Al Fatiha سورۃ الفاتحۃ

پارہ نمبر 12

وَمَا مِنۡ دَآ بَّةٍ فِى الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَ يَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا​ؕ كُلٌّ فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ‏ ﴿6﴾

اور زمین پر چلنے والا کوئی (ف۱۱) ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہٴ کرم پر نہ ہو (ف۱۲) اور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا (ف۱۳) اور کہاں سپرد ہوگا (ف۱٤) سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب (ف۱۵) میں ہے،

And there is none that walks upon the earth whose sustenance does not depend on the mercy of Allah – He knows where it shall stay and where it shall be deposited; everything is in a clearly explaining Book.

وَ هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَ يَّامٍ وَّكَانَ عَرۡشُهٗ عَلَى الۡمَآءِ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَلَٮِٕنۡ قُلۡتَ اِنَّكُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَيَـقُوۡلَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿7﴾

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا (ف۱٦) کہ تمہیں آزمائے (ف۱۷) تم میں کس کا کام اچھا ہے، اور اگر تم فرماؤ کہ بیشک تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو کافر ضرور کہیں گے کہ یہ (ف۱۸) تو نہیں مگر کھلا جادو (ف۱۹)

And it is He Who created the heavens and the earth in six days – and His Throne was upon the water – so that He might test you, as to who among you have the best deeds*; and if you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) say, “Indeed you will be raised again after death”, the disbelievers will surely say, “This is nothing but clear magic.” (* The creation of all things is in order to test mankind.)

وَلَٮِٕنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعۡدُوۡدَةٍ لَّيَـقُوۡلُنَّ مَا يَحۡبِسُهٗؕ اَلَا يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمۡ لَـيۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡهُمۡ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ‏ ﴿8﴾

اور اگر ہم ان سے عذاب (ف۲۰) کچھ گنتی کی مدت تک ہٹادیں تو ضرور کہیں گے کس چیز نے روکا ہے (ف۲۱) سن لو جس دن ان پر آئے گا ان سے پھیرا نہ جائے گا، اور انھیں گھیرے گا وہی عذاب جس کی ہنسی اڑاتے تھے

And if We postpone the punishment upon them for a specified time, they will surely say, “What holds it back?” Pay heed! On the day when it comes upon them, it will not be averted from them, and the very punishment they mocked at will encompass them.

وَلَٮِٕنۡ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَةً ثُمَّ نَزَعۡنٰهَا مِنۡهُ​ۚ اِنَّهٗ لَيَـــُٔوۡسٌ كَفُوۡرٌ‏ ﴿9﴾

اور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں (ف۲۲) پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامید ناشکرا ہے (ف۲۳)

And if We bestow man the enjoyment of some mercy from Us and later withdraw it from him; surely he is most despairing, ungrateful.

وَلَٮِٕنۡ اَذَقۡنٰهُ نَـعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُ لَيَـقُوۡلَنَّ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّىۡ​ ؕ اِنَّهٗ لَـفَرِحٌ فَخُوۡرٌۙ‏ ﴿10﴾

اور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جس اسے پہنچی تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہوئیں بیشک وہ خوش ہونے والا بڑائی مارنے والا ہے (ف۲٤)

And if We bestow upon him the enjoyment of a favour after a misfortune that had befallen him, he will surely say, “The evils have gone away from me”; indeed he is jubilant, boastful.

اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ كَبِيۡرٌ‏ ﴿11﴾

مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے (ف۲۵) ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،

Except those who patiently endured and did good deeds; for them is forgiveness, and a great reward.

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعۡضَ مَا يُوۡحٰٓى اِلَيۡكَ وَضَآٮِٕقٌ ۢ بِهٖ صَدۡرُكَ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ​ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِيۡرٌ​ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ وَّكِيۡلٌ ؕ‏ ﴿12﴾

تو کیا جو وحی تمہاری طرف ہوتی ہے اس میں سے کچھ تم چھوڑ دو گے اور اس پر دل تنگ ہوگے (ف۲٦) اس بناء پر کہ وہ کہتے ہیں ان کے ساتھ کوئی خزانہ کیوں نہ اترا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ آتا، تم تو ڈر سنانے والے ہو (ف۲۷) اور اللہ ہر چیز پر محافظ ہے،

So will you forsake part of what is divinely revealed to you and be disheartened because they say, “Why has not a treasure been sent down along with him?”, or “An angel should have come with him”? You are purely a Herald of Warning*; and Allah is the Guardian over all things. (* Therefore do not grieve over their sayings.)

اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَـرٰٮهُ​ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِهٖ مُفۡتَرَيٰتٍ وَّ ادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿13﴾

کیا (ف۲۸) یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے جی سے بنالیا، تم فرماؤ کہ تم ایسی بنائی ہوئی دس سورتیں لے آؤ (ف۲۹) اور اللہ کے سوا جو مل سکیں (ف۳۰) سب کو بلالو اگر تم سچے ہو (ف۳۱)

What! They dare say that “He has fabricated it”? Say “Therefore bring ten fabricated chapters like these, and call on everyone you can other than Allah, if you are truthful.”

فَاِلَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَـكُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰهِ وَاَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ​ۚ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ‏ ﴿14﴾

تو اے مسلمانو اگر وہ تمہاری اس بات کا جواب نہ دے سکیں تو سمجھ لو کہ وہ اللہ کے علم ہی سے اترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں تو کیا اب تم مانو گے (ف۳۲)

So O Muslims, if they are unable to reply to this challenge of yours, then know well that it is sent down only with the knowledge of Allah; and that except Him, there is no real God; so will you now accept?

مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَ زِيۡنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ‏ ﴿15﴾

جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو (ف۳۳) ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے (ف۳٤) اور اس میں کمی نہ دیں گے،

Whoever desires the life of this world and its comforts, We shall give them the full reward for their deeds in it, and not make any reduction in it.

اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ لَـيۡسَ لَهُمۡ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ​ ​ۖ  وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿16﴾

یہ ہیں وہ جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آگ اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے (ف۳۵)

These are the ones for whom there is nothing in the Hereafter except the fire; and all that they did there has gone to waste and all their deeds are destroyed.

اَفَمَنۡ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ وَيَتۡلُوۡهُ شَاهِدٌ مِّنۡهُ وَمِنۡ قَبۡلِهٖ كِتٰبُ مُوۡسٰٓى اِمَامًا وَّرَحۡمَةً​  ؕ اُولٰٓٮِٕكَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ​ ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ فَالنَّارُ مَوۡعِدُهٗ​ ۚ فَلَا تَكُ فِىۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡهُ​ اِنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿17﴾

تو کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو (ف۳٦) اور اس پر اللہ کی طرف سے گواہ آئے (ف۳۷) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (ف۳۸) پیشوا اور رحمت وہ اس پر (ف۳۹) ایمان لاتے ہیں، اور جو اس کا منکر ہو سارے گروہوں میں (ف٤۰) تو آگ اس کا وعدہ ہے تو اے سننے والے! تجھے کچھ اس میں شک نہ ہو، بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے لیکن بہت آدمی ایمان نہیں رکھتے،

So is the one who is upon the clear proof* from his Lord, and comes a witness upon it from Allah, and before it the Book of Moosa, a leader and a mercy; they accept faith in it; and whoever denies it from all the groups, then the fire is promised for him; so O listener, do not have any doubt concerning it; indeed it is the truth from your Lord; but most people do not believe. (* The Jews who accepted faith in the Qur’an.)

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا​ ؕ اُولٰٓٮِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ وَ يَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ هٰٓؤُلَاۤءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ​ ۚ اَلَا لَـعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ‏ ﴿18﴾

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف٤۱) اور اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے (ف٤۲) اور گواہ کہیں گے یہ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا، ارے ظا لموں پر خدا کی لعنت (ف٤۳)

And who is more unjust than the one who fabricates a lie against Allah? They will be presented before their Lord, and the witnesses* will say, “These are they who lied concerning their Lord; the curse of Allah be upon the unjust!” (* The Prophets and angels.)

الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ؕ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ‏ ﴿19﴾

جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں، اور وہی آخرت کے منکر ہیں،

Those who prevent from the way of Allah and wish deviation in it; and it is they who disbelieve in the Hereafter.

اُولٰٓٮِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِى الۡاَرۡضِ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ​ ۘ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ​ ؕ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ السَّمۡعَ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ‏ ﴿20﴾

وہ تھکانے والے نہیں زمین میں (ف٤٤) اور نہ اللہ سے جدا ان کے کوئی حمایتی (ف٤۵) انھیں عذاب پر عذاب ہوگا (ف٤٦) وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے (ف٤۷)

They will not be able to escape in the earth, nor do they have any protecting friends apart from Allah; they will have punishment upon punishment; they were unable to hear, nor used to see. (* Hear or see the truth.)

اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ‏ ﴿21﴾

وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں اور ان سے کھوئی گئیں جو باتیں جوڑتے تھے خواہ نخواہ

It is they who put their souls into ruin, and they lost all that they used to fabricate.

لَا جَرَمَ اَ نَّهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ‏ ﴿22﴾

۔ (ضرور) وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہیں (ف٤۸)

They will be, unnecessarily, the greatest losers in the Hereafter.

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخۡبَـتُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡۙ اُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ​ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ‏ ﴿23﴾

بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اپنے رب کی طرف رجوع لائے وہ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،

Indeed those who believed and performed good deeds and directed themselves towards their Lord – they are the people of Paradise; they will abide in it forever.

مَثَلُ الۡفَرِيۡقَيۡنِ كَالۡاَعۡمٰى وَالۡاَصَمِّ وَالۡبَـصِيۡرِ وَالسَّمِيۡعِ​ ؕ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا​ ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ‏ ﴿24﴾

دونوں فریق (ف٤۹) کا حال ایسا ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا (ف۵۰) کيا ان دونوں حال کا ايک سا ہے (ف۱۵) تو کياتم دہيان نہيں کرتے

The example of the two groups is like one being blind and deaf, and the other seeing and hearing; are they equal in condition? So do you not ponder?

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖۤ اِنِّىۡ لَـكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌۙ‏  ﴿25﴾

اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھيجا (ف۵۲) کہ میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں

And indeed We sent Nooh to his people that, “Indeed I am for you a clear Herald of Warning.”

اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ​ؕ اِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ‏ ﴿26﴾

کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو، بیشک میں تم پر ایک مصیبت والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (ف۵۳)

“That you must worship none except Allah; indeed I fear the punishment of the calamitous day upon you.”

فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ مَا نَرٰٮكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثۡلَنَا وَمَا نَرٰٮكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُــنَا بَادِىَ الرَّاۡىِ​ۚ وَمَا نَرٰى لَـكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۢ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ‏  ﴿27﴾

تو اس کی قوم کے سردار جو کافر ہوئے تھے بولے ہم تو تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں (ف۵٤) اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہاری پیروی کسی نے کی ہو مگر ہمارے کمینوں نے (ف۵۵) سرسری نظر سے (ف۵٦) اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے (ف۵۷) بلکہ ہم تمہیں (ف۵۸) جھوٹا خیال کرتے ہیں،

The chiefs of his people, who were disbelievers, said, “We see that you are just a mortal like us, and we do not see anyone following you except the most lowly among us, without insight; and we do not find any merit in you above us – in fact, we consider you liars.”

قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمْ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّىۡ وَاٰتٰٮنِىۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡؕ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡـتُمۡ لَـهَا كٰرِهُوۡنَ‏ ﴿28﴾

بولا اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں (ف۵۹) اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی (ف٦۰) تو تم اس سے اندھے رہے، کیا ہم اسے تمہارے گلے چپیٹ (چپکا) دیں اور تم بیزار ہو (ف٦۱)

He said, “O my people! What is your opinion – if I am on a clear proof from my Lord and He has bestowed mercy upon me from Him, so you remained blind towards it; shall we force it upon you although you dislike it?”

وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـــَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ؕاِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ​ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا​ ؕ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ وَلٰـكِنِّىۡۤ اَرٰٮكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ‏ ﴿29﴾

اور اے قوم! میں تم سے کچھ اس پر (ف٦۲) مال نہیں مانگتا (ف٦۳) میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں (ف٦٤) بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں (ف٦۵) لیکن میں تم کو نرے جاہل لوگ پاتا ہوں (ف٦٦)

“And O my people! I do not ask any wealth from you for it; my reward is only upon Allah, and I am not going to repel the Muslims; indeed they will meet their Lord, but I find you people completely ignorant.”

وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّـنۡصُرُنِىۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدتُّهُمۡ​ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ‏  ﴿30﴾

اور اے قوم مجھے اللہ سے کون بچالے گا اگر میں انھیں دور کروں گا، تو کیا تمہیں دھیان نہیں ،

“And O my people! Who would rescue me from Allah if I repel them? So do you not think?”

وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَـكُمۡ عِنۡدِىۡ خَزَآٮِٕنُ اللّٰهِ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّىۡ مَلَكٌ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِىۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا​ ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ​ ۖۚ اِنِّىۡۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿31﴾

اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جان جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں (ف٦۷) اور میں انھیں نہیں کہتا جن کو تمہاری نگاہیں حقیر سمجھتی ہیں کہ ہرگز انھیں اللہ کوئی بھلائی نہ دے گا، اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے (ف٦۸) ایسا کروں (ف٦۹) تو ضرور میں ظالموں میں سے ہوں (ف۷۰)

“And I do not say to you, ‘I have the treasures of Allah’ nor that ‘I gain knowledge of the hidden’, nor do I say that, ‘I am an angel’ nor do I say to those whom your sights consider lowly, that Allah will never give them any good; Allah well knows what is in their hearts; if I do so, I would then be of the unjust.”

قَالُوۡا يٰـنُوۡحُ قَدۡ جَادَلۡتَـنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَالـنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏ ﴿32﴾

بولے اے نوح تم ہم سے جھگڑے اور بہت ہی جھگڑے تو لے آؤ جس (ف۷۱) کا ہمیں وعدے دے رہے ہو اگر تم سچے ہو،

They said, “O Nooh, you have disputed with us and disputed in the extreme, therefore bring upon us what you promise us, if you are truthful.”

قَالَ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ‏  ﴿33﴾

بولا وہ تو اللہ تم پر لائے گا اگر چاہے اور تم تھکا نہ سکو گے (ف۷۲)

He said, “Allah will surely bring that upon you if He wills, and you will not be able to escape.”

وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِىۡۤ اِنۡ اَرَدْتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ​ؕ هُوَ رَبُّكُمۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَؕ‏  ﴿34﴾

اور تمہیں میری نصیحت نفع نہ دے گی اگر میں تمہارا بھلا چاہوں جبکہ اللہ تمہاری گمراہی چاہے، وہ تمہارا رب ہے، اور اسی کی طرف پھرو گے (ف۷۳)

“And my advice will not benefit you if I wish you good, when Allah wills to keep you astray; He is your Lord and to Him you will return.”

اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَـرٰٮهُ​ ؕ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَىَّ اِجۡرَامِىۡ وَاَنَا بَرِىۡٓءٌ مِّمَّا تُجۡرِمُوۡنَ‏ ﴿35﴾

کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے جی سے بنالیا (ف۷٤) تم فرماؤ اگر میں نے بنالیا ہوگا تو میرا گناہ مجھ پر ہے (ف۷۵) اور میں تمہارے گناہ سے الگ ہوں،

What! They dare say that, “He has fabricated it”? Say, “If I may have fabricated it, then my sin is upon me, and I am unconcerned with your sins.”

وَاُوۡحِىَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ فَلَا تَبۡتَٮِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ​ ۖ ​ ۚ‏ ﴿36﴾

اور نوح کو وحی ہوئی تمہاری قوم سے مسلمان نہ ہوں گے مگر جتنے ایمان لاچکے تو غم نہ کھا اس پر جو وہ کرتے ہیں (ف۷٦)

And it was divinely revealed to Nooh that “None of your people will become Muslims, except those who have already accepted faith – therefore do not grieve at what they do.”

وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا وَلَا تُخَاطِبۡنِىۡ فِى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا​ ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ‏ ﴿37﴾

اور کشتی بناؤ ہمارے سامنے (ف۷۷) اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا (ف۷۸) وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے (ف۷۹)

“And build the ship in front of Us, and by Our command, and do not speak to Me regarding the unjust; they will surely be drowned.”

وَيَصۡنَعُ الۡفُلۡكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ سَخِرُوۡا مِنۡهُ​ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَؕ‏  ﴿38﴾

اور نوح کشتی بناتا ہے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس پر ہنستے (ف۸۰) بولا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے (ف۸۱) جیسا تم ہنستے ہو (ف۸۲)

And Nooh builds the ship; and whenever the chiefs of his people passed by him, they used to laugh at him; he said, “If you laugh at us, then a time will come when we will laugh at you just as you laugh.”

فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ‏ ﴿39﴾

تو اب جان جاؤ گے کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے (ف۸۳) اور اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ رہے (ف۸٤)

“So now you will come to know – upon whom comes the punishment that disgraces him, and upon whom descends the punishment that continues forever.”

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَفَارَ التَّنُّوۡرُۙ قُلۡنَا احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ وَمَنۡ اٰمَنَ​ؕ وَمَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ‏ ﴿40﴾

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آیا (ف۸۵) اور تنور اُبلا (ف۸٦) ہم نے فرمایا کشتی میں سوار کرلے ہر جنس میں سے ایک جوڑا نر و مادہ اور جن پر بات پڑچکی ہے (ف۸۷) ان کے سوا اپنے گھر والوں اور باقی مسلمانوں کو اور اس کے ساتھ مسلمان نہ تھے مگر تھوڑے (ف۸۸)

To the extent that when Our command came and the oven overflowed, We said, “Board into the ship a couple – male and female – from every kind, and your family members, except those upon whom the Word has been passed*, and all other Muslims”; and only a few Muslims were with him. (* Whose fate has been sealed.)

وَقَالَ ارۡكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجْرٖٮٰھَا وَمُرۡسٰٮهَا ​ؕ اِنَّ رَبِّىۡ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ‏ ﴿41﴾

اور بولا اس میں سوار ہو (ف۸۹) اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا (ف۹۰) بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے ،

And he said, “Board it – upon Allah’s name is its movement and its stopping; indeed my Lord is surely Oft Forgiving, Most Merciful.”

وَهِىَ تَجۡرِىۡ بِهِمۡ فِىۡ مَوۡجٍ كَالۡجِبَالِ وَنَادٰى نُوۡحُ اۨبۡنَهٗ وَكَانَ فِىۡ مَعۡزِلٍ يّٰبُنَىَّ ارۡكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ‏  ﴿42﴾

اور وہی انھیں لیے جارہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ (ف۹۱) اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ اس سے کنارے تھا (ف۹۲) اے میرے بچے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو (ف۹۳)

And the same carries them amid waves like mountains; and Nooh called out to his son whereas he was standing apart, “O my son! Embark along with us*, and do not be with the disbelievers.” (* As a Muslim.)

قَالَ سَاٰوِىۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِىۡ مِنَ الۡمَآءِ​ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ​ۚ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ‏ ﴿43﴾

بولا اب میں کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا، کہا آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور ان کے بیچ میں موج آڑے آئی تو وہ ڈوبتوں میں رہ گیا (ف۹٤)

He said, “I shall take the refuge of a mountain – it will save me from the water”; said Nooh, “Today there is none who can rescue from the punishment of Allah, except upon whom He has mercy”; and the wave came in between them, so he remained amongst the drowning.

وَقِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِىۡ مَآءَكِ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِعِىۡ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ وَقُضِىَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِىِّ​ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّـلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿44﴾

اور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان! تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوا اور کشتی (ف۹۵) کوہ ِ جودی پر ٹھہری (ف۹٦) اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ،

And it was commanded, “O earth, swallow your water and, O sky, stop” – and the water was dried up and the matter was completed – and the ship stopped upon the mount Al-Judi and it was said, “Away with the unjust nation!”

وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِىۡ مِنۡ اَهۡلِىۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَـقُّ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰكِمِيۡنَ‏ ﴿45﴾

اور نوح نے اپنے رب کو پکارا عرض کی اے میرے رب میرا بیٹا بھی تو میرا گھر والا ہے (ف۹۷) اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حکم والا (ف۹۸)

And Nooh prayed to his Lord – submitted he, “My Lord! Indeed my son is also of my family, and surely Your promise is true and You are the Greatest Ruler of all.”

قَالَ يٰـنُوۡحُ اِنَّهٗ لَـيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ ​ۚاِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ ​​ۖ فَلَا تَسۡــَٔــلۡنِ مَا لَـيۡسَ لَـكَ بِهٖ عِلۡمٌ​ ؕ اِنِّىۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰهِلِيۡنَ‏ ﴿46﴾

فرمایا اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں (ف۹۹) بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں، تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں (ف۱۰۰) میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن،

He said, “O Nooh, he is not of your family; his deeds are most improper; therefore do not ask Me a thing of which you do not have knowledge; I advise you not to be unwise.”

قَالَ رَبِّ اِنِّىۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡــَٔلَكَ مَا لَـيۡسَ لِىۡ بِهٖ عِلۡمٌ​ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِىۡ وَتَرۡحَمۡنِىۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏ ﴿47﴾

عرض کی اے رب میرے میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں زیاں کار ہوجاؤں،

He submitted, “My Lord! I seek your refuge from asking you the thing of which I do not have knowledge; and if You do not forgive me and do not have mercy on me, I would then be a loser.”

