Allah - beginning with the name of - the Most Gracious, the Most Merciful.
सब खूबियाँ अल्लाह को जो मालिक सारे जहान वालों का
Sab khoobiyaan Allah ko jo Maalik saare jahaan walon ka
(ف1) بِسْمِ اللّٰہ ِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہ وَ نُصَلِیّ عَلیٰ حَبِیْبِہ الکریِم سورۂ فاتحہ کے اسماء ، اس سورۃ کے متعدد نام ہیں ۔ فاتحہ ، فاتحۃ الکتاب ، اُمُّ القرآن ، سورۃ الکنز ، کافیۃ ، وا فیۃ ، شافیۃ ، شفا ، سبع مثانی ، نور ، رقیۃ ، سورۃ الحمد ، سورۃ الدعا ، تعلیم المسئلہ ، سورۃ المناجاۃ ، سورۃ التفویض ، سورۃ السوال ، اُمُّ الکتاب ، فاتحۃ القرآن ، سورۃ الصلوۃ ۔ اس سورۃ میں سات آیتیں ستائیس کلمے ایک سو چالیس حرف ہیں کوئی آیت ناسخ یا منسوخ نہیں ۔شان نُزول : یہ سورۃ مکّہ مکرّمہ یا مدینہ منوّرہ یا دونوں میں نازل ہوئی ۔ عمرو بن شرجیل سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا میں ایک ندا سنا کرتا ہوں جس میں اِقْرَأ کہا جاتا ہے ، ورقہ بن نوفل کو خبر دی گئی عرض کیا ، جب یہ ندا آئے آپ باطمینان سنیں ، اس کے بعد حضرت جبریل نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کیا فرمائیے بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اَلْحَمدُ للّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِین اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نُزول میں یہ پہلی سورت ہے مگر دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے سورۂ اِقْرَأ نازل ہوئی ۔ اس سورت میں تعلیماً بندوں کی زبان میں کلام فرمایا گیا ہے ۔ احکام مسئلہ : نماز میں اس سورت کا پڑھنا واجب ہے امام و منفرد کے لئے تو حقیقتاً اپنی زبان سے اور مقتدی کے لئے بقرأتِ حکمیہ یعنی امام کی زبان سے ۔ صحیح حدیث میں ہے قِرَاء ۃُ الاِمَامِ لَہ قِرَاء ۃٌ امام کا پڑھنا ہی مقتدی کا پڑھنا ہے ۔ قرآنِ پاک میں مقتدی کو خاموش رہنے اور امام کی قرأت سننے کا حکم دیا ہے ۔ اِذا قُرِیءَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْ ا لَہ وَ اَنْصِتُوْا ۔ مسلم شریف کی حدیث ہے اِذَاقَرَأ فَانْصِتُوْا جب امام قرأت کرے تم خاموش رہو اور بہت احادیث میں یہی مضمون ہے ۔ مسئلہ : نمازِ جنازہ میں دعا یاد نہ ہو تو سورۂ فاتحہ بہ نیتِ دعا پڑھنا جائز ہے ، بہ نیتِ قرأت جائز نہیں (عالمگیری) سورۂ فاتحہ کے فضائل : احادیث میں اس سورہ کی بہت سے فضیلتیں وارد ہیں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا توریت و انجیل و زبور میں اس کی مثل سورت نہ نازل ہوئی ۔ (ترمذی) ایک فرشتہ نے آسمان سے نازل ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام عرض کیا اور دو ایسے نوروں کی بشارت دی جو حضور سے پہلے کسی نبی کو عطا نہ ہوئے ، ایک سورۂ فاتحہ ، دوسرے سورۂ بقر کی آخری آیتیں ۔ (مسلم شریف) سورۂ فاتحہ ہر مرض کے لئے شفا ہے ۔ (دارمی) سورۂ فاتحہ سو مرتبہ پڑھ کر جو دعا مانگے اللہ تعالٰی قبول فرماتا ہے ۔ (دارمی) استعاذہ مسئلہ : تلاوت سے پہلے اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیم پڑھنا سنت ہے ۔ (خازن) لیکن شاگرد استاد سے پڑھتا ہو تو اس کے لئے سنت نہیں ۔ (شامی) مسئلہ : نماز میں امام و منفرد کے لئے سبحان سے فارغ ہو کر آہستہ اعوذ الخ پڑھنا سنت ہے ۔ (شامی) التسمیہ مسئلہ : بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم قرآنِ پاک کی آیت ہے مگر سورۂ فاتحہ یا اور کسی سورہ کا جزو نہیں اسی لئے نماز میں جَہر کے ساتھ نہ پڑھی جائے ۔ بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت صدیق و فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما نماز الْحَمدُ للّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ سے شروع فرماتے تھے ۔ مسئلہ : تراویح میں جو ختم کیا جاتا ہے اس میں کہیں ایک مرتبہ بسم اللہ جَہر کے ساتھ ضرور پڑھی جائے تاکہ ایک آیت باقی نہ رہ جائے ۔ مسئلہ : قرآنِ پاک کی ہر سورت بسم اللہ سے شروع کی جائے سوائے سورۂ برأت کے ۔ مسئلہ : سورۂ نمل میں آیتِ سجدہ کے بعد جو بسم اللہ آئی ہے وہ مستقل آیت نہیں بلکہ جزوِ آیت ہے بلا خلاف اس آیت کے ساتھ ضرور پڑھی جائے گی ، نماز جہری میں جہراً سری میں سراً ۔ مسئلہ : ہر مباح کام بسم اللہ سے شروع کرنا مستحب ہے ناجائز کام پر بسم اللہ پڑھنا ممنوع ہے ۔ سورۂ فاتحہ کے مضامین :اس سورت میں اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا ، ربوبیت ، رحمت ، مالکیت ، استحقاقِ عبادت ، توفیقِ خیر ، بندوں کی ہدایت ، توجہ الٰی اللّٰہ، اختصاصِ عبادت ، استعانت ، طلبِ رُشد ، آدابِ دعا ، صالحین کے حال سے موافقت ، گمراہوں سے اجتناب و نفرت ، دنیا کی زندگانی کا خاتمہ ، جزاء اور روزِ جزاء کا مُصرَّح و مُفصَّل بیان ہے اور جملہ مسائل کا اجمالاً ۔ حمد مسئلہ : ہر کام کی ابتداء میں تسمیہ کی طرح حمدِ الٰہی بجا لانا چاہیئے ۔ مسئلہ : کبھی حمد واجب ہوتی ہے جیسے خطبۂ جمعہ میں ، کبھی مستحب جیسے خطبۂ نکاح و دعا و ہر امرِ ذیشان میں اور ہر کھانے پینے کے بعد ، کبھی سنّتِ مؤکّدہ جیسے چھینک آنے کے بعد ۔ (طحطاوی) رَبُّ الْعَالَمِیْنَ میں تمام کائنات کے حادث ، ممکن ، محتاج ہونے اور اللہ تعالٰی کے واجب ، قدیم ، ازلی ، ابدی ، حی ، قیوم ، قادر ، علیم ہونے کی طرف اشارہ ہے جن کو ربُّ العالمین مستلزم ہے ۔ دو لفظوں میں علمِ الٰہیات کے اہم مباحث طے ہو گئے ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ملک کے ظہورِ تام کا بیان اور یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں کیونکہ سب اس کے مملوک ہیں اور مملوک مستحقِ عبادت نہیں ہو سکتا ۔ اسی سے معلوم ہوا کہ دنیا دار العمل ہے اور اس کے لئے ایک آخر ہے ۔ جہان کے سلسلہ کو ازلی و قدیم کہنا باطل ہے ۔ اختتامِ دنیا کے بعد ایک جزاء کا دن ہے اس سے تناسخ باطل ہو گیا ۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ ذکر ذات و صفات کے بعد یہ فرمانا اشارہ کرتا ہے کہ اعتقاد عمل پر مقدّم ہے اور عبادت کی مقبولیت عقیدے کی صحت پر موقوف ہے ۔ مسئلہ : نَعْبُدُ کے صیغۂ جمع سے ادا بجماعت بھی مستفاد ہوتی ہے اور یہ بھی کہ عوام کی عبادتیں محبوبوں اور مقبولوں کی عبادتوں کے ساتھ درجۂ قبول پاتی ہیں ۔مسئلہ : اس میں ردِّ شرک بھی ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا عبادت کسی کے لئے نہیں ہو سکتی ۔ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ میں یہ تعلیم فرمائی کہ استعانت خواہ بواسطہ ہو یا بے واسطہ ہر طرح اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے ، حقیقی مستعان وہی ہے باقی آلات و خدام و احباب وغیرہ سب عونِ الٰہی کے مَظہَر ہیں ، بندے کو چاہئے کہ اس پر نظر رکھے اور ہر چیز میں دستِ قدرت کو کارکن دیکھے ۔ اس سے یہ سمجھنا کہ اولیاء و انبیاء سے مدد چاہنا شرک ہے عقیدہ باطلہ ہے کیونکہ مقربانِ حق کی امداد امدادِ الٰہی ہے استعانت بالغیر نہیں ، اگر اس آیت کے وہ معنی ہوتے جو وہابیہ نے سمجھے تو قرآنِ پاک میں اَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ اور اِسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْر وَ الصَّلٰوۃِ کیوں وارد ہوتا اور احادیث میں اہلُ اللہ سے استعانت کی تعلیم کیوں دی جاتی ۔ اِھْدِنَا الصِّراط الَمُستَقِیْمَ معرفتِ ذات و صفات کے بعد عبادت ، اس کے بعد دعا تعلیم فرمائی اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ بندے کو عبادت کے بعد مشغولِ دعا ہونا چاہئے ۔ حدیث شریف میں بھی نماز کے بعد دعا کی تعلیم فرمائی گئی ہے ۔ (الطبرانی فی الکبیر و البیہقی فی السنن) ۔ صراطِ مستقیم سے مراد اسلام یا قرآن یا خُلقِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا حضور کے آل و اصحاب ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صراطِ مستقیم طریقِ اہلِ سنت ہے جو اہلِ بیت و اصحاب اور سنّت و قرآن و سوادِ اعظم سب کو مانتے ہیں ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ جملہ اُولٰی کی تفسیر ہے کہ صراطِ مستقیم سے طریقِ مسلمین مراد ہے ، اس سے بہت سے مسائل حل ہوتے ہیں کہ جن امور پر بزرگانِ دین کا عمل رہا ہو وہ صراطِ مستقیم میں داخل ہے ۔ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ اس میں ہدایت ہے کہ مسئلہ طالبِ حق کو دشمنانِ خدا سے اجتناب اور ان کے راہ و رسم ، وضع و اطوار سے پرہیز لازم ہے ۔ ترمذی کی روایت ہے کہ مَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ سے یہود اور ضَآلِّیْنَ سے نصاریٰ مراد ہیں ۔ مسئلہ : ضاد اور ظاء میں مبائنت ذاتی ہے ، بعض صفات کا اشتراک انہیں متحد نہیں کر سکتا لہٰذا غیر المغظوب بظاء پڑھنا اگر بقصد ہو تو تحریفِ قرآن و کُفر ہے ورنہ ناجائز ۔ مسئلہ : جو شخص ضاد کی جگہ ظا پڑھے اس کی امامت جائز نہیں ۔ (محیطِ برہانی) آمِیْنَ اس کے معنی ہیں ایسا ہی کریا قبول فرما ۔ مسئلہ : یہ کلمۂ قرآن نہیں ۔ مسئلہ : سورۂ فاتحہ کے ختم پر آمین کہنا سنت ہے ، نماز کے اندر بھی اور نمازکے باہر بھی ۔ مسئلہ : حضرت امامِ اعظم کا مذہب یہ ہے کہ نماز میں آمین اخفا ء کے ساتھ یعنی آہستہ کہی جائے ، تمام احادیث پر نظر اور تنقید سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جَہر کی روایتوں میں صرف وائل کی روایت صحیح ہے اس میں مَدَّ بِھَا کا لفظ ہے جس کی دلالت جَہر پر قطعی نہیں جیسا جَہر کا احتمال ہے ویسا ہی بلکہ اس سے قوی مد ہمزہ کا احتمال ہے اس لئے یہ روایت جَہر کے لئے حُجّت نہیں ہو سکتی ، دوسری روایتیں جن میں جَہر و رفع کے الفاظ ہیں ان کی اسناد میں کلام ہے علاوہ بریں وہ روایت بالمعنی ہیں اور فہمِ راوی حدیث نہیں لہذا آمین کا آہستہ ہی پڑھنا صحیح تر ہے ۔
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ﴿2﴾
سب خوبیاں اللہ کو جو مالک سارے جہان والوں کا
All praise is to Allah, the Lord Of The Creation.
बहुत मेहरबान रहमत वाला
Bohot Meherban Rehmat wala
الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ ﴿3﴾
بہت مہربان رحمت والا
The Most Gracious, the Most Merciful
रोज़े जज़ा का मालिक
Roz-e-Jaza ka Maalik
مٰلِكِ يَوۡمِ الدِّيۡنِؕ ﴿4﴾
روز جزا کا مالک،
Owner of the Day of Recompense
हम तुझी को पूजें और तुझी से मदद चाहें
Hum tujhi ko poojen aur tujhi se madad chahen
اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُؕ ﴿5﴾
ہم تجھی کو پوجیں اور تجھی سے مدد چاہیں
You alone we worship and from You alone we seek help (and may we always).
हम को सीधा रास्ता चला
Hum ko seedha rasta chala
اِهۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِيۡمَۙ ﴿6﴾
ہم کو سیدھا راستہ چلا،
Guide us on the Straight Path.
रास्ता उन का जिन पर तू ने एहसान किया न उन का जिन पर ग़ज़ब हुआ और न भटके हुओं का
Rasta un ka jin par tu ne ehsaan kiya Na un ka jin par ghazab hua aur na bhatke huon ka
راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا۔نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا
The path of those whom You have favoured – Not the path of those who earned Your anger – nor of those who are astray.
الٓمّٓۚ ﴿1﴾
الم (ف۲ )
Alif-Laam-Meem. (Alphabets of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
अलिफ़ लाम मीम
Alif Laam Meem
(ف2) الٓمّٓۤ سورتوں کے اول جو حروفِ مقطّعہ آتے ہیں ان کی نسبت قولِ راجح یہی ہے کہ وہ اَسرارِ الٰہی اور متشابہات سے ہیں ، ان کی مراد اللہ اور رسول جانیں ہم اس کے حق ہونے پر ایمان لاتے ہیں ۔
وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں، ( ف ۳ ) اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو (ف٤)
This is the exalted Book (the Qur’an), in which there is no place for doubt; a guidance for the pious.
वह बुलन्द रुत्बा किताब (क़ुरआन) कोई शक की जगह नहीं, इस में हिदायत है डर वालों को
Woh buland rutba kitaab (Qur’an) koi shak ki jagah nahin, is mein hidaayat hai dar walon ko
(ف3)اس لئے کہ شک اس میں ہوتا ہے جس پر دلیل نہ ہو ، قرآنِ پاک ایسی واضح اور قوی دلیلیں رکھتا ہے جو عاقلِ مُنْصِف کو اس کے کتابِ الٰہی اور حق ہونے کے یقین پر مجبور کرتی ہیں تو یہ کتاب کسی طرح قابلِ شک نہیں جس طرح اندھے کے انکار سے آفتاب کا وجود مشتبہ نہیں ہوتا ایسے ہی مُعانِدِ سیاہ دل کے شک و انکار سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہو سکتی ۔(ف4) ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ اگرچہ قرآنِ کریم کی ہدایت ہر ناظرکے لئے عام ہے ، مومن ہو یا کافِر جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ھُدًی لِّلنَّا سِ لیکن چونکہ اِنتفاع اس سے اہلِ تقوٰی کو ہوتا ہے اس لئے ھُدًی لِلّمُتَّقِیْنَ ارشاد ہوا جیسے کہتے ہیں بارش سبزہ کے لئے ہے یعنی منتفع ، اس سے سبزہ ہوتا ہے اگرچہ برستی کلر اور زمین بے گیاہ پر بھی ہے ۔ تقوٰی کے کئی معنٰی آتے ہیں ، نفس کو خوف کی چیز سے بچانا اور عرفِ شرع میں ممنوعات چھوڑ کر نفس کو گناہ سے بچانا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا متّقی وہ ہے جو شرک وکبائر و فواحش سے بچے ۔ بعضوں نے کہا متّقی وہ ہے جو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے ۔ بعض کا قول ہے تقوٰی حرام چیزوں کا ترک اور فرائض کا ادا کرنا ہے ۔ بعض کے نزدیک معصیت پر اصرار اور طاعت پر غرور کا ترک تقوٰی ہے ۔ بعض نے کہا تقوٰی یہ ہے کہ تیرا مولٰی تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا ۔ ایک قول یہ ہے کہ تقوٰی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام اور صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی پیروی کا نام ہے ۔ (خازن) یہ تمام معنی باہم مناسبت رکھتے ہیں اور مآل کے اعتبار سے ان میں کچھ مخالفت نہیں ۔ تقوٰی کے مراتب بہت ہیں عوام کا تقوٰی ایمان لا کر کُفر سے بچنا ، مُتوسّطین کا اوامر و نواہی کی اطاعت ، خواص کا ہر ایسی چیز کو چھوڑنا جو اللہ تعالٰی سے غافل کرے ۔ (جمل) حضرت مترجم قدس سرہ نے فرمایا تقوٰی سات قسم کا ہے ۔(۱) کُفر سے بچنا یہ بفضلہ تعالٰی ہر مسلمان کو حاصل ہے (۲) بدمذہبی سے بچنا یہ ہر سنی کو نصیب ہے (۳) ہر کبیرہ سے بچنا (۴) صغائر سے بھی بچنا (۵) شبہات سے احتراز (۶) شہوات سے بچنا (۷) غیر کی طرف التفات سے بچنا یہ اخص الخواص کا منصب ہےاور قرآنِ عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی ہے ۔
وہ جو بےدیکھے ایمان لائیں (ف۵) اور نماز قائم رکھیں (ف٦) اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری میں اٹھائیں ۔ (ف۷)
Those who believe without seeing (the hidden), and keep the (obligatory) prayer established, and spend in Our cause from what We have bestowed upon them.
वह जो बे देखे ईमान लाएँ और नमाज़ क़ायम रखें और हमारी दी हुई रोज़ी में से हमारी राह में उठाएँ -
Woh jo be dekhe imaan laayen aur namaz qayam rakhen aur hamari di hui rozi mein se hamari raah mein uthayen –
(ف5) اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ یہاں سے مُفْلِحُوْنَ تک آیتیں مومنین با اخلاص کے حق میں ہیں جو ظاہراً و باطناً ایماندار ہیں ۔ اس کے بعد دو آیتیں کھلے کافِروں کے حق میں ہیں جو ظاہراً و باطناً کافِر ہیں ۔ اس کے بعد وَ مِنَ النَّاسِ سے تیرہ آیتیں منافقین کے حق میں ہیں جو باطن میں کافِر ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ۔ (جمل) غیب مصدر یا اسمِ فاعِل کے معنی میں ہے ، اس تقدیر پر غیب وہ ہے جو حواس و عقل سے بدیہی طور پر معلوم نہ ہو سکے ، اس کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ جس پر کوئی دلیل نہ ہو یہ علمِ غیب ذاتی ہے اور یہی مراد ہے آیۂ عِنْدَہ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ میں اور ان تمام آیات میں جن میں علمِ غیب کی غیرِ خدا سے نفی کی گئی ہے ، اس قِسم کا علمِ غیب یعنی ذاتی جس پر کوئی دلیل نہ ہو اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے ، غیب کی دوسری قِسم وہ ہے جس پر دلیل ہو جیسے صانِعِ عالَم اور اس کی صفات اور نبوّات اور ان کے متعلقات احکام و شرائع و روزِ آخر اور اس کے احوال ، بَعث ، نشر ، حساب ، جزا وغیرہ کا علم جس پر دلیلیں قائم ہیں اور جو تعلیمِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے یہاں یہی مراد ہے ، اس دوسرے قسم کے غیوب جو ایمان سے علاقہ رکھتے ہیں ان کا علم و یقین ہر مومن کو حاصل ہے اگر نہ ہو آدمی مومن نہ ہو سکے اور اللہ تعالٰی اپنے مقرب بندوں انبیاء و اولیاء پر جو غیوب کے دروازے کھولتا ہے وہ اسی قسم کا غیب ہے یا غیب معنی مصدری میں رکھا جائے اور غیب کا صلہ مومن بہ قرار دیا جائے یا باء کو متلبسین محذوف کے متعلق کر کے حال قرا ر دیا جائے ، پہلی صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے جو بے دیکھے ایمان لائیں جیسا حضرت مترجم قدس سرہ نے ترجمہ کیا ہے ، دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے جو مؤمنین کے پسِ غیب ایمان لائیں یعنی ان کا ایمان منافقوں کی طرح مومنین کے دکھانے کے لئے نہ ہو بلکہ وہ مخلص ہوں ، غائب حاضر ہر حال میں مؤمن رہیں ۔ غیب کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ غیب سے قلب یعنی دل مراد ہے ، اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ دل سے ایمان لائیں ۔ (جمل) ایمان جن چیزوں کی نسبت ہدایت و یقین سے معلوم ہے کہ یہ دینِ محمّدی سے ہیں ، ان سب کو ماننے اور دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنے کا نام ایمان صحیح ہے ، عمل ایمان میں داخل نہیں اسی لئے یُؤمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ تر جمۂ کنز الایمان : (جو بے دیکھے ایمان لائیں ) کے بعد یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ تر جمۂ کنز الایمان : (نماز قائم رکھیں ) فرمایا ۔(ف6)نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ اس پر مداومت کرتے ہیں اور ٹھیک وقتوں پر پابندی کے ساتھ اس کے ارکان پورے پورے ادا کرتے اور فرائض ، سُنَن ، مستحبات کی حفاظت کرتے ہیں ، کسی میں خلل نہیں آنے دیتے ، مفسدات و مکروہات سے اس کو بچاتے ہیں اور اس کے حقوق اچھی طرح ادا کرتے ہیں ۔ نماز کے حقوق دو طرح کے ہیں ایک ظاہری وہ تو یہی ہیں جو ذکر ہوئے ، دوسرے باطنی وہ خشوع اورحضوریعنی دل کو فارغ کر کے ہمہ تن بارگاہِ حق میں متوجہ ہو جانا اور عرض و نیاز و مناجات میں محویت پانا ۔(ف7)راہِ خدا میں خرچ کرنے سے یا زکٰوۃ مراد ہے جیسا دوسری جگہ فرمایا یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکوٰۃَ یا مطلق انفاق خواہ فرض و واجب ہو جیسے زکٰوۃ ، نذر ، اپنا اور اپنے اہل کا نفقہ وغیرہ ، خواہ مستحب جیسے صدقاتِ نافلہ ، اموات کا ایصالِ ثواب ۔ مسئلہ : گیارھویں ، فاتحہ، تیجہ ، چالیسواں وغیرہ بھی اس میں داخل ہیں کہ وہ سب صدقاتِ نافلہ ہیں اور قرآنِ پاک و کلمہ شریف کا پڑھنا ، نیکی کے ساتھ اور نیکی ملا کر اجر و ثواب بڑھاتا ہے ۔ مسئلہ : مِمَّا میں مِنْ تبعیضیہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ انفاق میں اسراف ممنوع ہے یعنی انفاق خواہ اپنے نفس پر ہو یا اپنے اہل پر یا کسی اور پر ، اعتدال کے ساتھ ہو اسراف نہ ہونے پائے ۔ رَزَقْنَا ھُمْ کی تقدیم اور رزق کو اپنی طرف نسبت فرما کر ظاہر فرمایا کہ مال تمہارا پیدا کیا ہوا نہیں ، ہمارا عطا فرمایا ہوا ہے ، اس کو اگر ہمارے حکم سے ہماری راہ میں خرچ نہ کرو تو تم نہایت ہی بخیل ہو اور یہ بُخل نہایت قبیح ۔
اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا (ف۸) اور آخرت پر یقین رکھیں ، (ف۹)
And who believe in this (Qur’an) which has been sent down upon you, O beloved Prophet, (Mohammed – peace and blessings be upon him) and what was sent down before you; and are certain of the Hereafter.
और वह कि ईमान लाएँ उस पर जो ऐ महबूब तुम्हारी तरफ उतरा और जो तुम से पहले उतरा और आख़िरत पर यक़ीन रखें,
Aur woh ke imaan laayen us par jo ae Mehboob tumhari taraf utara aur jo tum se pehle utara aur aakhirat par yaqeen rakhen,
(ف8)اس آیت میں اہلِ کتاب سے وہ مومنین مراد ہیں جو اپنی کتاب اور تمام پچھلی آسمانی کتابوں اور انبیاء علیہم السلام کی وحیوں پر بھی ایمان لائے اور قرآنِ پاک پر بھی اور مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ سے تمام قرآنِ پاک اور پوری شریعت مراد ہے ۔ (جمل) مسئلہ : جس طرح قرآنِ پاک پر ایمان لانا ہر مکلَّف پر فرض ہے اسی طرح کتبِ سابقہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جو اللہ تعالٰی نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے قبل انبیاء علیہم السلام پر نازل فرمائیں البتہ ان کے جو احکام ہماری شریعت میں منسوخ ہو گئے ان پر عمل درست نہیں مگر ایمان ضروری ہے مثلاً پچھلی شریعتوں میں بیتُ الْمقد س قبلہ تھا ، اس پر ایمان لانا تو ہمارے لئے ضروری ہے مگر عمل یعنی نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں ، منسوخ ہو چکا ۔ مسئلہ : قرآنِ کریم سے پہلے جو کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سے اس کے انبیاء پر نازل ہوا ان سب پر اجمالاً ایمان لانا فرضِ عین ہے اور قرآن شریف پر تفصیلاً فرض کفایہ ہے لہٰذا عوام پر اس کی تفصیلات کے علم کی تحصیل فرض نہیں جب کہ عُلَماء موجود ہوں جنہوں نے اس کی تحصیلِ علم میں پوری جہد صرف کی ہو ۔(ف9)یعنی دارِ آخرت اور جو کچھ اس میں ہے جزا و حساب وغیرہ سب پر ایسا یقین و اطمینان رکھتے ہیں کہ ذرا شک و شبہ نہیں ، اس میں اہلِ کتاب وغیرہ کُفّار پر تعریض ہے جن کے اعتقاد آخرت کے متعلق فاسد ہیں ۔
بیشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے (ف۱۰) انہیں برابر ہے، چاہے تم انہیں ڈراؤ، یا نہ ڈراؤ ، وہ ایمان لانے کے نہیں ۔
As for those whose fate is disbelief, whether you warn them or do not warn them – it is all one for them; they will not believe. (Because their hearts are sealed – see next verse).
बेशक वह जिनकी क़िस्मत में कुफ्र है उन्हें बराबर है, चाहे तुम उन्हें डराओ, या न डराओ, वह ईमान लाने के नहीं ।
Beshak woh jin ki qismat mein kufr hai unhein barabar hai, chahe tum unhein darao, ya na darao, woh imaan laane ke nahin.
(ف10)اولیاء کے بعد اعداء کا ذکر فرمانا حکمتِ ہدایت ہے کہ اس مقابلہ سے ہر ایک کو اپنے کردار کی حقیقت اور اس کے نتائج پر نظر ہو جائے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل ، ابولہب وغیرہ کُفّار کے حق میں نازل ہوئی جو علمِ الٰہی میں ایمان سے محروم ہیں اسی لئے ان کے حق میں اللہ تعالٰی کی مخالفت سے ڈرانا ، نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں ، انہیں نفع نہ ہو گا مگر حضور کی سعی بیکار نہیں کیونکہ منصبِ رسالتِ عامّہ کا فرض رہنمائی و اقامت حُجّت و تبلیغ علٰی وجہِ الکمال ہے ۔ مسئلہ : اگر قوم پندپذیر نہ ہو تب بھی ہادی کو ہدایت کا ثواب ملے گا ۔ اس آیت میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ کُفّار کے ایمان نہ لانے سے آپ مغموم نہ ہوں آپ کی سعی تبلیغِ کامل ہے اس کا اجر ملے گا ، محروم تو یہ بدنصیب ہیں جنہوں نے آپ کی اطاعت نہ کی ۔ کُفر کے معنٰی اللہ تعالٰی کے وجود یا اس کی وحدانیت یا کسی نبی کی نبوّت یا ضروریاتِ دین سے کسی امر کا انکار یا کوئی ایسا فعل جو عِنْدَ الشَّرع انکار کی دلیل ہو کُفر ہے ۔
اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹا ٹوپ ہے، (ف۱۱) اور ان کے لئے بڑا عذاب
Allah has sealed their hearts and their ears, and on their eyes is a covering; and for them is a terrible punishment.
अल्लाह ने उनके दिलों पर और कानों पर मुहर कर दी और उनकी आँखों पर ग़ट्टा टोپ है, और उनके लिये बड़ा अज़ाब,
Allah ne unke dilon par aur kanon par mohar kar di aur unki aankhon par ghatta top hai, aur unke liye bara azaab,
(ف11)خلاصہ : مطلب یہ ہے کہ کُفّار ضلالت و گمراہی میں ایسے ڈوبے ہوئے ہیں کہ حق کے دیکھنے ، سننے ، سمجھنے سے اس طرح محروم ہو گئے جیسے کسی کے دل اور کانوں پر مُہر لگی ہو اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہو ۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندوں کے افعال بھی تحتِ قدرتِ الٰہی ہیں ۔
اور کچھ لوگ کہتے ہیں (ف۱۲) کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں
And among the people are some* that say, “We believe in Allah and the Last Day**” whereas they are not believers! (* The hypocrites ** the Day of Resurrection)
और कुछ लोग कहते हैं कि हम अल्लाह और पिछले दिन पर ईमान लाए और वह ईमान वाले नहीं,
Aur kuch log kehte hain ke hum Allah aur pichhle din par imaan laaye aur woh imaan wale nahin,
(ف12)اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کی راہیں ان کے لئے اول ہی سے بند نہ تھیں کہ جائے عذر ہوتی بلکہ ان کے کُفر و عناد اور سرکشی و بے دینی اور مخالفتِ حق و عداوتِ انبیاء علیہم السلام کا یہ انجام ہے جیسے کوئی شخص طبیب کی مخالفت کرے اور زہرِ قاتل کھا لے اور اس کے لئے دوا سے اِنتفاع کی صورت نہ رہے تو خود ہی مستحقِ ملامت ہے ۔
فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو (ف۱۳) اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں ۔
They wish to deceive Allah and the believers; and in fact they deceive none except themselves and they do not have any understanding.
फ़रेब दिया चाहते हैं अल्लाह और ईमान वालों को और हक़ीक़त में फ़रेब नहीं देते मगर अपनी जानों को और उन्हें शऊर नहीं ।
Fareb dena chahte hain Allah aur imaan walon ko aur haqeeqat mein fareb nahin dete magar apni jaanon ko aur unhein shaoor nahin.
(ف13)شانِ نُزول : یہاں سے تیرہ آیتیں منافقین کی شان میں نازل ہوئیں جو باطن میں کافِر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے فرمایا مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ وہ ایمان والے نہیں یعنی کلمہ پڑھنا ، اسلام کا مدعی ہونا ، نماز روزہ ادا کرنا ، مومن ہونے کے لئے کافی نہیں جب تک دل میں تصدیق نہ ہو ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جتنے فرقے ایمان کا دعوٰی کرتے ہیں اور کُفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب کا یہی حکم ہے کہ کافِر خارج از اسلام ہیں ، شرع میں ایسوں کو منافق کہتے ہیں ، ان کا ضرر کھلے کافِروں سے زیادہ ہے ۔ مِنَ النَّاسِ فرمانے میں لطیف رَمْز یہ ہے کہ یہ گروہ بہتر صفات و انسانی کمالات سے ایسا عاری ہے کہ اس کا ذکر کسی وصف و خوبی کے ساتھ نہیں کیا جاتا ، یوں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی آدمی ہیں ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو بشر کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے اِنکار کا پہلو نکلتا ہے اس لئے قرآنِ پاک میں جا بجا انبیاء کرام کے بشر کہنے والوں کو کافِر فرمایا گیا اور درحقیقت انبیاء کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کُفّار کا دستور ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا مِنَ النَّاسِ سامعین کو تعجب دلانے کے لئے فرمایا گیا کہ ایسے فریبی مکار اور ایسے احمق بھی آدمیوں میں ہیں ۔
ان کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱٤) تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، بدلا ان کے جھوٹ کا ۔ (ف۱۵)
In their hearts is a disease, so Allah has increased their disease; and for them is a painful punishment, because of their lies.
उनके दिलों में बीमारी है तो अल्लाह ने उनकी बीमारी और बढ़ाई और उनके लिये दर्दनाक अज़ाब है, बदला उनके झूट का -
Unke dilon mein bimaari hai to Allah ne unki bimaari aur barhayi aur unke liye dardnaak azaab hai, badla unke jhoot ka –
(ف14)اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو کوئی دھوکا دے سکے ، وہ اسرار و مخفیات کا جاننے والا ہے ، مراد یہ ہے کہ منافق اپنے گمان میں خدا کو فریب دینا چاہتے ہیں یا یہ کہ خدا کو فریب دینا یہی ہے کہ رسول علیہ السلام کو دھوکا دینا چاہیں کیونکہ وہ اس کے خلیفہ ہیں اور اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب کو اَسرار کا علم عطا فرمایا ہے ، وہ ان منافقین کے چُھپے کُفر پر مطلع ہیں اور مسلمان ان کے اطلاع دینے سے باخبر تو ان بے دینوں کا فریب نہ خدا پر چلے ، نہ رسول پر ، نہ مؤمنین پر بلکہ درحقیقت وہ اپنی جانوں کو فریب دے رہے ہیں ۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقیہ بڑا عیب ہے جس مذہب کی بنا تقیہ پر ہو وہ باطل ہے ، تقیہ والے کا حال قابلِ اعتماد نہیں ہوتا ، توبہ ناقابلِ اطمینان ہوتی ہے اس لئے عُلَماء نے فرمایا لَاتُقْبَلُ تَوْبَۃُ الزِّنْدِیْقِ ۔(ف15)بدعقیدگی کو قلبی مرض فرمایا گیا اس سے معلوم ہوا کہ بدعقیدگی روحانی زندگی کے لئے تباہ کُن ہے مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جھوٹ حرام ہے اس پر عذابِ اَلیم مرتب ہوتا ہے ۔
اور ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو، (ف۱٦) تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں
And when it is said to them, “Do not cause turmoil in the earth”, they say, “We are only peacemakers!”
