Al Fatiha سورۃ الفاتحۃ

پارہ نمبر 15

سُبۡحٰنَ الَّذِىۡۤ اَسۡرٰى بِعَبۡدِهٖ لَيۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ اِلَى الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِىۡ بٰرَكۡنَا حَوۡلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنۡ اٰيٰتِنَا​ ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ‏ ﴿1﴾

پاکی ہے اسے (ف۲) جو اپنے بندے (ف۳) کو، راتوں رات لے گیا (ف٤) مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک (ف۵) جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی (ف٦) کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے،

Purity is to Him Who took His bondman in a part of the night from the Sacred Mosque to the Aqsa Mosque around which We have placed blessings, in order that We may show him Our great signs; indeed he is the listener, the beholder. (This verse refers to the physical journey of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – to Al Aqsa Mosque and from there to the heavens and beyond. The entire journey back to Mecca was completed within a small part of the night.)

وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡـكِتٰبَ وَ جَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِىۡ وَكِيۡلًا ؕ‏ ﴿2﴾

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (ف۷) عطا فرمائی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہراؤ،

And We gave Moosa the Book, and made it a guidance for the Descendants of Israel that, “Do not appoint anyone as a Trustee besides Me.”

ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ​ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا‏ ﴿3﴾

اے ان کی اولاد! جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (ف۸) سوار کیا بیشک وہ بڑا شکرا گزار بندہ تھا (ف۹)

The descendants of those whom We boarded along with Nooh; he was indeed a grateful bondman.

وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَ فِى الۡكِتٰبِ لَـتُفۡسِدُنَّ فِى الۡاَرۡضِ مَرَّتَيۡنِ وَلَتَعۡلُنَّ عُلُوًّا كَبِيۡرًا‏ ﴿4﴾

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ف۱۰) میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دوبارہ فساد مچاؤ گے (ف۱۱) اور ضرور بڑا غرور کرو گے (ف۱۲)

And We decreed for the Descendants of Israel in the Book that, “You will indeed create great turmoil in the earth twice, and you will surely become very proud.”

فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰٮهُمَا بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِىۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّيَارِ ​ؕ وَكَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا‏ ﴿5﴾

پھر جب ان میں پہلی بار (ف۱۳) کا وعدہ آیا (ف۱٤) ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے سخت لڑائی والے (ف۱۵) تو وہ شہروں کے اندر تمہاری تلاش کو گھسے (ف۱٦) اور یہ ایک وعدہ تھا (ف۱۷) جسے پورا ہونا تھا،

So when the first of those promises came, We sent upon you Our extremely militant bondmen – they therefore entered the cities pursuing you; and this was a promise that had to be fulfilled.

ثُمَّ رَدَدۡنَا لَـكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَمۡدَدۡنٰـكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا‏ ﴿6﴾

پھر ہم نے ان پر الٹ کر تمہارا حملہ کردیا (ف۱۸) اور تم کو مالوں اور بیٹوں سے مدد دی اور تمہارا جتھا بڑھا دیا،

We then reversed your attack upon them, and aided you with wealth and sons and increased your numbers.

اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ​وَاِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَهَا ​ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ لِيَسُـوْۤءا وُجُوۡهَكُمۡ وَلِيَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوۡهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِيُتَبِّرُوۡا مَا عَلَوۡا تَتۡبِيۡرًا‏ ﴿7﴾

اگر تم بھلائی کرو گے اپنا بھلا کرو گے (ف۱۹) اور اگر برا کرو گے تو اپنا، پھر جب دوسری بار کا وعدہ آیا (ف۲۰) کہ دشمن تمہارا منہ بگاڑ دیں (ف۲۱) اور مسجد میں داخل ہوں (ف۲۲) جیسے پہلی بار داخل ہوئے تھے (ف۲۳) اور جس چیز پر قابو پائیں (ف۲٤) تباہ کرکے برباد کردیں،

If you do good deeds, you will for your own good – and if you commit evil, it is for yourself; therefore when the second of those promises came – so the enemy maim your faces, and enter the mosque as they had entered it the first time, and destroy until they ruin all they could capture.

عَسٰى رَبُّكُمۡ اَنۡ يَّرۡحَمَكُمۡ​ ۚ وَاِنۡ عُدْتُّمۡ عُدۡنَا​ۘ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ حَصِيۡرًا‏ ﴿8﴾

قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے (ف۲۵) اور اگر تم پھر شرارت کرو (ف۲٦) تو ہم پھر عذاب کریں گے (ف۲۷) اور ہم نے جہنم کو کافروں کا قید خانہ بنایا ہے،

It is likely that your Lord may have mercy on you; and if you repeat the mischief, We will repeat the punishment; and We have made hell a prison for the disbelievers.

اِنَّ هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ يَهۡدِىۡ لِلَّتِىۡ هِىَ اَقۡوَمُ وَ يُبَشِّرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَبِيۡرًا ۙ‏ ﴿9﴾

بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے (ف۲۸) اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں کہ ان کے لیے بڑا ثواب ہے

Indeed this Qur’an guides to the most Straight Path, and gives glad tidings to the believers who do good deeds, that for them is a great reward.

وَّاَنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا‏ ﴿10﴾

اور یہ کہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،

And those who do not believe in the Hereafter – We have kept prepared for them a punishment, most painful.

وَيَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالۡخَيۡرِ​ ؕ وَكَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا‏ ﴿11﴾

اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے (ف۲۹) جیسے بھلائی مانگتا ہے (ف۳۰) اور آدمی بڑا جلد باز ہے (ف۳۱)

And man prays for evil like the way he seeks goodness; and man is very hasty.

وَجَعَلۡنَا الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ اٰيَتَيۡنِ​ فَمَحَوۡنَاۤ اٰيَةَ الَّيۡلِ وَجَعَلۡنَاۤ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبۡصِرَةً لِّتَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَلِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِيۡنَ وَالۡحِسَابَ​ؕ وَكُلَّ شَىۡءٍ فَصَّلۡنٰهُ تَفۡصِيۡلًا‏  ﴿12﴾

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا (ف۳۲) تو رات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی (ف۳۳) اور دن کی نشانیاں دکھانے والی (ف۳٤) کہ اپنے کا فضل تلاش کرو (ف۳۵) اور (ف۳٦) برسوں کی گنتی اور حساب جانو (ف۳۷) اور ہم نے ہر چیز خوب جدا جدا ظاہر فرمادی (ف۳۸)

And We created the night and the day as two signs – We therefore kept the sign of the night indistinct, and the sign of the day visible – so that you may seek the munificence of your Lord, and know the calculation of the years, and the accounting; and We have explained all things in detail, distinctively.

وَكُلَّ اِنۡسَانٍ اَلۡزَمۡنٰهُ طٰۤٮِٕرَهٗ فِىۡ عُنُقِهٖ​ؕ وَنُخۡرِجُ لَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلۡقٰٮهُ مَنۡشُوۡرًا‏ ﴿13﴾

اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے سے لگادی (ف۳۹) اور اس کے لیے قیامت کے دن ایک نوشتہ نکالیں گے جسے کھلا ہوا پائے گا (ف٤۰)

And We have attached the destiny of every man to his neck; and We shall bring forth a register for him on the Day of Resurrection, which he will find open.

اِقۡرَاۡ كِتٰبَك َؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا ؕ‏ ﴿14﴾

فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ (نامہٴ اعمال) پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے،

It will be said, “Read your ledger; this day you are sufficient to take your own account.”

مَنِ اهۡتَدٰى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِىۡ لِنَفۡسِهٖ ​ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا​ ؕ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى​ ؕ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا‏ ﴿15﴾

جو راہ پر آیا وہ اپنے ہی بھلے کو راہ پر آیا (ف٤۱) اور جو بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا (ف٤۲) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف٤۳) اور ہم عذاب کرنے والے نہیں جب تک رسول نہ بھیج لیں (ف٤٤)

Whoever came to guidance, has come for his own good; and whoever went astray, has strayed for his own ruin; and no burdened soul will bear another’s burden; and We never punish until We have sent a Noble Messenger.

وَاِذَاۤ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نُّهۡلِكَ قَرۡيَةً اَمَرۡنَا مُتۡرَفِيۡهَا فَفَسَقُوۡا فِيۡهَا فَحَقَّ عَلَيۡهَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰهَا تَدۡمِيۡرًا‏ ﴿16﴾

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اس کے خوشحالوں (ف٤۵) پر احکام بھیجتے ہیں پھر وہ اس میں بےحکمی کرتے ہیں تو اس پر بات پوری ہوجاتی ہے تو ہم اسے تباہ کرکے برباد کردیتے ہیں

And when We will to destroy a township We send the commands to its prosperous people, thereupon they do not obey them, and so the Word is proved upon it – We therefore destroy and ruin it.

وَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡۢ بَعۡدِ نُوۡحٍ​ؕ وَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا‏ ﴿17﴾

اور ہم نے کتنی ہی سنگتیں (قومیں) (ف٤٦) نوح کے بعد ہلاک کردیں (ف٤۷) اور تمہارا رب کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار دیکھنے والا (ف٤۸)

And many a generation We did destroy after Nooh! And Allah is Sufficient, Aware of the sins of His bondmen, the Beholder.

مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعَاجِلَةَ عَجَّلۡنَا لَهٗ فِيۡهَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِيۡدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَهٗ جَهَنَّمَ​ۚ يَصۡلٰٮهَا مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا‏  ﴿18﴾

جو یہ جلدی والی چاہے (ف٤۹) ہم اسے اس میں جلد دے دیں جو چاہیں جسے چاہیں (ف۵۰) پھر اس کے لیے جہنم کردیں کہ اس میں جائے مذمت کیا ہوا دھکے کھاتا،

Whoever desires this fleeting one, We may give him quickly – whatever We will, to whomever We will; and then assign hell for him; for him to enter it condemned, pushed around.

وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰۤٮِٕكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا‏ ﴿19﴾

اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے (ف۵۱) اور ہو ایمان والا تو انھیں کی کوشش ٹھکانے لگی، (ف۵۲)

And whoever desires the Hereafter and strives for it accordingly, and is a believer – so only their effort has borne fruit.

كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۤءِ وَهٰٓؤُلَاۤءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّكَ​ ؕ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُوۡرًا‏ ﴿20﴾

ہم سب کو مدد دیتے ہیں ان کو بھی (ف۵۳) اور ان کو بھی ، تمہارے رب کی عطا سے (ف۵۵) اور تمہارے رب کی عطا پر روک نہیں، (ف۵٦)

We provide help to all – to these and to those, by the bestowal of your Lord; and there is no constraint on the bestowal of your Lord.

اُنْظُرۡ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ​ ؕ وَلَـلۡاٰخِرَةُ اَكۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكۡبَرُ تَفۡضِيۡلًا‏ ﴿21﴾

دیکھو ہم نے ان میں ایک کو ایک پر کیسی بڑائی دی (ف۵۷) اور بیشک آخرت درجوں میں سب سے بڑی اور فضل میں سب سے اعلیٰ ہے،

Observe how We have given superiority to some over others; and indeed the Hereafter is the greatest in rank and the highest in excellence.

لَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُوۡمًا مَّخۡذُوۡلًا‏  ﴿22﴾

اے سننے والے اللہ کے ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تو بیٹھ رہے گا مذمت کیا جاتا بیکس (ف۵۸)

O listener, do not set up another God with Allah, for you will then remain seated condemned, helpless.

