اور میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں بتاتا (ف۱۳۵) بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے (ف۱۳٦) بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۷)
“And I do not portray my soul as innocent; undoubtedly the soul excessively commands towards evil, except upon whom my Lord has mercy; indeed my Lord is Oft Forgiving, Most Merciful.”
यूसुफ ने कहा यह मैंने इस लिए किया कि अज़ीज़ को मालूम हो जाए कि मैंने पीठ पीछे उसकी खिआनत न की और अल्लाह ढगा बाज़ों का मकर नहीं चलने देता,
Yusuf ne kaha, “Ye main ne is liye kiya ke Aziz ko maloom ho jaaye ke main ne peeth peechhe us ki khiyanat na ki, aur Allah dhaga baazon ka makr nahi chalne deta.”
(ف135)زلیخا کے اقرار و اعتراف کے بعد حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے جو یہ فرمایا تھا کہ میں نے اپنی براءت کا اظہار اس لئے چاہا تھا تاکہ عزیز کو یہ معلوم ہو جائے کہ میں نے اس کی غَیبت میں اس کی خیانت نہیں کی ہے اور اس کے اہل کی حرمت خراب کرنے سے مُجتنِب رہا ہوں اور جو الزام مجھ پر لگائے گئے ہیں میں ان سے پاک ہوں ، اس کے بعد آپ کا خیال مبارک اس طرف گیا کہ اس میں اپنی طرف پاکی کی نسبت اور اپنی نیکی کا بیان ہے ایسا نہ ہو کہ اس میں شانِ خود بینی اور خود پسندی کا شائبہ بھی آئے ۔ اسی لئے اللہ تعالٰی کی جناب میں تواضُع و انکسار سے عرض کیا کہ میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا ، مجھے اپنی بے گناہی پر ناز نہیں ہے اور میں گناہ سے بچنے کو اپنے نفس کی خوبی قرار نہیں دیتا ، نفس کی جنس کا یہ حال ہے کہ ۔(ف136)یعنی اپنے جس مخصوص بندے کو اپنے کرم سے معصوم کرے تو اس کا برائیوں سے بچنا اللہ کے فضل و رحمت سے ہے اور معصوم کرنا اسی کا کرم ہے ۔(ف137)جب بادشاہ کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے علم اور آپ کی امانت کا حال معلوم ہوا اور وہ آپ کے حُسنِ صبر ، حُسنِ ادب ، قید خانے والوں کے ساتھ احسان ، محنتوں اور تکلیفوں پر ثبات و استقلا ل رکھنے پر مطّلع ہوا تو اس کے دل میں آپ کا بہت ہی عظیم اعتقاد پیدا ہوا ۔
اور بادشاہ بولا انہيں میرے پاس لے آؤ کہ میں انھیں اپنے لیے چن لوں (ف۱۳۸) پھر جب اس سے بات کی کہا بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں (ف۱۳۹)
And the king said, “Bring him to me so that I may choose him especially for myself”; and when he had talked to him he said, “Indeed you are today, before us, the honourable, the trusted.”
और मैं अपने नफ़्स को बे क़सूर नहीं बताता बेशक नफ़्स तो बुराई का बड़ा हुक्म देने वाला है मगर जिस पर मेरा रब रहम करे बेशक मेरा रब बख़्शने वाला मेहरबान है
“Aur main apne nafs ko be-qasoor nahi bataata, beshak nafs to burai ka bada hukum dene wala hai, magar jis par mera Rab reham kare, beshak mera Rab bakshne wala meherban hai.”
(ف138)اور اپنا مخصوص بنا لوں چنانچہ اس نے معزّزین کی ایک جماعت ، بہترین سواریاں اور شاہانہ ساز و سامان اور نفیس لباس لے کر قید خانہ بھیجی تاکہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو نہایت تعظیم و تکریم کے ساتھ ایوانِ شاہی میں لائیں ۔ ان لوگوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر بادشاہ کا پیام عرض کیا آپ نے قبول فرمایا اور قید خانہ سے نکلتے وقت قیدیوں کے لئے دعا فرمائی ، جب قید خانہ سے باہر تشریف لائے تو اس کے دروازہ پر لکھا یہ بلا کا گھر ، زندوں کی قبر اور دشمنوں کی بدگوئی اور سچوں کے امتحان کی جگہ ہے پھر غسل فرمایا اور پوشاک پہن کر ایوانِ شاہی کی طرف روانہ ہوئے جب قلعہ کے دروازہ پر پہنچے تو فرمایا میرا ربّ مجھے کافی ہے ، اس کی پناہ بڑی اور اس کی ثناء برتر اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر قلعہ میں داخل ہوئے ، بادشاہ کے سامنے پہنچے تو یہ دعا کی کہ یاربّ میرے ، تیرے فضل سے اس کی بھلائی طلب کرتا ہوں اور اس کی اور دوسروں کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، جب بادشاہ سے نظر ملی تو آپ نے عربی میں سلام فرمایا، بادشاہ نے دریافت کیا یہ کیا زبان ہے ؟ فرمایا یہ میرے عَم حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی زبان ہے پھر آپ نے اس کو عبرانی زبان میں دعا کی ، اس نے دریافت کیا یہ کون زبان ہے ؟ فرمایا یہ میرے ابّا کی زبان ہے ، بادشاہ یہ دونوں زبانیں نہ سمجھ سکا باوجود یکہ وہ ستّر زبانیں جانتا تھا پھر اس نے حضرت سے جس زبان میں گفتگو کی آپ نے اسی زبان میں اس کو جواب دیا ، اس وقت آپ کی عمر شریف تیس سال کی تھی اس عمر میں یہ وسعتِ علوم دیکھ کر بادشاہ کو بہت حیرت ہوئی اور اس نے آپ کو اپنے برابر جگہ دی ۔(ف139)بادشاہ نے درخواست کی کہ حضرت اس کے خواب کی تعبیر اپنے زبانِ مبارک سے سناویں ، حضرت نے اس خواب کی پوری تفصیل بھی سنا دی ۔ جس جس شان سے کہ اس نے دیکھا تھا باوجود یکہ آپ سے یہ خواب پہلے مجملاً بیان کیا گیا تھا اس پر بادشاہ کو بہت تعجب ہوا ، کہنے لگا کہ آپ نے میرا خواب ہو بہو بیان فرما دیا خواب تو عجیب تھا ہی مگر آپ کا اس طرح بیان فرما دینا اس سے بھی زیادہ عجیب تر ہے ، اب تعبیر ارشاد ہو جائے ، آپ نے تعبیر بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اب لازم یہ ہے کہ غلّے جمع کئے جائیں اور ان فراخی کے سالوں میں کثرت سے کاشت کرائی جائے اور غلّے مع بالوں کے محفوظ رکھے جائیں اور رعایا کی پیداوار میں سے خُمس لیا جائے ، اس سے جو جمع ہوگا وہ مِصر و حوالیٔ مِصر کے باشندوں کے لئے کافی ہوگا اور پھر خَلقِ خدا ہر ہر طرف سے تیرے پاس غلّہ خریدنے آئے گی اور تیرے یہاں اتنے خزائن و اموال جمع ہوں گے جو تجھ سے پہلوں کے لئے جمع نہ ہوئے ۔ بادشاہ نے کہا یہ انتظام کون کرے گا ۔
یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کردے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں (ف۱٤۰)
Said Yusuf, “Appoint me over the treasures of the earth; indeed I am a protector, knowledgeable.”
और बादशाह बोला उन्हें मेरे पास ले आओ कि मैं उन्हें अपने लिए चुन लूँ फिर जब उससे बात की कहा बेशक आज आप हमारे यहाँ मूअज़ज़़ मूअतमद हैं
Aur Badshah bola, “Unhein mere paas le aao ke main unhein apne liye chun loon.” Phir jab us se baat ki, kaha, “Beshak aaj aap humare yahan mo’azzaz mo’tamad hain.”
(ف140)یعنی اپنی قلمرو کے تمام خزانے میرے سپرد کر دے ، بادشاہ نے کہا آپ سے زیادہ اس کا مستحق اور کون ہو سکتا ہے اور اس نے اس کو منظور کیا ۔ مسائل : احادیث میں طلبِ اَمارت کی ممانعت آئی ہے ، اس کے یہ معنی ہیں کہ جب مُلک میں اہل موجود ہوں اور اقامتِ اَحکامِ الٰہی کسی ایک شخص کے ساتھ خاص نہ ہو اس وقت اَمارت طلب کرنا مکروہ ہے لیکن جب ایک ہی شخص اہل ہو تو اس کو احکامِ الٰہیہ کی اقامت کے لئے اَمارت طلب کرنا جائز بلکہ واجب ہے اور حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام اسی حال میں تھے آپ رسول تھے ، امّت کے مصالح کے عالِم تھے ، یہ جانتے تھے کہ قحطِ شدید ہونے والا ہے جس میں خَلق کو راحت و آسائش پہنچانے کی یہی سبیل ہے کہ عنانِ حکومت کو آپ اپنے ہاتھ میں لیں اس لئے آپ نے اَمارت طلب فرمائی ۔مسئلہ : ظالم بادشاہ کی طرف سے عہدے قبول کرنا بہ نیتِ اقامتِ عدل جائز ہے ۔مسئلہ : اگر احکامِ دین کا اجراء کافِر یا فاسق بادشاہ کی تمکین کے بغیر نہ ہو سکے تو اس میں اس سے مدد لینا جائز ہے ۔ مسئلہ : اپنی خوبیوں کا بیان تفاخُر و تکبّر کے لئے ناجائز ہے لیکن دوسروں کو نفع پہنچانے یا خَلق کے حقوق کی حفاظت کرنے کے لئے اگر اظہار کی ضرورت پیش آئے تو ممنوع نہیں اسی لئے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے بادشاہ سے فرمایا کہ میں حفاظت و علم والا ہوں ۔
اور یوں ہی ہم نے یوسف کو اس ملک پر قدرت بخشی اس میں جہاں چاہے رہے (ف۱٤۱) ہم اپنی رحمت (ف۱٤۲) جسے چاہیں پہنچائیں اور ہم نیکوں کا نیگ ( اَجر) ضائع نہیں کرتے،
And this is how We gave Yusuf the control over that land; to stay in it wherever he pleased; We may convey Our mercy to whomever We will, and We do not waste the wages of the righteous.
यूसुफ ने कहा मुझे ज़मीन के ख़ज़ानों पर कर दो बेशक मैं हिफाज़त वाला इल्म वाला हूँ
Yusuf ne kaha, “Mujhe zameen ke khazaanon par kar do, beshak main hifazat wala, ilm wala hoon.”
(ف141)سب ان کے تحتِ تصرّف ہے ۔ اَمارت طلب کرنے کے ایک سال بعد بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو بلا کر آپ کی تاج پوشی کی اور تلوار اور مُہر آپ کے سامنے پیش کی اور آپ کو طلائی تخت پر تخت نشین کیا جو جواہرات سے مُرصّع تھا اور اپنا مُلک آپ کو تفویض کیا اور قطفیر (عزیزِ مصر ) کو معزول کر کے آپ کو اس کی جگہ والی بنایا اور تمام خزائن آپ کو تفویض کئے اور سلطنت کے تمام امور آپ کے ہاتھ میں دے دیئے اور خود مثل تابع کے ہوگیا کہ آپ کی رائے میں دخل نہ دیتا اور آپ کے ہر حکم کو مانتا ، اسی زمانہ میں عزیزِ مصر کا انتقال ہو گیا ۔ بادشاہ نے اس کے انتقال کے بعد زلیخا کا نکاح حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ کر دیا ، جب یوسف علیہ ا لصلٰوۃ و السلام زلیخا کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے جو تو چاہتی تھی ؟ زلیخا نے عرض کیا اے صدیق مجھے ملامت نہ کیجئے میں خوبرو تھی ، نوجوا ن تھی ، عیش میں تھی اور عزیزِ مِصر عورتوں سے سروکار ہی نہ رکھتا تھا اور آپ کو اللہ تعالٰی نے یہ حسن و جمال عطا کیا ہے ، میرا دل اختیار سے باہر ہو گیا اور اللہ تعالٰی نے آپ کو معصوم کیا ہے ، آپ محفوظ رہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے زلیخا کو باکرہ پایا اور اس سے آپ کے دو فرزند ہوئے افراثیم اور میثا اور مِصر میں آپ کی حکومت مضبوط ہوئی ، آپ نے عدل کی بنیادیں قائم کیں ، ہر زن و مرد کے دل میں آپ کی مَحبت پیدا ہوئی اور آپ نے قحط سالی کے ایّام کے لئے غلّوں کے ذخیرے جمع کرنے کی تدبیر فرمائی ۔ اس کے لئے بہت وسیع اور عالی شان انبار خانے تعمیر فرمائے اور بہت کثیر ذخائر جمع کئے ، جب فراخی کے سال گزر گئے اور قحط کا زمانہ آیا تو آپ نے بادشاہ اور اس کے خدم کے لئے روزانہ صرف ایک وقت کا کھانا مقرر فرما دیا ، ایک روز دوپہر کے وقت بادشاہ نے حضرت سے بھوک کی شکایت کی ، آپ نے فرمایا یہ قحط کی ابتداء کا وقت ہے پہلے سال میں لوگوں کے پاس جو ذخیرے تھے سب ختم ہوگئے ، بازار خالی رہ گئے ۔ اہلِ مِصر حضرت یوسف علیہ السلام سے جنس خریدنے لگے اور ان کے تمام درہم دینار آپ کے پاس آ گئے ۔ دوسرے سال زیور اور جواہرات سے غلّہ خریدے اور وہ تمام آپ کے پاس آگئے ، لوگوں کے پاس زیور و جواہر کی قسم سے کوئی چیز نہ رہی ۔ تیسرے سال چوپائے اور جانور دے کر غلّے خریدے اور مُلک میں کوئی کسی جانور کا مالک نہ رہا ۔ چوتھے سال میں غلّے کے لئے تمام غلام اور باندیاں بیچ ڈالیں ۔ پانچویں سال تمام اراضی و عملہ و جاگیریں فروخت کر کے حضرت سے غلّہ خریدا اور یہ تمام چیزیں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچ گئیں ۔ چھٹے سال جب کچھ نہ رہا تو انہوں نے اپنی اولادیں بیچیں ، اس طرح غلّے خرید کر وقت گذارا ۔ ساتویں سال وہ لوگ خود بک گئے اور غلام بن گئے اور مِصر میں کوئی آزاد مرد و عورت باقی نہ رہا ، جو مرد تھا وہ حضرت یوسف علیہ السلام کا غلام تھا ، جو عورت تھی وہ آپ کی کنیز تھی اور لوگوں کی زبان پر تھا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی سی عظمت و جلالت کبھی کسی بادشاہ کو میسّر نہ آئی ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے کہا کہ تو نے دیکھا اللہ کا مجھ پر کیسا کرم ہے ، اس نے مجھ پر ایسا احسانِ عظیم فرمایا اب ان کے حق میں تیری کیا رائے ہے ؟ بادشاہ نے کہا جو حضرت کی رائے اور ہم آپ کے تابع ہیں ۔ آپ نے فرمایا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تجھ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے تمام اہلِ مِصرکو آزاد کیا اور ان کے تمام املاک اور کل جاگیریں واپس کیں ۔ اس زمانہ میں حضرت نے کبھی شکم سیر ہو کر کھانا نہیں ملاحظہ فرمایا ، آپ سے عرض کیا گیا کہ اتنے عظیم خزانوں کے مالک ہو کر آپ بھوکے رہتے ہیں ؟ فرمایا اس اندیشہ سے کہ سیر ہو جاؤں تو کہیں بھوکوں کو نہ بھول جاؤں ، سبحان اللہ کیا پاکیزہ اخلاق ہیں ۔ مفسِّرین فرماتے ہیں کہ مِصر کے تمام زن و مرد کو حضرت یوسف علیہ السلام کے خریدے ہوئے غلام اور کنیزیں بنانے میں اللہ تعالٰی کی یہ حکمت تھی کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ہو کہ حضرت یوسف علیہ السلام غلام کی شان میں آئے تھے اور مِصر کے ایک شخص کے خریدے ہوئے ہیں بلکہ سب مِصری ان کے خریدے اور آزاد کئے ہوئے غلام ہوں اور حضرت یوسف علیہ السلام نے جو اس حالت میں صبر کیا اس کی یہ جزا دی گئی ۔(ف142)یعنی مُلک و دولت یا نبوّت ۔
اور بیشک آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے (ف۱٤۳)
And undoubtedly the reward of the Hereafter is better, for those who accept faith and remain pious.
और यूँ ही हमने यूसुफ को इस मुल्क पर क़ुदरत बख़्शी इसमें जहाँ चाहे रहे हम अपनी रहमत जिसे चाहें पहुँचाएँ और हम नेक़ों का निघ (अज़र) ज़ाया नहीं करते,
Aur yun hi hum ne Yusuf ko is mulk par qudrat bakhshi, is mein jahan chahe rahe, hum apni rehmat, jise chahein, pohchayein, aur hum nekon ka negh (ajr) zaya nahi karte.
(ف143)اس سے ثابت ہوا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے لئے آخرت کا اجر و ثواب اس سے بہت زیادہ افضل و اعلٰی ہے جو اللہ تعالٰی نے انہیں دنیا میں عطا فرمایا ۔ ابنِ عینیہ نے کہا کہ مومن اپنی نیکیوں کا ثمرہ دنیا و آخرت دونوں میں پاتا ہے اور کافِر جو کچھ پاتا ہے دنیا ہی میں پاتا ہے ، آخرت میں اس کو کوئی حصّہ نہیں ۔ مفسِّرین نے بیان کیا ہے کہ جب قحط کی شدّت ہوئی اور بلائے عظیم عام ہوگئی ، تمام بِلاد و اَمصار قحط کی سخت تر مصیبت میں مبتلا ہوئے اور ہر جانب سے لوگ غلّہ خریدنے کے لئے مِصر پہنچنے لگے ، حضرت یوسف علیہ السلام کسی کو ایک اونٹ کے بار سے زیادہ غلّہ نہیں دیتے تاکہ مساوات رہے اور سب کی مصیبت رفع ہو ، قحط کی جیسی مصیبت مِصر اور تمام بلاد میں آئی ایسی ہی کنعان میں بھی آئی ، اس وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے بنیامین کے سوا اپنے دسوں بیٹوں کو غلّہ خریدنے مِصر بھیجا ۔
اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انھیں (ف۱٤٤) پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے (ف۱٤۵)
And Yusuf’s brothers came and presented themselves before him, so he recognised them whereas they remained unaware of him.
और बेशक आख़िरत का सवाब उनके लिए बेहतर जो ईमान लाएँ और परहेज़गार रहें
Aur beshak aakhirat ka sawab un ke liye behtar jo iman laaye aur parhezgar rahe.
(ف144)دیکھتے ہی ۔(ف145)کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈالنے سے اب تک چالیس سال کا طویل زمانہ گزر چکا تھا اور ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا انتقال ہو چکا ہوگا اور یہاں آپ تختِ سلطنت پر شاہانہ لباس میں شوکت و شان کے ساتھ جلوہ فرما تھے ، اس لئے انہوں نے آپ کو نہ پہچانا اور آپ سے عبرانی زبان میں گفتگو کی ، آپ نے بھی اسی زبان میں جواب دیا ۔ آ پ نے فرمایا تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے عرض کیا ہم شام کے رہنے والے ہیں ، جس مصیبت میں دنیا مبتلا ہے اسی میں ہم بھی ہیں ، آپ سے غلّہ خریدنے آئے ہیں ، آپ نے فرمایا کہیں تم جاسوس تو نہیں ہو ؟ انہوں نے کہا ہم اللہ کی قسم کھاتے ہیں ہم جاسوس نہیں ہیں ، ہم سب بھائی ہیں ، ایک باپ کی اولاد ہیں ، ہمارے والد بہت بزرگ معمّرصدیق ہیں اور ان کا نامِ نامی حضرت یعقوب ہے ، وہ اللہ کے نبی ہیں ۔ آپ نے فرمایا تم کتنے بھائی ہو ؟ کہنے لگے تھے تو ہم بارہ مگر ایک بھائی ہمارا ہمارے ساتھ جنگل گیا تھا ، ہلاک ہوگیا اور وہ والد صاحب کو ہم سب سے زیادہ پیارا تھا ، فرمایا اب تم کتنے ہو ؟ عرض کیا دس ، فرمایا گیارہواں کہاں ہے ؟ کہا وہ والد صاحب کے پاس ہے کیونکہ جو ہلاک ہو گیا وہ اسی کا حقیقی بھائی تھا اب والد صاحب کی اسی سے کچھ تسلّی ہوتی ہے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان بھائیوں کی بہت عزّت کی اور بہت خاطر و مدارات سے ان کی میزبانی فرمائی ۔
اور جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱٤٦) کہ اپنا سوتیلا بھائی (ف۱٤۷) میرے پاس لے آؤ کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں (ف۱٤۸) اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں،
And when he provided them with their provisions he said, “Bring your step-brother to me; do you not see that I measure in full and that I am the best host?”
और यूसुफ के भाई आए तो उसके पास हाज़िर हुए तो यूसुफ ने उन्हें पहचान लिया और वह उससे अंजान रहे
Aur Yusuf ke bhai aaye to us ke paas haazir hue, to Yusuf ne unhein pehchaan liya aur woh us se anjaan rahe.
(ف146)ہر ایک کا اونٹ بھر دیا اور زادِ سفر دے دیا ۔(ف147)یعنی بنیامین ۔(ف148)اس کو لے آؤ گے تو ایک اونٹ غلّہ اس کے حصّہ کا اور زیادہ دوں گا ۔
پھر اگر اسے لیکر میرے پاس نہ آؤ تو تمہارے لیے میرے یہاں ناپ نہیں اور میرے پاس نہ پھٹکنا،
“And if you do not bring him to me, there shall be no measure (provisions) for you with me and do not ever come near me.”
और जब उनका सामान मुहैया कर दिया कि अपना सौतेला भाई मेरे पास ले आओ क्या नहीं देखते कि मैं पूरा नापता हूँ और मैं सबसे बेहतर मेहमान नवाज़ हूँ,
Aur jab un ka samaan muhaiya kar diya, ke apna sautela bhai mere paas le aao, kya nahi dekhte ke main poora naapta hoon aur main sab se behtar mehmaan nawaaz hoon.
اور یوسف نے اپنے غلاموں سے کہا ان کی پونجی ان کی خورجیوں میں رکھ دو (ف۱٤۹) شاید وہ اسے پہچانیں جب اپنے گھر کی طرف لوٹ کر جائیں (ف۱۵۰) شاید وہ واپس آئیں،
He said to his slaves, “Place their means back into their sacks, perhaps they may recognise it when they return to their homes, perhaps they may come again.”
बोले हम उसकी ख़्वाहिश करेंगे उसके बाप से और हमें यह जरूर करना,
Bole, “Hum us ki khwahish karein ge us ke baap se aur humein ye zaroor karna.”
(ف149)جو انہوں نے قیمت میں دی تھی تاکہ جب وہ اپنا سامان کھولیں تو اپنی پونجی انہیں مل جائے اور قحط کے زمانہ میں کام آئے اور مخفی طور پر ان کے پاس پہنچے تاکہ انہیں لینے میں شرم بھی نہ آئے اور یہ کرم و احسان دوبارہ آنے کے لئے ان کی رغبت کا باعث بھی ہو ۔(ف150)اور اس کا واپس کرنا ضروری سمجھیں ۔
پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے (ف۱۵۱) بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے (ف۱۵۲) تو ہمارے بھائی کو ہمارے پاس بھیج دیجئے کہ غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے،
So when they returned to their father, they said, “O our father! The provisions have been denied to us, therefore send our brother with us so that we may bring the provisions, and we will surely protect him.”
और यूसुफ ने अपने ग़ुलामों से कहा उनकी पौंजी उनकी ख़ुर्ज़ियों में रख दो शायद वे उसे पहचानें जब अपने घर की तरफ लौट कर जाएँ शायद वह वापस आएँ,
Aur Yusuf ne apne ghulamon se kaha, “Un ki ponji un ki khurji mein rakh do, shayad woh use pehchaanen jab apne ghar ki taraf laut kar jaayein, shayad woh wapas aayen.”
(ف151)اور بادشاہ کے حسنِ سلوک اور اس کے احسان کا ذکر کیا ، کہا کہ اس نے ہماری وہ عزّت و تکریم کی کہ اگر آپ کی اولاد میں سے کوئی ہوتا تو وہ بھی ایسا نہ کر سکتا ، فرمایا اب اگر تم بادشاہِ مِصر کے پاس جاؤ تو میری طرف سے سلام پہنچانا اور کہنا کہ ہمارے والد تیرے حق میں تیرے اس سلوک کی وجہ سے دعا کرتے ہیں ۔(ف152)اگر آپ ہمارے بھائی بنیامین کو نہ بھیجیں گے تو غلّہ نہ ملے گا ۔
کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا (ف۱۵۳) تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان ،
He said, “Shall I trust you regarding him the same way I had trusted you earlier regarding his brother? Therefore Allah is the Best Protector; and He is More Merciful than all those who show mercy.”
फिर जब वे अपने बाप की तरफ लौट कर गए बोले ऐ हमारे बाप हम से घ़लह रोक दिया गया है तो हमारे भाई को हमारे पास भेज दीजिए कि घ़लह लाएँ और हम जरूर उसकी हिफ़ाज़त करेंगे,
Phir jab woh apne baap ki taraf laut kar gaye, bole, “Aye humare baap! Hum se ghalla rok diya gaya hai, to humare bhai ko humare paas bhej dijiye ke ghalla laayen, aur hum zaroor us ki hifazat karein ge.”
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا اپنی پونجی پائی کہ ان کو پھیر دی گئی ہے، بولے اے ہمارے باپ اب اور کیا چاہیں، یہ ہے ہماری پونجی ہمیں واپس کردی گئی اور ہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں، یہ دنیا بادشاہ کے سامنے کچھ نہیں (ف۱۵٤)
And when they opened their belongings they found that their means had been returned to them; they said, “O our father! What more can we ask for? Here are our means returned to us; we may get the provision for our homes and guard our brother, and get a camel-load extra; giving all these is insignificant for the king.”
कहा क्या उसके बारे में तुम पर वैसा ही इतबार कर लूँ जैसा पहले उसके भाई के बारे में किया था तो अल्लाह सबसे बेहतर निगहबान और वह हर मेहरबान से बढ़कर मेहरबान,
Kaha, “Kya us ke baare mein tum par waisa hi aitbaar kar loon, jaisa pehle us ke bhai ke baare mein kiya tha? To Allah sab se behtar nigehban aur woh har meherban se barh kar meherban hai.”
کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے کا اللہ کا یہ عہد نہ دے دو (ف۱۵۵) کہ ضرور اسے لے کر آؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ (ف۱۵٦) پھر انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا (ف۱۵۷) اللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو کہہ رہے ہیں،
He said, “I shall never send him with you until you give me an oath upon Allah that you will bring him back to me, unless you are surrounded”; and (recall) when they gave him their oath that “Allah’s guarantee is upon what we say.” (* He knew that Bin Yamin would be restrained.)