और उन से कहा जाए ज़मीन में फ़साद न करो, तो कहते हैं हम तो संवारने वाले हैं,
Aur un se kaha jaye zameen mein fasaad na karo, to kehte hain hum to sanwarnay walay hain,
(ف16)مسئلہ : کُفّار سے میل جول ، ان کی خاطر دین میں مُداہنت اور اہلِ باطل کے ساتھ تَمَلّق و چاپلوسی اور ان کی خوشی کے لئے صُلحِ کُل بن جانا اور اظہارِ حق سے باز رہنا شانِ منافق اور حرام ہے ، اسی کو منافقین کا فساد فرمایا گیا ۔ آج کل بہت لوگوں نے یہ شیوہ کر لیا ہے کہ جس جلسہ میں گئے ویسے ہی ہو گئے ، اسلام میں اس کی ممانعت ہے ظاہر و باطن کا یکساں نہ ہونا بڑا عیب ہے ۔
اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤ جیسے اور لوگ ایمان لائے (ف۱۷) تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں (ف۱۸) سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں ۔ (ف۱۹)
And when it is said to them, “Believe as the others believe”, they say, “Shall we believe as the foolish believe?” It is they who are the fools, but they do not know.
और जब उन से कहा जाए ईमान लाओ जैसे और लोग ईमान लाए तो कहें क्या हम अहमक़ों की तरह ईमान ले आएँ सुनता है वही अहमक़ हैं मगर जानते नहीं -
Aur jab un se kaha jaye imaan lao jaise aur log imaan laaye to kahen kya hum ahmaqon ki tarah imaan le aayen? Sunta hai wohi ahmaq hain magar jaante nahin –
(ف17)یہاں اَلنَّاسُ سے یا صحابہ کرام مراد ہیں یا مومنین کیونکہ خدا شناسی ، فرمانبرداری و عاقبت اندیشی کی بدولت وہی انسان کہلانے کے مستحق ہیں ۔ مسئلہ : اٰمِنُوْا کَمَا اٰمَنَ سے ثابت ہوا کہ صالحین کا اِتبّاع محمود و مطلوب ہے ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ مذہبِ اہلِ سنّت حق ہے کیونکہ اس میں صالحین کا اِتّباع ہے ۔ مسئلہ : باقی تمام فرقے صالحین سے مُنحَرِف ہیں لہذا گمراہ ہیں ۔ مسئلہ : بعض عُلَماء نے اس آیت کو زندیق کی توبہ مقبول ہونے کی دلیل قرار دیا ہے ۔ (بیضاوی) زندیق وہ ہے جو نبوّت کا مُقِرّ ہو ، شعائرِ اسلام کا اظہار کرے اور باطن میں ایسے عقیدے رکھے جو بالاتفاق کُفر ہوں ، یہ بھی منافقوں میں داخل ہے ۔(ف18)اس سے معلوم ہوا کہ صالحین کو بُرا کہنا اہلِ باطل کا قدیم طریقہ ہے ، آج کل کے باطل فرقے بھی پچھلے بزرگوں کو بُرا کہتے ہیں ، روافض خلفائے راشدین اور بہت صحابہ کو خوارج ، حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے رُفقاء کو ، غیر مقلِّد ائمۂ مجتہدین بالخصوص امامِ اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو ، وہابیہ بکثرت اولیاء و مقبولانِ بارگاہ کو ، مرزائی انبیاءِ سابقین تک کو قرآنی (چکڑالی) صحابہ و محدثین کو ، نیچری تمام اکابرِ دین کو برا کہتے اور زبانِ طعن دراز کرتے ہیں ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ سب گمراہی میں ہیں ، اس میں دیندار عالِموں کے لئے تسلّی ہے کہ وہ گمراہوں کی بدزبانیوں سے بہت رنجیدہ نہ ہوں سمجھ لیں کہ یہ اہلِ باطل کا قدیم دستور ہے ۔ (مدارک)(ف19)منافقین کی یہ بدزبانی مسلمانوں کے سامنے نہ تھی ، ان سے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم باخلاص مومن ہیں جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اِذَالَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآ اٰمَنَّا یہ تبرّا بازیاں اپنی خاص مجلسوں میں کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے ان کا پردہ فاش کر دیا ۔ (خازن) اسی طرح آج کل کے گمراہ فرقے مسلمانوں سے اپنے خیالاتِ فاسدہ کو چھپاتے ہیں مگر اللہ تعالٰی ان کی کتابوں اور تحریروں سے ان کے راز فاش کر دیتا ہے ۔ اس آیت سے مسلمانوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیار رہیں دھوکا نہ کھائیں ۔
اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں (ف۲۰) تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں ۔ (ف۲۱)
And when they meet with the believers, they say, “We believe”; and when they are alone with their devils, they say, “We are undoubtedly with you, we were just mocking!”
और जब ईमान वालों से मिलें तो कहें हम ईमान लाए और जब अपने शैतानों के पास अकेले हों तो कहें हम तुम्हारे साथ हैं, हम तो यूँही हँसी करते हैं -
Aur jab imaan walon se milen to kahen hum imaan laaye aur jab apne shaytaanon ke paas akelay hon to kahen hum tumhare saath hain, hum to yunhi hansi karte hain –
(ف20)یہاں شیاطین سے کُفّار کے وہ سردار مراد ہیں جو اغواء میں مصروف رہتے ہیں ۔ (خازن و بیضاوی) یہ منافق جب ان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مسلمانوں سے ملنا مَحض براہِ فریب و استہزاء اس لئے ہے کہ ان کے راز معلوم ہوں اور ان میں فساد انگیزی کے مواقع ملیں ۔ (خازن)(ف21)یعنی اظہارِ ایمان تمسخُر کے طور پر کیا یہ اسلام کا انکار ہوا ۔ مسئلہ : انبیاء علیہم السلام اور دین کے ساتھ استہزاء و تمسخُر کُفر ہے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت عبداللہ بن اُبَیْ وغیرہ منافقین کے حق میں نازل ہوئی ایک روز انہوں نے صحابۂ کرام کی ایک جماعت کو آتے دیکھا تو اِبْنِ اُبَی نے اپنے یاروں سے کہا دیکھو تو میں انہیں کیسا بناتا ہوں جب وہ حضرات قریب پہنچے تو اِبْنِ اُبَی نے پہلے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا دستِ مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر آپ کی تعریف کی پھر اسی طرح حضرت عمر اور حضرت علی کی تعریف کی (رضی اللہ تعالٰی عنہم) حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اے اِبْنِ اُبَی خدا سے ڈر ، نفاق سے باز آ کیونکہ منافقین بدترین خَلق ہیں ، اس پر وہ کہنے لگا کہ یہ باتیں نفاق سے نہیں کی گئیں بخدا ہم آپ کی طرح مومنِ صادق ہیں ، جب یہ حضرات تشریف لے گئے تو آپ اپنے یاروں میں اپنی چالبازی پر فخر کرنے لگا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ منافقین مؤمنین سے ملتے وقت اظہارِ ایمان و اخلاص کرتے ہیں اور ان سے علیحدہ ہو کر اپنی خاص مجلسوں میں ان کی ہنسی اڑاتے اور استہزاء کرتے ہیں ۔ (اخرجہ الثعلبی و الواحدی و ضعفہ ابن حجر و السیوطی فی لباب النقول) مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام و پیشوایانِ دین کا تمسخُر اُڑانا کُفر ہے ۔
اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے (ف۲۲) ( جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں ۔
Allah (befitting His Majesty) mocks them, leaving them to wander blindly in their rebellion.
अल्लाह उन से इस्तिहज़ा फ़रमाता है (जैसा कि उसकी शान के लायक़ है) और उन्हें ढील देता है कि अपनी सरकशी में भटकते रहें ।
Allah unse istehza farmata hai (jaisa ke uski shaan ke laayiq hai) aur unhein dheel deta hai ke apni sarkashi mein bhatakte rahein.
(ف22)اللہ تعالٰی استہزاء اور تمام نقائص و عیوب سے منزّہ و پاک ہے ۔ یہاں جزاءِ استہزاء کو استہزاء فر مایا گیا تاکہ خوب دلنشین ہو جائے کہ یہ سزا اس ناکردنی فعل کی ہے ، ایسے موقع پر جزاء کو اسی فعل سے تعبیر کرنا آئینِ فصاحت ہے جیسے جَزَاءُ سَیِّئَۃ سَیِّئَۃ میں کمالِ حُسنِ بیان یہ ہے کہ اس جملہ کو جملۂ سابقہ پر معطوف نہ فرمایا کیونکہ وہاں استہزاء حقیقی معنی میں تھا ۔
یہ لوگ جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی (ف۲۳) تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے ۔ (ف۲٤)
These are the people who purchased error in exchange of guidance – so their bargain did not profit them, and they did not know how to trade.
ये लोग जिन्होंने हिदायत के बदले गुमराही खरीदी तो उनका सौदा कुछ नफ़ा न लाया और वह सौदे की राह जानते ही न थे -
Ye log jin hon ne hidaayat ke badle gumraahi khareedi to unka sauda kuch nafa na laya aur woh saude ki raah jaante hi na the –
(ف23)ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنا یعنی بجائے ایمان کے کُفر اختیار کرنا نہایت خسارہ اور ٹَوٹے کی بات ہےشانِ نُزول : یہ آیت یا ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو ایمان لانے کے بعد کافِر ہو گئے یا یہود کے حق میں جو پہلے سے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے تھے مگر جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو منکِر ہو گئے یا تمام کُفّار کے حق میں کہ اللہ تعالٰی نے انہیں فِطرتِ سلیمہ عطا فرمائی ، حق کے دلائل واضح کئے ، ہدایت کی راہیں کھولیں لیکن انہوں نے عقل و انصاف سے کام نہ لیا اور گمراہی اختیار کی ۔ مسئلہ : اس آیت سے بیع تعاطی کا جواز ثابت ہوا یعنی خرید و فروخت کے الفاظ کہے بغیر مَحض رضا مندی سے ایک چیز کے بدلے دوسری چیز لینا جائز ہے ۔(ف24)کیونکہ اگر تجارت کا طریقہ جانتے تو اصل پونجی (ہدایت) نہ کھو بیٹھتے ۔
ان کی کہاوت اس طرح ہے جس نے آگ روشن کی۔ تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا ۔ (ف۲۵)
Their example is like that of one who kindled a fire; and when it lit up all that was around it, Allah took away their light and left them in darkness, unable to see anything.
उनकी कहावत इस तरह है जिस ने आग रोशन की। तो जब उस से आस पास सब जगमगा उठा अल्लाह उनका नूर ले गया और उन्हें अंधेरियों में छोड़ दिया कि कुछ नहीं सूझता -
Unki kahawat is tarah hai jis ne aag roshan ki. To jab us se aas paas sab jagmaga utha Allah unka noor le gaya aur unhein andheriyon mein chhod diya ke kuch nahin soojhta –
(ف25)یہ ان کی مثال ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے کچھ ہدایت دی یا اس پر قدرت بخشی پھر انہوں نے اس کو ضائع کر دیا اور ابدی دولت کو حاصل نہ کیا ان کا مال حسرت و افسوس اور حیرت و خوف ہے ۔ اس میں وہ منافق بھی داخل ہیں جنہوں نے اظہارِ ایمان کیا اور دل میں کُفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کر دیا اور وہ بھی جو مؤمن ہونے کے بعد مرتد ہو گئے اور وہ بھی جنہیں فِطرتِ سلیمہ عطا ہوئی اور دلائل کی روشنی نے حق کو واضح کیا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور گمراہی اختیار کی اور جب حق سننے ، ماننے ، کہنے ، راہِ حق دیکھنے سے محروم ہوئے تو کان ، زبان ، آنکھ سب بے کار ہیں ۔
یا جیسے آسمان سے اترتا پانی کہ ان میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (ف ۲٦) اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں، کڑک کے سبب، موت کے ڈر سے (ف ۲۷) اور اللہ کافروں کو، گھیرے ہوئے ہے ۔ (ف۲۸)
Or like a rainstorm from the sky, in which are darkness, thunder and lightning; they thrust their fingers in their ears due to the thunderclaps, fearing death; and Allah has the disbelievers encompassed.
या जैसे आसमान से उतरता पानी कि उनमें अंधेरियाँ हैं और गरज और चमक अपने कानों में उँगलियाँ ठूँस रहे हैं, कड़क के सबब, मौत के डर से और अल्लाह काफ़िरों को घेरे हुए है -
Ya jaise aasman se utarta paani ke un mein andheriyan hain aur garaj aur chamak – apne kanon mein ungliyan thoons rahe hain, kadak ke sabab, maut ke darr se aur Allah kaafiron ko ghere huwe hai –
(ف26)ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والوں کی یہ دوسری تمثیل ہے کہ جیسے بارش زمین کی حیات کا سبب ہوتی ہے اور اس کے ساتھ خوفناک تاریکیاں اور مُہِیب گرج اور چمک ہوتی ہے اسی طرح قرآن و اسلام قلوب کی حیات کا سبب ہیں اور ذکرِ کُفر و شرک و نفاق ظلمت کے مشابہ جیسے تاریکی رَہْرَو کو منزل تک پہنچنے سے مانع ہوتی ہے ایسے ہی کُفر و نفاق راہ یابی سے مانع ہیں اور وعیدات گرج کے اور حُجَجِ بیِّنہ چمک کے مشابہ ہیں ۔ شانِ نُزول : منافقوں میں سے دو آدمی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے مشرکین کی طرف بھاگے ، راہ میں یہی بارش آئی جس کا آیت میں ذکر ہے اس میں شدت کی گرج کڑک اور چمک تھی ، جب گرج ہوتی تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں یہ کانوں کو پھاڑ کر مار نہ ڈالے ، جب چمک ہوتی چلنے لگتے ، جب اندھیری ہوتی اندھے رہ جاتے ، آپس میں کہنے لگے خدا خیر سے صبح کرے تو حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس میں دیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسلام پر ثابت قدم رہے ۔ ان کے حال کو اللہ تعالٰی نے منافقین کے لئے مثل (کہاوت) بنایا جو مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں حضور کا کلام ان میں اثر نہ کرجائے جس سے مر ہی جائیں اور جب ان کے مال و اولاد زیادہ ہوتے اور فتوح و غنیمت ملتی تو بجلی کی چمک والوں کی طرح چلتے اور کہتے کہ اب تو دینِ محمّدی سچا ہے اور جب مال و اولاد ہلاک ہوتے اور کوئی بلا آتی تو بارش کی اندھیریوں میں ٹھٹک رہنے والوں کی طرح کہتے کہ یہ مصیبتیں اسی دین کی وجہ سے ہیں او راسلام سے پلٹ جاتے ۔ (لباب النقول للسیوطی)(ف27)جیسے اندھیری رات میں کالی گھٹا چھائی ہو اور بجلی کی گرج و چمک جنگل میں مسافر کو حیران کرتی ہو اور وہ کڑک کی وحشت ناک آواز سے باندیشۂ ہلاک کانوں میں انگلیاں ٹھونستا ہو ، ایسے ہی کُفّار قرآنِ پاک کے سننے سے کان بند کرتے ہیں اور انہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کے دلنشین مضامین اسلام و ایمان کی طرف مائل کر کے باپ دادا کا کُفری دین ترک نہ کرا دیں جو ان کے نزدیک موت کے برابر ہے ۔(ف28)لہذا یہ گریز انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی کیونکہ وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر قہرِ الٰہی سے خلاص نہیں پا سکتے ۔
بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اچک لے جائے گی (ف۲۹) جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے (ف ۳۰) اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا (ف۳۱) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔ (ف۳۲)
It seems the lightning may snatch away their sight from them; whenever it flashes they walk in it, and when it darkens they stand still; if Allah willed, He could take away their hearing and their sight; indeed Allah is Able to do all things.
बिजली यूँ मालूम होती है कि उनकी निगाहें उचका ले जाएगी जब कुछ चमक हुई उस में चलने लगे और जब अँधेरा हुआ खड़े रह गए और अल्लाह चाहता तो उनके कान और आँखें ले जाता बेशक अल्लाह सब कुछ कर सकता है -.
Bijli yun maloom hoti hai ke unki nigaahen uchak le jaayegi, jab kuch chamak hui us mein chalne lage aur jab andhera hua khade reh gaye aur Allah chahta to unke kan aur aankhen le jata, beshak Allah sab kuch kar sakta hai.
(ف29)جیسے بجلی کی چمک ، معلوم ہوتا ہے کہ بینائی کو زائل کر دے گی ایسے ہی دلائلِ باہرہ کے انوار ان کی بصر وبصیرت کو خیرہ کرتے ہیں ۔(ف30)جس طرح اندھیری رات اور ابر و بارش کی تاریکیوں میں مسافر مُتحیَّر ہوتا ہے ، جب بجلی چمکتی ہے توکچھ چل لیتا ہے جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا رہ جاتا ہے اسی طرح اسلام کے غلبہ اور معجزات کی روشنی اور آرام کے وقت منافق اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جب کوئی مشقت پیش آتی ہے تو کُفر کی تاریکی میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور اسلام سے ہٹنے لگتے ہیں ، اسی مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح ارشاد فرمایا اِذَا دُعُوْآ اِلیَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مُّعْرِضُوْنَ وَ اِنْ یَّکُنْ لَّھُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ۔ (خازن صاوی وغیرہ)(ف31)یعنی اگرچہ منافقین کا طرزِ عمل اس کا مقتضی تھا مگر اللہ تعالٰی نے ان کے سمع و بصر کو باطل نہ کیا ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اسباب کی تاثیر مشیت الٰہیہ کے ساتھ مشروط ہے بغیر مشیت تنہا اسباب کچھ نہیں کر سکتے ۔ مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مشیت اسباب کی محتاج نہیں ، وہ بے سبب جو چاہے کر سکتا ہے ۔(ف32)شئی اسی کو کہتے ہیں جسے اللہ چاہے اور جو تحتِ مشیت آ سکے ، تمام ممکنات شئی میں داخل ہیں اس لئے وہ تحتِ قدرت ہیں اور جو ممکن نہیں واجب یا ممتنع ہے اس سے قدرت و ارادہ متعلق نہیں ہوتا جیسے اللہ تعالٰی کی ذات و صفات واجب ہیں اس لئے مقدور نہیں ۔ مسئلہ : باری تعالٰی کے لئے جھوٹ اور تمام عیوب محال ہیں اسی لئے قدرت کو ان سے کچھ واسطہ نہیں ۔
اے لوگو! (ف۳۳) اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا، یہ امید کرتے ہوئے، کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔ (ف۳٤)
O mankind! Worship your Lord, Who has created you and those before you, in the hope of attaining piety.
ऐ लोगो! अपने रब को पूजो जिस ने तुम्हें और तुम से अगलों को पैदा किया, ये उम्मीद करते हुए, कि तुम्हें परहेज़ गारी मिले -
Ae logo! Apne Rab ko pujo jis ne tumhen aur tum se aglon ko paida kiya, ye umeed karte hue, ke tumhen parhez gaari mile -
(ف33)اوّل سورہ میں کچھ بتایا گیا کہ یہ کتاب متَّقین کی ہدایت کے لئے نازل ہوئی پھر متَّقین کے اوصاف کا ذکر فرمایا ، اس کے بعد اس سے منحرف ہونے والے فرقوں کا اور ان کے حوال کا ذکر فرمایا کہ سعادت مند انسان ہدایت و تقوٰی کی طرف راغب ہو اور نافرمانی و بغاوت سے بچے ، اب طریقِ تحصیلِ تقوٰی تعلیم فرمایا جاتا ہے ۔ یٰاَ یُّھَاالنَّاسُ کا خِطاب اکثر اہلِ مکّہ کو اور یٰاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کا اہلِ مدینہ کو ہوتا ہے مگر یہاں یہ خِطاب مومن کافِر سب کو عام ہے ، اس میں اشارہ ہے کہ انسانی شرافت اسی میں ہے کہ آدمی تقوٰی حاصل کرے اور مصروفِ عبادت رہے ۔ عبادت و ہ غایت تعظیم ہے جو بندہ اپنی عبدیت اور معبودکی اُلُوہیت کے اعتقاد و اعتراف کے ساتھ بجا لائے ۔ یہاں عبادت عام ہے اپنے تمام انواع و اقسام و اصول و فروع کو شامل ہے ۔ مسئلہ : کُفّار عبادت کے مامور ہیں جس طرح بے وضو ہونا نماز کے فرض ہونے کا مانع نہیں اسی طرح کافِر ہونا وجوبِ عبادت کو منع نہیں کرتا اور جیسے بے وضو شخص پر نماز کی فرضیت رفعِ حدث لازم کرتی ہے ایسے ہی کافِرپر کہ وجوبِ عبادت سے ترکِ کُفر لازم آتا ہے ۔(ف34)اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کا فائدہ عابد ہی کو ملتا ہے ، اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو عبادت یا اور کسی چیز سے نفع حاصل ہو ۔
جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا (ف۳۵) تو اس سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو ۔ تو اللہ کے لئے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھہراؤ (ف۳٦)
The One Who has appointed the earth a base for you, and the sky a canopy – and caused water to pour down from the sky, thereby producing fruits as food for you; and do not knowingly set up rivals to Allah!
जिस ने तुम्हारे लिये ज़मीन को बिछौना और आसमान को इमारत बनाया और आसमान से पानी उतारा तो उस से कुछ फल निकाले तुम्हारे खाने को। तो अल्लाह के लिये जान बूझ कर बराबर वाले न ठहराओ -
Jis ne tumhare liye zameen ko bichhona aur aasmaan ko imaarat banaya aur aasmaan se paani utara to us se kuch phal nikaale tumhare khane ko. To Allah ke liye jaan boojh kar barabar walay na thehrao
(ف35)پہلی آیت میں نعمتِ ایجاد کا بیان فرمایا کہ تمہیں اور تمہارے آباء کو معدوم سے موجود کیا اور دوسری آیت میں اسبابِ معیشت و آسائش و آب و غذا کا بیان فرما کر ظاہر کر دیا کہ وہی ولیٔ نعمت ہے تو غیر کی پرستش مَحض باطل ہے ۔(ف36)توحیدِ الٰہی کے بعد حضور سیدِ انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت اور قرآنِ کریم کے کتابِ الٰہی و مُعجِز ہونے کی وہ قاہر دلیل بیان فرمائی جاتی ہے جو طالبِ صادق کو اطمینان بخشے اور منکِروں کو عاجز کر دے ۔
اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے (اس خاص) بندے (ف۳۷) پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ (ف ۳۸) اور اللہ کے سوا، اپنے سب حمایتیوں کو بلالو، اگر تم سچے ہو ۔
And if you are in any doubt concerning what We have sent down upon Our distinguished bondman (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), bring forth a single surah (chapter) equal to it; and call upon all your supporters, other than Allah, if you are truthful.
और अगर तुम्हें कुछ शक हो उस में जो हम ने अपने (इस ख़ास) बन्दे पर उतारा तो उस जैसी एक सूरह तो ले आओ और अल्लाह के सिवा, अपने सब हिमायतीओं को बुला लो, अगर तुम सच्चे हो।
Aur agar tumhen kuch shak ho us mein jo hum ne apne (is khaas) bande par utara to us jaisi ek soorat to le aao aur Allah ke siwa, apne sab himaaytiyon ko bula lo, agar tum sachay ho.
(ف37)بندۂ خاص سے حضور پر نور سیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مراد ہیں ۔(ف38)یعنی ایسی سورت بنا کر لاؤ جو فصاحت و بلاغت اور حسنِ نظم و ترتیب اور غیب کی خبریں دینے میں قرآنِ پاک کی مثل ہو ۔
پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہرگز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے، جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں (ف ۳۹) تیار رکھی ہے کافروں کے لئے ۔ (ف٤۰)
And if you are unable to bring forth (one chapter) – and We declare that you can never bring one – then fear the fire (of hell), the fuel of which is men and stones; kept ready for the disbelievers.
फिर अगर न ला सको और हम फरमाये देते हैं कि हरगिज़ न ला सकोगे तो डरो उस आग से, जिस का ईंधन आदमी और पत्थर हैं तैयार रखी है काफ़िरों के लिये -
Phir agar na la sako aur hum farmaaye dete hain ke har giz na la sako ge to daro us aag se, jis ka eendhan aadmi aur pathar hain tayyar rakhi hai kaafiron ke liye -
(ف39)پتّھر سے وہ بُت مراد ہیں جنہیں کُفّار پُوجتے ہیں اور ان کی مَحبت میں قرآنِ پاک اور رسولِ کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا عناداً انکار کرتے ہیں ۔(ف40)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ پیدا ہو چکی ہے ۔ مسئلہ : یہ بھی اشارہ ہے کہ مومنین کے لئے بکرمہٖ تعالٰی خلودِ نار یعنی ہمیشہ جہنّم میں رہنا نہیں ۔
اور خوشخبری دے، انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے، کہ ان کے لئے باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں رواں (ف٤۱) جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا، (صورت دیکھ کر) کہیں گے، یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا (ف٤۲) اور وہ (صورت میں) ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لئے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں (ف٤۳) اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ (ف٤٤)
And give glad tidings to those who believe and do good deeds; that for them are Gardens beneath which rivers flow; when they are provided with a fruit of the Gardens, they will say, “This is the same food as what was given to us before” whereas it is in resemblance; and in the Gardens are pure spouses for them; and they shall abide in it forever.
और खुशखबरी दे, उन्हें जो ईमान लाये और अच्छे काम किये, कि उनके लिये बाग़ हैं, जिन के नीचे नहरें रवां। जब उन्हें उन बाग़ों से कोई फल खाने को दिया जायेगा, (सूरत देख कर) कहेंगे, ये तो वही रिज़्क़ है जो हमें पहले मिला था और वो (सूरत में) मिलता-जुलता उन्हें दिया गया और उनके लिये उन बाग़ों में सुथरी बीबियाँ हैं और वो उन में हमेशा रहेंगे -
Aur khushkhabri de, unhein jo imaan lae aur achchay kaam kiye, ke unke liye baagh hain, jin ke neeche nahrain rawaan. Jab unhein un baaghon se koi phal khanay ko diya jaye ga, (soorat dekh kar) kahein ge, ye to wahi rizq hai jo humein pehle mila tha aur woh (soorat mein) milta julta unhein diya gaya aur unke liye un baaghon mein suthri beebiyan hain aur woh un mein hamesha rahen ge -
(ف41)سنّتِ الٰہی ہے کہ کتاب میں ترہیب کے ساتھ ترغیب ذکر فرماتا ہے اسی لئے کُفّار اور ان کے اعمال و عذاب کے ذکر کے بعد مومنین اور ان کے اعمال کا ذکر فرمایا اور انہیں جنّت کی بشارت دی ۔ صالحات یعنی نیکیاں وہ عمل ہیں جو شرعاً اچھے ہوں ان میں فرائض و نوافل سب داخل ہیں ۔ (جلالین) مسئلہ : عملِ صالح کا ایمان پر عطف دلیل ہے اس کی کہ عمل جزوِ ایمان نہیں ۔ مسئلہ : یہ بشارت مومنینِ صالحین کے لئے بلا قید ہے اور گنہگاروں کو جو بشارت دی گئی ہے وہ مقیّد بمشیتِ الٰہی ہے کہ چاہے از راہِ کرم معاف فرمائے چاہے گناہوں کی سزا دے کر جنّت عطا کرے ۔ (مدارک)(ف42)جنّت کے پھل باہم مشابہ ہوں گے اور ذائقے ان کے جُدا جُدا اس لئے جنّتی کہیں گے کہ یہی پھل تو ہمیں پہلے مل چکا ہے مگر کھانے سے نئی لذت پائیں گے تو ان کا لطف بہت زیادہ ہو جائے گا ۔(ف43)جنّتی بیبیاں خواہ حوریں ہوں یا اور ، سب زنانے عوارض اور تمام ناپاکیوں اور گندگیوں سے مبرا ہوں گی ، نہ جسم پر میل ہو گا نہ بول و براز ، اس کے ساتھ ہی وہ بدمزاجی و بدخُلقی سے بھی پاک ہوں گی ۔ (مدارک و خازن)(ف44)یعنی اہلِ جنّت نہ کبھی فنا ہوں گے نہ جنّت سے نکالے جائیں گے ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جنّت و اہلِ جنّت کے لئے فنا نہیں ۔
بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر (ف٤۵) تو وہ جو ایمان لائے، وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے (ف٤٦) رہے کافر، وہ کہتے ہیں ایسی کہاوت میں اللہ کا کیا مقصود ہے، اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے (ف٤۷) اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں ۔ (ف ٤۸)
Indeed Allah does not, for the sake of explanation, shy to illustrate an example of anything, whether it is of a gnat or something further (inferior) than it; so the believers know it is the Truth from their Lord; as for the disbelievers, they say, “What does Allah intend by such an example?” He misleads many thereby, and He guides many thereby; and with it He misleads only those who are rebellious.
बेशक अल्लाह उस से हया नहीं फरमाता कि मिसाल समझाने को कैसी ही चीज़ का ज़िक्र फरमाये मच्छर हो या उस से बढ़ कर। तो वो जो ईमान लाये, वो तो जानते हैं कि ये उनके रब की तरफ़ से हक़ है। रहे काफ़िर, वो कहते हैं ऐसी कहावत में अल्लाह का क्या मक़सूद है? अल्लाह बहतिरों को उस से गुमराह करता है और बहतिरों को हिदायत फरमाता है और उस से उन्हें गुमराह करता है जो बे-हुक्म हैं -
Beshak Allah us se haya nahin farmaata ke misaal samjhane ko kaisi hi cheez ka zikr farmaaye – machhar ho ya us se barh kar. To woh jo imaan lae, woh to jaante hain ke ye unke Rab ki taraf se haq hai. Rahe kaafir, woh kehte hain aisi kahawat mein Allah ka kya maqsud hai. Allah bahutiron ko us se gumraah karta hai aur bahutiron ko hidaayat farmaata hai aur us se unhein gumraah karta hai jo be-hukum hain -
(ف45)شانِ نُزول : جب اللہ تعالٰی نے آیہ مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ اور آیہ اَوْکَصَیِّبٍ میں منافقوں کی دو مثالیں بیان فرمائیں تو منافقوں نے یہ اعتراض کیا کہ اللہ تعالٰی اس سے بالاتر ہے کہ ایسی مثالیں بیان فرمائے ۔ اس کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف46)چونکہ مثالوں کا بیان متقضائے حکمت اور مضمون کو دل نشین کرنے والا ہوتاہے اور فُصَحائے عرب کا دستور ہے اس لئے اس پر اعتراض غلط و بیجا ہے اور بیانِ امثلہ حق ہے ۔(ف47) یُضِلُّ بِہٖ کُفّار کے اس مقولہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالٰی کا اس مثل سے کیا مقصو دہے اور اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ اور اَمَّاالَّذِیْنَ کَفَرُوْا جو دو جملے اوپر ارشاد ہوئے ان کی تفسیر ہے کہ اس مثل سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے جن کی عقلوں پر جَہل نے غلبہ کیا ہے اور جن کی عادت مکابرہ و عناد ہے اور جو امرِ حق اور کھلی حکمت کے انکار و مخالفت کے خوگر ہیں اور باوجود یکہ یہ مثل نہایت ہی برمَحل ہے پھر بھی انکار کرتے ہیں اور اس سے اللہ تعالٰی بہتوں کو ہدایت فرماتا ہے جو غور و تحقیق کے عادی ہیں اور انصاف کے خلاف بات نہیں کہتے وہ جانتے ہیں کہ حکمت یہی ہے کہ عظیمُ المرتبہ چیز کی تمثیل کسی قدر والی چیز سے اور حقیر چیز کی ادنٰی شے سے دی جائے جیسا کہ اوپر کی آیت میں حق کی نور سے اور باطل کی ظلمت سے تمثیل دی گئی ۔(ف48)شرع میں فاسق اس نافرمان کو کہتے ہیں جو کبیرہ کا مرتکب ہو ۔ فسق کے تین درجے ہیں ایک تغابی وہ یہ کہ آدمی اتفاقیہ کسی کبیرہ کا مرتکب ہو اور اس کو برا ہی جانتا رہا ، دوسرا انہماک کہ کبیرہ کا عادی ہوگیا اور اس سے بچنے کی پروا نہ رہی، تیسرا حجود کہ حرام کو اچھا جان کر ارتکاب کرے اس درجہ والا ایمان سے محروم ہوجاتا ہے۔ پہلے دو درجوں میں جب تک اکبر کبائر (شرک وکفر) کا ارتکاب نہ کرے اس پر مومن کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہاں فاسقین سے وہی نافرمان مراد ہیں جو ایمان سے خارج ہوگئے قرآن کریم میں کفار پر بھی فاسق کا اطلاق ہوا ہے اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ بعض مفسرین نے یہاں فاسق سے کافر مراد لئے بعض نے منافق بعض نے یہود ۔
وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں (ف٤۹) پکا ہونے کے بعد، اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۵۰) وہی نقصان میں ہیں ۔
Those who break the covenant of Allah after ratifying it – and sever what Allah has ordered to join, and who cause turmoil (evil / religious chaos) in the earth; it is they who are the losers.