قِيۡلَ يٰـنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰٓى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ​ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‏  ﴿48﴾

فرمایا گیا اے نوح! کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام اور برکتوں کے ساتھ (ف۱۰۱) جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کے کچھ گروہوں پر (ف۱۰۲) اور کچھ گروہ ہیں جنہیں ہم دنیا برتنے دیں گے (ف۱۰۳) پھر انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا (ف۱۰٤)

It was said, “O Nooh! Alight from the ship along with peace from Us and the blessings that are upon you and upon some groups that are with you; and some groups are those whom We shall let enjoy this world and then a painful punishment from Us will reach them.”

تِلۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ​ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰذَا​ ​ۛؕ فَاصۡبِرۡ​ ​ۛؕ اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ‏  ﴿49﴾

یہ غیب کی خبریں ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں (ف۱۰۵) انھیں نہ تم جانتے تھے نہ تمہاری قوم اس (ف۱۰٦) سے پہلے، تو صبر کرو (ف۱۰۷) بیشک بھلا انجام پرہیزگاروں کا (ف۱۰۸)

These are the tidings of the hidden, which We reveal to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); you did not know them nor did your people, before this; therefore patiently endure; indeed the excellent fate is for the pious.

وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا​ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ​ ؕ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُفۡتَرُوۡنَ‏ ﴿50﴾

اور عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو (ف۱۰۹) کہا اے میری قوم! اللہ کو پوجو (ف۱۱۰) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم تو بڑے مفتری (بالکل جھوٹے الزام عائد کرنے والے) ہو (ف۱۱۱)

And towards the people of A’ad, their fellow man Hud; he said, “O my people! Worship Allah – there is no other True God except Him; you are purely fabricators.”

يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـــَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا​ ؕ اِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلَى الَّذِىۡ فَطَرَنِىۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿51﴾

اے قوم! میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، میری مزدوری تو اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا (ف۱۱۲) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۱۳)

“O my people! I do not ask any fee from you for it; my reward is only upon Him Who has created me; so do you not have sense?”

وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّدۡرَارًا وَّيَزِدۡكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡا مُجۡرِمِيۡنَ‏ ﴿52﴾

اور اے میری قوم اپنے رب سے معافی چاہو (ف۱۱٤) پھر اس کی طرف رجوع لاؤ تم پر زور کا پانی بھیجے گا، اور تم میں جتنی قوت ہے اس سے زیادہ دے گا (ف۱۱۵) اور جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو (ف۱۱٦)

“And O my people! Seek forgiveness from your Lord, then incline towards Him in repentance – He will send abundant rain from the sky upon you and will give you much more strength than you have – and do not turn away committing crimes!”

قَالُوۡا يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَـنَا بِبَيِّنَةٍ وَّمَا نَحۡنُ بِتٰـرِكِىۡۤ اٰلِهَـتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ وَمَا نَحۡنُ لَـكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿53﴾

بولے اے ہود تم کوئی دلیل لے کر ہمارے پاس نہ آئے (ف۱۱۷) اور ہم خالی تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے کے نہیں نہ تمہاری بات پر یقین لائیں،

They said, “O Hud! You have not come to us with any proof and we will not forsake our deities upon your saying, nor will we believe you.”

اِنۡ نَّقُوۡلُ اِلَّا اعۡتَـرٰٮكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ​ ؕ قَالَ اِنِّىۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّىۡ بَرِىۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ ۙ‏ ﴿54﴾

ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی خدا کی تمہیں بری جھپٹ (پکڑ) پہنچی (ف۱۱۸) کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں بیزار ہوں ان سب سے جنہیں تم اللہ کے سوا اس کا شریک ٹھہراتے ہو،

“We only say that you have been severely struck by one of our deities”; he said, “I make Allah a witness, and you all bear witness that I have no relation with whatever you ascribe (as partners to Allah)”-

مِنۡ دُوۡنِهٖ​ فَكِيۡدُوۡنِىۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ‏ ﴿55﴾

تم سب مل کر میرا برا چاہو (ف۱۱۹) پھر مجھے مہلت نہ دو (ف۱۲۰)

“Besides Him – therefore all of you scheme against me and do not give me respite.”

اِنِّىۡ تَوَكَّلۡتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّىۡ وَرَبِّكُمۡ ​ؕ مَا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌ ۢ بِنَاصِيَتِهَا ؕ اِنَّ رَبِّىۡ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ‏  ﴿56﴾

میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب، کوئی چلنے والا نہیں (ف۱۲۱) جس کی چوٹی اس کے قبضہٴ قدرت میں نہ ہو (ف۱۲۲) بیشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے،

“I rely upon Allah, Who is my Lord and your Lord; there is not a creature that walks, whose forelock is not in His control; indeed my Lord can be found on the Straight Path.”

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ​ ؕ وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّىۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡۚ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡـــًٔا​ ؕ اِنَّ رَبِّىۡ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَفِيۡظٌ‏ ﴿57﴾

پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں تمہیں پہنچا چکا جو تمہاری طرف لے کر بھیجا گیا (ف۱۲۳) اور میرا رب تمہاری جگہ اوروں کو لے آئے گا (ف۱۲٤) اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے (ف۱۲۵) بیشک میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے (ف۱۲٦)

“Then if you turn away, I have conveyed to you what I was sent with towards you; and my Lord will bring others in your stead; and you will not be able to cause Him any harm; indeed my Lord is a Guardian over all things.”

وَ لَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا ۚ وَ نَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ‏ ﴿58﴾

اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے ہود اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو (ف۱۲۷) اپنی رحمت فرما کر بچالیا (ف۱۲۸) اور انھیں (ف۱۲۹) سخت عذاب سے نجات دی،

And when Our command came, We rescued Hud and the Muslims who were with him, by Our mercy; and We saved them from a severe punishment.

وَتِلۡكَ عَادٌ​ جَحَدُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَعَصَوۡا رُسُلَهٗ وَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيۡدٍ‏ ﴿59﴾

اور یہ عاد ہیں (ف۱۳۰) کہ اپنے رب کی آیتوں سے منکر ہوئے اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر بڑے سرکش ہٹ دھرم کے کہنے پر چلے ،

And these are the A’ad – they denied the signs of their Lord and disobeyed His Noble Messengers and followed the commands of every stubborn disobedient.

وَاُتۡبِعُوۡا فِىۡ هٰذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ​ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ​ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ‏ ﴿60﴾

اور ان کے پیچھے لگی اس دنیا میں لعنت اور قیامت کے دن، سن لو! بیشک عاد اپنے رب سے منکر ہوئے، ارے دور ہوں عاد ہود کی قوم،

And a curse followed them in the world, and on the Day of Resurrection; pay heed! Indeed A’ad disbelieved in their Lord; away with A’ad, the people of Hud!

​وَاِلٰى ثَمُوۡدَ اَخَاهُمۡ صٰلِحًا​ۘ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ​ ؕ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَاسۡتَعۡمَرَكُمۡ فِيۡهَا فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ​ ؕ اِنَّ رَبِّىۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ‏  ﴿61﴾

اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو (ف۱۳۱) کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو (ف۱۳۲) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (ف۱۳۳) اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا (ف۱۳٤) اور اس میں تمہیں بسایا (ف۱۳۵) تو اس سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، بیشک میرا رب قریب ہے دعا سننے والا،

And to the Thamud tribe, We sent their fellow man Saleh; he said, “O my people! Worship Allah, there is no other True God except Him; He created you from the earth and established you in it, so seek forgiveness from Him and incline towards Him in repentance; indeed my Lord is Close, Acceptor of Prayer.”

قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰذَآ​ اَتَـنۡهٰٮنَاۤ اَنۡ نَّـعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِىۡ شَكٍّ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ‏ ﴿62﴾

بولے اے صالح! اس سے پہلے تو تم ہم میں ہونہار معلوم ہوتے تھے (ف۱۳٦) کیا تم ہمیں اس سے منع کرتے ہو کہ اپنے باپ دادا کے معبودوں کو پوجیں اور بیشک جس بات کی طرف ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے ایک بڑے دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،

They said, “O Saleh! You seemed very promising among us, before this – What! You forbid us from worshipping the deities of our forefathers? And indeed we have fallen into a deeply intriguing doubt concerning what you call us to.”

قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّىۡ وَاٰتٰٮنِىۡ مِنۡهُ رَحۡمَةً فَمَنۡ يَّـنۡصُرُنِىۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ عَصَيۡتُهٗ​ فَمَا تَزِيۡدُوۡنَنِىۡ غَيۡرَ تَخۡسِيۡرٍ‏ ﴿63﴾

بولا اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے رحمت بخشی (ف۱۳۷) تو مجھے اس سے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں (ف۱۳۸) تو تم مجھے سوا نقصان کے کچھ نہ بڑھاؤ گے (ف۱۳۹)

He said, “O my people! What is your opinion – if I am on clear proof from my Lord and He has bestowed upon me mercy from Him, so who will rescue me from Allah if I disobey Him? So you will not increase anything for me, except loss!”

وَيٰقَوۡمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَـكُمۡ اٰيَةً فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِىۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ قَرِيۡبٌ‏ ﴿64﴾

اور اے میری قوم! یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لیے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے بری طرح ہاتھ نہ لگانا کہ تم کو نزدیک عذاب پہنچے گا (ف۱٤۰)

“And O my people! This is the she-camel of Allah – a sign for you – so let her graze in Allah’s earth, and do not touch her with an evil intention for an imminent punishment will reach you.”

فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِىۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَ يَّامٍ ​ؕذٰ لِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ‏ ﴿65﴾

تو انہوں نے (ف۱٤۱) اس کی کونچیں کاٹیں تو صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور برت لو (فائدہ اٹھالو) (ف۱٤۲) یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا (ف۱٤۳)

In response they hamstrung her, he therefore said, “Enjoy a further three days in your homes; this is a promise that will not be untrue.”

فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا صٰلِحًـا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا وَمِنۡ خِزۡىِ يَوۡمِٮِٕذٍ​ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِىُّ الۡعَزِيۡزُ‏  ﴿66﴾

پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے صالح اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرما کر (ف۱٤٤) بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے، بیشک تمہارا رب قومی عزت والا ہے،

Therefore when Our command came, We rescued Saleh and the Muslims who were with him by Our mercy, and from the disgrace of that day; indeed your Lord is the Strong, the Almighty.

وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دِيَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَۙ‏  ﴿67﴾

اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا (ف۱٤۵) تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے ،

And the terrible scream seized the unjust – so at morning they remained lying flattened in their homes.

كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا​ ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوۡدَا۟ كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ​ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّـثَمُوۡدَ‏ ﴿68﴾

گویا کبھی یہاں بسے ہی نہ تھے، سن لو! بیشک ثمود اپنے رب سے منکر ہوئے ارے لعنت ہو ثمود پر،

As if they had never lived there; indeed the tribe of Thamud disbelieved in their Lord; away with the Thamud!

وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ بِالۡبُشۡرٰى قَالُوۡا سَلٰمًا​ ؕ قَالَ سَلٰمٌ​ فَمَا لَبِثَ اَنۡ جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيۡذٍ‏ ﴿69﴾

اور بیشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس (ف۱٤٦) مژدہ لے کر آئے بولے سلام کہا (ف۱٤۷) کہا سلام پھر کچھ دیر نہ کی کہ ایک بچھڑا بھنا لے آئے (ف۱٤۸)

And indeed Our angels came to Ibrahim with glad tidings – they said, “Peace”; he answered, “Peace” and without delay brought a roasted calf.

فَلَمَّا رَاٰۤ اَيۡدِيَهُمۡ لَا تَصِلُ اِلَيۡهِ نَـكِرَهُمۡ وَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً​  ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ ؕ‏ ﴿70﴾

پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں پہنچتے ان کو اوپری سمجھا اور جی ہی جی میں ان سے ڈرنے لگا، بولے ڈریے نہیں ہم قوم لوط کی طرف (ف۱٤۹) بھیجے گئے ہیں،

And when he saw their hands not reaching towards it, he thought they were pretending and inwardly started fearing them; they said, “Do not be afraid – we are sent to the people of Lut.”

وَامۡرَاَ تُهٗ قَآٮِٕمَةٌ فَضَحِكَتۡ فَبَشَّرۡنٰهَا بِاِسۡحٰقَ ۙ وَمِنۡ وَّرَآءِ اِسۡحٰقَ يَعۡقُوۡبَ‏ ﴿71﴾

اور اس کی بی بی (ف۱۵۰) کھڑی تھی وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اسے (ف۱۵۱) اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے پیچھے (ف۱۵۲) یعقوب کی (ف۱۵۳)

And his wife was standing by and she started laughing*, so We gave her glad tidings regarding Ishaq, and following Ishaq, regarding Yaqub.** (* She was glad that the disbelieving people of Lut would be destroyed.** The birth of these two.)

قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰٓى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّهٰذَا بَعۡلِىۡ شَيۡخًا ​ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ عَجِيۡبٌ‏ ﴿72﴾

بولی ہائے خرابی کیا میرے بچہ ہوگا اور میں بوڑھی ہوں (ف۱۵٤) اور یہ ہیں میرے شوہر بوڑھے (ف۱۵۵) بیشک یہ تو اچنبھے کی بات ہے،

She said, “Oh woe to me – will I bear a child whereas I am an old woman, and this my husband, is an old man? This is something really extraordinary.”

قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ​ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ​ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ‏ ﴿73﴾

فرشتے بولے کیا اللہ کے کام کا اچنبھا کرتی ہو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اس گھر والو! بیشک (ف۱۵٦) وہی ہے سب خوبیوں والا عزت والا،

The angels said, “Do you wonder at the command of Allah? Allah’s mercy and His blessings be upon you, O people of this house; indeed He only is Most Praiseworthy, Most Honourable.”

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى يُجَادِلُــنَا فِىۡ قَوۡمِ لُوۡطٍؕ‏ ﴿74﴾

پھر جب ابراہیم کا خوف زائل ہوا اور اسے خوشخبری ملی ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا، (ف۱۵۷)

And when Ibrahim’s fear abated and the glad tidings reached him, he argued with Us regarding the people of Lut.

اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَحَـلِيۡمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيۡبٌ‏ ﴿75﴾

بیشک ابراہیم تحمل والا بہت آہیں کرنے والا رجوع کرنے والا ہے (ف۱۵۷)

Indeed Ibrahim is most forbearing, very soft hearted, penitent.

يٰۤـاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰذَا ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ​ ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ‏ ﴿76﴾

اے ابراہیم اس خیال میں نہ پڑ بیشک تیرے رب کا حکم آچکا اور بیشک ان پر عذاب آنے والا ہے کہ پھیرا نہ جائے گا

“O Ibrahim, turn away from this; indeed your Lord’s command has come; and indeed a punishment will come upon them, which will not be averted.”

وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُـنَا لُوۡطًا سِىۡٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ‏ ﴿77﴾

اور جب لوط کے یہاں ہمارے فرشتے آئے (ف۱۵۹) اسے ان کا غم ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا اور بولا یہ بڑی سختی کا دن ہے (ف۱٦۰)

And when Our angels came to Lut, he was distressed for them and was disheartened due to them, and said, “This is a day of great hardship.”

وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ ؕ وَمِنۡ قَبۡلُ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ السَّيِّاٰتِ ​ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ هٰٓؤُلَاۤءِ بَنٰتِىۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَـكُمۡ​ ۚ فَاتَّقُوۡا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِىۡ ضَيۡفِىۡ ؕ اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ‏ ﴿78﴾

اور اس کے پاس کی قوم دوڑتی آئی، اور انھیں آگے ہی سے برے کاموں کی عادت پڑی تھی (ف۱٦۱) کہا اے قوم! یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے ستھری ہیں تو اللہ سے ڈرو (ف۱٦۲) اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک آدمی بھی نیک چلن نہیں،

And his people came running towards him; and they were in the habit of committing evil deeds; he said, “O my people! These women of the tribe are my daughters* – they are purer for you – therefore fear Allah and do not disgrace me in the midst of my guests; is there not even a single righteous man among you?” (* The wives of those people.)

قَالُوۡا لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَـنَا فِىۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ​ ۚ وَاِنَّكَ لَـتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ‏ ﴿79﴾

بولے تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم کی بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں (ف۱٦۳) اور تم ضرور جانتے ہو جو ہماری خواہش ہے،

They said, “You know that we have no right to the daughters of your tribe; and you obviously know what we desire.”

قَالَ لَوۡ اَنَّ لِىۡ بِكُمۡ قُوَّةً اَوۡ اٰوِىۡۤ اِلٰى رُكۡنٍ شَدِيۡدٍ‏ ﴿80﴾

بولے اے کاش! مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا (ف۱٦٤)

He said, “If only I had the strength against you or were able to get the refuge of some strong support!”

قَالُوۡا يٰلُوۡطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنۡ يَّصِلُوۡۤا اِلَيۡكَ​ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ اِلَّا امۡرَاَتَكَ​ؕ اِنَّهٗ مُصِيۡبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمۡ​ؕ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ​ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ‏ ﴿81﴾

فرشتے بولے اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں (ف۱٦۵) وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے (ف۱٦٦) تو اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے (ف۱٦۷) سوائے تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انھیں پہنچے گا (ف۱٦۸) بیشک ان کا وعدہ صبح کے وقت کا ہے (ف۱٦۹) کیا صبح قریب نہیں،

The angels said, “O Lut! We are the sent ones of your Lord – they cannot get to you, therefore during the night take your entire household with you – and not one of you may turn around and see – except your wife*; she too will be afflicted with the same as they will be; indeed their promise is at morn; is not the morning imminent?” (* She was a disbeliever and sided with the culprits.)

فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا جَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍۙ  مَّنۡضُوۡدٍۙ‏ ﴿82﴾

پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کردیا (ف۱۷۰) اور اس پر کنکر کے پتھر لگا تار برسائے،

So when Our command came, We turned that township upside down and showered it continuously with stones of fired clay.

مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ​ؕ وَ مَا هِىَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ بِبَعِيۡدٍ‏  ﴿83﴾

جو نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں (ف۱۷۱) اور وہ پتھر کچھ ظالموں سے دور نہیں (ف۱۷۲)

That are marked, in the custody your Lord; and those stones are not at all far from the unjust!

وَاِلٰى مَدۡيَنَ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا​ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ​ؕ وَلَا تَـنۡقُصُوا الۡمِكۡيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ​ اِنِّىۡۤ اَرٰٮكُمۡ بِخَيۡرٍ وَّاِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ‏  ﴿84﴾

اور (ف۱۷۳) مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو (ف۱۷٤) کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۱۷۵) اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بیشک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں (ف۱۷٦) اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کا عذاب کا ڈر ہے (ف۱۷۷)

And to Madyan their fellow man Shuaib; he said, “O my people! Worship Allah – there is no other True God except Him; and do not make reductions in measure and weight – indeed I see you prosperous, and I fear the punishment of the Besieging Day (of Resurrection) upon you.”

وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ​ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿85﴾

اور اے میری قوم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو،

“O my people! Measure and weigh in full with justice, and do not give the people their goods diminished, and do not roam about in the earth causing turmoil.”

بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ  ۚ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ‏ ﴿86﴾

اللہ کا دیا جو بچ رہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو (ف۱۷۸) اور میں کچھ تم پر نگہبان نہیں (ف۱۷۹)

“That which remains from Allah’s bestowal is better for you, if you believe; and I am not at all a guardian over you.”

قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوۡ اَنۡ نَّـفۡعَلَ فِىۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا​ ؕ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَـلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ‏ ﴿87﴾

بولے اے شعیب!کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں (ف۱۸۰) یا اپنے مال میں جو چاہیں نہ کریں (ف۱۸۱) ہاں جی تمہیں بڑے عقلمند نیک چلن ہو،

They said, “O Shuaib! Does your prayer command you that we forsake the deities of our forefathers or that we may not do as we wish with our own property? Yes indeed – only you are very intelligent, most righteous*.” (* They mocked at him with sarcasm.)

قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّىۡ وَرَزَقَنِىۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا​ ؕ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰٮكُمۡ عَنۡهُ​ ؕ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ​ ؕ وَمَا تَوۡفِيۡقِىۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ​ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ‏ ﴿88﴾

کہا اے میری قوم بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں (ف۱۸۲) اور اس نے مجھے اپنے پاس سے اچھی روزی دی (ف۱۸۳) اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اس کے خلاف کرنے لگوں (ف۱۸٤) میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں، اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں،

He said, “O my people! What is your opinion – if I am on a clear proof from my Lord and He has bestowed me with an excellent sustenance from Him (shall I ignore all this?); and the matter I forbid you to do, I do not wish that I myself act against it; I only intend to make improvements as far possible; my guidance is only from Allah; I rely only upon Him and towards Him only do I incline.”

وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِىۡۤ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ​ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ‏ ﴿89﴾

اور اے میری قوم تمہیں میری ضد یہ نہ کموادے کہ تم پر پڑے جو پڑا تھا نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر، اور لوط کی قوم تو کچھ تم سے دور نہیں (ف۱۸۵)

“And O my people! May not your opposition to me occasion the coming upon you of the thing similar to what befell the people of Nooh or the people of Hud or the people of Saleh; and the people of Lut are not at all far from you!”

وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ​ؕ اِنَّ رَبِّىۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ‏ ﴿90﴾

اور اپنے رب سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، بیشک میرا رب مہربان محبت والا ہے،

“Ask forgiveness from your Lord and then incline towards Him in repentance; indeed my Lord is Most Merciful, Most Affectionate.”

قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّمَّا تَقُوۡلُ وَاِنَّا لَـنَرٰٮكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا​ ۚ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ لَرَجَمۡنٰكَ​ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ‏  ﴿91﴾

بولے اے شعیب! ہماری سمجھ میں نہیں آتیں تمہاری بہت سی باتیں اور بیشک ہم تمہیں اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں (ف۱۸٦) اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا (ف۱۸۷) تو ہم نے تمہیں پتھراؤ کردیا ہوتا اور کچھ ہماری نگاہ میں تمہیں عزت نہیں،

They said, “O Shuaib! We do not understand most of what you say, and indeed we perceive you weak among us; were it not for your relatives, we would have stoned you; and in our sight, you have no respect at all.”

قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِىۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَ اتَّخَذۡتُمُوۡهُ وَرَآءَكُمۡ ظِهۡرِيًّا​ ؕ اِنَّ رَبِّىۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ‏ ﴿92﴾

کہا اے میری قوم کیا تم پر میرے کنبہ کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے (ف۱۸۸) اور اسے تم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا (ف۱۸۹) بیشک جو کچھ تم کرتے ہو سب میرے رب کے بس میں ہے،

He said, “O my people! Is the pressure upon you from my relatives, worth more than Allah? And you put Him* behind your backs; indeed whatever you do is all within my Lords’ control.” (* His command / my preaching.)

وَيٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ اِنِّىۡ عَامِلٌ​ ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ​ ؕ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّىۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ‏ ﴿93﴾

اور اے قوم تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں، اب جاننا چاہتے ہو کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا اور کون جھوٹا ہے ، (ف۱۹۰) اور انتظار کرو (ف۱۹۱) میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں،

“And O my people! Keep on with your works in your positions, I am doing mine; very soon you will come to know – upon whom comes the punishment that will disgrace him, and who is the liar; and wait – I too am waiting with you.”

وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا ۚ وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دِيَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَۙ‏ ﴿94﴾

اور جب (ف۱۹۲) ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرما کر بچالیا اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا (ف۱۹۳) تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے،

And when Our command came, We rescued Shuaib and the Muslims who were with him by Our mercy; and the terrible scream seized the unjust – so at morning they remained lying flattened in their homes.

كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا​ ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ‏ ﴿95﴾

گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے، ارے دور ہوں مدین جیسے دور ہوئے ثمود (ف۱۹٤)

As if they had never lived there; away with the Madyan, just as the Thamud were removed afar!

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍۙ‏ ﴿96﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں (ف۱۹۵) اور صریح غلبے کے ساتھ ،

And indeed We sent Moosa with Our revelations and a clear domination.

اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ ٮِٕهٖ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ​ۚ وَمَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيۡدٍ‏ ﴿97﴾

فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو وہ فرعون کے کہنے پر چلے (ف۱۹٦) اور فرعون کا کام راستی کا نہ تھا (ف۱۹۷)

Towards Firaun and his court members, thereupon they followed the commands of Firaun; and the work of Firaun was not proper.

يَقۡدُمُ قَوۡمَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَاَوۡرَدَهُمُ النَّارَ​ؕ وَبِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ‏ ﴿98﴾

اپنی قوم کے آگے ہوگا قیامت کے دن تو انھیں دوزخ میں لا اتارے گا (ف۱۹۸) اور و ه کیا ہی برا گھاٹ اترنے کا،

He will lead his people on the Day of Resurrection, therefore landing them into hell; and what a wretched place to land into!

وَاُتۡبِعُوۡا فِىۡ هٰذِهٖ لَـعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ​ ؕ بِئۡسَ الرِّفۡدُ الۡمَرۡفُوۡدُ‏ ﴿99﴾

اور ان کے پیچھے پڑی اس جہان میں لعنت اور قیامت کے دن (ف۱۹۹) کیا ہی برا انعام جو انھیں ملا،

And a curse followed them in the world, and on the Day of Resurrection; what a wretched gift is what they received.

ذٰ لِكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡـقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ​ مِنۡهَا قَآٮِٕمٌ وَّحَصِيۡدٌ‏  ﴿100﴾

یہ بستیوں (ف۲۰۰) کی خبریں ہیں کہ ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۲۰۱) ان میں کوئی کھڑی ہے (ف۲۰۲) اور کوئی کٹ گئی (ف۲۰۳)

These are the tidings of the townships, which We relate to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) – some of them still stand and some are cut off.

وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ وَلٰـكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ​ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِىۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَؕ ​ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ‏ ﴿101﴾

اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا خود انہوں نے (ف۲۰٤) اپنا برا کیا تو ان کے معبود جنہیں (ف۲۰۵) اللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے (ف۲۰٦) جب تمہارے رب کا حکم آیا اور ان (ف۲۰۷) سے انھیں ہلاک کے سوا کچھ نہ بڑھا،

And We did not oppress them at all, but it is they who wronged themselves – therefore their deities, whom they worshipped other than Allah, did not in the least benefit them when your Lord’s command came; and due to them, they increased nothing but ruin.

وَكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِىَ ظَالِمَةٌ​ ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ‏ ﴿102﴾

اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر، بیشک اس کی پکڑ دردناک سخت ہے (ف۲۰۸)

And similar is the seizure of your Lord when He seizes the townships upon their injustice; indeed His seizure is painful, severe.

اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَةِ​ ؕ ذٰ لِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ  ۙ  لَّهُ النَّاسُ وَذٰ لِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ‏ ﴿103﴾

بیشک اس میں نشانی (ف۲۰۹) ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ (ف۲۰۱) اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے (ف۲۱۱)

Indeed in this is a sign for one who fears the punishment of the Hereafter; this is the day on which everyone will be gathered, and this is the Day of Attendance.

وَمَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعۡدُوۡدٍؕ‏ ﴿104﴾

اور ہم اسے (ف۲۱۲) پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لیئے (ف۲۱۳)

And We do not postpone it except for a fixed term.

يَوۡمَ يَاۡتِ لَا تَكَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِاِذۡنِهٖ​ۚ فَمِنۡهُمۡ شَقِىٌّ وَّسَعِيۡدٌ‏ ﴿105﴾

جب وہ دن آئے گا کوئی بےحکم خدا بات نہ کرے گا (ف۲۱٤) تو ان میں کوئی بدبخت ہے اور کوئی خوش نصیب (ف۲۱۵)

When that day comes, no one will speak without His permission; so among them are the ill-fated and the fortunate.

فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا فَفِى النَّارِ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌ ۙ‏  ﴿106﴾

تو وہ جو بدبخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس گدھے کی طرح رینکیں گے

So those who are ill-fated, are in the fire – they will bray like donkeys in it.

خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ​ ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ‏ ﴿107﴾

وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا (ف۲۱٦) بیشک تمہارا رب جب جو چاہے کرے،

Remaining in it as long as the heavens and the earth remain, except as much as your Lord willed*; indeed your Lord may do whatever, whenever, He wills. (* Remaining forever even after the heavens and the earth are destroyed.)

وَاَمَّا الَّذِيۡنَ سُعِدُوۡا فَفِى الۡجَـنَّةِ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ​ ؕ عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ‏  ﴿108﴾

اور وہ جو خوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا (ف۲۱۷) یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی ،

So those who are fortunate are in Paradise – abiding in it as long as the heavens and the earth remain, except as much as your Lord willed; this is the everlasting favour.

فَلَا تَكُ فِىۡ مِرۡيَةٍ مِّمَّا يَعۡبُدُ هٰٓؤُلَاۤءِ ​ؕ مَا يَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا كَمَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ​ؕ وَاِنَّا لَمُوَفُّوۡهُمۡ نَصِيۡبَهُمۡ غَيۡرَ مَنۡقُوۡصٍ‏ ﴿109﴾

تو اے سننے والے! دھوکا میں نہ پڑ اس سے جیسے یہ کافر پوجتے ہیں (ف۲۱۸) یہ ویسا ہی پوجتے ہیں جیسا پہلے ان کے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۱۹) اور بیشک ہم ان کا حصہ انھیں پورا پھیردیں گے جس میں کمی نہ ہوگی،

So O listener (followers of this Prophet), do not fall into doubt by what these disbelievers worship; they only worship just as their forefathers worshipped before; and indeed we shall pay them their due in full, undiminished.

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ فَاخۡتُلِفَ فِيۡهِ​ ؕ وَ لَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ لَـقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ​ ؕ وَاِنَّهُمۡ لَفِىۡ شَكٍّ مِّنۡهُ مُرِيۡبٍ‏ ﴿110﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (ف۲۲۰) تو اس میں پھوٹ پڑگئی (ف۲۲۱) اگر تمہارے رب کی ایک بات (ف۲۲۲) پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو جبھی ان کا فیصلہ کردیا جاتا (ف۲۲۳) اور بیشک وہ اس کی طرف سے (ف۲۲٤) دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں (ف۲۲۵)

And indeed We gave Moosa the Book, hence there was discord regarding it; and were it not for a Word that had been previously passed from your Lord, the matter would have immediately been decided regarding them; and indeed they are in an intriguing doubt concerning it.

وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمۡ رَبُّكَ اَعۡمَالَهُمۡ​ ؕ اِنَّهٗ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ‏ ﴿111﴾

اور بیشک جتنے ہیں (ف۲۲٦) ایک ایک کو تمہارا رب اس کا عمل پورا بھردے گا اسے ان کے کاموں کی خبر ہے (ف۲۲۷)،

And indeed to each and every one, your Lord will fully repay his deeds; He is Informed of their deeds.

فَاسۡتَقِمۡ كَمَاۤ اُمِرۡتَ وَمَنۡ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطۡغَوۡا​ ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ‏ ﴿112﴾

تو قائم رہو (ف۲۲۸) جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے (ف۲۲۰) اور اے لوگو! سرکشی نہ کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،

Therefore remain firm the way you are commanded to, and those who have turned along with you, and O people – do not rebel; indeed He is seeing your deeds.

وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ‏ ﴿113﴾

اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی (ف۲۳۰) اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی حما یتی نہیں (ف۲۳۱) پھر مدد نہ پاؤ گے،

And do not incline towards the unjust, for the fire will touch you – and you do not have any supporter other than Allah – then you will not be helped.

وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَـفًا مِّنَ الَّيۡلِ​ ؕ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّيِّاٰتِ ​ؕ ذٰ لِكَ ذِكۡرٰى لِلذّٰكِرِيۡنَ ​ۚ‏ ﴿114﴾

اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں (ف۲۳۲) اور کچھ رات کے حصوں میں (ف۲۳۳) بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں، (ف۲۳۳) یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو،

And keep the prayer established at the two ends of the day and in some parts of the night; indeed good deeds wipe out the evil deeds; this is an advice to those who heed it.

وَاصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿115﴾

اور صبر کرو کہ اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا،

And have patience, for Allah does not waste the wages of the righteous.

