یہ (ف۵۱۳) رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر افضل کیا (ف۵۱٤) ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا (ف۵۱۵) اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند کیا (ف۵۱٦) اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کھلی نشانیاں دیں (ف۵۱۷) اور پاکیزہ روح سے اس کی مدد کی (ف۵۱۸) اور اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے آپس میں نہ لڑتے نہ اس کے کہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آچکیں (ف۵۱۹) لیکن وہ مختلف ہوگئے ان میں کوئی ایمان پر رہا اور کوئی کافر ہوگیا (ف۵۲۰) اور اللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے مگر اللہ جو چاہے کرے (ف۵۲۱)
These are the Noble Messengers, to whom We gave excellence over each other; of them are some with whom Allah spoke, and some whom He exalted high above all others; and We gave Eisa (Jesus), the son of Maryam, clear signs and We aided him with the Holy Spirit; and if Allah willed, those after them would not have fought each other after the clear evidences had come to them, but they differed – some remained on faith and some turned disbelievers; and had Allah willed, they would not have fought each other; but Allah may do as He wills.
यह रसूल हैं कि हमने उनमें एक को दूसरे पर अफ़ज़ल किया उनमें किसी से अल्लाह ने कलाम फ़रमाया और कोई वह है जिसे सब पर दर्ज़ों बुलन्द किया और हमने मरयम के बेटे ईसा को खुली निशानियाँ दीं और पाकीज़ा रूह से उसकी मदद की और अल्लाह चाहता तो उनके बाद वाले आपस में न लड़ते न उसके कि उनके पास खुली निशानियाँ आ चुकीं लेकिन वह मुख़्तलिफ़ हो गये उनमें कोई ईमान पर रहा और कोई काफ़िर हो गया और अल्लाह चाहता तो वह न लड़ते मगर अल्लाह जो चाहे करे,
Ye Rasool hain ke hum ne un mein ek ko doosre par afzal kiya, in mein kisi se Allah ne kalam farmaya aur koi woh hai jise sab par darjon buland kiya. Aur hum ne Maryam ke bete Isa ko khuli nishaniyan deen aur pakeeza rooh se uski madad ki. Aur Allah chahta to unke baad wale aapas mein na ladte, na is ke ke unke paas khuli nishaniyan aa chukin, lekin woh mukhtalif ho gaye, in mein koi iman par raha aur koi kafir ho gaya. Aur Allah chahta to woh na ladte magar Allah jo chahe kare.
(ف514)اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے مراتب جداگانہ ہیں بعض حضرات سے بعض افضل ہیں اگرچہ نبوّت میں کوئی تفرقہ نہیں وصفِ نبوّت میں سب شریک یک د گر ہیں مگر خصائص و کمالات میں درجے متفاوت ہیں یہی آیت کامضمون ہےاور اسی پر تمام امت کااجماع ہے۔ (خازن و مدارک) (ف515)یعنی بے واسطہ جیسے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کو طور پر کلام سے مشرف فرمایا اور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج میں (جمل)(ف516)وہ حضور پر نور سیّد انبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کہ آپ کو بدرجات کثیرہ تمام انبیاء علیہم السلام پر افضل کیا اس پر تمام امت کا اجماع ہے اور بکثرت احادیث سے ثابت ہے آیت میں حضور کی اس رفعت مرتبت کابیان فرمایا گیا اور نام مبارک کی تصریح نہ کی گئی اس سے بھی حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے علوِ شان کااظہار مقصود ہے کہ ذات والا کی یہ شان ہے کہ جب تمام انبیاء پر فضیلت کابیان کیا جائے تو سوائے ذاتِ اقدس کے یہ وصف کسی پر صادق ہی نہ آئے اور کوئی اشتباہ راہ نہ پاسکے حضور علیہ اللصلوٰ ۃ و السلام کے وہ خصائص وکمالات جن میں آپ تمام انبیاء پر فائق و افضل ہیں اور آپ کا کوئی شریک نہیں بے شمار ہیں کہ قرآن کریم میں یہ ارشاد ہوا، درجوں بلند کیا ان درجوں کی کوئی شمار قرآن کریم میں ذکر نہیں فرمائی تو اب کون حد لگاسکتا ہے ان بے شمار خصائص میں سے بعض کا اجمالی و مختصر بیان یہ ہے کہ آپ کی رسالت عامّہ ہے تمام کائنات آپ کی امت ہے اللہ تعالٰی نے فرمایا: وَمَآاَرْسَلْنَاکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلْنَّاسِ بَشِیْراً وَّنَذِیْراً دوسری آیت میں فرمایا لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا مسلم شریف کی حدیث میں ارشاد ہوا اُرْسِلْتُ اِلیَ الْخَلَائِقِ کَآفَّۃً اور آپ پر نبوت ختم کی گئی قرآن پاک میں آپ کو خا تم النّبیّین فرمایا حدیث شریف میں ارشاد ہوا خُتِمَ بِےَ النَّبِیُّوْنَ آیات بیّنات و معجزات باہرات میں آپ کو تمام انبیاء پر افضل فرمایا گیا، آپ کی امت کو تمام امتوں پر افضل کیا گیا، شفاعتِ کُبرٰی آپ کو مرحمت ہوئی ،قرب خاص معراج آپ کو ملا، علمی و عملی کمالات میں آپ کو سب سے اعلیٰ کیا اور اس کے علاوہ بے انتہا خصائص آپ کو عطا ہوئے۔(مدارک جمل خازن بیضاوی وغیرہ)(ف517) جیسے مردے کو زندہ کرنا ،بیماروں کو تندرست کرنا، مٹی سے پرند بنانا، غیب کی خبریں دینا وغیرہ۔(ف518)یعنی جبریل علیہ السلام سے جو ہمیشہ آ پ کے ساتھ رہتے تھے۔(ف519)یعنی انبیاء کے معجزات ۔(ف520)یعنی انبیاء سابقین کی امتیں بھی ایمان و کفر میں مختلف رہیں یہ نہ ہوا کہ تمام امت مطیع ہوجاتی۔(ف521)اس کے ملک میں اس کی مشیت کے خلاف کچھ نہیں ہوسکتا اور یہی خدا کی شان ہے۔
اے ایمان والو! اللہ کی راہ میں ہمارے دیئے میں سے خرچ کرو وہ دن آنے سے پہلے جس میں نہ خرید و فروخت ہے اور نہ کافروں کے لئے دوستی اور نہ شفاعت، اور کافر خود ہی ظالم ہیں (ف۵۲۲)
O People who Believe! Spend in Allah's cause, from what We have provided you, before the advent of a day in which there is no trade, and for the disbelievers neither any friendship nor intercession; and the disbelievers themselves are the unjust.
ऐ ईमान वालो! अल्लाह की राह में हमारे दिये में से ख़र्च करो वह दिन आने से पहले जिसमें न ख़रीद-ओ-फ़रोख़्त है और न काफ़िरों के लिये दोस्ती और न शफ़ाअत, और काफ़िर ख़ुद ही ज़ालिम हैं,
Ae iman walo! Allah ki rah mein hamare diye mein se kharch karo woh din aane se pehle jisme na kharid o farokht hai aur na kafiron ke liye dosti aur na shafaat, aur kafir khud hi zalim hain.
(ف522)کہ انہوں نے زندگانی دنیا میں روز حاجت یعنی قیامت کے لئے کچھ نہ کیا ۔
اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۵۲۳) وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا (ف۵۲٤) اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند (ف۵۲۵) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۵۲٦) وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بغیر اس کے حکم کے (ف۵۲۷) جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ف۵۲۹) اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے (ف۵۲۹) اس کی کرسی میں سمائے ہوئے آسمان اور زمین (ف۵۳۰) اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا (ف۵۳۱)
Allah – there is no God except Him; He is Alive (eternally, on His own) and the Upholder (keeps others established); He never feels drowsy nor does He sleep; to Him only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; who is he that can intercede* with Him except by His command? He knows what is in front of them and what is behind them; and they do not achieve anything of His knowledge except what He wills; His Throne (of Sovereignty) encompasses the heavens and the earth; and it is not difficult for Him to guard them; and He is the Supreme, the Greatest. (This Verse is popularly known as Ayat Al-Kursi. It has a special status and reciting it carries great reward. *Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – will be the first one to be granted the permission to intercede, others will follow.)
अल्लाह है जिसके सिवा कोई माबूद नहीं वह आप ज़िंदा और औरों का क़ायम रखने वाला उसे न ऊँघ आये न नींद, उसी का है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में, वह कौन है जो उसके यहाँ सिफ़ारिश करे बग़ैर उसके हुक्म के, जानता है जो कुछ उनके आगे है और जो कुछ उनके पीछे, और वह नहीं पाते उसके इल्म में से मगर जितना वह चाहे, उसकी कुर्सी में समाए हुए आसमान और ज़मीन और उसे भारी नहीं उनकी निगहबानी और वही है बुलन्द बड़ाई वाला,
Allah hai jiske siwa koi ma’bood nahi, woh aap zinda aur auron ka qayam rakhne wala. Use na oongh aaye na neend. Usi ka hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein. Woh kaun hai jo uske yahan sifarish kare baghair uske hukm ke. Jaanta hai jo kuch unke aage hai aur jo kuch unke peeche. Aur woh nahi pate uske ilm mein se magar jitna woh chahe. Uski kursi mein samae hue hain aasman aur zameen, aur use bhaari nahi unki nigahbani. Aur wahi hai buland baraai wala.
(ف523)اس میں اللہ تعالٰی کی الوہیت اور اس کی توحید کا بیان ہے اس آیت کو آیت الکرسی کہتے ہیں احادیث میں اس کی بہت فضیلتیں وارد ہیں۔(ف524)یعنی واجب الوجود اور عالم کا ایجاد کرنے اور تدبیر فرمانے والا ۔(ف525)کیونکہ یہ نقص ہے اور وہ نقص و عیب سے پاک۔(ف526)اس میں اس کی مالکیت اور نفاذ امرو تصرف کا بیان ہے اور نہایت لطیف پیرایہ میں ردّ شرک ہے کہ جب سارا جہان اس کی ملک ہے تو شریک کون ہوسکتا ہے مشرکین یا تو کواکب کو پوجتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں یا دریاؤں پہاڑوں، پتھروں ،درختوں،جانوروں، آگ وغیرہ کو جو زمین میں ہیں جب آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی ملک ہے تو یہ کیسے پوجنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔(ف527)اس میں مشرکین کارد ہے جن کا گمان تھا کہ بت شفاعت کریں گے انہیں بتادیا گیا کہ کفار کے لئے شفاعت نہیں اللہ کے حضور مَأ ذُوْنِیۡن کے سوا کوئی شفاعت نہیں کرسکتااور اذن والے انبیاء و ملائکہ و مؤمنین ہیں۔(ف528)یعنی ماقبل و مابعد یا امور دنیا و آخرت۔ (ف529)اور جن کو وہ مطلع فرمائے وہ انبیاء و رسل ہیں جن کو غیب پر مطلع فرمانا ان کی نبوّت کی دلیل ہے دوسری آبت میں ارشاد فرمایا لَایُظْھِرُ عَلیٰ غَیْبِہٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ (خازن)(ف530)اس میں اس کی عظمتِ شان کا اظہار ہے اور کرسی سے یا علم و قدرت مراد ہے یا عرش یا وہ جو عرش کے نیچے اور ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے اور ممکن ہے کہ یہ وہی ہو جو فلک البروج کے نام سے مشہور ہے۔(ف531)اس آیت میں الہیّات کے اعلٰی مسائل کا بیان ہے اور اس سے ثابت ہے کہ اللہ تعالٰی موجود ہے الہٰیت میں واحد ہے حیات کے ساتھ متصف ہے واجب الوجود اپنے ماسوا کا موجد ہے تحیز و حلول سے منزّہ اور تغیر اور فتور سے مبرّا ہے نہ کسی کو اس سے مشابہت نہ عوارض مخلوق کو اس تک رسائی ملک و ملکوت کا مالک اصول و فروع کا مُبدِع قوی گرفت والا جس کے حضور سوائے ماذون کے کوئی شفاعت کے لئے لب نہ ہلاسکے تمام اشیاء کاجاننے والا جلی کا بھی اور خفی کا بھی کلّی کا بھی اور جزئی کا بھی واسع الملک و القدرۃ ادراک و وہم و فہم سے برتر و بالا
کچھ زبردستی نہیں (ف۵۳۲) دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے (ف۵۳۳) اس نے بڑی محکم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں، اور اللہ سنتا جانتا ہے،
There is no compulsion at all in religion; undoubtedly the right path has become very distinct from error; and whoever rejects faith in the devil (false deities) and believes in Allah has grasped a very firm handhold; it will never loosen; and Allah is All Hearing, All Knowing.
कुछ ज़बरदस्ती नहीं दीन में, बेशक खूब जुदा हो गयी है नेक राह गुमराही से, तो जो शैतान को न माने और अल्लाह पर ईमान लाये उसने बड़ी मुहकम गिरह थामी जिसे कभी खुलना नहीं, और अल्लाह सुनता जानता है,
Kuch zabardasti nahi deen mein. Beshak khoob juda ho gayi hai nek raah gumraahi se. To jo shaitan ko na maane aur Allah par iman laaye, usne badi muhkam girah thaami jise kabhi khulna nahi. Aur Allah sunta jaanta hai.
(ف532)صفات الٰہیہ کے بعد لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ فرمانے میں یہ اشعار ہے کہ اب عاقل کے لئے قبول حق میں تامل کی کوئی وجہ باقی نہ رہی۔(ف533)اس میں اشارہ ہے کہ کافر کے لئے اول اپنے کفر سے توبہ و بیزاری ضرور ہے اس کے بعد ایمان لانا صحیح ہوتا ہے۔
اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے (ف۵۳٤) نور کی طرف نکلتا ہے، اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا،
Allah is the Guardian of the Muslims – He removes them from realms of darkness towards light; and the supporters of disbelievers are the devils – they remove them from light towards the realms of darkness; it is they who are the people of fire; they will remain in it forever.
अल्लाह वाली है मुसलमानों का, उन्हें अन्धेरियों से नूर की तरफ़ निकालता है, और काफ़िरों के हिमायती शैतान हैं वह उन्हें नूर से अन्धेरियों की तरफ़ निकालते हैं यही लोग दोज़ख़ वाले हैं, उन्हें हमेशा उसमें रहना,
Allah wali hai Musalmanon ka, unhe andheriyon se noor ki taraf nikalta hai. Aur kafiron ke himayati shaitan hain, woh unhe noor se andheriyon ki taraf nikalte hain. Yehi log dozakh wale hain, unhe hamesha usmein rehna.
اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے رب کے بارے میں اس پر (ف۵۳۵) کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی (ف۵۳٦) جبکہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جِلاتا اور مارتا ہے (ف۵۳۷) بولا میں جِلاتا اور مارتا ہوں (ف۵۳۸) ابراہیم نے فرمایا تو اللہ سورج کو لاتا ہے پورب (مشرق) سے تو اس کو پچھم (مغرب) سے لے آ (ف۵۳۹) تو ہوش اڑ گئے کافروں کے، اور اللہ راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو،
Did you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) not see him who argued with Ibrahim (Abraham) concerning his Lord, as Allah had given him the kingdom? When Ibrahim said, “My Lord is He Who gives life and causes death”, he answered, “I give life and cause death”; Ibrahim said, “So indeed it is Allah Who brings the sun from the East – you bring it from the West!” – the disbeliever was therefore baffled; and Allah does not guide the unjust.
ऐ महबूब! क्या तुमने न देखा था उसे जो इब्राहीम से झगड़ा उसके रब के बारे में, उस पर कि अल्लाह ने उसे बादशाही दी, जबकि इब्राहीम ने कहा कि मेरा रब वह है जो जिलाता और मारता है, बोला मैं जिलाता और मारता हूँ, इब्राहीम ने फ़रमाया तो अल्लाह सूरज को लाता है पूरब से, तो उसको पश्चिम से ले आ, तो होश उड़ गये काफ़िरों के, और अल्लाह राह नहीं दिखाता ज़ालिमों को,
Ae Mehboob! Kya tumne na dekha tha use jo Ibrahim se jhagda uske Rab ke bare mein is par ke Allah ne use badshahi di. Jabke Ibrahim ne kaha mera Rab woh hai jo jilata aur maarta hai. Bola main jilata aur maarta hoon. Ibrahim ne farmaya to Allah sooraj ko lata hai poorab (mashriq) se, to usko pacham (maghrib) se le aa. To hosh ud gaye kafiron ke, aur Allah raah nahi dikhata zalimon ko.
(ف535)غرور و تکبر پر (ف536)اور تمام زمین کی سلطنت عطا فرمائی اس پر اس نے بجائے شکرو طاعت کے تکبر و تجبر کیا اور ربوبیت کا دعوٰی کرنے لگااس کا نام نمرود بن کنعان تھا سب سے پہلے سر پر تاج رکھنے والا یہی ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو خدا پرستی کی دعوت دی خواہ آگ میں ڈالے جانے سے قبل یااس کے بعد تو وہ کہنے لگاکہ تمہارا رب کون ہے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو۔(ف537)یعنی اجسام میں موت و حیات پیدا کرتاہے ایک خداناشناس کے لئے یہ بہترین ہدایت تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ خود تیری زندگی اس کے وجودکی شاہد ہے کہ تو ایک بے جان نطفہ تھاجس نے اس کو انسانی صورت دی اور حیات عطا فرمائی وہ رب ہے اور زندگی کے بعد پھر زندہ اجسام کو جو موت دیتاہے وہ پروردگار ہے اس کی قدرت کی شہادت خود تیری اپنی موت و حیات میں موجود ہے اس کے وجود سے بے خبر رہنا کمال جہالت و سفاہت اور انتہائی بدنصیبی ہے یہ دلیل ایسی زبردست تھی کہ اس کا جواب نمرود سے بن نہ پڑااور اس خیال سے کہ مجمع کے سامنے اس کو لاجواب اور شرمندہ ہونا پڑتا ہے اس نے کج بحثی اختیار کی۔(ف538)نمرود نے دو شخصوں کو بلایا ان میں سے ایک کو قتل کیا ایک کو چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ میں بھی جلاتا مارتا ہوں یعنی کسی کو گرفتار کرکے چھوڑ دینا اس کو جلانا ہے یہ اس کی نہایت احمقانہ بات تھی کہاں قتل کرنااور چھوڑنا اور کہاں موت و حیات پیدا کرنا قتل کئے ہوئے شخص کو زندہ کرنے سے عاجز رہنااور بجائے اس کے زندہ کے چھوڑنے کو جلانا کہناہی اس کی ذلت کے لئے کافی تھا عقلاء پر اسی سے ظاہر ہوگیا کہ جو حجت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم فرمائی وہ قاطع ہے اور اس کا جواب ممکن نہیں لیکن چونکہ نمرود کے جواب میں شان دعوٰی پیدا ہوگئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس پر مناظرانہ گرفت فرمائی کہ موت و حیات کاپیدا کرنا تو تیرے مقدور میں نہیں اے ربوبیت کے جھوٹے مدعی تو اس سے سہل کام ہی کردکھا جو ایک متحرک جسم کی حرکت کابدلنا ہے۔(ف539)یہ بھی نہ کرسکے تو ربوبیت کا دعوٰی کس منہ سے کرتا ہے مسئلہ : اس آیت سے علم کلام میں مناظرہ کرنے کا ثبوت ہوتا ہے۔
یا اس کی طرح جو گزرا ایک بستی پر (ف۵٤۰) اور وہ ڈھئی (مسمار ہوئی) پڑی تھی اپنی چھتوں پر (ف۵٤۱) بولا اسے کیونکر جِلائے گا اللہ اس کی موت کے بعد تو اللہ نے اسے مردہ رکھا سو برس پھر زندہ کردیا، فرمایا تو یہاں کتنا ٹھہرا، عرض کی دن بھر ٹھہرا ہوں گا یا کچھ کم، فرمایا نہیں تجھے سو برس گزر گئے اور اپنے کھانے اور پانی کو دیکھ کہ اب تک بو نہ لایا اور اپنے گدھے کو دیکھ کہ جس کی ہڈیاں تک سلامت نہ رہیں اور یہ اس لئے کہ تجھے ہم لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور ان ہڈیوں کو دیکھ کیونکر ہم انہیں اٹھان دیتے پھر انہیں گوشت پہناتے ہیں جب یہ معاملہ اس پر ظاہر ہوگیا بولا میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
Or like him* who passed by a dwelling and it had fallen flat on its roofs; he said, “How will Allah bring it to life, after its death?”; so Allah kept him dead for a hundred years, then brought him back to life; He said, “How long have you stayed here?”; he replied, “I may have stayed for a day or little less”; He said, “In fact, you have spent a hundred years – so look at your food and drink which do not even smell stale; and look at your donkey whose bones even are not intact – in order that We may make you a sign for mankind – and look at the bones how We assemble them and then cover them with flesh”; so when the matter became clear to him, he said, “I know well that Allah is Able to do all things.” (Prophet Uzair – peace be upon him.)
या उसकी तरह जो गुज़रा एक बस्ती पर और वह ढही पड़ी थी अपनी छतों पर, बोला इसे क्योंकर जिलायेगा अल्लाह इसकी मौत के बाद, तो अल्लाह ने उसे मरा रखा सौ बरस फिर ज़िन्दा कर दिया, फ़रमाया तू यहाँ कितना ठहरा, अर्ज़ की दिन भर ठहरा हूँगा या कुछ कम, फ़रमाया नहीं तुझे सौ बरस गुज़र गये और अपने खाने और पानी को देख कि अब तक बू न लाया और अपने गधे को देख कि जिसकी हड्डियाँ तक सलामत न रहीं और यह इस लिये कि तुझे हम लोगों के वास्ते निशानी करें और उन हड्डियों को देख क्योंकर हम उन्हें उठान देते फिर उन्हें गोश्त पहनाते हैं, जब यह मामला उस पर ज़ाहिर हो गया बोला मैं खूब जानता हूँ कि अल्लाह सब कुछ कर सकता है,
Ya uski tarah jo guzra ek basti par aur woh dheyi (masmar hui) pari thi apni chhaton par. Bola isse kaise jilayega Allah iski maut ke baad. To Allah ne use murda rakha sau baras, phir zinda kar diya. Farmaya tu yahan kitna thehra. Arz ki din bhar thehra honga ya kuch kam. Farmaya nahi tujhe sau baras guzr gaye. Aur apne khane aur pani ko dekh ke ab tak boo na laya. Aur apne gadhe ko dekh jiski hadiyan tak salamat na rahin. Aur ye isliye ke tujhe hum logon ke waste nishani karein. Aur in hadiyon ko dekh kaise hum unhe uthaan dete phir unhe gosht pehnate hain. Jab ye maamla us par zahir ho gaya bola main khoob jaanta hoon ke Allah sab kuch kar sakta hai.
(ف540)بقول اکثر یہ واقعہ عُزیرعلیہ السلام کاہے اور بستی سے بیت المقدس مراد ہے جب بُختِ نصر بادشاہ نے بیت المقدس کو ویران کیا اور بنی اسرائیل کو قتل کیاگرفتار کیا تباہ کر ڈالا پھر حضرت عُزیر علیہ السلام وہاں گزرے آ پ کے ساتھ ایک برتن کھجور اور ایک پیالہ انگور کارس تھا اور آپ ایک دراز گوش پر سوار تھے تمام بستی میں پھرے کسی شخص کو وہاں نہ پایا بستی کی عمارتوں کو منہدم دیکھا تو آپ نے براہ تعجب کہا اَنّٰی یُحْیِیْ ھٰذِہِ اللّٰہُ بَعْدَ مُوْتِھَا اور آپ نے اپنی سواری کے حمار کو وہاں باندھ دیا اورآپ نے آرام فرمایا اسی حالت میں آپ کی روح قبض کر لی گئی اور گدھا بھی مرگیا یہ صبح کے وقت کا واقعہ ہے اس سے ستر برس بعد اللہ تعالٰی نے شاہان فارس میں سے ایک بادشاہ کو مسلط کیا اور وہ اپنی فوجیں لے کر بیت المقدس پہنچا اور اس کو پہلے سے بھی بہتر طریقہ پر آباد کیا اور بنی اسرائیل میں سے جو لوگ باقی رہے تھے اللہ تعالٰی انہیں پھر یہاں لایا اور وہ بیت المقدس اور اس کے نواح میں آباد ہوئے اور ان کی تعداد بڑھتی رہی اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عُزیر علیہ السلام کو دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ رکھا اور کوئی آپ کو نہ دیکھ سکا جب آپ کی وفات کو سو برس گزر گئے تو اللہ تعالٰی نے آپ کو زندہ کیا پہلے آنکھوں میں جان آئی ابھی تک تمام جسم مردہ تھا وہ آپ کے دیکھتے دیکھتے زندہ کیا گیا یہ واقعہ شام کے وقت غروب آفتاب کے قریب ہوا اللہ تعالٰی نے فرمایا تم یہاں کتنے دن ٹھہرے آپ نے اندازہ سے عرض کیا کہ ایک دن یا کچھ کم آپ کا خیال یہ ہوا کہ یہ اسی دن کی شام ہے جس کی صبح کو سوئے تھے فرمایا بلکہ تم سو برس ٹھہرے اپنے کھانے اور پانی یعنی کھجور اور انگور کے رس کو دیکھئے کہ ویسا ہی ہے اس میں بو تک نہ آئی اور اپنے گدھے کو دیکھئے دیکھا تو وہ مر گیا تھا گل گیا اعضاء بکھر گئے تھے ہڈیاں سفید چمک رہی تھیں آپ کی نگاہ کے سامنے اس کے اعضاء جمع ہوئے اعضاء اپنے اپنے مواقع پر آئے ہڈیوں پر گوشت چڑھا گوشت پر کھال آئی بال نکلے پھر اس میں روح پھونکی وہ اٹھ کھڑا ہوا اور آواز کرنے لگا۔آپ نے اللہ تعالٰی کی قدرت کا مشاہدہ کیا اور فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہر شئے پر قادر ہے پھر آ پ اپنی اس سواری پر سوار ہو کر اپنے محلہ میں تشریف لائے سر اقدس اور ریش مبارک کے بال سفید تھے عمر وہی چالیس سال کی تھی کوئی آپ کو نہ پہچانتا تھا۔ اندازے سے اپنے مکان پر پہنچے ایک ضعیف بڑھیا ملی جس کے پاؤں رہ گئے تھے۔ وہ نابینا ہوگئی تھی وہ آپ کے گھر کی باندی تھی اور اس نے آپ کو دیکھا تھا آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہ عُزیر کامکان ہے اس نے کہا ہاں، اور عُزیرکہاں،انہیں مفقود ہوئے سو برس گزر گئے یہ کہہ کر خوب روئی آپ نے فرمایامیں عُزیر ہوں اس نے کہا سبحان اللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ آپ نے فرمایا، اللہ تعالٰی نے مجھے سو برس مردہ رکھا پھر زندہ کیا اس نے کہا حضرت عُزیر مستجاب الدعوات تھے جو دعا کرتے قبول ہوتی آپ دعا کیجئے میں بینا ہوجاؤں تاکہ میں اپنی آنکھوں سے آپ کو دیکھوں آپ نے دعا فرمائی وہ بینا ہوئی آپ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اٹھ خدا کے حکم سے یہ فرماتے ہی اس کے مارے ہوئے پاؤں درست ہوگئے۔ اس نے آپ کو دیکھ کر پہچانا اور کہا میں گواہی دیتی ہوں کہ آپ بے شک حضرت عُزیرہیں وہ آپ کوبنی اسرائیل کے محلہ میں لے گئی وہاں ایک مجلس میں آپ کے فرزند تھے جن کی عمر ایک سو اٹھارہ سال کی ہوچکی تھی اور آپ کے پوتے بھی تھے جو بوڑھے ہوچکے تھے بوڑھیا نے مجلس میں پکارا کہ یہ حضرت عُزیرتشریف لے آئے اہلِ مجلس نے اس کو جھٹلایااس نے کہا مجھے دیکھو آپ کی دعا سے میری یہ حالت ہوگئی لوگ اٹھے اورآپ کے پاس آئے آپ کے فرزند نے کہا کہ میرے والد صاحب کے شانوں کے درمیان سیاہ بالوں کا ایک ہلال تھا جسم مبارک کھول کر دکھایا گیا تو وہ موجود تھا اس زما نہ میں توریت کا کوئی نسخہ نہ رہا تھا کوئی اس کا جاننے والا موجود نہ تھا ۔ آپ نے تمام توریت حفظ پڑھ دی ایک شخص نے کہا کہ مجھے اپنے والد سے معلوم ہوا کہ بُختِ نصر کی ستم انگیزیوں کے بعد گرفتاری کے زمانہ میں میرے دادا نے توریت ایک جگہ دفن کردی تھی اس کا پتہ مجھے معلوم ہے اس پتہ پر جستجو کرکے توریت کا وہ مدفون نسخہ نکالا گیا اور حضرت عُزیرعلیہ السلام نے اپنی یاد سے جو توریت لکھائی تھی اس سے مقابلہ کیا گیا تو ایک حرف کا فرق نہ تھا۔ (جمل )(ف541)کہ پہلے چھتیں گریں پھر ان پر دیواریں آپڑیں۔
اور جب عرض کی ابراہیم نے (ف۵٤۲) اے رب میرے مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جِلائے گا فرمایا کیا تجھے یقین نہیں (ف۵٤۳) عرض کی یقین کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے (ف۵٤٤) فرمایا تو اچھا، چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلالے (ف۵٤۵) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے (ف۵٤٦) اور جان رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے
And when Ibrahim said, “My Lord! Show me how You will give life to the dead”; He said, “Are you not certain (of it)?” Ibrahim said, “Surely yes, why not? But because I wish to put my heart at ease”; He said, “Therefore take four birds (as pets) and cause them to become familiar to you, then place a part of each of them on separate hills, then call them – they will come running towards you; and know well that Allah is Almighty, Wise.” (Prophet Ibrahim called the dead birds and they did come running towards him.)
