اب کہیں گے (ف ۲۵۵) بیوقوف لوگ، کس نے پھیردیامسلمانوں کو، ان کے اس قبلہ سے، جس پر تھے (ف۲۵٦) تم فرمادو کہ پورب پچھم (مشرق مغرب) سب اللہ ہی کا ہے (ف۲۵۷) جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔
So now the foolish people will say, “What has turned the Muslims away from the qiblah (prayer direction) which they formerly observed?”; proclaim, “To Allah only belong the East and the West; He guides whomever He wills upon the Straight Path.”
अब कहेंगे बेवक़ूफ़ लोग, किस ने फेर दिया मुसलमानों को, उनके उस क़िबला से, जिस पर थे तुम फरमा दो कि पूरब पच्छिम (मशरिक मग़रिब) सब अल्लाह ही का है जिसे चाहे सीधी राह चलाता है ।
Ab kahenge baiwaqoof log, kis ne pher diya Musalmanon ko, un ke is qibla se, jis par thay tum farma do ke poorab picham (mashriq maghrib) sab Allah hi ka hai jise chahe seedhi raah chalata hai.
(ف255)شان نزول :یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جب بجائے بیت المقدس کے کعبہ معظمہ کو قبلہ بنایا گیا اس پر انہوں نے طعن کئے کیونکہ یہ انہیں ناگوار تھا اور وہ نسخ کے قائل نہ تھے ایک قول پر یہ آیت مشرکین مکّہ کے اور ایک قول پر منافقین کے حق میں نازل ہوئی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے کفار کے یہ سب گروہ مراد ہوں کیونکہ طعن و تشنیع میں سب شریک تھے اور کفار کے طعن کرنے سے قبل قرآن پاک میں اس کی خبر دے دینا غیبی خبروں میں سے ہے طعن کرنے والوں کو بے وقوف اس لئے کہا گیا کہ وہ نہایت واضح بات پر معترض ہوئے باوجودیکہ انبیاء سابقین نے نبی آخر الزماں کے خصائص میں آپ کا لقب ذوالقبلتین ذکر فرمایا اور تحویل قبلہ اس کی دلیل ہے کہ یہ وہی نبی ہیں جن کی پہلے انبیاء خبر دیتے آئے ایسے روشن نشان سے فائدہ نہ اٹھانا اور معترض ہونا کمال حماقت ہے۔(ف256)قبلہ اس جہت کو کہتے ہیں جس طرف آدمی نماز میں منہ کرتا ہے یہاں قبلہ سے بیت المقدس مراد ہے۔(ف257)اسے اختیار ہے جسے چاہے قبلہ بنائے کسی کو کیا جائے اعتراض بندے کا کام فرماں برداری ہے۔
اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو (ف۲۵۸) اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ (ف۲۵۹) اور اے محبوب! تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ (ف۲٦۰) اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر، جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے (ف۲٦۱) بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔
And so it is that We have made you the best nation* for you are witnesses** against mankind, and the Noble Messenger is your guardian and your witness; and (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) We had appointed the qiblah which you formerly observed only to see (test) who follows the Noble Messenger, and who turns away; and it was indeed hard except for those whom Allah guided; and it does not befit Allah’s Majesty to waste your faith! Indeed Allah is Most Compassionate, Most Merciful towards mankind. (* The best Ummah is that of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him. ** The Holy Prophet is a witness from Allah.)
और बात यों ही है कि हम ने तुम्हें किया सब उम्मतों में अफ़ज़ल, कि तुम लोगों पर गवाह हो और ये रसूल तुम्हारे निगहबान व गवाह और ऐ महबूब! तुम पहले जिस क़िबला पर थे हम ने वह इसी लिये मुक़र्रर किया था कि देखें कौन रसूल की पैरवी करता है और कौन उल्टे पाँव फिर जाता है। और बेशक ये भारी थी मगर उन पर, जिन्हे अल्लाह ने हिदायत की और अल्लाह की शान नहीं कि तुम्हारा ईमान अकारत करे बेशक अल्लाह आदमियों पर बहुत मेहरबान, रहम वाला है ।
Aur baat yun hi hai ke hum ne tumhein kiya sab ummaton mein afzal, ke tum logon par gawah ho aur ye Rasool tumhare nighebaan o gawah aur aye mehboob! tum pehle jis qibla par thay hum ne woh isi liye muqarrar kiya tha ke dekhein kaun Rasool ki pairwi karta hai aur kaun ulte paon phir jata hai. Aur beshak ye bhaari thi magar un par jinhein Allah ne hidayat ki aur Allah ki shaan nahi ke tumhara imaan akarat kare beshak Allah aadmiyon par bohot meherbaan, reham wala hai.
(ف258)دنیاو آخرت میں مسئلہ: دنیا میں تو یہ کہ مسلمان کی شہادت مومن کافر سب کے حق میں شرعاً معتبر ہے اور کافر کی شہادت مسلمان پر معتبر نہیں۔ مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس امت کا اجماع حجت لازم القبول ہے مسئلہ: اموات کے حق میں بھی اس امت کی شہادت معتبر ہے رحمت و عذاب کے فرشتے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں صحاح کی حدیث میں ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک جنازہ گزرا صحابہ نے اس کی تعریف کی حضور نے فرمایا واجب ہوئی پھر دوسرا جنازہ گزرا صحابہ نے اس کی برائی کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ حضور کیا چیزواجب ہوئی ؟فرمایا: پہلے جنازہ کی تم نے تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوئی دوسرے کی تم نے برائی بیان کی اس کے لئے دوزخ واجب ہوئی تم زمین میں اللہ کے شہداء (گواہ) ہو پھر حضور نے یہ آیت تلاوت فرمائی مسئلہ : یہ تمام شہادتیں صلحاء اُمت اور اہل صدق کے ساتھ خاص ہیں اور ان کے معتبر ہونے کے لئے زبان کی نگہداشت شرط ہے جو لوگ زبان کی احتیاط نہیں کرتے اور بے جا خلاف شرع کلمات ان کی زبان سے نکلتے ہیں اور ناحق لعنت کرتے ہیں صحاح کی حدیث میں ہے کہ روز قیامت نہ وہ شافع ہوں گے نہ شاہد اس اُمت کی ایک شہادت یہ بھی ہے کہ آخرت میں جب تمام اولین و آخرین جمع ہوں گے اور کفار سے فرمایا جائے گا کیا تمہارے پاس میری طرف سے ڈرانے او راحکام پہنچانے والے نہیں آئے تو وہ انکار کریں گے اور کہیں گے کوئی نہیں آیا۔ حضرات انبیاء سے دریافت فرمایا جائے گا وہ عرض کریں گے کہ یہ جھوٹے ہیں ہم نے انہیں تبلیغ کی اس پر اُن سے اِقَامَۃً لِلْحُجَّۃِ دلیل طلب کی جائے گی وہ عرض کریں گے کہ اُمت محمدیہ ہماری شاہد ہے یہ اُمت پیغمبروں کی شہادت دے گی کہ ان حضرات نے تبلیغ فرمائی اس پر گزشتہ اُمت کے کفار کہیں گے اِنہیں کیا معلوم یہ ہم سے بعد ہوئے تھے دریافت فرمایا جائے گا تم کیسے جانتے ہو یہ عرض کریں گے یارب تو نے ہماری طرف اپنے رسول محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا قرآن پاک نازل فرمایا ان کے ذریعے سے ہم قطعی و یقینی طور پر جانتے ہیں کہ حضرات انبیاء نے فرضِ تبلیغ علیٰ وجہ الکمال ادا کیا پھر سید انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے آپ کی امت کی نسبت دریافت فرمایا جائے گا حضور انکی تصدیق فرمائیں گے۔ مسئلہ:اس سے معلوم ہوا کہ اشیاء معروفہ میں شہادت تسامع کے ساتھ بھی معتبر ہے یعنی جن چیزوں کا علمِ یقینی سننے سے حاصل ہو اُس پر بھی شہادت دی جاسکتی ہے۔(ف259)امت کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطلاع کے ذریعہ سے احوال امم و تبلیغ انبیاء کا علم قطعی و یقینی حاصل ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکرم الہٰی نور نبوت سے ہر شخص کے حال اور اس کی حقیقت ایمان اور اعمال نیک و بد اور اخلاص و نفاق سب پر مطلع ہیں مسئلہ : اسی لئے حضور کی شہادت دنیا میں بحکم شرع امت کے حق میں مقبول ہے یہی وجہ ہے کہ حضور نے اپنے زمانہ کے حاضرین کے متعلق جو کچھ فرمایامثلاً:صحابہ و ازواج و اہل بیت کے فضائل و مناقب یا غائبوں اور بعد والوں کے لئے مثل حضرت اویس و امام مہدی وغیرہ کے اس پر اعتقاد واجب ہے مسئلہ : ہر نبی کو ان کی امت کے اعمال پر مطلع کیا جاتا ہے تاکہ روز قیامت شہادت دے سکیں چونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت عام ہوگی اس لئے حضور تمام امتوں کے احوال پر مطلع ہیں فائدہ یہاں شہید بمعنی مطلع بھی ہوسکتا ہے کیونکہ شہادت کا لفظ علم وا طلاع کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی واللّٰہُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ (ف260)سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمپہلے کعبہ کی طرف نماز پڑھتے تھے بعد ہجرت بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا سترہ مہینے کے قریب اس طرف نماز پڑھی پھر کعبہ شریف کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا۔ اس تحویل کی ایک یہ حکمت ارشاد ہوئی کہ اس سے مومن و کافر میں فرق و امتیاز ہوجائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔(ف261)شان نزول بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کے زمانہ میں جن صحابہ نے وفات پائی ان کے رشتہ داروں نے تحویل قبلہ کے بعد ان کی نمازوں کا حکم دریافت کیا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اطمینان دلایا گیا کہ ان کی نمازیں ضائع نہیں ان پر ثواب ملے گا۔ فائدہ نماز کو ایمان سے تعبیر فرمایا گیا کیونکہ اس کی ادا اور بجماعت پڑھنا دلیل ایمان ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا (ف ۲٦۲) تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو (ف۲٦۳) اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے کہ یہ انکے رب کی طرف سے حق ہے (ف۲٦٤) اور اللہ ان کے کوتکوں (اعمال) سے بےخبر نہیں ۔
We observe you turning your face, several times towards heaven (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); so We will definitely make you turn (for prayer) towards a qiblah which pleases you; therefore now turn your face towards the Sacred Mosque (in Mecca); and O Muslims, wherever you may be, turn your faces (for prayer) towards it only; and those who have received the Book surely know that this is the truth from their Lord; and Allah is not unaware of their deeds. (Allah seeks to please the Holy Prophet – peace and blessings be upon him.)
हम देख रहे हैं बार बार तुम्हारा आसमान की तरफ़ मुँह करना तो ज़रूर हम तुम्हें फेर देंगे उस क़िबला की तरफ़ जिस में तुम्हारी ख़ुशी है अभी अपना मुँह फेर दो मस्जिद हराम की तरफ़ और ऐ मुसलमानो! तुम जहाँ कहीं हो अपना मुँह उसी की तरफ़ करो और वह जिन्हे किताब मिली है ज़रूर जानते कि ये उनके रब की तरफ़ से हक़ है और अल्लाह उनके कोतकौं (आमाल) से बेख़बर नहीं -
Hum dekh rahe hain baar baar tumhara aasman ki taraf munh karna to zaroor hum tumhein pher denge is qibla ki taraf jismein tumhari khushi hai abhi apna munh pher do Masjid Haraam ki taraf aur aye Muslamano! tum jahan kahin ho apna munh isi ki taraf karo aur woh jinhein kitaab mili hai zaroor jaante ke ye unke Rab ki taraf se haq hai aur Allah unke kotkon (a’maal) se be khabar nahi -
(ف262)شان نزول :سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کا قبلہ بنایا جانا پسند خاطر تھا اور حضور اس امید میں آسمان کی طرف نظر فرماتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آپ نماز ہی میں کعبہ کی طرف پھر گئے مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ اسی طرف رُخ کیا۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو آپ کی رضا منظور ہے اور آپ ہی کی خاطر کعبہ کو قبلہ بنایا گیا ۔(ف263)اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں روبقبلہ ہونا فرض ہے۔(ف264)کیونکہ ان کی کتابوں میں حضور کے اوصاف کے سلسلہ میں یہ بھی مذکور تھا کہ آپ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھریں گے اور ان کے انبیاء نے بشارتوں کے ساتھ حضور کا یہ نشان بتایا تھا کہ آپ بیت المقدس اور کعبہ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے۔
اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے (ف۲٦۵) اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو (ف ۲٦٦) اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں (ف۲٦۷) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔
And even if you were to bring all the signs to the People given the Book(s), they would not follow your qiblah; nor should you follow their qiblah; nor do they follow each others qiblah; and were you (the followers of this Prophet) to follow their desires after having received knowledge, you would then surely be unjust.
और अगर तुम उन किताबियों के पास हर निशानी ले कर आओ वह तुम्हारे क़िबला की पैरवी न करेंगे और न तुम उनके क़िबला की पैरवी करो और वह आपस में भी एक दूसरे के क़िबला के ताबे नहीं और (ऐ सुनने वाले कसे बाशद) अगर तू उनकी ख़्वाहिशों पर चला बाद इस के कि तुझे इल्म मिल चुका तो उस वक़्त तू ज़रूर सितमगर होगा।
Aur agar tum in kitaabiyon ke paas har nishani le kar aao woh tumhare qibla ki pairwi na karenge aur na tum unke qibla ki pairwi karo aur woh aapas mein bhi ek dusre ke qibla ke tabee nahi aur (aye sunne wale kise baashad) agar tu un ki khwahishon par chala baad is ke ke tujhe ilm mil chuka to us waqt tu zaroor sitamgar hoga.
(ف265)کیونکہ نشانی اس کو نافع ہوسکتی ہے جو کسی شبہ کی وجہ سے منکر ہو یہ تو حسد و عناد سے انکار کرتے ہیں انہیں اس سے کیا نفع ہوگا۔(ف266)معنی یہ ہیں کہ یہ قبلہ منسوخ نہ ہوگا تو اب اہل کتاب کو یہ طمع نہ رکھنا چاہئے کہ آپ ان میں سے کسی کے قبلہ کی طرف رخ کریں گے۔(ف267)ہر ایک کا قبلہ جدا ہے یہود تو صخرہ بیت المقدس کو اپنا قبلہ قرار دیتے ہیں اور نصاریٰ بیت المقدس کے اس مکان شرقی کو جہاں نفخِ روحِ حضرتِ مسیح واقع ہوا۔(فتح)
جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۲٦۸) وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے (۲٦۹) اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں ۔ (ف۲۷۰)
Those to whom We gave the Book(s) recognise the Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) as men (or they) recognise their own sons; and undoubtedly a group among them purposely conceals the truth.
जिन्हे हम ने किताब अता फरमाई वह उस नबी को ऐसा पहचानते हैं जैसे आदमी अपने बेटों को पहचानता है और बेशक उन में एक गिरोह जान बूझ कर हक़ छुपाते हैं -
Jinhein hum ne kitaab ata farmai woh is Nabi ko aisa pehchante hain jaise aadmi apne beton ko pehchanta hai aur beshak un mein ek groh jaan bujh kar haq chhupate hain -
(ف268)یعنی علماء یہود و نصاریٰ(ف269)مطلب یہ ہے کہ کتب سابقہ میں نبی آخر الزماں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف ایسے واضح اور صاف بیان کئے گئے ہیں جن سے علماء اہل کتاب کو حضور کے خاتم الانبیاء ہونے میں کچھ شک و شبہ باقی نہیں رہ سکتا اور وہ حضور کے اس منصب عالی کو اتم یقین کے ساتھ جانتے ہیں احبار یہود میں سے عبداللہ بن سلام مشرف باسلام ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ آیہ ء یَعْرِفُوْنَہ میں جو معرفت بیان کی گئی ہے اس کی کیا شان ہے انہوں نے فرمایا کہ اے عمر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو بے اشتباہ پہچان لیا اور میرا حضور کو پہچاننا اپنے بیٹوں کے پہچاننے سے بدرجہا زیادہ اتم و اکمل ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کیسے انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ حضور اللہ کی طرف سے اس کے بھیجے رسول ہیں ان کے اوصاف اللہ تعالیٰ نے ہماری کتاب توریت میں بیان فرمائے ہیں بیٹے کی طرف سے ایسایقین کس طرح ہو عورتوں کا حال ایسا قطعی کس طرح معلوم ہوسکتا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا سر چوم لیا ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ غیرِ محلِ شہوت میں دینی محبت سے پیشانی چومنا جائز ہے۔(ف270)یعنی توریت و انجیل میں جو حضور کی نعت و صفت ہے علماء اہل کتاب کا ایک گروہ اس کو حسداً و عناداً دیدہ ودانستہ چھپاتا ہے۔ مسئلہ : حق کا چھپانا معصیت و گناہ ہے۔
اور ہر ایک کے لئے توجہ ایک سمعت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تو کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا (ف ۲۷۱) بیشک اللہ جو چاہے کرے ۔
And each one has a direction towards which he inclines, therefore strive to surpass others in good deeds; Allah will bring you all together, wherever you may be; indeed Allah may do as He wills.
और हर एक के लिये तवज्जो एक سمت है कि वह उसी तरफ़ मुँह करता है तो ये चाहो कि नेकियों में औरौं से आगे निकल जायें तो कहीं हो अल्लाह तुम सब को अकठ्ठा ले आयेगा बेशक अल्लाह जो चाहे करे -
Aur har ek ke liye tawajju ek simt hai ke woh isi taraf munh karta hai to ye chaho ke nekion mein auron se aage nikal jao to kahin ho Allah tum sab ko akhatta le aayega beshak Allah jo chahe kare -
(ف271)روز قیامت سب کو جمع فرمائے گا اور اعمال کی جزا دے گا۔
اور جہاں سے آؤ (ف۲۷۲) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ۔
And wherever you come from, turn your face towards the Sacred Mosque; and indeed it is the truth from your Lord; and Allah is not unaware of your deeds.
और जहाँ से आओ अपना मुँह मस्जिद हराम की तरफ़ करो और वह ज़रूर तुम्हारे रब की तरफ़ से हक़ है और अल्लाह तुम्हारे कामों से ग़ाफ़िल नहीं -
Aur jahan se aao apna munh Masjid Haraam ki taraf karo aur woh zaroor tumhare Rab ki taraf se haq hai aur Allah tumhare kaamon se ghaafil nahi -
(ف272)یعنی خواہ کسی شہر سے سفر کے لئے نکلو نماز میں اپنا منہ مسجد حرام (کعبہ) کی طرف کرو۔
اور اے محبوب تم جہاں سے آؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے (ف۲۷۳) مگر جو ان میں ناانصافی کریں (ف۲۷٤) تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ، (۱۵۰)
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) wherever you come from, turn your face towards the Sacred Mosque; and wherever you may be, O Muslims, turn your faces towards it only, so that people may not have an argument against you – except those among them who do injustice; therefore do not fear them, and fear Me; and this is in order that I complete My favour upon you and that you may attain guidance. –
और ऐ महबूब तुम जहाँ से आओ अपना मुँह मस्जिद हराम की तरफ़ करो और ऐ मुसलमानो! तुम जहाँ कहीं हो अपना मुँह उसी की तरफ़ करो कि लोगों को तुम पर कोई हुज्जत न रहे मगर जो उन में नाइंसाफ़ी करें तो उन से न डरो और मुझ से डरो और ये इस लिये है कि मैं अपनी नेमत तुम पर पूरी करूँ और किसी तरह तुम हिदायत पाओ,
Aur aye mehboob tum jahan se aao apna munh Masjid Haraam ki taraf karo aur aye Muslamano! tum jahan kahin ho apna munh isi ki taraf karo ke logon ko tum par koi hujjat na rahe magar jo un mein na-insafi karein to unse na daro aur mujhse daro aur ye is liye hai ke main apni ni’mat tum par poori karoon aur kisi tarah tum hidayat pao,
(ف273)اور کفار کو یہ طعن کرنے کا موقع نہ ملے کہ انہوں نے قریش کی مخالفت میں حضرت ابراہیم وا سمٰعیل علیہما السلام کا قبلہ بھی چھوڑ دیا باوجود یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں ہیں اور ان کی عظمت و بزرگی مانتے بھی ہیں۔(ف274)اور براہ عناد بیجا اعتراض کریں۔
جیسا کہ ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے (ف۲۷۵) کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا (ف۲۷٤) اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے (ف۲۷۷) اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا،
The way We have sent to you a Noble Messenger from among you, who recites to you Our verses and purifies you, and teaches you the Book and sound wisdom*, and teaches you what you did not know. (The traditions / sayings of the Holy Prophet – peace and blessings be upon him).
जैसा कि हम ने तुम में भेजा एक रसूल तुम में से कि तुम पर हमारी आयतें तिलावत फरमाता है और तुम्हें पाक करता और किताब और पुख़्ता इल्म सिखाता है और तुम्हें वह तालीम फरमाता है जिस का तुम्हें इल्म न था,
Jaisa ke hum ne tum mein bheja ek Rasool tum mein se ke tum par hamari aayatein tilawat farmata hai aur tumhein paak karta aur kitaab aur pukhta ilm sikhata hai aur tumhein woh taleem farmata hai jiska tumhein ilm na tha,
(ف275)یعنی سید عالم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔(ف276)نجاستِ شرک و ذنوب سے ۔(ف277)حکمت سے مفسرین نے فقہ مراد لی ہے۔
تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا (ف۲۷۸) اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو ۔
Therefore remember Me, I will cause you to be spoken of and acknowledge My rights, and do not be ungrateful.
तो मेरी याद करो मैं तुम्हारा चरचा करूँगा और मेरा हक़ मानो और मेरी नाशुक्री न करो-
To meri yaad karo main tumhara charcha karoonga aur mera haq maano aur meri nashukri na karo-
(ف278)ذکر تین طرح کا ہوتا ہے۔ (۱) لسانی (۲) قلبی(۳) بالجوارح۔ ذکر لسانی تسبیح، تقدیس ،ثناء وغیرہ بیان کرنا ہے خطبہ توبہ استغفار دعا وغیرہ اس میں داخل ہیں۔ ذکر قلبی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا یاد کرنا اس کی عظمت و کبریائی اور اس کے دلائل قدرت میں غور کرنا علماء کا استنباط مسائل میں غور کرنا بھی اسی میں داخل ہیں۔ذکر بالجوارح یہ ہے کہ اعضاء طاعتِ الہٰی میں مشغول ہوں جیسے حج کے لئے سفر کرنا یہ ذکر بالجوارح میں داخل ہے نماز تینوں قسم کے ذکر پر مشتمل ہے تسبیح و تکبیر ثناء و قراء ت تو ذکر لسانی ہے اور خشوع و خضوع اخلاص ذکر قلبی اور قیام، رکوع و سجود وغیرہ ذکر بالجوارح ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم طاعت بجالا کر مجھے یاد کرو میں تمہیں اپنی امداد کے ساتھ یاد کروں گا صحیحین کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر بندہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو ایسے ہی یاد فرماتا ہوں اور اگر وہ مجھے جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں۔قرآن و حدیث میں ذکر کے بہت فضائل وارد ہیں اور یہ ہر طرح کے ذکر کو شامل ہیں ذکر بالجہر کو بھی اور بالاخفاء کو بھی۔
اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو (ف۲۷۹) بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے ۔
O People who Believe! Seek help from patience and prayer; indeed Allah is with those who patiently endure.
ऐ ईमान वालो! सब्र और नमाज़ से मदद चाहो बेशक अल्लाह साबरों के साथ है -
Aye imaan walo! sabr aur namaz se madad chaho beshak Allah sabiron ke saath hai -
(ف279)حدیث شریف میں ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی نماز میں مشغول ہوجاتے اور نماز سے مدد چاہنے میں نماز استسقا و صلوۃ ِحاجت داخل ہے۔
اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو (ف۲۸۰) بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں ۔ (ف۲۸۱)
And do not utter regarding those who are slain in Allah's cause as “dead”; in fact they are alive, but it is you who are unaware.
और जो ख़ुदा की राह में मारे जायें उन्हें मुर्दा न कहो बल्कि वह ज़िंदा हैं हाँ तुम्हें ख़बर नहीं -
Aur jo Khuda ki raah mein maare jayein unhein murda na kaho balke woh zinda hain haan tumhein khabar nahi -
(ف280)شان نزول: یہ آیت شہداء بدر کے حق میں نازل ہوئی لوگ شہداء کے حق میں کہتے تھے کہ فلاں کا انتقال ہوگیا وہ دنیوی آسائش سے محروم ہوگیا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(ف281)موت کے بعد ہی اللہ تعالیٰ شہداء کو حیات عطا فرماتا ہے ان کی ا رواح پر رزق پیش کئے جاتے ہیں انہیں راحتیں دی جاتی ہیں ان کے عمل جاری رہتے ہیں اجرو ثواب بڑھتا رہتا ہے حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں مسئلہ: اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کو قبر میں جنتی نعمتیں ملتی ہیں شہید وہ مسلمان مکلف ظاہر ہے جو تیز ہتھیار سے ظلماً مارا گیا ہو اور اس کے قتل سے مال بھی واجب نہ ہوا ہو یا معرکہ جنگ میں مردہ یا زخمی پایا گیا اور اس نے کچھ آسائش نہ پائی اس پر دنیا میں یہ احکام ہیں کہ نہ اس کو غسل دیا جائے نہ کفن اپنے کپڑوں میں ہی رکھا جائے اسی طرح اس پر نماز پڑھی جائے اسی حالت میں دفن کیا جائے آخرت میں شہید کا بڑا رتبہ ہے بعض شہداء وہ ہیں کہ ان پر دنیا کے یہ احکام تو جاری نہیں ہوتے لیکن آخرت میں ان کے لئے شہادت کا درجہ ہے جیسے ڈوب کر یا جل کر یا دیوار کے نیچے دب کر مرنے والا،طلب علم، سفر حج غرض راہ خدا میں مرنے والا اور نفاس میں مرنے والی عورت اور پیٹ کے مرض اور طاعون اور ذات الجنب اور سل میں اور جمعہ کے روز مرنے والے وغیرہ ۔
اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے (ف۲۸۲) اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (ف۲۸۳) اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو ۔
And We will surely test you with some fear and hunger, and with paucity of wealth and lives and crops; and give glad tidings to those who patiently endure. –
और ज़रूर हम तुम्हें आज़मायेंगे कुछ डर और भूख से और कुछ मालों और जानों और फलों की कमी से और खुशख़बरी सुना उन सब्र वालों को -
Aur zaroor hum tumhein aazmaayenge kuch darr aur bhookh se aur kuch maalon aur jaanon aur phalon ki kami se aur khushkhabri suna un sabr walon ko -
(ف282)آزمائش سے فرمانبردار و نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے۔(ف283)امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:کہ خوف سے اللہ کا ڈر، بھوک سے رمضان کے روزے مالوں کی کمی سے زکوۃ و صدقات دینا ،جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ موتیں ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے اس لئے کہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے حدیث شریف میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی وہ عرض کرتے ہیں کہ ہاں یارب، پھر فرماتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا عرض کرتے ہیں ہاں یارب، فرماتا ہے اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟ عرض کرتے ہیں اس نے تیری حمد کی اور اِنَّا ِﷲِ وَاِناَّ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا فرماتا ہے اس کے لئے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔ حکمت: مصیبت کے پیش آنے سے قبل خبر دینے میں کئی حکمتیں ہیں ایک تو یہ کہ اس سے آدمی کو وقت مصیبت صبر آسان ہوجاتا ہے، ایک یہ کہ جب کافر دیکھیں کہ مسلمان بلاد مصیبت کے وقت صابر و شاکر اور استقلال کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہتا ہے تو انہیں دین کی خوبی معلوم ہو اور اس کی طرف رغبت ہو، ایک یہ کہ آنے والی مصیبت کی قبل و قوع اطلاع غیبی خبر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے ایک حکمت یہ کہ منافقین کے قدم ابتلاء کی خبر سے اُکھڑ جائیں اور مومن و منافق میں امتیاز ہوجائے۔
کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ۔ (ف۲۸٤)
Those who say when calamity befalls them, “Indeed we belong to Allah and indeed it is to Him we are to return.”
