تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو (ف۱۷۲) اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے،
You can never attain virtue until you spend in Allah's cause the things you love; and Allah is Aware of whatever you spend.
तुम हरगिज़ भलाई को न पहुँचोगे जब तक राह-ए-ख़ुदा में अपनी प्यारी चीज़ न ख़र्च करो और तुम जो कुछ ख़र्च करो अल्लाह को मालूम है,
Tum hargiz bhalayi ko na pahuncho ge jab tak raah-e-Khuda mein apni pyari cheez na kharch karo aur tum jo kuch kharch karo Allah ko maaloom hai,
(ف172)بر سے تقوٰی وطاعت مراد ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایاکہ یہاں خرچ کرناعام ہے تمام صدقات کایعنی واجبہ ہوں یانافلہ سب اس میں داخل ہیں حسن کا قول ہے کہ جو مال مسلمانوں کو محبوب ہواور اسے رضائے الٰہی کے لئے خرچ کرے وہ اس آیت میں داخل ہے خواہ ایک کھجور ہی ہو(خازن) عمر بن عبدالعزیز شکرکی بوریاں خرید کرصدقہ کرتے تھے ان سے کہاگیا اس کی قیمت ہی کیوں نہیں صدقہ کردیتے فرمایا شکر مجھے محبوب ومرغوب ہے یہ چاہتا ہوں کہ راہِ خدا میں پیاری چیز خرچ کروں(مدارک) بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت ابو طلحہ انصاری مدینے میں بڑے مالدار تھے انہیں اپنے اموال میں بیرحا(باغ)بہت پیارا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے بارگاہِ رسالت میں کھڑے ہو کر عرض کیامجھے اپنے اموال میں بیر حاسب سے پیاراہے میں اس کو راہِ خدا میں صدقہ کرتاہوں حضور نے اس پر مسرت کا اظہار فرمایااور حضرت ابوطلحہ نے بایمائے حضوراپنے اقارب اوربنی عم میں اس کو تقسیم کردیاحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابو موسی اشعری کو لکھاکہ میرے لئے ایک باندی خرید کر بھیج دو جب وہ آئی تو آپ کو بہت پسند آئی آپ نے یہ آیت پڑھ کر اللہ کے لئے اس کو آزاد کردیا۔
سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوب نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو (ف۱۷۳)
All food was lawful for the Descendants of Israel (Jacob), except what Israel forbade for himself, before the Taurat (Torah) was sent down; say, “Bring the Taurat and read it, if you are truthful.”
सब खाने बनी इस्राईल को हलाल थे मगर वो जो याक़ूब (अ.) ने अपने ऊपर हराम कर लिया था तौरात उतरने से पहले तुम फ़रमाओ तौरात ला कर पढ़ो अगर सच्चे हो
Sab khane Bani Israeel ko halal the magar wo jo Yaqoob ne apne upar haraam kar liya tha Taurat utrne se pehle tum farmao Taurat la kar padho agar sache ho
(ف173)شانِ نزول: یہود نے سید عالم سے کہاکہ حضور اپنے آپ کو ملّتِ ابراہیمی پر خیال کرتے ہیں باوجود یکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اونٹ کاگوشت اور دودھ نہیں کھاتے تھے آپ کھاتے ہیں تو آپ ملّتِ ابراہیمی پر کیسے ہوئے حضور نے فرمایاکہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم پر حلال تھیں یہود کہنے لگے کہ یہ حضرت نوح پر بھی حرام تھیں حضرت ابراہیم پر بھی حرام تھیں اور ہم تک حرام ہی چلی آئیں اس پر اللہ تبارک و تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا گیاکہ یہود کایہ دعوٰی غلط ہے بلکہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب پرحلال تھیں حضرت یعقوب نےکسی سبب سے ان کو اپنے اوپر حرام فرمایااور یہ حرمت ان کی اولاد میں باقی رہی یہود نے اس کا انکار کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ توریت اس مضمون پر ناطق ہے اگر تمہیں انکار ہے تو توریت لاؤ اس پر یہود کو اپنی فضیحت ورسوائی کاخوف ہوااور وہ توریت نہ لاسکے ان کاکذب ظاہر ہوگیا اور انہیں شرمندگی اٹھانی پڑی فائدہ اس سے ثابت ہواکہ پچھلی شریعتوں میں احکام منسوخ ہوتے تھے اس میں یہودکارد ہے جو نسخ کے قائل نہ تھے فائدہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُمّی تھے باوجود اس کے یہود کو توریت سے الزام دینااور توریت کے مضامین سے استدلال فرمانا آپ کامعجزہ اور نبوت کی دلیل ہے اور اس سے آپ کے وہبی اورغیبی علوم کاپتہ چلتا ہے
تم فرماؤ اللہ سچا ہے، تو ابراہیم کے دین پر چلو (ف۱۷۵) جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Allah is truthful; so follow the religion of Ibrahim, who was free from all falsehood; and he was not of the polytheists.”
तुम फ़रमाओ अल्लाह सच्चा है, तो इब्राहीम के दीन पर चलो जो हर बातिल से जुदा थे और शिर्क वालों में न थे,
Tum farmao Allah sacha hai, to Ibrahim ke deen par chalo jo har baatil se juda the aur shirk walon mein na the,
بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما (ف۱۷٦)
Indeed the first house that was appointed as a place of worship for mankind, is the one at Mecca (the Holy Ka’aba), blessed and a guidance to the whole world;
बेशक सब में पहला घर जो लोगों की इबादत को मुक़र्रर हुआ वो है जो मक्का में है बरकत वाला और सारे जहाँ का राहनुमा
Beshak sab mein pehla ghar jo logon ki ibaadat ko muqarrar hua wo hai jo Makka mein hai barkat wala aur saare jahan ka rahnuma
(ف176)شانِ نزول:یہود نے مسلمانوں سے کہاتھا کہ بیت المَقۡدِسۡ ہمارا قبلہ ہے کعبہ سے افضل اور اس سے پہلا ہے انبیاءکامقام ہجرت و قبلۂ عبادت ہے مسلمانوں نے کہاکہ کعبہ افضل ہے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس میں بتایا گیاکہ سب سے پہلا مکان جس کو اللہ تعالٰی نے طاعت وعبادت کے لئے مقرر کیانماز کاقبلہ حج اور طواف کاموضع بنایا جس میں نیکیوں کے ثواب زیادہ ہوتے ہیں وہ کعبہ معظمہ ہے جو شہر مکہ معظمہ میں واقع ہے حدیث شریف میں ہے کہ کعبہ معظمہ بیت المَقۡدِس سے چالیس سال قبل بنایا گیا
اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ف۱۷۷) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (ف۱۷۸) اور جو اس میں آئے امان میں ہو (ف۱۷۹) اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے (ف۱۸۰) اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بےپرواہ ہے (ف۱۸۱)
In it are clear signs – the place where Ibrahim stood (is one of them); and whoever enters it shall be safe; and performing the Hajj (pilgrimage) of this house, for the sake of Allah, is a duty upon mankind, for those who can reach it; and whoever disbelieves – then Allah is Independent (Unwanting) of the entire creation!
उस में खुली निशानियाँ हैं इब्राहीम के खड़े होने की जगह और जो उस में आए अमन में हो और अल्लाह के लिये लोगों पर उस घर का हज करना है जो उस तक चल सके और जो मुनकर हो तो अल्लाह सारे जहाँ से बे-परवाह है
Is mein khuli nishaniyan hain Ibrahim ke khade hone ki jagah aur jo is mein aaye amaan mein ho aur Allah ke liye logon par is ghar ka Hajj karna hai jo is tak chal sake aur jo munkir ho to Allah saare jahan se beparwah hai
(ف177)جو اس کی حرمت و فضیلت پر دلالت کرتی ہیں ان نشانیوں میں سے بعض یہ ہیں کہ پرند کعبہ شریف کے اوپر نہیں بیٹھتے اور اس کے اوپر سے پرواز نہیں کرتے بلکہ پرواز کرتے ہوئے آتے ہیں تو اِدھر اُدھر ہٹ جاتے ہیں اور جو پرند بیمار ہوجاتے ہیں وہ اپنا علاج یہی کرتے ہیں کہ ہوائے کعبہ میں ہو کر گزر جائیں اسی سے انہیں شفاہوتی ہے اور وُحوش ایک دوسرے کو حرم میں ایذا نہیں دیتے حتی کہ کتے اس سرزمین میں ہرن پر نہیں دوڑتے اور وہاں شکار نہیں کرتے اور لوگوں کے دل کعبہ معظمہ کی طرف کھچتے ہیں اور اس کی طرف نظر کرنے سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور ہر شب جمعہ کو ارواحِ اَولیاء اس کے گرد حاضر ہوتی ہیں اور جو کوئی اس کی بے حرمتی کا قصد کرتا ہے برباد ہوجاتا ہے انہیں آیات میں سے مقام ابراہیم وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن کا آیت میں بیان فرمایا گیا(مدارک و خازن وا حمدی) (ف178)مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ شریف کی تعمیر کے وقت کھڑے ہوتے تھے اور اس میں آ پ کے قدمِ مبارک کے نشان تھے جو باوجود طویل زمانہ گزرنے اور بکثرت ہاتھوں سے مَسۡ ہونے کے ابھی تک کچھ باقی ہیں(ف179)یہاں تک کہ اگر کوئی شخص قتل و جنایت کرکے حرم میں داخل ہو تو وہاں نہ اس کو قتل کیاجائے نہ اس پر حد قائم کی جائے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنے والد خطاب کے قاتل کو بھی حرم شریف میں پاؤں تو اس کوہاتھ نہ لگاؤں یہاں تک کہ وہ وہاں سے باہر آئے(ف180)مسئلہ :اس آیت میں حج کی فرضیت کا بیان ہے اور اس کاکہ استطاعت شرط ہے حدیث شریف میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تفسیر زادو راحلہ سے فرمائی زاد یعنی توشہ کھانے پینے کا انتظام اس قدر ہونا چاہئے کہ جا کر واپس آنے تک کے لئے کافی ہو اور یہ واپسی کے وقت تک اہل و عیال کے نفقہ کے علاوہ ہونا چاہئے راہ کاامن بھی ضروری ہے کیونکہ بغیر اس کے استطاعت ثابت نہیں ہوتی(ف181)اس سے اللہ تعالٰی کی ناراضی ظاہر ہوتی ہے اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرض قطعی کامنکر کافر ہے
تم فرماؤ اے کتابیو! اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے (ف۱۸۲) اور تمہارے کام اللہ سامنے ہیں،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O People given the Book(s)! Why do you not believe in the verses (or signs) of Allah, whereas your deeds are being witnessed by Allah?”
तुम फ़रमाओ ऐ किताबियो! अल्लाह की आयतें क्यों नहीं मानते और तुम्हारे काम अल्लाह सामने हैं,
Tum farmao Ae kitabiyo! Allah ki aayatein kyon nahi maante aur tumhare kaam Allah samne hain,
(ف182)جو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدق نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔
تم فرماؤ اے کتابیو! کیوں اللہ کی راہ سے روکتے ہو (ف۱۸۳) اسے جو ایمان لائے اسے ٹیڑھا کیا چاہتے ہو اور تم خود اس پر گواہ ہو (ف۱۸٤) اور اللہ تمہارے کوتکوں (برے اعمال، کرتوت) سے بےخبر نہیں،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O People given the Book(s)! Why do you prevent those who have accepted faith from the way of Allah, seeking to cause deviation in it, whereas you yourselves are witnesses to it? And Allah is not unaware of your deeds!”
तुम फ़रमाओ ऐ किताबियो! क्यों अल्लाह की राह से रोकते हो उसे जो ईमान लाया उसे टेढ़ा क्या चाहते हो और तुम ख़ुद उस पर गवाह हो और अल्लाह तुम्हारे कोतक़ों (बुरे आमाल, करतूत) से बे-ख़बर नहीं,
Tum farmao Ae kitabiyo! kyon Allah ki raah se rokte ho use jo imaan laya use terha kya chahte ho aur tum khud us par gawah ho aur Allah tumhare kotokon (bure aamaal, kartoot) se be khabar nahi,
(ف183)نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کرکے اور آپ کی نعت و صفت چھپا کر جو توریت میں مذکور ہے۔(ف184)کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت توریت میں مکتوب ہے اور اللہ کو جو دین مقبول ہے وہ صرف دین اسلام ہی ہے
اے ایمان والو! اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد کافر کر چھوڑیں گے (ف۱۸۵)
O People who Believe! If you obey some of People given the Book(s), they will definitely turn you into disbelievers after your having accepted faith.
ऐ ईमान वालो! अगर तुम कुछ किताबियों के कहे पर चले तो वो तुम्हारे ईमान के बाद काफ़िर कर छोड़ेंगे
Ae imaan walo! agar tum kuch kitabiyon ke kahe par chale to wo tumhare imaan ke baad kafir kar chhodenge
(ف185)شانِ نزول:اَوۡس و خَزْرَج کے قبیلوں میں پہلے بڑی عداوت تھی اور مدتوں ان کے درمیان جنگ جاری رہی سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ میں ان قبیلوں کے لوگ اسلام لا کر باہم شیرو شکر ہوئے ایک روز وہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے اُنس ومحبت کی باتیں کررہے تھے شاس بن قیس یہودی جو بڑا دشمن اسلام تھااس طرف سے گزرااور ان کے باہمی روابط دیکھ کر جل گیا اور کہنے لگاکہ جب یہ لوگ آپس میں مل گئے تو ہمارا کیا ٹھکانا ہے ایک جوان کو مقرر کیاکہ انکی مجلس میں بیٹھ کر ان کی پچھلی لڑائیوں کاذکر چھیڑے اور اس زمانہ میں ہر ایک قبیلہ جو اپنی مدح اور دوسروں کی حقارت کے اشعار لکھتا تھا پڑھے چنانچہ اس یہودی نے ایسا ہی کیااور اس کی شرر انگیزی سے دونوں قبیلوں کے لوگ طیش میں آگئے اور ہتھیار اٹھالئے قریب تھاکہ خونریزی ہوجائے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ خبر پاکر مہاجرین کے ساتھ تشریف لائے اور فرمایاکہ اے جماعت اہل اسلام یہ کیا جاہلیت کے حرکات ہیں میں تمہارے درمیان ہوں اللہ تعالٰی نے تم کو اسلام کی عزت دی جاہلیت کی بلاسے نجات دی تمہارے درمیان الفت و محبت ڈالی تم پھر زمانۂ کفر کی حالت کی طرف لوٹتے ہوحضور کے ارشاد نے ان کے دلوں پر اثر کیااور انہوں نے سمجھاکہ یہ شیطا ن کافریب اور دشمن کامَکۡر تھاانہوں نے ہاتھوں سے ہتھیار پھینک دیئے اور روتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے اورحضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فرمانبردارانہ چلے آئے ا ن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔
اور تم کیوں کر کفر کروگے تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول تشریف لایا اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا،
And how can you disbelieve, whereas Allah’s verses are recited to you and His Noble Messenger is present amongst you?! And whoever takes the support of Allah is indeed guided to the right path.
और तुम क्यूँ कर कुफ़्र करोगे तुम पर अल्लाह की आयतें पढ़ी जाती हैं और तुम में उसका रसूल तशरीफ़ लाया और जिस ने अल्लाह का सहारा लिया तो ज़रूर वह सीधी राह दिखाया गया,
aur tum kyon kar kufr karoge tum par Allah ki aayatein padhi jaati hain aur tum mein uska Rasool tashreef laya aur jis ne Allah ka sahara liya to zaroor woh seedhi raah dikhaya gaya,
اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۱۸٦) سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا) (ف۱۸۷) اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے (ف۱۸۸) اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے (ف۱۸۹) تو اس نے تمہیں اس سے بچادیا (ف۱۹۰) اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ،
And hold fast to the rope of Allah, all of you together, and do not be divided; and remember Allah’s favour on you, that when there was enmity between you, He created affection between your hearts, so due to His grace you became like brothers to each other; and you were on the edge of a pit of fire (hell), so He saved you from it; this is how Allah explains His verses to you, so that you may be guided.
और अल्लाह की रस्सी मज़बूत थाम लो सब मिल कर और आपस में फट न जाना (फर्क़ों में न बट जाना) और अल्लाह का एहसान अपने ऊपर याद करो जब तुम में बैर था उस ने तुम्हारे दिलों में मिलाप कर दिया तो उस के फ़ज़्ल से तुम आपस में भाई हो गए और तुम एक गार दोज़ख़ के किनारे पर थे तो उस ने तुम्हें उस से बचा दिया अल्लाह तुम से यूँ ही अपनी आयतें बयान फ़रमाता है कि कहीं तुम हिदायत पाओ,
aur Allah ki rassi mazboot thaam lo sab mil kar aur aapas mein phat na jaana (farkon mein na bat jaana) aur Allah ka ehsaaan apne upar yaad karo jab tum mein bair tha us ne tumhare dilon mein milaap kar diya to uske fazl se tum aapas mein bhai ho gaye aur tum ek ghaar dozak ki kinaare par the to usne tumhein us se bacha diya Allah tum se yun hi apni aayatein bayaan farmaata hai ke kahin tum hidaayat paao,
(ف186) حَبْلِ اللّٰہ ِ کی تفسیر میں مفسرین کے چند قول ہیں بعض کہتے ہیں اس سے قرآن مراد ہے مُسلِم کی حدیث شریف میں وارد ہوا کہ قرآن پاک حبل اللہ ہے جس نے اس کا اتباع کیا وہ ہدایت پر ہے جس نے اُس کو چھوڑا وہ گمراہی پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حبل اللہ سے جماعت مراد ہے اور فرمایا کہ تم جماعت کو لازم کرلو کہ وہ حبل اللہ ہے جس کو مضبوط تھامنے کا حکم دیا گیاہے۔(ف187)جیسے کہ یہود و نصارٰی متفرق ہوگئے اس آیت میں اُن افعال و حرکات کی ممانعت کی گئی جو مسلمانوں کے درمیان تفرق کا سبب ہوں طریقہ مسلمین مذہب اہل سنت ہے اس کے سوا کوئی راہ اختیار کرنا دین میں تفریق اور ممنوع ہے۔(ف188)اور اسلام کی بدولت عداوت دور ہو کر آپس میں دینی محبت پیدا ہوئی حتٰی کہ اَوۡس اور خَزْرَجۡ کی وہ مشہور لڑائی جو ایک سو بیس سال سے جاری تھی اور اس کے سبب رات دن قتل و غارت کی گرم بازاری رہتی تھی سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مٹادی اور جنگ کی آگ ٹھنڈی کردی اور جنگ جو قبیلوں میں الفت و محبت کے جذبات پیدا کردیئے۔(ف189)یعنی حالتِ کفر میں کہ اگر اسی حال پر مرجاتے تو دوزخ میں پہنچتے۔(ف190)دولت ایمان عطا کرکے۔
اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں (ف۱۹۱) اور یہی لوگ مراد کو پہنچے (ف۱۹۲)
And there should be a group among you that invites to goodness, and enjoins good deeds and forbids immorality; it is they who are the successful.
और तुम में एक गिरोह ऐसा होना चाहिए कि भलाई की तरफ़ बुलाएँ और अच्छी बात का हुक्म दें और बुरी से मना करें और यही लोग मुराद को पहुँचे
aur tum mein ek groh aisa hona chahiye ke bhalaai ki taraf bulayen aur achhi baat ka hukum dein aur buri se mana karein aur yahi log muraad ko pahunche
(ف191)اس آیت سے امر معروف و نہی منکر کی فرضیت اور اجماع کے حجت ہونے پر استدلال کیا گیا ہے۔(ف192)حضرت علی مرتضٰی نے فرمایا کہ نیکیوں کا حکم کرنا اور بدیوں سے روکنا بہترین جہاد ہے۔
اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں (ف۱۹٤) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،
And do not be like those who became divided and disputed after the clear signs had come to them; and for them is a terrible punishment.
और उन जैसे न होना जो आपस में फट गए और उन में फूट पड़ गई बाद उस के कि रोशन निशानियाँ उन्हें आ चुकी थीं और उन के लिए बड़ा अज़ाब है ,
aur un jaise na hona jo aapas mein phat gaye aur un mein phoot pad gayi baad iske ke roshan nishaaniyan unhein aa chuki thin aur unke liye bada azaab hai,
(ف193)جیسا کہ یہود ونصارٰی آپس میں مختلف ہوئے اور ان میں ایک دوسرے کے ساتھ عناد و دشمنی راسخ ہوگئی یا جیسا کہ خود تم زمانۂ اسلام سے پہلے جاہلیت کے وقت میں متفرق تھے تمہارے درمیان بغض و عناد تھا مسئلہ : اس آیت میں مسلمانوں کو آپس میں اتفاق و اجتماع کا حکم دیا گیا اوراختلاف اور اس کے اسباب پیدا کرنے کی ممانعت فرمائی گئی احادیث میں بھی اس کی بہت تاکیدیں واردہیں اور جماعت مسلمین سے جدا ہونے کی سختی سے ممانعت فرمائی گئی ہے جو فرقہ پیدا ہوتا ہے اس حکم کی مخالفت کرکے ہی پیدا ہوتا ہے اور جماعت مسلمین میں تفرقہ اندازی کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور حسب ارشاد حدیث وہ شیطان کا شکار ہے اَعَاذَنَا اللّٰہُ تَعَالیٰ مِنۡہُ۔(ف194)اور حق واضح ہوچکا تھا۔
جس دن کچھ منہ اونجالے ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے (ف۱۹۵) کیا تم ایمان لاکر کافر ہوئے (ف۱۹٦) تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ،
On the Day (of Resurrection) when some faces will be shining and some faces black; so, (to) those whose faces are blackened, “What! You disbelieved after you had accepted faith! Therefore now taste the punishment, the result of your disbelief.”
जिस दिन कुछ मुँह उंजाले होंगे और कुछ मुँह काले तो वह जिन के मुँह काले हुए क्या तुम ईमान ला कर काफ़िर हुए तो अब अज़ाब चखो अपने कुफ़्र का बदला,
jis din kuch munh unjaley honge aur kuch munh kaale to woh jin ke munh kaale hue kya tum imaan laa kar kaafir hue to ab azaab chakho apne kufr ka badla,
(ف195)یعنی کفّار اُن سے تو بیخاً کہا جائے گا۔(ف196)اس کے مخاطب یا تو تمام کفار ہیں اس صورت میں ایمان سے روز میثاق کا ایمان مراد ہے جب اللہ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا تھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب نے بَلٰی کہا تھا اور ایمان لائے تھے اب جو دُنیا میں کافر ہوئے تو اُن سے فرمایا جاتا ہے کہ روز میثاق ایمان لانے کے بعد تم کافر ہوگئے حسن کا قول ہے کہ اس سے منافقین مراد ہیں جنہوں نے زبان سے اظہار ایمان کیا تھا اور ان کے دل مُنکر تھے عِکْرَمہ نے کہا کہ وہ اہل کتاب ہیں جو سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بعثت کے قبل تو حضور پر ایمان لائے اور حضور کے ظہور کے بعد آپ کا انکا ر کرکے کافر ہوگئے ایک قول یہ ہے کہ اس کے مخاطب مرتدین ہیں جو اسلام لا کر پھر گئے اور کافر ہوگئے۔
یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم ٹھیک ٹھیک تم پر پڑھتے ہیں، اور اللہ جہاں والوں پر ظلم نہیں چاہتا (ف۱۹۸)
These are the verses of Allah, which We recite to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), with truth; and Allah does not wish any injustice to the creation.
यह अल्लाह की आयतें हैं कि हम ठिक ठिक तुम पर पढ़ते हैं , और अल्लाह जहाँ वालों पर ज़ुल्म नहीं चाहता
ye Allah ki aayatein hain ke hum theek theek tum par padhte hain, aur Allah jahan walon par zulm nahi chahta
(ف198)اور کسی کو بے جرم عذاب نہیں دیتا اور کسی کی نیکی کا ثواب کم نہیں کرتا۔
تم بہتر ہو (ف۱۹۹) ان امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر کتابی ایمان لاتے (ف۲۰۰) تو ان کا بھلا تھا، ان میں کچھ مسلمان ہیں (ف۲۰۱) اور زیادہ کافر ،
You are the best among all the nations that were raised among mankind – you enjoin good deeds and forbid immorality and you believe in Allah; and if the People given the Book(s) believed it would be better for them; some of them are believers (Muslims) and most of them are disbelievers. (The best Ummah is that of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him.)
तुम बेहतर हो उन उम्मतों में जो लोगों में ज़ाहिर हुईं भलाई का हुक्म देते हो और बुराई से मना करते हो और अल्लाह पर ईमान रखते हो, और अगर किताब़ी ईमान लाते तो उन का भला था, उन में कुछ मुसलमान हैं और ज़्यादा काफ़िर ,
tum behtar ho un ummaton mein jo logon mein zaahir huein bhalaai ka hukum dete ho aur burai se mana karte ho aur Allah par imaan rakhte ho, aur agar kitaabi imaan laate to unka bhala tha, un mein kuch musalmaan hain aur zyada kaafir,
(ف199)اے اُمّتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ شانِ نزول : یہودیوں میں سے مالک بن صیف اور وہب بن یہودا نے حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا ہم تم سے افضل ہیں اور ہمارا دین تمہارے دین سے بہتر ہے جس کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ترمذی کی حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے جو جماعت سے جدا ہوا دوزخ میں گیا۔(ف200)سید انبیاء محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر۔(ف201)جیسے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور انکے اصحاب یہود میں سے اور نجاشی اور ان کے اصحاب نصارٰی میں سے۔
وہ تمہارے کچھ نہ بگاڑیں گے مگر یہی ستانا (ف۲۰۲) اور اگر تم سے لڑیں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے (ف۲۰۳) پھر ان کی مدد نہ ہوگی،
They cannot harm you except cause some trouble; and if they fight against you, they will turn their backs on you; then they will not be helped.