और जब अर्ज़ की इब्राहीम ने ऐ रब मेरे, मुझे दिखा दे तू क्योंकर मुर्दे जिलायेगा, फ़रमाया क्या तुझे यक़ीन नहीं, अर्ज़ की यक़ीन क्यों नहीं, मगर यह चाहता हूँ कि मेरे दिल को क़रार आ जाये, फ़रमाया तो अच्छा, चार परिन्दे ले कर अपने साथ मिला ले फिर उनका एक-एक टुकड़ा हर पहाड़ पर रख दे, फिर उन्हें बुला, वह तेरे पास चले आयेंगे पाँव से दौड़ते और जान रख कि अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है,
Aur jab arz ki Ibrahim ne, ae Rab mere mujhe dikha de tu kaise murde jilayega. Farmaya kya tujhe yaqeen nahi. Arz ki yaqeen kyon nahi, magar ye chahta hoon ke mere dil ko qarar aa jaye. Farmaya to acha, chaar parinde le kar apne saath hila le, phir unka ek ek tukda har pahad par rakh de, phir unhe bula, woh tere paas chale aayenge paon se daurte hue. Aur jaan rakh ke Allah ghalib hikmat wala hai.
(ف542)مفسرین نے لکھا ہے کہ سمندر کے کنارے ایک آدمی مرا پڑا تھا جوار بھاٹے میں سمندر کا پانی چڑھتا اترتا رہتا ہے جب پانی چڑھتا تو مچھلیاں اس لاش کو کھاتیں جب اتر جاتا تو جنگل کے درندے کھاتے جب درندے جاتے تو پرند کھاتے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ ملاحظہ فرمایا تو آپ کو شوق ہوا کہ آپ ملاحظہ فرمائیں کہ مردے کس طرح زندہ کئے جائیں گے آپ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیایارب مجھے یقین ہے کہ تو مردوں کو زندہ فرمائے گااور انکے اجزاء دریائی جانوروں اور درندوں کے پیٹ اور پرندوں کے پوٹوں سے جمع فرمائے گا لیکن میں یہ عجیب منظر دیکھنے کی آرزو رکھتا ہوں مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل کیا ملک الموت حضرت رب العزت سے اذن لے کر آپ کو یہ بشارت سنانے آئے آپ نے بشارت سن کر اللہ کی حمد کی اور ملک الموت سے فرمایا کہ اس خُلّت کی علامت کیا ہے انہوں نے عرض کیا یہ کہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے اور آ پ کے سوال پر مردے زندہ کرے تب آپ نے یہ دعا کی۔(خازن)(ف543)اللہ تعالٰی عالم غیب و شہادت ہے اس کو حضر ت ابراہیم علیہ السلام کے کمال ایمان و یقین کا علم ہے باوجود اس کے یہ سوال فرمانا کہ کیا تجھے یقین نہیں ا س لئے ہے کہ سامعین کو سوال کامقصد معلوم ہوجائے اور وہ جان لیں کہ یہ سوال کسی شک و شبہ کی بناء پر نہ تھا۔(بیضاوی و جمل وغیرہ)(ف544)اور انتظار کی بے چینی رفع ہو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا معنی یہ ہیں کہ اس علامت سے میرے دل کو تسکین ہوجائے کہ تو نے مجھے اپنا خلیل بنایا۔(ف545)تاکہ اچھی طرح شناخت ہو جائے۔(ف546)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چار پرند لئے مور۔ مرغ۔ کبوتر۔ کوّا۔انہیں بحکم الٰہی ذبح کیا ان کے پَر اکھاڑے اور قیمہ کرکے ان کے اجزاء باہم خلط کردیئے اور اس مجموعہ کے کئی حصہ کئے ایک ایک حصہ ایک ایک پہاڑ پر رکھا اور سر سب کے اپنے پاس محفوظ رکھے پھر فرمایا چلے آؤ حکم الٰہی سے یہ فرماتے ہی وہ اجزاء اڑے اور ہر ہر جانور کے اجزاء علٰیحدہ علٰیحدہ ہو کر اپنی ترتیب سے جمع ہوئے اور پرندوں کی شکلیں بن کر اپنے پاؤں سے دوڑتے حاضر ہوئے اور اپنے اپنے سروں سے مل کر بعینہٖ پہلے کیطرح مکمل ہو کر اڑ گئے سبحان اللہ۔
ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۵٤۷) اس دانہ کی طرح جس نے اگائیاں سات بالیں (ف۵٤۸) ہر بال میں سو دانے (ف۵٤۹) اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
The example of those who spend their wealth in Allah’s way is similar to that of a grain which has sprouted seven stalks and in each stalk are a hundred grains; and Allah may increase it still more than this, for whomever He wills; and Allah is Most Capable, All Knowing.
उनकी क़हावत जो अपने माल अल्लाह की राह में ख़र्च करते हैं उस दाने की तरह जिसने उगाईं सात बालें, हर बाल में सौ दाने और अल्लाह उससे भी ज़्यादा बढ़ाये जिसके लिये चाहे और अल्लाह वुसअत वाला इल्म वाला है,
Unki kahawat jo apne maal Allah ki raah mein kharch karte hain us daane ki tarah jisne ugayein saat balain, har baal mein sau dane. Aur Allah usse bhi zyada barhaye jiske liye chahe. Aur Allah wus’at wala ilm wala hai.
(ف547)خواہ خرچ کرنا واجب ہو یا نفل تمام ابواب خیر کو عام ہے خواہ کسی طالب علم کو کتاب خرید کر دی جائے یا کوئی شِفا خانہ بنادیا جائے یا اموات کے ایصال ثواب کے لئے تیجہ دسویں بیسویں چالیسویں کے طریقہ پر مساکین کو کھانا کھلایا جائے۔ (ف548)اگانے والاحقیقت میں اللہ ہی ہےدانہ کی طرف اس کی نسبت مجازی ہے مسئلہ:اس سے معلوم ہوا کہ اسناد مجازی جائز ہے جب کہ اسناد کرنے والا غیر خدا کو مستقل فی التصرف اعتقاد نہ کرتا ہو اسی لئے یہ کہنا جائز ہے کہ یہ دوانافع ہے ،یہ مضر ہے ،یہ در دکی دافع ہے ،ماں باپ نے پالا عالم نے گمراہی سے بچایا بزرگوں نے حاجت روائی کی وغیرہ سب میں اسناد مجازی اور مسلمان کے اعتقاد میں فاعل حقیقی صرف اللہ تعالٰی ہے باقی سب وسائل۔(ف549)تو ایک دانہ کے سات سو دانے ہوگئے اسی طرح راہِ خدا میں خرچ کرنے سے سات سو گناہ اجر ہوجاتا ہے۔
وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۵۵۰) پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں (ف۵۵۱) ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم ،
Those who spend their wealth in Allah’s way and thereafter do not express favour nor cause injury (hurt the recipient’s feelings), their reward is with their Lord; there shall be no fear upon them nor shall they grieve.
वह जो अपने माल अल्लाह की राह में ख़र्च करते हैं फिर दिये पीछे न एहसान रखें न तकलीफ़ दें, उनका नेग (इनाम) उनके रब के पास है और उन्हें न कुछ अन्देशा हो न कुछ ग़म,
Woh jo apne maal Allah ki raah mein kharch karte hain phir diye peeche na ehsaan rakhein na takleef dein, unka neeg (inaam) unke Rab ke paas hai aur unhe na kuch andesha ho na kuch gham.
(ف550)شانِ نزول :یہ آیت حضر ت عثمان غنی و حضرت عبدالرحمٰن بن عو ف رضی اللہ عنہما کے حق میں نازل ہوئی حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر لشکر اسلام کے لئے ایک ہزار اونٹ مع سامان پیش کئے اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے چار ہزار درہم صدقہ کے بارگاہ رسالت میں حاضر کئے اور عرض کیا کہ میرے پاس کل آٹھ ہزار درہم تھے نصف میں نے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے ر کھ لئے اور نصف راہِ خدا میں حاضر ہیں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو تم نے دیئے اور جو تم نے رکھے اللہ تعالٰی دونوں میں برکت فرمائے۔(ف551)احسان رکھنا تو یہ کہ دینے کے بعد دوسروں کے سامنے اظہار کریں کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کئے اور اس کو مکدّر کریں اور تکلیف دینا یہ کہ اس کو عار دلائیں کہ تونادار تھا مفلِس تھا مجبور تھا نکمّا تھا ہم نے تیری خبر گیری کی یا اور طرح دباؤ دیں یہ ممنوع فرمایا گیا۔
اچھی بات کہنا اور درگزر کرنا (ف۵۵۲) اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہو (ف۵۵۳) اور اللہ بے پرواہ حلم والا ہے،
Speaking kind words and pardoning are better than charity followed by injury; and Allah is the Independent, Most Forbearing.
अच्छी बात कहना और दरगुज़र करना उस ख़ैरात से बेहतर है जिसके बाद सताना हो और अल्लाह बेपरवाह हलीम वाला है,
Achi baat kehna aur darguzar karna us khairat se behtar hai jiske baad satana ho. Aur Allah beparwah haleem wala hai.
(ف552)یعنی اگر سائل کو کچھ نہ دیا جائے تو اس سے اچھی بات کہنا اور خوش خلقی کے ساتھ جواب دینا جو اس کو ناگوار نہ گزرے اور اگر وہ سوال میں اصرار کرے یا زبان درازی کرے تو اس سے در گزر کرنا۔(ف553)عار دلا کر یا احسان جتا کر یا اور کوئی تکلیف پہنچا کر ۔
اے ایمان والوں اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر (ف۵۵٤) اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے، تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا (ف۵۵۵) اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے، اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا،
O People who Believe! Do not invalidate your charity by expressing favour and causing injury – like one who spends his wealth for people to see, and does not believe in Allah and the Last Day; his example is similar to that of a rock covered with dust and hard rain fell on it, leaving it as a bare rock; they shall get no control over (or benefit from) anything they have earned; and Allah does not guide the disbelievers.
ऐ ईमान वालों! अपने सदक़े बाटिल न कर दो एहसान रख कर और अज़ीयत दे कर, उसकी तरह जो अपना माल लोगों के दिखावे के लिये ख़र्च करे और अल्लाह और क़यामत पर ईमान न लाये, तो उसकी क़हावत ऐसी है जैसे एक चट्टान कि उस पर मिट्टी है अब उस पर ज़ोर का पानी पड़ा जिसने उसे नरा पत्थर कर छोड़ा, अपनी कमाई से किसी चीज़ पर क़ाबू न पायेंगे, और अल्लाह काफ़िरों को राह नहीं देता,
Ae iman walo apne sadqe baatil na kar do ehsaan rakh kar aur eza de kar. Uski tarah jo apna maal logon ke dikhave ke liye kharch kare aur Allah aur qiyamat par iman na laye. To uski kahawat aisi hai jaise ek chattan jis par mitti hai, ab us par zor ka paani pada jisne use nira pathar kar chhoda. Apni kamai se kisi cheez par qaboo na payenge, aur Allah kafiron ko raah nahi deta.
(ف554)یعنی جس طرح منافق کو رضائے الٰہی مقصود نہیں ہوتی وہ اپنا مال ریا کاری کے لئے خرچ کرکے ضائع کردیتا ہے اس طرح تم احسان جتا کر اور ایذا دے کر اپنے صدقات کا اجر ضائع نہ کرو۔(ف555)یہ منافق ریا کار کے عمل کی مثال ہے کہ جس طرح پتھر پر مٹی نظر آتی ہے لیکن بارش سے وہ سب دور ہو جاتی ہے خالی پتھر رہ جاتا ہے یہی حال منافق کے عمل کا ہے کہ دیکھنے والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ عمل ہے اور روز قیامت وہ تمام عمل باطل ہوں گے کیونکہ رضائے الٰہی کے لئے نہ تھے۔
اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو (ف۵۵٦) اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ (رتیلی زمین) پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دُونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے (ف۵۵۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۵۵۸)
And the example of those who spend their wealth in order to seek Allah’s pleasure and to make their hearts steadfast, is similar to that of a garden on a height – hard rain fell on it, so bringing forth its fruit twofold; so if hard rain does not reach it, the dew is enough; and Allah is seeing your deeds.
और उनकी क़हावत जो अपने माल अल्लाह की रज़ा चाहने में ख़र्च करते हैं और अपने दिल जमाने को उस बाग़ की सी है जो भूर (रेतीली ज़मीन) पर हो, उस पर ज़ोर का पानी पड़ा तो दुगुने मेवे लाया फिर अगर ज़ोर का मेह उसे न पहुँचे तो ओस काफ़ी है और अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है,
Aur unki kahawat jo apne maal Allah ki raza chahne mein kharch karte hain aur apne dil jamaney ko, us bagh ki si hai jo bhoor (rateeli zameen) par ho. Us par zor ka paani pada to doone mewe laya, phir agar zor ka mainh use na pahunche to os kafi hai. Aur Allah tumhare kaam dekh raha hai.
(ف556)راہ خدا میں خرچ کرنے پر۔(ف557)یہ مومن مخلص کے اعمال کی ایک مثال ہے کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمین کا باغ ہر حا ل میں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ ایسے ہی بااخلاص مؤمن کا صدقہ اور انفاق خواہ کم ہو یا زیادہ اللہ تعالٰی اس کو بڑھاتا ہے۔(ف558)اور تمہاری نیت و اخلا ص کو جانتا ہے ۔
کیا تم میں کوئی اسے پسند رکھے گا (ف۵۵۹) کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا (ف۵٦۰) جس کے نیچے ندیاں بہتیں اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھلوں سے ہے (ف۵٦۱) اور اسے بڑھاپا آیا (ف۵٦۲) اور اس کے ناتواں بچے ہیں (ف۵٦۳) تو آیا اس پر ایک بگولا جس میں آگ تھی تو جل گیا (ف۵٦٤) ایسا ہی بیان کرتا ہے اللہ تم سے اپنی آیتیں کہ کہیں تم دھیان لگاؤ (ف۵٦۵)
Would any of you like that he may own a garden of dates and grapes, with rivers flowing beneath it – in it are all kinds of fruits for him – and he reaches old age and has young children; therefore a windstorm containing fire came to the garden, burning it? This is how Allah explains His verses to you, so that you may give thought.
क्या तुम में कोई इसे पसन्द रखेगा कि उसके पास एक बाग़ हो खजूरों और अंगूरों का, जिसके नीचे नदियाँ बहतीं, उसके लिये उसमें हर क़िस्म के फल हैं और उसे बुढ़ापा आया और उसके नातवान बच्चे हैं तो आया उस पर एक बवंडर जिसमें आग थी तो जल गया, ऐसा ही बयान करता है अल्लाह तुमसे अपनी आयतें कि कहीं तुम ध्यान लगाओ,
Kya tum mein koi use pasand rakhega ke uske paas ek bagh ho khajooron aur anguron ka jiske neeche nadiyan beh rahi ho, uske liye usmein har qism ke phalon se hai aur use burhapa aaya aur uske natwan bachche hain, to aaya us par ek bagola jisme aag thi to jal gaya. Aisa hi bayan karta hai Allah tum se apni ayatein taake kahin tum dhyaan lagao.
(ف559)یعنی کوئی پسند نہ کرے گا کیونکہ یہ بات کسی عاقل کے گوارا کرنے کے قابل نہیں ہے۔(ف560)اگرچہ اس باغ میں بھی قسم قسم کے درخت ہوں مگر کھجور اور انگور کا ذکر اس لئے کیا کہ یہ نفیس میوے ہیں۔(ف561)یعنی وہ باغ فرحت انگیز و دلکشا بھی ہے اور نافع اور عمدہ جائیداد بھی ۔(ف562)جو حاجت کا وقت ہوتا ہے اور آدمی کسب ومعاش کے قابل نہیں رہتا۔(ف563)جو کمانے کے قابل نہیں اور ان کی پرورش کی حاجت ہے غرض وقت نہایت شدت حاجت کا ہے اور دارومدار صرف باغ پر اور باغ بھی نہایت عمدہ ہے۔(ف564)وہ باغ تو اس وقت اس کے رنج و غم اور حسرت ویاس کی کیا انتہا ہے یہی حال اس کا ہے جس نے اعمال حسنہ تو کئے ہوں مگر رضائے الٰہی کے لئے نہیں بلکہ ریا کی غرض سے اور وہ اس گمان میں ہو کہ میرے پاس نیکیوں کا ذخیرہ ہے مگر جب شدتِ حاجت کا وقت یعنی قیامت کا دن آئے تو اللہ تعالٰی ان اعمال کو نامقبول کردے اور اس وقت اس کو کتنا رنج اور کتنی حسرت ہوگی ایک رو ز حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے صحابۂ کرام سے فرمایا کہ آپ کے علم میں یہ آیت کس باب میں نازل ہوئی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ یہ مثال ہے ایک دولت مند شخص کے لئے جو نیک عمل کرتا ہو پھر شیطان کے اغواء سے گمراہ ہو کر اپنی تمام نیکیوں کو ضائع کردے۔(مدارک و خازن)(ف565)اور سمجھو کہ دنیا فانی اور عاقبت آنی ہے ۔
اے ایمان والو! اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ دو (ف۵٦٦) اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا (ف۵٦۷) اور خاص ناقص کا ارادہ نہ کرو کہ دو تو اس میں سے (ف۵٦۸) اور تمہیں ملے تو نہ لو گے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو اور جان رکھو کہ اللہ بےپروانہ سراہا گیا ہے۔
O People who Believe! Spend a part of your lawful earnings, and part of what We have produced from the earth for you – and do not (purposely) choose upon the flawed to give from it (in charity) whereas you would not accept it yourselves except with your eyes closed towards it; and know well that Allah is Independent, Most Praised.
ऐ ईमान वालो! अपनी पाक कमाइयों में से कुछ दो और उसमें से जो हमने तुम्हारे लिये ज़मीन से निकाला और ख़ास ناقिस का इरादा न करो कि दो तो उसमें से और तुम्हें मिले तो न लोगे जब तक उसमें चश्मपोषी न करो और जान रखो कि अल्लाह बेपरवाह सराहा गया है,
Ae iman walo! Apni paak kamaiyon mein se kuch do aur usmein se jo hum ne tumhare liye zameen se nikala. Aur khaas naqis ka iraada na karo ke do to usmein se aur tumhein mile to na loge jab tak usmein chashm poshi na karo. Aur jaan rakho ke Allah beparwah saraha gaya hai.
(ف566)مسئلہ : اس سے کسب کی اباحت اور اموال تجارت میں زکوٰۃ ثابت ہوتی ہے۔ (خازن و مدارک) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت صدقہ نافلہ و فرضیہ دونوں کو عام ہو (تفسیر احمدی)(ف567)خواہ وہ غلے ہوں یا پھل یا معادن وغیرہ۔(ف568)شانِ نزول بعض لوگ خراب مال صدقہ میں دیتے تھے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی مسئلہ: مصدِّق یعنی صدقہ وصول کرنے والے کو چاہیئے کہ وہ متوسط مال لے نہ بالکل خراب نہ سب سے اعلٰی۔
شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے (ف۵٦۹) محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بےحیائی کا (ف۵۷۰) اور اللہ تم سے وعدہ فرماتا ہے بخشش اور فضل کا (ف۵۷۱) اور اللہ وسعت و الا علم والا ہے،
The devil scares you of poverty and bids you to the shameful; and Allah promises you forgiveness from Him, and munificence; and Allah is Most Capable, All Knowing.
शैतान तुम्हें अन्देशा दिलाता है मोहताजी का और हुक्म देता है बेहयाई का और अल्लाह तुमसे वादा फ़रमाता है बख़्शिश और फ़ज़ल का और अल्लाह वुसअत वाला इल्म वाला है,
Shaitan tumhe andesha dilata hai mohtaji ka aur hukm deta hai be-hiyai ka. Aur Allah tumse wada farmata hai bakhshish aur fazl ka. Aur Allah wus’at wala ilm wala hai.
(ف569)کہ اگر خرچ کرو گے صدقہ دو گے تو نادا رہوجاؤ گے۔(ف570)یعنی بخل کا اور زکوۃ و صدقہ نہ دینے کا اس آیت میں یہ لطیفہ ہے کہ شیطان کسی طرح بخل کی خوبی ذہن نشین نہیں کرسکتا اسلئے وہ یہی کرتا ہے کہ خرچ کرنے سے ناداری کا اندیشہ دلا کر روکے آج کل جو لوگ خیرات کو روکنے پر مصر ہیں وہ بھی اسی حیلہ سے کام لیتے ہیں۔(ف571)صدقہ دینے پر اور خرچ کرنے پر۔
اللہ حکمت دیتا ہے (ف۵۷۲) جسے چاہے اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی، اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے،
Allah bestows wisdom on whomever He wills; and whoever receives wisdom has received abundant goodness; but none heed advice except men of understanding.
अल्लाह हिकमत देता है जिसे चाहे और जिसे हिकमत मिली उसे बहुत भलाई मिली, और नसीहत नहीं मानते मगर अक़्ल वाले,
Allah hikmat deta hai jise chahe aur jise hikmat mili use bohot bhalai mili. Aur naseehat nahi maante magar aqal wale.
(ف572)حکمت سے یا قرآن و حدیث و فقہ کا علم مراد ہے یا تقویٰ یا نبوّت (مدارک و خازن)
اور تم جو خرچ کرو (ف۵۷۳) یا منت مانو (ف۵۷٤) اللہ کو اس کی خبر ہے (ف۵۷۵) اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
And whatever you spend or pledge to do, Allah is aware of it; and the unjust do not have supporters.
और तुम जो ख़र्च करो या मन्नत मानो अल्लाह को उसकी ख़बर है और ज़ालिमों का कोई मददगार नहीं,
Aur tum jo kharch karo ya manat maano Allah ko uski khabar hai aur zalimon ka koi madadgar nahi.
(ف573)نیکی میں خواہ بدی میں۔(ف574)طاعت کی یا گناہ کی نذر عرف میں ہدیہ اور پیش کش کو کہتے ہیں اور شرع میں نذر عبادت اور قربتِ مقصودہ ہے اسی لئے اگر کسی نے گناہ کرنے کی نذر کی تو وہ صحیح نہیں ہوئی نذر خاص اللہ تعالٰی کے لئے ہوتی ہے اور یہ جائز ہے کہ اللہ کے لئے نذر کرے اور کسی ولی کے آستانہ کے فقراء کو نذر کے صرف کا محل مقرر کرے مثلاً کسی نے یہ کہا یارب میں نے نذر مانی کہ اگر تو میرا فلاں مقصد پورا کردے کہ فلاں بیمار کو تندرست کردے تو میں فلاں ولی کے آستانہ کے فقراء کو کھانا کھلاؤں یا وہاں کے خدام کو روپیہ پیسہ دوں یا ان کی مسجد کے لئے تیل یا بوریا حاضر کروں تو یہ نذر جائز ہے۔(ردالمحتار)(ف575)وہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔
اگر خیرات اعلانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے (ف۵۷٦) اور اسمیں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
If you give charity openly, what an excellent deed it is! And if you secretly give it to the poor, it is the best for you; and it will redeem some of your sins; and Allah is Aware of your deeds.