वो जो अल्लाह के अहद को तोड़ देते हैं पक्का होने के बाद, और काटते हैं उस चीज़ को जिस के जोड़ने का ख़ुदा ने हुक्म दिया है और ज़मीन में फ़साद फैलाते हैं वही नुक़सान में हैं।
Woh jo Allah ke ahad ko tod dete hain pakka hone ke baad, aur kaat-te hain us cheez ko jis ke jorne ka Khuda ne hukum diya hai aur zameen mein fasaad phailate hain wahi nuqsaan mein hain.
(ف49)اس سے وہ عہد مراد ہے جو اللہ تعالٰی نے کتب سابقہ میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی نسبت فرمایا ایک قول یہ ہے کہ عہد تین ہیں ۔ پہلا عہد وہ جو اللہ تعالٰی نے تمام اولاد آدم سے لیا کہ اس کی ربوبیت کا اقرار کریں اس کا بیان اس آیت میں ہے وَاِذْ اَخَذَرَبُّکَ مِنْ م بَنِیْ اٰدَمَ الایۃ دوسرا عہد انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے کہ رسالت کی تبلیغ فرمائیں اور دین کی اقامت کریں اس کا بیان آیۂ وَاِذْ اَخَذَ مِنَ النَّبِیٖنَ مِیْثَاقَھُم میں ہے۔ تیسرا عہد علماء کے ساتھ خاص ہے کہ حق کو نہ چھپائیں اس کا بیان وَاِذاَخَذَ اللّٰہ ُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُواالْکِتابَ میں ہے۔(ف50)(الف)رشتہ و قرابت کے تعلقات مسلمانوں کی دوستی و محبت تمام انبیاء کا ماننا کتبِ الٰہی کی تصدیق حق پر جمع ہونا یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ملانے کا حکم فرمایا گیا ان میں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جدا کرنا تفرقوں کی بنا ڈالنا ممنوع فرمایا گیا۔(ب) دلائل توحید و نبوت اور جزائے کفر و ایمان کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی عام و خاص نعمتوں کا اور آثار قدرت وعجائب وحکمت کا ذکر فرمایا اور قباحت کفر دلنشین کرنے کے لئے کفار کو خطاب فرمایا کہ تم کس طرح خدا کے منکر ہوتے ہو باوجود یہ کہ تمہارا اپنا حال اس پر ایمان لانے کا متقضی ہے کہ تم مردہ تھے مردہ سے جسم بے جان مراد ہے ہمارے عرف میں بھی بولتے ہیں زمین مردہ ہوگئی عربی میں بھی موت اس معنی میں آئی خود قرآن پاک میں ارشاد ہوا یُحْیِی الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا تو مطلب یہ ہے کہ تم بیجان جسم تھے عنصر کی صورت میں پھر غذا کی شکل میں پھر اخلاط کی شان میں پھر نطفہ کی حالت میں اس نے تم کو جان دی زندہ فرمایا پھر عمر کی معیار پوری ہونے پر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا اس سے یا قبر کی زندگی مراد ہے جو سوال کے لئے ہوگی یا حشر کی پھر تم حساب و جزا کے لئے اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اپنے اس حال کو جان کر تمہارا کفر کرنا نہایت عجیب ہے، ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے کہ کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ کا خطاب مؤمنین سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم کس طرح کافر ہوسکتے ہو در آنحالیکہ تم جہل کی موت سے مردہ تھے اللہ تعالٰی نے تمہیں علم و ایمان کی زندگی عطافرمائی اس کے بعد تمہارے لئے وہی موت ہے جو عمر گزرنے کے بعد سب کو آیا کرتی ہے اس کے بعد وہ تمہیں حقیقی دائمی حیات عطا فرمائے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں ایسا ثواب دے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی دل پر اس کا خطرہ گزرا ۔
بھلا تم کیونکر خدا کے منکر ہوگے، حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جِلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے ۔ (ف۵۰ ۔ الف)
What has made you disbelieve in Allah? Whereas you were dead and He gave you life; then He will give you death, then bring you to life again, and then it is to Him you will return!
भला तुम क्योंकर ख़ुदा के मुनकिर होगे, हालाँकि तुम मुर्दा थे उस ने तुम्हें जिलाया फिर तुम्हें मारेगा फिर तुम्हें जिलायेगा फिर उसी की तरफ़ पलट कर जाओगे -
Bhala tum kyonkar Khuda ke munkir ho ge, haalaanke tum murda the us ne tumhen jilaaya phir tumhen maarega phir tumhen jilaaye ga phir usi ki taraf palat kar jao ge -
(ف50)(الف)رشتہ و قرابت کے تعلقات مسلمانوں کی دوستی و محبت تمام انبیاء کا ماننا کتبِ الٰہی کی تصدیق حق پر جمع ہونا یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ملانے کا حکم فرمایا گیا ان میں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جدا کرنا تفرقوں کی بنا ڈالنا ممنوع فرمایا گیا۔(ب) دلائل توحید و نبوت اور جزائے کفر و ایمان کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی عام و خاص نعمتوں کا اور آثار قدرت وعجائب وحکمت کا ذکر فرمایا اور قباحت کفر دلنشین کرنے کے لئے کفار کو خطاب فرمایا کہ تم کس طرح خدا کے منکر ہوتے ہو باوجود یہ کہ تمہارا اپنا حال اس پر ایمان لانے کا متقضی ہے کہ تم مردہ تھے مردہ سے جسم بے جان مراد ہے ہمارے عرف میں بھی بولتے ہیں زمین مردہ ہوگئی عربی میں بھی موت اس معنی میں آئی خود قرآن پاک میں ارشاد ہوا یُحْیِی الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا تو مطلب یہ ہے کہ تم بیجان جسم تھے عنصر کی صورت میں پھر غذا کی شکل میں پھر اخلاط کی شان میں پھر نطفہ کی حالت میں اس نے تم کو جان دی زندہ فرمایا پھر عمر کی معیار پوری ہونے پر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا اس سے یا قبر کی زندگی مراد ہے جو سوال کے لئے ہوگی یا حشر کی پھر تم حساب و جزا کے لئے اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اپنے اس حال کو جان کر تمہارا کفر کرنا نہایت عجیب ہے، ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے کہ کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ کا خطاب مؤمنین سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم کس طرح کافر ہوسکتے ہو در آنحالیکہ تم جہل کی موت سے مردہ تھے اللہ تعالٰی نے تمہیں علم و ایمان کی زندگی عطافرمائی اس کے بعد تمہارے لئے وہی موت ہے جو عمر گزرنے کے بعد سب کو آیا کرتی ہے اس کے بعد وہ تمہیں حقیقی دائمی حیات عطا فرمائے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں ایسا ثواب دے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی دل پر اس کا خطرہ گزرا ۔
وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے۔ (ف۵۱) پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ (ف۵۲)
It is He Who created for you all that is in the earth; then He inclined towards the heaven, therefore fashioning it as proper seven heavens; and He knows everything.
वही है जिस ने तुम्हारे लिये बनाया जो कुछ ज़मीन में है। फिर आसमान की तरफ़ इस्तिवा (क़स्द) फरमाया तो ठीक सात आसमान बनाये। वो सब कुछ जानता है -
Wohi hai jis ne tumhare liye banaya jo kuch zameen mein hai. Phir aasmaan ki taraf istiwa (qasd) farmaya to theek saat aasmaan banaye, woh sab kuch jaanta hai -
(ف51)یعنی کانیں سبزے جانور دریا پہاڑ جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ تعالٰی نے تمہارے دینی و دنیوی نفع کے لئے بنائے دینی نفع اس طرح کہ زمین کے عجائبات دیکھ کر تمہیں اللہ تعالٰی کی حکمت و قدرت کی معرفت ہو اور دنیوی منافع یہ کہ کھاؤ پیوآرام کرو اپنے کاموں میں لاؤ تو ان نعمتوں کے باوجود تم کس طرح کفر کرو گے مسئلہ کرخی و ابوبکر رازی وغیرہ نے خلق لکم کو قابل انتفاع اشیاء کے مباح الاصل ہونے کی دلیل قرار دیا ہے۔(ف52)یعنی یہ خلقت و ایجاد اللہ تعالٰی کے عالم جمیع اشیاء ہونے کی دلیل ہے کیونکہ ایسی پر حکمت مخلوق کا پیدا کرنا بغیر علم محیط کے ممکن و متصور نہیں مرنے کے بعد زندہ ہونا کافر محال جانتے تھے ان آیتوں میں ان کے بطلان پر قوی برہان قائم فرمادی کہ جب اللہ تعالٰی قادر ہے علیم ہے اور ابدان کے مادے جمع و حیات کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں تو موت کے بعد حیات کیسے محال ہوسکتی ہے پیدائش آسمان و زمین کے بعد اللہ تعالٰی نے آسمان میں فرشتوں کو اور زمین میں جنات کو سکونت دی جنات نے فساد انگیزی کی تو ملائکہ کی ایک جماعت بھیجی جس نے انہیں پہاڑوں اور جزیروں میں نکال بھگایا ۔
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا، میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں (ف۵۳) بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خونریزیاں کرے گا (ف۵٤) اور ہم تجھے سراہتے ہوئے، تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں، فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔ (ف۵۵)
And (remember) when your Lord said to the angels, “I am about to place My Caliph in the earth”; they said, “Will You place (as a caliph) one who will spread turmoil in it and shed blood? Whereas we glorify You with praise and proclaim Your Sanctity”; He said, “I know what you do not.”
और याद करो जब तुम्हारे रब ने फ़रिश्तों से फरमाया, मैं ज़मीन में अपना नायब बनाने वाला हूँ। बोले, क्या ऐसे को नायब करेगा जो उस में फ़साद फैलायेगा और ख़ूनरेज़ियाँ करेगा? और हम तुझे सराहते हुए, तेरी तस्बीह करते और तेरी पाकी बोलते हैं। फरमाया, मुझे मालूम है जो तुम नहीं जानते -
Aur yaad karo jab tumhare Rab ne farishton se farmaya, main zameen mein apna naayab banane wala hoon. Bole: kya aise ko naayab karega jo us mein fasaad phailaayega aur khoonrezian karega? Aur hum tujhe sarahte hue, teri tasbeeh karte aur teri paaki bolte hain. Farmaya: mujhe maaloom hai jo tum nahin jaante -
(ف53)خلیفہ احکام واوامرکے اجراء و دیگر تصرفات میں اصل کا نائب ہوتا ہے یہاں خلیفہ سے حضرت آدم علیہ السلام مراد ہیں اگرچہ اور تمام انبیاء بھی اللہ تعالٰی کے خلیفہ ہیں حضرت داؤد علیہ السلام کے حق میں فرمایا یَادَاو،دُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فرشتوں کو خلافت آدم کی خبر اس لئے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کرکے معلوم کرلیں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے قبل ہی خلیفہ کا لقب عطا ہوا اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی مسئلہ : اس میں بندوں کو تعلیم ہے کہ وہ کام سے پہلے مشورہ کیا کریں اور اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو مشورہ کی حاجت ہو ۔(ف54)ملائکہ کا مقصد اعتراض یا حضرت آدم پر طعن نہیں بلکہ حکمت خلافت دریافت کرنا ہے اور انسانوں کی طرف فساد انگیزی کی نسبت کرنا اس کا علم یا انہیں اللہ تعالٰی کی طرف سے دیا گیا ہو یا لوح محفوظ سے حاصل ہوا ہو یا خود انہوں نے جنات پر قیاس کیا ہو ۔(ف55)یعنی میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں بات یہ ہے کہ انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے اولیاء بھی علماء بھی اور وہ علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔
اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام (اشیاء کے) نام سکھائے (ف۵٦) پھر سب (اشیاء) کو ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ (ف۵۷)
And Allah the Supreme taught Adam all the names (of things), then presented them to the angels, saying, “Tell Me the names of these, if you are truthful.”
और अल्लाह तआला ने आदम को तमाम (अश्या के) नाम सिखाये फिर सब (अश्या) को मलाइका पर पेश कर के फरमाया सच्चे हो तो उनके नाम तो बताओ।
Aur Allah Ta’ala ne Aadam ko tamaam (ashya ke) naam sikhaye phir sab (ashya) ko malaaika par pesh karke farmaya: sachay ho to unke naam to batao.
(ف56)اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر تمام اشیاء و جملہ مسمیات پیش فرما کر آپ کو ان کے اسماء و صفات و افعال و خواص و اصول علوم و صناعات سب کا علم بطریق الہام عطا فرمایا ۔(ف57)یعنی اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں گا اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام تصرف و تدبیراور عدل و انصاف ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اس کو متصرف فرمایا گیا اور جن کا اس کو فیصلہ کرنا ہے۔ مسئلہ : اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے ملائکہ پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ علمِ اسماء خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے مسئلہ: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام ملائکہ سے افضل ہیں ۔
بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بیشک تو ہی علم و حکمت والا ہے ۔ (ف۵۸)
They said, “Purity is to You! We do not have any knowledge except what You have taught us! Indeed You only are the All Knowing, the Wise.”
बोले, पाकी है तुझे, हमें कुछ इल्म नहीं मगर जितना तू ने हमें सिखाया। बेशक तू ही इल्म व हिकमत वाला है -
Bole: paaki hai tujhe, humein kuch ilm nahin magar jitna tu ne humein sikhaya, beshak tu hi ilm o hikmat wala hai -
(ف58)اس میں ملائکہ کی طرف سے اپنے عجزو قصور کا اعتراف اور اس امر کا اظہار ہے کہ اُن کا سوال استفساراً تھا۔ نہ کہ اعتراضاً اور اب انہیں انسان کی فضیلت اور اُس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہوگئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے ۔
فرمایا اے آدم بتا دے انہیں سب (اشیاء کے) نام جب اس نے (یعنی آدم نے) انہیں سب کے نام بتادیئے (ف۵۹) فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ۔ (ف٦۰)
He said “O Adam! Inform them the names”; and when Adam had informed them their names, He said, “Did I not tell you that I know all the secrets of the heavens and the earth? And I know all what you disclose and all what you hide?”
फरमाया, ऐ आदम बता दे उन्हें सब (अश्या के) नाम। जब उस ने (यानी आदम ने) उन्हें सब के नाम बता दिये, फरमाया, मैं न कहता था कि मैं जानता हूँ आसमानों और ज़मीन की सब छुपी चीज़ें और मैं जानता हूँ जो कुछ तुम ज़ाहिर करते और जो कुछ तुम छुपाते हो -
Farmaya: Ae Aadam! Bata de unhein sab (ashya ke) naam. Jab us ne (yani Aadam ne) unhein sab ke naam bata diye, farmaya: main na kehta tha ke main jaanta hoon aasmaanon aur zameen ki sab chhupi cheezen, aur main jaanta hoon jo kuch tum zaahir karte aur jo kuch tum chupate ho -
(ف59)یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے ہر چیز کا نام اور اس کی پیدائش کی حکمت بتادی۔(ف60)ملائکہ نے جو بات ظاہر کی تھی وہ یہ تھی کہ انسان فساد انگیزی و خوں ریزی کرے گا اور وجوہات چھپائی تھی وہ یہ تھی کہ مستحق خلافت وہ خود ہیں اور اللہ تعالٰی ان سے افضل و اعلم کوئی مخلوق پیدا نہ فرمائے گا مسئلہ اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالٰی کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا، کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جملہ لغات اور کل زبانیں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ ملائکہ کے علوم و کمالات میں زیادتی ہوتی ہے ۔
اور (یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا ۔ (ف٦۱)
And (remember) when We ordered the angels to prostrate before Adam, so they all prostrated, except Iblis (Satan – devil); he refused and was proud – and became a disbeliever.
और (याद करो) जब हम ने फ़रिश्तों को हुक्म दिया कि आदम को सज्दा करो तो सब ने सज्दा किया सिवाय इब्लीस के कि मुनकिर हुआ और ग़ुरूर किया और काफ़िर हो गया -
Aur (yaad karo) jab hum ne farishton ko hukum diya ke Aadam ko sajda karo to sab ne sajda kiya siwaaye Iblees ke ke munkir hua aur ghuroor kiya aur kaafir ho gaya -
اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا (ف٦۲) کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے ۔ (ف٦۳)
And We said, “O Adam! You and your wife dwell in this Garden, and eat freely from it wherever you please – but do not approach this tree for you will become of those who transgress.”
और हम ने फरमाया, ऐ आदम! तू और तेरी बीवी जन्नत में रहो और खाओ उस में से बे रोक-टोक जहाँ तुम्हारा जी चाहे मगर उस पेड़ के पास न जाना कि हद से बढ़ने वालों में हो जाओगे -
Aur hum ne farmaya: Ae Aadam! Tu aur teri biwi jannat mein raho aur khao us mein se be-rok tok jahan tumhara ji chahe magar us pair ke paas na jaana ke had se barhne walon mein ho jao ge -
(ف61)اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام موجودات کا نمونہ اور عالم روحانی و جسمانی کا مجموعہ بنایا اور ملائکہ کے لئے حصول کمالات کا وسیلہ کیا تو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں شکر گزاری اور حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کے اعتراف اور اپنے مقولہ کی معذرت کی شان پائی جاتی ہے بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ملائکہ کو سجدہ کا حکم دیا تھا ان کی سند یہ آیت ہے فَاِذَا اسَوَّیْتُہ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ سَاجِدِینَ (بیضاوی) سجدہ کا حکم تمام ملائکہ کو دیا گیا تھا یہی اصح ہے۔(خازن) مسئلہ : سجدہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک سجدۂ عبادت جو بقصد پر ستش کیا جاتا ہے دوسرا سجدۂ تحیت جس سے مسجود کی تعظیم منظور ہوتی ہے نہ کہ عبادت۔ مسئلہ : سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے لئے خاص ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتا نہ کسی شریعت میں کبھی جائز ہوا یہاں جو مفسرین سجدۂ عبادت مراد لیتے وہ فرماتے ہیں کہ سجدہ خاص اللہ تعالیٰ کے لئے تھا۔اور حضرت آدم علیہ السلام قبلہ بنائے گئے تھے تو وہ مسجود الیہ تھے نہ کہ مسجودلہ، مگر یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس سجدہ سے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا فضل و شرف ظاہر فرمانا مقصود تھا اور مسجود الیہ کا ساجد سے افضل ہونا کچھ ضرور نہیں جیسا کہ کعبہ معظمہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ و مسجود الیہ ہے باوجودیکہ حضور اس سے افضل ہیں دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں سجدۂ عبادت نہ تھا سجدۂ تحیت تھا اور خاص حضرت آدم علیہ السلام کے لئے تھا زمین پر پیشانی رکھ کر تھا نہ کہ صرف جھکنا یہی قول صحیح ہے اور اسی پر جمہور ہیں۔(مدارک) مسئلہ سجدۂ تحیت پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں منسوخ کیا گیا اب کسی کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ جب حضرت سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا کہ مخلوق کو نہ چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (مدارک) ملائکہ میں سب سے پہلا سجدہ کرنے والے حضرت جبریل ہیں پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر عزرائیل پھر اور ملائکہ مقربین یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زوال سے عصر تک کیا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملائکہ مقربین سو برس اور ایک قول میں پانچ سو برس سجدہ میں رہے شیطان نے سجدہ نہ کیا اور براہ تکبر یہ اعتقاد کرتا رہا کہ وہ حضرت آدم سے افضل ہے اس کے لئے سجدہ کا حکم معاذ اللہ تعالیٰ خلاف حکمت ہے اس اعتقاد باطل سے وہ کافر ہوگیا۔ مسئلہ : آیت میں دلالت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل ہیں کہ ان سے انہیں سجدہ کرایا گیا۔ مسئلہ : تکبر نہایت قبیح ہے اس سے کبھی متکبر کی نوبت کفر تک پہنچتی ہے۔ (بیضاوی و جمل)(ف62)اس سے گندم یا انگور وغیرہ مراد ہے (جلالین) (ف63)ظلم کے معنی ہیں کسی شے کو بے محل وضع کرنا یہ ممنوع ہے اور انبیاء معصوم ہیں ان سے گناہ سرزد نہیں ہوتا یہاں ظلم خلاف اولی کے معنی میں ہے۔ مسئلہ : انبیاء علیہم السلام کو ظالم کہنا اہانت و کفر ہے جو کہے وہ کافر ہوجائے گا اللہ تعالیٰ مالک و مولیٰ ہے جو چاہے فرمائے اس میں ان کی عزت ہے دوسرے کی کیا مجال کہ خلاف ادب کلمہ زبان پر لائے اور خطاب حضرت حق کو اپنی جرأت کے لئے سند بنائے، ہمیں تعظیم و توقیر اور ادب و طاعت کا حکم فرمایا ہم پر یہی لازم ہے۔
تو شیطان نے اس سے (یعنی جنت سے) انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا (ف٦٤) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو (ف٦۵) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے ۔ (ف٦٦)
So the devil destabilised them in it and removed them from where they were – and We said, “Go down, one of you is an enemy to the other; and for a fixed time you shall stay on earth and feed in it.”
तो शैतान ने उस से (यानी जन्नत से) उन्हें ल़गज़िश दी और जहाँ रहते थे वहाँ से उन्हें अलग कर दिया और हम ने फरमाया नीचे उतरो, आपस में एक तुम्हारा दूसरे का दुश्मन, और तुम्हें एक वक़्त तक ज़मीन में ठहरना और बरतना है -
To Shaitaan ne us se (yani jannat se) unhein lagzish di aur jahan rehte the wahan se unhein alag kar diya aur hum ne farmaya: neeche utro, aapas mein ek tumhara doosre ka dushman aur tumhein ek waqt tak zameen mein thehrna aur baratna hai -
(ف64)شیطان نے کسی طرح حضرت آدم و حوا (علیہماالسلام) کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں تمہیں شجر خلد بتادوں، حضرت آدم علیہ السلام نے انکار فرمایا اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ، انہیں خیال ہوا کہ اللہ پاک کی جھوٹی قسم کون کھا سکتا ہے بایں خیال حضرت حوّا نے اس میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم کو دیا انہوں نے بھی تناول کیا حضرت آدم کو خیال ہوا کہ لَاتَقْرَبَا کی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں کیونکہ اگر وہ تحریمی سمجھتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں یہاں حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔(ف65)حضرت آدم و حوا اور ان کی ذریت کو جوان کے صلب میں تھی جنت سے زمین پر جانے کا حکم ہوا حضر ت آدم زمین ہند میں سراندیپ کے پہاڑوں پر اور حضرت حوا جدّے میں اتارے گئے۔ (خازن) حضرت آدم علیہ السلام کی برکت سے زمین کے اشجار میں پاکیزہ خوشبو پید اہوئی۔(روح البیان)(ف66)اس سے اختتام عمر یعنی موت کا وقت مراد ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے لئے بشارت ہے کہ وہ دنیا میں صرف اتنی مدت کے لئے ہیں اس کے بعد پھر انہیں جنت کی طرف رجوع فرمانا ہے اور آپ کی اولاد کے لئے معاد پر دلالت ہے کہ دنیا کی زندگی معین وقت تک ہے عمر تمام ہونے کے بعد انہیں آخرت کی طرف رجوع کرنا ہے۔
پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی (ف٦۷) بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔
Then Adam learnt from his Lord certain words (of revelation), therefore Allah accepted his repentance; indeed He only is the Most Acceptor of Repentance, the Most Merciful. (See Verse 7:23)
फिर सीख लिये आदम ने अपने रब से कुछ कलिमे तो अल्लाह ने उसकी तौबा क़बूल की। बेशक वही है बहुत तौबा क़बूल करने वाला मेहरबान।
Phir seekh liye Aadam ne apne Rab se kuch kalime to Allah ne us ki tauba qubool ki, beshak wahi hai bohot tauba qubool karne wala Meharban.
(ف67)آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اورتمام اہلِ زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن) طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں سمجھا تھا کہ بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا لہذا آپ نے اپنی دعا میں رَبَّنَا ظَلَمْنَا الآیہ کے ساتھ یہ عرض کیا اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندۂ خاص محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے مسئلہ : اللہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللّٰہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز) مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللہ ہے اس کے تین رکن ہیں ایک اعتراف جرم دوسرے ندامت تیسرے عزم ترک اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلا تارک صلوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے توبہ کے بعد حضرت جبرئیل نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔(فتح العزیز)
ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم ۔ (ف٦۸)
We said, “Go down from Paradise, all of you; then if some guidance comes to you from Me – so whoever follows My guidance, for such is neither fear nor any grief.”
हम ने फरमाया, तुम सब जन्नत से उतर जाओ, फिर अगर तुम्हारे पास मेरी तरफ़ से कोई हिदायत आये तो जो मेरी हिदायत का पैरो हुआ उसे न कोई अंदेशा न कुछ ग़म -
Hum ne farmaya: tum sab jannat se utar jao phir agar tumhare paas meri taraf se koi hidaayat aaye to jo meri hidaayat ka pairo hua usay na koi andesha na kuch gham -
(ف68)یہ مؤمنین صالحین کے لئے بشارت ہے کہ نہ انہیں فزع اکبر کے وقت خوف ہو نہ آخرت میں غم وہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔
اے یعقوب کی اولاد (ف٦۹) یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا (ف۷۰) اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا (ف۷۱) اور خاص میرا ہی ڈر رکھو ۔ (ف۷۲)
O Descendants of Israel (Jacob)! Remember My favour which I bestowed upon you, and fulfil your covenant towards Me, I shall fulfil My covenant towards you; and fear Me alone.
ऐ याक़ूब की औलाद! याद करो मेरा वो एहसान जो मैं ने तुम पर किया और मेरा अहद पूरा करो, मैं तुम्हारा अहद पूरा करूँगा और ख़ास मेरा ही डर रखो -
Ae Yaqoob ki aulaad! Yaad karo mera woh ehsaan jo main ne tum par kiya aur mera ahad poora karo main tumhara ahad poora karoonga aur khaas mera hi darr rakho -
(ف69)اسرائیل بمعنی عبداللہ عبری زبان کا لفظ ہے یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے۔(مدارک) کلبی مفسر نے کہا اللہ تعالیٰ نے یٰۤاَیُّھَاالنَّاسُ اعْبُدُوْا فرما کر پہلے تمام انسانوں کو عموماً دعوت دی پھر اِذْ قَالَ رَبُّکَ فرما کر انکے مبدء کا ذکر کیا اس کے بعد خصوصیت کے ساتھ بنی اسرائیل کو دعوت دی یہ لوگ یہودی ہیں اور یہاں سے سیقول تک ان سے کلام جاری ہے کبھی بملاطفت انعام یاد دلا کر دعوت کی جاتی ہے کبھی خوف دلا یا جاتا ہے کبھی حجت قائم کی جاتی ہے۔ کبھی ان کی بدعملی پر توبیخ ہوتی ہے کبھی گزشتہ عقوبات کا ذکر کیا جاتا ہے۔(ف70)یہ احسان کہ تمہارے آباء کو فرعون سے نجات دلائی ، دریا کو پھاڑا ابر کو سائبان بنایا ان کے علاوہ اور احسانات جو آگے آتے ہیں ان سب کو یاد کرو اور یاد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کرکے شکر بجالاؤ کیونکہ کسی نعمت کا شکر نہ کرنا ہی اس کا بھلانا ہے۔(ف71)یعنی تم ایمان و اطاعت بجالا کر میرا عہد پورا کرو میں جزاء و ثواب دے کر تمہارا عہد پورا کروں گا اس عہد کا بیان آیہ وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰہ ُ مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ میں ہے۔(ف72)مسئلہ : اس آیت میں شکر نعمت ووفاء عہد کے واجب ہونے کا بیان ہے اور یہ بھی کہ مومن کو چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے ۔
اور ایمان لاؤ اس پر جو میں نے اتارا اس کی تصدیق کرتا ہوا جو تمہارے ساتھ ہے اور سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو (ف۷۳) اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو (ف۷٤) اور مجھی سے ڈرو ۔
And accept faith in what I have sent down (the Qur’an), which confirms what is with you (the Torah / Bible), and do not be the first to disbelieve in it – and do not exchange My verses for an abject – and fear Me alone.
और ईमान लाओ उस पर जो मैंने उतारा उसकी तस्दीक करता हुआ जो तुम्हारे साथ है और सबसे पहले उसके मुनकर न बनो और मेरी आयतों के बदले थोड़े दाम न लो और मुझी से डरो -
Aur imaan lao is par jo maine utara is ki tasdeeq karta hua jo tumhare saath hai aur sab se pehle is ke munkir na bano aur meri aayaton ke badle thore daam na lo aur mujhi se daro -
(ف73)یعنی قرآن پاک توریت وانجیل پرجو تمہارے ساتھ ہیں ایمان لاؤاور اہلِ کتاب میں پہلے کافر نہ بنوکہ جو تمہارے اتباع میں کفر اختیار کرے اس کا وبال بھی تم پر ہو ۔(ف74)ان آیات سے توریت و انجیل کی وہ آیات مراد ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے مقصد یہ ہے کہ حضور کی نعت دولت دنیا کے لئے مت چھپاؤ کہ متاع دنیا ثمن قلیل اور نعمت آخرت کے مقابل بے حقیقت ہے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت کعب بن اشرف اور دوسرے رؤساء و علماء یہود کے حق میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کے جاہلوں اور کمینوں سے ٹکے وصول کرلیتے اور ان پر سالانے مقرر کرتے تھے اور انہوں نے پھلوں اور نقد مالوں میں اپنے حق معین کرلئے تھے انہیں اندیشہ ہوا کہ توریت میں جو حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے اگر اس کو ظاہر کریں تو قوم حضور پر ایمان لے آئے گی اور ان کی کچھ پرسش نہ رہے گی۔ یہ تمام منافع جاتے رہیں گے اس لئے انہوں نے اپنی کتابوں میں تغییر کی اور حضور کی نعت کو بدل ڈالا جب ان سے لوگ دریافت کرتے کہ توریت میں حضور کے کیا اوصاف مذکور ہیں تو وہ چھپالیتے۔ اور ہر گز نہ بتاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن وغیرہ)
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔ (ف۷۵)
And keep the (obligatory) prayer established, and pay the charity, and bow your heads with those who bow (in prayer).
और नमाज़ क़ायम रखो और ज़कात दो और रुकू करने वालों के साथ रुकू करो-
Aur namaz qaim rakho aur zakat do aur rukoo karne walon ke saath rukoo karo -
(ف75)اس آیت میں نمازو زکوٰۃ کی فرضیت کا بیان ہے اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ نمازوں کو ان کے حقوق کی رعایت اور ارکان کی حفاظت کے ساتھ ادا کرو مسئلہ : جماعت کی ترغیب بھی ہے حدیث شریف میں ہے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔
کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں ۔ (ف۷٦)
What! You enjoin righteousness upon people while you forget (to practise it) yourselves, whereas you read the Book? Do you not have sense?
क्या लोगों को भलाई का हुक्म देते हो और अपनी जानों को भूलते हो हालाँकि तुम किताब पढ़ते हो तो क्या तुम्हें अक्ल नहीं -
Kya logon ko bhalai ka hukum dete ho aur apni jaano ko bhoolte ho halanke tum kitab padhte ho to kya tumhe aql nahin -
(ف76)شان نُزول : عُلَماءِ یہود سے ان کے مسلمان رشتہ داروں نے دین اسلام کی نسبت دریافت کیا تو انہوں نے کہا تم اس دین پر قائم رہو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین حق اور کلام سچا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ایک قول یہ ہے کہ آیت ان یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے مشرکین عرب کو حضور کے مبعوث ہونے کی خبر دی تھی اور حضور کے اتباع کرنے کی ہدایت کی تھی پھر جب حضور مبعوث ہوئے تو یہ ہدایت کرنے والے حسد سے خود کافر ہوگئے اس پر انہیں توبیخ کی گئی ۔(خازن و مدارک)
اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر (نہیں) جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں ۔ (ف۷۷)
And seek help in patience and prayer; and truly it is hard except for those who prostrate before Me with sincerity.