वह तुम्हारे कुछ न बिगाड़ेंगे मगर यही सताना और अगर तुम से लड़ें तो तुम्हारे सामने से पीठ फेर जाएँगे फिर उन की मदद न होगी,
woh tumhare kuch na bigaadenge magar yahi satana aur agar tum se ladain to tumhare samne se peeth pher jaayenge phir unki madad na hogi,
(ف202)زبانی طعن و تشنیع اور دھمکی وغیرہ سے شان نزول یہود میں سے جو لوگ اسلام لائے تھے جیسے حضرت عبداللہ ابن سلام اور اُن کے ہمراہی رؤساء یہود ان کے دشمن ہوگئے اور انہیں ایذا دینے کی فکر میں رہنے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں کو مطمئن کردیا کہ زبانی قیل و قال کے سوا وہ مسلمانوں کو کوئی آزار نہ پہنچاسکیں گے غلبہ مسلمانوں ہی کو رہے گا اور یہود کا انجام ذلت و رسوائی ہے۔(ف203)اور تمہارے مقابلہ کی تاب نہ لاسکیں گے یہ غیبی خبریں ایسی ہی واقع ہوئیں۔
ان پر جمادی گئی خواری جہاں ہوں امان نہ پائیں (ف۲۰٤) مگر اللہ کی ڈور (ف۲۰۵) اور آدمیوں کی ڈور سے (ف۲۰٦) اور غضب الٰہی کے سزاوار ہوئے اور ان پر جمادی گئی محتاجی (ف۲۰۷) یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے، یہ اس لئے کہ نافرمانبردار اور سرکش تھے،
Disgrace has been destined for them – wherever they are they shall not find peace, except by a rope from Allah and a rope from men – and they have deserved the wrath of Allah, and misery is destined for them; that is because they used to disbelieve in the signs of Allah, and unjustly martyr the Prophets; that was for their disobedience and transgression.
उन पर जमा दी गई ख़्वारी जहाँ हों अमान न पाएँ मगर अल्लाह की डोर और आदमियों की डोर से और ग़ज़ब इलाही के सज़ावार हुए और उन पर जमा दी गई मोहताजी यह उस लिये कि वह अल्लाह की आयतों से कुफ़्र करते और पैग़म्बरों को नाहक़ शहीद करते , यह उस लिये कि ना फ़रमानबरदार और सरकश थे ,
un par jama di gayi khwaari jahan hon amaan na paayen magar Allah ki dor aur aadmiyon ki dor se aur ghazab ilaahi ke sazaawar hue aur un par jama di gayi mohtaaji ye is liye ke woh Allah ki aayaton se kufr karte aur paighambaron ko na-haq shaheed karte, ye is liye ke na farmanbardaar aur sarkash the,
(ف204)ہمیشہ ذلیل ہی رہیں گے عزّت کبھی نہ پائیں گے اسی کا اثر ہے کہ آج تک یہود کو کہیں کی سلطنت میسّر نہ آئی جہاں رہے رعایا وغلام ہی بن کررہے۔(ف205)تھام کر یعنی ایمان لا کر۔(ف206)یعنی مسلمانوں کی پناہ لے کر اور انہیں جزیہ دے کر۔(ف207)چنانچہ یہودی کو مالدار ہو کر بھی غناءِ قلبی میسر نہیں ہوتا۔
سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں (ف۲۰۸) اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں (ف۲۰۹)
All of them are not alike; among the People given the Book(s) are some who are firm on the truth – they recite the verses of Allah in the night hours and prostrate (before Him).
सब एक से नहीं किताबियों में कुछ वह हैं कि हक़ पर क़ायम हैं अल्लाह की आयतें पढ़ते हैं रात की घड़ियों में और सज्दा करते हैं
sab ek se nahi kitaabiyon mein kuch woh hain ke haq par qaaim hain Allah ki aayatein padte hain raat ki ghadiyon mein aur sajda karte hain
(ف208)شان نزول: جب حضرت عبداللہ بن سلام اور انکے اصحاب ایمان لائے تو احبار یہود نے جل کر کہا کہ محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہم میں سے جو ایمان لائے ہیں وہ برے لوگ ہیں اگر برے نہ ہوتے تو اپنے باپ دادا کا دین نہ چھوڑتے اس پر یہ آیت نازل فرمائی گئی عطاء کا قول ہے مِنَ اَھْلِ الْکِتَابِ اُمَّۃ قَآئِمَۃٌ سے چالیس مرد اہل نجران کے بتیس۳۲ حبشہ کے آٹھ روم کے مراد ہیں جو دین عیسوی پر تھے پھر سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔(ف209)یعنی نماز پڑھتے ہیں اس سے یا تو نماز عشاء مراد ہے جو اہل کتاب نہیں پڑھتے یا نما زتہجد ۔
اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں (ف۲۱۰) اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں، اور یہ لوگ لائق ہیں،
They accept faith in Allah and the Last Day, and enjoin good deeds and forbid immorality, and hasten to perform good deeds; and they are the righteous.
अल्लाह और पिछले दिन पर ईमान लाते हैं और भलाई का हुक्म देते और बुराई से मना करते हैं और नेक कामों पर दौड़ते हैं , और यह लोग लायक़ हैं ,
Allah aur pichhle din par imaan laate hain aur bhalaai ka hukum dete aur burai se mana karte hain aur nek kaamon par dourte hain, aur ye log laaiq hain,
اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے (ف۲۱۱)
And they will not be denied the reward of whatever good they do; and Allah knows the pious.
और वह जो भलाई करें उन का हक़ न मारा जाएगा और अल्लाह को मालूम हैं डर वाले
aur woh jo bhalaai karein unka haq na maara jaayega aur Allah ko maaloom hain dar waale
(ف211)یہود نے عبداللہ بن سلام اور انکے اصحاب سے کہا تھا کہ تم دین اسلام قبول کرکے ٹوٹے میں پڑے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ وہ درجاتِ عالیہ کے مستحق ہوئے اور اپنی نیکیوں کی جزا پائیں گے یہود کی بکواس بے ہودہ ہے۔
وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور اولاد (ف۲۱۲) ان کو اللہ سے کچھ نہ بچالیں گے اور وہ جہنمی ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا (ف۲۱۳)
Indeed those who disbelieve – neither their wealth nor their offspring will help save them in the least, from Allah; and they are the people of fire; remaining in it forever.
वह जो काफ़िर हुए उन के माल और औलाद उन को अल्लाह से कुछ न बचा लें गे और वह जहन्नमी हैं उन को हमेशा उस में रहना
woh jo kaafir hue unke maal aur aulaad unko Allah se kuch na bacha lein ge aur woh jahannami hain unko hamesha usmein rehna
(ف212)جن پر انہیں بہت ناز ہے۔(ف213)شان نزول: یہ آیت بنی قُرَیْظَہ و نُضَیرکے حق میں نازل ہوئی یہود کے روساء نے تحصیلِ ریاست و مال کی غرض سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دشمنی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشادفرمایا کہ ان کے مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں گے وہ رسول کی دُشمنی میں ناحق اپنی عاقبت برباد کررہے ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت مشرکینِ قریش کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ ابوجہل کو اپنی دولت و مال پر بڑا فخر تھا اور ابوسفیان نے بدرواُحد میں مشرکین پر بہت کثیر مال خرچ کیا تھا ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت تمام کفار کے حق میں عام ہے ان سب کو بتایا گیا کہ مال و اولاد میں سے کوئی بھی کام آنے والا اور عذابِ الٰہی سے بچانے والا نہیں۔
کہاوت اس کی جو اس دنیا میں زندگی میں (ف۲۱٤) خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی برا کرتے تھے تو اسے بالکل مار گئی (ف۲۱۵) اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں،
The example of what they spend in this worldly life is similar to the freezing cold wind which struck the fields of a nation who wronged themselves, and destroyed it completely; and Allah did not oppress them, but it is they who wronged themselves.
कहावत उस की जो इस दुनिया में ज़िन्दगी में ख़र्च करते हैं उस हवा की सी है जिस में पाला हो वह एक ऐसी क़ौम की खेती पर पड़ी जो अपना ही बुरा करते थे तो उसे बिलकुल मार गई और अल्लाह ने उन पर ज़ुल्म न किया हाँ वह ख़ुद अपनी जानों पर ज़ुल्म करते हैं ,
kahaawat uski jo is duniya mein zindagi mein kharch karte hain us hawa ki si hai jis mein paala ho woh ek aisi qaum ki kheti par padi jo apna hi bura karte the to use bilkul maar gayi aur Allah ne unpar zulm na kiya haan woh khud apni jaanon par zulm karte hain,
(ف214)مُفَسرِین کا قول ہے کہ اس سے یہود کا وہ خرچ مراد ہے جو اپنے علماء اور رؤساء پر کرتے تھے ایک قول یہ ہے کہ کفار کے تمام نفقات و صدقات مراد ہیں ایک قول یہ ہے کہ ریا کارکا خرچ کرنا مراد ہے کیونکہ ان سب لوگوں کا خرچ کرنا یا نفع دنیوی کے لئے ہوگا یا نفع اُخروی کے لئے اگر محض نفع دنیوی کے لئے ہو تو آخرت میں اس سے کیا فائدہ اور ریاکار کو تو آخرت اور رضائے الٰہی مقصود ہی نہیں ہوتی اس کا عمل دکھاوے اور نمود کے لئے ہوتا ہے ایسے عمل کا آخرت میں کیا نفع اور کافر کے تمام عمل اکارت ہیں وہ اگر آخرت کی نیت سے بھی خرچ کرے تو نفع نہیں پاسکتا ان لوگوں کے لئے وہ مثال بالکل مطابق ہے جو آیت میں ذکر فرمائی جاتی ہے(ف215)یعنی جس طرح کہ برفانی ہو اکھیتی کو برباد کردیتی ہے اسی طرح کُفر انفاق کو باطل کردیتا ہے۔
اے ایمان والو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ (ف۲۱٦) وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے ان کی آرزو ہے، جتنی ایذا پہنچے بیَر ان کی باتوں سے جھلک اٹھا اور وہ (ف۲۱۷) جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے، ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو (ف۲۱۸)
O People who Believe! Do not share your secrets with others – they do all they can to ruin you; they desire the maximum harm for you; enmity has been revealed from their speech, and what they hide in their breasts is greater; we have explained the signs clearly to you, if you have intelligence.
ऐ ईमान वालो! ग़ैरों को अपना राज़दार न बनाओ वह तुम्हारी बुराई में कमी नहीं करते उन की आरज़ू है , जितनी अज़ा पहुँचे बैर उन की बातों से झलक उठा और वह जो सीने में छुपाए हैं और बड़ा है , हमने निशानियाँ तुम्हें खोल कर सुना दीं अगर तुम्हें अकल हो
ae imaan walo! ghairon ko apna raazdaar na banao woh tumhari burai mein kami nahi karte unki aarzu hai, jitni aziyat pahunche bair unki baaton se jhalak utha aur woh jo seenay mein chhupaye hain aur bada hai, humne nishaaniyan tumhein khol kar suna di agar tumhein aql ho
(ف216)ان سے دوستی نہ کرو محبت کے تعلقات نہ رکھو وہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔شان نزول: بعض مسلمان یہود سے قرابت اور دوستی اورپڑوس وغیرہ تعلقات کی بنا پر میل جول رکھتے تھے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی مسئلہ: کفار سے دوستی و محبت کرنا اور انہیں اپنا راز دار بنانا ناجائز و ممنوع ہے۔(ف217) غیظ و عناد(ف218)تو اُن سے دوستی نہ کرو۔
سنتے ہو یہ جو تم ہو تم تو انہیں چاہتے ہو (ف۲۱۹) اور وہ تمہیں نہیں چاہتے (ف۲۲۰) اور حال یہ کہ تم سب کتابوں پر ایمان لاتے ہو (ف۲۲۱) اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے (ف۲۲۲) اور اکیلے ہوں تو تم پر انگلیاں چبائیں غصہ سے تم فرمادو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن (قلبی جلن) میں (ف۲۲۳) اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات،
Listen! It is you who love them and they do not love you, whereas the fact is that you believe in all the Books; when they meet you they say, “We believe”; and when they are alone they chew their fingers at you with rage; say, “Die in your frenzy!” Allah knows well what lies within the hearts.
सुनते हो यह जो तुम हो तुम तो उन्हें चाहते हो और वह तुम्हें नहीं चाहते और हाल यह कि तुम सब किताबों पर ईमान लाते हो और वह जब तुम से मिलते हैं कहते हैं हम ईमान लाए और अकेले हों तो तुम पर उंगलियाँ चबाएँ ग़ुस्सा से तुम फ़रमा दो कि मर जाओ अपनी घुटन (क़ल्बी जलन) में अल्लाह ख़ूब जानता है दिलों की बात,
sunte ho ye jo tum ho tum to unhein chahte ho aur woh tumhein nahi chahte aur haal ye ke tum sab kitaabon par imaan laate ho aur woh jab tumse milte hain kehte hain hum imaan laaye aur akele hon to tum par ungliyan chabaain gussa se tum farma do ke mar jao apni ghutan (qalbi jalan) mein Allah khoob jaanta hai dilon ki baat,
(ف219)رشتہ داری اور دوستی وغیرہ تعلقات کی بنا ء پر۔(ف220)اور دینی مخالفت کی بنا پر تم سے دشمنی رکھتے ہیں۔(ف221)ا ور وہ تمہاری کتاب پر ایمان نہیں رکھتے۔(ف222)یہ منافقین کا حال ہے۔(ف223) بمیرتا برہی اے حسود کیں رنجیست ٭ کہ از مشقت اوجز بمرگ نتواں رست
تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگے (ف۲۲٤) اور تم کہ برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں، اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو (ف۲۲۵) تو ان کا داؤ تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا، بیشک ان کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں،
If some good reaches you, they feel unhappy; and if misfortune befalls you, they will rejoice; and if you remain steadfast and pious, their evil scheme will not harm you in the least; undoubtedly all what they do is encompassed by Allah.
तुम्हें कोई भलाई पहुँचे तो उन्हें बुरा लगे और तुम कि बुराई पहुँचे तो उस पर ख़ुश हों , और अगर तुम सब्र और परहेज़ गारी किए रहो तो उन का दाऊ तुम्हारा कुछ न बिगाड़ेगा, बेशक उन के सब काम ख़ुदा के घेरे में हैं ,
tumhein koi bhalaai pahunche to unhein bura lage aur tumhein koi burai pahunche to uspar khush hon, aur agar tum sabr aur parhez gaari kiye raho to unka daao tumhara kuch na bigaadega, beshak unke sab kaam khuda ke ghere mein hain,
(ف224)اور اس پر وہ رنجیدہ ہوں۔(ف225)اور اُن سے دوستی و محبت نہ کرو مسئلہ اس آیت سے معلُوم ہوا کہ دشمن کے مقابلے میں صبرو تقوٰی کام آتا ہے۔
اور یاد کرو اے محبوب! جب تم صبح کو (ف۲۲٦) اپنے دولت خانہ سے برآمد ہوئے مسلمانوں کو لڑائی کے مور چوں پر قائم کرتے (ف۲۲۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے،
And remember O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) when you came forth from your house in the morning, appointing the believers on positions of battle; and Allah is All Hearing, All Knowing.
और याद करो ऐ महबूब! जब तुम सुबह को अपने दौलत ख़ाना से बरामद हुए मुसलमानों को लड़ाई के मोर चों पर क़ायम करते और अल्लाह सुनता जानता है ,
aur yaad karo ae mehboob! jab tum subah ko apne daulat khaana se bar-aamad hue musalmanon ko ladai ke morchon par qaaim karte aur Allah sunta jaanta hai,
(ف226)بمقام مدینہ طیّبہ بقصد اُحد ۔(ف227)جمہور مُفسّرِین کا قول ہے کہ یہ بیان جنگ ِاُحد کا ہے جس کا اجمالی واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں شکست کھانے سے کفّار کو بڑا رنج تھا اس لئے اُنہوں نے بقصدِ انتقام لشکرِ گراں مرتب کرکے فوج کَشی کی، جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ملی کہ لشکرِکفّار اُحد میں اُترا ہے تو آپ نے اصحاب سے مشورہ فرمایا اس مشورت میں عبداللہ بن ابی بن سلول کو بھی بلایا گیا جو اس سے قبل کبھی کسی مشورت کے لئے بُلایا نہ گیا تھا اکثر انصار کی اور اس عبداللہ کی یہ رائے ہوئی کہ حضورمدینہ طیبہ میں ہی قائم رہیں اور جب کفّار یہاں آئیں تب اُن سے مقابلہ کیا جائے یہی سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی تھی لیکن بعض اصحاب کی رائے یہ ہوئی کہ مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر لڑنا چاہئے اور اسی پر انہوں نے اصرار کیا سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دولت سرائے اقدس میں تشریف لے گئے اور اسلحہ زیب تن فرما کر باہر تشریف لائے اب حضور کو دیکھ کر ان اصحاب کو ندامت ہوئی اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور کو رائے دینا اور اس پر اصرار کرنا ہماری غلطی تھی اس کو معاف فرمائیے اور جو مرضیء مُبارک ہو وہی کیجئے ۔ حضور نے فرمایا کہ نبی کے لئے سزاوار نہیں کہ ہتھیار پہن کر قبل جنگ اُتار دے مشرکین اُحد میں چہار شنبہ پنج شنبہ کو پہنچے تھے اور رسول ِکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے روزبعد نماز جمعہ ایک انصاری کی نماز جنازہ پڑھ کر روانہ ہوئے اور پندرہ شوال ۳ھ روز یک شنبہ اُحد میں پہنچے یہاں نزول فرمایا اور پہاڑ کا ایک درّہ جو لشکرِ اسلام کے پیچھے تھا اس طرف سے اندیشہ تھا کہ کسی وقت دشمن پشت پر سے آکر حملہ کرے اس لئے حضور نے عبداللہ بن زُبیر کو پچاس تیر اندازوں کے ساتھ وہاں مامور فرمایا کہ اگر دشمن اس طرف سے حملہ آور ہو تو تیر باری کرکے اُس کو دفع کردیا جائے اور حکم دیا کہ کسی حال میں یہاں سے نہ ہٹنا اور اس جگہ کو نہ چھوڑنا خواہ فتح ہو یا شکست ہو عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جس نے مدینہ طیبہ میں رہ کر جنگ کرنے کی رائے دی تھی اپنی رائے کے خلاف کئے جانے کی وجہ سے برہم ہوا اور کہنے لگا کہ حضور سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نو عمر لڑکوں کا کہنا تو مانا اور میری بات کی پروا نہ کی اس عبداللہ بن اُبَیْ کے ساتھ تین سو منافق تھے ان سے اس نے کہا کہ جب دشمن لشکرِ اسلام کے مقابل آجائے اس وقت بھاگ پڑو تاکہ لشکرِ اسلام میں ابتری ہوجائے اور تمہیں دیکھ کر اور لوگ بھی بھاگ نکلیں ۔ مسلمانوں کے لشکر کی کل تعداد معہ ان منافقین کے ہزار تھی اور مشرکین تین ہزار ، مقابلہ ہوتے ہی عبداللہ بن اُبَی منافق اپنے تین سو منافقوں کو لے کر بھاگ نکلا اور حضورکے سات سو اصحاب حضور کےساتھ رہ گئے اللہ تعالیٰ نے اُن کو ثابت رکھا یہاں تک کہ مشرکین کو ہزیمت ہوئی اب صحابہ بھاگتے ہوئے مشرکین کے پیچھے پڑ گئے اور حضور سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاں قائم رہنے کے لئے فرمایا تھا وہاں قائم نہ رہے تو اللہ تعالیٰ نے اِنہیں یہ دکھا دیا کہ بدر میں اللہ اورا س کے رسول کی فرمانبرداری کی برکت سے فتح ہوئی تھی یہاں حضورکے حکم کی مخالفت کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دلوں سے رُعب و ہیبت دور فرمائی اور وہ پلٹ پڑے اور مسلمانوں کو ہزیمت ہوئی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جماعت رہی جس میں حضرت ابوبکر و علی و عباس و طلحہ و سعد تھے اسی جنگ میں دندانِ اقدس شہید ہوا اور چہرۂ اقدس پر زخم آیا اسی کے متعلق یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی
جب تم میں کے دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ نامردی کرجائیں (ف۲۲۸) اور اللہ ان کا سنبھالنے والا ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،
When two groups among you almost decided to show cowardice – and Allah is their Protector; and in Allah only should the believers trust.
जब तुम में के दो गिरोहों का इरादा हुआ कि नामर्दी कर जाएँ और अल्लाह उन का संभालने वाला है और मुसलमानों को अल्लाह ही पर भरोसा चाहिए ,
jab tum mein ke do grohon ka iraada hua ke namardi kar jaayen aur Allah unka sambhaalne waala hai aur musalmanon ko Allah hi par bharosa chahiye,
(ف228)یہ دونوں گروہ انصار میں سے تھے ایک بنی سلمہ خَزْرَجْ میں سے اور ایک بنی حارثہ اَوْس میں سے یہ دونوں لشکر کے بازو تھے جب عبداللہ بن ابی بن سلول منافق بھاگا تو انہوں نے بھی واپس جانے کا قصد کیا اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور انہیں اس سے محفوظ رکھا اور وہ حضور کے ساتھ ثابت رہے یہاں اس نعمت و احسان کا ذکر فرمایا ہے
جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتہ اتار کر،
When you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) said to the believers, “Is it not sufficient for you that your Lord may support you by sending down three thousand angels?”
जब ऐ महबूब तुम मुसलमानों से फ़रमाते थे क्या तुम्हें यह काफ़ी नहीं कि तुम्हारा रब तुम्हारी मदद करे तीन हज़ार फ़रिश्ता उतार कर,
jab ae mehboob tum musalmanon se farmaate the kya tumhein ye kaafi nahi ke tumhara Rab tumhari madad kare teen hazaar farishta utaar kar,
ہاں کیوں نہیں اگر تم صبرو تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا (ف۲۳۰)
Yes, why not? If you patiently endure and remain pious, and the disbelievers attack you suddenly, your Lord will send down five thousand marked angels to help you.
हाँ क्यूँ नहीं अगर तुम सब्र व तक़वा करो और काफ़िर उसी दम तुम पर आ पड़ें तो तुम्हारा रब तुम्हारी मदद को पाँच हज़ार फ़रिश्ते निशान वाले भेजेगा
haan kyon nahi agar tum sabr o taqwa karo aur kaafir usi dam tum par aa paren to tumhara Rab tumhari madad ko paanch hazaar farishte nishaan waale bheje ga
(ف230)چنانچہ مؤمنین نے روز بدر صبر و تقوٰی سے کام لیا اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ پانچ ہزار فرشتوں کی مدد بھیجی اور مسلمانوں کی فتح اور کافروں کی شکست ہوئی۔
اور یہ فتح اللہ نے نہ کی مگر تمہاری خوشی کے لئے اور اسی لئے کہ اس سے تمہارے دلوں کو چین ملے
And Allah did not bestow this victory except for your happiness, and only that your hearts may attain peace with it; and there is no help except from Allah, the Almighty, the Wise.
और यह फ़तह अल्लाह ने न की मगर तुम्हारी ख़ुशी के लिये और इसी लिये कि उस से तुम्हारे दिलों को चैन मिले और मदद नहीं मगर अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाले के पास से
aur ye fatah Allah ne na ki magar tumhari khushi ke liye aur isi liye ke is se tumhare dilon ko chain mile aur madad nahi magar Allah ghaalib hikmat waale ke paas se
(ف231)اور دُشمن کی کثرت اور اپنی قلّت سے پریشانی او راضطراب نہ ہو۔(ف232)تو چاہئے کہ بندہ مسبّب الاسباب پر نظر رکھے اور اسی پر توکل رکھے۔
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
And to Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; He may forgive whomever He wills, and punish whomever He wills; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
और अल्लाह ही का है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में है जिसे चाहे बख़्शे और जिसे चाहे अज़ाब करे , और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान,
aur Allah hi ka hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein hai jise chahe bakhsh de aur jise chahe azaab kare, aur Allah bakhshne waala meherbaan,
اے ایمان والوں سود دونا دون نہ کھاؤ (ف۲۳٤) اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں فلاح ملے،
O People who Believe! Do not devour usury doubling and quadrupling it; and fear Allah, hoping that you achieve success.
ऐ ईमान वालों सूद दोना दोना न खाओ अल्लाह से डरो उस उम्मीद पर कि तुम्हें फ़लाह मिले ,
ae imaan walon sood doona doon na khao Allah se daro is ummeed par ke tumhein falaah mile,
(ف234)مسئلہ : اس آیت میں سود کی ممانعت فرمائی گئی مع توبیخ کے اس زیادتی پر جو اس زمانہ میں معمول تھی کہ جب میعاد آجاتی تھی اور قرضدار کے پاس ادا کی کوئی شکل نہ ہوتی تو قرض خواہ مال زیادہ کرکے مدّت بڑھا دیتا۔ اور ایسا بار بار کرتے جیسا کہ اس ملک کے سودخوار کرتے ہیں اور اس کو سود در سود کہتے ۔ مسئلہ: اس آیت سے ثابت ہوا کہ گناہ کبیرہ سے آدمی ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔
اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہے (ف۲۳۵)
And save yourselves from the fire which is prepared for disbelievers.