अगर ख़ैरात ऐलानिया दो तो वह क्या ही अच्छी बात है और अगर छुपाकर फ़क़ीरों को दो यह तुम्हारे लिये सबसे बेहतर है और इसमें तुम्हारे कुछ गुनाह घटेंगे, और अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है,
Agar khairat a’lania do to woh kya hi achhi baat hai, aur agar chhupa kar faqiron ko do ye tumhare liye sab se behtar hai, aur ismein tumhare kuch gunah ghatenge. Aur Allah ko tumhare kaamon ki khabar hai.
(ف576)صدقہ خواہ فرض ہو یا نفل جب اخلاص سے اللہ کے لئے دیا جائے اور ریا سے پاک ہو تو خواہ ظاہر کرکے دیں یا چھپا کر دونوں بہتر ہیں ۔ مسئلہ: لیکن صدقہ فرض کا ظاہر کرکے دینا افضل ہے اور نفل کا چھپا کر مسئلہ : اور اگر نفل صدقہ دینے والا دوسروں کو خیرات کی ترغیب دینے کے لئے ظاہر کرکے دے تو یہ اظہار بھی افضل ہے(مدارک)
انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں، (ف۵۷۷) ہاں اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے ، اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے (ف۵۷۸) اور تمہیں خرچ کرنا مناسب نہیں مگر اللہ کی مرضی چاہنے کے لئے، اور جو مال دو تمہیں پورا ملے گا اور نقصان نہ دیئے جاؤ گے،
It is not your duty (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) to make them accept guidance – but Allah guides whomever He wills; and whatever good thing you spend is beneficial for yourselves; and it is not right for you to spend except to seek Allah’s pleasure; and whatever you spend will be repaid to you in full, and you will not be wronged. –
उन्हें राह देना तुम्हारे ज़िम्मे लाज़िम नहीं, हाँ अल्लाह राह देता है जिसे चाहता है, और तुम जो अच्छी चीज़ दो तो तुम्हारा ही भला है और तुम्हें ख़र्च करना मुनासिब नहीं मगर अल्लाह की मर्ज़ी चाहने के लिये, और जो माल दो तुम्हें पूरा मिलेगा और नुक़्सान न दिये जाओगे,
Unhein raah dena tumhare zimma laazim nahi, haan Allah raah deta hai jise chahta hai. Aur tum jo achhi cheez do to tumhara hi bhala hai, aur tumhein kharch karna munasib nahi magar Allah ki marzi chahne ke liye. Aur jo maal do tumhein poora milega aur nuqsan na diye jaoge.
(ف577)آپ بشیر و نذیر و داعی بنا کر بھیجے گئے ہیں آپ کا فرض دعوت پر تمام ہوجاتا ہے اس سے زیادہ جہد آپ پر لازم نہیں۔شانِ نزول: قبل اسلام مسلمانوں کی یہود سے رشتہ داریاں تھیں اس وجہ سے وہ ان کے ساتھ سلوک کیا کرتے تھے مسلمان ہونے کے بعد انہیں یہود کے ساتھ سلوک کرنا ناگوار ہونے لگا۔ اور انہوں نے اس لئے ہاتھ روکنا چاہا کہ ان کے اس طرز عمل سے یہود اسلام کی طرف مائل ہوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ف578)تو دوسروں پر اس کا احسان نہ جتاؤ۔
ان فقیروں کے لئے جو راہ خدا میں روکے گئے (ف۵۷۹) زمین میں چل نہیں سکتے (ف۵۸۰) نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب (ف۵۸۱) تو انہیں ان کی صورت سے پہچان لے گا (ف۵۸۲) لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑ گڑانا پڑے اور تم جو خیرات کرو اللہ اسے جانتا ہے،
(Spend) For the poor who are restricted while in Allah's cause, who cannot travel in the land (for earning) – the unwise think they are wealthy because of their restraint; you will recognise them by their faces; they do not seek from people in order to avoid grovelling; and Allah knows whatever you spend in charity.
उन फ़क़ीरों के लिये जो राह-ए-ख़ुदा में रोके गये, ज़मीन में चल नहीं सकते, नादान उन्हें तुनगर समझे बचने के सबब, तो उन्हें उनकी सूरत से पहचान लेगा, लोगों से सवाल नहीं करते कि गिड़गिड़ाना पड़े, और तुम जो ख़ैरात करो अल्लाह उसे जानता है,
Un faqiron ke liye jo raah Khuda mein roke gaye, zameen mein chal nahi sakte. Nadaan unhein tongar samjhe bachne ke sabab. To unhein unki soorat se pehchaan lega. Logon se sawal nahi karte ke gadgadana pare. Aur tum jo khairat karo Allah use jaanta hai.
(ف579)یعنی صدقات مذکورہ جو آیۂ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ میں ذکر ہوئے ان کا بہترین مصرف وہ فقراء ہیں جنہوں نے اپنے نفوس کو جہاد و طاعت الٰہی پر رو کاشانِ نزول: یہ آیت اہل صفّہ کے حق میں نازل ہوئی ان حضرات کی تعداد چار سو کے قریب تھی یہ ہجرت کرکے مدینہ طیّبہ حاضر ہوئے تھے نہ یہاں ان کا مکان تھا نہ قبیلہ کنبہ نہ ان حضرات نے شادی کی تھی ان کے تمام اوقات عبادت میں صرف ہوتے تھے رات میں قرآن کریم سیکھنا دن میں جہاد کے کام میں رہنا آیت میں ان کے بعض اوصاف کا بیان ہے۔(ف580)کیونکہ انہیں دینی کاموں سے اتنی فرصت نہیں کہ وہ چل پھر کر کسب معاش کرسکیں(ف581)یعنی چونکہ وہ کسی سے سوال نہیں کرتے اس لئے ناواقف لوگ انہیں مالدار خیال کرتے ہیں۔(ف582)کہ مزاج میں تواضع و انکسا رہے ،چہروں پر ضعف کے آثار ہیں، بھوک سے رنگ زرد پڑ گئے ہیں۔
وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے اور ظاہر (ف۵۸۳) ان کے لئے ان کا نیگ (انعام، حصہ) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم،
Those who spend their wealth by night and day, secretly and openly – their reward is with their Lord; and there shall be no fear upon them nor shall they grieve.
वह जो अपने माल ख़ैरात करते हैं रात में और दिन में छुपे और ज़ाहिर, उनके लिये उनका नेग (इनाम, हिस्सा) है उनके रब के पास, उनको न कुछ अन्देशा हो न कुछ ग़म,
Woh jo apne maal khairat karte hain raat mein aur din mein chhupe aur zahir, unke liye unka neeg (inaam, hissa) hai unke Rab ke paas. Unko na kuch andesha ho na kuch gham.
(ف583)یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنے کا نہایت شوق رکھتے ہیں اور ہر حال میں خرچ کرتے رہتے ہیں شانِ نزول:یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی جب کہ آپ نے ر اہِ خدا میں چالیس ہزار دینار خرچ کئے تھےدس ہزار رات میں اور دس ہزار دن میں اور دس ہزار پوشیدہ اوردس ہزار ظاہر، ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعالٰی وجہہ کے حق میں نازل ہوئی جب کہ آپ کے پاس فقط چار درہم تھے اور کچھ نہ تھا آپ نے ان چاروں کو خیرا ت کردیا ۔ ایک رات میں ایک دن میں ایک کو پوشیدہ ایک کو ظاہر فائدہ :آیت کریمہ میں نفقۂ لیل کو نفقۂ نہارپر اور نفقۂ سر کو نفقۂ علانیہ پر مقدم فرمایا گیا اس میں اشارہ ہے کہ چھپا کر دینا ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے۔
وہ جو سود کھاتے ہیں (ف۵۸٤) قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر، جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیا ہو (ف۵۸۵) اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے، اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود، تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا، (ف۵۸٦) اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے (ف۵۸۷) اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے (ف۵۸۸)
Those who devour usury will not stand up on the Day of Judgement, except like the one whom an evil jinn has deranged by his touch; that is because they said, “Trade is also like usury!”; whereas Allah has made trading lawful and forbidden usury; for one to whom the guidance has come from his Lord, and he refrained therefrom, is lawful what he has taken in the past; and his affair is with Allah; and whoever continues earning it henceforth, is of the people of fire; they will remain in it for ages.
वह जो सूद खाते हैं, क़यामत के दिन न खड़े होंगे मगर जैसे खड़ा होता है वह जिसे आसिब ने छू कर मख़बूत बना दिया हो, इस लिये कि उन्होंने कहा बैअ भी तो सूद ही के मानिन्द है, और अल्लाह ने हलाल किया बैअ को और हराम किया सूद, तो जिसे उसके रब के पास से नसीहत आयी और वह बाज़ रहा तो उसे हलाल है जो पहले ले चुका, और उसका काम ख़ुदा के सुपुर्द है, और जो अब ऐसी हरकत करेगा तो वह दोज़खी है, वह उसमें मुद्दतों रहेंगे।
Woh jo sood khate hain qiyamat ke din na khade honge magar jaise khada hota hai woh jise aasib ne choo kar makhboot bana diya ho. Isliye ke unhon ne kaha bai’ bhi to sood hi ke manind hai. Aur Allah ne halal kiya bai’ ko aur haraam kiya sood. To jise uske Rab ke paas se naseehat aayi aur woh baaz raha to use halal hai jo pehle le chuka. Aur uska kaam Khuda ke supurd hai. Aur jo ab aisi harakat karega to woh dozakhi hai, woh usmein muddaton rahenge.
(ف584)اس آیت میں سود کی حرمت اور سود خواروں کی شامت کا بیان ہے سود کو حرام فرمانے میں بہت حکمتیں ہیں بعض ان میں سے یہ ہیں کہ سود میں جو زیادتی لی جاتی ہے وہ معاوضہ مالیہ میں ایک مقدار مال کا بغیر بدل و عوض کے لینا ہے یہ صریح ناانصافی ہے دوم سود کا رواج تجارتوں کو خراب کرتا ہے کہ سود خوار کو بے محنت مال کا حاصل ہونا تجارت کی مشقتوں اور خطروں سے کہیں زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے اور تجارتوں کی کمی انسانی معاشرت کو ضرر پہنچاتی ہے۔ سوم سود کے رواج سے باہمی مودت کے سلوک کو نقصان پہنچاتا ہے کہ جب آدمی سود کا عادی ہوا تو وہ کسی کو قرض حسن سے امداد پہنچانا گوارا نہیں کرتا چہار م سود سے انسان کی طبیعت میں درندوں سے زیادہ بے رحمی پیدا ہوتی ہے اور سود خوار اپنے مدیون کی تباہی و بربادی کا خواہش مند رہتا ہے اس کے علاوہ بھی سود میں اور بڑے بڑے نقصان ہیں اور شریعت کی ممانعت عین حکمت ہے مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود خوار اور اس کے کار پرداز اور سودی دستاویز کے کاتب اور اس کے گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا وہ سب گناہ میں برابر ہیں۔(ف585)معنٰی یہ ہیں کہ جس طرح آسیب زدہ سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا گرتا پڑتا چلتا ہے، قیامت کے روز سود خوار کا ایسا ہی حال ہوگا کہ سود سے اس کا پیٹ بہت بھاری اور بوجھل ہوجائے گا اور وہ اس کے بوجھ سے گرگر پڑے گا۔ سعید بن جبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: کہ یہ علامت اس سود خور کی ہے جو سود کو حلال جانے۔(ف586)یعنی حرمت نازل ہونے سے قبل جو لیا اس پر مواخذہ نہیں ۔(ف587)جو چاہے امر فرمائے جو چاہے ممنوع و حرام کرے بندے پر اس کی اطاعت لازم ہے۔(ف588)مسئلہ :جو سود کو حلال جانے وہ کافر ہے ہمیشہ جہنم میں رہے گا کیونکہ ہر ایک حرام قطعی کا حلال جاننے والا کافر ہے۔
اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو (ف۵۸۹) اور بڑھاتا ہے خیرات کو (ف۵۹۰) اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار،
Allah destroys usury and increases charity; and Allah does not like any ungrateful, excessive sinner.
अल्लाह हलाक करता है सूद को और बढ़ाता है खैरात को और अल्लाह को पसन्द नहीं आता कोई नाशुक़रा बड़ा गुनहगार,
Allah halak karta hai sood ko aur barhata hai khairat ko. Aur Allah ko pasand nahi aata koi nashukra bada gunahgaar.
(ف589)اور اس کو برکت سے محروم کرتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا :کہ اللہ تعالٰی اس سے نہ صدقہ قبول کرے نہ حج نہ جہاد نہ صِلہ۔(ف590) اس کو زیادہ کرتا ہے اور اس میں برکت فرماتا ہے دنیا میں اور آخرت میں اس کا اجرو ثواب بڑھاتا ہے۔
بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰة دی ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے، اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو، نہ کچھ غم،
Indeed those who believed and did good deeds and kept the prayer established and paid the charity – their reward is with their Lord; and there shall be no fear upon them nor shall they grieve.
बेशक वह जो ईमान लाए और अच्छे काम किए और नमाज़ कायम की और ज़कात दी उनका नेग (इनआम) उनके रब के पास है, और न उन्हें कुछ अन्देशा हो, न कुछ ग़म,
Beshak woh jo iman laaye aur achhe kaam kiye aur namaz qayam ki aur zakat di, unka neeg (inaam) unke Rab ke paas hai. Aur na unhein kuch andesha ho, na kuch gham.
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو (ف۵۹۱)
O People who Believe! Fear Allah and forego the remaining usury, if you are Muslims.
ऐ ईमान वालो! अल्लाह से डरो और छोड़ दो जो बाक़ी रह गया है सूद अगर मुसलमान हो
Ae iman walo! Allah se daro aur chhod do jo baaqi reh gaya hai sood agar musalman ho.
(ف591)شانِ نزول: یہ آیت اُن اصحاب کے حق میں نازل ہوئی جو سود کی حُرمت نازل ہونے سے قبل سودی لین دین کرتے تھے اور اُن کی گراں قدر سودی رقمیں دُوسروں کے ذمہ باقی تھیں اس میں حکم دیا گیا کہ سود کی حرمت نازل ہونے کے بعد سابق کے مطالبہ بھی واجب الترک ہیں اور پہلا مقرر کیا ہوا سود بھی اب لینا جائز نہیں ۔
پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا (ف۵۹۲) اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہچاؤ (ف۵۹۳) نہ تمہیں نقصان ہو (ف۵۹٤)
And if you do not, then be certain of a war with Allah and His Noble Messenger; and if you repent, take back your principal amount; neither you cause harm to someone, nor you be harmed.
फिर अगर ऐसा न करो तो यक़ीन कर लो अल्लाह और अल्लाह के रसूल से लड़ाई का और अगर तुम तौबा करो तो अपना असल माल ले लो न तुम किसी को नुक़सान पहुँचाओ न तुम्हें नुक़सान हो
Phir agar aisa na karo to yaqeen kar lo Allah aur Allah ke Rasool se laraai ka, aur agar tum tauba karo to apna asal maal le lo, na tum kisi ko nuqsan pohnchao, na tumhein nuqsan ho.
(ف592)یہ وعید و تہدید میں مبالغہ و تشدید ہے کس کی مجال کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کا تصور بھی کرے چنانچہ اُن اصحاب نے اپنے سودی مطالبہ چھوڑے اور یہ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے ر سول سے لڑائی کی ہمیں کیا تاب اور تائب ہوئے۔(ف593)زیادہ لے کر۔ (ف594)راس المال گھٹا کر۔
اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک، اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو (ف۵۹۵)
And if the debtor is in difficulty, give him respite till the time of ease; and your foregoing the entire debt from him is still better for you, if only you realise.
और अगर क़र्ज़दार तंगी वाला है तो उसे मोहलत दो आसानी तक, और क़र्ज़ उस पर बिलकुल छोड़ देना तुम्हारे लिये और भला है अगर जानो
Aur agar qarzdaar tangi wala hai to use mohlat do aasani tak, aur qarz us par bilkul chhod dena tumhare liye aur bhala hai agar jano.
(ف595)قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا جزو یا کل معاف کردینا سبب اجرِ عظیم ہے مسلم شریف کی حدیث ہے سیّدعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرضہ معاف کیا اللہ تعالیٰ اس کو اپنا سایۂ رحمت عطا فرمائے گا جس روز اس کے سایہ کے سواکوئی سایہ نہ ہوگا۔
اور ڈرو اس دن سے جس میں اللہ کی طرف پھرو گے، اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھردی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف۵۹٦)
And fear the day in which you will be returned to Allah; and every soul will be paid back in full what it had earned, and they will not be wronged.
और डरो उस दिन से जिस में अल्लाह की तरफ़ फिरोगे, और हर जान को उसकी कमाई पूरी भर दी जाएगी और उन पर ज़ुल्म न होगा
Aur daro us din se jis mein Allah ki taraf phiro ge, aur har jaan ko us ki kamai poori bhar di jaayegi aur unpar zulm na hoga.
(ف596)یعنی نہ ان کی نیکیاں گھٹائی جائیں نہ بدیاں بڑھائی جائیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ سب سے آخر آیت ہے جو حضور پر نازل ہوئی اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیس روز دنیا میں تشریف فرما رہے۔اور ایک قول میں نو شب اور ایک میں سات لیکن شعبی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت کی ہے کہ سب سے آخر آیت رِبٰوا نازل ہوئی۔
اے ایمان والو! جب تم ایک مقرر مدت تک کسی دین کا لین دین کرو (ف۵۹۷) تو اسے لکھ لو (ف۵۹۸) اور چاہئے کہ تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا ٹھیک ٹھیک لکھے (ف۵۹۹) اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اللہ نے سکھایا ہے (ف٦۰۰) تو اسے لکھ دینا چاہئے اور جس بات پر حق آتا ہے وہ لکھاتا جائے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ رکھ نہ چھوڑے پھر جس پر حق آتا ہے اگر بےعقل یا ناتواں ہو یا لکھا نہ سکے (ف٦۰۱) تو اس کا ولی انصاف سے لکھائے، اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے (ف٦۰۲) پھر اگر دو مرد نہ ہوں (ف٦۰۳) تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو (ف٦۰٤) کہ کہیں ان میں ایک عورت بھولے تو اس کو دوسری یاد دلادے، اور گواہ جب بلائے جائیں تو آنے سے انکار نہ کریں (ف٦۰۵) اور اسے بھاری نہ جانو کہ دین چھوٹا ہو یا بڑا اس کی میعاد تک لکھت کرلو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے اس میں گواہی خوب ٹھیک رہے گی اور یہ اس سے قریب ہے کہ تمہیں شبہ نہ پڑے مگر یہ کہ کوئی سردست کا سودا دست بدست ہو تو اس کے نہ لکھنے کا تم پر گناہ نہیں (ف٦۰٦) اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ کرلو (ف٦۰۷) اور نہ کسی لکھنے والے کو ضَرر دیا جائے، نہ گواہ کو (یا ، نہ لکھنے والا ضَرر دے نہ گواہ) (ف٦۰۸) اور جو تم ایسا کرو تو یہ تمہارا فسق ہوگا، اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
O People who Believe! If you make an agreement for debt for a specified time, write it down; and appoint a scribe to write it for you with accuracy; and the scribe must not refuse to write in the manner Allah has taught him, so he must write; and the liable person (debtor) should dictate it to him and fear Allah, Who is his Lord, and not hide anything of the truth; but if the debtor is of poor reasoning, or weak, or unable to dictate, then his guardian must dictate with justice; and appoint two witnesses from your men; then if two men are not available, one man and two women from those you would prefer to be witnesses, so that if one of them forgets, the other can remind her; and the witnesses must not refuse when called upon to testify; do not feel burdened to write it, whether the transaction is small or big – write it for up to its term’s end; this is closer to justice before Allah and will be a strong evidence and more convenient to dispel doubts amongst yourselves – except when it is an instant trade in which exchange is carried out immediately, there is no sin on you if it is not written down; and take witnesses whenever you perform trade; and neither the scribe nor the witnesses be caused any harm (or they cause any harm); and if you do, it would be an offence on your part; and fear Allah; and Allah teaches you; and Allah knows everything.
ऐ ईमान वालो! जब तुम एक मुक़र्रर मुद्दत तक किसी दैन का लेन-देन करो तो उसे लिख लो और चाहिये कि तुम्हारे दरमियान कोई लिखने वाला ठीक-ठीक लिखे और लिखने वाला लिखने से इन्कार न करे जैसा कि उसे अल्लाह ने सिखाया है तो उसे लिख देना चाहिये और जिस बात पर हक़ आता है वह लिखा जाए और अल्लाह से डरे जो उसका रब है और हक़ में से कुछ रख न छोड़े फिर जिस पर हक़ आता है अगर बेअक़्ल या नातवाँ हो या लिख न सके तो उसका वली इंसाफ़ से लिखवाए, और दो गवाह कर लो अपने मर्दों में से फिर अगर दो मर्द न हों तो एक मर्द और दो औरतें ऐसे गवाह जिनको पसन्द करो कि कहीं उनमें एक औरत भूले तो उसको दूसरी याद दिला दे, और गवाह जब बुलाए जाएं तो आने से इन्कार न करें और उसे भारी न जानो कि दैन छोटा हो या बड़ा उसकी मीयाद तक लिखत कर लो यह अल्लाह के नज़दीक ज़्यादा इंसाफ़ की बात है इसमें गवाही खूब ठीक रहेगी और यह उससे क़रीब है कि तुम्हें शुबहा न पड़े मगर यह कि कोई सर-दस्त का सौदा दस्त-ब-दस्त हो तो उसके न लिखने का तुम पर गुनाह नहीं और जब ख़रीद-फ़रोख़्त करो तो गवाह कर लो और न किसी लिखने वाले को ज़रर दिया जाए, न गवाह को (या, न लिखने वाला ज़रर दे न गवाह) और जो तुम ऐसा करो तो यह तुम्हारा फ़िस्क होगा, और अल्लाह से डरो और अल्लाह तुम्हें सिखाता है, और अल्लाह सब कुछ जानता है,
Ae imaan walo! Jab tum ek muqarrar muddat tak kisi deen ka leen-den karo to use likh lo, aur chahiye ke tumhare darmiyan koi likhne wala theek-theek likhe, aur likhne wala likhne se inkaar na kare jaisa ke use Allah ne sikhaya hai, to use likh dena chahiye, aur jis baat par haq aata hai woh likhwata jaaye aur Allah se dare jo uska Rab hai, aur haq mein se kuch rakh na chhode. Phir jis par haq aata hai agar be-aqal ya natwaan ho ya likha na sake to uska wali insaaf se likhwaye. Aur do gawah kar lo apne mardon mein se, phir agar do mard na hon to ek mard aur do auratein aise gawah jin ko pasand karo, taake kahin in mein ek aurat bhool jaaye to usko doosri yaad dila de. Aur gawah jab bulaye jaayen to aane se inkaar na karein. Aur ise bhaari na jano ke deen chhota ho ya bara, uski miyaad tak likhat kar lo. Ye Allah ke nazdeek zyada insaaf ki baat hai, ismein gawahi khoob theek rahegi, aur ye us se qareeb hai ke tumhein shakk na pade. Magar ye ke koi sar-dast ka sauda dast ba dast ho to uske na likhne ka tum par gunaah nahi. Aur jab kharid o farokht karo to gawah kar lo. Aur na kisi likhne wale ko zarar diya jaaye, na gawah ko. Aur jo tum aisa karo to ye tumhara fisq hoga. Aur Allah se daro, aur Allah tumhein sikhata hai, aur Allah sab kuch jaanta hai.