और सब्र और नमाज़ से मदद चाहो और बेशक नमाज़ ज़रूर भारी है मगर उन पर (नहीं) जो दिल से मेरी तरफ़ झुकते हैं -
Aur sabr aur namaz se madad chaho aur beshak namaz zaroor bhaari hai magar un par (nahin) jo dil se meri taraf jhuktay hain -
(ف77)یعنی اپنی حاجتوں میں صبر اور نماز سے مدد چاہو سبحان اللہ کیا پاکیزہ تعلیم ہے صبر مصیبتوں کا اخلاقی مقابلہ ہے انسان عدل و عزم حق پرستی پر بغیر اس کے قائم نہیں رہ سکتا صبر کی تین قسمیں ہیں۔(۱) شدت و مصیبت پر نفس کو روکنا (۲)طاعت و عبادت کی مشقتوں میں مستقل رہنا(۳)معصیت کی طرف مائل ہو نے سے طبیعت کو باز رکھنا ،بعض مفسرین نے یہاں صبر سے روزہ مراد لیا ہے وہ بھی صبر کا ایک فرد ہے اس آیت میں مصیبت کے وقت نما ز کے ساتھ استعانت کی تعلیم بھی فرمائی،کیونکہ وہ عبادتِ بدنیہ ونفسانیہ کی جامع ہے اور اس میں قربِ الہٰی حاصل ہو تا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہم امور کے پیش آنے پر مشغولِ نماز ہو جاتے تھے،اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ مومنین صادقین کے سوا اوروں پر نماز گرا ں ہے ۔
اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ اس سارے زمانہ پر تمہیں بڑائی دی ۔ (ف۷۹)
O Descendants of Israel! Remember the favour of Mine, which I bestowed upon you and gave you superiority over others of your time. (by sending the Noble Messengers to your nation)
ऐ औलादे याक़ूब याद करो मेरा वो एहसान जो मैंने तुम पर किया और ये कि इस सारे ज़माना पर तुम्हें बड़ाई दी-
Ae aulaad-e-yaqoob yaad karo mera woh ehsaan jo maine tum par kiya aur ye ke is sare zamana par tumhein barai di -
(ف79) اَلْعٰلَمِیْنَ کا استغراق حقیقی نہیں مراد یہ ہے کہ میں نے تمہارے آباء کو ان کے زمانہ والوں پر فضیلت دی یا فضل جزئی مراد ہے جو اور کسی امت کی فضیلت کا نافی نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے امت محمدیہ کے حق میں ارشاد ہوا کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ (روح البیان جمل وغیرہ)
اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی (ف۸۰) اور نہ (کافر کے لئے) کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر (اس کی) جان چھوڑی جائے اور نہ ان کی مدد ہو ۔ (ف۸۱)
And fear the Day (of Resurrection) when no soul will be exchanged for another, nor will any intercession be accepted for the disbelievers, nor will they be set free in lieu of compensation nor will they be helped.
और डरो उस दिन से जिस दिन कोई जान दूसरे का बदला न हो सकेगी और न (काफ़िर के लिए) कोई सिफारिश मानी जाएगी और न कुछ ले कर (उसकी) जान छोड़ी जाएगी और न उनकी मदद हो-
Aur daro us din se jis din koi jaan doosre ka badla na ho sakegi aur na (kafir ke liye) koi sifarish mani jaye aur na kuch le kar (us ki) jaan chhodi jaye aur na unki madad ho -
(ف80)وہ روز قیامت ہے آیت میں نفس دو مرتبہ آیا ہے پہلے سے نفس مؤمن دوسرے سے نفس کافر مراد ہے (مدارک) (ف81)یہاں سے رکوع کے آخر تک دس نعمتوں کا بیان ہے جو ان بنی اسرائیل کے آباء کو ملیں۔
اور (یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات بخشی (ف۸۲) کہ وہ تم پر برا عذاب کرتے تھے (ف۸۳) تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے (ف۸٤) اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بلا تھی (یا بڑا انعام) (ف۸۵)
(And remember) When We rescued you from Firaun’s people, for they were inflicting you with a dreadful torment, slaying your sons and sparing your daughters; that was a tremendous trial from your Lord (or a great reward).
और (याद करो) जब हमने तुम को फ़िरऔन वालों से नजात बख़्शी कि वो तुम पर बुरा अज़ाब करते थे तुम्हारे बेटों को ज़बह करते और तुम्हारी बेटियों को ज़िन्दा रखते और उसमें तुम्हारे रब की तरफ़ से बड़ी बला थी (या बड़ा इनाम)
Aur (yaad karo) jab humne tumko firaun walon se nijaat bakhshi ke woh tum par bura azaab karte the tumhare beto ko zabah karte aur tumhari betiyon ko zinda rakhte aur is mein tumhare Rab ki taraf se badi bala thi (ya bara inaam) -
(ف82)قوم قبط و عمالیق سے جو مصر کا بادشاہ ہوا اس کو فرعون کہتے ہیں حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانہ کے فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان ہے یہاں اسی کا ذکر ہے اس کی عمر چار سو برس سے زیادہ ہوئی آل فرعون سے اس کے متبعین مراد ہیں۔ (جمل وغیرہ) (ف83)عذاب سب برے ہوتے ہیں۔ سُوْۤءَ الْعَذَابِ وہ کہلائے گا جو اور عذابوں سے شدید ہو اس لئے حضرت مترجم قُدِّ سَ سِرُّ ہ، نے ( برا عذاب) ترجمہ کیا ( کما فی الجلالین وغیرہ) فرعون نے بنی اسرائیل پر نہایت بے دردی سے محنت و مشقت کے دشوار کام لازم کیے تھے پتھروں کی چٹانیں کاٹ کر ڈھوتے ڈھوتے ان کی کمریں گردنیں زخمی ہوگئیں تھیں غریبوں پر ٹیکس مقرر کیے تھے جو غروب آفتاب سے قبل بجبر وصول کیے جاتے تھے جو نادار کسی دن ٹیکس ادا نہ کرسکا اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ ملا کر باندھ دیئے جاتے تھے اور مہینہ بھر تک اسی مصیبت میں رکھا جاتا تھا اور طرح طرح کی بے رحمانہ سختیاں تھیں۔(خازن وغیرہ)(ف84)فرعون نے خواب دیکھا کہ بَیْتُ الْمَقْدِ سْ کی طرف سے آگ آئی اس نے مصر کو گھیر کر تمام قبطیوں کو جلا ڈالا بنی اسرائیل کو کچھ ضرر نہ پہنچایا اس سے اس کو بہت وحشت ہوئی کاہنوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے ہلاک اور زوال سلطنت کا باعث ہوگا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو قتل کردیا جائے دائیاں تفتیش کے لئے مقرر ہوئیں بارہ ہزار وبروایتے ستر ہزار لڑکے قتل کر ڈالے گئے اور نوّے ہز ار حمل گرادیئے گئے اور مشیتِ الہٰی سے اس قوم کے بوڑھے جلد جلد مرنے لگے قوم قبط کے رؤسانے گھبرا کر فرعون سے شکایت کی کہ بنی اسرائیل میں موت کی گرم بازاری ہے اس پر ان کے بچے بھی قتل کیے جاتے ہیں تو ہمیں خدمت گار کہاں سے میسر آئیں گے فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کیے جائیں اور ایک سال چھوڑے جائیں تو جو سال چھوڑنے کا تھا اس میں حضرت ہارون پیدا ہوئے اور قتل کے سال حضرت موسٰی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔(ف85)بلا امتحان و آزمائش کو کہتے ہیں آزمائش نعمت سے بھی ہوتی ہے اور شدت و محنت سے بھی نعمت سے بندہ کی شکر گزاری اور محنت سے اس کے صبر کا حال ظاہر ہوتا ہے اگر ذَالِکُمْ کا اشارہ فرعون کے مظالم کی طرف ہو تو بلا سے محنت و مصیبت مراد ہوگی اور اگر ان مظالم سے نجات دینے کی طرف ہو تو نعمت
اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا پھاڑ دیا تو تمہیں بچالیا اور فرعون والوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا ۔ (ف۸٦)
And when We split the sea for you thereby rescuing you, and drowned the Firaun's people in front of your eyes.
और जब हमने तुम्हारे लिए दरिया फाड़ दिया तो तुम्हें बचा लिया और फ़िरऔन वालों को तुम्हारी आँखों के सामने डुबो दिया -
Aur jab humne tumhare liye darya phaad diya to tumhein bacha liya aur firaun walon ko tumhari aankhon ke samne dooba diya -
(ف86)یہ دوسری نعمت کا بیان ہے جو بنی اسرائیل پر فرمائی کہ انہیں فرعونیوں کے ظلم و ستم سے نجات دی اور فرعون کو مع اس کی قوم کے ان کے سامنے غرق کیا یہاں آل فرعون سے فرعون مع اپنی قوم کے مراد ہے جیسے کہ کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ میں حضرت آدم و اولاد آدم دونوں داخل ہیں۔ (جمل) مختصر واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام والسلام بحکم الہٰی شب میں بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر روانہ ہوئے صبح کو فرعون ان کی جستجو میں لشکر گراں لے کر چلا اور انہیں دریا کے کنارے جا پایا بنی اسرائیل نے لشکر فرعون دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام سے فریاد کی آپ نے بحکم الہٰی دریا میں اپنا عصا (لاٹھی) مارااس کی برکت سے عین دریا میں بارہ خشک رستے پیدا ہوگئے پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہوگیا ان آبی دیواروں میں جالی کی مثل روشندان بن گئے بنی اسرائیل کی ہر جماعت ان راستوں میں ایک دوسری کو دیکھتی اور باہم باتیں کرتی گزر گئی فرعون دریائی رستے دیکھ کر ان میں چل پڑا جب اس کا تمام لشکر دریا کے اندر آگیا تو دریا حالت اصلی پر آیا اور تمام فرعونی اس میں غرق ہوگئے دریا کا عرض چار فرسنگ تھا یہ واقعہ بحرِ قُلْز م کا ہے جو بحر فارس کے کنارہ پر ہے یا بحر ماورائے مصر کا جس کو اساف کہتے ہیں بنی اسرائیل لب دریافرعونیوں کے غرق کا منظر دیکھ رہے تھے یہ غرق محرم کی دسویں تاریخ ہوا حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس دن شکر کا روزہ رکھا سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے زمانہ تک بھی یہود اس دن کا روزہ رکھتے تھے حضور نے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی فتح کی خوشی منانے اور اس کی شکر گزاری کرنے کے ہم یہود سے زیادہ حق دار ہیں ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ عا شورہ کا روزہ سنّت ہے ۔مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء کرام پرجوانعامِ الٰہی ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور شکر بجا لانا مسنون ہے اگر کفار بھی قائم کرتے ہوں جب بھی اس کو چھوڑا نہ جائے گا ۔
اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ فرمایا پھر اس کے پیچھے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور تم ظالم تھے ۔ (ف۸۷)
And when We made a commitment with Moosa (Moses) for forty nights – then behind him you started worshipping the calf, and you were unjust.
और जब हमने मूसा से चालीस रात का वादा फ़रमाया फिर उसके पीछे तुमने बछड़े की पूजा शुरू कर दी और तुम ज़ालिम थे -
Aur jab humne Musa se chalis raat ka waada farmaya phir us ke peechhe tumne bachhre ki pooja shuru kar di aur tum zalim the -
(ف87)فرعون اور فرعونیوں کے ہلاک کے بعد جب حضرت موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر کی طرف لوٹے اور ان کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے عطائے توریت کا وعدہ فرمایا اور اس کے لئے میقات معین کیا جس کی مدت معہ اضافہ ایک ماہ دس روز تھی مہینہ ذوالقعدہ اور دس دن ذوالحجہ کے حضرت موسٰی علیہ السلام قوم میں اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ و جانشین بنا کر توریت حاصل کرنے کے لئے کوہ طور پر تشریف لے گئے چالیس شب وہاں ٹہرے اس عرصہ میں کسی سے بات نہ کی اللہ تعالیٰ نے زبر جدی الواح میں توریت آپ پر نازل فرمائی یہاں سامری نے سونے کا جواہرات سے مرصع بچھڑا بنا کر قوم سے کہا کہ یہ تمہارا معبود ہے وہ لوگ ایک ماہ حضرت کا انتظار کرکے سامری کے بہکانے سے بچھڑا پوجنے لگے سوائے حضرت ہارون علیہ السلام اور آپ کے بارہ ہزار ہمراہیوں کے تمام بنی اسرائیل نے گوسالہ کو پوجا (خازن)
پھر اس کے بعد ہم نے تمہیں معافی دی (ف۸۸) کہ کہیں تم احسان مانو ۔ (ف۸۹)
Then after that We pardoned you so that you may be grateful.
फिर उसके बाद हमने तुम्हें माफ़ी दी कि कहीं तुम एहसान मानो -
Phir us ke baad humne tumhein maafi di ke kahin tum ehsaan mano -
(ف88)عفو کی کیفیت یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا کہ توبہ کی صورت یہ ہے کہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی ہے وہ پرستش کرنے والوں کو قتل کریں اور مجرم برضاو تسلیم سکون کے ساتھ قتل ہوجائیں وہ اس پر راضی ہوگئے صبح سے شام تک ستر ہزار قتل ہوگئے تب حضرت موسٰی و ہارون علیہما السلام بتضرع و زاری بارگاہِ حق کی طرف ملتجی ہوئے وحی آئی کہ جو قتل ہوچکے شہید ہوئے باقی مغفور فرمائے گئے۔ان میں کے قاتل و مقتول سب جنتی ہیں مسئلہ: شرک سے مسلمان مرتد ہوجاتا ہے مسئلہ : مرتد کی سزا قتل ہے کیونکہ اللہ تعالٰی سے بغاوت قتل و خونریزی سے سخت ترجرم ہے فائدہ گوسالہ بنا کر پوجنے میں بنی اسرائیل کے کئی جرم تھے ایک تصویر سازی جو حرام ہے دوسرے حضرت ہارون علیہ السلام کی نافرمانی تیسرے گوسالہ پوج کر مشرک ہوجانا یہ ظلم آل فرعون کے مظالم سے بھی زیادہ شدید ہیں کیونکہ یہ افعال ان سے بعد ایمان سرزد ہوئے اس لئے مستحق تو اس کے تھے کہ عذاب الٰہی انہیں مہلت نہ دے اور فی الفور ہلاکت سے کفر پر ان کا خاتمہ ہوجائے لیکن حضرت موسٰی وہارون علیہما السلام کی بدولت انہیں توبہ کا موقع دیا گیا یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔(ف89)اس میں اشارہ ہے کہ بنی اسرائیل کی استعداد فرعونیوں کی طرح باطل نہ ہوئی تھی اور اس کی نسل سے صالحین پیدا ہونے والے تھے چنانچہ ان میں ہزارہا نبی و صالح پیدا ہوئے
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم نے بچھڑا بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کردو (ف۹۰) یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ۔ (ف ۹۱)
And when Moosa said to his people, “O my people! You have wronged yourselves by taking the calf,* therefore turn in repentance to your Creator, therefore kill each other; this is better for you before your Creator”; He therefore accepted your repentance; indeed He only is the Most Acceptor of Repentance, the Most Merciful. (* as your deity for worship)
और जब मूसा ने अपनी कौम से कहा ऐ मेरी कौम तुमने बछड़ा बना कर अपनी जानों पर ज़ुल्म किया तो अपने पैदा करने वाले की तरफ़ रुजू लाओ तो आपस में एक दूसरे को क़त्ल कर दो ये तुम्हारे पैदा करने वाले के नज़दीक तुम्हारे लिए बेहतर है तो उसने तुम्हारी तौबा क़बूल की बेशक वही है बहुत तौबा क़बूल करने वाला मेहरबान -
Aur jab Musa ne apni qaum se kaha ae meri qaum tumne bachhra bana kar apni jaano par zulm kiya to apne paida karne wale ki taraf rujoo lao to aapas mein ek doosre ko qatal kar do ye tumhare paida karne wale ke nazdeek tumhare liye behtar hai to usne tumhari tauba qubool ki beshak wahi hai bohot tauba qubool karne wala meherban -
(ف90)یہ قتل ان کے لئے کفارہ تھا۔(ف91)جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور کفارہ میں اپنی جانیں دے دیں تو اللہ تعالٰٰی نے حکم فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام انہیں گو سالہ پرستی کی عذر خواہی کے لئے حاضر لائیں حضرت ان میں سے ستر آدمی منتخب کرکے طور پر لے گئے وہاں وہ کہنے لگے اے موسٰی ہم آپ کا یقین نہ کریں گے جب تک خدا کو علانیہ نہ دیکھ لیں اس پر آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی جس کی ہیبت سے وہ مر گئے حضرت موسٰی علیہ السلام نے بتضرع عرض کی کہ میں بنی اسرائیل کو کیا جواب دوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں یکے بعد دیگرے زندہ فرمادیا مسئلہ: اس سے شان انبیاء معلوم ہوتی ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام سے لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ کہنے کی شامت میں بنی اسرائیل ہلاک کیے گئے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد والوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ انبیاء کی جناب میں ترک ادب غضب الٰہی کا باعث ہوتا ہے اس سے ڈرتے رہیں مسئلہ: یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبولان بارگاہ کی دعا سے مردے زندہ فرماتا ہے۔
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ لائیں گے جب تک اعلانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہیں کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے ۔
And when you said “O Moosa! We will not believe you till we clearly see Allah”; so the thunder seized you while you were watching.
और जब तुमने कहा ऐ मूसा हम हरगिज़ तुम्हारा यक़ीन न लाएँगे जब तक एएलानिया ख़ुदा को न देख लें तो तुम्हें कड़क ने आ लिया और तुम देख रहे थे।
Aur jab tumne kaha ae Musa hum hargiz tumhara yaqeen na laayenge jab tak a’laniya Khuda ko na dekh lein to tumhein kadak ne a liya aur tum dekh rahe the -
اور ہم نے ابر کو تمہارا سائبان کیا (ف۹۲) اور تم پر من اور سلویٰ اتارا کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں (ف۹۳) اور انہوں نے کچھ ہمارا نہ بگاڑا ہاں اپنی ہی جانوں کو بگاڑ کرتے تھے ۔ (ف۹٤) اور جب ہم نے فرمایا اس بستی میں جاؤ ۔
And We made the clouds a canopy for you and sent down Manna and Salwa (birds) on you; “Eat of the pure things We have provided you”; they did not wrong Us in the least, but indeed they wronged themselves.
और हमने अब्र को तुम्हारा सायबान किया और तुम पर मन्न और सल्वा उतारा खाओ हमारी दी हुई सुथरी चीज़ें और उन्होंने कुछ हमारा न बिगाड़ा हाँ अपनी ही जानों को बिगाड़ करते थे - और जब हमने फ़रमाया इस बस्ती में जाओ -
Aur humne abr ko tumhara saayaban kiya aur tum par mann o salwa utara khao hamari di hui suthri cheezen aur unhon ne kuch hamara na bigaada haan apni hi jaano ko bigaad karte the - aur jab humne farmaya is basti mein jao -
(ف92)جب حضرت موسٰی علیہ السلام فارغ ہو کر لشکر بنی اسرائیل میں پہنچے اور آپ نے انہیں حکم الہی سنایا کہ ملک شام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کا مدفن ہے اسی میں بیت المقدس ہے اس کو عمالقہ سے آزاد کرانے کے لئے جہاد کرو اور مصر چھوڑ کر وہیں وطن بناؤ مصر کا چھوڑنا بنی اسرائیل پر نہایت شاق تھا اول تو انہوں نے اس میں پس و پیش کیا اور جب بجبرو اکراہ حضرت موسٰی و حضرت ہارون علیہما السلام کی رکاب سعادت میں روانہ ہوئے توراہ میں جو کوئی سختی و دشواری پیش آتی حضرت موسٰی علیہ السلام سے شکایتیں کرتے جب اس صحرا میں پہنچے جہاں نہ سبزہ تھا نہ سایہ نہ غلہ ہمراہ تھا وہاں دھوپ کی گرمی اور بھوک کی شکایت کی اللہ تعالٰی نے بدعائے حضرت موسیٰ علیہ السلام ابر سفید کو انکا سائبان بنایا جو رات دن انکے ساتھ چلتا شب کو ان کے لئے نوری ستون اترتا جس کی روشنی میں کام کرتے انکے کپڑے میلے اور پرانے نہ ہوتے ناخن اور بال نہ بڑھتے اس سفر میں جولڑکا پیدا ہوتا اس کا لباس اس کے ساتھ پیدا ہوتا جتنا وہ بڑھتا لباس بھی بڑھتا۔(ف93)مَنۡ ترنجبین کی طرح ایک شیریں چیزتھی روزانہ صبح صادق سےطلوع آفتاب تک ہرشخص کے لئےایک صاع کی قدرآسمان سے نازل ہوتی لوگ اس کو چادروں میں لے کر دن بھر کھاتے رہتے سلوٰی ایک چھوٹا پرند ہوتا ہے اس کو ہوا لاتی یہ شکار کرکے کھاتے دونوں چیزیں شنبہ کو تو مطلق نہ آتیں باقی ہر روز پہنچتیں۔ جمعہ کو اور دنوں سے دونی آتیں حکم یہ تھا کہ جمعہ کو شنبہ کے لئے بھی حسب ضرورت جمع کرلو مگر ایک دن سے زیادہ کا جمع نہ کرو بنی اسرائیل نے ان نعمتوں کی ناشکری کی ذخیرے جمع کیے وہ سڑ گئے اور ان کی آمد بند کردی گئی۔ یہ انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا کہ دنیا میں نعمت سے محروم اور آخرت میں سزاوار عذاب کے ہوئے۔
پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو (ف۹۵) اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں ۔ (ف۹٦)
And when We said, “Enter this town and eat freely from what is in it, and enter the gate whilst prostrating, and say, ‘May our sins be forgiven’ – We will forgive you your sins; and We will soon increase the reward for the righteous.”
फिर उसमें जहाँ चाहो बे रोक टोक खाओ और दरवाज़ा में सज्दा करते दाख़िल हो और कहो हमारे गुनाह माफ़ हों हम तुम्हारी ख़ताएँ बख़्श देंगे और क़रीब है कि नेकी वालों को और ज़्यादा दें -
Phir is mein jahan chaho be rok tok khao aur darwaza mein sajda karte dakhil ho aur kaho hamare gunah maaf hon hum tumhari khataen bakhsh denge aur qareeb hai ke neki walon ko aur zyada dein -
(ف94)اس بستی سے بیتُ المقدِس مراد ہے یا اریحا جو بیت المقدس کے قریب ہے جس میں عمالقہ آباد تھے اور اس کو خالی کر گئے وہاں غلے میوے بکثرت تھے ۔ (ف95)یہ دروازہ ان کے لئے بمنزلہ کعبہ کے تھا کہ اس میں داخل ہونا اور اس کی طرف سجدہ کرنا سبب کفارہ ذنوب قرار دیا گیا ۔(ف96)مسئلہ :اس آیت سے معلوم ہوا کہ زبان سے استغفار کرنا اور بدنی عبادت سجدہ وغیرہ بجالانا توبہ کا متمم ہے مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مشہور گناہ کی توبہ باعلان ہونی چاہئے مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مقامات متبرکہ جو رحمت الہی کے مورد ہوں وہاں توبہ کرنا اور طاعت بجالانا ثمرات نیک اور سرعت قبول کا سبب ہوتا ہے۔ (فتح العزیز) اسی لئے صالحین کا دستور رہا ہے کہ انبیاء و اولیاء کے موالد ومزارات پر حاضر ہو کر استغفار و اطاعت بجالاتے ہیں عرس و زیارت میں بھی یہ فائدہ متصور ہے۔
تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا (ف۹۷) تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا (ف۹۸) بدلہ ان کی بےحکمی کا۔
But the unjust changed the word that had been ordered for another one, so We sent down a punishment on them from the skies, the recompense of their disobedience.
तो ज़ालिमों ने और बात बदल दी जो फ़रमाई गई थी उसके सिवा तो हमने आसमान से उन पर अज़ाब उतारा बदला उनकी बे-हुक्मी का।
To zalimon ne aur baat badal di jo farmai gayi thi is ke siwa to humne aasman se unpar azaab utara badla unki bewakoofi ka -
(ف97)بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں اور زبان سے ( حِطّۃٌ) کلمۂ توبہ و استغفار کہتے جائیں انہوں نے دونوں حکموں کی مخالفت کی داخل تو ہوئے سرینوں کے بل گھسیٹتے اور بجائے کلمۂ توبہ کے تمسخر سے حَبَّۃٌ فِیۡ شَعۡرَۃٍ کہا جس کے معنی ہیں( بال میں دانہ)(ف98)یہ عذاب طاعون تھا جس سے ایک ساعت میں چوبیس ہزار ہلاک ہوگئے ۔ مسئلہ : صحاح کی حدیث میں ہے کہ طاعون پچھلی امتوں کے عذاب کا بقیہ ہے جب تمہارے شہر میں واقع ہو وہاں سے نہ بھاگو دوسرے شہر میں ہو تو وہاں نہ جاؤ مسئلہ: صحیح حدیث میں ہے کہ جو لوگ مقام وباء میں رضائے الہی پر صابر رہیں اگر وہ وباء سے محفوظ رہیں جب بھی انہیں شہادت کا ثواب ملے گا۔
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا اس پتھر پر اپنا عصا مارو فوراً اس میں سے بارہ چشمے بہ نکلے (ف۹۹) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا کھاؤ اور پیؤ خدا کا دیا (ف۱۰۰) اور زمین میں فساد اٹھاتے نہ پھرو (ف۱۰۱)
And when Moosa asked for water for his people, We said, “Strike this rock with your staff”; thereupon twelve springs gushed forth from it; each group recognised its drinking-place; “Eat and drink from what Allah has provided, and do not roam about the earth making turmoil in it.”
और जब मूसा ने अपनी कौम के लिए पानी माँगा तो हमने फ़रमाया इस पत्थर पर अपना अ्सा मारो फ़ौरन उसमें से बारह चश्मे बह निकले हर गिरोह ने अपना घाट पहचान लिया खाओ और पियो ख़ुदा का दिया और ज़मीन में फ़साद उठाते न फिरो
Aur jab Musa ne apni qaum ke liye paani maanga to humne farmaya is pathar par apna asa maro foran is mein se baraah chashme beh nikle har giroh ne apna ghat pehchaan liya khao aur piyo Khuda ka diya aur zameen mein fasaad uthate na phiro -
(ف99)جب بنی اسرائیل نے سفر میں پانی نہ پایا شدت پیاس کی شکایت کی تو حضرت موسٰی علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو آپ کے پاس ایک مربع پتھر تھا جب پانی کی ضرورت ہوتی آپ اس پر عصا مارتے اس سے بارہ چشمے جاری ہوجاتے اور سب سیراب ہوتے یہ بڑا معجزہ ہے لیکن سید انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے انگشت مبارک سے چشمے جاری فرما کر جماعت کثیرہ کو سیراب فرمانا اس سے بہت اعظم واعلیٰ ہے کیونکہ عضو انسانی سے چشمے جاری ہونا پتھر کی نسبت زیادہ اعجب ہے۔ (خازن ومدارک)(ف100)یعنی آسمانی طعام من و سلوٰی کھاؤ اور اس پتھر کے چشموں کا پانی پیو جو تمہیں فضل الٰہی سے بے محنت میسر ہے۔(ف101)نعمتوں کے ذکر کے بعد بنی اسرائیل کی نالیاقتی دوں ہمتی اور نافرمانی کے چند واقعات بیان فرمائے جاتے ہیں۔
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ (ف۱۰۲) ہم سے تو ایک کھانے پر (ف۱۰۳) ہرگز صبر نہ ہوگا تو آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہمارے لئے نکالے کچھ ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز فرمایا کیا ادنیٰ چیز کو بہتر کے بدلے مانگتے ہو (ف۱۰٤) اچھا مصر (ف۱۰۵) یا کسی شہر میں اترو وہاں تمہیں ملے گا جو تم نے مانگا (ف۱۰٦) اور ان پر مقرر کردی گئی خواری اور ناداری (ف۱۰۷) اور خدا کے غضب میں لوٹے (ف۱۰۸) یہ بدلہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے (ف۱۰۹) یہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا ۔
And when you said, “O Moosa! We shall never put up with only one kind of food, so call upon your Lord to produce for us what the earth grows – some herbs, cucumbers, corn, lentils and onions”; he said, “What! You wish to exchange the better for something inferior? Therefore settle down in Egypt or any city, where you will get what you demand”; and disgrace and misery were destined for them; and they returned towards Allah’s wrath; that was because they disbelieved in Allah’s signs and wrongfully martyred the Prophets; that was for their disobedience and transgression.
और जब तुमने कहा ऐ मूसा हम से तो एक खाने पर हरगिज़ सब्र न होगा तो आप अपने रब से दुआ कीजिए कि ज़मीन की उगाई हुई चीज़ें हमारे लिए निकाले कुछ साग और ककड़ी और गेंहूँ और मसूर और प्याज़ फ़रमाया क्या अदना चीज़ को बेहतर के बदले माँगते हो अच्छा मिस्र या किसी शहर में उतरो वहाँ तुम्हें मिलेगा जो तुमने माँगा और उन पर मुक़र्रर कर दी गई ख़्वारी और नादारी और ख़ुदा के ग़ज़ब में लौटे ये बदला था उसका कि वो अल्लाह की आयतों का इनकार करते और अन्बिया को नाहक़ शहीद करते ये बदला था उनकी नाफ़रमानियों और हद से बढ़ने का-
Aur jab tumne kaha ae Musa humse to ek khane par hargiz sabr na hoga to aap apne Rab se dua kijiye ke zameen ki ugai hui cheezen hamare liye nikale kuch saag aur kukri aur gehun aur masoor aur pyaaz farmaya kya adna cheez ko behtar ke badle mangte ho acha Misr ya kisi shehar mein utro wahan tumhein milega jo tumne manga aur unpar muqarrar kar di gayi khwari aur nadari aur Khuda ke ghazab mein lote ye badla tha us ka ke woh Allah ki aayaton ka inkaar karte aur anbiya ko na-haq shaheed karte ye badla tha unki na-farmaaniyon aur had se barhne ka -
(ف102)بنی اسرائیل کی یہ ادا بھی نہایت بے ادبانہ تھی کہ پیغمبر اولوالعزم کو نام لے کر پکارا یا نبی اللہ یارسول اللہ یا اور کوئی تعظیم کا کلمہ نہ کہا( فتح العزیز) جب انبیاء کا خالی نام لینا بے ادبی ہے تو ان کو بشر اور ایلچی کہنا کس طرح گستاخی نہ ہوگا غرض انبیاء کے ذکر میں بے تعظیمی کا شائبہ بھی ٍناجائز ہے۔(ف103)( ایک کھانے ) سے ( ایک قسم کا کھانا) مراد ہے(ف104)جب وہ اس پر بھی نہ مانے تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے بارگاہِ الہی میں دعا کی ارشاد ہوا اِھۡبِطُوۡ ا (ف105)مصر عربی میں شہر کو بھی کہتے ہیں کوئی شہر ہواور خاص شہر یعنی مصر موسٰی علیہ السلام کا نام بھی ہے یہاں دونوں میں سے ہر ایک مراد ہو سکتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہاں خاص شہر مصر مراد نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے لئے یہ لفظ غیر منصرف ہو کر مستعمل ہوتا ہے اور اس پر تنوین نہیں آتی جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہے ۔ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ اور اُدْخُلُوْا مِصْرَ مگر یہ خیال صحیح نہیں کیونکہ سکون اوسط کی وجہ سے لفظ ہند کی طرح اس کو منصرف پڑھنا درست ہے نحو میں اس کی تصریح موجود ہے علاوہ بریں حسن وغیرہ کی قرأت میں مصر بلا تنوین آیا ہے اور بعض مصاحف حضرت عثمان اور مصحف اُبَیّ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں بھی ایسا ہی ہے اسی لئے حضرت مترجم قدس سرہ نے ترجمہ میں دونوں احتمالوں کو اخذ فرمایا ہے اور شہر معین کے احتمال کو مقدم کیا۔(ف106)یعنی ساگ ککڑی وغیرہ کو ان چیزوں کی طلب گناہ نہ تھی لیکن مَنۡ وسَلوٰی جیسی نعمت بے محنت چھوڑ کر ان کی طرف مائل ہونا پست خیالی ہے ہمیشہ ان لوگوں کا میلان طبع پستی ہی کی طرف رہا اور حضرت موسیٰ و ہارون وغیرہ جلیل القدر بلند ہمت انبیاء (علیہم السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی لئیمی و کم حوصلگی کا پورا ظہور ہوا اور تسلط جالوت و حادثہ بخت نصر کے بعد تو وہ بہت ہی ذلیل و خوار ہوگئے اس کا بیان ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ میں ہے ۔(ف107)یہود کی ذلت تو یہ کہ دنیا میں کہیں نام کو ان کی سلطنت نہیں اور ناداری یہ کہ مال موجود ہوتے ہوئے بھی حرص سے محتاج ہی رہتے ہیں(ف108)انبیاء و صلحاء کی بدولت جو رتبے انہیں حاصل ہوئے تھے ان سے محروم ہوگئے اس غضب کا باعث صرف یہی نہیں کہ انہوں نے آسمانی غذاؤں کے بدلے ارضی پیداوار کی خواہش کی یا اُسی طرح کی اور خطائیں جو زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام میں صادر ہوئیں بلکہ عہد نبوت سے دور ہونے اور زمانہ دراز گزرنے سے ان کی استعدادِیں باطل ہوئیں اور نہایت قبیح افعال اور عظیم جرم ان سے سرزد ہوئے۔یہ ان کی اس ذلت و خواری کا باعث ہوئے ۔(ف109)جیسا کہ انہوں نے حضرت زکریا و یحیی و شعیا علیہم السلام کو شہید کیا اور یہ قتل ایسے ناحق تھے جن کی وجہ خود یہ قاتل بھی نہیں بتاسکتے۔
بیشک ایمان والے نیز یہودیوں اور نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم (ف۱۱۰)
Indeed the believers (the Muslims) and those among the Jews, the Christians, and the Sabeans who sincerely accept faith in Allah and the Last Day* and do good deeds – their reward is with their Lord; and there shall be no fear upon them nor shall they grieve. (* i.e. convert to Islam)
बेशक ईमान वाले नेज़ यहूदियों और नसरानियों और सितारा परस्तों में से वो कि सच्चे दिल से अल्लाह और पिछले दिन पर ईमान लाएँ और नेक काम करें उनका सवाब उनके रब के पास है और न उन्हें कुछ अंदेशा हो और न कुछ ग़म
Beshak imaan wale neez yahoodiyon aur nasaraon aur sitara paraston mein se woh ke sache dil se Allah aur pichle din par imaan laayen aur nek kaam karein unka sawaab unke Rab ke paas hai aur na unhein kuch andesha ho aur na kuch gham -
(ف110)شانِ نُزول : ابن جریر و ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کی کہ یہ آیت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے اصحاب کے حق میں نازل ہوئی۔ ( لباب النقول)
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا (ف۱۱۱) اور تم پر طور کو اونچا کیا (ف۱۱۲) لو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے (ف۱۱۳) اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔
And when We made a covenant with you and raised the Mount above you; “Accept and hold fast to what We give you, and remember what is in it, so that you may attain piety.”