और जब उन्होंने अपना असबाब खोला अपनी पौंजी पाई कि उनको फेर दी गई है, बोले ऐ हमारे बाप अब और क्या चाहें, यह है हमारी पौंजी हमें वापस कर दी गई और हम अपने घर के लिए घ़लह लाएँ और अपने भाई की हिफ़ाज़त करें और एक ऊंट का बोझ और ज़्यादा पाएँ, यह दुनिया बादशाह के सामने कुछ नहीं
Aur jab unhone apna asbaab khola, apni ponji pai ke unko pher di gayi hai, bole, “Aye humare baap! Ab aur kya chahein? Ye hai humari ponji, humein wapas kar di gayi, aur hum apne ghar ke liye ghalla laayen, aur apne bhai ki hifazat karein, aur ek oont ka bojh aur zyada paayen, ye duniya Badshah ke saamne kuch nahi.”
(ف155)یعنی اللہ کی قسم نہ کھاؤ ۔(ف156)اور اس کو لے کر آنا تمہاری طاقت سے باہر ہو جائے ۔(ف157)حضرت یعقوب علیہ السلام نے ۔
اور کہا اے میرے بیٹوں! (ف۱۵۸) ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا (ف۱۵۹) میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا (ف۱٦۰) حکم تو سب اللہ ہی کا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہیے،
And he said, “O my sons! Do not enter all by one gate – and enter by different gates; I cannot save you against Allah; there is no command but that of Allah; upon Him do I rely; and all those who trust, must rely only upon Him.”
कहा मैं हरगज़ उसे तुम्हारे साथ न भेजूँगा जब तक तुम मुझे का अल्लाह का यह अहमद न दे दो कि जरूर उसे लेकर आओगे मगर यह कि तुम घर जाओ फिर उन्होंने याकूब को अहमद दे दिया कहा अल्लाह का ज़िम्मा है इन बातों पर जो कह रहे हैं,
Kaha, “Main hargez use tumhare saath na bhejoonga, jab tak tum mujhe ka Allah ka ye ahd na de do ke zaroor use lekar aaoge, magar ye ke tum ghar jao.” Phir unhone Ya’qub ko ahd de diya, kaha, “Allah ka zimma hai un baaton par jo keh rahe hain.”
(ف158)مِصر میں ۔(ف159)تاکہ نظرِ بد سے محفوظ رہو ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نظر حق ہے ۔ پہلی مرتبہ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام نے یہ نہیں فرمایا تھا اس لئے کہ اس وقت تک کوئی یہ نہ جانتا تھا کہ یہ سب بھائی اور ایک باپ کی اولاد ہیں لیکن اب چونکہ جان چکے تھے اس لئے نظر ہو جانے کا احتمال تھا ، اس واسطے آپ نے علیٰحدہ علیٰحدہ ہو کر داخل ہونے کا حکم دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آفتوں اور مصیبتوں سے دفع کی تدبیر اور مناسب احتیاطیں انبیاء کا طریقہ ہیں اور اس کے ساتھ ہی آپ نے امر اللہ کو تفویض کر دیا کہ باوجود احتیاطوں کے توکّل و اعتماد اللہ پر ہے اپنی تدبیر پر بھروسہ نہیں ۔(ف160)یعنی جو مقدر ہے وہ تدبیر سے ٹالا نہیں جا سکتا ۔
اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا (ف۱٦۱) وہ کچھ انھیں کچھ انھیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی، اور بیشک وہ صاحب علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۱٦۲)
And when they entered from the place where their father had commanded them to; that would not at all have saved them against Allah – except that it was Yaqub’s secret wish, which he fulfilled; and indeed he is a possessor of knowledge, due to Our teaching, but most people do not know.
और कहा ऐ मेरे बेटों! एक दरवाज़े से न दाख़िल होना और जुदा जुदा दरवाज़ों से जाना मैं तुम्हें अल्लाह से बचा नहीं सकता हुक्म तो सब अल्लाह ही का है, मैंने इसी पर भरोसा किया और भरोसा करने वालों को इसी पर भरोसा चाहिए,
Aur kaha, “Aye mere beton! Ek darwaze se na daakhil hona, aur juda juda darwazon se jaana, main tumhein Allah se bacha nahi sakta, hukm to sab Allah hi ka hai, main ne isi par bharosa kiya aur bharosa karne walon ko isi par bharosa chahiye.”
(ف161)یعنی شہر کے مختلف دروازوں سے تو ان کا متفرق ہو کر داخل ہونا ۔(ف162)جو اللہ تعالٰی اپنے اصفیاء کو علم دیتا ہے ۔
اور جب وہ یوسف کے پاس گئے (ف۱٦۳) اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (ف۱٦٤) کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی (ف۱٦۵) ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا (ف۱٦٦)
And when they entered in the company Yusuf, he seated his brother close to him and said, “Be assured, I really am your brother – therefore do not grieve for what they do.”
और जब वे दाख़िल हुए जहाँ से उनके बाप ने हुक्म दिया था वह कुछ उन्हें कुछ उन्हें अल्लाह से बचा न सकता हाँ याकूब के जी की एक ख़्वाहिश थी जो उसने पूरी कर ली, और बेशक वह साहिब इल्म है हमारे सिखाए से मगर अक्सर लोग नहीं जानते
Aur jab woh daakhil hue, jahan se un ke baap ne hukum diya tha, woh kuch unhein Allah se bacha na sakta. Haan, Ya’qub ke jee ki ek khwahish thi jo us ne poori kar li, aur beshak woh saahib-e-ilm hai, humare sikhaye se, magar aksar log nahi jaante.
(ف163)اور انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے پاس اپنے بھائی بنیامین کو لے آئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا تم نے بہت اچھا کیا پھر انہیں عزّت کے ساتھ مہمان بنایا اور جا بجا دستر خوان لگائے گئے اور ہر دستر خوان پر دو دو صاحبوں کو بٹھایا گیا ، بنیامین اکیلے رہ گئے تو وہ رو پڑے اور کہنے لگے کہ آج اگر میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو مجھے اپنے ساتھ بٹھاتے ، حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے فرمایاکہ تمہارا ایک بھائی اکیلا رہ گیا اور آپ نے بنیامین کو اپنے دستر خوان پر بٹھایا ۔(ف164)اور فرمایا کہ تمہارے ہلاک شدہ بھائی کی جگہ میں تمہارا بھائی ہو جاؤں تو کیا تم پسند کرو گے ؟ بنیامین نے کہا کہ آپ جیسا بھائی کس کو میسّر آئے لیکن یعقوب (علیہ السلام) کا فرزند اور راحیل ( مادرِ حضرت یوسف علیہ السلام ) کا نورِ نظر ہونا تمہیں کیسے حاصل ہو سکتا ہے ؟ حضرت یوسف علیہ السلام رو پڑے اور بنیامین کو گلے سے لگایا اور ۔(ف165)یوسف ( علیہ السلام) ۔(ف166)بے شک اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں خیر کے ساتھ جمع فرمایا اور ابھی اس راز کی بھائیوں کو اطلاع نہ دینا ، یہ سن کر بنیامین فرطِ مسرت سے بے خود ہوگئے اور حضرت یوسف علیہ السلام سے کہنے لگے اب میں آپ سے جدا نہ ہوں گا ، آپ نے فرمایا والد صاحب کو میری جدائی کا بہت غم پہنچ چکا ہے اگر میں نے تمہیں بھی روک لیا تو انہیں اور زیادہ غم ہوگا علاوہ بریں روکنے کی بجز اس کے اور کوئی سبیل بھی نہیں ہے کہ تمہاری طرف کوئی غیر پسندیدہ بات منسوب ہو ۔ بنیامین نے کہا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
پھر جب ان کا سامان مہیا کردیا (ف۱٦۷) پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا (ف۱٦۸) پھر ایک منادی نے ندا کی اے قافلہ والو! بیشک تم چور ہو،
And when he had provided them their provision, he put the drinking-cup in his brother’s bag, and then an announcer cried, “O people of the caravan! You are indeed thieves!”
और जब वे यूसुफ के पास गए उसने अपने भाई को अपने पास जगह दी कहा यक़ीन जान मैं ही तेरा भाई हूँ तो यह जो कुछ करते हैं इसका ग़म न खा
Aur jab woh Yusuf ke paas gaye, us ne apne bhai ko apne paas jagah di, kaha, “Yaqeen jaan, main hi tera bhai hoon, to ye jo kuch karte hain, us ka gham na kha.”
(ف167)اور ہر ایک کو ایک بارِ شترغلّہ دے دیا اور ایک بارِ شتر بنیامین کے نام کا خاص کر دیا ۔(ف168)جو بادشاہ کے پانی پینے کا سونے کا جواہرات سے مرصّع کیا ہوا تھا اور اس وقت اس سے غلّہ ناپنے کا کام لیا جاتا تھا ، یہ پیالہ بنیامین کے کجاوے میں رکھ دیا گیا اور قافلہ کنعان کے قصد سے روانہ ہوگیا جب شہر کے باہر جا چکا تو انبار خانہ کے کارکنوں کو معلوم ہوا کہ پیالہ نہیں ہے ان کے خیال میں یہی آیا کہ یہ قافلے والے لے گئے انہوں نے اس کی جستجو کے لئے آدمی بھیجے ۔
بولے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں ملے وہی اس کے بدلے میں غلام بنے (ف۱۷۰) ہمارے یہاں ظالموں کی یہی سزا ہے (ف۱۷۱)
They said, “The punishment for it is that he in whose bag it shall be found, shall himself become a slave for it; this is how we punish the unjust.”
बोले फिर क्या सज़ा है इसकी अगर तुम झूठे हो
Bole, “Phir kya saza hai is ki agar tum jhoote ho?”
(ف170)اور شریعتِ حضرت یعقوب علیہ السلام میں چوری کی یہی سزا مقرر تھی چنانچہ انہوں نے کہا کہ ۔(ف171)پھر یہ قافلہ مِصر لایا گیا اور ان صاحبوں کو حضرت یوسف علیہ السلام کے دربار میں حاضر کیا گیا ۔
تو اول ان کی خرُجیوں سے تلاشی شروع کی اپنے بھائی (ف۱۷۲) کی خرُجی سے پہلے پھر اسے اپنے بھائی کی خرُجی سے نکال لیا (ف۱۷۳) ہم نے یوسف کو یہی تدبیر بتائی (ف۱۷٤) بادشاہی قانون میں اسے نہیں پہنچتا تھا کہ اپنے بھائی کو لے لے (ف۱۷۵) مگر یہ کہ خدا چاہے (ف۱۷٦) ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷۷) اور ہر علم والے اوپر ایک علم والا ہے (ف۱۷۸)
So he first searched their bags before his brother’s bag, then removed it from his brother’s bag; this was the plan We had taught Yusuf; he had no right to take his brother by the king’s law, except if Allah wills; We may raise in ranks whomever We will; and above every possessor of knowledge is another scholar.
बोले इसकी सज़ा यह है कि जिसके असबाब में मिले वही इसके बदले में ग़ुलाम बने हमारे यहाँ ज़ालिमों की यही सज़ा है
Bole, “Is ki saza ye hai ke jis ke asbaab mein mile, wohi us ke badle mein ghulām bane. Humare yahan zalimon ki yehi saza hai.”
(ف172)یعنی بنیامین ۔(ف173)یعنی بنیامین کی خرجی سے پیالہ برآمد کیا ۔(ف174)اپنے بھائی کے لینے کی اس معاملہ میں بھائیوں سے استفسار کریں تاکہ وہ شریعتِ حضرتِ یعقوب علیہ السلام کا حکم بتائیں جس سے بھائی مل سکے ۔(ف175)کیونکہ بادشاہِ مِصر کے قانون میں چوری کی سزا مارنا اور دُونا مال لے لینا مقرر تھی ۔(ف176)یعنی یہ بات خدا کی مشیت سے ہوئی کہ ان کے دل میں ڈال دیا کہ سزا بھائیوں سے دریافت کریں اور ان کے دل میں ڈال دیا کہ وہ اپنی سنّت کے مطابق جواب دیں ۔(ف177)علم میں جیسے کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے درجے بلند فرمائے ۔(ف178)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ہر عالِم کے اوپر اس سے زیادہ علم رکھنے والا عالِم ہوتا ہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ اللہ تعالٰی تک پہنچتا ہے اس کا علم سب کے علم سے برتر ہے ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے بھائی عُلَماء تھے اور حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام ان سے اَعلم تھے ، جب پیالہ بنیامین کے سامان سے نکلا تو بھائی شرمندہ ہوئے اور انہوں نے سر جھکائے اور ۔
بھائی بولے اگر یہ چوری کرے (ف۱۷۹) تو بیشک اس سے پہلے اس کا بھائی چوری کرچکا ہے (ف۱۸۰) تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی، جی میں کہا تم بدتر جگہ ہو (ف۱۸۱) اور اللہ خوب جانتا ہے جو باتیں بناتے ہو،
They said, “If he steals, then indeed his brother has stolen before”; so Yusuf kept this in his heart and did not reveal it to them; he replied within himself, “In fact, you are in a worse position; and Allah well knows the matters you fabricate.”
तो औल उनकी ख़ुर्ज़ियों से तलाशी शुरू की अपने भाई की ख़ुर्ज़ी से पहले फिर उसे अपने भाई की ख़ुर्ज़ी से निकाल लिया हमने यूसुफ को यही तदबीर बताई बादशाही क़ानून में इसे नहीं पहुँचता था कि अपने भाई को ले ले मगर यह कि ख़ुदा चाहे हम जिसे चाहें दर्ज़ों बुलंद करें और हर इल्म वाले ऊपर एक इल्म वाला है
To ool un ki khurjiyon se talashi shuru ki, apne bhai ki khurji se pehle, phir use apne bhai ki khurji se nikal liya. Hum ne Yusuf ko yehi tadbeer batai, badshahi qanun mein use nahi pohchta tha ke apne bhai ko le le, magar ye ke Khuda chahe, hum jisey chahein darajon buland karein, aur har ilm wale upar ek ilm wala hai.
(ف179)یعنی سامان میں پیالہ نکلنے سے سامان والے کا چوری کرنا تو یقینی نہیں لیکن اگر یہ فعل اس کا ہو ۔(ف180)یعنی حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام اور جس کو انہوں نے چوری قرار دے کر حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف نسبت کیا ، وہ واقعہ یہ تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے نانا کا ایک بُت تھا جس کو وہ پوجتے تھے ، حضرت یوسف علیہ السلام نے چپکے سے وہ بُت لیا اور توڑ کر راستہ میں نجاست کے اندر ڈال دیا ، یہ حقیقت میں چوری نہ تھی بُت پرستی کا مٹانا تھا ۔ بھائیوں کا اس ذکر سے یہ مدعا تھا کہ ہم لو گ بنیامین کے سوتیلے بھائی ہیں ، یہ فعل ہو تو شاید بنیامین کا ہو ، نہ ہماری اس میں شرکت ، نہ ہمیں اس کی اطلاع ۔(ف181)اس سے جس کی طرف چوری کی نسبت کرتے ہو کیونکہ چوری کی نسبت حضرت یوسف کی طرف تو غلط ہے ، فعل تو شرک کا ابطال اور عبادت تھا اور تم نے جو یوسف کے ساتھ کیا وہ بڑی زیادتیاں ہیں ۔
بولے اے عزیز! اس کے ایک باپ ہیں بوڑھے بڑے (ف۱۸۲) تو ہم میں اس کی جگہ کسی کو لے لو، بیشک ہم تمہارے احسان دیکھ رہے ہیں،
They said, “O governor! He has a very aged father, so take one of us in his stead; indeed we witness your favours.”
भाई बोले अगर यह चोरी करे तो बेशक इससे पहले इसका भाई चोरी कर चुका है तो यूसुफ ने यह बात अपने दिल में रखी और उन पर ज़ाहिर न की, जी में कहा तुम बदतर जगह हो और अल्लाह खूब जानता है जो बातें बनाते हो,
Bhai bole, “Agar ye chori kare to beshak us se pehle us ka bhai chori kar chuka hai.” To Yusuf ne ye baat apne dil mein rakhi aur un par zaahir na ki, jee mein kaha, “Tum badtar jagah ho,” aur Allah khoob jaanta hai jo baatein banate ho.
(ف182)ان سے مَحبت رکھتے ہیں اور انہیں سے ان کے دل کی تسلّی ہے ۔
کہا (ف۱۸۳) خدا کی پناہ کہ ہم میں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا (ف۱۸٤) جب تو ہم ظالم ہوں گے،
He said, “The refuge of Allah from that we should take anyone except him with whom our property was found – we would then surely be unjust.”
बोले ऐ अज़ीज़! इसके एक बाप हैं बूढ़े बड़े तो हम में इसकी जगह किसी को ले लो, बेशक हम तुम्हारे एहसान देख रहे हैं,
Bole, “Aye Aziz! Us ke ek baap hain, boorhay bade, to hum mein us ki jagah kisi ko le lo, beshak hum tumhare ehsan dekh rahe hain.”
(ف183)حضرت یوسف علیہ السلام نے ۔(ف184)کیونکہ تمہارے فیصلہ سے ہم اسی کو لینے کے مستحق ہیں جس کے کجاوے میں ہمارا مال ملا اگر ہم بجائے اس کے دوسرے کو لیں ۔
پھر جب اس سے ناامید ہوئے الگ جاکر سرگوشی کرنے لگے، ان کا بڑا بھائی بولا کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لے لیا تھا اور اس سے پہلے یوسف کے حق میں تم نے کیسی تقصیر کی تو میں یہاں سے نہ ٹلوں گا یہاں تک کہ میرے باپ (ف۱۸۵) اجازت دیں یا اللہ مجھے حکم فرمائے (ف۱۸٦) اور اس کا حکم سب سے بہتر،
So when they did not anticipate anything from him, they went away and started consulting each other; their eldest brother said, “Do you not know that your father has taken from you an oath upon Allah, and before this, how you had failed in respect of Yusuf? Therefore I will not move from here until my father permits or Allah commands me; and His is the best command.”
कहा ख़ुदा की पनाह कि हम में मगर उसी को जिसके पास हमारा माल मिला जब तो हम ज़ालिम होंगे,
Kaha, “Khuda ki panah! Ke hum mein magar usi ko jis ke paas humara maal mila, jab tu hum zalim honge.”
(ف185)میرے واپس آنے کی ۔(ف186)میرے بھائی کو خلاصی دے کر یا اس کو چھوڑ کر تمہارے ساتھ چلنے کا ۔
اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی (ف۱۸۷) اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی (ف۱۸۸) اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے (ف۱۸۹)
“Return to your father and then submit, ‘O our father! Indeed your son has stolen; we were witness only to what we know and we were not guardians of the unseen.’
फिर जब उससे ना उम्मीद हुए अलग जा कर सरगुशी करने लगे, उनका बड़ा भाई बोला क्या तुम्हें खबर नहीं कि तुम्हारे बाप ने तुम से अल्लाह का अहमद ले लिया था और उससे पहले यूसुफ के हक़ में तुमने कैसी तक़्सीर की तो मैं यहाँ से न टलूँगा यहाँ तक कि मेरे बाप इजाज़त दें या अल्लाह मुझे हुक्म फ़रमाए और उसका हुक्म सबसे बेहतर,
Phir jab us se naa-umeed hue, alag ja kar sargoshi karne lage, un ka bada bhai bola, “Kya tumhein khabar nahi ke tumhare baap ne tum se Allah ka ahd le liya tha, aur us se pehle Yusuf ke haq mein tum ne kaisi taqseer ki? To main yahan se na taloon ga, yahan tak ke mere baap ijaazat dein, ya Allah mujhe hukum farmaaye, aur us ka hukum sab se behtar.”
(ف187)یعنی ان کی طرف چوری کی نسبت کی گئی ۔(ف188)کہ پیالہ ان کے کجاوہ میں نکلا ۔(ف189)اور ہمیں خبر نہ تھی کہ یہ صورت پیش آئے گی ، حقیقتِ حال اللہ ہی جانے کہ کیا ہے اور پیالہ کس طرح بنیامین کے ساما ن سے برآمد ہوا ۔
اور اس بستی سے پوچھ دیکھئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے، اور ہم بیشک سچے ہیں (ف۱۹۰)
‘And ask the township in which we were, and the caravan in which we came; and indeed we are truthful.’”
अपने बाप के पास लौट कर जाओ फिर अर्श करो ऐ हमारे बाप बेशक आपके बेटे ने चोरी की और हम तो इतनी ही बात के गवाह हुए थे जितनी हमारे इल्म में थी और हम ग़ैब के निगहबान न थे
Apne baap ke paas laut kar jao, phir arz karo, “Aye humare baap! Beshak aap ke betay ne chori ki, aur hum to itni hi baat ke gawaah hue the jitni humare ilm mein thi, aur hum ghaib ke nigehban na the.”
(ف190)پھر یہ لوگ اپنے والد کے پاس واپس آئے اور سفر میں جو کچھ پیش آیا تھا اس کی خبر دی اور بڑے بھائی نے جو کچھ بتا دیا تھا وہ سب والد سے عرض کیا ۔
کہا (ف۱۹۱) تمہارے نفس نے تمہیں کچھ حیلہ بنادیا، تو اچھا صبر ہے، قریب ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا، ملائے (ف۱۹۲) بیشک وہی علم و حکمت والا ہے،
Said Yaqub, “Your souls have fabricated an excuse for you; therefore patience is excellent; it is likely that Allah will bring all* of them to me; undoubtedly only He is the All Knowing, the Wise.” (* All three including Yusuf.)
और उस बस्ती से पूछ देखिए जिसमें हम थे और उस क़ाफ़िले से जिसमें हम आए, और हम बेशक सच्चे हैं
Aur us basti se pooch dekho jismein hum the, aur us qafila se jismein hum aaye, aur hum beshak sache hain.
(ف191)حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہ چوری کی نسبت بنیامین کی طرف غلط ہے اور چوری کی سزا غلام بنانا ، یہ بھی کوئی کیا جانے اگر تم فتوٰی نہ دیتے اور تمہیں نہ بتاتے تو ۔(ف192)یعنی حضرت یوسف کو اور ان کے دونوں بھائیوں کو ۔
اور ان سے منہ پھیرا (ف۱۹۳) اور کہا ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں (ف۱۹٤) وہ غصہ کھاتا رہا،
And he turned away from them and said, “Alas – the separation from Yusuf!” and his eyes turned white with sorrow, he therefore kept suppressing his anger.
कहा तुम्हारे नफ़्स ने तुम्हें कुछ हिला बना दिया, तो अच्छा सब्र है, क़रीब है कि अल्लाह इन सब को मुझ से ला, मिलाए बेशक वही इल्म व हिकमत वाला है,
Kaha, “Tumhare nafs ne tumhein kuch hila bana diya, to achha sabr hai, qareeb hai ke Allah in sab ko mujh se la, milaye, beshak wahi ilm o hikmat wala hai.”
(ف193)حضرت یعقوب علیہ السلام نے بنیامین کی خبر سن کر اور آپ کا غم و اندوہ انتہا کو پہنچ گیا ۔(ف194)روتے روتے آنکھ کی سیاہی کا رنگ جاتا رہا اور بینائی ضعیف ہو گئی ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کی جدائی میں حضرت یعقوب علیہ السلام اسّی۸۰ برس روتے رہے اور احباء کے غم میں رونا جو تکلیف اور نمائش سے نہ ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی شکایت و بے صبری نہ پائی جائے رحمت ہے ۔ ان غم کے ایام میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبانِ مبارک پر کبھی کوئی کلمہ بے صبری کا نہ آیا ۔(ف195)برادرانِ یوسف اپنے والد سے ۔
کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں (ف۱۹٦) اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۱۹۷)
He said, “I complain of my worry and grief only to Allah, and I know the great traits of Allah which you do not know.”
बोले ख़ुदा की कसम! आप हमेशा यूसुफ की याद करते रहेंगे यहाँ तक कि ग़ोर किनारे जा लगें या जान से गुजर जाएँ,
Bole, “Khuda ki kasam! Aap hamesha Yusuf ki yaad karte rahenge, yahan tak ke gor kinare ja lagen ya jaan se guzar jaayein.”
(ف196)تم سے یا اور کسی سے نہیں ۔(ف197)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام جانتے تھے کہ یوسف علیہ السلام زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان کا خواب حق ہے ، ضرور واقع ہوگا ۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ نے حضرت مَلَک الموت سے دریافت کیا کہ تم نے میرے بیٹے یوسف کی روح قبض کی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں ، اس سے بھی آپ کو ان کی زندگانی کا اطمینان ہوا اور آپ نے اپنے فرزندوں سے فرمایا ۔
اے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بیشک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ (ف۱۹۸)
“O my sons, go and search for Yusuf and his brother, and do not lose hope in the mercy of Allah; indeed none lose hope in the mercy of Allah except the disbelieving people.”
कहा मैं तो अपनी परेशानी और ग़म की फ़रियाद अल्लाह ही से करता हूँ और मुझे अल्लाह की वह शानें मालूम हैं जो तुम नहीं जानते
Kaha, “Main to apni pareshani aur gham ki faryaad Allah hi se karta hoon, aur mujhe Allah ki woh shaanain maloom hain jo tum nahi jaante.”
(ف198)یہ سن کر برادرانِ حضرت یوسف علیہ السلام پھر مِصر کی طرف روانہ ہوئے ۔
پھر جب وہ یوسف کے پاس پہنچے بولے اے عزیز ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو مصیبت پہنچی (ف۱۹۹) اور ہم بےقدر پونجی لے کر آئے ہیں (ف۲۰۰) تو آپ ہمیں پورا ناپ دیجئے (ف۲۰۱) اور ہم پر خیرات کیجئے (ف۲۰۲) بیشک اللہ خیرات والوں کو صلہ دیتا ہے (ف۲۰۳)
Then when they reached in the company of Yusuf they said, “O governor! Calamity has struck us and our household, and we have brought goods of little value, so give us the full measure and be generous to us; undoubtedly Allah rewards the generous.”
ऐ बेटो! जाओ यूसुफ और उसके भाई का सुराग लगाओ और अल्लाह की रहमत से मायूस न हो, बेशक अल्लाह की रहमत से ना उम्मीद नहीं होते मगर काफ़िर लोग
“Aye beto! Jao, Yusuf aur us ke bhai ka suraagh lagao, aur Allah ki rehmat se mayoos na ho, beshak Allah ki rehmat se na mayoos hote, magar kafir log.”
(ف199)یعنی تنگی اور بھوک کی سختی اور جسموں کا دبلا ہو جانا ۔(ف200)ردی کھوٹی جسے کوئی سوداگر مال کی قیمت میں قبول نہ کرے وہ چند کھوٹے درہم تھے اور اثاث البیت کی چند پرانی بوسیدہ چیزیں ۔(ف201)جیسا کھرے داموں سے دیتے تھے ۔(ف202)یہ ناقص پونجی قبول کر کے ۔(ف203)ان کا یہ حال سن کر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام پر گریہ طاری ہوا اور چشمِ گوہر فشاں سے اشک رواں ہو گئے اور ۔
بولے کچھ خبر ہے تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا جب تم نادان تھے (ف۲۰٤)
He said, “Are you aware of what you did to Yusuf and his brother when you were unwise?”
फिर जब वे यूसुफ के पास पहुँचे बोले ऐ अज़ीज़ हमें और हमारे घर वालों को मसीबत पहुँची और हम बे क़दर पौंजी लेकर आए हैं तो आप हमें पूरा नाप दीजिए और हम पर खैरात कीजिए बेशक अल्लाह खैरात वालों को सिला देता है
Phir jab woh Yusuf ke paas pohanche, bole, “Aye Aziz! Humein aur humare ghar walon ko museebat pohanchi, aur hum be-qadr ponji lekar aaye hain, to aap humein poora naap dijiye, aur hum par khairat kijiye, beshak Allah khairat walon ko sila deta hai.”
