیںاور کلام میں بہتر یہ ہے کہ ایسا نہ کیا جائے البتہ علم طب کی کتابوں میں ایسا کرنا جائز ہے اگر اس میں
مسئلہ ۱۶۱: از بریلی عقب کوتوالی مسئولہ شاہ محمد خاں ۲۴ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سفر کے جانے کے کس قدر دن ہیں اور اگر کسی وجہ سے اس روز نہ جانا ہوسکے تو اپنا اسباب اور خود بیرون شہر کردینے سے سفر کا جانا مانا جائزے گا یا نہیں۔اسباب باہر چھوڑا اور خود شہر میں چلا آیا تو یہ سفر کی صورت ٹھیك ہے یانہیں ورنہ جیسا حکم ہو اس کا کاربند ہوجاؤںبینوا توجروا(بیان فرمائے اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ہر سفر پر جانے کو دو شنبہپنجشنبہشنبہ بہتر ہیں نہ ایسے کہ ان کی رعایت واجب ہو بلکہ حرج نہ ہو تو اولی ہے اور حرج ہو تو جس دن بھی ہو الله پر توکل کرے اور اسباب باہر چھوڑ کر خود شہر میں آجانا کسی طرح سفر کی حد میں نہیں آسکتا نہ ایسے ٹوٹکو کی حاجتوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲: از شہر کہنہ بریلی مسئولہ سید گوھر علی حسین قائم مقام معتمد انجمن خادم المسلمین بریلی ۴ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اردو اخبار کی ردی بازاری دکانداروں کے ہاتھ فروخت کی جائے یا نہیں کیونکہ عموما اسلامی اخبارات وہندو اخبارات ودیگر صحائف میں اسلامی معاملات پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور آیات واحادیث واسمائے مقدسہ کا اندراج ہوتا ہے چونکہ فی الحال انجمن خادم المسلمین بریلی کے دارالمطالعہ میں انگریزی اور اردو اخبارات کی ردی موجود ہے لہذا ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ استفتاء حاصل کیا جائے۔
الجواب:
جبکہ ان میں آیت یا حدیث یا اسمائے معظمہ یا مسائل فقہ ہوں تو جائز نہیں ورنہ حرج نہیں ان اوراق کو دیکھ کر اشیائے مذکورہ میں ان سے علیحدہ کرلیں پھر بیچ سکتے ہیں۔عالمگیری میں ہے:
لایجوز لف شیئ فی کاغذ فیہ مکتوب من الفقہ وفی الکلام الاولی ان لایفعل وفی کتب الطب یجوز ولو کان فیہ اسم اﷲ کسی چیز کو کسی ایسے کاغذ میں لپیٹنا کہ جس میں علم فقہ کے مسائل لکھے ہوں جائز نہیںاور کلام میں بہتر یہ ہے کہ ایسا نہ کیا جائے البتہ علم طب کی کتابوں میں ایسا کرنا جائز ہے اگر اس میں
تعالی او اسم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یجوز محوہ لیلف فیہ شیئ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ الله تعالی کا مقدس نام یا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا اسم گرامی تحریر ہو تو اسے مٹادینا جائز ہے تاکہ اس میں کوئی چیز لپیٹی جاسکے۔اور الله تعالی سب کچھ بخوبی جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۶۳: از شہر محلہ ذخیرہ مسئولہ شیخ شوکت علی صاحب فاروقی ۱۲ ذوالحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںمسجد کے اندر سوال کرنا اپنے یا غیر کے واسطے اور سائل کو دینا اس کے یا غیر کے واسطے جائز ہے یا نہیں
الجواب:
جو مسجد میں غل مچادیتے ہیں نمازیوں کی نماز میں خلل ڈالتے ہیں لوگوں کی گردنیں پھلانکتے ہوئے صفوں میں پھرتے ہیں مطلقا حرام ہے اپنے لئے خواہ دوسرے کے لئےحدیث میں ہے:
جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم ورفع اصواتکم رواہ ابن ماجۃ عن واثلۃ بن الاسقع و عبدالرزاق عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہما۔ مسجدوں کو بچوں اور پاگلوں اور بلند آواز سے بچاؤ(محدث ابن ماجہ نے حضرت واثلہ بن اسقع سے اور امام عبدالرزاق نے حضرت معاذ بن جبل سے اس کو روایت کیاالله تعالی ان دونوں سے راضی ہو۔ت)
حدیث میں ہے:
من تخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ اتخذ جسرا الی جہنمرواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ عن معاذ بن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے جہنم تك پہنچنے کا اپنے لئے پل بنالیا(امام احمد اور جامع ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت معاذبن انس رضی الله تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا۔ت)
مسئلہ ۱۶۳: از شہر محلہ ذخیرہ مسئولہ شیخ شوکت علی صاحب فاروقی ۱۲ ذوالحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںمسجد کے اندر سوال کرنا اپنے یا غیر کے واسطے اور سائل کو دینا اس کے یا غیر کے واسطے جائز ہے یا نہیں
الجواب:
جو مسجد میں غل مچادیتے ہیں نمازیوں کی نماز میں خلل ڈالتے ہیں لوگوں کی گردنیں پھلانکتے ہوئے صفوں میں پھرتے ہیں مطلقا حرام ہے اپنے لئے خواہ دوسرے کے لئےحدیث میں ہے:
جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم ورفع اصواتکم رواہ ابن ماجۃ عن واثلۃ بن الاسقع و عبدالرزاق عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہما۔ مسجدوں کو بچوں اور پاگلوں اور بلند آواز سے بچاؤ(محدث ابن ماجہ نے حضرت واثلہ بن اسقع سے اور امام عبدالرزاق نے حضرت معاذ بن جبل سے اس کو روایت کیاالله تعالی ان دونوں سے راضی ہو۔ت)
حدیث میں ہے:
من تخطی رقاب الناس یوم الجمعۃ اتخذ جسرا الی جہنمرواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ عن معاذ بن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے جہنم تك پہنچنے کا اپنے لئے پل بنالیا(امام احمد اور جامع ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت معاذبن انس رضی الله تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا۔ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۲۲€
المصنف لعبد الرزاق باب انشادالضالۃ فی المسجد ∞حدیث ۱۷۲۶€ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱ /۴۴۲،€سنن ابن ماجہ کتاب المساجد باب مایکرہ فی المساجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵€
جامع الترمذی کتاب الجمعۃ باب کراھیۃ التخطی یوم الجمعۃ ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۶۸،€سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی النہی عن تخطی الناس یوم الجمعۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۹€
المصنف لعبد الرزاق باب انشادالضالۃ فی المسجد ∞حدیث ۱۷۲۶€ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱ /۴۴۲،€سنن ابن ماجہ کتاب المساجد باب مایکرہ فی المساجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵€
جامع الترمذی کتاب الجمعۃ باب کراھیۃ التخطی یوم الجمعۃ ∞امین کمپنی دہلی ۱ /۶۸،€سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی النہی عن تخطی الناس یوم الجمعۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۹€
اور اگر یہ باتیں نہ ہوں جب بھی اپنے لئے مسجد میں بھیك مانگنا منع ہے۔رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سمع رجلا ینشد فی المسجد ضالۃ فلیقل لا ردھا اﷲ الیك فان المساجد لم تبن لھذا رواہ احمد ومسلم وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو کسی مسجد میں اپنی گمی چیز دریافت کرنے سنے اس سے کہے الله تجھے وہ چیز نہ ملائے مسجدیں اس لئے نہیں(امام احمد اور مسلم اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
جب اتنی بات منع ہے تو بھیك مانگنی خصوصا اکثر بلا ضرورت بطور پیشہ کے خود ہی حرام ہے یہ کیونکر جائز ہوسکتی ہے ولہذا ائمہ دین نے فرمایا جو مسجد کے سائل کو ایك پیسہ دے وہ ستر۷۰ پیسے راہ خدا میں اور دے کہ اس پیسہ کے گناہ کا کفارہ ہوں اور دوسرے محتاج کے لئے امداد کو کہنا یا کسی دینی کام کے لئے چندہ کرنا جس میں نہ غل شور ہو نہ گردن پھلانگنا نہ کسی کی نماز میں خلل یہ بلا شبہہ جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔اور بے سوال کسی محتاج کو دینابہت خوب اور مولی علی کرم الله تعالی وجہہ سے ثابت ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۵ و ۶و۱۶۵: از شہر بریلی محلہ جامع مسجد مسئولہ عبدالرحمن صاحب ۱۱ صفر ۱۳۳۸ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بزرگان دین کے مزاروں پر کسی اپنے مدعا کے حصول کے لئے بحکم خداوند کریم کا چڑھانا یا کسی پارچے یا پھول کا معہ نعت خوانی مزار موصوف یا اثناء راہ یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں
(۲)چادر پھول میں سے لڑ توڑ کر بنا کر اس وقت میلا د شریف پڑھنے والوں کے گلے میں ڈال دینا درست ہے یا نہیں
الجواب:
(۱)جائز ہے جبکہ منکرات شرعیہ سے خالی ہووالله تعالی اعلم۔
(۲)جائز ہے جبکہ باذن مالك ہو۔والله تعالی اعلم۔
من سمع رجلا ینشد فی المسجد ضالۃ فلیقل لا ردھا اﷲ الیك فان المساجد لم تبن لھذا رواہ احمد ومسلم وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو کسی مسجد میں اپنی گمی چیز دریافت کرنے سنے اس سے کہے الله تجھے وہ چیز نہ ملائے مسجدیں اس لئے نہیں(امام احمد اور مسلم اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
جب اتنی بات منع ہے تو بھیك مانگنی خصوصا اکثر بلا ضرورت بطور پیشہ کے خود ہی حرام ہے یہ کیونکر جائز ہوسکتی ہے ولہذا ائمہ دین نے فرمایا جو مسجد کے سائل کو ایك پیسہ دے وہ ستر۷۰ پیسے راہ خدا میں اور دے کہ اس پیسہ کے گناہ کا کفارہ ہوں اور دوسرے محتاج کے لئے امداد کو کہنا یا کسی دینی کام کے لئے چندہ کرنا جس میں نہ غل شور ہو نہ گردن پھلانگنا نہ کسی کی نماز میں خلل یہ بلا شبہہ جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔اور بے سوال کسی محتاج کو دینابہت خوب اور مولی علی کرم الله تعالی وجہہ سے ثابت ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۵ و ۶و۱۶۵: از شہر بریلی محلہ جامع مسجد مسئولہ عبدالرحمن صاحب ۱۱ صفر ۱۳۳۸ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بزرگان دین کے مزاروں پر کسی اپنے مدعا کے حصول کے لئے بحکم خداوند کریم کا چڑھانا یا کسی پارچے یا پھول کا معہ نعت خوانی مزار موصوف یا اثناء راہ یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں
(۲)چادر پھول میں سے لڑ توڑ کر بنا کر اس وقت میلا د شریف پڑھنے والوں کے گلے میں ڈال دینا درست ہے یا نہیں
الجواب:
(۱)جائز ہے جبکہ منکرات شرعیہ سے خالی ہووالله تعالی اعلم۔
(۲)جائز ہے جبکہ باذن مالك ہو۔والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن نشد الضالۃ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۱۰،€سنن ابن ماجہ باب النہی عن انشادالضوال فی المسجد ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۶،€مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۳۴۹€
مسئلہ ۱۶۶: از فیض آباد مرسلہ محمد خلیل ۲۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند قرآن بوسیدہ اور تمام اوراق ان کے پھٹ پھٹ کر علیحدہ ہوگئے ہیں اس حالت میں وہ اوراق ادھر ادھر زمین پرپائے جاتے ہیں اس طرح نہایت ہی خرابی ہے اور گناہ بھی بیحدہوتا ہے تو کیا ان کو جلا کر کسی جاری پانی میں ڈالا جائے یا بے جلائے کسی کپڑے میں مع پتھر کے باندھ کر کنویں میں ڈالا جائے۔بینوا توجروا(بیان فرمائیے ثواب پائیے۔ت)
الجواب:
اسے مثل دفن کریں یعنی ان اوراق کو جمع کرکے پاك کپڑے میں لپیٹیں اور ایسی جگہ جہاں پاؤں نہ پڑتا ہوں عمیق بغلی قبر اس کے لائق کھود کر اس میں سپرد کردیں۔درمختا رمیں ہے:
المصحف اذا صار بحال لایقرأ فیہ یدفن کالمسلم ۔ مصحف شریف کی جب ایسی حالت ہوجائے کہ اسے پڑھا نہ جاسکے تو پھر اسے مسلمان کی طرح(احترام سے)دفن کردے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای یجعل فی خرقۃ طاھرۃ یدفن فی محل غیر ممتھن لایؤطأ وفی الذخیرۃ وینبغی ان یلحد لہ ولا یشق لہ لانہ یحتاج الی اھالۃ التراب علیہ وفی ذلك نوع تحقیر الا اذا جعل فوقہ سقفا بحیث لایصل الیہ فھو حسن ایضا اھ اقول: الشق قد ینھدم فاللحد اولی۔ یعنی اس صورت میں اسے کسی صورت میں پاك کپڑے میں لپیٹ کر کسی ایسی جگہ دفن کیا جائے جہاں نہ تو اس کی توہین ہو اور نہ لوگوں کے پاؤں سے پامال ہواور ذخیرہ میں ہے مناسب یہ ہے کہ اس کے لئے"لحد"(یعنی بغلی قبر)بنائی جائے لیکن"شق" (سیدھی)نہ ہو کیونکہ اس صورت میں اس پر یعنی اس کے اوپر مٹی ڈالنے کی ضرورت میں اس پر یعنی اس کے اوپر مٹی ڈالنے کی ضرورت پیش آئے گی کہ جس میں ایك قسم تحقیر ہے۔ہاں اگر اس قبر پر چھت بنائی جائے کہ اس تك مٹی نہ پہنچے تو پھر یہ بھی ایك اچھی صورت ہے اھ۔میں کہتاہوں شق(سیدھی قبر)کبھی گرجاتی ہے لہذا بغلی قبر ہی زیادہ بہتر ہے۔(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند قرآن بوسیدہ اور تمام اوراق ان کے پھٹ پھٹ کر علیحدہ ہوگئے ہیں اس حالت میں وہ اوراق ادھر ادھر زمین پرپائے جاتے ہیں اس طرح نہایت ہی خرابی ہے اور گناہ بھی بیحدہوتا ہے تو کیا ان کو جلا کر کسی جاری پانی میں ڈالا جائے یا بے جلائے کسی کپڑے میں مع پتھر کے باندھ کر کنویں میں ڈالا جائے۔بینوا توجروا(بیان فرمائیے ثواب پائیے۔ت)
الجواب:
اسے مثل دفن کریں یعنی ان اوراق کو جمع کرکے پاك کپڑے میں لپیٹیں اور ایسی جگہ جہاں پاؤں نہ پڑتا ہوں عمیق بغلی قبر اس کے لائق کھود کر اس میں سپرد کردیں۔درمختا رمیں ہے:
المصحف اذا صار بحال لایقرأ فیہ یدفن کالمسلم ۔ مصحف شریف کی جب ایسی حالت ہوجائے کہ اسے پڑھا نہ جاسکے تو پھر اسے مسلمان کی طرح(احترام سے)دفن کردے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای یجعل فی خرقۃ طاھرۃ یدفن فی محل غیر ممتھن لایؤطأ وفی الذخیرۃ وینبغی ان یلحد لہ ولا یشق لہ لانہ یحتاج الی اھالۃ التراب علیہ وفی ذلك نوع تحقیر الا اذا جعل فوقہ سقفا بحیث لایصل الیہ فھو حسن ایضا اھ اقول: الشق قد ینھدم فاللحد اولی۔ یعنی اس صورت میں اسے کسی صورت میں پاك کپڑے میں لپیٹ کر کسی ایسی جگہ دفن کیا جائے جہاں نہ تو اس کی توہین ہو اور نہ لوگوں کے پاؤں سے پامال ہواور ذخیرہ میں ہے مناسب یہ ہے کہ اس کے لئے"لحد"(یعنی بغلی قبر)بنائی جائے لیکن"شق" (سیدھی)نہ ہو کیونکہ اس صورت میں اس پر یعنی اس کے اوپر مٹی ڈالنے کی ضرورت میں اس پر یعنی اس کے اوپر مٹی ڈالنے کی ضرورت پیش آئے گی کہ جس میں ایك قسم تحقیر ہے۔ہاں اگر اس قبر پر چھت بنائی جائے کہ اس تك مٹی نہ پہنچے تو پھر یہ بھی ایك اچھی صورت ہے اھ۔میں کہتاہوں شق(سیدھی قبر)کبھی گرجاتی ہے لہذا بغلی قبر ہی زیادہ بہتر ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الطہارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۳€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۱۹€
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۱۱۹€
ہاں جہاں زمین ایسی نرم وکمزور ہو کہ بغلی کے دھنس جائے اندیشہ ہو تو اڑانے تختے مضبوط لگا کر قبر بنائیں اور اگر اوراق تھوڑے ہوں تو یہ سب سے اولی یہ کہ ایك ایك یا زیادہ کا تعویذ بنا کر اطفال مسلمین کو تقسیم کردیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئہ ۱۶۷: از گونڈل کاٹھیا واڑ مرسلہ قاضی قاسم میاں صاحب ۲۶ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کانچ کی ایك سطح پر آیات واذکار تیزاب وسپیدی سے الٹے لکھے جاتے ہیں جودوسری طرف سیدھے دکھائی دیتے ہیں ایسے ایسے تختے ونیز کاغذ میں لکھے ہوئے آیات واذکار کانچ میں مڑھاکر مکان میں برکت وآرائش کے لئے رکھتے ہیں ایسے مکان میں جماع کرنا بے ادبی ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرمائے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
جہاں قرآن کریم کی کوئی آیت کریمہ لکھی ہو کاغذ یا کسی شے پر اگر چہ اوپر شیشہ ہو جو اسے حاجت نہ ہو جب تك اس پر خلاف نہ ڈال لیں وہاں جماع یا برہنگی بے ادبی ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۸: از بریلی لال کورتی بازار مرسلہ نیاز احمد اینڈ سنس ۴ رجب المرجب
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہہمارے پاس ہمیشہ ذیل کے مضمون کے کارڈ آتے ہیں اھدنا الصراط المستقیم صراط انعمت۔اس کے علاوہ اور مضمون کے بھی دیتے ہیں اور لکھا ہوتاہے یا۱۱ مرتبہ لکھ کر مختلف لوگوں کو تقسیم کرو ورنہ نقصان ہوگا۔مہربانی فرماکر تحریر فرمائیں کہ کیا کرنا چاہئے والسلام
الجواب:
یہ محض بے اصل بات ہے اس پر عمل نہ کیجئے ناحق تضیع مال ہے اور وہ دھکمی غلط باطل ہےان کارڈوں پر خدا ترس لوگ آیات کریمہ لکھتے ہیں کہ ان کی نو نقلیں کرکے بھیجو حالانکہ وہ بے وضو بلکہ جنب کو کفار کے ہاتھ میں آتی ہیں اور زمین پر رکھ کر ان پر ڈاك کہ مہریں لگائی جاتی ہے۔قرآن عظیم کی اس بے ادبی کا وبال ان لکھنے والوں پر ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹: از مؤ پور میواڑ راجپوتانہ مہارانا سکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب مدرس ۱۲ رمضان ۱۳۳۸ھ
قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہوئے عالم یا والدین یا دینی مہتمم مدرسہ کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا جائز ہے یا نہیں تعظیم کرنا چاہئے یا نہیں
مسئہ ۱۶۷: از گونڈل کاٹھیا واڑ مرسلہ قاضی قاسم میاں صاحب ۲۶ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کانچ کی ایك سطح پر آیات واذکار تیزاب وسپیدی سے الٹے لکھے جاتے ہیں جودوسری طرف سیدھے دکھائی دیتے ہیں ایسے ایسے تختے ونیز کاغذ میں لکھے ہوئے آیات واذکار کانچ میں مڑھاکر مکان میں برکت وآرائش کے لئے رکھتے ہیں ایسے مکان میں جماع کرنا بے ادبی ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرمائے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
جہاں قرآن کریم کی کوئی آیت کریمہ لکھی ہو کاغذ یا کسی شے پر اگر چہ اوپر شیشہ ہو جو اسے حاجت نہ ہو جب تك اس پر خلاف نہ ڈال لیں وہاں جماع یا برہنگی بے ادبی ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۸: از بریلی لال کورتی بازار مرسلہ نیاز احمد اینڈ سنس ۴ رجب المرجب
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہہمارے پاس ہمیشہ ذیل کے مضمون کے کارڈ آتے ہیں اھدنا الصراط المستقیم صراط انعمت۔اس کے علاوہ اور مضمون کے بھی دیتے ہیں اور لکھا ہوتاہے یا۱۱ مرتبہ لکھ کر مختلف لوگوں کو تقسیم کرو ورنہ نقصان ہوگا۔مہربانی فرماکر تحریر فرمائیں کہ کیا کرنا چاہئے والسلام
الجواب:
یہ محض بے اصل بات ہے اس پر عمل نہ کیجئے ناحق تضیع مال ہے اور وہ دھکمی غلط باطل ہےان کارڈوں پر خدا ترس لوگ آیات کریمہ لکھتے ہیں کہ ان کی نو نقلیں کرکے بھیجو حالانکہ وہ بے وضو بلکہ جنب کو کفار کے ہاتھ میں آتی ہیں اور زمین پر رکھ کر ان پر ڈاك کہ مہریں لگائی جاتی ہے۔قرآن عظیم کی اس بے ادبی کا وبال ان لکھنے والوں پر ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹: از مؤ پور میواڑ راجپوتانہ مہارانا سکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب مدرس ۱۲ رمضان ۱۳۳۸ھ
قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہوئے عالم یا والدین یا دینی مہتمم مدرسہ کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا جائز ہے یا نہیں تعظیم کرنا چاہئے یا نہیں
الجواب:
قرآن عظیم کی تلاوت میں سلطان اسلام اور عالم دین اور استاد علم دین اور والدین کی تعظیم کرسکتا ہے وبس۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۰:از مقام آصف آباد ڈاك خانہ بلہار پور ضلع چاند ملك متوسط مرسلہ عبدالله الرحمن صاحب ۱۶رمضان المبارك ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حمد ونعت میں آداب مقام طہارت کابخیال حرمت رسول الله صل الله تعالی علیہ وسلم کہاں تك لحاظ کیا جانالازم ہے ہے کہ حمد ونعت تماشاگاہوںشادی کی مجلسوں اور دعوت کے ایسے جلسوں میں جس میں لوگ انگریزی وضع کے موافق آداب اسلام کے برعکس کرسیوں پر تبختر سے بیٹھے ہوں اور ارباب نشاط جمع ہوں پڑھنا جائز ہے یانہیںاگر کوئی شخص اس موقع پر جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ادائے حمد ونعت سے بخیال ادب وحرمت تامل پذیر ہو اور انکار کرے توگناہ تو لازم نہ آئے گا ایسے جلسوں میں آداب ورواج اسلام کے خلاف جوتا پہنے ہوئے میز کے پاس کھڑے ہو کر جبکہ سامعین کرسیوں پر نشست رکھتے ہوں اور قاری زمین پر کھڑا ہو حمد ونعت کے متبرك الفاظ بآواز بلند پڑھنا جائز ہوگا اوراگر کوئی شخص جائز نہ سمجھ کر ایسے موقع پر تامل کرے تو کوئی حرج تو نہیں
الجواب:
ادب واجلال جہاں تك ممکن ہو بہترہے فتح القدیر میں ہے:
کل ماکان فی الادب والاجلال کان حسنا ۔ ہر وہ کام جو ادب واحترام میں داخل ہو وہ اچھا ہے۔(ت)
تماشا گاہوں میں جہاں لوگ لہو ولعب میں مشغول ہوں اور ذکر شریف نہ سنیں گے نعت شریف بآواز بلند پڑھنا ممنوع ہے جس طرح ایسی جگہ قرآن عظیم پڑھنا حرام ہے شادی ودعوت کے جلسوں میں حالت دیکھی جائے اگر حاضرین سب اسی بے ہود طرز کے ہیں کہ التفات نہ کریں گے تو وہاں بھی پڑھنا منع اور تامل و انکار کرنے والا کہ بہ نیت ادب وحرمت انکار کرے گا ثواب پائے گا اور اگر وہاں وہ لوگ ہیں کہ متوجہ ہوکر ذکر شریف سنیں گے اگر چہ بعض انگریزی بیہودہ فیشن کے متکبر ومتبختر بھی ہوں تو ممانعت
قرآن عظیم کی تلاوت میں سلطان اسلام اور عالم دین اور استاد علم دین اور والدین کی تعظیم کرسکتا ہے وبس۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۰:از مقام آصف آباد ڈاك خانہ بلہار پور ضلع چاند ملك متوسط مرسلہ عبدالله الرحمن صاحب ۱۶رمضان المبارك ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حمد ونعت میں آداب مقام طہارت کابخیال حرمت رسول الله صل الله تعالی علیہ وسلم کہاں تك لحاظ کیا جانالازم ہے ہے کہ حمد ونعت تماشاگاہوںشادی کی مجلسوں اور دعوت کے ایسے جلسوں میں جس میں لوگ انگریزی وضع کے موافق آداب اسلام کے برعکس کرسیوں پر تبختر سے بیٹھے ہوں اور ارباب نشاط جمع ہوں پڑھنا جائز ہے یانہیںاگر کوئی شخص اس موقع پر جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ادائے حمد ونعت سے بخیال ادب وحرمت تامل پذیر ہو اور انکار کرے توگناہ تو لازم نہ آئے گا ایسے جلسوں میں آداب ورواج اسلام کے خلاف جوتا پہنے ہوئے میز کے پاس کھڑے ہو کر جبکہ سامعین کرسیوں پر نشست رکھتے ہوں اور قاری زمین پر کھڑا ہو حمد ونعت کے متبرك الفاظ بآواز بلند پڑھنا جائز ہوگا اوراگر کوئی شخص جائز نہ سمجھ کر ایسے موقع پر تامل کرے تو کوئی حرج تو نہیں
الجواب:
ادب واجلال جہاں تك ممکن ہو بہترہے فتح القدیر میں ہے:
کل ماکان فی الادب والاجلال کان حسنا ۔ ہر وہ کام جو ادب واحترام میں داخل ہو وہ اچھا ہے۔(ت)
تماشا گاہوں میں جہاں لوگ لہو ولعب میں مشغول ہوں اور ذکر شریف نہ سنیں گے نعت شریف بآواز بلند پڑھنا ممنوع ہے جس طرح ایسی جگہ قرآن عظیم پڑھنا حرام ہے شادی ودعوت کے جلسوں میں حالت دیکھی جائے اگر حاضرین سب اسی بے ہود طرز کے ہیں کہ التفات نہ کریں گے تو وہاں بھی پڑھنا منع اور تامل و انکار کرنے والا کہ بہ نیت ادب وحرمت انکار کرے گا ثواب پائے گا اور اگر وہاں وہ لوگ ہیں کہ متوجہ ہوکر ذکر شریف سنیں گے اگر چہ بعض انگریزی بیہودہ فیشن کے متکبر ومتبختر بھی ہوں تو ممانعت
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب الحج ∞مسائل منثورہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۹۴€
نہیں اور ایسی جگہ تاویل وانکار بیجا ہے گناہ گار اب بھی نہ ہوگا جبکہ اسی کی نیت ادب واحترام ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۱: ازریاست کوٹہ راجپوتانہ محلہ حیدر گڑھ مسئولہ فضل احمد امام جامع مسجد ۱۶ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ صحن مسجد داخل مسجد ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
صحن مسجد مسجد ہےفقہا اسے مسجد صیفی کہتے ہیں اور حد مسقف کو مسجد شتویوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۲: از بمبئی ۸ مدنپورہ صفی آبادی بردکان جہانگیر مرچ مصالحہ والے مسئولہ عبدالستار صاحب یکم صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ م ین کہ زید کہتاہے کہ تعویز کا یا آیات قرآن نقش جداول میں لکھنا خلاف شرع اور ناجائز ہے۔عمرو کہتاہے کہ نہیںعدد میں خلاف شرع تو نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ حرفوں لکھنا فضیلت رکھتا ہے۔دونوں میں سے کسی کا قول مطابق شریعت ہے۔بینوا توجروا
الجواب:
آیات کریمہ واسمائے طیبہ کی برکات سے استفادہ کے دنوں طریقے ہیں جن میں عبارت و الفاظ لکھے جائیں وہ جزر کہلاتے ہیں اور زبان تکسیر میں مظہر اور اعداد والے وفق ومضمرعلم اوفاق امام حجۃ الاسلام غزالی وامام فخر الدین رازی وشیخ اکبر محی الدین ابن عربی وغیرہم اجلہ اکابر سے ہے اس میں عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں بلکہ محل احراق ونحوہ میں وہی انسب ہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳: سید عرفان علی صاحب رکن انجمن خادم الساجدین ربڑی ٹولہ بریلی ۴ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں:
" من یشفع شفعۃ حسنۃ یکن لہ نصیب منہا ومن یشفع شفعۃ سیئۃ یکن لہ کفل منہا وکان اللہ علی کل شیء مقیتا﴿۸۵﴾" جو کوئی اچھی سفارش کرے تو اس کے لےلئے اس میں حصہ ہے اور جو کوئی بری سفارش کرے تو اس کے لئے اس میں بھی حصہ ہے اور الله تعالی ہر چیز پر پوری طاقت رکھنے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۷۱: ازریاست کوٹہ راجپوتانہ محلہ حیدر گڑھ مسئولہ فضل احمد امام جامع مسجد ۱۶ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ صحن مسجد داخل مسجد ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
صحن مسجد مسجد ہےفقہا اسے مسجد صیفی کہتے ہیں اور حد مسقف کو مسجد شتویوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۲: از بمبئی ۸ مدنپورہ صفی آبادی بردکان جہانگیر مرچ مصالحہ والے مسئولہ عبدالستار صاحب یکم صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ م ین کہ زید کہتاہے کہ تعویز کا یا آیات قرآن نقش جداول میں لکھنا خلاف شرع اور ناجائز ہے۔عمرو کہتاہے کہ نہیںعدد میں خلاف شرع تو نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ حرفوں لکھنا فضیلت رکھتا ہے۔دونوں میں سے کسی کا قول مطابق شریعت ہے۔بینوا توجروا
الجواب:
آیات کریمہ واسمائے طیبہ کی برکات سے استفادہ کے دنوں طریقے ہیں جن میں عبارت و الفاظ لکھے جائیں وہ جزر کہلاتے ہیں اور زبان تکسیر میں مظہر اور اعداد والے وفق ومضمرعلم اوفاق امام حجۃ الاسلام غزالی وامام فخر الدین رازی وشیخ اکبر محی الدین ابن عربی وغیرہم اجلہ اکابر سے ہے اس میں عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں بلکہ محل احراق ونحوہ میں وہی انسب ہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳: سید عرفان علی صاحب رکن انجمن خادم الساجدین ربڑی ٹولہ بریلی ۴ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں:
" من یشفع شفعۃ حسنۃ یکن لہ نصیب منہا ومن یشفع شفعۃ سیئۃ یکن لہ کفل منہا وکان اللہ علی کل شیء مقیتا﴿۸۵﴾" جو کوئی اچھی سفارش کرے تو اس کے لےلئے اس میں حصہ ہے اور جو کوئی بری سفارش کرے تو اس کے لئے اس میں بھی حصہ ہے اور الله تعالی ہر چیز پر پوری طاقت رکھنے والا ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۸۵€
اس آیت شریف کا کیا مطلب ہے اورشفاعت حسنہ اورسیئہ سے کیا مراد ہے
الجواب:نیك بات میں کسی کی سفار ش کرنا مثلا سفارش کرکے مظلوم کو اس کا حق دلادینا یا کسی مسلمان کو ایذا سے بچلا لینا یا کسی محتاج کی مدد کرادینا شفاعت حسنہ ہے ایسی شفاعت کرنے والا اجر پائیگا اگر چہ اس کی شفاعت کارگر نہ ہواور بری بات کے لئے سفارش کرکے کوئی گناہ کرادینا شفاعت سیئہ ہے اس کے فاعل پر اس کا وبال ہے اگر چہ نہ مانی جائے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۴: از شہر محلہ سوداگران مسئولہ شمس الدین طالب عالم مدرسہ منظر الاسلام ۱۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں حضور پر نور اعلحضرت مجدد مائۃ حاضرہ مؤید ملۃ طاہرہ قبلہ مدظلہ العالی کہ مسجد میں امام کو دبوانا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
کوئی حرج نہیںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ۷۵ ۱تا ۱۷۹: از موضع ہرن پاور ضلع بریلی تحصیل نواب گنج مسئولہ فقیر بخش
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حضرت پیران پیر دستگیر غوث اعظم کی گیارھویں شریف میں تعظیم کو اٹھنا جائز ہے یا نہیں
(۲)محرم میں ماتم یا نوحہ کرنا جائز ہے یانہیں
(۳)رافضیہ کی مجلس میں جانا جائز ہے یانہیں
(۴)اولیائے کرام کے کسی مزار پر شیرینی لے جانا جائز ہے یانہیں
(۵)جو کوئی کسی نیك کام کو جاتا ہے اور اس کو کوئی روکے ترو اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں
الجواب:
(۱)گیارھویں شریف میں قیام سے کوئی ممانعت شرعیہ نہیں مگر یہ تعظیم عرف مسلمین میں ذکر اقدس حضور سید علام صلی الله تعالی علیہ وسلم سے خاص ہورہی ہے اس تخصیص کا لحاظ چاہئے۔
(۲)ماتم ونوحہ محرم ہو یا غیر محرم مطلقا حرام ہے۔ (۳)رافضیوں کی مجلس میں جانا سخت حرام ہے۔
(۴)شرینی اگر ایصال وثواب کے لئے ہو اور وہاں مساکین پر تقسیم کی جائے تو حرج نہیں۔
(۵)اگر وہ کام واقعی نیك ہے اور یہ کسی وجہ شرعی سے اسے نہیں روکتا تو مناع للخیر ہے اور مناع للخیر ہونا شیطانی کام ہے۔والله تعالی اعلم۔
الجواب:نیك بات میں کسی کی سفار ش کرنا مثلا سفارش کرکے مظلوم کو اس کا حق دلادینا یا کسی مسلمان کو ایذا سے بچلا لینا یا کسی محتاج کی مدد کرادینا شفاعت حسنہ ہے ایسی شفاعت کرنے والا اجر پائیگا اگر چہ اس کی شفاعت کارگر نہ ہواور بری بات کے لئے سفارش کرکے کوئی گناہ کرادینا شفاعت سیئہ ہے اس کے فاعل پر اس کا وبال ہے اگر چہ نہ مانی جائے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۴: از شہر محلہ سوداگران مسئولہ شمس الدین طالب عالم مدرسہ منظر الاسلام ۱۲ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں حضور پر نور اعلحضرت مجدد مائۃ حاضرہ مؤید ملۃ طاہرہ قبلہ مدظلہ العالی کہ مسجد میں امام کو دبوانا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
کوئی حرج نہیںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ۷۵ ۱تا ۱۷۹: از موضع ہرن پاور ضلع بریلی تحصیل نواب گنج مسئولہ فقیر بخش
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حضرت پیران پیر دستگیر غوث اعظم کی گیارھویں شریف میں تعظیم کو اٹھنا جائز ہے یا نہیں
(۲)محرم میں ماتم یا نوحہ کرنا جائز ہے یانہیں
(۳)رافضیہ کی مجلس میں جانا جائز ہے یانہیں
(۴)اولیائے کرام کے کسی مزار پر شیرینی لے جانا جائز ہے یانہیں
(۵)جو کوئی کسی نیك کام کو جاتا ہے اور اس کو کوئی روکے ترو اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں
الجواب:
(۱)گیارھویں شریف میں قیام سے کوئی ممانعت شرعیہ نہیں مگر یہ تعظیم عرف مسلمین میں ذکر اقدس حضور سید علام صلی الله تعالی علیہ وسلم سے خاص ہورہی ہے اس تخصیص کا لحاظ چاہئے۔
(۲)ماتم ونوحہ محرم ہو یا غیر محرم مطلقا حرام ہے۔ (۳)رافضیوں کی مجلس میں جانا سخت حرام ہے۔
(۴)شرینی اگر ایصال وثواب کے لئے ہو اور وہاں مساکین پر تقسیم کی جائے تو حرج نہیں۔
(۵)اگر وہ کام واقعی نیك ہے اور یہ کسی وجہ شرعی سے اسے نہیں روکتا تو مناع للخیر ہے اور مناع للخیر ہونا شیطانی کام ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰: از بنارس محلہ انبیالی منڈی مسئولہ محمد عمر صاحب سنی حنفی قادری رضوی ۴ رجب ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ منجانب خلافت کمیٹی ایك روپیہ کا نوٹ شائع ہوا ہے جس میں قرآن پاك کی پوری ایك آیت لکھی پس مسلمان یا ہنود کے ہاتھ فروخت کرنا کیسا ہے کیا مسلمان اس کو ہر حالت پاکی وناپاکی میں لے سکتا ہے یا نہیں اور اس کے فروخت کرنے والے پر کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
اس پرچہ پر کہ ہر کس وناکس ہر پاك وناپاك ہر کافر ومشرك ہر بھنگی چمار کے ہاتھ میں جانے کے لئے وضع کیا گیاہے قرآن کریم کی آیت لکھنا اسے بے ادبی کے لئے پیش کیا ہےت بے وضو اس کا چھونا جائز نہیں اگر آیہ کریمہ کے سوا انس میں اور کتابت نہ ہوا اور اگر اور کفایت زائد ہے تو آیہ کریمہ جس جگہ لکھی ہے اس پر بے وضو ہاتھ لگنا حرام ہے اور خواہ اسی رخ ہو جدھر آیت لکھی ہے یا دوسرے رخ ہر طرف ناجائز ہے اور اسے کافر کے ہاتھ فروخت نہ کریں اور اس کا بیچنا بے ابی ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱ تا ۱۸۲:از ریاست کوٹہ راجپوتانہ متصل گھنٹہ گھر مسجد مدار کا چلہ مسئولہ حافظ جان محمد امام مسجد مذکورہ ۲۹ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں جواب مع حوالہ کتب اہلسنت سے مرحمت فرمایا جائے:
(۱)بعد نماز جمعہ کوئی عالم یا میلاد خوان منبر پر بیٹھ کر میلاد شریف پڑھے تو جائز ہے یا نہیں اور عام طو ر پر بھی منبر پر بیٹھ کر میلاد شریف پڑھنا جائز ہے یا نہیں کیا منبر محض وعظ وخطبہ ہی کے لئے ہے اگر چند مسلمان زید کو بعد نماز جمعہ مسجد میں منبر پر میلاد شریف پڑھنے کے لئے بٹھائیں اور چند لوگ کہیں کہ اگر تم میلاد شریف پڑھنا ہے تو منبر پر مت بیٹھو بلکہ تخت پر بیٹھو ہم منبر پر نہیں پڑھنے دیں گے اور نہیں پڑھنے دیا۔ایسے لوگوں کے لئے کا حکم ہے
(۲)زیدنے محض فقہ کی تین کتابیں پڑھی ہیںاردو بولنے اور صحیح املا لکھنے کی لیاقت نہیں ہے۔اور صرف ونحو سے بالکل ناواقف ہے حتی کہ میزان الصرف نہیں جانتا بلکہ صرف ونحو کے پڑھنے کو حرام اور اس کے پڑھنے والے کو اچھا نہیں جانتا اور فارسی بھی نہیں جانتاایسے شخص کو منبر پر بیٹھ کر وعظ کہنا جائز ہے یا نہیں اور اگر منبر پر بیٹھ جائے تو اس کو مسلمان منبر سے اتار سکتے ہیں یا نہیں از روئے شرع کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)میلاد شریف منبر پر پڑھنا بلا شبہہ جائز ہے اور یہ فرق کہ میلاد شریف تخت پر ہو منبر پر صرف
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ منجانب خلافت کمیٹی ایك روپیہ کا نوٹ شائع ہوا ہے جس میں قرآن پاك کی پوری ایك آیت لکھی پس مسلمان یا ہنود کے ہاتھ فروخت کرنا کیسا ہے کیا مسلمان اس کو ہر حالت پاکی وناپاکی میں لے سکتا ہے یا نہیں اور اس کے فروخت کرنے والے پر کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
اس پرچہ پر کہ ہر کس وناکس ہر پاك وناپاك ہر کافر ومشرك ہر بھنگی چمار کے ہاتھ میں جانے کے لئے وضع کیا گیاہے قرآن کریم کی آیت لکھنا اسے بے ادبی کے لئے پیش کیا ہےت بے وضو اس کا چھونا جائز نہیں اگر آیہ کریمہ کے سوا انس میں اور کتابت نہ ہوا اور اگر اور کفایت زائد ہے تو آیہ کریمہ جس جگہ لکھی ہے اس پر بے وضو ہاتھ لگنا حرام ہے اور خواہ اسی رخ ہو جدھر آیت لکھی ہے یا دوسرے رخ ہر طرف ناجائز ہے اور اسے کافر کے ہاتھ فروخت نہ کریں اور اس کا بیچنا بے ابی ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱ تا ۱۸۲:از ریاست کوٹہ راجپوتانہ متصل گھنٹہ گھر مسجد مدار کا چلہ مسئولہ حافظ جان محمد امام مسجد مذکورہ ۲۹ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں جواب مع حوالہ کتب اہلسنت سے مرحمت فرمایا جائے:
(۱)بعد نماز جمعہ کوئی عالم یا میلاد خوان منبر پر بیٹھ کر میلاد شریف پڑھے تو جائز ہے یا نہیں اور عام طو ر پر بھی منبر پر بیٹھ کر میلاد شریف پڑھنا جائز ہے یا نہیں کیا منبر محض وعظ وخطبہ ہی کے لئے ہے اگر چند مسلمان زید کو بعد نماز جمعہ مسجد میں منبر پر میلاد شریف پڑھنے کے لئے بٹھائیں اور چند لوگ کہیں کہ اگر تم میلاد شریف پڑھنا ہے تو منبر پر مت بیٹھو بلکہ تخت پر بیٹھو ہم منبر پر نہیں پڑھنے دیں گے اور نہیں پڑھنے دیا۔ایسے لوگوں کے لئے کا حکم ہے
(۲)زیدنے محض فقہ کی تین کتابیں پڑھی ہیںاردو بولنے اور صحیح املا لکھنے کی لیاقت نہیں ہے۔اور صرف ونحو سے بالکل ناواقف ہے حتی کہ میزان الصرف نہیں جانتا بلکہ صرف ونحو کے پڑھنے کو حرام اور اس کے پڑھنے والے کو اچھا نہیں جانتا اور فارسی بھی نہیں جانتاایسے شخص کو منبر پر بیٹھ کر وعظ کہنا جائز ہے یا نہیں اور اگر منبر پر بیٹھ جائے تو اس کو مسلمان منبر سے اتار سکتے ہیں یا نہیں از روئے شرع کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)میلاد شریف منبر پر پڑھنا بلا شبہہ جائز ہے اور یہ فرق کہ میلاد شریف تخت پر ہو منبر پر صرف
خطبہ ووعظ محض نادانی ہے۔میلاد شیرف ذکر نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ہے اور ذکر نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم عین ذکر الہی ہے۔حدیث میں ہے۔رب عزوجل نے فرمایا:
جعلتك ذکرا من ذکری فمن ذکرك فقد ذکرنی ۔ اے محبوب! میں نے اپنے ذکر سے تمھیں ایك ذکر بنایا تو جس نے تمھارا ذکر کیا اس نے بیشك میرا ذکر کیا۔
تو میلاد شریف خطبہ ووعظ بھی ہے اور خطبہ ووعظ بھی ذکر نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے خالی نہیں ہوسکتے تو سب شے واحد ہیں ور خود صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم مسجد مدینہ طیبہ میں حسان بن ثابت انصاری رضی الله تعالی عنہ کے واسطے منبر بچھاتے اور وہ اس پر قیام کرکے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی نعت اور مشرکین کا رد سناتے ۔والله تعالی اعلم۔
(۲)منبر مسند نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ہے۔جاہل اردو خوان اگر اپنی طرف سے کچھ نہ کہے بلکہ عالم کی تصنیف پڑھ کر سنائے تو اس میں حرج نہیں جبکہ وہ جاہل فاسق مثلا داڑھی منڈا وغیرہ نہ ہوکہ اس وقت وہ جاہل سفیر محض ہے اور حقیقۃ وعظ اس عالم کا جس کی کتاب پڑھی جائے اور اگر ایسا نہیں بلکہ جاہل خود بیان کرنے بیٹھے تو اسے وعظ کہنا حرام ہے اور اس کا وعظ سننا حرام ہے۔اور مسلمانوں کو حق ہے بلکہ مسلمانوں پر حق ہے کہ اسے منبر سے اتاردیں کہ اس میں نہی منکر ہے اور نہی منکر واجب ہے۔والله تعالی اعلم۔
_____________________
جعلتك ذکرا من ذکری فمن ذکرك فقد ذکرنی ۔ اے محبوب! میں نے اپنے ذکر سے تمھیں ایك ذکر بنایا تو جس نے تمھارا ذکر کیا اس نے بیشك میرا ذکر کیا۔
تو میلاد شریف خطبہ ووعظ بھی ہے اور خطبہ ووعظ بھی ذکر نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے خالی نہیں ہوسکتے تو سب شے واحد ہیں ور خود صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم مسجد مدینہ طیبہ میں حسان بن ثابت انصاری رضی الله تعالی عنہ کے واسطے منبر بچھاتے اور وہ اس پر قیام کرکے حضور اقدس صلی الله تعالی علیہ وسلم کی نعت اور مشرکین کا رد سناتے ۔والله تعالی اعلم۔
(۲)منبر مسند نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ہے۔جاہل اردو خوان اگر اپنی طرف سے کچھ نہ کہے بلکہ عالم کی تصنیف پڑھ کر سنائے تو اس میں حرج نہیں جبکہ وہ جاہل فاسق مثلا داڑھی منڈا وغیرہ نہ ہوکہ اس وقت وہ جاہل سفیر محض ہے اور حقیقۃ وعظ اس عالم کا جس کی کتاب پڑھی جائے اور اگر ایسا نہیں بلکہ جاہل خود بیان کرنے بیٹھے تو اسے وعظ کہنا حرام ہے اور اس کا وعظ سننا حرام ہے۔اور مسلمانوں کو حق ہے بلکہ مسلمانوں پر حق ہے کہ اسے منبر سے اتاردیں کہ اس میں نہی منکر ہے اور نہی منکر واجب ہے۔والله تعالی اعلم۔
_____________________
حوالہ / References
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیۃ ∞ص۱۵€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب ماجاء فی الشعر ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۸،€احیاء العلوم بحوالہ صحیحین کتاب آداب السماع مطبعۃ المشہد الحسینی القاھرہ ∞۲ /۲۷۴€
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب ماجاء فی الشعر ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۸،€احیاء العلوم بحوالہ صحیحین کتاب آداب السماع مطبعۃ المشہد الحسینی القاھرہ ∞۲ /۲۷۴€
رسالہ
الکشف شافیا حکم فونو جرافیا ۱۳۲۸ھ
(فونوگراف(گراموفون)کے حکم کے بارے میں تسلی بخش وضاحت)
مسئلہ۱۷۳: از ریاست رامپور محلہ چاہ شور ۱۲ رمضان مبارك ۱۳۲۸ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فونو گراف سے قرآن مجید سننا اور اس میں قرآن شریف کا بھرنا اور اس کام کی نوکری کرکے یا اجرت لے کر یا ویسے ہی اپنی تلاوت کا اس میں بھروانا جائز ہے یا نہیں اور اشعار حمد ونعت کے بارہ میں کیا حکم ہے اور عورات کے ناچ گانے یا مزامیر کی آوازاس سے سننا بھی ایسا ہی حرام ہے جس طرح اس سے باہر سننا یا کیا بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
الحمد ﷲ الذی انزل القران ذکراللعلمینواغنانا بہ عن الغنا الخبیث ولھو الحدیث وملاھی المبطلین وحرم بغیرتہ ورحمتہ سب تعریف اﷲ تعالی کے لئے ہے کہ جس نے تمام جہانوں کی پند ونصیحت کے لئے قرآن مجید نازل فرمایا اور اس کی برکت سے ہمیں خبیث گانوںکھیل کی باتوں اور اہل باطل کے کھیل وتماشوں سے بے نیاز کردیا اور اپنی غیرت اور رحمت کی وجہ سے
الکشف شافیا حکم فونو جرافیا ۱۳۲۸ھ
(فونوگراف(گراموفون)کے حکم کے بارے میں تسلی بخش وضاحت)
مسئلہ۱۷۳: از ریاست رامپور محلہ چاہ شور ۱۲ رمضان مبارك ۱۳۲۸ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فونو گراف سے قرآن مجید سننا اور اس میں قرآن شریف کا بھرنا اور اس کام کی نوکری کرکے یا اجرت لے کر یا ویسے ہی اپنی تلاوت کا اس میں بھروانا جائز ہے یا نہیں اور اشعار حمد ونعت کے بارہ میں کیا حکم ہے اور عورات کے ناچ گانے یا مزامیر کی آوازاس سے سننا بھی ایسا ہی حرام ہے جس طرح اس سے باہر سننا یا کیا بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
الحمد ﷲ الذی انزل القران ذکراللعلمینواغنانا بہ عن الغنا الخبیث ولھو الحدیث وملاھی المبطلین وحرم بغیرتہ ورحمتہ سب تعریف اﷲ تعالی کے لئے ہے کہ جس نے تمام جہانوں کی پند ونصیحت کے لئے قرآن مجید نازل فرمایا اور اس کی برکت سے ہمیں خبیث گانوںکھیل کی باتوں اور اہل باطل کے کھیل وتماشوں سے بے نیاز کردیا اور اپنی غیرت اور رحمت کی وجہ سے
الفواحش والفتن ماظھر منھا وما بطن والصلوۃ والسلام علی سیدنا ومولنا محمد سید المرسلین المبعوث بزھق المعازف والمزامیر وکل لھو مھین وعلی الہ وصحبہ الذین ھم لعھدھم بتعظیم الذکر راعون وبلا طمع اجرۃ ولا کراموفون المنتجبین و المجتنبین عن لھو الحدیث الذین میزاﷲ بسعیھم و رعیھم الطیب من الخبیث مااطرب الورقاء بالالحان وغر القری فی الافنان امین !۔ فحش(یعنی بیحیائی کے کام)اور کھلے اور پوشیدہ فتنے حرام کردئیے اور درود وسلام ہمارے آقا ومولی پر ہو جو محمد (کریم) تمام رسولوں کے سردار اور مقتدا ہیں کہ جن کو گانے بجانے کے آلات واسباب اور ہر ذلیل کھیل وتماشہ کے مٹانے اور ختم کرنے)کے لئے بھیجا گیا(نیز درود وسلام)ان کی تمام آل اور تمام ساتھیوں پر ہو کہ جو تعطیم ذکر کی وجہ سے اپنے عہد وپیمان کی رعایت کرتے رہے اور یہ بغیر لالچ اجرت اور کرایہ کے عہد پورا کرتے ہیں اور شرافت رکھنے والے اور کھیل کی باتوں سے بچنے والے تھےیہ وہ پاکیزہ لوگ تھے کہ جن کی کوشش اور رعایت کرنے سے اﷲ تعالی نے پاك کو ناپاك سے الگ اور جدا کردیا(اور یہ سلسلہ اس وقت تك جاری رہے)جب تك فاختائیں خوش الحانی سے بولتی رہیں اور قمریاں شاخوں پر(جھوم کر)گیت گاتی اور خوش آوازی کرتی ہیں یا اللہ! اس دعا کو شرف قبولیت سے نواز دے۔(ت)
اس مسئلہ حادثہ میں کلام سے پہلے ایك مبحث جلیل کی تمہید ضرور جس پر انکشاف احکام مقصوروہ فوٹوگراف سے فونوگراف کا اظہار فرق ہے فوٹو گراف کی تصویر اپنی ذی الصورہ سے مباین اور اسکی محض ایك مثال وشبیہ ہوتی ہے بخلاف اس آلہ کے کہ اس میں اگر کسی قاری کی تلاوت بھری گئی تو اس میں حقیقۃ قرآن عظیم ہی ودیعت ہوا اور اس سے جو سنا جائے وہ حقیقتا اسی قاری کی آواز ہوگی اور اس سے جو ادا ہوا وہی قرآن عظیم ہوگا جو اس نے پڑھا نہ یہ کہ مسموع اس کی آواز کی کوئی حکایت وتصویر ہو اوریہ جو ادا ہوا قرآن مجید میں نہ ہو اس کی مثال ونظیر ہویوہیں اگر آلات طرف وغیرہا کی آواز ہے تو وہ بھی حقیقۃ وہی آواز ہے نہ کہ اس کا نشان وپرداز۔
کما توھمہ بعض فضلاء العصر وھو العلامۃ السید محمد عبدالقادر الاھدل الشافعی المقیم الان بحدیدۃ اذ جمع فیہ رسالۃ سماھا جیساکہ بعض فضلائے زمانہ کو وہم ہوگیا(اور مغالطہ لگ گیا) اور وہ علامہ سید محمد عبدالقادر اہدل شافعی ہیں جوآجکل حدیدہ میں رہائش پذیر ہیں انھوں نے اس موضوع پر ایك رسالہ تصنیف فرمایا کہ انھوں نے
اس مسئلہ حادثہ میں کلام سے پہلے ایك مبحث جلیل کی تمہید ضرور جس پر انکشاف احکام مقصوروہ فوٹوگراف سے فونوگراف کا اظہار فرق ہے فوٹو گراف کی تصویر اپنی ذی الصورہ سے مباین اور اسکی محض ایك مثال وشبیہ ہوتی ہے بخلاف اس آلہ کے کہ اس میں اگر کسی قاری کی تلاوت بھری گئی تو اس میں حقیقۃ قرآن عظیم ہی ودیعت ہوا اور اس سے جو سنا جائے وہ حقیقتا اسی قاری کی آواز ہوگی اور اس سے جو ادا ہوا وہی قرآن عظیم ہوگا جو اس نے پڑھا نہ یہ کہ مسموع اس کی آواز کی کوئی حکایت وتصویر ہو اوریہ جو ادا ہوا قرآن مجید میں نہ ہو اس کی مثال ونظیر ہویوہیں اگر آلات طرف وغیرہا کی آواز ہے تو وہ بھی حقیقۃ وہی آواز ہے نہ کہ اس کا نشان وپرداز۔
کما توھمہ بعض فضلاء العصر وھو العلامۃ السید محمد عبدالقادر الاھدل الشافعی المقیم الان بحدیدۃ اذ جمع فیہ رسالۃ سماھا جیساکہ بعض فضلائے زمانہ کو وہم ہوگیا(اور مغالطہ لگ گیا) اور وہ علامہ سید محمد عبدالقادر اہدل شافعی ہیں جوآجکل حدیدہ میں رہائش پذیر ہیں انھوں نے اس موضوع پر ایك رسالہ تصنیف فرمایا کہ انھوں نے
"القول الواضح فی ردالخفاء الفاضح"زعم فیھا ان ما یسمع من ذلك الصندوق لیس اصوات الاصل ولا مساویا لھا انما یشبھھما فی اصل الصوت کالصدا وھو لھما کالخیال من عالم المثال وبنی علیہ جواز ان تسمع منہ اصوات الالات اذ ماھی ھی ومایتعدی حکم الاصل الی الحکایۃ کما قال ابن حجر المکی وغیرہ فی رؤیۃ صورۃ عورۃ المرأۃ فی المراۃ وقد کنت کتبت فی ابطال ھذا الوھم عدۃ فی مکۃ المکرمۃ فی صفر ۱۳۲۴ھ حین عرض علی صاحبنا الفاضل الکامل النبیل النبیہ ذوقلب فقیہ و طبع وقاد وذھن نقادالشیخ محمد علی المکی المالکی امام المالکیۃ ومدرس المسجد الحرام ابن مفتیھم بھا مولینا العلامۃ المرحوم بکرم اﷲ تعالی الشیخ حسین الازھری المکی رسالۃ لہ فی ھذا الباب سماھا انوار الشروق فی احکام الصندوق"وھو حفظہ اﷲ اس کا نام القول الواضح فی ردالخطاء الفاضح(یعنی بالکل واضح اور ظاہر بات رسوا کرنیوالی خطا کے بیان میں)رکھا پس انھوں نے اس میں یہ خیال کیا کہ جو کچھ اس صندوق سے سنائی دیتا ہے وہ اصل آواز اور اس کے مساوی نہیں بلکہ وہ اصل آواز کی شبیہ ہے۔جیسے آواز بازگشت اور اس کی گونججیسے خیال عالم مثال سےاور اس پر یہ بنیاد رکھی کہ آلات سے آوازیں سننی جائز ہیںکیونکہ وہ آوازیں اصل اور حقیقی آوازیں نہیں اور حکم اصل حکایت کی طرف متجاوز نہیں ہوتاجیسا کہ علامہ ابن حجر وغیرہ نے ارشاد فرمایا جیسا کہ آئینہ میں جائے ستر کی صورت کا دیکھنااور میں نے اس وہم کو باطل قراردینے پر چند اوراق مکہ مکرمہ کی اقامت کے زمانے ماہ صفر ۱۳۲۴ھ میں تحریر کئے جب میرے سامنے ہمارے دوست(ساتھی)کاملفاضل شریفسمجھدار فقیہ دل رکھنے والے بھڑ کیلی طبیعت اور ناقد ذہن رکھنے والےشیخ محمد علی مکی مالکی(امام مالك کے پیرو کار)جو کہ مذہب امام مالك رکھنے والوں کے امام اور مسجد حرام میں مدرس اوروہاں ان کے مفتی کے صاحبزادے ہیں اور وہ مولانا علامہ اﷲ تعالی کے کرم سے ان پر رحم کیا جائےشیخ حسین ازہری مکی ہیںاس باب میں اپنا ایك رسالہ بنام انوار الشروق فی احکام الصندوق(یعنی چمکیلے انوارصندوق کے احکام شرعی کے بیان میں)انھوں نے مجھے پیش کیا اﷲ تعالی
تعالی اجاد فی تحریم سماع الطرب المعتاد لاھل الفساد من فونو غرافیا وبینہ بیانا کافیا وذھب ایضا الی تحریم سماع القران العظیم مطلقا منہ و سنحقق الامر فیہ کما ستری ان شاء اﷲ تعالی۔ ان کی حفاظت فرمائے کہ انھوں نے اہل فسا د کے لئے فونو گراف سے راگ سننے کی حرمت بیان کرنے میں کمال کردیا (بہت اچھا رول ادا کیا)اور کافی بیان فرمایا اور اس طرف بھی گئے ہیں کہ اس سے مطلقا قرآن عظیم سننا حرام ہے ہم ان شاء اﷲ تعالی عنقریب اس امر کی تحقیق پیش کریں گے جیسا کہ تو دیکھ رہا ہے۔(ت)
یہاں ہم کو دو باتیں بیان کرنی ہیںایك یہ کہ فونو سے جو سنی جاتی ہے وہ بعینہ اسی آواز کنندہ کی آواز ہوتی ہے جس کی صورت اس میں بھری ہے قاری ہو خواہ متکلم خواہ آلہ طرب وغیرہادوسرے یہ کہ بذریعہ تلاوت جو اس میں ودیعت ہواپھر تحریك آلہ جو اس سے ادا ہوگا سنا جائے گا حقیقۃ قرآن عظیم ہی ہے۔ان دونوں دعوؤں کو دو مقدموں میں روشن کریں وباﷲ التوفیق (اﷲ تعالی ہی کے کرم سے حصول توفیق ہے۔ت):
مقدمہ اولی:کا بیان ان امور کی تحقیق چاہتاہے:
(۱)آواز کیا چیز ہے (۲)کیونکر پیدا ہوتی ہے (۳)کیونکر سننے میں آتی ہے
(۴)اپنے ذریعہ حدوث کے بعد بھی باقی رہتی ہے یااس کے ختم ہوتے ہی فنا ہوجاتی ہے۔
(۵)کان سے باہر بھی موجود ہے یا کان ہی میں پیدا ہوتی ہے۔
(۶)آواز کنندہ کی طرف اس کی اضافت عــــــہ کیسی ہے وہ اس کی صفت ہے یا کس چیز کی۔
(۷)اس کی موت کے بعد بھی باقی رہ سکتی ہے یا نہیں۔
ہم اس بحث کو بعونہ تعالی ایسی وجہ پر تقریر کریں کہ ساتوں سوالوں کا جواب اسی سے منکشف ہو فاقول:وباﷲ التوفیق(اﷲ تعالی کی توفیق ہی سے میں کہتاہوں۔ت)ایك جسم کا دوسرے سے بقوت ملنا جسے قرع کہتے ہیں یا بسختی جدا ہونا کہ قلع کہلاتا ہے جس ملائے لطیف مثل ہوا یا آب میں واقع ہو اس کے اجزائے مجاورہ میں ایك خاص تشکل وتکیف لاتا ہے اسی شکل وکیفیت
عــــــہ: یعنی صفت کی اضافت ہے موصوف کی طرف یا فعل کے فاعل کی طرف یا کیا ۱۲ منہ
یہاں ہم کو دو باتیں بیان کرنی ہیںایك یہ کہ فونو سے جو سنی جاتی ہے وہ بعینہ اسی آواز کنندہ کی آواز ہوتی ہے جس کی صورت اس میں بھری ہے قاری ہو خواہ متکلم خواہ آلہ طرب وغیرہادوسرے یہ کہ بذریعہ تلاوت جو اس میں ودیعت ہواپھر تحریك آلہ جو اس سے ادا ہوگا سنا جائے گا حقیقۃ قرآن عظیم ہی ہے۔ان دونوں دعوؤں کو دو مقدموں میں روشن کریں وباﷲ التوفیق (اﷲ تعالی ہی کے کرم سے حصول توفیق ہے۔ت):
مقدمہ اولی:کا بیان ان امور کی تحقیق چاہتاہے:
(۱)آواز کیا چیز ہے (۲)کیونکر پیدا ہوتی ہے (۳)کیونکر سننے میں آتی ہے
(۴)اپنے ذریعہ حدوث کے بعد بھی باقی رہتی ہے یااس کے ختم ہوتے ہی فنا ہوجاتی ہے۔
(۵)کان سے باہر بھی موجود ہے یا کان ہی میں پیدا ہوتی ہے۔
(۶)آواز کنندہ کی طرف اس کی اضافت عــــــہ کیسی ہے وہ اس کی صفت ہے یا کس چیز کی۔
(۷)اس کی موت کے بعد بھی باقی رہ سکتی ہے یا نہیں۔
ہم اس بحث کو بعونہ تعالی ایسی وجہ پر تقریر کریں کہ ساتوں سوالوں کا جواب اسی سے منکشف ہو فاقول:وباﷲ التوفیق(اﷲ تعالی کی توفیق ہی سے میں کہتاہوں۔ت)ایك جسم کا دوسرے سے بقوت ملنا جسے قرع کہتے ہیں یا بسختی جدا ہونا کہ قلع کہلاتا ہے جس ملائے لطیف مثل ہوا یا آب میں واقع ہو اس کے اجزائے مجاورہ میں ایك خاص تشکل وتکیف لاتا ہے اسی شکل وکیفیت
عــــــہ: یعنی صفت کی اضافت ہے موصوف کی طرف یا فعل کے فاعل کی طرف یا کیا ۱۲ منہ
مخصوصہ کا نام آوا ز ہے اسی صورت قرع کی فرع ہے کہ زبان وگلوئے متکلم وقت تکلم کی حرکت سے ہو ائے دہن کو بجا کر اس میں اشکال حرفیہ پیدا کرتی ہے یہاں وہ کیفیت مخصوصہ اس صورت خاصہ کلام پربنتی ہے جسے قدرت کاملہ نے اپنے ناطق بندوں سے خاص کیا ہے یہ ہوائے اول یعنی جس پرابتداء وہ قرع وقلع واقع ہوا جیسے صورت کلام میں ہوائے دہن متکلم اگر بعینہ ہوائے گوش سامع ہوتی تو یہیں وہ آواز سننے میں آجاتی مگر ایسا نہیں لہذا حکیم عزت حکمتہ نے اس آواز کو گوش سامع تك پہنچانے یعنی ان تشکلات کو اس کی ہوائے گوش میں بنانے کے لئے سلسلہ تموج قائم فرمایا۔ظاہر ہے کہ ایسے نرم وتر اجسام میں تحریك سے موج بنتی ہے جیسے تالاب میں کوئی پتھر ڈالو یہ مجاور اجزائے آب کو حرکت دے گا وہ اپنے متصل وہ اپنے مقارب کو جہاں تك کہ اس تحریك کی قوت اور اس پانی کی لطافت اقتضا کرے یہی حالت بلکہ اس سے بہت زائد ہوا میں ہے کہ وہ لینت ورطوبت میں پانی سے کہیں زیادہ ہے لہذاقرع اول سے کہ ہوائے اول متحرك ومتشکل ہوئی تھی اس کی جنبش نے برابر والی ہوا کو قرع کیا اس سے وہی اشکال ہوائے دوم میں بنیں اس کی حرکت نے متصل کی ہوا کو دھکادیا اب اس ہوائے سوم میں مرتسم ہوئیں یوں ہی ہوا کے حصے بروجہ تموج ایك دوسرے کو قرع کرتے اور بوجہ قرع وہی اشکال سب میں بنتے چلے گئے یہاں تك کہ سوراخ گوش میں جو ایك پٹھا بچھا اور پردہ کھچا ہے یہ موجی سلسلہ اس تك پہنچا اور وہاں کی ہوائے متصل نے متشکل ہو کر اس پٹھے کو بجایا یہاں بھی بوجہ جوف ہوا بھری ہے اس قرع نے اس میں بھی وہی اشکال وکیفیات جن کا نام آواز تھا پیدا کیں اور اس ذریعہ سے لوح مشترك میں مرتسم ہوکر نفس ناطقہ کے سامنے حاضر ہوئیں اور محض باذن اﷲ تعالی ادراك سمعی حاصل ہواالحاصل ہر شے کا سبب حقیقی ارادہ اﷲ عزوجل ہے بے اس کے ارادے کے کچھ نہیں ممکن اور وہ ارادہ فرمائے تو اصلا کسی سبب کی حاجت نہیں مگر عالم اسباب میں حدوث آواز کا سبب عادی یہ قرع وقلع ہے اور اس کے سننے کا وہ تموج وتجدد وقرع وطبع تاہوائے جوف سمع ہے متحرك اول کے قرع سے ملا مجاور میں جو شکل وکیفیت مخصوصہ بنی تھی کہ شکل حرفی ہوئی تو وہی الفاظ وکلمات تھے ورنہ اور قسم کی آواز اس کے ساتھ قرع نے بوجہ لطافت اس مجاور کو جنبش دی اس کی جنبش نے اپنے متصل کو قرع کیا اور وہی ٹھپاکہ اس میں بنا تھا اس میں اترگیا یو نہی آواز کی کاپیاں ہوتی چلی گئیں اگرچہ جتنا فصل بڑھتا اور وسائط زیادہ ہوتے جاتے ہیں تموج وقرع میں ضعف آتا جاتا اور ٹھپا ہلکا پڑتا ہے ولہذا دور کی آواز کم سنائی دیتی ہے اور حروف صاف سمجھ نہیں آتے یہاں تك کہ ایك حد پر تموج کہ موجب قرع آئندہ تھا ختم ہوجاتا ہے اور عدم قرع سے اس تشکل کی کاپی برابر والی ہو ا میں نہیں اترتی آواز یہیں تك ختم ہوجاتی ہے۔یہ تموج ایك مخروطی شکل پر ہوتا ہے جس کا
قاعدہ اس متحرك ومحرك اول کی طرف ہے اور راس اس کے تمام اطراف مقابلہ میں جہاں تك کوئی مانع نہ ہو جس طرح زمین یہ مخروط ظلی اور آنکھ سے مخروط شعاعینہیں نہیں بلکہ جس طرح آفتاب سے مخروط نوری نکلتا ہے کہ ہر جانب ایك مخروط ہوتا ہے بخلاف مخروط ظل کہ صرف جہت مقابل جرم مضی مخروط شعاع بصر کہ تنہا سمت مواجہہ میں بنتا ہے ان مخروطات تموج ہوائی کے اند ر جو کان واقع ہو ں ایك ایك ٹھپاسب تك پہنچے گا سب اس آوازوکلام کو سنیں گے اور جو کان ان مخروطیوں سے باہر رہے وہ نہ سنیں گے کہ وہاں قرع و قلع واقع نہ ہو ا اور ٹھپوں کے تعدد سے آواز متعدد نہ سمجھی جائے گی یہ کوئی نہ کہے گا کہ ہزار آوازیں تھیں کہ ان ہزار اشخاص نے سنیں بلکہ یہی کہیں گے کہ وہی ایك آواز سب کے سننے میں آئی اگر چہ عندالتحقیق اس کی وحدت نوعی ہے نہ کہ شخصیاس تقریر سے بحمداﷲ تعالی وہ ساتوں سوال منکشف ہوگئے۔
(۱)آواز اس شکل وکیفیت مخصوصہ کا نام ہے کہ ہوا یا پانی وغیرہ جسم نرم وتر میں قرع یا قلع سے پیدا ہوتی ہے قول مشہور میں کہ ہوا کی تخصیص فرمائیمواقف اور اس کی شرح میں ہے:
الصوت کیفیۃ قائمۃ بالھواء یحملھا الھواء الی الصماخ ۔ آواز ایك ایسی کیفیت(حالت)ہے جو ہواکے ساتھ قائم ہوتی ہے پھر ہوا ہی اسے اٹھا کر(یعنی اوپر سوا کرکے)کانوں کے پردے تك پہنچادیتی ہے۔(ت)
مقاصد اور اس کی شرح میں ہے:
کیفیۃ تحدث فی الھواء بسبب تموجہ الخ۔ "آواز"ایك ایسی کیفیت ہےکہ جو ہوا میں اس کی موج پیدا ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔الخ(ت)
اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)یہ نظریہ اکثر ہے ورنہ ملائے آب میں بھی آواز سنی جاتی ہے۔دو شخص چند گز کے فاصلہ سے تالاب میں غوطہ لگائیں اور ان میں ایك دو اینٹیں لے کر بجائے تو دوسرے کو ان کا کھٹکا مسموع ہوتا ہے اور اس آواز کا حامل پانی ہی ہے اور کان تك موصل اسی کا تموج کہ پانی کے اندر ہوا نہیں ہوتی ہاں پانی اتنا تر ولطیف نہیں جس قدر ہوا ہے لہذا اس کا تشکل وتادیہ دونوں بہ نسبت ملائے ہوا کے ضعیف ہوتے ہیں۔
(۲)اس کا اور تمام حوادث کا سبب حقیقی محض ارادہ الہی ہے۔دوسری چیز اصلا نہ موثر
(۱)آواز اس شکل وکیفیت مخصوصہ کا نام ہے کہ ہوا یا پانی وغیرہ جسم نرم وتر میں قرع یا قلع سے پیدا ہوتی ہے قول مشہور میں کہ ہوا کی تخصیص فرمائیمواقف اور اس کی شرح میں ہے:
الصوت کیفیۃ قائمۃ بالھواء یحملھا الھواء الی الصماخ ۔ آواز ایك ایسی کیفیت(حالت)ہے جو ہواکے ساتھ قائم ہوتی ہے پھر ہوا ہی اسے اٹھا کر(یعنی اوپر سوا کرکے)کانوں کے پردے تك پہنچادیتی ہے۔(ت)
مقاصد اور اس کی شرح میں ہے:
کیفیۃ تحدث فی الھواء بسبب تموجہ الخ۔ "آواز"ایك ایسی کیفیت ہےکہ جو ہوا میں اس کی موج پیدا ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔الخ(ت)
اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)یہ نظریہ اکثر ہے ورنہ ملائے آب میں بھی آواز سنی جاتی ہے۔دو شخص چند گز کے فاصلہ سے تالاب میں غوطہ لگائیں اور ان میں ایك دو اینٹیں لے کر بجائے تو دوسرے کو ان کا کھٹکا مسموع ہوتا ہے اور اس آواز کا حامل پانی ہی ہے اور کان تك موصل اسی کا تموج کہ پانی کے اندر ہوا نہیں ہوتی ہاں پانی اتنا تر ولطیف نہیں جس قدر ہوا ہے لہذا اس کا تشکل وتادیہ دونوں بہ نسبت ملائے ہوا کے ضعیف ہوتے ہیں۔
(۲)اس کا اور تمام حوادث کا سبب حقیقی محض ارادہ الہی ہے۔دوسری چیز اصلا نہ موثر
حوالہ / References
شرح المواقف النوع الثانی منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۶۰€
شرح المقاصد النوع الثانی دارالمعارف النعمانیہ ∞لاہور ۱ /۲۱۶€
شرح المقاصد النوع الثانی دارالمعارف النعمانیہ ∞لاہور ۱ /۲۱۶€
نہ موقوف علیہاور آواز کا ظاہری وعادی سبب قریب قلع وقرع ہے۔فقیر نے اس میں قدماء کا خلاف کیا ہے عملا بالمتیقن تجافیا عن الجزاف(یقینی بات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اور بے تکی اور بے اصولی باتوں سے کنارہ کش ہوتے ہوئے۔ت)وہ قلع وقرع کوسبب بعید اور تموج کو سبب قریب بتاتے ہیں یعنی قرع سے ہوا میں تموج ہوا اور تموج سے وہ شکل وکیفییت کہ مسمی بہ آواز ہے پیدا ہوتی ہے۔مواقف وشرح میں ہے:
سبب الصوت القریب تموج الھواء ۔ آواز کا سبب قریب اس میں موج پیدا ہونا ہے۔(ت)
مقاصدو شرح میں ہے:
تحدث بالمتوج المعلول للقرع والقلع ۔ آوازہوا کے تموج سے پیدا ہوتی ہے جو"قرع"اور"قلع"کے لئے معلول اور وہ دونوں کااس کے حدوث کے لئے علت ہیں۔(ت)
[ ایك جسم کا دوسرے جسم میں پوری قوت سے ملنا"قرع"اور سختی سے الگ ہونا"قلع"کہلاتاہے۔مترجم]
مطالع الانظار اصفہانی شرح طوالع الانوار علامہ بیضاوی میں ہے:
القرع والقلع سبب التموج الذی ھو سبب قریب للصوت ۔ "قرع"اور"قلع"موج جدا کا سبب ہیں اور وہ آواز کا سبب قریب ہے۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)یہ اقوال خود ہمارے علماء کے نہیں بلکہ فلاسفہ کے ہیں شرح مقاصد میں ارشاد فرمایا:
الصوت عندنا یحدث بمحض خلق اﷲ تعالی من غیر تاثیر بتموج الھواء والقرع والقلع کسائر الحوادث وکثیرا ما تورد الاراء الباطلۃ آواز ہمارے نزدیك محض تخلیق خداوندی سے پیداہوتی ہے لہذا اس میں تموج ہوا اور قرعقلع کی کوئی مستقل تاثیر نہیں اور یہ حدوث باقی تمام حوادثات کی طرح ہے۔اور بسا اوقات فلاسفہ
سبب الصوت القریب تموج الھواء ۔ آواز کا سبب قریب اس میں موج پیدا ہونا ہے۔(ت)
مقاصدو شرح میں ہے:
تحدث بالمتوج المعلول للقرع والقلع ۔ آوازہوا کے تموج سے پیدا ہوتی ہے جو"قرع"اور"قلع"کے لئے معلول اور وہ دونوں کااس کے حدوث کے لئے علت ہیں۔(ت)
[ ایك جسم کا دوسرے جسم میں پوری قوت سے ملنا"قرع"اور سختی سے الگ ہونا"قلع"کہلاتاہے۔مترجم]
مطالع الانظار اصفہانی شرح طوالع الانوار علامہ بیضاوی میں ہے:
القرع والقلع سبب التموج الذی ھو سبب قریب للصوت ۔ "قرع"اور"قلع"موج جدا کا سبب ہیں اور وہ آواز کا سبب قریب ہے۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)یہ اقوال خود ہمارے علماء کے نہیں بلکہ فلاسفہ کے ہیں شرح مقاصد میں ارشاد فرمایا:
الصوت عندنا یحدث بمحض خلق اﷲ تعالی من غیر تاثیر بتموج الھواء والقرع والقلع کسائر الحوادث وکثیرا ما تورد الاراء الباطلۃ آواز ہمارے نزدیك محض تخلیق خداوندی سے پیداہوتی ہے لہذا اس میں تموج ہوا اور قرعقلع کی کوئی مستقل تاثیر نہیں اور یہ حدوث باقی تمام حوادثات کی طرح ہے۔اور بسا اوقات فلاسفہ
حوالہ / References
شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۵۸۔۲۵۷€
شرح المقاصد النوع الثالث المسموعات دارالمعارف النعمانیۃ ∞لاہور ۱ /۲۱۶€
مطالع الانظار شرح طوالع الانوار
شرح المقاصد النوع الثالث المسموعات دارالمعارف النعمانیۃ ∞لاہور ۱ /۲۱۶€
مطالع الانظار شرح طوالع الانوار
للفلاسفۃ من غیر تعرض لبیان البطلان الافیما یحتاج الی زیادۃ بیان والصوت عندھم کیفیۃ تحدث فی الھواء بسبب تموجہ المعلول للقرع والقلع ۔ کے افکار باطلہ کو تو پیش کردیا جاتاہے لیکن ان کے بطلان کو نہیں بیان کیا جاتا مگر جبکہ اضافہ بیان کی ضرورت ہو آواز ان کے نزدیك ایك ایسی کیفیت ہے جو ہوا میں اس کے تموج کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو"قرع"اور"قلع"کا معلول ہے۔(اور وہ دونوں اس کی علت ہیں)۔(ت)
فلاسفہ خطا کاری وغلط شعاری کے عادی ہیں اور مقتضائے نظر صحیح یہی ہے کہ اس کیفیت کے حدوث کو قلع وقرع بس ہیں تموج کی حاجت نہیں۔
اولا: قرع وقلع سے ہوا دبے گی اور اپنی طاقت ورطوبت کے باعث ضرور اس کی شکل وکیفییت قبول کرے گی اسی کا نام آواز ہے اور صرف یہ دبنا تموج نہیں بلکہ اس کے سبب اس کی ہوائے مجاور متحرك ہوگی اور وہ اپنی متصل ہوا کو حرکت دے گی یہاں یہ صورت تموج کی ہے۔خود مواقف وشرح میں فرمایا:
لیس تموجہ ھذا حرکۃ انتقالیۃ من ھواء واحد بعینہ بل ہو صدم بعد صدم وسکون بعد سکون فھو حالۃ شبیھۃ بتموج الماء فی الحوض اذا القی حجر فی وسطہ ۔ بعینہ ایك ہوا کا"تموج"حرکت انتقالی نہیں اس لئے کہ بار بار دباؤ اور سکون بعد سکون ہے لہذا یہ اس حالت کے بالکل مشابہ ہے کہ جب کسی تالاب کے درمیان پتھر پھینکا جائے تو پانی میں موج(اور لہریں)پیدا ہوجاتی ہیں۔(ت)
شرح مقاصد میں فرمایا:
المراد بالتموج حالۃ مشبھۃ بتموج الماء تحدث بصدم بعد صدم وسکون بعد سکون ۔ تموج سے مراد ایك ایسی حالت ہے جو پانی کے تموج سے مشابہ ہے اور وہ نوبت بہ نوبت ٹکراؤ اور سکون بعد سکون کے پیداہوتی ہے۔(ت)
ظاہر ہے کہ مقروع اول میں جو تکیف وتشکل ہوا اس کے لئے صرف اسی کا انفعال درکار تھا بعد کے موجی سلسلہ کو اس میں کیا دخل۔اگر فرض کریں کہ مقروع اول کے بعد ہوا نہ ہوتی یا وہ قرع کا اثر
فلاسفہ خطا کاری وغلط شعاری کے عادی ہیں اور مقتضائے نظر صحیح یہی ہے کہ اس کیفیت کے حدوث کو قلع وقرع بس ہیں تموج کی حاجت نہیں۔
اولا: قرع وقلع سے ہوا دبے گی اور اپنی طاقت ورطوبت کے باعث ضرور اس کی شکل وکیفییت قبول کرے گی اسی کا نام آواز ہے اور صرف یہ دبنا تموج نہیں بلکہ اس کے سبب اس کی ہوائے مجاور متحرك ہوگی اور وہ اپنی متصل ہوا کو حرکت دے گی یہاں یہ صورت تموج کی ہے۔خود مواقف وشرح میں فرمایا:
لیس تموجہ ھذا حرکۃ انتقالیۃ من ھواء واحد بعینہ بل ہو صدم بعد صدم وسکون بعد سکون فھو حالۃ شبیھۃ بتموج الماء فی الحوض اذا القی حجر فی وسطہ ۔ بعینہ ایك ہوا کا"تموج"حرکت انتقالی نہیں اس لئے کہ بار بار دباؤ اور سکون بعد سکون ہے لہذا یہ اس حالت کے بالکل مشابہ ہے کہ جب کسی تالاب کے درمیان پتھر پھینکا جائے تو پانی میں موج(اور لہریں)پیدا ہوجاتی ہیں۔(ت)
شرح مقاصد میں فرمایا:
المراد بالتموج حالۃ مشبھۃ بتموج الماء تحدث بصدم بعد صدم وسکون بعد سکون ۔ تموج سے مراد ایك ایسی حالت ہے جو پانی کے تموج سے مشابہ ہے اور وہ نوبت بہ نوبت ٹکراؤ اور سکون بعد سکون کے پیداہوتی ہے۔(ت)
ظاہر ہے کہ مقروع اول میں جو تکیف وتشکل ہوا اس کے لئے صرف اسی کا انفعال درکار تھا بعد کے موجی سلسلہ کو اس میں کیا دخل۔اگر فرض کریں کہ مقروع اول کے بعد ہوا نہ ہوتی یا وہ قرع کا اثر
حوالہ / References
شرح المقاصد النوع الثالث دارالمعارف النعمانیہ ∞لاہور ۱ /۲۱۶€
شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۵۸€
شرح المقاصد النواع الثالث المقصد الاول دارالمعارف النعمانیہ ∞لاہور ۱ /۲۱۶€
شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۵۸€
شرح المقاصد النواع الثالث المقصد الاول دارالمعارف النعمانیہ ∞لاہور ۱ /۲۱۶€
نہ قبول کرتی تو خود اس میں تشکل کیوں نہ آتا حالانکہ اس نے دب کر قرع کا اثر قبول کرلیا
ثانیا: اگر تشکل مقروع اپنے بعد کے اجزاء متحرك ہونے کا محتاج ہو تو چاہئے کہ تموج باقی رہے اور تشکل ختم ہوجائے کہ اگر بعد کے اجزائے متموجہ بھی متشکل ہوں تو ان کو اپنے بعد کے اجزاء کا تموج درکار ہوگا تو یا سلسلہ تموج میں تسلسل آئے گا یا سبب سے سبب متخلف ہوجائے گا اور وہ دونوں باطل ہیں ہاں بظاہر تموج اس لئے درکار ہے کہ مقروع اول سے اجزائے متصلہ میں نقل تشکل کرے کہ مقروع اول دب کر اپنے متصل دوسرے جز کو قرع کرے گا اور وہ اسی شکل سے متشکل ہوگا پھر اس کے دبنے سے تیسرا مقروع ومتشکل ہوگا اس کی حرکت سے چوتھا الاماشاء اﷲ تعالی اور حقیقۃ قرع ہی تموج کا سبب ہے اور تشکل کا بھیقرعات متوالیہ نے تموج مذکور پیدا کیا اور ہر قرع نے اپنے مقروع میں تشکلتموج کو دخل کہیں بھی نہ ہوا۔
وتفصیل القول ان التموج ھوالاضطراب و الاضطراب ھو المتقارب بین اجزاء الشیئ وذلك اما بان یعلو بعضہ یخدرك فی الفوران اویذھب ویجیئ الی غیر جھۃ العلو والسفل کما فی الترجرج وفیھما المتضارب حقیققۃ لان الجزء الضارب اولا یصیر مضروبا وبالعکس واما بان یضرب جزء الاول والثانی الثالث وھکذا وھذا ھو الواقع فی تموج الماء والھواء واما ماکان فلا بد فی التموج من حرکات متوالیۃ ولا یقال لشکل ما ھو وانتقل ماج واضطرب فزید الماشی لیس متموجا لالغۃ ولا عرفا اور اس بات کی پوری وضاحت یہ ہے کہ"تموج"(یعنی ہوا میں موج پیدا ہونا)اضطراب ہے۔اور اضطراب اجزائے شے کے درمیان انقسام ہے یعنی اس کا اجزائے شے کے رمیان منقسم ہوجانا ہے اور وہ اس طرح کہ کچھ اجزاء بلند ہوجائیں تو پھر تیرا جوش سست اور ماند پڑے گا۔یا وہ بلندی اور پستی کے علاوہ کسی دوسری سمت کی طرف آئیں اور جائیں جیساکہ آمد ورفت کی حرکت میں ہوا کرتا ہے اور ان دونوں میں در حقیقت انقسام(تضارب)ہوگا۔۔اس لئے کہ جز ضارب اولا مضروب ہوگا وبرعکس یا پہلا جزء دوسرے کو اور وہ تیسرے کو اور اسی طرح آخر تکپس پانی اور ہوا کے تموج میں یہی واقع ہے لیکن جو بھی ہو تو اس کے تموج میں لگاتار حرکات ضروری ہیں۔اور شکل کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کیا ہے۔ البتہ موج والی چیز منتقل اور مضطرب ہوگئی۔لہذا زید
ثانیا: اگر تشکل مقروع اپنے بعد کے اجزاء متحرك ہونے کا محتاج ہو تو چاہئے کہ تموج باقی رہے اور تشکل ختم ہوجائے کہ اگر بعد کے اجزائے متموجہ بھی متشکل ہوں تو ان کو اپنے بعد کے اجزاء کا تموج درکار ہوگا تو یا سلسلہ تموج میں تسلسل آئے گا یا سبب سے سبب متخلف ہوجائے گا اور وہ دونوں باطل ہیں ہاں بظاہر تموج اس لئے درکار ہے کہ مقروع اول سے اجزائے متصلہ میں نقل تشکل کرے کہ مقروع اول دب کر اپنے متصل دوسرے جز کو قرع کرے گا اور وہ اسی شکل سے متشکل ہوگا پھر اس کے دبنے سے تیسرا مقروع ومتشکل ہوگا اس کی حرکت سے چوتھا الاماشاء اﷲ تعالی اور حقیقۃ قرع ہی تموج کا سبب ہے اور تشکل کا بھیقرعات متوالیہ نے تموج مذکور پیدا کیا اور ہر قرع نے اپنے مقروع میں تشکلتموج کو دخل کہیں بھی نہ ہوا۔
وتفصیل القول ان التموج ھوالاضطراب و الاضطراب ھو المتقارب بین اجزاء الشیئ وذلك اما بان یعلو بعضہ یخدرك فی الفوران اویذھب ویجیئ الی غیر جھۃ العلو والسفل کما فی الترجرج وفیھما المتضارب حقیققۃ لان الجزء الضارب اولا یصیر مضروبا وبالعکس واما بان یضرب جزء الاول والثانی الثالث وھکذا وھذا ھو الواقع فی تموج الماء والھواء واما ماکان فلا بد فی التموج من حرکات متوالیۃ ولا یقال لشکل ما ھو وانتقل ماج واضطرب فزید الماشی لیس متموجا لالغۃ ولا عرفا اور اس بات کی پوری وضاحت یہ ہے کہ"تموج"(یعنی ہوا میں موج پیدا ہونا)اضطراب ہے۔اور اضطراب اجزائے شے کے درمیان انقسام ہے یعنی اس کا اجزائے شے کے رمیان منقسم ہوجانا ہے اور وہ اس طرح کہ کچھ اجزاء بلند ہوجائیں تو پھر تیرا جوش سست اور ماند پڑے گا۔یا وہ بلندی اور پستی کے علاوہ کسی دوسری سمت کی طرف آئیں اور جائیں جیساکہ آمد ورفت کی حرکت میں ہوا کرتا ہے اور ان دونوں میں در حقیقت انقسام(تضارب)ہوگا۔۔اس لئے کہ جز ضارب اولا مضروب ہوگا وبرعکس یا پہلا جزء دوسرے کو اور وہ تیسرے کو اور اسی طرح آخر تکپس پانی اور ہوا کے تموج میں یہی واقع ہے لیکن جو بھی ہو تو اس کے تموج میں لگاتار حرکات ضروری ہیں۔اور شکل کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کیا ہے۔ البتہ موج والی چیز منتقل اور مضطرب ہوگئی۔لہذا زید
ھذا مانعرف من معنی التموج والھواء بنفس القرع ینفظ ویتشکل وتکیف ولا۔۔۔ عــــــہ۱۔۔۔۔ علی توقفہ علی تکرر۔۔۔۔ عــــــہ۲۔۔۔و امکان قرع الھواء یوجب فیہ الموج ولا بد۔ ماشی(چلنے والا)لغت اور عرف میں"متموج"نہیں(یعنی موج والا)کیونکہ تموج سے ہم یہ مفہوم نہیں سمجھتے اور ہوا نفس قرع سے دھکیلی جاتی اور متکیف ہوکر متشکل ہوجاتی ہے۔اور مکررہونے پر اس کا توقف نہیں۔۔۔۔قرع ہوا کہ امکان بلا شبہ اس میں موج پیدا کردیتا ہے۔(ت)
اگر کہئے قرع کافی نہیں جب تك مقروع اس کا اثر قبول نہ کرے اور اس کا تاثر وہی تحرك ہے اور اس کو تموج سے تعبیر کیا اگر چہ حقیقت تموج وہ ہی کہ اوپر گزری۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اولا: اس میں تسلیم ایراد ہے کہ تموج سے نفس تحرك مقروع مراد ہے۔
ثانیا: یہ کہنا ایسا ہے کہ فاعل کافی نہں جب تك معلول اس کا اثر قبول نہ کرے تو سبب قریب فاعل نہیں بلکہ معلول کا انفعال ہے۔
ھو کما تری وتحقیقہ ان التشکل وان لم یکن الا مع التحریك ولو لم یتحرك لم یتشکل وسلمنا ان ھذہ لیست معیۃ معلولی علۃ کوجودالنھار واستضاء ۃ الارض بالقیود المعلومیۃ لدی العارف بل للتحرك مدخل فی التشکل لکن لا نسلم ان التحرك مرسم الشکل ویفیض الکیفیۃ بل مرسم ھو القرع وان کان مشروطا بالتحرك فجعل التموج ای التحرك وہ جیسا کہ تو دیکھ رہا ہے اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ تشکل بغیر تحریك نہیں ہوسکتا لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر تحرك نہ ہو تو پھر تشکل نہ ہوگا۔اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ"معیت"علت کے دو معلولوں جیسی معیت نہیں جیسے وجود نہاراور زمین کی روشنی ان قیود کے ساتھ جو ایك عارف کومعلوم ہی ہیں بلکہ "تحرک"کو تشکل میں ایك گونہ دخل ہے لیکن ہم یہ نہیں تسلیم کرتے کہ"تحرک"مرسم تشکل اور مفیض کیفیت ہے۔ بلکہ مرسم تشکل"قرع"ہے اگر چہ وہ مشروط بالتحرك ہے ___________ لہذا تموج یعنی تحرك کو
عــــــہ۱ عــــــہ۲: یہاں کچھ الفاظ رہ گئے ہیں اس لئے مفہوم واضح نہیں۔مترجم
اگر کہئے قرع کافی نہیں جب تك مقروع اس کا اثر قبول نہ کرے اور اس کا تاثر وہی تحرك ہے اور اس کو تموج سے تعبیر کیا اگر چہ حقیقت تموج وہ ہی کہ اوپر گزری۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اولا: اس میں تسلیم ایراد ہے کہ تموج سے نفس تحرك مقروع مراد ہے۔
ثانیا: یہ کہنا ایسا ہے کہ فاعل کافی نہں جب تك معلول اس کا اثر قبول نہ کرے تو سبب قریب فاعل نہیں بلکہ معلول کا انفعال ہے۔
ھو کما تری وتحقیقہ ان التشکل وان لم یکن الا مع التحریك ولو لم یتحرك لم یتشکل وسلمنا ان ھذہ لیست معیۃ معلولی علۃ کوجودالنھار واستضاء ۃ الارض بالقیود المعلومیۃ لدی العارف بل للتحرك مدخل فی التشکل لکن لا نسلم ان التحرك مرسم الشکل ویفیض الکیفیۃ بل مرسم ھو القرع وان کان مشروطا بالتحرك فجعل التموج ای التحرك وہ جیسا کہ تو دیکھ رہا ہے اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ تشکل بغیر تحریك نہیں ہوسکتا لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر تحرك نہ ہو تو پھر تشکل نہ ہوگا۔اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ"معیت"علت کے دو معلولوں جیسی معیت نہیں جیسے وجود نہاراور زمین کی روشنی ان قیود کے ساتھ جو ایك عارف کومعلوم ہی ہیں بلکہ "تحرک"کو تشکل میں ایك گونہ دخل ہے لیکن ہم یہ نہیں تسلیم کرتے کہ"تحرک"مرسم تشکل اور مفیض کیفیت ہے۔ بلکہ مرسم تشکل"قرع"ہے اگر چہ وہ مشروط بالتحرك ہے ___________ لہذا تموج یعنی تحرك کو
عــــــہ۱ عــــــہ۲: یہاں کچھ الفاظ رہ گئے ہیں اس لئے مفہوم واضح نہیں۔مترجم
سببا قریبا ناشیئ عن اشتباہ الشرط بالسبب کمن یزعم ان قبول المعلول اثر العلۃ ھو السبب القریب لہ فافھم واعلم واﷲ تعالی اعلم ھذا واستدل العلامۃ قدس سرہ فی شرح المواقف علی کون التموج سببہ القریب بانہ شیئ حصل حصل الصوت واذا انتفی انتفی فانا نجد الصوت مستمرا باستمرار تموج الھواء الخارج من الحلق والالات الصناعیۃ ومنقطعا بانقطاعہ وکذا الحال فی طنین الطست فانہ اذا سکن انقطع لانقطاع تموج الھواء حینئذ اھ
اقول: اولا لاتموج عند المقروع الاول حین ھو مقروع و ان حصل حین کونہ قارعا والصوت موجود فیہ لکونہ مقروعا لا لکونہ قارعا وثانیا ینقطع فیما بعد بانقطاع التموج لانقطاع القرع لان القرع فی سبب قریب قراردینا(یہ بات)اس ا شتباہ سے پیدا ہوگئی کہ شرط کو سبب سمجھ لیا گیا۔اس شخص کی طرف جو یہ گمان کرتا ہے کہ معلول کا علت کے اثر کو قبول کرلینا اس کے لئے"سبب قریب"ہونے کی دلیل اور علامت ہے پس اس بات کو سمجھ لیجئے اور اچھی طرح جان لیجئےاور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔علامہ قدس سرہ نے شرح مواقف میں استدلال کیا کہ آواز کے لئے"تموج"سبب کے قریب ہے کیوں اس لئے کہ جب تموج پید ا ہو تو آواز پیدا ہوتی ہے اور جب تموج منفی ہوتو آوازبھی منفی ہوجاتی ہے کیونکہ ہم آواز کا استمرار حلق اور آلات صناعیہ سے نکلنے والی ہوا کے تموج کے استمرار سے پاتے ہیں اور تموج میں انقطاع سے آواز کا انقطاع پیدا ہوجاتا ہے اور طشت کی چھنکا ر کا بھی یہی حال ہے جب وہ ساکن ہوجائے تو آواز ختم ہوجاتی ہے کیونکہ اس وقت تموج ہوا میں انقطاع پیدا ہوگیا اھ____
اقول:(میں کہتاہوں)اولا: مقروع اول بحیثیت مقروع اول ہونے کے اس میں کوئی تموج نہیں ہاں البتہ اس میں تموج پیدا ہوجائے گا جبکہ وہ قارع ہوگا۔اور آواز اس میں موجود ہوگی اس لئے کہ وہ مقروع ہے نہ اس لئے کہ وہ قارع ہے۔ وثانیا: ازیں بعد آواز ختم ہوجاتی ہے۔
اقول: اولا لاتموج عند المقروع الاول حین ھو مقروع و ان حصل حین کونہ قارعا والصوت موجود فیہ لکونہ مقروعا لا لکونہ قارعا وثانیا ینقطع فیما بعد بانقطاع التموج لانقطاع القرع لان القرع فی سبب قریب قراردینا(یہ بات)اس ا شتباہ سے پیدا ہوگئی کہ شرط کو سبب سمجھ لیا گیا۔اس شخص کی طرف جو یہ گمان کرتا ہے کہ معلول کا علت کے اثر کو قبول کرلینا اس کے لئے"سبب قریب"ہونے کی دلیل اور علامت ہے پس اس بات کو سمجھ لیجئے اور اچھی طرح جان لیجئےاور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔علامہ قدس سرہ نے شرح مواقف میں استدلال کیا کہ آواز کے لئے"تموج"سبب کے قریب ہے کیوں اس لئے کہ جب تموج پید ا ہو تو آواز پیدا ہوتی ہے اور جب تموج منفی ہوتو آوازبھی منفی ہوجاتی ہے کیونکہ ہم آواز کا استمرار حلق اور آلات صناعیہ سے نکلنے والی ہوا کے تموج کے استمرار سے پاتے ہیں اور تموج میں انقطاع سے آواز کا انقطاع پیدا ہوجاتا ہے اور طشت کی چھنکا ر کا بھی یہی حال ہے جب وہ ساکن ہوجائے تو آواز ختم ہوجاتی ہے کیونکہ اس وقت تموج ہوا میں انقطاع پیدا ہوگیا اھ____
اقول:(میں کہتاہوں)اولا: مقروع اول بحیثیت مقروع اول ہونے کے اس میں کوئی تموج نہیں ہاں البتہ اس میں تموج پیدا ہوجائے گا جبکہ وہ قارع ہوگا۔اور آواز اس میں موجود ہوگی اس لئے کہ وہ مقروع ہے نہ اس لئے کہ وہ قارع ہے۔ وثانیا: ازیں بعد آواز ختم ہوجاتی ہے۔
حوالہ / References
شرح المواقف النوع الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵/ ۲۵۸€
الاجزاء الاخیرۃ انما یصل علی وجہ التموج کما عرفت وثالثا الشیئ ینقطع بانقطاع شرطہ فلا یفید السببیۃ فضل عن الا قربیۃ وتمسك بعضھم بانھم انما لم یجعلوا القرع والقلع سببین للصوت ابتداء حتی یکون التموج والو صول الی السامعۃ سببا للاحساس بہ لا لو جودہ نفسہ بناء علی ان القرع وصول والقلع لا وصول وھما آنیان فلا یجوز کونھما سببین للصوت لانہ زمانی اھ۔
اقول:التموج حرکۃ والحرکۃ زمانیۃ فکیف صار الانی سببا لہ وان جاز فلم لم یجز ان یکون سببا للصوت ابتداء وقرر بان التموج ان کان انیا فقد جعلوا سببا للصوت الزمانی وان کان زمانیا فقد جعلوا القرع والقلع الانیین سببا لہ فجعل الا نی سببا للزمانی لزم علی کل تقدیر واجاب عنہ العلامۃ اس لئے کہ تموج منقطع ہوجاتا ہے کیونکہ قرع منقطع ہوگیا کیونکہ آخری اجزاء میں قرع علی وجہ التموج پہنچتا ہے جیسا کہ تم جانتے ہوثالثا انقطاع شرط کی وجہ سے شے منقطع ہوجاتی ہے(یعنی شرط نہ ہو تو مشروط بھی نہ پایا جائے گا)لہذا یہ سبب ہونے کے لئے مفید نہیں چہ جائیکہ قریب ہونے کے لئے مفید ہواور بعض لوگوں نے یہ استدلال پیش کیا کہ اہل علم نے قرع اور قلع کو ابتداء آواز کے لئے سبب نہیں قرار دیا حتی کہ تموج اور وصول الی السامعۃ اس کے احساس کا سبب ہوجائیں نہ کہ اس کے نفس وجود کا اس لئے کہ قرع وصول ہے اور قلع لاوصول ہے۔او ر وہ دونوں"آنی"ہیں لہذا یہ دونوں آواز کے لئے سبب نہیں ہوسکتے اس لئے کہ وہ زمانی ہے۔اھ۔
اقول:(میں کہتاہوں)تموج حرکت ہے۔___ اور حرکت زمانی ہوا کرتی ہے پھر جو چیز آنی ہے وہ اس کا کیسے سبب ہوسکتی ہے اور گر یہ جائز ہے تو پھر یہ کیوں نہیں جائز کہ ابتداء آواز کے لئے سبب ہواور اس کی تقریر یوں کی گئی کہ"تموج"آنی ہے تو خود انھوں نے اس کو صورت زمانی کے لئے سبب قرار دیا ہے اور اگر وہ زمانی ہے تو پھر انھوں نے قرع اور قلع جو کہ دونوں آنی ہیں اس کے لئے سبب ٹھہرائےگویا ہر تقدیر پر آنی کا زمانی کے لئے سبب ہونا
اقول:التموج حرکۃ والحرکۃ زمانیۃ فکیف صار الانی سببا لہ وان جاز فلم لم یجز ان یکون سببا للصوت ابتداء وقرر بان التموج ان کان انیا فقد جعلوا سببا للصوت الزمانی وان کان زمانیا فقد جعلوا القرع والقلع الانیین سببا لہ فجعل الا نی سببا للزمانی لزم علی کل تقدیر واجاب عنہ العلامۃ اس لئے کہ تموج منقطع ہوجاتا ہے کیونکہ قرع منقطع ہوگیا کیونکہ آخری اجزاء میں قرع علی وجہ التموج پہنچتا ہے جیسا کہ تم جانتے ہوثالثا انقطاع شرط کی وجہ سے شے منقطع ہوجاتی ہے(یعنی شرط نہ ہو تو مشروط بھی نہ پایا جائے گا)لہذا یہ سبب ہونے کے لئے مفید نہیں چہ جائیکہ قریب ہونے کے لئے مفید ہواور بعض لوگوں نے یہ استدلال پیش کیا کہ اہل علم نے قرع اور قلع کو ابتداء آواز کے لئے سبب نہیں قرار دیا حتی کہ تموج اور وصول الی السامعۃ اس کے احساس کا سبب ہوجائیں نہ کہ اس کے نفس وجود کا اس لئے کہ قرع وصول ہے اور قلع لاوصول ہے۔او ر وہ دونوں"آنی"ہیں لہذا یہ دونوں آواز کے لئے سبب نہیں ہوسکتے اس لئے کہ وہ زمانی ہے۔اھ۔
اقول:(میں کہتاہوں)تموج حرکت ہے۔___ اور حرکت زمانی ہوا کرتی ہے پھر جو چیز آنی ہے وہ اس کا کیسے سبب ہوسکتی ہے اور گر یہ جائز ہے تو پھر یہ کیوں نہیں جائز کہ ابتداء آواز کے لئے سبب ہواور اس کی تقریر یوں کی گئی کہ"تموج"آنی ہے تو خود انھوں نے اس کو صورت زمانی کے لئے سبب قرار دیا ہے اور اگر وہ زمانی ہے تو پھر انھوں نے قرع اور قلع جو کہ دونوں آنی ہیں اس کے لئے سبب ٹھہرائےگویا ہر تقدیر پر آنی کا زمانی کے لئے سبب ہونا
حوالہ / References
شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۶۰€
شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۶۰€
شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۶۰€
السید الشریف بانہ لا محذور فیہ اذا لم یکن السبب علۃ تامۃ او جزء اخیرا منھا اذ لا یلزم حینئذ ان یکون الزمان موجودا فی الان اھ۔ اقول:فلم لا یقال مثلہ فی سببیۃ القرع للصوت وتخلل نحو شرط ینفی کونہ جزء اخیرا ولا ینافی کونہ سببا قریبا کما لایخفیوتعقب بالتسمك المذکور فی الصحائف بما قد کان ظھر للعبد الضعیف اول مانظرت التمسك و ھو لنا لانسلم ان الصوت زمانی لان بعض الحروف انی کما یجیی مع انہ صوت اھ۔قال الحسن چلپی ولا یخفی علیك انہ فاعہ بما مر من ان الحرف عارض للصوت لانفسہ اھ۔اقول:لایخفی علیك اندفاعہ بما یاتی للعلامۃ حسن نفسہ ان کون الحرف عبارۃ عن تلك الکیفیۃ العارضۃ لازم آیا۔علامہ سید شریف جرجانی نے اس کا یہ جواب دیا کہ اس میں کوئی محذور اور ممانعت نہیں جبکہ سبب علت تامہ یا علت تامہ کا جزءآخری نہ ہو کیونکہ پھر زمانہ کا ان میں موجود ہونا لازم نہیں آتا اھ۔اقول:(میں کہتاہوں)یہ کیوں نہ کہا جائے کہ اس قسم کا معاملہ قرع کا صوت کے سبب ہونے میں ہے اور شرط جیسی چیز کا تخلل(درمیان میں گھس جانا)اس کے جز اخیر ہونے کی نفی کرتا ہے لیکن اس کے سبب قریب ہونے کی نفی نہیں کرتا جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔اور صحائف میں استدلال مذکور کا ایك ایسے کلام سے تعاقب کیا گیا جو اس بندہ ضعیف پر پہلی ہی مرتبہ استدلال کو ایك نظر دیکھنے سے ظاہر ہوااور معلوم ہوا کہ وہ ہمارا استدلال ہے کہ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ آواز زمانی ہے کیونکہ بعض حروف آنی ہیں جیسا کہ آگے آئیگا حالانکہ وہ آواز ہیں اھ علامہ حسن چلپی نے فرمایا اس کا دفاع تم پر گزشتہ کلام کی وجہ سے بالکل پوشیدہ نہیں کہ حروف آواز کو عارض ہوتے ہیں لہذا خود آواز نہیں اھ۔
اقول:خود علامہ موصوف کے آئندہ کلام کے پیش نظر تم پر اس کا رد مخفی نہیں(اور وہ یہ ہے کہ)حرف کا کیفیت عارضہ للصوت سے عبارت ہونا شیخ ابو علی ابن سینا
اقول:خود علامہ موصوف کے آئندہ کلام کے پیش نظر تم پر اس کا رد مخفی نہیں(اور وہ یہ ہے کہ)حرف کا کیفیت عارضہ للصوت سے عبارت ہونا شیخ ابو علی ابن سینا
حوالہ / References
شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۶۰€
حاشیہ حسن چلپی شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۶۰€
حاشیہ حسن چلپی شرح المواقف النوع الثالث المقصد الاول الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۶۰€
للصوت انما ھو عند الشیخ(یعنی ابن سینا شیخ المتفلسفین)عند جمع من المحققین الحرف ھو الصوت المعروض للکیفیۃ المذکورۃ اھ اما ما قال بعدہ ان الاشبہ بالحق انما مجموع العارض و المعروض کما صرح بہ البعض و سیشیر الیہ الشارح فیما سیأتی اھ اراد بہ قول العلامۃ ان الحرف قد یطلق علی الھیأ ۃ المذکورۃ العارضۃ للصوت وعلی مجموع المعروض و العارض وھذا نسب بمباحث العربیۃ اھ فحسبك فی دفعہ مانقل ھو عنہ قدس سرہ ان اصحاب العلوم العربیۃ یقولون الکلمۃ مرکبۃ من الحروف ویقولون للکلم انہ صوت کذا فلم لو یکن الحرف عندھم مجموع العارض والمعروض بل عارض الصوت فقط لماصح منھم ذلك اھ وانت تعلم ان القول بالمجموع وان کان اقرب ای قول ائمۃ العربیۃ ان الکلمۃ صوت لانہ حینئذ شیخ الفلاسفہ کے نزدیك ہے لیکن ایك گروہ محققین کے نزدیك حرف صوت معروض برائے کیفیت مذکورہ سے عبارت ہے اھ لیکن اس کے بعد علامہ موصوف نے فرمایا کہ حق سے زیادہ مشابہ یہ ہے کہ حرف عارض و معروض کے مجموعہ کا نام ہے جیسا کہ بعض نے اس کی تصریح فرمائی۔اور آئندہ کلام میں شارح اس کی طرف اشارہ فرمائیں گے اھ اس سے علامہ موصوف کا وہ قول مرادہے کہ کبھی حرف کا ہیئت مذکورہ عارضۃ للصوت پر اطلاق کیا جاتا ہے۔اور کبھی عارض ومعروض کے مجموعہ پر اطلاق ہوتاہے۔اور یہ عربی مباحث کے زیادہ مناسب ہے اور تجھے اس کے دفاع میں وہی کافی ہے جو حسن چلپی نے شارح علامہ قدس سرہ سے نقل کیا ہے کہ اصحاب علوم عربیہ فرماتے ہیں کہ"کلمہ"حروف سے مرکب ہے پھر متعدد کلموں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ اس طرح کی آواز ہے۔ لہذا اگر حرف ان کے نزدیك عارض ومعروض کا مجموعہ نہ ہوتا بلکہ حرف"عارض للصوت"ہوتا تو پھر یہ بات ان سے کبھی صحیح نہ ہوتی اھ اور تم جانتے ہو کہ قول بالمجموع اگر چہ ائمہ عربیہ کے قول کے زیادہ قریب ہے کہ"کلمہ"آواز ہے اس لئے کہ پھر اس طورپر
حوالہ / References
حاشیہ حسن چلپی علی شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۶۹۔۲۶€۸
حاشیہ حسن چلپی علی شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۶۹€
شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۷۱€
حاشیہ حسن چلپی علی شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۷۱€
حاشیہ حسن چلپی علی شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۶۹€
شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۷۱€
حاشیہ حسن چلپی علی شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۷۱€
تسمیۃ للکل باسم الجزء وعلی الاول تسمیۃ للعارض باسم المعروض وھذا ابعد من ذا ك لکن الموافق بقولھم وفا قا کلیا ھو ماقال المحققون ان الحرف صوت لاعارضۃ ولا المجموع ولذا قال چلپی نفسہ ان کون الحرف عبارۃ عن نفس المعروض انسب بذلك القول من المذھبین ولا مجاز فی ذلك الاطلاق علی ھذا التقدیر اصلا اھ اقول:وکان مراد القائل بالمجموع انہ المعروض من حیث ھو معروض فلا ینافی قول المحققین انہ الصوت المعروض وبھذایتم الاستدلال لقول المجموع بکلام ائمۃ العربیۃ من دون اشکال فاستقر عرش التحقیق علی ان الحرف ھو الصوت المعروض وبہ اندفع التسمك رأسا ورأیت فی کلام اما م جمیع الفنون الاعرف بکلھا من اھلھا لسان الحقائق سید نا الشیخ الاکبر محی الدین ابن العربی رضی اﷲ تعالی عنہ فی کتابہ"الدر المکنون و الجوھر المصؤن" فی علم الجفر مانصہ اما الحرف فلفظ مشترك تسمیہ کل باسم الجزء اور قول اول کے مطابق تسمیۃ العارض باسم المعروض ہے۔اور یہ اس سے زیادہ بعید ہے۔لیکن وفاق کلی کے طور پر ان کے قول کے موافق وہ ہے۔جو کچھ اہل تحقیق نے فرمایا۔"حرف"صرف آواز ہے۔نہ عارض اورنہ عارض ومعروض کا"مجموعہ"ہے۔اسی لئے خود علامہ چلپی نے فرمایا "حرف"نفس معروض سے عبارت ہو یہ دو مذہبوں میں سے اس قول کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس تقدیر پر اس اطلاق میں بالکل مجاز نہیں اھ۔
اقول:(میں کہتاہوں)گویا قائل بالمجموعہ کی مرادیہ ہے کہ وہ معروض بحیثیت معروض ہے لہذایہ ائمہ تحقیق کی رائے کے منافی نہیں کہ وہ صوت معروض ہے پھر اس سے قول بالمجموعہ کا استدلال بغیر کسی اشکال ائمہ عربیہ کے کلام سے تام ہوجاتا ہے پس عرش تحقیق قرار پذیر ہوگئی کہ حرف وہی صوت معروض ہے اور اس سے استدلال بالکل دفع ہوگیا۔ میں نے ان کے کلام میں دیکھا جو تمام فنون کے امام سب کی اہلبیت رکھتے ہوئے جملہ علوم کے بڑے عارفحقائق کی زبان ہمارے آقاسب سے بڑے شیخ دین اسلام کو زندہ کرنیوالے"ابن عربی"رضی اﷲ تعالی عنہ انھوں نے اپنی کتاب"الدرالمکنون والجوھر المصؤن"جو علم جفر میں ہے اس کی عبارت یہ ہے"حرف"ایك مشترك
اقول:(میں کہتاہوں)گویا قائل بالمجموعہ کی مرادیہ ہے کہ وہ معروض بحیثیت معروض ہے لہذایہ ائمہ تحقیق کی رائے کے منافی نہیں کہ وہ صوت معروض ہے پھر اس سے قول بالمجموعہ کا استدلال بغیر کسی اشکال ائمہ عربیہ کے کلام سے تام ہوجاتا ہے پس عرش تحقیق قرار پذیر ہوگئی کہ حرف وہی صوت معروض ہے اور اس سے استدلال بالکل دفع ہوگیا۔ میں نے ان کے کلام میں دیکھا جو تمام فنون کے امام سب کی اہلبیت رکھتے ہوئے جملہ علوم کے بڑے عارفحقائق کی زبان ہمارے آقاسب سے بڑے شیخ دین اسلام کو زندہ کرنیوالے"ابن عربی"رضی اﷲ تعالی عنہ انھوں نے اپنی کتاب"الدرالمکنون والجوھر المصؤن"جو علم جفر میں ہے اس کی عبارت یہ ہے"حرف"ایك مشترك
حوالہ / References
حاشیہ حسن چلپی علی شرح المواقف القسم الثانی المقصد الاول منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۷۱€
یطلق علی اللفظ من ای جنس من المخلوقات وھو الھواء الخارج من الصدر المنقطع بالشفتین و اللسان المتکیف الی الحروف والاصوات اھ فھو کما تری تجوز منہ رضی اﷲ تعالی عنہ الا تری انہ جعل فی اخر الکلا م الہواء متکیف بالحروف فالحروف کیفیات تحدث فی الھواء لانفسہ کماھو ظاھر ثم رأیتہ قدسنا اﷲ تعالی بسرہ الکریم صرح بہ نفسہ قبل ھذہ فی توضیح الاتی بہ فی فصل سر الاستنطاق" اذ قال اعلم ان الحروف علی ثلاثۃ انواع فکریۃ و لفظیۃ وخطیۃ فالحروف الفکریۃ وھی صور روحانیۃ فی افکار النفوس مصورۃ فی جواھرھا و الحروف اللفظیۃ ھی اصوات محمولۃ فی الھوی مدرکۃ بطریق الاذنین بالقوۃ السامعۃ والحروف الخطیۃ ھی نقوش خطت بالاقلام فی وجوہ الالواح اھ فھذا ھو الحق الناصع وعلیہ المحققون واﷲ تعالی اعلم۔ لفظ ہے کہ جس کا اطلاق لفظ پر کیاجاتا ہے خواہ مخلوق کی کسی جنس میں سے ہواور وہ ہوا ہے جو سینے سے برآمد ہوتی ہے دو ہونٹوں اور زبان سے قطع کی جاتی ہے حروف اور آواز سے متکیف ہوتی ہے(یعنی وہ ہوا حروف اور آواز کی کیفیت اختیار کرلیتی ہے)جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ وہ شیخ ابن عربی رضی اﷲ تعالی عنہ کا مجازی کلام ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ انھوں نے گفتگو کے آخر میں ہوا کو موصوف بہ کیفیت حروف قرار دیا ہے لہذا حروف ایسی کیفیات ہیں جو ہوا میں پید اہوتی ہیں نفس ہوا نہیں جیسا کہ ظاہر ہے پھر میں نے ان کے کلام میں دیکھا(اﷲ تعالی ہمیں ان کے بھید کریم کے طفیل پاك فرمائے)خود انھوں نے اس سے قبل اس کی تصریح فصل سر الاستنطاق میں کردی ہے جب کہا جان لیجئےحروف کی تین قسمیں ہیں(۱)فکری(۲)لفظی(۳)خطی"حروف فکریہ"وہ افکار نفوس میں روحانی صورتیں ہیں جو اپنے جواھرمیں تصویر شدہ ہیں"حروف"لفظیہ وہ آوازیں ہیں جو ہواپر سوا ر ہیں۔دو کانوں کے ذریعے قوت سامعہ سے ان کا ادراك کیا جاتا ہے "حروف خطیہ"وہ ایسے نقوشجو قلموں کے توسط سے الواح کے چہروں پر کشید کئے جاتے ہیں اھ پس یہی خالص اور واضح حق ہے اور اسی پر ائمہ تحقیق قائم ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
الدرالمکنون والجواھر المصون
الدرالمکنون والجواھر المصون
الدرالمکنون والجواھر المصون
(۳)سننے کا سبب ہوائے گوش کا متشکل بشکل آواز ہونا ہے اور اس کے تشکل کا سبب ہوائے خارج متشکل کا اسے قرع کرنا اور اس قرع کا سبب بذریعہ تموج حرکت کا وہاں تك پہنچنا۔
(۴)ذریعہ حدوث قلع وقرع ہیں اور وہ آنی ہیں حادث ہوتے ہی ختم ہوجاتے ہیں اور وہ شکل و کیفیت جس کا نام آواز ہے باقی رہتی ہے تو وہ معدات ہیں جن کا معلول کے ساتھ رہنا ضرور نہیںکیا نہ دیکھا کہ کاتب مرجاتاہے اور اس کا لکھا برسوں رہتا ہے یوہیں یہ کہ زبان بھی ایك قلم ہی ہے۔
(۵)ضرور کان سے باہر بھی موجود ہے بلکہ باہر ہی سے منتقل ہوتی ہوئی کان تك پہنچتی ہے طوالع ومقاصدو مواقف وغیرہا میں اس پر تین دلیلیں قائم کی ہیں۔
لانطیل الکلام بذکرھا وذکر مالھا وعلیھا اقول: والحق ان الصوت یحدث عند اول مقروع کھواء الفم عند التکلم ثم لا یزال یتجدد حتی یحدث فی الاذن فھو موجود خارج الاذن بعدۃ لا یعلمھا الا اﷲ جل وعلا ثم باعلامہ رسولہ اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم باعلام النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من شاء من خدمہ واولیائہ اما المسموع بالفعل فلیس الا صوتا حادثا فی الاذن کما علمت فلیکن التوفیق وباﷲ التوفیق۔ ہم ان دلائل وشواہد کے ذکر اور مالھا اور ماعلیھا(یعنی جو کچھ ان کے لئے ہے اور ان پر وارد ہے)کے ذکر سے کلام کو طویل نہیں کرتے بلکہ میں کہتا ہوں کہ حق یہ ہے کہ آواز اول مقروع کے وقت پیدا ہوتی ہے جیسے بولتے وقت منہ کی ہوا۔پھر ہمیشہ اس میں تجدید ہوتی رہتی ہے یہاں تك کہ کان میں آواز پیدا ہوجاتی ہے۔پھر وہ کان سے باہر بھی کچھ دیر تك رہتی ہے کہ جس کو اﷲ تعالی بلند وبالا اور جلیل القدر کے علاوہ حقیقی طور پر کوئی نہیں جانتا۔پھر اس کے آگاہ کرنے سے اس کے رسول کریم علیہ وعلی الہ والصلوات والتسلیم)جانتے ہیں۔پھر حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنے خدام اور اولیاء میں سے جس کو پسند فرمائیں آگاہ فرمائیں۔لیکن مسموع بالفعل تو ایك آواز ہے جو کان میں پیدا ہوتی ہے جیسا کہ تم جانتے ہولہذا توفیق ہونی چاہئے۔اور اﷲ تعالی کے کرم سے ہی توفیق حاصل ہوسکتی ہے۔(ت)
(۶)وہ آواز کنندہ کی صفت نہیں بلکہ ملائے متکیف کی صفت ہے ہوا ہو یا پانی وغیرہ مواقف سے گزرا: الصوت کیفیۃ قائمہ بالھواء (آواز ایك ایسی کیفیت ہے جو ہوا کے ساتھ قائم ہے۔ت)
(۴)ذریعہ حدوث قلع وقرع ہیں اور وہ آنی ہیں حادث ہوتے ہی ختم ہوجاتے ہیں اور وہ شکل و کیفیت جس کا نام آواز ہے باقی رہتی ہے تو وہ معدات ہیں جن کا معلول کے ساتھ رہنا ضرور نہیںکیا نہ دیکھا کہ کاتب مرجاتاہے اور اس کا لکھا برسوں رہتا ہے یوہیں یہ کہ زبان بھی ایك قلم ہی ہے۔
(۵)ضرور کان سے باہر بھی موجود ہے بلکہ باہر ہی سے منتقل ہوتی ہوئی کان تك پہنچتی ہے طوالع ومقاصدو مواقف وغیرہا میں اس پر تین دلیلیں قائم کی ہیں۔
لانطیل الکلام بذکرھا وذکر مالھا وعلیھا اقول: والحق ان الصوت یحدث عند اول مقروع کھواء الفم عند التکلم ثم لا یزال یتجدد حتی یحدث فی الاذن فھو موجود خارج الاذن بعدۃ لا یعلمھا الا اﷲ جل وعلا ثم باعلامہ رسولہ اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم باعلام النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من شاء من خدمہ واولیائہ اما المسموع بالفعل فلیس الا صوتا حادثا فی الاذن کما علمت فلیکن التوفیق وباﷲ التوفیق۔ ہم ان دلائل وشواہد کے ذکر اور مالھا اور ماعلیھا(یعنی جو کچھ ان کے لئے ہے اور ان پر وارد ہے)کے ذکر سے کلام کو طویل نہیں کرتے بلکہ میں کہتا ہوں کہ حق یہ ہے کہ آواز اول مقروع کے وقت پیدا ہوتی ہے جیسے بولتے وقت منہ کی ہوا۔پھر ہمیشہ اس میں تجدید ہوتی رہتی ہے یہاں تك کہ کان میں آواز پیدا ہوجاتی ہے۔پھر وہ کان سے باہر بھی کچھ دیر تك رہتی ہے کہ جس کو اﷲ تعالی بلند وبالا اور جلیل القدر کے علاوہ حقیقی طور پر کوئی نہیں جانتا۔پھر اس کے آگاہ کرنے سے اس کے رسول کریم علیہ وعلی الہ والصلوات والتسلیم)جانتے ہیں۔پھر حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنے خدام اور اولیاء میں سے جس کو پسند فرمائیں آگاہ فرمائیں۔لیکن مسموع بالفعل تو ایك آواز ہے جو کان میں پیدا ہوتی ہے جیسا کہ تم جانتے ہولہذا توفیق ہونی چاہئے۔اور اﷲ تعالی کے کرم سے ہی توفیق حاصل ہوسکتی ہے۔(ت)
(۶)وہ آواز کنندہ کی صفت نہیں بلکہ ملائے متکیف کی صفت ہے ہوا ہو یا پانی وغیرہ مواقف سے گزرا: الصوت کیفیۃ قائمہ بالھواء (آواز ایك ایسی کیفیت ہے جو ہوا کے ساتھ قائم ہے۔ت)
حوالہ / References
شرح المواقف النوع الثالث منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۲۶۰€
آواز کنندہ کی حرکت قرعی وقلعی سے پیداہوتی ہے لہذا اس کی طرف اضافت کی جاتی ہے۔
(۷)جبکہ وہ آواز کنندہ کی صفت نہیں بلکہ ملائے متکیف سے قائم ہے تو اس کی موت کے بعد بھی باقی رہ سکتی ہے کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
ان جوابوں کے سوا اور بھی فائدے ہماری اس تقریر سے روشن ہوئے مثلا:
(۸)انقطاع تموج انعدام سماع کا باعث ہوسکتا ہے کہ کان تك اس کا پہنچنا بذریعہ تموج ہی ہوتا ہے نہ کہ انعدام صوت کا بلکہ جب تك وہ تشکل باقی ہے صوت باقی ہے۔
(۹)یہیں سے ظاہر ہوا کہ دوبارہ اور تموج حادث ہو تو اس سے تجدید سماع ہوگی نہ کہ آواز دوسری پیدا ہونی جبکہ تشکل وہی باقی ہے۔
(۱۰)وحدت آواز وحدت نوعی ہے کہ تمام امثال متجددہ میں وہی ایك آواز مانی جاتی ہے ورنہ آواز کا شخص اول کہ مثلا ہوائے دہن متکلم میں پیدا ہوا کبھی ہمیں مسموع نہیں ہوتا اس کی کاپیاں ہی چھپتی ہوئی ہمارے کان تك پہنچتی ہیں اور اسی کو اس آواز کا سننا کہا جاتاہے۔
جب یہ امور واضح ہولئے تواب آلہ فونو گراف کی طرف چلئے حکیم جلت حکمتہ(حکیم مطلق کہ جس کی حکمت بڑی عظیم الشان ہے۔ت)نے جوف سامعہ کی ہوا میں جس طرح یہ قوت رکھی کہ ان کیفیات سے متکیف ہو کر نفس کے حضور ادائے اصوات والفاظ کرے یوہیں یہ حالت رکھی کہ ادا کرکے معا اس کیفیت سے خالی ہو کر پھر لوح سادہ رہ جائے کہ آئندہ اصوات وکلمات کے لئے مستعد رہے اگر ایسا نہ ہوتا تو مختلف آوازیں جمع ہوکر مانع فہم کلام ہوتیں جس طرح میلوں کے عظیم مجامع میں ایك غل کے سوا بات سمجھ میں نہیں آتی ولہذا اب تك عام لوگوں کے پاس ان کیفیات کے محفوظ رکھنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا اگر چہ واقع میں تمام الفاظ جملہ اصوات بجائے خود محفوظ ہیں وہ بھی امم مخلوقہ سے ایك امت ہیں کہ اپنے رب جل وعلا کی تسبیح کرتے ہیں کلمات ایمان تسبیح رحمن کے ساتھ اپنے قائل کے لئے استغفار بھی کرتے ہیں اور کلمات کفر تسبیح الہی کے ساتھ اپنے قائل پر لعنت۔
کما صرح بہ امام الحقائق سیدی الشیخ الاکبر رضی اﷲ تعالی عنہ والشیخ العارف باﷲ تعالی سیدی الامام عبد الوھاب الشعرانی قدس سرہ الربانی۔ جیسا کہ اہل حقائق کے اماممیرے آقاالشیخ الاکبر(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو)نے اس کی تصریح فرمادی۔اور شیخ اﷲ تعالی کی معرفت رکھنے والےامام عبدالوہاب شعرانی ان کاخدائی بھید پاك کیا جائے)نے بھی تصریح فرمادی ہے۔(ت)
(۷)جبکہ وہ آواز کنندہ کی صفت نہیں بلکہ ملائے متکیف سے قائم ہے تو اس کی موت کے بعد بھی باقی رہ سکتی ہے کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
ان جوابوں کے سوا اور بھی فائدے ہماری اس تقریر سے روشن ہوئے مثلا:
(۸)انقطاع تموج انعدام سماع کا باعث ہوسکتا ہے کہ کان تك اس کا پہنچنا بذریعہ تموج ہی ہوتا ہے نہ کہ انعدام صوت کا بلکہ جب تك وہ تشکل باقی ہے صوت باقی ہے۔
(۹)یہیں سے ظاہر ہوا کہ دوبارہ اور تموج حادث ہو تو اس سے تجدید سماع ہوگی نہ کہ آواز دوسری پیدا ہونی جبکہ تشکل وہی باقی ہے۔
(۱۰)وحدت آواز وحدت نوعی ہے کہ تمام امثال متجددہ میں وہی ایك آواز مانی جاتی ہے ورنہ آواز کا شخص اول کہ مثلا ہوائے دہن متکلم میں پیدا ہوا کبھی ہمیں مسموع نہیں ہوتا اس کی کاپیاں ہی چھپتی ہوئی ہمارے کان تك پہنچتی ہیں اور اسی کو اس آواز کا سننا کہا جاتاہے۔
جب یہ امور واضح ہولئے تواب آلہ فونو گراف کی طرف چلئے حکیم جلت حکمتہ(حکیم مطلق کہ جس کی حکمت بڑی عظیم الشان ہے۔ت)نے جوف سامعہ کی ہوا میں جس طرح یہ قوت رکھی کہ ان کیفیات سے متکیف ہو کر نفس کے حضور ادائے اصوات والفاظ کرے یوہیں یہ حالت رکھی کہ ادا کرکے معا اس کیفیت سے خالی ہو کر پھر لوح سادہ رہ جائے کہ آئندہ اصوات وکلمات کے لئے مستعد رہے اگر ایسا نہ ہوتا تو مختلف آوازیں جمع ہوکر مانع فہم کلام ہوتیں جس طرح میلوں کے عظیم مجامع میں ایك غل کے سوا بات سمجھ میں نہیں آتی ولہذا اب تك عام لوگوں کے پاس ان کیفیات کے محفوظ رکھنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا اگر چہ واقع میں تمام الفاظ جملہ اصوات بجائے خود محفوظ ہیں وہ بھی امم مخلوقہ سے ایك امت ہیں کہ اپنے رب جل وعلا کی تسبیح کرتے ہیں کلمات ایمان تسبیح رحمن کے ساتھ اپنے قائل کے لئے استغفار بھی کرتے ہیں اور کلمات کفر تسبیح الہی کے ساتھ اپنے قائل پر لعنت۔
کما صرح بہ امام الحقائق سیدی الشیخ الاکبر رضی اﷲ تعالی عنہ والشیخ العارف باﷲ تعالی سیدی الامام عبد الوھاب الشعرانی قدس سرہ الربانی۔ جیسا کہ اہل حقائق کے اماممیرے آقاالشیخ الاکبر(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو)نے اس کی تصریح فرمادی۔اور شیخ اﷲ تعالی کی معرفت رکھنے والےامام عبدالوہاب شعرانی ان کاخدائی بھید پاك کیا جائے)نے بھی تصریح فرمادی ہے۔(ت)
اور اس کا سبب ظاہری یہ تھا کہ ان کیفیات کا حامل ایك نہایت نرم ولطیف ورطب جسم تھا یعنی ہوا یا نہایت کمی کے ساتھ پانی بھی جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا اور جس طرح لطافت و رطوبت باعث سہولت انفعال ہے یوہیں مورث سرعت زوال ہے اسی لئے نقش برآب مثل مشہور ہے تو ان کیفیات اشکال کے تحفظ کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہ تھا اب بمشیت الہی ایسا آلہ نکلا جس میں مسالے سے باذن اﷲ تعالی یہ قوت پیدا ہوئی کہ ہوائے عصبہ مفروشہ کی طرح ہوائے متموج کی ان اشکال حرفیہ وصوتیہ سے متشکل ہو اور اپنے یبس وصلابت کے سبب ایك زمانہ تك انھیں محفوظ رکھے اگلوں کا اس ذریعہ پر مطلع نہ ہونا انھیں اپنے اس تجربہ کے بیان پر باعث ہوا کہ ہم دیکھتے ہیں جب تموج ختم ہوجاتا ہے آواز ختم ہوجاتی ہے کما تقدم عن شرح المواقف (جیسا کہ شرح مواقف کے حوالے سے پہلے گزرچکا ہے۔ت)یہ آلہ دیکھتے تو معلوم ہوتا کہ تموج ہوا ختم ہوا اور آواز محفوظ ومخزون ہے انتہائے تموج سے سننے میں نہیں آتی اس کے لئے دوبارہ تموج ہوا کی محتاج ہے کہ ہمارے سننے یہی کا ذریعہ ہے ورنہ رب عزوجل کہ غنی مطلق ہے اب بھی اسے سن رہا ہے اس آلہ یعنی پلیٹوں پر ارتسام اشکال معلوم ومشاہد ہے ولہذا چھیل دینے سے وہ الفاظ زائل ہوجاتے ہیں جس طرح کاغذ سے خط کے نقش چھل جاتے ہیں اور ان سے خالی کرکے دوسرے الفاظ بھر سکتے ہیں جس طرح لکھی ہوئی تختی دھو کر دوبارہ لکھ سکتے ہیں اور تکرر قرع سے بھی بتدریج ان میں کمی ہوتی اور آواز ہلکی ہوتی جاتی ہے کہ پہلے کی طرح صاف سمجھ میں نہیں آتی یہاں تك کہ رفتہ رفتہ فنا ہو کر بالآخر لوح سادہ رہ جاتی ہے جب تك ان چوڑیوں پلیٹوں میں وہ اشکال حرفیہ باقی ہیں تحریك آلہ سے جو ہوا جنبش کناں ان اشکال مرسومہ پر گزرتی اپنے رطوبت ولطافت کے باعث بدستور ان کیفیات سے متکیف اور قوت تحریك کے باعث متموج ہوکر اسی طرح کان تك پہنچتی اور یہاں کی ہوا ان اشکال کو لے کر بعینہ بذریعہ لوح مشترك نفس کے حضور حاضر کرتی ہے یہ تجدد وتموج کے سبب تجدد سماع ہوا نہ کہ تجدد صوتکما اسلفنا لہ التحقیق واﷲ ولی التوفیق(جیسا کہ ہم نے پہلے اس کی تحقیق کردی۔اور اﷲ تعالی حصول توفیق کا مالك ہے۔)تو فونو کی چوڑیاں صرف ہواہائے متوسطہ میں سے ایك ہوا کے قائم مقام ہیں فرض کیجئے کہ طبلہ سے گوش سامع تك بیچ میں سو ہواؤں کا توسط تھا کہ طبلہ پر ہاتھ مارنے سے پہلی ہوا اور اس سے دوسری اس سے تیسری یہاں تك کہ سویں۱۰۰ہوا نے اشکال صوت طبلہ سے متشکل ہوکر ہوائے جوف گوش کو متشکل کیا اور سماع واقع ہوا یہاں یوں سمجھئے کہ اس نواخت سے یکے بعد دیگرے پچاس ہواؤں نے متشکل ہوکر ہوائے اخیر نے اس آلہ کو متشکل کیا یہ ہوائے پنجاہ ویکم کی جگہ ہوا اب اس سے ہوائے پنجاہ دوم پھر سوم پھر چہارم متشکل ہوکر سویں نے بدستور ہوائے گوش کو متکیف کیا اور سماع حاصل ہوا تو یقینا دونوں
صورتوں میں وہی صوت طبلہ ہے کہ بتجدد امثال سو۱۰۰ واسطوں سے کان تك پہنچتی اگر چہ ایك صورت میں سب وسائط ہوائیں ہیں اور دوسری میں بیچ کا ایك واسطہ یہ آلہ دونوں میں وہی سلسلہ چلا آتا ہے وہی طبلہ پرہاتھ پڑنا دونوں کا مبداء ہے تو کیا وجہ کہ ان سو واسطوں سے جو سناگیا وہ تو وہی صوت طبلہ ہو اور ان سو واسطوں کے بعد جو سنا گیا وہ اس کا غیر ہو اس کی تصویر اس کی مثال ہو یہ محض تحکم بے معنی ہے اصل تشکل اول جو قرع طبلہ سے پیدا ہوا اسے لیجئے تو وہ صورت اولی میں بھی ننانوے منزل اس پار چھوٹ گیا اور یکے بعد دیگرے اس کا سلسلہ قائم رہنا لیجئے تو وہ یقینا یہاں بھی حاصل پھر تفرقہ یعنی چہ۔علامہ سید شریف قدس سرہ الشریف شرح مواقف میں فرماتے ہیں:
الاحساس بالصوت یتوقف علی ان یصل الھواء الحامل لہ الی الصماخ لا بمعنی ان ھواء واحد بعینہ یتموج یتکیف بالصوت ویصلہ الی القوۃ السامعۃ بل بمعنی انمایجاور ذلك الھواء المتکیف بالصوت یتموج ویتکیف بالصوت ایضا وھکذا الی ان یتموج و یتکیف بہ الہواء الراکد فی الصماخ فتدرکہ السامعۃ حینئذ ۔ آواز کا احساس اس پر موقوف ہے کہ جو ہوا اس کو اٹھا رہی ہے وہ کانوں کے سوراخ تك پہنچے نہ اس معنی سے کہ بعینہ ایك ہی ہوا میں تموج پیدا ہو کر وہ کیفیت صوت سے متصف ہوجاتی ہے۔پھر آواز کو قوت سامعہ تك پہنچا دیتی ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو ہوا"متکیف بالصوت"ہے اس کے متصل مجا ور جو ہوا ہے اس میں موج پیدا ہوتی ہے پھر وہ بھی جز اول کی طرح متکیف بالصوت ہوجاتی ہے پھر یونہی یہ سلسلہ تموج اور تکیف آگے تك چلتا ہے اور بڑھتا ہے یہاں تك کہ اس ہوا میں موج پیدا ہوتی ہے جو کانوں میں ٹھہری ہے پھر وہ کیفیت صوت سے متصف ہوجاتی ہے پھر اس طرح قوت سامعہ آواز کا ادارك کرلیتی ہے۔(ت)
اس کے متن مواقف مع الشرح میں ہے:
سبب الصوت القریب تموج الھواء ولیس تموجہ فھذا حرکۃ انتقالیۃ من ھواء واحد بعینہ بل ھو صدم بعد آواز کاسبب قریب ہوا میں موج پیدا ہونا ہے اور اس کا یہ تموج ایسی حرکت انتقالیہ نہیں جو بعینہ ایك ہوا سے ہو۔بلکہ وہ نوبت بہ نوبت
الاحساس بالصوت یتوقف علی ان یصل الھواء الحامل لہ الی الصماخ لا بمعنی ان ھواء واحد بعینہ یتموج یتکیف بالصوت ویصلہ الی القوۃ السامعۃ بل بمعنی انمایجاور ذلك الھواء المتکیف بالصوت یتموج ویتکیف بالصوت ایضا وھکذا الی ان یتموج و یتکیف بہ الہواء الراکد فی الصماخ فتدرکہ السامعۃ حینئذ ۔ آواز کا احساس اس پر موقوف ہے کہ جو ہوا اس کو اٹھا رہی ہے وہ کانوں کے سوراخ تك پہنچے نہ اس معنی سے کہ بعینہ ایك ہی ہوا میں تموج پیدا ہو کر وہ کیفیت صوت سے متصف ہوجاتی ہے۔پھر آواز کو قوت سامعہ تك پہنچا دیتی ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو ہوا"متکیف بالصوت"ہے اس کے متصل مجا ور جو ہوا ہے اس میں موج پیدا ہوتی ہے پھر وہ بھی جز اول کی طرح متکیف بالصوت ہوجاتی ہے پھر یونہی یہ سلسلہ تموج اور تکیف آگے تك چلتا ہے اور بڑھتا ہے یہاں تك کہ اس ہوا میں موج پیدا ہوتی ہے جو کانوں میں ٹھہری ہے پھر وہ کیفیت صوت سے متصف ہوجاتی ہے پھر اس طرح قوت سامعہ آواز کا ادارك کرلیتی ہے۔(ت)
اس کے متن مواقف مع الشرح میں ہے:
سبب الصوت القریب تموج الھواء ولیس تموجہ فھذا حرکۃ انتقالیۃ من ھواء واحد بعینہ بل ھو صدم بعد آواز کاسبب قریب ہوا میں موج پیدا ہونا ہے اور اس کا یہ تموج ایسی حرکت انتقالیہ نہیں جو بعینہ ایك ہوا سے ہو۔بلکہ وہ نوبت بہ نوبت
حوالہ / References
شرح المواقف النوع الثالث المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۶۱۔۲۶۰€
صدم وسکون بعد سکون ۔ دباؤ اور سکون بعد سکون کی وجہ سے ہے۔(ت)
بالجملہ کوئی شك نہیں کہ جو کچھ فونوسے سنی گئی بعینہ وہی طبلہ کی آواز ہے اسی کو شرع نے حرام فرمایا تھا اور اسے خیال ومثال کہنا محض بے اصل خیال تھا اور بفرض غلط ایساہوتا بھی تو مجوز کے لئے کیا باعث خوشی تھا بالجملہ شرع مطہر نے اس نوع آواز کو حرام فرمایا ہے تشخص تموج بلکہ تشخص تشکل بلکہ تشخص طبلہ کسی کو بھی اس میں دخل نہیں حکم اپنی علت کے ساتھ دائر ہوتا ہے۔آواز ملاہی علت تحرموہ تشخصات نہیں بلکہ یہ کہ وہ لہو ہیں۔
کما ینبی عنہ اسمھا ویشیر الیہ قولہ تعالی " و من الناس من یشتری لہو الحدیث" وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل لھو المؤمن باطل وفی روایۃ حرام الا فی ثلث ۔ جیسا کہ ان کا نام اس سے آگاہ کر رہا ہے اور اسی طرف اﷲ تعالی کا ارشاد اشارہ کررہا ہے لوگوں میں کوئی وہ ہے جو کھیل (تماشہ)کی باتوں کا خریدار ہے(اور ان سے دلچسپی اور وابستگی رکھتا ہے)اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی"مومن کا ہر کھیل باطل ہے"اور ایك روایت میں ہے:"ہر کھیل حرام ہے مگر تین کھیل"(کہ ان کی اجازت ہے۔)۔(ت)
وہ دل کو خیر سے پھیرکر شہوات وہفوات کی طرف لے جاتے ہیں یہاں تك کہ دل پر ان کے زنگ چڑھ کر مہرہوجاتی ہے پھر حق بات نہ سنے نہ سمجھے والعیاذ باﷲ تعالی(اور اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)
کما قال عزوجل" کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون ﴿۱۴﴾ " وفیہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان العبد اذا اذنب ذنبا تکتب فی قلبہ نکتۃ سوداء فان تاب ونزع جیسا کہ اﷲ تعالی زبردست اور جلیل القدر نے ارشاد فرمایا: بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے ان برے کاموں کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔اور اس آیت قرآنی کی تفسیر میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد موجود ہے:"جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایك سیاہ نشان
بالجملہ کوئی شك نہیں کہ جو کچھ فونوسے سنی گئی بعینہ وہی طبلہ کی آواز ہے اسی کو شرع نے حرام فرمایا تھا اور اسے خیال ومثال کہنا محض بے اصل خیال تھا اور بفرض غلط ایساہوتا بھی تو مجوز کے لئے کیا باعث خوشی تھا بالجملہ شرع مطہر نے اس نوع آواز کو حرام فرمایا ہے تشخص تموج بلکہ تشخص تشکل بلکہ تشخص طبلہ کسی کو بھی اس میں دخل نہیں حکم اپنی علت کے ساتھ دائر ہوتا ہے۔آواز ملاہی علت تحرموہ تشخصات نہیں بلکہ یہ کہ وہ لہو ہیں۔
کما ینبی عنہ اسمھا ویشیر الیہ قولہ تعالی " و من الناس من یشتری لہو الحدیث" وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل لھو المؤمن باطل وفی روایۃ حرام الا فی ثلث ۔ جیسا کہ ان کا نام اس سے آگاہ کر رہا ہے اور اسی طرف اﷲ تعالی کا ارشاد اشارہ کررہا ہے لوگوں میں کوئی وہ ہے جو کھیل (تماشہ)کی باتوں کا خریدار ہے(اور ان سے دلچسپی اور وابستگی رکھتا ہے)اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی"مومن کا ہر کھیل باطل ہے"اور ایك روایت میں ہے:"ہر کھیل حرام ہے مگر تین کھیل"(کہ ان کی اجازت ہے۔)۔(ت)
وہ دل کو خیر سے پھیرکر شہوات وہفوات کی طرف لے جاتے ہیں یہاں تك کہ دل پر ان کے زنگ چڑھ کر مہرہوجاتی ہے پھر حق بات نہ سنے نہ سمجھے والعیاذ باﷲ تعالی(اور اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)
کما قال عزوجل" کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون ﴿۱۴﴾ " وفیہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان العبد اذا اذنب ذنبا تکتب فی قلبہ نکتۃ سوداء فان تاب ونزع جیسا کہ اﷲ تعالی زبردست اور جلیل القدر نے ارشاد فرمایا: بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے ان برے کاموں کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔اور اس آیت قرآنی کی تفسیر میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد موجود ہے:"جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایك سیاہ نشان
حوالہ / References
شرح المواقف النوع الثالث المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۵ /۵۸۔۲۵۷€
القرآن الکریم ∞۳۱ /۶€
جامع الترمذی ابواب فضائل الجہاد ∞۱ /۱۹۷€ وسنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ∞ص۲۰۷،€مسند احمد بن حنبل ∞۴ /۱۴۴ و ۱۴۸€ و درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۸€
القرآن الکریم ∞۸۳ /۱۴€
القرآن الکریم ∞۳۱ /۶€
جامع الترمذی ابواب فضائل الجہاد ∞۱ /۱۹۷€ وسنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ∞ص۲۰۷،€مسند احمد بن حنبل ∞۴ /۱۴۴ و ۱۴۸€ و درمختار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۸€
القرآن الکریم ∞۸۳ /۱۴€
واستغفر صقل قلبہ وان عاد زادت حتی تعلو قلبہ فذالك الران الذی ذکر اﷲ تعالی فی القران رواہ احمد و الترمذی وصححہ والنسائی وابن ماجۃ واخرون عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ وھو معنی حدیث ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء العشب بل ھو للبیھقی فی شعب الایمان عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وفیہ الزرع مکان العشب ۔ ابھر آتا ہے اگر توبہ کرے باز آئے اسے اتار پھینکے اور اﷲ تعالی سے گزشتہ کی بخشش مانگے تو اس کا دل صاف شفاف ہوجاتاہے۔اور اگر وہی برائی دوبارہ کرے تو وہ نشان بڑھ جاتاہے یہاں تك کہ اس کے دل پر غالب آجاتا ہے اور اسے چاروں طرف سے گھیرلیتا ہے)"پس یہی وہ زنگ اور میل ہے کہ قرآن مجید میں اﷲ تعالی نے جس کاذکر فرمایا ہے۔امام احمد اور جامع ترمذی نے اس کو روایت کیا اور ترمذی نے اس کی تصحیح فرمائی سنن نسائی اور ابن ماجہ اور دوسرے ائمہ حدیث نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت فرمایااور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کی حدیث"راگ دل میں اس طرح نفاق اگادیتا ہے جس طرح پانی گھاس اگادیتا ہے"کا یہی معنی ہے۔ بلکہ وہ حدیث امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ کی سند سے روایت فرمائی کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس میں لفظ عشب (گھاس) کی جگہ لفظ الزرع(کھیتی)ہے۔(ت)
غرض ان آوازوں میں بالطبع یہ خاصیت رکھی گئی ہے کہ فتنہ کی طرف کھینچیں اور قدم ثبات کو لغزش دیں۔
وذلك قولہ تعالیو استفزز من استطعت منہم بصوتک ۔ اور اﷲ تعالی کا یہ ارشاد گرامی ہے جن لوگوں پر تو قابو پاسکتا ہے انھیں اپنی آواز سے لغزش دے۔
غرض ان آوازوں میں بالطبع یہ خاصیت رکھی گئی ہے کہ فتنہ کی طرف کھینچیں اور قدم ثبات کو لغزش دیں۔
وذلك قولہ تعالیو استفزز من استطعت منہم بصوتک ۔ اور اﷲ تعالی کا یہ ارشاد گرامی ہے جن لوگوں پر تو قابو پاسکتا ہے انھیں اپنی آواز سے لغزش دے۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ ویل للمطففین ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۶۸ و ۱۶۹€
مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ ∞۲/ ۲۹۷€ و سنن ابن ماجہ ابواب الزہد ∞ص۳۲۳€
اتحاف السادۃ المتقین کتاب ذم الجاہ والریاء بیان ذم حب الجاہ دارالفکر بیروت ∞۸ /۲۳۸€
شعب الایمان للبیھقی ∞حدیث ۵۱۰۰€ دارالفکر العلمیۃ بیروت ∞۴ /۲۷۹€
القرآن الکریم ∞۱۷ /۶۴€
مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ ∞۲/ ۲۹۷€ و سنن ابن ماجہ ابواب الزہد ∞ص۳۲۳€
اتحاف السادۃ المتقین کتاب ذم الجاہ والریاء بیان ذم حب الجاہ دارالفکر بیروت ∞۸ /۲۳۸€
شعب الایمان للبیھقی ∞حدیث ۵۱۰۰€ دارالفکر العلمیۃ بیروت ∞۴ /۲۷۹€
القرآن الکریم ∞۱۷ /۶۴€
ہر عاقل جانتاہے کہ اس میں خصوصیت صورت آلہ کو دخل نہیں بلکہ یہ آوازیں جس آلہ سے پیدا ہوں اپنا رنگ لائیں گی تو علت حرمت قطعا حاصل ہے پھر حکم حرمت کیونکر زائل اوریہ ادعا کہ فونو سے سازوں کی آوازیں مورث طرب نہیں صرف موجب عجب ہیں بداہت کے خلاف ہے بلا شبہہ سازوں سے ان کی آواز سننا جو اثر کرتا ہے۔ وہی فونو سے کہ آواز بلا تفاوت وہی ہے خصوصیت شکل آلہ کا ایراث عدم ایراث طرب میں کیا دخل نہ اضافہ عجب مانع طرب
فاندفع مازعم الفاضل المعاصر السید الاھدل حفظہ اﷲ تعالی انہ لا یحصل من سماعہ طرب بل عجب وغایۃ مایدعیہ بعضھم حصول اللذۃ واللذۃ مع کونھا من باب المشکك لیست علۃ التحریم فقط بل العلۃ مع ذلك کون الآلات من شعار الفسقہوالصندوق لم یوضع للضرب ولا قصد لہ ولا شھر بانہ شعار الفساق فانی یتاتی الالحاق اھ بمحصلہ و قد اتینا فی تلخیصہ علی مقصد رسالتہ اجمع۔اقول:اولا ما الطرب الا الفرح والحزن اوخفۃ تلحقك تسرك اوتحزنك والحرکۃ والشوق کما فی القاموس وکل ذلك معلوم قطعا فی سماع اصوات الالات من الصندوق کسماعھا فاضل ہمعصر سید اہدل حفظہ اﷲ تعالی کا دفاع ہوگیا کہ صندوق کی آواز سننے سے طرب حاصل نہیں ہوتا بلکہ صرف "عجب"پید ا ہوتا ہے۔غایۃ مافی الباب یہ ہے کہ جس کا بعض لو گ دعوی کیا کرتے ہیں کہ اس سے لذت حاصل ہوتی ہے اور لذت باوجود یکہ باب تشکیك میں سے ہے تنہا علت حرمت نہیں۔بلکہ گانے بجانے کے آلات واسباب کا فاسقوں کے شعار میں سے ہونا اور حصول لذت یہ دونوں مل کر علت تحریم ہیں اور صندوق بجانے کےلئے موضوع نہیں۔ اور اس کا یہ مقصد بھی نہیںاور شعار فساق میں اس کی شہرت بھی نہیں پھر اس کا ان آلات لہو سے کیسے الحاق ہوسکتا ہے۔ عبارت کا خلاصہ پورا اور مکمل ہوگیا ہے۔
اقول:(میں کہتاہوں)اولا: طرب صرف خوشی غم حرکت اور شوق اور ایسی خفت جو تجھے لاحق ہو تو تجھے خوش یا غمگین کر دےجیسا کہ قاموس میں ہے اور یہ سب کچھ یقینی طور پر معلوم ہے اور صندوق سے آوازیں سننے میں موجود ہے جیسا کہ دوسرے آلات
فاندفع مازعم الفاضل المعاصر السید الاھدل حفظہ اﷲ تعالی انہ لا یحصل من سماعہ طرب بل عجب وغایۃ مایدعیہ بعضھم حصول اللذۃ واللذۃ مع کونھا من باب المشکك لیست علۃ التحریم فقط بل العلۃ مع ذلك کون الآلات من شعار الفسقہوالصندوق لم یوضع للضرب ولا قصد لہ ولا شھر بانہ شعار الفساق فانی یتاتی الالحاق اھ بمحصلہ و قد اتینا فی تلخیصہ علی مقصد رسالتہ اجمع۔اقول:اولا ما الطرب الا الفرح والحزن اوخفۃ تلحقك تسرك اوتحزنك والحرکۃ والشوق کما فی القاموس وکل ذلك معلوم قطعا فی سماع اصوات الالات من الصندوق کسماعھا فاضل ہمعصر سید اہدل حفظہ اﷲ تعالی کا دفاع ہوگیا کہ صندوق کی آواز سننے سے طرب حاصل نہیں ہوتا بلکہ صرف "عجب"پید ا ہوتا ہے۔غایۃ مافی الباب یہ ہے کہ جس کا بعض لو گ دعوی کیا کرتے ہیں کہ اس سے لذت حاصل ہوتی ہے اور لذت باوجود یکہ باب تشکیك میں سے ہے تنہا علت حرمت نہیں۔بلکہ گانے بجانے کے آلات واسباب کا فاسقوں کے شعار میں سے ہونا اور حصول لذت یہ دونوں مل کر علت تحریم ہیں اور صندوق بجانے کےلئے موضوع نہیں۔ اور اس کا یہ مقصد بھی نہیںاور شعار فساق میں اس کی شہرت بھی نہیں پھر اس کا ان آلات لہو سے کیسے الحاق ہوسکتا ہے۔ عبارت کا خلاصہ پورا اور مکمل ہوگیا ہے۔
اقول:(میں کہتاہوں)اولا: طرب صرف خوشی غم حرکت اور شوق اور ایسی خفت جو تجھے لاحق ہو تو تجھے خوش یا غمگین کر دےجیسا کہ قاموس میں ہے اور یہ سب کچھ یقینی طور پر معلوم ہے اور صندوق سے آوازیں سننے میں موجود ہے جیسا کہ دوسرے آلات
حوالہ / References
القاموس المحیط فصل الطاء باب الباء مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۱۰۱€
منھا سواء بسواء وکلھا ھھنا لوازم اللذۃ التی سلم وجودھا والخفۃ ان اخذت بمعنی مایقھرہ العقل فلیست لازمۃ بسماع الآ لات ایضا قرب سامع لھا لا یعتریہ خفۃ فی عقلہ انما ذلك لمن انھمك فیھا وھی تحصل لمثلہ فی السماع من الصندوق ایضا و ثانیا ھذہ الاثار التی تتولد منھا ھی الکافیۃ قطعا للتحریم والیھا النظر فی النصوص التی تلونا وفی تسمیتھا الات الملاھی من دون توقف علی کونھا شعار الفسقۃ حتی لوفرض انعدام الفساق من الدنیا لحرمت الآلات لما ذکرنا واین کانت الفسقۃ اذ قال اﷲ عزوجل لا بلیس "و استفزز من استطعت منہم بصوتک" بل ھذہ الآثار ھی التی جعلتھا شعار الفساق فھو اثر العلۃ منھا لاجزئھا نعم مالاباس بہ کے سماع میں موجود ہے۔لہذا اس باب میں دونوں برابر دونوں میں کچھ فرق نہیںاور یہاں یہ سب لوازم لذت ہیں کہ جس کے وجود کو مجوزنے تسلیم کیاہے(مراد یہ ہے کہ ان سب کے لئے حصول لذت لازم ہے) اگر "خفت"اس معنی میں لی جائے کہ وہ چیز جو عقل کو مقہور اور مغلوب کردے تو پھر یہ بات سماع آلات میں بھی لازم نہیںکیونکہ بسااوقات آلات سے راگ سننے والے کی عقل میں بھی کوئی خفت اور فتور عارض نہیں ہوتا۔البتہ یہ اس شخص کے لئے ہوگا جو بصورت استغراق آلات سے راگ سنتے ہیںاستغراق کی صورت میں اگر صندوق سے راگ سنے تو اس سے نیز کیفیت خفت حاصل ہوجائیگی(گویا بصورت استغراق دونوں میں کوئی فرق نہیں۔و ثانیا یہ آثار وکوائف جو سماع الآت سے پیدا ہوتے ہیں حرمت کے لئے یقینا کافی ہیں چنانچہ ہماری تلاوت کردہ نصوص میں اسی طرف اشارہ ہے۔ اور ان کا نام آلات لہو رکھنے میں بھی یہی منظور نظر ہے بغیر اس توقف کے کہ فاسقوں کا شعار ہیں یہاں تك کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ پوری دنیا میں کوئی فاسق موجود نہیں تو اس کے باوجود بھی سماع راگ ان آلات سے حرام ہوگا اس وجہ سے کہ جس کو ہم نے بیان کردیا ہے(ذرا غور تو کرو)جب اﷲ تعالی نے شیطان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا:اولاد آدم میں سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۷ /۶۴€
فی نفسہ ولم یکن من ما یناقض مقاصد الشرع الشریف وھو مما شعار الفساق یکون النہی عنہ لذلك التشبہ بھم فھھنا لك تبنی الامر علی الشعار لا فی مثل ما فی مبحث عنہ وکذالك مابہ باس فی نفسہ وھو مما شعار الفسقۃ ینھی عنہ للوجھین ای لکل منھما لا للمجموع حتی تکون الشعار یۃ جزء العلۃ ویقتصر النھی علیھا فاذا انتفت انتفی لا قائل بہ احد من علماء الدنیاوثالثا وکون اللذۃ من باب المشکك انما کان یجدی نفعا لوثبت جواز نفس الالتذاذ بتلك الاصوات وتوقفت الحرکۃ علی مخصوص منھا وثبت ان اللذۃ لاتبلغ ذلك الحد لا بالسماع من نفس الآلات دون الصندوق ولم یثبت شیئ من ذلك ورابعا ان الصندوق لم یوضع للضرب فنحن جس پر تو قابوپاسکتا ہے انھیں اپنی آواز سے ڈگمگا دے۔(ارے بتاؤ)کہ اس وقت فاسق کہاں تھے بلکہ وہ آثار جن کو تم نے فساق کا شعار قرار دیا وہ ان کے لئے اثر علت ہیں۔علت کا جز نہیں۔البتہ بذاتہ جن میں کچھ حرج نہیں اور نہ یہ مقاصد شریعت کے مخالف ہیں۔پھر وہ فساق کا شعار ہوں تو ان سے تشبہ کی وجہ سے ممنوع ہونگے۔پھر یہاں امر شعار پر مبنی ہوگا نہ کہ زیر بحث مقام میںاور یونہی وہ امور کہ ان کے فی نفسہ وجود میں کوئی حرج ہے۔اورشعار فساق ہوں تو ان سے دو وجوہ کی بناء پر ممانعت کی جاتی ہے مفہوم یہ ہے کہ ہر ایك وجہ کی بناء پر لہذا مجموعہ مرادنہیںتاکہ ان کا شعار ہوناعلت کا جز ہوجائےاورنہی صرف ان پر مبنی ہو کہ جب وہ منفی ہوں تو نہی منفی ہوجائےحالانکہ دنیا کا کوئی عالم اس بات کا قائل نہیں وثالثا لذت کاباب تشکیك سے ہونا اس وقت فائدہ بخش ہوسکتا ہے کہ جب ان آوازوں سے نفس لذت کا جواز ثابت ہوتا۔اور حرکت مخصوص آوازوں پر موقوف ہوتی۔اور یہ ثابت ہوتا کہ نفس آلات کے سماع سے بغیر صندوق کے لذت اس حد تك نہ پہنچی۔حالانکہ ان میں سے کوئی بات ثابت نہیں رابعا واقعی صندوق بجانے کے لئے نہیں بنایا گیا یہی وجہ
لانحرم نفسہ بل سماع صوت ای منہ وذلك یکون بوضع القوالب المودعۃ فیھا اصواتھا وھی ماوضعت الا لذلك وحینئذ لایقصد من الصندوق الاالضرب وسماعھا شعار الفسقہ قطعا وبالجملۃ فالتفرقۃ بین سماع اصوات الملاھی منھا ومن الصندوق ماھی الاجر ف ھارمالہ من قرار وخامسا ھذا کلہ علی فرض ذنب التنزل والا قد اقمنا البرھان علی ان صوت الملاھی المسموع من الصندوق ھو عین صوت تلك الملاھی فکیف یفرق بین الشیئ ونفسہ وای حاجۃ الی الالحاق وباﷲ التوفیق وسادسا ثم ان السید نفسہ یقول وقد سمعنا حکایتہ للقران فلم نرالا انھا قرأۃ فصیحۃ مرتلۃ بنغمۃ تمیل الیھا النفوس اھ اقول:افصحتم بالحق فلا۔۔۔عــــــہ۱ ۔۔۔ القرآن واسدت تلك الغنم الحسان تمیل نفوس العامۃ و تلك الاصوات الملھیۃ عن ذکر الرحمن۔۔۔۔عــــــہ۲ ۔۔۔لھا الشیطان و ذلك ھو الطرب المنھی عنہ وعلیہ مدار تحریمھا فحسب واﷲ الموفق۔ ہے کہ نفس صندوق کو حرام نہیں قرار دیتے بلکہ اس سے راگ سننے کو حرام کہتے ہیں۔اوریہ اس لئے کہ اس میں ایسے قالب موجود ہیں کہ ان میں آوازیں بھری جاتی ہیں اور وہ قالب اسی مقصد کے لئے بنائے گئے ہیںپھر اس صورت میں صندوق سے یہی ضرب مقصود ہے۔اور ان لوگوں کا راگ سننا بلا شبہہ شعار فساق ہے۔(خلاصہ کلام)راگ کی آوازیں آلات لہو اور صندوق کے سننے مں کوئی فرق نہیں۔اور یہ تفرقہ بالکل کھوکھلے گرنیوالے دہانے کی طرح جس کو کوئی قرار اور ثبات نہیں۔وخامسا یہ سب کچھ اس پر مبنی ہے کہ بطریقہ"تنزل"صدور گناہ فرض کرلیا جائے ورنہ ہم نے اس پر دلائل وشواہد قائم کئے ہیں کہ جو راگ کی آواز صندوق سے سنائی دیتی ہے وہ بالکل وہی اصل آواز ہے۔(اس کی حکایت اور مثل نہیں)کیونکہ شے اور اس کی ذات میں کیسے تفرقہ کیا جاسکتاہے(کیونکہ وہ دونوں باہم عین ہیں)لہذا الحاق کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔اور اﷲ تعالی ہی سے حصول توفیق ہے سادسا سید صاحب خود فرماتے ہیں کہ ہم نے قرآن مجید کی حکایت سنی۔اور ہم اس سے یہی سمجھتے ہیں کہ وہ ایك فصیح وبلیغ قراءت ہے جو نغمات سے ترتیل شدہ ہے جس کی طرف نفوس مائل اور راغب ہوتے ہیں اھ اقول:(میں کہتا ہوں)بلا شبہہ
عــــــہ۱ عــــــہ۲:یہاں اصل میں بیاض ہے۔
عــــــہ۱ عــــــہ۲:یہاں اصل میں بیاض ہے۔
تم نے حق ظاہر کردیا ہے۔کیا یہ قرآن مجید نہیںاور جو کچھ ان حسین وجمیل نغموں کے قائم مقام ہے جس کی طرف نفوس عامہ راغب ہوتے ہیں یا وہ آوازیں ہیں جو ذکر"رحمن"سے غافل کرنے والی بلکہ شیطان کی طرف راغب کرنے والی۔ اور یہ وہی خوش کن راگ ہے کہ جس سے منع کیا گیا ہے اور اسی پر ان کی حرکات کا مدار ہے اور بس۔اور اﷲ تعالی ہی(امور خیر کی)توفیق دینے والا ہے۔(ت)
بالجملہ شك نہیں کہ طبلہسارنگی۔ڈھولکستار یا ناچ یا عورات کا گانا یا فحش گیت وغیرہ وغیرہ جن آوازوں کا فونو سے باہر سننا حرام ہے بلا شبہہ ان کا فونو سے بھی سننا حرام ہے نہ یہ کہ اسے محض تصویر و حکایت قرار دے کر حکم اصل سے جدا کردیجئے یہ محض باطل وبے معنی ہے۔
سابعا: اس تصویر مجرد مباین اصل ہونے کا حال تو جب کھلے کہ زید کی ہجو یا اس کے والدین پر گالیاں اس آلہ میں بھر کر سنائی جائیں کیا اس پر وہی ثمرات مرتب نہ ہوں گے جو فونو سے باہر سننے میں ہوتے پھر اپنے نفس کے لئے فرق نہ کرنا اور واحد قہار کی معصیتوں کو ہلکا کرلینے کے لئے یہ تاویلیں نکالنا کس قدر دیانت سے دور ومہجور ہے۔
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ اماماذکر السید الاھدل عفا اﷲ تعالی عنا و عنہ من حدیث رؤیۃ صورۃ المرأۃ فی المراۃ فاقول:ثامنا تبین لك ان صوت الملاھی من الصندوق ھو عین صوتھا منھا لا مثالہ بخلاف عکس المرأۃ فی المراۃ وتاسعا کلام ابن حجر فی التحفۃ فی باب النکاح عقیب قولہ الامام النووی فی منھاجہ ویحرم نظر رجل بالغ الی عورۃ حرۃ مانصہ خرج مثالھا فلا یحرم نظرہ فی نحومراۃ ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت چاہتے ہیں رہا یہ کہ جو کچھ سید اہدل نے ذکر فرمایا اﷲ تعالی ہمیں اور انھیں معاف فرمائے اور وہ آئینہ میں عورت کی شکل وصورت دیکھنے کی بات ہے۔فاقول:(تومیں کہتاہوں)ثامنا: تمھارے لیے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ صندوق سے راگ کی آواز سننا بعینہ اسی طرح ہے جس طرح آلات راگ سے آواز سنی جائے لہذا آواز صندوق ان کی مثل اور حکایت نہیں بخلاف آئینہ میں عورت کا عکس(فوٹو)دیکھناتاسعا: علامہ ابن حجر کا کلام تحفہ باب نکاح میں امام نووی کے قول"منہاج"کے بعد کہ کسی بالغ مرد کا کسی آزاد عورت کے ستر کی طرف نگاہ کرنا حرام ہے جس کی انھوں نے تصریح فرمائی۔
بالجملہ شك نہیں کہ طبلہسارنگی۔ڈھولکستار یا ناچ یا عورات کا گانا یا فحش گیت وغیرہ وغیرہ جن آوازوں کا فونو سے باہر سننا حرام ہے بلا شبہہ ان کا فونو سے بھی سننا حرام ہے نہ یہ کہ اسے محض تصویر و حکایت قرار دے کر حکم اصل سے جدا کردیجئے یہ محض باطل وبے معنی ہے۔
سابعا: اس تصویر مجرد مباین اصل ہونے کا حال تو جب کھلے کہ زید کی ہجو یا اس کے والدین پر گالیاں اس آلہ میں بھر کر سنائی جائیں کیا اس پر وہی ثمرات مرتب نہ ہوں گے جو فونو سے باہر سننے میں ہوتے پھر اپنے نفس کے لئے فرق نہ کرنا اور واحد قہار کی معصیتوں کو ہلکا کرلینے کے لئے یہ تاویلیں نکالنا کس قدر دیانت سے دور ومہجور ہے۔
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ اماماذکر السید الاھدل عفا اﷲ تعالی عنا و عنہ من حدیث رؤیۃ صورۃ المرأۃ فی المراۃ فاقول:ثامنا تبین لك ان صوت الملاھی من الصندوق ھو عین صوتھا منھا لا مثالہ بخلاف عکس المرأۃ فی المراۃ وتاسعا کلام ابن حجر فی التحفۃ فی باب النکاح عقیب قولہ الامام النووی فی منھاجہ ویحرم نظر رجل بالغ الی عورۃ حرۃ مانصہ خرج مثالھا فلا یحرم نظرہ فی نحومراۃ ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت چاہتے ہیں رہا یہ کہ جو کچھ سید اہدل نے ذکر فرمایا اﷲ تعالی ہمیں اور انھیں معاف فرمائے اور وہ آئینہ میں عورت کی شکل وصورت دیکھنے کی بات ہے۔فاقول:(تومیں کہتاہوں)ثامنا: تمھارے لیے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ صندوق سے راگ کی آواز سننا بعینہ اسی طرح ہے جس طرح آلات راگ سے آواز سنی جائے لہذا آواز صندوق ان کی مثل اور حکایت نہیں بخلاف آئینہ میں عورت کا عکس(فوٹو)دیکھناتاسعا: علامہ ابن حجر کا کلام تحفہ باب نکاح میں امام نووی کے قول"منہاج"کے بعد کہ کسی بالغ مرد کا کسی آزاد عورت کے ستر کی طرف نگاہ کرنا حرام ہے جس کی انھوں نے تصریح فرمائی۔
کما افتی بہ غیر واحد ویؤیدہ قولھم لوعلق الطلاق برؤیتھا لم یحنث برؤیہ خیالھا فی نحو مراۃ لانہ لم یرھا ومحل ذلك کما ھو ظاھر حیث لم یخش فتنۃ ولا شھوۃ اھ ومثلہ فی النھایۃ للرملی فقد افاد اخر اما اباد ھذا القیاس فان صوت الملاھی نفسہ فنتۃ ولا دخل فیہ لخصوص آلۃ فانہ یورث قطعا سماعہ من الصندوق مایورث سماعہ من غیرہ فلا فرق بخلاف الخیال فانہ غیر مشتھی بنفسہ ولا صالح لذلك فافترقا وعاشرا انی لااظن ھذا الشرع المطھر یبیح رؤیۃ فرج الاجنبیۃ عاریۃ عن الثیاب فی المرآۃ فان فیہ من الفساد والبعد عن مقاصد الشرع مالایخفی ولا اعلم قط رخصتہ فی ذلك عن علمائنا وان حکموا ان برؤیۃ فرج المرأۃ فی المرآۃ بشھوۃ لاتثبت حرمۃ المصاھرۃ لانہ لم یرفرجھا بل مثالہ وھو مبنی علی القول بالانطباع دون انعکاس الشعاع والا لکان المرئی نفس الفرج لاخیالہ۔واﷲ تعالی اعلم۔
تو اس سے عورت کی مثال اور شبیہ(فوٹو)خارج ہے لہذا کسی مرد کا آئینہ میں عورت کی شیبہ اور عکس دیکھنا حرام نہیں جیسا کہ بہت سے علماء کرام نے اس کافتوی دیا ہے۔اور ان کے اس قول سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ اگر کسی شخص نے عورت دیکھنے پر طلاق منکوحہ کو معلق(موقوف)کردیا تو پھر آئینہ میں عورت کا عکس اور شبیہ دیکھنے سے قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ اس نے عورت نہیں دیکھی بلکہ اس کا عکس دیکھا ہے اورمحل (محمل)جیسا کہ ظاہرہے یہ ہے کہ جہاں فتنہ اور شہوت کا اندیشہ اور خطرہ نہ ہو اھ اور علامہ رملی کے "النہایۃ"میں یونہی مذکور ہے۔پس اس نے آخر میں وہ افادہ پیش کیا جس نے اس قیاس کو واضح کردیا کہ نفس راگ کی آواز فتنہ ہے پس اس میں خصوصیت آلہ کو کوئی دخل نہیں لہذا صندوق سے را گ سننا یقینا وہی کچھ پیدا کرتا ہے جو دوسرے آلات راگ سے سنا جائے تو پیدا ہوتا ہے۔لہذا دونوں کے سماع میں کوئی فرق نہیں بخلاف خیال(اور عکس)کے اس میں بذات خود اشتہا(چاہت)نہیں ہوتی اور وہ اس قابل بھی نہیں ہوتا لہذا دونوں میں فرق ہوگیا۔ (اور وجہ افتراق ظاہر ہوگئی)عاشرا میں تو اس شریعت پاك کے متعلق یہ گمان نہیں کرسکتا کہ اس نے آئینہ میں برہنہ عورت کی شرمگاہ کو دیکھنے کی اجازت دی ہو۔ (اور اس کو مباح قرار دیا ہو) کیونکہ اس میں ایسا فساد اور مقاصد شریعت سے بعد (دوری)ہے جو کسی پر پوشیدہ نہیں اور مجھے اپنے علمائے کرام سے قطعا اس کی اجازت اور رخصت معلوم نہیںاگر چہ انھوں نے یہ حکم دیا ہے کہ آئینہ میں بطور شہوت کسی عورت کی شرمگاہ دیکھنے سے حرمت مصاہرت(حرمت
تو اس سے عورت کی مثال اور شبیہ(فوٹو)خارج ہے لہذا کسی مرد کا آئینہ میں عورت کی شیبہ اور عکس دیکھنا حرام نہیں جیسا کہ بہت سے علماء کرام نے اس کافتوی دیا ہے۔اور ان کے اس قول سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ اگر کسی شخص نے عورت دیکھنے پر طلاق منکوحہ کو معلق(موقوف)کردیا تو پھر آئینہ میں عورت کا عکس اور شبیہ دیکھنے سے قسم نہ ٹوٹے گی کیونکہ اس نے عورت نہیں دیکھی بلکہ اس کا عکس دیکھا ہے اورمحل (محمل)جیسا کہ ظاہرہے یہ ہے کہ جہاں فتنہ اور شہوت کا اندیشہ اور خطرہ نہ ہو اھ اور علامہ رملی کے "النہایۃ"میں یونہی مذکور ہے۔پس اس نے آخر میں وہ افادہ پیش کیا جس نے اس قیاس کو واضح کردیا کہ نفس راگ کی آواز فتنہ ہے پس اس میں خصوصیت آلہ کو کوئی دخل نہیں لہذا صندوق سے را گ سننا یقینا وہی کچھ پیدا کرتا ہے جو دوسرے آلات راگ سے سنا جائے تو پیدا ہوتا ہے۔لہذا دونوں کے سماع میں کوئی فرق نہیں بخلاف خیال(اور عکس)کے اس میں بذات خود اشتہا(چاہت)نہیں ہوتی اور وہ اس قابل بھی نہیں ہوتا لہذا دونوں میں فرق ہوگیا۔ (اور وجہ افتراق ظاہر ہوگئی)عاشرا میں تو اس شریعت پاك کے متعلق یہ گمان نہیں کرسکتا کہ اس نے آئینہ میں برہنہ عورت کی شرمگاہ کو دیکھنے کی اجازت دی ہو۔ (اور اس کو مباح قرار دیا ہو) کیونکہ اس میں ایسا فساد اور مقاصد شریعت سے بعد (دوری)ہے جو کسی پر پوشیدہ نہیں اور مجھے اپنے علمائے کرام سے قطعا اس کی اجازت اور رخصت معلوم نہیںاگر چہ انھوں نے یہ حکم دیا ہے کہ آئینہ میں بطور شہوت کسی عورت کی شرمگاہ دیکھنے سے حرمت مصاہرت(حرمت
حوالہ / References
∞ تحف€ہ
دامادی)ثابت نہ ہوگی کیونکہ مرد نے عورت کی شرمگاہ نہیں دیکھی اس کا عکس اور شبیہ دیکھی ہے۔اور یہ قول انطباع(ٹھپہ لگ جانا)پر مبنی ہے نہ کہ انعکاس شعاع پر۔ورنہ مرئی نفس شرمگاہ ہوتی نہ کہ اس کا خیالواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مقدمہ ثانیہ: علمائے کرام نے وجود شے کے چار مرتبے لئے ہیں:
(۱)وجود فی الاعیان جس طرح زید کہ خارج میں موجود ہے۔
(۲)وجود فی الاذہان کہ صورت زید جو اس کے لئے مرآت ملاحظہ ہے ذہن میں حاضرہے۔
(۳)وجود فی العبارۃ کہ زبان سے نام زید لیا گیا
فان الاسم عبارۃ عن المسمی وفی مسند احمد و سنن ابن ماجۃ وصحاح الحاکم وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن ربہ عزوجل انا مع عبدی اذا ذکر نی وتحرکت بی شفتاہ ۔ کیونکہ نام اپنے مسمی سے عبارت ہے(اور اسی کو ظاہر کرتا ہے)چنانچہ مسند امام احمدسنن ابن ماجہصحیح حاکماور صحیح ابن حبان میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حوالے سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے پروردگار عزوجل سے ذ کر فرمایا(کہ وہ ارشاد فرماتاہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتاہوں جب میرا ذکر کرتا ہے اور میرے ذکر سے اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں۔(ت)
(۴)وجودفی الکتابۃ کہ نام زید لکھا گیا:
قال اﷲ تعالی"یجدونہ مکتوبا عندہم فی التورىۃ والانجیل ۫" ۔ (اﷲ تعالی نے ارشادفرمایا:)اس نبی کو اہل کتاب اپنے پاس توریت وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
مقدمہ ثانیہ: علمائے کرام نے وجود شے کے چار مرتبے لئے ہیں:
(۱)وجود فی الاعیان جس طرح زید کہ خارج میں موجود ہے۔
(۲)وجود فی الاذہان کہ صورت زید جو اس کے لئے مرآت ملاحظہ ہے ذہن میں حاضرہے۔
(۳)وجود فی العبارۃ کہ زبان سے نام زید لیا گیا
فان الاسم عبارۃ عن المسمی وفی مسند احمد و سنن ابن ماجۃ وصحاح الحاکم وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن ربہ عزوجل انا مع عبدی اذا ذکر نی وتحرکت بی شفتاہ ۔ کیونکہ نام اپنے مسمی سے عبارت ہے(اور اسی کو ظاہر کرتا ہے)چنانچہ مسند امام احمدسنن ابن ماجہصحیح حاکماور صحیح ابن حبان میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حوالے سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے پروردگار عزوجل سے ذ کر فرمایا(کہ وہ ارشاد فرماتاہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتاہوں جب میرا ذکر کرتا ہے اور میرے ذکر سے اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں۔(ت)
(۴)وجودفی الکتابۃ کہ نام زید لکھا گیا:
قال اﷲ تعالی"یجدونہ مکتوبا عندہم فی التورىۃ والانجیل ۫" ۔ (اﷲ تعالی نے ارشادفرمایا:)اس نبی کو اہل کتاب اپنے پاس توریت وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
مسند امام بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ الکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۵۴۰،€صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ لاتحرك بہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۱۲۲€
القرآن الکریم ∞۷ /۱۵۷€
القرآن الکریم ∞۷ /۱۵۷€
ظاہر ہے کہ عامہ اعیان میں یہ دو نحواخیر بلکہ نحو ثانی بھی شے کے خوداپنے وجود نہیں کہ حصول اشیاء باشبا ھہا ہے نہ کہ بانفسہا۔
اقول:وھذا ھو عندی حقیقۃ انکار ائمتنا المتکلمین الوجود الذھنی ای ان الشیئ لیس فی الذھن بل شبیھہ و حملہ الامام الرازی علی انکار کونہ علما ثم ذھب بہ المتاخرون الی ماذھبوا والا فانکار قیام معان بالا ذھان مما لا یعقل عن عاقل فضلا عن اولئك اساطین العلم والعرفان۔ اقول:(میں کہتاہوں)یہی میرے نزیك حقیقت ہے اور ہمارے ائمہ اہل کلام کا وجود ذہنی کا انکار کرنا بایں معنی ہے کہ خود شے ذہن میں نہیں ہوتی بلکہ اس کی شبیہ اور مثال ہوتی ہے۔اور امام فخرالدین رازی نے اس بات کو اس پر حمل کیا کہ اس سے علم شے کے ہونے کا انکار مراد ہے۔پھر ائمہ متاخرین اس مسئلہ میں گئے ہیں کہ جس طرف وہ گئے ہیں ورنہ اذہان کے ساتھ قیام معانی کا انکار کرنا کسی صاحب عقل سے غیر معقول ہے(جو تابع فہم نہیں)چہ جائیکہ ان علم وعرفان کے ستونوں سے(اس بات کاانکار ہو)۔(ت)
مگر ہمارے ائمہ سلف رضی اﷲ تعالی عنہم کے عقیدہ حقہ صادقہ میں یہ چاروں نحو قرآن عظیم کے حقیقی مواطن وجود و تحقیقی مجال شہود ہیں وہی قرآن کہ صفت قدیمہ حضرت عزت عزو جلالہ اور اس کی ذات پاك سے ازلا ابدا قائم ومستحیل الانفکاك ولاہو ولا غیرہ لاخالق ولا مخلوق(جوازلی ابدی طور پر(اﷲ تعالی کی ذات کے ساتھ(قائم ہے پس اس کا جدا ہونا محال ہے۔نہ عین ذات ہے اور نہ وہ اس کا غیر ہے۔نہ وہ خالق ہے اورنہ مخلوق۔ت)یقینا وہی ہماری زبانوں سے متلو ہمارے کانوں سے مسموع ہمارے اوراق میں مکتوب ہمارے سینوں میں محفوظ ہے۔والحمدﷲ رب العالمین نہ یہ کہ یہ کوئی اور جدا شے قرآن پر دال ہے۔نہیں نہیںیہ سب اسی کی تجلیاں ہیں ان میں حقیقۃ وہی متجلی ہے بغیر اس کے کہ وہ ذات الہی سے جدا ہوا یا کسی حادث سے ملایا اس میں حلول کیا یا کسوتوں کے حدوث سے اس کے دامن قدم پرکوئی داغ آیا یا ان کے تکثرسے اس کی طرف تعدد نے راستہ پایا
دمبدم گر لباس گشت بدل شخص صاحب لباس راچہ خلل
(اگر ساعت بہ ساعت لباس بدل گیا تو صاحب لباس کا اس میں کیا نقصان ہے۔ت)
مہرے ست دراز تاب خفاش ایمان باید ترانہ کنگاش
(چمگادڑ طویل کچلی والی کا مہر ہے۔تجھ میں ایمان ہونا چاہئے نہ کہ صلاح ومشورہ۔ت)
ابوجہل نے جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام کو شتر نرجوان کی شکل میں دیکھا کہ منہ کھولے ہوئے اس پر حملہ کیا
اقول:وھذا ھو عندی حقیقۃ انکار ائمتنا المتکلمین الوجود الذھنی ای ان الشیئ لیس فی الذھن بل شبیھہ و حملہ الامام الرازی علی انکار کونہ علما ثم ذھب بہ المتاخرون الی ماذھبوا والا فانکار قیام معان بالا ذھان مما لا یعقل عن عاقل فضلا عن اولئك اساطین العلم والعرفان۔ اقول:(میں کہتاہوں)یہی میرے نزیك حقیقت ہے اور ہمارے ائمہ اہل کلام کا وجود ذہنی کا انکار کرنا بایں معنی ہے کہ خود شے ذہن میں نہیں ہوتی بلکہ اس کی شبیہ اور مثال ہوتی ہے۔اور امام فخرالدین رازی نے اس بات کو اس پر حمل کیا کہ اس سے علم شے کے ہونے کا انکار مراد ہے۔پھر ائمہ متاخرین اس مسئلہ میں گئے ہیں کہ جس طرف وہ گئے ہیں ورنہ اذہان کے ساتھ قیام معانی کا انکار کرنا کسی صاحب عقل سے غیر معقول ہے(جو تابع فہم نہیں)چہ جائیکہ ان علم وعرفان کے ستونوں سے(اس بات کاانکار ہو)۔(ت)
مگر ہمارے ائمہ سلف رضی اﷲ تعالی عنہم کے عقیدہ حقہ صادقہ میں یہ چاروں نحو قرآن عظیم کے حقیقی مواطن وجود و تحقیقی مجال شہود ہیں وہی قرآن کہ صفت قدیمہ حضرت عزت عزو جلالہ اور اس کی ذات پاك سے ازلا ابدا قائم ومستحیل الانفکاك ولاہو ولا غیرہ لاخالق ولا مخلوق(جوازلی ابدی طور پر(اﷲ تعالی کی ذات کے ساتھ(قائم ہے پس اس کا جدا ہونا محال ہے۔نہ عین ذات ہے اور نہ وہ اس کا غیر ہے۔نہ وہ خالق ہے اورنہ مخلوق۔ت)یقینا وہی ہماری زبانوں سے متلو ہمارے کانوں سے مسموع ہمارے اوراق میں مکتوب ہمارے سینوں میں محفوظ ہے۔والحمدﷲ رب العالمین نہ یہ کہ یہ کوئی اور جدا شے قرآن پر دال ہے۔نہیں نہیںیہ سب اسی کی تجلیاں ہیں ان میں حقیقۃ وہی متجلی ہے بغیر اس کے کہ وہ ذات الہی سے جدا ہوا یا کسی حادث سے ملایا اس میں حلول کیا یا کسوتوں کے حدوث سے اس کے دامن قدم پرکوئی داغ آیا یا ان کے تکثرسے اس کی طرف تعدد نے راستہ پایا
دمبدم گر لباس گشت بدل شخص صاحب لباس راچہ خلل
(اگر ساعت بہ ساعت لباس بدل گیا تو صاحب لباس کا اس میں کیا نقصان ہے۔ت)
مہرے ست دراز تاب خفاش ایمان باید ترانہ کنگاش
(چمگادڑ طویل کچلی والی کا مہر ہے۔تجھ میں ایمان ہونا چاہئے نہ کہ صلاح ومشورہ۔ت)
ابوجہل نے جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام کو شتر نرجوان کی شکل میں دیکھا کہ منہ کھولے ہوئے اس پر حملہ کیا
کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ جبرئیل نہ تھے کوئی اورچیز جبریل پر دلالت کرنے والی تھی حاشا یقینا جبرئیل ہی تھے اگر چہ یہ بھی یقینا معلوم ہے کہ جبریل کی صورت جمیلہ ہر گز صورت جملیہ نہیں لہ ستمأۃ جناح قد سدا لا فق(اس کے یعنی جبریل علیہ الصلوۃوالسلام کے چھ سو پر ہیں جو آسمان کے کناروں پر روك بن گیا۔ت)اس راز کو اہل حقائق ہی خوب سمجھتے ہیں ہم پر تسلیم واذعان واجب ہے اﷲ عزوجل فرماتاہے :
"واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون ﴿۲۰۴﴾" جب قرآن مجید پڑھا جائے تو خاموش ہو کر اسے کان سے سنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(ت)
اور فرماتاہے:
"فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ" تو اسے پناہ دو(یعنی آنے والے کو)تاکہ وہ اﷲ تعالی کا کلام سنے۔(ت)
اور فرماتاہے:
"فاقرءوا ما تیسر من القران " پڑھوجس قدرقرآن مجید آسان ہو(یعنی آسانی سے پڑھ سکو۔ت)
اور فرماتاہے:
"و لقد یسرنا القران للذکر فہل من مدکر ﴿۱۷﴾ " یقینا ہم نے نصیحت کے لئے قرآن مجیدآسان کردیا۔بھلا ہے کوئی نصیحت ماننے والا۔(ت)
اور فرماتاہے:
"بل ہو ایت بینت فی صدور الذین اوتوا العلم " بلکہ وہ روشن اور واضح آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں جنھیں علم سے نوازا گیا۔(ت)
اور فرماتاہے:
"و انہ لفی زبر الاولین ﴿۱۹۶﴾" بیشك وہ پہلے لوگوں کے صحیفوں میں موجود ہے۔(ت)
"واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون ﴿۲۰۴﴾" جب قرآن مجید پڑھا جائے تو خاموش ہو کر اسے کان سے سنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(ت)
اور فرماتاہے:
"فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ" تو اسے پناہ دو(یعنی آنے والے کو)تاکہ وہ اﷲ تعالی کا کلام سنے۔(ت)
اور فرماتاہے:
"فاقرءوا ما تیسر من القران " پڑھوجس قدرقرآن مجید آسان ہو(یعنی آسانی سے پڑھ سکو۔ت)
اور فرماتاہے:
"و لقد یسرنا القران للذکر فہل من مدکر ﴿۱۷﴾ " یقینا ہم نے نصیحت کے لئے قرآن مجیدآسان کردیا۔بھلا ہے کوئی نصیحت ماننے والا۔(ت)
اور فرماتاہے:
"بل ہو ایت بینت فی صدور الذین اوتوا العلم " بلکہ وہ روشن اور واضح آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں جنھیں علم سے نوازا گیا۔(ت)
اور فرماتاہے:
"و انہ لفی زبر الاولین ﴿۱۹۶﴾" بیشك وہ پہلے لوگوں کے صحیفوں میں موجود ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۷ /۲۰۴€
القرآن الکریم ∞۹/ ۶€
القرآن الکریم ∞۷۳ /۲۰€
القرآن الکریم ∞۵۴ /۱۷€
القرآن الکریم ∞۲۹ /۴۹€
القرآن الکریم ∞۲۶/ ۱۹۶€
القرآن الکریم ∞۹/ ۶€
القرآن الکریم ∞۷۳ /۲۰€
القرآن الکریم ∞۵۴ /۱۷€
القرآن الکریم ∞۲۹ /۴۹€
القرآن الکریم ∞۲۶/ ۱۹۶€
اور فرماتا ہے:
"فی صحف مکرمۃ ﴿۱۳﴾ مرفوعۃ مطہرۃۭ ﴿۱۴﴾" وہ باعزت بلند اور پاك صحیفوں میں مرقوم ہے۔(ت)
اور فرماتاہے:
"بل ہو قران مجید ﴿۲۱﴾ فی لوح محفوظ ﴿۲۲﴾" بلکہ شرف وبزرگی والا قرآن کریم لوح محفوظ(محفوظ تختی) میں(لکھا ہوا)ہے۔(ت)
اور فرماتاہے:
" انہ لقران کریم ﴿۷۷﴾ فی کتب مکنون ﴿۷۸﴾ لا یمسہ الا المطہرون ﴿۷۹﴾" بیشك وہ باعزت قرآن مجید ایك پوشیدہ کتاب میں درج ہے۔ اس کو سوائے پاکیزہ افراد کے اور کوئی ہاتھ نہیں لگاسکتا۔(ت)
اور فرماتاہے:
" الامین ﴿۱۹۳﴾ علی قلبک لتکون من المنذرین ﴿۱۹۴﴾ بلسان عربی مبین ﴿۱۹۵﴾" الی غیر ذلك من الایات اسے روح الامین(حضرت جبریل)نے واضح عربی زبان میں تمھارے قلب اطہر پر اتارا تاکہ تم سنانے والے حضرات میں سے ہوجاؤ یہاں تك کہ ان کے علاوہ اور بھی بیشمار اس نوع کی آیات ہیں۔(ت)
دیکھو اسی کو مقرواسی کومسموع اسی کو محفوظ اسی کو مکتوب قرار دیا اسی کو قرآن اور اپنا کلام فرمایا۔سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:
القران کلام اﷲ فی المصاحف مکتوب وفی القلوب محفوظ وعلی الا لسنۃ مقرو وعلی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منزل ولفظنا بالقران مخلوق وکتابتنا لہ مخلوق وکلام اﷲ تعالی غیر مخلوق ۔ قرآن مجید اﷲ کا کلام صحیفوں میں لکھا ہے اور دلوں میں محفوظ ہے اور زبانوں پر پڑھا گیا ہے۔اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ذات اقدس پر اتار اگیا ہے اور ہمارا قرآن مجید کہ بولنا اور اسی طرح اس کو لکھنا اور پڑھنا مخلوق ہے لیکن بااینمہ اﷲ کا کلام مخلوق نہیں۔(ت)
"فی صحف مکرمۃ ﴿۱۳﴾ مرفوعۃ مطہرۃۭ ﴿۱۴﴾" وہ باعزت بلند اور پاك صحیفوں میں مرقوم ہے۔(ت)
اور فرماتاہے:
"بل ہو قران مجید ﴿۲۱﴾ فی لوح محفوظ ﴿۲۲﴾" بلکہ شرف وبزرگی والا قرآن کریم لوح محفوظ(محفوظ تختی) میں(لکھا ہوا)ہے۔(ت)
اور فرماتاہے:
" انہ لقران کریم ﴿۷۷﴾ فی کتب مکنون ﴿۷۸﴾ لا یمسہ الا المطہرون ﴿۷۹﴾" بیشك وہ باعزت قرآن مجید ایك پوشیدہ کتاب میں درج ہے۔ اس کو سوائے پاکیزہ افراد کے اور کوئی ہاتھ نہیں لگاسکتا۔(ت)
اور فرماتاہے:
" الامین ﴿۱۹۳﴾ علی قلبک لتکون من المنذرین ﴿۱۹۴﴾ بلسان عربی مبین ﴿۱۹۵﴾" الی غیر ذلك من الایات اسے روح الامین(حضرت جبریل)نے واضح عربی زبان میں تمھارے قلب اطہر پر اتارا تاکہ تم سنانے والے حضرات میں سے ہوجاؤ یہاں تك کہ ان کے علاوہ اور بھی بیشمار اس نوع کی آیات ہیں۔(ت)
دیکھو اسی کو مقرواسی کومسموع اسی کو محفوظ اسی کو مکتوب قرار دیا اسی کو قرآن اور اپنا کلام فرمایا۔سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:
القران کلام اﷲ فی المصاحف مکتوب وفی القلوب محفوظ وعلی الا لسنۃ مقرو وعلی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم منزل ولفظنا بالقران مخلوق وکتابتنا لہ مخلوق وکلام اﷲ تعالی غیر مخلوق ۔ قرآن مجید اﷲ کا کلام صحیفوں میں لکھا ہے اور دلوں میں محفوظ ہے اور زبانوں پر پڑھا گیا ہے۔اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ذات اقدس پر اتار اگیا ہے اور ہمارا قرآن مجید کہ بولنا اور اسی طرح اس کو لکھنا اور پڑھنا مخلوق ہے لیکن بااینمہ اﷲ کا کلام مخلوق نہیں۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۸۰ /۱۳ و ۱€۴
القرآن الکریم ∞۸۵/ ۲€۱
القرآن الکریم ∞۵۶ /۷۷ تا ۷€۹
القرآن الکریم ∞۲۶ /۱۹۳ تا ۱۹۵€
فقہ اکبر مع وصیت نامہ ملك سراج الدین اینڈ سننز کشمیری بازار لاہور ص۴
القرآن الکریم ∞۸۵/ ۲€۱
القرآن الکریم ∞۵۶ /۷۷ تا ۷€۹
القرآن الکریم ∞۲۶ /۱۹۳ تا ۱۹۵€
فقہ اکبر مع وصیت نامہ ملك سراج الدین اینڈ سننز کشمیری بازار لاہور ص۴
نیز وصایا میں فرماتے ہیں:
نقربان القران کلام اﷲ تعالی و وحیہ وتنزیلہ و صفتہ لاھو ولاغیرہ بل ھو صفۃ علی التحقیق مکتوب فی المصاحف مقرو بالالسن محفوظ فی الصدور من غیر حلول فیہا(الی قولہ رضی اﷲ تعالی عنہ)واﷲ تعالی معبود ولا یزال عما کان وکلامہ مقرو ومکتوب ومحفوظ من غیر مزایلۃ عنہ ۔ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ قرآن مجید اﷲ تعالی کا کلام اس کی وحی اس کا نازل کردہ اور اس کی صفت ہے۔لہذا وہ عین ہے اور نہ غیر۔بلکہ بربنائے تحقیق اس کی صفت عالیہ ہے۔ صحیفوں میں لکھا ہوا۔زبانوں پر پڑھا ہوااور سینوں میں حلول کے بغیر محفوظ شدہ۔(امام صاحب رضی اﷲ تعالی عنہ کے ا س ارشاد تک)اﷲ تعالی سچامعبود ہے اور اس کی شان ہمیشہ"الان کما کان"(ایك شان پر جلوہ گر)ہے۔پس اس کا کلام پڑھا گیا۔ لکھا گیا۔اور حفاظت شدہ ہے۔بغیر اس کے کہ اس سے کوئی چیز زائل ہو۔(ت)
عارف باﷲ سیدی علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی مطالب وفیہ میں فرماتے ہیں:
لاتظن ان کلام اﷲ تعالی اثنان ھذا لفظ المقر و والصفۃ القدیمۃ کما زعم ذلك بعض من غلبت علیہ اصطلاحات الفلاسفۃ والمعتزلۃ فتکلم فی کلام اﷲ تعالی بما اداہ الیہ عقلہ وخالف اجماع السلف الصالحین رضی اﷲ تعالی عنہم علی ان کلام اﷲ تعالی واحد لا تعدد لہ بحال وھو عند نا وھو عندہ تعالی ولیس الذی عندنا یہ گمان نہ کیجئے کہ اﷲ تعالی کے دو کلام ہیں ایك یہ پڑھے ہوئے الفاظ دوسری وہ صفت قدیمہ۔جیسا کہ بعض ان لوگوں نے گمان کیا کہ جن پرفلاسفہ اور معتزلہ کی زبان (اصطلاحات) غالب ہوگئی۔ پھر انھوں نے اﷲ تعالی کے کلام میں ایسی گفتگو کی کہ جس تك انھیں ان کی ناقص عقل نے پہنچادیا۔اور انھوں نے اسلاف صالحین کے اجماع کا خلاف کیا رضی اﷲ تعالی عنہم باجود یہ کہ اﷲ تعالی کا کلام ایك ہے کسی حال میں اس کے اندر کوئی تعداد نہیں لہذا جو ہمارے نزدیك ہے وہی اﷲ تعالی کے نزدیك ہے۔اور یوں بھی نہیں جو ہمارے پاس ہے وہ غیر ہے اس کا جو اس کے پاس ہے اور نہ یہ ہے کہ جو کچھ اﷲ تعالی کے
نقربان القران کلام اﷲ تعالی و وحیہ وتنزیلہ و صفتہ لاھو ولاغیرہ بل ھو صفۃ علی التحقیق مکتوب فی المصاحف مقرو بالالسن محفوظ فی الصدور من غیر حلول فیہا(الی قولہ رضی اﷲ تعالی عنہ)واﷲ تعالی معبود ولا یزال عما کان وکلامہ مقرو ومکتوب ومحفوظ من غیر مزایلۃ عنہ ۔ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ قرآن مجید اﷲ تعالی کا کلام اس کی وحی اس کا نازل کردہ اور اس کی صفت ہے۔لہذا وہ عین ہے اور نہ غیر۔بلکہ بربنائے تحقیق اس کی صفت عالیہ ہے۔ صحیفوں میں لکھا ہوا۔زبانوں پر پڑھا ہوااور سینوں میں حلول کے بغیر محفوظ شدہ۔(امام صاحب رضی اﷲ تعالی عنہ کے ا س ارشاد تک)اﷲ تعالی سچامعبود ہے اور اس کی شان ہمیشہ"الان کما کان"(ایك شان پر جلوہ گر)ہے۔پس اس کا کلام پڑھا گیا۔ لکھا گیا۔اور حفاظت شدہ ہے۔بغیر اس کے کہ اس سے کوئی چیز زائل ہو۔(ت)
عارف باﷲ سیدی علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی مطالب وفیہ میں فرماتے ہیں:
لاتظن ان کلام اﷲ تعالی اثنان ھذا لفظ المقر و والصفۃ القدیمۃ کما زعم ذلك بعض من غلبت علیہ اصطلاحات الفلاسفۃ والمعتزلۃ فتکلم فی کلام اﷲ تعالی بما اداہ الیہ عقلہ وخالف اجماع السلف الصالحین رضی اﷲ تعالی عنہم علی ان کلام اﷲ تعالی واحد لا تعدد لہ بحال وھو عند نا وھو عندہ تعالی ولیس الذی عندنا یہ گمان نہ کیجئے کہ اﷲ تعالی کے دو کلام ہیں ایك یہ پڑھے ہوئے الفاظ دوسری وہ صفت قدیمہ۔جیسا کہ بعض ان لوگوں نے گمان کیا کہ جن پرفلاسفہ اور معتزلہ کی زبان (اصطلاحات) غالب ہوگئی۔ پھر انھوں نے اﷲ تعالی کے کلام میں ایسی گفتگو کی کہ جس تك انھیں ان کی ناقص عقل نے پہنچادیا۔اور انھوں نے اسلاف صالحین کے اجماع کا خلاف کیا رضی اﷲ تعالی عنہم باجود یہ کہ اﷲ تعالی کا کلام ایك ہے کسی حال میں اس کے اندر کوئی تعداد نہیں لہذا جو ہمارے نزدیك ہے وہی اﷲ تعالی کے نزدیك ہے۔اور یوں بھی نہیں جو ہمارے پاس ہے وہ غیر ہے اس کا جو اس کے پاس ہے اور نہ یہ ہے کہ جو کچھ اﷲ تعالی کے
حوالہ / References
فقہ اکبر مع وصیت نامہ ملك سراج الدین اینڈ سنز کشمیری بازار لاہور ص۲۹
غیر الذی عندہ ولا الذی عندہ غیر الذی عندنا بل ھو صفۃ واحدۃ قدیمۃ موجودۃ عندہ تعالی بغیر الۃ لوجودھا وموجودۃ ایضا عندنا بعینھا لکن سبب الۃ ھی نطقنا وکتابتنا وحفظنا فمتی نطقنا بھذہ الحروف القرانیۃ وکتبنا ھا وحفظنا ھا کانت تلك الصفۃ القدیمۃ القائمۃ بذات اﷲ التی ھی عندھا تعالی ھی عندنا ایضا بعینہا من غیر ان یتغیر من انھا عندہ تعالی ولا انفصلت عنہ تعالی ولا اتصلت بنا وانما ھی علی ما علیہ قبل نطقنا وکتابتنا وحفظنا الی اخر ما اطال واطاب علیہ رحمۃ الملك الوھاب۔ پاس ہے وہ اس کے خلاف ہے جو ہمارے پاس ہے۔بلکہ وہ ایك ہی صفت قدیمہ ہے جو اﷲ تعالی کے ہاں موجود ہے جبکہ اس کے وجود میں کسی آلہ کا کوئی دخل نہیں اور وہ بعینہ ہمارے پاس بھی موجو دہے مگر اس کا آلہ ہے اور وہ ہمارا بولنا لکھنا اوریاد رکھنا ہے۔پھر جب ہم ان حروف قرآنیہ کو بولیں انھیں لکھیں اور انھیں یاد کریں تو جو صفت قدیمہ کہ اﷲ تعالی کی ذات سے قائم ہے جو اس کے حضور موجود ہے یہ وہی ہے جو بعینہ ہمارے پاس موجود ہے بغیر اس کے کہ اس میں تبدیلی پیدا ہوجائے اس صفت سے جو اﷲ تعالی کے حضور موجود ہے اور یہ بھی نہیں کہ اﷲ تعالی سے کچھ منفصل (جدا) ہو کر ہم سے متصل(پیوستہ)ہوجائےبلکہ وہ صفت اب بھی اسی حالت پر موجود ہے جو ہمارے بولنےلکھنے اور یاد کرنے سے پہلے جس حالت پر موجود تھی۔علامہ موصوف نے آخر تك یہی طویل اور پاکیزہ کلام فرمایا بخشش کرنے والے کائنات کے حکمران کی ان پر بے پایاں اور خصوصی رحمت کا نزول ہو۔(ت)
حدیقہ ندیہ نوع اول فصل اول باب اول میں فرماتے ہیں:
اذا علمت ھذا ظھرلك فسادقول من قال ان کلام اﷲ تعالی مقول بالاشتراك الوضعی علی معنیین الصفۃ القدیمۃ والمولف من الحروف والکلمات الحادثۃ فانہ قول یؤول بصاحبہ الی اعتقاد الشرك فی صفات اﷲ تعالی واشارۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ جب تمھیں یہ معلوم ہوگیا تو پھر تم پر اس کے اس قول کافساد ظاہر گیا کہ جس نے یہ کہہ دیا کہ اﷲ تعالی کا کلام اشتراك وضعی کے طور پر دو معنوں پر بولا گیا ہے۔ایك صفت قدیمہ اور دوسرا وہ جو حروف اور کلمات حادثہ سے مرکب ہے۔کیونکہ یہ ایك ایسا قول ہے جو اﷲ تعالی کی صفات میں اعتقاد شرك کی طرف راجع(اور پہنچاتا ہے) (لہذا یہ قول قطعا ٹھیك نہیں)
حدیقہ ندیہ نوع اول فصل اول باب اول میں فرماتے ہیں:
اذا علمت ھذا ظھرلك فسادقول من قال ان کلام اﷲ تعالی مقول بالاشتراك الوضعی علی معنیین الصفۃ القدیمۃ والمولف من الحروف والکلمات الحادثۃ فانہ قول یؤول بصاحبہ الی اعتقاد الشرك فی صفات اﷲ تعالی واشارۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ جب تمھیں یہ معلوم ہوگیا تو پھر تم پر اس کے اس قول کافساد ظاہر گیا کہ جس نے یہ کہہ دیا کہ اﷲ تعالی کا کلام اشتراك وضعی کے طور پر دو معنوں پر بولا گیا ہے۔ایك صفت قدیمہ اور دوسرا وہ جو حروف اور کلمات حادثہ سے مرکب ہے۔کیونکہ یہ ایك ایسا قول ہے جو اﷲ تعالی کی صفات میں اعتقاد شرك کی طرف راجع(اور پہنچاتا ہے) (لہذا یہ قول قطعا ٹھیك نہیں)
حوالہ / References
المطالب الوفیہ شرح الفرائد السنیۃ
وسلم ھنا فی ھذا الحدیث(ای حدیث ان ھذا القرآن طرفہ بیداﷲ تعالی و طرفہ بایدیکم رواہ ابن ابی شیبۃ والطبرانی فی الکبیر عن ابی شریح رضی اﷲ تعالی عنہ)الی القران تفید انہ واحد لا تعدد لہ اصلا وھو الصفۃ القدیمۃ وھو مکتوب فی المصاحف المقروبالالسنۃالمحفوظ فی القلوب من غیر حلول فی شیئ من ذلك ومن لم یفھم ھذا علی حسب ما ذکرنا لصعوبتہ علیہ یجب علیہ الایمان بہ بالغیب کما یؤمن باﷲ تعالی وبباقی صفاتہ سبحانہ وتعالی ولا یجوز لاحد ان یقول بحدوث مافی المصاحف والقلوب والالسنۃ الی اخرھا افاد و اجاد علیہ رحمۃ الملك الجواد۔ اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کااس حدیث میں یعنی حدیث ذیل میں اس طرف اشارہ ہے۔یہ قرآن مجید اس کی ایك طرف اﷲ تعالی کے بے مثل ہاتھ میں ہے۔اور اس کی دوسری طرف تمھارے ہاتھوں میں ہے۔تو گویا آپ کا قرآن مجید کی اسی حیثیت کی طرف اشارہ ہے۔محدث ابن ابی شیبہ اور امام طبرانی نے معجم کبیرمیں حضرت ابو شریح رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا ہے پس اس اشارہ سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اﷲ تعالی کا کلام ایك ہے اس میں بالکل کوئی تعدد نہیں۔اور وہ صفت قدیمہ ہے جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے۔زبانوں سے پڑھا گیا اور دلوں میں ضبط شدہ ہے کہ جس میں کوئی حلول نہیںاو رجو کوئی ہمارے ذکر کردہ بیان کے مطابق اس مسئلہ کو بوجہ اس کے اشکال کے نہ سمجھے تو پھر بھی واجب ہے کہ وہ اس پر اسی طرح ایمان بالغیب رکھے کہ جس طرح اﷲ تعالی پاك اور برتر کی ذات اور دیگر صفات پر ایمان رکھتا ہے اور کسی کے لئے جائز نہیں کہ جو کچھ مصاحف میں مرقوم دلوں میں موجود اور زبانوں پر جاری ہے وہ حادث ہے(یہ سب کچھ)آخر تك علامہ موصوف نے افادہ فرمایا اور اس میں کمال کردیا۔لہذا اﷲ تعالی جو پوری کائنات کا بادشاہ اور نمایاں طور پر سخی ہے اس کی ان پر خصوصی رحمت وبرکات کا دائمی نزول ہو۔(ت)
امام اجل عارف باﷲ سیدی عبدالوہالا شعرانی قدس سرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبری باب مایجوز بیعہ ومالا میں فرماتے ہیں:
قدجعلہ(ای المکتوب والمصحف)اھل السنۃ والجماعۃ حقیقۃ کلام اﷲ تعالی اہل سنت وجماعت نے جو کچھ مصاحف میں لکھا ہوا ہے اس کو حقیقۃ اﷲ تعالی کا کلام ٹھہرا یا اگرچہ
امام اجل عارف باﷲ سیدی عبدالوہالا شعرانی قدس سرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبری باب مایجوز بیعہ ومالا میں فرماتے ہیں:
قدجعلہ(ای المکتوب والمصحف)اھل السنۃ والجماعۃ حقیقۃ کلام اﷲ تعالی اہل سنت وجماعت نے جو کچھ مصاحف میں لکھا ہوا ہے اس کو حقیقۃ اﷲ تعالی کا کلام ٹھہرا یا اگرچہ
حوالہ / References
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی فی الکبیر الترغیب فی اتباع الکتاب والسنۃ حدیث ۳ مصطفی البابی مصر ۱ /۷۹
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ باب اول مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۶۲۔۶۱
الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ باب اول مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۶۲۔۶۱
وان کان النطق بہ واقعا منا فافھم واکثر من ذلك لایقال ولا یسطر فی کتاب ۔ ہماری طرف سے اس کا تلفظ(بولنا)واقع ہوتا ہے۔لہذا اس کو اچھی طرح سمجھ لیجئے کیونکہ اس سے زیادہ نہ کہا جاسکتا ہے اور نہ کسی کتاب میں لکھا جاسکتاہے۔(ت)
اور پرظاہر کہ اس بارہ میں سب کسوٹیین یکساں ہیں جس طرح کاغذ کی رقوم میں وہی قرآن کریم میں مرقوم ہے اسی طرح فونو میں جب کسی قاری کی قراءت بھری گئی اور اشکال حرفیہ کہ ہوائے دہن پھر ہوائے مجاور میں بنی تھی اس آلہ میں مرتسم ہوئیں ان میں بھی وہی کلام عظیم مرسوم ہے اور جس طرح زبان قاری سے جوادا ہوا قرآن ہی تھا۔یوہیں اب جو اس آلہ سے ادا ہوگا قرآن ہی ہوگا جس طرح اس آلہ سے اگر حضرت شیخ سعدی قدس سرہ کی کوئی غزل ادا کی جائے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وہ غزل نہیں یا حضرت شیخ سعدی قدس سرہ کا کلام نہیں یوہیں جب اس سے کوئی آیہ کریمہ ادا کریں کوئی شبہہ نہیں کرسکتا کہ وہ آیت ادا نہ ہوئیضرور ادا ہوئی اور اسی تادیہ سے ہوئی جو اصل قاری کی زبان وگلو سے پیدا ہواتھا۔
رہا یہ کہ پھر اس کے سماع سے سجدہ کیوں نہیں واجب ہوتا جب کہ فونو سے کوئی آیہ سجدہ تلاوت کی جائے
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)ہاں فقیر نے یہی فتوی دیا ہے مگر اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ آیت نہیں اس کا انکار تو بداہت کا انکار ہے۔ نہ ہماری تحقیق پر یہاں اس عذر کی گنجائش ہے کہ وجوب سجدہ کے لئے قاری کا جنس مکلف سے ہونا عند الاکثر وھو الصحیح اور مذہب اصح پر عاقل بلکہ ایك مذہب مصحح پر بالفعل اہل ہوش سے بھی ہونا درکار ہے۔طوطی یا مینا کو آیت سجدہ سکھادی جائے تو اس کے سننے سے سجدہ واجب نہ ہوگا۔اسی طرح مجنون بلکہ ایك تصحیح میں سوتے کی تلاوت سے بھی وجوب نہیں نہ اس پر اگرچہ جاگنے کے بعد اسے اطلاع دے دی جائے کہ تو نے آیت سجدہ پڑھی تھی نہ اس سے سننے والے پر۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
لا تجب بسماعہ من الطیر ۔ سجدہ تلاوت واجب نہ ہوگا جبکہ کسی پرندے سے آیت سجدہ سنے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ھوالاصح زیلعی وغیرہ وقیل اور وہی زیادہ صحیح ہے زیلعی وغیرہ(میں یہی مذکورہ ہے)
اور پرظاہر کہ اس بارہ میں سب کسوٹیین یکساں ہیں جس طرح کاغذ کی رقوم میں وہی قرآن کریم میں مرقوم ہے اسی طرح فونو میں جب کسی قاری کی قراءت بھری گئی اور اشکال حرفیہ کہ ہوائے دہن پھر ہوائے مجاور میں بنی تھی اس آلہ میں مرتسم ہوئیں ان میں بھی وہی کلام عظیم مرسوم ہے اور جس طرح زبان قاری سے جوادا ہوا قرآن ہی تھا۔یوہیں اب جو اس آلہ سے ادا ہوگا قرآن ہی ہوگا جس طرح اس آلہ سے اگر حضرت شیخ سعدی قدس سرہ کی کوئی غزل ادا کی جائے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وہ غزل نہیں یا حضرت شیخ سعدی قدس سرہ کا کلام نہیں یوہیں جب اس سے کوئی آیہ کریمہ ادا کریں کوئی شبہہ نہیں کرسکتا کہ وہ آیت ادا نہ ہوئیضرور ادا ہوئی اور اسی تادیہ سے ہوئی جو اصل قاری کی زبان وگلو سے پیدا ہواتھا۔
رہا یہ کہ پھر اس کے سماع سے سجدہ کیوں نہیں واجب ہوتا جب کہ فونو سے کوئی آیہ سجدہ تلاوت کی جائے
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)ہاں فقیر نے یہی فتوی دیا ہے مگر اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ آیت نہیں اس کا انکار تو بداہت کا انکار ہے۔ نہ ہماری تحقیق پر یہاں اس عذر کی گنجائش ہے کہ وجوب سجدہ کے لئے قاری کا جنس مکلف سے ہونا عند الاکثر وھو الصحیح اور مذہب اصح پر عاقل بلکہ ایك مذہب مصحح پر بالفعل اہل ہوش سے بھی ہونا درکار ہے۔طوطی یا مینا کو آیت سجدہ سکھادی جائے تو اس کے سننے سے سجدہ واجب نہ ہوگا۔اسی طرح مجنون بلکہ ایك تصحیح میں سوتے کی تلاوت سے بھی وجوب نہیں نہ اس پر اگرچہ جاگنے کے بعد اسے اطلاع دے دی جائے کہ تو نے آیت سجدہ پڑھی تھی نہ اس سے سننے والے پر۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
لا تجب بسماعہ من الطیر ۔ سجدہ تلاوت واجب نہ ہوگا جبکہ کسی پرندے سے آیت سجدہ سنے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ھوالاصح زیلعی وغیرہ وقیل اور وہی زیادہ صحیح ہے زیلعی وغیرہ(میں یہی مذکورہ ہے)
حوالہ / References
المیزان الکبرٰی باب مایجوز یبعہ ومالایجوز مصطفی البابی مصر ۲ /۶۷
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۵
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۵
تجب وفی الحجۃ ھو الصحیحتاتارخانیۃ قلت والاکثر علی تصحیح الاول وبہ جزم فی نور الایضاح ۔ اوریہ بھی کہا گیا بصورت مذکورہ سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے چنانچہ فتاوی حجۃ میں ہے کہ یہی صحیح ہے تتارخانیہمیں کہتا ہوں کہ اکثر ائمہ کرام قول اول کی تصحیح پر قائم ہیں۔ چنانچہ نورالایضاح میں اسی پر یقین کیا ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
النائم اذا اخبرانہ قرأھا فی حالۃ النوم تجب علیہ وھو الاصح تتارخانیہ و فی الدرایۃ لا تلزمہ ھو الصحیح امداد ففیہ اختلاف التصحیح وامالزومھا علی السامع منہ اومن المغمی علیہ فنقل فی الشرنبلالیۃ ایضا اختلاف الروایۃ و التصحیح وکذا من المجنون ۔ سونے والے کو جب بتا یا جائے کہ اس نے بحالت خواب آیت سجدہ پڑھی تو اس پر سجدہ کرنا واجب ہے۔اوریہی زیادہ صحیح ہے۔تتارخانیہ اور درایہ میں ہے۔کہ اس پر(دریں صورت) سجدہ لازم نہیں اور یہی صحیح ہے۔امدادپس اس میں تصحیح کا اختلاف ہے لیکن سامع (سننے والا)اور بیہوش پر سجدہ تلاوت کا لزوم(تو اس کے متعلق گزارش ہے کہ شرنبلالیہ میں روایۃ اور تصحیح کا اختلاف نقل کیا گیا ہے۔اور اسی طرح دیوانے کے بارے میں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قال فی الفتح لکن ذکر الشیخ الا سلام انہ لایجب بالسماع من مجنون او نائم او طیرلان السبب سماع تلاوۃ صحیحۃ وصحتھا التمییز ولم یوجد وھذا التعلیل یفید التفصیل فی الصبی فلیکن ھو المعتبر ان کان ممیزا وجب بالسماع منہ و الا فلااھ واستحسنہ فی الحلیۃ ۔ فتح القدیر میں فرمایا:لیکن شیخ الاسلام نے ذکر فرمایا اگر دیوانے یا سونے والے یا پرندہ سے آیت سجدہ سنی تو سجدہ تلاوت واجب نہیں کیونکہ اس کا سبب تلاوت صحیحہ ہے۔اور صحت تلاوت کا مدار تمیز ہے اور وہ یہاں نہیں پائی گئی۔اور یہ تعلیل اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ یہی تفصیل بچے میں کی جائے گی۔لہذا اسی کااعتبار کرنا چاہئےکہ اگر بچہ عقل وتمیز رکھتا ہے تو اس سے آیۃ سجدہ سنی گئی تو سجدہ تلاوت واجب ہے ورنہ نہیں اھ اور اس کو حلیہ میں مستحسن قرار دیا گیا ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
النائم اذا اخبرانہ قرأھا فی حالۃ النوم تجب علیہ وھو الاصح تتارخانیہ و فی الدرایۃ لا تلزمہ ھو الصحیح امداد ففیہ اختلاف التصحیح وامالزومھا علی السامع منہ اومن المغمی علیہ فنقل فی الشرنبلالیۃ ایضا اختلاف الروایۃ و التصحیح وکذا من المجنون ۔ سونے والے کو جب بتا یا جائے کہ اس نے بحالت خواب آیت سجدہ پڑھی تو اس پر سجدہ کرنا واجب ہے۔اوریہی زیادہ صحیح ہے۔تتارخانیہ اور درایہ میں ہے۔کہ اس پر(دریں صورت) سجدہ لازم نہیں اور یہی صحیح ہے۔امدادپس اس میں تصحیح کا اختلاف ہے لیکن سامع (سننے والا)اور بیہوش پر سجدہ تلاوت کا لزوم(تو اس کے متعلق گزارش ہے کہ شرنبلالیہ میں روایۃ اور تصحیح کا اختلاف نقل کیا گیا ہے۔اور اسی طرح دیوانے کے بارے میں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قال فی الفتح لکن ذکر الشیخ الا سلام انہ لایجب بالسماع من مجنون او نائم او طیرلان السبب سماع تلاوۃ صحیحۃ وصحتھا التمییز ولم یوجد وھذا التعلیل یفید التفصیل فی الصبی فلیکن ھو المعتبر ان کان ممیزا وجب بالسماع منہ و الا فلااھ واستحسنہ فی الحلیۃ ۔ فتح القدیر میں فرمایا:لیکن شیخ الاسلام نے ذکر فرمایا اگر دیوانے یا سونے والے یا پرندہ سے آیت سجدہ سنی تو سجدہ تلاوت واجب نہیں کیونکہ اس کا سبب تلاوت صحیحہ ہے۔اور صحت تلاوت کا مدار تمیز ہے اور وہ یہاں نہیں پائی گئی۔اور یہ تعلیل اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ یہی تفصیل بچے میں کی جائے گی۔لہذا اسی کااعتبار کرنا چاہئےکہ اگر بچہ عقل وتمیز رکھتا ہے تو اس سے آیۃ سجدہ سنی گئی تو سجدہ تلاوت واجب ہے ورنہ نہیں اھ اور اس کو حلیہ میں مستحسن قرار دیا گیا ہے۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۱۷
ردالمحتار کتا ب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۱۶
ردالمحتار کتا ب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۱۶
ردالمحتار کتا ب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۱۶
ردالمحتار کتا ب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۱۶
ہم ثابت کرتے آئے ہیں کہ یہ جو فونو سے سننے میں آئی اس مکلف عاقل ذی ہوش کی تلاوت ہے نہ کہ اس کی مثال وحکایت۔پھر آخر یہاں سجدہ نہ واجب ہونے کی کیا وجہ ہے۔اقول:(میں کہتاہوں۔ت)ہاں وجہ ہے اورنہایت موجہ ہے کہ گنبد کے اندر یا پہاڑ یا چکنی گچ کردہ دیوار کے پا س اور کبھی صحرا میں بھی خود اپنی آواز پلٹ کر دوبارہ سنائی دیتی ہے جسے عربی میں صدا کہتے ہیں۔ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اس کے سننے سے بھی سجدہ واجب نہیں ہوتانہ خود قاری پر نہ سامع اول پر جس نے تلاوت سن کر دوبارہ یہ گونج سنی نہ نئے پر جس نے پہلی تلاوت نہ سنی تھی اور یہ صدا ہی سنی کہ حکم مطلق ہے۔تنویر ودر میں ہے:
لاتجب بسماعۃ من الصدی ۔ آواز بازگشت سے آیت سجدہ سنی تو سجدہ تلاوت واجب نہیں۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
تجب علی المحدث والجنب وکذا تجب علی السامع بتلاوۃ ھؤلاء الا المجنون لعدم اھلیتہ لا نعدام التمییز کالسماع من الصدی کذا فی البدائع والصدی مایعارض الصوت فی الاماکن الخالیۃ ۔
بے وضو اور جنبی(ناپاک)پر سجدہ تلاوت ادا کرنا واجب ہے۔اور اسی طرح ان لوگوں سے تلاوت سننے والے پر بھی سجدہ کرنا واجب ہے مگر دیوانے پر نہیں۔اس لئے کہ وہ اہلیت سجدہ نہیں رکھتا کیونکہ اس میں عقل اور تمیز نہیں جیسے آواز بازگشت سننے سے وجوب سجدہ نہیں۔البدائع میں یہی مذکور ہے اور صدی(آواز بازگشت)وہ ہے جو بلند مقامات میں آواز سے ٹکرائے اور اس کے مقابل پید اہوجائے۔(ت)
اب صدا میں علماء مختلف ہیں کہ ہوا اسی تموج اول سے پلٹتی ہے یا گنبد وغیرہ کی ٹھیس سے وہ تموج زائل ہوکر تموج تازہ اس کیفیت سے متکیف ہم تك آتا ہے مواقف ومقاصد اور ان کی شروح میں ثانی کو ظاہر بتایا پھر اس ثانی کے بیان میں عبارات مختلف ہیں بعض اس طرف جاتی ہیں کہ پلٹتی وہی ہوا ہے مگر اس میں تموج نیا ہے یہی ظاہر ہے شرح مواقف وطوالع وبعض شروح طوالع سےبعض تصریح کرتی ہیں ہوا ہی دو سری اس کیفیت سے متکیف ہوکر آتی ہے یہ نص مواقف ومقاصد شرح ہے۔مطالع الانظار کی عبارت پھر متحمل ہے ولہذا ہم نے یہ مضمون ایسے الفاظ میں اد اکیا کہ دونوں معنی پید ا کریں۔مواقف