कि जब उन पर कोई मुसीबत पड़े तो कहें हम अल्लाह के माल हैं और हम को उसी की तरफ़ फिरना-
Ke jab un par koi museebat pare to kahein hum Allah ke maal hain aur hum ko isi ki taraf phirna-
(ف284) حدیث شریف میں ہے کہ وقت مصیبت کے اِنّا ِﷲِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنا رحمت الہی کا سبب ہوتا ہے یہ بھی حدیث میں ہے کہ مؤمن کی تکلیف کو اللہ تعالیٰ کفارئہ گناہ بناتا ہے ۔
بیشک صفا اور مروہ (ف۲۸۵) اللہ کے نشانوں سے ہیں (ف۲۸٦) تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے (ف۲۸۷) اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے خبردار ہے ۔
Undoubtedly Safa and Marwah* are among the symbols of Allah; so there is no sin on him, for whoever performs the Hajj (pilgrimage) of this House (of Allah) or the Umrah (lesser pilgrimage), to go back and forth between them; and whoever does good of his own accord, then (know that) indeed Allah is Most Appreciative (rewards virtue), the All Knowing. (These are 2 hillocks near the Holy Ka’aba)
बेशक सफ़ा और मर्वा अल्लाह के निशानों से हैं तो जो इस घर का हज या उमरा करे उस पर कुछ गुनाह नहीं कि उन दोनों के फेरे करे और जो कोई भली बात अपनी तरफ़ से करे तो अल्लाह नेकी का सिला देने ख़बरदार है -
Beshak Safa aur Marwah Allah ke nishanon se hain to jo is ghar ka Hajj ya Umrah kare us par kuch gunah nahi ke un donon ke phere kare aur jo koi bhali baat apni taraf se kare to Allah nekion ka sila dene khabardaar hai -
(ف285)صفاو مروہ مکّہ مکرّمہ کے دو پہاڑ ہیں جو کعبہ معظمہ کے مقابل جانب شرق واقع ہیں مروہ شمال کی طرف مائل اور صفا جنوب کی طرف جبل ابی قُبَیْس کے دامن میں ہے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل علیہ السلام نے ان دونوں پہاڑوں کے قریب اس مقام پر جہاں چاہ ِزمزم ہے بحکم الٰہی سکونت اختیار فرمائی اس وقت یہ مقام سنگلاخ بیابان تھا نہ یہاں سبزہ تھا نہ پانی نہ خوردو نوش کا کوئی سامان رضائے الہی کے لئے ان مقبول بندوں نے صبر کیا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بہت خرد سال تھے تشنگی سے جب ان کی جاں بلبی کی حالت ہوئی تو حضرت ہاجرہ بے تاب ہو کر کوہ صفا پر تشریف لے گئیں وہاں بھی پانی نہ پایا تواُتر کر نشیب کے میدان میں دوڑتی ہوئی مروہ تک پہنچیں اس طرح سات مرتبہ گردش ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اِنَّ اللّٰہ َ مَعَ الصَّابِرِیْنَ کا جلوہ اس طرح ظاہر فرمایا کہ غیب سے ایک چشمہ زمزم نمودار کیا اور ان کے صبر و اخلاص کی برکت سے ان کے اتباع میں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان دوڑنے والوں کو مقبول بارگاہ کیا اور ان دونوں کو محل اجابت دعا بنایا۔(ف286)شعائر اللہ سے دین کے اعلام یعنی نشانیاں مراد ہیں خواہ وہ مکانات ہوں جیسے کعبہ عرفات مزدلفہ جمارثلثہ صفا مروہ منٰی مساجد یا ازمنہ جیسے رمضان ،اشہر حرام، عیدالفطر واضحٰی جمعہ ایاّم تشریق یا دوسرے علامات جیسے اذان، اقامت نمازِ با جماعت، نمازِ جمعہ، نماز عیدین، ختنہ یہ سب شعائر دین ہیں۔(ف287)شان نزول زمانہ جاہلیت میں صفا و مروہ پر دو بت رکھے تھے صفا پر جو بت تھا اس کا نام اساف اور جو مروہ پر تھا اس کا نام نائلہ تھا کفار جب صفاومروہ کے در میان سعی کرتے تو ان بتوں پر تعظیمًاہاتھ پھیرتے عہد اسلام میں بت تو توڑ دیئے گئے لیکن چونکہ کفار یہاں مشرکانہ فعل کرتے تھے اس لئے مسلمانوں کو صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا گراں ہوا کہ اس میں کفار کے مشرکانہ فعل کے ساتھ کچھ مشابہت ہے اس آیت میں ان کا اطمینان فرما دیا گیا کہ چونکہ تمہاری نیت خالص عبادت الٰہی کی ہے تمہیں اندیشہ مشابہت نہیں اور جس طرح کعبہ کے اندر زمانہ جاہلیت میں کفار نے بت رکھے تھے اب عہد اسلام میں بت اٹھادیئے گئے اور کعبہ شریف کا طواف درست رہا اور وہ شعائر دین میں سے رہا اسی طرح کفار کی بت پرستی سے صفا و مروہ کے شعائر دین ہونے میں کچھ فرق نہیں آیا مسئلہ: سعی (یعنی صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا) واجب ہے حدیث سے ثابت ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے اس پر مداومت فرمائی ہے اس کے ترک سے دم دینا یعنی قربانی واجب ہوتی ہے مسئلہ : صفاو مروہ کے درمیان سعی حج و عمرہ دونوں میں لازم ہے فرق یہ ہے کہ حج کے اندر عرفات میں جانا اور وہاں سے طواف کعبہ کے لئے آنا شرط ہے اور عمرہ کے لئے عرفات میں جانا شرط نہیں۔مسئلہ : عمرہ کرنے والا اگر بیرونِ مکّہ سے آئے اس کو براہ راست مکّہ مکرّمہ میں آکر طواف کرنا چاہئے اور اگر مکہ کا ساکن ہو تو اس کو چاہئے کہ حرم سے باہر جائے وہاں سے طواف کعبہ کااحرام باندھ کر آئے حج و عمرہ میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ حج سال میں ایک ہی مرتبہ ہوسکتا ہے کیونکہ عرفات میں عرفہ کے دن یعنی نویں ذی الحجہ کو جانا جو حج میں شرط ہے سال میں ایک ہی مرتبہ ممکن ہے اور عمرہ ہر دن ہوسکتا ہے اس کے لئے کوئی وقت معین نہیں۔
بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ۔ (ف۲۸۹)
Indeed those who hide the clear proofs and the guidance which We sent down, after We made it clear to mankind in the Book – upon them is the curse of Allah and the curse of those who curse.
बेशक वह जो हमारी उतारी हुई रोशन बातों और हिदायत को छुपाते हैं बाद इस के कि लोगों के लिये हम उसे किताब में वाज़ेह फरमा चुके हैं उन पर अल्लाह की लानत है और लानत करने वालों की लानत -
Beshak woh jo hamari utaari hui roshan baton aur hidayat ko chhupate hain baad is ke ke logon ke liye hum use kitaab mein wazeh farma chuke hain unpar Allah ki la’nat hai aur la’nat karne walon ki la’nat -
(ف288)یہ آیت علماء یہود کی شان میں نازل ہوئی جو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت شریف اور آیت رجم اور توریت کے دوسرے احکام کو چھپایا کرتے تھے۔ مسئلہ : علوم دین کا اظہار فرض ہے۔(ف289)لعنت کرنے والوں سے ملائکہ و مومنین مراد ہیں ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندے مراد ہیں۔
مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان،
Except those who repent and do reform and disclose (the truth) – so I will accept their repentance; and I only am the Most Acceptor of Repentance, the Most Merciful.
मगर वह जो तौबा करें और सँवारें और ज़ाहिर करें तो मैं उनकी तौबा क़बूल फरमाऊँगा और मैं ही हूँ बड़ा तौबा क़बूल फ़रमाने वाला मेहरबान,
Magar woh jo tauba karein aur sanwaarein aur zaahir karein to main unki tauba qubool farmaoon ga aur main hi hoon bada tauba qubool farmane wala meherbaan,
بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی، (ف۲۹۰)
Indeed upon those who disbelieved, and died as disbelievers, is the curse of Allah and of the angels and of men combined.
बेशक वह जिन्होने कुफ़्र किया और काफ़िर ही मरे उन पर लानत है अल्लाह और फरिश्तों और आदमियों सब की,
Beshak woh jin hon ne kufr kiya aur kaafir hi mare unpar la’nat hai Allah aur farishton aur aadmiyon sab ki,
(ف290)مومن تو کافروں پر لعنت کریں گے ہی کافر بھی روز قیامت باہم ایک دوسرے پر لعنت کریں گے مسئلہ : اس آیت میں ان پر لعنت فرمائی گئی جو کفر پر مرے ا س سے معلوم ہوا کہ جس کی موت کفر پر معلوم ہو اس پر لعنت کرنی جائز ہے مسئلہ:گنہگار مسلمان پر بالتعیین لعنت کرنا جائز نہیں لیکن علی الاطلاق جائز ہے جیسا کہ حدیث شریف میں چور اور سود خوار وغیرہ پر لعنت آئی ہے۔
اور تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۲۹۱) اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان
Your God is One God; there is no God except Him – the Most Gracious, the Most Merciful.
और तुम्हारा माबूद एक माबूद है उसके सिवा कोई माबूद नहीं मगर वही बड़ी रहमत वाला मेहरबान
Aur tumhara ma’bood ek ma’bood hai uske siwa koi ma’bood nahi magar wahi badi rehamat wala meherbaan
(ف291)شان نزول: کفار نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا آپ اپنے رب کی شان و صفت بیان فرمائیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتادیا گیا کہ معبود صرف ایک ہے نہ وہ متجزّی ہوتا ہے نہ مُنْقَسِم نہ اس کے لئے مثل نہ نظیر۔ اُلُوْہیت و ربوبیت میں کوئی اس کا شریک نہیں وہ یکتا ہے اپنے افعال میں، مصنوعات کو تنہا اسی نے بنایا۔ وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے کوئی اس کا قسیم نہیں اپنے صفات میں یگانہ ہے کوئی اس کا شبیہ نہیں۔ ابوداؤد و ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے ایک یہی آیت وَاِلٰھُکُمْ دوسری آلمّ ۤ اَﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَاَلْاٰیَہ
بیشک آسمانوں (ف۲۹۲) اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں ،
Indeed in the creation of the heavens and the earth, and in the continuous alternation of night and day, and the ships which sail the seas carrying what is of use to men, and the water which Allah sends down from the sky thereby reviving the dead earth and dispersing all kinds of beasts in it, and the movement of the winds, and the obedient clouds between heaven and earth – certainly in all these are signs for the intelligent.
बेशक आसमानों और ज़मीन की पैदाइश और रात व दिन का बदलते आना और कश्ती कि दरिया में लोगों के फायदे ले कर चलती है और वह जो अल्लाह ने आसमान से पानी उतार कर मुरदा ज़मीन को उस से जि़ला दिया और ज़मीन में हर क़िस्म के जानवर फैलाए और हवाओं की गर्दिश और वह बादल कि आसमान व ज़मीन के बीच में हुक्म का बाँधा है उन सब में अक़लमंदों के लिये ज़रूर निशानियाँ हैं ,
Beshak aasmanon aur zameen ki paidaish aur raat o din ka badalte aana aur kashti ke dariya mein logon ke faide lekar chalti hai aur woh jo Allah ne aasman se paani utaar kar murda zameen ko us se jila diya aur zameen mein har qism ke janwar phailaye aur hawaon ki gardish aur woh badal ke aasman o zameen ke beech mein hukm ka bandha hai in sab mein aqalmando ke liye zaroor nishaniyan hain,
(ف292)(۲۹۲) کعبہ معظمہ کے گرد مشرکین کے تین سو ساٹھ بت تھے جنہیں وہ معبود اعتقاد کرتے تھے انہیں یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ معبود صرف ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس لئے انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی آیت طلب کی جس سے وحدانیت پر استدلال صحیح ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں یہ بتایا گیا کہ آسمان اور اس کی بلندی اور اس کا بغیر کسی ستون اور علاقہ کے قائم رہنا اور جو کچھ اس میں نظر آتا ہے آفتاب مہتاب ستارے وغیرہ یہ تمام اور زمین اور اس کی درازی اور پانی پر مفروش ہونا اور پہاڑ دریا چشمے معاون جواہر درخت سبزہ پھل اور شب و روز کا آنا جانا گھٹنا بڑھنا کشتیاں اور ان کا مسخر ہونا باوجود بہت سے وزن اور بوجھ کے روئے آب پر رہنا اور آدمیوں کا ان میں سوار ہو کر دریا کے عجائب دیکھنا اور تجارتو ں میں ان سے باربرداری کا کام لینا اور بارش اور اس سے خشک ومردہ ہو جانے کے بعد زمین کا سر سبزوشاداب کرنا اور تازہ زندگی عطا فرمانا اور زمین کو انواع و اقسام کے جانوروں سے بھر دینا جس میں بیشمار عجائب حکمت و دیعت ہیں اسی طرح ہواؤں کی گردش اور ان کے خواص اور ہوا کے عجا ئبات اور اَبر اور اس کا اتنے کثیر پانی کے ساتھ آسمان و زمین کے درمیان معلق رہنا یہ آٹھ انواع ہیں جو حضرت قادر مختار کے علم و حکمت اور اس کی وحدانیت پر برہان قوی ہیں اور ان کی دلالت وحدانیت پر بے شمار وجوہ سے ہے اجمالی بیان یہ ہے کہ یہ سب امور ممکنہ ہیں اور ان کا وجود بہت سے مختلف طریقوں سے ممکن تھا مگر وہ مخصوص شان سے وجود میں آئے یہ دلالت کرتا ہے کہ ضرور ان کے لئے موجد ہے قادر و حکیم جو بمقتضائے حکمت و مشیت جیسا چاہتا ہے بناتا ہے کسی کو دخل و اعتراض کی مجال نہیں وہ معبود بالیقین واحد ویکتا ہے کیونکہ اگر اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی فرض کیا جائے تو اس کو بھی اس مقدورات پر قادر ماننا پڑے گا اب دو حال سے خالی نہیں یا تو ایجاد و تاثیر میں دونوں متفق الارادہ ہوں گے یا نہ ہوں گے اگر ہوں تو ایک ہی شئے کے وجود میں دو موثروں کا تاثیر کرنا لازم آئے گا اور یہ محال ہے کیونکہ یہ مستلزم ہے معلول کے دونوں سے مستغنی ہونے کو اور دونوں کی طرف مفتقر ہونے کو کیونکہ علت جب مستقلہ ہو تو معلول صرف اسی کی طرف محتاج ہوتا ہے دوسرے کی طرف محتاج نہیں ہوتا اور دونوں کو علت مستقلہ فرض کیا گیا ہے تو لازم آئے گا کہ معلول دونوں میں سے ہر ایک کی طرف محتاج ہو اور ہر ایک سے غنی ہو تو نقیضین مجتمع ہوگئیں اور یہ محال ہے اور اگر یہ فرض کرو کہ تاثیر ان میں سے ایک کی ہے تو ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی اور دوسرے کا عجز لازم آئے گا جو اِلٰہ ہونے کے منافی ہے اور اگر یہ فرض کرو کہ دونوں کے ارادے مختلف ہوتے ہیں تو تمانع و تطار دلازم آئے گا کہ ایک کسی شئے کے وجود کا ارادہ کرے اور دوسرا اسی حال میں اس کے عدم کا تو وہ شئے ایک ہی حال میں موجود و معدوم دونوں ہوگی یا دونوں نہ ہوگی یہ دونوں تقدیر یں باطل ہیں ضرور ہے کہ یا موجودگی ہوگی یا معدوم ایک ہی بات ہوگی اگر موجود ہوئی تو عدم کا چاہنے والا عاجز ہوااِلٰہ نہ رہا اور اگر معدوم ہوئی تو وجود کا ارادہ کرنے والا مجبور رہا اِلٰہ نہ رہا لہذا ثابت ہوگیا کہ الہ ایک ہی ہو سکتا ہے اور یہ تمام انواع بے نہایت وجوہ سے اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں۔
اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسے ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے،
And some people create for themselves Gods (objects of worship) other than Allah, with devotion (love) equal to the devotion of Allah; and the believers do not love anybody with love equal to the love of Allah; and what will be their state, when the punishment will be before the eyes of the unjust (disbelievers)? For all power belongs wholly to Allah, and because Allah’s punishment is very severe.
और कुछ लोग अल्लाह के सिवा और माबूद बना लेते हैं कि उन्हें अल्लाह की तरह महबूब रखते हैं और ईमान वालों को अल्लाह के बराबर किसी की मुहब्बत नहीं और कैसे हो अगर देखें ज़ालिम वह वक़्त जब कि अज़ाब उनकी आँखों के सामने आएगा इस लिये कि सारा ज़ोर ख़ुदा को है और इस लिये कि अल्लाह का अज़ाब बहुत सख़्त है ,
Aur kuch log Allah ke siwa aur ma’bood bana lete hain ke unhein Allah ki tarah mehboob rakhte hain aur imaan walon ko Allah ke barabar kisi ki mohabbat nahi aur kaise ho agar dekhein zalim woh waqt jab ke azaab unki aankhon ke samne aayega is liye ke saara zor Khuda ko hai aur is liye ke Allah ka azaab bohot sakht hai,
جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے (ف۲۹۳) اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں (ف۲۹٤)
(The day) when the leaders will be disgusted with their followers – and they shall see their punishment, and all their links will be cut off.
जब बेज़ार होंगे पेशवा अपने पीरुओं से और देखेंगे अज़ाब और कट जाएँगी उनकी सब डोरें
Jab bezar honge peshwa apne pairo’n se aur dekhenge azaab aur kat jaayengi unki sab doorain
(ف293)یہ روز قیامت کا بیان ہے جب مشرکین اور ان کے پیشوا جنہوں نے انہیں کفر کی ترغیب دی تھی ایک جگہ جمع ہوں گے اور عذاب نازل ہوتا ہوا دیکھ کر ایک دوسرے سے بیزار ہوجائیں گے۔(ف294)یعنی وہ تمام تعلقات جو دنیا میں ان کے مابین تھے خواہ وہ دوستیاں ہوں یا رشتہ داریاں یا باہمی موافقت کے عہد
اور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑ دی، یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہو کر (ف۲۹۵) اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں
And the followers will say, “If we were to return (to earth), we would break off from them like they have broken off from us”; this is how Allah will show them their deeds as despair for them; and they will never come out from the fire (hell).
और कहेंगे पीर काश हमें लोट कर जाना होता (दुनिया में ) तो हम उनसे तोड़ देते जैसे उन्होंने हमसे तोड़ दी , यूँही अल्लाह उन्हें दिखाएगा उनके काम उन पर हसरतें हो कर और वह दोज़ख़ से निकलने वाले नहीं
Aur kahenge pairo kaash humein laut kar jaana hota (duniya mein) to hum unse tod dete jaise unhon ne humse tod di, yunhi Allah unhein dikhayega unke kaam unpar hasraton ho kar aur woh dozakh se nikalne wale nahi
(ف295)یعنی اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال ان کے سامنے کرے گا تو انہیں نہایت حسرت ہوگی انہوں نے یہ کام کیوں کئے تھے ایک قول یہ ہے کہ جنت کے مقامات دکھا کر ان سے کہا جائے گا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے تو یہ تمہارے لئے تھے پھر وہ مساکین و منازل مؤمنین کو دیئے جائیں گے اس پر انہیں حسرت و ندامت ہوگی۔
اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں (ف۲۹٦) حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
O mankind! Eat from what is lawful and clean in the earth; and do not follow the footsteps of the devil; undoubtedly he is your open enemy.
ऐ लोगों खाओ जो कुछ ज़मीन में हलाल पाकीज़ा है और शैतान के क़दम पर क़दम न रखो, बेशक वह तुम्हारा खुला दुश्मन है ,
Aye logon khao jo kuch zameen mein halal pakeeza hai aur Shaitaan ke qadam par qadam na rakho, beshak woh tumhara khula dushman hai,
(ف296)یہ آیت ان اشخاص کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے بجارو غیرہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی حلال فرمائی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دینا اس کی رزاقیت سے بغاوت ہے مسلم شریف کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو مال میں اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہوں وہ ان کے لئے حلال ہے اور اسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو باطل سے بے تعلق پیدا کیا پھر ان کے پاس شیاطین آئے اور انہوں نے دین سے بہکایا اور جو میں نے ان کے لئے حلال کیا تھا اس کو حرام ٹھہرایا ایک اور حدیث میں ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا امیں نے یہ آیت سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تلاوت کی تو حضرت سعد بن ابی وقاص نے کھڑے ہو کر عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مستجاب الدعوۃ کردے حضور نے فرمایا: اے سعد اپنی خوراک پاک کرو مستجاب الدعوۃ ہوجاؤ گے اس ذات پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی جان ہے آدمی اپنے پیٹ میں حرام کا لقمہ ڈالتا ہے تو چالیس روز تک قبولیت سے محرومی رہتی ہے۔(تفسیر ابن کبیر)
اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو (ف۲۹۷) تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت (ف۲۹۸)
And when it is said to them, “Follow what Allah has sent down”, they say, “On the contrary, we shall follow what we found our forefathers upon”; What! Even if their forefathers had no intelligence, or guidance?!
और जब उनसे कहा जाए अल्लाह के उतारे पर चलो तो कहें बल्कि हम तो उस पर चलेंगे जिस पर अपने बाप दादा को पाया क्या अगरचे उनके बाप दादा न कुछ अक़्ल रखते हों न हिदायत
Aur jab unse kaha jaye Allah ke utaare par chalo to kahein balke hum to is par chalenge jis par apne baap dada ko paaya kya agarche unke baap dada na kuch aqal rakhte hon na hidayat
(ف297)توحید و قرآن پر ایمان لاؤ اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ نے حلال کیا۔(ف298)توحید و قرآن پر ایمان لاؤ اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ نے حلال کیا۔
اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے (ف۲۹۹) بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں (ف۳۰۰)
And the example of the disbelievers is similar to one who calls upon one that hears nothing except screaming and yelling; deaf, dumb, blind – so they do not have sense.
और काफ़िरों की कहावत उसकी सी है जो पुकारे ऐसे को कि ख़ाली चीख पुकार के सिवा कुछ न सुने बहरे , गूँगे , अंधे तो उन्हें समझ नहीं
Aur kaafiron ki qahawat is ki si hai jo pukare aise ko ke khaali cheekh o pukaar ke siwa kuch na sune bahre, goonge, andhe to unhein samajh nahi
(ف299)یعنی جس طرح چوپائے چرنے والے کی صرف آواز ہی سنتے ہیں کلا م کے معنی نہیں سمجھتے یہی حال ان کفار کا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صدائے مبارک کو سنتے ہیں لیکن اس کے معنی دل نشین کرکے ارشادِ فیض بنیاد سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔(ف300)یہ اس لئے کہ وہ حق بات سن کر منتفع نہ ہوئے کلام حق ان کی زبان پر جاری نہ ہوا نصیحتوں سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا۔
اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار (ف۳۰۲) اور خون (ف۳۰۳) اور سُور کا گوشت (ف۳۰٤) اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا (ف۳۰۵) تو جو ناچار ہو (ف۳۰٦) نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
He has forbidden for you only the carrion, and blood, and flesh of swine, and the animal that has been slaughtered while proclaiming the name of anyone other than Allah; so there is no sin on him who is compelled and does not eat out of desire, nor eats more than what is necessary; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
उसने यही तुम पर हराम किये हैं मुर्दार और ख़ून और सूर का गोश्त और वह जानवर जो ग़ैर ख़ुदा का नाम ले कर ज़बह किया गया तो जो नाचर हो न यूँ कि ख़्वाहिश से खाए और न यूँ कि ज़रूरत से आगे बढ़े तो उस पर गुनाह नहीं , बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है ,
Usne yahi tum par haraam kiye hain murdar aur khoon aur soor ka gosht aur woh janwar jo ghair Khuda ka naam lekar zabah kiya gaya to jo na chaar ho na yun ke khwahish se khaye aur na yun ke zarurat se aage badhe to uspar gunah nahi, beshak Allah bakhne wala meherbaan hai,
(ف302)جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مرجائے یا اس کو طریق شرع کے خلاف مارا گیا ہو مثلاً گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر ڈھیلے غُلّے گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو یا وہ گر کر مر گیا ہو یا کسی جانور نے سینگ سے مارا ہو یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اس کو مردار کہتے ہیں اور اسی کے حکم میں داخل ہے زندہ جانور کا وہ عضو جو کاٹ لیا گیا ہو۔ مسئلہ: مردار کا کھانا حرام ہے مگر اس کا پکا ہوا چمڑا کام میں لانا اور اس کے بال سینگ ہڈی پٹھے سُم سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔(تفسیر احمدی)(ف303)مسئلہ خون ہر جانور کا حرام ہے اگر بہنے والا ہو دوسری آیت میں فرمایا : اَوْدَماً مَّسْفُوْحًاً (ف304)مسئلہ :خنزیر (سور) نجس العین ہے اس کا گوشت پوست بال ناخن وغیرہ تمام اجزاء نجس و حرام ہیں کسی کو کام میں لانا جائز نہیں چونکہ اُوپر سے کھانے کا بیان ہورہا ہے اس لئے یہاں گوشت کے ذکر پر اکتفا فرمایا گیا۔(ف305)مسئلہ: جس جانور پر وقت ذبح غیر خدا کا نام لیا جائے خواہ تنہا یا خدا کے نام کے ساتھ عطف سے ملا کر وہ حرام ہے مسئلہ :اور اگر نام خدا کے ساتھ غیر کا نام بغیر عطف ملایا تو مکروہ ہے مسئلہ : اگر ذبح فقط اللہ کے نام پر کیا اور اس سے قبل یا بعد غیر کا نام لیا مثلاً یہ کہا کہ عقیقہ کا بکرا ولیمہ کا دنبہ یا جس کی طرف سے وہ ذبیحہ ہے اسی کا نام لیا یا جن اولیاء کے لئے ایصال ثواب منظور ہے ان کا نام لیا تو یہ جائز ہے اس میں کچھ حرج نہیں۔(تفسیر احمدی)(ف306)مضطروہ ہے جو حرام چیز کے کھانے پر مجبور ہو اور اس کو نہ کھانے سے خوف جان ہو خواہ تو شدت کی بھوک یا ناداری کی وجہ سے جان پر بن جائے اور کوئی حلال چیز ہاتھ نہ آئے یا کوئی شخص حرام کے کھانے پر جبر کرتا ہو اور اس سے جان کااندیشہ ہو ایسی حالت میں جان بچانے کے لئے حرام چیز کا قدر ضرورت یعنی اتنا کھالینا جائز ہے کہ خوف ہلاکت نہ رہے۔
وہ جو چھپاتے ہیں (ف۳۰۸) اللہ کی کتاب اور اسکے بدلے ذلیل قیمت لیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں (ف۳۰۹) اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،
Those who hide the Book sent down by Allah and exchange it for an abject price – they only fill their bellies with fire and Allah will not speak to them on the Day of Resurrection nor will He purify them; and for them is a painful punishment.
वह जो छुपाते हैं अल्लाह की किताब और उसके बदले ज़लील क़ीमत लेते हैं वह अपने पेट में आग ही भरते हैं और अल्लाह क़यामत के दिन उनसे बात न करेगा और न उन्हें सुथरा करे , और उनके लिये दर्दनाक अज़ाब है ,
Woh jo chhupate hain Allah ki kitaab aur uske badle zaleel qeemat lete hain woh apne pait mein aag hi bharte hain aur Allah qayamat ke din unse baat na karega aur na unhein suthra kare, aur unke liye dardnaak azaab hai,
(ف307)شان نزول: یہود کے علماء ورؤساء جو امید رکھتے تھے کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے مبعوث ہوں گے جب انہوں نے دیکھا کہ سید عالم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری قوم میں سے مبعوث فرمائے گئے تو انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ لوگ توریت و انجیل میں حضور کے اوصاف دیکھ کر آپ کی فرمانبرداری کی طرف جھک پڑیں گے اور ان کے نذرانے ہدیئے تحفے تحائف سب بند ہوجائیں گے حکومت جاتی رہے گی اس خیال سے انہیں حسد پیدا ہوا اور توریت و انجیل میں جو حضور کی نعت و صفت اور آپ کے وقت نبوت کا بیان تھا انہوں نے اس کو چھپایا اس پر یہ آیہ ء کریمہ نازل ہوئی مسئلہ : چھپانا یہ بھی ہے کہ کتاب کے مضمون پر کسی کو مطلع نہ ہونے دیا جائے نہ وہ کسی کو پڑھ کر سنایا جائے نہ دکھایا جائے اور یہ بھی چھپانا ہے کہ غلط تاویلیں کرکے معنی بدلنے کی کوشش کی جائے اور کتاب کے اصل معنی پر پردہ ڈالا جائے۔(ف308)یعنی دنیا کے حقیر نفع کے لئے اخفاء حق کرتے ہیں۔(ف309)کیونکہ یہ رشوتیں اور یہ مال حرام جو حق پوشی کے عوض انہوں نے لیا ہے انہیں آتش جہنم میں پہنچائے گا۔
یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری، اور بیشک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے (ف۳۱۰) وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں،
This is because Allah has sent down the Book with the truth; and indeed those who caused disagreement in the Book are, surely, disputants in the extreme.