فَلَوۡ لَا كَانَ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ اُولُوۡا بَقِيَّةٍ يَّـنۡهَوۡنَ عَنِ الۡفَسَادِ فِى الۡاَرۡضِ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّمَّنۡ اَنۡجَيۡنَا مِنۡهُمۡ​ ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَاۤ اُتۡرِفُوۡا فِيۡهِ وَكَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ‏  ﴿116﴾

تو کیوں نہ ہوئے تم میں سے اگلی سنگتوں (قوموں) میں (ف۲۳۵) ایسے جن میں بھلائی کا کچھ حصہ لگا رہا ہوتا کہ زمین میں فساد سے روکتے (ف۲۳٦) ہاں ان میں تھوڑے تھے وہی جن کو ہم نے نجات دی (ف۲۳۷) اور ظالم اسی عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انھیں دیا گیا (ف۲۳۸) اور وہ گنہگار تھے،

So why were not there some people, from the generations before you, who had some goodness remaining in them in order to prevent (others) from causing turmoil in the earth? Except a few among them – the very ones whom We had rescued; and the unjust remained pursuing what they were given, and they were guilty.

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهۡلِكَ الۡقُرٰى بِظُلۡمٍ وَّاَهۡلُهَا مُصۡلِحُوۡنَ‏  ﴿117﴾

اور تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو بےوجہ ہلاک کردے اور ان کے لوگ اچھے ہوں،

And your Lord is not such as to destroy townships without reason, while their people are righteous.

وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَجَـعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً​ وَّلَا يَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِيۡنَۙ‏ ﴿118﴾

اور اگر تمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت کردیتا (ف۲۳۹) اور وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے (ف۲٤۰)

And had your Lord willed, He would have made mankind one nation – and they will always keep differing.

اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّكَ​ ؕ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمۡ​ ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمۡلَـئَنَّ جَهَـنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ‏ ﴿119﴾

مگر جن پر تمہارے رب نے رحم کیا (ف۲٤۱) اور لوگ اسی لیے بنائے ہیں (ف۲٤۲) اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک ضرور جہنم بھر دوں گا جنوں اور آدمیوں کو ملا کر (ف۲٤۳)

Except those upon whom your Lord had mercy; and this is why He created them; and the Word of your Lord has been concluded that, “Indeed I will, surely, fill hell with jinns and men combined.”

وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ​ ۚ وَجَآءَكَ فِىۡ هٰذِهِ الۡحَـقُّ وَمَوۡعِظَةٌ وَّذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿120﴾

اور سب کچھ ہم تمہیں رسولوں کی خبریں سناتے ہیں جس سے تمہارا دل ٹھیرائیں (ف۲٤٤) اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا (ف۲٤۵) اور مسلمانوں کو پند و نصیحت (ف۲٤٦)

And We relate to you all the accounts of Noble Messengers, in order to steady your heart with it; and in this the truth has come to you, and for the Muslims a preaching and advice.

وَقُلْ لِّـلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡؕ اِنَّا عٰمِلُوۡنَۙ‏ ﴿121﴾

اور کافروں سے فرماؤ تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ (ف۲٤۷) ہم اپنا کام کرتے ہیں (ف۲٤۸)

And say to the disbelievers, “Keep on with your works in your places; we are carrying out ours.”

وَانْـتَظِرُوۡا​ ۚ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ‏ ﴿122﴾

اور راہ دیکھو ہم بھی راہ دیکھتے ہیں (ف۲٤۹)

“And wait – we too are waiting.”

وَلِلّٰهِ غَيۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاِلَيۡهِ يُرۡجَعُ الۡاَمۡرُ كُلُّهٗ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ​ؕ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ‏  ﴿123﴾

اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے غیب (ف۲۵۰) اور اسی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے تو اس کی بندگی کرو اور اس پر بھروسہ رکھو، اور تمہارا رب تمہارے کاموں سے غافل نہیں،

“And for Allah only are the hidden of the heavens and of the earth, and towards Him only is the return of all matters – therefore worship Him and trust Him; and your Lord is not unaware of what you do.”

الٓرٰ​ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡن‏ ﴿1﴾

یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں (ف۲)

Alif-Lam-Ra*; these are verses of the clear Book. (* Alphabets of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿2﴾

بیشک ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو،

Indeed We have sent down an Arabic Qur’an, so that you may perceive.

نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ بِمَاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ ​ۖ وَاِنۡ كُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِيۡنَ‏ ﴿3﴾

ہم تمہیں سب اچھا بیان سناتے ہیں (ف۳) اس لیے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اگرچہ بیشک اس سے پہلے تمہیں خبر نہ تھی،

We relate to you the best narrative because We have sent the divine revelation of this Qur’an, to you; although surely you were unaware before this.

اِذۡ قَالَ يُوۡسُفُ لِاَبِيۡهِ يٰۤاَبَتِ اِنِّىۡ رَاَيۡتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوۡكَبًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ رَاَيۡتُهُمۡ لِىۡ سٰجِدِيۡنَ‏ ﴿4﴾

یاد کرو جب یوسف نے اپنے باپ (ف٤) سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انھیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا (ف۵)

Remember when Yusuf (Joseph) said to his father, “O my father! I saw eleven stars and the sun and the moon – I saw them prostrating to me.”

قَالَ يٰبُنَىَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡيَاكَ عَلٰٓى اِخۡوَتِكَ فَيَكِيۡدُوۡا لَـكَ كَيۡدًا ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿5﴾

کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا (ف٦) وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے (ف۷) بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے (ف۸)

He said, “O my child! Do not relate your dream to your brothers, for they will hatch a plot against you; indeed Satan is an open enemy towards mankind.”

وَكَذٰلِكَ يَجۡتَبِيۡكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ وَيُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ وَعَلٰٓى اٰلِ يَعۡقُوۡبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰٓى اَبَوَيۡكَ مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ​ ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ‏  ﴿6﴾

اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا (ف۹) اور تجھے باتوں کا انجام نکا لنا سکھائے گا (ف۱۰) اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر (ف۱۱) جس طرح تیرے پہلے دنوں باپ دادا ابراہیم اور اسحق پر پوری کی (ف۱۲) بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے،

“And this is how your Lord will choose you and teach you how to interpret events, and will perfect His favours upon you and upon the family of Yaqub, the way He perfected it upon both your forefathers, Ibrahim and Ishaq; indeed your Lord is All Knowing, Wise.”

لَقَدۡ كَانَ فِىۡ يُوۡسُفَ وَاِخۡوَتِهٖۤ اٰيٰتٌ لِّـلسَّآٮِٕلِيۡنَ‏ ﴿7﴾

بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں (ف۱۳) پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں (ف۱٤)

Indeed in Yusuf and his brothers are signs* for those who enquire**. (* Of the truthfulness of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him. ** The Jews who enquired about their story.)

اِذۡ قَالُوۡا لَيُوۡسُفُ وَاَخُوۡهُ اَحَبُّ اِلٰٓى اَبِيۡنَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ  ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنِ ​ۖ ​ۚ‏ ﴿8﴾

جب بولے (ف۱۵) کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی (ف۱٦) ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں (ف۱۷) بیشک ہمارے باپ صراحةً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں (ف۱۸)

When they said, “Indeed Yusuf and his brother* are dearer to our father than we are, and we are one group; undoubtedly our father is, clearly, deeply engrossed in love.” (* Of the same mother.)

اۨقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡهُ اَرۡضًا يَّخۡلُ لَـكُمۡ وَجۡهُ اَبِيۡكُمۡ وَ تَكُوۡنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِهٖ قَوۡمًا صٰلِحِيۡنَ‏ ﴿9﴾

یوسف کو مار ڈالو یا کہیں زمین میں پھینک آؤ (ف۱۹) کہ تمہارے باپ کا منہ صرف تمہاری ہی طرف رہے (ف۲۰) اور اس کے بعد پھر نیک ہوجانا (ف۲۱)

“Kill Yusuf or throw him somewhere in the land, so that your father’s attention may be directed only towards you, and then after it you may again become righteous!”

قَالَ قَآٮِٕلٌ مِّنۡهُمۡ لَا تَقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ وَاَلۡقُوۡهُ فِىۡ غَيٰبَتِ الۡجُـبِّ يَلۡتَقِطۡهُ بَعۡضُ السَّيَّارَةِ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ‏ ﴿10﴾

ان میں ایک کہنے والا (ف۲۲) بولا یوسف کو مارو نہیں (ف۲۳) اور اسے اندھے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی چلتا اسے آکر لے جائے (ف۲٤) اگر تمہیں کرنا ہے (ف۲۵)

A speaker among them said, “Do not kill Yusuf – and drop him into a dark well so that some traveller may come and take him away, if you have to.”

قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مَا لَـكَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰى يُوۡسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوۡنَ‏ ﴿11﴾

بولے اے ہمارے باپ ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے معاملہ میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں،

They said, “O our father! What is the matter with you that you do not trust us with Yusuf, although we are in fact his well-wishers?”

اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ‏  ﴿12﴾

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ میوے کھائے اور کھیلے (ف۲٦) اور بیشک ہم اس کے نگہبان ہیں (ف۲۷)

“Send him with us tomorrow so that he may eat some fruits and play, and indeed we are his protectors.”

قَالَ اِنِّىۡ لَيَحۡزُنُنِىۡ اَنۡ تَذۡهَبُوۡا بِهٖ وَاَخَافُ اَنۡ يَّاۡكُلَهُ الذِّئۡبُ وَاَنۡـتُمۡ عَنۡهُ غٰفِلُوۡنَ‏ ﴿13﴾

بولا بیشک مجھے رنج دے گا کہ اسے لے جاؤ (ف۲۸) اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے (ف۲۹) اور تم اس سے بےخبر رہو (ف۳۰)

He said, “I will indeed be saddened by your taking him away, and I fear that the wolf may devour him, whilst you are unaware of him.” (* Prophet Yaqub knew of what was about to happen.)

قَالُوۡا لَٮِٕنۡ اَكَلَهُ الذِّئۡبُ وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ‏  ﴿14﴾

بولے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت ہیں جب تو ہم کسی مصرف کے نہیں (ف۳۱)

They said, “If the wolf devours him, whereas we are a group, then surely we are useless!”

فَلَمَّا ذَهَبُوۡا بِهٖ وَاَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ يَّجۡعَلُوۡهُ فِىۡ غَيٰبَتِ الۡجُبِّ​ۚ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ لَـتُنَـبِّئَـنَّهُمۡ بِاَمۡرِهِمۡ هٰذَا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏  ﴿15﴾

پھر جب اسے لے گئے (ف۳۲) اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے کنویں میں ڈال دیں (ف۳۳) اور ہم نے اسے وحی بھیجی (ف۳٤) کہ ضرور تو انھیں ان کا یہ کام جتادے گا (ف۳۵) ایسے وقت کہ وہ نہ جانتے ہوں گے (ف۳٦)

So when they took him away – and all of them agreed that they should drop him in the dark well; and We sent the divine revelation to him, “You will surely tell them of their deed at a time when they will not know.”

وَجَآءُوۡۤ اَبَاهُمۡ عِشَآءً يَّبۡكُوۡنَؕ‏ ﴿16﴾

اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے (ف۳۷)

And at nightfall they came to their father, weeping.

​قَالُوۡا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُ​ۚ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿17﴾

بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے (ف۳۸) اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں (ف۳۹)

Saying, “O our father! We went far ahead while racing, and left Yusuf near our resources – therefore the wolf devoured him; and you will not believe us although we may be truthful.”