لاتجب بسماعۃ من الصدی ۔ آواز بازگشت سے آیت سجدہ سنی تو سجدہ تلاوت واجب نہیں۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
تجب علی المحدث والجنب وکذا تجب علی السامع بتلاوۃ ھؤلاء الا المجنون لعدم اھلیتہ لا نعدام التمییز کالسماع من الصدی کذا فی البدائع والصدی مایعارض الصوت فی الاماکن الخالیۃ ۔
بے وضو اور جنبی(ناپاک)پر سجدہ تلاوت ادا کرنا واجب ہے۔اور اسی طرح ان لوگوں سے تلاوت سننے والے پر بھی سجدہ کرنا واجب ہے مگر دیوانے پر نہیں۔اس لئے کہ وہ اہلیت سجدہ نہیں رکھتا کیونکہ اس میں عقل اور تمیز نہیں جیسے آواز بازگشت سننے سے وجوب سجدہ نہیں۔البدائع میں یہی مذکور ہے اور صدی(آواز بازگشت)وہ ہے جو بلند مقامات میں آواز سے ٹکرائے اور اس کے مقابل پید اہوجائے۔(ت)
اب صدا میں علماء مختلف ہیں کہ ہوا اسی تموج اول سے پلٹتی ہے یا گنبد وغیرہ کی ٹھیس سے وہ تموج زائل ہوکر تموج تازہ اس کیفیت سے متکیف ہم تك آتا ہے مواقف ومقاصد اور ان کی شروح میں ثانی کو ظاہر بتایا پھر اس ثانی کے بیان میں عبارات مختلف ہیں بعض اس طرف جاتی ہیں کہ پلٹتی وہی ہوا ہے مگر اس میں تموج نیا ہے یہی ظاہر ہے شرح مواقف وطوالع وبعض شروح طوالع سےبعض تصریح کرتی ہیں ہوا ہی دو سری اس کیفیت سے متکیف ہوکر آتی ہے یہ نص مواقف ومقاصد شرح ہے۔مطالع الانظار کی عبارت پھر متحمل ہے ولہذا ہم نے یہ مضمون ایسے الفاظ میں اد اکیا کہ دونوں معنی پید ا کریں۔مواقف
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتا ب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۵
بحرالرائق کتا ب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ مصطفی البابی مصر ۲ /۱۱۹
بحرالرائق کتا ب الصلٰوۃ باب سجود التلاوۃ مصطفی البابی مصر ۲ /۱۱۹
میں ہے:
الظاھر الصدی تموج ھواء جدید لارجوع الھواء الاول ۔ ظاہر یہ ہے کہ آواز بازگشت ایك نئی ہوا میں موج پیدا ہوناہے۔لہذا وہ پہلی ہوا کا واپس لوٹنا نہیں۔(ت)
شرح میں ہے:
وذلك لان الھواء اذا تموج علی الوجہ الذی عرفتہ حتی صادم جسما یقادمہ و یردہ الی خلف لم یبق فی الھواء المصادم ذلك التموج بل یحصل فیہ بسبب مصادمتہ ورجوعہ تموج شبیہ بالتموج الاول وقد یظن ان الھواء المصادم یرجع متصفا بتموجہ الاول بعینہ فیحمل ذلك الصوت الاول الی السامع الاتری ان الصدی یکون علی صفتہ وھیأتہ وھذا وان کان محتملا الا ان الاول ھو الظاھر ۔ یہ اس لئے کہ جب ہوا میں اس وجہ کے مطابق موج پیدا ہو کہ جس کو آپ پہچان چکے حتی کہ اگر وہ کسی ایسے جسم سے ٹکرائے کہ جو اس کے مقابلے میں آئے اور وہ اسے پیچھے کی طرف لوٹادے تو پھر اس ٹکرانے والی ہوا میں وہ تموج باقی نہ رہے گا بلکہ اس میں تصاد م اور رجوع کی وجہ اور سبب سے ایك ایسا تموج پیدا ہوگا جو تموج اول کے بالکل مشابہ اور اس کی شبیہ ہوگااور کبھی یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ہوا متصادم بعینہ یعنی بالکل اس پہلے تموج کے ساتھ متصف رہتے ہوئے واپس لوٹتی ہے پھر اس پہلی ہی آواز کو اٹھا کر سامع تك پہنچادیتی ہے کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ صدی(بازگشت)اپنی صفت اور ہیئت پر باقی ہوتی ہے اگر چہ اس بات کا احتمال ہے مگر پہلی بات ہی ظاہر ہے۔(ت)
مقاصد میں ہے:
جعل الواصل نفس الہواء الراجع او اخر متکیفا بکیفیتہ علی ما ھو الظاھر ۔ نفس ہوا راجع کو واصل قرار دینا یا دوسری ہوا کو جو پہلی کی کیفیت سے متکیف(اور متصف)ہو جیسا کہ یہ ظاہر ہے۔(ت)
شرح میں ہے:
الظاھر الصدی تموج ھواء جدید لارجوع الھواء الاول ۔ ظاہر یہ ہے کہ آواز بازگشت ایك نئی ہوا میں موج پیدا ہوناہے۔لہذا وہ پہلی ہوا کا واپس لوٹنا نہیں۔(ت)
شرح میں ہے:
وذلك لان الھواء اذا تموج علی الوجہ الذی عرفتہ حتی صادم جسما یقادمہ و یردہ الی خلف لم یبق فی الھواء المصادم ذلك التموج بل یحصل فیہ بسبب مصادمتہ ورجوعہ تموج شبیہ بالتموج الاول وقد یظن ان الھواء المصادم یرجع متصفا بتموجہ الاول بعینہ فیحمل ذلك الصوت الاول الی السامع الاتری ان الصدی یکون علی صفتہ وھیأتہ وھذا وان کان محتملا الا ان الاول ھو الظاھر ۔ یہ اس لئے کہ جب ہوا میں اس وجہ کے مطابق موج پیدا ہو کہ جس کو آپ پہچان چکے حتی کہ اگر وہ کسی ایسے جسم سے ٹکرائے کہ جو اس کے مقابلے میں آئے اور وہ اسے پیچھے کی طرف لوٹادے تو پھر اس ٹکرانے والی ہوا میں وہ تموج باقی نہ رہے گا بلکہ اس میں تصاد م اور رجوع کی وجہ اور سبب سے ایك ایسا تموج پیدا ہوگا جو تموج اول کے بالکل مشابہ اور اس کی شبیہ ہوگااور کبھی یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ہوا متصادم بعینہ یعنی بالکل اس پہلے تموج کے ساتھ متصف رہتے ہوئے واپس لوٹتی ہے پھر اس پہلی ہی آواز کو اٹھا کر سامع تك پہنچادیتی ہے کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ صدی(بازگشت)اپنی صفت اور ہیئت پر باقی ہوتی ہے اگر چہ اس بات کا احتمال ہے مگر پہلی بات ہی ظاہر ہے۔(ت)
مقاصد میں ہے:
جعل الواصل نفس الہواء الراجع او اخر متکیفا بکیفیتہ علی ما ھو الظاھر ۔ نفس ہوا راجع کو واصل قرار دینا یا دوسری ہوا کو جو پہلی کی کیفیت سے متکیف(اور متصف)ہو جیسا کہ یہ ظاہر ہے۔(ت)
شرح میں ہے:
حوالہ / References
المواقف مع شرحہ النوع الثالث المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۲۶۷
شرح المواقف النوع الثالث المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۶۸،۲۶۷
المقاصد علی ہامش شرح المقاصد النوع الثالث دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۲۱۷
شرح المواقف النوع الثالث المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۵ /۶۸،۲۶۷
المقاصد علی ہامش شرح المقاصد النوع الثالث دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۲۱۷
ترددوا فی ان حدوثہ من تموج الھواء الاول الراجع علی ھیأتہ او من تموج ھواء اخر بیننا وبین المقاوم متکیف بکیفیۃ الھواء الراجع وھذا ھو الاشبہ ۔ ماہرین عقلیات کو اس بات میں تردد(اورتذبذب)ہے کہ آواز کے پیدا ہونے کا اصل سبب کیا ہے۔آیا وہ پہلی ہوا جو اپنی ہیئت پر لوٹنے والی ہے(وہ اس کے حدوث کا سبب ہے)یا کسی دوسری ہوا کا تموج(لہرانا)جو ہمارے اور جسم کے مقابل کے درمیان واقع ہے جو لوٹنے والی ہوا کی کیفیت سے متصف اور متکیف ہے(وہ آواز کے حدوث کا سبب ہے)اوریہی شبہہ ہے۔(ت)
طوالع میں ہے:
الصدی صوت یحصل من انصراف ھواء متموج عن جبل او جسم املس ۔ الصدی آواز بازگشت ایك ایسی آواز ہے جو کسی پہاڑ یا ملائم (چکنا)جسم سے موج والی ہوا کے لوٹنے سے پیدا ہوتی ہے۔(ت)
اس کی شرح مطالع میں ہے:
فان الھواء اذا تموج وقاومہ مصادم کجبل او جدار ا ملس بحیث یصرف ھذا الھواء المتموج الی خلف محفوظا فیہ ھیئاۃ تموج الھواء الاول حدث من ذلك صوت وھو الصداء ۔ جب ہوا میں تموج یعنی لہر پیدا ہواور کوئی ٹکرانے والا جسم (متصادم)اس کے مقابل ہوجائے جیسے پہاڑ یا کوئی ملائم دیوار کہ یہ مقابل جسم اس تموج والی ہوا کو پیچھے پھیردے اور دھکیل دے کہ اس پہلی ہوا کا تموج اپنی ہیت پر بدستور محفوظ ہو پس اس سے ایك آوازپیدا ہوگی۔پس وہی"صدی"یعنی آواز بازگشت ہے۔(ت)
اس کی دوسری شرح میں ہے:
الصدی صوت یحصل من ھواء متموج منصرف عن جسم املس یقاوم الھواء المتموج ویمنعہ من النفوذ الصدی آواز بازگشت ایك آواز ہے جو موج والی ہوا جو کسی ملائم جسم کی وجہ سے لوٹتی ہے جو تموج والی ہوا کے مقابل ہوتا ہے۔اور اس کو
طوالع میں ہے:
الصدی صوت یحصل من انصراف ھواء متموج عن جبل او جسم املس ۔ الصدی آواز بازگشت ایك ایسی آواز ہے جو کسی پہاڑ یا ملائم (چکنا)جسم سے موج والی ہوا کے لوٹنے سے پیدا ہوتی ہے۔(ت)
اس کی شرح مطالع میں ہے:
فان الھواء اذا تموج وقاومہ مصادم کجبل او جدار ا ملس بحیث یصرف ھذا الھواء المتموج الی خلف محفوظا فیہ ھیئاۃ تموج الھواء الاول حدث من ذلك صوت وھو الصداء ۔ جب ہوا میں تموج یعنی لہر پیدا ہواور کوئی ٹکرانے والا جسم (متصادم)اس کے مقابل ہوجائے جیسے پہاڑ یا کوئی ملائم دیوار کہ یہ مقابل جسم اس تموج والی ہوا کو پیچھے پھیردے اور دھکیل دے کہ اس پہلی ہوا کا تموج اپنی ہیت پر بدستور محفوظ ہو پس اس سے ایك آوازپیدا ہوگی۔پس وہی"صدی"یعنی آواز بازگشت ہے۔(ت)
اس کی دوسری شرح میں ہے:
الصدی صوت یحصل من ھواء متموج منصرف عن جسم املس یقاوم الھواء المتموج ویمنعہ من النفوذ الصدی آواز بازگشت ایك آواز ہے جو موج والی ہوا جو کسی ملائم جسم کی وجہ سے لوٹتی ہے جو تموج والی ہوا کے مقابل ہوتا ہے۔اور اس کو
حوالہ / References
شرح المقاصد النوع الثالث دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱/ ۲۱۸
طوالع الانوار
مطالع الانظار شرح طوالع الانوار
طوالع الانوار
مطالع الانظار شرح طوالع الانوار
فیہ وبالضرورۃ ینصرف الھواء المتموج من ذلك الجسم الی الخلف علی مثل الھیائۃ التی کان علیھا وحینئذ یحتمل ان یکون الھواء المتموج المصادم للجسم الا ملس یرجع متصفا بتموجہ الاول بعینہ ویحمل الصوت الی السامع وان یکون سبب الصدی تموج جدید حصل للھواء لانہ اذا تموج الھواء حتی صادم جسما املس یقاومہ ویردہ الی الخلف لم یبق فی الھواء المتصادم ذلك التموج بل یحصل لسبب المصادمۃ والرجوع تموج شبیہ بالتموج الاول فھنا التموج الجدید الذی کان ابتداء ہ عندانتھاء الجدید الذی ھو سبب الصدی قیل الاظھر ھو الثانی ۔ اس میں نفوذ سے روکتا ہے۔لہذا اس ضرورت کی بناء پر تموج والی ہو ا اس جسم سے اسی پہلی ہیئت پر پیچھے کی طر ف لوٹ جاتی ہے۔لہذا اس صورت میں یہ احتمال ہے کہ تموج والی ہوا جو کسی چکنے اور ملائم جسم سے ٹکراتے ہوئے بعینہ پہلے تموج سے متصف رہتے ہوئے لوٹ جائے اور آواز کو اٹھا کر سامع تك پہنچادے۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آواز بازگشت(صدی)کاسبب کوئی تموج جدید ہو جو ہوا کو حاصل ہوا ہوکیونکہ جب ہوا میں تموج پیدا ہو جبکہ اس سے کوئی ایسا ملائم جسم مقابل ہوجائے جو اسے پیچھے کی طرف لوٹا دے۔پھر ہوا متصادم میں وہ تموج باقی نہ رہے گا بلکہ تصادم اور رجوع کے سبب سے ہوا میں کوئی ایسی موج پیدا ہوجائے جو بالکل تموج اول کی شبیہ ہو۔پس یہ تموج جدید کہ جس کی راہنمائی پہلے تموج کی انتہا سے ہے۔پس یہی آواز بازگشت(صدی)کا سبب ہے۔اور کہا گیا کہ یہ دوسری بات زیادہ ظاہر ہے۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)بر تقدیر ثانی ظاہر وہی معنی ثانی ہے کہ راجع ہوائے ثانی ہے
اولا: صدمہ جبل نے اگر ہوائے اول کو روك لیا اور اس کا تموج دور کردیا تو دوبارہ اس میں تموج کہاں سے آیا وہ تصادم تو اس کا مسکن ٹھہرا نہ کہ محرک۔
ثانیا: اثر قرع دو تھے۔تحرك وتشکل۔جوصدمہ تحرك سے روك دے گا تشکل کب رہنے دے گا جو نقش برآب سے بھی نہایت جلد مٹنے والا ہے کیا ہم نہیں دیکھتے کہ پانی کو جنبش دینے سے جوشکل اس میں پیدا ہوتی ہے اس کے ساکن ہوتے ہی معا جاتی رہتی ہے۔خود شرح مواقف میں گزرا اذا انتفی انتفی (جب وہ منفی ہوگا تویہ منفی ہوگا۔ت) اور جب وہ تشکل جاتا رہا تو اب اگر کسی محرك سے پلٹے گی بھی
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)بر تقدیر ثانی ظاہر وہی معنی ثانی ہے کہ راجع ہوائے ثانی ہے
اولا: صدمہ جبل نے اگر ہوائے اول کو روك لیا اور اس کا تموج دور کردیا تو دوبارہ اس میں تموج کہاں سے آیا وہ تصادم تو اس کا مسکن ٹھہرا نہ کہ محرک۔
ثانیا: اثر قرع دو تھے۔تحرك وتشکل۔جوصدمہ تحرك سے روك دے گا تشکل کب رہنے دے گا جو نقش برآب سے بھی نہایت جلد مٹنے والا ہے کیا ہم نہیں دیکھتے کہ پانی کو جنبش دینے سے جوشکل اس میں پیدا ہوتی ہے اس کے ساکن ہوتے ہی معا جاتی رہتی ہے۔خود شرح مواقف میں گزرا اذا انتفی انتفی (جب وہ منفی ہوگا تویہ منفی ہوگا۔ت) اور جب وہ تشکل جاتا رہا تو اب اگر کسی محرك سے پلٹے گی بھی
حوالہ / References
شرح طوالع الانوار
شرح المواقف المقصدالاول النوع الثانی منشورات الرضی قم ایران ۵ /۲۵۸
شرح المواقف المقصدالاول النوع الثانی منشورات الرضی قم ایران ۵ /۲۵۸
اشکال حرفیہ کہاں سے لائے گی کہ وہ تحریك غیر ناطق سے ناممکن ہیں تو اس قول ثانی کی صحیح وصاف تعبیر وہی ہے جو مواقف ومقاصد میں فرمائی یعنی مثلا مقاومت جبل سے یہ ہوا تو رك گئی مگر اس کا دھکا وہاں کی ہوا کو لگا اور اس کے قرع سے اس میں تشکل وتحرك آیا آواز کا ٹھپا اس میں سے اس میں اتر گیا اور یہ رك گئی کہ نہ اس میں تحرك رہا نہ تشکل۔
ثم اقول:(پھر میں کہتا ہوں۔ت)شاید قائل کہہ سکے کہ پہلا قول اظہر ہے کہ مصادمت اجسام میں وہی پیش نظر ہے قوت محرکہ جتنی طاقت سے حرکت دیتی ہے پھینکا ہوا جسم اگر راہ میں مانع سے نہیں ملتا اس طاقت کو پورا کرکے رك جاتاہے اور اگر طاقت باقی ہے اور بیچ میں مقاوم مل گیا تصادم واقع ہوتا ہے اور وہ جسم ٹھوکر کھا کر بقیہ طاقت تحریك کے قدر پیچھے لوٹتا ہے یوں اس قوت کو پورا کرتا ہے جیسے گیند بقوت زمین پر مارنے سے مشاہدہ ہے اور جواب دے سکتے ہیں کہ یہ اس حالت میں ہے کہ دونوں جانب سے تصادم ہو ہوا سالطیف جسم پہاڑ کے صدمہ سے ٹکر کھا کر پلٹنا ضرور نہیں غایت یہ کہ پھیل جائے بہر حال کچھ سہی اتنا یقینی ہے کہ آواز وہی آواز متکلم ہے خواہ پہلی ہی ہوا اسے لئے ہوئے پلٹ آئی یا اس کے قرع سے آواز کی کاپی دوسری میں اترگئی اور وہ لائی مگر شرع مطہر نے اس کے سننے سے سجدہ واجب نہ فرمایا قول ثانی پر یہ کہنا ہوگا کہ سماع میں ایجاب سجدہ کے لئے اسی تموج اول سے وقوع سماع لازم ہے اور قول اول پر قید بڑھانی واجب ہوگی کہ وہ تموج محض اس طاقت کا سلسلہ ہو جو تحریك گلو وزبان تالی نے پیدا کی تھی پلٹنے میں وہ قوت تنہا نہ رہی بلکہ تصادم کی قوت دافعہ بھی شریك ہوگئی۔غرض کچھ کہئے یہی حکم سماع فونو میں ہوگا قول ثانی پر بعینہ وہی فونو کا واقعہ ہے کہ تشکل باقی اور متموج ہوائے ثانی اور قول اول پر یہاں بدرجہ اولی عدم وجوب لازم کہ جب بحال بقائے تموج وتشکل معاصرف تخلل تصادم و رجوع سے ایجاب نہ رہا تو یہاں کہ تموج بدل گیا بروجہ اولی وجوب نہ ہوگا۔اور مختصر یہ ہے کہ سجدہ سماع اول پر ہے نہ کہ معاد پر اگر چہ خاص اس سامع کی نظر سے مکرر نہ ہو اور شك نہیں کہ سماع صدا سماع معادہے۔اور فونو کی تووضع ہی اعادہ سماع کے لئے ہوئی ہے لہذا ان سے ایجاب سجدہ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
جب یہ مقدمہ جلیلہ ممہدہولیا تو اب بتوفیقہ تعالی تنقیح مسئلہ کی طرف چلئے۔یہاں صور عدیدہ ووجوہ شتی ہیں:
وجہ اول:سب میں پہلے تحقیق طلب ان پلیٹوں گلاسوں کی طہارت ہے۔مسالا کہ ان پر لگایا جاتاہے اگر اس میں کوئی ناپاك جز شامل ہے۔(جس طرح یورپ کی اکثر اشیاء میں معہود ومشہور ہے۔
ثم اقول:(پھر میں کہتا ہوں۔ت)شاید قائل کہہ سکے کہ پہلا قول اظہر ہے کہ مصادمت اجسام میں وہی پیش نظر ہے قوت محرکہ جتنی طاقت سے حرکت دیتی ہے پھینکا ہوا جسم اگر راہ میں مانع سے نہیں ملتا اس طاقت کو پورا کرکے رك جاتاہے اور اگر طاقت باقی ہے اور بیچ میں مقاوم مل گیا تصادم واقع ہوتا ہے اور وہ جسم ٹھوکر کھا کر بقیہ طاقت تحریك کے قدر پیچھے لوٹتا ہے یوں اس قوت کو پورا کرتا ہے جیسے گیند بقوت زمین پر مارنے سے مشاہدہ ہے اور جواب دے سکتے ہیں کہ یہ اس حالت میں ہے کہ دونوں جانب سے تصادم ہو ہوا سالطیف جسم پہاڑ کے صدمہ سے ٹکر کھا کر پلٹنا ضرور نہیں غایت یہ کہ پھیل جائے بہر حال کچھ سہی اتنا یقینی ہے کہ آواز وہی آواز متکلم ہے خواہ پہلی ہی ہوا اسے لئے ہوئے پلٹ آئی یا اس کے قرع سے آواز کی کاپی دوسری میں اترگئی اور وہ لائی مگر شرع مطہر نے اس کے سننے سے سجدہ واجب نہ فرمایا قول ثانی پر یہ کہنا ہوگا کہ سماع میں ایجاب سجدہ کے لئے اسی تموج اول سے وقوع سماع لازم ہے اور قول اول پر قید بڑھانی واجب ہوگی کہ وہ تموج محض اس طاقت کا سلسلہ ہو جو تحریك گلو وزبان تالی نے پیدا کی تھی پلٹنے میں وہ قوت تنہا نہ رہی بلکہ تصادم کی قوت دافعہ بھی شریك ہوگئی۔غرض کچھ کہئے یہی حکم سماع فونو میں ہوگا قول ثانی پر بعینہ وہی فونو کا واقعہ ہے کہ تشکل باقی اور متموج ہوائے ثانی اور قول اول پر یہاں بدرجہ اولی عدم وجوب لازم کہ جب بحال بقائے تموج وتشکل معاصرف تخلل تصادم و رجوع سے ایجاب نہ رہا تو یہاں کہ تموج بدل گیا بروجہ اولی وجوب نہ ہوگا۔اور مختصر یہ ہے کہ سجدہ سماع اول پر ہے نہ کہ معاد پر اگر چہ خاص اس سامع کی نظر سے مکرر نہ ہو اور شك نہیں کہ سماع صدا سماع معادہے۔اور فونو کی تووضع ہی اعادہ سماع کے لئے ہوئی ہے لہذا ان سے ایجاب سجدہ نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
جب یہ مقدمہ جلیلہ ممہدہولیا تو اب بتوفیقہ تعالی تنقیح مسئلہ کی طرف چلئے۔یہاں صور عدیدہ ووجوہ شتی ہیں:
وجہ اول:سب میں پہلے تحقیق طلب ان پلیٹوں گلاسوں کی طہارت ہے۔مسالا کہ ان پر لگایا جاتاہے اگر اس میں کوئی ناپاك جز شامل ہے۔(جس طرح یورپ کی اکثر اشیاء میں معہود ومشہور ہے۔
ان کے یہاں شراب کے برابر کوئی شے حافظ قوت ادویہ نہیں اور تمام تحلیلات اعمال کیمیا ویہ میں جن سے ایسی تراکیب کم خالی ہوتی ہیں اسپرٹ کا استعمال لازم ہے اسپرٹ قطعا شراب ہے سمیت کے سبب قابل شرب نہ ہونا اسے شراب ہونے سے خارج نہیں کرسکتا بلکہ اس کی سمیت ہی غایت جوش واشتداد وسکروفساد سے ہے۔برانڈیاں کہ یورپ سے آتی ہیں ان کے نشہ کی قوتیں اس کے قطرات سے بڑھائی جاتی ہیں فلاں قسم کے نوے قطروں میں اس کا ایك قطرہ ہے فلاں کے سو میں اور شرابیں پینے سے نشہ لاتی ہیں اور اسپرٹ صرف سونگھنے سے تو وہ حرام بھی ہے اور پیشاب کی طرح نجاست غلیظہ بھی۔کما ھو الصحیح المعتمد المفتی بہ(جیسا کہ صحیح اور قابل اعتماداور وہ بات کہ جس پر فتوی دیا گیا ہے۔ت)جب تو ظاہر ہے کہ قرآن عظیم کا اس میں بھرنا حرام قطعی ہے اور سخت شدید توہین وبے ادبی ہے جب وہ قالب نجس ٹھہرے تو یہ بعینہ ایسا ہوگا کہ کاغذ پیشاب میں بھگو کر معاذاﷲ اس پر لکھنا جسے مسلمان تو مسلمان کوئی سمجھ والا کافر بھی گوارا نہ کرے گا۔ہمارے علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ نجاست کی جگہ قرآن عظیم پڑھنا منع ہے۔ولہذا حمام میں تلاوت مکروہ ہے۔فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
یکرہ ان یقرأ القران فی الحمام لانہ موضع النجاسات ولا یقرأ فی بیت الخلاء ۔ مکروہ ہے کہ حمام میں قرآن مجید پڑھا جائے اس لئے کہ وہ محل نجاست ہے۔اور بیت الخلاء(لیٹرین)میں بھی قرآن مجید نہ پڑھا جائے۔(ت)
قنیہ وہندیہ میں ہے:
لابأس بالقراءۃ راکبا وما شیا اذا لم یکن ذلك الموضع معدا للنجاسۃ فان کان یکرہ لہ ۔ سوار ہونے والے اور پاپیادہ چلنے والے کے لئے قرآن مجید پڑھنے میں کچھ مضائقہ اورحرج نہیں بشرطیکہ وہ جگہ نجاست کے لئے نہ بنائی گئی ہواور اگر گندگی کے لئے بنی ہو تو وہاں تلاوت کرنا مکروہ ہے۔(ت)
بلکہ جن کے نزدیك موت سے بدن نجس ہوجاتا ہے اور غسل میت اسے نجاست حقیقیہ سے تطہیر کے لئے رکھا گیا ہے وہ قبل غسل میت کے پاس بیٹھ کر تلاوت کو منع کرتے ہیں جب تك اسے بالکل ڈھانك نہ دیا جائے کہ نجاست منکشفہ کا قرب ہوگا۔ تنویر میں ہے:
یکرہ ان یقرأ القران فی الحمام لانہ موضع النجاسات ولا یقرأ فی بیت الخلاء ۔ مکروہ ہے کہ حمام میں قرآن مجید پڑھا جائے اس لئے کہ وہ محل نجاست ہے۔اور بیت الخلاء(لیٹرین)میں بھی قرآن مجید نہ پڑھا جائے۔(ت)
قنیہ وہندیہ میں ہے:
لابأس بالقراءۃ راکبا وما شیا اذا لم یکن ذلك الموضع معدا للنجاسۃ فان کان یکرہ لہ ۔ سوار ہونے والے اور پاپیادہ چلنے والے کے لئے قرآن مجید پڑھنے میں کچھ مضائقہ اورحرج نہیں بشرطیکہ وہ جگہ نجاست کے لئے نہ بنائی گئی ہواور اگر گندگی کے لئے بنی ہو تو وہاں تلاوت کرنا مکروہ ہے۔(ت)
بلکہ جن کے نزدیك موت سے بدن نجس ہوجاتا ہے اور غسل میت اسے نجاست حقیقیہ سے تطہیر کے لئے رکھا گیا ہے وہ قبل غسل میت کے پاس بیٹھ کر تلاوت کو منع کرتے ہیں جب تك اسے بالکل ڈھانك نہ دیا جائے کہ نجاست منکشفہ کا قرب ہوگا۔ تنویر میں ہے:
حوالہ / References
فتاوی قاضی خاں کتاب الصلٰوۃ فصل فی قرأۃ القرآن مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ /۷۸
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ القنیہ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۱۶
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ القنیہ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۱۶
کرہ قراءۃ القران عندہ الی تمامہ غسلہ ۔ میت کو غسل دینے تك اس کے پاس قرآن مجید پڑھنا مکروہ ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
عﷲ الشرنبلالی فی امداد الفتاح تنزیھا للقران عن نجاسۃ المیت لتنجسہ بالموت قیل نجاسۃ خبث وقیل حدث و علیہ فینبغی جوازھا کقراء ۃ المحدث ۔ امداد الفتاح میں علامہ شرنبلالی نے اس کی تعلیل ذکر فرمائی تاکہ قرآن مجید کو میت کی نجاست اور ناپاکی سے بچایا جائے کیونکہ نجاست اسے موت کی وجہ سے ناپاك کردیتی ہے۔پھر اس نجاست میں اختلاف ہے چنانچہ بعض نے کہا کہ یہ نجاست خبیث ہے جبکہ بعض کے نزدیك حدث ہے۔لہذا اس بنیاد پر مناسب ہے کہ میت کے پاس قرآن مجید پڑھناجائز ہے جیسے بے وضو کایاد سے قرآن مجید پڑھنا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
وذکر ط ان محل الکراھۃ اذا کان قریبا منہ اما اذابعد عنہ فلا کراھۃ اھ قلت والظاھر ان ھذا ایضا اذا لم یکن المیت مسجی بثوب یسترجمیع بدنہ الخ۔ علامہ طحطاوی نے ذکر کیا کہ اس کراہت کا محل یہ ہے کہ جب میت کے قریب بیٹھا ہو لیکن جب اس سے دور بیٹھا ہے اور قرآن مجید پڑھ رہا ہے)تو پھر کراہت نہ ہوگی اھ میں کہتا ہوں یہ کراہت بھی تب ہوگی کہ جب میت کسی ایسے کپڑے سے جو اس کے سارے جسم کو چھپائے ڈھانپی ہوئی نہ ہو الخ۔(ت)
جب قرب نجاست میں تلاوت منع ہوئی کہ اس ہوا کا جو اشکال حروف قرآن کی حامل ہے محل نجاست پرگزر نہ ہوخود نجس چیز میں معاذاﷲ ان اشکال طاہرہ کا مرتسم کرنا کس درجہ سخت حرام ہوگا۔
اقول:وبما بینا ظھر وجہ التقیید بان لا یکون جمیع بدنہ مسجی فافھم۔ اقول:(میں کہتاہوں)جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے قید لگانے کی وجہ ظاہر ہوگئی کہ میت کا پورا جسم ڈھانپا ہوا نہ ہوپس اچھی طرح سمجھ لیجئے۔(ت)
درمختار میں ہے:
عﷲ الشرنبلالی فی امداد الفتاح تنزیھا للقران عن نجاسۃ المیت لتنجسہ بالموت قیل نجاسۃ خبث وقیل حدث و علیہ فینبغی جوازھا کقراء ۃ المحدث ۔ امداد الفتاح میں علامہ شرنبلالی نے اس کی تعلیل ذکر فرمائی تاکہ قرآن مجید کو میت کی نجاست اور ناپاکی سے بچایا جائے کیونکہ نجاست اسے موت کی وجہ سے ناپاك کردیتی ہے۔پھر اس نجاست میں اختلاف ہے چنانچہ بعض نے کہا کہ یہ نجاست خبیث ہے جبکہ بعض کے نزدیك حدث ہے۔لہذا اس بنیاد پر مناسب ہے کہ میت کے پاس قرآن مجید پڑھناجائز ہے جیسے بے وضو کایاد سے قرآن مجید پڑھنا(ت)
ردالمحتار میں ہے:
وذکر ط ان محل الکراھۃ اذا کان قریبا منہ اما اذابعد عنہ فلا کراھۃ اھ قلت والظاھر ان ھذا ایضا اذا لم یکن المیت مسجی بثوب یسترجمیع بدنہ الخ۔ علامہ طحطاوی نے ذکر کیا کہ اس کراہت کا محل یہ ہے کہ جب میت کے قریب بیٹھا ہو لیکن جب اس سے دور بیٹھا ہے اور قرآن مجید پڑھ رہا ہے)تو پھر کراہت نہ ہوگی اھ میں کہتا ہوں یہ کراہت بھی تب ہوگی کہ جب میت کسی ایسے کپڑے سے جو اس کے سارے جسم کو چھپائے ڈھانپی ہوئی نہ ہو الخ۔(ت)
جب قرب نجاست میں تلاوت منع ہوئی کہ اس ہوا کا جو اشکال حروف قرآن کی حامل ہے محل نجاست پرگزر نہ ہوخود نجس چیز میں معاذاﷲ ان اشکال طاہرہ کا مرتسم کرنا کس درجہ سخت حرام ہوگا۔
اقول:وبما بینا ظھر وجہ التقیید بان لا یکون جمیع بدنہ مسجی فافھم۔ اقول:(میں کہتاہوں)جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے قید لگانے کی وجہ ظاہر ہوگئی کہ میت کا پورا جسم ڈھانپا ہوا نہ ہوپس اچھی طرح سمجھ لیجئے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۰
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۰۔۱۱۹
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنازۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۷۳
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۰۔۱۱۹
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنازۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۷۳
بلکہ حق یہ ہے کہ اس تقدیر پر جہل مردم وناواقفی حال آلہ وعدم نیت وعدم تنبہ کا قدم درمیان نہ ہو تو دیدہ دانستہ ان میں آیات بھرنے والے کا حکم معاذاﷲ القائے مصحف فی القاذورات(اﷲ تعالی کی پناہ۔یہ تو مصحف شریف کو نجاستوں میں پھینکنا ہے۔ ت)کے مثل ہوتا ہم روشن کرچکے کہ تمام جلوہ گاہوں میں وہی صفت الہیہ بعینہا حقیقۃ جلوہ فرما ہوتی ہے تو اس کے لئے معاذاﷲ یہ ناپاك کسوت مقرر کرنا کس درجہ ایمان ہی کے مخالف ہے۔والعیاذ باﷲ تعالیپھر یہ تو ہیں خبیث صرف ان بھرنے والوں ہی کے ماتھے نہ جائے گی بلکہ باوجود اطلاع اسے تحریك دے کر الفاظ قرآنی کی آواز اس سے ادا کرنے والے اس کی خواہش کرکے ادا کرانے والے سننے والے سنانے والے اس پر راضی ہونے والےباوصف قدرت انکار نہ کرنے والے سب اسی بلائے عظیم میں گرفتار ہوں گے۔نہ فقط یوں کہ تو ہین کے مرتکب صرف بھرنے والے ہوں اور یہ اس کے روا رکھنے گوارا کرنے والے نہیں نہیں بلکہ ہر بار بعینہ ویسی ہی توہین جدید کے یہ خود پیدا کرنے والے کہ انھوں نے گویا نقوش کتابت قرآنیہ اس نجس میں لکھے انھوں نے الفاظ تلاوت قرآنیہ اس پر گزرتے ہوئے ادا کئے بلکہ اس وقت اس کی تجلی بے پردہ وحجاب جلوہ فرما ہوگی بھری ہوئی چوڑیوں میں نقوش قرآنیہ ہونا ہر شخص نہ سمجھے گا اور اب جو ادا کیا جائے گا کسی کو اس کے قرآن ہونے میں اصلا اشتباہ نہ ہوگا ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم(گناہوں سے تحفظ اور بھلائی کرنے کی قوت کسی میں نہیں بجز اﷲ تعالی بلند مرتبہ اور بڑی شان والے کی توفیق دینے۔ت)
وجہ دوم: یہ صورت تو وہ تھی کہ ان کا گلاسوں پلیٹوں کا پلیدو نجس ہونا معلوم یا مظنون ہی ہو۔
فان الظن فی الفقہیات ملتحق بالیقین لاسیما مثل امر الاحتیاط فی الدین۔ کیونکہ فقہی مسائل میں گمانیقین کے ساتھ ملحق ہے۔ خصوصا اس نوع کے دینی احتیاط کے معاملہ میں۔(ت)
بلکہ اگر حالت شبہہ ہو جب بھی حکم احتراز ہے۔کہ محرمات میں شبہہ ملتحق بیقین ہے۔کما نص علیہ فی الہدایۃ وغیرھا۔ (جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)اب وہ صورت فرض کیجئے کہ پلیٹ وغیرہ کی طہارت یقینی ہو اس کے اجزاء اور بنانے کا طریقہ معلوم ہو جس میں کہیں کسی نجاست کا خلط نہیں تو اس میں ایك کھلی سخت شدد نجاست معنوی رکھی ہوئی ہے وہ یہ کہ اس کا عام بجاناسنناسنانا سب کھیل تماشے کے طورپر ہوتا ہے۔قرآن عظیم اس لئے نہیں اترا اسی عزت والے عزیز عظیم سے پوچھو کہ وہ کھیل کے طور پر اپنے سننے والے کی نسبت کیا فرماتاہے:
" اقترب للناس حسابہم وہم فی لوگوں کے لئے ان کا حساب نزدیك آیا اور وہ
وجہ دوم: یہ صورت تو وہ تھی کہ ان کا گلاسوں پلیٹوں کا پلیدو نجس ہونا معلوم یا مظنون ہی ہو۔
فان الظن فی الفقہیات ملتحق بالیقین لاسیما مثل امر الاحتیاط فی الدین۔ کیونکہ فقہی مسائل میں گمانیقین کے ساتھ ملحق ہے۔ خصوصا اس نوع کے دینی احتیاط کے معاملہ میں۔(ت)
بلکہ اگر حالت شبہہ ہو جب بھی حکم احتراز ہے۔کہ محرمات میں شبہہ ملتحق بیقین ہے۔کما نص علیہ فی الہدایۃ وغیرھا۔ (جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)اب وہ صورت فرض کیجئے کہ پلیٹ وغیرہ کی طہارت یقینی ہو اس کے اجزاء اور بنانے کا طریقہ معلوم ہو جس میں کہیں کسی نجاست کا خلط نہیں تو اس میں ایك کھلی سخت شدد نجاست معنوی رکھی ہوئی ہے وہ یہ کہ اس کا عام بجاناسنناسنانا سب کھیل تماشے کے طورپر ہوتا ہے۔قرآن عظیم اس لئے نہیں اترا اسی عزت والے عزیز عظیم سے پوچھو کہ وہ کھیل کے طور پر اپنے سننے والے کی نسبت کیا فرماتاہے:
" اقترب للناس حسابہم وہم فی لوگوں کے لئے ان کا حساب نزدیك آیا اور وہ
" غفلۃ معرضون ﴿۱﴾ ما یاتیہم من ذکر من ربہم محدث الا استمعوہ وہم یلعبون ﴿۲﴾ لاہیۃ قلوبہم " غفلت میں روگرداں پڑے ہیںنہیں آتا ان کے پاس ان کے رب سے کوئی نیا ذکر مگر اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں دل کھیل میں پڑے ہوئے۔
اور فرماتاہے:
"افمن ہذا الحدیث تعجبون ﴿۵۹﴾ و تضحکون ولا تبکون ﴿۶۰﴾ و انتم سمدون ﴿۶۱﴾" تو کیا اس کلام کو اچنبا بناتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں اورتم کھیل میں پڑے ہو۔
اور فرماتاہے:
" و ذر الذین اتخذوا دینہم لعبا و لہوا و غرتہم الحیوۃ الدنیا و ذکر بہ ان تبسل نفس بما کسبت ٭ لیس لہا من دون اللہ ولی ولا شفیع و ان تعدل کل عدل لا یؤخذ منہا اولئک الذین ابسلوا بما کسبوا لہم شراب من حمیم و عذاب الیم بما کانوا یکفرون ﴿۷۰﴾" چھوڑدے ان کو جنھوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیا اور دنیا کی زندگی نے انھیں فریب دیا اور اس قرآن سے لوگوں کو نصیحت دے کہیں پکڑی نجائے کوئی جان اپنے کئے پر کہ خدا سے جدا نہ اس کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی اور اگر اپنے چھڑانے کو سارے بدلے دے کچھ نہ لیا جائے یہ ہیں وہ لوگ کہ اپنے کئے پر گرفتار ہوئے انھیں پینا ہے کھولتاپانی اور دکھ کی ماربدلہ ان کے کفر کا۔
اور فرماتاہے:
"ونادی اصحب النار اصحب الجنۃ ان افیضوا علینا من الماء او مما رزقکم اللہ قالوا ان اللہ حرمہما علی الکفرین ﴿۵۰﴾ الذین اتخذوا دینہم لہوا و لعبا و غرتہم الحیوۃ الدنیا فالیوم ننسہم کما نسوا لقاء دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے فیض سے تھوڑا پانی دو یا وہ رزق جو خدا نے تمھیں دیا وہ کہیں گے بیشك اﷲ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردیں ہیں جنھوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیا اور انھیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا تو آج ہم ان کو بھلا دیں گے جیسا وہ بھولے اس دن
اور فرماتاہے:
"افمن ہذا الحدیث تعجبون ﴿۵۹﴾ و تضحکون ولا تبکون ﴿۶۰﴾ و انتم سمدون ﴿۶۱﴾" تو کیا اس کلام کو اچنبا بناتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں اورتم کھیل میں پڑے ہو۔
اور فرماتاہے:
" و ذر الذین اتخذوا دینہم لعبا و لہوا و غرتہم الحیوۃ الدنیا و ذکر بہ ان تبسل نفس بما کسبت ٭ لیس لہا من دون اللہ ولی ولا شفیع و ان تعدل کل عدل لا یؤخذ منہا اولئک الذین ابسلوا بما کسبوا لہم شراب من حمیم و عذاب الیم بما کانوا یکفرون ﴿۷۰﴾" چھوڑدے ان کو جنھوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیا اور دنیا کی زندگی نے انھیں فریب دیا اور اس قرآن سے لوگوں کو نصیحت دے کہیں پکڑی نجائے کوئی جان اپنے کئے پر کہ خدا سے جدا نہ اس کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی اور اگر اپنے چھڑانے کو سارے بدلے دے کچھ نہ لیا جائے یہ ہیں وہ لوگ کہ اپنے کئے پر گرفتار ہوئے انھیں پینا ہے کھولتاپانی اور دکھ کی ماربدلہ ان کے کفر کا۔
اور فرماتاہے:
"ونادی اصحب النار اصحب الجنۃ ان افیضوا علینا من الماء او مما رزقکم اللہ قالوا ان اللہ حرمہما علی الکفرین ﴿۵۰﴾ الذین اتخذوا دینہم لہوا و لعبا و غرتہم الحیوۃ الدنیا فالیوم ننسہم کما نسوا لقاء دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے فیض سے تھوڑا پانی دو یا وہ رزق جو خدا نے تمھیں دیا وہ کہیں گے بیشك اﷲ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردیں ہیں جنھوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیا اور انھیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا تو آج ہم ان کو بھلا دیں گے جیسا وہ بھولے اس دن
یومہم ہذا وما کانوا بایتنا یجحدون ﴿۵۱﴾" کاملنا اور جیسا جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے۔
واقعی کفار نے یہ بڑا داؤ مسلمانوں سے کھیلا کہ ان کے دین کی جڑ ان کے ایمان کی اصل قرآن عظیم کو خود ان کے ہاتھوں کھیل تماشا بنوادیا یہ ان لوگوں کے فونو سے قرآن سننے سنانے کا خاص جزئیہ ہے کہ قرآن عظیم نے اس کی ایجاد سے تیرہ سو برس پہلے ظاہر فرمادیا اس سے بڑھ کر اور سخت بلا کیا ہوگی اس سے بد تر اور گندی نجاست کیا ہوگی۔والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
وجہ سوم: زید اس مجمع لہو ولغو میں ہے تماشے کے طور پر قرآن مجید سنایا جارہا ہے اس کا دعوی ہے کہ میں تذکر وتفکر ہی کے طور پر سن رہا ہوں مجھے لہو مقصود نہیںاگر یہ صحیح ہو جب بھی وہ گناہ وجرم سے بری نہیں ایسے مجمع میں شریك ہونا ہی کب جائز تھا اگر چہ تیری نیت نیت خیر ہوکیا قرآن عظیم نے نہ فرمایا:
"و اذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنہم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" اور جب تو انھیں دیکھے جو ہماری آیتوں کو مشغلہ بنا رہے ہیں تو ان سے منہ پھیرلے یہاں تك کہ وہ کسی اور بات کے شغل میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس سے فورا اٹھ کھڑا ہو
یہ کیا اسی کی یاد دہانی میں دوسری جگہ اس سے بھی صاف تر وسخت تر نہ فرمایا:
"وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفر بہا ویستہزا بہا فلا تقعدوا معہم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ ۫ انکم اذا مثلہم ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جہنم جمیعۨا ﴿۱۴۰﴾" بیشك اﷲ تعالی تم پر قرآن میں حکم اتار چکا کہ جب تم سنو کہ خدا کی آیتوں پر گرویدگی نہیں کی جاتی اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو تم ان کے پاس نہ بیٹھو جب تك وہ اور بات کے شغل میں پڑیں اور وہاں بیٹھے تو تم بھی انھیں جیسے ہو بیشك اﷲ تعالی منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔
آیتوں کو کھیل بنانے والے کافر ہوئےاس وقت ان کے پاس بیٹھنے والے منافق ٹھہرے۔
واقعی کفار نے یہ بڑا داؤ مسلمانوں سے کھیلا کہ ان کے دین کی جڑ ان کے ایمان کی اصل قرآن عظیم کو خود ان کے ہاتھوں کھیل تماشا بنوادیا یہ ان لوگوں کے فونو سے قرآن سننے سنانے کا خاص جزئیہ ہے کہ قرآن عظیم نے اس کی ایجاد سے تیرہ سو برس پہلے ظاہر فرمادیا اس سے بڑھ کر اور سخت بلا کیا ہوگی اس سے بد تر اور گندی نجاست کیا ہوگی۔والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
وجہ سوم: زید اس مجمع لہو ولغو میں ہے تماشے کے طور پر قرآن مجید سنایا جارہا ہے اس کا دعوی ہے کہ میں تذکر وتفکر ہی کے طور پر سن رہا ہوں مجھے لہو مقصود نہیںاگر یہ صحیح ہو جب بھی وہ گناہ وجرم سے بری نہیں ایسے مجمع میں شریك ہونا ہی کب جائز تھا اگر چہ تیری نیت نیت خیر ہوکیا قرآن عظیم نے نہ فرمایا:
"و اذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنہم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" اور جب تو انھیں دیکھے جو ہماری آیتوں کو مشغلہ بنا رہے ہیں تو ان سے منہ پھیرلے یہاں تك کہ وہ کسی اور بات کے شغل میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس سے فورا اٹھ کھڑا ہو
یہ کیا اسی کی یاد دہانی میں دوسری جگہ اس سے بھی صاف تر وسخت تر نہ فرمایا:
"وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفر بہا ویستہزا بہا فلا تقعدوا معہم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ ۫ انکم اذا مثلہم ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جہنم جمیعۨا ﴿۱۴۰﴾" بیشك اﷲ تعالی تم پر قرآن میں حکم اتار چکا کہ جب تم سنو کہ خدا کی آیتوں پر گرویدگی نہیں کی جاتی اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو تم ان کے پاس نہ بیٹھو جب تك وہ اور بات کے شغل میں پڑیں اور وہاں بیٹھے تو تم بھی انھیں جیسے ہو بیشك اﷲ تعالی منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔
آیتوں کو کھیل بنانے والے کافر ہوئےاس وقت ان کے پاس بیٹھنے والے منافق ٹھہرے۔
یہاں پاس بیٹھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہنم میں بھی اکٹھے رہے والعیاذ باﷲ تعالی معالم التزیل میں ہے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما نے فرمایا:
دخل فی ھذہ الایۃ کل محدث فی الدین وکل مبتدع الی یوم القیمۃ ۔ اس آیت میں قیامت تك کا ہر مبتدع ہر بد مذہب داخل ہے۔
وجہ چہارم: صلحاء نے خاص اپنا جلسہ کیا جس میں سب نیت صالح والے ہیں اور تفکر وتذکر ہی کے طور اس میں سے قرآن مجید سنا خاص اس سے سننے کی یہ ضرورت تھی کہ اس میں کسی اعلی قاری کی نہایت درد ناك ودلکش قراءت بھری ہے اس میں سے قرأت سنانے والا بھی انھیں میں کا ہے کہ اس نے اس کا بنانا چلانا سیکھ لیا ہے۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اب یہاں دو نظریں ہیں:نظر اولی ونظر دقیق۔
نظر اولی صاف حکم کرے گی کہ اب اس میں کیا حرج ہے جب پلیٹیں طاہر و پاك فرض کرلی گئیں تو حرج صرف نیت لہو کا رہا اس سے یہ لوگ منزہ ہیں اور بھرنے والوں کی نیت فاسدہ کا ان پر کیا اثر۔
قال اﷲ تبارك وتعالی " " ولا تزر وازرۃ وزر اخری ۔ اﷲ تبارك وتعالی نے ارشاد فرمایا:کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔(ت)
اور کوئی فی نفسہ جائز کام کفار سے سیکھنے میں حرج نہیں اگر چہ انھیں کی ایجاد ہو جیسے گھڑیتارریل وغیرہا اور فونو بذات خود معازف اور مزامیرسے نہیں کہ اس کے لئے کوئی خاص آواز ہی نہیں جس کے واسطے اسے وضع کیا ہو یا اس سے قصد کیجاتی ہو وہ تو ایك آلہ مطلقہ ہے جس کی نسبت ہر گونہ آواز کی طرف ایسی ہے جیسی اوزان عروضیہ کی کلام کی طرف بلکہ حروف ہجا کی معنی کی طرف حروف ہجا من حیث ہی حروف الہجا علوم رسمیہ میں کسی خاص معنی کے لئے موضوع نہیں بلکہ وہ آلہ تادیہ معانی مختلفہ ہیں جیسے معنی چاہیں ان سے ادا کرسکتے ہیں اچھے ہوں خواہ برے یہاں تك کہ ایمان سے کفر تك سب انھیں حروف سے ادا ہوتا ہے ایسے الہ مطلقہ کو من حیث ہی کذا حسن یا قبیح کسی کے ساتھ موصوف نہیں کرسکتے بلکہ وہ مدح وذم وثواب و عقاب میں اس چیز کا تابع ہوتا ہے جو اس سے ادا کی جائےتلوار بہت اچھی ہے اگر ا س سے حمایت اسلام
دخل فی ھذہ الایۃ کل محدث فی الدین وکل مبتدع الی یوم القیمۃ ۔ اس آیت میں قیامت تك کا ہر مبتدع ہر بد مذہب داخل ہے۔
وجہ چہارم: صلحاء نے خاص اپنا جلسہ کیا جس میں سب نیت صالح والے ہیں اور تفکر وتذکر ہی کے طور اس میں سے قرآن مجید سنا خاص اس سے سننے کی یہ ضرورت تھی کہ اس میں کسی اعلی قاری کی نہایت درد ناك ودلکش قراءت بھری ہے اس میں سے قرأت سنانے والا بھی انھیں میں کا ہے کہ اس نے اس کا بنانا چلانا سیکھ لیا ہے۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اب یہاں دو نظریں ہیں:نظر اولی ونظر دقیق۔
نظر اولی صاف حکم کرے گی کہ اب اس میں کیا حرج ہے جب پلیٹیں طاہر و پاك فرض کرلی گئیں تو حرج صرف نیت لہو کا رہا اس سے یہ لوگ منزہ ہیں اور بھرنے والوں کی نیت فاسدہ کا ان پر کیا اثر۔
قال اﷲ تبارك وتعالی " " ولا تزر وازرۃ وزر اخری ۔ اﷲ تبارك وتعالی نے ارشاد فرمایا:کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔(ت)
اور کوئی فی نفسہ جائز کام کفار سے سیکھنے میں حرج نہیں اگر چہ انھیں کی ایجاد ہو جیسے گھڑیتارریل وغیرہا اور فونو بذات خود معازف اور مزامیرسے نہیں کہ اس کے لئے کوئی خاص آواز ہی نہیں جس کے واسطے اسے وضع کیا ہو یا اس سے قصد کیجاتی ہو وہ تو ایك آلہ مطلقہ ہے جس کی نسبت ہر گونہ آواز کی طرف ایسی ہے جیسی اوزان عروضیہ کی کلام کی طرف بلکہ حروف ہجا کی معنی کی طرف حروف ہجا من حیث ہی حروف الہجا علوم رسمیہ میں کسی خاص معنی کے لئے موضوع نہیں بلکہ وہ آلہ تادیہ معانی مختلفہ ہیں جیسے معنی چاہیں ان سے ادا کرسکتے ہیں اچھے ہوں خواہ برے یہاں تك کہ ایمان سے کفر تك سب انھیں حروف سے ادا ہوتا ہے ایسے الہ مطلقہ کو من حیث ہی کذا حسن یا قبیح کسی کے ساتھ موصوف نہیں کرسکتے بلکہ وہ مدح وذم وثواب و عقاب میں اس چیز کا تابع ہوتا ہے جو اس سے ادا کی جائےتلوار بہت اچھی ہے اگر ا س سے حمایت اسلام
حوالہ / References
معالم التنزیل علی ہامش الخازن تحت آیۃ وقد نزل علیکم فی الکتب الخ مصطفی البابی مصر ۱ /۶۱۲
القرآن الکریم ۶ /۱۶۴
القرآن الکریم ۶ /۱۶۴
کی جائے اور سخت بری ہے۔اگر خون ناحق میں برتی جائےاسی لئے حدیث میں فرمایا:
الشعر بمنزلۃ الکلام فحسنہ کحسن الکلام و قبیحہ کقبیح الکلام۔رواہ البخاری فی الادب المفرد والطبرانی فی المعجم الاوسط عن عبداﷲ بن عمرو بن العاص وابو یعلی عنہ وعن ام المومنین الصدیقۃ والدار قطنی عن عروۃ عنہا والشافعی عن عروۃ مرسلا رضی اﷲ تعالی عنہم و اسنادہ حسن۔ شعر بمنزلہ کلام کے ہے تو اس کا چھا مثل اچھے کلام کے ہے اور اس کا برا مثل برے کے(امام بخاری نے ادب المفرد میں امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔اور محدث ابویعلی نے ان سے اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے بھی اسے روایت کیا ہے۔اور امام دارقطنی نے بواسطہ حضرت عروہ مائی صاحبہ سے اور امام شافعی نے حضرت عروہ سے بطور ارسال اسے روایت فرمایا ہے۔اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو۔اس حدیث کی سند درجہ حسن رکھتی ہے۔(ت)
یہ اسی سبب کے اوزان عروضیہ ادائے ہر گونہ کلام کے آلہ ہیں تو ان پر فی انفسہا کوئی حکم حسن وقبح نہیں ہوسکتا بلکہ مؤدی بہا کے تابع ہوں گے شعر میں اچھی بات ادا کی جائے تو حدیث صحیح میں ان من الشعر لحکمۃ (بیشك بعض شعر ضرور حکمت ہوتے ہیں۔ت)ارشاد ہوا ہے اور یاوہ سرائی یا ہر زہ درائی کی جائے تو " والشعراء یتبعہم الغاون ﴿۲۲۴﴾" (اور شاعروں کی پیروی اور ان کا اتباع گمراہ کرتے ہیں۔ت)فرمایا گیا وہاں ان اﷲ یؤید حسان بروح القدس(اﷲ تعالی حضرت جبریل سے حضرت حسان کی تائید کرتاہے۔ت)کی بشارت جانفزا ہے اور دوسری طرف امرؤالقیس صاحب لواء الشعراء الی النار(امرؤ القیس شاعروں کا علمبردار آتش دوزخ میں ہے۔ت)کی وعید جانگزا۔ رواہ الاحمد والبزار عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ (اسے احمد وبزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ
الشعر بمنزلۃ الکلام فحسنہ کحسن الکلام و قبیحہ کقبیح الکلام۔رواہ البخاری فی الادب المفرد والطبرانی فی المعجم الاوسط عن عبداﷲ بن عمرو بن العاص وابو یعلی عنہ وعن ام المومنین الصدیقۃ والدار قطنی عن عروۃ عنہا والشافعی عن عروۃ مرسلا رضی اﷲ تعالی عنہم و اسنادہ حسن۔ شعر بمنزلہ کلام کے ہے تو اس کا چھا مثل اچھے کلام کے ہے اور اس کا برا مثل برے کے(امام بخاری نے ادب المفرد میں امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔اور محدث ابویعلی نے ان سے اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے بھی اسے روایت کیا ہے۔اور امام دارقطنی نے بواسطہ حضرت عروہ مائی صاحبہ سے اور امام شافعی نے حضرت عروہ سے بطور ارسال اسے روایت فرمایا ہے۔اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو۔اس حدیث کی سند درجہ حسن رکھتی ہے۔(ت)
یہ اسی سبب کے اوزان عروضیہ ادائے ہر گونہ کلام کے آلہ ہیں تو ان پر فی انفسہا کوئی حکم حسن وقبح نہیں ہوسکتا بلکہ مؤدی بہا کے تابع ہوں گے شعر میں اچھی بات ادا کی جائے تو حدیث صحیح میں ان من الشعر لحکمۃ (بیشك بعض شعر ضرور حکمت ہوتے ہیں۔ت)ارشاد ہوا ہے اور یاوہ سرائی یا ہر زہ درائی کی جائے تو " والشعراء یتبعہم الغاون ﴿۲۲۴﴾" (اور شاعروں کی پیروی اور ان کا اتباع گمراہ کرتے ہیں۔ت)فرمایا گیا وہاں ان اﷲ یؤید حسان بروح القدس(اﷲ تعالی حضرت جبریل سے حضرت حسان کی تائید کرتاہے۔ت)کی بشارت جانفزا ہے اور دوسری طرف امرؤالقیس صاحب لواء الشعراء الی النار(امرؤ القیس شاعروں کا علمبردار آتش دوزخ میں ہے۔ت)کی وعید جانگزا۔ رواہ الاحمد والبزار عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ (اسے احمد وبزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ
حوالہ / References
المعجم الاوسط حدیث ۷۶۹۲ ریاض ۸ /۳۴۰ و ادب المفرد حدیث ۸۶۵ مکتبہ اثریہ شیخوپورہ ص۲۲۳
ادب المفرد حدیث ۸۶۵ باب من قال ان من البیان سحرا الخ المکتبہ الاثریہ شیخوپورہ ص۲۲۵،صحیح البخاری کتا ب الادب باب مایجوز من الشعراء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۰۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۴
کنز العمال برمز حم و ت عن عائشہ حدیث ۳۳۲۴۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۶۷۲،مسند امام احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا دارالفکر بیروت ۶ /۷۲
ادب المفرد حدیث ۸۶۵ باب من قال ان من البیان سحرا الخ المکتبہ الاثریہ شیخوپورہ ص۲۲۵،صحیح البخاری کتا ب الادب باب مایجوز من الشعراء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۰۷
القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۴
کنز العمال برمز حم و ت عن عائشہ حدیث ۳۳۲۴۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۶۷۲،مسند امام احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا دارالفکر بیروت ۶ /۷۲
تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)بعینہ یہی حالت فونو کی ہے کہ وہ کسی صوت خاص کے لئے موضوع نہیں جسے معازف ومزامیر میں داخل کرسکیں بلکہ ادائے ہر قسم آوازکا آلہ ہے تو حسن وقبح و منع واباحت میں اسی آواز مؤدی بہ کا تابع ہوگا جب تك خارج سے کوئی مغیر عارض نہ ہو اگر اس میں سے مزامیر کی آواز سنی جائے تو حکم مزامیر میں ہے اور بہ نیت تذکرہ وعظ وتذکیر کی آواز سنی جائے تو حکم وعظ وتذکیر میں اور وعظ ومذکر کا ذی روح ہونا کچھ شرط نہیں
مرد باید کہ گیرد اندر گوش وزنبشت ست بند بر دیوار
(مرد کو چاہئے کہ اپنے کانوں سے نصیحت سنے اگر چہ کلمات نصیحت کسی دیوار پر لکھے ہوں۔ت)
آلہ ادا میں فی نفسہ کوئی آواز ودیعت ہی نہیں ہوتی آوازیں تو رکاوٹوں میں ہیں آلہ محض مثل گلو و حنجرہ ہے جس سے ہر طرح کی صوت نکال سکتے ہیں تو خراب وناجائز پلیٹوں کاحکم پاك وجائز قالبوں کی طرف کیوں ساری ہونے لگا اور اگر بھرنے والوں نے ایك ہی ریکارڈ کے ایك پہلو پر کچھ آیات یا اشعار حمد و نعت اور دوسرے پر کچھ خرافات بھری ہیں تو یہ بے ادبی وجمع ضدین ان کا فعل ہے خذ ما صفا و دع ما کدر(جو صاف ہولے لوجو گدلا ہو چھوڑ دو۔ت)پرعمل کرنے والے اس پر کیوں ماخوذ ہوں گے اس کی نظیر کنیز مشترك ہے اس کے ایك صالح مولی نے اسے قرآن عظیم پڑھایا دوسرے فاسق نے گانا سکھایا تو اس کے گلے سے دونوں چیزوں کا ادا ہوسکنا صالح آقا کو اس سے قرآن عظیم سننا منع نہ کردیگا عرف میں اسے باجا کہنا مزامیر ومعازف ممنوعہ کے حکم میں داخل نہ کردے گا۔
فان الامورلمقاصدھا وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۔ کیونکہ کاموں کا اعتبار بلحاظ ان کے مقاصد کے ہے اعمال کا مدار ارادوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے کہ جس کا اس نے ارادہ کیا ہے۔(ت)
معازف و مزامیرآلات لہو وطرب ہیں جو خاص موسیقی کی آوازیں ادا کرنے کو لذت نفسانی و نشاط شیطانی کے لئے وضع کئے گئے ہر غیر ذی روح جس سے آواز کسی مقصد حسن یا مباح کے لئے پیدا کی جائے اس میں داخل نہیں ہوسکتا اگر چہ اس سے آواز نکالنے کو بجانا کہیں یوں تو طبل غازی ونقارہ سحری بھی باجا ہے ریل کے انجن میں جو سوراخ دھواں نکالنے کو رکھا جاتا ہے جس سے لوگوں کا جان ومال بچانے کے لئے ان کی اطلاع دہی کو آواز نکالی جاتی ہے اس آواز کو بھی سیٹی یا پپہیا کہتے ہیں مگر
مرد باید کہ گیرد اندر گوش وزنبشت ست بند بر دیوار
(مرد کو چاہئے کہ اپنے کانوں سے نصیحت سنے اگر چہ کلمات نصیحت کسی دیوار پر لکھے ہوں۔ت)
آلہ ادا میں فی نفسہ کوئی آواز ودیعت ہی نہیں ہوتی آوازیں تو رکاوٹوں میں ہیں آلہ محض مثل گلو و حنجرہ ہے جس سے ہر طرح کی صوت نکال سکتے ہیں تو خراب وناجائز پلیٹوں کاحکم پاك وجائز قالبوں کی طرف کیوں ساری ہونے لگا اور اگر بھرنے والوں نے ایك ہی ریکارڈ کے ایك پہلو پر کچھ آیات یا اشعار حمد و نعت اور دوسرے پر کچھ خرافات بھری ہیں تو یہ بے ادبی وجمع ضدین ان کا فعل ہے خذ ما صفا و دع ما کدر(جو صاف ہولے لوجو گدلا ہو چھوڑ دو۔ت)پرعمل کرنے والے اس پر کیوں ماخوذ ہوں گے اس کی نظیر کنیز مشترك ہے اس کے ایك صالح مولی نے اسے قرآن عظیم پڑھایا دوسرے فاسق نے گانا سکھایا تو اس کے گلے سے دونوں چیزوں کا ادا ہوسکنا صالح آقا کو اس سے قرآن عظیم سننا منع نہ کردیگا عرف میں اسے باجا کہنا مزامیر ومعازف ممنوعہ کے حکم میں داخل نہ کردے گا۔
فان الامورلمقاصدھا وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۔ کیونکہ کاموں کا اعتبار بلحاظ ان کے مقاصد کے ہے اعمال کا مدار ارادوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے کہ جس کا اس نے ارادہ کیا ہے۔(ت)
معازف و مزامیرآلات لہو وطرب ہیں جو خاص موسیقی کی آوازیں ادا کرنے کو لذت نفسانی و نشاط شیطانی کے لئے وضع کئے گئے ہر غیر ذی روح جس سے آواز کسی مقصد حسن یا مباح کے لئے پیدا کی جائے اس میں داخل نہیں ہوسکتا اگر چہ اس سے آواز نکالنے کو بجانا کہیں یوں تو طبل غازی ونقارہ سحری بھی باجا ہے ریل کے انجن میں جو سوراخ دھواں نکالنے کو رکھا جاتا ہے جس سے لوگوں کا جان ومال بچانے کے لئے ان کی اطلاع دہی کو آواز نکالی جاتی ہے اس آواز کو بھی سیٹی یا پپہیا کہتے ہیں مگر
حوالہ / References
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲
یہ نام اس فعل حسن کو ممنوع سیٹی اور پپہیے کے حکم میں نہ کردے گا بالجملہ یہاں جو کچھ حرج آیا نیت لہو سے یا مجمع لہو سے ہے۔ کہ قرآن عظیم کا اس نیت سے سننا لذاتہ حرام قطعی اور اس مجمع میں سننا لغیرہ ممنوع شرعی۔جب یہ دونوں منتفی ممانعت منتفییہ نظر اولی کی تقریر ہے اورنظر دقیق فرمائیگی کہ یہ سب کچھ حق وبجا مگر فعل حرج سے اب بھی نہ بچابھرنے والوں کے مقاصد فاسدہ معلوم ہیں کہ لہو ولعب ہے اور اس کے ذریعہ سے ٹکا کمانا تو ان کا بنانا حرام اور اسے استعمال کرنے والے اس حرام کے معین ہوئے اگر لوگ نہ خریدتے نہ سنتےتو وہ ہر گزقرآن عظیم بھرنے کی جرأت نہ کرتےشریعت مطہرہ کا قاعدہ ہے کہ جس بات سے حرام کو مدد پہنچے اسے بھی حرام فرمادیتی ہے۔
قال اﷲ تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:(لوگو!)گناہ اور زیادتی کے معاملات میں ایك دوسرے کی مدد نہ کیا کرو(ت)
جو چیز بنانا ناجائز ہو اسے خریدنا استعمال میں لانا بھی منع ہوتا ہے کہ یہ نہ لیں تو وہ کیوں بنائیں ان کامول لینا اور کام میں لانا ہی انھیں بنانے پر باعث ہوتا ہے ولہذا خواجہ سراؤں کا خریدنا ان سے کام خدمت لینا شرعا منع ہوا اور ائمہ کرام نے اس کی علت بھی یہی بیان فرمائی کہ آدمی کو خصی کرنا حرام ہے یہ فعل اگر چہ ان خریدنے والوں کا نہیں مگر ان کا خریدنا ہی ان فاسقوں کو اس پر جرأت دلاتا ہے کوئی مول نہ لے تو کیوں ایسی ناپاکی کریں۔ امام ابوجعفر طحاوی معانی الآثار میں فرماتے ہیں:
لما نھی عن اخصاء بنی ادم کرہ بذلك اتخاذ الخصیان لان فی اتخاذھم مایحمل من تحضیضھم علی اخصائھم لان الناس اذا تحاموا اتخاذ ھم لم یرغب اھل الفسق فی اخصائھم وقد حدثنا ابن ابی داؤد ثنا القواریری ثنا عفیف بن سالم ثنا العلاء بن عیسی الذھلی قال اتی جب اولاد آدم کے خصی(نامرد کرنا)کرنے سے منع کردیا گیا پس اسی لئے خصی افراد سے خدمت لینا اور انھیں کسی کام میں استعمال کرنا مکروہ ہے کیونکہ استعمال کرنے سے لوگوں کا انھیں خصی کرنے پر ابھار اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ جب لوگ انھیں استعمال کرنے سے بچیں اور پر ہیز کریں تو پھر بدکار اور اوباش لوگ انسانوں کو خصی کرنے کی طر ف رغبت نہ کریں۔ابن ابی داؤدالقواریریعفیف بن سالم العلاء بن عیسی الذہلی کے چند وسائط
قال اﷲ تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:(لوگو!)گناہ اور زیادتی کے معاملات میں ایك دوسرے کی مدد نہ کیا کرو(ت)
جو چیز بنانا ناجائز ہو اسے خریدنا استعمال میں لانا بھی منع ہوتا ہے کہ یہ نہ لیں تو وہ کیوں بنائیں ان کامول لینا اور کام میں لانا ہی انھیں بنانے پر باعث ہوتا ہے ولہذا خواجہ سراؤں کا خریدنا ان سے کام خدمت لینا شرعا منع ہوا اور ائمہ کرام نے اس کی علت بھی یہی بیان فرمائی کہ آدمی کو خصی کرنا حرام ہے یہ فعل اگر چہ ان خریدنے والوں کا نہیں مگر ان کا خریدنا ہی ان فاسقوں کو اس پر جرأت دلاتا ہے کوئی مول نہ لے تو کیوں ایسی ناپاکی کریں۔ امام ابوجعفر طحاوی معانی الآثار میں فرماتے ہیں:
لما نھی عن اخصاء بنی ادم کرہ بذلك اتخاذ الخصیان لان فی اتخاذھم مایحمل من تحضیضھم علی اخصائھم لان الناس اذا تحاموا اتخاذ ھم لم یرغب اھل الفسق فی اخصائھم وقد حدثنا ابن ابی داؤد ثنا القواریری ثنا عفیف بن سالم ثنا العلاء بن عیسی الذھلی قال اتی جب اولاد آدم کے خصی(نامرد کرنا)کرنے سے منع کردیا گیا پس اسی لئے خصی افراد سے خدمت لینا اور انھیں کسی کام میں استعمال کرنا مکروہ ہے کیونکہ استعمال کرنے سے لوگوں کا انھیں خصی کرنے پر ابھار اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ جب لوگ انھیں استعمال کرنے سے بچیں اور پر ہیز کریں تو پھر بدکار اور اوباش لوگ انسانوں کو خصی کرنے کی طر ف رغبت نہ کریں۔ابن ابی داؤدالقواریریعفیف بن سالم العلاء بن عیسی الذہلی کے چند وسائط
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۲
عمر بن عبدالعزیز بخصی فکرہ ان یبتاعہ وقال ماکنت لا عین علی الاخصاء فکل شیئ فی ترك کسبہ ترك لبعض اھل المعاصی فلا ینبغی کسبہ ۔ سے ہم تک(یعنی امام ابوجعفر طحاوی تک)یہ حدیث پہنچی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایك خصی آدمی کو لایا گیا تو آپ نے اس کو خرید لینا نا پسند کیا اور فرمایا میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ انسان کے خصی کرنے پر بدکرداروں سے تعاون کروں پھر ہر کام کہ جس کے نہ کرنے سے بعض گناہگاروں سے گناہ چھوٹ جاتا ہے تو پھر نامناسب ہے کہ ایسا کام کیا جائے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
یکرہ استخدام الخصیان لان الرغبۃ فی استخدامھم حث الناس علی ھذا الضیع وھو مثلۃ محرمۃ ۔ خصی لوگوں سے خدمت لینا مکروہ ہے کیونکہ انسان سے خدمت لینے کی رغبت رکھنا لوگوں کو اس برے کام پر امادہ کرنا ہے اوریہ"مثلہ"ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔(ت)
غایۃ البیان میں مختصر امام طحاوی سے ہے:
یکرہ کسب الخصیان وملکھم واستخدامھم وقال ابو حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ لو لا استخدام الناس ایاھم لما اخصاھم الذین یخصونھم خصی لوگوں کی کمائیاور ان کا ملک(یعنی ملکیت)اور ان سے خدمت لینا یہ سب کام مکروہ ہیںحضرت امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا:اگر لوگوں کا ان سے خدمت لینا نہ ہوتا تو پھر جو لوگ انھیں خصی کرتے ہیں وہ کبھی انھیں خصی نہ کرتے(ت)
اسی دلیل سے ہمارے علماء نے بیل بکرے کے خصی کرنے اور گھوڑی سے خچر لینے کا جوازثابت فرمایا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دو خصی دنبے قربانی کئے اور خچر پر سواری فرمائیاگر یہ فعل ناجائز ہوتے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کو کام میں نہ لاتےشرع معانی الآثار شریف میں ہے:
ہدایہ میں ہے:
یکرہ استخدام الخصیان لان الرغبۃ فی استخدامھم حث الناس علی ھذا الضیع وھو مثلۃ محرمۃ ۔ خصی لوگوں سے خدمت لینا مکروہ ہے کیونکہ انسان سے خدمت لینے کی رغبت رکھنا لوگوں کو اس برے کام پر امادہ کرنا ہے اوریہ"مثلہ"ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔(ت)
غایۃ البیان میں مختصر امام طحاوی سے ہے:
یکرہ کسب الخصیان وملکھم واستخدامھم وقال ابو حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ لو لا استخدام الناس ایاھم لما اخصاھم الذین یخصونھم خصی لوگوں کی کمائیاور ان کا ملک(یعنی ملکیت)اور ان سے خدمت لینا یہ سب کام مکروہ ہیںحضرت امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا:اگر لوگوں کا ان سے خدمت لینا نہ ہوتا تو پھر جو لوگ انھیں خصی کرتے ہیں وہ کبھی انھیں خصی نہ کرتے(ت)
اسی دلیل سے ہمارے علماء نے بیل بکرے کے خصی کرنے اور گھوڑی سے خچر لینے کا جوازثابت فرمایا کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دو خصی دنبے قربانی کئے اور خچر پر سواری فرمائیاگر یہ فعل ناجائز ہوتے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان کو کام میں نہ لاتےشرع معانی الآثار شریف میں ہے:
حوالہ / References
شرح معانی الآثار کتا ب السیر باب انزاء الحمیر علی الخیل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۷۶
الہدایہ کتا ب الکراھیۃ مسائل متفرقہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۷۲
مختصر الطحاوی کتا ب الکراھیۃ یکرہ کسب الخصیان الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۴۳
الہدایہ کتا ب الکراھیۃ مسائل متفرقہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۷۲
مختصر الطحاوی کتا ب الکراھیۃ یکرہ کسب الخصیان الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۴۴۳
قد رأینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ضحی بکبشین موجوئین وھما المرضوضان خصاھما والمفعول بہ ذلك قد انقطع ان یکون لہ نسل فلو کان اخصاؤھما مکروھا اذا لما ضحی بھما رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ بیشك ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے دو خصی مینڈھوں کی قربانی کی یعنی وہ دو ایسے دنبے تھے کہ جن کے دونوں خصیے کو فتہ تھے۔اور جس کے ساتھ یہ برتاؤ کیا جائے اس کی نسل ختم ہوجاتی ہے۔اگر دنبوں کو خصی کرنا مکروہ ہوتا تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام ایسے مکروہ جانورں کی کبھی قربانی نہ کرتے۔(ت)
اسی کے باب انزاء الحمیر علی الخیل میں ہے:
لوکان مکروہا لکان رکوب البغال مکروھا لانہ لو لا رغبۃ الناس فی البغال ورکوبھم ایاھا لما انزئت الحمیر علی الخیل ۔ گدھوں کا گھوڑی سے جفتی کرانااگر یہ مکروہ ہوتا تو ضرور خچروں پر سوار ہونا مکروہ ہوتا۔اس لئے کہ اگر لوگوں کی خچروں کی طرف اور ان کی سواری کی طرف رغبت نہ ہوتی تو کبھی گدھوں سے گھوڑی پر جفتی نہ کرائی جاتی۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
لاباس باخصاء البھائم وانزاء الحمیر علی الخیل وقد صح ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رکب البغلۃ فلو کان ھذا الفعل حرام لما رکبھا لما فیہ من فتح بابہ ۔ چوپایوں کے خصی کرنے میں اور گدھو ں سے گھوڑی پر جفتی کرانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے صحیح روایت میں یہ آیا ہے کہ حضور صلی اﷲ تعلی علیہ وسلم خچر پر سوار ہوئے ہیں اگر یہ کام حرام ہوتا تو آپ کبھی خچر پر سوار نہ ہوتے کیونکہ اس میں برائی کا دروازہ کھلتا ہے۔(ت)
اسی باب سے ہے کہ قوی تندرست قابل کسب جو بھیك مانگتے پھرتے ہیں ان کو دینا گناہ ہے کہ ان کا بھیك مانگنا حرام ہے اور ان کودینے میں اس حرام پرمدداگر لوگ نہ دیں تو جھك ماریں اور کوئی
اسی کے باب انزاء الحمیر علی الخیل میں ہے:
لوکان مکروہا لکان رکوب البغال مکروھا لانہ لو لا رغبۃ الناس فی البغال ورکوبھم ایاھا لما انزئت الحمیر علی الخیل ۔ گدھوں کا گھوڑی سے جفتی کرانااگر یہ مکروہ ہوتا تو ضرور خچروں پر سوار ہونا مکروہ ہوتا۔اس لئے کہ اگر لوگوں کی خچروں کی طرف اور ان کی سواری کی طرف رغبت نہ ہوتی تو کبھی گدھوں سے گھوڑی پر جفتی نہ کرائی جاتی۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
لاباس باخصاء البھائم وانزاء الحمیر علی الخیل وقد صح ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رکب البغلۃ فلو کان ھذا الفعل حرام لما رکبھا لما فیہ من فتح بابہ ۔ چوپایوں کے خصی کرنے میں اور گدھو ں سے گھوڑی پر جفتی کرانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے صحیح روایت میں یہ آیا ہے کہ حضور صلی اﷲ تعلی علیہ وسلم خچر پر سوار ہوئے ہیں اگر یہ کام حرام ہوتا تو آپ کبھی خچر پر سوار نہ ہوتے کیونکہ اس میں برائی کا دروازہ کھلتا ہے۔(ت)
اسی باب سے ہے کہ قوی تندرست قابل کسب جو بھیك مانگتے پھرتے ہیں ان کو دینا گناہ ہے کہ ان کا بھیك مانگنا حرام ہے اور ان کودینے میں اس حرام پرمدداگر لوگ نہ دیں تو جھك ماریں اور کوئی
حوالہ / References
شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب اخصاء البہائم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۴۲۱
شرح معانی الآثار کتا ب السیر باب انزاء الحمیر علی الخیل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۷۶
الہدایہ کتاب الکراھیۃ مسائل متفرقہ مطبع یوسفی لکھنو ۴ /۴۷۲
شرح معانی الآثار کتا ب السیر باب انزاء الحمیر علی الخیل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۷۶
الہدایہ کتاب الکراھیۃ مسائل متفرقہ مطبع یوسفی لکھنو ۴ /۴۷۲
پیشہ حلال اختیار کریں۔ درمختار میں ہے:
لایحل ان یسأل شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل اوبالقوۃ کا لصحیح المکتسب ویأثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم ۔ یہ حلال نہیں کہ آدمی کسی سے روزی وغیرہ کا سوال کرے جبکہ اس کے پاس ایك دن کی روزی موجود ہو یا اس میں اس کے کمانے کی طاقت موجود ہوجیسے تندرست کمائی کرنے والا اور اسے دینے والا گنہگار ہوتا ہے اگر اس کے حال کو جانتا ہے کیونکہ حرام پر اس نے اس کی مدد کی۔(ت)
یہ اصل کلی یاد رکھنے کی ہے کہ بہت جگہ کام دے گی۔جس چیز کا بنانا ناجائز ہوگا اسے خریدنا کام میں لانا بھی ممنوع ہوگا اور جس کا خریدناکام میں لانا منع نہ ہوگا اس کا بنانا بھی ناجائز نہ ہوگا۔
فان رفع التالی یفتح رفع المقدم کما ان وضع المقدم ینتج وضع التالی۔ اس لئے کہ رفع تالیرفع مقدم نتیجہ دیتی ہے جس طرح وضع مقدم وضع تالی کا نتیجہ دیتی ہے۔(ت)
اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)اور یہ خیال کہ ایك ہمارے چھوڑے سے کیا ہوتا ہے ہم نہ لینگے تو اور ہزاروں لینے والے ہیں مقبول نہیںہر ایك کا یہی خیال رہے تو کوئی بھی نہ چھوڑے توحکم شرع معطل رہ جائے گا چھوٹے گا یوہیں کہ ہر ایك اپنے ہی استعمال کو اس کا ذریعہ اصطناع سمجھے جب سب چھوڑ دینگے آپ ہی بنانا معدوم ہوجائے گااور اگر نہ چھوڑیں تو ہر ایك کو اپنی قبر میں سونا اپنے کئے کا حساب دینا ہے اوروں سے کیا کامایسی ہی جگہ کے لئے ارشاد ہوا ہے:
" یایہا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم " اے ایمان والو! تم اپنی جان کی اصلاح کرلو تمھیں اوروں کی گمراہی سے نقصان نہیں جبکہ تم خود راہ پر ہو۔
اگر کہے تو یہ ان افعال میں سے جو فی نفسہ مذموم ہیں تلاوت کی آواز گلاس میں ودیعت رکھنا بنفسہ مذموم نہیںان کی نیت لہو وغیرہ مقاصد ومفاسد نے اسے ممنوع کیا۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)کام واقع سے ہے نہ محض فرض سےجب واقع یہ ہے تو اس کی حرمت میں شك نہیں اور اس حرام کا دروازہ تمھیں خریدنے والوں کام میں لانے والوں نے کھولا کوئی
لایحل ان یسأل شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل اوبالقوۃ کا لصحیح المکتسب ویأثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم ۔ یہ حلال نہیں کہ آدمی کسی سے روزی وغیرہ کا سوال کرے جبکہ اس کے پاس ایك دن کی روزی موجود ہو یا اس میں اس کے کمانے کی طاقت موجود ہوجیسے تندرست کمائی کرنے والا اور اسے دینے والا گنہگار ہوتا ہے اگر اس کے حال کو جانتا ہے کیونکہ حرام پر اس نے اس کی مدد کی۔(ت)
یہ اصل کلی یاد رکھنے کی ہے کہ بہت جگہ کام دے گی۔جس چیز کا بنانا ناجائز ہوگا اسے خریدنا کام میں لانا بھی ممنوع ہوگا اور جس کا خریدناکام میں لانا منع نہ ہوگا اس کا بنانا بھی ناجائز نہ ہوگا۔
فان رفع التالی یفتح رفع المقدم کما ان وضع المقدم ینتج وضع التالی۔ اس لئے کہ رفع تالیرفع مقدم نتیجہ دیتی ہے جس طرح وضع مقدم وضع تالی کا نتیجہ دیتی ہے۔(ت)
اقول:(میں کہتا ہوں۔ت)اور یہ خیال کہ ایك ہمارے چھوڑے سے کیا ہوتا ہے ہم نہ لینگے تو اور ہزاروں لینے والے ہیں مقبول نہیںہر ایك کا یہی خیال رہے تو کوئی بھی نہ چھوڑے توحکم شرع معطل رہ جائے گا چھوٹے گا یوہیں کہ ہر ایك اپنے ہی استعمال کو اس کا ذریعہ اصطناع سمجھے جب سب چھوڑ دینگے آپ ہی بنانا معدوم ہوجائے گااور اگر نہ چھوڑیں تو ہر ایك کو اپنی قبر میں سونا اپنے کئے کا حساب دینا ہے اوروں سے کیا کامایسی ہی جگہ کے لئے ارشاد ہوا ہے:
" یایہا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم " اے ایمان والو! تم اپنی جان کی اصلاح کرلو تمھیں اوروں کی گمراہی سے نقصان نہیں جبکہ تم خود راہ پر ہو۔
اگر کہے تو یہ ان افعال میں سے جو فی نفسہ مذموم ہیں تلاوت کی آواز گلاس میں ودیعت رکھنا بنفسہ مذموم نہیںان کی نیت لہو وغیرہ مقاصد ومفاسد نے اسے ممنوع کیا۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)کام واقع سے ہے نہ محض فرض سےجب واقع یہ ہے تو اس کی حرمت میں شك نہیں اور اس حرام کا دروازہ تمھیں خریدنے والوں کام میں لانے والوں نے کھولا کوئی
مول نہ لے تو وہ کیوں ایسی ناپاکی کریں پھر عذر کا کیا محلواﷲ العاصم عن سبیل الزیغ والزلل(ٹیڑھے اور پھسلنے والے راستوں سے اﷲ بچاتا ہے۔ت)اور قرآن عظیم ہی کے حکم میں ہیں اشعار حمد ونعت ومنقبت وجملہ عبارات وکلمات معظمہ دینیہ کہ نہ ان کو نجس چیز میں لکھنا جائزیہ وجہ اول ہوئینہ انھیں کھیل تماشا بنانا جائزیہ وجہ دوم ہوئینہ انھیں لہو ولغو بنانے کے جلسے میں شریك ہونا جائزاگر چہ اپنی لعب کی نہ ہو یہ وجہ سوم ہوئینہ ان کی خریداری واستعمال سے لہو بنانے والوں کی مدد جائزیہ وجہ چہارم ہوئیحضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لہو مباح میں تو اپنا ذکر کریم ناپسند فرمایا اور انصار کی کمسن لڑکیوں نے بعد تقریب شادی کے گانے میں یہ مصرع پڑھا: ع
وفینا نبی یعلم مافی غد
(ہم میں وہ نبی ہیں جو آئندہ کی باتیں جانتے ہیں)
ان کو منع فرمایا کہ:
دعی ھذہ وقولی بالذی کنت تقولین ۔ اسے رہنے دو وہی کہے جاؤ جو کہہ رہی تھیں۔
امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف اواخر کتاب مسئلہ السماع میں فرماتے ہیں:
ولذا لمادخل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیت الربیع بنت معوذ وعندھا جواریغنین فسمع احدھن تقول"وفینا نبی یعلم مافی غد"علی وجہ الغناء فقال صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم دعی ھذا وقولی ماکنت تقولین وھذا شہادۃ بالنبوۃ فزجرھا عنھا وردھا یہی وجہ ہے کہ جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام ربیع دختر معوذ کے گھر تشریف لے گئے تو ان کے پاس بچیاں گیت گارہی تھیں تو حضور نے ان میں سے ایك کو یہ کہتے سنا کہ ہمارے اندر وہ نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں۔وہ بچیاں گیت کے طورپر گا رہی تھیں تو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کو چھوڑدو اور وہی کہتی رہو جو پہلے کہہ رہی تھیں۔تو اس پر نبوت کی گواہی تھی لیکن حضور علیہ السلام نے
وفینا نبی یعلم مافی غد
(ہم میں وہ نبی ہیں جو آئندہ کی باتیں جانتے ہیں)
ان کو منع فرمایا کہ:
دعی ھذہ وقولی بالذی کنت تقولین ۔ اسے رہنے دو وہی کہے جاؤ جو کہہ رہی تھیں۔
امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف اواخر کتاب مسئلہ السماع میں فرماتے ہیں:
ولذا لمادخل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بیت الربیع بنت معوذ وعندھا جواریغنین فسمع احدھن تقول"وفینا نبی یعلم مافی غد"علی وجہ الغناء فقال صلی ا ﷲ تعالی علیہ وسلم دعی ھذا وقولی ماکنت تقولین وھذا شہادۃ بالنبوۃ فزجرھا عنھا وردھا یہی وجہ ہے کہ جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام ربیع دختر معوذ کے گھر تشریف لے گئے تو ان کے پاس بچیاں گیت گارہی تھیں تو حضور نے ان میں سے ایك کو یہ کہتے سنا کہ ہمارے اندر وہ نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں۔وہ بچیاں گیت کے طورپر گا رہی تھیں تو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کو چھوڑدو اور وہی کہتی رہو جو پہلے کہہ رہی تھیں۔تو اس پر نبوت کی گواہی تھی لیکن حضور علیہ السلام نے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب النکاح باب ضرب الدف فی النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۷۳
الی الغناء الذی ہو لھو لان ھذا جدمحض فلا یقرن بصورۃ اللھو ۔ اس کہنے پر انھیں ڈانٹ دیا اور اس گانے کی طرف لوٹا دیا جو ایك کھیل کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے کہ یہ ایك خالص سنجیدگی ہے لہذا جو چیز صورۃ کھیل ہو اس سے بھی اس کا ملاپ ٹھیك نہیں۔(ت)
یعنی یہ مصرع حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی تھی کہ خدا کے بتائے سے اصالۃ غیب کا جاننا نبوت ہی کی شان ہے تو حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ چاہا کہ اسے صورت لہو میں شامل کیا جائے لہذا اس سے روك دیا وہابیہ اس حدیث کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں اور بات صرف اتنی ہے یہ بھی نہیں سوجھتا کہ اگر نسبت علم امور غیب ہی ناپسند فرماتے تو کن سےکم فہم عورتوں سے اور وہ بھی لڑکیاں کہ منجر بمعنی ناجائز نہ ہو اورجب مرد عقل مالك بن عوف ہوازنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنا قصیدہ نعتیہ حضور میں عرض کیا ہے جس میں فرمایا: ع
ومتی تشاء یخبرك عما فی غد
تو جب چاہے یہ نبی تجھے ائندہ کی باتیں بتادیں
ان پر کیوں نہ انکار فرمایاحالانکہ انھوں نے تو ان لڑکیوں سے بہت زیادہ کہا جس سے قیامت تك کے کل غیبوں کا بالفعل حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو معلوم ہونا یا کم از کم ان کا جان لینا حضور کے اختیار میں دےدیا جانا ظاہر جس کی تشریح ہم نے اپنی کتاب"الامن والعلی لنا عتی المصطفی بدافع البلا ۱۳۱۱ھ "میں ذکر کی انکار فرمانادرکنار حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس قصیدہ کے صلہ میں ان کے لئے کلمہ خیر فرمایا اور انھیں خلعت پہنایا اور انھیں ان کی قوم ہوازن وقبائیل ثمالہ وسلمہ وفہم پر سردار فرمایا:
کما رواہ المعانی فی الجلیس والا نیس بطریق الحرمازی عن ابی عبیدۃ بن الجراح رضی اﷲ تعالی عنہ وابن اسحاق عن ابی وجزۃ یزید بن عبید السعدی۔ جیسا کہ معانی نے اس کو جلیس وانیس میں حرمازی کے طریق پر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور ابن اسحق نے ابی وجزہ یزید بن سعدی سے اسے روایت کیا۔(ت)
یعنی یہ مصرع حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی تھی کہ خدا کے بتائے سے اصالۃ غیب کا جاننا نبوت ہی کی شان ہے تو حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہ چاہا کہ اسے صورت لہو میں شامل کیا جائے لہذا اس سے روك دیا وہابیہ اس حدیث کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں اور بات صرف اتنی ہے یہ بھی نہیں سوجھتا کہ اگر نسبت علم امور غیب ہی ناپسند فرماتے تو کن سےکم فہم عورتوں سے اور وہ بھی لڑکیاں کہ منجر بمعنی ناجائز نہ ہو اورجب مرد عقل مالك بن عوف ہوازنی رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنا قصیدہ نعتیہ حضور میں عرض کیا ہے جس میں فرمایا: ع
ومتی تشاء یخبرك عما فی غد
تو جب چاہے یہ نبی تجھے ائندہ کی باتیں بتادیں
ان پر کیوں نہ انکار فرمایاحالانکہ انھوں نے تو ان لڑکیوں سے بہت زیادہ کہا جس سے قیامت تك کے کل غیبوں کا بالفعل حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو معلوم ہونا یا کم از کم ان کا جان لینا حضور کے اختیار میں دےدیا جانا ظاہر جس کی تشریح ہم نے اپنی کتاب"الامن والعلی لنا عتی المصطفی بدافع البلا ۱۳۱۱ھ "میں ذکر کی انکار فرمانادرکنار حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس قصیدہ کے صلہ میں ان کے لئے کلمہ خیر فرمایا اور انھیں خلعت پہنایا اور انھیں ان کی قوم ہوازن وقبائیل ثمالہ وسلمہ وفہم پر سردار فرمایا:
کما رواہ المعانی فی الجلیس والا نیس بطریق الحرمازی عن ابی عبیدۃ بن الجراح رضی اﷲ تعالی عنہ وابن اسحاق عن ابی وجزۃ یزید بن عبید السعدی۔ جیسا کہ معانی نے اس کو جلیس وانیس میں حرمازی کے طریق پر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور ابن اسحق نے ابی وجزہ یزید بن سعدی سے اسے روایت کیا۔(ت)
حوالہ / References
احیاء العلوم کتاب آداب السماع والوجد البا ب الثانی مطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ ۲ /۳۰۰
تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر تحت آیۃ ۹ /۲۷ داراحیاء الکتب العربی مصر ۲ /۳۴۶
تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر تحت آیۃ ۹ /۲۷ داراحیاء الکتب العربی مصر ۲ /۳۴۶
وﷲ الحمد جب لہو مباح میں اپنا ذکر پاك پسند نہ فرمایا تو لہو باطل کا کیا ذکر۔
بالجملہ خلاصہ حکم یہ کہ
یہاں تین چیزیں ہیں:ممنوعاتمعظماتمباحات۔
اول: کا سننا مطلقا حرام وناجائز ہے اور فونو سےجو کچھ سنا جائے گا وہ بعینہ اسی شے کی آواز ہوگی جس کی صوت اس میں بھری گئی مزامیر ہوں ناچ خواہ عورت کا گانا وغیرہااصل کا جو حکم تھا بے تفاوت سرمو اس کا ہوگا کہ یہ خود ہی اصل ہے نہ کہ اس کی نقل طبلہ یا ستار کی آواز ہے تو بلا شبہہ وہ طبلہ اور ستار کی آواز ہے نہ کہ فونو کیکہ فونو اپنی کوئی آواز نہیں رکھتا اور وہ بھی اسی طبلہ اور ستار کی ہے نہ کہ دوسرے کی اوروہ بھی اسی وقت کی آواز ہے جو بھرتے وقت بجائی گئی تھی نہ کہ اور وقت کییوں ہی عورت کا گانا ہے تو یقینا وہ عورت ہی کا گانا ہے نہ کہ فونو کا کہ فونو گانے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور وہ بھی اسی عورت کا گانا ہے نہ کہ دوسری کا اور وہ بھی اسی کا اسی وقت کا گانا ہے جو بھرتے وقت وہ گائی تھی۔
دوم: بھی مطلقا حرام وممنوع ہیںاگر گلاسوں پلیٹوں میں کوئی ناپاکی یا جلسہ لہو ولعب کا ہے تو تحریم سخت ہے اور خود سننے والوں کی نیت تماشا ہے تو اور بھی سخت تر خصوصا قرآن عظیم میں اور اگر اس سب سے پاك ہو تو ان کے مقاصد فاسدہ کی اعانت ہو کر ممنوع ہے اور سب سے سخت تر وبال ان قاریوں غزل خوانوں پر ہے جو نوکری کرکے یا اجرت لے کر یا مفت گناہ خریدنے کو اپنا پڑھنا اس میں بھرواتے ہیں کہ وہ اصل بانی فساد ہوئے بھرنے والوں اور جب تك وہ گلاس پلیٹ باقی رہیں ان کے سننے والوں سنانے والوں سب کاگناہ ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہوتارہے گا اگر چہ یہ قبر میں خاك ہوگئے ہوں بغیر اس کے کہ ان سننے سنانے بھرنے بھرانے والوں کے اپنے گناہ میں کچھ کمی ہورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سن فی الاسلام سنۃ سیئۃ فعلیہ وزرھا ووزر من عمل بھا الی یوم القیمۃ من دون ان ینقص من اوزرھم شیئا ۔ جس شخص نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اس کا گناہ اور جتنے قیامت تك اس پر عمل کریں گے ان سب کا گناہ اس پر ہوگا بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی واقع ہو۔(ت)
بالجملہ خلاصہ حکم یہ کہ
یہاں تین چیزیں ہیں:ممنوعاتمعظماتمباحات۔
اول: کا سننا مطلقا حرام وناجائز ہے اور فونو سےجو کچھ سنا جائے گا وہ بعینہ اسی شے کی آواز ہوگی جس کی صوت اس میں بھری گئی مزامیر ہوں ناچ خواہ عورت کا گانا وغیرہااصل کا جو حکم تھا بے تفاوت سرمو اس کا ہوگا کہ یہ خود ہی اصل ہے نہ کہ اس کی نقل طبلہ یا ستار کی آواز ہے تو بلا شبہہ وہ طبلہ اور ستار کی آواز ہے نہ کہ فونو کیکہ فونو اپنی کوئی آواز نہیں رکھتا اور وہ بھی اسی طبلہ اور ستار کی ہے نہ کہ دوسرے کی اوروہ بھی اسی وقت کی آواز ہے جو بھرتے وقت بجائی گئی تھی نہ کہ اور وقت کییوں ہی عورت کا گانا ہے تو یقینا وہ عورت ہی کا گانا ہے نہ کہ فونو کا کہ فونو گانے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور وہ بھی اسی عورت کا گانا ہے نہ کہ دوسری کا اور وہ بھی اسی کا اسی وقت کا گانا ہے جو بھرتے وقت وہ گائی تھی۔
دوم: بھی مطلقا حرام وممنوع ہیںاگر گلاسوں پلیٹوں میں کوئی ناپاکی یا جلسہ لہو ولعب کا ہے تو تحریم سخت ہے اور خود سننے والوں کی نیت تماشا ہے تو اور بھی سخت تر خصوصا قرآن عظیم میں اور اگر اس سب سے پاك ہو تو ان کے مقاصد فاسدہ کی اعانت ہو کر ممنوع ہے اور سب سے سخت تر وبال ان قاریوں غزل خوانوں پر ہے جو نوکری کرکے یا اجرت لے کر یا مفت گناہ خریدنے کو اپنا پڑھنا اس میں بھرواتے ہیں کہ وہ اصل بانی فساد ہوئے بھرنے والوں اور جب تك وہ گلاس پلیٹ باقی رہیں ان کے سننے والوں سنانے والوں سب کاگناہ ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہوتارہے گا اگر چہ یہ قبر میں خاك ہوگئے ہوں بغیر اس کے کہ ان سننے سنانے بھرنے بھرانے والوں کے اپنے گناہ میں کچھ کمی ہورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سن فی الاسلام سنۃ سیئۃ فعلیہ وزرھا ووزر من عمل بھا الی یوم القیمۃ من دون ان ینقص من اوزرھم شیئا ۔ جس شخص نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اس کا گناہ اور جتنے قیامت تك اس پر عمل کریں گے ان سب کا گناہ اس پر ہوگا بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی واقع ہو۔(ت)
حوالہ / References
مسند امام احمد بیروت ۴ /۳۵۹،۳۶۱ وصحیح مسلم باب من سن سنۃ الخ ۲ /۳۴۱ وسنن ابی داؤد ۲ /۲۷۹
سوم: میں تفصیل ہے اگر پلیٹوں میں نجاست ہے تو حروف وکلمات کا ان میں بھرنا مطلقا ممنوع ہے کہ حرف خود معظم ہیں کما بیناہ فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوی میں بیان کردیا ہے۔ت)اور اگر نجاست نہیں یا وہ کوئی خالی جائز آواز بے حروف ہے تو جلسہ فساق میں اسے سننا اہل اصلاح کا کام نہیں کہ انھیں اہل باطل سے اختلاط نہ چاہئے اور اگر تنہائی یا خاص صلحاء کی مجلس ہے تو کوئی وجہ منع نہیں اور یہاں ہمارے وہ مباحث کام دیں گے جونظر اولی میں گزرے پھر اگر کسی مصلحت شرعیہ کے لئے ہے جیسے عالم کو اس کے حال پر اطلاع پانے یا قوت اشغال دینے کے واسطے ترویح قلب کے لئے جب تو بہتر ورنہ اتنا ضرور ہے کہ ایك لایعنی بات ہے۔ اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حسن اسلام المرء ترکہ ما لایعنیہ حدیث صحیح مشھور عن سبعۃ من الصحابۃ منھم الصدیق والمر تضی والحسین رضی اﷲ تعالی عنہ ورواہ الترمذی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ خوبی اسلام یہ ہے کہ آدمی لایعنی بات نہ کرے(حدیث سات صحابہ سے صحیح اور مشہور ہے ان میں سے بعض یہ ہیں حضرت ابوبکر صدیقحضرت علیحضرت امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہماور ترمذی اورابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔(ت)
یہ بھی اس حالت میں ہے کہ نادرا ہو عادت ڈالنا اور وقت اس میں ضائع کیا کرنا مطلقا مکروہ ہوگا۔
لحدیث کل شیئ من لہوالدنیا باطل الا ثلثۃ رواہ الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی واذ اس حدیث کی وجہ سے کہ دنیا کا ہر کھیل سوائے تین کھیلوں کے باطل ہے۔امام حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت فرمایا۔یہ سب کچھ میرے نزدیك ہے۔
حسن اسلام المرء ترکہ ما لایعنیہ حدیث صحیح مشھور عن سبعۃ من الصحابۃ منھم الصدیق والمر تضی والحسین رضی اﷲ تعالی عنہ ورواہ الترمذی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ خوبی اسلام یہ ہے کہ آدمی لایعنی بات نہ کرے(حدیث سات صحابہ سے صحیح اور مشہور ہے ان میں سے بعض یہ ہیں حضرت ابوبکر صدیقحضرت علیحضرت امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہماور ترمذی اورابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔(ت)
یہ بھی اس حالت میں ہے کہ نادرا ہو عادت ڈالنا اور وقت اس میں ضائع کیا کرنا مطلقا مکروہ ہوگا۔
لحدیث کل شیئ من لہوالدنیا باطل الا ثلثۃ رواہ الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی واذ اس حدیث کی وجہ سے کہ دنیا کا ہر کھیل سوائے تین کھیلوں کے باطل ہے۔امام حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت فرمایا۔یہ سب کچھ میرے نزدیك ہے۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الزھد باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ الخ امین کمپنی دہلی ۲ /۵۵،سنن ابن ماجہ ابواب الفتن ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۹۵
المستدرك للحاکم کتاب الجہاد من علم الرمی ثم ترکہ الخ دارالفکر بیروت ۲ /۹۵
المستدرك للحاکم کتاب الجہاد من علم الرمی ثم ترکہ الخ دارالفکر بیروت ۲ /۹۵
قد خرجت العجالۃ فی صورۃ رسالۃ ناسب ان نسمیھا الکشف شافیا حکم فونو جرافیا ۱۳۲۸ھ لیکون علما وعلی عام التالیف علما وکان ذلك للتاسع عشر من شھر رمضان الذی انزل فیہ القران وقت السحور ۱۳۲۸ھ الف وثلثمائۃ وثمان وعشرین من ھجرۃ سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیھم وعلی آلہ وصحبہ اجمعین امین واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اور ٹھیك اور واقعی علم تو میرے رب کے پاس ہے اور یہ جلدی کیا ہوا کام ایك رسالے کی شکل میں معرض وجود میں آگیا مناسب ہے کہ ہم اس کا نام الکشف شافیا حکم فونو جرافیا(یعنی شافی اور مکمل انکشاف فونو گراف کے حکم بیان کرنے میں) رکھیں تاکہ یہ اس کانام ہو اور اس کے سال تصنیف پر ایك نشان ہواور اس کی تصنیف ماہ رمضان کہ جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا۔سال ہجری ۱۳۲۸ھ سید المرسلین کی ہجرت مبارك کے مطابق محبوب کریم اور تمام رسولوں اور حضور پاك کی سب آل اور تمام صحابہ پر اﷲ کی بیحد وبےشمار رحمت و برکات ہوں۔آمیناور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے اور اس بزرگی والے کا علم زیادہ کامل اور زیادہ پختہ ہے۔(ت)
_____________________
رسالہ
الکشف شافیا حکم فونو جرافیا
ختم ہوا
_____________________
رسالہ
الکشف شافیا حکم فونو جرافیا
ختم ہوا
رسالہ
الادلۃ الطاعنہ فی اذان الملا عنہ ۱۳۰۶ھ
(ملعونوں کی اذان کے بارے میں نیزے چبھونے والے دلائل)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۸۳: از انجمن محب اسلام مرسلہ مولوی صاحب صدر انجمن ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ بالفعل اہل تشیع نے اپنی اذان وغیرہ میں حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت کلمہ خلیفہ رسول اﷲ بلا فصل کہنا اختیار کیا ہے۔پس اہلسنت کو اس کلمہ کا سننا بمنزلہ سننے تبرا کے ہے یا نہیںاور اس کے انسداد میں کوشش کرنا باعث اجر ہوگی یانہیں بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
الحمدﷲ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد وخلفائہ الاربعۃ الراشدین والہ و صحبہ و اھل سنتہ اجمعین۔ تمام حمدیں اﷲ تعالی رب العالمین کے لئے ہیں اور صلوۃ وسلام رسولوں کے آقا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اور ان خلفاء اربعہ راشدین اورآپ کی آل وصحابہ اور تمام اہلسنت پر۔(ت)
الادلۃ الطاعنہ فی اذان الملا عنہ ۱۳۰۶ھ
(ملعونوں کی اذان کے بارے میں نیزے چبھونے والے دلائل)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۸۳: از انجمن محب اسلام مرسلہ مولوی صاحب صدر انجمن ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ بالفعل اہل تشیع نے اپنی اذان وغیرہ میں حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت کلمہ خلیفہ رسول اﷲ بلا فصل کہنا اختیار کیا ہے۔پس اہلسنت کو اس کلمہ کا سننا بمنزلہ سننے تبرا کے ہے یا نہیںاور اس کے انسداد میں کوشش کرنا باعث اجر ہوگی یانہیں بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
الحمدﷲ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد وخلفائہ الاربعۃ الراشدین والہ و صحبہ و اھل سنتہ اجمعین۔ تمام حمدیں اﷲ تعالی رب العالمین کے لئے ہیں اور صلوۃ وسلام رسولوں کے آقا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اور ان خلفاء اربعہ راشدین اورآپ کی آل وصحابہ اور تمام اہلسنت پر۔(ت)
الحق یہ کلمہ مغضوبہ مبغوضہ مذکورہ سوال خالص تبرا ہے اور اس کا سننا سنی کے لئے بمنزلہ تبرا سننے سنی کےلیے بمنزلہ تبراسننے کے نہیں بلکہ حقیقۃ تبرا سننا ہے۔والعیاذ باﷲ تعالی رب العالمینتبرا کے معنی اظہار براءت وبیزاری جس پر یہ کلمہ خبیثہ نہ کنایۃ بلکہ صراحۃ دال ہے کہ اس میں بالتصریح خلافت راشدہ حضرات خلفاء ثلثہ رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی نفی ہے اور اس نفی کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ وہ بعد حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مسند نشین نہ ہوئے کہ ان کا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد تخت خلافت پر جلوس فرمانا فرمان واحکام جاری کرنا نظم ونسق ممالك اسلامیہ وتمام امور ملك ومال ورزم وبزم کی باگیں اپنے دست حق پر ست میں لینا وہ تاریخی واقعہ مشہور متواتر اظہر من الشمس ہے جس سے دنیا میں موافق مخالف یہاں تك کہ نصاری ویہود ومجوس وہنود کسی کو انکار نہیں بلکہ ان محبان خدا ونوابان مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روافض کو زیادہ عداوت کا مبنی یہی ہے ان کے زعم باطل میں استحقاق خلافت حضرات مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ الاسنی میں منحصر تھا جب بحکم الہی خلافت راشدہ اول ان تین سرداران مومنین کو پہنچی روافض نے انھیں معاذاﷲ مولی علی کا حق چھیننے والاٹھہرایا اور تقیہ شقیہ کی بدولت حضرت اسداﷲ الغالب کو عیاذاباﷲ سخت نامردود فـــــــ وبزدل وتارك حق ومطیع باطل بتایا ع
دوستی بے خرداں دشمنی ست
(بے عقل لوگوں کی دوستی اصل میں دشمنی ہے۔ت)
" کبرت کلمۃ تخرج من افوہہم ان یقولون الاکذبا ﴿۵﴾" کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے نرا جھوٹ کہہ رہے ہیں۔(ت)
تو لاجرم لفظ بلا فصل میں جو نفی ہے اس سے نفی لیاقت واستحقاق مرادتو اس مجمل لفظ میں غضب وظلم وانکار حق واصرار باطل ومخالف دین واختیار دنیا وغیرہ وغیرہ ہزاروں مطاعن ملعونہ جو قوم روافض اپنے اعتقاد میں رکھتی اور زبان سے بکتی ہے سب دفعۃ موجود ہیں اور لائے نفی سے اپنی براءت وبیزاری کا کھلا اظہارپھر تبرا اور کس چیز کا نام ہے میں اس واضح بات کے ایضاح کرنے یعنی آفتاب روشن کو چراغ دکھانے میں زیادہ تطویل محض بیکار سمجھ کر صرف اس الزامی نظر پر قناعت کرتاہوںاگر کوئی شخص کہے(قوم شیعہ میں بعد عبدالرزاق بن ہمام کے جس نے ۲۱اھ میں انتقال کیا بلا فصل بہاؤ الدین املی ہونے سے محفوظ اور بظاہر نام اسلام سے محفوظ رہے۔تو کیا اس نے ان دونوں کے بیچ میں
فـــــ:روافض کے طور پر حضرت مولی علی معاذاﷲ بزدل تارك حق مطیع باطل ٹھہرے۔
دوستی بے خرداں دشمنی ست
(بے عقل لوگوں کی دوستی اصل میں دشمنی ہے۔ت)
" کبرت کلمۃ تخرج من افوہہم ان یقولون الاکذبا ﴿۵﴾" کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے نرا جھوٹ کہہ رہے ہیں۔(ت)
تو لاجرم لفظ بلا فصل میں جو نفی ہے اس سے نفی لیاقت واستحقاق مرادتو اس مجمل لفظ میں غضب وظلم وانکار حق واصرار باطل ومخالف دین واختیار دنیا وغیرہ وغیرہ ہزاروں مطاعن ملعونہ جو قوم روافض اپنے اعتقاد میں رکھتی اور زبان سے بکتی ہے سب دفعۃ موجود ہیں اور لائے نفی سے اپنی براءت وبیزاری کا کھلا اظہارپھر تبرا اور کس چیز کا نام ہے میں اس واضح بات کے ایضاح کرنے یعنی آفتاب روشن کو چراغ دکھانے میں زیادہ تطویل محض بیکار سمجھ کر صرف اس الزامی نظر پر قناعت کرتاہوںاگر کوئی شخص کہے(قوم شیعہ میں بعد عبدالرزاق بن ہمام کے جس نے ۲۱اھ میں انتقال کیا بلا فصل بہاؤ الدین املی ہونے سے محفوظ اور بظاہر نام اسلام سے محفوظ رہے۔تو کیا اس نے ان دونوں کے بیچ میں
فـــــ:روافض کے طور پر حضرت مولی علی معاذاﷲ بزدل تارك حق مطیع باطل ٹھہرے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۸ /۵
جتنے شیعے گزرے مثل طوسی وحلی وکلینی وابن بابویہ وغیرہم سب کو کافر ملعون نہ کہانہیں نہیں یقینا اس کے کلام کا صاف صاف یہی مطلب ہے جس کے سبب ہم اہل حق بھی اس لفظ پر انکار کریں گے اور اسے ناپسند رکھیں گے کہ ہمارے نزدیك بھی ان سب پر علی الاطلاق حکم کفر ولعنت جائز نہیں۔انصاف کیجئے کیا اگر یہ بات علانیہ برسر بازار پکاری جائے تو شیعہ کو کچھ نا گوار نہ ہوگا یا وہ اسے صریح توہین وتذلیل نہ سمجھیں گے حالانکہ اس بیچ میں جتنے شیعے گزرے کسی کو مدح وعقیدت شیعہ کے اصول مذہب میں داخل نہیںنہ معاذاﷲ قرآن وحدیث یا اقوال ائمہ اطہار رضوان اﷲ تعالی علیہم ان لوگوں کی نیکی وخوبی پر دالپھر حضرات خلفائے ثلثہ فـــــ۱ رضوان اﷲ تعالی علیہم جن کی ثنا ومدحت وادب وعقیدت ہم اہل سنت کے اصول مذہب میں داخل اور ہمارے نزدیك ہزاروں آیات واحادیث حضرت رسالت واقوال ائمہ اہلبیت صلوات اﷲ علیہ وعلیہم سے ان کی لاکھوں خوبیاں تعریفیں مالا مال ان کی نسبت ایسا کلمہ مغضوبہ اذان میں پکارا جانا کیونکر ہماری توہین مذہبی نہ ہو گا یا ہمارے دلوں کونہ دکھائے گا غرض یہ تو وہ روشن وبدیہی بات ہے جس کے ایضاح کو جو کچھ کہئے اس سے واضح تر نہ ہوگا مجھے بتوفیق اﷲ عزوجل یہاں یہ ظاہر کرنا ہے کہ یہ کلمات جو روافض حال نے سنیوں کی ایذا رسانی کو اذان میں بڑھائے ہیں ان کے مذہب کے بھی خلاف ہیں۔
(۱)ان کی حدیث وفقہ کی رو سے بھی اذان ایك محدود عبارت معدود کلمات کا نام ہے جن میں یہ ناپاك لفظ داخل نہیں۔
(۲)ان کے نزدیك بھی اس اذان منقول میں اور عبارت بڑھانا ناجائز وگناہ اور اپنے دل سے ایك نئی شریعت نکالنا ہے۔
(۳)ان کے پیشوا خود لکھ گئے کہ ان زیادتیوں کی موجب ایك ملعون فـــــ۲ قوم ہے جنھیں امامیہ بھی کافر جانتے ہیں۔
میں ان تینوں امور کی سندیں مذہب امامیہ کی معتبر کتابوں سے دوں گا اور ان کی عبارتیں مع صاف ترجمہ کے نقل کروں گا وباﷲ التوفیق ولہ الحمد علی ارأۃ سواء الطریق(اﷲ تعالی سے ہی توفیق ہے اسی کے لئے حمد ہے سیدھا راستہ دکھانے پر۔ت)
فـــــ ۱:حضرت خلفائے ثلثہ کی ثنا ومدحت ادب وعقیدت اہل سنت کے اصول مذہب میں ہے۔
فـــــ ۲:روافض کے پیشواؤں نے کہا کہ اذان میں خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلافصل وغیرہ زیادت کی موجد ایك ملعون قوم ہے۔
(۱)ان کی حدیث وفقہ کی رو سے بھی اذان ایك محدود عبارت معدود کلمات کا نام ہے جن میں یہ ناپاك لفظ داخل نہیں۔
(۲)ان کے نزدیك بھی اس اذان منقول میں اور عبارت بڑھانا ناجائز وگناہ اور اپنے دل سے ایك نئی شریعت نکالنا ہے۔
(۳)ان کے پیشوا خود لکھ گئے کہ ان زیادتیوں کی موجب ایك ملعون فـــــ۲ قوم ہے جنھیں امامیہ بھی کافر جانتے ہیں۔
میں ان تینوں امور کی سندیں مذہب امامیہ کی معتبر کتابوں سے دوں گا اور ان کی عبارتیں مع صاف ترجمہ کے نقل کروں گا وباﷲ التوفیق ولہ الحمد علی ارأۃ سواء الطریق(اﷲ تعالی سے ہی توفیق ہے اسی کے لئے حمد ہے سیدھا راستہ دکھانے پر۔ت)
فـــــ ۱:حضرت خلفائے ثلثہ کی ثنا ومدحت ادب وعقیدت اہل سنت کے اصول مذہب میں ہے۔
فـــــ ۲:روافض کے پیشواؤں نے کہا کہ اذان میں خلیفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلافصل وغیرہ زیادت کی موجد ایك ملعون قوم ہے۔
سند امر اول:شرائع الاسلام شیخ علی مطبوعہ کلکتہ مطبع گلدستہ نشاط ۱۲۵۵ھ کے صفحہ ۳۴ پر ہے:
الاذان علی الاشھر ثمانیۃ عشر فصلا التکبیر اربع و الشہادۃ بالتوحید ثم بالرسالۃ ثم یقول حی علی الصلوۃ ثم حی علی الفلاح ثم حی علی خیر العمل و التکبیر بعدہ ثم التھلیل کل فصل مرتان ۔ اذان مشہور تر قول پر اٹھارہ کلمے ہیں:تکبیر چار بار اور گواہی توحید کی پھر رسالت کی پھر حی علی الصلوۃ پھر حی علی الفلاح پھر حی علی خیر العمل اور اس کے بعد اﷲ اکبر پھر لا الہ الا اﷲ ہر کلمہ دو بار۔
خضید حی جو شہید ثانی کہا جاتا ہے اس کی شرح مدارك میں لکھتا ہے:
ھذا مذھب الاصحاب لا اعلم فیہ مخالفا والمستند فیہ ما رواہ ابن بابویہ والشیخ عن ابی بکر الحضر می وکلیب الاسدی عن ابی عبداﷲ علیہ السلام انہ حکی لھما الاذان فقال اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبر اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان محمدا رسول اﷲ اشھد ان محمدا رسول اﷲ حی علی الصلوۃ حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح حی علی خیر العمل حی علی خیر العمل اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ لا الہ الا اﷲوالا قامۃ کذلك وعن اسمعیل الجعفی قال سمعت ابا جعفر علیہ السلام یقول الاذان والاقامۃ خمسۃ وثلثون حرفا اذان کے وہی اٹھارہ کلمے ہونا مذہب تمام امامیہ کا ہے جس میں میرے نزدیك کسی نے خلاف نہ کیا اور اس کی سند وہ حدیث ہے جو ابن بابو یہ وشیخ نے ابوبکر حضرمی وکلیب اسدی سے روایت کی کہ حضرت ابو عبداﷲ علیہ السلام نے ان کے سامنے اذان یوں بیان فرمائی اﷲ اکبر ۴اشھد ان لا الہ الا اﷲ ۲ اشھد ان محمد ا رسول اﷲ ۲حی الصلوۃ ۲حی علی الفلاح۲ حی علی خیر العمل ۲اﷲ اکبر ۲لا الہ الا اﷲ ۲اور فرمایا اسی طرح تکبیر کہےاور اسمعیل جعفی سے روایت ہے میں نے حضرت امام ابو جعفر علیہ السلام کو فرماتے سنا کہ اذان وتکبیر کا مجموعہ پینتیس کلمے ہے۔پھر حضرت نے اپنے دست مبارك سے ایك ایك کرکے گنےاذان اٹھارہ
الاذان علی الاشھر ثمانیۃ عشر فصلا التکبیر اربع و الشہادۃ بالتوحید ثم بالرسالۃ ثم یقول حی علی الصلوۃ ثم حی علی الفلاح ثم حی علی خیر العمل و التکبیر بعدہ ثم التھلیل کل فصل مرتان ۔ اذان مشہور تر قول پر اٹھارہ کلمے ہیں:تکبیر چار بار اور گواہی توحید کی پھر رسالت کی پھر حی علی الصلوۃ پھر حی علی الفلاح پھر حی علی خیر العمل اور اس کے بعد اﷲ اکبر پھر لا الہ الا اﷲ ہر کلمہ دو بار۔
خضید حی جو شہید ثانی کہا جاتا ہے اس کی شرح مدارك میں لکھتا ہے:
ھذا مذھب الاصحاب لا اعلم فیہ مخالفا والمستند فیہ ما رواہ ابن بابویہ والشیخ عن ابی بکر الحضر می وکلیب الاسدی عن ابی عبداﷲ علیہ السلام انہ حکی لھما الاذان فقال اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبر اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان محمدا رسول اﷲ اشھد ان محمدا رسول اﷲ حی علی الصلوۃ حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح حی علی خیر العمل حی علی خیر العمل اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ لا الہ الا اﷲوالا قامۃ کذلك وعن اسمعیل الجعفی قال سمعت ابا جعفر علیہ السلام یقول الاذان والاقامۃ خمسۃ وثلثون حرفا اذان کے وہی اٹھارہ کلمے ہونا مذہب تمام امامیہ کا ہے جس میں میرے نزدیك کسی نے خلاف نہ کیا اور اس کی سند وہ حدیث ہے جو ابن بابو یہ وشیخ نے ابوبکر حضرمی وکلیب اسدی سے روایت کی کہ حضرت ابو عبداﷲ علیہ السلام نے ان کے سامنے اذان یوں بیان فرمائی اﷲ اکبر ۴اشھد ان لا الہ الا اﷲ ۲ اشھد ان محمد ا رسول اﷲ ۲حی الصلوۃ ۲حی علی الفلاح۲ حی علی خیر العمل ۲اﷲ اکبر ۲لا الہ الا اﷲ ۲اور فرمایا اسی طرح تکبیر کہےاور اسمعیل جعفی سے روایت ہے میں نے حضرت امام ابو جعفر علیہ السلام کو فرماتے سنا کہ اذان وتکبیر کا مجموعہ پینتیس کلمے ہے۔پھر حضرت نے اپنے دست مبارك سے ایك ایك کرکے گنےاذان اٹھارہ
حوالہ / References
شرائع الاسلام المقدمۃ السابقۃ فی الاذان والاقامۃ مطبعۃ الآداب فی النجف الاشرف ۱/ ۷۵
فعد ذلك بیدہ واحدا واحدا الاذان ثمانیۃ عشر حرفا والاقامۃ سبعۃ عشر حرفا واشار المصنف بقولہ علی الاشھر الی مارواہ الشیخ بسندہ الی الحسین بن سعید عن النصربن سوید عن عبداﷲ بن سنان قال سألت ابا عبداﷲ علیہ السلام عن الاذان فقال تقول اﷲ اکبر اﷲ اکبر اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان محمد ا رسول اﷲ اشھد ان محمد ا رسول اﷲحی علی الصلوۃحی علی الصلوۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح حی علی خیر العمل حی علی خیر العملاﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ وروی زرارۃ والفضیل عن ابی عبداﷲ علیہ السلامنحو ذلك وحکی الشیخ عن بعض الاصحاب تربیع التکبیر فی اخر الاذان وھو شاذ مردود بما تلونا من الاخبار اھ ملخصا۔ کلمے اور تکبیر سترہ اور وہ جو مصنف(یعنی حلبی نے شرائع الاسلام میں)کہا کہ مشہور تر قول پر اذان کے اٹھارہ کلمے ہیں وہ اس سے اس حدیث کی طرف اشارہ کرتا ہے جو شیخ نے بسند خود حسین بن سعید اس نے نصر بن سوید اس نے عبداﷲ بن سنان سے روایت کی کہ میں نے ابو عبداﷲ علیہ السلام سے اذان کو پوچھافرمایا یوں کہہ اﷲ اکبر ۲۔اشھد ان لا الہ الا اﷲ ۲اشھد ان محمد ارسول اللہ۲حی علی الصلوۃ۲حی علی الفلاح۲حی علی خیر العمل ۲اﷲ اکبر ۲لا الہ الا اﷲ ۲(یعنی اس حدیث میں شروع اذان صرف دو تکبیر سے ہے تو اذان کے سولہ ہی کلمے رہیں گے)اور زرارہ وفضیل نے امام ممدوح سے یونہی روایت کی اور شیخ نے بعض امامیہ سے اخر اذان میں چار تکبیریں نقل کیں اور وہ شاذ مردود ہے بسبب ان حدیثوں کے جو ہم نے ذکر کیں اھ ملخصا۔
شہید شیعہ ابوعبداﷲ بن مکی لمعہ دمشقیہ میں لکھتا ہے:
یکبر اربعا فی اول الاذان ثم التشھدان ثم حیعلات الثلث ثم التکبیر ثم التھلیل مثنی فھذہ ثمانیہ عشر فصلا فھذہ جملۃ الفصول اول اذان میں چار بار اﷲ اکبر کہے پھر دونوں شھادتیں پھر تینوں حی علی پھر اﷲ اکبر پھر لا الہ الا اﷲ ہر کلمہ دوبارہ یہ اٹھارہ کلمے ہیں اور کل یہی ہیں جو شرع میں منقول ہوئے۔
شہید شیعہ ابوعبداﷲ بن مکی لمعہ دمشقیہ میں لکھتا ہے:
یکبر اربعا فی اول الاذان ثم التشھدان ثم حیعلات الثلث ثم التکبیر ثم التھلیل مثنی فھذہ ثمانیہ عشر فصلا فھذہ جملۃ الفصول اول اذان میں چار بار اﷲ اکبر کہے پھر دونوں شھادتیں پھر تینوں حی علی پھر اﷲ اکبر پھر لا الہ الا اﷲ ہر کلمہ دوبارہ یہ اٹھارہ کلمے ہیں اور کل یہی ہیں جو شرع میں منقول ہوئے۔
حوالہ / References
مدارک الاحکام شرح شرائع الاسلام
المنقول شرعا ولا یجوز اعتقاد شرعیۃ غیر ھذہ لفصل فی الاذان والا قامۃ کالتشھد بالولایۃ لعلی اھ ملخصا۔ ان کے سوا اذان اور اقامت فـــــ۱ میں اور کسی کو مشروع جاننا جائز نہیں جیسے اشھد ان علیا ولی اﷲ اھ ملخصا۔
سند امر دوم:اسی مدارك میں ہے:
الاذان سنۃ متلقاۃ من الشارع کسائر العبادات فیکون الزیادۃ فیہ تشریعا محرما کما یحرم زیادۃ "ان محمد والہ خیر البریۃ"فان ذلك وان کان من احکام الایمان الا انہ لیس من فصول الاذان ۔ اذان ایك سنت ہے جسے شارع(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)نے تعلیم فرمایا مثل اور عبادتوں کے تو اس میں کوئی لفظ بڑھانا اپنی طرف سے نئی شریعت فـــــ۲ ایجاد کرنا ہے اور یہ حرام ہے جیسے "ان محمد والہ خیر البریہ"کا بڑھانا حرام ہوا کہ یہ اگر چہ احکام ایمان سے ہے مگر اذان کے کلمات سے نہیں۔
اسی میں ہے:
الاذان عبادۃ متلقاۃ من صاحب الشرع فیقتصر فی کیفیتھا علی المنقول والروایات المنقولۃ عن اھل البیت علیھم السلام خالیۃ عن ھذا اللفظ فیکون الاتیان بہ تشریعا محرما ۔ اذان ایك عبادت ہے کہ صاحب شرع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سیکھی گئی تو اس کی کیفیت میں اسی قدر اقتصار کیا جائے جس قدر شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے منقول ہے اور حضرات اہل بیت کرام علیہم السلام سے جو روایتیں منقول ہوئیں وہ اس لفظ سے خالی ہیں تو اس کا بڑھانا نئی شریعت تراشنا ہوگا کہ حرام ہے۔
سند امر سوم:شیخ صدوق شیعہ ابن بابویہ قمی کہ ان کے یہاں کے اکابر مجتہدین وارکان مذہب سے ہے۔کتاب من لایحضرہ الفقیہ کے باب الاذان والاقامۃ للمؤذنین میں لکھتا ہے:
روی ابوبکرن الحضر می وکلیب ن الاسدی عن ابی عبد اﷲ علیہ السلام انہ حکی لھما الاذان فقال اﷲ اکبراﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ ابوبکر حضرمی وکلیب اسدی حضرت ابوعبداﷲ علیہ السلام سے روای کہ اس جناب نے ان کے سامنے اذان یوں کہہ کر سنائی اﷲ اکبر ۴
فـــــ ۱:بعض ائمہ روافض کی تصریح کہ اذان میں اشھدان علیا ولی اﷲ یا اس کے مثل کہناجائز ہے اور اذان میں اس کی مشروعیت کا اعتقاد باطل ہے۔
فـــــ۲:بعض پیشوا یان کی تصریح کہ ۱۸ کلمات منقولہ اذان سے کوئی کلمہ بڑھانا نئی شریعت گھڑنا ہے اور یہ حرام ہے۔
سند امر دوم:اسی مدارك میں ہے:
الاذان سنۃ متلقاۃ من الشارع کسائر العبادات فیکون الزیادۃ فیہ تشریعا محرما کما یحرم زیادۃ "ان محمد والہ خیر البریۃ"فان ذلك وان کان من احکام الایمان الا انہ لیس من فصول الاذان ۔ اذان ایك سنت ہے جسے شارع(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)نے تعلیم فرمایا مثل اور عبادتوں کے تو اس میں کوئی لفظ بڑھانا اپنی طرف سے نئی شریعت فـــــ۲ ایجاد کرنا ہے اور یہ حرام ہے جیسے "ان محمد والہ خیر البریہ"کا بڑھانا حرام ہوا کہ یہ اگر چہ احکام ایمان سے ہے مگر اذان کے کلمات سے نہیں۔
اسی میں ہے:
الاذان عبادۃ متلقاۃ من صاحب الشرع فیقتصر فی کیفیتھا علی المنقول والروایات المنقولۃ عن اھل البیت علیھم السلام خالیۃ عن ھذا اللفظ فیکون الاتیان بہ تشریعا محرما ۔ اذان ایك عبادت ہے کہ صاحب شرع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سیکھی گئی تو اس کی کیفیت میں اسی قدر اقتصار کیا جائے جس قدر شارع علیہ الصلوۃ والسلام سے منقول ہے اور حضرات اہل بیت کرام علیہم السلام سے جو روایتیں منقول ہوئیں وہ اس لفظ سے خالی ہیں تو اس کا بڑھانا نئی شریعت تراشنا ہوگا کہ حرام ہے۔
سند امر سوم:شیخ صدوق شیعہ ابن بابویہ قمی کہ ان کے یہاں کے اکابر مجتہدین وارکان مذہب سے ہے۔کتاب من لایحضرہ الفقیہ کے باب الاذان والاقامۃ للمؤذنین میں لکھتا ہے:
روی ابوبکرن الحضر می وکلیب ن الاسدی عن ابی عبد اﷲ علیہ السلام انہ حکی لھما الاذان فقال اﷲ اکبراﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ ابوبکر حضرمی وکلیب اسدی حضرت ابوعبداﷲ علیہ السلام سے روای کہ اس جناب نے ان کے سامنے اذان یوں کہہ کر سنائی اﷲ اکبر ۴
فـــــ ۱:بعض ائمہ روافض کی تصریح کہ اذان میں اشھدان علیا ولی اﷲ یا اس کے مثل کہناجائز ہے اور اذان میں اس کی مشروعیت کا اعتقاد باطل ہے۔
فـــــ۲:بعض پیشوا یان کی تصریح کہ ۱۸ کلمات منقولہ اذان سے کوئی کلمہ بڑھانا نئی شریعت گھڑنا ہے اور یہ حرام ہے۔
حوالہ / References
اللمعۃ الدمشقیہ
مدارک الاحکام شرح شرائع الاسلام
مدارک الاحکام شرح شرائع الاسلام
مدارک الاحکام شرح شرائع الاسلام
مدارک الاحکام شرح شرائع الاسلام
اکبراشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان محمدا رسول اﷲ اشھد ان محمدا رسول اﷲ حی علی الصلوۃ حی علی الصلوۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح حی علی خیر العمل حی علی خیر العملاﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ وقال مصنف ھذا الکتاب ھذا ھو الاذان الصحیح لایزاد فیہ ولا ینقص منہ و المفوضۃ لعنھم اﷲ قد وضعوااخبارا و زادوافی الاذان محمد وال محمد خیر البریۃ مرتینوفی بعض روایاتھم بعد اشھد ان محمدا رسول اﷲ اشھد ان علیا ولی اﷲ مرتینومنھم من روی بدل ذلك واشھد ان علیا امیر المومنین حقا مرتین ولا شك فی ان علیا ولی اﷲ و انہ امیر المومنین حقا وان محمد والہ صلوات اﷲ علیہم خیر البریۃ ولکن لیس ذلك فی اصل الا ذان وانما ذکرت ذلك لیعرف بھذہ الزیادۃ المتھمون بالتفویض المدلسون انفسھم فی جملتنا ۔ اشھد ان لا الہ الا اﷲ ۲اشھد ان محمدا رسول اﷲ ۲حی علی الصلوۃ ۲حی علی الفلاح ۲حی علی خیر العمل۲اﷲ اکبر۲لا الہ الا اﷲ ۲مصنف اس کتاب کا کہتا ہے یہی اذان صحیح ہے نہ اس میں کچھ بڑھایا جائے نہ اس سے کچھ گھٹا یا جائےاور فرقہ مفوضہ نے کہ اﷲ ان پر لعنت کرے کچھ جھوٹی حدیثیں اپنے دل سے گھڑیں اور اذان میں محمد وال محمد خیر البریہ ۲ دو بار بڑھایا اور انھیں کی بعض روایات میں اشھد ان محمد رسول اﷲ کے بعد اشھد ان علیا ولی اﷲ دوبارآیا اور ان کے بعض نے اس کے بدلے اشھد ان علیا امیر المومنین حقا دوبار روایت کیا اور اس میں شك نہیں کہ علی ولی اﷲ ہیں اور بیشك محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور ان کی آل علیھم السلام تمام جہاں سے بہتر ہیں مگر یہ کلمے اصل اذان میں نہیںاور میں نے اس لئے ذکر کردیا کہ اس زیادتی کے باعث وہ لوگ پہچان لئے جائیں جو مذہب تفویض سے متہم ہیں اور براہ فریب اپنے آپ کو ہمارے گروہ (یعنی فرقہ امامیہ)میں داخل کرتے ہیں۔
دیکھو امامیہ کا شیخ صدوق کیسی صاف صاف شہادت دے رہا ہے کہ اذان کے شروع میں وہی اٹھارہ کلمے ہیں اور ان پر یہ زیادتیاں مفوضہ کی تراشی ہوئی ہیں اور صاف کہتا لعنھم اﷲ تعالی
دیکھو امامیہ کا شیخ صدوق کیسی صاف صاف شہادت دے رہا ہے کہ اذان کے شروع میں وہی اٹھارہ کلمے ہیں اور ان پر یہ زیادتیاں مفوضہ کی تراشی ہوئی ہیں اور صاف کہتا لعنھم اﷲ تعالی
حوالہ / References
من لایحضر الفقیہ باب الاذان والاقامۃ الخ دارالکتب الاسلامیہ تہران ایران ۱/ ۸۹۔۱۸۸
ان پر اﷲ لعنت کرے۔
تنبیہ لطیف:جس طرح بحمداﷲ تعالی ہم نے یہ امور پیشوایان شیعہ کی تصریحات سے لکھے یونہی مناسب کہ اس کلمہ خبیثہ کا تبرا ہونا بھی انہی کے معتمدین سے ثابت کردیا جائے صدر کلام میں جس واضح تقریر سے ہم نے اس کا تبر ا ہونا ظاہر کیا اس سب سے قطع نظر کیجئے تو ایك امام شیعہ کی شہادت لیجئے کہ اس کی تقریر سے اس ناپاك کلمے کا سب صریح ودشنام قبیح ہونا ثابتان کا علامہ کتاب المختلف میں لکھتاہے۔
المفاخرۃ لاتنفك عن السباب اذا المفاخرۃ انما تتم بذکر فضائل لہ وسلبھا عن خصمہ اوسلب رذائل عنہ واثباتھا لخصمہ وھذا معنی السباب ۔
نقلہ بعض محشی الروضۃ البھیۃ شرح اللمعۃ الدمشقیۃ علی ھامشھا من کتاب الحج فی تفسیر السباب صفحہ ۱۶۱۔ دو شخصوں کا آپس میں تفاخر کرنا(کہ ہر ایك اپنے آپ کو دوسرے پر کسی فضل وکمال میں ترجیح دے)باہم دشنام دہی سے خالی نہیں ہوتا کہ مفاخرت یونہی تمام ہوتی ہے کہ یہ شخص کچھ خوبیاں اپنے لئے ثابت کرے اور اپنے مقابل کو ان سے خالی کہے یا بعض برائیوں سے اپنی تبرئی اور اپنے مقابل کے لئے انھیں ثابت کرے۔اور یہی معنی دشنام دہی کے ہیں۔
اس کو روضہ بہیہ شرح لمعہ دمشقیہ کے بعض محشی نے اس کے حاشیہ پر کتاب الحج میں سباب کی تفسیر میں صفحہ ۱۶۱ پر نقل کیا ہے۔(ت)
اب کہئے کہ خلافت حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فضیلت ہے یا نہیں۔ضرور کہے گا کہ اعلی فضائل سے ہے اب کہے "خلیفہ رسول اﷲ"کہہ کر آپ نے اسے مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کے لئے ثابت اور"بلا فصل"کہہ کر حضرات خلفائے ثلثہ رضوان اﷲ علیہم سے سلب کیا یا نہیںاقرار کے سوا کیا چارہ ہے۔اور جب یوں ہے اورآپ کا علامہ گواہی دیتا ہے کہ شرع میں دشنام اسی کا نامتو کیا محل انکاررہا کہ یہ مبغوض کلمہ معاذاﷲ علی الاعلان ہمارے پیشوایان دین کو صاف صاف دشنام دیتاہے پھر تبرا نہ بتانا عجیب سینہ زوری ہے۔
تنبیہ لطیف:جس طرح بحمداﷲ تعالی ہم نے یہ امور پیشوایان شیعہ کی تصریحات سے لکھے یونہی مناسب کہ اس کلمہ خبیثہ کا تبرا ہونا بھی انہی کے معتمدین سے ثابت کردیا جائے صدر کلام میں جس واضح تقریر سے ہم نے اس کا تبر ا ہونا ظاہر کیا اس سب سے قطع نظر کیجئے تو ایك امام شیعہ کی شہادت لیجئے کہ اس کی تقریر سے اس ناپاك کلمے کا سب صریح ودشنام قبیح ہونا ثابتان کا علامہ کتاب المختلف میں لکھتاہے۔
المفاخرۃ لاتنفك عن السباب اذا المفاخرۃ انما تتم بذکر فضائل لہ وسلبھا عن خصمہ اوسلب رذائل عنہ واثباتھا لخصمہ وھذا معنی السباب ۔
نقلہ بعض محشی الروضۃ البھیۃ شرح اللمعۃ الدمشقیۃ علی ھامشھا من کتاب الحج فی تفسیر السباب صفحہ ۱۶۱۔ دو شخصوں کا آپس میں تفاخر کرنا(کہ ہر ایك اپنے آپ کو دوسرے پر کسی فضل وکمال میں ترجیح دے)باہم دشنام دہی سے خالی نہیں ہوتا کہ مفاخرت یونہی تمام ہوتی ہے کہ یہ شخص کچھ خوبیاں اپنے لئے ثابت کرے اور اپنے مقابل کو ان سے خالی کہے یا بعض برائیوں سے اپنی تبرئی اور اپنے مقابل کے لئے انھیں ثابت کرے۔اور یہی معنی دشنام دہی کے ہیں۔
اس کو روضہ بہیہ شرح لمعہ دمشقیہ کے بعض محشی نے اس کے حاشیہ پر کتاب الحج میں سباب کی تفسیر میں صفحہ ۱۶۱ پر نقل کیا ہے۔(ت)
اب کہئے کہ خلافت حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فضیلت ہے یا نہیں۔ضرور کہے گا کہ اعلی فضائل سے ہے اب کہے "خلیفہ رسول اﷲ"کہہ کر آپ نے اسے مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کے لئے ثابت اور"بلا فصل"کہہ کر حضرات خلفائے ثلثہ رضوان اﷲ علیہم سے سلب کیا یا نہیںاقرار کے سوا کیا چارہ ہے۔اور جب یوں ہے اورآپ کا علامہ گواہی دیتا ہے کہ شرع میں دشنام اسی کا نامتو کیا محل انکاررہا کہ یہ مبغوض کلمہ معاذاﷲ علی الاعلان ہمارے پیشوایان دین کو صاف صاف دشنام دیتاہے پھر تبرا نہ بتانا عجیب سینہ زوری ہے۔
حوالہ / References
کتاب المختلف
ہاں اب داد انصاف طلب ہے
اگر بالفرض یہ کلمہ ملعونہ ان کی اذان مذہبی میں داخل ہوتا اور ان کے یہاں روایات میں آتا تو کہہ سکتے کہ صرف اہلسنت کا دل دکھانا مقصو د نہیں بلکہ اپنی رسم مذہبی پر نظر ہے اب کہ یقینا ثابت کہ کلمہ مذکورہ خود ان کے مذہب میں بھی نہیں۔نہ صاحب شرع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس کی روایت نہ حضرات ائمہ اطہار سے اس کی اجازت نہ ان کے پیشواؤں کے نزدیك اذان کی یہ ترتیب وکیفیت بلکہ خود انھیں کی معتبر کتابوں میں تصریح کہ اذان میں صرف اتنا بڑھانا بھی حرام ہے کہ اشھد ان علیا ولی اﷲ اور یہ زیادتیاں اس فرقہ ملعونہ کی نکالی ہوئی ہیں جو باتفاق اہلسنت وشیعہ کافر ہیںتو ایسی حالت میں اس کے بڑھانے کو ہر گز کسی رسم مذہبی کی ادا پر محمول نہیں کرسکتے بلکہ یقینا سوا اس کے کہ اہلسنت کو آزار دینا اور ان کا دل دکھانا اور ان کی توہین مذہبی کرنا مدنظر ہے اور کوئی غرض مقصود نہیںسبحان اللہ! طرفہ بیباکی ہے اگر یہ ناپاك لفظ ان کی اذان مذہبی میں ہوتا بھی تاہم کوئی فریق اپنی اس رسم مذہبی کا اعلان ہی نہیں کرسکتا جس میں دوسرے فریق کی توہن مذہبی یا اس کے پیشوایان دین کی اہانت ہو نہ کہ یہ ناپاك رسم کہ خود شیعہ کے بھی خلاف مذہب ملعون کافروں سے سیکھ کر یہ اعلان کریں اور ہمارے پیشوایان دین کی جناب میں ایسے الفاظ کہہ کر جو بتصریح انھیں کے عمائد کے صریح دشنام ہیں ہمارا دل دکھائیں کیا اب ہند میں روافض کی سلطنت ہے یا گورنمنٹ ہند شیعہ ہوگئی یا اس نے ہماری توہین مذہبی کی پروانگی دے دی یا شیعی صاحبوں نے کوئی خفیہ طاقت پیدا کرلی جس کے باعث ارتکاب جرم میں دہشت نہ رہیفالی اﷲ المشتکی وعلیہ البلاغ وھو المستعان ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔والحمدﷲ رب العالمین۔
_______________________
رسالہ
ادلۃ الطاعنۃ فی اذن الملاعنۃ
ختم ہوا
اگر بالفرض یہ کلمہ ملعونہ ان کی اذان مذہبی میں داخل ہوتا اور ان کے یہاں روایات میں آتا تو کہہ سکتے کہ صرف اہلسنت کا دل دکھانا مقصو د نہیں بلکہ اپنی رسم مذہبی پر نظر ہے اب کہ یقینا ثابت کہ کلمہ مذکورہ خود ان کے مذہب میں بھی نہیں۔نہ صاحب شرع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس کی روایت نہ حضرات ائمہ اطہار سے اس کی اجازت نہ ان کے پیشواؤں کے نزدیك اذان کی یہ ترتیب وکیفیت بلکہ خود انھیں کی معتبر کتابوں میں تصریح کہ اذان میں صرف اتنا بڑھانا بھی حرام ہے کہ اشھد ان علیا ولی اﷲ اور یہ زیادتیاں اس فرقہ ملعونہ کی نکالی ہوئی ہیں جو باتفاق اہلسنت وشیعہ کافر ہیںتو ایسی حالت میں اس کے بڑھانے کو ہر گز کسی رسم مذہبی کی ادا پر محمول نہیں کرسکتے بلکہ یقینا سوا اس کے کہ اہلسنت کو آزار دینا اور ان کا دل دکھانا اور ان کی توہین مذہبی کرنا مدنظر ہے اور کوئی غرض مقصود نہیںسبحان اللہ! طرفہ بیباکی ہے اگر یہ ناپاك لفظ ان کی اذان مذہبی میں ہوتا بھی تاہم کوئی فریق اپنی اس رسم مذہبی کا اعلان ہی نہیں کرسکتا جس میں دوسرے فریق کی توہن مذہبی یا اس کے پیشوایان دین کی اہانت ہو نہ کہ یہ ناپاك رسم کہ خود شیعہ کے بھی خلاف مذہب ملعون کافروں سے سیکھ کر یہ اعلان کریں اور ہمارے پیشوایان دین کی جناب میں ایسے الفاظ کہہ کر جو بتصریح انھیں کے عمائد کے صریح دشنام ہیں ہمارا دل دکھائیں کیا اب ہند میں روافض کی سلطنت ہے یا گورنمنٹ ہند شیعہ ہوگئی یا اس نے ہماری توہین مذہبی کی پروانگی دے دی یا شیعی صاحبوں نے کوئی خفیہ طاقت پیدا کرلی جس کے باعث ارتکاب جرم میں دہشت نہ رہیفالی اﷲ المشتکی وعلیہ البلاغ وھو المستعان ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔والحمدﷲ رب العالمین۔
_______________________
رسالہ
ادلۃ الطاعنۃ فی اذن الملاعنۃ
ختم ہوا
زینت
کنگھیسرمہمسیمسواکخضابمہندیسنگار وغیرہ سے متعلق
مسئلہ ۱۸۵ تا ۱۸۹:از بمبئی محلہ چھتری سرنگ متصل مسجد حافظ عبدالقادر چاندے مرسلہ شیخ عبداﷲ ولد حاجی اﷲ رکھا محرم ۱۳۱اھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان صورتوں میں کہ ذیل میں معروض ہے:
(۱)کہ دریں زماں عورتوں کو ناك چھیدنا جائز ہے یا نہیں
(۲)ہم لوگ کاٹھیاواری اور کچھیاور بعض دیہات ہند میں یہ رواج ہے کہ مرد مرجائے تو عورتیں ناك میں نتھنی پہنتی نہیں اور کہتی ہیں یہ ہمارے مرد کی نشانی ہے اور جب دوسرا مرد کریں گی تب پہنیں گی۔یہ عقیدہ ان کا درست ہے یانہیں
(۳)ناك چھیدنا اہل سنت وجماعت کے نزدیك فرضواجبسنتمستحب ہے یاکیا
(۴)اس نہت چھیدنے کو ما راہ المسلمون حسنا فھو عند اﷲ حسن (جس کام کو مسلمان اچھا جانیں وہ اﷲ تعالی کے نزدیك بھی پسندیدہ ہے۔ت)پر حمل کرسکتے ہیں یاکیا کیونکہ عورتوں کی زینت ہے۔
(۵)ناك داہنی طرف کا یا بائیں طرف کا چھیدنا یا کیا کیونکہ اکثر بلاد ہند کی عورتیں بعض داہنی طرف کا اور بعض بائیں طرف کا ناك چھیدتی ہیں وغیرہ بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ تم اجر پاؤ۔ت)
کنگھیسرمہمسیمسواکخضابمہندیسنگار وغیرہ سے متعلق
مسئلہ ۱۸۵ تا ۱۸۹:از بمبئی محلہ چھتری سرنگ متصل مسجد حافظ عبدالقادر چاندے مرسلہ شیخ عبداﷲ ولد حاجی اﷲ رکھا محرم ۱۳۱اھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان صورتوں میں کہ ذیل میں معروض ہے:
(۱)کہ دریں زماں عورتوں کو ناك چھیدنا جائز ہے یا نہیں
(۲)ہم لوگ کاٹھیاواری اور کچھیاور بعض دیہات ہند میں یہ رواج ہے کہ مرد مرجائے تو عورتیں ناك میں نتھنی پہنتی نہیں اور کہتی ہیں یہ ہمارے مرد کی نشانی ہے اور جب دوسرا مرد کریں گی تب پہنیں گی۔یہ عقیدہ ان کا درست ہے یانہیں
(۳)ناك چھیدنا اہل سنت وجماعت کے نزدیك فرضواجبسنتمستحب ہے یاکیا
(۴)اس نہت چھیدنے کو ما راہ المسلمون حسنا فھو عند اﷲ حسن (جس کام کو مسلمان اچھا جانیں وہ اﷲ تعالی کے نزدیك بھی پسندیدہ ہے۔ت)پر حمل کرسکتے ہیں یاکیا کیونکہ عورتوں کی زینت ہے۔
(۵)ناك داہنی طرف کا یا بائیں طرف کا چھیدنا یا کیا کیونکہ اکثر بلاد ہند کی عورتیں بعض داہنی طرف کا اور بعض بائیں طرف کا ناك چھیدتی ہیں وغیرہ بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ تم اجر پاؤ۔ت)
حوالہ / References
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ یتجلی اﷲ لعبادۃ عامۃ ولا بی بکر خاصۃ دارالفکر بیروت ۳/ ۷۸
الجواب:
عورتوں کو نتھ یا بلاق کے لئے ناك چھیدنا جائز ہے جس طرح بالوںبالیوںکان کے گہنوں کے لئے کان چھیدنا
فی الدرالمختار لاباس بثقب اذن البنت استحسانا ملتقط وھل یجوز فی الانف لم ارہ ملخصا قال العلامۃ الطحطاوی قلت وان کان مما یتزین النساء بہ کما ھو فی بعض البلاد فھو فیھا کثقب القرط وقال العلامۃ السندی المدنی قد نص الشافعیہ علی جوازہ اھ نقلھما العلامۃ الشامی واقر اقول: ولاشك ان ثقب الاذن کان شائعا فی زمن النبی صلی تعالی علیہ وسلم وقد اطلع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولم ینکرہ ثم لم یکن الا ایلاماللزینۃ فکذا ھذا بحکم المساواۃ فثبت جوازہ بدلالۃ النص المشترك فی العلم بھا المجتہدون وغیرھم کما تقرر فی مقررہ۔ درمختار میں ہے کہ لڑکی کے کان چھیدنے میں بطور استحسان کوئی مضائقہ نہیں کیا ناك چھیدنا بھی جائز ہے۔میں نے اس کو نہیں دیکھالیکن علامہ طحطاوی نے فرمایا کہ میں کہتاہوں کہ اگر یہ کام عورتوں کی زیبائش میں شامل ہے جیسا کہ بعض شہروں میں رواج ہے تو پھر یہ بالیوں کے لئے کان چھید نے کی طرح کا عمل ہے۔اور علامہ سندھی مدنی نے فرمایا شوافع نے اس کے جائز ہونے کی تصریح کی ہے۔ان دونوں باتوں کو علامہ شامی نے نقل کرنے کے بعد برقراررکھا ہے۔میں کہتا ہوں اس میں کچھ شك نہیں کہ کان چھیدنا حضور صلی اﷲ تعلی علیہ وسلم کے عہد مبارك میں متعارف اور مشہور تھا اور حضور پاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس پر اطلاع پائی مگر ممانعت نہیں فرمائییہ دکھ پہنچانا صرف زیب وزینت کے لئے ہوگااور اس طرح یہ بھی ہے کیونکہ دونوں کا حکم مساوی ہے۔ پس اس کا جائز ہونادلالت نص کی بنیاد پر ثابت ہوگیا اس علم سے جس میں مجتہد وغیر مجتہد مشترك ہیں جیسا کہ یہ بات اپنے محل میں ثابت ہوچکی ہے۔(ت)
عورتوں کو نتھ یا بلاق کے لئے ناك چھیدنا جائز ہے جس طرح بالوںبالیوںکان کے گہنوں کے لئے کان چھیدنا
فی الدرالمختار لاباس بثقب اذن البنت استحسانا ملتقط وھل یجوز فی الانف لم ارہ ملخصا قال العلامۃ الطحطاوی قلت وان کان مما یتزین النساء بہ کما ھو فی بعض البلاد فھو فیھا کثقب القرط وقال العلامۃ السندی المدنی قد نص الشافعیہ علی جوازہ اھ نقلھما العلامۃ الشامی واقر اقول: ولاشك ان ثقب الاذن کان شائعا فی زمن النبی صلی تعالی علیہ وسلم وقد اطلع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولم ینکرہ ثم لم یکن الا ایلاماللزینۃ فکذا ھذا بحکم المساواۃ فثبت جوازہ بدلالۃ النص المشترك فی العلم بھا المجتہدون وغیرھم کما تقرر فی مقررہ۔ درمختار میں ہے کہ لڑکی کے کان چھیدنے میں بطور استحسان کوئی مضائقہ نہیں کیا ناك چھیدنا بھی جائز ہے۔میں نے اس کو نہیں دیکھالیکن علامہ طحطاوی نے فرمایا کہ میں کہتاہوں کہ اگر یہ کام عورتوں کی زیبائش میں شامل ہے جیسا کہ بعض شہروں میں رواج ہے تو پھر یہ بالیوں کے لئے کان چھید نے کی طرح کا عمل ہے۔اور علامہ سندھی مدنی نے فرمایا شوافع نے اس کے جائز ہونے کی تصریح کی ہے۔ان دونوں باتوں کو علامہ شامی نے نقل کرنے کے بعد برقراررکھا ہے۔میں کہتا ہوں اس میں کچھ شك نہیں کہ کان چھیدنا حضور صلی اﷲ تعلی علیہ وسلم کے عہد مبارك میں متعارف اور مشہور تھا اور حضور پاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس پر اطلاع پائی مگر ممانعت نہیں فرمائییہ دکھ پہنچانا صرف زیب وزینت کے لئے ہوگااور اس طرح یہ بھی ہے کیونکہ دونوں کا حکم مساوی ہے۔ پس اس کا جائز ہونادلالت نص کی بنیاد پر ثابت ہوگیا اس علم سے جس میں مجتہد وغیر مجتہد مشترك ہیں جیسا کہ یہ بات اپنے محل میں ثابت ہوچکی ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۲
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۲۰۹،ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۰
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۲۰۹،ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۰
اور وہ صرف ایك امر مباح ہے فرض واجب سنت اصلا نہیں ہاں جو مباح بہ نیت محمودہ کیاجائے شرعا محمودہوجاتا ہے جیسے مسی لگانی کہ عورت کو مباح ہے اور اگر شوہر کے لئے سنگار کی نیت سے لگائے تو مستحب کہ یہ نیت شرعا محمود ہے۔اور جب کہ یہ امر زیور ہائے گوش کے لئے کان چھیدنے سے کہ خاص زمانہ اقدس حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں رائج تھا اور حضور پر نور صلوات اﷲ و سلامہ علیہ نے جائز مقرر رکھا بحکم دلالت ثابت تو اس کے لئے اثر ماراہ المسلمون(جس کومسلمان اچھا کہیں تو وہ اﷲ تعالی کے نزدیك اچھا ہوتا ہے۔ت)کی طرف رجوع کی حاجت نہیں فان الثابت بدلالۃ النص کالثابت بالنص(کیونکہ جو دلالت نص سے ثابت ہو وہ اسی طرح ہے جیسے نص سے ثابت ہے۔ت)اور دہنے بائیں جانب میں مختار ہیں یہ کوئی امر شرعی نہیں رسم زمانہ پر مبنی ہے جس طرف چاہیں چھیدیںرہا موت شوہر پر نتھ نہ پہننا ایام عدت تك تو شرعا ضرور ہے کہ نتھ زیور اور زینت ہے اور بیوہ کو کوئی گہنا کسی طرح کا سنگار جائز نہیں۔
فی الدرالمختار وردالمحتار تحد(ای وجویا کما فی البحر)مکلفۃ مسلمۃ اذ اکانت معتدۃ بت او موت بترك الزینۃ بحلی(ای بجمیع انواعہ بحروفی قاضی خاں المعتدۃ تجتنب عن کل زینۃ اھ ملتقطا۔ درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت سوگ منائے یعنی اس کے لئے ایسا کرنا واجب اور ضروری ہے جیسا کہ البحرالرائق میں ہے۔مسلمان عورت سوگ منانے کی پابند ہے خواہ وہ طلاق کی عدت گزار رہی ہو یا وفات کی سوگ منانے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی قسم کے زیورات نہ پہنے تاکہ زیبائش نہ ہونے پائے(البحرالرائق)فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت ہر قسم کی زیب وزینت سے پرہیز کرے اھ ملتقطا(ت)
اور بعد ختم عدت اگر شرعا نتھ وغیرہ پہننا ناجائز وممنوع سمجھے گنہگار ہوگی کہ یہ معاذاﷲ شریعت مطہرہ پر افتراء ہے اوراگر جائز و روا سمجھ کر یو ہیں عادۃ نہ پہنے تو حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
فی الدرالمختار وردالمحتار تحد(ای وجویا کما فی البحر)مکلفۃ مسلمۃ اذ اکانت معتدۃ بت او موت بترك الزینۃ بحلی(ای بجمیع انواعہ بحروفی قاضی خاں المعتدۃ تجتنب عن کل زینۃ اھ ملتقطا۔ درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت سوگ منائے یعنی اس کے لئے ایسا کرنا واجب اور ضروری ہے جیسا کہ البحرالرائق میں ہے۔مسلمان عورت سوگ منانے کی پابند ہے خواہ وہ طلاق کی عدت گزار رہی ہو یا وفات کی سوگ منانے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی قسم کے زیورات نہ پہنے تاکہ زیبائش نہ ہونے پائے(البحرالرائق)فتاوی قاضی خاں میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت ہر قسم کی زیب وزینت سے پرہیز کرے اھ ملتقطا(ت)
اور بعد ختم عدت اگر شرعا نتھ وغیرہ پہننا ناجائز وممنوع سمجھے گنہگار ہوگی کہ یہ معاذاﷲ شریعت مطہرہ پر افتراء ہے اوراگر جائز و روا سمجھ کر یو ہیں عادۃ نہ پہنے تو حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار فصل الحداد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۵۹،ردالمحتار فصل الحداد داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۱۷۔۶۱۶
مسئلہ ۱۹۰: اشہر کہنہ مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ۲۱ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
خضاب سیاہ رنگ یعنی مہندی ونیل باہم مخلوط کر کے بلا ضرورت شرعی استعمال کرنا درست ہے یا نہیں اور ضرورت شرعی کیا کیا ہیں صرف منہدی لگانا مسنون ہے یانہیں سوائے خضاب مذکورہ بالااور خضاب بھی مثل مازو وہلیلہ وغیرہ کے جائز ہیں یا نہیں جواب مع حوالہ کتاب مرحمت ہو۔
الجواب:
سیاہ خضاب خواہ مازو ووہلیلہ ونیل کا ہو خواہ نیل وحنا مخلوط خواہ کسی چیز کا سوا مجاہدین کے سب کو مطلقا حرام ہے۔اور صرف مہندی کا سرخ خضاب یا اس میں نیل کی کچھ پتیاں اتنی ملا کر جس سے سرخی میں پختگی آجائے اور رنگ سیاہ نہ ہونے پائے سنت مستحبہ ہے۔
شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ الشریف اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ شریف میں فرماتے ہیں:
خضاب بسواد حرام ست وصحابہ وغیرہم خضاب سرخ می کردند گاہے زردنیز اھ ملخصا ۔ سیاہ خضاب لگاناحرام ہے صحابہ اور دوسرے بزرگوں سے سرخ خضاب کا استعمال منقول ہے اور کبھی کبھار زرد رنگ کا خضاب بھی اھ ملخصا۔(ت)
حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الصفرۃ خضاب المؤمن والحمرۃ خضاب المسلم و السواد خضاب الکافررواہ الطبرانی فی الکبیر و الحاکم فی المستدرك عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ زردخضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اسلام والوں کا اور سیاہ خضاب کافروں کا(طبرانی نے کبیر میں اور حاکم نے مستدرك میں حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
محیط پھر منح الغفار پھر ردالمحتار میں ہے:
اما الحمرۃ فھو سنۃ الرجال رہی سرخی کی بات تو یہ مردوں کے لئے خصوصا
خضاب سیاہ رنگ یعنی مہندی ونیل باہم مخلوط کر کے بلا ضرورت شرعی استعمال کرنا درست ہے یا نہیں اور ضرورت شرعی کیا کیا ہیں صرف منہدی لگانا مسنون ہے یانہیں سوائے خضاب مذکورہ بالااور خضاب بھی مثل مازو وہلیلہ وغیرہ کے جائز ہیں یا نہیں جواب مع حوالہ کتاب مرحمت ہو۔
الجواب:
سیاہ خضاب خواہ مازو ووہلیلہ ونیل کا ہو خواہ نیل وحنا مخلوط خواہ کسی چیز کا سوا مجاہدین کے سب کو مطلقا حرام ہے۔اور صرف مہندی کا سرخ خضاب یا اس میں نیل کی کچھ پتیاں اتنی ملا کر جس سے سرخی میں پختگی آجائے اور رنگ سیاہ نہ ہونے پائے سنت مستحبہ ہے۔
شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ الشریف اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ شریف میں فرماتے ہیں:
خضاب بسواد حرام ست وصحابہ وغیرہم خضاب سرخ می کردند گاہے زردنیز اھ ملخصا ۔ سیاہ خضاب لگاناحرام ہے صحابہ اور دوسرے بزرگوں سے سرخ خضاب کا استعمال منقول ہے اور کبھی کبھار زرد رنگ کا خضاب بھی اھ ملخصا۔(ت)
حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الصفرۃ خضاب المؤمن والحمرۃ خضاب المسلم و السواد خضاب الکافررواہ الطبرانی فی الکبیر و الحاکم فی المستدرك عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ زردخضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اسلام والوں کا اور سیاہ خضاب کافروں کا(طبرانی نے کبیر میں اور حاکم نے مستدرك میں حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
محیط پھر منح الغفار پھر ردالمحتار میں ہے:
اما الحمرۃ فھو سنۃ الرجال رہی سرخی کی بات تو یہ مردوں کے لئے خصوصا
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۶۹
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ ذکر عبداﷲ بن عمر دارالفکر بیروت ۵/ ۴۸۲
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ ذکر عبداﷲ بن عمر دارالفکر بیروت ۵/ ۴۸۲
وسیما المسلمین ۔ مسلمانوں کے لئے سنت ہے۔(ت)
قاضی خاں پھر شرح مشارق پھر شامی میں ہے:
مذھبنا ان الصبغ بالحناء والوسمۃ حسن ۔ ہمارامذہب یہ ہے کہ مہندی اور وسمہ لگانا اچھا ہے۔(ت)
احادیث میں سیاہ خضاب پر سخت سخت وعیدیں اور مہندی کے خضاب کی ترغیبیں بکثرت وارد ہیں۔
وقد حققنا مسألۃ تحریم السواد مطلقا فی فتاوینا فیہ شفاء۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہم نے اپنے فتاوی میں علی ا لاطلاق سیاہ خضاب کے حرام ہونے کی ایسے اندا زمیں تحقیق کی ہے کہ جس میں بیمار طبائع کے لئے شفا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۱: مسئولہ حافظ امیر اﷲ صاحب ۲۴ رجب ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ضعف بصر کے سبب سے طب میں علاج کے منجملہ ہر روز کئی دفعہ سر و ریش میں کنگھی کرنا بتا یا ہے۔اور حدیث میں ایك دفعہ سے زیادہ کنگھا کرنا یا ایك دن کے بعد کرنا آیا ہے اس روایت کی بابت سوال ہے آیا معمول بہ ہے یا نہیں یہ روایت کہاں ہے صورت اولی میں بضرورت علاج اجازت ہے یا نہیں نہ بنظر زینت وکبر جو منجر بکبراست وتضییع وقت ہوبینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
احمد وابوداؤد وترمذی ونسائی باسانید صحیحہ حضرت عبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
نھی رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الترجل الاغباء ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر ناغہ کرکے۔
قاضی خاں پھر شرح مشارق پھر شامی میں ہے:
مذھبنا ان الصبغ بالحناء والوسمۃ حسن ۔ ہمارامذہب یہ ہے کہ مہندی اور وسمہ لگانا اچھا ہے۔(ت)
احادیث میں سیاہ خضاب پر سخت سخت وعیدیں اور مہندی کے خضاب کی ترغیبیں بکثرت وارد ہیں۔
وقد حققنا مسألۃ تحریم السواد مطلقا فی فتاوینا فیہ شفاء۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہم نے اپنے فتاوی میں علی ا لاطلاق سیاہ خضاب کے حرام ہونے کی ایسے اندا زمیں تحقیق کی ہے کہ جس میں بیمار طبائع کے لئے شفا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۱: مسئولہ حافظ امیر اﷲ صاحب ۲۴ رجب ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ضعف بصر کے سبب سے طب میں علاج کے منجملہ ہر روز کئی دفعہ سر و ریش میں کنگھی کرنا بتا یا ہے۔اور حدیث میں ایك دفعہ سے زیادہ کنگھا کرنا یا ایك دن کے بعد کرنا آیا ہے اس روایت کی بابت سوال ہے آیا معمول بہ ہے یا نہیں یہ روایت کہاں ہے صورت اولی میں بضرورت علاج اجازت ہے یا نہیں نہ بنظر زینت وکبر جو منجر بکبراست وتضییع وقت ہوبینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
احمد وابوداؤد وترمذی ونسائی باسانید صحیحہ حضرت عبداﷲ بن مغفل رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
نھی رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الترجل الاغباء ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر ناغہ کرکے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الخنثٰی مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۲
ردالمحتار کتاب الخنثٰی مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۲
سنن ابی داؤد کتاب الترجل آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۷
ردالمحتار کتاب الخنثٰی مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۲
سنن ابی داؤد کتاب الترجل آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۷
نیز ابوداؤد ونسائی کی حدیث میں بعض صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
نھانا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یمشط احدناکل یوم ۔ ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص روز کنگھی کرے۔
مقصود احادیث ترفہ وتنعم کی کثرت اور تزئین وتحسین بدن میں انہماك سے نہیں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مرد کو زنانہ طو پر سنگار اور کنگھی چوٹی میں مشغول نہ چاہئے۔مرقاۃ میں امام ولی الدین عراقی سے ہے:
ھو نھی تنزیہ لا تحریم والمعنی فیہ انہ من باب الترفۃ وتنعم فیجتنب ۔ یہ نہی تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی اور اس کا معنی یہ ہے یہ آسودگی اور خوشحالی کے باب سے ہے لہذا اس کام سے پرہیز کرے۔(ت)
اور جہاں پر نیت ذمیمہ نہ ہو بلکہ بہ نیت صالحہ مثل علاج وغیرہ دن میں کئی بار کنگھی کرے کوئی حرج وکراہت نہیں
امام مالك مؤطا میں ابوقتادہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی کہ انھوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
ان لی جمۃ أفارجلھا۔ میرے بال شانوں تك ہیں کیا میں انھیں کنگھی کروں
فرمایا:نعم واکرمھا ہاں اور ان کی عزت کر۔
قال فکان ابوقتادہ ربما دھنھا فی الیوم مرتین لما قال لہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ۔ یعنی ابوقتادہ رضی اﷲ تعالی عنہ اکثر دن میں دو بار بالوں یں تیل ڈالتے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرما دیا تھا ہاں اور ان کی عزت کرواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۲: ۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ داڑھی وغیرہ پر مرد کو
نھانا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یمشط احدناکل یوم ۔ ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص روز کنگھی کرے۔
مقصود احادیث ترفہ وتنعم کی کثرت اور تزئین وتحسین بدن میں انہماك سے نہیں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مرد کو زنانہ طو پر سنگار اور کنگھی چوٹی میں مشغول نہ چاہئے۔مرقاۃ میں امام ولی الدین عراقی سے ہے:
ھو نھی تنزیہ لا تحریم والمعنی فیہ انہ من باب الترفۃ وتنعم فیجتنب ۔ یہ نہی تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی اور اس کا معنی یہ ہے یہ آسودگی اور خوشحالی کے باب سے ہے لہذا اس کام سے پرہیز کرے۔(ت)
اور جہاں پر نیت ذمیمہ نہ ہو بلکہ بہ نیت صالحہ مثل علاج وغیرہ دن میں کئی بار کنگھی کرے کوئی حرج وکراہت نہیں
امام مالك مؤطا میں ابوقتادہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی کہ انھوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
ان لی جمۃ أفارجلھا۔ میرے بال شانوں تك ہیں کیا میں انھیں کنگھی کروں
فرمایا:نعم واکرمھا ہاں اور ان کی عزت کر۔
قال فکان ابوقتادہ ربما دھنھا فی الیوم مرتین لما قال لہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ۔ یعنی ابوقتادہ رضی اﷲ تعالی عنہ اکثر دن میں دو بار بالوں یں تیل ڈالتے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرما دیا تھا ہاں اور ان کی عزت کرواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۲: ۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ داڑھی وغیرہ پر مرد کو
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی البول فی المستحم آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۵
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۲۶
مؤطا امام مالك کتاب الجامع باب اصلاح الشعر میر محمد کارخانہ کراچی ص۷۲۱،۷۲۲
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۲۶
مؤطا امام مالك کتاب الجامع باب اصلاح الشعر میر محمد کارخانہ کراچی ص۷۲۱،۷۲۲
بلاکسی وجہ موجہ کےوسمہ کرنا یا کسی رنگ سے رنگنا جائز ہے یا گناہ بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
تنہامہندی مستحب ہے اور اس میں کتم کی پتیاں ملاکر کہ ایك گھاس مشابہ برگ زیتون ہے جس کا رنگ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے اس سے بہتر اور زرد رنگ سب سے بہتراور سیاہ وسمے کا ہو خواہ کسی چیز کامطلقا حرام ہے۔مگر مجاہدین کو۔سنن ابی داؤد میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
مر علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رجل قد خضب بالحناء فقال ما احسن ھذا قال فمراخرقد خضب بالحناء و الکتم فقال ھذا احسن من ھذا ثم مراخر قد خضب بالصفر فقال ھذا احسن من ھذا کلہ ۔ یعنی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے ایك صاحب مہندی کا خضاب کئے گزرے فرمایا یہ کیا خوب ہے۔ پھر دوسرے گزرے انھوں نے مہندی اور کتم ملا کر خضاب کیا تھا فرمایا:یہ اس سے بہتر ہےپھر تیسرے زرد خضاب کئے گزرے فرمایا:یہ ان سب سے بہتر ہے۔
معجم کبیر طبرانی ومستدرك میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہی زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اہل اسلام کا اور سیاہ خضاب کافروں کا ہے۔ں:
الصفرۃ خضاب المومن والحمرۃ خضاب المسلم والسواد خضاب الکافر ۔ زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اہل اسلام کا اور سیاہ خضاب کافروں کا ہے۔
امام احمد مسند اور ابوداؤد ونسائی وابن حبان وحاکم وضیا اپنی اپنی صحاح اور بیہقی سنن میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
الجواب:
تنہامہندی مستحب ہے اور اس میں کتم کی پتیاں ملاکر کہ ایك گھاس مشابہ برگ زیتون ہے جس کا رنگ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے اس سے بہتر اور زرد رنگ سب سے بہتراور سیاہ وسمے کا ہو خواہ کسی چیز کامطلقا حرام ہے۔مگر مجاہدین کو۔سنن ابی داؤد میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
مر علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رجل قد خضب بالحناء فقال ما احسن ھذا قال فمراخرقد خضب بالحناء و الکتم فقال ھذا احسن من ھذا ثم مراخر قد خضب بالصفر فقال ھذا احسن من ھذا کلہ ۔ یعنی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے ایك صاحب مہندی کا خضاب کئے گزرے فرمایا یہ کیا خوب ہے۔ پھر دوسرے گزرے انھوں نے مہندی اور کتم ملا کر خضاب کیا تھا فرمایا:یہ اس سے بہتر ہےپھر تیسرے زرد خضاب کئے گزرے فرمایا:یہ ان سب سے بہتر ہے۔
معجم کبیر طبرانی ومستدرك میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہی زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اہل اسلام کا اور سیاہ خضاب کافروں کا ہے۔ں:
الصفرۃ خضاب المومن والحمرۃ خضاب المسلم والسواد خضاب الکافر ۔ زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اہل اسلام کا اور سیاہ خضاب کافروں کا ہے۔
امام احمد مسند اور ابوداؤد ونسائی وابن حبان وحاکم وضیا اپنی اپنی صحاح اور بیہقی سنن میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی خضاب الصفرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۴
المستدرك علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ ذکر عبداﷲ بن عمرو بن العاص دارالفکر بیروت ۳/ ۵۲۶،کنز العمال بحوالہ طب وك عن ابن عمر حدیث ۱۷۳۱۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۲۸
المستدرك علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ ذکر عبداﷲ بن عمرو بن العاص دارالفکر بیروت ۳/ ۵۲۶،کنز العمال بحوالہ طب وك عن ابن عمر حدیث ۱۷۳۱۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۲۸
فرماتے ہیں:
یکون قوم فی اخر الزمان یخضبون بھذا السواد کحواصل الحمام لایجدون رائحۃالجنۃ ۔ آخر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے کہ سیاہ خضاب کریں گے جیسے جنگلی کبوتروں کے پوٹےوہ جنت کی بو نہ سونگھیں گے۔
طبرانی کبیر اور ابن ابی عاصم کتاب السنہ میں حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من خضب بالسواد سود اﷲ وجہہ یوم القیمۃ ۔ جو سیاہ خضاب کرے اﷲ تعالی روز قیامت اس کا منہ کالا کرے گا۔
علامہ حموی وطحطاوی وشامی فرماتے ہیں:
ھذا فی حق غیر الغزاۃ ولا یحرم فی حقھم للارھاب ۔ یہ حکم مجاہدین کے سوا دوسروں کے لئے ہے لہذا ان کے لئے سیاہ خضاب کا استعمال حرام نہیں دشمنوں کو ڈرانے اور انھیں مرعوب کرنے کے لئے وہ اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔(ت)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ شریف میں ہے:
بصحت رسیدہ است کہ امیر المومنین ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ خضاب می کرد بحناوکتم کہ نام گیا ہے است لیکن رنگ آں سیاہ نیست بلکہ سرخ مائل بسیاہی است ۔ طریقہ صحت تك یہ راویت پہنچی ہوئی ہے کہ امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کتم گھاس کی پتیاں ملا کر خضاب کیا کرتے تھے جس کا رنگ سیاہ نہیں بلکہ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہو اکرتا تھا۔(ت)
اس مسئلے کی تفصیل فتاوی فقیر میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
یکون قوم فی اخر الزمان یخضبون بھذا السواد کحواصل الحمام لایجدون رائحۃالجنۃ ۔ آخر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے کہ سیاہ خضاب کریں گے جیسے جنگلی کبوتروں کے پوٹےوہ جنت کی بو نہ سونگھیں گے۔
طبرانی کبیر اور ابن ابی عاصم کتاب السنہ میں حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من خضب بالسواد سود اﷲ وجہہ یوم القیمۃ ۔ جو سیاہ خضاب کرے اﷲ تعالی روز قیامت اس کا منہ کالا کرے گا۔
علامہ حموی وطحطاوی وشامی فرماتے ہیں:
ھذا فی حق غیر الغزاۃ ولا یحرم فی حقھم للارھاب ۔ یہ حکم مجاہدین کے سوا دوسروں کے لئے ہے لہذا ان کے لئے سیاہ خضاب کا استعمال حرام نہیں دشمنوں کو ڈرانے اور انھیں مرعوب کرنے کے لئے وہ اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔(ت)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ شریف میں ہے:
بصحت رسیدہ است کہ امیر المومنین ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ خضاب می کرد بحناوکتم کہ نام گیا ہے است لیکن رنگ آں سیاہ نیست بلکہ سرخ مائل بسیاہی است ۔ طریقہ صحت تك یہ راویت پہنچی ہوئی ہے کہ امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کتم گھاس کی پتیاں ملا کر خضاب کیا کرتے تھے جس کا رنگ سیاہ نہیں بلکہ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہو اکرتا تھا۔(ت)
اس مسئلے کی تفصیل فتاوی فقیر میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب ماجاء فی خضاب السواد آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۲،سنن النسائی کتاب الزینۃ الخضاب بالسواد ۲/ ۲۷۷ ومسند احمد بن حنبل ۱/ ۲۷۳
کنز العمال بحوالہ طب عن ابی الدرداء حدیث ۱۷۳۳۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۷۱
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۲
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۷۰
کنز العمال بحوالہ طب عن ابی الدرداء حدیث ۱۷۳۳۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۷۱
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۲
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۷۰
مسئلہ ۱۹۳: ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ از شہر کہنہ مرسلہ سید عبدالواحدمتھراوی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کو زیبائش وآرائش کے لئے مسی سیاہ لگانا یا دانتوں کے گرجانے کے خوف سے سیاہ مسی لگانا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
مسی کسی رنگ کی ہو عورتوں کو علاج دنداں یا شوہر کے واسطے آرائش کے لئے مطلقا جائز بلکہ مستحب ہے۔صرف حالت روزہ میں لگانا منع ہے۔
فی الدرالمختار کرہ مضغ علك ابیض ممضوغ ملتئم والا فیفطر وکرہ للمفطرین الا فی الخلوۃ بعذروقیل یباح ویستحب للنساء لانہ سوا کھن فتح فی رد المحتار قیدہ بذلك لان الاسود وغیرہ الممضوغ وغیر الملتم یصل منہ شیئ الی الجوف الخ واﷲ تعالی اعلم۔ درمختار میں ہے سفید گوند کہ جس کے باہم اجزاء ملے ہوئے ہوں اور جو چبائی ہوئی ہو مگر مزید چبائے جانے کے قابل ہو تو اس کے استعمال یعنی چبانے سے روزہ نہیں ٹوٹتاغیر روزہ دار کے لئے اس کا استعمال بلاعذر مکروہ ہے البتہ عذر کی وجہ سے خلوت میں اس کا چبانا مکروہ نہیںاور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مباح ہے اور مستورات کے لئے اس کا استعمال مستحب ہے اس لئے کہ یہ ان کی مسواك ہے فتح القدیرفتاوی شامی میں ہے کہ مصنف نے اس کو چند شرائط کے ساتھ مشروط یا مقید (اسودغیر ممضوغ(چبایا ہوا نہ ہو)غیر ملتئم(اجزاء باہم پیوستہ نہ ہوں)اس لئے کہ غیر موصوفہ کے ہونے کی صورت میں اس کا کچھ نہ کچھ حصہ پیٹ میں چلا جاتاہے الخ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۴: از سرنیان ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۴ رجب ۱۳۳اھ
عورت یا مرد کو سر میں گھی ڈالنا پھوڑے پھنسی پر استعمال کرنا۔
الجواب:
جائز ہے مگر اس کا خیال رہے کہ سر میں بد بو نہ پیدا ہو دھوتا رہے اگر بد بو آنے لگے گی نماز مکروہ ہوگیاور مرد کو مسجد میں جانے جماعت میں شریك ہونے سے محروم ہونا پڑے گااور یہ جائز نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کو زیبائش وآرائش کے لئے مسی سیاہ لگانا یا دانتوں کے گرجانے کے خوف سے سیاہ مسی لگانا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
مسی کسی رنگ کی ہو عورتوں کو علاج دنداں یا شوہر کے واسطے آرائش کے لئے مطلقا جائز بلکہ مستحب ہے۔صرف حالت روزہ میں لگانا منع ہے۔
فی الدرالمختار کرہ مضغ علك ابیض ممضوغ ملتئم والا فیفطر وکرہ للمفطرین الا فی الخلوۃ بعذروقیل یباح ویستحب للنساء لانہ سوا کھن فتح فی رد المحتار قیدہ بذلك لان الاسود وغیرہ الممضوغ وغیر الملتم یصل منہ شیئ الی الجوف الخ واﷲ تعالی اعلم۔ درمختار میں ہے سفید گوند کہ جس کے باہم اجزاء ملے ہوئے ہوں اور جو چبائی ہوئی ہو مگر مزید چبائے جانے کے قابل ہو تو اس کے استعمال یعنی چبانے سے روزہ نہیں ٹوٹتاغیر روزہ دار کے لئے اس کا استعمال بلاعذر مکروہ ہے البتہ عذر کی وجہ سے خلوت میں اس کا چبانا مکروہ نہیںاور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مباح ہے اور مستورات کے لئے اس کا استعمال مستحب ہے اس لئے کہ یہ ان کی مسواك ہے فتح القدیرفتاوی شامی میں ہے کہ مصنف نے اس کو چند شرائط کے ساتھ مشروط یا مقید (اسودغیر ممضوغ(چبایا ہوا نہ ہو)غیر ملتئم(اجزاء باہم پیوستہ نہ ہوں)اس لئے کہ غیر موصوفہ کے ہونے کی صورت میں اس کا کچھ نہ کچھ حصہ پیٹ میں چلا جاتاہے الخ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۴: از سرنیان ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۴ رجب ۱۳۳اھ
عورت یا مرد کو سر میں گھی ڈالنا پھوڑے پھنسی پر استعمال کرنا۔
الجواب:
جائز ہے مگر اس کا خیال رہے کہ سر میں بد بو نہ پیدا ہو دھوتا رہے اگر بد بو آنے لگے گی نماز مکروہ ہوگیاور مرد کو مسجد میں جانے جماعت میں شریك ہونے سے محروم ہونا پڑے گااور یہ جائز نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵۲
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب مایفسد الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۱۱۲
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب مایفسد الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۱۱۲
مسئلہ ۱۹۵ ۱۹۶: مستفسرہ ذکاء اﷲ خاں رضوی روز سہ شنبہ بتاریخ ۸شعبان ۱۳۳۳ھ
(۱)زید کا قول ہے کہ خضاب مہندی میں ملاکر لگانا جائز ہے۔
(۲)زید کا قول ہے کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ وقت جہاد داڑھی کترواناچاہئے۔
الجواب:
(۱)مہندی میں اتنا نیل ملانا جس سے رنگ سیاہ آئے حرام ہے قیامت کے دن ان کے منہ کالے کئے جائیںحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اختضب بالسواد سود اﷲ وجھہ یوم القیامۃ ۔ جو سیاہ خضاب کرے قیامت میں اﷲ تعالی اس کا منہ سیاہ کرے گا۔
ہاں مہندی میں اتنا نیل ملانا جس سے رنگ سرخ ہی رہے مگر اس میں ذرا پختگی آجائے یہ جائز ہے وھو المراد بالماثور وبما ھو فی الخانیۃ وغیرھا مذکور (حدیث سے منقول اور خانیہ وغیرہ میں مذکور سے یہی مراد ہے۔ت)
(۲)زید محض جھوٹا ہے قرآن مجید پر افتراء کرتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۷: مسئولہ مولوی محمد اسمعیل صاحب محمود آباد مسجد چھاؤنی بریلی ۷ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
رات کے وقت آئینہ دیکھنا منع ہے یا نہیں خصوصا عورتوں کو کہ اپنے خاوند کے لئے بناؤ سنگھار کرتے وقت آئینہ دیکھنے کی سخت ضرورت پڑتی ہے۔
الجواب:
رات کو آئینہ دیکھنے کی کوئی ممانعت نہیںبعض عوام کاخیال ہے کہ اس سے منہ پر جھائیاں پڑتی ہیں اور اس کا بھی کوئی ثبوت نہ شرعا ہے نہ طبعا نہ تجربۃاورعورت کہ اپنے شوہر کے سنگار کے واسطے آئینہ دیکھے ثواب عظیم کی مستحق ہے ثواب کی بات بے اصل خیالات کی بناء پرمنع نہیں ہوسکتی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: مسئولہ عزیز الحسن طالب علم مدرسہ اہلسنت شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
مردوں کے لئے مہندی کا استعمال شوقیہ جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو کس قدر عضو بدن میں بینوا توجروا
الجواب:
ہاتھ پاؤں میں مہندی کی رنگت مرد کے لئے حرام ہے اور سراور داڑھی میں مستحب۔
(۱)زید کا قول ہے کہ خضاب مہندی میں ملاکر لگانا جائز ہے۔
(۲)زید کا قول ہے کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ وقت جہاد داڑھی کترواناچاہئے۔
الجواب:
(۱)مہندی میں اتنا نیل ملانا جس سے رنگ سیاہ آئے حرام ہے قیامت کے دن ان کے منہ کالے کئے جائیںحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اختضب بالسواد سود اﷲ وجھہ یوم القیامۃ ۔ جو سیاہ خضاب کرے قیامت میں اﷲ تعالی اس کا منہ سیاہ کرے گا۔
ہاں مہندی میں اتنا نیل ملانا جس سے رنگ سرخ ہی رہے مگر اس میں ذرا پختگی آجائے یہ جائز ہے وھو المراد بالماثور وبما ھو فی الخانیۃ وغیرھا مذکور (حدیث سے منقول اور خانیہ وغیرہ میں مذکور سے یہی مراد ہے۔ت)
(۲)زید محض جھوٹا ہے قرآن مجید پر افتراء کرتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۷: مسئولہ مولوی محمد اسمعیل صاحب محمود آباد مسجد چھاؤنی بریلی ۷ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
رات کے وقت آئینہ دیکھنا منع ہے یا نہیں خصوصا عورتوں کو کہ اپنے خاوند کے لئے بناؤ سنگھار کرتے وقت آئینہ دیکھنے کی سخت ضرورت پڑتی ہے۔
الجواب:
رات کو آئینہ دیکھنے کی کوئی ممانعت نہیںبعض عوام کاخیال ہے کہ اس سے منہ پر جھائیاں پڑتی ہیں اور اس کا بھی کوئی ثبوت نہ شرعا ہے نہ طبعا نہ تجربۃاورعورت کہ اپنے شوہر کے سنگار کے واسطے آئینہ دیکھے ثواب عظیم کی مستحق ہے ثواب کی بات بے اصل خیالات کی بناء پرمنع نہیں ہوسکتی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: مسئولہ عزیز الحسن طالب علم مدرسہ اہلسنت شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
مردوں کے لئے مہندی کا استعمال شوقیہ جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو کس قدر عضو بدن میں بینوا توجروا
الجواب:
ہاتھ پاؤں میں مہندی کی رنگت مرد کے لئے حرام ہے اور سراور داڑھی میں مستحب۔
حوالہ / References
مجمع الزوائد کتاب اللباس باب فی الشیب والخضاب دارالکتاب بیروت ۵/ ۱۶۳،کنز العمال برمز طب عن ابی الدرداء حدیث ۱۷۳۳۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۷۱
مسئلہ۱۹۹: از کلکتہ زکریا اسٹریٹ ۲۲ مولوی عبدالحلیم صاحب میرٹھی ۷ رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
خضاب لگانے اور مردوں کی داڑھی مونچھ اور سر کے بال کالے کرنے کے متعلق شریعت بیضا کا کیا حکم ہے یہ حدیث کہ"خضاب لگانے والا جنت کی بونہ سونگھے گا"کس خضاب سے متعلق ہے۔نیل و مہندی ملا کر جو خضاب کیا جاتاہے اور جس سے بال بالکل کالے نہیں ہوتے وہ کس حکم میں ہے اور اگر اسی سے بعض طرق کے تبدل وتغیر کے باعث بالکل سیاہ ہوجائیں تو کیا حکم ہے نوجوان بیوی یا اور بعض کیفیات میں کیا خضاب اسود ناجائز ہونے کی صورت میں استثناء رہے گا اوراگر ایسا ہے تو ان بعض کیفیات کی توضیح کیا ہے
الجواب:
سیاہ خضاب حرام ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غیروا ھذا بشیئ و اجتنبوا السواد رواہ مسلم عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ وفی حدیث اخر من خضب بالسواد سود اﷲ وجہہ یوم القیمۃ رواہ الطبرانی ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ان بالوں کو کسی چیز سے تبدیل کردو لیکن سیاہی سے بچومسلم شریف میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ کی سند سے اسے روایت کیا۔اور ایك دوسری حدیث میں ارشاد ہے جس نے سیاہ خضاب لگایا قیامت کے دن اﷲ تعالی اس کا چہرہ سیاہ کرے گا۔ اس کو امام طبرانی نے روایت کیا۔(ت)
حدیث مذکور فی السوال سیاہ خضاب ہی کے بارے میں ہے خود اسی کے الفاظ کا ارشاد ہے:
یخضبون بالسواد کحواصل الحمام لایریحون رائحۃ الجنۃ رواہ ابوداؤد والنسائی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ کچھ لوگ سیاہ خضاب لگائیں گے جیسے کبوتر کے پوٹے ہوںوہ جنت کی خوشبو نہ سونگھیں گےابوداؤد ونسائی نے حضرت عبد اﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اس کو روایت کیا۔(ت)
خضاب لگانے اور مردوں کی داڑھی مونچھ اور سر کے بال کالے کرنے کے متعلق شریعت بیضا کا کیا حکم ہے یہ حدیث کہ"خضاب لگانے والا جنت کی بونہ سونگھے گا"کس خضاب سے متعلق ہے۔نیل و مہندی ملا کر جو خضاب کیا جاتاہے اور جس سے بال بالکل کالے نہیں ہوتے وہ کس حکم میں ہے اور اگر اسی سے بعض طرق کے تبدل وتغیر کے باعث بالکل سیاہ ہوجائیں تو کیا حکم ہے نوجوان بیوی یا اور بعض کیفیات میں کیا خضاب اسود ناجائز ہونے کی صورت میں استثناء رہے گا اوراگر ایسا ہے تو ان بعض کیفیات کی توضیح کیا ہے
الجواب:
سیاہ خضاب حرام ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غیروا ھذا بشیئ و اجتنبوا السواد رواہ مسلم عن جابر رضی اﷲ تعالی عنہ وفی حدیث اخر من خضب بالسواد سود اﷲ وجہہ یوم القیمۃ رواہ الطبرانی ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ان بالوں کو کسی چیز سے تبدیل کردو لیکن سیاہی سے بچومسلم شریف میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہ کی سند سے اسے روایت کیا۔اور ایك دوسری حدیث میں ارشاد ہے جس نے سیاہ خضاب لگایا قیامت کے دن اﷲ تعالی اس کا چہرہ سیاہ کرے گا۔ اس کو امام طبرانی نے روایت کیا۔(ت)
حدیث مذکور فی السوال سیاہ خضاب ہی کے بارے میں ہے خود اسی کے الفاظ کا ارشاد ہے:
یخضبون بالسواد کحواصل الحمام لایریحون رائحۃ الجنۃ رواہ ابوداؤد والنسائی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ کچھ لوگ سیاہ خضاب لگائیں گے جیسے کبوتر کے پوٹے ہوںوہ جنت کی خوشبو نہ سونگھیں گےابوداؤد ونسائی نے حضرت عبد اﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اس کو روایت کیا۔(ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب اللباس باب استحباب خضاب الشیب بصفرۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۹۹
کنز العمال بحوالہ طب عن ابی الدرداء حدیث۱۷۳۳۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۷۱
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب ماجاء فی خضاب السواد آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۲،سنن النسائی باب النہی من الخضاب بالسواد نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۲۷۷
کنز العمال بحوالہ طب عن ابی الدرداء حدیث۱۷۳۳۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۷۱
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب ماجاء فی خضاب السواد آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۲،سنن النسائی باب النہی من الخضاب بالسواد نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۲۷۷
سیاہ خضاب مطلقا حرام ہے اور سیاہ مقول بالتشکیك نیلااوداکاسنی سب سیاہ ہے اور بفرض غلط سیاہ نہ ہو تو قریب سیاہ قطعا ہے اور حدیث صحیح کاارشاد ہے:
لاتقربوا السوادرواہ الامام احمد عن انس رضی اﷲ عنہ۔ سیاہی کے پاس نہ جاؤ(اس کو امام احمد نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اور حدیث ابوداؤد ونسائی میں کبوتر کے پوٹے سے تشبیہ بھی اسی طرف ناظرجنگلی کبوتروں کے پوٹے اکثر نیلگوں ہوتے ہیں۔ خاص مہندی کی رنگت گہری نہیں ہوتی جب اس میں کچھ پتیاں نیل کی ملادی جائیں تو سرخ گہرا رنگ ہوجاتاہے یہ حسن ہے نہ یہ کہ اتنا نیل ملا دیا جائے کہ سیاہ کردےیا پہلے مہندی سے رنگ کر جب بال خوب صاف ہوگئے اس پر نیل تھوپاکہ یہ سب وہی حرام صورتیں ہیں جن کو اجتنبوا(سیاہی سے بچو۔ت)فرمایالایجدون رائحۃ الجنۃ(وہ لوگ جنت کی خوشبو نہ پائیں گے۔ت) فرمایا:جس پر سود اﷲ وجہہ(اﷲ تعالی ان کے چہرے سیاہ کردے گا۔ت)آیا۔شراب کہ خلط نمك سے سرکہ ہوجائے نہ یہ کہ گھڑے بھر شراب میں نمك کی ایك کنکری ڈال کر پی جائے نہ یہ کہ بہت سانمك پھانك کر اوپر سے شراب چڑھائے تحریم سواد سے صرف مباشران جہاد کا استثناء ہے جیسے اون کو ریشم کا بانااور صاحبین کے نزد یك خالص ریشمیں روا ہیںاور زوجہ جوان کی غرض سے ایك روایت مرجوحہ میں جواز آیا ہے اور مرجوح پر حکم فتوی جہل وخرق اجماع ہے۔ امام محمد علیہ الرحمۃ فتاوی ذخیرہ میں فرماتے ہیں:
الخضاب بالسواد للغز ولیکون اھیب فی عین العدو محمود باتفاق وان فعل ذلك لیزین نفسہ للنساء فمکروہ علیہ عامۃ المشائخ ۔ جہاد میں سیاہ خضاب کی اجازت ہے تاکہ دشمن کی نگاہ میں بارعب اور خوفناك ہوجائے اوریہ بالاتفاق اچھا ہے۔اور اگر اپنے آپ کو عورتوں کے لئے زیب وزینت دے تویہ مکروہ ہے اور اسی پر عام مشائخ قائم ہیں۔(ت)
لاتقربوا السوادرواہ الامام احمد عن انس رضی اﷲ عنہ۔ سیاہی کے پاس نہ جاؤ(اس کو امام احمد نے حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اور حدیث ابوداؤد ونسائی میں کبوتر کے پوٹے سے تشبیہ بھی اسی طرف ناظرجنگلی کبوتروں کے پوٹے اکثر نیلگوں ہوتے ہیں۔ خاص مہندی کی رنگت گہری نہیں ہوتی جب اس میں کچھ پتیاں نیل کی ملادی جائیں تو سرخ گہرا رنگ ہوجاتاہے یہ حسن ہے نہ یہ کہ اتنا نیل ملا دیا جائے کہ سیاہ کردےیا پہلے مہندی سے رنگ کر جب بال خوب صاف ہوگئے اس پر نیل تھوپاکہ یہ سب وہی حرام صورتیں ہیں جن کو اجتنبوا(سیاہی سے بچو۔ت)فرمایالایجدون رائحۃ الجنۃ(وہ لوگ جنت کی خوشبو نہ پائیں گے۔ت) فرمایا:جس پر سود اﷲ وجہہ(اﷲ تعالی ان کے چہرے سیاہ کردے گا۔ت)آیا۔شراب کہ خلط نمك سے سرکہ ہوجائے نہ یہ کہ گھڑے بھر شراب میں نمك کی ایك کنکری ڈال کر پی جائے نہ یہ کہ بہت سانمك پھانك کر اوپر سے شراب چڑھائے تحریم سواد سے صرف مباشران جہاد کا استثناء ہے جیسے اون کو ریشم کا بانااور صاحبین کے نزد یك خالص ریشمیں روا ہیںاور زوجہ جوان کی غرض سے ایك روایت مرجوحہ میں جواز آیا ہے اور مرجوح پر حکم فتوی جہل وخرق اجماع ہے۔ امام محمد علیہ الرحمۃ فتاوی ذخیرہ میں فرماتے ہیں:
الخضاب بالسواد للغز ولیکون اھیب فی عین العدو محمود باتفاق وان فعل ذلك لیزین نفسہ للنساء فمکروہ علیہ عامۃ المشائخ ۔ جہاد میں سیاہ خضاب کی اجازت ہے تاکہ دشمن کی نگاہ میں بارعب اور خوفناك ہوجائے اوریہ بالاتفاق اچھا ہے۔اور اگر اپنے آپ کو عورتوں کے لئے زیب وزینت دے تویہ مکروہ ہے اور اسی پر عام مشائخ قائم ہیں۔(ت)
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل
فتاوٰی ھندیہ بحوالہ الذخیرۃ کتاب الکراہیۃ الباب العشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۹
فتاوٰی ھندیہ بحوالہ الذخیرۃ کتاب الکراہیۃ الباب العشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۹
عقود الدریہ میں ہے:العمل بما علیہ الاکثر (اس پر عمل کرنا جس پر اکثر ہیں۔ت)قول جمہور پر حدیث صحیح صحاح ستہ:
عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لعن اﷲ الواشمات والمستوشمات والناصمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اﷲ ۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت فرمایا کہ اﷲ تعالی ان عورتوں پر لعنت کرے جو"خال"گود نے والی اور خال گدوانے والی ہیں چہرہ کے بال نوچنے اور نچوانے والی ہیں۔اور خوبصورتی کے پیش نظر دانتوں کے درمیان کشادگی بنانے والی ہیں۔اﷲ تعالی کی تخلیق میں تبدیل کرنے والی ہیں۔(ت)
شاہد عدل ہے۔عورت زیادہ اس کی محتاج ہے کہ شوہر کی نگاہ میں آراستہ ہو جب اسے یہ امور تغیر خلق اﷲ کے سبب حرام وموجب لعنت ہوئے تو مرد پر بدرجہ اولی۔
وقد قال تعالی " لا تبدیل لخلق اللہ " وقال تعالی عن عدوہ ابلیس " ولامرنہم فلیغیرن خلق اللہ " ۔ اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)اﷲ تعالی کی تخلیق (پیدائش)میں کوئی تبدیلی نہیںنیز اﷲ تعالی نے اپنے دشمن شیطان لعین سے حکایتا فرمایا(کہ اس نے کہا)ضرور انھیں حکم دوں گا تو وہ اﷲ تعالی کی تخلیق میں تبدیل کریں گے۔(ت)
نیز حدیث صحیح:
المتشبع بما لم یعط کلابس ایسی چیز سے سیری دکھانے والا جو اس کو
عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لعن اﷲ الواشمات والمستوشمات والناصمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اﷲ ۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت فرمایا کہ اﷲ تعالی ان عورتوں پر لعنت کرے جو"خال"گود نے والی اور خال گدوانے والی ہیں چہرہ کے بال نوچنے اور نچوانے والی ہیں۔اور خوبصورتی کے پیش نظر دانتوں کے درمیان کشادگی بنانے والی ہیں۔اﷲ تعالی کی تخلیق میں تبدیل کرنے والی ہیں۔(ت)
شاہد عدل ہے۔عورت زیادہ اس کی محتاج ہے کہ شوہر کی نگاہ میں آراستہ ہو جب اسے یہ امور تغیر خلق اﷲ کے سبب حرام وموجب لعنت ہوئے تو مرد پر بدرجہ اولی۔
وقد قال تعالی " لا تبدیل لخلق اللہ " وقال تعالی عن عدوہ ابلیس " ولامرنہم فلیغیرن خلق اللہ " ۔ اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)اﷲ تعالی کی تخلیق (پیدائش)میں کوئی تبدیلی نہیںنیز اﷲ تعالی نے اپنے دشمن شیطان لعین سے حکایتا فرمایا(کہ اس نے کہا)ضرور انھیں حکم دوں گا تو وہ اﷲ تعالی کی تخلیق میں تبدیل کریں گے۔(ت)
نیز حدیث صحیح:
المتشبع بما لم یعط کلابس ایسی چیز سے سیری دکھانے والا جو اس کو
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ
صحیح البخاری کتاب اللباس باب الموصولۃ وباب المستوشمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۰۔۸۷۹،صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم فعل الواصلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۵
القرآن الکریم ۳۰ /۳۰
القرآن الکریم ۴ /۱۱۹
صحیح البخاری کتاب اللباس باب الموصولۃ وباب المستوشمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۰۔۸۷۹،صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم فعل الواصلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۵
القرآن الکریم ۳۰ /۳۰
القرآن الکریم ۴ /۱۱۹
ثوبی زور رواہ الشیخان عن اسماء رضی اﷲ تعالی عنہا۔ ملی نہیں اس طرح سے جیسے جھوٹ اور فریب کا لباس پہننے والابخاری اور مسلم نے اس کو سیدہ اسماء رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے(ت)
اس پر وعید کو بس ہے ظاہر ہے کہ یہ خضاب اسی لئے ہوگا کہ عورت پر اظہار جوانی کرے۔جوان ہے نہیں اور اس کی نگاہ میں جوان بنے تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد سے وہ شخص سر سے پاؤں تك جھوٹ اور فریب کا جامہ پہنے ہے۔
اس سے بد تر اور کیا درکار ہے بخلاف جہاد حدیث متواتر میں ہے الحرب خدعۃ (جنگ دھوکا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
______________________
اس پر وعید کو بس ہے ظاہر ہے کہ یہ خضاب اسی لئے ہوگا کہ عورت پر اظہار جوانی کرے۔جوان ہے نہیں اور اس کی نگاہ میں جوان بنے تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد سے وہ شخص سر سے پاؤں تك جھوٹ اور فریب کا جامہ پہنے ہے۔
اس سے بد تر اور کیا درکار ہے بخلاف جہاد حدیث متواتر میں ہے الحرب خدعۃ (جنگ دھوکا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
______________________
رسالہ
حك العیب فی حرمۃ تسوید الشیب ۱۳۰۷ھ
(سفید بالوں کو کالا کرنے کی حرمت کے بارے میں عیب کو مٹانا)
مسئلہ ۲۰۰: از شہر کہنہ مرسلہ محمد شفیع علی خاں صاحب ۲۳ ربیع الاول شریف ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وسمہ نیل کا جس سے بال سیاہ ہوجائیں جائز ہے یا نہیں اور نیل میں حنا ملاکر لگانا درست ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
وسمہ نیل حنا ملا کر لگانا جائز ہے بلاکراہت۔
فی الدرالمختار ملخصا یستحب للرجل خضاب شعرہ ولحیتہ ولو فی غیر حرب فی الاصح ویکرہ بالسواد و قیل لا مجمع الفتاویوفی رد المحتار و ورد ان ابابکر رضی اﷲ تعالی عنہ درمختار میں مختصر طور پر مذکور ہے کہ مرد کے لئے اپنے بالوں اور داڑھی کو خضاب کرنا(یعنی رنگین کرنا)اگر چہ صحیح قول کے مطابق جہاد کے بغیر مستحب ہے البتہ سیاہ کرنا مکروہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مکروہ نہیں ہے۔مجمع الفتاوی اور فتاوی شامی میں ہے حدیث پاك میں آیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق
حك العیب فی حرمۃ تسوید الشیب ۱۳۰۷ھ
(سفید بالوں کو کالا کرنے کی حرمت کے بارے میں عیب کو مٹانا)
مسئلہ ۲۰۰: از شہر کہنہ مرسلہ محمد شفیع علی خاں صاحب ۲۳ ربیع الاول شریف ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وسمہ نیل کا جس سے بال سیاہ ہوجائیں جائز ہے یا نہیں اور نیل میں حنا ملاکر لگانا درست ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
وسمہ نیل حنا ملا کر لگانا جائز ہے بلاکراہت۔
فی الدرالمختار ملخصا یستحب للرجل خضاب شعرہ ولحیتہ ولو فی غیر حرب فی الاصح ویکرہ بالسواد و قیل لا مجمع الفتاویوفی رد المحتار و ورد ان ابابکر رضی اﷲ تعالی عنہ درمختار میں مختصر طور پر مذکور ہے کہ مرد کے لئے اپنے بالوں اور داڑھی کو خضاب کرنا(یعنی رنگین کرنا)اگر چہ صحیح قول کے مطابق جہاد کے بغیر مستحب ہے البتہ سیاہ کرنا مکروہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مکروہ نہیں ہے۔مجمع الفتاوی اور فتاوی شامی میں ہے حدیث پاك میں آیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق
حوالہ / References
درمختار کتاب الکراہیۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۳
خضب بالحناء والکتم اھواﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
محمد یعقوب علی خاں رضی اﷲ تعالی عنہ نے مہندی اور وسمہ سے خضاب کیا(یعنی ان سے بالوں کو رنگدار بنانا)اھ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ (ت)
الجواب:
صحیح مذہب میں سیاہ خضاب حالت جہاد کے سوا مطلقا حرام ہے جس کی حرمت پر احادیث صحیحہ و معتبرہ ناطق۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(پس میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ سے ہے۔ت)
حدیث اول:احمد ومسلم وابوداؤد ونسائی وابن ماجہ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کے والد ماجد حضرت ابوقحافہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی داڑھی خالص سپید دیکھ کر ارشاد فرمایا:
غیرواھذا بشیئ واجتنبوا السواد ۔ اس سپیدی کو کسی چیز سے بدل دو اور سیاہ رنگ سے بچو۔
حدیث دوم: امام احمد اپنی مسند میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
غیر والشیب ولا تقربوا السواد ۔ پیری تبدیل کرو اور سیاہ رنگ کے پاس نہ جاؤ۔
حدیث سوم: امام احمد ابواؤد ونسائی وابن حبان وحاکم بافادہ تصحیح اور ضیا مختارہ اور بیہقی سنن میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یکون قوم فی اخر الزمان یخضبون بھذا السواد کحواصل الحمام لا یجدون رائحۃ الجنۃ ۔ آخر زمانے میں کچھ لوگ سیاہ خضاب کریں گے جیسے کبوتروں کے پوٹے وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھیں گے۔
جنگلی کبوتروں کے سینے اکثر سیاہ نیلگوں ہوتے ہیں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
محمد یعقوب علی خاں رضی اﷲ تعالی عنہ نے مہندی اور وسمہ سے خضاب کیا(یعنی ان سے بالوں کو رنگدار بنانا)اھ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ (ت)
الجواب:
صحیح مذہب میں سیاہ خضاب حالت جہاد کے سوا مطلقا حرام ہے جس کی حرمت پر احادیث صحیحہ و معتبرہ ناطق۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(پس میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ سے ہے۔ت)
حدیث اول:احمد ومسلم وابوداؤد ونسائی وابن ماجہ حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کے والد ماجد حضرت ابوقحافہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی داڑھی خالص سپید دیکھ کر ارشاد فرمایا:
غیرواھذا بشیئ واجتنبوا السواد ۔ اس سپیدی کو کسی چیز سے بدل دو اور سیاہ رنگ سے بچو۔
حدیث دوم: امام احمد اپنی مسند میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
غیر والشیب ولا تقربوا السواد ۔ پیری تبدیل کرو اور سیاہ رنگ کے پاس نہ جاؤ۔
حدیث سوم: امام احمد ابواؤد ونسائی وابن حبان وحاکم بافادہ تصحیح اور ضیا مختارہ اور بیہقی سنن میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یکون قوم فی اخر الزمان یخضبون بھذا السواد کحواصل الحمام لا یجدون رائحۃ الجنۃ ۔ آخر زمانے میں کچھ لوگ سیاہ خضاب کریں گے جیسے کبوتروں کے پوٹے وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھیں گے۔
جنگلی کبوتروں کے سینے اکثر سیاہ نیلگوں ہوتے ہیں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۷۱
صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب استحباب خضاب الشیب بصفرۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۹
مسند امام احمد بن حنبل عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۴۷
مسند امام احمد بن حنبل عن عبداﷲ ابن عباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۷۳
صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب استحباب خضاب الشیب بصفرۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۹
مسند امام احمد بن حنبل عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۴۷