यह इस लिये कि अल्लाह ने किताब हक़ के साथ उतारी, और बेशक जो लोग किताब में इख़्तिलाफ़ डालने लगे वह ज़रूर परले सिरे के झगड़ालू हैं ,
Ye is liye ke Allah ne kitaab haq ke saath utaari, aur beshak jo log kitaab mein ikhtilaaf dalne lage woh zaroor parle sare ke jhagraalu hain,
(ف310)شان نزول :یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی کہ انہوں نے توریت میں اختلاف کیا بعض نے اس کو حق کہا بعض نے غلط تاویلیں کیں بعض نے تحریفیں ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی اس صورت میں کتاب سے قرآن مراد ہے اور ان کا اختلاف یہ ہے کہ بعض ان میں سے اس کو شعر کہتے تھے بعض سحر بعض کہانت۔
کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو (ف۳۱۱) ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر (ف۳۱۲) اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں (ف ۳۱۳) اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ،
Basic virtue is not just to turn faces to the East and the West, but true righteousness is that one must believe in Allah and the Last Day and the angels and the Book and the Prophets; and out of love for Allah, to give treasured wealth to relatives and to the orphans and the needy and the traveller, and to those who ask, and to set slaves free; and to keep the prayer established and to pay the charity; and those who fulfil their obligations when they make an agreement; and the patient during times of calamity, in hardships and during holy war; it is they who have proved true to their word; it is they who are the pious.
कुछ अस्ल नेकी यह नहीं कि मुँह मशरिक़ या मग़रिब की तरफ़ करो हाँ अस्ली नेकी यह कि ईमान लाए अल्लाह और क़यामत और फ़रिश्तों और किताब और पैग़म्बरों पर और अल्लाह की मुहब्बत में अपना अज़ीज़ माल दे रिशतेदारों और यतीमों और मिस्कीनों और राहगीर और साइलों को और गर्दनें छुड़वाने में और नमाज़ क़ायम रखे और ज़कात दे और अपना क़ौल पूरा करने वाले जब अहद करें और सब्र वाले मुसीबत और सख़्ती में और जिहाद के वक़्त यही हैं जिन्होंने अपनी बात सच्ची की और यही परहेज़गार हैं ,
Kuch asal neki ye nahi ke munh mashriq ya maghrib ki taraf karo haan asli neki ye ke imaan laaye Allah aur qayamat aur farishton aur kitaab aur paighambaron par aur Allah ki mohabbat mein apna aziz maal de rishtedaron aur yateemon aur miskeenon aur raah gir aur saailon ko aur gardanen chhurwane mein aur namaz qaaim rakhe aur zakaat de aur apna qoul poora karne wale jab ahd karein aur sabr wale museebat aur sakhti mein aur jihad ke waqt yahi hain jinhon ne apni baat sachi ki aur yahi parhezgaar hain,
(ف311)شان نزول: یہ آیت یہود و نصاریٰ کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ یہود نے بیت المقدس کے مشرق کو اور نصاریٰ نے اس کے مغرب کو قبلہ بنا رکھا تھا اور ہر فریق کا گمان تھا کہ صرف اس قبلہ ہی کی طرف منھ کرنا کافی ہے اس آیت میں ان کا رد فرمادیا گیا کہ بیت المقدس کا قبلہ ہونا منسوخ ہوگیا ۔(مدارک) مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ خطاب اہل کتاب اور مؤمنین سب کو عام ہے اور معنی یہ ہیں کہ صرف روبقبلہ ہونا اصل نیکی نہیں جب تک عقائد درست نہ ہوں اور دل اخلاص کے ساتھ رب قبلہ کی طرف متوجہ نہ ہو۔(ف312)اس آیت میں نیکی کے چھ طریقے ارشاد فرمائے (۱) ایمان لانا (۲) مال دینا (۳) نماز قائم کرنا (۴) زکوۃ دینا (۵) عہد پورا کرنا (۶) صبر کرنا ایمان کی تفصیل یہ ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے کہ وہ حی و قیوم علیم حکیم سمیع بصیر غنی قدیر ازلی ابدی واحد لاشریک لہ ہے دوسرے قیامت پر ایمان لائے کہ وہ حق ہے اس میں بندوں کا حساب ہوگا اعمال کی جزا دی جائے گی مقبولان حق شفاعت کریں گے سید عالم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سعادت مندوں کو حوض کوثر پر سیراب فرمائیں گے پل صراط پر گزر ہوگا اور اس روز کے تمام احوال جو قرآن میں آئے یا سید انبیاء نے بیان فرمائے سب حق ہیں تیسرے فرشتوں پر ایمان لائے کہ وہ اللہ کی مخلوق اور فرمانبردار بندے ہیں نہ مردہیں نہ عورت ان کی تعداد اللہ جانتا ہے چار ان میں سے بہت مقرب ہیں جبرئیل میکائیکل اسرافیل عزرائیل علیہم السلام چوتھے کتب الہیہ پر ایمان لانا کہ جو کتاب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی حق ہے ان میں چار بڑی کتابیں ہیں۔(۱) توریت جو حضرت موسٰی علیہ السلام پر (۲) انجیل جو حضرت عیسی علیہ السلام پر (۳) زبور حضرت داؤد علیہ السلام پر (۴) قرآن حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلمپر نازل ہوئیں اور پچاس صحیفے حضرت شیث پر تیس حضرت ادریس پر دس حضرت آدم پر دس حضرت ابراہیم پر نازل ہوئے علیہم الصلوۃ والسلام پانچویں تمام انبیاء پر ایمان لانا کہ وہ سب اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اور معصوم یعنی گناہوں سے پاک ہیں ان کی صحیح تعدادا للہ جانتا ہے ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں نَبِیّٖنَ بصیغہ جمع مذکر سالم ذکر فرمایا اشارہ کرتا ہے کہ انبیاء مرد ہوتے ہیں کوئی عورت کبھی نبی نہیں ہوئی جیسا کہ وَمَآاَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالاً الآیہ سے ثابت ہے ایمان مجمل یہ ہے اٰمَنْتُ بِاللّٰہ ِ وَبِجَمِیْعِ مَاجَآءَ بِہِ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم یعنی میں اللہ پر ایمان لایا اور ان تمام امور پر جو سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم اللہ کے پاس سے لائے (تفسیر احمدی) (ف313)ایمان کے بعد اعمال کا اور اس سلسلہ میں مال دینے کا بیان فرمایا اس کے چھ مصرف ذکر کئے گردنیں چھڑانے سے غلاموں کا آزاد کرنا مراد ہے یہ سب مستحب طور پر مال دینے کا بیان تھا مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینا بحالت تندرستی زیادہ اجر رکھتا ہے بہ نسبت اس کے کہ مرتے وقت زندگی سے مایوس ہو کر دے (کذافی حدیث عن ابی ہریرہ ) مسئلہ : حدیث شریف میں ہے کہ رشتہ دار کو صدقہ دینے میں دو ثواب ہیں ایک صدقہ کا ایک صلہ رحم کا (نسائی شریف)
اے ایمان والوں تم پر فرض ہے (ف۳٤۱) کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو (ف۳۱۵) آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ف۳۱٦) تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی۔ (ف۳۱۷) تو بھلائی سے تقاضا ہو اور اچھی طرح ادا، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ پر ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے (ف۳۱۸) اس کے لئے دردناک عذاب ہے
O People who Believe! Retribution is made obligatory for you in the matter of those killed unjustly; a freeman for a freeman, and a slave for a slave, and a female for a female; and for him who is partly forgiven by his brother, seek compensation with courtesy and make payment in proper manner; this is a relief and a mercy upon you, from your Lord; so after this, a painful punishment is for whoever exceeds the limits.
ऐ ईमान वालों तुम पर फ़र्ज़ है कि जो नाहक़ मारे जाएँ उनके ख़ून का बदला लो आज़ाद के बदले आज़ाद और ग़ुलाम के बदले ग़ुलाम और औरत के बदले औरत तो जिस के लिये उसके भाई की तरफ़ से कुछ माफ़ी हुई। तो भलाई से तक़ाज़ा हो और अच्छी तरह अदा, यह तुम्हारे रब की तरफ़ से तुम्हारा बोझ पर हल्का करना है और तुम पर रहमत तो उसके बाद जो ज़्यादती करे उसके लिये दर्दनाक अज़ाब है
Aye imaan walon tum par farz hai ke jo na-haq maare jaayein unke khoon ka badla lo aazaad ke badle aazaad aur ghulaam ke badle ghulaam aur aurat ke badle aurat to jiske liye uske bhai ki taraf se kuch maafi hui. To bhalayi se taqaza ho aur achhi tarah ada, ye tumhare Rab ki taraf se tumhara bojh par halka karna hai aur tum par rahmat to iske baad jo ziyadati kare uske liye dardnaak azaab hai
(ف314)شان نزول :یہ آیت اوس و خزرج کے بارے میں نازل ہوئی ان میں سے ایک قبیلہ دوسرے سے قوت تعداد مال و شرف میں زیادہ تھا اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنے غلام کے بدلے دوسرے قبیلہ کے آزاد کو اور عورت کے بدلے مرد کو اور ایک کے بدلے دو کو قتل کرے گا زمانہ جاہلیت میں لوگ اس قسم کی تعدی کے عادی تھے عہد اسلام میں یہ معاملہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اور عدل و مساوات کا حکم دیا گیا اورا س پر وہ لوگ راضی ہوئے قرآن کریم میں قصاص کا مسئلہ کئی آیتوں میں بیان ہوا ہے اس آیت میں قصاص و عفو دونوں کے مسئلہ ہیں اور اللہ تعالٰی کے اس احسان کا بیان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو قصاص وعفو میں مختار کیا چاہیں قصاص لیں یا عفو کریں آیت کے اول میں قصاص کے وجوب کا بیان ہے۔(ف315)اس سے ہر قاتل بالعمد پر قصاص کا وجوب ثابت ہوتا ہے خواہ اس نے آزاد کو قتل کیا ہو یا غلام کو مسلمان کو یا کافر کو مرد کو یا عورت کو کیونکہ قتلیٰ جو قتیل کی جمع ہے وہ سب کو شامل ہے ہاں جس کودلیلِ شرعی خاص کر ے وہ مخصوص ہوجائے گا۔ (احکام القرآن)(ف316)اس آیت میں بتایا گیا جو قتل کرے گا وہی قتل کیا جائے گا خواہ آزاد ہو یا غلام مرد ہو یا عورت اور اہل جاہلیت کا یہ طریقہ ظلم ہے جو ان میں رائج تھا کہ آزادوں میں لڑائی ہوتی تو وہ ایک کے بدلے دو کو قتل کرتے غلاموں میں ہوتی تو بجائے غلام کے آزاد کو مارتے عورتوں میں ہوتی تو عورت کے بدلے مرد کو قتل کرتے اور محض قاتل کے قتل پر اکتفا نہ کرتے اس کو منع فرمایا گیا ۔(ف317)معنی یہ ہیں کہ جس قاتل کو ولی مقتول کچھ معاف کریں اور اس کے ذمہ مال لازم کیا جائے اس پر اولیاء مقتول تقاضا کرنے میں نیک روش اختیار کریں اور قاتل خوں بہا خوش معاملگی کے ساتھ ادا کرے اس میں صلح برمال کا بیان ہے۔(تفسیر احمدی) مسئلہ : ولی مقتول کو اختیار ہے کہ خواہ قاتل کو بے عوض معاف کرے ےامال پر صلح کرے اگر وہ اس پر راضی نہ ہو اور قصاص چاہے تو قصاص ہی فرض رہے گا۔(جمل) مسئلہ : اگر مقتول کے تمام اولیاء قصاص معاف کردیں تو قاتل پر کچھ لازم نہیں رہتا مسئلہ : اگر مال پر صلح کریں تو قصاص ساقط ہوجاتا ہے اور مال واجب ہوتا ہے۔ (تفسیراحمدی) مسئلہ :ولی مقتول کو قاتل کا بھائی فرمانے میں دلالت ہے اس پر کہ قتل گرچہ بڑاگناہ ہے مگر اس سے اخوت ایمانی قطع نہیں ہوتی اس میں خوارج کا ابطال ہے جو مرتکب کبیرہ کو کافر کہتے ہیں۔(ف318)یعنی بدستور جاہلیت غیر قاتل کو قتل کرے یادیت قبول کرنے اور معاف کرنے کے بعد قتل کرے۔
تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے موافق دستور (ف۳۲۰) یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر،
It is ordained for you that when death approaches one of you, and he leaves behind wealth, he must bequeath it to parents and near relatives in accordance with tradition; this is a duty upon the pious.
तुम पर फ़र्ज़ हुआ कि जब तुम में किसी को मौत आए अगर कुछ माल छोड़े तो वसीयत कर जाए अपने माँ बाप और क़रीब के रिशतेदारों के लिये मुफ़िक़ दस्तूर यह वाजिब है परहेज़गारों पर,
Tum par farz huwa ke jab tum mein kisi ko maut aaye agar kuch maal chhode to wasiyat kar jaye apne maan baap aur qareeb ke rishtedaron ke liye mawafiq dastoor ye wajib hai parhezgaron par,
(ف320)یعنی موافق دستور شریعت کے عدل کرے اور ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہ کرے اور محتاجوں پر مالداروں کو ترجیح نہ دے مسئلہ : ابتدائے اسلام میں یہ وصیت فرض تھی جب میراث کے احکام نازل ہوئے منسوخ کی گئی اب غیر وارث کے لئے تہائی سے کم میں وصیت کرنا مستحب ہے بشرطیکہ وارث محتاج نہ ہوں یا ترکہ ملنے پر محتاج نہ رہیں ورنہ ترکہ وصیت سے افضل ہے۔ (تفسیر احمدی)
تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے (ف۳۲۱) اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے (ف۳۲۲) بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
So whoever changes the will after he has heard it – its sin is only upon those who change it; indeed Allah is the All Hearing, the All Knowing.
तो जो वसीयत को सुन सुना कर बदल दे उसका गुनाह उन्हें बदलने वालों पर है बेशक अल्लाह सुनता जानता है ,
To jo wasiyat ko sun suna kar badal de uska gunah unhein badalne walon par hai beshak Allah sunta jaanta hai,
(ف321)خواہ وصی ہو یا ولی شاہد اور وہ تبدیل کتابت میں کرے یا تقسیم میں یا ادائے شہادت میں اگر وہ وصیت موافق شرع ہے تو بدلنے والا گنہگار ہے۔(ف322)اور دوسرے خواہ وہ مُوْصِیْ ہوں یا مُوْصٰی لَہ، بری ہیں۔
پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرادی اس پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۲۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے
Then if one fears that the will maker (the deceased) has done injustice or sin, and he makes a reconciliation between the parties, there shall be no sin upon him; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
फिर जिसे अन्देशा हुआ कि वसीयत करने वाले ने कुछ बेइंसाफ़ी या गुनाह किया तो उसने उनमें सुलह करा दी उस पर कुछ गुनाह नहीं बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है
Phir jise andesha huwa ke wasiyat karne walay ne kuch be-insafi ya gunah kiya to usne un mein sulah kara di uspar kuch gunah nahi beshak Allah bakhne wala meherbaan hai
(ف323)معنی یہ ہیں کہ وارث یا وصی یا امام یا قاضی جس کو بھی موصی کی طرف سے ناانصافی یا ناحق کارروائی کا اندیشہ ہو وہ اگر موصی لہ یا وارثوں میں شرع کے موافق صلح کرادے تو گنہگار نہیں کیونکہ اس نے حق کی حمایت کے لئے باطل کو بدلا ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد وہ شخص ہے جو وقت وصیت دیکھے کہ موصی حق سے تجاوز کرتا اور خلاف شرع طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کو روک دے اور حق و انصاف کا حکم کرے۔
اے ایمان والو! (ف۳۲٤) تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ، (ف۳۲۵)
O People who Believe! Fasting is made compulsory for you, like it was ordained for those before you, so that you may attain piety.
ऐ ईमान वालो! तुम पर रोज़े फ़र्ज़ किये गये जैसे अगलों पर फ़र्ज़ हुए थे कि कहीं तुम्हें परहेज़गारी मिले ,
Aye imaan walon! tum par roze farz kiye gaye jaise uglon par farz huwe thay ke kahin tumhein parhez gaari mile,
(ف324)اس آیت میں روزوں کی فرضیت کا بیان ہے روزہ شرع میں اس کا نام ہے کہ مسلمان خواہ مرد ہو یا حیض یا نفاس سے خالی عورت صبح صادق سے غروب آفتاب تک بہ نیت عبادت خورد و نوش و مجامعت ترک کرے(عالمگیری وغیرہ) رمضان کے روزے ۱۰ شعبان ۲ ھ کو فرض کئے گئے(درمختار و خازن) اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ روزے عبادت قدیمہ ہیں۔زمانہ آدم علیہ السلام سےتمام شریعتوں میں فرض ہوتے چلے آئے اگرچہ ایام و احکام مختلف تھے مگر اصل روزے سب امتوں پر لازم رہے(ف325)اور تم گناہوں سے بچو کیونکہ یہ کسر نفس کا سبب اور متقین کا شعار ہے
گنتی کے دن ہیں (ف۳۲٦) تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو (ف۳۲۷) تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا (ف۳۲۸) پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے (ف۳۲۹) تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو (ف۳۳۰)
For a certain number of days only; so whoever is sick among you, or on a journey, the same number in other days; and those who do not have the strength for it must give a redemption by feeding a needy person; so whoever increases the good of his own accord, it is better for him; and fasting is better for you, if only you realise.
गिनती के दिन हैं तो तुम में जो कोई बीमार या सफ़र में हो तो इतने रोज़े और दिनों में और जिन्हें उसकी ताक़त न हो वह बदला दें एक मिस्कीन का खाना फिर जो अपनी तरफ़ से नेकी ज़्यादा करे तो वह उसके लिये बेहतर है और रोज़ा रखना तुम्हारे लिये ज़्यादा भला है अगर तुम जानो
Ginti ke din hain to tum mein jo koi beemar ya safar mein ho to itne roze aur dino mein aur jinhon iski taqat na ho woh badla dein ek miskeen ka khana phir jo apni taraf se neki zyada kare to woh uske liye behtar hai aur roza rakhna tumhare liye zyada bhala hai agar tum jaano
(ف326)یعنی صرف رمضان کا ایک مہینہ(ف327)سفر سے وہ مراد ہے جس کی مسافت تین دن سے کم نہ ہو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مریض و مسافر کو رخصت دی کہ اگر اس کو رمضان مبارک میں روزہ رکھنے سے مرض کی زیادتی یا ہلاک کا اندیشہ ہو یا سفر میں شدت و تکلیف کا تو وہ مرض و سفر کے ایام میں افطار کرے اور بجائے اس کے ایام منہیّہ کے سوا اور دنوں میں اس کی قضا کرے ایام منہیّہ پانچ دن ہیں جن میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ دونوں عیدین اور ذی الحجہ کی گیارھویں بارھویں تیرھویں تاریخیں مسئلہ : مریض کو محض وہم پر روزے کا افطار جائز نہیں جب تک دلیل یا تجربہ یا غیر ظاہرا لفسق طبیب کی خبر سے اس کا غلبہ ظن حاصل نہ ہو کہ روزہ مرض کے طول یا زیادتی کا سبب ہوگا۔ مسئلہ : جو بالفعل بیمار نہ ہو لیکن مسلمان طبیب یہ کہے کہ وہ روزے رکھنے سے بیمار ہوجائے گا وہ بھی مریض کے حکم میں ہے مسئلہ : حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت کو اگر روزہ رکھنے سے اپنی یا بچے کی جان کا یا اس کے بیمار ہوجانے کا اندیشہ ہو تو اس کوبھی افطار جائز ہے مسئلہ :جس مسافر نے طلوع فجر سے قبل سفر شروع کیا اس کو تو روزے کا افطار جائز ہے لیکن جس نے بعد طلوع سفر کیا اس کو اس دن کا افطار جائز نہیں۔(ف328)مسئلہ: جس بوڑھے مرد یا عورت کو پیرانہ سالی کے ضعف سے روزہ رکھنے کی قدرت نہ رہے اور آئیندہ قوت حاصل ہونے کی امید بھی نہ ہو اس کو شیخ فانی کہتے ہیں اس کے لئے جائز ہے کہ افطار کرے اور ہر روزے کے بدلے نصف صاع یعنی ایک سو پچھتر روپیہ اور ایک اٹھنی بھر گیہوں یا گیہوں کا آٹا یا اس سے دو نے جو یا اس کی قیمت بطور فدیہ دے مسئلہ : اگر فدیہ دینے کے بعد روزہ رکھنے کی قوت آگئی تو روزہ واجب ہوگا۔مسئلہ : اگر شیخ فانی نادار ہواور فدیہ دینے کی قدرت نہ رکھے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور اپنے عفوِ تقصیر کی دعا کرتا رہے۔(ف329)یعنی فدیہ کی مقدار سے زیادہ دے۔(ف330)اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ مسافر و مریض کو افطار کی اجازت ہے لیکن زیادہ بہتر و افضل روزہ رکھنا ہی ہے۔
رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا (ف۳۳۱) لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے، ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو (ف۳۳۲) اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو،
The month of Ramadan in which was sent down the Qur’an – the guidance for mankind, the direction and the clear criteria (to judge between right and wrong); so whoever among you witnesses this month, must fast for the (whole) month; and whoever is sick or on a journey, may fast the same number in other days; Allah desires ease for you and does not desire hardship for you – so that you complete the count (of fasts), and glorify Allah’s greatness for having guided you, and so that you may be grateful.
रमज़ान का महीना जिसमें क़ुरआन उतरा लोगों के लिये हिदायत और रहनुमाई और फ़ैसले की रौशन बातें तो तुम में जो कोई यह महीना पाए , ज़रूर उसके रोज़े रखे और जो बीमार या सफ़र में हो तो इतने रोज़े और दिनों में अल्लाह तुम पर आसानी चाहता है और तुम पर दुश्वारी नहीं चाहता और इस लिये कि तुम गिनती पूरी करो और अल्लाह की बड़ाई बोलो उस पर कि उसने तुम्हें हिदायत की और कहीं तुम हक़गुज़ार हो,
Ramazan ka mahina jismein Qur’an utara logon ke liye hidayat aur rehnumai aur faisla ki roshan baatein to tum mein jo koi ye mahina paaye, zaroor uske roze rakhe aur jo beemar ya safar mein ho to itne roze aur dino mein Allah tum par aasaani chahta hai aur tum par dushwari nahi chahta aur is liye ke tum ginti poori karo aur Allah ki baddayi bolo is par ke usne tumhein hidayat ki aur kahin tum haqq guzaar ho,
(ف331)اس کے معنی میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔(۱) یہ کہ رمضان وہ ہے جس کی شان و شرافت میں قرآن پاک نازل ہوا۔(۲) یہ کہ قرآن کریم میں نزول کی ابتداء رمضان میں ہوئی۔(۳) یہ کہ قرآن کریم بتمامہ رمضان المبارک کی شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف اتارا گیا اور بیت العزت میں رہا یہ اسی آسمان پر ایک مقام ہے یہاں سے وقتاً فوقتاً حسب اقتضائے حکمت جتنا جتنا منظور الٰہی ہوا جبریل امین لاتے رہے یہ نزول تیئیس سال کے عرصہ میں پورا ہوا۔(ف332)حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے تو چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اگر ۲۹ رمضان کو چاند کی رؤیت نہ ہو تو تیس دن کی گنتی پوری کرو ۔
اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں (ف۳۳۳) دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے (ف۳۳٤) تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں،
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), when My bondmen question you concerning Me, then surely I am close; I answer the prayer of the supplicant when he calls on Me, so they must obey Me and believe in Me, so that they may attain guidance.
और ऐ महबूब जब तुम से मेरे बन्दे मुझे पूछें तो मैं नज़दीक हूँ दुआ क़बूल करता हूँ पुकारने वाले की जब मुझे पुकारे तो उन्हें चाहिये मेरा हुक्म मानें और मुझ पर ईमान लाएँ कि कहीं राह पायें ,
Aur aye mehboob jab tumse mere banday mujhe poochhein to main nazdeek hoon dua qubool karta hoon pukarne wale ki jab mujhe pukare to unhein chahiye mera hukm maanein aur mujhpar imaan laayein ke kahin raah paayein,
(ف333)اس میں طالبان حق کی طلب مولیٰ کا بیان ہے جنہوں نے عشق الہٰی پر اپنے حوائج کو قربان کردیا وہ اسی کے طلبگار ہیں انہیں قرب ووصال کے مژدہ سے شاد کام فرمایا شان نزول :ایک جماعت صحابہ نے جذبہ عشق الٰہی میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہمارا رب کہاں ہے اس پر نوید قرب سے سرفراز کرکے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ مکان سے پاک ہے جو چیز کسی سے مکانی قرب رکھتی ہے وہ اس کے دور والے سے ضرور بعد رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ سب بندوں سے قریب ہے مکانی کی یہ شان نہیں منازل قرب میں رسائی بندہ کو اپنی غفلت دور کرنے سے میسر آتی ہے۔ دوست نزدیک تراز من بمن ست ۔ ویں عجب ترکہ من ازوے دورم(ف334)دعا عرضِ حاجت ہے اور اجابت یہ ہے کہ پروردگار اپنے بندے کی دعا پر لَبَیْکَ عَبْدِیْ فرماتا ہے مراد عطا فرمانا دوسری چیز ہے وہ بھی کبھی اس کے کرم سے فی الفور ہوتی ہے کبھی بمقتضائے حکمت کسی تاخیر سے کبھی بندے کی حاجت دنیا میں روا فرمائی جاتی ہے کبھی آخرت میں کبھی بندے کا نفع دوسری چیز میں ہوتاہے وہ عطا کی جاتی ہے کبھی بندہ محبوب ہوتا ہے اس کی حاجت روائی میں اس لئے دیر کی جاتی ہے کہ وہ عرصہ تک دعا میں مشغول رہے۔ کبھی دعا کرنے والے میں صدق و اخلاص وغیرہ شرائط قبول نہیں ہوتے اسی لئے اللہ کے نیک اور مقبول بندوں سے دعا کرائی جاتی ہے مسئلہ : ناجائز امر کی دعا کرنا جائز نہیں دعا کے آداب میں سے ہے کہ حضور قلب کے ساتھ قبول کا یقین رکھتے ہوئے دعا کرے اور شکایت نہ کرے کہ میری دعا قبول نہ ہوئی ترمذی کی حدیث میں ہے کہ نماز کے بعد حمد و ثناء اور درود شریف پڑھے پھر دعا کرے۔
روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا (ف۳۳۵) وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس، اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا (ف۳۳٦) تو اب ان سے صحبت کرو (ف۳۳۷) اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو (ف۳۳۸) اور کھاؤ اور پیئو (ف۳۳۹) یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہو جائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) (ف۳٤۰) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو (ف۳٤۱) اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو (ف۳٤۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے،
Going to your wives during the nights of the fast is made lawful for you; they are coverings for you and you are coverings for them; Allah knows that you were deceiving yourselves (in this respect), so He accepted your penance and forgave you; so cohabit with them and seek what Allah has destined for you – and eat and drink until the white thread becomes distinct to you from the black thread at dawn – then complete the fast till nightfall; and do not touch women while staying in seclusion for worship in the mosques; these are the limits imposed by Allah, so do not go near them; this is how Allah explains His verses to mankind so that they may attain piety.