وَجَآءُوۡ عَلٰى قَمِيـۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ​ؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَـكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا​ؕ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ​ؕ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ‏  ﴿18﴾

اور اس کے کر ُتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے (ف٤۰) کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے (ف٤۱) تو صبر اچھا ، اور اللہ ہی مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتا رہے ہو (ف٤۲)

And they brought his shirt stained with faked blood; he said, “On the contrary – your hearts have fabricated an excuse for you; therefore patience is better; and from Allah only I seek help against the matters that you relate.”

وَجَآءَتۡ سَيَّارَةٌ فَاَرۡسَلُوۡا وَارِدَهُمۡ فَاَدۡلٰى دَلۡوَهٗ​ ؕ قَالَ يٰبُشۡرٰى هٰذَا غُلٰمٌ​ ؕ وَاَسَرُّوۡهُ بِضَاعَةً  ​ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿19﴾

اور ایک قافلہ آیا (ف٤۳) انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا (ف٤٤) تو اس نے اپنا ڈول ڈال (ف٤۵) بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا (ف٤٦) اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں،

And there came a caravan – so they sent their water-drawer, he therefore lowered his pail; he said, “What good luck, this is a boy!”; and they hid him as a treasure; and Allah knows what they do.

وَشَرَوۡهُ بِثَمَنٍۢ بَخۡسٍ دَرَاهِمَ مَعۡدُوۡدَةٍ​ ۚ وَكَانُوۡا فِيۡهِ مِنَ الزّٰهِدِيۡنَ‏ ﴿20﴾

اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا (ف٤۷) اور انھیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی (ف٤۸)

And the brothers sold him for an improper price, a limited number of coins; and they had no interest in him.

وَقَالَ الَّذِى اشۡتَرٰٮهُ مِنۡ مِّصۡرَ لِامۡرَاَتِهٖۤ اَكۡرِمِىۡ مَثۡوٰٮهُ عَسٰٓى اَنۡ يَّـنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَـتَّخِذَهٗ وَلَدًا​ ؕ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوۡسُفَ فِى الۡاَرۡضِوَلِنُعَلِّمَهٗ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ​ؕ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓى اَمۡرِهٖ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿21﴾

اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا وہ اپنی عورت سے بولا (ف٤۹) انھیں عزت سے رکھو (ف۵۰) شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے (ف۵۱) یا ان کو ہم بیٹا بنالیں (ف۵۲) اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جماؤ (رہنے کا ٹھکانا) دیا اور اس لیے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں ۰ف۵۳) اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے،

And the Egyptian who purchased him said to his wife, “Keep him honourably – we may derive some benefit due to him or we may adopt him as our son”; and this is how we established Yusuf in the land, and that We might teach him how to interpret events; and Allah is Dominant upon His works, but most men do not know.

وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا​ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿22﴾

اور جب اپنی پوری قوت کو پہنچا (ف۵٤) ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا (ف۵۵) اور ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،

And when he matured to his full strength, We bestowed him wisdom and knowledge; and this is how We reward the virtuous.

وَرَاوَدَتۡهُ الَّتِىۡ هُوَ فِىۡ بَيۡتِهَا عَنۡ نَّـفۡسِهٖ وَغَلَّقَتِ الۡاَبۡوَابَ وَقَالَتۡ هَيۡتَ لَـكَ​ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ​ اِنَّهٗ رَبِّىۡۤ اَحۡسَنَ مَثۡوَاىَ​ؕ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ‏ ﴿23﴾

اور وہ جس عورت (ف۵٦) کے گھر میں تھا اس نے اسے لبھایا کہ اپنا آپا نہ روکے (ف۵۷) اور دروازے سب بند کردیے (ف۵۸) اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں (ف۵۹) کہا اللہ کی پناہ (ف٦۰) وہ عزیز تو میرا رب یعنی پرورش کرنے والا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا (ف٦۱) بیشک ظالموں کا بھلا نہیں ہوتا،

And the woman in whose house he was, allured him not to restrain himself and she closed all the doors – and said, “Come! It is you I address!”; he said, “(I seek) The refuge of Allah – indeed the governor is my master – he treats me well; undoubtedly the unjust never prosper.”

وَلَـقَدۡ هَمَّتۡ بِهٖ​ۚ وَهَمَّ بِهَا​ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّاٰ بُرۡهَانَ رَبِّهٖ​ؕ كَذٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ السُّۤوۡءَ وَالۡـفَحۡشَآءَ​ؕ اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِيۡنَ‏ ﴿24﴾

اور بیشک عورت نے اس کا ارادہ کیا اور وہ بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا (ف٦۲) ہم نے یوں ہی کیا کہ اس سے برائی اور بےحیائی کو پھیر دیں (ف٦۳) بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے (ف٦٤)

And indeed the woman desired him; and he too would have desired her were he not to witness the sign of his Lord*; this is what We did, to turn away evil and lewdness from him; indeed He is one of Our chosen bondmen. (* Allah saved him and he never desired this immorality.)

وَاسۡتَبَقَا الۡبَابَ وَقَدَّتۡ قَمِيۡصَهٗ مِنۡ دُبُرٍ وَّاَلۡفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الۡبَابِ​ؕ قَالَتۡ مَا جَزَآءُ مَنۡ اَرَادَ بِاَهۡلِكَ سُوۡۤءًا اِلَّاۤ اَنۡ يُّسۡجَنَ اَوۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‏ ﴿25﴾

اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے (ف٦۵) اور عورت نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چیر لیا اور دونوں کو عورت کا میاں (ف٦٦) دروازے کے پاس ملا (ف٦۷) بولی کیا سزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی سے بدی چاہی (ف٦۸) مگر یہ کہ قید کیا جائے یا دکھ کی مار (ف٦۹)

And they both raced towards the door, and the woman tore his shirt from behind, and they both found her husband at the door; she said, “What is the punishment of the one who sought evil with your wife, other than prison or a painful torture?”

قَالَ هِىَ رَاوَدَتۡنِىۡ عَنۡ نَّـفۡسِىۡ​ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنۡ اَهۡلِهَا​ۚ اِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَهُوَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ‏ ﴿26﴾

کہا اس نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنی حفاظت نہ کروں (ف۷۰) اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (ف۷۱) گواہی دی اگر ان کا کر ُتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا (ف۷۲)

Said Yusuf, “It was she who lured me, that I may not guard myself” – and a witness from her own household testified; “If his shirt is torn from the front, then the woman is truthful and he has spoken incorrectly.”

وَاِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَكَذَبَتۡ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏  ﴿27﴾

اور اگر ان کا کر ُتا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے (ف۷۳)

“And if his shirt is torn from behind, then the woman is a liar and he is truthful.”

فَلَمَّا رَاٰ قَمِيۡصَهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنۡ كَيۡدِكُنَّ​ؕ اِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيۡمٌ‏ ﴿28﴾

پھر جب عزیز نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چرا دیکھا (ف۷٤) بولا بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر (فریب) ہے بیشک تمہارا چرتر (فریب) بڑا ہے (ف۷۵)

So when the governor saw his shirt torn from behind, he said, “Indeed this is a deception of women; undoubtedly the deception of women is very great.”

يُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰذَا وَاسۡتَغۡفِرِىۡ لِذَنۡۢبِكِ ۖ ​ۚ اِنَّكِ كُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِٮـِٕيۡنَ‏ ﴿29﴾

اے یوسف! تم اس کا خیال نہ کرو (ف۷٦) اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ (ف۷۷) بیشک تو خطاواروں میں ہے (ف۷۸)

“O Yusuf! Disregard this – and O woman! Seek forgiveness for your sin; indeed you are of the mistaken.”

وَقَالَ نِسۡوَةٌ فِى الۡمَدِيۡنَةِ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰٮهَا عَنۡ نَّـفۡسِهٖ​ۚ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّا​ ؕ اِنَّا لَـنَرٰٮهَا فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ‏  ﴿30﴾

اور شہر میں کچھ عورتیں بولیں (ف۷۹) کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی (سماگئی) ہے ہم تو اسے صریح خود رفتہ پاتے ہیں (ف۸۰)

And some women of the city said, “The governor’s wife is seducing her young slave; indeed his love has taken root in her heart; and we find her clearly lost.”

فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَكۡرِهِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَيۡهِنَّ وَاَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَـاً وَّاٰتَتۡ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنۡهُنَّ سِكِّيۡنًا وَّقَالَتِ اخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّ ​ۚ فَلَمَّا رَاَيۡنَهٗۤ اَكۡبَرۡنَهٗ وَقَطَّعۡنَ اَيۡدِيَهُنَّ وَقُلۡنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا ؕ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيۡمٌ‏ ﴿31﴾

تو جب زلیخا نے ان کا چرچا سنا تو ان عورتوں کو بلا بھیجا (ف۸۱) اور ان کے لیے مسندیں تیار کیں (ف۸۲) اور ان میں ہر ایک کو ایک چھری دی (ف۸۳) اور یوسف (ف۸٤) سے کہا ان پر نکل آؤ (ف۸۵) جب عورتوں نے یوسف کو دیکھا اس کی بڑائی بولنے لگیں (ف۸٦) اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے (ف۸۷) اور بولیں اللہ کو پاکی ہے یہ تو جنس بشر سے نہیں (ف۸۸) یہ تو نہیں مگر کوئی معزز فرشتہ،

And when she heard of their secret talk, she sent for them and prepared cushioned mattresses for them and gave a knife to each one of them and said to Yusuf, “Come out before them!” When the women saw him they praised him and cut their hands, and said, “Purity is to Allah – this is no human being; this is not but an honourable angel!”

قَالَتۡ فَذٰلِكُنَّ الَّذِىۡ لُمۡتُنَّنِىۡ فِيۡهِ​ؕ وَ لَـقَدۡ رَاوَدْتُّهٗ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ فَاسۡتَعۡصَمَ​ؕ وَلَٮِٕنۡ لَّمۡ يَفۡعَلۡ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَـيُسۡجَنَنَّ وَلَيَكُوۡنًا مِّنَ الصّٰغِرِيۡنَ‏ ﴿32﴾

زلیخا نے کہا تو يہ ہیں وہ جن پر مجھے طعنہ دیتی تھیں (ف۸۹) اور بیشک میں نے ان کا جِی لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچایا (ف۹۰) اور بیشک اگر وہ یہ کام نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو ضرور قید میں پڑیں گے اور وہ ضرور ذلت اٹھائیں گے (ف۹۱)

She said, “This is he on whose account you used to insult me; and indeed I tried to entice him, so he safeguarded himself; and indeed if he does not do what I tell him to, he will surely be imprisoned, and will surely be humiliated.”

قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَىَّ مِمَّا يَدۡعُوۡنَنِىۡۤ اِلَيۡهِ​ۚ وَاِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّىۡ كَيۡدَهُنَّ اَصۡبُ اِلَيۡهِنَّ وَاَكُنۡ مِّنَ الۡجٰهِلِيۡنَ‏ ﴿33﴾

یوسف نے عرض کی اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا (ف۹۲) تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا،

He said, “O my Lord! Prison is dearer to me than the deed they invite me to; and if You do not repel their deceit away from me, I may incline towards them and be unwise.”

فَاسۡتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنۡهُ كَيۡدَهُنَّ​ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ‏ ﴿34﴾

تو اس کے رب نے اس کی سن لی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیردیا، بیشک وہی سنتا جانتا ہے (ف۹۳)

So his Lord heard his prayer and repelled the women’s deceit away from him; indeed He only is the All Hearing, the All Knowing.

ثُمَّ بَدَا لَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰيٰتِ لَيَسۡجُنُـنَّهٗ حَتّٰى حِيۡنٍ‏ ﴿35﴾

پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انھیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں (ف۹٤)

Then after having seeing all the signs, they all decided that he should be imprisoned for some time.

وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ​ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّىۡۤ اَرٰٮنِىۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا​ ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّىۡۤ اَرٰٮنِىۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِىۡ خُبۡزًا تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ​ ؕ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿36﴾

اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے (ف۹۵) ان میں ایک (ف۹٦) بولا میں نے خواب میں دیکھا کہ (ف۹۷) شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا (ف۹۸) میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں، ہمیں اس کی تعبیر بتایے، بیشک ہم آپ کو نیکو کار دیکھتے ہیں (ف۹۹)

And two young men went to prison along with him; one of them said, “I dreamt that I am pressing wine”; the other said, “I dreamt that I am carrying some bread upon my head from which birds were eating”; “Tell us their interpretation; indeed we see that you are virtuous.”

قَالَ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَـبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا​ ؕ ذٰ لِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِىۡ رَبِّىۡ ؕ اِنِّىۡ تَرَكۡتُ مِلَّةَ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ‏  ﴿37﴾

یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ میں اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے تمہیں بتادوں گا (ف۱۰۰) یہ ان علموں میں سے ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، بیشک میں نے ان لوگوں کا دین نہ مانا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت سے منکر ہیں،

Said Yusuf, “The food which you get will not reach you, but I will tell you the interpretation of this before it comes to you; this is one of the sciences my Lord has taught me; indeed I did not accept the religion of the people who do not believe in Allah and are deniers of the Hereafter.”

وَاتَّبَعۡتُ مِلَّةَ اٰبَآءِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ​ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِكَ بِاللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ​ؕ ذٰلِكَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ عَلَيۡنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿38﴾

اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحق اور یعقوب کا دین اختیار کیا (ف۱۰۱) ہمیں نہیں پہنچتا کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں، یہ (ف۱۰۲) اللہ کا ایک فضل ہے ہم پر اور لوگوں پر مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (ف۱۰۳)

“And I have chosen the religion of my forefathers, Ibrahim and Ishaq and Yaqub; it is not rightful for us to ascribe anything as a partner to Allah; this is a grace of Allah upon us and upon mankind, but most men are not thankful.”

يٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَيۡرٌ اَمِ اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُؕ‏ ﴿39﴾

اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب (۱۰٤) اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب، (ف۱۰۵)

“O both my fellow-prisoners! Are various lords better, or One Allah, the Dominant above all?”

مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡـتُمۡ وَ اٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ​ؕ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ​ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ​ؕ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿40﴾

تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نرے نام (فرضی نام) جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں (ف۱۰٦) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو (ف۱۰۷) یہ سیدھا دین ہے (ف۱۰۸) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱۰۹)

“You do not worship anything besides Him, but which are merely names coined by you and your forefathers – Allah has not sent down any proof regarding them; there is no command but that of Allah; He has commanded that you do not worship anyone except Him; this is the proper religion, but most people do not know.”

يٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَيَسۡقِىۡ رَبَّهٗ خَمۡرًا​ۚ وَاَمَّا الۡاٰخَرُ فَيُصۡلَبُ فَتَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡ رَّاۡسِهٖ​ؕ قُضِىَ الۡاَمۡرُ الَّذِىۡ فِيۡهِ تَسۡتَفۡتِيٰنِؕ‏ ﴿41﴾

اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ) کو شراب پلائے گا (ف۱۱۰) رہا دوسرا (ف۱۱۱) وہ سو ُلی دیا جائے گا تو پرندے اس کا سر کھائیں گے (ف۱۱۲) حکم ہوچکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے (ف۱۱۳)

“O my two fellow-prisoners! One of you will give his lord (the king) wine to drink; regarding the other, he will be crucified, therefore birds will eat from his head; the command has been given concerning the matter you had enquired about.”

وَقَالَ لِلَّذِىۡ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنۡهُمَا اذۡكُرۡنِىۡ عِنۡدَ رَبِّكَ فَاَنۡسٰٮهُ الشَّيۡطٰنُ ذِكۡرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِى السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِيۡنَ‏  ﴿42﴾

اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا (ف۱۱٤) اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا (ف۱۱۵) تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا (ف۱۱٦)

And of the two, Yusuf said to the one whom he sensed would be released, “Remember me, in the company of your lord”; so Satan caused him to forget to mention Yusuf to his lord, he therefore stayed in prison for several years more.

وَقَالَ الۡمَلِكُ اِنِّىۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّسَبۡعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ​ؕ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِىۡ فِىۡ رُءۡيَاىَ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَ‏ ﴿43﴾

اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھیں سات گائیں فربہ کہ انھیں سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری اور دوسری سات سوکھی (ف۱۱۷) اے درباریو! میرے خواب کا جواب دو اگر تمہیں خواب کی تعبیر آتی ہو،

And the king said, “I saw in a dream seven healthy cows whom seven lean cows were eating, and seven green ears of corn and seven others dry; O court-members! Explain my dream, if you can interpret dreams.”

قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍۚ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِيۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِيۡنَ‏  ﴿44﴾

بولے پریشان خوابیں ہیں اور ہم خواب کی تعبیر نہیں جانتے،

They answered, “These are confused dreams – and we do not know the interpretation of dreams.”

وَقَالَ الَّذِىۡ نَجَا مِنۡهُمَا وَادَّكَرَ بَعۡدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَـبِّئُكُمۡ بِتَاۡوِيۡلِهٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ‏ ﴿45﴾

اور بولا وہ جو ان دونوں میں سے بچا تھا (ف۱۱۸) اور ایک مدت بعد اسے یاد آیا (ف۱۱۹) میں تمہیں اس کی تعبیر بتاؤں گا مجھے بھیجو (ف۱۲۰)

And of the two the one who was released said – and after a long time he had remembered – “I will tell you its interpretation, therefore send me forth.”

يُوۡسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيۡقُ اَ فۡتِنَا فِىۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّسَبۡعِ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّىۡۤ اَرۡجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿46﴾

اے یوسف! اے صدیق! ہمیں تعبیر دیجئے سات فربہ گایوں کی جنہیں سات دُبلی کھاتی ہیں اور سات ہری بالیں اور دوسری سات سوکھی (ف۱۲۱) شاید میں لوگوں کی طرف لوٹ کر جاؤں شاید وہ آگاہ ہوں (ف۱۲۲)

“O Yusuf! O truthful one! Explain for us the seven healthy cows which seven lean cows were eating and the seven green ears of corn and seven others dry, so I may return to the people, possibly they may come to know.”

قَالَ تَزۡرَعُوۡنَ سَبۡعَ سِنِيۡنَ دَاَبًا​ۚ فَمَا حَصَدْتُّمۡ فَذَرُوۡهُ فِىۡ سُنۡۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّمَّا تَاۡكُلُوۡنَ‏ ﴿47﴾

کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگارتار (ف۱۲۳) تو جو کاٹو اسے اس کی بال میں رہنے دو (ف۱۲٤) مگر تھوڑا جتنا کھالو (ف۱۲۵)

He said, “You will cultivate for seven years continuously; so leave all that you harvest in the ear, except a little which you eat.”

ثُمَّ يَاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ سَبۡعٌ شِدَادٌ يَّاۡكُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّمَّا تُحۡصِنُوۡنَ‏ ﴿48﴾

پھر اس کے بعد سات برس کرّے (سخت تنگی والے) آئیں گے (ف۱۲٦) کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے جمع کر رکھا تھا (ف۱۲۷) مگر تھوڑا جو بچالو (ف۱۲۸)

“Then after that will come seven hard years which will devour all that you had stored for them, except a little which you may save.”

ثُمَّ يَاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيۡهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيۡهِ يَعۡصِرُوۡنَ‏ ﴿49﴾

پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے (ف۱۲۹)

“Then after that will come a year when the people will be given rain and in which they will extract juices.”

وَقَالَ الۡمَلِكُ ائۡتُوۡنِىۡ بِهٖ​ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوۡلُ قَالَ ارۡجِعۡ اِلٰى رَبِّكَ فَسۡــَٔلۡهُ مَا بَالُ النِّسۡوَةِ الّٰتِىۡ قَطَّعۡنَ اَيۡدِيَهُنَّ​ؕ اِنَّ رَبِّىۡ بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيۡمٌ‏ ﴿50﴾

اور بادشاہ بولا کہ انھیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا (ف۱۳۰) کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ (ف۱۳۱) کیا حال ہے اور عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے (ف۱۳۲)

And the king said, “Bring him to me”; so when the bearer came to him, Yusuf said, “Return to your lord and ask him what is the status of the women who had cut their hands; indeed my Lord knows their deception.”

قَالَ مَا خَطۡبُكُنَّ اِذۡ رَاوَدْتُّنَّ يُوۡسُفَ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ​ؕ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمۡنَا عَلَيۡهِ مِنۡ سُوۡۤءٍ​ ؕ قَالَتِ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ الۡــٰٔنَ حَصۡحَصَ الۡحَقُّ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏ ﴿51﴾

بادشاہ نے کہا اے عورتو! تمہارا کیا کام تھا جب تم نے یوسف کا دل لبھانا چاہا، بولیں اللہ کو پاکی ہے ہم نے ان میں کوئی بدی نہیں پائی عزیز کی عورت (ف۱۳۳) بولی اب اصلی بات کھل گئی، میں نے ان کا جی لبھانا چاہا تھا اور وہ بیشک سچے ہیں (ف۱۳٤)

The king said, “O women! What was your role when you tried to entice Yusuf?” They answered, “Purity is to Allah – we did not find any immorality in him”; said the wife of the governor, “Now the truth is out; it was I who tried to entice him, and indeed he is truthful.”

ذٰ لِكَ لِيَـعۡلَمَ اَنِّىۡ لَمۡ اَخُنۡهُ بِالۡغَيۡبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِىۡ كَيۡدَ الۡخَـآٮِٕنِيۡنَ‏ ﴿52﴾

یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا،

Said Yusuf, “I did this so that the governor may realise that I did not betray him behind his back, and Allah does not let the deceit of betrayers be successful.”

Scroll to Top