Al Fatiha سورۃ الفاتحۃ

پارہ نمبر 13

وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفۡسِىۡ​ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىۡ ؕاِنَّ رَبِّىۡ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿53﴾

اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں بتاتا (ف۱۳۵) بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے (ف۱۳٦) بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۷)

“And I do not portray my soul as innocent; undoubtedly the soul excessively commands towards evil, except upon whom my Lord has mercy; indeed my Lord is Oft Forgiving, Most Merciful.”

وَقَالَ الۡمَلِكُ ائۡتُوۡنِىۡ بِهٖۤ اَسۡتَخۡلِصۡهُ لِنَفۡسِىۡ​ۚ​ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الۡيَوۡمَ لَدَيۡنَا مَكِيۡنٌ اَمِيۡنٌ‏ ﴿54﴾

اور بادشاہ بولا انہيں میرے پاس لے آؤ کہ میں انھیں اپنے لیے چن لوں (ف۱۳۸) پھر جب اس سے بات کی کہا بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں (ف۱۳۹)

And the king said, “Bring him to me so that I may choose him especially for myself”; and when he had talked to him he said, “Indeed you are today, before us, the honourable, the trusted.”

قَالَ اجۡعَلۡنِىۡ عَلٰى خَزَآٮِٕنِ الۡاَرۡضِ​ۚ اِنِّىۡ حَفِيۡظٌ عَلِيۡمٌ‏  ﴿55﴾

یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں (ف۱٤۰)

Said Yusuf, “Appoint me over the treasures of the earth; indeed I am a protector, knowledgeable.”

وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوۡسُفَ فِى الۡاَرۡضِ​ۚ يَتَبَوَّاُ مِنۡهَا حَيۡثُ يَشَآءُ​ ؕ نُصِيۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ​ۚ وَلَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏  ﴿56﴾

اور یوں ہی ہم نے یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی اس میں جہاں چاہے رہے (ف۱٤۱) ہم اپنی رحمت (ف۱٤۲) جسے چاہیں پہنچائیں اور ہم نیکوں کا نیگ ( اَجر) ضائع نہیں کرتے،

And this is how We gave Yusuf the control over that land; to stay in it wherever he pleased; We may convey Our mercy to whomever We will, and We do not waste the wages of the righteous.

وَلَاَجۡرُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ‏  ﴿57﴾

اور بیشک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے (ف۱٤۳)

And undoubtedly the reward of the Hereafter is better, for those who accept faith and remain pious.

وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡكِرُوۡنَ‏  ﴿58﴾

اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انھیں (ف۱٤٤) پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے (ف۱٤۵)

And Yusuf’s brothers came and presented themselves before him, so he recognised them whereas they remained unaware of him.

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ قَالَ ائۡتُوۡنِىۡ بِاَخٍ لَّكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ​ۚ اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّىۡۤ اُوۡفِی الۡكَيۡلَ وَاَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ‏  ﴿59﴾

اور جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱٤٦) کہ اپنا سوتیلا بھائی (ف۱٤۷) میرے پاس لے آؤ کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں (ف۱٤۸) اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں،

And when he provided them with their provisions he said, “Bring your step-brother to me; do you not see that I measure in full and that I am the best host?”

فَاِنۡ لَّمۡ تَاۡتُوۡنِىۡ بِهٖ فَلَا كَيۡلَ لَـكُمۡ عِنۡدِىۡ وَلَا تَقۡرَبُوۡنِ‏  ﴿60﴾

پھر اگر اسے لیکر میرے پاس نہ آؤ تو تمہارے لیے میرے یہاں ناپ نہیں اور میرے پاس نہ پھٹکنا،

“And if you do not bring him to me, there shall be no measure (provisions) for you with me and do not ever come near me.”

قَالُوۡا سَنُرَاوِدُ عَنۡهُ اَبَاهُ وَاِنَّا لَفَاعِلُوۡنَ‏ ﴿61﴾

بولے ہم اس کی خواہش کریں گے اس کے باپ سے اور ہمیں یہ ضرور کرنا،

They said, “We will seek him from his father – this we must surely do.”

وَقَالَ لِفِتۡيٰنِهِ اجۡعَلُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ فِىۡ رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُوۡنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوۡۤا اِلٰٓى اَهۡلِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‏  ﴿62﴾

اور یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا ان کی پونجی ان کی خورجیوں میں رکھ دو (ف۱٤۹) شاید وہ اسے پہچانیں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ کر جائیں (ف۱۵۰) شاید وہ واپس آئیں،

He said to his slaves, “Place their means back into their sacks, perhaps they may recognise it when they return to their homes, perhaps they may come again.”

فَلَمَّا رَجَعُوۡۤا اِلٰٓى اَبِيۡهِمۡ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الۡكَيۡلُ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكۡتَلۡ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ‏ ﴿63﴾

پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے (ف۱۵۱) بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے (ف۱۵۲) تو ہمارے بھائی کو ہمارے پاس بھیج دیجئے کہ غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے،

So when they returned to their father, they said, “O our father! The provisions have been denied to us, therefore send our brother with us so that we may bring the provisions, and we will surely protect him.”

قَالَ هَلۡ اٰمَنُكُمۡ عَلَيۡهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنۡتُكُمۡ عَلٰٓى اَخِيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ​ؕ فَاللّٰهُ خَيۡرٌ حٰفِظًا​ وَّهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‏ ﴿64﴾

کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا (ف۱۵۳) تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان ،

He said, “Shall I trust you regarding him the same way I had trusted you earlier regarding his brother? Therefore Allah is the Best Protector; and He is More Merciful than all those who show mercy.”

وَلَمَّا فَتَحُوۡا مَتَاعَهُمۡ وَجَدُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ رُدَّتۡ اِلَيۡهِمۡؕ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مَا نَـبۡغِىۡؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتۡ اِلَيۡنَا​ ۚ وَنَمِيۡرُ اَهۡلَنَا وَنَحۡفَظُ اَخَانَا وَنَزۡدَادُ كَيۡلَ بَعِيۡرٍ​ؕ ذٰ لِكَ كَيۡلٌ يَّسِيۡرٌ‏  ﴿65﴾

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا اپنی پونجی پائی کہ ان کو پھیر دی گئی ہے، بولے اے ہمارے باپ اب اور کیا چاہیں، یہ ہے ہماری پونجی ہمیں واپس کردی گئی اور ہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں، یہ دنیا بادشاہ کے سامنے کچھ نہیں (ف۱۵٤)

And when they opened their belongings they found that their means had been returned to them; they said, “O our father! What more can we ask for? Here are our means returned to us; we may get the provision for our homes and guard our brother, and get a camel-load extra; giving all these is insignificant for the king.”

قَالَ لَنۡ اُرۡسِلَهٗ مَعَكُمۡ حَتّٰى تُؤۡتُوۡنِ مَوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَــتَاۡتُنَّنِىۡ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ يُّحَاطَ بِكُمۡ​ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوۡهُ مَوۡثِقَهُمۡ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَكِيۡلٌ‏ ﴿66﴾

کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے کا اللہ کا یہ عہد نہ دے دو (ف۱۵۵) کہ ضرور اسے لے کر آؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ (ف۱۵٦) پھر انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا (ف۱۵۷) اللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو کہہ رہے ہیں،

He said, “I shall never send him with you until you give me an oath upon Allah that you will bring him back to me, unless you are surrounded”; and (recall) when they gave him their oath that “Allah’s guarantee is upon what we say.” (* He knew that Bin Yamin would be restrained.)

وَقَالَ يٰبَنِىَّ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۡۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ​ؕ وَمَاۤ اُغۡنِىۡ عَنۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍؕ​ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ​ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ​ۚ وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَكِّلُوۡنَ‏ ﴿67﴾

اور کہا اے میرے بیٹوں! (ف۱۵۸) ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا (ف۱۵۹) میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا (ف۱٦۰) حکم تو سب اللہ ہی کا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہیے،

And he said, “O my sons! Do not enter all by one gate – and enter by different gates; I cannot save you against Allah; there is no command but that of Allah; upon Him do I rely; and all those who trust, must rely only upon Him.”

وَلَمَّا دَخَلُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَمَرَهُمۡ اَبُوۡهُمۡ ؕمَا كَانَ يُغۡنِىۡ عَنۡهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ اِلَّا حَاجَةً فِىۡ نَفۡسِ يَعۡقُوۡبَ قَضٰٮهَا​ؕ وَاِنَّهٗ لَذُوۡ عِلۡمٍ لِّمَا عَلَّمۡنٰهُ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏  ﴿68﴾

اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا (ف۱٦۱) وہ کچھ انھیں کچھ انھیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی، اور بیشک وہ صاحب علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱٦۲)

And when they entered from the place where their father had commanded them to; that would not at all have saved them against Allah – except that it was Yaqub’s secret wish, which he fulfilled; and indeed he is a possessor of knowledge, due to Our teaching, but most people do not know.

وَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰى يُوۡسُفَ اٰوٰٓى اِلَيۡهِ اَخَاهُ​ قَالَ اِنِّىۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَٮِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿69﴾

اور جب وہ یوسف کے پاس گئے (ف۱٦۳) اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (ف۱٦٤) کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی (ف۱٦۵) ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا (ف۱٦٦)

And when they entered in the company Yusuf, he seated his brother close to him and said, “Be assured, I really am your brother – therefore do not grieve for what they do.”

فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِىۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَ يَّـتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّكُمۡ لَسَارِقُوۡنَ‏ ﴿70﴾

پھر جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱٦۷) پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا (ف۱٦۸) پھر ایک منادی نے ندا کی اے قافلہ والو! بیشک تم چور ہو،

And when he had provided them their provision, he put the drinking-cup in his brother’s bag, and then an announcer cried, “O people of the caravan! You are indeed thieves!”

قَالُوۡا وَاَقۡبَلُوۡا عَلَيۡهِمۡ مَّاذَا تَفۡقِدُوۡنَ‏ ﴿71﴾

بولے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے تم کیا نہیں پاتے،

They answered and turned towards them, “What is it you cannot find?”

قَالُوۡا نَفۡقِدُ صُوَاعَ الۡمَلِكِ وَلِمَنۡ جَآءَ بِهٖ حِمۡلُ بَعِيۡرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيۡمٌ‏ ﴿72﴾

بولے، بادشاہ کا پیمانہ نہیں ملتا اور جو اسے لائے گا اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں،

They said, “We cannot find the king’s cup, and for him who brings it is a camel-load, and I am its guarantor.”

قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَـقَدۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا جِئۡنَا لِـنُفۡسِدَ فِى الۡاَرۡضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِيۡنَ‏ ﴿73﴾

بولے خدا کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہ آئے اور نہ ہم چور ہیں،

They said, “By Allah, you know very well that we did not come here to cause turmoil in the land, and nor are we thieves!”