और उस आग से बचो जो काफ़िरों के लिये तैयार रखी है
aur us aag se bacho jo kaafiron ke liye tayyar rakhi hai
(ف235)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اس میں ایمانداروں کو تہدید ہے کہ سود وغیرہ جو چیزیں اللہ نے حرام فرمائیں ان کو حلال نہ جانیں کیونکہ حرام قطعی کو حلال جاننا کُفر ہے۔
اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو (ف۲۳٦) اس امید پر کہ تم رحم کیے جاؤ ،
And obey Allah and the Noble Messenger, hoping that you gain mercy. (Obeying the Prophet is in fact obeying Allah.)
और अल्लाह व रसूल के फ़रमानबरदार रहो उस उम्मीद पर कि तुम रहम किए जाओ ,
aur Allah o Rasool ke farmaabardaar raho is ummeed par ke tum rehem kiye jao,
(ف236)کہ رسُول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طاعت طاعتِ الٰہی ہے اور رسُول کی نافرمانی کرنے والا اللہ کا فرمانبردار نہیں ہوسکتا۔(ف237)توبہ و ادائے فرائض و طاعات و اخلاصِ عمل اختیار کرکے ۔
اور دوڑو (ف۲۳۷) اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین پرہیزگاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے
And rush towards forgiveness from your Lord, and towards a Paradise that can hold all the heavens and the earth in its width – prepared for the pious.
और दौड़ो अपने रब की बख़्शिश और ऐसी जन्नत की तरफ़ जिस की चौरान में सब आसमान व ज़मीन परहेज़गारों के लिये तैयार कर रखी है
aur daudo apne Rab ki bakhshish aur aisi jannat ki taraf jiski choraan mein sab aasman o zameen parhezgaaron ke liye tayyar kar rakhi hai
(ف238)یہ جنّت کی وُسعت کا بیان ہے اس طرح کہ لوگ سمجھ سکیں کیونکہ اُنہوں نے سب سے وسیع چیز جو دیکھی ہے وہ آسمان و زمین ہی ہے اس سے وہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگر آسمان و زمین کے طقبے طقبے اور پرت پرت بنا کر جوڑ دیئے جائیں اور سب کا ایک پرت کردیا جائے اس سے جنّت کے عرض کا اندازہ ہوتا ہے کہ جنّت کتنی وسیع ہے ہر قَل بادشاہ نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لکھا کہ جب جنّت کی یہ وسعت ہے کہ آسمان و زمین اس میں آجائیں تو پھر دوزخ کہاں ہے۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ سُبحانَ اللہ جب دن آتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے اس کلام بلاغت نظام کے معنی نہایت دقیق ہیں ظاہر پہلو یہ ہے کہ دورۂ فلکی سے ایک جانب میں دن حاصل ہوتا ہے تو اس کے جانب مقابل میں شب ہوتی ہے اسی طرح جنت جانبِ بالا میں ہے اور دوزخ جہت پستی میں یہود نے یہی سوال حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تھا تو آپ نے بھی یہی جواب دیا تھا اس پر انہوں نے کہا کہ توریت میں بھی اسی طرح سمجھایا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی قدرت و اختیار سے کچھ بعید نہیں جس شے کو جہاں چاہے رکھے یہ انسان کی تنگی نظر ہے کہ کسی چیز کی وسعت سے حیران ہوتا ہے تو پوچھنے لگتا ہے کہ ایسی بڑی چیز کہاں سمائے گی حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ جنّت آسمان میں ہے یا زمین میں فرمایا کون سی زمین اور کون سا آسمان ہے جس میں جنت سما سکے عرض کیا گیا پھر کہاں ہے فرمایا آسمانوں کے اوپر زیرِعرش ۔(ف239)اس آیت اور اس سے اوپر کی آیت وَاتَّقُوالنَّارَالَّتِیْ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ سے ثابت ہوا کہ جنّت و دوزخ پیدا ہوچکیں موجود ہیں۔
(ف۲۳۹) وہ جو اللہ کے راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں (ف۲٤۰) اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے، اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں،
Those who spend in Allah’s cause, in happiness and in grief, and who control their anger and are forgiving towards mankind; and the righteous are the beloved of Allah.
वह जो अल्लाह के राह में ख़र्च करते हैं ख़ुशी में और रंज में और ग़ुस्सा पीने वाले और लोगों से दरगुज़र करने वाले , और नेक लोग अल्लाह के महबूब हैं ,
woh jo Allah ke raah mein kharch karte hain khushi mein aur ranj mein aur gussa peene waale aur logon se dar-guzar karne waale, aur nek log Allah ke mehboob hain,
(ف240)یعنی ہر حال میں خرچ کرتے ہیں بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے سید عالم نے فرمایا خرچ کرو تم پر خرچ کیا جائے گا یعنی خدا کی راہ میں دو تمہیں اللہ کی رحمت سے ملے گا۔
اور وہ کہ جب کوئی بےحیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۲٤۱) اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں (ف۲٤۲) اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے، اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں،
And those who, when they commit an immoral act or wrong themselves, remember Allah and seek forgiveness of their sins – and who forgives sins except Allah? And those who do not purposely become stubborn regarding what they did.
और वह कि जब कोई बेहयाई या अपनी जानों पर ज़ुल्म करें अल्लाह को याद कर के अपने गुनाहों की माफ़ी चाहें और गुनाह कौन बख़्शे सिवा अल्लाह के , और अपने किये पर जान बूझ कर अड़ न जाएँ ,
aur woh ke jab koi behayaai ya apni jaanon par zulm karein Allah ko yaad karke apne gunaahon ki maafi chahein aur gunaah kaun bakhshe siwa Allah ke, aur apne kiye par jaan bujh kar ad na jaayen,
(ف241)یعنی اُن سے کوئی کبیرہ یا صغیرہ گناہ سرزد ہو۔(ف242)اور توبہ کریں اور گناہ سے باز آئیں اور آئندہ کے لئے اس سے باز رہنے کا عزم پختہ کریں کہ یہ توبہ مقبولہ کے شرائط میں سے ہے۔
ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں (ف۲٤۳) جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں (نیک لوگوں) کا اچھا نیگ (انعام، حصہ) ہے (ف۲٤٤)
For such the reward is forgiveness from their Lord, and Gardens beneath which rivers flow – abiding in it forever; what an excellent reward for the performers (of good deeds)!
ऐसों को बदला उन के रब की बख़्शिश और जन्नतें हैं जिन के नीचे नहरें रवाँ हमेशा उन में रहें और कामियों (नेक लोगों ) का अच्छा नेग (इनाम, हिस्सा) है
aison ko badla unke Rab ki bakhshish aur jannatein hain jin ke neeche nahrain rawaan hamesha un mein rahen aur kaamiyon (nek logon) ka achha neg (inaam, hissa) hai
(ف243)شان نزول: تیہان خرما فروش کے پاس ایک حسین عورت خرمے خریدنے آئی اُس نے کہا یہ خرمے تو اچھے نہیں ہیں عمدہ خرمے مکان کے اندر ہیں اس حیلے سے اس کو مکان میں لے گیا اور پکڑ کر لپٹا لیا اور منہ چُوم لیا عورت نے کہا خدا سے ڈر یہ سنتے ہی اس کو چھوڑ دیا اور شرمندہ ہوا اور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حال عرض کیا اس پر یہ آیت وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْ نازل ہوئی ایک قول یہ ہے کہ ایک انصاری اورایک ثقفی دونوں میں محبت تھی اور ہر ایک نے ایک دوسرے کو بھائی بنایا تھا ثقفی جہاد میں گیا تھا اور اپنے مکان کی نگرانی اپنے بھائی انصاری کے سپر د کر گیا تھا ایک روز انصاری گوشت لایا جب ثقفی کی عورت نے گوشت لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو انصاری نے اُس کا ہاتھ چُوم لیا اور چُومتے ہی اس کو سخت ندامت و شرمندگی ہوئی اور وہ جنگل میں نکل گیا اپنے سر پر خاک ڈالی اور منہ پر طمانچے مارے جب ثقفی جہاد سے واپس آیا تو اس نے اپنی بی بی سے انصاری کا حال دریافت کیا اس نے کہا خدا ایسے بھائی نہ بڑھائے اور واقعہ بیان کیا انصاری پہاڑوں میں روتا استغفار و توبہ کرتا پھرتا تھا ثقفی اس کو تلاش کرکے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا اِس کے حق میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔(ف244)یعنی اطاعت شعاروں کے لئے بہتر جزا ہے۔
تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں (ف۲٤۵) تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۲٤٦)
Some traditions have been tried before you – therefore travel in the land and see what sort of fate befell those who denied.
तुम से पहले कुछ तरीक़े बरताऊ में आ चुके हैं तो ज़मीन में चल कर देखो कैसा अंजाम हुआ झुटलाने वालों का
tumse pehle kuch tareeqe bartao mein aa chuke hain to zameen mein chal kar dekho kaisa anjaam hua jhutlane walon ka
(ف245)پچھلی اُمتوں کے ساتھ جنہوں نے حِرص دنیا اور اس کے لذّات کی طلب میں انبیاء و مرسلین کی مخالفت کی اللہ تعالیٰ نے انہیں مہلتیں دیں پھر بھی وہ راہ ِراست پر نہ آئے تو انہیں ہلاک و برباد کردیا۔(ف246)تاکہ تمہیں عبرت ہو۔
اگر تمہیں (ف۲٤۸) کوئی تکلیف پہنچی تو وہ لوگ بھی ویسی ہی تکلیف پاچکے ہیں (ف۲٤۹) اور یہ دن ہیں جن میں ہم نے لوگوں کے لیے باریاں رکھی ہیں (ف۲۵۰) اور اس لئے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی (ف۲۵۱) اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا مرتبہ دے اور اللہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو،
If you have been struck by some misfortune, so they (the disbelievers) too have been struck earlier with the same misfortune; these are the days in which We have allotted turns to people; and so that Allah may make known the believers and may bestow martyrdom to some of you; and Allah does not befriend the unjust.
अगर तुम्हें कोई तकलीफ़ पहुँची तो वह लोग भी वैसी ही तकलीफ़ पा चुके हैं और यह दिन हैं जिन में हमने लोगों के लिये बारीयाँ रखी हैं और उस लिये कि अल्लाह पहचान करा दे ईमान वालों की और तुम में से कुछ लोगों को शहादत का मरतबा दे और अल्लाह दोस्त नहीं रखता ज़ालिमों को,
agar tumhein koi takleef pahunchi to woh log bhi waisi hi takleef paa chuke hain aur ye din hain jin mein humne logon ke liye baariyan rakhi hain aur is liye ke Allah pehchaan kara de imaan walon ki aur tum mein se kuch logon ko shahaadat ka martaba de aur Allah dost nahi rakhta zaalimoon ko,
(ف248)جنگِ اُحد میں ۔(ف249)جنگِ بدر میں باوجود اس کے انہوں نے پست ہمّتی نہ کی اور تم سے مقابلہ کرنے میں سُستی سے کام نہ لیا تو تمہیں بھی سُستی و کم ہمّتی نہ چاہئے۔(ف250)کبھی کِسی کی باری ہے کبھی کِسی کی ۔(ف251) صبرو اخلاص کے ساتھ کہ اُن کو مشقت و ناکامی جگہ سے نہیں ہٹا سکتی اور ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آسکتی۔
اور اس لئے کہ اللہ مسلمانوں کا نکھار کردے (ف۲۵۲) اور کافروں کو مٹادے (ف۲۵۳)
And so that Allah may purify* the believers, and destroy the disbelievers. (* Forgive them their sins, if any.)
और उस लिये कि अल्लाह मुसलमानों का निखार कर दे और काफ़िरों को मिटा दे
aur is liye ke Allah musalmanon ka nikhaar kar de aur kaafiron ko mita de
(ف252)اور انہیں گناہوں سے پاک کردے۔(ف253)یعنی کافروں سے جو مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچتی ہیں وہ تو مسلمانوں کے لئے شہادت و تطہیر ہیں اور مُسلمان جو کُفّار کو قتل کریں تو یہ کُفّار کی بربادی اَور اُن کا استیصال ہے۔
اور تم تو موت کی تمنا کیا کرتے تھے اس کے ملنے سے پہلے (ف۲۵۵) تو اب وہ تمہیں نظر آئی آنکھوں کے سامنے،
And you used to wish for death before you met it; so now you see it before your eyes.
और तुम तो मौत की तमन्ना किया करते थे उस के मिलने से पहले तो अब वह तुम्हें नज़र आई आँखों के सामने ,
aur tum to maut ki tamanna kiya karte the iske milne se pehle to ab woh tumhein nazar aayi aankhon ke saamne,
(ف255)شانِ نزول: جب شہداءِ بدر کے درجے اور مرتبے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان بیان فرمائے گئے تو جو مسلمان وہاں حاضر نہ تھے انہیں حسرت ہوئی اور انہوں نے آرزو کی کہ کاش کِسی جہاد میں انہیں حاضری میسّر آئے اور شہادت کے درجات ملیں اِنہی لوگوں نے حضور سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُحد پر جانے کے لئے اصرار کیا تھا اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔
اور محمد تو ایک رسول (ف۲۵٦) ان سے پہلے اور رسول ہوچکے (ف۲۵۷) تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤں گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا،
And Mohammed (peace and blessings be upon him) is purely* a Noble Messenger; there have been Noble Messengers before him; so if he departs or is martyred, will you turn back on your heels? So whoever turns back on his heels does not cause any harm to Allah; and Allah will soon reward the thankful. (* Neither God nor an angel, but a human being with the highest spiritual status.)
और मुहम्मद तो एक रसूल उन से पहले और रसूल हो चुके तो क्या अगर वह इन्तिक़ाल फ़रमाएँ या शहीद हों तो तुम उल्टे पाँव फिर जाओगे और जो उल्टे पाँव फिरेगा अल्लाह का कुछ नुक़सान न करेगा, और अन्क़रीब अल्लाह शुक्र वालों को सिला देगा,
aur Muhammad to ek Rasool in se pehle aur Rasool ho chuke to kya agar woh inteqaal farmaayen ya shaheed hon to tum ulte paon phir jaaoge aur jo ulte paon phire ga Allah ka kuch nuqsaan na karega, aur qareeb hai ke Allah shukar walon ko sila de ga,
(ف256)اور رسولوں کی بِعثت کا مقصُوْد رسالت کی تبلیغ اور حجّت کا لازم کردینا ہے نہ کہ اپنی قوم کے درمیان ہمیشہ موجود رہنا۔ (ف257)اور اُنکے متبعین اُن کے بعد اُن کے دین پر باقی رہے شانِ نزول جنگِ اُحد میں جب کافروں نے پُکارا کہ محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہوگئے اور شیطان نے یہ جھوٹی افواہ مشہور کی تو صحابہ کو بہت اِضطراب ہوا اَور اُن میں سے کچھ لوگ بھاگ نکلے پھر جب ندا کی گئی کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف رکھتے ہیں تو صحابہ کی ایک جماعت واپس آئی حضور نے انہیں ہزیمت پر ملامت کی اُنہوں نے عرض کیا ہمارے ماں اور باپ آپ پر فدا ہوں آپ کی شہادت کی خبر سُن کر ہمارے دِل ٹوٹ گئے اور ہم سے ٹھہرا نہ گیا اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور فرمایا گیاکہ انبیاء کے بعد بھی اُمّتوں پر اُن کے دین کا اتباع لازم رہتا ہے تو اگر ایسا ہوتا بھی تو حضور کے دین کا اتباع اور اس کی حمایت لازم رہتی۔(ف258)جو نہ پھرے اور اپنے دین پر ثابت رہے ان کو شاکرین فرمایا کیونکہ اُنہوں نے اپنے ثبات سے نعمتِ اسلام کا شکر ادا کیا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امینُ الشاکرین ہیں۔
اور کوئی جان بےحکم خدا مر نہیں سکتی (ف۲۵۹) سب کا وقت لکھا رکھا ہے (ف۲٦۰) اور دنیا کا انعام چاہے ۰ف۲٦۱) ہم اس میں سے اسے دیں اور جو آخرت کا انعام چاہے ہم اس میں سے اسے دیں (ف۲٦۲) اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں،
And no soul can die except by Allah’s command – a time has been appointed for each; whoever desires the rewards of this world, We bestow upon him from it; and whoever desires the reward of the Hereafter, We bestow upon him from it; and We shall soon reward the thankful.
और कोई जान बे हुक्म ख़ुदा मर नहीं सकती सब का वक़्त लिखा रखा है और दुनिया का इनाम चाहे हम उस में से उसे दें और जो आख़िरत का इनाम चाहे हम उस में से उसे दें और क़रीब है कि हम शुक्र वालों को सिला अता करें ,
aur koi jaan be hukum Khuda mar nahi sakti sab ka waqt likha rakha hai aur duniya ka inaam chahe hum is mein se use dein aur jo aakhirat ka inaam chahe hum is mein se use dein aur qareeb hai ke hum shukar walon ko sila ata karein,
(ف259)اس میں جہاد کی ترغیب ہے ،اور مسلمانوں کو دُشمن کے مقابلہ پر جری بنایا جاتا ہے کہ کوئی شخص بغیر حکمِ الٰہی کے مر نہیں سکتا چاہے وہ مہالک و معارک میں گھس جائے اور جب موت کا وقت آتا ہے تو کوئی تدبیر نہیں بچاسکتی۔(ف260)اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔(ف261)اور اس کو اپنے عمل وطاعت سے حصولِ دنیا مقصُود ہو۔(ف262)اس سے ثابت ہوا کہ مدار نیّت پر ہے جیسا کہ بخاری و مسلم شریف کی حدیث میں آیا ہے۔
اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا ان کے ساتھ بہت خدا والے تھے، تو نہ سست پڑے ان مصیبتوں سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچیں اور نہ کمزور ہوئے اور نہ دبے (ف۲٦۳) اور صبر والے اللہ کو محبوب ہیں،
And many Prophets have fought in Allah’s cause – and many devoted men were with them; so neither did they lose heart due to the calamities that befell them in Allah's cause, nor did they weaken and nor were they subdued; and the steadfast are the beloved of Allah.
और कितने ही अन्बिया ने जिहाद किया उन के साथ बहुत ख़ुदा वाले थे , तो न सुस्त पड़े उन मुसीबतों से जो अल्लाह की राह में उन्हें पहुँचीं और न कमज़ोर हुए और न दबे और सब्र वाले अल्लाह को महबूब हैं ,
aur kitne hi anbiyah ne jihad kiya unke saath bahut Khuda waale the, to na sust pade un museebaton se jo Allah ki raah mein unhein pahunchin aur na kamzor hue aur na dabe aur sabr waale Allah ko mehboob hain,
اور وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوا اس دعا کے (ف۲٦٤) کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام کیں (ف۲٦۵) اور ہمارے قدم جما دے اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے (ف۲٦٦)
And they never said anything except that they invoked, “Our Lord! Forgive us our sins and the excesses committed during our efforts, and keep our feet steady, and bestow us help over the disbelievers.”
और वह कुछ भी न कहते थे सिवा उस दुआ के कि ऐ हमारे रब बख़्श दे हमारे गुनाह और जो ज़ियादतियाँ हमने अपने काम कीं और हमारे क़दम जमा दे और हमें उन काफ़िर लोगों पर मदद दे
aur woh kuch bhi na kehte the siwa is dua ke ke ae hamare Rab bakhsh de hamare gunaah aur jo ziyadtiyan humne apne kaam ki aur hamare qadam jama de aur humein un kaafir logon par madad de
(ف264)یعنی حمایت دین و مقاماتِ حرب میں اُن کی زبان پر کوئی ایسا کلمہ نہ آتا جِس میں گھبراہٹ پریشانی اور تزلزل کاشائبہ بھی ہوتابلکہ وہ استقلال کے ساتھ ثابت قدم رہتے اور دُعا کرتے۔(ف265)یعنی تمام صغائر و کبائر باوجود یکہ وہ لوگ ربّانی یعنی اتقیا تھے پھر بھی گناہوں کا اپنی طرف نسبت کرنا شانِ تواضع و انکسار اور آدابِ عبدیت میں سے ہے۔(ف266)اس سے یہ مسئلہ معلُوم ہوا کہ طلب ِحاجت سے قبل توبہ و استغفار آدابِ دُعا میں سے ہے۔
اے ایمان والو! اگر تم کافروں کے کہے پر چلے (۲٦۹) تو وہ تمہیں الٹے پاؤں لوٹادیں گے (ف۲۷۰) پھر ٹوٹا کھا کے پلٹ جاؤ گے (ف۲۷۱)
O People who Believe! If you obey the disbelievers, they will make you turn back on your heels, so you will then turn back as losers.
ऐ ईमान वालो! अगर तुम काफ़िरों के कहे पर चले
ae imaan walo! agar tum kaafiron ke kahe par chale
(ف269)خواہ وہ یہود ونصارٰی ہوں یا منافق و مشرک۔(ف270)کفر و بے دینی کی طرف۔(ف271)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ کُفّار سے علٰیحدگی اختیار کریں اور ہر گز اُن کی رائے و مشورے پر عمل نہ کریں اور اُن کے کہے پرنہ چلیں۔
کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے (ف۲۷۲) کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا،
Soon We shall cast awe in the hearts of disbelievers because they have appointed partners to Allah, for which He has not sent any proof; their destination is hell; and what a wretched abode for the unjust!
बल्के अल्लाह तुम्हारा मौला है और वह सबसे बेहतर मददगार,
balki Allah tumhara maula hai aur woh sab se behtar madadgaar,
(ف272)جنگِ اُحد سے واپس ہو کر جب ابوسفیان وغیرہ اپنے لشکریوں کے ساتھ مکّہ مکرّمہ کی طرف روانہ ہوئے تو اُنہیں اس پر افسوس ہوا کہ ہم نے مسلمانوں کو بالکل ختم کیوں نہ کر ڈالا آپس میں مشورہ کرکے اس پر آمادہ ہوئے کہ چل کر اُنہیں ختم کردیں جب یہ قصد پختہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں رُعب ڈالا اور انہیں خوفِ شدید پیدا ہوا اور وہ مکہ مکرمہ ہی کی طرف واپس ہوگئے اگر چہ سبب تو خاص تھا لیکن رُعب تمام کُفّار کے دلوں میں ڈال دیا گیا کہ دُنیا کے سارے کفار مسلمانوں سے ڈرتے ہیں اور بفضلہٖ تعالیٰ دین اسلام تمام ادیان پر غالب ہے۔
اور بیشک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے (ف۲۷۳) یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا (ف۲۷٤) اور نافرمانی کی (ف۲۷۵) بعد اس کے کہ اللہ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات (ف۲۷٦) تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا (ف۲۷۷) اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا (ف۲۷۸) پھر تمہارا منہ ان سے پھیردیا کہ تمہیں آزمائے (ف۲۷۹) اور بیشک اس نے تمہیں معاف کردیا، اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے،
And indeed Allah has proved true His promise to you, when you used to slay the disbelievers by His command; until the time you people lost courage and disputed about the order and disobeyed after Allah had shown you what pleases you; some of you desired the world, and some of you desired the Hereafter; thereafter He turned you away from them in order to test you; and undoubtedly He has forgiven you; and Allah is Most Munificent towards the Muslims.
कोई दम जाता है कि हम काफ़िरों के दिलों में रउब डालेंगे कि उन्होंने अल्लाह का शरीक ठहराया जिस पर उस ने कोई समझ न उतारी और उनका ठिकाना दोज़ख़ है, और क्या बुरा ठिकाना नाइंसाफ़ों का,
Koi dam jata hai ke hum kafiron ke dilon mein raub daalein ge ke unhon ne Allah ka shareek thehraya jis par us ne koi samajh na utari aur unka thikana dozak hai , aur kya bura thikana na-insaafon ka,
(ف273)جنگ ِاُحد میں۔(ف274)کُفّار کی ہزیمت کے بعد حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھ جو تیر انداز تھے وہ آپس میں کہنے لگے کہ مشرکین کو ہزیمت ہوچکی اب یہاں ٹھہر کر کیا کریں چلو کچھ مال غنیمت حاصل کرنے کی کوشش کریں بعض نے کہا مرکزمت چھوڑو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتاکید حکم فرمایا ہے کہ تم اپنی جگہ قائم رہنا کسی حال میں مرکز نہ چھوڑنا جب تک میرا حکم نہ آئے مگر لوگ غنیمت کے لئے چل پڑے اور حضرت عبداللہ بن جبیر کے ساتھ دس سے کم اصحاب رہ گئے۔(ف275)کہ مرکز چھوڑ دیا اور غنیمت حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے۔(ف276)یعنی کُفّارکی ہزیمت۔(ف277)جو مرکز چھوڑکرغنیمت کے لئے چلا گیا۔(ف278)جو اپنے امیر عبداللہ بن جبیر کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم رہ کر شہید ہوگیا۔(ف279)اور مصیبتوں پر تمہارے صابر و ثابت رہنے کا امتحان ہو۔
جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی کو نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول تمہیں پکار رہے تھے (ف۲۸۰) تو تمہیں غم کا بدلہ غم دیا (ف۲۸۱) اور معافی اس لئے سنائی کہ جو ہاتھ سے گیا اور جو افتاد پڑی اس کا رنج نہ کرو اور اللہ کوتمہارے کاموں کی خبر ہے،
When you were leaving, unconcerned without turning to look back at anyone, and from another group Our Noble Messenger was calling you (to fight); so He gave you sorrow in lieu of sorrow, and then forgave you so that you do not grieve over what has been lost or over the calamity that befell you; and Allah is Well Aware of what you do.