रोज़ा की रातों में अपनी औरतों के पास जाना तुम्हारे लिये हलाल हुआ वह तुम्हारी लिबास हैं और तुम उनके लिबास, अल्लाह ने जाना कि तुम अपनी जानों को ख़यानत में डालते थे तो उसने तुम्हारी तौबा क़बूल की और तुम्हें माफ़ फ़रमाया तो अब उनसे सुहबत करो और तलब करो जो अल्लाह ने तुम्हारे नसीब में लिखा हो और खाओ और पियो यहाँ तक कि तुम्हारे लिये ज़ाहिर हो जाए सफ़ेदी का डोरा सियाही के डोरे से (पो फट कर) फिर रात आने तक रोज़े पूरे करो और औरतों को हाथ न लगाओ जब तुम मस्जिदों में एतक़ाफ़ से हो यह अल्लाह की हदें हैं उनके पास न जाओ अल्लाह यूँ ही बयान करता है लोगों से अपनी आयतें कि कहीं उन्हें परहेज़गारी मिले ,
Roze ki raton mein apni aurton ke paas jaana tumhare liye halal huwa woh tumhari libaas hain aur tum unke libaas, Allah ne jaana ke tum apni jaano ko khayanat mein daalte thay to usne tumhari tauba qubool ki aur tumhein maaf farmaya to ab unse sohbت karo aur talab karo jo Allah ne tumhare naseeb mein likha ho aur khao aur piو yahan tak ke tumhare liye zaahir ho jaye safedi ka dora siyahi ke dore se (po phat kar) phir raat aane tak roze poore karo aur aurton ko haath na lagao jab tum masjidon mein aitkaaf se ho ye Allah ki haden hain unke paas na jao Allah yun hi bayan karta hai logon se apni aayaten ke kahin unhein parhezgaari mile,
(ف335)شان نزول: شرائع سابقہ میں افطار کے بعد کھانا پینا مجامعت کرنا نمازِ عشاء تک حلال تھا بعد نماز عشا ء یہ سب چیزیں شب میں بھی حرام ہوجاتی تھیں یہ حکم زمانہ اقدس تک باقی تھا بعض صحابہ سے رمضان کی راتوں میں بعدِعشاء مباشرت وقوع میں آئی ان میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے اس پروہ حضرات نادم ہوئے اور درگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم میں عرض حال کیا اللہ تعالیٰ نے معاف فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی اور بیان کردیا گیا کہ آئیندہ کے لئے رمضان کی راتوں میں مغرب سے صبح صادق تک مجامعت کرنا حلال کیا گیا(ف336)اس خیانت سے وہ مجامعت مراد ہے جو قبل اباحت رمضان کی راتوں میں مسلمانوں سے سرزد ہوئی تھی اس کی معافی کا بیان فرما کر ان کی تسکین فرمادی گئی۔(ف337)یہ امر اباحت کے لئے ہے کہ اب وہ ممانعت اٹھادی گئی اور لیالیِ رمضان میں مباشرت مباح کردی گئی۔(ف338)اس میں ہدایت ہے کہ مباشرت نسل و اولاد حاصل کرنے کی نیت سے ہونی چاہئے جس سے مسلمان بڑھیں اور دین قوی ہو مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ معنی یہ ہیں کہ مباشرت موافق حکم شرع ہو جس محل میں جس طریقہ سے مباح فرمائی اس سے تجاوز نہ ہو۔(تفسیر احمدی) ایک قول یہ بھی ہے کہ جو اللہ نے لکھا اس کو طلب کرنے کے معنی ہیں رمضان کی راتوں میں کثرتِ عبادت اور بیدار رہ کر شب قدر کی جستجو کرنا۔(ف339)یہ آیت صرمہ بن قیس کے حق میں نازل ہوئی آپ محنتی آدمی تھے ایک دن بحالت روزہ دن بھر اپنی زمین میں کام کرکے شام کو گھر آئے بیوی سے کھانا مانگا وہ پکانے میں مصروف ہوئیں یہ تھکے ہوئے تھے آنکھ لگ گئی جب کھانا تیار کرکے انہیں بیدار کیا انہوں نے کھانے سے انکار کردیاکیونکہ اس زمانہ میں سوجانے کے بعد روزہ دار پر کھانا پینا ممنوع ہوجاتا تھا اور اسی حالت میں دوسراروزہ رکھ لیا ضعف انتہا کو پہنچ گیا تھا دوپہر کو غشی آگئی ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور رمضان کی راتوں میں ان کے سبب سے کھانا پینا مباح فرمایا گیا جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی انابت و رجوع کے باعث قربت حلال ہوئی۔(ف340)رات کو سیاہ ڈورے سے اور صبح صادق کو سفید ڈورے سے تشبیہ دی گئی معنی یہ ہیں کہ تمہارے لئے کھانا پینا رمضان کی راتوں میں مغرب سے صبح صادق تک مباح فرمایا گیا(تفسیر احمدی) مسئلہ : صبح صادق تک اجازت دینے میں اشارہ ہے کہ جنابت روزے کے منافی نہیں جس شخص کو بحالت جنابت صبح ہوئی وہ غسل کرلے اس کا روزہ جائز ہے۔(تفسیر احمدی) مسئلہ : اسی سے علماء نے یہ مسئلہ نکالا کہ رمضان کے روزے کی نیت دن میں جائز ہے۔(ف341)اس سے روزے کی آخر حد معلوم ہوتی ہے اور یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ بحالت روزہ خوردو نوش و مجامعت میں سے ہر ایک کے ارتکاب سے کفارہ لازم ہوجاتا ہے۔(مدارک) مسئلہ علماء نے اس آیت کو صومِ و صال یعنی تَہْ کے روزے کے ممنوع ہونے کی دلیل قرار دیا ہے۔(ف342)(۳۴۲) اس میں بیان ہے کہ رمضان کی راتوں میں روزہ دار کے لئے جماع حلال ہے جب کہ وہ معتکف نہ ہو مسئلہ:اعتکاف میں عورتوں سے قربت اور بوس و کنار حرام ہے مسئلہ : مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد ضروری ہے۔ مسئلہ : معتکف کو مسجد میں کھانا، پینا، سونا جائز ہے مسئلہ: عورتوں کا اعتکاف ان کے گھروں میں جائز ہے ۔(مسئلہ) اعتکاف ہر ایسی مسجد میں جائز ہے جس میں جماعت قائم ہو مسئلہ : اعتکاف میں روزہ شرط ہے۔
اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھاؤ (ف۳٤۳) جان بوجھ کر ،
And do not unjustly devour the property of each other, nor take their cases to judges in order that you may wrongfully devour a portion of other peoples’ property on purpose.
और आपस में एक दूसरे का माल नाहक़ न खाओ और न हाकिमों के पास उनका मुक़दमा इस लिये पहुँचाओ कि लोगों का कुछ माल नाजायज़ तौर पर खाओ जान बूझ कर ,
Aur aapas mein ek dusre ka maal na-haq na khao aur na haakimon ke paas unka muqadma is liye pohnchao ke logon ka kuch maal najaayaz tor par khao jaan bujh kar,
(ف343)اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کر یا چھین کر چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ ناجائز فائدہ کے لئے کسی پر مقدمہ بنانا اور اس کو حکام تک لے جانا ناجائز و حرام ہے اسی طرح اپنے فائدہ کی غرض سے دوسرے کو ضرر پہنچانے کے لئے حکام پر اثر ڈالنا رشوتیں دینا حرام ہے جو حکام رس لوگ ہیں وہ اس آیت کے حکم کو پیش نظر رکھیں حدیث شریف میں مسلمانوں کے ضرر پہنچانے والے پر لعنت آئی ہے۔
تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں (ف۳٤٤) تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لئے (ف۳٤۵) اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ (ف۳٤٦) گھروں میں پچھیت (پچھلی دیوار) توڑ کر آؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے، اور گھروں میں دروازوں سے آؤ (ف۳٤۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ
They ask you, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), regarding the crescents; say, “They are indicators of time for mankind and for Hajj (the pilgrimage)”; and it is not a virtue at all that you enter the houses by demolishing their back portions, but in reality virtue is piety; and enter the houses using their gates – and keep fearing Allah, hoping that you achieve success.
तुम से नये चाँद को पूछते हैं तुम फ़रमा दो वह वक़्त की अलामतें हैं लोगों और हज के लिये और यह कुछ भलाई नहीं कि घरों में पुछीत (पिछली दीवार) तोड़ कर आओ हाँ भलाई तो परहेज़गारी है , और घरों में दरवाज़ों से आओ और अल्लाह से डरते रहो इस उम्मीद पर कि फ़लाह पाओ
Tumse naye chaand ko poochhte hain tum farma do woh waqt ki alamatیں hain logon aur Hajj ke liye aur ye kuch bhalayi nahi ke gharon mein picheet (pichhli deewar) tod kar aao haan bhalayi to parhezgaari hai, aur gharon mein darwazon se aao aur Allah se darte raho is umeed par ke falaah pao
(ف344)شانِ نزول:یہ آیت حضرت معاذ بن جبل اور ثعلبہ بن غنم انصاری کے جواب میں نازل ہوئی ان دونوں نے دریافت کیا کہ یارسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم چاند کا کیا حال ہے ابتداء میں بہت باریک نکلتا ہے پھر روز بروز بڑھتا ہے یہاں تک کہ پورا روشن ہوجاتا ہے پھر گھٹنے لگتا ہے اور یہاں تک گھٹتا ہے کہ پہلے کی طرح باریک ہوجاتا ہے ایک حال پر نہیں رہتا اس سوال سے مقصد چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمتیں دریافت کرنا تھا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ سوال کا مقصود چاند کے اختلافات کا سبب دریافت کرنا تھا ۔(ف345)چاند کے گھٹنے بڑھنے کے فوائد بیان فرمائے کہ وہ وقت کی علامتیں ہیں اور آدمیوں کے ہزار ہا دینی و دنیوی کام اس سے متعلق ہیں زراعت ، تجارت ،لین دین کے معاملات، روزے اور عید کے اوقات عورتوں کی عدتیں حیض کے ایّام حمل اور دودھ پلانے کی مدتیں اور دودھ چھڑانے کے وقت اور حج کے اوقات اس سے معلوم ہوتے ہیں کیونکہ اول میں جب چاند باریک ہوتا ہے تو دیکھنے والا جان لیتا ہے کہ ابتدائی تاریخیں ہیں اور جب چاند پورا روشن ہوتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مہینے کی درمیانی تاریخ ہے اور جب چاند چھپ جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مہینہ ختم پر ہے اسی طرح ان کی مابین ایّام میں چاند کی حالتیں دلالت کیا کرتی ہیں پھر مہینوں سے سال کا حساب ہوتا ہے یہ وہ قدرتی جنتری ہے جو آسمان کے صفحہ پر ہمیشہ کھلی رہتی ہے اور ہر ملک اور ہر زبان کے لوگ پڑھے بھی اور بے پڑھے بھی سب اس سے اپنا حساب معلوم کرلیتے ہیں۔(ف346)شان نزول :زمانہ جاہلیت میں لوگوں کی یہ عادت تھی کہ جب وہ حج کے لئے احرام باندھتے تو کسی مکان میں اس کے دروازے سے داخل نہ ہوتے اگر ضرورت ہوتی تو پچھیت توڑ کر آتے اور اس کو نیکی جانتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ف347)خواہ حالت احرام ہو یا غیر احرام
اور اللہ کی راہ میں لڑو (ف۳٤۸) ان سے جو تم سے لڑتے ہیں (ف۳٤۹) اور حد سے نہ بڑھو (ف۳۵۰) اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو ،
And fight in Allah's cause against those who fight you and do not exceed the limits; and Allah does not like the transgressors.
और अल्लाह की राह में लड़ो उनसे जो तुम से लड़ते हैं और हद से न बढ़ो अल्लाह पसन्द नहीं रखता हद से बढ़ने वालों को ,
Aur Allah ki raah mein lado unse jo tumse ladte hain aur hadd se na badho Allah pasand nahi rakhta hadd se badhne walon ko,
(ف348)۶ ھ میں حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا اس سال سید عالم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم مدینہ طیبہ سے بقصد عمرہ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا اور اس پر صلح ہوئی کہ آپ سال آئندہ تشریف لائیں تو آپ کے لئے تین روز مکہ مکرمہ خالی کردیا جائے گا چنانچہ اگلے سال ۷ ھ میں حضور صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم عمرہ قضاء کے لئے تشریف لائے اب حضور کے ساتھ ایک ہزار چار سو کی جماعت تھی مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ کفار وفائے عہد نہ کریں گے اور حرم مکہ میں شہر حرام یعنی ماہ ذی القعدہ میں جنگ کریں گے اور مسلمان بحالت احرام ہیں اس حالت میں جنگ کرنا گراں ہے کیونکہ زمانہ جاہلیت سے ابتدائے اسلام تک نہ حرم میں جنگ جائز تھی نہ ماہ حرام میں نہ حالت احرام میں تو انہیں تردد ہوا کہ اس وقت جنگ کی اجازت ملتی ہے یا نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف349)اس کے معنی یا تو یہ ہیں کہ جو کفار تم سے لڑیں یا جنگ کی ابتداء کریں تم ان سے دین کی حمایت اور اعزاز کے لئے لڑو یہ حکم ابتداء اسلام میں تھاپھر منسوخ کیا گیا اور کفار سے قتال کرنا واجب ہوا خواہ وہ ابتداء کریں یا نہ کریں یا یہ معنی ہیں کہ جو تم سے لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ بات سارے ہی کفار میں ہے کیونکہ وہ سب دین کے مخالف اور مسلمانوں کے دشمن ہیں خواہ انہوں نے کسی وجہ سے جنگ نہ کی ہو لیکن موقع پانے پرچُوکنے والے نہیں یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جو کافر میدان میں تمہارے مقابل آئیں اور تم سے لڑنے والے ہوں ان سے لڑو اس صورت میں ضعیف بوڑھے بچے مجنون اپاہج اندھے بیمار عورتیں وغیرہ جو جنگ کی قدرت نہیں رکھتے اس حکم میں داخل نہ ہوں گے ان کو قتل کرنا جائز نہیں۔(ف350)جو جنگ کے قابل نہیں ان سے نہ لڑو یا جن سے تم نے عہد کیا ہو یا بغیر دعوت کے جنگ نہ کرو کیونکہ طریقہ شرع یہ ہے کہ پہلے کفار کو اسلام کی دعوت دی جائے اگر ا نکار کریں تو جزیہ طلب کیاجائے اس سے بھی منکر ہوں تب جنگ کی جائے اس معنی پر آیت کا حکم باقی ہے منسوخ نہیں۔(تفسیر احمدی)
اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو (ف۳۵۱) اور انہیں نکال دو (ف۳۵۲) جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا (ف۳۵۳) اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے (ف۳۵٤) اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں (ف۳۵۵) اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو (ف۳۵٦) کافروں کی یہی سزا ہے،
And slay the disbelievers wherever you find them, and drive them out from where they drove you out, and the turmoil they cause is worse than slaying; and do not fight them near the Sacred Mosque until they fight you there; so if they fight you, slay them; this is the punishment of the disbelievers.
और काफ़िरों को जहाँ पाओ मारो और उन्हें निकाल दो जहाँ से उन्होंने तुम्हें निकाला था और उनका फ़साद तो क़त्ल से भी सख़्त है और मस्जिदे हराम के पास उनसे न लड़ो जब तक वह तुम से वहाँ न लड़ें और अगर तुम से लड़ें तो उन्हें क़त्ल करो काफ़िरों की यही सज़ा है ,
Aur kaafiron ko jahan pao maaro aur unhein nikaal do jahan se unhon ne tumhein nikaala tha aur unka fasaad to qatl se bhi sakht hai aur Masjid Haraam ke paas unse na lado jab tak woh tumse wahan na ladein aur agar tumse ladein to unhein qatl karo kaafiron ki yahi saza hai,
(ف351)خواہ حرم ہو یا غیر حرم۔(ف352)مکہ مکرمہ سے ۔(ف353)سال گزشتہ چنانچہ روز فتح مکہ جن لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا اُن کے ساتھ یہی کیا گیا۔(ف354)فساد سے شرک مراد ہے یا مسلمانوں کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکنا ۔(ف355)کیونکہ یہ حرمت حرم کے خلاف ہے۔(ف356)کہ انہوں نے حرم شریف کی بے حرمتی کی۔
ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے (ف۳۵۹) جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے،
The sacred month for the sacred month, and respect in lieu of respect; harm the one who harms you, to the extent as he did – and keep fearing Allah, and know well that Allah is with the pious.
माहे हराम के बदले माहे हराम और अदब के बदले अदब है जो तुम पर ज़्यादती करे उस पर ज़्यादती करो उतनी ही जितनी उसने की और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि अल्लाह डर वालों के साथ है ,
Mah-e-Haraam ke badle Mah-e-Haraam aur adab ke badle adab hai jo tumpar ziyadati kare uspar ziyadati karo itni hi jitni usne ki aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke Allah dar walon ke saath hai,
(ف359)جب گزشتہ سال ذی القعدہ ۶ھ میں مشرکین عرب نے ماہ حرام کی حرمت و ادب کا لحاظ نہ رکھا اور تمہیں ادائے عمرہ سے روکا تو یہ بے حرمتی ان سے واقع ہوئی اور اس کے بدلے تبوفیق الہی ۷ھ کے ذی القعدہ میں تمہیں موقع ملا کہ تم عمرئہ قضا کو ادا کرو
اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۳٦۰) اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو (ف۳٦۱) اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں،
And spend your wealth in Allah's cause, and do not fall into ruin with your own hands; and be virtuous; undoubtedly the righteous are the beloved of Allah.
और अल्लाह की राह में खर्च करो और अपने हाथों , हलाकत में न पड़ो और भलाई वाले हो जाओ बेशक भलाई वाले अल्लाह के महबूब हैं ,
Aur Allah ki raah mein kharch karo aur apne haathon, halakat mein na pado aur bhalayi wale ho jao beshak bhalayi wale Allah ke mehboob hain,
(ف360)اس سے تمام دینی امور میں طاعت و رضائے الہی کے لئے خرچ کرنا مراد ہے خواہ جہاد ہو یا اور نیکیاں۔(ف361)راہِ خدا میں انفاق کا ترک بھی سبب ہلاک ہے اور اسراف بیجا بھی اور اس طرح اور چیز بھی جو خطرئہ ہلاک کا باعث ہو ان سب سے باز رہنے کا حکم ہے حتی کہ بے ہتھیار میدان جنگ میں جاناےا زہر کھانا یا کسی طرح خود کشی کرنا مسئلہ : علماء نے اس سے یہ مسئلہ بھی اخذ کیا ہے کہ جس شہر میں طاعون ہو وہاں نہ جائیں اگرچہ وہاں کے لوگوں کو وہاں سے بھاگنا ممنوع ہے۔
اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو (ف۳٦۲) پھر اگر تم روکے جاؤ (ف۳٦۳) تو قربانی بھیجو جو میسر آئے (ف۳٦٤) اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے (ف۳٦۵) پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے (ف۳٦٦) تو بدلے دے روزے (ف۳٦۷) یا خیرات (ف۳٦۸) یا قربانی ، پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے (ف۳٦۹) اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے (ف۳۷۰) پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے (ف۳۷۱) اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو (ف۳۷۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے،
And perform Hajj (greater pilgrimage) and Umrah (lesser pilgrimage) for Allah; and if you are prevented, send sacrifice whatever is available; and do not shave your heads until the sacrifice reaches its destination; so whoever among you is sick or has an ailment in the head, must pay a compensation by fasting or charity or sacrifice; then when you are in peace – and whoever takes the advantage of combining the Hajj and Umrah, it is compulsory for him to sacrifice whatever is available; and whoever cannot afford it, must fast for three days while on the pilgrimage, and seven when you have returned to your homes; these are ten in all; this decree is for him who is not a resident of Mecca; and keep fearing Allah and know well that Allah’s punishment is severe.
और हज और उमरा अल्लाह के लिये पूरा करो फिर अगर तुम रोके जाओ तो क़ुर्बानी भेजो जो मयस्सर आए और अपने सर न मुँडाओ जब तक क़ुर्बानी अपने ठिकाने न पहुँच जाए फिर जो तुम में बीमार हो या उसके सर में कुछ तकलीफ़ है तो बदले दे रोज़े या खैरात या क़ुर्बानी , फिर जब तुम इत्मीनान से हो तो जो हज से उमरा मिलाने का फ़ायदा उठाए उस पर क़ुर्बानी है जैसी मयस्सर आए फिर जिसे मक़दूर न हो तो तीन रोज़े हज के दिनों में रखे और सात जब अपने घर पलट कर जाओ यह पूरे दस हुए यह हुक्म उसके लिये है जो मक्का का रहने वाला न हो और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि अल्लाह का अज़ाब सख़्त है ,
Aur Hajj aur Umrah Allah ke liye poora karo phir agar tum roke jao to qurbani bhejo jo mayassar aaye aur apne sar na mandaao jab tak qurbani apne thikane na pohnch jaye phir jo tum mein beemar ho ya uske sar mein kuch takleef hai to badle de roze ya khairaat ya qurbani, phir jab tum itminan se ho to jo Hajj se Umrah milane ka faida uthaye uspar qurbani hai jaisi mayassar aaye phir jise maqdoor na ho to teen roze Hajj ke dino mein rakhe aur saat jab apne ghar palat kar jao ye poore das huwe ye hukm iske liye hai jo Makka ka rehne wala na ho aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke Allah ka azaab sakht hai,
(ف362)اور ان دونوں کو ان کےفرائض و شرائط کے ساتھ خاص اللہ کے لئے بے سستی و نقصان کامل کرو حج نام ہے احرام باندھ کر نویں ذی الحجہ کو عرفات میں ٹھہرنے اور مکّہ معظمہ کے طواف کا اس کے لئے خاص وقت مقرر ہے جس میں یہ افعال کئے جائیں تو حج ہے مسئلہ: حج بقول راجح ۹ھ میں فرض ہو اس کے فرضیت قطعی ہے حج کے فرائض یہ ہیں۔(۱)احرام (۲) عرفہ میں وقوف (۳) طواف زیارت ۔حج کے واجبات (۱) مزدلفہ میں وقوف (۲) صفاو مروہ کے درمیان سعی(۳) رمی جمار اور (۴) آفاقی کے لئے طواف رجوع اور(۵) حلق یا تقصیر عمرہ کے رکن طواف و سعی ہیں اور اس کی شرط احرام و حلق ہے حج و عمرہ کے چار طریقے ہیں۔(۱) افراد بالحج وہ یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں یا ان سے قبل میقات سے یا اس ے پہلے حج کا احرام باندھے اور دل سے اس کی نیت کرے خواہ زبان سے تلبیہ کے وقت اس کا نام لے یا نہ لے(۲) افراد بالعمرہ وہ یہ ہے کہ میقات سے یا اس سے پہلے اشہر حج میں یا ان سے قبل عمرہ کا احرام باندھے اور دل سے اس کا قصد کرے خواہ وقت تلبیہ زبان سے اس کا ذکر کرے یا نہ کرے اور اس کے لئے اشہر حج میں یا اس سے قبل طواف کرے خواہ اس سال میں حج کرے یا نہ کرے مگر حج و عمرہ کے درمیان المام صحیح کرے اس طرح کہ اپنے اہل کی طرف حلال ہو کر واپس ہو۔(۳) قران یہ ہے کہ حج و عمرہ دونوں کو ایک احرام میں جمع کرے وہ احرام میقات سے باندھا ہو یا اس سے پہلے اشھرحج میں یا اس سے قبل اول سے حج و عمرہ دونوں کی نیت ہو خواہ وقت تلبیہ زبان سے دونوں کا ذکر کرے یا نہ کرے پہلے عمرہ کے افعال ادا کرے پھر حج کے ۔(۴) تمتع یہ ہے کہ میقات سے یا اس سے پہلے اشہر حج میں یا اس سے قبل عمرہ کا احرام باندھے اور اشہر حج میں عمرہ کرے یا اکثر طواف اس کے اشہر حج میں ہوں اور حلال ہو کر حج کے لئے احرام باندھے اور اسی سال حج کرے اور حج وعمرہ کے درمیان اپنے اہل کے ساتھ المام صحیح نہ کرے۔(مسکین و فتح) مسئلہ : اس آیت سے علماء نے قران ثابت کیا ہے۔(ف363)حج یا عمرہ سے بعد شروع کرنے اور گھر سے نکلنے اور محرم ہوجانے کے یعنی تمہیں کوئی مانع ادائے حج یا عمرہ سے پیش آئے خواہ وہ دشمن کا خوف ہو یا مرض وغیرہ ایسی حالت میں تم احرام سے باہر آجاؤ۔(ف364)اونٹ یا گائے یا بکری اور یہ قربانی بھیجنا واجب ہے۔(ف365)یعنی حرم میں جہاں اس کے ذبح کا حکم ہے مسئلہ یہ قربانی بیرون حرم نہیں ہوسکتی۔(ف366)جس سے وہ سر منڈانے کے لئے مجبور ہو اور سرمنڈالے۔(ف367)تین دن کے (ف368)چھ مسکینوں کا کھانا ہر مسکین کے لئے پونے دو سیر گیہوں (ف369)یعنی تمتع کرے۔(ف370)یہ قربانی تمتع کی ہے حج کے شکر میں واجب ہوئی خواہ تمتع کرنے والا فقیر ہو، عید الضحٰی کی قربانی نہیں جو فقیر و مسافر پر واجب نہیں ہوتی۔(ف371)یعنی یکم شوال سے نویں ذی الحجہ تک احرام باندھنے کے بعد اس درمیان میں جب چاہے ر کھ لے خواہ ایک ساتھ یا متفرق کرکے بہتر یہ ہے کہ ۷۔۸۔۹ ذی الحجہ کو رکھے۔(ف372)مسئلہ: اہل مکہ کے لئے نہ تمتع ہے نہ قران اور حدود مواقیت کے اندر کے رہنے والے اہل مکہ میں داخل ہیں۔ مواقیت پانچ ہیں۔(۱) ذوالحلیفہ (۲) ذات عرق (۳) جحفہ (۴) قرن (۵) یلملم، ذوالحلیفہ: اہل مدینہ کے لئے ذات عرق اہل عراق کے لئے ، جحفہ اہل شام کے لئے ، قرن اہل نجد کے لئے، یلملم اہلِ یمن کے لئے ۔
حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے (ف۳۷۳) تو جو ان میں حج کی نیت کرے (ف۳۷٤) تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا (ف۳۷۵) حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے (ف۳۷٦) اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے (ف۳۷۷) اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو ، (ف۳۷۸)
The Hajj is during the well-known months; and for one who intends to perform the Hajj in it – neither is there to be mention of cohabitation in the presence of women, nor any sin, nor a fight with anyone till the completion of Hajj; and whatever good you do, Allah knows it; and take provision along with you for the best provision is piety; and keep fearing Me, O men of understanding!
हज के कई महीना हैं जाने हुए तो जो उनमें हज की नीयत करे तो न औरतों के सामने सुहबत का तज़किरा हो न कोई गुनाह, न किसी से झगड़ा हज के वक़्त तक और तुम जो भलाई करो अल्लाह उसे जानता है और तोशा साथ लो कि सब से बेहतर तोशा परहेज़गारी है और मुझ से डरते रहो ऐ अक़्ल वालो ,
Hajj ke kai mahine hain jaane hue to jo un mein Hajj ki niyat kare to na auraton ke samne sohbat ka tazkira ho na koi gunah, na kisi se jhagra Hajj ke waqt tak aur tum jo bhalai karo Allah use jaanta hai aur tosha saath lo ke sabse behtar tosha parhez gaari hai aur mujh se darte raho ae aql walo,
(ف373)شوال ذوالقعدہ اور دس تاریخیں ذی الحجہ کی حج کے افعال انہی ایام میں درست ہیں۔مسئلہ : اگر کسی نے ان ایام سے پہلے حج کا احرام باندھا تو جائز ہے لیکن بکراہت (ف374)یعنی حج کو اپنے اوپر لازم و واجب کرے احرام باندھ کر یاتلبیہ کہہ کریا ہدی چلا کر اس پر یہ چیزیں لازم ہیں جن کا آگے ذکر فرمایا جاتاہے ۔(ف375)رفث جماع یا عورتوں کے سامنے ذکر جماع یا کلام فحش کرنا ہے نکاح اس میں داخل نہیں۔ مسئلہ : مُحْرِمْ یا مُحْرِمَہْ کا نکاح جائز ہے مجامعت جائز نہیں۔ فسوق سے معاصی و سیأات اور جدال سے جھگڑا مراد ہے خواہ وہ اپنے رفیقوں یا خادموں کے ساتھ ہو یا غیروں کے ساتھ۔(ف376)بدیوں کی ممانعت کے بعد نیکیوں کی ترغیب فرمائی کہ بجائے فسق کے تقوٰی اور بجائے جدال کے اخلاق حمیدہ اختیار کرو۔(ف377)شان نزول: بعض یمنی حج کے لئے بے سامانی کے ساتھ روانہ ہوتے تھے اور اپنے آپ کو متوکل کہتے تھے اور مکہ مکرمہ پہنچ کر سوال شروع کرتے اور کبھی غصب و خیانت کے مرتکب ہوتے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم ہوا کہ توشہ لے کر چلو اوروں پر بار نہ ڈالو سوال نہ کرو کہ بہتر توشہ پرہیزگاری ہے ایک قول یہ ہے کہ تقویٰ کا توشہ ساتھ لو جس طرح دینوی سفر کے لئے توشہ ضروری ہے ایسے ہی سفر آخرت کے لئے پرہیز گاری کا توشہ لازم ہے۔(ف378)یعنی عقل کا متقضٰی خوفِ الٰہی ہے جو اللہ سے نہ ڈرے وہ بے عقلوں کی طرح ہے۔
تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۷۹) کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب عرفات سے پلٹو (ف۳۸۰) تو اللہ کی یاد کرو (ف۳۸۱) مشعر حرام کے پاس (ف۳۸۲) اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم بہکے ہوئے تھے ، (ف۳۸۳)
It is no sin for you that you seek the bounty of your Lord; so when you return from Arafat, remember Allah near the Sacred Symbol (Mash’ar al Haram) – and remember Him in the manner He has guided you; and indeed, before this, you were of the astray.