مسند امام احمد بن حنبل عن عبداﷲ ابن عباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۷۳
ان کے بالوں اور داڑھیوں کو ان سے تشبیہ دی۔
حدیث چہارم: ابن سعد عامر رحمہ اﷲ تعالی مرسلا راوی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی لاینظر الی من یخضب بالسواد یوم القیمۃ ۔ جو سیاہ خضاب کرے اﷲ تعالی روز قیامت اس کی طرف نظر رحمت نہ فرمائے گا۔
حدیث پنجم:ابن عدی کامل میں اور دیلمی مسند الفردوس میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی یبغض الشیخ الغربیب ۔ بیشك اﷲ تعالی دشمن رکھتا ہے بوڑھے کوے کو۔
تعلیقات علامہ حفنی میں ہے:
الغربیب ای الذی یسود شیبہ ۔ الغربیب وہ ہوتا ہے جو بڑھاپے(کے روپ)کو بدل ڈالے۔ (ت)
عزیزی میں ہے:
الغربیب الذی لایشیب او الذی یسود شیبہ بالخضاب ۔ الغربیب وہ ہوتا ہے جو بوڑھا نہ دکھائی دے یا وہ جو اپنے بڑھاپے (کی علامت)یعنی سفید بالوں کو خضاب سے سیاہ کردے۔
حدیث ششم:طبرانی معجم الکبیر میں اور حاکم مستدرك میں عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی حضور پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ فرماتے ہیں:
الصفرۃ خضاب المومن والحمرۃ خضاب المسلم و السواد خضاب الکافر ۔ زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اسلام والوں کا اور سیاہ خضاب کافر کا۔
حدیث چہارم: ابن سعد عامر رحمہ اﷲ تعالی مرسلا راوی حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی لاینظر الی من یخضب بالسواد یوم القیمۃ ۔ جو سیاہ خضاب کرے اﷲ تعالی روز قیامت اس کی طرف نظر رحمت نہ فرمائے گا۔
حدیث پنجم:ابن عدی کامل میں اور دیلمی مسند الفردوس میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی یبغض الشیخ الغربیب ۔ بیشك اﷲ تعالی دشمن رکھتا ہے بوڑھے کوے کو۔
تعلیقات علامہ حفنی میں ہے:
الغربیب ای الذی یسود شیبہ ۔ الغربیب وہ ہوتا ہے جو بڑھاپے(کے روپ)کو بدل ڈالے۔ (ت)
عزیزی میں ہے:
الغربیب الذی لایشیب او الذی یسود شیبہ بالخضاب ۔ الغربیب وہ ہوتا ہے جو بوڑھا نہ دکھائی دے یا وہ جو اپنے بڑھاپے (کی علامت)یعنی سفید بالوں کو خضاب سے سیاہ کردے۔
حدیث ششم:طبرانی معجم الکبیر میں اور حاکم مستدرك میں عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی حضور پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ فرماتے ہیں:
الصفرۃ خضاب المومن والحمرۃ خضاب المسلم و السواد خضاب الکافر ۔ زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اسلام والوں کا اور سیاہ خضاب کافر کا۔
حوالہ / References
کنز العمال بحوالہ ابن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۱۷۳۳۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۶۷۱
الفردوس بما ثور الخطاب عن ابی ھریرہ حدیث ۵۶۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۵۳
تعلیقات علامہ حفنی علی ہامش السراج المنیر تحت حدیث ان اﷲ یبغض الخ مطبعۃ الازہریۃ المصریہ ۱/۳۷۹
السراج المنیر تحت حدیث ان اﷲ یبغض الشیخ الغربیب مطبعۃ الازہریۃ المصریہ ۱ /۳۷۹
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃباب الصفرۃ خضاب المومن الخ دارالفکر بیروت ۳ /۵۲۶
الفردوس بما ثور الخطاب عن ابی ھریرہ حدیث ۵۶۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۵۳
تعلیقات علامہ حفنی علی ہامش السراج المنیر تحت حدیث ان اﷲ یبغض الخ مطبعۃ الازہریۃ المصریہ ۱/۳۷۹
السراج المنیر تحت حدیث ان اﷲ یبغض الشیخ الغربیب مطبعۃ الازہریۃ المصریہ ۱ /۳۷۹
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃباب الصفرۃ خضاب المومن الخ دارالفکر بیروت ۳ /۵۲۶
حدیث ہفتم:عقیلی وابن حبان وابن عساکر انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الشیب نور من خلع الشیب فقد خلع نور لاسلام ۔ سپیدی نور ہے جس نے اسے چھپایا اس نے اسلام کا نور زائل کیا۔
علامہ محمد حفنی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
خلع الشیب ای ازالہ وسترہ بان خضبہ بالسواد فی غیر جہاد ۔ خلع الشیب کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے بڑھاپے کو زائل کیا اور اسے بغیر جہاد کے سیاہ خضاب لگا کر چھپایا۔(ت)
علامہ مناوی پھر علامہ عزیزی اس حدیث پر تفریع کرتے ہیں:
فنتفہ مکروہ وصبغہ بالسواد لغیر الجہاد حرام ۔ یعنی پس سفید بال اکھیڑنا مکروہ ہے اور سیاہ خضاب غیر جہاد میں حرام۔(ت)
حدیث ہشتم:حاکم کتاب الکنی والالقاب میں بسند حسن ام سلیم رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من شاب شیبۃ فی الاسلام کانت لہ نورا مالم یغیر ھا ۔ جسے اسلام میں سپیدی آئے وہ اس کے لئے نور ہوگی جب تك اسے بدل نہ ڈالے۔(ت)
حدیث نہم:دیلمی وابن النجار حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اول من خضب بالحناء والکتم ابراھیم و اول من اختضب بالسواد فرعون ۔ سب میں پہلے حناوکتم سے خضاب کرنے والے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم ہیں اور سب میں پہلے سیاہ خضاب کرنے والا فرعون۔
الشیب نور من خلع الشیب فقد خلع نور لاسلام ۔ سپیدی نور ہے جس نے اسے چھپایا اس نے اسلام کا نور زائل کیا۔
علامہ محمد حفنی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
خلع الشیب ای ازالہ وسترہ بان خضبہ بالسواد فی غیر جہاد ۔ خلع الشیب کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے بڑھاپے کو زائل کیا اور اسے بغیر جہاد کے سیاہ خضاب لگا کر چھپایا۔(ت)
علامہ مناوی پھر علامہ عزیزی اس حدیث پر تفریع کرتے ہیں:
فنتفہ مکروہ وصبغہ بالسواد لغیر الجہاد حرام ۔ یعنی پس سفید بال اکھیڑنا مکروہ ہے اور سیاہ خضاب غیر جہاد میں حرام۔(ت)
حدیث ہشتم:حاکم کتاب الکنی والالقاب میں بسند حسن ام سلیم رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من شاب شیبۃ فی الاسلام کانت لہ نورا مالم یغیر ھا ۔ جسے اسلام میں سپیدی آئے وہ اس کے لئے نور ہوگی جب تك اسے بدل نہ ڈالے۔(ت)
حدیث نہم:دیلمی وابن النجار حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اول من خضب بالحناء والکتم ابراھیم و اول من اختضب بالسواد فرعون ۔ سب میں پہلے حناوکتم سے خضاب کرنے والے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم ہیں اور سب میں پہلے سیاہ خضاب کرنے والا فرعون۔
حوالہ / References
الضعفاء الکبیر للعقیلی ترجمہ ۱۹۲۳ الولید بن موسٰی الدمشقی دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۵۲۶
تعلیقات الحفنی علی ھامش السراج المنیر تحت حدیث الشیب نور من خلع الخ المطبعۃ الازہر یہ مصر ۲ /۳۵۲
السراج المنیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث الشیب نور من خلع الخ المطبعۃ الازہر یہ مصر ۲ /۳۵۲
کنز العمال بحوالہ الحاکم فی الکنی حدیث ۱۷۳۳۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۶۸۱
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۴۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۳۰۔۲۹
تعلیقات الحفنی علی ھامش السراج المنیر تحت حدیث الشیب نور من خلع الخ المطبعۃ الازہر یہ مصر ۲ /۳۵۲
السراج المنیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث الشیب نور من خلع الخ المطبعۃ الازہر یہ مصر ۲ /۳۵۲
کنز العمال بحوالہ الحاکم فی الکنی حدیث ۱۷۳۳۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۶۸۱
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۴۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۳۰۔۲۹
علامہ مناوی اس حدیث کے نیچھے لکھتے ہیں:
فلذلك کان الاول مندوبا والثانی محرما الاللجھاد ۔ یعنی اسی لئے پہلا خضاب مستحب ہے اور دوسرا غیر جہاد میں حرام۔
حدیث دہم:طبرانی معجم کبیر اور ابن ابی عاصم کتاب السنۃ میں حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من خضب بالسواد سود اﷲ وجہہ یوم القیمۃ ۔ جو سیاہ خضاب کرے گا اﷲ تعالی روز قیامت اس کا منہ کالا کرے گا۔
حدیث یازدہم:نیز معجم کبیر طبرانی میں بسند حسن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مثل بالشعر فلیس لہ عنداﷲ خلاق ۔ جو بالوں کی ہیئات بگاڑے اﷲ کے یہاں اس کے لئے کچھ حصہ نہیں۔
علماء فرماتے ہیں ہیأت بگاڑنا کہ داڑھی مونڈے یا سیاہ خضاب کرےتیسیر میں ہے:
ای صیرہ مثلۃ بالضم بان نتفہ او حلقہ من الخدود اوغیرہ بالسواد ۔ یعنی بالوں کا مثلہ کرے لفظ مثلہ حروف میم کے پیش کے ساتھ (مفہوم یہ ہے کہ بالوں کی شکل و رنگت کو بدل ڈالے) بالوں کی ہئیت بگاڑنا یہ ہے کہ سفید بال اکھاڑے جائیں یا انھیں رخساروں سے مونڈ دیا جائے یا انھیں سفید نہ رہنے دے اور سیاہ کرڈالے۔(ت)
حدیث دواز دہم تا پانزدہم:ابویعلی مسند اور طبرانی معجم کبیر میں واثلہ بن اسقع اور بیہقی شعب الایمان میں انس بن مالك وعبداﷲ بن عباس اور ابن عدی کامل میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شرکھو لکم من تشبہ تمھارے ادھیڑوں میں سب سے بدتر وہ ہے
فلذلك کان الاول مندوبا والثانی محرما الاللجھاد ۔ یعنی اسی لئے پہلا خضاب مستحب ہے اور دوسرا غیر جہاد میں حرام۔
حدیث دہم:طبرانی معجم کبیر اور ابن ابی عاصم کتاب السنۃ میں حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من خضب بالسواد سود اﷲ وجہہ یوم القیمۃ ۔ جو سیاہ خضاب کرے گا اﷲ تعالی روز قیامت اس کا منہ کالا کرے گا۔
حدیث یازدہم:نیز معجم کبیر طبرانی میں بسند حسن عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مثل بالشعر فلیس لہ عنداﷲ خلاق ۔ جو بالوں کی ہیئات بگاڑے اﷲ کے یہاں اس کے لئے کچھ حصہ نہیں۔
علماء فرماتے ہیں ہیأت بگاڑنا کہ داڑھی مونڈے یا سیاہ خضاب کرےتیسیر میں ہے:
ای صیرہ مثلۃ بالضم بان نتفہ او حلقہ من الخدود اوغیرہ بالسواد ۔ یعنی بالوں کا مثلہ کرے لفظ مثلہ حروف میم کے پیش کے ساتھ (مفہوم یہ ہے کہ بالوں کی شکل و رنگت کو بدل ڈالے) بالوں کی ہئیت بگاڑنا یہ ہے کہ سفید بال اکھاڑے جائیں یا انھیں رخساروں سے مونڈ دیا جائے یا انھیں سفید نہ رہنے دے اور سیاہ کرڈالے۔(ت)
حدیث دواز دہم تا پانزدہم:ابویعلی مسند اور طبرانی معجم کبیر میں واثلہ بن اسقع اور بیہقی شعب الایمان میں انس بن مالك وعبداﷲ بن عباس اور ابن عدی کامل میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شرکھو لکم من تشبہ تمھارے ادھیڑوں میں سب سے بدتر وہ ہے
حوالہ / References
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث اول من خضب بالحناد الخ مکتب الامام الشافعی الریاض ۱/ ۳۹۲
مجمع الزوائد کتاب اللباس باب ماجاء فی الشیب والخضاب الخ دارالکتب العربی بیروت ۵/ ۱۶۳،کنز العمال بحوالہ طبرانی کبیر حدیث ۱۷۳۳۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۷۱
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۰۹۷۷ مکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۴۱
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث من مثل بالشعر الخ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۲/ ۴۴۴
مجمع الزوائد کتاب اللباس باب ماجاء فی الشیب والخضاب الخ دارالکتب العربی بیروت ۵/ ۱۶۳،کنز العمال بحوالہ طبرانی کبیر حدیث ۱۷۳۳۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۷۱
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۰۹۷۷ مکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۴۱
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث من مثل بالشعر الخ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۲/ ۴۴۴
بشبابکم ۔ جو جوانوں کی سی صورت بنائے۔
امام ابوطالب مکی قوت القلوب میں اور امام حجۃ الاسلام احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
الخضاب بالسواد منھی عنہ لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خیر شبابکم من تشبہ بشیوخکم وشرشیو خکم من تشبہ بشبابکم ۔ بالوں کاسیاہ خضاب لگانا ممنوع ہے اس لئے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمھارے بہترین جو ان وہی ہیں جو بوڑھوں جیسی شکل و صورت بنائیں اور تمھارے بدترین بوڑھے وہ ہیں جو تمھارے جوانوں کی سی شکل و صورت اختیار کریں۔(ت)
حدیث شانزدہم:ابن سعد طبقات میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الخضاب بالسواد ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سیاہ خضاب سے منع فرمایا۔
افسوس کہ ذرا سے نفسانی شوق کے لئے آدمی ایسی سختیوں کو گوارا کرے۔محیط میں ہے:
الخضاب بالسواد قال عامۃ المشائخ انہ مکروہ ۔ عام مشائخ نے فرمایا ہے کہ سیاہ خضاب مکروہ ہے۔(ت)
ذخیرہ میں ہے:
علیہ عامۃ المشائخ ۔ اسی پر عام مشائخ ہیں۔(ت)
امام ابوطالب مکی قوت القلوب میں اور امام حجۃ الاسلام احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:
الخضاب بالسواد منھی عنہ لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خیر شبابکم من تشبہ بشیوخکم وشرشیو خکم من تشبہ بشبابکم ۔ بالوں کاسیاہ خضاب لگانا ممنوع ہے اس لئے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمھارے بہترین جو ان وہی ہیں جو بوڑھوں جیسی شکل و صورت بنائیں اور تمھارے بدترین بوڑھے وہ ہیں جو تمھارے جوانوں کی سی شکل و صورت اختیار کریں۔(ت)
حدیث شانزدہم:ابن سعد طبقات میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن الخضاب بالسواد ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سیاہ خضاب سے منع فرمایا۔
افسوس کہ ذرا سے نفسانی شوق کے لئے آدمی ایسی سختیوں کو گوارا کرے۔محیط میں ہے:
الخضاب بالسواد قال عامۃ المشائخ انہ مکروہ ۔ عام مشائخ نے فرمایا ہے کہ سیاہ خضاب مکروہ ہے۔(ت)
ذخیرہ میں ہے:
علیہ عامۃ المشائخ ۔ اسی پر عام مشائخ ہیں۔(ت)
حوالہ / References
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۲۰۲ مکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۲۲/ ۸۴،مسند ابو یعلٰی ترجمہ واثلہ بن الاسقع موسسۃ علوم القرآن بیروت ۶/ ۴۷۸،شعب الایمان حدیث ۷۸۰۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/ ۱۶۸،الکامل لابن عدی ترجمہ الحسن بن ابی جعفر دارالفکر بیروت ۲/ ۷۲۱
احیاء العلوم کتاب اسرار الطہارۃ فصل فی اللحیۃ عشر خصال الخ نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۰۳
الطبقات الکبرٰی لابن سعد
ردالمحتار بحوالہ المحیط مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۲
ردالمحتار بحوالہ الذخیرہ کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۶۷۱
احیاء العلوم کتاب اسرار الطہارۃ فصل فی اللحیۃ عشر خصال الخ نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۰۳
الطبقات الکبرٰی لابن سعد
ردالمحتار بحوالہ المحیط مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۲
ردالمحتار بحوالہ الذخیرہ کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۶۷۱
درمختار میں ہے:
یکرہ بالسواد وقیل لا ۔ سیاہ خضاب کا استعمال مکروہ ہے اور یہ بھی کہاگیا کہ مکروہ نہیں ہے۔(ت)
ان تینوں عبارتوں کا یہی حاصل کہ عامہ مشائخ کرام وجمہورائمہ اعلام کے نزدیك سیاہ خضاب منع ہےعلماء جب کراہت بولتے ہیں اس سے کراہت تحریم مراد لیتے ہیں جس کا مرتکب گناہگار ومستحق عذاب ہے والعیاذباﷲ تعالی۔ علامہ سیدحموی پھر علامہ سیدطحطاوی پھر علامہ سیدشامی رحمہم اﷲ تعالی فرماتے ہیں:
ھذا فی حق غیرالغزاۃ ولایحرم فی حقھم للارھاب ۔ یعنی سیاہ خضاب کا حرام ہونا غیرغازی کے حق میں ہے غازیوں کے لئے حرام نہیں۔
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
پیری نورالہی ست وتغییر نورالہی بظلمت مکروہووعید درباب خضاب سیاہ شدید آمدہ اھ ملخصا ۔ بالوں کی سفیدی اﷲ تعالی کا نور ہے اور خداتعالی کے نور کو سیاہی سے بدل دینا شرعا مکروہ ہے اور سیاہ خضاب کے استعمال کرنے والوں کے لیے سخت وعید ہےاھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے :
خضاب بسواد حرام ست وصحابہ وغیرہم خضاب سرخ می کردند وگاہے زرد نیز اھ ملخصا۔ سیاہ خضاب کااستعمال حرام ہےصحابہ کرام اور ان کےعلاوہ دیگر حضرات سرخ خضاب کیاکرتے تھےاورکبھی زرد بھیاھ ملخصا۔
بالجملہ یہی قول مختار ومنصور ومذہب جمہور ثابت بارشاد حضورپرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے اور شك نہیں کہ احادیث وروایات میں مطلقا سیاہ رنگ سے ممانعت فرمائی تو جو چیز بالوں کو سیاہ کرے خواہ نرانیل یا مہندی کا میل یا کوئی تیلغرض کچھ ہو سب ناجائزوحرام اور ان وعیدوں میں داخل ہےحدیث وفقہ میں اگر صرف نیل خالص کی ممانعت اور باقی سیاہ خضابوں کی اجازت ہوتی
یکرہ بالسواد وقیل لا ۔ سیاہ خضاب کا استعمال مکروہ ہے اور یہ بھی کہاگیا کہ مکروہ نہیں ہے۔(ت)
ان تینوں عبارتوں کا یہی حاصل کہ عامہ مشائخ کرام وجمہورائمہ اعلام کے نزدیك سیاہ خضاب منع ہےعلماء جب کراہت بولتے ہیں اس سے کراہت تحریم مراد لیتے ہیں جس کا مرتکب گناہگار ومستحق عذاب ہے والعیاذباﷲ تعالی۔ علامہ سیدحموی پھر علامہ سیدطحطاوی پھر علامہ سیدشامی رحمہم اﷲ تعالی فرماتے ہیں:
ھذا فی حق غیرالغزاۃ ولایحرم فی حقھم للارھاب ۔ یعنی سیاہ خضاب کا حرام ہونا غیرغازی کے حق میں ہے غازیوں کے لئے حرام نہیں۔
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
پیری نورالہی ست وتغییر نورالہی بظلمت مکروہووعید درباب خضاب سیاہ شدید آمدہ اھ ملخصا ۔ بالوں کی سفیدی اﷲ تعالی کا نور ہے اور خداتعالی کے نور کو سیاہی سے بدل دینا شرعا مکروہ ہے اور سیاہ خضاب کے استعمال کرنے والوں کے لیے سخت وعید ہےاھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے :
خضاب بسواد حرام ست وصحابہ وغیرہم خضاب سرخ می کردند وگاہے زرد نیز اھ ملخصا۔ سیاہ خضاب کااستعمال حرام ہےصحابہ کرام اور ان کےعلاوہ دیگر حضرات سرخ خضاب کیاکرتے تھےاورکبھی زرد بھیاھ ملخصا۔
بالجملہ یہی قول مختار ومنصور ومذہب جمہور ثابت بارشاد حضورپرنور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے اور شك نہیں کہ احادیث وروایات میں مطلقا سیاہ رنگ سے ممانعت فرمائی تو جو چیز بالوں کو سیاہ کرے خواہ نرانیل یا مہندی کا میل یا کوئی تیلغرض کچھ ہو سب ناجائزوحرام اور ان وعیدوں میں داخل ہےحدیث وفقہ میں اگر صرف نیل خالص کی ممانعت اور باقی سیاہ خضابوں کی اجازت ہوتی
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۳
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۸۲
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۷۰
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۶۹
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۸۲
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۷۰
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۶۹
تو بیشك مہندی کی آمیزش کام دیتی اب کہ مطلقا سیاہ رنگ کو حرام فرمایا تو جب تك اس قدرمہندی نہ ملے جونیل پرغالب آجائے اور اس کی سیاہی کو دور کردے کیاکام دے سکتی ہے کہ وجہ حرمت یعنی بالوں کی ظلمت اب بھی باقیاور وہ جو حدیث میں وارد کہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اﷲ تعالی عنہ حناوکتم سے خضاب فرماتے ہرگز مفید نہیں کہ بتصریح علماء وہ خضاب سیاہ رنگ نہ دیتا تھا بلکہ سرخی لاتا جس میں سیاہی کی جھلك ہوتیسرخ رنگ کا قاعدہ ہے جب نہایت قوت کو پہنچتا ہے ایك شان سیاہی کی دیتاہے ایسا خضاب بلاشبہ جائز بلکہ محمود جس کی تعریف صحیح حدیث میں خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے منقول رواہ احمد والاربعۃ وابن حبان عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ(امام احمد اور دیگر چارمحدثین اور ابن حبان نے اس کو حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کیاہے۔ت)شیخ محقق نوراﷲ مرقدہ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
بصحت رسیدہ است کہ امیرالمومنین ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ خضاب می کرد بحنا وکتم کہ نام گیا ہے ست لیکن رنگ آں سیاہ نیست بلکہ سرخ مائل بسیاہی ست ۔ صحیح طور پر یہ بات ہم تك پہنچی کہ امیرالمومنین ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے مہندی اور کتم(وسمہ)سے خضاب استعمال کیاکتم ایك گھاس کانام ہے جس کا رنگ سیاہ نہیں بلکہ سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے۔(ت)
اسی کے قریب علامہ قاری نے جمع الوسائل شرح شمائل شریف ترمذی اور امام احمد قسطلانی نے ارشاد الساری شرح صحیح بخاری شریف میں تصریح فرمائی اور قول راجح وتفسیر جمہور پر کتم نیل کانام بھی نہیں بلکہ وہ ایك اور پتی ہے کہ رنگ میں سرخی رکھتی ہے شکل میں برگ زیتون سے مشابہ ہوتی ہے جسے لوگ حنا یا نیل سے ملا کر خضاب بناتے ہیں۔
بصحت رسیدہ است کہ امیرالمومنین ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ خضاب می کرد بحنا وکتم کہ نام گیا ہے ست لیکن رنگ آں سیاہ نیست بلکہ سرخ مائل بسیاہی ست ۔ صحیح طور پر یہ بات ہم تك پہنچی کہ امیرالمومنین ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے مہندی اور کتم(وسمہ)سے خضاب استعمال کیاکتم ایك گھاس کانام ہے جس کا رنگ سیاہ نہیں بلکہ سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے۔(ت)
اسی کے قریب علامہ قاری نے جمع الوسائل شرح شمائل شریف ترمذی اور امام احمد قسطلانی نے ارشاد الساری شرح صحیح بخاری شریف میں تصریح فرمائی اور قول راجح وتفسیر جمہور پر کتم نیل کانام بھی نہیں بلکہ وہ ایك اور پتی ہے کہ رنگ میں سرخی رکھتی ہے شکل میں برگ زیتون سے مشابہ ہوتی ہے جسے لوگ حنا یا نیل سے ملا کر خضاب بناتے ہیں۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی الخضاب آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۲۲،جامع الترمذی ابواب اللباس باب ماجاء فی الخضاب امین کمپنی دہلی ۱ /۲۰۸،سنن النسائی کتاب الزینۃ الخضاب بالحناء والکتم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۲۷۷،مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر المکتب الاسلامی بیروت ۵/۱۴۷،۱۵۰،۱۵۴،مواردالظمآن کتاب اللباس باب تغییر الشیب المطبعۃ السلفیۃ ص۳۵۵
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۷۰
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۷۰
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
الکتم بفتح الکاف والمثناۃ الفوقیۃ نبت یشبہ ورق الزیتون یخلط بالوسمۃ ویختضب بہ ۔ کتم چھوٹے کاف اور تاء کی زبر کے ساتھ بننے والا یہ لفظ ایك قسم کی گھاس کانام ہے جوزیتون کے پتوں سے مشابہت رکھتی ہے جس کو وسمہ میں ملاکر خضاب کیاجاتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
الکتم بفتحتین نبت فیہ حمرۃ یخلط بالحناء او الوسمۃ فیختضب بہ ۔ کتم کے پہلے دو حروف پر زبر استعمال ہوتی ہے یہ ایك قسم کی گھاس ہے جس کی رنگت سرخ ہوتی ہے اس کو مہندی یا وسمہ میں ملاکر خضاب کیاجاتاہے۔(ت)
ابھی شرح مشکوۃ سے گزرا کہ رنگ آں سیاہ نیست الخ(اس کا رنگ سیاہ نہیں ہوتا۔ت)
اقول:بلکہ فقیر غفراﷲ تعالی لہ خود حدیثوں سے ثابت کرسکتاہے کہ حناوکتم کے خضاب کا رنگ سرخ ہوتاتھاصحیح بخاری و مسند امام احمد وسنن ابن ماجہ میں عثمان بن عبداﷲ بن موہب سے مروی:
قال دخلت علی ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا فاخرجت شعرا من شعر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مخضوبا(زاد الاخیران)بالحناء والکتم ۔ یعنی میں حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے موئے مبارک(جو ان کے پاس تبرکات شریفہ میں رکھے تھے جس بیمار کو اس کا پانی دھوکر پلاتیں فورا شفاپاتاتھا)نکالے مہندی اور کتم سے رنگے ہوئے تھے۔
انہیں عثمان بن عبداﷲ سے انہیں موئے اقدس کی نسبت صحیح بخاری شریف میں مروی:
ان ام سلمۃ ارتہ شعر النبی صلی اﷲ یعنی ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے انہیں نبی صلی اﷲ
الکتم بفتح الکاف والمثناۃ الفوقیۃ نبت یشبہ ورق الزیتون یخلط بالوسمۃ ویختضب بہ ۔ کتم چھوٹے کاف اور تاء کی زبر کے ساتھ بننے والا یہ لفظ ایك قسم کی گھاس کانام ہے جوزیتون کے پتوں سے مشابہت رکھتی ہے جس کو وسمہ میں ملاکر خضاب کیاجاتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
الکتم بفتحتین نبت فیہ حمرۃ یخلط بالحناء او الوسمۃ فیختضب بہ ۔ کتم کے پہلے دو حروف پر زبر استعمال ہوتی ہے یہ ایك قسم کی گھاس ہے جس کی رنگت سرخ ہوتی ہے اس کو مہندی یا وسمہ میں ملاکر خضاب کیاجاتاہے۔(ت)
ابھی شرح مشکوۃ سے گزرا کہ رنگ آں سیاہ نیست الخ(اس کا رنگ سیاہ نہیں ہوتا۔ت)
اقول:بلکہ فقیر غفراﷲ تعالی لہ خود حدیثوں سے ثابت کرسکتاہے کہ حناوکتم کے خضاب کا رنگ سرخ ہوتاتھاصحیح بخاری و مسند امام احمد وسنن ابن ماجہ میں عثمان بن عبداﷲ بن موہب سے مروی:
قال دخلت علی ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا فاخرجت شعرا من شعر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مخضوبا(زاد الاخیران)بالحناء والکتم ۔ یعنی میں حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے موئے مبارک(جو ان کے پاس تبرکات شریفہ میں رکھے تھے جس بیمار کو اس کا پانی دھوکر پلاتیں فورا شفاپاتاتھا)نکالے مہندی اور کتم سے رنگے ہوئے تھے۔
انہیں عثمان بن عبداﷲ سے انہیں موئے اقدس کی نسبت صحیح بخاری شریف میں مروی:
ان ام سلمۃ ارتہ شعر النبی صلی اﷲ یعنی ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے انہیں نبی صلی اﷲ
حوالہ / References
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ان احسن ماغیرتم بہ الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۳۰۹
التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث اول من خضب بالحناء والکتم الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۳۹۲
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۷۰
صحیح البخاری کتاب اللباس باب مایذکر فی الشیب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۷۵
التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث اول من خضب بالحناء والکتم الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۳۹۲
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۵۷۰
صحیح البخاری کتاب اللباس باب مایذکر فی الشیب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۷۵
تعالی علیہ وسلم احمر ۔ تعالی علیہ وسلم کے موئے مبارك سرخ رنگ دکھائے۔
ثابت ہواکہ حناوکتم نے سرخ رنگ دیا بلکہ اسی حدیث میں امام احمد رحمہ اﷲ تعالی کی دوسری روایت یوں ہے:
شعرا احمر مخضوبا بالحناء والکتم ۔ یعنی ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے موئے مبارك سرخ رنگ دکھائے جن پر حناوکتم کا خضاب تھا۔
تو واضح ہوا کہ کتم اگرچہ کسی شیئ کانام ہو مگر روایت مذکورہ سے حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت سیاہ خضاب کا گمان کرنا یا اس شے پر نیل اور حنا ملے ہوئے کو مطلقا جائز سمجھ لینا محض غلط ہے۔افسوس کہ ہمارے زمانہ کے بعض صاحبوں نے خضاب وسمہ وحنا کی روایات تو دیکھیں اور ان کا مطلب اصلا نہ سمجھا اول تو وسمہ نیل ہی کو نہیں کہتے بلکہ ایك اور پتی ہے کہ حنا میں مل کر اس کی سرخی تیز کردیتی ہے ورنہ خالص حنا کی سرخی گہری نہیں ہوتی۔ قاموس وتاج العروس میں ہے:
الوسمۃ ورق النیل اونبات اخریخضب بورقہ ۔ وسمہ گھاس نما پتوں والی نباتات ہے اس کے پتے خضاب کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔(ت)
مغرب میں اسی معنی پر جزم کیا اور وسمہ بمعنی نیل کو قول ضعیف کہا
حیث قال الوسمۃ شجرۃ ورقھا خضاب وقیل یجفف و یطحن ثم یخلط بالحناء فیقنأ لونہ والاکان اخضر ۔ وسمہ کو نیل کہنا ضعیف قول ہے معتمدیہ ہے کہ عرب زبان میں وسمہ ایك درخت کانام ہے جس کی پتی سکھاکر پیس کر مہندی میں ملاتے ہیں جس سے اس کی سرخی خوب شوخ ہو جاتی ہے ورنہ پھیکی زردی مائل ہوتی ہے۔انتہی۔
یوں تو بحمداﷲ روایات میں نیل والوں کے لئے اصلا پتا نہیں اور اگر قاموس کی طرح دونوں معنی مساوی رکھے جائیں جب بھی نیل والوں کا استدلال باطل کہ قطعا محتمل کہ وہ پتی مراد ہو جو حنا کی سرخی تیز کرتی
ثابت ہواکہ حناوکتم نے سرخ رنگ دیا بلکہ اسی حدیث میں امام احمد رحمہ اﷲ تعالی کی دوسری روایت یوں ہے:
شعرا احمر مخضوبا بالحناء والکتم ۔ یعنی ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے موئے مبارك سرخ رنگ دکھائے جن پر حناوکتم کا خضاب تھا۔
تو واضح ہوا کہ کتم اگرچہ کسی شیئ کانام ہو مگر روایت مذکورہ سے حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی نسبت سیاہ خضاب کا گمان کرنا یا اس شے پر نیل اور حنا ملے ہوئے کو مطلقا جائز سمجھ لینا محض غلط ہے۔افسوس کہ ہمارے زمانہ کے بعض صاحبوں نے خضاب وسمہ وحنا کی روایات تو دیکھیں اور ان کا مطلب اصلا نہ سمجھا اول تو وسمہ نیل ہی کو نہیں کہتے بلکہ ایك اور پتی ہے کہ حنا میں مل کر اس کی سرخی تیز کردیتی ہے ورنہ خالص حنا کی سرخی گہری نہیں ہوتی۔ قاموس وتاج العروس میں ہے:
الوسمۃ ورق النیل اونبات اخریخضب بورقہ ۔ وسمہ گھاس نما پتوں والی نباتات ہے اس کے پتے خضاب کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔(ت)
مغرب میں اسی معنی پر جزم کیا اور وسمہ بمعنی نیل کو قول ضعیف کہا
حیث قال الوسمۃ شجرۃ ورقھا خضاب وقیل یجفف و یطحن ثم یخلط بالحناء فیقنأ لونہ والاکان اخضر ۔ وسمہ کو نیل کہنا ضعیف قول ہے معتمدیہ ہے کہ عرب زبان میں وسمہ ایك درخت کانام ہے جس کی پتی سکھاکر پیس کر مہندی میں ملاتے ہیں جس سے اس کی سرخی خوب شوخ ہو جاتی ہے ورنہ پھیکی زردی مائل ہوتی ہے۔انتہی۔
یوں تو بحمداﷲ روایات میں نیل والوں کے لئے اصلا پتا نہیں اور اگر قاموس کی طرح دونوں معنی مساوی رکھے جائیں جب بھی نیل والوں کا استدلال باطل کہ قطعا محتمل کہ وہ پتی مراد ہو جو حنا کی سرخی تیز کرتی
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب اللباس باب مایذکر فی الشیب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۷۵
مسند امام احمد بن حنبل عن عثمان بن عبداﷲ دارالفکر بیروت ۶ /۲۹۶
تاج العروس فصل الواو من باب المیم داراحیاء التراث العربی بیروت ۹ /۹۳
المغرب
مسند امام احمد بن حنبل عن عثمان بن عبداﷲ دارالفکر بیروت ۶ /۲۹۶
تاج العروس فصل الواو من باب المیم داراحیاء التراث العربی بیروت ۹ /۹۳
المغرب
ہے اور بالفرض ان کی خاطر مان ہی لیجئے کہ وسمہ سے نیل مراد توحاشا وہ روایتیں یہ نہیں کہتیں کہ پہلے مہندی کا خضاب کیجئے جس سے بال خود بخود صاف ہوجائیں اس پر وسمہ چڑھائیے کہ ظلمتیں اپنا پورا عمل دکھائیں نہ یہ کہ برائے نام نیل میں کچھ پتیاں مہندی کی ڈال کر خلط کا حیلہ کیجئے اور روسیاہی کا کامل لطف حاصل کیجئے بلکہ یہ مقصود کہ وسمہ میں اتنی حنا ملے کہ اس پر غالب آکر رنگ میں سیاہی نہ آنے دے بلکہ یہ مراد کہ اصل خضاب حنا کا ہو اور اس میں کچھ پتیاں نیل کی شریك کرلی جائیں جس سے اس کی سرخی میں ایك گونہ پختگی آجائے اس کی نظیر بعینہ یہ ہے کہ شراب میں نمك ملانے کو علماء نے باعث تخلیل وتحلیل فرمایاہے کہ جب سرکہ ہوگئی حقیقت بدل گئی حلت آگئی کہ اب وہ شراب ہی نہ رہیان روایات کو دیکھ کر کوئی صاحب پہلے نمك کھاکر اوپر سے شراب پی لیں یا گھڑے بھر شراب میں ایك کنکری نمك ڈال کر چڑھا جائیں کہ ہم تو نمك ملاکر پیتے ہیںمقصود یہ تھا کہ نمك اس کا جوش بٹھادے ترش کرکے سرکہ بنادے ایسے حیلے شرع مطہر میں کیا کام دے سکتے ہیںالحاصل مدار کاررنگ پرہےبالفرض اگرخالص مہندی سیاہ رنگت لاتی وہ بھی حرام ہوتی اور خالص نیل زرد یا سرخ رنگ دیتا وہ بھی جائز ہوتایوں ہی نیل اور مہندی کا میل یا کوئی بلا ہو جو کچھ سیاہ رنگ لائے سب حرام ہیں۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم۔
____________________
رسالہ
حك العیب فی حرمۃ تسوید الشیب
ختم ہوا
____________________
رسالہ
حك العیب فی حرمۃ تسوید الشیب
ختم ہوا
کسب و حصول مال
خریدوفروختاجرترشوتسودقماربیمہپیشہصنعتقرضنذرانہہبہمیراثغصب وغیرہ اور ذرائع آمدنیحلال وحرام ومشتبہ سے متعلق مسائل
مسئلہ ۲۰۱: ازپنجاب
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رنڈیوں اور ڈومنیوں کے یہاں مزدوری کرکے کمانا جائزہے یانہیں اگر نہیں جائز تو نصاری کی نوکری کیوں جائزہے اگرنہیں جائز تو لوگ اس روپیہ سے مساجد ومدارس میں چندہ کیوں دیتے ہیں بینوا توجروا (بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اصل مزدوری اگر کسی فعل ناجائز پر ہو سب کے یہاں ناجائزاور جائز پر ہو تو سب کے یہاں جائزاس امر میں رنڈیاں اور غیر رنڈیاںنصاری وہنود وغیرہم سب برابر ہیں۔کلام اس میں ہے کہ اگر ان کے یہاں کسی فعل جائز پر مزدوری کی تو آیا زر اجرت ان کے مال سے لینا روااور وہ اکل حلال ہوگا یانہیںاس کا حکم یہ ہے کہ رنڈیوں کو جو مال گانے ناچنے یا معاذاﷲ زنا کی اجرت میں ملتاہے ان کے لئے حرام ہے وہ ہرگز اس کی مالك نہیں ہوتیں وہ ان کے ہاتھ میں مال مغصوب کا حکم رکھتاہےنہ انہیں خود اس کا اپنے صرف میں لانا جائز نہ دوسرے کووہ مال بعینہ اپنے قرض خواہکسی چیز کی قیمتخواہ مزدوری کی اجرت میںخواہ ویسے ہی بلامعاوضہ بطورہدیہخواہ صدقہخواہ کسی طرح لینا روا ہوسکے بلکہ فرض ہے کہ جن جن سے لیاہے انہیں کو پھیردیں۔
فی کراھیۃ الھندیۃ عن المحیط عن محمد فتاوی ہندیہبحث کراھیۃ میں بحوالہ محیط امام محمد
خریدوفروختاجرترشوتسودقماربیمہپیشہصنعتقرضنذرانہہبہمیراثغصب وغیرہ اور ذرائع آمدنیحلال وحرام ومشتبہ سے متعلق مسائل
مسئلہ ۲۰۱: ازپنجاب
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رنڈیوں اور ڈومنیوں کے یہاں مزدوری کرکے کمانا جائزہے یانہیں اگر نہیں جائز تو نصاری کی نوکری کیوں جائزہے اگرنہیں جائز تو لوگ اس روپیہ سے مساجد ومدارس میں چندہ کیوں دیتے ہیں بینوا توجروا (بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اصل مزدوری اگر کسی فعل ناجائز پر ہو سب کے یہاں ناجائزاور جائز پر ہو تو سب کے یہاں جائزاس امر میں رنڈیاں اور غیر رنڈیاںنصاری وہنود وغیرہم سب برابر ہیں۔کلام اس میں ہے کہ اگر ان کے یہاں کسی فعل جائز پر مزدوری کی تو آیا زر اجرت ان کے مال سے لینا روااور وہ اکل حلال ہوگا یانہیںاس کا حکم یہ ہے کہ رنڈیوں کو جو مال گانے ناچنے یا معاذاﷲ زنا کی اجرت میں ملتاہے ان کے لئے حرام ہے وہ ہرگز اس کی مالك نہیں ہوتیں وہ ان کے ہاتھ میں مال مغصوب کا حکم رکھتاہےنہ انہیں خود اس کا اپنے صرف میں لانا جائز نہ دوسرے کووہ مال بعینہ اپنے قرض خواہکسی چیز کی قیمتخواہ مزدوری کی اجرت میںخواہ ویسے ہی بلامعاوضہ بطورہدیہخواہ صدقہخواہ کسی طرح لینا روا ہوسکے بلکہ فرض ہے کہ جن جن سے لیاہے انہیں کو پھیردیں۔
فی کراھیۃ الھندیۃ عن المحیط عن محمد فتاوی ہندیہبحث کراھیۃ میں بحوالہ محیط امام محمد
رحمہ اﷲ تعالی فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دین لم یکن لصاحب الدین ان یاخذہ الخ وفی حظر ردالمحتار عن السغناقی عن بعض المشائخ کسب المغنیۃ کالمغصوب لم یحل اخذہ اھ۔ سے مروی ہے کہ گانے والی عورت کی کمائی سے اگر قرض ادا کیاجائے تو قرض خواہ کو اس کا لینا جائزنہیں الخ۔ردالمحتار بحث ممنوعات میں امام سغناقی نے بعض مشائخ کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ گو یا مغنیہ کی کمائی غصب شدہ چیز کی طرح ہے لہذا اس کا لینا جائزنہیں اھ(ت)
اسی طرح ان کے آشنا جو مال بطور تحفہ وہدیہ ان کے راضی رکھنے یا ان کا دل اپنی طرف مائل کرنے کو دے آتے ہیں اگر چہ اس وقت خالی ملاقات کو جائیں اور زنا یا غنا کچھ مقصود نہ رکھیں اس کابھی یہی حکم ہے کہ وہ رشوت ہے اور نڈیاں اس کی مالك نہیں ہوجاتیں اس کا واپس دینا بھی واجب ہے۔
فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار آثرا عن القنیۃ مقرا علیہمایدفعہ المتعاشقان رشوۃ یجب ردہ ولا تملك اھ۔ حاشیہ طحطاوی بردرمختار میں علامہ طحطاوی نے مصنف قنیہ کے کلام کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے نقل کیاہے کہ عاشق معشوق کو جو کچھ بطور رشوت دے اور اس کے حوالے کرے تو اس کا واپس کرنا ضروری ہے اس لئے کہ معشوقہ اس کی مالك نہیں اھ۔(ت)
اگرلینے والے کو معلوم ہوگا کہ یہ مال بعینہ وہی ہے انہوں نے گانےناچنےزنا کی اجرت یا آشناؤں سے تحفہ ہدیہ رشوت میں پایا ہے تو اسے لینا ہرگز روانہیں۔اور وہ مال جو انہیں گانے ناچ مجلے میں انعام بلا شرط یعنی اجرت مقررہ سے زیادہ ملتاہے ان کے حق میں حکم ہبہ کا رکھتاہے کہ وہ عقد اجارہ باطلہ جو ان افعال محرمہ پر ہوا یہ مال اس کے تحت میں داخل نہیں بلکہ بہت لوگ بطور خوشنودی کچھ اپنی ناموری کے خیال سے بعض جاہل یہ سمجھ کر کہ ایسے مقامات پر انعام دینا شان ریاست ہے دیاکرتے ہیں تو وہ اس مال کی مالك ہوگئیںاسی طرح ڈومنیوں کو جو بیل ملتی ہے اس کابھی یہی حکم ہے۔
اسی طرح ان کے آشنا جو مال بطور تحفہ وہدیہ ان کے راضی رکھنے یا ان کا دل اپنی طرف مائل کرنے کو دے آتے ہیں اگر چہ اس وقت خالی ملاقات کو جائیں اور زنا یا غنا کچھ مقصود نہ رکھیں اس کابھی یہی حکم ہے کہ وہ رشوت ہے اور نڈیاں اس کی مالك نہیں ہوجاتیں اس کا واپس دینا بھی واجب ہے۔
فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار آثرا عن القنیۃ مقرا علیہمایدفعہ المتعاشقان رشوۃ یجب ردہ ولا تملك اھ۔ حاشیہ طحطاوی بردرمختار میں علامہ طحطاوی نے مصنف قنیہ کے کلام کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے نقل کیاہے کہ عاشق معشوق کو جو کچھ بطور رشوت دے اور اس کے حوالے کرے تو اس کا واپس کرنا ضروری ہے اس لئے کہ معشوقہ اس کی مالك نہیں اھ۔(ت)
اگرلینے والے کو معلوم ہوگا کہ یہ مال بعینہ وہی ہے انہوں نے گانےناچنےزنا کی اجرت یا آشناؤں سے تحفہ ہدیہ رشوت میں پایا ہے تو اسے لینا ہرگز روانہیں۔اور وہ مال جو انہیں گانے ناچ مجلے میں انعام بلا شرط یعنی اجرت مقررہ سے زیادہ ملتاہے ان کے حق میں حکم ہبہ کا رکھتاہے کہ وہ عقد اجارہ باطلہ جو ان افعال محرمہ پر ہوا یہ مال اس کے تحت میں داخل نہیں بلکہ بہت لوگ بطور خوشنودی کچھ اپنی ناموری کے خیال سے بعض جاہل یہ سمجھ کر کہ ایسے مقامات پر انعام دینا شان ریاست ہے دیاکرتے ہیں تو وہ اس مال کی مالك ہوگئیںاسی طرح ڈومنیوں کو جو بیل ملتی ہے اس کابھی یہی حکم ہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامش عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۷
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب القضاء دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۷۸
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۷
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب القضاء دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۷۸
فی الخانیۃ الرجل اذا کان مطربا مغنیا ان اعطی بغیر شرط قالوایباح لہ ذلك و ان کان یاخذہ علی شرطردالمال علی صاحبہ ان کان یعرفہ وان لم یعرفہ یتصدق بہ اھ قلت والمسئلۃ منقولۃ عن محرر المذھباثرھا فی الھندیۃ عن المنتقی عن ابراھیم عن محمد وعنھا نقل فی ردالمحتار قال ومثلہ فی المواھب۔ فتاوی قاضی خان میں ہے جب کوئی شخص گانے بجانے والا ہو اور اس کو بغیر کسی شرط کے کچھ دیاگیا تو فقہاء کرام نے اس کو مباح قرار دیاہے لیکن اگر اسے پہچانتا نہیں تو پھر اسے خیرات کردے اھمیں کہتاہوں یہ مسئلہ صاحب مذہب سے یعنی مذہب قلم بند کرنے والے سے منقول ہے جس کو فتاوی عالمگیری میں"المنتقی"کے حوالے سے ابراہیم نے امام محمد سے نقل کیاگیاہے اور اسی سے فتاوی شامی میں نقل کیاگیاہے اور اس نے کہاہے کہ المواہب میں اسی کی مثل مذکور ہے۔(ت)
اقول:مگر اس قدر تفرقہ ضرور ہے کہ اگر دینے والے نے یہ مال حسب دستور فی الواقع انعام یا بیل کے طور پر دیا تو ہبہ ٹھہرے گا اور اگر اصل مقصود آشنائی بڑھانا اور اپنی طرف لبھانا ہے تو بیشك رشوت قرار پائے گا اور اسی حکم مغصوب میں داخل ہوجائے گا۔
فانما الامور بمقاصدھاوانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔ کاموں کا مدار ان کے مقاصد پرہےاور اعمال کامدار ارادوں پرہے لہذا ہرآدمی کے لئے وہی کچھ ہے جو اس نے ارادہ کیاہے۔(ت)
اور یہ فرق ملاحظہ قرائن سے معلوم ہوسکتاہے اسی لئے مسموع یوں ہے کہ رنڈیڈومنی سے معاذاﷲ جس شخص کو آشنائی ہوتی ہے وہ بلاوجہ بھی حسب مقدرت انعام کثیر اور جلد جلد بیل دیتاہےیونہی بعض دیہات کی رسم سنی گئی ہے کہ نیوتے والے جوبیل رنڈی کودیتے ہیں صاحب خانہ کا قرض سمجھ کر دیاجاتاہے اور وہ اس اجرت مقررہ پر مجرا لیتاہے تو یہ بیل درحقیقت بیل نہیں بلکہ وہی اجرت ہے اور مغصوب میں داخل لان المعھود عرفا کالمذکورا لفظا(اس لئے کہ"معہود"رواج میں مذکور کی طرح ہے۔ت)غرض ان صورتوں سے پاك ہو تو بیشك انعام اور بیل کا روپیہ ان کی ملك خاص ہے اور انہیں خود اس سے
اقول:مگر اس قدر تفرقہ ضرور ہے کہ اگر دینے والے نے یہ مال حسب دستور فی الواقع انعام یا بیل کے طور پر دیا تو ہبہ ٹھہرے گا اور اگر اصل مقصود آشنائی بڑھانا اور اپنی طرف لبھانا ہے تو بیشك رشوت قرار پائے گا اور اسی حکم مغصوب میں داخل ہوجائے گا۔
فانما الامور بمقاصدھاوانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔ کاموں کا مدار ان کے مقاصد پرہےاور اعمال کامدار ارادوں پرہے لہذا ہرآدمی کے لئے وہی کچھ ہے جو اس نے ارادہ کیاہے۔(ت)
اور یہ فرق ملاحظہ قرائن سے معلوم ہوسکتاہے اسی لئے مسموع یوں ہے کہ رنڈیڈومنی سے معاذاﷲ جس شخص کو آشنائی ہوتی ہے وہ بلاوجہ بھی حسب مقدرت انعام کثیر اور جلد جلد بیل دیتاہےیونہی بعض دیہات کی رسم سنی گئی ہے کہ نیوتے والے جوبیل رنڈی کودیتے ہیں صاحب خانہ کا قرض سمجھ کر دیاجاتاہے اور وہ اس اجرت مقررہ پر مجرا لیتاہے تو یہ بیل درحقیقت بیل نہیں بلکہ وہی اجرت ہے اور مغصوب میں داخل لان المعھود عرفا کالمذکورا لفظا(اس لئے کہ"معہود"رواج میں مذکور کی طرح ہے۔ت)غرض ان صورتوں سے پاك ہو تو بیشك انعام اور بیل کا روپیہ ان کی ملك خاص ہے اور انہیں خود اس سے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخان کتاب الحظر والاباحۃ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۹
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲
انتفاع اور دوسرے کو اس میں سے دیناجائزہےاس لینے والے کو اگر معلوم ہو کہ مثلا زر اجرت جو اس نے دیا خاص اس مال حلال سے تھا اس کے لینے میں کوئی حرج نہیںاسی طرح اگر رنڈی کسی سے قرض لے کر اس کی اجرت دے تو بھی لینا جائز اب چاہے وہ اپنا قرض کسی مال سے ادا کرتی رہے۔
فی الخلاصۃ فالحیلۃ فی مثل ھذہ المسائل ان یشتری شیئا ثم ینقد ثمنہ من ای مال احب وقال ابویوسف سألت ابا حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن الحیلۃ فی مثل ھذا فاجابنی بما ذکرناہ اھ قلت وسیأتی سند اخر۔ خلاصہ میں ہے کہ اس نوع کے مسائل میں حیلہ یہ ہے کہ وہ شخص کسی سے قرض لے پھر جس مال سے بھی چاہے وہ مقروضہ رقم ادا کردےقاضی امام ابویوسف نے فرمایا:میں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس قسم کے مسائل میں حیلہ دریافت کیاتھا تو آپ نے مجھے وہی جواب دیا جو ہم نے بیان کیا ہےاھ۔میں کہتاہوں اس کی دوسری سند کا عنقریب ذکر آئے گا۔(ت)
اور اگر رنڈی مال حرام بعینہ نہ دے بلکہ اس مال سے کوئی شے مثلا غلہ یا کپڑا خرید کر دیناچاہے تو اس کی دو۲ صورتیں ہیں:
اول: یہ کہ خریدنے میں نقدوعقد دونو اس مال حرام پر جمع ہوئے یعنی رنڈی نے اپنا حرام روپیہ بائع کے سامنے ڈال دیا کہ فلاں چیز دے دےاس نے دے دییا حرام روپیہ دکھا کر کہا اس کے عوض دے دے۔اس نے دے دی۔اس نے یہی زر حرام قیمت میں دیا ا س صورت میں جو کچھ رنڈی نے خریدا وہ بھی مثل اس روپے کے حرام رہا۔
دوم: یہ کہ نقدوعقد کا زر حرام پر اجتماع نہ ہو کسی رنڈی نے نہ روپیہ پہلے سے دیا یا نہ دکھایا بلکہ یونہی کہا کہ ایك روپیہ کی یہ چیز دے دے اس نے دے دیاس نے قیمت میں زر حرام دیایا حلال روپیہ دکھا کر مانگیپھر دیا حرامیا حرام دکھاکر طلب کیپھر دیا حلال کہ وجہیں اولین میں حرام پر عقداور ثالث میں اس کا نقد نہ ہوااس صورت دوم پر جو چیز رنڈی نے خریدی بہتر تو اس کا بھی نہ لیناہے۔
لان کثیرا من مشائخنا ذھبوا الی تحریم الابدال مطلقا فیما کان الخبث فیہ اس لئے کہ ہمارے بہت سے مشائخ مطلقا ابدال کے حرام ہونے کی طرف گئے ہیں اس صورت
فی الخلاصۃ فالحیلۃ فی مثل ھذہ المسائل ان یشتری شیئا ثم ینقد ثمنہ من ای مال احب وقال ابویوسف سألت ابا حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن الحیلۃ فی مثل ھذا فاجابنی بما ذکرناہ اھ قلت وسیأتی سند اخر۔ خلاصہ میں ہے کہ اس نوع کے مسائل میں حیلہ یہ ہے کہ وہ شخص کسی سے قرض لے پھر جس مال سے بھی چاہے وہ مقروضہ رقم ادا کردےقاضی امام ابویوسف نے فرمایا:میں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اس قسم کے مسائل میں حیلہ دریافت کیاتھا تو آپ نے مجھے وہی جواب دیا جو ہم نے بیان کیا ہےاھ۔میں کہتاہوں اس کی دوسری سند کا عنقریب ذکر آئے گا۔(ت)
اور اگر رنڈی مال حرام بعینہ نہ دے بلکہ اس مال سے کوئی شے مثلا غلہ یا کپڑا خرید کر دیناچاہے تو اس کی دو۲ صورتیں ہیں:
اول: یہ کہ خریدنے میں نقدوعقد دونو اس مال حرام پر جمع ہوئے یعنی رنڈی نے اپنا حرام روپیہ بائع کے سامنے ڈال دیا کہ فلاں چیز دے دےاس نے دے دییا حرام روپیہ دکھا کر کہا اس کے عوض دے دے۔اس نے دے دی۔اس نے یہی زر حرام قیمت میں دیا ا س صورت میں جو کچھ رنڈی نے خریدا وہ بھی مثل اس روپے کے حرام رہا۔
دوم: یہ کہ نقدوعقد کا زر حرام پر اجتماع نہ ہو کسی رنڈی نے نہ روپیہ پہلے سے دیا یا نہ دکھایا بلکہ یونہی کہا کہ ایك روپیہ کی یہ چیز دے دے اس نے دے دیاس نے قیمت میں زر حرام دیایا حلال روپیہ دکھا کر مانگیپھر دیا حرامیا حرام دکھاکر طلب کیپھر دیا حلال کہ وجہیں اولین میں حرام پر عقداور ثالث میں اس کا نقد نہ ہوااس صورت دوم پر جو چیز رنڈی نے خریدی بہتر تو اس کا بھی نہ لیناہے۔
لان کثیرا من مشائخنا ذھبوا الی تحریم الابدال مطلقا فیما کان الخبث فیہ اس لئے کہ ہمارے بہت سے مشائخ مطلقا ابدال کے حرام ہونے کی طرف گئے ہیں اس صورت
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃ الفصل الرابع المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۴ /۳۴۹
لعدم الملک۔ میں کہ جس میں خباثت پائی جائے ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے۔(ت)
پھربھی اگر لے لے گا تو رنڈی اپنے افعال پر ماخوذ ہےیہ خریدی ہوئی چیز نہ اس کے حق میں حرام کہی جائے گی نہ اس لینے والے کے حق میں
لان جمہور ائمتنا المتاخرین افتوا بقول الامام الکرخی المفصل بالتفصیل المذکور رفقا بالمسلمین نظرا الی حال ھذا الزمان الفاشی فیہ الحرام بل منھم من زعم حل الابدال مطلقا فیما لایتعین بالتعین فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ والوالجیۃ الفتوی الیوم علی قول الکرخی دفعا للحرج لکثرۃ الحرام قال وعلی ھذا مشی المصنف فی کتاب الغصب تبعاللدرروغیرھا اھ وفی فتاوی الامام فخرالدین قاضی خاں اما الذی اشتراہ بالثمن اذا لم یکن الشراء مضافا الی الغصب فظاھر اما الذی اشتراہ بالثمن واضاف العقد الیہ فالعقد لم یقع علی الثمن المشار الیہ فلا یتمکن الخبث فی المبیع اھاقول: و ھھنا تحقیق و ازاحۃ وھم یعرف بالمراجعۃ الی رسالتنا فی اکل الحلال والحرام التی انا فی تالیفھا اس لئے کہ ہمارے جمہورائمہ متاخرین نے امام کرخی کے قول پر فتوی دیا ہے جو ذکر کردہ تفصیل میں مفصل ہے۔مسلمانوں کی آسانی کے پیش نظر اس زمانہ پر نظر رکھتے ہوئے کہ جس میں حرام زیادہ ہےبلکہ ان میں سے کچھ وہ ائمہ ہیں جو مطلقا ابدال کے حلال ہونے کا گمان رکھتے ہیںاس صورت میں جس میں تعیین کے ساتھ شے متعین نہ ہوردالمحتار میں تتارخانیہ اور ولوالجیہ کے حوالے سے منقول ہے کہ آج کے زمانے میں امام کرخی کے قول پر فتوی ہے دفع حرج کے لئے کثرت حرام کی وجہ سےاس نے کہا کہ مصنف نے کتاب الغصب میں یہی روش اختیار کی ہے درر وغیرہ کا اتباع کرتے ہوئے اھاور فتاوی امام فخرالدین قاضیخان میں ہے لیکن اگر اس نے کسی چیز کو ثمن سے خریدا بشرطیکہ اس اشتراء کی اضافت غصب کی طرف نہ ہو تو اس کا حکم ظاہرہے لیکن اگر اس نے ثمن سے چیز خریدی اور عقد کی اضافت اس کی طرف کی تو پھر عقدثمن مشار الیہ پر واقع نہ ہوا تو مبیع میں
پھربھی اگر لے لے گا تو رنڈی اپنے افعال پر ماخوذ ہےیہ خریدی ہوئی چیز نہ اس کے حق میں حرام کہی جائے گی نہ اس لینے والے کے حق میں
لان جمہور ائمتنا المتاخرین افتوا بقول الامام الکرخی المفصل بالتفصیل المذکور رفقا بالمسلمین نظرا الی حال ھذا الزمان الفاشی فیہ الحرام بل منھم من زعم حل الابدال مطلقا فیما لایتعین بالتعین فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ والوالجیۃ الفتوی الیوم علی قول الکرخی دفعا للحرج لکثرۃ الحرام قال وعلی ھذا مشی المصنف فی کتاب الغصب تبعاللدرروغیرھا اھ وفی فتاوی الامام فخرالدین قاضی خاں اما الذی اشتراہ بالثمن اذا لم یکن الشراء مضافا الی الغصب فظاھر اما الذی اشتراہ بالثمن واضاف العقد الیہ فالعقد لم یقع علی الثمن المشار الیہ فلا یتمکن الخبث فی المبیع اھاقول: و ھھنا تحقیق و ازاحۃ وھم یعرف بالمراجعۃ الی رسالتنا فی اکل الحلال والحرام التی انا فی تالیفھا اس لئے کہ ہمارے جمہورائمہ متاخرین نے امام کرخی کے قول پر فتوی دیا ہے جو ذکر کردہ تفصیل میں مفصل ہے۔مسلمانوں کی آسانی کے پیش نظر اس زمانہ پر نظر رکھتے ہوئے کہ جس میں حرام زیادہ ہےبلکہ ان میں سے کچھ وہ ائمہ ہیں جو مطلقا ابدال کے حلال ہونے کا گمان رکھتے ہیںاس صورت میں جس میں تعیین کے ساتھ شے متعین نہ ہوردالمحتار میں تتارخانیہ اور ولوالجیہ کے حوالے سے منقول ہے کہ آج کے زمانے میں امام کرخی کے قول پر فتوی ہے دفع حرج کے لئے کثرت حرام کی وجہ سےاس نے کہا کہ مصنف نے کتاب الغصب میں یہی روش اختیار کی ہے درر وغیرہ کا اتباع کرتے ہوئے اھاور فتاوی امام فخرالدین قاضیخان میں ہے لیکن اگر اس نے کسی چیز کو ثمن سے خریدا بشرطیکہ اس اشتراء کی اضافت غصب کی طرف نہ ہو تو اس کا حکم ظاہرہے لیکن اگر اس نے ثمن سے چیز خریدی اور عقد کی اضافت اس کی طرف کی تو پھر عقدثمن مشار الیہ پر واقع نہ ہوا تو مبیع میں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۱۹
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظر والاباحۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۸
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظر والاباحۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۸
وترصیفھا فی ھذہ الایام واذا تمت فارجوا ان تکون نافعۃ مبارکۃ ان شاء اﷲ تعالی۔ خباثت پیدا نہ ہوگی اھ۔اقول:(میں کہتاہوں کہ)یہاں تحقیق اور ازالہ وہم ہے جس کی پہچان ہمارے رسالے کی طرف مراجتعت پرموقوف ہے جو حلال و حرام کے کھانے کے موضوع پرہےمیں ان دنوں میں اس کی تصنیف و ترصیف (ترتیب)کررہاہوں پھر جب وہ مکمل ہوجائے گا تو میں امید رکھتاہو کہ وہ ان شاء اﷲ تعالی فائدہ بخش اور بابرکت ہوگا۔ (ت)
اور اگرمعلوم ہو کہ یہ مال جو وہ مثلا اجرت میں دیتی ہے اگر چہ عین حرام نہیں مگر اس میں مال حلال و حرام اس طرح سے ملے ہوئے ہیں کہ تمیز نہیں ہوسکتی یا ہو تو بدقت تمام ہو مثلا رنڈی کے پاس دس روپیہ ناپاك کمائی کے تھے اور پانچ انعام یا قرض یا زراعت وغیرہ یا کسی وجہ حلال کے اور اس نے وہ سب ملادئیے اور شناخت نہیں کہ وہ دس کون سے تھے اور یہ پانچ کون سےتو اس صورت میں جس قدر مال وجہ حلال سے تھا مثال مذکور میں پانچ روپیہ اس قدرلینا تو بلاشبہ جائزہے۔
فی الفتاوی العالمگیریۃ عن التاتارخانیۃ عن الامام محمد غصب عشرۃ دنانیر فالقی فیھا دینارا ثم اعطی منہ رجلا دینارا جاز ثم دینارا آخرلااھ ۔ فتاوی عالمگیری میں تاتارخانیہ کے حوالے سے امام محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ کسی شخص نے دس دینار چھین لئے پھر ان میں ایك حلال دینار ڈال دیا پھر ان سے ایك شخص نےدیا تو یہ جائزنہیں اھ۔(ت)
اور اس سے زائد مثلا صورت مفروضہ میں چھٹا روپیہ لینے سے احتراز کرے کہ مذہب صاحبین پر حرام محض ہےاور عامہ محققین نے اسی پر فتوی دیا اور بربنا مذہب امام مکروہ ہوناچاہئے تو ایسے امر میں کیوں پڑے جس کا ادنی درجہ کراہتاور اکثر اکابر کے طور پر حرام
فی فتاوی قاضی خاں ناقلا عن الامام ابی بکر البلخی قیل لہ لو ان فقیرا یاخذ جائزۃ السلطان مع علمہ ان السلطان یاخذھا غصبا یحل لہ ذلك قال ان کان فتاوی قاضی خاں نے امام ابوبکر بلخی کے حوالے سے نقل کیا کہ ان سے کہاگیا کہ اگر کوئی محتاج بادشاہ وقت سے کچھ لیتاہے باوجودیکہ اسے علم ہے کہ بادشاہ نے یہ غصب سے لیا ہے تو اس کے لئے یہ لینا
اور اگرمعلوم ہو کہ یہ مال جو وہ مثلا اجرت میں دیتی ہے اگر چہ عین حرام نہیں مگر اس میں مال حلال و حرام اس طرح سے ملے ہوئے ہیں کہ تمیز نہیں ہوسکتی یا ہو تو بدقت تمام ہو مثلا رنڈی کے پاس دس روپیہ ناپاك کمائی کے تھے اور پانچ انعام یا قرض یا زراعت وغیرہ یا کسی وجہ حلال کے اور اس نے وہ سب ملادئیے اور شناخت نہیں کہ وہ دس کون سے تھے اور یہ پانچ کون سےتو اس صورت میں جس قدر مال وجہ حلال سے تھا مثال مذکور میں پانچ روپیہ اس قدرلینا تو بلاشبہ جائزہے۔
فی الفتاوی العالمگیریۃ عن التاتارخانیۃ عن الامام محمد غصب عشرۃ دنانیر فالقی فیھا دینارا ثم اعطی منہ رجلا دینارا جاز ثم دینارا آخرلااھ ۔ فتاوی عالمگیری میں تاتارخانیہ کے حوالے سے امام محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ کسی شخص نے دس دینار چھین لئے پھر ان میں ایك حلال دینار ڈال دیا پھر ان سے ایك شخص نےدیا تو یہ جائزنہیں اھ۔(ت)
اور اس سے زائد مثلا صورت مفروضہ میں چھٹا روپیہ لینے سے احتراز کرے کہ مذہب صاحبین پر حرام محض ہےاور عامہ محققین نے اسی پر فتوی دیا اور بربنا مذہب امام مکروہ ہوناچاہئے تو ایسے امر میں کیوں پڑے جس کا ادنی درجہ کراہتاور اکثر اکابر کے طور پر حرام
فی فتاوی قاضی خاں ناقلا عن الامام ابی بکر البلخی قیل لہ لو ان فقیرا یاخذ جائزۃ السلطان مع علمہ ان السلطان یاخذھا غصبا یحل لہ ذلك قال ان کان فتاوی قاضی خاں نے امام ابوبکر بلخی کے حوالے سے نقل کیا کہ ان سے کہاگیا کہ اگر کوئی محتاج بادشاہ وقت سے کچھ لیتاہے باوجودیکہ اسے علم ہے کہ بادشاہ نے یہ غصب سے لیا ہے تو اس کے لئے یہ لینا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الغصب الباب الثامن نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۴۱
السلطان خلط الدراھم بعضھا ببعض فانہ لاباس بہ وان دفع عین الغصب من غیر خلط لم یجز اخذہقال الفقیہ ابو اللیث ھذا الجواب یستقم علی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی لان عندہ اذا غصب الدراھم من قوم وخلط بعضھا ببعض یملکھا الغاصب اما علی قول ابی یوسف ومحمد فانہ لایملکھا الغاصب ویکون علی ملك صاحبھا اقول:واما الکراھۃ علی مذھب الامام فلانہ وان مبلکہ بسبب خبیث و التصدق واجب علیہ وفی ھذا اعراض عنہ قال الامام شمس الائمۃ السرخسی فی شرح السیر الکبیرالمشتری فاسد اذا ارادبیع المشتری بعد القبض یکرہ شراؤہ منہ الخ قال الشامی لحصولہ للبائع بسبب حرام ولان فیہ اعراضا عن الفسخ الواجب اھ وایضاح المقام مفوض الی رسالتنا المذکورۃ۔ حلال ہے فرمایا کہ اگرچہ بادشاہ نے درہموں کو ایك دوسرے سے ملادیا ہو تو اس کے لینے میں کوئی حرج نہیںاور اگر ملائے بغیر عین غصب شدہ چیز حوالے کرے تو اس کا لینا جائز نہیں فقیہ ابواللیث نے فرمایا کہ یہ جواب امام ابوحنیفہ کے قول پر ٹھیك ہےاس لئے کہ ان کے نزدیك جب کوئی شخص کچھ لوگوں سے دراھم چھین لے اور پھر انہیں ایك دوسرے سے ملادے تو غاصب ان کا مالك ہوجائے گا۔لیکن صاحبین کے قول کے مطابق غاصب مالك نہ ہوگا بلکہ وہ اصل مالك کی ملکیت میں رہیں گے اقول:(میں کہتاہوں کہ)امام کے مذہب پر اس لئے اس صورت میں کراہت ہوگی کہ اگر چہ غاصب سبب خبیث کی وجہ سے مالك ہوگیا لیکن ان کا خیرات کرنے سے روگردانی ہےامام شمس الائمہ سرخسی نے سیرکبیر کی شرح میں فرمایا کہ خرید شدہ چیز فاسد ہے جب یہ خریدی ہوئی چیز کو قبضہ کرنے کے بعد بیچنے کا ارادہ کرے تو اس کا خریدنا مکروہ ہے الخ علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے فرمایا اس لئے کہ یہ سب حرام کی وجہ سے بائع کو حاصل ہوئی اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں فسخ واجب سے اعراض ہے اھ اس
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ مطبع نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۷۹
ردالمحتار بحوالہ شرح السیر الکبیر لشمس الائمہ السرخسی باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۰
ردالمحتار بحوالہ شرح السیر الکبیر لشمس الائمہ السرخسی باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۰
مقام کی وضاحت کرنا ہمارے مذکورہ رسالے کے حوالے ہے۔(ت)
اور اگر رنڈی نے ایك مال حرام کو دوسرے حرام سے خلط کیا مثلا ناچ کی اجرت میں اس نے دس روپیہ زید سے پائے تھے اور دس عمرو سےیہ سب ملادئیے تو اس میں سے ایك روپیہ بھی لینانہ چاہئے کہ وہ سب وجہ حرام سے ہے جو کچھ لے گا صاحبین حرام بتائیں گے اور امام کے قول پر مکروہ ہوناچاہئے۔
والوجہ ماذکرنا انھا کعین المغصوب عندھما و کالمشتری فاسدا عندہ۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کو ہم نے بیان کردیا کہ وہ چیز صاحبین کے نزدیك عین مغصوب کی طرح ہے اور امام صاحب کے نزدیك خرید کی ہوئی چیز کی طرح فاسد ہے۔(ت)
ہاں اگر اس قسم کے روپیہ سے کوئی چیز مثلا اناج یا کپڑا خرید کردے تو اس مزدور کو اس شے کا لینا امام کے طور پر بالاتفاق حرام نہیںاور بربنائے مذہب صاحبین اسی تفصیل پررہے گا جو خریدی ہوئی چیز کے بارے میں اوپر گزری۔
اقول:وذلك لان الملك ثابت عندہ بالخلط ولو خبیثا فلایعمل فیما لایتعین کالدراھم واما عندھما فالخبث لعدم الملك فیعمل فی الصفتین جمیعا علی الاطلاق کما اختار کثیر من المشائخ فلایحل المشتری مطلقا وخالف جماعۃ فقالوا یحل المشتری بالدراھم مطلقا وقال الکرخی الا اذا عقد علیھا ونقد ھھنا وبہ افتی جمہور المتاخرین کمامروالتفصیل محمول علی الرسالۃ۔ اقول:(میں کہتاہوں کہ)یہ حکم اس لئے ہے کہ امام صاحب کے نزدیك اگرچہ وہ چیز خبیث ہے لیکن خلط ملط کرنے سے ملك ثابت ہوگئیپھر جس چیز میں تعین نہیں ہوسکتا جیسا کہ دراہمتو اس میں اثرنہ ہوگا اور صاحبین کے نزدیك ملك نہ ہونے کی وجہ سے اس میں خبث پیداہوگیاپھر علی الاطلاق دونوں صفتوں میں اثرہوگا جیسا کہ بہت سے مشائخ نے اس کو اختیارکیالہذا خریدی ہوئی چیز مطلقا حلال نہ ہوگیلیکن اس میں ایك جماعت نے اختلاف کیاہے چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ مطلقا دراہم سے خریدی ہوئی چیز حلال ہے لیکن امام کرخی نے فرمایا
اور اگر رنڈی نے ایك مال حرام کو دوسرے حرام سے خلط کیا مثلا ناچ کی اجرت میں اس نے دس روپیہ زید سے پائے تھے اور دس عمرو سےیہ سب ملادئیے تو اس میں سے ایك روپیہ بھی لینانہ چاہئے کہ وہ سب وجہ حرام سے ہے جو کچھ لے گا صاحبین حرام بتائیں گے اور امام کے قول پر مکروہ ہوناچاہئے۔
والوجہ ماذکرنا انھا کعین المغصوب عندھما و کالمشتری فاسدا عندہ۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کو ہم نے بیان کردیا کہ وہ چیز صاحبین کے نزدیك عین مغصوب کی طرح ہے اور امام صاحب کے نزدیك خرید کی ہوئی چیز کی طرح فاسد ہے۔(ت)
ہاں اگر اس قسم کے روپیہ سے کوئی چیز مثلا اناج یا کپڑا خرید کردے تو اس مزدور کو اس شے کا لینا امام کے طور پر بالاتفاق حرام نہیںاور بربنائے مذہب صاحبین اسی تفصیل پررہے گا جو خریدی ہوئی چیز کے بارے میں اوپر گزری۔
اقول:وذلك لان الملك ثابت عندہ بالخلط ولو خبیثا فلایعمل فیما لایتعین کالدراھم واما عندھما فالخبث لعدم الملك فیعمل فی الصفتین جمیعا علی الاطلاق کما اختار کثیر من المشائخ فلایحل المشتری مطلقا وخالف جماعۃ فقالوا یحل المشتری بالدراھم مطلقا وقال الکرخی الا اذا عقد علیھا ونقد ھھنا وبہ افتی جمہور المتاخرین کمامروالتفصیل محمول علی الرسالۃ۔ اقول:(میں کہتاہوں کہ)یہ حکم اس لئے ہے کہ امام صاحب کے نزدیك اگرچہ وہ چیز خبیث ہے لیکن خلط ملط کرنے سے ملك ثابت ہوگئیپھر جس چیز میں تعین نہیں ہوسکتا جیسا کہ دراہمتو اس میں اثرنہ ہوگا اور صاحبین کے نزدیك ملك نہ ہونے کی وجہ سے اس میں خبث پیداہوگیاپھر علی الاطلاق دونوں صفتوں میں اثرہوگا جیسا کہ بہت سے مشائخ نے اس کو اختیارکیالہذا خریدی ہوئی چیز مطلقا حلال نہ ہوگیلیکن اس میں ایك جماعت نے اختلاف کیاہے چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ مطلقا دراہم سے خریدی ہوئی چیز حلال ہے لیکن امام کرخی نے فرمایا
مگرجبکہ یہاں ان پر عقد اور نقد واقع ہو پس اسی پر جمہور متاخرین نے فتوی دیا جیسا کہ گزرچکاہےاور تفصیل رسالہ مذکورہ پرمحمول ہے۔(ت)
یہ سب صورتیں اس وقت تھیں جب اسے اس مال کا حال معلوم ہو جو اس کی مزدوری میں دیاجاتاہے کہ خاص مال رنڈی کے پاس کہاں سے آیا ہے اور اس تك کیوں کر پہنچتا ہےآیا عین حرام میں سے ہے یا خالص حلال سے یا دونوں مخلوط ہیں یا مال حرام سے خریدا ہوا ہے یا کیا حال ہے اور اگر یہ کچھ نہیں کہہ سکتا نہ اسے کچھ خبر کہ خالص مال جو اسے دیاجاتاہے یا کس قسم کا ہےتو اس صورت میں فتوی جواز ہےکہ اصل حلت ہےجب تك خاص اس مال کی حرمت نہ ظاہر ہولینے سے منع نہ کریں گے
فی الھندیۃ عن الظھیریۃ عن الامام الفقیہ ابی اللیث اختلف الناس فی اخذ الجائزۃ من السلطان قال بعضھم یجوز مالم یعلم انہ یعطیہ من حرامقال محمد رحمہ اﷲ تعالی وبہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی واصحابہ اھوفی فتاوی الامام قاضی خان رجل دخل علی سلطان فقدم علیہ شیئ من الماکولات قالوا ان اکل منھا لاباس بہ اشتراہ بالثمن اولم یشتر الا ان ھذا الرجل ان کان یعلم انہ غصب بعینہ فانہ لایحل لہ ان یاکل من ذلک وفیھا ان لم یعلم الاخذ فتاوی عالمگیری میں فتاوی ظہیریہ کے حوالے سے فقیہ ابو اللیث سے روایت ہے بادشاہ سے انعام لینے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہےبعض نے فرمایا کہ لیناجائزہے جب تك یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مال حرام سے دیتاہےامام محمد نے فرمایا ہم اسی کو لیتے ہیں جب تك کسی معین شیئ کے حرام ہونے کی شناخت نہ ہوامام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہےاھ امام قاضی خان کے فتاوے میں ہے کہ ایك آدمی بادشاہ کے پاس گیا تو اس کے آگے کچھ کھانے کی چیزیں لائی گئیںفقہاء نے فرمایا کہ اگر وہ یہیں کھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں خواہ اس نے قیمت سے خریدی ہوں یا نہ خریدی ہوںمگر جب یہ شخص جانتاہو کہ یہ بعینہ غصب ہے تو پھر اس کے لئے حلال نہیں کہ انہیں کھائے اھ
یہ سب صورتیں اس وقت تھیں جب اسے اس مال کا حال معلوم ہو جو اس کی مزدوری میں دیاجاتاہے کہ خاص مال رنڈی کے پاس کہاں سے آیا ہے اور اس تك کیوں کر پہنچتا ہےآیا عین حرام میں سے ہے یا خالص حلال سے یا دونوں مخلوط ہیں یا مال حرام سے خریدا ہوا ہے یا کیا حال ہے اور اگر یہ کچھ نہیں کہہ سکتا نہ اسے کچھ خبر کہ خالص مال جو اسے دیاجاتاہے یا کس قسم کا ہےتو اس صورت میں فتوی جواز ہےکہ اصل حلت ہےجب تك خاص اس مال کی حرمت نہ ظاہر ہولینے سے منع نہ کریں گے
فی الھندیۃ عن الظھیریۃ عن الامام الفقیہ ابی اللیث اختلف الناس فی اخذ الجائزۃ من السلطان قال بعضھم یجوز مالم یعلم انہ یعطیہ من حرامقال محمد رحمہ اﷲ تعالی وبہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی واصحابہ اھوفی فتاوی الامام قاضی خان رجل دخل علی سلطان فقدم علیہ شیئ من الماکولات قالوا ان اکل منھا لاباس بہ اشتراہ بالثمن اولم یشتر الا ان ھذا الرجل ان کان یعلم انہ غصب بعینہ فانہ لایحل لہ ان یاکل من ذلک وفیھا ان لم یعلم الاخذ فتاوی عالمگیری میں فتاوی ظہیریہ کے حوالے سے فقیہ ابو اللیث سے روایت ہے بادشاہ سے انعام لینے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہےبعض نے فرمایا کہ لیناجائزہے جب تك یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مال حرام سے دیتاہےامام محمد نے فرمایا ہم اسی کو لیتے ہیں جب تك کسی معین شیئ کے حرام ہونے کی شناخت نہ ہوامام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہےاھ امام قاضی خان کے فتاوے میں ہے کہ ایك آدمی بادشاہ کے پاس گیا تو اس کے آگے کچھ کھانے کی چیزیں لائی گئیںفقہاء نے فرمایا کہ اگر وہ یہیں کھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں خواہ اس نے قیمت سے خریدی ہوں یا نہ خریدی ہوںمگر جب یہ شخص جانتاہو کہ یہ بعینہ غصب ہے تو پھر اس کے لئے حلال نہیں کہ انہیں کھائے اھ
حوالہ / References
فتاوی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
فتاوی قاضیخان کتاب الحظروالاباحۃ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۸
فتاوی قاضیخان کتاب الحظروالاباحۃ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۸
انہ من مالہ او من مال غیرہ فھو حلال حتی یتبین انہ حرام اھوفی ردالمحتار عن الذخیرۃ سئل ابو جعفر عمن اکتسب مالہ من امر السلطان و الغرامات المحرمۃ وغیرذلك ھل یحل لمن عرف ذلك ان یاکل من طعامہ قال احب الی فی دینہ ان لا یاکل ویسعہ حکما ان لم یکن غصبا او رشوۃ اھ و ھکذا فی الھندیۃ عن المحیط عن الفقیہ ابی جعفر و حاشیۃ السیدی الحموی علی الاشباہ من قاعدۃ اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام وکون الغالب فی السوق الحرام لایستلزم کون المشتری حراما لجواز کونہ من الحلال المغلوب و الاصل الحل اھ۔ اور اسی میں ہے کہ اگر لینے والا یہ نہ جانے کہ وہ لی ہوئی چیز دینے والے کے اپنے مال سے ہے یا کسی دوسرے کے مال سے ہے تو پھر وہ حلال ہے حتی کہ یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ حرام ہےاھفتاوی شامی میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے کہ امام ابوجعفر سے اس آدمی کے متعلق پوچھاگیا کہ جو امرسلطان سے مال کماتاہے اور اس میں حرام وغیرہ جرمانے بھی شامل ہوتے ہیں لہذا جو شخص ان معاملات کو جانتا پہچانتاہو کیا اس کے لئے حلال ہے کہ وہ اس کا کھاناکھائےتو انہوں نے فرمایا کہ اس کے دین کے معاملے میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ وہ نہ کھائےاور اس کے لئے اس بات کی حکما گنجائش ہے اگر وہ غصب یارشوت نہ ہو اھاسی طرح فتاوی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے فقیہ ابوجعفر سے روایت ہے الاشباہ والنظائر پرسیدحموی کے حاشیہ میں ایك قاعدہ مذکور ہے کہ جب حلال اور حرام جمع ہوجائیں تو حرام غالب ہوگا اور بازار میں حرام کا غالب ہونا اس بات کو مستلزم نہیں کہ جو چیز خریدی گئی وہ حرام ہو اس لئے کہ یہ جائز ہے کہ خریدی ہوئی چیز حلال مغلوب ہو حالانکہ حل اصل ہے اھ(ت)
علماء فرماتے ہیں ہمارا زمانہ شبہات سے بچنے کا نہیں یقینی اکل حلال خالص آج کل حکم عنقا کا رکھتاہےغنیمت ہے کہ آدمی آنکھوں دیکھے حرام سے بچ جائے
علماء فرماتے ہیں ہمارا زمانہ شبہات سے بچنے کا نہیں یقینی اکل حلال خالص آج کل حکم عنقا کا رکھتاہےغنیمت ہے کہ آدمی آنکھوں دیکھے حرام سے بچ جائے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان کتاب الحظروالاباحۃ نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۷۸
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۷
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۴۸
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۷
غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۴۸
فی الخانیۃ لایخلو ذلك عن نوع شبھۃ الا انھم قالوا لیس زماننا زمان الشبھات فعلی المسلم ان یتقی الحرام المعاین اھوفی الباب الخامس والعشرین من کراھۃ العالمگیریۃ عن جواھر الفتاوی فی الجملۃ ان طلب الحلال من ھذہ البلاد صعب وقد قال بعض مشائخنا علیك بترك الحرام المحض فی ھذا الزمان فانك لاتجد شیئا لاشبھۃ فیہ اھ۔ فتاوی قاضیخان میں ہے یہ چیز نوع شبہ سے خالی نہیں مگر فقہائے کرام نے فرمایا کہ ہمارا زمانہ شبہات سے بچنے کا زمانہ نہیں لہذا اس زمانے میں مسلمانوں کے لئے لازم ہےکہ وہ دیکھے ہوئے حرام سے بچےاھفتاوی عالمگیری کے پچیسویں باب کراہۃ میں جواہر الفتاوی کے حوالے سے ہے کہ حاصل کلام یہ ہے کہ ان شہروں میں حلال تلاش کرنا کسی قدر مشکل ہےیہی وجہ ہے ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا کہ اس زمانے میں تم پر خالص حرام کوچھوڑ دینالازم ہے کیونکہ تم کوئی ایسی چیز نہیں پاسکتے کہ جس میں کوئی شبہہ نہ ہو اھ(ت)
مگرتاہم یہ حکم ظاہر کاہے دیانۃ اگر معلوم ہو کہ اس کا مال اکثروجہ حرام سے ہے تو متقی کاکام اس سے بچنا ہے جب تك ظاہر نہ ہو کہ یہ خاص مال جو اس کے صرف میں آئے گا وجہ حلال سے ہےآدمی کو حظوظ نفس کی وسعتیں خراب کرتی ہیںحق سبحانہوتعالی نے جب انسان کو بحکم الدنیا خضرۃ حلوۃ (دنیا سرسبزمیٹھی ہے۔ت)اس سبزہ زار شہد نمازہرفروش یعنی دنیا میں بھیجا بمحض رحمت ازلی اس کے قاتل زہر کو الگ چن کر حد مقرر فرمادی اور نواہی شرعیہ عام منادی سنادی کہ او غافل بکریو! اس احاطہ کے اندر نہ چرناتمہارا دشمن بھیڑیا کہ عبارت شیطان سے ہے اسی جنگل میں رہتاہے یہاں کی گھاس اس وقت کی نظر میں تمہیں ہری ہری دوب لہکتی لہلہاتی نظرآتی ہے مگر خبردار اس میں بالکل زہربھرا ہےاب
مگرتاہم یہ حکم ظاہر کاہے دیانۃ اگر معلوم ہو کہ اس کا مال اکثروجہ حرام سے ہے تو متقی کاکام اس سے بچنا ہے جب تك ظاہر نہ ہو کہ یہ خاص مال جو اس کے صرف میں آئے گا وجہ حلال سے ہےآدمی کو حظوظ نفس کی وسعتیں خراب کرتی ہیںحق سبحانہوتعالی نے جب انسان کو بحکم الدنیا خضرۃ حلوۃ (دنیا سرسبزمیٹھی ہے۔ت)اس سبزہ زار شہد نمازہرفروش یعنی دنیا میں بھیجا بمحض رحمت ازلی اس کے قاتل زہر کو الگ چن کر حد مقرر فرمادی اور نواہی شرعیہ عام منادی سنادی کہ او غافل بکریو! اس احاطہ کے اندر نہ چرناتمہارا دشمن بھیڑیا کہ عبارت شیطان سے ہے اسی جنگل میں رہتاہے یہاں کی گھاس اس وقت کی نظر میں تمہیں ہری ہری دوب لہکتی لہلہاتی نظرآتی ہے مگر خبردار اس میں بالکل زہربھرا ہےاب
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۷۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۶۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۶۴
اس مرغزار کی گھاس تین قسم کی ہوگئیکچھ سب کو معلوم ہے کہ اسی قطعہ کی ہے جس میں زہر ہے اور کچھ اس ٹکڑے سے بہت دور ہے جسے ہم یقینی اپنے حق میں نافع یا ضرر سے خالی جانتے ہیں اور جو کچھ اس پہلے خطہ کے آس پاس رہ گئی اس میں شبہہ ہے کیا جانئے شاید اس میں کی ہو وذلک۔
قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الحلال بین والحرام بین ومابینھما مشتبھات لایعلمھن کثیر من الناس ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے کہ حلال ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے البتہ ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔(ت)
تو ہم میں جن کو اپنی جان پیاری اور ہوش و خردکی پاسداری تھی انہوں نے تو اس تختہ کی اور کوسوں کا طرار ابھرااور بھولی بھیڑیں اپنی نادانی سے یہی کہتی رہیں کہ ابھی تو وہ ٹکڑا نہیں آیا ہے ابھی تو دور معلوم ہوتاہےیہاں تك کہ خاص اس خطہ میں جاپڑیں اور زہر کی گھاس نے کام تمام کیاآدمی کو اگر پلاؤ کی رکابی دی جائے اور کہہ دیں کہ اس کے خاص وسط میں روپیہ بھر جگہ کے قریب سنکھیا پسی ہوئی ملی ہے ڈرتے ڈرتے کناروں سے کھائے گا اور بجائے ایك روپیہ کے چار روپیہ کی جگہ چھوڑ دے گاکاش ایسی احتیاط جو اپنے بدن کی محافظت میں کرتا ہے قلب کی نگاہداشت میں بجالاتا۔اے عزیز! بادشاہوں کا قاعدہ ہے ایك چراگاہ محصور کرلیتے ہیں کہ رعایا اس میں نہ چرانے پائےعربی میں اسے حمی کہتے ہیںخدا ورسول کی سچی سلطنتقاہر بادشاہت میں حمی محرمات شرعیہ ہیںسے اپنے دین وآبرو کا خیال ہے شبہات سے بچے گا کہ مبادا آس پاس چراتے چراتے خاص حمی میں پڑےاور جو نہیں مانتے تو قریب ہے کہ انہیں ایك دن یہ واقعہ پیش آجائےیہ مثال جو میں نے بیان کی کچھ میری ایجاد نہیں بلکہ خود حضوراقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں ارشاد فرمائی
کما اخرجہ البخاری ومسلم وابوداؤد جیسا کہ بخاریمسلمابوداؤدترمذینسائی
قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الحلال بین والحرام بین ومابینھما مشتبھات لایعلمھن کثیر من الناس ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے کہ حلال ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے البتہ ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔(ت)
تو ہم میں جن کو اپنی جان پیاری اور ہوش و خردکی پاسداری تھی انہوں نے تو اس تختہ کی اور کوسوں کا طرار ابھرااور بھولی بھیڑیں اپنی نادانی سے یہی کہتی رہیں کہ ابھی تو وہ ٹکڑا نہیں آیا ہے ابھی تو دور معلوم ہوتاہےیہاں تك کہ خاص اس خطہ میں جاپڑیں اور زہر کی گھاس نے کام تمام کیاآدمی کو اگر پلاؤ کی رکابی دی جائے اور کہہ دیں کہ اس کے خاص وسط میں روپیہ بھر جگہ کے قریب سنکھیا پسی ہوئی ملی ہے ڈرتے ڈرتے کناروں سے کھائے گا اور بجائے ایك روپیہ کے چار روپیہ کی جگہ چھوڑ دے گاکاش ایسی احتیاط جو اپنے بدن کی محافظت میں کرتا ہے قلب کی نگاہداشت میں بجالاتا۔اے عزیز! بادشاہوں کا قاعدہ ہے ایك چراگاہ محصور کرلیتے ہیں کہ رعایا اس میں نہ چرانے پائےعربی میں اسے حمی کہتے ہیںخدا ورسول کی سچی سلطنتقاہر بادشاہت میں حمی محرمات شرعیہ ہیںسے اپنے دین وآبرو کا خیال ہے شبہات سے بچے گا کہ مبادا آس پاس چراتے چراتے خاص حمی میں پڑےاور جو نہیں مانتے تو قریب ہے کہ انہیں ایك دن یہ واقعہ پیش آجائےیہ مثال جو میں نے بیان کی کچھ میری ایجاد نہیں بلکہ خود حضوراقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں ارشاد فرمائی
کما اخرجہ البخاری ومسلم وابوداؤد جیسا کہ بخاریمسلمابوداؤدترمذینسائی
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الایمان باب فضل من استبراء لدینہٖ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳
صحیح البخاری کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳،صحیح مسلم کتاب المساقات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۸،سنن ابی داؤد کتاب البیوع آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۱۷،جامع الترمذی ابواب البیوع امین کمپنی دہلی ۱ /۱۴۵
صحیح البخاری کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳،صحیح مسلم کتاب المساقات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۸،سنن ابی داؤد کتاب البیوع آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۱۷،جامع الترمذی ابواب البیوع امین کمپنی دہلی ۱ /۱۴۵
والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن النعمان بن بشیر والطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھم اجمعین۔ اور ابن ماجہ نے نعمان بن بشیر سے تخریج کیاور طبرانی نے ابن عباس کے حوالے سے ذکر کیا۔اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو۔(ت)
بلکہ بعض علماء نے تو درصورت غلبہ حرام رخصت ہی نہ دی اور عدم جواز کی تصریح فرمائی یعنی جب دینے والے کا اکثر مال وجہ حرام سے ہے تو اس کے مال سے کچھ لیناجائزنہیں جب تك اس خاص چیز کا وجہ حلال سے آنا ظاہر نہ ہوجائے
ففی الھندیۃ عن المختار شرح الاختیار لایجوز قبول ھدیۃ امراء الجور لان الغالب فی مالھم الحرمۃ الخ وفیھا ایضا فی فتاوی اھل سمرقند رجل دخل علی السلطان فقدم علیہ شیئ ماکول فان اشتراہ بالمن اولم یشتر ذلك ولکن ھذا الرجل لا یفھم انہ منصوب بعینہ حلہ اکلہ ھکذاذکر و الصحیح انہ ینظر الی مال سلطان وبین الحکم علیہ ھکذا فی الذخیرۃ اھ مافی الھندیۃ قلت لکن تصحیح الذخیرۃ لایعارض قول محرر المذھب محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ واصحابہ کما مر نقلہ عن فتاوی الامام الاجل فتاوی عالمگیری میں المختار شرح اختیار کے حوالے سے یہ قول مذکور ہے کہ ظالم امراء کے ہدیہ کو قبول کرناجائزنہیں اس لئے کہ ان کا زیادہ تر مال حرام ہوتاہے الخ۔اور اسی میں فتاوی اہل سمرقند کے حوالے سے مذکور ہے ایك آدمی بادشاہ کے پاس گیا تو اس کے آگے کوئی کھانی کی چیز لائی گئیاگر دینے والے نے اسے قیمت سے خریدا ہو یا نہ خریدا ہو لیکن یہ لینے والا شخص نہ سمجھ سکا کہ یہ بعینہ چھینی ہوئی چیز ہے تو اس کے لئے اس کا کھانا حلال ہے۔اہل علم نے اسی طرح ذکر فرمایا لیکن صحیح یہ ہے کہ شخص مذکور بادشاہ کے مال اور اس پر جو شرعی حکم لاگو ہوتاہے اس پر غوروفکر کرےذخیرہ میں اسی طرح مذکور ہے۔فتاوی عالمگیری میں جو کچھ تھا وہ پورا ہوگیا۔ قلت(میں کہتاہوں کہ)ذخیرہ
بلکہ بعض علماء نے تو درصورت غلبہ حرام رخصت ہی نہ دی اور عدم جواز کی تصریح فرمائی یعنی جب دینے والے کا اکثر مال وجہ حرام سے ہے تو اس کے مال سے کچھ لیناجائزنہیں جب تك اس خاص چیز کا وجہ حلال سے آنا ظاہر نہ ہوجائے
ففی الھندیۃ عن المختار شرح الاختیار لایجوز قبول ھدیۃ امراء الجور لان الغالب فی مالھم الحرمۃ الخ وفیھا ایضا فی فتاوی اھل سمرقند رجل دخل علی السلطان فقدم علیہ شیئ ماکول فان اشتراہ بالمن اولم یشتر ذلك ولکن ھذا الرجل لا یفھم انہ منصوب بعینہ حلہ اکلہ ھکذاذکر و الصحیح انہ ینظر الی مال سلطان وبین الحکم علیہ ھکذا فی الذخیرۃ اھ مافی الھندیۃ قلت لکن تصحیح الذخیرۃ لایعارض قول محرر المذھب محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ واصحابہ کما مر نقلہ عن فتاوی الامام الاجل فتاوی عالمگیری میں المختار شرح اختیار کے حوالے سے یہ قول مذکور ہے کہ ظالم امراء کے ہدیہ کو قبول کرناجائزنہیں اس لئے کہ ان کا زیادہ تر مال حرام ہوتاہے الخ۔اور اسی میں فتاوی اہل سمرقند کے حوالے سے مذکور ہے ایك آدمی بادشاہ کے پاس گیا تو اس کے آگے کوئی کھانی کی چیز لائی گئیاگر دینے والے نے اسے قیمت سے خریدا ہو یا نہ خریدا ہو لیکن یہ لینے والا شخص نہ سمجھ سکا کہ یہ بعینہ چھینی ہوئی چیز ہے تو اس کے لئے اس کا کھانا حلال ہے۔اہل علم نے اسی طرح ذکر فرمایا لیکن صحیح یہ ہے کہ شخص مذکور بادشاہ کے مال اور اس پر جو شرعی حکم لاگو ہوتاہے اس پر غوروفکر کرےذخیرہ میں اسی طرح مذکور ہے۔فتاوی عالمگیری میں جو کچھ تھا وہ پورا ہوگیا۔ قلت(میں کہتاہوں کہ)ذخیرہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
ظھیر الدین المرغینانی رحمۃ اﷲ تعالی علیھم اجمعین الی یوم الدین۔ کی تصحیحمذہب قلم بند کرنے والے امام محمد کے قول کے معارض نہیں ہوسکتی کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین شیئ کے حرام ہونے کو نہ پہچانیںامام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہے جیسا کہ امام اجل ظہیرالدین مرغینانی کے فتاوی سے اس کی نقل گزرچکیاﷲ تعالی قیامت تك ان پر نزول رحمت فرمائے۔(ت)
ہاں ازالہ شبہہ کے لئے اتنا بھی کافی ہے کہ جب صاحب مال رنڈی یا ڈومن خود بیان کریں کہ یہ مال ہمارے پاس وجہ حلال سے ہے ہمیں انعام ملا یا ہم نے قرض لیا یا مثلا بذریعہ زراعت وغیرہا وجوہ حلال سے حاصل کیا اگر اس شخص کو ان کے بیان میں فرق ظاہر نہ ہو تو اب لے لینے میں کسی طرح حرج نہیں۔
فی العالمگیریۃ عن الینابیع اھدی الی رجل شیئا او اضافہ ان کان غالب مالہ من الحلال فلاباس الا ان یعلم بانہ حرام فان کان الغالب ھو الحرام ینبغی ان لایقبل الھدیۃ ولا یاکل الطعام الا ان یخبرہ انہ حلال وورثۃ او استقرضتہ من رجل اھ وفیھا عن التمرتاشی لایجیب دعوۃ من کان غالب مالہ من حرام مالم یخبر انہ حلال وبالعکس مالم تتبین عندہ انہ حرام اھ وفیھا عن الملتقط اکل الربو او کاسب الحرام فتاوی عالمگیری میں ینابیع کے حوالے سے مذکور ہے کسی شخص نے کسی کو کوئی چیز بطور ہدیہ دی یا اس نے اس کی مہمان نوازی کیاگر اس کا زیادہ ترمال حلال ہے تو اس کے لینے میں کوئی حرج نہیںمگریہ کہ اسے معلوم ہوجائے کہ یہ حرام ہےپھر اگر اس کا غالب مال حرام ہو تو مناسب یہ ہے کہ وہ ہدیہ قبول نہ کرے اور نہ طعام کھائےمگر یہ کہ وہ اسے بتادے کہ یہ حلال ہے کیونکہ میں اس کا وارث ہوا ہوں یا میں نے کسی آدمی سے قرض لیا ہےاھاور اسی فتاوی عالمگیری میں امام تمرتاشی کے حوالے سے منقول ہے یہ اس شخص کی دعوت قبول نہ کرے جس کا غالب مال حرام ہوجب تك وہ یہ نہ بتائے کہ وہ حلال ہے اور
ہاں ازالہ شبہہ کے لئے اتنا بھی کافی ہے کہ جب صاحب مال رنڈی یا ڈومن خود بیان کریں کہ یہ مال ہمارے پاس وجہ حلال سے ہے ہمیں انعام ملا یا ہم نے قرض لیا یا مثلا بذریعہ زراعت وغیرہا وجوہ حلال سے حاصل کیا اگر اس شخص کو ان کے بیان میں فرق ظاہر نہ ہو تو اب لے لینے میں کسی طرح حرج نہیں۔
فی العالمگیریۃ عن الینابیع اھدی الی رجل شیئا او اضافہ ان کان غالب مالہ من الحلال فلاباس الا ان یعلم بانہ حرام فان کان الغالب ھو الحرام ینبغی ان لایقبل الھدیۃ ولا یاکل الطعام الا ان یخبرہ انہ حلال وورثۃ او استقرضتہ من رجل اھ وفیھا عن التمرتاشی لایجیب دعوۃ من کان غالب مالہ من حرام مالم یخبر انہ حلال وبالعکس مالم تتبین عندہ انہ حرام اھ وفیھا عن الملتقط اکل الربو او کاسب الحرام فتاوی عالمگیری میں ینابیع کے حوالے سے مذکور ہے کسی شخص نے کسی کو کوئی چیز بطور ہدیہ دی یا اس نے اس کی مہمان نوازی کیاگر اس کا زیادہ ترمال حلال ہے تو اس کے لینے میں کوئی حرج نہیںمگریہ کہ اسے معلوم ہوجائے کہ یہ حرام ہےپھر اگر اس کا غالب مال حرام ہو تو مناسب یہ ہے کہ وہ ہدیہ قبول نہ کرے اور نہ طعام کھائےمگر یہ کہ وہ اسے بتادے کہ یہ حلال ہے کیونکہ میں اس کا وارث ہوا ہوں یا میں نے کسی آدمی سے قرض لیا ہےاھاور اسی فتاوی عالمگیری میں امام تمرتاشی کے حوالے سے منقول ہے یہ اس شخص کی دعوت قبول نہ کرے جس کا غالب مال حرام ہوجب تك وہ یہ نہ بتائے کہ وہ حلال ہے اور
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۳
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۳
اھدی الیہ أو اضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل و لایاکل مالم یخبرہ ان ذلك المال اصلہ حلال ورثہ او استقرضہ وان کان غالب مالہ حلالا لاباس بقبول ھدیتہ والاکل من اھ اقول:وبمثلہ فی الخانیۃ عن الامام الناطفی وعﷲ لان اموال الناس لاتخلو عن قلیل حرام فیعتبر الغالب اھ ھذا واما ماذکرت من التقیید بان لایظہر عندہ کذب ماقال فیعرف بالمراجعۃ الی مافی العالمگیریۃ وغیرھا من تفاصیل الاحکام فی قبول خبر الواحد فارجع واعرف وستوضحہ فی الرسالۃ ان شاء اﷲ تعالی۔ اس کے عکس میں جب تك اس کے نزدیك حرام ہوناواضح نہ ہوجائےاھ۔اسی میں ملتقط کے حوالے سے ہے کہ سود کھانے والا اور حرام کمانے والااگر اس نے کسی کو ہدیہ دیا یا اس کی مہمان نوازی کیاور حالت یہ تھی کہ اس کاغالب مال حرام ہے تو یہ ہدیہ قبول نہ کرے اور نہ کھائے مگر یہ کہ وہ بتادے کہ اس مال کی اصل حلال ہےاور یہ اس کا وارث ہوا ہے یا اس نے قرض لیا ہےاور اگر اس کا زیادہ ترمال حلال ہو تو ہدیہ قبول کرنے یا اس کے کھانے میں کچھ حرج نہیں اھ اقول: (میں کہتاہوں)اسی کی مثل فتاوی قاضیخان میں امام ناطفی کے حوالے سے مذکور ہے اور انہوں نے یہ تعلیل بیان فرمائی کہ لوگوں کے مال تھوڑے حرام سے خالی نہیں ہوتے لہذا غالب کا اعتبار کیاجائے گااھلیکن وہ قید جو میں نے ذکر کی کہ اس شخص کے نزدیك قائل کا جھوٹ ظاہر نہ ہوپھر عالمگیری وغیرہ میں ایك آدمی کی خبر قبول کرنے کے بارے میں جو تفصیلات احکام ہیں ان کی طرف مراجعت کرنے سے یہ بات معلوم کی جاسکتی ہےلہذا اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس کوپہچان لیجئےاور ہم عنقریب ان شاء اﷲ تعالی اپنے رسالہ مذکورہ میں اس کی وضاحت کردیں گے۔(ت)
بالجملہ جسے اپنے دین وتقوی کا کامل پاس ہو وہ غلبہ حرام کی صورت میں احتراز ہی کرے جب تك خاص اس شیئ کی حلت کاپتہ نہ چلے ورنہ فتوی تو جواز ہی ہے تاوقتیکہ بالخصوص اس چیز کی حرمت پر دلیل کافی نہ ملےاور یہ ساری تفصیل جو ابتداء سے اب تك ہم نے بیان کی کچھ رنڈیوں یا ڈومنیوں ہی کے ساتھ خاص
بالجملہ جسے اپنے دین وتقوی کا کامل پاس ہو وہ غلبہ حرام کی صورت میں احتراز ہی کرے جب تك خاص اس شیئ کی حلت کاپتہ نہ چلے ورنہ فتوی تو جواز ہی ہے تاوقتیکہ بالخصوص اس چیز کی حرمت پر دلیل کافی نہ ملےاور یہ ساری تفصیل جو ابتداء سے اب تك ہم نے بیان کی کچھ رنڈیوں یا ڈومنیوں ہی کے ساتھ خاص
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۳
فتاوٰی قاضیخان کتاب الحظروالاباحۃ مطبع نولکشور دہلی ۴ /۷۷۸
فتاوٰی قاضیخان کتاب الحظروالاباحۃ مطبع نولکشور دہلی ۴ /۷۷۸
نہیں بلکہ یہ ہوں یا ان کا غیر حامد ہو یا محمودمسلمان ہوں یا ہنودنصاری ہوں یا یہودسب کو عام ہےجو اس قدر سمجھ سکتاہے کہ نوکریوں اور پیشوں میں کون کون جائزہے اور کیاناجائزاور کس کس طریقہ کا مال حلال ہوتاہے کس کس کا پھر ہمارے اس فتوی کو پیش نگاہ رکھے گاوہ ہرجگہ حکم شرع نکال سکتاہے کہ کس کے مال کا کیاحکم ہے اور اس سے معاملہ کہاں تك رواہے۔باقی رہا یہ امر کہ بہت لوگ جن کا مال وجہ حرام سے ہے مثلا ایك ان میں رنڈیاں ہیںمساجد ومدارس وغیرہا امورخیر میں اپنا مال کیوں صرف کرتی ہیں۔یہ ان کا فعل ہے شرع پر کیا الزامہاں ان میں جن کا مال حلال اور نیت صحیح ہے قابل قبول انہیں کا عمل ہے ورنہ اﷲ جل جلالہپاك بے نیازہے۔
ان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب اللھم کما ختمت فتوی ھذہ علی لفظ طیب من لفظ طیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاختم لی اعمالی واقوالی واحوالی جمیعا بطیت انك انت الطیب ولاطیب الا من طیب ھذا دعائی لی وللمؤمنین اطیب صلوۃ علی اطیب الا طیبین وعلی الہ و اصحابلہ الطیبین الطاھرین وقد فصلنا القول بحمداﷲ بحیث لایوجد من غیرنا ان شاء اﷲ تعالی فاغتنم ھذا التحریر الفرید والتحقیق المفید واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم والحمدﷲ علی مالھم وعلم۔ یقینا اﷲ تعالی پاك ہے وہ پاکیزہ چیز کے بغیر کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔یااﷲ! جس طرح میں نے اپنے اس فتوی کو لفظ"طیب"پر ختم کیا جو میں نے پاکیزہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے لیا ہے۔پس اسی طرح تو میرے لئے میرے اعمالاقوال اور احوال پاکیزہ طور پر ختم کردےبلاشبہہ تو پاك ہے اور کوئی پاك نہیں ہوسکتامگر وہ جسے تو پاك کر دےمیری یہ دعا میرے لئے اور سب مومنوں کے لئے ہے پاکیزہ تردرود ہو اس پر جو سب پاکیزہ لوگوں میں زیادہ پاکیزہ ہیں اور ان کی آل اور ساتھیوں پر جوظاہری اور باطنی طور پر طیب اور طاہرہیں۔الحمدﷲ کہ ہم نے اس قول کو مفصل بیان کیا کہ ہمارے بغیر ان شاء اﷲ تعالی یہ تفصیل کہیں نہ پائے جائے گیلہذا اس یکتا تحریر اور مفید تحقیق کو غنیمت سمجھئےاور اﷲ تعالی ہی سب سے زیادہ جانتاہےاور اسی جلیل القدر بزرگی والے کا علم زیادہ تام اور زیادہ محکم ہےسب تعریف اس اﷲ تعالی کے لئے ہے کہ جس نے اس تحقیقی کا مجھے الہام فرمایا اور علم دیا۔(ت)
ان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب اللھم کما ختمت فتوی ھذہ علی لفظ طیب من لفظ طیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاختم لی اعمالی واقوالی واحوالی جمیعا بطیت انك انت الطیب ولاطیب الا من طیب ھذا دعائی لی وللمؤمنین اطیب صلوۃ علی اطیب الا طیبین وعلی الہ و اصحابلہ الطیبین الطاھرین وقد فصلنا القول بحمداﷲ بحیث لایوجد من غیرنا ان شاء اﷲ تعالی فاغتنم ھذا التحریر الفرید والتحقیق المفید واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم والحمدﷲ علی مالھم وعلم۔ یقینا اﷲ تعالی پاك ہے وہ پاکیزہ چیز کے بغیر کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔یااﷲ! جس طرح میں نے اپنے اس فتوی کو لفظ"طیب"پر ختم کیا جو میں نے پاکیزہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے لیا ہے۔پس اسی طرح تو میرے لئے میرے اعمالاقوال اور احوال پاکیزہ طور پر ختم کردےبلاشبہہ تو پاك ہے اور کوئی پاك نہیں ہوسکتامگر وہ جسے تو پاك کر دےمیری یہ دعا میرے لئے اور سب مومنوں کے لئے ہے پاکیزہ تردرود ہو اس پر جو سب پاکیزہ لوگوں میں زیادہ پاکیزہ ہیں اور ان کی آل اور ساتھیوں پر جوظاہری اور باطنی طور پر طیب اور طاہرہیں۔الحمدﷲ کہ ہم نے اس قول کو مفصل بیان کیا کہ ہمارے بغیر ان شاء اﷲ تعالی یہ تفصیل کہیں نہ پائے جائے گیلہذا اس یکتا تحریر اور مفید تحقیق کو غنیمت سمجھئےاور اﷲ تعالی ہی سب سے زیادہ جانتاہےاور اسی جلیل القدر بزرگی والے کا علم زیادہ تام اور زیادہ محکم ہےسب تعریف اس اﷲ تعالی کے لئے ہے کہ جس نے اس تحقیقی کا مجھے الہام فرمایا اور علم دیا۔(ت)
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۳۲۸
مسئلہ۲۰۲:ایك کافر اگردوسرے کے پاس کوئی چیزرکھے تو اس کا کاغذ تحریر کرنا مسلمان کو رواہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
نفس تحریر رہن نامہ میں تو کوئی حرج نہیں خواہ وہ عقد اہل اسلام میں ہو یاکفار میں لعدم المدرك المدرك الشرعی بالنھی عنہ(اس لئے کہ شرعی طور پر ممانعت کی کوئی دلیل نہیں۔ت)مگر ہاں اگر اس کاغذ میں سود لکھاجائے اور اسی کی صورتوں سے ہے دیہات کا دخلی رہن یا دکان یا مکان کا کرایہ مرتہن کو زراصل کے علاوہ ملنا تو بیشك ایسا کاغذہرگز نہ لکھےاگرچہ وہ عقد مسلمانوں میں ہو کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جس طرح سود کھانے والے پر لعنت فرمائی یوہیں اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں پر لعنت آئیاور ارشاد فرمایا:وہ سب برابر ہیں۔
اخرج مسلم فی صحیح عن سیدنا جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما قال لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اکل الربو و مؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ و قال ھم سواء انتھی۔واﷲ تعالی اعلم۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہما سے تخریج فرمائی کہ انہوں نے فرمایا حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے سودکھانے والےکھلانے والےاس کے لکھنے والےاس کی گواہی دینے والےان سب پر لعنت فرمائیاور فرمایا یہ سب برابرہیں انتہیواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۰۳:ازپیلی بھیت مرسلہ مولوی محمد وصی احمدصاحب سورتی مدرس اول مدرسہ عربیہ حافظ العلوم ۴صفر۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہنود کے میلوں میں بقصد فروخت اسباب تجارت کے نہ بقصد موافقت کفار اور تکثیر جماعت ان کی کے بلکہ صرف بلحا ظ تحصیل نفقہ اہل وعیال جاناجائزہے یانہیں برتقدیر اول جواز مع کراہت ہے یابلاکراہتاور کراہت تحریمی ہے یاتنزیہیبرتقدیر عدم جواز یہ معصیت منجملہ کبائر ہے یاصغائر کے قبیل سے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اگر وہ میلہ ان کا مذہبی ہے جس میں جمع ہوکر اعلان کفر وادائے رسوم شرك کریں گے تو بقصد تجارت
الجواب:
نفس تحریر رہن نامہ میں تو کوئی حرج نہیں خواہ وہ عقد اہل اسلام میں ہو یاکفار میں لعدم المدرك المدرك الشرعی بالنھی عنہ(اس لئے کہ شرعی طور پر ممانعت کی کوئی دلیل نہیں۔ت)مگر ہاں اگر اس کاغذ میں سود لکھاجائے اور اسی کی صورتوں سے ہے دیہات کا دخلی رہن یا دکان یا مکان کا کرایہ مرتہن کو زراصل کے علاوہ ملنا تو بیشك ایسا کاغذہرگز نہ لکھےاگرچہ وہ عقد مسلمانوں میں ہو کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جس طرح سود کھانے والے پر لعنت فرمائی یوہیں اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں پر لعنت آئیاور ارشاد فرمایا:وہ سب برابر ہیں۔
اخرج مسلم فی صحیح عن سیدنا جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھما قال لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اکل الربو و مؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ و قال ھم سواء انتھی۔واﷲ تعالی اعلم۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالی عنہما سے تخریج فرمائی کہ انہوں نے فرمایا حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے سودکھانے والےکھلانے والےاس کے لکھنے والےاس کی گواہی دینے والےان سب پر لعنت فرمائیاور فرمایا یہ سب برابرہیں انتہیواﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۰۳:ازپیلی بھیت مرسلہ مولوی محمد وصی احمدصاحب سورتی مدرس اول مدرسہ عربیہ حافظ العلوم ۴صفر۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہنود کے میلوں میں بقصد فروخت اسباب تجارت کے نہ بقصد موافقت کفار اور تکثیر جماعت ان کی کے بلکہ صرف بلحا ظ تحصیل نفقہ اہل وعیال جاناجائزہے یانہیں برتقدیر اول جواز مع کراہت ہے یابلاکراہتاور کراہت تحریمی ہے یاتنزیہیبرتقدیر عدم جواز یہ معصیت منجملہ کبائر ہے یاصغائر کے قبیل سے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اگر وہ میلہ ان کا مذہبی ہے جس میں جمع ہوکر اعلان کفر وادائے رسوم شرك کریں گے تو بقصد تجارت
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساقاۃ باب الرباء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷
بھی جاناناجائزومکروہ تحریمی ہےاور ہرمکروہ تحریمی صغیرہاور ہرصغیرہ اصرار سے کبیرہ۔علماء تصریح فرماتے ہیں کہ معابد کفار میں جانا مسلمان کو جائزنہیںاور اس کی علت یہی فرماتے ہیں کہ وہ مجمع شیاطین ہیںیہ قطعا یہاں بھی متحققبلکہ جب وہ مجمع بغرض عبادت غیرخدا ہے تو حقیقۃ معابد کفار میں داخل کہ معبد بوجہ ان افعال کے معبد ہیںنہ بسبب سقف ودیوار
وھذا ظاھر جدافی الھندیۃ عن التاتار خانیۃ عن الیتیمۃیکرہ للمسلم الدخول فی البیعۃ والکیسۃ وانما یکرہ من حیث انہ مجمع الشیاطین ۔ یہ بلاشبہ ظاہر ہےفتاوی عالمگیری میں تاتارخانیہ میں الیتیمہ کے حوالے سے منقول ہے کہ کسی مسلمان کے لئے یہودیوں اور عیسائیوں کے گرجوں میں جانا مکروہ ہے اور کراہیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ شیاطین کی جائے اجتماع ہیں۔(ت)
بحرالرائق میں اسے نقل کرکے فرمایا:
والظاھر انھا تحریمۃ لانھا المرادۃ عند اطلاقھم ۔ اور ظاہر یہ ہےکہ کراہت تحریمی ہےاس لئے کہ ائمہ کرام کے علی الاطلاق فرمانے سے یہی مراد ہواکرتی ہے۔(ت)
ردالمحتار میں اس پر ان لفظوں سے تفریع کی:
فاذا حرم الدخول فالصلوۃ اولی ۔ جب وہاں جانا حرام ہے تو وہاں نماز پڑھنا بطریق اولی حرام ہوگا۔(ت)
اور اگر وہ مجمع مذہبی نہیں بلکہ صرف لہوولعب کا میلاہے تو محض بغرض تجارت جانا فی نفسہ ناجائز وممنوع نہیں جبکہ کسی گناہ کی طرف مودی نہ ہوعلماء فرماتے ہیں مسلمان تاجر کو جائزکہ کنیز وغلام وآلات حرب مثل اسپ وسلاح وآہن وغیرہ کے سوا اور مال کفار کے ہاتھ بیچنے کے لئے دارالحرب میں لے جائے اگرچہ احتراز افضلتوہندوستان میں کہ عندالتحقیق دارالحرب نہیں مجمع غیرمذہبی کفرہ میں تجارت کےلئے مال لے جانا بدرجہ اولی جواز رکھتاہے۔
وھذا ظاھر جدافی الھندیۃ عن التاتار خانیۃ عن الیتیمۃیکرہ للمسلم الدخول فی البیعۃ والکیسۃ وانما یکرہ من حیث انہ مجمع الشیاطین ۔ یہ بلاشبہ ظاہر ہےفتاوی عالمگیری میں تاتارخانیہ میں الیتیمہ کے حوالے سے منقول ہے کہ کسی مسلمان کے لئے یہودیوں اور عیسائیوں کے گرجوں میں جانا مکروہ ہے اور کراہیت کی وجہ یہ ہے کہ وہ شیاطین کی جائے اجتماع ہیں۔(ت)
بحرالرائق میں اسے نقل کرکے فرمایا:
والظاھر انھا تحریمۃ لانھا المرادۃ عند اطلاقھم ۔ اور ظاہر یہ ہےکہ کراہت تحریمی ہےاس لئے کہ ائمہ کرام کے علی الاطلاق فرمانے سے یہی مراد ہواکرتی ہے۔(ت)
ردالمحتار میں اس پر ان لفظوں سے تفریع کی:
فاذا حرم الدخول فالصلوۃ اولی ۔ جب وہاں جانا حرام ہے تو وہاں نماز پڑھنا بطریق اولی حرام ہوگا۔(ت)
اور اگر وہ مجمع مذہبی نہیں بلکہ صرف لہوولعب کا میلاہے تو محض بغرض تجارت جانا فی نفسہ ناجائز وممنوع نہیں جبکہ کسی گناہ کی طرف مودی نہ ہوعلماء فرماتے ہیں مسلمان تاجر کو جائزکہ کنیز وغلام وآلات حرب مثل اسپ وسلاح وآہن وغیرہ کے سوا اور مال کفار کے ہاتھ بیچنے کے لئے دارالحرب میں لے جائے اگرچہ احتراز افضلتوہندوستان میں کہ عندالتحقیق دارالحرب نہیں مجمع غیرمذہبی کفرہ میں تجارت کےلئے مال لے جانا بدرجہ اولی جواز رکھتاہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۶
بحرالرائق کتاب الدعوٰی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۱۴
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۵۴
بحرالرائق کتاب الدعوٰی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۱۴
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۵۴
فی الھندیۃ عن المبسوط قال محمد رحمہ اﷲ تعالی لاباس بان یحمل المسلم الی اھل الحرب ماشاء الا الکراع والسلاح والسبی وان لایحمل الیھم شیئا احب الی ۔ فتاوی عالمگیری میں بحوالہ مبسوط درج ہے کہ امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا مسلمان دارالکفر میں سوائے گھوڑے ہتھیار اور غلام کے جو چاہے لیجاسکتاہے اس میں کوئی حرج نہیں البتہ کوئی ایسی چیزلے کر دار کفر میں نہ جائے تو پسندیدہ امرہے۔(ت)
اسی میں ہے:
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ و معہ فرسہ و سلاحہ وھو لایرید بیعہ منھم لم یمنع ذلك منہ ۔ جب کوئی مسلمان تجارت اور کاروبار کیلئے دار حرب میں داخل ہوناچاہے اور اس کے پاس گھوڑے اور ہتھیار ہوں اور وہ انہیں حربیوں پرفروخت کرنے کاارادہ نہ رکھتاہو تو مذکورہ اشیاء کے لے جانے سے اسے نہ روکاجائے گا۔(ت)
پھر بھی کراہت سے خالی نہیں کہ وہ ہروقت معاذاﷲ محل نزول لعنت ہیں تو ان سے دوری بہتریہاں تك کہ علماء فرماتے ہیں ان کے محلہ میں ہو کر گزرہو تو شتابی کرتاہوا نکل جائے وہاں آہستہ چلناناپسند رکھتے ہیں تو رکنا ٹھہرنا بدرجہ اولی مکروہ۔
فی الطحطاویۃ عن ابی السعود عن الشرنبلالیۃ دارھم محل تنزل اللعنۃ فی کل وقت ولاشك انہ یکرہ الکون فی جمع یکون کذلك بل وان یمر فی امکنتھم الا ان یھرول ویسرع وقدوردت بذلك اثار الخ قلت والمراد ھھنا کراھۃ التنزیہ بدلیل مامر فی جواز طحطاوی میں ابوالسعود کے حوالہ سے شرنبلالیہ سے نقل کیاگیا ہےوہ ایسی جگہیں ہیں جہاں ہروقت لعنت برستی رہتی ہے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ جہاں ایسی مجلس اور اجتماع ہو وہاں ٹھہرنا مکروہ ہے بلکہ ان مقامات کے پاس سے گزرنا بھی مکروہ ہے الا یہ کہ دوڑتے ہوئے جلدی سے گزرجائے (اور وہاں سے نکل جائے)
اسی میں ہے:
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ و معہ فرسہ و سلاحہ وھو لایرید بیعہ منھم لم یمنع ذلك منہ ۔ جب کوئی مسلمان تجارت اور کاروبار کیلئے دار حرب میں داخل ہوناچاہے اور اس کے پاس گھوڑے اور ہتھیار ہوں اور وہ انہیں حربیوں پرفروخت کرنے کاارادہ نہ رکھتاہو تو مذکورہ اشیاء کے لے جانے سے اسے نہ روکاجائے گا۔(ت)
پھر بھی کراہت سے خالی نہیں کہ وہ ہروقت معاذاﷲ محل نزول لعنت ہیں تو ان سے دوری بہتریہاں تك کہ علماء فرماتے ہیں ان کے محلہ میں ہو کر گزرہو تو شتابی کرتاہوا نکل جائے وہاں آہستہ چلناناپسند رکھتے ہیں تو رکنا ٹھہرنا بدرجہ اولی مکروہ۔
فی الطحطاویۃ عن ابی السعود عن الشرنبلالیۃ دارھم محل تنزل اللعنۃ فی کل وقت ولاشك انہ یکرہ الکون فی جمع یکون کذلك بل وان یمر فی امکنتھم الا ان یھرول ویسرع وقدوردت بذلك اثار الخ قلت والمراد ھھنا کراھۃ التنزیہ بدلیل مامر فی جواز طحطاوی میں ابوالسعود کے حوالہ سے شرنبلالیہ سے نقل کیاگیا ہےوہ ایسی جگہیں ہیں جہاں ہروقت لعنت برستی رہتی ہے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ جہاں ایسی مجلس اور اجتماع ہو وہاں ٹھہرنا مکروہ ہے بلکہ ان مقامات کے پاس سے گزرنا بھی مکروہ ہے الا یہ کہ دوڑتے ہوئے جلدی سے گزرجائے (اور وہاں سے نکل جائے)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب السادس الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۳
فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب السادس الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۳
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار
فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب السادس الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۳
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار
دخول دارھم للتجارۃ وبدلیل ماثبت حدیثا وفقھا من جواز الذھاب الی ضیافتھم کما فی الھندیۃ وغیرھا ونقلوہ عن محرر المذھب محمد رحمہ اﷲ تعالی۔ آثار میں یہی وارد ہے الخ قلت(میں کہتاہوں کہ)یہاں مکروہ سے مکروہ تنزیہی مراد ہے اس دلیل سے جو پہلے گزرچکی ہے کہ ان کے گھروں یابستیوں میں بغرض تجارت جاناجائزہے اور اس دلیل سے بھی کہ حدیث اور فقہ سے ثابت ہے کہ ان کی دعوتوں میں جاناجائزہے جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں مندرج ہے اور اس کو ائمہ فقہ نے راقم المذہب حضرت امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے نقل کیاہے۔(ت)
پھر ہم صدرکلام میں ایما کرچکے کہ یہ جواز بھی اسی صورت میں ہے کہ اسے وہاں جانے میں کسی معصیت کاارتکاب نہ کرناپڑے مثلا جلسہ ناچ رنگ کا ہو اور اسے اس سے دور وبیگانہ موضع میں جگہ نہ ہو تو یہ جانا مستلزم معصیت ہوگا اور ہرملزوم معصیت معصیت اور جانا محض بغرض تجارت ہو نہ کہ تماشا دیکھنے کی نیت کہ اس نیت سے مطلقا ممنوع اگرچہ مجمع غیرمذہبی ہو۔
وذلك لان اعیادھم ومجامعھم لاتنفك عن القبائح الشنیعۃ والمنکرات القطعیۃ والتفرح علی الحرام حرام کما نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اس لئے کہ ان کی عیدیں اور مجلسیں بدترین قباحتوں اور رسوا کن منکرات پرمشتمل ہوتی ہیں اور حرام سے خوش ہونا بھی حرام ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں تصریح فرمائی گئی ہے۔ اﷲ تعالی پاك برتراور خوب جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۰۴: از سہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عمرجلیل ۱۶شوال ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ درزی اگر رنڈی کاکپڑا سئے تودرزی کو اس کپڑے کی مزدوری لیناچاہیے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرمائیے اور اجرپائیے۔ت)
الجواب:
وہ روپیہ جورنڈی کوزنا یا اجرت یا میل کی رشوت میں ملاہے اس سے اجرت لیناحلال نہیں ہاں اور قسم کا روپیہ ہو تو جائز جو شرعا رنڈی کی ملك ہواور اگر اس کےپاس دونوں قسم کے مال ہیں تو جب تك معلوم نہ ہو کہ یہ اجرت جو اسے دے رہی ہے اسی مال غیرمملوك سے ہے لیناجائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
پھر ہم صدرکلام میں ایما کرچکے کہ یہ جواز بھی اسی صورت میں ہے کہ اسے وہاں جانے میں کسی معصیت کاارتکاب نہ کرناپڑے مثلا جلسہ ناچ رنگ کا ہو اور اسے اس سے دور وبیگانہ موضع میں جگہ نہ ہو تو یہ جانا مستلزم معصیت ہوگا اور ہرملزوم معصیت معصیت اور جانا محض بغرض تجارت ہو نہ کہ تماشا دیکھنے کی نیت کہ اس نیت سے مطلقا ممنوع اگرچہ مجمع غیرمذہبی ہو۔
وذلك لان اعیادھم ومجامعھم لاتنفك عن القبائح الشنیعۃ والمنکرات القطعیۃ والتفرح علی الحرام حرام کما نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اس لئے کہ ان کی عیدیں اور مجلسیں بدترین قباحتوں اور رسوا کن منکرات پرمشتمل ہوتی ہیں اور حرام سے خوش ہونا بھی حرام ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں تصریح فرمائی گئی ہے۔ اﷲ تعالی پاك برتراور خوب جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۰۴: از سہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عمرجلیل ۱۶شوال ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ درزی اگر رنڈی کاکپڑا سئے تودرزی کو اس کپڑے کی مزدوری لیناچاہیے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرمائیے اور اجرپائیے۔ت)
الجواب:
وہ روپیہ جورنڈی کوزنا یا اجرت یا میل کی رشوت میں ملاہے اس سے اجرت لیناحلال نہیں ہاں اور قسم کا روپیہ ہو تو جائز جو شرعا رنڈی کی ملك ہواور اگر اس کےپاس دونوں قسم کے مال ہیں تو جب تك معلوم نہ ہو کہ یہ اجرت جو اسے دے رہی ہے اسی مال غیرمملوك سے ہے لیناجائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۳۱
مسئلہ ۲۰۵: از ویلور ضلع مدراس مرسلہ محلی الدین بادشاہ ۲۲محرم الحرام ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص انگریز کی نوکری علی الخصوص بجانے کی مثلا کسی نقارخانہ پرمامورہے یا انگریزی باجابجانا اس کے متعلق ہےشخص مذکور خوب جانتاہے کہ یہ فعل براہے لیکن چونکہ یہ نوکری آباؤاجداد کی کی ہوئی ہےعلاوہ ازیں اس نوکری پرانگریز نے مجبورکیاہےطرفہ بریں دوسری نوکری نہیں مل سکتینہ اتنی استطاعت کہ تجارت کرسکے اور نہ اتنی وسعت کہ چھوڑ سکےاور وہ باجا کسی دیو کے روبرو نہیں بجایاجاتالیکن چونکہ منجملہ لوازم سلطنت سے ہے لہذا نہیں چھوڑسکتاآیا اس مجبوری کابجاناجائزہے یانہیںبرتقدیر اول مرتکب اس فعل شنیع کاکیاہوگا بحوالہ کتب متداولہ بیان فرمائیں عنداﷲ ماجوروعندالناس مشکور ہوںفقط
الجواب:
ایسا باجابجانے کی نوکری ناجائز اور اس سے جو کچھ حاصل کیاجائے نہ صرف خبیث وناپاك بلکہ مثل مال مغصوب ہے یہاں تك کہ اس کامالك نہ ہوگانہ اسے کوئی تصرف اس میں حلالعالمگیری میں ہے:
لاتجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء والنوح والمزامیر والطبل(الی قولہ)ولا اجرفی ذلك وھذا کلہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمھم اﷲ تعالی کذا فی غایۃ البیان ۔ گانے بجانے رونے پیٹنےآلات لہو اور طبل وغیرہ بجانےکی نوکری ناجائزنہیں(صاحب فتاوی کے اس قول تک)اور نہ ان کاموں کی کوئی اجرت ہے۔ہمارے تینوں ائمہ یعنی حضرت امام اعظم ابوحنیفہقاضی ابویوسف اور امام محمد رحمہم اﷲ تعالی کا اس باب میں یہی قول ہےاور اسی طرح غایۃ البیان میں مذکورہے۔ت)
اسی میں ہے:
نقلا عن المحیط عن المنتقی عن ابراھیم عن محمد رحمہ اﷲ تعالی فی امرأۃ نائحۃ اوصاحب طبل او مزمار اکتسب مالا قال ان کان علی شرط ردہ علی محیط سے منقول ہے اس نے المنتقی سے اس نے ابراہیم سے اس نے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے نقل کیاہے ایسی رونے پیٹنے والی عورت یا طبل بجانے والے یا آلات لہو استعمال کرنے والے کے بارے میں فرمایا گیا کہ انہوں نے جومال کمایا
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص انگریز کی نوکری علی الخصوص بجانے کی مثلا کسی نقارخانہ پرمامورہے یا انگریزی باجابجانا اس کے متعلق ہےشخص مذکور خوب جانتاہے کہ یہ فعل براہے لیکن چونکہ یہ نوکری آباؤاجداد کی کی ہوئی ہےعلاوہ ازیں اس نوکری پرانگریز نے مجبورکیاہےطرفہ بریں دوسری نوکری نہیں مل سکتینہ اتنی استطاعت کہ تجارت کرسکے اور نہ اتنی وسعت کہ چھوڑ سکےاور وہ باجا کسی دیو کے روبرو نہیں بجایاجاتالیکن چونکہ منجملہ لوازم سلطنت سے ہے لہذا نہیں چھوڑسکتاآیا اس مجبوری کابجاناجائزہے یانہیںبرتقدیر اول مرتکب اس فعل شنیع کاکیاہوگا بحوالہ کتب متداولہ بیان فرمائیں عنداﷲ ماجوروعندالناس مشکور ہوںفقط
الجواب:
ایسا باجابجانے کی نوکری ناجائز اور اس سے جو کچھ حاصل کیاجائے نہ صرف خبیث وناپاك بلکہ مثل مال مغصوب ہے یہاں تك کہ اس کامالك نہ ہوگانہ اسے کوئی تصرف اس میں حلالعالمگیری میں ہے:
لاتجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء والنوح والمزامیر والطبل(الی قولہ)ولا اجرفی ذلك وھذا کلہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمھم اﷲ تعالی کذا فی غایۃ البیان ۔ گانے بجانے رونے پیٹنےآلات لہو اور طبل وغیرہ بجانےکی نوکری ناجائزنہیں(صاحب فتاوی کے اس قول تک)اور نہ ان کاموں کی کوئی اجرت ہے۔ہمارے تینوں ائمہ یعنی حضرت امام اعظم ابوحنیفہقاضی ابویوسف اور امام محمد رحمہم اﷲ تعالی کا اس باب میں یہی قول ہےاور اسی طرح غایۃ البیان میں مذکورہے۔ت)
اسی میں ہے:
نقلا عن المحیط عن المنتقی عن ابراھیم عن محمد رحمہ اﷲ تعالی فی امرأۃ نائحۃ اوصاحب طبل او مزمار اکتسب مالا قال ان کان علی شرط ردہ علی محیط سے منقول ہے اس نے المنتقی سے اس نے ابراہیم سے اس نے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے نقل کیاہے ایسی رونے پیٹنے والی عورت یا طبل بجانے والے یا آلات لہو استعمال کرنے والے کے بارے میں فرمایا گیا کہ انہوں نے جومال کمایا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاجارۃ الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۴۹
اصحابہ ان عرفھم یرید بقولہ علی شرط ان شرطوا لہا فی اولہ مالا بازاء النیاحۃ اوبازاء الغناء وھذا لانہ اا کان الاخذ علی الشرط کان المال بمقابلۃ المعصیۃ والسبیل فی المعاصی ردھا وذلك ھھنا برد الماخوذ ان تمکن من ردہ بان عرف صاحبہ وبالتصدق منہ ان لم یعرفہ لیصل الیہ نفع مالہ ان کان لایصل الیہ عین مالہ الخ۔ امام محمد کے فرمان کے مطابق وہ مال اگرصاحب مال سے علی شرط لیاگیا یعنی انہوں نے نوحہ گری یاگانے بجانے کے مال میں مال لینے کی شرط رکھی۔جب تو مال بطور شرط ہے تو گویا مال گناہ کی شرط پرلیاگیا اور گناہ کے ذریعے حاصل کردہ مال قابل واپسی ہوتاہے یعنی اس کو صاحب مال کی طرف لوٹا دیا جائے۔یہاں یہی صورت ہے اگر لیاہوا مال واپس کیا جاسکتا ہے تو واپس کردیاجائے۔اگرصاحب مال سے تعارف نہیں اور اس کاکوئی پتہ نہیں چل سکتا تو وہ مال خیرات کردیاجائے تاکہ اس مال کافائدہ مالك تك پہنچ جائے اگرچہ عین مال بظاہر اس تك نہیں پہنچتا الخ(ت)
اورباجے کی ممانعت اسی صورت میں منحصر نہیں کہ دیو کے سامنے بجایاجائے تاکہ اس کے انتفا سے انتفائے معصیت لازم آئے بلکہ یہ باجا اور دیو کے سامنے باجا جب کہ بجانے والا قصد عبادت دیو نہ کرے اصل حرمت میں برابر ہیںاور معاصی میں باپ دادا کی تقلید ذریعہ نجات نہیں ہوسکتیاور دوسراطریقہ رزق کا نہ مل سکنا محض جھوٹ ہے رزق اﷲ عزوجل کے ذمہ ہے جس نے ہوائے نفس کی پیروی کرکے طریقہ حرام اختیار کیا اسے ویسے ہی پہنچتاہے اور جس نے حرام سے اجتناب اور حلال کی طلب کی اسے رزق حلال پہنچاتے ہیںامام سفیان ثوری رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایك شخص کو نوکری حکام سے منع فرمایاکہا بال بچوں کو کیاکروںفرمایا ذراسنیو یہ شخص کہتاہے کہ میں خدا کی نافرمانی کروں جب تو میرے اہل وعیال کو رزق پہنچائے گا اور اطاعت کروں تو بے روزی چھوڑدے گا۔ امام عبدالوہاب شعرانی طبقات کبری میں زیر ترجمہ امام ممدوح فرماتے ہیں:
نصح یوما انسانا راہ فی خدمۃ الولاۃ فقال فما اصنع بعیالی فقال الا تسمعون لھذا یقول انہ اذا عصی اﷲ رزق عیالہ واذا اطاعہ ضیعھم ۔ امام سفیان ثوری نے ایك شخص کو نصیحت فرمائی جو والیوں کی خدمت میں رہتاتھااس نے کہاپھر میں بال بچوں کا کیا کروںآپ نے فرمایا کیا تم لوگ اس شخص کی بات نہیں سنتے جو یہ کہہ رہاہے کہ جب وہ
اورباجے کی ممانعت اسی صورت میں منحصر نہیں کہ دیو کے سامنے بجایاجائے تاکہ اس کے انتفا سے انتفائے معصیت لازم آئے بلکہ یہ باجا اور دیو کے سامنے باجا جب کہ بجانے والا قصد عبادت دیو نہ کرے اصل حرمت میں برابر ہیںاور معاصی میں باپ دادا کی تقلید ذریعہ نجات نہیں ہوسکتیاور دوسراطریقہ رزق کا نہ مل سکنا محض جھوٹ ہے رزق اﷲ عزوجل کے ذمہ ہے جس نے ہوائے نفس کی پیروی کرکے طریقہ حرام اختیار کیا اسے ویسے ہی پہنچتاہے اور جس نے حرام سے اجتناب اور حلال کی طلب کی اسے رزق حلال پہنچاتے ہیںامام سفیان ثوری رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایك شخص کو نوکری حکام سے منع فرمایاکہا بال بچوں کو کیاکروںفرمایا ذراسنیو یہ شخص کہتاہے کہ میں خدا کی نافرمانی کروں جب تو میرے اہل وعیال کو رزق پہنچائے گا اور اطاعت کروں تو بے روزی چھوڑدے گا۔ امام عبدالوہاب شعرانی طبقات کبری میں زیر ترجمہ امام ممدوح فرماتے ہیں:
نصح یوما انسانا راہ فی خدمۃ الولاۃ فقال فما اصنع بعیالی فقال الا تسمعون لھذا یقول انہ اذا عصی اﷲ رزق عیالہ واذا اطاعہ ضیعھم ۔ امام سفیان ثوری نے ایك شخص کو نصیحت فرمائی جو والیوں کی خدمت میں رہتاتھااس نے کہاپھر میں بال بچوں کا کیا کروںآپ نے فرمایا کیا تم لوگ اس شخص کی بات نہیں سنتے جو یہ کہہ رہاہے کہ جب وہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر فی الکسب نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹
لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ترجمہ سفیان بن سعید الثوری ۹۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۷۲
لواقح الانوار فی طبقات الاخیار ترجمہ سفیان بن سعید الثوری ۹۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۷۲
اﷲ تعالی کی نافرمانی کرے تو اﷲ تعالی اس کے بال بچوں کو روزی دے گا اور اگر وہ اس کی اطاعت کرے تو وہ اس کے بال بچوں کو ضائع کردے گا۔(ت)
بلکہ اس بارے میں ایك حدیث بھی مروی کہ عمروبن قرہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی یارسول اﷲ! میں بہت تنگ حال رہتاہوں اس حیلہ کے سوا دوسری صورت سے مجھے رزق ملتامعلوم نہیں ہوتا مجھے ایسے گانے کی اجازت فرمادیجئے جس میں کوئی امر خلاف حیانہیںفرمایا اصلا کسی طرح اجازت نہیں اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے حلال روزی تلاش کر کہ یہ بھی راہ خدا میں جہاد ہے اور جان لے کہ اﷲ تعالی کی مدد نیك تاجروں کے ساتھ ہے۔
اخرج عبدالرزاق فی مصنفہ عن یحیی بن العلاء عن بشیر بن نمیر عن مکحول ثنا یزید بن عبد ربہ عن صفوان بن امیۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال کنا عند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فجاء ہ عمر وبن قرۃ فقال یارسول اﷲ ان اﷲ قد کتب علی الشقوۃ وما ارا فی ارزق الا من دفی بکفی فاذن لی بالغناء من غیرفاحشۃ فقال لا اذن لك ولاکرامۃ و لانعمۃ ابتغ علی نفسلك وعیالك حلالا فان ذلك جہاد فی سبیل اﷲ واعلم ان عون اﷲ تعالی مع صالحی التجار ھکذا اخرجہ فی معرفۃ الصحابۃ من طریق الحسن بن الربیع عن عبدالرزاق ذکرہ الحافظ فی الاصابۃ ۔ محدث عبدالرزاق نے اپنے مصنف میں تخریج فرمائی یحیی بن علا کے حوالے سے اس نے بشربن نمیر اس نے مکحول سے اس نے فرمایا ہم سے فرمایا یزید بن عبدربہ نے اس نے صفوان بن امیہ کے حوالے سے(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو) اس نے کہا ہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضرتھے کہ عمروبن قرہ آئے اور عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ علیك وسلم! بیشك اﷲ تعالی نے مجھ پر تنگ دستی لکھ دی اور میں نہیں سمجھتا کہ مجھے رزق دیاجائے گا مگرمیرے دف بجانے سے جو میری ہتھیلی میں ہے لہذا مجھے ایسے گانے کی اجازت دیں جو فحش نہ ہو۔آپ نے فرمایا تمہیں قطعا اجازت نہیں اس عمل میں کوئی شرافت اور فائدہ نہیں لہذا اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے حلال روزی تلاش کرو کیونکہ حلال روزی کی تلاش بھی اﷲ تعالی کی راہ میں(ایك گونہ)جہاد ہےاور جان لو کہ
بلکہ اس بارے میں ایك حدیث بھی مروی کہ عمروبن قرہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی یارسول اﷲ! میں بہت تنگ حال رہتاہوں اس حیلہ کے سوا دوسری صورت سے مجھے رزق ملتامعلوم نہیں ہوتا مجھے ایسے گانے کی اجازت فرمادیجئے جس میں کوئی امر خلاف حیانہیںفرمایا اصلا کسی طرح اجازت نہیں اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے حلال روزی تلاش کر کہ یہ بھی راہ خدا میں جہاد ہے اور جان لے کہ اﷲ تعالی کی مدد نیك تاجروں کے ساتھ ہے۔
اخرج عبدالرزاق فی مصنفہ عن یحیی بن العلاء عن بشیر بن نمیر عن مکحول ثنا یزید بن عبد ربہ عن صفوان بن امیۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال کنا عند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فجاء ہ عمر وبن قرۃ فقال یارسول اﷲ ان اﷲ قد کتب علی الشقوۃ وما ارا فی ارزق الا من دفی بکفی فاذن لی بالغناء من غیرفاحشۃ فقال لا اذن لك ولاکرامۃ و لانعمۃ ابتغ علی نفسلك وعیالك حلالا فان ذلك جہاد فی سبیل اﷲ واعلم ان عون اﷲ تعالی مع صالحی التجار ھکذا اخرجہ فی معرفۃ الصحابۃ من طریق الحسن بن الربیع عن عبدالرزاق ذکرہ الحافظ فی الاصابۃ ۔ محدث عبدالرزاق نے اپنے مصنف میں تخریج فرمائی یحیی بن علا کے حوالے سے اس نے بشربن نمیر اس نے مکحول سے اس نے فرمایا ہم سے فرمایا یزید بن عبدربہ نے اس نے صفوان بن امیہ کے حوالے سے(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو) اس نے کہا ہم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضرتھے کہ عمروبن قرہ آئے اور عرض کی یارسول اﷲ صلی اﷲ علیك وسلم! بیشك اﷲ تعالی نے مجھ پر تنگ دستی لکھ دی اور میں نہیں سمجھتا کہ مجھے رزق دیاجائے گا مگرمیرے دف بجانے سے جو میری ہتھیلی میں ہے لہذا مجھے ایسے گانے کی اجازت دیں جو فحش نہ ہو۔آپ نے فرمایا تمہیں قطعا اجازت نہیں اس عمل میں کوئی شرافت اور فائدہ نہیں لہذا اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے حلال روزی تلاش کرو کیونکہ حلال روزی کی تلاش بھی اﷲ تعالی کی راہ میں(ایك گونہ)جہاد ہےاور جان لو کہ
حوالہ / References
الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ ترجمہ ۵۹۴۲ عمروبن قرۃ دارصادربیروت ۳ /۱۱
اﷲ تعالی کی مدد نیك تاجروں کے ساتھ ہے۔یونہی اس کی تخریج فرمائی معرفۃ الصحابۃ میں حسن بن ابی الربیع کے طریقہ سے بحوالہ عبدالرزاق۔ حافظ نے اس کو الاصابہ میں ذکرکیا ہے۔(ت)
حدیث حسن میں ہے حضورپرنورصلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلی آلہ فرماتے ہیں:
طلب الحلال واجب علی کل مسلماخرجہ الطبرانی فی الاوسط عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ رزق حلال کی طلب ہرمسلمان پرواجب ہے(امام طبرانی نے اس کو الاوسط میں حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کی سند سے روایت کیاہے۔ت)
یونہی جبرا انگریزی کاعذر بھی اظہار غلط ہے انگریز کسی کی نوکری پراکراہ نہیں کرتےغرض یہ جھوٹے حیلے حوالے اﷲ عزوجل کے حضور کام نہ دیں گےملك جبار قہار سے ڈرے اور حرام سے تائب ہوکر ذریعہ حلال سے حاصل کرےرزق الہی کے ہزاروں دروازے کھلے ہیں آخر باجا بجانا بھی سیکھنے ہی سے آیا ماں کے پیٹ سے لے کر تونکلا ہی نہ تھااور کچھ نہ ہو تو بیس قسم کی مزدوریاں کرسکتاہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:خدا کی قسم آدمی رسی لے کر پہاڑ کوجائے لکڑیاں چنے ان کا گٹھا اپنی پیٹھ پرلاد کرلائے اسے بیچ کر کھائے تو یہ اس سے بہترہے کہ لوگوں سے سوال کرے اور منہ میں خاك بھرلینا حرام نوالہ سے بہترہے۔
الامام احمد بسند جید عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لأن یاخذ احدکم حبلہ فیذھب بہ الی الجبل فیحتطب ثم یاتی بہ فیحملہ علی ظھرہ فیبیعہ فیاکل خیر لہ من ان یسأل الناس و لأن یاخذ ترابا فیجعلہ فی فیہ خیر لہ من ان یجعل فی امام احمد نے اپنی مسند میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر پہاڑ کی طرف جائے پھر لکڑیاں اکٹھی کرے اور ان کا گٹھا بناکر اپنی پیٹھ پر
حدیث حسن میں ہے حضورپرنورصلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلی آلہ فرماتے ہیں:
طلب الحلال واجب علی کل مسلماخرجہ الطبرانی فی الاوسط عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ رزق حلال کی طلب ہرمسلمان پرواجب ہے(امام طبرانی نے اس کو الاوسط میں حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کی سند سے روایت کیاہے۔ت)
یونہی جبرا انگریزی کاعذر بھی اظہار غلط ہے انگریز کسی کی نوکری پراکراہ نہیں کرتےغرض یہ جھوٹے حیلے حوالے اﷲ عزوجل کے حضور کام نہ دیں گےملك جبار قہار سے ڈرے اور حرام سے تائب ہوکر ذریعہ حلال سے حاصل کرےرزق الہی کے ہزاروں دروازے کھلے ہیں آخر باجا بجانا بھی سیکھنے ہی سے آیا ماں کے پیٹ سے لے کر تونکلا ہی نہ تھااور کچھ نہ ہو تو بیس قسم کی مزدوریاں کرسکتاہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:خدا کی قسم آدمی رسی لے کر پہاڑ کوجائے لکڑیاں چنے ان کا گٹھا اپنی پیٹھ پرلاد کرلائے اسے بیچ کر کھائے تو یہ اس سے بہترہے کہ لوگوں سے سوال کرے اور منہ میں خاك بھرلینا حرام نوالہ سے بہترہے۔
الامام احمد بسند جید عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لأن یاخذ احدکم حبلہ فیذھب بہ الی الجبل فیحتطب ثم یاتی بہ فیحملہ علی ظھرہ فیبیعہ فیاکل خیر لہ من ان یسأل الناس و لأن یاخذ ترابا فیجعلہ فی فیہ خیر لہ من ان یجعل فی امام احمد نے اپنی مسند میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر پہاڑ کی طرف جائے پھر لکڑیاں اکٹھی کرے اور ان کا گٹھا بناکر اپنی پیٹھ پر
حوالہ / References
المعجم الاوسط حدیث ۸۶۰۵ مکتبۃالمعارف ریاض ۹ /۲۷۸
فیہ ماحرم اﷲ علیہ ۔ لاد کر بازار میں لے جائے اور انہیں فروخت کرکے قیمت وصول کردہ سے اپنے کھانے پینے کا بندوبست کرے تو یہ اس کے لئے بھیك مانگنے سے بدرجہا بہترہےاور یہ کہ مٹی لے کر اپنا منہ بھرلے تو اس کے لئے اس سے بہترہے کہ جس چیز کو اﷲ تعالی نے حرام کیاہے اسے اپنے منہ میں ڈالے۔(ت)
احادیث اس باب میں بکثرت ہیںاﷲ عزوجل مسلمانوں کو نیك توفیق وہدایت بخشےآمین۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۶: ۲۰ربیع الآخر ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص نے اپنی معاش علانیہ قماربازی اورزناکاری کے ذریعہ سے کررکھی ہے اور کوئی ذریعہ اس کے یہاں آمدنی کا مطلق نہیں ہے اس کے مال میں سے نذرونیاز کے کھانے کاکھانا جس کو اس کی آمدنی کا حال معلومکیساہے فاتحہ دینے والے کو اس کے مال کی کیفیت معلوم ہے اس کے واسطے کیاحکم ہے بینواتوجروا
الجواب:
اگرجوچیز اس نے حرام کاری یا قمار بازی سے حاصل کی بعینہ اسی شے پر نیاز دلائی مثلا جوئے میں چاول جیتے تھے انہیں کا پلاؤ پکایازانیہ کو اس کے آشنا نے گوشت بھیجا اسی پر فاتحہ دلائی جب تو وہ نیاز وفاتحہ یقینی مردود اور اس کھانا قطعی حراماور فاتحہ دینے والے کو اگر معلوم تھا کہ بعینہ یہ وہی شے ہے تو وہ بھی سخت عظیم شدید گناہ میں گرفتاریہاں تك کہ فاتحہ دینے دلانے والے دونوں پر معاذاﷲ خوف کفر ہے دونوں پرلازم کہ کلمہ اسلام نئے سرے سے پڑھیں اور نکاح کی تجدید کریں۔
فی الھندیۃ عن المحیط ولوتصدق علی فقیر بشیئ من مال الحرام ویرجوا الثواب یکفر فتاوی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے مذکور ہے اگر کسی محتاج پر حرام مال میں سے کچھ خیرات کی جائے
احادیث اس باب میں بکثرت ہیںاﷲ عزوجل مسلمانوں کو نیك توفیق وہدایت بخشےآمین۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۶: ۲۰ربیع الآخر ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص نے اپنی معاش علانیہ قماربازی اورزناکاری کے ذریعہ سے کررکھی ہے اور کوئی ذریعہ اس کے یہاں آمدنی کا مطلق نہیں ہے اس کے مال میں سے نذرونیاز کے کھانے کاکھانا جس کو اس کی آمدنی کا حال معلومکیساہے فاتحہ دینے والے کو اس کے مال کی کیفیت معلوم ہے اس کے واسطے کیاحکم ہے بینواتوجروا
الجواب:
اگرجوچیز اس نے حرام کاری یا قمار بازی سے حاصل کی بعینہ اسی شے پر نیاز دلائی مثلا جوئے میں چاول جیتے تھے انہیں کا پلاؤ پکایازانیہ کو اس کے آشنا نے گوشت بھیجا اسی پر فاتحہ دلائی جب تو وہ نیاز وفاتحہ یقینی مردود اور اس کھانا قطعی حراماور فاتحہ دینے والے کو اگر معلوم تھا کہ بعینہ یہ وہی شے ہے تو وہ بھی سخت عظیم شدید گناہ میں گرفتاریہاں تك کہ فاتحہ دینے دلانے والے دونوں پر معاذاﷲ خوف کفر ہے دونوں پرلازم کہ کلمہ اسلام نئے سرے سے پڑھیں اور نکاح کی تجدید کریں۔
فی الھندیۃ عن المحیط ولوتصدق علی فقیر بشیئ من مال الحرام ویرجوا الثواب یکفر فتاوی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے مذکور ہے اگر کسی محتاج پر حرام مال میں سے کچھ خیرات کی جائے
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۵۷
ولو علم الفقیر بذلك فدعا لہ وامن المعطی فقد کفرا ۔ اور ثواب کی امید رکھے تو کافرہوجائے گا۔اگر فقیرومحتاج کو یہ بات معلوم ہو کہ وہ مال حرام دے رہاہے اور اس کے باوجود وہ اسے دعادے اور وہ آمین کہے تو دونوں کافر ہوجائیں گے۔(ت)
اور اگر وہ چیز بعینہ بذریعہ حرام حاصل نہ ہوئی تھی بلکہ ثمن حرام سے خریدی تو دوصورتیں ہیںاگر حرام روپیہ دکھاکر کہا اس کے بدلے یہ شے دے دےبائع نے دے دیاس نے وہی زر حرام ثمن دے دیا تو اس صورت میں بھی جو کچھ خریدا مال حرام وخبیث ہی ہے اس پر نہ نیاز ہوسکے نہ فاتحہاس وقت میں اس پر فاتحہ دینا دلانا برا تو ہے مگراندیشہ کفر سے دوری ہے
لاختلاف العلماء فمنھم من قال یحل الابدال مطلقا کما فی الدرر وغیرہ من الاسفار الغر۔ علماء کا اس سلسلے میں اختلاف ہےان میں سے بعض فرماتے ہین کہ"بدل"مطلقا حلال ہے جیسا کہ الدرر وغیرہ بڑیف واضح کتب میں مذکور ہے۔(ت)
اور اگر یہ صورت بھی نہ تھی بلکہ بغیرزرحرام دکھائے یونہی کہا کہ یہ شے مثلا ایك روپیہ کی دے دے اس نے دے دی اس نے حرام روپیہ ثمن میں دے دیا یا دکھایاتو زرحرام کہ اس کے عوض دے دے جب اس نے دی اس نے وہ روپیہ رکھ لیا اور کوئی حلال ذریعہ کاروپیہ ثمن میں دیا تو اب جو کچھ خریدا مذہب مفتی بہ پر حرام نہیں اس پر نیاز وفاتحہ جائزہے اور اس کاکھانا بھی حرام نہیں۔
فی التنویر تصدق لوتصرف بالشراء بدراھم الودیعۃ والغصب ونقدھا وان اشار الیھا ونقد غیرھا او اطلق ونقدھا لاوبہ یفتی اھ ملخصا۔ تنویر میں ہے صدقہ کردےاگرامانت یا غصب شدہ دراہم میں خریداری کے وقت تصرف کیا کہ دراہم کی طرف اشارہ کرتے وقت وہی نقدی دکھائی مگر دیتے وقت ان کی بجائے حلال دراہم دیے یا اطلاق کیا(یعنی حرام درہم دکھائے بغیر کہہ دی اکہ یہ چیز ایك درہم وغیرہ میں دے دےاس نے دے دی)پھر اس کے
اور اگر وہ چیز بعینہ بذریعہ حرام حاصل نہ ہوئی تھی بلکہ ثمن حرام سے خریدی تو دوصورتیں ہیںاگر حرام روپیہ دکھاکر کہا اس کے بدلے یہ شے دے دےبائع نے دے دیاس نے وہی زر حرام ثمن دے دیا تو اس صورت میں بھی جو کچھ خریدا مال حرام وخبیث ہی ہے اس پر نہ نیاز ہوسکے نہ فاتحہاس وقت میں اس پر فاتحہ دینا دلانا برا تو ہے مگراندیشہ کفر سے دوری ہے
لاختلاف العلماء فمنھم من قال یحل الابدال مطلقا کما فی الدرر وغیرہ من الاسفار الغر۔ علماء کا اس سلسلے میں اختلاف ہےان میں سے بعض فرماتے ہین کہ"بدل"مطلقا حلال ہے جیسا کہ الدرر وغیرہ بڑیف واضح کتب میں مذکور ہے۔(ت)
اور اگر یہ صورت بھی نہ تھی بلکہ بغیرزرحرام دکھائے یونہی کہا کہ یہ شے مثلا ایك روپیہ کی دے دے اس نے دے دی اس نے حرام روپیہ ثمن میں دے دیا یا دکھایاتو زرحرام کہ اس کے عوض دے دے جب اس نے دی اس نے وہ روپیہ رکھ لیا اور کوئی حلال ذریعہ کاروپیہ ثمن میں دیا تو اب جو کچھ خریدا مذہب مفتی بہ پر حرام نہیں اس پر نیاز وفاتحہ جائزہے اور اس کاکھانا بھی حرام نہیں۔
فی التنویر تصدق لوتصرف بالشراء بدراھم الودیعۃ والغصب ونقدھا وان اشار الیھا ونقد غیرھا او اطلق ونقدھا لاوبہ یفتی اھ ملخصا۔ تنویر میں ہے صدقہ کردےاگرامانت یا غصب شدہ دراہم میں خریداری کے وقت تصرف کیا کہ دراہم کی طرف اشارہ کرتے وقت وہی نقدی دکھائی مگر دیتے وقت ان کی بجائے حلال دراہم دیے یا اطلاق کیا(یعنی حرام درہم دکھائے بغیر کہہ دی اکہ یہ چیز ایك درہم وغیرہ میں دے دےاس نے دے دی)پھر اس کے
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۷۲
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۶،۲۰۵
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۶،۲۰۵
عوض وہی حرام نقدی دے ڈالی تو ان دونوں صورتوں میں حرمت نہیں اور اسی قول پر فتوی دیاجاتاہے تلخیص پوری ہوگئی۔(ت)
پھر بھی اس سے احتراز بہتر
لمحل خلاف العلماء فقد قال فی الدر المختارانہ لایحل مطلقا کذا فی الملتقی وللمتوقی عن التھم والزجر علی المرتکب واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کیونکہ یہ صورت علماء کے اختلاف کامحل ہےچنانچہ درمختار میں فرمایا گیا کہ پسندیدہ قول یہ ہے کہ مطلقا حلال نہیں یونہی "الملتقی"میں ہےاور اس لئے یہ بات ہے تاکہ آدمی تہمت اور ارتکاب جرم کی سرزنش سے بچ جائے۔اوراﷲ تعالی سب سے زیادہ علم والا ہے اور اس کا علم جس کی عزت وعظمت بڑی ہے سب سے زیادہ اور نہایت درجہ پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ۲۰۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ:
(۱)ڈاك کی نوکری جائزہے یانہیں
(۲)انگریزی پڑھنا جائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)ڈپٹی پوسٹ ماسٹری تك جائزہےواﷲ تعالی اعلم
(۲)ذی علم مسلمان اگر بہ نیت رد نصاری انگریزی پڑھے اجرپائے گا اور دنیا کے لئے صرف زبان سیکھنے یاحساب اقلیدس جغرافیہ جائزعلم پڑھنے میں حرج نہیں بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہوکر اپنے دین وعلم سے غافل نہ ہوجائے ورنہ جو چیز اپنا دین وعلم بقدر فرض سیکھنے میں مانع آئے حرام ہے اس طرح وہ کتابیں جن میں نصاری کے عقائد باطلہ مثل انکار وجود آسمان وغیرہ درج ہیں ان کا پڑھنا بھی روانہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے بحالت صحت نفس وثبات عقل اپنے
پھر بھی اس سے احتراز بہتر
لمحل خلاف العلماء فقد قال فی الدر المختارانہ لایحل مطلقا کذا فی الملتقی وللمتوقی عن التھم والزجر علی المرتکب واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کیونکہ یہ صورت علماء کے اختلاف کامحل ہےچنانچہ درمختار میں فرمایا گیا کہ پسندیدہ قول یہ ہے کہ مطلقا حلال نہیں یونہی "الملتقی"میں ہےاور اس لئے یہ بات ہے تاکہ آدمی تہمت اور ارتکاب جرم کی سرزنش سے بچ جائے۔اوراﷲ تعالی سب سے زیادہ علم والا ہے اور اس کا علم جس کی عزت وعظمت بڑی ہے سب سے زیادہ اور نہایت درجہ پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ۲۰۷:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ:
(۱)ڈاك کی نوکری جائزہے یانہیں
(۲)انگریزی پڑھنا جائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)ڈپٹی پوسٹ ماسٹری تك جائزہےواﷲ تعالی اعلم
(۲)ذی علم مسلمان اگر بہ نیت رد نصاری انگریزی پڑھے اجرپائے گا اور دنیا کے لئے صرف زبان سیکھنے یاحساب اقلیدس جغرافیہ جائزعلم پڑھنے میں حرج نہیں بشرطیکہ ہمہ تن اس میں مصروف ہوکر اپنے دین وعلم سے غافل نہ ہوجائے ورنہ جو چیز اپنا دین وعلم بقدر فرض سیکھنے میں مانع آئے حرام ہے اس طرح وہ کتابیں جن میں نصاری کے عقائد باطلہ مثل انکار وجود آسمان وغیرہ درج ہیں ان کا پڑھنا بھی روانہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے بحالت صحت نفس وثبات عقل اپنے
حوالہ / References
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۶
ایك وارث کے ہاتھ ایك مکان بیع کیا اور کچھ زر نقد بطور ہبہ اس کو دیا کہ اس نے اس سے ایك حقیت خریدیبعد ایك عرصہ کے مورث فوت ہوااب اس کے اور وارثوں کا بھی اس مکان یا زر نقدمیں کچھ حق ہے یانہیں اور وہ بیع وہبہ جائز ٹھہر سکتے ہیں یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
صورت مسئول میں جبکہ وہ بیع وہبہ بحالت ثبات عقل وعدم مرض موت تھی تو ان کے جواز ونفاذ وصحت تمام میں کوئی شبہہ نہیں اب ہرگز ہرگز کسی وارث کا اس مکان یا زر نقد میں کوئی حق نہیں درمختارمیں ہے:
لووھب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم ۔ اگر کوئی شخص اپنی صحت وتندرستی میں اپنا سارا مال اپنے بیٹے کو ہبہ کردے تو جائز ہے مگر وہ گناہگار ہوگا۔(ت)
اور سائل کہ ان بیع وہبہ کے جواز وعدم جواز سے پوچھتاہے اگر اس کا مقصود صحت وعدم صحت عقد ہے جب تو معلوم ہوگیا کہ قطعا دونوں عقد صحیح ہیںاور اگر حلت وحرمت سے سوال کرتاہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بحالت صحت وارث کے ہاتھ قیمت مناسب کو بیع کرنے میں تو ہرگز کوئی کراہت نہیں ہاں تنہا ایك وارث کو کوئی چیز بخش دینا کہ اوروں کے ساتھ اس قسم کی رعایت نہ کرے مکروہ ہے حدیث میں اس کو ظلم فرمایا
حیث قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتشھدنی علی جور ۔ چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ظلم و زیادتی پرگواہ نہ بناؤ۔(ت)
لیکن اس کراہت وممانعت سے اس بیع یاہبہ میں کوئی حرج نہیں آتا کالبیع عند اذان الجمعۃ(جیسے اذان جمعہ کے وقت خریدو فروخت کرنا۔ت)اور یہ کراہت بھی اس وقت ہے جب سب اولاد برابرہوں اور بجہت دین آپس میں تفاوت نہ رکھتے ہوں ورنہ اگر مثلا ایك بیٹا یا بیٹی علم یاتقوی میں اوروں سے زائد یا یہ موہوب لہ تحصیل علم میں مشغول ہے کہ کسب مال کی فرصت نہیں رکھتا تو ایسے شخص کو سب سے زیادہ دینا کوئی حرج نہیں۔فتاوی قاضی خاں
الجواب:
صورت مسئول میں جبکہ وہ بیع وہبہ بحالت ثبات عقل وعدم مرض موت تھی تو ان کے جواز ونفاذ وصحت تمام میں کوئی شبہہ نہیں اب ہرگز ہرگز کسی وارث کا اس مکان یا زر نقد میں کوئی حق نہیں درمختارمیں ہے:
لووھب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم ۔ اگر کوئی شخص اپنی صحت وتندرستی میں اپنا سارا مال اپنے بیٹے کو ہبہ کردے تو جائز ہے مگر وہ گناہگار ہوگا۔(ت)
اور سائل کہ ان بیع وہبہ کے جواز وعدم جواز سے پوچھتاہے اگر اس کا مقصود صحت وعدم صحت عقد ہے جب تو معلوم ہوگیا کہ قطعا دونوں عقد صحیح ہیںاور اگر حلت وحرمت سے سوال کرتاہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بحالت صحت وارث کے ہاتھ قیمت مناسب کو بیع کرنے میں تو ہرگز کوئی کراہت نہیں ہاں تنہا ایك وارث کو کوئی چیز بخش دینا کہ اوروں کے ساتھ اس قسم کی رعایت نہ کرے مکروہ ہے حدیث میں اس کو ظلم فرمایا
حیث قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتشھدنی علی جور ۔ چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ظلم و زیادتی پرگواہ نہ بناؤ۔(ت)
لیکن اس کراہت وممانعت سے اس بیع یاہبہ میں کوئی حرج نہیں آتا کالبیع عند اذان الجمعۃ(جیسے اذان جمعہ کے وقت خریدو فروخت کرنا۔ت)اور یہ کراہت بھی اس وقت ہے جب سب اولاد برابرہوں اور بجہت دین آپس میں تفاوت نہ رکھتے ہوں ورنہ اگر مثلا ایك بیٹا یا بیٹی علم یاتقوی میں اوروں سے زائد یا یہ موہوب لہ تحصیل علم میں مشغول ہے کہ کسب مال کی فرصت نہیں رکھتا تو ایسے شخص کو سب سے زیادہ دینا کوئی حرج نہیں۔فتاوی قاضی خاں
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰
صحیح مسلم کتاب الھبات باب کراھۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۷
صحیح مسلم کتاب الھبات باب کراھۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۷
میں ہے:
روی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ لاباس بہ اذاکان التفضیل لزیادۃ فضل فی الدین فان کانا سواء یکرہ ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے(کہ اولاد میں سےکسی ایك کو ہبہ کرنے میں)کچھ حرج نہیں جبکہ اس دوسری اولاد میں ترجیح وتفضیل دینا دینی فضل وشرف کی وجہ سے ہو لیکن اگر سب برابر ہوں تو پھر ترجیح مکروہ ہے۔ (ت)
عالمگیری میں ہے:
لوکان الولد مشتغلا بالعلم لابالکسب فلاباس بان یفضلہ علی غیرہ کذا فی الملتقط ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اگر بیٹا حصول علم میں مشغول ہو نہ کہ دنیوی کمائی میں تو ایسے بیٹے کو دوسری اولاد پر ترجیح وتفضیل دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ملتقط میں اسی طرح مذکور ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۱۰: از ملك بنگالہ شہر نصیرآباد قصبہ لاما پڑا مرسلہ محمد علیم الدین صاحب ۵جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ باپ نے سود وغیرہ حرام مال چھوڑ کر انتقال کیا اب وہ مال لڑکے کے واسطے حلال ہوگا یانہیںلڑکا حرام خوری میں ناراض تھا۔
الجواب:
جس جس شخص کی نسبت معلوم ہو کہ فلاں سے اتنا مال سود یا رشوت یاغصب یا چوری میں اس کے باپ نے لیاتھا اس پر فرض ہے کہ ترکہ سے اتنا اتنا مال ان لوگوں یا ان کے وارثوں کو واپس دے اگرچہ وہ مال بعینہ جدا نہ معلوم ہو جو ان ناجائز طریقوں سے لیااور جس مال کی نسبت بعینہ معلوم ہو کہ یہ خاص وہی مال حرام ہے تو فرض ہے کہ اسے مال غیر وغصب سمجھے اگرچہ وہ لوگ معلوم نہ ہوں جن سے لیاتھا پھر بحالت علم ان مستحقوں یا ان کے وارثوں کو دے ورنہ ان کی نیت سے فقراء پر تصدق کرےاور اگر اجمالا صرف اتنا معلوم ہو کہ ترکہ میں مال حرام بھی ملاہے مگر نہ مال متمیز نہ مستحق معلوم
روی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ لاباس بہ اذاکان التفضیل لزیادۃ فضل فی الدین فان کانا سواء یکرہ ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے(کہ اولاد میں سےکسی ایك کو ہبہ کرنے میں)کچھ حرج نہیں جبکہ اس دوسری اولاد میں ترجیح وتفضیل دینا دینی فضل وشرف کی وجہ سے ہو لیکن اگر سب برابر ہوں تو پھر ترجیح مکروہ ہے۔ (ت)
عالمگیری میں ہے:
لوکان الولد مشتغلا بالعلم لابالکسب فلاباس بان یفضلہ علی غیرہ کذا فی الملتقط ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اگر بیٹا حصول علم میں مشغول ہو نہ کہ دنیوی کمائی میں تو ایسے بیٹے کو دوسری اولاد پر ترجیح وتفضیل دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ملتقط میں اسی طرح مذکور ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۱۰: از ملك بنگالہ شہر نصیرآباد قصبہ لاما پڑا مرسلہ محمد علیم الدین صاحب ۵جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ باپ نے سود وغیرہ حرام مال چھوڑ کر انتقال کیا اب وہ مال لڑکے کے واسطے حلال ہوگا یانہیںلڑکا حرام خوری میں ناراض تھا۔
الجواب:
جس جس شخص کی نسبت معلوم ہو کہ فلاں سے اتنا مال سود یا رشوت یاغصب یا چوری میں اس کے باپ نے لیاتھا اس پر فرض ہے کہ ترکہ سے اتنا اتنا مال ان لوگوں یا ان کے وارثوں کو واپس دے اگرچہ وہ مال بعینہ جدا نہ معلوم ہو جو ان ناجائز طریقوں سے لیااور جس مال کی نسبت بعینہ معلوم ہو کہ یہ خاص وہی مال حرام ہے تو فرض ہے کہ اسے مال غیر وغصب سمجھے اگرچہ وہ لوگ معلوم نہ ہوں جن سے لیاتھا پھر بحالت علم ان مستحقوں یا ان کے وارثوں کو دے ورنہ ان کی نیت سے فقراء پر تصدق کرےاور اگر اجمالا صرف اتنا معلوم ہو کہ ترکہ میں مال حرام بھی ملاہے مگر نہ مال متمیز نہ مستحق معلوم
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الھبۃ فصل فی ہبۃ الوالد نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۰۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الھبۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۹۱
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الھبۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۹۱
تو دیانۃ افضل احتراز اور حکم جواز۔
فی ردالمحتاراذا علم ان کسب مورثہ حرام یحل لہ لکن اذا علم المالك بعینہ فلاشك فی حرمتہ و وجوب ردہ علیہ وکذا لایحل اذا علم عین الغصب مثلا وان لم یعلم مابلکہ والحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ و ان کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولایعلم اربابہ ولاشیئا منہ بعینہ حل لہ حکما والاحسن دیانۃ التنزہ عنہ اھ ملخصاقلت وھذا اعنی الحکم باولویۃ التنزہ دیانۃ ھوالمطابق لما فی عامۃ المعتمدات کالخانیۃ والتبیین والھندیۃ وغیرھا وھھنا ابحاث نفیسۃ ذکرناھا فیما علقنا علی ردالمحتارواﷲ تعالی اعلم۔ ردالمحتار میں ہے جب اسے معلوم ہو کہ مورث کی کمائی حرام ہے تو عدم تعین کی وجہ سے اس کے لئے حلال ہے لیکن جب مالك معین معلوم ہو تو پھر مال کی حرمت میں کوئی شك نہیں لہذا مال اس کے مالك کو واپس کردینا ضروری ہے۔اسی طرح جب عین غصب یعنی بعینہ کوئی شے مغصوب ہو تو اس کا استعمال حلال نہیں اگرچہ مال کا مالك معلوم نہ ہو۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر مالکان مال معلوم ہوں تو انہیں مال واپس کرنا ضروری ہے لیکن اگر ارباب مال کو نہیں جانتا اور معین شے کے حرام ہونے کا علم رکھتاہے تو اس صورت میں بھی وہ معین حرام مال اس کے لئے جائزنہیں لہذا اس کے مالك کی طرف سے صدقہ کردےاور اگر مال مخلوط حرام طریقے سے جمع کیاگیا اور یہ اس کے مالکوں کو نہیں جانتا اور نہ کسی معین شے کے حرام ہونے کا علم رکھتاہے تو ایسی صورت میں یہمال قضاکے طور پر اس کے لئے حلال ہے لیکن دیانت وتقوی کے لحاظ سے زیادہ بہتری پرہیز میں ہے اھ ملخصامیں کہتاہوں کہ لفظ ھذا سے میری مراد یہ ہے کہ بطور دیانت اس مال سے بچنے کاحکم دینا عام معتبر کتابوں کے مطابق ہے جیسے خانیہتبیین اورہندیہ وغیرہ۔یہاں چند قیمتی ابحاث ہیں۔ چنانچہ فتاوی شامی پرجوہماری تعلیقات ہیں ہم نے وہاں انہیں بیان کیاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
فی ردالمحتاراذا علم ان کسب مورثہ حرام یحل لہ لکن اذا علم المالك بعینہ فلاشك فی حرمتہ و وجوب ردہ علیہ وکذا لایحل اذا علم عین الغصب مثلا وان لم یعلم مابلکہ والحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ و ان کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولایعلم اربابہ ولاشیئا منہ بعینہ حل لہ حکما والاحسن دیانۃ التنزہ عنہ اھ ملخصاقلت وھذا اعنی الحکم باولویۃ التنزہ دیانۃ ھوالمطابق لما فی عامۃ المعتمدات کالخانیۃ والتبیین والھندیۃ وغیرھا وھھنا ابحاث نفیسۃ ذکرناھا فیما علقنا علی ردالمحتارواﷲ تعالی اعلم۔ ردالمحتار میں ہے جب اسے معلوم ہو کہ مورث کی کمائی حرام ہے تو عدم تعین کی وجہ سے اس کے لئے حلال ہے لیکن جب مالك معین معلوم ہو تو پھر مال کی حرمت میں کوئی شك نہیں لہذا مال اس کے مالك کو واپس کردینا ضروری ہے۔اسی طرح جب عین غصب یعنی بعینہ کوئی شے مغصوب ہو تو اس کا استعمال حلال نہیں اگرچہ مال کا مالك معلوم نہ ہو۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر مالکان مال معلوم ہوں تو انہیں مال واپس کرنا ضروری ہے لیکن اگر ارباب مال کو نہیں جانتا اور معین شے کے حرام ہونے کا علم رکھتاہے تو اس صورت میں بھی وہ معین حرام مال اس کے لئے جائزنہیں لہذا اس کے مالك کی طرف سے صدقہ کردےاور اگر مال مخلوط حرام طریقے سے جمع کیاگیا اور یہ اس کے مالکوں کو نہیں جانتا اور نہ کسی معین شے کے حرام ہونے کا علم رکھتاہے تو ایسی صورت میں یہمال قضاکے طور پر اس کے لئے حلال ہے لیکن دیانت وتقوی کے لحاظ سے زیادہ بہتری پرہیز میں ہے اھ ملخصامیں کہتاہوں کہ لفظ ھذا سے میری مراد یہ ہے کہ بطور دیانت اس مال سے بچنے کاحکم دینا عام معتبر کتابوں کے مطابق ہے جیسے خانیہتبیین اورہندیہ وغیرہ۔یہاں چند قیمتی ابحاث ہیں۔ چنانچہ فتاوی شامی پرجوہماری تعلیقات ہیں ہم نے وہاں انہیں بیان کیاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیوع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۰
مسئلہ ۲۱۱: ازملك بنگالہ ضلع ڈاك خانہ نمازی پور کوچیاموڑا مرسلہ عبدالرحمن صاحب
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی(اﷲ تعالی آپ پررحم فرمائے آپ کا کیاارشادمبارك ہے)اس مسئلہ میں کہ دربعض دیاربنگال رمضان المبارك میں میانجی ومنشیوں کو دعوت کرکے مجتمع کرتے ہیں اور مردگان پرایصال ثواب کے واسطے ختم قرآن وختم تہلیل وغیرہ پڑھا کے اور زیارت قبور کراکے اجرت دیتے ہیں یعنی اگرچہ پیسہ وغیرہ کا کچھ تعین نہیں کرتے ہیں مگر ہمیشہ دیناواجب جانتے ہیں اور منشی اور میانجی بھی پیسے کے لالچ سے جاتے ہیںقرینہ اس کا یہ ہےکہ اگر کوئی مکان میں پیسہ نہ دیا تو باردیگر اس مکان میں نہیں جاتے ہیںاس قسم کا پیسہ دینا اور لینا شرعا جائزہے یانہیں اور مردوں پرایصال ثواب ہوگا یانہیں بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جبکہ ان میں معہود ومعروف یہی لینا دیناہے تویہ اجرت پرپڑھنا پڑھوانا ہوا فان المعروف عرفا کالمشروط لفظا(کیونکہ عرف ورواج میں جو کچھ مشہور ہے وہ اس طرح ہے کہ جس طرح الفاظ سے شرط طے کی جائے۔ت)اور تلاوت قرآن اور ذکر الہی پر اجرت لینادینا دونوں حرام ہےلینے والے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں کما حققہ فی ردالمحتار وشفاء العلیل وغیرھا(جیسا کہ فتاوی شامیشفاء العلیل او ردیگر کتب میں اس کی تحقق فرمائی گئی۔ت)اور جب یہ فعل حرام کے مرتکب ہیں تو ثواب کس چیز کا اموات کو بھیجے گاگناہ پرثواب کی امید اور زیادہ سخت واشد ہے کما فی الھندیۃ والبزازیۃ وغیرھما وقد شدد العلماء فی ھذا ابلغ تشدید(جیسا کہ فتاوی عالمگیری اور بزازیہ وغیرہ میں مذکور ہےعلماء کرام نے اس مسئلہ میں بہت شدت برتی ہے۔ ت)ہاں اگر لوگ چاہیں کہ ایصال ثواب بھی ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو گھنٹے دوگھنٹے کے لئے نوکر رکھ لیں اور تنخواہ اتنی دیر کی ہرشخص کی معین کردیں مثلا پڑھوانے والا کہے میں نے تجھے آج فلاں وقت سے فلاں وقت تك کے لئے اس قدر اجرت پرنوکر رکھا جو کام چاہوں گا لوں گا وہ کہے میں قبول کیااب اتنی دیر کے واسطے اس کا اجیرہوگیا جو کام چاہے لے سکتاہے اس کے بعد اس سے کہے فلاں میت کے لئے اتنا قرآن عظیم یا اس قدر کلمہ طیبہ یا درود شریف پڑھ دویہ صورت جواز کی ہے۔اﷲ تعالی مسلمانوں کو توفیق عطافرمائےواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اﷲ تعالی پاك برتراور سب سے بڑا عالم ہے اور اس کا علم کامل اور پختہ ہے۔ت)
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی(اﷲ تعالی آپ پررحم فرمائے آپ کا کیاارشادمبارك ہے)اس مسئلہ میں کہ دربعض دیاربنگال رمضان المبارك میں میانجی ومنشیوں کو دعوت کرکے مجتمع کرتے ہیں اور مردگان پرایصال ثواب کے واسطے ختم قرآن وختم تہلیل وغیرہ پڑھا کے اور زیارت قبور کراکے اجرت دیتے ہیں یعنی اگرچہ پیسہ وغیرہ کا کچھ تعین نہیں کرتے ہیں مگر ہمیشہ دیناواجب جانتے ہیں اور منشی اور میانجی بھی پیسے کے لالچ سے جاتے ہیںقرینہ اس کا یہ ہےکہ اگر کوئی مکان میں پیسہ نہ دیا تو باردیگر اس مکان میں نہیں جاتے ہیںاس قسم کا پیسہ دینا اور لینا شرعا جائزہے یانہیں اور مردوں پرایصال ثواب ہوگا یانہیں بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جبکہ ان میں معہود ومعروف یہی لینا دیناہے تویہ اجرت پرپڑھنا پڑھوانا ہوا فان المعروف عرفا کالمشروط لفظا(کیونکہ عرف ورواج میں جو کچھ مشہور ہے وہ اس طرح ہے کہ جس طرح الفاظ سے شرط طے کی جائے۔ت)اور تلاوت قرآن اور ذکر الہی پر اجرت لینادینا دونوں حرام ہےلینے والے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں کما حققہ فی ردالمحتار وشفاء العلیل وغیرھا(جیسا کہ فتاوی شامیشفاء العلیل او ردیگر کتب میں اس کی تحقق فرمائی گئی۔ت)اور جب یہ فعل حرام کے مرتکب ہیں تو ثواب کس چیز کا اموات کو بھیجے گاگناہ پرثواب کی امید اور زیادہ سخت واشد ہے کما فی الھندیۃ والبزازیۃ وغیرھما وقد شدد العلماء فی ھذا ابلغ تشدید(جیسا کہ فتاوی عالمگیری اور بزازیہ وغیرہ میں مذکور ہےعلماء کرام نے اس مسئلہ میں بہت شدت برتی ہے۔ ت)ہاں اگر لوگ چاہیں کہ ایصال ثواب بھی ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو گھنٹے دوگھنٹے کے لئے نوکر رکھ لیں اور تنخواہ اتنی دیر کی ہرشخص کی معین کردیں مثلا پڑھوانے والا کہے میں نے تجھے آج فلاں وقت سے فلاں وقت تك کے لئے اس قدر اجرت پرنوکر رکھا جو کام چاہوں گا لوں گا وہ کہے میں قبول کیااب اتنی دیر کے واسطے اس کا اجیرہوگیا جو کام چاہے لے سکتاہے اس کے بعد اس سے کہے فلاں میت کے لئے اتنا قرآن عظیم یا اس قدر کلمہ طیبہ یا درود شریف پڑھ دویہ صورت جواز کی ہے۔اﷲ تعالی مسلمانوں کو توفیق عطافرمائےواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اﷲ تعالی پاك برتراور سب سے بڑا عالم ہے اور اس کا علم کامل اور پختہ ہے۔ت)
مسئلہ ۲۱۲: ۱۱جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں بھٹیارن کا دستور ہے جب ان میں کوئی عورت بدکاری کرتی ہے خاوند اسے طلاق دے کر چودھری کے سپرد کردیتاہے پھر جو شخص اس سے نکاح کرنا چاہتاہے سرا کے بھٹیارے اس شخص سے جب تك بیس روپے نہ لے لیں نکاح نہیں کرنے دیتے۔اس عورت کو سرا کی گٹھڑی کہتے ہیں اب گٹھری ہے ہمیں بیس روپے دے دو تو نکاح کرنے دیں گے پھر وہ روپیہ کبھی آپس میں بانٹ لیتے ہیں کبھی اس کا کھانا پکاکر کھالیتے ہیںاس دفعہ بھی ایك شخص کے ایسے ہی بیس روپے جمع ہیں بھٹیارے چاہتے ہیں ہم انہیں مسجد میں لگادیںیہ جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ روپے جو باندھے گئے ہیں محض رشوت وحرام ہیںنہ ان کاکھانا جائزنہ بانٹ لیناجائزنہ مسجد میں لگانا جائزبلکہ لازم ہے کہ جس شخص سے لئے ہیں اسے واپس دیںوہ اگر بخوشی اجازت دے دیں کہ میری طرف سے مسجد میں صرف کردو تو جائزہوگا۔
فی البزازیۃ الاخ ابی ان یزوج الاخت الا ان یدفع الیہ کذا فدفعلہ ان یأخذ منہ قائما اوھالکالانہ رشوۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ فتاوی بزازیہ میں ہے کہ اگر کسی بھائی نے اپنی بہن کی شادی کسی چیز کے حصول کے لئے مشروط کردی اور پھر وہ چیز اس کے حوالے کردی گئی تو اس باقی رہنے والی یا ختم ہوجانے والی چیز کالینا مالك کو واپس لیناجائز ہے کیونکہ وہ رشوت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۱۳: ۷ رجب ۱۳۱۷ھ عاصی محمدیعقوب
مخدومناومکرمنا جناب مولوی صاحب قبلہ دامت برکاتہمآداب! جلسہ سالانہ آریہ سماج کے واسطے کرسیاں کرایہ پر آریہ مانگتے ہیں شرعا ایسے جلسے کے واسطے کرایہ پردیناجائزہے یانہیں احقر نے ابھی اقرار نہیں کیا آنجناب کا جواب آنے پر ان کو جواب دوں گا۔
الجواب:
مکرم سلمکم اﷲ تعالی! آپ اپنے کرائے سے غرض رکھیںکرسی پر بیٹھنا حرام نہیںاس کا
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں بھٹیارن کا دستور ہے جب ان میں کوئی عورت بدکاری کرتی ہے خاوند اسے طلاق دے کر چودھری کے سپرد کردیتاہے پھر جو شخص اس سے نکاح کرنا چاہتاہے سرا کے بھٹیارے اس شخص سے جب تك بیس روپے نہ لے لیں نکاح نہیں کرنے دیتے۔اس عورت کو سرا کی گٹھڑی کہتے ہیں اب گٹھری ہے ہمیں بیس روپے دے دو تو نکاح کرنے دیں گے پھر وہ روپیہ کبھی آپس میں بانٹ لیتے ہیں کبھی اس کا کھانا پکاکر کھالیتے ہیںاس دفعہ بھی ایك شخص کے ایسے ہی بیس روپے جمع ہیں بھٹیارے چاہتے ہیں ہم انہیں مسجد میں لگادیںیہ جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ روپے جو باندھے گئے ہیں محض رشوت وحرام ہیںنہ ان کاکھانا جائزنہ بانٹ لیناجائزنہ مسجد میں لگانا جائزبلکہ لازم ہے کہ جس شخص سے لئے ہیں اسے واپس دیںوہ اگر بخوشی اجازت دے دیں کہ میری طرف سے مسجد میں صرف کردو تو جائزہوگا۔
فی البزازیۃ الاخ ابی ان یزوج الاخت الا ان یدفع الیہ کذا فدفعلہ ان یأخذ منہ قائما اوھالکالانہ رشوۃ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ فتاوی بزازیہ میں ہے کہ اگر کسی بھائی نے اپنی بہن کی شادی کسی چیز کے حصول کے لئے مشروط کردی اور پھر وہ چیز اس کے حوالے کردی گئی تو اس باقی رہنے والی یا ختم ہوجانے والی چیز کالینا مالك کو واپس لیناجائز ہے کیونکہ وہ رشوت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۱۳: ۷ رجب ۱۳۱۷ھ عاصی محمدیعقوب
مخدومناومکرمنا جناب مولوی صاحب قبلہ دامت برکاتہمآداب! جلسہ سالانہ آریہ سماج کے واسطے کرسیاں کرایہ پر آریہ مانگتے ہیں شرعا ایسے جلسے کے واسطے کرایہ پردیناجائزہے یانہیں احقر نے ابھی اقرار نہیں کیا آنجناب کا جواب آنے پر ان کو جواب دوں گا۔
الجواب:
مکرم سلمکم اﷲ تعالی! آپ اپنے کرائے سے غرض رکھیںکرسی پر بیٹھنا حرام نہیںاس کا
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش الفتاوی الھندیۃ کتاب النکاح الفصل الثانی عشرالمہر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۳۶
کرایہ حرام نہیںاقوال نامشروع جو بیٹھنے والے کفار بکیں گے کرسی پرموقوف نہیں کرسی ان میں معین و موید نہیں کوئی وجہ حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴: از بسولی ضلع بدایوں مرسلہ خلیل احمد صاحب ۹ شوال ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائےدین اس مسئلہ میں کہ پیشہ وران ذیل کی بابت شرع کیاحکم دیتی ہے۔
(۱)قاطع الشجر (۲)ذابح البقر (۳)دائم الخمر (۴)بائع البشر
الجواب:
حر آدمی کی بیع اور شراب پینا دونوں حرام قطعی ہیں خصوصا شرب خمر کی مداومت کہ وہ تو گناہ کبیرہ پر اصرار ہوا جو سخت ترکبیرہ عظیمہ ہوگیا اور ذبح بقروقطع شجر کے پیشے میں مضائقہ نہیںیہ جو عوام میں بنام حدیث مشہور ہے کہ"ذابح البقر وقاطع الشجر" جنت میں نہ جائے گا"محض غلط ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۵: ازبیجا پور گجرات ضلع بڑودہ شمالی کڑی پرانت مرسلہ حافظ محمد بن سلیمان میاں محلہ بہورواٹر ۱۵شعبان ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نام ایك طوائف کو خالد ایك امیر نے سو روپے ماہواری پر نوکر رکھاتاکہ اس سے وطی کرے اور ہروقت ہم صحبت رہے یکایك ہندہ کو ہدایت ربانی نصیب ہوئی اور اس کام سے تائب ہوئی لیکن اس امیر نے وہی پگار اس کے نام پر برقرار رکھا اور اس کے لڑکے زید نے بعد وفات خالد کے وہی پگار جاری رکھاوہ ہندہ اس پگار سے کار خیر اور مساکین اور یتیم اور رانڈوں کو پرورش کرتی ہے اور خیرات جاری ہے اس سبب سے وہ پگار سے خیرات لینا اور کھانا وغیرہ حلال ہے یانہیں اور ثواب ہوتاہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جب تك وہ وظیفہ ہندہ کو بمعاوضہ زنا ملتاتھا ضرور حرام قطعی تھانہ اس سے خیرات ہوسکتی تھیمگر جب ہندہ تائبہ ہوگئی اور اس کے بعد بھی امیر نے وظیفہ جاری رکھا اب اس کے بیٹے کی طرف سے جاری ہے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ کسی گناہ کے معاوضہ میں نہیں یہ ضرور مال حلال ہےصحیح بخاری وصحیح مسلم میں قصہ اصحاب الرقیم میں جس کا اشارہ قرآن عظیم میں بھی موجودحضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تین مسافر رات کو ایك غار میں ٹھہرے پہاڑ سے
مسئلہ ۲۱۴: از بسولی ضلع بدایوں مرسلہ خلیل احمد صاحب ۹ شوال ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائےدین اس مسئلہ میں کہ پیشہ وران ذیل کی بابت شرع کیاحکم دیتی ہے۔
(۱)قاطع الشجر (۲)ذابح البقر (۳)دائم الخمر (۴)بائع البشر
الجواب:
حر آدمی کی بیع اور شراب پینا دونوں حرام قطعی ہیں خصوصا شرب خمر کی مداومت کہ وہ تو گناہ کبیرہ پر اصرار ہوا جو سخت ترکبیرہ عظیمہ ہوگیا اور ذبح بقروقطع شجر کے پیشے میں مضائقہ نہیںیہ جو عوام میں بنام حدیث مشہور ہے کہ"ذابح البقر وقاطع الشجر" جنت میں نہ جائے گا"محض غلط ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۵: ازبیجا پور گجرات ضلع بڑودہ شمالی کڑی پرانت مرسلہ حافظ محمد بن سلیمان میاں محلہ بہورواٹر ۱۵شعبان ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نام ایك طوائف کو خالد ایك امیر نے سو روپے ماہواری پر نوکر رکھاتاکہ اس سے وطی کرے اور ہروقت ہم صحبت رہے یکایك ہندہ کو ہدایت ربانی نصیب ہوئی اور اس کام سے تائب ہوئی لیکن اس امیر نے وہی پگار اس کے نام پر برقرار رکھا اور اس کے لڑکے زید نے بعد وفات خالد کے وہی پگار جاری رکھاوہ ہندہ اس پگار سے کار خیر اور مساکین اور یتیم اور رانڈوں کو پرورش کرتی ہے اور خیرات جاری ہے اس سبب سے وہ پگار سے خیرات لینا اور کھانا وغیرہ حلال ہے یانہیں اور ثواب ہوتاہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جب تك وہ وظیفہ ہندہ کو بمعاوضہ زنا ملتاتھا ضرور حرام قطعی تھانہ اس سے خیرات ہوسکتی تھیمگر جب ہندہ تائبہ ہوگئی اور اس کے بعد بھی امیر نے وظیفہ جاری رکھا اب اس کے بیٹے کی طرف سے جاری ہے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ کسی گناہ کے معاوضہ میں نہیں یہ ضرور مال حلال ہےصحیح بخاری وصحیح مسلم میں قصہ اصحاب الرقیم میں جس کا اشارہ قرآن عظیم میں بھی موجودحضور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تین مسافر رات کو ایك غار میں ٹھہرے پہاڑ سے
ایك چٹان گر کر غار کے منہ پر ڈھك گئی یہ بند ہوگئیآپس میں بولے خدا کی قسم یہاں سے نجات نہ پاؤ گے"الا ان تدعوا اﷲ بصالح اعمالکم"مگر یہ کہ نیك اعمال کو وسیلہ کرکے حضرت عزوجل سے دعاکروہرایك نے اپنا اپنا ایك اعلی درجے کا نیك عمل بیان کیا اور اس کے توسل سے دعا کیچٹان تھوڑی تھوڑی کھلتی گئیتیسرے کی دعا پر بالکل ہٹ گئی اور انہوں نے نجات پائی۔ان میں ایك دعا یہ تھی کہ میرے چچا کی بیٹی مجھے سب سے زیادہ پیاری تھی میں نے اس سے بدکاری چاہی وہ باز رہی یہاں تك کہ ایك سال قحط میں مبتلا ہوکر میرے پاس آئی"فاعطیتھا عشرین ومائۃ دینار علی ان تخلی بینی وبین نفسھا ففعلت"میں نے اسے ایك سو بیس اشرفیاں اس شرط پر دیں کہ مجھے اپنے اوپر قدرت دے اس نے قبول کیا جب میں نے اس پردسترس پائی اور قریب ہوا کہ زنا واقع ہو وہ روئی اور کہا میں نے یہ کام کبھی نہ کیا احتیاج نے مجھے مجبور کردیا اﷲ سے ڈر اور ناحق طور پر مہر کو نہ توڑمیں اس سے ڈرا اور اس فعل سے باز رہا اور وہ اشرفیاں بھی اسی کو چھوڑ دیں"اللھم ان کنت فعلت ذلك ابتغاء وجھك ففرج عنا مانحن فیہ الہی!"اگر میں نے یہ کام تیری رضا چاہنے کے لئے کیا ہو تو ہمیں اس بلاسے نجات دےاس پر چٹان سرکی ۔ اس حدیث جلیل عظیم سے ظاہر ہے کہ وہ اشرفیاں اس عورت کے لئے مال حلال ہوگئیں ورنہ اس کا اسے رکھنا حرام ہوتا اور جب اسے رکھنا حرام ہوتا اسے چھوڑ دینا او رواپس نہ کرنا حرام ہوتا کہ جس چیز کا لینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے۔
ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ والمانع منھما من جھۃ الشرع لالمجرد حق الغیر فکان یجب علیھما رفعہ اعدا ما للمعصیۃ۔ جس چیز کا لینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہےان دونوں کامانع شریعت کی طرف سے ہے نہ کہ محض حق غیرلہذا ان دونوں پر گناہ کو زائل اور ختم کرنے کے لئے اس کادفع واجب تھا(یعنی عورت لینے والی رقم کو اپنے پاس نہ رکھتی اور دینے والا مرد اسے واپس لیتا)جب یہ دونوں کام نہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ رقم حلال ہے۔(ت)
حالانکہ وہ اشرفیاں خاص وہی تھیں جو بشرط زنا دی گئی تھیں توبہ نے انہیں بھی حلال کردیا
ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ والمانع منھما من جھۃ الشرع لالمجرد حق الغیر فکان یجب علیھما رفعہ اعدا ما للمعصیۃ۔ جس چیز کا لینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہےان دونوں کامانع شریعت کی طرف سے ہے نہ کہ محض حق غیرلہذا ان دونوں پر گناہ کو زائل اور ختم کرنے کے لئے اس کادفع واجب تھا(یعنی عورت لینے والی رقم کو اپنے پاس نہ رکھتی اور دینے والا مرد اسے واپس لیتا)جب یہ دونوں کام نہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ رقم حلال ہے۔(ت)
حالانکہ وہ اشرفیاں خاص وہی تھیں جو بشرط زنا دی گئی تھیں توبہ نے انہیں بھی حلال کردیا
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الاجارہ باب من استاجراجیرًا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۰۳،صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب قصۃ اصحاب الغار قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۵۳
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۶
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۶
توبعد توبہ جو وظیفہ جدید دیاگیا اس میں حرمت کیونکر آسکتی ہے وھذا کلہ ظاھر جدا(بلاشبہہ یہ سب کچھ خوب ظاہر ہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۶ و ۲۱۷: ازبنگالہ ضلع سلہٹ موضع قاسم نگر مرسلہ مولوی اکرم یکم ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)اگر کسی سود خوار نے سودی روپیہ سے مسجد بنائی یا حج کیا یا حج کروایا یا تالاب کھدوایا یا خیرات کی تو وہ شخص مستحق ثواب ہوگا یانہیں
(۲)اس مسجد میں نماز پڑھنا یا حج کرنے والے کو اس سودی روپیہ کا حج کے خرچ میں لانا یا اس تالاب میں وضو وغسل کرنا یا پانی پینا یا اس مال خیرات کو مستحقین خیرات کا لے لینا جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)سود کے روپیہ سے جو کار نیك کیاجائے اس میں استحقاق ثواب نہیں
حدیث شریف میں ہے:جو مال حرام لے کر حج کوجاتاہے جب لبیك کہتاہے ہاتف غیب سے جواب دیتاہے:
لالبیك ولاسعدیك وحجك مردود علیك حتی ترد ما فی یدیک ۔ نہ تیری لبیك قبولنہ خدمت پذیراور تیراحج تیرے منہ پر مردود ہے یہاں تك کہ تو یہ مال حرام کہ تیرے قبضہ میں ہے اس کے مستحقوں کو واپس دے۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب ۔ بیشك اﷲ عزوجل پاك ہے پاك ہی چیز کو قبول فرماتاہے۔
سودخوار پر شرعا فرض ہے کہ جتناسود جس جس سے لیاہے اسے واپس دےوہ نہ رہاہو اس کے وارثوں کو دےوہ بھی نہ رہے ہوں یاپتہ مالك اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدق کردےوہ بھی نہ رہے ہوں یاپتہ مالك اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدق کردے اور تصدق میں فقیر کو مالك کردینا درکار ہے کما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا عامۃ الاسفار(جیسا کہ فتاوی قاضیخان وغیرہ عام بڑی کتب میں اس کی تصریح
مسئلہ ۲۱۶ و ۲۱۷: ازبنگالہ ضلع سلہٹ موضع قاسم نگر مرسلہ مولوی اکرم یکم ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)اگر کسی سود خوار نے سودی روپیہ سے مسجد بنائی یا حج کیا یا حج کروایا یا تالاب کھدوایا یا خیرات کی تو وہ شخص مستحق ثواب ہوگا یانہیں
(۲)اس مسجد میں نماز پڑھنا یا حج کرنے والے کو اس سودی روپیہ کا حج کے خرچ میں لانا یا اس تالاب میں وضو وغسل کرنا یا پانی پینا یا اس مال خیرات کو مستحقین خیرات کا لے لینا جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)سود کے روپیہ سے جو کار نیك کیاجائے اس میں استحقاق ثواب نہیں
حدیث شریف میں ہے:جو مال حرام لے کر حج کوجاتاہے جب لبیك کہتاہے ہاتف غیب سے جواب دیتاہے:
لالبیك ولاسعدیك وحجك مردود علیك حتی ترد ما فی یدیک ۔ نہ تیری لبیك قبولنہ خدمت پذیراور تیراحج تیرے منہ پر مردود ہے یہاں تك کہ تو یہ مال حرام کہ تیرے قبضہ میں ہے اس کے مستحقوں کو واپس دے۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب ۔ بیشك اﷲ عزوجل پاك ہے پاك ہی چیز کو قبول فرماتاہے۔
سودخوار پر شرعا فرض ہے کہ جتناسود جس جس سے لیاہے اسے واپس دےوہ نہ رہاہو اس کے وارثوں کو دےوہ بھی نہ رہے ہوں یاپتہ مالك اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدق کردےوہ بھی نہ رہے ہوں یاپتہ مالك اور اس کے ورثہ کا نہ چلے تو فرض ہے کہ اتنا مال تصدق کردے اور تصدق میں فقیر کو مالك کردینا درکار ہے کما نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا عامۃ الاسفار(جیسا کہ فتاوی قاضیخان وغیرہ عام بڑی کتب میں اس کی تصریح
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین کتاب اسرارالحج الباب الثالث دارالفکر بیروت ۴ /۴۳۱
السنن الکبرٰی کتاب صلاۃ الاستسقاء دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۴۶
السنن الکبرٰی کتاب صلاۃ الاستسقاء دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۴۶
کردی گئی۔ت)اورمسجد یا تالاب بنانا یا حج کرنا اصلا ادائے حکم نہ ہوگا اور اس پر سے گناہ نہ جائے گاہاں خیرات کردینے کاحکم ہے یوں اس کی توبہ تمام ہوگی اور ان شاء اﷲ تعالی گناہ سے بری الذمہ ہوگا اور توبہ کرنے اور حکم شرع دربارہ تصدق بجالانے کاثواب بھی پائے گا اگرچہ خیرات کا ثواب نہ ہوگا کما حققناہ فی فتاوناواﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی پوری تحقیق کردیاور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے اس کا علم زیادہ مکمل اور پختہ ہے۔ت)
(۲)حج کاجواب گزرچکا کہ اس روپے کو اس صرف میں اٹھانا جائزنہیںہاں فرض حج ذمہ سے ادا ہوجائے گا
فان القبول شیئ اخر غیر سقوط الفرض وکان کمن صلی فی ارض مغصوبۃ۔ کیونکہ کسی شے کا قبول ہونا اور فرض ساقط ہوجانا دونوں ایك نہیں بلکہ الگ الگ چیزیں ہیں یعنی قبولیت شے اور چیزہے اور سقوط فرض اورچیزجیسا کہ کوئی شخص ناجائز مقبوضہ زمین پرنماز پڑھے تو اگرچہ فرض ساقط ہوجائے گا مگرنماز مقبول نہ ہوگی۔(ت)
اور اگرمسجد یاتالاب بنایا تو اس میں نماز اور اس سے وضو وغیرہ وشرب سب جائزہے والدلائل تعرف فی فتاونا(دلائل کا تعارف ہمارے فتاوی میں موجود ہے۔ت)بلکہ خانیہ وہندیہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
لواشتری رجل دارا شراء فاسدا وقبضھا ثم وقفھا علی الفقراء والمساکین جاز وتصیر وقفا علی ماوقفت علیہ وعلیہ قیمتھا ۱ھ وتحقیق الکلام فیہ فیما علقنا علی ردالمحتارمن اول الوقف۔ اگر کوئی شخص بیع فاسد سے گھر خریدے پھر اس پر قابض ہو جائے پھر اسے فقیروں اور محتاجوں کیلئے وقف کردے تو جن پر یاجن کے لئے وہ گھر وقف کیاگیا وہ وقف قرار پاجائے گا مگر اس کی قیمت کی ادائیگی اس پر لازم ہوگی ۱ھ اس میں تحقیق کلام وہی ہے جس کو ہم نے فتاوی شامی کی بحث وقف کے آغاز میں حاشیہ میں بیان کیا ہے۔(ت)
بلکہ جامع المضمرات وعالمگیریہ میں ہے:
(۲)حج کاجواب گزرچکا کہ اس روپے کو اس صرف میں اٹھانا جائزنہیںہاں فرض حج ذمہ سے ادا ہوجائے گا
فان القبول شیئ اخر غیر سقوط الفرض وکان کمن صلی فی ارض مغصوبۃ۔ کیونکہ کسی شے کا قبول ہونا اور فرض ساقط ہوجانا دونوں ایك نہیں بلکہ الگ الگ چیزیں ہیں یعنی قبولیت شے اور چیزہے اور سقوط فرض اورچیزجیسا کہ کوئی شخص ناجائز مقبوضہ زمین پرنماز پڑھے تو اگرچہ فرض ساقط ہوجائے گا مگرنماز مقبول نہ ہوگی۔(ت)
اور اگرمسجد یاتالاب بنایا تو اس میں نماز اور اس سے وضو وغیرہ وشرب سب جائزہے والدلائل تعرف فی فتاونا(دلائل کا تعارف ہمارے فتاوی میں موجود ہے۔ت)بلکہ خانیہ وہندیہ وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
لواشتری رجل دارا شراء فاسدا وقبضھا ثم وقفھا علی الفقراء والمساکین جاز وتصیر وقفا علی ماوقفت علیہ وعلیہ قیمتھا ۱ھ وتحقیق الکلام فیہ فیما علقنا علی ردالمحتارمن اول الوقف۔ اگر کوئی شخص بیع فاسد سے گھر خریدے پھر اس پر قابض ہو جائے پھر اسے فقیروں اور محتاجوں کیلئے وقف کردے تو جن پر یاجن کے لئے وہ گھر وقف کیاگیا وہ وقف قرار پاجائے گا مگر اس کی قیمت کی ادائیگی اس پر لازم ہوگی ۱ھ اس میں تحقیق کلام وہی ہے جس کو ہم نے فتاوی شامی کی بحث وقف کے آغاز میں حاشیہ میں بیان کیا ہے۔(ت)
بلکہ جامع المضمرات وعالمگیریہ میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۵۴
قال ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ اذا غصب ارضا فبنی فیھا مسجدا او حماما او حانوتا فلاباس بالصلوۃ فی المسجد والدخول فی الحمام للاغتسال وفی الحانوت للشراء ولیس لہ ان یستأجرھا وان غصب دارا فجعلھا مسجدا لایسع لاحدان یصلی فیہ ولا ان یدخلہ الخ قلت وذکرنا ثمہ ان التفرقۃ فی الدار والارض کانھا مبنیۃ علی غیر الارجح فی مسألۃ غصب الساحۃ بالحاء المھملۃ وایاما کان فدلالتھا علی ماھنا تام کمالا یخفی وبالجملۃ فخبث الملك لایمنع صحۃ الوقف وصحتہ تعتمد آثارہ فافھم۔ امام ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا جب کوئی آدمی زمین غصب کرے یعنی زبردستی چھین لے پھر وہاں مسجدحمام اور دکان تعمیر کردے تو مسجد میں نماز پڑھنےحمام میں غسل کرنے اور دکان سے اشیاء خریدلینے میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیںالبتہ غاصب کیلئے جائزنہیں کہ اسے کرایہ پر دےاور اگر اس نے کوئی حویلی چھین لی پھر اسے مسجد بنادیا تو کسی کے لئے وہاں داخل ہونے اور نماز پڑھنے کی گنجائش نہیں۱ھ میں کہتاہوں کہ ہم نے پہلے بھی یہ بیان کردیا کہ گھر اور زمین کے حکم میں فرق کرنا گویا غیرراجح قول پرمبنی ہے جو غصب صحن کے مسئلہ میں ہے"الساحۃ"حاء بغیر نقطہ ہی درج ہے پس جو بھی ہو اس کی دلالت یہاں تام ہے جو ظاہر ہے(الحاصل) ملك کی خباثت وقف کی صحت سے مانع نہیںاس کی صحت کا دارومدار اس کے آثار پرہےیہاں اس کو سمجھ لیا جائے۔(ت)