(ف597)خواہ وہ دین مبیع ہو یا ثمن حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کہ اس سے بیع سَلَم مراد ہے بَیۡعِ سَلَمۡ یہ ہے کہ کسی چیز کو پیشگی قیمت لے کر فروخت کیا جائے اورمبیع مشتری کو سپرد کرنے کے لئے ایک مدت معین کرلی جائے اس بیع کے جواز کے لئے جنس ، نوع، صفت، مقدار مدت اور مکان ادا اور مقدار راس المال ان چیزوں کا معلوم ہونا شرط ہے۔(ف598)لکھنا مستحب ہے، فائدہ اس کا یہ ہے کہ بھول چوک اور مدیون کے انکار کااندیشہ نہیں رہتا۔(ف599)اپنی طرف سے کوئی کمی بیشی نہ کرے نہ فریقین میں سے کسی کی رور عایت ۔(ف600)حاصل معنٰی یہ کہ کوئی کاتب لکھنے سے منع نہ کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو وثیقہ نویسی کا علم دیا بے تغییر و تبدیل دیانت و امانت کے ساتھ لکھے یہ کتابت ایک قول پر فرض کفایہ ہے اور ایک قول پر فرض عین بشرطِ فراغ کاتب جس صورت میں اس کے سوا اور نہ پایا جائے اور ایک قول پر مستحب کیونکہ اس میں مسلمانوں کی حاجت بر آری اور نعمت علم کا شکر ہے اور ایک قول یہ ہے کہ پہلے یہ کتابت فرض تھی پھر لَایُضَآرَّکَاتِبٌ سے منسوخ ہوئی۔(ف601)یعنی اگر مدیون مجنون و ناقص العقل یا بچہ یا شیخِ فانی ہو یا گونگا ہونے یا زبان نہ جاننے کی وجہ سے اپنے مدعا کا بیان نہ کرسکتا ہو۔(ف602)گواہ کے لئے حریت و بلوغ مع اسلام شرط ہے کفار کی گواہی صرف کفار پر مقبول ہے۔(ف603)مسئلہ : تنہا عورتوں کی شہادت جائز نہیں خواہ وہ چار کیوں نہ ہوں مگر جن امور پر مرد مطلع نہیں ہوسکتے جیسے کہ بچہ جننا باکرہ ہونا اور نسائی عیوب اس میں ایک عورت کی شہادت بھی مقبول ہے مسئلہ: حدودو قصاص میں عورتوں کی شہادت بالکل معتبر نہیں صرف مردوں کی شہادت ضروری ہے اس کے سوااور معاملات میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت بھی مقبول ہے۔ ( مدارک و احمدی)(ف604)جن کا عادل ہونا تمہیں معلوم ہو اور جن کے صالح ہونے پر تم اعتماد رکھتے ہو۔(ف605)مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ ادائے شہادت فرض ہے جب مدعی گواہوں کو طلب کرے تو انہیں گواہی کا چھپانا جائز نہیں یہ حکم حدود کے سوا اور امور میں ہے لیکن حدود میں گواہ کو اظہار و اخفاء کا اختیار ہے بلکہ اخفاء افضل ہے حدیث شریف میں ہے سیِّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی ستّاری کرے گا لیکن چوری میں مال لینے کی شہادت دینا واجب ہے تاکہ جس کا مال چوری کیا گیا ہے اس کا حق تلف نہ ہو گواہ اتنی احتیاط کرسکتا ہے کہ چوری کا لفظ نہ کہے گواہی میں یہ کہنے پر اکتفا کرے کہ یہ مال فلاں شخص نے لیا۔(ف606)چونکہ اس صور ت میں لین دین ہو کر معاملہ ختم ہوگیا اور کوئی اندیشہ باقی نہ رہا نیز ایسی تجارت اور خرید و فروخت بکثرت جاری رہتی ہے اس میں کتابت و اشہاد کی پابندی شاق و گراں ہوگی۔(ف607)یہ مستحب ہے کیونکہ اس میں احتیاط ہے۔(ف608) یُضَآرَّ میں دو احتمال ہیں مجہول و معروف ہونے کے قراء ۃ ابن عباس رضی اللہ عنہما اوّل کی اور قراء ۃ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ثانی کی مؤیدّ ہے پہلی تقدیر پر معنی یہ ہیں کہ اہل معاملہ کاتبوں اور گواہوں کو ضرر نہ پہنچائیں اس طرح کہ وہ اگر اپنی ضرورتوں میں مشغول ہوں تو انہیں مجبور کریں اور ان کے کام چھڑائیں یا حق کتابت نہ دیں یا گواہ کو سفر خرچ نہ دیں اگر وہ دوسرے شہر سے آیا ہو دوسری تقدیر پر معنی یہ ہیں کہ کاتب و شاہد اہل معاملہ کو ضرر نہ پہنچائیں اس طرح کہ باوجود فرصت وفراغت کے نہ آئیں یا کتابت میں تحریف و تبدیل زیادتی و کمی کریں۔
اور اگر تم سفر میں ہو (ف٦۰۹) اور لکھنے والا نہ پاؤ (ف٦۱۰) تو گِرو (رہن) ہو قبضہ میں دیا ہوا (ف٦۱۱) اور اگر تم ایک کو دوسرے پر اطمینان ہو تو وہ جسے اس نے امین سمجھا تھا (ف٦۱۲) اپنی امانت ادا کردے (ف٦۱۳) اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی نہ چھپاؤ (ف٦۱٤) اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اسکا دل گنہگار ہے (ف٦۱۵) اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
And if you are on a journey and cannot find a scribe, then a mortgage (deposit) must be handed over; and if one of you trusts the other, the one who is trusted may return the mortgage entrusted to him and fear Allah, his Lord; and do not hide testimony; and if one hides it, his heart is sinful from within; and Allah knows what you do.
और अगर तुम सफ़र में हो और लिखने वाला न पाओ तो गिरो (रहन) हो क़ब्ज़ा में दिया हुआ और अगर तुम एक को दूसरे पर इत्मिनान हो तो वह जिसे उसने अमीन समझा था अपनी अमानत अदा कर दे और अल्लाह से डरे जो उसका रब है और गवाही न छुपाओ और जो गवाही छुपाएगा तो अन्दर से उसका दिल गुनहगार है और अल्लाह तुम्हारे कामों को जानता है,
Aur agar tum safar mein ho aur likhne wala na pao to giro (rahn) ho qabza mein diya hua. Aur agar tum ek ko doosre par aitmaad ho to woh jise usne ameen samjha tha apni amanat ada kar de, aur Allah se dare jo uska Rab hai. Aur gawahi na chhupao, aur jo gawahi chhupayega to andar se uska dil gunahgaar hai, aur Allah tumhare kaamon ko jaanta hai.
(ف609)اور قرض کی ضرورت پیش آئے۔(ف610)اور وثیقہ و دستاویز کی تحریر کا موقعہ نہ ملے تو اطمینان کے لئے ۔(ف611)یعنی کوئی چیز دائن کے قبضہ میں گروِی کے طور پر دے دو مسئلہ : یہ مستحب ہے اور حالتِ سفر میں رہن آیت سے ثابت ہوا اور غیر سفر کی حالت میں حدیث سے ثابت ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں اپنی زرہ مبارک یہودی کے پاس گروی رکھ کر بیس صاع جَ لئے مسئلہ اس آیت سے رہن کا جواز اور قبضہ کا شرط ہونا ثابت ہوتا ہے۔(ف612)یعنی مدیون جس کو دائن نے امین سمجھا تھا۔(ف613)اس امانت سے دین مراد ہے۔(ف614)کیونکہ اس میں صاحبِ حق کے حق کا ابطال ہے یہ خطاب گواہوں کو ہے کہ وہ جب شہادت کی اقامت وادا کے لئے طلب کئے جائیں تو حق کو نہ چھپائیں اور ایک قول یہ ہے کہ یہ خطاب مدیونوں کو ہے کہ وہ اپنے نفس پر شہادت دینے میں تامل نہ کریں۔(ف615)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک حدیث مروی ہے کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور جھوٹی گواہی دینا اور گواہی کو چھپانا ہے۔
اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ (ف٦۱٦) تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا (ف٦۱۷) تو جسے چاہے گا بخشے گا (ف٦۱۸) اور جسے چاہے گا سزادے گا (ف٦۱۹) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
To Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and whether you disclose what is in your hearts or hide it, Allah will take account of it from you; so He will forgive whomever He wills and punish whomever He wills; and Allah is Able to do all things.
अल्लाह ही का है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में है, और अगर तुम ज़ाहिर करो जो कुछ तुम्हारे जी में है या छुपाओ अल्लाह तुमसे उसका हिसाब लेगा तो जिसे चाहेगा बख़्शेगा और जिसे चाहेगा सज़ा देगा और अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है,
Allah hi ka hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein hai, aur agar tum zaahir karo jo kuch tumhare jee mein hai ya chhupao, Allah tumse uska hisaab lega, to jise chahega bakhshega aur jise chahega saza dega, aur Allah har cheez par qadir hai.
(ف616)بدی۔(ف617)انسان کے دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں ایک بطور وسوسہ کے ان سے دِل کا خالی کرنا انسان کی مقدرت میں نہیں لیکن وہ ان کو برا جانتا ہے اور عمل میں لانے کا ارادہ نہیں کرتا ان کو حدیث نفس اور وسوسہ کہتے ہیں اس پر مؤاخذہ نہیں بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ میری امت کے دلوں میں جو وسوسہ گزرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے تجاوز فرماتا ہے جب تک کہ وہ انہیں عمل میں نہ لائیں یا ان کے ساتھ کلام نہ کریں یہ وسوسے اس آیت میں داخل نہیں،دوسرے وہ خیالات جن کو انسان اپنے دل میں جگہ دیتا ہے اور ان کو عمل میں لانے کا قصد و ارادہ کرتا ہے ان پر مؤاخذہ ہو گا اور انہیں کا بیان اس آیت میں ہے مسئلہ : کُفرکا عزم کرنا کُفر ہے اور گناہ کا عزم کرکے اگر آدمی اس پر ثابت رہے اور اس کا قصد وارادہ رکھے لیکن اس گناہ کو عمل میں لانے کے اسباب اس کو بہم نہ پہنچیں اور مجبوراً وہ اس کو کر نہ سکے تو جمہور کے نزدیک اس سے مؤاخذہ کیا جائے گا شیخ ابو منصور ماتریدی اور شمس الائمہ حلوائی اسی طرف گئے ہیں اور ان کی دلیل آیہ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ اور حدیث حضرت عائشہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ بندہ جس گناہ کا قصد کرتا ہے اگر وہ عمل میں نہ آئے جب بھی اس پر عقاب کیا جاتا ہے۔ مسئلہ : اگر بندے نے کسی گناہ کا ارادہ کیا پھر اس پر نادم ہوا اور استغفار کیا تو اللہ اس کو معاف فرمائےگا۔(ف618)اپنے فضل سے اہلِ ایمان کو ۔(ف619)اپنے عدل سے۔
سب نے مانا (ف٦۲۰) اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو (ف٦۲۱) یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے (ف٦۲۲) اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا (ف٦۲۳) تیری معافی ہو اے رب ہمارے! اور تیری ہی طرف پھرنا ہے،
The Noble Messenger believes in what has been sent down to him by his Lord, and so do the believers; all have accepted faith in Allah and His angels and His Books and His Noble Messengers; saying, “We do not make any distinction, in believing, between any of His Noble Messengers”; and they said, “We hear, and we obey; Your forgiveness be granted, O our Lord, and towards You is our return.”
सब ने माना अल्लाह और उसके फ़रिश्तों और उसकी किताबों और उसके रसूलों को यह कहते हुए कि हम उसके किसी रसूल पर ईमान लाने में फ़र्क़ नहीं करते और अर्ज़ की कि हमने सुना और माना तेरी माफ़ी हो ऐ रब हमारे! और तेरी ही तरफ़ फिरना है,
Sab ne maana Allah aur uske farishton aur uski kitabon aur uske Rasoolon ko, ye kehte hue ke hum uske kisi Rasool par imaan laane mein farq nahi karte. Aur arz ki ke humne suna aur maana, teri maafi ho ae Rab hamare! Aur teri hi taraf phirna hai.
(ف620)زجاج نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں نماز۔ زکوۃ۔ روزے حج کی فرضیت اور طلاق ۔ ایلا ء حیض و جہاد کے احکام اور انبیاء کے واقعات بیان فرمائے تو سورت کے آخر میں یہ ذکر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مؤمنین نے اس تمام کی تصدیق فرمائی اور قرآن اور اس کے جملہ شرائع و احکام کے منزَّل مِنَ اللہ ہونے کی تصدیق کی ۔(ف621)یہ اصول و ضروریاتِ ایمان کے چار مرتبے ہیں۔ (۱) اللہ تعالٰی پر ایمان لانا یہ اسطرح کہ اعتقاد و تصدیق کرے کہ اللہ واحد اَحَدْ ہے اسکا کوئی شریک و نظیر نہیں اس کے تمام اسمائے حسنہ وصفاتِ عُلیاپر ایمان لائے اور یقین کرے اور مانے کہ وہ علیم اور ہر شئے پر قدیر ہے اور اس کے علم و قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔(۲) ملائکہ پر ایمان لانا یہ اس طرح پر ہے کہ یقین کرے اور مانے کہ وہ موجود ہیں معصوم ہیں پاک ہیں اللہ تعالٰی کے اور اس کے رسولوں کے درمیان احکام و پیام کے وسائط ہیں۔(۳) اللہ کی کتابوں پر ایمان لانا اس طرح کہ جو کتابیں اللہ تعالٰی نے نازل فرمائیں اور اپنے رسولوں کے پاس بطریق وحی بھیجیں بے شک و شبہہ سب حق و صدق اور اللہ کی طرف سے ہیں اور قرآن کریم تغییر تبدیل تحریف سے محفوظ ہے اور محکم ومتشابہ پر مشتمل ہے۔(۴) رسولوں پر ایمان لانا اسطرح پر کہ ایمان لائے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں جنہیں اُسنے اپنے بندوں کی طرف بھیجا اسکی وحی کے امین ہیں گناہوں سے پاک معصوم ہیں ساری خلق سے افضل ہیں ان میں بعض حضرات بعض سے افضل ہیں۔(ف622)جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کیا کہ بعض پر ایمان لائے بعض کا انکار کیا۔(ف623)تیرے حکم و ارشاد کو
اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر، اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی (ف٦۲٤) اے رب ہمارے! ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں (ف٦۲۵) یا چوُکیں اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا، اے رب ہمارے! اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (برداشت) نہ ہو اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مہر کر تو ہمارا مولیٰ ہے۔ تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔
Allah does not burden anyone, except with something within its capacity; beneficial for it is the virtue it earned, and harmful for it is the evil it earned; “Our Lord! Do not seize us if we forget or are mistaken; our Lord! And do not place on us a heavy burden (responsibility) as You did on those before us; our Lord! And do not impose on us a burden, for which we do not have the strength; and pardon us – and forgive us – and have mercy on us – You are our Master, therefore help us against the disbelievers.”
अल्लाह किसी जान पर बोझ नहीं डालता मगर उसकी ताक़त भर, उसका फ़ायदा है जो अच्छा कमाया और उसका नुक़सान है जो बुराई कमाई ऐ रब हमारे! हमें न पकड़ अगर हम भूलें या चूकें ऐ रब हमारे! और हम पर भारी बोझ न रख जैसा तूने हमसे अगलों पर रखा था, ऐ रब हमारे! और हम पर वह बोझ न डाल जिसकी हमें सहार (बर्दाश्त) न हो और हमें माफ़ फ़रमा दे और बख़्श दे और हम पर मेहर कर तू हमारा मौला है। तो काफ़िरों पर हमें मदद दे।
Allah kisi jaan par bojh nahi daalta magar uski taaqat bhar. Uska faida hai jo acha kamaya, aur uska nuqsan hai jo burai kamai. Ae Rab hamare! Humein na pakad agar hum bhoolein ya chooke. Ae Rab hamare! Aur hum par bhaari bojh na rakh jaisa tune humse aglon par rakha tha. Ae Rab hamare! Aur hum par woh bojh na daal jis ki humein sahar (bardaasht) na ho. Aur humein maaf farma de aur bakhsh de aur hum par mehr kar. Tu hamara Maula hai, to kaafiron par humein madad de.
(ف624)یعنی ہر جان کو عمل نیک کا اجرو ثواب اور عمل بد کا عذاب و عقاب ہوگا اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے مؤمن بندوں کو طریقِ دُعا کی تلقین فرمائی کہ وہ اس طرح اپنے پروردگار سے عرض کریں۔(ف625)اور سہو سے تیرے کسی حکم کی تعمیل میں قاصر رہیں ۔
الٓمّٓ ۚۙ ﴿1﴾
الم ،
Alif-Laam-Meem. (Alphabets of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
اللہ ہے جس کے سوا کسی کی پوجا نہیں (ف۲) آپ زندہ اور ونکا قائم رکھنے والا،
Allah – none is worthy of worship, except Him, He is Alive (eternally, on His own) and the Upholder (keeps others established).
अल्लाह है जिस के सवा किसी की पूजा नहीं आप ज़िन्दा औरों का क़ायम रखने वाला,
Allah hai jis ke siwa kisi ki pooja nahin, aap zinda auron ka qaim rakhne wala,
(ف2)شان نزول: مفسرین نے فرمایا :کہ یہ آیت وفد نجران کے حق میں نازل ہوئی جو ساٹھ سواروں پر مشتمل تھا اس میں چودہ سردار تھے اور تین اس قوم کے بڑے اکابر و مقتدا ایک عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا یہ شخص امیر قوم تھا اور بغیر اس کی رائے کے نصارٰی کوئی کام نہیں کرتے تھے دوسرا سید جس کا نام ایہم تھا یہ شخص اپنی قوم کا معتمد اعظم اور مالیات کا افسرِ اعلیٰ تھا خوردو نوش اور رسدوں کے تمام انتظامات اسی کے حکم سے ہوتے تھے تیسرا ابو حارثہ ابن علقمہ تھا یہ شخص نصارٰی کے تمام علماء اور پادریوں کا پیشوا ئے اعظم تھا سلاطین روم اس کے علم اور اس کے دینی عظمت کے لحاظ سے اس کا اکرام و ادب کرتے تھے یہ تمام لوگ عمدہ اور قیمتیں پوشاکیں پہن کر بڑی شان و شکوہ سے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مناظرہ کرنے کے قصد سے آئے اور مسجد اقدس میں داخل ہوئے حضورِ اقدس علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات اس وقت نماز عصر ادا فرمارہے تھے ان لوگوں کی نماز کا وقت بھی آگیا اور انہوں نے بھی مسجد شریف ہی میں جانب شرق متوجہ ہو کر نماز شروع کردی فراغ کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو شروع کی حضور علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے فرمایا :تم اسلام لاؤ کہنے لگے ہم آپ سے پہلے اسلام لاچکے حضور علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے فرمایا یہ غلط ہے یہ دعوٰی جھوٹا ہے تمہیں اسلام سے تمہارا یہ دعوٰی روکتا ہے کہ اللہ کے اولاد ہے اور تمہاری صلیب پرستی روکتی ہے اور تمہارا خنزیر کھانا روکتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر عیسےٰ خدا کے بیٹے نہ ہوں تو بتائیے ان کا باپ کون ہے اور سب کے سب بولنے لگے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے ضرور مشابہ ہوتا ہے انہوں نے اقرار کیا پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب حی لایموت ہے اس کے لئے موت محال ہے اور عیسےٰعلیہ الصلوٰۃ و التسلیمات پر موت آنے والی ہے انہوں نے اس کا بھی اقرار کیا پھر فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ ہمار ارب بندوں کا کار ساز اور انکا حافظ حقیقی اور روزی دینے والا ہےانہوں نے کہا ہاں حضور نے فرمایا کیا حضرت عیسیٰ بھی ایسے ہی ہیں کہنے لگے نہیں فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالٰے پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں انہوں نے اقرار کیا حضور نے فرمایاکہ حضرت عیسیٰ بغیر تعلیم الٰہی اس میں سے کچھ جانتے ہیں انہوں نے کہا نہیں حضور نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عیسیٰ حمل میں رہے پیدا ہونے والوں کی طرح پیدا ہوئے بچوں کی طرح غذا دیئے گئے کھاتے پیتے تھے عوارضِ بشری رکھتے تھے انہوں نے اس کا اقرار کیا حضور نے فرمایاپھر وہ کیسے اِلٰہ ہوسکتے ہیں جیسا کہ تمہارا گمان ہے اس پر وہ سب ساکت رہ گئے اور ان سے کوئی جواب بن نہ آیا اس پر سور ۂ آل عمران کی اوّل سے کچھ اوپراسی ۸۰ آیتیں نازل ہوئیں فائدہ صفات الٰہیہ میں حی بمعنی دائم باقی کے ہے یعنی ایسا ہمیشگی رکھنے والا جس کی موت ممکن نہ ہو قیوم وہ ہے جو قائم بالذات ہو اور خلق اپنی دُنیوی اور اُخروی زندگی میں جوحاجتیں رکھتی ہے اس کی تدبیر فرمائے۔
اس نے تم پر یہ سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور اس نے اس سے پہلے توریت اور انجیل اتاری،
He has sent down to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) this true Book (the Holy Qur’an), confirming the Books before it, and He sent down the Taurat (Torah) and the Injeel (Bible). –
उस ने तुम पर ये सच्ची किताब उतारी अगली किताबों की तसदीक़ फ़रमाती और उस ने उस से पहले तौरेत और इन्जील उतारी,
Usne tum par ye sachi kitaab utari, agli kitabon ki tasdiq farmati, aur usne is se pehle Taurat aur Injeel utari,
لوگوں کو راہ دکھاتی اور فیصلہ اتارا، بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوئے (ف۳ ) ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے،
Before this, a guidance to mankind; and sent down the Judgement (Criterion to judge between right and wrong); indeed for those who disbelieved in the verses of Allah, is a severe punishment; and Allah is the Almighty, the Avenger (of the wrong).
लोगों को राह दिखाती और फ़ैसला उतारा, बेशक वो जो अल्लाह की आयतों से मुनकर हुए उन के लिये सख़्त अज़ाब है और अल्लाह ग़ालिब बदला लेने वाला है,
Logon ko raah dikhati aur faisla utara, beshak woh jo Allah ki aayaton se munkir hue unke liye sakht azaab hai, aur Allah ghaalib badla lene wala hai,
وہی ہے کہ تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے (ف٤) اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا (ف۵)
It is He Who fashions (moulds) you in your mothers’ wombs as He wills; none is worthy of worship except Him, the Almighty (the Most Honourable), the Wise.
वही है कि तुम्हारी तसवीर बनाता है माँओं के पेट में जैसी चाहे उस के सवा किसी की इबादत नहीं इज़्ज़त वाला हिकमत वाला
Wohi hai jo tumhari tasveer banata hai maaon ke pait mein jaisi chahe, uske siwa kisi ki ibadat nahin, izzat wala hikmat wala,
(ف4)مرد ۔ عورت ۔گورا، کالا، خوب صورت بدشکل وغیرہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتمہارا مادۂ پیدائش ماں کے پیٹ میں چالیس روز جمع ہوتا ہے پھر اتنے ہی دن علقہ یعنی خونِ بستہ کی شکل میں ہوتا ہے پھر اتنے ہی دن پارۂ گوشت کی صورت میں رہتا ہے پھر اللہ تعالٰے ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کا رزق اس کی عمر اس کے عمل اس کا انجام کار یعنی اس کی سعادت و شقاوت لکھتا ہے پھر اس میں روح ڈالتا ہے تو اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں آدمی جنّتیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور جنت میں ہاتھ بھر کا یعنی بہت ہی کم فرق رہ جاتا ہے تو کتاب سبقت کرتی ہے اور وہ دوزخیوں کے سے عمل کرتا ہے،اسی پر اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور داخل جہنّم ہوتاہے اور کوئی ایسا ہوتا ہے کہ دوزخیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور دوزخ میں ایک ہاتھ کا فرق رہ جاتا ہے پھر کتاب سبقت کرتی ہے اور اس کی زندگی کا نقشہ بدلتا ہے اور وہ جنّتیوں کے سے عمل کرنے لگتا ہے اسی پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور داخل جنت ہو جاتا ہے(ف5)اس میں بھی نصارٰی کا رد ہے جو حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کو خدا کا بیٹا کہتے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔
وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری اس کی کچھ آیتیں صاف معنی رکھتی ہیں (ف٦) وہ کتاب کی اصل ہیں (ف۷) اور دوسری وہ ہیں جن کے معنی میں اشتباہ ہے (ف۸) وہ جن کے دلوں میں کجی ہے (ف۹) وہ اشتباہ والی کے پیچھے پڑتے ہیں (ف۱۰) گمراہی چاہنے (ف۱۱) اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو (ف۱۲) اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے (ف۱۳) اور پختہ علم والے (ف۱٤) کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے (ف۱۵) سب ہمارے رب کے پاس سے ہے (ف۱٦) اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے (ف۱۷)
It is He Who has sent down to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) this Book (the Qur’an) containing the verses that have a clear meaning – they are the core of the Book – and other verses the meanings of which are indistinct; those in whose hearts is deviation pursue the verses having indistinct meanings, in order to cause turmoil and seeking its (wrongful) interpretation; and only Allah knows its proper interpretation; and those having sound knowledge say, “We believe in it, all of it is from our Lord”; and none accept guidance except the men of understanding.
वही है जिस ने तुम पर ये किताब उतारी उस की कुछ आयतें साफ़ मअनी रखती हैं वो किताब की असल हैं और दूसरी वो हैं जिन के मअनी में इश्तिबाह है वो जिन के दिलों में क़जी है वो इश्तिबाह वाली के पीछे पड़ते हैं गुमराही चाहने और उस का पहलू ढूँढने को और उस का ठीक पहलू अल्लाह ही को मालूम है और पुख़्ता इल्म वाले कहते हैं हम इस पर ईमान लाये सब हमारे रब के पास से है और नसीहत नहीं मानते मगर अक़्ल वाले
Wohi hai jisne tum par ye kitaab utari, iski kuch aayatein saaf maani rakhti hain, woh kitaab ki asal hain, aur doosri woh hain jin ke maani mein ishtibaah hai, woh jinke dilon mein kaji hai woh ishtibaah wali ke peechhe padte hain gumraahi chahne aur uska pehlu dhoondhne ko, aur uska theek pehlu Allah hi ko maaloom hai, aur pukhta ilm wale kehte hain hum is par imaan laaye, sab hamare Rab ke paas se hai, aur naseehat nahin maante magar aqal wale,
(ف6)جس میں کوئی احتمال و اشتباہ نہیں۔(ف7)کہ احکام میں ان کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور حلال و حرام میں انہیں پر عمل۔(ف8)وہ چند وجوہ کا احتمال رکھتی ہیں ان میں سے کون سی وجہ مراد ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے یا جس کو اللہ تعالیٰ اسکا علم دے۔(ف9)یعنی گمراہ اور بدمذہب لوگ جو ہوائے نفسانی کے پابند ہیں۔(ف10)اور اس کے ظاہر پر حکم کرتے ہیں یا تاویل باطل کرتے ہیں اور یہ نیک نیتی سے نہیں بلکہ (جمل)(ف11)اور شک و شبہ میں ڈالنے (جمل)(ف12)اپنی خواہش کے مطابق باوجودیکہ وہ تاویل کے اہل نہیں(جمل و خازن) (ف13)حقیقت میں (جمل) اور اپنے کرم و عطا سے جس کو وہ نوازے(ف14)حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے آپ فرماتے تھے کہ میں راسخین فی العلم سے ہوں اور مجاہد سے مروی ہے کہ میں ان میں سے ہوں جو متشابہ کی تاویل جانتے ہیں۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ راسخ فی العلم وہ عالم باعمل ہے جو اپنے علم کا متبع ہو اور ایک قول مفسرین کا یہ ہے کہ ر اسخ فی العلم وہ ہیں جن میں چار صفتیں ہوں۔تقوٰی اللہ کا۔تواضع لوگوں سے زُہددنیا سےمجاہدہ نفس کے ساتھ (خازن)(ف15)کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو معنی اس کی مراد ہیں حق ہیں اور اس کا نازل فرمانا حکمت ہے(ف16)محکم ہو یا متشابہ۔(ف17)اور راسخ علم والے کہتے ہیں۔
اے رب ہمارے بیشک تو سب لوگوں کو جمع کرنے والا ہے (ف۱۸) اس دن کے لئے جس میں کوئی شبہ نہیں (ف۱۹) بیشک اللہ کا وعدہ نہیں بدلتا (ف۲۰)
“Our Lord! Indeed You will gather all mankind for a Day about which there is no doubt"; indeed Allah’s promise does not change.