तुम पर कुछ गुनाह नहीं कि अपने रब का फ़ज़्ल तलाश करो, तो जब अरफ़ात से पलटो तो अल्लाह की याद करो मशअर हराम के पास और उसका ज़िक्र करो जैसे उसने तुम्हें हिदायत फ़रमाई और बेशक उस से पहले तुम बहके हुए थे ,
Tum par kuch gunah nahin ke apne Rab ka fazl talash karo, to jab Arafaat se palto to Allah ki yaad karo Mash'ar Haraam ke paas aur uska zikr karo jaise usne tumhe hidayat farmai aur beshak us se pehle tum behke hue the,
(ف379)شان نزول :بعض مسلمانوں نے خیال کیا کہ راہِ حج میں جس نے تجارت کی یا اونٹ کرایہ پر چلائے اس کا حج ہی کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی مسئلہ : جب تک تجارت سے افعال حج کی ادا میں فرق نہ آئے اس وقت تک تجارت مباح ہے۔(ف380)عرفات ایک مقام کا نام ہے جو مَوقَف ہے ضحاک کا قول ہے کہ حضرت آدم و حوا جدائی کے بعد ۹ذی الحجہ کو عرفات کے مقام پر جمع ہوئے اور دونوں میں تعارف ہوا اس لئے اس دن کا نام عرفہ اورمقام کا نام عرفا ت ہوا ایک قول یہ ہے کہ چونکہ اس روز بندے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اس لئے اس دن کا نام عرفہ ہے مسئلہ :عرفات میں وقوف فرض ہے کیونکہ افاضہ بلا وقوف متصور نہیں۔(ف381)تلبیہ و تہلیل و تکبیر و ثنا و دعا کہ ساتھ یا نما ز مغرب وعشاء کے ساتھ ۔(ف382)مشعر حرا م جبل قُزَح ہے جس پر امام وقوف کرتا ہے مسئلہ :وادی مُحَسَّرکے سوا تمام مزدلفہ موقف ہے اس میں وقو ف واجب بے عذر ترک کرنے سے د م لا زم آتا ہے اور مشعر حرام کے پاس وقوف افضل ہے ۔(ف383)طریق ذکر و عبادت کچھ نہ جا نتے تھے ۔
پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں (ف۳۸٤) اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Then, O people of Quraish, you too must return from the place where the people return from, and ask forgiveness from Allah; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
फिर बात यह है कि ऐ क़ुरैशियो! तुम भी वहीं से पलटो जहाँ से लोग पलटते हैं और अल्लाह से माफ़ी माँगो, बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है ,
Phir baat ye hai ke ae Quraishiyo! tum bhi waheen se palto jahan se log paltte hain aur Allah se maafi maango, beshak Allah bakhshne wala meherbaan hai,
(ف384)قریش مزدلفہ میں ٹھہرے رہتے تھے اور سب لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف نہ کرتے جب لوگ عرفات سے پلٹتے تو یہ مزدلفہ سے پلٹتے اور اس میں اپنی بڑائی سمجھتے اس آیت میں انہیں حکم دیا گیا کہ سب کے ساتھ عرفات میں وقوف کریں اور ایک ساتھ پلٹیں یہی حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہماالسلام کی سنت ہے ۔
پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو (ف۳۸۵) تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے (ف۳۸٦) بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں،
So when you have completed your Hajj rites, remember Allah as you used to remember your forefathers, in fact more than that; and among the people are some that say, “Our Lord! Give us in this world” – and he does not have a portion in the Hereafter.
फिर जब अपने हज के काम पूरे कर चको तो अल्लाह का ज़िक्र करो जैसे अपने बाप दादा का ज़िक्र करते थे बल्कि उस से ज़्यादा और कोई आदमी यूँ कहता है कि ऐ रब हमारे हमें दुनिया में दे और आख़िरत में उसका कुछ हिस्सा नहीं
Phir jab apne Hajj ke kaam poore kar chuko to Allah ka zikr karo jaise apne baap dada ka zikr karte the balki us se zyada aur koi aadmi yun kehta hai ke ae Rab hamare humein duniya mein de aur aakhirat mein uska kuch hissa nahin.
(ف385)طریق حج کا مختصر بیان یہ ہے کہ حاجی ۸ذی الحجہ کی صبح کو مکہ مکرمہ سے منٰی کی طرف روانہ ہو وہاں عرفہ یعنی۹ ذی الحجہ کی فجر تک ٹھہرے اسی روز منٰی سے عرفات آئے بعد زوال امام دو خطبے پڑھے یہاں حاجی ظہر و عصر کی نما ز امام کے ساتھ ظہر کے وقت میں جمع کر کے پڑھے ان دونوں نمازوں کے لئے اذان ایک ہو گی اور تکبیریں دو اور دونوں نمازوں کے در میان سنت ظہر کے سوا کوئی نفل نہ پڑھا جائے اس جمع کے لئے امام اعظم ضرو ری ہے ۔اگر امام اعظم نہ ہو یا گمراہ بد مذہب ہو تو ہر ایک نما ز علٰیحدہ اپنے اپنے وقت میں پڑھی جائے اور عرفا ت میں غروب تک ٹھہرے پھر مزدلفہ کی طرف لوٹے اور جبل قُزَح کے قریب اترے مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے عشاء کے وقت میں پڑھے اور فجر کی نما ز خوب اوّل وقت خوب اندھےرے میں پڑھے وادی محسّر کہ سوا تمام مزدلفہ اور بطن عُرنہ کے سوا تمام عرفات موقف ہے جب صبح خوب رو شن ہو تو روزِ نحر یعنی ۱۰ ذی الحجہ کو منٰی کی طرف آئے اور بطنِ وادی سے جمرئہ عقبہ کی ۷مر تبہ رمی کرے پھر اگر چاہے قربانی کرے پھر بال منڈائے یا کترائے پھر ایّام ِ نحر میں سے پھر طواف ِزیارت کرے پھر منٰی آکر تین روز اقامت کرے اور گیارہویں کے زوال کے بعد تینو ں جمروں کی رمی کرے اس جمرہ سے شروع کرے جو مسجد کے قریب ہے پھر جو اس کے بعدہے پھر جمرئہ عقبہ ہر ایک کی سات سات مرتبہ پھر اگلے روز ایسا ہی کرے پھر اگلے روز ایسا ہی پھر مکّہ مکرمہ کی طرف چلا آئے(تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے)۔(ف386)زمانہ جاہلیّت میں عر ب حج کے بعد کعبہ کے قریب اپنے باپ دادا کے فضائل بیان کیا کرتے تھے۔اسلام میں بتایا گیا کہ یہ شہرت و خود نمائی کی بیکار باتیں ہیں بجائے اس کے ذوق وشوق کے ساتھ ذکرِالٰہی کرو ۔مسئلہ :اس آےت سے ذکر ِ جہر و ذکر ِ جماعت ثابت ہوتا ہے ۔
اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷)
And among them are some that say, “Our Lord! Give us good in the world and good in the Hereafter, and save us from the punishment of fire!”
और कोई यूँ कहता है कि ऐ रब हमारे ! हमें दुनिया में भलाई दे और हमें आख़िरत में भलाई दे और हमें अज़ाबे दोज़ख़ से बचा
Aur koi yun kahta hai ke aye Rab hamare! humein duniya mein bhalayi de aur humein aakhrat mein bhalayi de aur humein azaab dozakh se bacha.
(ف387)دعا کرنے والوں کی دو قسمیں بیان فرمائیں ایک وہ کا فر جن کی دعا میں صرف طلبِ دنیا ہوتی تھی آخرت پر ان کا اعتقا د نہ تھا ان کے حق میں ارشاد ہوا کہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں دوسرے وہ ایمان دار جو دنیا و آخرت دونوں کی بہتری کی دعا کرتے ہیں ۔مسئلہ :مؤمن دنیا کی بہتری جو طلب کرتا ہے وہ بھی امرِ جائز اور دین کی تائید و تقویت کے لئے اس لئے اس کی یہ دعا بھی امورِدین سے ہے۔
ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ (خوش نصیبی) ہے (ف۳۸۸) اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (ف۳۸۹)
For such is a portion from what they have earned; and Allah is Swift At Taking Account.
ऐसों को उनकी कमाई से भाग (ख़ुश नसीबी) है और अल्लाह जल्द हिसाब करने वाला है
Aison ko unki kamai se bhaag (khush naseebi) hai aur Allah jald hisaab karne wala hai.
(ف388)مسئلہ :اس آیت سے ثابت ہوا کہ دعا کسب و اعمال میں داخل ہے حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثریہی دعا فرماتے تھے اَلّٰلھُمَّ اٰتِناَ فِی الدُّنْیاَحَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِحَسَنَۃً وَّقِناَعَذَابَ النَّارِ (ف389)عنقریب قیامت قائم کر کے بندوں کا حسا ب فرمائے گا تو چاہئے کہ بندے ذکرو دعا و طاعت میں جلدی کریں۔(مدارک وخازن)
اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں (ف۳۹۰) تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے (ف۳۹۱) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے،
And remember Allah in the counted days; so whoever hastens by departing in two days, there is no sin on him; and whoever stays on, there is no sin for him – for the pious; and keep fearing Allah, and know well that it is to Him you will be raised.
और अल्लाह की याद करो गिने हुए दिनों में तो जल्दी करके दो दिन में चला जाए उस पर कुछ गुनाह नहीं और जो रह जाए तो उस पर गुनाह नहीं परहेज़गार के लिये और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि तुम्हें उसी की तरफ़ उठना है,
Aur Allah ki yaad karo ginne hue dino mein to jaldi karke do din mein chala jaye us par kuch gunaah nahi aur jo reh jaye to us par gunaah nahi parhezgar ke liye aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke tumhein usi ki taraf uthna hai.
(ف390)ان دنوں سے ایّام تشریق اور ذکر اللہ سے نمازوں کے بعد اور رمیِ جِمار کے وقت تکبیر کہنا مراد ہے۔(ف391)بعض مفسرین کا قول ہے کہ زمانہ جاہلیّت میں لوگ دو فریق تھے بعض جلدی کر نے والو ں کو گناہ گار بتا تے تھے،بعض رہ جانے والوں کو ،قرآنِ پاک نے بیان فرمادیا کہ ان دونوں میں کوئی گناہ گار نہیں ۔
اور بعض آدمی وہ ہیں کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے (ف۳۹۲) اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے،
And among men is one whose conversation may please you in the life of this world, and he brings Allah as witness to what is in his heart, whereas he is the biggest quarreller!
और बाअज़ आदमी वो हैं कि दुनिया की ज़िन्दगी में उसकी बात तुझे भली लगे और अपने दिल की बात पर अल्लाह को गवाह लाए और वो सबसे बड़ा झगड़ालू है,
Aur baaz aadmi woh hain ke duniya ki zindagi mein us ki baat tujhe bhali lage aur apne dil ki baat par Allah ko gawah laaye aur woh sab se bara jhagaralu hai.
(ف392)شانِ نزول: یہ ہے اور اس سے اگلی آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے حق میں نازل ہوئی جو حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ کی محبت کا دعوٰی کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھامسلمانو ں کے مویشی کو اس نے ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتی کو آگ لگا دی ۔
اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اور ضد چڑھے گناہ کی (ف۳۹۳) ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے،
And when it is said to him, “Fear Allah”, he becomes more resolute in committing sin – therefore hell is sufficient for such; and that is indeed, a very wretched resting place.
और जब उससे कहा जाए कि अल्लाह से डरो तो उसे और ज़िद चढ़े गुनाह की ऐसे को दोज़ख़ काफ़ी है और वो ज़रूर बहुत बुरा बिछौना है,
Aur jab us se kaha jaye ke Allah se daro to use aur zid charhe gunaah ki. Aise ko dozakh kaafi hai aur woh zaroor bohot bura bichhona hai.
(ف393)گناہ سے ظلم و سر کشی اور نصیحت کی طرف التفات نہ کرنا مراد ہے۔(خازن)
اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے (ف۳۹٤) اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے،
And among men is one who sells himself to seek the pleasure of Allah; and Allah is Most Compassionate towards the bondmen.
और कोई आदमी अपनी जान बेचता है अल्लाह की मर्ज़ी चाहने में और अल्लाह बन्दों पर मेहरबान है,
Aur koi aadmi apni jaan bechta hai Allah ki marzi chahne mein aur Allah bandon par meherbaan hai.
(ف394)شان نزول: حضرت صہیب ابن سنان رومی مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے مشرکین قریش کی ایک جماعت نے آپ کا تعاقب کیا تو آپ سواری سے اترے اور ترکش سے تیر نکال کر فرمانے لگے کہ اے قریش تم میں سے کوئی میرے پاس نہیں آسکتا جب تک کہ میں تیر مارتے مارتے تمام ترکش خالی نہ کردوں اور پھر جب تک تلوار میرے ہاتھ میں رہے اس سے ماروں اس وقت تک تمہاری جماعت کا کھیت ہوجائے گا اگر تم میرا مال چاہو جو مکہ مکرمہ میں مدفون ہے تو میں تمہیں اس کا پتا بتادوں، تم مجھ سے تعرض نہ کرو وہ اس پر راضی ہوگئے اور آپ نے اپنے تمام مال کا پتابتادیا جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی حضور نے تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا: کہ تمہاری یہ جاں فروشی بڑی نافع تجارت ہے۔
اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (ف۳۹۵) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے (ف۳۹٦) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
O People who Believe! Enter Islam in full – and do not follow the footsteps of the devil; indeed he is your open enemy.
ऐ ईमान वालो! इस्लाम में पूरे दाख़िल हो और शैतान के क़दमों पर न चले बेशक वो तुम्हारा खुला दुश्मन है,
Aye imaan walon! Islam mein poore daakhil ho aur shaitaan ke qadamoun par na chalo. Beshak woh tumhara khula dushman hai.
(ف395)شان نزول: اہل کتاب میں سے عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد شریعت موسوی کے بعض احکام پر قائم رہے شنبہ کی تعظیم کرتے اس روز شکار سے اجتناب لازم جانتے اور اونٹ کے دودھ اور گوشت سے پرہیز کرتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ چیزیں اسلام میں تو مباح ہیں ان کا کرنا ضروری نہیں اور توریت میں ان سے اجتناب لازم کیا گیا ہے تو ان کے ترک کرنے میں اسلام کی مخالفت بھی نہیں ہے اور شریعت موسوی پر عمل بھی ہوتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیاکہ اسلام کے احکام کا پورا اتباع کرو یعنی توریت کے احکام منسوخ ہوگئے اب ان سے تمسک نہ کرو (خازن)(ف396)اس کے وساوس و شبہات میں نہ آؤ ۔
کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۹۸) مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں (ف۳۹۹) اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے،
What are they waiting for, except that Allah’s punishment should come through stretched clouds and the angels descend and the matter be finished? And all matters are directed only towards Allah.
काहे के इंतज़ार में हैं मगर यही कि अल्लाह का अज़ाब आए छाए हुए बादलों में और फ़रिश्ते उतरें और काम हो चुके और सब कामों की रुजूअ अल्लाह की तरफ़ है,
Kahe ke intezaar mein hain magar yehi ke Allah ka azaab aaye chhaye hue badlon mein aur farishte utrein aur kaam ho chuke aur sab kaamon ki rujoo Allah ki taraf hai.
(ف398)ملّت اسلام کے چھوڑنے اور شیطان کی فرمانبرداری کرنے والے۔(ف399)جو عذاب پر مامور ہیں۔
بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں (ف٤۰۰) اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے (ف٤۰۱) تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
Ask the Descendants of Israel how many clear signs We gave them; and whoever alters Allah’s favour which came to him, then indeed Allah’s punishment is severe.
बनी इसराईल से पूछो हमने कितनी रोशन निशानियाँ उन्हें दीं और जो अल्लाह की आई हुई नेअमत को बदल दे तो बेशक अल्लाह का अज़ाब सख़्त है,
Bani Israel se poocho hum ne kitni roshan nishaniyan unhein dein aur jo Allah ki aayi hui ni‘mat ko badal de to beshak Allah ka azaab sakht hai.
(ف400)کہ ان کے انبیاء کے معجزات کو ان کے صدق نبوت کی دلیل بنایا ان کے ارشاد اور ان کی کتابوں کو دین اسلام کی حقانیت کا شاہد کیا۔(ف401)اللہ تعالیٰ کی نعمت سے آیات الہیہ مراد ہیں جو سبب رشد و ہدایت ہیں اوران کی بدولت گمراہی سے نجات حاصل ہوتی ہے انہیں میں سے وہ آیات ہیں جن میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت اور حضور کی نبوت و رسالت کا بیان ہے یہودونصارٰی کی تحریفیں اس نعمت کی تبدیل ہے۔
کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی (ف٤۰۲) اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں (ف٤۰۳) اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن (ف٤۰٤) اور خدا جسے چاہے بےگنتی دے،
The life of this world is made to appear beautiful in the sight of the disbelievers, and they make fun of the believers; and the pious will be above them on the Day of Resurrection; and Allah may give to whomever He wills, without account.
काफ़िरों की निगाह में दुनिया की ज़िन्दगी आरास्ता की गई और मुसलमानों से हँसते हैं और डर वाले उनसे ऊपर होंगे क़यामत के दिन और ख़ुदा जिसे चाहे बेकनती दे,
Kaafiron ki nigah mein duniya ki zindagi aarasta ki gayi aur Musalmanon se hanste hain aur dar walay un se upar honge qayamat ke din aur Khuda jise chahe be ginti de.
(ف402)وہ اسی کی قدر کرتے اور اسی پر مرتے ہیں۔(ف403)اور سامان دنیوی سے ان کی بے رغبتی دیکھ کر ان کی تحقیر کرتے ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور عمار بن یاسر اور صہیب و بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو دیکھ کر کفار تمسخر کرتے تھے اور دولت دنیا کے غرور میں اپنے آپ کو اونچا سمجھتے تھے۔(ف404)یعنی ایماندار روز قیامت جناب عالیہ میں ہوں گے اور مغرور کفار جہنم میں ذلیل و خوار ۔
لوگ ایک دین پر تھے (ف٤۰۵) پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے (ف٤۰٦) اور ڈر سناتے (ف٤۰۷) اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری (ف٤۰۸) کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف انہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی (ف٤۰۹) بعد اس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے (ف٤۱۰) آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے،
Mankind was on one religion; so Allah sent Prophets giving glad tidings and warnings – and with them sent down the true Book to judge between mankind on their differences; and only those to whom it was given created disputes regarding the Book, after clear commands had come to them, due to hostility of one another; so Allah, by His command, made the truth clear to the believers, concerning their disputes; and Allah may guide whomever He wills to the Straight Path.
लोग एक दीन पर थे फिर अल्लाह ने अन्बिया भेजे ख़ुशख़बरी देते और डर सुनाते और उनके साथ सच्ची किताब उतारी कि वो लोगों में उनके इख़्तिलाफ़ों का फ़ैसला कर दे और किताब में इख़्तिलाफ़ उन्हीं ने डाला जिनको दी गई थी बाद इसके कि उनके पास रोशन हुक्म आ चुके आपस में सरकशी से तो अल्लाह ने ईमान वालों को वो हक़ बात सुझा दी जिस में झगड़ रहे थे अपने हुक्म से, और अल्लाह जिसे चाहे सीधी राह दिखाए,
Log aik deen par the phir Allah ne anbiyah bheje khush khabri dete aur dar sunate aur un ke saath sachi kitaab utaari ke woh logon mein un ke ikhtilafon ka faisla kar de. Aur kitaab mein ikhtilaf unhon ne dala jinko di gayi thi baad is ke ke un ke paas roshan hukum aa chuke. Aapas mein sar kashi se. To Allah ne imaan walon ko woh haq baat soojha di jis mein jhagar rahe the apne hukum se, aur Allah jise chahe seedhi raah dikhaye.
(ف405)حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے عہد نوح تک سب لوگ ایک دین اور ایک شریعت پر تھے پھر ان میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ ا لسلام کو مبعوث فرمایا یہ بعثت میں پہلے رسول ہیں (خازن)(ف406)ایمانداروں اور فرمانبرداروں کو ثواب کی (مدارک وخازن) (ف407)کافروں اور نافرمانوں کو عذاب کا (خازن) (ف408)جیسا کہ حضرت آدم و شیث و ادریس پر صحائف اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت حضرت داؤد پر زبور حضرت عیسٰی پر انجیل اور خاتم الانبیاء محمد مصطفے پر قرآن ۔(ف409)یہ اختلاف تبدیل و تحریف اور ایمان و کفر کے ساتھ تھا جیسا کہ یہود ونصارٰی سے واقع ھوا ۔(خازن) (ف410)یعنی یہ اختلاف نادانی سے نہ تھا بلکہ۔
کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (حالت) نہ آئی (ف٤۱۱) پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول (ف٤۱۲) اور اس کے ساتھ ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد (ف٤۱۳) سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے،
Are you under the illusion that you will enter Paradise whereas the suffering, which came to those before you, has not yet come to you? Hardship and adversity befell them and they were shaken, to the extent that the Noble Messenger and the believers along with him said, “When will the help of Allah come?”; pay heed! Allah’s help is surely near.
क्या इस गुमान में हो कि जन्नत में चले जाओगे और अभी तुम पर अगलों की सी रुख़दाद (हालत) न आई पहुँची उन्हें सख़्ती और शिद्दत और हिला हिला डाले गए यहाँ तक कि कह उठे रसूल और उसके साथ ईमान वाले कब आएगी अल्लाह की मदद सुन लो बेशक अल्लाह की मदद क़रीब है,
Kya is gumaan mein ho ke jannat mein chale jaoge aur abhi tum par aglon ki si rodaad (haalat) na aayi. Pohnchi unhein sakhti aur shiddat aur hila hila daale gaye yahan tak ke keh utha Rasool aur us ke saath imaan walay – "Kab aayegi Allah ki madad?" Sun lo beshak Allah ki madad qareeb hai.
(ف411)اور جیسی سختیاں ان پر گزر چکیں ابھی تک تمہیں پیش نہ آئیں شان نزول : یہ آیت غزوۂ احزاب کے متعلق نازل ہوئی جہاں مسلمانوں کو سردی اور بھوک وغیرہ کی سخت تکلیفیں پہنچی تھیں اس میں انہیں صبر کی تلقین فرمائی گئی اور بتایا گیا کہ راہِ خدا میں تکالیف برداشت کرنا قدیم سے خاصانِ خدا کا معمول رہا ہے۔ ابھی تو تمہیں پہلوں کی سی تکلیفیں پہنچی بھی نہیں ہیں بخاری شریف میں حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سایہ کعبہ میں اپنی چادر مبارک سے تکیہ کئے ہوئے تشریف فرما تھے ہم نے حضور سے عرض کی کہ حضور ہمارے لئے کیوں دعا نہیں فرماتے ہماری کیوں مدد نہیں کرتے فرمایا تم سے پہلے لوگ گرفتار کئے جاتے تھے زمین میں گڑھا کھود کر اس میں دبائے جاتے تھے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کرڈالے جاتے تھے اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت نوچے جاتے تھے اور ان میں کی کوئی مصیبت انہیں ان کے دین سے روک نہ سکتی تھی۔(ف412)یعنی شدت اس نہایت کو پہنچ گئی کہ ان امتوں کے رسول اور ان کے فرمانبردار مومن بھی طلب مدد میں جلدی کرنے لگے باوجود یکہ رسول بڑے صابر ہوتے ہیں اور ان کے اصحاب بھی لیکن باوجود ان انتہائی مصیبتوں کے وہ لوگ اپنے دین پر قائم رہے اور کوئی مصیبت و بلاان کے حال کو متغیر نہ کرسکی۔(ف413)اس کے جواب میں انہیں تسلی دی گئی اور یہ ارشاد ہوا ۔
تم سے پوچھتے ہیں (ف٤۱٤) کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو (ف٤۱۵) بیشک اللہ اسے جانتا ہے (ف٤۱٦)
They ask you what they should spend; say, “Whatever you spend for good, is for parents and near relatives and orphans and the needy and the traveller”; and whatever good you do, indeed Allah knows it.
तुम से पूछते हैं क्या खर्च करें, तुम फ़रमाओ जो कुछ माल नेकी में खर्च करो तो वो माँ बाप और क़रीब के रिश्तेदारों और यतीमों और मुहताजों और राहगीर के लिये है और जो भलाई करो बेशक अल्लाह उसे जानता है
Tum se poochte hain kya kharch karein. Tum farmao jo kuch maal neki mein kharch karo to woh maa baap aur qareeb ke rishtedaron aur yateemon aur mohtaajon aur raah geer ke liye hai. Aur jo bhalayi karo beshak Allah use jaanta hai.
(ف414)شان نزول: یہ آیت عمرو بن جموع کے جواب میں نازل ہوئی جو بوڑھے شخص تھے اور بڑے مالدار تھے انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں اس آیت میں انہیں بتادیا گیا کہ جس قسم کا اور جس قدر مال قلیل یا کثیرخرچ کرو اس میں ثواب ہے اور مصارف اس کے یہ ہیں ۔مسئلہ:آیت میں صدقہ نافلہ کا بیان ہے ماں باپ کو زکوۃ اور صدقات واجبہ دینا جائز نہیں۔(جمل وغیرہ)(ف415)یہ ہر نیکی کو عام ہے انفاق ہو یا اور کچھ اور باقی مصارف بھی اس میں آگئے۔(ف416)اس کی جزا عطا فرمائے گا۔
تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے (ف٤۱۷) اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف٤۱۸)
Fighting in Allah's cause is ordained for you, whereas it is disliked by you; and it is possible that you hate a thing which is better for you; and it is possible that you like a thing which is bad for you; and Allah knows, and you do not know.
तुम पर फ़र्ज़ हुआ ख़ुदा की राह में लड़ना और वो तुम्हें नागवार है और क़रीब है कि कोई बात तुम्हें बुरी लगे और वो तुम्हारे हक़ में बेहतर हो और क़रीब है कि कोई बात तुम्हें पसन्द आए और वो तुम्हारे हक़ में बुरी हो और अल्लाह जानता है और तुम नहीं जानते
Tum par farz hua Khuda ki raah mein larna aur woh tumhein nagawaar hai. Aur qareeb hai ke koi baat tumhein buri lage aur woh tumhare haq mein behtar ho. Aur qareeb hai ke koi baat tumhein pasand aaye aur woh tumhare haq mein buri ho. Aur Allah jaanta hai aur tum nahi jaante.
(ف417)مسئلہ : جہاد فرض ہے جب اس کے شرائط پائے جائیں اگر کافر مسلمانوں کے ملک پر چڑھائی کریں تو جہاد فرض عین ہوتا ہے ورنہ فرض کفایہ۔(ف418)کہ تمہارے حق میں کیا بہتر ہے تو تم پر لازم ہے کہ حکم الہٰی کی اطاعت کرو اور اسی کو بہتر سمجھو چاہے وہ تمہارے نفس پر گراں ہو۔
تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم (ف٤۱۹) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے (ف٤۲۰) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا ، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا (ف٤۲۱) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد (ف٤۲۲) قتل سے سخت تر ہے (ف٤۲۳) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے (ف۳۲٤) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہو کر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں (ف٤۲۵) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ،
They ask you the decree regarding fighting in the sacred month; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Fighting in it is a great sin; and to prevent from the way of Allah, and not to believe in Him and to prevent (people) from the Sacred Mosque and to expel its residents – these are greater sins before Allah"; and the turmoil they cause is worse than killing; and they will keep fighting you till they turn you away from your religion, if they can; and whoever among you turns renegade and dies as a disbeliever, then their deeds are wasted in this world and in the Hereafter; and they are the people of hell; they will remain in it forever.