قَالُوۡا فَمَا جَزَاۤؤُهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ كٰذِبِيۡنَ‏ ﴿74﴾

بولے پھر کیا سزا ہے اس کی اگر تم جھوٹے ہو (ف۱٦۹)

They said, “And what shall be the punishment for it, if you are liars?”

قَالُوۡا جَزَاۤؤُهٗ مَنۡ وُّجِدَ فِىۡ رَحۡلِهٖ فَهُوَ جَزَاۤؤُهٗ​ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِى الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿75﴾

بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے (ف۱۷۰) ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے (ف۱۷۱)

They said, “The punishment for it is that he in whose bag it shall be found, shall himself become a slave for it; this is how we punish the unjust.”

فَبَدَاَ بِاَوۡعِيَتِهِمۡ قَبۡلَ وِعَآءِ اَخِيۡهِ ثُمَّ اسۡتَخۡرَجَهَا مِنۡ وِّعَآءِ اَخِيۡهِ​ؕ كَذٰلِكَ كِدۡنَا لِيُوۡسُفَ​ؕ مَا كَانَ لِيَاۡخُذَ اَخَاهُ فِىۡ دِيۡنِ الۡمَلِكِ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ​ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ​ؕ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِىۡ عِلۡمٍ عَلِيۡمٌ‏ ﴿76﴾

تو اول ان کی خرُجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی (ف۱۷۲) کی خرُجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرُجی سے نکال لیا (ف۱۷۳) ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی (ف۱۷٤) بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے (ف۱۷۵) مگر یہ کہ خدا چاہے (ف۱۷٦) ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷۷) اور ہر علم والے اوپر ایک علم والا ہے (ف۱۷۸)

So he first searched their bags before his brother’s bag, then removed it from his brother’s bag; this was the plan We had taught Yusuf; he had no right to take his brother by the king’s law, except if Allah wills; We may raise in ranks whomever We will; and above every possessor of knowledge is another scholar.

قَالُوۡۤا اِنۡ يَّسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ​ ۚ فَاَسَرَّهَا يُوۡسُفُ فِىۡ نَفۡسِهٖ وَلَمۡ يُبۡدِهَا لَهُمۡ​ ۚ قَالَ اَنۡـتُمۡ شَرٌّ مَّكَانًا ​ۚ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُوۡنَ‏ ﴿77﴾

بھائی بولے اگر یہ چوری کرے (ف۱۷۹) تو بیشک اس سے پہلے اس کا بھائی چوری کرچکا ہے (ف۱۸۰) تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی، جی میں کہا تم بدتر جگہ ہو (ف۱۸۱) اور اللہ خوب جانتا ہے جو باتیں بناتے ہو،

They said, “If he steals, then indeed his brother has stolen before”; so Yusuf kept this in his heart and did not reveal it to them; he replied within himself, “In fact, you are in a worse position; and Allah well knows the matters you fabricate.”

قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَيۡخًا كَبِيۡرًا فَخُذۡ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿78﴾

بولے اے عزیز! اس کے ایک باپ ہیں بوڑھے بڑے (ف۱۸۲) تو ہم میں اس کی جگہ کسی کو لے لو، بیشک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں،

They said, “O governor! He has a very aged father, so take one of us in his stead; indeed we witness your favours.”

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنۡ نَّاۡخُذَ اِلَّا مَنۡ وَّجَدۡنَا مَتَاعَنَا عِنۡدَهٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوۡنَ‏ ﴿79﴾

کہا (ف۱۸۳) خدا کی پناہ کہ ہم میں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا (ف۱۸٤) جب تو ہم ظالم ہوں گے،

He said, “The refuge of Allah from that we should take anyone except him with whom our property was found – we would then surely be unjust.”

فَلَمَّا اسۡتَايۡــَٔسُوۡا مِنۡهُ خَلَصُوۡا نَجِيًّا​ ؕ قَالَ كَبِيۡرُهُمۡ اَلَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اَبَاكُمۡ قَدۡ اَخَذَ عَلَيۡكُمۡ مَّوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنۡ قَبۡلُ مَا فَرَّطْتُّمۡ فِىۡ يُوۡسُفَ​ ۚ فَلَنۡ اَبۡرَحَ الۡاَرۡضَ حَتّٰى يَاۡذَنَ لِىۡۤ اَبِىۡۤ اَوۡ يَحۡكُمَ اللّٰهُ لِىۡ​ ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰكِمِيۡنَ‏  ﴿80﴾

پھر جب اس سے ناامید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے، ان کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں تم نے کیسی تقصیر کی تو میں یہاں سے نہ ٹلوں گا یہاں تک کہ میرے باپ (ف۱۸۵) اجازت دیں یا اللہ مجھے حکم فرمائے (ف۱۸٦) اور اس کا حکم سب سے بہتر،

So when they did not anticipate anything from him, they went away and started consulting each other; their eldest brother said, “Do you not know that your father has taken from you an oath upon Allah, and before this, how you had failed in respect of Yusuf? Therefore I will not move from here until my father permits or Allah commands me; and His is the best command.”

اِرۡجِعُوۡۤا اِلٰٓى اَبِيۡكُمۡ فَقُوۡلُوۡا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابۡنَكَ سَرَقَ​ۚ وَمَا شَهِدۡنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حٰفِظِيۡنَ‏ ﴿81﴾

اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی (ف۱۸۷) اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی (ف۱۸۸) اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے (ف۱۸۹)

“Return to your father and then submit, ‘O our father! Indeed your son has stolen; we were witness only to what we know and we were not guardians of the unseen.’

وَسۡــَٔلِ الۡقَرۡيَةَ الَّتِىۡ كُنَّا فِيۡهَا وَالۡعِيۡرَ الَّتِىۡ اَقۡبَلۡنَا فِيۡهَا​ؕ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ‏ ﴿82﴾

اور اس بستی سے پوچھ دیکھئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے، اور ہم بیشک سچے ہیں (ف۱۹۰)

‘And ask the township in which we were, and the caravan in which we came; and indeed we are truthful.’”

قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَـكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا​ؕ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ​ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِيَنِىۡ بِهِمۡ جَمِيۡعًا​ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏  ﴿83﴾

کہا (ف۱۹۱) تمہارے نفس نے تمہیں کچھ حیلہ بنادیا، تو اچھا صبر ہے، قریب ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا، ملائے (ف۱۹۲) بیشک وہی علم و حکمت والا ہے،

Said Yaqub, “Your souls have fabricated an excuse for you; therefore patience is excellent; it is likely that Allah will bring all* of them to me; undoubtedly only He is the All Knowing, the Wise.” (* All three including Yusuf.)

وَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ وَقَالَ يٰۤاَسَفٰى عَلٰى يُوۡسُفَ وَابۡيَـضَّتۡ عَيۡنٰهُ مِنَ الۡحُـزۡنِ فَهُوَ كَظِيۡمٌ‏ ﴿84﴾

اور ان سے منہ پھیرا (ف۱۹۳) اور کہا ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں (ف۱۹٤) وہ غصہ کھاتا رہا،

And he turned away from them and said, “Alas – the separation from Yusuf!” and his eyes turned white with sorrow, he therefore kept suppressing his anger.

قَالُوۡا تَاللّٰهِ تَفۡتَؤُا تَذۡكُرُ يُوۡسُفَ حَتّٰى تَكُوۡنَ حَرَضًا اَوۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡهَالِكِيۡنَ‏ ﴿85﴾

بولے (ف۱۹۵) خدا کی قسم! آپ ہمیشہ یوسف کی یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گور کنارے جا لگیں یا جان سے گزر جائیں،

They said, “By Allah, you will keep remembering Yusuf till your health fails you or you lose your life.”

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّـىۡ وَحُزۡنِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿86﴾

کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں (ف۱۹٦) اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۱۹۷)

He said, “I complain of my worry and grief only to Allah, and I know the great traits of Allah which you do not know.”

يٰبَنِىَّ اذۡهَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ يُّوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ وَلَا تَايۡــَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ​ؕ اِنَّهٗ لَا يَايۡــَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡكٰفِرُوۡنَ‏ ﴿87﴾

اے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ (ف۱۹۸)

“O my sons, go and search for Yusuf and his brother, and do not lose hope in the mercy of Allah; indeed none lose hope in the mercy of Allah except the disbelieving people.”

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ مَسَّنَا وَاَهۡلَنَا الضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰٮةٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَاؕ اِنَّ اللّٰهَ يَجۡزِى الۡمُتَصَدِّقِيۡنَ‏ ﴿88﴾

پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے بولے اے عزیز ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی (ف۱۹۹) اور ہم بےقدر پونجی لے کر آئے ہیں (ف۲۰۰) تو آپ ہمیں پورا ناپ دیجئے (ف۲۰۱) اور ہم پر خیرات کیجئے (ف۲۰۲) بیشک اللہ خیرات والوں کو صلہ دیتا ہے (ف۲۰۳)

Then when they reached in the company of Yusuf they said, “O governor! Calamity has struck us and our household, and we have brought goods of little value, so give us the full measure and be generous to us; undoubtedly Allah rewards the generous.”

قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِيُوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ اِذۡ اَنۡتُمۡ جٰهِلُوۡنَ‏ ﴿89﴾

بولے کچھ خبر ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا جب تم نادان تھے (ف۲۰٤)

He said, “Are you aware of what you did to Yusuf and his brother when you were unwise?”

قَالُوۡۤا ءَاِنَّكَ لَاَنۡتَ يُوۡسُفُ​ؕ قَالَ اَنَا يُوۡسُفُ وَهٰذَاۤ اَخِىۡ​ قَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَاؕ اِنَّهٗ مَنۡ يَّتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿90﴾

بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں، کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی، بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا (ف۲۰۵) بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا (ف۲۰٦)

They said, “Are you, in truth you, really Yusuf?” He said, “I am Yusuf and this is my brother; indeed Allah has bestowed favour upon us; undoubtedly whoever practices piety and patience – so Allah does not waste the wages of the righteous.”

قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَقَدۡ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيۡنَا وَاِنۡ كُنَّا لَخٰـطِــِٕيۡنَ‏  ﴿91﴾

بولے خدا کی قسم! بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بیشک ہم خطاوار تھے (ف۲۰۷)

They said, “By Allah, undoubtedly Allah has given you superiority over us, and we were indeed guilty.”

قَالَ لَا تَثۡرِيۡبَ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ​ؕ يَغۡفِرُ اللّٰهُ لَـكُمۡ​ وَهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‏ ﴿92﴾

کہا آج (ف۲۰۸) تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے (ف۲۰۹)

He said, “There is no reproach on you, this day! May Allah forgive you – and He is the Utmost Merciful, of all those who show mercy.”

اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِىۡ هٰذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰى وَجۡهِ اَبِىۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًا​ۚ وَاۡتُوۡنِىۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ‏ ﴿93﴾

میرا یہ کرتا لے جاؤ (ف۲۱۰) اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آؤ ،

“Take along this shirt of mine and lay it on my father’s face, his vision will be restored; and bring your entire household to me.” (Prophet Yusuf knew that this miracle would occur.)

وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ قَالَ اَبُوۡهُمۡ اِنِّىۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ​ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَـنِّدُوۡنِ‏ ﴿94﴾

جب قافلہ مصر سے جدا ہوا (ف۲۱۱) یہاں ان کے باپ نے (ف۲۱۲) کہا بیشک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سٹھ (بہک) گیا ہے،

When the caravan left Egypt, their father said*, “Indeed I sense the fragrance of Yusuf, if you do not call me senile.” (* Prophet Yaqub said this in Palestine, to other members of his family. He could discern the fragrance of Prophet Yusuf’s shirt from far away.)

قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِىۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ‏ ﴿95﴾

بیٹے بولے خدا کی قسم! آپ اپنی اسی پرانی خود رفتگی میں ہیں (ف۲۱۳)

They said, “By Allah, you are still deeply engrossed in the same old love of yours.”

فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِيۡرُ اَلۡقٰٮهُ عَلٰى وَجۡهِهٖ فَارۡتَدَّ بَصِيۡرًا ​ ؕۚ قَالَ اَلَمۡ اَقُل لَّـكُمۡ​ ۚ​ ۙ اِنِّىۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏  ﴿96﴾

پھر جب خوشی سنانے والا آیا (ف۲۱٤) اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں) کہ میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۲۱۵)

Then when the bearer of glad tidings came, he laid the shirt on his face, he therefore immediately regained his eyesight*; he said, “Was I not telling you? I know the great traits of Allah which you do not know!” (This was a miracle that took place by applying Prophet Yusuf’s shirt.)

قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰـطِــِٕيۡنَ‏  ﴿97﴾

بولے اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے بیشک ہم خطاوار ہیں،

They said, “O our father! Seek forgiveness for our sins, for we were indeed guilty.”

قَالَ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَـكُمۡ رَبِّىۡؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ‏  ﴿98﴾

کہا جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہوں گا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱٦)

He said, “I shall soon seek forgiveness for you from my Lord; indeed He only is the Oft Forgiving, the Most Merciful.”

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰى يُوۡسُفَ اٰوٰٓى اِلَيۡهِ اَبَوَيۡهِ وَقَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَؕ‏ ﴿99﴾

پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے ماں (ف۲۱۷) باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں (ف۲۱۸) داخل ہو اللہ چاہے تو امان کے ساتھ (ف۲۱۹)

So when they all reached in Yusuf’s company, he kept his parents close to him, and said, “Enter Egypt, if Allah wills, in safety.”

وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَى الۡعَرۡشِ وَخَرُّوۡا لَهٗ سُجَّدًا​ۚ وَقَالَ يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَاىَ مِنۡ قَبۡلُقَدۡ جَعَلَهَا رَبِّىۡ حَقًّا​ؕ وَقَدۡ اَحۡسَنَ بِىۡۤ اِذۡ اَخۡرَجَنِىۡ مِنَ السِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّيۡطٰنُ بَيۡنِىۡ وَبَيۡنَ اِخۡوَتِىۡ​ؕ اِنَّ رَبِّىۡ لَطِيۡفٌ لِّمَا يَشَآءُ​ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏ ﴿100﴾

اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب (ف۲۲۰) اس کے لیے سجدے میں گرے (ف۲۲۱) اور یوسف نے کہا اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے (ف۲۲۲) بیشک اسے میرے رب نے سچا کیا، اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا (ف۲۲۳) اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی، بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے (ف۲۲٤)

And he seated his parents on the throne, and they all prostrated before him; and Yusuf said, “O my father! This is the interpretation of my former dream; my Lord has made it true; and indeed He has bestowed favour upon me, when He brought me out of prison and brought you all from the village, after Satan had created a resentment between me and my brothers; indeed my Lord may make easy whatever He wills; undoubtedly He is the All Knowing, the Wise.”

رَبِّ قَدۡ اٰتَيۡتَنِىۡ مِنَ الۡمُلۡكِ وَ عَلَّمۡتَنِىۡ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ​ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَنۡتَ وَلِىّٖ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ​ ۚ تَوَفَّنِىۡ مُسۡلِمًا وَّاَلۡحِقۡنِىۡ بِالصّٰلِحِيۡنَ‏ ﴿101﴾

اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا، اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں، مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے مِلا جو تیرے قرب خاص کے لائق ہیں (ف۲۲۵)

“O my Lord! you have given me a kingdom* and have taught me how to interpret some events; O Creator of the heavens and the earth – you are my Supporter in the world and in the Hereafter; cause me to die as a Muslim, and unite me with those who deserve Your proximity.” (* Prophethood and the rule over Egypt. Prophet Yusuf said this prayer while his death approached him.)

ذٰلِكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ​ۚ وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ وَهُمۡ يَمۡكُرُوۡنَ‏ ﴿102﴾

یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے (ف۲۲٦) جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے (ف۲۲۷)

These are some tidings of the Hidden which We divinely reveal to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and you were not with them when they set their task and when they were scheming.

وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿103﴾

اور اکثر آدمی تم کتنا ہی چاہو ایمان نہ لائیں گے،

And however much you long for, most men will not accept faith.

وَمَا تَسۡــَٔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ​ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ‏  ﴿104﴾

اور تم اس پر ان سے کچھ اجرت نہ مانگتے یہ (ف۲۲۸) تو نہیں مگر سارے جہان کو نصیحت،

You do not ask them any fee in return for it; this is not but an advice to the entire world.

وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ‏ ﴿105﴾

اور کتنی نشانیاں ہیں (ف۲۲۹) آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں (ف۲۳۰) اور ان سے بےخبر رہتے ہیں،

And how many signs exist in the heavens and the earth, over which most people pass and remain unaware of them!

وَمَا يُؤۡمِنُ اَكۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ‏ ﴿106﴾

اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے (ف۲۳۱)

And most of them are such that they do not believe in Allah except while ascribing partners (to Him)!

اَفَاَمِنُوۡۤا اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ غَاشِيَةٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰهِ اَوۡ تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً وَّ هُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏ ﴿107﴾

کیا اس سے نڈر ہو بیٹھے کہ اللہ کا عذاب انھیں آکر گھیر لے یا قیامت ان پر اچانک آجائے اور انھیں خبر نہ ہو،

Do they remain complacent over Allah’s punishment coming and surrounding them, or the Last Day coming suddenly upon them whilst they are unaware?

قُلۡ هٰذِهٖ سَبِيۡلِىۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ ​ؔعَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىۡ​ؕ وَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ‏ ﴿108﴾

تم فرماؤ (ف۲۳۲) یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پر چلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں ۰ف۲۳۳) اور اللہ کو پاکی ہے (ف۲۳٤) اور میں شریک کرنے والا نہیں،

Proclaim, “This is my path – I call towards Allah; I, and whoever follows me, are upon perception; and Purity is to Allah – and I am not of the polytheists.”

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِىۡۤ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى​ؕ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡؕ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا ​ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿109﴾

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے (ف۲۳۵) جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے (ف۲۳٦) تو یہ لوگ زمین پر چلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا (ف۲۳۷) اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں،

And all the Noble Messengers We sent before you, were exclusively men – towards whom We sent the divine revelations, and were dwellers of townships; so have not these people travelled in the land and seen what sort of fate befell those before them? And undoubtedly the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?

حَتّٰۤى اِذَا اسۡتَيۡــَٔسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ قَدۡ كُذِبُوۡا جَآءَهُمۡ نَصۡرُنَا ۙ فَـنُجِّىَ مَنۡ نَّشَآءُ ​ؕ وَلَا يُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ‏ ﴿110﴾

یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی (ف۲۳۸) اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے غلط کہا تھا (ف۲۳۹) اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا (ف۲٤۰) اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا،

To the extent that when the Noble Messengers lost hope from the visible means, and the people thought that they had spoken wrongly, Our help came to them – therefore whoever We willed was saved; and Our punishment is never averted from the guilty.

لَـقَدۡ كَانَ فِىۡ قَصَصِهِمۡ عِبۡرَةٌ لِّاُولِى الۡاَلۡبَابِ​ؕ مَا كَانَ حَدِيۡثًا يُّفۡتَـرٰى وَلٰـكِنۡ تَصۡدِيۡقَ الَّذِىۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيۡلَ كُلِّ شَىۡءٍ وَّهُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿111﴾

بیشک ان کی خبروں سے (ف۲٤۱) عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں (ف۲٤۲) یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں (ف۲٤۳) لیکن اپنوں سے اگلے کاموں کی (ف۲٤٤) تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت،

Indeed in their tidings is enlightenment for the men of understanding; this (the Qur’an) is not some made up story but a confirmation of the Books before it, and a detailed explanation of all things, and a guidance and a mercy for the Muslims.

الٓـمّٓرٰ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ​ؕ وَالَّذِىۡۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَـقُّ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿1﴾

یہ کتاب کی آیتیں ہیں (ف۲) اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۳) حق ہے (ف٤) مگر اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے (ف۵)

Alif-Lam-Meem-Ra*; these are verses of the Book; and that which has been sent down upon you from your Lord is true, but most men do not believe. (* Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)

اَللّٰهُ الَّذِىۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا​ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ​ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ​ؕ كُلٌّ يَّجۡرِىۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى​ؕ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ يُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوۡقِنُوۡنَ‏  ﴿2﴾

اللہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بےستونوں کے کہ تم دیکھو (ف٦) پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے اور سورج اور چاند کو مسخر کیا (ف۷) ہر ایک، ایک ٹھہرائے ہوئے وعدہ تک چلتا ہے (ف۸) اللہ کام کی تدبیر فرماتا اور مفصل نشانیاں بتاتا ہے (ف۹) کہیں تم اپنے رب رب کا ملنا یقین کرو (ف۱۰)

It is Allah Who raised up the heavens without columns for you to observe, then (in the manner befitting His Majesty) established Himself upon the Throne (of control), then subjected the sun and the moon; each one runs for up to an appointed term; Allah plans the works and explain the signs in detail, so that you may believe in meeting with your Lord.

وَهُوَ الَّذِىۡ مَدَّ الۡاَرۡضَ وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِىَ وَاَنۡهٰرًا​ ؕ وَمِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيۡهَا زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ​ يُغۡشِى الَّيۡلَ النَّهَارَ​ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ‏ ﴿3﴾

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا اور اس میں لنگر (ف۱۱) اور نہریں بنائیں ، اور زمین ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے (ف۱۲) رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو (ف۱۳)

And it is He Who spread out the earth and made mountains as anchors and rivers in it; and in it made all kinds of fruits in pairs – He covers the night with the day; indeed in this are signs for people who ponder.