(ف204)یعنی حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو مارنا ، کنوئیں میں گرانا ، بیچنا ، والد سے جدا کرنا اور ان کے بعد ان کے بھائی کو تنگ رکھنا ، پریشان کرنا تمہیں یاد ہے اور یہ فرماتے ہوئے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کو تبسم آ گیا اور انہوں نے آپ کے گوہرِ دندان کا حسن دیکھ کر پہچانا کہ یہ تو جمالِ یوسفی کی شان ہے ۔
بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں، کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی، بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا (ف۲۰۵) بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا (ف۲۰٦)
They said, “Are you, in truth you, really Yusuf?” He said, “I am Yusuf and this is my brother; indeed Allah has bestowed favour upon us; undoubtedly whoever practices piety and patience – so Allah does not waste the wages of the righteous.”
बोले कुछ ख़बर है तुम ने यूसुफ और उसके भाई के साथ क्या किया था जब तुम नादान थे
Bole, “Kuch khabar hai tum ne Yusuf aur us ke bhai ke saath kya kiya tha, jab tum nadan the?”
(ف205)ہمیں جدائی کے بعد سلامتی کے ساتھ ملایا اور دنیا اور دین کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا ۔(ف206)برادرانِ حضرت یوسف علیہ السلام بہ طریقِ عذر خواہی ۔
بولے خدا کی قسم! بیشک اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور بیشک ہم خطاوار تھے (ف۲۰۷)
They said, “By Allah, undoubtedly Allah has given you superiority over us, and we were indeed guilty.”
बोले क्या सच मच आप ही यूसुफ हैं, कहा मैं यूसुफ हूँ और यह मेरा भाई, बेशक अल्लाह ने हम पर एहसान किया बेशक जो परहेज़ गारी और सब्र करे तो अल्लाह नेक़ों का निघ (अज़र) ज़ाया नहीं करता
Bole, “Kya sach much aap hi Yusuf hain?” Kaha, “Main Yusuf hoon, aur ye mera bhai, beshak Allah ne hum par ehsan kiya, beshak jo parhezgari aur sabr kare to Allah nekon ka negh (ajr) zaya nahi karta.”
(ف207)اسی کا نتیجہ ہے کہ اللہ نے آپ کو عزّت دی ، بادشاہ بنایا اور ہمیں مسکین بنا کر آپ کے سامنے لایا ۔
کہا آج (ف۲۰۸) تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے (ف۲۰۹)
He said, “There is no reproach on you, this day! May Allah forgive you – and He is the Utmost Merciful, of all those who show mercy.”
बोले ख़ुदा की कसम! बेशक अल्लाह ने आपको हम पर फ़ज़ीलत दी और बेशक हम खता वार थे
Bole, “Khuda ki kasam! Beshak Allah ne aap ko hum par fazilat di, aur beshak hum khatawaar the.”
(ف208)اگرچہ ملامت کرنے کا دن ہے مگر میری جانب سے ۔(ف209)اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سے اپنے والد ماجد کا حال دریافت کیا ، انہوں نے کہا آپ کی جدائی کے غم میں روتے روتے ان کی بینائی بحال نہیں رہی ، آپ نے فرمایا ۔
میرا یہ کرتا لے جاؤ (ف۲۱۰) اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آؤ ،
“Take along this shirt of mine and lay it on my father’s face, his vision will be restored; and bring your entire household to me.” (Prophet Yusuf knew that this miracle would occur.)
कहा आज तुम पर कुछ मलामत नहीं, अल्लाह तुम्हें माफ़ करे, और वह सब मेहरबानों से बढ़कर मेहरबान है
Kaha, “Aaj tum par kuch mulaamat nahi, Allah tumhein maaf kare, aur woh sab meherbano se barh kar meherban hai.”
(ف210)جو میرے والد ماجد نے تعویذ بنا کر میرے گلے میں ڈال دیا تھا ۔
جب قافلہ مصر سے جدا ہوا (ف۲۱۱) یہاں ان کے باپ نے (ف۲۱۲) کہا بیشک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سٹھ (بہک) گیا ہے،
When the caravan left Egypt, their father said*, “Indeed I sense the fragrance of Yusuf, if you do not call me senile.” (* Prophet Yaqub said this in Palestine, to other members of his family. He could discern the fragrance of Prophet Yusuf’s shirt from far away.)
मेरा यह करता ले जाओ इसे मेरे बाप के मुँह पर डालो उनकी आँखें खुल जाएँगी और अपने सब घर भर को मेरे पास ले आओ,
“Mera ye kurta le jao, ise mere baap ke munh par daalo, un ki aankhein khul jaayengi, aur apne sab ghar bhar ko mere paas le aao.”
(ف211)اور کنعان کی طرف روانہ ہوا ۔(ف212)اپنے پو توں اور پاس والوں سے ۔
پھر جب خوشی سنانے والا آیا (ف۲۱٤) اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں) کہ میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے (ف۲۱۵)
Then when the bearer of glad tidings came, he laid the shirt on his face, he therefore immediately regained his eyesight*; he said, “Was I not telling you? I know the great traits of Allah which you do not know!” (This was a miracle that took place by applying Prophet Yusuf’s shirt.)
बेटे बोले ख़ुदा की कसम! आप अपनी इसी पुरानी खुद رفتगी में हैं
Bete bole, “Khuda ki kasam! Aap apni isi purani khud raftagi mein hain.”
(ف214)لشکر کے آگے آگے وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی یہودا تھے ، انہوں نے کہا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس خون آلودہ قمیص بھی میں ہی لے کر گیا تھا ، میں نے ہی کہا تھا کہ یوسف (علیہ السلام ) کو بھیڑیا کھا گیا ، میں نے ہی انہیں غمگین کیا تھا ، آج کُرتا بھی میں ہی لے کر جاؤں گا اور حضرت یوسف (علیہ السلام )کی زندگانی کی فرحت انگیز خبر بھی میں ہی سناؤں گا ، تو یہودا بَرَہۡنہ سر ، بَرَہۡنہ پا ، کُرتا لے کر اسّی۸۰ فرسنگ دوڑتے آئے ، راستہ میں کھانے کے لئے سات روٹیاں ساتھ لائے تھے ، فرطِ شوق کا یہ عالَم تھا کہ ان کو بھی راستہ میں کھا کر تمام نہ کر سکے ۔(ف215)حضرت یعقوب علیہ السلام نے دریافت فرمایا یوسف کیسے ہیں ؟ یہودا نے عرض کیا حضور وہ مِصر کے بادشاہ ہیں ۔ فرمایا میں بادشاہی کو کیا کروں ، یہ بتاؤ کس دین پر ہیں ؟ عرض کیا دینِ اسلام پر ، فرمایا الحمد للہِ اللہ کی نعمت پوری ہوئی ۔ برادرانِ حضرتِ یوسف علیہ السلام ۔
بولے اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کی معافی مانگئے بیشک ہم خطاوار ہیں،
They said, “O our father! Seek forgiveness for our sins, for we were indeed guilty.”
फिर जब खुशी सुनाने वाला आया उसने वह करता याकूब के मुँह पर डाला इसी वक्त उसकी आँखें फिर आईँ (देखने लगीं) कि मैं न कहता था कि मुझे अल्लाह की वह शानें मालूम हैं जो तुम नहीं जानते
Phir jab khushi sunane wala aaya, us ne woh kurta Ya’qub ke munh par daala, usi waqt us ki aankhein phir aayin (dekhne lagein), “Ke main na kehta tha, mujhe Allah ki woh shaanain maloom hain jo tum nahi jaante.”
(ف216)حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام نے وقتِ سحر بعدِ نماز ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالٰی کے دربار میں اپنے صاحبزادوں کے لئے دعا کی ، وہ قبول ہوئی اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو وحی فرمائی گئی کہ صاحبزادوں کی خطا بخش دی گئی ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد ماجد کو مع ان کے اہل و اولاد کے بلانے کے لئے اپنے بھائیوں کے ساتھ دو سو سواریاں اور کثیر سامان بھیجا تھا ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے مِصر کا ارادہ فرمایا اور اپنے اہل کو جمع کیا ، کل مرد و زن بہتّر یا تہتّر تن تھے ۔ اللہ تعالٰی نے ان میں یہ برکت فرمائی کہ ان کی نسل اتنی بڑھی کہ جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ بنی اسرائیل مِصر سے نکلے تو چھ لاکھ سے زیادہ تھے باوجود یکہ حضرت موسٰی علیہ السلام کا زمانہ اس سے صرف چار سو سال بعد ہے ۔ الحاصل جب حضرت یعقوب علیہ السلام مِصر کے قریب پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے مِصر کے بادشاہِ اعظم کو اپنے والد ماجد کی تشریف آوری کی اطلاع دی اور چار ہزار لشکر ی اور بہت سے مِصری سواروں کو ہمراہ لے کر آپ اپنے والد صاحب کے استقبال کے لئے صدہا ریشمی پھریرے اڑاتے ، قطاریں باندھے روانہ ہوئے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے فرزند یہودا کے ہاتھ پر ٹیک لگائے تشریف لا رہے تھے جب آپ کی نظر لشکر پر پڑ ی اور آپ نے دیکھا کہ صحرا زرق برق سواروں سے پر ہو رہا ہے ، فرمایا اے یہودا کیا یہ فرعونِ مِصر ہے جس کا لشکر اس شوکت و شکوہ سے آ رہا ہے ؟ عرض کیا نہیں یہ حضور کے فرزند یوسف ہیں علیہم السلام ۔ حضرت جبریل نے آپ کو متعجب دیکھ کر عرض کیا ، ہوا کی طرف نظر فرمایئے ، آپ کے سرور میں شرکت کے لئے ملائکہ حاضر ہوئے ہیں جو مدّتوں آپ کے غم کے سبب روتے رہے ہیں ، ملائکہ کی تسبیح نے اور گھوڑوں کے ہنہنانے نے اور طبل و بوق کی آوازوں نے عجیب کیفیت پیدا کر دی تھی ۔ یہ محرّم کی دسویں تاریخ تھی جب دونوں حضرات والد و ولد ، پدر و پسر قریب ہوئے ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام نے سلام عرض کرنے کا ارادہ ظاہرکیا ، جبریل علیہ السلام نے عرض کیا کہ آپ توقُّف کیجئے اور والد صاحب کو ابتداء بسلام کا موقع دیجئے چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامُذْھِبَ الْاَحْزَانِ ( یعنی اے غم و اندو ہ کے دور کرنے والے سلام ) اور دونوں صاحبوں نے اُتر کر معانقہ کیا اور مل کر خوب روئے پھر اس مزین فرود گاہ میں داخل ہوئے جو پہلے سے آپ کے استقبال کے لئے نفیس خیمے وغیرہ نصب کر کے آراستہ کی گئی تھی ، یہ دخول حدودِ مِصر میں تھا اس کے بعد دوسرا دخول خاص شہر میں ہے جس کا بیان اگلی آیت میں ہے ۔
(ف217)ماں سے یا خاص والدہ مراد ہیں اگر اس وقت تک زندہ ہوں یا خالہ ۔ مفسِّرین کے اس باب میں کئی اقوال ہیں ۔(ف218)یعنی خاص شہر میں ۔(ف219)جب مِصر میں داخل ہوئے اور حضرت یوسف اپنے تخت پر جلوہ افروز ہوئے آپ نے اپنے والدین کا اکرام فرمایا ۔
اور اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور سب (ف۲۲۰) اس کے لیے سجدے میں گرے (ف۲۲۱) اور یوسف نے کہا اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے (ف۲۲۲) بیشک اسے میرے رب نے سچا کیا، اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا (ف۲۲۳) اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی، بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے (ف۲۲٤)
And he seated his parents on the throne, and they all prostrated before him; and Yusuf said, “O my father! This is the interpretation of my former dream; my Lord has made it true; and indeed He has bestowed favour upon me, when He brought me out of prison and brought you all from the village, after Satan had created a resentment between me and my brothers; indeed my Lord may make easy whatever He wills; undoubtedly He is the All Knowing, the Wise.”
फिर जब वे सब यूसुफ के पास पहुँचे उसने अपने माँ बाप को अपने पास जगह दी और कहा मिस्र में दाख़िल हो अल्लाह चाहे तो अमान के साथ
Phir jab woh sab Yusuf ke paas pohanche, us ne apne maan baap ko apne paas jagah di, aur kaha, “Misr mein daakhil ho, Allah chahe to aman ke saath.”
(ف220)یعنی والدین اور سب بھائی ۔(ف221)یہ سجدہ تحیّت و تواضُع کا تھا جو ان کی شریعت میں جائز تھا جیسے کہ ہماری شریعت میں کسی معظّم کی تعظیم کے لئے قیام اور مصافحہ اور دست بوسی جائز ہے ۔ سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے سوا اورکسی کے لئے کبھی جائز نہیں ہوا نہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ شرک ہے اور سجدۂ تحیّت و تعظیم بھی ہماری شریعت میں جائز نہیں ۔(ف222)جو میں نے صِغر سنی یعنی بچپن کی حالت میں دیکھا تھا ۔(ف223)اس موقع پر آپ نے کنوئیں کا ذکر نہ کیا تاکہ بھائیوں کو شرمندگی نہ ہو ۔(ف224)اصحابِ تواریخ کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مِصر میں چوبیس سال بہترین عیش و آرام میں خوش حالی کے ساتھ رہے ، قریبِ وفات آپ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو وصیّت کی کہ آپ کا جنازہ مُلکِ شام میں لے جا کر ارضِ مقدسہ میں آپ کے والد حضرت اسحٰق علیہ السلام کی قبر شریف کے پاس دفن کیا جائے ، اس وصیت کی تعمیل کی گئی اور بعدِ وفات سال کی لکڑی کے تابوت میں آپ کا جسدِ اطہر شام میں لایا گیا ، اسی وقت آپ کے بھائی عیص کی وفات ہوئی اور آپ دونوں بھائیوں کی ولادت بھی ساتھ ہوئی تھی اور دفن بھی ایک ہی قبر میں کئے گئے اور دونوں صاحبوں کی عمر ایک سو پینتالیس ۱۴۵ سال تھی جب حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد اور چچا کو دفن کر کے مِصر کی طرف واپس روانہ ہوئے تو آپ نے یہ دعا کی جو اگلی آیت میں مذکور ہے ۔
اے میرے رب بیشک تو نے مجھے ایک سلطنت دی اور مجھے کچھ باتوں کا انجام نکالنا سکھایا، اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں، مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے مِلا جو تیرے قرب خاص کے لائق ہیں (ف۲۲۵)
“O my Lord! you have given me a kingdom* and have taught me how to interpret some events; O Creator of the heavens and the earth – you are my Supporter in the world and in the Hereafter; cause me to die as a Muslim, and unite me with those who deserve Your proximity.” (* Prophethood and the rule over Egypt. Prophet Yusuf said this prayer while his death approached him.)
और अपने माँ बाप को तख़्त पर बैठाया और सब उसके लिए सिज़्दे में गिरे और यूसुफ ने कहा ऐ मेरे बाप यह मेरे पहले ख्वाब की तबीर है बेशक इसे मेरे रब ने सचा किया, और बेशक उसने मुझ पर एहसान किया कि मुझे क़ैद से निकाला और आप सब को गाँव से ले आया बाद इसके कि शैतान ने मुझ में और मेरे भाइयों में नाचाक़ी करा दी थी, बेशक मेरा रब जिस बात को चाहे आसान कर दे बेशक वही इल्म व हिकमत वाला है
Aur apne maan baap ko takht par bithaya, aur sab us ke liye sajde mein gire, aur Yusuf ne kaha, “Aye mere baap! Ye mere pehle khwab ki tabeer hai, beshak ise mere Rab ne sachaa kiya, aur beshak us ne mujhe ehsan diya ke mujhe qaid se nikala aur aap sab ko gaon se le aaya, baad is ke ke shaitan ne mujhe aur mere bhaiyon mein nachaqqi kara di thi, beshak mera Rab jis baat ko chahe aasan kar de, beshak wahi ilm o hikmat wala hai.”
(ف225)یعنی حضرت ابراہیم و اسحٰق و حضرت یعقوب علیہم السلام ، انبیاء سب معصوم ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی یہ دعا تعلیمِ امّت کے لئے ہے کہ وہ حسنِ خاتمہ کی دعا مانگتے رہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد ماجد کے بعدتیٔس سال رہے اس کے بعد آپ کی وفات ہوئی ۔ آپ کے مقامِ دفن میں اہلِ مِصر کے اندر سخت اختلاف واقع ہوا ، ہر محلہ والے حصولِ برکت کے لئے اپنے ہی محلہ میں دفن کرنے پر مُصِر تھے ، آخر یہ رائےقرار پائی کہ آپ کو دریائے نیل میں دفن کیا جائے تاکہ پانی آپ کی قبر سے چھوتا ہوا گزرے اور اس کی برکت سے تمام اہلِ مِصر فیضیاب ہوں چنانچہ آپ کو سنگِ رخام یا سنگِ مرمر کے صندوق میں دریائے نیل کے اندر دفن کیا گیا اور آپ وہیں رہے یہانتک کہ چار سو برس کے بعد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام نے آپ کا تابوت شریف نکالا اور آپ کو آپ کے آبائے کرام کے پاس مُلکِ شام میں دفن کیا ۔
یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے (ف۲۲٦) جب انہوں نے اپنا کام پکا کیا تھا اور وہ داؤں چل رہے تھے (ف۲۲۷)
These are some tidings of the Hidden which We divinely reveal to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and you were not with them when they set their task and when they were scheming.
ऐ मेरे रब बेशक तू ने मुझे एक सल्तनत दी और मुझे कुछ बातों का अंज़ाम निकालना सिखाया, ऐ आसमानों और ज़मीन के बनाने वाले तू मेरा काम बनाने वाला है दुनिया और आख़िरत में, मुझे मुसलमान उठा और उनसे मिला जो तेरे क़रब ख़ास के लायक हैं
“Aye mere Rab! Beshak tu ne mujhe ek saltanat di, aur mujhe kuch baaton ka anjaam nikaalna sikhaya, aye aasmaano aur zameen ke banane wale, tu mera kaam banane wala hai, duniya aur aakhirat mein, mujhe Muslim uthaa, aur un se mila jo tere qurb khaas ke laayak hain.”
(ف226)یعنی برادرانِ یوسف علیہ السلام کے ۔(ف227)باوجود اس کے اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا ان تمام واقعات کو اس تفصیل سے بیان فرمانا غیبی خبر اور معجِزہ ہے ۔
And however much you long for, most men will not accept faith.
यह कुछ ग़ैब की खबरें हैं जो हम तुम्हारी तरफ वाही करते हैं और तुम उनके पास न थे जब उन्होंने अपना काम पका किया था और वे दाओं चल रहे थे
Ye kuch ghaib ki khabrein hain jo hum tumhari taraf wahi karte hain, aur tum un ke paas na the jab unhone apna kaam pakka kiya, aur woh daao chal rahe the.
اور کتنی نشانیاں ہیں (ف۲۲۹) آسمانوں اور زمین میں کہ اکثر لوگ ان پر گزرتے ہیں (ف۲۳۰) اور ان سے بےخبر رہتے ہیں،
And how many signs exist in the heavens and the earth, over which most people pass and remain unaware of them!
और तुम इस पर उनसे कुछ उज़रत न मांगते यह तो नहीं मगर सारे जहान को नसीहत,
Aur tum is par un se kuch ujrat na maangte, ye to nahi, magar saare jahan ko naseehat.
(ف229)خالِق اور اس کی توحید و صفات پر دلالت کرنے والی ، ان نشانیوں سے ہلاک شدہ اُمّتوں کے آثار مراد ہیں ۔(مدارک)(ف230)اور ان کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن تفکّر نہیں کرتے ، عبرت نہیں حاصل کرتے ۔
اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے (ف۲۳۱)
And most of them are such that they do not believe in Allah except while ascribing partners (to Him)!
और कितनी निशानियाँ हैं आसमानों और ज़मीन में कि अक्सर लोग इन पर गुज़रते हैं और उनसे बे खबर रहते हैं,
Aur kitni nishaniyan hain aasmaano aur zameen mein ke aksar log un par guzarte hain aur un se be-khabar rahte hain.
(ف231)جمہور مفسِّرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے رد میں نازِل ہوئی جو اللہ تعالٰی کی خالقیت و رزاقیت کا اقرار کرنے کے ساتھ بُت پرستی کر کے غیروں کو عبادت میں اس کا شریک کرتے تھے ۔
تم فرماؤ (ف۲۳۲) یہ میری راہ ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں میں اور جو میرے قدموں پر چلیں دل کی آنکھیں رکھتے ہیں ۰ف۲۳۳) اور اللہ کو پاکی ہے (ف۲۳٤) اور میں شریک کرنے والا نہیں،
Proclaim, “This is my path – I call towards Allah; I, and whoever follows me, are upon perception; and Purity is to Allah – and I am not of the polytheists.”
क्या इससे निडर हो बैठे कि अल्लाह का अज़ाब उन्हें आ कर घेरे या क़यामत पर अचानक आ जाए और उन्हें खबर न हो,
Kya is se nadhar ho baithay ke Allah ka azaab unhein aa kar gher le, ya qayamat un par achanak aa jaaye aur unhein khabar na ho?
(ف232)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان مشرکین سے کہ توحیدِ الٰہی اور دینِ اسلام کی دعوت دینا ۔(ف233)ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب احسن طریق اور افضل ہدایت پر ہیں ، یہ علم کے معدن ، ایمان کے خزانے ، رحمٰن کے لشکر ہیں ۔ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا طریقہ اختیار کرنے والوں کو چاہئے کہ گزرے ہوؤں کا طریقہ اختیار کریں ۔ وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ہیں جن کے دل امّت میں سب سے زیادہ پاک ، علم میں سب سے عمیق ، تکلّف میں سب سے کم ، ایسے حضرات ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنی نبی علیہ الصلٰوۃ و السلام کی صحبت اور ان کے دین کی اشاعت کے لئے برگزیدہ کیا ۔(ف234)تمام عیوب و نقائص اور شرکا و اضداد و انداد سے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے (ف۲۳۵) جنہیں ہم وحی کرتے اور سب شہر کے ساکن تھے (ف۲۳٦) تو یہ لوگ زمین پر چلے نہیں تو دیکھتے ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا (ف۲۳۷) اور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر تو کیا تمہیں عقل نہیں،
And all the Noble Messengers We sent before you, were exclusively men – towards whom We sent the divine revelations, and were dwellers of townships; so have not these people travelled in the land and seen what sort of fate befell those before them? And undoubtedly the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?
तुम फ़रमाओ यह मेरी राह है मैं अल्लाह की तरफ बुलाता हूँ मैं और जो मेरे क़दमों पर चलें दिल की आँखें रखते हैं और अल्लाह को पाकी है और मैं शरीक करने वाला नहीं,
Tum farmaao, “Ye meri raah hai, main Allah ki taraf bulata hoon, main aur jo mere qadamon par chalne dil ki aankhein rakhte hain, aur Allah ko paaki hai aur main shareek nahi karta.”
(ف235)نہ فرشتے ، نہ کسی عورت کو نبی بنایا گیا ۔ یہ اہلِ مکّہ کا جواب ہے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ نے فرشتوں کو کیوں نہ نبی بنا کر بھیجا ؟ انہیں بتایا گیا کہ یہ کیا تعجب کی بات ہے ، پہلے ہی سے کبھی فرشتے نبی ہو کر نہ آئے ۔(ف236)حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اہلِ بادیہ اور جنّات اور عورتوں میں سے کبھی کوئی نبی نہیں کیا گیا ۔(ف237)انبیاء کے جھٹلائے سے کس طرح ہلاک کئے گئے ۔
یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی (ف۲۳۸) اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے غلط کہا تھا (ف۲۳۹) اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا (ف۲٤۰) اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا،
To the extent that when the Noble Messengers lost hope from the visible means, and the people thought that they had spoken wrongly, Our help came to them – therefore whoever We willed was saved; and Our punishment is never averted from the guilty.
और हमने तुम से पहले जितने रसूल भेजे सब मर्द ही थे जिन्हें हम वाही करते और सब शहर के साक़िन थे तो ये लोग ज़मीन पर चले नहीं तो देखते उनसे पहलुओं का क्या अंज़ाम हुआ और बेशक आख़िरत का घर परहेज़गारों के लिए बेहतर तो क्या तुम्हें अकल नहीं,
Aur hum ne tum se pehle jitne rasool bheje, sab mard hi the, jinhein hum wahi karte, aur sab shehar ke sakin the, to ye log zameen par chale nahi, to dekho un se pehle ka kya anjaam hua, aur beshak aakhirat ka ghar parhezgaron ke liye behtar, to kya tumhein aqal nahi?
(ف238)یعنی لوگوں کو چاہئے کہ عذابِ الٰہی میں تاخیر ہونے اور عیش و آسائش کے دیر تک رہنے پر مغرور نہ ہو جائیں کیونکہ پہلی اُمّتوں کو بھی بہت مہلتیں دی جا چکی ہیں یہاں تک کہ جب ان کے عذابوں میں بہت تاخیر ہوئی اور بہ اسبابِ ظاہر رسولوں کو قوم پر دنیا میں ظاہر عذاب آنے کی امید نہ رہی ۔ (ابوالسعود) (ف239)یعنی قوموں نے گمان کیا کہ رسولوں نے انہیں جو عذاب کے وعدے دیئے تھے وہ پورے ہونے والے نہیں ۔ (مدارک وغیرہ)(ف240)اپنے بندوں میں سے یعنی اطاعت کرنے والے ایمانداروں کو بچا لیا ۔
بیشک ان کی خبروں سے (ف۲٤۱) عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں (ف۲٤۲) یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں (ف۲٤۳) لیکن اپنوں سے اگلے کاموں کی (ف۲٤٤) تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت،
Indeed in their tidings is enlightenment for the men of understanding; this (the Qur’an) is not some made up story but a confirmation of the Books before it, and a detailed explanation of all things, and a guidance and a mercy for the Muslims.
यहाँ तक जब रसूलों को ज़ाहिरी असबाब की उम्मीद न रही और लोग समझे कि रसूलों ने गलत कहा था उस वक्त हमारी मदद आई तो जिसे हमने चाहा बचा लिया गया और हमारा अज़ाब मुज़रिमों से फैरा नहीं जाता,
Yahan tak jab rasoolon ko zahiri asbaab ki umeed na rahi, aur log samjhe ke rasoolon ne ghalat kaha tha, is waqt humari madad aayi, to jise hum ne chaaha bacha liya, aur humara azaab mujrimoon se phaira nahi jaata.