तुम से पूछते हैं माहे हराम में लड़ने का हुक्म तुम फ़रमाओ उसमें लड़ना बड़ा गुनाह है और अल्लाह की राह से रोकना और उस पर ईमान न लाना और मस्जिदे हराम से रोकना, और उसके बसने वालों को निकाल देना अल्लाह के नज़दीक ये गुनाह उस से भी बड़े हैं और उनका फ़साद क़त्ल से सख़्ततर है और हमेशा तुम से लड़ते रहेंगे यहाँ तक कि तुम्हें तुम्हारे दीन से फेर दें अगर बन पड़े और तुम में जो कोई अपने दीन से फिरे फिर काफ़िर होकर मरे तो उन लोगों का क्या अकारत गया दुनिया में और आख़िरत में और वो दोज़ख़ वाले हैं उन्हें उसमें हमेशा रहना,
Tum se poochte hain maah-e-haraam mein larnay ka hukum. Tum farmao us mein larna bara gunaah hai. Aur Allah ki raah se rokna aur is par imaan na lana aur Masjid-e-Haraam se rokna, aur is ke basne walon ko nikal dena Allah ke nazdeek ye gunaah us se bhi baray hain. Aur un ka fasaad qatl se sakht tar hai. Aur hamesha tum se larte rahenge yahan tak ke tumhein tumhare deen se pher dein agar ban pare. Aur tum mein jo koi apne deen se phire phir kaafir hokar mare to un logon ka kya akaarat gaya duniya mein aur aakhrat mein aur woh dozakh walay hain unhein is mein hamesha rehna.
(ف419)شان نزول: سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں مجاہدین کی ایک جماعت روانہ فرمائی تھی اس نے مشرکین سے قتال کیا ان کا خیال تھا کہ وہ روز جمادی الاخریٰ کا آخر دن ہے مگر درحقیقت چاند ۲۹ کو ہوگیا تھا اور رجب کی پہلی تاریخ تھی اس پر کفار نے مسلمانوں کو عار دلائی کہ تم نے ماہ حرام میں جنگ کی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق سوال ہونے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف420)مگر صحابہ سے یہ گناہ واقع نہیں ہوا کیونکہ انہیں چاند ہونے کی خبر ہی نہ تھی ان کے نزدیک وہ دن ماہ حرام رجب کا نہ تھا ۔مسئلہ : ماہ ہائے حرام میں جنگ کی حرمت کا حکم آیہ اُقْتُلُوالْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْ تُّمُوْھُمْ سے منسوخ ہوگیا۔(ف421)جو مشرکین سے واقع ہوا کہ انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا ور آپ کے اصحاب کو سال حدیبیہ کعبہ معظمہ سے روکا اور آپ کے زمانہ قیام مکہ معظمہ میں آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اتنی ایذائیں دیں کہ وہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔(ف422)یعنی مشرکین کا کہ وہ شرک کرتے ہیں او رسید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنین کو مسجد حرام سے روکتے اور طرح طرح کی ایذائیں دیتے ہیں۔(ف423)کیونکہ قتل تو بعض حالات میں مباح ہوتا ہے اور کفر کسی حال میں مباح نہیں اور یہاں تاریخ کا مشکوک ہونا عذر معقول ہے اور کفار کے کفر کے لئے تو کوئی عذر ہی نہیں ۔(ف424)اس میں خبر دی گئی کہ کفار مسلمانوں سے ہمیشہ عدوات رکھیں گے کبھی اس کے خلاف نہ ہوگا اور جہاں تک ان سے ممکن ہوگا وہ مسلمانوں کو دین سے منحرف کرنے کی سعی کرتے رہیں گے۔ اِنِ اسْتَطَاعُوْا سے مستفاد ہوتا ہے کہ بکرمہٖ تعالیٰ وہ اپنی مراد میں ناکام رہیں گے۔(ف425)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ ارتداد سے تمام عمل باطل ہوجاتے ہیں آخرت میں تو اس طرح کہ ان پر کوئی اجرو ثواب نہیں اور دنیا میں اس طرح کہ شریعت مرتد کے قتل کا حکم دیتی ہے اس کی عورت اس پر حلال نہیں رہتی وہ اپنے اقارب کا ورثہ پانے کا مستحق نہیں رہتا اس کا مال معصوم نہیں رہتا اس کی مدح و ثنا و امداد جائز نہیں۔(روح البیان وغیرہ)(الف) شان نزول : عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں جو مجاہدین بھیجے گئے تھے ان کی نسبت بعض لوگوں نے کہا کہ چونکہ انہیں خبر نہ تھی کہ یہ دن رجب کا ہے اس لئے اس روز قتال کرنا گناہ تو نہ ہوا لیکن اس کا کچھ ثواب بھی نہ ملے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ ان کا یہ عمل جہاد مقبول ہے اور اس پر انہیں امیدوار رحمت الٰہی رہنا چاہئے اور یہ امید قطعاً پوری ہوگی۔(خازن) مسئلہ: یَرْجُوْنَ سے ظاہر ہوا کہ عمل سے اجر واجب نہیں ہوتا بلکہ ثواب دینا محض فضلِ الٰہی ہے۔
وه جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف٤۲۵ ۔ الف)
Those who believed, and those who migrated for the sake of Allah, and fought in Allah's cause – they are hopeful of gaining Allah’s mercy; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
वो जो ईमान लाए और वो जिन्होंने अल्लाह के लिये अपने घर बार छोड़े और अल्लाह की राह में लड़े वो रहमत इलाही के उम्मीदवार हैं, और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है
Woh jo imaan laaye aur woh jinhon ne Allah ke liye apne ghar baar chhore aur Allah ki raah mein lade woh rahmat-e-ilahi ke ummeedwar hain. Aur Allah bakhshne wala meherbaan hai.
(ف425)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ ارتداد سے تمام عمل باطل ہوجاتے ہیں آخرت میں تو اس طرح کہ ان پر کوئی اجرو ثواب نہیں اور دنیا میں اس طرح کہ شریعت مرتد کے قتل کا حکم دیتی ہے اس کی عورت اس پر حلال نہیں رہتی وہ اپنے اقارب کا ورثہ پانے کا مستحق نہیں رہتا اس کا مال معصوم نہیں رہتا اس کی مدح و ثنا و امداد جائز نہیں۔(روح البیان وغیرہ)(الف) شان نزول : عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں جو مجاہدین بھیجے گئے تھے ان کی نسبت بعض لوگوں نے کہا کہ چونکہ انہیں خبر نہ تھی کہ یہ دن رجب کا ہے اس لئے اس روز قتال کرنا گناہ تو نہ ہوا لیکن اس کا کچھ ثواب بھی نہ ملے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ ان کا یہ عمل جہاد مقبول ہے اور اس پر انہیں امیدوار رحمت الٰہی رہنا چاہئے اور یہ امید قطعاً پوری ہوگی۔(خازن) مسئلہ: یَرْجُوْنَ سے ظاہر ہوا کہ عمل سے اجر واجب نہیں ہوتا بلکہ ثواب دینا محض فضلِ الٰہی ہے۔
تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے (ف٤۲٦) تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں (ف۳۲۷) تم فرماؤ جو فاضل بچے (ف۳۲۸) اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم دنیا ،
They ask you the decree regarding wine (intoxicants) and gambling; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “In both is great sin, and some worldly benefit for men – but their sin is greater than their benefit”; and they ask you what they should spend; say, “That which remains spare (surplus)”; this is how Allah explains His verses to you, so that you may think.
तुम से शराब और जुए का हुक्म पूछते हैं, तुम फ़रमा दो कि उन दोनों में बड़ा गुनाह है और लोगों के कुछ दुनियावी नफ़अ भी और उनका गुनाह उनके नफ़अ से बड़ा है तुम से पूछते हैं क्या खर्च करें तुम फ़रमाओ जो फ़ाज़िल बचे उसी तरह अल्लाह तुम से आयतें बयान फ़रमाता है कि कहीं तुम दुनिया,
Tum se sharaab aur jue ka hukum poochte hain. Tum farma do ke in dono mein bara gunaah hai aur logon ke kuch dunyawi nafa bhi aur un ka gunaah un ke nafa se bara hai. Tum se poochte hain kya kharch karein. Tum farmao jo fazil bachay. Isi tarah Allah tum se aayatein bayan farmata hai ke kahin tum duniya,
(ف426)حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر شراب کا ایک قطرہ کنویں میں گر جائے پھر اس جگہ منارہ بنایا جائے تو میں اس پر اذان نہ کہوں اور اگر دریا میں شراب کا قطرہ پڑے پھر دریا خشک ہوا ور وہاں گھاس پیدا ہو اس میں اپنے جانوروں کو نہ چراؤں سبحان اللہ گناہ سے کس قدر نفرت ہے۔ رَزَقَناَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اِتِّباَعُھُمْ شراب ۳ھ میں غزوۂ احزاب سے چند روز بعد حرام کی گئی اس سے قبل یہ بتایا گیا تھا کہ جو ئے اور شراب کا گناہ اس کے نفع سے زیادہ ہے نفع تو یہی ہے کہ شراب سے کچھ سرور پیدا ہوتا ہے یا اس کی خریدو فروخت سے تجارتی فائدہ ہوتا ہے اور جوئے میں کبھی مفت کا مال ہاتھ آتا ہے اور گناہوں اور مفسدوں کا کیا شمار عقل کا زوال غیرت و حمیت کا زوال عبادات سے محرومی لوگوں سے عداوتیں سب کی نظر میں خوار ہونا دولت و مال کی اضاعت ایک روایت میں ہے کہ جبریل امین نے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کو جعفرطیار کی چار خصلیتں پسند ہیں۔ حضور نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا انہوں نے عرض کیا کہ ایک تویہ ہے کہ میں نے شراب کبھی نہیں پی یعنی حکم حرمت سے پہلے بھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں جانتا تھا کہ اس سے عقل زائل ہوتی ہے ا ور میں چاہتا تھا کہ عقل اور بھی تیز ہو، دوسری خصلت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی میں نے کبھی بت کی پوجا نہیں کی کیونکہ میں جانتا تھا کہ یہ پتھر ہے نہ نفع دے سکے نہ ضرر، تیسری خصلت یہ ہے کہ کبھی میں زنا میں مبتلا نہ ہوا کہ اس کو بے غیرتی سمجھتا تھا، چوتھی خصلت یہ تھی کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ میں اس کو کمینہ پن خیال کرتاتھا، مسئلہ: شطرنج تاش وغیرہ ہار جیت کے کھیل اور جن پر بازی لگائی جائے سب جوئے میں داخل اور حرام ہیں۔ (روح البیان)(ف427)شان نزول :سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو صدقہ دینے کی رغبت دلائی تو آپ سے دریافت کیا گیا کہ مقدار ارشاد فرمائیں کتنا مال راہِ خدا میں دیا جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن)(ف428)یعنی جتنا تمہاری حاجت سے زائد ہو ۔ ابتدائے اسلام میں حاجت سے زائد مال کا خرچ کرنا فرض تھا صحابہ کرام اپنے مال میں سے اپنی ضرورت کی قدر لے کر باقی سب راہ خدا میں تصدُّق کردیتے تھے۔یہ حکم آیت زکوۃ سے منسوخ ہوگیا۔
اور آخرت کے کام سوچ کر کرو (ف٤۲۹) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں (ف٤۳۰) تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا ہے تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے،
Before you execute your deeds of this world and of the Hereafter; and they ask you the decree regarding orphans; say, “To do good towards them is better; and if you combine your expenses with theirs, they are your brothers”; and Allah knows very well the one who spoils from him who improves; and if Allah willed, He could have put you in hardship; and Allah is Almighty, Wise.
और आख़िरत के काम सोचकर करो और तुम से यतीमों का मसअला पूछते हैं तुम फ़रमाओ उनका भला करना बेहतर है और अगर अपना उनका खर्च मिला लो तो वो तुम्हारे भाई हैं और ख़ुदा खूब जानता है बिगाड़ने वाले को सँवारने वाले से, और अल्लाह चाहता तो तुम्हें मशक्कत में डालता, बेशक अल्लाह ज़बरदस्त हिकमत वाला है,
Aur aakhrat ke kaam soch kar karo. Aur tum se yateemon ka masla poochte hain. Tum farmao un ka bhala karna behtar hai. Aur agar apna un ka kharch mila lo to woh tumhare bhai hain. Aur Khuda khoob jaanta hai bigaarnay walay ko sanwarne walay se. Aur Allah chahta to tumhein mushqqat mein daalta. Beshak Allah zabardast hikmat wala hai.
(ف429)کہ جتنا تمہاری دنیوی ضرورت کے لئے کافی ہو وہ لے کر باقی سب اپنے نفع آخرت کے لئے خیرات کردو (خازن) (ف430)کہ ان کے اموال کو اپنے مال سے ملانے کا کیا حکم ہے شان نزول آیت اِنَّ الَّذِیْنَ یَأ کُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْماً کے نزول کے بعد لوگوں نے یتیموں کے مال جدا کردیئے اور ان کا کھانا پینا علیحدہ کردیا اس میں یہ صورتیں بھی پیش آئیں کہ جو کھانا یتیم کے لئے پکایا اور اس میں سے کچھ بچ رہا وہ خراب ہوگیا اور کسی کے کام نہ آیا اس میں یتیموں کا نقصان ہوا یہ صورتیں دیکھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر یتیم کے مال کی حفاظت کی نظر سے اس کا کھانا اس کے اولیاء اپنے کھانے کے ساتھ ملالیں تو اس کا کیا حکم ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یتیموں کے فائدے کے لئے ملانے کی اجازت دی گئی۔
اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف٤۱۳) اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے (ف٤۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف٤۳۳) اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف٤۳٤) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں،
And do not marry polytheist women until they become Muslims; for undoubtedly a Muslim bondwoman is better than a polytheist woman, although you may like her; and do not give your women in marriage to polytheist men until they accept faith; for undoubtedly a Muslim slave is better than a polytheist, although you may like him; they invite you towards the fire; and Allah invites towards Paradise and forgiveness by His command; and explains His verses to mankind so that they may accept guidance.
और शिर्क वाली औरतों से निकाह न करो जब तक मुसलमान न हो जाएँ और बेशक मुसलमान लौंडी मुशरिका से अच्छी है अगरचे वो तुम्हें भाती हो और मुशरिकों के निकाह में न दो जब तक वो ईमान न लाएँ और बेशक मुसलमान ग़ुलाम मुशरिक से अच्छा है अगरचे वो तुम्हें भाता हो, वो दोज़ख़ की तरफ़ बुलाते हैं और अल्लाह जन्नत और बख़्शिश की तरफ़ बुलाता है अपने हुक्म से और अपनी आयतें लोगों के लिये बयान करता है कि कहीं वो नसीहत मानें,
Aur shirk wali auraton se nikah na karo jab tak Musalman na ho jayein. Aur beshak Musalman londi mushrika se achhi hai agarche woh tumhein bhaati ho. Aur mushrikon ke nikah mein na do jab tak woh imaan na laayein. Aur beshak Musalman ghulaam mushrik se achha hai agarche woh tumhein bhaata ho. Woh dozakh ki taraf bulate hain aur Allah jannat aur bakhshish ki taraf bulata hai apne hukum se. Aur apni aayatein logon ke liye bayan karta hai ke kahin woh naseehat maanain.
(ف431)شانِ نزول:حضرت مرثد غَنَوِی ایک بہادر شخص تھے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مکّہ مکرّمہ روانہ فرمایا تاکہ وہاں سے تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو نکال لائیں وہاں عناق نامی ایک مشرکہ عورت تھی جو زمانہ جاہلیت میں ان کے ساتھ محبت رکھتی تھی حسین اور مالدار تھی جب اس کو ان کی آمد کی خبر ہوئی تو وہ آپ کے پاس آئی اور طالب وصال ہوئی آپ نے بخوفِ الٰہی اس سے اعراض کیا اور فرمایا کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا تب اس نے نکاح کی درخواست کی آپ نے فرمایاکہ یہ بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت پر موقوف ہے اپنے کام سے فارغ ہو کر جب آپ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو حال عرض کرکے نکاح کی بابت دریافت کیااس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر احمدی) بعض علماء نے فرمایا جو کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کرے وہ مشرک ہے خواہ اللہ کو واحد ہی کہتا ہو اور توحید کا مدعی ہو (خازن)(ف432)شانِ نزول: ایک روز حضرت عبداللہ بن رواحہ نے کسی خطاپر اپنی باندی کے طمانچہ مارا پھر خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اس کاذکر کیاسید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کاحال دریافت کیاعرض کیا کہ وہ اللہ کی وحدانیت اور حضور کی رسالت کی گواہی دیتی ہے۔ رمضان کے روزے رکھتی ہے خوب وضو کرتی ہے اور نماز پڑھتی ہے حضور نے فرمایا وہ مؤمنہ ہے آپ نے عرض کیا:تو اس کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر مبعوث فرمایا میں اس کو آزاد کرکے اس کے ساتھ نکاح کروں گا اور آپ نے ایسا ہی کیااس پر لوگوں نے طعنہ زنی کی کہ تم نے ایک سیاہ فام باندی کے ساتھ نکاح کیاباوجوویکہ فلاں مشرکہ حرّہ عورت تمہارے لئے حاضر ہے وہ حسین بھی ہے مالدار بھی ہے اس پر نازل ہوا۔ وَلَاَمَۃٌ مُّوْئمِنَۃٌ یعنی مسلمان باندی مشرکہ سے بہتر ہے خواہ مشرکہ آزاد ہو اور حسن و مال کی وجہ سے اچھی معلوم ہوتی ہو۔(ف433)یہ عورت کے اولیاء کو خطاب ہے مسئلہ :مسلمان عورت کا نکاح مشرک و کافر کے ساتھ باطل و حرام ہے۔(ف434) تو ان سے اجتناب ضروری اور ان کے ساتھ دوستی و قرابت ناروا ۔
اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم (ف٤۳۵) تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ، بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو،
And they ask you the decree concerning menstruation; say, “It is an impurity, so stay away from women at such times, and do not cohabit with them until they have cleansed themselves; so when they have cleansed themselves, cohabit with them the way Allah has determined for you”; indeed Allah loves those who repent profusely, and loves those who keep clean.
और तुम से पूछते हैं हाइज़ का हुक्म तुम फ़रमाओ वो नापाकी है तो औरतों से अलग रहो हाइज़ के दिनों और उनसे नज़दीकी न करो जब तक पाक न हो लें फिर जब पाक हो जाएँ तो उनके पास जाओ जहाँ से तुम्हें अल्लाह ने हुक्म दिया, बेशक अल्लाह पसन्द करता है बहुत तौबा करने वालों को और पसन्द रखता है सुथरों को,
Aur tum se poochte hain haiz ka hukum. Tum farmao woh napaaki hai to auraton se alag raho haiz ke dino mein. Aur un se nazdeeki na karo jab tak paak na holein. Phir jab paak ho jayein to un ke paas jao jahan se tumhein Allah ne hukum diya. Beshak Allah pasand karta hai bohot tauba karne walon ko aur pasand rakhta hai suthron ko.
(ف435)شانِ نزول:عرب کے لوگ یہود و مجوس کی طرح حائضہ عورتوں سے کمال نفرت کرتے تھے ساتھ کھانا پینا ایک مکان میں رہنا گوارا نہ تھا بلکہ شدت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ان کی طرف دیکھنا اور ان سے کلام کرنابھی حرام سمجھتے تھے اور نصارٰی اس کے برعکس حیض کے ایام میں عورتوں کے ساتھ بڑی محبت سے مشغول ہوتے تھے اور اختلاط میں بہت مبالغہ کرتے تھے مسلمانوں نے حضور سے حیض کاحکم دریافت کیااس پر یہ آیت نازل ہوئی اور افراط وتفریط کی راہیں چھوڑ کر اعتدال کی تعلیم فرمائی گئی اور بتادیا گیا کہ حالتِ حیض میں عورتوں سے مجامعت ممنوع ہے۔
تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو (ف٤۳٦) اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو (ف٤۳۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو،
Your women are a tillage for you; so come into your tillage as you will; and first perform the deeds that benefit you; and keep fearing Allah, and know well that you have to meet Him; and (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) give glad tidings to the Muslims.
तुम्हारी औरतें तुम्हारे लिये खेतियाँ हैं, तो आओ अपनी खेतियों में जिस तरह चाहो और अपने भले का काम पहले करो और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि तुम्हें उससे मिलना है और ऐ महबूब बशारत दो ईमान वालों को,
Tumhari auratein tumhare liye khetiyan hain. To aao apni khetiyon mein jis tarah chaho aur apne bhale ka kaam pehle karo. Aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke tumhein us se milna hai. Aur aye mehboob basharat do imaan walon ko.
(ف436)یعنی عورتوں کی قربت سے نسل کا قصد کرو نہ قضاء شہوت کا ۔(ف437)یعنی اعمال صالحہ یاجماع سے قبل بسم اللہ پڑھنا۔
اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو (ف٤۳۸) کہ احسان اور پرہیزگاری اور لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو، اور اللہ سنتا جانتا ہے،
And do not make Allah a target of your oaths, by pledging against being virtuous and pious, and against making peace among mankind; and Allah is All Hearing, All Knowing.
और अल्लाह को अपनी क़समों का निशाना न बना लो कि एहसान और परहेज़गारी और लोगों में सुल्ह करने की क़सम कर लो, और अल्लाह सुनता जानता है,
Aur Allah ko apni qasmon ka nishana na bana lo ke ehsaaan aur parhezgari aur logon mein sulah karne ki qasam kar lo. Aur Allah sunta jaanta hai.
(ف438)حضرت عبداللہ بن رواحہ نے اپنے بہنوئی نعمان بن بشیر کے گھر جانے اور ان سے کلام کرنے اور ان کے خصوم کے ساتھ ان کی صلح کرانے سے قسم کھالی تھی جب اس کے متعلق ان سے کہا جاتا تھا تو کہہ دیتے تھے کہ میں قسم کھاچکا ہوں اس لئے یہ کام کر ہی نہیں سکتا اس باب میں یہ آیت نازل ہوئی اور نیک کام کرنے سے قسم کھالینے کی ممانعت فرمائی گئی مسئلہ :اگر کوئی شخص نیکی سے باز رہنے کی قسم کھالے تو اس کو چاہئے کہ قسم کو پورا نہ کرے بلکہ وہ نیک کام کرے اور قسم کاکفارہ دے ۔مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی امر پر قسم کھالی پھر معلوم ہوا کہ خیر اور بہتری اس کے خلاف میں ہے تو چاہئے کہ اس امر خیر کو کرے اور قسم کا کفارہ دے ۔مسئلہ: بعض مفسرین نے یہ بھی کہاہے کہ اس آیت سے بکثرت قسم کھانے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
اور تمہیں نہیں پکڑتا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے (ف٤۳۹) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
Allah does not take you to task for oaths which are made unintentionally but He does take you to task for deeds which your hearts have done; and Allah is Oft Forgiving, Most Forbearing.
और तुम्हें नहीं पकड़ता उन क़समों में जो बेइरादा ज़ुबान से निकल जाए हाँ उस पर गिरफ़्त फ़रमाता है जो काम तुम्हारे दिलों ने किये और अल्लाह बख़्शने वाला हलीम वाला है,
Aur tumhein nahi pakarta un qasmon mein jo be-irada zabaan se nikal jaye. Haan, us par giraft farmata hai jo kaam tumhare dilon ne kiye. Aur Allah bakhshne wala halim wala hai.
(ف439) مسئلہ : قسم تین طرح کی ہوتی ہے(۱) لغو (۲) غموس (۳) منعقدہ (۱) لغویہ ہے کہ کسی گزرے ہوئے امر پر اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھائے اور درحقیقت وہ اس کے خلاف ہو یہ معاف ہے اور اس پر کفارہ نہیں۔(۲) غموس یہ ہے کہ کسی گزرے ہوئے امر پر دانستہ جھوٹی قسم کھائے اس میں گنہگار ہوگا۔(۳) منعقدہ یہ ہے کہ کسی آئندہ امر پر قصد کرکے قسم کھائے اس قسم کو اگر توڑے تو گنہگار بھی ہے اور کفارہ بھی لازم۔
اور وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے
Those who swear not to touch their wives have four months’ time; so if they turn back during this period, indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
और वो जो क़सम खा बैठते हैं अपनी औरतों के पास जाने की उन्हें चार महीने की मोहलत है, पस अगर उस मुद्दत में फिर आएँ तो अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है
Aur woh jo qasam kha baithte hain apni aurton ke paas jaane ki unhein chaar mahinay ki mohlat hai, pas agar is muddat mein phir aaye to Allah bakhshne wala Meherban hai.
اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے (ف٤٤۰)
And if they firmly decide to divorce them, Allah is All Hearing, All Knowing.
और अगर छोड़ देने का इरादा पक्का कर लिया तो अल्लाह सुनता जानता है
Aur agar chhod dene ka iraada paka kar liya to Allah sunta jaanta hai.
(ف440)شانِ نزول: زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا یہ معمول تھا کہ اپنی عورتوں سے مال طلب کرتے اگر وہ دینے سے انکار کرتیں تو ایک سال دو سال تین سال یا اس سے زیادہ عرصہ ان کے پاس نہ جانے اور صحبت ترک کرنے کی قسم کھالیتے تھے اور انہیں پریشانی میں چھوڑ دیتے تھے نہ وہ بیوہ ہی تھیں کہ کہیں اپنا ٹھکانہ کرلیتیں نہ شوہر دار کہ شوہر سے آرام پاتیں اسلام نے اس ظلم کو مٹایااور ایسی قسم کھانے والوں کے لئے چار مہینے کی مدت معین فرمادی کہ اگر عورت سے چار مہینے یااس سے زائد عرصہ کے لئے یا غیر معین مدت کے لئے ترک صحبت کی قسم کھالے جس کو ایلا کہتے ہیں تو اس کے لئے چار ماہ انتظار کی مہلت ہے اس عرصہ میں خوب سوچ سمجھ لے کہ عورت کو چھوڑنا اس کے لئے بہتر ہے یارکھنا اگر رکھنا بہتر سمجھے اور اس مدت کے اندر رجوع کرے تو نکاح باقی رہے گا اور قسم کاکفارہ لازم ہوگا اور اگر اس مدت میں رجوع نہ کیا قسم نہ توڑی تو عورت نکاح سے باہر ہوگئی اور اس پر طلاق بائن واقع ہوگئی۔ مسئلہ :اگر مرد صحبت پر قادر ہو تو رجوع صحبت ہی سے ہوگا اور اگر کسی وجہ سے قدرت نہ ہو تو بعد قدرت صحبت کا وعدہ رجوع ہے۔(تفسیری احمدی)
اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک (ف٤٤۱) اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا (ف٤٤۲) اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں (ف٤٤۳) اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں (ف٤٤٤) اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق (ف٤٤۵) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
And divorced women shall restrain themselves for three menstrual periods; and it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs if they believe in Allah and the Last Day; and their husbands have the right to take them back, during this time, if they desire reconciliation; and the women also have rights similar to those of men over them, in accordance with Islamic law – and men have superiority over them; and Allah is Almighty, Wise.
और तलाक़ वालियाँ फ अपनी जानों को रोके रहें तीन हाइज़ तक और उन्हें हलाल नहीं कि छुपाएँ वह जो अल्लाह ने उनके पेट में पैदा किया अगर अल्लाह और क़यामत पर ईमान रखती हैं और उनके शौहरों को उस मुद्दत के अंदर उनके फेर लेने का हक़ पहुँचता है अगर मिलाप चाहें और औरतों का भी हक़ ऐसा ही है जैसा उन पर है शरअ के मुताबिक और मर्दों को उन पर फ़ज़ीलत है , और अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है ,
Aur talaaq waliyan apni jaanon ko roke rahen teen haiz tak aur unhein halal nahi ke chhupayen woh jo Allah ne unke pait mein paida kiya agar Allah aur Qayamat par imaan rakhti hain aur unke shoharon ko is muddat ke andar unke pher lene ka haq pohchta hai agar milaap chahen aur aurton ka bhi haq aisa hi hai jaisa un par hai shara’ ke muwafiq aur mardon ko unpar fazilat hai, aur Allah Ghalib Hikmat wala hai.