وَ فِى الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّزَرۡعٌ وَّنَخِيۡلٌ صِنۡوَانٌ وَّغَيۡرُ صِنۡوَانٍ يُّسۡقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلٰى بَعۡضٍ فِى الۡاُكُلِ​ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ‏  ﴿4﴾

اور زمین کے مختلف قطعے ہیں اور ہیں پاس پاس (ف۱٤) اور باغ ہیں انگوروں کے اور کھیتی اور کھجور کے پیڑ ایک تھالے (تھال) سے اُگے اور الگ الگ سب کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے اور پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر کرتے ہیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (ف۱۵)

And in the earth are various regions, and are close to each other – and gardens of grapes and fields, and date-palms, growing from a single branch and separately, all being given one water; and in fruits, We make some better than others in eating; indeed in this are signs for people of intellect.

وَ اِنۡ تَعۡجَبۡ فَعَجَبٌ قَوۡلُهُمۡ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِىۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ  ؕ اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ​ۚ وَاُولٰۤٮِٕكَ الۡاَغۡلٰلُ فِىۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ​ۚ وَاُولٰۤٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ​ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ‏ ﴿5﴾

اور اگر تم تعجب کرو (ف۱٦) تو اچنبھا تو ان کے اس کہنے کا ہے کہ کیا ہم مٹی ہو کر پھر نئے بنیں گے (ف۱۷) وہ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہوئے اور وہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے (ف۱۸) اور وہ دوزخ والے ہیں انھیں اسی میں رہنا،

And if you are amazed, then indeed the amazement is at their saying that, “Will we, after having turned to dust, be created anew?” They are those who have disbelieved in their Lord; and they are those who will have shackles around their necks; and they are the people of hell; remaining in it forever.

وَيَسۡتَعۡجِلُوۡنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ وَقَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمُ الۡمَثُلٰتُ​ؕ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوۡ مَغۡفِرَةٍ لِّـلنَّاسِ عَلٰى ظُلۡمِهِمۡ​ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‏ ﴿6﴾

اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں رحمت سے پہلے (ف۱۹) اور ان اگلوں کی سزائیں ہوچکیں (ف۲۰) اور بیشک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم پر بھی انھیں ایک طرح کی معافی دیتا ہے (ف۲۱) اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے (ف۲۲)

And they urge you to hasten the punishment before the mercy, whereas the punishments of those before them have concluded; and indeed your Lord gives the people a sort of pardon* despite their injustice; and indeed the punishment of your Lord is severe. (* By delaying their punishment despite their disbelief.)

وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرٌ​ وَّ لِكُلِّ قَوۡمٍ هَادٍ‏ ﴿7﴾

اور کافر کہتے ہیں ان پر ان کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری (ف۲۳) تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی (ف۲٤)

The disbelievers say, “Why is not a sign sent down upon him from his Lord?” You are purely a Herald of Warning, and a guide for all nations.

اَللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ كُلُّ اُنۡثٰى وَمَا تَغِيۡضُ الۡاَرۡحَامُ وَمَا تَزۡدَادُ ​ؕ وَكُلُّ شَىۡءٍ عِنۡدَهٗ بِمِقۡدَارٍ‏ ﴿8﴾

اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے (ف۲۵) اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں (ف۲٦) اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے (ف۲۵)

Allah knows all what is inside the womb of every female, and every increase and decrease of the wombs; and all things are with Him by a set measure.

عٰلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡكَبِيۡرُ الۡمُتَعَالِ‏ ﴿9﴾

ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا سب سے بڑا بلندی والا (ف۲۸)

The All Knowing of all things hidden and visible, the Great, the Supreme.

سَوَآءٌ مِّنۡكُمۡ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَ مَنۡ جَهَرَ بِهٖ وَمَنۡ هُوَ مُسۡتَخۡفٍۢ بِالَّيۡلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ‏ ﴿10﴾

برابر ہیں جو تم میں بات آہستہ کہے اور جو آواز سے اور جو رات میں چھپا ہے اور جو دن میں راہ چلتا ہے (ف۲۹)

Equal* are the one among you who speaks softly and one who speaks aloud, and one who is hidden during the night and one who walks during the daytime. (* For Allah.)

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنۡۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖ يَحۡفَظُوۡنَهٗ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ​ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ​ؕ وَاِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوۡمٍ سُوۡۤءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ​ۚ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّالٍ‏ ﴿11﴾

آدمی کے لیے بدلی والے فرشتے ہیں اس کے آگے پیچھے (ف۳۰) کہ بحکم خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں (ف۳۱) بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود (ف۳۲) اپنی حالت نہ بدلیں، اور جب کسی قوم سے برائی چاہے (ف۳۳) تو وہ پھر نہیں سکتی، اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں (ف۳٤)

For man are angels of alternating duties, in front and behind him, who guard him by Allah’s command; indeed Allah does not change His favour upon any nation until they change their own condition; and when Allah wills misfortune for a nation, it cannot be repelled; and they do not have any supporter besides Him.

هُوَ الَّذِىۡ يُرِيۡكُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّطَمَعًا وَّيُنۡشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ​ۚ‏ ﴿12﴾

وہی ہے تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈر کو اور امید کو (ف۳۵) اور بھاری بدلیاں اٹھاتا ہے،

It is He Who shows you the lightning, for fear and for hope, and raises the heavy clouds.

​وَيُسَبِّحُ الرَّعۡدُ بِحَمۡدِهٖ وَالۡمَلٰۤـٮِٕكَةُ مِنۡ خِيۡفَتِهٖ ​ۚ وَيُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيۡبُ بِهَا مَنۡ يَّشَآءُ وَهُمۡ يُجَادِلُوۡنَ فِى اللّٰه​ۚ ِ وَهُوَ شَدِيۡدُ الۡمِحَالِؕ‏ ﴿13﴾

اور گرج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے (ف۳٦) اور فرشتے اس کے ڈر سے (ف۳۷) اور کڑک بھیجتا ہے (ف۳۸) تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں (ف۳۹) اور اس کی پکڑ سخت ہے،

And the thunder proclaims His purity with praise, and the angels out of fear of Him; and He sends the bolt of lightning – it therefore strikes upon whom He wills, whilst they are disputing concerning Allah; and severe is His seizure.

لَهٗ دَعۡوَةُ الۡحَـقِّ​ؕ وَالَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ لَا يَسۡتَجِيۡبُوۡنَ لَهُمۡ بِشَىۡءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيۡهِ اِلَى الۡمَآءِ لِيَبۡلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِـغِهٖ​ؕ وَمَا دُعَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ‏ ﴿14﴾

اسی کا پکارنا سچا ہے (ف٤۰) اور اس کے سوا جن کو پکارتے ہیں (ف٤۱) وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے (ف٤۲) اور وہ ہرگز نہ پہنچے گا، اور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے،

Only the prayer to Him is truthful; and whomever they pray to besides Him, do not hear them at all, but like one who has his hands outstretched towards water that it may come into his mouth, and it will never come; and every prayer of the disbelievers remains wandering.

وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا وَّظِلٰلُهُمۡ بِالۡغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ ۩‏ ﴿15﴾

اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے (ف٤۳) خواہ مجبوری سے (ف٤٤) اور ان کی پرچھائیاں ہر صبح و شام (ف٤۵) السجدة ۔۲

And to Allah only prostrate all those who are in the heavens and in the earth, willingly or helplessly – and their shadows – every morning and evening. (Command of prostration # 2).

قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ قُلِ اللّٰهُ​ؕ قُلۡ اَفَاتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ لَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ نَفۡعًا وَّلَا ضَرًّا​ؕ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِى الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ ۙ اَمۡ هَلۡ تَسۡتَوِى الظُّلُمٰتُ وَالنُّوۡرُ ۚ اَمۡ جَعَلُوۡا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوۡا كَخَلۡقِهٖ فَتَشَابَهَ الۡخَـلۡقُ عَلَيۡهِمۡ​ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِـقُ كُلِّ شَىۡءٍ وَّهُوَ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ‏  ﴿16﴾

تم فرماؤ کون رب ہے آسمانوں اور زمین کا، تم خود ہی فرماؤ اللہ (ف٤٦) تم فرماؤ تو کیا اس کے سوا تم نے وہ حمایتی بنائے ہیں جو اپنا بھلا برا نہیں کرسکتے ہیں (ف٤۷) تم فرماؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا (بینا) (ف٤۸) یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا (ف٤۹) کیا اللہ کے لیے ایسے شریک ٹھہراتے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ بنایا تو انھیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا (ف۵۰) تم فرماؤ اللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے (ف۵۱) اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے (ف۵۲)

Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Who is the Lord of the heavens and the earth?” Proclaim, “Allah”; Say, “So have you appointed such as supporters besides Him, who can neither benefit nor harm themselves?”; say, “Will the blind and the sighted ever be equal? Or will the realms of darkness and the light ever be equal?” Have they appointed such as partners to Allah who created something like Allah did? Therefore their creation and His creation seemed alike to them? Proclaim, “Allah is the Creator of all things, and He Alone is the Dominant over all.”

اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحۡتَمَلَ السَّيۡلُ زَبَدًا رَّابِيًا​ ؕ وَمِمَّا يُوۡقِدُوۡنَ عَلَيۡهِ فِى النَّارِ ابۡتِغَآءَ حِلۡيَةٍ اَوۡ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثۡلُهٗ​ ؕ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡحَـقَّ وَالۡبَاطِلَ ؕ  فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذۡهَبُ جُفَآءً​​ ۚ وَاَمَّا مَا يَنۡفَعُ النَّاسَ فَيَمۡكُثُ فِى الۡاَرۡضِ​ؕ كَذٰلِكَ يَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَؕ‏ ﴿17﴾

اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رو اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی، اور جس پر آگ دہکاتے ہیں (ف۵۳) گہنا یا اور اسباب (ف۵٤) بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللہ بتاتا ہے کہ حق و باطل کی یہی مثال ہے، تو جھاگ تو پھک (جل) کر دور ہوجاتا ہے، اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے (ف۵۵) اللہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے،

He sent down water from the sky, so valleys flowed according to their measure, therefore the water flow brought forth the froth swollen upon it; and upon which they ignite the fire, to make ornaments and tools, from that too rises a similar froth; Allah illustrates that this is the example of the truth and the falsehood; the froth then bursts and disappears; and that which is of use to people, remains in the earth; this is how Allah illustrates the examples.

لِلَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّهِمُ الۡحُسۡنٰى​ؕ وَالَّذِيۡنَ لَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهٗ لَوۡ اَنَّ لَهُمۡ مَّا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا وَّمِثۡلَهٗ مَعَهٗ لَافۡتَدَوۡا بِهٖؕ اُولٰۤٮِٕكَ لَهُمۡ سُوۡۤءُ الۡحِسَابِ ۙ وَمَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ​ؕ وَبِئۡسَ الۡمِهَادُ‏ ﴿18﴾

جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انھیں کے لیے بھلائی ہے (ف۵٦) اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا (ف۵۷) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی ملِک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے یہی ہیں جن کا برُا حساب ہوگا (ف۵۸) اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی برا بچھونا،

For those who obeyed the command of Allah is goodness and if those who did not obey Him owned all that is in the earth and in addition a similar one like it, they would give it to redeem their souls; it is they who will have a wretched account, and their destination is hell; and what a wretched resting place!

اَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَـقُّ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰىؕ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِۙ‏ ﴿19﴾

تو کیا وہ جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے (ف۵۹) وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے (ف٦۰) نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے،

So will he, who knows that what is sent down upon you from your Lord is the truth, ever be equal to him who is blind? Only the men of understanding heed advice.

الَّذِيۡنَ يُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ وَلَا يَنۡقُضُوۡنَ الۡمِيۡثَاقَۙ‏ ﴿20﴾

وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں (ف٦۱) اور قول باندھ کر پھرتے نہیں

Those who fulfil the pact of Allah, and do not renege on the covenant.

وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ وَ يَخَافُوۡنَ سُوۡۤءَ الۡحِسَابِؕ‏ ﴿21﴾

اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا (ف٦۲) اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور حساب کی برائی سے اندیشہ رکھتے ہیں (ف٦۳)

Those who unite what Allah has commanded to be united, and fear their Lord, and apprehend the evil of the account.

وَالَّذِيۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِمۡ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً وَّيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ اُولٰۤٮِٕكَ لَهُمۡ عُقۡبَى الدَّارِۙ‏ ﴿22﴾

اور وہ جنہوں نے صبر کیا (ف٦٤) اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دیئے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا (ف٦۵) اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں (ف٦٦) انھیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے،

Those who were patient in order to gain their Lord’s pleasure and kept the prayer established and spent in Our cause part of what We bestowed upon them, secretly and openly, and repel evil by responding with goodness – for them is the gain of the final abode.

جَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآٮِٕهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ​ وَالۡمَلٰٓٮِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍ​ۚ‏  ﴿23﴾

بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو لائق ہوں (ف٦۷) ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (ف٦۸) اور فرشتے (ف٦۹) ہر دروازے سے ان پر (ف۷۰) یہ کہتے آئیں گے،

The everlasting Gardens of Eden which they will enter, and the deserving among their forefathers and their wives and their descendants – the angels will enter upon them from every gate.

سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ​ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِؕ‏ ﴿24﴾

سلامتی ہو تم پر تمہارے صبر کا بدلہ تو پچھلا گھر کیا ہی خوب ملا،

(Saying), “Peace be upon you, the recompense of your patience – so what an excellent gain is the final abode!”

وَالَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ وَيَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيُفۡسِدُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ​ۙ اُولٰۤٮِٕكَ لَهُمُ اللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوۡۤءُ الدَّارِ‏ ﴿25﴾

اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے (ف۷۱) کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۷۲) ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر (ف۷۳)

And those who break the pact of Allah after its ratification, and sever what Allah has commanded to be joined, and spread turmoil in the earth – their share is only the curse and their destiny is the wretched abode.

اَللّٰهُ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ​ؕ وَفَرِحُوۡا بِالۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا فِى الۡاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ‏ ﴿26﴾

اللہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ اور (ف۷٤) تنگ کرتا ہے، اور کافر دنیا کی زندگی پر اترا گئے (نازاں ہوئے) (ف۷۵) اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا،

Allah eases and restricts the sustenance for whomever He wills; and the disbelievers rejoiced upon the life of this world; and the life of this world, as compared with the Hereafter, is just a brief utilisation.

وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ اَنَابَ ​ۖ ​ۚ‏  ﴿27﴾

اور کافر کہتے ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نہ اتری، تم فرماؤ بیشک اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے (ف۷٦) اور اپنی راہ اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے،

And the disbelievers said, “Why was not a sign sent down upon him from his Lord?” Proclaim, “Indeed Allah sends astray whomever He wills, and guides towards Himself the one who comes towards Him.”

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَٮِٕنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ​ ؕ اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَٮِٕنُّ الۡقُلُوۡبُ ؕ‏ ﴿28﴾

وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے (ف۷۷)

“Those who accepted faith and whose hearts gain solace from the remembrance of Allah; pay heed! Only in the remembrance of Allah is the solace of hearts!”

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰى لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَاٰبٍ‏  ﴿29﴾

وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام (ف۷۸)

“Those who accepted faith and did good deeds – for them is joy and an excellent outcome.”

كَذٰلِكَ اَرۡسَلۡنٰكَ فِىۡۤ اُمَّةٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهَاۤ اُمَمٌ لِّـتَتۡلُوَا۟ عَلَيۡهِمُ الَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ وَ هُمۡ يَكۡفُرُوۡنَ بِالرَّحۡمٰنِ​ؕ قُلۡ هُوَ رَبِّىۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَاِلَيۡهِ مَتَابِ‏  ﴿30﴾

اسی طرح ہم نے تم کو اس امت میں بھیجا جس سے پہلے امتیں ہو گزریں (ف۷۹) کہ تم انھیں پڑھ کر سناؤ (ف۸۰) جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور وہ رحمن کے منکر ہو رہے ہیں (ف۸۱) تم فرماؤ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میری رجوع ہے،

Similarly We sent you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) towards the nation, before whom other nations have passed away, for you to recite to them the divine revelations We sent down to you, whereas they are denying the Most Gracious; proclaim, “He is my Lord – there is no worship except for Him; I rely only upon Him and only towards Him is my return.”

وَلَوۡ اَنَّ قُرۡاٰنًا سُيِّرَتۡ بِهِ الۡجِبَالُ اَوۡ قُطِّعَتۡ بِهِ الۡاَرۡضُ اَوۡ كُلِّمَ بِهِ الۡمَوۡتٰى​ ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الۡاَمۡرُ جَمِيۡعًا ​ؕ اَفَلَمۡ يَايۡــَٔسِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ وَلَا يَزَالُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا تُصِيۡبُهُمۡ بِمَا صَنَعُوۡا قَارِعَةٌ اَوۡ تَحُلُّ قَرِيۡبًا مِّنۡ دَارِهِمۡ حَتّٰى يَاۡتِىَ وَعۡدُ اللّٰهِ​ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ‏ ﴿31﴾

اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے (ف۸۲) یا زمین پھٹ جاتی یا مردے باتیں کرتے جب بھی یہ کافر نہ مانتے (ف۸۳) بلکہ سب کام اللہ ہی کے اختیار ميں ہیں (ف۸٤) تو کیا مسلمان اس سے ناامید نہ ہوئے (ف۸۵) کہ اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا (ف۸٦) اور کافروں کو ہمیشہ کے لیے یہ سخت دھمک (ہلادینے والی مصیبت) پہنچتی رہے گی (ف۸۷) یا ان کے گھروں کے نزدیک اترے گی (ف۸۸) یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آئے (ف۸۹) بیشک اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا (ف۹۰)

And were such a Qur’an to come that would cause the mountains to move, or the earth to split asunder, or the dead to speak, even then these disbelievers would not believe; in fact, all matters are only at Allah’s discretion; so have not the Muslims despaired in that, had Allah willed, He would have guided all mankind? Disasters shall continue to strike the disbelievers on account of their deeds, or descend near their homes until Allah’s promise comes; indeed Allah does not break the promise.

وَلَـقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَاَمۡلَيۡتُ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ثُمَّ اَخَذۡتُهُمۡ​ فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ‏ ﴿32﴾

اور بیشک تم سے اگلے رسولوں سے بھی ہنسی کی گئی تو میں نے کافروں کو کچھ دنوں ڈھیل دی پھر انھیں پکڑا (ف۹۱) تو میرا عذاب کیسا تھا،

And indeed the Noble Messengers before you were also mocked – I therefore gave the mockers respite for some days and then seized them; so how (dreadful) was My punishment!

اَفَمَنۡ هُوَ قَآٮِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفۡسٍۢ بِمَا كَسَبَتۡ​ۚ وَجَعَلُوۡالِلّٰهِ شُرَكَآءَ ؕ قُلۡ سَمُّوۡهُمۡ​ؕ اَمۡ تُنَـبِّـئُــوْنَهٗ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِى الۡاَرۡضِ اَمۡ بِظَاهِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِؕ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مَكۡرُهُمۡ وَصُدُّوۡا عَنِ السَّبِيۡلِ​ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ‏ ﴿33﴾

تو کیا وہ ہر جان پر اس کے اعمال کی نگہداشت رکھتا ہے (ف۹۲) اور وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں، تم فرماؤ ان کا نام تو لو (ف۹۳) یا اسے وہ بتاتے ہو جو اس کے علم میں ساری زمین میں نہیں (ف۹٤) یا یوں ہی اوپری بات (ف۹۵) بلکہ کافروں کی نگاہ میں ان کا فریب اچھا ٹھہرا ہے اور راہ سے روکے گئے (ف۹٦) اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،

So is He who keeps a watch over the deeds of every soul (equal to their appointed partners)? And (yet) they ascribe partners to Allah! Proclaim, “Just name them – or is it that you inform Him of something which in His knowledge does not exist in the earth – or is it just superficial talk?” In fact, their deceit seems good to the disbelievers and are prevented from the path; and whomever Allah sends astray, so there is none to guide him.

لَهُمۡ عَذَابٌ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا​ وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَقُّ​ ۚ وَمَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّاقٍ‏ ﴿34﴾

انھیں دنیا کے جیتے عذاب ہوگا (ف۹۷) اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت اور انھیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں،

They will be punished in the life of this world, and indeed the punishment of the Hereafter is the most severe; and there is none to save them from Allah.

مَثَلُ الۡجَـنَّةِ الَّتِىۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ​ ؕ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ​ ؕ اُكُلُهَا دَآٮِٕمٌ وَّظِلُّهَا​ ؕ تِلۡكَ عُقۡبَى الَّذِيۡنَ اتَّقَوْا​ ​ۖ  وَّعُقۡبَى الۡكٰفِرِيۡنَ النَّارُ‏ ﴿35﴾

احوال اس جنت کا کہ ڈر والوں کے لیے جس کا وعدہ ہے، اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ (ف۹۸) ڈر والوں کا تو یہ انجام ہے (ف۹۹) اور کافروں کا انجام آگ ،

A description of the Paradise which is promised to the pious; rivers flow beneath it; its fruits are unending, and its shade; this is the reward of those who fear; and the fate of the disbelievers is fire.

وَالَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ​ وَمِنَ الۡاَحۡزَابِ مَنۡ يُّـنۡكِرُ بَعۡضَهٗ​ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ وَلَاۤ اُشۡرِكَ بِهٖؕ اِلَيۡهِ اَدۡعُوۡا وَاِلَيۡهِ مَاٰبِ‏ ﴿36﴾

اور جن کو ہم نے کتاب دی (ف۱۰۰) وہ اس پر خوش ہوتے جو تمہاری طرف اترا اور ان گروہوں میں (ف۱۰۱) کچھ وہ ہیں کہ اس کے بعض سے منکر ہیں، تم فرماؤ مجھے تو یہی حکم ہے کہ اللہ کی بندگی کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں، ميں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے پھرنا (ف۱۰۲)

And those to whom We gave the Book* rejoice at what is divinely revealed to you**; and of those groups are some who deny parts of it; proclaim, “I am commanded only that I worship Allah and not ascribe any partner to Him; towards Him do I call, and towards Him only I have to return.” (* Scholars among the Jews and Christians who accepted faith. ** The Holy Qur’an.)

وَكَذٰلِكَ اَنۡزَلۡنٰهُ حُكۡمًا عَرَبِيًّا​ ؕ وَلَٮِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ بَعۡدَمَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِۙ مَا لَـكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا وَاقٍ‏  ﴿37﴾

اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فیصلہ اتارا (ف۱۰۳) اور اے سننے والے! اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گا (ف۱۰٤) بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا نہ بچانے والا،

And similarly We have revealed this as a command in Arabic; and O listener (follower of this Prophet), if you follow their desires after the knowledge having come to you, then you will have neither a supporter nor any saviour against Allah.

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِكَ وَ جَعَلۡنَا لَهُمۡ اَزۡوَاجًا وَّذُرِّيَّةً ​ ؕ وَمَا كَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ يَّاۡتِىَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ​ ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ‏ ﴿38﴾

اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں (ف۱۰۵) اور بچے کیے اور کسی رسول کا کام نہیں کہ کوئی نشانی لے آئے مگر اللہ کے حکم سے، ہر وعدہ کی ایک لکھت ہے (ف۱۰٦)

And indeed We sent Noble Messengers before you, and made wives and children for them; and it is not the task of any Noble Messenger to bring a sign except by Allah’s command; and all promises have a time prescribed.

يَمۡحُوۡا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُ ​ۖ ​ۚ وَعِنۡدَهٗۤ اُمُّ الۡكِتٰبِ‏  ﴿39﴾

اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے (ف۱۰۷) اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس (ف۱۰۸)

Allah erases and confirms whatever He wills; and only with Him is the real script.

وَاِنۡ مَّا نُرِيَـنَّكَ بَعۡضَ الَّذِىۡ نَعِدُهُمۡ اَوۡ نَـتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ وَعَلَيۡنَا الۡحِسَابُ‏ ﴿40﴾

اور اگر ہمیں تمہیں دکھا دیں کوئی وعدہ (ف۱۰۹) جو انھیں دیا جاتا ہے یا پہلے ہی (ف۱۱۰) اپنے پاس بلائیں تو بہرحال تم پر تو ضرور پہنچانا ہے اور حساب لینا (ف۱۱۱) ہمارا ذمہ (ف۱۱۲)

And whether We show you a promise that is given to them, or call you to Us before it – so in any case, upon you is just the conveyance*, and for Us is the taking of the account. (* Of the message.)

اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِى الۡاَرۡضَ نَـنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا ؕ​ وَاللّٰهُ يَحۡكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكۡمِهٖ​ؕ وَهُوَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ‏ ﴿41﴾

کیا انھیں نہیں سوجھتا کہ ہر طرف سے ان کی آبادی گھٹاتے آرہے ہیں (ف۱۱۳) اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کا حکم پیچھے ڈالنے والا کوئی نہیں (ف۱۱٤) اور اسے حساب لیتے دیر نہیں لگتی،

Do they not perceive that We are reducing their dwellings from all directions? And Allah gives the command – there is none that can postpone His command; and He spends no time in taking account.

وَقَدۡ مَكَرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ فَلِلّٰهِ الۡمَكۡرُ جَمِيۡعًا​ؕ يَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍؕ وَسَيَـعۡلَمُ الۡـكُفّٰرُ لِمَنۡ عُقۡبَى الدَّارِ‏ ﴿42﴾

اور ان سے اگلے (ف۱۱۵) فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللہ ہی ہے (ف۱۱٦) جانتا ہے جو کچھ کوئی جان کمائے (ف۱۱۷) اور اب جاننا چاہتے ہیں کافر، کسے ملتا ہے پچھلا گھر (ف۱۱۸)

And indeed those before them had plotted; therefore Allah Himself is the Master of all strategies; He knows all what every soul earns; and soon will the disbelievers realise for whom is the final abode.

وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا​ ؕ قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِىۡ وَبَيۡنَكُمۡۙ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ الۡكِتٰبِ‏ ﴿43﴾

اور کافر کہتے ہی تم رسول نہیں، تم فرماؤ اللہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں (ف۱۱۹) اور وہ جسے کتاب کا علم ہے (ف۱۲۰)

The disbelievers say, “You are not a (Noble) Messenger (of Allah)”; proclaim, “Allah is a Sufficient Witness between me and you, and (so is) he who has knowledge of the Book.”

الۤرٰ​ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ لِـتُخۡرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ  ۙ بِاِذۡنِ رَبِّهِمۡ اِلٰى صِرَاطِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِۙ‏ ﴿1﴾

ایک کتاب ہے (ف۲) کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو (ف۳) اندھیریوں سے (ف٤) اجالے میں لاؤ (ف۵) ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ (ف٦) کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا ہے

Alif-Lam-Ra; it is a Book which We have sent down upon you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) so that you may bring forth people from the realms of darkness into light – by the command of their Lord, towards the path of the Most Honourable, the Most Praiseworthy.

اللّٰهِ الَّذِىۡ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ​ؕ وَوَيۡلٌ لِّـلۡكٰفِرِيۡنَ مِنۡ عَذَابٍ شَدِيۡدِ ۙ‏ ﴿2﴾

اللہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۷) اور کافروں کی خرابی ہے ایک سخت عذاب سے

Allah – because all that is in the heavens and in the earth belongs only to Him; and woe is for the disbelievers through a severe punishment.

اۨلَّذِيۡنَ يَسۡتَحِبُّوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا​ ؕ اُولٰۤٮِٕكَ فِىۡ ضَلٰلٍۢ بَعِيۡدٍ‏  ﴿3﴾

جنہیں آخرت سے دنیا کی زندگی پیاری ہے اور اللہ کی راہ سے روکتے (ف۸) اور اس میں کجی چاہتے ہیں، وہ دور کی گمراہی میں ہیں (ف۹)

To whom the worldly life is dearer than the Hereafter, and who prevent from the way of Allah and wish deviations in it; they are in extreme error.

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمۡ​ؕ فَيُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ​ ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ‏ ﴿4﴾

اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا (ف۱۰) کہ وہ انھیں صاف بتائے (ف۱۱) پھر اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،

And We sent every Noble Messenger with the same language as his people*, so that he may clearly explain to them; then Allah sends astray whomever He wills, and He guides whomever He wills; and He only is the Most Honourable, the Wise. (* Prophet Mohammed (peace and blessings be upon him) was taught all the languages as he is sent towards all.)

وَلَـقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اَنۡ اَخۡرِجۡ قَوۡمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ ۙ وَذَكِّرۡهُمۡ بِاَيّٰٮمِ اللّٰهِ​ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لّـِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوۡرٍ‏ ﴿5﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں (ف۱۲) دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے (ف۱۳) اجالے میں لا، اور انھیں اللہ کے دن یاد دلا (ف۱٤) بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبرے والے شکر گزار کرو،

And indeed We sent Moosa along with Our signs that, “Bring your people from the realms of darkness into light – and remind them of the days of Allah*; indeed in them are signs for every greatly enduring, grateful person.” (* When various favours were bestowed – in order to give thanks and be patient.)

وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِـقَوۡمِهِ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ اَنۡجٰٮكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَـكُمۡ سُوۡۤءَ الۡعَذَابِ وَ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ​ ؕ وَفِىۡ ذٰ لِكُمۡ بَلَاۤ ءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ‏ ﴿6﴾

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۵) یاد کرو اپنے اوپر اللہ کا احسان جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے، اور اس میں (ف۱٦) تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا،

And when Moosa said to his people, “Remember Allah’s favour upon you when He rescued you from the people of Firaun who were inflicting you with a dreadful torment, and were slaying your sons and sparing your daughters; and in it occurred a great favour of your Lord.”* (* On the 10th day of Moharram – therefore the Jews used to fast on that day as thanksgiving.)

وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكُمۡ لَٮِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ​ وَلَٮِٕنۡ كَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِىۡ لَشَدِيۡدٌ‏ ﴿7﴾

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دونگا (ف۱۷) اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے،

And remember when your Lord proclaimed, “If you give thanks, I will give you more, and if you are ungrateful then (know that) My punishment is severe.”

وَقَالَ مُوۡسٰٓى اِنۡ تَكۡفُرُوۡۤا اَنۡـتُمۡ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَـغَنِىٌّ حَمِيۡدٌ‏ ﴿8﴾

اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور زمین میں جتنے ہیں سب کافر ہوجاؤ (ف۱۸) تو بیشک اللہ بےپر وہ سب خوبیوں والا ہے،

And Moosa said, “If you and all who are in the earth turn disbelievers, then indeed Allah is definitely Independent (Unwanting), Most Praiseworthy.”

اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَبَـؤُا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوۡدَ​  ۛؕ وَالَّذِيۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ ​ۛؕ لَا يَعۡلَمُهُمۡ اِلَّا اللّٰهُ​ؕ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرَدُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فِىۡۤ اَفۡوَاهِهِمۡ وَقَالُوۡۤا اِنَّا كَفَرۡنَا بِمَاۤ اُرۡسِلۡـتُمۡ بِهٖ وَاِنَّا لَفِىۡ شَكٍّ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَـنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ‏ ﴿9﴾

کیا تمہیں ان کی خبریں نہ آئیں جو تم سے پہلے تھی نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد ہوئے، انھیں اللہ ہی جانے (ف۱۹) ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے (ف۲۰) تو وہ اپنے ہاتھ (ف۲۱) اپنے منہ کی طرف لے گئے (ف۲۲) اور بولے ہم منکر ہیں اس کے جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا اور جس راہ (ف۲۳) کی طرف ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں وہ شک ہے کہ بات کھلنے نہیں دیتا،

Did not the tidings of those before you reach you? The people of Nooh, and the A’ad and the Thamud, and those after them? Only Allah knows them; their Noble Messengers came to them with clear proofs, they therefore raised their hands towards their own mouths, and said, “We disbelieve in what you have been sent with, and we are in a deeply intriguing doubt regarding the path you call us to.”