(ف241)یعنی انبیاء کی اور ان کی قوموں کی ۔(ف242)جیسے کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے واقعہ سے بڑے بڑے نتائج نکلتے ہیں اورمعلوم ہوتا ہے کہ صبر کا نتیجہ سلامت و کرامت ہے اور ایذا رسانی و بدخواہی کا انجام ندامت اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والا کامیاب ہوتا ہے اور بندے کو سختیوں کے پیش آنے سے مایوس نہ ہونا چاہیئے ۔ رحمتِ الٰہی دست گیری کرے تو کسی کی بدخواہی کچھ نہیں کر سکتی ۔ اس کے بعد قرآنِ پاک کی نسبت ارشاد ہوتا ہے ۔(ف243)جس کو کسی انسان نے اپنی طرف سے بنا لیا ہو کیونکہ اس کا اعجاز اس کے مِنَ اللہ ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتا ہے ۔(ف244)توریت انجیل وغیرہ کُتبِ الٰہیہ کی ۔
یہ کتاب کی آیتیں ہیں (ف۲) اور وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۳) حق ہے (ف٤) مگر اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے (ف۵)
Alif-Lam-Meem-Ra*; these are verses of the Book; and that which has been sent down upon you from your Lord is true, but most men do not believe. (* Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
यह किताब की आयते हैं और वह जो तुम्हारी तरफ तुम्हारे रब के पास से उतरा हक है मगर अक्सर आदमी ईमान नहीं लाते
Ye kitaab ki aayatein hain aur woh jo tumhari taraf tumhare Rab ke paas se utra haq hai magar aksar aadmi imaan nahi laate
(ف2)یعنی قرآن شریف کی ۔(ف3)یعنی قرآن شریف ۔(ف4)کہ اس میں کچھ شبہ نہیں ۔(ف5)یعنی مشرکینِ مکّہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ کلام محمّدِ مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے انہوں نے خود بنایا ، اس آیت میں ان کا رد فرمایا اور اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی ربوبیت کے دلائل اور اپنے عجائبِ قدرت بیان فرمائے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں ۔
اللہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بےستونوں کے کہ تم دیکھو (ف٦) پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے اور سورج اور چاند کو مسخر کیا (ف۷) ہر ایک، ایک ٹھہرائے ہوئے وعدہ تک چلتا ہے (ف۸) اللہ کام کی تدبیر فرماتا اور مفصل نشانیاں بتاتا ہے (ف۹) کہیں تم اپنے رب رب کا ملنا یقین کرو (ف۱۰)
It is Allah Who raised up the heavens without columns for you to observe, then (in the manner befitting His Majesty) established Himself upon the Throne (of control), then subjected the sun and the moon; each one runs for up to an appointed term; Allah plans the works and explain the signs in detail, so that you may believe in meeting with your Lord.
अल्लाह है जिसने आसमानों को बुलंद किया बे स्तूनों के कि तुम देखो फिर अर्श पर इस्तवा फरमाया जैसा उसकी शान के लायक है और सूरज और चाँद को मख़सूर किया हर एक, एक ठहरे हुए वादा तक चलता है अल्लाह काम की तदबीर फरमाता और mufassal निशानियाँ बताता है कहीं तुम अपने रब रब का मिलना यकीन करो
Allah hai jis ne aasmanon ko buland kiya be sutoonon ke ke tum dekho phir Arsh par istiwa farmaaya jaisa us ki shaan ke laayak hai aur sooraj aur chaand ko maskhar kiya har ek, ek thahraye hue waada tak chalta hai Allah kaam ki tadbeer farmaata aur mufassal nishaaniyaan batata kahin tum apne Rab Rab ka milna yaqeen karo
(ف6)اس کے دو معنٰی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند کیا جیسا کہ تم ان کو دیکھتے ہو یعنی حقیقت میں کوئی ستون ہی نہیں ہے اور یہ معنٰی بھی ہو سکتے ہیں کہ تمھارے دیکھنے میں آنے والے ستونوں کے بغیر بلند کیا ، اس تقدیر پر معنٰی یہ ہوں گے کہ ستون تو ہیں مگر تمہارے دیکھنے میں نہیں آتے اور قولِ اول صحیح تر ہے اسی پر جمہور ہیں ۔ (خازن و جمل)(ف7)اپنے بندوں کے منافع اور اپنے بلاد کے مصالح کے لئے وہ حسبِ حکم گردش میں ہیں ۔(ف8)یعنی فنائے دنیا کے وقت تک ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ اجلِ مسمّٰی سے ان کے درجات و منازل مراد ہیں یعنی وہ اپنے منازل و درجات میں ایک غایت تک گردش کرتے ہیں جس سے تجاوز نہیں کرسکتے ، شمس و قمر میں سے ہر ایک کے لئے سیرِ خاص جہتِ خاص کی طرف سُرعت و بطؤ و حرکت کی مقدارِ خاص سے مقرر فرمائی ہے ۔(ف9)اپنے وحدانیت و کمالِ قدرت کی ۔(ف10)اور جانو کہ جو انسان کو نیستی کے بعد ہست کرنے پر قادر ہے وہ اس کو موت کے بعد بھی زندہ کرنے پر قادر ہے ۔
اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا اور اس میں لنگر (ف۱۱) اور نہریں بنائیں ، اور زمین ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے (ف۱۲) رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو (ف۱۳)
And it is He Who spread out the earth and made mountains as anchors and rivers in it; and in it made all kinds of fruits in pairs – He covers the night with the day; indeed in this are signs for people who ponder.
और वही है जिसने ज़मीन को फैला और इस में लंगर और नहरें बनाईँ, और ज़मीन हर क़िस्म के फल दो दो तरह के बनाए रात से दिन को छुपा लेता है, बेशक इस में निशानियाँ हैं धियान करने वालों को
Aur wahi hai jis ne zameen ko phela aur is mein langar aur nahrain banayin, aur zameen har qisam ke phal do do tarah ke banaye raat se din ko chhupa leta hai, beshak is mein nishaaniyaan hain dhyaan karne walon ko
(ف11)یعنی مضبوط پہاڑ ۔(ف12)سیاہ و سفید ، تُرش و شیریں ، صغیر و کبیر ، بَری و بُستانی ، گرم و سرد ، تر و خشک وغیرہ ۔(ف13)جو سمجھیں گے کہ یہ تمام آثار صانع حکیم کے وجود پر دلالت کرتے ہیں ۔
اور زمین کے مختلف قطعے ہیں اور ہیں پاس پاس (ف۱٤) اور باغ ہیں انگوروں کے اور کھیتی اور کھجور کے پیڑ ایک تھالے (تھال) سے اُگے اور الگ الگ سب کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے اور پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر کرتے ہیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (ف۱۵)
And in the earth are various regions, and are close to each other – and gardens of grapes and fields, and date-palms, growing from a single branch and separately, all being given one water; and in fruits, We make some better than others in eating; indeed in this are signs for people of intellect.
और ज़मीन के विभिन्न क़ट्हे हैं और हैं पास पास और बाग हैं अंगूरों के और खेती और खजूर के पेड़ एक थाले (थाल) से उगे और अलग अलग सब को एक ही पानी दिया जाता है और फलों में हम एक को दूसरे से बेहतर करते हैं, बेशक इस में निशानियाँ हैं अकल मंदों के लिए
Aur zameen ke mukhtalif qit’ey hain aur hain paas paas aur baagh hain angooron ke aur kheti aur khajoor ke ped ek thaalay (thaal) se uge aur alag alag sab ko ek hi paani diya jaata hai aur phalon mein hum ek ko doosre se behtar karte hain, beshak is mein nishaaniyaan hain aqal mandon ke liye
(ف14)ایک دوسرے سے ملے ہوئے ، ان میں سے کوئی قابلِ زراعت ہے کوئی ناقابل زراعت ۔ کوئی پتھریلا کوئی ریتلا ۔(ف15)حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اس میں بنی آدم کے قلوب کی ایک تمثیل ہے کہ جس طرح زمین ایک تھی اس کے مختلف قطعات ہوئے ، ان پر آسمان سے ایک ہی پانی برسا ، اس سے مختلف قسم کے پھل پُھول بیل بُوٹے اچھے بُرے پیدا ہوئے ۔ اسی طرح آدمی حضرت آدم سے پیدا کئے گئے ان پر آسمان سے ہدایت اتری ، اس سے بعض دل نرم ہوئے ان میں خشوع خضوع پیدا ہوا ، بعض سخت ہوگئے اور لہو و لغو میں مبتلا ہوئے تو جس طرح زمین کے قطعات اپنے پھول پھل میں مختلف ہیں اس طرح انسانی قلوب اپنے آثار و انوار و اسرار میں مختلف ہیں ۔
اور اگر تم تعجب کرو (ف۱٦) تو اچنبھا تو ان کے اس کہنے کا ہے کہ کیا ہم مٹی ہو کر پھر نئے بنیں گے (ف۱۷) وہ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہوئے اور وہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے (ف۱۸) اور وہ دوزخ والے ہیں انھیں اسی میں رہنا،
And if you are amazed, then indeed the amazement is at their saying that, “Will we, after having turned to dust, be created anew?” They are those who have disbelieved in their Lord; and they are those who will have shackles around their necks; and they are the people of hell; remaining in it forever.
और अगर तुम ताज्जुब करो तो अचम्भा तो उनके इस कहने का है कि क्या हम मिट्टी हो कर फिर नए बनेंगे वह हैं जो अपने रब से मंकर हुए और वे हैं जिनकी गर्दनों में तोक होंगे और वे दोज़ख वाले हैं इन्हें उसी में रहना,
Aur agar tum taajjub karo to achambha to un ke is kehne ka hai ke kya hum mitti ho kar phir naye banenge woh hain jo apne Rab se munkir hue aur woh hain jin ki gardanon mein tooq honge aur woh dozakh wale hain unhein usi mein rehna,
(ف16)اے محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کُفّار کی تکذیب کرنے سے باوجود یکہ آپ ان میں صادق و امین معروف تھے ۔(ف17)اور انہوں نے کچھ نہ سمجھا کہ جس نے ابتداءً بغیر مثال کے پیدا کردیا اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے ۔(ف18)روزِ قیامت ۔
اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں رحمت سے پہلے (ف۱۹) اور ان اگلوں کی سزائیں ہوچکیں (ف۲۰) اور بیشک تمہارا رب تو لوگوں کے ظلم پر بھی انھیں ایک طرح کی معافی دیتا ہے (ف۲۱) اور بیشک تمہارے رب کا عذاب سخت ہے (ف۲۲)
And they urge you to hasten the punishment before the mercy, whereas the punishments of those before them have concluded; and indeed your Lord gives the people a sort of pardon* despite their injustice; and indeed the punishment of your Lord is severe. (* By delaying their punishment despite their disbelief.)
और तुम से अज़ाब की जल्दी करते हैं रहमत से पहले और इन उगलों की सज़ाएँ हो चुकीं और बेशक तुम्हारा रब तो लोगों के ज़ुल्म पर भी उन्हें एक तरह की माफ़ी देता है और बेशक तुम्हारे रब का अज़ाब सख़्त है
Aur tum se azaab ki jaldi karte hain rehmat se pehle aur in ugloon ki sazaayein ho chuki aur beshak tumhara Rab to logon ke zulm par bhi unhein ek tarah ki maafi deta hai aur beshak tumhare Rab ka azaab sakht hai
(ف19)مشرکینِ مکّہ اور یہ جلدی کرنا بطریقِ تمسخُر تھا اور رحمت سے سلامت و عافیت مراد ہے ۔(ف20)وہ بھی رسولوں کی تکذیب اور عذاب کا تمسخُر کیا کرتے تھے ، ان کا حال دیکھ کر عبرت حاصل کرنا چاہیئے ۔(ف21)کہ ان کے عذاب میں جلدی نہیں فرماتا اور انہیں مہلت دیتا ہے ۔(ف22)جب عذاب فرمائے ۔
اور کافر کہتے ہیں ان پر ان کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری (ف۲۳) تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی (ف۲٤)
The disbelievers say, “Why is not a sign sent down upon him from his Lord?” You are purely a Herald of Warning, and a guide for all nations.
और का फर कहते हैं इन पर उनकी तरफ से कोई निशानी क्यों नहीं उतरी तुम तो डर सुनाने वाले हो और हर क़ौम के हादी
Aur kaafir kehte hain in par un ki taraf se koi nishani kyon nahi utri tum to dar sunane wale ho aur har qaum ke haadi
(ف23)کافِروں کا یہ قول نہایت بے ایمانی کا قول تھا جتنی آیات نازِل ہو چکی تھیں اور معجزات دکھائے جاچکے تھے سب کو انہوں نے کالعدم قرار دے دیا یہ انتہا درجہ کی نا انصافی اور حق دشمنی ہے جب حجّت قائم ہو چکے اور ناقابلِ انکار براہین پیش کر دیئے جائیں اور ایسے دلائل سے مدعا ثابت کردیا جائے جس کے جواب سے مخالفین کے تمام اہلِ علم و ہنر عاجز و متحیر رہیں اور انہیں لب ہلانا اور زبان کھولنا محال ہوجائے ۔ ایسے آیاتِ بیّنہ اور براہینِ واضحہ و معجزاتِ ظاہرہ دیکھ کر یہ کہہ دینا کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی ! روزِ روشن میں دن کا انکار کردینے سے بھی زیادہ بدتر اور باطل تر ہے اورحقیقت میں یہ حق کو پہچان کر اس سے عناد و فرار ہے ۔ کسی مدعا پر جب برہان قوی قائم ہو جائے پھر اس پر دوبارہ دلیل قائم کرنی ضروری نہیں رہتی اور ایسی حالت میں طلبِ دلیل عناد و مکابَرہ ہوتا ہے جب تک کہ دلیل کو مجروح نہ کردیا جائے کوئی شخص دوسری دلیل کے طلب کرنے کا حق نہیں رکھتا اور اگر یہ سلسلہ قائم کردیا جائے کہ ہر شخص کے لئے نئی برہان قائم کی جائے جس کو وہ طلب کرے اور وہی نشانی لائی جائے جو وہ مانگے تو نشانیوں کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا ۔ اس لئے حکمتِ الٰہیہ یہ ہے کہ انبیاء کو ایسے معجزات دیئے جاتے ہیں جن سے ہر شخص ان کے صدق و نبوّت کا یقین کرسکے اور بیشتر وہ اس قبیل سے ہوتے ہیں جس میں ان کی امّت اور ان کے عہد کے لوگ زیادہ مشق و مہارت رکھتے ہیں جیسے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں علمِ سحر اپنے کمال کو پہنچا ہوا تھا اور اس زمانہ کے لوگ سحر کے بڑے ماہرِ کامل تھے تو حضر ت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو وہ معجِزہ عطا ہوا جس نے سحر کو باطل کردیا اور ساحروں کو یقین دلا دیا کہ جو کمال حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دکھایا وہ ربّانی نشان ہے ، سحر سے اس کا مقابلہ ممکن نہیں ۔ اسی طرح حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں طب انتہائی عروج پر تھی ، حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کو شفائے امراض و احیائے اموات کا وہ معجِزہ عطا فرمایا گیا جس سے طب کے ماہر عاجز ہوگئے اور وہ اس یقین پر مجبور تھے کہ یہ کام طب سے ناممکن ہے ضرور یہ قدرت الٰہی کا ز بردست نشان ہے اسی طرح سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں عرب کی فصاحت و بلاغت اوجِ کمال پر پہنچی ہوئی تھی اور وہ لوگ خوش بیانی میں عالَم پر فائق تھے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ معجِزہ عطا فرمایا جس نے انہیں عاجز و حیران کردیا اور ان کے بڑے سے بڑے لوگ اور ان کے اہلِ کمال کی جماعتیں قرآنِ کریم کے مقابل ایک چھوٹی سی عبارت پیش کرنے سے بھی عاجز و قاصر رہیں اور قرآن کے اس کمال نے یہ ثابت کردیا کہ بیشک یہ ربّانی عظیم نشان ہے اور اس کا مثل بنا لانا بشری قوت کے امکان میں نہیں ۔ اس کے علاوہ اور صدہا معجزات سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش فرمائے جنہوں نے ہر طبقہ کے انسانوں کو آپ کے صدقِ رسالت کا یقین دلادیا ۔ ان معجزات کے ہوتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اتری کس قدر عناد اور حق سے مُکرنا ہے ۔(ف24)اپنی نبوّت کے دلائل پیش کرنے اور اطمینان بخش معجزات دکھا کر اپنی رسالت ثابت کر دینے کے بعد احکامِ الٰہیہ پہنچانے او رخدا کا خو ف دلانے کے سوا آپ پر کچھ لازم نہیں اور ہر ہر شخص کے لئے اس کی طلبیدہ جدا جدا نشانیاں پیش کرنا آپ پر ضروری نہیں جیسا کہ آپ سے پہلے ہادیوں ( انبیاء علیہم السلام کا ) طریقہ رہا ہے ۔
اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے (ف۲۵) اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں (ف۲٦) اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے (ف۲۵)
Allah knows all what is inside the womb of every female, and every increase and decrease of the wombs; and all things are with Him by a set measure.
अल्लाह जानता है जो कुछ किसी मादा के पेट में है और पेट जो कुछ घटते बढ़ते हैं और हर चीज़ उसके पास एक अंदाज़े से है
Allah jaanta hai jo kuch kisi maada ke pait mein hai aur pait jo kuch ghatte barhte hain aur har cheez us ke paas ek andaazay se hai
(ف25)نر مادہ ایک یا زیادہ و غیر ذالک ۔(ف26)یعنی مدّ ت میں کس کا حمل جلد وضع ہوگاکس کا دیر میں ۔ حمل کی کم سے کم مدّت جس میں بچہ پیدا ہو کر زندہ رہ سکے چھ ماہ ہے اور زیادہ سے زیادہ دو سال ۔ یہی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا اور اسی کے حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ قائل ہیں ۔ بعض مفسِّرین نے یہ بھی کہا ہے پیٹ کے گھٹنے بڑھنے سے بچہ کا قوی ، تام الخِلقت اور ناقص الخِلقت ہونا مراد ہے ۔(ف27)کہ اس سے گھٹ بڑھ نہیں سکتی ۔
برابر ہیں جو تم میں بات آہستہ کہے اور جو آواز سے اور جو رات میں چھپا ہے اور جو دن میں راہ چلتا ہے (ف۲۹)
Equal* are the one among you who speaks softly and one who speaks aloud, and one who is hidden during the night and one who walks during the daytime. (* For Allah.)
बराबर हैं जो तुम में बात आहिस्ता कहे और जो आवाज़ से और जो रात में छुपा है और जो दिन में राह चलता है
Barabar hain jo tum mein baat aahista kahe aur jo aawaaz se aur jo raat mein chhupa hai aur jo din mein raah chalta hai
(ف29)یعنی دل کی چھپی باتیں او رزبان سے بَاعلان کہی ہوئی اور رات کو چھپ کر کئے ہوئے عمل اور دن کو ظاہر طور پر کئے ہوئے کام سب اللہ تعالٰی جانتا ہے کوئی اس کے علم سے باہر نہیں ۔
آدمی کے لیے بدلی والے فرشتے ہیں اس کے آگے پیچھے (ف۳۰) کہ بحکم خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں (ف۳۱) بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود (ف۳۲) اپنی حالت نہ بدلیں، اور جب کسی قوم سے برائی چاہے (ف۳۳) تو وہ پھر نہیں سکتی، اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں (ف۳٤)
For man are angels of alternating duties, in front and behind him, who guard him by Allah’s command; indeed Allah does not change His favour upon any nation until they change their own condition; and when Allah wills misfortune for a nation, it cannot be repelled; and they do not have any supporter besides Him.
आदमी के लिए बदली वाले फ़रिश्ते हैं उसके आगे पीछे कि बहकम ख़ुदा उसकी हिफ़ाज़त करते हैं बेशक अल्लाह किसी क़ौम से अपनी नेअमत नहीं बदलता जब तक वह खुद अपनी हालत न बदलें, और जब किसी क़ौम से बुराई चाहे तो वह फिर नहीं सकती, और उसके सिवा उनका कोई हामियाती नहीं
Aadmi ke liye badli wale farishte hain us ke aage peechhe ke bah-khukda us ki hifazat karte hain beshak Allah kisi qaum se apni ne’mat nahi badalta jab tak woh khud apni haalat na badlein, aur jab kisi qaum se burai chahe to woh phir nahi sakti, aur us ke siwa un ka koi hamiyaati nahi
(ف30)بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ تم میں فرشتے نوبت بہ نوبت آتے ہیں ، رات اور دن میں اور نمازِ فجر اور نمازِ عصرمیں جمع ہوتے ہیں ، نئے فرشتے رہ جاتے ہیں اور جو فرشتے رہ چکے ہیں وہ چلے جاتے ہیں ، اللہ تعالٰی ان سے فرماتا ہے کہ تم نے میرے بندے کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ نماز پڑھتے پایا اور نماز پڑھتے چھوڑا ۔(ف31)مجاہد نے کہا ہر بندے کے ساتھ ایک فرشتہ حفاظت پر مامور ہے جو سوتے جاگتے جن و انس اور موذی جانوروں سے اس کی حفاظت کرتا ہے اور ہر ستانے والی چیز کو اس سے روک دیتا ہے بجز اس کے جس کا پہنچنا مشیت میں ہو ۔(ف32)مَعاصی میں مبتلا ہو کر ۔(ف33)اس کے عذاب و ہلاک کا ارادہ فرمائے ۔(ف34)جو اس کے عذاب کو روک سکے ۔
وہی ہے تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈر کو اور امید کو (ف۳۵) اور بھاری بدلیاں اٹھاتا ہے،
It is He Who shows you the lightning, for fear and for hope, and raises the heavy clouds.
वही है तुम्हें बिजली दिखाता है डर को और उम्मीद को और भारी बदलीयाँ उठाता है,
Wahi hai tumhein bijli dikhata hai dar ko aur umeed ko aur bhaari badliyaan uthaata hai,
(ف35)کہ اس سے گر کر نقصان پہنچانے کا خوف ہوتا ہے اور بارش سے نفع اٹھانے کی امید یا بعضوں کو خوف ہوتا ہے جیسے مسافروں کو جو سفر میں ہوں اور بعضوں کو فائدہ کی امید جیسے کہ کاشتکار وغیرہ ۔
اور گرج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے (ف۳٦) اور فرشتے اس کے ڈر سے (ف۳۷) اور کڑک بھیجتا ہے (ف۳۸) تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں (ف۳۹) اور اس کی پکڑ سخت ہے،
And the thunder proclaims His purity with praise, and the angels out of fear of Him; and He sends the bolt of lightning – it therefore strikes upon whom He wills, whilst they are disputing concerning Allah; and severe is His seizure.
और गर ज इसे सराहती हुई उसकी पाक़ी बोलती है और फ़रिश्ते उसके डर से और कड़क भीजता है तो इसे डालता है जिस पर चाहे और वह अल्लाह में झगड़ते होते हैं और उसकी पकड़ सख़्त है,
Aur gar j ise sarahati hui us ki paaki bolti hai aur farishte us ke dar se aur kadak bhejta hai to ise daalta hai jis par chahe aur woh Allah mein jhagdte hote hain aur us ki pakad sakht hai,
(ف36)گرج یعنی بادل سے جو آواز ہوتی ہے اس کے تسبیح کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس آواز کا پیدا ہونا خالِق ، قادر ، ہر نقص سے منزّہ کے وجود کی دلیل ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ تسبیحِ رعد سے وہ مراد ہے کہ اس آواز کو سن کر اللہ کے بندے اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔ بعض مفسِّرین کا قو ل ہے کہ رعد ایک فرشتہ کا نام ہے جو بادل پر مامور ہے اس کو چلاتا ہے ۔(ف37)یعنی اس کی ہیبت و جلال سے اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔(ف38)صاعقہ وہ شدید آواز ہے جو جَوّ ( آسمان و زمین کے درمیان ) سے اترتی ہے پھر اس میں آ گ پیدا ہو جاتی ہے یا عذاب یا موت اور وہ اپنی ذات میں ایک ہی چیز ہے اور یہ تینوں چیزیں اسی سے پیدا ہوتی ہیں ۔ (خازن) (ف39)شانِ نُزول : حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب کے ایک نہایت سرکش کافِر کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے اپنے اصحاب کی ایک جماعت بھیجی ، انہوں نے اس کو دعوت دی کہنے لگا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا ربّ کون ہے جس کی تم مجھے دعوت دیتے ہو ، کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا یا لوہے کا یا تانبے کا ؟ مسلمانوں کو یہ بات بہت گراں گزری اور انہوں نے واپس ہو کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ایسا اکفر ، سیاہ دل ، سرکش دیکھنے میں نہیں آیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کے پاس پھر جاؤ ، اس نے پھر وہی گفتگو کی اور اتنا اور کہا کہ محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت قبول کرکے ایسے ربّ کو مان لوں جسے نہ میں نے دیکھا نہ پہچانا ۔ یہ حضرات پھر واپس ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور اس کا خُبث تو اور ترقی پر ہے ، فرمایا پھر جاؤ ، بہ تعمیل ارشاد پھر گئے جس وقت اس سے گفتگو کر رہے تھے اور وہ ایسی ہی سیاہ دلی کی باتیں بک رہا تھا ، ایک ابر آیا اس سے بجلی چمکی اور کڑک ہوئی اور بجلی گری اور اس کافِر کو جلادیا ۔ یہ حضرات اس کے پاس بیٹھے رہے اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو راہ میں انہیں اصحابِ کرام کی ایک اور جماعت ملی وہ کہنے لگے کہیے وہ شخص جل گیا ، ان حضرات نے کہا آپ صاحبوں کو کیسے معلوم ہوگیا ؟ انہوں نے فرمایا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وحی آئی ہے۔ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَآ مَنْ یَّشَآءُ وَھُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰہ ِ (خازن) بعض مفسِّرین نے ذکر کیا ہے کہ عامر بن طفیل نے اربد بن ربیعہ سے کہا محمّدِ مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس چلو میں انہیں باتوں میں لگاؤں گا تو پیچھے سے تلوار سے حملہ کرنا ، یہ مشورہ کرکے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عامر نے حضور سے گفتگو شروع کی بہت طویل گفتگو کے بعد کہنے لگا کہ اب ہم جاتے ہیں اور ایک بڑا جرّار لشکر آپ پر لائیں گے یہ کہہ کر چلا آیا ، باہر آکر اربد سے کہنے لگا کہ تو نے تلوار کیوں نہیں ماری ؟ اس نے کہا جب میں تلوار مارنے کا ارادہ کرتا تھا تو تُو درمیان میں آجاتا تھا ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کے نکلتے وقت یہ دعا فرمائی ۔ اَللّٰھُمَّ اکْفِہِمَا بِمَا شِئْتَ جب یہ دونوں مدینہ شریف سے باہر آئے تو ان پر بجلی گری اربد جل گیا اورعامر بھی اسی راہ میں بہت بدتر حالت میں مرا ۔ (حسینی)
اسی کا پکارنا سچا ہے (ف٤۰) اور اس کے سوا جن کو پکارتے ہیں (ف٤۱) وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے (ف٤۲) اور وہ ہرگز نہ پہنچے گا، اور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے،
Only the prayer to Him is truthful; and whomever they pray to besides Him, do not hear them at all, but like one who has his hands outstretched towards water that it may come into his mouth, and it will never come; and every prayer of the disbelievers remains wandering.