ऐ रब हमारे बेशक तू सब लोगों को जमा करने वाला है उस दिन के लिये जिस में कोई शक नहीं बेशक अल्लाह का वादा नहीं बदलता
Aye Rab hamare, beshak tu sab logon ko jama karne wala hai us din ke liye jismein koi shakk nahin, beshak Allah ka waada nahin badalta,
(ف18)حساب یا جزا کے واسطے(ف19)وہ روزِ قیامت ہے(ف20)تو جس کے دل میں کجی ہو وہ ہلاک ہوگا اور جو تیرے منت واحسان سے ہدایت پائے وہ سعید ہوگا نجات پائے گا مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کذب منافی الوہیت ہے لہذا حضرت قدوس قدیر کا کذب محال اور اس کی طرف اس کی نسبت سخت بے ادبی (مدارک وابومسعو د وغیرہ)
بیشک وہ جو کافر ہوئے (ف۲۱) ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ سے انہیں کچھ نہ بچاسکیں گے اور وہی دوزخ کے ایندھن ہیں ،
Indeed for those who disbelieve, neither their wealth nor their offspring will help to save them in the least from Allah; and it is they who are fuel for the fire.
बेशक वो जो काफ़िर हुए उन के माल और उन की औलाद अल्लाह से उन्हें कुछ न बचा सकेंगे और वही दोज़ख़ के ईंधन हैं,
Beshak woh jo kafir hue unke maal aur unki aulaad Allah se unhe kuch na bacha sakenge aur wohi dozakh ke eindhan hain,
(ف21)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منحرف ہو کر
جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا طریقہ، انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑا اور اللہ کا عذاب سخت ،
Like the way of Firaun’s people, and those before them; they denied Our signs; so Allah seized them because of their sins; and Allah’s punishment is severe.
जैसे फिरऔन वालों और उन से अगलों का तरीक़ा, उन्होंने हमारी आयतें झटलायीं तो अल्लाह ने उन के गुनाहों पर उन को पकड़ा और अल्लाह का अज़ाब सख़्त,
Jaise Firaun walon aur unse aglon ka tareeqa, unhone hamari aayatein jhutaayin, to Allah ne unke gunahon par unko pakda aur Allah ka azaab sakht,
فرمادو، کافروں سے کوئی دم جاتا ہے کہ تم مغلوب ہوگے اور دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے (ف۲۲) اور وہ بہت ہی برا بچھونا،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) to the disbelievers, “Very soon you shall be overcome and driven towards hell; and that is a wretched resting-place.”
फ़रमा दो, काफ़िरों से कोई दम जाता है कि तुम मग़लूब होगे और दोज़ख़ की तरफ़ हाँके जाओगे और वो बहुत ही बुरा बिछौना,
Farma do, kafiron se koi dam jaata hai ke tum maghloob hoge aur dozakh ki taraf haanke jaoge aur woh bahut hi bura bichhona,
(ف22)شان نزول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب بدر میں کفار کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکست دے کر مدینہ طیبہ واپس ہوئے تو حضور نے یہود کو جمع کرکے فرمایاکہ تم اللہ سے ڈرو اور اس سے پہلے اسلام لاؤ کہ تم پر ایسی مصیبت نازل ہو جیسی بدر میں قریش پر ہوئی تم جان چکے ہو میں نبی مرسل ہوں تم اپنی کتاب میں یہ لکھا پاتے ہو اس پر انہوں نے کہا کہ قریش تو فنونِ حرب سے نا آشنا ہیں اگر ہم سے مقابلہ ہوا تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں خبر دی گئی کہ وہ مغلوب ہوں گے اور قتل کئے جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے ان پر جِزیہ مقرر ہوگا، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز میں چھ سو کی تعداد کو قتل فرمایا اور بہتوں کو گرفتار کیا اور اہلِ خیبر پر جِزیہ مقرر فرمایا۔
بیشک تمہارے لئے نشانی تھی (ف۲۳) دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے (ف۲٤) ایک جتھا اللہ کی راہ میں لڑتا (ف۲۵) اور دوسرا کافر (ف۲٦) کہ انہیں آنکھوں دیکھا اپنے سے دونا سمجھیں، اور اللہ اپنی مدد سے زور دیتا ہے جسے چاہتا ہے (ف۲۷) بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے ضرور دیکھ کر سیکھنا ہے،
Indeed there was a sign for you in the two groups that clashed; one army fighting in Allah's cause, against the other of disbelievers, whom they (the Muslims) saw with their eyes, as twice their own number; and Allah strengthens with His help whomever He wills; indeed in this is a lesson for the intelligent, to be learnt by observing.
बेशक तुम्हारे लिये निशानी थी दो गिरोहों में जो आपस में भिड़ पड़े एक जत्था अल्लाह की राह में लडता और दूसरा काफ़िर कि उन्हें आँखों देखा अपने से दूना समझें, और अल्लाह अपनी मदद से ज़ोर देता है जिसे चाहता है बेशक इस में अक़्लमंदों के लिये ज़रूर देखकर सीखना है,
Beshak tumhare liye nishani thi do grohon mein jo aapas mein bhar paday, ek jatha Allah ki raah mein ladta aur doosra kafir, ke unhein aankhon dekha apne se doona samjhein, aur Allah apni madad se zor deta hai jise chahta hai, beshak ismein aqalmando ke liye zaroor dekh kar seekhna hai,
(ف23)اس کے مخاطب یہود ہیں اور بعض کے نزدیک تمام کفار اور بعض کے نزدیک مومنین (جمل) (ف24) جنگ بدر میں ۔(ف25)یعنی نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب ان کی کل تعداد تین سو تیرہ تھی ستتّر مہاجر اور دو سو چھتیس انصار مہاجرین کے صاحبِ رابیت حضرت علی مرتضےٰ تھے اور انصار کے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہمااس کل لشکر میں دو گھوڑے ستر اونٹ اور چھ زرہ آٹھ تلواریں تھیں اور اس واقعہ میں چودہ صحابہ شہید ہوئے چھ مہاجر اور آٹھ انصار(ف26)کفار کی تعداد نو سو پچاس تھی ان کاسردار عتبہ بن ربیعہ تھا اور انکے پاس سو(۱۰۰) گھوڑے تھے اورسات سو اونٹ اور بکثرت زرہ اور ہتھیار تھے (جمل)(ف27)خواہ اس کی تعداد قلیل ہی ہو اور سروسامان کی کتنی ہی کمی ہو۔
لوگوں کے لئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت (ف۲۸) عورتوں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندے کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے (ف۲۹) اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا (ف۳۰)
Beautified is for mankind the love of these desires – women, and sons, and heaps of gold and piled up silver, and branded horses, and cattle and fields; this is the wealth of the life of this world; and it is Allah, with Whom is the excellent abode.
लोगों के लिये आरास्ता की गयी इन ख़्वाहिशों की मोहब्बत औरतों और बेटे और तले ऊपर सोने चाँदी के ढेर और निशान किये हुए घोड़े और चौपाये और खेती ये जीती दुनिया की पूँजी है और अल्लाह है जिस के पास अच्छा ठिकाना
Logon ke liye aaraasta ki gayi un khwahishon ki muhabbat auraton aur betay aur tale upar sone chandi ke dhair aur nishaan kiye huye ghode aur chaupaye aur kheti, ye jeeti duniya ki ponji hai aur Allah hai jiske paas achha thikana,
(ف28)تاکہ شہوت پرستوں اور خدا پرستوں کے درمیان فرق و امتیاز ظاہر ہو جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا اِنَّا جَعَلْنَامَاعَلَی الاَرۡضِ زِیْنَۃً لَّھَالِنَبْلُوَھُمْ اَیُّھُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ۔(ف29)اس سے کچھ عرصہ نفع پہنچتا ہے پھر فنا ہوجاتی ہے انسان کو چاہئے کہ متاع دنیا کو ایسے کا م میں خرچ کرے جس میں اس کی عاقبت کی درستی اور سعادتِ آخرت ہو۔(ف30)جنّت تو چاہیٔے کہ اس کی رغبت کی جائے اور دُنیاۓناپائیدار کی فانی مرغوبات سے دل نہ لگایا جائے۔
تم فرماؤ کیا میں تمہیں اس سے (ف۳۱) بہتر چیز بتادوں پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور ستھری بیبیاں (ف۳۲) اور اللہ کی خوشنودی (ف۳۳) اور اللہ بندوں کو دیکھتا ہے (ف۳٤)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Shall I inform you of something better than that? For the pious, with their Lord, are Gardens beneath which rivers flow – they will abide in it forever – and pure wives, and Allah’s pleasure”; and Allah sees the bondmen.
तुम फ़रमाओ क्या मैं तुम्हें उस से बेहतर चीज़ बता दूँ परहेज़गारों के लिये उन के रब के पास जन्नतें हैं जिन के नीचे नहरें रवाँ हमेशा उन में रहेंगे और सुथरी बीबियाँ और अल्लाह की ख़ुशनूदी और अल्लाह बन्दों को देखता है
Tum farmaao kya main tumhein is se behtar cheez bata doon? Parhezgaron ke liye unke Rab ke paas jannatein hain jinke neeche nahrein rawan, hamesha unmein rahenge, aur suthri beewiyan aur Allah ki khushnudi, aur Allah bandon ko dekhta hai,
(ف31)متاع دنیا سے۔(ف32)جو زنانہ عوارض اور ہر ناپسند و قابلِ نفرت چیز سے پاک۔(ف33)اور یہ سب سے اعلیٰ نعمت ہے۔(ف34)ا ور ان کے اعمال و احوال جانتا اور ان کی جزا دیتا ہے۔
صبر والے (ف۳۵) اور سچے (ف۳٦) اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہر سے معافی مانگنے والے (ف۳۷)
The steadfast, and the truthful, and the reverent, and who spend in Allah's cause, and who seek forgiveness in the last hours of the night (before dawn).
सब्र वाले और सच्चे और अदब वाले और राह-ए-ख़ुदा में ख़र्चने वाले और पिछले पहर से माफ़ी माँगने वाले
(ف35)جو طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کریں اور گناہوں سے باز رہیں۔(ف36)جن کے قول اور ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوں۔(ف37)اس میں آخر شب میں نماز پڑھنے والے بھی داخل ہیں اور وقت سحر کے دعا و استغفار کرنے والے بھی یہ وقت خلوت واجابت دعا کا ہے۔ حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے فرزند سے فرمایا کہ مُرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سحر سے ندا کرے اور تم سوتے رہو
اور اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۳۸) اور فرشتوں نے اور عالموں نے (ف۳۹) انصاف سے قائم ہو کر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا ،
Allah has given witness that there is none worthy of worship (God) except Him – and the angels and the scholars also give witness, established with justice (with truth) – there is no God except Him, the Almighty, the Wise.
और अल्लाह ने गवाही दी कि उस के सवा कोई माबूद नहीं और फ़रिश्तों ने और आलमों ने इंसाफ़ से क़ायम हो कर उस के सवा किसी की इबादत नहीं इज़्ज़त वाला हिकमत वाला,
Aur Allah ne gawahi di ke uske siwa koi ma’bood nahin, aur farishton ne aur aalimon ne insaaf se qaim ho kar, uske siwa kisi ki ibadat nahin, izzat wala hikmat wala,
(ف38)شان نزول احبار شام میں سے دو شخص سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب انہوں نے مدینہ طیبہ دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ نبی آخر الزماں کے شہر کی یہی صفت ہے ، جو اس شہر میں پائی جاتی ہے جب آستانہ اقدس پر حاضر ہوئے تو انہوں نے حضور کے شکل و شمائل توریت کے مطابق دیکھ کر حضور کو پہچان لیا اور عرض کیا آپ محمد ہیں حضور نے فرمایا ہاں،پھر عرض کیا کہ آپ احمد ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فرمایا ہاں، عرض کیا ہم ایک سوال کرتے ہیں اگر آپ نے ٹھیک جواب دے دیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے فرمایا سوال کرو انہوں نے عرض کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے بڑی شہادت کون سی ہے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس کو سن کر وہ دونوں حِبر مسلمان ہوگئے حضرت سعید بن جُبَیْر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کعبہ معظمہ میں تین سو ساٹھ بت تھے جب مدینہ طیبہ میں یہ آیت نازل ہوئی تو کعبہ کے اندر وہ سب سجدہ میں گر گئے۔(ف39)یعنی انبیاء و اولیاء نے ۔
بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے (ف٤۰) اور پھوٹ میں نہ پڑے کتابی (ف٤۱) مگر اس کے کہ انہیں علم آچکا (ف٤۲) اپنے دلوں کی جلن سے (ف٤۳) اور جو اللہ کی آیتوں کا منکر ہو تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے،
Indeed the only true religion in the sight of Allah is Islam; those who had received the Books differed only after the knowledge came to them, due to their hearts’ envy; and whoever disbelieves in the signs of Allah, then Allah is Swift At Taking Account.
बेशक अल्लाह के यहाँ इस्लाम ही दीन है और फूट में न पड़े किताबी मगर उस के कि उन्हें इल्म आ चुका अपने दिलों की जलन से और जो अल्लाह की आयतों का मुनकर हो तो बेशक अल्लाह जल्द हिसाब लेने वाला है,
Beshak Allah ke yahaan Islam hi deen hai, aur phoot mein na paday kitabi magar iske ke unhe ilm aa chuka apne dilon ki jalan se, aur jo Allah ki aayaton ka munkir ho to beshak Allah jald hisaab lene wala hai,
(ف40)اس کے سوا کوئی اور دین مقبول نہیں یہود و نصارٰی وغیرہ کفار جو اپنے دین کو افضل و مقبول کہتے ہیں اس آیت میں ان کے دعوٰے کو باطل کردیا۔(ف41)یہ آیت یہود و نصارٰی کے حق میں وارد ہوئی جنہوں نے اسلام کو چھوڑا اور انہوں نے سیّد انبیاء محمد مصطفےٰصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت میں اختلاف کیا۔(ف42)وہ اپنی کتابوں میں سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت دیکھ چکے اور انہوں نے پہچان لیا کہ یہی وہ نبی ہیں جن کی کتبِ الٰہیہ میں خبریں دی گئی ہیں۔(ف43)یعنی ان کے اختلاف کا سبب ان کا حسد اور منافع دنیویہ کی طمع ہے۔
پھر اے محبوب! اگر وہ تم سے حجت کریں تو فرمادو میں اپنا منہ اللہ کے حضور جھکائے ہوں اور جو میرے پیرو ہوئے (ف٤٤) اور کتابیوں اور اَن پڑھوں سے فرماؤ (ف٤۵) کیا تم نے گردن رکھی (ف٤٦) پس اگر وہ گردن رکھیں جب تو راہ پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو تم پر تو یہی حکم پہنچادینا ہے (ف٤۷) اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے،
Then if they argue with you, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) say, “I have submitted my face (self) to Allah and likewise have my followers”; and say to the People given the Book(s) and the illiterate, “Have you submitted (accepted Islam)?” If they submit, they have attained the right path – and if they turn away (reject), then your duty is only to convey this command; and Allah is seeing the bondmen.
फिर ऐ महबूब! अगर वो तुम से हुज्जत करें तो फ़रमा दो मैं अपना मुँह अल्लाह के हुज़ूर झुकाये हूँ और जो मेरे पीरो हुए और किताबियों और अनपढ़ों से फ़रमाओ क्या तुम ने गर्दन रखी पस अगर वो गर्दन रखें जब तो राह पा गये और अगर मुँह फेरीं तो तुम पर तो यही हुक्म पहुँचाना है और अल्लाह बन्दों को देख रहा है,
Phir aye mehboob, agar woh tum se hujjat karein to farma do main apna munh Allah ke huzoor jhukaaye hoon aur jo mere peero hue, aur kitabon walon aur an parhon se farmaao kya tumne gardan rakhi? Pas agar woh gardan rakhein to raah pa gaye, aur agar munh pherain to tum par to yahi hukum pahuncha dena hai, aur Allah bandon ko dekh raha hai,
(ف44)یعنی میں اور میرے متبعین ہمہ تن اللہ تعالےٰ کے فرمانبردار اور مطیع ہیں ہمارا دین دینِ توحید ہے جس کی صحت تمہیں خود اپنی کتابوں سے بھی ثابت ہو چکی ہے تو اس میں تمہارا ہم سے جھگڑا کرنابالکل باطل ہے(ف45)جتنے کافر غیر کتابی ہیں وہ اُمیّین میں داخل ہیں انہیں میں سے عرب کے مشرکین بھی ہیں۔(ف46)اور دین اسلام کے حضور سر نیاز خم کیا یا باوجود براہین بیّنہ قائم ہونے کے تم ابھی تک اپنے کفر پر ہو یہ دعوت ِ اسلام کا ایک پیرایہ ہے اور اس طرح انہیں دینِ حق کی طرف بلایا جاتا ہے(ف47)وہ تم نے پورا کر ہی دیا اس سے انہوں نے نفع نہ اٹھایا تو نقصان میں وہ رہے اس میں حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکین خاطر ہے کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے سے رنجیدہ نہ ہوں۔
وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے (ف٤۸) اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درناک عذاب کی ،
Those who disbelieve in the signs of Allah, and wrongfully martyr the Prophets, and slay people who enjoin justice – so give them the glad tidings of a painful punishment.
वो जो अल्लाह की आयतों से मुनकर होते और पैग़म्बरों को नाहक़ शहीद करते और इंसाफ़ का हुक्म करने वालों को क़त्ल करते हैं उन्हें खुशख़बरी दो दर्दनाक अज़ाब की,
Woh jo Allah ki aayaton se munkir hote aur paighambaron ko na-haq shaheed karte aur insaaf ka hukum karne walon ko qatl karte hain, unhein khushkhabri do dardnaak azaab ki,
(ف48)جیسا کہ بنی اسرائیل نے صبح کو ایک ساعت کے اندر تینتالیس(۴۳) نبیوں کو قتل کیا پھر جب ان میں سے ایک سو بارہ عابدوں نے اٹھ کر انہیں نیکیوں کا حکم دیااور بدیوں سے منع کیا تو اسی روز شام کو انہیں بھی قتل کردیا اس آیت میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے یہود کو تو بیخ ہے کیونکہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے ایسے بدترین فعل سے راضی ہیں
یہ ہیں وہ جنکے اعمال اکارت گئے دنیا و آخرت میں (ف٤۹) اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۵۰)
They are those whose deeds are wasted in this world and in the Hereafter; and they do not have any aides.
ये हैं वो जिन के आमाल अकारत गये दुनिया व आख़िरत में और उन का कोई मददगार नहीं
Ye hain woh jinke aamaal akarat gaye duniya o aakhirat mein, aur unka koi madadgaar nahin,
(ف49)مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی جناب میں بے ادبی کفر ہے اور یہ بھی کہ کُفر سے تمام اعمال اکارت ہوجاتے ہیں(ف50)کہ انہیں عذابِ الٰھی سے بچائے۔
کیا تم نے انہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا (ف۵۱) کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ وہ ان کا فیصلہ کرے پھر ان میں کا ایک گروہ اس سے روگرداں ہو کر پھر جاتا ہے (ف۵۲)
Did you not see them who have received a part of the Book – when called towards the Book of Allah for judging between them, a group of them opposes it and turns away?
क्या तुम ने उन्हें देखा जिन को किताब का एक हिस्सा मिला किताब अल्लाह की तरफ़ बुलाये जाते हैं कि वो उन का फ़ैसला करे फिर उन में का एक गिरोह उस से रुग़र्दाँ हो कर फिर जाता है
Kya tumne unhein dekha jinhin kitaab ka ek hissa mila? Kitaab Allah ki taraf bulaye jaate hain ke woh unka faisla kare, phir unmein ka ek groh usse roogardaan ho kar phir jaata hai,
(ف51)یعنی یہود کو کہ انہیں توریت شریف کے علوم و احکام سکھائے گئے تھے جن میں سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف و احوال اور دینِ اسلام کی حقانیت کا بیان ہے اس سے لازم آتا تھا کہ جب حضور تشریف فرما ہوں اور انہیں قرآنِ کریم کی طرف دعوت دیں تو وہ حضور پر اور قرآن شریف پر ایمان لائیں اور اس کے احکام کی تعمیل کریں لیکن ان میں سے بہتوں نے ایسا نہیں کیا اس تقدیر پر آیت میں مِنَ الْکِتَابِ سے توریت اور کتاب اللہ سے قرآن شریف مراد ہے۔(ف52)شان نزول اس آیت کے شان نزول میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت یہ آئی ہے کہ ایک مرتبہ سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم بیت المِدراس میں تشریف لے گئے اور وہاں یہود کو اسلام کی دعوت دی نُعَیۡم ابن عمرو اور حارث ابن زید نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کس دین پر ہیں فرمایا، ملّتِ ابراہیمی پر وہ کہنے لگے حضرت ابراہیم علیہ السلام تو یہودی تھے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا توریت لاؤ ابھی ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ ہوجائے گا اس پر نہ جمے اور منکر ہوگئے اس پر یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی اس تقدیر پر آیت میں کتاب اللہ سے توریت مراد ہے انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ یہود خیبر میں سے ایک مر دنے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا تھا اور توریت میں ایسے گناہ کی سزا پتھر مار مار کر ہلاک کردینا ہے لیکن چونکہ یہ لوگ یہودیوں میں اونچے خاندان کے تھے اس لئے انہوں نے ان کا سنگسار کرنا گوارہ نہ کیا اوراس معاملہ کو بایں امید سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے پاس لائے کہ شایدآپ سنگسار کرنے کا حکم نہ دیں مگر حضور نے ان دونوں کے سنگسار کرنے کا حکم دیا اس پر یہود طیش میں آئے اور کہنے لگے کہ اس گناہ کی یہ سزا نہیں آپ نے ظلم کیا ، حضور نے فرمایا کہ فیصلہ توریت پر رکھو کہنے لگے یہ انصاف کی بات ہے توریت منگائی گئی اور عبداللہ بن صوریا یہود کے بڑے عالم نے اس کو پڑھا اس میں آیت رجم آئی جس میں سنگسار کرنے کا حکم تھا عبداللہ نے اس پر ہاتھ رکھ لیا اور اس کو چھوڑ گیا حضرت عبداللہ بن سلام نے اس کا ہاتھ ہٹا کر آیت پڑھ دی یہودی ذلیل ہوئے اور وہ یہودی مرد و عورت جنہوں نے زنا کیا تھا حضور کے حکم سے سنگسار کئے گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
یہ جرأت (ف۵۳) انہیں اس لئے ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہرگز ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر گنتی کے دنوں (ف۵٤) اور ان کے دین میں انہیں فریب دیا اس جھوٹ نے جو باندھتے تھے (ف۵۵)
They dared to do this because they say, “The fire will definitely not touch us except for a certain number of days”; and they are deceived in their religion by the lies they fabricated.
ये जुर्रअत उन्हें इस लिये हुई कि वो कहते हैं हरगिज़ हमें आग न छुएगी मगर गिनती के दिनों और उन के दीन में उन्हें फ़रेब दिया उस झूट ने जो बाँधते थे
Ye jurrat unhein is liye hui ke woh kehte hain har-giz humein aag na chhoye gi magar ginti ke dino ki, aur unke deen mein unhein fareb diya is jhoot ne jo bandhte the,
(ف53)کتابِ الٰہی سے رو گردانی کرنے کی۔(ف54)یعنی چالیس دن یا ایک ہفتہ پھر کچھ غم نہیں۔(ف55)اور ان کا یہ قول تھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں وہ ہمیں گناہوں پر عذاب نہ کرے گا مگر بہت تھوڑی مدت
تو کیسی ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن کے لئے جس میں شک نہیں (ف۵٦) اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھر (بالکل پوری) دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
So what will be (their state) when We bring all of them together for the Day (of Resurrection) about which there is no doubt; and every soul will be paid back in full for what it has earned, and they will not be wronged.
तो कैसी होगी जब हम उन्हें अकठ्ठा करेंगे उस दिन के लिये जिस में शक नहीं और हर जान को उस की कमाई पूरी भर (बिलकुल पूरी) दी जायेगी और उन पर ज़ुल्म न होगा,
To kaisi hogi jab hum unhein akhatta karenge us din ke liye jismein shakk nahin, aur har jaan ko uski kamaai poori bhar di jaayegi, aur unpar zulm na hoga,
یوں عرض کر، اے اللہ ! ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جس سے چاہے چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے، بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے (ف۵۷)
Invoke (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O Allah! Owner Of The Kingdom – You bestow the kingdom on whomever You will, and You take back the kingdom from whomever You will; and You give honour to whomever You will, and You humiliate whomever You will; only in Your Hand (control) lies all goodness; indeed, You are Able to do all things.”
यूँ अर्ज़ कर, ऐ अल्लाह! मुल्क के मालिक तू जिसे चाहे सल्तनत दे और जिस से चाहे छीन ले, और जिसे चाहे इज़्ज़त दे और जिसे चाहे ज़िल्लत दे, सारी भलाई तेरे ही हाथ है, बेशक तू सब कुछ कर सकता है
Yoon arz kar, aye Allah! Mulk ke malik, tu jise chahe saltanat de, aur jise chahe cheen le, aur jise chahe izzat de, aur jise chahe zillat de, sari bhalai tere hi haath hai, beshak tu sab kuch kar sakta hai,
(ف57)شانِ نزول فتح مکہ کے وقت سیّد انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو ملک فارس و روم کی سلطنت کا وعدہ دیا تو یہود و منافقین نے اس کو بہت بعید سمجھا اور کہنے لگے کہاں محمد مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور کہاں فارس و روم کے ملک وہ بڑے زبردست اور نہایت محفوظ ہیں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور آخر کار حضور کا وہ وعدہ پورا ہوکررہا۔
تو دن کا حصّہ رات میں ڈالے اور رات کا حصہ دن میں ڈالے (ف۵۸) اور مردہ سے زندہ نکالے اور زندہ سے مردہ نکالے (ف۵۹) اور جسے چاہے بےگنتی دے،
“You cause part of the night to pass into the day, and You cause part of the day to pass into the night; and You bring forth the living from the dead, and You bring forth the dead from the living; and You give to whomever You will, without account.”