قَالَتۡ رُسُلُهُمۡ اَفِى اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ​ؕ يَدۡعُوۡكُمۡ لِيَـغۡفِرَ لَـكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُؤَخِّرَكُمۡ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى​ؕ قَالُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَاؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ‏ ﴿10﴾

ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے (ف۲٤) آسمان اور زمین کا بنانے والا، تمہیں بلاتا ہے (ف۲۵) کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے (ف۲٦) اور موت کے مقرر وقت تک تمہاری زندگی بےعذاب کاٹ دے، بولے تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو (ف۲۷) تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے باز رکھو جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۸) اب کوئی روشن سند ہمارے پاس لے آؤ (ف۲۹)

Their Noble Messengers said, “What! You doubt concerning Allah, the Creator of the heavens and the earth? He calls you that He may forgive some of your sins and until the time of death give you a life free from punishment”; they said, “You are just human beings like us; you wish to prevent us from what our forefathers used to worship – therefore now bring some clear proof to us.”

قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ​ؕ وَمَا كَانَ لَنَاۤ اَنۡ نَّاۡتِيَكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ​ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ‏  ﴿11﴾

ان کے رسولوں نے ان سے کہا (ف۳۰) ہم ہیں تو تمہاری طرح انسان مگر اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہے احسان فرماتا ہے (ف۳۱) اور ہمارا کام نہیں کہ ہم تمہارے پاس کچھ سند لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۲)

Their Noble Messengers said to them, “We are indeed human beings like you, but Allah bestows favour upon whomever He wills, among His bondmen*; it is not our task to bring any proof to you except by the command of Allah; and only upon Allah must the Muslims rely.” (* Therefore Prophets and other men are not equal in status.)

وَمَا لَـنَاۤ اَلَّا نَـتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰٮنَا سُبُلَنَا​ؕ وَلَــنَصۡبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَيۡتُمُوۡنَا​ؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَكِّلُوۡنَ‏  ﴿12﴾

اور ہمیں کیا ہوا کہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں (ف۳۳) اس نے تو ہماری راہیں ہمیں دکھا دیں (ف۳٤) اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے، اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے،

“And what is the matter with us that we should not rely on Allah? He has in fact shown us our ways; and we will surely be patient upon the troubles you cause us; and those who trust must rely only upon Allah.”

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِرُسُلِهِمۡ لَـنُخۡرِجَنَّكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا​ ؕ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ لَــنُهۡلِكَنَّ الظّٰلِمِيۡنَۙ‏ ﴿13﴾

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین (ف۳۵) سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر کچھ ہوجاؤ، تو انھیں ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کریں گے

And the disbelievers said to their Noble Messengers, “We will surely expel you from our land, unless you accept our religion”; so their Lord sent them the divine revelation that, “Indeed We will destroy these unjust people.”

وَلَـنُسۡكِنَنَّكُمُ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ​ؕ ذٰ لِكَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامِىۡ وَخَافَ وَعِيۡدِ‏ ﴿14﴾

اور ضرور ہم تم کو ان کے بعد زمین میں بسائیں گے (ف۳٦) یہ اس لیے ہے جو (ف۳۷) میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے، اس سے خوف کرے،

“And indeed We will establish you in the land after them; this is for him who fears to stand before Me and fears the commands of punishment declared by Me.”

وَاسۡتَفۡتَحُوۡا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيۡدٍۙ‏ ﴿15﴾

اور انہوں نے (ف۳۸) فیصلہ مانگا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا مراد ہوا (ف۳۹)

And they sought a decision, and every stubborn rebel was destroyed.

مِّنۡ وَّرَآٮِٕهٖ جَهَـنَّمُ وَيُسۡقٰى مِنۡ مَّآءٍ صَدِيۡدٍۙ‏ ﴿16﴾

جہنم اس کے پیچھے لگی اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا،

Hell went after him, and he will be made to drink liquid pus*. (* Discharged from the wounds of other people in hell.)

يَّتَجَرَّعُهٗ وَلَا يَكَادُ يُسِيۡـغُهٗ وَيَاۡتِيۡهِ الۡمَوۡتُ مِنۡ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍؕ​ وَمِنۡ وَّرَآٮِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيۡظٌ‏ ﴿17﴾

بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی (ف٤۰) اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور مرے گا نہیں، اور اس کے پیچھے ایک گاڑھا عذاب (ف٤۱)

He will sip it with difficulty but be unable to swallow, and death will approach him from every side and he will not die; and a severe punishment is after him.

مَثَلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ​ اَعۡمَالُهُمۡ كَرَمَادِ ۨاشۡتَدَّتۡ بِهِ الرِّيۡحُ فِىۡ يَوۡمٍ عَاصِفٍ​ؕ لَا يَقۡدِرُوۡنَ مِمَّا كَسَبُوۡا عَلٰى شَىۡءٍ​ؕ ذٰ لِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ‏ ﴿18﴾

اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں (ف ٤۲) جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں (ف٤۳) ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا، یہی ہے دور کی گمراہی،

The state of those who disbelieve in their Lord is that their deeds are like ashes which the strong wind blew away on a stormy day; they got nothing from all that they earned; this is the extreme error.

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَـقِّ​ؕ اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍۙ‏ ﴿19﴾

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے (ف٤٤) اگر چاہے تو تمہیں لے جائے (ف٤۵) اور ایک نئی مخلوق لے آئے (ف٤٦)

Have you not seen that Allah has created the heavens and the earth with true purpose? If He wills, He can remove you all and bring a new creation.

وَّمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ‏ ﴿20﴾

اور یہ (ف٤۷) اللہ پر کچھ دشوار نہیں،

And this is not at all difficult for Allah.

وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ جَمِيۡعًا فَقَالَ الضُّعَفٰۤؤُا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا كُنَّا لَـكُمۡ تَبَعًا فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّغۡـنُوۡنَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ​ؕ قَالُوۡا لَوۡ هَدٰٮنَا اللّٰهُ لَهَدَيۡنٰكُمۡ​ؕ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَجَزِعۡنَاۤ اَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَــنَا مِنۡ مَّحِيۡصٍ‏ ﴿21﴾

اور سب اللہ کے حضور (ف٤۸) اعلانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے (ف٤۹) بڑائی والوں سے کہیں گے (ف۵۰) ہم تمہارے تابع تھے کیا تم سے ہوسکتا ہے کہ اللہ کے عذاب میں سے کچھ ہم پر سے ٹال دو (ف۵۱) کہیں گے اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں کرتے (ف٤۲) ہم پر ایک سا ہے چاہے بےقراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پناہ نہیں،

They will all publicly come in the presence of Allah – then those who were weak will say to those who were the leaders, “We were your followers – is it possible for you to avert some of Allah’s punishment from us?” They will answer, “If Allah had guided us, we would have guided you; it is the same for us, whether we panic or patiently endure – we have no place of refuge.” (* This conversation will take place between the disbelievers and their leaders.)

وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ لَـمَّا قُضِىَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَـقِّ وَوَعَدْتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ​ؕ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِىۡ​ ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِىۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ​ ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِىَّ​ ؕ اِنِّىۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَكۡتُمُوۡنِ مِنۡ قَبۡلُ​ ؕ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ‏ ﴿22﴾

اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہوچکے گا (ف۵۳) بیشک اللہ نے تم کو سچا وعدہ دیا تھا (ف۵٤) اور میں نے جو تم کو وعدہ دیا تھا (ف۵۵) وہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور میرا تم پر کچھ قابو نہ تھا (ف۵٦) مگر یہی کہ میں نے تم کو (ف۵۷) بلایا تم نے میری مان لی (ف۵۸) تو اب مجھ پر الزام نہ رکھو (ف۵۹) خود اپنے اوپر الزام رکھو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو، وہ جو پہلے تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا (ف٦۰) میں اس سے سخت بیزار ہوں، بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے،

And Satan will say when the matter has been decided, “Indeed Allah had given you a true promise – and the promise I gave you, I made it untrue to you; and I had no control over you except that I called you and you obeyed me; so do not accuse me, blame only yourselves; neither can I help you, nor can you help me; I have no concern with your ascribing me as a partner (to Allah); indeed for the unjust is a painful punishment.”

وَاُدۡخِلَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا بِاِذۡنِ رَبِّهِمۡ​ؕ تَحِيَّتُهُمۡ فِيۡهَا سَلٰمٌ‏ ﴿23﴾

اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اپنے رب کے حکم سے، اس میں ان کے ملتے وقت کا اکرام سلام ہے (ف٦۱)

And those who believed and did good deeds will be admitted into Gardens beneath which rivers flow, abiding in it forever, by the command of their Lord; their greeting in it is “Peace”.

اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصۡلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرۡعُهَا فِى السَّمَآءِۙ‏ ﴿24﴾

کیا تم نے نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی (ف٦۲) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں،

Did you not see how Allah illustrated the example of a sacred saying? Like a sacred tree, which has firm roots and branches reaching into heaven.

تُؤۡتِىۡۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِيۡنٍۢ بِاِذۡنِ رَبِّهَا​ؕ وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ‏ ﴿25﴾

ہر وقت پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے (ف٦۳) اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں (ف٦٤)

Bearing fruit at all times by the command of its Lord; and Allah illustrates examples for people so that they may understand.

وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيۡثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيۡثَةٍ ۨاجۡتُثَّتۡ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَهَا مِنۡ قَرَارٍ‏ ﴿26﴾

اور گندی بات (ف٦۵) کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ (ف٦٦) کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں (ف٦۷)

And the example of a bad saying is like a filthy tree, which is cut off above the ground, therefore not having stability.

يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِى الۡاٰخِرَةِ​ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيۡنَ​ ۙ وَيَفۡعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ‏ ﴿27﴾

اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات (٦۸) پر دنیا کی زندگی میں (ف٦۹) اور آخرت میں (ف۷۰) اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے (ف۷۱) اور اللہ جو چاہے کرے،

Allah keeps the believers firm upon the truth in the life of this world and in the Hereafter; and Allah sends the unjust astray; and Allah may do whatever He wills.

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ كُفۡرًا وَّاَحَلُّوۡا قَوۡمَهُمۡ دَارَ الۡبَوَارِۙ‏ ﴿28﴾

کیا تم نے انھیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی (ف۷۲) اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتار،

Did you not see those who exchanged the grace of Allah for ungratefulness and led their people down to the home of destruction?

جَهَـنَّمَ​ۚ يَصۡلَوۡنَهَا​ؕ وَبِئۡسَ الۡقَرَارُ‏ ﴿29﴾

وہ جو دوزخ ہے اس کے اندر جائیں گے، اور کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ،

Which is hell; they will enter it; and what a wretched place of stay!

وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا لِّيُـضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ​ؕ قُلۡ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِيۡرَكُمۡ اِلَى النَّارِ‏ ﴿30﴾

اور اللہ کے لیے برابر والے ٹھہراے (ف۷۳) کہ اس کی راہ سے بہکاویں تم فرماؤ (ف۷٤) کچھ برت لو کہ تمہارا انجام آگ ہے (ف۷۵)

And they ascribed equals to Allah to mislead from His way; say, “Enjoy a while, for your end will be the fire.”