और बेशक अल्लाह ने तुम्हें सच कर दिखाया अपना वादा जब कि तुम उसके हुक्म से काफ़िरों को क़त्ल करते थे यहाँ तक कि जब तुम ने बुज़दिली की और हुक्म में झगड़ा डाला और नाफ़रमानी की बाद उसके कि अल्लाह तुम्हें दिखा चुका तुम्हारी ख़ुशी की बात, तुम में कोई दुनिया चाहता था और तुम में कोई आख़िरत चाहता था फिर तुम्हारा मुँह उनसे फेर दिया कि तुम्हें आज़माए और बेशक उस ने तुम्हें माफ़ कर दिया, और अल्लाह मुसलमानों पर फ़ज़्ल करता है,
Aur beshak Allah ne tumhein sach kar dikhaya apna wada jab ke tum us ke hukm se kafiron ko qatal karte the yahan tak ke jab tum ne buzdili ki aur hukm mein jhagra dala aur na-farmaani ki baad us ke ke Allah tumhein dikha chuka tumhari khushi ki baat tum mein koi duniya chahta tha aur tum mein koi aakhrat chahta tha phir tumhara munh unse pher diya ke tumhein aazmaye aur beshak us ne tumhein maaf kar diya, aur Allah musalmanon par fazl karta hai,
(ف280)کہ خدا کے بندو میری طرف آؤ۔(ف281)یعنی تم نے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرکے آپ کو غم پہنچا یا تھا اس کے بدلے تم کو ہزیمت کے غم میں مبتلا کیا۔
پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری (ف۲۸۲) کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی (ف۲۸۳) اور ایک گروہ کو (ف۲۸٤) اپنی جان کی پڑی تھی (ف۲۸۵) اللہ پر بےجا گمان کرتے تھے (ف۲۸٦) جاہلیت کے سے گمان، کہتے کیا اس کام میں کچھ ہمارا بھی اختیار ہے تم فرمادو کہ اختیار تو سارا اللہ کا ہے (ف۲۸۷) اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) جو تم پر ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں، ہمارا کچھ بس ہوتا (ف۲۸۹) تو ہم یہاں نہ مارے جاتے، تم فرمادو کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے جب بھی جن کا مارا جانا لکھا جاچکا تھا اپنی قتل گاہوں تک نکل آتے (ف۲۹۰) اور اس لئے کہ اللہ تمہارے سینوں کی بات آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے (ف۲۹۱) اسے کھول دے اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے (ف۲۹۲)
Then after grief, He sent down a peaceful slumber (calm), which engulfed a group among you – and another party kept fearing for their own lives, thinking wrongfully of Allah – like the thoughts of ignorance; they say, “Do we have any authority in this matter?” Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “All authority lies only with Allah”; they hide in their hearts what they do not reveal to you; they say, “Had we any control, we would not have been slain here”; say, “Even if you had been in your houses, those destined to be slain would have come forth to their places of slaying; and in order that Allah may test what is in your breasts and reveal whatever is in your hearts”; and Allah knows well what lies within the hearts.
जब तुम मुँह उठाए चले जाते थे और पीठ फेर कर किसी को न देखते और दूसरी जमाअत में हमारे रसूल तुम्हें पुकार रहे थे तो तुम्हें ग़म का बदला ग़म दिया और माफ़ी इस लिये सुनाई कि जो हाथ से गया और जो इफ़्ताद पड़ी उसका रंज न करो और अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है,
Jab tum munh uthaye chale jate the aur peeth pher kar kisi ko na dekhte aur doosri jamaat mein hamare Rasool tumhein pukar rahe the to tumhein gham ka badla gham diya aur maafi is liye sunai ke jo haath se gaya aur jo iftaad padi us ka ranj na karo aur Allah ko tumhare kamon ki khabar hai,
(ف282)جو رُعب و خَوف دلوں میں تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے دُور کیا اور امن و راحت کے ساتھ اُن پر نیند اُتاری یہاں تک کہ مسلمانوں کو غنودگی آگئی اور نیند نے اُن پر غلبہ کیا حضرت ابوطلحہ فرماتے ہیں کہ روزِ اُحد نیند ہم پر چھا گئی ہم میدان میں تھے تلوار ہمارے ہاتھ سے چُھوٹ جاتی تھی پھر اُٹھاتے تھے پھر چُھوٹ جاتی تھی۔(ف283)اور وہ جماعت مؤمنین صادق الایمان کی تھی۔(ف284)جو منافق تھے۔(ف285)اور وہ خوف سے پریشان تھے اللہ تعالٰی نے وہاں مؤمنین کو منافقین سے اس طرح ممتاز کیا تھا کہ مؤمنین پر تو امن و اطمینان کی نیند کا غلبہ تھا اور منافقین خوف و ہراس میں اپنی جانوں کے خوف سے پریشان تھے اور یہ آیتِ عظیمہ اور معجزۂ باہرہ تھا۔(ف286)یعنی منافقین کو یہ گمان ہورہا تھا کہ اللہ تعالٰی سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد نہ فرمائے گایایہ کہ حضور شہید ہوگئے۔ اب آپ کا دین باقی نہ رہے گا۔(ف287)فتح و ظفر قضا و قدر سب اُس کے ہاتھ ہے۔(ف288)منافقین اپنا کُفر اور وعدۂ الٰہی میں اپنا مترددہونا اور جہاد میں مسلمانوں کے ساتھ چلے آنے پر متاسّف ہونا(ف289) اور ہمیں سمجھ ہوتی تو ہم گھر سے نہ نکلتے مسلمانوں کے ساتھ اہلِ مکّہ سے لڑائی کے لئے نہ آتے اور ہمارے سردار نہ مارے جاتے ۔ پہلے مقولہ کا قائل عبداللہ بن اُبَی بن سلول منافق ہے اور اِس مقولہ کا قائل معتب بن قشیر ۔(ف290)اور گھروں میں بیٹھ رہنا کچھ کام نہ آتا کیونکہ قضا وقدر کے سامنے تدبیر و حیلہ بے کار ہے۔(ف291)اخلاص یا نفاق(ف292)اس سے کچھ چھپا نہیں اور یہ آزمائش دُوسروں کو خبردار کرنے کے لئے ہے۔
بیشک وہ جو تم میں سے پھرگئے (ف۲۹۳) جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے باعث (ف۲۹٤) اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرمادیا، بیشک اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
Indeed those of you who turned back on the day when the two armies met – for it was the devil who caused them to waver, because of some of their deeds; and undoubtedly Allah has forgiven them; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Forbearing.
फिर तुम पर ग़म के बाद चैन की नींद उतारी कि तुम्हारी एक जमाअत को घेरे थी और एक गिरोह को अपनी जान की पड़ी थी अल्लाह पर बेजा गुमान करते थे जाहिलियत के से गुमान, कहते क्या इस काम में कुछ हमारा भी इख़्तियार है तुम फ़रमा दो कि इख़्तियार तो सारा अल्लाह का है अपने दिलों में छुपाते हैं जो तुम पर ज़ाहिर नहीं करते कहते हैं, हमारा कुछ बस होता तो हम यहाँ न मारे जाते, तुम फ़रमा दो कि अगर तुम अपने घरों में होते जब भी जिन का मारा जाना लिखा जा चुका था अपनी क़त्लगाहों तक निकल आते और इस लिये कि अल्लाह तुम्हारे सीनों की बात आज़माए और जो कुछ तुम्हारे दिलों में है उसे खोल दे और अल्लाह दिलों की बात जानता है
Phir tum par gham ke baad chain ki neend utari ke tumhari ek jamaat ko ghere thi aur ek groh ko apni jaan ki pari thi Allah par beja gumaan karte the jahiliyat ke se gumaan, kehte kya is kaam mein kuch hamara bhi ikhtiyaar hai tum farma do ke ikhtiyaar to sara Allah ka hai apne dilon mein chupate hain jo tum par zaahir nahi karte kehte hain, hamara kuch bas hota to hum yahan na maare jate, tum farma do ke agar tum apne gharon mein hote jab bhi jin ka maara jana likha ja chuka tha apni qatal gahoon tak nikal aate aur is liye ke Allah tumhare seenon ki baat aazmaye aur jo kuch tumhare dilon mein hai use khol de aur Allah dilon ki baat jaanta hai
(ف293)اور جنگِ اُحد میں بھاگ گئے اور نبیء کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تیرہ یا چودہ اصحاب کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔(ف294)کہ اُنہوں نے سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے بَرخلاف مرکز چھوڑا۔
اے ایمان والو! ان کافروں (ف۲۹۵) کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا کہ جب وہ سفر یا جہاد کو گئے (ف۲۹٦) کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے اس لئے اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے، اور اللہ جِلاتا اور مارتا ہے (ف۲۹۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
O People who Believe! Do not be like the disbelievers who said regarding their brothers who went on a journey or on holy war, “If they had been here with us they would not have died or been killed” – so that Allah may make it as despair in their hearts; and Allah gives life and causes death; and Allah is seeing your deeds.
बेशक वो जो तुम में से फिर गए जिस दिन दोनों फौजें मिली थीं उन्हें शैतान ही ने लग्ज़िश दी उनके बा'ज़ आमाल के बाइस और बेशक अल्लाह ने उन्हें माफ़ फ़रमा दिया, बेशक अल्लाह बख़्शने वाला हलीम वाला है,
Beshak woh jo tum mein se phir gaye jis din dono faujein mili thin unhein shaitan hi ne laghzish di unke baaz aamaal ke baais aur beshak Allah ne unhein maaf farma diya, beshak Allah bakhshne wala halim wala hai,
(ف295)یعنی ابن ابی وغیرہ منافقین ۔(ف296)اوراِس سفر میں مر گئے یا جِہاد میں شہید ہوگئے ۔(ف297)موت و حیات اُسی کے اختیار میں ہے وہ چاہے تو مسافر و غازی کو سلامت لائے اور محفوظ گھر میں بیٹھے ہوئے کو موت دے اُن منافقین کے پاس بیٹھ رہنا کیا کسی کو موت سے بچا سکتا ہے اور جہاد میں جانے سے کب موت لازم ہے اور اگر آدمی جہاد میں مارا جائے تو وہ موت گھر کی موت سے بدرجہابہتر لہذا منافقین کا یہ قول باطل اور فریب دہی ہے اوران کا مقصد مسلمانوں کو جہاد سے نفرت دلانا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں ارشا دہوتا ہے۔
اور بیشک اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی بخشش اور رحمت (ف۲۹۹) ان کے سارے دھن دولت سے بہتر ہے،
And if you are killed in Allah’s way or die, then the pardon from Allah and mercy are better than all what they hoard.
ऐ ईमान वालो! उन काफ़िरों की तरह न होना जिन्होंने अपने भाइयों की निस्बत कहा कि जब वो सफ़र या जिहाद को गए कि हमारे पास होते तो न मरते और न मारे जाते इस लिये अल्लाह उनके दिलों में उसका अफ़्सोस रखे, और अल्लाह जिलाता और मारता है और अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है,
Ae imaan walo! Un kafiron ki tarah na hona jinhon ne apne bhaiyon ki nisbat kaha ke jab woh safar ya jihad ko gaye ke hamare paas hote to na marte aur na maare jate is liye Allah unke dilon mein iska afsos rakhe, aur Allah jilata aur maarta hai aur Allah tumhare kaam dekh raha hai,
(ف298)اور بالفرض وہ صورت پیش ہی آجائے جس کا تمہیں اندیشہ دلایا جاتا ہے۔(ف299)جو راہِ خدا میں مرنے پر حاصِل ہوتی ہے۔
اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو اللہ کی طرف اٹھنا ہے (ف۳۰۰)
And whether you are killed or you die, towards Allah you will be gathered.
और बेशक अगर तुम अल्लाह की राह में मारे जाओ या मर जाओ तो अल्लाह की बख़्शिश और रहमत उनके सारे धन दौलत से बेहतर है,
Aur beshak agar tum Allah ki raah mein maare jao ya mar jao to Allah ki bakhshish aur rehmat unke saare dhan daulat se behtar hai,
(ف300)یہاں مقاماتِ عبدیّت کے تینوں مقاموں کا بیان فرمایاگیا پہلا مقام تو یہ ہے کہ بندہ بخوفِ دوزخ اللہ کی عبادت کرے اُسکو عذابِ نار سے امن دی جاتی ہے اس کی طرف" لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللہ "میں اشارہ ہے دُوسری قسم وہ بندے ہیں جو جنّت کے شوق میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں اس کی طرف "ورَحْمَۃٌ " میں اشارہ ہے کیونکہ رحمت بھی جنت کا ایک نام ہے تیسری قِسم وہ مخلص بندے ہیں جو عشقِ الٰہی اور ا سکی ذاتِ پاک کی محبت میں اِس کی عبادت کرتے ہیں اور اُن کا مقصُود اُس کی ذات کے سوا اور کچھ نہیں ہے اِنہیں حق سبحانہ، تعالیٰ اپنے دائرۂ کرامت میں اپنی تجلّی سے نوازے گا اِس کی طرف لَاِالَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ میں اشارہ ہے۔
تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے (ف۳۰۱) اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے (ف۳۰۲) تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو (ف۳۰۳) اور کاموں میں ان سے مشورہ لو (ف۳۰٤) اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو (ف۳۰۵) بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں،
So what a great mercy it is from Allah that you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), are lenient towards them; and if you had been stern and hardhearted (unsympathetic) they would have certainly been uneasy in your company; so forgive them and intercede for them and consult with them in the conduct of affairs; and when you decide upon something, rely upon Allah; indeed Allah loves those who trust (Him).
और अगर तुम मरो या मारे जाओ तो अल्लाह की तरफ़ उठना है
Aur agar tum maro ya maare jao to Allah ki taraf uthna hai
(ف301)اور آپ کے مزاج میں اِس درجہ لُطف و کرم اور راْفت ورحمت ہوئی کہ روزِ اُحد غضب نہ فرمایا۔(ف302)اور شدّت و غِلظت سے کام لیتے۔(ف303)تاکہ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔(ف304)کہ اُس میں اُن کی دِلداری بھی ہے اور عزّت افزائی بھی اور یہ فائدہ بھی کہ مشورہ سنّت ہوجائے گا اور آئندہ امّت اِس سے نفع اُٹھاتی رہے گی۔ مشورہ کے معنٰی ہیں کِسی امر میں رائے دریافت کرنا مسئلہ : اِس سے اِجتہاد کا جواز اور قِیاس کا حجّت ہونا ثابت ہوا۔(مدارک و خازن)(ف305)توکل کے معنی ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ پر اعتماد کرنا اور کاموں کو اُس کے سپرد کردینا مقصُود یہ ہے کہ بندے کا اعتماد تمام کاموں میں اللہ پر ہونا چاہئے مسئلہ: اس سے معلوم ہوا ہے کہ مشورہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔
اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا (ف۳۰٦) اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے،
If Allah supports you, no one can overcome you; and if He forsakes you, who is there who can then help you? And in Allah only should the Muslims trust.
तो कैसी कुछ अल्लाह की मेहरबानी है कि ऐ महबूब! तुम उनके लिये नरमदिल हुए और अगर तंद मिज़ाज सख़्त दिल होते तो वो ज़रूर तुम्हारे गर्द से परेशान हो जाते तो तुम उन्हें माफ़ फ़रमाओ और उनकी शफ़ाअत करो और कामों में उनसे मशवरा लो और जो किसी बात का इरादा पक्का कर लो तो अल्लाह पर भरोसा करो बेशक तवक्कुल वाले अल्लाह को प्यारे हैं,
To kaisi kuch Allah ki meharbani hai ke ae mehboob! Tum unke liye narm dil hue aur agar tand mizaj sakht dil hote to woh zaroor tumhare gird se pareshaan ho jate to tum unhein maaf farmao aur unki shafaa’at karo aur kamon mein unse mashwara lo aur jo kisi baat ka iraada paka kar lo to Allah par bharosa karo beshak tawakkul wale Allah ko pyare hain,
(ف306)اور مددِ الٰہی وہی پاتا ہے جو اپنی قوّت وطاقت پر بھروسہ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی قدرت و رحمت کا اُمّیدوار رہتا ہے۔
اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے (ف۳۰۷) اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
And it is unimaginable that any Prophet would hide something; and whoever hides it, will bring what he hid with him on the Day of Resurrection; then every soul will be paid in full for whatever they earned; and they will not be wronged.
अगर अल्लाह तुम्हारी मदद करे तो कोई तुम पर ग़ालिब नहीं आ सकता और अगर वो तुम्हें छोड़ दे तो ऐसा कौन है जो फिर तुम्हारी मदद करे और मुसलमानों को अल्लाह ही पर भरोसा चाहिये,
Agar Allah tumhari madad kare to koi tum par ghalib nahi aa sakta aur agar woh tumhein chhod de to aisa kaun hai jo phir tumhari madad kare aur musalmanon ko Allah hi par bharosa chahiye,
(ف307)کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے اور انبیاء سب معصوم ہیں اور اِن سے ایسا ممکن نہیں نہ وحی میں نہ غیر وحی میں اور جو کوئی شخص کچھ چھپا رکھے اُس کا حکم اِسی آیت میں آگے بیان فرمایاجاتاہے۔
تو کیا جو اللہ کی مرضی پر چلا (ف۳۰۸) وہ اس جیسا ہوگا جس نے اللہ کا غضب اوڑھا (ف۳۰۹) اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا بری جگہ پلٹنے کی،
So is one who follows the will of Allah equal to one who has incurred the wrath from Allah and whose home is the fire? And what a wretched place to return!
और किसी नबी पर ये गुमान नहीं हो सकता कि वो कुछ छुपा रखे और जो छुपा रखे वो क़यामत के दिन अपनी छुपाई चीज़ ले कर आएगा फिर हर जान को उनकी कमाई भरपूर दी जाएगी और उन पर ज़ुल्म न होगा,
Aur kisi Nabi par yeh gumaan nahi ho sakta ke woh kuch chhupa rakhe aur jo chhupa rakhe woh qiyamat ke din apni chhupai cheez le kar aayega phir har jaan ko unki kamai bharpoor di jaye gi aur unpar zulm na hoga,
(ف308)اور اِس کی اطاعت کی نافرمانی سے بچا جیسے کہ مہاجرین و انصارو صالحین امت۔(ف309)یعنی اللہ کا نافرمان ہوا جیسے منافقین و کُفّار۔
بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا (ف۳۱۱) مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے (ف۳۱۲) ایک رسول (ف۳۱۳) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے (ف۳۱٤) اور انہیں پاک کرتا ہے (ف۳۱۵) اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے (ف۳۱٦) اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے (ف۳۱۷)
Allah has indeed bestowed a great favour upon the Muslims, in that He sent to them a Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) from among them, who recites to them His verses, and purifies them, and teaches them the Book and wisdom; and before it, they were definitely in open error. (The Holy Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is one of Allah’s greatest favours to mankind.)
वो अल्लाह के यहाँ दर्जा दरजा हैं और अल्लाह उनके काम देखता है,
Woh Allah ke yahan darja darja hain aur Allah unke kaam dekhta hai,
(ف311)منّت نعمتِ عظیمہ کو کہتے ہیں اور بے شک سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت نعمتِ عظیمہ ہے کیونکہ خلق کی پیدائش جہل و عدمِ دَرَایَت و قلتِ فہم و نقصانِ عقل پر ہے تو اللہ تعالیٰ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان میں مبعوث فرما کر انہیں گمراہی سے رہائی دی اور حضور کی بدولت انہیں بینائی عطا فرما کر جہل سے نکالا اور آپ کے صدقہ میں راہ ِراست کی ہدایت فرمائی اور آپ کے طفیل میں بے شمار نعمتیں عطا کیں۔(ف312)یعنی اُنکے حال پرشفقت و کرم فرمانے والا اور اُن کے لئے باعثِ فخرو شرف جس کے احوال زُہد وَرَع راست بازی دیانت داری خصائلِ جمیلہ اخلاقِ حمیدہ سے وہ واقف ہیں۔(ف313)سیّدِ عالم خاتَم الانبیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔(ف314)اور اُس کی کتابِ مجید فرقانِ حمید اُنکو سُناتاہے باوجود یہ کہ اُن کے کان پہلے کبھی کلامِ حق ووحیِ سماوی سے آشنا نہ ہوئے تھے۔(ف315)کُفرو ضلالت اور ارتکاب ِمحرمات و معاصی اور خصائلِ ناپسندیدوملکاتِ رذیلہ و ظلماتِ نفسانیہ سے۔(ف316)اور نفس کی قوت عملیہ اور علمیہ دونوں کی تکمیل فرماتا ہے۔(ف317)کہ حق و باطِل و نیک و بدمیں امتیاز نہ رکھتے تھے اور جہل و نابینائی میں مبتلا تھے۔
کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے (ف۳۱۸) کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو (ف۳۱۹) تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی (ف۳۲۰) تم فرمادو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی (ف۳۲۱) بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
So will you say when disaster strikes you, though you had struck them with twice as much, “Where has this come from?” Say (to them, O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “It has come from yourselves”; indeed Allah is Able to do all things.
बेशक अल्लाह का बड़ा एहसान हुआ मुसलमानों पर कि उनमें उन्हीं में से एक रसूल भेजा जो उन पर उसकी आयतें पढ़ता है और उन्हें पाक करता है और उन्हें किताब व हिकमत सिखाता है और वो ज़रूर इस से पहले खुली गुमराही में थे
Beshak Allah ka bara ehsaan hua musalmanon par ke un mein unhi mein se ek Rasool bheja jo un par us ki aayatein padhta hai aur unhein paak karta hai aur unhein kitaab o hikmat sikhata hai aur woh zaroor is se pehle khuli gumraahi mein the
(ف318)جیسی کہ جنگِ اُحد میں پہنچی کہ تم میں سے ستّر قتل ہوئے ۔(ف319)بدر میں کہ تم نے ستّر کو قتل کیا ستّر کو گرفتار کیا۔(ف320)اور کیوں پہنچی جب کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہیں۔(ف321)کہ تم نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی کے خلاف مدینہ طیّبہ سے باہر نِکل کر جنگ کرنے پر اصرار کیا پھر وہاں پہنچنے کے بعد باوجود حضور کی شدید ممانعت کے غنیمت کے لئے مرکز چھوڑا یہ سبب تمہارے قتل و ہزیمت کا ہوا۔
اور وہ مصیبت جو تم پر آئی (ف۳۲۲) جس دن دونوں فوجیں (ف۳۲۳) ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی،
And the calamity that struck you on the day the two armies met, was by Allah’s command – and in order that He may make known the believers.
क्या जब तुम्हें कोई मुसीबत पहुँचे कि इस से दूनी तुम पहुँचा चुके हो तो कहने लगे कि ये कहाँ से आई तुम फ़रमा दो कि वो तुम्हारी ही तरफ़ से आई बेशक अल्लाह सब कुछ कर सकता है,
Kya jab tumhein koi museebat pohnche ke us se dooni tum pohncha chuke ho to kehne lago ke yeh kahan se aayi tum farma do ke woh tumhari hi taraf se aayi beshak Allah sab kuch kar sakta hai,
اور اس لئے کہ پہچان کرادے ، ان کی جو منافق ہوئے (ف۳۲٤) اور ان سے کہا گیا کہ آؤ (ف۳۲٦) اللہ کی راہ میں لڑو یا دشمن کو ہٹاؤ (ف۳۲۷) بولے اگر ہم لڑائی ہوتی جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے ، اور اس دن ظاہری ایمان کی بہ نسبت کھلے کفر سے زیادہ قریب ہیں، اپنے منہ سے کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اللہ کو معلوم ہے جو چھپا رہے ہیں (ف۳۲۸)
And in order to expose them who turned hypocrites; and it was said to them, “Come, fight in Allah's cause, or repel the enemy”; they answered, “If we knew how to fight, we would certainly have been with you”; and on that day they were nearer to open disbelief than to professed faith; they utter with their mouths what is not in their hearts; and Allah knows well what they hide. –
और वो मुसीबत जो तुम पर आई जिस दिन दोनों फौजें मिली थीं वो अल्लाह के हुक्म से थी और इस लिये कि पहचान करा दे ईमान वालों की,
Aur woh museebat jo tum par aayi jis din dono faujein mili thin woh Allah ke hukm se thi aur is liye ke pehchaan kara de imaan walon ki,
(ف324)یعنی مؤمن و منافق ممتاز ہوگئے۔(ف325)یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین سے۔(ف326)مسلمانوں کی تعداد بڑھاؤ اور حفاظت دین کے لئے ۔(ف327)اپنے اہل و مال کو بچانے کے لئے۔(ف328)یعنی نفاق
وہ جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں (ف۳۲۹) کہا اور آپ بیٹھ رہے کہ وہ ہمارا کہا مانتے (ف۳۳۰) تو نہ مارے جاتے تم فرمادو تو اپنی ہی موت ٹال دو اگر سچے ہو (ف۳۳۱)
Those who spoke regarding their brothers while they themselves stayed back at home, “Had they listened to us, they would not have been slain”; say (to them, O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Then avert your own death, if you are truthful!”