और जब हमने तुम से अहद लिया और तुम पर तूर को ऊँचा किया लो जो कुछ हम तुम को देते हैं जोर से और उसके मज़मून याद करो इस उम्मीद पर कि तुम्हें परहेज़गारी मिले -
Aur jab humne tumse ahd liya aur tum par Toor ko ooncha kiya lo jo kuch hum tumko dete hain zor se aur us ke mazmoon yaad karo is umeed par ke tumhein parhezgaari mile -
(ف111)کہ تم توریت مانو گے اور اس پر عمل کروگے پھر تم نے اس کے احکام کو شاق و گراں جان کر قبول سے انکار کردیا باوجودیکہ تم نے خود بالحاح حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایسی آسمانی کتاب کی استدعا کی تھی جس میں قوانین شریعت اور آئین عبادت مفصل مذکور ہوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تم سے بار بار اس کے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کا عہد لیا تھا جب وہ کتاب عطا ہوئی تم نے اس کے قبول کرنے سے انکار کردیا اور عہد پورا نہ کیا ۔(ف112)بنی اسرائیل کی عہد شکنی کے بعد حضرت جبریل نے بحکم الہی طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں پر قدر قامت فاصلہ پر معلق کردیا اور حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا ،یاتو تم عہد قبول کرو ورنہ پہاڑ تم پر گرا دیا جائے گا اور تم کچل ڈالے جاؤ گے اس میں صورۃً وفا عہد پر اکراہ تھا اور درحقیقت پہاڑ کا سروں پر معلق کردینا آیت الہی اور قدرت حق کی برہان قوی ہے اس سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ بے شک یہ رسول مظہر قدرت الٰہی ہیں۔ یہ اطمینان ان کو ماننے اور عہد پورا کرنے کا اصل سبب ہے۔(ف113)یعنی بکوشش تمام ۔
پھر اس کے بعد تم پھر گئے تو اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ٹوٹے والوں میں ہو جاتے ۔ (ف۱۱٤)
Then after that, you turned away; and were it not for the munificence of Allah and His mercy, you would be among the losers.
फिर उसके बाद तुम फिर गए तो अगर अल्लाह का फ़ज़्ल और उसकी रहमत तुम पर न होती तो तुम टूटे वालों में हो जाते -
Phir us ke baad tum phir gaye to agar Allah ka fazl aur us ki rehmat tum par na hoti to tum toote walon mein ho jate -
(ف114)یہاں فضل و رحمت سے یا توفیق توبہ مراد ہے یا تاخیر عذاب (مدارک وغیرہ) ایک قول یہ ہے کہ فضل الہی اور رحمت حق سے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک مراد ہے معنی یہ ہیں کہ اگر تمہیں خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود کی دولت نہ ملتی اور آپ کی ہدایت نصیب نہ ہوتی تو تمہارا انجام ہلاک و خسران ہوتا۔
اور بیشک ضرور تمہیں معلوم ہے تم میں کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی (ف۱۱۵) تو ہم نے ان سے فرمایا کہ ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے ۔
And you certainly know of those amongst you who transgressed in the matter of Sabth (Sabbath – Saturday) – We therefore said to them, “Become apes, despised!”
और बेशक ज़रूर तुम्हें मालूम है तुम में के वो जिन्होंने हफ़्ता में सरकशी की तो हमने उनसे फ़रमाया कि हो जाओ बंदर धुत्कारे हुए -
Aur beshak zaroor tumhein maloom hai tum mein ke woh jinhon ne haftay mein sarkashi ki to humne unse farmaya ke ho jao bandar dhatkaare hue -
(ف115)شہرایلہ میں بنی اسرائیل آباد تھے انہیں حکم تھاکہ شنبہ کادن عبادت کے لئے خاص کردیں اس روز شکار نہ کریں اوردنیاوی مشاغل ترک کردیں ان کے ایک گروہ نے یہ چال کی کہ جمعہ کو دریاکے کنارے کنارے بہت سے گڈھے کھودتے اور شنبہ کی صبح کو دریا سے ان گڈھوں تک نالیاں بناتے جن کے ذریعہ پانی کے ساتھ آکر مچھلیاں گڈھوں میں قید ہوجاتیں یکشنبہ کو انہیں نکالتے اور کہتے کہ ہم مچھلی کو پانی سے شنبہ کے روزنہیں نکالتے چالیس یا ستر سال تک یہی عمل رہاجب حضرت داؤدعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی نبوت کاعہدآیا آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا قید کرناہی شکارہےجوشنبہ کوکرتےہواس سے بازآؤورنہ عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے وہ بازنہ آئے آپ نے دعافرمائی اللہ تعالیٰ نے انہیں بندروں کی شکل میں مسخ کردیا عقل و حواس تو ان کے باقی رہے مگر قوت گویائی زائل ہوگئی بدنوں سے بدبو نکلنے لگی اپنے اس حال پر روتے روتے تین روز میں سب ہلاک ہوگئے ان کی نسل باقی نہ رہی یہ ستر ہزار کے قریب تھے بنی اسرائیل کا دوسرا گروہ جوبارہ ہزار کے قریب تھا انہیں اس عمل سے منع کرتا رہا جب یہ نہ مانے تو انہوں نے ان کے اور اپنے محلوں کے درمیان دیوار بنا کر علیحدگی کرلی ان سب نے نجات پائی بنی اسرائیل کا تیسرا گروہ ساکت رہا اس کے حق میں حضرت ابن عباس کے سامنے عکرمہ نے کہا کہ وہ مغفور ہیں کیونکہ امر بالمعروف فرض کفایہ ہے بعض کا ادا کرنا کل کا حکم رکھتا ہے ان کے سکوت کی وجہ یہ تھی کہ یہ ان کے پندپذیر ہونے سے مایوس تھے عکرمہ کی یہ تقریر حضرت ابن عباس کو بہت پسند آئی اور آپ نے سرور سے اٹھ کر ان سے معانقہ کیا اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا۔(فتح العزیز) مسئلہ:اس سے معلوم ہوا کہ سرور کا معانقہ سنت صحابہ ہے اس کے لئے سفر سے آنا اور غیبت کے بعد ملنا شرط نہیں۔
تو ہم نے (اس بستی کا) یہ واقعہ اس کے آگے اور پیچھے والوں کے لیے عبرت کردیا اور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ۔
So We made this incident (of that town) a warning to the surrounding towns (others of their time) and to succeeding generations, and a lesson for the pious.
तो हमने (उस बस्ती का) ये वाक़िआ उसके आगे और पीछे वालों के लिए इबरत कर दिया और परहेज़गारों के लिए नसीहत-
To humne (is basti ka) ye waaqia us ke aage aur peechhe walon ke liye ibrat kar diya aur parhezgaaron ke liye naseehat -
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو (ف۱۱٦) بولے کہ آپ ہمیں مسخرہ بناتے ہیں (ف۱۱۷) فرمایا خدا کی پناہ کہ میں جاہلوں سے ہوں ۔ (ف۱۱۸)
And (remember) when Moosa said to his people, “Allah commands you to sacrifice a cow”; they said, “Are you making fun of us?” He answered, “Allah forbid that I should be of the ignorant!”
और जब मूसा ने अपनी कौम से फ़रमाया ख़ुदा तुम्हें हुक्म देता है कि एक गाय ज़बह करो बोले कि आप हमें मसख़रा बनाते हैं फ़रमाया ख़ुदा की पनाह कि मैं जाहिलों से हूँ -
Aur jab Musa ne apni qaum se farmaya Khuda tumhein hukum deta hai ke ek gaaye zabah karo bole ke aap humein maskhara banate hain farmaya Khuda ki panaah ke main jahilon se hoon -
(ف116)بنی اسرائیل میں عامیل نامی ایک مالدار تھا اس کے چچا زاد بھائی نے بطمع وراثت اس کو قتل کرکے دوسری بستی کے دروازے پر ڈال دیا اور خود صبح کو اس کے خون کا مدعی بنا وہاں کے لوگوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ حقیقت حال ظاہر فرمائے اس پر حکم صادرہوا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کا کوئی حصہ مقتول کے ماریں وہ زندہ ہو کر قاتل کو بتادے گا۔(ف117)کیونکہ مقتول کا حال معلوم ہونے اور گائے کے ذبح میں کوئی مناسبت معلوم نہیں ہوتی۔(ف118)ایسا جواب جو سوال سے ربط نہ رکھے جاہلوں کا کام ہے۔ یا یہ معنی ہیں کہ محاکمہ کے موقع پر استہزاء جاہلوں کا کام ہے انبیاء کی شان اس سے برتر ہے القصہ جب ہی بنی اسرائیل نے سمجھ لیا کہ گائے کا ذبح کرنا لازم ہے تو انہوں نے آپ سے اس کے اوصاف دریافت کیے حدیث شریف میں ہے کہ اگر بنی اسرائیل بحث نہ نکالتے تو جو گائے ذبح کردیتے کافی ہوجاتی۔
بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتا دے گائے کیسی کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ اَدسر بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تو کرو جس کا تمہیں حکم ہوتا ہے
They said, “Pray to your Lord that He may describe the cow”; said Moosa, “He says that it is a cow neither old nor very young but between the two conditions; so do what you are commanded.”
बोले अपने रब से दुआ कीजिए कि वो हमें बता दे गाय कैसी कहा वो फ़रमाता है कि वो एक गाय है न बूढ़ी और न अद्सर बल्कि उन दोनों के बीच में तो करो जिसका तुम्हें हुक्म होता है ,
Bole apne Rab se dua kijiye ke woh humein bata de gaaye kesi kaha woh farmata hai ke woh ek gaaye hai na boorhi aur na adasar balki un donon ke beech mein to karo jis ka tumhein hukum hota hai -
بولے اپنے رب سے دعا کیجئے ہمیں بتا دے اس کا رنگ کیا ہے کہا وہ فرماتا ہے وہ ایک پیلی گائے ہے جس کی رنگ ڈہڈہاتی دیکھنے والوں کو خوشی دیتی
They said, “Pray to your Lord that He may reveal its colour to us”; answered Moosa, “Indeed He says it is a yellow cow, of bright colour, pleasing to the beholders.”
बोले अपने रब से दुआ कीजिए हमें बता दे उसका रंग क्या है कहा वो फ़रमाता है वो एक पीली गाय है जिसकी रंगत डबडबाती देखने वालों को ख़ुशी देती,
Bole apne Rab se dua kijiye humein bata de us ka rang kya hai kaha woh farmata hai woh ek peeli gaaye hai jis ki rangat dabdabati dekhne walon ko khushi deti -
بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے صاف بیان کردے وہ گائے کیسی ہے بیشک گائیوں میں ہم کو شبہ پڑگیا اور اللہ چاہے تو ہم راہ پا جائیں گے ۔ (ف۱۱۹)
They said, “Pray to your Lord that He may clearly describe the cow to us, we are really in a doubt as to which cow it is; and if Allah wills, we will attain guidance.”
बोले अपने रब से दुआ कीजिए कि हमारे लिए साफ़ बयान कर दे वो गाय कैसी है बेशक गायों में हम को शुब्हा पड़ गया और अल्लाह चाहे तो हम राह पा जाएँगे -
Bole apne Rab se dua kijiye ke hamare liye saaf bayan kar de woh gaaye kesi hai beshak gaayon mein humko shubh pad gaya aur Allah chahe to hum raah pa jayeinge -
(ف119)حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ان شاء اللہ نہ کہتے تو کبھی وہ گائے نہ پاتے مسئلہ: ہر نیک کام میں ان شاء اللہ کہنا مستحب و باعث برکت ہے
کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی کہ زمین جوتے اور نہ کھیتی کو پانی دے بے عیب ہے جس میں کوئی داغ نہیں بولے اب آپ ٹھیک بات لائے (ف ۱۲۰) تو اسے ذبح کیا اور (ذبح) کرتے معلوم نہ ہوتے تھے (ف۱۲۱)
Said Moosa, “He says, ‘She is a cow not made to work, neither ploughing the soil nor watering the fields; flawless and spotless’; they said, “You have now conveyed the proper fact”; so they sacrificed it, but seemed not to be sacrificing it (with sincerity).
कहा वो फ़रमाता है कि वो एक गाय है जिससे ख़िदमत नहीं ली जाती कि ज़मीन जोते और न खेती को पानी दे बे-ऐब है जिसमें कोई दाग़ नहीं बोले अब आप ठीक बात लाए तो उसे ज़बह किया और (ज़बह) करते मालूम न होते थे
Kaha woh farmata hai ke woh ek gaaye hai jis se khidmat nahin li jati ke zameen jote aur na kheti ko paani de be-ayb hai jis mein koi daag nahin bole ab aap theek baat laaye to use zabah kiya aur (zabah) karte maaloom na hote the -
(ف120)یعنی اب تشفی ہوئی اور پوری شان و صفت معلوم ہوئی پھر انہوں نے گائے کی تلاش شروع کی ان اطراف میں ایسی صرف ایک گائے تھی اس کا حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک صالح شخص تھے ان کا ایک صغیر السن بچہ تھا اور ان کے پاس سوائے ایک گائے کے بچے کے کچھ نہ رہا تھا انہوں نے اس کی گردن پر مہر لگا کر اللہ کے نام پر چھوڑ دیا اور بارگاہِ حق میں عرض کیا یارب میں اس بچھیا کو اس فرزند کے لئے تیر ے پاس ودیعت رکھتا ہوں جب یہ فرزند بڑا ہو یہ اس کے کام آئے ان کا تو انتقال ہوگیا بچھیا جنگل میں بحفظ الٰہی پرورش پاتی رہی یہ لڑکا بڑا ہوا اور بفضلہ صالح ومتقی ہوا ماں کا فرمانبردار تھا ایک روز اس کی والدہ نے کہا اے نورِ نظر تیرے باپ نے تیرے لئے فلاں جنگل میں خدا کے نام ایک بچھیا چھوڑ دی ہے وہ اب جوان ہوگئی اس کو جنگل سے لا اور اللہ سے دعا کر کہ وہ تجھے عطا فرمائے لڑکے نے گائے کو جنگل میں دیکھا اوروالدہ کی بتائی ہوئی علامتیں اس میں پائیں اور اس کو اللہ کی قسم دے کر بلایا وہ حاضر ہوئی جوان اس کو والدہ کی خدمت میں لایا والدہ نے بازار میں لے جا کر تین دینار پر فروخت کرنے کا حکم دیا اور یہ شرط کی کہ سودا ہونے پر پھر اس کی اجازت حاصل کی جائے اس زمانہ میں گائے کی قیمت ان اطراف میں تین دینار ہی تھی جوان جب اس گائے کو بازار میں لایا تو ایک فرشتہ خریدار کی صورت میں آیا اور اس نے گائے کی قیمت چھ دینار لگادی مگر اس شرط سے کہ جوان والدہ کی اجازت کا پابند نہ ہو جوان نے یہ منظور نہ کیا اور والدہ سے تمام قصہ کہا اس کی والدہ نے چھ دینار قیمت منظور کرنے کی تو اجازت دی مگر بیع میں پھر دوبارہ اپنی مرضی دریافت کرنے کی شرط کی جوان پھر بازار میں آیااس مرتبہ فرشتہ نے بارہ دینار قیمت لگائی اور کہا کہ والدہ کی اجازت پر موقوف نہ رکھو جو ان نے نہ مانا اور والدہ کو اطلاع دی وہ صاحب فراست سمجھ گئی کہ یہ خریدار نہیں کوئی فرشتہ ہے جو آزمائش کے لئے آتا ہے۔ بیٹے سے کہا کہ اب کی مرتبہ اس خریدار سے یہ کہنا کہ آپ ہمیں اس گائے کے فروخت کرنے کا حکم دیتے ہیں یا نہیں ۔ لڑکے نے یہی کہا فرشتہ نے جواب دیا کہ ابھی اس کو روکے رہو جب بنی اسرائیل خریدنے آئیں تو اس کی قیمت یہ مقرر کرنا کہ اس کی کھال میں سونا بھر دیا جائے جوان گائے کو گھر لایا اور جب بنی اسرائیل جستجو کرتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچے تو یہی قیمت طے کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ضمانت پر وہ گائے بنی اسرائیل کے سپرد کی مسائل اس واقعہ سے کئی مسئلے معلوم ہوئے۔(۱) جو اپنے عیال کو اللہ کے سپرد کرے اللہ تعالیٰ اس کی ایسی عمدہ پرورش فرماتا ہے۔(۲) جو اپنا مال اللہ کے بھروسہ پر اس کی امانت میں دے اللہ اس میں برکت دیتا ہے مسئلہ (۳) والدین کی فرمانبرداری اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔(۴) غیبی فیض قربانی و خیرات کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔(۵) راہ خدا میں نفیس مال دینا چاہئے ۔(۶) گائے کی قربانی افضل ہے۔(ف121)بنی اسرائیل کے مسلسل سوالات اور اپنی رسوائی کے اندیشہ اور گائے کی گرانی قیمت سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ذبح کا قصد نہیں رکھتے مگر جب ان کے سوالات شافی جوابوں سے ختم کردیئے گئے تو انہیں ذبح کرنا ہی پڑا۔
تو ہم نے فرمایا اس مقتول کو اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو (ف۱۲۲) اللہ یونہی مردے جلائے گا۔ اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے کہ کہیں تمہیں عقل ہو (ف۱۲۳)
We therefore said, “Strike the dead man with a part of the sacrificed cow”; this is how Allah will bring the dead to life, and shows you His signs so that you may understand!
तो हमने फ़रमाया उस मक्तूल को उस गाय का एक टुकड़ा मारो अल्लाह यूँही मुर्दे जिलाएगा। और तुम्हें अपनी निशानियाँ दिखाता है कि कहीं तुम्हें अक़्ल हो
To humne farmaya is maqtool ko is gaaye ka ek tukra maaro Allah yunhi murde jilayega aur tumhein apni nishaniyan dikhata hai ke kahin tumhein aql ho -
(ف122)(۱۲۲) بنی اسرائیل نے گائے ذبح کرکے اس کے کسی عضو سے مردہ کو مارا وہ بحکمِ الٰہی زندہ ہوا اس کے حلق سے خون کے فوارے جاری تھے اس نے اپنے چچازاد بھائی کو بتایا کہ اس نے مجھے قتل کیا اب اس کو بھی اقرار کرنا پڑا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر قصاص کا حکم فرمایا اس کے بعد شرع کا حکم ہوا کہ مسئلہ: قاتل مقتول کی میراث سے محروم رہے گا مسئلہ : لیکن اگر عادل نے باغی کو قتل کیا یا کسی حملہ آور سے جان بچانے کے لئے مد افعت کی اس میں وہ قتل ہوگیا تو مقتول کی میراث سے محروم نہ ہوگا۔(ف123)اور تم سمجھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ مردے زندہ کرنے پر قادر ہے اور روز جزا مردوں کو زندہ کرنا اور حساب لینا حق ہے۔
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے (ف۱۲٤) تو وہ پتھروں کی مثل ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ کرّے اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں (ف۱۲۵) اور اللہ تمہارے کوتکوں سے بےخبر نہیں
Then after it, your hearts hardened – so they are like rocks, or even harder; for there are some rocks that rivers gush forth from them; and some that water flows from them when they split asunder; and there are rocks that fall down for the fear of Allah; and Allah is not unaware of your deeds.
फिर उसके बाद तुम्हारे दिल सख़्त हो गए तो वो पत्थरों की मिस्ल हैं बल्कि उनसे भी ज़्यादा क़र्रे और पत्थरों में तो कुछ वो हैं जिन से नदियाँ बह निकलती हैं और कुछ वो हैं जो फट जाते हैं तो उनसे पानी निकलता है और कुछ वो हैं जो अल्लाह के डर से गिर पड़ते हैं और अल्लाह तुम्हारे कोतक़ों से बे-ख़बर नहीं ,
Phir us ke baad tumhare dil sakht ho gaye to woh pathron ki misl hain balki unse bhi zyada karre aur pathron mein to kuch woh hain jinh se nadiyan beh nikalti hain aur kuch woh hain jo phat jate hain to unse paani nikalta hai aur kuch woh hain jo Allah ke dar se gir padte hain aur Allah tumhare kotakon se be-khabar nahin -
(ف124)اور ایسے بڑے نشانہائے قدرت سے تم نے عبرت حاصل نہ کی۔(ف125)بایں ہمہ تمہارے دل اثر پذیر نہیں پتھروں میں بھی اللہ نے ادرک وشعوردیا ہے انہیں خوف الہی ہوتا ہے وہ تسبیح کرتے ہیں۔ اِنۡ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ مسلم شریف میں حضرت جابر رضی ا للہ عنہ سے مروی ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو بعثت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا ترمذی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اطراف مکہ میں گیا جو درخت یا پہاڑ سامنے آتا تھاالسلام علیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرض کرتا تھا۔
تو اے مسلمانو! کیا تمہیں یہ طمع ہے کہ یہ (یہودی) تمہارا یقین لائیں گے اور ان میں کا تو ایک گروہ وه تھا کہ اللہ کا کلام سنتے پھر سمجھنے کے بعد اسے دانستہ بدل دیتے، (ف۱۲٦)
So O Muslims, do you wish for the Jews to accept faith in you whereas a group of them used to listen to the Words of Allah, and then after having understood it, purposely changed it?
तो ऐ मुसलमानो! क्या तुम्हें ये तमा है कि ये (यहूदी) तुम्हारा यक़ीन लाएँगे और उनमें का तो एक गिरोह वो था कि अल्लाह का कलाम सुनते फिर समझने के बाद उसे दानिस्ता बदल देते ,
To ae Musalmano! kya tumhein ye tamaa hai ke ye (yahoodi) tumhara yaqeen laayenge aur unmein ka to ek giroh woh tha ke Allah ka kalaam sunte phir samajhne ke baad use danishta badal dete -
(ف126)جیسے انہوں نے توریت میں تحریف کی اور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت بدل ڈالی۔
اور جب مسلمانوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے (ف۱۲۷) اور جب آپس میں اکیلے ہوں تو کہیں وہ علم جو اللہ نے تم پر کھولا مسلمانوں سے بیان کیے دیتے ہو کہ اس سے تمہارے رب کے یہاں تمہیں پر حجت لائیں کیا تمہیں عقل نہیں ۔
And when they meet the believers, they say, “We believe”; but when they are in isolation with one another they say, “You clarify to the believers from what Allah has disclosed to you, so that they may evidence it against you before your Lord? So have you no sense?”
और जब मुसलमानों से मिलें तो कहें हम ईमान लाए और जब आपस में अकेले हों तो कहें वो इल्म जो अल्लाह ने तुम पर खोला मुसलमानों से बयान किए देते हो कि इस से तुम्हारे रब के यहाँ तुम्हें पर हुज्जत लाएँ क्या तुम्हें अक़्ल नहीं -
Aur jab Musalmanon se milen to kahein hum imaan laaye aur jab aapas mein akele hon to kahein woh ilm jo Allah ne tum par khola Musalmanon se bayan kiye dete ho ke is se tumhare Rab ke yahan tum par hujjat laayen kya tumhein aql nahin -
(ف127)شان نُزول یہ آیت ان یہودیوں کی شان میں نازل ہوئی جو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہودی منافق جب صحابہ کرام سے ملتے تو کہتے کہ جس پر تم ایمان لائے اس پر ہم بھی ایمان لائے تم حق پر ہو اور تمہارے آقا محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچے ہیں ان کا قول حق ہے ہم ان کی نعت و صفت اپنی کتاب توریت میں پاتے ہیں ان لوگوں پر رؤساء یہود ملامت کرتے تھے اس کا بیان وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ میں ہے۔(خازن) فائدہ اس سے معلوم ہوا کہ حق پوشی اور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف کا چھپانا اور کمالات کا انکار کرنا یہود کا طریقہ ہے آج کل کے بہت سے گمراہوں کی یہی عادت ہے۔
اور ان میں کچھ اَن پڑھ ہیں کہ جو کتاب (ف۱۲۸) کو نہیں جانتے مگر زبانی پڑھ لینا (ف۱۲۹) یا کچھ اپنی من گھڑت اور وہ نرے گمان میں ہیں ۔
And among them are the unlearned that do not know anything of the Book except to recite something therefrom or parts of their own fabrications; they are in absolute illusion.
और उनमें कुछ अनपढ़ हैं कि जो किताब को नहीं जानते मगर ज़बानी पढ़ लेना या कुछ अपनी मन-गढ़त और वो नरे गुमान में हैं -
Aur un mein kuch anparh hain ke jo kitaab ko nahin jante magar zubani padh lena ya kuch apni man-ghadatt aur woh nare gumaan mein hain -
(ف128)کتاب سے توریت مراد ہے۔(ف129)امانی اُمنیہ کی جمع ہے اور اس کے معنی زبانی پڑھنے کے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ کتاب کو نہیں جانتے مگر صرف زبانی پڑھ لینا بغیر معنی سمجھے۔(خازن) بعضے مفسرین نے یہ معنی بھی بیان کیے ہیں کہ امانی سے وہ جھوٹی گھڑی ہوئی باتیں مراد ہیں جو یہودیوں نے اپنے علماء سے سن کر بے تحقیق مان لی تھیں
تو خرابی ہے ان کے لئے جو کتاب اپنے ہاتھ سے لکھیں پھر کہہ دیں یہ خدا کے پاس سے ہے کہ اس کے عوض تھوڑے دام حاصل کریں (ف۱۳۰) تو خرابی ہے ان کے لئے ان کے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ان کے لئے اس کمائی سے ۔
Therefore woe is to those who write the Book with their hands; and they then claim, “This is from Allah” in order to gain an abject (worldly) price for it; therefore woe to them for what their hands have written, and woe to them for what they earn with it.
तो ख़राबी है उनके लिए जो किताब अपने हाथ से लिखें फिर कह दें ये ख़ुदा के पास से है कि उसके एवज़ थोड़े दाम हासिल करें तो ख़राबी है उनके लिए उनके हाथों के लिखे से और ख़राबी उनके लिए उस कमाई से -
To kharabi hai unke liye jo kitaab apne haath se likhen phir keh den ye Khuda ke paas se hai ke is ke ewaz thore daam hasil karein to kharabi hai unke liye unke haathon ke likhe se aur kharabi unke liye is kamai se -
(ف130)شان نُزول : جب سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف فرما ہوئے تو علماء توریت ورؤساء یہود کو قوی اندیشہ ہوگیا کہ ان کی روزی جاتی رہے گی اور سرداری مٹ جائے گی کیونکہ توریت میں حضورکا حلیہ اور اوصاف مذکور ہیں جب لوگ حضور کو اس کے مطابق پائیں گے فوراً ایمان لے آئیں گے اور اپنے علماء اور رؤساء کو چھوڑ دیں گے اس اندیشہ سے انہوں نے توریت میں تحریف و تغییر کر ڈالی اور حلیہ شریف بدل دیا۔ مثلاً توریت میں آپ کے اوصاف یہ لکھے تھے کہ آپ خوب روہیں بال خوب صورت آنکھیں سرمگیں قد میانہ ہے اس کو مٹا کر انہوں نے یہ بتایا کہ وہ بہت دراز قامت ہیں آنکھیں کنجی نیلی بال الجھے ہیں۔ یہی عوام کو سناتے یہی کتاب الہی کا مضمون بتاتے اور سمجھتے کہ لوگ حضور کو اس کے خلاف پائیں گے تو آپ پر ایمان نہ لائیں گے ہمارے گرویدہ رہیں گے اور ہماری کمائی میں فرق نہ آئے گا۔
اور بولے ہمیں تو آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے دن (ف۱۳۱) تم فرما دو کیا خدا سے تم نے کوئی عہد لے رکھا ہے جب تو اللہ ہرگز اپنا عہد خلاف نہ کرے گا (ف۱۳۲) یا خدا پر وہ بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ۔
And they said, “The fire will not touch us except for a certain number of days”; say, “Have you taken a covenant from Allah – then Allah will certainly not break His covenant – or do you say something concerning Allah what you do not know?”
और बोले हमें तो आग न छुएगी मगर गिनती के दिन तुम फ़रमा दो क्या ख़ुदा से तुमने कोई अहद ले रखा है जब तो अल्लाह हरगिज़ अपना अहद ख़िलाफ़ न करेगा या ख़ुदा पर वो बात कहते हो जिसका तुम्हें इल्म नहीं -
Aur bole humein to aag na chhuegi magar ginti ke din tum farma do kya Khuda se tumne koi ahd le rakha hai jab to Allah hargiz apna ahd khilaf na karega ya Khuda par woh baat kehte ho jis ka tumhein ilm nahin -
(ف131)شان نُزول : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہود کہتے تھے کہ وہ دوزخ میں ہرگز داخل نہ ہوں گے مگر صرف اتنی مدت کے لئے جتنے عرصے ان کے آباء و اجداد نے گو سالہ پوجا تھا اور وہ چالیس روز ہیں اس کے بعد وہ عذاب سے چھوٹ جائیں گی اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔(ف132)کیونکہ کذب بڑا عیب ہے ،اور عیب اللہ تعالیٰ پر محال لہذا اس کا کذب تو ممکن نہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے تم سے صرف چالیس روز کے عذاب کے بعد چھوڑ دینے کا وعدہ ہی نہیں فرمایا تو تمہارا قول باطل ہوا۔
ہاں کیوں نہیں جو گناہ کمائے اور اس کی خطا اسے گھیر لے (ف۱۳۳) وہ دوزخ والوں میں ہے انہیں ہمیشہ اس میں رہنا ۔
Yes, why not?* The one who earns evil and his sin surrounds him; he is from the people of fire (hell); they will remain in it forever. (You will remain in the fire forever).
हाँ क्यों नहीं जो गुनाह कमाए और उसकी ख़ता उसे घेर ले वो दोज़ख वालों में है उन्हें हमेशा उसमें रहना -
Haan kyon nahin jo gunah kamaye aur us ki khata use gher le woh dozakh walon mein hai unhein hamesha us mein rehna -
(ف133)اس آیت میں گناہ سے شرک و کفر مراد ہے اور احاطہ کرنے سے یہ مراد ہے کہ نجات کی تمام راہیں بند ہوجائیں اور کفر و شرک ہی پر اس کو موت آئے کیونکہ مومن خواہ کیسا بھی گنہگار ہو گناہوں سے گھرانہیں ہوتا اس لئے کہ ایمان جو اعظم طاعت ہے وہ اس کے ساتھ ہے۔
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو، (ف۱۳٤) اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں سے اور لوگوں سے اچھی بات کہو (ف۱۳۵) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو پھر تم پھر گئے (ف۱۳٦) مگر تم میں کے تھوڑے (ف۱۳۷) اور تم رد گردان ہو ۔ (ف۱۳۸)
And (remember) when We took a covenant from the Descendants of Israel that, “Do not worship anyone except Allah; and be good to parents, relatives, orphans and the needy, and speak kindly to people and keep the prayer established and pay the charity”; thereafter you retracted, except some of you; and you are those who turn away.
और जब हमने बनी इस्राईल से अहद लिया कि अल्लाह के सिवा किसी को न पوجो और माँ बाप के साथ भलाई करो, और रिश्ता-दारों और यतीमों और मिस्कीनों से और लोगों से अच्छी बात कहो और नमाज़ क़ायम रखो और ज़कात दो फिर तुम फिर गए मगर तुम में के थोड़े और तुम रद गर्दान हो-
Aur jab humne bani Israeel se ahd liya ke Allah ke siwa kisi ko na pujo aur maa baap ke saath bhalai karo aur rishtedaron aur yateemon aur miskeenon se aur logon se achhi baat kaho aur namaz qaim rakho aur zakat do phir tum phir gaye magar tum mein ke thore aur tum rad gardaan ho -
(ف134)اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم فرمانے کے بعد والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت بہت ضروری ہے والدین کے ساتھ بھلائی کے یہ معنٰی ہے کہ ایسی کوئی بات نہ کہے اور ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے انہیں ایذا ہو اور اپنے بدن و مال سے ان کی خدمت میں دریغ نہ کرے جب انہیں ضرورت ہو ان کے پاس حاضر رہے مسئلہ: اگر والدین اپنی خدمت کے لئے نوافل چھوڑنے کا حکم دیں تو چھوڑ دے ان کی خدمت نفل سے مقدم ہے ۔ مسئلہ: واجبات والدین کے حکم سے ترک نہیں کیے جاسکتے والدین کے ساتھ احسان کے طریقے جو احادیث سے ثابت ہیں یہ ہیں کہ تہ دل سے ان کے ساتھ محبت رکھے رفتار و گفتار میں نشست و برخاست میں ادب لازم جانے ان کی شان میں تعظیم کے لفظ کہے ان کو راضی کرنے کی سعی کرتا رہے اپنے نفیس مال کو ان سے نہ بچائے ان کے مرنے کے بعد ان کی وصیتیں جاری کرے ان کے لئے فاتحہ صدقات تلاوت قرآن سے ایصال ثواب کرے اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت کی دعا کرے، ہفتہ وار ان کی قبر کی زیارت کرے۔(فتح العزیز) والدین کے ساتھ بھلائی کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ اگر وہ گناہوں کے عادی ہوں یا کسی بدمذہبی میں گرفتار ہوں تو ان کو بہ نرمی اصلاح و تقوٰی اور عقیدہ حقہ کی طرف لانے کی کوشش کرتا رہا۔(خازن)(ف135)اچھی بات سے مراد نیکیوں کی ترغیب اور بدیوں سے روکنا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ معنی یہ ہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں حق اور سچ بات کہو اگر کوئی دریافت کرے تو حضور کے کمالات و اوصاف سچائی کے ساتھ بیان کردو۔ آپ کی خوبیاں نہ چھپاؤ ۔(ف136)عہد کے بعد ۔(ف137)جو ایمان لے آئے مثل حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب کے انہوں نے تو عہد پورا کیا۔(ف138)اور تمہاری قوم کی عادت ہی اعراض کرنا اور عہد سے پھر جانا ہے۔
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ اپنوں کا خون نہ کرنا اور اپنوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالنا پھر تم نے اس کا اقرار کیا اور تم گواہ ہو ۔
And when We took a covenant from you that, “Do not shed the blood of your own people nor turn out your own people from your colonies”; you then acknowledged it and you are witnesses.