तू दिन का हिस्सा रात में डाले और रात का हिस्सा दिन में डाले और मुर्दा से ज़िन्दा निकाले और ज़िन्दा से मुर्दा निकाले और जिसे चाहे बिन गिनती दे,
Tu din ka hissa raat mein daale aur raat ka hissa din mein daale, aur murda se zinda nikaale, aur zinda se murda nikaale, aur jise chahe be-ginti de,
(ف58)یعنی کبھی رات کو بڑھائے دن کو گھٹائے اور کبھی دن کو بڑھا کر رات کو گھٹائے یہ تیری قدرت ہے تو فارس و روم سے ملک لے کر غلامانِ مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کو عطا کرنا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے(ف59)زندے سے مردے کا نکالنا اس طرح ہے جیسے کہ زندہ انسان کو نطفۂ بے جان سے اور پرند کے زندہ بچے کو بے روح انڈے سے اور زندہ دِل مؤمن کو مردہ دل کافر سے اور زندہ سے مُردہ نکالنا اس طرح جیسے کہ زندہ انسان سے نطفۂ بے جان اور زندہ پرند سے بے جان انڈا اور زندہ دل ایمان دار سے مردہ دِل کافر
مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا (ف٦۰) اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو (ف٦۱) اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،
The Muslims must not befriend the disbelievers, in preference over the Muslims; whoever does that has no connection whatsoever with Allah, except if you fear them; Allah warns you of His wrath; and towards Allah only is the return.
मुसलमान काफ़िरों को अपना दोस्त न बना लें मुसलमानों के सवा और जो ऐसा करेगा उसे अल्लाह से कुछ ताल्लुक़ न रहा मगर ये कि तुम उन से कुछ डरो और अल्लाह तुम्हें अपने ग़ज़ब से डराता है और अल्लाह ही की तरफ़ फिरना है,
Musalman kafiron ko apna dost na bana lein musalmanon ke siwa, aur jo aisa karega usse Allah se kuch alaqa na raha magar ye ke tum unse kuch daro, aur Allah tumhein apne ghazab se darata hai, aur Allah hi ki taraf phirna hai,
(ف60)شانِ نزول حضرت عبادہ ابنِ صامت نے جنگِ احزاب کے دِن سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے عرض کیا کہ میرے ساتھ پانچسو یہودی ہیں جو میرے حلیف ہیں میری رائے ہے کہ میں دشمن کے مقابل ان سے مدد حاصل کروں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور کافروں کو دوست اور مدد گار بنانے کی ممانعت فرمائی گئی۔(ف61)کفار سے دوستی و محبّت ممنوع و حرام ہے، انہیں راز دار بنانا اُن سے موالات کرنا ناجائز ہے اگر جان یا مال کا خوف ہو تو ایسے وقت صرف ظاہری برتاؤ جائز ہے۔
تم فرمادو کہ اگر تم اپنے جی کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے، اور جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور ہر چیز پر اللہ کا قابو ہے،
Say, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Whether you hide or reveal whatever is in your hearts, Allah knows it all; and He knows all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and Allah has control over all things.”
तुम फ़रमा दो कि अगर तुम अपने जी की बात छुपाओ या ज़ाहिर करो अल्लाह को सब मालूम है, और जानता है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में है, और हर चीज़ पर अल्लाह का क़ाबू है,
Tum farma do ke agar tum apne ji ki baat chhupao ya zaahir karo Allah ko sab maaloom hai, aur jaanta hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein hai, aur har cheez par Allah ka qaboo hai,
جس دن ہر جان نے جو بھلا کیا حاضر پائے گی (ف٦۲) اور جو برا کام کیا، امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا (ف٦۳) اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے ، اور اللہ بندوں پر مہربان ہے،
On the Day when every soul will be confronted with all the good that it has done; and all the evil that it has done – it will wish that perhaps there would have been a great distance between itself and the punishment; and Allah warns you of His punishment; and Allah is Most Compassionate towards His bondmen.
जिस दिन हर जान ने जो भला किया हाज़िर पायेगी और जो बुरा काम किया, उम्मीद करेगी काश मुझ में और उस में दूर का फ़ासिला होता और अल्लाह तुम्हें अपने अज़ाब से डराता है, और अल्लाह बन्दों पर मेहरबान है,
Jis din har jaan ne jo bhala kiya haazir paayegi aur jo bura kaam kiya, ummeed karegi kaash mujh mein aur usmein door ka faasla hota, aur Allah tumhein apne azaab se darata hai, aur Allah bandon par mehrban hai,
(ف62)یعنی روز قیامت ہر نفس کو اعمال کی جزا ملے گی اور اس میں کچھ کمی و کوتاہی نہ ہوگی(ف63)یعنی میں نے یہ برا کام نہ کیا ہوتا
اے محبوب! تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا (ف٦٤) اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Proclaim, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O mankind! If you love Allah, follow me – Allah will love you and forgive you your sins”; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ऐ महबूब! तुम फ़रमा दो कि लोगो अगर तुम अल्लाह को दोस्त रखते हो तो मेरे फ़रमानबरदार हो जाओ अल्लाह तुम्हें दोस्त रखेगा और तुम्हारे गुनाह बख़्श देगा और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Aye mehboob! Tum farma do ke logo agar tum Allah ko dost rakhte ho to mere farmanbardaar ho jao, Allah tumhein dost rakhega aur tumhare gunah bakhsh dega, aur Allah bakhshne wala mehrban hai,
(ف64)اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی محبّت کا دعوٰی جب ہی سچّا ہوسکتا ہے جب آدمی سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا متبع ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اختیار کرے شانِ نزول حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے پاس ٹھہرے جنہوں نے خانہ کعبہ میں بت نصب کئے تھے اور انہیں سجا سجا کر ان کو سجدہ کررہے تھے حضور نے فرمایا اے گروہِ قریش خدا کی قسم تم اپنے آباء حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کے دین کے خلاف ہوگئے قریش نے کہا ہم ان بتوں کو اللہ کی محبت میں پوجتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کریں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ محبّتِ الٰہی کا دعوٰی سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے اتباع و فرماں برداری کے بغیر قابلِ قبول نہیں جو اس دعوے کا ثبوت دینا چاہے حضور کی غلامی کرے اور حضور نے بت پرستی کو منع فرمایا تو بت پرستی کرنے والا حضور کا نافرمان اور محبّتِ الٰہی کے دعوٰی میں جھوٹا ہے
تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا (ف٦۵) پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر،
Proclaim, “Obey Allah and the Noble Messenger”; so if they turn away – then Allah is not pleased with the disbelievers.
तुम फ़रमा दो कि हुक्म मानो अल्लाह और रसूल का फिर अगर वो मुँह फेरीं तो अल्लाह को खुश नहीं आते काफ़िर,
Tum farma do ke hukum maano Allah aur Rasool ka, phir agar woh munh pherain to Allah ko khush nahin aate kafir,
(ف65)یہی اللہ کی محبت کی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت بغیر اطاعتِ رسول نہیں ہوسکتی بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔
بیشک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی آل اولاد اور عمران کی آل کو سارے جہاں سے (ف٦٦)
Indeed Allah chose Adam, and Nooh, and the Family of Ibrahim, and the Family of Imran over the creation.
बेशक अल्लाह ने चुन लिया आदम और नूह और इबराहीम की आल औलाद और इमरान की आल को सारे जहाँ से
Beshak Allah ne chun liya Aadam aur Nooh aur Ibraheem ki aale aulaad aur Imran ki aale ko saare jahan se,
(ف66)یہود نے کہا تھا کہ ہم حضرت ابراہیم و اسحٰق و یعقوب علیہم الصلوٰۃ والسلام کی اولاد سے ہیں اور انہیں کے دین پر ہیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور بتادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو اسلام کے ساتھ برگزیدہ کیا تھا اور تم اے یہود اسلام پر نہیں ہو تو تمہارا یہ دعوٰی غلط ہے
جب عمران کی بی بی نے عرض کی (ف٦۸) اے رب میرے! میں تیرے لئے منت مانتی ہو جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے (ف٦۹) تو تو مجھ سے قبول کرلے بیشک تو ہی سنتا جانتا،
(Remember) When the wife of Imran said, “My Lord! I pledge to you what is in my womb – that it shall be dedicated purely in Your service, so accept it from me; indeed You only are the All Hearing, the All Knowing.”
जब इमरान की बीबी ने अर्ज़ की ऐ रब मेरे! मैं तेरे लिये मनत मानती हूँ जो मेरे पेट में है कि ख़ालिस तेरी ही ख़िदमत में रहे तू तो मुझ से क़बूल कर ले बेशक तू ही सुनता जानता,
Jab Imran ki biwi ne arz ki, aye Rab mere, main tere liye manat maanti hoon jo mere pait mein hai, ke khaalis teri hi khidmat mein rahe, to tu mujhse qubool kar le, beshak tu hi sunta jaanta,
(ف68)عمران دو ہیں ایک عمران بن یَصۡھُرۡ بن فاہث بن لاوٰی بن یعقوب یہ تو حضرت موسٰی و ہارون کے والد ہیں دوسرے عمران بن ماثان یہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ مریم کے والد ہیں دونوں عمرانوں کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو برس کا فرق ہے یہاں دوسرے عمران مراد ہیں ان کی بی بی صاحبہ کا نام حَنَّہ بنت فاقوذا ہے یہ مریم کی والدہ ہیں۔(ف69)اور تیری عبادت کے سوا دنیا کا کوئی کام اس کے متعلق نہ ہو بیت المقدِس کی خدمت اس کے ذمہ ہو علماء نے واقعہ اس طرح ذکر کیا ہے کہ حضرت زکریاء و عمران دونوں ہم زُلف تھے فاقوذا کی دُختر ایشاع جو حضرت یحیٰی کی والدہ ہیں اور ان کی بہن حَنَّہ جو فاقوذا کی دوسری دختر اور حضرت مریم کی والدہ ہیں وہ عمران کی بی بی تھیں ایک زمانہ تک حَنَّہ کے اولاد نہیں ہوئی یہاں تک کہ بڑھاپا آگیا اور مایوسی ہوگئی یہ صالحین کا خاندان تھا اور یہ سب لوگ اللہ کے مقبول بندے تھے ایک روز حَنَّہ نے ایک درخت کے سایہ میں ایک چڑیا دیکھی جو اپنے بچہ کو بھرا رہی تھی یہ دیکھ کر آپ کی دل میں اولاد کا شوق پیدا ہوا اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ یارب اگر تو مجھے بچہ دے تو میں اس کو بیت المقدِس کا خادم بناؤں اور اس خدمت کے لئے حاضر کردوں جب وہ حاملہ ہوئیں اور انہوں نے یہ نذر مان لی تو ان کے شوہر نے فرمایا:کہ یہ تم نے کیا کیا اگر لڑکی ہوگی تو وہ اس قابل کہاں ہے اس زمانہ میں لڑکوں کو خدمتِ بیتُ المقْدِس کے لئے دیا جاتا تھا اور لڑکیاں عوارض نسائی اور زنانہ کمزوریوں اور مردوں کے ساتھ نہ رہ سکنے کی وجہ سے اس قابل نہیں سمجھی جاتی تھیں اس لئے ان صاحبوں کو شدید فکر لاحق ہوئی اورحَنَّہ کے وضع حمل سے قبل عمران کا انتقال ہوگیا۔
پھر جب اسے جنا بولی، اے رب میرے! یہ تو میں نے لڑکی جنی (ف۷۰) اور اللہ جو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ جنی، اور وہ لڑکا جو اس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں (ف۷۱) اور میں نے اس کا نام مریم رکھا (ف۷۲) اور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے،
So when she gave birth to it, she said, “My Lord! I have indeed given birth to a girl!” And Allah well knows what she gave birth to; and the boy she had prayed for is not like this girl; “And I have named her Maryam and I give her and her offspring in Your protection, against Satan the outcast.”
फिर जब उसे जना बोली, ऐ रब मेरे! ये तो मैंने लड़की जनी और अल्लाह जो खूब मालूम है जो कुछ वो जनी, और वो लड़का जो उस ने माँगा उस लड़की सा नहीं और मैंने उस का नाम मरयम रखा और मैं उसे और उस की औलाद को तेरी पनाह में देती हूँ रांदे हुए शैतान से,
Phir jab use janaa boli, aye Rab mere! Ye to maine ladki jani, aur Allah jo khoob maaloom hai jo kuch woh jani, aur woh ladka jo usne maanga us ladki sa nahin, aur maine uska naam Maryam rakha, aur main use aur uski aulaad ko teri panaah mein deti hoon raanday huye shaitaan se,
(ف70)حَنَّہ نے یہ کلمہ اعتذار کے طور پر کہا اور ان کو حسرت و غم ہوا کہ لڑکی ہوئی تو نذر کسی طرح پوری ہوسکے گی(ف71)کیونکہ یہ لڑکی اللہ کی عطا ہے اور اس کے فضل سے فرزند سے زیادہ فضیلت رکھنے والی ہے یہ صاحب زادی حضرت مریم تھیں اور اپنے زمانہ کی عورتوں میں سب سے اجمل وافضل تھیں(ف72)مریم کے معنی عابدہ ہیں۔
تو اسے اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا (ف۷۳) اور اسے اچھا پروان چڑھایا (ف۷٤) اور اسے زکریا کی نگہبانی میں دیا، جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے (ف۷۵) کہا اے مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا، بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بےگنتی دے (ف۷٦)
So her Lord fully accepted her (Maryam), and gave her an excellent development; and gave her in Zakaria’s guardianship; whenever Zakaria visited her at her place of prayer, he found new food with her; he said, “O Maryam! From where did this come to you?” She answered, “It is from Allah; indeed Allah gives to whomever He wills, without limit account.” (Miracles occur through the friends of Allah.)
तो उसे उस के रब ने अच्छी तरह क़बूल किया और उसे अच्छा परवान चढ़ाया और उसे ज़करिया की निगहबानी में दिया, जब ज़करिया उस के पास उस की नमाज़ पढ़ने की जगह जाते उस के पास नया रिज़्क़ पाते कहा ऐ मरयम! ये तेरे पास कहाँ से आया, बोलीं वो अल्लाह के पास से है, बेशक अल्लाह जिसे चाहे बिन गिनती दे
To use uske Rab ne achhi tarah qubool kiya aur use achha parwaan chadhaya, aur use Zakariya ki nigahbani mein diya, jab Zakariya uske paas uski namaz padhne ki jagah jaate uske paas naya rizq paate, kaha aye Maryam! Ye tere paas kahaan se aaya? Bolin, woh Allah ke paas se hai, beshak Allah jise chahe be-ginti de,
(ف73)اور نذر میں لڑکے کی جگہ حضرت مریم کو قبول فرما یا حَنَّہ نے ولادت کے بعد حضرت مریم کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیتُ المقْدِس میں احبار کے سامنے رکھ دیا یہ احبار حضرت ہارون کی اولاد میں تھے اوربیتُ المقْدِس میں ان کا منصب ایسا تھا جیسا کہ کعبہ شریف میں حجبہ کا چونکہ حضرت مریم ان کے امام اور ان کے صاحبِ قربان کی دختر تھیں اور ان کا خاندان بنی اسرائیل میں بہت اعلٰی اور اہل علم کا خاندان تھا اسلئے ان سب نے جن کی تعداد ستائیس تھی حضرت مریم کو لینے اور ان کا تکفّل کرنے کی رغبت کی حضرت زکریا نے فرمایا کہ میں ان کا سب سے زیادہ حقدار ہوں کیونکہ میرے گھر میں ان کی خالہ ہیں معاملہ اس پر ختم ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے قرعہ حضرت زکریا ہی کے نام پر نکلا۔(ف74)حضرت مریم ایک دن میں اتنا بڑھتی تھیں جتنا اور بچے ایک سال میں۔(ف75)بے فصل میوے جو جنت سے اترتے اور حضرت مریم نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا۔(ف76)حضرت مریم نے صِغرِسنی میں کلام کیا جب کہ وہ پالنے میں پرورش پارہی تھیں جیسا کہ ان کے فرزند حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اسی حال میں کلام فرمایا مسئلہ یہ آیت کراماتِ اولیاء کے ثبوت کی دلیل ہے کہ اللہ تعالےٰ اُن کے ہاتھوں پر خوارق ظاہر فرماتا ہے حضرت زکریا نے جب یہ دیکھا تو فرمایا جو ذات پاک مریم کو بے وقت بے فصل اور بغیر سبب کے میوہ عطا فرمانے پر قادر ہے وہ بے شک اس پر قادر ہے کہ میری بانجھ بی بی کو نئی تندرستی دے اور مجھے اس بڑھاپے کی عمر میں امید منقطع ہوجائے کے بعد فرزند عطا کرے بایں خیال آپ نے دعا کی جس کا اگلی آیت میں بیان ہے۔
تو فرشتوں نے اسے آواز دی اور وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا (ف۷۸) بیشک اللہ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحییٰ کا جو اللہ کی طرف کے ایک کلمہ کی (ف۷۹) تصدیق کرے گا اور سردار (ف۸۰) اور ہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے (ف۸۱)
And the angels called out to him while he was standing, offering prayer at his place of worship, “Indeed Allah gives you glad tidings of Yahya (John), who will confirm a Word (or sign) from Allah, – a leader, always refraining from women, a Prophet from one of Our devoted ones.”
तो फ़रिश्तों ने उसे आवाज़ दी और वो अपनी नमाज़ की जगह खड़ा नमाज़ पढ़ रहा था बेशक अल्लाह आप को मुझ्दा देता है यहया का जो अल्लाह की तरफ़ के एक कलमा की तसदीक़ करेगा और सरदार और हमेशा के लिये औरतों से बचने वाला और नबी हमारे ख़ासों में से
To farishton ne use awaaz di, aur woh apni namaz ki jagah khada namaz padh raha tha, beshak Allah aap ko mujda deta hai Yahya ka, jo Allah ki taraf ke ek kalma ki tasdiq karega, aur sardar aur hamesha ke liye auraton se bachne wala aur Nabi hamare khaason mein se,
(ف78)حضرت زکریا علیہ السلام عالم کبیر تھے ۔قربانیاں بارگاہِ الٰہی میں آپ ہی پیش کیا کرتے تھے اور مسجد شریف میں بغیر آپ کے اِذۡن کے کوئی داخل نہیں ہوسکتا تھا جس وقت محراب میں آپ نماز میں مشغول تھے اور باہر آدمی دخول کی اجازت کا انتظار کررہے تھے دروازہ بند تھا اچانک آپ نے ایک سفید پوش جوان دیکھا وہ حضرت جبریل تھے انہوں نے آپ کو فرزند کی بشارت دی جو اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ میں بیان فرمائی گئی۔(ف79)کلمہ سے مراد حضرت عیسٰی ابنِ مریم ہیں کہ انہیں اللہ تعالےٰنے کُن فرما کر بغیر باپ کے پیدا کیا اور ان پر سب سے پہلے ایمان لانے اور ان کی تصدیق کرنے والے حضرت یحیٰی ہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام سے عمر میں چھ ماہ بڑے تھے یہ دونوں حضرات خالہ زاد بھائی تھے حضرت یحیٰی کی والدہ اپنی بہن حضرت مریم سے ملیں تو انہیں اپنے حاملہ ہونے پر مطلع کیا حضرت مریم نے فرمایا میں بھی حاملہ ہوں حضرت یحیٰی کی والدہ نے کہا اے مریم مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میرے پیٹ کا بچہ تمہارے پیٹ کے بچے کو سجدہ کرتا ہے۔(ف80)سیّد اس رئیس کو کہتے ہیں جو مخدوم و مُطَاع ہو حضرت یحیٰی مؤمنین کے سردار اور علم و حلم و دین میں ان کے رئیس تھے۔(ف81)حضرت زکریا علیہ السلام نے براہ تعجب عرض کیا ۔
بولا اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو پہنچ گیا بڑھا پا (ف۸۲) اور میری عورت بانجھ (ف۸۳) فرمایا اللہ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے (ف۸٤)
He said, “My Lord! How can I have a son when old age has reached me and my wife is barren?” He said, “This is how Allah brings about, whatever He wills.”
बोला ऐ मेरे रब मेरे लड़का कहाँ से होगा मुझे तो पहुँच गया बढ़ापा और मेरी औरत बाँझ फ़रमाया अल्लाह यूँ ही करता है जो चाहे
Bola aye mere Rab mere ladka kahaan se hoga? Mujhe to pahuncha badaapa aur meri aurat baanjh, farmaya Allah yoon hi karta hai jo chahe,
(ف82)اور عمر ایک سو بیس سال کی ہوچکی۔(ف83)ان کی عمر اٹھانوے سال کی مقصود سوال سے یہ ہےکہ بیٹا کس طرح عطا ہوگا آیا میری جوانی لوٹائی جائے گی اور بی بی کا بانجھ ہونا دور کیا جائے گا یا ہم دونوں اپنے حال پر رہیں گے۔(ف84)بڑھاپے میں فرزند عطا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ۔
عرض کی اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی کردے (ف۸۵) فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تین دن تو لوگوں سے بات نہ کرے مگر اشارہ سے اور اپنے رب کی بہت یاد کر (ف۸٦) اور کچھ دن رہے اور تڑکے اس کی پاکی بول،
He said, “My Lord! Determine a sign for me”; He said, “The sign is that you shall not be able to speak to mankind for three days except by signs; and remember your Lord profusely, and proclaim His Purity before sunset and at dawn.”
अर्ज़ की ऐ मेरे रब मेरे लिये कोई निशानी कर दे फ़रमाया तेरी निशानी ये है कि तीन दिन तू लोगों से बात न करे मगर इशारा से और अपने रब की बहुत याद कर और कुछ दिन रहे और तड़के उस की पाकी बोल,
Arz ki aye mere Rab mere liye koi nishani kar de, farmaya teri nishani ye hai ke teen din tu logon se baat na kare magar ishaara se, aur apne Rab ki bohot yaad kar aur kuch din rahe aur tadke uski paaki bol,
(ف85)جس سے مجھے اپنی بی بی کے حمل کا وقت معلوم ہوتا کہ میں اور زیادہ شکر و عبادت میں مصروف ہوں(ف86)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آدمیوں کے ساتھ گفتگو کرنے سے زبان مبارک تین روز تک بند رہی اور تسبیح و ذکر پر آپ قادر رہے اوریہ ایک عظیم معجزہ ہے کہ جس میں جوارح صحیح و سالم ہوں اور زبان سے تسبیح و تقدیس کے کلمات ادا ہوتے رہیں مگر لوگوں کے ساتھ گفتگو نہ ہوسکے اور یہ علامت اس لئے مقرر کی گئی کہ اس نعمتِ عظیمہ کے ادائے حق میں زبان ذکر و شکر کے سوا اور کسی بات میں مشغول نہ ہو۔
اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تجھے چن لیا (ف۸۷) اور خوب ستھرا کیا (ف۸۸) اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا (ف۸۹)
And when the angels said, “O Maryam! Indeed Allah has chosen you and purified you, and has this day, chosen you among all the women of the world.”
और जब फ़रिश्तों ने कहा, ऐ मरयम, बेशक अल्लाह ने तुझे चुन लिया और खूब सुथरा किया और आज सारे जहाँ की औरतों से तुझे पसन्द किया
Aur jab farishton ne kaha, aye Maryam, beshak Allah ne tujhe chun liya aur khoob suthra kiya aur aaj saare jahan ki auraton se tujhe pasand kiya,
(ف87)کہ باوجود عورت ہونے کے بیت المقدِس کی خدمت کے لئے نذر میں قبول فرمایا اور یہ بات اُن کے سوا کسی عورت کو میسّر نہ آئی اسی طرح ان کے لئے جنتی رزق بھیجنا حضرت زکریا کو ان کا کفیل بنانا یہ حضرت مریم کی برگزیدگی ہے۔(ف88)مرد رسیدگی سے اور گناہوں سے اور بقول بعضے زنانے عوارض سے۔(ف89)کہ بغیر باپ کے بیٹا دیا اور ملائکہ کا کلام سنوایا۔
یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں (ف۹۱) اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ مریم کس کی پرورش میں رہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے (ف۹۲)
These are tidings of the hidden, which We secretly reveal to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and you were not present with them when they threw their pens to draw lots, to know who should be the guardian of Maryam; nor were you present with them when they were quarrelling. (Yet you know of these things – this is a proof of your being a Prophet.)
ये ग़ैब की ख़बरें हैं कि हम ख़ुफ़िया तौर पर तुम्हें बताते हैं और तुम उन के पास न थे जब वो अपनी क़लमों से क़ुरआ डालते थे कि मरयम किस की परवरिश में रहें और तुम उन के पास न थे जब वो झगड़ रहे थे
Ye ghaib ki khabrein hain ke hum khufiya taur par tumhein batate hain, aur tum unke paas na the jab woh apni qalamon se qura daalte the ke Maryam kis ki parvarish mein rahe, aur tum unke paas na the jab woh jhagad rahe the,
(ف91)اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غیب کے علوم عطا فرمائے۔(ف92)باوجود اس کے آپ کا ان واقعات کی اطلاع دینا دلیل قوی ہے اس کی کہ آپ کو غیبی علوم عطا فرمائے گئے۔
اور یاد کرو جب فرشتوں نے مریم سے کہا، اے مریم! اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی (ف۹۳) جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار (باعزت) ہوگا (ف۹٤) دنیا اور آخرت میں اور قرب والا (ف۹۵)
And remember when the angels said, “O Maryam! Allah gives you glad tidings of a Word from Him, whose name is the Messiah, Eisa the son of Maryam – he will be honourable in this world and in the Hereafter, and among the close ones (to Allah).”
और याद करो जब फ़रिश्तों ने मरयम से कहा, ऐ मरयम! अल्लाह तुझे बशारत देता है अपने पास से एक कलमा की जिस का नाम है मसीह ईसा मरयम का बेटा रूदार (बा इज़्ज़त) होगा दुनिया और आख़िरत में और क़ुर्ब वाला
Aur yaad karo jab farishton ne Maryam se kaha, aye Maryam! Allah tujhe basharat deta hai apne paas se ek kalma ki, jiska naam hai Maseeh Isa Maryam ka beta, roodar (ba-izzat) hoga duniya aur aakhirat mein aur qurb wala,
(ف93)یعنی ایک فرزند کی ۔(ف94)صاحبِ جاہ و منزلت ۔(ف95) بارگاہِ الٰہی میں ۔
اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں (ف۹٦) اور پکی عمر میں (ف۹۷) اور خاصوں میں ہوگا، بولی اے میرے رب! میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا (ف۹۸)
“He will speak to people while he is in the cradle and in his adulthood, and will be of the devoted ones.”