قُلْ لِّـعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ يَوۡمٌ لَّا بَيۡعٌ فِيۡهِ وَلَا خِلٰلٌ‏ ﴿31﴾

میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی (ف۷٦) نہ یارانہ (ف۷۷)

Say to the bondmen of Mine who believe, that they must keep the prayer established and spend in Our way from what We have given them, secretly and publicly, before the advent of a day in which there will be no trade nor friendship.

اَللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّـكُمۡ​ ۚ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الۡـفُلۡكَ لِتَجۡرِىَ فِى الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِهٖ​ۚ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الۡاَنۡهٰرَ​ۚ‏ ﴿32﴾

اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کو پیدا کیے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے (ف۷۸) اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں، (ف۷۹)

It is Allah Who created the heavens and the earth, and sent down water from the sky, therefore producing some fruits for you to eat; and subjected the ships for you, that they may sail upon the sea by His command; and subjected the rivers for you.

وَسَخَّرَ لَـكُمُ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ دَآٮِٕبَيۡنِ​ۚ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ​ۚ‏ ﴿33﴾

اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیں (ف۸۰) اور تمہارے لیے رات اور دن مسخر کیے (ف۸۱)

And subjected the sun and the moon for you, which are constantly moving; and has subjected the night and the day for you.

وَاٰتٰٮكُمۡ مِّنۡ كُلِّ مَا سَاَلۡـتُمُوۡهُ​ ؕ وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَـظَلُوۡمٌ كَفَّارٌ‏ ﴿34﴾

اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیا، اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے (ف۸۲)

And He gave you much of what you seek; and if you enumerate the favours of Allah, you will never be able to count them; indeed man is very unjust, most ungrateful.

وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰذَا الۡبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجۡنُبۡنِىۡ وَبَنِىَّ اَنۡ نَّـعۡبُدَ الۡاَصۡنَامَؕ‏ ﴿35﴾

اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اس شہر (ف۸۳) کو امان والا کردے (ف۸٤) اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا (ف۸۵)

And remember when Ibrahim prayed, “O my Lord! Make this town (Mecca) a safe one, and safeguard me and my sons from worshipping idols.”

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضۡلَلۡنَ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ​ۚ فَمَنۡ تَبِعَنِىۡ فَاِنَّهٗ مِنِّىۡ​ۚ وَمَنۡ عَصَانِىۡ فَاِنَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿36﴾

اے میرے رب بیشک بتوں نے بہت لوگ بہکائے دیے (ف۸٦) تو جس نے میرا ساتھ دیا (ف۸۷) وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے (ف۸۸)

“O my Lord! The idols have led many people astray; so whoever followed me, is indeed mine; and whoever disobeyed me – then indeed You are Oft Forgiving, Most Merciful.”

رَبَّنَاۤ اِنِّىۡۤ اَسۡكَنۡتُ مِنۡ ذُرِّيَّتِىۡ بِوَادٍ غَيۡرِ ذِىۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَيۡتِكَ الۡمُحَرَّمِۙ رَبَّنَا لِيُقِيۡمُوۡا الصَّلٰوةَ فَاجۡعَلۡ اَ فۡـٮِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهۡوِىۡۤ اِلَيۡهِمۡ وَارۡزُقۡهُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿37﴾

اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس (ف۸۹) اے میرے رب اس لیے کہ وہ (ف۹۰) نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے (ف۹۱) اور انھیں کچھ پھل کھانے کو دے (ف۹۲) شاید وہ احسان مانیں،

“O our Lord! I have settled some of my descendants in a valley having no cultivation, near Your Sacred House – O our Lord! So that they may keep the prayer established, therefore incline some hearts of men towards them, and provide them fruits to eat – perhaps they may be thankful.”

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعۡلَمُ مَا نُخۡفِىۡ وَمَا نُعۡلِنُ​ ؕ وَمَا يَخۡفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ‏ ﴿38﴾

اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے اور اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں (ف۹۳)

“O our Lord! You know what we hide and what we disclose; and nothing is hidden from Allah, neither in the earth nor in the heavens.”

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ وَهَبَ لِىۡ عَلَى الۡـكِبَرِ اِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ​ؕ اِنَّ رَبِّىۡ لَسَمِيۡعُ الدُّعَآءِ‏ ﴿39﴾

سب خوبیاں اللہ کو جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق دیئے بیشک میرا رب دعا سننے والا ہے،

“All praise is to Allah Who gave me Ismail and Ishaq, in my old age; indeed my Lord is the Listener of Prayer.”

رَبِّ اجۡعَلۡنِىۡ مُقِيۡمَ الصَّلٰوةِ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِىۡ​​ ۖ  رَبَّنَا وَتَقَبَّلۡ دُعَآءِ‏ ﴿40﴾

اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو (ف۹٤) اے ہمارے رب اور ہماری دعا سن لے،

“O my Lord! Maintain me as one who establishes prayer, and some of my descendants; O our Lord! and accept my prayer.”

رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِىۡ وَلـِوَالِدَىَّ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ يَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡحِسَابُ‏  ﴿41﴾

اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (ف۹۵) اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہوگا،

“O our Lord! And forgive me, and my parents, and all the Muslims on the day when the account will be established.”

وَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ​ ؕ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُ ۙ‏ ﴿42﴾

اور ہرگز اللہ کو بےخبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے (ف۹٦) انھیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں (ف۹۷)

And do not ever assume that Allah is unaware of what the unjust do; He does not give them respite but for a day in which the eyes will become fixed, staring.

مُهۡطِعِيۡنَ مُقۡنِعِىۡ رُءُوۡسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ​ ۚ وَاَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ ؕ‏ ﴿43﴾

آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بےتحاشا دوڑے نکلیں گے (ف۹۸) اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں (ف۹۹) اور ان کے دلوں میں کچھ سکت نہ ہوگی (ف۱۰۰)

They shall come out running in bewilderment, with their heads raised, their gaze not returning to them; and their hearts will not have any calm.

وَاَنۡذِرِ النَّاسَ يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمُ الۡعَذَابُ فَيَـقُوۡلُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍۙ نُّجِبۡ دَعۡوَتَكَ وَنَـتَّبِعِ الرُّسُلَ​ؕ اَوَلَمۡ تَكُوۡنُوۡۤااَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَالَـكُمۡ مِّنۡ زَوَالٍۙ‏  ﴿44﴾

اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ (ف۱۰۱) جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم (ف۱۰۲) کہیں گے اے ہمارے رب! تھوڑی دیر ہمیں (ف۱۰۳) مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں (ف۱۰٤) اور رسولوں کی غلامی کریں (ف۱۰۵) تو کیا تم پہلے (ف۱۰٦) قسم نہ کھاچکے تھے کہ ہمیں دنیا سے کہیں ہٹ کر جانا نہیں (ف۱۰۷)

And warn the people of a day when the punishment will come upon them, therefore the unjust will say, “O our Lord! Give us respite for a little while – for us to obey Your call and follow the Noble Messengers”; (It will be said) “So had you not sworn before that, ‘We have not to move to any place else from the earth’?”

وَّسَكَنۡتُمۡ فِىۡ مَسٰكِنِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَتَبَيَّنَ لَـكُمۡ كَيۡفَ فَعَلۡنَا بِهِمۡ وَضَرَبۡنَا لَـكُمُ الۡاَمۡثَالَ‏ ﴿45﴾

اور تم ان کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنا برا کیا تھا (ف۱۰۸) اور تم پر خوب کھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا (ف۱۰۹) اور ہم نے تمہیں مثالیں دے کر بتادیا (ف۱۱۰)

“And you dwelt in the houses of those who had wronged themselves and it became very clear to you how We had dealt with them, and We illustrated several examples for you.”

وَقَدۡ مَكَرُوۡا مَكۡرَهُمۡ وَعِنۡدَ اللّٰهِ مَكۡرُهُمۡؕ وَاِنۡ كَانَ مَكۡرُهُمۡ لِتَزُوۡلَ مِنۡهُ الۡجِبَالُ‏ ﴿46﴾

اور بیشک وہ (ف۱۱۱) اپنا سا داؤں (فریب) چلے (ف۱۱۲) اور ان کا داؤں اللہ کے قابو میں ہے، اور ان کا داؤں کچھ ایسانہ تھا جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں (ف۱۱۳)

And indeed they carried out their scheme, and their scheming is within Allah’s control; and their scheme was not such that could move these mountains*. (* The revelations / signs of Allah.)

فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهٖ رُسُلَهٗؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ذُوۡ انْتِقَامٍؕ‏ ﴿47﴾

تو ہرگز خیال نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلاف کرے گا (ف۱۱٤) بیشک اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا،

So do not ever assume that Allah will not fulfil His promise to His Noble Messengers; indeed Allah is the Dominant, the Avenger.

يَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَيۡرَ الۡاَرۡضِ وَالسَّمٰوٰتُ​ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ‏ ﴿48﴾

جس دن (ف۱۱۵) بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان (ف۱۱٦) اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے (ف۱۱۷) ایکاللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے

On the day when the earth will be changed to other than this earth, and the heavens – and they will all come forth standing before Allah, the One, the Dominant above all.

وَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ يَوۡمَٮِٕذٍ مُّقَرَّنِيۡنَ فِى الۡاَصۡفَادِ​ۚ‏ ﴿49﴾

اور اس دن تم مجرموں (ف۱۱۸) کو دیکھو گے کہ بیڑیوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوں گے (ف۱۱۹)

And on that day you will see the guilty linked together in chains.

سَرَابِيۡلُهُمۡ مِّنۡ قَطِرَانٍ وَّتَغۡشٰى وُجُوۡهَهُمُ النَّارُۙ‏ ﴿50﴾

ان کے کرُتے رال ہوں گے (ف۱۲۰) اور ان کے چہرے آگ ڈھانپ لے گی

Their cloaks will be of pitch and fire will cover their faces.

لِيَجۡزِىَ اللّٰهُ كُلَّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ​ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ‏  ﴿51﴾

اس لیے کہ اللہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے، بیشک اللہ کو حساب کرتے کچھ دیر نہیں لگتی،

In order that Allah may repay each soul what it had earned; indeed Allah spends no time in judging the account.

هٰذَا بَلٰغٌ لِّـلنَّاسِ وَلِيُنۡذَرُوۡا بِهٖ وَلِيَـعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ وَّلِيَذَّكَّرَ اُولُوا الۡا َلۡبَابِ‏ ﴿52﴾

یہ (ف۱۲۱) لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے (ف۱۲۲) اور اس لیے کہ عقل والے نصیحت مانیں،

This is the message to be conveyed to all mankind – and in order to warn them with it, and for them to know that He is the only One God, and for men of understanding to heed advice.

الۤرٰ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡـكِتٰبِ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ‏ ﴿1﴾

یہ آیتیں ہیں کتاب اور روشن قرآن کی ۔

Alif-Lam-Ra; these are verses of the Book and the bright Qur’an.

Scroll to Top