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا​ ؕ اِمَّا يَـبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا‏ ﴿23﴾

اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں (ف۵۹) تو ان سے ہُوں ، نہ کہنا (ف٦۰) اور انھیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا (ف٦۱)

And your Lord has ordained that you do not worship anyone except Him, and treat your parents with kindness; if either of them or both reach old age in your presence, do not say “Uff”* to them and do not rebuff them, and speak to them with the utmost respect. (* Any expression of disgust.)

وَاخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِىۡ صَغِيۡرًا ؕ‏ ﴿24﴾

اور ان کے لیے عاجزی کا بازو بچھا (ف٦۲) نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دنوں نے مجھے چھٹپن (بچپن) میں پالا (ف٦۳)

And lower your wing humbly for them, with mercy, and pray, “My Lord! Have mercy on them both, the way they nursed me when I was young.”

رَّبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا فِىۡ نُفُوۡسِكُمۡ​ؕ اِنۡ تَكُوۡنُوۡا صٰلِحِيۡنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلۡاَوَّابِيۡنَ غَفُوۡرًا‏ ﴿25﴾

تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے (ف٦٤) اگر تم لائق ہوئے (ف٦۵) تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے،

Your Lord is Well Aware of what is in your hearts; if you are worthy, then indeed He is Oft Forgiving for those who repent.

وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ وَالۡمِسۡكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ وَلَا تُبَذِّرۡ تَبۡذِيۡرًا‏ ﴿26﴾

اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے (ف٦٦) اور مسکین اور مسافر کو (ف٦۷) اور فضول نہ اڑا (ف٦۸)

And give the relatives their rights, and to the needy, and to the traveller; and do not waste needlessly.

اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰطِيۡنِ​ ؕ وَكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوۡرًا‏ ﴿27﴾

بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں (ف٦۹) اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے (ف۷۰)

Indeed those who needlessly waste are brothers of the devils; and the devil is very ungrateful to his Lord.

وَاِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡهُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَةٍ مِّنۡ رَّبِّكَ تَرۡجُوۡهَا فَقُلْ لَّهُمۡ قَوۡلًا مَّيۡسُوۡرًا‏ ﴿28﴾

اور اگر تو ان سے (ف۷۱) منہ پھیرے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تجھے امید ہے تو ان سے آسان بات کہہ (ف۷۲)

And if you turn away from these*, expecting the mercy of your Lord, for which you hope, then speak to them an easy word. (* The companions of the Holy Prophet, who sought his assistance.)

وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُوۡلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ الۡبَسۡطِ فَتَقۡعُدَ مَلُوۡمًا مَّحۡسُوۡرًا‏ ﴿29﴾

اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا (ف۷۳)

And do not keep your hand tied to your neck nor open it completely, lest you remain seated – reproached, weary.

اِنَّ رَبَّكَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ​ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا‏ ﴿30﴾

بیشک تمہارا رب جسے چاہے رزق کشادہ دیتا اور (ف۷٤) کستا ہے (تنگی دیتا ہے) بیشک وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا (ف۷۵) دیکھتا ہے،

Indeed your Lord eases the livelihood and restricts it, for whomever He wills; He Well Knows, Beholds His bondmen.

وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَكُمۡ خَشۡيَةَ اِمۡلَاقٍ​ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَاِيَّاكُمۡ​ؕ اِنَّ قَتۡلَهُمۡ كَانَ خِطۡاً كَبِيۡرًا‏ ﴿31﴾

اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے (ف۷٦) ہم انھیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی، بیشک ان کا قتل بڑی خطا ہے

And do not kill your children, fearing poverty; We shall provide sustenance to them as well as to you; indeed killing them is a great mistake.

وَلَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً  ؕ وَسَآءَ سَبِيۡلًا‏  ﴿32﴾

اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بےحیائی ہے، اور بہت ہی بری راہ،

And do not approach adultery – it is indeed a shameful deed; and a very evil way.

وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِىۡ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالۡحَـقِّ​ ؕ وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ​ ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا‏ ﴿33﴾

اور کوئی جان جس کی حرمت اللہ نے رکھی ہے ناحق نہ مارو، اور جو ناحق نہ مارا جائے تو بیشک ہم نے اس کے وارث کو قابو دیا (ف۷۷) تو وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے (ف۷۸) ضرور اس کی مدد ہونی ہے (ف۷۹)

And do not wrongfully kill any living being which Allah has forbidden; and for whoever is slain wrongfully, We have given the authority to his heir, so he should not cross limits in slaying; he will surely be helped.

وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ اِلَّا بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ​ وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَهۡدِ​ۚ اِنَّ الۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـــُٔوۡلًا‏  ﴿34﴾

اور یتیم کے مال کے پاس تو جاؤ مگر اس راہ سے جو سب سے بھلی ہے (ف۸۰) یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچے (ف۸۱) اور عہد پورا کرو (ف۸۲) بیشک عہد سے سوال ہونا ہے

And do not approach the wealth of the orphan except in the best possible way, till he reaches adulthood; and fulfil the promise; indeed the promise will be asked about.

وَاَوۡفُوا الۡـكَيۡلَ اِذَا كِلۡتُمۡ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ​ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا‏ ﴿35﴾

اور ماپو تو پورا ماپو اور برابر ترازو سے تولو، یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا

And correctly measure when you measure, and weigh correctly with the scales; this is better, and has a better outcome.

وَلَا تَقۡفُ مَا لَـيۡسَ لَـكَ بِهٖ عِلۡمٌ​ ؕ اِنَّ السَّمۡعَ وَالۡبَصَرَ وَالۡفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۤٮِٕكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡـُٔوۡلًا‏ ﴿36﴾

اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں (ف۷۳) بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے (ف۸٤)

And do not pursue the matter you do not have the knowledge of; indeed the ear, and the eye, and the heart – each of these will be questioned.

وَلَا تَمۡشِ فِى الۡاَرۡضِ مَرَحًا​ ۚ اِنَّكَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَلَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا‏ ﴿37﴾

اور زمین میں اتراتا نہ چل (ف۸۵) بیشک ہرگز زمین نہ چیر ڈالے گا، اور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا (ف۸٦)

And do not walk haughtily on the earth; you can never split the earth, nor be as high as the hills.

كُلُّ ذٰ لِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنۡدَ رَبِّكَ مَكۡرُوۡهًا‏ ﴿38﴾

یہ جو کچھ گزرا ان میں کی بری بات تیرے رب کو ناپسند ہے،

Of all this related before, the evil among it is disliked by your Lord.

ذٰ لِكَ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤى اِلَيۡكَ رَبُّكَ مِنَ الۡحِكۡمَةِ​ ؕ وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلۡقٰى فِىۡ جَهَنَّمَ مَلُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا‏ ﴿39﴾

یہ ان وحیوں میں سے ہے جو تمہارے رب نے تمہاری طرف بھیجی حکمت کی باتیں (ف۸۷) اور اے سننے والے اللہ ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تو جہنم میں پھینکا جائے گا طعنہ پاتا دھکے کھاتا،

This is part of the divine revelations of wisdom that your Lord has sent down to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and O listener, do not set up another God with Allah, for you will then be thrown into hell – rebuked, rebuffed.

اَفَاَصۡفٰٮكُمۡ رَبُّكُمۡ بِالۡبَـنِيۡنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الۡمَلٰۤٮِٕكَةِ اِنَاثًا​ ؕ اِنَّكُمۡ لَتَقُوۡلُوۡنَ قَوۡلًا عَظِيۡمًا‏ ﴿40﴾

کیا تمہارے رب نے تم کو بیٹے چن دیے اور اپنے لیے فرشتوں سے بیٹیاں بنائیں (ف۸۸) بیشک تم بڑا بول بولتے ہو (ف۸۹)

Has your Lord chosen sons for you, and created daughters for Himself from among the angels? Indeed you utter a profound word!

وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِىۡ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِيَذَّكَّرُوۡا ؕ وَمَا يَزِيۡدُهُمۡ اِلَّا نُفُوۡرًا‏ ﴿41﴾

اور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان فرمایا (ف۹۰) کہ وہ سمجھیں (ف۹۱) اور اس سے انھیں نہیں بڑھتی مگر نفرت (ف۹۲)

And We have explained in this Qur’an in various ways, for them to understand; and it increases nothing except their hatred towards it.

قُلْ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِى الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا‏ ﴿42﴾

تم فرماؤ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے جیسا یہ بکتے ہیں جب تو وہ عرش کے مالک کی طرف کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے (ف۹۳)

Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “If there were other Gods besides Him” – as they utter – “then they would have certainly found a way towards* the Owner of the Throne!”. (* To fight against Him.)

سُبۡحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًا‏ ﴿43﴾

اسے پاکی اور برتری ان کی باتوں سے بڑی برتری،

Purity and Supremacy are to Him from what they utter, a Great Supremacy!

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ​ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَىۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ وَلٰـكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ​ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا‏ ﴿44﴾

اس کی پاکی بولتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں (ف۹٤) اور کوئی چیز نہیں (ف۹۵) جو اسے سراہتی ہوتی اس کی پاکی نہ بولے (ف۹٦) ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے (ف۹۷) بیشک وہ حلم والا بخشنے والا ہے (ف۹۸)

The seven heavens and the earth and all those in them say His Purity; and there is not a thing that does not proclaim His purity with praise, but you do not understand their proclamation of purity; indeed He is Most Forbearing, Oft Forgiving.

وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا ۙ‏ ﴿45﴾

اور اے محبوب! تم نے قرآن پڑھا ہم نے تم پر اور ان میں کہ آخرت پر ایمان ہیں لاتے ایک چھپا ہوا پردہ کردیا (ف۹۹)

And when you read the Qur’an O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings upon him), We created an invisible barrier between you and those who do not believe in the Hereafter.

وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا​ ؕ وَاِذَا ذَكَرۡتَ رَبَّكَ فِى الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَهٗ وَلَّوۡا عَلٰٓى اَدۡبَارِهِمۡ نُفُوۡرًا‏ ﴿46﴾

اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) (ف۱۰۰) اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کی یاد کرتے ہو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں نفرت کرتے،

And We placed covers upon their hearts so they may not understand it, and deafness in their ears; and when you mention your Only Lord in the Qur’an, they flee turning their backs in hatred.

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُوۡنَ بِهٖۤ اِذۡ يَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَيۡكَ وَاِذۡ هُمۡ نَجۡوٰٓى اِذۡ يَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا‏  ﴿47﴾

ہم خوب جانتے ہیں جس لیے وہ سنتے ہیں (ف۱۰۱) جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں اور جب آپس میں مشورہ کرتے ہیں جبکہ ظالم کہتے ہیں تم پیچھے نہیں چلے مگر ایک ایسے مرد کے جس پر جادو ہوا (ف۱۰۲)

We know well why they listen when they lend ears to you, and when they discuss among themselves, when the unjust say, “You have not followed except a man who is under a magic spell.”

اُنْظُرۡ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ سَبِيۡلًا‏ ﴿48﴾

دیکھو انہوں نے تمہیں کیسی تشبیہیں دیں تو گمراہ ہوئے کہ راہ نہیں پاسکتے،

See the kind of examples they invent for you! They therefore strayed, so cannot find a path.

وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِيۡدًا‏ ﴿49﴾

اور بولے کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے کیا سچ مچ نئے بن کر اٹھیں گے (ف۱۰۳)

And they say, “When we have become bones and decomposed, will we really be raised up anew?”