اور فقیر کو اس کا خیرات میں لینا تو بدرجہ اولی جائز ہے کہ یہ تو عین حکم شرع ہے جبکہ مالك کا پتانہ رہاہو اور ویسے بھی مال ربا میں بعد قبضہ عدم ملك نہیں صرف خبث ملک
فی الرد المحتار عن البحر الرائق عن القنیۃ عن الامام البزدوی ان من جملۃ صورالبیع الفاسد جملۃ العقود الربویۃ یملك العوض فیھا بالقبض انتہی ردالمحتار نے بحرالرائق سے بحرالرائق نے غنیہ سے اور فنیہ نے امام بزدوی سے نقل کیاہے۔بیع فاسد کی تمام صورتوں میں سودی معاملات ہیں ان میں قبضہ کرنے کے عوض مالك ہوجاتاہے انتہی۔
اور فقیر کو اس کا خیرات میں لینا تو بدرجہ اولی جائز ہے کہ یہ تو عین حکم شرع ہے جبکہ مالك کا پتانہ رہاہو اور ویسے بھی مال ربا میں بعد قبضہ عدم ملك نہیں صرف خبث ملک
فی الرد المحتار عن البحر الرائق عن القنیۃ عن الامام البزدوی ان من جملۃ صورالبیع الفاسد جملۃ العقود الربویۃ یملك العوض فیھا بالقبض انتہی ردالمحتار نے بحرالرائق سے بحرالرائق نے غنیہ سے اور فنیہ نے امام بزدوی سے نقل کیاہے۔بیع فاسد کی تمام صورتوں میں سودی معاملات ہیں ان میں قبضہ کرنے کے عوض مالك ہوجاتاہے انتہی۔
حوالہ / References
الفتاوی الھندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۲۰
ردالمحتار باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۶
ردالمحتار باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۶
قلت فماوقع فی مدانیات العقود الدریۃ سھو کما نبھت علیہ فیما علقت علی ردالمحتار۔ میں کہتاہوں جو کچھ عقود الدریہ کی بحث مدانیات میں واقع ہوا وہ سہوا ہے اور بھول ہے جیسا کہ میں نے فتاوی شامی کی تعلیق(حاشیہ)میں اس پر متنبہ اور آگاہ کیاہے۔(ت)
اور خبث ملك فقیر کو تصدق میں لینے سے مانع نہیں
فی الھندیۃ عن الحاوی عن الامام ابی بکر قیل لہ ان فقیرا یأخذ جائزۃ السلطان مع علمہ ان السلطان یأخذھا غصبا ایحل لہ قال ان خلط ذلك بدراھم اخری فانہ لاباس بہ الی اخرہ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ چنانچہ عالمگیری میں الحاوی اس نے امام ابوبکر سے نقل کیاہے کہ ان سے کہاگیا کہ فقیر بادشاہ سے انعام لیتاہے جبکہ وہ جانتاہےکہ بادشاہ نے وہ انعام یامال بطور غصب لے رکھاہے تو کیا یہ اس کے لئے حلال ہوگا ارشاد فرمایا کہ اگر وہ دراہم انعام دوسرے دراہم میں ملاڈالے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں (عبارت مکمل)۔اﷲ تعالی خوب جانتاہے اور اس کا علم نہایت درجہ مکمل اور پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۱۸ ازجائس رائے بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی ا ﷲ ۱۳۴۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںسود اور رشوت کامال توبہ سے پاك ہوجاتاہے اور اس کے یہاں نوکری کرنا اور کھانا جائزہے یانہیں فقط۔
الجواب:
زبانی توبہ سے حرام مال پاك نہیں ہوسکتا بلکہ توبہ کے لئے شرط ہے کہ جس جس سے لیاہے واپس دےوہ نہ رہے ہوں ان کے وارثوں کو دےپتانہ چلے تو اتنا مال تصدق کردےبے اس کے گناہ سے برأت نہیںاس کے یہاں نوکری کرناتنخواہ لیناکھانا کھانا جائز ہے جبکہ وہ چیز جو اسے دے اس کا بعینہ مال حرام ہونا نہ معلوم ہو۔
کما فی الھندیۃ عن الذخیرۃ جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ذخیرہ کے حوالہ سے
اور خبث ملك فقیر کو تصدق میں لینے سے مانع نہیں
فی الھندیۃ عن الحاوی عن الامام ابی بکر قیل لہ ان فقیرا یأخذ جائزۃ السلطان مع علمہ ان السلطان یأخذھا غصبا ایحل لہ قال ان خلط ذلك بدراھم اخری فانہ لاباس بہ الی اخرہ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ چنانچہ عالمگیری میں الحاوی اس نے امام ابوبکر سے نقل کیاہے کہ ان سے کہاگیا کہ فقیر بادشاہ سے انعام لیتاہے جبکہ وہ جانتاہےکہ بادشاہ نے وہ انعام یامال بطور غصب لے رکھاہے تو کیا یہ اس کے لئے حلال ہوگا ارشاد فرمایا کہ اگر وہ دراہم انعام دوسرے دراہم میں ملاڈالے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں (عبارت مکمل)۔اﷲ تعالی خوب جانتاہے اور اس کا علم نہایت درجہ مکمل اور پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۱۸ ازجائس رائے بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی ا ﷲ ۱۳۴۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںسود اور رشوت کامال توبہ سے پاك ہوجاتاہے اور اس کے یہاں نوکری کرنا اور کھانا جائزہے یانہیں فقط۔
الجواب:
زبانی توبہ سے حرام مال پاك نہیں ہوسکتا بلکہ توبہ کے لئے شرط ہے کہ جس جس سے لیاہے واپس دےوہ نہ رہے ہوں ان کے وارثوں کو دےپتانہ چلے تو اتنا مال تصدق کردےبے اس کے گناہ سے برأت نہیںاس کے یہاں نوکری کرناتنخواہ لیناکھانا کھانا جائز ہے جبکہ وہ چیز جو اسے دے اس کا بعینہ مال حرام ہونا نہ معلوم ہو۔
کما فی الھندیۃ عن الذخیرۃ جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ذخیرہ کے حوالہ سے
حوالہ / References
الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الکراھیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الکراھیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الکراھیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
عن محمد رحمہ اﷲ تعالی۔ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے۔اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم والاہے اور اس کا علم بہت تام اور زیادہ پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۱۹ ازبنگالہ ضلع میمن سنگھ مرسلہ عبداللطیف صاحب ۱۹/رجب ۱۳۲۰ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی(اﷲ تعالی آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیاارشاد ہے۔ت)کہ ایك لڑکی کو استاد نے اس کے باپ کے یہاں قرآن شریف وغیرہ پڑھایا اور اس مدت تعلیم میں والد لڑکی نے استاد کو کچھ اجرت ومشاہیر وغیرہ نہیں دیا پھر بروقت شادی اس لڑکی کے استاد کو دولھا کی طرف والوں سے یعنی دولھا یاوالد وغیرہ سے روپیہ دلوایاگویا نوشاہ والوں نے بغرض مجبوری یاخوشی سے دیا لہذا اس صورت میں اس استاد کو وہ روپیہ لیناجائز ہوا یا ازروئے شرع شریف کے ناجائز
الجواب:
اگربخوشی دینالیناجائزہےاور مجبوری سے دیاتوحرام۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل الا ان تکون تجرۃ عن تراض منکم " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)آپس میں اپنے مال ناجائزطریقہ سے نہ کھاؤ مگر یہ کہ تمہاری رضامندی سے تجارت اور کاروبار ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۰: ازشہرکہنہ ۲۹ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کاوالد ایك عرصہ سے اعمی ہوگیاہے دونوں خیاطی کرتے ہیں اور عددفروخت کے واسطے تیار کرتے ہیںوالد زید فروخت مال کے لئے بازار کودوچار گھنٹے کوجایاکرتاہے کہ قدیم سے اس کی عادت ہے شرعا اس میں زید پر توکوئی الزام نہیں۔باپ کا مال بیٹے کو کھاناحرام ہے یاحلال دونوں کی خورش یك جائی ہےباپ کا حق بیٹے پرکب رہتاہے اور بیٹے کاباپ پرکب تک بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر زید کاباپ اپنی خوشی سے حسب عادت جاتاہے تو زید پر الزام نہیں اگرچہ مقتضائے سعادتمندی
مسئلہ ۲۱۹ ازبنگالہ ضلع میمن سنگھ مرسلہ عبداللطیف صاحب ۱۹/رجب ۱۳۲۰ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی(اﷲ تعالی آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیاارشاد ہے۔ت)کہ ایك لڑکی کو استاد نے اس کے باپ کے یہاں قرآن شریف وغیرہ پڑھایا اور اس مدت تعلیم میں والد لڑکی نے استاد کو کچھ اجرت ومشاہیر وغیرہ نہیں دیا پھر بروقت شادی اس لڑکی کے استاد کو دولھا کی طرف والوں سے یعنی دولھا یاوالد وغیرہ سے روپیہ دلوایاگویا نوشاہ والوں نے بغرض مجبوری یاخوشی سے دیا لہذا اس صورت میں اس استاد کو وہ روپیہ لیناجائز ہوا یا ازروئے شرع شریف کے ناجائز
الجواب:
اگربخوشی دینالیناجائزہےاور مجبوری سے دیاتوحرام۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل الا ان تکون تجرۃ عن تراض منکم " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)آپس میں اپنے مال ناجائزطریقہ سے نہ کھاؤ مگر یہ کہ تمہاری رضامندی سے تجارت اور کاروبار ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۰: ازشہرکہنہ ۲۹ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کاوالد ایك عرصہ سے اعمی ہوگیاہے دونوں خیاطی کرتے ہیں اور عددفروخت کے واسطے تیار کرتے ہیںوالد زید فروخت مال کے لئے بازار کودوچار گھنٹے کوجایاکرتاہے کہ قدیم سے اس کی عادت ہے شرعا اس میں زید پر توکوئی الزام نہیں۔باپ کا مال بیٹے کو کھاناحرام ہے یاحلال دونوں کی خورش یك جائی ہےباپ کا حق بیٹے پرکب رہتاہے اور بیٹے کاباپ پرکب تک بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر زید کاباپ اپنی خوشی سے حسب عادت جاتاہے تو زید پر الزام نہیں اگرچہ مقتضائے سعادتمندی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴ /۲۹
یہ ہے کہ اسے آرام دے اور خود کام کرےہاں اگرزید اسے مجبور کرتاہے تو ضرور گنہگار ونالائق ہےباپ کا مال بیٹے کو اس کی رضا سے قدر رضا تك حلال ہے ورنہ حرامشریك ہوں خواہ جداباپ کا حق بیٹے پر ہمیشہ رہتاہےیونہی بیٹے کاباپ پرہاں بعض حقوق وقت تك محدود ہیں جیسے لڑکا جب جوان ہوجائے باپ پر اس کا نفقہ واجب نہیں رہتا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۱: از ضلع شیب ساگر ڈاکخانہ انگوری مقام شام گوری ملك آسام مرسلہ عبدالمجید صاحب ۱۱/شعبان ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدانگریز نے ہندہ مسلمہ کو قریب بیس برس کے عورت بناکر رکھا ان کی طرف سے کئی ہولے موجود ہیںاب ہندہ ضعیفہ ہوئیہندہ نے انگریز سے کہا کہ کچھ روزینہ بندوبست کرکے مجھ کو چھوڑدو ہم آپس میں بھائی بند کے پاس مسلمان ہوکر رہے تاکہ اﷲ تعالی خاتمہ بالخیر کرے۔اب ہندہ نے کسی عالم کے پاس چند مسلمان کے مقابل توبہ کیا اور ضامن بھی دیا آمدورفت نہ ہونے کے لئےفاصلہ درمیان دونوں کے ۳روزہ کی راہ ہے اسباب حاصلہ اور تنخواہ کے سوا اور کوئی صورت اوقات بسری کے واسطے نہیں اور اگراسباب حاصلہ اور چارروپیہ روزینہ جاریہ سے منع کیاجائے تو پھر انکار اسلام کا خوف ہےاب آیا ان صورتوں میں ان کا مسلمان ہوناصحیح ہوگا یانہ ہوگا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
ہندہ کا اسلام صحیح ہے بلکہ اگر اس مدت بست ۲۰ سال میں کہ وہ انگریز کے پاس رہی کوئی قول و فعل کفرنہ کیا تھا تو وہ جب بھی مسلمان تھی اگرچہ اشد سخت ملعون کبیرہ کی مرتکب تھی کہ ایك توزنادوسرے وہ بھی کافر سے۔اہلسنت کے مذہب میں آدمی کسی گناہ کے باعث اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:وان زنی وان سرق علی رغم انف ابی ذر ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے "اگرچہ زنا کرے اگرچہ چوری کرےابوذر کی ناك خاك آلود ہونے کے باوجود(یعنی بالفرض وہ تنگی اورکوفت محسوس کریں تب بھی)۔(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ اگربالفرض ہندہ نے اس زمانے میں معاذاﷲ اپنا دین بدل دیا اور کفر
مسئلہ ۲۲۱: از ضلع شیب ساگر ڈاکخانہ انگوری مقام شام گوری ملك آسام مرسلہ عبدالمجید صاحب ۱۱/شعبان ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدانگریز نے ہندہ مسلمہ کو قریب بیس برس کے عورت بناکر رکھا ان کی طرف سے کئی ہولے موجود ہیںاب ہندہ ضعیفہ ہوئیہندہ نے انگریز سے کہا کہ کچھ روزینہ بندوبست کرکے مجھ کو چھوڑدو ہم آپس میں بھائی بند کے پاس مسلمان ہوکر رہے تاکہ اﷲ تعالی خاتمہ بالخیر کرے۔اب ہندہ نے کسی عالم کے پاس چند مسلمان کے مقابل توبہ کیا اور ضامن بھی دیا آمدورفت نہ ہونے کے لئےفاصلہ درمیان دونوں کے ۳روزہ کی راہ ہے اسباب حاصلہ اور تنخواہ کے سوا اور کوئی صورت اوقات بسری کے واسطے نہیں اور اگراسباب حاصلہ اور چارروپیہ روزینہ جاریہ سے منع کیاجائے تو پھر انکار اسلام کا خوف ہےاب آیا ان صورتوں میں ان کا مسلمان ہوناصحیح ہوگا یانہ ہوگا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
ہندہ کا اسلام صحیح ہے بلکہ اگر اس مدت بست ۲۰ سال میں کہ وہ انگریز کے پاس رہی کوئی قول و فعل کفرنہ کیا تھا تو وہ جب بھی مسلمان تھی اگرچہ اشد سخت ملعون کبیرہ کی مرتکب تھی کہ ایك توزنادوسرے وہ بھی کافر سے۔اہلسنت کے مذہب میں آدمی کسی گناہ کے باعث اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:وان زنی وان سرق علی رغم انف ابی ذر ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے "اگرچہ زنا کرے اگرچہ چوری کرےابوذر کی ناك خاك آلود ہونے کے باوجود(یعنی بالفرض وہ تنگی اورکوفت محسوس کریں تب بھی)۔(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ اگربالفرض ہندہ نے اس زمانے میں معاذاﷲ اپنا دین بدل دیا اور کفر
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۶۶
اختیار کیاتھا اور اب اسلام لاتی ہے تو اب بھی اسلام قبول تھا اگرچہ وہ معاذاﷲ اس زنا سے باز بھی نہ آتی کہ زنا کفرنہیں زنا کاوبال رہتا اور اسلام صحیح ہوجاتااب کہ وہ بحمداﷲ زنا سے بھی جدا ہوئیاسلام صحیح نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیںنہ اس تنخواہ سے ممانعت کی کوئی ضرورت کہ وہ معاوضہ زنا میں نہیں بلکہ صراحۃ اس انگریز سے صاف کہہ دیا ہے کہ اب وہ زنا سے باز رہے گی اور اپنی قوم میں اپنے دین پر رہے گی تویہ تنخواہ محض بلاعوض اور ہندہ کے لئے حلال ہے۔فتاوی قاضی خاں میں ہے:
الرجل اذا کان مطربا مغنیا ان اعطی بغیر شرط قالوا یباح ۱ھ ومثلہ فی رد المحتار عن الھندیۃ عن المنتقی عن ابراھیم عن محمد رحمہ اﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔ جب کوئی شخص گانے بجانے والا ہو اگر اسے بغیر کسی تقاضے اور شرط کے کچھ دیاجائے تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ اس کے لئے مباح ہے چنانچہ فتاوی شامی میں فتاوی عالمگیری سے اس نے المنتقی سے اس نے ابراہیم سے اس نے صاحب امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے اسی طرح نقل کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۲: از شہرکہنہ ۲۰/صفر۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھال مردار گھوڑے اور گدھے کی گیلی خریدنا جائزہے یانہیں اور اس گیلی کھال کو سڑاکر ہاتھ سے ملنا اور بنانا یعنی نجاست صاف کرنا اس غلیط کام کرنے والے کے کھانا کھاناجائزہے یانہیں
الجواب:
گھوڑا گدھا کہ بے ذبح مرجائے اس کی کھال کہ پکائی نہ گئی ہو بیچنا خریدنا حرام ہے اور دباغت کرناجائزہے اور اس کا پیشہ مکروہاور اس کے کھانے سے احتراز اولی ہے۔عالمگیری میں ہے:
اما جلودالسباع والحمر والبغال فما کانت مذبوحۃ او مدبوغۃ جازبیعہا وما لا فلا الخ لیکن درندوںگدھوں اور خچروں کی کھالیں اگرذبح کئے ہوئے جانوروں سے اتاری جائیں
الرجل اذا کان مطربا مغنیا ان اعطی بغیر شرط قالوا یباح ۱ھ ومثلہ فی رد المحتار عن الھندیۃ عن المنتقی عن ابراھیم عن محمد رحمہ اﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔ جب کوئی شخص گانے بجانے والا ہو اگر اسے بغیر کسی تقاضے اور شرط کے کچھ دیاجائے تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ اس کے لئے مباح ہے چنانچہ فتاوی شامی میں فتاوی عالمگیری سے اس نے المنتقی سے اس نے ابراہیم سے اس نے صاحب امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے اسی طرح نقل کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۲: از شہرکہنہ ۲۰/صفر۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھال مردار گھوڑے اور گدھے کی گیلی خریدنا جائزہے یانہیں اور اس گیلی کھال کو سڑاکر ہاتھ سے ملنا اور بنانا یعنی نجاست صاف کرنا اس غلیط کام کرنے والے کے کھانا کھاناجائزہے یانہیں
الجواب:
گھوڑا گدھا کہ بے ذبح مرجائے اس کی کھال کہ پکائی نہ گئی ہو بیچنا خریدنا حرام ہے اور دباغت کرناجائزہے اور اس کا پیشہ مکروہاور اس کے کھانے سے احتراز اولی ہے۔عالمگیری میں ہے:
اما جلودالسباع والحمر والبغال فما کانت مذبوحۃ او مدبوغۃ جازبیعہا وما لا فلا الخ لیکن درندوںگدھوں اور خچروں کی کھالیں اگرذبح کئے ہوئے جانوروں سے اتاری جائیں
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۹
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۷
فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۱۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۷
فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۱۵
وفی الحدیث کسب الحجام خبیث وعللوہ بالتلبس بالنجاسات وقد ثبت ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم احتجم واعطی الحجام ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ یاخود کھالیں پکالی جائیں تو ان سے فائدہ اٹھایاجاسکتاہے لیکن بصورت دیگرجائز نہیں الخ اور حدیث مبارکہ ہے کہ پچھنے لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔ائمہ کرام نے اس کی یہ علت بیان فرمائی کہ اس کا نجاستوں سے تلبس ہواکرتاہے اور بلاشبہہ یہ ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور لگانے والے کو اجرت بھی دی۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۲۳: ازمقام کول مانك چوگ مسئولہ زوجہ عبدالرشید خان مرحوم ۲۲/شعبان المعظم ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کسبی نے جو کچھ مال حرام پیداکیاتھا چہ نقدی وچہ زیور وچہ جائداد خریدی ہوئی اسی مال سے پیدا کی تھیجب وہ کسبی تائب ہوئی تو اس نے اس قسم مال حرام کو پیدا کردہ اپنا سب کچھ چھوڑ دیا اور اپنی ماں اور بہنوئی سے کہا کہ یہ مجھے درکار نہیں ہے میں نے تم کو چھوڑایہ کہہ کر الگ ہوگئیانہوں نے اس مال اور جائداد کو صرف کرڈالااب یہ استفسار ہے کہ یہ دے دینا اس کا ان کو صحیح ہوگیا یاکیا اور جو صحیح نہ ہوا ہو تو اس کو یہ واپس کرسکتی ہے یانہیں اور اس غرض سے واپسی چاہتی ہے کہ اگر مل جائے تو اس وقت کی نقدی سے جائداد خرید کرکے اسے مصرف خیر میں صرف کرے اس کی کیا صورت ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
رنڈی جومال اس حرام وناپاك ذریعے سے حاصل کرتی ہے اس کی ملك نہیں ہوتا حکم غصب رکھتاہے اس پرفرض ہوتاہے کہ جن سے لیا واپس دےوہ نہ رہے ہوں تو ان کے ورثہ کو دےوہ نہ ملیں تو فقرأ پر تصدق کرےاور ظاہر ہے کہ بعد ایك مدت مدیدہ کے جو عورت تائب ہو وہ ہرگز حساب نہ لگاسکے گی کہ کب کتنا کس سے لیاتو جومال اس کے ہاتھ میں ہے اموال ضائعہ کے قبیل سے ہواکہ اس کے مصرف فقراء ہیںاور اس کی ماں بہنیں کہ وہ بھی رنڈیاں اور اس وقت تك اسی پیشہ ملعونہ میں آلودہ ہیں اگرچہ اس ناپاك ذریعہ سے لاکھوں روپے ان کے پاس ہوں شرعا محض محتاج ونادار ہیں لما عرفت من ان
مسئلہ ۲۲۳: ازمقام کول مانك چوگ مسئولہ زوجہ عبدالرشید خان مرحوم ۲۲/شعبان المعظم ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کسبی نے جو کچھ مال حرام پیداکیاتھا چہ نقدی وچہ زیور وچہ جائداد خریدی ہوئی اسی مال سے پیدا کی تھیجب وہ کسبی تائب ہوئی تو اس نے اس قسم مال حرام کو پیدا کردہ اپنا سب کچھ چھوڑ دیا اور اپنی ماں اور بہنوئی سے کہا کہ یہ مجھے درکار نہیں ہے میں نے تم کو چھوڑایہ کہہ کر الگ ہوگئیانہوں نے اس مال اور جائداد کو صرف کرڈالااب یہ استفسار ہے کہ یہ دے دینا اس کا ان کو صحیح ہوگیا یاکیا اور جو صحیح نہ ہوا ہو تو اس کو یہ واپس کرسکتی ہے یانہیں اور اس غرض سے واپسی چاہتی ہے کہ اگر مل جائے تو اس وقت کی نقدی سے جائداد خرید کرکے اسے مصرف خیر میں صرف کرے اس کی کیا صورت ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
رنڈی جومال اس حرام وناپاك ذریعے سے حاصل کرتی ہے اس کی ملك نہیں ہوتا حکم غصب رکھتاہے اس پرفرض ہوتاہے کہ جن سے لیا واپس دےوہ نہ رہے ہوں تو ان کے ورثہ کو دےوہ نہ ملیں تو فقرأ پر تصدق کرےاور ظاہر ہے کہ بعد ایك مدت مدیدہ کے جو عورت تائب ہو وہ ہرگز حساب نہ لگاسکے گی کہ کب کتنا کس سے لیاتو جومال اس کے ہاتھ میں ہے اموال ضائعہ کے قبیل سے ہواکہ اس کے مصرف فقراء ہیںاور اس کی ماں بہنیں کہ وہ بھی رنڈیاں اور اس وقت تك اسی پیشہ ملعونہ میں آلودہ ہیں اگرچہ اس ناپاك ذریعہ سے لاکھوں روپے ان کے پاس ہوں شرعا محض محتاج ونادار ہیں لما عرفت من ان
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل عن رافع بن خدیج رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۶۴
سنن ابی داؤد کتاب الاجارہ باب فی کسب الحجام آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۲۹
سنن ابی داؤد کتاب الاجارہ باب فی کسب الحجام آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۲۹
ما بایدیھن غصب لایملکنہ(اس لئے کہ تمہیں معلوم ہوگیا کہ جو کچھ عورتوں کے ہاتھوں میں ہے وہ غصب شدہ ہے جس کی وہ مالك نہیں ہیں۔ت)تو وہ بھی اسی تصدق کی محل ہیں اور ماں ہونا اس صدقہ واجبہ کے منافی نہیں کہ یہ صدقہ خود اس کے اپنے مال کانہیں
کما علم بل اموال ضوائع لایعرف اربابھا فیحل لھا التصدق بھا علی ابیھا وابنھا وامھا وبنتھا وفی الھندیۃ عن القنیۃ لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذلك ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا خرج من العھدۃ ۱ھ اقول:فاذا کان ھذا فیما قدمبلکہ ملکا ففیما لم یمبلکہ اظھرواولی۔ جیسا کہ معلوم ہوگیا بلکہ یہ اموال ضائعہ کی قسم سے ہے کہ جن کے مالك نامعلوم ہیں لہذا ان مالوں کا اپنے ماں باپ اور بیٹے بیٹی پر خیرات کردیناحلال ہےفتاوی عالمگیری میں قنیہ کے حوالے سے مذکور ہے کہ اگر کسی کے پاس مشکوك ومشتبہ مال ہو تو وہ اپنے والد کو بطور صدقہخیرات دے دے تو یہ اس کے لئے کافی ہے لہذا کسی اجنبی پر صدقہ کرنا شرط نہیں۔اسی طرح جب اس کا بیٹا کاروبار خریدوفروخت میں اس کے ساتھ ہو اور اس کاروباری سلسلے میں فاسد سودے بھی ہوں پھر وہ شخص اپنا تمام مال اس بیٹے کو ہبہ کردے تو وہ شخص اپنا تمام مال اس بیٹے کو ہبہ کردے تو وہ ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجائے گا ۱ھ میں کہتاہوں جب یہ حکم اس میں ہے کہ جس کا یہ مالك ہے اور جس کا یہ مالك نہیں تو اس میں اجرائے حکم زیادہ واضح اور زیادہ بہترہے۔(ت)
پس اگر اس عورت نے وہ مال انہیں دے ڈالا تھا اور انہوں نے قبضہ کرلیا جب توظاہر ہے کہ صدقہ اپنے محل کو پہنچ گیا اس کی ماں بہنیں اس کی مالك ہوگئیں اور وہ مال ان کے لئے طیب ہوگیا ولایضر الشیوع الصدقۃ وان ضرالھبۃ(صدقہ کو غیرمنقسم ہونا کوئی نقصان نہیں پہنچاتا اگرچہ ہبہ کو نقصان دیتاہے۔ت)اب عورت کو ان سے واپسی کااختیار نہیں لان الصدقۃ لاتسترد وکان القرابۃ المحرمۃ مانعۃ لرجوع(اس لئے کہ صدقہ واپس نہیں کیاجاسکتا کیونکہ محرم رشتہ واپس کرنے سے مانع ہے۔ت)اور اگردے ڈالنانہ تھا بلکہ صرف آپ اس ناپاك مال سے بے علاقہ ہونا منظور تھا اور"تم کو چھوڑا"کے یہ معنی تھے کہ تم ہنوز اسی ناپاك پیشے مں ہو تم جانو اوریہ ناپاك مال مجھے اس سے تعلق نہیں اس صورت میں بھی جبکہ انہوں نے قبضہ کرلیا تو ایك مال ضائعہ حق فقراء تھا جس پر فقراء کاقبضہ ہوگیایہ عورت اس کی مالك نہ تھی کہ فقرا سے مطالبہ واپسی کرسکے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
کما علم بل اموال ضوائع لایعرف اربابھا فیحل لھا التصدق بھا علی ابیھا وابنھا وامھا وبنتھا وفی الھندیۃ عن القنیۃ لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذلك ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا خرج من العھدۃ ۱ھ اقول:فاذا کان ھذا فیما قدمبلکہ ملکا ففیما لم یمبلکہ اظھرواولی۔ جیسا کہ معلوم ہوگیا بلکہ یہ اموال ضائعہ کی قسم سے ہے کہ جن کے مالك نامعلوم ہیں لہذا ان مالوں کا اپنے ماں باپ اور بیٹے بیٹی پر خیرات کردیناحلال ہےفتاوی عالمگیری میں قنیہ کے حوالے سے مذکور ہے کہ اگر کسی کے پاس مشکوك ومشتبہ مال ہو تو وہ اپنے والد کو بطور صدقہخیرات دے دے تو یہ اس کے لئے کافی ہے لہذا کسی اجنبی پر صدقہ کرنا شرط نہیں۔اسی طرح جب اس کا بیٹا کاروبار خریدوفروخت میں اس کے ساتھ ہو اور اس کاروباری سلسلے میں فاسد سودے بھی ہوں پھر وہ شخص اپنا تمام مال اس بیٹے کو ہبہ کردے تو وہ شخص اپنا تمام مال اس بیٹے کو ہبہ کردے تو وہ ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجائے گا ۱ھ میں کہتاہوں جب یہ حکم اس میں ہے کہ جس کا یہ مالك ہے اور جس کا یہ مالك نہیں تو اس میں اجرائے حکم زیادہ واضح اور زیادہ بہترہے۔(ت)
پس اگر اس عورت نے وہ مال انہیں دے ڈالا تھا اور انہوں نے قبضہ کرلیا جب توظاہر ہے کہ صدقہ اپنے محل کو پہنچ گیا اس کی ماں بہنیں اس کی مالك ہوگئیں اور وہ مال ان کے لئے طیب ہوگیا ولایضر الشیوع الصدقۃ وان ضرالھبۃ(صدقہ کو غیرمنقسم ہونا کوئی نقصان نہیں پہنچاتا اگرچہ ہبہ کو نقصان دیتاہے۔ت)اب عورت کو ان سے واپسی کااختیار نہیں لان الصدقۃ لاتسترد وکان القرابۃ المحرمۃ مانعۃ لرجوع(اس لئے کہ صدقہ واپس نہیں کیاجاسکتا کیونکہ محرم رشتہ واپس کرنے سے مانع ہے۔ت)اور اگردے ڈالنانہ تھا بلکہ صرف آپ اس ناپاك مال سے بے علاقہ ہونا منظور تھا اور"تم کو چھوڑا"کے یہ معنی تھے کہ تم ہنوز اسی ناپاك پیشے مں ہو تم جانو اوریہ ناپاك مال مجھے اس سے تعلق نہیں اس صورت میں بھی جبکہ انہوں نے قبضہ کرلیا تو ایك مال ضائعہ حق فقراء تھا جس پر فقراء کاقبضہ ہوگیایہ عورت اس کی مالك نہ تھی کہ فقرا سے مطالبہ واپسی کرسکے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
حوالہ / References
الفتاوی الھندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشرفی الکسب نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹
مسئلہ ۲۲۴: ازشہر چاٹگام موضع نیاگاؤں ازجانب محمدقدرت اﷲ عفی عنہ
چہ میفرمایند علمائے دین اندریں صورت کہ اگرشخصے معاملہ سودنمودہ اموال کثیرہ فراہم نمایند پس رحلت ازدار دنیا بدار آخرت اموالیکہ ازمعاملہ جمع شدہ برائے وارثان وغیرہ جائزوحلال باشد یانہ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت مسئلہ میں کہ ایك شخص نے سودی کاروبار اورلین دین کرکے بہت سامال اکٹھا کیا پھر دار دنیا سے دار آخرت کی طرف کوچ کرگیا لہذا جومال سودی کاروبار سے جمع کیاگیا وہ اس کے وارثوں وغیرہ کے لئے جائز اور حلال ہے یانہیں
الجواب:
اگروارثان دانند کہ ازفلاں فلاں کس ایں قدر رباگرفتہ است واجب ست کہ بآنہا واپس دہند اگرایشاں نماندہ باشند بوارثان ایشاں رسانند اگروارثان ہم نیابندیا ازسرفلاں فلاں راندانستہ باشند مگرعین اموال ربا معلوم ومعین است آں اموال رابر فقراء تصدق کنند واگرہیچ درعلم ایشاں نیست جزاینکہ ربامی گرفت ترکہ مراینہا را حلال است فی ردالمحتار الحاصلانہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ وان کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولایعلم اربابہ ولاشیئا منہ بعینہ حل لہ حکما و الاحسن دیانۃ التنزہ عنہ ۔واﷲ تعالی اعلم اگرورثاء جانتے ہیں کہ اس قدرمال فلاں فلاں سے بطور سود لیاگیا تو ضروری ہےکہ ان کے مالکوں کو واپس کردیں لیکن اگر وہ مالکان وفات پاچکے ہوں تو ان کے ورثاء کو لوٹادیں اگرورثاء موجود ہی نہ ہوں یا ان کی تفصیل معلوم نہ ہو سکے اور سودی رقم کی مقرر مقدار معلوم ہو تو اس مال معینہ کو فقراء ومساکین میں تقسیم کردیں۔اگرمذکورہ امور میں سے کوئی بات ان کے علم میں نہ ہو تو ایسی صورتحال میں ورثاء کے لئے اس میت کاترکہ حلا ل ہے۔چنانچہ فتاوی شامی میں ہے خلاصہ یہ ہے کہ اگر ارباب مال کوجانتا ہے تومال انہیں لوٹادینا ضروری ہے لیکن اگریہ نہیں جانتا اور مال حرام معین کا علم رکھتاہے تو اس کے لئے حلال نہیں بلکہ مالك مال کی نیت سے اسے خیرات کردے اور اگرمال مخلوط(ملاجلا)ہو جو حرام طریقہ سے جمع کیاگیا اور اس کے مالکوں کو نہیں جانتا اور نہ اس
چہ میفرمایند علمائے دین اندریں صورت کہ اگرشخصے معاملہ سودنمودہ اموال کثیرہ فراہم نمایند پس رحلت ازدار دنیا بدار آخرت اموالیکہ ازمعاملہ جمع شدہ برائے وارثان وغیرہ جائزوحلال باشد یانہ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت مسئلہ میں کہ ایك شخص نے سودی کاروبار اورلین دین کرکے بہت سامال اکٹھا کیا پھر دار دنیا سے دار آخرت کی طرف کوچ کرگیا لہذا جومال سودی کاروبار سے جمع کیاگیا وہ اس کے وارثوں وغیرہ کے لئے جائز اور حلال ہے یانہیں
الجواب:
اگروارثان دانند کہ ازفلاں فلاں کس ایں قدر رباگرفتہ است واجب ست کہ بآنہا واپس دہند اگرایشاں نماندہ باشند بوارثان ایشاں رسانند اگروارثان ہم نیابندیا ازسرفلاں فلاں راندانستہ باشند مگرعین اموال ربا معلوم ومعین است آں اموال رابر فقراء تصدق کنند واگرہیچ درعلم ایشاں نیست جزاینکہ ربامی گرفت ترکہ مراینہا را حلال است فی ردالمحتار الحاصلانہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیھم والا فان علم عین الحرام لایحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ وان کان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولایعلم اربابہ ولاشیئا منہ بعینہ حل لہ حکما و الاحسن دیانۃ التنزہ عنہ ۔واﷲ تعالی اعلم اگرورثاء جانتے ہیں کہ اس قدرمال فلاں فلاں سے بطور سود لیاگیا تو ضروری ہےکہ ان کے مالکوں کو واپس کردیں لیکن اگر وہ مالکان وفات پاچکے ہوں تو ان کے ورثاء کو لوٹادیں اگرورثاء موجود ہی نہ ہوں یا ان کی تفصیل معلوم نہ ہو سکے اور سودی رقم کی مقرر مقدار معلوم ہو تو اس مال معینہ کو فقراء ومساکین میں تقسیم کردیں۔اگرمذکورہ امور میں سے کوئی بات ان کے علم میں نہ ہو تو ایسی صورتحال میں ورثاء کے لئے اس میت کاترکہ حلا ل ہے۔چنانچہ فتاوی شامی میں ہے خلاصہ یہ ہے کہ اگر ارباب مال کوجانتا ہے تومال انہیں لوٹادینا ضروری ہے لیکن اگریہ نہیں جانتا اور مال حرام معین کا علم رکھتاہے تو اس کے لئے حلال نہیں بلکہ مالك مال کی نیت سے اسے خیرات کردے اور اگرمال مخلوط(ملاجلا)ہو جو حرام طریقہ سے جمع کیاگیا اور اس کے مالکوں کو نہیں جانتا اور نہ اس
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد دراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۰
میں سے کسی حرام شے کو بعینہ جانتاہے تو اس صورت میں اس کے لئے بطور حکم حلال ہے ہاں تقوی اور دیانت کاتقاضا یہ ہے کہ اس سے پرہیز کرے تو اس کے لئے زیادہ بہتر ہے۔اور اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم والاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۲۵: ازبجنور مرسلہ محمد حسن نائب محافظ دفتر کلکٹری ۲۰/ربیع الاول ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس باب میں کہ کسی شخص نے کچھ مال بذریعہ سود یارشوت یاتغنی یاچوری وغیرہ کسی ذریعہ حرام سے حاصل کیا اور اس مال کے ذریعہ سے کوئی جائداد خرید کی یاکام تجارت جاری کیا تو اب اس جائداد یاتجارت کی آمدنی اس شخص کے اور اس کے توابعین و لواحقین کے حق میں مباح ہے یا نہیں اگرمباح ہے تو کس صورت اور کس دلیل سے اور اس وبال دارین سے سبکدوش ہونےکا عندالشرع کیاطریقہ ہے فقہ حنفی کی رو سے مع حوالہ کتب جواب بواپسی ڈاك ارشاد فرمایاجائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
جومال رشوت یاتغنی یاچوری سے حاصل کیا اس پرفرض ہے کہ جس جس سے لیا ان پر واپس کردےوہ نہ رہے ہوں ان کے ورثہ کو دےپتا نہ چلے تو فقیروں پرتصدق کرےخریدوفروخت کسی کام میں اس مال کالگانا حرام قطعی ہےبغیر صورت مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کانہیں۔یہی حکم سود وغیرہ عقودفاسدہ کاہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بالخصوص انہیںواپس کرنا فرض نہیں بلکہ اسے اختیار ہے کہ اسے واپس دے خواہ ابتداء تصدق کردے
وذلك لان الحرمۃ فی الرشوۃ وامثالھا لعدم الملك اصلا فھو عندہ کالمغصوب فیجب الرد علی المالك او ورثتہ ما امکن اما فی الربو اواشباھہ فلفساد الملك وخبثہ و اذا قدملکہ بالقبض ملکا خبیثا لم یبق مملوك یہ اس لئے کہ رشوت اور اس جیسے مال میں ملکیت بالکل نہ ہونے کی وجہ سے حرمت ہے لہذا وہ مال رشوت لینے والے کے پاس غصب شدہ مال کی طرح ہے لہذا ضروری ہے کہ جس حد تك ممکن ہو وہ مال اس کے مالك یا اس کے ورثاء کو لوٹادیاجائے پس ایساکرنا واجب ہےسود یا اس جیسی اشیاء میں فساد ملك اور خباثت کی بناء پر بوجہ قبضہ اس کا مالك بن گیا تو جس سے
مسئلہ ۲۲۵: ازبجنور مرسلہ محمد حسن نائب محافظ دفتر کلکٹری ۲۰/ربیع الاول ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس باب میں کہ کسی شخص نے کچھ مال بذریعہ سود یارشوت یاتغنی یاچوری وغیرہ کسی ذریعہ حرام سے حاصل کیا اور اس مال کے ذریعہ سے کوئی جائداد خرید کی یاکام تجارت جاری کیا تو اب اس جائداد یاتجارت کی آمدنی اس شخص کے اور اس کے توابعین و لواحقین کے حق میں مباح ہے یا نہیں اگرمباح ہے تو کس صورت اور کس دلیل سے اور اس وبال دارین سے سبکدوش ہونےکا عندالشرع کیاطریقہ ہے فقہ حنفی کی رو سے مع حوالہ کتب جواب بواپسی ڈاك ارشاد فرمایاجائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
جومال رشوت یاتغنی یاچوری سے حاصل کیا اس پرفرض ہے کہ جس جس سے لیا ان پر واپس کردےوہ نہ رہے ہوں ان کے ورثہ کو دےپتا نہ چلے تو فقیروں پرتصدق کرےخریدوفروخت کسی کام میں اس مال کالگانا حرام قطعی ہےبغیر صورت مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کانہیں۔یہی حکم سود وغیرہ عقودفاسدہ کاہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بالخصوص انہیںواپس کرنا فرض نہیں بلکہ اسے اختیار ہے کہ اسے واپس دے خواہ ابتداء تصدق کردے
وذلك لان الحرمۃ فی الرشوۃ وامثالھا لعدم الملك اصلا فھو عندہ کالمغصوب فیجب الرد علی المالك او ورثتہ ما امکن اما فی الربو اواشباھہ فلفساد الملك وخبثہ و اذا قدملکہ بالقبض ملکا خبیثا لم یبق مملوك یہ اس لئے کہ رشوت اور اس جیسے مال میں ملکیت بالکل نہ ہونے کی وجہ سے حرمت ہے لہذا وہ مال رشوت لینے والے کے پاس غصب شدہ مال کی طرح ہے لہذا ضروری ہے کہ جس حد تك ممکن ہو وہ مال اس کے مالك یا اس کے ورثاء کو لوٹادیاجائے پس ایساکرنا واجب ہےسود یا اس جیسی اشیاء میں فساد ملك اور خباثت کی بناء پر بوجہ قبضہ اس کا مالك بن گیا تو جس سے
الماخوذ منہ لاستحالۃ اجتماع ملکین علی شیئ واحد فلم یجب الرد وانما وجب الانخلاع عنہ اما بالرد واما بالتصدق کما ھو سبیل سائر الاملاك الخبیثۃ۔ مال لیاگیا اب اس کی ملکیت باقی نہ رہی(بلکہ ختم ہوگئی)اس لئے کہ ایك چیز پر بیك وقت دو ملك جمع ہونے محال ہیں(کہ اصل شخص بھی مالك ہو اور سودخور بھی۔مترجم)لہذا مال ماخوذ کا واپس کرنا ضروری نہیں بلکہ اس سے علیحدگی واجب ہے خواہ بصورت رد(یعنی لوٹانے کے)ہو یا بصورت خیراتجیسا کہ تمام املاك خبیثہ میں یہی طریقہ ہے۔(ت)
ہاں جس سے لیا انہیں یا ان کے ورثہ کو دینا یہاں بھی اولی ہے کما نص علیہ فی الغنیۃ والخیریۃ والھندیۃ وغیرھا(جیسا کہ غنیہخیریہ اور ہندیہ وغیرہ میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ت)رہا استبدال یعنی اس مال کے عوض دوسری چیز خریدنااس کی دوصورتیں ہیں اگر وہ مال کہ ناجائز ذرائع سے حاصل کیا زروسیم کے سوا اشیاء متعینہ سے تھا جیسے زمین یاکپڑا یا برتن وغیرہا اس کے عوض کوئی جائداد خریدی یا اس سے تجارت کی تو وہ جائداد تجارت سب خبیث وحرام ہےاور اگر وہ مال سوناچاندی روپیہ اشرفی تھا اور اس سے کوئی جائداد مول لی یاتجارت کی تومذہب مفتی بہ میں اگر عقد ونقد دونوں اس زر حرام پرجمع ہوئے یعنی وہی حرام روپیہ بائع کو دکھاکر کہا کہ اس کے عوض فلاں شے دے دے پھر وہی روپیہ اس کے ثمن میں دے دیا یاپہلے سے وہ حرام روپیہ بائع کو دے دیا اور اس کے بدلے کوئی چیز مول لی تو وہ چیز مطلقا حرام و خبیث ہے جبکہ یہ روپیہ غصب یاسرقہ یارشوت واجرت زنا یاغنا وامثال ذلك کا ہے جن میں اس کی ملك اصلا نہیں ہوتیاور اگرعقد ونقد دونوں جمع نہ ہوئے مثلا مطلقا خریدی کہ فلاں چیز دے دے پھر ثمن میں وہ زرحرام دیا یازرحرام دکھاکر خریدی مگردیتے وقت دوسرا روپیہ دیا تو وہ خرید کردہ شے پاك ہے۔یوہیں اگرروپیہ ربا وغیرہ عقود فاسدہ سے حاصل کیاتھا اور اس کے عوض کوئی شے خریدی تو اس خریدی ہوئی شے میں خباثت نہ آئے گی۔ تنویرالابصار میں ہے:
تصدق لوتصرف فی المغصوب والودیعۃ وربح اذا کان متعینا بالاشارۃ او بالشراء بدراھم الودیعۃ او الغصب ونقدھا اگرغصب کردہ چیز اور امانت میں اس نے تصرف کیا اور نفع کمایا ہو تو اسے خیرات کردے جبکہ وہ اشارہ سے متعین ہو اور اگرامانت اور غصب شدہ دراہم سے کوئی چیز خریدی اور وہی دراہم تبادلہ میں
ہاں جس سے لیا انہیں یا ان کے ورثہ کو دینا یہاں بھی اولی ہے کما نص علیہ فی الغنیۃ والخیریۃ والھندیۃ وغیرھا(جیسا کہ غنیہخیریہ اور ہندیہ وغیرہ میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ت)رہا استبدال یعنی اس مال کے عوض دوسری چیز خریدنااس کی دوصورتیں ہیں اگر وہ مال کہ ناجائز ذرائع سے حاصل کیا زروسیم کے سوا اشیاء متعینہ سے تھا جیسے زمین یاکپڑا یا برتن وغیرہا اس کے عوض کوئی جائداد خریدی یا اس سے تجارت کی تو وہ جائداد تجارت سب خبیث وحرام ہےاور اگر وہ مال سوناچاندی روپیہ اشرفی تھا اور اس سے کوئی جائداد مول لی یاتجارت کی تومذہب مفتی بہ میں اگر عقد ونقد دونوں اس زر حرام پرجمع ہوئے یعنی وہی حرام روپیہ بائع کو دکھاکر کہا کہ اس کے عوض فلاں شے دے دے پھر وہی روپیہ اس کے ثمن میں دے دیا یاپہلے سے وہ حرام روپیہ بائع کو دے دیا اور اس کے بدلے کوئی چیز مول لی تو وہ چیز مطلقا حرام و خبیث ہے جبکہ یہ روپیہ غصب یاسرقہ یارشوت واجرت زنا یاغنا وامثال ذلك کا ہے جن میں اس کی ملك اصلا نہیں ہوتیاور اگرعقد ونقد دونوں جمع نہ ہوئے مثلا مطلقا خریدی کہ فلاں چیز دے دے پھر ثمن میں وہ زرحرام دیا یازرحرام دکھاکر خریدی مگردیتے وقت دوسرا روپیہ دیا تو وہ خرید کردہ شے پاك ہے۔یوہیں اگرروپیہ ربا وغیرہ عقود فاسدہ سے حاصل کیاتھا اور اس کے عوض کوئی شے خریدی تو اس خریدی ہوئی شے میں خباثت نہ آئے گی۔ تنویرالابصار میں ہے:
تصدق لوتصرف فی المغصوب والودیعۃ وربح اذا کان متعینا بالاشارۃ او بالشراء بدراھم الودیعۃ او الغصب ونقدھا اگرغصب کردہ چیز اور امانت میں اس نے تصرف کیا اور نفع کمایا ہو تو اسے خیرات کردے جبکہ وہ اشارہ سے متعین ہو اور اگرامانت اور غصب شدہ دراہم سے کوئی چیز خریدی اور وہی دراہم تبادلہ میں
وان اشار الیھا ونقد غیرھا او الی غیرھا او اطلق ونقدھا لا وبہ یفتی ۔ دئیے تو وہ چیز حرام ہے اور اگر ان کی طرف اشارہ کیا لیکن دیتے وقت دوسرے دراہم بصورت نقدی دئیے یا دوسرے دراہم کی طرف اشارہ کیا یاچیز خریدتے وقت ثمن سے اطلاق کیا(کہ فلاں چیز دے دے)پھر قیمت دیتے وقت وہی حرام درھم دئیے تو اسے خیرات نہ کرے(اس لئے کہ وہ پاك ہے)اور اسی پرفتوی دیاجاتاہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
الخبث لفساد الملك انما یعمل فیما یتعین لافیما لایتعین واما الخبث لعدم الملك کالغصب فیعمل فیھما کما بسطہ خسرووابن الکمال ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ملك فاسد ہونے کی وجہ سے جو خباثت پیدا ہوتی ہے وہ متعین شے پر اثرکرتی ہے۔جبکہ غیرمتعین میں مؤثر نہیں ہوتی لیکن عدم ملك کی وجہ سے جو خباثت پیدا ہو جیسے غصب وغیرہ تو وہ متعینغیرمتعین دونوں میں اثرکرتی ہے جیسا کہ خسرواور ابن کمال نے تفصیل سے اس کو بیان فرمایا۔اور اﷲ تعالی سب کچھ خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۲۶: ازبریلی حاضرکردہ محمد صدیق عفی عنہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حاجی محمدقاسم صاحب نے آٹھ سوروپیہ کے نوٹ واشرفیاں سکترصاحب کو برائے عمارت جامع مسجد دئیے تھے سکتر صاحب نے چھ سوکا سامان منگوایا دوسوباقی رہے اور کام مسجدکا شروع کروادیا اہل محلہ نے کسی وجہ سے اس کام کو روکا سکترصاحب کو اس سے ملال ہوا اور کار سے دست بردار ہوئے اور قصدعمارت کاترك کردیاسکترصاحب سے دریافت کیاگیا کہ حاجی صاحب نے جو روپیہ دیاتھا وہ آپ کے پاس بجنسہ یا اس میں کچھ تصرف ہواہےاس کے جواب میں انہوں نے فرمایاکہ حاجی صاحب نے اشرفیاں ونوٹ دئیے تھے میں نے اشرفیاں اپنی اشرفیوں میں ڈال دیں اور نوٹ خزانچی کو
درمختار میں ہے:
الخبث لفساد الملك انما یعمل فیما یتعین لافیما لایتعین واما الخبث لعدم الملك کالغصب فیعمل فیھما کما بسطہ خسرووابن الکمال ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ملك فاسد ہونے کی وجہ سے جو خباثت پیدا ہوتی ہے وہ متعین شے پر اثرکرتی ہے۔جبکہ غیرمتعین میں مؤثر نہیں ہوتی لیکن عدم ملك کی وجہ سے جو خباثت پیدا ہو جیسے غصب وغیرہ تو وہ متعینغیرمتعین دونوں میں اثرکرتی ہے جیسا کہ خسرواور ابن کمال نے تفصیل سے اس کو بیان فرمایا۔اور اﷲ تعالی سب کچھ خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۲۶: ازبریلی حاضرکردہ محمد صدیق عفی عنہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حاجی محمدقاسم صاحب نے آٹھ سوروپیہ کے نوٹ واشرفیاں سکترصاحب کو برائے عمارت جامع مسجد دئیے تھے سکتر صاحب نے چھ سوکا سامان منگوایا دوسوباقی رہے اور کام مسجدکا شروع کروادیا اہل محلہ نے کسی وجہ سے اس کام کو روکا سکترصاحب کو اس سے ملال ہوا اور کار سے دست بردار ہوئے اور قصدعمارت کاترك کردیاسکترصاحب سے دریافت کیاگیا کہ حاجی صاحب نے جو روپیہ دیاتھا وہ آپ کے پاس بجنسہ یا اس میں کچھ تصرف ہواہےاس کے جواب میں انہوں نے فرمایاکہ حاجی صاحب نے اشرفیاں ونوٹ دئیے تھے میں نے اشرفیاں اپنی اشرفیوں میں ڈال دیں اور نوٹ خزانچی کو
حوالہ / References
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۶ ۔۲۰۵
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۹
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۹
دے دئیے تھے چونکہ اشرفیاں خلط ملط ہوگئیں اب مجھ کو ان کی تمیز بھی باقی نہیں رہی کہ وہ کون سی ہیں اور حاجی صاحب خواہ مجھ سے بالکل روپیہ لے لیں خواہ اشرفیاں خواہ نوٹلہذا اس صورت مذکورہ میں حاجی محمد قاسم صاحب اس روپیہ میں سے کسی شخص کو سوا سو روپیہ حج کے واسطے دلاسکتے ہیں یانہیں ازروئے شرع مطہر کے اس کی ممانعت تونہیں ہے اور حاجی صاحب اس کا ثواب عنداﷲ تعالی پائیں گے بینوا و عنداﷲ تعالی توجروا(بیان فرمائیے تاکہ اﷲ تعالی کے ہاں سے اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
جبکہ وہ اشرفیاں وکیل نے اپنے مال میں خلط کرلیں کہ اب تمیز نہیں ہوسکتی تو وہ مال ہلاك ہوگیا اور وکیل پر اس کی ضمان لازم ہوئی فان الخلط استھلاك والمستھلك کغاصب مضمون والضمان مغیر(اس لئے کہ کسی کے مال کو اپنے مال میں ملادینا اسے ہلاك کرتاہے اور ہلاك کرنے والا غاصب کی طرح ہے اور غصب میں ضمان ہے اور ضمان میں تبدیلی پیدا کرنے والا ہے۔ ت)تو دینے والے کو اس روپے میں تصرف مذکور جائزہے خصوصا اب کہ وہ کام ہی ملتوی ہوگیا اور دینے والا اسے اب بھی کار قربت میں صرف کرناچاہتاہے تو یہ صورت ثواب کی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۷: ازسرماگنج ضلع مظفرپور مرسلہ مولوی ظہیرالدین یکم ذیقعد ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے یہاں پشتہا پشت سے شراب کی بکری کاروزگار ہوتاتھا اب اس نے ایك لائق وشریف آدمی کی ہدایت وفہمائش پرشراب کی بکری کے روزگار سے تائب ہوکر اس امر کا منجر ہواکہ جس قدرمال و زر میرے پاس ہے اس کے پاك ہونے کی کیا صورت ہےجس پر ایك عالم صاحب نے فرمایا کہ بعض علماء کے نزدیك حیلہ شرعی یہ ہے کہ تبادلہ جنس کرڈالنے سے ان شاء اﷲ تعالی وہ مال پاك ہوجائے گاواﷲ تعالی اعلم بالصواب۔اسی جلسہ میں دوسرے عالم صاحب نے یہ فرمایا کہ نہیں نہیں ہرگز نہیں وہ مال کسی صورت سے پاك نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس مال کو دریا برد کردیناچاہیے بجزدریا برد کردینے کے اس مال کے استعمال کی کوئی صورت نہیںاب دریافت طلب یہ امر ہے کہ سائل اس مال کو کیاکرےآیا دریا برد کرکے محتاج رہ جائے یا اس کے جواز کی کوئی صورت بھی ہے جیسا کہ عالم صاحب نمبرایك نے فرمایا ہے۔ بینواتوجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجروثواب پاؤ۔ت)فقط۔
الجواب:
دریا برد کردینے کاحکم محض باطل ہے اور دوسری جنس سے بدلنے میں عہدبرآری نہ ہوگی حکم شرع
الجواب:
جبکہ وہ اشرفیاں وکیل نے اپنے مال میں خلط کرلیں کہ اب تمیز نہیں ہوسکتی تو وہ مال ہلاك ہوگیا اور وکیل پر اس کی ضمان لازم ہوئی فان الخلط استھلاك والمستھلك کغاصب مضمون والضمان مغیر(اس لئے کہ کسی کے مال کو اپنے مال میں ملادینا اسے ہلاك کرتاہے اور ہلاك کرنے والا غاصب کی طرح ہے اور غصب میں ضمان ہے اور ضمان میں تبدیلی پیدا کرنے والا ہے۔ ت)تو دینے والے کو اس روپے میں تصرف مذکور جائزہے خصوصا اب کہ وہ کام ہی ملتوی ہوگیا اور دینے والا اسے اب بھی کار قربت میں صرف کرناچاہتاہے تو یہ صورت ثواب کی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۷: ازسرماگنج ضلع مظفرپور مرسلہ مولوی ظہیرالدین یکم ذیقعد ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے یہاں پشتہا پشت سے شراب کی بکری کاروزگار ہوتاتھا اب اس نے ایك لائق وشریف آدمی کی ہدایت وفہمائش پرشراب کی بکری کے روزگار سے تائب ہوکر اس امر کا منجر ہواکہ جس قدرمال و زر میرے پاس ہے اس کے پاك ہونے کی کیا صورت ہےجس پر ایك عالم صاحب نے فرمایا کہ بعض علماء کے نزدیك حیلہ شرعی یہ ہے کہ تبادلہ جنس کرڈالنے سے ان شاء اﷲ تعالی وہ مال پاك ہوجائے گاواﷲ تعالی اعلم بالصواب۔اسی جلسہ میں دوسرے عالم صاحب نے یہ فرمایا کہ نہیں نہیں ہرگز نہیں وہ مال کسی صورت سے پاك نہیں ہوسکتا ہے بلکہ اس مال کو دریا برد کردیناچاہیے بجزدریا برد کردینے کے اس مال کے استعمال کی کوئی صورت نہیںاب دریافت طلب یہ امر ہے کہ سائل اس مال کو کیاکرےآیا دریا برد کرکے محتاج رہ جائے یا اس کے جواز کی کوئی صورت بھی ہے جیسا کہ عالم صاحب نمبرایك نے فرمایا ہے۔ بینواتوجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجروثواب پاؤ۔ت)فقط۔
الجواب:
دریا برد کردینے کاحکم محض باطل ہے اور دوسری جنس سے بدلنے میں عہدبرآری نہ ہوگی حکم شرع
جواس کے ذمہ ہے ادا نہ ہوگا اس پر شرع مطہریہ فرض کرتی ہے کہ اس مال کو تصدق کردےمساکین کو دے ڈالےبغیر اس کے اس کی توبہ صحیح نہیںاور اس میں اس کے لئے حیلہ شرعی بھی نکل آئے گایہ تصدق کچھ اجنبی مساکین ہی پرضرور نہیں بلکہ اپنے محتاج بیٹے یا باپ یابھائی یابی بی پربھی کرسکتاہے انہیں دے کر ان کاقبضہ کرادے پھر وہ کل یابعض جتناچاہیں اسے ہبہ کردیں پاك ہوجائے گا۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذلك ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذاخرج من العھدۃ کذا فی القنیۃ ۔ کسی شخص کے پاس مشتبہ اور مشکوك مال ہو تو اسے کسی اجنبی پر ہی خیرات کردیناضروری نہیں بلکہ وہ اپنے والد پربھی خیرات کرکے بری الذمہ ہوسکتاہے۔اسی طرح اگر اس کا بیٹا اس کے ساتھ شریك کاروبار ہو اور خریدوفروخت کرتاہو اور فاسد سودے بھی ہوتے ہوں اور وہ اپنا تمام مال اس بیٹے کو ہبہ کردے تو وہ اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوجائے گا۔قنیہ میں اسی طرح مذکورہے۔(ت)
اور یہاں تحقیقات عظیمہ فقہیہ ہیں جن کے بیان میں طول ہے اور حاصل حکم اسی قدر ہےوباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۸: غرہ ربیع الاول شریف ۱۳۲۷ھ حبیب اﷲ شاہ محلہ بادبریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہم لوگ باجا بجانے کاپیشہ کرتے ہیںہولی کے دن ہندؤوں کے یہاں بھی جاکر بجایاکرتے تھے مگر اب کی مرتبہ سب برادری نے یہ بات کہی کہ یہ بات ذلت کی ہے ہندؤوں کے یہاں نہیں جاناچاہئے سبھوں نے جاناچھوڑا ایك شخص نہیں مانااس سے یہاں تك کہاگیا کہ اگرتم ایسے نہیں مانتے ہو دوتین روپیہ لے لوخدا کاواسطہ بھی دیااس نے اس پربھی نہ ماناآخرگیاہم لوگوں نے اس کی پنچایت کیدو آدمی اسے پنچایت میں لانے کے لئے گئےاس نے کہا تم نے مجھے چھوڑا میں نے تمہیں چھوڑاتم میرے نزدیك مثل بھنگی کے چمار کے ہو۔اب ازروئے شرع ایسے شخص کے حکم میں حضور کیافرماتے ہیں بینواتوجروا۔
لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذلك ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذاخرج من العھدۃ کذا فی القنیۃ ۔ کسی شخص کے پاس مشتبہ اور مشکوك مال ہو تو اسے کسی اجنبی پر ہی خیرات کردیناضروری نہیں بلکہ وہ اپنے والد پربھی خیرات کرکے بری الذمہ ہوسکتاہے۔اسی طرح اگر اس کا بیٹا اس کے ساتھ شریك کاروبار ہو اور خریدوفروخت کرتاہو اور فاسد سودے بھی ہوتے ہوں اور وہ اپنا تمام مال اس بیٹے کو ہبہ کردے تو وہ اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوجائے گا۔قنیہ میں اسی طرح مذکورہے۔(ت)
اور یہاں تحقیقات عظیمہ فقہیہ ہیں جن کے بیان میں طول ہے اور حاصل حکم اسی قدر ہےوباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۸: غرہ ربیع الاول شریف ۱۳۲۷ھ حبیب اﷲ شاہ محلہ بادبریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہم لوگ باجا بجانے کاپیشہ کرتے ہیںہولی کے دن ہندؤوں کے یہاں بھی جاکر بجایاکرتے تھے مگر اب کی مرتبہ سب برادری نے یہ بات کہی کہ یہ بات ذلت کی ہے ہندؤوں کے یہاں نہیں جاناچاہئے سبھوں نے جاناچھوڑا ایك شخص نہیں مانااس سے یہاں تك کہاگیا کہ اگرتم ایسے نہیں مانتے ہو دوتین روپیہ لے لوخدا کاواسطہ بھی دیااس نے اس پربھی نہ ماناآخرگیاہم لوگوں نے اس کی پنچایت کیدو آدمی اسے پنچایت میں لانے کے لئے گئےاس نے کہا تم نے مجھے چھوڑا میں نے تمہیں چھوڑاتم میرے نزدیك مثل بھنگی کے چمار کے ہو۔اب ازروئے شرع ایسے شخص کے حکم میں حضور کیافرماتے ہیں بینواتوجروا۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹
الجواب:
باجا بجانا خود ہی ناجائزتھا اور ہندؤوں کے یہاں بجانا اور سخت ناجائزاور ان کے شیطانی تہوار میں بجانا اور بھی سخت حرام درحرام درحراماب کے ان مسلمانوں کو ان کے رب عزوجل نے یہ توفیق دی کہ ہندؤوں کے یہاں نہ بجانے پر اتفاق کرلیا اور خدا نے آنکھیں کھولیں کہ مسلمان ہو کر خدا کے دشمنوں کے سامنے ذلت اٹھانے کو براجانا تو اس پر تمام برادری کو اس ترك میں ان کی پیروی خداورسول کے حکم سے لازم تھی جس شخص نے نہ مانا وہ صرف گنہگارہی نہیں بلکہ سرکش شریربدکار ہے اس پرتوبہ فرض ہے اگر وہ نہ مانے توبرادری والوں پر لازم کہ اسے مثل بھنگی چمار کے چھوڑیں اس کی کسی بات میں شریك نہ ہوں نہ اپنی کسی بات میں اسے شریك کریں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۹: ازضلع متھرا محلہ بلوچپاڑہ قصبہ نائت مرسلہ غلام محمد امیرخاں صاحب حنفی ۲۰/نومبر۱۹۰۹ء
جناب مولانا صاحب السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ۔کمترین کاسن اکیاون سال کاہے اور گیارہ لڑکیاں ہیں۔پیشہ وثائق نویس کرتاہوں اور دوسراکوئی کام نہیں جانتاہون۔مسلمانوں کی سودی دستاویز لکھنے سے اجتناب کرتاہوں حتی کہ اس وقت تك میرے قلم سے کسی مسلمان کی کوئی دستاویز نہیں لکھی گئی۔آج ایك مولوی صاحب کی زبانی یہ مسئلہ سنا کہ کفار کے سودی دستاویزات کہ جس میں فریقین کافرہوں ہندوستان میں یہ بھی جائزنہیں ہیں اور جیسا گناہ سودکھانے والے کو ہے ویسا ہی کاتب کواور گواہوں کو ہے۔پس یہ سن کر مجھ کو خوف الہی نے اس بات پر مجبور کیا کہ جناب سے اس مسئلہ کودریافت کروںاور اگر فی الحقیقت جیسا کہ مولوی صاحب موصوف نے فرمایا ہے حضور بھی فتوی دیں تو اﷲ تعالی پرتوکل کرکے اس پیشہ کوچھوڑدوں اور اﷲ تعالی کے حضور میں توبہ واستغفار کروں تاکہ اﷲ تعالی گزشتہ کو معاف کردے۔حضور بھی میرے حق میں دعائے خیر فرمادیں اور فتوی عطافرمائیںجمیع حاضرین کی خدمت میں سلام علیك عرض کرتاہوں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" و من یـتق اللہ یجعل لہ مخرجا ﴿۲﴾ و یرزقہ من حیث لا یحتسب و من یتوکل جو اﷲ سے ڈرے گا اﷲ تعالی اس کے لئے ہے ہرتنگی سے نجات کی راہ رکھے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ پہنچے
باجا بجانا خود ہی ناجائزتھا اور ہندؤوں کے یہاں بجانا اور سخت ناجائزاور ان کے شیطانی تہوار میں بجانا اور بھی سخت حرام درحرام درحراماب کے ان مسلمانوں کو ان کے رب عزوجل نے یہ توفیق دی کہ ہندؤوں کے یہاں نہ بجانے پر اتفاق کرلیا اور خدا نے آنکھیں کھولیں کہ مسلمان ہو کر خدا کے دشمنوں کے سامنے ذلت اٹھانے کو براجانا تو اس پر تمام برادری کو اس ترك میں ان کی پیروی خداورسول کے حکم سے لازم تھی جس شخص نے نہ مانا وہ صرف گنہگارہی نہیں بلکہ سرکش شریربدکار ہے اس پرتوبہ فرض ہے اگر وہ نہ مانے توبرادری والوں پر لازم کہ اسے مثل بھنگی چمار کے چھوڑیں اس کی کسی بات میں شریك نہ ہوں نہ اپنی کسی بات میں اسے شریك کریں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۹: ازضلع متھرا محلہ بلوچپاڑہ قصبہ نائت مرسلہ غلام محمد امیرخاں صاحب حنفی ۲۰/نومبر۱۹۰۹ء
جناب مولانا صاحب السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ۔کمترین کاسن اکیاون سال کاہے اور گیارہ لڑکیاں ہیں۔پیشہ وثائق نویس کرتاہوں اور دوسراکوئی کام نہیں جانتاہون۔مسلمانوں کی سودی دستاویز لکھنے سے اجتناب کرتاہوں حتی کہ اس وقت تك میرے قلم سے کسی مسلمان کی کوئی دستاویز نہیں لکھی گئی۔آج ایك مولوی صاحب کی زبانی یہ مسئلہ سنا کہ کفار کے سودی دستاویزات کہ جس میں فریقین کافرہوں ہندوستان میں یہ بھی جائزنہیں ہیں اور جیسا گناہ سودکھانے والے کو ہے ویسا ہی کاتب کواور گواہوں کو ہے۔پس یہ سن کر مجھ کو خوف الہی نے اس بات پر مجبور کیا کہ جناب سے اس مسئلہ کودریافت کروںاور اگر فی الحقیقت جیسا کہ مولوی صاحب موصوف نے فرمایا ہے حضور بھی فتوی دیں تو اﷲ تعالی پرتوکل کرکے اس پیشہ کوچھوڑدوں اور اﷲ تعالی کے حضور میں توبہ واستغفار کروں تاکہ اﷲ تعالی گزشتہ کو معاف کردے۔حضور بھی میرے حق میں دعائے خیر فرمادیں اور فتوی عطافرمائیںجمیع حاضرین کی خدمت میں سلام علیك عرض کرتاہوں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" و من یـتق اللہ یجعل لہ مخرجا ﴿۲﴾ و یرزقہ من حیث لا یحتسب و من یتوکل جو اﷲ سے ڈرے گا اﷲ تعالی اس کے لئے ہے ہرتنگی سے نجات کی راہ رکھے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ پہنچے
علی اللہ فہو حسبہ " اور جو اﷲ پربھروسا کرے تو اﷲ اسے کافی ہے۔
اے اپنے رب سے ڈرنے والے بندے! بیشك سود لینا اور دینا اور اس کاکاغذ لکھنا اور پرگواہی کرنادینا سب کا ایك حکم ہے اور سب پررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے سود کھانے والےکھلانے والے اسے دیکھنے والےاسے لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائیاور ارشاد فرمایا:یہ سب گناہ میں برابر ہیں۔(ت)
فورا اس کا چھوڑدینا اور اس سے توبہ کرنا فرض ہےاور بشارت ہوکہ یہ نیك پاکیزہ کہ اﷲ عزوجل کے خوف سے پیدا ہوا بحکم آیت مذکورہ وجہ حلال سے رزق طیب ملنے اور اﷲ عزوجل کی رضا کی خوشخبری دیتاہے اور بیشك جو اﷲ تعالی پرتوکل کرتاہے اﷲ اسے بس ہے۔
فقیر اسلامی محبت سے چند اعمال مجربہ جو بارہا بفضلہ تعالی تیربہدف ثابت ہوئے ہیں آپ کو بتاتا ہے:
(۱)بعد نماز عشا سربرہنہ ایسی جگہ کہ سرو آسمان میں چھت یادرخت وغیرہ کچھ حاجب نہ ہو ۵۰ بار روزانہ پڑھئے یا مسبب الاسباب(اے اسباب کا سبب بنانے والے۔ت)اول آخر ۱۱۱۱ بار درود شریف۔جتنے دنوں زیادہ پڑھے زیادہ نفع ہوگا ان شاء اﷲ تعالیاور ہمیشہ پڑھے تو بہتر۔
(۲)بعد نماز مغرب ستارہ قطب کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوکر آیہ قطب کہ پارہ چہارم کے نصف پر ہے
" ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃسے "علیم بذات الصدور﴿۱۵۴﴾ تك ۴۱ بار روز پڑھے ۴۱ روز تکاول آخر۱۰۱۰ بار درودشریف۔
(۳)خاص طلوع صبح صادق کے وقتاور نہ ہوسکے تو حتی الامکان سنت صبح سے پہلے سو بار روزانہ پڑھیں سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان اﷲ العظیماول آخردرودشریف ۱۰۱۰ بار۔اس کا ورد ہمیشہ رہے۔اول وقت پڑھنے کی کوشش ہو مگر اس کے سبب جماعت میں خلل نہ پڑے۔
اے اپنے رب سے ڈرنے والے بندے! بیشك سود لینا اور دینا اور اس کاکاغذ لکھنا اور پرگواہی کرنادینا سب کا ایك حکم ہے اور سب پررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے سود کھانے والےکھلانے والے اسے دیکھنے والےاسے لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائیاور ارشاد فرمایا:یہ سب گناہ میں برابر ہیں۔(ت)
فورا اس کا چھوڑدینا اور اس سے توبہ کرنا فرض ہےاور بشارت ہوکہ یہ نیك پاکیزہ کہ اﷲ عزوجل کے خوف سے پیدا ہوا بحکم آیت مذکورہ وجہ حلال سے رزق طیب ملنے اور اﷲ عزوجل کی رضا کی خوشخبری دیتاہے اور بیشك جو اﷲ تعالی پرتوکل کرتاہے اﷲ اسے بس ہے۔
فقیر اسلامی محبت سے چند اعمال مجربہ جو بارہا بفضلہ تعالی تیربہدف ثابت ہوئے ہیں آپ کو بتاتا ہے:
(۱)بعد نماز عشا سربرہنہ ایسی جگہ کہ سرو آسمان میں چھت یادرخت وغیرہ کچھ حاجب نہ ہو ۵۰ بار روزانہ پڑھئے یا مسبب الاسباب(اے اسباب کا سبب بنانے والے۔ت)اول آخر ۱۱۱۱ بار درود شریف۔جتنے دنوں زیادہ پڑھے زیادہ نفع ہوگا ان شاء اﷲ تعالیاور ہمیشہ پڑھے تو بہتر۔
(۲)بعد نماز مغرب ستارہ قطب کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوکر آیہ قطب کہ پارہ چہارم کے نصف پر ہے
" ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃسے "علیم بذات الصدور﴿۱۵۴﴾ تك ۴۱ بار روز پڑھے ۴۱ روز تکاول آخر۱۰۱۰ بار درودشریف۔
(۳)خاص طلوع صبح صادق کے وقتاور نہ ہوسکے تو حتی الامکان سنت صبح سے پہلے سو بار روزانہ پڑھیں سبحان اﷲ وبحمدہ سبحان اﷲ العظیماول آخردرودشریف ۱۰۱۰ بار۔اس کا ورد ہمیشہ رہے۔اول وقت پڑھنے کی کوشش ہو مگر اس کے سبب جماعت میں خلل نہ پڑے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۵ /۲،۳
صحیح مسلم کتاب البیوع باب الربٰو قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷
القرآن الکریم ۳ /۱۵۴
صحیح مسلم کتاب البیوع باب الربٰو قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷
القرآن الکریم ۳ /۱۵۴
اگر آنکھ دیر میں کھلے سنتیں پڑھ کر اسے شروع کریںاگر بیچ میں جماعت قائم ہو شریك ہوجائیںباقی عدد بعد میں پورا کریں۔وظائف واعمال کے اثر کرنے میں تین شرائط ضروری ہیں:
(۱)حسن اعتقاددل میں دغدغہ نہ ہو کہ دیکھئے اثرہوتاہے یانہیںبلکہ اﷲ عزوجل کے کرم پر پورا بھروسا ہو کہ ضرور اجابت فرمائے گا۔حدیث میں ہے رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ادع اﷲ وانتم موقنون بالاجابۃ ۔ اﷲ تعالی سے اس حال پر دعا کرو کہ تمہیں اجابت کا یقین ہو۔
(۲)صبروتحملدن گزریں تو گھبرائیں نہیں کہ اتنے دن پڑھتے گزرے ابھی کچھ اثرظاہر نہ ہوا یوں اجابت بند کردی جاتی ہے بلکہ لپٹارہے اور لو لگائے رہے کہ اب اﷲ ورسول اپنا فضل کرتے ہیں۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
"ولو انہم رضوا ما اتىہم اللہ ورسولہ وقالوا حسبنا اللہ سیؤتینا اللہ من فضلہ ورسولہ انا الی اللہ رغبون ﴿۵۹﴾" کیا خوب ہوتا اگر وہ اﷲ ورسول کے دینے پر راضی ہوجاتے اور کہتے ہمیں اﷲ کافی ہے اب ہمیں عطافرماتے ہیں اﷲ ورسول اپنے فضل سےبیشك ہم اﷲ کی طرف لو لگائے ہیں۔
حدیث میں ہے:
یستجاب لاحدکم مالم یعجل فیقول قد دعوت فلم یستجب لی ۔ تمہاری دعائیں قبول ہوتی ہیں جب تك جلدی نہ کرو کہ میں نے دعا کی اور اب تك قبول نہ ہوئی۔
(۳)میرے یہاں کی جملہ اجازات و وظائف واعمال وتعویذات میں شرط ہے کہ نمازپنجگانہ باجماعت مسجد میں ادا کرنے کی کامل پابندی رہے وباﷲ التوفیق۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۰:
ازروئے شرع شریف کے تاوان کا روپیہ جمع کرنا جائزہے یاناجائز
(۱)حسن اعتقاددل میں دغدغہ نہ ہو کہ دیکھئے اثرہوتاہے یانہیںبلکہ اﷲ عزوجل کے کرم پر پورا بھروسا ہو کہ ضرور اجابت فرمائے گا۔حدیث میں ہے رسول اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ادع اﷲ وانتم موقنون بالاجابۃ ۔ اﷲ تعالی سے اس حال پر دعا کرو کہ تمہیں اجابت کا یقین ہو۔
(۲)صبروتحملدن گزریں تو گھبرائیں نہیں کہ اتنے دن پڑھتے گزرے ابھی کچھ اثرظاہر نہ ہوا یوں اجابت بند کردی جاتی ہے بلکہ لپٹارہے اور لو لگائے رہے کہ اب اﷲ ورسول اپنا فضل کرتے ہیں۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
"ولو انہم رضوا ما اتىہم اللہ ورسولہ وقالوا حسبنا اللہ سیؤتینا اللہ من فضلہ ورسولہ انا الی اللہ رغبون ﴿۵۹﴾" کیا خوب ہوتا اگر وہ اﷲ ورسول کے دینے پر راضی ہوجاتے اور کہتے ہمیں اﷲ کافی ہے اب ہمیں عطافرماتے ہیں اﷲ ورسول اپنے فضل سےبیشك ہم اﷲ کی طرف لو لگائے ہیں۔
حدیث میں ہے:
یستجاب لاحدکم مالم یعجل فیقول قد دعوت فلم یستجب لی ۔ تمہاری دعائیں قبول ہوتی ہیں جب تك جلدی نہ کرو کہ میں نے دعا کی اور اب تك قبول نہ ہوئی۔
(۳)میرے یہاں کی جملہ اجازات و وظائف واعمال وتعویذات میں شرط ہے کہ نمازپنجگانہ باجماعت مسجد میں ادا کرنے کی کامل پابندی رہے وباﷲ التوفیق۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۰:
ازروئے شرع شریف کے تاوان کا روپیہ جمع کرنا جائزہے یاناجائز
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الدعوات امین کمپنی دہلی ۲ /۱۸۶،مشکوٰۃ المصابیح کتاب الدعوات الفصل الثانی مجتبائی دہلی ص۱۹۵
القرآن الکریم ۹ /۵۹
صحیح مسلم کتاب کتاب الذکروالدعاء باب انہ لیستجاب للداعی مالم یعجل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۵۲
القرآن الکریم ۹ /۵۹
صحیح مسلم کتاب کتاب الذکروالدعاء باب انہ لیستجاب للداعی مالم یعجل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۵۲
الجواب:
حرام تاوان کا حرام اور جائز کا جائز۔سائل نے متعدد سوال گول اور مجمل لکھے جو کسی صورت خاصہ میں حکم معلوم کرناچاہے اسے مفصل وہ خاص صورت بیان کرناچاہئے کہ اس کا حکم بتایاجائے۔
مسئلہ ۲۳۱: ازسرونج مسئولہ جناب محمد عبدالرشید خاں صاحب ۱۹/محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
ایك عزیز زید کا زید کو ازراہ صلہ رحمی ماہوار وظیفہ دیتاہے مگر مہاجن سے سودی روپیہ قرض لے کر دیتاہے کسی اپنی دنیوی وجہ سےتو ایسے روپے سے خیرات جائز یاناجائز
الجواب:
بلاضرورت شرعیہ ومجبوری صادق سودی روپیہ قرض لینا حرام اور شدید گناہ کبیرہ ہے۔صحیح حدیث میں سود لینے والے اور سود کھانے والے کو برابر بتایا اور دونوں پر سخت وعید فرمائی تو یہ روپیہ کہ ایك عقد فاسد سے اس نے حاصل کیا خود خبیث ہے اور اسے واپس دینا اور اس عقد کو فسخ کرنا واجب ہے امور خیر یا اپنے کسی مصرف میں نہیں لاسکتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲: ازسرونج مسئولہ جناب محمد عبدالرشید خاں صاحب ۱۹/محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
زید نے عمر کو روپیہ قرض دیاعمر نے ادائیگی روپیہ زید کی ناپاك روپے سے کیتو ایسی حالت میں روپیہ زید کا پاك رہا یاناپاک
الجواب:
ناپاك روپیہ دو قسم ہےایك وہ جو اس شخص کی ملك ہی نہیں جیسے غصب یا رشوت یا چوری کا روپیہیہ روپیہ اس سے نہ کوئی اپنے قرض میں لے سکتاہے نہ اپنی کسی بیچی ہوئی چیز کی قیمت میںاور اگر لے گا تو وہ اس کے لئے حرام وناپاك ہوگا جبکہ اسے معلوم ہو کہ دینے والے کے پاس بعینہ یہ روپیہ اس وجہ حرام سے ہے۔اور اگر دینے والے کے پاس علاوہ حرام ہر قسم کا روپیہ ہے اور لینے والے کو معلوم نہیں کہ یہ روپیہ جو کچھ دے رہاہے خاص وجہ حرام کاہے تو لینے میں حرج نہیں۔
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حرام لعینہ ۔ فتاوی ہندیہ میں ذخیرہ سے امام محمد کے حوالے سے یہ روایت نقل فرمائی کہ ہم اسی مسئلہ کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی شیئ کے عین حرام ہونے کا علم نہ ہو۔(ت)
حرام تاوان کا حرام اور جائز کا جائز۔سائل نے متعدد سوال گول اور مجمل لکھے جو کسی صورت خاصہ میں حکم معلوم کرناچاہے اسے مفصل وہ خاص صورت بیان کرناچاہئے کہ اس کا حکم بتایاجائے۔
مسئلہ ۲۳۱: ازسرونج مسئولہ جناب محمد عبدالرشید خاں صاحب ۱۹/محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
ایك عزیز زید کا زید کو ازراہ صلہ رحمی ماہوار وظیفہ دیتاہے مگر مہاجن سے سودی روپیہ قرض لے کر دیتاہے کسی اپنی دنیوی وجہ سےتو ایسے روپے سے خیرات جائز یاناجائز
الجواب:
بلاضرورت شرعیہ ومجبوری صادق سودی روپیہ قرض لینا حرام اور شدید گناہ کبیرہ ہے۔صحیح حدیث میں سود لینے والے اور سود کھانے والے کو برابر بتایا اور دونوں پر سخت وعید فرمائی تو یہ روپیہ کہ ایك عقد فاسد سے اس نے حاصل کیا خود خبیث ہے اور اسے واپس دینا اور اس عقد کو فسخ کرنا واجب ہے امور خیر یا اپنے کسی مصرف میں نہیں لاسکتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲: ازسرونج مسئولہ جناب محمد عبدالرشید خاں صاحب ۱۹/محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
زید نے عمر کو روپیہ قرض دیاعمر نے ادائیگی روپیہ زید کی ناپاك روپے سے کیتو ایسی حالت میں روپیہ زید کا پاك رہا یاناپاک
الجواب:
ناپاك روپیہ دو قسم ہےایك وہ جو اس شخص کی ملك ہی نہیں جیسے غصب یا رشوت یا چوری کا روپیہیہ روپیہ اس سے نہ کوئی اپنے قرض میں لے سکتاہے نہ اپنی کسی بیچی ہوئی چیز کی قیمت میںاور اگر لے گا تو وہ اس کے لئے حرام وناپاك ہوگا جبکہ اسے معلوم ہو کہ دینے والے کے پاس بعینہ یہ روپیہ اس وجہ حرام سے ہے۔اور اگر دینے والے کے پاس علاوہ حرام ہر قسم کا روپیہ ہے اور لینے والے کو معلوم نہیں کہ یہ روپیہ جو کچھ دے رہاہے خاص وجہ حرام کاہے تو لینے میں حرج نہیں۔
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حرام لعینہ ۔ فتاوی ہندیہ میں ذخیرہ سے امام محمد کے حوالے سے یہ روایت نقل فرمائی کہ ہم اسی مسئلہ کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی شیئ کے عین حرام ہونے کا علم نہ ہو۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
دوسری قسم وہ کہ اس کی ملك بروجہ خبیث ہے جیسے وہ روپیہ کہ کسی عقد فاسد سے حاصل کیاجائے یہ بعد قبضہ ملك ہوجاتاہے۔اور دوسرے کو اپنے کسی جائز ذریعہ میں لینا رواہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۳: مرسلہ کفایت اﷲ خاں صاحب از موضع ابہئی پور ضلع بریلی ۱۰/ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ پیشتر ایك چندہ کیاگیا واسطے مجلس میلاد شریف وقوالی کےچندہ جمع ہونے کے بعد چند اشخاص نے یہ کہا کہ ہم نے اب کی مرتبہ دیاہے لیکن آئندہ نہ دیں گے اور اب مسجد کی مرمت کے واسطے دیں گےتو اس میں ان کا مبلغ(عہ ۸/)جمع تھا ان کو بجائے(لہ ۸/)کے مبلغ(عہ۸/)ان کو دیاگیا کہ یہ لو مسجد کی مرمت میں لگاناوہ روپیہ وہ لوگ جنہوں نے چندہ دیاتھا آپس میں تقسیم کر کے کھاگئےاب ان کے حق میں کیاحکم ہوتاہے
الجواب:
مجلس میلاد مبارك اعظم مندوبات سے ہے جبکہ بروجہ صحیح ہو جس طرح حرمین طیبین میں ہوتی ہے اور قوالی کہ یہاں رائج ہے ناجائزہے اور اس کے لئے چندہ دینا بھی جائزنہیں یہ چندہ کہ ان کو واپس دیاگیا اگر(لہ ۸/عہ)ہی دئے جاتے جتنا انہوں نے دیاتھا تو انہیں اس کا کھالینا حرم نہ ہوتا وہ ان کی ملك تھا اور جو وعدہ مسجد میں صرف کرنے کاکیاتھا اگر اس پرقائم تھے اور بوجہ حاجت اس وقت صرف کرلیا اور دل میں یہ نیت تھی کہ اس کے عوض مسجد میں اتنا لگادیں گے تو اﷲ عزوجل سے وعدہ خلافی بھی نہ ہو اور اگر یہ نیت نہ تھی تو خلاف وعدہ کا وبال ہوا اور معاذاﷲ اس کی نحوست شدید ہے۔
قال اﷲ تعالی"فاعقبہم نفاقا فی قلوبہم الی یوم یلقونہ بما اخلفوا اللہ ما وعدوہ وبما کانوا یکذبون ﴿۷۷﴾" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اﷲ تعالی نے ان کے دلوں میں نفاق جمادیا اس دن تك کہ اس سے وہ ملیں گے اس لئے کہ انہوں نے اپنے کئے ہوئے وعدہ کی اﷲ تعالی سے خلاف ورزی کی اور اس لئے کہ وہ جھوٹ کہاکرتے تھے۔(ت)
مگر وہ ایك روپیہ زائد جو ان کو دیاگےا اس کا کھالینا ہرطرح انہیں حرام تھا بہرحال وہ مرتکب غصب وحرام ہوئے ان پر توبہ فرض ہے اور اس ایك روپیہ کا تاوان دینا لازم۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۴: مسئولہ محمد سید علی صاحب طالب علم از کانپور مسجد حاجی بدلوصاحب سطرنجی محل ۱۳/ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی ایك بازاری عورت یعنی
مسئلہ ۲۳۳: مرسلہ کفایت اﷲ خاں صاحب از موضع ابہئی پور ضلع بریلی ۱۰/ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ پیشتر ایك چندہ کیاگیا واسطے مجلس میلاد شریف وقوالی کےچندہ جمع ہونے کے بعد چند اشخاص نے یہ کہا کہ ہم نے اب کی مرتبہ دیاہے لیکن آئندہ نہ دیں گے اور اب مسجد کی مرمت کے واسطے دیں گےتو اس میں ان کا مبلغ(عہ ۸/)جمع تھا ان کو بجائے(لہ ۸/)کے مبلغ(عہ۸/)ان کو دیاگیا کہ یہ لو مسجد کی مرمت میں لگاناوہ روپیہ وہ لوگ جنہوں نے چندہ دیاتھا آپس میں تقسیم کر کے کھاگئےاب ان کے حق میں کیاحکم ہوتاہے
الجواب:
مجلس میلاد مبارك اعظم مندوبات سے ہے جبکہ بروجہ صحیح ہو جس طرح حرمین طیبین میں ہوتی ہے اور قوالی کہ یہاں رائج ہے ناجائزہے اور اس کے لئے چندہ دینا بھی جائزنہیں یہ چندہ کہ ان کو واپس دیاگیا اگر(لہ ۸/عہ)ہی دئے جاتے جتنا انہوں نے دیاتھا تو انہیں اس کا کھالینا حرم نہ ہوتا وہ ان کی ملك تھا اور جو وعدہ مسجد میں صرف کرنے کاکیاتھا اگر اس پرقائم تھے اور بوجہ حاجت اس وقت صرف کرلیا اور دل میں یہ نیت تھی کہ اس کے عوض مسجد میں اتنا لگادیں گے تو اﷲ عزوجل سے وعدہ خلافی بھی نہ ہو اور اگر یہ نیت نہ تھی تو خلاف وعدہ کا وبال ہوا اور معاذاﷲ اس کی نحوست شدید ہے۔
قال اﷲ تعالی"فاعقبہم نفاقا فی قلوبہم الی یوم یلقونہ بما اخلفوا اللہ ما وعدوہ وبما کانوا یکذبون ﴿۷۷﴾" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اﷲ تعالی نے ان کے دلوں میں نفاق جمادیا اس دن تك کہ اس سے وہ ملیں گے اس لئے کہ انہوں نے اپنے کئے ہوئے وعدہ کی اﷲ تعالی سے خلاف ورزی کی اور اس لئے کہ وہ جھوٹ کہاکرتے تھے۔(ت)
مگر وہ ایك روپیہ زائد جو ان کو دیاگےا اس کا کھالینا ہرطرح انہیں حرام تھا بہرحال وہ مرتکب غصب وحرام ہوئے ان پر توبہ فرض ہے اور اس ایك روپیہ کا تاوان دینا لازم۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۴: مسئولہ محمد سید علی صاحب طالب علم از کانپور مسجد حاجی بدلوصاحب سطرنجی محل ۱۳/ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی ایك بازاری عورت یعنی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۷۷
رنڈی نے مدتوں سے زناکاری اور رقاصی کرکے بہت مال جمع کیا اور اپنے حالات فسق وفجور ہی میں اس مال سے ایك مکان بنایااور کئی بیگھہ زمین خریدی اس عورت کے پاس اور کوئی مال بھی نہ تھا اور ہونے کی صورت متصور نہ تھی جس سے زمین اور مکان کی قیمت دے سکے اب دو تین برس سے اس عورت نے توبہ کرکے اور بازار چھوڑ کر اس مکان میں سکونت پذیر ہوئی اور چاہتی ہے کہ اپنی ملك سے عوام وخواص کی دعوت کرے اور کھلائے پلائے اور لوگوں کو اس کے مکان میں جانا اور کھانا پینا اور خود عورت مذکورہ کو اس مکان وزمین ودیگر اشیاء کہ جو اس مال سے خرید کی ہیں استعمال کرناجائزہے یانہیں بینوابالکتاب (کتاب کے حوالہ سے بیان فرماؤ۔ت)
الجواب:
اگر اس نے زمین اور مکان کی اینٹکڑی وغیرہ اپنے روپے دکھاکر نہ خریدی بلکہ مطلق روپےکو خریدی اور پھر وہ مال حرام زرثمن میں دیا اور بیشك آجکل عام خریداریاں اسی طرح پر ہوتی ہیں تو وہ زمین و مکان اس کے لئے حرام نہیں
لان الدراھم لاتتعین فی العقود فاذا لم یجتمع علیھا العقد والنقد لم یسر الخبث الی البدل کما ھو قول الامام الکرخی وعلیہ الفتوی۔ اس لئے کہ عقد کے معاملات میں دراہم متعین نہیں ہوتے پھر جب ان پر عقد اور نقد جمع نہ ہوں تو خباثت بدل کی طرف سرایت نہیں کرتیجیسا کہ امام کرخی علیہ الرحمۃ کا ارشاد ہے۔اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)
مگر وہ مال حرام جو اس کے پاس ہے اس پر لازم ہے کہ سب تصدق کردے اس میں سے کوئی پیسہ اپنے کھانے پہننے یا کسی اور مصرف میں اسے اٹھانا حرام ہے وہ اگر اسے پاك کرناچاہے تو اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ کسی محتاج کو اگرچہ اس کا کیسا ہی عزیز وقریب ہو اپنا وہ کل مال ایك ایك پیسہ ایك ایك تاربہ نیت تصدق دے دے اس میں سے کچھ اپنے پاس نہ رکھےاور زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ چند محتاجوں پر اس حساب سے تصدق کرے کہ ہر ایك کو چھپن روپے سے کم کا مال پہنچے پھر جن کو اس نے بطور تصدق دیا ہے وہ اپنی خوشی سے اپنی طرف سے تھوڑا یا بہت جتنا اسے ہبہ کردیں وہ اس کے لئے حلال طیب ہوجائے گا اگرچہ کل دے دیں اس کے بعد اس کے یہاں کی دعوت وغیرہ کسی امر میں حرج نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
اگر اس نے زمین اور مکان کی اینٹکڑی وغیرہ اپنے روپے دکھاکر نہ خریدی بلکہ مطلق روپےکو خریدی اور پھر وہ مال حرام زرثمن میں دیا اور بیشك آجکل عام خریداریاں اسی طرح پر ہوتی ہیں تو وہ زمین و مکان اس کے لئے حرام نہیں
لان الدراھم لاتتعین فی العقود فاذا لم یجتمع علیھا العقد والنقد لم یسر الخبث الی البدل کما ھو قول الامام الکرخی وعلیہ الفتوی۔ اس لئے کہ عقد کے معاملات میں دراہم متعین نہیں ہوتے پھر جب ان پر عقد اور نقد جمع نہ ہوں تو خباثت بدل کی طرف سرایت نہیں کرتیجیسا کہ امام کرخی علیہ الرحمۃ کا ارشاد ہے۔اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)
مگر وہ مال حرام جو اس کے پاس ہے اس پر لازم ہے کہ سب تصدق کردے اس میں سے کوئی پیسہ اپنے کھانے پہننے یا کسی اور مصرف میں اسے اٹھانا حرام ہے وہ اگر اسے پاك کرناچاہے تو اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ کسی محتاج کو اگرچہ اس کا کیسا ہی عزیز وقریب ہو اپنا وہ کل مال ایك ایك پیسہ ایك ایك تاربہ نیت تصدق دے دے اس میں سے کچھ اپنے پاس نہ رکھےاور زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ چند محتاجوں پر اس حساب سے تصدق کرے کہ ہر ایك کو چھپن روپے سے کم کا مال پہنچے پھر جن کو اس نے بطور تصدق دیا ہے وہ اپنی خوشی سے اپنی طرف سے تھوڑا یا بہت جتنا اسے ہبہ کردیں وہ اس کے لئے حلال طیب ہوجائے گا اگرچہ کل دے دیں اس کے بعد اس کے یہاں کی دعوت وغیرہ کسی امر میں حرج نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۵:ازشہر کمرلہ ڈاکخانہ گھٹیا مرسلہ وصی علی صاحب معرفت مولوی قاسم علی صاحب طالبعلم مدرسہ منظراسلام ۲۸/شوال ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی آسامی نے اپنا حق موروثی اگر کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت کیا تواس میں زمیندار کو آسامی مشتری سے کچھ روپیہ لیناجائزہے یانہیں بینواتوجروا بحوالہ کتاب(کتاب کے حوالے سے بیان کرکے اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
حق موروثی قابل بیع نہیںنہ اس پر زمیندار کچھ لے سکتاہے نہ یہ حق جسے قانون نے حق موروثی ٹھہرایا ہے شرعا کوئی حق ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۶: ازضلع گوڑگاؤں مقام ریواڑی متصل تحصیل حکیم جلال الدین بروز سہ شنبہ بتاریخ ۱۴/صفرالمضفر ۱۳۳۴ھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمکیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ کوئی جانور یا شیرینی مندر میں بت پر یا دیبی بھیروں وغیرہ کی تھان پر یا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری وغیرہ کی قبر پر چڑھائی جائے اور اس بت کا پجاری یا تھان کا پجاری یا قبر کا مجاور اس چڑھاوے کو لے لے اور اس کو بیچے تو مول لینا درست ہے یانہیں اور مجاور یا پجاری مفت دے تو لینا درست ہے یانہیںاور مجاور اور پجاری کے گھر کا کھانادرست ہے یانہیں اور اولیاء کرام کی قبر کے چڑھاوے اور بت یاتھان پرچڑھاوے ایك ہے یا علیحدہ علیحدہ حکم ہے فقط۔
الجواب:
عجب وہ مسلمان کہ اسلام اور کفر میں فرق نہ کرے۔عجب وہ مسلمان کہ بتوں کے تھان اور اولیائے کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے مزارات طیبہ کو ایك ساتھ گنےبت پر چڑھاوا چڑھانا کفرہےاور اولیاء کو ایصال ثواب طریق اسلامتو مالك پجاری بھی ہو جاتا ہے بیچے تو مول لینے میں حرج نہیں کہ بت کے چھڑاوے کی خباثت اس تك منتہی ہوگئی اور مفت دینا اگر اس طرح ہو جیسے ان کے یہاں پرشاد بٹتاہےتو لینا ہرگز جائزنہیںکہ اس میں ذلت مسلم ہے اور اگر اس طریقہ پر نہ ہو بلکہ وہ اپنی ملك میں لے کر اسے بطور ہدیہ دے تو اس کا حکم ہدیہ مشرکین کاحکم ہے کہ صورواحکام واقوال مختلف ہیں جن کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے اور اس خاص صورت سے بچنا ہی بہترہے۔حدیث میں فرمایا:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی آسامی نے اپنا حق موروثی اگر کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت کیا تواس میں زمیندار کو آسامی مشتری سے کچھ روپیہ لیناجائزہے یانہیں بینواتوجروا بحوالہ کتاب(کتاب کے حوالے سے بیان کرکے اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
حق موروثی قابل بیع نہیںنہ اس پر زمیندار کچھ لے سکتاہے نہ یہ حق جسے قانون نے حق موروثی ٹھہرایا ہے شرعا کوئی حق ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۶: ازضلع گوڑگاؤں مقام ریواڑی متصل تحصیل حکیم جلال الدین بروز سہ شنبہ بتاریخ ۱۴/صفرالمضفر ۱۳۳۴ھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمکیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ کوئی جانور یا شیرینی مندر میں بت پر یا دیبی بھیروں وغیرہ کی تھان پر یا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری وغیرہ کی قبر پر چڑھائی جائے اور اس بت کا پجاری یا تھان کا پجاری یا قبر کا مجاور اس چڑھاوے کو لے لے اور اس کو بیچے تو مول لینا درست ہے یانہیں اور مجاور یا پجاری مفت دے تو لینا درست ہے یانہیںاور مجاور اور پجاری کے گھر کا کھانادرست ہے یانہیں اور اولیاء کرام کی قبر کے چڑھاوے اور بت یاتھان پرچڑھاوے ایك ہے یا علیحدہ علیحدہ حکم ہے فقط۔
الجواب:
عجب وہ مسلمان کہ اسلام اور کفر میں فرق نہ کرے۔عجب وہ مسلمان کہ بتوں کے تھان اور اولیائے کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کے مزارات طیبہ کو ایك ساتھ گنےبت پر چڑھاوا چڑھانا کفرہےاور اولیاء کو ایصال ثواب طریق اسلامتو مالك پجاری بھی ہو جاتا ہے بیچے تو مول لینے میں حرج نہیں کہ بت کے چھڑاوے کی خباثت اس تك منتہی ہوگئی اور مفت دینا اگر اس طرح ہو جیسے ان کے یہاں پرشاد بٹتاہےتو لینا ہرگز جائزنہیںکہ اس میں ذلت مسلم ہے اور اگر اس طریقہ پر نہ ہو بلکہ وہ اپنی ملك میں لے کر اسے بطور ہدیہ دے تو اس کا حکم ہدیہ مشرکین کاحکم ہے کہ صورواحکام واقوال مختلف ہیں جن کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے اور اس خاص صورت سے بچنا ہی بہترہے۔حدیث میں فرمایا:
انی نھیت عن زبدالمشرکین ۔ مجھے منع کردیاگیا ہے کہ میں شرك کرنے والوں کا مکھن (ہدیہ)لوں۔(ت)
مزارات طیبہ پر جو کچھ بغرض ایصال ثواب حاضرکیاجائے اور عادۃ خدام اسے تقسیم کرلیتے اور دینے والے جانتے ہیں اور اس پر راضی ہوتے ہیں وہ ان کی ملك ہے ان سے ہدیۃ وشراء دونوں طرح لیناجائز۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۷: ازضلع شاہجہانپور مقام میران پور کڑہ محلہ نادر سانباں ڈاکخانہ خاص روز یکشنبہ بتاریخ ۱۸/صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
جنگ بلقان کے وقت چند اشخاص نے مل کر چندہ مجروحین وبیوگان ترکوں کے واسطے قصبہ اور دیہات سے جمع کیا اس اثناء میں چندہ فراہم کرنے والوں میں سے ایك شخص نے کچھ روپیہ اپنے صرف میں کرلیا اور آج تك نہیں دیا برابر جھوٹے وعدے کرتارہا اور بقیہ روپیہ تھے اس روپیہ کے نہ ملنے کی وجہ سے اب تك نہیں روانہ کیاگیا اب اس روپیہ کو کسی صرف میں لاناچاہئے یا ان اشخاص کو واپس کردیناچاہئےیاصرف مسجد یامدرسہ میں یا مطبع علماء میں صرف کرناچاہئے اور جس شخص نے وہ روپیہ نہیں دیا ہے اس کی بابت کیاحکم ہےایسے شخص اس بار امانت سے سبکدوش ہوجائے جن کے پاس جمع ہےزیادہ حد ادب!
الجواب:
چندہ کاروپیہ چندہ دینے والوں کا ملك رہتاہے جس کام کے لئے وہ دیں جب اس میں صرف نہ ہو تو فرض ہے کہ انہیں کو واپس دیاجائے یا کسی دوسرے کام کے لئے وہ اجازت دیں ان میں جو نہ رہا ہو ان کے وارثوں کو دیاجائے یا ان کے عاقل بالغ جس کام میں اجازت دیںہاں جو ان میں نہ رہا اور ان کے وارث بھی نہ رہے یا پتانہیں چلتا یا معلوم نہیں ہوسکتا کہ کس کس سے لیاتھاکیا کیا تھاوہ مثل مال لقطہ ہےمصارف خیر مثل مسجد اور مدرسہ اہل سنت ومطبع اہل سنت وغیرہ میں صرف ہوسکتاہے وھوتعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۸:
چہ میفرماید علمائے دین متین اندریں مسئلہ کہ علمائے دین اس مسئلہ میں کیاارشاد فرماتے ہیں کہ
مزارات طیبہ پر جو کچھ بغرض ایصال ثواب حاضرکیاجائے اور عادۃ خدام اسے تقسیم کرلیتے اور دینے والے جانتے ہیں اور اس پر راضی ہوتے ہیں وہ ان کی ملك ہے ان سے ہدیۃ وشراء دونوں طرح لیناجائز۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۷: ازضلع شاہجہانپور مقام میران پور کڑہ محلہ نادر سانباں ڈاکخانہ خاص روز یکشنبہ بتاریخ ۱۸/صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
جنگ بلقان کے وقت چند اشخاص نے مل کر چندہ مجروحین وبیوگان ترکوں کے واسطے قصبہ اور دیہات سے جمع کیا اس اثناء میں چندہ فراہم کرنے والوں میں سے ایك شخص نے کچھ روپیہ اپنے صرف میں کرلیا اور آج تك نہیں دیا برابر جھوٹے وعدے کرتارہا اور بقیہ روپیہ تھے اس روپیہ کے نہ ملنے کی وجہ سے اب تك نہیں روانہ کیاگیا اب اس روپیہ کو کسی صرف میں لاناچاہئے یا ان اشخاص کو واپس کردیناچاہئےیاصرف مسجد یامدرسہ میں یا مطبع علماء میں صرف کرناچاہئے اور جس شخص نے وہ روپیہ نہیں دیا ہے اس کی بابت کیاحکم ہےایسے شخص اس بار امانت سے سبکدوش ہوجائے جن کے پاس جمع ہےزیادہ حد ادب!
الجواب:
چندہ کاروپیہ چندہ دینے والوں کا ملك رہتاہے جس کام کے لئے وہ دیں جب اس میں صرف نہ ہو تو فرض ہے کہ انہیں کو واپس دیاجائے یا کسی دوسرے کام کے لئے وہ اجازت دیں ان میں جو نہ رہا ہو ان کے وارثوں کو دیاجائے یا ان کے عاقل بالغ جس کام میں اجازت دیںہاں جو ان میں نہ رہا اور ان کے وارث بھی نہ رہے یا پتانہیں چلتا یا معلوم نہیں ہوسکتا کہ کس کس سے لیاتھاکیا کیا تھاوہ مثل مال لقطہ ہےمصارف خیر مثل مسجد اور مدرسہ اہل سنت ومطبع اہل سنت وغیرہ میں صرف ہوسکتاہے وھوتعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۸:
چہ میفرماید علمائے دین متین اندریں مسئلہ کہ علمائے دین اس مسئلہ میں کیاارشاد فرماتے ہیں کہ
حوالہ / References
المعجم للطبرانی حدیث۹۹۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷ /۳۶۴،جامع الترمذی ابواب السیر باب ماجاء فی قبول ھدایا المشرکین امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۹۱
وقتیکہ قضاۃ راوظیفہ مقررہ از بیت المال باشد ومع ہذا اینا دہ بدہ بگردند وبرائے خودہابلااجازۃ سلطانی خلد اﷲ تعالی سلطنۃ آمین ثم وثم مال ازخاص رعایا بعضے جبرا وقہرا وبعضے سوالا وتضرعاجمع میکند وخلاف اوجائز می شمارند میخورند نہ آنکہ درمعظمات امورمملکت وسطنت صرف میکند پس ایں فعل وقول قضاۃ مذکور موافق شرع قویم وصراط مستقیم ہست ویانہ۔ بینوا توجروا۔ جو شرعی جج(قضاۃ)ہیںبیت المال سے اتنا وظیفہ مقرر ہے مگر اس کے باوجود وہ بستی بستی میں چکرلگاتے ہیںاور خود اپنے لئے بغیراجازت شاہیاﷲ تعالی اس کی بادشاہی کو ہمیشہ برقرار رکھےآمین پھرآمینپھرآمینخاص رعایا سے مانگتے ہیںکچھ ان میں جبراور زبردستی اور کچھ منت وسماجت سے گڑگڑاکر مال جمع کرتے ہیں اور خلاف کو جائزسمجھتے ہوئے جمع شدہ مال کھاجاتے ہیں۔ایسانہیں کہ بادشاہی اور مملکت کے بڑے بڑے کاموں میں اس کو خرچ کریںپس جج صاحب ان کا یہ رویہ اور قول شرع مقدس اور صراط مستقیم(سیدھا راستہ) کے مطابق ہے یانہیں اس مسئلہ کو وضاحت سے بیان فرماکر اﷲ تعالی سے اجروثواب پاؤ۔(ت)
الجواب:
اگربجبرمیگیرند ظالم وغاصب اندقال اﷲ تعالی
" لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " و قال صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ و عرضہ واگر بسوال وتضرع میگیرند نیز حام ست قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سری ۔ درہندیہ وغیرہاست ماجمع السائل اگر وہ لوگوں سے زبردستی لیتے ہیں تو اس صورت میں ظالم اور غاصب ہیںچنانچہ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:لوگو! ایك دوسرے کے مال آپس میں ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ۔اور حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مسلمان کی ہرچیز دوسرے مسلمان پرحرام ہے۔اس کا خونمال اور آبرو۔اور اگر عاجزانہ طور پر گڑاگڑا کر سوال کرتے اور لیتے ہیں تو پھر بھی حرام ہےچنانچہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ
الجواب:
اگربجبرمیگیرند ظالم وغاصب اندقال اﷲ تعالی
" لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " و قال صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ و عرضہ واگر بسوال وتضرع میگیرند نیز حام ست قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سری ۔ درہندیہ وغیرہاست ماجمع السائل اگر وہ لوگوں سے زبردستی لیتے ہیں تو اس صورت میں ظالم اور غاصب ہیںچنانچہ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:لوگو! ایك دوسرے کے مال آپس میں ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ۔اور حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مسلمان کی ہرچیز دوسرے مسلمان پرحرام ہے۔اس کا خونمال اور آبرو۔اور اگر عاجزانہ طور پر گڑاگڑا کر سوال کرتے اور لیتے ہیں تو پھر بھی حرام ہےچنانچہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۸۸
صحیح مسلم کتاب البر باب تحریم ظلم المسلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۷
مسند امام احمدبن حنبل حدیث عبداﷲ بن عمرو دارالفکر بیروت ۲ /۱۹۲،سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب من یعطی من الصدق الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۳۱
صحیح مسلم کتاب البر باب تحریم ظلم المسلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۷
مسند امام احمدبن حنبل حدیث عبداﷲ بن عمرو دارالفکر بیروت ۲ /۱۹۲،سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب من یعطی من الصدق الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۳۱
بالتکدی فھو خبیث برسلطان اسلام دولاۃ وحکام ومحتسبان ولاۃ مقام فرض است کہ آنہارا ازیں کردار باز دارند قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلك اضعف الایمان قال اﷲ تعالی " لولا ینہىہم الربنیون و الاحبار عن قولہم الاثم و اکلہم السحت لبئس ما کانوا یصنعون ﴿۶۳﴾"۔ نسأل اﷲ العفو والعافیۃواﷲ تعالی اعلم۔ وخیرات کسی مالدار اور طاقتور اور تندرست آدمی کے لئے حلال نہیںچنانچہ فتاوی ہندیہ وغیرہ میں ہے کاوش اور چھینا جھپٹی سے جو کچھ سائل نے جمع کیا ہے وہ خبیث(ناپاک)مال ہے۔لہذا شاہ اسلاممقرر کردہ والیحکام اور احتساب کرنے والےبلند عہدہ رکھنے والےان پر فرض ہے کہ ایسے ذلیل سائلوں کو اس کاروائی سے روك دیں۔چنانچہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جوکوئی تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے زوربازو سے بدل دے(یعنی اسے بند کردے)اگر یہ طاقت نہ ہو تو پھر زبان سے اصلاح کرےاور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو پھر اسے دل سے براسمجھے لیکن یہ سب سے ضعیف ترایمان ہے۔اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے اﷲ والے اور پادری انہیں کیوں نہیں روکتے بلاشبہہ بہت بری کاروائی ہے جو وہ سرانجام دے رہے ہوں۔ہم اﷲ تعالی سے معافی اورعافیت کاسوال کرتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۳۹: حکیم محمد حسن ازبہیڑی ضلع بریلی ۶/رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محکمہ آبکاری میں جوکہ گورنمنٹ کی طرف سے ملازمت کرتے ہیں مثلا جیسے کہ انسپکٹر آبکارییہ ملازمت جائز ہے یاناجائز اگرجائزہے تو کس وجہ سے اورناجائز ہے تو کس وجہ سے دلائل بیان فرمائیے فقط۔
الجواب:
شراب کابنانابنواناچھونااٹھانارکھنارکھوانابیچنابکوانامول لینادلوانا سب
مسئلہ ۲۳۹: حکیم محمد حسن ازبہیڑی ضلع بریلی ۶/رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محکمہ آبکاری میں جوکہ گورنمنٹ کی طرف سے ملازمت کرتے ہیں مثلا جیسے کہ انسپکٹر آبکارییہ ملازمت جائز ہے یاناجائز اگرجائزہے تو کس وجہ سے اورناجائز ہے تو کس وجہ سے دلائل بیان فرمائیے فقط۔
الجواب:
شراب کابنانابنواناچھونااٹھانارکھنارکھوانابیچنابکوانامول لینادلوانا سب
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹
مسند امام احمدبن حنبل حدیث ابی سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۳ /۴۹
القرآن الکریم ۵ /۶۳
مسند امام احمدبن حنبل حدیث ابی سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۳ /۴۹
القرآن الکریم ۵ /۶۳
حرام حرام حرام ہے۔اور جس نوکری میں یہ کام یاشراب کی نگاہداشت اس کے داموں کاحساب کتاب کرنا ہو سب شرعا ناجائزہیں۔
قال اﷲ تعالی: " وتعاونوا علی البر والتقوی ۪
" ۔ (لوگو)گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایك دوسرےکی مدد نہ کیاکرو۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ الخمر وشاربھا وساقیھا و بائعھا ومبتاعھا وعاصرھا ومعتصرھا وحاملھا والمحمولۃ الیہ واکل ثمنھا۔رواہ ابواؤد والحاکم وصححہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔واﷲ تعالی اعلم۔ شراباسے پینے والاپلانے والافروخت کرنے والاخریدنے والاکشید کرنے والاکشید کروانے والااسے اٹھانے والاجس تك اٹھاکر لے گیااور اس کی قیمت استعمال کرنے والااﷲ تعالی نے ان سب پر لعنت فرمائی۔امام ابوداؤد اور امام حاکم نے اسے روایت کیاہے اور اس نے(یعنی حاکم نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کی سند سے اس کی تصحیح فرمائیواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۰:مسئولہ مولوی ظفرالدین صاحب مدرس مدرسہ نورالہدی پانکی پور ڈاك خانہ سندرو چہارشنبہ ۱۵/شوال ۱۳۳۴ھ
حضور کاکیاحکم ہے کہ ایك عورت کے اوپر جن آتاہے اور وہ علانیہ اس کو دیکھتی ہے اور وہ اس کے پاس آکر روپے وغیرہ نوٹ دے کر جاتاہے تو آیا اس نوٹ اور روپے کو صرف کرناچاہئے یا نہیں اور استعمال میں لانا شرعا جائز ہے یانہیں
الجواب:
وہ جن جو کچھ اس عورت کو دیتاہے اس کالینا حرام ہے کہ وہ زنا کی رشوت ہے۔ درمختار میں ہے:
قال اﷲ تعالی: " وتعاونوا علی البر والتقوی ۪
" ۔ (لوگو)گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایك دوسرےکی مدد نہ کیاکرو۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ الخمر وشاربھا وساقیھا و بائعھا ومبتاعھا وعاصرھا ومعتصرھا وحاملھا والمحمولۃ الیہ واکل ثمنھا۔رواہ ابواؤد والحاکم وصححہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما۔واﷲ تعالی اعلم۔ شراباسے پینے والاپلانے والافروخت کرنے والاخریدنے والاکشید کرنے والاکشید کروانے والااسے اٹھانے والاجس تك اٹھاکر لے گیااور اس کی قیمت استعمال کرنے والااﷲ تعالی نے ان سب پر لعنت فرمائی۔امام ابوداؤد اور امام حاکم نے اسے روایت کیاہے اور اس نے(یعنی حاکم نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کی سند سے اس کی تصحیح فرمائیواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۰:مسئولہ مولوی ظفرالدین صاحب مدرس مدرسہ نورالہدی پانکی پور ڈاك خانہ سندرو چہارشنبہ ۱۵/شوال ۱۳۳۴ھ
حضور کاکیاحکم ہے کہ ایك عورت کے اوپر جن آتاہے اور وہ علانیہ اس کو دیکھتی ہے اور وہ اس کے پاس آکر روپے وغیرہ نوٹ دے کر جاتاہے تو آیا اس نوٹ اور روپے کو صرف کرناچاہئے یا نہیں اور استعمال میں لانا شرعا جائز ہے یانہیں
الجواب:
وہ جن جو کچھ اس عورت کو دیتاہے اس کالینا حرام ہے کہ وہ زنا کی رشوت ہے۔ درمختار میں ہے:
حوالہ / References
القرآن الکریم ۵ /۲
سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب العصیر للخمر آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۶۱،المستدرك للحاکم کتاب الاشربہ دارالفکر بیروت ۴ /۱۴۵
سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ باب العصیر للخمر آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۶۱،المستدرك للحاکم کتاب الاشربہ دارالفکر بیروت ۴ /۱۴۵
مایدفعہ متعاشقان رشوۃ ۔ آپس میں معاشقہ کرنے والے جو کچھ دیںوہ رشوت میں شمار ہے۔(ت)
اگر وہ لینے پرمجبور کرے لے کرفقراء پرتصدق کردیاجائے اپنے صرف میں لاناحرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۱: ازفرخ آباد شمس الدین احمد ۱۸/شوال المعظم ۱۳۳۴ھ
درخت تاڑ کی فصل فروخت کرنا یعنی تاڑی نکال کر بیچنے کی اجازت دینا اور اس کی قیمت لینا درست ہے یانہیں فقط۔
الجواب:
ممنوع ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۲: مسئولہ ولی محمد کلاہ فروش بازار چوك بہرائچ چہارشنبہ ۱۹/ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
خیاط لوگ ان کپڑوں میں سے جو ان کے پاس بغرض سلائی لیے جاتے ہیں کچھ تھوڑا کپڑا بمقدار ایك کلاہ کے بچالیتے ہیں اور اس کپڑے کی کلاہ وغیرہ بناکر بدست کلاہ فروش بہ نسبت شرح قیمت دوسرے ٹوپیوں کے کم قیمت پرفروخت کرلیتے ہیں کوئی شخص بازار کے تمام کلاہ فروشاں میں سے سوائے ایك شخص کے انکار ان خیاطوں کی ٹوپیاں وغیرہ خریدنے اور ان کے منافع سے مستفیض ہونے سے نہیں کرتاہےاور محترز کی سعی سے اصلاح حال خیاط لوگوں کی اور خرید کرنے والے کلاہ فروشاں کی غیرممکن ہے۔کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین کہ محترز اگر ایسے پارچہ کی ٹوپیاں وغیرہ خیاط لوگوں سے خرید کرلے تو محترز باعث معصیت ہوگا یانہیں
الجواب:
ضرور معصیت وحرام ہےاور یہ خیال کہ ان کے پاس چھوڑے تو یہ بند نہیں ہوتا محض بے معنی ہےاس کا حساب اس پر اور ان کا حساب ان پر۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۳: مرسلہ مرزاعبدالرحیم بیگ مدرس جماعت نارواڑی محلہ رنچھوڑلین کراچی بندر
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان دین متین:
میں نے سناہے کہ بیاج کے جائزہونے کابھی آپ نے کوئی حیلہ کیاہے آیا یہ صحیح ہے یانہیںاگرصحیح ہے تو کس طرح تحریر فرمائیں۔بینواتوجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجرپاؤ۔ت)
اگر وہ لینے پرمجبور کرے لے کرفقراء پرتصدق کردیاجائے اپنے صرف میں لاناحرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۱: ازفرخ آباد شمس الدین احمد ۱۸/شوال المعظم ۱۳۳۴ھ
درخت تاڑ کی فصل فروخت کرنا یعنی تاڑی نکال کر بیچنے کی اجازت دینا اور اس کی قیمت لینا درست ہے یانہیں فقط۔
الجواب:
ممنوع ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۲: مسئولہ ولی محمد کلاہ فروش بازار چوك بہرائچ چہارشنبہ ۱۹/ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
خیاط لوگ ان کپڑوں میں سے جو ان کے پاس بغرض سلائی لیے جاتے ہیں کچھ تھوڑا کپڑا بمقدار ایك کلاہ کے بچالیتے ہیں اور اس کپڑے کی کلاہ وغیرہ بناکر بدست کلاہ فروش بہ نسبت شرح قیمت دوسرے ٹوپیوں کے کم قیمت پرفروخت کرلیتے ہیں کوئی شخص بازار کے تمام کلاہ فروشاں میں سے سوائے ایك شخص کے انکار ان خیاطوں کی ٹوپیاں وغیرہ خریدنے اور ان کے منافع سے مستفیض ہونے سے نہیں کرتاہےاور محترز کی سعی سے اصلاح حال خیاط لوگوں کی اور خرید کرنے والے کلاہ فروشاں کی غیرممکن ہے۔کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین کہ محترز اگر ایسے پارچہ کی ٹوپیاں وغیرہ خیاط لوگوں سے خرید کرلے تو محترز باعث معصیت ہوگا یانہیں
الجواب:
ضرور معصیت وحرام ہےاور یہ خیال کہ ان کے پاس چھوڑے تو یہ بند نہیں ہوتا محض بے معنی ہےاس کا حساب اس پر اور ان کا حساب ان پر۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۳: مرسلہ مرزاعبدالرحیم بیگ مدرس جماعت نارواڑی محلہ رنچھوڑلین کراچی بندر
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان دین متین:
میں نے سناہے کہ بیاج کے جائزہونے کابھی آپ نے کوئی حیلہ کیاہے آیا یہ صحیح ہے یانہیںاگرصحیح ہے تو کس طرح تحریر فرمائیں۔بینواتوجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجرپاؤ۔ت)
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب القضاہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۲۶۲
الجواب:
بیاج کے جائز کرلینے کا حیلہ کرلینا مسلمان کی شان نہیں یہ بھی مجھ پرمحض افتراہے میرے فتاوی میں جابجا اس کا رد موجود ہے۔ اور اگر اس کانام حیلہ ہےکہ کوئی شرعی جائز صورت کی جائے جس میں نفع حاصل ہو اور بیاج حرام مردودونجس سے نجات ہو تو اسے خود صاحب شریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا کما فی صحیح البخاری(جیسا کہ صحیح البخاری میں ہے۔ت)ائمہ دین نے اس کی متعدد صورتیں ارشاد فرمائیں۔فتاوی امام قاضی خاں میں اس کے لئے خاص ایك فصل تحریر فرمائی اسے بیاج جائز کرلینانہ کہے گا مگرگمراہاس کی تفصیل میرے رسالہ کفل الفقیہ عــــــہ میں ہے جو مطبع اہلسنت سے مل سکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۴:ازسہادر ضلع ایٹہ مرسلہ جناب مولوی چودھری عبدالحمید خان صاحب زید مکارمہم رئیس ۱۳/رمضان المبارك ۱۳۳۵ھ
جناب اعلی حضرت عظیم البرکت مجددمائۃ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ ادام اﷲ ظلالہ علی رؤس الطالبین حاکم اگر اپنے کسی کام کےلئےقرض مانگے اور اس پر سود دے اور جو سود نہ لے اس سے جو رقم ناجائزلی جاتی ہے اس میں اسی حساب سے تخفیف کردے اس کی بابت کوئی مطالبہ نہیںنہ شرط ہےلہذا وہ کمی ان کے واسطے جائز ہوگی یانہیںاگرچہ اس قرض میں حاکم کاحکم اتناہے کہ خوشی سے ضرور دینا چاہئے جبر نہیں باینہمہ اس کے ملازمین اپنے اثر سے ہرایك کو اس کے دینے پرمجبور کرتے ہیںان سب باتوں پر غورفرماکر ارشاد فرمایاجائے کہ بموجب اس کے عمل کیاجائے۔والسلام مع الاکرام۔
الجواب:
کوئی زمیندار مثلا کاشتکاروں سے جبرا کوئی ناجائز رقم وصول کرتا ہو کاشتکار بمجبوری دیتے ہوں پھر اس کا کوئی کام آکر پڑے اور وہ کہے کہ اس کام میں میری مدد کر تو یہ رقم چھوڑ دوں گا یا اتنی تخفیف کردوں گاتو اس ترك یاتخفیف کا قبول نہ کرنا اس پرواجب ہے کہ جب وہ رقم ناجائز ہے تو جس طرح اس کالیناگناہ ہے دینا بھی حرام ہے ماحرم اخذہ حرام اعطاؤہ (جس کا
عــــــہ:رسالہ کفل الفقیہ الفاھم فی احکام الدراھم فتاوی رضویہ جلد۱۷ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہورمیں صفحہ ۳۹۵ پرمرقوم ہے۔
بیاج کے جائز کرلینے کا حیلہ کرلینا مسلمان کی شان نہیں یہ بھی مجھ پرمحض افتراہے میرے فتاوی میں جابجا اس کا رد موجود ہے۔ اور اگر اس کانام حیلہ ہےکہ کوئی شرعی جائز صورت کی جائے جس میں نفع حاصل ہو اور بیاج حرام مردودونجس سے نجات ہو تو اسے خود صاحب شریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا کما فی صحیح البخاری(جیسا کہ صحیح البخاری میں ہے۔ت)ائمہ دین نے اس کی متعدد صورتیں ارشاد فرمائیں۔فتاوی امام قاضی خاں میں اس کے لئے خاص ایك فصل تحریر فرمائی اسے بیاج جائز کرلینانہ کہے گا مگرگمراہاس کی تفصیل میرے رسالہ کفل الفقیہ عــــــہ میں ہے جو مطبع اہلسنت سے مل سکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۴:ازسہادر ضلع ایٹہ مرسلہ جناب مولوی چودھری عبدالحمید خان صاحب زید مکارمہم رئیس ۱۳/رمضان المبارك ۱۳۳۵ھ
جناب اعلی حضرت عظیم البرکت مجددمائۃ حاضرہ مؤید ملت طاہرہ ادام اﷲ ظلالہ علی رؤس الطالبین حاکم اگر اپنے کسی کام کےلئےقرض مانگے اور اس پر سود دے اور جو سود نہ لے اس سے جو رقم ناجائزلی جاتی ہے اس میں اسی حساب سے تخفیف کردے اس کی بابت کوئی مطالبہ نہیںنہ شرط ہےلہذا وہ کمی ان کے واسطے جائز ہوگی یانہیںاگرچہ اس قرض میں حاکم کاحکم اتناہے کہ خوشی سے ضرور دینا چاہئے جبر نہیں باینہمہ اس کے ملازمین اپنے اثر سے ہرایك کو اس کے دینے پرمجبور کرتے ہیںان سب باتوں پر غورفرماکر ارشاد فرمایاجائے کہ بموجب اس کے عمل کیاجائے۔والسلام مع الاکرام۔
الجواب:
کوئی زمیندار مثلا کاشتکاروں سے جبرا کوئی ناجائز رقم وصول کرتا ہو کاشتکار بمجبوری دیتے ہوں پھر اس کا کوئی کام آکر پڑے اور وہ کہے کہ اس کام میں میری مدد کر تو یہ رقم چھوڑ دوں گا یا اتنی تخفیف کردوں گاتو اس ترك یاتخفیف کا قبول نہ کرنا اس پرواجب ہے کہ جب وہ رقم ناجائز ہے تو جس طرح اس کالیناگناہ ہے دینا بھی حرام ہے ماحرم اخذہ حرام اعطاؤہ (جس کا
عــــــہ:رسالہ کفل الفقیہ الفاھم فی احکام الدراھم فتاوی رضویہ جلد۱۷ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہورمیں صفحہ ۳۹۵ پرمرقوم ہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۵۶
لیناحرام اس کادینا بھی حرام۔ت)۔حرام سے جتنا بچ سکے لازم ہے مگر وہ کام جس کے صلہ میں یہ ناجائز رقم زمیندار چھوڑے اس کا دیکھنا لازم ہے اگر وہ خود ناجائز ہے تو اس میں اسے مدددینی حرام ہے اور اس رقم کی بچت اس کا عذر نہیں ہوسکتی کہ قم ناجائز کا جبرا لینا اس کاجرم ہے اور دوسرے کے ناجائز کام میں شریك ہونا اس کا جرم ہے ہاں اگر وہ اس ناجائز کام پرمجبور کرے اور مجبوری واقعی ہو جس پر وہ زمیندار قدرت رکھتاہے تو بحالت اکراہ شرعی جس فعل ناجائز کی رخصت دی جاتی ہے رخصت دیں گے اور اس حالت میں اس رقم ناجائز کی کمی قبول کرنا اس پرواجب ہوگا لیکن اگر زمیندار مجبور نہیں کرتا اس کے نوکر چاکر دباتے ہیں اور وہ اسے مجبور شرعی نہیں کرسکتے تو صرف ان کی خاطر یادھمکی سے ناجائز کام جائز نہ ہوجائے گااور اگر وہ کام جائز ہے تو اس میں بقدر ضرورت مدد دے کر وہ صلہ قبول کرناشرعا واجب ہے کما مر(جیسا کہ گزرا۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۵: ازمقام مذکور مرسلہ چودھری صاحب مذکور ۱۹/رمضان المبارك ۱۳۳۵ھ
آخر فقرہ جو اس مکتوب میں درج ہے کہ لیکن اگرزمیندار خود مجبور نہیں کرتا اس کے نوکر چاکر دباتے ہیں اور وہ اسے مجبور شرعی نہیں کرسکتے تو صرف ان کی خاطر یادھمکی سے ناجائز کام جائز نہ ہوجائے گایہ بالکل سچ ہے مگر غور طلب یہ امر ہے کہ وہ نوکر جو ذی اختیار ہوں اور جن کو سزا وجزا کاپورا اختیار ہو اور جن کی رپورٹ پر ان کے آقا ضبطی جائداد وغیرہ سب کچھ کرتے ہوں تو ان کادبانا یا اظہار ناخوشی کرنا اور وعید سے کام لینا ایسا نہ ہوگا جیسا معمولی نوکروں کاکہنا سننا یادبانا بلکہ ان کا کہنا سننا دبانا یاوعید سے کام لینا یہ سمجھنا چاہئے کہ ہوبہو اس کے آقاؤں کا وہ فعل ہے اگرچہ بظاہران کے آقا اس امر کا اعتراف کرتے ہوں کہ یہ ہمارے حکم کی تعمیل ہماری رعایا کی خوشی پرمنحصرہے۔
الجواب:
ایك تخویف واقع ہوتی ہے معلوم ہے کہ ایسا نہ ہوا تو معاذاﷲ ضبطی جائداد وغیرہ ناقابل مضرتوں کا سامنا ہے اور ایك نری دھمکیثانی کااعتبارنہیں۔
قال اﷲ تعالی" ذلکم الشیطن یخوف اولیاءہ ۪ فلا تخافوہم وخافون ان کنتم مؤمنین ﴿۱۷۵﴾" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)یہ شیطان ہے کہ تمہیں اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو ان سے نہ ڈرو مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
مسئلہ ۲۴۵: ازمقام مذکور مرسلہ چودھری صاحب مذکور ۱۹/رمضان المبارك ۱۳۳۵ھ
آخر فقرہ جو اس مکتوب میں درج ہے کہ لیکن اگرزمیندار خود مجبور نہیں کرتا اس کے نوکر چاکر دباتے ہیں اور وہ اسے مجبور شرعی نہیں کرسکتے تو صرف ان کی خاطر یادھمکی سے ناجائز کام جائز نہ ہوجائے گایہ بالکل سچ ہے مگر غور طلب یہ امر ہے کہ وہ نوکر جو ذی اختیار ہوں اور جن کو سزا وجزا کاپورا اختیار ہو اور جن کی رپورٹ پر ان کے آقا ضبطی جائداد وغیرہ سب کچھ کرتے ہوں تو ان کادبانا یا اظہار ناخوشی کرنا اور وعید سے کام لینا ایسا نہ ہوگا جیسا معمولی نوکروں کاکہنا سننا یادبانا بلکہ ان کا کہنا سننا دبانا یاوعید سے کام لینا یہ سمجھنا چاہئے کہ ہوبہو اس کے آقاؤں کا وہ فعل ہے اگرچہ بظاہران کے آقا اس امر کا اعتراف کرتے ہوں کہ یہ ہمارے حکم کی تعمیل ہماری رعایا کی خوشی پرمنحصرہے۔
الجواب:
ایك تخویف واقع ہوتی ہے معلوم ہے کہ ایسا نہ ہوا تو معاذاﷲ ضبطی جائداد وغیرہ ناقابل مضرتوں کا سامنا ہے اور ایك نری دھمکیثانی کااعتبارنہیں۔
قال اﷲ تعالی" ذلکم الشیطن یخوف اولیاءہ ۪ فلا تخافوہم وخافون ان کنتم مؤمنین ﴿۱۷۵﴾" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)یہ شیطان ہے کہ تمہیں اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو ان سے نہ ڈرو مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳ /۱۷۵
اور اول ضرورمعتبر ہے اور الامن اکرہ کی حد میں داخل۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۶: کوہ رانی کھیت صدربازار مرسلہ منشی عنایت خاں صاحب مورخہ ۲۴ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہی علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس باب میں کہ پیش امام صاحب رانی کھیت نے ایك رنڈی کی نمازجنازہ پڑھائی کہ جس کا کوئی عمل اور بظاہر وضع نہ لباس مسلمانوں کا تھا اس واقعہ کے چند یوم کے بعد پیش امام صاحب نے نمازجمعہ سے قبل اپنے اس فعل کی تائید میں بطور وعظ کے فرمایا کہ مجھ کو اس کا علم نہیں تھا کہ یہ عورت کون ہے اور جو شخص مجھ کو بلاکر واسطے نمازجنازہ کے لے گیاہے یہ کون ہے میں نے نہ سمجھا کہ یہ مرد بھڑوا اور یہ عورت رنڈی ہے اور اس نماز جنازہ میں کچھ معاوضہ بھی مولانا صاحب کے نذر کیا جس کو مولاناصاحب نے دوران وعظ فرمایا کہ ہم تیراك ہیں ہم تیرنے کے ذریعہ سے غرقاب ہونے سے بچ سکتے ہیں جاہل نہی بچ سکتاہے اور بازار والوں نے جو مجھ پر نکتہ چینی کی ہے وہ بھی رنڈیوں کےہاتھ اپنا مال فروخت کرنابند کردیں کیونکہ رنڈیوں سے مال کے بالعوض بھی پیسہ ناجائز ہی حاصل ہوتاہے اور جب بازار والے اس میں اتفاق کرلیں تو مجھ کو بھی ان سے اتفاق ہوگااور مولانا صاحب نے یہ فرمایا کہ جو پیسہ اس جنازہ کی نماز میں مجھ کو ملاہے اس پیسہ کو جیسی اس کی اصلیت ہے ایسی ہی جگہ صرف کردوں گا مثلا پائخانہ اٹھانیوالی بھنگن کودے دوں گااور ایك قصہ اس ناجائز پیسہ کی صرف کرنے کی بابت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کا ذکر فرمایا کہ ایك بادشاہ کے یہاں خزانہ میں روپیہ کی کمی ہوئی تو انہوں نے وزیرصاحب سے روپیہ حاصل کرنے کی بابت مشورہ کیا تو وزیر صاحب نے ان کو رائے دی کہ فلاں فقیر کے پاس بہت سا روپیہ ہے اس سے روپیہ طلب کیاجائےغرض کہ فقیر بلایاگیا فقیر سے روپیہ طلب کیاگیا فقیر نے بادشاہ سے عرض کی کہ حضورچونکہ آپ بادشاہ اسلام ہیں اور جو پیسہ میرے پاس ہے وہ ناجائز طریقہ سے میں نے حاصل کیاہے لہذا وہ پیسہ اچھانہیں ہےآپ کے صرف کے قابل نہیں ہے بادشاہ نے فرمایا کہ رعایا کے مکانات مسمار ہوگئے ہیں ہم بھی تیرے پیسہ کو رعایا کے پاخانوں میں صرف کردیں گےاور مولوی عبدالحی صاحب کے فتوی کے حوالہ سے مولانا صاحب نے فرمایا کہ اگر کسی بزرگ یاعلمائے دین کی دعوت وغیرہ کرنی ہو اور اس کے پاس پیسہ اچھا نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ کسی دوسرے شخص سے اپنے پیسہ کے بالعوض اچھا پیسہ حاصل کرے اور آپ کی دعوت وغیرہ میں صرف اسی دوران وعظ میں مولانا صاحب یعنی پیش امام صاحب نے متقی شخص کی بزرگی آیات قرآنی سے بڑے شدومد کے ساتھ ثابت کی ہے چند مسلمانوں کے خیالات میں لفظ تیراك اور جیسا پیسہ ہے جنازہ کی نماز پڑھانے کے عوض میں مولانا صاحب کو حاصل ہوا اور اس کا صرف ویسی جگہ کردیں گے اور علمائے دین اور بزرگوں کی دعوت وغیرہ دینے
مسئلہ ۲۴۶: کوہ رانی کھیت صدربازار مرسلہ منشی عنایت خاں صاحب مورخہ ۲۴ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہی علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس باب میں کہ پیش امام صاحب رانی کھیت نے ایك رنڈی کی نمازجنازہ پڑھائی کہ جس کا کوئی عمل اور بظاہر وضع نہ لباس مسلمانوں کا تھا اس واقعہ کے چند یوم کے بعد پیش امام صاحب نے نمازجمعہ سے قبل اپنے اس فعل کی تائید میں بطور وعظ کے فرمایا کہ مجھ کو اس کا علم نہیں تھا کہ یہ عورت کون ہے اور جو شخص مجھ کو بلاکر واسطے نمازجنازہ کے لے گیاہے یہ کون ہے میں نے نہ سمجھا کہ یہ مرد بھڑوا اور یہ عورت رنڈی ہے اور اس نماز جنازہ میں کچھ معاوضہ بھی مولانا صاحب کے نذر کیا جس کو مولاناصاحب نے دوران وعظ فرمایا کہ ہم تیراك ہیں ہم تیرنے کے ذریعہ سے غرقاب ہونے سے بچ سکتے ہیں جاہل نہی بچ سکتاہے اور بازار والوں نے جو مجھ پر نکتہ چینی کی ہے وہ بھی رنڈیوں کےہاتھ اپنا مال فروخت کرنابند کردیں کیونکہ رنڈیوں سے مال کے بالعوض بھی پیسہ ناجائز ہی حاصل ہوتاہے اور جب بازار والے اس میں اتفاق کرلیں تو مجھ کو بھی ان سے اتفاق ہوگااور مولانا صاحب نے یہ فرمایا کہ جو پیسہ اس جنازہ کی نماز میں مجھ کو ملاہے اس پیسہ کو جیسی اس کی اصلیت ہے ایسی ہی جگہ صرف کردوں گا مثلا پائخانہ اٹھانیوالی بھنگن کودے دوں گااور ایك قصہ اس ناجائز پیسہ کی صرف کرنے کی بابت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کا ذکر فرمایا کہ ایك بادشاہ کے یہاں خزانہ میں روپیہ کی کمی ہوئی تو انہوں نے وزیرصاحب سے روپیہ حاصل کرنے کی بابت مشورہ کیا تو وزیر صاحب نے ان کو رائے دی کہ فلاں فقیر کے پاس بہت سا روپیہ ہے اس سے روپیہ طلب کیاجائےغرض کہ فقیر بلایاگیا فقیر سے روپیہ طلب کیاگیا فقیر نے بادشاہ سے عرض کی کہ حضورچونکہ آپ بادشاہ اسلام ہیں اور جو پیسہ میرے پاس ہے وہ ناجائز طریقہ سے میں نے حاصل کیاہے لہذا وہ پیسہ اچھانہیں ہےآپ کے صرف کے قابل نہیں ہے بادشاہ نے فرمایا کہ رعایا کے مکانات مسمار ہوگئے ہیں ہم بھی تیرے پیسہ کو رعایا کے پاخانوں میں صرف کردیں گےاور مولوی عبدالحی صاحب کے فتوی کے حوالہ سے مولانا صاحب نے فرمایا کہ اگر کسی بزرگ یاعلمائے دین کی دعوت وغیرہ کرنی ہو اور اس کے پاس پیسہ اچھا نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ کسی دوسرے شخص سے اپنے پیسہ کے بالعوض اچھا پیسہ حاصل کرے اور آپ کی دعوت وغیرہ میں صرف اسی دوران وعظ میں مولانا صاحب یعنی پیش امام صاحب نے متقی شخص کی بزرگی آیات قرآنی سے بڑے شدومد کے ساتھ ثابت کی ہے چند مسلمانوں کے خیالات میں لفظ تیراك اور جیسا پیسہ ہے جنازہ کی نماز پڑھانے کے عوض میں مولانا صاحب کو حاصل ہوا اور اس کا صرف ویسی جگہ کردیں گے اور علمائے دین اور بزرگوں کی دعوت وغیرہ دینے
خراب پیسہ کے بجائے دوسرے آدمی سے اچھا پیسہ حاصل کرکے صرف کرنا یہ امور قابل اعتراض ہیں۔امید ہے کہ جاب باصواب مرحمت ہوتاکہ جو شکوك دلوں میں پیدا ہوگئے ہیں وہ رفع ہوں۔
الجواب:
نمازجنازہ پڑھادینے میں حرج نہ تھا جبکہ اسے معلوم نہ تھا کہ اس کی یہ حالت ہے مگر نمازجنازہ پڑھانے پراجرت لینی جائز نہیں اگرچہ پاك مال سے نہ کہ ناپاك مال سے کہ دوہرا حرام ہےاور یہ عذر کہ وہ اپنے یہاں کے پاخانہ میں صرف کردے گا محض مردود ہے یوں بھی اپنے ہی صرف میں لانا ہوا اور وہ حرام ہےیہیں سے ثابت ہوا کہ وہ تیراك نہیں اس نے دو غوطے کھائے اوراپنے غرقاب ہونے پرمتنبہ بھی نہ ہوااور یہ بھی غلط ہے کہ جس کے پاس ناپاك پیسہ ہو وہ اپنے پیسے کے عوض دوسرے پیسہ پاك حاصل کرے اور وہ مطلقا پاك ہوجائےبلکہ مسئلہ یوں ہے کہ جس کامال حرام ہے اس نے اگر اپنا پیسہ کسی کام میں نہ لگایا بلکہ قرض لےکر کوئی کام کیا تو وہ کام جائزہے اور اگر ایسا شخص کسی کو کچھ دام دے یا دعوت کرے اور کہے کہ یہ میں نے قرض لےکر کی ہے اس کا قول ماناجائے گا جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہ میں ہےہاں اس نے سچ کہا کہ دکانداروں کو بھی حرام ہے کہ کوئی چیز حرام مال والوں کے ہاتھ بیچ کر وہ زر حرام قیمت میں لے مگر اس کا یہ کہنا خطا ہے کہ دکاندار اس سے باز آئیں گے تو وہ بھی باز آئے گا اوروں کاگناہ کرنا اس کے لئے سند نہیں ہوسکتا ہرشخص اپنی اپنی قبرسنبھالے گاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷:ازسوائی مادھپور قصبہ سانگود ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ الف خاں مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ ۱۲/ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
فریق مغلوب سے خرچہ کچہری ڈگری یامقدمہ میں جبکہ کچہری دلادے تو اس کا لینا شرعا درست ہے یانہیں
الجواب:
جتنا واجبی خرچی ہے مدعا علیہ جھوٹے مدعی سے لے سکتاہے اور سچے مدعی سے لیناحراماور مدعی سچاہو خواہ جھوٹا مدعا علیہ سے شرعا نہیں لے سکتا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۸: ازبلرام پور محلہ پورنیا تالاب ضلع گونڈا مرسلہ محمد تیغ بہادر خاں صاحب ۳/جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ایك مہترحال مسلمان ہوا ترك پیشہ خود نہ کرکے مثل قدیماہل اسلام ونیز دیگراقوام کے جائے ضرور کو صاف کرتاہے اس نے مسلمانوں کی دعوت کی اپنے کسب سےچند اشخاص نے اس کے
الجواب:
نمازجنازہ پڑھادینے میں حرج نہ تھا جبکہ اسے معلوم نہ تھا کہ اس کی یہ حالت ہے مگر نمازجنازہ پڑھانے پراجرت لینی جائز نہیں اگرچہ پاك مال سے نہ کہ ناپاك مال سے کہ دوہرا حرام ہےاور یہ عذر کہ وہ اپنے یہاں کے پاخانہ میں صرف کردے گا محض مردود ہے یوں بھی اپنے ہی صرف میں لانا ہوا اور وہ حرام ہےیہیں سے ثابت ہوا کہ وہ تیراك نہیں اس نے دو غوطے کھائے اوراپنے غرقاب ہونے پرمتنبہ بھی نہ ہوااور یہ بھی غلط ہے کہ جس کے پاس ناپاك پیسہ ہو وہ اپنے پیسے کے عوض دوسرے پیسہ پاك حاصل کرے اور وہ مطلقا پاك ہوجائےبلکہ مسئلہ یوں ہے کہ جس کامال حرام ہے اس نے اگر اپنا پیسہ کسی کام میں نہ لگایا بلکہ قرض لےکر کوئی کام کیا تو وہ کام جائزہے اور اگر ایسا شخص کسی کو کچھ دام دے یا دعوت کرے اور کہے کہ یہ میں نے قرض لےکر کی ہے اس کا قول ماناجائے گا جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہ میں ہےہاں اس نے سچ کہا کہ دکانداروں کو بھی حرام ہے کہ کوئی چیز حرام مال والوں کے ہاتھ بیچ کر وہ زر حرام قیمت میں لے مگر اس کا یہ کہنا خطا ہے کہ دکاندار اس سے باز آئیں گے تو وہ بھی باز آئے گا اوروں کاگناہ کرنا اس کے لئے سند نہیں ہوسکتا ہرشخص اپنی اپنی قبرسنبھالے گاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷:ازسوائی مادھپور قصبہ سانگود ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ الف خاں مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ ۱۲/ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
فریق مغلوب سے خرچہ کچہری ڈگری یامقدمہ میں جبکہ کچہری دلادے تو اس کا لینا شرعا درست ہے یانہیں
الجواب:
جتنا واجبی خرچی ہے مدعا علیہ جھوٹے مدعی سے لے سکتاہے اور سچے مدعی سے لیناحراماور مدعی سچاہو خواہ جھوٹا مدعا علیہ سے شرعا نہیں لے سکتا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۴۸: ازبلرام پور محلہ پورنیا تالاب ضلع گونڈا مرسلہ محمد تیغ بہادر خاں صاحب ۳/جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ایك مہترحال مسلمان ہوا ترك پیشہ خود نہ کرکے مثل قدیماہل اسلام ونیز دیگراقوام کے جائے ضرور کو صاف کرتاہے اس نے مسلمانوں کی دعوت کی اپنے کسب سےچند اشخاص نے اس کے
گھرکا پکاہواکھانا کھایا باقی لوگ جو مدعو تھے نیز سکنائے قصبہ نے بدیں وجہ انکار کیا کہ وہ اب تك مثل سابقہ مہتر ہے علاوہ مسلمانوں کی جائے ضرور کے دیگراقوام کی بھی صاف کرتاہے دشمنان دین سے دلی میل وملاپ کے شارع علیہ السلام مانع ہیں چہ جائیکہ ایسی ذلیل خدمت کابرتاؤ ان کے ساتھ عمل میں لاکر کیسے کوئی کامل الایمان رہ سکتاہے لکھنؤ یا اور شہر جہاں بڑے بڑے فضلا موجود ہین کیوں مہتروں کے ساتھ خوردونوش جاری نہیں ہے پہلے علماوفضلا نوش فرمائیں اور رواج دیں تب ہم لوگ کھاسکتے ہیں تمام اہل ہنود اس پرمعترض ہیں کہ جن جن مسلمانوں نے بھنگی کے یہاں کھایا ہے ان لوگوں کے ساتھ ایساہی برتاؤ کیاجائے اور انہیں میں یہ قوم بھی متصور ہو یہاں کے مالك ریاست اہل ہنود ہیں اور یہی قوم زیادہ تر با اختیار ہے سب مسلمانوں کی ذریعہ معاش وغیرہ اسی سے ہے اگرعمائدین کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہو تو کس قدرذلت اہل اسلام کی ہوگی جن صاحبوں نے کھایا ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارا دینی بھائی ہے ہم برابر خوردونوش رکھیں گے اور ازدواج کی بابت نہیں معلوم کیا خیال ہو وہ اپنے بھائی کو ایسی ذلیل حالت میں زندگی بسرکرتے نہیں معلوم کیسے ملاحظہ فرمانا پسند کر رہے ہیں جبکہ ہزاروں اورذرائع معاش جو اس حالت سے طیب وپاك ہیں بآسانی ہوسکتے ہیں کیوں دریغ فرمارہے ہیں اور باعث ننگ وعار اسلام ہیں۔
الجواب:
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:کسب الحجام خبیث بھری سنگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔
علماء فرماتے ہیں:"لتلوثہ بالنجاسات" اس لئے کہ اسے نجاست سے کام پڑتاہے۔تو بھنگی کاپیشہ کس درجہ خبیث ترہوگا۔ علماء فرماتے ہیں:لایجوز خدمۃ الکافر باجر کافر کی خدمت گاری کی نوکری جائزنہیں)کہ اس میں معاذ اﷲ مسلمان کی تذلیل ہے تو ایسی سب سے ذلیل تر خدمت کیونکر حلال ہوسکتی ہےاور جب وہ مسلمان ہے تو دینی بھائی ضرور ہے مگر دینی بھائی ہونے سے یہ لازم نہیں کہ باوصف اس کی ایسی شنیع حرکت کے وہ مسلمان ہوکر کافروں کے آگے اپنے آپ کو اس درجہ ذلیل کرتا ہے اور حرام اجرت کھاتاہےاس سے میل جول ایسا ہی رکھیں جیسا صالحین سےاور جبکہ اس کی کمائی خبیث ہے تو اسے بھی یوہیں کھائیں جیسے پاك مال کواس پر لازم ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا اس ناپاك پیشہ کو ترك کرے اور کافروں کے سامنے اسلام کانام ذلیل نہ کرے اس سے میل جول نہ کیاجائے اور اس کی ناپاك کمائی کاکھانا نہ کھایاجائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:کسب الحجام خبیث بھری سنگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔
علماء فرماتے ہیں:"لتلوثہ بالنجاسات" اس لئے کہ اسے نجاست سے کام پڑتاہے۔تو بھنگی کاپیشہ کس درجہ خبیث ترہوگا۔ علماء فرماتے ہیں:لایجوز خدمۃ الکافر باجر کافر کی خدمت گاری کی نوکری جائزنہیں)کہ اس میں معاذ اﷲ مسلمان کی تذلیل ہے تو ایسی سب سے ذلیل تر خدمت کیونکر حلال ہوسکتی ہےاور جب وہ مسلمان ہے تو دینی بھائی ضرور ہے مگر دینی بھائی ہونے سے یہ لازم نہیں کہ باوصف اس کی ایسی شنیع حرکت کے وہ مسلمان ہوکر کافروں کے آگے اپنے آپ کو اس درجہ ذلیل کرتا ہے اور حرام اجرت کھاتاہےاس سے میل جول ایسا ہی رکھیں جیسا صالحین سےاور جبکہ اس کی کمائی خبیث ہے تو اسے بھی یوہیں کھائیں جیسے پاك مال کواس پر لازم ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا اس ناپاك پیشہ کو ترك کرے اور کافروں کے سامنے اسلام کانام ذلیل نہ کرے اس سے میل جول نہ کیاجائے اور اس کی ناپاك کمائی کاکھانا نہ کھایاجائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب فی کسب الحجام آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۳۰
مسئلہ۲۴۹: ازشہر محل باقرگنج مرسلہ عنایت خاں ۱۳/جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب کافروں کامیلہ دریاپرہوتاہے تو یہ پنڈتوں کو اپنے گھر سے دال چاول لے جاکر دیتے ہیں یعنی پن کرتے ہیںوہ لوگ اس کو جمع کرکے فروخت کرڈالتے ہیں دکانداروں کے ہاتھاور ان دکانداروں سے ہم لوگ خریدتے ہیں اگر ہم خود اس پنڈت سے خرید لیں بازار سے کچھ زیادہ دی جائیں تو جائزہے یانہیںاور ان کو خرید کر اگرنیاز دلوائی جائے مثلا حضرت پیران پیر کیجائزہے یانہیں
الجواب:
اس اناج کابازار سے بھی خریدنا حلالپنڈت سے بھی خریداری جائزاس پرنیاز شریف بھی مباح۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۰: ازجھالراپائن راجپوتانہ مرسلہ محمدنواب علی صاحب سوداگرچرم
یہاں ایك روپے کا نوٹ چلاہے اور ریاست سے تنخواہ داروں کو روپیہ کے عوض نوٹ ملتاہےبازارمیں خریدار صراف وغیرہ پندرہ آنے اور ساڑھے پندرہ آنے کو خریدتے ہیںیہ آنہ اور آدھ آنہ مسلمانوں کو لینا دیناجائزہے یانہیں اس قسم کا لین دین سود میں داخل ہوگا یامنافع میں بینواتوجروا۔
الجواب:
روپےکا نوٹ پندرہ آنے کو بیچنا خریدنا مطلقا جائزہے جبکہ باہم رضامندی اور کوئی مانع شرعی عارض نہ ہو اسے سود سےکوئی علاقہ نہیںحدیث صحیح میں ارشادفرمایا:
اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جب دو نوع مختلف ہوں تو پھر جس طرح چاہو خریدوفروخت کرو۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۵۱: ازجھالراپائن راجپوتانہ مرسلہ محمدنواب علی صاحب سوداگرچرم
افیون کی خریدوفروخت جائزہے یانہیں چونکہ غیرقوم اس سے فائدہ حاصل کررہی ہے اور اہل اسلام محروم ہیںشرع شریف نے اس قسم کا بٹہ لینادینا اور تجارت کسی طریقہ سے جائز رکھی ہوتو جواب تشریح کے ساتھ مرحمت فرمایاجائے۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب کافروں کامیلہ دریاپرہوتاہے تو یہ پنڈتوں کو اپنے گھر سے دال چاول لے جاکر دیتے ہیں یعنی پن کرتے ہیںوہ لوگ اس کو جمع کرکے فروخت کرڈالتے ہیں دکانداروں کے ہاتھاور ان دکانداروں سے ہم لوگ خریدتے ہیں اگر ہم خود اس پنڈت سے خرید لیں بازار سے کچھ زیادہ دی جائیں تو جائزہے یانہیںاور ان کو خرید کر اگرنیاز دلوائی جائے مثلا حضرت پیران پیر کیجائزہے یانہیں
الجواب:
اس اناج کابازار سے بھی خریدنا حلالپنڈت سے بھی خریداری جائزاس پرنیاز شریف بھی مباح۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۰: ازجھالراپائن راجپوتانہ مرسلہ محمدنواب علی صاحب سوداگرچرم
یہاں ایك روپے کا نوٹ چلاہے اور ریاست سے تنخواہ داروں کو روپیہ کے عوض نوٹ ملتاہےبازارمیں خریدار صراف وغیرہ پندرہ آنے اور ساڑھے پندرہ آنے کو خریدتے ہیںیہ آنہ اور آدھ آنہ مسلمانوں کو لینا دیناجائزہے یانہیں اس قسم کا لین دین سود میں داخل ہوگا یامنافع میں بینواتوجروا۔
الجواب:
روپےکا نوٹ پندرہ آنے کو بیچنا خریدنا مطلقا جائزہے جبکہ باہم رضامندی اور کوئی مانع شرعی عارض نہ ہو اسے سود سےکوئی علاقہ نہیںحدیث صحیح میں ارشادفرمایا:
اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جب دو نوع مختلف ہوں تو پھر جس طرح چاہو خریدوفروخت کرو۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۵۱: ازجھالراپائن راجپوتانہ مرسلہ محمدنواب علی صاحب سوداگرچرم
افیون کی خریدوفروخت جائزہے یانہیں چونکہ غیرقوم اس سے فائدہ حاصل کررہی ہے اور اہل اسلام محروم ہیںشرع شریف نے اس قسم کا بٹہ لینادینا اور تجارت کسی طریقہ سے جائز رکھی ہوتو جواب تشریح کے ساتھ مرحمت فرمایاجائے۔
حوالہ / References
نصب الرایۃ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیہ ۴ /۴
الجواب:
افیون نشہ کی حدتك کھانا حرام ہے اور اسے بیرونی علاج مثلا ضمادوطلاء میں استعمال کرنا یاخوردنی معجونوں میں اتنا قلیل حصہ داخل کرنا کہ روز کی قدر شربت نشے کی حدتك نہ پہنچے توجائزہے اور جب وہ معصیت کے لئے متعین نہیں تو اس کے بیچنے میں حرج نہیں مگر اس کے ہاتھ جس کی نسبت معلوم ہوکہ نشہ کی غرض سے کھانے یاپینے کولیتاہے
لان المعصیۃ تقوم بعینھا فکان کبیع السلاح من اھل الفتنۃ۔ اس لئے کہ گناہ عین شے کے ساتھ قائم ہوتاہے پھر اس کی مثال اس طرح ہوتی جیسے"اہل فتنہ"پرہتھیار فروخت کرنا۔(ت)
اور جب اس کی تجارت مطلقا حرام نہ ہوئی بلکہ جائز صورتوں پر بھی مشتمل ہوئی تو زیادہ مقدار تاجروں کے ہاتھ بیچنا اور ہلکا ہوگیا کہ یہاں تعین معصیت اصلا نہیں اور ان کا نشہ داروں کے ہاتھ بیچنا ان کا فعل ہے
وتخلل فعل فاعل مختار یقطع النسبۃ کما فی الھدایۃ وغیرھا۔ کسی فاعلمختار کادرمیان میں گھسنا نسبت کو منقطع کردیتاہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
یہ صورتیں اس کے جواز کی نکلتی ہیںاور اہل تقوی کو اس سے احتراز زیادہ مناسب۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۵۲: ازکلکۃ زکریااسٹریٹ ۲۲ مولوی عبدالحلیم میرٹھی ۷/رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
کچہری کاملازم چپراسی جوروپیہ مقدمہ بازوں سے انعام کی صورت میں وصول کرتاہے اور بعض صورمیں بجبردرصورتیکہ رشوت کے حکم میں داخل ہواب توبہ کرنے کے بعد درآنحالیکہ ان اشخاص کو واپس کرنا ان سے اجازت لین اور قصور معاف کرانا ازقبیل محالات ہوگیا ہو کس مصرف میں لایاجائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
انعام اگر واقعی بطور انعام بلاجبرظاہر وبے اندیشہ اضرار آئندہ بطیب خاطر ہوحلال ہے اور جوبجبریارشوۃ ہو حرام قطعی وغصب وغیرمملوك ہے جبکہ واپس دینے کی راہ نہ رہی ہولازم کہ تمام عمر میں جتنے اموال ایسے لئے ہوں سب کی قدر فقرائے مسلمین پر تصدق کرے اگرچہ یہ تصدق اس کے مال کا استیعاب کرے بے اس کے اس سے برأت وتوبہ نہیںاگر یہ بھی پتانہ چلے تو برأت مطلقہ کاطریقہ یہ ہے کہ اپنا کل مال قلیل وکثیرنفیر وقطمیر سب کسی مسلمان غیرصاحب نصاب پرتصدق کردے اور اس کے قبضہ میں دے دے
افیون نشہ کی حدتك کھانا حرام ہے اور اسے بیرونی علاج مثلا ضمادوطلاء میں استعمال کرنا یاخوردنی معجونوں میں اتنا قلیل حصہ داخل کرنا کہ روز کی قدر شربت نشے کی حدتك نہ پہنچے توجائزہے اور جب وہ معصیت کے لئے متعین نہیں تو اس کے بیچنے میں حرج نہیں مگر اس کے ہاتھ جس کی نسبت معلوم ہوکہ نشہ کی غرض سے کھانے یاپینے کولیتاہے
لان المعصیۃ تقوم بعینھا فکان کبیع السلاح من اھل الفتنۃ۔ اس لئے کہ گناہ عین شے کے ساتھ قائم ہوتاہے پھر اس کی مثال اس طرح ہوتی جیسے"اہل فتنہ"پرہتھیار فروخت کرنا۔(ت)
اور جب اس کی تجارت مطلقا حرام نہ ہوئی بلکہ جائز صورتوں پر بھی مشتمل ہوئی تو زیادہ مقدار تاجروں کے ہاتھ بیچنا اور ہلکا ہوگیا کہ یہاں تعین معصیت اصلا نہیں اور ان کا نشہ داروں کے ہاتھ بیچنا ان کا فعل ہے
وتخلل فعل فاعل مختار یقطع النسبۃ کما فی الھدایۃ وغیرھا۔ کسی فاعلمختار کادرمیان میں گھسنا نسبت کو منقطع کردیتاہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
یہ صورتیں اس کے جواز کی نکلتی ہیںاور اہل تقوی کو اس سے احتراز زیادہ مناسب۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۵۲: ازکلکۃ زکریااسٹریٹ ۲۲ مولوی عبدالحلیم میرٹھی ۷/رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ
کچہری کاملازم چپراسی جوروپیہ مقدمہ بازوں سے انعام کی صورت میں وصول کرتاہے اور بعض صورمیں بجبردرصورتیکہ رشوت کے حکم میں داخل ہواب توبہ کرنے کے بعد درآنحالیکہ ان اشخاص کو واپس کرنا ان سے اجازت لین اور قصور معاف کرانا ازقبیل محالات ہوگیا ہو کس مصرف میں لایاجائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
انعام اگر واقعی بطور انعام بلاجبرظاہر وبے اندیشہ اضرار آئندہ بطیب خاطر ہوحلال ہے اور جوبجبریارشوۃ ہو حرام قطعی وغصب وغیرمملوك ہے جبکہ واپس دینے کی راہ نہ رہی ہولازم کہ تمام عمر میں جتنے اموال ایسے لئے ہوں سب کی قدر فقرائے مسلمین پر تصدق کرے اگرچہ یہ تصدق اس کے مال کا استیعاب کرے بے اس کے اس سے برأت وتوبہ نہیںاگر یہ بھی پتانہ چلے تو برأت مطلقہ کاطریقہ یہ ہے کہ اپنا کل مال قلیل وکثیرنفیر وقطمیر سب کسی مسلمان غیرصاحب نصاب پرتصدق کردے اور اس کے قبضہ میں دے دے
اگرچہ وہ فقیر جس پر تصدق کیا اس شخص کاجوان بیٹا یاباپ یابھائی یابہن یازوجہ یا اور کوئی قریب یابعید ہو بعد قبضہ وہ متصدق علیہ اپنی خوشی سے بعض یا کل مال اسے واپس کردے یعنی اپنی طرف سے اسے ہبہ کرے یا اس پر تصدقتو وہ مال اب اس کے لئے طیب ہوجائے گا مطالبہ سے بھی اداہوا اورمال بھی پاك وحلال ملا۔ ہندیہ میں ہے:
لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذلك ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذاخرج من العھدۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کسی کے پاس مشتبہ مال ہےجب اسے اپنے والد پرخیرات کردے تو یہ اس کے لئے کافی ہے۔کسی اجنبی شخص پرصدقہ کرنا شرط نہیں۔اور اسی طرح جب اس کا بیٹا اس کے ساتھ ہو جبکہ یہ شخص خریدوفروخت کرتاہواور اس کے کاروبار میں کچھ فاسد سودے ہوں تو یہ اپنا سارا مال اپنے اس بیٹے کو ہبہ کردے تو اس صورت میں یہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۵۳: ازرنگون مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل ۹/شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ اس شہر میں چندسال سے ایك قسم کی سواری جاری ہوئی ہے یعنی انگریزی ساکت کی ٹم ٹم شکل کا دو چکے والا ہلکا گاڑی ہوتاہے جسے انسان لے کر دوڑتے ہیں لوگ اس گاڑی پرسوار ہوتے ہیں اور مناسب معاوضہ گاڑی لے کر دوڑنے والے کو دیتے ہیں غرض گاڑی میں جو کام جانور آتے وہی کام قریب قریب آدمی کرتے ہیں تو کیا اہل اسلام کو اس سواری پر سوار ہونا جائزہے یانہیں
الجواب:
وہ لوگ اپنی خوشی سے ایسا کرتے ہیں اوراس پر اجرت لیتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں جیسے پالکی کے کہار
وقد مرت محفۃ سیدنا شیخ الشیوخ السھروردی رضی اﷲ تعالی عنہ من العراق الی مکۃ المکرمۃ علی اعناق الرجال۔واﷲ سبحنہ اعلم۔ بے شك ہمارے سردار شیخ الشیوخ سہروردی رضی اﷲ تعالی عنہ عراق سے لے کر مکہ مکرمہ تك لوگوں کی گردنوں پرسوار ہوکرگئے واﷲ سبحنہ اعلم۔(ت)
لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذلك ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذاخرج من العھدۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کسی کے پاس مشتبہ مال ہےجب اسے اپنے والد پرخیرات کردے تو یہ اس کے لئے کافی ہے۔کسی اجنبی شخص پرصدقہ کرنا شرط نہیں۔اور اسی طرح جب اس کا بیٹا اس کے ساتھ ہو جبکہ یہ شخص خریدوفروخت کرتاہواور اس کے کاروبار میں کچھ فاسد سودے ہوں تو یہ اپنا سارا مال اپنے اس بیٹے کو ہبہ کردے تو اس صورت میں یہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۵۳: ازرنگون مرسلہ عبدالستار بن اسمعیل ۹/شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ اس شہر میں چندسال سے ایك قسم کی سواری جاری ہوئی ہے یعنی انگریزی ساکت کی ٹم ٹم شکل کا دو چکے والا ہلکا گاڑی ہوتاہے جسے انسان لے کر دوڑتے ہیں لوگ اس گاڑی پرسوار ہوتے ہیں اور مناسب معاوضہ گاڑی لے کر دوڑنے والے کو دیتے ہیں غرض گاڑی میں جو کام جانور آتے وہی کام قریب قریب آدمی کرتے ہیں تو کیا اہل اسلام کو اس سواری پر سوار ہونا جائزہے یانہیں
الجواب:
وہ لوگ اپنی خوشی سے ایسا کرتے ہیں اوراس پر اجرت لیتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں جیسے پالکی کے کہار
وقد مرت محفۃ سیدنا شیخ الشیوخ السھروردی رضی اﷲ تعالی عنہ من العراق الی مکۃ المکرمۃ علی اعناق الرجال۔واﷲ سبحنہ اعلم۔ بے شك ہمارے سردار شیخ الشیوخ سہروردی رضی اﷲ تعالی عنہ عراق سے لے کر مکہ مکرمہ تك لوگوں کی گردنوں پرسوار ہوکرگئے واﷲ سبحنہ اعلم۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر فی الکسب نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹
مسئلہ ۲۵۴: ازبریلی گورنمنٹ بوچڑخانہ مرسلہ نعمت اﷲ صاحب ٹھیکہ دار گوشت ۱۵/رجب المرجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کٹھلہ گوشت بکری کا اس قسم کاہے کہ ذبحہ و جھٹکہ گردن مارا ہوا دونوں قسم کاشامل ہے اگرخریدنے سے قبل ہم دوشخص اس کو اس ارادے سے خرید کر کہ ذبحہ ایك آدمی اور جھٹکہ ایك آدمی مگرنام میں وہ کام میرے رہے گا اب وہ جائز ہے یاناجائز اور میرے ذمہ کوئی نقصان شرعی رہا یاکہ نہیں
الجواب:
جبکہ حلال گوشت میں حرام ملاہواہے اس کا خریدنا مطلقا حرام ہے اور اگرمتمیز ہوکہ یہ ٹکڑا حلال کا ہے یہ مردار کاتوصرف حلال کاخریدنا جائز اور مردار کا خریدنا سخت حرام۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵: از شہر جالندھر چوك حضرت امام ناصرالدین صاحب مرسلہ محمد امین صاحب ۲۷/رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بازاری عورت کے ہاتھ قیمتا چیزیں فروخت کرنا جائزہے یاناجائز
الجواب:
اس کے ہاتھ کچھ بیچ کر اس کے زر حرام سے قیمت لینا حراماس کے یہاں کوئی اجرت کاکام کرکے اس کے زر حرام سے اجرت لینا حرام"لان الذی عندھن کالمغصوب کما فی الھندیۃ وغیرھا"(اس لئے کہ جوکچھ ان بازاری عورتوں کے پاس ہے وہ غصب کردہ(یعنی چھینی ہوئی)چیز کا طرح ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ت)ہاں اگر اس کے سوا کوئی اور ذریعہ حلال بھی اس کے پاس ہو اور لینے والے کو معلوم نہ ہو کہ یہ قیمت یا اجرت کون سے مال سے ہے تو لیناجائز ہے جبکہ وہ چیز کہ بیچی بعینہ اس سے اقامت معصیت نہ ہو جیسے مزامیرورنہ بیچنا خود ہی جائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۶: از سیملیہ علاقہ سیلانہ اسٹیشن ناملی ضلع رتلام مالوہ ریلوے مرسلہ نورمحمد ولدصدیق کھتری ۳۰/رمضان ۱۳۳۷ھ
مسلمانوں میں ایك قوم کھتری ہے جو رنگائی وغیرہ کاپیشہ کرتی ہےان کی قوم میں بائیس گوٹ ہیں یعنی فرقہاور ان میں باہم اتفاق تھالین دینکھانا پینا وغیرہ ہوتا تھا۔اب عرصہ پانچ چھ برس سے آپس میں تکرار فساد ہو کر باہم تنازع پیدا ہوا اور علیحدہ ہوگئے۔ایك فریق سترہ گوٹ والا اور دوسرا
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کٹھلہ گوشت بکری کا اس قسم کاہے کہ ذبحہ و جھٹکہ گردن مارا ہوا دونوں قسم کاشامل ہے اگرخریدنے سے قبل ہم دوشخص اس کو اس ارادے سے خرید کر کہ ذبحہ ایك آدمی اور جھٹکہ ایك آدمی مگرنام میں وہ کام میرے رہے گا اب وہ جائز ہے یاناجائز اور میرے ذمہ کوئی نقصان شرعی رہا یاکہ نہیں
الجواب:
جبکہ حلال گوشت میں حرام ملاہواہے اس کا خریدنا مطلقا حرام ہے اور اگرمتمیز ہوکہ یہ ٹکڑا حلال کا ہے یہ مردار کاتوصرف حلال کاخریدنا جائز اور مردار کا خریدنا سخت حرام۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵: از شہر جالندھر چوك حضرت امام ناصرالدین صاحب مرسلہ محمد امین صاحب ۲۷/رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بازاری عورت کے ہاتھ قیمتا چیزیں فروخت کرنا جائزہے یاناجائز
الجواب:
اس کے ہاتھ کچھ بیچ کر اس کے زر حرام سے قیمت لینا حراماس کے یہاں کوئی اجرت کاکام کرکے اس کے زر حرام سے اجرت لینا حرام"لان الذی عندھن کالمغصوب کما فی الھندیۃ وغیرھا"(اس لئے کہ جوکچھ ان بازاری عورتوں کے پاس ہے وہ غصب کردہ(یعنی چھینی ہوئی)چیز کا طرح ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ت)ہاں اگر اس کے سوا کوئی اور ذریعہ حلال بھی اس کے پاس ہو اور لینے والے کو معلوم نہ ہو کہ یہ قیمت یا اجرت کون سے مال سے ہے تو لیناجائز ہے جبکہ وہ چیز کہ بیچی بعینہ اس سے اقامت معصیت نہ ہو جیسے مزامیرورنہ بیچنا خود ہی جائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۶: از سیملیہ علاقہ سیلانہ اسٹیشن ناملی ضلع رتلام مالوہ ریلوے مرسلہ نورمحمد ولدصدیق کھتری ۳۰/رمضان ۱۳۳۷ھ
مسلمانوں میں ایك قوم کھتری ہے جو رنگائی وغیرہ کاپیشہ کرتی ہےان کی قوم میں بائیس گوٹ ہیں یعنی فرقہاور ان میں باہم اتفاق تھالین دینکھانا پینا وغیرہ ہوتا تھا۔اب عرصہ پانچ چھ برس سے آپس میں تکرار فساد ہو کر باہم تنازع پیدا ہوا اور علیحدہ ہوگئے۔ایك فریق سترہ گوٹ والا اور دوسرا
پانچ گوٹ والااور اسی نام سے یہ مشہور ہیںایك فریق سترا والے اور فریق ثانی دھڑے والےبناء فساد یہ ہے کہ جب ان میں اتفاق تھا اس وقت میں شادی غمی کاکھانا وہ اس طرق سے پکتاتھا جس کے گھر خوشی ہوتی تو جملہ پنچ اس کے مکان پرجمع ہوتے ہیں اور دیگچی میں پانی بھر کر پنچوں کے بیچ میں رکھتے ہیں اور ایك برتن علیحدہ گرہ رکھتے ہیں پھر ایك آدمی انہیں سے اٹھ کر پنچوں سے اجازت کھانا پکانے کے واسطے گڑ گلانے کی طلب کرتا ان کی زبان میں کہتا(پنچاموکل)یعنی پنچ اجازت گڑ گلانے کی دوتو اس وقت پنچ جواب دیتے ہیں(بسم اﷲ)یعنی اجازت دی گئی۔اس وقت پانچ گوٹ والے جن کانام دھڑے والے ہے پانچ آدمی اٹھ کر ایك ایك ڈلی گڑ کی لے کر بسم اﷲ کہہ کر اس دیگچی میں ڈال دیتے ہیںتب کام شروع ہوکر اختتام کو پہنچ جایاکرتاتھا۔یہ رسم قدامت سے باپ دادا کی قائم تھیستراوالوں کو حسد پیدا ہوا کہ دھڑے والے گڑگلائیں جب کھاناپکے اور یہ اپنا حق جتاتے ہیں کہ گڑ گلانا ہماراکام ہے تو ہم کو ایسا کھانا منظور نہیں ہے ہم دھڑے والوں سے علیحدہ ہی اچھے ہیںاس سبب سے آپس میں دو فریق ایك ستراوالے اور دوسرے دھڑے والے ہوگئے۔دھڑے والوں نے تو اپنی رسم قدیم قائم رکھی کہ ہم بسم اﷲ کے ساتھ اس کام کو کرتے ہیں کوئی شرك کفر نہیں کرتے۔اور ستراوالوں نے رسم قدیم چھوڑکرنیا طریقہ اختیار کیا کہ جس کے یہاں کھانا وغیرہ پکے تو مالك کھڑا ہوکر اجازت کھانا پکانے کی مانگ لیتاہے اور وہ کھانا پکاکر کھالیتے ہیںستراوالے کے کھانے کو دھڑے والے نہیں کھاتے اور دھڑے والوں کا سترا والےاور یہی باعث نفاق ہےسترا والے کہتے ہیں کہ ہم رسمی کھانا نہیں کھاتےشریعت سے منع ہےاس رسم کو چھوڑ کر اتنا ضرور ہوتاہے کہ جس کے یہاں کام ہوتاہے وہ پنچوں سے اجازت ضرور لیتا ہے۔اگر اور طریقہ سے کھانا پکایاجائے گاتوستراوالے بھی نہیں کھائیں گےان دونوں فریق میں سے ایك شخص تنہا اپنے مکان سے نکلا اس کا یہ کہنا کہ میں دونوں فریق کی رسم سے علیحدہ ہوں میں تو سنت رسول اﷲ کے موافق سب کو دلواکر پکواکر جو صاحب کھائیں میں کھلاؤں اور اسی طریق پر میں بھی کھاؤں اور بموجب شریعت عورت کو پردے میں رکھتاہوں اور بیوپار بھی اس طور پرکرتاہوں کہ سود نہ لوں نہ دوں بموجب شریعت کے کرتاہوں ستراوالوں اور دھڑے والوں کی عورتیں باہر پھرتی ہیں پردہ نہیں ہے میرے اس سنت رسول اﷲ پرچلنے سے فریقین بیزار ہیں اس واسطے دریافت کیاجاتاہے کہ جوابات علیحدہ علیحدہ مرحمت فرمایاجائے کہ ستراوالوں کے لئے ازروئے شرع شریف کیاحکم ہے اور دھڑے والوں کے واسطے کیاحکم ہے اور بےچارے تنہا کاجوشریعت پرچل رہاہے کیا حکم ہوتاہے
الجواب:
(۱)حدیث میں ہے:جو ایك درہم سود کادانستہ کھائے گویا اس نے چھتیس بار اپنی ماں سے زناکیا ۔ایك درہم تقریبا یہاں کے اٹھارہ پیسے کاہوتاہے تو فی دھیلا ایك بار ماں سے زناہوا۔
(۲)یوں ہی نری سخت مجبوری وناچاری شرعی کے سوا سود دینا بھی ویساہی حرام ہےحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں سب پرلعنت فرمائیاور فرمایا:وہ سب برابرہیں ۔
(۳)عورتوں کاراستوں میں یوں بے پردہ پھرناکہ سرکاکوئی بال یاگلے کاکچھ حصہ یاکلائی یا پنڈلی کاکھلا ہو یا کپڑے باریك ہوں کہ بال وغیرہ اعضاء مذکورہ میں سے کچھ چمکے(سینے یاپیٹ یا پیٹھ میں سے کچھ کھلا ہونا یاچمکنا تو اور بھی سخت ہے)یہ صورتیں حرام ہیں اور ان عورتوں کے شوہر اگر اس پرراضی یاساکت ہیں یابقدر ضرورت بندوبست نہیں کرتے توسب دیوث ہیںاور حدیث میں ہے:دیوث پرجنت حرام ہے ۔
یہ تینوں باتیں یا ان میں سے کوئی جس میں پائی جائے فاسق فاجر مستحق عذاب النارہےدھڑے والا ہو یا سترا والا یاکوئی اور اگر ان باتوں کی ممانعت کے باعث اس شخص تنہا سے بیزار ہیں تو اور اشد سے اشد گناہگار وسزاوار غضب جبار ہیںان تین باتوں کا تو یہ جواب ہےرہا کھانے کاجھگڑااس میں ستراوالوں پرچار الزام ہیں:
(۱)حدیث میں ہے:جو ایك درہم سود کادانستہ کھائے گویا اس نے چھتیس بار اپنی ماں سے زناکیا ۔ایك درہم تقریبا یہاں کے اٹھارہ پیسے کاہوتاہے تو فی دھیلا ایك بار ماں سے زناہوا۔
(۲)یوں ہی نری سخت مجبوری وناچاری شرعی کے سوا سود دینا بھی ویساہی حرام ہےحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں سب پرلعنت فرمائیاور فرمایا:وہ سب برابرہیں ۔
(۳)عورتوں کاراستوں میں یوں بے پردہ پھرناکہ سرکاکوئی بال یاگلے کاکچھ حصہ یاکلائی یا پنڈلی کاکھلا ہو یا کپڑے باریك ہوں کہ بال وغیرہ اعضاء مذکورہ میں سے کچھ چمکے(سینے یاپیٹ یا پیٹھ میں سے کچھ کھلا ہونا یاچمکنا تو اور بھی سخت ہے)یہ صورتیں حرام ہیں اور ان عورتوں کے شوہر اگر اس پرراضی یاساکت ہیں یابقدر ضرورت بندوبست نہیں کرتے توسب دیوث ہیںاور حدیث میں ہے:دیوث پرجنت حرام ہے ۔
یہ تینوں باتیں یا ان میں سے کوئی جس میں پائی جائے فاسق فاجر مستحق عذاب النارہےدھڑے والا ہو یا سترا والا یاکوئی اور اگر ان باتوں کی ممانعت کے باعث اس شخص تنہا سے بیزار ہیں تو اور اشد سے اشد گناہگار وسزاوار غضب جبار ہیںان تین باتوں کا تو یہ جواب ہےرہا کھانے کاجھگڑااس میں ستراوالوں پرچار الزام ہیں:
حوالہ / References
اللآلی المصنوعۃ کتاب المعاملات دارالکتاب العلمیۃ بیروت ۲ /۱۲۷ و۱۲۸،اتحاف السادۃ المتقین کتاب آفات اللسان الآفۃ الخامسۃ عشر دارالفکر بیروت ۷ /۳۵۳،الترغیب ولترھیب الترہیب من الربا حدیث ۱۲،۱۵ مصطفی البابی مصر ۳ /۶،۷،الموضوعات لابن جوزی باب تعظم امرالربا علی الزنا دارالفکر بیروت ۲ /۲۴۵،الکامل لابن عدی ترجمہ عبداﷲ بن کیسان دارالفکر بیروت ۴ /۱۵۴۳، الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی الدنیا والبیہقی تحت آیۃ ۲ /۲۷۵ مکتبۃ آیۃ اﷲ العظیمی قم ایران ۱ /۳۶۴
صحیح مسلم کتاب المساقات باب الرباء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷
مسند امام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۹۔۱۲۸
صحیح مسلم کتاب المساقات باب الرباء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷
مسند امام احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۹۔۱۲۸
(i)ایك یہ کہ دھڑے والوں کا ایك قومی امتیاز جو قدیم سے چلاآتاتھا اس پر حسد کیا اور حسد کار شیطان ہے۔
(ii)دوسرے یہ کہ اس کے سبب جماعت میں تفریق کردیبندھی گرہ کے دوگروہ مختلف کردئیے کہ یہ ان کے یہاں نہ کھائیں وہ ان کے یہاں نہ کھائیں۔
(iii)تیسرے یہ کہ وہ کھانا جسے قدیم سے ان کے باپ دادا اور یہ خود کھاتے آئے اسے اب نفسانیت کے سبب شریعت سے حرام بتایا یہ سخت جرم ہے وہ کھانا نہ اس رسم کے باعث شرعا جب حرام تھا نہ اب ہے۔
(iv)چوتھے یہ کہ خود ایك رسم نکالی اور اس طرح کھانا نہ پکے تو نہ کھائیں گےتو ان کے منہ خود ان کا کھاناشریعت سے حرام ہوارسم کی پابندی اگرچہ عوام حد سے زیادہ کرتے ہیں مگر اس کو شرعا واجب نہیں جانتےرسم ہی سمجھتےہیںتو جس رسم میں خود کوئی شرعی برائی نہ ہو اس میں قوم کی موافقت ہی کا حکم ہے اور اس میں اختلاف ڈال کر نکوبننا شرعا معیوب ہےیہ ایك الزام اس تنہا شخص پر بھی خاص اس بارے میں ہے۔حدیث میں ہے:
خالقواالناس باخلاقھم ۔ لوگوں سے ان کے اخلاق کے مطابق اخلاق کابرتاؤ اور سلوك کرو۔(ت)
دھڑے والوں پراس بارے میں کوئی الزام نہیںہاں اگر کوئی شخص اس گڑ کی رسم کو ضروری وحکم شرعی جانے تو وہ ضرور جھوٹا اورسخت اشدالزام کامورد ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۷: ازشہربریلی مسئولہ شوکت علی صاحب ۸/شوال ۱۳۳۷ھ
کیاقول ہے علمائے حقانی کامسئلہ ذیل میں کہ ناجائز روپیہ یعنی سود وشراب ورشوت وغیرہ اگرنیك کام مسجدمدرسہچاہنیاز فاتحہعرس وغیرہ میں لگایا جائے تو جائزہے یانہیں اور جوشخص اس مسجد میں نمازمدرسہ میں علم اور چاہ کاپانی اور فاتحہ عرس کا کھانا کھائے تو جائزہے یانہیں اور اگر اسی روپیہ کو خیرات کیاجائے اور امید ثواب رکھی جائے توکیاحکم ہے ایسے روپیہ کو کسی شرعی حیلہ سے جائز کرسکتے ہیں یانہیں اور وہ حیلہ کیاہے
(ii)دوسرے یہ کہ اس کے سبب جماعت میں تفریق کردیبندھی گرہ کے دوگروہ مختلف کردئیے کہ یہ ان کے یہاں نہ کھائیں وہ ان کے یہاں نہ کھائیں۔
(iii)تیسرے یہ کہ وہ کھانا جسے قدیم سے ان کے باپ دادا اور یہ خود کھاتے آئے اسے اب نفسانیت کے سبب شریعت سے حرام بتایا یہ سخت جرم ہے وہ کھانا نہ اس رسم کے باعث شرعا جب حرام تھا نہ اب ہے۔
(iv)چوتھے یہ کہ خود ایك رسم نکالی اور اس طرح کھانا نہ پکے تو نہ کھائیں گےتو ان کے منہ خود ان کا کھاناشریعت سے حرام ہوارسم کی پابندی اگرچہ عوام حد سے زیادہ کرتے ہیں مگر اس کو شرعا واجب نہیں جانتےرسم ہی سمجھتےہیںتو جس رسم میں خود کوئی شرعی برائی نہ ہو اس میں قوم کی موافقت ہی کا حکم ہے اور اس میں اختلاف ڈال کر نکوبننا شرعا معیوب ہےیہ ایك الزام اس تنہا شخص پر بھی خاص اس بارے میں ہے۔حدیث میں ہے:
خالقواالناس باخلاقھم ۔ لوگوں سے ان کے اخلاق کے مطابق اخلاق کابرتاؤ اور سلوك کرو۔(ت)
دھڑے والوں پراس بارے میں کوئی الزام نہیںہاں اگر کوئی شخص اس گڑ کی رسم کو ضروری وحکم شرعی جانے تو وہ ضرور جھوٹا اورسخت اشدالزام کامورد ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۷: ازشہربریلی مسئولہ شوکت علی صاحب ۸/شوال ۱۳۳۷ھ
کیاقول ہے علمائے حقانی کامسئلہ ذیل میں کہ ناجائز روپیہ یعنی سود وشراب ورشوت وغیرہ اگرنیك کام مسجدمدرسہچاہنیاز فاتحہعرس وغیرہ میں لگایا جائے تو جائزہے یانہیں اور جوشخص اس مسجد میں نمازمدرسہ میں علم اور چاہ کاپانی اور فاتحہ عرس کا کھانا کھائے تو جائزہے یانہیں اور اگر اسی روپیہ کو خیرات کیاجائے اور امید ثواب رکھی جائے توکیاحکم ہے ایسے روپیہ کو کسی شرعی حیلہ سے جائز کرسکتے ہیں یانہیں اور وہ حیلہ کیاہے
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الباب الثانی الفائدۃ الثالثہ دارالفکر بیروت ۶ /۳۵۴
الجواب:
حرام روپیہ کسی کام میں لگانا اصلا جائزنہیںنیك کام ہو یا اورسوا اس کے کہ جس سے لیا اسے واپس دے یافقیروں پرتصدق کرے۔بغیر اس کے کوئی حیلہ اس کے پاك کرنے کانہیںاسے خیرات کرکے جیساپاك مال پر ثواب ملتاہے اس کی امید رکھے تو سخت حرام ہےبلکہ فقہاء نے کفرلکھاہے۔ہاں وہ جو شرع نے حکم دیا کہ حقدار نہ ملے تو فقیر پرتصدق کردے اس حکم کومانا تو اس پر ثواب کی امید کرسکتاہے مسجد مدرسہ وغیرہ میں بعینہ روپیہ نہیں لگایاجاتا بلکہ اس سے اشیاء خریدتے ہیں خریداری میں اگر یہ نہ ہوا کہ زرحرام دکھاکرکہا اس کے بدلے فلاں چیزدے اس نے دی اس نے قیمت میں زر حرام دیا تو جو چیز خریدیں وہ خبیث نہیں ہوتیاس صورت میں فاتحہ وعرس کا کھانا جائزہے اور اکثریہی صورت ہےمسجد میں نماز مدرسہ میں تحصیل علم جائزہے اور کنویں کاپانی تو ہرطرح جائزہے اگرچہ اس میں وہ نادر صورت پائی گئی ہو کہ خباثت آئی تواینٹوں مسالے میں نہ ہ زمین کے پانی میں۔وھوتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸ تا ۲۶۱: ازبھیرہ ضلع شاہ پور محلہ پراچگان مسئولہ محمدرحیم پراچہ بابلی ۷/رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)کسی امر کے ثبوت یاعدم ثبوت پر مسلمین عاقلین کا طرفین سے شرط مالی لگانا حلال ہے یاحرام
(۲)طرفین سے ایك کا دعوی ثابت ہوجانے پرمطابق شرط دوسرے کی طرف آیاہوا مال کھانا حلال ہے یاحرام
(۳)ایك متقی عالم دین کا شرط کو حرام کہہ کر پھر اسی شرط کے مال سے کھالینا کیاحکم رکھتاہے
(۴)جس مال پرشرط لگائی گئی ہو اس کے استعمال کرنے والے کے پیچھے نماز جائزہے یانہیںبینوا جزاکم اللہ(بیان فرمائے اﷲ آپ کو جزا دے۔ت)۔
الجواب:
(۱)طرفین سے شرط بدنا حرام ہے تنویرالابصار میں ہے:
حل الجعل ان شرط المال من جانب واحد وحرم لو شرط من الجانبین ۔ انعام یافتہ مال حلال ہے اگرشرط ایك طرف سے ہواور حرام ہے اگرشرط دونوں طرف سے ہو۔(ت)
(۲)جب طرفین سے شرط بدی گئی تو جو جیتے اسے مال لینا اور کھانا اور ہارنے والے کو اسے
حرام روپیہ کسی کام میں لگانا اصلا جائزنہیںنیك کام ہو یا اورسوا اس کے کہ جس سے لیا اسے واپس دے یافقیروں پرتصدق کرے۔بغیر اس کے کوئی حیلہ اس کے پاك کرنے کانہیںاسے خیرات کرکے جیساپاك مال پر ثواب ملتاہے اس کی امید رکھے تو سخت حرام ہےبلکہ فقہاء نے کفرلکھاہے۔ہاں وہ جو شرع نے حکم دیا کہ حقدار نہ ملے تو فقیر پرتصدق کردے اس حکم کومانا تو اس پر ثواب کی امید کرسکتاہے مسجد مدرسہ وغیرہ میں بعینہ روپیہ نہیں لگایاجاتا بلکہ اس سے اشیاء خریدتے ہیں خریداری میں اگر یہ نہ ہوا کہ زرحرام دکھاکرکہا اس کے بدلے فلاں چیزدے اس نے دی اس نے قیمت میں زر حرام دیا تو جو چیز خریدیں وہ خبیث نہیں ہوتیاس صورت میں فاتحہ وعرس کا کھانا جائزہے اور اکثریہی صورت ہےمسجد میں نماز مدرسہ میں تحصیل علم جائزہے اور کنویں کاپانی تو ہرطرح جائزہے اگرچہ اس میں وہ نادر صورت پائی گئی ہو کہ خباثت آئی تواینٹوں مسالے میں نہ ہ زمین کے پانی میں۔وھوتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۸ تا ۲۶۱: ازبھیرہ ضلع شاہ پور محلہ پراچگان مسئولہ محمدرحیم پراچہ بابلی ۷/رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)کسی امر کے ثبوت یاعدم ثبوت پر مسلمین عاقلین کا طرفین سے شرط مالی لگانا حلال ہے یاحرام
(۲)طرفین سے ایك کا دعوی ثابت ہوجانے پرمطابق شرط دوسرے کی طرف آیاہوا مال کھانا حلال ہے یاحرام
(۳)ایك متقی عالم دین کا شرط کو حرام کہہ کر پھر اسی شرط کے مال سے کھالینا کیاحکم رکھتاہے
(۴)جس مال پرشرط لگائی گئی ہو اس کے استعمال کرنے والے کے پیچھے نماز جائزہے یانہیںبینوا جزاکم اللہ(بیان فرمائے اﷲ آپ کو جزا دے۔ت)۔
الجواب:
(۱)طرفین سے شرط بدنا حرام ہے تنویرالابصار میں ہے:
حل الجعل ان شرط المال من جانب واحد وحرم لو شرط من الجانبین ۔ انعام یافتہ مال حلال ہے اگرشرط ایك طرف سے ہواور حرام ہے اگرشرط دونوں طرف سے ہو۔(ت)
(۲)جب طرفین سے شرط بدی گئی تو جو جیتے اسے مال لینا اور کھانا اور ہارنے والے کو اسے
حوالہ / References
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۹
مال دینا سب حرام لانہ خبیث حصل بسبب خبیث(اس لئے کہ وہ ناپاك ہے کیونکہ ناپاك سبب سے حاصل ہواہے۔ت)
(۳)اگر وہ عالم خود ایك فریق تھا تو متقی کب ہواحرام کارہےاور اسے کھائے تو حرام خور ہے۔اور اگر یہ کسی فریق میں نہ تھا اور جیتنے والے نے مال لے کر اسے دیا جب بھی حرام ہے کہ وہ مال مغصوب ہے جن سے لیاتھا فرض ہے کہ انہیں پھیرکردے نہ کہ دوسرے کواور اگر جیتنے والے نے مال لیا اور ہارنے والے کی اجازت سے عالم کو دیا تو عالم کے لئے حلال ہے کہ باجازت مالك ہے۔
(۴)اس کا حکم بیان سابق سے واضح ہے جیتنے والے کو حرام اور ثالث کو بھی بلااجازت مالك حرامان دونوں صورتوں میں وہ فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ اور باجازت مالك حلال ہے اور امامت میں مخل نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۲: ازشہر بریلی مسئولہ شوکت علی صاحب ۱۲/شوال ۱۳۳۷ھ
کیاحکم ہے اہل شریعت کا کہ ملازمت چونگی کی جائزہے یانہیں اور حاکم وقت کو اس کا روپیہ تحصیلنا جائز ہے یانہیںیہ روپیہ رعایا سے تحصیل کرکے رعایا ہی کی آسائش کے واسطے روشنی سڑك وغیرہ کے کام میں لگادیتے ہیںاور چونگی کا محصول چرانا جائزہے یانہیں
الجواب:
نیك نیت سے چونگی کی نوکری تحصیل وصول کی جائزہے ہے نص علیہ فی الدر وغیرہ من الاسفار الخ(درمختار وغیرہ بڑی کتابوں میں اس کی تصریح کی گئی الخ۔ت)چوری یعنی دوسرے کامال معصوم بے اس کے اذن کے اس سے چھپا کرناحق لینا کسی کو بھی جائزنہیں اور نوکر کاخلاف قرارداد کرناعذرہے اورغدرمطلقا حرام ہے نیز کسی قانونی جرم کاارتکاب کرکے اپنے آپ کو بلاوجہ ذلت و بلاکے لئے پیش کرنا شرعا بھی جرم ہے کما استفید من القران المجید والحدیث(جیسا کہ قرآن مجید اور حدیث پاك سے معلوم ہوا۔ت)رہا یہ کہ حکام وقت کو اس کا تحصیلنا شرعا کیساہے نہ حکام کو اس سے بحث ہے نہ سائل کو حاکم سے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۳: ازایگت پوری ضلع ناسك مرسلہ سعیدالدین صاحب ۱۱صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك طوائف نے اپنی ناپاك کمائی حرام کاری کے روپیہ سے ایك مکان خریدکیا اور اس کو بنام چنداشخاص سپرد کرکے لکھ دیا کہ اس مکان کی آمدنی مسجد کے اصراف میں خرچ کی جائے اور ان کو اس کا اختیار بیع ورہن حاصل نہیں کیا ایسے مکان کی آمدنی
(۳)اگر وہ عالم خود ایك فریق تھا تو متقی کب ہواحرام کارہےاور اسے کھائے تو حرام خور ہے۔اور اگر یہ کسی فریق میں نہ تھا اور جیتنے والے نے مال لے کر اسے دیا جب بھی حرام ہے کہ وہ مال مغصوب ہے جن سے لیاتھا فرض ہے کہ انہیں پھیرکردے نہ کہ دوسرے کواور اگر جیتنے والے نے مال لیا اور ہارنے والے کی اجازت سے عالم کو دیا تو عالم کے لئے حلال ہے کہ باجازت مالك ہے۔
(۴)اس کا حکم بیان سابق سے واضح ہے جیتنے والے کو حرام اور ثالث کو بھی بلااجازت مالك حرامان دونوں صورتوں میں وہ فاسق ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ اور باجازت مالك حلال ہے اور امامت میں مخل نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۲: ازشہر بریلی مسئولہ شوکت علی صاحب ۱۲/شوال ۱۳۳۷ھ
کیاحکم ہے اہل شریعت کا کہ ملازمت چونگی کی جائزہے یانہیں اور حاکم وقت کو اس کا روپیہ تحصیلنا جائز ہے یانہیںیہ روپیہ رعایا سے تحصیل کرکے رعایا ہی کی آسائش کے واسطے روشنی سڑك وغیرہ کے کام میں لگادیتے ہیںاور چونگی کا محصول چرانا جائزہے یانہیں
الجواب:
نیك نیت سے چونگی کی نوکری تحصیل وصول کی جائزہے ہے نص علیہ فی الدر وغیرہ من الاسفار الخ(درمختار وغیرہ بڑی کتابوں میں اس کی تصریح کی گئی الخ۔ت)چوری یعنی دوسرے کامال معصوم بے اس کے اذن کے اس سے چھپا کرناحق لینا کسی کو بھی جائزنہیں اور نوکر کاخلاف قرارداد کرناعذرہے اورغدرمطلقا حرام ہے نیز کسی قانونی جرم کاارتکاب کرکے اپنے آپ کو بلاوجہ ذلت و بلاکے لئے پیش کرنا شرعا بھی جرم ہے کما استفید من القران المجید والحدیث(جیسا کہ قرآن مجید اور حدیث پاك سے معلوم ہوا۔ت)رہا یہ کہ حکام وقت کو اس کا تحصیلنا شرعا کیساہے نہ حکام کو اس سے بحث ہے نہ سائل کو حاکم سے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۳: ازایگت پوری ضلع ناسك مرسلہ سعیدالدین صاحب ۱۱صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك طوائف نے اپنی ناپاك کمائی حرام کاری کے روپیہ سے ایك مکان خریدکیا اور اس کو بنام چنداشخاص سپرد کرکے لکھ دیا کہ اس مکان کی آمدنی مسجد کے اصراف میں خرچ کی جائے اور ان کو اس کا اختیار بیع ورہن حاصل نہیں کیا ایسے مکان کی آمدنی
اصراف اخراجات مسجدمیں صرف کرنادرست وجائزہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
ایسی اشیاء اکثر قرض سے خریدتے ہیں جب تو ظاہر کہ وہ مال حلال ہے ورنہ عام خریداریوں میں عقد ونقد مال حرام پرجمع نہیں ہوتا یعنی یہ نہیں ہوتا کہ حرام روپیہ دکھاکر کہیں اس کے عوض دے دو پھر وہی روپیہ قیمت میں دے دیںایسی صورت میں بھی روپے کی خباثت اس شے میں سرایت نہیں کرتی کماھو مذھب الامام الکرخی المفتی بہ(جیسا کہ امام کرخی کامذہب ہے کہ جس پر فتوی دیاگیا۔ت)ان صورتوں میں اس مکان کی آمدنی مسجد میں صرف ہوسکتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۴: ازبریلی بازار شہامت گنج مسئولہ عاشق علی دکاندار ۲۶مؤجمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
علمائے دین کیافرماتے ہیں ایك شخص کی زمین ہے اس میں ایك اور شخص رہتاہے عملہ اس کا خام ہے زمیندار زمین فروخت کرناچاہتاہے اور اہل محلہ چندہ کرکے خریدنا چاہتے ہیں اس لئے کہ اس مکان کا کرایہ مسجد میں صرف ہوتارہے جو شخص اس میں رہتاہے وہ مسجد کے لئے خریدنے سے ناراض ہے وہ چاہتاہے کہ میں خریدوںوہ شخص مسلمان ہےاس زمین کا خریدنا ہم اہل خیر کو جائزہے یااس شخص کو جائزہے
الجواب:
ظاہر ہے کہ اس شخص کومکان کی حاجت ہے کہ کرایہ کے مکان میں رہ رہاہے لہذا اس کا اپنے لئے چاہنا مذموم نہیںاور اختیار مالك مکان کو ہے جس کے ہاتھ چاہے بیع کرےاس میں کسی فریق پر کوئی الزام شرعی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۵: ازکانپور محلہ ٹپکاپور متصل اسٹار پریس مرسلہ برکات احمدصاحب ۱۶۰ جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ پیشہ کسب اور ناچ گانے کاکرتی تھی اس کوقدرتی طور پر میلان ہوا کہ پیشہ کسب یعنی زنا چھوڑدے چنانچہ اس نے اس سے توبہ کی پھر وہ ایك بزرگ طریقت زید سے مرید ہوگئی تاہم پیشہ ناچ گانے کا اب تك کرتی ہے پیرصاحب نے اس کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اس پیشہ کو اس وقت تك جب تك اس کے پاس ایك معقول سرمایہ جمع ہوجائے کرتی رہے ایسی حالت میں ہندہ اور اس کامرشد زیدکسی گناہ کے مرتکب ہیں اگر ہیں تو بروئے احکام شریعت ان کی کیاسزاہے
الجواب:
ایسی اشیاء اکثر قرض سے خریدتے ہیں جب تو ظاہر کہ وہ مال حلال ہے ورنہ عام خریداریوں میں عقد ونقد مال حرام پرجمع نہیں ہوتا یعنی یہ نہیں ہوتا کہ حرام روپیہ دکھاکر کہیں اس کے عوض دے دو پھر وہی روپیہ قیمت میں دے دیںایسی صورت میں بھی روپے کی خباثت اس شے میں سرایت نہیں کرتی کماھو مذھب الامام الکرخی المفتی بہ(جیسا کہ امام کرخی کامذہب ہے کہ جس پر فتوی دیاگیا۔ت)ان صورتوں میں اس مکان کی آمدنی مسجد میں صرف ہوسکتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۴: ازبریلی بازار شہامت گنج مسئولہ عاشق علی دکاندار ۲۶مؤجمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
علمائے دین کیافرماتے ہیں ایك شخص کی زمین ہے اس میں ایك اور شخص رہتاہے عملہ اس کا خام ہے زمیندار زمین فروخت کرناچاہتاہے اور اہل محلہ چندہ کرکے خریدنا چاہتے ہیں اس لئے کہ اس مکان کا کرایہ مسجد میں صرف ہوتارہے جو شخص اس میں رہتاہے وہ مسجد کے لئے خریدنے سے ناراض ہے وہ چاہتاہے کہ میں خریدوںوہ شخص مسلمان ہےاس زمین کا خریدنا ہم اہل خیر کو جائزہے یااس شخص کو جائزہے
الجواب:
ظاہر ہے کہ اس شخص کومکان کی حاجت ہے کہ کرایہ کے مکان میں رہ رہاہے لہذا اس کا اپنے لئے چاہنا مذموم نہیںاور اختیار مالك مکان کو ہے جس کے ہاتھ چاہے بیع کرےاس میں کسی فریق پر کوئی الزام شرعی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۵: ازکانپور محلہ ٹپکاپور متصل اسٹار پریس مرسلہ برکات احمدصاحب ۱۶۰ جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ پیشہ کسب اور ناچ گانے کاکرتی تھی اس کوقدرتی طور پر میلان ہوا کہ پیشہ کسب یعنی زنا چھوڑدے چنانچہ اس نے اس سے توبہ کی پھر وہ ایك بزرگ طریقت زید سے مرید ہوگئی تاہم پیشہ ناچ گانے کا اب تك کرتی ہے پیرصاحب نے اس کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اس پیشہ کو اس وقت تك جب تك اس کے پاس ایك معقول سرمایہ جمع ہوجائے کرتی رہے ایسی حالت میں ہندہ اور اس کامرشد زیدکسی گناہ کے مرتکب ہیں اگر ہیں تو بروئے احکام شریعت ان کی کیاسزاہے
الجواب:
یہ ملعون پیشہ حرام قطعی ہے اگر اسے حلال جانے کافرہے کہ نصوص قرآنیہ کامنکرہے وقد ذکرناھا فی فتاونا(اس کا ذکر ہم نے اپنے فتاوی میں کردیاہے۔ت)جومال اس سے جمع ہوگا حرام حرام حرام مثل مال غصب ہوگا کہ ہندہ نہ اسے اپنے صرف میں لاسکے گی نہ اپنے پیرکے۔ہندہ صورت مذکورہ میں فاسقہ فاحشہ ہے اور جس نے اس کی اجازت دی اور اس ملعون کام سے سرمایہ جمع کرنے کوکہا وہ حرام کادلال فاسق فاجرضال ہےعجب کہ سائل بزرگ طریقت لکھتاہےبزرگان طریقت شیطان خصلت نہیں ہوتے۔رہی سزاوتعزیروہ یہاں کون دے سکتاہےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۶: ازموضع بہار ضلع بریلی مرسلہ محمداسمعیل خاں صاحب ۲۲رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح عدت سے دومال پیشترہوا اس میں جو شاہد گواہ بنے ان کوجوکچھ ملاوہ کچھ تو اسی حصہ اس رقم کامسجد شریف میں دیناچاہتے ہیں تو صرفہ مسجد میں لگایاجائے کہ نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جو ہم کو نکاح میں ملاہے وہ مسجد کے خرچ کے واسطے لے لو۔بینواتوجروا۔(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اگر ان کو معلوم تھا کہ یہ نکاح عدت کے اندرہواہے اور پھر شاھد بنے اور اس پرکچھ لیا تو وہ حرام ہے مسجد میں ہرگز نہ لیا جائےاور اگرمعلوم نہ تھا اور شاہد بننے پراجرت لی جب بھی باطل ومردود ہے نہ لی جائےاور اگرمعلوم نہ تھا نہ اجرت لی مگردینے والے نے بطورشاہد دیا کہ یہ وقت پر ہماری سی کہیں جب بھی وہ واقع میں ناجائزہےشاہد ان کو چاہئے اسے واپس دیں اور مسجد میں نہ لیاجائےہاں اگر یہ صورت ہوتی کہ شاہدوں کو لوگ کبھی کبھی بطور صلہ کچھ دیتے ہیں جس کی عادت نہیں اور اسی صلے کے طورپر ان کو دیاجائے اور انہیں نکاح عدت میں نہ ہونے کی خبرہوتی توجائزہوتا اور مسجد میں لینا بھی جائزہوتا لیکن ظاہر ایسا ہوتا نہیں لہذا نہ لیاجائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷: ازدیوگڑھ میواڑ راجپوتانہ مرسلہ عبدالعزیز صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سود لینا باری تعالی نے حرام فرمایا جسے موافق فرمان خداوندی ہرشخص براجانتاہے اس طرح سود دینا بھی براجانتے ہیں لیکن ایساشخص جسے روپے کی سخت ضرورت ہے اور قرض حسنہ بھی آج کل کسی کو نہیں دیتا اور میواڑ کے مسلمانوں کی حالت
یہ ملعون پیشہ حرام قطعی ہے اگر اسے حلال جانے کافرہے کہ نصوص قرآنیہ کامنکرہے وقد ذکرناھا فی فتاونا(اس کا ذکر ہم نے اپنے فتاوی میں کردیاہے۔ت)جومال اس سے جمع ہوگا حرام حرام حرام مثل مال غصب ہوگا کہ ہندہ نہ اسے اپنے صرف میں لاسکے گی نہ اپنے پیرکے۔ہندہ صورت مذکورہ میں فاسقہ فاحشہ ہے اور جس نے اس کی اجازت دی اور اس ملعون کام سے سرمایہ جمع کرنے کوکہا وہ حرام کادلال فاسق فاجرضال ہےعجب کہ سائل بزرگ طریقت لکھتاہےبزرگان طریقت شیطان خصلت نہیں ہوتے۔رہی سزاوتعزیروہ یہاں کون دے سکتاہےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۶: ازموضع بہار ضلع بریلی مرسلہ محمداسمعیل خاں صاحب ۲۲رجب المرجب ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح عدت سے دومال پیشترہوا اس میں جو شاہد گواہ بنے ان کوجوکچھ ملاوہ کچھ تو اسی حصہ اس رقم کامسجد شریف میں دیناچاہتے ہیں تو صرفہ مسجد میں لگایاجائے کہ نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جو ہم کو نکاح میں ملاہے وہ مسجد کے خرچ کے واسطے لے لو۔بینواتوجروا۔(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اگر ان کو معلوم تھا کہ یہ نکاح عدت کے اندرہواہے اور پھر شاھد بنے اور اس پرکچھ لیا تو وہ حرام ہے مسجد میں ہرگز نہ لیا جائےاور اگرمعلوم نہ تھا اور شاہد بننے پراجرت لی جب بھی باطل ومردود ہے نہ لی جائےاور اگرمعلوم نہ تھا نہ اجرت لی مگردینے والے نے بطورشاہد دیا کہ یہ وقت پر ہماری سی کہیں جب بھی وہ واقع میں ناجائزہےشاہد ان کو چاہئے اسے واپس دیں اور مسجد میں نہ لیاجائےہاں اگر یہ صورت ہوتی کہ شاہدوں کو لوگ کبھی کبھی بطور صلہ کچھ دیتے ہیں جس کی عادت نہیں اور اسی صلے کے طورپر ان کو دیاجائے اور انہیں نکاح عدت میں نہ ہونے کی خبرہوتی توجائزہوتا اور مسجد میں لینا بھی جائزہوتا لیکن ظاہر ایسا ہوتا نہیں لہذا نہ لیاجائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷: ازدیوگڑھ میواڑ راجپوتانہ مرسلہ عبدالعزیز صاحب ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سود لینا باری تعالی نے حرام فرمایا جسے موافق فرمان خداوندی ہرشخص براجانتاہے اس طرح سود دینا بھی براجانتے ہیں لیکن ایساشخص جسے روپے کی سخت ضرورت ہے اور قرض حسنہ بھی آج کل کسی کو نہیں دیتا اور میواڑ کے مسلمانوں کی حالت
تو بہت کمزور ہے ایسی حالت میں کسی غیرمذہب سے سودی روپیہ لے آئے اور اپنی ضرورت رفع کرے توکیساہے ایسے شخص کے پیچھے نماز میں تو کوئی قباحت نہیں
الجواب:
لوگ بے ضرورت باتوں کو ضرورت ٹھہرالیتے ہیں مثلا شادی میں کثیر خرچ درکارہے کچے مکان میں رہتے ہیں پختہ مکان بنانا منظورہے گزرکے لائق تجارت کررہے ہیں اور بڑاسوداگربننامقصود ہے ان اغراض کے لئے سودی قرض لیتے ہیں یہ حرام ہےاس کا اور سود دینے کاایك حکم ہے۔صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربو ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے سود کھانے والےکھلانے والے اسےلکھنے والے اور اس کےگواہ ان سب پرلعنت فرمائی۔اور فرمایا وہ سب(گناہ میں)برابرہیں۔(ت)
وہاں اگرواقعی ضرورت ہے کہ بے اس کے گزرنہیں مثلا کھانے پینے کو درکارہے اور کسب پرقادرنہیںنہ حاجات ضروریہ سے زائد کوئی چیز قابل بیع پاس ہے یاقرضخواہ کی ڈگری ہوگئی پاس کچھ نہیںادانہ کرے تو رہنے کامکان یاجائداد کاٹکڑا کہ ہی ذریعہ معاش ہے نیلام ہوجائے تو ایسی مجبوریوں میں قرض لے سکتاہے۔درمختارمیں ہے:
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ضرورت مند اور مجبور کوسودی قرض لینا جائزہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۸ : ازمفتی محمداحمدبنگالی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص عالم صاحب کو دعوت دے کے مکان میں لائیں اور بنظر عزت اچھا کھانا پکاکے کھلائیں اور مربیوں کی ثواب رسانی کے لئے کچھ دعاکرائیں اور آتےوقت ان کو بطورہدیہ کچھ ﷲ دیں تو یہ لینا جائزہے یانہیںاور اجرت علی الطاعۃ اس پرصادق ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
لوگ بے ضرورت باتوں کو ضرورت ٹھہرالیتے ہیں مثلا شادی میں کثیر خرچ درکارہے کچے مکان میں رہتے ہیں پختہ مکان بنانا منظورہے گزرکے لائق تجارت کررہے ہیں اور بڑاسوداگربننامقصود ہے ان اغراض کے لئے سودی قرض لیتے ہیں یہ حرام ہےاس کا اور سود دینے کاایك حکم ہے۔صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربو ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے سود کھانے والےکھلانے والے اسےلکھنے والے اور اس کےگواہ ان سب پرلعنت فرمائی۔اور فرمایا وہ سب(گناہ میں)برابرہیں۔(ت)
وہاں اگرواقعی ضرورت ہے کہ بے اس کے گزرنہیں مثلا کھانے پینے کو درکارہے اور کسب پرقادرنہیںنہ حاجات ضروریہ سے زائد کوئی چیز قابل بیع پاس ہے یاقرضخواہ کی ڈگری ہوگئی پاس کچھ نہیںادانہ کرے تو رہنے کامکان یاجائداد کاٹکڑا کہ ہی ذریعہ معاش ہے نیلام ہوجائے تو ایسی مجبوریوں میں قرض لے سکتاہے۔درمختارمیں ہے:
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ضرورت مند اور مجبور کوسودی قرض لینا جائزہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۸ : ازمفتی محمداحمدبنگالی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص عالم صاحب کو دعوت دے کے مکان میں لائیں اور بنظر عزت اچھا کھانا پکاکے کھلائیں اور مربیوں کی ثواب رسانی کے لئے کچھ دعاکرائیں اور آتےوقت ان کو بطورہدیہ کچھ ﷲ دیں تو یہ لینا جائزہے یانہیںاور اجرت علی الطاعۃ اس پرصادق ہے یانہیں بینواتوجروا۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساقات باب الرباء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷
الاشباہ والنظائر بحوالہ القنیہ الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۲۶،بحرالرائق باب الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۲۶
الاشباہ والنظائر بحوالہ القنیہ الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۲۶،بحرالرائق باب الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۲۶
الجواب:
اگر یہ معہود اصراف ہے بلانے والاجانتاہے کہ دیناپڑے گا آنے والاجانتاہے کہ کچھ ملے گا تو یہ مثل اجرت ہے فان المعروف کالمشروط(جوبات لوگوں میں مشہور ہو وہ شرط کردہ باب کی طرح ہے۔ت)اور اگر یہ نہیں تو عالم کی خدمت عالم کااعزاز سب باعث اجرعظیم ہے اور بلاشرط اصراف جوروزانہ ملے جائزہے اور طریقہ نجات یہ ہے کہ عالم پہلے کہہ دے کہ میں دعاکروں گا پڑھ کر ثواب بخشوں گا مگرہرگز اس پرعوض نہ لوں گا اس کے بعد کچھ ملے خالص نذرہے
فان الصریح یفوق الدلالۃ کما فی الغنیۃ وغیرھا ۔ اس لئے کہ صریح قولدلالت(یعنی اشارہ کنایہ سے)فوقیت یعنی اوپر ہوتاہےجسے غنیہ وغیرہ میں مذکورہے۔(ت)