और लोगों से बात करेगा पालने में और पक्की उमर में और ख़ासों में होगा, बोली ऐ मेरे रब! मेरा बच्चा कहाँ से होगा मुझे तो किसी शख़्स ने हाथ न लगाया
Aur logon se baat karega paalne mein aur paki umar mein, aur khaason mein hoga, boli aye mere Rab mere bacha kahaan se hoga? Mujhe to kisi shakhs ne haath na lagaya,
(ف96)بات کرنے کی عمر سے قبل۔(ف97)آسمان سے نزول کے بعد اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان سے زمین کی طرف اتریں گے جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے اور دجّال کو قتل کریں گے۔
فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے جب، کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے،
She said, “My Lord! How can I bear a child when no man has ever touched me?” He said, “This is how Allah creates whatever He wills; when He wills a thing, He only says to it, ‘Be’ – and it happens immediately.”
फ़रमाया अल्लाह यूँ ही पैदा करता है जो चाहे जब, किसी काम का हुक्म फ़रमाये तो उस से यही कहता है कि हो जा वो फ़ौरन हो जाता है,
Farmaya Allah yoon hi paida karta hai jo chahe, jab kisi kaam ka hukum farmaata hai to usse yahi kehta hai ke ho ja, woh foran ho jaata hai,
(ف98)اور دستور یہ ہے کہ بچہ عورت و مرد کے اختلاط سے ہوتا ہے تو مجھے بچہ کس طرح عطا ہوگا نکاح سے یا یونہی بغیر مرد کے۔
اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف، یہ فرماتا ہو کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں (ف۹۹) تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے (ف۱۰۰) اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو (ف۱۰۱) اور میں مردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے (ف۱۰۲) اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو، (ف۱۰۳) بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو،
“And he will be a Noble Messenger towards the Descendants of Israel saying, ‘I have come to you with a sign from your Lord, for I mould a birdlike sculpture from clay for you, and I blow into it and it instantly becomes a (living) bird, by Allah’s command; and I heal him who was born blind, and the leper, and I revive the dead, by Allah’s command; and I tell you what you eat and what you store in your houses; undoubtedly in these (miracles) is a great sign for you, if you are believers.’ (Several miracles bestowed to Prophet Eisa are mentioned here.)
और रसूल होगा बनी इस्राईल की तरफ़, ये फ़रमाता हो कि मैं तुम्हारे पास एक निशानी लाया हूँ तुम्हारे रब की तरफ़ से कि मैं तुम्हारे लिये मिट्टी से परिन्द की सी मूर्त बनाता हूँ फिर उस में फूँक मारता हूँ तो वो फ़ौरन परिन्द हो जाती है अल्लाह के हुक्म से और मैं शिफ़ा देता हूँ माँदरज़ाद अंधे और सफ़ेद दाग़ वाले को और मैं मुर्दे जिलाता हूँ अल्लाह के हुक्म से और तुम्हें बताता हूँ जो तुम खाते और जो अपने घरों में जमा कर रखते हो, बेशक उन बातों में तुम्हारे लिये बड़ी निशानी है अगर तुम ईमान रखते हो,
Aur Rasool hoga Bani Israeel ki taraf, ye farmata ho ke main tumhare paas ek nishani laaya hoon tumhare Rab ki taraf se, ke main tumhare liye mitti se parind ki si moorat banata hoon phir usmein phoonk maarta hoon to woh foran parind ho jaati hai Allah ke hukum se, aur main shifa deta hoon madar-zaad andhe aur safed daag wale ko, aur main murde jilaata hoon Allah ke hukum se, aur tumhein batata hoon jo tum khate aur jo apne gharon mein jama kar rakhte ho, beshak in baton mein tumhare liye badi nishani hai agar tum imaan rakhte ho,
(ف99)جو میرے دعوائے نبوّت کے صدق کی دلیل ہے۔(ف100)جب حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃوالسلام نے نبوت کا دعوٰی کیااور معجزات دکھائے تو لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ایک چمگادڑ پیدا کریں آپ نے مٹی سے چمگادڑ کی صورت بنائی پھر اس میں پھونک ماری تو وہ اڑنے لگی چمگادڑ کی خصوصیّت یہ ہے کہ وہ اڑنے والے جانوروں میں بہت اکمل اور عجیب تر ہے اور قدرت پر دلالت کرنے میں اوروں سے ابلغ کیونکہ وہ بغیر پروں کے تو اُڑتی ہے اور دانت رکھتی ہے اور ہنستی ہے اور اس کی مادہ کے چھاتی ہوتی ہے اور بچہ جنتی ہے باوجودیکہ اُڑنے والے جانوروں میں یہ باتیں نہیں ہیں(ف101)جس کا برص عام ہوگیا ہو اور اطبا اس کے علاج سے عاجز ہوں چونکہ حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں طب انتہاۓ عروج پر تھی اور اس کے ماہرین امر علاج میں یدطولٰے رکھتے تھے اس لئے ان کو اسی قسم کے معجزے دکھائے گئے تاکہ معلوم ہو کہ طب کے طریقہ سے جس کا علاج ممکن نہیں ہے اس کو تندرست کردینا یقیناً معجزہ اور نبی کے صدق نبوّت کی دلیل ہے وہب کا قول ہے کہ اکثر حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پاس ایک ایک دن میں پچاس پچاس ہزار مریضوں کا اجتماع ہوجاتا تھا ان میں جو چل سکتا تھا وہ حاضر خدمت ہوتا تھا اور جسے چلنے کی طاقت نہ ہوتی اس کے پاس خود حضرت تشریف لے جاتے اور دعا فرما کر اس کو تندرست کرتے اور اپنی رسالت پر ایمان لانے کی شرط کرلیتے۔(ف102)حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام نے چار شخصوں کو زندہ کیا ایک عازر جس کو آپ کے ساتھ اخلاص تھا جب اس کی حالت نازک ہوئی تو اس کی بہن نے آپ کو اطلاع دی مگر وہ آپ سے تین روز کی مسافت کے فاصلہ پر تھا جب آپ تین روز میں وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ اس کے انتقال کو تین روز ہوچکے آپ نے اس کی بہن سے فرمایا ہمیں اس کی قبر پر لے چل وہ لے گئی آپ نے اللہ تعالٰے سے دعا فرمائی عاز ر باذن الہٰی زندہ ہو کر قبر سے باہر آیا اور مدّت تک زندہ رہا اور اس کے اولاد ہوئی ایک بڑھیا کا لڑکا جس کا جنازہ حضرت کے سامنے جارہا تھا آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی وہ زندہ ہو کر نعش برداروں کے کندھوں سے اتر پڑا کپڑے پہنے گھر آیا زندہ رہا اولاد ہوئی ایک عاشر کی لڑکی شام کو مری اللہ تعالٰی نے حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کی دعا سے اس کو زندہ کیا ایک سام بن نوح جن کی وفات کو ہزاروں برس گزر چکے تھے لوگوں نے خواہش کی کہ آپ ان کو زندہ کریں آپ ان کی نشاندہی سے قبر پر پہنچے اور اللہ تعالٰی سے دعا کی سام نے سنا کوئی کہنے والا کہتا ہے اَجِبْ رُوْحَ اللہ یہ سنتے ہی وہ مرعوب اور خوف زدہ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں گمان ہوا کہ قیامت قائم ہوگئی اس ہول سے ان کا نصف سر سفید ہوگیا، پھر وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام پر ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام سے درخواست کی کہ دوبارہ انہیں سکرات موت کی تکلیف نہ ہو بغیر اس کے واپس کیا جائے چنانچہ اسی وقت ان کا انتقال ہوگیا اور باذنِ اللہ فرمانے میں رد ہے نصارٰی کا جو حضرت مسیح کی الوہیت کے قائل تھے(ف103)جب حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے بیماروں کو اچھا کیا اور مردوں کو زندہ کیا تو بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور کوئی معجزہ دکھائیے تو آپ نے فرمایا کہ جو تم کھاتے ہو اور جو جمع کررکھتے ہو میں اس کی تمہیں خبر دیتا ہوں اسی سے ثابت ہوا کہ غیب کے علوم انبیاء کا معجزہ ہیں اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دستِ مبارک پر یہ معجزہ بھی ظاہر ہوا آپ آدمی کو بتادیتے تھے جو وہ کل کھاچکا اور آج کھائے گا اور جو اگلے وقت کے لئے تیار کررکھاہے۔ آپ کے پاس بچے بہت سے جمع ہوجاتے تھے آپ انہیں بتاتے تھے کہ تمہارے گھر فلاں چیز تیار ہوئی ہے تمہارے گھر والوں نے فلاں فلاں چیز کھائی ہے فلاں چیز تمہارے لئے اٹھا رکھی ہے بچے گھر جاتے روتے گھر والوں سے وہ چیز مانگتے گھر والے وہ چیز دیتے۔ اور ان سے کہتے کہ تمہیں کس نے بتایا بچے کہتے حضرت عیسٰی علیہ السلام نے تو لوگوں نے اپنے بچوں کو آپ کے پاس آنے سے روکا اور کہا وہ جادو گر ہیں ان کے پاس نہ بیٹھو اور ایک مکان میں سب بچوں کو جمع کردیا حضرت عیسٰی علیہ السلام بچوں کو تلاش کرتے تشریف لائے تو لوگوں نے کہا وہ یہاں نہیں ہیں آپ نے فرمایا کہ پھر اس مکان میں کون ہے انہوں نے کہا سور ہیں فرمایا ایسا ہی ہوگا اب جو دروازہ کھولتے ہیں تو سب سور ہی سور تھے۔ الحاصل غیب کی خبریں دینا انبیاء کا معجزہ ہے اور بے وساطت انبیاء کوئی بشر امور غیب پر مطلع نہیں ہوسکتا
اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلے کتاب توریت کی اور اس لئے کہ حلال کروں تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں (ف۱۰٤) اور میں تمہارے پاس پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں، تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
‘And I come confirming the Taurat (Torah) – the Book before me – and to make lawful for you some of the things which were forbidden to you, and I have come to you with a sign from your Lord – therefore fear Allah and obey me.’
और तसदीक़ करता आया हूँ अपने से पहले किताब तौरेत की और इस लिये कि हलाल करूँ तुम्हारे लिये कुछ वो चीज़ें जो तुम पर हराम थीं और मैं तुम्हारे पास तुम्हारे रब की तरफ़ से निशानी लाया हूँ, तो अल्लाह से डरो और मेरा हुक्म मानो,
Aur tasdiq karta aaya hoon apne se pehle kitaab Taurat ki, aur is liye ke halaal karoon tumhare liye kuch woh cheezein jo tum par haraam thin, aur main tumhare paas tumhare Rab ki taraf se nishani laaya hoon, to Allah se daro aur mera hukum maano,
(ف104)جوشریعت موسٰی علیہ السلام میں حرام تھیں جیسے کہ اونٹ کے گوشت مچھلی کچھ پرند
پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر پایا (ف۱۰٦) بولا کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کی طرف، حواریوں نے کہا (ف۱۰۷) ہم دین خدا کے مددگار ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے، اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں (ف۱۰۸)
So when Eisa sensed their disbelief he said, “Who will be my aides towards (in the cause of) Allah?” The disciples said, “We are the aides of Allah’s religion; we believe in Allah, and you bear witness that we are Muslims.”
फिर जब ईसा ने इन से कुफ्र पाया बोला कौन मेरे मददगार होते हैं अल्लाह की तरफ, हवारीयों ने कहा हम दीन-ए-खुदा के मददगार हैं हम अल्लाह पर ईमान लाए, और आप गवाह हो जाएं कि हम मुसलमान हैं
Phir jab Isa ne un se kufr paya bola kaun mere madadgar hote hain Allah ki taraf, Hawariyon ne kaha hum deen-e-Khuda ke madadgar hain hum Allah par imaan laye, aur aap gawah ho jayein ke hum musalman hain
(ف106)یعنی جب حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا کہ یہود اپنے کفر پر قائم ہیں اور آ پ کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں اور اتنی آیات باہرات اور معجزات سے اثر پذیر نہیں ہوئے اور اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے پہچان لیا تھا کہ آپ ہی وہ مسیح ہیں جن کی توریت میں بشارت دی گئی ہے اور آپ ان کے دین کو منسوخ کریں گے تو جب حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوت کا اظہار فرمایا تو یہ ان پر بہت شاق گزرا اور وہ آپ کے ایذا و قتل کے درپے ہوئے اور آپ کے ساتھ انہوں نے کفر کیا۔(ف107)حواری وہ مخلصین ہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دین کے مددگار تھے اور آپ پر اوّل ایمان لائے یہ بارہ اشخاص تھے۔(ف108)مسئلہ : اس آیت سے ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پہلے انبیاء کا دین اسلام تھا نہ کہ یہودیت و نصرانیت ۔
اور کافروں نے مکر کیا (ف۱۰۹) اور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے (ف۱۱۰)
And the disbelievers conspired (to kill Eisa), and Allah covertly planned to destroy them; and Allah is the best of secret planners.
और काफिरों ने मकर किया और अल्लाह ने उन के हलाक की ख़ुफ़िया تدبीर फ़रमाई और अल्लाह सब से बेहतर छुपी تدبीर वाला है
Aur kafiron ne makar kiya aur Allah ne unke halak ki khufiya tadbeer farmayi aur Allah sab se behtar chhupi tadbeer wala hai
(ف109)یعنی کفار بنی اسرائیل نے حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کے ساتھ مَکۡر کیا کہ دھوکے کے ساتھ آپ کے قتل کا انتظام کیا اور اپنے ایک شخص کو اس کام پر مقرر کردیا۔(ف110)اللہ تعالٰی نے اُن کے مَکۡر کا یہ بدلہ دیا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا اور حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃوالسلام کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو اُن کے قتل کے لئے آمادہ ہوا تھا چنانچہ یہود نے اس کو اسی شبہ پر قتل کردیا۔ مسئلہ لفظ مَکۡر لُغتِ عرب میں سَتۡر یعنی پوشیدگی کے معنٰی میں ہے اسی لئے خفیہ تدبیر کو بھی مَکۡر کہتے ہیں اور وہ تدبیر اگر اچھے مقصد کے لئے ہو تو محمود اور کِسی قبیح غرض کے لئے ہو تو مذموم ہوتی ہے مگر اُردو زبان میں یہ لفظ فریب کے معنٰی میں مستعمل ہوتا ہے اس لئے ہر گز شانِ الٰہی میں نہ کہاجائے گا اور اب چونکہ عربی میں بھی بمعنی خداع کے معروف ہوگیاہے اس لئے عربی میں بھی شانِ الٰہی میں اس کا اطلاق جائز نہیں آیت میں جہاں کہیں وارد ہوا وہ خفیہ تدبیر کے معنٰی میں ہے
یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا (ف۱۱۱) اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا (ف۱۱۲) اور تجھے کافروں سے پاک کردوں گا اور تیرے پیروؤں کو (ف۱۱۳) قیامت تک تیرے منکروں پر (ف۱۱٤) غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے تو میں تم میں فیصلہ فرمادوں گا جس بات میں جھگڑتے ہو،
Remember when Allah said, “O Eisa! I will keep you alive till your full age, and raise you towards Me, and cleanse you of the disbelievers and give your followers dominance over the disbelievers until the Day of Resurrection; then you will all return to Me, so I shall judge between you concerning the matter in which you dispute.”
याद करो जब अल्लाह ने फ़रमाया ऐ ईसा मैं तुझे पूरी उम्र तक पहुंचाऊँगा और तुझे अपनी तरफ उठा लूँगा और तुझे काफिरों से पाक कर दूँगा और तेरे पैरवों को क़यामत तक तेरे मंकरों पर ग़लबा दूँगा फिर तुम सब मेरी तरफ पलट कर आओगे तो मैं तुम में फ़ैसला फ़रमा दूँगा जिस बात में झगड़ते हो,
Yaad karo jab Allah ne farmaya Ae Isa main tujhe poori umr tak pahunchaoon ga aur tujhe apni taraf utha loonga aur tujhe kafiron se paak kar doonga aur tere pairawon ko qayamat tak tere munkiron par ghalba doonga phir tum sab meri taraf palat kar aao ge to main tum mein faisla farma doonga jis baat mein jhagdte ho,
(ف111)یعنی تمہیں کفار قتل نہ کرسکیں گے (مدارک وغیرہ)(ف112)آسمان پر محل کرامت اور مَقَرِّ ملائکہ میں بغیر موت کے حدیث شریف میں ہے سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسٰی میری اُمت پر خلیفہ ہو کر نازل ہوں گے صلیب توڑیں گے خنازیر کو قتل کریں گے چالیس سال رہیں گے نکاح فرمائیں گے اولاد ہوگی، پھر آپ کا وصال ہوگا وہ اُمت کیسے ہلاک ہو جس کے اول میں ہوں اور آخر عیسٰی اور وسط میں میرے اہل بیت میں سے مہدی مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام مَنَارۂ شرقی دمشق پر نازل ہوں گے یہ بھی وارد ہوا کہ حجرۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مدفون ہوں گے(ف113)یعنی مسلمانوں کو جو آپ کی نبوت کی تصدیق کرنے والے ہیں(ف114)جو یہود ہیں۔
عیسیٰ کی کہاوت اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے (ف۱۱۵) اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے،
The example of Eisa with Allah is like that of Adam; He created him (Adam) from clay and then said to him, “Be” – and it thereupon happens!
ईसा की कहावत अल्लाह के नज़दीक आदम की तरह है उसे मिट्टी से बनाया फिर फ़रमाया हो जा वो फ़ौरन हो जाता है,
Isa ki qahawat Allah ke nazdeek Aadam ki tarah hai use mitti se banaya phir farmaya ho ja wo foran ho jata hai,
(ف115)شانِ نزول نصارٰی نجران کا ایک وفد سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور وہ لوگ حضور سے کہنے لگے آپ گمان کرتے ہیں کہ عیسٰی اللہ کے بندے ہیں فرمایا ہاں اس کے بندے اور اس کے رسول اور اس کے کلمے جو کواری بتول عذراء کی طرف القاء کئے گئے نصارٰی یہ سن کر بہت غصہ میں آئے اور کہنے لگے یا محمد کیا تم نے کبھی بے باپ کا انسان دیکھا ہے اس سے ان کامطلب یہ تھا کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں(معاذ اللہ )اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یہ بتایا گیا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام صرف بغیر باپ ہی کے ہوئے اور حضرت آدم علیہ السلام تو ماں اورباپ دونوں کے بغیر مٹی سے پیدا کئے گئے تو جب انہیں اللہ کا مخلوق اور بندہ مانتے ہو تو حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللہ کا مخلوق و بندہ ماننے میں کیا تعجب ہے۔
پھر اے محبوب! جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں، پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں (ف۱۱٦)
Therefore say to those who dispute with you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) concerning Eisa after the knowledge has come to you, “Come! Let us summon our sons and your sons, and our women and your women, and ourselves and yourselves – then pray humbly, thereby casting the curse of Allah upon the liars!” (The Christians did not accept this challenge.)
फिर ऐ महबूब! जो तुम से ईसा के बारे में हुज्जत करें बाद इसके कि तुम्हें इल्म आ चुका तो उन से फ़रमा दो आओ हम बुलाएँ अपने बेटे और तुम्हारे बेटे और अपनी औरतें और तुम्हारी औरतें और अपनी जानें और तुम्हारी जानें, फिर मुबाहिला करें तो झूठों पर अल्लाह की लानत डालें
Phir ae Mehboob! jo tum se Isa ke baare mein hujjat karein baad is ke ke tumhein ilm aa chuka to un se farma do aao hum bulayein apne bete aur tumhare bete aur apni auratein aur tumhari auratein aur apni jaanen aur tumhari jaanen, phir mubahila karein to jhooton par Allah ki la’nat dalen
(ف116)جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصارٰی نجران کو یہ آیت پڑھ کر سنائی اور مباہلہ کی دعوت دی تو کہنے لگے کہ ہم غور اور مشورہ کرلیں کل آپ کو جواب دیں گے جب وہ جمع ہوئے تو انہوں نے اپنے سب سے بڑے عالم اور صاحب رائے شخص عاقب سے کہا کہ اے عبدالمسیح آپ کی کیا رائے ہے اس نے کہا اے جماعت نصاریٰ تم پہچان چکے کہ محمدنبی مرسل تو ضرور ہیں اگر تم نے ان سے مباہلہ کیا تو سب ہلاک ہوجاؤ گے اب اگر نصرانیت پر قائم رہنا چاہتے ہو تو انہیں چھوڑ و اور گھر کو لوٹ چلو یہ مشورہ ہونے کے بعد وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ حضور کی گود میں تو امام حسین ہیں اور دست مبارک میں حسن کا ہاتھ اور فاطمہ اور علی حضور کے پیچھے ہیں(رضی اللہ تعالٰی عنہم)اور حضور ان سب سے فرمارہے ہیں کہ جب میں دعا کروں تو تم سب آمین کہنا نجران کے سب سے بڑے نصرانی عالم(پادری)نے جب ان حضرات کو دیکھا تو کہنے لگا اے جماعت نصارٰی میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ لوگ اللہ سے پہاڑ کو ہٹادینے کی دعا کریں تو اللہ تعالٰی پہاڑ کو جگہ سے ہٹا دے ان سے مباہلہ نہ کرنا ہلاک ہوجاؤ گے اور قیامت تک روئے زمین پر کوئی نصرانی باقی نہ رہے گایہ سن کر نصارٰی نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ مباہلہ کی تو ہماری رائے نہیں ہےآخر کار انہوں نے جزیہ دینا منظور کیامگر مباہلہ کے لئے تیار نہ ہوئے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے نجران والوں پر عذاب قریب آ ہی چکا تھا اگر وہ مباہلہ کرتے تو بندروں اور سوروں کی صورت میں مسخ کردیئے جاتے اور جنگل آگ سے بھڑک اٹھتا اور نجران اور وہاں کے رہنے والے پرند تک نیست و نابود ہوجاتے اور ایک سال کے عرصہ میں تمام نصارٰی ہلاک ہوجاتے۔
تم فرماؤ ، اے کتابیو! ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے (ف۱۱۹) یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں (ف۱۲۰) اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنالے اللہ کے سوا (ف۱۲۱) پھر اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O People given the Book(s)! Come towards a word which is common between us and you, that we shall worship no one except Allah, and that we shall not ascribe any partner to Him, and that none of us shall take one another as lords besides Allah”; then if they do not accept say, “Be witness that (only) we are Muslims.”
तुम फ़रमाओ, ऐ किताबियो! ऐसे कलिमा की तरफ आओ जो हम में तुम में यकसां है ये कि इबादत न करें मगर ख़ुदा की और उसका शरीक किसी को न करें और हम में कोई एक दूसरे को रब न बना ले अल्लाह के सिवा फिर अगर वो न मानें तो कह दो तुम गवाह रहो कि हम मुसलमान हैं,
Tum farmao, Ae kitabiyo! aise kalma ki taraf aao jo hum mein tum mein yaksaan hai ye ke ibaadat na karein magar Khuda ki aur uska shareek kisi ko na karein aur hum mein koi ek doosre ko Rab na banale Allah ke siwa phir agar wo na maanein to keh do tum gawah raho ke hum musalman hain,
(ف119)اور قرآن اورتوریت اور انجیل اس میں مختلف نہیں(ف120)نہ حضرت عیسٰی کو نہ حضرت عزیر کو نہ اور کسی کو۔(ف121)جیسا کہ یہود و نصارٰی نے احبار و رہبان کو بنایا کہ انہیں سجدے کرتے اور ان کی عبادتیں کرتے(جمل)
اے کتاب والو! ابراہیم کے باب میں کیوں جھگڑتے ہو توریت و انجیل تو نہ اتری مگر ان کے بعد تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۲۲)
O People given the Book(s)! Why do you argue about Ibrahim, whereas the Taurat (Torah) and the Injeel (Bible) were not sent down until after him? So do you not have sense?
ऐ किताब वालो! इब्राहीम के बाब में क्यों झगड़ते हो तौरात व इंजील तो न उतरी मगर उन के बाद तो क्या तुम्हें अक़्ल नहीं
Ae kitab walo! Ibrahim ke baab mein kyon jhagdte ho Taurat o Injeel to na utri magar unke baad to kya tumhein aql nahi
(ف122)شان نزول نجران کے نصارٰی اور یہود کے احبار میں مباحثہ ہوایہودیوں کا دعوٰی تھاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے اور نصرانیوں کایہ دعوٰی تھا کہ آپ نصرانی تھے یہ نزاع بہت بڑھا تو فریقین نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حَکَمۡ مانااور آپ سے فیصلہ چاہااس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور علماء توریت و انجیل پر ان کا کمال جہل ظاہر کردیا گیا کہ ان میں سے ہر ایک کا دعوٰی ان کے کمال جہل کی دلیل ہے۔ یہودیت و نصرانیت توریت وانجیل کے نزول کے بعد پیداہوئیں اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا زمانہ جن پر توریت نازل ہوئی حضرت ابراہیم علیہ السلا م سے صد ہا برس بعد ہے اور حضرت عیسٰی جن پرانجیل نازل ہوئی ان کازمانہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد دو ہزار برس کے قریب ہواہے اور توریت و انجیل کسی میں آپ کو یہودی یا نصرانی نہیں فرمایا گیا باوجود اس کے آپ کی نسبت یہ دعوٰی جہل و حماقت کی انتہا ہے۔
سنتے ہو یہ جو تم ہو (ف۱۲۳) اس میں جھگڑے جس کا تمہیں علم تھا (ف۱۲٤) تو اس میں (ف۱۲۵) کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۱۲٦)
Listen! This was what you argued about – of which you have some knowledge – why do you then argue about the matter you do not have any knowledge of? And Allah knows whereas you do not know.
सुनते हो ये जो तुम हो इस में झगड़े जिस का तुम्हें इल्म था तो इस में क्यों झगड़ते हो जिस का तुम्हें इल्म ही नहीं और अल्लाह जानता है और तुम नहीं जानते
Sunte ho ye jo tum ho is mein jhagde jis ka tumhein ilm tha to is mein kyon jhagdte ho jis ka tumhein ilm hi nahi aur Allah jaanta hai aur tum nahi jaante
(ف123)اے اہلِ کتاب تم ۔(ف124)اور تمہاری کتابوں میں اس کی خبر دی گئی تھی یعنی نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور اور آپ کی نعت و صفت کی جب یہ سب کچھ جان پہچان کر بھی تم حضور پر ایمان نہ لائے اور تم نے اس میں جھگڑا کیا۔(ف125)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہودی یا نصرانی کہتے ہیں۔(ف126)حقیقت حال یہ ہے کہ ۔
ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے، اور مشرکوں سے نہ تھے (ف۱۲۷)
Ibrahim was neither a Jew nor a Christian; but he was a Muslim, free from all falsehood; and was not of the polytheists.