उसी का पुकारना सच्चा है और उसके सिवा जिनको पुकारते हैं वे उनकी कुछ भी नहीं सुनते मगर उसकी तरह जो पानी के सामने अपनी हथेलियाँ फैलाए बैठा है कि उसके मुँह में पहुँच जाए और वह हरगज़ न पहुँचेगा, और काफ़रों की हर दुआ भटकती फिरी है,
Isi ka pukarna saccha hai aur us ke siwa jin ko pukarte hain woh un ki kuch bhi nahi sunte magar us ki tarah jo paani ke samne apni hatheliyaan phailaaye baitha hai ke us ke munh mein pohanch jaaye aur woh hargiz na pohanchega, aur kaafiron ki har dua bhatakti phirti hai,
(ف40)یعنی اس کی توحید کی شہادت دینا اور لا اِلٰہ الا اللہ کہنا یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ دعا قبول کرتا ہے اور اسی سے دعا کرنا سزا وار ہے ۔(ف41)معبود جان کر یعنی کُفّار جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں ۔(ف42)تو ہتھیلیاں پھیلانے اور بلانے سے پانی کنوئیں سے نکل کر اس کے منہ میں نہ آئے گا کیونکہ پانی کو نہ علم ہے نہ شعور جو اس کی حاجت اور پیاس کو جانے اور اس کے بلانے کو سمجھے اور پہچانے ، نہ اس میں یہ قدرت ہے کہ اپنی جگہ سے حرکت کرے اور اپنے مقتضائے طبیعت کے خلاف اوپر چڑھ کر بلانے والے کے منہ میں پہنچ جائے ۔ یہی حال بتوں کا ہے کہ نہ انہیں بُت پرستوں کے پکارنے کی خبر ہے نہ ان کی حاجت کا شعور نہ وہ ان کے نفع پر کچھ قدرت رکھتے ہیں ۔
اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے (ف٤۳) خواہ مجبوری سے (ف٤٤) اور ان کی پرچھائیاں ہر صبح و شام (ف٤۵) السجدة ۔۲
And to Allah only prostrate all those who are in the heavens and in the earth, willingly or helplessly – and their shadows – every morning and evening. (Command of prostration # 2).
और अल्लाह ही को सिज़दा करते हैं जितने आसमानों और ज़मीन में हैं ख़ुशी से चाहे मज़बूरी से और उनकी परछाइयाँ हर सुबह व शाम अस्सुज्दत।2
Aur Allah hi ko sajda karte hain jitne aasmanon aur zameen mein hain khushi se khwah majboori se aur un ki parchhaiyaan har subah o shaam as-sajdat.2
(ف43)جیسے کہ مومن ۔(ف44)جیسے کہ منافق و کافِر ۔(ف45)ان کی تبعیت میں اللہ کو سجدہ کرتی ہیں ۔ زُجاج نے کہا کہ کافِر غیر اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور اس کا سایہ اللہ کو ۔ ابنِ انباری نے کہا کہ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالٰی پرچھائیوں میں ایسی فہم پیدا کرے کہ وہ اس کو سجدہ کریں ۔ بعض کا قول ہے سجدے سے سایہ کا ایک طرف سے دوسر ی طرف مائل ہونا اور آفتاب کے ارتفاع و نُزول کے ساتھ دراز و کوتاہ ہونا مراد ہے ۔ (خازن)
تم فرماؤ کون رب ہے آسمانوں اور زمین کا، تم خود ہی فرماؤ اللہ (ف٤٦) تم فرماؤ تو کیا اس کے سوا تم نے وہ حمایتی بنائے ہیں جو اپنا بھلا برا نہیں کرسکتے ہیں (ف٤۷) تم فرماؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا (بینا) (ف٤۸) یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا (ف٤۹) کیا اللہ کے لیے ایسے شریک ٹھہراتے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ بنایا تو انھیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا (ف۵۰) تم فرماؤ اللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے (ف۵۱) اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے (ف۵۲)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Who is the Lord of the heavens and the earth?” Proclaim, “Allah”; Say, “So have you appointed such as supporters besides Him, who can neither benefit nor harm themselves?”; say, “Will the blind and the sighted ever be equal? Or will the realms of darkness and the light ever be equal?” Have they appointed such as partners to Allah who created something like Allah did? Therefore their creation and His creation seemed alike to them? Proclaim, “Allah is the Creator of all things, and He Alone is the Dominant over all.”
तुम फ़रमाओ कौन रब है आसमानों और ज़मीन का, तुम खुद ही फ़रमाओ अल्लाह तुम फ़रमाओ तो क्या इसके सिवा तुमने वह हामियाती बनाए हैं जो अपना भला बुरा नहीं कर सकते तुम फ़रमाओ क्या बराबर हो जाएँगे अंधा और अंकिरा (बीना) या क्या बराबर हो जाएँगी अंधेरियाँ और उजाला क्या अल्लाह के लिए ऐसे शरीक ठहराते हैं जिन्होंने अल्लाह की तरह कुछ बनाया तो उन्हें उनका और इसका बनाना एक सा मालूम हुआ तुम फ़रमाओ अल्लाह हर चीज़ का बनाने वाला है और वह अकेला सब पर ग़ालिब है
Tum farmao kaun Rab hai aasmanon aur zameen ka, tum khud hi farmao Allah tum farmao to kya is ke siwa tumne woh hamiyaati banaye hain jo apna bhala bura nahi kar sakte tum farmao kya barabar ho jaayenge andha aur ankhiara (beena) ya kya barabar ho jaayengi andheriyaan aur ujala kya Allah ke liye aise shareek thehrate hain jinho ne Allah ki tarah kuch banaya to unhein un ka aur iska banana ek sa maloom hua tum farmao Allah har cheez ka banane wala hai aur woh akela sab par ghalib hai
(ف46)کیونکہ اس سوال کا اس کے سوا اور کوئی جواب ہی نہیں اور مشرکین باوجود غیر اللہ کی عبادت کرنے کے اس کے مقِر ہیں کہ آسمان و زمین کا خالِق اللہ ہے ۔ جب یہ امر مسلّم ہے تو ۔(ف47)یعنی بُت جب ان کی یہ بے قدرتی و بیچارگی ہے تو وہ دوسرے کو کیا نفع و ضَرر پہنچاسکتے ہیں ۔ ایسوں کو معبود بنانا اور خالِق رازق قوی و قادر کو چھوڑنا انتہا درجے کی گمراہی ہے ۔(ف48)یعنی کافِر و مومن ۔(ف49)یعنی کُفر و ایمان ۔ (ف50)اور اس وجہ سے کہ حق ان پر مشتبہ ہوگیا اور وہ بُت پرستی کرنے لگے ، ایسا تو نہیں ہے بلکہ جن بتوں کو وہ پوجتے ہیں اللہ کی مخلوق کی طرح کچھ بنانا تو کجا وہ بندوں کے مصنوعات کے مثل بھی نہیں بناسکتے ، عاجزِ مَحض ہیں ایسے پتھروں کا پوجنا عقل و دانش کے بالکل خلاف ہے ۔(ف51)جو مخلوق ہونے کی صلاحیت رکھے اس سب کا خالِق اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں تو دوسرے کو شریکِ عبادت کرنا عاقل کس طرح گوارا کرسکتا ہے ۔(ف52)سب اس کے تحتِ قدرت و اختیار ہیں ۔
اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رو اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی، اور جس پر آگ دہکاتے ہیں (ف۵۳) گہنا یا اور اسباب (ف۵٤) بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللہ بتاتا ہے کہ حق و باطل کی یہی مثال ہے، تو جھاگ تو پھک (جل) کر دور ہوجاتا ہے، اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے (ف۵۵) اللہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے،
He sent down water from the sky, so valleys flowed according to their measure, therefore the water flow brought forth the froth swollen upon it; and upon which they ignite the fire, to make ornaments and tools, from that too rises a similar froth; Allah illustrates that this is the example of the truth and the falsehood; the froth then bursts and disappears; and that which is of use to people, remains in the earth; this is how Allah illustrates the examples.
उसने आसमान से पानी उतारा तो नाले अपने अपने लायक बह निकले तो पानी की रो इस पर उभरे हुए झाग उठाई लाई, और जिस पर आग ढकाते हैं गहना या और असबाब बनाने को इस से भी वैसे ही झाग उठते हैं अल्लाह बताता है कि हक़ व बातिल की यही मिसाल है, तो झाग तो फख (जल) कर दूर हो जाता है, और वह जो लोगों के काम आए ज़मीन में रहता है अल्लाह यों ही मिसालें बयान फरमाता है,
Us ne aasman se paani utara to naale apne apne laayak beh nikle to paani ki ro is par ubhre hue jhaag utha laayi, aur jis par aag dhakate hain gehna ya aur asbaab banane ko is se bhi waise hi jhaag uthte hain Allah batata hai ke haq o baatil ki yehi misaal hai, to jhaag to phak (jal) kar door ho jaata hai, aur woh jo logon ke kaam aaye zameen mein rehta hai Allah yun hi misaalein bayan farmaata,
(ف53)جیسے کہ سونا چاندی تانبہ وغیرہ ۔(ف54)برتن وغیرہ ۔(ف55)ایسے ہی باطل اگرچہ کتنا ہی ابھر جائے اور بعض اوقات و احوال میں جھاگ کی طرح حد سے اونچا ہو جائے مگرانجامِ کار مٹ جاتا ہے اور حق اصل شے اور جوہرِ صاف کی طرح باقی و ثابت رہتا ہے ۔
جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انھیں کے لیے بھلائی ہے (ف۵٦) اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا (ف۵۷) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی ملِک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے یہی ہیں جن کا برُا حساب ہوگا (ف۵۸) اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی برا بچھونا،
For those who obeyed the command of Allah is goodness and if those who did not obey Him owned all that is in the earth and in addition a similar one like it, they would give it to redeem their souls; it is they who will have a wretched account, and their destination is hell; and what a wretched resting place!
जिन लोगों ने अपने रब का हुक्म माना उन्हें के लिए भलाई है और जिनोंने इसका हुक्म न माना अगर ज़मीन में जो कुछ है वह सब और इस जैसा और उनकी मिलक में होता तो अपनी जान छड़ाने को दे देते यही हैं जिनका बुरा हिसाब हो गा और उनका ठिकाना जहन्नम है, और क्या ही बुरा बिछोना,
Jin logon ne apne Rab ka hukum maana unhein ke liye bhalai hai aur jinho ne iska hukum na maana agar zameen mein jo kuch hai woh sab aur is jaisa aur un ki milk mein hota to apni jaan chhudaane ko de dete yehi hain jin ka bura hisaab hoga aur un ka thikaana jahannum hai, aur kya hi bura bichhona,
(ف56)یعنی جنّت ۔(ف57)اور کُفر کیا ۔(ف58)کہ ہر امر پر مواخذہ کیا جائے گا اور اس میں سے کچھ نہ بخشا جائے گا ۔ (جلالین و خازن)
تو کیا وہ جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے (ف۵۹) وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے (ف٦۰) نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے،
So will he, who knows that what is sent down upon you from your Lord is the truth, ever be equal to him who is blind? Only the men of understanding heed advice.
तो क्या वह जानता है जो कुछ तुम्हारी तरफ तुम्हारे रब के पास से उतरा हक़ है वह उसके जैसा हो गा जो अंधा है नसीहत वही मानते हैं जिन्हें अकल है,
To kya woh jaanta hai jo kuch tumhari taraf tumhare Rab ke paas se utra haq hai woh us jaisa hoga jo andha hai naseehat wahi maante hain jinhein aqal hai,
(ف59)اور اس پر ایمان لاتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے ۔(ف60)حق کو نہیں جانتا ، قرآن پر ایمان نہیں لاتا ، اس کے مطابق عمل نہیں کرتا ۔ یہ آیت حضرت حمزہ ابنِ عبدالمطلب اور ابوجہل کے حق میں نازِل ہوئی ۔
اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا (ف٦۲) اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور حساب کی برائی سے اندیشہ رکھتے ہیں (ف٦۳)
Those who unite what Allah has commanded to be united, and fear their Lord, and apprehend the evil of the account.
और वह कि जोड़ते हैं उसे जिसके जोड़ने का अल्लाह ने हुक्म दिया और अपने रब से डरते हैं और हिसाब की बुराई से अंडेशा रखते हैं
Aur woh ke jodte hain use jiske jodne ka Allah ne hukum diya aur apne Rab se darte hain aur hisaab ki burai se andesha rakhte hain
(ف62)یعنی اللہ کی تمام کتابوں اور اس کے کل رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کو مان کر بعض سے منکِر ہو کر ان میں تفریق نہیں کرتے یا یہ معنی ہیں کہ حقوقِ قرابت کی رعایت رکھتے ہیں اور رشتہ قطع نہیں کرتے ۔ اسی میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرابتیں اور ایمانی قرابتیں بھی داخل ہیں ، سادات کرام کا احترام اور مسلمانوں کے ساتھ مودّت و احسان اور ان کی مدد اور ان کی طرف سے مدافعت اور ان کے ساتھ شفقت اور سلام و ُعا اورمسلمان مریضوں کی عیادت اور اپنے دوستوں ، خادموں ، ہمسایوں ، سفر کے ساتھیوں کے حقوق کی رعایت بھی اس میں داخل ہے اور شریعت میں اس کا لحاظ رکھنے کی بہت تاکیدیں آئی ہیں ، بہ کثرت احادیثِ صحیحہ اس باب میں وارد ہیں ۔(ف63)اور وقتِ حساب سے پہلے خود اپنے نفسوں سے محاسبہ کرتے ہیں ۔
اور وہ جنہوں نے صبر کیا (ف٦٤) اپنے رب کی رضا چاہنے کو اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دیئے سے ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر کچھ خرچ کیا (ف٦۵) اور برائی کے بدلے بھلائی کرکے ٹالتے ہیں (ف٦٦) انھیں کے لیے پچھلے گھر کا نفع ہے،
Those who were patient in order to gain their Lord’s pleasure and kept the prayer established and spent in Our cause part of what We bestowed upon them, secretly and openly, and repel evil by responding with goodness – for them is the gain of the final abode.
और वह जिन्होंने सब्र किया अपने रब की रज़ा चाहने को और नमाज़ कायम रखी और हमारे दिये से हमारी राह में छुपे और ज़ाहिर कुछ ख़र्च किया और बुराई के बदले भलाई कर के टालते हैं उन्हें के लिए पिछले घर का नफ़ा है,
Aur woh jinho ne sabr kiya apne Rab ki raza chaahne ko aur namaaz qaaim rakhi aur hamare diye se hamari raah mein chhupe aur zaahir kuch kharch kiya aur burai ke badle bhalai kar ke taal te hain unhein ke liye pichle ghar ka nafa hai,
(ف64)طاعتوں اور مصیبتوں پر اور معصیت سے باز رہے ۔(ف65)نوافل کا چھپانا اور فرائض کا ظاہر کرنا افضل ہے ۔(ف66)بدکلامی کا جواب شیریں سخنی سے دیتے ہیں اور جو انہیں محروم کرتا ہے اس پر عطا کرتے ہیں ، جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے معاف کرتے ہیں ، جب ان سے پیوند قطع کیا جاتا ہے ملاتے ہیں اور جب گناہ کرتے ہیں توبہ کرتے ہیں ، جب ناجائز کام دیکھتے ہیں اسے بدلتے ہیں ، جہل کے بدلے حلم اور ایذا کے بدلے صبر کرتے ہیں ۔
بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو لائق ہوں (ف٦۷) ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (ف٦۸) اور فرشتے (ف٦۹) ہر دروازے سے ان پر (ف۷۰) یہ کہتے آئیں گے،
The everlasting Gardens of Eden which they will enter, and the deserving among their forefathers and their wives and their descendants – the angels will enter upon them from every gate.
बसने के बाग जिनमें वह दाख़िल होंगे और जो लायक हों उनके बाप दादा और बीबियों और औलाद में और फ़रिश्ते हर दरवाज़े से उन पर यह कहते आएंगे,
Basne ke baagh jin mein woh daakhil honge aur jo laayak hon un ke baap dada aur beebiyon aur aulaad mein aur farishte har darwaaze se un par yeh kehte aayenge,
(ف67)یعنی مؤمن ہوں ۔(ف68)اگرچہ لوگوں نے ان کے سے عمل نہ کئے ہوں جب بھی اللہ تعالٰی ان کے اکرام کے لئے ان کو ان کے درجہ میں داخل فرمائے گا ۔(ف69)ہر ایک روز و شب میں ہدایا اور رضا کی بشارتیں لے کر جنّت کے ۔(ف70)بہ طریقِ تحیّت و تکریم ۔
اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے (ف۷۱) کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں (ف۷۲) ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر (ف۷۳)
And those who break the pact of Allah after its ratification, and sever what Allah has commanded to be joined, and spread turmoil in the earth – their share is only the curse and their destiny is the wretched abode.
और वह जो अल्लाह का एहद उसके पके होने के बाद तोड़ते और जिसके जोड़ने को अल्लाह ने फ़रमाया उसे क़त करते और ज़मीन में फ़साद फैलाते हैं उनका हिस्सा लानत ही है और उनका नसीबा बुरा घर
Aur woh jo Allah ka ehad us ke pake hone ke baad todte aur jiske jodne ko Allah ne farmaaya use qat’ karte aur zameen mein fasad phailate hain un ka hissa laanat hi hai aur un ka naseeba bura ghar
(ف71)اور اس کو قبول کر لینے ۔(ف72)کُفر و مَعاصی کا ارتکاب کرکے ۔(ف73)یعنی جہنّم ۔
اللہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ اور (ف۷٤) تنگ کرتا ہے، اور کافر دنیا کی زندگی پر اترا گئے (نازاں ہوئے) (ف۷۵) اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابل نہیں مگر کچھ دن برت لینا،
Allah eases and restricts the sustenance for whomever He wills; and the disbelievers rejoiced upon the life of this world; and the life of this world, as compared with the Hereafter, is just a brief utilisation.
अल्लाह जिसके लिए चाहे रज़क क़सादा और तंग करता है, और काफ़र दुनिया की ज़िन्दगी पर उतरा गए (नाज़ाँ हुए) और दुनिया की ज़िन्दगी आख़िरत के मुकाबिल नहीं मगर कुछ दिन बरत लेना,
Allah jiske liye chahe rizq kashaada aur tang karta hai, aur kaafir duniya ki zindagi par utra gaye (naazaan hue) aur duniya ki zindagi aakhirat ke muqaabil nahi magar kuch din barat lena,
(ف74)جس کے لئے چاہے ۔(ف75)اور شکر گزار نہ ہوئے ۔ مسئلہ : دولتِ دنیا پر اترانا اور مغرور ہونا حرام ہے ۔
اور کافر کہتے ان پر کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے کیوں نہ اتری، تم فرماؤ بیشک اللہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے (ف۷٦) اور اپنی راہ اسے دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے،
And the disbelievers said, “Why was not a sign sent down upon him from his Lord?” Proclaim, “Indeed Allah sends astray whomever He wills, and guides towards Himself the one who comes towards Him.”
और काफ़र कहते उन पर कोई निशानी उनके रब की तरफ़ से क्यों न उतरी, तुम फ़रमाओ बेशक अल्लाह जिसे चाहे गुमराह करता है और अपनी राह उसे देता है जो उसकी तरफ रजू करता है,
Aur kaafir kehte un par koi nishani un ke Rab ki taraf se kyon na utri, tum farmao beshak Allah jise chahe gumraah karta hai aur apni raah use deta hai jo us ki taraf rujoo laaye,
(ف76)کہ وہ آیات و معجزات نازِل ہونے کے بعد بھی یہ کہتا رہتا ہے کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ، کوئی معجزہ کیوں نہیں آیا ! معجزاتِ کثیرہ کے باوجود گمراہ رہتا ہے ۔
وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے (ف۷۷)
“Those who accepted faith and whose hearts gain solace from the remembrance of Allah; pay heed! Only in the remembrance of Allah is the solace of hearts!”
वह जो ईमान लाए और उनके दिल अल्लाह की याद से चैन पाते हैं, सुन लो अल्लाह की याद ही में दिलों का चैन है
Woh jo imaan laaye aur un ke dil Allah ki yaad se chain paate hain, sun lo Allah ki yaad hi mein dilon ka chain hai
(ف77)اس کے رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار و اطمینان حاصل ہوتا ہے اگرچہ اس کے عدل و عتاب کی یاد دلوں کو خائف کردیتی ہے جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہ ُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ مسلمان جب اللہ تعالٰی کا نام لے کر قسم کھا تا ہے دوسرے مسلمان اس کا اعتبار کر لیتے ہیں اور ان کے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے ۔
وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کو خوشی ہے اور اچھا انجام (ف۷۸)
“Those who accepted faith and did good deeds – for them is joy and an excellent outcome.”
वह जो ईमान लाए और अच्छे काम किए उन को खुशी है और अच्छा अंजाम
Woh jo imaan laaye aur achhe kaam kiye un ko khushi hai aur acha anjaam
(ف78)طوبٰی بشارت ہے راحت ونعمت اور خرمی و خوش حالی کی ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ طوبٰی زبانِ حبشی میں جنّت کا نام ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ اور دیگر اصحاب سے مروی ہے کہ طوبٰی جنّت کے ایک درخت کا نام ہے جس کا سایہ ہر جنّت میں پہنچے گا ، یہ درخت جنّتِ عدن میں ہے اور اس کی اصل (بیخ) سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایوانِ معلٰی میں اور اس کی شاخیں جنّت کے ہر غرفہ اور قصر میں ، اس میں سوا سیاہی کے ہر قسم کے رنگ اور خوش نمائیاں ہیں ہر طرح کے پھل اور میوہ اس میں پھلے ہیں ، اس کی بیخ سے کافور سلسبیل کی نہریں رواں ہیں ۔
اسی طرح ہم نے تم کو اس امت میں بھیجا جس سے پہلے امتیں ہو گزریں (ف۷۹) کہ تم انھیں پڑھ کر سناؤ (ف۸۰) جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور وہ رحمن کے منکر ہو رہے ہیں (ف۸۱) تم فرماؤ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میری رجوع ہے،
Similarly We sent you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) towards the nation, before whom other nations have passed away, for you to recite to them the divine revelations We sent down to you, whereas they are denying the Most Gracious; proclaim, “He is my Lord – there is no worship except for Him; I rely only upon Him and only towards Him is my return.”
इसी तरह हमने तुम को इस उम्मत में भेजा जिससे पहले उम्मतें हो गुज़रीं कि तुम उन्हें पढ़ कर सुनाओ जो हमने तुम्हारी तरफ वाही की और वे रहमान के मंकर हो रहे हैं तुम फ़रमाओ वह मेरा रब है इसके सिवा किसी की बंदगी नहीं मैंने इसी पर भरोसा किया और इसी की तरफ मेरी रजू है,
Isi tarah hum ne tum ko is ummat mein bheja jisse pehle ummatein ho guzriin ke tum unhein padh kar sunao jo hum ne tumhari taraf wahi ki aur woh Rahman ke munkir ho rahe hain tum farmao woh mera Rab hai is ke siwa kisi ki bandagi nahi maine isi par bharosa kiya aur isi ki taraf meri rujoo hai,
(ف79)تو تمہاری امّت سب سے پچھلی امّت ہے اور تم خاتَم الانبیاء ہو ، تمہیں بڑے شان و شکوہ سے رسالت عطا کی ۔(ف80)وہ کتابِ عظیم ۔(ف81)شانِ نُزول : قتادہ و مقاتل وغیرہ کا قول ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ میں نازِل ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ سہیل بن عمرو جب صلح کے لئے آیا اور صلح نامہ لکھنے پر اتفاق ہوگیا تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ سے فرمایا لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم کُفّار نے اس میں جھگڑا کیا اور کہا کہ آپ ہمارے دستور کے مطابق بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ لکھوائیے ۔ اس کے متعلق آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ وہ رحمٰن کے منکِر ہو رہے ہیں ۔
اور اگر کوئی ایسا قرآن آتا جس سے پہاڑ ٹل جاتے (ف۸۲) یا زمین پھٹ جاتی یا مردے باتیں کرتے جب بھی یہ کافر نہ مانتے (ف۸۳) بلکہ سب کام اللہ ہی کے اختیار ميں ہیں (ف۸٤) تو کیا مسلمان اس سے ناامید نہ ہوئے (ف۸۵) کہ اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کردیتا (ف۸٦) اور کافروں کو ہمیشہ کے لیے یہ سخت دھمک (ہلادینے والی مصیبت) پہنچتی رہے گی (ف۸۷) یا ان کے گھروں کے نزدیک اترے گی (ف۸۸) یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آئے (ف۸۹) بیشک اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا (ف۹۰)
And were such a Qur’an to come that would cause the mountains to move, or the earth to split asunder, or the dead to speak, even then these disbelievers would not believe; in fact, all matters are only at Allah’s discretion; so have not the Muslims despaired in that, had Allah willed, He would have guided all mankind? Disasters shall continue to strike the disbelievers on account of their deeds, or descend near their homes until Allah’s promise comes; indeed Allah does not break the promise.
और अगर कोई ऐसा कुरआन आता जिससे पहाड़ टल जाते या ज़मीन फट जाती या मरे बातें करते जब भी ये काफ़र न मानते बल्कि सब काम अल्लाह ही के इख़्तियार में हैं तो क्या मुसलमान इससे ना उम्मीद न हुए कि अल्लाह चाहता तो सब आदमियों को हिदायत कर देता और काफ़रों को हमेशा के लिए यह सख़्त धमक (हला देने वाली मुसीबत) पहुँचती रहेगी या उनके घरों के नज़दीक उतरेगी यहाँ तक कि अल्लाह का वादा आए बेशक अल्लाह वादा ख़िलाफ़ नहीं करता
Aur agar koi aisa Qur’an aata jisse pahad tal jaate ya zameen phat jaati ya marday baatein karte jab bhi ye kaafir na maante balke sab kaam Allah hi ke ikhtiyaar mein hain to kya musalman is se na-umeed na hue ke Allah chahta to sab aadmiyon ko hidaayat kar deta aur kaafiron ko hamesha ke liye ye sakht dhamak (hala dene waali museebat) pohanchti rahegi ya un ke gharon ke nazdeek utaregi yahaan tak ke Allah ka wada aaye beshak Allah wada khilaaf nahi karta
(ف82)اپنی جگہ سے ۔(ف83)شانِ نُزول : کُفّارِ قریش نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ یہ چاہیں کہ ہم آپ کی نبوّت مانیں اور آپ کا اِتِّباع کریں تو آپ قرآن شریف پڑھ کراس کی تاثیر سے مکّۂ مکّرمہ کے پہاڑ ہٹا دیجئے تاکہ ہمیں کھیتیاں کرنے کے لئے وسیع میدان مل جائیں اور زمین پھاڑ کر چشمہ جاری کیجئے تاکہ ہم کھیتوں اور باغوں کو ان سے سیراب کریں اور قصی بن کلاب وغیرہ ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کر دیجئے وہ ہم سے کہہ جائیں کہ آپ نبی ہیں ۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازِل ہوئی اور بتادیا گیا کہ یہ حیلے حوالے کرنے والے کسی حال میں بھی ایمان لانے والے نہیں ۔(ف84)تو ایمان وہی لائے گا جس کو اللہ چاہے اور توفیق دے اس کے سوا اور کوئی ایمان لانے والا نہیں اگرچہ انہیں وہی نشان دکھا دیئے جائیں جو وہ طلب کریں ۔(ف85)یعنی کُفّار کے ایمان لانے سے خواہ انہیں کتنی ہی نشانیاں دکھلا دی جائیں اور کیا مسلمانوں کو اس کا یقینی علم نہیں ۔(ف86)بغیر کسی نشانی کے لیکن وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور وہی حکمت ہے ۔ یہ جواب ہے ان مسلمانوں کا جنہوں نے کُفّار کے نئی نئی نشانیاں طلب کرنے پر یہ چاہا تھا کہ جو کافِر بھی کوئی نشانی طلب کرے وہی اس کو دکھا دی جائے ، اس میں انہیں بتادیا گیا کہ جب زبردست نشان آچکے اور شُکوک و اوہام کی تمام راہیں بند کردی گئیں ، دین کی حقانیت روزِ روشن سے زیادہ واضح ہو چکی ، ان جلی برہانوں کے باوجود جو لوگ مُکر گئے ، حق کے معترف نہ ہوئے ، ظاہر ہوگیا کہ وہ معانِد ہیں اور معانِد کسی دلیل سے بھی مانا نہیں کرتا تو مسلمانوں کو اب ان سے قبولِ حق کی کیا امید ، کیا اب تک ان کا عناد دیکھ کر اور آیات و بیّناتِ واضحہ سے اعراضِ مشاہدہ کرکے بھی ان سے قبولِ حق کی امید رکھی جا سکتی ہے البتہ اب ان کے ایمان لانے اور مان جانے کی یہی صورت ہے کہ اللہ تعالٰی انہیں مجبور کرے اور ان کا اختیار سلب فرما لے اس طرح کی ہدایت چاہتا تو تمام آدمیوں کو ہدایت فرما دیتا اور کوئی کافِر نہ رہتا مگر دارالابتلا و الامتحان کی حکمت اس کی متقضی نہیں ۔(ف87)یعنی وہ اس تکذیب و عناد کی وجہ سے طرح طرح کے حوادث و مصائب اور آفتوں اور بلاؤں میں مبتلا رہیں گے ، کبھی قحط میں ، کبھی لٹنے میں ، کبھی مارے جانے میں ، کبھی قید میں ۔(ف88)اور ان کے اضطراب و پریشانی کا باعث ہوگی اور ان تک ان مصائب کے ضَرر پہنچیں گے ۔(ف89)اللہ کیطرف سے فتح و نصرت آئی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کا دین غالب ہو اور مکّۂ مکّرمہ فتح کیا جائے ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ اس وعدہ سے روزِ قیامت مراد ہے جس میں اعمال کی جزا دی جائے گی ۔(ف90)اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی اپنے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسکینِ خاطر فرماتا ہے کہ اس قسم کے بیہودہ سوال اور ایسے تمسخُر و استہزاء سے آپ رنجیدہ نہ ہوں کیونکہ ہادیوں کو ایسے واقعات پیش آیا ہی کرتے ہیں چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔
اور بیشک تم سے اگلے رسولوں سے بھی ہنسی کی گئی تو میں نے کافروں کو کچھ دنوں ڈھیل دی پھر انھیں پکڑا (ف۹۱) تو میرا عذاب کیسا تھا،
And indeed the Noble Messengers before you were also mocked – I therefore gave the mockers respite for some days and then seized them; so how (dreadful) was My punishment!