और जब हमने तुम से अहद लिया कि अपनों का ख़ून न करना और अपनों को अपनी बस्तियों से न निकालना फिर तुमने उसका इकरार किया और तुम गवाह हो-
Aur jab humne tumse ahd liya ke apnon ka khoon na karna aur apnon ko apni bastiyon se na nikalna phir tumne is ka iqraar kiya aur tum gawah ho -
پھر یہ جو تم ہو اپنوں کو قتل کرنے لگے اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے وطن سے نکالتے ہو ان پر مدد دیتے ہو (ان کے مخالف کو) گناہ اور زیادتی میں اور اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو بدلا دے کر چھڑا لیتے ہو اور ان کا نکالنا تم پر حرام ہے (ف۱۳۹) تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ سے انکار کرتے ہو تو جو تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ کیا ہے مگر یہ کہ دنیا میں رسوا ہو (ف۱٤۰) اور قیامت میں سخت تر عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے اور اللہ تمہارے کوتکوں سے بےخبر نہیں ۔ (ف۱٤۱)
Then it is you who began slaying each other and you drive out a group of your people from their homeland – providing support against them (to their opponents) through sin and injustice; and if they come to you as captives you redeem them, whereas their expulsion itself is forbidden to you; so do you believe in some of Allah’s commands and disbelieve in some? So what is the reward of those who do so, except disgrace in this world? And on the Day of Resurrection they will be assigned to the most grievous punishment; and Allah is not unaware of your deeds.
फिर ये जो तुम हो अपनों को क़त्ल करने लगे और अपने में से एक गिरोह को उनके वतन से निकालते हो उन पर मदद देते हो (उनके मुख़ालिफ़ को) गुनाह और ज़्यादती में और अगर वो क़ैदी हो कर तुम्हारे पास आएँ तो बदला दे कर छुड़ा लेते हो और उनका निकालना तुम पर हराम है तो क्या ख़ुदा के कुछ हुक्मों पर ईमान लाते हो और कुछ से इनकार करते हो तो जो तुम में ऐसा करे उसका बदला क्या है मगर ये कि दुनिया में रुसवा हो और क़यामत में सख़्ततर अज़ाब की तरफ़ फेरे जाएँगे और अल्लाह तुम्हारे कोतक़ों से बे-ख़बर नहीं -
Phir ye jo tum ho apnon ko qatal karne lage aur apne mein se ek giroh ko unke watan se nikalte ho un par madad dete ho (unke mukhalif ko) gunah aur ziadti mein aur agar woh qaidi ho kar tumhare paas aayein to badla de kar chhuda lete ho aur unka nikalna tum par haram hai to kya Khuda ke kuch hukumon par imaan laate ho aur kuch se inkaar karte ho to jo tum mein aisa kare us ka badla kya hai magar ye ke duniya mein ruswa ho aur qayamat mein sakht-tar azaab ki taraf phere jaayeinge aur Allah tumhare kotakon se be-khabar nahin -
(ف139)شانِ نُزول : توریت میں بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا تھا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کریں وطن سے نہ نکالیں اور جو بنی اسرائیل کسی کی قید میں ہو اس کو مال دے کر چھڑالیں اس عہد پر انہوں نے اقرار بھی کیا اپنے نفس پر شاہد بھی ہوئے لیکن قائم نہ رہے اور اس سے پھر گئے صورت واقعہ یہ ہے کہ نواح مدینہ میں یہود کے دو فرقے بنی قُرَیْظَہ اور بنی نُضَیْر سکونت رکھتے تھے اور مدینہ شریف میں دو فرقے اَوْس و خَزْرَج ْرہتے تھے بنی قریظہ اوس کے حلیف تھے اور بنی نضیر خزرج کے یعنی ہر ایک قبیلہ نے اپنے حلیف کے ساتھ قسما قسمی کی تھی کہ اگر ہم میں سے کسی پر کوئی حملہ آور ہو تو دوسرا اس کی مدد کرے گا اوس اور خرزج باہم جنگ کرتے تھے بنی قریظہ اوس کی اور بنی نضیر خزرج کی مدد کے لئے آتے تھے اور حلیف کے ساتھ ہو کر آپس میں ایک دوسرے پر تلوار چلاتے تھے بنی قریظہ بنی نضیر کو اور وہ بنی قریظہ کو قتل کرتے تھے اور انکے گھر ویران کردیتے تھے انہیں ان کے مساکین سے نکال دیتے تھے لیکن جب انکی قوم کے لوگوں کو ان کے حلیف قید کرتے تھے تو وہ ان کو مال دے کر چھڑالیتے تھے مثلا ً اگر بنی نضیر کا کوئی شخص اوس کے ہاتھ میں گرفتار ہوتا تو بنی قریظہ اوس کو مالی معاوضہ دے کر اس کو چھڑا لیتے باوجود یکہ اگر وہی شخص لڑائی کے وقت انکے موقعہ پر آجاتا تو اس کے قتل میں ہر گز دریغ نہ کرتے اس فعل پر ملامت کی جاتی ہے کہ جب تم نے اپنوں کی خونریزی نہ کرنے ان کو بستیوں سے نہ نکالنے ان کے اسیروں کو چھڑانے کا عہد کیا تھا اس کے کیا معنی کہ قتل و اخراج میں تو درگزر نہ کرواور گرفتار ہوجائیں۔ تو چھڑاتے پھر و عہد میں سے کچھ ماننا اور کچھ نہ ماننا کیامعنی رکھتا ہے ۔ جب تم قتل و اخراج سے باز نہ رہے تو تم نے عہد شکنی کی اور حرام کے مرتکب ہوئے اور اس کو حلال جان کر کافر ہوگئے،مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ ظلم و حرام پر امداد کرنا بھی حرام ہے مسئلہ:یہ بھی معلوم ہوا کہ حرام قطعی کو حلال جاننا کفر ہے۔مسئلہ :یہ بھی معلوم ہوا کہ کتاب الہی کے ایک حکم کا نہ ماننا بھی ساری کتاب کا نہ ماننا اور کفر ہے فائدہ اس میں یہ تنبیہ بھی ہے کہ جب احکام الہی میں سے بعض کا ماننا بعض کا نہ ماننا کفر ہوا تو یہود کا حضرت سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کرنے کے ساتھ حضرت موسٰی علیہ السلام کی نبوت کو ماننا کفر سے نہیں بچاسکتا۔(ف140)دنیا میں تو یہ رسوائی ہوئی کہ بنی قریظہ ۳ ہجری میں مارے گئے ایک روز میں ا ن کے سات سو آدمی قتل کیے گئے تھے اور بنی نضیر اس سے پہلے ہی جلا وطن کردیئے گئے حلیفوں کی خاطر عہد الہی کی مخالفت کا یہ وبال تھا مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی طرفداری میں دین کی مخالفت کرنا علاوہ اخروی عذاب کے دنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا باعث ہوتاہے ۔(ف141)اس میں جیسی نافرمانوں کے وعید شیدید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے افعال سے بے خبر نہیں ہے ،تمہاری نافر مانیوں پر عذاب شدید فرمائے گا ایسے ہی اس آیت میں مؤمنین و صالحین کے لئے مثرہ ہے کہ انہیں اعمال حسنہ کی بہترین جزاء ملے گی (تفسیر کبیر)
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی (ف۱٤٦) اور اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے (ف ۱٤۳) اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھیلی نشانیاں عطا فرمائیں (ف۱٤٤) اور پاک روح سے (ف۱٤۵) اس کی مدد کی (ف۱٤٦) تو کیا جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ لے کر آئے جو تمہارے نفس کی خواہش نہیں تکبر کرتے ہو تو ان (انبیاء) میں ایک گروہ کو تم جھٹلاتے ہو اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہو ۔ (ف۱٤۷)
And indeed We gave Moosa (Moses) the Book and subsequent to him, sent Noble Messengers one after another – and We gave Eisa (Jesus), the son of Maryam (Mary), clear proofs and supported him with the Holy Spirit; so when a Noble Messenger from Allah comes to you bringing what you yourselves do not desire, you grow arrogant; so you disbelieve in a group of the Prophets and another group of Prophets you slay!
और बेशक हमने मूसा को किताब अता की और उसके बाद पे दर पे रसूल भेजे और हमने ईसा बिन मरियम को खेली निशानियाँ अता फ़रमाईं और पाक रूह से उसकी मदद की तो क्या जब तुम्हारे पास कोई रसूल वो ले कर आए जो तुम्हारे नफ़्स की ख़्वाहिश नहीं तकब्बुर करते हो तो उन (अनबिया) में एक गिरोह को तुम झुटलाते हो और एक गिरोह को शहीद करते हो -
Aur beshak humne Musa ko kitaab ata ki aur us ke baad pay dar pay Rasool bheje aur humne Isa bin Maryam ko khuli nishaniyan ata farmain aur paak rooh se us ki madad ki to kya jab tumhare paas koi Rasool woh le kar aaye jo tumhare nafs ki khwaish nahin takabbur karte ho to un (anbiya) mein ek giroh ko tum jhutlate ho aur ek giroh ko shaheed karte ho -
(ف142)اس کتاب سے توریت مراد ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے تمام عہد مذکور تھے سب سے اہم عہد یہ تھے کہ ہر زمانہ کے پیغمبروں کی اطاعت کرنا ان پر ایمان لانا اور ان کی تعظیم وتوقیر کرنا ۔(ف143)حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک متواتر انبیاء آتے رہے ان کی تعداد چار ہزار بیان کی گئی ہے یہ سب حضرات شریعت موسوی کے محافظ اور اس کے احکام جاری کرنے والے تھے چونکہ خاتم الانبیاء کے بعد نبوت کسی کو نہیں مل سکتی اس لئے شریعت محمدیہ کی حفاظت و اشاعت کی خدمت ربانی علماء اور مجددین ملت کو عطا ہوئی۔(ف144)ان نشانیوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مراد ہیں جیسے مردے زندہ کرنا ،اندھے اور برص والے کو اچھا کرنا ،پرند پیدا کرنا ،غیب کی خبر دینا وغیرہ(ف145)روح القدس سے حضرت جبریل علیہ السلام مراد ہیں کہ روحانی ہیں وحی لاتے ہیں جس سے قلوب کی حیات ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ رہنے پر مامور تھے۔ آپ ۳۳ سال کی عمر شریف میں آسمان پر اٹھالئے گئے اس وقت تک حضرت جبریل علیہ السلام سفر حضر میں کبھی آپ سے جدا نہ ہوئے ۔ تائید روح القدس حضرت عیسٰی علیہ السلام کی جلیل فضیلت ہے سید عالم کے صدقہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امتیوں کو بھی تائید روح القدس میسر ہوئی صیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے منبر بچھایا جاتا وہ نعت شریف پڑھتے حضور ان کے لئے فرماتے اَللّٰھُمَّ اَیِّدْہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (ف146)پھر بھی اے یہود تمہاری سرکشی میں فرق نہ آیا۔(ف147)یہود پیغمبروں کے احکام اپنی خواہشوں کے خلاف پا کر انہیں جھٹلاتے اور موقع پاتے تو قتل کر ڈالتے تھے ،جیسے کہ انہوں نے حضرت شعیا اوزکریا اور بہت انبیاء کو شہید کیا سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھی درپے رہے کبھی آپ پر جادو کیا کبھی زہر دیا طرح طرح کے فریب بارادہ قتل کیے۔
اور یہودی بولے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں (ف۱٤۸) بلکہ اللہ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں ۔ (ف۱٤۹)
And the Jews said, “Our hearts are covered”; in fact Allah has cursed them because of their disbelief, so only a few of them accept faith.
और यहूदी बोले हमारे दिलों पर पर्दे पड़े हैं बल्कि अल्लाह ने उन पर लानत की उनके कुफ़्र के सबब तो उनमें थोड़े ईमान लाते हैं -
Aur yahoodi bole hamare dilon par parde pade hain balki Allah ne unpar la’nat ki unke kufr ke sabab to un mein thore imaan laate hain -
(ف148)یہود نے یہ استہزاء ً کہا تھا ان کی مراد یہ تھی کہ حضور کی ہدایت کو ان کے دلوں تک راہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا کہ بے دین جھوٹے ہیں، قلوب اللہ تعالیٰ نے فطرت پر پیدا فرمائے ان میں قبول حق کی لیاقت رکھی انکے کفر کی شامت ہے کہ انہوں نے سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا اعتراف کرنے کے بعد انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اس کا اثر ہے کہ قبول حق کی نعمت سے محروم ہوگئے۔(ف149)یہی مضمون دوسری جگہ ارشاد ہوا:۔ بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلاً
اور جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب (قرآن) آئی جو ان کے ساتھ والی کتاب (توریت) کی تصدیق فرماتی ہے (ف۱۵۰) اور اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے (ف۱۵۱) تو جب تشریف لایا انکے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے (ف۱۵۲) تو اللہ کی لعنت منکروں پر ۔
And when the Book from Allah (the Holy Qu’ran) came to them, which confirms the Book in their possession (the Taurat / Torah) – and before that they used to seek victory through the medium of this very Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) over the disbelievers; so when the one whom they fully recognised (the Holy Prophet) came to them, they turned disbelievers – therefore Allah’s curse is upon the disbelievers.
और जब उनके पास अल्लाह की वो किताब (क़ुरआन) आई जो उनके साथ वाली किताब (तौरात) की तस्दीक़ फ़रमाती है और इस से पहले वो इसी नबी के वसीला से काफ़िरों पर फ़तह माँगते थे तो जब तशरीफ़ लाया उनके पास वो जाना पहचाना उस से मुनकर हो बैठे तो अल्लाह की लानत मुनकरों पर -
Aur jab unke paas Allah ki woh kitaab (Quran) aayi jo unke saath wali kitaab (Taurat) ki tasdeeq farmati hai aur is se pehle woh isi Nabi ke waseela se kafiron par fatah maangte the to jab tashreef laya unke paas woh jana pehchana us se munkir ho baithe to Allah ki la’nat munkiron par -
(ف150)سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور حضور کے اوصاف کے بیان میں ( کبیر و خازن)(ف151)شانِ نُزول : سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور قرآن کریم کے نُزول سے قبل یہود اپنے حاجات کے لئے حضور کے نام پاک کے وسیلہ سے دعا کرتے اور کامیاب ہوتے تھے اور اس طرح دعا کیا کرتے تھے:۔ِِاَللّٰھُمَّ افْتَحْ عَلَیْنَا وَانْصُرْنَا بِالنَّبِیِّ الْاُ مِّیِّ یارب ہمیں نبی امی کے صدقہ میں فتح و نصرت عطا فرما مسئلہ: اس سے معلو م ہوا کہ مقبولان حق کے وسیلہ سے دعا قبول ہوتی ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور سے قبل جہان میں حضور کی تشریف آواری کا شہرہ تھا اس وقت بھی حضو ر کے وسیلہ سے خلق کی حاجت روائی ہوتی تھی۔(ف152)یہ انکار عناد و حسد اور حبِّ ریاست کی وجہ سے تھا۔
کس برے مولوں انہوں نے اپنی جانوں کو خریدا کہ اللہ کے اتارے سے منکر ہوں (ف۱۵۳) اس کی جلن سے کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے جس بندے پر چاہے وحی اتارلے (ف۱۵٤) تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے (ف۱۵۵) اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے ۔ (ف۱۵٦)
How abject is the price for which they exchange their lives that they should disbelieve in what Allah has sent down, jealous that Allah should reveal of His grace to whomever He wills of His bondmen! So they deserved wrath upon wrath; and for the disbelievers is a disgraceful punishment.
किस बुरे मौलों उन्होंने अपनी जानों को ख़रीदा कि अल्लाह के उतारे से मुनकर हों उसकी जलन से कि अल्लाह अपने फ़ज़्ल से अपने जिस बंदे पर चाहे वही उतार ले तो ग़ज़ब पर ग़ज़ब के सज़ावार हुए और काफ़िरों के लिए ज़िल्लत का अज़ाब है -
Kis bure molon unhon ne apni jaano ko kharida ke Allah ke utare se munkir hon us ki jalan se ke Allah apne fazl se apne jis bande par chahe wahi utar le to ghazab par ghazab ke sazawaar hue aur kafiron ke liye zillat ka azaab hai -
(ف153)یعنی آدمی کو اپنی جان کی خلاصی کے لئے وہی کرنا چاہئے جس سے رہائی کی امید ہو یہود نے یہ برا سودا کیا کہ اللہ کے نبی اور اسکی کتاب کے منکر ہوگئے۔(ف154)یہود کی خواہش تھی کہ ختمِ نبوت کا منصب بنی اسرائیل میں سے کسی کو ملتا جب دیکھا کہ وہ محروم رہے بنی اسمٰعیل نوازے گئے تو حسد سے منکر ہوگئے مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ حسد حرام اور محرومیوں کا باعث ہے۔(ف155)یعنی انواع و اقسام کے غضب کے سزاوار ہوئے۔(ف156)اس سے معلوم ہوا کہ ذلت واہانت والا عذاب کفار کے ساتھ خاص ہے مومنین کو گناہوں کی وجہ سے عذاب ہوا بھی تو ذلت و اہانت کے ساتھ نہ ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ
اور جب ان سے کہا جائے کہ اللہ کے اتارے پر ایمان لاؤ (ف۱۵۷) تو کہتے ہیں وہ جو ہم پر اترا اس پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۵۸) اور باقی سے منکر ہوتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے ان کے پاس والے کی تصدیق فرماتا ہوا (ف۱۵۹) تم فرماؤ کہ پھر اگلے انبیاء کو کیوں شہید کیا اگر تمہیں اپنی کتاب پر ایمان تھا ۔ (ف۱٦۰)
And when it is said to them, “Believe in what Allah has sent down", they say, “We believe in what was sent down to us, and disbelieve in the rest” – whereas it is the Truth confirming what they possess! Say (to them, O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Why did you then martyr the earlier Prophets, if you believed in your Book?”
और जब उनसे कहा जाये कि अल्लाह के उतारे पर ईमान लाओ तो कहते हैं वह जो हम पर उतरा उस पर ईमान लाते हैं और बाकी से मुनकर होते हैं हालाँकि वह हक़ है उनके पास वाले की तसदीक़ फरमाता हुआ तुम फरमाओ कि फिर अगले अन्बिया को क्यों शहीद किया अगर तुम्हें अपनी किताब पर ईमान था -
Aur jab un se kaha jaye ke Allah ke utare par iman lao to kehte hain woh jo hum par utra us par iman late hain aur baaqi se munkir hote hain halanke woh Haq hai un ke paas wale ki tasdeeq farmata hua tum farmao ke phir agle Anbiya ko kyon shaheed kiya agar tumhe apni kitab par iman tha -
(ف157)اس سے قرآن پاک اور تمام وہ کتابیں اور صحائف مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے یعنی سب پر ایمان لاؤ۔(ف158)اس سے ان کی مراد توریت ہے۔(ف159)یعنی توریت پر ایمان لانے کا دعویٰ غلط ہے چونکہ قرآن پاک جو توریت کا مصدق ہے اس کا انکار توریت کا انکار ہوگیا۔(ف160)اس میں بھی ان کی تکذیب ہے، کہ اگر توریت پر ایمان رکھتے تو انبیاء علیہم السلام کو ہر گز شہید نہ کرتے۔
اور بیشک تمہارے پاس موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر تشریف لایا پھر تم نے اس کے بعد (ف۱٦۱) بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظالم تھے ۔ (ف۱٦۲)
And indeed Moosa came to you with clear signs, and after it you worshipped the calf – and you were unjust.
और बेशक तुम्हारे पास मूसा खुली निशानियाँ ले कर तशरीफ़ लाया फिर तुमने उसके बाद बछड़े को माबूद बना लिया और तुम ज़ालिम थे -
Aur beshak tumhare paas Musa khuli nishaniyan le kar tashreef laya phir tum ne us ke baad bachhde ko ma'bood bana liya aur tum zalim the -
(ف161)یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طور پر تشریف لے جانے کے بعد۔(ف162)اس میں بھی ان کی تکذیب ہے کہ شریعت موسوی کے ماننے کا دعویٰ جھوٹا ہے اگر تم مانتے تو حضرت موسٰی علیہ السلام کے عصا اور یدبیضا وغیرہ کھلی نشانیوں کے دیکھنے کے بعد گوسالہ پرستی نہ کرتے۔
اور (یاد کرو) جب ہم نے تم سے پیمان لیا (ف۱٦۳) اور کوہ ِ طور کو تمہارے سروں پر بلند کیا ، لو جو ہم تمہیں دیتے ہیں زور سے اور سنو بولے ہم نے سنا اور نہ مانا اور ان کے دلوں میں بچھڑا رچ رہا تھا ان کے کفر کے سبب تم فرمادو کیا برا حکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان اگر ایمان رکھتے ہو ۔ (ف۱٦٤)
And remember when We made a covenant with you and raised the Mount Tur (Sinai) above you; “Accept and hold fast to what We give you, and listen”; they said, “We hear and we disobey”; and the calf was still embedded in their hearts because of their disbelief; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “What an evil command is what your faith orders you, if you are believers!”
और (याद करो) जब हमने तुमसे पैमान लिया और कोह-ए-तूर को तुम्हारे सिरों पर बुलन्द किया, लो जो हम तुम्हें देते हैं जोर से और सुनो बोले हमने सुना और न माना और उनके दिलों में बछड़ा रच रहा था उनके कुफ़्र के सबब तुम फरमा दो क्या बुरा हुक्म देता है तुम्हें तुम्हारा ईमान अगर ईमान रखते हो -
Aur (yaad karo) jab hum ne tum se paiman liya aur Koh-e-Toor ko tumhare saron par buland kiya, lo jo hum tumhe dete hain zor se aur suno, bole hum ne suna aur na maana aur un ke dilon me bachhda rach raha tha un ke kufr ke sabab tum farma do kya bura hukm deta hai tum ko tumhara iman agar iman rakhte ho -
(ف163)توریت کے احکام پر عمل کرنے کا۔(ف164)اس میں بھی ان کے دعوائے ایمان کی تکذیب ہے۔
تم فرماؤ اگر پچھلا گھر اللہ کے نزدیک خالص تمہارے لئے ہو، نہ اوروں کے لئے تو بھلا موت کی آرزو تو کرو اگر سچے ہو ۔ (ف۱٦۵)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “If the abode of the Hereafter in the sight of Allah is for you alone and none else, then long for death if you are truthful!”
तुम फरमाओ अगर पिछला घर अल्लाह के नज़दीक ख़ालिस तुम्हारे लिये हो, न औरों के लिये तो भला मौत की आरज़ू तो करो अगर सच्चे हो -
Tum farmao agar pichhla ghar Allah ke nazdeek khalis tumhare liye ho, na auron ke liye to bhala maut ki aarzu to karo agar sachche ho -
(ف165)یہود کے باطل دعاوی میں سے ایک یہ دعوٰی تھا کہ جنتِ خاص انہی کے لئے ہے اس کا رد فرمایا جاتا ہے کہ اگر تمہارے زعم میں جنت تمہارے لئے خاص ہے اور آخرت کی طرف سے تمہیں اطمینان ہے اعمال کی حاجت نہیں تو جنتی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیوی مصائب کیوں برداشت کرتے ہو موت کی تمنا کرو کہ تمہارے دعویٰ کی بنا پر تمہارے لئے باعث راحت ہے اگر تم نے موت کی تمنا نہ کی تو یہ تمہارے کذب کی دلیل ہوگی حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ موت کی تمنا کرتے تو سب ہلاک ہوجاتے اور روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا۔
اور ہرگز کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے (ف۱٦٦) ان بد اعمالیوں کے سبب جو آگے کرچکے (ف۱٦۷) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو ۔
And they will never long for it, because of the evil deeds they have done in the past; and Allah knows the unjust, very well.
और हरगिज़ कभी उसकी आरज़ू न करेंगे उन बद-आमालियों के सबब जो आगे कर चुके और अल्लाह खूब जानता है ज़ालिमों को -
Aur hargiz kabhi is ki aarzu na karenge in bad-a'maliyon ke sabab jo aage kar chuke aur Allah khoob janta hai zalimon ko -
(ف166)یہ غیب کی خبر اور معجزہ ہے کہ یہود باوجود نہایت ضد اور شدت مخالفت کے بھی تمنائے موت کا لفظ زبان پر نہ لاسکے۔(ف167)جیسے نبی آخر الزمان اور قرآن کے ساتھ کفر اور توریت کی تحریف وغیرہ مسئلہ : موت کی محبت اور لقائے پروردگار کا شوق اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے بعد دعا فرماتے اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی شَھَادَۃً فِی سَبِیْلِکَ وَوَفَاۃً بِبَلَدِ رَسُولِک یارب مجھے اپنی راہ میں شہادت اور اپنے رسول کے شہر میں وفات نصیب فرما بالعموم تمام صحابہ کُبّار او ربالخصوص شہدائے بدر واحد واصحابِ بیعت رضوان موت فی سبیل اللہ کی محبت رکھتے تھے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے لشکر کفار کے سردار رستم بن فرخ زاد کے پاس جو خط بھیجا اس میں تحریر فرمایا تھا اِنَّ مَعِیَ قُوْمٌ یُّحِبُّوْنَ الْمَوْتَ کَمَا یُحِبُّ الَْاعَاجِمُ الْخَمَرََ یعنی میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو موت کو اتنا محبوب رکھتی ہے جتنا عجمی شراب کو اس میں لطیف اشارہ تھا کہ شراب کی ناقص مستی کو محبت دنیا کے دیوانے پسند کرتے ہیں اور اہلُ اللہ موت کو محبوب حقیقی کے وصال کا ذریعہ سمجھ کر محبوب جانتے ہیں،فی الجملہ اہل ایمان آخرت کی رغبت رکھتے ہیں اور اگر طول حیات کی تمنا بھی کریں تو وہ اس لئے ہوتی ہے کہ نیکیاں کرنے کے لئے کچھ اور عرصہ مل جائے جس سے آخرت کے لئے ذخیرئہ سعادت زیادہ کرسکیں اگر گزشتہ ایام میں گناہ ہوئے ہیں تو ان سے توبہ و استغفار کرلیں مسئلہ: صحاح کی حدیث میں ہے کوئی دینوی مصیبت سے پریشان ہو کر موت کی تمنا نہ کرے اور درحقیقت حوادث دنیا سے تنگ آکر موت کی دعا کرنا صبر و رضاو تسلیم و توکل کے خلاف وناجائز ہے۔
اور بیشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں اور مشرکوں سے ایک کو تمنا ہے کہ کہیں ہزار برس جئے (ف۱٦۸) اور وہ اسے عذاب سے دور نہ کرے گا اتنی عمر دیا جانا اور اللہ ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے،
And you will surely find them the greediest among mankind for life; and (likewise) among the polytheists (idolaters); each one of them yearns to live a thousand years; and the grant of such age will not distance him from the punishment; and Allah is seeing their misdeeds.
और बेशक तुम ज़रूर उन्हें पाओगे कि सब लोगों से ज़्यादा जीने की हस्रत रखते हैं और मुशरिकों से एक को तमन्ना है कि कहीं हज़ार बरस जिये और वह उसे अज़ाब से दूर न करेगा इतनी उमर दिया जाना और अल्लाह उनके कर्तूत देख रहा है,
Aur beshak tum zaroor unhein paoge ke sab logon se zyada jeene ki hawas rakhte hain aur mushrikon se ek ko tamanna hai ke kahin hazar baras jiye aur woh ise azaab se door na karega itni umar diya jana aur Allah un ke koutak dekh raha hai,
(ف168)مشرکین کا ایک گروہ مجوسی ہے آپس میں تحیت و سلام کے موقع پر کہتے ہیں زہ ہزار سال یعنی ہزار برس جیو مطلب یہ ہے کہ مجوسی مشرک ہزار برس جینے کی تمنا رکھتے ہیں یہودی ان سے بھی بڑھ گئے کہ انہیں حرص وزندگانی سب سے زیادہ ہے۔
تم فرمادو جو کوئی جبریل کا دشمن ہو (ف۱٦۹) تو اس (جبریل) نے تو تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے یہ قرآن اتارا اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتا اور ہدایت و بشارت مسلمانوں کو ۔ (ف۱۷۰)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Whoever is an enemy to Jibreel (Gabriel)” – for it is he who has brought down this Qu’ran to your heart by Allah’s command, confirming the Books before it, and a guidance and glad tidings to Muslims. –
तुम फरमा दो जो कोई जिब्रील का दुश्मन हो तो इस (जिब्रील) ने तो तुम्हारे दिल पर अल्लाह के हुक्म से यह कुरआन उतारा अगली किताबों की तसदीक़ फरमाता और हिदायत व बशारत मुसलमानों को -
Tum farma do jo koi Jibreel ka dushman ho to is (Jibreel) ne to tumhare dil par Allah ke hukm se ye Qur’an utara agli kitabon ki tasdeeq farmata aur hidayat o basharat Musalmano ko -
(ف169)شان نُزول : یہودیوں کے عالم عبداللہ بن صوریا نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا آپ کے پاس آسمان سے کون فرشتہ آتا ہے فرمایا جبریل ابن صوریا نے کہا وہ ہمارا دشمن ہے عذاب شدت اور خسف اتارتا ہے کئی مرتبہ ہم سے عداوت کرچکا ہے اگر آپ کے پاس میکائیل آتے تو ہم آپ پر ایمان لے آتے۔(ف170)تو یہود کی عداوت جبریل کے ساتھ بے معنٰی ہے بلکہ اگر انہیں انصاف ہوتا تو وہ جبریل امین سے محبت کرتے اور ان کے شکر گزار ہوتے کہ وہ ایسی کتاب لائے جس سے ان کی کتابوں کی تصدیق ہوتی ہے ۔ اور بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ فرمانے میں یہود کا رد ہے کہ اب تو جبریل ہدایت و بشارت لارہے ہیں پھر بھی تم عداوت سے باز نہیں آتے ۔
جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں کا (ف۱۷۱)
“Whoever is an enemy to Allah, and His angels and His Noble Messengers, and Jibreel and Mikaeel (Michael) -, then (know that), Allah is an enemy of the disbelievers.”
जो कोई दुश्मन हो अल्लाह और उसके फ़रिश्तों और उसके रसूलों और जिब्रील और मीकाील का तो अल्लाह दुश्मन है काफ़िरों का -
Jo koi dushman ho Allah aur us ke farishton aur us ke Rasulon aur Jibreel aur Mika’il ka to Allah dushman hai kafiron ka -
(ف171)اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء و ملائکہ کی عداوت کفر اور غضب الٰہی کا سبب ہے، اور محبوبان حق سے دشمنی خدا سے دشمنی کرنا ہے۔
اور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں اتاریں (ف۱۷٦) اور ان کے منکر نہ ہوں گے مگر فاسق لوگ ۔
We have indeed sent down to you clear signs; and none will disbelieve in them except the sinners.
और बेशक हमने तुम्हारी तरफ़ रौशन आयतें उतारीं और उनके मुनकर न होंगे मगर फ़ासिक लोग -
Aur beshak hum ne tumhari taraf roshan aayatein utari aur un ke munkir na honge magar faasiq log -
(ف172)شا نِ نُزول : یہ آیت ابن صوریا یہودی کے جواب میں نازل ہوئی جس نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ اے محمد آپ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہ لائے جسے ہم پہچانتے اور نہ آپ پر کوئی واضح آیت نازل ہوئی جس کا ہم اتباع کرتے۔
اور کیا جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں ان میں کا ایک فریق اسے پھینک دیتا ہے بلکہ ان میں بہتیروں کو ایمان نہیں ۔ (ف۱۷۳)
And is it that whenever they make a covenant, only a group of them throws it aside? In fact, most of them do not have faith.
और क्या जब कभी कोई अहद करते हैं उनमें का एक फ़रीक़ उसे फेंक देता है बल्कि उनमें बहुतेरों को ईमान नहीं -
Aur kya jab kabhi koi ahad karte hain un me ka ek fareeq ise phenk deta hai balke un me bahutero ko iman nahi -
(ف173)شان نُزول : یہ آیت مالک بن صیف یہود ی کے جواب میں نازل ہوئی جب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو اللہ تعالیٰ کے وہ عہد یاد دلائے جو حضور پر ایمان لانے کے متعلق کیے تھے تو ابن صیف نے عہد ہی کا انکار کردیا۔
اور جب ان کے پاس تشریف لایا اللہ کے یہاں سے ایک رسول (ف۱۷٤) ان کی کتابوں کی تصدیق فرماتا (ف۱۷۵) تو کتاب والوں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب پیٹھ پیچھے پھینک دی (ف۱۷٦) گویا وہ کچھ علم ہی نہیں رکھتے ۔ (ف۱۷۷)
And when a Noble Messenger from Allah came to them, confirming the Book(s) which they possessed, a group of those who have received the Book(s) flung the Book of Allah behind their backs as if they were totally unaware!