قُلۡ كُوۡنُوۡا حِجَارَةً اَوۡ حَدِيۡدًا‏ ﴿50﴾

تم فرماؤ کہ پتھر یا لوہا ہوجاؤ،

Proclaim, “Become stones or iron.”

اَوۡ خَلۡقًا مِّمَّا يَكۡبُرُ فِىۡ صُدُوۡرِكُمۡ​ۚ فَسَيَـقُوۡلُوۡنَ مَنۡ يُّعِيۡدُنَا​ ؕ قُلِ الَّذِىۡ فَطَرَكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ​ ۚ فَسَيُنۡغِضُوۡنَ اِلَيۡكَ رُءُوۡسَهُمۡ وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هُوَ​ ؕ قُلۡ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَرِيۡبًا‏ ﴿51﴾

یا اور کوئی مخلوق جو تمہارے خیال میں بڑی ہو (۱۰٤) تو اب کہیں گے ہمیں کون پھر پیدا کرتے گا، تم فرماؤ وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا، تو اب تمہاری طرف مسخرگی سے سر ہِلا کر کہیں گے یہ کب ہے (ف۱۰۵) تم فرماؤ شاید نزدیک ہی ہو،

“Or some other creation which you deem great”; so they will now say, “Who will create us again?”; proclaim, “He Who created you for the first time”; so now they will mockingly shake their heads at you, and question, “When is this going to occur?”; say, “It could perhaps be soon.”

يَوۡمَ يَدۡعُوۡكُمۡ فَتَسۡتَجِيۡبُوۡنَ بِحَمۡدِهٖ وَتَظُنُّوۡنَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا‏ ﴿52﴾

جس دن وہ تمہیں بلائے گا (ف۱۰٦) تو تم اس کی حمد کرتے چلے آؤ گے اور (ف۱۰۷) سمجھو گے کہ نہ رہے (۱۰۸) تھے مگر تھوڑا،

“The day when He will call you and you will come praising Him, thinking you have stayed only a little.”

وَقُلْ لِّعِبَادِىۡ يَقُوۡلُوا الَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ​ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ​ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا‏  ﴿53﴾

اور میرے (ف۱۰۹) بندوں سے فرماؤ (ف۱۱۰) وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو (ف۱۱۱) بیشک شیطان ان کے آپس میں فساد ڈالتا ہے، بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے،

And tell My bondmen to speak that which is the best; undoubtedly Satan sows discord among them; indeed Satan is man’s open enemy.

رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِكُمۡ​ؕ اِنۡ يَّشَاۡ يَرۡحَمۡكُمۡ اَوۡ اِنۡ يَّشَاۡ يُعَذِّبۡكُمۡ ​ؕ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ وَكِيۡلًا‏ ﴿54﴾

تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے، وہ چاہے تو تم پر رحم کرے (ف۱۱۲) چاہے تو تمہیں عذاب کرے، اور ہم نے تم کو ان پر کڑوڑا (حاکمِ اعلیٰ) بناکر نہ بھیجا (ف۱۱۳)

Your Lord knows you well; if He wills He may have mercy upon you, or if He wills, He may punish you; and We have not sent you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) as a guardian over them.

وَرَبُّكَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ​ؕ وَلَقَدۡ فَضَّلۡنَا بَعۡضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰى بَعۡضٍ​ وَّاٰتَيۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا‏ ﴿55﴾

اور تمہارا رب خوب جانتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۱۱٤) اور بیشک ہم نے نبیوں میں ایک کو ایک پر بڑائی دی (ف۱۱۵) اور داؤد کو زبور عطا فرمائی (ف۱۱٦)

And your Lord knows well all those who are in the heavens and the earth; and indeed among the Prophets We gave excellence to some above others, and We gave the Zaboor to Dawud.

قُلِ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ فَلَا يَمۡلِكُوۡنَ كَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡكُمۡ وَلَا تَحۡوِيۡلًا‏ ﴿56﴾

تم فرماؤ پکارو انھیں جن کو اللہ کے سوا گمان کرتے ہو تو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکلیف دو کرنے اور نہ پھیر دینے کا (ف۱۱۷)

Proclaim, “Call upon those whom you assume besides Allah – so they do not have any power to relieve the misfortune from you nor to avert it.”

اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ وَيَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَهٗ وَيَخَافُوۡنَ عَذَابَهٗؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحۡذُوۡرًا‏ ﴿57﴾

وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں (ف۱۱۸) وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے (ف۱۱۹) اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں (ف۱۲۰) بیشک تمہارے رب کا عذاب ڈر کی چیز ہے،

The devoted bondmen whom these disbelievers worship, themselves seek the means of proximity from their Lord, that who among them is the closest (to his Lord), and hope for His mercy and fear His punishment; indeed the punishment of your Lord is to be feared.

وَاِنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اِلَّا نَحۡنُ مُهۡلِكُوۡهَا قَبۡلَ يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡهَا عَذَابًا شَدِيۡدًا​ ؕ كَانَ ذٰ لِكَ فِى الۡـكِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا‏  ﴿58﴾

اور کوئی بستی نہیں مگر یہ کہ ہم اسے روز قیامت سے پہلے نیست کردیں گے یا اسے سخت عذاب دیں گے (ف۱۲۱) یہ کتاب میں (ف۱۲۲) لکھا ہوا ہے،

And there is no such dwelling but which We shall destroy before the Day of Resurrection, or punish it severely; this is written in the Book.

وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرۡسِلَ بِالۡاٰيٰتِ اِلَّاۤ اَنۡ كَذَّبَ بِهَا الۡاَوَّلُوۡنَ​ؕ وَاٰتَيۡنَا ثَمُوۡدَ النَّاقَةَ مُبۡصِرَةً فَظَلَمُوۡا بِهَا​ؕ وَمَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰيٰتِ اِلَّا تَخۡوِيۡفًا‏ ﴿59﴾

اور ہم ایسی نشانیاں بھیجنے سے یوں ہی باز رہے کہ انھیں اگلوں نے جھٹلایا (ف۱۲۳) اور ہم نے ثمود کو (ف۱۲٤) ناقہ دیا آنکھیں کھولنے کو (ف۱۲۵) تو انہوں نے اس پر ظلم کیا (ف۱۲٦) اور ہم ایسی نشانیاں نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کو (ف۱۲۷)

And We remained constrained from sending such signs, because the former people denied them; and We gave the Thamud the she-camel for enlightenment, so they oppressed it; and We do not send such signs except to warn.

وَاِذۡ قُلۡنَا لَـكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ​ ؕ وَمَا جَعَلۡنَا الرُّءۡيَا الَّتِىۡۤ اَرَيۡنٰكَ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الۡمَلۡعُوۡنَةَ فِى الۡقُرۡاٰنِ​ ؕ وَنُخَوِّفُهُمۡۙ فَمَا يَزِيۡدُهُمۡ اِلَّا طُغۡيَانًا كَبِيۡرًا‏  ﴿60﴾

اور جب ہم نے تم سے فرمایا کہ سب لوگ تمہارے رب کے قابو میں ہیں (ف۱۲۸) اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاوا (ف۱۲۹) جو تمہیں دکھایا تھا (ف۱۳۰) مگر لوگوں کی آزمائش کو (ف۱۳۱) اور وہ پیڑ جس پر قرآن میں لعنت ہے (ف۱۳۲) اور ہم انھیں ڈراتے ہیں (ف۱۳۳) تو انھیں نہیں بڑھتی مگر بڑی سرکشی،

And when We proclaimed to you, “Indeed all mankind is within the control of your Lord”; and We did not create the spectacle* which We showed you except to try mankind, and the Tree** which is cursed in the Qur’an; and We warn them – so nothing increases for them except extreme rebellion. (* The Ascent of the Holy Prophet to the heavens and beyond, which the disbelievers denied as just a dream. ** The Zakkum tree which will grow in hell and be the food for its inhabitants.)

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰۤٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ قَالَ ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِيۡنًا​ ۚ‏ ﴿61﴾

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو (ف۱۳٤) تو ان سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے، بولا کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا

And recall when We ordered the angels that, “Prostrate before Adam” – so they all prostrated except Iblis; he said, “Shall I prostrate before one whom You have created from clay?”

قَالَ اَرَءَيۡتَكَ هٰذَا الَّذِىۡ كَرَّمۡتَ عَلَىَّ لَٮِٕنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَاَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلًا‏ ﴿62﴾

بولا (ف۱۳۵) دیکھ تو جو یہ تو نے مجھ سے معزز رکھا (ف۱۳٦) اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو ضرور میں اس کی اولاد کو پیس ڈالوں گا (ف۱۳۷) مگر تھوڑا (ف۱۳۸)

He said, “Behold this* – the one whom You have honoured above me – if You give me respite till the Day of Resurrection, I will surely crush his descendants, except a few.” (* Prophet Adam.)

قَالَ اذۡهَبۡ فَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ فَاِنَّ جَهَـنَّمَ جَزَآؤُكُمۡ جَزَآءً مَّوۡفُوۡرًا‏ ﴿63﴾

فرمایا، دور ہو (ف۱۳۹) تو ان میں جو تیری پیروی کرے گا تو بیشک سب کا بدلہ جہنم ہے بھرپور سزا،

He said, “Be gone – therefore whoever among them follows you – so hell is the recompense for you all, a sufficient punishment.”

وَاسۡتَفۡزِزۡ مَنِ اسۡتَطَعۡتَ مِنۡهُمۡ بِصَوۡتِكَ وَاَجۡلِبۡ عَلَيۡهِمۡ بِخَيۡلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكۡهُمۡ فِى الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ وَعِدۡهُمۡ​ ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا‏ ﴿64﴾

اور ڈگا دے (بہکادے) ان میں سے جس پر قدرت پائے اپنی آواز سے (ف۱٤۰) اور ان پر لام باندھ (فوج چڑھا) لا اپنے سواروں اور اپنے پیادوں کا (ف۱٤۱) اور ان کا ساجھی ہو مالوں اور بچوں میں (ف۱٤۲) اور انھیں وعدہ دے (ف۱٤۳) اور شیطان انھیں وعدہ نہیں دیتا مگر فریب سے،

“And mislead those whom you can among them with your voice, and raise an army against them with your cavalry and infantry, and be their partner in wealth and children, and give them promises”; and Satan does not promise them except with deception.

اِنَّ عِبَادِىۡ لَـيۡسَ لَـكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ​ ؕ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيۡلًا‏  ﴿65﴾

بیشک جو میرے بندے ہیں (ف۱٤٤) ان پر تیرا کچھ قابو نہیں، اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے کو (ف۱٤۵)

“Indeed My bondmen* – you do not have any power over them”; and your Lord is Sufficient as a Trustee. (* The chosen virtuous bondmen)

رَبُّكُمُ الَّذِىۡ يُزۡجِىۡ لَـكُمُ الۡفُلۡكَ فِى الۡبَحۡرِ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا‏ ﴿66﴾

تمہارا رب وہ ہے کہ تمہارے لیے دریا میں کشتی رواں کرتا ہے کہ (ف۱٤٦) تم اس کا فضل تلاش کرو، بیشک وہ تم پر مہربان ہے،

Your Lord is He Who sails the ship upon the seas for you, so that you may seek His munificence; indeed He is Most Merciful upon you.

وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِى الۡبَحۡرِ ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِيَّاهُ​ ۚ فَلَمَّا نَجّٰٮكُمۡ اِلَى الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ​ ؕ وَكَانَ الۡاِنۡسَانُ كَفُوۡرًا‏  ﴿67﴾

اور جب تمہیں دریا میں مصیبت پہنچتی ہے (ف۱٤۷) تو اس کے سوا جنہیں پوجتے ہیں سب گم ہوجاتے ہیں (ف۱٤۸) پھر جب تمہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں (ف۱٤۹) اور انسان بڑا ناشکرا ہے،

And when calamity strikes you upon the sea, all those whom you worship are lost, except Him; then when He rescues you towards land, you turn away; and man is extremely ungrateful.

اَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ الۡبَرِّ اَوۡ يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوۡالَـكُمۡ وَكِيۡلًا ۙ‏ ﴿68﴾

کیا تم (ف۱۵۰) اس سے نڈر ہوئے کہ وہ خشکی ہی کا کوئی کنارہ تمہارے ساتھ دھنسادے (ف۱۵۱) یا تم پر پتھراؤ بھیجے (ف۱۵۲) پھر اپنا کوئی حمایتی نہ پاؤ (ف۱۵۳)

Are you unafraid that He may bury an edge of the same land along with you, or send a shower of stones upon you, and you find no supporter for yourselves?

اَمۡ اَمِنۡتُمۡ اَنۡ يُّعِيۡدَكُمۡ فِيۡهِ تَارَةً اُخۡرٰى فَيُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيۡحِ فَيُغۡرِقَكُمۡ بِمَا كَفَرۡتُمۡ​ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَـكُمۡ عَلَيۡنَا بِهٖ تَبِيۡعًا‏ ﴿69﴾

یا اس سے نڈر ہوئے کہ تمہیں دوبارہ دریا میں لے جائے پھر تم پر جہاز توڑنے والی آندھی بھیجے تو تم کو تمہارے کفر کے سبب ڈبو دے پھر اپنے لیے کوئی ایسا نہ پاؤ کہ اس پر ہمارا پیچھا کرے (ف۱۵٤)

Or are you unafraid that He may again take you back to the sea, then send against you a ship-breaking gust of wind, therefore drowning you because of your disbelief – then you may not find for yourself anyone to come after Us for this?

وَلَـقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِىۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا‏ ﴿70﴾

اور بیشک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی (ف۱۵۵) اور ان کی خشکی اور تری میں (ف۱۵٦) سوار کیا اور ان کو ستھری چیزیں روزی دیں (ف۱۵۷) اور ان کو اپنی بہت مخلوق سے افضل کیا (ف۱۵۸)

Indeed We have honoured the Descendants of Adam and transported them over land and sea, and gave them good things as sustenance, and made them better than most of Our creation.

يَوۡمَ نَدۡعُوۡا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمۡ​ۚ فَمَنۡ اُوۡتِىَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ فَاُولٰۤٮِٕكَ يَقۡرَءُوۡنَ كِتٰبَهُمۡ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا‏ ﴿71﴾

جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے (ف۱۵۹) تو جو اپنا نامہ داہنے ہاتھ میں دیا گیا یہ لوگ اپنا نامہ پڑھیں گے (ف۱٦۰) اور تاگے بھر ان کا حق نہ دبایا جائے گا (ف۱٦۱)

On the day when We shall summon every group along with its leader; so whoever is given his register in his right hand – these will read their accounts and their rights will not be suppressed even a thread. (* They will be given the full reward.)

وَمَنۡ كَانَ فِىۡ هٰذِهٖۤ اَعۡمٰى فَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ اَعۡمٰى وَاَضَلُّ سَبِيۡلًا‏ ﴿72﴾

اور جو اس زندگی میں (ف۱٦۲) اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے (ف۱٦۳) اور اور بھی زیادہ گمراہ،

Whoever is blind* in this life will be blind in the Hereafter, and even more astray. (* To the truth – disbelieving.)

وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَـفۡتِنُوۡنَكَ عَنِ الَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ لِتَفۡتَرِىَ عَلَيۡنَا غَيۡرَهٗ​ ​ۖ  وَاِذًا لَّاتَّخَذُوۡكَ خَلِيۡلًا‏ ﴿73﴾

اور وہ تو قریب تھا کہ تمہیں کچھ لغزش دیتے ہماری وحی سے جو ہم نے تم کو بھیجی کہ تم ہماری طرف کچھ اور نسبت کردو، اور ایسا ہوتا تو وہ تم کو اپنا گہرا دوست بنالیتے (ف۱٦٤)

And it was close that they were about to mislead you somewhat from the divine revelation We sent to you, for you to attribute something else* to Us; and if it were**, they would have accepted you as a friend. (* Other than the divine revelation. ** Which is impossible.)

وَلَوۡلَاۤ اَنۡ ثَبَّتۡنٰكَ لَقَدۡ كِدْتَّ تَرۡكَنُ اِلَيۡهِمۡ شَيۡــًٔـا قَلِيۡلًا  ۙ‏ ﴿74﴾

اور اگر ہم تمہیں (ف۱٦۵) ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ تھوڑا سا جھکتے

And had We not kept you steadfast, possibly you might have inclined to them just a little.

اِذًا لَّاَذَقۡنٰكَ ضِعۡفَ الۡحَيٰوةِ وَضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَـكَ عَلَيۡنَا نَصِيۡرًا‏ ﴿75﴾

اور ایسا ہوتا تو ہم تم کو دُونی عمر اور دو چند موت (ف۱٦٦) کا مزہ دیتے پھر تم ہمارے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پاتے،

And if it were*, We would then have made you taste a double life and a double death – you would then not find any supporter against Us. (* Which is impossible.)

وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَسۡتَفِزُّوۡنَكَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِيُخۡرِجُوۡكَ مِنۡهَا​ وَاِذًا لَّا يَلۡبَـثُوۡنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيۡلًا‏ ﴿76﴾

اور بیشک قریب تھا کہ وہ تمہیں اس زمین سے (ف۱٦۷) ڈگا دیں (کھسکادیں) کہ تمہیں اس سے باہر کردیں اور ایسا ہوتا تو وہ تمہارے پیچھے نہ ٹھہرتے مگر تھوڑا (ف۱٦۸)

And indeed it was close that they frighten you in the land for them to oust you from it – and if it were, they would not have stayed after you, but a little.

سُنَّةَ مَنۡ قَدۡ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنۡ رُّسُلِنَا​ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحۡوِيۡلًا‏ ﴿77﴾

دستور ان کا جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے (ف۱٦۹) اور تم ہمارا قانون بدلتا نہ پاؤ گے،

The tradition of the Noble Messengers We sent before you – and you will not find Our rules changing.

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوۡكِ الشَّمۡسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيۡلِ وَقُرۡاٰنَ الۡـفَجۡرِ​ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡـفَجۡرِ كَانَ مَشۡهُوۡدًا‏ ﴿78﴾

نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کی اندھیری تک (ف۱۷۰) اور صبح کا قرآن (ف۱۷۱) بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں (ف۱۷۲)

Keep the prayer established, from the declining of the sun until darkness of the night, and the Qur’an at dawn; indeed the angels witness the reading of the Qur’an at dawn.

وَمِنَ الَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ​ۖ  عَسٰۤى اَنۡ يَّبۡعَـثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا‏ ﴿79﴾

اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے (ف۱۷۳) قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں (ف۱۷٤)

And forego sleep* in some part of the night – an increase for you**; it is likely your Lord will set you on a place where everyone will praise you***. (* For worship. ** Obligatory only upon the Holy Prophet. *** On the Day of Resurrection.)

وَقُلْ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِىۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِىۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّاجۡعَلْ لِّىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا‏ ﴿80﴾

اور یوں عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر لے جا (ف۱۷۵) اور مجھے اپنی طرف سے مددگار غلبہ دے (ف۱۷٦)

And pray, “My Lord! Admit me with the truth and take me out with the truth*, and give me from Yourself a helpful dominance**.” (* Wherever I come or go ** Through spread of Islam.)

وَقُلۡ جَآءَ الۡحَـقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُ​ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا‏  ﴿81﴾

اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا (ف۱۷۷) بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا (ف۱۷۸)

And proclaim, “The Truth has arrived and falsehood has vanished; indeed falsehood had to vanish.” (* With the arrival of the Last Prophet – Mohammed peace and blessings be upon him)

وَنُنَزِّلُ مِنَ الۡـقُرۡاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحۡمَةٌ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ​ۙ وَلَا يَزِيۡدُ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا خَسَارًا‏ ﴿82﴾

اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز (۱۷۹) جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے (ف۱۸۰) اور اس سے ظالموں کو (ف۱۸۱) نقصان ہی بڑھتا ہے،

And We send down in the Qur’an that which is a cure for the Muslims, and a mercy – and it increases only ruin for the unjust.

وَاِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَى الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ​ۚ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَــُٔوۡسًا‏ ﴿83﴾

اور جب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں (ف۱۸۲) منہ پھیرلیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے

And when We bestow favours upon man, he turns away and goes far away towards himself; and when evil touches him he despairs.

قُلۡ كُلٌّ يَّعۡمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖؕ فَرَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ هُوَ اَهۡدٰى سَبِيۡلًا‏ ﴿84﴾

تم فرماؤ سب اپنے کینڈے (انداز) پر کام کرتے ہیں (ف۱۸٦) تو تمہارا رب خوب جانتا ہے کون زیادہ راہ پر ہے،

Proclaim, “Each one works according to his own pattern; and your Lord well knows him who is more upon guidance.”

وَيَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الرُّوۡحِ​ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّىۡ وَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ اِلَّا قَلِيۡلًا‏ ﴿85﴾

اور تم سے روح کو پوچھتے ہیں ہیں، تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا (ف۱۸۷)

They ask you concerning the soul; proclaim “The soul is an entity by the command of my Lord, and you have not received knowledge except a little.”

وَلَٮِٕنۡ شِئۡنَا لَنَذۡهَبَنَّ بِالَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَـكَ بِهٖ عَلَيۡنَا وَكِيۡلًا ۙ‏ ﴿86﴾

اور اگر ہم چاہتے تو یہ وحی جو ہم نے تمہاری طرف کی اسے لے جاتے (ف۱۸۸) پھر تم کوئی نہ پاتے کہ تمہارے لیے ہمارے حضور اس پر وکالت کرتا

And if We willed We could have taken away the revelations which We have sent to you – you would then not find anyone who could advocate for you before Us for this.

اِلَّا رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ​ ؕ اِنَّ فَضۡلَهٗ كَانَ عَلَيۡكَ كَبِيۡرًا‏  ﴿87﴾

مگر تمہارے رب کی رحمت (ف۱۸۹) بیشک تم پر اس کا بڑا فضل ہے (ف۱۹۰)

Except the mercy of your Lord; indeed His munificence upon you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) is extremely great.

قُلْ لَّٮِٕنِ اجۡتَمَعَتِ الۡاِنۡسُ وَالۡجِنُّ عَلٰٓى اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِمِثۡلِ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لَا يَاۡتُوۡنَ بِمِثۡلِهٖ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ ظَهِيۡرًا‏  ﴿88﴾

تم فرماؤ اگر آدمی اور جن سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ (ف۱۹۱) اس قرآن کی مانند لے آئیں تو اس کا مثل نہ لاسکیں گے اگرچہ ان میں ایک دوسرے کا مددگار ہو (ف۱۹۲)

Proclaim, “If all mankind and jinns agree to bring an equivalent to the Qur’an, they will not be able to bring its equal – even if they were to help each other.”

وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِىۡ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ فَاَبٰٓى اَكۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوۡرًا‏ ﴿89﴾

اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہم قسم کی مثل طرح طرح بیان فرمائی تو اکثر آدمیوں نے نہ مانا مگر ناشکری کرنا (ف۱۹۳)

And indeed We have illustrated all kinds of examples in the Qur’an for mankind – so most men did not accept, except to be ungrateful.

وَقَالُوۡا لَنۡ نُّـؤۡمِنَ لَـكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۡۢبُوۡعًا ۙ‏ ﴿90﴾

اور بولے کہ ہم تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ بہا دو (ف۱۹٤)

And they said, “We will not accept faith in you, until you cause a spring to gush forth from the earth for us.”

اَوۡ تَكُوۡنَ لَـكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡهٰرَ خِلٰلَهَا تَفۡجِيۡرًا ۙ‏ ﴿91﴾

یا تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو پھر تم اس کے لیے اندر بہتی نہریں رواں کرو

“Or you have a garden of date-palms and grapes, and you make gushing rivers to flow in it.”

اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا اَوۡ تَاۡتِىَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰۤٮِٕكَةِ قَبِيۡلًا ۙ‏ ﴿92﴾

یا تم ہم پر آسمان گرا دو جیسا تم نے کہا ہے ٹکڑے ٹکڑے یا اللہ اور فرشتوں کو ضامن لے آؤ (ف۱۹۵)

“Or you cause the sky to fall upon us in pieces like you said – or bring Allah and the angels as Witness.”

اَوۡ يَكُوۡنَ لَـكَ بَيۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰى فِى السَّمَآءِ ؕ وَلَنۡ نُّـؤۡمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيۡنَا كِتٰبًا نَّـقۡرَؤُهٗ​ ؕ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّىۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا‏ ﴿93﴾

یا تمہارے لیے طلائی گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھ جانے پر بھی ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم پر ایک کتاب نہ اتارو جو ہم پڑھیں، تم فرماؤ پاکی ہے میرے رب کو میں کون ہوں مگر آدمی اللہ کا بھیجا ہوا (ف۱۹٦)

“Or you have a house of gold, or you ascend up into heaven; and even then we shall not believe in your ascent unless you send down a book upon us, which we may read”; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Purity is to my Lord – who am I except a human, sent by Allah?” (* These can be done, only when Allah commands.)

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَهُمُ الۡهُدٰٓى اِلَّاۤ اَنۡ قَالُـوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا‏ ﴿94﴾

اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اسی نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی اللہ کا بھیجا ہوا (ف۱۹٦) اور کس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اسی نے کہ بولے کیا اللہ نے آدمی کو رسول بناکر بھیجا (ف۱۹۷)

And what prevented people from believing when the guidance came to them, except their saying that, “What! Allah has sent a human as a Noble Messenger?”?

قُلْ لَّوۡ كَانَ فِى الۡاَرۡضِ مَلٰۤٮِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَٮِٕنِّيۡنَ لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَـكًا رَّسُوۡلًا‏ ﴿95﴾

تم فرماؤ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (ف۱۹۸) چین سے چلتے تو ان پر ہم رسول بھی فرشتہ اتارتے (ف۱۹۹)

Proclaim, “If there were angels walking peacefully on the earth, We would send down only an angel from heaven, as a Noble Messenger towards them.”

قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِىۡ وَبَيۡنَكُمۡ​ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا‏ ﴿96﴾

تم فرماؤ اللہ بس ہے گواہ میرے تمہارے درمیان (۲۰۰) بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا دیکھتا ہے،

Proclaim, “Allah is Sufficient as Witness between me and you all; indeed He is Well Aware of, the Beholder of His bondmen.”

وَمَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِ​ ۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهُمۡ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِهٖ​ ؕ وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا​ ؕ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ​ ؕ كُلَّمَا خَبَتۡ زِدۡنٰهُمۡ سَعِيۡرًا‏ ﴿97﴾

اور جسے اللہ راہ دے وہی راہ پر ہے اور جسے گمراہ کرے (ف۲۰۱) تو ان کے لیے اس کے سوا کوئی حمایت والے نہ پاؤ گے (ف۲۰۲) اور ہم انھیں قیامت کے دن ان کے منہ کے بل (ف۲۰۳) اٹھائیں گے اندھے اور گونگے اور بہرے (ف۲۰٤) ان کا ٹھکانا جہنم ہے جب کبھی بجھنے پر آئے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے،

And only he whom Allah guides, is upon guidance; and whomever He sends astray – you will therefore not find for them any supporters besides Him; and We shall raise them by their faces on the Day of Resurrection – blind, dumb and deaf; their destination is hell; whenever it is about to extinguish, We will inflame it more for them.

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ بِاَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِيۡدًا‏ ﴿98﴾

یہ ان کی سزا ہے اس پر کہ انہوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا اور بولے کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا سچ مچ ہم نئے بن کر اٹھائے جائیں گے،

This is their reward because they disbelieved in Our signs and said, “When we are bones and decomposed, will we really be created again and raised up again?”

اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ قَادِرٌ عَلٰٓى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ وَجَعَلَ لَهُمۡ اَجَلًا لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوۡنَ اِلَّا كُفُوۡرًا‏ ﴿99﴾

اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے (ف۲۰۵) ان لوگوں کی مثل بناسکتا ہے (ف۲۰٦) اور اس نے ان کے لیے (ف۲۰۷) ایک میعاد ٹھہرا رکھی ہے جس میں کچھ شبہ نہیں تو ظالم نہیں مانتے بےناشکری کیے (ف۲۰۸)

Do they not see that Allah Who has created the heavens and the earth is Able to create people similar to them, and has set a term for them in which there is no doubt? So the unjust do not accept without being ungrateful.

قُلْ لَّوۡ اَنۡـتُمۡ تَمۡلِكُوۡنَ خَزَآٮِٕنَ رَحۡمَةِ رَبِّىۡۤ اِذًا لَّاَمۡسَكۡتُمۡ خَشۡيَةَ الۡاِنۡفَاقِ​ ؕ وَكَانَ الۡاِنۡسَانُ قَتُوۡرًا‏ ﴿100﴾

تم فرماؤ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے (ف۲۰۹) تو انھیں بھی روک رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہوجائیں، اور آدمی بڑا کنجوس ہے،

Proclaim, “If you owned the treasures of the mercy of my Lord, you would hoard them too for fear that they may get spent; and man is a big miser.”

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰى تِسۡعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ​ فَسۡـــَٔلۡ بَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ فَقَالَ لَهٗ فِرۡعَوۡنُ اِنِّىۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰى مَسۡحُوۡرًا‏  ﴿101﴾

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو نو روشن نشانیاں دیں (ف۲۱۰) تو بنی اسرائیل سے پوچھو جب وہ (ف۲۱۱) ان کے پاس آیا تو اس سے فرعون نے کہا، اے موسیٰ! میرے خیال میں تو تم پر جادو ہوا (ف۲۱۲)

And indeed We gave Moosa nine clear signs, therefore ask the Descendants of Israel when he came to them – in response Firaun said, “O Moosa – I think you are under a magic spell.”

قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰٓؤُلَاۤءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآٮِٕرَ​ ۚ وَاِنِّىۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًا‏ ﴿102﴾

کہا یقیناً تو خوب جانتا ہے (ف۲۱۳) کہ انھیں نہ اتارا مگر آسمانوں اور زمین کے مالک نے دل کی آنکھیں کھولنے والیاں (ف۲۱٤) اور میرے گمان میں تو اے فرعون! تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے (ف۲۱۵)

He said, “You certainly know that these have not been sent down except by the Lord of the heavens and the earth, the eye-openers* for the hearts; and I think that you, O Firaun, will surely be ruined.” (* The signs which enlighten the hearts.)

فَاَرَادَ اَنۡ يَّسۡتَفِزَّهُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ فَاَغۡرَقۡنٰهُ وَ مَنۡ مَّعَهٗ جَمِيۡعًا ۙ‏ ﴿103﴾

تو اس نے چاہا کہ ان کو (ف۲۱٦) زمین سے نکال دے تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو سب کو ڈبو دیا (ف۲۱۷)

He therefore wished to expel them from the earth, so We drowned him and his companions, all together.

وَّقُلۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهٖ لِبَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَ اسۡكُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ جِئۡنَا بِكُمۡ لَفِيۡفًا ؕ‏ ﴿104﴾

اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرمایا اس زمین میں بسو (ف۲۱۸) پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا (ف۲۱۹) ہم تم سب کو گھال میل (لپیٹ کر) لے آئیں گے (ف۲۲۰)

And after him, We said to the Descendants of Israel, “Reside in this land – then when the promise of the Hereafter comes, We will bring you all huddled together.”

وَبِالۡحَـقِّ اَنۡزَلۡنٰهُ وَبِالۡحَـقِّ نَزَلَ​ ؕ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًا ​ۘ‏ ﴿105﴾

اور ہم نے قرآن کو حق ہی کے ساتھ اتارا اور حق وہی کے لیے اترا (ف۲۲۱) اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشی اور ڈر سناتا،

And We sent down the Qur’an with the truth, and it has come down only for the truth; and We did not send you except as a Herald of glad tidings and warnings.

وَقُرۡاٰنًا فَرَقۡنٰهُ لِتَقۡرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكۡثٍ وَّنَزَّلۡنٰهُ تَنۡزِيۡلًا‏ ﴿106﴾

اور قرآن ہم نے جدا جدا کرکے (ف۲۲۲) اتارا کہ تم اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو (ف۲۲۳) اور ہم نے اسے بتدریج رہ رہ کر اتارا (ف۲۲٤)

And We sent down the Qur’an in parts, that you may gradually recite it to the people, and We sent it down slowly in stages.

قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡٓا​ ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا ۙ‏ ﴿107﴾

تم فرماؤ کہ تم لوگ اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (ف۲۲۵) بیشک وہ جنہیں اس کے اترنے سے پہلے علم ملا (ف۲۲٦) اب ان پر پڑھا جاتا ہے، ٹھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں،

Proclaim, “Whether you accept faith in it or not”; indeed those who received knowledge before the Qur’an came, fall down prostrate on their faces when it is recited to them.

وَّيَقُوۡلُوۡنَ سُبۡحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنۡ كَانَ وَعۡدُ رَبِّنَا لَمَفۡعُوۡلًا‏  ﴿108﴾

اور کہتے ہیں پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہمارے اب کا وعدہ پورا ہوتا تھا (ف۲۲۷)

And they say, “Purity is to our Lord – indeed the promise of our Lord had to come true.”

وَيَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ يَبۡكُوۡنَ وَيَزِيۡدُهُمۡ خُشُوۡعًا ۩‏ ﴿109﴾

اور تھوڑی کے بل گرتے ہیں (ف۲۲۸) روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا بڑھاتا ہے، (ف۲۲۹) (السجدة) ٤

And they fall down on their faces weeping, and this Qur’an increases their humility. (Command of prostration # 4).

قُلِ ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ​ ؕ اَ يًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى ​ۚ وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا وَابۡتَغِ بَيۡنَ ذٰ لِكَ سَبِيۡلًا‏ ﴿110﴾

تم فرماؤ اللہ کہہ کر پکارو رحمان کہہ کر، جو کہہ کر پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں (ف۲۳۰) اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ اور ان دنوں کے بیچ میں راستہ چاہو (ف۲۳۱)

Proclaim, “Pray calling (Him) Allah or calling (Him) the Most Gracious; whichever name you call with – they are all His magnificent names; and do not offer your prayers very loudly or very softly, and seek a way between them.”

وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ لَمۡ يَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ شَرِيۡكٌ فِى الۡمُلۡكِ وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ وَلِىٌّ مِّنَ الذُّلِّ​ وَكَبِّرۡهُ تَكۡبِيۡرًا‏  ﴿111﴾

اور یوں کہو سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنے لیے بچہ اختیار نہ فرمایا (ف۲۳۲) اور بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں (ف۲۳۳) اور کمزوری سے کوئی اس کا حمایتی نہیں (ف۲۳٤) اور اس کی بڑائی بولنے کو تکبیر کہو (ف۲۳۵)

And say, “All praise is to Allah, Who has not chosen a son for Himself, and none is His partner in kingship, and none is His supporter due to weakness, and say ‘Allah is Great’ to proclaim His greatness.”

اَ لۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰى عَبۡدِهِ الۡكِتٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَلْ لَّهٗ عِوَجًا  ؕ‏ ﴿1﴾

سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنے بندے (ف۲) پر کتاب اتاری (ف۳) اور اس میں اصلاً (بالکل، ذرا بھی) کجی نہ رکھی، (ف٤)

All praise is to Allah Who sent down the Book upon His bondman, and has not kept any deviation in it.

قَيِّمًا لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ وَيُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ۙ‏ ﴿2﴾

عدل والی کتاب کہ (ف۵) اللہ کے سخت عذاب سے ڈرائے اور ایمان والوں کو جو نیک کام کریں بشارت دے کہ ان کے لیے اچھا ثواب ہے،

A just Book, to warn of Allah’s severe punishment, and to give glad tidings to the believers who do good deeds, that for them is an excellent reward.

مّٰكِثِيۡنَ فِيۡهِ اَبَدًا ۙ‏ ﴿3﴾

جس میں ہمیشہ رہیں گے،

In which they will abide forever.

وَّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا‏ ﴿4﴾

اور ان (ف٦) کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنا کوئی بچہ بنایا،

And to warn those who say “Allah has chosen a child.”

مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّلَا لِاٰبَآٮِٕهِمۡ​ؕ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ​ؕ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا‏ ﴿5﴾

اس بارے میں نہ وہ کچھ علم رکھتے ہیں نہ ان کے باپ دادا (ف۷) کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے، نِرا جھوٹ کہہ رہے ہیں،

They do not have any knowledge of it – nor did their forefathers; profound is the word that comes out of their mouths; they only speak a lie.

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّـفۡسَكَ عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ اِنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ اَسَفًا‏ ﴿6﴾

تو کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے پیچھے اگر وہ اس بات پر (ف۸) ایمان نہ لائیں غم سے (ف۹)

Possibly you may risk your life by grieving (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) for them if they do not believe in this narration.

اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَ يُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا‏ ﴿7﴾

بیشک ہم نے زمین کا سنگھار کیا جو کچھ اس پر ہے (ف۱۰) کہ انھیں آزمائیں ان میں کس کے کام بہتر ہیں (ف۱۱)

We have indeed placed all that is on the earth as its adornment in order that We may test them, who among them has the best deeds.

وَاِنَّا لَجٰعِلُوۡنَ مَا عَلَيۡهَا صَعِيۡدًا جُرُزًا ؕ‏ ﴿8﴾

اور بیشک جو کچھ اس پر ہے ایک دن ہم اسے پٹ پر میدان (سفید زمین) کو چھوڑیں گے (ف۱۲)

And indeed We shall one day make all that is on it a barren plain.

اَمۡ حَسِبۡتَ اَنَّ اَصۡحٰبَ الۡـكَهۡفِ وَالرَّقِيۡمِۙ كَانُوۡا مِنۡ اٰيٰتِنَا عَجَبًا‏ ﴿9﴾

کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے (ف۱۳) ہماری ایک عجیب نشانی تھے،

Did you know that the People of the Cave and People close to the Woods, were Our exceptional signs?

اِذۡ اَوَى الۡفِتۡيَةُ اِلَى الۡـكَهۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً وَّهَيِّئۡ لَـنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا‏ ﴿10﴾

جب ان نوجوانوں نے (ف۱٤) غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے (ف۱۵) اور ہمارے کام میں ہمارے لیے راہ یابی کے سامان کر،

When the young men took refuge in the Cave – then said, “Our Lord! Give us mercy from Yourself, and arrange guidance for us in our affair.”

فَضَرَبۡنَا عَلٰٓى اٰذَانِهِمۡ فِى الۡـكَهۡفِ سِنِيۡنَ عَدَدًا ۙ‏ ﴿11﴾

تو ہم نے اس غار میں ان کے کے کانوں پر گنتی کے کئی برس تھپکا (ف۱٦)

We then thumped upon their ears in the Cave for a number of years. (* Put them to sleep.)

ثُمَّ بَعَثۡنٰهُمۡ لِنَعۡلَمَ اَىُّ الۡحِزۡبَيۡنِ اَحۡصٰى لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا‏ ﴿12﴾

پھر ہم نے انھیں جگایا کہ دیکھیں (ف۱۷) دو گروہوں میں کون ان کے ٹھہرنے کی مدت زیادہ ٹھیک بتاتا ہے،

We then awakened them to see which of the two groups more accurately tells the period they had stayed.

نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ نَبَاَهُمۡ بِالۡحَـقِّ​ؕ اِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّهِمۡ وَزِدۡنٰهُمۡ هُدًى​ۖ‏ ﴿13﴾

ہم ان کا ٹھیک ٹھیک حال تمہیں سنائیں، وہ کچھ جوان تھے کہ اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ہدایت بڑھائی،

We shall narrate their account to you accurately; they were young men who believed in their Lord, and We increased the guidance for them.

وَّرَبَطۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۫ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلٰهًـا​ لَّـقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا‏  ﴿14﴾

اور ہم نے ان کی ڈھارس بندھائی جب (ف۱۸) کھڑے ہو کر بولے کہ ہمارا رب وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو نہ پوجیں گے ایسا ہو تو ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی

And We made their hearts steadfast when they stood up and said, “Our Lord is the Lord of the heavens and the earth – we shall not worship any other deity except Him – if it were, we have then said something excessive.”

هٰٓؤُلَاۤءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً​ ؕ لَوۡ لَا يَاۡتُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ بِسُلۡطٰنٍۢ بَيِّنٍ​ ؕ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ؕ‏ ﴿15﴾

یہ جو ہماری قوم ہے اس نے اللہ کے سوا خدا بنا رکھے ہیں، کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی روشن سند، تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۹)

“These – the people of ours – have set up Gods besides Allah; why do they not bring a clear proof regarding them? And who is more unjust than one who fabricates a lie against Allah?”

وَاِذِ اعۡتَزَلۡـتُمُوۡهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاۡوٗۤا اِلَى الۡـكَهۡفِ يَنۡشُرۡ لَـكُمۡ رَبُّكُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِهٖ وَيُهَيِّئۡ لَـكُمۡ مِّنۡ اَمۡرِكُمۡ مِّرۡفَقًا‏ ﴿16﴾

اور جب تم ان سے اور جو کچھ وہ اللہ سوا پوجتے ہیں سب سے الگ ہوجاؤ تو غار میں پناہ لو تمہارا رب تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلادے گا اور تمہارے کام میں آسانی کے سامان بنادے گا،

“And when you have disassociated yourself from them and all what they worship besides Allah – so take refuge in the Cave – your Lord will spread His mercy for you and arrange ease for you in your affairs.”

وَتَرَى الشَّمۡسَ اِذَا طَلَعَتۡ تَّزٰوَرُ عَنۡ كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ الۡيَمِيۡنِ وَاِذَا غَرَبَتۡ تَّقۡرِضُهُمۡ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمۡ فِىۡ فَجۡوَةٍ مِّنۡهُ​ ؕ ذٰ لِكَ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ​ ؕ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِ ​ۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرۡشِدًا‏ ﴿17﴾

اور اے محبوب! تم سورج کو دیکھو گے کہ جب نکلتا ہے تو ان کے غار سے داہنی طرف بچ جاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا جاتا ہے (ف۲۰) حالانکہ وہ اس غار کے کھلے میدان میں میں ہیں (ف۲۱) یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ راہ دے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو ہرگز اس کا کوئی حمایتی راہ دکھانے والا نہ پاؤ گے،

And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) you will see the sun that when it rises it shifts away to the right of their cave, and when it sets it shifts away to their left, and they are in the open ground of that cave; this is from among the signs of Allah; whomever Allah guides – only he is therefore guided; and whomever He sends astray – you will never find for him a friend who guides.

وَ تَحۡسَبُهُمۡ اَيۡقَاظًا وَّهُمۡ رُقُوۡدٌ ​​ۖ وَنُـقَلِّبُهُمۡ ذَاتَ الۡيَمِيۡنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ​​ ۖ وَكَلۡبُهُمۡ بَاسِطٌ ذِرَاعَيۡهِ بِالۡوَصِيۡدِ​ ؕ لَوِ اطَّلَعۡتَ عَلَيۡهِمۡ لَوَلَّيۡتَ مِنۡهُمۡ فِرَارًا وَّلَمُلِئۡتَ مِنۡهُمۡ رُعۡبًا‏  ﴿18﴾

اور تم انھیں جاگتا سمجھو (ف۲۲) اور وہ سوتے ہیں اور ہم ان کی داہنی بائیں کروٹیں بدلتے ہیں (ف۲۳) اور ان کا کتا اپنی کلائیاں پھیلائے ہوئے ہے غار کی چوکھٹ پر (ف۲٤) اے سننے! والے اگر تو انھیں جھانک کر دیکھے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور ان سے ہیبت میں بھر جائے (ف۲۵)

And you may think they are awake, whereas they are asleep; and We turn them over to the right and the left – and their dog is on the threshold of the cave, with its paws outstretched; O listener, were you to look at them closely, you would turn back running away from them, and be filled with their dread.

وَكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ​ ؕ قَالَ قَآٮِٕلٌ مِّنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ​ ؕ قَالُوۡا رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ ؕ فَابۡعَثُوۡۤا اَحَدَكُمۡ بِوَرِقِكُمۡ هٰذِهٖۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ فَلۡيَنۡظُرۡ اَيُّهَاۤ اَزۡكٰى طَعَامًا فَلۡيَاۡتِكُمۡ بِرِزۡقٍ مِّنۡهُ وَلۡيَتَلَطَّفۡ وَلَا يُشۡعِرَنَّ بِكُمۡ اَحَدًا‏ ﴿19﴾

اور یوں ہی ہم نے ان کو جگایا (ف۲٦) کہ آپس میں ایک دوسرے سے احوال پوچھیں (ف۲۷) ان میں ایک کہنے والا بولا (ف۲۸) تم یہاں کتنی دیر رہے، کچھ بولے کہ ایک دن رہے یا دن سے کم (ف۲۹) دوسرے بولے تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنا تم ٹھہرے (ف۳۰) تو اپنے میں ایک کو یہ چاندی لے کر (ف۳۱) شہر میں بھیجو پھر وہ غور کرے کہ وہاں کونسا کھانا زیادہ ستھرا ہے (ف۳۲) کہ تمہارے لیے اس میں سے کھانے کو لائے اور چاہیے کہ نرمی کرے اور ہرگز کسی کو تمہاری اطلاع نہ دے،

And similarly We awakened them so that they may enquire about each other; a speaker among them said, “How long have you stayed here?” Some among them said, “We have stayed a day or part of a day”; the others said, “Your Lord well knows how long you have stayed; therefore send one of you to the city with this silver coin – he may then check which food available there is purer, in order to bring some of it for you to eat – and he must be courteous and not inform anyone about you.”