और इस लिये कि पहचान करा दे, उनकी जो मुनाफ़िक़ हुए और उनसे कहा गया कि आओ अल्लाह की राह में लड़ो या दुश्मन को हटाओ बोले अगर हम लड़ाई होती जानते तो ज़रूर तुम्हारा साथ देते, और उस दिन ज़ाहिरी ईमान की बह निस्बत खुले कुफ़्र से ज़्यादा क़रीब हैं, अपने मुँह से कहते हैं जो उनके दिल में नहीं और अल्लाह को मालूम है जो छुपा रहे हैं
Aur is liye ke pehchaan kara de, unki jo munafiq hue aur unse kaha gaya ke aao Allah ki raah mein lado ya dushman ko hatao bole agar hum ladai hoti jaante to zaroor tumhara saath dete, aur us din zaahiri imaan ki bah nisbat khule kufr se zyada qareeb hain, apne munh se kehte hain jo unke dil mein nahi aur Allah ko maloom hai jo chhupa rahe hain
(ف329)یعنی شہدائے اُحد جونسبی طور پر ان کے بھائی تھے ان کے حق میں عبداللہ بن ابی وغیرہ منافقین نے۔(ف330)اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں نہ جاتے یا وہاں سے پھر آتے۔(ف331)مروی ہے کہ جس روز منافقین نے یہ بات کہی اسی دن ستر منافق مر گئے۔
اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے (ف۳۳۲) ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں (ف۳۳۳)
And do not ever assume that those who are slain in Allah's cause, are dead; in fact they are alive with their Lord, receiving sustenance. (Death does not mean extinction, it is the passing of the soul from this world to another. In case of virtuous believers, their bodies do not rot after death and they remain “alive”, in the manner Allah has ordained for them.)
वो जिन्होंने अपने भाइयों के बारे में कहा और आप बैठे रहे कि वो हमारा कहा मानते तो न मारे जाते तुम फ़रमा दो तो अपनी ही मौत टाल दो अगर सच्चे हो
Woh jinhon ne apne bhaiyon ke baare mein kaha aur aap baithe rahe ke woh hamara kaha maante to na maare jate tum farma do to apni hi maut taal do agar sache ho
(ف332)شان نزول: اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت شہداء احد کے حق میں نازل ہوئی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے سیّدِعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے قالب عطا فرمائے وہ جنتی نہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں جنتی میوے کھاتے ہیں طلائی قنادیل جو زیر عرش معلّق ہیں ان میں رہتے ہیں جب انہوں نے کھانے پینے رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنت سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ رہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں انہیں تمہاری خبر پہنچاؤں گا۔ پس یہ آیت نازل فرمائی۔(ابوداؤد) اس سے ثابت ہوا کہ ارواح باقی ہیں جسم کے فنا کے ساتھ فنا نہیں ہوتیں۔(ف333)اور زندوں کی طرح کھاتے پیتے عیش کرتے ہیں۔ سیاق آیت اس پر دلالت کرتا ہے کہ حیات روح و جسم دونوں کے لئے ہے علماء نے فرمایا کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی اور زمانہ صحابہ میں اور اس کے بعد بکثرت معائنہ ہوا ہے کہ اگر کبھی شہداء کی قبریں کھل گئیں تو انکے جسم تر و تازہ پائے گا۔(خازن وغیرہ)
شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا (ف۳۳٤) اور خوشیاں منا رہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے (ف۳۳۵) کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم،
Happy over what Allah has bestowed upon them from His grace, and rejoicing for those who will succeed them, and have not yet joined them; for on them is no fear nor any grief.
और जो अल्लाह की राह में मारे गए हरगिज़ उन्हें मुर्दा न ख़याल करना, बल्कि वो अपने रब के पास ज़िंदा हैं रोज़ी पाते हैं
Aur jo Allah ki raah mein maare gaye har-giz unhein murda na khayaal karna, balki woh apne Rab ke paas zinda hain rozi paate hain
(ف334)فضل و کرامت اور انعام و احسان موت کے بعد حیات دی اپنا مقرّب کیا جنت کا رزق اور اس کی نعمتیں عطا فرمائیں اور ان منازل کے حاصل کرنے کے لئے توفیق شہادت دی۔(ف335)اور دنیا میں وہ ایمان و تقوٰی پر ہیں جب شہید ہوں گے ان کے ساتھ ملیں گے اور روز قیامت امن اور چین کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔
خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا (ف۳۳٦)
They rejoice because of the favours from Allah and (His) munificence, and because Allah does not waste the reward of the believers.
शाद हैं उस पर जो अल्लाह ने उन्हें अपने फ़ज़्ल से दिया और खुशियाँ मना रहे हैं अपने पुछ्लों की जो अभी उनसे न मिले कि उन पर न कुछ अंदेशा है और न कुछ ग़म,
Shaad hain is par jo Allah ne unhein apne fazl se diya aur khushiyan mana rahe hain apne pichhlon ki jo abhi unse na mile ke unpar na kuch andesha hai aur na kuch gham,
(ف336)بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے حضور نے فرمایا جس کسی کے راہ خدا میں زخم لگاوہ روز قیامت ویسا ہی آئے گاجیسا زخم لگنے کے وقت تھا اس کے خون میں خوشبو مشک کی ہوگی اور رنگ خون کا ترمذی و نسائی کی حدیث میں ہے کہ شہیدکو قتل سے تکلیف نہیں ہوتی مگر ایسی جیسی کسی کو ایک خراش لگے مسلم شریف،حدیث میں ہے شہید کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں سوائے قرض کے۔
وہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا (ف۳۳۷) ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے،
Those who responded to the call of Allah and His Noble Messenger after they had been grieved; for the virtuous and the pious among them is a great reward.
खुशियाँ मनाते हैं अल्लाह की ने'मत और फ़ज़्ल की और ये कि अल्लाह ज़ाएअ नहीं करता अज्र मुसलमानों का
Khushiyan manate hain Allah ki ne’mat aur fazl ki aur yeh ke Allah zaya nahi karta ajr musalmanon ka
(ف337)شانِ نزول: جنگ احد سے فارغ ہونے کے بعد جب ابوسفیان مع اپنے ہمراہیوں کے مقام روحاء میں پہنچے تو انہیں افسوس ہوا کہ وہ واپس کیوں آگئے مسلمانوں کابالکل خاتمہ ہی کیوں نہ کردیا یہ خیال کرکے انہوں نے پھر واپس ہونے کاارادہ کیا سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوسفیان کے تعاقب کے لئے روانگی کااعلان فرمادیاصحابہ کی ایک جماعت جن کی تعداد ستر تھی اورجو جنگ احد کے زخموں سے چور ہورہے تھےحضور کے اعلان پر حاضر ہوگئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جماعت کو لے کر ابوسفیان کے تعاقب میں روانہ ہوگئے جب حضور مقام حَمۡراءالاسد پر پہنچے جو مدینہ سے آٹھ میل ہے تو وہاں معلوم ہواکہ مشرکین مرعوب و خوف زدہ ہو کر بھاگ گئے اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
وہ جن سے لوگوں نے کہا (ف۳۳۸) کہ لوگوں نے (ف۳۳۹) تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز (ف۳٤۰)
Those to whom the people said, “The people have gathered against you, therefore fear them”, so their faith was further increased; and they said, “Allah is Sufficient for us – and what an excellent (reliable) Trustee (of affairs) is He!”
वो जो अल्लाह व रसूल के बुलाने पर हाज़िर हुए बाद उसके कि उन्हें ज़ख़्म पहुँच चुका था उनके नेकोकारों और परहेज़गारों के लिये बड़ा सवाब है,
Woh jo Allah o Rasool ke bulane par haazir hue baad is ke ke unhein zakhm pohnch chuka tha unke nekokaron aur parhezgaaron ke liye bara sawaab hai,
(ف338)یعنی نُعَیۡم بن مسعود اشجعی نے ۔(ف339)یعنی ابوسفیان وغیرہ مشرکین نے۔(ف340)شانِ نزول: جنگ اُحد سے واپس ہوتے ہوئے ابوسفیان نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پکار کر کہہ دیاتھا کہ اگلے سال ہماری آپ کی مقام بدر میں جنگ ہوگی۔ حضور نے انکے جواب میں فرمایاان شاء اللہ جب وہ وقت آیا اور ابوسفیان اہل مکہ کو لے کر جنگ کے لئے روانہ ہوئے تو اللہ تعالٰی نے ان کے دل میں خوف ڈالا اور انہوں نے واپس ہوجانے کاارادہ کیااس موقع پر ابوسفیان کی نُعَیۡم بن مسعود اشجعی سے ملاقات ہوئی جو عمرہ کرنے آیا تھا ابوسفیان نے اس سے کہاکہ اے نعیم اس زمانہ میں میری لڑائی مقام بدر میں محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ طے ہوچکی ہے اور اس وقت مجھے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں جنگ میں نہ جاؤں واپس جاؤں تو مدینہ جا اور تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو میدان جنگ میں جانے سے روک دے اس کے عوض میں تجھ کو دس اونٹ دوں گانعیم نے مدینہ پہنچ کر دیکھا کہ مسلمان جنگ کی تیاری کررہے ہیں ان سے کہنے لگاکہ تم جنگ کے لئے جانا چاہتے ہو اہل مکہ نے تمہارے لئے بڑے لشکر جمع کئے ہیں خدا کی قسم تم میں سے ایک بھی پھر کر نہ آئے گا سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاخدا کی قسم میں ضرور جاؤں گاچاہے میرے ساتھ کوئی بھی نہ ہو پس حضور ستر سواروں کو ہمراہ لے کر حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَ کِیْلُ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے بدر میں پہنچے وہاں آٹھ شب قیام کیامال تجارت ساتھ تھااس کو فروخت کیاخوب نفع ہوااور سالم غانم مدینہ طیبہ واپس ہوئے جنگ نہیں ہوئی چونکہ ابو سفیان اور اہل مکہ خوف زدہ ہو کر مکہ شریف کو واپس ہوگئے تھے اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
تو پلٹے اللہ کے احسان اور فضل سے (ف۳٤۱) کہ انہیں کوئی برائی نہ پہنچی اور اللہ کی خوشی پر چلے (ف۳٤۲) اور اللہ بڑے فضل والا ہے (ف۳٤۳)
So they returned with the favour and munificence from Allah, in that no harm reached them; they followed what pleased Allah; and Allah is Extremely Munificent.
वो जिन से लोगों ने कहा कि लोगों ने तुम्हारे लिये जत्था जोड़ा तो उनसे डरो तो उनका ईमान और ज़ाएद हुआ और बोले अल्लाह हम को बस है और क्या अच्छा कारसाज़
Woh jinh se logon ne kaha ke logon ne tumhare liye jatha joda to unse daro to unka imaan aur zyaada hua aur bole Allah humko bas hai aur kya acha kaarsaz
(ف341)بامن و عافیت منافع تجارت حاصل کرکے۔(ف342)اور دشمن کے مقابلہ کے لئے جرأت سے نکلے اور جہاد کا ثواب پایا۔(ف343)کہ اس نے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آمادگی جہاد کی توفیق دی اور مشرکین کے دلوں کو خوف زدہ کردیا کہ وہ مقابلہ کی ہمت نہ کرسکے اور راہ میں سے واپس ہوگئے۔
وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے (ف۳٤٤) تو ان سے نہ ڈرو (ف۳٤۵) اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو (ف ۳٤٦)
It is the devil who threatens with his friends; so do not fear them and fear Me, if you have faith.
तो पलटे अल्लाह के एहसान और फ़ज़्ल से कि उन्हें कोई बुराई न पहुँची और अल्लाह की ख़ुशी पर चले और अल्लाह बड़े फ़ज़्ल वाला है
To palte Allah ke ehsaan aur fazl se ke unhein koi burai na pohnchi aur Allah ki khushi par chale aur Allah bare fazl wala hai
(ف344)اور مسلمانوں کو مشرکین کی کثرت سے ڈراتا ہے جیسا کہ نعیم بن مسعود اشجعی نے کیا۔(ف345)یعنی منافقین و مشرکین جو شیطان کے دوست ہیں ان کا خوف نہ کرو۔(ف346)کیونکہ ایمان کا مقتضا ہی یہ ہے کہ بندے کو خدا ہی کا خوف ہو۔
اور اے محبوب! تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں (ف۳٤۷) وہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے اور اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے (ف۳٤۸) اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے،
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) do not grieve for those who rush towards disbelief; they cannot cause any harm to Allah; and Allah does not will to assign them any portion in the Hereafter; and for them is a terrible punishment.
वो तो शैतान ही है कि अपने दोस्तों से धमकाता है तो उनसे न डरो और मुझ से डरो अगर ईमान रखते हो
Woh to shaitan hi hai ke apne doston se dhamkata hai to unse na daro aur mujh se daro agar imaan rakhte ho
(ف347)خواہ وہ کُفّارِ قریش ہوں یا منافقین یارؤساء یہود یا مرتدین وہ آپ کے مقابلہ کے لئے کتنے ہی لشکر جمع کریں کامیاب نہ ہوں گے۔(ف348)اس میں قَدۡرِیّہ و معتزلہ کا رد ہے اور آیت دلیل ہے اس پر کہ خیرو شربہ ارادۂ الٰہی ہے۔
وہ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر مول لیا (ف۳٤۹) اللہ کا کچھ نہ بگاڑیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،
Those who have purchased disbelief in exchange of faith cannot cause any harm to Allah; and for them is a painful punishment.
और ऐ महबूब! तुम उनका कुछ ग़म न करो जो कुफ़्र पर दौड़ते हैं वो अल्लाह का कुछ बिगाड़ेंगे और अल्लाह चाहता है कि आख़िरत में उनका कोई हिस्सा न रखे और उनके लिये बड़ा अज़ाब है,
Aur ae mehboob! Tum unka kuch gham na karo jo kufr par daurte hain woh Allah ka kuch bigaadein ge aur Allah chahta hai ke aakhrat mein unka koi hissa na rakhe aur unke liye bara azaab hai,
(ف349)یعنی منافقین جو کلمۂ ایمان پڑھنےکے بعد کافر ہوئے یا وہ لوگ جو باوجود ایمان پر قادر ہونے کےکافر ہی رہے اور ایمان نہ لائے۔
اور ہرگز کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ وہ جو ہم انہیں ڈھیل دیتے ہیں کچھ ان کے لئے بھلا ہے، ہم تو اسی لئے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں (ف۳۵۰) اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے،
And never must the disbelievers be under the illusion that the respite We give them is any good for them; We give them respite only for them to further advance in their sins; and for them is a disgraceful punishment.
वो जिन्होंने ईमान के बदले कुफ़्र मोल लिया अल्लाह का कुछ न बिगाड़ेंगे और उनके लिये दर्दनाक अज़ाब है,
Woh jinhon ne imaan ke badle kufr mol liya Allah ka kuch na bigaadenge aur unke liye dardnaak azaab hai,
(ف350)حق سے عناداور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خلاف کرکے حدیث شریف میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا، کون شخص اچھا ہے فرمایا جس کی عمر دراز ہو اور عمل اچھے ہوں عرض کیا گیا اور بدتر کون ہے فرمایا جس کی عمر دراز ہو اور عمل خراب۔
اللہ مسلمانوں کو اس حال پر چھوڑنے کا نہیں جس پر تم ہو (ف۳۵۱) جب تک جدا نہ کردے گندے کو (ف۳۵۲) ستھرے سے (ف۳۵۳) اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو! تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے (ف۳۵٤) تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ (ف۳۵۵) اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے لئے بڑا ثواب ہے،
Allah will not leave you, O People who Believe (the Muslims) in your present state, till He separates the evil from the good; and it does not befit Allah’s Majesty to give you, the common men, knowledge of the hidden, but Allah does chose from His Noble Messengers whomever He wills; so believe in Allah and His Noble Messengers; and if you believe and practice piety, for you is a great reward. (Allah gave the knowledge of the hidden to the Holy Prophet – peace and blessings be upon him.)
और हरगिज़ काफ़िर इस गुमान में न रहें कि वो जो हम उन्हें ढील देते हैं कुछ उनके लिये भला है, हम तो इसी लिये उन्हें ढील देते हैं कि और गुनाह में बढ़ें और उनके लिये ज़िल्लत का अज़ाब है,
Aur hargiz kafir is gumaan mein na rahein ke woh jo hum unhein dheel dete hain kuch unke liye bhala hai, hum to isi liye unhein dheel dete hain ke aur gunaah mein barhein aur unke liye zillat ka azaab hai,
(ف351)اے کلمہ گویانِ اسلام (ف352)یعنی منافق کو(ف353)مومن مخلص سے یہاں تک کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمہارے احوال پر مطلع کرکے مومن و منافق ہر ایک کو ممتاز فرمادے ۔شانِ نزول: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ خلقت و آفرنیش سے قبل جب کہ میری امت مٹی کی شکل میں تھی اسی وقت وہ میرے سامنے اپنی صورتوں میں پیش کی گئی جیسا کہ حضرت آدم پر پیش کی گئی اور مجھے علم دیا گیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا کون کفر کرے گا یہ خبر جب منافقین کو پہنچی تو انہوں نے براہِ استہزاء کہا کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گمان ہے کہ وہ یہ جانتے ہیں کہ جو لوگ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ان میں سے کون ان پر ایمان لائے گا کون کفر کرے گا باوجود یکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور وہ ہمیں نہیں پہچانتے اس پر سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر قیام فرماکر اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو میرے علم میں طعن کرتے ہیں آج سے قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس میں سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کا تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں اس کی خبر نہ دے دوں۔عبداللہ بن حذافہ سہمی نے کھڑے ہو کر کہا میرا باپ کون ہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا حذافہ پھر حضرت عمر رضی ا للہ تعالٰی عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے فرمایا یارسول اللہ ہم اللہ کی ربوبیت پر راضی ہوئے اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوئے قرآن کے امام ہونے پر راضی ہوئے آپ کے نبی ہونے پر راضی ہوئے ہم آپ سے معافی چاہتے ہیں حضور نے فرمایا کیا تم باز آؤ گے کیا تم باز آؤ گے پھر منبر سے اترآئے اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت تک کی تما م چیزوں کا علم عطا فرمایا گیا ہے۔ اور حضور کے علم غیب میں طعن کرنا منافقین کا طریقہ ہے۔(ف354)تو ان برگزیدہ رسولوں کو غیب کا علم دیتا ہے اور سید انبیاء حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسولوں میں سب سے افضل اور اعلٰی ہیں اس آیت سے اور اس کے سوا بکثرت آیات و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضور علیہ الصلو ۃ والسلام کو غیوب کے علوم عطا فرمائے اور غیوب کے علم آپ کا معجزہ ہیں۔(ف355)اور تصدیق کرو کہ اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ رسولوں کو غیب پر مطلع کیا ہے۔
اور جو بخل کرتے ہیں (ف۳۵٦) اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے، عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (ف۳۵۷) اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمین کا (ف۳۵۸) اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
And never must those who act miserly upon what Allah has bestowed upon them of His grace, think that it is good for them; in fact it is harmful for them; soon what they had withheld will be collars round their necks on the Day of Resurrection; and Allah only is the Inheritor (Owner) of the heavens and the earth; and Allah is Well Aware of what you do.
अल्लाह मुसलमानों को इस हाल पर छोड़ने का नहीं जिस पर तुम हो जब तक जुदा न कर दे गंदे को सुथरे से और अल्लाह की शान ये नहीं कि ऐ आम लोगो! तुम्हें ग़ैब का इल्म दे दे हाँ अल्लाह चुन लेता है अपने रसूलों से जिसे चाहे तो ईमान लाओ अल्लाह और उसके रसूलों पर और अगर ईमान लाओ और परहेज़गारी करो तो तुम्हारे लिये बड़ा सवाब है,
Allah musalmanon ko is haal par chhodne ka nahi jis par tum ho jab tak juda na kar de gande ko suthre se aur Allah ki shaan yeh nahi ke ae aam logo! Tumhein ghaib ka ilm de de haan Allah chun leta hai apne Rasoolon se jise chahe to imaan lao Allah aur uske Rasoolon par aur agar imaan lao aur parhezgaari karo to tumhare liye bara sawaab hai,
(ف356)بخل کی معنٰی میں اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ واجب کا ادا نہ کرنا بخل ہے اسی لئے بخل پر شدید وعیدیں آئی ہیں چنانچہ اس آیت میں بھی ایک وعید آرہی ہے ترمذی کی حدیث میں ہے بخل اور بدخلقی یہ دو خصلتیں ایماندار میں جمع نہیں ہوتیں۔ اکثر مفسرین نے فرمایا کہ یہاں بخل سے زکوٰۃ کا نہ دینا مراد ہے۔ (ف357)بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوۃ ادا نہ کی روز قیامت وہ مال سانپ بن کر اس کو طوق کی طرح لپٹے گااور یہ کہہ کر ڈستا جائے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔(ف358)وہی دائم باقی ہے اور سب مخلوق فانی ان سب کی ملک باطل ہونے والی ہے۔ تو نہایت نادانی ہے کہ اس مال ناپائیدار پر بخل کیا جائے اور راہ خدا میں نہ دیا جائے۔
بیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی (ف۳۵۹) اور ہم غنی (ف۳۵۹) اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا (ف۳٦۰) اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا (ف۳٦۱) اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب،
Undoubtedly Allah heard them who said, “Allah is needy, and we are the wealthy”; We shall keep recorded their saying and their wrongfully martyring of the Prophets; and We shall say, “Taste the punishment of the fire!”
और जो बुख़्ल करते हैं उस चीज़ में जो अल्लाह ने उन्हें अपने फ़ज़्ल से दी हरगिज़ उसे अपने लिये अच्छा न समझें बल्कि वो उनके लिये बुरा है, अन्क़रीब वो जिस में बुख़्ल किया था क़यामत के दिन उनके गले का तौक़ होगा और अल्लाह ही वारिस है आसमानों और ज़मीन का और अल्लाह तुम्हारे कामों से ख़बरदार है,
Aur jo bukhl karte hain is cheez mein jo Allah ne unhein apne fazl se di hargiz use apne liye acha na samjhein balki woh unke liye bura hai, anqareeb woh jis mein bukhl kiya tha qiyamat ke din unke gale ka toq hoga aur Allah hi waaris hai aasmanon aur zameen ka aur Allah tumhare kamon se khabardaar hai,
(ف359)یہود نے یہ آیہ مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضاً حَسَناً سن کر کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معبود ہم سے قرض مانگتا ہے تو ہم غنی ہوئے وہ فقیر ہوا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔(ف360)اعمال ناموں میں۔(ف361)قتل انبیاء کو اس مقولہ پر معطوف کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں جرم بہت عظیم ترین ہیں۔ اور قباحت میں برابر ہیں اور شانِ انبیاء میں گستاخی کرنے والا شانِ الٰہی میں بے ادب ہوجاتا ہے۔
یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا،
“This is the recompense of what your hands have sent ahead and Allah does not oppress the bondmen.”
बेशक अल्लाह ने सुना जिन्होंने कहा कि अल्लाह मोहताज है और हम ग़नी अब हम लिख रखेंगे उनका कहा और अंबिया को उनका नाहक़ शहीद करना और फ़रमाएँगे कि चख़ो आग का अज़ाब,
Beshak Allah ne suna jinhon ne kaha ke Allah mohtaaj hai aur hum ghani aur hum ghani ab hum likh rakhenge unka kaha aur Anbiya ko unka na-haq shaheed karna aur farmaayenge ke chakho aag ka azaab,
وہ جو کہتے ہیں اللہ نے ہم سے اقرار کر لیا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک ایسی قربانی کا حکم نہ لائے جس آگ کھائے (ف۳٦۲) تم فرمادو مجھ سے پہلے بہت رسول تمہارے پاس کھلی نشانیاں اور یہ حکم لے کر آئے جو تم کہتے ہو پھر تم نے انہیں کیوں شہید کیا اگر سچے ہو (ف۳٦۳)
Those who say, “Allah has agreed with us that we should not believe in any Noble Messenger until he comes with the command to offer a sacrifice, which a fire (from heaven) shall devour”; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Many Noble Messengers did come to you before me, with clear signs and with this command which you state – why did you then martyr them, if you are truthful?”
ये बदला है उसका जो तुम्हारे हाथों ने आगे भेजा और अल्लाह बंदों पर ज़ुल्म नहीं करता,
Yeh badla hai uska jo tumhare hathon ne aage bheja aur Allah bandon par zulm nahi karta,
(ف362)شانِ نزول: یہود کی ایک جماعت نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ ہم سے توریت میں عہد لیا گیا ہے کہ جو مدعی رسالت ایسی قربانی نہ لائے جس کو آسمان سے سفید آگ اتر کر کھائے اس پر ہم ہرگز ایمان نہ لائیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انکے اس کذب محض اور افتراء خالص کا ابطال کیا گیا کیونکہ اس شرط کا توریت میں نام و نشان بھی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نبی کی تصدیق کے لئے معجزہ کافی ہے کوئی معجزہ ہو جب نبی نے کوئی معجزہ دکھایا اس کے صدق پر دلیل قائم ہوگئی اور اس کی تصدیق کرنا اور اس کی نبوت کو ماننا لازم ہوگیا اب کسی خاص معجزہ کا اصرار حجت قائم ہونے کے بعد نبی کی تصدیق کا انکار ہے۔(ف363)جب تم نے یہ نشانی لانے والے انبیاء کو قتل کیا اور ان پر ایمان نہ لائے تو ثابت ہوگیا کہ تمہارا یہ دعوٰی جھوٹا ہے۔
تو اے محبوب! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں (ف۳٦٤) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۳٦۵) لے کر آئے تھے
So O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) if they are denying you, Noble Messengers who came before you had also been denied, who had come with clear signs and Scriptures and the clear Book.
वो जो कहते हैं अल्लाह ने हम से इक़रार कर लिया है कि हम किसी रसूल पर ईमान न लाएँ जब तक ऐसी क़ुरबानी का हुक्म न लाए जिस आग खाए तुम फ़रमा दो मुझ से पहले बहुत रसूल तुम्हारे पास खुली निशानियाँ और ये हुक्म ले कर आए जो तुम कहते हो फिर तुम ने उन्हें क्यों शहीद किया अगर सच्चे हो
Woh jo kehte hain Allah ne humse iqraar kar liya hai ke hum kisi Rasool par imaan na laayen jab tak aisi qurbani ka hukm na laye jis aag khaye tum farma do mujh se pehle bahut Rasool tumhare paas khuli nishaniyan aur yeh hukm le kar aaye jo tum kehte ho phir tum ne unhein kyon shaheed kiya agar sache ho
ہر جان کو موت چکھنی ہے، اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا، اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے (ف۳٦٦)
Every soul must taste death; and only on the Day of Resurrection will you be fully recompensed; so the one who is saved from the fire and is admitted into Paradise – he is undoubtedly successful; and the life of this world is just counterfeit wealth.