और जब उनके पास तशरीफ़ लाया अल्लाह के यहाँ से एक रसूल उनकी किताबों की तसदीक़ फरमाता तो किताब वालों से एक गिरोह ने अल्लाह की किताब पीठ पीछे फेंक दी गोया वह कुछ इल्म ही नहीं रखते -
Aur jab un ke paas tashreef laya Allah ke yahan se ek Rasool un ki kitabon ki tasdeeq farmata to kitab walon se ek giroh ne Allah ki kitab peeth peechhe phenk di goya woh kuch ilm hi nahi rakhte -
(ف174)یعنی سید عالم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف175)سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم توریت زبور وغیرہ کی تصدیق فرماتے تھے اور خود ان کی کتابوں میں بھی حضور کی تشریف آوری کی بشارت اور آپ کے اوصاف و احوال کا بیان تھا اس لئے حضور کی تشریف آوری اور آپ کا وجود مبارک ہی ان کتابوں کی تصدیق ہے تو حال اس کا مقتضی تھا کہ حضور کی آمد پر اہل کتاب کا ایمان اپنی کتابوں کے ساتھ اور زیادہ پختہ ہوتا مگر اس کے برعکس انہوں نے اپنی کتابوں کے ساتھ بھی کفر کیا سدی کا قول ہے کہ جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو یہود نے توریت سے مقابلہ کرکے توریت و قرآن کو مطابق پایا تو توریت کو بھی چھوڑ دیا۔(ف176)یعنی اس کتاب کی طرف بے التفاتی کی، سفیان بن عینیہ کا قول ہے کہ یہود نے توریت کو حریر و دیبا کے ریشمی غلافوں میں زر وسیم کے ساتھ مطلّا و مزیّن کرکے رکھ لیا اور اس کے احکام کو نہ مانا۔(ف177)ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے چار فرقے تھے ایک توریت پر ایمان لایا اور اس نے اس کے حقوق کو بھی ادا کیا یہ مومنین اہل کتاب ہیں ان کی تعداد تھوڑ ی ہے اور اَکْثَرُ ھُمْ سے ان کا پتا چلتا ہے دوسرا فرقہ جس نے بالاعلان توریت کے عہد توڑے اس کے حدود سے باہر ہوئے سرکشی اختیار کی نَبَذَہ، فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ میں ان کا بیان ہے تیسرا فرقہ وہ جس نے عہد شکنی کا اعلان تو نہ کیا لیکن اپنی جہالت سے عہد شکنی کرتے رہے انکا ذکر بَل اَکْثَرُ ھُم لَا یُؤمِنُوْنَ میں ہے۔ چوتھے فرقے نے ظاہری طور پر تو عہد مانے اور باطن میں بغاوت و عناد سے مخالفت کرتے رہے یہ تصنع سے جاہل بنتے تھے۔ کَاَنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ میں ان پر دلالت ہے۔
اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت سلیمان کے زمانہ میں (ف۱۷۸) اور سلیمان نے کفر نہ کیا (ف۱۷۹) ہاں شیطان کافر ہوئے (ف۱۸۰) لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ف۱۸۱) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (ف۱۸۲) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا ۔ (ف۱۸۳)
And they followed what the devils used to read during the rule of Sulaiman (Solomon – peace and blessings be upon him); and Sulaiman did not disbelieve, but the devils disbelieved – they teach people magic; and that which was sent down to the two angels, Harut and Marut in Babylon; and the two (angels) never taught a thing to anyone until they used to say, “We are only a trial, therefore do not lose your faith” and they used to learn from them that by which they cause division between man and his wife; and they cannot harm anyone by it except by Allah’s command; and they learn what will harm them, not benefit them; and surely they know that whoever bargains for this will not have a share in the Hereafter; and for what an abject thing they have sold themselves; if only they knew!
और उसके पैरवी हुए जो शैतान पढ़ा करते थे सल्तनत सुलेमान के ज़माना में और सुलेमान ने कुफ़्र न किया हाँ शैतान काफ़िर हुए लोगों को जादू सिखाते हैं और वह (जादू) जो बाबुल में दो फ़रिश्तों हारूत व मारूत पर उतरा और वह दोनों किसी को कुछ न सिखाते जब तक यह न कह लेते कि हम तो नरी आज़माइश हैं तो अपना ईमान न खो तो उनसे सीखते वह जिससे जुदाई डालें मर्द और उसकी औरत में और उससे ज़रर नहीं पहुँचा सकते किसी को मगर ख़ुदा के हुक्म से और वह सीखते हैं जो उन्हें नुक़सान देगा नफ़ा न देगा और बेशक ज़रूर उन्हें मालूम है कि जिसने यह सौदा लिया आख़िरत में उसका कुछ हिस्सा नहीं और बेशक क्या बुरी चीज़ है वह जिसके बदले उन्होंने अपनी जानें बेच दीं क्युँ न उन्हें इल्म होता -
Aur us ke pairo hue jo shaitaan parha karte the saltanat Sulaiman ke zamane me aur Sulaiman ne kufr na kiya haan shaitaan kafir hue logon ko jadoo sikhate hain aur woh (jadoo) jo Babil me do farishton Haroot o Maroot par utra aur woh dono kisi ko kuch na sikhate jab tak ye na keh lete ke hum to niri aazmaish hain to apna iman na kho to un se seekhte woh jiss se judai daalein mard aur us ki aurat me aur us se zarar nahi pohcha sakte kisi ko magar Khuda ke hukm se aur woh seekhte hain jo unhein nuqsan dega naf’a na dega aur beshak zaroor unhein maaloom hai ke jiss ne ye sauda liya aakhirat me us ka kuch hissa nahi aur beshak kya buri cheez hai woh jiss ke badle unhon ne apni janen bechein kisi tarah unhein ilm hota -
(ف178)شان نُزول : حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل جادو سیکھنے میں مشغول ہوئے تو آپ نے ان کو اس سے روکا اور ان کی کتابیں لے کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے کی وفات کے بعد شیاطین نے وہ کتابیں نکلوا کر لوگوں سے کہا کہ سلیمان علیہ السلام اسی کے زور سے سلطنت کرتے تھے بنی اسرائیل کے صلحاء و علماء نے تو اس کا انکار کیا لیکن ان کے جہال جادو کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا علم بتاکر اس کے سیکھنے پر ٹوٹ پڑے ۔ انبیاء کی کتابیں چھوڑ دیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام پر ملامت شروع کی سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ تک اسی حال پر رہے اللہ تعالیٰ نے حضور پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی براء ت میں یہ آیت نازل فرمائی۔(ف179)کیونکہ وہ نبی ہیں اور انبیاء کفر سے قطعاً معصوم ہوتے ہیں ان کی طرف سحر کی نسبت باطل وغلط ہے کیونکہ سحر کا کفریات سے خالی ہونا نادر ہے۔(ف180)جنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر جادو گری کی جھوٹی تہمت لگائی۔(ف181)جنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر جادو گری کی جھوٹی تہمت لگائی۔یعنی جادو سیکھ کر اور اس پر عمل و اعتقاد کرکے اور اس کو مباح جان کر کافر نہ بن یہ جادو فرماں بردار و نافرمان کے درمیان امتیاز و آزمائش کے لئے نازل ہوا جو اس کو سیکھ کر اس پر عمل کرے کافر ہوجائے گابشرطیکہ اس جادو میں منافی ایمان کلمات و افعال ہوں جو اس سے بچے نہ سیکھے یا سیکھے اور اس پر عمل نہ کرے اور اس کے کفریات کا معتقد نہ ہو وہ مومن رہے گا یہی امام ابومنصور ما تریدی کا قول ہے مسئلہ جو سحر کفر ہے اس کا عامل اگر مردہو قتل کردیا جائے گا مسئلہ: جو سحر کفر نہیں مگر اس سے جانیں ہلاک کی جاتی ہیں اس کا عامل قطاَّع طریق کے حکم میں ہے مردہو یا عورت مسئلہ :جادو گر کی توبہ قبول ہے (مدارک)(ف182)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور تاثیر اسباب تحت مشیت ہے۔(ف183) اپنے انجام کا روشدت عذاب کا۔
اے ایمان والو! (ف۱۸۵) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو (ف۱۸٦) اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ (ف۱۸۷)
O People who Believe, do not say (to the Prophet Mohammed- peace and blessings be upon him), “Raena (Be considerate towards us)” but say, “Unzurna (Look mercifully upon us)", and listen attentively from the start; and for the disbelievers is a painful punishment. (To disrespect the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is blasphemy.)
ऐ ईमान वालो! रा'ना न कहो और यूँ अर्ज़ करो कि हुज़ूर हम पर नज़र रखें और पहले ही से बग़ौर सुनो और काफ़िरों के लिये दर्दनाक अज़ाब है -
Aye iman walo! “Ra’ina” na kaho aur yun arz karo ke Huzoor hum par nazar rakhein aur pehle hi se baghor suno aur kafiron ke liye dardnaak azaab hai -
(ف185)شانِ نُزول : جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کیا کرتے۔ رَاعِنَا یارسول اللہ اس کے یہ معنی تھے کہ یارسول اللہ ہمارے حال کی رعایت فرمائیے یعنی کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجئے یہود کی لغت میں یہ کلمہ سوء ِادب کے معنی رکھتا تھا انہوں نے اس نیت سے کہنا شروع کیا حضرت سعد بن معاذ یہود کی اصطلاح سے واقف تھے آپ نے ایک روز یہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا اے دشمنان خدا تم پر اللہ کی لعنت اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا اس کی گردن ماردوں گا یہود نے کہا ہم پر تو آپ برہم ہوتے ہیں مسلمان بھی تو یہی کہتے ہیں اس پر آپ رنجیدہ ہو کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں رَاعِنَا کہنے کی ممانعت فرمادی گئی اور اس معنی کا دوسرا لفظ اُنْظُرْناَ کہنے کا حکم ہوا مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں کلمات ادب عرض کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترک ادب کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ۔(ف186)اور ہمہ تن گوش ہوجاؤ تاکہ یہ عرض کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے کہ حضور توجہ فرمائیں کیونکہ دربار نبوت کا یہی ادب ہے، مسئلہ دربار انبیاء میں آدمی کو ادب کے اعلیٰ مراتب کا لحاظ لازم ہے۔(ف187)مسئلہ : لِلْکٰفِرِیْنَ میں اشارہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی جناب میں بے ادبی کفر ہے ۔
وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک (ف۱۸۸) وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے (ف۱۸۹) اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔
Those who disbelieve – the People given the Book(s) or the polytheists – do not wish that any good be sent down upon you from your Lord; and Allah chooses whomever He wills by His Mercy; and Allah is the Most Munificent.
वह जो काफ़िर हैं किताबी या मुशरिक वह नहीं चाहते कि तुम पर कोई भलाई उतरे तुम्हारे रब के पास से और अल्लाह अपनी रहमत से ख़ास करता है जिसे चाहे और अल्लाह बड़े फ़ज़ल वाला है -
Woh jo kafir hain kitabi ya mushrik woh nahi chahte ke tum par koi bhalai utare tumhare Rab ke paas se aur Allah apni rehmat se khaas karta hai jise chahe aur Allah bare fazl wala hai -
(ف188)شان نُزول : یہود کی ایک جماعت مسلمانوں سے دوستی و خیر خواہی کا اظہار کرتی تھی ان کی تکذیب میں یہ آیت نازل ہوئی مسلمانوں کو بتایا گیا کہ کفار خیر خواہی کے دعوے میں جھوٹے ہیں۔(جمل) (ف189)یعنی کفار اہل کتاب اور مشرکین دونوں مسلمانوں سے بغض رکھتے ہیں اور اس رنج میں ہیں کہ ان کے نبی محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت و وحی عطا ہوئی اور مسلمانوں کو یہ نعمت عظمیٰ ملی(خازن وغیرہ)
جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں (ف۱۹۰) تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔
When We abrogate a verse or cause it to be forgotten, We will bring one better than it or one similar; do you not know that Allah is Able to do all things?
जब कोई आयत मनसुख़ फरमाएँ या भुला दें तो उससे बेहतर या उस जैसी ले आयेंगे क्या तुझे ख़बर नहीं कि अल्लाह सब कुछ कर सकता है -
Jab koi ayat mansookh farmaen ya bhula dein to us se behtar ya us jaisi le aayenge kya tujhe khabar nahi ke Allah sab kuch kar sakta hai -
(ف190)شان نُزول : قرآنِ کریم نے شرائع سابقہ و کتب قدیمہ کو منسوخ فرمایا تو کفار کو بہت توحش ہوا اور انہوں نے اس پر طعن کیے اس پر یہ آیہء کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ منسوخ بھی اللہ کی طرف سے ہے اور ناسخ بھی دونوں عین حکمت ہیں اور ناسخ کبھی منسوخ سے زیادہ سہل وانفع ہوتا ہے قدرت الہی پر یقین رکھنے والے کو اس میں جائے تردد نہیں کائنات میں مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دن سے رات کو گرما سے سرما کو جوانی سے بچپن کو بیماری سے تندرستی کو بہار سے خزاں کو منسوخ فرماتا ہے۔ یہ تمام نسخ و تبدیل اس کی قدرت کے دلائل ہیں تو ایک آیت اور ایک حکم کے منسوخ ہونے میں کیا تعجب نسخ درحقیقت حکم سابق کی مدت کا بیا ن ہو تا ہے کہ وہ حکم اس مدت کے لئے تھا اور عین حکمت تھا کفار کی نافہمی کہ نسخ پر اعتراض کرتے ہیں اور اہل کتاب کا اعتراض ان کے معتقدات کے لحاظ سے بھی غلط ہے انہیں حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت کے احکام کی منسوخیت تسلیم کرنا پڑے گی یہ ماننا ہی پڑے گا کہ شنبہ کے روز دنیوی کام ان سے پہلے حرام نہ تھے ان پر حرام ہوئے یہ بھی اقرار ناگزیر ہوگا کہ توریت میں حضرت نوح علیہ ا لسلام کی امت کے لئے تمام چوپائے حلال ہونا بیان کیا گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بہت سے حرام کردیئے گئے ان امور کے ہوتے ہوئے نسخ کا انکار کس طرح ممکن ہے مسئلہ: جس طرح آیت دوسری آیت سے منسوخ ہوتی ہے اسی طرح حدیث متواتر سے بھی ہوتی ہے مسئلہ :نسخ کبھی صرف تلاوت کا ہوتا ہے کبھی صرف حکم کا ،کبھی تلاوت و حکم دونوں کا بیہقی نے ابو امامہ سے روایت کی کہ ایک انصاری صحابی شب کو تہجد کے لئے اٹھے اور سورہ فاتحہ کے بعد جو سورت ہمیشہ پڑھا کرتے تھے اس کو پڑھنا چاہا لیکن وہ بالکل یاد نہ آئی اور سوائے بسم اللہ کے کچھ نہ پڑھ سکے صبح کو دوسرے ا صحاب سے اس کا ذکر کیا ان حضرات نے فرمایا ہمارا بھی یہی حال ہے وہ سورت ہمیں بھی یاد تھی اور اب ہمارے حافظہ میں بھی نہ رہی سب نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واقعہ عرض کیا حضور اکرم نے فرمایا آج شب وہ سورت اٹھالی گئی اس کے حکم و تلاوت دونوں منسوخ ہوئے جن کاغذوں پر وہ لکھی گئی تھی ان پر نقش تک باقی نہ رہے۔
کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسا سوال کرو جو موسیٰ سے پہلے ہوا تھا (ف۱۹۱) اور جو ایمان کے بدلے کفر لے (ف۱۹۲) وہ ٹھیک راستہ بہک گیا ۔
Do you wish to ask your Noble Messenger a question similar to what Moosa was asked before? And whoever chooses disbelief instead of faith has gone astray from the Right Path.
क्या यह चाहते हो कि अपने रसूल से वैसा सवाल करो जो मूसा से पहले हुआ था और जो ईमान के बदले कुफ़्र ले वह ठीक रास्ता बहक गया -
Kya ye chahte ho ke apne Rasool se waisa sawal karo jo Musa se pehle hua tha aur jo iman ke badle kufr le woh theek rasta behak gaya -
(ف191)شان نزول یہود نے کہا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آپ ایسی کتاب لائیے جو آسمان سے ایک با رگی نازل ہو ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(ف192)یعنی جو آیتیں نازل ہوچکی ہیں ان کے قبول کرنے میں بے جا بحث کرے اور دوسری آیتیں طلب کرے مسئلہ اس سے معلوم ہوا کہ جس سوال میں مفسدہ ہو وہ بزرگوں کے سامنے پیش کر ناجائز نہیں اور سب سے بڑا مفسدہ یہ کہ اس سے نافرمانی ظاہر ہوتی ہو۔
بہت کتابیوں نے چاہا (ف۱۹۳) کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیر دیں اپنے دلوں کی جلن سے (ف۱۹٤) بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
Many among People given the Book(s) wished to turn you to disbelief after you had accepted faith; out of hearts’ envy, after the truth has become very clear to them; so leave them and be tolerant, until Allah brings His command; indeed Allah is Able to do all things.
बहुत किताबियों ने चाहा काश तुम्हें ईमान के बाद कुफ़्र की तरफ़ फेर दें अपने दिलों की जलन से बाद इसके कि हक़ उन पर खूब ज़ाहिर हो चुका है तो तुम छोड़ो और दरगुज़र करो यहाँ तक कि अल्लाह अपना हुक्म लाये बेशक अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है -
Bohat kitabiye ne chaha kaash tumhein iman ke baad kufr ki taraf pher dein apne dilon ki jalan se baad is ke ke Haq un par khoob zahir ho chuka hai to tum chhodo aur darguzar karo yahan tak ke Allah apna hukm laye beshak Allah har cheez par qadir hai -
(ف193)شان نزول جنگ احد کے بعد یہود کی جماعت نے حضرت حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہماسے کہا کہ اگر تم حق پر ہوتے تو تمہیں شکست نہ ہوتی تم ہمارے دین کی طرف واپس آجاؤ حضرت عمار نے فرمایا تمہارے نزدیک عہد شکنی کیسی ہے انہوں نے کہا نہایت بری آپ نے فرمایا میں نے عہد کیا ہے کہ زندگی کے آخر لمحہ تک سید عالم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہ پھروں گا اور کفر نہ اختیار کروں گا ،اور حضرت حذیفہ نے فرمایا میں راضی ہوا اللہ کے رب ہونے اور محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے اسلام کے دین ہونے قرآن کے ایمان ہونے کعبہ کے قبلہ ہونے مومنین کے بھائی ہونے سے پھر یہ دونوں صاحب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی خبر دی حضور نے فرمایا تم نے بہتر کیا اور فلاح پائی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف194)اسلام کی حقانیت جاننے کے بعد یہود کا مسلمانوں کے کفر و ارتداد کی تمنا کرنااور یہ چاہنا کہ وہ ایمان سے محروم ہوجائیں حسداً تھا حسد بڑا ہی عیب ہے،( مسئلہ)حدیث شریف میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حسد سے بچو وہ نیکیوں کو اس طرح کھا تا ہے جیسے آگ خشک لکڑ ی کو۔ (مسئلہ)حسد حرام ہے مسئلہ: اگر کوئی شخص اپنے مال و دولت یا اثر ووجاہت سے گمراہی و بے دینی پھیلاتا ہو تو اس کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے اس کے زوال نعمت کی تمنا حسد میں داخل نہیں اور حرام بھی نہیں۔
اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو (ف۱۹۵) اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے ۔
And keep the prayer established, and pay the charity; and whatever good you send ahead for yourselves, you will find it with Allah; indeed Allah is seeing your deeds.
और नमाज़ क़ायम रखो और ज़कात दो और अपनी जानों के लिये जो भलाई आगे भेजोगे उसे अल्लाह के यहाँ पाओगे बेशक अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है -
Aur namaz qaim rakho aur zakat do aur apni janon ke liye jo bhalai aage bhejo ge use Allah ke yahan paoge beshak Allah tumhare kaam dekh raha hai -
(ف195)مومنین کو یہود سے در گزر کا حکم دینے کے بعد انہیں اپنے اصلاح نفس کی طرف متوجہ فرماتا ہے۔
اور اہل کتاب بولے ، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو (ف۱۹٦) یہ ان کی خیال بندیاں ہیں تم فرماؤ لاؤ اپنی دلیل (ف۱۹۷) اگر سچے ہو ۔
And the People given the Book(s) said, “None will enter Paradise unless he is a Jew or a Christian”; these are their own imaginations; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Bring your proof, if you are truthful.”
और अहल-ए-किताब बोले, हरगिज़ जन्नत में न जायेगा मगर वह जो यहूदी या नसरानी हो यह उनकी ख़याल बंदियाँ हैं तुम फरमाओ लाओ अपनी दलील अगर सच्चे हो -
Aur Ahl-e-Kitab bole, hargiz jannat me na jaega magar woh jo Yahudi ya Nasrani ho ye un ki khayal bandiyan hain tum farmaon lao apni daleel agar sachche ho -
(ف196)یعنی یہود کہتے ہیں کہ جنت میں صرف یہودی داخل ہوں گے اور نصرانی کہتے ہیں کہ فقط نصرانی اور یہ مسلمانوں کو دین سے منحرف کرنے کے لئے کہتے ہیں جیسے نسخ وغیرہ کے لچر شبہات انہوں نے اس امید پر پیش کئے تھے کہ مسلمانوں کو اپنے دین میں کچھ تردد ہوجائے اسی طرح ان کو جنت سے مایوس کرکے اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں چنانچہ آخر پارہ میں ان کا یہ مقولہ مذکور ہے۔ وَقَالُوْا کُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْنَصٰرٰی تَھْتَدُوْا اللہ تعالیٰ ان کے اس خیال باطل کا ردّ فرماتا ہے۔(ف197)مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نفی کے مدعی کو بھی دلیل لانا ضرور ہے بغیر اس کے دعوٰی باطل و نامسموع ہوگا۔
ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نیکو کار ہے (ف۱۹۸) تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم ۔ (ف۱۹۹)
Yes, why not? Whoever submits his face for the sake of Allah, and is virtuous, his reward is with his Lord; and there shall be no fear upon them nor shall they grieve.
हाँ क्यों नहीं जिसने अपना मुँह झुकाया अल्लाह के लिये और वह नेकोकार है तो उसका नेग उसका रब के पास है और उन्हें कुछ अन्देशा हो और न कुछ ग़म -
Haan kyon nahi jiss ne apna munh jhukaya Allah ke liye aur woh neko kar hai to us ka neig us ke Rab ke paas hai aur unhein kuch andesha ho aur na kuch gham -
(ف198)خواہ وہ کسی زمانہ کسی نسل کسی قوم کا ہو۔(ف199)اس میں اشارہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا یہ دعویٰ کہ جنت کے فقط وہی مالک ہیں بالکل غلط ہے کیونکہ دخول جنت مرتب ہے ،عقیدئہ صحیحہ وعمل صالح پر اور یہ انہیں میسّر نہیں۔
اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں (ف۲۰۰) حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، (ف۲۰۱) اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی (ف۲۰۲) تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں ۔
And the Jews said, “The Christians are nothing” – and the Christians said, “The Jews are nothing” whereas they both read the Book; and the ignorant spoke similarly; so Allah will judge between them on the Day of Resurrection, concerning the matter in which they dispute.
और यहूदी बोले नसरानी कुछ नहीं और नसरानी बोले यहूदी कुछ नहीं हालाँकि वह किताब पढ़ते हैं, उसी तरह जाहिलों ने उनकी सी बात कही तो अल्लाह क़यामत के दिन उनमें फ़ैसला कर देगा जिस बात में झगड़ रहे हैं -
Aur Yahudi bole Nasrani kuch nahi aur Nasrani bole Yahudi kuch nahi halanke woh kitab padhte hain, isi tarah jahilon ne un ki si baat kahi to Allah qayamat ke din un me faisla kar dega jis baat me jhagar rahe hain -
(ف200)شان نزول: نجران کے نصارٰی کا وفد سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو علمائے یہود آئے اور دونوں میں مناظرہ شروع ہوگیا آوازیں بلند ہوئیں شور مچا یہود نے کہا کہ نصارٰی کا دین کچھ نہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام اور انجیل شریف کا انکار کیا اسی طرح نصاریٰ نے یہود سے کہا کہ تمہارا دین کچھ نہیں اور توریت شریف و حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انکار کیا اس باب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف201)یعنی باوجود علم کے انہوں نے ایسی جاہلانہ گفتگو کی حالانکہ انجیل شریف جس کو نصاریٰ مانتے ہیں اس میں توریت شریف اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق ہے اسی طرح توریت جس کو یہودی مانتے ہیں اس میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نبوت اور ان تمام احکام کی تصدیق ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے۔(ف202)علمائے اہل کتاب کی طرح ان جاہلوں نے جو نہ علم رکھتے تھے نہ کتاب جیسے کہ بت پرست آتش پرست وغیرہ انہوں نے ہر ایک دین والے کی تکذیب شروع کی اور کہا کہ وہ کچھ نہیں انہیں جاہلوں میں سے مشرکین عرب بھی ہیں جنہوں نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورآپ کے دین کی شان میں ایسے ہی کلمات کہے۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون (ف۲۰۳) جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نام خدا لئے جانے سے (ف۲۰٤) اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے (ف۲۰۵) ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۰٦) اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ۔ (ف۲۰۷)
And who is more unjust than one who prevents the name of Allah being mentioned in the mosques, and strives for their ruin? It did not befit them to enter the mosques except in fear; for them is disgrace in this world, and a terrible punishment in the Hereafter.
और उससे बढ़ कर ज़ालिम कौन जो अल्लाह की मस्जिदों को रोके उनमें नाम-ए-ख़ुदा लिये जाने से और उनकी वीरानी में कोशिश करे उनको न पहुँचता था कि मस्जिदों में जायें मगर डरते हुए उनके लिये दुनिया में रुसवाई है और उनके लिये आख़िरत में बड़ा अज़ाब -
Aur is se barh kar zalim kaun jo Allah ki masajid ko roke un me naam-e-Khuda liye jane se aur un ki weerani me koshish kare unko na pohchta tha ke masajid me jayein magar darte hue un ke liye duniya me ruswai hai aur un ke liye aakhirat me bara azaab -
(ف203)شان نزول: یہ آیت بیت المَقۡدِسۡ کی بے حرمتی کے متعلق نازل ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ روم کے نصرانیوں نے بنی اسرائیل پر فوج کشی کی ان کے مردانِ کار آزما کو قتل کیا ذریت کو قید کیا توریت کو جلایا بیت المقدس کو ویران کیا اس میں نجاستیں ڈالیں خنزیر ذبح کیے معاذ اللہ بیت المقدس خلافت فاروقی تک اسی ویرانی میں رہا آپ کے عہد مبارک میں مسلمانوں نے اس کو بنا کیا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے ابتدائے اسلام میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو کعبہ میں نماز پڑھنے سے روکا تھا اور جنگ حدیبیہ کے وقت اس میں نماز و حج سے منع کیا تھا(ف204)ذکر نماز خطبہ تسبیح وعظ نعت شریف سب کو شامل ہے اور ذکر اللہ کو منع کرنا ہر جگہ برا ہے۔ خاص کر مسجدوں میں جو اسی کام کے لئے بنائی جاتی ہیں مسئلہ: جو شخص مسجد کو ذکر و نماز سے معطل کردے وہ مسجد کا ویران کرنے وا لاا ور بہت ظالم ہے۔(ف205)مسئلہ :مسجد کی ویرانی جیسے ذکر و نماز کے روکنے سے ہوتی ہے ایسے ہی اس کی عمارت کے نقصان پہنچانے اور بے حرمتی کرنے سے بھی۔(ف206)دنیا میں انہیں یہ رسوائی پہنچی کہ قتل کئے گئے گرفتار ہوئے جلا وطن کئے گئے خلافت فاروقی و عثمانی میں ملک شام ان کے قبضہ سے نکل گیا بیت المقدس سے ذلت کے ساتھ نکالے گئے۔(ف207)شان نزول: صحابہ کرام رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اندھیری رات سفر میں تھے جہت قبلہ معلوم نہ ہوسکی ہر ایک شخص نے جس طرف اس کا دل جما نماز پڑھی صبح کو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حال عرض کیا تو یہ آیت نازل ہوئی مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ جہت قبلہ معلوم نہ ہوسکے تو جس طرف دل جمے کہ یہ قبلہ ہے اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھے اس آیت کے شانِ نزول میں دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اس مسافر کے حق میں نازل ہوئی جو سواری پر نفل ادا کرے اس کی سواری جس طرف متوجہ ہوجائے اس طرف اس کی نماز درست ہے بخاری و مسلم کی احادیث سے یہ ثابت ہے ایک قول یہ ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم دیا گیا تو یہود نے مسلمانوں پر طعنہ زنی کی ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی بتایا گیا کہ مشرق مغرب سب اللہ کا ہے جس طرف چاہے قبلہ معین فرمائے کسی کو اعتراض کا کیا حق (خازن)ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت دعا ء کے حق میں وارد ہوئی حضور سے دریافت کیا گیا کہ کس طرف منہ کر کے دعا کی جائے اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ، ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حق سے گریز و فرار میں ہے اور اَیْنَمَا تُوَلُّوْا کا خطاب ان لوگوں کو ہے جو ذکر الٰہی سے روکتے اور مسجدوں کی ویرانی میں سعی کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی رسوائی اور عذاب آخرت سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ مشرق و مغرب سب اللہ کا ہے جہاں بھاگیں گے وہ گرفت فرمائے گا اس تقدیر پر وجہ اللہ کے معنی خدا کا قرب و حضور ہے (فتح) ایک قول یہ بھی ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ اگر کفار خانہء کعبہ میں نماز سے منع کریں تو تمہارے لئے تمام زمین مسجد بنادی گئی ہے جہاں سے چاہو قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو۔
اور پورب و پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے،
And the East and the West, all belong to Allah – so whichever direction you face, there is Allah’s Entity (Allah’s Mercy is directed towards you); indeed Allah is the All Capable, (His powers and reach are limitless), the All Knowing.
और पूरब व पछम सब अल्लाह ही का है तो तुम जिधर मुँह करो उधर वजह-ए-अल्लाह (ख़ुदा की रहमत तुम्हारी तरफ़ मुतवज्जह) है बेशक अल्लाह वुसअत वाला इल्म वाला है,
Aur Poorab o Picham sab Allah hi ka hai to tum jidhar munh karo udhar wajh Allah (Khuda ki rehmat tumhari taraf mutawajjah) hai beshak Allah wus’at wala ilm wala hai,
اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے (ف۲۰۸) بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۲۰۹) سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں،
And they said, “Allah has taken an offspring for Himself” – Purity is to Him! In fact, all that is in the heavens and the earth, is His dominion; all are submissive to Him.
और बोले ख़ुदा ने अपने लिये औलाद रखी पाकी है उसे बल्कि उसी की मिल्क है जो कुछ आसमानों और ज़मीन में है सब उसके हुज़ूर गर्दन डाले हैं,
Aur bole Khuda ne apne liye aulad rakhi paaki hai usay balke usi ki milk hai jo kuch aasmanon aur zameen me hai sab us ke huzoor gardan daale hain,
(ف208)شان نزول: یہود نے حضرت عزیر کو اور نصاریٰ نے حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کہا مشرکین عرب نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بتایا ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی فرمایا سُبْحٰنَہ، وہ پاک ہے اس سے کہ اس کے اولاد ہو اس کی طرف اولاد کی نسبت کرنا اس کو عیب لگانا اور بے ادبی ہے حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے گالی دی میرے لئے اولاد بتائی میں اولاد اور بیوی سے پاک ہوں۔(ف209)اور مملوک ہونا اولاد ہونے کے منافی ہے جب تمام جہان اس کا مملوک ہے ،تو کوئی اولاد کیسے ہوسکتا ہے مسئلہ : اگر کوئی اپنی اولاد کا مالک ہوجائے وہ اسی وقت آزاد ہوجائے گی۔
اور جاہل بولے (ف۲۱۲) اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا (ف۲۱۳) یا ہمیں کوئی نشانی ملے (ف۲۱٤) ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات ان کے انکے دل ایک سے ہیں (ف۲۱۵) بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے ۔ (ف۲۱٦)
And the ignorant people said, “Why does not Allah speak to us, or some sign come to us?” Those before them had also spoken in the same way as they speak; their hearts (and of those before them) are all alike; undoubtedly, We have made the signs clear for the people who have faith.
और जाहिल बोले अल्लाह हमसे क्यों नहीं कलाम करता या हमें कोई निशानी मिले उनसे अगलों ने भी ऐसी ही कही उनकी सी बात इनके उनके दिल एक से हैं बेशक हमने निशानियाँ खोल दीं यक़ीन वालों के लिये -
Aur jahil bole Allah hum se kyon nahi kalaam karta ya humein koi nishani mile in se aglon ne bhi aisi hi kahi un ki si baat, in ke un ke dil ek se hain beshak hum ne nishaniyan khol di yaqeen walon ke liye -
(ف212)یعنی اہل کتاب یا مشرکین۔(ف213)یعنی بے واسطہ خود کیوں نہیں فرماتا جیسا کہ ملائکہ و انبیاء سے کلام فرماتا ہے یہ ان کا کمال تکبر اور نہایت سرکشی تھی، انہوں نے اپنے آپ کو انبیاء و ملائکہ کے برابر سمجھا۔ شان نزول :رافع بن خزیمہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ سے فرمایئے وہ ہم سے کلام کرے ہم خود سنیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف214)یہ ان آیات کا عناداً انکار ہے جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائیں۔(ف215)کوری و نابینائی اور کفروقساوت میں اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکین خاطر فرمائی گئی کہ آپ ان کی سرکشی اور معاندانہ انکار سے رنجیدہ نہ ہوں پچھلے کفار بھی انبیاء کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے۔(ف216)یعنی آیاتِ قرآنی و معجزات باہرات انصاف والے کو سید عالم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا یقین دلانے کے لئے کافی ہیں مگر جو طالب یقین نہ ہو وہ دلائل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا
بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا ۔ (ف۲۱۷)
Undoubtedly, We have sent you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) with the truth, giving glad tidings and conveying warning, and you will not be questioned about the people of hell.