इब्राहीम न यहूदी थे न नस्रानी बल्कि हर बातिल से जुदा मुसलमान थे, और मुशरिकों से न थे
Ibrahim na Yahudi the na Nasrani balke har baatil se juda musalman the, aur mushrikon se na the
(ف127)تونہ کسی یہودی یا نصرانی کا اپنے آپ کو دین میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرنا صحیح ہوسکتا ہے نہ کسی مشرک کا بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس میں یہود و نصارٰی پر تعریض ہے کہ وہ مشرک ہیں
بیشک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے (ف۱۲۸) اور یہ نبی (ف۱۲۹) اور ایمان والے (ف۱۳۰) اور ایمان والوں کا ولی اللہ ہے،
Undoubtedly among all mankind who have the best claim to Ibrahim are those who followed him, and this Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) and the believers; and Allah is the Guardian of the believers.
बेशक सब लोगों से इब्राहीम के ज़्यादा हक़दार वो थे जो उनके पैरव हुए और ये नबी और ईमान वाले और ईमान वालों का वली अल्लाह है,
Beshak sab logon se Ibrahim ke zyada haqq daar wo the jo unke pairo hue aur ye Nabi aur imaan wale aur imaan walon ka Wali Allah hai,
(ف128)اور انکے عہدِ نبوت میں ان پر ایمان لائے اور انکی شریعت پر عامل رہے۔(ف129)سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(ف130)اور آپ کے اُمتی۔
کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں، اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں (ف۱۳۱)
A group among the People given the Book(s) desire that if only they could lead you astray; and they only make themselves astray, and they do not have sense.
किताबियों का एक गिरोह दिल से चाहता है कि किसी तरह तुम्हें गुमराह कर दें, और वो अपने ही आप को गुमराह करते हैं और उन्हें शऊर नहीं
Kitabiyon ka ek giroh dil se chahta hai ke kisi tarah tumhein gumrah kar dein, aur wo apne hi aap ko gumrah karte hain aur unhein shu’oor nahi
(ف131)شا نِ نزول یہ آیت حضرت معاذ بن جبل و حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر کے حق میں نازل ہوئی جن کو یہوداپنے دین میں داخل کرنے کی کوشش کرتے اور یہودیت کی دعوت دیتے تھے اس میں بتایا گیا کہ یہ ان کی ہوس خام ہے وہ ان کو گمراہ نہ کرسکیں گے۔
اور کتابیوں کا ایک گروہ بولا (ف۱۳٤) وہ جو ایمان والوں پر اترا (ف۱۳۵) صبح کو اس پر ایمان لاؤ اور شام کو منکر ہوجاؤ شاید وہ پھر جائیں (ف۱۳٦)
And a group among the People given the Book(s) said, “Believe in what has been sent down to the believers in the morning and deny it by evening – perhaps they (the Muslims) may turn back (disbelieve).”
और किताबियों का एक गिरोह बोला वो जो ईमान वालों पर उतरा सुबह को उस पर ईमान लाओ और शाम को मुनकर हो जाओ शायद वो फिर जाएँ
Aur kitabiyon ka ek giroh bola wo jo imaan walon par utra subah ko us par imaan lao aur shaam ko munkir ho jao shayad wo phir jaayein
(ف134)اور انہوں نے باہم مشورہ کرکے یہ مَکۡر سوچا۔(ف135)یعنی قرآن شریف۔(ف136)شانِ نزول یہود اسلام کی مخالفت میں رات دن نئے نئے مَکۡر کیا کرتے تھے خیبرکے علماء یہود کے بارہ شخصوں نے باہمی مشورہ سے ایک یہ مَکۡر سوچاکہ ان کی ایک جماعت صبح کو اسلام لے آئے اور شام کو مرتد ہوجائے اور لوگوں سے کہے کہ ہم نے اپنی کتابوں میں جو دیکھا تو ثابت ہوا کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نبی موعود نہیں ہیں جن کی ہماری کتابوں میں خبر ہے تاکہ اس حرکت سے مسلمانوں کو دین میں شبہ پیدا ہو لیکن اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرماکر ان کا یہ راز فاش کردیااور ان کا یہ مَکۡر نہ چل سکااور مسلمان پہلے سے خبردار ہوگئے۔
اور یقین نہ لاؤ مگر اس کا جو تمہارے دین کا پیرو ہو تم فرمادو کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۱۳۷) (یقین کا ہے کا نہ لاؤ) اس کا کہ کسی کو ملے (ف۱۳۸) جیسا تمہیں ملا یا کوئی تم پر حجت لاسکے تمہارے رب کے پاس (ف۱۳۹) تم فرمادو کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے، اور اللہ وسعت والا علم والا ہے،
“And do not believe in anyone except him who follows your religion”; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Only Allah’s guidance is the true guidance” – (so why not believe in it) if someone has been given similar to what was given to you, or if someone may be able to evidence it against you before your Lord; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Undoubtedly the munificence lies only in Allah’s Hand (control); He may bestow upon whomever He wills; and Allah is Most Capable, All Knowing.”
और यक़ीन न लाओ मगर उस का जो तुम्हारे दीन का पैरव हो तुम फ़रमा दो कि अल्लाह ही की हिदायत हिदायत है (यक़ीन का है का न लाओ) उस का कि किसी को मिले जैसा तुम्हें मिला या कोई तुम पर हुज्जत ला सके तुम्हारे रब के पास तुम फ़रमा दो कि फ़ज़्ल तो अल्लाह ही के हाथ है जिसे चाहे दे, और अल्लाह वुसअत वाला इल्म वाला है,
Aur yaqeen na lao magar us ka jo tumhare deen ka pairo ho tum farma do ke Allah hi ki hidayat hidayat hai (yaqeen ka hai ka na lao) us ka ke kisi ko mile jaisa tumhein mila ya koi tum par hujjat la sake tumhare Rab ke paas tum farma do ke fazl to Allah hi ke haath hai jise chahe de, aur Allah wus’at wala ilm wala hai,
(ف137)اور جواس کے سوا ہے وہ باطل و گمراہی ہے۔(ف138)دین وہدایت اور کتاب و حکمت اور شرف فضیلت۔(ف139)روز قیامت۔
اور کتابیوں میں کوئی وہ ہے کہ اگر تو اس کے پاس ایک ڈھیر امانت رکھے تو وہ تجھے ادا کردے گا (ف۱٤۲) اور ان میں کوئی وہ ہے کہ اگر ایک اشرفی اس کے پاس امانت رکھے تو وہ تجھے پھیر کر نہ دے گا مگر جب تک تو اس کے سر پر کھڑا رہے (ف۱٤۳) یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اَن پڑھوں (ف۱٤٤) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں اور اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتے ہیں (ف۱٤۵)
Among the People given the Book(s) is one who, if you trust him with a heap of treasure, will return it to you; and among them is one who, if you trust him with (just) one coin, will not return it to you unless you constantly stand over him (keep demanding); that is because they say, “We are not obliged in any way, in the case of illiterates”; and they purposely fabricate lies against Allah.
और किताबियों में कोई वो है कि अगर तू उसके पास एक ढेर अमानत रखे तो वो तुझे अदा कर देगा और उन में कोई वो है कि अगर एक अशर्फ़ी उसके पास अमानत रखे तो वो तुझे फेर कर न देगा मगर जब तक तू उसके सर पर खड़ा रहे ये इस लिये कि वो कहते हैं कि अनपढ़ों के मामला में हम पर कोई मुआख़ज़ा नहीं और अल्लाह पर जान बूझ कर झूठ बाँधते हैं
Aur kitabiyon mein koi wo hai ke agar tu uske paas ek dher amanat rakhe to wo tujhe ada kar dega aur un mein koi wo hai ke agar ek ashrafi uske paas amanat rakhe to wo tujhe phir kar na dega magar jab tak tu uske sar par khada rahe ye is liye ke wo kehte hain ke an parhon ke maamle mein hum par koi muakhza nahi aur Allah par jaan bujh kar jhoot baandhte hain
(ف142)شان نزول یہ آیت اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئی اور اس میں ظاہر فرمایا گیاکہ ان میں دوقسم کے لوگ ہیں امین وخائن بعض تو ایسے ہیں کہ کثیر مال ان کے پاس امانت رکھا جائے تو بے کم وکاست وقت پر اداکردیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام جنکے پاس ایک قریشی نے بارہ سواَوقِیہ سوناامانت رکھاتھا آپ نے اس کو ویساہی اداکیااور بعض اہل کتاب میں اتنے بددیانت ہیں کہ تھوڑے پر بھی ان کی نیت بگڑ جاتی ہے جیسے کہ فخاص بن عازوراء جس کے پاس کسی نے ایک اشرفی امانت رکھی تھی مانگتے وقت اس سے مُکَرگیا۔(ف143)اور جب ہی دینے والا اس کے پاس سے ہٹے وہ مال امانت ہضم کرجاتا ہے۔(ف144)یعنی غیر کتابیوں ۔(ف145)کہ اس نے اپنی کتابوں میں دوسرے دین والوں کے مال ہضم کرجانے کا حکم دیا ہے باوجود یہ کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں کوئی ایسا حکم نہیں۔
جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں (ف۱٤٦) آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے (ف۱٤۷)
Those who accept abject prices in exchange of Allah’s covenant and their oaths, do not have a portion in the Hereafter – Allah will neither speak to them nor look towards them on the Day of Resurrection, nor will He purify them; and for them is a painful punishment.
जो अल्लाह के अहद और अपनी क़समों के बदले ज़लील दाम लेते हैं आख़िरत में उनका कुछ हिस्सा नहीं और अल्लाह न उन से बात करे न उन की तरफ़ नज़र फ़रमाए क़यामत के दिन और न उन्हें पाक करे, और उनके लिये दर्दनाक अज़ाब है
Jo Allah ke ahd aur apni qasmon ke badle zaleel daam lete hain aakhirat mein unka kuch hissa nahi aur Allah na unse baat kare na unki taraf nazar farmaaye qayamat ke din aur na unhein paak kare, aur unke liye dardnaak azaab hai
(ف146)شانِ نزول یہ آیت یہود کے احبار اور انکے رؤساء ابو رافع وکنانہ بن ابی الحقیق اورکعب بن اشرف وحیّی بن اخطب کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اللہ تعالٰی کاوہ عہد چھپایا تھاجو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے متعلق ان سے توریت میں لیا گیا۔ انہوں نے اس کو بدل دیا اور بجائے اس کے اپنے ہاتھوں سے کچھ کاکچھ لکھ دیا اور جھوٹی قسم کھائی کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور یہ سب کچھ انہوں نے اپنی جماعت کے جاہلوں سے رشوتیں اور زر حاصل کرنے کے لئے کیا۔(ف147)مسلم شریف کی حدیث میں ہے سیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتین لوگ ایسے ہیں کہ روز قیامت اللہ تعالٰی نہ ان سے کلام فرمائے اور نہ ان کی طرف نظر رحمت کرے نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے اور انہیں درد ناک عذاب ہے اس کے بعد سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کو تین مرتبہ پڑھا حضرت ابوذر راوی نے کہا کہ وہ لوگ ٹوٹے اور نقصان میں رہے یارسول اللہ وہ کون لوگ ہیں حضور نے فرمایا ازار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا اور احسان جتانے والا اور اپنے تجارتی مال کو جھوٹی قسم سے رواج دینے والا حضرت ابو امامہ کی حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کسی مسلمان کاحق مارنے کے لئے قسم کھائے اللہ اس پر جنت حرام کرتا ہے اور دوزخ لازم کرتا ہےصحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ اگرچہ تھوڑی ہی چیز ہو فرمایا اگرچہ ببول کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔
اور ان میں کچھ وہ ہیں جو زبان پھیر کر کتاب میں میل (ملاوٹ) کرتے ہیں کہ تم سمجھو یہ بھی کتاب میں ہے اور وہ کتاب میں نہیں، اور وہ کہتے ہیں یہ اللہ کے پاس سے ہے اور وہ اللہ کے پاس سے نہیں، اور اللہ پر دیدہ و دانستہ جھوٹ باندھتے ہیں (ف۱٤۸)
And amongst them are some who distort (change words of) the Book with their tongues, so that you may think that this also is in the Book whereas it is not in the Book; and they say, “This is from Allah” whereas it is not from Allah; and they fabricate lies against Allah, whereas they know.
और उन में कुछ वो हैं जो ज़ुबान फेर कर किताब में मेल (मिलावट) करते हैं कि तुम समझो ये भी किताब में है और वो किताब में नहीं, और वो कहते हैं ये अल्लाह के पास से है और वो अल्लाह के पास से नहीं, और अल्लाह पर दीदा व दानिस्ता झूठ बाँधते हैं
Aur un mein kuch wo hain jo zaban pher kar kitaab mein mel (milaawat) karte hain ke tum samjho ye bhi kitaab mein hai aur wo kitaab mein nahi, aur wo kehte hain ye Allah ke paas se hai aur wo Allah ke paas se nahi, aur Allah par deedah o danista jhoot baandhte hain
(ف148)شانِ نزول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت یہود و نصارٰی دونوں کے حق میں نازل ہوئی کہ انہوں نے توریت وانجیل کی تحریف کی اور کتاب اللہ میں اپنی طرف سے جو چاہاملایا۔
کسی آدمی کا یہ حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم و پیغمبری دے (ف۱٤۹) پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے ہوجاؤ (ف۱۵۰) ہاں یہ کہے گا کہ اللہ والے (ف۱۵۱) ہوجاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس سے کہ تم درس کرتے ہو (ف۱۵۲)
It is not for any human to whom Allah has given the Book and wisdom and Prophethood, that he should afterwards say to the people, “Leave (the worship of) Allah and be my worshippers” – but he will surely say, “Be sincere worshippers of Allah, because you teach the Book and you preach from it.”
किसी आदमी का ये हक़ नहीं कि अल्लाह उसे किताब और हुक्म व पैग़म्बरी दे फिर वो लोगों से कहे कि अल्लाह को छोड़ कर मेरे बन्दे हो जाओ हाँ ये कहेगा कि अल्लाह वाले हो जाओ इस सबब से कि तुम किताब सिखाते हो और उस से कि तुम दर्स करते हो
Kisi aadmi ka ye haq nahi ke Allah use kitaab aur hukm o paighambari de phir wo logon se kahe ke Allah ko chhod kar mere bande ho jao haan ye kahega ke Allah wale ho jao is sabab se ke tum kitaab sikhate ho aur is se ke tum dars karte ho
(ف149)اور کمال علم وعمل عطا فرمائے اور گناہوں سے معصوم کرے۔(ف150)یہ انبیاء سے ناممکن ہے اور ان کی طرف ایسی نسبت بہتان ہے۔شانِ نزول نجران کے نصارٰی نے کہاکہ ہمیں حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے حکم دیا ہے کہ ہم انہیں رب مانیں اس آیت میں اللہ تعالٰی نے ان کے اس قول کی تکذیب کی اور بتایاکہ انبیاء کی شان سے ایساکہنا ممکن ہی نہیں اس آیت کے شان نزول میں دوسرا قول یہ ہے کہ ابو رافع یہودی اور سید نصرانی نے سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہایا محمد آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی عبادت کریں اور آپ کو رب مانیں حضور نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ میں غیر اللہ کی عبادت کاحکم کروں نہ مجھے اللہ نے اس کاحکم دیانہ مجھے اس لئے بھیجا۔(ف151)ربّانی کے معنی عالم فقیہ اور عالم باعمل اور نہایت دیندار کے ہیں۔(ف152)اس سے ثابت ہوا کہ علم و تعلیم کاثمرہ یہ ہوناچاہئے کہ آدمی اللہ والا ہو جائے جسے علم سے یہ فائدہ نہ ہوا اس کاعلم ضائع اور بے کار ہے۔
اور نہ تمہیں یہ حکم دے گا (ف۱۵۳) کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا ٹھیرالو، کیا تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہولیے (ف۱۵٤)
And nor will he command you to appoint the angels and the Prophets as Gods; would he (a Prophet) command you to disbelieve after you have become Muslims?
और न तुम्हें ये हुक्म देगा कि फ़रिश्तों और पैग़म्बरों को ख़ुदा ठहरा लो, क्या तुम्हें कुफ्र का हुक्म देगा बाद इसके कि तुम मुसलमान हो लिये
Aur na tumhein ye hukm dega ke farishton aur paighambaron ko Khuda thehra lo, kya tumhein kufr ka hukm dega baad is ke ke tum musalman ho liye
(ف153)اللہ تعالٰی یا اس کا کوئی نبی۔(ف154)ایسا کسی طرح نہیں ہوسکتا۔
اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا (ف۱۵۵) جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول (ف۱۵٦) کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے (ف۱۵۷) تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا، فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا ؟ سب نے عرض کی، ہم نے اقرار کیا، فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں،
And remember when Allah took a covenant from the Prophets; “If I give you the Book and knowledge and the (promised) Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) comes to you, confirming the Books you possess, you shall positively, definitely believe in him and you shall positively, definitely help him”; He said, “Do you agree, and accept My binding responsibility in this matter?” They all answered, “We agree”; He said, “Then bear witness amongst yourselves, and I Myself am a witness with you.”
और याद करो जब अल्लाह ने पैग़म्बरों से उनका अहद लिया जो मैं तुम को किताब और हिकमत दूँ फिर तशरीफ़ लाए तुम्हारे पास वो रसूल कि तुम्हारी किताबों की तसदीक़ फ़रमाए तो तुम ज़रूर ज़रूर उस पर ईमान लाना और ज़रूर ज़रूर उसकी मदद करना, फ़रमाया क्यों तुम ने इक़रार किया और उस पर मेरा भारी ज़िम्मा लिया? सब ने अर्ज़ की, हम ने इक़रार किया, फ़रमाया तो एक दूसरे पर गवाह हो जाओ और मैं आप तुम्हारे साथ गवाहों में हूँ,
Aur yaad karo jab Allah ne paighambaron se unka ahd liya jo main tum ko kitaab aur hikmat doon phir tashreef laaye tumhare paas wo Rasool ke tumhari kitaabon ki tasdiq farmaaye to tum zaroor zaroor us par imaan lana aur zaroor zaroor uski madad karna, farmaya kyon tumne iqraar kiya aur us par mera bhaari zimma liya? Sab ne arz ki, humne iqraar kiya, farmaya to ek doosre par gawah ho jao aur main aap tumhare saath gawahon mein hoon,
(ف155)حضرت علی مرتضٰی نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم اور ان کے بعد جس کسی کو نبوت عطافرمائی ان سے سید انبیاء محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت عہد لیااور ان انبیاء نے اپنی قوموں سے عہد لیا کہ اگر ان کی حیات میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوں تو آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی نصرت کریں اس سے ثابت ہوا کہ حضور تمام انبیاء میں سب سے افضل ہیں(ف156)یعنی سید عالم محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف157)اس طرح کہ انکے صفات و احوال اس کے مطابق ہوں جو کتب انبیاء میں بیان فرمائے گئے ہیں۔
تو کیا اللہ کے دین کے سوا اور دین چاہتے ہیں (ف۱٦۱) اور اسی کے حضور گردن رکھے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۱٦۲) خوشی سے (ف۱٦۳) سے مجبوری سے (ف۱٦٤)
So do they desire a religion other than the religion of Allah, whereas to Him has submitted whoever is in the heavens and the earth, willingly or grudgingly, and it is to Him they will return?
तो क्या अल्लाह के दीन के सिवा और दीन चाहते हैं और उसी के हुज़ूर गर्दन रखे हैं जो कोई आसमानों और ज़मीन में हैं ख़ुशी से मजबूरी से
To kya Allah ke deen ke siwa aur deen chahte hain aur usi ke huzoor gardan rakhe hain jo koi aasmanon aur zameen mein hain khushi se majboori se
(ف161)بعد عہد لئے جانے کے اور دلائل واضح ہونے کے باوجود۔(ف162)ملائکہ اور انسان و جنات۔(ف163)دلائل میں نظر کرکے اور انصاف اختیار کرکے۔ اور یہ اطاعت ان کو فائدہ دیتی اور نفع پہنچاتی ہے۔(ف164)کسی خوف سے یاعذاب کے دیکھ لینے سے جیساکہ کافر عندالموت وقت یاس ایمان لاتا ہے یہ ایمان اسکو قیامت میں نفع نہ دےگا۔
اور اسی کی طرف پھیریں گے، یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اترا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں پر اور جو کچھ ملا موسیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو ان کے رب سے، ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے (ف۱٦۵) اور ہم اسی کے حضور گردن جھکائے ہیں
Say, “We believe in Allah and what is sent down to us and what was sent down to Ibrahim, and Ismael, and Ishaq, and Yaqub (Jacob) and their sons, and that which came to Moosa and Eisa and the Prophets, from their Lord; we do not make any distinction, in belief, between any of them, and to Him we have submitted ourselves.”
और उसी की तरफ़ फेरे जाएँगे, यूँ कहो कि हम ईमान लाए अल्लाह पर और उस पर जो हमारी तरफ़ उतरा और जो उतरा इब्राहीम और इस्माईल और इसहाक़ और याक़ूब और उनके बेटों पर और जो कुछ मिला मूसा और ईसा और अंबिया को उनके रब से, हम उन में किसी पर ईमान में फ़र्क़ नहीं करते और हम उसी के हुज़ूर गर्दन झुकाए हैं
Aur usi ki taraf pheriyein, yun kaho ke hum imaan laye Allah par aur us par jo hamari taraf utara aur jo utara Ibrahim aur Ismail aur Ishaq aur Yaqoob aur unke beton par aur jo kuch mila Musa aur Isa aur anbiya ko unke Rab se, hum un mein kisi par imaan mein farq nahi karte aur hum usi ke huzoor gardan jhukaye hain
(ف165)جیسا کہ یہود و نصارٰی نے کیاکہ بعض پر ایمان لائے بعض کے منکر ہوگئے۔
کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لاکر کافر ہوگئے (ف۱٦٦) اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول (ف۱٦۷) سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آچکی تھیں (ف۱٦۸) اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا
Why should Allah will guidance for the people who disbelieved, after their having accepted faith and bearing witness that the Noble Messenger is a true one, and after clear signs had come to them? And Allah does not guide the unjust.
क्योंकर अल्लाह ऐसी कौम की हिदायत चाहे जो ईमान ला कर काफ़िर हो गए और गवाही दे चुके थे कि रसूल सच्चा है और उन्हें खुली निशानियाँ आ चुकी थीं और अल्लाह ज़ालिमों को हिदायत नहीं करता
Kyonkar Allah aisi qoum ki hidayat chahe jo imaan la kar kafir ho gaye aur gawahi de chuke the ke Rasool sacha hai aur unhein khuli nishaniyan aa chuki thin aur Allah zalimon ko hidayat nahi karta
(ف166)شانِ نزول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایاکہ یہ آیت یہود ونصارٰی کے حق میں نازل ہوئی کہ یہودحضور کی بعثت سے قبل آپ کے وسیلہ سے دعائیں کرتے تھے اور آپ کی نبوت کے مُقِرّ تھے اور آپ کی تشریف آوری کاانتظار کرتے تھے جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو حسداً آپ کاانکار کرنے لگے اور کافر ہوگئے معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی ایسی قوم کوکیسے توفیق ایمان دے کہ جو جان پہچان کر اور مان کر منکر ہوگئی۔(ف167)یعنی سید انبیاء محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔(ف168)اور وہ روشن معجزات دیکھ چکے تھے۔
مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی (ف۱٦۹) اور آپا سنبھالا تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Except those who repented thereafter and reformed themselves; then indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
मगर जिनों ने उस के बाद तौबा की और आपा संभाला तो ज़रूर अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Magar jinhone is ke baad tauba ki aur aapa sambhala to zaroor Allah bakhshne wala meherbaan hai,
(ف169)اور کفر سے باز آئے۔ شانِ نزول :حارث ابن سوید انصاری کو کفار کے ساتھ جاملنے کے بعد ندامت ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس پیام بھیجا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کریں کہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے انکے حق میں یہ آیت نازل ہوئی تب وہ مدینہ منورہ میں تائب ہو کر حاضر ہوئے اور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی توبہ قبول فرمائی
بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے (ف۱۷۰) ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی (ف۱۷۱) اور وہی ہیں بہکے ہوئے،
Indeed those who disbelieve after having accepted faith, and advance further in their disbelief – their repentance will never be accepted; and it is they who are the astray.
बेशक वो जो ईमान ला कर काफ़िर हुए फिर और कुफ्र में बढ़े उनकी तौबा हरगिज़ क़बूल न होगी और वही हैं बहके हुए,
Beshak wo jo imaan la kar kafir hue phir aur kufr mein badhe unki tauba hargiz qubool na hogi aur wahi hain behke hue,
(ف170)شانِ نزول:یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان لانے کے بعد حضرت عیسٰی علیہ السلام اور انجیل کے ساتھ کفر کیاپھر کفر میں اور بڑھے اور سید انبیاء محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کے ساتھ کفرکیا،اور ایک قول یہ ہےکہ یہ آیت یہود و نصارٰی کے حق میں نازل ہوئی جو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل تواپنی کتابوں میں آپ کی نعت و صفت دیکھ کر آپ پر ایمان رکھتے تھے اور آ پ کے ظہور کے بعد کافر ہوگئے اور پھر کفر میں اور شدید ہوگئے۔(ف171)اس حال میں یاوقت موت یا اگر وہ کفر پر مرے۔
وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں ۔
Those who disbelieved and died as disbelievers – an earth full of gold will never be accepted from any one of them, even if he offers it, for his freedom; for them is a painful punishment and they do not have any aides.
वो जो काफ़िर हुए और काफ़िर ही मरे उन में किसी से ज़मीन भर सोना हरगिज़ क़बूल न किया जाएगा अगरचि अपनी ख़लासी को दे, उनके लिये दर्दनाक अज़ाब है और उनका कोई यार नहीं.
Wo jo kafir hue aur kafir hi mare un mein kisi se zameen bhar sona hargiz qubool na kiya jaayega agarche apni khalasi ko de, unke liye dardnaak azaab hai aur unka koi yaar nahi.
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page