तो ऐ महबूब! अगर वो तुम्हारी तक़ज़ीब करते हैं तो तुम से अगले रसूलों की भी तक़ज़ीब की गई है जो साफ़ निशानियाँ और सहिफ़े और चमकती किताब ले कर आए थे
To ae mehboob! Agar woh tumhari takzeeb karte hain to tumse agle Rasoolon ki bhi takzeeb ki gayi hai jo saaf nishaniyan aur sahife aur chamakti kitaab le kar aaye the
(ف366)دنیا کی حقیقت اس مبارک جملہ نے بے حجاب کردی آدمی زندگانی پرمفتون ہوتا ہے اسی کو سرمایہ سمجھتا ہے اور اس فرصت کو بے کار ضائع کردیتا ہے۔ وقت اخیر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بقانہ تھی اس کے ساتھ دل لگانا حیات باقی اور اخروی زندگی کے لئے سخت مضرت رساں ہوا حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ دنیا طالبِ دنیا کے لئے متاع غرور اور دھوکے کا سرمایہ ہے لیکن آخرت کے طلب گار کے لئے دولتِ باقی کے حصول کا ذریعہ اور نفع دینے والا سرمایہ ہے یہ مضمون اس آیت کے اوپر کے جملوں سے مستفاد ہوتا ہے۔
بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں (ف۳٦۷) اور بیشک ضرور تم اگلے کتاب والوں (ف۳٦۸) اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو (۳٦۹) تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے،
You will surely be tried in respect of your property and lives, and you will surely hear much wrong from those who were given the Book before you, and from the polytheists; and if you remain steadfast and remain pious, it is then an act of great courage.
हर जान को मौत चखनी है, और तुम्हारे बदले तो क़यामत ही को पूरे मिलेंगे, जो आग से बचा कर जन्नत में दाख़िल किया गया वो मुराद को पहुँचा, और दुनिया की ज़िंदगी तो यही धोके का माल है
Har jaan ko maut chakni hai, aur tumhare badle to qiyamat hi ko poore milenge, jo aag se bacha kar jannat mein daakhil kiya gaya woh muraad ko pohncha, aur duniya ki zindagi to yeh hi dhoke ka maal hai
186) Beshak zaroor tumhari aazmaish ho gi tumhare maal aur tumhari janooN mein aur beshak zaroor tum agle kitaab walooN aur mushrikoN se bohat kuch bura suno ge aur agar tum sabr karo aur bachte raho
(ف367)حقوق وفرائض اورنقصان اور مصائب اور امراض و خطرات و قتل و رنج و غم وغیرہ سے تاکہ مؤمن وغیرمومن میں امتیاز ہوجائے مسلمانوں کویہ خطاب اس لئے فرمایا گیا کہ آنے والے مصائب وشدائد پر انہیں صبر آسان ہوجائے۔(ف368)یہود و نصارٰی(ف369)معصیّت سے
اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا فرمائی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے بیان کر دینا اور نہ چھپانا (ف۳۷۰) تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کیے (ف۳۷۱) تو کتنی بری خریداری ہے (ف۳۷۲)
And remember when Allah took a covenant from the People given the Book(s) that, “You shall definitely preach it to the people and not hide it”; so they flung it behind their backs and gained an abject price for it; so what a wretched bargain it is!
बेशक ज़रूर तुम्हारी आज़माइश हो गी तुम्हारे माल और तुम्हारी जानों में और बेशक ज़रूर तुम अगले किताब वालों और मुशरिकों से बहुत कुछ बुरा सुनो गे और अगर तुम सब्र करो और बचते रहो
to ye badi himmat ka kaam hai,
(ف370)اللہ تعالٰی نے علماء توریت و انجیل پر واجب کیا تھا کہ ان دونوں کتابوں میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والے جو دلائل ہیں وہ لوگوں کو خوب اچھی طرح مشرح کرکے سمجھادیں اور ہر گز نہ چھپائیں۔(ف371)اور رشوتیں لے کر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف کو چھپایا جو توریت و انجیل میں مذکور تھے۔(ف372)علم دین کا چھپانا ممنوع ہے، حدیث شریف میں آیاکہ جس شخص سے کچھ دریافت کیا گیا جس کو وہ جانتا ہے اور اس نے اس کو چھپایا روزِ قیامت اس کے آگ کی لگام لگائی جائے گی مسئلہ :علماء پر واجب ہے کہ اپنے علم سے فائدہ پہنچائیں اور حق ظاہر کریں اور کسی غرض فاسد کے لئے اس میں سے کچھ نہ چھپائیں۔
ہرگز نہ سمجھنا انہیں جو خوش ہوتے ہیں اپنے کیے پر اور چاہتے ہیں کہ بےکیے ان کی تعریف ہو (ف۳۷۳) ایسوں کو ہرگز عذاب سے دور نہ جاننا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
Do not ever think of those who rejoice for their deeds and wish to be praised without doing (good deeds) – do not ever think that they are safe from the punishment; and for them is a painful punishment.
तो यह बड़ी हिम्मत का काम है ,
aur yaad karo jab Allah ne ahd liya un se jinhaiN kitaab ata farmayi ke tum zaroor use logooN se bayan kar dena aur na chupana to unhoN ne use apni peeth ke peechhe phaink diya aur us ke badle zaleel daam haasil kiye to kitni buri kharidari hai
(ف373)شانِ نزول: یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے پر خوش ہوتے اور باوجود نادان ہونے کے یہ پسند کرتے کہ انہیں عالم کہا جائے مسئلہ: اس آیت میں وعید ہے خود پسندی کرنے والے کے لئے اور اس کے لئے جو لوگوں سے اپنی جھوٹی تعریف چاہے جو لوگ بغیر علم اپنے آپ کو عالم کہلواتے ہیں یااسی طرح اورکوئی غلط وصف اپنے لئے پسند کرتے ہیں انہیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے ۔
اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی (ف۳۷٤) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
And for Allah only is the kingship of the heavens and the earth; and Allah is Able to do all things.
और याद करो जब अल्लाह ने अहद लिया उनसे जिन्हे किताब अता फ़रमाई कि तुम ज़रूर उसे लोगो से बयान कर देना और न छुपाना तो उन्होंने उसे अपनी पीठ के पीछे फेंक दिया और उसके बदले ज़लील दाम हासिल किए तो कितनी बुरी खरीदारी है
har giz na samajhna unheN jo khush hote haiN apne kiye par aur chahte haiN ke be kiye un ki tareef ho esooN ko hargiz azaab se door na jaana aur un ke liye dardnaak azaab hai
(ف374)اس میں ان گستاخوں کا رد ہے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے۔
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لئے (ف۳۷٦)
Undoubtedly in the creation of the heavens and the earth and the alternation of night and day are signs for the intelligent.
हरगिज़ न समझना उन्हें जो खुश होते हैं अपने किए पर और चाहते हैं कि बे किए उनकी तारीफ़ हो ऐसो को हरगिज़ अज़ाब से दूर न जानना और उनके लिए दर्दनाक अज़ाब है
aur Allah hi ke liye hai aasmanooN aur zameen ki badshahi aur Allah har cheez par qadir hai,
(ف375)صانع قدیم علیم حکیم قادر کے وجود پر دلالت کرنے والی۔(ف376)جن کی عقل کدورت سے پاک ہو اورمخلوقات کے عجائب و غرائب کو اعتبار و استدلال کی نظر سے دیکھتے ہوں۔
جو اللہ کی یاد کرت ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے (ف۳۷۷) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (ف۳۷۸) اے رب ہمارے! تو نے یہ بیکار نہ بنایا (ف۳۷۹) پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،
Those who remember Allah while standing, and sitting, and reclining on their sides, and ponder about the creation of the heavens and the earth; “O our Lord! You have not created this without purpose; Purity is to You, therefore save us from the punishment of fire.”
और अल्लाह ही के लिये है आसमानों और ज़मीन की बादशाही और अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है ,
beshak aasmanooN aur zameen ki paidaish aur raat aur din ki baaham badlioN mein nishaniyaaN haiN aqalmandooN ke liye
(ف377)یعنی تمام احوال میں مسلم شریف میں مروی ہے کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام احیان میں اللہ کا ذکر فرماتے تھے بندہ کاکوئی حال یا دِالٰہی سے خالی نہ ہونا چاہئے حدیث شریف میں ہے جو بہشتی باغوں کی خوشہ چینی پسند کرے اسے چاہئے کہ ذکر الٰہی کی کثرت کرے۔(ف378)اور اس سے ان کے صانع کی قدرت و حکمت پر استدلال کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ۔(ف379)بلکہ اپنی معرفت کی دلیل بنایا۔
اے رب ہمارے! بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
“O our Lord! You have indeed given disgrace to whomever You put in the fire (of hell); and the unjust do not have any supporters.”
बेशक आसमानों और ज़मीन की पैदाइश और रात और दिन की बाइहम बदलीयो में निशानियाँ हैं अक़्लमंदो के लिये
jo Allah ki yaad karte haiN khare aur baithe aur karwat par lete aur aasmanooN aur zameen ki paidaish mein ghour karte haiN ae Rab hamare! tu ne ye bekaar na banaya paaki hai tujhe tu humeN dozakh ke azaab se bacha le,
اے رب ہمارے ہم نے ایک منادی کو سنا (ف۳۸۰) کہ ایمان کے لئے ندا فرماتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب ہمارے تو ہمارے گنا بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرمادے اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر (ف۳۸۱)
“O our Lord! We have heard a proclaimer calling towards faith, (saying) ‘Believe in your Lord’ so we have accepted faith; Our Lord! Therefore forgive us our sins, and wipe out our evil deeds, and make us die among the virtuous.”
जो अल्लाह की याद करते हैं खड़े और बैठे और करवट पर लेटे और आसमानों और ज़मीन की पैदाइश में ग़ौर करते हैं ऐ रब हमारे ! तू ने ये बेकार न बनाया पाकी है तुझे तू हमें दोज़ख़ के अज़ाब से बचा ले ,
ae Rab hamare! beshak jise tu dozakh mein le jaye use zaroor tu ne ruswai di aur zalimooN ka koi madadgar nahi,
(ف380)اس منادی سے مراد یا سید انبیاء محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جن کی شان میں دَ اعِیاً اِلیَ اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وارد ہے یا قرآن کریم۔(ف381)انبیاء و صالحین کے کہ ہم ان کے فرماں برداروں میں داخل کئے جائیں۔
اے رب ہمارے! اور ہمیں دے وہ (ف۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوانہ کر، بیشک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا،
“O our Lord! And give us what You have promised us through Your Noble Messengers, and do not humiliate us on the Day of Resurrection; indeed You do not break the promise.”
ऐ रब हमारे ! बेशक जिसे तू दोज़ख़ में ले जाए उसे ज़रूर तू ने रुस्वाई दी और ज़ालिमों का कोई मददगार नहीं ,
ae Rab hamare hum ne ek munaadi ko suna ke imaan ke liye nida farmata hai ke apne Rab par imaan lao to hum imaan laye ae Rab hamare tu hamare gunah bakhsh de aur hamari buraiyaaN mahw farma de aur hamari maut achhooN ke sath kar
تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو (ف۳۸۳) تو وہ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور لڑے اور مارے گءے میں ضرور ان کے سب گناہ اتار دوں گا اور ضرور انہیں باغوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں رواں (ف۳۸٤) اللہ کے پاس کا ثواب، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے،
So their Lord accepted their prayer, for I do not waste the efforts of any (righteous) worker, male or female; you are all one among yourselves; so those who migrated and were driven out from their homes and were harassed in My cause, and fought, and were slain – I will certainly wipe out all their sins and will certainly admit them into Gardens beneath which rivers flow; a reward from Allah; and only with Allah is the best reward.
ऐ रब हमारे हमने एक मुनादी को सुना कि ईमान के लिये नदा फ़रमाता है कि अपने रब पर ईमान लाओ तो हम ईमान लाए ऐ रब हमारे तू हमारे गुनाह बख़्श दे और हमारी बुराइयाँ मह्व फ़रमा दे और हमारी मौत अच्छो के साथ कर
ae Rab hamare! aur humeN de woh jiska tu ne hum se wada kiya hai apne RasoolooN ki maarfat aur humeN qiyamat ke din ruswa na kar, beshak tu wada khilaf nahi karta,
(ف383)اور جزائے اعمال میں عورت و مرد کے درمیا ن کوئی فرق نہیں۔ شانِ نزول:ام المومنین حضر ت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہجرت میں عورتوں کاکچھ ذکر ہی نہیں سنتی یعنی مردوں کے فضائل تو معلوم ہوئے لیکن یہ بھی معلوم ہو کہ عورتوں کو بھی ہجرت کاکچھ ثواب ملے گااس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انکی تسکین فرمادی گئی کہ ثواب عمل پر مرتب ہے عورت کاہویا مردکا۔(ف384)یہ سب اللہ کافضل وکرم ہے۔
اے سننے والے! کافروں کا شہروں میں اہلے گہلے پھرنا ہرگز تجھے دھوکا نہ دے (ف۳۱۵)
O listener (followers of this Prophet)! Do not ever be deceived by the disbelievers’ free movements in the cities.
ऐ रब हमारे ! और हमें दे वह जिसका तू ने हम से वादा किया है अपने रसूलों की
मआरफ़त और हमें क़यामत के दिन रुस्वा न कर, बेशक तू वादा ख़िलाफ़ नहीं करता,
to un ki dua sun li un ke Rab ne ke main tum mein kaam walay ki mehnat akarat nahi karta mard ho ya aurat tum aapas mein ek ho to woh jinhoN ne hijrat ki aur apne gharoN se nikale gaye aur meri raah mein sataye gaye aur lade aur maare gaye main zaroor un ke sab gunah utaar dooN ga aur zaroor unheN baghooN mein le jaoonga jinke neeche nahrain rawaan Allah ke paas ka sawab, aur Allah hi ke paas acha sawab hai,
(ف385)شانِ نزول: مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا کہ کفار ومشرکین اللہ کے دشمن تو عیش و آرام میں ہیں اور ہم تنگی و مشقت میں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیاکہ کفّار کا یہ عیش متاع قلیل ہے اور انجام خراب۔
تھوڑا برتنا، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی برا بچھونا،
It is a brief usage; their home is hell; and what an evil resting-place!
तो उनकी दुआ सुन ली उनके रब ने कि मैं तुम में काम वाले की मेहनत अकारत नहीं करता मर्द हो या औरत तुम आपस में एक हो तो वह जिन्होने हिजरत की और अपने घरो से निकाले गए और मेरी राह में सताए गए और लड़े और मारे गए मैं ज़रूर उनके सब गुनाह उतार दूँ गा और ज़रूर उन्हें बाग़ो में ले जाऊँ गा जिनके नीचे नहरें रवाँ अल्लाह के पास का सवाब, और अल्लाह ही के पास अच्छा सवाब है ,
ae sunne wale! kaafirooN ka shahrooN mein ahlay gahlay phirna hargiz tujhe dhoka na de
لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کی طرف کی، مہمانی اور جو اللہ پاس ہے وہ نیکوں کے لئے سب سے بھلا (ف۳۸٦)
But for those who fear their Lord are Gardens beneath which rivers flow – abiding in it for ever – the hospitality from their Lord; and that which is with Allah, is the best for the righteous.
ऐ सुनने वाले ! काफ़िरों का शहरो में अहले गहले फिरना हरगिज़ तुझे धोका न दे
thora baratna, un ka thikana dozakh hai, aur kya hi bura bichhona,
(ف386)بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت سرائے اقد س میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ سلطان کونین ایک بوریئے پر آرام فرماہیں چمڑہ کا تکیہ جس میں ناریل کے ریشے بھرے ہوئے ہیں زیر سر مبارک ہے جسم اقدس میں بوریئے کے نقش ہو گئے ہیں یہ حال دیکھ کر حضرت فاروق رو پڑے سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبب گریہ دریافت کیاتو عرض کیا کہ یارسول اللہ قیصر و کسرٰی تو عیش و راحت میں ہوں اور آپ رسول خدا ہو کر اس حالت میں ۔فرمایا کیا تمہیں پسند نہیں کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت ۔
اور بیشک کچھ کتابیں ایسے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جو ان کی طرف اترا (ف۳۸۷) ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے (ف۳۸۸) اللہ کی آیتوں کے بدلے ذلیل دام نہیں لیتے (ف۳۸۹) یہ وہ ہیں، جن کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے،
And undoubtedly there are some among the People given the Book(s), who accept faith in Allah and what is sent down to you and what was sent down to them – their hearts are submitted humbly before Allah – they do not exchange the verses of Allah for an abject price; they are those whose reward is with their Lord; indeed Allah is Swift At Taking Account.
थोड़ा बरतना, उनका ठिकाना दोज़ख़ है , और क्या ही बुरा बिछोना,
lekin woh jo apne Rab se darte haiN un ke liye jannatein haiN jinke neeche nahrain baheN hamesha un mein raheN Allah ki taraf ki, mehmani aur jo Allah paas hai woh nekon ke liye sabse bhala
(ف387)شانِ نزول: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت نجاشی بادشاہِ حبشہ کے باب میں نازل ہوئی ان کی وفات کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا چلو اور اپنے بھائی کی نماز پڑھو جس نے دوسرے ملک میں وفات پائی ہے حضور بقیع شریف میں تشریف لے گئے اور زمین حبشہ آپ کے سامنے کی گئی اور نجاشی بادشاہ کاجنازہ پیش نظر ہوا اس پر آپ نے چار تکبیروں کے ساتھ نماز پڑھی اور اس کے لئے استغفار فرمایا۔ سبحان اللہ ۔ کیا نظر ہے کیا شان ہے سرزمین حبشہ حجاز میں سامنے پیش کردی جاتی ہے منافقین نے اس پر طعن کیا اور کہا دیکھو حبشہ کے نصرانی پر نماز پڑھتے ہیں جس کو آپ نے کبھی دیکھابھی نہیں اور وہ آپ کے دین پر بھی نہ تھااس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی۔(ف388)عجزو انکسار اور تواضع و اخلاص کے ساتھ۔(ف389)جیسا کہ یہود کے رؤساء لیتے ہیں۔
اے ایمان والو! صبر کرو (ف۳۹۰) اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو،
O People who Believe! Endure and surpass your enemies in endurance, and guard the frontiers of the Islamic nation; and keep fearing Allah, hoping that you may succeed.
लेकिन वह जो अपने रब से डरते हैं उनके लिये जन्नते हैं जिनके नीचे नहरें बहें हमेशा उनमें रहें अल्लाह की तरफ़ की, मेहमानि और जो अल्लाह पास है वह नेक़ो के लिये सबसे भला
aur beshak kuch kitabein aise haiN ke Allah par imaan laate haiN aur us par jo tumhari taraf utara aur jo un ki taraf utara un ke dil Allah ke huzoor jhuke huwe Allah ki aayatooN ke badle zaleel daam nahi lete ye woh haiN, jin ka sawab un ke Rab ke paas hai aur Allah jald hisaab karne wala hai,
(ف390)اپنےدین پر اور اس کو کسی شدت و تکلیف وغیرہ کی وجہ سے نہ چھوڑو صبر کے معنٰی میں حضرت جنید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ صبر نفس کو ناگوار امر پر روکناہے بغیر جزع کے بعض حکماء نے کہا،صبر کی تین قسمیں ہیں۔(۱) ترک شکایت (۲) قبول قضا(۳) صدوق رضا
اے لوگو ! (ف۲) اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو (ف٤) بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے،
O mankind! Fear your Lord Who created you from a single soul and from it created its spouse and from them both has spread the multitude of men and women; fear Allah in Whose name you claim (your rights from one another) and be mindful of your blood relations; indeed Allah is always seeing you.
ऐ लोगो ! अपने रब से डरो जिस ने तुम्हें एक जान से पैदा किया और उसी में से उसका जोड़ा बनाया और उन दोनों से बहुत से मर्द और औरत फैला दिये और अल्लाह से डरो जिस के नाम पर मांगते हो और रिश्तों का लिहाज़ रखो बेशक अल्लाह हर वक्त तुम्हें देख रहा है,
Ae logo! Apne Rab se daro jis ne tumhein ek jaan se paida kiya aur usi mein se us ka jora banaya aur un dono se bohat se mard aur aurat phaila diye. Aur Allah se daro jis ke naam par maangte ho aur rishton ka lihaaz rakho. Beshak Allah har waqt tumhein dekh raha hai,
(ف2)یہ خطاب عام ہے تمام بنی آدم کو ۔(ف3)ابوالبشر حضرتِ آدم سے جن کو بغیر ماں باپ کے مٹی سے پیدا کیا تھا انسان کی ابتدائے پیدائش کا بیان کرکے قدرتِ الٰہیہ کی عظمت کا بیان فرمایا گیااگرچہ دنیا کے بے دین بدعقلی و نافہمی سے اس کا مضحکہ اُڑاتے ہیں لیکن اصحابِ فہم و خِرد جانتے ہیں کہ یہ مضمون ایسی زبردست برہان سے ثابت ہے جس کا انکار محال ہے مردم شماری کا حساب پتہ دیتا ہے کہ آج سے سو برس قبل دنیا میں انسانوں کی تعداد آج سے بہت کم تھی اور اس سے سو برس پہلے اور بھی کم تو اس طرح جانب ماضی میں چلتے چلتے اس کمی کی حد ایک ذات قرار پائے گی یا یوں کہئے کہ قبائل کی کثیر تعداد یں ایک شخص کی طرف منتہی ہوجاتی ہیں مثلاً سید دنیا میں کروڑوں پائے جائیں گے مگر جانب ماضی میں اُن کی نہایت سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک ذات پر ہوگی اور بنی اسرائیل کتنے بھی کثیر ہوں مگر اس تمام کثرت کا مرجع حضرت یعقوب علیہ السلام کی ایک ذات ہوگی اسی طرح اور اوپر کو چلنا شروع کریں تو انسان کے تمام شُعوب و قبائل کی انتہا ایک ذات پر ہوگی اس کا نام کتبِ الٰہیہ میں آدم علیہ السلام ہے اور ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک شخص تَوالُد وتَناسُل کے معمولی طریقہ سے پیدا ہوسکے اگر اس کے لئے باپ فرض بھی کیا جائے تو ماں کہاں سے آئے لہٰذا ضروری ہے کہ اس کی پیدائش بغیر ماں باپ کے ہواور جب بغیر ماں باپ کے پیدا ہوا تو بالیقین اُنہیں عناصر سے پیدا ہوگا جو اُس کے وجود میں پائے جاتے ہیں پھر عناصر میں سے جو عنصر اس کا مسکن ہو اور جس کے سوا دوسرے میں وہ نہ رہ سکے لازم ہے کہ وہی اس کے وجود میں غالب ہو اس لئے پیدائش کی نسبت اُسی عنصر کی طرف کی جائے گی یہ بھی ظاہر ہے کہ توالد و تناسل کا معمولی طریقہ ایک شخص سے جاری نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس کے ساتھ ایک اور بھی ہو کہ جوڑا ہوجائے اور وہ دوسرا شخص انسانی جو اس کے بعد پیداہو مُقتضائے حکمت یہی ہے کہ اُسی کے جسم سے پیدا کیا جائے کیونکہ ایک شخص کے پیدا ہونے سے نوع موجود ہوچکی مگر یہ بھی لازم ہے کہ اس کی خلقت پہلے انسان سے توالد معمولی کے سوا کسی اور طریقہ سے ہو کیونکہ توالدِ معمولی بغیر دو کے ممکن ہی نہیں اور یہاں ایک ہی ہے لہذا حکمت الٰہیہ نے حضرت آدم کی ایک بائیں پسلی ان کے خواب کے وقت نکالی اور اُن سے اُن کی بی بی حضرت حوّا کو پیدا کیا چونکہ حضرت حوّا بطریق توالد معمولی پیدا نہیں ہوئیں اس لئے وہ اولاد نہیں ہوسکتیں جس طرح کہ اس طریقہ کے خلاف جسم انسانی سے بہت سے کیڑے پیدا ہوا کرتے ہیں وہ اس کی اولاد نہیں ہوسکتے ہیں خواب سے بیدار ہو کر حضرت آدم نے اپنے پاس حضرت حوّا کو دیکھا تو محبتِ جنسیّت دِل میں موجزَن ہوئی اُن سے فرمایا تم کون ہوا نہوں نے عرض کیا عورت فرمایا کس لئے پیدا کی گئی ہو۔ عرض کیا آپ کی تسکینِ خاطر کے لئے تو آپ اُن سے مانوس ہوئے۔(ف4)اِنہیں قطع نہ کرو حدیث شریف میں ہے جو رزق کی کشائش چاہے اس کو چاہئے کہ صلۂ رحمی کرے اور رشتہ داروں کے حقوق کی رعایت رکھے۔
اور یتیموں کو ان کے مال دو (ف۵) اور ستھرے (ف٦) کے بدلے گندا نہ لو (ف۷) اور ان کے مال اپنے مالوں میں ملاکر نہ کھا جاؤ، بیشک یہ بڑا گناہ ہے
And give the orphans their wealth and do not exchange the pure for the foul; and do not devour (or use up) their wealth, mixing it with your own; this is indeed a great sin.