बेशक हमने तुम्हें हक़ के साथ भेजा खुशख़बरी देता और डर सुनाता और तुमसे दोज़ख वालों का सवाल न होगा -
Beshak hum ne tumhein Haq ke sath bheja khush khabri deta aur dar sunata aur tum se dozakh walon ka sawal na hoga -
(ف217)کہ وہ کیوں ایمان نہ لائے اس لئے کہ آپ نے اپنا فرض تبلیغ پورے طور پر ادا فرمادیا۔
اور ہرگز تم سے یہود اور نصاری ٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو (ف۲۱۸) تم فرمادو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۲۱۹) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور نہ مددگار (ف۲۲۰)
And never will the Jews or the Christians be pleased with you, until you follow their religion; say, “The guidance of Allah only is the (true) guidance”; and were you (the followers of this Prophet) to follow their desires after the knowledge has come to you, you would then not have a protector or aide against Allah.
और हरगिज़ तुमसे यहूद और नसारा राज़ी न होंगे जब तक तुम उनके दीन की पैरवी न करो तुम फरमा दो अल्लाह ही की हिदायत हिदायत है और (ऐ सुनने वाले किसी बाशद) अगर तू उनकी ख़्वाहिशों का पैरवी हुआ बाद इसके कि तुझे इल्म आ चुका तो अल्लाह से तेरा कोई बचाने वाला न होगा और न मददगार -
Aur hargiz tum se Yahood aur Nasara razi na honge jab tak tum un ke deen ki pairvi na karo tum farma do Allah hi ki hidayat hidayat hai aur (Aye sunne wale kise bashad) agar tu un ki khwahishon ka pairo hua baad is ke ke tujhe ilm aa chuka to Allah se tera koi bachane wala na hoga aur na madadgar -
(ف218)اور یہ ناممکن کیونکہ وہ باطل پر ہیں۔ (ف219)وہی قابل اتباع ہے اور اس کے سوا ہر ایک راہ باطل و ضلالت ۔(ف220)یہ خطاب امت محمدیہ کو ہے کہ جب تم نے جان لیا کہ سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے پاس حق و ہدایت لائے تو تم ہر گز کفار کی خواہشوں کا اتباع نہ کرنا اگر ایسا کیا تو تمہیں کوئی عذاب الہی سے بچانے والا نہیں ۔(خازن)
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار ہیں ۔ (ف۲۲۱)
Those to whom We have given the Book, read it in the manner it should be read; it is they who believe in it; and those who deny it – it is they who are the losers.
जिन्हें हमने किताब दी है वह जैसी चाहिए उसकी तिलावत करते हैं वही उस पर ईमान रखते हैं और जो उसके मुनकर हों तो वही ज़ियाँकार हैं -
Jinhon ne hum ne kitab di hai woh jaisi chahiye us ki tilawat karte hain wohi us par iman rakhte hain aur jo us ke munkir hon to wohi ziyan kar hain -
(ف221)شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت اہل سفینہ کے باب میں نازل ہوئی جو جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر بارگاہ رسالت ہوئے تھے ان کی تعداد چالیس تھی بتیس اہلِ حبشہ اور آٹھ شامی راہب ان میں بحیر اراہب بھی تھے۔ معنی یہ ہیں کہ درحقیقت توریت شریف پر ایمان لانے والے وہی ہیں جو اس کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں اور بغیر تحریف و تبدیل پڑھتے ہیں اور اس کے معنی سمجھتے اور مانتے ہیں اور اس میں حضور سید کائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت دیکھ کر حضور پر ایمان لاتے ہیں اورجو حضور کے منکر ہوتے ہیں وہ توریت پر ایمان نہیں رکھتے۔
اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا اور وہ جو میں نے اس زمانہ کے سب لوگوں پر تمہیں بڑائی دی ۔
O Descendants of Israel! Remember the favour of Mine which I bestowed upon you and made you superior to all others of your time. (By sending Noble Messengers among you).
ऐ औलाद-ए-याक़ूब याद करो मेरा एहसान जो मैंने तुम पर किया और वह जो मैंने उस ज़माना के सब लोगों पर तुम्हें बढ़ाई दी -
Aye Aulaad-e-Yaqub yaad karo mera ehsan jo maine tum par kiya aur woh jo maine is zamane ke sab logon par tumhein barhai di -
اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے (ف۲۲۲) اور نہ ان کی مدد ہو ۔
And fear the day when no soul will be exchanged for another, nor will they be set free in lieu of compensation, nor will any intercession benefit the disbelievers, nor will they be helped.
और डरो उस दिन से कि कोई जान दूसरे का बदला न होगी और न उसको कुछ लेकर छोड़ें और न काफ़िर को कोई सिफ़ारिश नफ़ा दे और न उनकी मदद हो -
Aur daro us din se ke koi jaan dusre ka badla na hogi aur na us ko kuch le kar chhodein aur na kafir ko koi sifarish naf’a de aur na un ki madad ho -
(ف222)اس میں یہود کارد ہے جو کہتے تھے ہمارے باپ دادا بزرگ گزرے ہیں ہمیں شفاعت کرکے چھڑا لیں گے انہیں مایوس کیا جاتا ہے کہ شفاعت کافر کے لئے نہیں
اور جب (ف۲۲۳) ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا (ف۲۲٤) تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں (ف۲۲۵) فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا ۔ (ف۲۲٦)
And (remember) when Ibrahim’s (Abraham’s) Lord tested him in some matters and he fulfilled them; He said, “I am going to appoint you as a leader for mankind”; invoked Ibrahim, “And of my offspring”; He said, “My covenant does not include the unjust (wrong-doers).”
और जब इब्राहीम को उसके रब ने कुछ बातों से आज़माया तो उसने वह पूरी कर दिखायीं फरमाया मैं तुम्हें लोगों का पेशवा बनाने वाला हूँ अर्ज़ की और मेरी औलाद से फरमाया मेरा अहद ज़ालिमों को नहीं पहुँचता -
Aur jab Ibrahim ko us ke Rab ne kuch baton se aazmaya to us ne woh poori kar dikhai farmaaya main tumhein logon ka peshwa banane wala hoon arz ki aur meri aulaad se farmaaya mera ahad zalimon ko nahi pohchta -
(ف223)حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت سرزمین اہواز میں بمقام سوس ہوئی پھر آپ کے والد آپ کو بابل ملک نمرود میں لے آئے یہود و نصاریٰ و مشرکین عرب سب آپ کے فضل و شرف کے معترف اور آپ کی نسل میں ہونے پر فخر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے وہ حالات بیان فرمائے جن سے سب پر اسلام کا قبو ل کرنا لازم ہوجاتا ہے کیونکہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے آپ پر واجب کیں وہ اسلام کے خصائص میں سے ہیں۔(ف224)خدائی آزمائش یہ ہے کہ بندے پر کوئی پابندی لازم فرما کر دوسروں پر اس کے کھرے کھوٹے ہونے کا اظہار کردے۔(ف225)جو باتیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام پر آزمائش کے لئے واجب کی تھیں ان میں مفسرین کے چند قول ہیں قتادہ کا قول ہے کہ وہ مناسکِ حج ہیں مجاہد نے کہا اس سے وہ دس چیزیں مراد ہیں جو اگلی آیات میں مذکور ہیں حضرت ابن عباس کا ایک قول یہ ہے کہ وہ دس چیزیں یہ ہیں۔(۱) مونچھیں کتروانا۔(۲) کلی کرنا (۳) ناک میں صفائی کے لئے پانی استعمال کرنا (۴)مسواک کرنا (۵) سر میں مانگ نکالنا (۶) ناخن ترشوانا (۷) بغل کے بال دور کرنا (۸) موئے زیر ناف کی صفائی(۹) ختنہ (۱۰) پانی سے استنجا کرنا۔ یہ سب چیزیں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر واجب تھیں اور ہم پر ان میں سے بعض واجب ہیں بعض سنت۔(ف226)مسئلہ : یعنی آپ کی اولاد میں جو ظالم (کافر) ہیں وہ امامت کا منصب نہ پائیں گے مسئلہ اس سے معلوم ہوا کہ کافر مسلمانوں کا پیشوا نہیں ہوسکتا اور مسلمانوں کو اس کا اتباع جائز نہیں۔
اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو (ف۲۲۷) لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا (ف۲۲۸) اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ (ف۲۲۹) اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے ۔
And remember when We made this House (at Mecca) a recourse for mankind and a sanctuary; and take the place where Ibrahim stood, as your place of prayer; and We imposed a duty upon Ibrahim and Ismail (Ishmael), to fully purify My house for those who go around it, and those who stay in it (for worship), and those who bow down and prostrate themselves.
और (याद करो) जब हमने इस घर को लोगों के लिये मरजअ और अमान बनाया और इब्राहीम के खड़े होने की जगह को नमाज़ का मक़ाम बनाओ और हमने ताकीद फरमाई इब्राहीम व इस्माईल को कि मेरा घर खूब सुथरा करो तवाफ़ करने वालों और एतिकाफ़ वालों और रुकू व सजूद वालों के लिये -
Aur (yaad karo) jab hum ne is ghar ko logon ke liye marja’ aur amaan banaya aur Ibrahim ke khade hone ki jagah ko namaz ka maqam banao aur hum ne takeed farmayi Ibrahim o Ismail ko ke mera ghar khoob suthra karo tawaf karne walon aur aitikaaf walon aur ruku’ o sujood walon ke liye -
(ف227)بیت سے کعبہ شریف مراد ہے اور اس میں تمام حرم شریف داخل ۔ (ف228)امن بنانے سے یہ مراد ہے کہ حرم کعبہ میں قتل و غارت حرام ہے یا یہ کہ وہاں شکار تک کو امن ہے یہاں تک کہ حرم شریف میں شیر بھیڑیے بھی شکار کا پیچھا نہیں کرتے چھوڑ کر لوٹ جاتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مومن اس میں داخل ہو کر عذاب سے مامون ہوجاتا ہے حرم کو حرم اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں قتل ظلم شکار حرام و ممنوع ہے۔ (احمدی) اگر کوئی مجرم بھی داخل ہوجائے تو وہاں اس سے تعرض نہ کیا جائے گا۔(مدارک) (ف229)مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ معظمہ کی بنا فرمائی اور اس میں آپ کے قدم مبارک کا نشان تھا اس کو نماز کا مقام بنانے کا امر استحباب کے لئے ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ اس نماز سے طواف کی دو رکعتیں مراد ہیں۔ ( احمدی وغیرہ)
اور جب عرض کی ابراہیم نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں (ف۲۳۰) فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی ۔
And (remember) when Ibrahim prayed, “My Lord! Make this city a place of security and bestow upon its people various fruits as providence – for those among them who believe in Allah and the Last Day (of Resurrection)”; He answered, “And whoever disbelieves, I shall provide him also some subsistence and then compel him towards the punishment of fire (hell); and that is a wretched place to return.”
और जब अर्ज़ की इब्राहीम ने कि ऐ मेरे रब इस शहर को अमान वाला कर दे और उसके रहने वालों को तरह-तरह के फलों से रोज़ी दे जो उनमें से अल्लाह और पिछले दिन पर ईमान लायें फरमाया और जो काफ़िर हुआ थोड़ा बरतने को उसे भी दूँगा फिर उसे अज़ाब-ए-दोज़ख की तरफ़ मजबूर कर दूँगा और बहुत बुरी जगह है पलटने की -
Aur jab arz ki Ibrahim ne ke aye mere Rab is shahr ko amaan wala kar de aur is ke rehne walon ko tarah tarah ke phalon se rozi de jo un me se Allah aur pichhle din par iman laye farmaaya aur jo kafir hua thoda bartane ko use bhi doonga phir use azaab-e-dozakh ki taraf majboor kar doonga aur bohot buri jagah hai paltne ki -
(ف230)چونکہ امامت کے باب میں لَایَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمیْنَ ارشاد ہوچکا تھا اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس دعا میں مومنین کو خاص فرمایا اور یہی شان ادب تھی اللہ تعالیٰ نے کرم کیا دعا قبول فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ رزق سب کو دیا جائے گا مومن کو بھی کافر کو بھی لیکن کافر کا رزق تھوڑا ہے یعنی صرف دنیوی زندگی میں وہ بہرہ مند ہوسکتا ہے۔
اور جب اٹھاتا تھا ابراہیم اس گھر کی نیویں اور اسماعیل یہ کہتے ہوئے اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما (ف۲۳۱) بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا ،
And (remember) when Ibrahim was raising the foundations of the House, along with Ismail; (saying), “Our Lord! Accept it from us; indeed You only are the All Hearing, the All Knowing.”
और जब उठाता था इब्राहीम इस घर की नींवें और इस्माईल यह कहते हुए ऐ रब हमारे हमसे क़बूल फरमा बेशक तू ही है सुनता जानता,
Aur jab uthata tha Ibrahim is ghar ki niwein aur Ismail ye kehte hue aye Rab hamare hum se qubool farma beshak tu hi hai sunta janta,
(ف231)پہلی مرتبہ کعبہ معظمہ کی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام نے رکھی اور بعد طوفانِ نوح پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی بنیاد پر تعمیر فرمائی یہ تعمیر خاص آپ کے دستِ مبارک سے ہوئی اس کے لئے پتھر اٹھا کر لانے کی خدمت و سعادت حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو میسر ہوئی دونوں حضرات نے اس وقت یہ دعا کی کہ یارب ہماری یہ طاعت و خدمت قبول فرما۔
اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا (ف۲۳۲) اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما (ف۲۳۳) بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔
“Our Lord! And make us submissive towards you and from our offspring a nation obedient to You – and show us the ways of our worship, and incline towards us with Your mercy; indeed You only are the Most Acceptor of Repentance, the Most Merciful.”
ऐ रब हमारे और कर हमें तेरे हुज़ूर गर्दन रखने वाला और हमारी औलाद में से एक उम्मत तेरी फ़रमाँबरदार और हमें हमारी इबादत के क़ायदे बता और हम पर अपनी रहमत के साथ रजू फरमा बेशक तू ही है बहुत तौबा क़बूल करने वाला मेहरबान।
Aye Rab hamare aur kar humein tere huzoor gardan rakhne wala aur hamari aulaad me se ek ummat teri farmanbardaar aur humein hamari ibadat ke qaide bata aur hum par apni rehmat ke sath rujoo’ farma beshak tu hi hai bohot tauba qubool karne wala meharbaan.
(ف232)وہ حضرات اللہ تعالیٰ کے مطیع و مخلص بندے تھے پھر بھی یہ دعا اس لئے ہے کہ طاعت و اخلاص میں اور زیادہ کمال کی طلب رکھتے ہیں ذوق طاعت سیر نہیں ہوتا ۔ سبحان اللہ ؎ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست ۔(ف233)حضرت ابراہیم واسمٰعیل علیہما السلام معصوم ہیں آپ کی طرف سے تو یہ تواضع ہے اور اللہ والوں کے لئے تعلیم ہے مسئلہ کہ یہ مقام قبول دُعا ہے اور یہاں دعا و توبہ سنت ابراہیمی ہے۔
اے رب ہمارے اور بھیج ان میں (ف۲۳٤) ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب (ف۲۳۵) اور پختہ علم سکھائے (ف۲۳٦) اور انہیں خوب ستھرا فرمادے (ف۲۳۷) بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا ۔
“Our Lord! And send towards them a Noble Messenger, from amongst them, to recite to them Your verses, and to instruct them in Your Book and sound wisdom*, and to fully purify them; indeed You only are the Almighty, the Wise.” (The traditions of the Holy Prophet – sunnah and hadith – are called wisdom.)
ऐ रब हमारे और भेज उनमें एक रसूल उन्हें में से कि उन पर तेरी आयतें तिलावत फरमाये और उन्हें तेरी किताब और पुख़्ता इल्म सिखाये और उन्हें खूब सुथरा फरमा दे बेशक तू ही है ग़ालिब हिकमत वाला -
Aye Rab hamare aur bhej un me ek Rasool unhi me se ke un par teri aayatein tilawat farmaye aur unhein teri kitab aur pukhta ilm sikhaye aur unhein khoob suthra farma de beshak tu hi hai ghaalib hikmat wala -
(ف234)یعنی حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل کی ذریت میں یہ دُعا سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تھی یعنی کعبہ معظمہ کی تعمیر کی عظیم خدمت بجالانے اور توبہ و استغفار کرنے کے بعد حضرت ابراہیم و اسمٰعیل نے یہ دعا کی کہ یارب اپنے محبو ب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہماری نسل میں ظاہر فرما اور یہ شرف ہمیں عنایت کر یہ دعا قبول ہوئی اور ان دونوں صاحبوں کی نسل میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کوئی نبی نہیں ہوا اولاد حضرت ابراہیم میں باقی انبیاء حضرت اسحٰق کی نسل سے ہیں۔ مسئلہ : سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا میلاد شریف خود بیان فرمایا امام بغوی نے ایک حدیث روایت کی کہ حضور نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا بحالیکہ حضرت آدم کے پتلہ کا خمیر ہورہا تھا میں تمہیں اپنے ابتدائے حال کی خبر دوں میں دعائے ابراہیم ہوں بشارت عیسیٰ ہوں اپنی والدہ کی اس خواب کی تعبیر ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھی اور ان کے لئے ایک نور ساطع ظاہر ہوا جس سے ملک شام کے ایوان و قصور اُن کے لئے روشن ہوگئے اس حدیث میں دعائے ابراہیم سے یہی دعا مراد ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور آخر زمانہ میں حضور سید انبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا الحمد للہ علیٰ احسانہ (جمل و خازن)(ف235)اس کتاب سے قرآن پاک اور اس کی تعلیم سے اس کے حقائق و معانی کا سکھانا مراد ہے۔(ف236)حکمت کے معنی میں بہت اقوال ہیں بعض کے نزدیک حکمت سے فقہ مراد ہے قتادہ کا قول ہے کہ حکمت سنت کا نام ہے بعض کہتے ہیں کہ حکمت علم احکام کو کہتے ہیں خلاصہ یہ کہ حکمت علم اسرار ہے۔(ف237)ستھرا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ لوح نفوس وارواح کو کدورات سے پاک کرکے حجاب اٹھاویں اور آئینہ استعداد کی جلا فرما کر انہیں اس قابل کردیں کہ ان میں حقائق کی جلوہ گری ہوسکے ۔
اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے (ف۲۳۸) سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا (ف۲۳۹) اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے ۔ (ف۲٤۰)
And who will renounce the religion of Ibrahim except him who is a fool at heart? We indeed chose him (Ibrahim) in this world; and indeed in the Hereafter he is among those worthy of being closest to Us.
और इब्राहीम के दीन से कौन मुँह फेरे सिवा उसके जो दिल का अहमक़ है और बेशक ज़रूर हमने दुनिया में उसे चुन लिया और बेशक वह आख़िरत में हमारे ख़ास क़ुर्ब की क़ाबिलियत वालों में है -
Aur Ibrahim ke deen se kaun munh phere siwa us ke jo dil ka ahmaq hai aur beshak zaroor hum ne duniya me use chun liya aur beshak woh aakhirat me hamare khaas qurb ki qabiliyat walon me hai -
(ف238)شا ن نزول: علماء یہود میں سے حضرت عبداللہ بن سلام نے اسلام لانے کے بعد اپنے دو بھتیجوں مہاجر و سلمہ کو اسلام کی دعوت دی اور ان سے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں فرمایا ہے کہ میں اولاد اسمٰعیل سے ایک نبی پیدا کروں گا جن کا نام احمد ہوگا جو ان پر ایمان لائے گا راہ یاب ہوگا اور جو ایمان نہ لائے گا ملعون ہے،یہ سن کر سلمہ ایمان لے آئے اور مہاجر نے اسلام سے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ظاہر کردیا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود اس رسول معظم کے مبعوث ہونے کی دعا فرمائی تو جواُن کے دین سے پھرے وہ حضرت ابراہیم کے دین سے پھرا اس میں یہود و نصاری و مشرکین عرب پر تعریض ہے جو اپنے آپ کو افتخاراً حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے تھے جب ان کے دین سے پھر گئے تو شرافت کہاں رہی۔(ف239)رسالت و خلّت کے ساتھ رسول و خلیل بنایا۔(ف240)جن کے لئے بلند درجے ہیں تو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کرامت دارین کے جامع ہیں تو ان کی طریقت و ملت سے پھرنے والا ضرور نادان و احمق ہے۔
اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان ۔
And Ibrahim willed the same religion upon his sons, and also did Yaqub (Jacob); (saying), “O my sons – indeed Allah has chosen this religion for you; therefore do not die except as Muslims (those who submit to Him).”
और उसी दीन की वसियत की इब्राहीम ने अपने बेटों को और याक़ूब ने कि ऐ मेरे बेटो! बेशक अल्लाह ने यह दीन तुम्हारे लिये चुन लिया तो न मरना मगर मुसलमान -
Aur isi deen ki wasiyyat ki Ibrahim ne apne beton ko aur Yaqub ne ke aye mere beto! beshak Allah ne ye deen tumhare liye chun liya to na marna magar Musalman -
بلکہ تم میں کے خود موجود تھے (ف۲٤۱) جب یعقوب کو موت آئی جبکہ اس اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کرو گے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابراہیم و اسماعیل (ف۲٤۲) و اسحاق کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں،
In fact, some of you yourselves were present when death approached Yaqub and when he said to his sons, “What will you worship after me?” They said, “We shall worship Him Who is your God, and is the God of your fathers, Ibrahim and Ismail and Ishaq (Isaac) – the One God; and to Him we have submitted ourselves.”
बल्कि तुम में के खुद मौजूद थे जब याक़ूब को मौत आयी जबकि उसने अपने बेटों से फरमाया मेरे बाद किसकी पूजा करोगे बोले हम पूजेंगे उसे जो ख़ुदा है आपका और आपके आंबा इब्राहीम व इस्माईल व इसहाक़ का एक ख़ुदा और हम उसके हुज़ूर गर्दन रखे हैं,
Balke tum me ke khud maujood the jab Yaqub ko maut aayi jabke us ne apne beton se farmaaya mere baad kis ki pooja karoge bole hum poojenge use jo Khuda hai aap ka aur aap ke aaba Ibrahim o Ismail o Ishaq ka ek Khuda aur hum us ke huzoor gardan rakhe hain,
(ف241)شان نزول: یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی وفات کے روز اپنی اولاد کو یہودی رہنے کی وصیت کی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کے اس بہتان کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی ۔(خازن) معنیٰ یہ ہیں کہ اے بنی اسرائیل تمہارے پہلے لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کے آخر وقت ان کے پاس موجود تھے جس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلا کر اُن سے اسلام و توحید کا اقرا رلیا تھا اور یہ اقرار لیا تھا جو آیت میں مذکور ہے۔(ف242)حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو حضرت یعقوب علیہ السلام کے آباء میں داخل کرنا تو اس لئے ہے کہ آپ ان کے چچا ہیں اور چچا بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے اور آپ کا نام حضرت اسحاق علیہ السلام سے پہلے ذکر فرمانا دووجہ سے ہے ایک تو یہ کہ آپ حضرت اسحاق علیہ السلام سے چودہ سال بڑے ہیں دوسرے اس لئے کہ آپ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد ہیں۔
اور کتابی بولے (ف۲٤۵) یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤ گے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے ۔ (ف۲٤٦)
And the People given the Book(s) said, “Become Jews or Christians – you will attain the right path”; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “No – rather we take the religion of Ibrahim, who was far removed from all falsehood; and was not of the polytheists.”
और किताबी बोले यहूदी या नसारा हो जाओ राह पाओगे तुम फरमाओ बल्कि हम तो इब्राहीम का दीन लेते हैं जो हर बातिल से जुदा थे और मुशरिकों से न थे -
Aur kitabi bole Yahudi ya Nasrani ho jao raah paoge tum farmaon balke hum to Ibrahim ka deen lete hain jo har baatil se juda the aur mushrikon se na the -
(ف245)شان نزول :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت رؤساء یہود اور نجران کے نصرانیوں کے جواب میں نازل ہوئی یہودیوں نے تو مسلمانوں سے یہ کہا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام انبیاء میں سب سے افضل ہیں اور توریت تمام کتابوں سے افضل ہے اور یہودی دین تمام ادیان سے اعلیٰ ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے حضرت سید کائنات محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انجیل شریف و قرآن شریف کے ساتھ کفر کرکے مسلمانوں سے کہا تھا کہ یہودی بن جاؤ اسی طرح نصرانیوں نے بھی اپنے ہی دین کو حق بتا کر مسلمانوں سے نصرانی ہونے کو کہا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف246)اس میں یہود و نصاریٰ وغیرہ پر تعریض ہے کہ تم مشرک ہو اس لئے ملت ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ جو تم کرتے ہو وہ باطل ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو خطاب فرمایا جاتا ہے۔ کہ وہ ان یہودو نصاریٰ سے یہ کہ دیں قُوْلُوْۤآ اٰمَنَّا اَ لْاٰیَۃَ ۔
یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں ۔
Say, “We believe in Allah and what is sent down to us and what was sent down to Ibrahim, and Ismael, and Ishaq, and Yaqub, and to their offspring, and what was bestowed upon Moosa and Eisa (Jesus), and what was bestowed upon other Prophets – from their Lord; we do not make any distinction, in belief, between any of them; and to Allah we have submitted ourselves.”
यूँ कहो कि हम ईमान लाये अल्लाह पर उस पर जो हमारी तरफ़ उतरा और जो उतारा गया इब्राहीम व इस्माईल व इसहाक़ व याक़ूब और उनकी औलाद पर और जो अता किये गये मूसा व ईसा और जो अता किये गये बाकी अन्बिया अपने रब के पास से हम उन पर ईमान में फ़र्क़ नहीं करते और हम अल्लाह के हुज़ूर गर्दन रखे हैं -
Yun kaho ke hum iman laye Allah par us par jo hamari taraf utra aur jo utara gaya Ibrahim o Ismail o Ishaq o Yaqub aur un ki aulaad par aur jo ata kiye gaye Musa o Isa aur jo ata kiye gaye baaqi Anbiya apne Rab ke paas se hum un par iman me farq nahi karte aur hum Allah ke huzoor gardan rakhe hain -
پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں (ف۲٤۷) تو اے محبوب! عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا ۔ (ف۲٤۸)
And if they believe in the same way you have believed, they have attained guidance; and if they turn away, they are clearly being stubborn; so Allah will soon suffice you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) against them; and He only is the All Hearing, the All Knowing.
फिर अगर वह भी यूँही ईमान लाये जैसा तुम लाये जब तो वह हिदायत पा गये और अगर मुँह फेरीं तो वह नरी ज़िद में हैं तो ऐ महबूब! अन्क़रीब अल्लाह उनकी तरफ़ से तुम्हें किफ़ायत करेगा और वही है सुनता जानता -
Phir agar woh bhi yunhi iman laye jaisa tum laye jab to woh hidayat pa gaye aur agar munh pheren to woh niri zid me hain to aye Mehboob! anqareeb Allah un ki taraf se tumhein kifayat karega aur wahi hai sunta janta -
(ف247)اور ان میں طلب حق کا شائبہ بھی نہیں۔(ف248)یہ اللہ کی طرف سے ذمہ ہے کہ وہ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غلبہ عطا فرمائے گا اور اس میں غیب کی خبر ہے کہ آئندہ حاصل ہونے والی فتح و ظفر کا پہلے سے اظہار فرمایا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ذمہ پورا ہوا اور یہ غیبی خبر صادق ہو کر رہی کفار کے حسد و عناد اور ان کے مکائد سے حضور کو ضرر نہ پہنچا حضور کی فتح ہوئی بنی قُرَیْظَہ قتل ہوئے بنی نُضَیْر جلا وطن کئے گئے یہود ونصاریٰ پر جزیہ مقرر ہوا۔
ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی) لی (ف۲٤۹) اور اللہ سے بہتر کس کی رینی؟ (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں،
“We have taken the colour (religion) of Allah; and whose colour (religion) is better than that of Allah? And only Him do we worship.”
हमने अल्लाह की रेनी (रंगाई) ली और अल्लाह से बेहतर किसकी रेनी? (रंगाई) और हम उसी को पूजते हैं,
Hum ne Allah ki reeni (rangai) li aur Allah se behtar kis ki reeni? (rangai) aur hum usi ko poojte hain,
(ف249)یعنی جس طرح رنگ کپڑے کے ظاہر وباطن میں نفوذ کرتا ہے اس طرح دینِ الہٰی کے اعتقادات حقہ ہمارے رگ و پے میں سما گئے ہمارا ظاہر و باطن قلب و قالب اس کے رنگ میں رنگ گیا ہمارا رنگ ظاہری رنگ نہیں جو کچھ فائدہ نہ دے بلکہ یہ نفوس کو پاک کرتا ہے۔ ظاہر میں اس کے آثار اوضاع و افعال سے نمو دار ہوتے ہیں نصاریٰ جب اپنے دین میں کسی کو داخل کرتے یا ان کے یہا ں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو پانی میں زرد رنگ ڈال کر اس میں اس شخص یا بچہ کو غوطہ دیتے اور کہتے کہ اب یہ سچا نصرانی ہوا اس کا اس آیت میں رد فرمایا کہ یہ ظاہری رنگ کسی کام کا نہیں ۔
تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو (ف۲۵۰) حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی (ف۲۵۱) اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نرے اسی کے ہیں ۔ (ف۲۵۲)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “What! You dispute with us concerning Allah, whereas He is our Lord and also yours? Our deeds are with us and with you are your deeds; and only to Him do we sincerely belong.”
तुम फरमाओ अल्लाह के बारे में झगड़ते हो हालाँकि वह हमारा भी मालिक है और तुम्हारा भी और हमारी करनी (हमारे आमाल) हमारे साथ और तुम्हारी करनी (तुम्हारे आमाल) तुम्हारे साथ और हम निरे उसी के हैं -
Tum farmaon Allah ke bare me jhagar rahe ho halanke woh hamara bhi Maalik hai aur tumhara bhi aur hamari karni (hamare a’maal) hamare sath aur tumhari karni (tumhare a’maal) tumhare sath aur hum nire usi ke hain -
(ف250)شان نزول :یہود نے مسلمانوں سے کہا ہم پہلی کتاب والے ہیں ہمارا قبلہ پرانا ہے ہمارا دین قدیم ہے انبیاء ہم میں سے ہوئے ہیں اگر سید عالم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی ہوتے تو ہم میں سے ہی ہوتے اس پر یہ آیہ ء کریمہ نازل ہوئی۔(ف251)اسے اختیار ہے کہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے نبی بنائے عرب میں سے ہو یا دوسروں میں سے۔(ف252)کسی دوسرے کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں کرتے اور عبادت و طاعت خالص اسی کے لئے کرتے ہیں تو ہم مستحق اکرام ہیں ۔
بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو (ف۲۵۳) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے (ف ۲۵٤) اور خدا تمہارے کوتکوں (برے اعمال) سے بےخبر نہیں ۔
“In fact you claim that Ibrahim, and Ismail, and Ishaq, and Yaqub, and their offspring were Jews or Christians”; say, “Do you know better, or does Allah?”; and who is more unjust than one who has the testimony from Allah and he hides it? And Allah is not unaware of your deeds.
बल्कि तुम यों कहते हो कि अब्राहीमؑ व इस्माईलؑ व इसहाकؑ व याकूबؑ और उनके बेटे यहूदी या नसरानी थे, तुम फरमाओ क्या तुम्हें इल्म ज़्यादा है या अल्लाह को और उस से बढ़ कर ज़ालिम कौन जिसके पास अल्लाह की तरफ़ की गवाही हो और वह उसे छुपाए और ख़ुदा तुम्हारे कोतकौं (बुरे आमाल) से बेख़बर नहीं -
Balki tum yun kehte ho ke Ibraheem (A.S.) o Ismaeel (A.S.) o Ishaaq (A.S.) o Yaqoob (A.S.) aur un ke betay Yahudi ya Nasrani thay, tum farmaao kya tumhein ilm zyada hai ya Allah ko aur is se barh kar zalim kaun jiske paas Allah ki taraf ki gawahi ho aur woh use chhupaye aur Khuda tumhare kotkon (bure a’maal) se be khabar nahi -
(ف253)اس کا قطعی جواب یہی ہے کہ اللہ ہی اعلم ہے تو جب اس نے فرمایا : مَاکَانَ اِبْرَاھِیْمُ یَھُوْدِیًّاوَّلَا نَصْرَانِیًّا"تو تمہارا یہ قول باطل ہوا۔(ف254)یہ یہود کا حال ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شہادتیں چھپائیں جو توریت شریف میں مذکور تھیں کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے نبی ہیں اور ان کے یہ نعت و صفات ہیں اور حضرت ابراہیم مسلمان ہیں اوردین مقبول اسلام ہے نہ یہودیّت و نصرانیت۔
وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔
They were a group that has passed away; for them is what they earned, and for you is what you earn; and you will not be questioned about their deeds.
वह एक गिरोह है कि गुज़र गया उनके लिये उनकी कमाई और तुम्हारे लिये तुम्हारी कमाई और उनके कामों की तुम से पर्सिश न होगी।
Woh ek groh hai ke guzar gaya un ke liye un ki kamai aur tumhare liye tumhari kamai aur un ke kaamon ki tum se pursish na ho gi.
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page