اور یہ دعوت بھی ایام موت میں نہ ہو
فانھا شرعت فی السرور لافی الشرور کما فی فتح القدیر وغیرھا ۔ کیونکہ دعوت خوشی میں جائزہے نہ کہ صدمے اور تکلیف میںجیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں مذکور ہے۔(ت)
ایام موت کی دعوت قبول نہ کرے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایك شخص دوسرے شخص کو کچھ مال بطور قرض حسنہ دے تو یہ قرض دینے والا قرض لینے والے سے اپنا مال طلب کرسکتاہے یاکہ نہیں اور اگرقرض لینے والا مالدارہے اور قرض ادانہ کرے تو اس کے لئے کیاحکم ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
قرض حسنہ دے کرمانگنے کی ممانعت نہیںہاں مانگنے میں بے جا سختی نہ ہو
" و ان کان ذوعسرۃ فنظرۃ اگرمقروض تنگدست(اور نادار)ہوتو اسے آسانی
اگر یہ معہود اصراف ہے بلانے والاجانتاہے کہ دیناپڑے گا آنے والاجانتاہے کہ کچھ ملے گا تو یہ مثل اجرت ہے فان المعروف کالمشروط(جوبات لوگوں میں مشہور ہو وہ شرط کردہ باب کی طرح ہے۔ت)اور اگر یہ نہیں تو عالم کی خدمت عالم کااعزاز سب باعث اجرعظیم ہے اور بلاشرط اصراف جوروزانہ ملے جائزہے اور طریقہ نجات یہ ہے کہ عالم پہلے کہہ دے کہ میں دعاکروں گا پڑھ کر ثواب بخشوں گا مگرہرگز اس پرعوض نہ لوں گا اس کے بعد کچھ ملے خالص نذرہے
فان الصریح یفوق الدلالۃ کما فی الغنیۃ وغیرھا ۔ اس لئے کہ صریح قولدلالت(یعنی اشارہ کنایہ سے)فوقیت یعنی اوپر ہوتاہےجسے غنیہ وغیرہ میں مذکورہے۔(ت)
اور یہ دعوت بھی ایام موت میں نہ ہو
فانھا شرعت فی السرور لافی الشرور کما فی فتح القدیر وغیرھا ۔ کیونکہ دعوت خوشی میں جائزہے نہ کہ صدمے اور تکلیف میںجیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں مذکور ہے۔(ت)
ایام موت کی دعوت قبول نہ کرے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایك شخص دوسرے شخص کو کچھ مال بطور قرض حسنہ دے تو یہ قرض دینے والا قرض لینے والے سے اپنا مال طلب کرسکتاہے یاکہ نہیں اور اگرقرض لینے والا مالدارہے اور قرض ادانہ کرے تو اس کے لئے کیاحکم ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
قرض حسنہ دے کرمانگنے کی ممانعت نہیںہاں مانگنے میں بے جا سختی نہ ہو
" و ان کان ذوعسرۃ فنظرۃ اگرمقروض تنگدست(اور نادار)ہوتو اسے آسانی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الدعوٰی باب دعوی الرجلین داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۴۳۷
فتح القدیر باب الشہید مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۰۲
فتح القدیر باب الشہید مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۰۲
الی میسرۃ" تك مہلت دینی چاہئے۔(ت)
اور اگر مدیون نادارہے جب تو اسے مہلت دینا فرض ہے یہاں تك کہ اس کا ہاتھ پہنچے اور جو دے سکتاہے اور بلاوجہ لیت ولعل کرے وہ ظالم ہے اور اس پر تشنیع وملامت جائز۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مطل الغنی ظلمولی الواجد یحل مالہ وعرضہ واﷲ تعالی اعلم۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مالدار کا (ادائیگی قرض میں ٹال مٹول کرناظلم ہےاور پانے والے کا کترانا اورپہلوبچانا اس کے مال اور عزت کومباح کردیتا ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۷۰: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ یہاں دستور ہمیشہ سے ہے کہ کسی کی تقریب شادی یاختنہ یا اور کوئی تقریب ہوئی تواعزا واقربادوست وآشنا کچھ نقد کچھ روٹیدالچاولتیلدہیکپڑا وغیرہ لاتے ہیں جس کو نوید یانوتاکہتے ہیں جو پہلے بطور مددومعونت سمجھاجاتاتھا نہ ادا کرنے پر کوئی گرفت یا تقاضانہیں تھا لیکن اب ان تقریبوں میں میرے یہاں کوئی سامان نوید لائے اور میں کسی وجہ یابلاوجہ سامان نہ لے گیا اس پر بعد کو تقاضا ہوتا ہے شکایت ہوتی ہے کہ ہم ان کے یہاں لے گئے وہ میرے یہاں نہ لائے ایسی حالت میں مجھ سے اگر ادانہ ہوسکے تو اس کے لئے قیامت میں پرسش ہوگی یانہیں اس کا حق باقی رہا یانہیں اور بغیرمعاف کئے ہوئے اس کے معاف ہوسکتاہے یانہیں
الجواب:
اب جونیوتاجاتاہے وہ قرض ہے اس کا اداکرنالازم ہے اگررہ گیا تومطالبہ رہے گا اور بے اس کے معاف کئے معاف نہ ہوگا والمسئلۃ فی الفتاوی الخیریۃ(اور یہ مسئلہ فتاوی خیریہ میں موجود ہے۔ت)چارہ کاریہ ہے کہ لانے والوں سے پہلے صاف کہہ دے کہ جو صاحب بطور امداد عنایت فرمائیں مضائقہ نہیں مجھ سے ممکن ہوا توان کی تقریب میں امداد کروں گا لیکن میں قرض لینانہیں چاہتااس کے بعد جو شخص دے گا وہ اس کے ذمہ قرض نہ ہوگا ہدیہ ہے جس کا بدلہ ہوگیا فبہانہ ہوا تومطالبہ نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
اور اگر مدیون نادارہے جب تو اسے مہلت دینا فرض ہے یہاں تك کہ اس کا ہاتھ پہنچے اور جو دے سکتاہے اور بلاوجہ لیت ولعل کرے وہ ظالم ہے اور اس پر تشنیع وملامت جائز۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مطل الغنی ظلمولی الواجد یحل مالہ وعرضہ واﷲ تعالی اعلم۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مالدار کا (ادائیگی قرض میں ٹال مٹول کرناظلم ہےاور پانے والے کا کترانا اورپہلوبچانا اس کے مال اور عزت کومباح کردیتا ہے واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۷۰: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ یہاں دستور ہمیشہ سے ہے کہ کسی کی تقریب شادی یاختنہ یا اور کوئی تقریب ہوئی تواعزا واقربادوست وآشنا کچھ نقد کچھ روٹیدالچاولتیلدہیکپڑا وغیرہ لاتے ہیں جس کو نوید یانوتاکہتے ہیں جو پہلے بطور مددومعونت سمجھاجاتاتھا نہ ادا کرنے پر کوئی گرفت یا تقاضانہیں تھا لیکن اب ان تقریبوں میں میرے یہاں کوئی سامان نوید لائے اور میں کسی وجہ یابلاوجہ سامان نہ لے گیا اس پر بعد کو تقاضا ہوتا ہے شکایت ہوتی ہے کہ ہم ان کے یہاں لے گئے وہ میرے یہاں نہ لائے ایسی حالت میں مجھ سے اگر ادانہ ہوسکے تو اس کے لئے قیامت میں پرسش ہوگی یانہیں اس کا حق باقی رہا یانہیں اور بغیرمعاف کئے ہوئے اس کے معاف ہوسکتاہے یانہیں
الجواب:
اب جونیوتاجاتاہے وہ قرض ہے اس کا اداکرنالازم ہے اگررہ گیا تومطالبہ رہے گا اور بے اس کے معاف کئے معاف نہ ہوگا والمسئلۃ فی الفتاوی الخیریۃ(اور یہ مسئلہ فتاوی خیریہ میں موجود ہے۔ت)چارہ کاریہ ہے کہ لانے والوں سے پہلے صاف کہہ دے کہ جو صاحب بطور امداد عنایت فرمائیں مضائقہ نہیں مجھ سے ممکن ہوا توان کی تقریب میں امداد کروں گا لیکن میں قرض لینانہیں چاہتااس کے بعد جو شخص دے گا وہ اس کے ذمہ قرض نہ ہوگا ہدیہ ہے جس کا بدلہ ہوگیا فبہانہ ہوا تومطالبہ نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۲۸۰
صحیح البخاری کتاب الاستقراض باب مطل الغنی ظلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۳
صحیح البخاری کتاب الاستقراض باب مطل الغنی ظلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۳
مسئلہ ۲۷۱: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوڑاہ
دستور ہے کہ درختوں سے مسواك وپتہ بلااجازت مالك درخت کے توڑتے ہیں یامٹی کسی کے مکان کی کلوخ استنجا کے لئے بلااجازت لیتے ہیںیاتنکا برائے خلال دندان کسی کے چھپر سے کھینچ لیتے ہیں اور اس پر کوئی گرفت وتلاش مالك شے کی طرف سے نہیں ہوتی ہے آیا یہ جائزہے کہ بلااجازت لیں وتصرف میں لائیں یانہیں
الجواب:
ایسی شے جس کی عادۃ اجازت ہے اور اس پر مالك مطلع ہوگا تو اصلا ناگوار نہ ہوگا اس کے لینے میں حرج نہیں ورنہ حرام ہےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۲: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بواڑاہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسائل کے بارے میں کہ:
(۱)کسی شخص کے پاس چوتھائی حصہ کسی کے پاس نصف کسی کے پاس کل مال سود کاہے اس کا کھانا کیساہے(۲)کوئی شخص چوری میں مشہورہے لیکن لوگوں کو کھلاتاہے یہ کھانا کیساہے
الجواب:
(۱)نہ چاہئے احتراز اولی ہے اور اگرمعلوم ہو کہ یہ گیہوں یاچاول جو ہمارے سامنے کھانے کو آئے عین سود کا ہے توحرام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲)چوری کامال خود کھانا بھی حرام اور دوسروں کو کھلانابھی حرام۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۴: سلطان الاسلام احمدصاحب اجمیرشریف
مہاجن سے(اک)روپیہ ماہوار روپیہ سود کے حساب سے قرض لے کر تجارت کرناجائزہے یانہیں اور اس کا نفع حلال ہے یا حرام تفصیل سے تحریر فرمائیں۔
الجواب:
جب تك صحیح ضرورت ومجبوری محض نہ ہو سود لینااور دینا اور دونوں برابر ہیںصحیح مسلم شریف میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربا ومؤکلہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود دینے والے اور اس کا
دستور ہے کہ درختوں سے مسواك وپتہ بلااجازت مالك درخت کے توڑتے ہیں یامٹی کسی کے مکان کی کلوخ استنجا کے لئے بلااجازت لیتے ہیںیاتنکا برائے خلال دندان کسی کے چھپر سے کھینچ لیتے ہیں اور اس پر کوئی گرفت وتلاش مالك شے کی طرف سے نہیں ہوتی ہے آیا یہ جائزہے کہ بلااجازت لیں وتصرف میں لائیں یانہیں
الجواب:
ایسی شے جس کی عادۃ اجازت ہے اور اس پر مالك مطلع ہوگا تو اصلا ناگوار نہ ہوگا اس کے لینے میں حرج نہیں ورنہ حرام ہےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۲: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بواڑاہ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسائل کے بارے میں کہ:
(۱)کسی شخص کے پاس چوتھائی حصہ کسی کے پاس نصف کسی کے پاس کل مال سود کاہے اس کا کھانا کیساہے(۲)کوئی شخص چوری میں مشہورہے لیکن لوگوں کو کھلاتاہے یہ کھانا کیساہے
الجواب:
(۱)نہ چاہئے احتراز اولی ہے اور اگرمعلوم ہو کہ یہ گیہوں یاچاول جو ہمارے سامنے کھانے کو آئے عین سود کا ہے توحرام ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲)چوری کامال خود کھانا بھی حرام اور دوسروں کو کھلانابھی حرام۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۴: سلطان الاسلام احمدصاحب اجمیرشریف
مہاجن سے(اک)روپیہ ماہوار روپیہ سود کے حساب سے قرض لے کر تجارت کرناجائزہے یانہیں اور اس کا نفع حلال ہے یا حرام تفصیل سے تحریر فرمائیں۔
الجواب:
جب تك صحیح ضرورت ومجبوری محض نہ ہو سود لینااور دینا اور دونوں برابر ہیںصحیح مسلم شریف میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربا ومؤکلہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود دینے والے اور اس کا
وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔ کاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر۔اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
بے مجبوری محض ایسی تجارت حرام ہے مگر اس کا نفع حرام نہیں جبکہ عقد صحیح سے ہو۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۵: ازشہر باغ احمدعلی خاں مسئولہ حاجی خدابخش صاحب ۱۲محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی طوائف اگراپنا ناجائز حاصل کردہ کو کسی مدرسہ یامسجد کے نام وقف کردے تو یہ جائزہے یانہیں اور اگرجائز ہے تو جواز کی کیاصورت ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اجرت زنا وغیرہ میں روپیہ ملتاہے اور وہ وقف نہیں ہوتاجائداد وقف ہوتی ہے اگر اس کی خریداری زر حرام سے نہ ہوئی یا زر حرام اس کے عقد ونقد میں جمع نہ ہو ایعنی یہ نہ ہوا کہ زر حرام دکھاکر کہا ہو کہ اس کے عوض یہ جائداد دے دے اور پھر وہی روپیہ ثمن میں دے دیا ہو جب ایسا نہ ہو تو وہ خرید کردہ جائداد حرام نہیں اگرچہ قیمت میں وہ زر حرام ہی دیاہو۔اس صورت میں تو خود اسے وقف کرسکتی ہے۔ تنویرالابصار میں ہے:
وان اشار الیھا ونقد ماغیرھا اوالی غیرھا او اطلق نقدھا لا وبہ یفتی ۔ اگر کسی شخص نے زرحرام کی طرف اشارہ کیا لیکن معاوضہ ادا کرتے وقت کوئی اور ثمن اداکئے(جومال حرام نہ تھا)یا جو زر حرام نہ تھا اس کی طرف اشارہ کیایا ثمن ذکر کرنے میں اطلاق سے کام لیا(یعنی بغیر قید حلال وحرام ثمن کا ذکر کیا مثلا یوں کہہ دیا ثمن کے عوض چیز دے دو)لیکن ادائیگی کے لئے وہی حرام نقدی دے دیتو ان سب صورتوں میں خرید کردہ چیز حرام نہ ہوگیاور اسی قول پر فتوی دیاجاتاہے۔(ت)
ہاں اگر خودجائداد اجرت حرام میں ملی یاخریداری میں زرحرام پرعقدونقد جمع ہوں یا خود زرحرام مسجدیامدرسہ پرصرف کرناچاہیں تو ناجائز وحرام ہے لیکن اگر وہ تائب ہو اور اپنا مال حرام اگرچہ خود بعینہ وہی زرحرام ہو مسلمان فقیر پرتصدق کردے اور وہ فقیر اس میں سے بعض یا کل
بے مجبوری محض ایسی تجارت حرام ہے مگر اس کا نفع حرام نہیں جبکہ عقد صحیح سے ہو۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۵: ازشہر باغ احمدعلی خاں مسئولہ حاجی خدابخش صاحب ۱۲محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی طوائف اگراپنا ناجائز حاصل کردہ کو کسی مدرسہ یامسجد کے نام وقف کردے تو یہ جائزہے یانہیں اور اگرجائز ہے تو جواز کی کیاصورت ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اجرت زنا وغیرہ میں روپیہ ملتاہے اور وہ وقف نہیں ہوتاجائداد وقف ہوتی ہے اگر اس کی خریداری زر حرام سے نہ ہوئی یا زر حرام اس کے عقد ونقد میں جمع نہ ہو ایعنی یہ نہ ہوا کہ زر حرام دکھاکر کہا ہو کہ اس کے عوض یہ جائداد دے دے اور پھر وہی روپیہ ثمن میں دے دیا ہو جب ایسا نہ ہو تو وہ خرید کردہ جائداد حرام نہیں اگرچہ قیمت میں وہ زر حرام ہی دیاہو۔اس صورت میں تو خود اسے وقف کرسکتی ہے۔ تنویرالابصار میں ہے:
وان اشار الیھا ونقد ماغیرھا اوالی غیرھا او اطلق نقدھا لا وبہ یفتی ۔ اگر کسی شخص نے زرحرام کی طرف اشارہ کیا لیکن معاوضہ ادا کرتے وقت کوئی اور ثمن اداکئے(جومال حرام نہ تھا)یا جو زر حرام نہ تھا اس کی طرف اشارہ کیایا ثمن ذکر کرنے میں اطلاق سے کام لیا(یعنی بغیر قید حلال وحرام ثمن کا ذکر کیا مثلا یوں کہہ دیا ثمن کے عوض چیز دے دو)لیکن ادائیگی کے لئے وہی حرام نقدی دے دیتو ان سب صورتوں میں خرید کردہ چیز حرام نہ ہوگیاور اسی قول پر فتوی دیاجاتاہے۔(ت)
ہاں اگر خودجائداد اجرت حرام میں ملی یاخریداری میں زرحرام پرعقدونقد جمع ہوں یا خود زرحرام مسجدیامدرسہ پرصرف کرناچاہیں تو ناجائز وحرام ہے لیکن اگر وہ تائب ہو اور اپنا مال حرام اگرچہ خود بعینہ وہی زرحرام ہو مسلمان فقیر پرتصدق کردے اور وہ فقیر اس میں سے بعض یا کل
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساقاۃ باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۶
الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۶
روپیہ یاجائداد بعد قبضہ اپنی طرف سے اسے ہبہ کردے اور قبضہ تامہ دے دے تو وہ زر وجائداد اب اس کے حق میں حلال وطیب ہے اسے وقف وغیرہ جمیع امورخیر میں صرف کرسکتی ہے۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذلك ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا خرج من العھدۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کسی کے پاس مشتبہ اور مشکوك مال ہو اور وہ اسے اپنے والد پر خیرات کردے تو اس کے لئے یہی کافی ہےاور یہ شرط نہیں کہ کسی بیگانے پر خرچ کرے اور اسی طرح جب بیٹا والد کےساتھ اس کے کاروبار میں شریك ہو جبکہ اس کے کاروبار میں کئی فاسد سودے ہوںپھر اس نے اپنا تمام مال اپنے اس بیٹے کو ہبہ کردیا تو وہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجائے گا۔اور اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم رکھنے والاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۷۶: ازشہر محلہ قاضی ٹولہ بلند بیگ ۱۸محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اپنی کوئی چیز طوائف کے ہاتھ فروخت کرنا جائز ہے یانہیں اور اجرت اس کے کپڑے سینا اور کوئی کام اس کا اجرت پر کرنا اور اس کے گانے وغیرہ کی چیزیں بنانا جائز ہے یا نہیںیا اس کی آمدنی مسجد یا مدردسے میں لگانا جائز ہے یا نہیں جبکہ وہ جائداد کسب سے خرید کی گئی ہو۔بینوا توجروا۔
الجواب :
طوائف کے ہاتھ کسی چیز کا بیچنا یا جائز شے کا کرایہ پر دینا جائز ہے مگر اس کے زرحرام سے قیمت یا اجرت لینا حرام ہےاور گانے کی چیز بنانے کاسائل مطلب بیان کرے اس کا جواب دیاجائے گا۔خریداری جائداد میں اگر زرحرام پرعقد ونقد جمع ہوئے یعنی زر حرام دکھاکرکہا کہ اس کے عوض دے دےاور پھر وہی زرحرام ثمن میں دیاگیا تو وہ جائداد بھی خبیث اور اس کی آمدنی بھی خبیثاور اس کا مسجد یامدرسہ میں لیناجائزنہیںاگرعقد ونقد جمع نہ ہوئے جس طرح عام
لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذلك ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا خرج من العھدۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کسی کے پاس مشتبہ اور مشکوك مال ہو اور وہ اسے اپنے والد پر خیرات کردے تو اس کے لئے یہی کافی ہےاور یہ شرط نہیں کہ کسی بیگانے پر خرچ کرے اور اسی طرح جب بیٹا والد کےساتھ اس کے کاروبار میں شریك ہو جبکہ اس کے کاروبار میں کئی فاسد سودے ہوںپھر اس نے اپنا تمام مال اپنے اس بیٹے کو ہبہ کردیا تو وہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجائے گا۔اور اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم رکھنے والاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۷۶: ازشہر محلہ قاضی ٹولہ بلند بیگ ۱۸محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اپنی کوئی چیز طوائف کے ہاتھ فروخت کرنا جائز ہے یانہیں اور اجرت اس کے کپڑے سینا اور کوئی کام اس کا اجرت پر کرنا اور اس کے گانے وغیرہ کی چیزیں بنانا جائز ہے یا نہیںیا اس کی آمدنی مسجد یا مدردسے میں لگانا جائز ہے یا نہیں جبکہ وہ جائداد کسب سے خرید کی گئی ہو۔بینوا توجروا۔
الجواب :
طوائف کے ہاتھ کسی چیز کا بیچنا یا جائز شے کا کرایہ پر دینا جائز ہے مگر اس کے زرحرام سے قیمت یا اجرت لینا حرام ہےاور گانے کی چیز بنانے کاسائل مطلب بیان کرے اس کا جواب دیاجائے گا۔خریداری جائداد میں اگر زرحرام پرعقد ونقد جمع ہوئے یعنی زر حرام دکھاکرکہا کہ اس کے عوض دے دےاور پھر وہی زرحرام ثمن میں دیاگیا تو وہ جائداد بھی خبیث اور اس کی آمدنی بھی خبیثاور اس کا مسجد یامدرسہ میں لیناجائزنہیںاگرعقد ونقد جمع نہ ہوئے جس طرح عام
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر فی الکسب نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹
خریداریاں آجکل ہوتی ہیں کہ یہ چیز ہزار روپے کو بیچی کسی خاص روپیہ کانام نہیں رکھا تو اس صورت میں وہ جائداد اس کے حق میں حرام نہیں اگرچہ ثمن میں زرحرام ادا کیاہو اس کی آمدنی مسجد وغیرہ میں صرف ہوسکتی ہے مگرمہتمم کومعلوم ہو تو اس سے احتراز کرےاگر وہ تائب ہوچکی اور توبہ کے بعد اسے اپنی جائداد باوجود وہ روپیہ جو بطور حرام حاصل کیاتھا کسی مسلمان فقیر کو ہبہ کرکے قبضہ دے دیا اس کے بعد اس فقیر نے وہ روپیہ یاجائداد کل یابعض اسے اپنی طرف سے ہبہ کیا تو وہ اس عورت کے حق میں حلال طیب ہے اور وہ کل کارخیرمدرسہ مسجد وغیرہ میں بلادغدغہ صرف ہوسکتاہے اور توبہ کے بعد جو اس پرالزام رکھے سخت گناہ کامرتکب اور سخت سزا کامستوجب ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۷: ازشہر کہنہ محلہ قاضی ٹولہ مسئولہ انعام اﷲ صاحب ۱۸محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہم لوگوں کی قوم پنچایتی ہے اس میں چودھری اور پنچوں نے انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا ہے کہ فی راس مسجد کو ایك پیسہ ملناچاہئے لہذا ہرایك محلہ کاچندہ وہاں کی مسجدوں میں تقسیم ہوجاتاہے اعظم نگر میں پانچ مسجدیں ہیں وہاں کا چندہ پانچ مسجدوں میں برابر تقسیم ہوجاتاہے جس میں چار مسجدیں سابقہ ہیں اور ایك جدید ہے لیکن سب کا حصہ برابر ہےشہرکہنہ پرایك مسجد تھی تمام چندہ اسی کو م لاکرتاتھا لیکن اب ایك جدید مسجد تعمیر ہورہی ہےچودھری اور پنچوں نے فیصلہ کیا کہ جدید مسجد کو تہائی حصہ ملنا چاہئےچارپانچ شخص بنام مسیت ولد منگلچھدن ولد سالاربخشچھوٹے ولد نتھوکلن ولد گھسونظیر ولد سکن حارج ہوتے ہیں کہ مسجد جدید کوکچھ نہ دیاجائے۔اس پرشرع کیاحکم دیتی ہے کیونکہ جدید مسجد کے بھی منتظم قصاب ہی ہیں۔
الجواب:
چندہ کا اختیار چندہ دہندوں کو ہوتاہےجو یہ کہیں کہ ہمارا چندہ مساوی طور پر تمام مساجد کو تقسیم ہو وہ مساوی تقسیم کیاجائے اور جو یہ کہیں کہ بعض مساجد کودیاجائے ان کا اس بعض کو دیاجائے اور ان کا چندہ اس چندہ میں نہ ملایاجائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۸: ازشہر محلہ اعظم نگر مسئولہ حشمت اﷲ ۵صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے قریب رنڈیاں رہتی ہیں اور ان کے آشناؤں سے پیسہ لے کر خرچ کرتی ہیں اور ان کا کوئی پیسہ نہیں ہے اور اگر ہے تو اسی پیسہ کاہے اور اسی پیسہ سے وہ شیرینی ہمارے سامنے لائی اور کہافاتحہ دے دو۔ہم نے
مسئلہ ۲۷۷: ازشہر کہنہ محلہ قاضی ٹولہ مسئولہ انعام اﷲ صاحب ۱۸محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہم لوگوں کی قوم پنچایتی ہے اس میں چودھری اور پنچوں نے انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا ہے کہ فی راس مسجد کو ایك پیسہ ملناچاہئے لہذا ہرایك محلہ کاچندہ وہاں کی مسجدوں میں تقسیم ہوجاتاہے اعظم نگر میں پانچ مسجدیں ہیں وہاں کا چندہ پانچ مسجدوں میں برابر تقسیم ہوجاتاہے جس میں چار مسجدیں سابقہ ہیں اور ایك جدید ہے لیکن سب کا حصہ برابر ہےشہرکہنہ پرایك مسجد تھی تمام چندہ اسی کو م لاکرتاتھا لیکن اب ایك جدید مسجد تعمیر ہورہی ہےچودھری اور پنچوں نے فیصلہ کیا کہ جدید مسجد کو تہائی حصہ ملنا چاہئےچارپانچ شخص بنام مسیت ولد منگلچھدن ولد سالاربخشچھوٹے ولد نتھوکلن ولد گھسونظیر ولد سکن حارج ہوتے ہیں کہ مسجد جدید کوکچھ نہ دیاجائے۔اس پرشرع کیاحکم دیتی ہے کیونکہ جدید مسجد کے بھی منتظم قصاب ہی ہیں۔
الجواب:
چندہ کا اختیار چندہ دہندوں کو ہوتاہےجو یہ کہیں کہ ہمارا چندہ مساوی طور پر تمام مساجد کو تقسیم ہو وہ مساوی تقسیم کیاجائے اور جو یہ کہیں کہ بعض مساجد کودیاجائے ان کا اس بعض کو دیاجائے اور ان کا چندہ اس چندہ میں نہ ملایاجائے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۷۸: ازشہر محلہ اعظم نگر مسئولہ حشمت اﷲ ۵صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے قریب رنڈیاں رہتی ہیں اور ان کے آشناؤں سے پیسہ لے کر خرچ کرتی ہیں اور ان کا کوئی پیسہ نہیں ہے اور اگر ہے تو اسی پیسہ کاہے اور اسی پیسہ سے وہ شیرینی ہمارے سامنے لائی اور کہافاتحہ دے دو۔ہم نے
جو عذر کیا تو انہوں نے کہا ہم نے اسے بدل لیاہے اب ہم نے انکار کیا تو وہ کہتی ہیں کہ تم وہابی ہواور اسی میں سے طالب علموں کو اور مدرسہ میں اور مساجد وغیرہ میں خرچ کرتی ہیںیہ جائزہے یانہیں
الجواب:
جبکہ وہ کہتی ہیں کہ ہم نے دام بدل لئے ہیں اور ان سے خریدی ہے تو ان کا یہ کہنا قبول کیاجائے گا اور اس کھانے پرفاتحہ وغیرہ سب جائزہےنص علیہ فی عالمگیریۃ(فتاوی عالمگیری میں اس کی صراحت کردی گئی ہے)۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۹: ازشہر محلہ سوداگران مسئولہ سید عزیز احمدصاحب ۱۴صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص عشرہ محرم میں تخت بنانے کی غرض سے محلہ سے چندہ وصول کرتاہے لہذا اس میں چندہ دیناجائزہے یاناجائز پیش امام مسجد نے نمازیوں سے کہا کہ تخت میں چندہ دیناداخل حسنات ہے۔چنانچہ جملہ نمازیوں میں سے ایك نمازی نے کہا کہ اس میں چندہ وغیرہ دینا میرے نزدیك ناجائزہے اس پرپیش امام صاحب نے کہا کہ اگر تم شرکت نہیں کروگے تو تم کو وہابی کہاجائے گاایسی صورت میں یہ شخص قابل امامت ہے یانہیں
الجواب:
تخت ایك بے معنی وفضول بات ہے اس میں مال صرف کرناضائع کرناہے اور مال ضائع کرناجائز نہیں لہذا اس میں چندہ دینا ناجائزہےامام نے جہالت کی بات کہی اسے سمجھادیاجائے مگراتنی بات پر اس کے پیچھے نمازناجائزنہیں ہوسکتی جبکہ اور کوئی وجہ عدم جواز کی نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۰: آفتاب الدین طالب علم مدرسہ منظرالاسلام محلہ سوداگران بریلی ۲۲صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی مسلمان سنی نے کسی وہابی یا یہودی یانصرانی یاکافر ان میں سے کسی کے ساتھ گفتگو کرے یا ان میں سے کسی کے پاس بیٹھے یا ان میں سے کسی کی نوکری کرے تو آیا وہ مسلمان بھی کافر ہے اگر کافر نہ ہو اور اس مسلمان کو کسی دوسرے شخص نے کافر کہا تو اس کے لئے کیاحکم ہے بینواتوجروا
الجواب:
کافر اصلی غیرمرتد کی وہ نوکری جس میں کوئی امرناجائزشرعی کرنانہ پڑے جائز ہے اور کسی دنیوی معاملہ کی بات چیت اس سے کرنا اور اس کے لئے کچھ دیر اس کے پاس بیٹھنا بھی منع نہیں اتنی بات پرکافر بلکہ فاسق بھی نہیں کہاجاسکتاہاں مرتد کے ساتھ یہ سب باتیں مطلقا منع ہیں اور کافر اس وقت بھی نہ ہوگا
الجواب:
جبکہ وہ کہتی ہیں کہ ہم نے دام بدل لئے ہیں اور ان سے خریدی ہے تو ان کا یہ کہنا قبول کیاجائے گا اور اس کھانے پرفاتحہ وغیرہ سب جائزہےنص علیہ فی عالمگیریۃ(فتاوی عالمگیری میں اس کی صراحت کردی گئی ہے)۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۹: ازشہر محلہ سوداگران مسئولہ سید عزیز احمدصاحب ۱۴صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص عشرہ محرم میں تخت بنانے کی غرض سے محلہ سے چندہ وصول کرتاہے لہذا اس میں چندہ دیناجائزہے یاناجائز پیش امام مسجد نے نمازیوں سے کہا کہ تخت میں چندہ دیناداخل حسنات ہے۔چنانچہ جملہ نمازیوں میں سے ایك نمازی نے کہا کہ اس میں چندہ وغیرہ دینا میرے نزدیك ناجائزہے اس پرپیش امام صاحب نے کہا کہ اگر تم شرکت نہیں کروگے تو تم کو وہابی کہاجائے گاایسی صورت میں یہ شخص قابل امامت ہے یانہیں
الجواب:
تخت ایك بے معنی وفضول بات ہے اس میں مال صرف کرناضائع کرناہے اور مال ضائع کرناجائز نہیں لہذا اس میں چندہ دینا ناجائزہےامام نے جہالت کی بات کہی اسے سمجھادیاجائے مگراتنی بات پر اس کے پیچھے نمازناجائزنہیں ہوسکتی جبکہ اور کوئی وجہ عدم جواز کی نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۰: آفتاب الدین طالب علم مدرسہ منظرالاسلام محلہ سوداگران بریلی ۲۲صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی مسلمان سنی نے کسی وہابی یا یہودی یانصرانی یاکافر ان میں سے کسی کے ساتھ گفتگو کرے یا ان میں سے کسی کے پاس بیٹھے یا ان میں سے کسی کی نوکری کرے تو آیا وہ مسلمان بھی کافر ہے اگر کافر نہ ہو اور اس مسلمان کو کسی دوسرے شخص نے کافر کہا تو اس کے لئے کیاحکم ہے بینواتوجروا
الجواب:
کافر اصلی غیرمرتد کی وہ نوکری جس میں کوئی امرناجائزشرعی کرنانہ پڑے جائز ہے اور کسی دنیوی معاملہ کی بات چیت اس سے کرنا اور اس کے لئے کچھ دیر اس کے پاس بیٹھنا بھی منع نہیں اتنی بات پرکافر بلکہ فاسق بھی نہیں کہاجاسکتاہاں مرتد کے ساتھ یہ سب باتیں مطلقا منع ہیں اور کافر اس وقت بھی نہ ہوگا
مگریہ کہ اس کے مذہب وعقیدہ کفر پر مطلع ہو کر اس کے کفر میں شك کرے تو البتہ کافر ہوجائے گابغیر ثبوت وجہ کفر کے مسلمان کو کافر کہنا سخت عظیم گناہ ہے بلکہ حدیث میں فرمایا کہ وہ کہنا اسی کہنے والے پر پلٹ آتاہے۔والعیاذ باﷲ تعالی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۱: ازضلع رنگپور ڈاك خانہ چلیماری مکتب اسلامیہ بنگالہ مسئولہ جناب عبدالصمد صاحب ۲۵جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اندریں کہ مال مکسوب اززنا(زانیہ خواہ ازقوم ہنود آیند یا رباباشد یا ازاہل اسلام)بعد از اسلام وتوبہ حلال ست یاحرام بینوابابراھین الجیاد توجروا من اﷲ الکریم الجوا۔ اے علمائے کراماﷲ تعالی تم پر رحم فرمائےتمہارا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ جو مال بدکاری کی وجہ سے حاصل ہو۔ زانیہ خواہ ہندو قوم سے ہو یا سود خواہ مسلمانوں سے حاصل ہو اسلام لانے اور توبہ کرنے کے بعد کیا وہ مال حلال ہے یا حرام عمدہ دلائل سے بیان فرماؤ اور اﷲ کریم وسخی سے اجروثواب پاؤ۔(ت)
الجواب:
حرام ست ومثل مغصوبفرض است کہ آنہمہ برفقراء تصدق کند تمامی توبہ اش ہمیں ست فی الہندیۃ عن المحیط عن محمد رحمہ اﷲ تعالی فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دینا لم یکن لصاحب الدین ان یاخذہ اھ وکتبت علیہ فعدم جواز الاخذ من کسب المومسات اللاتی یبغین بفروجھن۔وفیھا مال مذکورحرام ہےاور اس کی مثال چھنے ہوئے مال ی طرح ہےلہذا اس پرفرض ہے کہ اس سب مال کو محتاجوں پر خیرات کردےلہذا اس کی توبہ کے مکمل ہونے کی یہی صورت ہے۔چنانچہ فتاوی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے روایت ہے کہ گویا عورت کی کمائی سے اگرقرض اداکیاجائے تو قرضخواہ کو اس کا لینا جائزنہیں اھمیں نے اس پر یہ نوٹ لکھا(صاحب فتاوی مراد ہے) کیونکہ زانیہ عورتیں اپنی شرمگاہوں کے بدلے میں مال وصول کرتی ہیں
مسئلہ ۲۸۱: ازضلع رنگپور ڈاك خانہ چلیماری مکتب اسلامیہ بنگالہ مسئولہ جناب عبدالصمد صاحب ۲۵جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی اندریں کہ مال مکسوب اززنا(زانیہ خواہ ازقوم ہنود آیند یا رباباشد یا ازاہل اسلام)بعد از اسلام وتوبہ حلال ست یاحرام بینوابابراھین الجیاد توجروا من اﷲ الکریم الجوا۔ اے علمائے کراماﷲ تعالی تم پر رحم فرمائےتمہارا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ جو مال بدکاری کی وجہ سے حاصل ہو۔ زانیہ خواہ ہندو قوم سے ہو یا سود خواہ مسلمانوں سے حاصل ہو اسلام لانے اور توبہ کرنے کے بعد کیا وہ مال حلال ہے یا حرام عمدہ دلائل سے بیان فرماؤ اور اﷲ کریم وسخی سے اجروثواب پاؤ۔(ت)
الجواب:
حرام ست ومثل مغصوبفرض است کہ آنہمہ برفقراء تصدق کند تمامی توبہ اش ہمیں ست فی الہندیۃ عن المحیط عن محمد رحمہ اﷲ تعالی فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دینا لم یکن لصاحب الدین ان یاخذہ اھ وکتبت علیہ فعدم جواز الاخذ من کسب المومسات اللاتی یبغین بفروجھن۔وفیھا مال مذکورحرام ہےاور اس کی مثال چھنے ہوئے مال ی طرح ہےلہذا اس پرفرض ہے کہ اس سب مال کو محتاجوں پر خیرات کردےلہذا اس کی توبہ کے مکمل ہونے کی یہی صورت ہے۔چنانچہ فتاوی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے امام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سے روایت ہے کہ گویا عورت کی کمائی سے اگرقرض اداکیاجائے تو قرضخواہ کو اس کا لینا جائزنہیں اھمیں نے اس پر یہ نوٹ لکھا(صاحب فتاوی مراد ہے) کیونکہ زانیہ عورتیں اپنی شرمگاہوں کے بدلے میں مال وصول کرتی ہیں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹
عن المحیط عن المفتقی عن ابراھیم عن محمد فی امرأۃ نائحۃ او صاحب طبل اومزمار اکتسب مالا قال ان کان علی شرط ردہ علی اصحابہ ان عرفھم لانہ کان المال بمقابلۃ المعصیۃ فکان الاخذ معصیۃ والسبیل فی المعاصی ردھا وذلك ھھنا برد الماخوذ ان تمکن من ردہ بان عرف صاحبہ وبالتصدق بہ ان لم یعرفہ لیصل الیہ نفع مالہ اھ وکتبت علیہ ا قول:ویجب ان ینظر ان المعروف کالمشروط وکتبت علی قولہ بالتصدق منہ اقول:ھذا اذا کان الماخوذ منہ مسلما اما ان کان کافرا فلایحل التصدق منہ ویستحیل ان یصل الیہ نفعہ ولاشك فی وجوب التصدق لالھذا بل لمحو آثار المعصیۃ واخلاء الید من المال الخبیث والتحرز عن معصیۃ اس لئے ان کی کمائی لینا نہ چاہئے۔فتاوی ہندیہ میں محیط کے حوالے سےالمنتقی سے بحوالہ ابراہیم عن محمد منقول ہے کہ ناچنے والی عورت یا طبلہ بجانے والا یاگانے بجانے والے آلات استعمال کرنے والےفرمایا اگر اس شرط پر لینا ہے کہ اس کے ساتھیوں کو واپس کردے گا کیونکہ یہاں مال گناہ کے برابر ہے اور مال مذکور بھیاور اس طرح کے گناہوں میں مال کو واپس کردینا ہے اور یہاں حاصل کردہ مال لوٹادینا ہےاگر لوٹانے پر طاقت پائے اگرمالك کو پہچانتاہواگر پہچانتانہیں تو خیرات کردے تاکہ مالك تك اس کے مال کا نفع پہنچے اھ میں نے اس پر نوٹ لکھا اقول:(میں کہتاہوں کہ)یہاں ضروری ہے کہ غور کرے کیونکہ معروف مشروط کی طرح ہے۔اور میں نے مصنف کے قول"بالتصدق منہ" پر نوٹ لکھا اقول:(میں کہتا ہوں کہ)یہ تب ہوسکتاہے جبکہ جس سے مال لیاگیاہو وہ مسلمان ہولیکن وہ اگر کافر ہو تو پھر اس کے مال کو خیرات کرناجائز نہیںاور یہ محال ہےکہ کافر کو اپنے مال کا نفع پہنچےاور اس میں شك نہیں کہ اس صورت میں وجوب صدقہ ہےلیکن مذکورہ وجہ کی بنا پر نہیںبلکہ نافرمانی کے آثار مٹادینے اور مال خبیث سے اپنے ہاتھ کو خالی کرنے کی وجہ سے ہےاور اس وجہ سے ہے کہ اپنی ذات کے لئے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹
التصرف فیہ لنفسہ وقد عرف فی مسائل لا تحصی ان ھذا ھو سبیل المال الخبیث وبہ یبرؤعن عھدتہ آری اگر بزرمکسوب بزنا منقولے خواہ عقارے خرید وشرائی او نقد وعقد بزر حرام جمع نشد چنانکہ ہمیں اکثرست آنگاہ آں چیز مشری بر وحرام نبود کماھو قول الامام الکرخی وعلیہ الفتوی وقد فصلناہ غیر مرۃ فی فتاوناواﷲ تعالی اعلم۔ اس میں تصرف کرنے کے گناہ سے بچےاور بے شمار مسائل میں معلوم ہوا کہ مال خبیث سے نجات کا یہی طریقہ ہے۔ لہذا اسی طریقے کی بنا پر وہ اس کی ذمہ داری سے سبکدوش ہوتاہےہاں اگر وہ بکاری میں حاصل کردہ رقم سے کوئی منقول چیز خواہ زمین ہی ہو خریدے اور اس ی خرید میں عقد و نقد میں زر حرام جمع نہ ہوئی جیسا کہ اکثر یہی طریقہ ہوا کرتاہےتو پھر وہ خرید کردہ چیز حرام نہ ہوگی۔چنانچہ امام کرخی علیہ الرحمۃ کا یہی ارشاد ہے اور اسی پر فتوی ہےاور ہم نے اپنے فتاوی میں کئی مرتبہ اس کی تفصیل بیان کردی۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۲: ازمین پوری مسئولہ محمد مجیب اﷲ صاحب ومولوی حکیم محمد احمد صاحب علوی ۲۸جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آج کل ایك عرصہ سے یہ بات رائج ہے کہ لوگ اپنی جان کابیمہ کراتے ہیں لہذا دریافت طلب یہ بات ہے کہ آیا جان کا بیمہ کرانا شرعا جائزہے یانہیں اس کی مثال مثلا ایك شخص جس کی عمر تیس سال کی ہے تاریخ اجرأ پالیسی(سند)سے بیس سال تك مبلغ دوسوچھیالیس روپیہ چار آنہ سالانہ ادا کرنے کے بعد مبلغ پانچ ہزار روپیہ خود لے سکتاہے یا اس کے ورثا قبل از وقت موت واقع ہوجانے پر حاصل کرسکتے ہیں(عا للعہ ۴/)×۲۰ =(للعہمہ ۲۵ مما ۴۹ صہ عہ) = اصل رقم = ۰۰۔۴۹۲۵ روپیہ رقم جو ملے گی ۰۰ —— ۵۰۰۰ روپہ زائد = ۷۵ روپیہ۔اس کے علاوہ اس اصل روپیہ پر منافع بعوض استعمال روپیہ دیاجاتاہے۔یہ منافع اول بیمہ کنندگان یا بیمہ شدگان کو دیاجاتاہے جن کی مدت بیمہ اختتام کو پہنچتی ہے جس وقت کہ ان کا چندہ بحساب(للعہ /)فیصدی سوددرسود اس اصل رقم بیمہ کے برابر ہوجاتاہے اس منافع میں سے ۱۰ فی صدی کمپنی لیتی ہے اور ۹۰ فیصدی بیمہ کرنے والے کوملتاہے بہت توضیح وتشریح کے ساتھ تحریر فرمایاجائے کہ اس طرح روپیہ حاصل کرنا یا اپنا روپیہ اس کمپنی کو دینا شرعا کیاحکم رکھتاہے اﷲ تعالی آپ کو جزائے خیر عطافرمائے۔
مسئلہ ۲۸۲: ازمین پوری مسئولہ محمد مجیب اﷲ صاحب ومولوی حکیم محمد احمد صاحب علوی ۲۸جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آج کل ایك عرصہ سے یہ بات رائج ہے کہ لوگ اپنی جان کابیمہ کراتے ہیں لہذا دریافت طلب یہ بات ہے کہ آیا جان کا بیمہ کرانا شرعا جائزہے یانہیں اس کی مثال مثلا ایك شخص جس کی عمر تیس سال کی ہے تاریخ اجرأ پالیسی(سند)سے بیس سال تك مبلغ دوسوچھیالیس روپیہ چار آنہ سالانہ ادا کرنے کے بعد مبلغ پانچ ہزار روپیہ خود لے سکتاہے یا اس کے ورثا قبل از وقت موت واقع ہوجانے پر حاصل کرسکتے ہیں(عا للعہ ۴/)×۲۰ =(للعہمہ ۲۵ مما ۴۹ صہ عہ) = اصل رقم = ۰۰۔۴۹۲۵ روپیہ رقم جو ملے گی ۰۰ —— ۵۰۰۰ روپہ زائد = ۷۵ روپیہ۔اس کے علاوہ اس اصل روپیہ پر منافع بعوض استعمال روپیہ دیاجاتاہے۔یہ منافع اول بیمہ کنندگان یا بیمہ شدگان کو دیاجاتاہے جن کی مدت بیمہ اختتام کو پہنچتی ہے جس وقت کہ ان کا چندہ بحساب(للعہ /)فیصدی سوددرسود اس اصل رقم بیمہ کے برابر ہوجاتاہے اس منافع میں سے ۱۰ فی صدی کمپنی لیتی ہے اور ۹۰ فیصدی بیمہ کرنے والے کوملتاہے بہت توضیح وتشریح کے ساتھ تحریر فرمایاجائے کہ اس طرح روپیہ حاصل کرنا یا اپنا روپیہ اس کمپنی کو دینا شرعا کیاحکم رکھتاہے اﷲ تعالی آپ کو جزائے خیر عطافرمائے۔
الجواب:
جس کمپنی سے یہ معاملہ کیاجائے اگر اس میں کوئی مسلمان بھی شریك ہے تو مطلقا حرام قطعی ہے کہ قمار ہے اور اس پر جو زیادت ہے ربااور دونوں حرام وسخت کبیرہ ہیں۔اور اگر اس میں کوئی مسلمان اصلا نہیں تو یہاں جائزہے جبکہ اس کے سبب حفظ صحت وغیرہ میں کسی معصیت پرمجبورنہ کیاجاتاہوجواز اس لئے کہ اس میں نقصان کی شکل نہیںاگر بیس برس تك زندہ رہا پورا روپیہ بلکہ مع زیادت ملے گااور پہلے مرگیا تو ورثہ کو اور زیادہ ملے گا مثلا سال بھی بعد ہی مرگیا تو دئیے ۲۴۶ روپے چار آنے اور ملے ۵۰۰۰ روپےہاں یہ ضرور ہے کہ جوزائد ملے ربا سمجھ کر نہ لے بلکہ یہ سمجھے کہ غیر مسلم کا مال اس کی خوشی سے بلا عذر ملایہ حلال ہے۔امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
ان ابابکر رضی اﷲ تعالی عنہ قبل الھجرۃ حین انزل اﷲ تعالی الم غلبت الروم قالت لہ قریش ترون ان الروم تغلب قال نعم فقال ھل لك ان نخاطرنا فخاطرھم فاخبرالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذھب الیھم فزد فی الخطر ففعل و غلبت الروم فارسا فاخذ ابو بکر رضی اﷲ تعالی عنہ خطرہ فاجازہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو القمار بعینہ بین ابی بکر و مشرکی مکۃ وکانت مکۃ دار شرك ولان مالہم مباح انما یحرم علی حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے ہجرت سے پہلے جبکہ اﷲ تعالی نے الم غلبت الروم کے کلمات نازل فرمائے تو قریش نے ان سے کہا:کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رومی غالب آئیں گے فرمایا:ہاں۔پھر کہا:کیا آپ ہم سے شرط لگاتے ہیں۔تو حضرت ابوبکر نے ان سے شرط لگادی۔پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اطلاع دی تو حضوراقدس نے ارشاد فرمایا:تم ان کے پاس جاؤ اور شرط میں اضافہ کردو۔تو ابوبکرصدیق نے ایساہی کیا۔تو رومی ایرانیوں پرغالب آگئے۔ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے ان سے شرط وصول کرلی۔حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں اس کی اجازت دے دیصدیق اکبر اور مشرکین کے درمیان بعینہ رضامندی جواتھا بخلاف اس آدمی کے جو ہمارے پاس دارالسلام میں امن کے لئے سکونت اختیار کرے
جس کمپنی سے یہ معاملہ کیاجائے اگر اس میں کوئی مسلمان بھی شریك ہے تو مطلقا حرام قطعی ہے کہ قمار ہے اور اس پر جو زیادت ہے ربااور دونوں حرام وسخت کبیرہ ہیں۔اور اگر اس میں کوئی مسلمان اصلا نہیں تو یہاں جائزہے جبکہ اس کے سبب حفظ صحت وغیرہ میں کسی معصیت پرمجبورنہ کیاجاتاہوجواز اس لئے کہ اس میں نقصان کی شکل نہیںاگر بیس برس تك زندہ رہا پورا روپیہ بلکہ مع زیادت ملے گااور پہلے مرگیا تو ورثہ کو اور زیادہ ملے گا مثلا سال بھی بعد ہی مرگیا تو دئیے ۲۴۶ روپے چار آنے اور ملے ۵۰۰۰ روپےہاں یہ ضرور ہے کہ جوزائد ملے ربا سمجھ کر نہ لے بلکہ یہ سمجھے کہ غیر مسلم کا مال اس کی خوشی سے بلا عذر ملایہ حلال ہے۔امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
ان ابابکر رضی اﷲ تعالی عنہ قبل الھجرۃ حین انزل اﷲ تعالی الم غلبت الروم قالت لہ قریش ترون ان الروم تغلب قال نعم فقال ھل لك ان نخاطرنا فخاطرھم فاخبرالنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذھب الیھم فزد فی الخطر ففعل و غلبت الروم فارسا فاخذ ابو بکر رضی اﷲ تعالی عنہ خطرہ فاجازہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو القمار بعینہ بین ابی بکر و مشرکی مکۃ وکانت مکۃ دار شرك ولان مالہم مباح انما یحرم علی حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے ہجرت سے پہلے جبکہ اﷲ تعالی نے الم غلبت الروم کے کلمات نازل فرمائے تو قریش نے ان سے کہا:کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رومی غالب آئیں گے فرمایا:ہاں۔پھر کہا:کیا آپ ہم سے شرط لگاتے ہیں۔تو حضرت ابوبکر نے ان سے شرط لگادی۔پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اطلاع دی تو حضوراقدس نے ارشاد فرمایا:تم ان کے پاس جاؤ اور شرط میں اضافہ کردو۔تو ابوبکرصدیق نے ایساہی کیا۔تو رومی ایرانیوں پرغالب آگئے۔ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ نے ان سے شرط وصول کرلی۔حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں اس کی اجازت دے دیصدیق اکبر اور مشرکین کے درمیان بعینہ رضامندی جواتھا بخلاف اس آدمی کے جو ہمارے پاس دارالسلام میں امن کے لئے سکونت اختیار کرے
المسلم اذا کان بطریق الغدر فاذا لم یاخذ غدرا فبای طریق یاخذہ حل بعد کونہ برضا بخلاف المستأمن منھم عندنا لان مالہ صار محظورا بالامان فاذا اخذہ بغیر الطریق المشروعۃ یکون غدرا الا انہ لایخفی انہ انما یقتضی حل مباشرۃ العقد اذا کانت الزیادۃ ینالھا المسلم و قدالتزم الا صحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا والقمار اذا حصلت الزیادۃ للمسلم نظرا الی العلۃ وان کان الاطلاق الجواب خلافہ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم ۔ لہذا اس کا مال امن کی وجہ سے دوسروں کے لئے ممنوع ہے۔اگر شرعی طریقے کے بغیر لیا تو فریب کاری ہوگیمگر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ یہ کام مباشرت عقد کو حلال ہونے کو چاہتاہے جبکہ اضافہ کسی مسلمان کو حاصل ہوچنانچہ اصحاب نے درس میں یہ انتظام کیا ہے کہ ان کی مراد سود اور فتوے کے جواز سے یہ ہے کہ جب زیادت مسلمان کو حاصل ہوجائے علت پر نظرکرتے ہوئے اگرچہ مطلق جواب اس کے خلاف ہےاور اﷲ تعالی پاك و برتر سب سے زیادہ جانتا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۸۳:ازجے پور بیرون اجمیری دروازہ کوٹھی حاجی محمد عبدالواجد علی خاں مسئولہ محمد حامد حسن قادری ۱۴/رمضان
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ اس زمانہ میں عام طور پر جو جیل خانہائے انگریزی یاجیل خانہائے ریاست ہائے ما تحت انگریزی میں جو طرح طرح کی اشیاء تیار ہوتی ہیں ان کاخرید کر استعمال کرناکیساہےخصوصاجائےنمازیعنی مصلی وغیرہ خرید کر خود نماز پڑھنا یا ان کو مساجد میں بغرض نماز بھجوانا۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
احتراز چاہئے کہ ان سے کام جبرا لیاجاتاہے پھر بھی اگر اصل مال بائعوں کی ملك ہو تو حکم حرمت نہیں کہ ان کے منافع کا اتلاف اس شے کی ذات سے جداہے ھذا ماظھر ولیراجع ولیحرر(یہی بات ظاہر ہوئی اور چاہئے کہ مراجعت کی جائے اور لکھا جائے۔ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۳:ازجے پور بیرون اجمیری دروازہ کوٹھی حاجی محمد عبدالواجد علی خاں مسئولہ محمد حامد حسن قادری ۱۴/رمضان
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ اس زمانہ میں عام طور پر جو جیل خانہائے انگریزی یاجیل خانہائے ریاست ہائے ما تحت انگریزی میں جو طرح طرح کی اشیاء تیار ہوتی ہیں ان کاخرید کر استعمال کرناکیساہےخصوصاجائےنمازیعنی مصلی وغیرہ خرید کر خود نماز پڑھنا یا ان کو مساجد میں بغرض نماز بھجوانا۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
احتراز چاہئے کہ ان سے کام جبرا لیاجاتاہے پھر بھی اگر اصل مال بائعوں کی ملك ہو تو حکم حرمت نہیں کہ ان کے منافع کا اتلاف اس شے کی ذات سے جداہے ھذا ماظھر ولیراجع ولیحرر(یہی بات ظاہر ہوئی اور چاہئے کہ مراجعت کی جائے اور لکھا جائے۔ت) واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب البیوع باب الربا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۱۷۸
مسئلہ ۲۸۴ تا ۲۸۶: ازپیلی بھیت محلہ شیر محمد مکان نمبری ۲۹۴ مسئولہ لطافت حسین خان صاحب ۳رجب ۱۳۳۹ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ رشوت کس کو کہتے ہیں اور اس کا لینا کیسا ہے اور کس صورت میں لیناجائز ہے ا ور کس میں ناجائز
(۲)تسبیح کس چیز کی ہونی چاہئے آیا لکڑی کی یا پتھر وغیرہ کی
(۳)مسجد میں جمعہ کے وقت خطبہ کے وقت سلام وکلام کیساہے
الجواب:
(۱)رشوت لینا مطلقا حرام ہے کسی حالت میں جائزنہیں جو پرایا حق دبانے کے لئے دیاجائے رشوت ہے یوہیں جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیاجائے رشوت ہے لیکن اپنے اوپر سے دفع ظلم کے لئے جو کچھ دیاجائے دینے والے کے حق میں رشوت نہیں یہ دے سکتا ہے لینے والے کے حق میں وہ بھی رشوت ہے اور اسے لینا حرام۔
(۲)تسبیح لکڑی کی ہو یا پتھر کی مگر بیش قیمت ہونامکروہ ہے اور سونے چاندی کی حرام۔
(۳)خطبہ کے وقت سلام وکلام مطلقا حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۷: ازدہلی مدرسہ نعمانیہ فراشخانہ مسئولہ محمدحبیب اﷲ صاحب ۲۷شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کافروں کی خصوصا انگریزوں کی فوج میں نوکری کرنا جس کی وجہ سے مسلمانوں خصوصا ترکوں اور عربوں اور افغانوں کے مقابلہ میں ان سپاہیوں کو جانا پڑتاہے اور مسلمانوں کو قتل کرناپڑتاہےآیا یہ نوکری جائزہے یاحرام یاکفر ہے۔بینواتوجروا
الجواب:
مسلمان تو مسلمانبلاوجہ شرعی کسی کافرذمی یامستامن کے قتل کی نوکریکافر توکافرکسی مسلمان بادشاہ کے یہاں کی شرعا حلال نہیں ہوسکتی بلکہ ذمی پر ظلم مسلمان پہ ظلم سے اشد ہے کما فی الخانیۃ والدروالھندیۃ وغیرھا(جیسا کہ خانیہدر اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت) حدیث میں ہے:
من اذی ذمیا فانا خصمہ ومن کنت خصمہ خصمتہ یوم القیمۃ رواہ الخطیب عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ جس نے کسی ذمی کافر کو ستایا تو میں اس سے جھگڑا کروں گا اور جس سے میں جھگڑا کروں تو قیامت کے دن جھگڑا کرنے میں غالب آؤں گا۔خطیب بغدادی نے
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ رشوت کس کو کہتے ہیں اور اس کا لینا کیسا ہے اور کس صورت میں لیناجائز ہے ا ور کس میں ناجائز
(۲)تسبیح کس چیز کی ہونی چاہئے آیا لکڑی کی یا پتھر وغیرہ کی
(۳)مسجد میں جمعہ کے وقت خطبہ کے وقت سلام وکلام کیساہے
الجواب:
(۱)رشوت لینا مطلقا حرام ہے کسی حالت میں جائزنہیں جو پرایا حق دبانے کے لئے دیاجائے رشوت ہے یوہیں جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیاجائے رشوت ہے لیکن اپنے اوپر سے دفع ظلم کے لئے جو کچھ دیاجائے دینے والے کے حق میں رشوت نہیں یہ دے سکتا ہے لینے والے کے حق میں وہ بھی رشوت ہے اور اسے لینا حرام۔
(۲)تسبیح لکڑی کی ہو یا پتھر کی مگر بیش قیمت ہونامکروہ ہے اور سونے چاندی کی حرام۔
(۳)خطبہ کے وقت سلام وکلام مطلقا حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۷: ازدہلی مدرسہ نعمانیہ فراشخانہ مسئولہ محمدحبیب اﷲ صاحب ۲۷شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کافروں کی خصوصا انگریزوں کی فوج میں نوکری کرنا جس کی وجہ سے مسلمانوں خصوصا ترکوں اور عربوں اور افغانوں کے مقابلہ میں ان سپاہیوں کو جانا پڑتاہے اور مسلمانوں کو قتل کرناپڑتاہےآیا یہ نوکری جائزہے یاحرام یاکفر ہے۔بینواتوجروا
الجواب:
مسلمان تو مسلمانبلاوجہ شرعی کسی کافرذمی یامستامن کے قتل کی نوکریکافر توکافرکسی مسلمان بادشاہ کے یہاں کی شرعا حلال نہیں ہوسکتی بلکہ ذمی پر ظلم مسلمان پہ ظلم سے اشد ہے کما فی الخانیۃ والدروالھندیۃ وغیرھا(جیسا کہ خانیہدر اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت) حدیث میں ہے:
من اذی ذمیا فانا خصمہ ومن کنت خصمہ خصمتہ یوم القیمۃ رواہ الخطیب عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ جس نے کسی ذمی کافر کو ستایا تو میں اس سے جھگڑا کروں گا اور جس سے میں جھگڑا کروں تو قیامت کے دن جھگڑا کرنے میں غالب آؤں گا۔خطیب بغدادی نے
حوالہ / References
تاریخ بغداد ترجمہ داؤد بن علی ۴۴۷۳ دارالکتاب العربی بیروت ۸ /۳۷۰
عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ سلم۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے اس کو حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیاہے۔(ت)
مگرکفر نہیں جب تك استحلال نہ ہو یا خود بوجہ اسلام قتل کماھو مذھب اھل السنۃ والتاویل المعروف فی الکریمۃ(جیسا کہ اہلسنت کا مذہب ہےاور آیہ کریمہ میں تاویل مشہور ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۸: ازبریلی محلہ گھیر جعفر خاں مسئولہ قدرت حسین صاحب ۵رمضان ۱۳۳۹ھ
قادیانیوں کے ہاتھ مال فروخت کرناکیساہے بینواتوجرا۔
الجواب:
قادیانی مرتد ہیںان کے ہاتھ نہ کچھ بیچاجائے نہ ان سے خریداجائےان سے بات ہی کرنے کی اجازت نہیں۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ایاکم وایاھم ان سے دوربھاگو انہیں اپنے سے دور رکھو۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۹: ازبنبئی پوسٹ ۹۰ معرفت احمدعلی صاحب مسئولہ شیخ فتح محمدصاحب ۵/رمضان ۱۳۳۹ھ
(۱)علمائے دین سے دریافت طلب یہ مسئلہ ہے کہ جو حاجی ادائے فریضہ حج اور زیارت پاك نبی کریم کے بنبئ اور کرانچی سے روانہ ہوتے ہیں ان سے دوہراکرایہ جہاز پر جانے آنے کا لیاجاتاہےاس سال جانے آنے کا کرایہ ایك سو پچھتر روپیہ مقررہوا ہے اس میں جانے آنے کاایك سو دس روپیہ لگایاجاتاہے اور آنے کے واسطے کمپنی کے پاس پینسٹھ روپیہ جمع رہتاہے اس وقت تك کہ حاجی اپنے فرض سے فارغ ہوکر واپس نہ آئیں وہ باقی روپیہ بینك گھر میں جمع رہتاہے کمپنی کی طرف سے اب سوال یہ ہے کہ کمپنی کو اس روپیہ کا سود ملے گا قریب چار ماہ تك کیونکہ اس سے پہلے حاجی واپس نہیں آسکتے اس سود کے بارے میں حاجی گنہگار ہوگا یانہیں
(۲)اسی مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو کمپنی حاجیوں کو دوہراٹکٹ دیتی ہے اس کا منیجر انگریز ہے اور وہی مالك ہے اور انگریز کے مذہب میں سود جائزہے اور جانے والے حاجی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہمارا روپیہ ایك انگریز کے پاس جمع ہے اور وہ اس روپیہ سے تاواپسی بلاواسطے فائدہ اٹھائے گا یا سود میں چلائے گا اتنا سمجھ کر بھی حاجی اس کمپنی میں سفر کرے تو گنہگار ہوگا یانہیں
مگرکفر نہیں جب تك استحلال نہ ہو یا خود بوجہ اسلام قتل کماھو مذھب اھل السنۃ والتاویل المعروف فی الکریمۃ(جیسا کہ اہلسنت کا مذہب ہےاور آیہ کریمہ میں تاویل مشہور ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۸: ازبریلی محلہ گھیر جعفر خاں مسئولہ قدرت حسین صاحب ۵رمضان ۱۳۳۹ھ
قادیانیوں کے ہاتھ مال فروخت کرناکیساہے بینواتوجرا۔
الجواب:
قادیانی مرتد ہیںان کے ہاتھ نہ کچھ بیچاجائے نہ ان سے خریداجائےان سے بات ہی کرنے کی اجازت نہیں۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ایاکم وایاھم ان سے دوربھاگو انہیں اپنے سے دور رکھو۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۹: ازبنبئی پوسٹ ۹۰ معرفت احمدعلی صاحب مسئولہ شیخ فتح محمدصاحب ۵/رمضان ۱۳۳۹ھ
(۱)علمائے دین سے دریافت طلب یہ مسئلہ ہے کہ جو حاجی ادائے فریضہ حج اور زیارت پاك نبی کریم کے بنبئ اور کرانچی سے روانہ ہوتے ہیں ان سے دوہراکرایہ جہاز پر جانے آنے کا لیاجاتاہےاس سال جانے آنے کا کرایہ ایك سو پچھتر روپیہ مقررہوا ہے اس میں جانے آنے کاایك سو دس روپیہ لگایاجاتاہے اور آنے کے واسطے کمپنی کے پاس پینسٹھ روپیہ جمع رہتاہے اس وقت تك کہ حاجی اپنے فرض سے فارغ ہوکر واپس نہ آئیں وہ باقی روپیہ بینك گھر میں جمع رہتاہے کمپنی کی طرف سے اب سوال یہ ہے کہ کمپنی کو اس روپیہ کا سود ملے گا قریب چار ماہ تك کیونکہ اس سے پہلے حاجی واپس نہیں آسکتے اس سود کے بارے میں حاجی گنہگار ہوگا یانہیں
(۲)اسی مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو کمپنی حاجیوں کو دوہراٹکٹ دیتی ہے اس کا منیجر انگریز ہے اور وہی مالك ہے اور انگریز کے مذہب میں سود جائزہے اور جانے والے حاجی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہمارا روپیہ ایك انگریز کے پاس جمع ہے اور وہ اس روپیہ سے تاواپسی بلاواسطے فائدہ اٹھائے گا یا سود میں چلائے گا اتنا سمجھ کر بھی حاجی اس کمپنی میں سفر کرے تو گنہگار ہوگا یانہیں
حوالہ / References
مسندامام احمدبن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۸ /۳۷۰
(۳)مخفی نہ رہے کہ بنبئ اور کرانچی دونوں جگہ سے حاجی روانہ ہوتے ہیں اور ان دونوں مقاموں میں ایك اسلامی کمپنی موجود ہے اور یہ کمپنی ایك طرف کا ٹکٹ حاجیوں کو دیتی ہے انگریزی کمپنی سے بہت کم بھاؤ میں۔ایسا ہوتے ہوئے بھی حاجی آنے جانے کا ٹکٹ لے تو تعاون ہے یانہیںحاجی کچھ مواخذہ دار ہوگا یانہیں
(۴)یہ بھی ہوسکتاہے کہ جب حاجی چاہیں کہ ہم دوہرا کرایہ دے کر اپنے روپیہ سے غیرمذہب کو مدد نہیں دیں گے اور ایك طرف کا ٹکٹ لیں گے تو گورنمنٹ کمپنی پرضرور ہے کہ حکم کرے گی کہ ایك طرف کا ٹکٹ دو۔اس صورت میں اوپر کے سوال میں حاجی بری ہوسکتے ہیں یانہیںاور ایسا کرنا ثواب ہے یاگناہ
(۵)دیگر یہ کہ اکثر حاجی اثنائے سفر میں فوت ہوجاتے ہیں اور ان کا کوئی وارث ہمراہ نہ ہو تو ضرور ان کے واپسی کے ٹکٹ ضائع ہوجاتے ہیں اور اس ٹکٹ کا روپیہ بے سبب ایك کمپنی کھاجاتی ہے اگر وہی روپیہ حاجی کے ساتھ حاجی کی کمر میں ہو اور وہ فوت ہوجائے تو ضرور اس کا روپیہ اس کے ہمراہیوں کو ملے گا یا مکہ معظمہ میں فوت ہوجائے تو کسی معلم کو ملے گا یاراستے میں فوت ہوجائے تو کسی بدوی کو ملے گا جوتینوں بھائی مسلمان ہوں گے ایسی صورت میں حاجی کو ثواب ہوگا یا اوپر کی صورت میں
(۶)اور ظلم یہ ہے کہ کمپنی نے ٹکٹ پر چھاپ دیا ہے کہ حاجی کو اگر واپس کرنا ہو تو دس سیکڑہ کاٹ کر حاجی کو روپیہ ملے گایہ قانون ہے کہ امانت رکھنے والا اپنی امانت واپس مانگے تو کمیشن میں سود دے یہ دوہرا سود ہوا یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
(۱)حاجی نہ اپنی خوشی سے جمع کرتاہے نہ اس کی یہ نیت ہے کہ کمپنی سود لےاگر لے گی تو اس کا وبال اس پر ہے حاجی پرالزام نہیں
" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " وتحلل فعل فاعل مختار یقطع النسبۃ کما فی الھدایۃ وغیرھا۔واﷲ تعالی اعلم۔ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔فاعل مختار کافعل درمیان میں آڑے آگیاجو نسبت کو قطع کردیتاہےجیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں مذکورہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۴)یہ بھی ہوسکتاہے کہ جب حاجی چاہیں کہ ہم دوہرا کرایہ دے کر اپنے روپیہ سے غیرمذہب کو مدد نہیں دیں گے اور ایك طرف کا ٹکٹ لیں گے تو گورنمنٹ کمپنی پرضرور ہے کہ حکم کرے گی کہ ایك طرف کا ٹکٹ دو۔اس صورت میں اوپر کے سوال میں حاجی بری ہوسکتے ہیں یانہیںاور ایسا کرنا ثواب ہے یاگناہ
(۵)دیگر یہ کہ اکثر حاجی اثنائے سفر میں فوت ہوجاتے ہیں اور ان کا کوئی وارث ہمراہ نہ ہو تو ضرور ان کے واپسی کے ٹکٹ ضائع ہوجاتے ہیں اور اس ٹکٹ کا روپیہ بے سبب ایك کمپنی کھاجاتی ہے اگر وہی روپیہ حاجی کے ساتھ حاجی کی کمر میں ہو اور وہ فوت ہوجائے تو ضرور اس کا روپیہ اس کے ہمراہیوں کو ملے گا یا مکہ معظمہ میں فوت ہوجائے تو کسی معلم کو ملے گا یاراستے میں فوت ہوجائے تو کسی بدوی کو ملے گا جوتینوں بھائی مسلمان ہوں گے ایسی صورت میں حاجی کو ثواب ہوگا یا اوپر کی صورت میں
(۶)اور ظلم یہ ہے کہ کمپنی نے ٹکٹ پر چھاپ دیا ہے کہ حاجی کو اگر واپس کرنا ہو تو دس سیکڑہ کاٹ کر حاجی کو روپیہ ملے گایہ قانون ہے کہ امانت رکھنے والا اپنی امانت واپس مانگے تو کمیشن میں سود دے یہ دوہرا سود ہوا یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
(۱)حاجی نہ اپنی خوشی سے جمع کرتاہے نہ اس کی یہ نیت ہے کہ کمپنی سود لےاگر لے گی تو اس کا وبال اس پر ہے حاجی پرالزام نہیں
" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " وتحلل فعل فاعل مختار یقطع النسبۃ کما فی الھدایۃ وغیرھا۔واﷲ تعالی اعلم۔ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔فاعل مختار کافعل درمیان میں آڑے آگیاجو نسبت کو قطع کردیتاہےجیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں مذکورہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۱۶۴
(۲)اس کاجواب اوپرگزرچکاکہ گناہ نہیںہاں اگر کوئی اسلامی کمپنی ایسی موجود ہو جو اسے سود پر نہ چلائے گی اور جو باتیں سفرمیں اپنے آرام کی ہیں ان میں کوئی کمی نہ ہو تو بلاوجہ اسلامی کمپنی پر اسے ترجیح دینا سخت معیوب ہےواﷲ تعالی اعلم
(۳)جب اسلامی کمپنی موجود ہے اور وہ کرایہ بھی کم لیتی ہے اور ایك ہی طرف کا لیتی ہے تو ان ترجیحوں کے ہوتے ہوئے سخت احمق ہوگا جو اس کے غیر کو اختیار کرے مگر اس حالت میں کہ اپنے آرام وغیرہ کی صحیح مصلحت اور ارزاں بعلت وگراں بحکمت نہ ہو بلاوجہ زیادہ کرایہ دینا کوئی نہ چاہے گا اور بالفرض اگر ایساکوئی نکلے کہ بغیر کسی صحیح مصلحت کے اپنا نقصان گوارا کرے اور اسلامی کمپنی پر غیراسلامی کو ترجیح دے تو وہ بیشك مواخذہ دارہے اور اس پر متعدد مواخذے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
(۴)دوطرف کا کرایہ دینے میں بلاوجہ کی پابندیاں اپنے ذمے ہوجاتی ہیں ممکن ہے کہ یہ وقت موعود تك واپس نہ آسکے یا سرکاروں میں زیادہ حاضررہناچاہے جب اس طریقے سے یہ آزادی مل سکتی ہو تو بغیر کسی اہم مصلحت کے پابندی کو اس پرترجیح نہ دے گا مگر سخت احمق یا وہ جس کے دل میں مرض ہےوالعیاذباﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم
(۵)یہ نیت بھی محمود ہے اور آزادی خود عظیم مقصود ہے اسے ملتے ہوئے بے کسی اہم مصلحت کے پابندی کوترجیح دینامردود ہےواﷲ تعالی اعلم
(۶)یہ صورت اور زیادہ شناعت کی ہےاور حتی الامکان اس سے بچنا لازم کہ اگرچہ سود نہیں مگر اضاعت مال ہے اور وہ بھی شرعا حرام ہےحدیث میں ارشاد فرمایا صحیح بخاری وصحیح مسلم میں مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
ان اﷲ حرم علیکم عقوق الامھات ومنعا وھاۃ و وأد البنات وکرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السوال واضاعۃ المال ۔ بے شك اﷲ تعالی نے تم پر حرام فرمادیا ہے ماؤں کو ایذا دینا اور یہ کہ آپ نہ دو اور اوروں سے مانگو اور بیٹیوں کو زندہ درگورکرنا اور ناپسند فرماتاہے تمہارے لئے فضول حکایات اور کثرت سوالات اور مال کا ضائع کرنا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۳)جب اسلامی کمپنی موجود ہے اور وہ کرایہ بھی کم لیتی ہے اور ایك ہی طرف کا لیتی ہے تو ان ترجیحوں کے ہوتے ہوئے سخت احمق ہوگا جو اس کے غیر کو اختیار کرے مگر اس حالت میں کہ اپنے آرام وغیرہ کی صحیح مصلحت اور ارزاں بعلت وگراں بحکمت نہ ہو بلاوجہ زیادہ کرایہ دینا کوئی نہ چاہے گا اور بالفرض اگر ایساکوئی نکلے کہ بغیر کسی صحیح مصلحت کے اپنا نقصان گوارا کرے اور اسلامی کمپنی پر غیراسلامی کو ترجیح دے تو وہ بیشك مواخذہ دارہے اور اس پر متعدد مواخذے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
(۴)دوطرف کا کرایہ دینے میں بلاوجہ کی پابندیاں اپنے ذمے ہوجاتی ہیں ممکن ہے کہ یہ وقت موعود تك واپس نہ آسکے یا سرکاروں میں زیادہ حاضررہناچاہے جب اس طریقے سے یہ آزادی مل سکتی ہو تو بغیر کسی اہم مصلحت کے پابندی کو اس پرترجیح نہ دے گا مگر سخت احمق یا وہ جس کے دل میں مرض ہےوالعیاذباﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم
(۵)یہ نیت بھی محمود ہے اور آزادی خود عظیم مقصود ہے اسے ملتے ہوئے بے کسی اہم مصلحت کے پابندی کوترجیح دینامردود ہےواﷲ تعالی اعلم
(۶)یہ صورت اور زیادہ شناعت کی ہےاور حتی الامکان اس سے بچنا لازم کہ اگرچہ سود نہیں مگر اضاعت مال ہے اور وہ بھی شرعا حرام ہےحدیث میں ارشاد فرمایا صحیح بخاری وصحیح مسلم میں مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
ان اﷲ حرم علیکم عقوق الامھات ومنعا وھاۃ و وأد البنات وکرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السوال واضاعۃ المال ۔ بے شك اﷲ تعالی نے تم پر حرام فرمادیا ہے ماؤں کو ایذا دینا اور یہ کہ آپ نہ دو اور اوروں سے مانگو اور بیٹیوں کو زندہ درگورکرنا اور ناپسند فرماتاہے تمہارے لئے فضول حکایات اور کثرت سوالات اور مال کا ضائع کرنا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الادب باب عقوق الوالدین من الکبائر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۸۴،صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب النہی عن کثرۃ المسائل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۵
مسئلہ ۲۹۵: ازدارجلنگ انجمن اسلامیہ مسئولہ ولی الحسن مدرس مدرسہ ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
علمائے اسلام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ افیون کی تجارت اور اس کی دکان کرناشرعا جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
افیون کی تجارت دواکے لئے جائز اور افیونی کے ہاتھ بیچنا ناجائزہے
لان المعصیۃ تقوم بعینہ وکل ماکان کذلك کرہ بیعہ کما فی تنویرالابصار۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس لئے کہ گناہ ذات شیئ کے ساتھ قائم ہے اور جس میں اس طرح ہو تو اس کا بیچنا مکروہ ہے جیسا کہ تنویرالابصار میں مذکور ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۹۶: ازپیلی بھیت کچہری کلکٹری مسئولہ عرفان علی صاحب رضوی شب ۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
قبلہ جانم وکعبہ ایمانم ظلہم الاقدسبعد سلام مسنون عرض ہے کہ زندگی کا بیمہ کرنا شرعا جائزہے یاحرام
صورت اس کی یہ ہے جو شخص زندگی کابیمہ کراناچاہتاہے اس سے یہ قرار پاجاتاہے کہ ۵۵سال یا ۶۰ سال یا۵۰سال کی عمر تك مبلغ دوہزار روپے(للعہ یاے/)ماہوار کے حساب سے تنخواہ سے وضع ہوتے رہیں گے اگر وہ شخص ۵۵سال تك زندہ رہا تو خود اس کو اور اگر مقررمیعاد کے اندرمرگیا توا س کے ورثاء کو دوہزار یکمشت ملے گا خواہ وہ بیمہ کرانے کے بعد اوراس کی منظوری آنے کے فورا ہی مرجائے اور اگرمیعاد مقرر تك زندہ رہا تو بھی وہی دوہزار ملے گا یہ بیمہ گورنمنٹ کی جانب سے ہورہاہے کسی کمپنی وغیرہ کو اس سے تعلق نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ یہ بیمہ گورنمنٹ کرتی ہے اوران میں اپنے نقصان کی کوئی صورت نہیں توجائزہے کوئی حرج نہیں مگر شرط یہ ہے کہ اس کے سبب اس کے ذمے کسی خلاف شرع احتیاط کی پابندی نہ عائد ہوتی ہو جیسے روزوں یاحج کی ممانعت۔واﷲ تعالی اعلم
علمائے اسلام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ افیون کی تجارت اور اس کی دکان کرناشرعا جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
افیون کی تجارت دواکے لئے جائز اور افیونی کے ہاتھ بیچنا ناجائزہے
لان المعصیۃ تقوم بعینہ وکل ماکان کذلك کرہ بیعہ کما فی تنویرالابصار۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس لئے کہ گناہ ذات شیئ کے ساتھ قائم ہے اور جس میں اس طرح ہو تو اس کا بیچنا مکروہ ہے جیسا کہ تنویرالابصار میں مذکور ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۹۶: ازپیلی بھیت کچہری کلکٹری مسئولہ عرفان علی صاحب رضوی شب ۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
قبلہ جانم وکعبہ ایمانم ظلہم الاقدسبعد سلام مسنون عرض ہے کہ زندگی کا بیمہ کرنا شرعا جائزہے یاحرام
صورت اس کی یہ ہے جو شخص زندگی کابیمہ کراناچاہتاہے اس سے یہ قرار پاجاتاہے کہ ۵۵سال یا ۶۰ سال یا۵۰سال کی عمر تك مبلغ دوہزار روپے(للعہ یاے/)ماہوار کے حساب سے تنخواہ سے وضع ہوتے رہیں گے اگر وہ شخص ۵۵سال تك زندہ رہا تو خود اس کو اور اگر مقررمیعاد کے اندرمرگیا توا س کے ورثاء کو دوہزار یکمشت ملے گا خواہ وہ بیمہ کرانے کے بعد اوراس کی منظوری آنے کے فورا ہی مرجائے اور اگرمیعاد مقرر تك زندہ رہا تو بھی وہی دوہزار ملے گا یہ بیمہ گورنمنٹ کی جانب سے ہورہاہے کسی کمپنی وغیرہ کو اس سے تعلق نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ یہ بیمہ گورنمنٹ کرتی ہے اوران میں اپنے نقصان کی کوئی صورت نہیں توجائزہے کوئی حرج نہیں مگر شرط یہ ہے کہ اس کے سبب اس کے ذمے کسی خلاف شرع احتیاط کی پابندی نہ عائد ہوتی ہو جیسے روزوں یاحج کی ممانعت۔واﷲ تعالی اعلم
رسالہ
خیرالامال فی حکم الکسب والسوال ۱۳۱۸ھ
(کمانے اور مانگنے کے حکم میں بہترین امید)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۲۹۷:ازملك بنگالہ ضلع پاپنا ڈاکخانہ سوبگاچہ موضع چر قاضی پور مرسلہ مولوی امید علی صاحب ۲۷/جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روپیہ کمانا کس وقت فرض ہےکس وقت مستحبکس وقت مکروہکس وقت حراماور سوال کرناکب جائزہے کب ناجائز بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ مسئلہ بہت طویل الذیل ہے جس کی تفصیل کو دفتر درکاریہاں اس کے بعض صور وضوابطپراقتصار۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ کہتاہوں۔ت)کسب کے لئے ایك مبدء ہے یعنی وہ ذریعہ جس سے مال حاصل کیاجائےاور ایك غایت یعنی وہ غرض کہ تحصیل مال سے مقصود ہوان دونوں میں ذاتا خواہ عارضا احکام نہ گانہ ۱فرض۲واجب۳سنت
خیرالامال فی حکم الکسب والسوال ۱۳۱۸ھ
(کمانے اور مانگنے کے حکم میں بہترین امید)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۲۹۷:ازملك بنگالہ ضلع پاپنا ڈاکخانہ سوبگاچہ موضع چر قاضی پور مرسلہ مولوی امید علی صاحب ۲۷/جمادی الآخرہ ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روپیہ کمانا کس وقت فرض ہےکس وقت مستحبکس وقت مکروہکس وقت حراماور سوال کرناکب جائزہے کب ناجائز بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ مسئلہ بہت طویل الذیل ہے جس کی تفصیل کو دفتر درکاریہاں اس کے بعض صور وضوابطپراقتصار۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ تعالی کی توفیق کے ساتھ کہتاہوں۔ت)کسب کے لئے ایك مبدء ہے یعنی وہ ذریعہ جس سے مال حاصل کیاجائےاور ایك غایت یعنی وہ غرض کہ تحصیل مال سے مقصود ہوان دونوں میں ذاتا خواہ عارضا احکام نہ گانہ ۱فرض۲واجب۳سنت
۴مستحب۵مباح۶مکروہ تنزیہی۷اساءت۸مکروہ تحریمی۹حرام سب جاری ہیںاور دونوں کے اعتبار سے کسب پر احکام مختلفہ طاری ہیںنفس کسب بے لحاظ مبادی وغایات کوئی حکم خاص نہیں رکھتا۔
ذرائع میں حرام:جیسے غصب ورشوت وسرقہ وربایوہیں زنا وغنا وحکم خلاف ماانزل اﷲ وغیرہ امور محرمہ کی اجرتتلاوت قرآن ووعظ وتذکیر ومیلاد خوانی وغیرہا عبادات بیچ کر اسی طرح جملہ عقود باطلہ وفاسدہ قطعیہ۔
مکروہ تحریمی:جیسے اذان جمعہ کے وقت تجارت۔
فی الدر المختار کرہ تحریما مع صحۃ البیع عند الاذان الاول ۔قلت وعبر فی الھدایۃ بالحرمۃ واعترضہ الاتقانی بان البیع جائزلکنہ یکرہ کما صرح بہ فی شرح الطحطاوی لان المنع لغیرہ لایعدم المشروعیۃ واشار فی الدر الی جوابہ بقولہ افاد فی البحر صحۃ اطلاق الحرمۃ علی المکروہ تحریما اھ وانا اقول:الصحۃ اذا لم تناف المنع لغیرہ لم تناف الحرمۃ ایضا کذلك فان المنع ولو لغیرہ لیشمل المنع ظنا فیکرہ وقطعا فیحرم ولاشك ان النھی ھھنا قطعی فلاادری ما احوجھم الی تأویل الحرمۃ بالکراھۃ۔ درمختار میں ہے جمعہ کی پہلی اذان کے وقت بیع اگرچہ صحیح ہے لیکن مکروہ تحریمہ ہےمیں کہتاہوں اس کراہت کو ہدایہ میں حرمت سے تعبیر کیا ہے اور اس پر اتقانی نے اعتراض کیاکہ بیع صحیح لیکن مکروہ ہے جیسا کہ شرح طحطاوی میں یہ تصریح ہےاس لئے کہ منع لغیرہ مشروعیت کو ختم نہیں کرتی اور درمختار میں اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ کیاہے کہ بحرالرائق نے افادہ کیا ہے کہ مکروہ تحریمہ پرحرمت کا اطلاق صحیح ہےاھاقول:(میں کہتاہوں کہ)جس طرح صحت منع لغیرہ کے منافی نہیں اسی طرح وہ حرمت کے منافی بھی نہیں ہے کیونکہ منع اگرچہ لغیرہ ہو وہ منع ظنی اور قطعی دونوں کو شامل ہے منع ظنی ہو تو مکروہ ہے اگر قطعی ہو تو حرام ہے اور بیشك یہاں نہی قطعی ہے تو مجھے معلوم نہیں کہ حرمت کو کراہت سے ان کو تاویل کی کیاحاجت ہوئی۔(ت)
اسی طرح دوسرامسلمان جب ایك چیز خریدرہا ہو اور قیمت فیصل ہوگئی ہو اور گفتگو ہنوز
ذرائع میں حرام:جیسے غصب ورشوت وسرقہ وربایوہیں زنا وغنا وحکم خلاف ماانزل اﷲ وغیرہ امور محرمہ کی اجرتتلاوت قرآن ووعظ وتذکیر ومیلاد خوانی وغیرہا عبادات بیچ کر اسی طرح جملہ عقود باطلہ وفاسدہ قطعیہ۔
مکروہ تحریمی:جیسے اذان جمعہ کے وقت تجارت۔
فی الدر المختار کرہ تحریما مع صحۃ البیع عند الاذان الاول ۔قلت وعبر فی الھدایۃ بالحرمۃ واعترضہ الاتقانی بان البیع جائزلکنہ یکرہ کما صرح بہ فی شرح الطحطاوی لان المنع لغیرہ لایعدم المشروعیۃ واشار فی الدر الی جوابہ بقولہ افاد فی البحر صحۃ اطلاق الحرمۃ علی المکروہ تحریما اھ وانا اقول:الصحۃ اذا لم تناف المنع لغیرہ لم تناف الحرمۃ ایضا کذلك فان المنع ولو لغیرہ لیشمل المنع ظنا فیکرہ وقطعا فیحرم ولاشك ان النھی ھھنا قطعی فلاادری ما احوجھم الی تأویل الحرمۃ بالکراھۃ۔ درمختار میں ہے جمعہ کی پہلی اذان کے وقت بیع اگرچہ صحیح ہے لیکن مکروہ تحریمہ ہےمیں کہتاہوں اس کراہت کو ہدایہ میں حرمت سے تعبیر کیا ہے اور اس پر اتقانی نے اعتراض کیاکہ بیع صحیح لیکن مکروہ ہے جیسا کہ شرح طحطاوی میں یہ تصریح ہےاس لئے کہ منع لغیرہ مشروعیت کو ختم نہیں کرتی اور درمختار میں اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ کیاہے کہ بحرالرائق نے افادہ کیا ہے کہ مکروہ تحریمہ پرحرمت کا اطلاق صحیح ہےاھاقول:(میں کہتاہوں کہ)جس طرح صحت منع لغیرہ کے منافی نہیں اسی طرح وہ حرمت کے منافی بھی نہیں ہے کیونکہ منع اگرچہ لغیرہ ہو وہ منع ظنی اور قطعی دونوں کو شامل ہے منع ظنی ہو تو مکروہ ہے اگر قطعی ہو تو حرام ہے اور بیشك یہاں نہی قطعی ہے تو مجھے معلوم نہیں کہ حرمت کو کراہت سے ان کو تاویل کی کیاحاجت ہوئی۔(ت)
اسی طرح دوسرامسلمان جب ایك چیز خریدرہا ہو اور قیمت فیصل ہوگئی ہو اور گفتگو ہنوز
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۰
الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۳
الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۳
قطع نہ ہوئی ایسی حالت میں قیمت بڑھا کر خواہ کسی طور پر خود خرید لینا
فی الدرکرہ تحریما السوم علی سوم غیرہ ولو ذمیا اومستامنا بعد الاتفاق علی مبلغ الثمن والا لا لانہ بیع من یزید اھ مختصرا۔ درمختار میں ہے کہ کسی کے بھاؤ پر بھاؤ لگانا مکروہ تحریمی ہےاگرچہ پہلے بھاؤ والا ذمی ہو یامستامن ہو جبکہ مبلغ ثمن پر اتفاق ہوچکاہو ورنہ ثمن پر اتفاق کے بغیر دوسرے کا بھاؤ لگانا مکروہ نہیں کیونکہ اس صورت میں نیلامی والی بیع ہوجائے گی اھ مختصرا(ت)
یونہی تلقی جلب وبیع الحاضر للبادی وتفریق الصغیر من محرمہ وغیرہا کہ مع قیود وشروط کتب فقہ میں مفصل ہیں اسی قسم میں ہے یانیچری وضع کے کپڑے یاجوتے سینا یا ان اشیاء خواہ تانبے پیتل کے زیوروں وغیرہا کا بیچنا اور جملہ عقود ومکاسب ممنوعہ فضیہ۔
فی ردالمحتار من الحظر عن المحیط بیع المکعب المفضض للرجل ان یلبسہ یکرہ لانہ اعانۃ علی لبس الحرام وان کان اسکافا امرہ انسان ان یتخذ لہ خفا علی زی المجوس او الفسقۃ او خیاطا امرہ ان یتخذ لہ ثوبا علی زی الفساق یکرہ لہ ان یفعل لانہ سبب التشبہ بالمجوس و الفسقۃ ۔ ردالمحتار میں محیط کی کتاب الحظر سے منقول ہے کہ چاندی کے جڑاؤ والا جوتا مرد کو پہننے کے لئے فروخت کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ حرام لباس میں اعانت ہےاور موچی کو اگر کوئی کہے میرے لئے مجوس یافساق کی وضع والا جوتابنادےیا درزی سے کہے کہ فساق والا لباس بنادے تو ان کو ایساکرنامکروہ ہے کیونکہ یہ مجوس اور فساق کی مشابہت کاسبب ہوگا۔(ت)
اساء ت:یعنی وہ کام جسے نہ مکروہ تنزیہی کی طرح صرف خلاف اولی کہاجائے جس پر ملامت بھی نہیںنہ تحریمی کی طرح گناہ و ناجائز جس پر استحقاق عذاب ہےبلکہ یوں کہاجائے کہ برا کیا قابل ملامت ہوا جس کا حاصل مکروہ تنزیہی سے بڑھ کر ہے اور تحریمی سے کمتر۔
کما جنح الیہ العلامۃ الشامی جیسا کہ علامہ شامی کا اس طرف میلان ہے
فی الدرکرہ تحریما السوم علی سوم غیرہ ولو ذمیا اومستامنا بعد الاتفاق علی مبلغ الثمن والا لا لانہ بیع من یزید اھ مختصرا۔ درمختار میں ہے کہ کسی کے بھاؤ پر بھاؤ لگانا مکروہ تحریمی ہےاگرچہ پہلے بھاؤ والا ذمی ہو یامستامن ہو جبکہ مبلغ ثمن پر اتفاق ہوچکاہو ورنہ ثمن پر اتفاق کے بغیر دوسرے کا بھاؤ لگانا مکروہ نہیں کیونکہ اس صورت میں نیلامی والی بیع ہوجائے گی اھ مختصرا(ت)
یونہی تلقی جلب وبیع الحاضر للبادی وتفریق الصغیر من محرمہ وغیرہا کہ مع قیود وشروط کتب فقہ میں مفصل ہیں اسی قسم میں ہے یانیچری وضع کے کپڑے یاجوتے سینا یا ان اشیاء خواہ تانبے پیتل کے زیوروں وغیرہا کا بیچنا اور جملہ عقود ومکاسب ممنوعہ فضیہ۔
فی ردالمحتار من الحظر عن المحیط بیع المکعب المفضض للرجل ان یلبسہ یکرہ لانہ اعانۃ علی لبس الحرام وان کان اسکافا امرہ انسان ان یتخذ لہ خفا علی زی المجوس او الفسقۃ او خیاطا امرہ ان یتخذ لہ ثوبا علی زی الفساق یکرہ لہ ان یفعل لانہ سبب التشبہ بالمجوس و الفسقۃ ۔ ردالمحتار میں محیط کی کتاب الحظر سے منقول ہے کہ چاندی کے جڑاؤ والا جوتا مرد کو پہننے کے لئے فروخت کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ حرام لباس میں اعانت ہےاور موچی کو اگر کوئی کہے میرے لئے مجوس یافساق کی وضع والا جوتابنادےیا درزی سے کہے کہ فساق والا لباس بنادے تو ان کو ایساکرنامکروہ ہے کیونکہ یہ مجوس اور فساق کی مشابہت کاسبب ہوگا۔(ت)
اساء ت:یعنی وہ کام جسے نہ مکروہ تنزیہی کی طرح صرف خلاف اولی کہاجائے جس پر ملامت بھی نہیںنہ تحریمی کی طرح گناہ و ناجائز جس پر استحقاق عذاب ہےبلکہ یوں کہاجائے کہ برا کیا قابل ملامت ہوا جس کا حاصل مکروہ تنزیہی سے بڑھ کر ہے اور تحریمی سے کمتر۔
کما جنح الیہ العلامۃ الشامی جیسا کہ علامہ شامی کا اس طرف میلان ہے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۰
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۱
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۱
فی ردالمحتار اقول:ولابد منہ فان کل مرتبۃ للطلب فی جانب الفعل فان بازائھا مرتبۃ فی جانب الترك فالتحریم فی مقابلۃ الفرض فی الرتبۃ وکراھۃ التحریم فی رتبۃ الواجبوالتنزیہ فی رتبۃ المندوبکما فی ردالمحتار من بحث اوقات الصلوۃ و قد بقیت السنۃوھی فوق المندوب ودون الواجب فوجب ان یقابلھا ماھو فوق کراھۃ التنزیہ دون التحریم وھو الاسائۃ وقد نصوا علیھا فی غیر مافرع وان اغفلھا کثیرون فی ذکرالاقسام فلیحفظ قال فی الدر ترك السنۃ لایوجب فسادا ولاسھوا بل اساءۃ لو عامدا غیرمستحب الخ وفی ردالمحتار عن التحریر تارکھا ای السنۃ لیستوجبہ اساءۃ ای التضلیل واللوم ۔ ردالمحتار میںاقول:(میں کہتا ہوں)یہ ضروری ہے کیونکہ فعل میں طلب کا جو مرتبہ ہے اس کے مقابلہ میں ترك کا مرتبہ ہےتحریم کا رتبہ بمقابلہ فرض اور مکروہ تحریمی کا بمقابلہ واجب اور مکروہ تنزیہہ بمقابلہ مندوب ہے جیسا کہ ردالمحتار میں نماز کے اوقات کی بحث میں ہے جبکہ سنت کا رتبہ باقی ہے اور وہ مندوب سے فائق اور واجب سے پست ہے تو ضروری ہے کہ اس کے مقابلہ میں حکم مکروہ تنزیہہ سے فائق اور مکروہ تحریمہ سے کم ہو اور یہ مرتبہ اساءت ہے فقہاء نے اس بحث پر کئی فروعات میں نص فرمائی ہے اگرچہ حکم کے اقسام سے بہت سے لوگوں سے غفلت ہوئی ہے اس کو محفوظ کرودرمختار میں فرمایا سنت کے ترك سے فساد کا حکم نہ ہوگا اور نہ ہی سہو کابلکہ اساءت کاحکم ہوگا جب غیرمستحب کو قصدا کرے الخ۔ردالمحتار میں تحریر کے حوالہ سے ہے کہ سنت کا تارك اساءت یعنی ملامت وتضلیل کامستحق ہوگا۔(ت)
مثلا اپنے سے اعلم کے ہوتے ہوئے عہدہ قضاء کی نوکری جبکہ وہ اس پرراضی ہو
وھو فی الدرالمختار لوقدموا غیرالاولی اساؤ ابلا اثم فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ اساء وااذترکوا السنۃ لکن لایاثمون لانھم درمختار میں ہے اگرلوگ غیراولی شخص کو امام بنائیں تو اساءت کے مستحق ہوں گے گنہگار نہ ہوں گے۔ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے منقول ہے اساءت والے ہوں گے جب وہ سنت کو ترك کریں گنہگار
مثلا اپنے سے اعلم کے ہوتے ہوئے عہدہ قضاء کی نوکری جبکہ وہ اس پرراضی ہو
وھو فی الدرالمختار لوقدموا غیرالاولی اساؤ ابلا اثم فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ اساء وااذترکوا السنۃ لکن لایاثمون لانھم درمختار میں ہے اگرلوگ غیراولی شخص کو امام بنائیں تو اساءت کے مستحق ہوں گے گنہگار نہ ہوں گے۔ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے منقول ہے اساءت والے ہوں گے جب وہ سنت کو ترك کریں گنہگار
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب صفۃ الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۷۳
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب صفۃ الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۱۹
الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۳
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب صفۃ الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۱۹
الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۳
قدموا رجلا صالحا وکذا الحکم فی الامارۃ والحکومۃ اما الخلافۃ وھی الامامۃ الکبری فلایجوز ان یترکوا الافضل وعلیہ اجماع الامۃ ۔ نہ ہوں گے کیونکہ انہوں نے صالح شخص کو امام بنایا ہے اگرچہ غیراولی ہےاور یہی حکم امارت اور حکومت کا ہے لیکن خلافت میں جوامامت کبری ہے یہ جائز نہیں کہ وہ افضل کوترك کریں اور اس پر اجماع امت ہے(ت)
اقول:یوہیں ظہرومغرب وعشاء کے فرض پڑھ کر سنتوں سے پہلے بیع وشراء اور ظاہرا طلوع فجر کے بعد نمازصبح سے پہلے خریدوفروخت بھی اسی قبیل سے ہے جبکہ ضرورت داعی نہ ہو یوہیں ہر وہ کسب کہ خلاف سنت یا اس کا شغل ترك سنت کی طرف مؤدی ہو۔
مکروہ تنزیہی:جیسے بیع عینیہ جبکہ مبیع بائع کے پاس عود نہ کرےمثلا جو قرض مانگنے آیا اسے روپیہ نہ دیابلکہ دس کی چیز پندرہ کو اس کے ہاتھ بیچی کہ اس نے دس کو بازار میں بیچ لی
فی الدر المختار شراء الشیئ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض یجوز ویکرہ واقرہ المصنف فی اخر الکفالۃ بیع العینۃ ای بیع العین بالربح نسئۃ لیبیعھا المستقرض باقل لیقضی دینہاخترعہ اکلۃ الربا وھو مکروہ مذموم شرعالمافیہ من الاعراض عن مبرۃ الاقراض وفی ردالمحتار عن الفتح ان فعلت صورۃ یعود الی البائع جمیع مااخرجہ اوبعضہ یکرہ تحریما فان لم یعد کما اذا باعہ المدیون فی السوق فلاکراھۃ بل خلاف الاولی اھ ملخصا۔ درمختار میں ہے سستی چیز کو قرض کی ضرورت پر مہنگے داموں خریدنا جائزہے اور مکروہ ہے اس کو مصنف نے ثابت رکھا ہے اور انہوں نے باب الکفالہ کے آخر میں بیع عینہ کے متعلق فرمایا یعنی عین چیز کو نفع کے ساتھ ادھار فروخت کرنا تاکہ قرض لینے والا اس کو کم قیمت پرفروخت کرکے حاجت پوری کرےیہ طریقہ سود خوروں نے ایجاد کیاہے اور یہ مکروہ اور شرعا مذموم ہے کیونکہ اس میں قرض دینے کی نیکی سے اعراض ہےاور ردالمحتار میں فتح القدیر سے منقول ہے کہ یہ ایسی صورت ہوکہ اس میں بائع کی طرف سے دی ہوئی چیز اس کو کل یا بعض واپس لوٹ آتی ہو اس لئے یہ مکروہ تحریمی ہے اور ایسا نہ ہو مثلا مقروض اس
اقول:یوہیں ظہرومغرب وعشاء کے فرض پڑھ کر سنتوں سے پہلے بیع وشراء اور ظاہرا طلوع فجر کے بعد نمازصبح سے پہلے خریدوفروخت بھی اسی قبیل سے ہے جبکہ ضرورت داعی نہ ہو یوہیں ہر وہ کسب کہ خلاف سنت یا اس کا شغل ترك سنت کی طرف مؤدی ہو۔
مکروہ تنزیہی:جیسے بیع عینیہ جبکہ مبیع بائع کے پاس عود نہ کرےمثلا جو قرض مانگنے آیا اسے روپیہ نہ دیابلکہ دس کی چیز پندرہ کو اس کے ہاتھ بیچی کہ اس نے دس کو بازار میں بیچ لی
فی الدر المختار شراء الشیئ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض یجوز ویکرہ واقرہ المصنف فی اخر الکفالۃ بیع العینۃ ای بیع العین بالربح نسئۃ لیبیعھا المستقرض باقل لیقضی دینہاخترعہ اکلۃ الربا وھو مکروہ مذموم شرعالمافیہ من الاعراض عن مبرۃ الاقراض وفی ردالمحتار عن الفتح ان فعلت صورۃ یعود الی البائع جمیع مااخرجہ اوبعضہ یکرہ تحریما فان لم یعد کما اذا باعہ المدیون فی السوق فلاکراھۃ بل خلاف الاولی اھ ملخصا۔ درمختار میں ہے سستی چیز کو قرض کی ضرورت پر مہنگے داموں خریدنا جائزہے اور مکروہ ہے اس کو مصنف نے ثابت رکھا ہے اور انہوں نے باب الکفالہ کے آخر میں بیع عینہ کے متعلق فرمایا یعنی عین چیز کو نفع کے ساتھ ادھار فروخت کرنا تاکہ قرض لینے والا اس کو کم قیمت پرفروخت کرکے حاجت پوری کرےیہ طریقہ سود خوروں نے ایجاد کیاہے اور یہ مکروہ اور شرعا مذموم ہے کیونکہ اس میں قرض دینے کی نیکی سے اعراض ہےاور ردالمحتار میں فتح القدیر سے منقول ہے کہ یہ ایسی صورت ہوکہ اس میں بائع کی طرف سے دی ہوئی چیز اس کو کل یا بعض واپس لوٹ آتی ہو اس لئے یہ مکروہ تحریمی ہے اور ایسا نہ ہو مثلا مقروض اس
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۷۵
الدرالمختار کتاب البیوع فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۰
الدرالمختار کتاب الکفالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۶
ردالمحتار کتاب الکفالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۷۹
الدرالمختار کتاب البیوع فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۰
الدرالمختار کتاب الکفالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۶
ردالمحتار کتاب الکفالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۷۹
چیز کو بازار میں فروخت کرے تومکروہ نہیں بلکہ خلاف اولی ہےاھ ملخصا۔ (ت)
مباح:جیسے بن کی لکڑیجنگل کے شکاردریا کی مچھلیاں۔
مستحب:جیسے خدمتاولیاء وعلماء کی نوکری۔
وقدکان انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ یخدم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی شبع بطنہ ۔ حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ صرف شکم سیری کے عوض حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت کرتے تھے۔(ت)
یونہی ہروقت کسب جس میں امورخیر پراعانت ہو اگرچہ خیر صرف تقلیل شروخیر ہو مثلا گھات یاچنگی یابندوبست کی نوکری اس نیت سے کہ بندگان خدا کارکنوں کے جبروتعدی وظلم وزیادہ ستائی سے بچیں:
فی کفالۃ الدرالنوائب ولوبغیرحق کجبایات زماننا قالوا من قام بتوزیعھا بالعدل اجر اھ ملخصاوفی شہادات ردالمحتار قدمنا عن البزدوی ان القائم بتوزیع ھذہ النوائب السلطانیۃ والجبایات بالعدل بین المسلمین ماجور وان کان اصلہ ظلما الخ قلت وکذلك نص علیہ فی کفایۃ الھدایۃ وغیرھا۔ درمختار کے باب کفالہ میں ہے کہ ٹیکس اگرچہ ناحق ہوں ان کو فروخت کرنا جیسا کہ ہمارے زمانہ میں ہوتا ہے فقہأ کہتے ہیں جو شخص مزدوری پر یہ سرکاری وصولیاں کرے گا اس کو اتنا عوض دیاجائے گااھ ملخصاردالمحتار کے باب الشہادات میں ہے کہ بزدوی سے منقول گزرا ہے سرکاری وصولیاں عدل کے ساتھ اجرت پروصول کرنے پر ثواب ہوگا اگرچہ یہ اصل میں ظلم ہوں الخ۔میں کہتاہوں اسی طرح کفایۃ الہدایہ میں ہے۔(ت)
سنت:جیسے احباب کاہدیہ قبول کرنا اور عوض دینا
احمد والبخاری وابوداؤد والترمذی عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھا ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ احمدبخاریابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام
مباح:جیسے بن کی لکڑیجنگل کے شکاردریا کی مچھلیاں۔
مستحب:جیسے خدمتاولیاء وعلماء کی نوکری۔
وقدکان انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ یخدم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی شبع بطنہ ۔ حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ صرف شکم سیری کے عوض حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت کرتے تھے۔(ت)
یونہی ہروقت کسب جس میں امورخیر پراعانت ہو اگرچہ خیر صرف تقلیل شروخیر ہو مثلا گھات یاچنگی یابندوبست کی نوکری اس نیت سے کہ بندگان خدا کارکنوں کے جبروتعدی وظلم وزیادہ ستائی سے بچیں:
فی کفالۃ الدرالنوائب ولوبغیرحق کجبایات زماننا قالوا من قام بتوزیعھا بالعدل اجر اھ ملخصاوفی شہادات ردالمحتار قدمنا عن البزدوی ان القائم بتوزیع ھذہ النوائب السلطانیۃ والجبایات بالعدل بین المسلمین ماجور وان کان اصلہ ظلما الخ قلت وکذلك نص علیہ فی کفایۃ الھدایۃ وغیرھا۔ درمختار کے باب کفالہ میں ہے کہ ٹیکس اگرچہ ناحق ہوں ان کو فروخت کرنا جیسا کہ ہمارے زمانہ میں ہوتا ہے فقہأ کہتے ہیں جو شخص مزدوری پر یہ سرکاری وصولیاں کرے گا اس کو اتنا عوض دیاجائے گااھ ملخصاردالمحتار کے باب الشہادات میں ہے کہ بزدوی سے منقول گزرا ہے سرکاری وصولیاں عدل کے ساتھ اجرت پروصول کرنے پر ثواب ہوگا اگرچہ یہ اصل میں ظلم ہوں الخ۔میں کہتاہوں اسی طرح کفایۃ الہدایہ میں ہے۔(ت)
سنت:جیسے احباب کاہدیہ قبول کرنا اور عوض دینا
احمد والبخاری وابوداؤد والترمذی عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھا ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ احمدبخاریابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام
حوالہ / References
کنزالعمال حدیث ۳۶۸۳۸ و ۳۶۸۳۹ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/ ۲۸۸
الدرالمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۶
ردالمحتار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۷۸
الدرالمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۶
ردالمحتار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۷۸
وسلم کان یقبل الہدیۃ ویثیب علیھا ۔ ہدیہ وصول کرتے اور اس پر بدل عطافرماتے۔(ت)
اور افضل واعلی کسب مسنون سلطان اسلام کے زیرنشان جہاد شرعی ہے
احمد وابویعلی والطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال بعثت بین یدی الساعۃ بالسیف حتی یعبدوا اﷲ تعالی وحدہ لاشریك لہ وجعل رزقی تحت ظل رمحی الحدیث واخرج ابن عدی عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الزموا الجہاد وتصحوا وتستغنوا ۔الشیرازی فی الالقاب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الطیب کسب المسلم سھمہ فی سبیل اﷲ قال المناوی فی التیسیر لان ما حصل بسبب الحرص علی نصرۃ دین اﷲ تعالی لا شیئ اطیب منہ فھو افضل من البیع وغیرہ مما مر لانہ کسب المصطفی وحرفتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔و احمدابویعلی اور طبرانی کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مجھے قیامت سے آگے تلوار دے کر بھیجاگیا تاکہ لوگ اﷲ کی عبادت کریںاور میرارزق نیزوں کے سائے میں ہے الحدیث۔ ابن عدی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے تخریج کی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:جہاد لازما کرو تاکہ تم صحت مند اور غنی ہو جاؤ۔شیرازی نے القاب میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے تخریج کی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مسلمان کا پاك کسب اس کا فی سبیل اﷲ تیر بنانا ہے۔امام مناوی نے تیسیر میں فرمایا:یہ اس لئے کہ جو چیز اﷲ تعالی کے دین میں حرص کے طور ہو اس سے بڑھ کر کوئی چیز اطیب نہیں ہے لہذا یہ عمل تجارت وغیرہ سے افضل ہے کیونکہ یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا کسب وعمل ہےاھ۔اور
اور افضل واعلی کسب مسنون سلطان اسلام کے زیرنشان جہاد شرعی ہے
احمد وابویعلی والطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال بعثت بین یدی الساعۃ بالسیف حتی یعبدوا اﷲ تعالی وحدہ لاشریك لہ وجعل رزقی تحت ظل رمحی الحدیث واخرج ابن عدی عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الزموا الجہاد وتصحوا وتستغنوا ۔الشیرازی فی الالقاب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الطیب کسب المسلم سھمہ فی سبیل اﷲ قال المناوی فی التیسیر لان ما حصل بسبب الحرص علی نصرۃ دین اﷲ تعالی لا شیئ اطیب منہ فھو افضل من البیع وغیرہ مما مر لانہ کسب المصطفی وحرفتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔و احمدابویعلی اور طبرانی کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مجھے قیامت سے آگے تلوار دے کر بھیجاگیا تاکہ لوگ اﷲ کی عبادت کریںاور میرارزق نیزوں کے سائے میں ہے الحدیث۔ ابن عدی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے تخریج کی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:جہاد لازما کرو تاکہ تم صحت مند اور غنی ہو جاؤ۔شیرازی نے القاب میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے تخریج کی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا مسلمان کا پاك کسب اس کا فی سبیل اﷲ تیر بنانا ہے۔امام مناوی نے تیسیر میں فرمایا:یہ اس لئے کہ جو چیز اﷲ تعالی کے دین میں حرص کے طور ہو اس سے بڑھ کر کوئی چیز اطیب نہیں ہے لہذا یہ عمل تجارت وغیرہ سے افضل ہے کیونکہ یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا کسب وعمل ہےاھ۔اور
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب فی قبول الہدایا آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۴۲
مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲/۹۲
الکامل لابن عدی ترجمہ بشربن آدم بصری دارالفکر بیروت ۲/ ۴۴۹
الجامع الصغیر بحوالہ الشیرازی فی الالقاب عن ابن عباس حدیث ۱۱۲۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۷۳
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث اطیب کسب المسلم الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۱۶۶
مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲/۹۲
الکامل لابن عدی ترجمہ بشربن آدم بصری دارالفکر بیروت ۲/ ۴۴۹
الجامع الصغیر بحوالہ الشیرازی فی الالقاب عن ابن عباس حدیث ۱۱۲۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۷۳
التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث اطیب کسب المسلم الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۱۶۶
فی صید ردالمحتار عن الملتقی ومواھب الرحمن فی تفاضل انواع الکسب"افضلہ الجھاد ثم التجارۃ ثم الحراثۃ ثم الصناعۃ" ۔ ردالمحتار کے باب الصید میں ملتقی اور مواہب الرحمن سے منقول ہے کہ کسب کے اقسام میں فضیلت والا عمل جہاد ہے پھر تجارتپھر کاشتکاریپھر صنعت کاری۔(ت)
واجب:جیسے قبول عطیہ والدین جبکہ نہ لینے میں ان کی ایذا مظنون ہو اور اگر تیقن ہو تو فرض ہوگا کہ ایذائے والدین حرام قطعی ہے اور حرام سے بچنا فرض قطعیاسی طرح عہدہ قضاء کا قبول فرض ہے جبکہ اس کے سوا اور کوئی اہل نہ ہو
فی الدرالمختار کرہ تحریما التقلد ای اخذ القضاء لمن خاف الحیف ای الظلم او العجز وان تعین لہ او امنہ لایکرہفتحثم ان انحصر فرض عینا والا کفایۃبحر والتقلد رخصۃ ای مباح والترك عزیمۃ عندالعامۃبزازیۃ فالاولی عدمہ و یحرم علی غیر الاھل الدخول فیہ قطعا من غیرتردد فی الحرمۃ ففیہ الاحکام الخمسۃ ۔ درمختار میں ہے کہ جوشخص قضاء میں ظلم یاعجز کا خطرہ رکھتا ہو اس کو قضاء کا عہدہ قبول کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر وہی متعین ہو یاکمزوری کا خطرہ و خوف نہ رکھتا ہو تو مکروہ نہ ہوگا فتح۔پھر اگر یہ عہدہ اسی پرموقوف ہے توقبول کرنا فرض عین ہے ورنہ فرض کفایہ ہےبحر۔اور قضاء کو قبول کرنا رخصت ہے یعنی مباح ہے اور ترك عزیمت ہے عام فقہاء کے نزدیکبزازیہتواولی یہ ہے کہ نہ قبول کرے اور غیراہل کے لئے حرام ہے قطعا بلاترددتو اس میں پانچ حکم ہیں۔(ت)
غایات میں فرض:جیسے خوردونوش وپوشش بقدر سد رمق وستر عورت بلکہ اتنا کھانا جس سے نماز فرض کھڑے ہوکر ہوسکے اور رمضان میں روزے پرقدرت ملے۔
فی الدر الاکل فرض مقدار مایدفع الھلاك ویتمکن بہ من الصلوۃ قائما و صومہ اھ ملخصا۔ درمختار میں ہے ہلاکت سے بچنے کی مقدار کھانافرض ہے اتنا کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکے اور روزہ رکھ سکےاھملخصا(ت)
واجب:جیسے قبول عطیہ والدین جبکہ نہ لینے میں ان کی ایذا مظنون ہو اور اگر تیقن ہو تو فرض ہوگا کہ ایذائے والدین حرام قطعی ہے اور حرام سے بچنا فرض قطعیاسی طرح عہدہ قضاء کا قبول فرض ہے جبکہ اس کے سوا اور کوئی اہل نہ ہو
فی الدرالمختار کرہ تحریما التقلد ای اخذ القضاء لمن خاف الحیف ای الظلم او العجز وان تعین لہ او امنہ لایکرہفتحثم ان انحصر فرض عینا والا کفایۃبحر والتقلد رخصۃ ای مباح والترك عزیمۃ عندالعامۃبزازیۃ فالاولی عدمہ و یحرم علی غیر الاھل الدخول فیہ قطعا من غیرتردد فی الحرمۃ ففیہ الاحکام الخمسۃ ۔ درمختار میں ہے کہ جوشخص قضاء میں ظلم یاعجز کا خطرہ رکھتا ہو اس کو قضاء کا عہدہ قبول کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر وہی متعین ہو یاکمزوری کا خطرہ و خوف نہ رکھتا ہو تو مکروہ نہ ہوگا فتح۔پھر اگر یہ عہدہ اسی پرموقوف ہے توقبول کرنا فرض عین ہے ورنہ فرض کفایہ ہےبحر۔اور قضاء کو قبول کرنا رخصت ہے یعنی مباح ہے اور ترك عزیمت ہے عام فقہاء کے نزدیکبزازیہتواولی یہ ہے کہ نہ قبول کرے اور غیراہل کے لئے حرام ہے قطعا بلاترددتو اس میں پانچ حکم ہیں۔(ت)
غایات میں فرض:جیسے خوردونوش وپوشش بقدر سد رمق وستر عورت بلکہ اتنا کھانا جس سے نماز فرض کھڑے ہوکر ہوسکے اور رمضان میں روزے پرقدرت ملے۔
فی الدر الاکل فرض مقدار مایدفع الھلاك ویتمکن بہ من الصلوۃ قائما و صومہ اھ ملخصا۔ درمختار میں ہے ہلاکت سے بچنے کی مقدار کھانافرض ہے اتنا کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکے اور روزہ رکھ سکےاھملخصا(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۹۷
الدرالمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۳
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۶
الدرالمختار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۳
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۶
یوہیں کفایت اہل وعیال وادائے دیون ونفقات مفروضہ۔
فی خزانۃ المفتین الکسب فرض وھو بقدر الکفایۃ لنفسہ وعیالہ وقضاء دیونہ ونفقۃ من یجب علیہ نفقتہ ۔ خزانۃ المفتین میں ہے اپنے لئے بطور کفایتاپنی عیالقرض کی ادائیگی اور جن کا نفقہ ذمہ میں ہے اس مقدار کے لئے کسب فرض ہے(ت)
یوہیں حج فرض جبکہ بعد فرضیت مال نہ رہا
لان الذمۃ قد شغلت وابراؤھا عن الفرض فرض و مقدمۃ الفرض فرض۔ کیونکہ ذمہ میں بوجھ ہے اور فریضہ سے عہدہ برآہونا فرض ہے جبکہ فرض کا مقدمہ بھی فرض ہوتا ہے۔(ت)
زوجہ اگرچہ غنیہ ہو اس کا کفن دفن شوہر پرہےیوہی اقارب کاجبکہ مال نہ چھوڑیں بلکہ ہرمسلمان کا کفن دفن مسلمانوں پرفرض کفایہ ہے جب ایك شخص میں منحصرہوجائے فرض عین ہوجائے گا۔
فی التنویر کفن من لامال لہ علی من تجب علیہ نفقتہ واختلف فی الزوج والفتوی علی وجوب کفنھا علیہ وان ترکت مالا الخ وفی ردالمحتار الواجب علیہ تکفینھا وتجھیزھا الشرعیان من کفن السنۃ و الکفایۃ وحنوط واجرۃ غسل وحمل ودفن ۔ تنویر میں ہے جس کا کفن نہ ہو مال نہ ہونے کی وجہ سےتو جس پر اس کا نفقہ واجب ہے کفن بھی اس کے ذمہ ہے اور خاوند کے متعلق اختلاف ہے فتوی اس پرہے کہ بیوی کاکفن واجب ہے اگرچہ بیوی نے اپنا مال چھوڑا ہوالخ۔اور ردالمحتار میں ہے کہ خاوند پر بیوی کی تکفین وتجہیز شرعی شوہر پرواجب ہے جو کفن سنت یاکفن کفایہ ہو اور حنوطغسل کی مزدوری جنازہ لے جانے اور دفن کا خرچہ شوہر پرواجب ہے۔(ت)
واجب:جیسے اتنا کھانا کہ ادائے واجبات پرقادر ہو زوجہ کاحق جماع اداکرسکے۔
وھذا یعد مرۃ من واجبات الدیانۃ و ان لم یجبر علیہ قضاء کما فصلناہ فی الطلاق من فتاونا۔ یہ واجبات دیانت میں شمارہے اگرچہ قضاء اس پر جبر نہ ہوگا جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی کی طلاق کی بحث میں تفصیل ذکر کی ہے۔(ت)
فی خزانۃ المفتین الکسب فرض وھو بقدر الکفایۃ لنفسہ وعیالہ وقضاء دیونہ ونفقۃ من یجب علیہ نفقتہ ۔ خزانۃ المفتین میں ہے اپنے لئے بطور کفایتاپنی عیالقرض کی ادائیگی اور جن کا نفقہ ذمہ میں ہے اس مقدار کے لئے کسب فرض ہے(ت)
یوہیں حج فرض جبکہ بعد فرضیت مال نہ رہا
لان الذمۃ قد شغلت وابراؤھا عن الفرض فرض و مقدمۃ الفرض فرض۔ کیونکہ ذمہ میں بوجھ ہے اور فریضہ سے عہدہ برآہونا فرض ہے جبکہ فرض کا مقدمہ بھی فرض ہوتا ہے۔(ت)
زوجہ اگرچہ غنیہ ہو اس کا کفن دفن شوہر پرہےیوہی اقارب کاجبکہ مال نہ چھوڑیں بلکہ ہرمسلمان کا کفن دفن مسلمانوں پرفرض کفایہ ہے جب ایك شخص میں منحصرہوجائے فرض عین ہوجائے گا۔
فی التنویر کفن من لامال لہ علی من تجب علیہ نفقتہ واختلف فی الزوج والفتوی علی وجوب کفنھا علیہ وان ترکت مالا الخ وفی ردالمحتار الواجب علیہ تکفینھا وتجھیزھا الشرعیان من کفن السنۃ و الکفایۃ وحنوط واجرۃ غسل وحمل ودفن ۔ تنویر میں ہے جس کا کفن نہ ہو مال نہ ہونے کی وجہ سےتو جس پر اس کا نفقہ واجب ہے کفن بھی اس کے ذمہ ہے اور خاوند کے متعلق اختلاف ہے فتوی اس پرہے کہ بیوی کاکفن واجب ہے اگرچہ بیوی نے اپنا مال چھوڑا ہوالخ۔اور ردالمحتار میں ہے کہ خاوند پر بیوی کی تکفین وتجہیز شرعی شوہر پرواجب ہے جو کفن سنت یاکفن کفایہ ہو اور حنوطغسل کی مزدوری جنازہ لے جانے اور دفن کا خرچہ شوہر پرواجب ہے۔(ت)
واجب:جیسے اتنا کھانا کہ ادائے واجبات پرقادر ہو زوجہ کاحق جماع اداکرسکے۔
وھذا یعد مرۃ من واجبات الدیانۃ و ان لم یجبر علیہ قضاء کما فصلناہ فی الطلاق من فتاونا۔ یہ واجبات دیانت میں شمارہے اگرچہ قضاء اس پر جبر نہ ہوگا جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی کی طلاق کی بحث میں تفصیل ذکر کی ہے۔(ت)
حوالہ / References
خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ قلمی نسخہ ۲/ ۲۱۰
الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۱
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۸۱
الدرالمختار کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۱
ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۸۱
کپڑے میں اتنی زیادت کہ انتقالات نماز وغیرہ میں زانو نہ کھلیںیوہیں صدقہ فطر واضحیہ جبکہ بعد وجوب مال نہ رہاغرض ہرواجب جس کی تحصیل کومال درکار۔
سنت:جیسے نماز کے لئے عمامہ وجبہ و ردا وغیرہا لباس مسنون وتجمل عیدین وجمعہ وبنا وتوسیع و تطیب مساجد وصلہ رحم وہدیہ احباب ومواساءت مساکین وخبرگیری یتامی وبیوگان وخدمت مہمانان و امثال ذلك سنن مالیہ یوہیں عطرومشك وسرمہ وشانہ وآئینہ بصداتباع اور کھانے میں تہائی پیٹ کی مقدار تك پہنچنا۔
مستحب:جیسے بنائے سقایہ وسبیل وسراومدارس وپل وغیرہا۔
فی ردالمحتار عن تبیین المحارم عن بعض العلماء فی ذکرمراتب الاکل"مندوب وھو مایعینہ علی تحصیل النوافل وتعلیم العلم وتعلمہ" ۔ ردالمحتار میں تبیین المحارم کی نقل میں بعض علماء سے منقول ہے کہ کھانا کھانے کے مراتب کئی ہیں جن میں مندوب ومستحب وہ ہے جو نوافل اور تعلیم وتعلم کے لئے معاون بنے۔(ت)
بلکہ مہمان کے ساتھ پورا پیٹ بھر کرکھانابھی کہ وہ ہاتھ اٹھالینے سے شرماکر بھوکانہ رہےیوہیں عورت کی سیر خوری اس نیت سے کہ شوہرکے لئے حفظ جمال کرےکم خوری لاغری وشکست رنگ وحسن کی موجب نہ ہو۔
فی الدر عن الوھبانیۃ وللزوجۃ التسمین لافوق شبعھا اھ قال الشامی قال الطرسوسی فی الزوجۃ ینبغی ان یندب لھا ذلك وتکون ماجورۃقال الشارح ولا یعجبنی اطلاق اباحۃ ذلك فضلا عن ندبہ ولعل ذلك محمول علی مااذاکان الزوج یحب السمن والا ینبغی ان تکون درمختار میں وہبانیہ سے منقول ہے کہ بیوی کو فربہ بننا مندوب ہے جوکہ سیر ہوکر کھانے سے زائد نہ ہواھ علامہ شامی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ طرسوسی نے فرمایا ہے کہ بیوی میں یہ بات مستحب ہے اور وہ اجر پائے گی۔شارح نے فرمایا مجھے اس بات میں اباحت پسند نہیں چہ جائیکہ مستحب ہوہوسکتاہے کہ استحباب کامعاملہ اس صورت میں ہو جب خاوند فربہ پن کو پسند کرتاہوورنہ مناسب یہ ہے کہ بیوی معتدل
سنت:جیسے نماز کے لئے عمامہ وجبہ و ردا وغیرہا لباس مسنون وتجمل عیدین وجمعہ وبنا وتوسیع و تطیب مساجد وصلہ رحم وہدیہ احباب ومواساءت مساکین وخبرگیری یتامی وبیوگان وخدمت مہمانان و امثال ذلك سنن مالیہ یوہیں عطرومشك وسرمہ وشانہ وآئینہ بصداتباع اور کھانے میں تہائی پیٹ کی مقدار تك پہنچنا۔
مستحب:جیسے بنائے سقایہ وسبیل وسراومدارس وپل وغیرہا۔
فی ردالمحتار عن تبیین المحارم عن بعض العلماء فی ذکرمراتب الاکل"مندوب وھو مایعینہ علی تحصیل النوافل وتعلیم العلم وتعلمہ" ۔ ردالمحتار میں تبیین المحارم کی نقل میں بعض علماء سے منقول ہے کہ کھانا کھانے کے مراتب کئی ہیں جن میں مندوب ومستحب وہ ہے جو نوافل اور تعلیم وتعلم کے لئے معاون بنے۔(ت)
بلکہ مہمان کے ساتھ پورا پیٹ بھر کرکھانابھی کہ وہ ہاتھ اٹھالینے سے شرماکر بھوکانہ رہےیوہیں عورت کی سیر خوری اس نیت سے کہ شوہرکے لئے حفظ جمال کرےکم خوری لاغری وشکست رنگ وحسن کی موجب نہ ہو۔
فی الدر عن الوھبانیۃ وللزوجۃ التسمین لافوق شبعھا اھ قال الشامی قال الطرسوسی فی الزوجۃ ینبغی ان یندب لھا ذلك وتکون ماجورۃقال الشارح ولا یعجبنی اطلاق اباحۃ ذلك فضلا عن ندبہ ولعل ذلك محمول علی مااذاکان الزوج یحب السمن والا ینبغی ان تکون درمختار میں وہبانیہ سے منقول ہے کہ بیوی کو فربہ بننا مندوب ہے جوکہ سیر ہوکر کھانے سے زائد نہ ہواھ علامہ شامی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ طرسوسی نے فرمایا ہے کہ بیوی میں یہ بات مستحب ہے اور وہ اجر پائے گی۔شارح نے فرمایا مجھے اس بات میں اباحت پسند نہیں چہ جائیکہ مستحب ہوہوسکتاہے کہ استحباب کامعاملہ اس صورت میں ہو جب خاوند فربہ پن کو پسند کرتاہوورنہ مناسب یہ ہے کہ بیوی معتدل
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۱۵
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۴
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۴
موزورہ اھ اقول:فی ھذا الکلام فان الاکل الی الشبع حلال ونیۃ السمن غایتھا کراھۃ التنزیہ نعم عدم الاجر ظاھر ثم ھذا کلہ فی التسمین اما ماذکرت فواضح لاغبارعلیہ۔ ہو اھاقول:(میں کہتاہوں کہ)اس میں کلام ہے کیونکہ سیرہونے تك کھانا حلال ہے اور اس میں فربہ ہونے کی نیت زیادہ سے زیادہ مکروہ تنزیہہ ہےہاں اجرنہ ہونا ظاہر ہےپھر یہ بحث فربہ ہونے میں ہے لیکن میں نے جو ذکر کیا وہ واضح اور بے غبار ہے۔(ت)
مباح:جیسے زینت وآرائشلباس ومکان وزیور زناں۔
فی خزانۃ المفتین بعد مامرومباح و ھوالزیادۃ للزیادۃ والتجمل ۔ خزانۃ المفتین میں گزشتہ مضمون کے بعد ہے احکام انواع میں ایك نوع مباح ہے جیسے خوبصورتی اور جسم کو بڑھانے کے لئے عمدہ کھانا کھانا۔(ت)
جبکہ یہ سب امو رمنکرات ومقاصد مذمومہ سے خالی ہوں ورنہ مذموم ہیں اور مقاصد محمودہ کے ساتھ بھی خالی مباح نہ رہیں گے مستحب ہوجائیں گے۔
فان المباح اتبع شیئ للنیات کما ذکرہ فی البحر الرائق و رد المحتار وغیرھماوذلك لخلوہ فی نفسہ عن کل حکم فلایزاحم شیئا یطرأ علیہ من صواحبہ کنیۃ او تأدیۃ الی خیر اوشرکمالایخفی۔ مباح چیز نیت کے تابع ہوتی ہے جیسا کہ بحرالرائق اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے کیونکہ مباح ہرحکم سے خالی ہوتا ہے لہذا کسی بھی طاری ہونے والے حکم سے متعارض نہ ہوگا مثلا نیت سے خیر یاشر کسی کی نیت مراد ہوسکتاہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔(ت)
مکروہ تنزیہی:جیسے اپنے لئے انواع فواکہ سے تفکہ
فی الدر لابأس بانواع الفواکہ وترکہ افضل ۔ درمختار میں ہے مختلف انواع کے پھلوں میں کوئی حرج نہیں جبکہ ترك افضل ہے۔(ت)
اساءت:جیسے اتباع شہوت نفس ولذت طبع کے لئے ترفہ وتنعم بالحلال میں انہماك اسی نیت
مباح:جیسے زینت وآرائشلباس ومکان وزیور زناں۔
فی خزانۃ المفتین بعد مامرومباح و ھوالزیادۃ للزیادۃ والتجمل ۔ خزانۃ المفتین میں گزشتہ مضمون کے بعد ہے احکام انواع میں ایك نوع مباح ہے جیسے خوبصورتی اور جسم کو بڑھانے کے لئے عمدہ کھانا کھانا۔(ت)
جبکہ یہ سب امو رمنکرات ومقاصد مذمومہ سے خالی ہوں ورنہ مذموم ہیں اور مقاصد محمودہ کے ساتھ بھی خالی مباح نہ رہیں گے مستحب ہوجائیں گے۔
فان المباح اتبع شیئ للنیات کما ذکرہ فی البحر الرائق و رد المحتار وغیرھماوذلك لخلوہ فی نفسہ عن کل حکم فلایزاحم شیئا یطرأ علیہ من صواحبہ کنیۃ او تأدیۃ الی خیر اوشرکمالایخفی۔ مباح چیز نیت کے تابع ہوتی ہے جیسا کہ بحرالرائق اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے کیونکہ مباح ہرحکم سے خالی ہوتا ہے لہذا کسی بھی طاری ہونے والے حکم سے متعارض نہ ہوگا مثلا نیت سے خیر یاشر کسی کی نیت مراد ہوسکتاہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔(ت)
مکروہ تنزیہی:جیسے اپنے لئے انواع فواکہ سے تفکہ
فی الدر لابأس بانواع الفواکہ وترکہ افضل ۔ درمختار میں ہے مختلف انواع کے پھلوں میں کوئی حرج نہیں جبکہ ترك افضل ہے۔(ت)
اساءت:جیسے اتباع شہوت نفس ولذت طبع کے لئے ترفہ وتنعم بالحلال میں انہماك اسی نیت
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۵
خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ قلمی نسخہ ۲/ ۲۱۰
الدرالمختار کتاب الحظر والاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۶
خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ قلمی نسخہ ۲/ ۲۱۰
الدرالمختار کتاب الحظر والاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۶
سے عمدہ کھانےدونوں وقت سیر ہوکر کھاناباریك نفیس بیش بہا جامے پہنا کرناشبانہ روز عورتوں کی طرح کنگھی چوٹی میں گرفتار رہنا کہ یہ امور اگرچہ حدحریم وگناہ تك نہ پہنچیں خلاف سنت ضرور ہیں
ولاشك فی توجہ اللوم علیہ وان لم یستحق العقاب والاحادیث فی ذلك کثیرۃ شھیرۃ لانسردھا مخافۃ الاطناب اقول:وبہ علم ان ما جنحت الیہ اولی مما فی ردالمحتار عن شرح الملتقی فی انواع الکسوۃمباح وھوالثوب الجمیل للتزین فی الاعیاد والجمع مجامع الناس لا فی جمیع الاوقات لانہ صلف وخیلأ وربما یغیظ المحتاجین فالتحرز عنہ اولیومکروہ وھو اللبس للتکبر اھ وکذا ماذکر من محض الاباحۃ فی تجمل الجمع والاعیاد والمجامع محملہ ما اذا لم ینوالا التجمل اما اذا نوی الاتباع فسنۃ لاشك کما ذکرت وکذا الکراھۃ فی التکبر تحمل علی الحرمۃ فانہ حرام وکبیرۃ عظیمۃ قطعا۔ اس پر ملامت میں شك نہیں اگرچہ مستحق عقاب نہیں ہے اور اس میں کثیراحادیث مشہورہ وارد ہیںہم طوالت کی وجہ سے ذکر نہیں کرتےاقول:(میں کہتاہوں کہ)اس سے معلوم ہوا کہ میرا موقف بہتر ہے اس سے جس کو ردالمحتار نے شرح ملتقی سے نقل کیاہے کہ لباس کے اقسام مباح ہیں تو وہ عیدوںجمعہاور مجمع کے لیے مباح ہیںنہ کہ تمام اوقات میں ہروقت ایسا کرنا بے مقصدتکبروغروراور کبھی محتاج لوگوں کو چڑانا ہےلہذا اس سے بچنا بہترہےاور تکبر کے طور پر لباس پہننا مکروہ ہےاھ اور یوں جو انہوں نے عیدجمعہ وغیرہ میں اباحت کا ذکرکیاہے اس کا محمل بھی وہ ہے کہ تکبر کی بجائے صرف اپناجمال بنانا مقصود ہو مگر اس نے شریعت کی پیروی میں ایسا لباس پہنا تو سنت ہے تو مذکور میں شك نہیں اور یونہی تکبر کی صورت میں کراہت سے مراد تحریمی ہے کیونکہ تکبر حرام ہے اور عظیم کبیرہ گناہ ہے۔(ت)
مکروہ تحریمی: جسے محض تکاثر وتفاخر کے لئے جمع اموال۔
فی خزانۃ المفتین بعد مامرومکروہ وھو الجمع للتفاخر والتکاثر وان کان من حل ۔ خزانۃ المفتین میں مذکور بیان کے بعد فرمایا:انواع احکام میں ایك نوع مکروہ ہے جیسے اظہار کثرت وفخر کے لئے مال جمع کرنا اگرچہ حلال مال سے ہو۔(ت)
ولاشك فی توجہ اللوم علیہ وان لم یستحق العقاب والاحادیث فی ذلك کثیرۃ شھیرۃ لانسردھا مخافۃ الاطناب اقول:وبہ علم ان ما جنحت الیہ اولی مما فی ردالمحتار عن شرح الملتقی فی انواع الکسوۃمباح وھوالثوب الجمیل للتزین فی الاعیاد والجمع مجامع الناس لا فی جمیع الاوقات لانہ صلف وخیلأ وربما یغیظ المحتاجین فالتحرز عنہ اولیومکروہ وھو اللبس للتکبر اھ وکذا ماذکر من محض الاباحۃ فی تجمل الجمع والاعیاد والمجامع محملہ ما اذا لم ینوالا التجمل اما اذا نوی الاتباع فسنۃ لاشك کما ذکرت وکذا الکراھۃ فی التکبر تحمل علی الحرمۃ فانہ حرام وکبیرۃ عظیمۃ قطعا۔ اس پر ملامت میں شك نہیں اگرچہ مستحق عقاب نہیں ہے اور اس میں کثیراحادیث مشہورہ وارد ہیںہم طوالت کی وجہ سے ذکر نہیں کرتےاقول:(میں کہتاہوں کہ)اس سے معلوم ہوا کہ میرا موقف بہتر ہے اس سے جس کو ردالمحتار نے شرح ملتقی سے نقل کیاہے کہ لباس کے اقسام مباح ہیں تو وہ عیدوںجمعہاور مجمع کے لیے مباح ہیںنہ کہ تمام اوقات میں ہروقت ایسا کرنا بے مقصدتکبروغروراور کبھی محتاج لوگوں کو چڑانا ہےلہذا اس سے بچنا بہترہےاور تکبر کے طور پر لباس پہننا مکروہ ہےاھ اور یوں جو انہوں نے عیدجمعہ وغیرہ میں اباحت کا ذکرکیاہے اس کا محمل بھی وہ ہے کہ تکبر کی بجائے صرف اپناجمال بنانا مقصود ہو مگر اس نے شریعت کی پیروی میں ایسا لباس پہنا تو سنت ہے تو مذکور میں شك نہیں اور یونہی تکبر کی صورت میں کراہت سے مراد تحریمی ہے کیونکہ تکبر حرام ہے اور عظیم کبیرہ گناہ ہے۔(ت)
مکروہ تحریمی: جسے محض تکاثر وتفاخر کے لئے جمع اموال۔
فی خزانۃ المفتین بعد مامرومکروہ وھو الجمع للتفاخر والتکاثر وان کان من حل ۔ خزانۃ المفتین میں مذکور بیان کے بعد فرمایا:انواع احکام میں ایك نوع مکروہ ہے جیسے اظہار کثرت وفخر کے لئے مال جمع کرنا اگرچہ حلال مال سے ہو۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۲۳
خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ قلمی نسخہ ۲/ ۲۱۰
خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ قلمی نسخہ ۲/ ۲۱۰
یوہیں پیٹ سے زیادہ چند لقمے کھانا جن کا معدے میں بگڑجانا مظنون نہ ہو
فی الخانیۃ یکرہ الاکل فوق الشبع اھ اقول:وبھذا الحمل تندفع المخالفۃ بینہ وبین مایأتی عن الدر من نص التحریم۔ خانیہ میں ہے سیر ہوجانے کے بعد کھانا مکروہ ہےاھ اقول: (میں کہتاہوں)اس بیان سے درمختار میں آئندہ تحریم کی نص اور اس میں مخالفت ختم ہوگئی(ت)
مگرجبکہ روزے کی قوت مقصود ہو یا مہمان کا ساتھ دینا۔
فی التنویر مباح الی الشبع لتزید قوتہ وحرام وھو مافوقہ الا ان یقصد قوۃ صوم الغداولئلا یستحیی ضیفہ اھ اقول:والاستثناء اذا حمل علی ماذکرت صح قطعا ویکون قولہ حرام یشمل المکروہ فلا یکون منقطعا فافھم۔ تنویر میں ہے سیر ہونے تك کھانا مباح ہے جبکہ حصول قوت مقصد ہو اور اس سے زائد حرام ہےلیکن اگر صبح روزہ رکھنے یا مہمان کے حیاء کے احساس کی وجہ سے زائد کھائے تو حرام نہ ہوگااھ اقول:(میں کہتاہوں)آپ کے ذکر کردہ پر محمول کیا جائے تو استثناء قطعا صحیح ہے اور حرام سے مراد مکروہ تحریمہ ہو تو یہ استثناء منقطع نہ ہوگاغورکرو۔(ت)
یوہیں لباس شہرت پہننا یعنی اس قدر چمکیلا نادر ہو جس پر انگلیاں اٹھیں اور بالقصد اتنا ناقص و خسیس کرنا بھی ممنوع ہے جس پر نگاہیں پڑیں یونہی ہرانوکھی اچنبھے کی ہیأت وضع تراش خراش کہ وجہ انگشت نمائی ہو۔سنن ابی داؤد وسنن ابن ماجہ میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے بسند حسن مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لبس ثوب شھرۃ البسہ اﷲ یوم القیمۃ ثوبا مثلہ وعند ابن ماجۃ ثوب مذلۃ زاد ابوداؤد فی روایۃ ثم یلھب جس نے شہرت کا لباس پہنا اس کو اﷲ تعالی بھی ایسا ہی لباس پہنائے گااور ابن ماجہ میں"ذلت کا لباس"اور ابوداؤد کی ایك روایت میں
فی الخانیۃ یکرہ الاکل فوق الشبع اھ اقول:وبھذا الحمل تندفع المخالفۃ بینہ وبین مایأتی عن الدر من نص التحریم۔ خانیہ میں ہے سیر ہوجانے کے بعد کھانا مکروہ ہےاھ اقول: (میں کہتاہوں)اس بیان سے درمختار میں آئندہ تحریم کی نص اور اس میں مخالفت ختم ہوگئی(ت)
مگرجبکہ روزے کی قوت مقصود ہو یا مہمان کا ساتھ دینا۔
فی التنویر مباح الی الشبع لتزید قوتہ وحرام وھو مافوقہ الا ان یقصد قوۃ صوم الغداولئلا یستحیی ضیفہ اھ اقول:والاستثناء اذا حمل علی ماذکرت صح قطعا ویکون قولہ حرام یشمل المکروہ فلا یکون منقطعا فافھم۔ تنویر میں ہے سیر ہونے تك کھانا مباح ہے جبکہ حصول قوت مقصد ہو اور اس سے زائد حرام ہےلیکن اگر صبح روزہ رکھنے یا مہمان کے حیاء کے احساس کی وجہ سے زائد کھائے تو حرام نہ ہوگااھ اقول:(میں کہتاہوں)آپ کے ذکر کردہ پر محمول کیا جائے تو استثناء قطعا صحیح ہے اور حرام سے مراد مکروہ تحریمہ ہو تو یہ استثناء منقطع نہ ہوگاغورکرو۔(ت)
یوہیں لباس شہرت پہننا یعنی اس قدر چمکیلا نادر ہو جس پر انگلیاں اٹھیں اور بالقصد اتنا ناقص و خسیس کرنا بھی ممنوع ہے جس پر نگاہیں پڑیں یونہی ہرانوکھی اچنبھے کی ہیأت وضع تراش خراش کہ وجہ انگشت نمائی ہو۔سنن ابی داؤد وسنن ابن ماجہ میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے بسند حسن مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لبس ثوب شھرۃ البسہ اﷲ یوم القیمۃ ثوبا مثلہ وعند ابن ماجۃ ثوب مذلۃ زاد ابوداؤد فی روایۃ ثم یلھب جس نے شہرت کا لباس پہنا اس کو اﷲ تعالی بھی ایسا ہی لباس پہنائے گااور ابن ماجہ میں"ذلت کا لباس"اور ابوداؤد کی ایك روایت میں
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ ومایکرہ اکلہ الخ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۸۰
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ ومایکرہ اکلہ الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۶
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۲
سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب من لبس شہرۃ من الثیاب ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۶
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ ومایکرہ اکلہ الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۶
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۲
سنن ابن ماجہ کتاب اللباس باب من لبس شہرۃ من الثیاب ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۶
فیہ النار ۔ "پھرجہنم کی آگ میں جلایاجائے گا"کے الفاظ ہیں۔(ت)
جو شہرت کے کپڑے پہنے گا اﷲ تعالی اسے روزقیامت ویساہی لباس شہرت پہنائے گا جس سے عرصات محشرمیں معاذاﷲ ذلت وتفضیح ہو پھر اس میں آگ لگاکر بھڑکادی جائے گی والعیاذباﷲ تعالی۔
فی ردالمحتار عن الدر المنتقی نھی عن الشھر تین وھو ماکان فی نھایۃ النفاسۃ اوالخساسۃ اھ اقول: ولا یختص بھما بل لوکان بینھما و کان علی ھیأۃ عجیبۃ غریبۃ توجب الشھرۃ وشخوص الابصار کان لباس شھرۃ قطعا۔ ردالمحتار میں الدرالمنتقی سے منقول ہے کہ دو شہرتوں سے منع فرمایاایك حد سے زیادہ نفاست اور دوسری حد سے زیادہ رسوائی سےاھاقول:(میں کہتاہوں)ان دونوں سے خاص نہیں بلکہ عجیب وغریب حالت بنانا جو شہرت کا باعث ہو اور لوگوں کے لئے نظارہ بنے وہ قطعا سب شہرت کا لباس ہے۔(ت)
حرام:جیسے ریشمی کپڑےمغرق ٹوپیاںیوہیں پیٹ سے اوپر اتناکھانا جس کے بگڑجانے کا ظن ہو۔
فی الدر حرام فوق الشبع وھو اکل طعام غلب علی ظنہ انہ افسد معدتہ وکذا فی الشرب قھستانی ۔ درمختار میں ہے سیرابی سے زیادہ وہ کھانا حرام ہے جس کے متعلق ظن غالب ہو کہ وہ معدہ کو خراب کرے گااور یونہی پینے کا معاملہ ہےقہستانی۔(ت)
جب یہ صورتیں معلوم ہولیں اب احکام کسب کی طرف چلئےفاقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)ظاہر ہے کہ کسب یعنی تحصیل مال کو خواہ روپیہ ہو یا طعام یالباس یا کوئی شے سبب وغرض دونوں سے ناگزیر ہےاور احکام نہ گانہ ۹ میں پہلے چار جانب طلب ہیں جن میں فرض وواجب کی طلب جازم ہے اور سنت ومستحب کی غیرجازم اور پچھلے
جو شہرت کے کپڑے پہنے گا اﷲ تعالی اسے روزقیامت ویساہی لباس شہرت پہنائے گا جس سے عرصات محشرمیں معاذاﷲ ذلت وتفضیح ہو پھر اس میں آگ لگاکر بھڑکادی جائے گی والعیاذباﷲ تعالی۔
فی ردالمحتار عن الدر المنتقی نھی عن الشھر تین وھو ماکان فی نھایۃ النفاسۃ اوالخساسۃ اھ اقول: ولا یختص بھما بل لوکان بینھما و کان علی ھیأۃ عجیبۃ غریبۃ توجب الشھرۃ وشخوص الابصار کان لباس شھرۃ قطعا۔ ردالمحتار میں الدرالمنتقی سے منقول ہے کہ دو شہرتوں سے منع فرمایاایك حد سے زیادہ نفاست اور دوسری حد سے زیادہ رسوائی سےاھاقول:(میں کہتاہوں)ان دونوں سے خاص نہیں بلکہ عجیب وغریب حالت بنانا جو شہرت کا باعث ہو اور لوگوں کے لئے نظارہ بنے وہ قطعا سب شہرت کا لباس ہے۔(ت)
حرام:جیسے ریشمی کپڑےمغرق ٹوپیاںیوہیں پیٹ سے اوپر اتناکھانا جس کے بگڑجانے کا ظن ہو۔
فی الدر حرام فوق الشبع وھو اکل طعام غلب علی ظنہ انہ افسد معدتہ وکذا فی الشرب قھستانی ۔ درمختار میں ہے سیرابی سے زیادہ وہ کھانا حرام ہے جس کے متعلق ظن غالب ہو کہ وہ معدہ کو خراب کرے گااور یونہی پینے کا معاملہ ہےقہستانی۔(ت)
جب یہ صورتیں معلوم ہولیں اب احکام کسب کی طرف چلئےفاقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)ظاہر ہے کہ کسب یعنی تحصیل مال کو خواہ روپیہ ہو یا طعام یالباس یا کوئی شے سبب وغرض دونوں سے ناگزیر ہےاور احکام نہ گانہ ۹ میں پہلے چار جانب طلب ہیں جن میں فرض وواجب کی طلب جازم ہے اور سنت ومستحب کی غیرجازم اور پچھلے
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۲
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۲۳
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۶
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی اللبس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۲۳
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۶
چارجانب نہی ہیں جن میں مکروہ تنزیہی واساءت سے نہی ارشادی اور تحریمی وحرام سے حتمی اور مباح طلب ونہی دونوں سے خالیاب اگر سبب وغرض دونوں اقسام تسعہ سے ایك ہی قسم کے ہیں جب توظاہر کہ وہی حکم کسب پر ہوگا مثلا ذریعہ بھی فرض اور غرض بھی فرضتو ایسا کسب دوہرافرض ہوگا اور دونوں حرام تو دوناحرام وعلی ہذا القیاس اور اگر مختلف اقسام سے ہیں تو تین حال سے خالی نہیں:
اولا: اختلاف جانب واحد مثلا طلب یانہی کے اقسام میں ہو جیسے سبب فرض ہو غرض واجب یاسبب مکروہ تنزیہی غرض حرام۔
ثانیا: اختلافاختلاف جانب وسط ہو مثلا سبب واجب یاحرام اور غرض مباح یا بالعکسان دونوں صورتوں میں کسب اشد واقوی کا تابع ہوگا مثلا فرض ووجوب کا اختلاف ہے تو فرض اور وجوب وسنیت کا تو واجباور ایك مباح اور دوسرا اور کسی قسم کا ہے تو کسب اسی قسم کا ہوگا۔
لما مر من ان المباح ساذج عار یکتسی بکل رداء و یتلون بلون کل مایمارج والضعیف من جانب یندرج فی القوی منہ۔ جیسے گزرا کہ مباحاحکام سے خالی ہوتااور ہرپہلو اختیار کر لیتاہےاور ایك طرف سے ضعیف ہو تو اپنے سے قوی میں درج ہوتاہے۔(ت)
ثالثا: اختلافاختلاف جانبین ہو یعنی سبب جانب طلب میں ہے اور غرض جانب نہی یابالعکسصورت اولی میں کسب مطلقا حکم غرض کا مورد رہے گامثلا غرض حرام ہے تو حرمت وگناہ نقد وقت ہے گو سبب فرض واجب ہو حتی کہ اگر سبب اعلی درجہ طلب میں ہو یعنی فرض اور غرض ادنی درجہ نہی میں یعنی مکروہ تنزیہی جب بھی کسب مکروہ تنزیہی سے خالی نہیں ہوسکتا اگرچہ سبب فی نفسہ فرض ہے وجہ یہ کہ کوئی غرض معینکسب کے لئے لازم نہیں وہ اختلاف نیت سے مختلف ہوسکتی ہے اور ہروقت اپنے اختیار سے امکان تبدل رکھتی ہےمانا کہ سبب فرض تھا مگر جب اس نے اسے کسی امر حرام یا ناپسندیدہ کی نیت سے کیا ضرور حرمت وناپسندی میں گرفتار ہوا کہ ایسی نیت کیوں کیاگر کوئی نیت فرض یاواجب حاضر نہ تھی تو اقل درجہ نیت مباح پر قادر تھا اس کی نظیر نماز ہے کہ دکھاوے کو پڑھی جائےاگرچہ نماز فی نفسہ فرض ہے مگرنیت خبیثہ موجب تحریم ہوگیاور صورت عکس میں یعنی جب سبب جانب نہی ہوا اور غرض جانب طلب۔اگر وہ سبب متعین نہ تھا بلکہ اس کا غیر کہ نہی سے خالی ہو ممکن تھا تو اس صورت
اولا: اختلاف جانب واحد مثلا طلب یانہی کے اقسام میں ہو جیسے سبب فرض ہو غرض واجب یاسبب مکروہ تنزیہی غرض حرام۔
ثانیا: اختلافاختلاف جانب وسط ہو مثلا سبب واجب یاحرام اور غرض مباح یا بالعکسان دونوں صورتوں میں کسب اشد واقوی کا تابع ہوگا مثلا فرض ووجوب کا اختلاف ہے تو فرض اور وجوب وسنیت کا تو واجباور ایك مباح اور دوسرا اور کسی قسم کا ہے تو کسب اسی قسم کا ہوگا۔
لما مر من ان المباح ساذج عار یکتسی بکل رداء و یتلون بلون کل مایمارج والضعیف من جانب یندرج فی القوی منہ۔ جیسے گزرا کہ مباحاحکام سے خالی ہوتااور ہرپہلو اختیار کر لیتاہےاور ایك طرف سے ضعیف ہو تو اپنے سے قوی میں درج ہوتاہے۔(ت)
ثالثا: اختلافاختلاف جانبین ہو یعنی سبب جانب طلب میں ہے اور غرض جانب نہی یابالعکسصورت اولی میں کسب مطلقا حکم غرض کا مورد رہے گامثلا غرض حرام ہے تو حرمت وگناہ نقد وقت ہے گو سبب فرض واجب ہو حتی کہ اگر سبب اعلی درجہ طلب میں ہو یعنی فرض اور غرض ادنی درجہ نہی میں یعنی مکروہ تنزیہی جب بھی کسب مکروہ تنزیہی سے خالی نہیں ہوسکتا اگرچہ سبب فی نفسہ فرض ہے وجہ یہ کہ کوئی غرض معینکسب کے لئے لازم نہیں وہ اختلاف نیت سے مختلف ہوسکتی ہے اور ہروقت اپنے اختیار سے امکان تبدل رکھتی ہےمانا کہ سبب فرض تھا مگر جب اس نے اسے کسی امر حرام یا ناپسندیدہ کی نیت سے کیا ضرور حرمت وناپسندی میں گرفتار ہوا کہ ایسی نیت کیوں کیاگر کوئی نیت فرض یاواجب حاضر نہ تھی تو اقل درجہ نیت مباح پر قادر تھا اس کی نظیر نماز ہے کہ دکھاوے کو پڑھی جائےاگرچہ نماز فی نفسہ فرض ہے مگرنیت خبیثہ موجب تحریم ہوگیاور صورت عکس میں یعنی جب سبب جانب نہی ہوا اور غرض جانب طلب۔اگر وہ سبب متعین نہ تھا بلکہ اس کا غیر کہ نہی سے خالی ہو ممکن تھا تو اس صورت
میں بھی کسب مطلقا مورد نہی ہوگا کہ غرض اگرچہ فرض ہے جب ذریعہ مباح سے مل سکتی تھی تو حرام یا مکروہ کی طرف جانا اپنے اختیار سے ہوا اور اس کا الزام لازم آیا اور اگر سبب متعین تھا کہ دوسرا طریقہ قدرت ہی میں نہیں تو اب دو۲ صورتیں ہوں گی:
اول: غرض وسبب کی نہی وطلب دونوں ایك ہی مرتبہ میں ہوں مثلا سبب حرامغرض فرض سبب مکروہ تحریمیغرض واجبسبب میں اساءتغرض سنتسبب مکروہ تحریمی غرض واجب سبب میں اساءتغرض سنتسبب مکروہ تنزیہی غرض مستحب اور صرف اسی قدر کافی نہیں بلکہ نوع واحد میں تفاوت وقوت پر بھی نظرلازم کہ حرام کا ترك فرض ہے اور فرض کا ترك حراماور بعض فرضبعض دیگر سے اعظم وآکد ہوتے ہیںاور بعض حرام بعض دیگر سے اشنع واشدتو یہ دیکھاجائے گا کہ مثلا فرض غرض کے ترك سے جو حرمت لازم آئے گی وہ اس حرمت سے کیا نسبت رکھتی ہے جو اس سبب حرام کے ارتکاب میں ہے جب سب وجوہ سے طرفین میں تساوی قوت ثابت ہو تو حکم کسب میں اتباع سبب یعنی جانب نہی کو ترجیح رہے گی
لان اعتناء الشرع بالمنھیات اشد من اعتنائہ بالمامورات ولذا قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا امرتکم بشیئ فأتوا منہ مااستطعتم واذا نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ وروی فی الکشف حدیثا لترك ذرۃ مما نھی اﷲ عنہ افضل من عبادۃ الثقلینقالہ فی الاشباہ ولنا فی المقام تحقیقات نفائس الممنا بکثیر منھا فی ماعلقنا علی کتاب"اذاقۃالاثام کیونکہ ممنوعات سے متعلق شرح کا حکم مہتم ہوتا ہے جبکہ مامورات کا اہتمام اس قدر نہیں ہوتااسی لئے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو اپنی استطاعت پربجالاؤ اور جب کسی چیز سے منع کروں تو اجتناب کرو۔کشف میں مروی ہے کہ اﷲ تعالی کے منع کردہ سے ذرہ بھربھی بازرہنا جن وانسان کی عبادت سے افضل ہےانہوں نے اشباہ میں بیان کیا ہےہمارا یہاں کلام نفیس ہے جس کو ہم نے اپنے والدگرامی قدر کی کتاب"اذاقۃ الاثام لمانعی
اول: غرض وسبب کی نہی وطلب دونوں ایك ہی مرتبہ میں ہوں مثلا سبب حرامغرض فرض سبب مکروہ تحریمیغرض واجبسبب میں اساءتغرض سنتسبب مکروہ تحریمی غرض واجب سبب میں اساءتغرض سنتسبب مکروہ تنزیہی غرض مستحب اور صرف اسی قدر کافی نہیں بلکہ نوع واحد میں تفاوت وقوت پر بھی نظرلازم کہ حرام کا ترك فرض ہے اور فرض کا ترك حراماور بعض فرضبعض دیگر سے اعظم وآکد ہوتے ہیںاور بعض حرام بعض دیگر سے اشنع واشدتو یہ دیکھاجائے گا کہ مثلا فرض غرض کے ترك سے جو حرمت لازم آئے گی وہ اس حرمت سے کیا نسبت رکھتی ہے جو اس سبب حرام کے ارتکاب میں ہے جب سب وجوہ سے طرفین میں تساوی قوت ثابت ہو تو حکم کسب میں اتباع سبب یعنی جانب نہی کو ترجیح رہے گی
لان اعتناء الشرع بالمنھیات اشد من اعتنائہ بالمامورات ولذا قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا امرتکم بشیئ فأتوا منہ مااستطعتم واذا نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ وروی فی الکشف حدیثا لترك ذرۃ مما نھی اﷲ عنہ افضل من عبادۃ الثقلینقالہ فی الاشباہ ولنا فی المقام تحقیقات نفائس الممنا بکثیر منھا فی ماعلقنا علی کتاب"اذاقۃالاثام کیونکہ ممنوعات سے متعلق شرح کا حکم مہتم ہوتا ہے جبکہ مامورات کا اہتمام اس قدر نہیں ہوتااسی لئے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو اپنی استطاعت پربجالاؤ اور جب کسی چیز سے منع کروں تو اجتناب کرو۔کشف میں مروی ہے کہ اﷲ تعالی کے منع کردہ سے ذرہ بھربھی بازرہنا جن وانسان کی عبادت سے افضل ہےانہوں نے اشباہ میں بیان کیا ہےہمارا یہاں کلام نفیس ہے جس کو ہم نے اپنے والدگرامی قدر کی کتاب"اذاقۃ الاثام لمانعی
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الاعتصام باب الاقتداء بسنن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۸۲،صحیح مسلم کتاب الفضائل باب توقیرہ صلی اﷲ علیہ وسلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۶۲
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۲۵
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۲۵
لمانعی عمل المولد والقیام من تصانیف خاتمۃ المحققین الاماجد سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد۔ عمل المولد والقیام"کے حاشیہ میں ذکرکیاہے۔(ت)
دونوں کی قوت کم وبیش ہو اس صورت میں اقوی کا اتباع ہوگاسبب ہو خواہ غرض۔مثلا مال غیر بے اذن لینا حرام ہے اور خوك وخمر کی حرمت اس سے بھی زائد اور سدرمق اور دفع جوع قاتل وعطش مہلك کی فرضیت ان سب سے اقوی ہے لہذا حالت مخمصہ میں ان اشیاء کا تناول اسی قدر جس سے ہلاك دفع ہو لازم ہو ا اور جانب غرض کو ترجیح دی گئی اور اگر مضطر کچھ نہیں پاتا مگر یہ کہ کسی انسان کاہاتھ کاٹ کرکھائے تو حلال نہیں اگرچہ اس شخص نے اجازت بھی دی ہو کہ حرمت انسان اس فرض سے اقوی ہے لہذا جانب سبب کو ترجیح رہی۔
فی الدر الاکل للغذاء والشرب للعطش ولو من حرام اومیتۃ او مال غیرہ وان ضمنہ فرضیثاب علیہ بحکم الحدیث ولکن مقدار مایدفع الانسان الھلاك عن نفسہ اھ وفی الشامیۃ عن وجیز الکردری ان قال لہ اخر اقطع یدی وکلھا لایحل لان لحم الانسان لایباح فی الاضطرار لکرامتہ ۔ درمختار میں ہے:غذا کے لئے کھانا اور پیاس کی وجہ سے پینا اگرچہ حراممردار یا غیرکامال ہو توجب اس کے ضمن میں فرض ہے تو ثواب پائے گا حدیث کے مطابق۔لیکن یہ اس مقدار کے لئے جس قدر سے انسان اپنے کو ہلاکت سے بچاسکے اھاور شامی کے فتاوی میں وجیز کردری سے منقول ہے اگر کسی نے دوسرے شخص کو کہا میراہاتھ کاٹ کر کھالو تو یہ حلال نہیں کیونکہ انسان کا گوشت اضطراری حالت میں بھی مباح نہیں انسانی کرامت کی وجہ سے۔(ت)
یہ تقریر منیر حفظ رکھنے کی ہے کہ اول تا آخر اس تحقیق جمیل وضبط جلیل کے ساتھ اس تحریر کے غیر میں نہ ملے گی وباﷲ التوفیق انہیں ضوابط سے دوسرے سوال اعنی مسئلہ سوال کا حکم منکشف ہوسکتاہے جب غرض ضروری نہ ہو تو سوال حراممثلا آج کا کھانے کو موجود ہے توکل کے لئے سوال حلال نہیں کہ کل تك کی زندگی بھی معلوم نہیں کھانے کی ضرورت درکنار۔یوہیں رسوم شادی کے لئے سوال حرام کہ نکاح شرع
دونوں کی قوت کم وبیش ہو اس صورت میں اقوی کا اتباع ہوگاسبب ہو خواہ غرض۔مثلا مال غیر بے اذن لینا حرام ہے اور خوك وخمر کی حرمت اس سے بھی زائد اور سدرمق اور دفع جوع قاتل وعطش مہلك کی فرضیت ان سب سے اقوی ہے لہذا حالت مخمصہ میں ان اشیاء کا تناول اسی قدر جس سے ہلاك دفع ہو لازم ہو ا اور جانب غرض کو ترجیح دی گئی اور اگر مضطر کچھ نہیں پاتا مگر یہ کہ کسی انسان کاہاتھ کاٹ کرکھائے تو حلال نہیں اگرچہ اس شخص نے اجازت بھی دی ہو کہ حرمت انسان اس فرض سے اقوی ہے لہذا جانب سبب کو ترجیح رہی۔
فی الدر الاکل للغذاء والشرب للعطش ولو من حرام اومیتۃ او مال غیرہ وان ضمنہ فرضیثاب علیہ بحکم الحدیث ولکن مقدار مایدفع الانسان الھلاك عن نفسہ اھ وفی الشامیۃ عن وجیز الکردری ان قال لہ اخر اقطع یدی وکلھا لایحل لان لحم الانسان لایباح فی الاضطرار لکرامتہ ۔ درمختار میں ہے:غذا کے لئے کھانا اور پیاس کی وجہ سے پینا اگرچہ حراممردار یا غیرکامال ہو توجب اس کے ضمن میں فرض ہے تو ثواب پائے گا حدیث کے مطابق۔لیکن یہ اس مقدار کے لئے جس قدر سے انسان اپنے کو ہلاکت سے بچاسکے اھاور شامی کے فتاوی میں وجیز کردری سے منقول ہے اگر کسی نے دوسرے شخص کو کہا میراہاتھ کاٹ کر کھالو تو یہ حلال نہیں کیونکہ انسان کا گوشت اضطراری حالت میں بھی مباح نہیں انسانی کرامت کی وجہ سے۔(ت)
یہ تقریر منیر حفظ رکھنے کی ہے کہ اول تا آخر اس تحقیق جمیل وضبط جلیل کے ساتھ اس تحریر کے غیر میں نہ ملے گی وباﷲ التوفیق انہیں ضوابط سے دوسرے سوال اعنی مسئلہ سوال کا حکم منکشف ہوسکتاہے جب غرض ضروری نہ ہو تو سوال حراممثلا آج کا کھانے کو موجود ہے توکل کے لئے سوال حلال نہیں کہ کل تك کی زندگی بھی معلوم نہیں کھانے کی ضرورت درکنار۔یوہیں رسوم شادی کے لئے سوال حرام کہ نکاح شرع
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۶
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۱۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۱۵
میں ایجاب وقبول کانام ہے جس کے لئے ایك پیسہ کی بھی ضرورت شرعا نہیںاور اگر غرض ضروری اور بے سوال کسی طریقہ حلال سے دفع ہوسکتی ہے جب بھی سوال حراممثلا کھانے کو کچھ پاس نہیں مگر ہاتھ میں ہنر ہے یا آدمی قوی تندرست قابل مزدوری ہے کہ اپنی صنعت یا اجرت سے بقدر حاجت پیداکرسکتاہے قبل اس کے کہ احتیاج تابحد مخمصہ پہنچے تو اسے سوال حلال نہیںنہ اسے دینا جائز کہ ایسوں کو دینا انہیں کسب حرام کا مؤید ہوتا ہے اگر کوئی نہ دے تو جھك مار کر آپ ہی محنت مزدوری کریں اور اگر دوسرا طریقہ حلال میسرنہیں حرفت وصنعت کچھ نہیں جانتا نہ محنت ومزدوری پرقادر ہے خواہ بوجہ مرض یا ضعف خلقی یا نازپروردگی یا کسب کرتو سکتا ہے مگرحاجت فوری ہے کسب پرمحول کرنا تاتریاق ازعراق کامضمون ہواجاتا ہے تو سوال حلال ہوگا کہ ہران صورتوں میں کارروائی یوہیں ہوسکتی ہے کہ مانگ کرلے یا چھین کر یا چرا کر یا کوئی حرام یا مردار کھائے اور سرقہ وغصب کی حرمت سوال سے اشد ہے اور حرام ومردار کی غصب وقہر سے بھی سخت تریہ صورتیں تو ظاہر ہیں اور علماء نے بوجہ اشتغال جہاد ومشغولی طلب علم دینفرصت کسب نہ پانے کو بھی وجوہ معذوری سے شمارفرمایا اور ایسے کے لئے سوال حلال بتایا جب مدار ضرورت غرض وتعین ذریعہ پرٹھہرا تو کچھ اکل وشرب ہی کی تخصیص نہیں کہ جس کے پاس ایك دن کا قوت ہے اسے سوال مطلقا منع ہو بلکہ اگر دس دن کا کھانا موجود ہے اور کپڑا نہیں یا کپڑا بھی ہے مگر ہلکا کہ جاڑے کی آفت روك سکتا نہیں اور طریقہ تحصیل کوئی دوسرا نہیں کپڑے کے لئے سوال ناروانہیںیوہیں اگر کھانے پہننے سب کو موجود ہے مگر مدیون ہے تو اگر کچھ مال فاضل رکھا ہے جسے بیچ کر ادا کرے یا کماکر دے سکتاہے تو سوال حراماور اگر کمائی سے بعد نفقہ ضروری کے کچھ نہیں بچا سکتا اور قرض خواہ گردن پر چھری رکھے ہوئے ہے تو ادا کے لئے سوال حلال۔
فی الدرالمختار لایحل ان یسأل شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل اوبالقوۃ کالتصحیح المکتسب و یأثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم ولو سأل للکسوۃ او لاشغالہ عن الکسب بالجہاد اوطلب العلم جاز لو محتاجا اھ وفیہ من النفقات تحب درمختار میں ہے جائزنہیں اسے سوال جس کے پاس ایك دن کا گزارہ بالفعل یا بالقوۃ ہے جیسا کہ تندرست شخص کمائی کے قابل ہو اور اس کے حال سے آگاہی کے باوجود اس کو دینے والا گنہگار ہوگا حرام پراعانت کی وجہ سےاگر جسم ڈھانپنے کے لئے یاجہاد میں مصروف ہونے کی وجہ سے کسب نہ کرسکنے یاطلب علم کی مصروفیت میں کسب نہ کرسکنے کی وجہ سے سوال کرے توضرورت یاحاجت مند ہو تو سوال کرنا جائزہے اھاسی کے
فی الدرالمختار لایحل ان یسأل شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل اوبالقوۃ کالتصحیح المکتسب و یأثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم ولو سأل للکسوۃ او لاشغالہ عن الکسب بالجہاد اوطلب العلم جاز لو محتاجا اھ وفیہ من النفقات تحب درمختار میں ہے جائزنہیں اسے سوال جس کے پاس ایك دن کا گزارہ بالفعل یا بالقوۃ ہے جیسا کہ تندرست شخص کمائی کے قابل ہو اور اس کے حال سے آگاہی کے باوجود اس کو دینے والا گنہگار ہوگا حرام پراعانت کی وجہ سےاگر جسم ڈھانپنے کے لئے یاجہاد میں مصروف ہونے کی وجہ سے کسب نہ کرسکنے یاطلب علم کی مصروفیت میں کسب نہ کرسکنے کی وجہ سے سوال کرے توضرورت یاحاجت مند ہو تو سوال کرنا جائزہے اھاسی کے
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۲
ایضا لکل ذی رحم محرم صغیرا او انثی ولو بالغۃ صحیحۃ او الذکر بالغا عاجزا عن الکسب بنحو زمانۃ کعمی وعتہ وفلج زاد فی الملتقی والمختار او لایحسن الکسب لحرفۃ او لکونہ من ذوی البیوتات اھ قال الشامی ای من اھل الشرف الخ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ باب النفقہ میں ہے نفقہ واجب ہے ہرنابالغ ذی محرم یاعورت اگرچہ بالغہ صحیحہ یامرد بالغ ہو لیکن جسمانی معذور ہونے کی وجہ سے کسب سے عاجز ہے جیسے نابیناہاتھ پاؤں مفلوج وغیرہملتقی اور مختار میں زائد کیا جو کوئی اچھا کسب نہیں رکھتا یا گھریلو عورتیں اھ۔شامی نے فرمایا یعنی اہل شرف لوگ الخ۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
_____________________
رسالہ
خیرالأمال فی حکم الکسب والسوال
ختم ہوا۔
_____________________
رسالہ
خیرالأمال فی حکم الکسب والسوال
ختم ہوا۔
حوالہ / References
الدرالمختار کتاب الطلاق باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۷۶
ردالمحتار کتاب الطلاق باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۸۱
ردالمحتار کتاب الطلاق باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۸۱
علم وتعلیم
عالممتعلممفتیواعظافتاءکتابتتقلیدعلوم وفنونتعلیم گاہ سے متعلق
مسئلہ ۲۹۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حدیث طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ(ہرمسلمان مرد وعورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ت)میں عموما ہرعلم مراد ہے یاکوئی علم خاص مقصود ہے اگر خاص مقصود ہے تو وہ کون سا علم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
حدیث طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ (ہرمسلمان مرد وعورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ت)کہ بوجہ کثرت طرق وتعدد مخارج حدیث حسن ہے اس کا صریح مفاد ہرمسلمان مردوعورت پر طلب علم کی فرضیت تو یہ صادق نہ آئے گا مگر اس علم پر جس کا تعلم فرض عین ہو اور فرض عین نہیں مگر ان علوم کا سیکھنا جن کی طرف انسان بالفعل اپنے دین میں محتاج ہو ان کا اعم واشمل واعلی واکمل واہم واجل علم اصول عقائد ہے جن کے اعتقاد سے آدمی مسلمان سنی المذہب ہوتاہے اور انکارو مخالفت سے
عالممتعلممفتیواعظافتاءکتابتتقلیدعلوم وفنونتعلیم گاہ سے متعلق
مسئلہ ۲۹۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حدیث طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ(ہرمسلمان مرد وعورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ت)میں عموما ہرعلم مراد ہے یاکوئی علم خاص مقصود ہے اگر خاص مقصود ہے تو وہ کون سا علم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
حدیث طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ (ہرمسلمان مرد وعورت پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ت)کہ بوجہ کثرت طرق وتعدد مخارج حدیث حسن ہے اس کا صریح مفاد ہرمسلمان مردوعورت پر طلب علم کی فرضیت تو یہ صادق نہ آئے گا مگر اس علم پر جس کا تعلم فرض عین ہو اور فرض عین نہیں مگر ان علوم کا سیکھنا جن کی طرف انسان بالفعل اپنے دین میں محتاج ہو ان کا اعم واشمل واعلی واکمل واہم واجل علم اصول عقائد ہے جن کے اعتقاد سے آدمی مسلمان سنی المذہب ہوتاہے اور انکارو مخالفت سے
حوالہ / References
کنزالعمال حدیث ۲۸۶۵۲ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۰/ ۱۳۱،الجامع الصغیر حرف الطاء حدیث۵۲۶۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۳۲۵
کافر یابدعتیوالعیاذباﷲ تعالی۔سب میں پہلا فرض آدمی پر اسی کا تعلم ہے اور اس کی طرف احتیاج میں سب یکساںپھر علم مسائل نماز یعنی اس کے فرائض وشرائط ومفسدات جن کے جاننے سے نماز صحیح طور پر ادا کرسکےپھر جب رمضان آئے تو مسائل صوممالك نصاب نامی ہو تو مسائل زکوۃصاحب استطاعت ہو تو مسائل حجنکاح کیاچاہے تو اس کے متعلق ضروری مسئلےتاجر ہو تو مسائل بیع وشراءمزارع پرمسائل زراعتموجرومستاجر پر مسائل اجارہوعلی ھذا القیاس ہر اس شخص پر اس کی حالت موجودہ کے مسئلے سیکھنا فرض عین ہے اور انہیں میں سے ہیں مسائل حلال وحرام کہ ہرفردبشر ان کا محتاج ہے اور مسائل علم قلب یعنی فرائض قلبیہ مثل تواضع واخلاص وتوکل وغیرہا اور ان کے طرق تحصیل اور محرمات باطنیہ تکبر وریا وعجب وحسد وغیرہا اور ان کے معالجات کہ ان کا علم بھی ہرمسلمان پر اہم فرائض سے ہے جس طرح بے نماز فاسق وفاجر ومرتکب کبائر ہے یونہی بعینہ ریاء سے نماز پڑھنے والا انہیں مصیبتوں میں گرفتاہے نسئل اﷲ العفو والعافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے عفووعافیت کاسوال کرتے ہیں۔ت)تو صرف یہی علوم حدیث میں مراد ہیں وبس۔علامہ مناوی تیسیر میں زیرحدیث مذکور لکھتے ہیں:
اراد بہ مالا مندوحۃ لہ عن تعلمہ کمعرفۃ الصانع ونبوۃ رسلہ وکیفیۃ الصلوۃ ونحوھا فان تعلمہ فرض عین ۔ اس سے وہ علم مراد ہے جس کے سیکھنے سے کوئی چارہ نہیں جیسے صانع کی پہچانرسولوں کی نبوتکیفیت نماز اور اس جیسے دوسرے مسائل کی معرفتکیونکہ ان باتوں کا سیکھنا فرض عین ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
اعلم ان تعلم العلم یکون فرض عین و ھو بقدر مایحتاج لدینہ ۔ جان لیجئے! علم سیکھنا اور اسے حاصل کرنا فرض عین ہےاور اس سے مراد اتنی مقدار ہے کہ جس کی دین میں ضرورت پڑتی ہے۔(ت)
ردالمحتار میں فصول علامی سے ہے:
اراد بہ مالا مندوحۃ لہ عن تعلمہ کمعرفۃ الصانع ونبوۃ رسلہ وکیفیۃ الصلوۃ ونحوھا فان تعلمہ فرض عین ۔ اس سے وہ علم مراد ہے جس کے سیکھنے سے کوئی چارہ نہیں جیسے صانع کی پہچانرسولوں کی نبوتکیفیت نماز اور اس جیسے دوسرے مسائل کی معرفتکیونکہ ان باتوں کا سیکھنا فرض عین ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
اعلم ان تعلم العلم یکون فرض عین و ھو بقدر مایحتاج لدینہ ۔ جان لیجئے! علم سیکھنا اور اسے حاصل کرنا فرض عین ہےاور اس سے مراد اتنی مقدار ہے کہ جس کی دین میں ضرورت پڑتی ہے۔(ت)
ردالمحتار میں فصول علامی سے ہے:
حوالہ / References
التیسیر شرح الجامع الصغیر للمناوی مکتبۃ الامام الشافعی الریاض ۲/ ۱۱۵
درمختار مقدمہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۶
درمختار مقدمہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۶
فرض علی کل مکلف ومکلفۃ بعد تعلمہ علم الدین و الھدایۃ تعلم علم الوضوء و الغسل والصلوۃ و الصوم وعلم الزکوۃ لمن لہ نصاب والحج لمن وجب علیہ والبیوع علی التجار لیحترزوا عن الشبھات و المکروھات فی سائر المعاملات وکذا اھل الحرف وکل من اشتغل بشیئ یفرض علیہ علمہ وحکمہ لیمتنع عن الحرام فیہ ۔ دینی علم اور ہدایت حاصل کرنے کے بعد ہرعاقل بالغ مردعورت پر وضوغسلنماز اور روزہ کے مسائل سیکھنا فرض ہے اور اسی طرح مسائل زکوۃ کااس شخص کے لئے جانناجو صاحب نصاب ہے۔اور حج کے مسائل اس کے لئے جس پر وہ واجب ہےاور خریدوفروخت کے مسائل جاننا کاروبار کرنے والوں کیلئے تاکہ وہ اپنے تمام معاملات میں مشکوك اور مکروہ کاموں سے بچ جائیں۔یونہی پیشہ ور اور ہر ایسا آدمی جو کسی کام میں مشغول ہو تو اس پر اس کام کا علم رکھنا فرض ہے اور اس کا حکم یہ ہے تاکہ وہ اس معاملے میں حرام سے بچ جائے۔(ت)
اور اسی میں ہے:
فی تبیین المحارملاشك فی فرضیۃ علم الفرائض الخمس وعلم الاخلاص لان صحۃ العمل موقوفۃ علیہ وعلم الحلال والحرام وعلم الریاء لان العابد محروم من ثواب عملہ بالریاء وعلم الحسد و العجب اذھما یاکلان العمل کماتاکل النار الحطب و علم البیع والشراء والنکاح والطلاق لمن اراد الدخول فی ھذہ الاشیاء وعلم الالفاظ المحرمۃ او المکفرۃ ولعمری ھذا من اھم المھمات فی ھذا الزمان ۔ تبیین المحارم میں ہے:اس میں کوئی شك نہیں کہ پنجگانہ فرض نمازوں کی فرضیت جاننا اور حصول اخلاص کا علم رکھنا ضروری ہے کیونکہ ہر عمل کی صحت اس پر موقوف ہے۔ یونہی حلالحرام کا علم اور ریاء کا علم حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ عابد ریاکار اپنی ریاکاری کی وجہ سے اپنے عمل کے اجرو ثواب سے محروم ہوتاہے۔حسد اور خودبینی کا علم رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں انسانی اعمال کو اس طرح کھاجاتے ہیں جیسے آگ لکڑی کوخریدوفروختنکاحطلاق وغیرہ کے مسائل جاننا اس شخص کیلئے ضروری ہیں
اور اسی میں ہے:
فی تبیین المحارملاشك فی فرضیۃ علم الفرائض الخمس وعلم الاخلاص لان صحۃ العمل موقوفۃ علیہ وعلم الحلال والحرام وعلم الریاء لان العابد محروم من ثواب عملہ بالریاء وعلم الحسد و العجب اذھما یاکلان العمل کماتاکل النار الحطب و علم البیع والشراء والنکاح والطلاق لمن اراد الدخول فی ھذہ الاشیاء وعلم الالفاظ المحرمۃ او المکفرۃ ولعمری ھذا من اھم المھمات فی ھذا الزمان ۔ تبیین المحارم میں ہے:اس میں کوئی شك نہیں کہ پنجگانہ فرض نمازوں کی فرضیت جاننا اور حصول اخلاص کا علم رکھنا ضروری ہے کیونکہ ہر عمل کی صحت اس پر موقوف ہے۔ یونہی حلالحرام کا علم اور ریاء کا علم حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ عابد ریاکار اپنی ریاکاری کی وجہ سے اپنے عمل کے اجرو ثواب سے محروم ہوتاہے۔حسد اور خودبینی کا علم رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں انسانی اعمال کو اس طرح کھاجاتے ہیں جیسے آگ لکڑی کوخریدوفروختنکاحطلاق وغیرہ کے مسائل جاننا اس شخص کیلئے ضروری ہیں
حوالہ / References
ردالمحتار مقدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۹
ردالمحتار مقدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۹
ردالمحتار مقدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۹
جو ان کاموں کو کرنا چاہےیوں ہی حرام اور کفر یہ الزام جاننا ضروری ہیں مجھے اپنی زندگی کی قسم اس زمانے میں یہ سب سے زیادہ ضروری امور ہیں۔(ت)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں تحت حدیث مسطور فرماتے ہیں:
مراد بعلم درینجا علمیست کہ ضروری وقت مسلمان ست مثلا چوں دراسلام درآمد واجب شد بروئے معرفت صانع تعالی و صفات وعلم بہ نبوت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و جزآں ازانچہ صحیح نیست ایمان بے آن و چوں وقت نماز آمد واجب شد آموختن علم باحکام صلاۃ وچوں رمضان آمد واجب گردید تعلم احکام صوم الخ۔ اس جگہ(یعنی حدیث مذکور میں)علم سے وہ علم مراد ہے جو مسلمان ہونے کے وقت ضروری ہےمثلاجب کوئی شخص اسلام لائے تو اس پر اﷲ تعالی اور اس کی صفات کی معرفت یونہی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کا علم رکھنا اور اس کے علاوہ وہ اسلامی مسائل کہ جن کو جانے بغیر ایمان صحیح نہیں ہوتاپھر جب نماز کا وقت آجائے تو مسائل نماز کو سیکھنا ضروری ہے اور جب رمضان شریف آجائے تو احکام روزہ سیکھنے ضروری ہیں الخ(ت)
غرض اس حدیث میں اسی قدر علم کی نسبت ارشاد ہےہاں آیات واحادیث دیگر کہ فضیلت علماء وترغیب علم میں واردوہاں ان کے سوا اور علوم کثیرہ بھی مراد ہیں جن کا تعلم فرض کفایہ یا واجب یا مسنون یامستحباس کے آگے کوئی درجہ فضیلت وترغیب اور جو ان سے خارج ہو ہرگز آیات واحادیث میں مراد نہیں ہوسکتااور ان کاضابطہ یہ ہے کہ وہ علوم جو آدمی کو اس کے دین میں نافع ہوں خواہ اصالۃ جیسے فقہ وحدیث وتصوف بے تخلیطوتفسیر قرآن بے افراط وتفریط خواہ وساطۃ مثلا نحو وصرف ومعانی بیان کہ فی حدذاتہا امردینی نہیں مگر فہم قرآن وحدیث کے لئے وسیلہ ہیںاور فقیر غفراﷲ تعالی اس کے لئے عمدہ معیار عرض کرتا ہے مراد متکلم جیسے خود اس کے کلام سے ظاہر ہوتی ہے دوسرے کے بیان سے نہیں ہوسکتی۔مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جنہوں نے علم وعلماء کے فضائل عالیہ وجلائل غالیہ ارشاد فرمائے انہیں کی حدیث میں وارد ہے کہ علماء وارث انبیاء کے ہیں انبیاء نے درہم ودینار ترکہ میں نہ چھوڑےعلم اپنا ورثہ چھوڑا جس نے علم پایا اس نے بڑا حصہ پایا
اخرج ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ ابوداؤدترمذیابن ماجہابن حبان اور
اشعۃ اللمعات شرح مشکوۃ میں تحت حدیث مسطور فرماتے ہیں:
مراد بعلم درینجا علمیست کہ ضروری وقت مسلمان ست مثلا چوں دراسلام درآمد واجب شد بروئے معرفت صانع تعالی و صفات وعلم بہ نبوت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و جزآں ازانچہ صحیح نیست ایمان بے آن و چوں وقت نماز آمد واجب شد آموختن علم باحکام صلاۃ وچوں رمضان آمد واجب گردید تعلم احکام صوم الخ۔ اس جگہ(یعنی حدیث مذکور میں)علم سے وہ علم مراد ہے جو مسلمان ہونے کے وقت ضروری ہےمثلاجب کوئی شخص اسلام لائے تو اس پر اﷲ تعالی اور اس کی صفات کی معرفت یونہی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کا علم رکھنا اور اس کے علاوہ وہ اسلامی مسائل کہ جن کو جانے بغیر ایمان صحیح نہیں ہوتاپھر جب نماز کا وقت آجائے تو مسائل نماز کو سیکھنا ضروری ہے اور جب رمضان شریف آجائے تو احکام روزہ سیکھنے ضروری ہیں الخ(ت)
غرض اس حدیث میں اسی قدر علم کی نسبت ارشاد ہےہاں آیات واحادیث دیگر کہ فضیلت علماء وترغیب علم میں واردوہاں ان کے سوا اور علوم کثیرہ بھی مراد ہیں جن کا تعلم فرض کفایہ یا واجب یا مسنون یامستحباس کے آگے کوئی درجہ فضیلت وترغیب اور جو ان سے خارج ہو ہرگز آیات واحادیث میں مراد نہیں ہوسکتااور ان کاضابطہ یہ ہے کہ وہ علوم جو آدمی کو اس کے دین میں نافع ہوں خواہ اصالۃ جیسے فقہ وحدیث وتصوف بے تخلیطوتفسیر قرآن بے افراط وتفریط خواہ وساطۃ مثلا نحو وصرف ومعانی بیان کہ فی حدذاتہا امردینی نہیں مگر فہم قرآن وحدیث کے لئے وسیلہ ہیںاور فقیر غفراﷲ تعالی اس کے لئے عمدہ معیار عرض کرتا ہے مراد متکلم جیسے خود اس کے کلام سے ظاہر ہوتی ہے دوسرے کے بیان سے نہیں ہوسکتی۔مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جنہوں نے علم وعلماء کے فضائل عالیہ وجلائل غالیہ ارشاد فرمائے انہیں کی حدیث میں وارد ہے کہ علماء وارث انبیاء کے ہیں انبیاء نے درہم ودینار ترکہ میں نہ چھوڑےعلم اپنا ورثہ چھوڑا جس نے علم پایا اس نے بڑا حصہ پایا
اخرج ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ ابوداؤدترمذیابن ماجہابن حبان اور
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتاب العلم الفصل الثانی آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۶۱
وابن حبان والبیھقی عن ابی درداء رضی اﷲ تعالی عنہ قال سعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول فذکر الحدیث فی فضل العلم وفی اخرہ ان العلماء ورثۃ الانبیاء وان الانبیاء لم یورثوا دینارا ولادرھما ورثوا العلم فمن اخذہ اخذ بحظ وافر ۔ بیہقی نے حضرت ابودرداء رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے تخریج فرمائی کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ ارشاد فرماتے سناپھر انہوں نے فضیلت علم میں حدیث بیان فرمائی اور اس کے آخر میں فرمایا کہ بلاشبہہ علماء انبیا کے وارث ہیں اور انبیاء کرام نے درھم و دینار ورثہ میں نہیں چھوڑے بلکہ انہوں نے وراثت میں علم چھوڑا ہے پھر جس نے اس کو حاصل کیا تو اس نے وافر حصہ حاصل کیا۔(ت)
بس ہر علم میں اسی قدر دیکھ لینا کافی کہ آیا یہ وہی عظیم دولت نفیس مال ہے جو انبیاعلیہم الصلوۃ والسلام نے اپنے ترکہ میں چھوڑا جب تك تو بیشك محمود اور فضائل جلیلہ موعود کا مصداقاور اس کے جاننے والے کو لقب عالم ومولوی کا استحقاق ورنہ مذموم وبد ہے جیسے فلسفہ ونجوم یا لغو وفضول جیسے قافیہ وعروض یا کوئی دنیا کاکام جیسے نقشہ ومساحتبہرحال ان فضائل کا مورد نہیں نہ اس کے صاحب کو عالم کہہ سکیں۔ائمہ دین فرماتے ہیں جو علم کلام میں مشغول رہے اس کانام دفتر علماء سے محوہوجائے
فی الطریقۃ المحمدیۃ عن التاتارخانیۃ عن ابی اللیث الحافظ وھو کان بسمرقند متقدما فی الزمان علی الفقیہ ابی اللیث قال من اشتغل بالکلام محی اسمہ من العلماء ۔ طریقہ محمدیہ میں تاتارخانیہ کے حوالے سے ابواللیث حافظ سے منقول ہے یہ بزرگ سمرقند کے رہنے والے تھے اور مشہور فقیہ ابواللیث سے زمانے میں پہلے ہوئے ہیںانہوں نے فرمایا جوعلم کلام میں مشغول ہوگیا اس کا نام زمرہ علماء سے مٹ گیا۔
سبحان اﷲ! جب متاخرین کا علم کلام جس کے اصل اصول عقائد سنت واسلام ہیں بوجہ اختلاط فلسفہ وزیادات مزخرفہ مذموم ٹھہرا اور اس کا مشتغل لقب عالم کا مستحق نہ ہوا تو خاص فلسفہ و
بس ہر علم میں اسی قدر دیکھ لینا کافی کہ آیا یہ وہی عظیم دولت نفیس مال ہے جو انبیاعلیہم الصلوۃ والسلام نے اپنے ترکہ میں چھوڑا جب تك تو بیشك محمود اور فضائل جلیلہ موعود کا مصداقاور اس کے جاننے والے کو لقب عالم ومولوی کا استحقاق ورنہ مذموم وبد ہے جیسے فلسفہ ونجوم یا لغو وفضول جیسے قافیہ وعروض یا کوئی دنیا کاکام جیسے نقشہ ومساحتبہرحال ان فضائل کا مورد نہیں نہ اس کے صاحب کو عالم کہہ سکیں۔ائمہ دین فرماتے ہیں جو علم کلام میں مشغول رہے اس کانام دفتر علماء سے محوہوجائے
فی الطریقۃ المحمدیۃ عن التاتارخانیۃ عن ابی اللیث الحافظ وھو کان بسمرقند متقدما فی الزمان علی الفقیہ ابی اللیث قال من اشتغل بالکلام محی اسمہ من العلماء ۔ طریقہ محمدیہ میں تاتارخانیہ کے حوالے سے ابواللیث حافظ سے منقول ہے یہ بزرگ سمرقند کے رہنے والے تھے اور مشہور فقیہ ابواللیث سے زمانے میں پہلے ہوئے ہیںانہوں نے فرمایا جوعلم کلام میں مشغول ہوگیا اس کا نام زمرہ علماء سے مٹ گیا۔
سبحان اﷲ! جب متاخرین کا علم کلام جس کے اصل اصول عقائد سنت واسلام ہیں بوجہ اختلاط فلسفہ وزیادات مزخرفہ مذموم ٹھہرا اور اس کا مشتغل لقب عالم کا مستحق نہ ہوا تو خاص فلسفہ و
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب العلم باب فضل العلم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۵۷
الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثانی فی منہی عنہا مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱/ ۹۳ و ۹۴
الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثانی فی منہی عنہا مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱/ ۹۳ و ۹۴
منطق فلاسفہ ودیگر خرافات کا کیا ذکرہےولہذا حکم شرعی ہے کہ اگر کوئی شخص علمائے شہر کے لئے کچھ وصیت کرجائے تو ان فنون کا جاننے والا ہرگز اس میں داخل نہ ہوگا
فی الہندیۃ عن المحیط اذا اوصی لاھل العلم بلدۃ کذا فانہ یدخل فیہ اھل الفقہ واھل الحدیث ولا یدخل من یتکلم بالحکمۃ الخ ونقل مثلہ فی شرح الفقہ الاکبر للمتکلمین عن کتب الفتاوی لاصحابنا وسمی منھا الظھیریۃ۔ فتاوی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے روایت ہے اگر کوئی شخص شہر کے اہل علم کے لئے کسی چیز کی وصیت کرجائے تو یقینا اس میں اہل فقہ اور اہل حدیث داخل ہوں گے لیکن جو علم حکمت میں کلام کرے وہ اس وصیت میں داخل نہیں الخ اور اسی جیسا کلام ہمارے اصحاب کے فتاووں کے حوالے سے "شرح فقہ اکبر"میں متکلمین کے متعلق ذکر کیاگیا ہے ان فتاووں میں سے فتاوی ظہیریہ کا خاص نام لیاگیا ہے۔(ت)
فقیر غفراﷲ تعالی لہ قرآن وحدیث سے صدہادلائل اس معنی پر قائم کرسکتاہے کہ مصداق فضائل صرف علوم دینیہ ہیں وبس۔ ان کے سوا کوئی علم شرع کے نزدیك علمنہ آیات واحادیث میں مراداگرچہ عرف ناس میں باعتبار لغت اسے علم کہاکریں ہاں آلات ووسائل کے لئے حکم مقصود کا ہوتاہے مگر اسی وقت تك کہ وہ بقدر توسل وتقصد توسل سیکھے جائیں اس طور پر وہ بھی موردفضائل ہیں جیسے نماز کے لئے گھر سے جانے والوں کو حدیث میں فرمایا کہ وہ نماز میں ہے جب تك نماز کا انتظار کرتا ہےنہ یہ کہ انہیں مقصود قراردے لیں اور ان کے توغل میں عمر گزاردیں نحوی لغوی ادیب منطقی کہ انہیں علوم کا ہو رہے اور مقصود اصلی سے کام نہ رکھے زنہار عالم نہیں کہ جس حیثیت کے صدقہ میں انہیں نام ومقام علم حاصل ہوتا جب وہی نہیں تو یہ اپنی حد ذات میں نہ ان خوبیوں کے مصداق تھے نہ قیامت تك ہوںہاں اسے یہ کہیں گے کہ ایك صنعت جانتا ہے جیسے آہنگرونجاراور فلسفی کے لئے یہ مثال بھی ٹھیك نہیں کہ لوہار بڑھئی کو ان کا فن دین میں ضرر نہیں پہنچاتااور فلسفہ تو حرام و مضراسلام ہےاس میں منہمك رہنے والا اجہل جاہلاجہل بلکہ اس سے زائد کا مستحق ہےلاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم ہیہات ہیہات اسے علم سے کیامناسبتعلم وہ ہے جو مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ترکہ ہےنہ وہ جو کفار یونان کا پس خوردہ۔سیدی عارف باﷲ فاضل
فی الہندیۃ عن المحیط اذا اوصی لاھل العلم بلدۃ کذا فانہ یدخل فیہ اھل الفقہ واھل الحدیث ولا یدخل من یتکلم بالحکمۃ الخ ونقل مثلہ فی شرح الفقہ الاکبر للمتکلمین عن کتب الفتاوی لاصحابنا وسمی منھا الظھیریۃ۔ فتاوی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے روایت ہے اگر کوئی شخص شہر کے اہل علم کے لئے کسی چیز کی وصیت کرجائے تو یقینا اس میں اہل فقہ اور اہل حدیث داخل ہوں گے لیکن جو علم حکمت میں کلام کرے وہ اس وصیت میں داخل نہیں الخ اور اسی جیسا کلام ہمارے اصحاب کے فتاووں کے حوالے سے "شرح فقہ اکبر"میں متکلمین کے متعلق ذکر کیاگیا ہے ان فتاووں میں سے فتاوی ظہیریہ کا خاص نام لیاگیا ہے۔(ت)
فقیر غفراﷲ تعالی لہ قرآن وحدیث سے صدہادلائل اس معنی پر قائم کرسکتاہے کہ مصداق فضائل صرف علوم دینیہ ہیں وبس۔ ان کے سوا کوئی علم شرع کے نزدیك علمنہ آیات واحادیث میں مراداگرچہ عرف ناس میں باعتبار لغت اسے علم کہاکریں ہاں آلات ووسائل کے لئے حکم مقصود کا ہوتاہے مگر اسی وقت تك کہ وہ بقدر توسل وتقصد توسل سیکھے جائیں اس طور پر وہ بھی موردفضائل ہیں جیسے نماز کے لئے گھر سے جانے والوں کو حدیث میں فرمایا کہ وہ نماز میں ہے جب تك نماز کا انتظار کرتا ہےنہ یہ کہ انہیں مقصود قراردے لیں اور ان کے توغل میں عمر گزاردیں نحوی لغوی ادیب منطقی کہ انہیں علوم کا ہو رہے اور مقصود اصلی سے کام نہ رکھے زنہار عالم نہیں کہ جس حیثیت کے صدقہ میں انہیں نام ومقام علم حاصل ہوتا جب وہی نہیں تو یہ اپنی حد ذات میں نہ ان خوبیوں کے مصداق تھے نہ قیامت تك ہوںہاں اسے یہ کہیں گے کہ ایك صنعت جانتا ہے جیسے آہنگرونجاراور فلسفی کے لئے یہ مثال بھی ٹھیك نہیں کہ لوہار بڑھئی کو ان کا فن دین میں ضرر نہیں پہنچاتااور فلسفہ تو حرام و مضراسلام ہےاس میں منہمك رہنے والا اجہل جاہلاجہل بلکہ اس سے زائد کا مستحق ہےلاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم ہیہات ہیہات اسے علم سے کیامناسبتعلم وہ ہے جو مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ترکہ ہےنہ وہ جو کفار یونان کا پس خوردہ۔سیدی عارف باﷲ فاضل
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوصایا الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۲۱
ناصح عبدالغنی بن اسمعیل نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں:
الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم لم یکونوا یشغلوا انفسھم بھذا الفشار الذی اخترعہ الحکماء الفلاسفۃ بل من اعتقد فی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کان یعلم ھذہ الشقاشق والھذیانات المنطقیۃ فھو کافر لتحقیرہ علم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الخ قلت فاذا کان ھذا قولہ فی المنطق فما ظنك بالتفلسف الموبق نسأل اﷲ العافیۃ۔ صحابہ کرام رضی اﷲتعالی عنہم ایسے نہ تھے کہ وہ اپنے آپ کو اس خلفشار میں مشغول رکھتے کہ جس کو حکماء فلاسفہ نے ایجاد کیا بلکہ جس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ اعتقاد رکھا کہ وہ منطقی یا وہ گوئی اور غیرمعقول باتیں جانتے تھے تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے علم کی تحقیر کی الخ۔میں کہتاہوں جب منطق کے بارے ان کا یہ قول ہے تو پھر تباہ کن فلسفہ کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔ہم اﷲ تعالی سے عافیت چاہتے ہیں۔(ت)
اسی طرح وہ ہیئت جس میں انکار وجود آسمان وتکذیب گردش سیارات وغیرہ کفریات وامور مخالفہ شرع تعلیم کئے جائیں وہ بھی مثل نجوم حرام وملوم اور ضرورت سے زائد حساب یاجغرافیہ وغیرہما داخل فضولیات ہیں۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:علم تین ہیں قرآن یا حدیث یا وہ چیز جو وجوب عمل میں ان کی ہمسر ہے(گویا اجماع وقیاس کی طرف اشارہ فرماتے ہیں) اور ان کے سوا جو کچھ ہے سب فضول۔
اخرج ابوداؤد وابن ماجۃ والحاکم عن عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنھما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم العلم ثلثۃ ایۃ محکمۃ او سنۃ قائمۃ اوفریضۃ عادلۃ وماکان سواذلك فھو فضل ۔ ابوداؤدابن ماجہ اور حاکم نے حضرت عبداﷲ بن عمروبن عاص(اﷲ تعالی دونوں سے راضی ہو)کے حوالے سے تخریج کیانہوں نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا علم تین ہیں:(۱)پختہ آیت(۲)سنت قائمہ(۳)فریضہ عادلہ(یعنی وہ ضروری چیز جو وجوب
الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم لم یکونوا یشغلوا انفسھم بھذا الفشار الذی اخترعہ الحکماء الفلاسفۃ بل من اعتقد فی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ کان یعلم ھذہ الشقاشق والھذیانات المنطقیۃ فھو کافر لتحقیرہ علم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الخ قلت فاذا کان ھذا قولہ فی المنطق فما ظنك بالتفلسف الموبق نسأل اﷲ العافیۃ۔ صحابہ کرام رضی اﷲتعالی عنہم ایسے نہ تھے کہ وہ اپنے آپ کو اس خلفشار میں مشغول رکھتے کہ جس کو حکماء فلاسفہ نے ایجاد کیا بلکہ جس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ اعتقاد رکھا کہ وہ منطقی یا وہ گوئی اور غیرمعقول باتیں جانتے تھے تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے علم کی تحقیر کی الخ۔میں کہتاہوں جب منطق کے بارے ان کا یہ قول ہے تو پھر تباہ کن فلسفہ کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔ہم اﷲ تعالی سے عافیت چاہتے ہیں۔(ت)
اسی طرح وہ ہیئت جس میں انکار وجود آسمان وتکذیب گردش سیارات وغیرہ کفریات وامور مخالفہ شرع تعلیم کئے جائیں وہ بھی مثل نجوم حرام وملوم اور ضرورت سے زائد حساب یاجغرافیہ وغیرہما داخل فضولیات ہیں۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:علم تین ہیں قرآن یا حدیث یا وہ چیز جو وجوب عمل میں ان کی ہمسر ہے(گویا اجماع وقیاس کی طرف اشارہ فرماتے ہیں) اور ان کے سوا جو کچھ ہے سب فضول۔
اخرج ابوداؤد وابن ماجۃ والحاکم عن عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالی عنھما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم العلم ثلثۃ ایۃ محکمۃ او سنۃ قائمۃ اوفریضۃ عادلۃ وماکان سواذلك فھو فضل ۔ ابوداؤدابن ماجہ اور حاکم نے حضرت عبداﷲ بن عمروبن عاص(اﷲ تعالی دونوں سے راضی ہو)کے حوالے سے تخریج کیانہوں نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا علم تین ہیں:(۱)پختہ آیت(۲)سنت قائمہ(۳)فریضہ عادلہ(یعنی وہ ضروری چیز جو وجوب
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ النوع الثانی من الانواع الثلاثۃ فی العلوم المنتہی عنہا مکتبہ نوری رضویہ فیصل آباد ۱/ ۳۳۸
سنن ابی داؤد کتاب الفرائض باب ماجاء فی تعلیم الفرائض آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۴۳
سنن ابی داؤد کتاب الفرائض باب ماجاء فی تعلیم الفرائض آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۴۳
عمل میں کتاب وسنت کے برابرہو)اور جو کچھ ان کے علاوہ ہے وہ زائد ہے۔(ت)اشعہ میں ہے:
فریضۃ عادلۃ فریضہ کہ مثل وعدیل کتاب وسنت ست اشارت ست باجماع وقیاس کہ مستند ومستنبط انداز ان وبایں اعتبار آنرامساوی ومعادل کتاب وسنت داشتہ اند وتعبیر ازاں بفریضہ کردند تنبیہ برآنکہ عمل بآنہا واجب ست چنانکہ بہ کتاب وسنت وماکان سوی ذلك فھوفضل وہرچہ کہ ہست از مواد علوم جزیں پس آں فضل ست ولایعنی
ہرچہ قال اﷲ نے قال الرسول
فضلہ باشد فضلہ من خواہ اے فضول ملخصا "فریضۃ عادلۃ"جوکتاب وسنت کے مماثل اور ان کے برابر ہویہ اجماع اور قیاس کی طرف اشارہ ہےجو ان سے منسوب اور ماخوذ ہواسی اعتبار سے اس کو کتاب وسنت کے مساوی اور برابر ٹھہراتے ہیںاور اس کی تعبیر فریضہ کے ساتھ کرکے اس بات پر آگاہ کیا کہ اس پر کتاب وسنت کی طرح عمل کرناواجب ہے اور جوکچھ ان تین کے علاوہ ہے وہ فالتو ہے یعنی ان کے علاوہ جو مواد علوم ہے وہ فضول اور لایعنی ہے جو کچھ اﷲ تعالی اور رسول کا ارشاد نہیںوہ زائد ہے اسے فضول اسے زائد سمجھو۔ملخصا(ت)
اسی حدیث کا پورا خلاصہ ہے کہ امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کل العلوم سوی القران مشغلۃ الا الحدیث وعلم الفقہ فی الدین
(قرآن وحدیث اور فقہ دینی کے علاوہ تمام علوم ایك مشغلہ ہیں۔ت)
یہ مجمل کلام ہے باقی تفصیل مقام کے لئے دفتر طویل درکارجسے منظور ہو احیاء العلوم وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ ودرمختار ورد المحتار وغیرہا اسفار علماء کی طرف رجوع کرے
وفیما ذکرنا کفایۃ لاھل الدرایۃ واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ جو کچھ ہم نے بیان کیاہے وہ اہل دانش کے لئے کافی ہے اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے اور اس جلیل القدر کا علم نہایت کامل اور بڑاپختہ ہے۔(ت)
فریضۃ عادلۃ فریضہ کہ مثل وعدیل کتاب وسنت ست اشارت ست باجماع وقیاس کہ مستند ومستنبط انداز ان وبایں اعتبار آنرامساوی ومعادل کتاب وسنت داشتہ اند وتعبیر ازاں بفریضہ کردند تنبیہ برآنکہ عمل بآنہا واجب ست چنانکہ بہ کتاب وسنت وماکان سوی ذلك فھوفضل وہرچہ کہ ہست از مواد علوم جزیں پس آں فضل ست ولایعنی
ہرچہ قال اﷲ نے قال الرسول
فضلہ باشد فضلہ من خواہ اے فضول ملخصا "فریضۃ عادلۃ"جوکتاب وسنت کے مماثل اور ان کے برابر ہویہ اجماع اور قیاس کی طرف اشارہ ہےجو ان سے منسوب اور ماخوذ ہواسی اعتبار سے اس کو کتاب وسنت کے مساوی اور برابر ٹھہراتے ہیںاور اس کی تعبیر فریضہ کے ساتھ کرکے اس بات پر آگاہ کیا کہ اس پر کتاب وسنت کی طرح عمل کرناواجب ہے اور جوکچھ ان تین کے علاوہ ہے وہ فالتو ہے یعنی ان کے علاوہ جو مواد علوم ہے وہ فضول اور لایعنی ہے جو کچھ اﷲ تعالی اور رسول کا ارشاد نہیںوہ زائد ہے اسے فضول اسے زائد سمجھو۔ملخصا(ت)
اسی حدیث کا پورا خلاصہ ہے کہ امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کل العلوم سوی القران مشغلۃ الا الحدیث وعلم الفقہ فی الدین
(قرآن وحدیث اور فقہ دینی کے علاوہ تمام علوم ایك مشغلہ ہیں۔ت)
یہ مجمل کلام ہے باقی تفصیل مقام کے لئے دفتر طویل درکارجسے منظور ہو احیاء العلوم وطریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ ودرمختار ورد المحتار وغیرہا اسفار علماء کی طرف رجوع کرے
وفیما ذکرنا کفایۃ لاھل الدرایۃ واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ جو کچھ ہم نے بیان کیاہے وہ اہل دانش کے لئے کافی ہے اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے اور اس جلیل القدر کا علم نہایت کامل اور بڑاپختہ ہے۔(ت)
حوالہ / References
اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتاب العلم الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۱۶۷
دیوان امام الشافعی قافیۃ النون(افضل العلوم) دارالفکر بیروت ص۳۸۸
دیوان امام الشافعی قافیۃ النون(افضل العلوم) دارالفکر بیروت ص۳۸۸
مسئلہ ۲۹۹ تا۳۰۰: ازصاحب گنج گیا مرسلہ مولوی کریم رضاصاحب ۳۰/شوال ۱۳۱۲ھ
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تعلیم وتعلم فنون عقلیہ مثل منطق وحکمت و ریاضی وغیرہ جائزہے یانہیں اگرجائز نہیں ہے تو ملانظام الدین صاحب کے آج تك ہزاروں علماء دینداردیدہ ودانستہ برضاورغبت کیوں اس امر کے پابند رہے اور ہمیشہ درس دیتے رہےزید کہتا ہے کہ ہرگز اس علم کاپڑھنا پڑھانا جائزنہیں یہاں تك کہ بسبب اشتمال بعض مقامات توضیح وتلویح کے سائل معقول پر اس کتاب کے پڑھانے سے منع کرتاہے زید کی تقریر سے ترك بعض علوم دینیہ مثل عقائد اوراصول کالازم آتاہے۔
(۲)زید عمروکااستاد ہے اور بوقت درس حدیث کے زید نے عمرو سے عہد لیاتھا کہ تم کبھی فن معقول نہ پڑھانااب عمرو اکثر کتابیں دینیات کی طلبہ کو پڑھاتا ہے اور چونکہ مسائل عقائد اور اصول فقہ کے بسبب عدم مہارت معقولات کے طلبہ کی سمجھ میں بخوبی نہیں آتے ہیں اور طلبہ عمرو کو تقاضا معقولات کے پڑھانے کا کرتے ہیںاس صورت میں اگر عمروبخیال اس کے کہ طلبہ اگرمعقولات پڑھیں گے تو فن اصول وغیرہ خوب سمجھیں گے معقولات پڑھائے تو عمروبسبب نقض عہد استاد کے آثم ہوگایا نہیںاگر آثم ہوگا تو اس کا کچھ کفارہ ہوسکتاہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
(۱)نفس منطق ایك عالم آلی وخادم علم اعلی الاعالی ہے اس کے اصل مسائل یعنی مباحث کلیات خمسہ وقول شارح وتقاسیم قضایا و تناقض وعکوس وضاعات خمس کے تعلم میں اصلا حرج شرعی نہیںنہ یہ مسائل شرع مطہر سے کچھ مخالفت رکھیںبیان کرنے والے وائمہ کی مثال میں کل شیئ معلوم ﷲ دائما(بے شك اﷲتعالی کو ہمیشہ ہرچیز کا علم ہے۔ت)کی جگہ کل فلك متحرك دائما(ہرآسمان ہمیشہ سے حرکت کرنے والا ہے۔ت)لکھیں تویہ ان کی تقصیر ہے منطق کا قصور نہیںائمہ مؤیدین بنوراﷲ المبین اپنی سلامت فطرت عالیہ کے باعث اس کی عبارات واصطلاحات سے مستغنی تھے تو ان کے غیر بیشك ان قواعد کی حاجت رکھتے ہیں جیسے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو نحووصرف ومعانی بیان وغیرہا علوم کی احتیاج نہ تھی کہ یہ ان کے اصل سلیقہ میں مرتکز تھے اس سے ان کے غیر کا افتقار منتفی نہیں ہوتا ولہذا امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی نے فرمایا:
من لم یعرف المنطق فلاثقۃ جو کوئی علم منطق سے نا آشنا ہے اس کے علوم
(۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تعلیم وتعلم فنون عقلیہ مثل منطق وحکمت و ریاضی وغیرہ جائزہے یانہیں اگرجائز نہیں ہے تو ملانظام الدین صاحب کے آج تك ہزاروں علماء دینداردیدہ ودانستہ برضاورغبت کیوں اس امر کے پابند رہے اور ہمیشہ درس دیتے رہےزید کہتا ہے کہ ہرگز اس علم کاپڑھنا پڑھانا جائزنہیں یہاں تك کہ بسبب اشتمال بعض مقامات توضیح وتلویح کے سائل معقول پر اس کتاب کے پڑھانے سے منع کرتاہے زید کی تقریر سے ترك بعض علوم دینیہ مثل عقائد اوراصول کالازم آتاہے۔
(۲)زید عمروکااستاد ہے اور بوقت درس حدیث کے زید نے عمرو سے عہد لیاتھا کہ تم کبھی فن معقول نہ پڑھانااب عمرو اکثر کتابیں دینیات کی طلبہ کو پڑھاتا ہے اور چونکہ مسائل عقائد اور اصول فقہ کے بسبب عدم مہارت معقولات کے طلبہ کی سمجھ میں بخوبی نہیں آتے ہیں اور طلبہ عمرو کو تقاضا معقولات کے پڑھانے کا کرتے ہیںاس صورت میں اگر عمروبخیال اس کے کہ طلبہ اگرمعقولات پڑھیں گے تو فن اصول وغیرہ خوب سمجھیں گے معقولات پڑھائے تو عمروبسبب نقض عہد استاد کے آثم ہوگایا نہیںاگر آثم ہوگا تو اس کا کچھ کفارہ ہوسکتاہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