और यतीमों को उनके माल दो और सुथरे के बदले गन्दा न लो और उनके माल अपने मालों में मिलाकर न खा जाओ, बेशक ये बड़ा गुनाह है
Aur yateemon ko un ke maal do aur suthre ke badle ganda na lo aur un ke maal apne maaloon mein mila kar na kha jao, beshak yeh bara gunah hai.
(ف5)شان نزول: ایک شخص کی نگرانی میں اُس کے یتیم بھتیجے کا کثیر مال تھا جب وہ یتیم بالغ ہو ا اور اس نے اپنا مال طلب کیا تو چچا نے دینے سے انکار کردیا اِس پر یہ آیت نازل ہوئی اِس کو سن کر اُس شخص نے یتیم کا مال اُس کے حوالہ کیا اور کہا کہ ہم اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔(ف6)یعنی اپنے حلال مال ۔(ف7)یتیم کا مال جو تمہارے لئے حرام ہے اس کو اچھا سمجھ کر اپنے ردّی مال سے نہ بدلو کیونکہ وہ ردّی تمہارے لئے حلال و طیّب ہے اور یہ حرام و خبیث ۔
اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرو گے (ف۸) تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین اور چار چار (ف۹) پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو (ف۱۰)
And if you fear that you will not be just towards orphan girls, marry the women whom you like – two at a time, or three or four; then if you fear that you cannot keep two women equally then marry only one or the bondwomen you own; this is closer to your not doing injustice.
और अगर तुम्हें अन्देशा हो कि यतीम लड़कियों में इन्साफ़ न करोगे तो निकाह में लाओ जो औरतें तुम्हें खुश आयें दो दो और तीन तीन और चार चार फिर अगर डरो कि दो बीबियों को बराबर न रख सकोगे तो एक ही करो या कनिजें जिन के तुम मालिक हो ये इस से ज़्यादा क़रीब है कि तुम से ज़ुल्म न हो
Aur agar tumhein andesha ho ke yateem larkiyon mein insaaf na karoge to nikah mein lao jo auratein tumhein khush aayen – do do, aur teen teen, aur chaar chaar. Phir agar daro ke do bibioun ko barabar na rakh sako ge to ek hi karo ya kanizain jin ke tum malik ho. Yeh us se zyada qareeb hai ke tum se zulm na ho.
(ف8)اور ان کے حقوق کی رعایت نہ رکھ سکو گے(ف9)آیت کے معنی میں چند قول ہیں حسن کا قول ہے کہ پہلے زمانہ میں مدینہ کے لوگ اپنی زیرِ ولایت یتیم لڑکی سے اُس کے مال کی وجہ سے نکاح کرلیتے باوجود یکہ اُس کی طرف رغبت نہ ہوتی پھر اُس کے ساتھ صحبت و معاشرت میں اچھا سلوک نہ کرتے اور اُس کے مال کے وارث بننے کے لئے اُس کی موت کے منتظر رہتے اِس آیت میں اُنہیں اِس سے روکا گیا ایک قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی ولایت سے توبے انصافی ہوجانے کے اندیشہ سے گھبراتے تھے اور زنا کی پرواہ نہ کرتے تھے اُنہیں بتایا گیا کہ اگر تم ناانصافی کے اندیشہ سے یتیموں کی ولایت سے گریز کرتے ہو تو زنا سے بھی خوف کرو اور اُس سے بچنے کے لئے جو عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں اُن سے نکاح کرو اور حرام کے قریب مت جاؤ ۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگ یتیموں کی ولایت و سرپرستی میں تو ناانصافی کا اندیشہ کرتے تھے اور بہت سے نکاح کرنے میں کچھ باک نہیں رکھتے تھے اُنہیں بتایا گیا کہ جب زیادہ عورتیں نکاح میں ہوں تو اُن کے حق میں ناانصافی سے بھی ڈرو ۔ اُتنی ہی عورتوں سے نکاح کرو جن کے حقوق ادا کرسکو عِکْرَمَہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ قریش دس دس بلکہ اس سے زیادہ عورتیں کرتے تھے اور جب اُن کا بار نہ اٹھ سکتا تو جو یتیم لڑکیاں اُن کی سرپرستی میں ہوتیں اُن کے مال خرچ کر ڈالتے اس آیت میں فرمایا گیا کہ اپنی استطاعت دیکھ لو اور چار سے زیادہ نہ کرو تاکہ تمہیں یتیموں کا مال خرچ کرنے کی حاجت پیش نہ آئے مسئلہ: اِس آیت سے معلُوم ہوا کہ آزاد مرد کے لئے ایک وقت میں چار عورتوں تک سے نکاح جائز ہے خواہ وہ حُرَّہ ہوں یا اَمَہ یعنی باندی مسئلہ: تمام امّت کا اجماع ہے کہ ایک وقت میں چار عورتوں سے زیادہ نکاح میں رکھنا کسی کے لئے جائز نہیں سوائے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ آپ کے خصائص میں سے ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص اسلام لائے اُن کی آٹھ بی بیاں تھیں حضور نے فرمایا اِن میں سے چار رکھنا ، ترمذی کی حدیث میں ہے کہ غیلان بن سلمہ ثَقَفِی اسلام لائے اُن کے دس بی بیاں تھیں وہ ساتھ مسلمان ہوئیں حضورنے حکم دیا اِن میں سے چار رکھو ۔(ف10)مسئلہ : اِس سے معلوم ہوا کہ بی بیوں کے درمیان عدل فرض ہے نئی پرانی باکرہ ثَیِّبَہ سب اِس اِستحقاق میں برابر ہیں یہ عدل لباس میں کھانے پینے میں سُکنٰی یعنی رہنے کی جگہ میں اور رات کو رہنے میں لازم ہے ان امور میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو ۔
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو (ف۱۱) پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں تو اسے کھاؤ رچتا پچتا (ف۱۲)
And give the women their bridal money willingly; then if they willingly give you a part of it, eat (use) it with joy and fruition.
और औरतों को उनके मेहर खुशी से दो फिर अगर वे अपने दिल की खुशी से मेहर में से तुम्हें कुछ दे दें तो उसे खाओ रचता पचता
Aur auraton ko un ke mehr khushi se do, phir agar woh apne dil ki khushi se mehr mein se tumhein kuch de dein to use khao rachta pachta.
(ف11)اس سے معلوم ہوا کہ مَہر کی مستحق عورتیں ہیں نہ کہ ان کے اولیاء اگر اولیاء نے مَہر وصول کرلیا ہو تو انہیں لازم ہے کہ وہ مہر اس کی مستحق عورت کو پہنچادیں ۔(ف12)مسئلہ : عورتوں کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہروں کو مَہر کا کوئی جزو ہبہ کریں یا کل مہر مگر مہر بخشوانے کے لئے انہیں مجبور کرنا اُن کے ساتھ بدخَلقِی کرنا نہ چاہئے کیونکہ اللہ تعالٰی نے طِبْنَ لَکُمْ فرمایا جس کے معنٰی ہیں دل کی خوشی سے معاف کرنا
اور بےعقلوں کو (ف۱۳) ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو (ف۱٤)
And do not give the foolish their wealth which is in your custody – those for whom Allah has put you in charge to maintain (look after) – and feed and clothe them from it, and speak kindly to them.
और बे अक़्लों को उनके माल न दो जो तुम्हारे पास हैं जिन को अल्लाह ने तुम्हारी बस्र-ओ-क़ात किया है और उन्हें इस में से खिलाओ और पहनाओ और उनसे अच्छी बात कहो
Aur be-aqaloon ko un ke maal na do jo tumhare paas hain jin ko Allah ne tumhari basar-o-qaat kiya hai. Aur unhein is mein se khilao aur pehnawo aur un se achhi baat kaho.
(ف13)جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ مال کا مَصرَف پہچانیں اُس کو بے محل خرچ کرتے ہیں اور اگر اُن پر چھوڑ دیا جائے تو وہ جلد ضائع کردیں گے(ف14)جس سے اُن کے دل کو تسلّی ہو اور وہ پریشان نہ ہوں مثلاً یہ کہ مال تمہارا ہے اور تم ہوشیار ہوجاؤ گے تو تمہیں سپرد کیا جائے گا
اور یتیموں کو آزماتے رہو (ف۱۵) یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل ہوں تو اگر تم ان کی سمجھ ٹھیک دیکھو تو ان کے مال انہیں سپرد کردو اور انہیں نہ کھاؤ حد سے بڑھ کر اور اس جلدی میں کہ کہیں بڑے نہ ہوجائیں اور جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے (ف۱٦) اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے، پھر جب تم ان کے مال انہیں سپرد کرو تو ان پر گواہ کرلو، اور اللہ کافی ہے حساب لینے کو،
And test the orphans till they are fit to get married (reach full age); then if you find them of proper judgement, hand over their wealth to them; and do not devour it by spending excessively and hastily, fearing that they will grow up; and whoever is not in need must abstain; and whoever is needy may use from it in a reasonable measure; and when you hand over their wealth to them, get witnesses over them; and Allah is Sufficient to take account.
और यतीमों को आज़माते रहो यहां तक कि जब वे निकाह के क़ाबिल हों तो अगर तुम उनकी समझ ठीक देखो तो उनके माल उन्हें सुपुर्द कर दो और उन्हें न खाओ हद से बढ़कर और इस जल्दी में कि कहीं बड़े न हो जायें और जिसे हाजत न हो वह बचता रहे और जो हाजतमन्द हो वह बक़दर मुनासिब खाये, फिर जब तुम उनके माल उन्हें सुपुर्द करो तो उन पर गवाह कर लो, और अल्लाह काफ़ी है हिसाब लेने को,
Aur yateemon ko aazmate raho yahan tak ke jab woh nikah ke qabil hon to agar tum un ki samajh theek dekho to un ke maal unhein supurd kar do. Aur unhein na khao had se barh kar aur us jaldi mein ke kahin bade na ho jayein. Aur jise haajat na ho woh bachhta rahe aur jo haajat mand ho woh ba-qadr munasib khaye. Phir jab tum un ke maal unhein supurd karo to unpar gawah kar lo, aur Allah kafi hai hisaab lene ko.
(ف15)کہ اِن میں ہوشیاری اور معاملہ فہمی پیدا ہوئی یا نہیں(ف16)یتیم کا مال کھانے سے۔
مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت، حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا (ف۱۷)
For men is a share from what the parents and near relatives leave behind, and for women is a share from what the parents and near relatives leave behind, whether the wealth (inheritance) is small or large; the share is a fixed one.
मर्दों के लिये हिस्सा है उस में से जो छोड़ गये माँ-बाप और क़राबत वाले और औरतों के लिये हिस्सा है उस में से जो छोड़ गये माँ-बाप और क़राबत वाले तरिका थोड़ा हो या बहुत, हिस्सा है अन्दाज़ा बाँधा हुआ
Mardon ke liye hissa hai us mein se jo chhod gaye maa baap aur qarabat wale, aur auraton ke liye hissa hai us mein se jo chhod gaye maa baap aur qarabat wale. Tarika thoda ho ya zyada, hissa hai andaaza bandha hua.
(ف17)زمانۂِ جاہلیّت میں عورتوں اور بچوں کو وِرثہ نہ دیتے تھے اِس آیت میں اُس رسم کو باطل کیا گیا
پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین (ف۱۸) آجائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو (ف۱۹) اور ان سے اچھی بات کہو (ف۲۰)
And if relatives and orphans and the needy are present at the time of disbursement, give them something from it and speak to them with kindness.
फिर बाँटते वक्त अगर रिश्तेदार और यतीम और मिस्कीन आ जायें तो उस में से उन्हें भी कुछ दो और उनसे अच्छी बात कहो
Phir baantte waqt agar rishtedaar aur yateem aur miskeen aa jayein to is mein se unhein bhi kuch do aur un se achhi baat kaho.
(ف18)اجنبی جن میں سے کوئی میِّت کا وارث نہ ہو(ف19)قبل تقسیم اور یہ دینا مستحب ہے(ف20)اس میں عذرِ جمیل وعدہ حسنہ اور دعائے خیر سب داخل ہیں اِس آیت میں میت کے ترکہ سے غیر وارث رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کو کچھ بطورِ صدقہ دینے اور قول معروف کہنے کا حکم دیا زمانۂِ صحابہ میں اِس پر عمل تھا محمد بن سیرین سے مروی ہے کہ اُن کے والد نے تقسیمِ میراث کے وقت ایک بکری ذبح کراکے کھانا پکایا اور رشتہ داروں یتیموں اور مسکینوں کو کھلایا اور یہ آیت پڑھی ابن سِیرین نے اسی مضمون کی عبیدہ سلمانی سے بھی روایت کی ہے اُس میں یہ بھی ہے کہ کہا کہ اگر یہ آیت نہ آئی ہوتی تو یہ صدقہ میں اپنے مال سے کرتا۔ تیجہ جس کو سویٔم کہتے ہیں اور مسلمانوں میں معمول ہے وہ بھی اسی آیت کا اتباع ہے کہ اس میں رشتہ داروں اور یتیموں و مسکینوں پر تصدق ہوتا ہے اور کلمہ کا ختم اور قرآن پاک کی تلاوت اور دعا قول معروف ہے اس میں بعض لوگوں کو بے جا اصرار ہوگیا ہے جو بزرگوں کے اِس عمل کا ماخذ تو تلاش نہ کرسکے باوجود یہ کہ اتنا صاف قرآن پاک میں موجود تھا لیکن انہوں نے اپنی رائے کو دین میں دخل دیا اور عمل خیر کو روکنے پر مُصِر ہوگئے ۔ اللہ ہدایت کرے ۔
اور ڈریں (ف۲۱) وہ لوگ اگر اپنے بعد ناتواں اولاد چھوڑتے تو ان کا کیسا انہیں خطرہ ہوتا تو چاہئے کہ اللہ سے ڈریں (ف۲۲) اور سیدھی بات کریں (ف۲۳)
And those people must fear, who if they die leaving behind them young children would be afraid for them; so they must fear Allah and speak with fairness.
और डरें वे लोग अगर अपने बाद नातवाँ औलाद छोड़ते तो उनका कैसा उन्हें ख़तरा होता तो चाहिये कि अल्लाह से डरें और सीधी बात करें
Aur darain woh log agar apne baad natawan aulaad chhodte to un ka kaisa unhein khatra hota. To chahiye ke Allah se darain aur seedhi baat karein.
(ف21)وصی اور یتیموں کے ولی اور وہ لوگ جو قریبِ موت مرنے والے کے پاس موجود ہوں ۔(ف22)اور مرنے والے کی ذُرِّیَّت کے ساتھ خلاف شفقت کوئی کارروائی نہ کریں جس سے اُس کی اولاد پریشان ہو ۔(ف23)مریض کے پاس اُس کی موت کے قریب موجود ہونے والوں کی سیدھی بات تو یہ ہے کہ اُسے صدقہ و وصیت میں یہ رائے دیں کہ وہ اتنے مال سے کرے جس سے اس کی اولاد تنگ دست نادار نہ رہ جائے اور وصی و ولی کی سیدھی بات یہ ہے کہ وہ مرنے والے کی ذرّیّت سے حُسن خُلق کے ساتھ کلام کریں جیسا اپنی اولاد کے ساتھ کرتے ہیں
وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں (ف۲٤) اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑتے دھڑے (آتش کدے) میں جائیں گے،
Indeed those who unjustly devour the wealth of orphans only fill their bellies with fire; and soon they will go into a blazing pit.
वे जो यतीमों का माल नाहक़ खाते हैं वे तो अपने पेट में नरी आग भरते हैं और कोई दम जाता है कि भड़ते धड़े (आतिशक़दे) में जायेंगे,
Woh jo yateemon ka maal na-haq khate hain woh to apne pait mein nari aag bharte hain aur koi dum jata hai ke bhadakte dharay (aatish kade) mein jayein ge.
(ف24)یعنی یتیموں کا مال ناحق کھانا گویا آگ کھانا ہے کیونکہ وہ سبب ہے عذاب کا۔ حدیث شریف میں ہے روزِ قیامت یتیموں کا مال کھانے والے اِس طرح اُٹھائے جائیں گے کہ اُن کی قبروں سے اور اُن کے منہ سے اور اُنکے کانوں سے دھواں نکلتا ہوگا تو لوگ پہچانیں گے کہ یہ یتیم کا مال کھانے والا ہے ۔
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (ف۲۵) تمہاری اولاد کے بارے میں (ف۲٦) بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے (ف۲۷) پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر (ف۲۸) تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا (ف۲۹) اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (ف۳۰) پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے (ف۳۱) تو ماں کا تہائی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی ہوں (ف۳۲) تو ماں کا چھٹا (ف۳۳) بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دین کے (ف۳٤) تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا (ف۳۵) یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے،
Allah commands you concerning your children; the son’s share is equal to that of two daughters; and if there are only daughters, for them is two-thirds of the inheritance, even if they are more than two; and if there is only one daughter, for her is half; and to each of the deceased’s parents a sixth of the inheritance, if he has children; and if the deceased has no children but leaves behind parents, then one third for the mother; and if he has several brothers and sisters, a sixth for the mother, after any will he may have made and payment of debt; your fathers and your sons – you do not know which of them will be more useful to you; this is the share fixed by Allah; indeed Allah is All Knowing, Wise.
अल्लाह तुम्हें हुक्म देता है तुम्हारी औलाद के बारे में बेटे का हिस्सा दो बेटियों बराबर है फिर अगर नरी लड़कियाँ हों अगरचे दो से ऊपर तो उनको तरिका की दो तिहाई और अगर एक लड़की हो तो उसका आधा और मय्यित के माँ-बाप को हर एक को उसके तरिका से छठा अगर मय्यित की औलाद हो फिर अगर उसकी औलाद न हो और माँ-बाप छोड़े तो माँ का तिहाई फिर अगर उसके कई बहन भाई हों तो माँ का छठा बाद उस वसियत के जो कर गया और दीन के तुम्हारे बाप और तुम्हारे बेटे तुम क्या जानो कि उनमें कौन तुम्हारे ज़्यादा काम आयेगा ये हिस्सा बाँधा हुआ है अल्लाह की तरफ़ से बेशक अल्लाह इल्म वाला हिकमत वाला है,
Allah tumhein hukm deta hai tumhari aulaad ke bare mein: bete ka hissa do betiyon ke barabar hai. Phir agar nari larkiyan hon, agarche do se upar, to unko tarika ka do tihai. Aur agar ek larki ho to us ka aadha. Aur mayyit ke maa baap ko har ek ko us ke tarika se chhata agar mayyit ki aulaad ho. Phir agar us ki aulaad na ho aur maa baap chhoday to maa ka tihai. Phir agar us ke kai behan bhai hon to maa ka chhata, baad us wasiyat ke jo kar gaya aur deen ke. Tumhare baap aur tumhare betay, tum kya jano ke un mein kaun tumhare zyada kaam aaye ga. Yeh hissa bandha hua hai Allah ki taraf se. Beshak Allah ilm wala hikmat wala hai.
(ف25)وَرَثہ کے متعلق ۔(ف26)اگر میت نے بیٹے بیٹیاں دونوں چھوڑی ہوں تو ۔(ف27)یعنی دختر کا حصہ پِسر سے آدھا ہے اور اگر مرنے والے نے صرف لڑکے چھوڑے ہوں تو کل مال اُنکا ۔(ف28)یادو(۲ )(ف29)اِس سے معلوم ہوا کہ اگر اکیلا لڑکا وارث رہا ہو تو کُل مال اُس کا ہوگا کیونکہ اوپربیٹے کا حصّہ بیٹیوں سے دُونا بتایا گیا ہے تو جب اکیلی لڑکی کا نصف ہوا تو اکیلے لڑکے کا اُس سے دُونا ہوا اور وہ کُل ہے(ف30)خواہ لڑکا ہو یا لڑکی کہ ان میں سے ہر ایک کو اولاد کہاجاتا ہے(ف31)یعنی صرف ماں باپ چھوڑے اور اگر ماں با پ کے ساتھ زوج یا زوجہ میں سے کسی کو چھوڑا تو ماں کا حصہ زوج کا حصہ نکالنے کے بعد جو باقی بچے اس کا تہائی ہوگا نہ کہ کُل کا تہائی(ف32)سگے خواہ سوتیلے ۔(ف33)اور ایک ہی بھائی ہو تو وہ ماں کا حصّہ نہیں گھٹا سکتا ۔(ف34)کیونکہ وصیت اور دَین یعنی قرض ورثہ کی تقسیم سے مقدم ہے اور دَین وصیت پر بھی مقدم ہے۔ حدیث شریف میں ہے اِنَّ الدَّیْنَ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ (ف35)اِس لئے حصوں کی تعیین تمہاری رائے پر نہیں چھوڑی ۔
اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے (ف۳٦) اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں (ف۳۷) جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹنا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں (ف۳۸) میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو (ف۳۹) یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے،
And from what your wives leave, half is for you if they do not have any child; or if they have a child for you is a fourth of what they leave, after any will they may have made or debt to be paid; and to the women is a fourth of what you leave behind, if you do not have any child; or if you have a child then an eighth of what you leave behind, after any will you may have made, or debt to be paid; and if a deceased does not leave behind a mother, father or children but has a brother or a sister through a common mother, then to each of them a sixth; and if they (brothers and sisters) are more than two, then they shall all share in a third, after any will that may have been made or debt to be paid, in which the deceased has not caused a loss (to the heirs); this is the decree of Allah; and Allah is All Knowing, Most Forbearing.
और तुम्हारी बीबियाँ जो छोड़ जायें उस में से तुम्हें आधा है अगर उनकी औलाद न हो, फिर अगर उनकी औलाद हो तो उनके तरिका में से तुम्हें चौथाई है जो वसियत वे कर गयीं और दैन निकाल कर और तुम्हारे तरिका में औरतों का चौथाई है अगर तुम्हारी औलाद न हो फिर अगर तुम्हारी औलाद हो तो उनका तुम्हारे तरिका में से आठवाँ जो वसियत तुम कर जाओ और दैन निकाल कर, और अगर किसी ऐसे मर्द या औरत का तरिका बँटना हो जिस ने माँ-बाप औलाद कुछ न छोड़े और माँ की तरफ़ से उसका भाई या बहन है तो उनमें से हर एक को छठा फिर अगर वे बहन भाई एक से ज़्यादा हों तो सब तिहाई में शरीक हैं मय्यित की वसियत और दैन निकाल कर जिस में उस ने नुक़्सान न पहुँचाया हो ये अल्लाह का इर्शाद है और अल्लाह इल्म वाला हिलम वाला है,
Aur tumhari biwiyaan jo chhod jayein us mein se tumhein aadha hai agar un ki aulaad na ho. Phir agar un ki aulaad ho to un ke tarika mein se tumhein chouthai hai, jo wasiyat woh kar gayin aur dayn nikal kar. Aur tumhare tarika mein auraton ka chouthai hai agar tumhari aulaad na ho. Phir agar tumhari aulaad ho to un ka tumhare tarika mein se aathwaan, jo wasiyat tum kar jao aur deen nikal kar. Aur agar kisi aise mard ya aurat ka tarika batna ho jis ne maa baap aulaad kuch na chhoda aur maa ki taraf se us ka bhai ya behan hai to un mein se har ek ko chhata. Phir agar woh behan bhai ek se zyada hon to sab tihai mein shareek hain. Mayyit ki wasiyat aur deen nikal kar, jis mein us ne nuqsaan na pahunchaya ho. Yeh Allah ka irshaad hai aur Allah ilm wala halim wala hai.