(ف441) اس آیت میں مطلقہ عورتوں کی عدت کا بیان ہے جن عورتوں کو ان کے شوہروں نے طلاق دی اگر وہ شوہر کے پاس نہ گئی تھیں اور ان سے خلوت صحیحہ نہ ہوئی تھی جب تو ان پر طلاق کی عدت ہی نہیں ہے جیسا کہ آیہ مَالَکُمْ عَلَیْھِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ میں ارشاد ہے اور جن عورتوں کو خورد سالی یا کبر سنی کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو یا جو حاملہ ہو ان کی عدت کا بیان سورہ طلاق میں آئے گا۔ باقی جو آزاد عورتیں ہیں یہاں ان کی عدت و طلاق کا بیان ہے کہ اُن کی عدت تین حیض ہے۔(ف442)وہ حمل ہو یاخون حیض کیونکہ اس کے چھپانے سے رجعت اور ولد میں جو شوہر کاحق ہے وہ ضائع ہوگا۔(ف443)یعنی یہی متقضائے ایمانداری ہے۔(ف444) یعنی طلاق رجعی میں عدت کے اندر شوہر عورت سے رجوع کرسکتا ہے خواہ عورت راضی ہو یانہ ہو لیکن اگر شوہر کو ملاپ منظور ہو تو ایسا کرے ضرر رسانی کا قصد نہ کرے جیسا کہ اہل جاہلیت عورت کو پریشان کرنے کے لئے کرتے تھے۔(ف445)یعنی جس طرح عورتوں پر شوہروں کے حقوق کی ادا واجب ہے اسی طرح شوہروں پر عورتوں کے حقوق کی رعایت لازم ہے۔
یہ طلاق (ف٤٤٦) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے (ف٤٤۷) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے (ف٤٤۸) اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا (ف٤٤۹) اس میں سے کچھ واپس لو (ف٤۵۰) مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے (ف٤۵۱) پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، (ف٤۵۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں،
This type of divorce is up to twice; the woman must then be retained on good terms or released with kindness; and it is not lawful for you to take back from women a part of what you have given them except when both fear that they may not be able to stay within the limits established by Allah; so if you fear that they may not be able to observe the limits of Allah, then it is no sin on them if the woman pays to get her release; these are the limits set by Allah, so do not exceed them; and those who transgress Allah’s limits are the unjust.
यह तलाक़ दो बार तक है फिर भलाई के साथ रोक लेना है या नक़ोई (अच्छे सुलूक) के साथ छोड़ देना है और तुम्हें रवा नहीं कि जो कुछ औरतों को दिया उस में से कुछ वापस लो मगर जब दोनों को अन्देशा हो कि अल्लाह की हदें क़ायम न करेंगे फिर अगर तुम्हें ख़ौफ़ हो कि वह दोनों ठीक उन्हीं हदों पर न रहें गे तो उन पर कुछ गुनाह नहीं उस में जो बदला दे कर औरत छुट्टी ले , यह अल्लाह की हदें हैं उन से आगे न बढ़ो और जो अल्लाह की हदों से आगे बढ़े तो वही लोग ज़ालिम हैं ,
Ye talaaq do baar tak hai phir bhalayi ke saath rok lena hai ya niku’i (achhe sulook) ke saath chhod dena hai aur tumhein rawa nahi ke jo kuch aurton ko diya us mein se kuch wapas lo magar jab donon ko andesha ho ke Allah ki hadain qayam na karenge phir agar tumhein khauf ho ke woh dono theek unhi hadon par na rahein to unpar kuch gunaah nahi is mein jo badla de kar aurat chhutti le, ye Allah ki hadain hain in se aage na badho aur jo Allah ki hadon se aage badhe to wahi log zaalim hain.
(ف446)یعنی طلاق رجعی شانِ نزول: ایک عورت نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس کے شوہر نے کہاہے کہ وہ اس کو طلاق دیتااور رجعت کرتا رہے گاہر مرتبہ جب طلاق کی عدت گزرنے کے قریب ہوگی رجعت کرلے گا پھر طلاق دے دے گااسی طرح عمر بھر اس کو قید رکھے گااس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمادیا کہ طلاق رجعی دو بار تک ہے اس کے بعد طلاق دینے پر رجعت کا حق نہیں۔(ف447)رجعت کرکے ۔(ف448)اس طرح کہ رجعت نہ کرے اور عدت گزر کر عورت بائنہ ہوجائے۔(ف449)یعنی مہر (ف450)طلاق دیتے وقت (ف451)جو حقوق زوجین کے متعلق ہیں۔(ف452)یعنی طلاق حاصل کرے شانِ نزول: یہ آیت جمیلہ بنت عبداللہ کے باب میں نازل ہوئی یہ جمیلہ ثابت بن قیس ابن شماس کے نکاح میں تھیں اورشوہر سے کمال نفرت رکھتی تھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں اپنے شوہر کی شکایت لائیں اور کسی طرح ان کے پاس رہنے پر راضی نہ ہوئیں تب ثابت نے کہا کہ میں نے ان کو ایک باغ دیاہے اگر یہ میرے پاس رہناگوارا نہیں کرتیں اور مجھ سے علیحدگی چاہتی ہیں تو وہ باغ مجھے واپس کریں میں ان کو آزاد کردوں جمیلہ نے اس کو منظور کیا ثابت نے باغ لے لیااور طلاق دے دی اس طرح کی طلاق کو خُلَعْ کہتے ہیں مسئلہ :خُلَع طلاق بائن ہوتا ہے۔ مسئلہ : خُلَعْ میں لفظ خلع کاذکر ضروری ہے۔ مسئلہ : اگرجدائی کی طلب گار عورت ہو توخُلَع میں مقدار مہر سے زائد لینا مکروہ ہے اور اگر عورت کی طرف سے نشوز نہ ہو مرد ہی علیحدگی چاہے تو مرد کو طلاق کے عوض مال لینا مطلقاً مکروہ ہے۔
پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، (ف٤۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف٤۵٤) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے،
Then if he divorces her the third time, she will not be lawful to him until she has stayed with another husband; then if the other husband divorces her, it is no sin for these two to reunite if they consider that they can keep the limits of Allah established; these are the limits set by Allah which He explains for people of intellect.
फिर अगर तीसरी तलाक़ उसे दी तो अब वह औरत उसे हलाल न होगी जब तक दूसरे ख़ावन्द के पास न रहे , फिर वह दूसरा अगर उसे तलाक़ दे दे तो उन दोनों पर गुनाह नहीं कि फिर आपस में मिल जाएँ अगर समझते हों कि अल्लाह की हदें निभाएँ गे , और यह अल्लाह की हदें हैं जिन्हे बयान करता है दानिशमन्दों के लिये ,
Phir agar teesri talaaq use di to ab woh aurat use halal na hogi jab tak dusre khawind ke paas na rahe, phir woh dusra agar use talaaq de de to in donon par gunaah nahi ke phir aapas mein mil jaayen agar samajhte hon ke Allah ki hadain nibahenge, aur ye Allah ki hadain hain jinhein bayan karta hai danishmando ke liye.
(ف453)مسئلہ:تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر بحرمت مغلظہ حرام ہوجاتی ہے اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے نہ دوبارہ نکاح جب تک کہ حلالہ ہو یعنی بعد عدت دوسرے سے نکاح کرے اور وہ بعد صحبت طلاق دے پھر عدت گزرے۔(ف454)دوبارہ نکاح کرلیں۔
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے (ف٤۵۵) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو (ف٤۵٦) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو (ف٤۵۷) اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے (ف٤۵۸) اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو (ف٤۵۹) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے (ف٤٦۰) اور وہ جو تم پر کتاب اور حکمت (ف٤٦۱) اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف٤٦۲)
And when you have divorced women, and their term reaches its end, either retain them on good terms within this period or release them with kindness; and do not retain them in order to hurt them, hence transgressing the limits; and he who does so harms only himself; and do not make the signs of Allah the objects of ridicule; and remember Allah’s favour that is bestowed upon you and that He has sent down to you the Book and wisdom, for your guidance; keep fearing Allah and know well that Allah knows everything. (The traditions of the Holy Prophet – sunnah and hadith – are called wisdom.)
और जब तुम औरतों को तलाक़ दो और उनकी मीयाद आ लगे तो उस वक़्त तक या भलाई के साथ रोक लो या नक़ोई (अच्छे सुलूक) के साथ छोड़ दो और उन्हें ज़रर देने के लिये रोकना न हो कि हद से बढ़ो और जो ऐसा करे वह अपना ही नुक़सान करता है और अल्लाह की आयतों को ठठा न बना लो और याद करो अल्लाह का एहसान जो तुम पर है और वह जो तुम पर किताब और हिकमत उतारी तुम्हें नसीहत देने को और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि अल्लाह सब कुछ जानता है
Aur jab tum aurton ko talaaq do aur unki miyaad aa lage to is waqt tak ya bhalayi ke saath rok lo ya niku’i (achhe sulook) ke saath chhod do aur unhein zarar dene ke liye rokna na ho ke had se badho aur jo aisa kare woh apna hi nuqsaan karta hai aur Allah ki aayaton ko thhatha na banao aur yaad karo Allah ka ehsaan jo tum par hai aur woh jo tum par kitaab aur hikmat utari tumhein naseehat dene ko aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke Allah sab kuch jaanta hai.
(ف455)یعنی عدت تمام ہونے کے قریب ہو شانِ نزول: یہ آیت ثابت بن یسار انصاری کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے اپنی عورت کو طلاق دی تھی اور جب عدت قریب ختم ہوتی تھی رجعت کرلیا کرتے تھے تاکہ عورت قید میں پڑی رہے۔(ف456)یعنی نباہنے اور اچھا معاملہ کرنے کی نیت سے رجعت کرو ۔(ف457)اور عدت گزر جانے دو تاکہ بعد عدت وہ آزاد ہوجائیں ۔(ف458)کہ حکم الٰہی کی مخالفت کرکے گنہگار ہوتا ہے۔(ف459)کہ ان کی پرواہ نہ کرو اور انکے خلاف عمل کرو۔(ف460)کہ تمہیں مسلمان کیا اور سیدانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی بنایا ۔(ف461)کتاب سے قرآن اور حکمت سے احکام قرآن و سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مراد ہے۔(ف462)اس سے کچھ مخفی نہیں۔
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے (ف٤٦۳) تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں (ف٤٦٤) جب کہ آپس میں موافق شرع رضامند ہوجائیں (ف٤٦۵) یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،
And when you have divorced women and they complete their waiting period – then O guardians of such women, do not prevent them from marrying their husbands if they agree between themselves in accordance with Islamic law; this lesson is for those among People who Believe in Allah and the Last Day; this is purer for you, and cleaner; and Allah knows and you do not know.
और जब तुम औरतों को तलाक़ दो और उनकी मीयाद पूरी हो जाये तो ऐ औरतों के वालियो उन्हें न रोको उस से कि अपने शौहरों से निकाह कर लें जब कि आपस में मुवाफिक शरअ रज़ामन्द हो जायें यह नसीहत उसे दी जाती है जो तुम में से अल्लाह और क़यामत पर ईमान रखता हो यह तुम्हारे लिये ज़्यादा सुथरा और पाकीज़ा है और अल्लाह जानता है और तुम नहीं जानते ,
Aur jab tum aurton ko talaaq do aur unki miyaad poori ho jaaye to ae aurton ke walio! unhein na roko is se ke apne shoharon se nikah kar len jab ke aapas mein muwafiq shara’ razamand ho jaayen ye naseehat use di jaati hai jo tum mein se Allah aur Qayamat par imaan rakhta ho ye tumhare liye zyada suthra aur pakeeza hai aur Allah jaanta hai aur tum nahi jaante.
(ف463)یعنی ان کی عدت گزر چکے۔(ف464)جن کو انہوں نے اپنے نکاح کے لئے تجویز کیاہو خواہ وہ نئے ہوں یایہی طلاق دینے والے یا ان سے پہلے جو طلاق دے چکے تھے۔(ف465)اپنے کفو میں مہر مثل پر کیونکہ اس کے خلاف کی صورت میں اولیاء اعتراض و تعرض کاحق رکھتے ہیں۔ شانِ نزول: معقل بن یسار مزنی کی بہن کا نکاح عاصم بن عدی کے ساتھ ہواتھا انہوں نے طلاق دی اور عدت گزرنے کے بعد پھر عاصم نے درخواست کی تو معقل بن یسار مانع ہوئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(بخاری شریف)
اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو (ف٤٦٦) پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے (ف٤٦۷) اور جس کا بچہ ہے (ف٤٦۸) اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور (ف٤٦۹) کسی جان پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے (ف٤۷۰) اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے (ف٤۷۱) یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو (ف٤۷۲) اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھہرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
And mothers shall breast-feed their children for two full years – for those who wish to complete the term of milk feeding; and the father of the child must provide for food and clothing of the mother in accordance with custom; no one will be burdened except with what he can bear; a mother should not be harmed because of her child, nor he to whom the child is born be harmed because of his child (or a mother should not harm the child nor he to whom the child is born should harm the child); and the same is incumbent on the guardian in place of the father; then if the parents desire to wean the child by mutual consent and consultation, it is no sin for them; and if you wish to give your children out to a (milk feeding) nurse, it is no sin for you, provided you pay to them what is agreed, with kindness; and keep fearing Allah, and know well that Allah is seeing what you do.
और माँएँ दूध पिलाएँ अपने बच्चों को पूरे दो बरस उस के लिये जो दूध की मुद्दत पूरी करनी चाहिये और जिस का बच्चा है उस पर औरतों का खाना पहनना है हसब दस्तूर किसी जान पर बोझ न रखा जायेगा मगर उस के मक़दूर भर माँ को ज़रर न दिया जाये उस के बच्चा से और न औलाद वाले को उस की औलाद से या माँ ज़रर न दे अपने बच्चा को और न औलाद वाला अपनी औलाद को और जो बाप का क़ायम-मक़ाम है उस पर भी ऐसा ही वाज़िब है फिर अगर माँ-बाप दोनों आपस की रज़ा और मशवरे से दूध छुड़ाना चाहें तो उन पर गुनाह नहीं और अगर तुम चाहो कि दाइयों से अपने बच्चों को दूध पिलवाओ तो भी तुम पर मज़ाएक़ा नहीं जब कि जो देना ठहरा था भलाई के साथ उन्हें अदा कर दो, और अल्लाह से डरते रहो और जान रखो कि अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है ,
Aur maaen doodh pilayen apne bachon ko poore do baras uske liye jo doodh ki muddat poori karni chahiye aur jiska bacha hai us par aurton ka khana pehna hai hasb dastoor kisi jaan par bojh na rakha jaayega magar uske maqdoor bhar maa ko zarar na diya jaaye uske bacha se aur na aulad wale ko uski aulad se ya maa zarar na de apne bacha ko aur na aulad wala apni aulad ko aur jo baap ka qaaim maqam hai us par bhi aisa hi wajib hai phir agar maa baap donon aapas ki raza aur mashware se doodh chhudana chahen to unpar gunaah nahi aur agar tum chaho ke daiyon se apne bachon ko doodh pilwao to bhi tum par muzaiqa nahi jab ke jo dena thehra tha bhalayi ke saath unhein ada kar do, aur Allah se darte raho aur jaan rakho ke Allah tumhare kaam dekh raha hai.
(ف466)بیان طلاق کے بعد یہ سوال طبعاً سامنے آتاہے کہ اگر طلاق والی عورت کی گود میں شیر خوار بچہ ہو تو اس جدائی کے بعد اس کی پرورش کاکیا طریقہ ہوگااس لئے یہ قرین حکمت ہے کہ بچہ کی پرورش کے متعلق ماں باپ پر جو احکام ہیں وہ اس موقع پر بیان فرمادیئے جائیں لہٰذا یہاں ان مسائل کابیان ہوا۔ مسئلہ : ماں خواہ مطلقہ ہو یا نہ ہو اس پر اپنے بچے کو دودھ پلانا واجب ہے بشرطیکہ باپ کو اجرت پر دودھ پلوانے کی قدرت و استطاعت نہ ہو یا کوئی دودھ پلانے والی میسر نہ آئے یابچہ ماں کے سوااور کسی کا دودھ قبول نہ کرے اگر یہ باتیں نہ ہوں یعنی بچہ کی پرورش خاص ماں کے دودھ پر موقوف نہ ہو تو ماں پر دودھ پلانا واجب نہیں مستحب ہے۔( تفسیر احمد ی و جمل وغیرہ)(ف467)یعنی اس مدت کاپورا کرنا لازم نہیں اگر بچہ کو ضرورت نہ رہے اور دودھ چھڑانے میں اس کے لئے خطرہ نہ ہو تو اس سے کم مدت میں بھی چھڑانا جائز ہے۔ (تفسیر احمدی خازن وغیرہ)(ف468)یعنی والد،اس انداز بیان سے معلوم ہوا کہ نسب باپ کی طرف رجوع کرتا ہے۔(ف469)مسئلہ :بچہ کی پرورش اور اس کو دودھ پلواناباپ کے ذمہ واجب ہے اس کے لئے وہ دودھ پلانے والی مقرر کرے لیکن اگر ماں اپنی رغبت سے بچہ کو دودھ پلائے تو مستحب ہے۔ مسئلہ:شوہر اپنی زوجہ پر بچہ کے دودھ پلانے کے لئے جبر نہیں کرسکتا اور نہ عورت شوہر سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت طلب کرسکتی ہے جب تک کہ اس کے نکاح یا عدت میں رہے۔ مسئلہ : اگر کسی شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور عدت گزر چکی تو وہ اس سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے۔ مسئلہ :اگر باپ نے کسی عورت کو اپنے بچہ کے دودوھ پلانے پر بہ اجرت مقرر کیا اور اس کی ماں اسی اجرت پر یابے معاوضہ دودھ پلانے پر راضی ہوئی تو ماں ہی دودھ پلانے کی زیادہ مستحق ہے اور اگر ماں نے زیادہ اجرت طلب کی تو باپ کو اس سے دودھ پلوانے پر مجبور نہ کیا جائے گا۔(تفسیر احمد ی مدارک) المعروف سے مراد یہ ہے کہ حسب حیثیت ہو بغیر تنگی اور فضول خرچی کے۔(ف470)یعنی اس کو اس کے خلاف مرضی دودھ پلانے پر مجبور نہ کیا جائے۔(ف471)زیادہ اجرت طلب کرکے ۔(ف472)ماں کا بچہ کو ضرر دینا یہ ہے کہ اس کو وقت پر دودھ نہ دے اور اس کی نگرانی نہ رکھے یااپنے ساتھ مانوس کر لینے کے بعد چھوڑ دے اور باپ کا بچہ کو ضرر دینا یہ ہے کہ مانوس بچہ کو ماں سے چھین لے یا ماں کے حق میں کوتاہی کرے جس سے بچہ کو نقصان پہنچے۔
اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں (ف٤۷۳) تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مواخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
And those among you who die leaving wives behind them, then such widows shall restrain themselves for four months and ten days; so when their term is completed, O guardians of such women, there is no sin on you in what the women may decide for themselves in accordance with Islamic law; and Allah is Well Aware of what you do.
और तुम में जो मरें और बीबियाँ छोड़ें वह चार महीने दस दिन अपने आप को रोके रहें तो जब उनकी अद्दत पूरी हो जाए तो ऐ वालियो! तुम पर मोअख़ज़ा नहीं इस काम में जो औरतें अपने मामले में मुफ़िक़-ए-शरअ करें, और अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है,
Aur tum mein jo maren aur beebiyan chhodien woh chaar mahinay das din apne aap ko roke rahen to jab unki iddat poori ho jaaye to ae walio! tum par moakhza nahi is kaam mein jo auratein apne maamla mein muwafiq shara’ karen, aur Allah ko tumhare kaamon ki khabar hai.
(ف473)حاملہ کی عدت تو وضع حمل ہے جیسا کہ سورہ طلاق میں مذکور ہے یہاں غیر حاملہ کابیان ہے جس کا شوہر مرجائے اس کی عدت چار ماہ دس روز ہے۔اس مد ت میں نہ وہ نکاح کرے نہ اپنا مسکن چھوڑے نہ بے عذر تیل لگائے،نہ خوشبو لگائے، نہ سنگار کرے،نہ رنگین اور ریشمیں کپڑے پہنے نہ مہندی لگائے ،نہ جدید نکاح کی بات چیت کھل کر کرے اور جو طلاق بائن کی عدت میں ہو اس کابھی یہی حکم ہے البتہ جو عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہو اس کو زینت اور سنگار کرنا مستحب ہے۔
اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام دو یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے (ف٤۷۵) ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی بات کہو جو شرع میں معروف ہے، اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے (ف٤۷٦) اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
And there is no sin on you if you propose marriage to women while they are hidden from your view, or hide it in your hearts; Allah knows that you will now remember them, but do not make secret pacts with women except by decent words recognised by Islamic law; and do not consummate the marriage until the written command reaches its completion; know well that Allah knows what is in your hearts, therefore fear Him; and know well that Allah is Oft Forgiving, Most Forbearing.
और तुम पर गुनाह नहीं इस बात में जो पर्दा रखकर तुम औरतों का निकाह का पयाम दो या अपने दिल में छुपा रखो अल्लाह जानता है कि अब तुम उनकी याद करोगे हाँ उनसे ख़ुफ़िया वादा न कर रखो मगर यह कि इतनी बात कहो जो शरअ में मआरूफ़ है, और निकाह की गिरह पक्की न करो जब तक लिखा हुआ हुक्म अपनी मीयाद को न पहुँच ले और जान लो कि अल्लाह तुम्हारे दिल की जानता है तो उससे डरो और जान लो कि अल्लाह बख़्शने वाला हलीम वाला है,
Aur tum par gunaah nahi is baat mein jo parda rakh kar tum aurton ke nikah ka payam do ya apne dil mein chhupa rakho Allah jaanta hai ke ab tum unki yaad karoge haan unse khufiya wada na kar rakho magar ye ke itni baat kaho jo shara’ mein ma’roof hai, aur nikah ki girah paki na karo jab tak likha hua hukm apni miyaad ko na pohanch le aur jaan lo ke Allah tumhare dil ki jaanta hai to us se daro aur jaan lo ke Allah bakhshne wala Haleem wala hai.
(ف474)یعنی عدت میں نکاح اور نکاح کا کھلا ہوا پیام تو ممنوع ہے،لیکن پردہ کے ساتھ خواہش نکاح کا اظہار گناہ نہیں مثلاً یہ کہے کہ تم بہت نیک عورت ہو یااپنا ارادہ دل ہی میں رکھے اور زبان سے کسی طرح نہ کہے۔(ف475)اور تمہارے دلوں میں خواہش ہوگی اسی لئے تمہارے واسطے تعریض مباح کی گئی۔(ف476)یعنی عدت گزر چکے۔
تم پر کچھ مطالبہ نہیں (ف٤۷۷) تم عورتوں کو طلاق دو جب تک تم نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو یا کوئی مہر مقرر کرلیا ہو (ف٤۷۸) اور ان کو کچھ برتنے کو دو (ف٤۷۹) مقدور والے پر اس کے لائق اور تنگدست پر اس کے لائق حسب دستور کچھ برتنے کی چیز یہ واجب ہے بھلائی والوں پر (ف٤۸۰)
There is no sin upon you if you divorce women while you have not touched them or appointed their bridal money; and give them some provision; the rich according to their means, and the poor according to their means; a fair provision according to custom; this is a duty upon the virtuous.
तुम पर कुछ मुतालिबा नहीं तुम औरतों को तलाक़ दो जब तक तुमने उनको हाथ न लगाया हो या कोई महर मुक़र्रर कर लिया हो और उनको कुछ बरतने को दो मक़दूर वाले पर उसके लायक़ और तंगदस्त पर उसके लायक़ हसब-ए-दस्तूर कुछ बरतने की चीज़ यह वाजिब है भलाई वालों पर,
Tum par kuch mutaliba nahi tum aurton ko talaaq do jab tak tumne unko haath na lagaya ho ya koi mehr muqarrar kar liya ho aur unko kuch bartane ko do maqdoor wale par uske laayak aur tangdast par uske laayak hasb dastoor kuch bartane ki cheez ye wajib hai bhalayi walon par.
(ف477)مہر کا(ف478)شانِ نزول: یہ آیت ایک انصاری کے باب میں نازل ہوئی جنہوں نے قبیلہ بنی حنیفہ کی ایک عورت سے نکاح کیا اور کوئی مہر معین نہ کیاپھر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی۔ مسئلہ :اس سے معلوم ہوا کہ جس عور ت کا مہر مقرر نہ کیاہو اگر اس کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو مہر لازم نہیں ہاتھ لگانے سے مجامعت مراد ہے اور خلوت صحیحہ اسی کے حکم میں ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ بے ذکر مہر بھی نکاح درست ہے مگر اس صورت میں بعد نکاح مہر معین کرناہوگااگر نہ کیا تو بعد دخول مہر مثل لازم ہوجائے گا۔(ف479)تین کپڑوں کا ایک جوڑا۔(ف480)جس عورت کا مہر مقرر نہ کیا ہو اوراس کو قبل دخول طلاق دی ہو اس کو تو جوڑا دیناواجب ہے اور اس کے سواہر مطلقہ کے لئے مستحب ہے۔(مدارک)
اور اگر تم نے عورتوں کو بے چھوئے طلاق دے دی اور ان کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے تھے تو جتنا ٹھہرا تھا اس کا آدھا واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں کچھ چھوڑ دیں (ف٤۸۱) یا وہ زیادہ دے (ف٤۸۲) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے (ف٤۸۳) اور اے مرَدو تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر احسان کو بھلا نہ دو بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف٤۸٤)
If you divorce them before you have touched them and have appointed the bridal money, then payment of half of what is agreed is ordained unless the women forgo some of it, or he in whose hand is the marriage tie, pays more; and O men, your paying more is closer to piety; and do not forget the favours to each other; indeed Allah is seeing what you do.
और अगर तुमने औरतों को बग़ैर छुये तलाक़ दे दी और उनके लिये कुछ महर मुक़र्रर कर चुके थे तो जितना ठहरा था उसका आधा वाजिब है मगर यह कि औरतें कुछ छोड़ दें या वह ज़्यादा दे जिसके हाथ में निकाह की गिरह है और ऐ मर्दो! तुम्हारा ज़्यादा देना परहेज़गारी से नज़दीकतर है और आपस में एक दूसरे पर एहसान को भुला न दो बेशक अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है,
Aur agar tumne aurton ko bechuye talaaq de di aur unke liye kuch mehr muqarrar kar chuke the to jitna thehra tha uska aadha wajib hai magar ye ke auratein kuch chhod dein ya woh zyada de jiske haath mein nikah ki girah hai aur ae mardo! tumhara zyada dena parhezgaari se nazdik tar hai aur aapas mein ek dusre par ehsaan ko bhula na do beshak Allah tumhare kaam dekh raha hai.
(ف481)اپنے اس نصف میں سے۔(ف482)نصف سے جو اس صورت میں واجب ہے۔(ف483)یعنی شوہر۔(ف484)اس میں حسن سلوک و مکارم اخلاق کی ترغیب ہے۔
نگہبانی کرو سب نمازوں کی (ف٤۸۵) اور بیچ کی نماز کی (ف٤۸٦) اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے (ف٤۸۷)
Guard all your prayers, and the middle prayer; and stand with reverence before Allah.
निगहबानी करो सब नमाज़ों की और बीच की नमाज़ की और खड़े हो अल्लाह के हुज़ूर अदब से,
Nigahbani karo sab namazon ki aur beech ki namaz ki aur khade ho Allah ke huzoor adab se.
(ف485)یعنی پنجگانہ فرض نمازوں کو ان کے اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہو اس میں پانچوں نمازوں کی فرضیت کابیان ہے اور اولاد و ازواج کے مسائل و احکام کے درمیان میں نماز کاذکر فرمانااس نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ ان کوا دائے نماز سے غافل نہ ہونے دواور نماز کی پابندی سے قلب کی اصلاح ہوتی ہے جس کے بغیر معاملات کا درست ہونا متصور نہیں۔(ف486)حضرت امام ابوحنیفہ اور جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کامذہب یہ ہے کہ اس سے نماز عصر مراد ہے اور احادیث بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔(ف487)اس سے نمازکے اندر قیام کا فرض ہونا ثابت ہوا۔
پھر اگر خوف میں ہو تو پیادہ یا سوار جیسے بن پڑے پھر جب اطمینان سے ہو تو اللہ کی یاد کرو جیسا اس نے سکھایا جو تم نہ جانتے تھے،
And if you are in fear, pray while on foot or while riding, as you can; when you are in peace remember Allah the way He has taught you, which you did not know.
फिर अगर ख़ौफ़ में हो तो प्यादा या सवार जैसे बन पड़े फिर जब इत्मिनान से हो तो अल्लाह की याद करो जैसा उसने सिखाया जो तुम न जानते थे,
Phir agar khauf mein ho to piyada ya sawar jaise ban pare phir jab itminan se ho to Allah ki yaad karo jaisa usne sikhaya jo tum na jaante the.
اور جو تم میں مریں اور بیبیاں چھوڑ جائیں، وہ اپنی عورتوں کے لئے وصیت کرجائیں (ف٤۸۸) سال بھر تک نان نفقہ دینے کی بے نکالے (ف٤۸۹) پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مؤاخذہ نہیں جو انہوں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا، اور اللہ غالب حکمت والا ہے،
And those among you who die leaving wives behind them – they should bequeath for their wives a complete provision for one full year without turning them out; so if they go out themselves, there is no sin on you regarding what they do of themselves in a reasonable manner; and Allah is Almighty, Wise.