और बेशक तुम से अगले रसूलों से भी हंसी की गई तो मैंने काफ़रों को कुछ दिनों ढील दी फिर उन्हें पकड़ा तो मेरा अज़ाब कैसा था,
Aur beshak tum se agle rasoolon se bhi hansi ki gayi to maine kaafiron ko kuch dino dheel di phir unhein pakda to mera azaab kaisa tha,
(ف91)اور دنیا میں انہیں قحط و قتل و قید میں مبتلا کیا اور آخرت میں ان کے لئے عذابِ جہنّم ہے ۔
تو کیا وہ ہر جان پر اس کے اعمال کی نگہداشت رکھتا ہے (ف۹۲) اور وہ اللہ کے شریک ٹھہراتے ہیں، تم فرماؤ ان کا نام تو لو (ف۹۳) یا اسے وہ بتاتے ہو جو اس کے علم میں ساری زمین میں نہیں (ف۹٤) یا یوں ہی اوپری بات (ف۹۵) بلکہ کافروں کی نگاہ میں ان کا فریب اچھا ٹھہرا ہے اور راہ سے روکے گئے (ف۹٦) اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،
So is He who keeps a watch over the deeds of every soul (equal to their appointed partners)? And (yet) they ascribe partners to Allah! Proclaim, “Just name them – or is it that you inform Him of something which in His knowledge does not exist in the earth – or is it just superficial talk?” In fact, their deceit seems good to the disbelievers and are prevented from the path; and whomever Allah sends astray, so there is none to guide him.
तो क्या वह हर जान पर उसके अमाल की निगहबानी रखता है और वह अल्लाह के शरीक ठहराते हैं, तुम फ़रमाओ उनका नाम तो लो या इसे वह बताते हो जो उसके इल्म में सारी ज़मीन में नहीं या यूँ ही ऊपरी बात बल्कि काफ़रों की निगाह में उनका फरेब अच्छा ठहरा है और राह से रोके गए और जिसे अल्लाह गुमराह करे उसे कोई हिदायत करने वाला नहीं,
To kya woh har jaan par us ke amaal ki nigahdaasht rakhta hai aur woh Allah ke shareek thehrate hain, tum farmao un ka naam to lo ya ise woh batate ho jo us ke ilm mein saari zameen mein nahi ya yun hi oopri baat balke kaafiron ki nigaah mein un ka fareb acha thahra hai aur raah se roke gaye aur jise Allah gumraah kare use koi hidaayat karne wala nahi,
(ف92)نیک کی بھی بد کی بھی یعنی اللہ تعالٰی کیا وہ ان بتوں کی مثل ہوسکتا ہے جو ایسے نہیں نہ انہیں علم ہے نہ قدرت ، عاجز بے شعور ہیں ۔(ف93)وہ ہیں کون ؟(ف94)اور جو اس کے علم میں نہ ہو وہ باطلِ مَحض ہے ، ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے لہذا اسکے لئے شریک ہونا باطل وغلط ۔(ف95)کے درپے ہوتے ہو جس کی کچھ اصل و حقیقت نہیں ۔(ف96)یعنی رُشد و ہدایت اور دین کی راہ سے ۔
انھیں دنیا کے جیتے عذاب ہوگا (ف۹۷) اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت اور انھیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں،
They will be punished in the life of this world, and indeed the punishment of the Hereafter is the most severe; and there is none to save them from Allah.
उन्हें दुनिया के जीते अज़ाब हो गा और बेशक आख़िरत का अज़ाब सबसे सख़्त और उन्हें अल्लाह से बचाने वाला कोई नहीं,
Unhein duniya ke jeete azaab hoga aur beshak aakhirat ka azaab sab se sakht aur unhein Allah se bachane wala koi nahi,
احوال اس جنت کا کہ ڈر والوں کے لیے جس کا وعدہ ہے، اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ (ف۹۸) ڈر والوں کا تو یہ انجام ہے (ف۹۹) اور کافروں کا انجام آگ ،
A description of the Paradise which is promised to the pious; rivers flow beneath it; its fruits are unending, and its shade; this is the reward of those who fear; and the fate of the disbelievers is fire.
अहवाल इस जन्नत का कि डर वालों के लिए जिसका वादा है, इसके नीचे नहरें बहती हैं, इसके मेवे हमेशा और इसका साया डर वालों का तो यह अंजाम है और काफ़रों का अंजाम आग,
Ahwaal is jannat ka ke dar walon ke liye jiska wada hai, is ke neeche nahrain bahti hain, is ke mewe hamesha aur iska saaya dar walon ka to ye anjaam hai aur kaafiron ka anjaam aag,
(ف98)یعنی اس کے میوے اور اس کا سایہ دائمی ہے ، ان میں سے کوئی منقطع اور زائل ہونے والا نہیں ۔ جنّت کا حال عجیب ہے اس میں نہ سورج ہے نہ چاند نہ تاریکی باوجود اس کے غیر منقطع دائمی سایہ ہے ۔(ف99)یعنی تقوٰی والوں کے لئے جنّت ہے ۔
اور جن کو ہم نے کتاب دی (ف۱۰۰) وہ اس پر خوش ہوتے جو تمہاری طرف اترا اور ان گروہوں میں (ف۱۰۱) کچھ وہ ہیں کہ اس کے بعض سے منکر ہیں، تم فرماؤ مجھے تو یہی حکم ہے کہ اللہ کی بندگی کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں، ميں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے پھرنا (ف۱۰۲)
And those to whom We gave the Book* rejoice at what is divinely revealed to you**; and of those groups are some who deny parts of it; proclaim, “I am commanded only that I worship Allah and not ascribe any partner to Him; towards Him do I call, and towards Him only I have to return.” (* Scholars among the Jews and Christians who accepted faith. ** The Holy Qur’an.)
और जिनको हमने किताब दी वह इस पर खुश होते जो तुम्हारी तरफ उतरा और उन ग्रुपों में कुछ वे हैं कि इसके कुछ से मंकर हैं, तुम फ़रमाओ मुझे तो यही हुक्म है कि अल्लाह की बंदगी करूँ और इसका शरीक न ठहराऊँ, मैं इसी की तरफ बुलाता हूँ और इसी की तरफ मुझे फ़िरना
Aur jin ko hum ne kitaab di woh is par khush hote jo tumhari taraf utra aur un groupon mein kuch woh hain ke is ke baaz se munkir hain, tum farmao mujhe to yehi hukum hai ke Allah ki bandagi karun aur iska shareek na thehraun, main isi ki taraf bulata hoon aur isi ki taraf mujhe firna
(ف100)یعنی وہ یہود و نصارٰی جو اسلام سے مشرف ہوئے جیسے کہ عبداللہ بن سلام وغیرہ اور حبشہ و نجران کے نصرانی ۔(ف101)یہود ونصارٰی و مشرکین کے جو آپ کی عداوت میں سرشار ہیں اورآپ پر انہوں نے چڑھائیاں کیں ہیں ۔(ف102)اس میں کیا بات قابلِ انکار ہے کیوں نہیں مانتے ! ۔
اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فیصلہ اتارا (ف۱۰۳) اور اے سننے والے! اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گا (ف۱۰٤) بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا نہ بچانے والا،
And similarly We have revealed this as a command in Arabic; and O listener (follower of this Prophet), if you follow their desires after the knowledge having come to you, then you will have neither a supporter nor any saviour against Allah.
और इसी तरह हमने उसे अरबी फ़ैसला उतारा और ऐ सुनने वाले! अगर तू उनकी ख़वाहिशों पर चलेगा बाद इसके कि तुझे इल्म आ चुका तो अल्लाह के आगे न तेरा कोई हामियाती होगा न बचाने वाला,
Aur isi tarah hum ne ise Arabi faisla utara aur aye sun’ne wale! Agar tu un ki khwahishon par chalega baad is ke ke tujhe ilm aa chuka to Allah ke aage na tera koi hamiyaati hoga na bachane wala,
(ف103)یعنی جس طرح پہلے انبیاء کو ان کی زبانوں میں احکام دیئے تھے اسی طرح ہم نے یہ قرآن اے سیدِ انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کی زبان عربی میں نازِل فرمایا ۔ قرآنِ کریم کو حکم اس لئے فرمایا کہ اس میں اللہ کی عبادت اور اس کی توحید اور اس کے دین کی طرف دعوت اور تمام تکالیف و احکام اور حلال و حرام کا بیان ہے ۔ بعض عُلَماء نے فرمایا چونکہ اللہ تعالٰی نے تمام خَلق پر قرآن شریف کے قبول کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کا حکم فرمایا اس لئے اس کا نام حکم رکھا ۔(ف104)یعنی کافِروں کو جو اپنے دین کی طرف بلاتے ہیں ۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں (ف۱۰۵) اور بچے کیے اور کسی رسول کا کام نہیں کہ کوئی نشانی لے آئے مگر اللہ کے حکم سے، ہر وعدہ کی ایک لکھت ہے (ف۱۰٦)
And indeed We sent Noble Messengers before you, and made wives and children for them; and it is not the task of any Noble Messenger to bring a sign except by Allah’s command; and all promises have a time prescribed.
और बेशक हमने तुम से पहले रसूल भेजे और उनके लिए बीबियाँ और बच्चे किए और किसी रसूल का काम नहीं कि कोई निशानी ले आए मगर अल्लाह के हुक्म से, हर वादा की एक लिखत है
Aur beshak hum ne tum se pehle rasool bheje aur un ke liye beebiyan aur bachay kiye aur kisi rasool ka kaam nahi ke koi nishani le aaye magar Allah ke hukum se, har wada ki ek likhat hai
(ف105)شانِ نُزول : کافِروں نے سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ عیب لگایا تھا کہ وہ نکاح کرتے ہیں اگر نبی ہوتے تو دنیا ترک کردیتے ، بی بی بچّے سے کچھ واسطہ نہ رکھتے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ بی بی بچّے ہونا نبوّت کے مُنافی نہیں لہذا یہ اعتراض مَحض بے جا ہے اور پہلے جو رسول آچکے ہیں وہ بھی نکاح کرتے تھے ، ان کے بھی بیبیاں اور بچے تھے ۔(ف106)اس سے مقدّم و موخّر نہیں ہوسکتا خواہ وہ وعدہ عذاب کا ہو یا کوئی اور ۔
اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے (ف۱۰۷) اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس (ف۱۰۸)
Allah erases and confirms whatever He wills; and only with Him is the real script.
अल्लाह जो चाहे मिटाता और साबित करता है और असल लिखा हुआ इसी के पास
Allah jo chahe mitata aur saabit karta hai aur asal likha hua isi ke paas
(ف107)سعید بن جبیر اور قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ اللہ جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ فرماتا ہے جنہیں چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ۔ انہیں ابن جبیر کا ایک قول یہ ہے کہ بندوں کے گناہوں میں سے اللہ جو چاہتا ہے مغفرت فرما کر مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے ۔ عِکرمہ کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی توبہ سے جس گناہ کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور اس کی جگہ نیکیاں قائم فرماتا ہے اور اس کی تفسیر میں اور بھی بہت اقوال ہیں ۔(ف108)جس کو ا س نے ازَل میں لکھا یہ علمِ الٰہی ہے یا اُم الکتاب سے لوحِ محفوظ مراد ہے جس میں تمام کائنات اور عالَم میں ہونے والے جملہ حوادث و واقعات اور تمام اشیاء مکتوب ہیں اور اس میں تغیُّر و تبدُّل نہیں ہوتا ۔
اور اگر ہمیں تمہیں دکھا دیں کوئی وعدہ (ف۱۰۹) جو انھیں دیا جاتا ہے یا پہلے ہی (ف۱۱۰) اپنے پاس بلائیں تو بہرحال تم پر تو ضرور پہنچانا ہے اور حساب لینا (ف۱۱۱) ہمارا ذمہ (ف۱۱۲)
And whether We show you a promise that is given to them, or call you to Us before it – so in any case, upon you is just the conveyance*, and for Us is the taking of the account. (* Of the message.)
और अगर हमें तुम्हें दिखा दें कोई वादा जो उन्हें दिया जाता है या पहले ही अपने पास बुलाएँ तो बहरहाल तुम पर तो जरूर पहुँचाना है और हिसाब लेना हमारा ज़िम्मा
Aur agar hum ne tumhein dikha dein koi wada jo unhein diya jaata hai ya pehle hi apne paas bulaain to be-har haal tum par to zaroor pohanchana hai aur hisaab lena humara zimma
(ف109)عذاب کا ۔(ف110)ہم تمہیں ۔(ف111)اور اعمال کی جزا دینا ۔(ف112)تو آپ کافِروں کے اعراض کرنے سے رنجیدہ نہ ہوں اور عذاب کی جلدی نہ کریں ۔
کیا انھیں نہیں سوجھتا کہ ہر طرف سے ان کی آبادی گھٹاتے آرہے ہیں (ف۱۱۳) اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کا حکم پیچھے ڈالنے والا کوئی نہیں (ف۱۱٤) اور اسے حساب لیتے دیر نہیں لگتی،
Do they not perceive that We are reducing their dwellings from all directions? And Allah gives the command – there is none that can postpone His command; and He spends no time in taking account.
क्या उन्हें नहीं सूझता कि हर तरफ़ से उनकी आबादी घटाते आ रहे हैं और अल्लाह हुक्म फरमाता है इसका हुक्म पीछे डालने वाला कोई नहीं और इसे हिसाब लेते देर नहीं लगती,
Kya unhein nahi soojhta ke har taraf se un ki aabadi ghatate aa rahe hain aur Allah hukum farmaata hai iska hukum peeche daalne wala koi nahi aur ise hisaab lete der nahi lagti,
(ف113)اور زمینِ شرک کی وسعت دمبدم کم کر رہے ہیں اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کُفّار کے گرد و پیش کی اراضی یکے بعد دیگرے فتح ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ صریح دلیل ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے حبیب کی مدد فرماتا ہے اور ان کے لشکر کو فتح مند کرتا ہے اور انکے دین کو غلبہ دیتا ہے ۔(ف114)اس کا حکم نافذ ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس میں چوں چرا یا تغییر و تبدیل کرسکے جب وہ اسلا م کو غلبہ دینا چاہے اور کُفر کو پست کرنا تو کس کی تاب و مجال کہ اس کے حکم میں دخل دے سکے ۔
اور ان سے اگلے (ف۱۱۵) فریب کرچکے ہیں تو ساری خفیہ تدبیر کا مالک تو اللہ ہی ہے (ف۱۱٦) جانتا ہے جو کچھ کوئی جان کمائے (ف۱۱۷) اور اب جاننا چاہتے ہیں کافر، کسے ملتا ہے پچھلا گھر (ف۱۱۸)
And indeed those before them had plotted; therefore Allah Himself is the Master of all strategies; He knows all what every soul earns; and soon will the disbelievers realise for whom is the final abode.
और इन से अगले फरेब कर चुके हैं तो सारी ख़फ़िया तदबीर का मालिक तो अल्लाह ही है जानता है जो कुछ कोई जान कमाए और अब जानना चाहते हैं काफ़र, किसे मिलता है पिछला घर
Aur in se agle fareb kar chuke hain to saari khufiya tadbeer ka malik to Allah hi hai jaanta hai jo kuch koi jaan kamaye aur ab jaanna chahte hain kaafir, kisko milta hai pichla ghar
(ف115)یعنی گزری ہوئی اُمّتوں کے کُفّار اپنے انبیاء کے ساتھ ۔(ف116)پھر بغیر اس کی مشیت کے کسی کی کیا چل سکتی ہے اور جب حقیقت یہ ہے تو مخلوق کا کیا اندیشہ ۔(ف117)ہر ایک کا کسب اللہ تعالٰی کو معلوم ہے اور اس کے نزدیک ان کی جزا مقرر ہے ۔(ف118)یعنی کافِر عنقریب جان لیں گے کہ راحتِ آخرت مومنین کے لئے ہے اور وہاں کی ذلّت و خواری کُفّار کے لئے ہے ۔
اور کافر کہتے ہی تم رسول نہیں، تم فرماؤ اللہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں (ف۱۱۹) اور وہ جسے کتاب کا علم ہے (ف۱۲۰)
The disbelievers say, “You are not a (Noble) Messenger (of Allah)”; proclaim, “Allah is a Sufficient Witness between me and you, and (so is) he who has knowledge of the Book.”
और काफ़र कहते ही तुम रसूल नहीं, तुम फ़रमाओ अल्लाह गवाह काफ़ी है मुझ में और तुम में और वह जिसे किताब का इल्म है
"
Aur kaafir kehte hi tum rasool nahi, tum farmao Allah gawah kaafi hai mujh mein aur tum mein aur woh jise kitaab ka ilm hai
(ف119)جس نے میرے ہاتھوں میں معجزاتِ باہرہ و آیاتِ قاہرہ ظاہر فرما کر میرے نبیٔ مُرسَل ہونے کی شہادت دی ۔(ف120)خواہ وہ عُلَمائے یہود میں سے توریت کا جاننے والا ہو یا نصارٰی میں سے انجیل کا عالم ، وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کو اپنی کتابوں میں دیکھ کر جانتا ہے ان عُلَماء میں سے اکثر آپ کی رسالت کی شہادت دیتے ہیں ۔
ایک کتاب ہے (ف۲) کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری کہ تم لوگوں کو (ف۳) اندھیریوں سے (ف٤) اجالے میں لاؤ (ف۵) ان کے رب کے حکم سے اس کی راہ (ف٦) کی طرف جو عزت والا سب خوبیوں والا ہے
Alif-Lam-Ra; it is a Book which We have sent down upon you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) so that you may bring forth people from the realms of darkness into light – by the command of their Lord, towards the path of the Most Honourable, the Most Praiseworthy.
एक किताब है कि हम ने तुम्हारी तरफ उतारी कि तुम लोगों को अंधेरियों से उजाले में लाओ उनके रब के हुक्म से इसकी राह की तरफ जो इज़्ज़त वाला सब खूबियों वाला है
Ek kitaab hai ke hum ne tumhari taraf utaari ke tum logon ko andheriyon se ujale mein lao unke Rab ke hukm se is ki raah ki taraf jo izzat wala sab khoobiyon wala hai
(ف2)یہ قرآن شریف ۔(ف3)کُفر و ضلالت و جہل و غوایت کی ۔(ف4)ایمان کے ۔(ف5)ظلمات کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں ایماء ہے کہ دینِ حق کی راہ ایک ہے اور کُفر و ضلالت کے طریقے کثیر ۔(ف6)یعنی دینِ اسلام ۔
اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا (ف۱۰) کہ وہ انھیں صاف بتائے (ف۱۱) پھر اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ راہ دکھاتا ہے جسے چاہے، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
And We sent every Noble Messenger with the same language as his people*, so that he may clearly explain to them; then Allah sends astray whomever He wills, and He guides whomever He wills; and He only is the Most Honourable, the Wise. (* Prophet Mohammed (peace and blessings be upon him) was taught all the languages as he is sent towards all.)
और हम ने हर रसूल इसकी क़ौम ही की ज़बान में भेजा कि वो उन्हें साफ़ बताए फिर अल्लाह गुमराह करता है जिसे चाहे और वो राह दिखाता है जिसे चाहे, और वही इज़्ज़त व हिक़मत वाला है
Aur hum ne har rasool uski qaum hi ki zaban mein bheja ke woh unhein saaf bataaye phir Allah gumrah karta hai jise chahe aur woh raah dikhaata hai jise chahe, aur wahi izzat o hikmat wala hai
(ف10)جس میں وہ رسول مبعوث ہوا ، خواہ اس کی دعوت عام ہو اور دوسری قوموں اور دوسرے مُلکوں پر بھی اس کا اِتِّباع لازم ہو جیسا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت تمام آدمیوں اور جنّوں بلکہ ساری خَلق کی طرف ہے اور آپ سب کے نبی ہیں جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْراً ۔(ف11)اور جب اس کی قوم اچھی طرح سمجھ لے تو دوسری قوموں کو ترجموں کے ذریعے سے وہ احکام پہنچا دیئے جائیں اور ان کے معنٰی سمجھا دیئے جائیں ۔ بعض مفسِّرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی فرمایا ہے کہ قومِہٖ کی ضمیر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف راجع ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے ہر رسول کو سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان یعنی عربی میں وحی فرمائی اور یہ معنٰی ایک روایت میں بھی آئے ہیں کہ وحی ہمیشہ عربی زبان ہی میں نازِل ہوئی پھر انبیاء علیہم السلام نے اپنی قوموں کے لئے ان کی زبانوں میں ترجمہ فرما دیا ۔ ( اتقان ، حسینی ) مسئلہ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی تمام زبانوں میں سب سے افضل ہے ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں (ف۱۲) دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیریوں سے (ف۱۳) اجالے میں لا، اور انھیں اللہ کے دن یاد دلا (ف۱٤) بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبرے والے شکر گزار کرو،
And indeed We sent Moosa along with Our signs that, “Bring your people from the realms of darkness into light – and remind them of the days of Allah*; indeed in them are signs for every greatly enduring, grateful person.” (* When various favours were bestowed – in order to give thanks and be patient.)
और बेशक हम ने मूसा को अपनी निशानियाँ दे कर भेजा कि अपनी क़ौम को अंधेरियों से उजाले में ला, और उन्हें अल्लाह के दिन या दिला बेशक इसमें निशानियाँ हैं हर बड़े सब्र वाले शुक्रगुज़ार करो
Aur beshak hum ne Moosa ko apni nishaniyan de kar bheja ke apni qaum ko andheriyon se ujale mein la, aur unhein Allah ke din ya dilaa beshak is mein nishaniyan hain har bade sabr wale shukar guzar karo
(ف12)مثل عصا و یدِ بیضا وغیرہ معجزاتِ باہرہ کے ۔(ف13)کُفر کی نکال کر ایمان کے ۔(ف14)قاموس میں ہے کہ ایّامُ اللہ سے اللہ کی نعمتیں مراد ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس و اُبی بن کعب و مجاہد و قتادہ نے بھی ایّامُ اللہ کی تفسیر (اللہ کی نعمتیں) فرمائیں ۔ مقاتل کا قول ہے کہ ایّامُ اللہ سے وہ بڑے بڑے وقائع مراد ہیں جو اللہ کے امر سے واقع ہوئے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ ایّامُ اللہ سے وہ دن مراد ہیں جن میں اللہ نے اپنے بندوں پر انعام کئے جیسے کہ بنی اسرائیل کے لئے مَن و سلوٰی اتارنے کا دن ، حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے دریا میں راستہ بنانے کا دن ( خازن و مدارک و مفرداتِ راغب) ان ایّامُ اللہ میں سب سے بڑی نعمت کے دن سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے اسی طرح اور بزرگوں پر جو اللہ تعالٰی کی نعمتیں ہوئیں یا جن ایّام میں واقعاتِ عظمیہ پیش آئے جیسا کہ دسویں محرم کو کربلا کا واقعہ ہائلہ ، ان کی یادگار میں قائم کرنا بھی تذکیر بِایّامِ اللہ میں داخل ہے ۔ بعض لوگ میلاد شریف معراج شریف اور ذکرِ شہادت کے ایّام کی تخصیص میں کلام کرتے ہیں انہیں اس آیت سے نصیحت پذیر ہونا چاہیئے ۔
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۵) یاد کرو اپنے اوپر اللہ کا احسان جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو بری مار دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں زندہ رکھتے، اور اس میں (ف۱٦) تمہارے رب کا بڑا فضل ہوا،
And when Moosa said to his people, “Remember Allah’s favour upon you when He rescued you from the people of Firaun who were inflicting you with a dreadful torment, and were slaying your sons and sparing your daughters; and in it occurred a great favour of your Lord.”* (* On the 10th day of Moharram – therefore the Jews used to fast on that day as thanksgiving.)
और जब मूसा ने अपनी क़ौम से कहा याद करो अपने ऊपर अल्लाह का एहसान जब उस ने तुम्हें फिरऔन वालों से निजात दी जो तुम को बुरी मार देते थे और तुम्हारे बेटों को ज़ब कर देते और तुम्हारी बेटियां ज़िंदा रखते, और इसमें तुम्हारे रब का बड़ा फ़ज़्ल हुआ
Aur jab Moosa ne apni qaum se kaha yaad karo apne oopar Allah ka ehsaan jab usne tumhein Firaun walon se najat di jo tum ko buri maar dete the aur tumhare beton ko zabh karte aur tumhari betiyan zinda rakhte, aur is mein tumhare Rab ka bada fazl hua
(ف15)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کا اپنی قوم کو یہ ارشاد فرمانا تذکیر ایّامُ اللہ کی تعمیل ہے ۔(ف16)یعنی نجات دینے میں ۔
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دونگا (ف۱۷) اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے،
And remember when your Lord proclaimed, “If you give thanks, I will give you more, and if you are ungrateful then (know that) My punishment is severe.”