(ف36)خواہ ایک بی بی ہو یا کئی ایک ہوگی تو وہ اکیلی چوتھائی پائے گی کئی ہونگی تو سب اس چوتھائی میں برابر شریک ہوں گی خواہ بی بی ایک ہو یا کئی ہوں حصہ یہی رہے گا ۔(ف37)خواہ بی بی ایک ہو یا زیادہ(ف38)کیونکہ وہ ماں کے رشتہ کی بدولت مستحق ہوئے اور ماں تہائی سے زیادہ نہیں پاتی اور اِسی لئے اُن میں مرد کا حصہ عورت سے زیادہ نہیں ہے۔(ف39)اپنے وارثوں کو تہائی سے زیادہ وصیت کرکے یا کسی وارث کے حق میں وصیت کرکے مسائل۔ فرائضِ وارث کئی قِسم ہیں اصحابِ فَرائض یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے حصے مقرر ہیں مثلاً بیٹی ایک ہو تو آدھے مال کی مالک زیادہ ہوں تو سب کے لئے دو تہائی ۔ پوتی اور پرپوتی اور اس سے نیچے کی ہر پوتی اگر میت کے اولاد نہ ہو تو بیٹی کے حکم میں ہے اور اگر میت نے ایک بیٹی چھوڑی ہو تو یہ اُس کے ساتھ چھٹا پائے گی اور اگر میت نے بیٹا چھوڑا تو ساقط ہوجائے گی کچھ نہ پائے گی اور اگر میت نے دو بیٹیاں چھوڑیں تو بھی پوتی ساقط ہوگی لیکن اگر اُس کے ساتھ یا اُس کے نیچے درجہ میں کوئی لڑکا ہوگا تو وہ اُس کو عَصبہ بنادے گا۔ سگی بہن میّت کے بیٹا یا پوتا نہ چھوڑنے کی صورت میں بیٹیوں کے حکم میں ہے۔ علاتی بہنیں جو باپ میں شریک ہوں اور اُن کی مائیں علٰیحدہ علٰیحدہ ہوں وہ حقیقی بہنوں کے نہ ہونے کی صورت میں ان کی مثل ہیں اوردونوں قسم کی بہنیں یعنی علاتی و حقیقی میت کی بیٹی یا پوتی کے ساتھ عصبہ ہوجاتی ہیں اور بیٹے اور پوتے اور اس کے ماتحت کے پوتے اور باپ کے ساتھ ساقط اور امام صاحب کے نزدیک دادا کے ساتھ بھی محروم ہیں ۔ سوتیلے بھائی بہن جو فقط ماں میں شریک ہوں اِن میں سے ایک ہو تو چھٹا اور زیادہ ہوں تو تہائی اور ان میں مرد عورت برابر حصہ پائیں گے اور بیٹے پوتے اور اس کے ماتحت کے پوتے اور باپ دادا کے ہوتے ساقِط ہوجائیں گے باپ چھٹا حصہ پائے گا اگر میت نے بیٹا یا پوتا یا اُس سے نیچے کے پوتے چھوڑے ہوں اور اگر میت نے بیٹی یا پوتی یا اور نیچے کی کوئی پوتی چھوڑی ہو توباپ چھٹا اور وہ باقی بھی پائے گا جو اصحاب فرض کو دے کر بچے دادا یعنی باپ کا باپ۔ باپ کے نہ ہونے کی صورت میں مثل باپ کے ہے سوائے اس کے کہ ماں کو ثُلثِ مَابَقِیَ کی طرف رد نہ کرسکے گا۔ ماں کا چھٹا حصہ ہے اگر میت نے اپنی اولاد یا اپنے بیٹے یا پوتے یا پرپوتےکی اولاد یا بہن بھائی میں سے دو چھوڑے ہوں خواہ وہ بھائی سگے ہوں یا سوتیلے اور اگر اُن میں سے کوئی نہ چھوڑا ہو تو ماں کل مال کا تہائی پائے گی اور اگر میت نے زوج یا زوجہ اور ماں باپ چھوڑے ہوں تو ماں کو زوج یا زوجہ کا حصہ دینے کے بعد جو باقی رہے اُس کا تہائی ملے گا اور جَدّہ کا چھٹا حصہ ہے خواہ وہ ماں کی طرف سے ہو یعنی نانی یا باپ کی طرف سے ہو یعنی دادی ایک ہو یا زیادہ ہوں اور قریب والی دور والی کے لئے حاجب ہوجاتی ہے اور ماں ہر ایک جدہ کو محجوب کرتی ہے اور باپ کی طرف کی جدات باپ کے ہونے سے محجوب ہوتی ہیں اِس صورت میں کچھ نہ ملے گا زوج چہارم پائے گا اگر میت نے اپنی یا اپنے بیٹے پوتے پر پوتے وغیرہ کی اولاد چھوڑی ہو اور اگر اس قسم کی اولاد نہ چھوڑی ہو تو شوہر نصف پائے گا زوجہ میت کی اور اس کے بیٹے پوتے وغیرہ کی اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ پائے گی اور نہ ہونے کی صورت میں چوتھائی عصبات وہ وارث ہیں جن کے لئے کوئی حصہ معیّن نہیں اصحابِ فرض سے جو باقی بچتا ہے وہ پاتے ہیں اِن میں سب سے اولٰی بیٹا ہے پھر اُس کا بیٹا پھر اور نیچے کے پوتے پھر باپ پھر دادا پھر آبائی سلسلہ میں جہاں تک کوئی پایا جائے پھر حقیقی بھائی پھر سوتیلا یعنی باپ شریک بھائی پھر سگے بھائی کا بیٹا پھر باپ شریک بھائی کا بیٹا۔ پھر چچا پھر باپ کے چچا پھر دادا کے چچا پھر آزاد کرنے والا پھر اُس کے عصبات ترتیب وار اور جن عورتوں کا حصّہ نصف یا دو تہائی ہے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہیں اور جو ایسی نہ ہو ں وہ نہیں ذوی الارحام اصحابِ فرض اور عصبات کے سوا جو اقارب ہیں وہ ذوی الارحام میں داخل ہیں اور ان کی ترتیب عصبات کی مثل ہے۔
یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے ، اور یہی ہے بڑی کامیابی،
These are the limits of Allah; and whoever obeys Allah and His Noble Messenger – Allah will admit him into Gardens beneath which rivers flow – abiding in it forever; and this is the great success.
ये अल्लाह की हदें हैं और जो हुक्म माने अल्लाह और अल्लाह के रसूल का अल्लाह उसे बाग़ों में ले जायेगा जिनके नीचे नहरें रवाँ हमेशा उनमें रहेंगे, और यही है बड़ी कामयाबी,
Yeh Allah ki hadain hain aur jo hukm maane Allah aur Allah ke Rasool ka, Allah use baghon mein le jaye ga jinke neeche nahrain rawan. Hamesha un mein rahenge, aur yahi hai badi kamyabi.
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے (ف٤۰)
And whoever disobeys Allah and His Noble Messenger and crosses all His limits – Allah will put him in the fire (of hell), in which he will remain forever; and for him is a disgraceful punishment.
और जो अल्लाह और उसके रसूल की नाफ़रमानी करे और उसकी कुल हदों से बढ़ जाये अल्लाह उसे आग में दाख़िल करेगा जिस में हमेशा रहेगा और उसके लिये ख़्वारी का अज़ाब है
Aur jo Allah aur us ke Rasool ki nafarmaani kare aur us ki kul hadon se barh jaye, Allah use aag mein daakhil kare ga jismein hamesha rahega aur us ke liye khwari ka azaab hai.
(ف40)کیونکہ کُل حَدوں سے تجاوز کرنے والا کافر ہے اس لئے کہ مؤمن کیسا بھی گنہگار ہو ایمان کی حد سے تو نہ گزرے گا ۔
اور تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کریں ان پر خاص اپنے میں کے (ف٤۱) چار مردوں کی گواہی لو پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھر میں بند رکھو (ف٤۲) یہاں تک کہ انہیں موت اٹھالے یا اللہ ان کی کچھ راہ نکالے (ف٤۳)
And take testimony from four chosen men amongst you, against the women among you who commit adultery; and if they testify, confine those women in the houses until death takes them away or Allah creates a solution for them.
और तुम्हारी औरतों में जो बदकारी करें उन पर ख़ास अपने में के चार मर्दों की गवाही लो फिर अगर वे गवाही दे दें तो उन औरतों को घर में बन्द रखो यहां तक कि उन्हें मौत उठा ले या अल्लाह उनकी कुछ राह निकाले
Aur tumhari auraton mein jo badkaari karein unpar khaas apne mein ke chaar mardon ki gawahi lo. Phir agar woh gawahi de dein to un auraton ko ghar mein band rakho yahan tak ke unhein maut utha le ya Allah un ki kuch raah nikal de.
(ف41)یعنی مسلمانوں میں کے ۔(ف42)کہ وہ بدکاری نہ کرنے پائیں ۔(ف43)یعنی حد مقرر فرمائے یا توبہ اور نکاح کی توفیق دے جو مفسرین اس آیت میں اَلْفَاحِشَۃَ (بدکاری) سے زنا مراد لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حبس کا حکم حدود نازل ہونے سے قبل تھا حدود کے ساتھ منسوخ کیا گیا (خازن و جلالین و احمدی)
اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو (ف٤٤) پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (ف٤۵)
And punish them both, the man and the woman, whoever are guilty of it (adultery); then if they repent and become pious, leave them; indeed Allah is the Most Acceptor Of Repentance, Most Merciful.
और तुम में जो मर्द औरत ऐसा करें उनको अज़ा दो फिर अगर वे तौबा कर लें और नेक हो जायें तो उनका पीछा छोड़ दो, बेशक अल्लाह बड़ा तौबा क़बूल करने वाला मेहरबान है
Aur tum mein jo mard aurat aisa karein un ko ezaa do, phir agar woh tauba kar lein aur nek ho jayein to un ka peechha chhod do, beshak Allah bara tauba qubool karne wala meherban hai.
(ف44)جِھڑ کو گُھڑ کو برا کہو شرم دلاؤ جوتیاں مارو(جلالین و مدارک و خازن وغیرہ)(ف45)حسن کا قول ہے کہ زنا کی سز ا پہلے ایذا مقرر کی گئی پھر حَبۡس پھر کوڑے مارنا یا سنگسار کرنا ابن بحر کا قول ہے کہ پہلی آیت وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ ان عورتوں کے باب میں ہے جو عورتوں کے ساتھ(بطریقِ مُساحقت) بدکاری کرتی ہیں اور دوسری آیت وَالَّذَانِ لواطت کرنے والوں کے حق میں ہے اور زانی اور زانیہ کا حکم سورہ نور میں بیان فرمایا گیا اس تقدیر پر یہ آیتیں غیر منسوخ ہیں اور ان میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے لئے دلیل ظاہر ہے اس پر جو وہ فرماتے ہیں کہ لواطت میں تعزیر ہے حد نہیں ۔
وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر تھوڑی دیر میں توبہ کرلیں (ف٤٦) ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
Undoubtedly the repentance which Allah has by His grace made obligatory upon Himself to accept, is only the repentance of those who commit sin in folly and then soon repent – towards them does Allah incline in mercy; and Allah is the All Knowing, the Wise.
वह तौबा जिस का क़बूल करना अल्लाह ने अपने फ़ज़्ल से लाज़िम कर लिया है वह उन्हीं की है जो नादानी से बुराई कर बैठें फिर थोड़ी देर में तौबा कर लें ऐसों पर अल्लाह अपनी रहमत से रुजू करता है, और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है,
Woh tauba jis ka qubool karna Allah ne apne fazl se laazim kar liya hai woh unhi ki hai jo nadani se burai kar baithain, phir thodi dair mein tauba kar lein. Aison par Allah apni rehmat se rujoo karta hai, aur Allah ilm o hikmat wala hai.
(ف46)ضَحّاک کا قول ہے کہ جو توبہ موت سے پہلے ہو وہ قریب ہے۔
اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں، (ف٤۷) یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی (ف٤۸) اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار رکھا ہے (ف٤۹)
And that repentance is not of those who constantly commit sins, and when death approaches one of them, he says, “I repent now”, nor of those who die as disbelievers; for them, We have kept prepared a painful punishment.
और वह तौबा उनकी नहीं जो गुनाहों में लगे रहते हैं, यहां तक कि जब उनमें किसी को मौत आये तो कहे अब मैंने तौबा की और न उनकी जो काफ़िर मरें उनके लिये हमने दर्दनाक अज़ाब तैयार रखा है
Aur woh tauba un ki nahi jo gunaahon mein lage rehte hain, yahan tak ke jab un mein kisi ko maut aaye to kahe: ab main ne tauba ki, aur na un ki jo kafir marein – un ke liye hum ne dardnaak azaab tayyar rakha hai.
(ف47)اور توبہ میں تاخیر کرتے جاتے ہیں ۔(ف48)قبول توبہ کا وعدہ جو اوپر کی آیت میں گزرا وہ ایسے لوگوں کے لئے نہیں ہے اللہ مالک ہے جو چاہے کرے اُن کی توبہ قبول کرے یا نہ کرے بخشے یا عذاب فرمائے اس کی مرضی (احمدی)(ف49)اس سے معلوم ہوا کہ وقتِ موت کافر کی توبہ اور اس کا ایمان مقبول نہیں ۔
اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی (ف۵۰) اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو (ف۵۱) مگر اس صورت میں کہ صریح بےحیائی کا کام کریں (ف۵۲) اور ان سے اچھا برتاؤ کرو (ف۵۳) پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں (ف۵٤) تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے (ف۵۵)
O People who Believe! It is not lawful for you to forcibly become the women’s heirs; and do not restrain women with the intention of taking away a part of bridal money you gave them, unless they openly commit the shameful; and deal kindly with them; and if you do not like them, so it is possible that you dislike a thing in which Allah has placed abundant good.
ऐ ईमान वालो! तुम्हें हलाल नहीं कि औरतों के वारिस बन जाओ ज़बरदस्ती और औरतों को रोको नहीं इस नीयत से कि जो मेहर उनको दिया था उस में से कुछ ले लो मगर उस सूरत में कि सरीह बेहयायी का काम करें और उनसे अच्छा बरताव करो फिर अगर वे तुम्हें पसन्द न आयें तो क़रीब है कि कोई चीज़ तुम्हें नापसन्द हो और अल्लाह उस में बहुत भलाई रखे
Ae imaan walo! Tumhein halal nahi ke auraton ke waaris ban jao zabardasti, aur auraton ko roko nahi is niyat se ke jo mehr un ko diya tha us mein se kuch le lo, magar is surat mein ke sareeh be-hayai ka kaam karein. Aur un se acha bartao karo, phir agar woh tumhein pasand na aayein to qareeb hai ke koi cheez tumhein napasand ho aur Allah us mein bohat bhalai rakhe.
(ف50)شان نزول: زمانہ جاہلیت کے لوگ مال کی طرح اپنے اقارب کی بی بیوں کے بھی وارث بن جاتے تھے پھر اگر چاہتے تو بے مہر انہیں اپنی زوجیت میں رکھتے یا کسی اور کے ساتھ شادی کردیتے اور خود مہر لے لیتے یا انہیں قید کر رکھتے کہ جو ورثہ انہوں نے پایا ہے وہ دے کر رہائی حاصل کریں یا مر جائیں تو یہ اُن کے وارث ہوجائیں غرض وہ عورتیں بالکل ان کے ہاتھ میں مجبور ہوتی تھیں اور اپنے اختیار سے کچھ بھی نہ کرسکتی تھیں اس رسم کو مٹانے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی گئی ۔(ف51)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ اس کے متعلق ہے جو اپنی بی بی سے نفرت رکھتا ہو اور اِس لئے بدسلوکی کرتا ہو کہ عورت پریشان ہو کر مہر واپس کردے یا چھوڑ دے اس کی اللہ تعالٰی نے مُمانعت فرمائی۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگ عورت کو طلاق دیتے پھر رجعت کرتے پھر طلاق دیتے اس طرح اس کو مُعَلَّق رکھتے تھے کہ نہ وہ ان کے پاس آرام پاسکتی نہ دوسری جگہ ٹھکانہ کرسکتی، اس کو منع فرمایا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ مَیّت کے اولیاء کو خطاب ہے کہ وہ اپنے مورث کی بی بی کو نہ روکیں۔(ف52)شوہر کی نافرمانی یا اس کی یا اس کے گھر والوں کی ایذاؤ بدزبانی یا حرام کاری ایسی کوئی حالت ہو تو خُلع چاہنے میں مُضائِقہ نہیں ۔(ف53)کھلانے پہنانے میں بات چیت میں اور زوجیت کے امور میں ۔(ف54)بدخُلقی یا صورت ناپسند ہونے کی وجہ سے تو صبر کرو اور جدائی مت چاہو ۔(ف55)ولد صالح وغیرہ ۔
اور اگر تم ایک بی بی کے بدلے دوسری بدلنا چاہو (ف۵٦) اور اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو (ف۵۷) تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو (ف۵۸) کیا اسے واپس لو گے جھوٹ باندھ کر اور کھلے گناہ سے (ف۵۹) اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بےپردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں (ف٦۰)
And if you wish to change one wife for another and you have given her heaps of treasure, do not take back anything from it; will you take it back by slander and open sin?
और अगर तुम एक बीबी के बदले दूसरी बदलना चाहो और उसे ढेरों माल दे चुके हो तो उस में से कुछ वापस न लो क्या उसे वापस लोगे झूठ बाँध कर और खुले गुनाह से
Aur agar tum ek biwi ke badle doosri badalna chaho aur use dhero maal de chuke ho to us mein se kuch wapas na lo. Kya use wapas loge jhoot baandh kar aur khule gunah se?
(ف56)یعنی ایک کو طلاق دے کر دوسری سے نکاح کرنا۔(ف57)اس آیت سے گراں مہر مقرر کرنے کے جواز پر دلیل لائی گئی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے برسرِ منبر فرمایاکہ عورت کے مہر گراں نہ کرو ایک عورت نے یہ آیت پڑھ کر کہا کہ اے ابن خطاب اللہ ہمیں دیتا ہے اور تم منع کرتے ہو اس پر امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے عمر تجھ سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے جو چاہو مقرر کرو سبحان اللہ خلیفۂ رسول کے شانِ انصاف اور نفس شریف کی پاکی رَزَقَنَا اللّٰہُ تَعَالٰی اِتَّبَاعَہٗ آمین(ف58)کیونکہ جدائی تمہاری طرف سے ہے(ف59)یہ اہلِ جاہلیّت کے اس فعل کا رد ہے کہ جب اُنہیں کوئی دوسری عورت پسند آتی تو وہ اپنی بی بی پر تہمت لگاتے تاکہ وہ اس سے پریشان ہو کر جو کچھ لے چکی ہے واپس دے دے اس طریقہ کو اس آیت میں منع فرمایا اور جھوٹ اور گناہ بتایا ۔
اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بےپردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں (ف٦۰)
And how will you take it back whereas you have become unveiled before each other, and they have taken a strong pledge from you?
और क्योंकर उसे वापस लोगे हालाँकि तुम में एक दूसरे के सामने बे पर्दा हो लिया और वे तुम से गाढ़ा अहद ले चुकीं
Aur kyun kar use wapas loge, halaanke tum mein ek doosre ke samne be-pardah ho liya aur woh tum se gaadha ahd le chuki hain.
(ف60)وہ عہد اللہ تعالی کا یہ ارشا دہے فَاِمْسَاک ٌ م بِمَعرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْح ٌ مْ بِاِحْسَانٍ مسئلہ: یہ آیت دلیل ہے اس پر کہ خلوتِ صحیحہ سے مہر مؤکَّد ہوجاتا ہے
اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو (ف٦۱) مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بےحیائی (ف٦۲) اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ (ف٦۳)
And do not marry the women who were wedded to your fathers (and grand fathers), except what has already passed; that is indeed an act of shame and great wrong; and an evil way.
और बाप दादा की मनकूहा से निकाह न करो मगर जो हो गुज़रा वह बेशक बेहयायी और ग़ज़ब का काम है, और बहुत बुरी राह
Aur baap dada ki mankoohah se nikah na karo magar jo ho guzra. Woh beshak be-hayai aur ghazab ka kaam hai, aur bohat buri raah.
(ف61)جیسا کہ زما نۂ جاہلیت میں رواج تھا کہ اپنی ماں کے سوا باپ کے بعد اس کی دوسری عورت کو بیٹا بیاہ لیتا تھا۔(ف62)کیونکہ باپ کی بی بی بمنزلہ ماں کے ہے کہا گیا ہے نکاح سے وطی مراد ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ باپ کی موطوء ہ یعنی جس سے اس نے صحبت کی ہو خواہ نکاح کرکے یا بطریق زنا یا وہ باندی ہو اس کا وہ مالک ہو کر ان میں سے ہر صورت میں بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔(ف63)ا ب اس کے بعد جس قدر عورتیں حرام ہیں ان کا بیان فرمایا جاتا ہے ان میں سات تو نسب سے حرام ہیں ۔
حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں (ف٦٤) اور بیٹیاں (ف٦۵) اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں (ف٦٦) اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا (ف٦۷) اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں (ف٦۸) اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں (ف٦۹) ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں (ف۷۰) اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں (ف۷۱) اور دو بہنیں اکٹھی کرنا (ف۷۲) مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Forbidden for you are your mothers, and your daughters, and your sisters, and your father’s sisters, and your mother’s sisters, and your brothers’ daughters and your sisters’ daughters, and your foster-mothers (who breast-fed you), and their daughters (your foster-sisters), and your wives’ mothers (mothers-in-law), and your wives’ daughters who are under your protection – born of the women with whom you have cohabited; and if you have not cohabited with them, then it is no sin for you to marry their daughters; and (forbidden are) the wives of your own sons (and foster-sons and grandsons) and the keeping of two sisters together in marriage, except what has already passed; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
हराम हुईं तुम पर तुम्हारी माँएँ और बेटियाँ और बहनें और फूफियाँ और खालाएँ और भतीजियाँ और भांजियाँ और तुम्हारी माँएँ जिन्होंने दूध पिलाया और दूध की बहनें और औरतों की माँएँ और उनकी बेटियाँ जो तुम्हारी गोद में हैं उन बीबियों से जिन से तुम सोहबत कर चुके हो तो फिर अगर तुम ने उनसे सोहबत न की हो तो उनकी बेटियों से हरज नहीं और तुम्हारी नस्ली बेटों की बीबियाँ और दो बहनें इकठ्ठा करना मगर जो हो गुज़रा बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Haraam ho gayin tum par tumhari maaen aur betiyan aur behnein aur phoophiyaan aur khaalain aur bhatijiyan aur bhanjian aur tumhari maaen jin hon ne doodh pilaya, aur doodh ki behnein, aur auraton ki maaen, aur un ki betiyan jo tumhari god mein hain un biwiyon se jin se tum sohbat kar chuke ho. Phir agar tum ne un se sohbat na ki ho to un ki betiyon se haraj nahi. Aur tumhari nasli beton ki biwiyan, aur do behnein ikatthi karna – magar jo ho guzra. Beshak Allah bakhshne wala meherban hai.
(ف64)اور ہر عورت جس کی طرف باپ یا ماں کے ذریعہ سے نسب رجوع کرتا ہو یعنی دادیاں و نانیاں خواہ قریب کی ہوں یا دور کی سب مائیں ہیں اور اپنی والدہ کے حکم میں داخل ہیں ۔(ف65)پوتیاں اور نواسیاں کسی درجہ کی ہوں بیٹیوں میں داخل ہیں ۔(ف66)یہ سب سگی ہوں یا سوتیلی ان کے بعد ان عورتوں کا بیان کیا جاتا ہے جو سبب سے حرام ہیں ۔(ف67)دودھ کے رشتے شِیر خواری کی مدت میں قلیل دودھ پیا جائے یا کثیر اس کے ساتھ حرمت متعلق ہوتی ہے شِیر خواری کی مدت حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک تیس ماہ اور صاحبین کے نزدیک دو سال ہیں شِیر خواری کی مدّت کے بعد دودھ پیا جائے اس سے حرمت متعلق نہیں ہوتی اللہ نے رضاعت (شیر خواری ) کو نسب کے قائم مقام کیا ہے اور دودھ پلانے والی کو شیر خوار کی ماں اور اس کی لڑکی کو شیر خوار کی بہن فرمایا اسی طرح دودھ پلائی کا شوہر شیر خوار کا باپ اور اس کا باپ شیر خوار کا دادا اور اس کی بہن اس کی پھوپھی اور اس کا ہر بچہ جو دودھ پلائی کے سوا اور کسی عورت سے بھی ہو خواہ وہ قبل شیر خواری کے پیدا ہوا یا اس کے بعد وہ سب اس کے سوتیلے بھائی بہن ہیں اور دودھ پلائی کی ماں شیر خوار کی نانی اور اُس کی بہن اُس کی خالہ اور اُس شوہرسے اُس کے جو بچے پیدا ہو ں وہ شیر خوار کے رضاعی بھائی بہن اور اُس شوہر کے علاوہ دوسرے شوہر سے جو ہوں وہ اس کی سوتیلے بھائی بہن اس میں اصل یہ حدیث ہے کہ رضاع سے وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں اس لئے شیر خوار پر اس کے رضاعی ماں باپ اور ان کے نسبی و رضاعی اصول و فروع سب حرام ہیں ۔(ف68)یہاں سے محرمات بالصَّہریۃ کا بیان ہے وہ تین ذکر فرمائی گئیں۔(۱) بیبیوں کی مائیں، بیبیوں کی بیٹیاں اور بیٹوں کی بیبیاں بیبیوں کی مائیں صرف عقد نکاح سے حرام ہوجاتی ہیں خواہ وہ بیبیاں مدخولہ ہوں یا غیر مدخولہ (یعنی ان سے صحبت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو) (ف69)گود میں ہونا غالب حال کا بیان ہے حرمت کے لئے شرط نہیں ۔(ف70) ان کی ماؤں سے طلاق یا موت وغیرہ کے ذریعہ سے قبل صُحبت جُدائی ہونے کی صورت میں اُن کے ساتھ نکاح جائز ہے۔(ف71)اس سے مُتبنّٰی نکل گئے ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے اور رَضاعی بیٹے کی بی بی بھی حرام ہے کیونکہ وہ نسبی کے حکم میں ہے اور پوتے پر پوتے بیٹوں میں داخل ہیں ۔(ف72)یہ بھی حرام ہے خواہ دونوں بہنوں کو نکا ح میں جمع کیا جائے یاملک یمین کے ذریعے سے وطی میں اور حدیث شریف میں پھوپھی ،بھتیجی اور خالہ بھانجی کا نکاح میں جمع کرنا بھی حرام فرمایا گیا اور ضابطہ یہ کہ نکاح میں ہر ایسی دو عورتو ں کا جمع کرنا حرام ہے جن میں سے ہر ایک کو مرد فرض کرنے سے دوسری اس کے لئے حلال نہ ہو جیسے کہ پھو پھی بھتیجی اگر پھوپھی کو مرد فرض کیا جائے تو چچا ہوا بھتیجی اس پر حرام ہے اور اگر بھتیجی کو مرد فرض کیا جائے تو بھتیجا ہوا پھوپھی اس پر حرام ہے حرمت دونوں طرف ہے اگر ایک طرف سے ہو تو جمع حرام نہ ہوگی جیسے کہ عورت اور اس کے شوہر کی لڑکی ان دونوں کو جمع کرنا حلال ہے کیونکہ شوہر کی لڑکی کو مرد فرض کیا جائے تو اس کے لئے باپ کی بیوی تو حرام رہتی ہے ۔ مگر دوسری طرف سے یہ با ت نہیں ھے یعنی شوہر کی بی بی کو اگر مرد فرض کیا جائے تو یہ اجنبی ھوگااور کوئی رشتہ ہی نہ رہے گا۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page