और जो तुम में मरें और बीबियाँ छोड़ जाएँ, वह अपनी औरतों के लिये वसियत कर जाएँ साल भर तक नान-नफ़क़ा देने की बे निकालें फिर अगर वह ख़ुद निकल जाएँ तो तुम पर उसका मोअख़ज़ा नहीं जो उन्होंने अपने मामले में मुनासिब तौर पर किया, और अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है,
Aur jo tum mein maren aur beebiyan chhod jaayen, woh apni aurton ke liye wasiyat kar jaayen saal bhar tak naan nafqa dene ki be-nikale phir agar woh khud nikal jaayen to tum par iska moakhza nahi jo unhon ne apne maamla mein munasib tor par kiya, aur Allah Ghalib Hikmat wala hai.
(ف488)اپنے اقارب کو۔(ف489)ابتدائے اسلام میں بیوہ کی عدّت ایک سال کی تھی اور ایک سال کامل وہ شوہر کے یہاں رہ کر نان و نفقہ پانے کی مستحق ہوتی تھی ۔ پھر ایک سال کی عدت تو یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍوَّ عَشْرًا سے منسوخ ہوئی جس میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر فرمائی گئی اور سال بھر کانفقہ آیت میراث سے منسوخ ہوا جس میں عورت کاحصہ شوہر کے ترکہ سے مقرر کیا گیا لہٰذا اب اس وصیت کاحکم باقی نہ رہاحکمت اس کی یہ ہے کہ عرب کے لوگ اپنے مورث کی بیوہ کانکلنایاغیر سے نکاح کرنابالکل گوارا ہی نہ کرتے تھے اور اس کو عار سمجھتے تھے اس لئے اگر ایک دم چار ماہ دس روز کی عدت مقرر کی جاتی تو یہ ان پر بہت شاق ہوتی لہذا بتدریج انہیں راہ پر لایا گیا۔
اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے، تو اللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرمادیا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں (ف٤۹۰)
Did you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) not see those who left their homes, whereas they numbered in thousands, fearing death? So Allah said to them, “Die”; He then brought them back to life; indeed Allah is Most Munificent towards mankind, but most men are ungrateful.
ऐ महबूब! क्या तुमने न देखा था उन्हें जो अपने घरों से निकले और वह हज़ारों थे मौत के डर से, तो अल्लाह ने उनसे फ़रमाया मर जाओ फिर उन्हें ज़िंदा फ़रमा दिया, बेशक अल्लाह लोगों पर फ़ज़ल करने वाला है मगर अक़्सर लोग नाशुक्रे हैं,
Ae Mehboob! kya tumne na dekha tha unhein jo apne gharon se nikle aur woh hazaron the maut ke dar se, to Allah ne unse farmaya mar jao phir unhein zinda farma diya, beshak Allah logon par fazl karne wala hai magar aksar log nashukre hain.
(ف490)بنی اسرائیل کی ایک جماعت تھی جس کے بلاد میں طاعون ہوا تو وہ موت کے ڈر سے اپنی بستیاں چھوڑ بھاگے اور جنگل میں جا پڑے بحکم الہی سب وہیں مر گئے کچھ عرصہ کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام کی دعا سے انہیں اللہ تعالٰی نے زندہ فرمایا اور وہ مدتوں زندہ رہے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی موت کے ڈر سے بھاگ کر جان نہیں بچاسکتا تو بھاگنا بے کار ہے جو موت مقدر ہے وہ ضرور پہنچے گی بندے کو چاہئے کہ رضائے الٰہی پر راضی رہے مجاہدین کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جہاد سے بیٹھ رہنا موت کو دفع نہیں کرسکتا لہذا دل مضبوط رکھنا چاہئے ۔
ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے (ف٤۹۲) تو اللہ اس کے لئے بہت گنُا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے (ف٤۹۳) اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا،
Is there someone who will lend an excellent loan to Allah, so that He may increase it for him several times over? And Allah restricts and eases (the sustenance) – and it is to Him that you will return.
है कोई जो अल्लाह को क़र्ज़-ए-हसन दे तो अल्लाह उसके लिये बहुत गुणा बढ़ा दे और अल्लाह तंगी और कुशाइश करता है और तुम्हें उसी की तरफ़ फिर जाना,
Hai koi jo Allah ko qarz-e-hasan de to Allah uske liye bohot guna barha de aur Allah tangi aur kushish karta hai aur tumhein usi ki taraf phir jaana.
(ف492)یعنی راہ خدا میں اخلاص کے ساتھ خرچ کرے راہِ خدا میں خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر فرمایایہ کمال لطف وکرم ہے بندہ اس کابنایا ہوا اور بندے کامال اس کاعطا فرمایا ہوا حقیقی مالک وہ اور بندہ اس کی عطاسے مجازی ملک رکھتا ہے مگر قرض سے تعبیر فرمانے میں یہ دل نشین کرنامنظور ہےکہ جس طرح قرض دینے والا اطمینان رکھتا ہے کہ اس کامال ضائع نہیں ہواوہ اس کی واپسی کامستحق ہے ایسا ہی راہِ خدا میں خرچ کرنے والے کو اطمینان رکھنا چاہئے کہ وہ اس انفاق کی جزا بالیقین پائے گا اور بہت زیادہ پائے گا۔(ف493)جس کے لئے چاہے روزی تنگ کرے جس کے لئے چاہے وسیع فرمائے تنگی و فراخی اس کے قبضہ میں ہے اور وہ اپنی راہ میں خرچ کرنے والے سے وسعت کاوعدہ کرتاہے۔
اے محبوب !کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو جو موسیٰ کے بعد ہوا (ف٤۹٤) جب اپنے ایک پیغمبر سے بولے ہمارے لیے کھڑا کردو ایک بادشاہ کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں، نبی نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کرو، بولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے وطن اور اپنی اولاد سے (ف٤۹۵) تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا منہ پھیر گئے مگر ان میں کے تھوڑے (ف٤۹٦) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو،
Did you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) not see a group of the Descendants of Israel, after Moosa? When they said to one of their Prophets (Shamueel – Samuel), “Appoint a king for us so that we may fight in Allah’s way”? He said, “Do you think you would refrain from fighting if it is made obligatory for you?” They said, “What is the matter with us that we should not fight in Allah’s cause, whereas we have been driven away from our homeland and our children?” So when fighting was ordained for them, they all turned away, except a few; and Allah is Well Aware of the unjust.
ऐ महबूब! क्या तुमने न देखा बनी इस्राईल के एक गिरोह को जो मूसा के बाद हुआ जब अपने एक पैग़म्बर से बोले हमारे लिये खड़ा कर दो एक बादशाह कि हम ख़ुदा की राह में लड़ें, नबी ने फ़रमाया क्या तुम्हारे अंदाज़ ऐसे हैं कि तुम पर जिहाद फ़र्ज़ किया जाए तो फिर न करो, बोले हमें क्या हुआ कि हम अल्लाह की राह में न लड़ें हालाँकि हम निकाले गये हैं अपने वतन और अपनी औलाद से तो फिर जब उन पर जिहाद फ़र्ज़ किया गया मुँह फेर गये मगर उनमें के थोड़े और अल्लाह खूब जानता है ज़ालिमों को,
Ae Mehboob! kya tumne na dekha Bani Israel ke ek giroh ko jo Musa ke baad hua jab apne ek paighambar se bole hamare liye khada kar do ek badshah ke hum Khuda ki raah mein ladein, Nabi ne farmaya kya tumhare andaaz aise hain ke tum par jihad farz kiya jaaye to phir na karo, bole humein kya hua ke hum Allah ki raah mein na ladein halanke hum nikale gaye hain apne watan aur apni aulad se to phir jab unpar jihad farz kiya gaya munh pher gaye magar unmein ke thode aur Allah khoob jaanta hai zaalimoon ko.
(ف494)حضرت موسٰی علیہ السلام کے بعد جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور انہوں نے عہد ِا لٰہی کو فراموش کیابت پرستی میں مبتلا ہوئے سرکشی اور بد افعالی انتہا کو پہنچی ان پر قوم جالوت مسلّط ہوئی جس کو عمالقہ کہتے ہیں کیونکہ جالوت عملیق بن عاد کی اولاد سے ایک نہایت جابر بادشاہ تھا اس کی قوم کے لوگ مصرو فلسطین کے درمیان بحر روم کے ساحل پر رہتے تھے انہوں نے بنی اسرائیل کے شہر چھین لئے آدمی گرفتار کئے طرح طرح کی سختیاں کیں اس زمانہ میں کوئی نبی قوم بنی اسرائیل میں موجود نہ تھے خاندانِ نبوت سے صرف ایک بی بی باقی رہی تھیں جو حاملہ تھیں ان کے فرزند تولد ہوئے ان کا نام اشمویل رکھا جب وہ بڑے ہوئے تو انہیں علم توریت حاصل کرنے کےلئے بیت المقدس میں ایک کبیر السن عالم کے سپرد کیا وہ آپ کے ساتھ کمال شفقت کرتے اور آ پ کو فرزند کہتے جب آپ سن بلوغ کو پہنچے تو ایک شب آپ اس عالم کے قریب آرام فرمارہے تھے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اسی عالم کی آواز میں یا اشمویل کہہ کر پکارا آپ عالم کے پاس گئے اور فرمایا کہ آپ نے مجھے پکارا ہے عالم نے بایں خیال کہ انکار کرنے سے کہیں آپ ڈر نہ جائیں یہ کہہ دیا کہ فرزند تم سوجاؤ پھر دوبارہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اسی طرح پکارااور حضرت اشمویل علیہ السلام عالم کے پاس گئے عالم نے کہا کہ اے فرزند اب اگر میں تمہیں پھر پکاروں تو تم جواب نہ دینا تیسری مرتبہ میں حضرت جبریل علیہ السلام ظاہر ہوگئے اور انہوں نے بشارت دی کہ اللہ تعالی نے آپ کو نبوت کامنصب عطا فرمایا آپ اپنی قوم کی طرف جائیے اور اپنے رب کے احکام پہنچائیے جب آپ قوم کی طرف تشریف لائے انہوں نے تکذیب کی اور کہاکہ آپ اتنی جلدی نبی بن گئے اچھااگر آپ نبی ہیں تو ہمارے لئے ایک بادشاہ قائم کیجئے۔(خازن وغیرہ)(ف495)کہ قوم جالوت نے ہماری قوم کے لوگوں کو ان کے وطن سے نکالا ان کی اولاد کو قتل و غارت کیاچار سو چالیس شاہی خاندان کے فرزندوں کو گرفتار کیاجب حالت یہاں تک پہنچ چکی تو اب ہمیں جہاد سے کیاچیز مانع ہوسکتی ہے تب نبی اللہ کی دعاسے اللہ تعالٰی نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور ان کے لئے ایک بادشاہ مقرر کیا اور جہاد فرض فرمایا (خازن)(ف496)جن کی تعداد اہل بدر کے برابر تین سو تیرہ تھی۔
اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے (ف٤۹۷) بولے اسے ہم پر بادشاہی کیونکر ہوگی (ف٤۹۸) اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی (ف٤۹۹) فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا (ف۵۰۰) اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی (ف۵۰۱) اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے (ف۵۰۲) اور اللہ وسعت والا علم والا ہے (ف۵۰۳)
And their Prophet said to them, “Indeed Allah has sent Talut (Saul) as your king”; they said, “Why should he have kingship over us whereas we deserve the kingship more than he, and nor has he been given enough wealth?” He said, “Indeed Allah has chosen him above you, and has bestowed him with vast knowledge and physique”; and Allah may bestow His kingdom on whomever He wills; and Allah is Most Capable, All Knowing.
और उनसे उनके नबी ने फ़रमाया बेशक अल्लाह ने तालूत को तुम्हारा बादशाह बनाकर भेजा है बोले उसे हम पर बादशाही क्योंकर होगी और हम उससे ज़्यादा सल्तनत के मुस्तहिक़ हैं और उसे माल में भी वुसअत नहीं दी गयी, फ़रमाया उसे अल्लाह ने तुम पर चुन लिया और उसे इल्म और जिस्म में कुशादगी ज़्यादा दी और अल्लाह अपना मुल्क जिसे चाहे दे और अल्लाह वुसअत वाला इल्म वाला है,
Aur unse unke Nabi ne farmaya beshak Allah ne Taloot ko tumhara badshah bana kar bheja hai bole use hum par badshahi kyun kar hogi aur hum usse zyada saltanat ke mustahiq hain aur use maal mein bhi wus’at nahi di gayi farmaya use Allah ne tum par chun liya aur use ilm aur jism mein kushadgi zyada di aur Allah apna mulk jise chahe de aur Allah wus’at wala ilm wala hai.
(ف497)طالوت بنیامین بن حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد سے ہیں آپ کا نام طول قامت کی وجہ سے طالوت ہے حضرت اشمویل علیہ السلام کو اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک عصا ملا تھا اور بتایا گیا تھا کہ جو شخص تمہاری قوم کا بادشاہ ہوگا اس کاقد اس عصا کے برابر ہو گا۔ آپ نے اس عصا سے طالوت کا قد ناپ کر فرمایا کہ میں تم کو بحکم الٰہی بنی اسرائیل کابادشاہ مقرر کرتا ہوں اور بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے( خازن و جمل)(ف498)بنی اسرائیل کے سرداروں نے اپنے نبی حضرت اشمویل علیہ السلام سے کہا کہ نبوت تو لاوٰی بن یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں چلی آتی ہے اور سلطنت یہود بن یعقوب کی اولاد میں اور طالوت ان دونوں خاندانوں میں سے نہیں ہیں تو بادشاہ کیسے ہوسکتے ہیں۔(ف499)وہ غریب شخص ہیں بادشاہ کو صاحب مال ہونا چاہئے ۔(ف500)یعنی سلطنت ورثہ نہیں کہ کسی نسل و خاندان کے ساتھ خاص ہو یہ محض فضل الٰہی پر ہے اس میں شیعہ کارد ہے جن کا اعتقاد یہ ہے کہ امامت وراثت ہے۔(ف501)یعنی نسل و دولت پر سلطنت کا استحقاق نہیں علم و قوت سلطنت کے لئے بڑے معین ہیں اور طالوت اس زمانہ میں تمام بنی اسرائیل سے زیادہ علم رکھتے تھے اور سب سے جسیم اور توانا تھے۔(ف502)اس میں وراثت کو کچھ دخل نہیں۔(ف503)جسے چاہے غنی کردے اور وسعت مال عطا فرمادے اس کے بعد بنی اسرائیل نے حضرت اشمویل علیہ السلام سے عرض کیا کہ اگر اللہ تعالٰی نے انہیں سلطنت کے لئے مقرر فرمایا ہے تو اس کی نشانی کیا ہے۔(خازن و مدارک)
ور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت (ف۵۰٤) جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسیٰ ٰ اور معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے ، بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے اگر ایمان رکھتے ہو،
And their Prophet said to them, “Indeed the sign of his kingdom will be the coming of a (wooden) box to you, in which from your Lord is the contentment of hearts and containing some souvenirs (remnants) left behind by the honourable Moosa and the honourable Haroon (Aaron), borne by the angels; indeed in it is a great sign* for you if you are believers.” (The remnants of pious persons are blessed by Allah.)
और उनसे उनके नबी ने फ़रमाया उसकी बादशाही की निशानी यह है कि आये तुम्हारे पास ताबूत जिसमें तुम्हारे रब की तरफ़ से दिलों का चैन है और कुछ बची हुई चीज़ें मुअज्ज़ज़ मूसा और मुअज्ज़ज़ हारून के तरक़्क़ा की उठाते लायेंगे उसे फ़रिश्ते, बेशक उसमें बड़ी निशानी है तुम्हारे लिये अगर ईमान रखते हो,
Aur unse unke Nabi ne farmaya uski badshahi ki nishani ye hai ke aaye tumhare paas taabut jismein tumhare Rab ki taraf se dilon ka chain hai aur kuch bachi hui cheezen moazzaz Musa aur moazzaz Haroon ke tarka ki uthate laayenge use farishte, beshak is mein badi nishani hai tumhare liye agar imaan rakhte ho.
(ف504)یہ تابوت شمشاد کی لکڑی کا ایک زر اندود صندوق تھا جس کا طول تین ہاتھ کا اور عرض دو ہاتھ کا تھا اس کو اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا اس میں تمام انبیاء علیہم السلام کی تصویریں تھیں ان کے مساکن و مکانات کی تصویریں تھیں اور آخر میں حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور حضور کی دولت سرائے اقدس کی تصویر ایک یاقوت سرخ میں تھی کہ حضور بحالت نماز قیام میں ہیں اور گرد آپ کے آپ کے اصحاب حضرت آدم علیہ السلام نے ان تمام تصویروں کو دیکھا یہ صندوق وراثتاً منتقل ہوتا ہوا حضرت موسٰی علیہ السلام تک پہنچا آپ اس میں توریت بھی رکھتے تھے اور اپنا مخصوص سامان بھی ، چنانچہ اس تابوت میں الواح توریت کے ٹکڑے بھی تھے اور حضرت موسٰی علیہ السلام کا عصا اور آپ کے کپڑے اور آپ کی نعلین شریفین اور حضرت ہارون علیہ السلام کاعمامہ اور ان کی عصااور تھوڑا سا من جو بنی اسرائیل پر نازل ہوتا تھا حضرت موسی علیہ السلام جنگ کے موقعوں پر اس صندوق کو آگے رکھتے تھے اس سے بنی اسرائیل کے دلوں کو تسکین رہتی تھی آپ کے بعد یہ تابوت بنی اسرائیل میں متوارث ہوتا چلا آیا جب انہیں کوئی مشکل درپیش ہوتی وہ اس تابوت کو سامنے رکھ کر دعا ئیں کرتے اور کامیاب ہوتے دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی برکت سے فتح پاتے جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور ان کی بدعملی بہت بڑھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عمالقہ کو مسلط کیا تو وہ ان سے تابوت چھین کر لے گئے اور اس کو نجس اور گندے مقامات میں رکھا اور اس کی بے حرمتی کی اور ان گستاخیوں کی وجہ سے وہ طرح طرح کے امراض و مصائب میں مبتلا ہوئے ان کی پانچ بستیاں ہلاک ہوئیں اور انہیں یقین ہوا کہ تابوت کی اہانت ان کی بربادی کا باعث ہے تو انہوں نے تابوت ایک بیل گاڑی پر رکھ کر بیلوں کو چھوڑ دیا اور فرشتے اس کو بنی اسرائل کے سامنے طالوت کے پاس لائے اور اس تابوت کا آنا بنی اسرائیل کے لئے طالوت کی بادشاہی کی نشانی قرار دیا گیا تھا بنی اسرائیل یہ دیکھ کر اس کی بادشاہی کے مقر ہوئے اور بے درنگ جہاد کے لئے آمادہ ہوگئے کیونکہ تابوت پا کر انہیں اپنی فتح کا یقین ہوگیا طالوت نے بنی اسرائیل میں سے ستر ہزار جوان منتخب کئے جن میں حضرت داؤد علیہ السلام بھی تھے( جلالین و جمل و خازن و مدارک وغیرہ) فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات کا اعزاز و احترام لازم ہے ان کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی اور حاجتیں روا ہوتی ہیں اور تبرکات کی بے حرمتی گمراہوں کا طریقہ اور بربادی کا سبب ہے فائدہ تابوت میں انبیاء کی جو تصویریں تھیں وہ کسی آدمی کی بنائی ہوئی نہ تھیں اللہ کی طرف سے آئی تھیں۔
پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر شہر سے جدا ہوا بولا بیشک اللہ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے تو جو اس کا پانی پئے وہ میرا نہیں اور جو نہ پیئے وہ میرا ہے مگر وہ جو ایک چلُو اپنے ہاتھ سے لے لے (ف۵۰٦) تو سب نے اس سے پیا مگر تھوڑوں نے (ف۵۰۷) پھر جب طالوت اور اس کے ساتھ کے مسلمان نہر کے پار گئے بولے ہم میں آج طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکروں کی بولے وہ جنہیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا کہ بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے، اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے (ف۵۰۸)
So when Talut left the city along with the armies, he said, “Allah will surely test you with a river; so whoever drinks its water is not mine – and whoever does not drink is mine – except him who takes it in the hollow of his hand”; so they all drank it, except a few of them; thereafter when Talut and the believers with him had crossed the river, they said, “We do not have power this day to face Jalut (Goliath) and his armies”; those who were certain of meeting Allah said, “Many a times has a smaller group overcome a bigger group by Allah’s command; and Allah is with the steadfast.”
फिर जब तालूत लश्करों को लेकर शहर से जुदा हुआ बोला बेशक अल्लाह तुम्हें एक नहर से आज़माने वाला है तो जो उसका पानी पिए वह मेरा नहीं और जो न पिए वह मेरा है मगर वह जो एक चुल्लू अपने हाथ से ले ले तो सबने उससे पिया मगर थोड़े, फिर जब तालूत और उसके साथ के मुसलमान नहर के पार गये बोले हम में आज ताक़त नहीं जालूत और उसके लश्करों की, बोले वह जिन्हें अल्लाह से मिलने का यक़ीन था कि बारहा कम जमाअत ग़ालिब आयी है ज़्यादा गिरोह पर अल्लाह के हुक्म से, और अल्लाह साबिरों के साथ है,
Phir jab Taloot lashkaron ko le kar shahar se juda hua bola beshak Allah tumhein ek nahr se aazmane wala hai to jo uska paani piye woh mera nahi aur jo na piye woh mera hai magar woh jo ek chulo apne haath se le le to sab ne usse piya magar thodo ne phir jab Taloot aur uske saath ke musalman nahr ke paar gaye bole hum mein aaj taaqat nahi Jaloot aur uske lashkaron ki, bole woh jinhein Allah se milne ka yaqeen tha ke barha kam jamaat ghalib aayi hai zyada giroh par Allah ke hukm se, aur Allah sabiron ke saath hai.
(ف505)یعنی بیت المقدس سے دشمن کی طرف روانہ ہوا وہ وقت نہایت شدت کی گرمی کاتھا لشکریوں نے طالوت سے اس کی شکایت کی اور پانی کے طلبگار ہوئے۔(ف506)یہ امتحان مقرر فرمایا گیا تھا کہ شدت تشنگی کے وقت جو اطاعت حکم پر مستقل رہا وہ آئندہ بھی مستقل رہے گا اور سختیوں کامقابلہ کرسکے گا اور جو اس وقت اپنی خواہش سے مغلوب ہو اور نافرمانی کرے وہ آئندہ سختیوں کو کیا برداشت کرے گا۔(ف507)جن کی تعداد تین سو تیرہ تھی انہوں نے صبر کیا اور ایک چُلُّوان کے اور انکے جانوروں کےلئے کافی ہوگیا اور انکے قلب وایمان کو قوت ہوئی اور نہر سے سلامت گزر گئے اور جنہوں نے خوب پیا تھا ان کے ہونٹ سیاہ ہوگئے تشنگی اور بڑ ھ گئی اور ہمت ہار گئے۔(ف508)ان کی مدد فرماتا ہے اور اسی کی مدد کام آتی ہے۔
پھر جب سامنے آئے جالوت اور اس کے لشکروں کے عرض کی اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل اور ہمارے پاؤں جمے رکھ کافر لوگوں پر ہماری مدد کر،
And when they confronted Jalut and his armies they invoked, “Our Lord! Pour (bestow abundantly) on us patience (fortitude), and keep our feet steady, and help us against the disbelieving people.”
फिर जब सामने आये जालूत और उसके लश्करों के, अर्ज़ की ऐ रब हमारे हम पर सब्र उंडेल और हमारे पाँव जमाए रख काफ़िर लोगों पर हमारी मदद कर,
Phir jab samne aaye Jaloot aur uske lashkaron ke arz ki: Ae Rab hamare! hum par sabr andeil aur hamare paon jame rak kafir logon par hamari madad kar.
تو انہوں نے ان کو بھگا دیا اللہ کے حکم سے ، اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو (ف۵۰۹) اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت (ف۵۱۰) عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا (ف۵۱۱) اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے (ف۵۱۲) تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے،
So they routed them by the command of Allah; and Dawud (David) slew Jalut, and Allah gave him the kingdom and wisdom, and taught him all whatever He willed; and if Allah does not ward off some men by others, the earth will be destroyed, but Allah is Most Munificent towards the entire creation.
तो उन्होंने उनको भगा दिया अल्लाह के हुक्म से, और क़त्ल किया दाऊद ने जालूत को और अल्लाह ने उसे सल्तनत और हिकमत अता फ़रमाई और उसे जो चाहा सिखाया और अगर अल्लाह लोगों में बा’ज़ से बा’ज़ को दफ़अ न करे तो ज़रूर ज़मीन तबाह हो जाए मगर अल्लाह सारे जहान पर फ़ज़ल करने वाला है,
To unhon ne unko bhaga diya Allah ke hukm se, aur qatal kiya Dawood ne Jaloot ko aur Allah ne use saltanat aur hikmat ata farmai aur use jo chaha sikhaya. Aur agar Allah logon mein baaz ko baaz se dafa na kare to zaroor zameen tabah ho jaye, magar Allah sare jahan par fazl karne wala hai.
(ف509)حضرت داؤد علیہ السلام کے والد ایشاطالوت کے لشکر میں تھے اور انکے ساتھ انکے تمام فرزند بھی حضرت داؤد علیہ السلام ان سب میں چھوٹے تھے بیمار تھے رنگ زرد تھا بکریاں چراتے تھے جب جالوت نے بنی اسرائیل سے مقابلہ طلب کیا وہ اس کی قوت جسامت دیکھ کر گھبرائے کیونکہ وہ بڑا جابر قوی شہ زور عظیم الجثہ قد آور تھا طالوت نے اپنے لشکر میں اعلان کیا کہ جو شخص جالوت کو قتل کرے میں اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دوں گااور نصف ملک اس کو دوں گامگر کسی نے اس کاجواب نہ دیا تو طالوت نے اپنے نبی حضرت شمویل علیہ السلام سے عرض کیا کہ بارگاہ الہی میں دعا کریں آپ نے دعاکی تو بتایا گیا کہ حضرت داؤد علیہ السلام جالوت کو قتل کریں گے طالوت نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ جالوت کو قتل کریں تو میں اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دوں اور نصف ملک پیش کروں آپ نے قبول فرمایا اور جالوت کی طرف روانہ ہوگئے صف قتال قائم ہوئی اور حضرت داؤد علیہ السلام دست مبارک میں فلاخن لے کر مقابل ہوئے جالوت کے دل میں آپ کو دیکھ کر دہشت پیدا ہوئی مگر اس نے باتیں بہت متکبرانہ کیں اور آپ کو اپنی قوت سے مرعوب کرناچاہا آپ نے فلاخن میں پتھر رکھ کر مارا وہ اس کی پیشانی توڑ کر پیچھے سے نکل گیا اور جالوت مر کر گر گیا حضرت داؤد علیہ السلام نے اس کولاکر طالوت کے سامنے ڈال دیا تمام بنی اسرائیل خوش ہوئے اور طالوت نے حضرت داؤد علیہ السلام کو حسب وعدہ نصف ملک دیااور اپنی بیٹی کا آپ کے ساتھ نکاح کردیا ایک مدت کے بعد طالوت نے وفات پائی تمام ملک پر حضرت داؤد علیہ السلام کی سلطنت ہوئی(جمل وغیرہ)(ف510)حکمت سے نبوت مراد ہے ۔(ف511)جیسے کہ زرہ بنانا اور جانوروں کا کلام سمجھنا ۔(ف512)یعنی اللہ تعا لٰی نیکو ں کے صدقہ میں دوسروں کی بلائیں بھی دفع فرماتا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالٰی ایک صالح مسلمان کی برکت سے اس کے پڑوس کے سو گھر والوں کی بلا دفع فرماتاہے سبحان اللہ نیکوں کا قرب بھی فائدہ پہنچاتا ہے (خازن)
یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم اے محبوب تم پر ٹھیک ٹھیک پڑھتے ہیں، اور تم بیشک رسولوں میں ہو ۔
These are the verses of Allah, which We recite to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) with truth; and undoubtedly you are one of the Noble Messengers.
यह अल्लाह की आयतें हैं कि हम ऐ महबूब तुम पर ठीक-ठीक पढ़ते हैं, और तुम बेशक रसूलों में हो।
Ye Allah ki ayatein hain ke hum ae Mehboob tum par theek theek parhte hain, aur tum beshak rasoolon mein ho.
(ف513)یہ حضرات جن کاذکر ما سبق میں اور خاص آیہ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ میں فرمایا گیا ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page