और याद करो जब तुम्हारे रब ने सुना दिया कि अगर एहसान मानोगे तो मैं तुम्हें और दूंगा और अगर नशु्क़री करो तो मेरा अज़ाब सख़्त है
Aur yaad karo jab tumhare Rab ne suna diya ke agar ehsaan mano ge to main tumhein aur dunga aur agar nashukri karo to mera azaab sakht hai
(ف17)اس آیت سے معلوم ہوا کہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے ۔ شکر کی اصل یہ ہے کہ آدمی نعمت کا تصوّر اور اس کا اظہارکرے اور حقیقتِ شکر یہ ہے کہ مُنعِم کی نعمت کا اس کی تعظیم کے ساتھ اعتراف کرے اور نفس کو اس کا خُوگر بنائے ۔ یہاں ایک باریکی ہے وہ یہ کہ بندہ جب اللہ تعالٰی کی نعمتوں اور اس کے طرح طرح کے فضل و کرم و احسان کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے شکر میں مشغول ہوتا ہے اس سے نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بندے کے دل میں اللہ تعالٰی کی مَحبت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ یہ مقام بہت برتر ہے اور اس سے اعلٰی مقام یہ ہے کہ مُنعِم کی مَحبت یہاں تک غالب ہو کہ قلب کو نعمتوں کی طرف التفات باقی نہ رہے ، یہ مقام صدیقوں کا ہے ۔ اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ہمیں شکر کی توفیق عطا فرمائے ۔
کیا تمہیں ان کی خبریں نہ آئیں جو تم سے پہلے تھی نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو ان کے بعد ہوئے، انھیں اللہ ہی جانے (ف۱۹) ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے (ف۲۰) تو وہ اپنے ہاتھ (ف۲۱) اپنے منہ کی طرف لے گئے (ف۲۲) اور بولے ہم منکر ہیں اس کے جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا اور جس راہ (ف۲۳) کی طرف ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں وہ شک ہے کہ بات کھلنے نہیں دیتا،
Did not the tidings of those before you reach you? The people of Nooh, and the A’ad and the Thamud, and those after them? Only Allah knows them; their Noble Messengers came to them with clear proofs, they therefore raised their hands towards their own mouths, and said, “We disbelieve in what you have been sent with, and we are in a deeply intriguing doubt regarding the path you call us to.”
क्या तुम्हें उनकी खबरें न आयीं जो तुम से पहले थी नूह की क़ौम और आद और थमूद और जो उनके बाद हुए, उन्हें अल्लाह ही जाने उनके पास उनके रसूल रोशन दलीलें ले कर आये तो वो अपने हाथ अपने मुँह की तरफ ले गए और बोले हम मंकर हैं उसके जो तुम्हारे हाथ भेजा गया और जिस राह की तरफ हमें बुलाते हो इसमें हमें वो शक है कि बात खुलने नहीं देती
Kya tumhein un ki khabrein na aayin jo tum se pehle thi Nuh ki qaum aur Aad aur Samood aur jo un ke baad hue, unhein Allah hi jaane un ke paas unke rasool roshan daleelain le kar aaye to woh apne haath apne moonh ki taraf le gaye aur bole hum munkir hain uske jo tumhare haath bheja gaya aur jis raah ki taraf humein bulate ho is mein humein woh shak hai ke baat khulne nahi deti
(ف19)کتنے تھے ۔(ف20)اور انہوں نے معجزات دکھائے ۔(ف21)شدّتِ غیظ سے ۔(ف22)حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ وہ غصّہ میں آ کر اپنے ہاتھ کاٹنے لگے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انہوں نے کتاب اللہ سن کر تعجب سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے ، غرض یہ کوئی نہ کوئی انکار کی ادا تھی ۔(ف23)یعنی توحید و ایمان ۔
ان کے رسولوں نے کہا کیا اللہ میں شک ہے (ف۲٤) آسمان اور زمین کا بنانے والا، تمہیں بلاتا ہے (ف۲۵) کہ تمہارے کچھ گناہ بخشے (ف۲٦) اور موت کے مقرر وقت تک تمہاری زندگی بےعذاب کاٹ دے، بولے تم تو ہمیں جیسے آدمی ہو (ف۲۷) تم چاہتے ہو کہ ہمیں اس سے باز رکھو جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۸) اب کوئی روشن سند ہمارے پاس لے آؤ (ف۲۹)
Their Noble Messengers said, “What! You doubt concerning Allah, the Creator of the heavens and the earth? He calls you that He may forgive some of your sins and until the time of death give you a life free from punishment”; they said, “You are just human beings like us; you wish to prevent us from what our forefathers used to worship – therefore now bring some clear proof to us.”
उनके रसूलों ने कहा क्या अल्लाह में शक है आसमान और ज़मीन का बनाने वाला, तुम्हें बुलाता है कि तुम्हारे कुछ गुनाह बख़्शे और मौत के मुकर्रर वक़्त तक तुम्हारी ज़िंदगी बे अज़ाब काट दे, बोले तुम तो हमें जैसे आदमी हो तुम चाहते हो कि हमें उस से बाज़ रखो जो हमारे बाप दादा पूजते थे अब कोई रोशन सन्द ले आओ
Unke rasoolon ne kaha kya Allah mein shak hai aasman aur zameen ka banane wala, tumhein bulaata hai ke tumhare kuch gunaah bakhsh de aur maut ke muqarrar waqt tak tumhari zindagi be azaab kaat de, bole tum to humein jaise aadmi ho tum chahte ho ke humein us se baaz rakho jo humare baap dada poojhte the ab koi roshan sanad humare paas le aao
(ف24)کیا اس کی توحید میں تردُّد ہے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ، اس کی دلیلیں تو نہایت ظاہر ہیں ۔(ف25)اپنی طاعت و ایمان کی طرف ۔(ف26)جب تم ایمان لے آؤ اس لئے کہ اسلام لانے کے بعد پہلے کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں سوائے حقوقِ عباد کے اور اسی لئے کچھ گناہ فرمایا ۔(ف27)ظاہر میں ہمیں اپنی مثل معلوم ہوتے ہو پھر کیسے مانا جائے کہ ہم تو نبی نہ ہوئے اور تمہیں یہ فضیلت مل گئی ۔(ف28)یعنی بُت پرستی سے ۔(ف29)جس سے تمہارے دعوے کی صحت ثابت ہو ۔ یہ کلام ان کا عناد و سرکشی سے تھا اور باوجود یکہ انبیاء آیات لا چکے تھے ، معجزات دکھا چکے تھے پھر بھی انہوں نے نئی سند مانگی اور پیش کئے ہوئے معجزات کو کالعدم قرار دیا ۔
ان کے رسولوں نے ان سے کہا (ف۳۰) ہم ہیں تو تمہاری طرح انسان مگر اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہے احسان فرماتا ہے (ف۳۱) اور ہمارا کام نہیں کہ ہم تمہارے پاس کچھ سند لے آئیں مگر اللہ کے حکم سے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۲)
Their Noble Messengers said to them, “We are indeed human beings like you, but Allah bestows favour upon whomever He wills, among His bondmen*; it is not our task to bring any proof to you except by the command of Allah; and only upon Allah must the Muslims rely.” (* Therefore Prophets and other men are not equal in status.)
उनके रसूलों ने उनसे कहा हम हैं तो तुम्हारी तरह इंसान मगर अल्लाह अपने बंदों में जिस पर चाहे एहसान फ़रमाता है और हमारा काम नहीं कि हम तुम्हारे पास कुछ सन्द ले आएँ मगर अल्लाह के हुक्म से, और मुसलमानों को अल्लाह ही पर भरोसा चाहिए
Unke rasoolon ne un se kaha hum hain to tumhari tarah insaan magar Allah apne bandon mein jis par chahe ehsaan farmata hai aur humara kaam nahi ke hum tumhare paas kuch sanad le aayen magar Allah ke hukm se, aur Musalmanon ko Allah hi par bharosa chahiye
(ف30)اچھا یہی مانو کہ ۔(ف31)اور نُبوّت و رسالت کے ساتھ برگزیدہ کرتا ہے اور اس منصبِ عظیم کے ساتھ مشرف فرماتا ہے ۔(ف32)وہی اعداء کی شر دفع کرتا اور اس سے محفوظ رکھتا ہے ۔
اور ہمیں کیا ہوا کہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں (ف۳۳) اس نے تو ہماری راہیں ہمیں دکھا دیں (ف۳٤) اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے، اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے،
“And what is the matter with us that we should not rely on Allah? He has in fact shown us our ways; and we will surely be patient upon the troubles you cause us; and those who trust must rely only upon Allah.”
और हमें क्या हुआ कि अल्लाह पर भरोसा न करें उसने तो हमारी राहें हमें दिखा दी और तुम जो हमें सताए रहे हो हम ज़रूर इस पर सब्र करेंगे, और भरोसा करने वालों को अल्लाह ही पर भरोसा चाहिए
Aur humein kya hua ke Allah par bharosa na karein usne to humari rahein humein dikha di aur tum jo humein sata rahe ho hum zaroor is par sabr kareinge, aur bharosa karne walon ko Allah hi par bharosa chahiye
(ف33)ہم سے ایسا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ قضائے الٰہی میں ہے وہی ہوگا ، ہمیں اس پر پورا بھروسہ اور کامل اعتماد ہے ۔ ابو تراب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے کہ توکُّل بدن کو عبودیت میں ڈالنا ، قلب کو ربوبیت کے ساتھ متعلق رکھنا ، عطا پر شکر ، بلا پر صبر کا نام ہے ۔(ف34)اور رُشد و نَجات کے طریقے ہم پر واضح فرما دیئے اور ہم جانتے ہیں کہ تمام امور اس کے قدرت و اختیار میں ہیں ۔
اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین (ف۳۵) سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر کچھ ہوجاؤ، تو انھیں ان کے رب نے وحی بھیجی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کریں گے
And the disbelievers said to their Noble Messengers, “We will surely expel you from our land, unless you accept our religion”; so their Lord sent them the divine revelation that, “Indeed We will destroy these unjust people.”
और काफ़िरों ने अपने रसूलों से कहा हम ज़रूर तुम्हें अपनी ज़मीन से निकाल देंगे या तुम हमारे दीन पर कुछ हो जाओ, तो उन्हें उनके रब ने वाही भेजी कि हम ज़रूर ज़ालिमों को हलाक़ करेंगे
Aur kafiron ne apne rasoolon se kaha hum zaroor tumhein apni zameen se nikaal denge ya tum humare deen par kuch ho jao, to unhein unke Rab ne wahi bheji ke hum zaroor zalimon ko halaak kareinge
اور ضرور ہم تم کو ان کے بعد زمین میں بسائیں گے (ف۳٦) یہ اس لیے ہے جو (ف۳۷) میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے، اس سے خوف کرے،
“And indeed We will establish you in the land after them; this is for him who fears to stand before Me and fears the commands of punishment declared by Me.”
और ज़रूर हम तुम को उनके बाद ज़मीन में बसाएंगे यह इसलिए है जो मेरे हज़ूर खड़े होने से डरे और मैंने जो अज़ाब का हुक्म सुनाया है, उससे ख़ौफ़ करे
Aur zaroor hum tum ko un ke baad zameen mein basayeinge ye is liye hai jo mere huzoor khade hone se dare aur main ne jo azaab ka hukm sunaya hai, us se khauf kare
(ف36)حدیث شریف میں ہے جو اپنے ہمسائے کو ایذا دیتا ہے اللہ اس کے گھر کا اسی ہمسائے کو مالک بناتا ہے ۔(ف37)قیامت کے دن ۔
اور انہوں نے (ف۳۸) فیصلہ مانگا اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا مراد ہوا (ف۳۹)
And they sought a decision, and every stubborn rebel was destroyed.
और उन्होंने फ़ैसला माँगा और हर सर्ख़श हट धरम ना मुराद हुआ
Aur unhone faisla maanga aur har sarkash hat dharm na murad hua
(ف38)یعنی انبیاء نے اللہ تعالٰی سے مدد طلب کی یا اُمّتوں نے اپنے اور رسولوں کے درمیان اللہ تعالٰی سے ۔(ف39)معنٰی یہ ہیں کہ انبیاء کی نصرت فرمائی گئی اور انہیں فتح دی گئی اور حق کے معانِد ، سرکش کافِر نامراد ہوئے اور ان کے خلاص کی کوئی سبیل نہ رہی ۔
بہ مشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی (ف٤۰) اور اسے ہر طرف سے موت آئے گی اور مرے گا نہیں، اور اس کے پیچھے ایک گاڑھا عذاب (ف٤۱)
He will sip it with difficulty but be unable to swallow, and death will approach him from every side and he will not die; and a severe punishment is after him.
बह मुश्किल उसका थोड़ा थोड़ा घूँट लेगा और गले से नीचे उतारने की उम्मीद न होगी और उसे हर तरफ़ से मौत आएगी और मरेगा नहीं, और उसके पीछे एक गाढ़ा अज़ाब
Bah mushkil uska thoda thoda ghoont lega aur galay se neeche utarne ki umeed na hogi aur use har taraf se maut aayegi aur marega nahi, aur uske peeche ek gaadha azaab
(ف40)حدیث شریف میں ہے کہ جہنّمی کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا جب وہ منہ کے پاس آئے گا تو اس کو بہت ناگوار معلوم ہوگا اور جب اور قریب ہو گا تو اس سے چہرہ بُھن جائے گا اور سر تک کی کھال جل کر گر پڑ ے گی جب پئے گا تو آنتیں کٹ کر نکل جائیں گی ۔ ( اللہ کی پناہ)(ف41)یعنی ہر عذاب کے بعد اس سے زیادہ شدید و غلیظ عذاب ہوگا ۔ ( نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَ مِنْ غَضَبِ الْجَبَّارِ ) ۔
اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں (ف ٤۲) جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں (ف٤۳) ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا، یہی ہے دور کی گمراہی،
The state of those who disbelieve in their Lord is that their deeds are like ashes which the strong wind blew away on a stormy day; they got nothing from all that they earned; this is the extreme error.
अपने रब से मंकरों का हाल ऐसा है कि उनके काम हैं जैसे राख़ कि उस पर हवा का सख़्त झोंका आया आँधी के दिन में सारी कमाई में से कुछ हाथ न लगा, यही है दूर की गुमराही
Apne Rab se munkiron ka haal aisa hai ke unke kaam hain jaise raakh ke us par hawa ka sakht jhonka aaya aandhi ke din mein saari kamai mein se kuch haath na laga, yehi hai door ki gumrahi
(ف42)جن کو وہ نیک عمل سمجھتے تھے جیسے کہ محتاجوں کی امداد ، مسافروں کی اعانت اور بیماروں کی خبر گیری وغیرہ چونکہ ایمان پر مبنی نہیں اس لئے وہ سب بے کار ہیں اور ان کی ایسی مثال ہے ۔(ف43)اور وہ سب اڑ گئی اور اس کے اجزاء منتشر ہو گئے اور اس میں سے کچھ باقی نہ رہا یہی حال ہے کُفّار کے اعمال کا کہ ان کے شرک و کُفر کی وجہ سے سب برباد اور باطل ہو گئے ۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے (ف٤٤) اگر چاہے تو تمہیں لے جائے (ف٤۵) اور ایک نئی مخلوق لے آئے (ف٤٦)
Have you not seen that Allah has created the heavens and the earth with true purpose? If He wills, He can remove you all and bring a new creation.
क्या तू ने न देखा कि अल्लाह ने आसमान और ज़मीन हक़ के साथ बनाए अगर चाहे तो तुम्हें ले जाए और एक नई मख़लूक ले आए
Kya tu ne na dekha ke Allah ne aasman aur zameen haq ke saath banaye agar chahe to tumhein le jaaye aur ek nai makhlooq le aaye
(ف44)ان میں بڑی حکمتیں ہیں اور ان کی پیدائش عبث نہیں ہے ۔(ف45)معدوم کر دے ۔(ف46)بجائے تمہارے جو فرمانبردار ہو اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے جو آسمان و زمین پیدا کرنے پر قادر ہے ۔
اور سب اللہ کے حضور (ف٤۸) اعلانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے (ف٤۹) بڑائی والوں سے کہیں گے (ف۵۰) ہم تمہارے تابع تھے کیا تم سے ہوسکتا ہے کہ اللہ کے عذاب میں سے کچھ ہم پر سے ٹال دو (ف۵۱) کہیں گے اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں کرتے (ف٤۲) ہم پر ایک سا ہے چاہے بےقراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پناہ نہیں،
They will all publicly come in the presence of Allah – then those who were weak will say to those who were the leaders, “We were your followers – is it possible for you to avert some of Allah’s punishment from us?” They will answer, “If Allah had guided us, we would have guided you; it is the same for us, whether we panic or patiently endure – we have no place of refuge.” (* This conversation will take place between the disbelievers and their leaders.)
और सब अल्लाह के हाज़ूर ऐलानीहा हाज़िर होंगे तो जो कमज़ोर थे बढ़ाई वालों से कहेंगे हम तुम्हारे ताबे थे क्या तुम से हो सकता है कि अल्लाह के अज़ाब में से कुछ हम पर से टाल दो कहेंगे अल्लाह हमें हिदायत करता तो हम तुम्हें करते हम पर एक सा है चाहे बे करारी करें या सब्र से रहें हमें कहीं पनाह नहीं
Aur sab Allah ke huzoor aelaaniya haazir honge to jo kamzor the barai walon se kahenge hum tumhare tabae the kya tum se ho sakta hai ke Allah ke azaab mein se kuch hum par se taal do kahenge Allah humein hidaayat karta to hum tumhein karte hum par ek sa hai chahe beqarari karein ya sabr se rahein humein kahin panaah nahi
(ف48)روزِ قیامت ۔(ف49)اور دولت مندوں اور با اثر لوگوں کی اِتّباع میں انہوں نے کُفر اختیار کیا تھا ۔(ف50)کہ دین و اعتقاد میں ۔(ف51)یہ کلام ان کا توبیخ و عنادکے طور پر ہوگا کہ دنیا میں تم نے گمراہ کیا تھا اور راہِ حق سے روکا تھا اوربڑھ بڑھ کر باتیں کیا کرتے تھے ، اب وہ دعوے کیا ہوئے اب اس عذاب میں سے ذرا سا تو ٹالو ، کافِروں کے سردار اس کے جواب میں ۔(ف52)جب خود ہی گمراہ ہو رہے تھے تو تمہیں کیا راہ دکھاتے ، اب خلاصی کی کوئی راہ نہیں ، نہ کافِروں کے لئے شفاعت ، آؤ روئیں اور فریاد کریں ، پانچ سوبرس فریاد و زاری کریں گے اور کچھ نہ کام آئے گی تو کہیں گے اب صبر کر کے دیکھو شاید اس سے کچھ کام نکلے ، پانچ سو برس صبر کریں گے وہ بھی کام نہ آئے گا تو کہیں گے کہ ۔
اور شیطان کہے گا جب فیصلہ ہوچکے گا (ف۵۳) بیشک اللہ نے تم کو سچا وعدہ دیا تھا (ف۵٤) اور میں نے جو تم کو وعدہ دیا تھا (ف۵۵) وہ میں نے تم سے جھوٹا کیا اور میرا تم پر کچھ قابو نہ تھا (ف۵٦) مگر یہی کہ میں نے تم کو (ف۵۷) بلایا تم نے میری مان لی (ف۵۸) تو اب مجھ پر الزام نہ رکھو (ف۵۹) خود اپنے اوپر الزام رکھو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکو، وہ جو پہلے تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا (ف٦۰) میں اس سے سخت بیزار ہوں، بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے،
And Satan will say when the matter has been decided, “Indeed Allah had given you a true promise – and the promise I gave you, I made it untrue to you; and I had no control over you except that I called you and you obeyed me; so do not accuse me, blame only yourselves; neither can I help you, nor can you help me; I have no concern with your ascribing me as a partner (to Allah); indeed for the unjust is a painful punishment.”
और शैतान कहेगा जब फ़ैसला हो चुकेगा बेशक अल्लाह ने तुम को सच्चा वादा दिया था और मैंने जो तुम को वादा दिया था वह मैंने तुम से झूठा किया और मेरा तुम पर कुछ क़ाबू न था मगर यही कि मैंने तुम को बुलाया तुम ने मेरी मान ली तो अब मुझ पर इल्ज़ाम न रखो खुद अपने ऊपर इल्ज़ाम रखो न मैं तुम्हारी फ़रियाद को पहुँच सकूँ न तुम मेरी फ़रियाद को पहुँच सको, वो जो पहले तुम ने मुझे शरीक ठहराया था मैं उस से सख़्त बेज़ार हूँ, बेशक ज़ालिमों के लिए दर्दनाक अज़ाब है
Aur shaitaan kahega jab faisla ho chuke ga beshak Allah ne tum ko sachha wada diya tha aur main ne jo tum ko wada diya tha woh main ne tum se jhootha kiya aur mera tum par kuch qaboo na tha magar yehi ke main ne tum ko bulaaya tum ne meri maan li to ab mujh par ilzaam na rakho khud apne oopar ilzaam rakho na main tumhari fareyaad ko pohonch sakoon na tum meri fareyaad ko pohonch sako, woh jo pehle tum ne mujhe shareek thehraaya tha main us se sakht bezaar hoon, beshak zalimon ke liye dardnaak azaab hai
(ف53)اور حساب سے فراغت ہو جائے گی ، جنّتی جنّت کا اور دوزخی دوزخ کا حکم پا کر جنّت و دوزخ میں داخل ہو جائیں گے اور دوزخی شیطان پر ملامت کریں گے اور اس کو برا کہیں گے کہ بدنصیب تو نے ہمیں گمراہ کر کے اس مصیبت میں گرفتار کیا تو وہ جواب دے گا کہ ۔(ف54)کہ مرنے کے بعد پھر اٹھنا ہے اور آخرت میں نیکیوں اور بدیوں کا بدلہ ملے گا ، اللہ کا وعدہ سچا تھا سچا ہوا ۔(ف55)کہ نہ مرنے کے بعد اٹھنا ، نہ جزا ، نہ جنّت ، نہ دوزخ ۔(ف56)نہ میں نے تمیں اپنے اِتّباع پر مجبور کیا تھا یا یہ کہ میں نے اپنے وعدہ پر تمہارے سامنے کوئی حُجّت و برہان پیش نہیں کی تھی ۔(ف57)وسوسے ڈال کر گمراہی کی طرف ۔(ف58)اور بغیر حُجّت و برہان کے تم میرے بہکائے میں آ گئے باوجود یکہ اللہ تعالٰی نے تم سے فرما دیا تھا کہ شیطان کے بہکائے میں نہ آنا اور اس کے رسول اس کی طرف سے دلائل لے کر تمہارے پاس آئے اور انہوں نے حجّتیں پیش کیں اور برہانیں قائم کیں تو تم پر خود لازم تھا کہ تم ان کا اِتّباع کرتے اور ان کے روشن دلائل اورظاہر معجزات سے منہ نہ پھیرتے اور میری بات نہ مانتے اور میری طرف التفات نہ کرتے مگر تم نے ایسا نہ کیا ۔(ف59)کیونکہ میں دشمن ہوں اور میری دشمنی ظاہر ہے اور دشمن سے خیر خواہی کی امید رکھنا ہی حماقت ہے تو ۔(ف60)اللہ کا اس کی عبادت میں ۔ (خازن)
اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اپنے رب کے حکم سے، اس میں ان کے ملتے وقت کا اکرام سلام ہے (ف٦۱)
And those who believed and did good deeds will be admitted into Gardens beneath which rivers flow, abiding in it forever, by the command of their Lord; their greeting in it is “Peace”.
और वो जो ईमान लाए और अच्छे काम किए वो बाग़ों में दाख़िल किए जाएँगे जिन के नीचे नहरें रवां हमेशा उनमें रहें अपने रब के हुक्म से, इसमें उनके मिलते वक़्त का इकराम सलाम है
Aur woh jo iman laaye aur achhe kaam kiye woh baaghon mein daakhil kiye jaayenge jin ke neeche nahrein rawaan hamesha un mein rahein apne Rab ke hukm se, is mein unke milte waqt ka ikraam salaam hai
(ف61)اللہ تعالٰی کی طرف سے اور فرشتوں کی طرف سے اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف سے ۔
ہر وقت پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے (ف٦۳) اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں (ف٦٤)
Bearing fruit at all times by the command of its Lord; and Allah illustrates examples for people so that they may understand.
हर वक़्त फल देता है अपने रब के हुक्म से और अल्लाह लोगों के लिए मिसालें बयान फ़र्माता है कि कहीं वो समझें
Har waqt phal deta hai apne Rab ke hukm se aur Allah logon ke liye misaalain bayan farmaata hai ke kahin woh samjhein
(ف63)ایسے ہی کلمۂ ایمان ہے کہ اس کی جڑ قلبِ مومن کی زمین میں ثابت اور مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخیں یعنی عمل آسمان میں پہنچتے ہیں اور اس کے ثمرات برکت و ثواب ہر وقت حاصل ہوتے ہیں ۔ حدیث شریف میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحابِ کرام سے فرمایا وہ درخت بتاؤ جو مومن کے مثل ہے اس کے پتے نہیں گرتے اور وہ ہر وقت پھل دیتا ہے ( یعنی جس طرح مومن کے عمل اکارت نہیں ہوتے اور اس کی برکتیں ہر وقت حاصل رہتی ہیں ) صحابہ نے فکریں کیں کہ ایسا کون درخت ہے جس کے پتے نہ گرتے ہوں اور اس کا پھل ہر وقت موجود رہتا ہے چنانچہ جنگل کے درختوں کے نام لئے جب ایسا کوئی درخت خیال میں نہ آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا ، فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اپنے والد ماجد حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عرض کیا کہ جب حضور نے دریافت فرمایا تھا تو میرے دل میں آیا تھا کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن بڑے بڑے صحابہ تشریف فرما تھے میں چھوٹا تھا اس لئے میں ادباً خاموش رہا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اگر تم بتا دیتے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ۔(ف64)اور ایمان لائیں کیونکہ مثالوں سے معنی اچھی طرح خاطر گُزین ہو جاتے ہیں ۔
اور گندی بات (ف٦۵) کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ (ف٦٦) کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں (ف٦۷)
And the example of a bad saying is like a filthy tree, which is cut off above the ground, therefore not having stability.
और गंदी बात की मिसाल जैसे एक गंदा पेड़ कि ज़मीन के ऊपर से काट दिया गया अब उसे कोई क़ियाम नहीं
Aur gandi baat ki misaal jaise ek ganda ped ke zameen ke upar se kaat diya gaya ab use koi qiyaam nahi
(ف65)یعنی کُفری کلام ۔(ف66)مثل اندرائن کے جس کا مزہ کڑوا ، بو ناگوار یا مثل لہسن کے بدبودار ۔(ف67)کیونکہ جڑ اس کی زمین میں ثابت و مستحکم نہیں ، شاخیں اس کی بلند نہیں ہوتیں ۔ یہی حال ہے کُفری کلام کا کہ اس کی کوئی اصل ثابت نہیں اور کوئی حجّت و برہان نہیں رکھتا جس سے استحکام ہو ، نہ اس میں کوئی خیر وبرکت کہ وہ بلندیٔ قبول پر پہنچ سکے ۔
اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات (٦۸) پر دنیا کی زندگی میں (ف٦۹) اور آخرت میں (ف۷۰) اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے (ف۷۱) اور اللہ جو چاہے کرے،
Allah keeps the believers firm upon the truth in the life of this world and in the Hereafter; and Allah sends the unjust astray; and Allah may do whatever He wills.