(۱)نفس منطق ایك عالم آلی وخادم علم اعلی الاعالی ہے اس کے اصل مسائل یعنی مباحث کلیات خمسہ وقول شارح وتقاسیم قضایا و تناقض وعکوس وضاعات خمس کے تعلم میں اصلا حرج شرعی نہیںنہ یہ مسائل شرع مطہر سے کچھ مخالفت رکھیںبیان کرنے والے وائمہ کی مثال میں کل شیئ معلوم ﷲ دائما(بے شك اﷲتعالی کو ہمیشہ ہرچیز کا علم ہے۔ت)کی جگہ کل فلك متحرك دائما(ہرآسمان ہمیشہ سے حرکت کرنے والا ہے۔ت)لکھیں تویہ ان کی تقصیر ہے منطق کا قصور نہیںائمہ مؤیدین بنوراﷲ المبین اپنی سلامت فطرت عالیہ کے باعث اس کی عبارات واصطلاحات سے مستغنی تھے تو ان کے غیر بیشك ان قواعد کی حاجت رکھتے ہیں جیسے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کو نحووصرف ومعانی بیان وغیرہا علوم کی احتیاج نہ تھی کہ یہ ان کے اصل سلیقہ میں مرتکز تھے اس سے ان کے غیر کا افتقار منتفی نہیں ہوتا ولہذا امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی نے فرمایا:
من لم یعرف المنطق فلاثقۃ جو کوئی علم منطق سے نا آشنا ہے اس کے علوم
لہ فی العلوم اصلا ۔ ناقابل اعتبار وناقابل اعتماد ہیں۔(ت)
بہت ائمہ کرام نے اس سے اشتغال رکھا بلکہ اس میں تصانیف فرمائیں بلکہ اسفاردینیہ مثل کتب اصول فقہ واصول دین کا مقدمہ بنایاردالمحتار میں ہے:
اما منطق الاسلامیین الذی مقدماتہ قواعد اسلامیۃ فلاوجہ للقول بحرمتہ بل سماہ الغزالی معیار العلوم وقدالف فیہ علماء الاسلام ومنھم المحقق ابن الھمام فانہ اتی منہ ببیان معظم مطالبہ فی مقدمۃ کتابہ التحریر الاصولی ۔ اہل اسلام کی منطق کو حرام کہنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ اس کے مقدمات قواعد اسلامیہ ہیںبلکہ امام غزالی نے تو معیار العلوم(علوم کے پرکھنے کی کسوٹی)قراردیا ہے اور اس میں علمائے اسلام نے سیکڑوں تصنیفات کی ہیںانہی میں سے محقق ابن ہمام بھی ہیں انہوں نے اپنی کتاب"التحریر الاصولی" کے مقدمہ میں اس کا ایسا بیان فرمایا جس کے مطالب عظیم ہیں۔(ت)
ہاں علم آلی سے بقدر آلیت اشتغال چاہئے اس میں منہمك ہوجانے والا سفیہ جاہل اور مقاصد اصلیہ سے محروم وغافل ہےاسی طرح بہت اجزائے حکمت مثل ریاضی ہندسہ وحساب وجبرومقابلہ وارثماطیقی وسیاحت ومرایاومناظر وجرثقیل وعلم مثلث کروی ومثلث مسطح وسیاست مدن وتدبیر منزل ومکائد حروب وفراست وطب وتشریح وبیطرہ بیزرہ وعلم زیجات واسطرلاب و آلات رصدیہ ومواقیت ومعادن ونباتات وحیوانات وکائنات الجو وجغرافیہ وغیرہا بھی شریعت مطہرہ سے مضادت نہیں رکھتے بلکہ ان میں بعض بلاواسطہ بعض بالواسطہ اموردینیہ میں نافع ومعین اوربعض دیگر دنیا میں بکارآمد ہیں اگرچہ مقاصد اصلیہ کے سوا حاجت سے زیادہ کسی شے میں تو غل فضولی و بیہودگی ہے۔
ومن حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ ۔ کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ لایعنی امور کو ترك کر دے۔(ت)
بہت ائمہ کرام نے اس سے اشتغال رکھا بلکہ اس میں تصانیف فرمائیں بلکہ اسفاردینیہ مثل کتب اصول فقہ واصول دین کا مقدمہ بنایاردالمحتار میں ہے:
اما منطق الاسلامیین الذی مقدماتہ قواعد اسلامیۃ فلاوجہ للقول بحرمتہ بل سماہ الغزالی معیار العلوم وقدالف فیہ علماء الاسلام ومنھم المحقق ابن الھمام فانہ اتی منہ ببیان معظم مطالبہ فی مقدمۃ کتابہ التحریر الاصولی ۔ اہل اسلام کی منطق کو حرام کہنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ اس کے مقدمات قواعد اسلامیہ ہیںبلکہ امام غزالی نے تو معیار العلوم(علوم کے پرکھنے کی کسوٹی)قراردیا ہے اور اس میں علمائے اسلام نے سیکڑوں تصنیفات کی ہیںانہی میں سے محقق ابن ہمام بھی ہیں انہوں نے اپنی کتاب"التحریر الاصولی" کے مقدمہ میں اس کا ایسا بیان فرمایا جس کے مطالب عظیم ہیں۔(ت)
ہاں علم آلی سے بقدر آلیت اشتغال چاہئے اس میں منہمك ہوجانے والا سفیہ جاہل اور مقاصد اصلیہ سے محروم وغافل ہےاسی طرح بہت اجزائے حکمت مثل ریاضی ہندسہ وحساب وجبرومقابلہ وارثماطیقی وسیاحت ومرایاومناظر وجرثقیل وعلم مثلث کروی ومثلث مسطح وسیاست مدن وتدبیر منزل ومکائد حروب وفراست وطب وتشریح وبیطرہ بیزرہ وعلم زیجات واسطرلاب و آلات رصدیہ ومواقیت ومعادن ونباتات وحیوانات وکائنات الجو وجغرافیہ وغیرہا بھی شریعت مطہرہ سے مضادت نہیں رکھتے بلکہ ان میں بعض بلاواسطہ بعض بالواسطہ اموردینیہ میں نافع ومعین اوربعض دیگر دنیا میں بکارآمد ہیں اگرچہ مقاصد اصلیہ کے سوا حاجت سے زیادہ کسی شے میں تو غل فضولی و بیہودگی ہے۔
ومن حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ ۔ کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ لایعنی امور کو ترك کر دے۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار مقدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۱
مسند امام احمدبن حنبل حدیث حسین بن علی رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۳۰۱
مسند امام احمدبن حنبل حدیث حسین بن علی رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۳۰۱
خصوصا علم طب کا مفید ومحمود ومحتاج الیہ ہونا توظاہر یونہی فرائض کے لئے ضروری حساب اور ہمیں معرفت صحیحہ اوقات طلوع فجر کاذب وصادق وشمس وضحوہ کبری واستواء وظل ثانی غایۃ الارتفاع و مثل اول وثانی وغروب شمس وشفق احمروابیض کہ نمازو سحری وافطار وغیرہا اموردینیہ ومسائل شرعیہ میں ان کی سخت حاجت عامہ کو بروجہ تحقیق قدرت بشری بے علم زیجات یاآلات رصدیہ نامتصور ان کی ناواقفی سے بہت لوگ سخت غلطیوں میں مبتلا رہتے ہیں مثلا اذہان عامہ میں جماہواہے کہ جس وقت توپ چلی اور جس گھڑی میں بارہ بجے استواء ہوگیا جب تك وقت ظہرنہ آیاتھا اور اس کے بعد شروع ہوگیا حالانکہ دونوں غلطبعض موسموں میں ہنوز توپ چلنےبارہ بجنے میں پاؤ گھنٹہ یازائد باقی ہوتاہے کہ وقت ظہرہوگیا اور بعض میں سوا بارہ بجے بھی وقت ظہر نہیں ہوتا اوقات سحری وافطار میں عوام جہال کی جنتریوں یاناواقف پڑھے لکھوں کی فہرستوں پر عمل کرتے اور بلاوجہ بزعم احتیاط دونوں جانب تعجیل سحور وتاخیر افطار سے ترك سنت مؤکدہ حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پرمصررہتے ہیںبعض حضرات بنام حفظ سنت تاخیر سحوروتعجیل افطار میں حد سے متجاوز ہوکر صحت وبطلان صوم کو حالت شك میں ڈال دیتے ہیںیہ سب علم زیجات سے ناواقفی پرمبنی ہےابھی چند سال ہوئے گنگوہ سے آئے ہوئے کچھ مسائل فقیر کے پاس بغرض استصواب آئے جن میں تین سوال متعلق ضحوہ کبری ونیت صوم وصلوۃ تھے بعض بے علم مفتیوں نے کہا کہ آج کل بہت عامیوں کے معتمد ٹھہرے ہیں ان میں دوکاجواب تو قطعا قلم انداز کیاایك کا جواب جودیانہ دینا اس سے ہزاردرجہ بہترتھا وہ فاحش غلطیاں کیں جن سے احکام شرعیہ یکسرمنقلب ہوگئے یہ وہی ناواقفی علم زیجات ومیقات تھی زید وعمر وپدروپسر نے ایك تاریخ معین میں دومختلف شہروں میں ٹھیك طلوع شمس کے ساتھ انتقال کیاناواقف فرائض دان بخیال اتحادوقت موت مطلقا حکم عدم توریث کرے گا اور و اقف اطوال وعروض بلاد ودقائق مرئیہ قطرشمس ومطالع بلدیہ بروج مستخرجہ عندتقارب الامر خصوصا وقت وقوع کہ دربدرجات عروض ودرج سواجمیعا کماھوالغالب بموامرہ زیج نہ بمجرد تعدیل بین السطرین کے لحاظ سے حکم صحیح دے گا۔جامع الرموز میں ہے:
انھم قالوالومات زید وقت الطلوع من اول رمضان مثلا بالصین کان ترکتہ لاخیہ عمرو قدمات فیہ بسمرقند مع انھما لوماتا معالم یرث احدھما فقہاء کرام فرماتے ہیں مثلا زید یکم رمضان کو عین طلوع آفتاب کے وقت چین میں فوت ہوگیا تو اس کا ترکہ اس کے بھائی عمرو کو ملے گا جبکہ وہ بھی اسی وقت سمرقند میں فوت ہو گیا حالانکہ وہ اگردونوں اکٹھے یکجامرتے تو ان میں سے کوئی
انھم قالوالومات زید وقت الطلوع من اول رمضان مثلا بالصین کان ترکتہ لاخیہ عمرو قدمات فیہ بسمرقند مع انھما لوماتا معالم یرث احدھما فقہاء کرام فرماتے ہیں مثلا زید یکم رمضان کو عین طلوع آفتاب کے وقت چین میں فوت ہوگیا تو اس کا ترکہ اس کے بھائی عمرو کو ملے گا جبکہ وہ بھی اسی وقت سمرقند میں فوت ہو گیا حالانکہ وہ اگردونوں اکٹھے یکجامرتے تو ان میں سے کوئی
عن الاخرکماتقرر ۔ ایك دوسرے کاوارث نہ ہوتا جیسا کہ(اپنی جگہ)یہ ثابت ہوچکا ہے۔(ت)
یوہیں بعض مسائل حیض ونفاس وعدت وغیرہا میں بھی ان علوم کی حاجت مثلا عورت ٹھیك وقت غروب شمس حائضہ ہوئی پھر سفرکیا دسویں دن وہاں ٹھیك وقت غروب دم منقطع ہواناواقف مطلقا اسے عشرہ کاملہ حیض جان کرانقطاع للاکثرکے احکام جاری کرے گا اور واقف بلحاظ امور معلومہ کبھی انقطاع للاقل کہے گا کبھی زیادہ علی العشرہ پرآگاہ ہوکر عادت سے جو دن زائد ہوئے انہیں استحاضہ مانے گایوہیں اگر شہردیگر میں تیسرے دن وقت غروب انقطاع ہواناواقف مطلقا حیض اور واقف کبھی استحاضہ جانے گا کہ تقادیر حیض میں ایسی ہی تدقیق معتبرہے۔شرح نقایہ میں ہے:ردالمحتارمیں ہے:ای سدس القرص (یعنی آفتاب کی ٹکیہ کا چھٹاحصہ۔ت) غورکیجئے کتنا تفاوت احکام ہوگیا اور تعلیقات میں توہزارہا صورتیں نکلیں گی جن کا حکم بے ان علوم کے ہرگز نہ کھلے گا اورفقیہ کو ان کی طرف رجوع سے چارہ نہ ملے گا کمالایخفی علی من اوتی حظامنھا(جیسا کہ اس پرپوشیدہ نہیں جو ان علوم میں سے معمولی حصہ بھی رکھتا ہے۔ت)تو مطلقا علوم عقلیہ کے تعلیم وتعلم کوناجائز بتانا یہاں تك کہ بعض مسائل صحیحہ مفیدہ عقلیہ پر اشتمال کے باعث توضیح وتلویح جیسے کتب جلیلہ عظیمہ دینیہ کے پڑھانے سے منع کرنا سخت جہالت شدیدہ وسفاہت بعیدہ ہے ہاں اکثرطبعیات وعامہ الہیات فلاسفہ مخذولین صدہا کفرصریح وشرك جلی پر مشتمل مثلا زمان وحرکت وافلاك وہیولی وصورت جرمیہ ونوعیہ وسفسطات وانواع موالید ونفوس کاقدم اور خالقیت عقول مفارقہ وانکار فاعل مختار وعلم جزئیات و حشراجساد وجنت ونارواحالہ خرق افلاك واعادہ معدوم وصدورکثیر عن الواحد وغیرہا اور ان کے سوا اور اجزأ وفروع فلسفہ بھی کفریات صریحہ ومحرمات قبیحہ سے مملو ہیں مثلا علم طلسمات ونیرنجات جزء التاثیر من علم النجوم واحکام زائچہ عالم وزائچہ موالید وتسییرات وفردارات وسیمیا وغیرہا یہ تو درس میں داخل نہیں طبعیات والہیات پڑھائے جاتے ہیں۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(پھر میں کہتاہوں توفیق اﷲ تعالی ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ت)
یوہیں بعض مسائل حیض ونفاس وعدت وغیرہا میں بھی ان علوم کی حاجت مثلا عورت ٹھیك وقت غروب شمس حائضہ ہوئی پھر سفرکیا دسویں دن وہاں ٹھیك وقت غروب دم منقطع ہواناواقف مطلقا اسے عشرہ کاملہ حیض جان کرانقطاع للاکثرکے احکام جاری کرے گا اور واقف بلحاظ امور معلومہ کبھی انقطاع للاقل کہے گا کبھی زیادہ علی العشرہ پرآگاہ ہوکر عادت سے جو دن زائد ہوئے انہیں استحاضہ مانے گایوہیں اگر شہردیگر میں تیسرے دن وقت غروب انقطاع ہواناواقف مطلقا حیض اور واقف کبھی استحاضہ جانے گا کہ تقادیر حیض میں ایسی ہی تدقیق معتبرہے۔شرح نقایہ میں ہے:ردالمحتارمیں ہے:ای سدس القرص (یعنی آفتاب کی ٹکیہ کا چھٹاحصہ۔ت) غورکیجئے کتنا تفاوت احکام ہوگیا اور تعلیقات میں توہزارہا صورتیں نکلیں گی جن کا حکم بے ان علوم کے ہرگز نہ کھلے گا اورفقیہ کو ان کی طرف رجوع سے چارہ نہ ملے گا کمالایخفی علی من اوتی حظامنھا(جیسا کہ اس پرپوشیدہ نہیں جو ان علوم میں سے معمولی حصہ بھی رکھتا ہے۔ت)تو مطلقا علوم عقلیہ کے تعلیم وتعلم کوناجائز بتانا یہاں تك کہ بعض مسائل صحیحہ مفیدہ عقلیہ پر اشتمال کے باعث توضیح وتلویح جیسے کتب جلیلہ عظیمہ دینیہ کے پڑھانے سے منع کرنا سخت جہالت شدیدہ وسفاہت بعیدہ ہے ہاں اکثرطبعیات وعامہ الہیات فلاسفہ مخذولین صدہا کفرصریح وشرك جلی پر مشتمل مثلا زمان وحرکت وافلاك وہیولی وصورت جرمیہ ونوعیہ وسفسطات وانواع موالید ونفوس کاقدم اور خالقیت عقول مفارقہ وانکار فاعل مختار وعلم جزئیات و حشراجساد وجنت ونارواحالہ خرق افلاك واعادہ معدوم وصدورکثیر عن الواحد وغیرہا اور ان کے سوا اور اجزأ وفروع فلسفہ بھی کفریات صریحہ ومحرمات قبیحہ سے مملو ہیں مثلا علم طلسمات ونیرنجات جزء التاثیر من علم النجوم واحکام زائچہ عالم وزائچہ موالید وتسییرات وفردارات وسیمیا وغیرہا یہ تو درس میں داخل نہیں طبعیات والہیات پڑھائے جاتے ہیں۔
فاقول:وباﷲ التوفیق(پھر میں کہتاہوں توفیق اﷲ تعالی ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ت)
حوالہ / References
جامع الرموز
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۸۹
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۸۹
انصافا ان کی تعلیم وتعلم زہرمہلك ونارمحرق ہے مگر بچند شروط:اولا انہماك فلسفیات وتوغل مزخرفات نے معلم کے نورقلب کو منطقی اور سلامت عقل کو منتفی نہ کردیا ہو کہ ایسے شخص پرخود ان علوم ملعونہ سے یك لخت دامن کشی فرض اور اس کی تعلیم سے ضرراشد کی توقع۔
ثانیا: وہ عقائد حقہ اسلامیہ سنیہ سے بروجہ کمال واقف وماہر اور اثبات حق وازہاق باطل پربعونہ تعالی قادر ہو ورنہ قلوب طلبہ کا تحفظ نہ کرسکے گا۔
ثالثا: وہ اپنی اس قدر کو بالتزام تام ہرسبق کے ایسے محل ومقام پراستعمال بھی کرتا ہے ہرگز کسی مسئلہ باطلہ پر آگے نہ چلنے دے جب تك اس کا بطلان متعلم کے ذہن نشین نہ کردے غرض اس کی تعلیم کا رنگ وہ ہو جو حضرت بحرالعلوم قدس سرہ الشریف کی تصانیف شریفہ کا۔
رابعا: متعلم کو قبل تعلیم خوب جانچ لے کہ پوراسنی صحیح العقیدہ ہے اور اس کے قلب میں فلسفہ ملعونہ کی عظمت ووقعت متمکن نہیں۔
خامسا اس کا ذہن بھی سلیم اور طبع مستقیم دیکھ لے بعض طبائع خواہی نخواہی زیغ کی طرف جاتے ہیں حق بات ان کے دلوں پر کم اثرکرتی اور جھوٹی جلد پیرجاتی ہے
قال اﷲ تعالی " و ان یروا سبیل الرشد لا یتخذوہ سبیلا و ان یروا سبیل الغی یتخذوہ سبیلا " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اگردرستی اور ہدایت کی راہ دیکھیں تو اس پر نہیں چلتے اور اگرگمراہی کی راہ دیکھ لیں تو اس پرچلنے لگتے ہیں۔(ت)
بالجملہ گمراہ ضال یا مستعد ضلال کو اس کی تعلیم حرام قطعی ہے ع
اے لوری کوئی دیت ہے متوازن ہتھیار
سادسا: معلم ومتعلم کی نیت صالحہ ہو نہ اغراض فاسدہ۔
سابعا: تنہا اسی پرقانع نہ ہو بلکہ دینیات کے ساتھ ان کا سبق ہو کہ اس کی ظلمت اس کے نور سے متجلی ہوتی رہے ان شراط کے لحاظ کے ساتھ بعونہ تعالی اس کے ضرر سے تحفظ رہ گا اور اس تعلیم وتعلم سے انتفاع متوقع ہوگاکہ
علمت الشرلاللشرلکن لتوقیہ فمن لم یعرف الشر فیوما یقع فیہ
(میں نے شرکو اس سے بچنے کے لئے معلوم کیانہ کہ شر کے لئےپھر جوکچھ شر کو
ثانیا: وہ عقائد حقہ اسلامیہ سنیہ سے بروجہ کمال واقف وماہر اور اثبات حق وازہاق باطل پربعونہ تعالی قادر ہو ورنہ قلوب طلبہ کا تحفظ نہ کرسکے گا۔
ثالثا: وہ اپنی اس قدر کو بالتزام تام ہرسبق کے ایسے محل ومقام پراستعمال بھی کرتا ہے ہرگز کسی مسئلہ باطلہ پر آگے نہ چلنے دے جب تك اس کا بطلان متعلم کے ذہن نشین نہ کردے غرض اس کی تعلیم کا رنگ وہ ہو جو حضرت بحرالعلوم قدس سرہ الشریف کی تصانیف شریفہ کا۔
رابعا: متعلم کو قبل تعلیم خوب جانچ لے کہ پوراسنی صحیح العقیدہ ہے اور اس کے قلب میں فلسفہ ملعونہ کی عظمت ووقعت متمکن نہیں۔
خامسا اس کا ذہن بھی سلیم اور طبع مستقیم دیکھ لے بعض طبائع خواہی نخواہی زیغ کی طرف جاتے ہیں حق بات ان کے دلوں پر کم اثرکرتی اور جھوٹی جلد پیرجاتی ہے
قال اﷲ تعالی " و ان یروا سبیل الرشد لا یتخذوہ سبیلا و ان یروا سبیل الغی یتخذوہ سبیلا " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اگردرستی اور ہدایت کی راہ دیکھیں تو اس پر نہیں چلتے اور اگرگمراہی کی راہ دیکھ لیں تو اس پرچلنے لگتے ہیں۔(ت)
بالجملہ گمراہ ضال یا مستعد ضلال کو اس کی تعلیم حرام قطعی ہے ع
اے لوری کوئی دیت ہے متوازن ہتھیار
سادسا: معلم ومتعلم کی نیت صالحہ ہو نہ اغراض فاسدہ۔
سابعا: تنہا اسی پرقانع نہ ہو بلکہ دینیات کے ساتھ ان کا سبق ہو کہ اس کی ظلمت اس کے نور سے متجلی ہوتی رہے ان شراط کے لحاظ کے ساتھ بعونہ تعالی اس کے ضرر سے تحفظ رہ گا اور اس تعلیم وتعلم سے انتفاع متوقع ہوگاکہ
علمت الشرلاللشرلکن لتوقیہ فمن لم یعرف الشر فیوما یقع فیہ
(میں نے شرکو اس سے بچنے کے لئے معلوم کیانہ کہ شر کے لئےپھر جوکچھ شر کو
حوالہ / References
القرآن الکریم ۷ /۱۴۶
نہیں پہچانتا تو کسی نہ کسی دن اس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ت)
تشحیذاذہان ہوگی ضلالات فلسفہ کے رد پر قدرت ملے گی بہت بدمذہب کے مناظرات میں کفار فلاسفہ کا دامن پکڑتے ہیں ان کی دنداں شکنی ہوسکے گی انہیں اغراض سے درس نظامی میں یہ کتب رکھی گئی تھیں کہ اب شدہ شدہ ازکجاتا کجا نوبت پہنچی یہاں تك کہ بہت حمقاء کے نزدیك یہی جہالات باطلہ علوم مقصودہ قرارپاگئیں جس کی شناعت کا قدرے بیان فقیر نے اپنے رسالے مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید(۱۳۰۴ھ)میں کیا وبا ﷲ التوفیقواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم(اﷲ تعالی ہی سے توفیق کی طلب اورآرزو ہےاور اﷲ پاکبرتر اور خوب جاننے والاہےاور اس کا علم نہایت درجہ کامل اوربڑاپختہ ہے۔ت)
(۲)کلام قدماء واصول فقہ کی سمجھ میں طبعیات والہیات فلسفہ کی اصلا حاجت نہیں
اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:لوگو! وعدہ پورا کیاکرو بے شك وعدہ کے بارے میں پوچھ ہوگی۔(ت) وقال اﷲ تعالی " " واوفوا بالعہد ان العہدکان مسـولا ﴿۳۴﴾
ہاں منطق بلاشبہہ مفید وکارآمد اور اکثر جگہ محتاج الیہ ہےمیبذی وصدراوشمس بازغہ و امثالہا کے استثناء سے درس عامہ میں جو عقلیات خالصہ یانقلیات ممترزجہ صغری وکبری وایسا غوجی وقال اقول ومیرایساغوجی وقطبی ومیرقطبی وشرح تہذیب ومیبذی وجلالی وحاشیہ سید زاہد وحاشیۃ الحاشیہ مولانا بحرالعلوم وسلم وملاحسن وحمداﷲ وقاضی ورسالہ قطبیہ وشرح سیدزاہد وحاشیہ غلام یحیی وشرح عقائد نسفی وجلالی وخیالی وتحریر اقلیدس وتصریح شرح تشریح وشرح چغمینی ومسلم الثبوت وشرح مواقف ومیر زاہد امور عامہ پڑھائی جاتی ہیں فہم کلام واصول ونیز تشحیذاذہان وتمرین عقول کے لئے بس ہیں اخذ عہد میں مراد استاد اگر وہی کتب محرمہ تھیں جب تو ظاہر کہ ان میں حرج نہیں ورنہ بشرط حاجت بنظرحاجت ورعایت شرائط وصحت نیت تعلیم کرسکتاہے اگر عہد مؤکد بقسم تھا توکفارہ یمین ہے ورنہ نہیں
اخرج الائمۃ احمد والشیخان عن عبدالرحمن بن سمرۃ رضی اﷲ تعالی ائمہ کرام مثلا امام احمد اوربخاری ومسلم نے حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی
تشحیذاذہان ہوگی ضلالات فلسفہ کے رد پر قدرت ملے گی بہت بدمذہب کے مناظرات میں کفار فلاسفہ کا دامن پکڑتے ہیں ان کی دنداں شکنی ہوسکے گی انہیں اغراض سے درس نظامی میں یہ کتب رکھی گئی تھیں کہ اب شدہ شدہ ازکجاتا کجا نوبت پہنچی یہاں تك کہ بہت حمقاء کے نزدیك یہی جہالات باطلہ علوم مقصودہ قرارپاگئیں جس کی شناعت کا قدرے بیان فقیر نے اپنے رسالے مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید(۱۳۰۴ھ)میں کیا وبا ﷲ التوفیقواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم(اﷲ تعالی ہی سے توفیق کی طلب اورآرزو ہےاور اﷲ پاکبرتر اور خوب جاننے والاہےاور اس کا علم نہایت درجہ کامل اوربڑاپختہ ہے۔ت)
(۲)کلام قدماء واصول فقہ کی سمجھ میں طبعیات والہیات فلسفہ کی اصلا حاجت نہیں
اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:لوگو! وعدہ پورا کیاکرو بے شك وعدہ کے بارے میں پوچھ ہوگی۔(ت) وقال اﷲ تعالی " " واوفوا بالعہد ان العہدکان مسـولا ﴿۳۴﴾
ہاں منطق بلاشبہہ مفید وکارآمد اور اکثر جگہ محتاج الیہ ہےمیبذی وصدراوشمس بازغہ و امثالہا کے استثناء سے درس عامہ میں جو عقلیات خالصہ یانقلیات ممترزجہ صغری وکبری وایسا غوجی وقال اقول ومیرایساغوجی وقطبی ومیرقطبی وشرح تہذیب ومیبذی وجلالی وحاشیہ سید زاہد وحاشیۃ الحاشیہ مولانا بحرالعلوم وسلم وملاحسن وحمداﷲ وقاضی ورسالہ قطبیہ وشرح سیدزاہد وحاشیہ غلام یحیی وشرح عقائد نسفی وجلالی وخیالی وتحریر اقلیدس وتصریح شرح تشریح وشرح چغمینی ومسلم الثبوت وشرح مواقف ومیر زاہد امور عامہ پڑھائی جاتی ہیں فہم کلام واصول ونیز تشحیذاذہان وتمرین عقول کے لئے بس ہیں اخذ عہد میں مراد استاد اگر وہی کتب محرمہ تھیں جب تو ظاہر کہ ان میں حرج نہیں ورنہ بشرط حاجت بنظرحاجت ورعایت شرائط وصحت نیت تعلیم کرسکتاہے اگر عہد مؤکد بقسم تھا توکفارہ یمین ہے ورنہ نہیں
اخرج الائمۃ احمد والشیخان عن عبدالرحمن بن سمرۃ رضی اﷲ تعالی ائمہ کرام مثلا امام احمد اوربخاری ومسلم نے حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۷ /۳۴
عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا حلفت علی یمین فرأیت غیرھا خیرامنھا فات الذی ھو خیر وکفر عن یمینک ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ سند سے تخریج فرمائیانہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تو کسی کام کے نہ کرنے کی قسم کھائے اور پھر دیکھے کہ اس کام کا کرنا بنسبت دوسرے کام کے بہترہے توبہترکام ہی کرو البتہ اپنی قسم کاکفارہ اداکرو۔اورا ﷲ تعالی پاکبرتر اور خوب جاننے والا ہے اور اس بزرگی والے کا علم بڑاکامل اور نہایت پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۳۰۱: ازموضع ٹاہ ضلع بریلی معرفت نیازمحمدخاں صاحب ۱۲رجب ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاگرد کے ذمہ استاد معلم کے حقوق کس قدر ہیں اور اس کے ادانہ ہونے میں کیامواخذہ ہوگا اور استاد کے احکام کی نافرمانی میں شاگرد کی نسبت کیا حکم ہے اور اس مسئلہ میں کہ شاگرد نات کاپردہ استاد سے بعد بلوغ ہوناچاہئے یاقبل بلوغ بھی بینواتوجروا۔
الجواب:
عالمگیری میں وجیزامام حافظ الدین کردری سے ہے:
قال الزندویستیحق العالم علی الجاھل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السوأ وھو ان لایفتح بالکلام قبلہ و لایجلس مکانہ وان غاب ولایرد علی کلامہ ولایتقدم علیہ فی مشیہ ۔ یعنی فرمایا امام زندویستی نے عالم کاجاہل اور استاذ کا شاگرد پرایك ساحق ہے برابر اور وہ یہ کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی جگہ اس کی غیبت میں بھی نہ بیٹھے اور چلنے میں اس سے آگے نہ بڑھے اور اس کی بات کو رد نہ کرے۔
اس میں غرائب سے ہے:
ینبغی للرجل ان یراعی حقوق ادمی کو چاہئے کہ اپنے استاذ کے حقوق واجبہ
مسئلہ ۳۰۱: ازموضع ٹاہ ضلع بریلی معرفت نیازمحمدخاں صاحب ۱۲رجب ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاگرد کے ذمہ استاد معلم کے حقوق کس قدر ہیں اور اس کے ادانہ ہونے میں کیامواخذہ ہوگا اور استاد کے احکام کی نافرمانی میں شاگرد کی نسبت کیا حکم ہے اور اس مسئلہ میں کہ شاگرد نات کاپردہ استاد سے بعد بلوغ ہوناچاہئے یاقبل بلوغ بھی بینواتوجروا۔
الجواب:
عالمگیری میں وجیزامام حافظ الدین کردری سے ہے:
قال الزندویستیحق العالم علی الجاھل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السوأ وھو ان لایفتح بالکلام قبلہ و لایجلس مکانہ وان غاب ولایرد علی کلامہ ولایتقدم علیہ فی مشیہ ۔ یعنی فرمایا امام زندویستی نے عالم کاجاہل اور استاذ کا شاگرد پرایك ساحق ہے برابر اور وہ یہ کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی جگہ اس کی غیبت میں بھی نہ بیٹھے اور چلنے میں اس سے آگے نہ بڑھے اور اس کی بات کو رد نہ کرے۔
اس میں غرائب سے ہے:
ینبغی للرجل ان یراعی حقوق ادمی کو چاہئے کہ اپنے استاذ کے حقوق واجبہ
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الاحکام باب من سأل الامارۃ وکل الیہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۸۰ و۱۰۵۸،صحیح مسلم کتاب الایمان باب ندب بین یمینًا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۴۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثلاثون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۷۳
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثلاثون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۷۳
استاذہ وآدابہ لایبخل بشیئ من حالہ ۔ کالحاظ رکھے اپنے مال میں کسی چیز سے اس کے ساتھ بخل نہ کرے۔
یعنی جوکچھ اسے درکار ہو بخوشی خاطر حاضر کرے اور اس کے قبول کرلینے میں اس کا احسان اوراپنی سعادت جانے۔اسی میں تاتارخانیہ سے ہے:
یقدم حق معلمہ علی حق ابویہ وسائر المسلمین ویتواضع لمن علمہ خیرا ولوحرفا ولاینبغی ان یخذلہ ولایتاثر علیہ احدا فان فعل ذلك فقد فصم عروۃ من عری الاسلام ومن اجلالہ ان لایقرع بابہ بل ینتظر خروجہ اھ۔
قال اﷲ تعالی" ان الذین ینادونک من وراء الحجرت اکثرہم لا یعقلون ﴿۴﴾ولو انہم صبروا حتی تخرج الیہم لکان خیرا لہم واللہ غفور رحیم ﴿۵﴾" ۔ یعنی استاذ کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے اور جس نے اسے اچھا علم سکھایا اگرچہ ایك ہی حرف پڑھایا ہو اس کے لئے تواضع کرے اور لائق نہیں کہ کسی وقت اس کی مدد سے باز رہے اپنے استاذ پرکسی کو ترجیح نہ دے اگر ایسا کرے گا تو اس نے اسلام سے رشتوں سے ایك رسی کھول دیاور استاذ کی تعظیم سے ہے کہ وہ اندرہو اور یہ حاضرہوا تو اس کے دروازہ پر ہاتھ نہ مارے بلکہ اس کے باہر آنے کا انتظار کرےاھ۔
اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:یقینا جو لوگ آپ کے حجروں کے باہر سے پکارتے اورآوازیں دیتے ہیں ان میں زیادہ تربے عقل اور ناسمجھ ہیںاگر وہ آپ کے باہر تشریف لانے(کاانتطار کرتے ہوئے)صبرکرتے تو یہ ان کے حق میں بہت بہتر ہوتا اور اﷲ تعالی بخشنے والا بے حد مہربان ہے۔(ت)
عالم دین ہرمسلمان کے حق میں عموما اور استاد علم دین اپنے شاگرد کے حق میں خصوصا نائب حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہےہاں اگر وہ کسی خلاف شرع بات کاحکم کرے ہرگز نہ مانے کہ لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی (اﷲ تعالی کی نافرمانی میں
یعنی جوکچھ اسے درکار ہو بخوشی خاطر حاضر کرے اور اس کے قبول کرلینے میں اس کا احسان اوراپنی سعادت جانے۔اسی میں تاتارخانیہ سے ہے:
یقدم حق معلمہ علی حق ابویہ وسائر المسلمین ویتواضع لمن علمہ خیرا ولوحرفا ولاینبغی ان یخذلہ ولایتاثر علیہ احدا فان فعل ذلك فقد فصم عروۃ من عری الاسلام ومن اجلالہ ان لایقرع بابہ بل ینتظر خروجہ اھ۔
قال اﷲ تعالی" ان الذین ینادونک من وراء الحجرت اکثرہم لا یعقلون ﴿۴﴾ولو انہم صبروا حتی تخرج الیہم لکان خیرا لہم واللہ غفور رحیم ﴿۵﴾" ۔ یعنی استاذ کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے اور جس نے اسے اچھا علم سکھایا اگرچہ ایك ہی حرف پڑھایا ہو اس کے لئے تواضع کرے اور لائق نہیں کہ کسی وقت اس کی مدد سے باز رہے اپنے استاذ پرکسی کو ترجیح نہ دے اگر ایسا کرے گا تو اس نے اسلام سے رشتوں سے ایك رسی کھول دیاور استاذ کی تعظیم سے ہے کہ وہ اندرہو اور یہ حاضرہوا تو اس کے دروازہ پر ہاتھ نہ مارے بلکہ اس کے باہر آنے کا انتظار کرےاھ۔
اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:یقینا جو لوگ آپ کے حجروں کے باہر سے پکارتے اورآوازیں دیتے ہیں ان میں زیادہ تربے عقل اور ناسمجھ ہیںاگر وہ آپ کے باہر تشریف لانے(کاانتطار کرتے ہوئے)صبرکرتے تو یہ ان کے حق میں بہت بہتر ہوتا اور اﷲ تعالی بخشنے والا بے حد مہربان ہے۔(ت)
عالم دین ہرمسلمان کے حق میں عموما اور استاد علم دین اپنے شاگرد کے حق میں خصوصا نائب حضورپرنورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہےہاں اگر وہ کسی خلاف شرع بات کاحکم کرے ہرگز نہ مانے کہ لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی (اﷲ تعالی کی نافرمانی میں
حوالہ / References
فتاوٰی عالمگیری کتاب الکراہیۃ الباب الثلاثون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۷۸
فتاوٰی عالمگیری کتاب الکراہیۃ الباب الثلاثون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۷۹۔۳۷۸
القرآن الکریم ۴۹ /۴
مسندامام احمد بن حنبل مرویات الحکم بن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۶۷
فتاوٰی عالمگیری کتاب الکراہیۃ الباب الثلاثون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۷۹۔۳۷۸
القرآن الکریم ۴۹ /۴
مسندامام احمد بن حنبل مرویات الحکم بن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۶۷
کسی کی اطاعت نہیں۔ت)مگر اس نہ ماننے میں گستاخی و بے ادبی سے پیش نہ آئے فان المنکرلایزال بمنکر(گناہ کا ازالہ گناہ سے نہیں ہوتا۔ت)نافرمانی احکام کا جواب اسی تقریر سے واضح ہوگیا اس کا وہ حکم کہ خلاف شرع ہو مستثنی کیاجائے گا بکمال عاجزی وزاری معذرت کرے اور بچے اورا گر اس کا حکم مباحات میں ہے تو حتی الوسع اس کی بجاآوری میں اپنی سعادت جانے اور نافرمانی کا حکم معلوم ہوچکااس نے اسلام کی گرہوں سے ایك گرہ کھول دی۔علماء فرماتے ہیں جس سے اس کے استاد کو کسی طرح کی ایذا پہنچی وہ علم کی برکت سے محروم رہے گااور اگر اس کے احکامات واجبات شرعیہ ہیں جب تو ظاہر ہے کہ ان کا لزوم دوبارہ ہوگیا ان میں اس کی نافرمانی صریح راہ جہنم ہےوالعیاذباﷲ تعالی۔رہا پردہ اس میں استاذ وغیراستاذعالم وغیر عالم پیرسب برابرہیں۔نوبرس سے کم کی لڑکی کو پردہ کی حاجت نہیں اور جب پندرہ برس کی ہو سب غیرمحارم سے پردہ واجباور نو سے پندرہ تك اگرآثار بلوغ ظاہرہوں توواجباور نہ ظاہرہوں تو مستحب خصوصا بارہ برس کے بعد بہت مؤکد کہ یہ زمانہ قرب بلوغ وکمال اشتہاکا ہے ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل نسأل اﷲ العفووالعافیۃ(جو اپنے زمانے والوں کو نہ پہچانے تو وہ جاہل ہےہم اﷲ تعالی سے عفواورعافیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۲: ازبنارس محلہ مدنپورہ اونچی مسجد مرسلہ مولوی محمدعبدالرحمن صاحب جشانی شافعی ۱۲رمضان ۱۳۱۳ھ
ہمارے علمائے اہلسنت رحمہم اﷲ تعالی اس میں کیافرماتے ہیں کہ جیسا کہ حنفی کو(بموجب اس کے جو کہ درمختار میں ہے اس بات سے کہ ضرورت کے وقت کسی مسئلہ میں اپنے امام کے سوا دوسرے امام کی تقلید کرنے کا کچھ خوف نہیں ہے لیکن بشرط اس کے کہ اس مسئلہ میں اسی امام کے سب شروط کاالتزام کرے اور نیز بموجب اس کے جو کہ شامی میں ہے اس بات سے کہ ابن وہبان نے اپنے منظومہ میں ذکرکیا ہے کہ اگر ضرورت کے وقت امام مالك کے قول پر فتوی دیاجائے تو جائزہے اور نیز بموجب اس کے جو کہ جامع الرموز میں ہے اس بات سے کہ مفقود کی مدت انتظار کی تعیین میں امام مالك اور امام اوزاعی چاربرس تك کے قائل ہیں پھر بعد چاربرس اس کی بیوی کونکاح کرنے کی اجازت ہے تو اگر ضرورت کے وقت ہمارے یہاں بھی اس قول کے ساتھ فتوی دیاجائے تو کچھ خوف نہیں)ضرورت کے وقت دوسرے امام کے قول پر عمل کرناجائز ہے ایساہی ضرورت کے وقت مثلا مسئلہ انتقاض الوضوء باکل مامستہ النار میں شافعی کو بھی اس کے مذہب کی کس کتاب کے بموجب دوسرے امام کے قول پر عمل کرناجائزہے یانہیں بینوا توجروا۔
مسئلہ ۳۰۲: ازبنارس محلہ مدنپورہ اونچی مسجد مرسلہ مولوی محمدعبدالرحمن صاحب جشانی شافعی ۱۲رمضان ۱۳۱۳ھ
ہمارے علمائے اہلسنت رحمہم اﷲ تعالی اس میں کیافرماتے ہیں کہ جیسا کہ حنفی کو(بموجب اس کے جو کہ درمختار میں ہے اس بات سے کہ ضرورت کے وقت کسی مسئلہ میں اپنے امام کے سوا دوسرے امام کی تقلید کرنے کا کچھ خوف نہیں ہے لیکن بشرط اس کے کہ اس مسئلہ میں اسی امام کے سب شروط کاالتزام کرے اور نیز بموجب اس کے جو کہ شامی میں ہے اس بات سے کہ ابن وہبان نے اپنے منظومہ میں ذکرکیا ہے کہ اگر ضرورت کے وقت امام مالك کے قول پر فتوی دیاجائے تو جائزہے اور نیز بموجب اس کے جو کہ جامع الرموز میں ہے اس بات سے کہ مفقود کی مدت انتظار کی تعیین میں امام مالك اور امام اوزاعی چاربرس تك کے قائل ہیں پھر بعد چاربرس اس کی بیوی کونکاح کرنے کی اجازت ہے تو اگر ضرورت کے وقت ہمارے یہاں بھی اس قول کے ساتھ فتوی دیاجائے تو کچھ خوف نہیں)ضرورت کے وقت دوسرے امام کے قول پر عمل کرناجائز ہے ایساہی ضرورت کے وقت مثلا مسئلہ انتقاض الوضوء باکل مامستہ النار میں شافعی کو بھی اس کے مذہب کی کس کتاب کے بموجب دوسرے امام کے قول پر عمل کرناجائزہے یانہیں بینوا توجروا۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۵۹
الجواب:
تقلید امام دیگروقت ضرورت صحیحہ بشرط مذکورہ فی السوال کا جواز متفق علیہ ہے ولہذا حنفی شافعی ہرمذہب کے محتسب کو لکھتے ہیں کہ اپنے ہم مذہب کو جو بات خلاف مذہب کرتے دیکھیں اگر وہ اس میں عذرتقلید غیرپیش کرے احتساب سے ہاتھ اٹھائیں۔شرع عین العلم میں ہے:
لورأی الشافعی شافعا یشرب النبیذ او ینکح بلا ولی ویطوء زوجتہ اورأی الحنفی حنفیا یلعب بالشطرنج اولبس الثوب الاحمر فھذا فی محل النظر کما فی الاحیاء والاظھران لہ الحسبۃ والانکار اذلم یذھب احد من المحصلین الی ان لہ ان یاخذ بمذھب غیرہ بل علی مقلد اتباع مقلدہ فی کل تفصیل فمخالفۃ المقلد متفق علی کونہ منکرا بین المحصلین وھو عاص بالمخالفۃ الا انہ جوز لہ تقلید غیرہ من الائمۃ فی بعض المسائل فاذاا اعتذروا قال انا مقلد للشافعی او الحنفی فی ھذاالبابیرتفع عنہ الاحتساب اھ مختصرا۔ اگر کوئی شافعی کسی دوسرے شافعی کو دیکھے کہ وہ نبیذ(جوس) پیتا ہے اور بغیر ولی کے نکاح کرتا ہے اور اس بیوی سے ہمبستری کرتاہے یا کوئی حنفی کسی دوسرے حنفی کو دیکھے کہ وہ شطرنج کھیلتاہے یا سرخ لباس پہنتاہے تو یہ قابل اعتراض ہے جیساکہ امام غزالی کی الاحیاء میں ہےاور زیادہ ظاہریہ ہے کہ اس کے لئے احتساب اور انکار ہے کیونکہ محصلین میں سے کوئی ادھر نہیں گیا کہ اس کے لئے کسی دوسرے امام کے قول پر عمل کرنا جائزہے بلکہ مقلد پر ہر تفصیل میں اپنے امام کا اتباع فی المذہب ضروری ہے لہذا امام کی مخالفت کے گناہ ہونے پر محصلین کا اتفاق ہے اور مخالفت امام کا مرتکب گناہ گار ہے ہاں البتہ اس کے لئے دوسرے ائمہ میں سے کسی امام کی بعض مسائل میں تقلید جائزہے پھر اگرمعذرت کرے اور کہے میں اس باب میں امام شافعی یا امام ابوحنیفہ کا مقلد ہوں تو اس سے احتساب اٹھ جائے گااھ مختصرا۔(ت)
اور اس کے اجل شواہد سے خود امام مذہب سیدنا امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کا فعل ہے کہ جب نمازصبح مزاراکرم حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس پڑھی اس میں دعائے قنوت نہ پڑھی نہ بسم اﷲ شریف کا جہرکیااور اس کا سبب حضرت امام الائمہ کا ادب بیان فرمایا۔
تقلید امام دیگروقت ضرورت صحیحہ بشرط مذکورہ فی السوال کا جواز متفق علیہ ہے ولہذا حنفی شافعی ہرمذہب کے محتسب کو لکھتے ہیں کہ اپنے ہم مذہب کو جو بات خلاف مذہب کرتے دیکھیں اگر وہ اس میں عذرتقلید غیرپیش کرے احتساب سے ہاتھ اٹھائیں۔شرع عین العلم میں ہے:
لورأی الشافعی شافعا یشرب النبیذ او ینکح بلا ولی ویطوء زوجتہ اورأی الحنفی حنفیا یلعب بالشطرنج اولبس الثوب الاحمر فھذا فی محل النظر کما فی الاحیاء والاظھران لہ الحسبۃ والانکار اذلم یذھب احد من المحصلین الی ان لہ ان یاخذ بمذھب غیرہ بل علی مقلد اتباع مقلدہ فی کل تفصیل فمخالفۃ المقلد متفق علی کونہ منکرا بین المحصلین وھو عاص بالمخالفۃ الا انہ جوز لہ تقلید غیرہ من الائمۃ فی بعض المسائل فاذاا اعتذروا قال انا مقلد للشافعی او الحنفی فی ھذاالبابیرتفع عنہ الاحتساب اھ مختصرا۔ اگر کوئی شافعی کسی دوسرے شافعی کو دیکھے کہ وہ نبیذ(جوس) پیتا ہے اور بغیر ولی کے نکاح کرتا ہے اور اس بیوی سے ہمبستری کرتاہے یا کوئی حنفی کسی دوسرے حنفی کو دیکھے کہ وہ شطرنج کھیلتاہے یا سرخ لباس پہنتاہے تو یہ قابل اعتراض ہے جیساکہ امام غزالی کی الاحیاء میں ہےاور زیادہ ظاہریہ ہے کہ اس کے لئے احتساب اور انکار ہے کیونکہ محصلین میں سے کوئی ادھر نہیں گیا کہ اس کے لئے کسی دوسرے امام کے قول پر عمل کرنا جائزہے بلکہ مقلد پر ہر تفصیل میں اپنے امام کا اتباع فی المذہب ضروری ہے لہذا امام کی مخالفت کے گناہ ہونے پر محصلین کا اتفاق ہے اور مخالفت امام کا مرتکب گناہ گار ہے ہاں البتہ اس کے لئے دوسرے ائمہ میں سے کسی امام کی بعض مسائل میں تقلید جائزہے پھر اگرمعذرت کرے اور کہے میں اس باب میں امام شافعی یا امام ابوحنیفہ کا مقلد ہوں تو اس سے احتساب اٹھ جائے گااھ مختصرا۔(ت)
اور اس کے اجل شواہد سے خود امام مذہب سیدنا امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ کا فعل ہے کہ جب نمازصبح مزاراکرم حضرت امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس پڑھی اس میں دعائے قنوت نہ پڑھی نہ بسم اﷲ شریف کا جہرکیااور اس کا سبب حضرت امام الائمہ کا ادب بیان فرمایا۔
حوالہ / References
شرح عین العلم
کما ذکرہ الامام ابن حجرالمکی الشافعی فی الفصل الخامس والثلثین من الخیرات الحسان من مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان"۔ جیسا کہ امام ابن حجرمکی شافعی نے اس کو"الخیرات الحسان من مناقب الامام اعظم ابی حنیفۃ النعمان"کی ۳۵ویں فصل میں بیان فرمایا۔(ت)
اور مروی ہوا کہ تکبیرات انتقال میں رفع یدین بھی نہ کیا اور فرمایا:
ادبنا مع ھذا الامام اکثرمن ان نظھر خلافہ بحضرتہ۔
ذکرہ القاری فی المرقاۃ ۔ اس امام کے ساتھ ہمارا ادب اس سے زائدہے کہ ہم ان کے حضور ان کاخلاف ظاہرکریں۔
اس کو ملاعلی قاری نے مرقاۃ(شرح مشکوۃ)میں ذکرفرمایا۔ (ت)
یہاں مخالفت مذہب کی ضرورت کو امام ابن حجر مکی شافعی نے خیرات الحسان میں مفصل ذکر فرمایا ہے من شاء فلیطالعھا (جوکوئی چاہے اس کا مطالعہ کرے۔ت)اتنا امر اور ملحوظ خاطر رہے کہ زن مفقود کو چارسال کے بعد اجازت نکاح کہ مذہب امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ ہےاس کے یہ معنی نہیں کہ جب اس کی خبر منقطع ہونے کو چاربرس گزرجائیں یہ بطور خود نکاح کرلے بلکہ ان کا مذہب یہ ہے کہ زن مفقود قاضی شرع کی طرف رجوع لائے وہ اپنے حکم سے چار سال کی مہلت آج سے دے اس سے پہلے اگر چہ بیس سال گزرگئے ہوں ان کا کچھ اعتبار نہیں جب یہ چار برس گزرجائیں اور پتا نہ چلے قاضی اپنے حکم سے تفریق کرے اس کے بعد عورت عدت بیٹھ کر نکاح کی مختارہوسکتی ہے
کما بینہ العلامۃ الزرقانی المالکی فی شرح المؤطا واوضحناہ فی کتاب النکاح وکتاب المفقود من فتاونا۔ جیسا کہ علامہ زرقانی مالکی نے اس کو شرح مؤطا میں بیان فرمایااور ہم نے اپنے فتاوی کی بحث نکاح اور بحث مفقود میں اس کی وضاحت کی۔(ت)
یہ بہت غلطی ولغزش کامحل ہے اسے خوب سمجھ لیناچاہئے۔اسی طرح انتقاض وضو"باکل مامستہ النار(آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کا ٹوٹ جانا۔ت)ائمہ اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم میں کسی کا
اور مروی ہوا کہ تکبیرات انتقال میں رفع یدین بھی نہ کیا اور فرمایا:
ادبنا مع ھذا الامام اکثرمن ان نظھر خلافہ بحضرتہ۔
ذکرہ القاری فی المرقاۃ ۔ اس امام کے ساتھ ہمارا ادب اس سے زائدہے کہ ہم ان کے حضور ان کاخلاف ظاہرکریں۔
اس کو ملاعلی قاری نے مرقاۃ(شرح مشکوۃ)میں ذکرفرمایا۔ (ت)
یہاں مخالفت مذہب کی ضرورت کو امام ابن حجر مکی شافعی نے خیرات الحسان میں مفصل ذکر فرمایا ہے من شاء فلیطالعھا (جوکوئی چاہے اس کا مطالعہ کرے۔ت)اتنا امر اور ملحوظ خاطر رہے کہ زن مفقود کو چارسال کے بعد اجازت نکاح کہ مذہب امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ ہےاس کے یہ معنی نہیں کہ جب اس کی خبر منقطع ہونے کو چاربرس گزرجائیں یہ بطور خود نکاح کرلے بلکہ ان کا مذہب یہ ہے کہ زن مفقود قاضی شرع کی طرف رجوع لائے وہ اپنے حکم سے چار سال کی مہلت آج سے دے اس سے پہلے اگر چہ بیس سال گزرگئے ہوں ان کا کچھ اعتبار نہیں جب یہ چار برس گزرجائیں اور پتا نہ چلے قاضی اپنے حکم سے تفریق کرے اس کے بعد عورت عدت بیٹھ کر نکاح کی مختارہوسکتی ہے
کما بینہ العلامۃ الزرقانی المالکی فی شرح المؤطا واوضحناہ فی کتاب النکاح وکتاب المفقود من فتاونا۔ جیسا کہ علامہ زرقانی مالکی نے اس کو شرح مؤطا میں بیان فرمایااور ہم نے اپنے فتاوی کی بحث نکاح اور بحث مفقود میں اس کی وضاحت کی۔(ت)
یہ بہت غلطی ولغزش کامحل ہے اسے خوب سمجھ لیناچاہئے۔اسی طرح انتقاض وضو"باکل مامستہ النار(آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کا ٹوٹ جانا۔ت)ائمہ اربعہ رضی اﷲ تعالی عنہم میں کسی کا
حوالہ / References
الخیرات الحسان الفصل الخامس والثلاثون ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۴۹
مرقاۃ المفاتیح
مرقاۃ المفاتیح
مذہب نہیں بلکہ بعدصدراول اس کے خلاف پر اجماع علماء منعقد ہولیاہےامام اجل ابوزکریا نووی شافعی شرح مسلم میں فرماتے ہیں:
ذھب جماھیر العلماء من السلف والخلف الی انہ لا ینتقض الوضوء باکل مامستہ النار ممن ذھب الیہ ابوبکر الصدیق وعمروعثمان وعلی رضی اﷲ تعالی عنھم وھو مذھب مالك وابی حنیفۃ والشافعی و احمد رحمھم اﷲ تعالی وذھبت طائفۃ الی وجوب الوضوء الشرعی باکل مامستہ النار وھو مروی عن عمربن عبدالعزیز والحسن البصری والزھری ثم ان ھذا الخلاف الذی حکیناہ کان فی الصدر الاول ثم اجمع العلماء بعد ذلك علی انہ لایجب الوضؤ باکل مامستہ النار اھ باختصارواﷲ تعالی اعلم۔ سلف وخلف(اگلے پچھلے لوگوں)میں سے جمہور علماء کرام کے نزدیك آگ پرپکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ جن بزرگوں نے یہ مؤقف و مذہب اختیار کیا ان میں خلفائے راشدین حضرت ابوبکرصدیقحضرت عمرفاروق حضرت عثمان غنی اور سیدنا حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہم شامل ہیں۔امام مالکامام ابوحنیفہشافعی اور امام احمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہم کا تو یہی مذہب ہےاور ایك گروہ کامؤقف یہ ہے کہ ہرپکی ہوئی چیز کھائے سے وضوشرعی واجب ہے حضرت عمربن عبدالعزیزحسن بصری اور زہری سے یہ مروی ہے۔ جس اختلاف کی ہم نے حکایت کی ہے وہ صدراول میں تھا۔ اس کے بعد علماء کرام کا اس پر اجماع منعقد ہوگیاکہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضوکرنا واجب نہیں اھ باختصار۔اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم رکھنے والاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۰۳ : (سوال ندارد)
الجواب:
حفظ قرآن فرض کفایہ ہے اور سنت صحابہ وتابعین وعلمائے دین متین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین اور منجملہ افاضل مستحبات عمدہ قربات منافع وفضائل اس کے حصروشمار سے باہر۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ذھب جماھیر العلماء من السلف والخلف الی انہ لا ینتقض الوضوء باکل مامستہ النار ممن ذھب الیہ ابوبکر الصدیق وعمروعثمان وعلی رضی اﷲ تعالی عنھم وھو مذھب مالك وابی حنیفۃ والشافعی و احمد رحمھم اﷲ تعالی وذھبت طائفۃ الی وجوب الوضوء الشرعی باکل مامستہ النار وھو مروی عن عمربن عبدالعزیز والحسن البصری والزھری ثم ان ھذا الخلاف الذی حکیناہ کان فی الصدر الاول ثم اجمع العلماء بعد ذلك علی انہ لایجب الوضؤ باکل مامستہ النار اھ باختصارواﷲ تعالی اعلم۔ سلف وخلف(اگلے پچھلے لوگوں)میں سے جمہور علماء کرام کے نزدیك آگ پرپکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ جن بزرگوں نے یہ مؤقف و مذہب اختیار کیا ان میں خلفائے راشدین حضرت ابوبکرصدیقحضرت عمرفاروق حضرت عثمان غنی اور سیدنا حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہم شامل ہیں۔امام مالکامام ابوحنیفہشافعی اور امام احمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہم کا تو یہی مذہب ہےاور ایك گروہ کامؤقف یہ ہے کہ ہرپکی ہوئی چیز کھائے سے وضوشرعی واجب ہے حضرت عمربن عبدالعزیزحسن بصری اور زہری سے یہ مروی ہے۔ جس اختلاف کی ہم نے حکایت کی ہے وہ صدراول میں تھا۔ اس کے بعد علماء کرام کا اس پر اجماع منعقد ہوگیاکہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضوکرنا واجب نہیں اھ باختصار۔اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم رکھنے والاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۰۳ : (سوال ندارد)
الجواب:
حفظ قرآن فرض کفایہ ہے اور سنت صحابہ وتابعین وعلمائے دین متین رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین اور منجملہ افاضل مستحبات عمدہ قربات منافع وفضائل اس کے حصروشمار سے باہر۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم کتاب الحیض باب الوضوء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۵۶
یجیئ صاحب القران یوم القیمۃ فیقول یارب حلہ الحدیث۔ یعنی قرآن والاقیامت کے روز آئے گا پس قرآن عرض کرے گا اے رب میرے اسے خلعت عطارفرما تو اس شخص کو تاج کرامت عطافرمائیں گےپھر عرض کرے گا اے رب میرے اور زیادہ کر تو اسے حلہ بزرگی پہنائیں گےپھر عرض کرے گا اے رب میرے اس سے راضی ہوجاتو اﷲ جل جلالہ اس سے راضی ہوجائے گا۔ پھر اس سے کہاجائے گا پڑھ اور چڑھ اور ہرآیت پرایك نیك زائد کی جائے گی۔
اورفرماتے ہیں:
یقال یعنی لصاحب القران اقرء وارق ورتل الحدیث رواہ الترمذی و ابن ماجہ واللفظ للترمذی۔ یعنی صاحب قرآن کو حکم ہوگا کہ پڑھ اور چڑھ اور ٹھہرٹھہر کر پڑھ جیسے تو اسے دنیا میں ٹھہرٹھہر کر پڑھتاتھا کہ تیرامقام اس پچھلی آیت کے نزدیك ہے جسے تو پڑھے گا(ترمذی اور ابن ماجہ نے اس کو روایت کیا اور الفاظ جامع ترمذی کے ہیں۔ت)
حاصل یہ کہ ہرآیت پرایك ایك درجہ اس کا جنت میں بلند کرتے جائیں گے جس کے پاس جس قدرآیتیں ہوں گی اسی قدردرجے اسے ملیں گے۔اورفرماتے ہیں:
مثل القران ومن تعلمہالحدیث رواہ ابن ماجہ والنسائی۔ یعنی حافظ قرآن اگرشب کو تلاوت کرے تو اس کی مثال اس توشہ دان کی ہے جس میں مشك بھراہواہو اور اس کی خوشبو تمام مکانوں میں مہکے اور جو شب کو سورہے اور قرآن اس کے سینے میں ہو تو اس کی کہاوت مانند اس توشہ دان کے ہے جس میں مشك ہے اور اس کا منہ باندھ دیاجائے الحدیث(ابن ماجہ اورنسائی نے اسے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں:
خیرکم من تعلم القران و یعنی تم میں بہتروہ ہے جو قرآن سیکھے اور
اورفرماتے ہیں:
یقال یعنی لصاحب القران اقرء وارق ورتل الحدیث رواہ الترمذی و ابن ماجہ واللفظ للترمذی۔ یعنی صاحب قرآن کو حکم ہوگا کہ پڑھ اور چڑھ اور ٹھہرٹھہر کر پڑھ جیسے تو اسے دنیا میں ٹھہرٹھہر کر پڑھتاتھا کہ تیرامقام اس پچھلی آیت کے نزدیك ہے جسے تو پڑھے گا(ترمذی اور ابن ماجہ نے اس کو روایت کیا اور الفاظ جامع ترمذی کے ہیں۔ت)
حاصل یہ کہ ہرآیت پرایك ایك درجہ اس کا جنت میں بلند کرتے جائیں گے جس کے پاس جس قدرآیتیں ہوں گی اسی قدردرجے اسے ملیں گے۔اورفرماتے ہیں:
مثل القران ومن تعلمہالحدیث رواہ ابن ماجہ والنسائی۔ یعنی حافظ قرآن اگرشب کو تلاوت کرے تو اس کی مثال اس توشہ دان کی ہے جس میں مشك بھراہواہو اور اس کی خوشبو تمام مکانوں میں مہکے اور جو شب کو سورہے اور قرآن اس کے سینے میں ہو تو اس کی کہاوت مانند اس توشہ دان کے ہے جس میں مشك ہے اور اس کا منہ باندھ دیاجائے الحدیث(ابن ماجہ اورنسائی نے اسے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں:
خیرکم من تعلم القران و یعنی تم میں بہتروہ ہے جو قرآن سیکھے اور
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۵
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۵
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۱،سنن ابن ماجہ باب فضل من تعلم القرآن ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۵
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۱،سنن ابن ماجہ باب فضل من تعلم القرآن ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹
علمہرواہ البخاری والترمذی وابن ماجہ۔ سکھائے(بخاریترمذی اور ابن ماجہ نے اسے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں:
لما سمعت الملئکۃ القرانالحدیث رواہ الدارمی ۔ جب فرشتوں نے قرآن سنا بولے خوشی ہو اس امت کے لئے جس پر یہ نازل ہوااور خوشی ہو ان سینوں کے لئے جو اسے اٹھائیں گے اور یاد کریں گےاور خوشی ہو ان زبانوں کے لئے جو اسے پڑھیں گے اور تلاوت کریں گے(اس کو دارمی نے روایت کیا۔ت)
جابجا اﷲ جل جلالہاور اس کے رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کی ترغیب وتحریص فرمائی۔رب تبارك وتعالی فرماتاہے:
" و لقد یسرنا القران للذکر فہل من مدکر ﴿۱۷﴾" اور بیشك ہم نے آسان کردیا قرآن کو یاد کرنے کے لئے سو ہے کوئی یادکرنے والا۔
اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تعاھدوالقران فوالذی نفسی بیدہ لھواشد تفصیا من الابل فی عقلھا رواہ البخاری ومسلم۔ یعنی نگاہ رکھو قرآن کو اور اسے یاد کرتے رہوسو قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے البتہ قرآن زیادہ چھوٹنے پرآمادہ ان اونٹوں سے جو اپنی رسیوں سے بندھے ہوں(اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا۔ت)
یعنی جس طرح بندھے ہوئے اونٹ چھوٹنا چاہتے ہیں اور اگر ان کی محافظت واحتیاط نہ کی جائے
اور فرماتے ہیں:
لما سمعت الملئکۃ القرانالحدیث رواہ الدارمی ۔ جب فرشتوں نے قرآن سنا بولے خوشی ہو اس امت کے لئے جس پر یہ نازل ہوااور خوشی ہو ان سینوں کے لئے جو اسے اٹھائیں گے اور یاد کریں گےاور خوشی ہو ان زبانوں کے لئے جو اسے پڑھیں گے اور تلاوت کریں گے(اس کو دارمی نے روایت کیا۔ت)
جابجا اﷲ جل جلالہاور اس کے رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کی ترغیب وتحریص فرمائی۔رب تبارك وتعالی فرماتاہے:
" و لقد یسرنا القران للذکر فہل من مدکر ﴿۱۷﴾" اور بیشك ہم نے آسان کردیا قرآن کو یاد کرنے کے لئے سو ہے کوئی یادکرنے والا۔
اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تعاھدوالقران فوالذی نفسی بیدہ لھواشد تفصیا من الابل فی عقلھا رواہ البخاری ومسلم۔ یعنی نگاہ رکھو قرآن کو اور اسے یاد کرتے رہوسو قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے البتہ قرآن زیادہ چھوٹنے پرآمادہ ان اونٹوں سے جو اپنی رسیوں سے بندھے ہوں(اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا۔ت)
یعنی جس طرح بندھے ہوئے اونٹ چھوٹنا چاہتے ہیں اور اگر ان کی محافظت واحتیاط نہ کی جائے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵۲،جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۴،سنن ابن ماجہ باب فضل من تعلم القرآن ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹
سنن الدارمی کتاب فضائل القرآن حدیث ۳۴۱۷ نشرالسنۃ ملتان ۲/ ۳۲۷
القرآن الکریم ۵۴ /۱۷
صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵۳،صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶۸
سنن الدارمی کتاب فضائل القرآن حدیث ۳۴۱۷ نشرالسنۃ ملتان ۲/ ۳۲۷
القرآن الکریم ۵۴ /۱۷
صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۵۳،صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶۸
تو رہاہوجائیں اس سے زیادہ قرآن کی کیفیت ہے اگر اسے یاد نہ کرتے رہو گے تو وہ تمہارے سینوں سے نکل جائے گا پس تمہیں چاہئے کہ ہروقت اس کا خیال رکھو اور یاد کرتے رہو اس دولت بے نہایت کوہاتھ سے نہ جانے دو۔اورفرماتے ہیں:
ان الذی لیس فی جوفہ شیئ من القران کالبیت الخرب۔رواہ الترمذی ۔ حاصل یہ کہ جسے کچھ قرآن یاد نہیں وہ ویرانے گھر کے مانند ہے یعنی جیسے گھروں کی زینت ان کے رہنے والوں اور عمدہ آرائشوں سے ہوتی ہے اسی طرح خانہ دل کی زینت قرآن مجید سے ہے جسے قرآن یاد ہے اس کا دل آباد ہے ورنہ ویرانہ وبرباد۔
اور فرماتے ہیں:
یا اھل القران لاتوسدواالقران واتلوہ حق تلاوتہ من اناء اللیل والنھار وافشوہالحدیث رواہ البیہقی والطبرانی۔ یعنی اے قرآن والو! قرآن کو تکیہ نہ بنالو کہ پڑھ کے یاد کرکے رکھ چھوڑا پھر نگاہ اٹھاکر نہ دیکھا بلکہاسے پڑھتے رہو دن رات کی گھڑیوں میں جیسے اس کے پڑھنے کاحق ہے اور اسے افشا کرو کہ خود پڑھو لوگوں کو پڑھاؤیادکراؤ اس کے پڑھنے یاد کرنے کی ترغیب دونہ یہ کہ جو پڑے اور خدا اسے حفظ کی توفیق دے اس کو روکو اور منع کرو۔(بیہقی اور طبرانی سے اس کو روایت کیا۔ت)
اس سے زیادہ نادان کون ہے جسے خدا ایسی ہمت بخشے اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھودے اگرقدر اس کی جانتا اور جو ثواب اور درجات اس پرموعود ہیں ان سے واقف ہوتا تو اسے جان و دل سے زیادہ عزیزرکھتا زید نادان کو اپنے سوء حافظہ یا کسی اور سبب سے حفظ قرآن میں دقت ہو یا متشابہ زیادہ واقع ہوں تو اسے قرآن کا تصورسمجھتاہے اور اس کے حفظ کو معاذاﷲ بیکار وبے ثمرٹھہراتا ہے یہ وسوسہ شیطان کا ہے کہ اس کے دل میں ڈرلاتا تاکہ سے ایسی نعمت عظمی سے محروم رکھے اور راہ راست سے پھیر کر گمراہوں کے گروہ میں داخل کرےوہ یہ نہیں جانتا کہ جسے قرآن مجید میں زیادہ دقت ومشقت پڑتی ہے اس کا اجر اﷲ کے نزدیك دوناہےرسول اﷲ
ان الذی لیس فی جوفہ شیئ من القران کالبیت الخرب۔رواہ الترمذی ۔ حاصل یہ کہ جسے کچھ قرآن یاد نہیں وہ ویرانے گھر کے مانند ہے یعنی جیسے گھروں کی زینت ان کے رہنے والوں اور عمدہ آرائشوں سے ہوتی ہے اسی طرح خانہ دل کی زینت قرآن مجید سے ہے جسے قرآن یاد ہے اس کا دل آباد ہے ورنہ ویرانہ وبرباد۔
اور فرماتے ہیں:
یا اھل القران لاتوسدواالقران واتلوہ حق تلاوتہ من اناء اللیل والنھار وافشوہالحدیث رواہ البیہقی والطبرانی۔ یعنی اے قرآن والو! قرآن کو تکیہ نہ بنالو کہ پڑھ کے یاد کرکے رکھ چھوڑا پھر نگاہ اٹھاکر نہ دیکھا بلکہاسے پڑھتے رہو دن رات کی گھڑیوں میں جیسے اس کے پڑھنے کاحق ہے اور اسے افشا کرو کہ خود پڑھو لوگوں کو پڑھاؤیادکراؤ اس کے پڑھنے یاد کرنے کی ترغیب دونہ یہ کہ جو پڑے اور خدا اسے حفظ کی توفیق دے اس کو روکو اور منع کرو۔(بیہقی اور طبرانی سے اس کو روایت کیا۔ت)
اس سے زیادہ نادان کون ہے جسے خدا ایسی ہمت بخشے اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھودے اگرقدر اس کی جانتا اور جو ثواب اور درجات اس پرموعود ہیں ان سے واقف ہوتا تو اسے جان و دل سے زیادہ عزیزرکھتا زید نادان کو اپنے سوء حافظہ یا کسی اور سبب سے حفظ قرآن میں دقت ہو یا متشابہ زیادہ واقع ہوں تو اسے قرآن کا تصورسمجھتاہے اور اس کے حفظ کو معاذاﷲ بیکار وبے ثمرٹھہراتا ہے یہ وسوسہ شیطان کا ہے کہ اس کے دل میں ڈرلاتا تاکہ سے ایسی نعمت عظمی سے محروم رکھے اور راہ راست سے پھیر کر گمراہوں کے گروہ میں داخل کرےوہ یہ نہیں جانتا کہ جسے قرآن مجید میں زیادہ دقت ومشقت پڑتی ہے اس کا اجر اﷲ کے نزدیك دوناہےرسول اﷲ
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۵
کنزالعمال بحوالہ طب،حب حدیث ۲۸۰۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۶۱۱
کنزالعمال بحوالہ طب،حب حدیث ۲۸۰۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۶۱۱
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الماھر بالقران مع السفرۃ الکرام البررۃ رواہ البخاری ومسلم۔ یعنی جو شخص قرآن مجید میں مہارت رکھتاہے وہ نیکوں اور بزرگوں اور وحی وکتابت یالوح محفوظ کے لکھنے والوں یعنی انبیاء وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہےاور جو قرآن کو بزور پڑھتاہے اور وہ اس پرشاق ہے اس کے لئے دو اجرہیں۔ (بخاری ومسلم نے اس کو روایت کیا۔ت)
انجام اس وسوسہ ابلیس وفساد باطنی کا یہ ہے کہ وہ قرآن مجید بھول جائے اور ان وعیدوں کا مستحق ہو جو اس باب میں وارد ہوئیںاﷲ جل جلالہ فرماتاہے:
" ومن اعرض عن ذکری" الآیۃ۔ جومیرے ذکر یعنی قرآن سے منہ پھیرے گا سو اس کے لئے تنگ عیش ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے کہے گا اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا اور میں توتھا انکھیارااﷲ تعالی فرمائے گا یوہیں آئی تھیں تیرے پاس ہماری آیتیں سو تونے انہیں بھلادیا اور ایسے ہی آج تو بھلادیاجائے گا کہ کوئی تیری خبرنہ لے گا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
مامن امرء یقرء القران ثم ینسھا الحدیثرواہ ابو داؤد والدارمی۔ یعنی جو شخص قرآن پڑھ کر بھول جائے گا قیامت کو خدا کے پاس کوڑھی ہوکررہے گا۔(ابوداؤد اوردارمی نے اس کو روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں:
عرضت علی ذنوب امتیالحدیث رواہ الترمذی ۔ حاصل یہ کہ میری امت کے گناہ میرے حضور پیش کئے گئے تو میں نے گناہ اس سے بڑا نہ دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن کی ایك سورۃ یا ایك آیت یاد ہو پھر وہ اسے بھلادے۔(اس کوترمذی نے روایت کیا۔ت)
الماھر بالقران مع السفرۃ الکرام البررۃ رواہ البخاری ومسلم۔ یعنی جو شخص قرآن مجید میں مہارت رکھتاہے وہ نیکوں اور بزرگوں اور وحی وکتابت یالوح محفوظ کے لکھنے والوں یعنی انبیاء وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہےاور جو قرآن کو بزور پڑھتاہے اور وہ اس پرشاق ہے اس کے لئے دو اجرہیں۔ (بخاری ومسلم نے اس کو روایت کیا۔ت)
انجام اس وسوسہ ابلیس وفساد باطنی کا یہ ہے کہ وہ قرآن مجید بھول جائے اور ان وعیدوں کا مستحق ہو جو اس باب میں وارد ہوئیںاﷲ جل جلالہ فرماتاہے:
" ومن اعرض عن ذکری" الآیۃ۔ جومیرے ذکر یعنی قرآن سے منہ پھیرے گا سو اس کے لئے تنگ عیش ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے کہے گا اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا اور میں توتھا انکھیارااﷲ تعالی فرمائے گا یوہیں آئی تھیں تیرے پاس ہماری آیتیں سو تونے انہیں بھلادیا اور ایسے ہی آج تو بھلادیاجائے گا کہ کوئی تیری خبرنہ لے گا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
مامن امرء یقرء القران ثم ینسھا الحدیثرواہ ابو داؤد والدارمی۔ یعنی جو شخص قرآن پڑھ کر بھول جائے گا قیامت کو خدا کے پاس کوڑھی ہوکررہے گا۔(ابوداؤد اوردارمی نے اس کو روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں:
عرضت علی ذنوب امتیالحدیث رواہ الترمذی ۔ حاصل یہ کہ میری امت کے گناہ میرے حضور پیش کئے گئے تو میں نے گناہ اس سے بڑا نہ دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن کی ایك سورۃ یا ایك آیت یاد ہو پھر وہ اسے بھلادے۔(اس کوترمذی نے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول النبی صلی علیہ وسلم الماھربالقرآن ۲/ ۲۶۔۱۱۲۵،صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن باب فضیلۃ حافظ قرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶۹
القرآن الکریم ۲۰ /۱۲۴
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب التشدید فی من حفظ القرآن آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۰۷،سنن الدارمی کتاب فضائل القرآن حدیث ۳۳۴۳ نشرالسنّۃ ملتان ۲/ ۳۱۵
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن باب من فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۵
القرآن الکریم ۲۰ /۱۲۴
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب التشدید فی من حفظ القرآن آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۰۷،سنن الدارمی کتاب فضائل القرآن حدیث ۳۳۴۳ نشرالسنّۃ ملتان ۲/ ۳۱۵
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن باب من فضائل القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۵
زید پرلازم کہ اس قسم کی خرافات اور گستاخیوں سے بازآئے اور خلاف حکم اﷲ اوراﷲ کے رسول کے لوگوں کو حفظ کلام اﷲ سے نہ روکے بلکہترغیب دے اور جہاں تك ہوسکے اس کے پڑھانے اور حفظ کرانے اور خود یادرکھنے میں کوشش کرے تاکہ وہ ثواب جو اس پر موعود ہیں حاصل ہوں اور روزقیامت اندھا کوڑھی ہوکر اٹھنے سے نجات پائےواﷲ الھادی الی سبیل الرشاد ومن یضلل اﷲ فمالہ من ھاد۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔اﷲ تعالی سیدھاراستہ دکھانے والا ہے اور جس کو وہ گمراہ کردے اسے کوئی راہ دکھلانے والانہیں۔اور اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم رکھتاہے اس کا علم بڑاکامل اور اس کافیصلہ بڑامحکم ہوتاہے۔ (ت)
مسئلہ ۳۰۴: ازموضع اٹنگہ چاندپور پرگنہ نواب گنج مرسلہ سیدحافظ وحیدالدین صاحب ۱۴شعبان ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میںایك موضع میں دوقسم کے فریق ہیںایك کی اولاد دین کے مدرسے میں علم دین مثل حفظ قرآن شریف وناظرہ وضروریات دین ودنیوی جوکہ ضروری ہیں بہت زمانہ سے سیکھتے ہیں اور تعلیم پاتے ہیں اور ان کے والدین کوشش ان کے میں مصروف ہیںاور دوسرے فریق نے عرضی دے کر مدرسہ سرکاری کروایا ہے وہ اس کی تائید اور کاروائی میں مصروف ہیںہردو مدرسین کاکیاحکم ہے اور ہردوفریقین اور طالب علموں کے لئے کیاحکم شرع ہے اور کون سے علوم ہیں کہ ان کی فرضیت کاحکم ہے یا اس میں مسلمانوں کو اپنی طبیعت کااختیار ہے جو علم چاہیں پڑھیں پڑھائیںثواب وعقاب سےا س کے لئے آگاہ فرمائیے گا۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
علم دین سیکھنا اس قدرہے کہ مذہب حق سے آگاہ ہووضو غسلنمازروزے وغیرہا ضروریات کے احکام سے مطلع ہو۔تاجر تجارتمزارع زراعتاجیر اجارےغرض ہرشخص جس حالت میں ہے اس کے متعلق احکام شریعت سے واقف ہوفرض عین ہے جب تك یہ حاصل کرےجغرافیہتاریخوغیرہ میں وقت ضائع کرناجائزنہیں۔حدیث میں ہے:
طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ ۔ ہرمسلمان مردعورت پرعلم کی تلاش فرض ہے۔(ت)
مسئلہ ۳۰۴: ازموضع اٹنگہ چاندپور پرگنہ نواب گنج مرسلہ سیدحافظ وحیدالدین صاحب ۱۴شعبان ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میںایك موضع میں دوقسم کے فریق ہیںایك کی اولاد دین کے مدرسے میں علم دین مثل حفظ قرآن شریف وناظرہ وضروریات دین ودنیوی جوکہ ضروری ہیں بہت زمانہ سے سیکھتے ہیں اور تعلیم پاتے ہیں اور ان کے والدین کوشش ان کے میں مصروف ہیںاور دوسرے فریق نے عرضی دے کر مدرسہ سرکاری کروایا ہے وہ اس کی تائید اور کاروائی میں مصروف ہیںہردو مدرسین کاکیاحکم ہے اور ہردوفریقین اور طالب علموں کے لئے کیاحکم شرع ہے اور کون سے علوم ہیں کہ ان کی فرضیت کاحکم ہے یا اس میں مسلمانوں کو اپنی طبیعت کااختیار ہے جو علم چاہیں پڑھیں پڑھائیںثواب وعقاب سےا س کے لئے آگاہ فرمائیے گا۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
علم دین سیکھنا اس قدرہے کہ مذہب حق سے آگاہ ہووضو غسلنمازروزے وغیرہا ضروریات کے احکام سے مطلع ہو۔تاجر تجارتمزارع زراعتاجیر اجارےغرض ہرشخص جس حالت میں ہے اس کے متعلق احکام شریعت سے واقف ہوفرض عین ہے جب تك یہ حاصل کرےجغرافیہتاریخوغیرہ میں وقت ضائع کرناجائزنہیں۔حدیث میں ہے:
طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ ۔ ہرمسلمان مردعورت پرعلم کی تلاش فرض ہے۔(ت)
حوالہ / References
فواتح الرحموت بذیل المستصفی المقالۃ الثانیہ الباب الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۱/ ۶۳
جوفرض چھوڑ کر نفل میں مشغول ہو حدیثوں میں اس کی سخت برائی آئی اور اس کا وہ نیك کام مردود قرارپایاکمابیناہ فی الزکوۃ من فتاونا(جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوی کی بحث زکوۃ میں تفصیلا بیان کردیا ہے۔ت)نہ کہ فرض چھوڑ کر فضولیات میں وقت گنواناغرض یہ علوم ضروریہ توضرورمقدم ہیں اور ان سے غافل ہوکر ریاضیہندسہطبعیاتفلسفہ یادیگر خرافات وفلسفہ پڑھنے پڑھانے میں مشغولی بلاشبہہ متعلم ومدرس دونوں کے لئے حرام ہے اور ان ضروریات سے فراغ کے بعد پوراعلم دین فقہ حدیث تفسیرعربی زبان اس کی صرفنحومعانیبیانلغتادب وغیرہا آلات علوم دینیہ بطور آلات سیکھنا سکھانا فرض کفایہ ہے اﷲ تعالی فرماتاہے:
" فلولا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین" پھر ایسانہ ہوا کہ ان کے گروہ میں سے ایك جماعت نکلتی تاکہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کرتے۔(ت)
یہی علوم علم دین ہیں اور انہیں کے پڑھنے پڑھانے میں ثواباور ان کے سوا کوئی فن یا زبان کچھ کارثواب نہیںہاں جوشخص ضروریات دین مذکورہ سے فراغت پاکر اقلیدسحسابمساحتجغرافیہ وغیرہا وہ فنون پڑھے جن میں کوئی امر مخالف شرعی نہیں تو ایك مباح کام ہوگا جب کہ اس کے سبب کسی واجب شرعی میں خلل نہ پڑھے ورنہ
مبادا دل آں فرومایہ شاد ازبہردنیا دہد دین بباد
(اﷲ کرے اس کمینے کا دل کبھی خوش نہ ہو جس نے دنیا کے لئے دین برباد کردیا۔ت)
واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۵: ازمحمد گنج ضلع بریلی مرسلہ عبدالقادر خاں رامپوری ۲۲/صفرمظفر ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی شخص کسی عالم یامولوی یاحافظ کوبلاوجہ اور بلاقصور بدنام کرے اور آپ لوگوں کے روبرو ناخواندہ آدمی اچھابنے اور اپنی عقل کے روبرو عالم کوجاہل اور ذلیل سمجھنا اور عالم کی حقارت کرنالوگوں کی جماعت میں بیٹھ کر اور اپنے آپ کو بہت ذی مرتبہ خیال کرنا اور عالم وغیرہ سب کو براکلمہ کہنا غرضکہ ہرشخص کو براکہنا اور ہر شخص پراعتراض کرناجائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
" فلولا نفر من کل فرقۃ منہم طائفۃ لیتفقہوا فی الدین" پھر ایسانہ ہوا کہ ان کے گروہ میں سے ایك جماعت نکلتی تاکہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کرتے۔(ت)
یہی علوم علم دین ہیں اور انہیں کے پڑھنے پڑھانے میں ثواباور ان کے سوا کوئی فن یا زبان کچھ کارثواب نہیںہاں جوشخص ضروریات دین مذکورہ سے فراغت پاکر اقلیدسحسابمساحتجغرافیہ وغیرہا وہ فنون پڑھے جن میں کوئی امر مخالف شرعی نہیں تو ایك مباح کام ہوگا جب کہ اس کے سبب کسی واجب شرعی میں خلل نہ پڑھے ورنہ
مبادا دل آں فرومایہ شاد ازبہردنیا دہد دین بباد
(اﷲ کرے اس کمینے کا دل کبھی خوش نہ ہو جس نے دنیا کے لئے دین برباد کردیا۔ت)
واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۵: ازمحمد گنج ضلع بریلی مرسلہ عبدالقادر خاں رامپوری ۲۲/صفرمظفر ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرکوئی شخص کسی عالم یامولوی یاحافظ کوبلاوجہ اور بلاقصور بدنام کرے اور آپ لوگوں کے روبرو ناخواندہ آدمی اچھابنے اور اپنی عقل کے روبرو عالم کوجاہل اور ذلیل سمجھنا اور عالم کی حقارت کرنالوگوں کی جماعت میں بیٹھ کر اور اپنے آپ کو بہت ذی مرتبہ خیال کرنا اور عالم وغیرہ سب کو براکلمہ کہنا غرضکہ ہرشخص کو براکہنا اور ہر شخص پراعتراض کرناجائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۱۲۲
الجواب:
سخت حرام سخت گناہ اشد کبیرہعالم دین سنی صحیح العقیدہ کہ لوگوں کو حق کی طرف بلائے اور حق بات بتائے محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا نائب ہے اس کی تحقیر معاذاﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین ہے اور محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جناب میں گستاخی موجب لعنت الہی وعذاب الیم ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایستخف بحقھم الامنافق بین النفاق ذو الشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم والامام المقسط۔ رواہ ابوالشیخ فی کتاب التوبیخ عن جابر بن عبد اﷲ و الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنھم۔ تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ جانے گا مگرمنافق کھلامنافق ایك وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیادوسرا علم والاتیسرابادشاہ اسلام عادل(اس کو ابوالشیخ نے کتاب التوبیخ میں جابر بن عبد اﷲ سے اور طبرانی نے کبیر میں ابی امامہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
اور بلاوجہ شرعی کسی سنی المذہب کو براکہنا یا اس کی تحقیرکرنائزنہیں کہ اس میں مسلمان کی ناحق ایذا ہے اور مسلمان کی ناحق ایذا خداورسول کی ایذاہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی فقد اذی اﷲ۔رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسندحسن۔ جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذادی(امام طبرانی نے اس کو الاوسط میں حضرت انس کے حوالے سے بسند حسن روایت کیاہے۔ت)
ہرایك کوبراوہی کہے گا جو خودنہایت برا اور بدترہوگا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس المومن بالطعان ولااللعان و لاالفاحش ولا البذی رواہ مسلمان نہیں ہے ہرایك پرمنہ آنے والا اور نہ بکثرت لوگوں پر لعنت کرنے والا او رنہ بےحیائی
سخت حرام سخت گناہ اشد کبیرہعالم دین سنی صحیح العقیدہ کہ لوگوں کو حق کی طرف بلائے اور حق بات بتائے محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا نائب ہے اس کی تحقیر معاذاﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین ہے اور محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جناب میں گستاخی موجب لعنت الہی وعذاب الیم ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لایستخف بحقھم الامنافق بین النفاق ذو الشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم والامام المقسط۔ رواہ ابوالشیخ فی کتاب التوبیخ عن جابر بن عبد اﷲ و الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنھم۔ تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ جانے گا مگرمنافق کھلامنافق ایك وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیادوسرا علم والاتیسرابادشاہ اسلام عادل(اس کو ابوالشیخ نے کتاب التوبیخ میں جابر بن عبد اﷲ سے اور طبرانی نے کبیر میں ابی امامہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
اور بلاوجہ شرعی کسی سنی المذہب کو براکہنا یا اس کی تحقیرکرنائزنہیں کہ اس میں مسلمان کی ناحق ایذا ہے اور مسلمان کی ناحق ایذا خداورسول کی ایذاہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی فقد اذی اﷲ۔رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسندحسن۔ جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذادی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذادی(امام طبرانی نے اس کو الاوسط میں حضرت انس کے حوالے سے بسند حسن روایت کیاہے۔ت)
ہرایك کوبراوہی کہے گا جو خودنہایت برا اور بدترہوگا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لیس المومن بالطعان ولااللعان و لاالفاحش ولا البذی رواہ مسلمان نہیں ہے ہرایك پرمنہ آنے والا اور نہ بکثرت لوگوں پر لعنت کرنے والا او رنہ بےحیائی
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ابی الشیخ فی التوبیخ حدیث ۴۳۸۱۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۳۲،المعجم الکبیر حدیث ۷۸۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸/ ۲۳۸
المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ مکتبہ المعارف ریاض ۴/ ۳۷۳
المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ مکتبہ المعارف ریاض ۴/ ۳۷۳
الائمۃ احمد والبخاری فی الادب المفرد والترمذی وابن حبان والحاکم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال الترمذی حسن۔ کے کام کرنے والا اور نہ فحش بکنے والا۔(ائمہ کرام مثلا امام احمدامام بخاری نے الادب المفرد میںترمذیابن حبان اور حاکم نے اس کو حضرت عبداﷲ بن مسعود سے روایت کیا (اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو)امام ترمذی نے فرمایا: حدیث حسن ہے۔ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایبغی علی الناس الا ولدبغی والامن فیہ عرق منہ ۔رواہ الطبرانی عن ابی موسی رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ لوگوں پرظلم وتعدی نہ کرے گا مگرحرامی یا وہ جس میں کوئی رگ ولادت زنا کی ہے(امام طبرانی نے اس کو المعجم الکبیر میں حضرت ابوموسی رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسندحسن روایت کیاہے۔ت)
رہا اپنے آپ کو بہترسمجھنا یہ تکبرہے اس کے لئے یہی آیت کافی ہے کہ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" الیس فی جہنم مثوی للمتکبرین ﴿۶۰﴾ " کیانہیں ہے دوزخ میں ٹھکانہ تکبرکرنے والوں کایعنی ضرور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۶: ازدرہ تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خاں ۲۲/رجب ۱۳۱۵ھ
جس عبارت میں کہ صرف لفظ مکروہ ہو تو اس سے کیا ارادہ لیاجائے گا تحریم یاتنزیہہ بینوا توجروا۔
الجواب:
ہمارے علمائے کرام کے کلام میں غالبا کراہت مطلقہ سے مراد کراہت تحریم ہوتی ہے مگر
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایبغی علی الناس الا ولدبغی والامن فیہ عرق منہ ۔رواہ الطبرانی عن ابی موسی رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ لوگوں پرظلم وتعدی نہ کرے گا مگرحرامی یا وہ جس میں کوئی رگ ولادت زنا کی ہے(امام طبرانی نے اس کو المعجم الکبیر میں حضرت ابوموسی رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسندحسن روایت کیاہے۔ت)
رہا اپنے آپ کو بہترسمجھنا یہ تکبرہے اس کے لئے یہی آیت کافی ہے کہ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" الیس فی جہنم مثوی للمتکبرین ﴿۶۰﴾ " کیانہیں ہے دوزخ میں ٹھکانہ تکبرکرنے والوں کایعنی ضرور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۶: ازدرہ تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خاں ۲۲/رجب ۱۳۱۵ھ
جس عبارت میں کہ صرف لفظ مکروہ ہو تو اس سے کیا ارادہ لیاجائے گا تحریم یاتنزیہہ بینوا توجروا۔
الجواب:
ہمارے علمائے کرام کے کلام میں غالبا کراہت مطلقہ سے مراد کراہت تحریم ہوتی ہے مگر
حوالہ / References
المستدرك کتاب الایمان دارالفکربیروت ۱/ ۱۲،جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ باب ماجاء فی اللعنۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۹
مجمع الزوائد باب فی عمال السوء ۵/ ۲۳۳ وباب فی اولاد الزنا ۶/ ۲۵۸،کنزالعمال بحوالہ طب عن ابی موسٰی حدیث ۱۳۰۹۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵/ ۳۳۳
القرآن الکریم ۳۹ /۶۰
مجمع الزوائد باب فی عمال السوء ۵/ ۲۳۳ وباب فی اولاد الزنا ۶/ ۲۵۸،کنزالعمال بحوالہ طب عن ابی موسٰی حدیث ۱۳۰۹۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵/ ۳۳۳
القرآن الکریم ۳۹ /۶۰
کلیۃ نہیں بہت جگہ عام مراد لیتے ہیں کما فی مکروھات الصلوۃ(جیسا کہ نماز کی بحث مکروہات میں مذکورہے۔ت)بہت جگہ خاص کراہت تنزیہی
کمالایخفی علی من تتبع کلامھم و وقدبینہ فی البحرالرائق وردالمحتار وذکرناہ فی کتاب الصلوۃ من فتاوناواﷲ تعالی اعلم۔ جیسا کہ اس شخص پرپوشیدہ نہیں کہ جس نے ان کے کلام کو تلاش کیا(چھان بین کی)چنانچہ اس کو بحرالرائق اور ردالمحتار میں وضاحت سے بیان فرمایاگیاہے اور میں نے اس کو اپنے فتاوی کی بحث صلوۃ میں ذکرکیاہےاور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۰۷: ازکلکۃ دھرم تلہ اسٹریٹ مسجدٹیپو سلطان مرسلہ حافظ محمدعظیم صاحب ۲۴ شعبان ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص عالم اور حافظ ہوکر اپنے لڑکے کو علم انگریزی تعلیم دلوائے اور دینی علم سے محروم رکھے اور اپنی لڑکیوں کے عقد غیرشرع سے کرے آیا حشر کے دن اس سے باز پرس ہوگی یانہیں
الجواب:
ضرور بازپرس کامحل ہےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا" اے ایمان والو! اپنے آپ کو اوراپنے گھروالوں کو آتش دوزخ سے بچاؤ۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کلکم راع وکلم مسئول عن رعیتہ ۔ تم میں سے ہرایك چرواہا(نگہبان)ہے اور تم میں سے ہرایك سے اس کی رعیت(زیردست)کے بارے میں بازپرس ہوگی (ت)
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:الدین النصح لکل مسلم (دین اسلام ہرمسلمان کے لئے خیرخواہی کرناہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
کمالایخفی علی من تتبع کلامھم و وقدبینہ فی البحرالرائق وردالمحتار وذکرناہ فی کتاب الصلوۃ من فتاوناواﷲ تعالی اعلم۔ جیسا کہ اس شخص پرپوشیدہ نہیں کہ جس نے ان کے کلام کو تلاش کیا(چھان بین کی)چنانچہ اس کو بحرالرائق اور ردالمحتار میں وضاحت سے بیان فرمایاگیاہے اور میں نے اس کو اپنے فتاوی کی بحث صلوۃ میں ذکرکیاہےاور اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۰۷: ازکلکۃ دھرم تلہ اسٹریٹ مسجدٹیپو سلطان مرسلہ حافظ محمدعظیم صاحب ۲۴ شعبان ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص عالم اور حافظ ہوکر اپنے لڑکے کو علم انگریزی تعلیم دلوائے اور دینی علم سے محروم رکھے اور اپنی لڑکیوں کے عقد غیرشرع سے کرے آیا حشر کے دن اس سے باز پرس ہوگی یانہیں
الجواب:
ضرور بازپرس کامحل ہےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا" اے ایمان والو! اپنے آپ کو اوراپنے گھروالوں کو آتش دوزخ سے بچاؤ۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کلکم راع وکلم مسئول عن رعیتہ ۔ تم میں سے ہرایك چرواہا(نگہبان)ہے اور تم میں سے ہرایك سے اس کی رعیت(زیردست)کے بارے میں بازپرس ہوگی (ت)
نیز فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:الدین النصح لکل مسلم (دین اسلام ہرمسلمان کے لئے خیرخواہی کرناہے۔ ت) واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۶ /۶
کنزالعمال حدیث ۱۴۷۱۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۳۰
صحیح البخاری کتاب الایمان باب قول النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ ۱/ ۱۳،صحیح مسلم باب بیان ان الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ ۱/ ۵۴
کنزالعمال حدیث ۱۴۷۱۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۳۰
صحیح البخاری کتاب الایمان باب قول النبی صلی اﷲ علیہ وسلم الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ ۱/ ۱۳،صحیح مسلم باب بیان ان الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ ۱/ ۵۴
مسئلہ ۳۰۸: مسئولہ مولوی خلیل احمدخاں پشاوری ۱۹شوال المکرم ۱۳۱۵ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ایں مسئلہ کہ معلم کودکاں رازدن علی الاطلاق مباح ست یا اجرت وغیراجرت شرط ست۔ بینواتوجروا۔ علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ استاد اپنے شاگرد بچوں کو بغیر کسی قیدوشرط کے بدنی سزادے سکتاہے یانہیں کیا بچوں کو اجرت لے کر پڑھانے یا بلااجرت پڑھانے والے کے لئے الگ الگ ضابطہ ہے۔بیان فرمائیے اجرت پائیے)
الجواب:
زدن معلم کو دکاں را وقت حاجت بقدر حاجت محض بغرض تنبیہ واصلاح ونصیحت بے تفرقہ اجرت وعدم اجرت رواست اماباید کہ بدست زنند نہ بچوب ودرکرتے برسہ بار نیفزایند فی ردالمحتارلایجوز ضرب ولدالحر بامرابیہ اما المعلم فلہ ضربہ لمصلحۃ التعلیم وقیدہ الطرسوسی بان یکون بغیر آلۃ جارحۃ وبان لایزید علی ثلث ضرباتوردہ الناظم بانہ لاوجہ لہ ویحتاج الی نقل و اقرہ الشارح قال الشرنبلالی والنقل فی کتاب الصلوۃ یضرب الصغیر بالید لابالخشبۃ ولایزید علی ثلث ضربات اھ بتلخیص۔ ضرورت پیش آنے پر بقدر حاجت تنبیہاصلاح اور نصیحت کے لئے بلاتفریق اجرت وعدم اجرت استاد کا بدنی سزادینا اور سرزنش سے کام لیناجائزہے مگریہ سزالکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایك وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائےچنانچہ فتاوی شامی میں ہے کہ کسی آزاد بچے کو اس کے والد کے حکم سے مارناجائز نہیں لیکن استاد تعلیمی مصلحت کے تحت پٹائی کرسکتاہے۔امام طرسوسی نے یہ قید لگائی ہے کہ مارپیٹ زخمی کردینے والی نہ ہو اور تین ضربوں سے زائد بھی نہ ہولیکن ناظم نے اس قید کو رد کردیاکہ اس کی کوئی وجہ نہیں لہذا نقل کی ضرورت ہے اور شارح نے اس کو برقراررکھا۔علامہ شرنبلالی نے فرمایا نقل کتاب الصلوۃ میں ہے کہ چھوٹے بچے کو ہاتھ سے سزادی جائے نہ کہ لاٹھی سے اور تین ضربوں سے تجاوز بھی نہ ہونے پائےاھ بتلخیص
چہ می فرمایند علمائے دین ایں مسئلہ کہ معلم کودکاں رازدن علی الاطلاق مباح ست یا اجرت وغیراجرت شرط ست۔ بینواتوجروا۔ علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ استاد اپنے شاگرد بچوں کو بغیر کسی قیدوشرط کے بدنی سزادے سکتاہے یانہیں کیا بچوں کو اجرت لے کر پڑھانے یا بلااجرت پڑھانے والے کے لئے الگ الگ ضابطہ ہے۔بیان فرمائیے اجرت پائیے)
الجواب:
زدن معلم کو دکاں را وقت حاجت بقدر حاجت محض بغرض تنبیہ واصلاح ونصیحت بے تفرقہ اجرت وعدم اجرت رواست اماباید کہ بدست زنند نہ بچوب ودرکرتے برسہ بار نیفزایند فی ردالمحتارلایجوز ضرب ولدالحر بامرابیہ اما المعلم فلہ ضربہ لمصلحۃ التعلیم وقیدہ الطرسوسی بان یکون بغیر آلۃ جارحۃ وبان لایزید علی ثلث ضرباتوردہ الناظم بانہ لاوجہ لہ ویحتاج الی نقل و اقرہ الشارح قال الشرنبلالی والنقل فی کتاب الصلوۃ یضرب الصغیر بالید لابالخشبۃ ولایزید علی ثلث ضربات اھ بتلخیص۔ ضرورت پیش آنے پر بقدر حاجت تنبیہاصلاح اور نصیحت کے لئے بلاتفریق اجرت وعدم اجرت استاد کا بدنی سزادینا اور سرزنش سے کام لیناجائزہے مگریہ سزالکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایك وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائےچنانچہ فتاوی شامی میں ہے کہ کسی آزاد بچے کو اس کے والد کے حکم سے مارناجائز نہیں لیکن استاد تعلیمی مصلحت کے تحت پٹائی کرسکتاہے۔امام طرسوسی نے یہ قید لگائی ہے کہ مارپیٹ زخمی کردینے والی نہ ہو اور تین ضربوں سے زائد بھی نہ ہولیکن ناظم نے اس قید کو رد کردیاکہ اس کی کوئی وجہ نہیں لہذا نقل کی ضرورت ہے اور شارح نے اس کو برقراررکھا۔علامہ شرنبلالی نے فرمایا نقل کتاب الصلوۃ میں ہے کہ چھوٹے بچے کو ہاتھ سے سزادی جائے نہ کہ لاٹھی سے اور تین ضربوں سے تجاوز بھی نہ ہونے پائےاھ بتلخیص
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۶
درجامع الصغار استروشنی است ذکر والدی رحمہ اﷲ تعالی من صلوۃ الملتقط اذا بلغ الصبی عشر سنین یضرب لاجل الصلوۃ بالید لابالخشب ولا یجاوز الثلث وکذا المعلم لیس لہ ان یجاوز الثلث قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لمرداس المعلم ایاك ان تضرب فوق الثلث فانك اذا ضربت فوق الثلث اقتص اﷲ منک ۔واﷲ تعالی اعلم۔ جامع صغار استروشنی میں ہے:میرے والد رحمہ اﷲ تعالی نے بحث صلوۃ ملتقط میں ذکر فرمایا کہ جب بچے کی عمردس سال ہوجائے تو نمازی بنانے کے لئے اسے ہاتھ سے سزادی جائے لاٹھی سے نہیں اور تین مرتبہ سے تجاوز بھی نہ کیاجائے۔ یونہی استاد کے لئے روانہیں کہ تین مرتبہ سے تجاوز کرے حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے استاذ کی بچوں کو مارنے کے بارے میں فرمایا: تین مرتبہ سے زائد ضربیں لگانے سے پرہیزکرو کیونکہ اگر تم تین مرتبہ سے زیادہ سزا دی تو اﷲ تعالی قیامت کے دن تم سے بدلہ لے گا۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۰۹: ازمارہرہ ضلع ایٹہ سرکارکلاں مرسلہ حضرت شاہ سید مہدی حسن میاں صاحب ۳ ربیع الاول ۱۳۱۶ھ
عالی جناب مولینا صاحب زید مجدکم! اپنا شرعی خیال عورات کے لکھنے کی نسبت ظاہرفرمائیے یہاں عرصہ سے یہ امرمعرض بحث میں ہے۔
الجواب:
حضورعورتوں کو لکھنا سکھانا شرعا ممنوع وسنت نصاری وفتح باب ہزاران فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے جس کے مفاسد شدیدہ پر تجارب حدیدہ شاہد عدل ہیںمتعدد حدیثیں اس کے ممانعت میں وارد ہیں جن کی بعض کی سند عندالتحقیق خود قوی ہے اور اصل متن حدیث کے معروف و محفوظ ہونے کا امام بیہقی نے اعادہ فرمایا اور پھر تعدد طرق دوسری قوت ہے اور عمل امت وقبول علماءتیسری قوت اور محل احتیاط وسدفتنہچوتھی قوت تو حدیث لااقل حسن ہے اور ممانعت میں اس کا نص صریح ہونا خود روشن ہے بخلاف حدیث شفاء بنت عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما کہ حفصہ نے فرمایا کیاحفصہ کو غلہ کا منۃ نہ سکھائے گی جیسے اسے لکھناسکھایااجازت میں اصلا کوئی حدیث صریح نہیں۔
مسئلہ ۳۰۹: ازمارہرہ ضلع ایٹہ سرکارکلاں مرسلہ حضرت شاہ سید مہدی حسن میاں صاحب ۳ ربیع الاول ۱۳۱۶ھ
عالی جناب مولینا صاحب زید مجدکم! اپنا شرعی خیال عورات کے لکھنے کی نسبت ظاہرفرمائیے یہاں عرصہ سے یہ امرمعرض بحث میں ہے۔
الجواب:
حضورعورتوں کو لکھنا سکھانا شرعا ممنوع وسنت نصاری وفتح باب ہزاران فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے جس کے مفاسد شدیدہ پر تجارب حدیدہ شاہد عدل ہیںمتعدد حدیثیں اس کے ممانعت میں وارد ہیں جن کی بعض کی سند عندالتحقیق خود قوی ہے اور اصل متن حدیث کے معروف و محفوظ ہونے کا امام بیہقی نے اعادہ فرمایا اور پھر تعدد طرق دوسری قوت ہے اور عمل امت وقبول علماءتیسری قوت اور محل احتیاط وسدفتنہچوتھی قوت تو حدیث لااقل حسن ہے اور ممانعت میں اس کا نص صریح ہونا خود روشن ہے بخلاف حدیث شفاء بنت عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما کہ حفصہ نے فرمایا کیاحفصہ کو غلہ کا منۃ نہ سکھائے گی جیسے اسے لکھناسکھایااجازت میں اصلا کوئی حدیث صریح نہیں۔
حوالہ / References
احکام الصغار مسائل الصلٰوۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۶
احادیث ممانعت: یہ ہیں۔
حدیث اول:ابن حبان بطریق یحیی بن زکریا بن یزید دقاقاور بیہقی شعب الایمان میں بطریق مطیر حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی:
قالا حدثنا محمد بن ابراھیم ابوعبداﷲ الشامی حدثنا شعیب بن اسحق الدمشقی عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتسکنوھن الغرف ولاتعلموھن الکتابۃ وعلموھن المغزل وسورۃ النور ۔ (دونوں(محدث ابن حبان اور امام بیہقی)نے فرمایا ہم سے محمد بن ابراہیم ابوعبداﷲ شامی نے بیان کیا(انہوں نے کہا) ہم سے شعیب ابن اسحق دمشقی نے بیان کیا اس نے ہشام بن عروہ سےاس نے اپنے باپ عروہ سےاس نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے روایت فرمائیمائی صاحبہ نے فرمایا۔ ت)یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کو بالاخانوں پر نہ رکھو اور انہیں لکھنا نہ سکھاؤ اور کاتنا اور سورہ نور تعلیم کرو۔
یہی حدیث حاکم نے صحیح مستدرك میں اسی طریق سے اور بیہقی نے شعب میں بطریق محمدبن محمدبن سلیمان روایت کی:
قال حدثنا عبدالوھاب الضحاك ثنا شعیب بن اسحق الحدیث سندا ومتنا۔ اس(محمدبن محمدبن سلیمان)نے کہا ہم سے عبدالوہاب ضحاك نے بیان کیا(اس نے کہا)ہم سے شعیب بن اسحق نے بیان کیا یعنی حدیث سند اور متن کے لحاظ سے بیان فرمائی۔(ت)
حاکم نے کہا صحیح الاسناد اس حدیث کی سند صحیح ہے۔اس پر حافظ ابن حجر نے اطراف میں کہا:
حدیث اول:ابن حبان بطریق یحیی بن زکریا بن یزید دقاقاور بیہقی شعب الایمان میں بطریق مطیر حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی:
قالا حدثنا محمد بن ابراھیم ابوعبداﷲ الشامی حدثنا شعیب بن اسحق الدمشقی عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتسکنوھن الغرف ولاتعلموھن الکتابۃ وعلموھن المغزل وسورۃ النور ۔ (دونوں(محدث ابن حبان اور امام بیہقی)نے فرمایا ہم سے محمد بن ابراہیم ابوعبداﷲ شامی نے بیان کیا(انہوں نے کہا) ہم سے شعیب ابن اسحق دمشقی نے بیان کیا اس نے ہشام بن عروہ سےاس نے اپنے باپ عروہ سےاس نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے روایت فرمائیمائی صاحبہ نے فرمایا۔ ت)یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کو بالاخانوں پر نہ رکھو اور انہیں لکھنا نہ سکھاؤ اور کاتنا اور سورہ نور تعلیم کرو۔
یہی حدیث حاکم نے صحیح مستدرك میں اسی طریق سے اور بیہقی نے شعب میں بطریق محمدبن محمدبن سلیمان روایت کی:
قال حدثنا عبدالوھاب الضحاك ثنا شعیب بن اسحق الحدیث سندا ومتنا۔ اس(محمدبن محمدبن سلیمان)نے کہا ہم سے عبدالوہاب ضحاك نے بیان کیا(اس نے کہا)ہم سے شعیب بن اسحق نے بیان کیا یعنی حدیث سند اور متن کے لحاظ سے بیان فرمائی۔(ت)
حاکم نے کہا صحیح الاسناد اس حدیث کی سند صحیح ہے۔اس پر حافظ ابن حجر نے اطراف میں کہا:
حوالہ / References
اللآلی المصنوعۃ بحوالہ ابن حبان کتاب النکاح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۶۸
المستدرك للحاکم کتاب التفسیر النہی عن تعلیم الکتابۃ للنساء دارالفکر بیروت ۲/ ۳۹۶
المستدرك للحاکم کتاب التفسیر النہی عن تعلیم الکتابۃ للنساء دارالفکر بیروت ۲/ ۳۹۶
المستدرك للحاکم کتاب التفسیر النہی عن تعلیم الکتابۃ للنساء دارالفکر بیروت ۲/ ۳۹۶
المستدرك للحاکم کتاب التفسیر النہی عن تعلیم الکتابۃ للنساء دارالفکر بیروت ۲/ ۳۹۶
بل عبدالوھاب متروك اھ اقول:لان القول فیہ ابن عدی فقال بعض حدیثہ لایتابع علیہ وھذا صادق علی کثیر من رجال الصحیحین۔ بلکہ عبدالوہاب(روای حدیث)متروك ہےاھ(یعنی محدثین نے اسے نظرانداز کیاہے۔مترجم)میں کہتاہوں کہ محدث ابن عدی نے اس کے متعلق کمزوربات کی ہے کہ اس کی بعض حدیثوں کی متابعت نہیں کی جاتییہ قول توبخاری ومسلم کے بہت سے رجال(رواۃ)پربھی صادق آتاہے۔(ت)
بیہقی نے بطریق اول روایت کرکے کہا ھذا بھذا الاسناد منکر یہ حدیث اس سند سے منکر وغیرمعروف ہے۔
خاتم الحفاظ سیوطی نے لآلی میں فرمایا:افاد انہ بغیر ھذا الاسناد لیس بمنکر یعنی بیہقی نے افادہ کیاکہ حدیث اور سند سے منکر نہیںمعروف ومحفوظ ہے اقول:وستسمع انہ بنفس السند غیرمنکر(میں کہتاہوں عنقریب توسن لے گاکہ حدیث نفس سند کے اعتبار سے منکرنہیں۔ت)
حدیث دوم: امام ترمذیمحمدبن علی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتسکنوا نساء کم الغرف ولاتعلمون الکتاب ۔ اپنی عورتوں کو بالاخانوں پر نہ بساؤ اور انہیں لکھنانہ سکھاؤ۔
یہ حدیث امام ابن حجرمکی نے فتاوی حدیثیہ میں استنادا ذکرکی۔
حدیث سوم: ابن عدی کامل میں اور ابن حبانسند معتمد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال حدثنا جعفر بن سھل ثنا جعفر بن نصرثنا حفص بن غیاث عن لیث عن (دونوں(یعنی ابن عدی اور ابن حبان)نے جعفر بن سہل سے(اس نے کہا)جعفر بن نصرنے ہم سے بیان کیا(اس نے کہا)حفص بن
بیہقی نے بطریق اول روایت کرکے کہا ھذا بھذا الاسناد منکر یہ حدیث اس سند سے منکر وغیرمعروف ہے۔
خاتم الحفاظ سیوطی نے لآلی میں فرمایا:افاد انہ بغیر ھذا الاسناد لیس بمنکر یعنی بیہقی نے افادہ کیاکہ حدیث اور سند سے منکر نہیںمعروف ومحفوظ ہے اقول:وستسمع انہ بنفس السند غیرمنکر(میں کہتاہوں عنقریب توسن لے گاکہ حدیث نفس سند کے اعتبار سے منکرنہیں۔ت)
حدیث دوم: امام ترمذیمحمدبن علی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتسکنوا نساء کم الغرف ولاتعلمون الکتاب ۔ اپنی عورتوں کو بالاخانوں پر نہ بساؤ اور انہیں لکھنانہ سکھاؤ۔
یہ حدیث امام ابن حجرمکی نے فتاوی حدیثیہ میں استنادا ذکرکی۔
حدیث سوم: ابن عدی کامل میں اور ابن حبانسند معتمد حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال حدثنا جعفر بن سھل ثنا جعفر بن نصرثنا حفص بن غیاث عن لیث عن (دونوں(یعنی ابن عدی اور ابن حبان)نے جعفر بن سہل سے(اس نے کہا)جعفر بن نصرنے ہم سے بیان کیا(اس نے کہا)حفص بن
حوالہ / References
اللآلی المصنوعۃ بحوالہ حافظ ابن حجر کتاب النکاح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۶۸
اللآلی المصنوعۃ البیہقی فی شعب الایمان کتاب النکاح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۶۸
اللآلی المصنوعۃ البیہقی فی شعب الایمان کتاب النکاح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۶۸
نوادر الاصول للترمذی لاصل الخامس والعشرون والمائتان فی النہی الخ دارصادربیروت ص۷۱۔۲۷۰
اللآلی المصنوعۃ البیہقی فی شعب الایمان کتاب النکاح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۶۸
اللآلی المصنوعۃ البیہقی فی شعب الایمان کتاب النکاح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۶۸
نوادر الاصول للترمذی لاصل الخامس والعشرون والمائتان فی النہی الخ دارصادربیروت ص۷۱۔۲۷۰
مجاھد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتعلموا نسائکم الکتابۃ ولاتسکنوھن العلال ی۔ غیاث نے ہم سے بیان کیا اس نے لیثاس نے مجاہداس نے عبداﷲ ابن عباس سے اور انہوں نے حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمائی ہے۔ت)یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی عورتوں کو لکھنا نہ سکھاؤ اور بالائی منزلوں پرنہ بساؤ۔
یہ حدیث بتخریج ابن عدی امام حافظ سیوطی نے الاجرالجزل فی الغزل میں ذکرکی:
وقال ابن الجوزی لایصحجعفر بن نصر حدث عن الثقات بالبواطیل اھ وقال الحافظ ابن حجر فی الاطراف بعد ذکرالحدیث الاول وقدروی من طریق حفص القاری عن لیث عن مجاھد من ابن عباس رضی اﷲ عنہما اھ اقول:الظاھر ان ھذہ متابعۃ لحفص بن غیاث فان حفصا القاری امام القراءۃ حفص بن سلیمن ابی داؤد و ھذا مصرح بہ عند مخرجیہحفص بن غیاثوھو امام فی الحدیث ثقۃ فقیہ من رجال الستۃ ولیث صدوق من رجال مسلم و الاربعۃ والبخاری فی حافظ ابن جوزی نے کہا حدیث مذکورصحیح نہیں اس لئے کہ جعفربن نصرثقہ راویوں سے باطل روایات نقل کرتاہےاھ۔ حافظ ابن حجر نے"الاطراف"میں پہلی حدیث ذکرکرنے کے بعد فرمایا:حفص قاریلیثمجاہد اور ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے حدیث روایت کی گئی اھ۔ اقول: (میں کہتاہوں)ظاہر ہے کہ یہ حفص بن غیاث کی متابعت ہے کیونکہ حفص قاریحفص بن سلیمان ابوداؤد قرأت کے امام ہیںتخریج کرنے والوں کے نزدیك اس کی تصریح پائی گئی۔حفص بن غیاث حدیث کے امامثقہفقیہ اور حدیث کی چھ کتابوں کے رواۃ میں سے ہیں۔ لیث صدوق(سچا)ہے مسلم اور چاردیگرکتابوں(ابوداؤدترمذی نسائیابن ماجہ) کے
یہ حدیث بتخریج ابن عدی امام حافظ سیوطی نے الاجرالجزل فی الغزل میں ذکرکی:
وقال ابن الجوزی لایصحجعفر بن نصر حدث عن الثقات بالبواطیل اھ وقال الحافظ ابن حجر فی الاطراف بعد ذکرالحدیث الاول وقدروی من طریق حفص القاری عن لیث عن مجاھد من ابن عباس رضی اﷲ عنہما اھ اقول:الظاھر ان ھذہ متابعۃ لحفص بن غیاث فان حفصا القاری امام القراءۃ حفص بن سلیمن ابی داؤد و ھذا مصرح بہ عند مخرجیہحفص بن غیاثوھو امام فی الحدیث ثقۃ فقیہ من رجال الستۃ ولیث صدوق من رجال مسلم و الاربعۃ والبخاری فی حافظ ابن جوزی نے کہا حدیث مذکورصحیح نہیں اس لئے کہ جعفربن نصرثقہ راویوں سے باطل روایات نقل کرتاہےاھ۔ حافظ ابن حجر نے"الاطراف"میں پہلی حدیث ذکرکرنے کے بعد فرمایا:حفص قاریلیثمجاہد اور ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے حدیث روایت کی گئی اھ۔ اقول: (میں کہتاہوں)ظاہر ہے کہ یہ حفص بن غیاث کی متابعت ہے کیونکہ حفص قاریحفص بن سلیمان ابوداؤد قرأت کے امام ہیںتخریج کرنے والوں کے نزدیك اس کی تصریح پائی گئی۔حفص بن غیاث حدیث کے امامثقہفقیہ اور حدیث کی چھ کتابوں کے رواۃ میں سے ہیں۔ لیث صدوق(سچا)ہے مسلم اور چاردیگرکتابوں(ابوداؤدترمذی نسائیابن ماجہ) کے
حوالہ / References
الکامل لابن عدی ترجمہ جعفربن نصر دارالفکر بیروت ۳/ ۵۷۵،اللآلی المصنوعۃ بحوالہ ابن حبان کتاب النکاح دارالمعرفۃبیروت ۲/ ۱۶۸
اللآلی المصنوعۃ بحوالہ ابن حبان کتاب النکاح دارالمعرفۃبیروت ۲/ ۱۶۸
اللآلی المصنوعۃ بحوالہ ابن حجر کتاب النکاح دارالمعرفۃبیروت ۲/ ۱۶۸
اللآلی المصنوعۃ بحوالہ ابن حبان کتاب النکاح دارالمعرفۃبیروت ۲/ ۱۶۸
اللآلی المصنوعۃ بحوالہ ابن حجر کتاب النکاح دارالمعرفۃبیروت ۲/ ۱۶۸
التعلیقاتغیرانہ اختلط باخرہ لکن لم یسقط بہ حدیثہ فقد قال الجمہور ھو ممن یکتب حدیثہ ذکرہ النووی فی شرح صحیح مسلموقال مسلم فی مقدمۃ صحیحۃ اسم الستروالصدق و تعاطی العلم یشملہ وقد حسن لہ الترمذی حدیثہ فی الحمام ونقل عن البخاری انہ صدوق وربمایھم فی الشیئ فاذا روی عنہ حفص القاری خرج جعفر بن نصر والصواب عندنا فی الامام الجلیل حفص القاری تشیبہفقد قال وکیع انہ ثقۃو قال الذھبیھو فی نفسہ صادقاختلف فیہ عن احمد فروی حنبل بن اسحق عنہمابہ بأسوروی عنہ اخری متروك الحدیث ھکذا روی ابن ابی حاتم رجال میں سے ہیں اور تعلیقات بخاری کے رواۃ میں سے ہیں البتہ زندگی کے آخری حصے میں انہیں اختلاط ہوگیاتھا لیکن اس وجہ سے ان کی حدیث ساقط نہیں قرارپائی۔جمہور کا کہنا یہ ہے کہ یہ ان لوگوں میں شمار ہے جن کی حدیث کو لکھاجاتا ہے امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں یہ بیان فرمایا امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں فرمایا:سترصدق اور اخذ علم کانام اس کو شامل ہے۔امام ترمذی نے"حدیث حمام"میں اس کی تحسین فرمائیاور امام بخاری سے نقل کیاگیا کہ وہ صدوق ہے البتہ کبھی کبھار بعض چیزوں میں وہ وہم کا شکارہوجاتاہے جب اس سے حفص قاری نے روایت کیا تو جعفر بن نصر درمیان سے خارج ہوگیااور ہمارے نزدیك جلیل القدرامام حفص قاری کی توثیق صواب(درست)ہے۔چنانچہ وکیع بن جراح نے فرمایا کہ وہ ثقہ ہے اور علامہ ذھبی نے فرمایا وہ فی نفسہ صادق ہےامام احمد سے اس کے بارے میں اختلاف نقل کیاگیاہے چنانچہ حنبل بن اسحق نے امام احمد سے یہ روایت کی کہ مابہ بأس یعنی اس میں کوئی حرج نہیںاور ان سے دوسری روایت نقل کی گئی کہ وہ متروك الحدیث ہے ابن ابی حاتم
حوالہ / References
شرح صحیح مسلم للنووی مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴
شرح صحیح مسلم للنووی مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴
شرح صحیح مسلم للنووی مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴
عن عبداﷲ احمد عن ابیہ وروی ابو علی بن الصواف عن عبداﷲ عن ابیہصالحولیس فیہ لامام معتمد جرح مفسر قادح یسقط حدیثہوابن خراش لیس ھناکقال ابوزرعۃ کان رافضیا خرج مثالب الشیخین اقول:قال عبد انوحمل ابن خراش الی بندار عندنا عبدان وضع جزأین صنفھما فی مثالب الشیخین فاجازہ بالفی درھم قال الذھبی ھذا واﷲ الشیخ المعثر الذی ضل سعیہ فما انتفع بعلمہ فلاعتب علی حمیرالرافضۃقال ابوبکر بن حمدان المروزی سمعت ابن خراش یقول شربت بولی فی ھذاالشاند خمس مرات اھ وکان جرئیا علی تکذیب الثقاتوھذا احمد بن الفرات الامام الحافظ الثقۃ الفقیہ الحجۃ الذی اطبقوا علی توثیقہ و لم یأت فیہ عن احد من الائمۃ تلیین ولابعض تلیین نے بواسطہ عبداﷲ بن احمد اپنے والد کے حوالہ سے اسی طرح روایت کی۔ابو علی بن صواف نے عبداﷲ عن ابیہ کے حوالے سے روایت کی کہ وہ صالح ہے اس کے حق میں کسی مستند امام کی قادحجرح نہیں جو اس کی حدیث کو ساقط کر دے۔رہا ابن خراش کا معاملہ تو وہ اس طرح کانہیں چنانچہ ابو زرعہ نے فرمایا کہ وہ رافضی تھااس نے مطاعن وعیوب شیخین(حضرت صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما)کی تخریج کی۔اقول:(میں کہتاہوں)عبدان نے کہا ابن خراش بندار کے پاس ہمارے نزدیك دو ایسے اجزاء اٹھالائے جو کہ مطاعن شیخ میں اس نے تصنیف کئے اور دوہزار درہم انعام پایا۔علامہ ذہبی نے فرمایا خدا کی قسم یہ بوڑھا کذاب عیب لگانے والا ہے جس کی سعی فضول ولاحاصل کاموں میں ضائع ہوئی اس نے اپنے علم سے فائدہ نہ اٹھایا لہذا رافضی گدھوں پر کوئی عتاب نہیں۔ابوبکر بن حمدان مروزی نے کہا میں نے ابن خراش کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے پانچ مرتبہ اس شان میں اپناپیشاب پیااھ وہ مستندومعتمد راویوں کوجھٹلانے پر دلیرتھا۔یہ احمد بن فرات امامحافظثقہفقیہ اور حجت تھا کہ جس کی توثیق پر ائمہ کرام کا اتفاق ہے۔ائمہ میں سے کسی امام سے اس کی مکمل یا بعض نرمی(ڈھیلاپن)
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۵۰۰۹ عبدالرحمن بن یوسف دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۶۰۰
میزان الاعتدال ترجمہ ۵۰۰۹ عبدالرحمن بن یوسف دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۶۰۰
میزان الاعتدال ترجمہ ۵۰۰۹ عبدالرحمن بن یوسف دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۶۰۰
ذکرہ ابن خراش فقال یکذب عمدا قال الذھبی علی ما فی تہذیب التھذیب اذی ابن خراش نفسہ وقال فی المیزان بطل قول ابن خراش ولاغروقد اتھم مالك بن اوس الصحابی رضی اﷲ تعالی عنہ بالکذب بروایتہ حدیث ماترکناہ صدقۃلاجرم ان ذکرہ الذھبی فی طبقات الحفاظ ثم اخذ یوجھہ الی ان خاطبہ بقولہ انت زندیق معاند للحق فلارضی اﷲ عنکثم قال مات ابن خراش الی غیر رحمۃ اﷲ تعالی ۲۸۳ھ اما الحدیث الاول ففیہ شعیب ومن فوقہ ائمۃ اجلاء لایسأل عنھم وانما النظر فی محمد بن ابراھیم۔اقول:ادخلہ ابونعیم فی حلیۃ الاولیاء وقد وصفہ المزنی والذھبی والعسقلانی بالزاھد وھم یصفون بہ مروی نہیں لیکن ابن خراش نے اس کا ذکرکیا کہ وہ دانستہ جھوٹ بولتاتھا چنانچہ امام ذہبی نے تہذیب التہذیب میں فرمایا ابن خراش نےان کو دکھ پہنچایااور المیزان میں فرمایا کہ ابن خراش کا قول باطل ہے۔اور کوئی تعجب کی بات نہیں اس لئے کہ اس نے ماترکناہ صدقۃ کی حدیث روایت کرنے پرمالك بن اوس صحابی رسول پر کذاب ہونے کی تہمت لگائی ہے۔بلاشبہ علامہ ذہبی نے اسے"طبقات الحفاظ"میں ذکر کیاہے پھر رد کرتے ہوئے اس قول سے مخاطب فرمایا کہ تو زندیق ہے یعنی بے دین ہےحق سے عناد رکھنے والاہے اﷲ تعالی تجھ سے کبھی راضی نہ ہو۔ابن خراش اﷲ تعالی کی رحمت سے محروم ۲۸۳ھ میں رحلت کرگیا۔جہاں تك پہلی حدیث کا تعلق ہے تو اس میں شعیب اور اس سے اوپرجلیل القدر ائمہ ہیں جن کے متعلق کوئی شبہ یا اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔البتہ محمد بن ابراہیم کے بارے میں کچھ توقف پایا جاتا ہے۔ اقول:(میں کہتاہوں کہ محدث ابونعیم نے اسے حلیۃ الاولیاء میں شمارکیاہے۔مزنیذہبی اور عسقلانی نے لقب "زاہد"سے اس کی توصیف کی ہے جبکہ اس
حوالہ / References
تہذیب التہذیب ترجمہ ۱۱۷ احمد بن الفرات دائرۃ المعاف النظامیہ حیدرآباد دکن ۱ /۶۷
میزان الاعتدال ترجمہ احمد بن فرات ۵۱۴ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۲۸
تذکرۃ الحفاظ ترجمہ ابن خراش عبدالرحمن بن یوسف دائرۃ المعارف النعمانیہ حیدرآباد دکن ۲/ ۲۳۰
میزان الاعتدال ترجمہ احمد بن فرات ۵۱۴ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۲۸
تذکرۃ الحفاظ ترجمہ ابن خراش عبدالرحمن بن یوسف دائرۃ المعارف النعمانیہ حیدرآباد دکن ۲/ ۲۳۰
الاولیاء کما عرف من محاورتھم حتی اقتصر علیہ الذھبی فی وصف سیدالاقطاب الغوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہفھذا توثیق لہ وای توثیق وماللولی و الکذب حاشاھم ولیس فیہ بعد ذلك جرح مفسر حتی قول الدار قطنی کذابوتحامل القوم علی الصوفیۃ الکرام و الحنفیۃ العظام معروفو قال الامام النووی فی التقریب لایقبل الجرح الا مبین السبب قال الامام السیوطی فی التدریب لان الناس مختلفون فی اسباب الجرح فیطلق احدھم الجرح بناء علی ماعتقدہ جرحا ولیس بجرح فی نفس الامرقال ابن الصلاح وھذا ظاھر مقرر فی الفقہ واصولہ وذکرالخطیب انہ مذھب الائمۃ من حفاظ الحدیث کالشیخین وغیرھما ثم ذکر امثلتہ الی ان قال قال الصیر فی وکذا اذا قالوا فلان کذاب لابد من بیانہ لان لفظ کو وہ اولیاء اﷲ کی تعریف وتوصیف ہی کے لئے استعمال کرتے ہیں جیساکہ ان کے محاوروں سے معلوم ہوتاہے حتی کہ علامہ ذہبی نے سیدالاقطاب حضرت غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے متعلق بھی یہی الفاظ استعمال کرنے پر اکتفاکیا ہے لہذا اس کی توثیق ہوئی پس اس سے بڑھ کر اور کون سی توثیق ہوسکتی ہےولی اور جھوٹ کا باہم کیاجوڑ اور رابطہ ہے اور اﷲ تعالی نے تو انہیں اس سے محفوظ رکھا اور اس کے بعد اس بارے میں کوئی مفصل جرح نہیں حتی کہ امام دارقطنی کا کذاب کہنا بھی اور صوفیائے کرام اور حنفیہ عظام پرلوگوں کا حملہ آورہونا تومشہور ومعروف ہے امام نووی نے التقریب میں فرمایاواضح سبب کے بغیرجرح مقبول نہیں۔امام سیوطی نے التہذیب میں فرمایا لوگ اسباب جرح میں مختلف ہیں چنانچہ ایك شخص اپنے اعتقاد کے مطابق کسی شے پر جرح کاا طلاق کرتاہے حالانکہ فی الواقع وہ جرح نہیں ہوتی۔ابن الصلاح نے کہا کہ یہی فقہ اور اصول فقہ میں ظاہرو مقرر ہے اور خطیب نے ذکرکیا ہے کہ یہی مذہب ائمہ حفاظ حدیث جیسے بخاریمسلم اور ان کے علاوہ دیگرائمہ کا ہے پھر اس کے بعد مثالیں ذکرفرمائیں یہاں تك کہ فرمایا امام صیرفی نے کہا۔اس طرح جب محدثین کہیں کہ فلان کذاب(فلاں جھوٹا ہے)تو اس کا بیان کرنا
حوالہ / References
تقریب النواوی مع تدریب الراوی النوع الثالث والعشرون قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۵۸
الکذب یحتمل الغلط کقولہ کذب ابومحمد اھ وکتبت علیہ وکذلك قول ابن مسعود وحذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالی عنھما فی دوران السماء کذب کعبوقد شبہ ھشام بن عروۃ ومالك واجلۃ علی محمد بن اسحق انہ کذابوحافوا علیہ ثم لم یذکروا الامالایثبت بہ کذب ولاالمرام بہ اصلا ویرد لابن اسحق الوثاقۃ لاجرم ان لم یعرج علیہ الحافظ فی التقریب۔وانضر فی محمد بن ابراھیم علی قولہمنکر الحدیث وکذلك لم یزد البیھقی فی حدیثہ علی استنکارہ بھذا السنداقول:والرجل اعنی محمد بن ابراھیم من المشائخین کما فی المیزان وغیرہالجمع السائح من شتات العلوم ما لیس ضروری ہے کیونکہ کذب(جھوٹ)غلطی کا بھی احتمال رکھتا ہے(یعنی شاید اس کی مراد کذاب اور کذب سے غلطی ہو یعنی وہ بہت غلط گوہے)جیساکہ قائل کا کہنا کہ ابومحمد نے جھوٹ کہا اھ اور میں نے اس پرلکھاہے یونہی ابن مسعود اور حذیفہ یمان رضی اﷲ تعالی عنہما کا دوران آسمان کے متعلق کعب کے بارے میں فرمانا کذب کعب یعنی کعب نے غلط کہا اور یہ مطلب نہیں کہ اس نے جھوٹ کہاچنانچہ ہشام بن عروہ مالك اور دوسرے جلیل القدر لوگوں نے محمد بن اسحق کے کذاب ہونے پر شبہ کا اظہار فرمایا لیکن انہوں نے اس پر زیادتی کی۔پھر انہوں نے ایسے امور ذکرکئے جن سے اس کا کذب ثابت نہیں ہوتا اور نہ اس سے کلیۃ مقصد حاصل ہوتا ہے۔اور ابن اسحق کے لئے بلاشبہ توثیق وارد ہوئی ہے اگرچہ حافظ نے التقریب میں اس کی موافقت نہیں کی۔اور محمد بن ابراہیم کے بارے میں توقف اس کے اس قول سے کہ وہ منکرالحدیث ہے اور اسی طرح امام بیہقی نے اس سند سے اس کی حدیث میں صرف استنکار کااضافہ کیاہے۔میں کہتاہوں محمد بن ابراہیم مشائخ میں سے ہے جیسا کہ المیزان وغیرہ میں ہےوہ اس قدر جامع ہے کہ جو علوم دوسروں کے پاس نہیں وہ ان مختلف
حوالہ / References
تدریب الراوی شرح تقریب النواوی النوع الثالث والعشرون قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۹۔۲۵۸
عندالاخرینومن عادتھم استنکار مالایعرفون فیذکرون عندھم ان مدار حدیث علی فلان ثم سمعوامن یرویہ عن غیرہ انکروہ فاذا تکرر ذلك منہ قالوا مثل الحدیث و ربما تعدوا الی الحکم بالکذب وماھو الا القضاء بالنفی علی الاثبات و الصواب علیہ واﷲ تعالی اعلملم یجتمع کل العلم فی احد بعد نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھذا جھل الحفظ البخاری ھو وغیرہ من الحفاظ کان عندھم ان حدیث المؤمن یاکل فی معا واحدلم یروہ عن ابی اسامۃ غیر ابی کریب ورواہ الترمذی من اربعۃ فقال حدثنا بہ ابی کریب وابوھشام وابوالسائب وحسین بن الاسود عن ابی اسامۃ قال ثم سألتہ محمود ابن غیلان عنہ فقال ھذا احدیث ابی کریب فسألت البخاری فقال لم نعرفہ الا من حدیث علوم میں سیاحت کرنے والا ہے اور ان کی عادت یہ ہے کہ جس چیز کو وہ نہ جانیں یا نہ پہچانیں تو اس کا انکارکردیتے ہیں۔ پھر وہ اپنے ہاں ذکرکرتے ہیں کہ حدیث کا مدار "فلاں"پرہے پھر جیسے ہی یہ سنیں کہ راوی کسی دوسرے سے روایت کررہا ہے تو اس کا انکار کردیتے ہیں اور پھر جب اس سے یہ مکرر ہو تو کہتے ہیں مثل الحدیث(یعنی یہ اس حدیث کی مثل ہے)اور بعض اوقات جھوٹ اور قضا نفی علی الاثبات کی طرف تجاوز کرتے ہیں اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے کہ اس بارے میں ثواب یہ ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام علوم کسی ایك شخصیت میں جمع نہیں ہوسکتے یہی وہ بات ہے جس کو امام بخاری وغیرہ حفاظ حدیث نہیں سمجھ پائےان کے نزدیك یہ حدیث کہ"مومن ایك آنت میں کھاتاہے"کو ابوکریب کے بغیر ابواسامہ سے کسی اور نے روایت نہیں کیا حالانکہ امام ترمذی نے اسے چار اشخاص سے روایت کیاہے چنانچہ امام ترمذی فرماتے ہیں ہم سے ابوکریب ابوہشام ابو السائب اور حسین ابن اسود سے ابو اسامہ کے حوالے سے بیان کیا۔ترمذی کہتے ہیں پھر میں نے اس کے متعلق محمود ابن غیلان سے پوچھا تو اس نے کہا یہ ابو کریب کی حدیث ہے پھر میں نے امام بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کو حدیث
ابی کریب فقلت حدیث ابی کریبومن قبل ھذا اتی الامام الثقۃ الواقدی فانہ روی حدیث ام المومنین ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا افعمیا وان انتماعن معمر عن الزھری وماکان الحدیث عندھم الاعن یونس عن الزھری فقامت علیہ القیامۃ من کل جانب حتی قال ذلك الجبل الشامخ امام السنۃ احمد بن حنبل رضی اﷲ تعالی عنہلم یزل یدافع اﷲ الواقدی حتی روی عن معمر عن الزھری عن نبھان عن ام سلمۃ رضی اﷲ تعالی عنھا افعمیاوان انتمافجاء بشیئ لاحیلہ فیہ الحدیث حدیث یونس لم یروہ غیرہ اھ وجعلہ ھوالمفسد لامر الواقدی وفعلہ داء لادوالہولما اراد علی بن المدینی ان یسمع من الواقدی کتب الیہ احمد کیف تستحل ان تکتب عن رجل روی عن معمر حدیث نبھان و ھذا حدیث یونس ابوکریب کے سوا نہیں پہچانتے۔میں نے کہا حدیث ابو کریب اوریونہی امام ثقہ واقدی پر یہی کچھ ہوا کیونکہ واقدی نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کی ہے جس کے بعض الفاظ یہ ہیں:"کیا تم دونوں اندھی ہوگئی ہو"انہوں نے یہ حدیث معمر سے بواسطہ زہری روایت کی ہے جبکہ ان کے نزدیك یہ حدیث یونس سے بواسطہ زہری مروی ہےپھر اس لئے اس(یعنی واقدی)پر ہرطرف سے قیامت قائم کی گئی یہاں تك کہ علم وعمل کے کوہ گراں امام السنۃ احمد بن حنبل جیسی شخصیت نے فرمایا کہ ہمیشہ اﷲ تعالی واقدی کا دفاع کرتارہایہاں تك کہ اس نے معمر بواسطہ زھری اور نبہان کے حوالے سے سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے یہ حدیث روایت کی کہ"کیا تم دونوں اندھی ہوگئی ہو "گویا وہ ایسی شے لایا جس کے حل کی کوئی تدبیر نہیں کیونکہ صرف یونس کی حدیث ہے اس کے سوا کسی اور نے روایت نہیں کی اھ پھر یہی چیز واقدی کے بگاڑ کا ذریعہ بن گئی۔اور یہ بیماری ہے جس کے لئے کوئی دوانہیں۔ جب علی بن مدینی نے واقدی سے کچھ سننے کاارادہ کیا تو امام احمد نے انہیں لکھا کہ یہ کیسے جائز ہوسکتاہے کہ آپ ایسے شخص سے حدیث لکھیں جو معمر سے"حدیث نبہان"روایت کرتاہے حالانکہ یہ حدیث یونس ہے جس میں
تفرد بہ اھمع ان الحدیث رواہ عن ابن شھاب ثلثۃ یونس کما عرفوا ومعمر کما روی الواقدی وثالثھم عقیل قال احمد بن منصور الرمادی(وھو ثقۃ حافظ حجۃ)لما قدمت مصر حدثنا ابن ابی مریم ثقۃ ثبت فقیہ)انا نافع بن یزید(ثقۃ عابد) عن عقیل عن ابن شہاب فذکر حدیث بنھان قال فلما فرغ منہ ضحکت فقال لم تضحك فاخبرتہ بقصۃ علی واحمدقال وقال ابن ابی مریم ان شیوخنا المصریین لھم عنایۃ بحدیث الزھری قال الرمادی وھذا الحدیث فیما ظلم فیہ الواقدیبلی ذکر محمد بن ابراھیمابن حبان الذی قال فیہ الذھبی فی ترجمۃ عثمان الطرائفی اما ابن حبان فانہ یقعقع کعادتہ ۔والکلام فی الرجال لایجوز الابعد تمام وہ متفرد ہےاھ حالانکہ اس حدیث کو ابن شہاب زہری سے تین افراد نے روایت کیاہے(۱)یونس جیسا کہ معروف ہے (۲)معمر جیسا کہ واقدی نے روایت کی(۳)عقیل۔چنانچہ احمدبن منصور رمادی نے کہا وہ یعنی عقیل ثقہ حافظ اور حجت ہے۔جب میں مصر میں آیا تو ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا(یہ ثقہثبت اور فقیہ ہے)ہمیں نافع بن یزید نے بتایا(یہ بھی ثقہ اور عابد ہے)اس نے عقیلاس نے ابن شہاب زہری کے حوالے سے روایت کی پھر اس نے حدیث نبہان بیان کی۔ راوی یعنی احمد منصور رمادی نے کہا جب وہ اس کے ذکر کرنے سے فارغ ہواتو میں ہنس پڑا تو اس نے کہا ہنستے کیوں ہو تومیں نے اسے علی بن مدینی اور امام احمد کاواقعہ بتایا تو ابن ابی مریم نے کہا ہمارے مصری شیوخ کے لئے حدیث زہری عنایت ہےرمادی نے کہا اس حدیث میں واقدی پر ظلم کیاگیاہاں ابن حبان نے محمد بن ابراہیم کا ذکر کیاہے ابن حبان وہی ہے جس کے بارے میں عثمان طرائفی کے ترجمہ میں علامہ ذہبی نے فرمایا لیکن ابن حبان تو وہ ویسے ہی کھٹ کھٹ کرتاہے جیسا کہ اس کی عادت ہے۔اور اسماء الرجال میں کلام کرنا جائزنہیں سوائے اس شخص کے جو مکمل
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمہ ۵۵۳۲ عثمان بن ابراھیم دارالمعرفۃ ۳/ ۴۵
المعرفۃ وتام الورعوقال فی ترجمۃ عبدالعزیز بما ابی وقال ابن حبان روی عن نافع عن ابن عمر نسخۃ موضوعۃھکذا قال ابن حبان بغیر بینۃ وقال فی ترجمۃ محمد بن الفضل شیخ البخاریابن حبان الخساف المتھور وقال فی ترجمۃ حجاج بن ارطاۃ کذا قال ابن حبان ھذا القول مجازفۃ فھذا قال فیہ لاتحل الروایۃ عنہ الاباعتبار کان یضع الحدیثاقول:مااظھر الاکرامۃ من اﷲ تعالی لمحمد بن ابراھیمحیث ناقض ابن حبان نفسہ فی نفس واح فجعلہ وضاعا و جعلہ ممن یکتب حدیثہ و یعتبر بہ وسبحن اﷲ من وضاع یعتبر بحدیثہ وقدا فحش القول ھکذا فی محمد بن علاقۃ فقال کان یروی الموضوعات عن الثقات لایحل ذکرہ معرفت اور تام ورع رکھتاہو عبدالعزیز بن ابی کے ترجمہ میں کہا ابن حبان نے کہا نافع سے بواسطہ ابن عمر ایك موضوع نسخہ روایت کیاگیاہےابن حبان نے یہ بغیر دلیل کے بیان کر دیا۔علامہ ذہبی نے محمد بن فضل شیخ بخاری کے ترجمہ میں کہا ابن حبان مشہور فضول گوہے اور ذہبی نے حجاج بن ارطاۃ کے ترجمہ میں کہا یوں ابن حبان نے کہایہ قول تخمینی ہے۔تو یہ ابن حبانمحمد بن ابراہیم کے متعلق کہتاہے کہ اس سے روایت کرنا سوائے فہم واعتبار کے حلال نہیں کیونکہ وہ حدیثیں وضع کرتاہے۔اقول:(میں کہتاہوں)اس نے اس کا اظہار نہیں کیامگریہ کہ اﷲ تعالی کی طرف سے محمد بن ابراہیم کی کرامت ہے کہ ابن حبان نے نفس واحد میں اپنے آپ سے مناقضہ اور مقابلہ کیاکہ اسے وضاع(حدیثیں گھڑنے والا)بھی قراردیا اور اسے ان لوگوں میں بھی شامل کیا کہ جن کی حدیثیں لکھی جاتی ہیں اور ان پر اعتماد کیاجاتاہے۔پاك ہے اﷲ تعالی۔ کون ایسا وضاع ہوگا جس کی حدیثوں پراعتماد کیاجائے اور اسی طرح ابن حبان نے فحش گوئی سے کام لیا کہ محمد بن علاقہ کے بارے میں کہا کہ وہ مستند راویوں سے موضوعات
حوالہ / References
میزان الاعتدال ترجمۃ ۵۱۰۱ عبدالعزیز بن ابی دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۶۲۸
میزان الاعتدال ترجمۃ ۸۰۵۷ محمدبن الفضل شیخ البخاری دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۸
میزان الاعتدال ترجمۃ ۱۷۲۶ حجاج بن ارطاۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۶۰
میزان الاعتدال ترجمۃ ۸۰۵۷ محمدبن الفضل شیخ البخاری دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۸
میزان الاعتدال ترجمۃ ۱۷۲۶ حجاج بن ارطاۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۶۰
الا علی جھۃ القدح فیہ فاولہ وان کان اھون مما قال فی محمد فاخرہ وھ الحکم اشد وقال وقال الحاکم یروی احادیچ موضوعۃ ذاھب الحدیث وقال الدار قطنی متروك و قال البخاری فی حدیثہ نظروھو لا یقول ھذا الا فیمن یتھمہ غالباکما قال الازدی فی عبداﷲ بن داؤد التمارو قال الازدی حدیثہ یدل علی کذبہ وکل ذلك لم یؤثر فیہفاقتصر الحافظ فی التقریب علی قولہ صدوق یخطی وذلك لان ابن معین وثقہ فکیف تؤثر فی رجل معدود من اولیاء اﷲ تعالی فالحدیث حسن ان شاء اﷲ تعالی ھذا وجہ وانعم بہ من وجہوالثانی ان الحدیث جاء عن ثلثۃ من الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم بطرق متنوعۃ فنیجبر ضعف بعضھا ببعض اذلیس فیھا وضاع ولا کذاب اعنی من تحقق فی ذلکوقد بیناہ فی کتابنا "منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین"من الفائدۃ۱۲ روایت کرتاہے لہذا بغیر جرح وقدح کے اس کاتذکرہ کرنا جائز نہیں۔اس کا اول اگرچہ اس کے آخر سے آسان ہے جو کچھ اس نے"محمد"کے بارے میں کہاتاہم آخر جوکہ حکم ہے زیادہ سخت ہے۔اس نے کہا حاکم نے کہا کہ وہ موضوع حدیثیں روایت کرتاہے(ذاھب الحدیث)ہے امام دارقطنی نے کہامتروك ہے۔امام بخاری نے کہا اس کی حدیث میں نظرہے اور وہ یہ بات اسی کے متعلق کہتاہے جو غالبا متہم ہوجیسا کہ ازدی نے عبداﷲ بن داؤدتمار کے بارے میں کہا ہے ازدی نے کہا اس کی حدیث اس کے جھوٹ پردلالت کرتی ہے او ر ان تمام باتوں نے اس پرکوئی اثرنہیں کیا۔لہذا حافظ نے التقریب میں اپنے اس قول"صدوق یخطی(سچاہےغلطی کرتاہے)پر اکتفاك یاہے کیونکہ ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے پھر یہ باتیں کیسے اثرانداز ہوسکتی ہیں اس شخص پر جو اولیاء اﷲ میں شمار ہوتا ہو لہذا حدیث انشاء اﷲ حسن ہے اور یہ ایك وجہ ہے اور کتنی اچھی وجہ ہے۔دوسری بات حدیث تین صحابہ سے مختلف طریقوں سے مروی ہے(اﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو) لہذا بعض کا ضعف بعض سے دورہوجاتاہے کیونکہ اس میں وضاع کوئی نہیں اور نہ ہی کذاب ہے اور ہم نے اس کو اپنی کتاب منیرالعین فی حکم تقبیل الابھامین انگوٹھے چومنے سے آنکھوں کاروشن ہوتا)کے فائدہ ۱۲
الی فائدۃ ۱۴ وقال الامام الجلیل السیوطی فی التعقبات علی الموضوعات المتروك والمنکر اذا تعددت طرقہ ارتقی الی درجۃ الضعیف الغریب بل ربما یرتقی الی الحسن اھ وقال المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر الضعیف یصیر حجۃ بذلك لان تعددہ قرینۃ علی ثبوتہ فی نفس الامر اھ۔ والثالث درجت الامۃ المرحومۃ علی العمل بہ من لدن السلف وھلم جرا وفی ھذا من تقویۃ الحدیث مافیہ کما بیناہ فی الافادۃ فی"الھاد الکاف فی حکم الضعاف"وقال الامام خاتم الحفاظ فی التعقبات قد صرح غیر واحد بان من دلیل صحۃ الحدیث قول اھل العم بہ وان لم یکن لہ سندا یعتمد علی مثلہ اھ۔
سے ۱۴ تك بیان کیاہے چنانچہ جلیل القدر امام علامہ سیوطی نے التعقبات علی الموضوعات میں فرمایا حدیث متروك اور منکر اس صورت میں ضعیف اور غریب کے درجہ تك پہنچ جاتی ہے جبکہ اس کے طرق یعنی سندیں متعدد ہوںبلکہ بعض اوقات درجہ حسن تك اس کا ارتفاع ہوجاتاہے یاارتقاء ہوجاتاہےاھ محقق علی الاطلاق کمال ابن ہمام نے فتح القدیر میں فرمایا حدیث ضعیف تعددطرق کی وجہ سے حجت ہوجاتی ہے کیونکہ اس کے طرق کا تعدد اس کے نفس الامری ثبوت پرقرینہ ہےاھ۔تیسری بات امت مرحومہ اس حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے اور یہ زمانہ سلف سے قرنا فقرنا ہمیشہ سے چلاآرہاہے۔اس میں حدیث کے اندر جو کچھ ہے اس کی تقویت ہے جیسا کہ ہم نے الھاد الکاف فی حکم الضعاف کے افادہ میں بیان کیاہےچنانچہ امام خاتم الحفاظ نے التعقبات میں فرمایا۔بہت سے ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ کسی حدیث کے صحیح ہونے کی یہ دلیل ہے کہ اہل علم اس کو نقل کریں اگرچہ اس کی کوئی ایسی سند نہ ہو جس کی مثل پراعتماد کیاجائےاھ۔
سے ۱۴ تك بیان کیاہے چنانچہ جلیل القدر امام علامہ سیوطی نے التعقبات علی الموضوعات میں فرمایا حدیث متروك اور منکر اس صورت میں ضعیف اور غریب کے درجہ تك پہنچ جاتی ہے جبکہ اس کے طرق یعنی سندیں متعدد ہوںبلکہ بعض اوقات درجہ حسن تك اس کا ارتفاع ہوجاتاہے یاارتقاء ہوجاتاہےاھ محقق علی الاطلاق کمال ابن ہمام نے فتح القدیر میں فرمایا حدیث ضعیف تعددطرق کی وجہ سے حجت ہوجاتی ہے کیونکہ اس کے طرق کا تعدد اس کے نفس الامری ثبوت پرقرینہ ہےاھ۔تیسری بات امت مرحومہ اس حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے اور یہ زمانہ سلف سے قرنا فقرنا ہمیشہ سے چلاآرہاہے۔اس میں حدیث کے اندر جو کچھ ہے اس کی تقویت ہے جیسا کہ ہم نے الھاد الکاف فی حکم الضعاف کے افادہ میں بیان کیاہےچنانچہ امام خاتم الحفاظ نے التعقبات میں فرمایا۔بہت سے ائمہ نے تصریح فرمائی ہے کہ کسی حدیث کے صحیح ہونے کی یہ دلیل ہے کہ اہل علم اس کو نقل کریں اگرچہ اس کی کوئی ایسی سند نہ ہو جس کی مثل پراعتماد کیاجائےاھ۔
حوالہ / References
التعقبات علی الموضوعات باب المناقب المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل ص۵۷
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب النوافل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۸۹
التعقبات علی الموضوعات باب الصلٰوۃ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ص۱۲
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب النوافل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۸۹
التعقبات علی الموضوعات باب الصلٰوۃ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ص۱۲
وستأتیك اقوال العلماءوجہ اللکھنوی ان یستخرج نساء کاتبات فلم یأت فی ھذہ الالف و ثلثمائۃ سنینالاتسع نسوۃمنھن السیدۃ اسماء بنت الفقیہ کمال الدین موسی بمدینۃ زبیہ فوفیت سنہ ۹۰۴ قال فی"النورالسافر فی اخبار القرن العاشر" کان لقولھا وقع فی القلوب وربما کتبت الشفاعات الی السطان والقاضی و الامیر فتقبل شفاعتھا اھ ولیس فیہ مایغنی بمقصودہ فمثل الکتابۃ لایلزم ان تکون بید نفسھاوقدوردفی الاحادیث کتب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی الملوك وغیرھمو قد شاع وذاع ان السلطان کتب لفلان کذا مع انہ لا یعرف ان یضع سوادافی بیاض ومنھم من لم یعرف الا وضع اسمہ فی الامضاء ولم یذکر نص "نزھۃ الجلساء"فی ترجمۃ المستکفی باﷲومریم بنت ابی یعقوب انما قال ذکر الکتابۃ فی ترجمتھا فلعلہ ذکر کما فی اسماء الزبیدیۃ عنقریب اقوال علماء تیرے ہاں پیش ہوں گےلکھنوی نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لکھنے والی عورتوں کا استخراج کیا توتیرہ سوسال کی مدت میں نوعورتیں بھی منظرعام پر نہ آئیںان میں سیدہ اسماء دخترکمال الدین موسی مدینہ زبید میں ہوئیں ان کی وفات ۹۰۴ھ میں ہوئی۔النور السافر فی اخبر القرن العاشر میں کہاگیا کہ لوگوں کے دلوں میں اس کے قول کی وقعت تھی بعض دفعہ وہ بادشاہامیر یاقاضی کے دربار میں کئی سفارشیں بصورت درخواست پیش کرتیں تو اس کی سفارشیں قبول کی جاتی تھیں اھ اس میں مقصود تك رسائی والی کوئی شے نہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ کتابت انہی کے ہاتھ سے ہو اس لئے کہ بہت سی حدیثوں میں وارد ہواہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بادشاہوں وغیرہ کو خطوط لکھےاور مشہور ہے کہ بادشاہ نے فلاں کے لئے اس قدر انعام لکھ دیا جبکہ بادشاہ کچھ وہ ہیں جو لکھنا بالکل نہیں جانتے اور کچھ وہ جو صرف اپنا دستخط کرسکتے ہیں یعنی صرف اپنانام لکھ سکتے ہیں اور نزہۃ الجلساء کی تصریح مستکفی باﷲ کے ترجمہ میں ذکر نہ کیاور مریم بنت یعقوباس نے کہا اس کے ترجمہ میں کتابت ذکر کی گئی ہےشاید اسی طرح مذکور ہوجیسا کہ اسماء زبیدیہ کے ترجمہ میں مذکورہے
حوالہ / References
النورالسافرفی اخبار القرن العاشر
فلم تسلم لہ الاست ولوشاء ان یحصی الکاتبین من الرجال فی قرن بل یوم واحد مااستطاع فھذا دلیل ای دلیل علی تحرز الامۃ من تعلیمھن الکتابۃ مع ما فیھا من جلیل الانتفاع۔
والرابع ان الحدیث الضعیف یعمل بہ فی مقام الاحتیاط ویشھد لہ الحدیث الصحیح"کیف وقد قیل"وغیرذلکمما بسطناہ فی رسالتنا"الھاد الکاف فی حکم الضعاف"وقال الامام الجلیل الجلال السیوطی فی"التدریب"یعمل بالضعیف ایضا فی الاحکام اذا کان فیہ احتیاط اھ فی اذکار الامام النووی و فتح المغیث وسیم الریاضالاحکام لا یعمل فیھا الابالحدیث الصحیح و الحسن الا ان یکون فی احتیاط فی شیئ من ذلک اھ باختصاروقال العلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیہالوصل بین الاذان والاقامۃ یکرہ فی کل الصلوات لماروی الترمذی عن جابررضی اﷲ تعالی عنہ پھر اس کے لئے صرف چھ عورتیں ہی بچیں۔اور اگر وہ لکھنے والے مردوں کا ایك صدی بلکہایك دن کاشمارکرنا چاہے تو نہ کرسکے۔اور یہ دلیل ہے اور مزید کونسی دلیل ہو اس پر کہ امت مسلمہ میں عورتوں کی تعلیم کتابت سے احتراز اور پرہیز کیاجاتاتھا باوجودیکہ تحرز میں بڑافائدہ ہے۔
چوتھی بات حدیث ضعیف پرمقام احتیاط میں عمل کیا جاسکتا ہے جبکہ کوئی حدیث صحیح اس کی شہادت دے"کیسےحالانکہ یہ بھی کہاگیا"اور اس کے علاوہ بھی متعدد باتیں کہی گئیں جن کو ہم اپنے رسالہ"الہاد الکاف فی حکم الضعاف"میں کھول کر شرح وبسط سے بیان کیاہے امام جلیل القدر جلال الدین سیوطی نے التدریب میں فرمایا حدیث ضعیف پراحکام میں بھی عمل کیاجاسکتاہے جبکہ اس میں احتیاط ہو اھ۔امام نووی کی الاذکار اور فتح المغیث اور نسیم الریاض میں ہے کہ احکام میں حدیث صحیح او حسن کے بغیر عمل نہیں کیاجاسکتا الا یہ کہ اس کے عمل کے سلسلہ میں مقام احتیاط ملحوظ ہواھ باختصار چنانچہ علامہ ابراہیم حلبی نے الغنیہ میں فرمایا ہرنماز میں اذان اور اقامت کے درمیان وصل مکروہ ہےاس کی وجہ جامع ترمذی کی وہ حدیث ہے جو حضرت جابررضی اﷲ عنہ سے
والرابع ان الحدیث الضعیف یعمل بہ فی مقام الاحتیاط ویشھد لہ الحدیث الصحیح"کیف وقد قیل"وغیرذلکمما بسطناہ فی رسالتنا"الھاد الکاف فی حکم الضعاف"وقال الامام الجلیل الجلال السیوطی فی"التدریب"یعمل بالضعیف ایضا فی الاحکام اذا کان فیہ احتیاط اھ فی اذکار الامام النووی و فتح المغیث وسیم الریاضالاحکام لا یعمل فیھا الابالحدیث الصحیح و الحسن الا ان یکون فی احتیاط فی شیئ من ذلک اھ باختصاروقال العلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیہالوصل بین الاذان والاقامۃ یکرہ فی کل الصلوات لماروی الترمذی عن جابررضی اﷲ تعالی عنہ پھر اس کے لئے صرف چھ عورتیں ہی بچیں۔اور اگر وہ لکھنے والے مردوں کا ایك صدی بلکہایك دن کاشمارکرنا چاہے تو نہ کرسکے۔اور یہ دلیل ہے اور مزید کونسی دلیل ہو اس پر کہ امت مسلمہ میں عورتوں کی تعلیم کتابت سے احتراز اور پرہیز کیاجاتاتھا باوجودیکہ تحرز میں بڑافائدہ ہے۔
چوتھی بات حدیث ضعیف پرمقام احتیاط میں عمل کیا جاسکتا ہے جبکہ کوئی حدیث صحیح اس کی شہادت دے"کیسےحالانکہ یہ بھی کہاگیا"اور اس کے علاوہ بھی متعدد باتیں کہی گئیں جن کو ہم اپنے رسالہ"الہاد الکاف فی حکم الضعاف"میں کھول کر شرح وبسط سے بیان کیاہے امام جلیل القدر جلال الدین سیوطی نے التدریب میں فرمایا حدیث ضعیف پراحکام میں بھی عمل کیاجاسکتاہے جبکہ اس میں احتیاط ہو اھ۔امام نووی کی الاذکار اور فتح المغیث اور نسیم الریاض میں ہے کہ احکام میں حدیث صحیح او حسن کے بغیر عمل نہیں کیاجاسکتا الا یہ کہ اس کے عمل کے سلسلہ میں مقام احتیاط ملحوظ ہواھ باختصار چنانچہ علامہ ابراہیم حلبی نے الغنیہ میں فرمایا ہرنماز میں اذان اور اقامت کے درمیان وصل مکروہ ہےاس کی وجہ جامع ترمذی کی وہ حدیث ہے جو حضرت جابررضی اﷲ عنہ سے
حوالہ / References
تدریب الراوی شرح تقریب النووی النوع الثالث والعشرون الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۵۳
الاذکار للنووی فصل فی الامر الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷،۸
الاذکار للنووی فصل فی الامر الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷،۸
وھو وان کان ضعیفا لکن یجوز العمل بہ فی مثل ھذا الحکم اھ مختصراوقداخرج ابوالفرج فی الموضوعات حدیثا من ولدلہ ثلثۃ اولاد فلم یسم احدھم محمدا فقد جہلبطریق اللیث عن مجاھد عن ابن عباس قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعﷲ بان لیث ترکہ احمد وغیرہ فتعقبہ خاتم الحفاظ فی اللالی بان الحارث رواہ عن النضر بن شنقی مرسلا والنضر قال ابن القطان مجھول قال وھذا المرسل یعضد حدیث ابن عباس و یدخلہ فی قسم المقبول اھ ولہ نظائر جمۃ اوردنا جملۃ منھا فی"الھاد الکاف"۔اما حدیث الشفاء بنت عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنھا قالت دخل علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وانا عند حفصۃ مروی ہے اگرچہ وہ حدیث ضعیف ہے تاہم اس قسم کے حکم میں اس پرعمل کرناجائزہے اھ مختصراابوالفرج نے الموضوعات میں یہ حدیث تخریج کیجس کسی کے ہاں تین بچے پیدا ہوئے پھر اس نے ان میں سے کسی کانام محمد نہ رکھا تو اس نے جہالت کی۔یہ حدیث بواسطہ لیثمجاہد اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے فرمایا حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشادفرمایااس نے حدیث مذکورمیں تعلیل ذکر کی(یعنی اسے معلل قراردیا)کہ لیث کو امام احمد وغیرہ نے چھوڑدیا ہے اور خاتم الحفاظ نے اللآلی میں اس کا تعاقب کیا ہے کہ حارث نے اس کو نضربن شنقی سے مرسل(یعنی بلاقید سند)روایت کیاہےاور ابن قحطان نے کہا کہ نضرمجہول ہے۔ امام سیوطی نے فرمایا یہ مرسلحدیث ابن عباس کو تقویت پہنچاتی ہے اور اسے قسم مقبول میں داخل کرتی ہےاھ اس کے لئے بہت سے نظائرہیں ان سب کو ہم"الہاد الکاف"میں لائے ہیں۔رہی حدیث شفاء دختر عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہا اس نے کہا میرے پاس حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ میں سیدہ حفصہ رضی اﷲ
حوالہ / References
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی سنن الصلٰوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۷۔۳۷۶
الموضوعات لابن الجوزی کتاب المبتداء باب التسمیۃ لمحمد دارالفکر بیروت ۱/ ۱۵۴
اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ کتاب المبتداء دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۰۲
الموضوعات لابن الجوزی کتاب المبتداء باب التسمیۃ لمحمد دارالفکر بیروت ۱/ ۱۵۴
اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ کتاب المبتداء دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۰۲
فقال لی الا تعلیمین ھذہ رقیۃ النملۃ کما علمتیھا الکتابۃ رواہ ابوداؤد فقال(حدثنا ابراھیم بن مھدی المصیصی)وثقہ ابوحاتم وقال العقیلی حدث بمناکیر واسند عن یحیی بن معین قال ابراھیم بن مھدی جاء بمناکیز قال فی التقریب مقبول وھی درجۃ قاصرۃ عمن یقال فیہ صدوق سیئ الحفظ اویھم اویخطی اوتغیر بآخرہ(ناعلی بن مسھر)ثقۃ لہ غرائب بعد مااضر(عن عبدالعزیز بن عمربن عبدالعزیز)صدوق یخطی ضعفہ ابومسھر وحدہ (عن صالح بن کیسان)ثقۃ ثت فقیہ(عن ابی بکر بن سلیمن بن ابی حثمۃ ثقۃ(عن الشفاء)رضی اﷲ تعالی عنھا فالحدیث لاینزل عن الصالح وھو قضیۃ سکوت فھذا قدیقال انہ یفھم من ظاھرہ الجواز لکنارأینا تعالی عنہا بیٹھی ہوئی تھی آپ نے مجھ سے فرمایا کیا تو اسے لکھناسکھانے کی طرح پھنسی کا دم نہیں سکھاتی۔امام ابوداؤد نے اس کو روایت کیاہےچنانچہ انہوں نے فرمایا ہم سے ابراہیم بن مہدی مصیصی نے بیان کیاابوحاتم نے اس کی توثیق کی۔ عقیلی نے کہایہ منکرروایات بیان کرتاہے اور یحیی بن معین سے سندلایا اس نے کہا ابراہیم بن مہدی منکر حدیثیں لایا۔ تقریب میں کہاگیا وہ مقبول ہے او ریہ کم درجہ ہے اس سے کہ جس کے بارے میں کہاجائے صدوق سییئ الحفظ الخ یعنی وہ سچاہے البتہ اس کا حافظہ خراب ہے یا و وہم کرتاہے یا غلطیاں کرتاہے یا آخر عمرمیں اس میں تبدیلی آگئی تھی۔ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا کہ وہ ثقہ ہے البتہ اس کے لئے کچھ غرائب ہیں اس کے بعد کہ وہ نابینا ہوگیاتھا اس نے عبدالعزیز بن عمربن عبدالعزیز سے روایت کیوہ سچاہے البتہ غلطی کر جاتاہے صرف ابومسہر نے اسے ضعیف قراردیاہےاس نے صالح بن کیسہان سے روایت کی وہ ثقہ ثبت اور فقیہ ہے اس نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کی۔وہ ثقہ ہے اس نے سیدہ شفاء رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کی۔پس حدیث صالح سے نیچے نہیں اترتی اور وہ قضیہ سکوت ہے کبھی کہاجاتاہے کہ اس سے بظاہر
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الطب باب فی الرقٰی آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۸۶
العلماء لایمشون علیہفمنھم من یقول انما ھو تعریض من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بحفصۃ قررہ الذکی المغربی واستحسنہ الحافظ ابوموسی جدا وقال التاویل ماذھب الیہ الامام التورپشتی الحنفی فی شرح المصابیح ونقلہ عنہ العلامۃ الطیبی الشافعی فی شرح المشکوۃ مقرا علیہ وعنہ الفتی فی مجمع البحار ونقل مثلہ الامام السیوطی فی مرقاۃ الصعود عن النھایۃ مقتصرا علیہقال الطیبی و یحتمل الحدیث وجھین آخرین احدھما التحضیض علی تعلیم الرقیۃ وانکار الکتابۃ ای ھلا علمتھا ما ینفعھا من الاجتناب عن عصیان الزوج کما علمتھا مایضرھا من الکتابۃ وثانیھما ان یتوجہ الانکار الی الجملتین جمیعا والمراد بالنملۃ المتعارف بینھم لانھا منافیۃ لحال المتوکلین اھ وتارۃ یقولون لعل ھذا قبل النھیذکرہ الشیخ المحقق جوازسمجھاجاتاہے لیکن ہم نے علماء کرام کودیکھا کہ وہ اس روش پر نہیں چلتے لہذا ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سیدہ حفصہ پرتعریض ہےچنانچہ ذکی مغربی نے اس کو برقرار رکھاہے اور حافظ ابوموسی نے یقینا اس کو مستحسن سمجھا اور کہا کہ اس کی تاویل وہ ہے جس کی طرف امام تورپشتی حنفی شرح مصابیح میں گئے ہیں اور اس کو ان سے علامہ طیبی شافعی نے شرح مشکوۃمیں نقل کرکے ثابت رکھاہے اور ان سے فتنی نے مجمع البحار میں نقل کیاہے اور امام سیوطی نے اسی کی مثل"مرقاۃ الصعود"میں نہایہ سے نقل کرکے اسی پراکتفاکیاہے۔علامہ طیبی نے فرمایا حدیث مذکور دو اوروجوہات کااحتمال رکھتی ہے ان میں سے ایك رقیہ (دم کرنا)پرابھارنا اور اکسانا ہے جبکہ تعلیم کتابت کاانکارکرنا ہے یعنی کیون نہ تونے اسے وہ چیز سکھائی جو اسے فائدہ دیتی کہ وہ شوھر کی نافرمانی سے بچنے کا ذریعہ ہےاور کتابت کیوں سکھائی جوموجب دکھ اور ضرر۔(دوسری وجہ)یہ ہے کہ انکار دونوں جملوں کی طرف متوجہ ہے اور اس سے مراد وہ ہے جو ان کے درمیان متعارف ہے کیونکہ رقیہ وغیرہ توکل کرنے والوں کے حال کے منافی ہے اھ کبھی یہ کہتے ہیں کہ شاید(یہ اجازت)نہی سے پہلے ہو۔چنانچہ شیخ محقق
حوالہ / References
شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح کتاب الطب والرقی الفصل الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۸/ ۳۰۶
فی الاشعۃ واخری خصت بہ حفصۃ رضی اﷲ تعالی عنھا لان نسائہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خصصن باشیاء قال اﷲ تعالی" ینساء النبی لستن کاحد من النساء " وخبر لایعلمن الکتابۃیحمل علی عامۃ النساء خوف الافتتان علیھن نقل القاری فی المرقاۃ عن بعضھم وکذا الشیخ المحقق واقر علیہ و قال القاری یحتمل ان یکون جائزاللسلف دون الخلف لفساد النسوان فی ھذا الزمان اھ فدلت کلماتھم ھذہ علی انھم یکرھون الکتابۃ لھنوالاعتراض بان کل ذلك خلاف الظاھر فان تحققت الامر فانہ ادخل فی المقصود فما کانوا لیغفلوا عن ذلك فھل تراھم عدلوا الیہ الالدعاع ماالیہ عظیم و رأیتنی کتبت علی ھامش الاشعۃ عند ذکر انھا خصوصیۃ نے اشعۃ اللمعات میں اس کا ذکرفرمایااور کبھی کہتے ہیں کہ(یہ اجازت)سیدہ حفصہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی خصوصیت ہے اور یہ ان کے ساتھ مختص ہے کیونکہ حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بعض اشیاء سے مخصوص ہیںچنانچہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:"اے نبی مکرم کی بیبیو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو"۔اور حدیث کہ"عورتوں کولکھنا نہ سکھاؤ" عام عورتوں پرمحمول ہوگی ان کے حق میں فتنہ کے اندیشہ سے۔اس کو ملاعلی قاری نے مرقاۃ میں بعض سے نقل کیاہے اور اسی طرح شیخ محقق نے اس کو برقرار رکھاہے۔م لاعلی قاری نے کہا کہ یہ بھی احتمال ہے کہ سلف کیلئے جائز ہو لیکن پچھلے لوگوں کے لئے جائز نہ ہو اس لئے کہ اس زمانے میں عورتوں میں فساد پایاجاتاہے اھ پھر ان کے یہ کلمات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ عورتوں کے لئے کتابت(یعنی لکھائی کاعمل)مکروہ سمجھتے ہیں۔اور یہ اعتراض کہ یہ سب باتیں خلاف ظاہرہیںاگر یہ امرثابت ہوجائے تو س کامقصود میں زیادہ دخل ہے کیونکہ وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ ان باتوں سے بے خبر ہوںکیا تم انہیں دیکھتے ہو کہ وہ کیوں اس طرح مڑگئے مگر اس لئے کہ اس پر کوئی نہ کوئی بڑاداعی اور باعث ہے مجھ یاد ہے کہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۳ /۳۲
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطب والرقی الفصل الثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۲۶
مرقاۃ المفاتیح کتاب الطب والرقی الفصل الثانی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۲۶
لحفصۃ مانصہ ھذا الجواب قدابدتہ من قبل ان اراہ اقول:ومع ذلك لقاء ان یقول ان نفس التشبیہ لیس بنص صریح فی الجواز بخلاف لا تعلموھن فانہ نص فی المنععلی انھا واقعۃ عین لا عموم لہا بخلاف النھیعلی ان حدیث الشفاء ان تقدم فمنسوخ او تاخرفلانسلم الا تخصیص حفصۃ کمارخص النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لزبیر وعبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالی عنھما فی لبس الحریر ولنا دبۃ سعد رضی اﷲ تعالی عنھما فی النیاحۃ بعہد مانھی عن ذلك فلم یکن الا تخصیص بعض بالترخیص لانسخ الحکم علی الاطلاقعلی ان المقام مقام الحتیاط فیقدم الحاظر علی انہ لوفرض عدم ورود نھی اصلالکان حال الزمان حاکما بالمنع وکم من حکم میں نے اشعۃ اللمعات کے حاشیہ پر جوکچھ اس کی تصریح تھی لکھ دی اس ذکر کے ساتھ کہ کتا بت سیدہ حفصہ کی خصوصیت ہے پس جواب دیکھنے سے پہلے ہی میں نے اس کا اظہار کردیاتھا اقول:(میں کہتاہوں)اس کے باوجود کوئی کہنے والا یہ کہہ دے کہ محض تشبیہجواز میں کوئی صریح نص نہیں بخلاف لاتعلموھن یعنی عورتوں کوکتابت نہ سکھاؤ۔یہ ممانعت میں واضح نص ہے۔علاوہ اس کے یہ ایك معین واقعہ ہے جس میں کوئی عموم نہیں بخلاف حدیث نہی کے۔علاوہ ازیں حدیث شفاء اگرمقدم ہو تومنسوخ ہے اور اگرمؤخر ہوتو پھر ہم اسے تسلیم ہی نہیں کرتے مگریہ کہ سیدہ حفصہ کی خصوصیت قراردی جائے جیسا کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت زبیر اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف رضی اﷲ تعالی عنہ کو ریشم پہننے کی رخصت او راجازت دی تھی۔اور حضرت سعد رضی اﷲ تعالی عنہ پر نوحہ اور رونے کی اجازت دی۔اس کے بعد ان کاموں سے منع فرمادیاتاتو پھر یہ رخصت دینے کی صورت میں بعض کی تخصیص ہوئی لہذا علی الاطلاق نسخ حکم نہیں علاوہ ازیں یہ مقام مقام احتیاط ہے لہذا مانع کو مقدم کیاجائے گااس کے علاوہ اگریہ فرض کرلیاجائے کہ نہی بالکل وارد نہیں ہوئی توپھر بھی حال زمانہ منع کے لئے حاکم(یعنی حالات زمانہ میں ممانعت کے لئے کافی ہیں)
یختلف باختلاف الزمان الاتری ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذن للنساء ان یخرجن الی المساجد وقد کن یخرجن علی عھد الرسالۃ بل امر فی العیدین باخراج العواتق وذوات الخدور کما فی الصحیحین بل قال لاتمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ اخرجہ احمد ومسلم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما ومع ذلك اذا فسد الزمان نص الائمۃ بالمنع و قالت ام المؤمنین رضی اﷲ تعالی عنھا لورای النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من النساء مارأینا لمنعھن المساجدکما منعت نساء بنی اسرائیل ۔ بارہا اختلاف زمانہ سے حکم بدل جاتاہے کیاتم نہیں دیکھتے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عورتوں کومساجد میں جانے کی اجازت دی تھی اور وہ زمانہ رسالتمآب میں مساجد میں جایاکرتی تھیں بلہ عیدین(چھوٹیبڑی عید)میں پردہ نشین خوادین کو بھی آپ نے عیدگاہ میں جانے کاحکم صادرفرمارکھاتھا جیسا کہ بخاری ومسلم کی روایات میں موجود ہے بلکہ آپ نے یہاں تك فرمایا کہ باندیوں کو اﷲ تعالی کے گھروں(مساجد)میں جانے سے مت روکو۔امام احمد اور امام مسلم نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کی تخریج فرمائی۔پس اس کے باوجود جونہی حالت زمانہ خراب وفاسد ہوگئے تو ائمہ کرام نے صراحتا عورتوں کو مسجدوں میں جانے سے روك دیا۔ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما نے ارشاد فرمایا اگرآنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عورتوں کے آج کے حالات دیکھتے جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں تو انہیں مسجدوں میں جانے سے روك دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتیں روك دی گئیں۔(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب العیدین باب اذلم یکن لہا جلباب فی العید قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۳۴،صحیح مسلم کتاب العیدین فصل فی اخراج العواتق وذوات الحدود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹۰
صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳،مسند احمدبن حنبل عن ابن عمر الکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۱۶ و ۱۵۱
صحیح البخاری کتاب الاذان باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۰،صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳
صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳،مسند احمدبن حنبل عن ابن عمر الکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۱۶ و ۱۵۱
صحیح البخاری کتاب الاذان باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۰،صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳
یہیں سے ظاہرہوگیا کہ اگلے زمانے کی دوچاربیبیوں کے حال فعل سے استناد کا یہاں کوئی محل نہیں پہلے تو عموما عورات کو حکم تھا کہ پنجگانہ مسجدوں میں حاضرہوںپردہ نشینیں اگرچہ حالت حیض میں ہوں کہ نمازپڑھ بھی نہیں سکتیں محض شرکت برکت دعا کے لئے عیدگاہوں کو ضرور جائیں۔اب یہ احکام کیوں نہ رہےحضرت ام المومنین حفصہ تو ام المومنین ہیں رضی اﷲ تعالی عنہا آج حضرت فقیہ فاطمہ سمرقندیہ بنت امام علاؤالدین رحمہما اﷲ تعالی کے مثل کون سی بی بی ہے بلکہبعد تلاش وتفحص صرف معدود نساء کی کتابت کا پتاچلنا ہی بتادیتاہے کہ سلفا خلفا علماء وعامہ مومنین کا عمل اس کے ترك ہی پررہاہے۔مرد ہرزمانے میں لاکھوں کاتب ہوئے اور عورتیں تیرہ سوبرس میں معدود۔پرظاہر کتابت ایك عظیم نافع چیزہے اگرکتابت نساء میں حرج نہ ہوتا جمہور امت سلف سے آج تك اس کے ترك پر کیوں اتفاق کرتیبالجملہ سبیل سلامت اسی میں ہےلہذا ان اجلہ علماء کرام امام حافظ الحدیث ابوموسی وامام علامہ تورپشتی وامام ابن الاثیر جزری وعلامہ طیبی و امام جلال الدین سیوطی وعلامہ طاہرفتنی وشیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی وغیرہم رحمۃ اﷲ تعالی علیہم نے اسی طرف میل فرمایاوہ ہرطرح ہم سے اعلم تھے اب جو اجازت کی طرف جائے یا حال زمانہ سے غافل ہے یاامت مرحومہ کی خیرخواہی سے عاطل۔
ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ثم رأیت بعد ذلك کلام الشیخ ابن حجر فی الفتاوی الحدیثیۃ ذکر فیہ حدیث ام المؤمنین وحدیث ابن مسعود ایضا رضی اﷲ تعالی عنھما وزاد فقال واخراج الترمذی الحکیم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ انہ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم قال مر لقمان علی جاریۃ (جواپنے زمانے والوں کے حالات سے آگاہ نہ ہو وہ جاہل اور نادان ہے۔ہم اﷲ تعالی سے معافنی اور نادان ہے۔ہم اﷲ تعالی سے معافی اورعافیت کا سوال کرتے ہیںپھر اس کے بعد میں نے شیخ ابن حجر کافتاوی حدیثیہ میں کلام دیکھا جس میںا نہوں ے ام المومین کی روایت اور حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما کی حدیث ذکر فرمائی اور کچھ اضافہ کرتے ہوئے فرمایا۔ت)یعنی نیز امام ترمذی الحکیم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لقمان نے ایك
ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ثم رأیت بعد ذلك کلام الشیخ ابن حجر فی الفتاوی الحدیثیۃ ذکر فیہ حدیث ام المؤمنین وحدیث ابن مسعود ایضا رضی اﷲ تعالی عنھما وزاد فقال واخراج الترمذی الحکیم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ انہ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم قال مر لقمان علی جاریۃ (جواپنے زمانے والوں کے حالات سے آگاہ نہ ہو وہ جاہل اور نادان ہے۔ہم اﷲ تعالی سے معافنی اور نادان ہے۔ہم اﷲ تعالی سے معافی اورعافیت کا سوال کرتے ہیںپھر اس کے بعد میں نے شیخ ابن حجر کافتاوی حدیثیہ میں کلام دیکھا جس میںا نہوں ے ام المومین کی روایت اور حضرت ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہما کی حدیث ذکر فرمائی اور کچھ اضافہ کرتے ہوئے فرمایا۔ت)یعنی نیز امام ترمذی الحکیم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لقمان نے ایك
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الایمان داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۵۹
فی الکتاب فقال لمن یصقل ھذا السیف ای حتی یذبح بہ وحینئذ فیکون فیہ اشارۃ الی علۃ النھی عن الکتابۃ وھی ان المرأۃ اذا تعلمتھا توصلت بھا الی اغراض فاسدۃ وامکن توصل الفسقۃ الیھا علی وجہ اسرع وابلغ واخدع من توصلھم الیھا بدون ذلکلان الانسان یبلغ بکتابتہ فی اغراضہ الی غیرہ مالم یبلغہ برسول ولان الکتابۃ اخفی من الرسول فکانت ابلغ فی الحیلۃ واسرع فی الخداع والمکر فلاجل ذلك صارت المرأۃ بعد الکتابۃ کالسیف الصیقل الذی لایمرعلی شیئ الاقطعہ بسرعۃ فکذلك ھی بعد الکتابۃ تصیر لایطلب منہ شیئ الاکان فیھا قابلیۃ الی اجابتہ الیہ علی ابلغ وجہ اسرعہ اھ۔ لڑکی کو دیکھا کہ مکتب میں سکھائی جارہی ہے فرمایا یہ تلوار کس کے لئے صیقل کی جاتی ہے۔امام ابن حجر فرماتے ہیں اس حدیث میں علت نہی کتابت کی طرف اشارہ ہے کہ عورت لکھناسیکھ کرخود بھی فاسد غرضوں کی طرف راہ پائے گی اور فاسقوں کو بھی اس تك رسائی کابڑا موقع مل جائے گا جولکھنا نہ جاننے کی حالت میں نہ ملتا کہ آدمی وہ بات لکھ سکتا ہے جو کسی کی زبانی نہ کہلابھیجے گا نیز خط ایلچی سے زیادہ پوشیدہ ہے تو اس میں حیلہ ومکر کی بہت جلد راہ ملے گی لہذا عورت لکھنا سیکھ کر صیقل کی ہوئی تلوار ہوجاتی ہے(وہ کسی چیز پرنہیں گزرتی مگر جلدی سے اسے کاٹ کر رکھ دیتی ہے پس عورت لکھائی سیکھنے کے بعد اسی طرح ہوجاتی ہے لہذا اس سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیاجاتا کہ وہ بڑی جلدی میں بروجہ بلیغ اس دعوے و مطالبے کے قبول کرنے پرآمادہ ہوجاتی ہےاھ۔ (ت)
ہندی مثل نے بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ کیا"اے بوری کوئی دیت ہے متوازن ہتھیار"۔
وھذا کما تری کلام متین مبیناعلاہ مورق واسفلہ مغدق وقول سیدنا لقمان الذی جاء فی الحدیث ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رواہ سیف بالیقین و القطع جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ یہ کلام نہایت پختہ اور واضح ہے جس کا اوپر والا حصہ ہرے بھرے خوبصورت پتوں والا ہے(اعلاہ مورق) اور نچلاحصہ جائے سیرابی ہے(اسفلہ مغدق)اور ہمارے اقا لقمان حکیم کاارشاد ہے جو حدیث پاك میں وارد ہوا کہ جس کو آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
ہندی مثل نے بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ کیا"اے بوری کوئی دیت ہے متوازن ہتھیار"۔
وھذا کما تری کلام متین مبیناعلاہ مورق واسفلہ مغدق وقول سیدنا لقمان الذی جاء فی الحدیث ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رواہ سیف بالیقین و القطع جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ یہ کلام نہایت پختہ اور واضح ہے جس کا اوپر والا حصہ ہرے بھرے خوبصورت پتوں والا ہے(اعلاہ مورق) اور نچلاحصہ جائے سیرابی ہے(اسفلہ مغدق)اور ہمارے اقا لقمان حکیم کاارشاد ہے جو حدیث پاك میں وارد ہوا کہ جس کو آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
حوالہ / References
الفتاوی الحدیثیہ مطلب یکرہ تعلیم النساء الکتابۃ المطبعۃ الجمالیۃ مصر ص۶۳
لیس بعدہ لعنق الشبھۃ الا الجزوالقطع اما ما ذکرالشیخ بعدہ جوابا عن حدیث الشفاء بقولہ قلت لیس فیہ دلالۃ علی طلب تعلیمھن الکتابۃ وانما فیہ دلیل علی جوازہ الکتابۃ ونحن نقول بہ وانما غایۃ ان النھی عنہ تنزیھا لما تقرر فی المفاسد المرتبۃ علیہاھ فاقول: مبنی علی مذھبہ فان الامام الشافعی رضی اﷲ تعالی عنہ لایقول بسد الذرائع فلایکون حجۃ علینا لاسیما مع مانری عن فساد الزمان وماتصم بسماعہ الآذان ولاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔نسأل اﷲ العفو و العافیۃ واﷲ تعالی اعلم۔ روایت فرمایا وہ عورت یقینی اور حتمی طور پر تلوارہے کہ جس کے بعد گردن کٹنے اور الگ ہونے کے علاوہ کوئی گنجائش نہیں رہی یہ بات کہ شیخ نے حدیث شفاء کا جواب اپنے اس قول سے ذکر فرمایا۔میں کہتاہوں کہ عورتوں کی تعلیم کتابت کے مطالبے پر حدیث پاك میں کوئی دلالت نہیں بلکہاس میں دلیل جواز ہے اور ہم اسی کے قائل ہیںمنکر نہیںالبتہ انتہائی بات یہ ہے کہ اس میں نہی تنزیہہ ہے اس لئے کہ اس پربہت سے مفاسد کا ترتب ثابت ہوچکاہےاھ میں کہتاہوں(صاحب فتاوی)کہ یہ ان کے مذہب پرمبنی ہے اس لئے کہ امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ ذرائع کی روك تھام کے قائل نہیں لہذا یہ ہمارے خلاف حجت (دلیل)نہیں خصوصا جبکہ ہم فسادزمانہ بھی دیکھ رہے ہیں اور وہ خطرناك حالات کہ جن کی سماعت سے کان بہرے ہوں۔پس گناہوں سے محفوظ رہنے اور نیکی کرنے کی(کسی میں)ہمت وقوت نہیں سوائے خدائے عظیم و کبیر کے فضل وکرم کے۔اﷲ تعالی سے ہم مغفرت وعافیت چاہتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۱۰: ۶ربیع الثانی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قرآن شریف کاترجمہ اس طرح پرکرناکہ نیچے ترجمہ میں مخذوفات اور مطالب وغیرہ خطوط ہلالی بناکر لکھ دئیے جائیں جائزہے یاناجائز
الجواب:
الحمدﷲ قرآن عظیم بحفظ الہی عزوجل ابدالآباد تك محفوظ ہے تحریف محرفین وانتحال منتحلین کو اس کے سراپردئہ عزت کے گردبار ممکن نہیں " لا یاتیہ البطل من بین یدیہ و لا من خلفہ " (باطل اس کے آگے اور پیچھے
مسئلہ ۳۱۰: ۶ربیع الثانی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قرآن شریف کاترجمہ اس طرح پرکرناکہ نیچے ترجمہ میں مخذوفات اور مطالب وغیرہ خطوط ہلالی بناکر لکھ دئیے جائیں جائزہے یاناجائز
الجواب:
الحمدﷲ قرآن عظیم بحفظ الہی عزوجل ابدالآباد تك محفوظ ہے تحریف محرفین وانتحال منتحلین کو اس کے سراپردئہ عزت کے گردبار ممکن نہیں " لا یاتیہ البطل من بین یدیہ و لا من خلفہ " (باطل اس کے آگے اور پیچھے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۱ /۴۲
سے نہیں آسکتا۔ت) حمد اس کے وجہ کریم کو جس نے قرآن اتارا اور اس کا حفظ اپنے ذمہ قدرت پررکھا
" انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون ﴿۹﴾ " (ہم ہی نے قرآن پاك کو اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ت) توریت وانجیل کچھ تو ملعون احباروں نے اپنے اغراض ملعونہ سے روپے لے کر اپنے مذہب ناپاك کے تعصب سے قصدا بدلیں اور کچھد ایسے ہی ترجمہ کرنے والوں نے اس خلط وخبط کی بنیادیں ڈالیں مرورزماں کے بعد وہ اصل وزیادت مل ملاکر سب ایك ہوگئیںکلام الہی وکلام بشرمختلط ہوکر تمیزنہ رہی۔الحمد ﷲنفس قرآن میں اگرچہ یہ امرمحال ہے تمام جہان اگراکٹھاہوکر اس کاایك نقطہ کم بیش کرناچاہے ہرگزقدرت نہ پائے مگرترجمہ سے مقصود ان عوام کومعانی قرآن سمجھانا ہے جوفہم عربی سے عاجز ہیں خطوط بلالی نقول ودرنقول خصوصا مطابع مطابع میں ضرور مخلوط ونامضبوط ہوکرنتیجہ یہ ہوگا کہ دیکھنے والے عوام اصل ارشاد قرآن کو اس مترجم کی زیادت سمجھیں گے اور مترجم کی زیادات کو رب العزۃ کاارشاد یہ باعث ضلال ہوگا اور جو امرمنجربہ ضلال ہو اس کی اجازت نہیں ہوسکتی اسی لئے علماء مترجمین نے ترجمہ کایہی دستور رکھا کہ بین السطور میں صرف ترجمہ اور جو فائدہ زائدہ ایفاح مطلب کے لئے ہو ا وہ حاشیہ پرلکھا انہیں کی چال چلنی چاہئے۔وباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۱: ۵جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایك شخص وعظ کہتاہے اور ان صفتوں سے موصوف ہے:اولا مقولہ اس کا الصلوۃ علیك یارسول اﷲ کہنا نہ چاہئے حاضر کے واسطے ہے۔دوسرے بیان کیاروزہ دار کو چاہئے وقت استنجی کے اوپرکوسانس نہ لے اور آپ کو خوب سنبھالے پانی اوپرنہ جائے ورنہ روزہ اس کا تباہ ہوگا روزہ دار اور غیرروزہ دار کے استنجی میں بہت فرق ہے۔تیسرے آمین کہنے آواز بلند سے شیطان کے برچھے لگتاہے اگربہت بلندآواز سے آدمی کہیں توبہت برچھی لگتی ہیںاو ر اس آدمی نے تقویۃ الایمان اور تنبیہ الغافلین اور کچھ آیات وحکایات و حدیث شریف کاترجمہ بغیراستاد کے مطبوعہ دیکھ کر یادکرلیاہے بیان کرتا ہے اوع علم ناسخ اور منسوخ آیات اوراقسام حدیث شریف اور صرف ونحو بھی نہ جانے بحدیکہ من وعن وواحد وتثنیہ میں فرق نہیں کرسکتا ہے ایسے آدمی کا وعظ سننے کو اجازت شریعت محمدیہ اہل شرع کے ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ ت)
" انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون ﴿۹﴾ " (ہم ہی نے قرآن پاك کو اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ت) توریت وانجیل کچھ تو ملعون احباروں نے اپنے اغراض ملعونہ سے روپے لے کر اپنے مذہب ناپاك کے تعصب سے قصدا بدلیں اور کچھد ایسے ہی ترجمہ کرنے والوں نے اس خلط وخبط کی بنیادیں ڈالیں مرورزماں کے بعد وہ اصل وزیادت مل ملاکر سب ایك ہوگئیںکلام الہی وکلام بشرمختلط ہوکر تمیزنہ رہی۔الحمد ﷲنفس قرآن میں اگرچہ یہ امرمحال ہے تمام جہان اگراکٹھاہوکر اس کاایك نقطہ کم بیش کرناچاہے ہرگزقدرت نہ پائے مگرترجمہ سے مقصود ان عوام کومعانی قرآن سمجھانا ہے جوفہم عربی سے عاجز ہیں خطوط بلالی نقول ودرنقول خصوصا مطابع مطابع میں ضرور مخلوط ونامضبوط ہوکرنتیجہ یہ ہوگا کہ دیکھنے والے عوام اصل ارشاد قرآن کو اس مترجم کی زیادت سمجھیں گے اور مترجم کی زیادات کو رب العزۃ کاارشاد یہ باعث ضلال ہوگا اور جو امرمنجربہ ضلال ہو اس کی اجازت نہیں ہوسکتی اسی لئے علماء مترجمین نے ترجمہ کایہی دستور رکھا کہ بین السطور میں صرف ترجمہ اور جو فائدہ زائدہ ایفاح مطلب کے لئے ہو ا وہ حاشیہ پرلکھا انہیں کی چال چلنی چاہئے۔وباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۱: ۵جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایك شخص وعظ کہتاہے اور ان صفتوں سے موصوف ہے:اولا مقولہ اس کا الصلوۃ علیك یارسول اﷲ کہنا نہ چاہئے حاضر کے واسطے ہے۔دوسرے بیان کیاروزہ دار کو چاہئے وقت استنجی کے اوپرکوسانس نہ لے اور آپ کو خوب سنبھالے پانی اوپرنہ جائے ورنہ روزہ اس کا تباہ ہوگا روزہ دار اور غیرروزہ دار کے استنجی میں بہت فرق ہے۔تیسرے آمین کہنے آواز بلند سے شیطان کے برچھے لگتاہے اگربہت بلندآواز سے آدمی کہیں توبہت برچھی لگتی ہیںاو ر اس آدمی نے تقویۃ الایمان اور تنبیہ الغافلین اور کچھ آیات وحکایات و حدیث شریف کاترجمہ بغیراستاد کے مطبوعہ دیکھ کر یادکرلیاہے بیان کرتا ہے اوع علم ناسخ اور منسوخ آیات اوراقسام حدیث شریف اور صرف ونحو بھی نہ جانے بحدیکہ من وعن وواحد وتثنیہ میں فرق نہیں کرسکتا ہے ایسے آدمی کا وعظ سننے کو اجازت شریعت محمدیہ اہل شرع کے ہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۵ /۹
الجواب:
شخص مذکور نراجاہل اجہل وگمراہ بدمذہب ہے اسے وعظ کہناحرام اور اس کا وعظ سنناحرامالصلوۃ علیك یارسول اﷲ کہنا باجماع مسلمین جائزومستحب ہے جس کی ایك دلیل ظاہروباہر التحیات میں السلام علیك ایھاالنبی ورحمۃ اﷲ و برکاتہ ہے اور اس کے سواصحاح کی حدیث میں یامحمد انی اتوجہ بك الی ربی فی حاجتی ھذہ (اے محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) میں اپنی اس حاجت(ضرورت)میں آپ کو اپنے پروردگار کی طرف متوجہ کرتاہوں اور آپ کو وسیلہ بناتاہوں۔ ت) موجود جس میں بعد وفات اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حضورپکارنا اور حضور سے مدد لینا ثابت ہے مگرایسے جاہل اجہل کو احادیث سے کیاخبرجب اسے التحیات ہی یادنہیں جو مسلمانوں کاہربچہ جانتاہے۔تقویۃ الایمان سخت بددینی وضلالت کی کتاب ہے اس کااور اس کے مصنف کاحال فتاوی ورسائل علماء عرب وعجم سے ظاہرسردست فقیر کا رسالہ مسمی بہ الکوکبۃ الشھابیۃ علی کفریات ابی الوھابیۃ عــــــہ جدید الطبع حاضرمن شاء فلیطالعھا حاضرہے جو چاہے اس کا مطالعہ کرے۔ت)
آمین آواز سے کہنے میں شیطان کے برچھالگنا اور جس قدر زیادہ بلندآواز سے ہو اسی قدرزیادہ زخم پہنچنا یہ بھی کسی حدیث سے ثابت نہیں۔روزہ دار کو یہ بہتر توہے کہ استنجا کرنے میں اوپرسانس بقوت نہ لے مگر اس قدر سے روزہ نہ جائے گانہ مطلقا پانی چڑھنے سے جب تك پانی موضع حقنہ تك نہ پہنچےاور ایساہوگا تودردشدید پیداہوگا۔درمختارمیں ہے:
لوبالغ فی الاستنجاء حتی بلغ موضع الحقنۃ فسد الصوم وھذا فلما یکون ولوکان فیورث استنجا کرنے میں اگر اس تك مبالغہ کیا کہ پانی حقنہ(محل دوا) تك پہنچ گیا توروزہ فاسد ہوجائے گا اور ایسا
عــــــہ: رسالہ ہذا(الکوکبۃ الشہابیہ)فتاوی فتاوی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور جلدنمبر۱۵ میں مرقوم ہے۔
شخص مذکور نراجاہل اجہل وگمراہ بدمذہب ہے اسے وعظ کہناحرام اور اس کا وعظ سنناحرامالصلوۃ علیك یارسول اﷲ کہنا باجماع مسلمین جائزومستحب ہے جس کی ایك دلیل ظاہروباہر التحیات میں السلام علیك ایھاالنبی ورحمۃ اﷲ و برکاتہ ہے اور اس کے سواصحاح کی حدیث میں یامحمد انی اتوجہ بك الی ربی فی حاجتی ھذہ (اے محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) میں اپنی اس حاجت(ضرورت)میں آپ کو اپنے پروردگار کی طرف متوجہ کرتاہوں اور آپ کو وسیلہ بناتاہوں۔ ت) موجود جس میں بعد وفات اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حضورپکارنا اور حضور سے مدد لینا ثابت ہے مگرایسے جاہل اجہل کو احادیث سے کیاخبرجب اسے التحیات ہی یادنہیں جو مسلمانوں کاہربچہ جانتاہے۔تقویۃ الایمان سخت بددینی وضلالت کی کتاب ہے اس کااور اس کے مصنف کاحال فتاوی ورسائل علماء عرب وعجم سے ظاہرسردست فقیر کا رسالہ مسمی بہ الکوکبۃ الشھابیۃ علی کفریات ابی الوھابیۃ عــــــہ جدید الطبع حاضرمن شاء فلیطالعھا حاضرہے جو چاہے اس کا مطالعہ کرے۔ت)
آمین آواز سے کہنے میں شیطان کے برچھالگنا اور جس قدر زیادہ بلندآواز سے ہو اسی قدرزیادہ زخم پہنچنا یہ بھی کسی حدیث سے ثابت نہیں۔روزہ دار کو یہ بہتر توہے کہ استنجا کرنے میں اوپرسانس بقوت نہ لے مگر اس قدر سے روزہ نہ جائے گانہ مطلقا پانی چڑھنے سے جب تك پانی موضع حقنہ تك نہ پہنچےاور ایساہوگا تودردشدید پیداہوگا۔درمختارمیں ہے:
لوبالغ فی الاستنجاء حتی بلغ موضع الحقنۃ فسد الصوم وھذا فلما یکون ولوکان فیورث استنجا کرنے میں اگر اس تك مبالغہ کیا کہ پانی حقنہ(محل دوا) تك پہنچ گیا توروزہ فاسد ہوجائے گا اور ایسا
عــــــہ: رسالہ ہذا(الکوکبۃ الشہابیہ)فتاوی فتاوی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور جلدنمبر۱۵ میں مرقوم ہے۔
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الدعوات امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۹۷،مسند احمدبن حنبل حدیث عثمان بن حنیف المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۱۳۸،سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلٰوۃ ماجاء صلٰوۃ الحاجۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۰۰،المستدرك للحاکم کتاب الصلٰوۃ التطوع ۱/ ۳۱۳ کتاب الدعا،۱/ ۵۱۹ و ۵۲۶ دارالفکر بیروت
داء عظیما ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ بہت کم ہوتاہےاگرہوتو بڑی بیماری پیداہوجائے گی واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۱۲: ازپیلی بھیت بازار ڈرمنڈ گنج دکان خلیل الرحمن عطرفروش مرسلہ محمدمظہرالاسلام صاحب ۲۴رجب ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں:اگرکوئی عالم یہ دعوی کرتاہو کہ میں یہاں کے اہم اسلام کا حاکم ہوں اور منہیات شرعی پرزجروتوبیخ نہ کرتا ہوبلکہایسے اشخاص سے کہ جو منہیات شرعی میں مبتلا ہوں ان کے یہاں دعوتیں کھاتاہو نذرانہ لیتاہو یعنی شراب خوارعلی الاعلان ہوئے فروش ہومسکرات کا ٹھیکیدار ہو رشوت علی الاعلان لیتاہو ڈاڑھی منڈاتاہوعلی الاعلان زناکرتاہووغیرہ وغیرہ۔پس ایسے شخصوں سے ملنے کو فخرجانتاہو ایسے عالم کے واسطے شریعت عالی کا کیاحکم ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
عالم دین سنی المذہب جو اپنے اہل علم شہر میں اعلم ہو ضرور ان کا حاکم شرعی ہے کما فی الحدیقۃ الندیۃ عن الفتاوی العتابیۃ (جیسا کہ حدیقہ ندیہ میں فتاوی عتابیہ سے نقل کیاگیاہے۔ت) نہی عن المنکر اپنی شرائط کے ساتھ ضرور فرض ہے مگر وہ زجرو توبیخ میں منحصرنہیں ایسے مرتکبان کبائر کے ساتھ اختلاط میں نظر علماء مختلف رہی ہے اور قول فیصل یہ کہ اس کا فیصلہ عالم ماہر کی نظرپرہے جو اصلح سمجھے اس پر عمل کرے کما بینہ الامام حجۃ الاسلام فی الاحیاء(جیسا کہ حجۃ الاسلام(امام غزالی)نے اس کو احیاء العلوم میں بیان فرمایا ہے۔ت)دعوت کھانا فی نفسہ حلال ہے جب تك معلوم ومتحقق نہ ہو کہ یہ کھانا جو ہمارے سامنے آیا بعینہ حرام مال ہے کما فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الامام محمد(جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں بحوالہ ذخیرہ امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ سے نقل کیاگیاہے۔ت)بہرحال عوام کو علمائے دین سنیان مہتین کی شان میں حسن ظن وحسن عقیدت لازم ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۲: ازپیلی بھیت بازار ڈرمنڈ گنج دکان خلیل الرحمن عطرفروش مرسلہ محمدمظہرالاسلام صاحب ۲۴رجب ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں:اگرکوئی عالم یہ دعوی کرتاہو کہ میں یہاں کے اہم اسلام کا حاکم ہوں اور منہیات شرعی پرزجروتوبیخ نہ کرتا ہوبلکہایسے اشخاص سے کہ جو منہیات شرعی میں مبتلا ہوں ان کے یہاں دعوتیں کھاتاہو نذرانہ لیتاہو یعنی شراب خوارعلی الاعلان ہوئے فروش ہومسکرات کا ٹھیکیدار ہو رشوت علی الاعلان لیتاہو ڈاڑھی منڈاتاہوعلی الاعلان زناکرتاہووغیرہ وغیرہ۔پس ایسے شخصوں سے ملنے کو فخرجانتاہو ایسے عالم کے واسطے شریعت عالی کا کیاحکم ہے بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
عالم دین سنی المذہب جو اپنے اہل علم شہر میں اعلم ہو ضرور ان کا حاکم شرعی ہے کما فی الحدیقۃ الندیۃ عن الفتاوی العتابیۃ (جیسا کہ حدیقہ ندیہ میں فتاوی عتابیہ سے نقل کیاگیاہے۔ت) نہی عن المنکر اپنی شرائط کے ساتھ ضرور فرض ہے مگر وہ زجرو توبیخ میں منحصرنہیں ایسے مرتکبان کبائر کے ساتھ اختلاط میں نظر علماء مختلف رہی ہے اور قول فیصل یہ کہ اس کا فیصلہ عالم ماہر کی نظرپرہے جو اصلح سمجھے اس پر عمل کرے کما بینہ الامام حجۃ الاسلام فی الاحیاء(جیسا کہ حجۃ الاسلام(امام غزالی)نے اس کو احیاء العلوم میں بیان فرمایا ہے۔ت)دعوت کھانا فی نفسہ حلال ہے جب تك معلوم ومتحقق نہ ہو کہ یہ کھانا جو ہمارے سامنے آیا بعینہ حرام مال ہے کما فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الامام محمد(جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں بحوالہ ذخیرہ امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ سے نقل کیاگیاہے۔ت)بہرحال عوام کو علمائے دین سنیان مہتین کی شان میں حسن ظن وحسن عقیدت لازم ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۹
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثالث مکتبہ نوریہ فیصل آباد ۱/ ۳۵۱
الفتاوی الہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ النوع الثالث مکتبہ نوریہ فیصل آباد ۱/ ۳۵۱
الفتاوی الہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲
مسئلہ ۳۱۳: مسئولہ مولوی حامد علی صاحب طالب علم مدرسہ اہلسنت باشندہ الہ آباد ۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیوں کے پاس اپنے لڑکوں کو پڑھاناکیساہے اور جو ان کے پاس اپنے لڑکے کو پڑھنے کے لئے بھیجے اس کے واسطے کیاحکم ہے
الجواب:
حرام حرام حراماور جو ایساکرے بدخواہ اطفال ومبتلائے آثام۔ قال اﷲ تعالی:
" یایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا" ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۱۴:مرسلہ ڈاکٹر محمدواعظ الحق سعداﷲ لودی ڈاکخانہ خسروپور ضلع پٹنہ بوساطت مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۵ ربیع الاول ۱۳۲۲ھ
غیرمقلدوں سے مسئلہ دریافت کرناجائزہے یاناجائز
الجواب:غیرمقلدوں سے مسئلہ دریافت کرناحماقت ہے۔
مسئلہ ۳۱۵: ازاوجین علاقہ گوالیار مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۱۴جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
براہ سخن پروری عبارت کتب میں اپنی طرف سے چندالفاظ داخل کرکے علماء کرام اور حتی کہ استاد عظام خود کو دھوکا دینا کیاحکم رکھتاہے جوحکم محقق اس مسئلہ میں ہو بیان فرمائیں وبحث مسئلہ عبارت کتب ہو۔
الجواب:
سخن پروری یعنی دانستہ باطل پراصرار ومکابرہ ایك کبیرہ۔کلمات علماء میں کچھ الفاظ اپنی طرف سے الحاق کرکے ان پرافتراء دوسرا کبیرہ۔علماء کرام اور خود اپنے اساتذ کو دھوکادینا خصوصا امردین میں تیسرا کبیرہ۔یہ سب خصلتیں یہود لعنہم اﷲ تعالی کی ہیں۔
قال اﷲ تعالی" ولا تلبسوا الحق بالبطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون﴿۴۲﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:(لوگو)حق کے ساتھ باطل نہ ملاؤ اور نہ حق کو چھپانے والے بنو جبکہ تم(حق کو خوب)جانتے ہو۔ (ت)
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیوں کے پاس اپنے لڑکوں کو پڑھاناکیساہے اور جو ان کے پاس اپنے لڑکے کو پڑھنے کے لئے بھیجے اس کے واسطے کیاحکم ہے
الجواب:
حرام حرام حراماور جو ایساکرے بدخواہ اطفال ومبتلائے آثام۔ قال اﷲ تعالی:
" یایہا الذین امنوا قوا انفسکم و اہلیکم نارا" ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۱۴:مرسلہ ڈاکٹر محمدواعظ الحق سعداﷲ لودی ڈاکخانہ خسروپور ضلع پٹنہ بوساطت مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۵ ربیع الاول ۱۳۲۲ھ
غیرمقلدوں سے مسئلہ دریافت کرناجائزہے یاناجائز
الجواب:غیرمقلدوں سے مسئلہ دریافت کرناحماقت ہے۔
مسئلہ ۳۱۵: ازاوجین علاقہ گوالیار مرسلہ حاجی یعقوب علی خاں صاحب ۱۴جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ
براہ سخن پروری عبارت کتب میں اپنی طرف سے چندالفاظ داخل کرکے علماء کرام اور حتی کہ استاد عظام خود کو دھوکا دینا کیاحکم رکھتاہے جوحکم محقق اس مسئلہ میں ہو بیان فرمائیں وبحث مسئلہ عبارت کتب ہو۔
الجواب:
سخن پروری یعنی دانستہ باطل پراصرار ومکابرہ ایك کبیرہ۔کلمات علماء میں کچھ الفاظ اپنی طرف سے الحاق کرکے ان پرافتراء دوسرا کبیرہ۔علماء کرام اور خود اپنے اساتذ کو دھوکادینا خصوصا امردین میں تیسرا کبیرہ۔یہ سب خصلتیں یہود لعنہم اﷲ تعالی کی ہیں۔
قال اﷲ تعالی" ولا تلبسوا الحق بالبطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون﴿۴۲﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:(لوگو)حق کے ساتھ باطل نہ ملاؤ اور نہ حق کو چھپانے والے بنو جبکہ تم(حق کو خوب)جانتے ہو۔ (ت)
وقال اﷲ تعالی" فویل لہم مما کتبت ایدیہم وویل لہم مما یکسبون﴿۷۹﴾"
وقال تعالی" یحرفونہ من بعد ما عقلوہ وہم یعلمون﴿۷۵﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور اﷲ تعالی نے فرمایا:خرابی اور بربادی ہے ان لوگوں کے لئے بوجہ ان کے ہاتھوں کی لکھائی کےاور خرابی ہے ان کے لئے بوجہ ان کی کمائی کے جو وہ کمارہے ہیں۔(ت)
اور اﷲ تعالی نے فرمایا:وہ لوگ اﷲ کے کلام کو سمجھنے اور جاننے کے باوجود بدل ڈالتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۱۶: ازقاضی ٹولہ شہرکہنہ ۱۷ذی القدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ اگرکوئی شخص جس نے سوائے کتب فارسی اور اردو کے جوکہ معمولی درس میں پڑھی ہوں اور اس نے کسی مدرسہ اسلامیہ یاعلماء گرامی سے کوئی سند تحصیل علم نہ حاصل کی ہو اگر وہ شخص مفتی بنے یا بننے کا دعوی کرے اور آیات قرآنی اور احادیث کو پڑھ کر اس کاترجمہ بیان کرے اور لوگوں کو باور کرائے کہ وہ مولوی ہے تو ایسے شخص کاحکم یافتوی اور اقوال قابل تعمیل ہیں یانہیں اور ایسے شخص کاکوئی دوسرا شخص حکم نہ مانے توا س کے لئے شریعت میں کیا حکم ہے
الجواب:
سندکوئی چیز نہیںبہتیرے سندیافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی ان کی شاگردی کی لیاقت بھی ان سندیافتوں میں نہیں ہوتیعلم ہوناچاہئے اور علم الفتوی پڑھنے سے نہیں آتا جب تك مدتہا کسی طبیب حاذق کا مطب نہ کیاہو مفتیان کامل کے بعض صحبت یافتہ کہ ظاہری درس وتدریس میں پورے نہ تھے مگرخدمت علماء کرام میں اکثر حاضررہتے اور تحقیق مسائل کا شغل ان کا وظیفہ تھا فقیر نے دیکھاہے کہ وہ مسائل میں آج کل کے صدہا فارغ التحصیلوں بلکہمدرسوں بلکہنام کے مفتیوں سے بدرجہا زائد تھےپس اگر شخص مذکور فی السوال خواہ بذات خود خواہ بفیض صحبت علماء کاملین علم کافی رکھتاہے جو بیان کرتاہے غالبا صحیح ہوتاہے اس کی خطا سے اس کا صواب زیادہ ہے تو حرج نہیں اور اگردونوں وجوہ علم سے عاری ہے صرف بطور خوداردوفارسی کتابیں دیکھ کر مسائل بتائے اور قرآن وحدیث کا مطلب
وقال تعالی" یحرفونہ من بعد ما عقلوہ وہم یعلمون﴿۷۵﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور اﷲ تعالی نے فرمایا:خرابی اور بربادی ہے ان لوگوں کے لئے بوجہ ان کے ہاتھوں کی لکھائی کےاور خرابی ہے ان کے لئے بوجہ ان کی کمائی کے جو وہ کمارہے ہیں۔(ت)
اور اﷲ تعالی نے فرمایا:وہ لوگ اﷲ کے کلام کو سمجھنے اور جاننے کے باوجود بدل ڈالتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۱۶: ازقاضی ٹولہ شہرکہنہ ۱۷ذی القدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ اگرکوئی شخص جس نے سوائے کتب فارسی اور اردو کے جوکہ معمولی درس میں پڑھی ہوں اور اس نے کسی مدرسہ اسلامیہ یاعلماء گرامی سے کوئی سند تحصیل علم نہ حاصل کی ہو اگر وہ شخص مفتی بنے یا بننے کا دعوی کرے اور آیات قرآنی اور احادیث کو پڑھ کر اس کاترجمہ بیان کرے اور لوگوں کو باور کرائے کہ وہ مولوی ہے تو ایسے شخص کاحکم یافتوی اور اقوال قابل تعمیل ہیں یانہیں اور ایسے شخص کاکوئی دوسرا شخص حکم نہ مانے توا س کے لئے شریعت میں کیا حکم ہے
الجواب:
سندکوئی چیز نہیںبہتیرے سندیافتہ محض بے بہرہ ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی ان کی شاگردی کی لیاقت بھی ان سندیافتوں میں نہیں ہوتیعلم ہوناچاہئے اور علم الفتوی پڑھنے سے نہیں آتا جب تك مدتہا کسی طبیب حاذق کا مطب نہ کیاہو مفتیان کامل کے بعض صحبت یافتہ کہ ظاہری درس وتدریس میں پورے نہ تھے مگرخدمت علماء کرام میں اکثر حاضررہتے اور تحقیق مسائل کا شغل ان کا وظیفہ تھا فقیر نے دیکھاہے کہ وہ مسائل میں آج کل کے صدہا فارغ التحصیلوں بلکہمدرسوں بلکہنام کے مفتیوں سے بدرجہا زائد تھےپس اگر شخص مذکور فی السوال خواہ بذات خود خواہ بفیض صحبت علماء کاملین علم کافی رکھتاہے جو بیان کرتاہے غالبا صحیح ہوتاہے اس کی خطا سے اس کا صواب زیادہ ہے تو حرج نہیں اور اگردونوں وجوہ علم سے عاری ہے صرف بطور خوداردوفارسی کتابیں دیکھ کر مسائل بتائے اور قرآن وحدیث کا مطلب
بیان کرنے پر جرأت کرتاہے تو یہ سخت اشدکبیر ہ ہے اور اس کے فتوی پرعمل جائزنہیں اور نہ اس کا بیان حدیث وقرآن سننے کی اجازت۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اجرأکم علی الفتیا اجرأکم علی النار ۔ جوشخص فتوی دینے میں زیادہ جرأت رکھتاہے وہ آتش دوزخ پرزیادہ دلیرہے۔
اور ارشاد فرمایا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے:
من قال فی القران برایہ فاصاب فقد اخطاء ۔ جس نے قرآن کے معنی پر اپنی رائے سے بیان کئے اس نے اگرٹھیك کہے تو غلط کہے۔
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من قال فی القران بغیرعلم فلیتبؤ مقعدہ من النار ۔ جو بغیر علم کے قرآن کے معنی کہے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔
والعیاذ باﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۷ تا ۳۲۰: مرسلہ محمداسحاق سکریٹری انجمن محمدیہ کوچین ملك ملیبار
(۱)آج کل مسلمان جو تکمیل یونیورسٹی کی کوشش کرتے ہیں اور چندہ فراہم کرتے ہیں وہ ثواب ہے یانہیں
(۲)آیا تکمیل یونیورسٹی دینی ضروریات سے ہے یانہیں
(۳)اس مد میں جوروپیہ دیاجائے وہ صدقہ جاریہ میں محسوب ہوگا یانہیں
(۴)اس یونیورسٹی میں اہلسنت شامل ہوسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
اگریہ بات قرارپائے اور اس کے افسر عہدہ داران اس کا پورا ذمہ قابل اطمینان کریں کہ اس کا حصہ دینیات صرف اہلسنت وجماعت کے متعلق رہے گا جن کے عقائد مطابق علمائے حرمین طیبین ہیں
اجرأکم علی الفتیا اجرأکم علی النار ۔ جوشخص فتوی دینے میں زیادہ جرأت رکھتاہے وہ آتش دوزخ پرزیادہ دلیرہے۔
اور ارشاد فرمایا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے:
من قال فی القران برایہ فاصاب فقد اخطاء ۔ جس نے قرآن کے معنی پر اپنی رائے سے بیان کئے اس نے اگرٹھیك کہے تو غلط کہے۔
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من قال فی القران بغیرعلم فلیتبؤ مقعدہ من النار ۔ جو بغیر علم کے قرآن کے معنی کہے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔
والعیاذ باﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۷ تا ۳۲۰: مرسلہ محمداسحاق سکریٹری انجمن محمدیہ کوچین ملك ملیبار
(۱)آج کل مسلمان جو تکمیل یونیورسٹی کی کوشش کرتے ہیں اور چندہ فراہم کرتے ہیں وہ ثواب ہے یانہیں
(۲)آیا تکمیل یونیورسٹی دینی ضروریات سے ہے یانہیں
(۳)اس مد میں جوروپیہ دیاجائے وہ صدقہ جاریہ میں محسوب ہوگا یانہیں
(۴)اس یونیورسٹی میں اہلسنت شامل ہوسکتے ہیں یانہیں
الجواب:
اگریہ بات قرارپائے اور اس کے افسر عہدہ داران اس کا پورا ذمہ قابل اطمینان کریں کہ اس کا حصہ دینیات صرف اہلسنت وجماعت کے متعلق رہے گا جن کے عقائد مطابق علمائے حرمین طیبین ہیں
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ الدارمی حدیث ۲۸۹۶۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۸۴
کنزالعمال بحوالہ جندب حدیث ۲۹۵۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۱۶
کنزالعمال بحوالہ د،ت عن ابن عباس حدیث ۲۲۵۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۱۶
کنزالعمال بحوالہ جندب حدیث ۲۹۵۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۱۶
کنزالعمال بحوالہ د،ت عن ابن عباس حدیث ۲۲۵۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۱۶
ہیں انہیں کی کتب نصاب میں ہوں گیانہیں کے علماء مدرسین ہوں گےانہیں کی تربیت میں طلباء رہیں گےغیروں کی صحبت سے ان کو بچایاجائے گاروپیہ جو اہلسنت سے لیاجائے گا صرف اسی کام میں صرف کیاجائے گااس وقت اہلسنت کو اس میں داخل ہوناجائزاور باعث ثواب ہوگااور جوکچھ اس میں دیاجائے گا صدقہ جاریہ ہوگا۔رہا اس کی تکمیل میں کوشش اور چندہ فراہم کرنا وہ صرف اتنی بات پربھی ثواب نہیں ہوسکتاجب تك کہ اس میں ہرمذہب کی تعلیم باقی ہے وہ روپیہ اس لئے جمع نہیں کرتے کہ دین حق کی تعلیم ہو بلکہ حق وناحق دونوں کی تعلیم کو سنیوں کے بچوں کو تعلیم ہوگی کہ قرآن مجید بعینہ محفوظ ہے اس میں کسی قسم دخل بشری سے ایك نقطہ کی کمی بیشی ہوئی نہ ہوسکتی ہےکوئی غیرنبی کسی نبی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتاتقدیر کی بھلائی برائی سب اﷲ عزوجل کی طرف سے ہے اور اس پر کچھ واجب نہیں وہ جوچاہے کرےہمارا اور ہمارے افعال نیك وبد کا وہی ایك اکیلاخالق ہے اس کادیدار روزقیامت حق ہےخلفائے اربعہ کی امامت برحق ہے ان میں اﷲ عزوجل کے یہاں سب سے زیادہ عزت وقربت والے صدیق اکبر ہیں پھرفاروق اعظم پھر عثمان غنی پھر علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہمانہیں بلکہ صحابہ میں سے کسی کو براکہنے والا جہنمی مردودوملعون ہے اور شیعہ کے بچوں کو تعلیم ہوگی کہ یہ قرآن بیاض عثمانی ہے اس میں سے کچھ آیتیں سورتیں صحابہ نے گھٹادیں بعض الفاظ کچھ کے کم کردئیے جیسے ائمۃ ھی ازکی من ائمۃ کی جگہ امۃ ھی اربی من امۃ بتا دیامولاعلی وائمہ اطہار اگلے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے افضل ہیںتقدیر کی برائی خدا کی طرف سے نہیںبندہ کے لئے اصلح کرنا لطف سے پیش آنا خدا پر واجب ہے خدا اس کے خلاف نہیں کرسکتااپنے اعمال کے ہم خود خالق ہیںخدا کا دیدار حق نہیں خلفائے اربعہ میں تین معاذاﷲ ظالم غاصب ہیںان کو سخت سے سخت برائی سے یاد کرنا گالیاں دینا بڑے ثواب کاکام ہے۔پھر وہ خود اعلان کرتے ہیں کہ سب سے زائد اہتمام سائنس کی تعلیم کاہوگا۔سائنس میں وہ باتیں ہیں جو عقائد اسلام کے قطعا خلاف ہیں بچوں کی تربیت دینے تہذیب وانسانیت سکھانے کے لئے دنیابھر میں کوئی مسلمان نہ رہا عرب مصرروم شام حتی کہ حرمین شریفین کے علماء ومشائخ میں کوئی اس قابل نہیں ہاں کمال مہذب وشیخ تربیت وپیرافادت بننے کے لائق یورپ کے عیسائی ہیں ان کو اس قدر بیش قرارتنخواہیں ان روپوں سے دی جائیں گی کہ وہ یہاں رہنے پرمجبور ہوں ان کی صحبت وتربیت میں مسلمانوں کے بچے رکھے جائیں گے ان کے اخلاق وعادات سکھائے جائیں گےایسی صورت میں حال ظاہر ہے ابتداء میں کہ مسلمانوں سے چندہ وصول کرنے کو بہت سنبھل سنبھل کربنابناکرمقاصد دکھائے گئے ہیں ان میں تو یہ حالت ہے
ائندہ جو کارروائی ہوگی رویش ببیں حالش مپرس(اس کا چہرہ دیکھ لیکن اس کاحال نہ پوچھ۔ت)سالہاسال سے جو علی گڑھ کالج انہیں مقاصد کے لئے قائم ہے اس کے ثمرات ظاہرہیں کہ مسلمانوں کو نیم عیسائی کرچھوڑا اس کے اکثرتعلیم یافتہ اسلام وعقائد اسلام پرٹھٹھے اڑاتے ہیں ائمہ وعلماء کو مسخرہ بتاتے ہیں خود غرضی وخودپسندی دنیا طلبی دین فراموشی یہاں تك کہ داڑھی وغیرہ اسلامی وضع سے تنفر ان کا شعار ہے جب ادھورے کے یہ آثار ہیں تکمیل کے بعد جو ثمرات ہوں گے آشکار ہیں ع
قیاس کن زگلستان اوبہارش را
(اس کے باغ سے اس کی بہار کااندازہ کرلیجئے۔ت)
وباﷲ العصمۃ(اور اﷲ تعالی ہی کی مدد سے بچاؤ ہوسکتاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۱:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك رنڈی یہ چاہتی ہے کہ مجھ کو کلام مجید کوئی نیك بخت صالح پڑھادیا کرےاور اس کو بہت شوق ہے اور منت عاجزی کرتی ہے کہ کلام الہی صحیح طور پر پڑھ جائےاس صورت میں اس کو پڑھانا یا وہ کچھ نذرکرے اس کو لیناجائز ہوگا یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اور اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جوشیطان کو دورسمجھتاہے شیطان اس سے بہت قریب ہےوہ مستحب چاہتی ہے اور حرام نہیں چھوڑتی یہ بھی شیطان کامکر ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۲: ازسنبھل محلہ کوٹ ضلع مرادآباد مرسلہ حافظ اکرام صاحب ۲۷صفر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عالم بے عمل جاہل باعمل سے فضیلت میں زیادہ ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جاہلعالم کی فضیلت کونہیں پہنچ سکتا جبکہ وہ عالم عالم دین ہو۔
قال اﷲ تعالی" قل ہل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون " (اﷲ تعالی نے فرمایا)تم فرماؤ کیابرابرہوجائیں گے علم والے اور بے علم۔
قیاس کن زگلستان اوبہارش را
(اس کے باغ سے اس کی بہار کااندازہ کرلیجئے۔ت)
وباﷲ العصمۃ(اور اﷲ تعالی ہی کی مدد سے بچاؤ ہوسکتاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۱:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك رنڈی یہ چاہتی ہے کہ مجھ کو کلام مجید کوئی نیك بخت صالح پڑھادیا کرےاور اس کو بہت شوق ہے اور منت عاجزی کرتی ہے کہ کلام الہی صحیح طور پر پڑھ جائےاس صورت میں اس کو پڑھانا یا وہ کچھ نذرکرے اس کو لیناجائز ہوگا یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اور اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جوشیطان کو دورسمجھتاہے شیطان اس سے بہت قریب ہےوہ مستحب چاہتی ہے اور حرام نہیں چھوڑتی یہ بھی شیطان کامکر ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۲: ازسنبھل محلہ کوٹ ضلع مرادآباد مرسلہ حافظ اکرام صاحب ۲۷صفر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عالم بے عمل جاہل باعمل سے فضیلت میں زیادہ ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جاہلعالم کی فضیلت کونہیں پہنچ سکتا جبکہ وہ عالم عالم دین ہو۔
قال اﷲ تعالی" قل ہل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون " (اﷲ تعالی نے فرمایا)تم فرماؤ کیابرابرہوجائیں گے علم والے اور بے علم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۹ /۹
جاہل بوجہ جہل اپنی عبادت میں سوگناہ کرلیتا ہے اور مصیبت یہ کہ انہیں گناہ بھی نہیں جانتا اورعالم دین اپنے گناہ میں وہ حصہ خوف وندامت کا رکھتاہے کہ اسے جلد نجات بخشتا ہےولہذا حدیث میں ارشاد ہوا کہ عالم کاہاتھ رب العزت کے دست قدرت میں ہے اگروہ لغزش بھی کرے تو اﷲ تعالی جب چاہے اسے اٹھالے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۳: مسئولہ نجف خاں طالب علم مدرسہ ۲۸ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسلمان بچیوں کو ضروری دینی تعلیم قرآن مجید کاترجمہمسئلہ مسائل کی کتابیں اور بقدر حاجت حساب واصول حفظان صحت جس سے ان کو اپنے بچوں کی داشت ونگہداشت میں مدد ملے پردہ کی سخت نگرانی کے ساتھ مسلمان دیندار پابندصوم وصلوۃ معلمہ کے ذریعہ سے پڑھانا شرعا جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
عقائد اہلسنت ومسائل اہلسنت کی کتابیں پڑھائی جائیںعقائدومسائل ضروریہ کی تعلیم فرض ہےحساب وغیرہ بعض مفید باتیں بھی سکھانے میں حرج نہیںاصول حفظان صحت جہاں تك مسائل اسلامیہ کے خلاف نہ ہوں ان کی تعلیم میں مضائقہ نہیںاور جو مخالف ہیں جیسے بیماری اڑکرلگنے کے وسوسےان کی تعلیم جائز نہیںتدبیر منزل بروجہ مطابق شرعی وحقوق شوہر واولاد ومذمت کذب وغیبت وضرورت پردہ وحجاب کی بھی تعلیم ہومگرعورتوں کولکھنا سکھانامنع ہے اس سے فتنہ کا چوردروازہ کھلتاہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۴: مستفسرہ محمدمیاں طالب علم بہاری بریلی محلہ سوداگران
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ علم دین حاصل کرنا واجب ہےفرض ہے یاسنت فقط۔
الجواب:
فرض عین کاعلم حاصل کرنافرض عینفرض کفایہ کافرض کفایہواجب کاواجبمستحب کا مستحبواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۵۳۲۶: مرسلہ فیض الحق ابوالاسد مدرس مدرسہ اسلامیہ ضلع ایٹہ ڈاك خانہ گنج ڈونڈ وارہ موضع حرولہ۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین ان مسئلوں میں:
(۱)ایك شخص نے قاعدہ بغدادی نہ قرآن مجید فرقان حمید کسی سے پڑھا او رنہ استعداد وملکہ استخراج
مسئلہ ۳۲۳: مسئولہ نجف خاں طالب علم مدرسہ ۲۸ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسلمان بچیوں کو ضروری دینی تعلیم قرآن مجید کاترجمہمسئلہ مسائل کی کتابیں اور بقدر حاجت حساب واصول حفظان صحت جس سے ان کو اپنے بچوں کی داشت ونگہداشت میں مدد ملے پردہ کی سخت نگرانی کے ساتھ مسلمان دیندار پابندصوم وصلوۃ معلمہ کے ذریعہ سے پڑھانا شرعا جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
عقائد اہلسنت ومسائل اہلسنت کی کتابیں پڑھائی جائیںعقائدومسائل ضروریہ کی تعلیم فرض ہےحساب وغیرہ بعض مفید باتیں بھی سکھانے میں حرج نہیںاصول حفظان صحت جہاں تك مسائل اسلامیہ کے خلاف نہ ہوں ان کی تعلیم میں مضائقہ نہیںاور جو مخالف ہیں جیسے بیماری اڑکرلگنے کے وسوسےان کی تعلیم جائز نہیںتدبیر منزل بروجہ مطابق شرعی وحقوق شوہر واولاد ومذمت کذب وغیبت وضرورت پردہ وحجاب کی بھی تعلیم ہومگرعورتوں کولکھنا سکھانامنع ہے اس سے فتنہ کا چوردروازہ کھلتاہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۴: مستفسرہ محمدمیاں طالب علم بہاری بریلی محلہ سوداگران
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ علم دین حاصل کرنا واجب ہےفرض ہے یاسنت فقط۔
الجواب:
فرض عین کاعلم حاصل کرنافرض عینفرض کفایہ کافرض کفایہواجب کاواجبمستحب کا مستحبواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۵۳۲۶: مرسلہ فیض الحق ابوالاسد مدرس مدرسہ اسلامیہ ضلع ایٹہ ڈاك خانہ گنج ڈونڈ وارہ موضع حرولہ۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین ان مسئلوں میں:
(۱)ایك شخص نے قاعدہ بغدادی نہ قرآن مجید فرقان حمید کسی سے پڑھا او رنہ استعداد وملکہ استخراج
صحت الفاظ قرآناور پھر وہ مسلمانوں کے بچوں کو قرآن شریف پڑھاتاہے اور طرفہ تماشایہ کہ خود ودیگردوست یاروں کو چار پائی وکرسی پربٹھاتاہے اور قرآن شریف نیچے رکھاہوتا ہےایسے معلم اور پڑھانے والے کا اور متعلمین و پڑھنے والوں کا کیا حکم شرع شریف سے ہے بینوا بالکتاب وتوجروا الی یوم الحساب(کتاب کے حوالہ سے بیان کرو اور روزحساب اجروثواب پاؤ۔ت)
(۲)غیرمقلدین نے آج کل قصبوں اور دیہاتوں میں مترجم فی السطور خطبے تقسیم کئے ہی ہیں جو کہ اکثر جاہل حنفی پیش امام بھی عید میں ان کو پڑھاکرتے ہیں مع ترجمے کے۔آیا یہ مذہب حنفی میں جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)قرآن مجید بے پڑھے کوئی شخص صحیح نہیں پڑھ سکتاجس نے قرآن مجید نہ پڑھا اور استادوں سے صحیح نہ کیا اسے جائز نہیں کہ اوروں کو پڑھائےنہ لوگوں کو جائزہے کہ ا س سے پڑھیں یا اپنی اولاد کو اس سے پڑھوائیں وہ سب گنہگار ہوتے ہیں۔جو معلم ایسا ہو کہ آپ اور اس کے یاردوست چارپائیوں اور کرسیوں پربیٹھیں اور قرآن مجید نیچے زمین پررکھاہو اگر اس سے مراد حقیقۃ زمین پررکھنا ہے اور وہ لوگ ایساکرتے ہیں تو ان کے اسلام میں کلام ہے مسلمان ہرگز ایسانہ کرے گا یہ وہی کرسکتاہے جس کے دل میں قرآن مجید کی عزت اصلا نہ ہو اور جس کے دل میں قرآن مجید کی عزت اصلا نہ ہو وہ مسلمان نہیںاور اگریہ مراد ہے کہ پڑھنے والے لڑکے زمین پربیٹھتے ہیں قرآن مجید رحل پر یا ان کے ہاتھوں یاگود میں ہے اور یہ معلم وغیرہ ان سے اونچے بیٹھتے ہیں تو جب بھی سخت بدکارناہنجارفساقفجارمستحق عذاب نار وغضب جبار ہیں۔اور اگرقصدا بوجہ توہین استخفاف شان قرآن مجید ایساکرتے ہیں تو آپ ہی کفار ہیں۔بہرحال ایسے معلم سے پڑھنا پڑھوانا حرام ہے اور اس کے پاس بیٹھناجائزنہیں۔المولی تعالی اعلم۔
(۲)جمعہ وعیدین کے خطبوں میں ساتھ ساتھ ان کا ترجمہ پڑھنا خلاف سنت ہے اس سے احتراز چاہئے والمولی تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۷: مرسلہ عبدالعزیز تاجرچرم مقام قصبہ ٹنکاری محلہ شاہ گنج ضلع گیا بروز دوشنبہ تاریخ ۱۶ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
ایك شخص جوعالم ہے اس نے جمعہ کے روز وعظ کے اندریہ بیان کیا کہ جن لوگوں نے جمعہ کے روز روزہ افطارکیا اور نمازعید پڑھی وہ ناجائزہے ہم نے فتوی غیرعالم سے منگوایا ہے جن کو ضرورت ہو ہمارے مکان پر آکردیکھ لیں اور عام جمعہ میں فتوی نہیں دکھلایا اور جب مکان پرلوگوں نے طلب کیا
(۲)غیرمقلدین نے آج کل قصبوں اور دیہاتوں میں مترجم فی السطور خطبے تقسیم کئے ہی ہیں جو کہ اکثر جاہل حنفی پیش امام بھی عید میں ان کو پڑھاکرتے ہیں مع ترجمے کے۔آیا یہ مذہب حنفی میں جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)قرآن مجید بے پڑھے کوئی شخص صحیح نہیں پڑھ سکتاجس نے قرآن مجید نہ پڑھا اور استادوں سے صحیح نہ کیا اسے جائز نہیں کہ اوروں کو پڑھائےنہ لوگوں کو جائزہے کہ ا س سے پڑھیں یا اپنی اولاد کو اس سے پڑھوائیں وہ سب گنہگار ہوتے ہیں۔جو معلم ایسا ہو کہ آپ اور اس کے یاردوست چارپائیوں اور کرسیوں پربیٹھیں اور قرآن مجید نیچے زمین پررکھاہو اگر اس سے مراد حقیقۃ زمین پررکھنا ہے اور وہ لوگ ایساکرتے ہیں تو ان کے اسلام میں کلام ہے مسلمان ہرگز ایسانہ کرے گا یہ وہی کرسکتاہے جس کے دل میں قرآن مجید کی عزت اصلا نہ ہو اور جس کے دل میں قرآن مجید کی عزت اصلا نہ ہو وہ مسلمان نہیںاور اگریہ مراد ہے کہ پڑھنے والے لڑکے زمین پربیٹھتے ہیں قرآن مجید رحل پر یا ان کے ہاتھوں یاگود میں ہے اور یہ معلم وغیرہ ان سے اونچے بیٹھتے ہیں تو جب بھی سخت بدکارناہنجارفساقفجارمستحق عذاب نار وغضب جبار ہیں۔اور اگرقصدا بوجہ توہین استخفاف شان قرآن مجید ایساکرتے ہیں تو آپ ہی کفار ہیں۔بہرحال ایسے معلم سے پڑھنا پڑھوانا حرام ہے اور اس کے پاس بیٹھناجائزنہیں۔المولی تعالی اعلم۔
(۲)جمعہ وعیدین کے خطبوں میں ساتھ ساتھ ان کا ترجمہ پڑھنا خلاف سنت ہے اس سے احتراز چاہئے والمولی تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۷: مرسلہ عبدالعزیز تاجرچرم مقام قصبہ ٹنکاری محلہ شاہ گنج ضلع گیا بروز دوشنبہ تاریخ ۱۶ذوالقعدہ ۱۳۳۳ھ
ایك شخص جوعالم ہے اس نے جمعہ کے روز وعظ کے اندریہ بیان کیا کہ جن لوگوں نے جمعہ کے روز روزہ افطارکیا اور نمازعید پڑھی وہ ناجائزہے ہم نے فتوی غیرعالم سے منگوایا ہے جن کو ضرورت ہو ہمارے مکان پر آکردیکھ لیں اور عام جمعہ میں فتوی نہیں دکھلایا اور جب مکان پرلوگوں نے طلب کیا
تو فتوی دکھلانے سے انکارکیا ایسافتوی کہ جس سے ہرایك مسلمان کو تعلق دینی ہے اس کا چھپارکھنا عالم کے حق میں کیساہے
الجواب:
اگرکوئی عذرشرعی نہ ہو تو فتوی چھپانا بہت بیجاتھا اگرچہ اعلان کے ساتھ وعظ میں حکم شرعی بیان کردینے کے بعد کتمان علم واخفائے حق کی حد میں نہیں آسکتا کہ عالم پرزبانی بیان حکم فرض ہے خود لکھ کردینا ضروری نہیں کما فی غمزالعیون وغیرہ (جیسا کہ غمزالعیون وغیرہ میں ہے۔ت)نہ کہ اور کالکھا پیش کرنا مگرجبکہ اس کے پیش کرنے میں عوام کی ہدایت کاظن غالب ہو اور اسے بلاوجہ شرعی چھپائے تو اب البتہ جرم کی حد میں آجائے گا کہ اس نے مسلمانوں کا خلاف ہدایت پررہنا پسند کیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایؤمن احدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ (لوگو!)تم میں سے کوئی شخص اس و قت تك مومن نہیں ہو سکتا جب تك اپنے بھائی کیلئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنی ذات کیلئے پسند کرتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۲۸:ازکرانچی بندرشاپ کیپرصدربازار بردکان سیٹھ حاجی نورمحمد عبدالقادر مسئولہ عبداﷲ حاجی روزچہارشنبہ بتاریخ ۸ محرم ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین کہ یہاں ایك مدرسہ مسلمان لڑکیوں کے لئے کھولاگیاہے جس میں اس مدرسہ کی معلمہ مروجہ تعلیم جو فی زمانہ اسکولوں میں لڑکوں کو دی جاتی ہے بعینہ وہ ہی تعلیم لڑکیوں کو دی جاتی ہے یعنی لکھانا و پڑھانا اور حساب ونظمیں یاد کراتی اور سکھاتی ہےیہ فعل فی زمانہ لڑکیوں کے لئے روا اور جائزہے یاممنوع اور ناجائز ہے علاوہ اس کے لڑکیاں بارہ چودہ سال کی بے پردہ آیا کرتی ہیں اور اس مدرسہ کے خادم نوجوان لڑکے ہیں ان کے سامنے اور وقت امتحان کے غیرمردوں کے آگے الحان سے نظمیں پڑھتی ہیںکیایہ فعل شرعا حرام ہے یانہیں اور لڑکی مشتہاۃ ہونے کے لئے شرعا کتنی عمر ہونی چاہئے اور ایسے مدرسہ کی تائید کرنے والوں اور ان کے والدین کے لئے جو اپنی لڑکیاں ایسے مدرسہ میں بھیجاکرتے ہیں اور تعلیم مروجہ دلاتے ہیں شرعا کیاحکم ہے فقط
الجواب:
اگرکوئی عذرشرعی نہ ہو تو فتوی چھپانا بہت بیجاتھا اگرچہ اعلان کے ساتھ وعظ میں حکم شرعی بیان کردینے کے بعد کتمان علم واخفائے حق کی حد میں نہیں آسکتا کہ عالم پرزبانی بیان حکم فرض ہے خود لکھ کردینا ضروری نہیں کما فی غمزالعیون وغیرہ (جیسا کہ غمزالعیون وغیرہ میں ہے۔ت)نہ کہ اور کالکھا پیش کرنا مگرجبکہ اس کے پیش کرنے میں عوام کی ہدایت کاظن غالب ہو اور اسے بلاوجہ شرعی چھپائے تو اب البتہ جرم کی حد میں آجائے گا کہ اس نے مسلمانوں کا خلاف ہدایت پررہنا پسند کیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایؤمن احدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ (لوگو!)تم میں سے کوئی شخص اس و قت تك مومن نہیں ہو سکتا جب تك اپنے بھائی کیلئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنی ذات کیلئے پسند کرتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۲۸:ازکرانچی بندرشاپ کیپرصدربازار بردکان سیٹھ حاجی نورمحمد عبدالقادر مسئولہ عبداﷲ حاجی روزچہارشنبہ بتاریخ ۸ محرم ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین کہ یہاں ایك مدرسہ مسلمان لڑکیوں کے لئے کھولاگیاہے جس میں اس مدرسہ کی معلمہ مروجہ تعلیم جو فی زمانہ اسکولوں میں لڑکوں کو دی جاتی ہے بعینہ وہ ہی تعلیم لڑکیوں کو دی جاتی ہے یعنی لکھانا و پڑھانا اور حساب ونظمیں یاد کراتی اور سکھاتی ہےیہ فعل فی زمانہ لڑکیوں کے لئے روا اور جائزہے یاممنوع اور ناجائز ہے علاوہ اس کے لڑکیاں بارہ چودہ سال کی بے پردہ آیا کرتی ہیں اور اس مدرسہ کے خادم نوجوان لڑکے ہیں ان کے سامنے اور وقت امتحان کے غیرمردوں کے آگے الحان سے نظمیں پڑھتی ہیںکیایہ فعل شرعا حرام ہے یانہیں اور لڑکی مشتہاۃ ہونے کے لئے شرعا کتنی عمر ہونی چاہئے اور ایسے مدرسہ کی تائید کرنے والوں اور ان کے والدین کے لئے جو اپنی لڑکیاں ایسے مدرسہ میں بھیجاکرتے ہیں اور تعلیم مروجہ دلاتے ہیں شرعا کیاحکم ہے فقط
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷
الجواب:
لڑکیوں کا غیرمردوں کے سامنے خوش الحانی سے نظم پڑھنا حرام ہےاور اجنبی نوجوان لڑکوں کے سامنے بے پردہ رہنا بھی حرام اور لڑکیوں کو لکھنا سکھانا مکروہیونہیں عاشقانہ نظمیں پڑھانا ممنوعاور ایسے مدرسہ کو مدد دینی شیطان کو اس کے مقاصد میں مدد دینی ہےاور جو اپنی لڑکیوں کو ایسی جگہ بھیجتے ہیں بے حیابے غیرت ہیں ان پر اطلاق دیوث ہوسکتاہےنوبرس کی عمر کی لڑکی مشتہاۃ ہوتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۹ تا ۳۳۱: ازبرٹس گائنا ڈمراراپترس حال ویچ ایسٹ بنگ مسئولہ عبدالغفور روزشنبہ ۲۴ صفرالمظفر ۱۳۳۴ھ
(۱)اگرایك شخص نے کہا کہ درمختار کو حدیث کے سامنے نہیں مانتا تو اس کا جواب کیا ہوا
(۲)جاہل کو عالم مان لیناکیسا ہے
(۳)ایك شخص نے اپنے کو مولانا قراردیا اور وہ شخص زید کوجانتا ہے کہ وہ وہابی ہے اور زید کہتا ہے کہ میں سنت جماعت ہوں اور دراصل میں زید کے اعتقاد میں کچھ فتور پایاجاتا ہے اور زید مناظرہ کے لئے سنی مولانا کو طلب کرتاہے تومولانا کو زید سے مناظرہ کرنالازم آتاہے یاکہ نہیں اور سنی مولانا کا زید سے کہ دراصل وہ وہابی ہو مناظرہ نہ کرنا باعث ننگ مذہب سنت جماعت کے ہے یاکہ نہیں
الجواب:
(۱)اس کا جواب وہی مناسب ہے جو قرآن عظیم نے تعلیم کیاہے کہ:
" سلم علیکم ۫ لا نبتغی الجہلین ﴿۵۵﴾" تم پر(الوداعی)سلام ہوہم جاہلوں کونہیں چاہتے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)جہل ہے اور اس کا انجام ضلالت۔حدیث میں ہے:
حتی اذا لم یبق عالم اتخذ الناس رؤسا جہالا فسئلوا فافتوا بغیرعلم فضلوا واضلوا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ (قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایك نشانی یہ ہے)یہاں تك کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا تو لوگ(بامرمجبوری)رئیس جاہلوں کو(دینی مقتدا)
لڑکیوں کا غیرمردوں کے سامنے خوش الحانی سے نظم پڑھنا حرام ہےاور اجنبی نوجوان لڑکوں کے سامنے بے پردہ رہنا بھی حرام اور لڑکیوں کو لکھنا سکھانا مکروہیونہیں عاشقانہ نظمیں پڑھانا ممنوعاور ایسے مدرسہ کو مدد دینی شیطان کو اس کے مقاصد میں مدد دینی ہےاور جو اپنی لڑکیوں کو ایسی جگہ بھیجتے ہیں بے حیابے غیرت ہیں ان پر اطلاق دیوث ہوسکتاہےنوبرس کی عمر کی لڑکی مشتہاۃ ہوتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۲۹ تا ۳۳۱: ازبرٹس گائنا ڈمراراپترس حال ویچ ایسٹ بنگ مسئولہ عبدالغفور روزشنبہ ۲۴ صفرالمظفر ۱۳۳۴ھ
(۱)اگرایك شخص نے کہا کہ درمختار کو حدیث کے سامنے نہیں مانتا تو اس کا جواب کیا ہوا
(۲)جاہل کو عالم مان لیناکیسا ہے
(۳)ایك شخص نے اپنے کو مولانا قراردیا اور وہ شخص زید کوجانتا ہے کہ وہ وہابی ہے اور زید کہتا ہے کہ میں سنت جماعت ہوں اور دراصل میں زید کے اعتقاد میں کچھ فتور پایاجاتا ہے اور زید مناظرہ کے لئے سنی مولانا کو طلب کرتاہے تومولانا کو زید سے مناظرہ کرنالازم آتاہے یاکہ نہیں اور سنی مولانا کا زید سے کہ دراصل وہ وہابی ہو مناظرہ نہ کرنا باعث ننگ مذہب سنت جماعت کے ہے یاکہ نہیں
الجواب:
(۱)اس کا جواب وہی مناسب ہے جو قرآن عظیم نے تعلیم کیاہے کہ:
" سلم علیکم ۫ لا نبتغی الجہلین ﴿۵۵﴾" تم پر(الوداعی)سلام ہوہم جاہلوں کونہیں چاہتے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)جہل ہے اور اس کا انجام ضلالت۔حدیث میں ہے:
حتی اذا لم یبق عالم اتخذ الناس رؤسا جہالا فسئلوا فافتوا بغیرعلم فضلوا واضلوا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ (قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایك نشانی یہ ہے)یہاں تك کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا تو لوگ(بامرمجبوری)رئیس جاہلوں کو(دینی مقتدا)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۸ /۵۵
صحیح البخار ی کتاب العلم باب کیف یقبض العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰
صحیح البخار ی کتاب العلم باب کیف یقبض العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰
بنائیں گےپھر ان سے دینی مسائل پوچھیں گے تو وہ بغیرعلم فتوے دیں گے تو خود بھی گمراہ ہوجائیں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کردیں گے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۳)وجوب مناظرہ کے لئے شرائط ہیںاگر وہ سب پائے جاتے ہیں تو مناظرہ لازم ہے اور اس کا ترك مضر مذہب۔اور اگر ان میں سے ایك بھی منتفی ہے مثلا طرف مقابل جاہل ہے یامتعصب معاند ہے جس سے قبول حق کی امید نہیں یامناظرہ میں فتنہ ہوتو کچھ ضرور نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۲: مسئولہ معین الدین احمد ڈاکخانہ بنگلا ضلع میمن سنگھ چہارشنبہ ۲۷ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص بغیرعلم حدیث وتفسیر واصول و فقہ کے فتوے دے یالکھے تو کیسا ہے یعنی شرعا وہ شخص مجرم وماخوذ ہوگا یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب :
ضرور مجرم ہےحدیث میں ہے:افتوا بغیر علم فضلوا واضلوا بے علم کے فتوی دیا تو آپ بھی گمراہ ہوا اور ان کو بھی گمراہ کیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۳: مسئولہ سیٹھ حاجی اتوصاحب ازپوربندرکاٹھیاواڑ شنبہ ۶رمضان شریف ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علماء اس مسئلہ میں کہ گجراتی زبان لڑکیوں کو غیرمذہب والی عورتوں سے سیکھوانا یعنی پڑھوانا اور نیز لکھنے کی تعلیم دلوانا جیسے ہندوانی وآریہ مذہب والی عورتوں سے قبل واقفیت ضروری علم دینی کے جائزہے یانہیں یعنی اپنے دین حقہ کے مسائل اور دیگرمسائل روزمرہ مثل نماز وروزہ وغیرہ کے پہلے اور نیز اردو کی دنیوی کتابیں پڑھوانے کے واسطے کیاحکم ہے یعنی ہم لوگوں نے مدرسہ قائم کیا ہے اس مدرسہ میں عربی اردو گجراتی علم پڑھایاجاتا ہےاب ہم علمائے دین سے دریافت کرناچاہتے ہیں کہ گجراتی علم درست ہو توہندوعورتوں سے پڑھوانا جائزہے یانہیں اور لڑکیوں کو لکھنا اور پڑھانا سکھاناجائزہے یانہیں اور یہی علوم مسلمان عورتوں سے سیکھنا درست ہے یانہیں فقط
الجواب:
عورتوں لڑکیوں کو لکھنا سکھانا منع ہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لا تعلموھن الکتابۃ (عورتوں کو لکھنا نہ سکھاؤ)
(۳)وجوب مناظرہ کے لئے شرائط ہیںاگر وہ سب پائے جاتے ہیں تو مناظرہ لازم ہے اور اس کا ترك مضر مذہب۔اور اگر ان میں سے ایك بھی منتفی ہے مثلا طرف مقابل جاہل ہے یامتعصب معاند ہے جس سے قبول حق کی امید نہیں یامناظرہ میں فتنہ ہوتو کچھ ضرور نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۲: مسئولہ معین الدین احمد ڈاکخانہ بنگلا ضلع میمن سنگھ چہارشنبہ ۲۷ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص بغیرعلم حدیث وتفسیر واصول و فقہ کے فتوے دے یالکھے تو کیسا ہے یعنی شرعا وہ شخص مجرم وماخوذ ہوگا یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب :
ضرور مجرم ہےحدیث میں ہے:افتوا بغیر علم فضلوا واضلوا بے علم کے فتوی دیا تو آپ بھی گمراہ ہوا اور ان کو بھی گمراہ کیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۳: مسئولہ سیٹھ حاجی اتوصاحب ازپوربندرکاٹھیاواڑ شنبہ ۶رمضان شریف ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علماء اس مسئلہ میں کہ گجراتی زبان لڑکیوں کو غیرمذہب والی عورتوں سے سیکھوانا یعنی پڑھوانا اور نیز لکھنے کی تعلیم دلوانا جیسے ہندوانی وآریہ مذہب والی عورتوں سے قبل واقفیت ضروری علم دینی کے جائزہے یانہیں یعنی اپنے دین حقہ کے مسائل اور دیگرمسائل روزمرہ مثل نماز وروزہ وغیرہ کے پہلے اور نیز اردو کی دنیوی کتابیں پڑھوانے کے واسطے کیاحکم ہے یعنی ہم لوگوں نے مدرسہ قائم کیا ہے اس مدرسہ میں عربی اردو گجراتی علم پڑھایاجاتا ہےاب ہم علمائے دین سے دریافت کرناچاہتے ہیں کہ گجراتی علم درست ہو توہندوعورتوں سے پڑھوانا جائزہے یانہیں اور لڑکیوں کو لکھنا اور پڑھانا سکھاناجائزہے یانہیں اور یہی علوم مسلمان عورتوں سے سیکھنا درست ہے یانہیں فقط
الجواب:
عورتوں لڑکیوں کو لکھنا سکھانا منع ہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لا تعلموھن الکتابۃ (عورتوں کو لکھنا نہ سکھاؤ)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰
الکامل لابن عدی ترجمہ جعفر بن نصر دارالفکر بیروت ۲/ ۵۷۵
الکامل لابن عدی ترجمہ جعفر بن نصر دارالفکر بیروت ۲/ ۵۷۵
اس میں فتنہ کادروازہ کھولنا ہےاور اﷲ عزوجل فرماتاہے: " والفتنۃ اشد من القتل" ۔فتنہ قتل سے بھی سخت ہے۔ حضرت لقمان علی الانبیاء الکرام وعلیہ الصلوۃ والسلام نے ایك لڑکی مکتب میں ایسی تعلیم ہوتے ہوئے دیکھیفرمایا:
لمن یصقل ھذا السیف ۔ یہ تلوار کس کے لئے صیقل کی جارہی ہے۔
یہ انہوں نے اپنے زمانے کی نسبت فرمایا اب توجیسے فتنہ کازمانہ ہے ظاہرا س لئے درمختار وغیرہ میں فرمایا:
من لم یعرف اھل زمانہ فہو جاھل ۔ جوکوئی اپنے زمانے کے لوگوں کے حالات سے ناواقف ہے وہ نادان ہے(ت)
غیرمذہب والیوں کی صحبت آگ ہے ذی علم عاقل بالغ مردوں کے مذہب اس میں بگڑگئے ہیںعمران بن حطان رقاشی کاقصہ مشہورہے یہ تابعین کے زمانہ میں ایك بڑامحدث تھا خارجی مذہب کی عورت کی صحبت میں معاذاﷲ خود خارجی ہوگیا اور یہ دعوی کیاتھا کہ اسے سنی کرناچاہتاہےجب صحبت کی یہ حالت تو استاد بنانا کس درجہ بدترہے کہ استاد کا اثربہت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہےاور پھر کمسن لڑکیاں کچی لکڑی جدھر کو پھیری گئی پھر جائیں گیتوغیرمذہب عورت کی سپردگی یاشاگردی میں اپنے بچوں کو وہی دے گا جو آپ دین سے واسطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچوں کے بددین ہوجانے کی پرواہ نہیں رکھتاشریعت کا تویہ حکم ہے کہ کافرہ عورت سے مسلمان عورت کو ایساپردہ واجب ہے جیسا انہیں مرد سےیعنی سرکے بالوں کاکوئی حصہ یابازو یاکلائی یاگلے سے پاؤں کے گٹوں کے نیچے تك جسم کاکوئی حصہ مسلمان عورت کاکافرہ عورت کے ساتھ کھلاہونا جائزنہیں۔درمختار وتنویرالابصار میں ہے:
والذمیۃ کالرجل الاجنبی فی الاصح فلاتنظر الی بدن المسلمۃ ۔ ذمیہ زیادہ صحیح قول میں غیرمحرم مرد کی طرح ہے لہذا وہ کسی مسلمان عورت کے جسم کو نہ دیکھے(ت)
لمن یصقل ھذا السیف ۔ یہ تلوار کس کے لئے صیقل کی جارہی ہے۔
یہ انہوں نے اپنے زمانے کی نسبت فرمایا اب توجیسے فتنہ کازمانہ ہے ظاہرا س لئے درمختار وغیرہ میں فرمایا:
من لم یعرف اھل زمانہ فہو جاھل ۔ جوکوئی اپنے زمانے کے لوگوں کے حالات سے ناواقف ہے وہ نادان ہے(ت)
غیرمذہب والیوں کی صحبت آگ ہے ذی علم عاقل بالغ مردوں کے مذہب اس میں بگڑگئے ہیںعمران بن حطان رقاشی کاقصہ مشہورہے یہ تابعین کے زمانہ میں ایك بڑامحدث تھا خارجی مذہب کی عورت کی صحبت میں معاذاﷲ خود خارجی ہوگیا اور یہ دعوی کیاتھا کہ اسے سنی کرناچاہتاہےجب صحبت کی یہ حالت تو استاد بنانا کس درجہ بدترہے کہ استاد کا اثربہت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہےاور پھر کمسن لڑکیاں کچی لکڑی جدھر کو پھیری گئی پھر جائیں گیتوغیرمذہب عورت کی سپردگی یاشاگردی میں اپنے بچوں کو وہی دے گا جو آپ دین سے واسطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچوں کے بددین ہوجانے کی پرواہ نہیں رکھتاشریعت کا تویہ حکم ہے کہ کافرہ عورت سے مسلمان عورت کو ایساپردہ واجب ہے جیسا انہیں مرد سےیعنی سرکے بالوں کاکوئی حصہ یابازو یاکلائی یاگلے سے پاؤں کے گٹوں کے نیچے تك جسم کاکوئی حصہ مسلمان عورت کاکافرہ عورت کے ساتھ کھلاہونا جائزنہیں۔درمختار وتنویرالابصار میں ہے:
والذمیۃ کالرجل الاجنبی فی الاصح فلاتنظر الی بدن المسلمۃ ۔ ذمیہ زیادہ صحیح قول میں غیرمحرم مرد کی طرح ہے لہذا وہ کسی مسلمان عورت کے جسم کو نہ دیکھے(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۹۱
الفتاوی الحدیثیۃ مطلب یکرہ تعلیم النساء المطبعۃ الجمالیۃ مصر ص۶۳
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الوتروالنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۹
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظروالمس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۲
الفتاوی الحدیثیۃ مطلب یکرہ تعلیم النساء المطبعۃ الجمالیۃ مصر ص۶۳
درمختار کتاب الصلوٰۃ باب الوتروالنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۹
درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظروالمس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۲
یہ حکم اس کافرہ کی نسبت فرمایا جو سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام ہوکررہتی ہے پھر اس کا کیاذکر جو مطیع الاسلام بھی نہیں اہلسنت وجماعت کے عقیدے اور طہارت ونمازوروزہ کے مسئلے سیکھنا سب پرفرض ہے اور ان کی معتبر کتابیں جیسے عقائد میں مختصررسالہ عرفان ایمان وغیرہ(نہ وہ کتابیں کہ بے دینوں یابدمذہبوں نے لکھیں جیسے بہشتی زیور وغیرہ کہ ایسی کتابیں پڑھناپڑھانا حرام ہے)غرض سنی عالم کی اردو تصنیف صحیح العقیدہ نیك خصلت سے پڑھواناضروری ہے ان ضروریات اور قرآن عظیم پڑھنے کے بعد پھر اگر اردو یاگجراتی کی دنیوی کتاب جس میں کوئی بات نہ دین کے خلاف ہو نہ بے شرمی کینہ اخلاق وعادات پر برااثر ڈالنے کیاور پڑھانے والی عورت سنی مسلمان پارسا حیادار ہوتو کوئی حرج نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۴ تا ۳۳۶: ازملك گجرات علاقہ احمدآباد مقام برمگام جامع مسجد غلام محی الدین ۴شوال المعظم ۱۳۳۴ھ
علمائے شرع متین کی خدمت میں چند سوالات عرض کئے جاتے ہیں:
(۱)ایك شخص نے مدرسہ فخرا وحسدا قائم کیاہے کہ سابق اس کے سے ایك مدرسہ جاری تھا جو حسبۃ ﷲ عموما استفادہ عباد اﷲ کے لئے قائم کیاگیاتھا تو اس کے شکست ونیست ونابود کرنے کی غرض سے یہ ثانی مدرسہ بنایاکہ اس مدرسہ قدیمہ میں کوئی نہ پڑھے اور بند ہوجائے حالانکہ مدرسہ ثانیہ کی ضرورت نہ تھیآیا اس طور سے اور اپنی اغراض نفسانی اور حطام دنیوی سے مدرسہ قائم کرناجائزہے
(۲)ایك شخص منکرقیامت اور تارك الجماعت اور منکرجمعہ ہے باوجود ان اعتقادات کے تعلیم وتعلم گجراتی اور انگریزی میں ترقی اور دینی علوم میں تنزل پسند کرنے والا شخص ہے تو اگر ایساشخص مدرسہ قائم کرے تو اس میں دینی تعلیم وتعلم جائزہے یانہیںاور اخلاق بگڑنے کے خوف سے احتراز لازم ہے یانہیں
(۳)ایك شخص شریر اور فتنہ انگیز اور فقہائے کرام کی کتابوں کامنکراورفعل لواطت کاقائل بلکہ زانی بھی ہے تو ایسے مدرس کے پاس اپنی اولاد کوپڑھانادرست ہے یانہ اور اس شخص کاکیاحکم ہے اجیبوا بماھوصواب۔
الجواب:
(۱)اگرواقع یہی ہے کہ پہلامدرسہ تعلیم دین مطابق مذہب اہلسنت وجماعت کے لئے کافی ووافی تھا اور اس پرعقدا وعملا کوئی اعتراض شرعی نہ تھا تو اس کے قرب میں دوسرا مدرسہ محض بلاحاجت
مسئلہ ۳۳۴ تا ۳۳۶: ازملك گجرات علاقہ احمدآباد مقام برمگام جامع مسجد غلام محی الدین ۴شوال المعظم ۱۳۳۴ھ
علمائے شرع متین کی خدمت میں چند سوالات عرض کئے جاتے ہیں:
(۱)ایك شخص نے مدرسہ فخرا وحسدا قائم کیاہے کہ سابق اس کے سے ایك مدرسہ جاری تھا جو حسبۃ ﷲ عموما استفادہ عباد اﷲ کے لئے قائم کیاگیاتھا تو اس کے شکست ونیست ونابود کرنے کی غرض سے یہ ثانی مدرسہ بنایاکہ اس مدرسہ قدیمہ میں کوئی نہ پڑھے اور بند ہوجائے حالانکہ مدرسہ ثانیہ کی ضرورت نہ تھیآیا اس طور سے اور اپنی اغراض نفسانی اور حطام دنیوی سے مدرسہ قائم کرناجائزہے
(۲)ایك شخص منکرقیامت اور تارك الجماعت اور منکرجمعہ ہے باوجود ان اعتقادات کے تعلیم وتعلم گجراتی اور انگریزی میں ترقی اور دینی علوم میں تنزل پسند کرنے والا شخص ہے تو اگر ایساشخص مدرسہ قائم کرے تو اس میں دینی تعلیم وتعلم جائزہے یانہیںاور اخلاق بگڑنے کے خوف سے احتراز لازم ہے یانہیں
(۳)ایك شخص شریر اور فتنہ انگیز اور فقہائے کرام کی کتابوں کامنکراورفعل لواطت کاقائل بلکہ زانی بھی ہے تو ایسے مدرس کے پاس اپنی اولاد کوپڑھانادرست ہے یانہ اور اس شخص کاکیاحکم ہے اجیبوا بماھوصواب۔
الجواب:
(۱)اگرواقع یہی ہے کہ پہلامدرسہ تعلیم دین مطابق مذہب اہلسنت وجماعت کے لئے کافی ووافی تھا اور اس پرعقدا وعملا کوئی اعتراض شرعی نہ تھا تو اس کے قرب میں دوسرا مدرسہ محض بلاحاجت
قائم کرنا عبث بلکہ تفریق قوت ہے لیکن اگرحالت یہ ہے جوسوال میں لکھی تویہ مدرسہ اس مدرسہ کے توڑنے اور ضررپہنچانے کے لئے قائم کیاگیا اور پہلا مدرسہ واقعی خالص مدرسہ اہلسنت وجماعت مطابق شریعت ہےتو اس نیت نامحمود کے ساتھ یہ جدید مدرسہ مسجد ضرار کے حکم میں ہوگا اور اس کے اہل پر اس کا بند کردیناواجب۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاضررولاضرار فی الاسلام ۔واﷲ تعالی اعلم۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اسلام میں ضرر اور ضرار دونوں نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)جوشخص قیامت کامنکر اور دین کامعاذاﷲ تنزل چاہنے والا ہے وہ کسی طرح مسلمان نہیں ہوسکتا اور مرتد کی صحبت آگ ہے نہ کہ اس کے زیرتربیت ہو
قال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)اگرتمہیں کبھی شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو یاد آنے کے بعد ہرگز ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔(ت)
اور جب وہ دین کا تنزل چاہنے والا ہے تو تعلیم دین کی ترقی اس سے کیونکر متوقع ہےاس مدرسہ کے پاس نہ جانا چاہئے اور چھوڑدیاجائے کہ اسی کے خیال والے اس میں پڑھیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)کتب فقہائے کرام کامنکرگمراہ بددین ہے اور حل لواطت کاقائل کافرایسے شخص کے پاس بیٹھنا حرام ہے نہ کہ اس سے پڑھنا۔
قال اﷲ تعالی " ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:ظالموں کی طرف مت جھکو ورنہ تمہیں (دوزخ کی)آگ پہنچے گی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاضررولاضرار فی الاسلام ۔واﷲ تعالی اعلم۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اسلام میں ضرر اور ضرار دونوں نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)جوشخص قیامت کامنکر اور دین کامعاذاﷲ تنزل چاہنے والا ہے وہ کسی طرح مسلمان نہیں ہوسکتا اور مرتد کی صحبت آگ ہے نہ کہ اس کے زیرتربیت ہو
قال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)اگرتمہیں کبھی شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو یاد آنے کے بعد ہرگز ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔(ت)
اور جب وہ دین کا تنزل چاہنے والا ہے تو تعلیم دین کی ترقی اس سے کیونکر متوقع ہےاس مدرسہ کے پاس نہ جانا چاہئے اور چھوڑدیاجائے کہ اسی کے خیال والے اس میں پڑھیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)کتب فقہائے کرام کامنکرگمراہ بددین ہے اور حل لواطت کاقائل کافرایسے شخص کے پاس بیٹھنا حرام ہے نہ کہ اس سے پڑھنا۔
قال اﷲ تعالی " ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:ظالموں کی طرف مت جھکو ورنہ تمہیں (دوزخ کی)آگ پہنچے گی۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
نصب الرایہ کتاب الدیات باب مایحدث الرجل فی الطریق المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴/ ۳۸۴
القرآن الکریم ۶ /۶۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
القرآن الکریم ۶ /۶۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
مسئلہ ۳۳۷: مرسلہ حکیم وجیہ الدین احمدصاحب از چھپرہ ضلع سارن محلہ بارہ دری ۳صفر۱۳۳۵ھ
زبدۃ المحققین قبلہ نمائے آیات اولینعمدۃ الفواضلتسلیم بپائے تعظیم پذیر فتہ خدمت فیضدرجت ہو۔مزاج شریفکچھ عرض ہے نظرفیض اثراگر اس طرف متوجہ فرمائی جائے تو حکم العلماء ورثۃ الانبیاء سے مجھ عقیدت آور کو افادہ وامداد کامل پہنچے۔اس علاقہ ملك شرقیہ کے شہرچھپرہ میں بہت لوگ مولوی وارث حسن بنارسی کے مریدان ہیں اور خود وہ مولوی رشیداحمدگنگوہی کے مرید وخلیفہ ہیں جواپنا سلسلہ مولانا امداداﷲ مہاجرمکی کے ساتھ درست کرتے وصادق بتاتے اور مولوی اشرف علی دیوبندی جو فہومنہم(انہیں میں سے ہے۔ت)ان کی تصانیف سندوشیوع میں لاتےہم لوگ صوفیان مستند وصادقان واکابران بے جرم وداغ رہ سلوك وعرفان کے مقتدی وہدایت یافتہ اور وہ لوگ تصوف غیر مقلدانہ آمیز سے علم افراشتہرموزقرآنیہ کا فہم ان کو آسان ہے مطالب حدیث غوامض ان کے کم علم کے برنوك زبان ہے غرض عجب عنوان عمل وایقان ہے یہ بات معلوم ہوئی کہ کوئی کتاب حسام الحرمین ہے جس میں مولوی رشید احمدگنگوہی کی ارتداد بیعت ازجانب مولانا امداداﷲ مہاجرمکی بمہروسنددرج ہےآپ جناب اقدس نے اسے چھپوا دیا ہے پس یہ التماس خدمت شریف ہے کہ ایك جلد اس کی اس بندہ ناچیز کوبھی ارسال فرماکر مرہون منت فرمائیں اور اس کے علاوہ اور بھی کوئی رسالہ وغیرہ ان لوگوں کے عقائد یاانفساخ ونادرستی بیعت وغیرہ کے بارہ میں ہو وہ بھی مرحمت ہو۔ دوسری بات یہ کہ اس ہیچمدان کو شوق حصول علم جفرہوا نقوش وادعیات مرتبہ قاعدہ جفرزیادہ تراثرات بروج وکواکب کے ساتھ مبنی ومحتوی ہیں لہذا تھوڑا حصہ علم نجوم کابھی معلوم کرنالازم ہوااوقات وساعات سبعہ سیارہ ومنازل وبروج سے واقفیت حاصل کرناضروری ٹھہراپس سلسلہ بندان گنگوہی نے یك دم سرے سے علم نجوم ہی کو کل کفر ٹھہرایا اور بوجوہ ایں کہ احوال مغیبات نجوم وجفرسے دریافت ہوتے لہذا علم جفر کو اس کا چھوٹابھائی بتایا اورایك حدیث مشکوۃ کی ثبوت کفرمیں پیش کی کہ کاہن وساحر ومنجم یك حکم رکھتے اور علم نجوم سیکھنا اور سکھانا دونوں ہی کفر۔یہ کہاگیا کہ علم نجوم کل کفرہونہیں سکتا کیونکہ علماء وفضلاء وحکماء ومفسرین ومحدثین کو تھوڑی واقفیت حقیقت اشیاء وجزئیات امورعلم نجوم کی بھی ضرور ہے تااستدلال وتردیدمذاہب باطلہ کی وہ بخوبی کرسکیں اور اس کی حقیقت وماہیت وافعال وخواص سمجھیں اور بتائیں چنانچہ تمثیل وتطبیق میں مولاناروم علیہ الرحمۃ دفتراول مثنوی معنوی میں فرماتے ہیں:
(۱)ہرکرابااخترے پیوستگی ست مردرابااخترے خودہمتگی ست
(۲)طالعش گرزہرہ باشد باطرب میل کلی دارد آں عشق وطلب
زبدۃ المحققین قبلہ نمائے آیات اولینعمدۃ الفواضلتسلیم بپائے تعظیم پذیر فتہ خدمت فیضدرجت ہو۔مزاج شریفکچھ عرض ہے نظرفیض اثراگر اس طرف متوجہ فرمائی جائے تو حکم العلماء ورثۃ الانبیاء سے مجھ عقیدت آور کو افادہ وامداد کامل پہنچے۔اس علاقہ ملك شرقیہ کے شہرچھپرہ میں بہت لوگ مولوی وارث حسن بنارسی کے مریدان ہیں اور خود وہ مولوی رشیداحمدگنگوہی کے مرید وخلیفہ ہیں جواپنا سلسلہ مولانا امداداﷲ مہاجرمکی کے ساتھ درست کرتے وصادق بتاتے اور مولوی اشرف علی دیوبندی جو فہومنہم(انہیں میں سے ہے۔ت)ان کی تصانیف سندوشیوع میں لاتےہم لوگ صوفیان مستند وصادقان واکابران بے جرم وداغ رہ سلوك وعرفان کے مقتدی وہدایت یافتہ اور وہ لوگ تصوف غیر مقلدانہ آمیز سے علم افراشتہرموزقرآنیہ کا فہم ان کو آسان ہے مطالب حدیث غوامض ان کے کم علم کے برنوك زبان ہے غرض عجب عنوان عمل وایقان ہے یہ بات معلوم ہوئی کہ کوئی کتاب حسام الحرمین ہے جس میں مولوی رشید احمدگنگوہی کی ارتداد بیعت ازجانب مولانا امداداﷲ مہاجرمکی بمہروسنددرج ہےآپ جناب اقدس نے اسے چھپوا دیا ہے پس یہ التماس خدمت شریف ہے کہ ایك جلد اس کی اس بندہ ناچیز کوبھی ارسال فرماکر مرہون منت فرمائیں اور اس کے علاوہ اور بھی کوئی رسالہ وغیرہ ان لوگوں کے عقائد یاانفساخ ونادرستی بیعت وغیرہ کے بارہ میں ہو وہ بھی مرحمت ہو۔ دوسری بات یہ کہ اس ہیچمدان کو شوق حصول علم جفرہوا نقوش وادعیات مرتبہ قاعدہ جفرزیادہ تراثرات بروج وکواکب کے ساتھ مبنی ومحتوی ہیں لہذا تھوڑا حصہ علم نجوم کابھی معلوم کرنالازم ہوااوقات وساعات سبعہ سیارہ ومنازل وبروج سے واقفیت حاصل کرناضروری ٹھہراپس سلسلہ بندان گنگوہی نے یك دم سرے سے علم نجوم ہی کو کل کفر ٹھہرایا اور بوجوہ ایں کہ احوال مغیبات نجوم وجفرسے دریافت ہوتے لہذا علم جفر کو اس کا چھوٹابھائی بتایا اورایك حدیث مشکوۃ کی ثبوت کفرمیں پیش کی کہ کاہن وساحر ومنجم یك حکم رکھتے اور علم نجوم سیکھنا اور سکھانا دونوں ہی کفر۔یہ کہاگیا کہ علم نجوم کل کفرہونہیں سکتا کیونکہ علماء وفضلاء وحکماء ومفسرین ومحدثین کو تھوڑی واقفیت حقیقت اشیاء وجزئیات امورعلم نجوم کی بھی ضرور ہے تااستدلال وتردیدمذاہب باطلہ کی وہ بخوبی کرسکیں اور اس کی حقیقت وماہیت وافعال وخواص سمجھیں اور بتائیں چنانچہ تمثیل وتطبیق میں مولاناروم علیہ الرحمۃ دفتراول مثنوی معنوی میں فرماتے ہیں:
(۱)ہرکرابااخترے پیوستگی ست مردرابااخترے خودہمتگی ست
(۲)طالعش گرزہرہ باشد باطرب میل کلی دارد آں عشق وطلب
(۳)دربود مریخی وخونریزخو جنگ وبہتان وخصومت جویداد
(ترجمہ:(۱)جس شخص کو ستاروں سے وابستگی ہے مرد کو ستاروں سے خود ہی ہمت لڑانی چاہئے۔
(۲)عیش وعشرت رکھتے ہوئےجس کاطالع زہرہ ستارہ ہے وہ مکمل رجحان عشق کی جستجو کی طرف رکھتا ہے۔
(۳)اگر اس کا طالع ستارہ مریخ ہے تو وہ خونریزی کی عادت اور لڑائی جھگڑا اور بہتان تراشی ڈھوندتارہتاہے)
اگر بے وجود ہوتا اور ضلالت کی بات تھی تومولانا نے اس پرکیوں واقفیت حاصل کی اور مزیدبرآں دوسرے مسلمانان کے واقفیت عامہ کے لئے کیوں رقم فرمایا۔علم نجوم اوراحکام نجوم جو منجمین پیشینگوئیاں کہہ کرکماتے پھرتے یہ دونوں دوچیز ہے یہ البتہ ضرورہے اور بیشك ہم اس پرمعمل ہیں کہ احکام نجوم پر ہم ایمان نہیں رکھتے کہ بالیقین یہی ہوکے رہے گا ستاروں کوفاعل حقیقی ہم ہرگز نہیں سمجھتےمصدرخیروشر ستاروں کو ہم کبھی نہیں جانتے مگرہاں تاثیرات ان کے بیشك مانتےافعال اثرخوب یاخراب جو اﷲ پاك نے ان میں دے کر متعین بکارعالم کیاہے وہ بیشك بمرضی اﷲ پاك یوما ولیلا جاری ہواکرتا
" وسخر لکم الیل والنہار والشمس والقمر والنجوم مسخرت بامرہ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون ﴿۱۲﴾" اﷲ تعالی نے راتدنسورج اور چاند تمہارے تابع کر دئیے یعنی تمہاری خدمت میں لگادئےاور ستارے اس کے حکم کے پابند ہیںیقینا ان باتوں میں عقلمند افراد کے لئے قدرت کی بے شمارنشانیاں ہیں۔(ت)
تفسیرمولانا عبدالحق حقانی میں بہ تفسیر سورہ فاتحہ آیۃ اھدنا الصراط المستقیم دربیان وتشریح افراط وتفریط فی العبادات وافراط وتفریط فی العلومکے آخر عبارت میں صاف درج ومستنبط ہے کہ علم نجوم وطلسم ونیرنجات وکیمیا وغیرہ علوم ودیگر فنون کاافراط منع ویکدم تفریط بھی ناجائزحالت درمیانی بہتراور اسی کو حکمت کہتے اور حکمت وجہ کمال انسان اور مصداق صراط مستقیم ۔
(ترجمہ:(۱)جس شخص کو ستاروں سے وابستگی ہے مرد کو ستاروں سے خود ہی ہمت لڑانی چاہئے۔
(۲)عیش وعشرت رکھتے ہوئےجس کاطالع زہرہ ستارہ ہے وہ مکمل رجحان عشق کی جستجو کی طرف رکھتا ہے۔
(۳)اگر اس کا طالع ستارہ مریخ ہے تو وہ خونریزی کی عادت اور لڑائی جھگڑا اور بہتان تراشی ڈھوندتارہتاہے)
اگر بے وجود ہوتا اور ضلالت کی بات تھی تومولانا نے اس پرکیوں واقفیت حاصل کی اور مزیدبرآں دوسرے مسلمانان کے واقفیت عامہ کے لئے کیوں رقم فرمایا۔علم نجوم اوراحکام نجوم جو منجمین پیشینگوئیاں کہہ کرکماتے پھرتے یہ دونوں دوچیز ہے یہ البتہ ضرورہے اور بیشك ہم اس پرمعمل ہیں کہ احکام نجوم پر ہم ایمان نہیں رکھتے کہ بالیقین یہی ہوکے رہے گا ستاروں کوفاعل حقیقی ہم ہرگز نہیں سمجھتےمصدرخیروشر ستاروں کو ہم کبھی نہیں جانتے مگرہاں تاثیرات ان کے بیشك مانتےافعال اثرخوب یاخراب جو اﷲ پاك نے ان میں دے کر متعین بکارعالم کیاہے وہ بیشك بمرضی اﷲ پاك یوما ولیلا جاری ہواکرتا
" وسخر لکم الیل والنہار والشمس والقمر والنجوم مسخرت بامرہ ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون ﴿۱۲﴾" اﷲ تعالی نے راتدنسورج اور چاند تمہارے تابع کر دئیے یعنی تمہاری خدمت میں لگادئےاور ستارے اس کے حکم کے پابند ہیںیقینا ان باتوں میں عقلمند افراد کے لئے قدرت کی بے شمارنشانیاں ہیں۔(ت)
تفسیرمولانا عبدالحق حقانی میں بہ تفسیر سورہ فاتحہ آیۃ اھدنا الصراط المستقیم دربیان وتشریح افراط وتفریط فی العبادات وافراط وتفریط فی العلومکے آخر عبارت میں صاف درج ومستنبط ہے کہ علم نجوم وطلسم ونیرنجات وکیمیا وغیرہ علوم ودیگر فنون کاافراط منع ویکدم تفریط بھی ناجائزحالت درمیانی بہتراور اسی کو حکمت کہتے اور حکمت وجہ کمال انسان اور مصداق صراط مستقیم ۔
حوالہ / References
مثنوی معنوی دفتراول باب حکایت بادشاہ جہود الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۲۳
القرآن الکریم ۱۶ /۱۲
تفسیرحقانی تحت آیہ اھدناالصراط المستقیم دارالاشاعت تفسیرحقانی حقانی منزل دہلی حصہ دوم ص۳۲
القرآن الکریم ۱۶ /۱۲
تفسیرحقانی تحت آیہ اھدناالصراط المستقیم دارالاشاعت تفسیرحقانی حقانی منزل دہلی حصہ دوم ص۳۲
جلد اول فتاوی میں مولانا مفسردہلوی شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کے درج ہے سوالات عشرہ جو شاہ بخارا نے ان کو لکھاتھا اس کے جواب سوال ہفتم میں علم منطق وعلم انگریزی وعلم فارسی وعلم فقہ وعلم نجوم و رمل وعلم قیافہ وسحر کے بارہ میں یہ تحریر کہ جو حکم صاحب آلہ کا وہی حکم آلہ کا اور تحصیل علم کی وجہ سے گنہگار نہیں ہوسکتا الخ۔اور اسی دفتر اول فتاوی میں بحصہ آخر مرقوم کہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے ایك شخص کو حفظ حرمت وعزت کے لئے انگشتری نقرئی پر اسم عزیز بقاعدہ تکسیر علم جفر کندہ کرانے کو بوقت شرف قمرفرمایا اور تحقیق ساعت شرف اہل نجوم سے کرنے کو فرمایا۔پس علم جفر اگر بحکم کفریہ تھا تو اس علم کے قاعدہ میں اسم الہی کا کیوں نقش بنایا اور علم نجوم بحکم کفریہ تھا تو اس کی ساعت اور اہل نجوم سے تحقیق کر لینے کو کیوں اجازت دیا اور بقول منکران سعدونحس ستارگان کوئی چیز نہیں تو تخصیص شرف قمر کیا چیز ٹھہری اور مولانا محدث ہوکر خود ان دونوں علم کفریہ کو سیکھا وجانا اوردوسرے اہل اسلام کو کیوں بتایا۔اب آپ کی خدمت عالی میں بینوا توجروا کی عرض وتصدیع ہے کہ دربارہ امرمتذکرہ جوکچھ بحکم آیات وحدیث ثابت ومستنبط ہوتا ہو وہ بدستخط ومہراپنے زیب قلم فرمائیں تامعترضان عامل بالحدیثان کودکھلایا جائے اور بسااکابران دین وعاملان شرع مبین جو ان دونوں علم مذکورہ کو جانتے تھے انہوں پرالزام بدیہ جو عائد ہورہا ہے بطریق احسن دفع کردیاجائے وتوثیق وتصدیق کے لئے زیب قلم فرمودہ آنجناب چوں حرزجاں بحفاظت رکھاجائے۔
الجواب:
حضرات علمائے کرام حرمین شریفین زادہمااﷲ شرفا وتکریما نے بالاتفاق رشیداحمدگنگوہی و اشرفعلی تھانوی واحزابہما کی نسبت نام بنام فتوائے کفروارتداددیاہے اور صاف ارشاد فرمایاہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جس نے ان کے عذاب اور کفرمیں شك کیا وہ بلاشك و شبہہ کافرہوگیا۔(ت)
یہاں سے ان کی بیعت کی حالت بھی ظاہرکہ مرتد ہوکر بیعت کیونکر قائم رہ سکتی ہے اس کے لئے حسام الحرمین کاملاحظہ کافی ہے۔جفربیشك نہایت نفیس جائزفن ہے حضرات اہلبیت کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم کاعلم ہے امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے اپنے خواص پر اس کا اظہارفرمایا اور سیدنا امام جعفرصادق رضی اﷲ تعالی عنہ اسے معرض کتابت میں لائے۔کتاب
الجواب:
حضرات علمائے کرام حرمین شریفین زادہمااﷲ شرفا وتکریما نے بالاتفاق رشیداحمدگنگوہی و اشرفعلی تھانوی واحزابہما کی نسبت نام بنام فتوائے کفروارتداددیاہے اور صاف ارشاد فرمایاہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جس نے ان کے عذاب اور کفرمیں شك کیا وہ بلاشك و شبہہ کافرہوگیا۔(ت)
یہاں سے ان کی بیعت کی حالت بھی ظاہرکہ مرتد ہوکر بیعت کیونکر قائم رہ سکتی ہے اس کے لئے حسام الحرمین کاملاحظہ کافی ہے۔جفربیشك نہایت نفیس جائزفن ہے حضرات اہلبیت کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم کاعلم ہے امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے اپنے خواص پر اس کا اظہارفرمایا اور سیدنا امام جعفرصادق رضی اﷲ تعالی عنہ اسے معرض کتابت میں لائے۔کتاب
حوالہ / References
حسام الحرمین علی منحرالکفروالمین مطبع اہلسنت بریلی ص۹۲
مستطاب جفرجامع تصنیف فرمائی۔علامہ سیدشریف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ شرح مواقف میں فرماتے ہیں:امام جعفرصادق نے جامع میں ماکان ومایکون تحریرفرمادیا ۔
سیدنا شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رضی اﷲ تعالی عنہ نے الدرالمکنون والجوھر المصؤن میں اس علم شریف کا سلسلہ سیدنا آدم وسیدنا شیث وغیرہما انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے قائم کیا اور اس کے طرق واوضاع اور ان میں بہت غیوب کی خبریں دیں ۔
عارف باﷲ سیدی امام عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے ایك رسالہ اس کے جواب میں لکھا اس کا انکارنہ کرے گا مگرناواقف یاگمراہ متعسف۔نجوم کے دوٹکڑے ہیں علم وفن تاثیر۔اول کی طرف تو قرآن عظیم میں ارشاد ہے:
" الشمس و القمر بحسبان ﴿۪۵﴾ "
" و الشمس تجری لمستقر لہا ذلک تقدیر العزیز العلیم ﴿۳۸﴾ و القمر قدرنہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم ﴿۳۹﴾ لا الشمس ینبغی لہا ان تدرک القمر و لا الیل سابق النہار وکل فی فلک یسبحون ﴿۴۰﴾"
" وجعلنا الیل والنہار ایتین فمحونا ایۃ الیل وجعلنا ایۃ النہار مبصرۃ لتبتغوا فضلا من ربکم ولتعلموا عدد السنین والحساب وکل سورج اور چاندایك حساب سے چل رہے ہیںیہ سورج ہے جو اپنے ٹھکانے کی طرف چلتارہتاہےیہ اس(اﷲ تعالی) کااندازہ مقررکیاہوا ہے جو زبردست اور سب کچھ اچھی طرح جاننے والاہےہم نے چاند کے لئے مختلف منازل کا ایك اندازہ کرلیا ہے یہاں تك کہ وہ آخرکار کھجور کی پرانی (اوربوسیدہ)ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہےاور نہ سورج کی یہ طاقت ہے کہ وہ پیچھے سے چاند کو آپکڑےاور نہ رات میں یہ قوت ہے کہ وہ دن سے آگے نکل جائےیہ سب کے سب اپنے مرکز(مدار)میں تیررہے ہیں ہم نے رات اور دن کو(اپنی قدرت کی)دونشانیاں بنایا لیکن ہم نے رات کی نشانی مٹادی(یعنی اسے مدھم
سیدنا شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رضی اﷲ تعالی عنہ نے الدرالمکنون والجوھر المصؤن میں اس علم شریف کا سلسلہ سیدنا آدم وسیدنا شیث وغیرہما انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے قائم کیا اور اس کے طرق واوضاع اور ان میں بہت غیوب کی خبریں دیں ۔
عارف باﷲ سیدی امام عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے ایك رسالہ اس کے جواب میں لکھا اس کا انکارنہ کرے گا مگرناواقف یاگمراہ متعسف۔نجوم کے دوٹکڑے ہیں علم وفن تاثیر۔اول کی طرف تو قرآن عظیم میں ارشاد ہے:
" الشمس و القمر بحسبان ﴿۪۵﴾ "
" و الشمس تجری لمستقر لہا ذلک تقدیر العزیز العلیم ﴿۳۸﴾ و القمر قدرنہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم ﴿۳۹﴾ لا الشمس ینبغی لہا ان تدرک القمر و لا الیل سابق النہار وکل فی فلک یسبحون ﴿۴۰﴾"
" وجعلنا الیل والنہار ایتین فمحونا ایۃ الیل وجعلنا ایۃ النہار مبصرۃ لتبتغوا فضلا من ربکم ولتعلموا عدد السنین والحساب وکل سورج اور چاندایك حساب سے چل رہے ہیںیہ سورج ہے جو اپنے ٹھکانے کی طرف چلتارہتاہےیہ اس(اﷲ تعالی) کااندازہ مقررکیاہوا ہے جو زبردست اور سب کچھ اچھی طرح جاننے والاہےہم نے چاند کے لئے مختلف منازل کا ایك اندازہ کرلیا ہے یہاں تك کہ وہ آخرکار کھجور کی پرانی (اوربوسیدہ)ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہےاور نہ سورج کی یہ طاقت ہے کہ وہ پیچھے سے چاند کو آپکڑےاور نہ رات میں یہ قوت ہے کہ وہ دن سے آگے نکل جائےیہ سب کے سب اپنے مرکز(مدار)میں تیررہے ہیں ہم نے رات اور دن کو(اپنی قدرت کی)دونشانیاں بنایا لیکن ہم نے رات کی نشانی مٹادی(یعنی اسے مدھم
حوالہ / References
شرح المواقف المقصد الثانی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۶/ ۲۲
الدرالمکنون والجوھر المصؤن
القرآن الکریم ۵۵ /۵
القرآن الکریم ۳۶ /۳۸ تا ۴۰
الدرالمکنون والجوھر المصؤن
القرآن الکریم ۵۵ /۵
القرآن الکریم ۳۶ /۳۸ تا ۴۰
شیء فصلنہ تفصیلا ﴿۱۲﴾ " " و السماء ذات البروج ﴿۱﴾" " تبارک الذی جعل فی السماء بروجا" " فلا اقسم بالخنس ﴿۱۵﴾ الجوار الکنس ﴿۱۶﴾ " ویتفکرون فی خلق السموت والارض ربنا ما خلقت ہذا بطلا سبحنک فقنا عذاب النار ﴿۱۹۱﴾" "
الم تر الی ربک کیف مد الظل ولو شاء لجعلہ ساکنا ثم جعلنا الشمس علیہ دلیلا ﴿۴۵﴾ ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا ﴿۴۶﴾ "
الی غیرذلك من ایات کثیرۃ۔ کردیا)اور دن کی نشانی کو روشن کردیاتاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو(یعنی دن کورزق حلال کی تلاش کرو)تاکہ تم لوگ سالوں کی گنتی اور حساب کو جان سکواور ہم نے ہرچیز کو خوب اچھی طرح تفصیل سے بیان کردیا۔برجوں والے آسمان کی قسم۔ بڑابابرکت ہے(اﷲ تعالی)جس نے آسمان میں برج رکھے۔پھر میں قسم کھاتاہوں پیچھے ہٹ جانے والے تاروں کی۔اور(قسم کھاتاہوں) سیدھی رفتار والے رکے رہنے والے تاروں کی۔اور وہ (خدا کے مقبول بندے)آسمان و زمین کی پیدائش(بناوٹ)میں گہرا غوروفکر کرتے ہیں۔(پھرعرض کرتے ہیں)اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ سب کچھ بیکار اور بے فائدہ نہیں بنایا۔لہذا تمام عیوب ونقائص سے تیری ذات پاك ہے لہذا ہمیں آتش دوزخ کے عذاب سے بچا اور محفوظ فرمادے۔کیا آپ نے اپنے پروردگار کے(بے شمار نشانات قدرت میں سے اس نشانی کو)نہیں دیکھا کہ کس طرح سایہ کو پھیلا دیتاہےاوراگر وہ چاہتا تو ٹھہرا ہوا بنادیتا۔ پھر ہم نے اس کے وجود پر سورج کو دلیل ٹھہرادیاپھر ہم آہستہ آہستہ اسے (سایہ کو)اپنی طرف سمیٹتے رہتے ہیں۔پس آیات مذکورہ کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات قرآنیہ ہیں(جو علم نجوم کی طرف راہنمائی کرتی ہیں)(ت)
اور اس کا فن تاثیر باطل ہے تدبیر عالم سے کواکب کے متعلق کچھ نہیں کہاگیا نہ ان کے لئے کوئی تاثیر ہے غایت درجہ حرکات فلکیہ مثل حرکات نبض علامات ہیں کماقال اﷲ تعالی:
"و علمت و بالنجم ھم یھتدون﴿۱۶﴾ " اور کچھ نشانیاں ہیں اور وہ لوگ ستاروں سے راہ پاتے ہیں۔(ت)
الم تر الی ربک کیف مد الظل ولو شاء لجعلہ ساکنا ثم جعلنا الشمس علیہ دلیلا ﴿۴۵﴾ ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا ﴿۴۶﴾ "
الی غیرذلك من ایات کثیرۃ۔ کردیا)اور دن کی نشانی کو روشن کردیاتاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو(یعنی دن کورزق حلال کی تلاش کرو)تاکہ تم لوگ سالوں کی گنتی اور حساب کو جان سکواور ہم نے ہرچیز کو خوب اچھی طرح تفصیل سے بیان کردیا۔برجوں والے آسمان کی قسم۔ بڑابابرکت ہے(اﷲ تعالی)جس نے آسمان میں برج رکھے۔پھر میں قسم کھاتاہوں پیچھے ہٹ جانے والے تاروں کی۔اور(قسم کھاتاہوں) سیدھی رفتار والے رکے رہنے والے تاروں کی۔اور وہ (خدا کے مقبول بندے)آسمان و زمین کی پیدائش(بناوٹ)میں گہرا غوروفکر کرتے ہیں۔(پھرعرض کرتے ہیں)اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ سب کچھ بیکار اور بے فائدہ نہیں بنایا۔لہذا تمام عیوب ونقائص سے تیری ذات پاك ہے لہذا ہمیں آتش دوزخ کے عذاب سے بچا اور محفوظ فرمادے۔کیا آپ نے اپنے پروردگار کے(بے شمار نشانات قدرت میں سے اس نشانی کو)نہیں دیکھا کہ کس طرح سایہ کو پھیلا دیتاہےاوراگر وہ چاہتا تو ٹھہرا ہوا بنادیتا۔ پھر ہم نے اس کے وجود پر سورج کو دلیل ٹھہرادیاپھر ہم آہستہ آہستہ اسے (سایہ کو)اپنی طرف سمیٹتے رہتے ہیں۔پس آیات مذکورہ کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات قرآنیہ ہیں(جو علم نجوم کی طرف راہنمائی کرتی ہیں)(ت)
اور اس کا فن تاثیر باطل ہے تدبیر عالم سے کواکب کے متعلق کچھ نہیں کہاگیا نہ ان کے لئے کوئی تاثیر ہے غایت درجہ حرکات فلکیہ مثل حرکات نبض علامات ہیں کماقال اﷲ تعالی:
"و علمت و بالنجم ھم یھتدون﴿۱۶﴾ " اور کچھ نشانیاں ہیں اور وہ لوگ ستاروں سے راہ پاتے ہیں۔(ت)
نبص کا اختلاف اعتدال سے طبیعت کے انحراف پردلیل ہوتا ہے مگر وہ انحراف اس کے اثرنہیں بلکہ یہ اختلاف اس کے سبب سے ہے اس علامت ہی کی وجہ سے کبھی اس کی طرف اکابر نے نظرفرمائی ہے "فنظر نظرۃ فی النجوم ﴿۸۸﴾ فقال انی سقیم ﴿۸۹﴾" (پھر ایك نگاہ ستاروں پر ڈالی تو ارشاد فرمایا میں توبلاشبہ بیمارہوں۔ت)زمانہ قحط میں امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے حکم دیاکہ بار ان کے لئے دعا کرو اور منزل قمر کالحاظ کرلو۔امیرالمومنین مولاناعلی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم سے منقول ہے:
لاتسافروا والقمر فی العقرب۔ سفر نہ کرو جبکہ چاند برج عقرب میں ہو۔(ت)
اگرچہ علماء نے اس کی یہ تاویل فرمائی ہے کہ عقرب ایك منزل تھی اور قمر ایك راہزن کانام تھا کہ اس منزل میں تھا۔علم تکسیر علم جفر سے جدادوسرافن ہے اگرچہ جفرمیں تکسیر کاکام پڑتا ہے یہ بھی اکابر سے منقول ہے امام حجۃ الاسلام غزالی وامام فخرالدین رازی و شیخ اکبرمحی الدین ابن عربی وشیخ ابوالعباس یونی وشاہ محمد غوث گوالیاری وغیرہم رحمہم اﷲ تعالی اس فن کے مصنف و مجتہد گزرے ہیں اس میں شرف قمر وغیرہ ساعات کا لحاظ اگر اسی علامت کے طورپر ہو جس کی طرف ارشاد فاروقی نے اشارہ فرمایا تو لاباس بہ ہے اورپابندی اوہام منجمین کے طور پر ہو تو ناجائز
"من دونہ الا اسماء سمیتموہا انتم و اباؤکم ما انزل اللہ بہا من سلطن ان الحکم الا للہ امر الا تعبدوا الا ایاہ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون ﴿۴۰﴾ " وہ تو نہیں مگرکچھ نام ہیں جوتم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں ورنہ اﷲ تعالی نے ان کی کوئی سند(دلیل)نہیں اتاری۔حکم اﷲ تعالی کے سوا کسی کو نہیںپس اس نے یہ حکم فرمایا کہ اس کے بغیر کسی کی عبادت نہ کرو یہی ٹھیك دین ہےلیکن زیادہ تر لوگ(اس حقیقت کو)نہیں مانتے۔(ت)
طلسم ونیرنجات سراسر ناجائزہیں نیرنج توشعبدہ ہے اور شعبدہ حرام کما فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار(جیسا کہ درمختار وغیرہ بڑی بڑی کتابوں میں مذکور ہے۔ت)اور طلسم تصاویر سے خالی نہیں اور تصویرحرام(حدیث میں ہے:)
لاتسافروا والقمر فی العقرب۔ سفر نہ کرو جبکہ چاند برج عقرب میں ہو۔(ت)
اگرچہ علماء نے اس کی یہ تاویل فرمائی ہے کہ عقرب ایك منزل تھی اور قمر ایك راہزن کانام تھا کہ اس منزل میں تھا۔علم تکسیر علم جفر سے جدادوسرافن ہے اگرچہ جفرمیں تکسیر کاکام پڑتا ہے یہ بھی اکابر سے منقول ہے امام حجۃ الاسلام غزالی وامام فخرالدین رازی و شیخ اکبرمحی الدین ابن عربی وشیخ ابوالعباس یونی وشاہ محمد غوث گوالیاری وغیرہم رحمہم اﷲ تعالی اس فن کے مصنف و مجتہد گزرے ہیں اس میں شرف قمر وغیرہ ساعات کا لحاظ اگر اسی علامت کے طورپر ہو جس کی طرف ارشاد فاروقی نے اشارہ فرمایا تو لاباس بہ ہے اورپابندی اوہام منجمین کے طور پر ہو تو ناجائز
"من دونہ الا اسماء سمیتموہا انتم و اباؤکم ما انزل اللہ بہا من سلطن ان الحکم الا للہ امر الا تعبدوا الا ایاہ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون ﴿۴۰﴾ " وہ تو نہیں مگرکچھ نام ہیں جوتم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں ورنہ اﷲ تعالی نے ان کی کوئی سند(دلیل)نہیں اتاری۔حکم اﷲ تعالی کے سوا کسی کو نہیںپس اس نے یہ حکم فرمایا کہ اس کے بغیر کسی کی عبادت نہ کرو یہی ٹھیك دین ہےلیکن زیادہ تر لوگ(اس حقیقت کو)نہیں مانتے۔(ت)
طلسم ونیرنجات سراسر ناجائزہیں نیرنج توشعبدہ ہے اور شعبدہ حرام کما فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار(جیسا کہ درمختار وغیرہ بڑی بڑی کتابوں میں مذکور ہے۔ت)اور طلسم تصاویر سے خالی نہیں اور تصویرحرام(حدیث میں ہے:)
اشدالناس عذابا یوم القیمۃ من قتل نبیا اوقتلہ نبی والمصورون ۔واﷲ تعالی اعلم۔ روزقیامت سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب اس کو ہوگا کہ جس نے کسی نبی کو شہید کیا یا اسے کسی نبی نے مارڈالااور تصویریں بنانے والوں کو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۳۸:مرسلہ مولوی محمدبہاؤالدین صاحب موضع سکندرپورڈاکخانہ کرنڈہ ضلع غازی پور ۲۷ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
یہاں پر ایك وہابی رہتا ہے وہ شخص پیرو ہے علمائے دیوبند کاخاص کر مولوی اشرف علی و مولوی رشید احمد کا۔وہ شخص کہتاہے کہ پیرواستاد دینی سے مرتبہ زیادہ ہے ماں باپ کا کیونکہ ماں باپ کا مرتبہ قرآن مجید سے زیادہ ثابت ہوتاہے فقیر نے حدیث پیش کی کہ فضیلت پیرواستاد کی ماں باپ سے زیادہ ہےاس شخص نے کہا کہ ہم قرآن مجید کے مقابلہ میں حدیث کو نہ مانیں گےتو سوال یہ کہ حدیث شریف کا انکار کرنے والا کیاہوااور ماں باپ سے مرتبہ زیادہ پیرواستاد کا ہے یانہیں بادلیل دوبات قلم سے تحریر کردیجئے وہ تحریر سندسمجھوں گا۔والسلام
الجواب :
پیرواستاد علم دین کا مرتبہ ماں باپ سے زیادہ وہ مربی بدن ہیں یہ مربی روحجو نسبت روح سے بدن کو ہے وہی نسبت استادو پیر سے ماں باپ کوہے
کما نص علیہ العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام وقال فیہ ذاابوالروح لاابوالنطف ۔ جیسا کہ علامہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں اس کی صراحت فرمائی چنانچہ اس میں ارشاد فرمایا یہ استاد انسان کے روح کاباپ ہے اس کے مادہ تولید(نطفہ)سے بنے ہوئے جسم کاباپ نہیں۔لہذا جو فرق جسم اور روح میں ہے وہی فرق استاد اور والدین میں ہے۔(ت)
قرآن عظیم میں ماں باپ کا ذکرفرمایا یہ نہیں فرمایا کہ ان کے برابر کسی کاحق نہیں بلکہ وہ آیہ کریمہ جس میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکرکوفرمایامربیان دین کامرتبہ ماں باپ سے بہت زائد
مسئلہ ۳۳۸:مرسلہ مولوی محمدبہاؤالدین صاحب موضع سکندرپورڈاکخانہ کرنڈہ ضلع غازی پور ۲۷ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
یہاں پر ایك وہابی رہتا ہے وہ شخص پیرو ہے علمائے دیوبند کاخاص کر مولوی اشرف علی و مولوی رشید احمد کا۔وہ شخص کہتاہے کہ پیرواستاد دینی سے مرتبہ زیادہ ہے ماں باپ کا کیونکہ ماں باپ کا مرتبہ قرآن مجید سے زیادہ ثابت ہوتاہے فقیر نے حدیث پیش کی کہ فضیلت پیرواستاد کی ماں باپ سے زیادہ ہےاس شخص نے کہا کہ ہم قرآن مجید کے مقابلہ میں حدیث کو نہ مانیں گےتو سوال یہ کہ حدیث شریف کا انکار کرنے والا کیاہوااور ماں باپ سے مرتبہ زیادہ پیرواستاد کا ہے یانہیں بادلیل دوبات قلم سے تحریر کردیجئے وہ تحریر سندسمجھوں گا۔والسلام
الجواب :
پیرواستاد علم دین کا مرتبہ ماں باپ سے زیادہ وہ مربی بدن ہیں یہ مربی روحجو نسبت روح سے بدن کو ہے وہی نسبت استادو پیر سے ماں باپ کوہے
کما نص علیہ العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام وقال فیہ ذاابوالروح لاابوالنطف ۔ جیسا کہ علامہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں اس کی صراحت فرمائی چنانچہ اس میں ارشاد فرمایا یہ استاد انسان کے روح کاباپ ہے اس کے مادہ تولید(نطفہ)سے بنے ہوئے جسم کاباپ نہیں۔لہذا جو فرق جسم اور روح میں ہے وہی فرق استاد اور والدین میں ہے۔(ت)
قرآن عظیم میں ماں باپ کا ذکرفرمایا یہ نہیں فرمایا کہ ان کے برابر کسی کاحق نہیں بلکہ وہ آیہ کریمہ جس میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکرکوفرمایامربیان دین کامرتبہ ماں باپ سے بہت زائد
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۹۷ و ۱۰۵۱۵ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۰ /۲۶۰ و ۲۶۶
غنیہ ذوی الاحکام
غنیہ ذوی الاحکام
ہونے کی طرف اشارہ فرماتی ہے ظاہرہے کہ تربیت دین نعمت عظمی ہے اور اس کا شکر قطعا فرضمگر ان کا شکربعینہ شکرالہی عزوجل ہے اسی واسطے انہیں لی میں داخل فرمایا ان کے بعد والدین کا ذکر ارشاد ہواورنہ والدین کاحق نبی سے بڑھ جائے گا کہ یہاں جس طرح استاد وپیر کا ذکرنہیں ویسے ہی نبی کابھی ذکرنہیں۔دیوبندیوں سے انکارحدیث کی شکایت کیا معنی رکھتی ہے۔ علمائے حرمین شریفین کا فتوی حسام الحرمین دیکھئے کہ یہ لوگ خود حضوررسالت علیہ الصلوۃ والتحیۃ کے مخالف ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳۹: مرسلہ شیخ محمداکرام الدین طالب علم درجہ حفظ(د)چوك لکھنؤ مدرسہ فرقانیہ ۱۲ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کاباپ علوم دینیہ پڑھنے سے زید کو روکتا ہے کیا زید بلارضامندی اپنے باپ کے طلب علم دین کے واسطے اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے شہرمیں جاکر علم دین پڑھے درحالیکہ اس کے وطن میں کوئی مولوی حافظ موجود نہیں ہے۔جواب بحوالہ کتب مسطورفرمایا جائے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
طلب علم دین اپنی حاجت کے قدرفرض عین اور اس سے زائد فرض کفایہ ہے اس کے باپ کا اس سے روکنا خلاف حکم خداہے اور خلاف حکم خدامیں کسی کی اطاعت نہیں۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحدفی معصیۃ اﷲ تعالی ۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ تعالی کی نا فرمانی میں کسی کی اطاعت(اور فرمانبرداری)نہیں۔(ت)
فتاوی امام قاضیخاں میں ہے:
لو خرج فی طلب العلم بغیر اذن والدیہ فلابأس بہ ولم یکن ھذا عقوقا ۔ اگرحصول علم کے لئے بغیراجازت والدین باہرجائے تو اس میں کوئی حرج نہیںاور یہ ان کی نافرمانی نہیں۔(ت)
مسئلہ ۳۳۹: مرسلہ شیخ محمداکرام الدین طالب علم درجہ حفظ(د)چوك لکھنؤ مدرسہ فرقانیہ ۱۲ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کاباپ علوم دینیہ پڑھنے سے زید کو روکتا ہے کیا زید بلارضامندی اپنے باپ کے طلب علم دین کے واسطے اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے شہرمیں جاکر علم دین پڑھے درحالیکہ اس کے وطن میں کوئی مولوی حافظ موجود نہیں ہے۔جواب بحوالہ کتب مسطورفرمایا جائے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
طلب علم دین اپنی حاجت کے قدرفرض عین اور اس سے زائد فرض کفایہ ہے اس کے باپ کا اس سے روکنا خلاف حکم خداہے اور خلاف حکم خدامیں کسی کی اطاعت نہیں۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحدفی معصیۃ اﷲ تعالی ۔ حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ تعالی کی نا فرمانی میں کسی کی اطاعت(اور فرمانبرداری)نہیں۔(ت)
فتاوی امام قاضیخاں میں ہے:
لو خرج فی طلب العلم بغیر اذن والدیہ فلابأس بہ ولم یکن ھذا عقوقا ۔ اگرحصول علم کے لئے بغیراجازت والدین باہرجائے تو اس میں کوئی حرج نہیںاور یہ ان کی نافرمانی نہیں۔(ت)
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۳۱۵۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳/ ۰۹۔۲۰۸
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسلیم الخ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۹۴
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسلیم الخ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۹۴
ہاں اگرباپ محتاج ہے اور اگر یہ باہرجائے تو وہ ضائع رہ جائے کوئی ذریعہ قوت نہ اس کے پاس ہو نہ یہ بھیج سکے تو اس کا روکنا بجاہےفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
قال محمد رحمہ اﷲ تعالی فی السیر الکبیر اذا اراد الرجل ان یسافر الی غیرالجہاد لتجارۃ اوحج اوعمرۃ وکرہ ذلك ابواہ فان کان یخاف الضیعۃ علیھا بان کانا معسرین و نفقتھما علیہ ومالہ لایفی بالزاد و الراحلۃ ونفقتھما فانہ لایخرج بغیر اذنھما سواء کان سفرا یخاف علی الولد الہلاك فیہ کرکوب السفینۃ فی البحر اودخول البادیۃ ماشیافی البرد الشدید اولاوان کان لایخاف الضیعۃ علیھما بان کانا موسرین ولم تکن نفقتھما علیہان کان سفرا لا یخاف علی الولد الھلاك فیہ کان لہ ان یخرج بغیر اذنہ ان کان یخاف علی الولد لایخرج الا باذنھا کذا فی الذخیرۃ وکذاالجواب فیما اذا خرج للنفقۃ الی بلدۃ اخری ان کان لایخاف علیہ الھلاك بسبب ھذا الخروج کان بمنزلۃ السفر للتجارۃ وان کان یخاف علیہ الھلاك کان بمنزلۃ الجھاد امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے سیرکبیر میں فرمایا جب کوئی شخص جہاد کے بغیر کسی اور کام کے لئے سفرکرنے کاارادہ کرے مثلا کاروبار کرنے یاحج یاعمرہ کرنے کا ارادہ کرےلیکن والدین اس کے سفرکرنے کوناپسند کریںاگر اسے(اپنے باہر جانے کی وجہ سے)والدین کی ہلاکت(اور تلف ہونے)کاخطرہ ہو مثلا اس طرح کہ وہ دونوں تنگدست اور نادار ہوں اور دونوں کے اخراجات کایہ ذمہ دارہواور حالت یہ ہو کہ اس کاسرمایہ زاد راہسواری اور ان دونوں کے اخراجات کے لئے ناکافی نہ ہو تو پھر اس صورت میں یہ شخص والدین کی اجازت کے بغیر نہ جائےخواہ ایساسفرہو جس میں بیٹے کی ہلاکت کاخطرہ ہو جیسے سمندرمیں کسی کشتی پر سوار ہونا یاکسی جنگل بیابان کو شدید سردی کے دنوں میں پیدل طے کرنایا ایسانہ ہواگر اسے والدین کی ہلاکت کاخطرہ نہ ہو مثلا وہ دونوں(والدین)مالدار ہوں اور ان کے اخراجات اس کے ذمے نہ ہوں۔اگرسفرمیں انہیں بیٹے کی ہلاکت کاکوئی خطرہ نہ ہو پس اس صورت میں یہ والدین کی اجازت کے بغیر باہر جاسکتا ہے۔اور اگر انہیں اسکی جان کا اندیشہ ہو توپھربغیراجازت لئے سفرنہ کرے۔ذخیرہ میں یہی مذکورہے اور یہ جواب ہےجب یہ حصول فقہ کے لئے کسی دوسرے شہرمیں جائےاگر
قال محمد رحمہ اﷲ تعالی فی السیر الکبیر اذا اراد الرجل ان یسافر الی غیرالجہاد لتجارۃ اوحج اوعمرۃ وکرہ ذلك ابواہ فان کان یخاف الضیعۃ علیھا بان کانا معسرین و نفقتھما علیہ ومالہ لایفی بالزاد و الراحلۃ ونفقتھما فانہ لایخرج بغیر اذنھما سواء کان سفرا یخاف علی الولد الہلاك فیہ کرکوب السفینۃ فی البحر اودخول البادیۃ ماشیافی البرد الشدید اولاوان کان لایخاف الضیعۃ علیھما بان کانا موسرین ولم تکن نفقتھما علیہان کان سفرا لا یخاف علی الولد الھلاك فیہ کان لہ ان یخرج بغیر اذنہ ان کان یخاف علی الولد لایخرج الا باذنھا کذا فی الذخیرۃ وکذاالجواب فیما اذا خرج للنفقۃ الی بلدۃ اخری ان کان لایخاف علیہ الھلاك بسبب ھذا الخروج کان بمنزلۃ السفر للتجارۃ وان کان یخاف علیہ الھلاك کان بمنزلۃ الجھاد امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے سیرکبیر میں فرمایا جب کوئی شخص جہاد کے بغیر کسی اور کام کے لئے سفرکرنے کاارادہ کرے مثلا کاروبار کرنے یاحج یاعمرہ کرنے کا ارادہ کرےلیکن والدین اس کے سفرکرنے کوناپسند کریںاگر اسے(اپنے باہر جانے کی وجہ سے)والدین کی ہلاکت(اور تلف ہونے)کاخطرہ ہو مثلا اس طرح کہ وہ دونوں تنگدست اور نادار ہوں اور دونوں کے اخراجات کایہ ذمہ دارہواور حالت یہ ہو کہ اس کاسرمایہ زاد راہسواری اور ان دونوں کے اخراجات کے لئے ناکافی نہ ہو تو پھر اس صورت میں یہ شخص والدین کی اجازت کے بغیر نہ جائےخواہ ایساسفرہو جس میں بیٹے کی ہلاکت کاخطرہ ہو جیسے سمندرمیں کسی کشتی پر سوار ہونا یاکسی جنگل بیابان کو شدید سردی کے دنوں میں پیدل طے کرنایا ایسانہ ہواگر اسے والدین کی ہلاکت کاخطرہ نہ ہو مثلا وہ دونوں(والدین)مالدار ہوں اور ان کے اخراجات اس کے ذمے نہ ہوں۔اگرسفرمیں انہیں بیٹے کی ہلاکت کاکوئی خطرہ نہ ہو پس اس صورت میں یہ والدین کی اجازت کے بغیر باہر جاسکتا ہے۔اور اگر انہیں اسکی جان کا اندیشہ ہو توپھربغیراجازت لئے سفرنہ کرے۔ذخیرہ میں یہی مذکورہے اور یہ جواب ہےجب یہ حصول فقہ کے لئے کسی دوسرے شہرمیں جائےاگر
کذا فی المحیط اھ باختصارورأیتنی کتبت علی قولہ لایخرج بغیر اذنھما مانصہ اقول:ای حقیقۃ فانہ لا یکون الا اذا کانت عندھما کفایۃ ولومن قبل غیرھما اما اذا استأذن وھو یعلم ان لاکفاف لھما دونہ فقالاغضباسرعلی برکۃ اﷲ تعالی فھذا لیس من الاذن فی شیئ وان فرض فلامعتبر بہ لان اضاعتھما حرام والحرام لایحل باذن احد۔ اس سفرمیں ہلاکت کاخطرہ نہ ہو تو پھر یہ سفر سفرتجارت کی طرح ہے۔اور اگرہلاکت کاخوف ہو توپھر بمنزلہ سفرجہاد ہے۔ محیط میں اسی طرح مذکور ہےاھ باختصار۔تونے دیکھا کہ میں نے اس کے قول"لایخرج بغیر اذنھما"وہی کچھ لکھاکہ جس کی اس نے تصریح کی اقول:(میں کہتاہوں) یہاں "اذن"سے مراد حقیقتا اذن ہے اور یہ اسی وقت ہوسکتاہے جبکہ ان دونوں(والدین)کے پاس بقدرکفایت مال ہو اگرچہ کسی دوسرے کی طرف سے مہیا ہو۔لیکن اگریہ ان سے اجازت مانگے جبکہ یہ جانتاہے کہ اس کے بغیر ان کے بقدر ضرورت(کفاف)مال نہیں اور وہ غضبناك لہجے میں کہہ دیں اﷲ تعالی کی برکت کے پیش نظرروانہ ہوجا تو یہ کسی حالت میں"اذن"نہیں اگرچہ فرض کرلیاجائے لہذا اس کا کوئی اعتبارنہیں اس لئے انہیں ضائع کردینا حرام ہےاور حرام کسی کی اجازت سے حلال نہیں ہوسکتا۔(ت)
اسی طرح اگرلڑکا امردخوبصورت محل فتنہ ہے اور تنہاجاتاہے تو کہاگیا کہ اس صورت میں بھی باپ روك سکتاہے۔خانیہ میں بعد عبارت سابقہ ہے:
قیل ھذا اذا کان ملتحیا فان کان امرد صبیح الوجہ فلابیہ ان یمنعہ من الخروج ۱ھ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ وہ باریش ہو لیکن اگر وہ لڑکا بے ریش خوبصورت ہو تو پھر دریں صورت والد اس کے باہر جانے سے یعنی سفرکرنے سے روك سکتاہے اھ(ت)
اقول:(میں کہتاہوں)تحقیق مقام یہ ہے کہ اگروہاں جانے میں اندیشہ فتنہ یقینی ہے یعنی ایساظن غالب کہ فقہیات میں ملتحق بہ یقین ہے توبلاشبہہ باپ روك سکتاہے بلکہ روکنا لازم ہے
اسی طرح اگرلڑکا امردخوبصورت محل فتنہ ہے اور تنہاجاتاہے تو کہاگیا کہ اس صورت میں بھی باپ روك سکتاہے۔خانیہ میں بعد عبارت سابقہ ہے:
قیل ھذا اذا کان ملتحیا فان کان امرد صبیح الوجہ فلابیہ ان یمنعہ من الخروج ۱ھ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ وہ باریش ہو لیکن اگر وہ لڑکا بے ریش خوبصورت ہو تو پھر دریں صورت والد اس کے باہر جانے سے یعنی سفرکرنے سے روك سکتاہے اھ(ت)
اقول:(میں کہتاہوں)تحقیق مقام یہ ہے کہ اگروہاں جانے میں اندیشہ فتنہ یقینی ہے یعنی ایساظن غالب کہ فقہیات میں ملتحق بہ یقین ہے توبلاشبہہ باپ روك سکتاہے بلکہ روکنا لازم ہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الخ الباب السادس والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۵
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۹۴
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۹۴
فان درء المفاسد اھم من جلب المصالح(کیونکہ مفاسد کادفاع مصالح کے حصول سے زیادہ ضرور کرے۔ت)اور اگر محض وہم ہے تومعتبرنہیں ہے اور اگرمتوسط حالت ہے تو علم ضروری سے نہیں روك سکتا اور زائد میں نظر مختلف ہے اور معیار موازنہ مفسدہ ومصلحت ہے کماھو قانون الشرع والعقل فلیکن التوفیق وباﷲ التوفیق(جیسا کہ شرعی اور عقلی قانون کا تقاضا ہے پس توفیق حاصل ہونی چاہئے اور اﷲ تعالی کے کرم سے ہی حصول توفیق ہے۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۰: ازبریلی محلہ سوداگری مسئولہ محمدحسین طالبعلم مدرسہ منظراسلام ۷شعبان المعظم ۱۳۳۵ھ
صورت مسئلہ یہ ہے کہ زید نے عمروکو علم طب سکھایا اور عمرو نے زید کو علم حساب سکھایا مرتبہ استاد اورشاگرد ہونے میں دونوں برابرہیں یاکسی کو ایك دوسرے پرافضلیت ہے
الجواب:
جمع تفریق ضرب تقسیم جس قدر پرعلم فرائض کاتوقف ہے طب سے افضل ہے باقی حساب میں توغل سے طب افضل ہے جس نے افضل سکھایا وہ افضل استاد ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۴۱: ازبریلی مدرسہ اہلسنت مولوی شفیع احمدصاحب طالب علم مدرسہ ساکن بیلپور
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے ماں باپ اگرتحصیل علم فرض سے منع کریں تو اس میں ان کی تعمیل حکم ہرگزنہیں چاہئے اور اگر ان کی قربت میں تحصیل نہ ہوسکے توسفرکرناضرور ہے اگرچہ ماں باپ کو اس کی خدمت کی طرف احتیاج ہو تو یہ قول زید صحیح ہے یانہیں بینوابالتفصیل ولوکان القلیل توجروامن رب الجلیل(کسی قدر تفصیل سے بیان فرماؤ اگرچہ تھوڑی ہواور جلیل القدر پروردگار سے اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
قول زید صحیح ہے مطلقا جبکہ اس علم کی تحصیل چاہتا ہو جو فرض عین ہے یونہی صحیح ہے اگربقدر فرض عین جانتاہو اور فرض کفایہ کی تحصیل چاہے اور وہاں میسرنہ ہو اور اس کے سفر کرنے میں والدین کاضائع چھوڑنا نہ ہو اور اگر ان کی اضاعت لازم آئے تو فرض عین کے بعد کفایہ کے لئے اس کی اجازت نہیں ہوسکتی کہ ان کا ضائع نہ چھوڑنا اس پرفرض عین ہے ضائع چھوڑنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ نہ مال رکھتے ہیں نہ کسب پرقادر ہیں یہی کماتاہے اور انہیں کھلاتاہے اور اگر تحصیل کفایہ میں مشغول ہوگا
مسئلہ ۳۴۰: ازبریلی محلہ سوداگری مسئولہ محمدحسین طالبعلم مدرسہ منظراسلام ۷شعبان المعظم ۱۳۳۵ھ
صورت مسئلہ یہ ہے کہ زید نے عمروکو علم طب سکھایا اور عمرو نے زید کو علم حساب سکھایا مرتبہ استاد اورشاگرد ہونے میں دونوں برابرہیں یاکسی کو ایك دوسرے پرافضلیت ہے
الجواب:
جمع تفریق ضرب تقسیم جس قدر پرعلم فرائض کاتوقف ہے طب سے افضل ہے باقی حساب میں توغل سے طب افضل ہے جس نے افضل سکھایا وہ افضل استاد ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۴۱: ازبریلی مدرسہ اہلسنت مولوی شفیع احمدصاحب طالب علم مدرسہ ساکن بیلپور
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے ماں باپ اگرتحصیل علم فرض سے منع کریں تو اس میں ان کی تعمیل حکم ہرگزنہیں چاہئے اور اگر ان کی قربت میں تحصیل نہ ہوسکے توسفرکرناضرور ہے اگرچہ ماں باپ کو اس کی خدمت کی طرف احتیاج ہو تو یہ قول زید صحیح ہے یانہیں بینوابالتفصیل ولوکان القلیل توجروامن رب الجلیل(کسی قدر تفصیل سے بیان فرماؤ اگرچہ تھوڑی ہواور جلیل القدر پروردگار سے اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
قول زید صحیح ہے مطلقا جبکہ اس علم کی تحصیل چاہتا ہو جو فرض عین ہے یونہی صحیح ہے اگربقدر فرض عین جانتاہو اور فرض کفایہ کی تحصیل چاہے اور وہاں میسرنہ ہو اور اس کے سفر کرنے میں والدین کاضائع چھوڑنا نہ ہو اور اگر ان کی اضاعت لازم آئے تو فرض عین کے بعد کفایہ کے لئے اس کی اجازت نہیں ہوسکتی کہ ان کا ضائع نہ چھوڑنا اس پرفرض عین ہے ضائع چھوڑنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ نہ مال رکھتے ہیں نہ کسب پرقادر ہیں یہی کماتاہے اور انہیں کھلاتاہے اور اگر تحصیل کفایہ میں مشغول ہوگا
تو ان کے نفقہ سے عاجز ہوگا اور وہ نان شبینہ کو محتاج رہ جائیں گے یا وہ سخت مریض یا اپاہج یامفلوج ہیں کہ حرکت سے عاجز ہں اور ان کی خدمت اسی کے متعلق ہے اور وہ اجیرنہیں رکھ سکتے تو تحصیل کفایہ کو سفرممنوع۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۲: ازسوائی مادھوپورقصبہ سانگود ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ الف خاں مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ ۱۲ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
تعلیم انگریزی وہندی کی مسلمان کوجائزہے یانہیں
الجواب:
غیردین کی ایسی تعلیم کہ تعلیم ضروری دین کو روکے مطلقا حرام ہےفارسی ہو یاانگریزی یاہندینیزان باتوں کی تعلیم جو عقائد اسلام کے خلاف ہیں جیسے وجود آسمان کاانکاریاوجود جن وشیطان کا انکار یازمین کی گردش سے لیل ونہاریاآسمانوں کاخرق والتیام محال ہونا یااعادہ معدوم ناممکن ہونا وغیرذلك عقائد باطلہ کہ فلسفہ قدیمہ جدیدہ میں ہیں ان کا پڑھنا پڑھانا حرام ہے کسی زبان میں ہو نیز ایسی تعلیم جس میں نیچریوں دہریوں کی صحبت رہے ان کا اثرپڑے دین کی گرہ سست ہو یاکھل جائےاور اگرجملہ مفاسد سے پاك ہو تو علوم آلیہ مثل ریاضی وہندسہ وحساب وجبرومقابلہ وجغرافیہ وامثال ذلك ضروریات دینیہ سیکھنے کے بعد سیکھنے کی کوئی ممانعت نہیں کسی زبان میں ہو اور نفس زبان کا سیکھنا کوئی حرج رکھتاہی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۴۳: مولوی افضل صاحب طالب علم مدرسہ منظراسلام مورخہ ۱۷ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
چہ میفرمایند علمائے دین کہ یك شخص نزد کسے سبق خواندہ بعدہ معلوم کہ استاد اودردین خود مستقیم نیست ومی گویند کہ امام صاحب نداشتہ واجماع راغلط میداند ومی گوید کہ قادیانی مجدد بود وغیرہ بے ادبی ہا از او دیدہ واو را ترك کرد واو را بسیارناراضی کرد کہ آیا این شاگرد نزد شرعی ملامت است یانہ اینچنیں استاد حق برسرشاگرد داردیانہ بینوا توجروا۔ علمائے دین کیافرماتے ہیں(اس مسئلہ میں کہ)ایك آدمی نے ایك استاد سے سبق پڑھا بعد میں اس کو معلوم ہوا کہ اس کا استاد ٹھیك دین نہیں رکھتاکہتے ہیں کہ اس کا کوئی امام نہیں (یعنی وہ کسی امام کاپیروکارنہیں)اور وہ اجماع امت کو غلط کہتا ہے اور کہتا ہے کہ مرزاغلام احمدقادیانی مجدد تھا اور اس کے علاوہ اور کئی ناشائستہ اور بے ادبی کی کتابیں(شاگرد نے) استاد سے دیکھیں اس لئے اس کو چھوڑدیا اور اس کو سخت ناراض کیاتو کیا یہ شاگرد اسلامی شریعت میں قابل ملامت ہے یانہیں اور اس قسم کا استادشاگرد پراپناحق رکھتاہے یانہیں بیان فرمائیے اجرپائیے۔(ت)
مسئلہ ۳۴۲: ازسوائی مادھوپورقصبہ سانگود ریاست کوٹہ راجپوتانہ مرسلہ الف خاں مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ ۱۲ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ
تعلیم انگریزی وہندی کی مسلمان کوجائزہے یانہیں
الجواب:
غیردین کی ایسی تعلیم کہ تعلیم ضروری دین کو روکے مطلقا حرام ہےفارسی ہو یاانگریزی یاہندینیزان باتوں کی تعلیم جو عقائد اسلام کے خلاف ہیں جیسے وجود آسمان کاانکاریاوجود جن وشیطان کا انکار یازمین کی گردش سے لیل ونہاریاآسمانوں کاخرق والتیام محال ہونا یااعادہ معدوم ناممکن ہونا وغیرذلك عقائد باطلہ کہ فلسفہ قدیمہ جدیدہ میں ہیں ان کا پڑھنا پڑھانا حرام ہے کسی زبان میں ہو نیز ایسی تعلیم جس میں نیچریوں دہریوں کی صحبت رہے ان کا اثرپڑے دین کی گرہ سست ہو یاکھل جائےاور اگرجملہ مفاسد سے پاك ہو تو علوم آلیہ مثل ریاضی وہندسہ وحساب وجبرومقابلہ وجغرافیہ وامثال ذلك ضروریات دینیہ سیکھنے کے بعد سیکھنے کی کوئی ممانعت نہیں کسی زبان میں ہو اور نفس زبان کا سیکھنا کوئی حرج رکھتاہی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۴۳: مولوی افضل صاحب طالب علم مدرسہ منظراسلام مورخہ ۱۷ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
چہ میفرمایند علمائے دین کہ یك شخص نزد کسے سبق خواندہ بعدہ معلوم کہ استاد اودردین خود مستقیم نیست ومی گویند کہ امام صاحب نداشتہ واجماع راغلط میداند ومی گوید کہ قادیانی مجدد بود وغیرہ بے ادبی ہا از او دیدہ واو را ترك کرد واو را بسیارناراضی کرد کہ آیا این شاگرد نزد شرعی ملامت است یانہ اینچنیں استاد حق برسرشاگرد داردیانہ بینوا توجروا۔ علمائے دین کیافرماتے ہیں(اس مسئلہ میں کہ)ایك آدمی نے ایك استاد سے سبق پڑھا بعد میں اس کو معلوم ہوا کہ اس کا استاد ٹھیك دین نہیں رکھتاکہتے ہیں کہ اس کا کوئی امام نہیں (یعنی وہ کسی امام کاپیروکارنہیں)اور وہ اجماع امت کو غلط کہتا ہے اور کہتا ہے کہ مرزاغلام احمدقادیانی مجدد تھا اور اس کے علاوہ اور کئی ناشائستہ اور بے ادبی کی کتابیں(شاگرد نے) استاد سے دیکھیں اس لئے اس کو چھوڑدیا اور اس کو سخت ناراض کیاتو کیا یہ شاگرد اسلامی شریعت میں قابل ملامت ہے یانہیں اور اس قسم کا استادشاگرد پراپناحق رکھتاہے یانہیں بیان فرمائیے اجرپائیے۔(ت)
الجواب:
ایں چنیں استاد رابرشاگرد خود ہماں حق است کہ برملئکہ ابلیس لعین راکہ اورالعنت مے کنند وروزقیامت کشاں کشاں بدوزخ افگنند۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس قسم کے استاد کا اپنے شاگرد پروہی حق ہے جو شیطان لعین کا فرشتوں پرہے کہ فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں اور قیامت کے دن گھسیٹ گھسیٹ کر دوزخ میں پھینك دیں گے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۴۴: مولوی افضل صاحب طالب علم مدرسہ منظر اسلام مورخہ ۱۷ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
سوال دیگربرادرمن مرا تعلیم کردہ وبرمن ظلم وستم بیحد کردہ درمال دنیاوی ومن بااوگفتگو بسیار کردہ ام دریں باب ایں حق داراست یانہ ونزدشرع ملامت ست یانہ دوسراسوال:میرے بھائی نے مجھے تعلیم دی لیکن اس نے دنیوی مال کے معاملہ میں مجھ پر بیحد ظلم وستم کیاپھر میں نے اس سے بہت سی باتیں کیں اس باب میں یہ حقدار ہے یانہیں
الجواب:
برادرکلاں رادرحدیث بشابہ پدر شمردہ اند خاصہ کہ استاذ باشد استاذ علم دین خود اعظم از پدرست برائے مال با اوناحفاظتی نمی شاید کرد باینہمہ اگردرگفتگو تجاوز ازحدنہ کردہ ست بزہ کارنیست وبوجہ عدم رعایت حق استاذ وبرادرکلاں خالی از ملامتی ہم نیست۔واﷲ تعالی اعلم۔ بڑے بھائی کو حدیث پاك میں والد کے مشابہ شمارکیاہے جبکہ وہ استاذ بھی ہو۔علم دین کا استاذ(مرتبہ میں)والد سے بہت بڑا ہے۔لہذادنیاوی مال کی وجہ سے اس کی بے حرمتی نہیں کرنی چاہئے تھیاور ان سب باتوں کے باوجود اگرکلام کرنے میں حد سے تجاوز نہیں کیاتوگنہگار نہیں۔پس استاذ اوربڑے بھائی کے حق کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے ملامت سے خالی بھی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۴۵:ازریاست جموں کشمیر خاص محلہ رنگریزاں بخانہ منشی چراغ ابراہیم براستہ جہلم مرسلہ محمدیوسف صاحب ۲۲ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
اگرکوئی صاحب اہل علم ہوکراپنے استاد مربی کا انکار کرے کہ ہمارا کوئی استادنہیں باوجودیکہ گواہ موجود ہوںتو اس کے واسطے کیاحکم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
استاد کاانکار کفران نعمت ہےاور کفران نعمت موجب سزاوعقوبت
ایں چنیں استاد رابرشاگرد خود ہماں حق است کہ برملئکہ ابلیس لعین راکہ اورالعنت مے کنند وروزقیامت کشاں کشاں بدوزخ افگنند۔واﷲ تعالی اعلم۔ اس قسم کے استاد کا اپنے شاگرد پروہی حق ہے جو شیطان لعین کا فرشتوں پرہے کہ فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں اور قیامت کے دن گھسیٹ گھسیٹ کر دوزخ میں پھینك دیں گے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۴۴: مولوی افضل صاحب طالب علم مدرسہ منظر اسلام مورخہ ۱۷ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
سوال دیگربرادرمن مرا تعلیم کردہ وبرمن ظلم وستم بیحد کردہ درمال دنیاوی ومن بااوگفتگو بسیار کردہ ام دریں باب ایں حق داراست یانہ ونزدشرع ملامت ست یانہ دوسراسوال:میرے بھائی نے مجھے تعلیم دی لیکن اس نے دنیوی مال کے معاملہ میں مجھ پر بیحد ظلم وستم کیاپھر میں نے اس سے بہت سی باتیں کیں اس باب میں یہ حقدار ہے یانہیں
الجواب:
برادرکلاں رادرحدیث بشابہ پدر شمردہ اند خاصہ کہ استاذ باشد استاذ علم دین خود اعظم از پدرست برائے مال با اوناحفاظتی نمی شاید کرد باینہمہ اگردرگفتگو تجاوز ازحدنہ کردہ ست بزہ کارنیست وبوجہ عدم رعایت حق استاذ وبرادرکلاں خالی از ملامتی ہم نیست۔واﷲ تعالی اعلم۔ بڑے بھائی کو حدیث پاك میں والد کے مشابہ شمارکیاہے جبکہ وہ استاذ بھی ہو۔علم دین کا استاذ(مرتبہ میں)والد سے بہت بڑا ہے۔لہذادنیاوی مال کی وجہ سے اس کی بے حرمتی نہیں کرنی چاہئے تھیاور ان سب باتوں کے باوجود اگرکلام کرنے میں حد سے تجاوز نہیں کیاتوگنہگار نہیں۔پس استاذ اوربڑے بھائی کے حق کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے ملامت سے خالی بھی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۴۵:ازریاست جموں کشمیر خاص محلہ رنگریزاں بخانہ منشی چراغ ابراہیم براستہ جہلم مرسلہ محمدیوسف صاحب ۲۲ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
اگرکوئی صاحب اہل علم ہوکراپنے استاد مربی کا انکار کرے کہ ہمارا کوئی استادنہیں باوجودیکہ گواہ موجود ہوںتو اس کے واسطے کیاحکم ہے بینواتوجروا۔
الجواب:
استاد کاانکار کفران نعمت ہےاور کفران نعمت موجب سزاوعقوبت
"و ہل نجزی الا الکفور ﴿۱۷﴾" (ہم بدلہ یعنی سزانہیں دیتے سوائے ان کے ناشکرگزارہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۶: ازفیض آباد مسجدمغلپورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۹ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
پیرمولوی جو مرید کرتے ہیں نائب رسول بھی کہلاتے ہیں ان کو پیروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اور ان کے اصحاب اورامامان شریعت کی واجب ہے
الجواب:
ضرور واجب ہے مگر کسی شخص پربدگمانی کہ یہ پیروی نہیں کرتا بے کسی ایسی دلیل کے جوآفتاب کی طرح روشن ہوجائزنہیں اور علماء پرعوام کو اعتراض نہیں پہنچتا اور جو مشہوربمعرفت ہو اس کا معاملہ زیادہ نازك ہے ہرعام مسلمان کے لئے حکم ہے کہ اس کے ہرقول وفعل کے لئے سترمحمل حسن تلاش کرو نہ کہ علماء ومشائخ جن پراعتراض کا عوام کو کوئی حق نہیں یہاں تك کہ کتب دینیہ میں تصریح ہے اگرصراحۃ نماز کاوقت جارہاہے اور عالم نہیں اٹھتا توجاہل کایہ کہناگستاخی ہے کہ نماز کوچلئے وہ اس کے لئے ہادی بنایاگیا ہے نہ کہ یہ اس کے لئے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۴۷: ازجوناگڑھ محلہ کتیانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمدحسین ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
نذیراحمد بیاےایلایمکاترجمہ صحیح ہے یاغلط اور لڑکوں کو مدرسہ میں اس کاترجمہ پڑھاناجائزہے یاناجائز
الجواب:
نذیراحمدکا نہ ترجمہ صحیح ہے نہ ایمانوہ شخص منکرخداتھاجیسے اس نے اورکتابیں نصرانیت ونیچریت آمیزلکھیں جن سے مال کمانا مقصود تھا ویسے ہی یہ ترجمہ بھی کردیاگیا اس سے بھی داموں ہی کی غرض تھی ورنہ جو شخص اﷲ ہی کونہ مانتا ہو وہ قرآن کے ترجمہ کوکیاجانے گا۔اس کاترجمہ ہرگزنہ پڑھایاجائےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۴۸:ازشہرمحلہ قرلان مرسلہ مولوی حاجی منیرالدین بنگالی متعلم مدرسہ اہلسنت وجماعت ۱۲جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
زیدمعلم ہے اوراپنے استاد احبابوں کولے کر تخت پربیٹھ کر حقہ پیتے ہیں اور اس کے شاگردان
مسئلہ ۳۴۶: ازفیض آباد مسجدمغلپورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۹ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
پیرمولوی جو مرید کرتے ہیں نائب رسول بھی کہلاتے ہیں ان کو پیروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اور ان کے اصحاب اورامامان شریعت کی واجب ہے
الجواب:
ضرور واجب ہے مگر کسی شخص پربدگمانی کہ یہ پیروی نہیں کرتا بے کسی ایسی دلیل کے جوآفتاب کی طرح روشن ہوجائزنہیں اور علماء پرعوام کو اعتراض نہیں پہنچتا اور جو مشہوربمعرفت ہو اس کا معاملہ زیادہ نازك ہے ہرعام مسلمان کے لئے حکم ہے کہ اس کے ہرقول وفعل کے لئے سترمحمل حسن تلاش کرو نہ کہ علماء ومشائخ جن پراعتراض کا عوام کو کوئی حق نہیں یہاں تك کہ کتب دینیہ میں تصریح ہے اگرصراحۃ نماز کاوقت جارہاہے اور عالم نہیں اٹھتا توجاہل کایہ کہناگستاخی ہے کہ نماز کوچلئے وہ اس کے لئے ہادی بنایاگیا ہے نہ کہ یہ اس کے لئے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۴۷: ازجوناگڑھ محلہ کتیانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمدحسین ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
نذیراحمد بیاےایلایمکاترجمہ صحیح ہے یاغلط اور لڑکوں کو مدرسہ میں اس کاترجمہ پڑھاناجائزہے یاناجائز
الجواب:
نذیراحمدکا نہ ترجمہ صحیح ہے نہ ایمانوہ شخص منکرخداتھاجیسے اس نے اورکتابیں نصرانیت ونیچریت آمیزلکھیں جن سے مال کمانا مقصود تھا ویسے ہی یہ ترجمہ بھی کردیاگیا اس سے بھی داموں ہی کی غرض تھی ورنہ جو شخص اﷲ ہی کونہ مانتا ہو وہ قرآن کے ترجمہ کوکیاجانے گا۔اس کاترجمہ ہرگزنہ پڑھایاجائےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۴۸:ازشہرمحلہ قرلان مرسلہ مولوی حاجی منیرالدین بنگالی متعلم مدرسہ اہلسنت وجماعت ۱۲جمادی الاخری ۱۳۳۶ھ
زیدمعلم ہے اوراپنے استاد احبابوں کولے کر تخت پربیٹھ کر حقہ پیتے ہیں اور اس کے شاگردان
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۴ /۱۷
ایك ڈیڑھ گز کے فاصل زمین پر بیٹھ کر قرآن عظیم پڑھتے ہیں اسے ہرطرح کہاگیا مگروہ اس فعل سے باز نہیں آتا معاذاﷲ اب زیدپرکیاحکم ہے اور مسلمانوں کو اس کے ساتھ میل جول کرناکیساہے
الجواب:
وہ معلم اور اس کے ساتھ بیٹھنے والے سب بے ادب گستاخ ہیں اس کو تنبیہ کی جائے اگر نہ مانے توصاحب مکان پرلازم ہے کہ وہاں سے تخت اٹھالے اور اس پر بھی اسے متنبہ ہوتانہ دیکھے تو اسے موقوف کردے کہ بے ادب ہے نہ کہ شاگرد کومولاناقدس سرہ فرماتے ہیں:
ازخدا جوئیم توفیق ادب بے ادب محروم ماند از لطف رب
بے ادب تنہا نہ خودرا داشت بلکہ آتش درہمہ آفاق زد
(ہم اﷲ تعالی سے حصول ادب کی توفیق مانگتے ہیں کیونکہ بے ادب رب تعالی کے فضل سے محروم رہتاہے۔بے ادب نہ صرف اپنے آپ کو برے حالات میں رکھتا ہے بلکہ اس کی بے ادبی کی آگ تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۹: ازشہرکانپور مرسلہ مولوی سلیمان صاحب مدرس دارالعلوم
قرآن شریف میں عربی عبارت کے نیچے اردو میں ترجمہ اور انگریزی یابنگلہ زبان میں مطالب و شان نزول وقصص کالکھنا درست ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے جبکہ فائدے مطابق شرع ہوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵۰: ازاردہ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرا ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خاں صاحب ۲۵شوال ۱۳۳۶ھ
اس خیال سے انگریزی پڑھنا اور پڑھوانا بچوں کو کہ اس میں عزوجاہ دنیوی ہے یاحصول دنیا کابڑا ذریعہ ہے جائزہے یاناجائز
الجواب:
سائنس وغیرہ وہ فنون وکتب پڑھنی جن میں انکاروجود آسمان وگردش آفتاب وغیرہ کفریات کی تعلیم ہو حرام ہےاور وہ نوکری جو خود حرام یاحرام میں اعانت ہے اس کی نیت سے پڑھنا
الجواب:
وہ معلم اور اس کے ساتھ بیٹھنے والے سب بے ادب گستاخ ہیں اس کو تنبیہ کی جائے اگر نہ مانے توصاحب مکان پرلازم ہے کہ وہاں سے تخت اٹھالے اور اس پر بھی اسے متنبہ ہوتانہ دیکھے تو اسے موقوف کردے کہ بے ادب ہے نہ کہ شاگرد کومولاناقدس سرہ فرماتے ہیں:
ازخدا جوئیم توفیق ادب بے ادب محروم ماند از لطف رب
بے ادب تنہا نہ خودرا داشت بلکہ آتش درہمہ آفاق زد
(ہم اﷲ تعالی سے حصول ادب کی توفیق مانگتے ہیں کیونکہ بے ادب رب تعالی کے فضل سے محروم رہتاہے۔بے ادب نہ صرف اپنے آپ کو برے حالات میں رکھتا ہے بلکہ اس کی بے ادبی کی آگ تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۹: ازشہرکانپور مرسلہ مولوی سلیمان صاحب مدرس دارالعلوم
قرآن شریف میں عربی عبارت کے نیچے اردو میں ترجمہ اور انگریزی یابنگلہ زبان میں مطالب و شان نزول وقصص کالکھنا درست ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے جبکہ فائدے مطابق شرع ہوں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵۰: ازاردہ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرا ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خاں صاحب ۲۵شوال ۱۳۳۶ھ
اس خیال سے انگریزی پڑھنا اور پڑھوانا بچوں کو کہ اس میں عزوجاہ دنیوی ہے یاحصول دنیا کابڑا ذریعہ ہے جائزہے یاناجائز
الجواب:
سائنس وغیرہ وہ فنون وکتب پڑھنی جن میں انکاروجود آسمان وگردش آفتاب وغیرہ کفریات کی تعلیم ہو حرام ہےاور وہ نوکری جو خود حرام یاحرام میں اعانت ہے اس کی نیت سے پڑھنا
حوالہ / References
مثنوی معنوی دفتراول درخواستن توفیق رعایت ادب الخ نورانی کتب خانہ پشاور ص۶
بھی حرام ہے اور اگرجائز فنون جائزنوکری کے لئے پڑھے توجائز ہے جبکہ اس میں وہ انہماك نہ ہو کہ اپنے ضروریات دین وعلوم فرض کی تعلیم سے باز رکھے ورنہ جو فرض سے بازرکھے حرام ہے اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے دین واخلاق ووضع پراثرنہ پڑےاسلامی عقائد وخیالات پرثابت ومستقیم اور مسلمانی وضع پرقائم رہے ان سب شرائط کے اجتماع کے بعد جائز رزق حاصل کرنے کے لئے حرج نہیں رہی اس سے عزوجاہ دنیوی کی طلبطلب جاہ خودناجائزہے اگرچہ عربی زبان واسلامی علوم سے ہونہ کہ وہ جاہ کہ استقامت علی الدین کے ساتھ کم جمع ہو۔
قال اﷲ تعالی" ایبتغون عندہم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا ﴿۱۳۹﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:کیا وہ ان کے ہاں عزت تلاش کرتے ہیں حالانکہ سب عزت اﷲ تعالی کے لئے ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۵۱: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ شاہ خاکی بوڑاہ
دیوبندی کاوعظ سنناان سے فتوی لینا اور ان کے ساتھ نمازپڑھناکھاناشادی کرنا کیسا ہے
الجواب:
دیوبندی وہابیوں کی اخبث شاخ ہےاس کا وعظ سنناحراماس سے فتوی لیناحراماس سے میل جول سخت حرامبلکہ اسے مسلمان جان کر ہوتوکفرعلمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریرفرمایا ہے من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر (جوان کے کافرہونے میں شك کرے وہ بھی کافرہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵۲: ازشہر مسئولہ عبدالحفیظ صاحب طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۲۳محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کسی عالم باعمل کی خدمت میں اس غرض سے حاضرہوا کہ چند مسئلہ شرعیہ دریافت کرکے اس پرعمل کرے مگرعالم نے اس کے ساتھ اخلا ق محمدی نہیں برتا اور سخت خفگی ظاہر کی کہ اس کی دہشت سے زید نے ناراض ہوکر اپنے اس ارادہ کو ترك کردیا جس مسئلہ پرعمل کرنے والا تھا چونکہ علمائے باعمل وارث انبیاء ہیںاخلاق محمدی نہ برتنے سے اور زید کو مسئلہ کی واقفیت نہ ہونے سے وہ عالم موجب عذاب خداوندی کا ہوسکتاہے یانہیں
قال اﷲ تعالی" ایبتغون عندہم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا ﴿۱۳۹﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:کیا وہ ان کے ہاں عزت تلاش کرتے ہیں حالانکہ سب عزت اﷲ تعالی کے لئے ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۵۱: ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفرپور مسئولہ شاہ خاکی بوڑاہ
دیوبندی کاوعظ سنناان سے فتوی لینا اور ان کے ساتھ نمازپڑھناکھاناشادی کرنا کیسا ہے
الجواب:
دیوبندی وہابیوں کی اخبث شاخ ہےاس کا وعظ سنناحراماس سے فتوی لیناحراماس سے میل جول سخت حرامبلکہ اسے مسلمان جان کر ہوتوکفرعلمائے حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریرفرمایا ہے من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر (جوان کے کافرہونے میں شك کرے وہ بھی کافرہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵۲: ازشہر مسئولہ عبدالحفیظ صاحب طالب علم مدرسہ منظرالاسلام ۲۳محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کسی عالم باعمل کی خدمت میں اس غرض سے حاضرہوا کہ چند مسئلہ شرعیہ دریافت کرکے اس پرعمل کرے مگرعالم نے اس کے ساتھ اخلا ق محمدی نہیں برتا اور سخت خفگی ظاہر کی کہ اس کی دہشت سے زید نے ناراض ہوکر اپنے اس ارادہ کو ترك کردیا جس مسئلہ پرعمل کرنے والا تھا چونکہ علمائے باعمل وارث انبیاء ہیںاخلاق محمدی نہ برتنے سے اور زید کو مسئلہ کی واقفیت نہ ہونے سے وہ عالم موجب عذاب خداوندی کا ہوسکتاہے یانہیں
الجواب:
سائل کاکلام متناقض ہے عالم باعمل بھی کہتا ہے اور اتناشدید الزام بھی اس پردھرتا ہے اگرواقعی عالم باعمل ہے تو اس کی خفگی اگر اس کی کسی معصیت یابے ادبی شریعت کے سبب ہوگی اسے لازم تھا کہ توبہ کرے اورمعافی چاہے نہ یہ کہ اس کے سبب عالم سے کنارہ کش ہو اور مسئلہ پوچھنے کافرض چھوڑکر اپنی معصیت میں یہ دوگناہ اوراضافہ کرے اور تیسرایہ کہ عالم پرالزام رکھناچاہےفلاح نہیں پاتا وہ جاہل جو خادمان شریعت کااد ب نہ کرے اور بالفرض اس کی خفگی اس پر کسی معصیت وبے ادبی شریعت کے سبب نہ ہو بعض وقت انسان کی طبیعت منغص ہوتی ہے اس کاسبب کچھ اور ہوتا ہے اور دوسرے کابات کرنا بھی اس وقت ناگوارہوتا ہے اس وقت وہ اسے جواب ترشی سے دیتا ہے جو اس پرناراضی کے باعث نہیں ہوتا ایسے وقت کی ترشی اہل سعادت کے لئے قابل لحاظ نہیںاکابر صدیقین نے فرمایا:
ان لناشیطانا لیقربنا فاذا رأیتموہ فاعتزلوا۔ بےشك ہمارے لئے بھی شیطان ہے جو ہمارے قریب ہوتاہے جب تم اسے دیکھو تو الگ ہٹ جاؤ۔(ت)
یعنی ہم بھی بشرہیں بشرکا ساغصہ ہمیں بھی آتاہے جب اسے دیکھو تو اس وقت ہمیں چھیڑو نہیں بلکہ الگ ہٹ جاؤ۔اور بالفرض یہ بھی نہ سہی بلکہ بلاوجہ محض اس سے کج خلقی کی توضرور اس کاالزام اس عالم پر ہے مگر اسے اس کی خطاگیری اور اس پراعتراض حرام ہے اور اس کے سبب رہنمائے دین سے کنارہ کش ہونا اور استفادہ مسائل چھوڑدینا اس کے حق میں زہرہے اس کاکیانقصانحدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:عالم اگراپنے علم پر عمل نہ کرے جب اس کی مثال شمع کی ہے کہ آپ جلے اور تمہیں روشنی دے۔یہ سب اس صورت میں ہے کہ وہ عالم حقیقۃ عالم دین سنی صحیح العقیدہ ہادی راہ یقین ہو ورنہ اگرسنی نہیں توکتنا ہی خلیق کتناہی متواضع کتناہی خوش مزاج بنے نائب ابلیس ہے اس سے کنارہ کشی فرض ہے اور اس سے فتوی پوچھنا حرام۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵۳: ازشہرکہنہ محلہ لودھی ٹولہ مسئولہ حبیب اﷲ خاں ۲۹ محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو صاحب جھوٹا مسئلہ بیان کریں ان کے واسطے شرع شریف کاکیاحکم ہے
الجواب:
جھوٹا مسئلہ بیان کرناسخت شدیدہ کبیرہ ہے اگرقصدا ہے تو شریعت پرافتراء ہے اور شریعت پر
سائل کاکلام متناقض ہے عالم باعمل بھی کہتا ہے اور اتناشدید الزام بھی اس پردھرتا ہے اگرواقعی عالم باعمل ہے تو اس کی خفگی اگر اس کی کسی معصیت یابے ادبی شریعت کے سبب ہوگی اسے لازم تھا کہ توبہ کرے اورمعافی چاہے نہ یہ کہ اس کے سبب عالم سے کنارہ کش ہو اور مسئلہ پوچھنے کافرض چھوڑکر اپنی معصیت میں یہ دوگناہ اوراضافہ کرے اور تیسرایہ کہ عالم پرالزام رکھناچاہےفلاح نہیں پاتا وہ جاہل جو خادمان شریعت کااد ب نہ کرے اور بالفرض اس کی خفگی اس پر کسی معصیت وبے ادبی شریعت کے سبب نہ ہو بعض وقت انسان کی طبیعت منغص ہوتی ہے اس کاسبب کچھ اور ہوتا ہے اور دوسرے کابات کرنا بھی اس وقت ناگوارہوتا ہے اس وقت وہ اسے جواب ترشی سے دیتا ہے جو اس پرناراضی کے باعث نہیں ہوتا ایسے وقت کی ترشی اہل سعادت کے لئے قابل لحاظ نہیںاکابر صدیقین نے فرمایا:
ان لناشیطانا لیقربنا فاذا رأیتموہ فاعتزلوا۔ بےشك ہمارے لئے بھی شیطان ہے جو ہمارے قریب ہوتاہے جب تم اسے دیکھو تو الگ ہٹ جاؤ۔(ت)
یعنی ہم بھی بشرہیں بشرکا ساغصہ ہمیں بھی آتاہے جب اسے دیکھو تو اس وقت ہمیں چھیڑو نہیں بلکہ الگ ہٹ جاؤ۔اور بالفرض یہ بھی نہ سہی بلکہ بلاوجہ محض اس سے کج خلقی کی توضرور اس کاالزام اس عالم پر ہے مگر اسے اس کی خطاگیری اور اس پراعتراض حرام ہے اور اس کے سبب رہنمائے دین سے کنارہ کش ہونا اور استفادہ مسائل چھوڑدینا اس کے حق میں زہرہے اس کاکیانقصانحدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:عالم اگراپنے علم پر عمل نہ کرے جب اس کی مثال شمع کی ہے کہ آپ جلے اور تمہیں روشنی دے۔یہ سب اس صورت میں ہے کہ وہ عالم حقیقۃ عالم دین سنی صحیح العقیدہ ہادی راہ یقین ہو ورنہ اگرسنی نہیں توکتنا ہی خلیق کتناہی متواضع کتناہی خوش مزاج بنے نائب ابلیس ہے اس سے کنارہ کشی فرض ہے اور اس سے فتوی پوچھنا حرام۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵۳: ازشہرکہنہ محلہ لودھی ٹولہ مسئولہ حبیب اﷲ خاں ۲۹ محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو صاحب جھوٹا مسئلہ بیان کریں ان کے واسطے شرع شریف کاکیاحکم ہے
الجواب:
جھوٹا مسئلہ بیان کرناسخت شدیدہ کبیرہ ہے اگرقصدا ہے تو شریعت پرافتراء ہے اور شریعت پر
افتراء اﷲ عزوجل پرافتراہےاور اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون ﴿۶۹﴾ " وہ جو اﷲ پرجھوٹ افتراء کرتے ہیں فلاح نہ پائیں گے۔
اور اگر بے علمی سے ہے تو جاہل پرسخت حرام ہے کہ فتوی دے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض ۔ جو بغیرعلم کے فتوی دے اس پرآسمان وزمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔
ہاں اگر عالم سے اتفاقا سہو واقع ہو اور اس نے اپنی طرف سے بے احتیاطی نہ کی اور غلط جواب صادر ہوا تومواخذہ نہیں مگر فرض ہے کہ مطلع ہوتے ہی فورا اپنی خطاظاہر کرےاس پر اصرار کرے تو پہلی شق یعنی افترا میں آجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵۴: ازشہر محلہ ملوکپور مسئولہ امیراﷲ صاحب ۱۸صفر۱۳۳۹ھ
حضوروالا! السلام علیکم! انجمن خدام المسلمین کومولوی قطب الدین صاحب نے بغرض استقبال مولوی نعیم الدین صاحب مرادآبادی کے بلوایاتھا ممبران انجمن نے ان کا استقبال بریلی جنکشن پرکیا اور وہاں سے ان کی سواری کو اپنے ہاتھوں سے کھینچ کر حضور کے دردولت تك لاپہنچایاپھر حضور کے دردولت سے مولوی قطب الدین کے مکان تك اسی شان وشوکت سے پہنچایا مسلمانوں کو ایك عالم دین کے استقبال وخدمت کرنے سے کیا شرع مطہر روکتی ہےاور یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ حضور کوسخت صدمہ پہنچا اور حضور کی شان گھٹائیمفصل طور پر جواب سے مطلع فرمائیں۔
الجواب:
وعلیکم السلاماستغفراﷲیہ جو سننے میں آیا محض کذب وافترا ہے اور وہ تعظیم کہ مسلمانوں نے سنی عالم کی کی باعث اجرعظیم و رضائے خدا ہےحدیث میں ارشاد ہوا:
من تواضع ﷲ رفعہ اﷲ ۔واﷲ تعالی اعلم جس نے اﷲ کی خوشنودی کے لئے عاجزی اختیار کی اﷲ اس کو بلند کردیتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون ﴿۶۹﴾ " وہ جو اﷲ پرجھوٹ افتراء کرتے ہیں فلاح نہ پائیں گے۔
اور اگر بے علمی سے ہے تو جاہل پرسخت حرام ہے کہ فتوی دے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض ۔ جو بغیرعلم کے فتوی دے اس پرآسمان وزمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔
ہاں اگر عالم سے اتفاقا سہو واقع ہو اور اس نے اپنی طرف سے بے احتیاطی نہ کی اور غلط جواب صادر ہوا تومواخذہ نہیں مگر فرض ہے کہ مطلع ہوتے ہی فورا اپنی خطاظاہر کرےاس پر اصرار کرے تو پہلی شق یعنی افترا میں آجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۵۴: ازشہر محلہ ملوکپور مسئولہ امیراﷲ صاحب ۱۸صفر۱۳۳۹ھ
حضوروالا! السلام علیکم! انجمن خدام المسلمین کومولوی قطب الدین صاحب نے بغرض استقبال مولوی نعیم الدین صاحب مرادآبادی کے بلوایاتھا ممبران انجمن نے ان کا استقبال بریلی جنکشن پرکیا اور وہاں سے ان کی سواری کو اپنے ہاتھوں سے کھینچ کر حضور کے دردولت تك لاپہنچایاپھر حضور کے دردولت سے مولوی قطب الدین کے مکان تك اسی شان وشوکت سے پہنچایا مسلمانوں کو ایك عالم دین کے استقبال وخدمت کرنے سے کیا شرع مطہر روکتی ہےاور یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ حضور کوسخت صدمہ پہنچا اور حضور کی شان گھٹائیمفصل طور پر جواب سے مطلع فرمائیں۔
الجواب:
وعلیکم السلاماستغفراﷲیہ جو سننے میں آیا محض کذب وافترا ہے اور وہ تعظیم کہ مسلمانوں نے سنی عالم کی کی باعث اجرعظیم و رضائے خدا ہےحدیث میں ارشاد ہوا:
من تواضع ﷲ رفعہ اﷲ ۔واﷲ تعالی اعلم جس نے اﷲ کی خوشنودی کے لئے عاجزی اختیار کی اﷲ اس کو بلند کردیتاہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۰ /۶۹
کنزالعمال حدیث نمبر۲۹۰۱۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۹۳
مسندامام احمدبن حنبل حدیث ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۷۶
کنزالعمال حدیث نمبر۲۹۰۱۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۹۳
مسندامام احمدبن حنبل حدیث ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۳/ ۷۶
مسئلہ۳۵۵: ازشہر چڑھائی نیب مسئولہ عبدالرحیم صاحب ۷ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خدا کے یہاں مفتی فتوی دینے کا ذمہ دار ہے یاوہ بھی جوفتوی پرعمل کرے بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر وہ مفتی قابل فتوی نہیں یاعامہ مسلمین شہردربارہ فتوی اس پراعتماد نہیں کرتے یافتوی ایساغلط ہے جس کی صریح غلطی مستفتی پرظاہرہے یاعالم معتمد مستند نے اس کے اغلاط ظاہر کردئیے یافتوی واقعات پرنہیں ہے اور اس میں مفتی نے اصل واقعہ چھپایا اور غلط رخ دکھایا تو مفتیاس پرعمل کرنے والا دونوں ماخوذوگرفتارہیں ورنہ جب تك حق واضح نہ ہو جاہل پروبال نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۵۶:ازاحمدآباد گجرات محلہ چھیپیاں پانچ پنپیلی مکان چھینیہ سلطان جی علی جی کوڑے والے مسئولہ غلام نبی صاحب پیرزادہ ۱۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین:
(۱)جولوگ کتب دینیات وغیرہ طالب علم کوتعلیم دینے سے مدرس اول کو منع کرتے ہیں ان کا کیاحکم ہے
(۲)اور کسی نا اہل کو اس کی قابلیت سے باہر علم سکھانا بغرض مباحثات ومجادلات کے کیساہے بینوابیانا شافیا توجروا اجرا وافیا(شافی بیان فرماؤ اور پورااجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب :
(۱)تعلیم دین اگربوجہ دین ہے تو اس سے ممانعت منع خیر ہے " مناع للخیر معتد اثیـم ﴿۱۲﴾" (بھلائی سے روکنے والا حد سے گزرنے والا اور گنہگارہے۔ت)میں داخل ہونا ہے ایسے لوگوں کی بات ہرگز نہ سنی جائے نہ انہیں مدرسہ میں دخل دیاجائے ہاں اگرمدرس اول بدمذہب ہو اور بنام اپنے مذہب فاسد کی اشاعت چاہتاہو تو اسے روکنا فرض ہے اور یہ تعلیم دین کی ممانعت نہ ہوئی بلکہ تخریب دین کاانسداد ہوا۔واﷲ تعالی اعلم
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خدا کے یہاں مفتی فتوی دینے کا ذمہ دار ہے یاوہ بھی جوفتوی پرعمل کرے بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر وہ مفتی قابل فتوی نہیں یاعامہ مسلمین شہردربارہ فتوی اس پراعتماد نہیں کرتے یافتوی ایساغلط ہے جس کی صریح غلطی مستفتی پرظاہرہے یاعالم معتمد مستند نے اس کے اغلاط ظاہر کردئیے یافتوی واقعات پرنہیں ہے اور اس میں مفتی نے اصل واقعہ چھپایا اور غلط رخ دکھایا تو مفتیاس پرعمل کرنے والا دونوں ماخوذوگرفتارہیں ورنہ جب تك حق واضح نہ ہو جاہل پروبال نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۵۶:ازاحمدآباد گجرات محلہ چھیپیاں پانچ پنپیلی مکان چھینیہ سلطان جی علی جی کوڑے والے مسئولہ غلام نبی صاحب پیرزادہ ۱۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین:
(۱)جولوگ کتب دینیات وغیرہ طالب علم کوتعلیم دینے سے مدرس اول کو منع کرتے ہیں ان کا کیاحکم ہے
(۲)اور کسی نا اہل کو اس کی قابلیت سے باہر علم سکھانا بغرض مباحثات ومجادلات کے کیساہے بینوابیانا شافیا توجروا اجرا وافیا(شافی بیان فرماؤ اور پورااجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب :
(۱)تعلیم دین اگربوجہ دین ہے تو اس سے ممانعت منع خیر ہے " مناع للخیر معتد اثیـم ﴿۱۲﴾" (بھلائی سے روکنے والا حد سے گزرنے والا اور گنہگارہے۔ت)میں داخل ہونا ہے ایسے لوگوں کی بات ہرگز نہ سنی جائے نہ انہیں مدرسہ میں دخل دیاجائے ہاں اگرمدرس اول بدمذہب ہو اور بنام اپنے مذہب فاسد کی اشاعت چاہتاہو تو اسے روکنا فرض ہے اور یہ تعلیم دین کی ممانعت نہ ہوئی بلکہ تخریب دین کاانسداد ہوا۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶۸ /۱۲
(۲)قابلیت سے باہر علم سکھانا فتنہ میں ڈالناہے اور ناقابل کو مباحث ومجادل بنانادین کو معاذاﷲ ذلت کے لئے پیش کرنا ہے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا وسد الامر الی غیراھلہ فانتظر الساعۃ ۔واﷲ تعالی اعلم جب نا اہل کوکام سپرد کیاجائے توقیامت کاانتظارکرو(ت)
مسئلہ ۳۵۸: ازموضع گھاگرہ ڈاکخانہ پائیکوڑہ ضلع میمن سنگھ مسئولہ مولوی سعیدالرحمن ۲۹رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موضع گھاگرہ میں لوگوں نے ایك نیاجلسہ قائم کیا ہے بنگلہ میں اس کانام سمیتی ہے واسطے فیصلہ کرنے مقدمہ وغیرہ کے۔لیکن اس میں چارپانچ شخص ناقابل علم شریعت سے ناواقف سردارہوکر اپنی رائے کے مطابق احکام جاری کرتے ہیں شریعت کے خلاف اور اگرکوئی ان کے خلاف شرع حکم کونہ مانے تو اس کو امامت سے برخاست اور جمعہ وجماعت سے خارج کرتے ہیں اور لوگوں کو اس کی دعوت ونمازجنازہ غرض تمام دنیوی اخروی کاموں سے منع کرتے ہیں علماء کی اہانتظالموں کی تعظیم وتکریم کرتے ہیں اور عالموں سے حسدبغض کینہ دل وجان سے کرتے ہیں حتی کہ اہل علم کو حقیرسمجھتے اور کبھی گالیاں بھی دیتے ہیں حسد کی وجہ سے عالموں کو پیچھے اور ان پڑھ کو آگے نمازپڑھنے کاحکم دیتے ہیں یعنی جاہل کو امامت کاحکم دیتے ہیںموافق شریعت ان پرکیاحکم ہے اور جو ان کی مدد کرے ان پر کس قدرگناہ ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
جاہلوں کوحاکم شرع بناناحرام ہے اور وہ جو خلاف شرع حکم دیتے ہیں اس کاماننا حرام ہےایسے لوگوں کے لئے قرآن عظیم میں تین الفاظ ارشاد فرمائے:ظالمفاسقکافر۔اور اپنے باطل احکام نہ ماننے والوں کوامامت وجمعہ وجماعات سے خارج کرنا ان کا سخت ظلم ہے اور ان کی نمازجنازہ سے روکنا اوراشدظلم۔ظالموں کی تعظیم حرام ہے اور عالمان دین کی اہانت کفرہے۔مجمع الانہر میں ہے:
من قال للعالم عویلم قاصدا بہ الاستخفاف کفر ۔ جس شخص نے کسی عالم کو بصیغہ تصغیر عویلم ہلکاجان کرکہا تو وہ کافرہوگیا۔(ت)
اذا وسد الامر الی غیراھلہ فانتظر الساعۃ ۔واﷲ تعالی اعلم جب نا اہل کوکام سپرد کیاجائے توقیامت کاانتظارکرو(ت)
مسئلہ ۳۵۸: ازموضع گھاگرہ ڈاکخانہ پائیکوڑہ ضلع میمن سنگھ مسئولہ مولوی سعیدالرحمن ۲۹رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موضع گھاگرہ میں لوگوں نے ایك نیاجلسہ قائم کیا ہے بنگلہ میں اس کانام سمیتی ہے واسطے فیصلہ کرنے مقدمہ وغیرہ کے۔لیکن اس میں چارپانچ شخص ناقابل علم شریعت سے ناواقف سردارہوکر اپنی رائے کے مطابق احکام جاری کرتے ہیں شریعت کے خلاف اور اگرکوئی ان کے خلاف شرع حکم کونہ مانے تو اس کو امامت سے برخاست اور جمعہ وجماعت سے خارج کرتے ہیں اور لوگوں کو اس کی دعوت ونمازجنازہ غرض تمام دنیوی اخروی کاموں سے منع کرتے ہیں علماء کی اہانتظالموں کی تعظیم وتکریم کرتے ہیں اور عالموں سے حسدبغض کینہ دل وجان سے کرتے ہیں حتی کہ اہل علم کو حقیرسمجھتے اور کبھی گالیاں بھی دیتے ہیں حسد کی وجہ سے عالموں کو پیچھے اور ان پڑھ کو آگے نمازپڑھنے کاحکم دیتے ہیں یعنی جاہل کو امامت کاحکم دیتے ہیںموافق شریعت ان پرکیاحکم ہے اور جو ان کی مدد کرے ان پر کس قدرگناہ ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
جاہلوں کوحاکم شرع بناناحرام ہے اور وہ جو خلاف شرع حکم دیتے ہیں اس کاماننا حرام ہےایسے لوگوں کے لئے قرآن عظیم میں تین الفاظ ارشاد فرمائے:ظالمفاسقکافر۔اور اپنے باطل احکام نہ ماننے والوں کوامامت وجمعہ وجماعات سے خارج کرنا ان کا سخت ظلم ہے اور ان کی نمازجنازہ سے روکنا اوراشدظلم۔ظالموں کی تعظیم حرام ہے اور عالمان دین کی اہانت کفرہے۔مجمع الانہر میں ہے:
من قال للعالم عویلم قاصدا بہ الاستخفاف کفر ۔ جس شخص نے کسی عالم کو بصیغہ تصغیر عویلم ہلکاجان کرکہا تو وہ کافرہوگیا۔(ت)
اور عالم دین سے بلاوجہ بغض رکھنے میں بھی خوف کفرہے اگرچہ اہانت نہ کرے۔فتاوی خلاصہ وغیرہا میں ہے:
من ابغض عالما بغیر وجہ ظاھر خیف علیہ الکفر ۔ جس نے کسی عالم سے بغیر کسی وجہ ظاہر کے دشمنی رکھی تو اس پرکفر کا اندیشہ ہے۔(ت)
عالموں کے پیچھے نمازپڑھنے سے منع کرنا اور جاہلوں کوامام بنانا حکم شریعت کابدلنا ہے۔غرض ایسے لوگ شیطان کے مسخرے ہیں مسلمانوں پرفرض ہے کہ ان سے دور رہیں اور جو ان کی مدد کرتے ہیں وہ انہیں کے مثل ہیں۔حدیث میں ہے:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقہ ربقۃ الاسلام ۔والعیاذباﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔ جودانستہ ظالم کی مدددینے چلے اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی۔
مسئلہ۳۵۹۳۶۰: ازگورکھپور محلہ دھمال مسئولہ سعیدالدین ۹شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱)عالم کایہ کہہ دینا کہ میں نے مسئلہ صحیح بیان کیاتھا یاغلط مجھ کو یادنہیں ہے دوسرے سے پوچھ لودرست ہے یانہیں
(۲)کسی عالم سے پوچھا کہ آپ صحیح وغلط بھی بیان کرتے ہیں اوراس پر اس کاجواب دینا کہ ہاںدرست ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)صرف درست نہیں بلکہ واجب ہے اگر اس کو اپنے بیان میں شك ہوگیا ہو اور خود اس کی تنقیح نہ کرسکتاہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ مجھ سے کبھی خطا بھی ہوجاتی ہے تودرست ہے اور اگریہ مراد کہ کبھی قصدا مسئلہ غلط بیان کردیتا ہے توسخت فسق کااقرار ہے۔واﷲ تعالی اعلم
من ابغض عالما بغیر وجہ ظاھر خیف علیہ الکفر ۔ جس نے کسی عالم سے بغیر کسی وجہ ظاہر کے دشمنی رکھی تو اس پرکفر کا اندیشہ ہے۔(ت)
عالموں کے پیچھے نمازپڑھنے سے منع کرنا اور جاہلوں کوامام بنانا حکم شریعت کابدلنا ہے۔غرض ایسے لوگ شیطان کے مسخرے ہیں مسلمانوں پرفرض ہے کہ ان سے دور رہیں اور جو ان کی مدد کرتے ہیں وہ انہیں کے مثل ہیں۔حدیث میں ہے:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقہ ربقۃ الاسلام ۔والعیاذباﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔ جودانستہ ظالم کی مدددینے چلے اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی۔
مسئلہ۳۵۹۳۶۰: ازگورکھپور محلہ دھمال مسئولہ سعیدالدین ۹شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱)عالم کایہ کہہ دینا کہ میں نے مسئلہ صحیح بیان کیاتھا یاغلط مجھ کو یادنہیں ہے دوسرے سے پوچھ لودرست ہے یانہیں
(۲)کسی عالم سے پوچھا کہ آپ صحیح وغلط بھی بیان کرتے ہیں اوراس پر اس کاجواب دینا کہ ہاںدرست ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)صرف درست نہیں بلکہ واجب ہے اگر اس کو اپنے بیان میں شك ہوگیا ہو اور خود اس کی تنقیح نہ کرسکتاہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ مجھ سے کبھی خطا بھی ہوجاتی ہے تودرست ہے اور اگریہ مراد کہ کبھی قصدا مسئلہ غلط بیان کردیتا ہے توسخت فسق کااقرار ہے۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر الجنس الثامن مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۸
المعجم الکبیر حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱/ ۲۲۷
المعجم الکبیر حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱/ ۲۲۷
مسئلہ ۳۶۱: ازاجمیر مقدس محلہ لاکھی کوٹھری اوپری گلی نزدپیرزادگان مسئولہ کمال الدین ۸شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے کو عوام پرمولوی ظاہرکرے جس نے نہ تو کسی مدرسہ میں تعلیم باقاعدہ حاصل کی ہو اور نہ جس نے کوئی سند منشی عالم فاضل کی حاصل کی ہو اور خود ساختہ استفتاء پرخود ہی جواب تحریرکردے اور طلباء ومدرسین سے دستخط کرائے اور جس سے اپنی ذات کاممتنع ہونامقصود ہو اور جوجیدعالم ومولوی صاحبان وقاضی صاحب پرشہرت حاصل کرنے اور زرحاصل کرنے کی غرض سے جاوبیجاحملہ کرے اور جو مدت تك قاضی صاحب کے پیچھے نمازادا کرتارہا ہو اور چندروز سے قاضی صاحب کے پیچھے نمازادانہیں کرتاہے اور صدہا علماقاضی صاحب کے پیچھے نماز اداکرتے رہے ہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سندحاصل کرنا توکچھ ضرورنہیںہاں باقاعدہ تعلیم پاناضرورہے مدرسہ میں ہو یاکسی عالم کے مکان پراور جس نے بے قاعدہ تعلیم پائی وہ جاہل محض سے بدترنیم ملاخطرہ ایمان ہوگا ایسے شخص کو فتوی نویسی پرجرأت حرام ہے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض ۔ جوبے علم فتوی دے اس پرآسمان وزمین کے فرشتوں کی لعنت ہے۔
اور اگرفتوی سے اگرچہ صحیح ہو وجہ اﷲ مقصودنہیں بلکہ اپناکوئی دنیاوی نفع منظورہے تویہ دوسرا سبب لعنت ہے کہ آیات اﷲ کے عوض ثمن قلیل حاصل کرنے پرفرمایاگیا:
" اولئک لا خلق لہم فی الاخرۃ ولا یکلمہم اللہ ولا ینظر الیہم یوم القیمۃ ولا یزکیہم۪ ولہم عذاب الیم﴿۷۷﴾
"
ان کاآخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اﷲ ان سے کلام نہ فرمائے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف نظررحمت کرے اور نہ انہیں پاك کرے گا اور ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔
اور علمائے دین کی توہین کرنے والا منافق ہے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے کو عوام پرمولوی ظاہرکرے جس نے نہ تو کسی مدرسہ میں تعلیم باقاعدہ حاصل کی ہو اور نہ جس نے کوئی سند منشی عالم فاضل کی حاصل کی ہو اور خود ساختہ استفتاء پرخود ہی جواب تحریرکردے اور طلباء ومدرسین سے دستخط کرائے اور جس سے اپنی ذات کاممتنع ہونامقصود ہو اور جوجیدعالم ومولوی صاحبان وقاضی صاحب پرشہرت حاصل کرنے اور زرحاصل کرنے کی غرض سے جاوبیجاحملہ کرے اور جو مدت تك قاضی صاحب کے پیچھے نمازادا کرتارہا ہو اور چندروز سے قاضی صاحب کے پیچھے نمازادانہیں کرتاہے اور صدہا علماقاضی صاحب کے پیچھے نماز اداکرتے رہے ہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سندحاصل کرنا توکچھ ضرورنہیںہاں باقاعدہ تعلیم پاناضرورہے مدرسہ میں ہو یاکسی عالم کے مکان پراور جس نے بے قاعدہ تعلیم پائی وہ جاہل محض سے بدترنیم ملاخطرہ ایمان ہوگا ایسے شخص کو فتوی نویسی پرجرأت حرام ہے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض ۔ جوبے علم فتوی دے اس پرآسمان وزمین کے فرشتوں کی لعنت ہے۔
اور اگرفتوی سے اگرچہ صحیح ہو وجہ اﷲ مقصودنہیں بلکہ اپناکوئی دنیاوی نفع منظورہے تویہ دوسرا سبب لعنت ہے کہ آیات اﷲ کے عوض ثمن قلیل حاصل کرنے پرفرمایاگیا:
" اولئک لا خلق لہم فی الاخرۃ ولا یکلمہم اللہ ولا ینظر الیہم یوم القیمۃ ولا یزکیہم۪ ولہم عذاب الیم﴿۷۷﴾
"
ان کاآخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اﷲ ان سے کلام نہ فرمائے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف نظررحمت کرے اور نہ انہیں پاك کرے گا اور ان کے لئے دردناك عذاب ہے۔
اور علمائے دین کی توہین کرنے والا منافق ہے۔حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References
کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی حدیث ۲۹۰۱۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۹۳
القرآن الکریم ۳ /۷۷
القرآن الکریم ۳ /۷۷
ثلثۃ لایستخف بحقھم الامنافق بین النفاق ذو العلم وذوالشیبۃ فی الاسلام و امام مقسط ۔ تین شخصوں کاحق ہلکانہ جائے گا مگر جومنافق کھلا منافق ہو عالم اوروہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا اور سلطان اسلام عادل۔
تحصیل زرکے لئے علماء مسلمین پربیجاحملہ کرنے والا ظالم ہے اور ظلم قیامت کے دن ظلماتقاضی مذکور جیسے امام کے پیچھے بلاوجہ شرعی نماز ترك کرنا تفریق جماعت یاترك جماعت ہےاور دونوں حرام وناجائز۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۶۲: ازیوناورعلاقہ پران ملك مالوہ مسئولہ قاسم علی ۱۸ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اسلام وایمان وشرع شریف کے احکام کوجانتاہے اور لوگوں کوگناہ سے بچنے کی ہدایت اس آیت کے وسیلے " فذکر ان نفعت الذکری ﴿۹﴾" کرسکتاہے یانہیں
الجواب:
اگرعالم ہے تو اس کایہ منصب ہے اور جاہل کو وعظ کہنے کی اجازت نہیں وہ جتناسنوارے گا اس سے زیادہ بگاڑے گا واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۳: ازبھان پورہ مکہراسٹیٹ مسئولہ مرتضی خاں پی سارجنٹ سپرنٹنڈنٹ پولس آفس ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ خالد نے خلاف شرع کوئی مسئلہ بیان کیا اور بکر نے جس کے ذہن میں وہ غلط ہے بغرض اصلاح سوال کیاتوکہا بکرکا یہ سوال غلط ہے اور خالد نے یہ مسئلہ شرعیہ استصوابیہ کونہیں سمجھایا تو اس کے لئے کیاحکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
بکر کے ذہن میں جبکہ خالد کامسئلہ صحیح نہ تھا توبکر کااسے پوچھنا کچھ بے جانہ ہوا اور خالد کانہ بتانا سخت بے جاہوا خصوصا جبکہ خالد نے مسئلہ غلط بیان کیاہو۔واﷲ تعالی اعلم
تحصیل زرکے لئے علماء مسلمین پربیجاحملہ کرنے والا ظالم ہے اور ظلم قیامت کے دن ظلماتقاضی مذکور جیسے امام کے پیچھے بلاوجہ شرعی نماز ترك کرنا تفریق جماعت یاترك جماعت ہےاور دونوں حرام وناجائز۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۶۲: ازیوناورعلاقہ پران ملك مالوہ مسئولہ قاسم علی ۱۸ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اسلام وایمان وشرع شریف کے احکام کوجانتاہے اور لوگوں کوگناہ سے بچنے کی ہدایت اس آیت کے وسیلے " فذکر ان نفعت الذکری ﴿۹﴾" کرسکتاہے یانہیں
الجواب:
اگرعالم ہے تو اس کایہ منصب ہے اور جاہل کو وعظ کہنے کی اجازت نہیں وہ جتناسنوارے گا اس سے زیادہ بگاڑے گا واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۳: ازبھان پورہ مکہراسٹیٹ مسئولہ مرتضی خاں پی سارجنٹ سپرنٹنڈنٹ پولس آفس ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ خالد نے خلاف شرع کوئی مسئلہ بیان کیا اور بکر نے جس کے ذہن میں وہ غلط ہے بغرض اصلاح سوال کیاتوکہا بکرکا یہ سوال غلط ہے اور خالد نے یہ مسئلہ شرعیہ استصوابیہ کونہیں سمجھایا تو اس کے لئے کیاحکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
بکر کے ذہن میں جبکہ خالد کامسئلہ صحیح نہ تھا توبکر کااسے پوچھنا کچھ بے جانہ ہوا اور خالد کانہ بتانا سخت بے جاہوا خصوصا جبکہ خالد نے مسئلہ غلط بیان کیاہو۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
المعجم الکبیر حدیث ۷۸۱۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۸/ ۲۳۸،کنزالعمال حدیث ۴۳۸۱۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۳۲
القرآن الکریم ۸۷ /۹
القرآن الکریم ۸۷ /۹
مسئلہ ۳۶۴: ازملك آسام ضلع گوہتی مرسلہ محمد طیب اﷲ ۸ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص سیدوعالم ایساہے کہ تمام شہر کااستاد ہے اور فتوے وفرائض وامامت عیدگاہ اور جنازہ وغیرہ کاکام اسی سے ہوتاہے۔اگرکوئی ضیافت میں اکراما یاامتیازا ایك ہی دسترخوان پر ان کو برتن میں اور مہمان کو پتے میں کھلائیں توشرعا یہ درست ہے یانادرست بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب :
بلاشبہہ جائزہےعلماء سادات کو رب العزت عزوجل نے اعزازوامتیاز بخشاتو ان کا عام مسلمانوں سے زیادہ اکرام امرشرع کاامتثال اور صاحب حق کو اس کے حق کا ایفاہے۔
قال اﷲ تعالی" قل ہل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)تو فرماکیا برابرہوجائیں گے عالم اور جاہل۔
جب اﷲ جل وعلاہی نے علماء وجہلاء کو برابر نہ رکھا تومسلمانوں پر بھی ان کا امتیاز لازماسی باب سے ہے علمائے دین کومجالس میں صدرمقام ومسنداکرام پر جگہ دینا کہ سلفا وخلفا شائع وذائع اور شرعا وعرفا مندوب ومطلوب۔ام المومنین صدیقہ صلی اﷲ تعالی علی بعلہا الکریم وعلیہا وسلم کی خدمت اقدس میں ایك سائل کاگزرہوا اسے ایك ٹکڑا عطافرمادیا ایك شخص خوش لباس شاندار گزرا اسے بٹھاکر کھاناکھلایا اس بارہ میں ام المومنین سے استفسار ہوافرمایا حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہرشخص سے اس کے مرتبہ کے لائق برتاؤ کرو۔دیکھو یہ تفرقہ برتن اور پتے کے فرق سے کہیں زائدہے اور عالم وجاہل وسید وغیرسید کاامتیاز سائل وخوش لباس کے امتیاز سے کہیں بڑھ کر۔
ابوداؤد فی سننہ عن میمون بن ابی شبیب ان عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا مربھا رجل علیہ ثیاب وھیأۃ فاقعدتہ امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں حضرت میمون بن ابی شبیب سے روایت کی ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے پاس سے ایك شخص عمدہ لباس پہنے ہوئے گزرا تو آپ نے اسے
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص سیدوعالم ایساہے کہ تمام شہر کااستاد ہے اور فتوے وفرائض وامامت عیدگاہ اور جنازہ وغیرہ کاکام اسی سے ہوتاہے۔اگرکوئی ضیافت میں اکراما یاامتیازا ایك ہی دسترخوان پر ان کو برتن میں اور مہمان کو پتے میں کھلائیں توشرعا یہ درست ہے یانادرست بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب :
بلاشبہہ جائزہےعلماء سادات کو رب العزت عزوجل نے اعزازوامتیاز بخشاتو ان کا عام مسلمانوں سے زیادہ اکرام امرشرع کاامتثال اور صاحب حق کو اس کے حق کا ایفاہے۔
قال اﷲ تعالی" قل ہل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)تو فرماکیا برابرہوجائیں گے عالم اور جاہل۔
جب اﷲ جل وعلاہی نے علماء وجہلاء کو برابر نہ رکھا تومسلمانوں پر بھی ان کا امتیاز لازماسی باب سے ہے علمائے دین کومجالس میں صدرمقام ومسنداکرام پر جگہ دینا کہ سلفا وخلفا شائع وذائع اور شرعا وعرفا مندوب ومطلوب۔ام المومنین صدیقہ صلی اﷲ تعالی علی بعلہا الکریم وعلیہا وسلم کی خدمت اقدس میں ایك سائل کاگزرہوا اسے ایك ٹکڑا عطافرمادیا ایك شخص خوش لباس شاندار گزرا اسے بٹھاکر کھاناکھلایا اس بارہ میں ام المومنین سے استفسار ہوافرمایا حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہرشخص سے اس کے مرتبہ کے لائق برتاؤ کرو۔دیکھو یہ تفرقہ برتن اور پتے کے فرق سے کہیں زائدہے اور عالم وجاہل وسید وغیرسید کاامتیاز سائل وخوش لباس کے امتیاز سے کہیں بڑھ کر۔
ابوداؤد فی سننہ عن میمون بن ابی شبیب ان عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا مربھا رجل علیہ ثیاب وھیأۃ فاقعدتہ امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں حضرت میمون بن ابی شبیب سے روایت کی ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے پاس سے ایك شخص عمدہ لباس پہنے ہوئے گزرا تو آپ نے اسے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۳۹ /۹
فاکل فقیل لھا فی ذلك فقالت قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انزلوا الناس منازلھم ۔ بٹھاکر کھاناکھلایا پھر آپ سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب سلوك کیاکرو(ت)
امام مسلم اپنے مقدمہ صحیح میں فرماتے ہیں:
لایقصر بالرجل العالی القدر عن درجتہ ولایرفع متضع القدر فی العلم فوق منزلتہ و یعطی کل ذی حق فیہ حقہ وینزل منزلتہ وقد ذکر عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا انھا قالت امرنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان ننزل الناس منازلھم ۔ بلند مرتبہ شخص کی حسب مرتبہ عزت وقدر ہونی چاہئے اس کی توقیر کرنے میں کوتاہی نہیں ہونی چاہئے اور پست درجہ والے کو اس کی حیثیت سے بڑھانا بھی مناسب نہیں ا س سلسلے میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے حوالے سے ذکرکیاگیاہے کہ آپ نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم لوگوں سے ان کے مراتب کے مطابق سلوك کیاکریں۔(ت)
ہاں علماء وسادات کو یہ ناجائزوممنوع ہے کہ آپ اپنے لئے سب سے امتیاز چاہیں اور اپنے نفس کو اور مسلمانوں سے بڑاجانیں کہ یہ تکبرہے اور تکبر ملك جبار جلت عظمتہ کے سوا کسی کو لائق نہیںبندہ کے حق میں گناہ اکبرہے
" الیس فی جہنم مثوی للمتکبرین ﴿۶۰﴾ " کیا جہنم میں نہیں ہے ٹھکانا تکبروالوں کا۔ جب سب علما کے آقا سب سادات کے باپ حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انتہادرجہ کی تواضع فرماتے اور مقام ومجلس وخورش وروش کسی امر میں اپنے بندگان بارگارہ پراختیار نہ چاہتے تو دوسرے کی کیاحقیقت ہے مگرمسلمانوں کویہی حکم ہے کہ سب سے زائد علماوسادات کااعزاز وامتیاز کریں یہ ایسا ہے کہ کسی شخص کولوگوں سے اپنے لئے طالب قیام ہونا مکروہ اور
امام مسلم اپنے مقدمہ صحیح میں فرماتے ہیں:
لایقصر بالرجل العالی القدر عن درجتہ ولایرفع متضع القدر فی العلم فوق منزلتہ و یعطی کل ذی حق فیہ حقہ وینزل منزلتہ وقد ذکر عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنھا انھا قالت امرنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان ننزل الناس منازلھم ۔ بلند مرتبہ شخص کی حسب مرتبہ عزت وقدر ہونی چاہئے اس کی توقیر کرنے میں کوتاہی نہیں ہونی چاہئے اور پست درجہ والے کو اس کی حیثیت سے بڑھانا بھی مناسب نہیں ا س سلسلے میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے حوالے سے ذکرکیاگیاہے کہ آپ نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم لوگوں سے ان کے مراتب کے مطابق سلوك کیاکریں۔(ت)
ہاں علماء وسادات کو یہ ناجائزوممنوع ہے کہ آپ اپنے لئے سب سے امتیاز چاہیں اور اپنے نفس کو اور مسلمانوں سے بڑاجانیں کہ یہ تکبرہے اور تکبر ملك جبار جلت عظمتہ کے سوا کسی کو لائق نہیںبندہ کے حق میں گناہ اکبرہے
" الیس فی جہنم مثوی للمتکبرین ﴿۶۰﴾ " کیا جہنم میں نہیں ہے ٹھکانا تکبروالوں کا۔ جب سب علما کے آقا سب سادات کے باپ حضور پرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انتہادرجہ کی تواضع فرماتے اور مقام ومجلس وخورش وروش کسی امر میں اپنے بندگان بارگارہ پراختیار نہ چاہتے تو دوسرے کی کیاحقیقت ہے مگرمسلمانوں کویہی حکم ہے کہ سب سے زائد علماوسادات کااعزاز وامتیاز کریں یہ ایسا ہے کہ کسی شخص کولوگوں سے اپنے لئے طالب قیام ہونا مکروہ اور
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب تنزیل الناس منازلہم آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۰۹
صحیح مسلم مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴
القرآن الکریم ۳۹ /۶۰
صحیح مسلم مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴
القرآن الکریم ۳۹ /۶۰
لوگوں کا معظم دینی کے لئے قیام مندوب۔پھر جب اہل اسلام ان کے ساتھ امتیاز خاص کابرتاؤ کریں تو اس کا قبول انہیں ممنوع نہیںامیرالمومنین سیدنا مولی علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ الاسنیکہیں تشریف فرماہوئے صاحب خانہ نے حضرت کے لئے مسندحاضر کی امیرالمومنین اس پررونق افروز ہوئے اور فرمایا:کوئی گدھا ہی عزت کی بات قبول نہ کرے گا۔
سعید بن منصور فی سننہ عن سفین بن عیینہ عن عمروبن دینار عن محمد بن علی رضی اﷲ تعالی عنھما قال القی لعلی کرم اﷲ تعالی وجہہ وسادۃ فقعد علیھا وقال لایابی الکرامۃ الاحماررواہ الدیلمی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فذکروہ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ سعید بن منصور نے اپنی سنن میں سفیان بن عیینہ سے انہوں نے عمروبن دینار سے انہوں نے محمدبن علی سے روایت کی ہے کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے لئے وسادۃ(یعنی بچھونا) بچھایا گیا اور آپ اس پرتشریف فرماہوئے اور فرمایا:عزت و توقیر کا انکار گدھا ہی کرسکتا ہے۔اور محدث دیلمی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاپھر اس نے وہی حدیث بیان فرمائی۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
سعید بن منصور فی سننہ عن سفین بن عیینہ عن عمروبن دینار عن محمد بن علی رضی اﷲ تعالی عنھما قال القی لعلی کرم اﷲ تعالی وجہہ وسادۃ فقعد علیھا وقال لایابی الکرامۃ الاحماررواہ الدیلمی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فذکروہ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ سعید بن منصور نے اپنی سنن میں سفیان بن عیینہ سے انہوں نے عمروبن دینار سے انہوں نے محمدبن علی سے روایت کی ہے کہ حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے لئے وسادۃ(یعنی بچھونا) بچھایا گیا اور آپ اس پرتشریف فرماہوئے اور فرمایا:عزت و توقیر کا انکار گدھا ہی کرسکتا ہے۔اور محدث دیلمی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاپھر اس نے وہی حدیث بیان فرمائی۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
المقاصد الحسنہ بحوالہ سعید بن منصور حدیث ۱۳۱۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۴۶۹
مجالس ومحافل
میلاد شریفگیارہویں شریفمرثیےذکرشہادت وغیرہ
مسئلہ ۳۶۵: ازامروہہ مرسلہ مولوی سیدمحمدشاہد صاحب میلاد خواں ۲۲شعبان ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجالس میلاد میں امردوں کوبازوبناکرپڑھنادرست ہے یا نہیں اور وہ کون سی حالتیں ہیں جن کے سبب سے مولود کاپڑھناسنناناجائزہوجاتاہے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
امرد کہ اپنی خوبصورتی یاخوش آوازی سے محل اندیشہ فتنہ ہو خوش الحانی میں اسے بازو بنانے سے ممانعت کی جائے گی فان ھذا الشرع المطھر جاء بسد الذرائع واﷲ لایحب الفساد(کیونکہ یہ پاک شریعت(ناجائز)ذرائع کی روک تھام کرتی ہے اﷲ تعالی فتنہ وفساد کوپسندنہیں فرماتا۔ت)منقول ہے کہ عورت کے ساتھ دوشیطان ہوتے ہیں اور امرد کے ساتھ ستر۔علماء فرماتے ہیں امردکاحکم مثل عورت کے ہے۔
فی ردالمحتار عن الھندیۃ عن الملتقط الغلام اذا بلغ مبلغ ردالمحتار میں بحوالہ ہندیہ اس نے الملتقط سے نقل کیاہے کہ لڑکا جب مردوں کی حد کو پہنچ جائے
میلاد شریفگیارہویں شریفمرثیےذکرشہادت وغیرہ
مسئلہ ۳۶۵: ازامروہہ مرسلہ مولوی سیدمحمدشاہد صاحب میلاد خواں ۲۲شعبان ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجالس میلاد میں امردوں کوبازوبناکرپڑھنادرست ہے یا نہیں اور وہ کون سی حالتیں ہیں جن کے سبب سے مولود کاپڑھناسنناناجائزہوجاتاہے۔بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
امرد کہ اپنی خوبصورتی یاخوش آوازی سے محل اندیشہ فتنہ ہو خوش الحانی میں اسے بازو بنانے سے ممانعت کی جائے گی فان ھذا الشرع المطھر جاء بسد الذرائع واﷲ لایحب الفساد(کیونکہ یہ پاک شریعت(ناجائز)ذرائع کی روک تھام کرتی ہے اﷲ تعالی فتنہ وفساد کوپسندنہیں فرماتا۔ت)منقول ہے کہ عورت کے ساتھ دوشیطان ہوتے ہیں اور امرد کے ساتھ ستر۔علماء فرماتے ہیں امردکاحکم مثل عورت کے ہے۔
فی ردالمحتار عن الھندیۃ عن الملتقط الغلام اذا بلغ مبلغ ردالمحتار میں بحوالہ ہندیہ اس نے الملتقط سے نقل کیاہے کہ لڑکا جب مردوں کی حد کو پہنچ جائے
الرجال ولم یکن صبیحا فحکمہ حکم الرجال وان کان صبیحا فحکمہ حکم النساء ۔ اور خوبصورت نہ ہو تو وہ مردوں کا حکم رکھتاہے یعنی اس پر مردوں والے حکم کا اطلاق ہوگا اور اگروہ خوبصورت ہوتو عورتوں کاحکم رکھتا ہے(ت)
علماء نے اباحت سماع کے شرائط میں یہ بھی شمارفرمایا کہ ان میں کوئی امردنہ ہو۔
فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ عن العیونلہ شرائط ستۃ ان لایکون فیھم امرد الخ۔ فتاوی شامی میں تتارخانیہ سے اس نے العیون سے روایت کی ہے کہ سماع کے لئے چھ شرائط ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان میں بے ریش لڑکانہ ہو الخ۔(ت)
وہ پڑھنا سننا جومنکرات شرعیہ پرمشتمل ہوناجائز ہے جیسے روایات باطلہ وحکایات موضوعہ واشعار خلاف شرع خصوصا جن میں توہین انبیاء وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام ہوکہ آج کل کے جاہل نعت گویوں کے کلام میں یہ بلائے عظیم بکثرت ہے حالانکہ وہ صریح کلمہ کفرہے۔والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۶: کوہ نینی تال چھوٹا بازار مرسلہ شیخ علی الدین صاحب ۲۷ ربیع الآخرشریف ۱۳۱۳ھ
خدمت میں علمائے دین کی عرض ہے کہ جومولود شریف چندہ اہل ہنود سے ہوا اس میں بدنی اور مالی شرکت اور اہتمام اہل ہنود رہا اور وقت شروع مولود شریف اہل ہنود کی اجازت سے ہی شروع ہوا اور ان کی اجازت سے ہی ختم ہوا اور ان کی اجازت سے ہی شیرینی تقسیم ہوئی اور نیچے عام سڑک بازار میں فرش ہوکر کتاب پڑھی جاتی تھی اور اوپردکانوں کے چپ وراست بالاخانوں کے چھجوں پر اہل ہنود بیٹھے تھے اور ساتھ حکم کے اہتمام کرارہے تھے اور ہرایک کام ان کی اجازت سے ہی ہوتا تھا اور یہ شخص ایسے لہجہ سے آوازبناکر پڑھتاہے کہ مراثی لوگوں کو مات کرتاہے جولوگ بے علم وناواقف ہیں وہ اس کی آواز اور لہجہ پر لوٹ ہوجاتے ہیں۔اسی وجہ سے اس زید نے اپنے پانچ روپے فیس مولود شریف کی پڑھوائی مقرر کررکھے ہیں بغیرپانچ روپیہ فیس کے کسی کے یہاں جاتانہیں اور وقت نماز سب سے پہلے سبقت امامت کی کرتا ہے اور اپنے آپ کو"مولوی صاحب"کے لفظوں سے اپنے قلم سے لکھتاہے اور کچھ معمولی روایتیں علماء دین سے یاد کرلی ہیں اور جمعہ کے روز مسجد میں منبر پر
علماء نے اباحت سماع کے شرائط میں یہ بھی شمارفرمایا کہ ان میں کوئی امردنہ ہو۔
فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ عن العیونلہ شرائط ستۃ ان لایکون فیھم امرد الخ۔ فتاوی شامی میں تتارخانیہ سے اس نے العیون سے روایت کی ہے کہ سماع کے لئے چھ شرائط ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان میں بے ریش لڑکانہ ہو الخ۔(ت)
وہ پڑھنا سننا جومنکرات شرعیہ پرمشتمل ہوناجائز ہے جیسے روایات باطلہ وحکایات موضوعہ واشعار خلاف شرع خصوصا جن میں توہین انبیاء وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام ہوکہ آج کل کے جاہل نعت گویوں کے کلام میں یہ بلائے عظیم بکثرت ہے حالانکہ وہ صریح کلمہ کفرہے۔والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۶۶: کوہ نینی تال چھوٹا بازار مرسلہ شیخ علی الدین صاحب ۲۷ ربیع الآخرشریف ۱۳۱۳ھ
خدمت میں علمائے دین کی عرض ہے کہ جومولود شریف چندہ اہل ہنود سے ہوا اس میں بدنی اور مالی شرکت اور اہتمام اہل ہنود رہا اور وقت شروع مولود شریف اہل ہنود کی اجازت سے ہی شروع ہوا اور ان کی اجازت سے ہی ختم ہوا اور ان کی اجازت سے ہی شیرینی تقسیم ہوئی اور نیچے عام سڑک بازار میں فرش ہوکر کتاب پڑھی جاتی تھی اور اوپردکانوں کے چپ وراست بالاخانوں کے چھجوں پر اہل ہنود بیٹھے تھے اور ساتھ حکم کے اہتمام کرارہے تھے اور ہرایک کام ان کی اجازت سے ہی ہوتا تھا اور یہ شخص ایسے لہجہ سے آوازبناکر پڑھتاہے کہ مراثی لوگوں کو مات کرتاہے جولوگ بے علم وناواقف ہیں وہ اس کی آواز اور لہجہ پر لوٹ ہوجاتے ہیں۔اسی وجہ سے اس زید نے اپنے پانچ روپے فیس مولود شریف کی پڑھوائی مقرر کررکھے ہیں بغیرپانچ روپیہ فیس کے کسی کے یہاں جاتانہیں اور وقت نماز سب سے پہلے سبقت امامت کی کرتا ہے اور اپنے آپ کو"مولوی صاحب"کے لفظوں سے اپنے قلم سے لکھتاہے اور کچھ معمولی روایتیں علماء دین سے یاد کرلی ہیں اور جمعہ کے روز مسجد میں منبر پر
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظروالمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۳۳
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظروالمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۲۲
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی النظروالمس داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۲۲
بیٹھ کر وعظ پڑھتاہے اور پیرامریدی بھی کرتاہے اور وقت ختم ہونے مولود شریف کے اعلان بآوازبلند اسی زید مولود خواں نے کہا کہ دیکھو ان اہل ہنود صاحبوں کی امداد اور شرکت سے میرے یہاں پر کیسی رونق روشنی وغیرہ کی تم مسلمانوں سے دس حصہ اور بیس حصہ زائد ہوئی۔لہذا اب اس معاملہ میں استفتاء شرعی جوکچھ ہو وہ مشرح ہرفقرہ کاجواب تحریر فرمائیں۔جملہ اہل اسلام کوہ نینی تال چھوٹابازار۔
الجواب:
۱سائلین کے بیان سابق سے واضح ہوا کہ یہ چندہ ہندؤوں نے خود نہ کیا بلکہ زید میلادخواں نے مجلس کی اورمسلمانوں سے برخلاف ہوکرہندؤوں سے چندہ لیا اور ان کی امداد سے یہ کام کیا یہ سراپا خلاف شرع ہوارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا لانستعین بمشرک۔اخرجہ احمد وابوداؤد و ابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھا بسندصحیح۔ ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے(اس کو صحیح سند کے ساتھ امام احمدابوداؤد اور ابن ماجہ نے ام المومنین سیدعائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیاہے۔ت)
علمائے کرام تو اموردین میں کافر کتابی سے اتنی مددلینی بھی مکروہ رکھتے ہیں کہ اپنی قربانی ذبح کرنے کو اس سے کہے حالانکہ وہ ایک کام خدمت لینا ہے نہ کہ معاذاﷲ دینی بات کے لئے مشرکوں سے مانگنادینی کام کادارومدار سب انہیں کی اجازت پرہونا اسے کوئی سچامسلمان کامل الایمان گوارانہیں کرسکتا۔تنویرالابصار وردالمحتار وغیرہما میں ہے:
کرہ ذبح الکتابی ای بالامر لانھا قربۃ ولاینبغی ان یستعان بالکافر فی امورالدین الخ۔ کسی مسلمان کے حکم دینے سے کتابی کا قربانی کے جانورکوذبح کرنامکروہ ہے اس لئے کہ وہ قربت ہے یعنی تقرب الہی کا ذریعہ ہے اور یہ مناسب نہیں کہ دینی کاموں میں کسی کافر سے مدد لی جائے۔الخ(ت)
الجواب:
۱سائلین کے بیان سابق سے واضح ہوا کہ یہ چندہ ہندؤوں نے خود نہ کیا بلکہ زید میلادخواں نے مجلس کی اورمسلمانوں سے برخلاف ہوکرہندؤوں سے چندہ لیا اور ان کی امداد سے یہ کام کیا یہ سراپا خلاف شرع ہوارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا لانستعین بمشرک۔اخرجہ احمد وابوداؤد و ابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنھا بسندصحیح۔ ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے(اس کو صحیح سند کے ساتھ امام احمدابوداؤد اور ابن ماجہ نے ام المومنین سیدعائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیاہے۔ت)
علمائے کرام تو اموردین میں کافر کتابی سے اتنی مددلینی بھی مکروہ رکھتے ہیں کہ اپنی قربانی ذبح کرنے کو اس سے کہے حالانکہ وہ ایک کام خدمت لینا ہے نہ کہ معاذاﷲ دینی بات کے لئے مشرکوں سے مانگنادینی کام کادارومدار سب انہیں کی اجازت پرہونا اسے کوئی سچامسلمان کامل الایمان گوارانہیں کرسکتا۔تنویرالابصار وردالمحتار وغیرہما میں ہے:
کرہ ذبح الکتابی ای بالامر لانھا قربۃ ولاینبغی ان یستعان بالکافر فی امورالدین الخ۔ کسی مسلمان کے حکم دینے سے کتابی کا قربانی کے جانورکوذبح کرنامکروہ ہے اس لئے کہ وہ قربت ہے یعنی تقرب الہی کا ذریعہ ہے اور یہ مناسب نہیں کہ دینی کاموں میں کسی کافر سے مدد لی جائے۔الخ(ت)
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۶۸،سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی المشرک یسہم لہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹،سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب الاستعانۃ بالمشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۰۸
ردالمحتار کتاب الاضحیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۰۸
۲دوسرا امرناجائز اس مجلس میں یہ تھا کہ عام سڑک پرخصوصا بازار میں جہاں آمدورفت کی زیادہ کثرت رہتی ہے فرش کرکے کتاب پڑھنا کہ یہ حقوق عامہ میں دست اندازی ہوئی شریعت میں تو اسی لحاظ سے راستہ میں نماز پڑھنی بھی مکروہ ہوئی نہ کہ بازار کی سڑک پر مجلس۔درمختار وردالمحتار میں ہے:
تکرہ الصلوۃ فی طریق لان فیہ شغلہ بمالیس لہ لانھا حق العامۃ للمرور ۱ھ مختصرا۔ راستے میں نمازپڑھنا مکروہ ہے کیونکہ راستہ اس کام کے لئے نہیں لہذا اس کام کاکرنا لوگوں کے گزرنے کے حق کو متاثر کرتاہے ۱ھ مختصرا(ت)
۳تیسری سخت بیہودہ بات کتاب وقاری کا نیچے اور کافروں کاچھجوں پرہونا کہ سخت بے تعظیمی کتاب وذکر شریف تھی حضوراقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم توجب حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اپنا ذکرشریف سنتے تومسجد اقدس میں ان کے لئے منبربچھاتے وہ اس پرکھڑے ہوکر حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعت ومدحت اور حضور کے دشمنوں بدگویوں کی مذمت بیان کرتے کمارواہ الامام البخاری فی صحیحہ(جیسا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس کو روایت کیاہے۔ت)نہ کہ معاذاﷲ کتاب نیچے اور کافر اونچے ہوں۔
۴زید نے جواپنی مجلس خوانی خصوصا راگ سے پڑھنے کی اجرت مقرررکھی ہے ناجائزوحرام ہے اس کا لینا اسے ہرگزجائز نہیں اس کاکھاناصراحۃ حرام کھاناہے اس پرواجب ہے کہ جن جن سے فیس لی ہے یاد کرکے سب کو واپس دےوہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو پھیرےپتانہ چلے تو اتنامال فقیروں پر تصدق کرےاور آئندہ اس حرام خوری سے توبہ کرے توگناہ سے پاک ہو۔ اول تو سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاذکرپاک خود عمدہ طاعات واجل عبادات سے ہے اور طاعت وعبادت پرفیس لینی حراممبسوط پھر خلاصہ پھر عالمگیری میں ہے:
لایجوز الاستیجار علی الطاعات کالتذکیر ولایجب الاجر ۱ھ ملخصا۔ نیک کاموں میں اجرت لیناجائزنہیںجیسے وعظ کرنا۔اور اجرت واجب نہیں ہوگی ۱ھ ملخصا(ت)
خلاصہ پھرتتارخانیہ پھرہندیہ میں ہے:
الواعظ اذا سأل الناس شیئا فی جب وعظ کرنے والا مجلس میں اپنے لئے کچھ
تکرہ الصلوۃ فی طریق لان فیہ شغلہ بمالیس لہ لانھا حق العامۃ للمرور ۱ھ مختصرا۔ راستے میں نمازپڑھنا مکروہ ہے کیونکہ راستہ اس کام کے لئے نہیں لہذا اس کام کاکرنا لوگوں کے گزرنے کے حق کو متاثر کرتاہے ۱ھ مختصرا(ت)
۳تیسری سخت بیہودہ بات کتاب وقاری کا نیچے اور کافروں کاچھجوں پرہونا کہ سخت بے تعظیمی کتاب وذکر شریف تھی حضوراقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم توجب حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ سے اپنا ذکرشریف سنتے تومسجد اقدس میں ان کے لئے منبربچھاتے وہ اس پرکھڑے ہوکر حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعت ومدحت اور حضور کے دشمنوں بدگویوں کی مذمت بیان کرتے کمارواہ الامام البخاری فی صحیحہ(جیسا کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس کو روایت کیاہے۔ت)نہ کہ معاذاﷲ کتاب نیچے اور کافر اونچے ہوں۔
۴زید نے جواپنی مجلس خوانی خصوصا راگ سے پڑھنے کی اجرت مقرررکھی ہے ناجائزوحرام ہے اس کا لینا اسے ہرگزجائز نہیں اس کاکھاناصراحۃ حرام کھاناہے اس پرواجب ہے کہ جن جن سے فیس لی ہے یاد کرکے سب کو واپس دےوہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو پھیرےپتانہ چلے تو اتنامال فقیروں پر تصدق کرےاور آئندہ اس حرام خوری سے توبہ کرے توگناہ سے پاک ہو۔ اول تو سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاذکرپاک خود عمدہ طاعات واجل عبادات سے ہے اور طاعت وعبادت پرفیس لینی حراممبسوط پھر خلاصہ پھر عالمگیری میں ہے:
لایجوز الاستیجار علی الطاعات کالتذکیر ولایجب الاجر ۱ھ ملخصا۔ نیک کاموں میں اجرت لیناجائزنہیںجیسے وعظ کرنا۔اور اجرت واجب نہیں ہوگی ۱ھ ملخصا(ت)
خلاصہ پھرتتارخانیہ پھرہندیہ میں ہے:
الواعظ اذا سأل الناس شیئا فی جب وعظ کرنے والا مجلس میں اپنے لئے کچھ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۵۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارہ الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۴۸
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارہ الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۴۸
المجلس لنفسہ لایحل لہ ذلک لانہ اکتساب الدنیا بالعلم ۔ جب وعظ کرنے والا مجلس میں اپنے لئے کچھ مانگے تو اس کے لئے ایساکرناحلال نہیں کیونکہ اس میں علم کے ساتھ دنیا کاحصول ہے۔(ت)
قنیہ پھر اشباہ پھردرمختار میں ہے:
ونظم الدر اتمحیث یقول تسمی شرکۃ صنائع واعمال وابدان ان اتفق صانعان علی ان یتقبلا الاعمال التی یمکن استحقاقھا ومنہ تعلیم کتابۃ وقران و فقہ علی المفتی بہ بخلاف دلالین ومغنین وشھود محاکم وقراء مجالس و تعاز ووعاظ وسوال ۱ھ۔ درمختار کی عبارت زیادہ تام اور مفصل ہے۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں (شرکت تقبل)جس کو شرکت صنائع واعمال وابدان کہاجاتا ہے(صنائع صنعت کی جمع ہے اس کے معنی ہیں پیشہ اور پیشہ ور کی کارکردگی۔اعمال اورابدانعمل اور بدن کی جمع ہیں۔چونکہ اس میں غالبا دونوں افراد کاجسمانی کام ہوتاہے اس لئے اس کو یہ نام دیاگیا)اگردوپیشہ وراس بات پرباہمی اتفاق کرلیں کہ وہ ایساکام لیں گے جس میں استحقاق اجرت ممکن ہے اور اسی شعبہ سے کتابت سکھاناقرآن مجید اور علم فقہ پڑھانا اس قول کے مطابق کہ جس پر فتوی دیاگیاہے بخلاف دودلالوں کی شرکت کے اور دوگویوں کی شرکت کے۔فیصلے کے دوگواہوںمجلس میں قرآن مجید پڑھنے والوںتعزیت کرنے والوںوعظ کرنے والوں اور اصرار کے ساتھ مانگنے والوں کی شرکت کے ۱ھ(ت)
ثانیا: بیان سائل سے ظاہر کہ وہ اپنی شعر خوانی وزمزمہ سنجی کی فیس لیتا ہے یہ بھی محض حرام۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لاتجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء و قراء ۃ الشعر ولا اجر فی ذلک وھذا کلہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف و محمد رحمہم اﷲ تعالی کذا فی غایۃ البیان ۱ھ مختصرا۔ گانا اور اشعار پڑھنا(ایسے اعمال ہیں)ان میں سے کسی پر مزدوری اور اجرت لیناجائزنہیں اور نہ ان میں اجرت ہے۔ امام ابوحنیفہ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اﷲ تعالی تینوں کایہ قول اور فتوی ہےچنانچہ غایۃ البیان میں یونہی مذکورہے ۱ھ مختصرا۔(ت)
قنیہ پھر اشباہ پھردرمختار میں ہے:
ونظم الدر اتمحیث یقول تسمی شرکۃ صنائع واعمال وابدان ان اتفق صانعان علی ان یتقبلا الاعمال التی یمکن استحقاقھا ومنہ تعلیم کتابۃ وقران و فقہ علی المفتی بہ بخلاف دلالین ومغنین وشھود محاکم وقراء مجالس و تعاز ووعاظ وسوال ۱ھ۔ درمختار کی عبارت زیادہ تام اور مفصل ہے۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں (شرکت تقبل)جس کو شرکت صنائع واعمال وابدان کہاجاتا ہے(صنائع صنعت کی جمع ہے اس کے معنی ہیں پیشہ اور پیشہ ور کی کارکردگی۔اعمال اورابدانعمل اور بدن کی جمع ہیں۔چونکہ اس میں غالبا دونوں افراد کاجسمانی کام ہوتاہے اس لئے اس کو یہ نام دیاگیا)اگردوپیشہ وراس بات پرباہمی اتفاق کرلیں کہ وہ ایساکام لیں گے جس میں استحقاق اجرت ممکن ہے اور اسی شعبہ سے کتابت سکھاناقرآن مجید اور علم فقہ پڑھانا اس قول کے مطابق کہ جس پر فتوی دیاگیاہے بخلاف دودلالوں کی شرکت کے اور دوگویوں کی شرکت کے۔فیصلے کے دوگواہوںمجلس میں قرآن مجید پڑھنے والوںتعزیت کرنے والوںوعظ کرنے والوں اور اصرار کے ساتھ مانگنے والوں کی شرکت کے ۱ھ(ت)
ثانیا: بیان سائل سے ظاہر کہ وہ اپنی شعر خوانی وزمزمہ سنجی کی فیس لیتا ہے یہ بھی محض حرام۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لاتجوز الاجارۃ علی شیئ من الغناء و قراء ۃ الشعر ولا اجر فی ذلک وھذا کلہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف و محمد رحمہم اﷲ تعالی کذا فی غایۃ البیان ۱ھ مختصرا۔ گانا اور اشعار پڑھنا(ایسے اعمال ہیں)ان میں سے کسی پر مزدوری اور اجرت لیناجائزنہیں اور نہ ان میں اجرت ہے۔ امام ابوحنیفہ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اﷲ تعالی تینوں کایہ قول اور فتوی ہےچنانچہ غایۃ البیان میں یونہی مذکورہے ۱ھ مختصرا۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۲۵۴
درمختار کتاب الشرکۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۳
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاجارۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۴۹
درمختار کتاب الشرکۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۳
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاجارۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۴۹
اور ۵یہیں سے ظاہر ہواکہ امامت میں اس کاسبقت کرنا بھی گناہ ہے جبکہ حاضرین میں اس کے سوا کوئی اور شخص قرآن مجید صحیح پڑھنے والا سنی صحیح العقیدہ متقی موجود ہوکہ جب یہ علانیہ حرام کھاتا ہے تو کھلا فاسق ہے اور فاسق کو اور لوگ اگرآگے کریں تو گنہگار ہوں نہ کہ خود ہی آگے بڑھ جائے۔غنیہ میں ہے:
لو قدموا فاسقا یأثمون ۔ اگرکسی فاسق کو لوگ امامت کے لئے آگے کریں توگناہگار ہوں گے۔(ت)
۶یوہیں اپنے آپ کو بے ضرورت شرعی مولوی صاحب لکھنابھی گناہ ومخالف حکم قرآن عظیم ہے۔
قال اﷲ تعالی" ہو اعلم بکم اذ انشاکم من الارض و اذ انتم اجنۃ فی بطون امہتکم فلا تزکوا انفسکم ہو اعلم بمن اتقی ﴿۳۲﴾ " (اﷲ تعالی نے فرمایا)اﷲ تعالی تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے اٹھان دی اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں چھپے تھے تو اپنی جانوں کوآپ اچھانہ کہو خدا خوب جانتاہے جوپرہیزگار ہے۔
اورفرماتاہے:
" الم تر الی الذین یزکون انفسہم بل اللہ یزکی من یشاء" کیاتونے نہ دیکھا ان لوگوں کو جو آپ اپنی جان کو ستھرابتاتے ہیں بلکہ خداستھراکرتاہے جسے چاہے۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قال اناعالم فھوجاھل۔رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما بسند حسن۔ جواپنے آپ کو عالم کہے وہ جاہل ہے(امام طبرانی نے الاوسط میں سندحسن کے ساتھ حضرت عبداﷲ ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کو روایت کیاہے۔ت)
لو قدموا فاسقا یأثمون ۔ اگرکسی فاسق کو لوگ امامت کے لئے آگے کریں توگناہگار ہوں گے۔(ت)
۶یوہیں اپنے آپ کو بے ضرورت شرعی مولوی صاحب لکھنابھی گناہ ومخالف حکم قرآن عظیم ہے۔
قال اﷲ تعالی" ہو اعلم بکم اذ انشاکم من الارض و اذ انتم اجنۃ فی بطون امہتکم فلا تزکوا انفسکم ہو اعلم بمن اتقی ﴿۳۲﴾ " (اﷲ تعالی نے فرمایا)اﷲ تعالی تمہیں خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے اٹھان دی اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں چھپے تھے تو اپنی جانوں کوآپ اچھانہ کہو خدا خوب جانتاہے جوپرہیزگار ہے۔
اورفرماتاہے:
" الم تر الی الذین یزکون انفسہم بل اللہ یزکی من یشاء" کیاتونے نہ دیکھا ان لوگوں کو جو آپ اپنی جان کو ستھرابتاتے ہیں بلکہ خداستھراکرتاہے جسے چاہے۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قال اناعالم فھوجاھل۔رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما بسند حسن۔ جواپنے آپ کو عالم کہے وہ جاہل ہے(امام طبرانی نے الاوسط میں سندحسن کے ساتھ حضرت عبداﷲ ابن عمررضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کو روایت کیاہے۔ت)
حوالہ / References
غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
القرآن الکریم ۴ /۴۹
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۶۸۴۲ مکتبۃ المعارف ریاض ۷ /۴۳۳
القرآن الکریم ۵۳ /۳۲
القرآن الکریم ۴ /۴۹
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۶۸۴۲ مکتبۃ المعارف ریاض ۷ /۴۳۳
ہاں اگر کوئی شخص حقیقت میں عالم دین ہو اور لوگ اس کے فضل سے ناواقف اور یہ اس سچی نیت سے کہ وہ آگاہ ہوکر فیض لیں ہدایت پائیں اپنا عالم ہوناظاہر کرے تو مضائقہ نہیں جیسے سیدنا یوسف علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایاتھا: " انی حفیظ علیم ﴿۵۵﴾ " (بیشک میں حفاظت کرنے والا اور جاننے والاہوں۔ت)پھریہ بھی سچے عالموں کے لئے ہے۔
۷زیدجاہل کااپنے آپ کو مولوی صاحب کہنا دوناگناہ ہے کہ اس کے ساتھ جھوٹ اور جھوٹی تعریف کاپسندکرنا بھی شامل ہوا۔
قال اﷲ عزوجل" لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا فلا تحسبنہم بمفازۃ من العذاب ولہم عذاب الیم ﴿۱۸۸﴾ " ۔ (اﷲ عزوجل نے فرمایا)ہرگزنہ جانیو تو انہیں جو اتراتے ہیں اپنے کام پراور دوست رکھتے ہیں اسے کہ تعریف کئے جائیں اس بات سے جو انہوں نے نہ کی توہرگز نہ جانیو انہیں عذاب سے پناہ کی جگہ میں اور ان کے لئے دکھ کی مارہے۔
معالم شریف میں عکرمۃ تابعی شاگرد عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں منقول:
یفرحون باضلالھم الناس وبنسبۃ الناس ایاھم الی العلم ولیسوا باھل العلم ۔ خوش ہوتے ہیں لوگوں کوبہکانے اور اس پر کہ لوگ انہیں مولوی کہیں حالانکہ مولوی نہیں۔
۸جاہل کی وعظ گوئی بھی گناہ ہے۔وعظ میں قرآن مجید کی تفسیر یانبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث یاشریعت کامسئلہ اور جاہل کو ان میں کسی چیز کابیان جائزنہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قال فی القران بغیرعلم فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ رواہ الترمذی جو بے علم قرآن کی تفسیر بیان کرے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے(اس کو امام ترمذی نے
۷زیدجاہل کااپنے آپ کو مولوی صاحب کہنا دوناگناہ ہے کہ اس کے ساتھ جھوٹ اور جھوٹی تعریف کاپسندکرنا بھی شامل ہوا۔
قال اﷲ عزوجل" لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا فلا تحسبنہم بمفازۃ من العذاب ولہم عذاب الیم ﴿۱۸۸﴾ " ۔ (اﷲ عزوجل نے فرمایا)ہرگزنہ جانیو تو انہیں جو اتراتے ہیں اپنے کام پراور دوست رکھتے ہیں اسے کہ تعریف کئے جائیں اس بات سے جو انہوں نے نہ کی توہرگز نہ جانیو انہیں عذاب سے پناہ کی جگہ میں اور ان کے لئے دکھ کی مارہے۔
معالم شریف میں عکرمۃ تابعی شاگرد عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں منقول:
یفرحون باضلالھم الناس وبنسبۃ الناس ایاھم الی العلم ولیسوا باھل العلم ۔ خوش ہوتے ہیں لوگوں کوبہکانے اور اس پر کہ لوگ انہیں مولوی کہیں حالانکہ مولوی نہیں۔
۸جاہل کی وعظ گوئی بھی گناہ ہے۔وعظ میں قرآن مجید کی تفسیر یانبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث یاشریعت کامسئلہ اور جاہل کو ان میں کسی چیز کابیان جائزنہیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قال فی القران بغیرعلم فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ رواہ الترمذی جو بے علم قرآن کی تفسیر بیان کرے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے(اس کو امام ترمذی نے
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۲ /۵۵
القرآن الکریم ۳ /۱۸۸
معالم التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۱۸۸ مصطفی البابی حلبی مصر ۱/ ۴۶۵
جامع الترمذی ابواب تفسیر القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۹
القرآن الکریم ۳ /۱۸۸
معالم التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۱۸۸ مصطفی البابی حلبی مصر ۱/ ۴۶۵
جامع الترمذی ابواب تفسیر القرآن امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۱۹
وصححہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔ حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا اور اسے صحیح قراردیا۔ت)
اور احادیث میں اسے صحیح وغلط وثابت وموضوع کی تمیزنہ ہوگیاور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من یقل علی مالم اقل فلیتبوأ مقعدہ من النار۔رواہ البخاری فی صحیحہ عن سلمۃ بن اکوع رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو مجھ پر وہ بات کہے جو میں نے نہ فرمائی وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے(امام بخاری نے اپنی صحیح میں سلمہ بن اکوع رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
افتوابغیر علم فضلوا واضلوا۔رواہ الائمۃ احمد والشیخان والترمذی وابن ماجۃ عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما۔ بے علم مسئلہ بیان کیا سو آپ بھی گمراہ ہوئے اور لوگوں کو بھی گمراہ کیا(ائمہ کرام مثلا امام احمدبخاریمسلمترمذی اور ابن ماجہ نے اس کو حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں آیا حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض۔ رواہ ابن عساکر عن امیرالمؤمنین علی کرم اﷲ وجھہ۔ جو بے علم فتوی دے اسے آسمان وزمین کے فرشتے لعنت کریں(ابن عساکر نے امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے اسے روایت کیا۔ت)
۹یوہیں جاہل کا پیر بننالوگوں کو مریدکرنا چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانا چھوٹامنہ بڑی بات ہے پیر ہادی ہوتاہے اور جاہل کی نسبت ابھی حدیثوں سے گزرا کہ ہدایت نہیں کرسکتا نہ قرآن سے نہ حدیث سے نہ فقہ ع
اور احادیث میں اسے صحیح وغلط وثابت وموضوع کی تمیزنہ ہوگیاور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من یقل علی مالم اقل فلیتبوأ مقعدہ من النار۔رواہ البخاری فی صحیحہ عن سلمۃ بن اکوع رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو مجھ پر وہ بات کہے جو میں نے نہ فرمائی وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے(امام بخاری نے اپنی صحیح میں سلمہ بن اکوع رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
افتوابغیر علم فضلوا واضلوا۔رواہ الائمۃ احمد والشیخان والترمذی وابن ماجۃ عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما۔ بے علم مسئلہ بیان کیا سو آپ بھی گمراہ ہوئے اور لوگوں کو بھی گمراہ کیا(ائمہ کرام مثلا امام احمدبخاریمسلمترمذی اور ابن ماجہ نے اس کو حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں آیا حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض۔ رواہ ابن عساکر عن امیرالمؤمنین علی کرم اﷲ وجھہ۔ جو بے علم فتوی دے اسے آسمان وزمین کے فرشتے لعنت کریں(ابن عساکر نے امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے اسے روایت کیا۔ت)
۹یوہیں جاہل کا پیر بننالوگوں کو مریدکرنا چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانا چھوٹامنہ بڑی بات ہے پیر ہادی ہوتاہے اور جاہل کی نسبت ابھی حدیثوں سے گزرا کہ ہدایت نہیں کرسکتا نہ قرآن سے نہ حدیث سے نہ فقہ ع
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب العلم باب اثم من کذب علی النبی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱
صحیح مسلم مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/،جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی ذھاب العلم کتاب خانہ رشیدیہ ۲/ ۹۰
الفقیہ والمتفقہ ماجاء من الوعید الخ ۱۰۴۳ دارابن جوزیہ جدہ وریاض ۲/ ۳۲۷
صحیح مسلم مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/،جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی ذھاب العلم کتاب خانہ رشیدیہ ۲/ ۹۰
الفقیہ والمتفقہ ماجاء من الوعید الخ ۱۰۴۳ دارابن جوزیہ جدہ وریاض ۲/ ۳۲۷
کہ بے علم نتواں خداراشناخت
(کیونکہ جاہل اﷲ تعالی کونہیں پہچان سکتا۔ت)
۱۰زید کامشرکین کی مدح وستائش علی الاعلان خصوصا منبر پرذکرشریف بیان کرنا خصوصا انہیں مسلمانوں پرترجیح دیناسخت ناپسند رب العزت جل وعلاہےحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلک العرش۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی والبیھقی فی الشعب عن انس بن مالک وابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنھما۔ جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے رب جل وعلا غضب فرماتاہے اور عرش الہی ہل جاتاہے۔(ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ(غیبت کی برائی)میںابو یعلی اور بیہقی نے حضرت انس بن مالک اور ابن عدی نے حضرت ابوھریرہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کو روایت کیاہے۔ت)
اس بیان سے تمام مراتب مسئولہ سائلین کاجواب ہوگیازید پرلازم کہ توبہ کرے۔اﷲ عزوجل توفیق دینے والاہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۶۷: ازدرؤ تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خاں ۲۲رجب ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیام بوقت میلادشریف سنت ہے یامباح اور تارک کی اس قیام پر حرف زنی درست ہے یانہ بینواتوجروا(بیان کیجئے اجرحاصل کیجئے۔ت)
الجواب:
مستحب ہے
کما نص علیہ ائمۃ ذوروایۃ ورؤیۃ کما فی عقد الجوھر و الدررالسنیۃ وغیرھما من الکتب البھیۃ ولنافیہ جیسا کہ ائمہ روایت ورؤیت نے اس کی تصریح فرمائی جیسا کہ عقد الجوہر اور دررسنیہ وغیرہ قیمتی کتب میں مذکورہ ہے اور اس موضوع پرہمارا
(کیونکہ جاہل اﷲ تعالی کونہیں پہچان سکتا۔ت)
۱۰زید کامشرکین کی مدح وستائش علی الاعلان خصوصا منبر پرذکرشریف بیان کرنا خصوصا انہیں مسلمانوں پرترجیح دیناسخت ناپسند رب العزت جل وعلاہےحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلک العرش۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی والبیھقی فی الشعب عن انس بن مالک وابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنھما۔ جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے رب جل وعلا غضب فرماتاہے اور عرش الہی ہل جاتاہے۔(ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ(غیبت کی برائی)میںابو یعلی اور بیہقی نے حضرت انس بن مالک اور ابن عدی نے حضرت ابوھریرہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس کو روایت کیاہے۔ت)
اس بیان سے تمام مراتب مسئولہ سائلین کاجواب ہوگیازید پرلازم کہ توبہ کرے۔اﷲ عزوجل توفیق دینے والاہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۶۷: ازدرؤ تحصیل کچھا ضلع نینی تال مرسلہ عبدالعزیز خاں ۲۲رجب ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیام بوقت میلادشریف سنت ہے یامباح اور تارک کی اس قیام پر حرف زنی درست ہے یانہ بینواتوجروا(بیان کیجئے اجرحاصل کیجئے۔ت)
الجواب:
مستحب ہے
کما نص علیہ ائمۃ ذوروایۃ ورؤیۃ کما فی عقد الجوھر و الدررالسنیۃ وغیرھما من الکتب البھیۃ ولنافیہ جیسا کہ ائمہ روایت ورؤیت نے اس کی تصریح فرمائی جیسا کہ عقد الجوہر اور دررسنیہ وغیرہ قیمتی کتب میں مذکورہ ہے اور اس موضوع پرہمارا
حوالہ / References
شعب الایمان حدیث ۴۸۸۶ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۲۳۰
عقدالجوھر فی مولدالنبی الازھر مطبوعہ جامعہ اسلامیہ لاہور ص۲۵ و ۲۶
عقدالجوھر فی مولدالنبی الازھر مطبوعہ جامعہ اسلامیہ لاہور ص۲۵ و ۲۶
رسالۃ کافیۃ شافیۃ باذن اﷲ تعالی سمیناھا"اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تھامۃ"صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ ایک رسالہ بنام"اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تھامۃ"صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(اس شخص پرقیامت برپا کر دینا جو نبی تہامہ کے لئے قیام تعظیم پرزبان طعن دراز کرے)لکھاہےیہ اﷲ تعالی کے حکم سے اپنے موضوع پرکافی اور بیمار ذہنوں کو شفابخشنے والاہے۔(ت)
یوں ترک ہوکہ چندلوگ بیٹھے ہیں ذکرولادت اقدس آیا تعظیم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے انکار نہیں مگر اس وقت بیٹھے رہے کہ آخرقیام واجب نہیں ایسے ترک پرطعن نیںاور اگریوں ترک ہو کہ مجلس میں اہل اسلام نے اپنے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کے لئے قیام کیا یہ بلاعذرجما رہا تو قطعا محل طعن و دلیل مرض قلب ہےنظیر اس کی شاہد عین یہ ہے کہ کسی مجمع میں بندگان سلطانی تعظیم سلطانی کیلئے سروقد کھڑے ہوں اور ایک نامہذب بے ادب قصدا بیٹھارہے ہرشخص اسے گستاخ کہے گا اور بادشاہ کے عتاب کا مستحق ہوگا یوں ہی اگر ترک قیام بربنائے اصول باطلہ وہابیت ہوتوشنیع ترہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۳۶۸: ازکانپور محلہ جرنیل گنج مسجد حاجی فرصت مرسلہ محمد سہول ۱۸محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام اے علماء کرام! تمہارا کیاارشاد ہے)اس مسئلہ میں کہ ذکرمیلاد کے وقت جیسا کہ آج کل قیام کرتےہیں یہ جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
قیام وقت ذکرولادت حضورسیدالانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام مستحب ومقبول ائمہ کرام وعلماء اعلام ورائج ومعمول حرمین طیبین وجملہ بلاد دارالاسلام ہے شرع مطہر سے اس کے منع پراصلا دلیل نہیں ومن ادعی فعلیہ البیان اس مسئلہ کی تفصیل جلیل کتاب مستطاب اذاقۃ الاثام لما نعی عمل المولد والقیام(ان لوگوں کے گناہ جومیلاد اور قیام سے روکنے والے ہیں۔ ت)تصنیف لطیف حضرت ختام المحققین امام المدققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد ورسالہ اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تہامۃ تالیف فقیرنحیف ودیگر کتب ورسائل علماء وافاضل میں ہےعلامہ سیدجعفربرزنجی مدنی قدس سرہ السنی عقد الجوہر میں فرماتے ہیں:
قد استحسن القیام عند ذکر ولادتہ الشریفۃ ائمۃ ذو روایۃ و رؤیۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکرولادت شریف کے وقت کھڑا ہونے کوائمہ روایت ودرایت نے مستحسن قراردیا ہے لہذا اس خوش نصیب کیلئے
یوں ترک ہوکہ چندلوگ بیٹھے ہیں ذکرولادت اقدس آیا تعظیم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے انکار نہیں مگر اس وقت بیٹھے رہے کہ آخرقیام واجب نہیں ایسے ترک پرطعن نیںاور اگریوں ترک ہو کہ مجلس میں اہل اسلام نے اپنے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کے لئے قیام کیا یہ بلاعذرجما رہا تو قطعا محل طعن و دلیل مرض قلب ہےنظیر اس کی شاہد عین یہ ہے کہ کسی مجمع میں بندگان سلطانی تعظیم سلطانی کیلئے سروقد کھڑے ہوں اور ایک نامہذب بے ادب قصدا بیٹھارہے ہرشخص اسے گستاخ کہے گا اور بادشاہ کے عتاب کا مستحق ہوگا یوں ہی اگر ترک قیام بربنائے اصول باطلہ وہابیت ہوتوشنیع ترہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۳۶۸: ازکانپور محلہ جرنیل گنج مسجد حاجی فرصت مرسلہ محمد سہول ۱۸محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام اے علماء کرام! تمہارا کیاارشاد ہے)اس مسئلہ میں کہ ذکرمیلاد کے وقت جیسا کہ آج کل قیام کرتےہیں یہ جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
قیام وقت ذکرولادت حضورسیدالانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والسلام مستحب ومقبول ائمہ کرام وعلماء اعلام ورائج ومعمول حرمین طیبین وجملہ بلاد دارالاسلام ہے شرع مطہر سے اس کے منع پراصلا دلیل نہیں ومن ادعی فعلیہ البیان اس مسئلہ کی تفصیل جلیل کتاب مستطاب اذاقۃ الاثام لما نعی عمل المولد والقیام(ان لوگوں کے گناہ جومیلاد اور قیام سے روکنے والے ہیں۔ ت)تصنیف لطیف حضرت ختام المحققین امام المدققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد ورسالہ اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تہامۃ تالیف فقیرنحیف ودیگر کتب ورسائل علماء وافاضل میں ہےعلامہ سیدجعفربرزنجی مدنی قدس سرہ السنی عقد الجوہر میں فرماتے ہیں:
قد استحسن القیام عند ذکر ولادتہ الشریفۃ ائمۃ ذو روایۃ و رؤیۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ذکرولادت شریف کے وقت کھڑا ہونے کوائمہ روایت ودرایت نے مستحسن قراردیا ہے لہذا اس خوش نصیب کیلئے
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غایۃ مراھہ ومرماہ خاتمۃ المحدثین ۔ خوشخبری ہے جس کا غایت مقصد اور مرکز نگاہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہے۔(ت)
علامہ سیداحمد زین دحلان مکی قدس سرہ الملکی الدرالسنیہ میں فرماتے ہیں:
من تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الفرح بلیلۃ ولادتہ وقرأۃ المولد والقیام عند ذکر ولادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واطعام الطعام وغیرذلک مما یعتاد الناس فعلہ من انواع البر فان ذلک کلہ من تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقد اخردت مسائلۃ المولد ومایتعلق بھا بالتالیف واعتنی بذلک کثیر من العلماء فالفوا فی ذلک مصنفات مشحونۃ بالادلۃ والبراھین فلاحاجۃ لنا الی الاطالۃ بذلک انتھی ۔ واﷲ تعالی اعلم حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ان کی ولادت والی رات میں خوشی منائے تذکرہ ولادت کرے اور بوقت ولادت قیام کرےلوگوں کو کھاناکھلائے اور ان کے علاوہ دیگرامورخیر بھی انجام دے جن کے کرنے کے عادی ہیں۔اس لئے کہ یہ سب کام حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم میں شمار ہوتے ہیںاور میں نے میلاد رسول اور اس سے متعلقہ مسائل پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور بے شمار علماء نے بھی اس کا اہتمام کیاہے چنانچہ اس موضوع پر ان حضرات نے ایسی کتابیں تصنیف فرمائیں جو عقلی ونقلی دلائل سے بھری پڑی ہیںلہذا ہمیں اس موضوع کو طویل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں انتہی۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۶۹: ازکانپور پرانی سبزی منڈی کی مسجد مرسلہ مولوی احمدعلی صاحب ۱۶ ربیع الاول ۱۳۱۶ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی(اﷲ تعالی آپ پررحم وکرم فرمائے آپ کا کیاارشاد ہے)اس مسئلہ میں کہ دیاربنگالہ میں آج کل بعض بعض مولوی اور میاں جی دوتین چھوکروں کوجولحن دلکش ودلآویز رکھتاہو اردو وفارسی غزل کا وزن گٹکری کاساتھ تعلیم دیتے ہیں جب کہیں مولود شریف کی دعوت ہوتی ہے تو ان چھوکروں کو ہمراہ لے کرجاتے ہیں اور محفل میلاد شریف ہوگا کر کے عوام وخواص کواطلاع واعلان کرتے ہیں جب سامعین مجتمع ہوجاتے ہیں توفارسی واردوغزل اور قصائد واشعار
علامہ سیداحمد زین دحلان مکی قدس سرہ الملکی الدرالسنیہ میں فرماتے ہیں:
من تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الفرح بلیلۃ ولادتہ وقرأۃ المولد والقیام عند ذکر ولادتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واطعام الطعام وغیرذلک مما یعتاد الناس فعلہ من انواع البر فان ذلک کلہ من تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقد اخردت مسائلۃ المولد ومایتعلق بھا بالتالیف واعتنی بذلک کثیر من العلماء فالفوا فی ذلک مصنفات مشحونۃ بالادلۃ والبراھین فلاحاجۃ لنا الی الاطالۃ بذلک انتھی ۔ واﷲ تعالی اعلم حضوراکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ان کی ولادت والی رات میں خوشی منائے تذکرہ ولادت کرے اور بوقت ولادت قیام کرےلوگوں کو کھاناکھلائے اور ان کے علاوہ دیگرامورخیر بھی انجام دے جن کے کرنے کے عادی ہیں۔اس لئے کہ یہ سب کام حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم میں شمار ہوتے ہیںاور میں نے میلاد رسول اور اس سے متعلقہ مسائل پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور بے شمار علماء نے بھی اس کا اہتمام کیاہے چنانچہ اس موضوع پر ان حضرات نے ایسی کتابیں تصنیف فرمائیں جو عقلی ونقلی دلائل سے بھری پڑی ہیںلہذا ہمیں اس موضوع کو طویل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں انتہی۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۶۹: ازکانپور پرانی سبزی منڈی کی مسجد مرسلہ مولوی احمدعلی صاحب ۱۶ ربیع الاول ۱۳۱۶ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی(اﷲ تعالی آپ پررحم وکرم فرمائے آپ کا کیاارشاد ہے)اس مسئلہ میں کہ دیاربنگالہ میں آج کل بعض بعض مولوی اور میاں جی دوتین چھوکروں کوجولحن دلکش ودلآویز رکھتاہو اردو وفارسی غزل کا وزن گٹکری کاساتھ تعلیم دیتے ہیں جب کہیں مولود شریف کی دعوت ہوتی ہے تو ان چھوکروں کو ہمراہ لے کرجاتے ہیں اور محفل میلاد شریف ہوگا کر کے عوام وخواص کواطلاع واعلان کرتے ہیں جب سامعین مجتمع ہوجاتے ہیں توفارسی واردوغزل اور قصائد واشعار
حوالہ / References
عقدالجوہر فی مولدالنبی الازھر جامعہ اسلامیہ لاہور ص۲۵ و۲۶
الدررالسنیہ
الدررالسنیہ
گوناگوں کو ان چھوکروں کے سور سے اپنی سورملاکر اس طور پڑھتے کہ مجال کیا ہے کسی کو جو اس میں اور رنڈیوں کے گانے میں کچھ بھی فرق سمجھے مگرسامعین میں سے اکثر توایسے ہیں کہ فارسی واردو توبالکل نہیں سمجھتے مجردوزن اور آوازہی پرفریفتہ و مفتون ہوکر سماعت کرتے ہیں اور گاہ بگاہ عبارت منثورہ سے اپنی زبان میں سمجھادیتے ہیں وہ بھی اکثر بے اصل ہے اس طور پر پڑھناجائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
ایسا پڑھنا ممنوع ہےیہ پڑھنا نہیں گانا ہے اور امرد کے گانے میں فتنہ ہےاور فتنے کا بند کرنا واجب۔
فی ردالمحتار عن التاتارخانیہ عن العیونسماع غناء حرام ومن اباحہ فلمن تخلی عن اللھو وتحلی بالتقوی واحتاج الی ذلک احتیاج المریض الی الدواء ولہ شرائط ستۃ ان لایکون فیھم امرد الخ ملخصا وفی الخیریۃ عن التتارخانیۃ عن نصاب الاحتساب التغنی واستماع الغناء حرام ومن اباحہ فلمن تخلی عن الھوی ولہ شرائط ان لایکون فیھم امرد ولامرأۃ الخ ملتقطا۔ فتاوی شامی میں بحوالہ تاتارخانیہ"العیون"سے روایت ہے کہ گانا سنناحرام غذاہے پس جس کسی نے اسے مباح قراردیا تویہ اس کے لئے اس صورت میں ہے کہ کھیل وغیرہ سے خالی ہو اور زیور تقوی سے آراستہ ہو اور اسے اس کی طرف کچھ اس طرح کی احتیاج اور ضرورت ہو جس طرح مریض کو دوا کی احتیاج ہوتی ہے اور اس کے لئے چھ شرائط ہیںایک یہ کہ ان میں کوئی بے ریش لڑکاشریک نہ ہو الخ ملخصااور فتاوی خیریہ میں تتارخانیہ کے حوالہ سے نصاب الاحتساب سے منقول ہے کہ گانا گانا اور سنناحرام ہے اور جس نے سے مباح کہا تو یہ اس کے لئے ہے جو نفسانی خواہش سے خالی ہواور اس کے جواز کی چھ شرائط ہیںایک یہ کہ ان میں کوئی بے ریش لڑکا اور کوئی عورت شریک نہ ہو اھ ملتقطا(ت)
یوہیں بے اصل وباطل روایات کا پڑھنا سننا حرام وگناہ ہےنص علیہ علماء القدیم والحدیث فی کتب الفقہ واصول الحدیث(چنانچہ قدیم علماء کرام نے فقہ اور اصول حدیث کی کتابوں میں
الجواب:
ایسا پڑھنا ممنوع ہےیہ پڑھنا نہیں گانا ہے اور امرد کے گانے میں فتنہ ہےاور فتنے کا بند کرنا واجب۔
فی ردالمحتار عن التاتارخانیہ عن العیونسماع غناء حرام ومن اباحہ فلمن تخلی عن اللھو وتحلی بالتقوی واحتاج الی ذلک احتیاج المریض الی الدواء ولہ شرائط ستۃ ان لایکون فیھم امرد الخ ملخصا وفی الخیریۃ عن التتارخانیۃ عن نصاب الاحتساب التغنی واستماع الغناء حرام ومن اباحہ فلمن تخلی عن الھوی ولہ شرائط ان لایکون فیھم امرد ولامرأۃ الخ ملتقطا۔ فتاوی شامی میں بحوالہ تاتارخانیہ"العیون"سے روایت ہے کہ گانا سنناحرام غذاہے پس جس کسی نے اسے مباح قراردیا تویہ اس کے لئے اس صورت میں ہے کہ کھیل وغیرہ سے خالی ہو اور زیور تقوی سے آراستہ ہو اور اسے اس کی طرف کچھ اس طرح کی احتیاج اور ضرورت ہو جس طرح مریض کو دوا کی احتیاج ہوتی ہے اور اس کے لئے چھ شرائط ہیںایک یہ کہ ان میں کوئی بے ریش لڑکاشریک نہ ہو الخ ملخصااور فتاوی خیریہ میں تتارخانیہ کے حوالہ سے نصاب الاحتساب سے منقول ہے کہ گانا گانا اور سنناحرام ہے اور جس نے سے مباح کہا تو یہ اس کے لئے ہے جو نفسانی خواہش سے خالی ہواور اس کے جواز کی چھ شرائط ہیںایک یہ کہ ان میں کوئی بے ریش لڑکا اور کوئی عورت شریک نہ ہو اھ ملتقطا(ت)
یوہیں بے اصل وباطل روایات کا پڑھنا سننا حرام وگناہ ہےنص علیہ علماء القدیم والحدیث فی کتب الفقہ واصول الحدیث(چنانچہ قدیم علماء کرام نے فقہ اور اصول حدیث کی کتابوں میں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۲۲
فتاوٰی خیریۃ کتاب الکراہۃ والاستحسان دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۷۹
فتاوٰی خیریۃ کتاب الکراہۃ والاستحسان دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۷۹
اس کی صراحت فرمائی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷۰: ۱۸ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس زمانہ میں بہت لوگ اس قسم کے ہیں کہ تفسیر وحدیث بے خواندہ وبے اجازت اساتذہ برسربازار ومسجد وغیرہ بطور وعظ ونصائح کے بیان کرتے ہیں حالانکہ معنی ومطلب میں کچھ مس نہیں فقط اردوکتابیں دیکھ کے کہتے ہیںیہ کہنا اور بیان کرنا ان لوگوں کے لئے شرعا جائزہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
حرام ہےاور ایسا وعظ سننا بھی حرامرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قال فی القران بغیرعلم فلیتبوأ مقعدہ من النار والعیاذباﷲ العزیز الغفاروالحدیث رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔واﷲ تعالی اعلم۔ جس شخص نے قرآن مجید میں بغیرعلم کچھ کہا اسے اپنا ٹھکانا دوزخ سمجھ لیناچاہئےاﷲ تعالی کی پناہ جو سب پر غالب اور سب کچھ بخش دینے والاہے۔اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا اور اسے صحیح قراردے کر حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالہ سے ذکرفرمایاواﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۳۷۱: ازبدایوں ۱۸محرم ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ مجلس میلاد حضورخیرالعباد علیہ الوف تحیۃ الی یوم التنادمیں جوشخص کہ مخالف شرع مطہر ہو مثلا تارک صلوۃ شارب خمرہو داڑھی کترواتایامنڈواتا ہومونچھیں بڑھاتاہو بے وضو بے ادبی گستاخی سے بروایات موضوعہ تنہا یادوچارآدمیوں کے ساتھ بیٹھ کر مولود پڑھتاہو اور اگرکوئی مسئلہ بتائے تنبیہ کرے تواستہزاء ومزاح کرے بلکہ اپنے معتقدین کوحکم کرے کہ داڑھی منڈانے والے رکھانے والوں سے بہترہیں کیونکہ جیسے ان کے رخسار صاف ہوتے ہیں ایسے ہی ان کے دل مثل آئینہ کے صاف وشفاف ہےایسے شخص سے مولود شریف پڑھوانا یا اس کو پڑھنا یا منبرو مسند پر تعظیما بیٹھنا بٹھانا بانی مجلس وحاضرین وسامعین کاایسے اشخاص کو بوجہ
مسئلہ ۳۷۰: ۱۸ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس زمانہ میں بہت لوگ اس قسم کے ہیں کہ تفسیر وحدیث بے خواندہ وبے اجازت اساتذہ برسربازار ومسجد وغیرہ بطور وعظ ونصائح کے بیان کرتے ہیں حالانکہ معنی ومطلب میں کچھ مس نہیں فقط اردوکتابیں دیکھ کے کہتے ہیںیہ کہنا اور بیان کرنا ان لوگوں کے لئے شرعا جائزہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
حرام ہےاور ایسا وعظ سننا بھی حرامرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قال فی القران بغیرعلم فلیتبوأ مقعدہ من النار والعیاذباﷲ العزیز الغفاروالحدیث رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما۔واﷲ تعالی اعلم۔ جس شخص نے قرآن مجید میں بغیرعلم کچھ کہا اسے اپنا ٹھکانا دوزخ سمجھ لیناچاہئےاﷲ تعالی کی پناہ جو سب پر غالب اور سب کچھ بخش دینے والاہے۔اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا اور اسے صحیح قراردے کر حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالہ سے ذکرفرمایاواﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۳۷۱: ازبدایوں ۱۸محرم ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ مجلس میلاد حضورخیرالعباد علیہ الوف تحیۃ الی یوم التنادمیں جوشخص کہ مخالف شرع مطہر ہو مثلا تارک صلوۃ شارب خمرہو داڑھی کترواتایامنڈواتا ہومونچھیں بڑھاتاہو بے وضو بے ادبی گستاخی سے بروایات موضوعہ تنہا یادوچارآدمیوں کے ساتھ بیٹھ کر مولود پڑھتاہو اور اگرکوئی مسئلہ بتائے تنبیہ کرے تواستہزاء ومزاح کرے بلکہ اپنے معتقدین کوحکم کرے کہ داڑھی منڈانے والے رکھانے والوں سے بہترہیں کیونکہ جیسے ان کے رخسار صاف ہوتے ہیں ایسے ہی ان کے دل مثل آئینہ کے صاف وشفاف ہےایسے شخص سے مولود شریف پڑھوانا یا اس کو پڑھنا یا منبرو مسند پر تعظیما بیٹھنا بٹھانا بانی مجلس وحاضرین وسامعین کاایسے اشخاص کو بوجہ
خوش آوازی کے چوکی پرمولود پڑھنے بٹھانا جائزہے یانہیں اور ایسے آدمی سے رب العزت جل مجدہ اور روح حضور فخرعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خوش ہوتی ہے یاناخوش اور پروردگار عالم ایسی مجالس سے خوش ہوکر رحمت نازل فرماتاہے یاغضب اور حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان محافل میں تشریف لاتے ہیں یانہیں بانیان اورحاضرین محافل کے مستحق رحمت ہیں یاغضب بینوا من الکتاب توجروا عند رب الارباب(کتاب کے حوالے سے بیان فرماؤ تاکہ رب الارباب کے ہاں سے اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
افعال مذکورہ سخت کبائر ہیں اور ان کامرتکب اشدفاسق وفاجر مستحق عذاب یزداں وغضب رحمن اوردنیامیں مستوجب ہزاراں ذلت وہوان خوش آوازی خواہ کسی علت نفسانی کے باعث اسے منبرومسند پر کہ حقیقۃ مسندحضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے تعظیما بٹھانا اس سے مجلس مبارک پڑھوانا حرام ہےتبیین الحقائق وفتح اﷲ المعین وطحطاوی علی مراقی الفلاح وغیرہا میں ہے:
فی تقدیم الفاسق تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۔ فاسق کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ بوجہ فسق لوگوں پرشرعا اس کی توہین کرنا واجب اور ضروری ہے۔(ت)
روایات موضوعہ پڑھنا بھی حرام سننابھی حرامایسی مجالس سے اﷲ عزوجل اور حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کمال ناراض ہیںایسی مجالس اور ان کا پڑھنے والا اور اس حال سے آگاہی پاکربھی حاضر ہونے والا سب مستحق غضب الہی ہیں یہ جتنے حاضرین ہیں سب وبال شدیدمیں جداجداگرفتار ہیں اوران سب کے وبال کے برابر اس پڑھنے والے پروبال ہے اور خود اس کااپنا گناہ اس پرعلاوہ اور ان حاضرین وقاری سب کے برابرگناہ ایسی مجلس کے بانی پر ہے اور اپناگناہ اس پرطرہ مثلا ہزارحاضرین مذکور ہوں تو ان پر ہزار گنا اور اس کا عذاب قاری پر ایک ہزار ایک گنا اور بانی پر دوہزار دوگنا ایک ہزار حاضرین کے اور ایک ہزارایک اس قاری کے اور ایک خود اپناپھریہ شمار ایک ہی بارنہ ہوگا بلکہ جس قدرروایات موضوعہ جس قدرکلمات نامشروعہ وہ قاری جاہل جری پڑھے گاہرروایت ہرکلمہ پریہ حساب وبال وعذاب تازہ ہونا مثلا فرض کیجئے کہ ایسے سوکلمات مردودہ اس مجلس میں اس نے پڑھے تو ان حاضرین میں ہرایک پرسو سوگناہ اور اس قاری علم ودین سے عاری پرایک لاکھ ایک سوگناہ اور باقی پردولاکھ دوسو وقس علی ھذارسول اﷲ
الجواب:
افعال مذکورہ سخت کبائر ہیں اور ان کامرتکب اشدفاسق وفاجر مستحق عذاب یزداں وغضب رحمن اوردنیامیں مستوجب ہزاراں ذلت وہوان خوش آوازی خواہ کسی علت نفسانی کے باعث اسے منبرومسند پر کہ حقیقۃ مسندحضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے تعظیما بٹھانا اس سے مجلس مبارک پڑھوانا حرام ہےتبیین الحقائق وفتح اﷲ المعین وطحطاوی علی مراقی الفلاح وغیرہا میں ہے:
فی تقدیم الفاسق تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۔ فاسق کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ بوجہ فسق لوگوں پرشرعا اس کی توہین کرنا واجب اور ضروری ہے۔(ت)
روایات موضوعہ پڑھنا بھی حرام سننابھی حرامایسی مجالس سے اﷲ عزوجل اور حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کمال ناراض ہیںایسی مجالس اور ان کا پڑھنے والا اور اس حال سے آگاہی پاکربھی حاضر ہونے والا سب مستحق غضب الہی ہیں یہ جتنے حاضرین ہیں سب وبال شدیدمیں جداجداگرفتار ہیں اوران سب کے وبال کے برابر اس پڑھنے والے پروبال ہے اور خود اس کااپنا گناہ اس پرعلاوہ اور ان حاضرین وقاری سب کے برابرگناہ ایسی مجلس کے بانی پر ہے اور اپناگناہ اس پرطرہ مثلا ہزارحاضرین مذکور ہوں تو ان پر ہزار گنا اور اس کا عذاب قاری پر ایک ہزار ایک گنا اور بانی پر دوہزار دوگنا ایک ہزار حاضرین کے اور ایک ہزارایک اس قاری کے اور ایک خود اپناپھریہ شمار ایک ہی بارنہ ہوگا بلکہ جس قدرروایات موضوعہ جس قدرکلمات نامشروعہ وہ قاری جاہل جری پڑھے گاہرروایت ہرکلمہ پریہ حساب وبال وعذاب تازہ ہونا مثلا فرض کیجئے کہ ایسے سوکلمات مردودہ اس مجلس میں اس نے پڑھے تو ان حاضرین میں ہرایک پرسو سوگناہ اور اس قاری علم ودین سے عاری پرایک لاکھ ایک سوگناہ اور باقی پردولاکھ دوسو وقس علی ھذارسول اﷲ
حوالہ / References
فتح المعین کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۲۰۸،تبیین الحقائق باب الامامۃ المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱/ ۱۳۴،غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۵۱۳
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لاینقص ذلک من اجورھم شیئا ومن دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اثام من تبعہ لاینقص ذلک من اثامھم شیئا ۔رواہ الائمۃ احمد ومسلم و الاربعۃ عن ابی ھریرۃ۔ جس شخص نے لوگوں کوہدایت کی طرف بلایا تو اس کے جتنے پیروکار ہوں گے ان سب کے اجروثواب کے برابر اس داعی کو بھی ثواب ہوگا اور پیروکاروں کے اجروثواب میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوگیاور جس کسی شخص نے لوگوں کوگمراہی کی طرف دعوت دی تو جتنے لوگ ان کااتباع کریں گے ان سب کے برابر دعوت دینے والوں کو گناہ ہوگا لیکن گمراہی میں اتباع کرنے والوں کے گناہوں میں بھی ذرہ برابر کمی نہیں ہوگی۔ ائمہ کرام امام احمدمسلمترمذیابوداؤدنسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کوروایت کیا۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پاک ومنزہ ہیں اس سے کہ ایسی ناپاک جگہ تشریف فرماہوں البتہ وہاں ابلیس وشیاطین کاہجوم ہوگاوالعیاذباﷲ رب العالمین(اﷲ تعالی کی پناہ جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے۔ت)ذکرشریف حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باوضو ہونامستحب ہے اوربے وضو بھی جائز اگرنیت معاذاﷲ استخفاف کی نہ ہوحدیث صحیح میں ہے:
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یذکراﷲ علی کل احیانہ ۔رواہ الائمۃ احمد و نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمہ وقت اﷲ تعالی کاذکر فرمایاکرتے تھےچنانچہ امام احمد
من دعا الی ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لاینقص ذلک من اجورھم شیئا ومن دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اثام من تبعہ لاینقص ذلک من اثامھم شیئا ۔رواہ الائمۃ احمد ومسلم و الاربعۃ عن ابی ھریرۃ۔ جس شخص نے لوگوں کوہدایت کی طرف بلایا تو اس کے جتنے پیروکار ہوں گے ان سب کے اجروثواب کے برابر اس داعی کو بھی ثواب ہوگا اور پیروکاروں کے اجروثواب میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوگیاور جس کسی شخص نے لوگوں کوگمراہی کی طرف دعوت دی تو جتنے لوگ ان کااتباع کریں گے ان سب کے برابر دعوت دینے والوں کو گناہ ہوگا لیکن گمراہی میں اتباع کرنے والوں کے گناہوں میں بھی ذرہ برابر کمی نہیں ہوگی۔ ائمہ کرام امام احمدمسلمترمذیابوداؤدنسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اس کوروایت کیا۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پاک ومنزہ ہیں اس سے کہ ایسی ناپاک جگہ تشریف فرماہوں البتہ وہاں ابلیس وشیاطین کاہجوم ہوگاوالعیاذباﷲ رب العالمین(اﷲ تعالی کی پناہ جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے۔ت)ذکرشریف حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باوضو ہونامستحب ہے اوربے وضو بھی جائز اگرنیت معاذاﷲ استخفاف کی نہ ہوحدیث صحیح میں ہے:
کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یذکراﷲ علی کل احیانہ ۔رواہ الائمۃ احمد و نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمہ وقت اﷲ تعالی کاذکر فرمایاکرتے تھےچنانچہ امام احمد
حوالہ / References
مسند احمدبن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۹۷،جامع الترمذی ابواب العلم ۲/ ۹۲ وسنن ابن ماجہ باب من سن سنۃ حسنۃ الخ ص۱۹،سنن ابی داؤد کتاب السنۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۷۹،صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ حسنۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۱
صحیح مسلم کتاب الحیض باب ذکراﷲ تعالٰی فی حال الجنابۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۲،صحیح البخاری ۱/ ۴۴ و ۸۸ وسنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الرجل بذکراﷲ الخ ۱/ ۴،سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ ذکراﷲ تعالٰی علی الخلاء ص ۲۶،مسند احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۷۰ و ۱۵۳
صحیح مسلم کتاب الحیض باب ذکراﷲ تعالٰی فی حال الجنابۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶۲،صحیح البخاری ۱/ ۴۴ و ۸۸ وسنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الرجل بذکراﷲ الخ ۱/ ۴،سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ ذکراﷲ تعالٰی علی الخلاء ص ۲۶،مسند احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۷۰ و ۱۵۳
مسلم والاربعۃ الا النسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا ورواہ البخاری تعلیقا۔ مسلمبخاریترمذیابوداؤد اور ابن ماجہ(سوائے نسائی کے) سب نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی سند سے اس کو روایت کیا البتہ امام بخاری نے بطور تعلیق اس کو روایت کیاہے۔(ت)
اور اگرعیاذا باﷲ استخفاف وتحقیر کی نیت ہو توصریح کفر ہےیوہیں مسائل شرعیہ کے ساتھ استہزاء صراحۃ کفرہے
قال اﷲ تعالی " قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے میرے محبوب رسول! ان لوگوں سے فرمادیجئے کیاتم اﷲ تعالی اس کی آیات اور اس کے رسول سے استہزأ اور مذاق کرتے ہوبہانے نہ بناؤ کیونکہ تم ایمان کاانکار کرنے والے ہو۔(ت)
یوہیں وہ کلمہ ملعونہ کہ داڑھی منڈانے والے رکھانے والوں سے بہترہیں الخ صاف سنت متواترہ کی توہین اورکلمہ کفرہے والعیاذباﷲ رب العالمین۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(خدا کی پناہ جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے۔اور اﷲ تعالی پاکبرترسب سے زیادہ علم والا ہے اور اس عزت وتوقیر کے مالک کاعلم کامل اور نہایت درجہ پختہ ہے۔ ت)فقط۔
مسئلہ ۳۷۲: ازاترولی ضلع اعظم گڑھ محلہ مغلاں مرسلہ اکرام عظیم صاحب ۱۸جمادی الاولی ۱۳۲۱ھ
بے نمازی مسلمان کے گھرمیلاد شریف کی محفل میں شریک ہونا یاپڑھنا جائزہے یانہیں
الجواب:
مجلس میلادشریف نیک کام ہے اور نیک کام میں شرکت بری نہیںہاں اگر اس کی تنبیہ کے لئے اس سے میل جول یک لخت چھوڑدیا ہوتو نہ شریک ہوں یہی بہترہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۷۳: ازکلی ناگر ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبرعلی صاحب ۲جمادی الآخر ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص حرام کرنے والا مولود پڑھتاہے اور حرام سے توبہ کرتاہے اور بعد مولود پڑھنے کے پھرحرام کرنے پرکمرباندھے ہے تو اس کے حق میں مولود کاپڑھنا کیساہے اور وہ شخص مجلس مولود پڑھنے کے اور بلانے کے قابل ہے یانہیں بینواتوجروا۔
اور اگرعیاذا باﷲ استخفاف وتحقیر کی نیت ہو توصریح کفر ہےیوہیں مسائل شرعیہ کے ساتھ استہزاء صراحۃ کفرہے
قال اﷲ تعالی " قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے میرے محبوب رسول! ان لوگوں سے فرمادیجئے کیاتم اﷲ تعالی اس کی آیات اور اس کے رسول سے استہزأ اور مذاق کرتے ہوبہانے نہ بناؤ کیونکہ تم ایمان کاانکار کرنے والے ہو۔(ت)
یوہیں وہ کلمہ ملعونہ کہ داڑھی منڈانے والے رکھانے والوں سے بہترہیں الخ صاف سنت متواترہ کی توہین اورکلمہ کفرہے والعیاذباﷲ رب العالمین۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(خدا کی پناہ جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے۔اور اﷲ تعالی پاکبرترسب سے زیادہ علم والا ہے اور اس عزت وتوقیر کے مالک کاعلم کامل اور نہایت درجہ پختہ ہے۔ ت)فقط۔
مسئلہ ۳۷۲: ازاترولی ضلع اعظم گڑھ محلہ مغلاں مرسلہ اکرام عظیم صاحب ۱۸جمادی الاولی ۱۳۲۱ھ
بے نمازی مسلمان کے گھرمیلاد شریف کی محفل میں شریک ہونا یاپڑھنا جائزہے یانہیں
الجواب:
مجلس میلادشریف نیک کام ہے اور نیک کام میں شرکت بری نہیںہاں اگر اس کی تنبیہ کے لئے اس سے میل جول یک لخت چھوڑدیا ہوتو نہ شریک ہوں یہی بہترہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۷۳: ازکلی ناگر ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبرعلی صاحب ۲جمادی الآخر ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص حرام کرنے والا مولود پڑھتاہے اور حرام سے توبہ کرتاہے اور بعد مولود پڑھنے کے پھرحرام کرنے پرکمرباندھے ہے تو اس کے حق میں مولود کاپڑھنا کیساہے اور وہ شخص مجلس مولود پڑھنے کے اور بلانے کے قابل ہے یانہیں بینواتوجروا۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹ /۶۵،۶۶
الجواب:
جس شخص کی نسبت معروف ومشہورہے کہ معاذاﷲ وہ حرام کارہے اس سے میلاد شریف پڑھوانا اور اسے چوکی پربٹھانا منع ہے
کما فی تبیین الحقائق وفتح اﷲ المعین وغیرھمافی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔ جیسا کہ تبیین الحقائقفتح اﷲ المعین اور دیگر کتب میں مذکورہ کہ فاسق کو(امامت کیلئے)آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں لوگوں پراس کی توہین واجب ہے(ت)
مگرشہرت صحیح ہو نہ جھوٹی بے معنی تہمتجیسے آج کل بہت نا اہل جاہل خداناترس اپنے جھوٹے اوہام کے باعث مسلمانوں پر اتہام لگادیتے ہیں اس سے وہ خود سخت حرام وکبیرہ کے مرتکب اور شدید سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔رہاخالی بلانا وہ مصلحت دینی پرہے اگرجانے کہ بہ نرمی سمجھانے میں زیادہ اثر کی امید ہے تویوہیں کرے اور اگر جانے کہ دور کرنے اور سختی برتنے میں زیادہ نفع ہوگاتویہی کرےاور حال یکساں ہے توشریعت کی غیرت ا ور دوسروں کی عبرت کیلئے علانیہ دوری بہتر اور اپنے عیبوں پرنظر اور مسلمانوں کے ساتھ رفق ورحمت کے لئے خفیہ نرمی اولی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۷۴: ازمحمدصابر عفی عنہ اعظم گڑھ ۲۹شعبان المعظم ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرہنود میلادشریف کے چندے میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوں یاخود اہل ہنود انفرادا میلادشریف کرائیں تو جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
ہندوسے مسلمان امردین میں مددنہ لے۔حدیث شریف میں ہے:
انالانستعین بمشرک ۔ ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے(ت)
اوراگروہ خود شرکت چاہیں توبطورچندہ شریک نہ کیاجائے کہ اس کے مال سے قربت قائم نہیں ہوسکتی ہاں اگروہ کسی مسلمان کو تملیک کردے یہ مسلمان چندے میں دے دے مضائقہ نہیں جبکہ اس طورپر لینے میں ہندو کے لئے وجہ استعلا نہ ہو وہ یہ نہ سمجھے کہ مسلمانوں نے مجھ سے استمداد کی میری مدد کے محتاج ہوئے بلکہ احسان مانے کہ میرا مال قبول کرلیاہندو اپنے مال سے کوئی کارخیر کرے مقبول نہیں
جس شخص کی نسبت معروف ومشہورہے کہ معاذاﷲ وہ حرام کارہے اس سے میلاد شریف پڑھوانا اور اسے چوکی پربٹھانا منع ہے
کما فی تبیین الحقائق وفتح اﷲ المعین وغیرھمافی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ۔ جیسا کہ تبیین الحقائقفتح اﷲ المعین اور دیگر کتب میں مذکورہ کہ فاسق کو(امامت کیلئے)آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں لوگوں پراس کی توہین واجب ہے(ت)
مگرشہرت صحیح ہو نہ جھوٹی بے معنی تہمتجیسے آج کل بہت نا اہل جاہل خداناترس اپنے جھوٹے اوہام کے باعث مسلمانوں پر اتہام لگادیتے ہیں اس سے وہ خود سخت حرام وکبیرہ کے مرتکب اور شدید سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔رہاخالی بلانا وہ مصلحت دینی پرہے اگرجانے کہ بہ نرمی سمجھانے میں زیادہ اثر کی امید ہے تویوہیں کرے اور اگر جانے کہ دور کرنے اور سختی برتنے میں زیادہ نفع ہوگاتویہی کرےاور حال یکساں ہے توشریعت کی غیرت ا ور دوسروں کی عبرت کیلئے علانیہ دوری بہتر اور اپنے عیبوں پرنظر اور مسلمانوں کے ساتھ رفق ورحمت کے لئے خفیہ نرمی اولی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۷۴: ازمحمدصابر عفی عنہ اعظم گڑھ ۲۹شعبان المعظم ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرہنود میلادشریف کے چندے میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوں یاخود اہل ہنود انفرادا میلادشریف کرائیں تو جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
ہندوسے مسلمان امردین میں مددنہ لے۔حدیث شریف میں ہے:
انالانستعین بمشرک ۔ ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے(ت)
اوراگروہ خود شرکت چاہیں توبطورچندہ شریک نہ کیاجائے کہ اس کے مال سے قربت قائم نہیں ہوسکتی ہاں اگروہ کسی مسلمان کو تملیک کردے یہ مسلمان چندے میں دے دے مضائقہ نہیں جبکہ اس طورپر لینے میں ہندو کے لئے وجہ استعلا نہ ہو وہ یہ نہ سمجھے کہ مسلمانوں نے مجھ سے استمداد کی میری مدد کے محتاج ہوئے بلکہ احسان مانے کہ میرا مال قبول کرلیاہندو اپنے مال سے کوئی کارخیر کرے مقبول نہیں
حوالہ / References
فتح المعین کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱/ ۲۰۸،تبیین الحقائق کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ بولاق مصر ۱/ ۱۳۴
مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الجہاد حدیث ۱۵۰۰۹ ادارۃ القرآن کراچی ۱۲/ ۳۹۵،سنن ابی داؤد کتاب الجہاد ۲/ ۱۹ وسنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ص۲۰۸ ، ومسند احمدبن حنبل،عن عائشہ ۶/ ۶۸
مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الجہاد حدیث ۱۵۰۰۹ ادارۃ القرآن کراچی ۱۲/ ۳۹۵،سنن ابی داؤد کتاب الجہاد ۲/ ۱۹ وسنن ابن ماجہ ابواب الجہاد ص۲۰۸ ، ومسند احمدبن حنبل،عن عائشہ ۶/ ۶۸
" و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾" ۔
واﷲ تعالی اعلم۔ اور کافروں نے جوکام کئے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر انہیں بکھرے ہوئے ذرات کی طرح کردیا۔واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۳۷۵: بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ طالب حسین خاں ۲۷ی الحجہ ۱۳۲۲ھ
گیارہویں شریف کرناجائزہے یانہیں اور قیام مولود جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
گیارہویں شریف اور مجلس مبارک میلاد کا قیام جس طرح مکہ معظمہ ومدینہ معظمہ کے علماء کرام اور بلاد دارالاسلام کے خاص وعام میں شائع ہے ضرور جائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۷۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے کہا کہ بعد نمازجمعہ ذکرشہداء کربلا رضی اﷲ تعالی عنہم ہوگا چنانچہ عمرونے مسجد میں بعد نمازجمعہ اس کا اعلان اور اشتہارکردیا زید نے درمیان اذکار تعریف وفضائل وذکرشہادت شہداء کربلا رضی اﷲ تعالی عنہم وگریہ وزاری اہلبیت اطہار اوراہلبیت مطہرات کااونٹوں پربے پردہ جانا اور قیدخانہ میں مقید ہونا اوریزیدپلید کاسردربار بلانا اور گفتگو ہوناجہاں تک کہ زید کو کتبہائے معتبرہ اہلسنت وجماعت سے یادتھا بیان کردیا اوراہل سماع کو رقت طاری ہونا اور اس رقت ہونے کی وجہ سے کچھ پڑھنے والے اور سننے والے کواجرملنا اور نیز اسی قسم کا جلسہ اپنے مکانوں میں بنظرثواب منعقدکرنا بخلاف طریقہ روافض کے یعنی تعزیہ وعلم وغیرہ سے اس مکان کومعرارکھنا مذہب اہلسنت والجماعت میں درست ہے یانہیں اور بعد ختم مجلس شیرینی وشربت وچاء پرفاتحہ وپنج آیت پڑھ کر ثواب شہداء کربلا رضی اﷲ تعالی عنہم کو پہنچانا کیساہے بینواتوجروا۔
الجواب:
حضرات کرام کے فضائل ومناقب ومراتب ومناصب روایات صحیحہ معتبرہ سے بیان کرنا سناناعین ثواب وسعادت ہے اور ذکر شہادت شریف بھی جبکہ مقصود ان کی اس فضیلت اور ان کے صبرواستقامت کابیان ہو مگرغم پروری کاشرع شریف میں حکم نہیںنہ غم وماتم کی مجلس بنانے کی اجازتنہ ایسی باتیں کہی جائیں جس میں ان کی بے قدری یاتوہین نکلتی ہوماہ ربیع الاول شریف میں حضورپرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت شریفہ کامہینہ ہے اور وہی حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم کی وفات کامہینہپھر ائمہ دین وعلمائے کاملین نے اسے ولادت اقدس کی عید بنایا وفات شریف کاماتم نہ بنایا۔واﷲ تعالی اعلم
واﷲ تعالی اعلم۔ اور کافروں نے جوکام کئے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر انہیں بکھرے ہوئے ذرات کی طرح کردیا۔واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۳۷۵: بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ طالب حسین خاں ۲۷ی الحجہ ۱۳۲۲ھ
گیارہویں شریف کرناجائزہے یانہیں اور قیام مولود جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
گیارہویں شریف اور مجلس مبارک میلاد کا قیام جس طرح مکہ معظمہ ومدینہ معظمہ کے علماء کرام اور بلاد دارالاسلام کے خاص وعام میں شائع ہے ضرور جائزہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۷۶:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے کہا کہ بعد نمازجمعہ ذکرشہداء کربلا رضی اﷲ تعالی عنہم ہوگا چنانچہ عمرونے مسجد میں بعد نمازجمعہ اس کا اعلان اور اشتہارکردیا زید نے درمیان اذکار تعریف وفضائل وذکرشہادت شہداء کربلا رضی اﷲ تعالی عنہم وگریہ وزاری اہلبیت اطہار اوراہلبیت مطہرات کااونٹوں پربے پردہ جانا اور قیدخانہ میں مقید ہونا اوریزیدپلید کاسردربار بلانا اور گفتگو ہوناجہاں تک کہ زید کو کتبہائے معتبرہ اہلسنت وجماعت سے یادتھا بیان کردیا اوراہل سماع کو رقت طاری ہونا اور اس رقت ہونے کی وجہ سے کچھ پڑھنے والے اور سننے والے کواجرملنا اور نیز اسی قسم کا جلسہ اپنے مکانوں میں بنظرثواب منعقدکرنا بخلاف طریقہ روافض کے یعنی تعزیہ وعلم وغیرہ سے اس مکان کومعرارکھنا مذہب اہلسنت والجماعت میں درست ہے یانہیں اور بعد ختم مجلس شیرینی وشربت وچاء پرفاتحہ وپنج آیت پڑھ کر ثواب شہداء کربلا رضی اﷲ تعالی عنہم کو پہنچانا کیساہے بینواتوجروا۔
الجواب:
حضرات کرام کے فضائل ومناقب ومراتب ومناصب روایات صحیحہ معتبرہ سے بیان کرنا سناناعین ثواب وسعادت ہے اور ذکر شہادت شریف بھی جبکہ مقصود ان کی اس فضیلت اور ان کے صبرواستقامت کابیان ہو مگرغم پروری کاشرع شریف میں حکم نہیںنہ غم وماتم کی مجلس بنانے کی اجازتنہ ایسی باتیں کہی جائیں جس میں ان کی بے قدری یاتوہین نکلتی ہوماہ ربیع الاول شریف میں حضورپرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت شریفہ کامہینہ ہے اور وہی حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم کی وفات کامہینہپھر ائمہ دین وعلمائے کاملین نے اسے ولادت اقدس کی عید بنایا وفات شریف کاماتم نہ بنایا۔واﷲ تعالی اعلم
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۵ /۲۳
مسئلہ ۳۷۷ تا ۳۷۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)بطریق روافض بغیرذکر حضرات خلفائے راشدین رضوان اﷲ علیہم اجمعین اہلسنت کے واسطے واقعات کربلا بیان کرنا اور بوجہ ہمنامی خلفائے ثلاثہ حضرت ابوبکر وعمروعثمان فرزندان حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کاتذکرہ منجملہ شہدائے دشت کربلاترک کرنا جائزہے نہیں
(۲)جن مقامات پرآریہ سماج حضرت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اور روافض صحابہ عظام سے بدظنی پھیلاتے ہیں شبانہ روزدرمے قدمے سخنے غرضیکہ ہرطرح سے بے حدکوشاں رہتے ہیں وہاں ہرامکانی طریقہ سے عوام کو حفظا للعقائد ان حضرات کے مناقب اور محامد سے واقف کرنامذہبا واجب ہوگایانہیں
(۳)جوشخص بپاس مخالفین امورمذکورہ سے یہ کہہ کر بازرکھے کہ"اگرتم تعریف کروگے تو وہ دل میں براکہیں گے"توایسے شخص کی اقتداء کرکے مقاصد مخالفین کی تکمیل ہونے دیں یا اس سے قطع تعلق کرلیں۔جواب مدلل اور مفصل ارشاد فرماکر ماجورہوں۔
الجواب:
(۱)افضل اذکار ذکرالہی عزجلالہ ہے اور ذکرالہی میں سب سے افضل نمازاگرنماز بھی بطور روافض پڑھی جائے گی ناجائزوممنوع ہے نہ کہ اور اذکارمجالس محرم شریف میں ذکرشہادت شریف جس طرح عوام میں رائج ہے جس سے تجدید حزن ونوحہ باطلہ مقصود اور اکاذیب وموضوعات سے تلویث موجودخود حرام ہےصواعق محرقہ پھر ماثبت بالسنۃ میں ہے:
ایاہ ثم ایاہ ان یشغلہ ببدع الرافضۃ من الندب و النیاحۃ والحزن اذلیس ذلک من اخلاق المومنین الخ۔ رافضیوں کی بدعات مثلا روناپیٹناگریہ وزاری کرنا اور سوگ منانا وغیرہ میں مشغول ہونے سے بچو اس لئے یہ کام مومنوں کی عادات واخلاق میں سے نہیں الخ۔(ت)
ہاں ذکر فضائل شریف حضرت سیدنا امام حسین ریحانہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بروجہ جائز روایات صحیحہ معتمدہ معتبرہ سے ضرور نورعین نورہے مگرصرف اسی پر اقتصاراور ذکر خلفاء کرام رضی اﷲ
(۱)بطریق روافض بغیرذکر حضرات خلفائے راشدین رضوان اﷲ علیہم اجمعین اہلسنت کے واسطے واقعات کربلا بیان کرنا اور بوجہ ہمنامی خلفائے ثلاثہ حضرت ابوبکر وعمروعثمان فرزندان حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کاتذکرہ منجملہ شہدائے دشت کربلاترک کرنا جائزہے نہیں
(۲)جن مقامات پرآریہ سماج حضرت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اور روافض صحابہ عظام سے بدظنی پھیلاتے ہیں شبانہ روزدرمے قدمے سخنے غرضیکہ ہرطرح سے بے حدکوشاں رہتے ہیں وہاں ہرامکانی طریقہ سے عوام کو حفظا للعقائد ان حضرات کے مناقب اور محامد سے واقف کرنامذہبا واجب ہوگایانہیں
(۳)جوشخص بپاس مخالفین امورمذکورہ سے یہ کہہ کر بازرکھے کہ"اگرتم تعریف کروگے تو وہ دل میں براکہیں گے"توایسے شخص کی اقتداء کرکے مقاصد مخالفین کی تکمیل ہونے دیں یا اس سے قطع تعلق کرلیں۔جواب مدلل اور مفصل ارشاد فرماکر ماجورہوں۔
الجواب:
(۱)افضل اذکار ذکرالہی عزجلالہ ہے اور ذکرالہی میں سب سے افضل نمازاگرنماز بھی بطور روافض پڑھی جائے گی ناجائزوممنوع ہے نہ کہ اور اذکارمجالس محرم شریف میں ذکرشہادت شریف جس طرح عوام میں رائج ہے جس سے تجدید حزن ونوحہ باطلہ مقصود اور اکاذیب وموضوعات سے تلویث موجودخود حرام ہےصواعق محرقہ پھر ماثبت بالسنۃ میں ہے:
ایاہ ثم ایاہ ان یشغلہ ببدع الرافضۃ من الندب و النیاحۃ والحزن اذلیس ذلک من اخلاق المومنین الخ۔ رافضیوں کی بدعات مثلا روناپیٹناگریہ وزاری کرنا اور سوگ منانا وغیرہ میں مشغول ہونے سے بچو اس لئے یہ کام مومنوں کی عادات واخلاق میں سے نہیں الخ۔(ت)
ہاں ذکر فضائل شریف حضرت سیدنا امام حسین ریحانہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بروجہ جائز روایات صحیحہ معتمدہ معتبرہ سے ضرور نورعین نورہے مگرصرف اسی پر اقتصاراور ذکر خلفاء کرام رضی اﷲ
حوالہ / References
الصواعق المحرقۃ الباب الحادی عشر الفصل الاول مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۱۸۳
تعالی عنہم سے دامن کشی خصوصا لکھنؤ جیسے محل حاجت میں کہ کوفہ ہند ہے ضرور قابل اعتراض واحتراز ہے۔قسم اول نسبت امام حجۃ الاسلام محمد محمدغزالی قدس سرہ العالی فرماتے ہیں:
یحرم علی الواعظ وغیرہ روایۃ مقتل الحسین ۔ واعظ وغیرہ پریہ حرام ہے کہ وہ شہادت حسین علیہ السلام کی روایات(بے سند اور بلاتحقیق)بیان کرے۔(ت)
امام ابن حجرمکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں:
ماذکرہ من حرمۃ روایۃ قتل الحسین لاینافی ما ذکرتہ فی ھذا الکتاب لان ھذا البیان الحق الذی یحب اعتقادہ من جلالۃ الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم وبراءتھم من کل نقص بخلاف مایفعلہ الوعاظ الجھلۃ فانھم یاتون بالاخبار الکاذبۃ الموضوعۃ ونحوھا ولایبینون المحامل والحق الذی یحب اعتقادہ فیوقعون العامۃ فی بغض الصحابۃ وتنقیصھم ۔ امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کی شہادت کی روایات کے متعلق جو حرام ہونے کاذکرکیاگیاوہ اس کے منافی نہیں جوکچھ میں نے اس کتاب میں بیان کیاکیونکہ یہ بیان وہ حق ہے کہ جس پر(ایک مردمومن کا)اعتقاد رکھناواجب ہےجو کہ عظمت شان صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم اور ہرکمی کوتاہی سے ان کی برأت ہے بخلاف جاہل واعظوں کے(قصہ گوافراد کے) کہ وہ جھوٹی او رموضوع روایات لوگوں کی مجالس میں بیان کرتے ہیں لیکن ان کا محل اور وہ حق بیان نہیں(یعنی سچی اور واقعی بات کو ظاہرنہیں کرتے)کہ جس پرعقیدہ رکھناضروری ہے(پھر اس پردہ پوشی سے)عوام کو بغض صحابہ اور ان کی تنقیص وتوہین میں ڈال دیتے ہیں۔(ت)
اور قسم دوم کی نسبت کتاب العیون پھر شرح نقایہ علامہ قہستانی اواخرکتاب الکراھیۃ میں ہے:
لواراد ذکر مقتل الحسین ینبغی ان یذکر اولا مقتل سائر الصحابۃ لئلا یشابہ الروافض ۔ اگر کوئی واعظ شہادت حسین علیہ السلام کوبیان کرنا چاہے تو اس کے لئے مناسب یہ ہے کہ پہلے باقی صحابہ کرام کی شہادت کے واقعات لوگوں کو
یحرم علی الواعظ وغیرہ روایۃ مقتل الحسین ۔ واعظ وغیرہ پریہ حرام ہے کہ وہ شہادت حسین علیہ السلام کی روایات(بے سند اور بلاتحقیق)بیان کرے۔(ت)
امام ابن حجرمکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں:
ماذکرہ من حرمۃ روایۃ قتل الحسین لاینافی ما ذکرتہ فی ھذا الکتاب لان ھذا البیان الحق الذی یحب اعتقادہ من جلالۃ الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنھم وبراءتھم من کل نقص بخلاف مایفعلہ الوعاظ الجھلۃ فانھم یاتون بالاخبار الکاذبۃ الموضوعۃ ونحوھا ولایبینون المحامل والحق الذی یحب اعتقادہ فیوقعون العامۃ فی بغض الصحابۃ وتنقیصھم ۔ امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ کی شہادت کی روایات کے متعلق جو حرام ہونے کاذکرکیاگیاوہ اس کے منافی نہیں جوکچھ میں نے اس کتاب میں بیان کیاکیونکہ یہ بیان وہ حق ہے کہ جس پر(ایک مردمومن کا)اعتقاد رکھناواجب ہےجو کہ عظمت شان صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم اور ہرکمی کوتاہی سے ان کی برأت ہے بخلاف جاہل واعظوں کے(قصہ گوافراد کے) کہ وہ جھوٹی او رموضوع روایات لوگوں کی مجالس میں بیان کرتے ہیں لیکن ان کا محل اور وہ حق بیان نہیں(یعنی سچی اور واقعی بات کو ظاہرنہیں کرتے)کہ جس پرعقیدہ رکھناضروری ہے(پھر اس پردہ پوشی سے)عوام کو بغض صحابہ اور ان کی تنقیص وتوہین میں ڈال دیتے ہیں۔(ت)
اور قسم دوم کی نسبت کتاب العیون پھر شرح نقایہ علامہ قہستانی اواخرکتاب الکراھیۃ میں ہے:
لواراد ذکر مقتل الحسین ینبغی ان یذکر اولا مقتل سائر الصحابۃ لئلا یشابہ الروافض ۔ اگر کوئی واعظ شہادت حسین علیہ السلام کوبیان کرنا چاہے تو اس کے لئے مناسب یہ ہے کہ پہلے باقی صحابہ کرام کی شہادت کے واقعات لوگوں کو
حوالہ / References
الصواعق المحرقہ بحوالہ الضرابی الخاتمہ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص۲۲۳
الصواعق المحرقہ بحوالہ الضرابی الخاتمہ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۲۲۴
جامع الرموز شرح النقایۃ للقہستانی کتاب الکراھیۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۲۳
الصواعق المحرقہ بحوالہ الضرابی الخاتمہ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۲۲۴
جامع الرموز شرح النقایۃ للقہستانی کتاب الکراھیۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۲۳
سنائے تاکہ روافض سے مشابہت نہ ہو کیونکہ وہ صرف شہادت حسین علیہ السلام پراکتفاکرتے جبکہ اہل سنت صحابہ اور اہلبیت دونوں کاتذکرہ کرتے ہیں۔(ت)ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
اذا ذکر الصالحون فحیھلا بعمر ۔ جب صالحین کاذکر ہوتو عمرفاروق(رضی اﷲ عنہ)کاتذکرہ کرو(ت)
اور ذکرشہادت میں حضرت ابوبکروعمروعثمان اولاد امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کاذکراس لئے ترک کرنا کہ ان کے اسماء حضرات عالیہ خلفائے ثلاثہ رضی اﷲ عنہم کے نام پاک ہیںصریح رفض واوہام زمانہ روافض خذلہم اﷲ کا اتباع ہے کہ مسمی کے باعث اسم سے عداوت ہاتھ باندھ لیتے ہیں اگرچہ وہ نام کسی محبوب کاہو " قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾ (اﷲ تعالی انہیں مارے کہ وہ کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت) اسی لئے یہ بے پیرے دوشنبہ کوپیر کہنے سے احترازکرتے ہیں مسجد کے تین درنہ بنائیں گے کہ خلفائے ثلثہ کاعدد ہے ایسے ہی اوہام پر تو امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:
الشیعۃ نساء ھذہ الامۃ۔ رافضی اس امت کی مادہ ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ضرور واجب بلکہ اہم فرائض سے ہےحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا سب فـــــــ اصحابی وظھرت الفتن اوقال البدع ولم یظھر العالم علمہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا وعدلا ۔ جب میرے صحابہ کوبراکہاجائے اور فتنے یافرمایا بدعتیں ظاہر ہوں اس وقت عالم اپنا علم ظاہر نہ کرے تو اس پراﷲ اور فرشتوں اورآدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ اس کافرض قبول کرے نہ نفل۔
اذا ذکر الصالحون فحیھلا بعمر ۔ جب صالحین کاذکر ہوتو عمرفاروق(رضی اﷲ عنہ)کاتذکرہ کرو(ت)
اور ذکرشہادت میں حضرت ابوبکروعمروعثمان اولاد امیرالمومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہ کاذکراس لئے ترک کرنا کہ ان کے اسماء حضرات عالیہ خلفائے ثلاثہ رضی اﷲ عنہم کے نام پاک ہیںصریح رفض واوہام زمانہ روافض خذلہم اﷲ کا اتباع ہے کہ مسمی کے باعث اسم سے عداوت ہاتھ باندھ لیتے ہیں اگرچہ وہ نام کسی محبوب کاہو " قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾ (اﷲ تعالی انہیں مارے کہ وہ کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت) اسی لئے یہ بے پیرے دوشنبہ کوپیر کہنے سے احترازکرتے ہیں مسجد کے تین درنہ بنائیں گے کہ خلفائے ثلثہ کاعدد ہے ایسے ہی اوہام پر تو امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:
الشیعۃ نساء ھذہ الامۃ۔ رافضی اس امت کی مادہ ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ضرور واجب بلکہ اہم فرائض سے ہےحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا سب فـــــــ اصحابی وظھرت الفتن اوقال البدع ولم یظھر العالم علمہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا وعدلا ۔ جب میرے صحابہ کوبراکہاجائے اور فتنے یافرمایا بدعتیں ظاہر ہوں اس وقت عالم اپنا علم ظاہر نہ کرے تو اس پراﷲ اور فرشتوں اورآدمیوں سب کی لعنت ہے اﷲ اس کافرض قبول کرے نہ نفل۔
حوالہ / References
مسند امام احمدبن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۱۴۸
القرآن ۹/ ۳۰
کنزالعمال حدیث ۳۲۵۴۵ ۱۱/ ۵۴۳ وفیض القدیر بحوالہ الدیلمی تحت حدیث ۷۵۱ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۰۲،الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۱۲۷۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۳۲۱
فـــــــ:حدیث کے یہ الفاظ دوحدیثوں کامجموعہ معلوم ہوتے ہیں کیونکہ کتب احادیث میں ان الفاظ کامجموعہ کسی جگہ نہیں مل سکا۔نذیراحمد سعیدی
القرآن ۹/ ۳۰
کنزالعمال حدیث ۳۲۵۴۵ ۱۱/ ۵۴۳ وفیض القدیر بحوالہ الدیلمی تحت حدیث ۷۵۱ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۰۲،الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۱۲۷۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۳۲۱
فـــــــ:حدیث کے یہ الفاظ دوحدیثوں کامجموعہ معلوم ہوتے ہیں کیونکہ کتب احادیث میں ان الفاظ کامجموعہ کسی جگہ نہیں مل سکا۔نذیراحمد سعیدی
(۳)وہ شخص جو اس عذرباد وباطل سے اس فرض کو منع کرتاہے یاسخت سفیہ جاہل ہے یادرپردہ ان کفارواشقیا کا ممدومعاون۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ شق ثانی ہو تو اس سے مطلقا قطع تعلق کریں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ ان سے دوربھاگو ان کو اپنے سے دور کرو کہیں تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔
اور شق اول ہو تو اسے سمجھائیں کہ پرانی خباثت کے سبب ہم اپنافرض کیونکر چھوڑسکتے ہیں۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم " ۔ اے ایمان والو! اپنی جانوں کی فکر کرو جو بھٹک گیا وہ تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو۔(ت)
تو علماء فرماتے ہیں کہ:
لاتترک سنۃ لاقترانھا مع بدعۃ من غیرہ۔ کسی ایسی سنت کو نہ چھوڑا جائے جو کسی دوسرے کی بدعت کے ساتھ مخلوط ہو۔(ت)
نہ کہ ایسے مہمل خیال پرا س درجہ اہم فرض کو چھوڑنا اور پھر نتیجہ یہ کہ ان کی خباثتیں فاش وآشکار ہوں اور ادھر سے جواب نہ ہو اور عوام ان کے شکار ہوں آج وہ دل میں برا کہتے ہیں کل سیکڑوں کو علانیہ برا کہنے والا بنالیںایسی اوندھی مت کاکیاٹھکانہ ہے یوں تواذان بھی حرام ہوجائے گی کہ دور سے سن کر بھی اعداء دین کے کلیجے شق ہوتے ہیں اورخفیہ جو منہ پر آتاہے بکتے ہیںاگر یہ جاہل سمجھ جائے فبہا ورنہ معلوم ہوگا کہ جاہل نہیں معاند ہے اس سے بھی قطع تعلق لازم ہوگا۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر شیطان تمہیں کسی بھلاوے میں ڈال دے تویاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔(ت)
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ ان سے دوربھاگو ان کو اپنے سے دور کرو کہیں تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔
اور شق اول ہو تو اسے سمجھائیں کہ پرانی خباثت کے سبب ہم اپنافرض کیونکر چھوڑسکتے ہیں۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم " ۔ اے ایمان والو! اپنی جانوں کی فکر کرو جو بھٹک گیا وہ تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو۔(ت)
تو علماء فرماتے ہیں کہ:
لاتترک سنۃ لاقترانھا مع بدعۃ من غیرہ۔ کسی ایسی سنت کو نہ چھوڑا جائے جو کسی دوسرے کی بدعت کے ساتھ مخلوط ہو۔(ت)
نہ کہ ایسے مہمل خیال پرا س درجہ اہم فرض کو چھوڑنا اور پھر نتیجہ یہ کہ ان کی خباثتیں فاش وآشکار ہوں اور ادھر سے جواب نہ ہو اور عوام ان کے شکار ہوں آج وہ دل میں برا کہتے ہیں کل سیکڑوں کو علانیہ برا کہنے والا بنالیںایسی اوندھی مت کاکیاٹھکانہ ہے یوں تواذان بھی حرام ہوجائے گی کہ دور سے سن کر بھی اعداء دین کے کلیجے شق ہوتے ہیں اورخفیہ جو منہ پر آتاہے بکتے ہیںاگر یہ جاہل سمجھ جائے فبہا ورنہ معلوم ہوگا کہ جاہل نہیں معاند ہے اس سے بھی قطع تعلق لازم ہوگا۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر شیطان تمہیں کسی بھلاوے میں ڈال دے تویاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔(ت)
حوالہ / References
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء والاحتیاط فی تحملہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰
القرآن الکریم ۵ /۱۰۵
القرآن الکریم ۶ /۶۸
القرآن الکریم ۵ /۱۰۵
القرآن الکریم ۶ /۶۸
نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہم اﷲ تعالی سے عفواورعافیت چاہتے ہیں۔گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت کسی میں نہیں مگریہ کہ اﷲ عالی بلندو بالا اوربڑی شان رکھنے والا(کسی کو)توفیق دے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۸۰ تا ۳۸۶: ازمرسنیا تھانہ جہان آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ شیخ ممتازحسین صاحب ۶ربیع الآخر۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:
(۱)اکثردیکھا ہے کہ میلاد شریف میں مردوں کو دوحصے اور لڑکوں کو ایک حصہ دیاجاتاہے یہ جائزہے یانہیں
(۲)چھوٹے بتاسے مٹھی بھردئیے جاتے ہیں کسی کوکم کسی کو زیادہ پہنچتے ہیں اس میں کچھ حرج ہے یانہیں
(۳)اگربتاسے ختم ہوگئے اور کچھ آدمی رہ گئے تو کچھ حرج ہوایانہیں
(۴)اگرمیلاد شریف بغیرشیرینی کے پڑھاجائے
(۵)میلاد شریف ختم ہونے پر مرد کسی کام کے سبب چلاگیا توکچھ گناہ ہوا
(۶)میلادشریف جس کے یہاں ہو اس سے کچھ رنج ہو یہ سننے جائے اور شیرینی نہ لے توکیاگناہ ہے
(۷)اگرشیرینی تقسیم کے بعدبچالے
الجواب:
(۱)حسب رواج مردوں کو دو حصے لڑکوں کو ایک دینے میں حرج نہیں کہ بوجہ رواج کسی کو ناگوار نہیں ہوتا۔
(۲)مٹھی سے کم بیش پہنچنے میں بھی حرج نہیں مگر اتنی کمی نہ ہو کہ اسے ناگوار گزرے اس کی ذلت سمجھی جائے۔
(۳)کچھ آدمی رہ گئے تو اگرہو سکے تو اور منگاکران کو بھی دے انکار کردینا مناسب نہیں اور نہ ہوسکے تو ان سے معذرت کرلے۔
(۴)میلاد شریف بغیر شیرینی بھی ہوسکتاہے اصل مراد توذکرشریف ہے۔
(۵)ختم کے بعد جوچلاگیا اس پرکچھ الزام نہیں۔
(۶)میلادشریف سننے کو حاضر ہو اور شیرینی نہ لے تو حرج نہیں جبکہ اس میں صاحب خانہ کی دل آزاری نہ ہو ورنہ بلاوجہ شرعی مسلمان کی دل آزاری کی اجازت نہیں۔
(۷)تقسیم کے بعد شیرینی بچ رہے تو وہ اس کا مال ہے جو چاہے کرے اور بہتریہ ہے کہ اسے بھی عزیزوں
مسئلہ ۳۸۰ تا ۳۸۶: ازمرسنیا تھانہ جہان آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ شیخ ممتازحسین صاحب ۶ربیع الآخر۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:
(۱)اکثردیکھا ہے کہ میلاد شریف میں مردوں کو دوحصے اور لڑکوں کو ایک حصہ دیاجاتاہے یہ جائزہے یانہیں
(۲)چھوٹے بتاسے مٹھی بھردئیے جاتے ہیں کسی کوکم کسی کو زیادہ پہنچتے ہیں اس میں کچھ حرج ہے یانہیں
(۳)اگربتاسے ختم ہوگئے اور کچھ آدمی رہ گئے تو کچھ حرج ہوایانہیں
(۴)اگرمیلاد شریف بغیرشیرینی کے پڑھاجائے
(۵)میلاد شریف ختم ہونے پر مرد کسی کام کے سبب چلاگیا توکچھ گناہ ہوا
(۶)میلادشریف جس کے یہاں ہو اس سے کچھ رنج ہو یہ سننے جائے اور شیرینی نہ لے توکیاگناہ ہے
(۷)اگرشیرینی تقسیم کے بعدبچالے
الجواب:
(۱)حسب رواج مردوں کو دو حصے لڑکوں کو ایک دینے میں حرج نہیں کہ بوجہ رواج کسی کو ناگوار نہیں ہوتا۔
(۲)مٹھی سے کم بیش پہنچنے میں بھی حرج نہیں مگر اتنی کمی نہ ہو کہ اسے ناگوار گزرے اس کی ذلت سمجھی جائے۔
(۳)کچھ آدمی رہ گئے تو اگرہو سکے تو اور منگاکران کو بھی دے انکار کردینا مناسب نہیں اور نہ ہوسکے تو ان سے معذرت کرلے۔
(۴)میلاد شریف بغیر شیرینی بھی ہوسکتاہے اصل مراد توذکرشریف ہے۔
(۵)ختم کے بعد جوچلاگیا اس پرکچھ الزام نہیں۔
(۶)میلادشریف سننے کو حاضر ہو اور شیرینی نہ لے تو حرج نہیں جبکہ اس میں صاحب خانہ کی دل آزاری نہ ہو ورنہ بلاوجہ شرعی مسلمان کی دل آزاری کی اجازت نہیں۔
(۷)تقسیم کے بعد شیرینی بچ رہے تو وہ اس کا مال ہے جو چاہے کرے اور بہتریہ ہے کہ اسے بھی عزیزوں
قریبوں ہمسایوں دوستوں مسکینوں پربانٹ دے کہ جتنی چیز اﷲ عزوجل کے لئے نکالی اس میں سے کچھ بچالینا مناسب نہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۸۷: ازکمیلہ ضلع بنگالہ مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۲۰ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شب برات میں حلوہ وغیرہ بناتے ہیں اور خوشی کرتے ہیں اور آتشبازی وغیرہ چھوڑتے ہیں یہ جائزہے یانہیں اور روز مقرر کرکے کرنایہ جائزہے یانہیں اور بعض لوگ بدعت کہتے ہیں اور وہ کس وقت سے ہے آیا یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے یانہیں اور تسبیح وتہلیل وقرآن مجید پڑھ کر اجرت لیناجائزہے یانہیں اور مردہ کو ثواب ملے گایانہیں اور مولود شریف میں اشعار وغیرہ راگ سے پڑھنا جائزہے یانہیں اکثرلوگ گاتے ہیں ملک بنگالہ میں کہ جہاں لوگ اردو نہیں سمجھتے ہیں فقط خوش الحانی کو سنتے ہیں یہ جائز ہے یانہیں اور بعض لوگ مولود شریف اور قیام کے منکرہیں آیا مولود شریف حدیث وقرآن سے ثابت ہے یانہیں اور قدمبوسی کتنے آدمیوں کی کرناجائزہے اور جلسہ میں کوئی خوشی وغیرہ کی بات اگر لوگ سنتے توہاتھ کی تالی دیتے ہیں یہ جائزہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
حلوہ وغیرہ پکانا فقراء پرتقسیم کرنا احباب کو بھیجنا جائزہے اﷲ کے فضل ونعمت پرخوشی کرنے کا قرآن مجید میں حکم ہے جائز خوشی ناجائزنہیں۔آتشبازی اسراف وگناہ ہے۔دن کی تعیین میں جرم نہیں جبکہ کسی غیرواجب شرعی کو واجب شرعی نہ جانے۔ بدعت کہنے والے خود بدعت میں ہیں۔قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ جو کچھ قرآن وحدیث نے منع نہ فرمایا اس سے منع کرنے والا بدعتی ہے۔تسبیح وتہلیل وتلاوت قرآن مجید پراجرت لیناحرام ہے۔مردہ کو اس کا کچھ ثواب نہیں مل سکتا۔خوش الحانی جائزہے جبکہ مزامیر وفتنہ ساتھ نہ ہو۔میلاد مبارک وقیام کے آج کل منکروہابیہ ہیں اور وہابیہ گمراہ بے دین۔میلادشریف قرآن عظیم کی متعدد آیات کریمہ اور حدیث صحیح سے ثابت ہے جس کی تفصیل اذاقۃ الاثام میں ہے قدم بوسی معظمان دینی مثل پیروعالم دین وسادات وسلطان عادل ووالدین کی جائزہےتالی بجانا نصاری کی سنت ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۸۸: ازقصبہ بشارت گنج ضلع بریلی بڑی مسجد مرسلہ نجوخاں فوجدار یعنی باتی والہ ۲۵محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
مجلس وعظ یامیلادشریف میں لوگوں کووجد آجاتے ہیں اس میں پاگل کی طرح ہاتھ اور پاؤں ہلاتے ہیں یہ کیسے جائزہے یہ کیا بات ہے بعض آدمی سرہلاتے نہ بیہوش ہوتے ہیں یہ کیابات ہے یہ کیاعلامت عشق ہے یاکیاہے تحریرفرماکر سرفراز فرمائیں۔زیادہ سلام
مسئلہ ۳۸۷: ازکمیلہ ضلع بنگالہ مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۲۰ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شب برات میں حلوہ وغیرہ بناتے ہیں اور خوشی کرتے ہیں اور آتشبازی وغیرہ چھوڑتے ہیں یہ جائزہے یانہیں اور روز مقرر کرکے کرنایہ جائزہے یانہیں اور بعض لوگ بدعت کہتے ہیں اور وہ کس وقت سے ہے آیا یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے یانہیں اور تسبیح وتہلیل وقرآن مجید پڑھ کر اجرت لیناجائزہے یانہیں اور مردہ کو ثواب ملے گایانہیں اور مولود شریف میں اشعار وغیرہ راگ سے پڑھنا جائزہے یانہیں اکثرلوگ گاتے ہیں ملک بنگالہ میں کہ جہاں لوگ اردو نہیں سمجھتے ہیں فقط خوش الحانی کو سنتے ہیں یہ جائز ہے یانہیں اور بعض لوگ مولود شریف اور قیام کے منکرہیں آیا مولود شریف حدیث وقرآن سے ثابت ہے یانہیں اور قدمبوسی کتنے آدمیوں کی کرناجائزہے اور جلسہ میں کوئی خوشی وغیرہ کی بات اگر لوگ سنتے توہاتھ کی تالی دیتے ہیں یہ جائزہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
حلوہ وغیرہ پکانا فقراء پرتقسیم کرنا احباب کو بھیجنا جائزہے اﷲ کے فضل ونعمت پرخوشی کرنے کا قرآن مجید میں حکم ہے جائز خوشی ناجائزنہیں۔آتشبازی اسراف وگناہ ہے۔دن کی تعیین میں جرم نہیں جبکہ کسی غیرواجب شرعی کو واجب شرعی نہ جانے۔ بدعت کہنے والے خود بدعت میں ہیں۔قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ جو کچھ قرآن وحدیث نے منع نہ فرمایا اس سے منع کرنے والا بدعتی ہے۔تسبیح وتہلیل وتلاوت قرآن مجید پراجرت لیناحرام ہے۔مردہ کو اس کا کچھ ثواب نہیں مل سکتا۔خوش الحانی جائزہے جبکہ مزامیر وفتنہ ساتھ نہ ہو۔میلاد مبارک وقیام کے آج کل منکروہابیہ ہیں اور وہابیہ گمراہ بے دین۔میلادشریف قرآن عظیم کی متعدد آیات کریمہ اور حدیث صحیح سے ثابت ہے جس کی تفصیل اذاقۃ الاثام میں ہے قدم بوسی معظمان دینی مثل پیروعالم دین وسادات وسلطان عادل ووالدین کی جائزہےتالی بجانا نصاری کی سنت ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۸۸: ازقصبہ بشارت گنج ضلع بریلی بڑی مسجد مرسلہ نجوخاں فوجدار یعنی باتی والہ ۲۵محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
مجلس وعظ یامیلادشریف میں لوگوں کووجد آجاتے ہیں اس میں پاگل کی طرح ہاتھ اور پاؤں ہلاتے ہیں یہ کیسے جائزہے یہ کیا بات ہے بعض آدمی سرہلاتے نہ بیہوش ہوتے ہیں یہ کیابات ہے یہ کیاعلامت عشق ہے یاکیاہے تحریرفرماکر سرفراز فرمائیں۔زیادہ سلام
الجواب:
اس کی تین صورتیں ہیںوجد کہ حقیقۃ دل بے اختیار ہوجائے اس پر تو مطالبہ کے کوئی معنی نہیںدوسرے تواجد یعنی باختیارخود وجد کی سی حالت بنانایہ اگرلوگوں کے دکھاوے کوہوتوحرام ہے اور ریا اور شرک خفی ہےاور اگرلوگوں کی طرف نظراصلا نہ ہوبلکہ اہل اﷲ سے تشبہ اور بہ تکلف ان کی حالت بنانا کہ امام حجۃ الاسلام وغیرہ اکابر نے فرمایاہے کہ اچھی نیت سے حالت بناتے بناتے حقیقت مل جاتی ہے اور تکلیف دفع ہوکر تواجد سے وجد ہوجاتاہے تو یہ ضرور محمودہے مگراس کے لئے خلوت مناسب ہے مجمع میں ہونا اور ریاسے بچنابہت دشوارہےپھربھی دیکھنے والوں کو بدگمانی حرام ہے اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کہ کچھ گمان گناہ ہیں۔
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔ گمان سے بچو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے
جسے وجد میں دیکھو یہی سمجھو کہ اس کی حالت حقیقی ہے اور اگرتم پرظاہرہوجائے کہ وہ ہوش میں ہے اور باختیار خود ایسی حرکات کررہاہے تو اسے صورت دوم پرمحمول کرو جومحمودہے یعنی محض اﷲ کے لئے نیکوں سے تشبہ کرتاہے نہ کہ لوگوں کے دکھاوے کوان دونوں صورتوں میں نیت ہی کاتوفرق ہے اور نیت امرباطن جس پر اطلاع اﷲ ورسول کوہے جل وعلاوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلمتو اپنی طرف سے بری نیت قراردے لینا برے ہی دل کاکام ہے۔ائمہ دین فرماتے ہیں:
الظن الخبیث انما ینشأ من القلب الخبیث ۔
والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم خبیث گمان خبیث ہی دل سے پیداہوتاہے۔
مسئلہ ۳۸۹: مسئولہ حافظ عبداللطیف صاحب مدرس مدرسہ حنفیہ سہسوان ازسہسوان ۲۸صفر ۱۳۳۲ھ
مجلس ذکرشہادت جائزیانارواایک صاحب نے کہا کہ تجدید سرورمختلف فیہ اور تجدیدغم باتفاق ناجائز۔
اس کی تین صورتیں ہیںوجد کہ حقیقۃ دل بے اختیار ہوجائے اس پر تو مطالبہ کے کوئی معنی نہیںدوسرے تواجد یعنی باختیارخود وجد کی سی حالت بنانایہ اگرلوگوں کے دکھاوے کوہوتوحرام ہے اور ریا اور شرک خفی ہےاور اگرلوگوں کی طرف نظراصلا نہ ہوبلکہ اہل اﷲ سے تشبہ اور بہ تکلف ان کی حالت بنانا کہ امام حجۃ الاسلام وغیرہ اکابر نے فرمایاہے کہ اچھی نیت سے حالت بناتے بناتے حقیقت مل جاتی ہے اور تکلیف دفع ہوکر تواجد سے وجد ہوجاتاہے تو یہ ضرور محمودہے مگراس کے لئے خلوت مناسب ہے مجمع میں ہونا اور ریاسے بچنابہت دشوارہےپھربھی دیکھنے والوں کو بدگمانی حرام ہے اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کہ کچھ گمان گناہ ہیں۔
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔ گمان سے بچو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے
جسے وجد میں دیکھو یہی سمجھو کہ اس کی حالت حقیقی ہے اور اگرتم پرظاہرہوجائے کہ وہ ہوش میں ہے اور باختیار خود ایسی حرکات کررہاہے تو اسے صورت دوم پرمحمول کرو جومحمودہے یعنی محض اﷲ کے لئے نیکوں سے تشبہ کرتاہے نہ کہ لوگوں کے دکھاوے کوان دونوں صورتوں میں نیت ہی کاتوفرق ہے اور نیت امرباطن جس پر اطلاع اﷲ ورسول کوہے جل وعلاوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلمتو اپنی طرف سے بری نیت قراردے لینا برے ہی دل کاکام ہے۔ائمہ دین فرماتے ہیں:
الظن الخبیث انما ینشأ من القلب الخبیث ۔
والعیاذباﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم خبیث گمان خبیث ہی دل سے پیداہوتاہے۔
مسئلہ ۳۸۹: مسئولہ حافظ عبداللطیف صاحب مدرس مدرسہ حنفیہ سہسوان ازسہسوان ۲۸صفر ۱۳۳۲ھ
مجلس ذکرشہادت جائزیانارواایک صاحب نے کہا کہ تجدید سرورمختلف فیہ اور تجدیدغم باتفاق ناجائز۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۹ /۱۲
صحیح البخاری کتاب الادب باب ماینہٰی عن التحاسد والتدابر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۹۶
فیض القدیر تحت حدیث ۲۹۰۱ ایاکم والظن الخ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۲
صحیح البخاری کتاب الادب باب ماینہٰی عن التحاسد والتدابر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۹۶
فیض القدیر تحت حدیث ۲۹۰۱ ایاکم والظن الخ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۲
الجواب:
مجلس ذکرشہادت اگرروایات باطلہ سے ہوتو مطلقا ناروااور روایات صحیحہ سے ہو تو اگرتجدید غم وجلب بکاء مقصود ہے بیشک نا محمود ہے اور اگر ذکرفضائل محبوبان خدامراد ہے تو مورد رحمت جوادہے۔
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کاموں کامدار ارادوں پرہے اور ہرآدمی وہی پائے گا جس کا اس نے ارادہ کیا۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹۰: ازشہر لاہور لنڈابازار دکان بھگوان داس مرسلہ محمدحسین معماربریلی والا ۲۲ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ فاتحہ گیارہویں میں رباعی شریف پڑھناچاہئے یا نہیں
رباعی یہ ہے
سیدوسلطان فقیروخواجہ مخدوم وغریب بادشاہ وشیخ ودرویش وولی ومولانہ
اوراگریہ رباعی پڑھنا ناجائزہے توکل طریقہ فاتحہ گیارہویں شریف کابراہ مہربانی تحریرفرمادیجئے۔
الجواب:
یہ رباعی نہ پڑھی جائے اس میں بعض الفاظ خلاف شان اقدس ہیںفاتحہ ایصال ثواب کانام ہے جو کچھ قرآن مجیدودرودشریف سے ہوسکے پڑھ کر ثواب نذرکرے۔اور ہمارے خاندان کا معمول یہ ہے کہ سات باردرود غوثیہپھر ایک ایک بار الحمدشریف وآیۃ الکرسیپھر سات بار سورہ اخلاصپھر تین باردرودغوثیہ۔درودغوثیہ یہ ہے:اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد معدن الجود والکرم وعلی الہ وبارک وسلم۔اور فقیراتنا زائد کرتاہے:وعلی الہ الکرام وابنہ الکریم وامتہ الکریمۃ و بارک وسلم۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹۱: بتاریخ ۶ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ مجلس میلاد شریف میں ذکر حضرات امام حسنین علیہم السلام کا بغیر ذکرفضائل حضرات صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے جائزنہیں۔دوسراقول زید کایہ ہے کہ مجلس میلاد مبارک میں ذکر حضرات امام حسنین علیہم السلام کا قطعی جائزنہیں ہے۔یہ دونوں اقوال زید کے کہاں تک صحیح ہیں بینوا توجروا۔(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
مجلس ذکرشہادت اگرروایات باطلہ سے ہوتو مطلقا ناروااور روایات صحیحہ سے ہو تو اگرتجدید غم وجلب بکاء مقصود ہے بیشک نا محمود ہے اور اگر ذکرفضائل محبوبان خدامراد ہے تو مورد رحمت جوادہے۔
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کاموں کامدار ارادوں پرہے اور ہرآدمی وہی پائے گا جس کا اس نے ارادہ کیا۔(ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹۰: ازشہر لاہور لنڈابازار دکان بھگوان داس مرسلہ محمدحسین معماربریلی والا ۲۲ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ فاتحہ گیارہویں میں رباعی شریف پڑھناچاہئے یا نہیں
رباعی یہ ہے
سیدوسلطان فقیروخواجہ مخدوم وغریب بادشاہ وشیخ ودرویش وولی ومولانہ
اوراگریہ رباعی پڑھنا ناجائزہے توکل طریقہ فاتحہ گیارہویں شریف کابراہ مہربانی تحریرفرمادیجئے۔
الجواب:
یہ رباعی نہ پڑھی جائے اس میں بعض الفاظ خلاف شان اقدس ہیںفاتحہ ایصال ثواب کانام ہے جو کچھ قرآن مجیدودرودشریف سے ہوسکے پڑھ کر ثواب نذرکرے۔اور ہمارے خاندان کا معمول یہ ہے کہ سات باردرود غوثیہپھر ایک ایک بار الحمدشریف وآیۃ الکرسیپھر سات بار سورہ اخلاصپھر تین باردرودغوثیہ۔درودغوثیہ یہ ہے:اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد معدن الجود والکرم وعلی الہ وبارک وسلم۔اور فقیراتنا زائد کرتاہے:وعلی الہ الکرام وابنہ الکریم وامتہ الکریمۃ و بارک وسلم۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹۱: بتاریخ ۶ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ مجلس میلاد شریف میں ذکر حضرات امام حسنین علیہم السلام کا بغیر ذکرفضائل حضرات صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے جائزنہیں۔دوسراقول زید کایہ ہے کہ مجلس میلاد مبارک میں ذکر حضرات امام حسنین علیہم السلام کا قطعی جائزنہیں ہے۔یہ دونوں اقوال زید کے کہاں تک صحیح ہیں بینوا توجروا۔(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲
الجواب:
مجلس میلاد مبارک مجلس فرحت وسرورہے اس میں علماء کرام نے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وفات شریف کا تذکرہ بھی پسندنہ فرمایااور ذکرشہادت جس طور پررائج ہے وہ ضرور طریقہ غم پروری ہے۔رہا حضرات امامین رضی اﷲ تعالی عنہما کے فضائل ومناقب صحیحہ معتبرہ کاذکروہ نورایمان وراحت جان ہے۔اس سے کسی وقت ممانعت نہیں ہوسکتی جبکہ وجہ صحیح پربقصد صحیح ہو۔یہ شرط نہ صرف اس میں بلکہ ہرعمل صالح میں ہے۔اور یہ بھی کتابوں میں ہے کہ ذکرحضرات حسنین بعد ذکرحضرات صحابہ عظام رضی اﷲ تعالی عنہم ہو۔اس سے مطلب یہ نہیں کہ ان کا ذکر کریم بے ذکرصحابہ ناجائز ہے۔وہ ہرایک مستقل عبادت ہے کہ ترک ذکرصحابہ عظام بالقصدجائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹۲: مرسلہ جناب سیداحمدصاحب بن حاجی سیدامام حکیم صاحب ازاکوٹ ضلع اکولہ یکم جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
جناب حضرت حامی سنت ماحی بدعت مولانامولوی احمدرضاخاں صاحب دام فضلکمالسلام وعلیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہجناب عالی سے عرض ہے کہ یہاں برار میں دوبرس سے مجلس کانفرنس کی ہونا شروع ہوئی ہے او ر میرے کو بھی نامہ آیا میں افسوس کرتا ہوں کہ ہرمذہب کاشخص ممبرہوسکتا ہے کرکے تحریر ہے اب اس مجلس میں جانا ثواب ہے یاکہ حرام ہے۔چندکلمہ مشعرحالات سے سرورفرمائیے۔زیادہ چہ مزیدتوجہ۔
الجواب:
بملاحظہ حضرت سیدصاحب مکرم ذی المجدوالکرم دام کرمہم۔وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔یہ مجلس نیچریوں کی ہے اس میں شرکت جائزنہیں۔
قال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" وقال اﷲ تعالی
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار
" وفی الحدیث عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ اﷲ تعالی نے ارشادفرمایا:"اگرتمہیں شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو یادآنے کے بعدظالموں کے ساتھ مت بیٹھو"۔اور نیز اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:"(لوگو!)ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمہیں آگ چھوئے گی"۔اور حدیث میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام
وسلم من کثر سواد قوم فہو منھمرواہ ابویعلی فی مسندہ وعلی بن معید فی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ وابن المبارک فی الزھد عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ و الخطیب فی التاریخ عن انس بن مالک عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلفظ من سود مع قوم فھو منھم ۔ سے روایت ہے کہ جو کسی قوم کی جماعت بڑھائے وہ انہی میں شامل ہے۔ابویعلی نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا۔اور علی بن معید نے کتاب الطاعۃ و المعصیۃ میں عبداﷲ بن مسعود سے روایت کرتے ہیںاور عبداﷲ ابن مبارک "الزہد"میں ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے ان کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔اور خطیب بغدادی تاریخ میں انس بن مالک کے حوالے سے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے ان الفاظ سے روایت کرتے ہیں:جوکوئی لوگوں کے ساتھ ہو کر جماعت میں اضافہ کرے تو وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
مجلس میلاد مبارک مجلس فرحت وسرورہے اس میں علماء کرام نے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی وفات شریف کا تذکرہ بھی پسندنہ فرمایااور ذکرشہادت جس طور پررائج ہے وہ ضرور طریقہ غم پروری ہے۔رہا حضرات امامین رضی اﷲ تعالی عنہما کے فضائل ومناقب صحیحہ معتبرہ کاذکروہ نورایمان وراحت جان ہے۔اس سے کسی وقت ممانعت نہیں ہوسکتی جبکہ وجہ صحیح پربقصد صحیح ہو۔یہ شرط نہ صرف اس میں بلکہ ہرعمل صالح میں ہے۔اور یہ بھی کتابوں میں ہے کہ ذکرحضرات حسنین بعد ذکرحضرات صحابہ عظام رضی اﷲ تعالی عنہم ہو۔اس سے مطلب یہ نہیں کہ ان کا ذکر کریم بے ذکرصحابہ ناجائز ہے۔وہ ہرایک مستقل عبادت ہے کہ ترک ذکرصحابہ عظام بالقصدجائزنہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹۲: مرسلہ جناب سیداحمدصاحب بن حاجی سیدامام حکیم صاحب ازاکوٹ ضلع اکولہ یکم جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
جناب حضرت حامی سنت ماحی بدعت مولانامولوی احمدرضاخاں صاحب دام فضلکمالسلام وعلیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہجناب عالی سے عرض ہے کہ یہاں برار میں دوبرس سے مجلس کانفرنس کی ہونا شروع ہوئی ہے او ر میرے کو بھی نامہ آیا میں افسوس کرتا ہوں کہ ہرمذہب کاشخص ممبرہوسکتا ہے کرکے تحریر ہے اب اس مجلس میں جانا ثواب ہے یاکہ حرام ہے۔چندکلمہ مشعرحالات سے سرورفرمائیے۔زیادہ چہ مزیدتوجہ۔
الجواب:
بملاحظہ حضرت سیدصاحب مکرم ذی المجدوالکرم دام کرمہم۔وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔یہ مجلس نیچریوں کی ہے اس میں شرکت جائزنہیں۔
قال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" وقال اﷲ تعالی
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار
" وفی الحدیث عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ اﷲ تعالی نے ارشادفرمایا:"اگرتمہیں شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو یادآنے کے بعدظالموں کے ساتھ مت بیٹھو"۔اور نیز اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:"(لوگو!)ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمہیں آگ چھوئے گی"۔اور حدیث میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام
وسلم من کثر سواد قوم فہو منھمرواہ ابویعلی فی مسندہ وعلی بن معید فی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ وابن المبارک فی الزھد عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ و الخطیب فی التاریخ عن انس بن مالک عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلفظ من سود مع قوم فھو منھم ۔ سے روایت ہے کہ جو کسی قوم کی جماعت بڑھائے وہ انہی میں شامل ہے۔ابویعلی نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا۔اور علی بن معید نے کتاب الطاعۃ و المعصیۃ میں عبداﷲ بن مسعود سے روایت کرتے ہیںاور عبداﷲ ابن مبارک "الزہد"میں ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے ان کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔اور خطیب بغدادی تاریخ میں انس بن مالک کے حوالے سے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے ان الفاظ سے روایت کرتے ہیں:جوکوئی لوگوں کے ساتھ ہو کر جماعت میں اضافہ کرے تو وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۶ /۶۸
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
کشف الخفاء بحوالہ ابی یعلٰی دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۲۴،نصب الرایۃ للاحادیث الہدایۃ کتاب الجنایات من کثرسوادا لخ المکتبۃ الاسلامیہ ۴/ ۳۴۶
کنزالعمال بحوالہ خط عن انس حدیث ۲۴۶۸۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۹/ ۱۰،تاریخ بغداد ترجمہ عبداﷲ بن عتاب ۵۱۶۷ دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/ ۴۰
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
کشف الخفاء بحوالہ ابی یعلٰی دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۲۴،نصب الرایۃ للاحادیث الہدایۃ کتاب الجنایات من کثرسوادا لخ المکتبۃ الاسلامیہ ۴/ ۳۴۶
کنزالعمال بحوالہ خط عن انس حدیث ۲۴۶۸۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۹/ ۱۰،تاریخ بغداد ترجمہ عبداﷲ بن عتاب ۵۱۶۷ دارالکتاب العربی بیروت ۱۰/ ۴۰
وسلم من کثر سواد قوم فہو منھمرواہ ابویعلی فی مسندہ وعلی بن معید فی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ وابن المبارک فی الزھد عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ و الخطیب فی التاریخ عن انس بن مالک عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلفظ من سود مع قوم فھو منھم ۔ سے روایت ہے کہ جو کسی قوم کی جماعت بڑھائے وہ انہی میں شامل ہے۔ابویعلی نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا۔اور علی بن معید نے کتاب الطاعۃ و المعصیۃ میں عبداﷲ بن مسعود سے روایت کرتے ہیںاور عبداﷲ ابن مبارک "الزہد"میں ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے ان کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔اور خطیب بغدادی تاریخ میں انس بن مالک کے حوالے سے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام سے ان الفاظ سے روایت کرتے ہیں:جوکوئی لوگوں کے ساتھ ہو کر جماعت میں اضافہ کرے تو وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
پندرہ سال ہوئے کہ اس بارہ میں فتوی علمائے کرام حرمین شریفین مسمی بہ فتاوی الحرمین برجف ندوۃ المین(حرمین شریفین کے فیصلےندوہ کے جھوٹ بولنے پرزلزلہ برپاکرنے کے بارے میں۔ت)طبع ہوگیا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹۳: ازمانڈلے برمہا سورتی مسجد ۶رجب ۱۳۳۳ھ
وعظ کے بعد شیرینی تقسیم کرنادرست ہے یانہیں
الجواب:
جائزہے لعدم المانع بلکہ اس کا عمل زیادہ باعث اجتماع وحضور ذکرواستماع ہوگا وسیلہ خیرخیر ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹۴:مسئولہ حافظ عبدالمجید صاحب ازقصبہ تحصیل سوار خاص علاقہ ریاست رامپور بروزسہ شنبہ ۱۰ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محفل مولود شریف
پندرہ سال ہوئے کہ اس بارہ میں فتوی علمائے کرام حرمین شریفین مسمی بہ فتاوی الحرمین برجف ندوۃ المین(حرمین شریفین کے فیصلےندوہ کے جھوٹ بولنے پرزلزلہ برپاکرنے کے بارے میں۔ت)طبع ہوگیا۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹۳: ازمانڈلے برمہا سورتی مسجد ۶رجب ۱۳۳۳ھ
وعظ کے بعد شیرینی تقسیم کرنادرست ہے یانہیں
الجواب:
جائزہے لعدم المانع بلکہ اس کا عمل زیادہ باعث اجتماع وحضور ذکرواستماع ہوگا وسیلہ خیرخیر ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۳۹۴:مسئولہ حافظ عبدالمجید صاحب ازقصبہ تحصیل سوار خاص علاقہ ریاست رامپور بروزسہ شنبہ ۱۰ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محفل مولود شریف
میں حضور سرورعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تشریف فرماہوتے ہیں یانہیں اور وقت پیدائش کے قیام کرنا مستحب ہے یا بدعت بحوالہ کتاب فقہ یاحدیث بیان فرمائیے۔
الجواب:
مجالس خیرمیں حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری اکابراولیاء نے مشاہدہ فرمائی اور بیان کیا
کما فی بہجۃ الاسرارللامام الاوحد ابی الحسن نور الدین اللخمی الشطنوفی وتنویرالحوالک للامام جلال الملۃ و الدین السیوطی وغیرھما لغیرھما رحمۃ اﷲ تعالی علیھم۔ جیساکہ بہجۃالاسرار(مصنفہ)امام یکتائے زمانہ ابوالحسن نور الدین علی لخمی شطنوفی نے اور تنویرالحوالک میں امام جلال الدین سیوطی نے اور ان دو کے علاوہ دوسرے حضرات نے اپنی اپنی کتابوں میں ذکرفرمایاان سب پر اﷲ تعالی کی رحمت ہو۔(ت)
مگریہ کوئی کلیہ نہیں سرکار کاکرم ہے جس پرہوجب ہو
(۱) اگربادشہ بردرپیر زن بیاید تو اے خواجہ سبلت من
(۲) ہمیں کردمورے دعاء سحر کہ مہمانش آید سلیماں مگر
(۳) چہ خوش گفت یک مرغ زیرک بدو سلیماں باید ولے جائے کو
(۱۔اگربادشاہ بڑھیا عورت کے دروازے پرقدم رنجہ فرمائے تو اے خواجہ(سردار)! تومونچھوں کو تاؤ نہ دے۔
۲۔سحری کے وقت ایک چیونٹی نے یہی دعا مانگی شاید اس کے ہاں حضرت سلیمان مہمان بن کرتشریف لائیں۔
۳۔ایک دانا پرندے نے اس سے کیا خوب کہاحضرت سلیمان توضرور جلوہ افروز ہوں مگر کون سی جگہ ہوذرا یہ تو کہہ دے۔ت)
مجلس میلاد مبارک میں وقت ذکرولادت مقدس قیام جس طرح حرمین شریفین وجمیع بلاد دارالاسلام میں دائرومعمول ہے مستحب ومستحسن ہے۔
قال اﷲ عزوجل " و تعزروہ و توقروہ " ۔ اﷲ عزوجل نے فرمایا: ان کی یعنی حضوراکرم کی عزت وتوقیر کرو۔(ت)
الجواب:
مجالس خیرمیں حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری اکابراولیاء نے مشاہدہ فرمائی اور بیان کیا
کما فی بہجۃ الاسرارللامام الاوحد ابی الحسن نور الدین اللخمی الشطنوفی وتنویرالحوالک للامام جلال الملۃ و الدین السیوطی وغیرھما لغیرھما رحمۃ اﷲ تعالی علیھم۔ جیساکہ بہجۃالاسرار(مصنفہ)امام یکتائے زمانہ ابوالحسن نور الدین علی لخمی شطنوفی نے اور تنویرالحوالک میں امام جلال الدین سیوطی نے اور ان دو کے علاوہ دوسرے حضرات نے اپنی اپنی کتابوں میں ذکرفرمایاان سب پر اﷲ تعالی کی رحمت ہو۔(ت)
مگریہ کوئی کلیہ نہیں سرکار کاکرم ہے جس پرہوجب ہو
(۱) اگربادشہ بردرپیر زن بیاید تو اے خواجہ سبلت من
(۲) ہمیں کردمورے دعاء سحر کہ مہمانش آید سلیماں مگر
(۳) چہ خوش گفت یک مرغ زیرک بدو سلیماں باید ولے جائے کو
(۱۔اگربادشاہ بڑھیا عورت کے دروازے پرقدم رنجہ فرمائے تو اے خواجہ(سردار)! تومونچھوں کو تاؤ نہ دے۔
۲۔سحری کے وقت ایک چیونٹی نے یہی دعا مانگی شاید اس کے ہاں حضرت سلیمان مہمان بن کرتشریف لائیں۔
۳۔ایک دانا پرندے نے اس سے کیا خوب کہاحضرت سلیمان توضرور جلوہ افروز ہوں مگر کون سی جگہ ہوذرا یہ تو کہہ دے۔ت)
مجلس میلاد مبارک میں وقت ذکرولادت مقدس قیام جس طرح حرمین شریفین وجمیع بلاد دارالاسلام میں دائرومعمول ہے مستحب ومستحسن ہے۔
قال اﷲ عزوجل " و تعزروہ و توقروہ " ۔ اﷲ عزوجل نے فرمایا: ان کی یعنی حضوراکرم کی عزت وتوقیر کرو۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۴۸ /۹
قال اﷲ تعالی" و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾" ۔ اور اﷲ تعالی نے فرمایا:جو کوئی اﷲ تعالی کی نشانیوں کی تعظیم کرتاہے توپھریہ دلوں کاتقوی(پرہیزگاری)ہے۔(ت)
علامہ سید جعفر برزنجی مدنی عقد الجوہر میں فرماتے ہیں:
وقد استحسن القیام عند ذکرمولدہ الشریف صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ائمۃ ذوروایۃ ورؤیۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غایۃ مرامہ ومرماہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بے شک حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے ذکرکرنے کے موقع پرائمہ صاحب روایۃ اور صاحب مشاہدہ نے قیام کو مستحسن قرار دیاہے۔لہذا اس خوش نصیب کے لئے خوشخبری ہوکہ جس کی نگاہ میں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم بجالانا اس کا غایۃ مقصد اور قرارنگاہ کامحل ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۹۵ تا ۳۹۷: مسئولہ بنے خاں سوداگر پارچہ بریلی محلہ نالہ متصل کڑہ ماندرائے ۱۲جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
(۱)طوائف جس کی آمدنی صرف حرام پرہے اس کے یہاں مجلس میلاد شریف پڑھنا اور اس کی اسی حرام آمدنی کی منگائی ہوئی شیرینی پرفاتحہ کرناجائزہے یانہیں
(۲)مجلس میلاد شریف میں بعد بیان مولود شریف کے ذکرشہادت امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ اور واقعات کربلا پڑھنا جائز ہے یانہیں
(۳)رافضیوں کے محرم میں ذکرشہادت ومصائب شہداء بیان کرنا وسوزخوانی ومرثیہ مصنفہ انیس ودبیر پڑھناجائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)اس مال کی شیرینی پرفاتحہ کرناحرام ہے مگرجب کہ اس نے مال بدل کر مجلس کی ہواور یہ لوگ جب کوئی کارخیر کرناچاہتے ہیں تو ایساہی کرتے ہیں اور اس کے لئے کوئی شہادت کی حاجت نہیںاگر وہ کہے کہ میں نے قرض لے کر یہ مجلس کی ہے اور وہ قرض اپنے مال حرام سے اداکیا ہے تو اس کا قول مقبول
علامہ سید جعفر برزنجی مدنی عقد الجوہر میں فرماتے ہیں:
وقد استحسن القیام عند ذکرمولدہ الشریف صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ائمۃ ذوروایۃ ورؤیۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غایۃ مرامہ ومرماہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بے شک حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے ذکرکرنے کے موقع پرائمہ صاحب روایۃ اور صاحب مشاہدہ نے قیام کو مستحسن قرار دیاہے۔لہذا اس خوش نصیب کے لئے خوشخبری ہوکہ جس کی نگاہ میں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم بجالانا اس کا غایۃ مقصد اور قرارنگاہ کامحل ہو۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳۹۵ تا ۳۹۷: مسئولہ بنے خاں سوداگر پارچہ بریلی محلہ نالہ متصل کڑہ ماندرائے ۱۲جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
(۱)طوائف جس کی آمدنی صرف حرام پرہے اس کے یہاں مجلس میلاد شریف پڑھنا اور اس کی اسی حرام آمدنی کی منگائی ہوئی شیرینی پرفاتحہ کرناجائزہے یانہیں
(۲)مجلس میلاد شریف میں بعد بیان مولود شریف کے ذکرشہادت امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ اور واقعات کربلا پڑھنا جائز ہے یانہیں
(۳)رافضیوں کے محرم میں ذکرشہادت ومصائب شہداء بیان کرنا وسوزخوانی ومرثیہ مصنفہ انیس ودبیر پڑھناجائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)اس مال کی شیرینی پرفاتحہ کرناحرام ہے مگرجب کہ اس نے مال بدل کر مجلس کی ہواور یہ لوگ جب کوئی کارخیر کرناچاہتے ہیں تو ایساہی کرتے ہیں اور اس کے لئے کوئی شہادت کی حاجت نہیںاگر وہ کہے کہ میں نے قرض لے کر یہ مجلس کی ہے اور وہ قرض اپنے مال حرام سے اداکیا ہے تو اس کا قول مقبول
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲۲ /۳۲
عقد الجوہر فی مولدالنبی الازھر ترجمہ وحاشیہ نوربخش توکلی جامعہ اسلامیہ لاہور ص۲۶،۲۵
عقد الجوہر فی مولدالنبی الازھر ترجمہ وحاشیہ نوربخش توکلی جامعہ اسلامیہ لاہور ص۲۶،۲۵
ہوگا کما نص علیہ فی الھندیۃ وغیرھا(جیسا کہ فتاوی عالمگیری اور اس کے علاوہ دوسرے فتاووں میں اس مسئلہ کی تصریح کی گئی۔ت)بلکہ شیرینی اگراپنے مال حرام ہی سے خریدی اور خریدنے میں اس پر عقدونقد جمع نہ ہوئے یعنی حرام روپیہ دکھاکر اس کے بدلے خرید کروہی حرام روپیہ نہ دیا ہو تو مذہب مفتی بہ پر وہ شیرینی بھی حرام نہ ہوگی جوشیرینی اسے خاص اجرت زنایاغنا میں ملی یا اس کے کسی آشنا نے تحفہ میں بھیجی یااس کی خریداری میں عقدونقد مال حرام پرجمع ہوئے وہ شیرینی حرام اور اس پر فاتحہ حرام ہےیہ حکم توشیرینی وفاتحہ کاہوا مگر ان کے یہاں جانااگرچہ میلاد شریف پڑھنے کے لئے ہو معصیت یامظنہ معصیت یا تہمت یامظنہ تہمت سے خالی نہیں اور ان سب سے بچنے کاحکم ہے۔حدیث میں ہے:
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلایقفن مواقع التھم ۔ جو اﷲ عزوجل اور قیامت کے دن پرایمان لاتاہے وہ ہرگز تہمت کی جگہ نہ کھڑاہو۔
تو ان کی چوکی اور فرش اورہر استعمالی چیز انہیں احتمالات خباثت پرہےپھر جو اہل تقوی نہیں اسے ان کے ساتھ قربآگ اور بارود کاقرب ہے اور جو اہل تقوی ہے اس کے لئے وہ لوہار کی بھٹی ہے کہ کپڑے جلے نہیں توکالے ضرور ہوں گے پھر اپنے نفس پراعتماد کرنا اور شیطان کودورسمجھنااحمق کاکام ہے ومن رتع حول الحمی اوشک ان یقع فیہ جو رمنے کے گرد چرائے گا کبھی اس میں پڑبھی جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)علمائے کرام نے مجلس میلاد شریف میں ذکرشہات سے منع فرمایا ہے کہ وہ مجلس سرور ہے ذکرحزن اس میں مناسب نہیں کما فی مجمع البحار(جیسا کہ مجمع البحار میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
(۳)حرام ہے ع
کندہم جنس باھم جنس پرواز
(ہم جنس اپنے جیسے ہم جنس کے ساتھ پرواز کرتا ہے۔ت)
حدیث میں ارشاد ہوا:لاتجالسوھم ان کے پاس نہ بیٹھو۔دوسری حدیث میں فرمایا:من کثر سواد مع قوم فھو منھم (جوکسی قوم کا مجمع بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔ واﷲتعالی اعلم
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلایقفن مواقع التھم ۔ جو اﷲ عزوجل اور قیامت کے دن پرایمان لاتاہے وہ ہرگز تہمت کی جگہ نہ کھڑاہو۔
تو ان کی چوکی اور فرش اورہر استعمالی چیز انہیں احتمالات خباثت پرہےپھر جو اہل تقوی نہیں اسے ان کے ساتھ قربآگ اور بارود کاقرب ہے اور جو اہل تقوی ہے اس کے لئے وہ لوہار کی بھٹی ہے کہ کپڑے جلے نہیں توکالے ضرور ہوں گے پھر اپنے نفس پراعتماد کرنا اور شیطان کودورسمجھنااحمق کاکام ہے ومن رتع حول الحمی اوشک ان یقع فیہ جو رمنے کے گرد چرائے گا کبھی اس میں پڑبھی جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)علمائے کرام نے مجلس میلاد شریف میں ذکرشہات سے منع فرمایا ہے کہ وہ مجلس سرور ہے ذکرحزن اس میں مناسب نہیں کما فی مجمع البحار(جیسا کہ مجمع البحار میں ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
(۳)حرام ہے ع
کندہم جنس باھم جنس پرواز
(ہم جنس اپنے جیسے ہم جنس کے ساتھ پرواز کرتا ہے۔ت)
حدیث میں ارشاد ہوا:لاتجالسوھم ان کے پاس نہ بیٹھو۔دوسری حدیث میں فرمایا:من کثر سواد مع قوم فھو منھم (جوکسی قوم کا مجمع بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔ واﷲتعالی اعلم
حوالہ / References
مراقی الفلاح علی ہامش الطحطاوی باب ادراک الفریضہ نورمحمدکارخانہ تجارت کراچی ص۲۴۹
کنزالعمال حدیث ۳۲۴۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۲۹
تاریخ بغداد ترجمہ عبداﷲ بن عتاب ۵۱۶۷ دارالکتاب العربی بیروت ۴/ ۴۰،کنزالعمال حدیث ۲۴۷۳۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/ ۲۲
کنزالعمال حدیث ۳۲۴۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۲۹
تاریخ بغداد ترجمہ عبداﷲ بن عتاب ۵۱۶۷ دارالکتاب العربی بیروت ۴/ ۴۰،کنزالعمال حدیث ۲۴۷۳۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/ ۲۲
مسئلہ ۳۹۸: مرسلہ مولوی محمدواحدصاحب ۲۷جمادی الاولی ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ذکرمیلاد مبارک بہ تعین ایام وتخصیص ربیع الاول شریف یا بہ تقرر یازدہم ودیگر تواریخ اعراس مشائخ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین اپنے گھروں میں مسجدوں میں درودشریف یاقرآن مجید کاپڑھنا پڑھانا یادوازدہم شریف تک ہرروز مجلس ذکرمیلاد کرنا اور حاضرین سامعین ذکراقدس کو مٹھائی دینا یا کھانا کھلانا یعنی فرح وسرور ولادت اقدس یاایام وصال ارباب کمال میں زیادتی عبادت وصدقہ ومبرات اور نظم میں نعت حضرت سیدالمنعوتین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کابخوش الحانی پڑھنا جائزہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
ذکر حضورسیدالمحبوبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نورایمان وسرورجان ہے ان کا ذکر بعینہ ذکررحمن ہے۔قال تعالی:
" و رفعنا لک ذکرک ﴿۴﴾" (اے حبیب ! ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کردیاہے۔ت) حدیث میں ہے:اس آیہ کریمہ کے نزول کے بعد سیدناجبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام حاضربارگاہ اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہوئے اور عرض کی حضورکارب فرماتاہے:
اتدری کیف رفعت لک ذکرک۔ کیاتم جانتے ہو میں نے کیسے بلند کیاتمہارے لئے تمہاراذکر۔
حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عرض کی:اﷲ اعلم(اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔ت)ارشاد ہوا:
جعلتک ذکرامن ذکری فمن ذکرک فقد ذکرنی ۔ اے محبوب! میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایک یاد کیا کہ جس نے تمہارا ذکرکیا بیشک اس نے میرا ذکرکیا۔
اور ماہ ربیع الاول شریف اس کے لئے زیادہ مناسبجیسے دورقرآن وختم قرآن کے لئے ماہ رمضان کہ اسی مہینے میں اترا
" شہر رمضان الذی انزل ماہ رمضان شریف وہ بابرکت مہینہ ہے کہ جس میں
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ذکرمیلاد مبارک بہ تعین ایام وتخصیص ربیع الاول شریف یا بہ تقرر یازدہم ودیگر تواریخ اعراس مشائخ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین اپنے گھروں میں مسجدوں میں درودشریف یاقرآن مجید کاپڑھنا پڑھانا یادوازدہم شریف تک ہرروز مجلس ذکرمیلاد کرنا اور حاضرین سامعین ذکراقدس کو مٹھائی دینا یا کھانا کھلانا یعنی فرح وسرور ولادت اقدس یاایام وصال ارباب کمال میں زیادتی عبادت وصدقہ ومبرات اور نظم میں نعت حضرت سیدالمنعوتین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کابخوش الحانی پڑھنا جائزہے یانہیں بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
ذکر حضورسیدالمحبوبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نورایمان وسرورجان ہے ان کا ذکر بعینہ ذکررحمن ہے۔قال تعالی:
" و رفعنا لک ذکرک ﴿۴﴾" (اے حبیب ! ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کردیاہے۔ت) حدیث میں ہے:اس آیہ کریمہ کے نزول کے بعد سیدناجبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام حاضربارگاہ اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہوئے اور عرض کی حضورکارب فرماتاہے:
اتدری کیف رفعت لک ذکرک۔ کیاتم جانتے ہو میں نے کیسے بلند کیاتمہارے لئے تمہاراذکر۔
حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عرض کی:اﷲ اعلم(اﷲ تعالی خوب جانتاہے۔ت)ارشاد ہوا:
جعلتک ذکرامن ذکری فمن ذکرک فقد ذکرنی ۔ اے محبوب! میں نے تمہیں اپنی یاد میں سے ایک یاد کیا کہ جس نے تمہارا ذکرکیا بیشک اس نے میرا ذکرکیا۔
اور ماہ ربیع الاول شریف اس کے لئے زیادہ مناسبجیسے دورقرآن وختم قرآن کے لئے ماہ رمضان کہ اسی مہینے میں اترا
" شہر رمضان الذی انزل ماہ رمضان شریف وہ بابرکت مہینہ ہے کہ جس میں
حوالہ / References
القرآن الکریم ۹۴ /۴
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الاول الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ مصر ۱/ ۱۵
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الباب الاول الفصل الاول المطبعۃ الشرکۃ الصحافیہ مصر ۱/ ۱۵
فیہ القران " قرآن مجیداتاراگیا(ت)
یہاں اس عالم میں حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کارونق افروز ہونا ماہ ربیع الاول میں ہوا ولہذا حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم روزجان افروزدوشنبہ کو روزہ شکر کے لئے خاص فرماتے اور اس کی وجہ یوں ارشاد فرماتے کہ فیہ ولدت وفیہ انزل علی (اسی دن میں پیداہوا اور اسی دن مجھ پرکتاب اتری۔یہ تخصیصات بوجہ مناسبات ہیں تو ان پر طعن جہل ہے بلا مناسبت تخصیص کوتوفرمایاگیا صوم یوم السبت لالک ولاعلیک یعنی روزہ کے لئے روزشنبہ کی تخصیص نہ تجھے نافع نہ مضرتو مناسبات جلیلہ کے باعث تخصیص پرکیا اعتراض ہوسکتاہے ہاں تخصیص بمعنی توقف کہ اوروں ہوہی نہ سکے یابمعنی وجوب شرعی کہ اس دن ہونا شرعا لازم اور دوسرے دن ناجائز ہوضرورباطل ہے مگروہ ہرگز کسی کے ذہن میں نہیں کوئی جاہل سا جاہل بھی ایساخیال نہیں کرتا ولکن الوھابیۃ قوم لایعلمون(وہابی ایسے لوگ ہیں جوکچھ نہیں جانتے۔ت)یہی حال یازدہم ودوازدہم وتواریخ وصال محبوبان ذوالجلال کا ہے اور اوقات فاضلہ میں تکثیراعمال صالحہ بلاشبہ مطلوب ومندوب ہے جس پر قرآن عظیم واحادیث کثیرہ ناطق ان من افضل ایامکم الجمعۃ فاکثروا فیھا من الصلوۃ علی (بلاشبہ تمہارے ہفتہ کے تمام دنوں میں سے سب سے افضل دن روزجمعہ ہےلہذا اس دن سب دنوں سے زیادہ مجھ پر درودشریف پڑھو۔ت) درودخوانی وتلاوت قرآن مجید واطعام طعام وصدقات ومبرات کی خوبیاں ضروریات دین سے ہیں محتاج بیان نہیں اور شیرینی کی تخصیص میں فوائد عدیدہ ہیںایک تو یہ کہ قلب المؤمن حلو یحب الحلو مسلمان کادل میٹھا ہے مٹھاس کو دوست رکھتاہے۔
دوم وہ روزانہ عام لوگوں کے استعمال میں نہیں آتی وکل جدید لذیذ ومن وافق من اخیہ شھوۃ غفرلہ(ہرنئی چیزذائقہ دار ہوتی ہے اور جوکوئی اپنے بھائی سے اس کی چاہت میں موافقت کرے تو اس کے گناہ بخش دئے گئے۔ت)
سوم حسب عرف اغنیا کوبھی اس کے لینے میں باک نہیں ہوتا بخلاف اس کے کہ روٹی بانٹی جائے۔
یہاں اس عالم میں حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کارونق افروز ہونا ماہ ربیع الاول میں ہوا ولہذا حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم روزجان افروزدوشنبہ کو روزہ شکر کے لئے خاص فرماتے اور اس کی وجہ یوں ارشاد فرماتے کہ فیہ ولدت وفیہ انزل علی (اسی دن میں پیداہوا اور اسی دن مجھ پرکتاب اتری۔یہ تخصیصات بوجہ مناسبات ہیں تو ان پر طعن جہل ہے بلا مناسبت تخصیص کوتوفرمایاگیا صوم یوم السبت لالک ولاعلیک یعنی روزہ کے لئے روزشنبہ کی تخصیص نہ تجھے نافع نہ مضرتو مناسبات جلیلہ کے باعث تخصیص پرکیا اعتراض ہوسکتاہے ہاں تخصیص بمعنی توقف کہ اوروں ہوہی نہ سکے یابمعنی وجوب شرعی کہ اس دن ہونا شرعا لازم اور دوسرے دن ناجائز ہوضرورباطل ہے مگروہ ہرگز کسی کے ذہن میں نہیں کوئی جاہل سا جاہل بھی ایساخیال نہیں کرتا ولکن الوھابیۃ قوم لایعلمون(وہابی ایسے لوگ ہیں جوکچھ نہیں جانتے۔ت)یہی حال یازدہم ودوازدہم وتواریخ وصال محبوبان ذوالجلال کا ہے اور اوقات فاضلہ میں تکثیراعمال صالحہ بلاشبہ مطلوب ومندوب ہے جس پر قرآن عظیم واحادیث کثیرہ ناطق ان من افضل ایامکم الجمعۃ فاکثروا فیھا من الصلوۃ علی (بلاشبہ تمہارے ہفتہ کے تمام دنوں میں سے سب سے افضل دن روزجمعہ ہےلہذا اس دن سب دنوں سے زیادہ مجھ پر درودشریف پڑھو۔ت) درودخوانی وتلاوت قرآن مجید واطعام طعام وصدقات ومبرات کی خوبیاں ضروریات دین سے ہیں محتاج بیان نہیں اور شیرینی کی تخصیص میں فوائد عدیدہ ہیںایک تو یہ کہ قلب المؤمن حلو یحب الحلو مسلمان کادل میٹھا ہے مٹھاس کو دوست رکھتاہے۔
دوم وہ روزانہ عام لوگوں کے استعمال میں نہیں آتی وکل جدید لذیذ ومن وافق من اخیہ شھوۃ غفرلہ(ہرنئی چیزذائقہ دار ہوتی ہے اور جوکوئی اپنے بھائی سے اس کی چاہت میں موافقت کرے تو اس کے گناہ بخش دئے گئے۔ت)
سوم حسب عرف اغنیا کوبھی اس کے لینے میں باک نہیں ہوتا بخلاف اس کے کہ روٹی بانٹی جائے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ۲ /۱۸۵
مسنداحمد بن حنبل حدیث ابی قتادۃ الانصاری المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۲۹۷ و ۲۹۹
مسنداحمد بن حنبل حدیث الصماء بن بسر المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۳۶۸
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب تفریع ابواب الجمعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۵۰
مسنداحمد بن حنبل حدیث ابی قتادۃ الانصاری المکتب الاسلامی بیروت ۵/ ۲۹۷ و ۲۹۹
مسنداحمد بن حنبل حدیث الصماء بن بسر المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۳۶۸
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب تفریع ابواب الجمعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۵۰
چہارم جوچیز محبوبان خدا سے منتسب ہوجائے سزاوارتعظیم ہوجاتی ہےشیرینی اس کے لئے زیادہ مناسب کہ اس میں چیز پھینکنے کی نہیں ہوتی۔نعت شریف ذکراقدس ہے اور اس کا خوشی الحانی سے ہونا مورث زیادت شوق ومحبت۔
امام قسطلانی رحمہ اﷲ تعالی نے مواہب اللدنیہ شریف میں تصریح فرمائی کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مدح شریف الحان خوش کے ساتھ سننا محبت حضور کوترقی دیتاہے اور ولادت اقدس پر اظہار فرحت وسرور خود نص قرآن سے مامور۔قال اﷲ تعالی:
" قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " تم فرماؤ کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت چاہئے کہ اسی پر فرحت وسرور کریں۔
انسان العیون میں ہے:بعض صالحین خواب میں زیارت جمال اقدس سے مشرف ہوئے عرض کی یارسول اﷲ! یہ جو لوگ ولادت حضور کی خوشی کرتے ہیںفرمایا:من فرح بنا فرحنا بہ جو ہماری خوشی کرتاہے ہم اس سے خوش ہوتے ہیںصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۹: ازرائے بریلی محلہ جہان متصل مکان سیدفداعلی چنگی انسپکٹر مرسلہ حافظ قمرالحسن صاحب ۲۳شعبان ۱۳۳۵ھ واردحال بریلی شہامت گنج۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص سنی مسلمان از سرتاپا معصیت میں مبتلا ہے اس نے محض اپنی نجات کاذریعہ خیال کرکے مجلس میلاد شریف منعقد کی ہو اور نہایت وفورشوق سے ذکررحمۃ للعالمین سرکاردوعالم اپنے آقائے نامدار کا بکثرت سننا اختیارکیا ہو اور نماز بھی پڑھتاہو اور سچ بھی بولتاہو اور حلال کمائی مجلس میں صرف کرتاہومسکین الطبع رقیق القلب شریف ابن شریف ہو اور اچھے لوگ اسے اچھا سمجھتے ہوں اور بدباطن لوگ اسے براسمجھتے ہوں اس کے یہاں میلاد شریف پڑھنا اور جاکرسننا جائزہے یانہیں اور اس کو محفل میلاد مقرر کرنا اورذکرسرورعالم سنناچاہئے یانہیں اور جوشخص میلادخواں اپنی بدباطنی سے اس کے یہاں مجلس پڑھنے نہ جائے اور دوسروں کو روکے اور اس کی برائی ناکردہ کی تہمت لگائے وہ گنہگارہے یا نہیں
امام قسطلانی رحمہ اﷲ تعالی نے مواہب اللدنیہ شریف میں تصریح فرمائی کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مدح شریف الحان خوش کے ساتھ سننا محبت حضور کوترقی دیتاہے اور ولادت اقدس پر اظہار فرحت وسرور خود نص قرآن سے مامور۔قال اﷲ تعالی:
" قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " تم فرماؤ کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت چاہئے کہ اسی پر فرحت وسرور کریں۔
انسان العیون میں ہے:بعض صالحین خواب میں زیارت جمال اقدس سے مشرف ہوئے عرض کی یارسول اﷲ! یہ جو لوگ ولادت حضور کی خوشی کرتے ہیںفرمایا:من فرح بنا فرحنا بہ جو ہماری خوشی کرتاہے ہم اس سے خوش ہوتے ہیںصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۹۹: ازرائے بریلی محلہ جہان متصل مکان سیدفداعلی چنگی انسپکٹر مرسلہ حافظ قمرالحسن صاحب ۲۳شعبان ۱۳۳۵ھ واردحال بریلی شہامت گنج۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص سنی مسلمان از سرتاپا معصیت میں مبتلا ہے اس نے محض اپنی نجات کاذریعہ خیال کرکے مجلس میلاد شریف منعقد کی ہو اور نہایت وفورشوق سے ذکررحمۃ للعالمین سرکاردوعالم اپنے آقائے نامدار کا بکثرت سننا اختیارکیا ہو اور نماز بھی پڑھتاہو اور سچ بھی بولتاہو اور حلال کمائی مجلس میں صرف کرتاہومسکین الطبع رقیق القلب شریف ابن شریف ہو اور اچھے لوگ اسے اچھا سمجھتے ہوں اور بدباطن لوگ اسے براسمجھتے ہوں اس کے یہاں میلاد شریف پڑھنا اور جاکرسننا جائزہے یانہیں اور اس کو محفل میلاد مقرر کرنا اورذکرسرورعالم سنناچاہئے یانہیں اور جوشخص میلادخواں اپنی بدباطنی سے اس کے یہاں مجلس پڑھنے نہ جائے اور دوسروں کو روکے اور اس کی برائی ناکردہ کی تہمت لگائے وہ گنہگارہے یا نہیں
حوالہ / References
المواہب اللدنیہ المقصد السابع محبۃ ذکرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۱۲۔۳۱۱
القرآن الکریم ۱۰ /۵۸
انسان العیون
القرآن الکریم ۱۰ /۵۸
انسان العیون
الجواب:
اگریہ بیان واقعی ہے کہ اچھے لوگ اسے اچھاسمجھتے ہیں توبدباطنوں کے براسمجھنے سے برانہیں ہوسکتانہ لوگوں کی بدگمانی سے کوئی اثر سوا اس کے کہ بدگمانی کرنے والے خود ہی گنہگار ہوںقال اﷲ تعالی:
" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو اس لئے کہ بعض گمان گناہ ہیں۔(ت)
جھوٹی تہمت رکھنے والا سخت گنہگار ومستحق عذاب ہے اور اس بناپر اس کے یہاں مجلس مبارک پڑھنے سے لوگوں کو روکنا مناع للخیرہوناہے۔ظاہرسوال کاجواب تو یہ ہے اور واقع کاعلم اﷲ عزوجل کو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰۰: ازبدایوں اسلام نگر مرسلہ عزیزحسن کانسٹبل ۲۴ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین ان مسئلوں میں:
(۱)حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں کوئی پیشین گوئی قرآن وحدیث میں ہے یانہیں اگرہے تو حوالہ کتاب وسطروصفحہ سے ہو۔
(۲)اگرمجلس کہ جس میں ذکرشہادت حضرت امام زمان علیہ السلام ہو اور واقعات صحیح ذکرکئے جائیں اور وہ ماہ محرم میں ہو علاوہ ازیں اپنے دوستوں اور سامعین کوکچھ ازقسم شیرینی ختم مجلس پرتقسیم کی جائے توجائزہے یاناجائز
الجواب:
(۱)قرآن مجید میں تمام ماکان ومایکون کابیان ہے
قال اﷲ تعالی " و نزلنا علیک الکتب تبینا لکل شیء " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:ہم نے آپ پرایک عظیم کتاب نازل فرمائی جوہرچیز کاواضح بیان ہے۔(ت)
اور حدیثوں میں شہادت شریفہ کاصاف ذکرہےامام ابن حجرمکی رحمۃ اﷲتعالی علیہ کی صواعق محرقہ وغیرہا میں ان کی تفصیل ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲)جبکہ روایات صحیحہ بروجہ صحیحہ بیان کی جائیں اور غم پروری وغیرہ ممنوعات شرعیہ نہ ہوں تو ذکر شریف
اگریہ بیان واقعی ہے کہ اچھے لوگ اسے اچھاسمجھتے ہیں توبدباطنوں کے براسمجھنے سے برانہیں ہوسکتانہ لوگوں کی بدگمانی سے کوئی اثر سوا اس کے کہ بدگمانی کرنے والے خود ہی گنہگار ہوںقال اﷲ تعالی:
" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو اس لئے کہ بعض گمان گناہ ہیں۔(ت)
جھوٹی تہمت رکھنے والا سخت گنہگار ومستحق عذاب ہے اور اس بناپر اس کے یہاں مجلس مبارک پڑھنے سے لوگوں کو روکنا مناع للخیرہوناہے۔ظاہرسوال کاجواب تو یہ ہے اور واقع کاعلم اﷲ عزوجل کو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰۰: ازبدایوں اسلام نگر مرسلہ عزیزحسن کانسٹبل ۲۴ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین ان مسئلوں میں:
(۱)حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں کوئی پیشین گوئی قرآن وحدیث میں ہے یانہیں اگرہے تو حوالہ کتاب وسطروصفحہ سے ہو۔
(۲)اگرمجلس کہ جس میں ذکرشہادت حضرت امام زمان علیہ السلام ہو اور واقعات صحیح ذکرکئے جائیں اور وہ ماہ محرم میں ہو علاوہ ازیں اپنے دوستوں اور سامعین کوکچھ ازقسم شیرینی ختم مجلس پرتقسیم کی جائے توجائزہے یاناجائز
الجواب:
(۱)قرآن مجید میں تمام ماکان ومایکون کابیان ہے
قال اﷲ تعالی " و نزلنا علیک الکتب تبینا لکل شیء " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:ہم نے آپ پرایک عظیم کتاب نازل فرمائی جوہرچیز کاواضح بیان ہے۔(ت)
اور حدیثوں میں شہادت شریفہ کاصاف ذکرہےامام ابن حجرمکی رحمۃ اﷲتعالی علیہ کی صواعق محرقہ وغیرہا میں ان کی تفصیل ہے۔ واﷲ تعالی اعلم
(۲)جبکہ روایات صحیحہ بروجہ صحیحہ بیان کی جائیں اور غم پروری وغیرہ ممنوعات شرعیہ نہ ہوں تو ذکر شریف
باعث نزول رحمت الہی ہے اور تقسیم شیرینی ایک سلوک حسن۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۰۲ تا ۴۰۳: ازشہرمحلہ ذخیرہ مسئولہ منشی شوکت علی صاحب محررچونگی ۸محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
(۱)کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ رافضیوں کی مجلس میں مسلمانوں کاجانا اور مرثیہ سنناان کی نیاز کی چیز کالینا خصوصا آٹھویں محرم کو جبکہ ان کے یہاں حاضری ہوتی ہے کھانا جائزہے یانہیں
(۲)محرم میں بعض مسلمان ہرےکپڑے پہنتے ہیں اور سیاہ کپڑوں کا کیاحکم ہے
الجواب:
(۱)جانا اورمرثیہ سننا حرام ہے ان کی نیاز کی چیزنہ لی جائےان کی نیاز نیازنہیںاور وہ غالبا نجاست سے خالی نہیں ہوتیکم ازکم ان کے ناپاک قلتین کاپانی ضرور ہوتا ہےاور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت۔
(۲)محرم میں سبز اور سیاہ کپڑے علامت سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے خصوصا سیاہ کاشعاررافضیاں لیام ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۰۴: ازکاشمیری دروازہ تھانہ ۴سوندھی ٹھیکیدار مسئولہ امیرحسن بیدوالے ۹ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موجودہ زمانہ میں جو میلاد شریف مروج ہے اور اس میں شیرینی وغیرہ تقسیم ہوتی ہے اور حضرات سیدان اہل بیت اطہاررضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کی جو نذرونیاز وغیرہ محرم میں یاغیرمحرم شریف میں ہوتی ہے اس میں جاکر شرکت کرنا اور کھانا اورپینا کیساہے چاہے کسی قوم میں ہو خواہ شیاہ میں ہو اس کاکھاناپینا یاشرکت دیناکیساہے اور جولوگ اس میں شرکت دینے سے یاشریک ہونے پرمنع کرتے ہیں ان کے واسطے مولوی لوگ کیاحکم فرماتے ہیں
الجواب:
مجلس مبارک اور نیازشریف کہ منکرات شرعیہ سے خالی ہیں سب خوب ومستحسن ہیں اور ان میں شرکت باعث ثواب اور ان کا کھانا بھی جائزاور جو ان کو بلاوجہ شرعی منع کرے باطل پرہے یہ وہابیہ کاکام ہے لیکن رافضی کے یہاں کی مجالس میں شرکت جائزنہیںنہ اس کے یہاں کھانا کھایاجائےاس سے میل جول ہی جائزنہیں اور اگر اس کے یہاں کے کھانے میں گوشت ہے جب تو وہ قطعی حرام ومردار ہے مگر یہ کہ ذبح ہونا اورپکنا اور اس کے سامنے لانا سب مسلمانوں کے زیرنظرہوا ہو کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہوا ہو۔روافض کے یہاں شرکت جولوگ منع کرتے ہیں حق پرہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۰۲ تا ۴۰۳: ازشہرمحلہ ذخیرہ مسئولہ منشی شوکت علی صاحب محررچونگی ۸محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
(۱)کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ رافضیوں کی مجلس میں مسلمانوں کاجانا اور مرثیہ سنناان کی نیاز کی چیز کالینا خصوصا آٹھویں محرم کو جبکہ ان کے یہاں حاضری ہوتی ہے کھانا جائزہے یانہیں
(۲)محرم میں بعض مسلمان ہرےکپڑے پہنتے ہیں اور سیاہ کپڑوں کا کیاحکم ہے
الجواب:
(۱)جانا اورمرثیہ سننا حرام ہے ان کی نیاز کی چیزنہ لی جائےان کی نیاز نیازنہیںاور وہ غالبا نجاست سے خالی نہیں ہوتیکم ازکم ان کے ناپاک قلتین کاپانی ضرور ہوتا ہےاور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت۔
(۲)محرم میں سبز اور سیاہ کپڑے علامت سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے خصوصا سیاہ کاشعاررافضیاں لیام ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۰۴: ازکاشمیری دروازہ تھانہ ۴سوندھی ٹھیکیدار مسئولہ امیرحسن بیدوالے ۹ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موجودہ زمانہ میں جو میلاد شریف مروج ہے اور اس میں شیرینی وغیرہ تقسیم ہوتی ہے اور حضرات سیدان اہل بیت اطہاررضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین کی جو نذرونیاز وغیرہ محرم میں یاغیرمحرم شریف میں ہوتی ہے اس میں جاکر شرکت کرنا اور کھانا اورپینا کیساہے چاہے کسی قوم میں ہو خواہ شیاہ میں ہو اس کاکھاناپینا یاشرکت دیناکیساہے اور جولوگ اس میں شرکت دینے سے یاشریک ہونے پرمنع کرتے ہیں ان کے واسطے مولوی لوگ کیاحکم فرماتے ہیں
الجواب:
مجلس مبارک اور نیازشریف کہ منکرات شرعیہ سے خالی ہیں سب خوب ومستحسن ہیں اور ان میں شرکت باعث ثواب اور ان کا کھانا بھی جائزاور جو ان کو بلاوجہ شرعی منع کرے باطل پرہے یہ وہابیہ کاکام ہے لیکن رافضی کے یہاں کی مجالس میں شرکت جائزنہیںنہ اس کے یہاں کھانا کھایاجائےاس سے میل جول ہی جائزنہیں اور اگر اس کے یہاں کے کھانے میں گوشت ہے جب تو وہ قطعی حرام ومردار ہے مگر یہ کہ ذبح ہونا اورپکنا اور اس کے سامنے لانا سب مسلمانوں کے زیرنظرہوا ہو کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہوا ہو۔روافض کے یہاں شرکت جولوگ منع کرتے ہیں حق پرہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۰۵ تا ۴۰۶: ازنظام آباد ضلع اعظم گڑھ مسئولہ سیداصغر علی صاحب ۹شعبان چہارشنبہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)جو شخص شیعہ ہو اور اپنے مذہب میں سخت ہو اس سے مسلمان حنفیوں کومحفل میلاد شریف پڑھاناچاہئے یانہیں بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ وہ ایسی روایات پڑھتاہے جس سے صحابہ اور سنی مذہب کی توہین ہوتی ہے۔
(۲)جومسلمان سنی مذہب حنفی کاپابند ہو وہ شیعوں کی مجلسوں میں شرکت کرے اور ان کے جلوس کاانتظام(مثل تاشہڈھول روشنیجلوس گھوڑی کاجس کو دلدل تابوت کہتے ہیں)کرے اور اس شرکت کومذہب حنفی کی روسے جائزسمجھے بالخصوص ایسی مجالس میں شرکت کرناکہ جس میں روایات خلاف مذہب حنفی پڑھی جاتی ہیں وہ کیساہے بینواتوجروا
الجواب:
(۱)رافضی سے مجلس شریف پڑھوانا حرام ہے
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعاتبیین الحقائق وغیرہا۔ اس لئے کہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں لوگوں پر اس کی توہین وتذلیل ضروری ہے جیسا کہ تبیین الحقائق وغیرہ میں مذکورہے۔(ت)
یہ اسی حالت میں ہے کہ وہ کوئی بات کسی صحابی یامذہب اہلسنت کی توہین نہ کرے اور اگرایسا کرتا ہے توجودانستہ اس سے پڑھوائے فقط مرتکب حرام نہیں بلکہ اسی کی طرح گمراہ رافضی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)مجالس روافض اور ان خرافات میں شرکت حرام ہے اور اس کے جائزسمجھنے پرسخت حکم ہے اگر ان مجالس میں مذہب اہلسنت پرحملہ ہوتاہو تو ان میں شرکت پرراضی نہ ہوگا مگرگمراہ۔والعیاذباﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰۷: ازسورت سگرامپورہ محلہ مولوی اسمعیل مرحوم مسئولہ غلام رسول بن عبدالرحیم ۱۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام کہ چنداشخاص نے گیارہویں شب ہرمہینہ میں مجتمع ہوکر بغرض ایصال ثواب
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)جو شخص شیعہ ہو اور اپنے مذہب میں سخت ہو اس سے مسلمان حنفیوں کومحفل میلاد شریف پڑھاناچاہئے یانہیں بالخصوص ایسی حالت میں جبکہ وہ ایسی روایات پڑھتاہے جس سے صحابہ اور سنی مذہب کی توہین ہوتی ہے۔
(۲)جومسلمان سنی مذہب حنفی کاپابند ہو وہ شیعوں کی مجلسوں میں شرکت کرے اور ان کے جلوس کاانتظام(مثل تاشہڈھول روشنیجلوس گھوڑی کاجس کو دلدل تابوت کہتے ہیں)کرے اور اس شرکت کومذہب حنفی کی روسے جائزسمجھے بالخصوص ایسی مجالس میں شرکت کرناکہ جس میں روایات خلاف مذہب حنفی پڑھی جاتی ہیں وہ کیساہے بینواتوجروا
الجواب:
(۱)رافضی سے مجلس شریف پڑھوانا حرام ہے
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعاتبیین الحقائق وغیرہا۔ اس لئے کہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں لوگوں پر اس کی توہین وتذلیل ضروری ہے جیسا کہ تبیین الحقائق وغیرہ میں مذکورہے۔(ت)
یہ اسی حالت میں ہے کہ وہ کوئی بات کسی صحابی یامذہب اہلسنت کی توہین نہ کرے اور اگرایسا کرتا ہے توجودانستہ اس سے پڑھوائے فقط مرتکب حرام نہیں بلکہ اسی کی طرح گمراہ رافضی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)مجالس روافض اور ان خرافات میں شرکت حرام ہے اور اس کے جائزسمجھنے پرسخت حکم ہے اگر ان مجالس میں مذہب اہلسنت پرحملہ ہوتاہو تو ان میں شرکت پرراضی نہ ہوگا مگرگمراہ۔والعیاذباﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰۷: ازسورت سگرامپورہ محلہ مولوی اسمعیل مرحوم مسئولہ غلام رسول بن عبدالرحیم ۱۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام کہ چنداشخاص نے گیارہویں شب ہرمہینہ میں مجتمع ہوکر بغرض ایصال ثواب
حوالہ / References
تبیین الحقائق باب الامامت والحدث فی الصلٰوۃ المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱/ ۱۳۴
روح پرفتوح حضرت محبوب سبحانی سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ کے درودشریف کی تسبیح و کلمہ تہلیل وسورہ اخلاص شریف کے بعد یاغوث یاغوث یاغوث کے ساتھ تسبیح پڑھتے ہیں آیایہ شرعا جائزہے یانہیں درصورت جائزہونے کے بجائے اس کے درودشریف یاکلمہ تہلیل وغیرہ اذکارپڑھیں توکیسا بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
جائز ہے کوئی حرج نہیں اور درودشریف یاتسبیح وتہلیل کا اس سے افضل ہونا وجہ منع نہیں ورنہ سوا افضل الاذکار لاالہ الااﷲ ہردعا وذکرودرودشریف سب ممنوع ہوجائیں بلکہ تمام اذکار کہ قرآن خوانی ان سب سے افضل ہے بلکہ غیراوقات کراہت نفل میں قرآن خوانی بھی کہ نماز نفل اس سے افضل ہے۔یہاں ایک نکتہ اور قابل لحاظ ہے سائل نے وقت حاجت ومصیبت ندائے غیراﷲ کا جوازاپنا معتقد بتایا انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نداندائے غیراﷲ نہیں بلکہ اﷲ ہی کی نداہے کہ وہی نسبت ملحوظ ومناط ندا ہے جس طرح کہ ملتقط ودرمختار وعالمگیریہ میں ہے:
التواضع لغیراﷲ حرام ۔ غیراﷲ کے لئے تواضع حرام ہے۔
حالانکہ انبیاء واولیاء اورماں باپ اور اساتذہ وغیرہم کے لئے تواضع کے حکم سے قرآن وحدیث اور خود یہ کتابیں مالامال ہیں تو وجہ وہی کہ ان کے لئے تواضع غیراﷲ کی تواضع نہیں اﷲ ہی کے لئے ہے کہ اسی کی نسبت ملحوظ ہے اسی نکتہ سے غفلت کے سبب وہابیہ خذلہم اﷲ تعالی شرک جلی میں گرفتارہوئے اور مسلمانوں کو مشرک کہنے لگے انہیں انبیاء واولیاء وجود الہی کے مقابل مستقل وجود نظرآئے اور ان کی نداغیر خدا کی نداجانییوہیں ان سے استمداد ان کی تعظیم ہربات میں وہی غیریت واستقلال کا لحاظ رکھا اور " یریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ" (وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالی اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں۔ت)کے مصداق ہوئےاس کا زیادہ بیان ہمارے رسالہ الاستمداد وکشف ضلال دیوبند میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۰۸:ازوڈنگردایہ مہ کانہ گجرات گاڑی کے دروازہ متصل مکان چاندارسول مسئولہ عبدالرحیم احمدآبادی ۲۳رمضان المبارک ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ سیدالاولین والآخرین کی مجلس مبارک سے اہل محلہ کو منع کرناکیساہے
الجواب:
جائز ہے کوئی حرج نہیں اور درودشریف یاتسبیح وتہلیل کا اس سے افضل ہونا وجہ منع نہیں ورنہ سوا افضل الاذکار لاالہ الااﷲ ہردعا وذکرودرودشریف سب ممنوع ہوجائیں بلکہ تمام اذکار کہ قرآن خوانی ان سب سے افضل ہے بلکہ غیراوقات کراہت نفل میں قرآن خوانی بھی کہ نماز نفل اس سے افضل ہے۔یہاں ایک نکتہ اور قابل لحاظ ہے سائل نے وقت حاجت ومصیبت ندائے غیراﷲ کا جوازاپنا معتقد بتایا انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نداندائے غیراﷲ نہیں بلکہ اﷲ ہی کی نداہے کہ وہی نسبت ملحوظ ومناط ندا ہے جس طرح کہ ملتقط ودرمختار وعالمگیریہ میں ہے:
التواضع لغیراﷲ حرام ۔ غیراﷲ کے لئے تواضع حرام ہے۔
حالانکہ انبیاء واولیاء اورماں باپ اور اساتذہ وغیرہم کے لئے تواضع کے حکم سے قرآن وحدیث اور خود یہ کتابیں مالامال ہیں تو وجہ وہی کہ ان کے لئے تواضع غیراﷲ کی تواضع نہیں اﷲ ہی کے لئے ہے کہ اسی کی نسبت ملحوظ ہے اسی نکتہ سے غفلت کے سبب وہابیہ خذلہم اﷲ تعالی شرک جلی میں گرفتارہوئے اور مسلمانوں کو مشرک کہنے لگے انہیں انبیاء واولیاء وجود الہی کے مقابل مستقل وجود نظرآئے اور ان کی نداغیر خدا کی نداجانییوہیں ان سے استمداد ان کی تعظیم ہربات میں وہی غیریت واستقلال کا لحاظ رکھا اور " یریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ" (وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ تعالی اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں۔ت)کے مصداق ہوئےاس کا زیادہ بیان ہمارے رسالہ الاستمداد وکشف ضلال دیوبند میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۴۰۸:ازوڈنگردایہ مہ کانہ گجرات گاڑی کے دروازہ متصل مکان چاندارسول مسئولہ عبدالرحیم احمدآبادی ۲۳رمضان المبارک ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ سیدالاولین والآخرین کی مجلس مبارک سے اہل محلہ کو منع کرناکیساہے
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵
القرآن الکریم ۴ /۱۵۰
القرآن الکریم ۴ /۱۵۰
بینواتوجروا(بیان فرماؤ اور اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
اگر وہ مجلس شریف منکرات شرعیہ سے خالی ہو اور اس وقت منع کرنے کے لئے کوئی ضرورت خاصہ شرعیہ داعی نہ ہو بلکہ صرف اس بنا پرمنع کرتا ہے کہ وہابی ہے اور مجلس مبارک کو براجانتاہے توا س میں شک نہیں کہ وہابیہ گمراہ بددین بلکہ کفار مرتدین ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ میلاد سے متعلق
اعلیحضرت کاایک اہم اور مدلل فتوی
جوپہلے اس جلدمیں شامل نہ تھا فتوی کی اہمیت کے پیش نظر ہم نے اسے اس مقام پرشامل کردیاہے۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۴۰۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محفل میلاد شریف وقیام بوقت ذکر ولادت انحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیاہے بعض لوگ اس قیام سے انکار کرتے ہیں بدیں وجہ کہ قرون ثلثہ میں نہ تھا اور ناجائز بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ثقات علماء سے خاص اس بارے میں منع وارد ہےچنانچہ سیرت شامی میں ہے:ھذا القیام بدعۃ لا اصل لھا (یہ قیام بدعت ہے اس کی کچھ اصل نہیں ہے۔ت)ان کے اقوال کاکیاحال ہے بینواتوجروا(بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
اﷲ تعالی نے اپنی نعمتوں کابیان واظہار اوراپنے فضل ورحمت کے ساتھ مطلقا خوشی منانے کا حکم دیاہےقال اﷲ تعالی:
" و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾" اور اپنے رب کی نعمتوں کاخوب چرچاکرو۔(ت)
الجواب:
اگر وہ مجلس شریف منکرات شرعیہ سے خالی ہو اور اس وقت منع کرنے کے لئے کوئی ضرورت خاصہ شرعیہ داعی نہ ہو بلکہ صرف اس بنا پرمنع کرتا ہے کہ وہابی ہے اور مجلس مبارک کو براجانتاہے توا س میں شک نہیں کہ وہابیہ گمراہ بددین بلکہ کفار مرتدین ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ میلاد سے متعلق
اعلیحضرت کاایک اہم اور مدلل فتوی
جوپہلے اس جلدمیں شامل نہ تھا فتوی کی اہمیت کے پیش نظر ہم نے اسے اس مقام پرشامل کردیاہے۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
مسئلہ ۴۰۹:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محفل میلاد شریف وقیام بوقت ذکر ولادت انحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیاہے بعض لوگ اس قیام سے انکار کرتے ہیں بدیں وجہ کہ قرون ثلثہ میں نہ تھا اور ناجائز بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ثقات علماء سے خاص اس بارے میں منع وارد ہےچنانچہ سیرت شامی میں ہے:ھذا القیام بدعۃ لا اصل لھا (یہ قیام بدعت ہے اس کی کچھ اصل نہیں ہے۔ت)ان کے اقوال کاکیاحال ہے بینواتوجروا(بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
اﷲ تعالی نے اپنی نعمتوں کابیان واظہار اوراپنے فضل ورحمت کے ساتھ مطلقا خوشی منانے کا حکم دیاہےقال اﷲ تعالی:
" و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾" اور اپنے رب کی نعمتوں کاخوب چرچاکرو۔(ت)
حوالہ / References
انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون باب تسمیتہ صلی اﷲ تعالٰی علہ وسلم محمدا واحمدا المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۱/ ۸۳
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
وقال اﷲ تعالی:
" قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " (اے محبوب! آپ)فرمادیجئے کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت(کے ملنے)پرچاہئے کہ(لوگ)خوشی کریں(ت)
ولادت حضورصاحب لولاک تمام نعمتوں کی اصل ہےاﷲ تعالی فرماتاہے:
" لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا " بیشک اﷲ کابڑا احسان ہوا مسلمانوں پرکہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔(ت)
اور فرماتاہے:
" وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ﴿۱۰۷﴾ " (اے محبوب!)اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت دونوں جہان کے لئے۔(ت)
تو آپ کی خوبیوں کے بیان واظہار کانص قطعی سے ہمیں حکم ہوا اور کارخیر میں جس قدرمسلمان کثرت سے شامل ہوں اسی قدر زائد خوبی اوررحمت کاباعث ہےاسی مجمع میں ولادت حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ذکرکرنے کانام مجلس ومحفل میلادہے۔امام ابوالخیرسخاوی تحریرفرماتے ہیں:
ثم لازال اھل الاسلام فی سائرالاقطار والمدن یشتغلون فی شھرمولدہ صلی اﷲ علیہ وسلم بعمل الولائم البدیعۃ المشتملۃ علی الامور البھجۃ الرفیعۃ ویتصدقون فی لیالیہ بانواع الصدقات و یظھرون السرور یزیدون فی المبرات ویھتمون بقرأۃ مولدہ الکریم ویظھر علیھم من برکاتہ کل فضل عمیم انتھی۔ یعنی پھر اہل اسلام تمام اطراف واقطار اورشہروں میں بماہ ولادت رسالت مآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عمدہ کاموں اور بہترین شغلوں میں رہتے ہیں اور اس ماہ مبارک کی راتوں میں قسم قسم کے صدقات اوراظہارسروروکثرت حسنات و اہتمام قراء ۃ مولدشریف عمل میں لاتے ہیں اور اس کی برکت سے ان پرفضل عظیم ظاہرہوتاہے۔انتہی۔(ت)
" قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا " (اے محبوب! آپ)فرمادیجئے کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت(کے ملنے)پرچاہئے کہ(لوگ)خوشی کریں(ت)
ولادت حضورصاحب لولاک تمام نعمتوں کی اصل ہےاﷲ تعالی فرماتاہے:
" لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا " بیشک اﷲ کابڑا احسان ہوا مسلمانوں پرکہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔(ت)
اور فرماتاہے:
" وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ﴿۱۰۷﴾ " (اے محبوب!)اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت دونوں جہان کے لئے۔(ت)
تو آپ کی خوبیوں کے بیان واظہار کانص قطعی سے ہمیں حکم ہوا اور کارخیر میں جس قدرمسلمان کثرت سے شامل ہوں اسی قدر زائد خوبی اوررحمت کاباعث ہےاسی مجمع میں ولادت حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ذکرکرنے کانام مجلس ومحفل میلادہے۔امام ابوالخیرسخاوی تحریرفرماتے ہیں:
ثم لازال اھل الاسلام فی سائرالاقطار والمدن یشتغلون فی شھرمولدہ صلی اﷲ علیہ وسلم بعمل الولائم البدیعۃ المشتملۃ علی الامور البھجۃ الرفیعۃ ویتصدقون فی لیالیہ بانواع الصدقات و یظھرون السرور یزیدون فی المبرات ویھتمون بقرأۃ مولدہ الکریم ویظھر علیھم من برکاتہ کل فضل عمیم انتھی۔ یعنی پھر اہل اسلام تمام اطراف واقطار اورشہروں میں بماہ ولادت رسالت مآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عمدہ کاموں اور بہترین شغلوں میں رہتے ہیں اور اس ماہ مبارک کی راتوں میں قسم قسم کے صدقات اوراظہارسروروکثرت حسنات و اہتمام قراء ۃ مولدشریف عمل میں لاتے ہیں اور اس کی برکت سے ان پرفضل عظیم ظاہرہوتاہے۔انتہی۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ۱۰ /۵۸
القرآن الکریم ۳ /۱۶۴
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۷
انسان العیون بحوالہ السخاوی باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۱/ ۸۳،اعانۃ الطالبین فصل فی الصداق مطلب فی فضل عمل المولد النبوی صلی اﷲ علیہ وسلم بیروت ۳/ ۶۶۔۳۶۵
القرآن الکریم ۳ /۱۶۴
القرآن الکریم ۲۱ /۱۰۷
انسان العیون بحوالہ السخاوی باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۱/ ۸۳،اعانۃ الطالبین فصل فی الصداق مطلب فی فضل عمل المولد النبوی صلی اﷲ علیہ وسلم بیروت ۳/ ۶۶۔۳۶۵
اور قول بعض کا کہ میلاد بایں ہیئت کذائی قرون ثلثہ میں نہ تھا ناجائزہےباطل اورپراگندہ ہےاس لئے کہ قرون وزمانہ کو حاکم شرعی بنانا درست نہیں یعنی یہ کہنا کہ فلاں زمانہ میں ہو تو کچھ مضائقہ نہیں اور فلان زمانہ میں ہو توباطل اور ضلالت ہے حالانکہ شرعاوعقلا زمانہ کو حکم شرعی یاکسی فعل کی تحسین وتقبیح میں دخل نہیںنیک عمل کسی وقت میں ہو نیک ہے اور بدکسی وقت میں ہوبرا ہے۔
ففی الحدیث الشریف من سن سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجر من عمل بھا ومن ھذا النوع قول سیدنا عمررضی اﷲ تعالی عنہ فی التراویح نعمت البدعۃ ۔ پس حدیث شریف میں ہے:جس نے اچھاطریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کاثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کااجر بھی اسے ملے گا۔اسی قسم کاایک قول سیدناعمرفاروق رضی اﷲ عنہ کابھی دربارہ تراویح ہے کہ یہ اچھی بدعت ہے۔(ت)
توثابت ہواکہ ہرامرمستحدث دردین خواہ قرون ثلثہ میں ہویابعد بمقتضائے عموم"من"کہ حدیث میں"من سن سنۃ"میں مذکورہے اگرموافق اصول شرعی کے ہے تو وہ بدعت حسنہ ہے اور محمودومقبول ہوگا اور اگرمخالف اصول شرعی ہوتو مذموم اور مردود ہوگا۔قال عیاض المالکی(قاضی عیاض مالکی رحمہ اﷲ نے فرمایا:)
مااحدث بعد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فہو بدعۃ والبدعۃ فعل مالاسبق الیہ فما وافق اصلا من السنۃ ویقاس علیھا فہو محمود وماخالف اصول السنن فھو ضلالۃ ومنہ قولہ علیہ الصلوۃ والسلام: نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد جونیاکام نکالاگیا وہ بدعت ہے اور بدعت وہ فعل ہے جس کاپہلے وجود نہ ہو جس کی اصل سنت کے موافق اور اس پرقیاس کی گئی ہو وہ محمود ہے اور جواصول سنن کے خلاف ہو وہ ضلالہاور نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاقول مبارک
ففی الحدیث الشریف من سن سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجر من عمل بھا ومن ھذا النوع قول سیدنا عمررضی اﷲ تعالی عنہ فی التراویح نعمت البدعۃ ۔ پس حدیث شریف میں ہے:جس نے اچھاطریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کاثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کااجر بھی اسے ملے گا۔اسی قسم کاایک قول سیدناعمرفاروق رضی اﷲ عنہ کابھی دربارہ تراویح ہے کہ یہ اچھی بدعت ہے۔(ت)
توثابت ہواکہ ہرامرمستحدث دردین خواہ قرون ثلثہ میں ہویابعد بمقتضائے عموم"من"کہ حدیث میں"من سن سنۃ"میں مذکورہے اگرموافق اصول شرعی کے ہے تو وہ بدعت حسنہ ہے اور محمودومقبول ہوگا اور اگرمخالف اصول شرعی ہوتو مذموم اور مردود ہوگا۔قال عیاض المالکی(قاضی عیاض مالکی رحمہ اﷲ نے فرمایا:)
مااحدث بعد النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فہو بدعۃ والبدعۃ فعل مالاسبق الیہ فما وافق اصلا من السنۃ ویقاس علیھا فہو محمود وماخالف اصول السنن فھو ضلالۃ ومنہ قولہ علیہ الصلوۃ والسلام: نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد جونیاکام نکالاگیا وہ بدعت ہے اور بدعت وہ فعل ہے جس کاپہلے وجود نہ ہو جس کی اصل سنت کے موافق اور اس پرقیاس کی گئی ہو وہ محمود ہے اور جواصول سنن کے خلاف ہو وہ ضلالہاور نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاقول مبارک
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب العلم باب من سنّ سنۃ حسنۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۱،مسند احمدبن حنبل عن جریر بن عبداﷲ المکتب الاسلامیۃ بیروت ۴/ ۶۲۔۳۶۱،سنن ابن ماجہ باب من سن سنۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۸
صحیح البخاری کتاب الصیام باب فضل من قام رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶۹،انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۱/ ۸۳
صحیح البخاری کتاب الصیام باب فضل من قام رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۶۹،انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۱/ ۸۳
کل بدعۃ ضلالۃ الخ۔ "ہربدعت گمراہی ہے الخ"اسی قبیل سے ہے۔(ت)
اور سیرت شامی میں ہے:
تعرض البدعۃ علی القواعد الشریعۃ فاذا دخلت فی الایجاب فھی واجبۃ اوفی قواعد التحریم فھی محرمۃ او المندوب فھی مندوبۃ او المکروہ فھی مکروھۃ او المباح فھی مباحۃ ۔ بدعت کو قواعد شرعیہ پرپیش کیاجائے گا تووہ جب وجوب کے قاعدہ میں داخل ہو تو واجبیا اگر حرام کے تحت ہو توحرام یامستحب کے تحت ہو تومستحبیامکروہ کے تحت ہو تو مکروہیا وہ مباح کے قاعدہ کے تحت ہو تو مباح ہوگی۔(ت)
علامہ عینی شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
ان کانت ممایندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی بدعۃ حسنۃ وان کانت ممایندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی بدعۃ مستقبحۃ انتھی۔ اگر وہ بدعت شریعت کے پسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت حسنہ ہوگیاور اگر وہ شریعت کے ناپسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت قبیحہ ہوگی انتہی۔(ت)
ان عبارات سے ثابت ہوا کہ وہابیہ کابدعت کو صرف بدعت سیئہ میں منحصرجاننا اور اس کی کیفیت کی طرف نظر نہ کرنا محض ادعا اور باطل ہے بلکہ بعض بدعت بدعت حسنہ ہے اور بعض بدعت واجبہ ہے جس کلیہ کے تحت داخل ہو ویسا ہی حکم ہوگااور یہ شروع میں تحریر ہوچکا ہے کہ ذکرولادت شریف " و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾
" (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ ت)کے تحت میں ہے تو قطعا مندوب ومشروع ہوا۔علامہ ابن حجر نے فتح المبین میں لکھا ہے:
والحاصل ان البدعۃ الحسنۃ متفق علی ندبھا وعلی المولد واجتماع یعنی بدعت حسنہ کے مندوب ہونے پراتفاق ہے اور عمل مولد شریف اور اس کے لئے لوگوں کا
اور سیرت شامی میں ہے:
تعرض البدعۃ علی القواعد الشریعۃ فاذا دخلت فی الایجاب فھی واجبۃ اوفی قواعد التحریم فھی محرمۃ او المندوب فھی مندوبۃ او المکروہ فھی مکروھۃ او المباح فھی مباحۃ ۔ بدعت کو قواعد شرعیہ پرپیش کیاجائے گا تووہ جب وجوب کے قاعدہ میں داخل ہو تو واجبیا اگر حرام کے تحت ہو توحرام یامستحب کے تحت ہو تومستحبیامکروہ کے تحت ہو تو مکروہیا وہ مباح کے قاعدہ کے تحت ہو تو مباح ہوگی۔(ت)
علامہ عینی شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
ان کانت ممایندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی بدعۃ حسنۃ وان کانت ممایندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی بدعۃ مستقبحۃ انتھی۔ اگر وہ بدعت شریعت کے پسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت حسنہ ہوگیاور اگر وہ شریعت کے ناپسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت قبیحہ ہوگی انتہی۔(ت)
ان عبارات سے ثابت ہوا کہ وہابیہ کابدعت کو صرف بدعت سیئہ میں منحصرجاننا اور اس کی کیفیت کی طرف نظر نہ کرنا محض ادعا اور باطل ہے بلکہ بعض بدعت بدعت حسنہ ہے اور بعض بدعت واجبہ ہے جس کلیہ کے تحت داخل ہو ویسا ہی حکم ہوگااور یہ شروع میں تحریر ہوچکا ہے کہ ذکرولادت شریف " و اما بنعمۃ ربک فحدث ﴿۱۱﴾
" (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ ت)کے تحت میں ہے تو قطعا مندوب ومشروع ہوا۔علامہ ابن حجر نے فتح المبین میں لکھا ہے:
والحاصل ان البدعۃ الحسنۃ متفق علی ندبھا وعلی المولد واجتماع یعنی بدعت حسنہ کے مندوب ہونے پراتفاق ہے اور عمل مولد شریف اور اس کے لئے لوگوں کا
حوالہ / References
الحاوی للفتاوٰی باب الولیمۃ حسن المقصد فی عمل المولد دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۹۲
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب التراویح باب فضل من قام رمضان بیروت ۱۱/ ۱۲۶
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب التراویح باب فضل من قام رمضان بیروت ۱۱/ ۱۲۶
القرآن الکریم ۹۳ /۱۱
الناس کذلک ۔ جمع ہونا اسی قبیل سے ہے۔
لیجئے اس میں مجمع کی تصریح بھی موجود ہےاور مسلم الثبوت میں ہے:
شاع وزاع احتجاجھم سلفا وخلفا بالعمومات من غیر نکیر ۔ شرع کے عموم کو حجت ماننا اسلاف واخلاف میں بلاانکار مشہور و معروف ہے۔(ت)
اور یہ بھی اسی میں ہے:
والعمل بالمطلق یقتضی الاطلاق ۔ مطلق پرعمل میں اطلاق کالحاظ ہوتاہے۔(ت)
تحریرالاصول علامہ ابن الہمام اور اس کی شرح میں ہے:
العمل بہ ان یجری فی کل ماصدق علیہ المطلق ۔ اس پرعمل یوں کہ جس پر مطلق صادق آتاہے اس میں حکم جاری ہوگا۔(ت)
قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" و اذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون ﴿۱۰﴾ " یعنی اﷲ تعالی کاذکر بکثرت کروتاکہ فلاح پاؤ۔
اور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاذکر بعینہ خداکاذکر ہےحق سبحانہ وتعالی اپنے پیارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فرماتا ہے:
"و رفعنا لک ذکرک ﴿۴﴾ " بلندکیا ہم نے تمہارے ذکرکوتمہارے واسطے۔
امام علامہ قاضی عیاض رحمۃ اﷲ علیہ شفاء شریف میں اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں سیدنا ابن عطا قدس سرہ العزیز سے یوں نقل فرماتے ہیں:
جعلتک ذکرامن ذکری فمن ذکرک ذکرنی ۔ یعنی اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ میں نے تم کو اپنے ذکر میں سے ایک ذکربنایا پس جو تمہاری یاد کرے اس نے میری یاد کی۔
لیجئے اس میں مجمع کی تصریح بھی موجود ہےاور مسلم الثبوت میں ہے:
شاع وزاع احتجاجھم سلفا وخلفا بالعمومات من غیر نکیر ۔ شرع کے عموم کو حجت ماننا اسلاف واخلاف میں بلاانکار مشہور و معروف ہے۔(ت)
اور یہ بھی اسی میں ہے:
والعمل بالمطلق یقتضی الاطلاق ۔ مطلق پرعمل میں اطلاق کالحاظ ہوتاہے۔(ت)
تحریرالاصول علامہ ابن الہمام اور اس کی شرح میں ہے:
العمل بہ ان یجری فی کل ماصدق علیہ المطلق ۔ اس پرعمل یوں کہ جس پر مطلق صادق آتاہے اس میں حکم جاری ہوگا۔(ت)
قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا۔ت):
" و اذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون ﴿۱۰﴾ " یعنی اﷲ تعالی کاذکر بکثرت کروتاکہ فلاح پاؤ۔
اور نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاذکر بعینہ خداکاذکر ہےحق سبحانہ وتعالی اپنے پیارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فرماتا ہے:
"و رفعنا لک ذکرک ﴿۴﴾ " بلندکیا ہم نے تمہارے ذکرکوتمہارے واسطے۔
امام علامہ قاضی عیاض رحمۃ اﷲ علیہ شفاء شریف میں اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں سیدنا ابن عطا قدس سرہ العزیز سے یوں نقل فرماتے ہیں:
جعلتک ذکرامن ذکری فمن ذکرک ذکرنی ۔ یعنی اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ میں نے تم کو اپنے ذکر میں سے ایک ذکربنایا پس جو تمہاری یاد کرے اس نے میری یاد کی۔
حوالہ / References
انسان العیون بحوالہ ابن حجر باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۱/ ۸۴
مسلم الثبوت الفصل الخامس مسئلہ للعموم صیغ مطبع الانصاری دہلی ص۷۳
مسلم الثبوت فصل المطلق مادلّ علی فردمنتشر مطبع الانصاری دہلی ص۱۱۹
التقریر والتحریر مسئلۃ الاکثر ان منتہی التخصیص جمع یزید علٰی نصفہ الخ دارالفکر بیروت ۱/ ۶۶۔۳۶۷
القرآن الکریم ۸ /۴۵
القرآن الکریم ۹۴ /۴
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الفصل الاول المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱/ ۱۵
مسلم الثبوت الفصل الخامس مسئلہ للعموم صیغ مطبع الانصاری دہلی ص۷۳
مسلم الثبوت فصل المطلق مادلّ علی فردمنتشر مطبع الانصاری دہلی ص۱۱۹
التقریر والتحریر مسئلۃ الاکثر ان منتہی التخصیص جمع یزید علٰی نصفہ الخ دارالفکر بیروت ۱/ ۶۶۔۳۶۷
القرآن الکریم ۸ /۴۵
القرآن الکریم ۹۴ /۴
الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی الفصل الاول المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱/ ۱۵
بالجملہ کوئی مسلمان اس میں شک نہیں کرسکتا کہ حضرت سرورکائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی یادوتعریف بعینہ خدا کی یاد ہےپس حکم اطلاق جس جس طریقہ سے آپ کی یاد کی جائے گی حسن ومحمود رہے گی ایسا ہی قیام بوقت ذکر ولادت حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلماولااس کے جواز ثابت کرنے میں ہمیں ضرورت نہیں کیونکہ کل اشیاء میں حلت ہےجو کوئی عدم جواز کادعوی کرے اس پر دلیل وبینہ ہےہمارے لئے صرف اتناہی کافی ہے کہ عدم جواز کی کوئی دلیل نہیں۔حدیث شریف میں ہے:
الحلال مااحل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرم اﷲ فی کتابہ وماسکت عنہ فھو مماعفاعنہ ۔ اﷲ تعالی نے جواپنی کتاب میں حلال کردیا وہ حلال ہے اور جوحرام فرمادیا وہ حرام ہے اور جس سے سکوت اختیارکیاوہ معاف ہے(ت)
ہاں ہم قیام کے مستحسن ہونے کاثبوت بھی دیتے ہیںنبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر مسلمانوں کا عین ایمان ہے اور اس کی خوبی وتعریف قرآن عظیم سے مطلقا ثابت ہے۔ قال اﷲ تعالی:
انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۸﴾ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ " بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضروناظر اورخوشی اور ڈرسناتا تاکہ اے لوگو! تم اﷲ اور اس کے رسول پرایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیرکرو۔(ت)
وقال اﷲ تعالی:
" و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾ " اور جو اﷲ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔(ت)
وقال اﷲ تعالی:
" ومن یعظم حرمت اللہ فہو خیر لہ عند ربہ " اور جو اﷲ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بھلاہے(ت)
پس بوجہ اطلاق آیات حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم جس طریقہ سے کی جائے گی حسن ومحمود رہے گی اور خاص طریقوں کے لئے جداگانہ ثبوت کی ضرورت نہ ہوگیہاں اگر کسی طریقہ کی
الحلال مااحل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرم اﷲ فی کتابہ وماسکت عنہ فھو مماعفاعنہ ۔ اﷲ تعالی نے جواپنی کتاب میں حلال کردیا وہ حلال ہے اور جوحرام فرمادیا وہ حرام ہے اور جس سے سکوت اختیارکیاوہ معاف ہے(ت)
ہاں ہم قیام کے مستحسن ہونے کاثبوت بھی دیتے ہیںنبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر مسلمانوں کا عین ایمان ہے اور اس کی خوبی وتعریف قرآن عظیم سے مطلقا ثابت ہے۔ قال اﷲ تعالی:
انا ارسلنک شہدا و مبشرا و نذیرا ﴿۸﴾ لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ " بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضروناظر اورخوشی اور ڈرسناتا تاکہ اے لوگو! تم اﷲ اور اس کے رسول پرایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیرکرو۔(ت)
وقال اﷲ تعالی:
" و من یعظم شعئر اللہ فانہا من تقوی القلوب ﴿۳۲﴾ " اور جو اﷲ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔(ت)
وقال اﷲ تعالی:
" ومن یعظم حرمت اللہ فہو خیر لہ عند ربہ " اور جو اﷲ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بھلاہے(ت)
پس بوجہ اطلاق آیات حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم جس طریقہ سے کی جائے گی حسن ومحمود رہے گی اور خاص طریقوں کے لئے جداگانہ ثبوت کی ضرورت نہ ہوگیہاں اگر کسی طریقہ کی
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب اللباس باب ماجاء فی لبس الفراء امین کمپنی دہلی ۱/ ۲۰۶،سنن ابن ماجہ ابواب الاطعمۃ باب اکل الجبن والسمن ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۴۹
القرآن الکریم ۴۸ /۸ و ۹
القرآن الکریم ۲۲ /۳۲
القرآن الکریم ۲۲ /۳۰
القرآن الکریم ۴۸ /۸ و ۹
القرآن الکریم ۲۲ /۳۲
القرآن الکریم ۲۲ /۳۰
ممانعت شرعا ثابت ہوگی تو وہ بیشک ممنوع ہوگا۔امام ابن حجر مکی جو ہر منظم میں فرماتے ہیں:
تعظیم النبی صلی اﷲ علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیھا مشارکۃ اﷲ تعالی فی الالوھیۃ امرمستحسن عند من نوراﷲ ابصارھم انتھی ۔ سواء ورد الشرع بخصوصہ اولم یرد ذلک لان مطلق التعظیم وماحث علیہ والیہ فلیعم کل مایسمی باسمہ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم تمام اقسام تعظیم کے ساتھ جس سے الوہیۃ الہ میں شرکت لازم نہ آئے ہرطرح امرمستحسن ہے ان سب کے نزدیک جن کی آنکھیں اﷲ تعالی نے روشن کی ہیں انتہی۔خواہ شریعت کاورود خاص اس امر میں ہو یانہ ہو یہ اس لئے کہ مطلق تعظیم جس کی طرف اور جس پر متوجہ کی گئی تو اسم کے ہرمسمی کوشامل ہوسکے۔(ت)
جن کی آنکھوں میں اﷲ تعالی نے نوربصارت بخشاہے ان کے نزدیک یہ قیام بوقت ذکرولادت شریف آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محض بنظرتعظیم واکرام حضوراقدس بجالاتے ہیں بیشک حسن ومحمود ہے تاوقتیکہ منکرین خاص اس صورت کی ممانعت قرآن وحدیث سے ثابت نہ کریں اور ان شاء اﷲ تاقیامت اس کی ممانعت ثابت نہ کرسکیں گے۔
رہایہ کہ قیام ذکر ولادت شریف ہی کے وقت کیوں ہے اس کی وجہ نہایت روشن اور واضح ہے۔
اولا: صدہاسال سے علمائے کرام اوربلاداسلام میں یونہی معمول ہے۔
ثانیا: ائمہ دین کی تصریح ہے کہ ذکرپاک صاحب لولاک صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعطیم مثل ذات اقدس کے ہے اور صورت تعظیم میں سے ایک صورت وقت قدوم معظم بجالائی جاتی ہے اور ذکرولادت حضور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عالم دنیا میں تشریف آوری کاذکرہے تویہ تعظیم اسی ذکر کے ساتھ مناسب ہوئی۔
ثالثا: وقت ولادت شریف حضورسرورکائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ملائکہ تعظیم کے واسطے کھڑے ہوئے تھے شرف الانام تصنیف علامہ شیخ قاسم بخاری میں یہ روایت موجود ہے اس لئے ہم بھی جب ذکرولادت شریف کرتے ہیں تو ان ملائکہ کاتشکل پیداکرتے ہیں کیونکہ محدثین کے نزدیک واقعہ مرویہ کی صورت اور تشکل پیداکرنا مستحب ہے چنانچہ بخاری شریف کے صفحہ تین میں روایت ہے کہ وقت نزول وحی رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جبریل علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ دل میں پڑھتے اور لبوں کو
تعظیم النبی صلی اﷲ علیہ وسلم بجمیع انواع التعظیم التی لیس فیھا مشارکۃ اﷲ تعالی فی الالوھیۃ امرمستحسن عند من نوراﷲ ابصارھم انتھی ۔ سواء ورد الشرع بخصوصہ اولم یرد ذلک لان مطلق التعظیم وماحث علیہ والیہ فلیعم کل مایسمی باسمہ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم تمام اقسام تعظیم کے ساتھ جس سے الوہیۃ الہ میں شرکت لازم نہ آئے ہرطرح امرمستحسن ہے ان سب کے نزدیک جن کی آنکھیں اﷲ تعالی نے روشن کی ہیں انتہی۔خواہ شریعت کاورود خاص اس امر میں ہو یانہ ہو یہ اس لئے کہ مطلق تعظیم جس کی طرف اور جس پر متوجہ کی گئی تو اسم کے ہرمسمی کوشامل ہوسکے۔(ت)
جن کی آنکھوں میں اﷲ تعالی نے نوربصارت بخشاہے ان کے نزدیک یہ قیام بوقت ذکرولادت شریف آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم محض بنظرتعظیم واکرام حضوراقدس بجالاتے ہیں بیشک حسن ومحمود ہے تاوقتیکہ منکرین خاص اس صورت کی ممانعت قرآن وحدیث سے ثابت نہ کریں اور ان شاء اﷲ تاقیامت اس کی ممانعت ثابت نہ کرسکیں گے۔
رہایہ کہ قیام ذکر ولادت شریف ہی کے وقت کیوں ہے اس کی وجہ نہایت روشن اور واضح ہے۔
اولا: صدہاسال سے علمائے کرام اوربلاداسلام میں یونہی معمول ہے۔
ثانیا: ائمہ دین کی تصریح ہے کہ ذکرپاک صاحب لولاک صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعطیم مثل ذات اقدس کے ہے اور صورت تعظیم میں سے ایک صورت وقت قدوم معظم بجالائی جاتی ہے اور ذکرولادت حضور سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی عالم دنیا میں تشریف آوری کاذکرہے تویہ تعظیم اسی ذکر کے ساتھ مناسب ہوئی۔
ثالثا: وقت ولادت شریف حضورسرورکائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ملائکہ تعظیم کے واسطے کھڑے ہوئے تھے شرف الانام تصنیف علامہ شیخ قاسم بخاری میں یہ روایت موجود ہے اس لئے ہم بھی جب ذکرولادت شریف کرتے ہیں تو ان ملائکہ کاتشکل پیداکرتے ہیں کیونکہ محدثین کے نزدیک واقعہ مرویہ کی صورت اور تشکل پیداکرنا مستحب ہے چنانچہ بخاری شریف کے صفحہ تین میں روایت ہے کہ وقت نزول وحی رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جبریل علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ دل میں پڑھتے اور لبوں کو
حوالہ / References
الجوہر المنظم الفصل الاول مکتبہ قادریہ لاہور ص۱۲
ہلاتے تھےحضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما جس وقت یہ حدیث روایت کرتے تو اپنے لبوں کو ہلادیتے جس طرح کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہلاتے تھےاور حضرت ابن جبیر بھی ہلاتے تھے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کوہلاتے دیکھا ۔پس جبکہ صحابہ اور تابعین رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین سے واقعہ مرویہ کا تشکل اورتمثل ثابت ہے توہم بھی واقعہ میلاد میں قیام ملائکہ کاتشکل اور تمثل پیداکرتے ہیںباقی صحابہ کرام اورتابعین عظام کاقیام ملائکہ کاتشکل نہ بنانا اور محفل میلاد شریف کو ہیئت کذائی کے ساتھ آراستہ نہ کرنا مستلزم منع شرعی نہیں۔امام احمدبن محمدبن قسطلانی بخاری مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں:
الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لایدل علی المنع الخ۔ کسی کام کاکیاجانا جواز کی دلیل ہے اور نہ کیاجانا منع کرنے کی دلیل نہیں الخ۔(ت)
علامہ برزنجی عقدالجواہر میں فرماتے ہیں:
قد استحسن القیام عند ذکر مولدہ الشریف ائمۃ ذورؤیۃ ودرایۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مرامہ ومرماہ الخ۔ بیشک آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے میلادشریف کے ذکر کے وقت کھڑاہونے کوان اماموں نے جو صاحب روایت ودرایت ہیں اچھاجانا ہے تو اس شخص کیلئے سعادت ہے جس کی مراد ومقصود کی غرض نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہوالخ۔(ت)
علی الخصوص حرمین شریفین مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ مبداء ومرجع دین وایمان کے اکابرعلماء ومفتیان فضلائے مذاہب اربعہ مدتوں سے میلاد مع قیام کرتے آئے اور اس کے جواز کافتوی دیتے آئےپھران پرضلالت اورگمراہی کااطلاق کیونکر ہو سکتا ہے۔ ع
چہ کفرازکعبہ برخیزد کجا ماندمسلمانی
رہاعبارت سیرت شامی سے استدلالسو وہ سب باطلکیونکہ علامہ برہان الدین حلبی انسان العیون فی سیرت الامین المامون عبارت مذکورہ کونقل کرکے شرح میں فرماتے ہیں:
ای لکن ھی بدعۃ حسنۃ لانہ یعنی لیکن یہ بدعت حسنہ ہے کیونکہ
الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لایدل علی المنع الخ۔ کسی کام کاکیاجانا جواز کی دلیل ہے اور نہ کیاجانا منع کرنے کی دلیل نہیں الخ۔(ت)
علامہ برزنجی عقدالجواہر میں فرماتے ہیں:
قد استحسن القیام عند ذکر مولدہ الشریف ائمۃ ذورؤیۃ ودرایۃ فطوبی لمن کان تعظیمہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مرامہ ومرماہ الخ۔ بیشک آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے میلادشریف کے ذکر کے وقت کھڑاہونے کوان اماموں نے جو صاحب روایت ودرایت ہیں اچھاجانا ہے تو اس شخص کیلئے سعادت ہے جس کی مراد ومقصود کی غرض نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم ہوالخ۔(ت)
علی الخصوص حرمین شریفین مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ مبداء ومرجع دین وایمان کے اکابرعلماء ومفتیان فضلائے مذاہب اربعہ مدتوں سے میلاد مع قیام کرتے آئے اور اس کے جواز کافتوی دیتے آئےپھران پرضلالت اورگمراہی کااطلاق کیونکر ہو سکتا ہے۔ ع
چہ کفرازکعبہ برخیزد کجا ماندمسلمانی
رہاعبارت سیرت شامی سے استدلالسو وہ سب باطلکیونکہ علامہ برہان الدین حلبی انسان العیون فی سیرت الامین المامون عبارت مذکورہ کونقل کرکے شرح میں فرماتے ہیں:
ای لکن ھی بدعۃ حسنۃ لانہ یعنی لیکن یہ بدعت حسنہ ہے کیونکہ
حوالہ / References
صحیح البخاری باب کیف بدء الوحی الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳
المواھب اللدنیہ
عقد الجواھر فی مولدالنبی الازھر جامعہ اسلامیہ لاہور ص۲۵
المواھب اللدنیہ
عقد الجواھر فی مولدالنبی الازھر جامعہ اسلامیہ لاہور ص۲۵
لیس کل بدعۃ مذمومۃ ۔ ہربدعت مذمومہ نہیں ہوتی۔(ت)
اور اسی مقام میں ہے:
قد وجد القیام عند ذکراسمہ صلی اﷲ علیہ وسلم من عالم الامۃ ومقتداء الائمۃ دینا وورعا الامام تقی الدین السبکی وتابعہ علی ذلک مشائخ الاسلام فی عصرہ انتھی۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب والیہ مرجع الوھاب۔ دین وتقوی میں امت کے عالم اور اماموں کے مقتداء امام تقی الدین سبکی سے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ذکرپاک کے وقت قیام ثابت ہے اور آپ کے زمانہ کے مشائخ نے اس معاملہ میں آپ کی پیروی کی ہے انتہی۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب والیہ مرجع الوھاب۔(ت)
کتبہ العبدالمذنب احمدرضاالبریلوی عفی عنہ
بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ علیہ وسلم
اور اسی مقام میں ہے:
قد وجد القیام عند ذکراسمہ صلی اﷲ علیہ وسلم من عالم الامۃ ومقتداء الائمۃ دینا وورعا الامام تقی الدین السبکی وتابعہ علی ذلک مشائخ الاسلام فی عصرہ انتھی۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب والیہ مرجع الوھاب۔ دین وتقوی میں امت کے عالم اور اماموں کے مقتداء امام تقی الدین سبکی سے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ذکرپاک کے وقت قیام ثابت ہے اور آپ کے زمانہ کے مشائخ نے اس معاملہ میں آپ کی پیروی کی ہے انتہی۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب والیہ مرجع الوھاب۔(ت)
کتبہ العبدالمذنب احمدرضاالبریلوی عفی عنہ
بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ علیہ وسلم
حوالہ / References
انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا المکتبۃ الاسلامیۃ بیروت ۱ /۸۳
انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا المکتبۃ الاسلامیۃ بیروت ۱ /۸۳
انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون باب تسمیتہ صلی اﷲ علیہ وسلم محمداواحمدا المکتبۃ الاسلامیۃ بیروت ۱ /۸۳