अल्लाह साबिक़ रखता है ईमान वालों को हक़ बात
Allah saabit rakhta hai iman walon ko haq baat
(ف68)یعنی کلمۂ ایمان ۔(ف69)کہ وہ ابتلاء اور مصیبت کے وقتوں میں بھی صابر و قائم رہتے ہیں اور راہِ حق و دینِ قویم سے نہیں ہٹتے حتی کہ ان کی حیات کاخاتمہ ایمان پر ہوتا ہے ۔ (ف70)یعنی قبر میں کہ اول منازلِ آخرت ہے جب منکر نکیر آ کر ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارا ربّ کون ہے ، تمہارا دین کیا ہے اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے دریافت کرتے ہیں کہ ان کی نسبت تو کیا کہتا ہے ؟ تو مومن اس منزل میں بفضلِ الٰہی ثابت رہتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ میرا ربّ اللہ ہے ، میرا دین اسلام اور یہ میرے نبی ہیں محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول پھر اس کی قبر وسیع کر دی جاتی ہے اور اس میں جنّت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی ہیں اور وہ منوّر کر دی جاتی ہے اور آسمان سے ندا ہوتی ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا ۔(ف71)وہ قبر میں منکَر و نکیر کو جواب صحیح نہیں دے سکتے اور ہر سوال کے جواب میں یہی کہتے ہیں ہائے ہائے میں نہیں جانتا ، آسمان سے ندا ہوتی ہے میرا بندہ جھوٹا ہے اس کے لئے آ گ کا فرش بچھاؤ ، دوزخ کا لباس پہناؤ ، دوزخ کی طرف دروازہ کھول دو ۔ اس کو دوزخ کی گرمی اور دوزخ کی لپٹ پہنچتی ہے اور قبر اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف آ جاتی ہیں ، عذاب کرنے والے فرشتے اس پر مقرر کئے جاتے ہیں جو اسے لوہے کے گرزوں سے مارتے ہیں ۔( اَعَاذْنَا اللّٰہ ُ تَعَالیٰ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ وَ ثَبِّتْنَاعَلَی الْاِیْمَانِ ) ۔
کیا تم نے انھیں نہ دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی (ف۷۲) اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتار،
Did you not see those who exchanged the grace of Allah for ungratefulness and led their people down to the home of destruction?
पर दुनिया की ज़िंदगी में और आख़िरत में और अल्लाह ज़ालिमों को गुमराह करता है और अल्लाह जो चाहे करे
par duniya ki zindagi mein aur aakhirat mein aur Allah zalimon ko gumrah karta hai aur Allah jo chahe kare
(ف72)بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ان لوگوں سے مراد کُفّارِ مکّہ ہیں اور وہ نعمت جس کی شکر گزاری انہوں نے نہ کی وہ اللہ کے حبیب ہیں سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ اللہ تعالٰی نے ان کے وجود سے اس امّت کو نوازا اور ان کی زیارت سراپا کرامت کی سعادت سے مشرف کیا ۔ لازم تھا کہ اس نعمتِ جلیلہ کا شکر بجا لاتے اور ان کا اِتّباع کر کے مزید کرم کے مورد ہوتے بجائے اس کے انہوں نے ناشکری کی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کیا اور اپنی قوم کو جو دین میں ان کے موافق تھے دارالہلاک میں پہنچایا ۔
میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی (ف۷٦) نہ یارانہ (ف۷۷)
Say to the bondmen of Mine who believe, that they must keep the prayer established and spend in Our way from what We have given them, secretly and publicly, before the advent of a day in which there will be no trade nor friendship.
और अल्लाह के लिए बराबर वाले ठहराए कि इसकी राह से भटका दें तुम फ़र्माओ कुछ बरत लो कि तुम्हारा अंज़ाम आग है
Aur Allah ke liye barabar wale thehraye ke is ki raah se behkawein tum farmaao kuch barta lo ke tumhara anjaam aag hai
(ف76)کہ خرید و فروخت یعنی مالی معاوضے اور فد یے سے ہی کچھ نفع اٹھایا جا سکے ۔(ف77)کہ اس سے نفع اٹھایا جائے بلکہ بہت سے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے ۔ اس آیت میں نفسانی و طبعی دوستی کی نفی ہے اور ایمانی دوستی جو مَحبتِ الٰہی کے سبب سے ہو وہ باقی رہے گی جیسا کہ سورۂ زخرف میں فرمایا اَلْاَ خِلَّاءُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ
اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کو پیدا کیے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں چلے (ف۷۸) اور تمہارے لیے ندیاں مسخر کیں، (ف۷۹)
It is Allah Who created the heavens and the earth, and sent down water from the sky, therefore producing some fruits for you to eat; and subjected the ships for you, that they may sail upon the sea by His command; and subjected the rivers for you.
मेरे इन बंदों से फ़र्माओ जो ईमान लाए कि नमाज़ क़ायम रखें और हमारे दिए में से कुछ हमारी राह में छुपे और ज़ाहिर ख़र्च करें उस दिन के आने से पहले जिसमें न सौदागरी होगी न याराना
Mere in bandon se farmaao jo iman laaye ke namaaz qaaim rakhein aur humare diye mein se kuch humari raah mein chhupe aur zaahir kharch karein us din ke aane se pehle jismein na saudagari hogi na yaarana
(ف78)اور اس سے تم فائدے اٹھاؤ ۔(ف79)کہ ان سے کام لو ۔
اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیں (ف۸۰) اور تمہارے لیے رات اور دن مسخر کیے (ف۸۱)
And subjected the sun and the moon for you, which are constantly moving; and has subjected the night and the day for you.
अल्लाह है जिसने आसमान और ज़मीन बनाए और आसमान से पानी उतारा तो उससे कुछ फल तुम्हारे खाने को पैदा किए और तुम्हारे लिए कश्ती को मस्क़र किया कि उसके हुक्म से दरिया में चले और तुम्हारे लिए नदियाँ मस्क़र कीं
Allah hai jis ne aasman aur zameen banaye aur aasman se paani utaara to us se kuch phal tumhare khane ko paida kiye aur tumhare liye kashti ko maskhar kiya ke uske hukm se darya mein chale aur tumhare liye nadiyan maskhar ki
(ف80)نہ تھکیں ، نہ رکیں تم ان سے نفع اٹھاتے ہو ۔(ف81)آرام اور کام کے لئے ۔
اور تمہیں بہت کچھ منہ مانگا دیا، اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے، بیشک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے (ف۸۲)
And He gave you much of what you seek; and if you enumerate the favours of Allah, you will never be able to count them; indeed man is very unjust, most ungrateful.
और तुम्हारे लिए सूरज और चाँद मस्क़र किए जो बराबर चल रहे हैं और तुम्हारे लिए रात और दिन मस्क़र किए
Aur tumhare liye sooraj aur chaand maskhar kiye jo barabar chal rahe hain aur tumhare liye raat aur din maskhar kiye
(ف82)کہ کُفر و معصیت کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کرتا ہے اور اپنے ربّ کی نعمت اور اس کے احسان کا حق نہیں مانتا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ انسان سے یہاں ابو جہل مراد ہے ۔ زُجاج کا قول ہے کہ انسان اسمِ جنس ہے اور یہاں اس سے کافِر مراد ہے ۔
اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اس شہر (ف۸۳) کو امان والا کردے (ف۸٤) اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا (ف۸۵)
And remember when Ibrahim prayed, “O my Lord! Make this town (Mecca) a safe one, and safeguard me and my sons from worshipping idols.”
और तुम्हें बहुत कुछ मुँह माँगा दिया, और अगर अल्लाह की नेमतें गिनो तो शुमार न कर सकोगे, बेशक आदमी बड़ा ज़ालिम नशु्क़रा है
Aur tumhein bahut kuch munh maanga diya, aur agar Allah ki ni'matain gino to shumaar na kar sako ge, beshak aadmi bada zalim nashukra hai
(ف83)مکّۂ مکرّمہ ۔(ف84)کہ قربِ قیامت دنیا کے ویران ہونے کے وقت تک یہ ویرانی سے محفوظ رہے یا اس شہر والے امن میں ہوں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کی یہ دعا مستجاب ہوئی ، اللہ تعالٰی نے مکّۂ مکرّمہ کو ویران ہونے سے امن دی اور کوئی بھی اس کے ویران کرنے پر قادر نہ ہو سکا اور اس کو اللہ تعالٰی نے حرم بنایا کہ اس میں نہ کسی انسان کا خون بہایا جائے ، نہ کسی پر ظلم کیا جائے ، نہ وہاں شکار مارا جائے ، نہ سبزہ کاٹا جائے ۔(ف85)انبیاء علیہم السلام بُت پرستی اور تمام گناہوں سے معصوم ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کا یہ دعا کرنا بارگاہِ الٰہی میں تواضُع و اظہارِ احتیاج کے لئے ہے کہ باوجودیکہ تو نے اپنے کرم سے معصوم کیا لیکن ہم تیرے فضل و رحمت کی طرف دستِ احتیاج دراز رکھتے ہیں ۔
اے میرے رب بیشک بتوں نے بہت لوگ بہکائے دیے (ف۸٦) تو جس نے میرا ساتھ دیا (ف۸۷) وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے (ف۸۸)
“O my Lord! The idols have led many people astray; so whoever followed me, is indeed mine; and whoever disobeyed me – then indeed You are Oft Forgiving, Most Merciful.”
और याद करो जब इब्राहीम ने अरज़ की ऐ मेरे रब इस शहर को अमान वाला कर दे और मुझे और मेरे बेटों को बुतों के पूजने से बचा
Aur yaad karo jab Ibraaheem ne arz ki ae mere Rab is shahar ko amaan wala kar de aur mujhe aur mere beton ko buton ke poojne se bacha
(ف86)یعنی ان کی گمراہی کا سبب ہوئے کہ وہ انہیں پوجنے لگے ۔(ف87)اور میرے عقیدے و دین پر رہا ۔(ف88)چاہے تو اسے ہدایت کرے اور توفیقِ توبہ عطا فرمائے ۔
اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس (ف۸۹) اے میرے رب اس لیے کہ وہ (ف۹۰) نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے (ف۹۱) اور انھیں کچھ پھل کھانے کو دے (ف۹۲) شاید وہ احسان مانیں،
“O our Lord! I have settled some of my descendants in a valley having no cultivation, near Your Sacred House – O our Lord! So that they may keep the prayer established, therefore incline some hearts of men towards them, and provide them fruits to eat – perhaps they may be thankful.”
ऐ मेरे रब बेशक बुतों ने बहुत लोग भटकाए दिए तो जिसने मेरा साथ दिया वह तो मेरा है और जिसने मेरा कहा न माना तो बेशक तू बख़्शने वाला मेहरबान है
Ae mere Rab beshak buton ne bahut log behkaaye diye to jis ne mera saath diya woh to mera hai aur jis ne mera kaha na maana to beshak tu bakshne wala meherban hai
(ف89)یعنی اس وادی میں جہاں اب مکّۂ مکرّمہ ہے اور ذُرّیَّت سے مراد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہیں ، آپ سر زمینِ شام میں حضرت ہاجرہ کے بطنِ پاک سے پیدا ہوئے ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کی بیوی حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہ تھی اس وجہ سے انہیں رشک پیدا ہوا اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ ہاجرہ اور ان کے بیٹے کو میرے پاس سے جدا کر دیجئے ۔ حکمتِ الٰہی نے یہ ایک سبب پیدا کیا تھا چنانچہ وحی آئی کہ آپ حضرت ہاجرہ و اسمٰعیل کو اس سر زمین میں لے جائیں (جہاں اب مکّۂ مکرّمہ ہے ) آپ ان دونوں کو اپنے ساتھ براق پر سوارکر کے شام سے سر زمینِ حرم میں لائے اور کعبۂ مقدسہ کے نزدیک اتارا ، یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی ، نہ کوئی چشمہ نہ پانی ، ایک توشہ دان میں کھجوریں اور ایک برتن میں پانی انہیں دے کر آپ واپس ہوئے اور مڑ کر ان کی طرف نہ دیکھا ، حضرت ہاجرہ والدۂ اسمٰعیل نے عرض کیا کہ آپ کہاں جاتے ہیں اور ہمیں اس وادی میں بے انیس و رفیق چھوڑے جاتے ہیں لیکن آپ نے اس کا کچھ جواب نہ دیا اورا س کی طرف التفات نہ فرمایا ، حضرت ہاجرہ نے چند مرتبہ یہی عرض کیا اور جواب نہ پایا تو کہا کہ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، اس وقت انہیں اطمینان ہوا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام چلے گئے اور انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی جو آیت میں مذکور ہے ۔ حضرت ہاجرہ اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو دودھ پلانے لگیں جب وہ پانی ختم ہو گیا اور پیاس کی شدّت ہوئی اور صاحب زادے کا حَلق شریف بھی پیاس سے خشک ہو گیا تو آپ پانی کی جستجو یا آبادی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑیں ، ایسا سات مرتبہ ہوا یہاں تک کہ فرشتے کے پر مارنے سے یا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے قدم مبارک سے اس خشک زمین میں ایک چشمہ (زمزم) نمودار ہوا ۔ آیت میں حرمت والے گھر سے بیت اللہ مراد ہے جو طوفانِ نوح سے پہلے کعبۂ مقدسہ کی جگہ تھا اور طوفان کے وقت آسمان پر اٹھا لیا گیا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ واقعہ آپ کے آ گ میں ڈالے جانے کے بعد ہوا ، آ گ کے واقعہ میں آپ نے دعا نہ فرمائی تھی اور اس واقعہ میں دعا کی اور تضرُّع کیا ۔ اللہ تعالٰی کی کارسازی پر اعتماد کر کے دعا نہ کرنا بھی توکُّل اور بہتر ہے لیکن مقامِ دعا اس سے بھی افضل ہے تو حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کا اس آخر واقعہ میں دعا فرمانا اس لئے ہے کہ آپ مدارجِ کمال میں دمبدم ترقی پر ہیں ۔(ف90)یعنی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور ان کی اولاد اسں وادیٔ بے زراعت میں تیرے ذکر و عبادت میں مشغول ہوں اور تیرے بیت حرام کے پاس ۔(ف91)اطراف و بلاد سے یہاں آئیں اور ان کے قلوب اس مکانِ طاہر کی شوقِ زیارت میں کھینچیں ۔ اس میں ایمانداروں کے لئے یہ دعا ہے کہ انہیں بیت اللہ کا حج میسّر آئے اور اپنی یہاں رہنے والی ذُرِّیَّت کے لئے یہ کہ وہ زیارت کے لئے آنے والوں سے منتفِع ہوتے رہیں ، غرض یہ دعا دینی دنیوی برکات پر مشتمل ہے ۔ حضرت کی دعا قبول ہوئی اور قبیلۂ جرہم نے اس طرف سے گزرتے ہوئے ایک پرند دیکھا تو انہیں تعجب ہوا کہ بیابان میں پرندہ کیسا ، شاید کہیں چشمہ نمودار ہوا ، جستجو کی تو دیکھا کہ زمزم شریف میں پانی ہے یہ دیکھ کر ان لوگوں نے حضرت ہاجرہ سے وہاں بسنے کی اجازت چاہی ، انہوں نے اس شرط سے اجازت دی کہ پانی میں تمہارا حق نہ ہوگا وہ لوگ وہاں بسے اور حضرت اسمٰعیل علیہ الصلٰوۃ و السلام جوان ہوئے تو ان لوگوں نے آپ کے صلاح و تقوٰی کو دیکھ کر اپنے خاندان میں آپ کی شادی کر دی اور حضرت ہاجرہ کا وصال ہو گیا اس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کی یہ دعا پوری ہوئی اور آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا ۔(ف92)اسی کا ثمرہ ہے کہ فصولِ مختلفہ ربیع و خریف و صیف و شتاء کے میوے وہاں بیک وقت موجود ملتے ہیں ۔
اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے اور اللہ پر کچھ چھپا نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں (ف۹۳)
“O our Lord! You know what we hide and what we disclose; and nothing is hidden from Allah, neither in the earth nor in the heavens.”
ऐ मेरे रब मैंने अपनी कुछ औलाद एक नाले में बसाई जिसमें खेती नहीं होती तेरे हुरमत वाले घर के पास ऐ मेरे रब इसलिए कि वो नमाज़ क़ायम रखें तो तू लोगों के कुछ दिल उनकी तरफ मائل कर दे और उन्हें कुछ फल खाने को दे शायद वो एहसान मानें
Ae mere Rab main ne apni kuch aulaad ek naale mein basaai jismein kheti nahi hoti tere hurmat wale ghar ke paas ae mere Rab is liye ke woh namaaz qaaim rakhein to tu logon ke kuch dil un ki taraf mael kar de aur unhein kuch phal khane ko de shayad woh ehsaan maanain
(ف93)حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ایک اور فرزند کی دعا کی تھی اللہ تعالٰی نے قبول فرمائی تو آپ نے اس کا شکر ادا کیا اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا ۔
اور ہرگز اللہ کو بےخبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے (ف۹٦) انھیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں (ف۹۷)
And do not ever assume that Allah is unaware of what the unjust do; He does not give them respite but for a day in which the eyes will become fixed, staring.
ऐ हमारे रब मुझे बख़्श दे और मेरे माँ बाप को और सब मुसलमानों को जिस दिन हिसाब क़ायम होगा
Ae humare Rab mujhe baksh de aur mere maan baap ko aur sab Musalmanon ko jis din hisaab qaaim ho ga
(ف96)اس میں مظلوم کو تسلّی دی گئی کہ اللہ تعالٰی ظالم سے اس کا انتقام لے گا ۔(ف97)ہول و دہشت سے ۔
آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی بےتحاشا دوڑے نکلیں گے (ف۹۸) اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں (ف۹۹) اور ان کے دلوں میں کچھ سکت نہ ہوگی (ف۱۰۰)
They shall come out running in bewilderment, with their heads raised, their gaze not returning to them; and their hearts will not have any calm.
और हरगज़ अल्लाह को बेख़बर न जानना ज़ालिमों के काम से उन्हें ढील नहीं दे रहा है मगर ऐसे दिन के लिए जिसमें
Aur harگز Allah ko be khabar na jaanna zalimon ke kaam se unhein dheel nahi de raha hai magar aise din ke liye jismein
(ف98)حضرت اسرافیل علیہ السلام کی طرف جو انہیں عرصۂ محشر کی طرف بلائیں گے ،(ف99)کہ اپنے آپ کو دیکھ سکیں ۔(ف100)شدّتِ حیرت و دہشت سے ۔ قتادہ نے کہا کہ دل سینوں سے نکل کر گلوں میں آ پھنسیں گے ، نہ باہر نکل سکیں نہ اپنی جگہ واپس جا سکیں گے ، معنی یہ ہیں کہ اس دن کی شدّتِ ہول و دہشت کا یہ عالَم ہوگا کہ سر اوپر اٹھے ہوں گے ، آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ، دل اپنی جگہ پر قرار نہ پا سکیں گے ۔
اور لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ (ف۱۰۱) جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم (ف۱۰۲) کہیں گے اے ہمارے رب! تھوڑی دیر ہمیں (ف۱۰۳) مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں (ف۱۰٤) اور رسولوں کی غلامی کریں (ف۱۰۵) تو کیا تم پہلے (ف۱۰٦) قسم نہ کھاچکے تھے کہ ہمیں دنیا سے کہیں ہٹ کر جانا نہیں (ف۱۰۷)
And warn the people of a day when the punishment will come upon them, therefore the unjust will say, “O our Lord! Give us respite for a little while – for us to obey Your call and follow the Noble Messengers”; (It will be said) “So had you not sworn before that, ‘We have not to move to any place else from the earth’?”
आँखें खुली की खुली रह जाएँगी बे तहाशा दौड़े निकलेंगे अपने सर उठाए हुए कि उनकी पलक उनकी तरफ लौटती नहीं और उनके दिलों में कुछ सक़्त न होगी
Aankhen khuli ki khuli reh jaayengi be tahashaa doray nikleinge apne sar uthaaye hue ke un ki palk un ki taraf lautti nahi aur un ke dilon mein kuch sukt na ho gi
(ف101)یعنی کُفّار کو قیامت کے دن کا خوف دلاؤ ۔(ف102)یعنی کافِر ۔(ف103)دنیا میں واپس بھیج دے اور ۔(ف104)اور تیری توحید پر ایمان لائیں ۔(ف105)اور ہم سے جو قصور ہو چکے اس کی تلافی کریں اس پر انہیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور فرمایا جائے گا ۔(ف106)دنیا میں ۔(ف107)اور کیا تم نے بَعث و آخرت کا انکار نہ کیا تھا ۔
اور تم ان کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنا برا کیا تھا (ف۱۰۸) اور تم پر خوب کھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا (ف۱۰۹) اور ہم نے تمہیں مثالیں دے کر بتادیا (ف۱۱۰)
“And you dwelt in the houses of those who had wronged themselves and it became very clear to you how We had dealt with them, and We illustrated several examples for you.”
और लोगों को इस दिन से डराओ जब उन पर अज़ाब आएगा तो ज़ालिम कहेंगे ऐ हमारे रब! थोड़ी देर हमें मोहलत दे कि हम तेरा बुलाना मानें और रसूलों की गुलामी करें तो क्या तुम पहले क़सम न खा चुके थे कि हमें दुनिया से कहीं हट कर जाना नहीं
Aur logon ko is din se darao jab un par azaab aayega to zalim kahenge ae humare Rab! Thodi der humein mohalt de ke hum tera bulaana maanain aur rasoolon ki ghulami karein to kya tum pehle qasam na kha chuke the ke humein duniya se kahin hat kar jaana nahi
(ف108)کُفر و مَعاصی کا ارتکاب کرکے جیسے کہ قومِ نوح وعاد و ثمود وغیرہ ۔(ف109)اور تم نے اپنی آنکھوں سے ان کے منازل میں عذاب کے آثار اور نشان دیکھے اور تمہیں ان کی ہلاکت و بربادی کی خبریں ملیں ، یہ سب کچھ دیکھ کر اور جان کر تم نے عبرت نہ حاصل کی اور تم کُفر سے باز نہ آئے ۔(ف110)تاکہ تم تدبیر کرو اور سمجھو اور عذاب و ہلاک سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔
اور بیشک وہ (ف۱۱۱) اپنا سا داؤں (فریب) چلے (ف۱۱۲) اور ان کا داؤں اللہ کے قابو میں ہے، اور ان کا داؤں کچھ ایسانہ تھا جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں (ف۱۱۳)
And indeed they carried out their scheme, and their scheming is within Allah’s control; and their scheme was not such that could move these mountains*. (* The revelations / signs of Allah.)
और तुम उनके घरों में बसे जिन्होंने अपना बुरा किया था और तुम पर खूब खुल गया हमने उनके साथ कैसा किया और हमने तुम्हें मिसालें दे कर बता दिया
Aur tum unke gharo mein base jin hon ne apna bura kiya tha aur tum par khoob khul gaya hum ne un ke saath kaisa kiya aur hum ne tumhein misaalain de kar bata diya
(ف111)اسلام کے مٹانے اور کُفر کی تائید کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ۔(ف112)کہ انہوں نے سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کرنے یا قید کرنے یا نکال دینے کا ارادہ کیا ۔(ف113)یعنی آیاتِ الٰہی اور احکامِ شرعِ مصطفائی جو اپنے قوت و ثبات میں بمنزلہ مضبوط پہاڑوں کے ہیں ، محال ہے کہ کافِروں کے مکر اور ان کی حیلہ انگیزیوں سے اپنی جگہ سے ٹل سکیں ۔
جس دن (ف۱۱۵) بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان (ف۱۱٦) اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں گے (ف۱۱۷) ایکاللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے
On the day when the earth will be changed to other than this earth, and the heavens – and they will all come forth standing before Allah, the One, the Dominant above all.
तो हर्गज़ ख़्याल न करना कि अल्लाह अपने रसूलों से वादा ख़िलाफ़ करेगा बेशक अल्लाह ग़ालिब है बदला लेने वाला
To harگز khayal na karna ke Allah apne rasoolon se wada khilaf karega beshak Allah ghalib hai badla lene wala
(ف115)اس دن سے روزِ قیامت مراد ہے ۔(ف116)زمین و آسمان کی تبدیلی میں مفسِّرین کے دو قول ہیں ایک یہ کہ ان کے اوصاف بدل دیئے جائیں گے مثلاً زمین ایک سطح ہو جائے گی نہ اس پر پہاڑ باقی رہیں گے ، نہ بلند ٹیلے ، نہ گہرے غار ، نہ درخت ، نہ عمارت ، نہ کسی بستی اور اقلیم کا نشان اور آسمان پر کوئی ستارہ نہ رہے گا اور آفتاب ماہتاب کی روشنیاں معدوم ہوں گی ، یہ تبدیلی اوصاف کی ہے ذات کی نہیں ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آسمان و زمین کی ذات ہی بدل دی جائے گی ، اس زمین کی جگہ ایک دوسری چاندی کی زمین ہو گی ، سفید و صاف جس پر نہ کبھی خون بہایا گیا ہو نہ گناہ کیا گیا ہو اور آسمان سونے کا ہوگا ۔ یہ دو قول اگرچہ بظاہر باہم مخالف معلوم ہوتے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک صحیح ہے اور وجہ جمع یہ ہے کہ اوّل تبدیلِ صفات ہوگی اور دوسری مرتبہ بعدِ حساب تبدیلِ ثانی ہوگی ، اس میں زمین و آسمان کی ذاتیں ہی بدل جائیں گی ۔(ف117)اپنی قبروں سے ۔
ان کے کرُتے رال ہوں گے (ف۱۲۰) اور ان کے چہرے آگ ڈھانپ لے گی
Their cloaks will be of pitch and fire will cover their faces.
और इस दिन तुम जुर्मियों को देखोगे कि बेड़ियों में एक दूसरे से जुड़े होंगे
Aur is din tum mujrimoon ko dekho ge ke baidiya mein ek doosre se jude honge
(ف120)سیاہ رنگ بدبو دار ، جن سے آ گ کے شعلے اور زیادہ تیز ہو جائیں ۔ (مدارک و خازن) تفسیرِ بیضاوی میں ہے کہ ان کے بدنوں پر رال لیپ دی جائے گی وہ مثل کُرتے کے ہو جائیگی ، اس کی سوزش اور اس کے رنگ کی وحشت و بدبو سے تکلیف پائیں گے ۔
یہ (ف۱۲۱) لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے (ف۱۲۲) اور اس لیے کہ عقل والے نصیحت مانیں،
This is the message to be conveyed to all mankind – and in order to warn them with it, and for them to know that He is the only One God, and for men of understanding to heed advice.
इसलिए कि अल्लाह हर जान को उसकी कमाई का बदला दे, बेशक अल्लाह को हिसाब करते कुछ देर नहीं लगती
Is liye ke Allah har jaan ko us ki kamai ka badla de, beshak Allah ko hisaab karte kuch der nahi lagti
(ف121)قرآن شریف ۔(ف122)یعنی ان آیات سے اللہ تعالٰی کی توحید کی دلیلیں پائیں ۔
Alif-Lam-Ra; these are verses of the Book and the bright Qur’an.
ये आयतें हैं किताब और रोशन कुरआन की-
Ye aayatein hain kitaab aur roshan Quran ki-
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page