اِنَّهُمۡ اِنۡ يَّظۡهَرُوۡا عَلَيۡكُمۡ يَرۡجُمُوۡكُمۡ اَوۡ يُعِيۡدُوۡكُمۡ فِىۡ مِلَّتِهِمۡ وَلَنۡ تُفۡلِحُوۡۤا اِذًا اَبَدًا‏ ﴿20﴾

بیشک اگر وہ تمہیں جان لیں گے تو تمہیں پتھراؤ کریں گے (ف۳۳) یا اپنے دین (ف۳٤) میں پھیر لیں گے اور ایسا ہوا تو تمہارا کبھی بھلا نہ ہوگا،

“Indeed if they come to know about you, they will stone you or turn you back to their religion – and if so, you will never prosper.”

وَكَذٰلِكَ اَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَـعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا ​ۚ اِذۡ يَتَـنَازَعُوۡنَ بَيۡنَهُمۡ اَمۡرَهُمۡ​ فَقَالُوۡا ابۡنُوۡا عَلَيۡهِمۡ بُنۡيَانًـا ​ ؕ رَبُّهُمۡ اَعۡلَمُ بِهِمۡ​ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰٓى اَمۡرِهِمۡ لَـنَـتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِمۡ مَّسۡجِدًا‏ ﴿21﴾

اور اسی طرح ہم نے ان کی اطلاع کردی (ف۳۵) کہ لوگ جان لیں (ف۳٦) کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شبہ نہیں، جب وہ لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑنے لگے (ف۳۷) تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بناؤ، ان کا رب انھیں خوب جانتا ہے، وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے (ف۳۸) قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے (ف۳۹)

And this is how We made them known for people to know that the promise of Allah is true and that there is no doubt concerning the Last Day; when the people began disputing among themselves regarding them, they said, “Construct a building over their cave”; their Lord well knows them; those who dominated in this matter said, “We promise we will build a mosque over them.”

سَيَـقُوۡلُوۡنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ​ۚ وَيَقُوۡلُوۡنَ خَمۡسَةٌ سَادِسُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ رَجۡمًۢا بِالۡغَيۡبِ​ۚ وَيَقُوۡلُوۡنَ سَبۡعَةٌ وَّثَامِنُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ​ؕ قُلْ رَّبِّىۡۤ اَعۡلَمُ بِعِدَّتِهِمۡ مَّا يَعۡلَمُهُمۡ اِلَّا قَلِيۡلٌ  فَلَا تُمَارِ فِيۡهِمۡ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا وَّلَا تَسۡتَفۡتِ فِيۡهِمۡ مِّنۡهُمۡ اَحَدًا‏ ﴿22﴾

اب کہیں گے (ف٤۰) کہ وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور کچھ کہیں گے پانچ ہیں، چھٹا ان کا کتا بےدیکھے الاؤ تکا (تیر تکا) بات (ف٤۱) اور کچھ کہیں گے سات ہیں (ف٤۲) اور آٹھواں ان کا کتا تم فرماؤ میرا رب ان کی گنتی خوب جانتا ہے (ف٤۳) انھیں نہیں جانتے مگر تھوڑے (ف٤٤) تو ان کے بارے میں (ف٤۵) بحث نہ کرو مگر اتنی ہی بحث جو ظاہر ہوچکی (ف٤٦)

So the people will now say, “They are three, their dog is the fourth”; and some will say, “They are five, their dog is the sixth” – just blind guesses; and some will say, “They are seven, and their dog is the eighth”; proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “My Lord well knows their number – no one knows them except a few”; therefore do not debate concerning them except what has occurred, and do not ask any of the People of the Book(s) anything concerning them.

وَلَا تَقُوۡلَنَّ لِشَاىۡءٍ اِنِّىۡ فَاعِلٌ ذٰ لِكَ غَدًا ۙ‏ ﴿23﴾

اور ان کے (ف ٤۷) بارے میں کسی کتابی سے کچھ نہ پوچھو،

And never say about anything that, “I will do this tomorrow.”

اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ​ وَاذۡكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيۡتَ وَقُلۡ عَسٰٓى اَنۡ يَّهۡدِيَنِ رَبِّىۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ هٰذَا رَشَدًا‏ ﴿24﴾

مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف٤۸) اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے (ف٤۹) اور یوں کہو کہ قریب ہے میرا رب مجھے اس (ف۵۰) سے نزدیک تو راستی کی راہ دکھائے، (ف۵۱)

Except “If Allah wills”; and remember your Lord when you forget, and say, “It is likely that my Lord will guide me to a more accurate way of virtue than this.”

وَلَبِثُوۡا فِىۡ كَهۡفِهِمۡ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيۡنَ وَازۡدَادُوۡا تِسۡعًا‏  ﴿25﴾

اور وہ اپنے غار میں تین سو برس ٹھہرے نو اوپر ، (ف۵۲)

And they stayed in their Cave for three hundred years* and nine more*. (* 300 according to the Solar calendar and 309 according to the Lunar calendar.)

قُلِ اللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثُوۡا​ ۚ لَهٗ غَيۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ​ ؕ اَبۡصِرۡ بِهٖ وَاَسۡمِعۡ​ ؕ مَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِىٍّ  وَّلَا يُشۡرِكُ فِىۡ حُكۡمِهٖۤ اَحَدًا‏ ﴿26﴾

تم فرماؤ اللہ خوب جانتا ہے وہ جتنا ٹھہرے (ف۵۳) اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمینوں کے سب غیب، وہ کیا ہی دیکھتا اور کیا ہی سنتا ہے (ف۵٤) اس کے سوا ان کا (ف۵۵) کوئی والی نہیں، اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا،

Say, “Allah well knows how long they stayed; for Him only are the hidden of the heavens and the earth; how well He sees and hears! They do not have any supporter besides Him; and He does not associate anyone in His command.”

وَاتۡلُ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ مِنۡ كِتَابِ رَبِّكَ ​ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ​ ۚ وَلَنۡ تَجِدَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مُلۡتَحَدًا‏ ﴿27﴾

اور تلاوت کرو جو تمہارے رب کی کتاب (ف۵٦) تمہیں وحی ہوئی اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں (ف۵۷) اور ہرگز تم اس کے سوا پناہ نہ پاؤ گے،

And recite the Book of your Lord which has been divinely revealed to you; there is none who can change His Words; and you will never find a refuge besides Him.

وَاصۡبِرۡ نَـفۡسَكَ مَعَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰوةِ وَالۡعَشِىِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ​ وَلَا تَعۡدُ عَيۡنٰكَ عَنۡهُمۡ​ ۚ تُرِيۡدُ زِيۡنَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا​ ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهٗ عَنۡ ذِكۡرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰٮهُ وَكَانَ اَمۡرُهٗ فُرُطًا‏ ﴿28﴾

اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں (ف۵۸) اور تمہاری آنکھیں انھیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگانی کا سنگھار چاہو گے، اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا ،

And restrain yourself along with those who pray to their Lord morning and evening, seeking His pleasure; and may not your sight fall on anything besides them; would you desire the adornment of the life of this world? And do not follow him whose heart We have made neglectful of Our remembrance – the one who has followed his own desires and his matter has crossed the limits.

وَقُلِ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ​ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ​ۙاِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِيۡنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمۡ سُرَادِقُهَا​ ؕ وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِى الۡوُجُوۡهَ​ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا‏ ﴿29﴾

اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے (ف۵۹) تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے (ف٦۰) بیشک ہم نے ظالموں (ف٦۱) کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انھیں گھیر لیں گی، اور اگر (ف٦۲) پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دے (کھولتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے (ف٦۳) اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ،

And proclaim, “The Truth is from your Lord”; so whoever wills may accept faith, and whoever wills may disbelieve – We have indeed prepared for the disbelievers a fire the walls of which will surround them; if they plead for water, their plea will be answered with water like molten metal which shall scald their faces; what an evil drink it is; and what an evil destination is hell!

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا​ ۚ‏ ﴿30﴾

بیشک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کے نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں، (ف٦٤)

Indeed those who believed and did good deeds – We do not waste the reward of those whose deeds are good.

اُولٰۤٮِٕكَ لَهُمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّ يَلۡبَسُوۡنَ ثِيَابًا خُضۡرًا مِّنۡ سُنۡدُسٍ وَّاِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَّكِــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآٮِٕكِ​ؕ نِعۡمَ الثَّوَابُ ؕ وَحَسُنَتۡ مُرۡتَفَقًا‏ ﴿31﴾

ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں وہ اس میں سونے کے کنگن بہنائے جایں گے (ف٦۵) اور سبز کپڑے کریب اور قناویز کے پہنیں گے وہاں تختوں پر تکیہ لگائے (ف٦٦) کیا ہی اچھا ثواب اور جنت کی کیا ہی اچھی آرام کی جگہ،

For them are everlasting Gardens of Eden, beneath which rivers flow – in it they will be given bracelets of gold to adorn, and shall wear green clothes made of fine silk and gold embroidery, reclining upon thrones in it; what an excellent reward; and what an excellent abode is Paradise!

وَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلًا رَّجُلَيۡنِ جَعَلۡنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَيۡنِ مِنۡ اَعۡنَابٍ وَّحَفَفۡنٰهُمَا بِنَخۡلٍ وَّجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمَا زَرۡعًا ؕ‏ ﴿32﴾

اور ان کے سامنے دو مردوں کا حال بیان کرو (ف٦۷) کہ ان میں ایک کو (ف٦۸) ہم نے انگوروں کے دو باغ دیے اور ان کو کھجوروں سے ڈھانپ لیا اور ان کے بیچ میں کھیتی رکھی (ف٦۹)

And relate to them the account of the two men – to one We gave two gardens of grapes, and covered them with date-palms and kept farms between them.

كِلۡتَا الۡجَـنَّتَيۡنِ اٰتَتۡ اُكُلَهَا وَلَمۡ تَظۡلِمۡ مِّنۡهُ شَيۡــًٔـا​ ۙ وَّفَجَّرۡنَا خِلٰـلَهُمَا نَهَرًا ۙ‏ ﴿33﴾

دونوں باغ اپنے پھل لائے اور اس میں کچھ کمی نہ دی (ف۷۰) اور دونوں کے بیچ میں ہم نے نہر بہائی

Both the gardens gave yields and gave no shortfall in it – and We made a river to flow between the two.

وَكَانَ لَهٗ ثَمَرٌ​ ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا‏ ﴿34﴾

اور وہ (ف۷۱) پھل رکھتا تھا (ف۷۲) تو اپنے ساتھی (ف۷۳) سے بولا اور وہ اس سے رد و بدل کرتا تھا (ف۷٤) میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اور آدمیوں کا زیادہ زور رکھتا ہوں (ف۷۵)

And he had fruit; he therefore said to his companion – and he used to debate with him – “I exceed you in wealth, and am more powerful in respect of men.”

وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ​ ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِيۡدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًا ۙ‏ ﴿35﴾

اپنے باغ میں گیا (ف۷٦) اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا (ف۷۷) بولا مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فنا ہو،

He went into his garden and wronging himself said, “I do not think that this will ever perish.”

وَّمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآٮِٕمَةً  ۙ وَّلَٮِٕنۡ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّىۡ لَاَجِدَنَّ خَيۡرًا مِّنۡهَا مُنۡقَلَبًا‏ ﴿36﴾

اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو اور اگر میں (ف۷۸) اپنے رب کی طرف پھر گیا بھی تو ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گا (ف۷۹)

“I do not think that the Last Day will ever be established – and even if I return to my Lord I will surely find a haven better than this garden.”

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرۡتَ بِالَّذِىۡ خَلَقَكَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّـطۡفَةٍ ثُمَّ سَوّٰٮكَ رَجُلًاؕ‏ ﴿37﴾

اس کے ساتھی (ف۸۰) نے اس سے الٹ پھیر کرتے ہوئے جواب دیا کیا تو اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر تجھے ٹھیک مرد کیا (ف۸۱)

His companion debating with him answered, “What! You disbelieve in Him Who has created you from dust, then from a drop of liquid, and then created you as a complete man?”

لّٰـكِنَّا۟ هُوَ اللّٰهُ رَبِّىۡ وَلَاۤ اُشۡرِكُ بِرَبِّىۡۤ اَحَدًا‏ ﴿38﴾

لیکن میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں کرتا ہوں،

“But I just say that only Allah is my Lord, and I do not ascribe anyone as a partner to my Lord.”

وَلَوۡلَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ​ ۚ اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡكَ مَالًا وَّوَلَدًا​ ۚ‏ ﴿39﴾

اور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہا ہوتا جو چاہے اللہ ، ہمیں کچھ زور نہیں مگر اللہ کی مدد کا (ف۸۲) اگر تو مجھے اپنے سے مال و اولاد میں کم دیکھتا تھا (ف۸۳)

“And why was it not that you would have said when you entered your garden, ‘Whatever Allah wills – we do not have any strength except with the help of Allah’ – if you had observed me lesser than you in wealth and children.”?

فَعَسٰى رَبِّىۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِيۡدًا زَلَـقًا ۙ‏ ﴿40﴾

تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے اچھا دے (ف۸٤) اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں اتارے تو وہ پٹ پر میدان (سفید زمین) ہو کر رہ جائے (ف۸۵)

“So it is likely that my Lord will give me a garden better than yours, and send bolts of lightning from the skies on your garden – it therefore turns into a barren plain.”

اَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا غَوۡرًا فَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ لَهٗ طَلَبًا‏ ﴿41﴾

یا اس کا پانی زمین میں دھنس جائے (ف۸٦) پھر تو اسے ہرگز تلاش نہ کرسکے (ف۸۷)

“Or its water may sink into the earth, so you may never be able to find it.”

وَاُحِيۡطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَاۤ اَنۡفَقَ فِيۡهَا وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا وَيَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِىۡ لَمۡ اُشۡرِكۡ بِرَبِّىۡۤ اَحَدًا‏ ﴿42﴾

اور اس کے پھل گھیر لیے گئے (ف۸۸) تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا (ف۸۹) اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنی ٹیٹوں پر (اوندھے منہ) گرا ہوا تھا (ف۹۰) اور کہہ رہا ہے، اے کاش! میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا،

And his fruits were surrounded – he therefore remained helplessly wringing his hands upon all that he had spent on it – and it lay fallen on its canopy – and he says, “If only I had not ascribed any partner to my Lord!”

وَلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ فِئَةٌ يَّـنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنۡتَصِرًا ؕ‏ ﴿43﴾

اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھا (ف۹۱)

And he had no group to help him against Allah, nor was he capable of taking revenge.

هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَـقِّ​ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا‏ ﴿44﴾

یہاں کھلتا ہے (ف۹۲) کہ اختیار سچے اللہ کا ہے، اس کا ثواب سب سے بہتر اور اسے ماننے کا انجام سب سے بھلا،

Here brought to light is that the authority is only for Allah, the True; the reward He bestows is the best, and believing in Him has the best outcome.

وَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ فَاَصۡبَحَ هَشِيۡمًا تَذۡرُوۡهُ الرِّيٰحُ​ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقۡتَدِرًا‏ ﴿45﴾

اور ان کے سامنے (ف۹۳) زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو (ف۹٤) جیسے ایک پانی ہم نے آسمان اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہو کر نکلا (ف۹۵) کہ سوکھی گھاس ہوگیا جسے ہوائیں اڑائیں (ف۹٦) اور اللہ ہر چیز پر قابو والا ہے (ف۹۷)

And relate to them the example of the life of this world – like water which We sent down from the sky, therefore vegetation of the earth grew forth in abundance with it to become dry hay which the winds scatter; and Allah is the Controller of all things.

اَلۡمَالُ وَ الۡبَـنُوۡنَ زِيۡنَةُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا​ ۚ وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ اَمَلًا‏ ﴿46﴾

مال اور بیٹے یہ جیتی دنیا کا سنگھار ہے (ف۹۸) اور باقی رہنے والی اچھی باتیں (ف۹۹) ان کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتر اور وہ امید میں سب سے بھلی،

Wealth and sons are ornaments of the life of this world; and good deeds that last – their reward is better before your Lord, and are better in respect of hope.

وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ الۡجِبَالَ و تَرَى الۡاَرۡضَ بَارِزَةً  ۙ وَّحَشَرۡنٰهُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡهُمۡ اَحَدًا​ ۚ‏ ﴿47﴾

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے (ف۱۰۰) اور تم زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھو گے (ف۱۰۱) اور ہم انھیں اٹھائیں گے (ف۱۰۲) تو ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے،

And the Day when We move the hills and you see the earth flattened plain, and We shall raise all of them together – so not leaving out any one of them.

وَعُرِضُوۡا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا ؕ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۢ  بَلۡ زَعَمۡتُمۡ اَ لَّنۡ نَّجۡعَلَ لَـكُمۡ مَّوۡعِدًا‏ ﴿48﴾

اور سب تمہارے رب کے حضور پرا باندھے پیش ہوں گے (ف۱۰۳) بیشک تم ہمارے پاس ویسے ہی آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار بنایا تھا (ف۱۰٤) بلکہ تمہارا گمان تھا کہ ہم ہرگز تمہارے لیے کوئی وعدہ کا وقت نہ رکھیں گے، (ف۱۰۵)

And everyone shall be presented before your Lord in rows; “Indeed you have come to Us exactly as We had created you for the first time – in fact you thought that We shall never appoint a promised time for you!”

وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَ يَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَـتَـنَا مَالِ هٰذَا الۡـكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰٮهَا​ ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا​ ؕ وَ لَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا‏ ﴿49﴾

اور نامہٴ اعمال رکھا جائے گا (ف۱۰٦) تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور (ف۱۰۷) کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا، اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا (ف۱۰۸)

And the Book shall be placed – and you will see the guilty dreading what is written in it and saying, “Woe to us – what sort of a Book is this that it has not left out any small sin nor a great one, which it has not included!” And they found all that they did confronting them; and your Lord does not wrong any one.

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰۤٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ كَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهٖؕ اَفَتَـتَّخِذُوۡنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗۤ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِىۡ وَهُمۡ لَـكُمۡ عَدُوٌّ ؕ بِئۡسَ لِلظّٰلِمِيۡنَ بَدَلًا‏  ﴿50﴾

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو (ف۱۰۹) تو سب نے سجدہ کیا سوا ابلیس کے، قوم جن سے تھا تو اپنے رب کے حکم سے نکل گیا (ف۱۱۰) بھلا کیا اسے اور اس کی اولاد و میرے سوا دوست بناتے ہو (ف۱۱۱) اور وہ ہمارے دشمن ہیں ظالموں کو کیا ہی برا بدل (بدلہ) ملا ، (ف۱۱۲)

And recall when We commanded the angels that, “Prostrate before Adam” – so they all prostrated, except Iblis; he was of the jinn, he therefore rebelled against his Lord’s command; “What! You choose him and his offspring as your friends instead of Me, whereas they are your enemies?” And what an evil alternative did the unjust get.

مَّاۤ اَشۡهَدْتُّهُمۡ خَلۡقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ اَنۡفُسِهِمۡ وَمَا كُنۡتُ مُتَّخِذَ الۡمُضِلِّيۡنَ عَضُدًا‏ ﴿51﴾

نہ میں نے آسمانوں اور زمین کو بناتے وقت انھیں سامنے بٹھالیا تھا ، نہ خود ان کے بناتے وقت اور نہ میری شان، کہ گمراہ کرنے والوں کو بازوں بناؤں (ف۱۱۳)

Neither did I make them witness the creations of the heavens and the earth, nor witness their own creation; nor does it befit My Majesty to choose misleaders as aides.

وَيَوۡمَ يَقُوۡلُ نَادُوۡا شُرَكَآءِىَ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّوۡبِقًا‏ ﴿52﴾

اور جس دن فرمائے گا (ف۱۱٤) کہ پکارو میرے شریکوں کو جو تم گمان کرتے تھے تو انھیں پکاریں گے وہ انھیں جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے (ف۱۱۵) درمیان ایک ہلاکت کا میدان کردیں گے (ف۱۱٦)

And the Day when He will proclaim, “Call those partners of Mine whom you had assumed” – so they will call out to them – they will not answer them, and We shall create a field of destruction between them.

وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَ لَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا‏ ﴿53﴾

اور مجرم دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کریں گا کہ انھیں اس میں گرنا ہے اور اس سے پھرنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے،

And when the guilty see hell, they will be certain of falling into it, and will find no place to escape from it.

وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِىۡ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِلنَّاسِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ​ ؕ وَكَانَ الۡاِنۡسَانُ اَكۡثَرَ شَىۡءٍ جَدَلًا‏ ﴿54﴾

اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثل طرح طرح بیان فرمائی (ف۱۱۷) اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے (ف۱۱۸)

And We have indeed illustrated all kinds of examples for mankind in this Qur’an; and man is the most quarrelsome of all.

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَهُمُ الۡهُدٰى وَيَسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ سُنَّةُ الۡاَوَّلِيۡنَ اَوۡ يَاۡتِيَهُمُ الۡعَذَابُ قُبُلًا‏ ﴿55﴾

اور آدمیوں کو کسی چیز نے اس سے روکا کہ ایمان لاتے جب ہدایت (ف۱۱۹) ان کے پاس آئی اور اپنے رب سے معافی مانگتے (ف۱۱۳) مگر یہ کہ ان پر اگلوں کا دستور آئے (ف۱۲۱) یا ان پر قسم قسم کا عذاب آئے

And what prevented men from accepting faith when guidance came to them, and from asking forgiveness from their Lord except that the tradition of the former nations come upon them or that they confront various kinds of punishments?

وَمَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ​ ۚ وَيُجَادِلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِـيُدۡحِضُوۡا بِهِ الۡحَـقَّ​ وَاتَّخَذُوۡۤا اٰيٰتِىۡ وَمَاۤ اُنۡذِرُوۡا هُزُوًا‏ ﴿56﴾

اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر (ف۱۲۲) خوشی (ف۱۲۳) ڈر سنانے والے اور جو کافر ہیں وہ باطل کے ساتھ جھگڑتے ہیں (ف۱۲٤) کہ اس سے حق کو ہٹادیں اور انہوں نے میری آیتوں کی اور جو ڈر انھیں سناتے گئے تھے، (ف۱۲۵)

And We do not send the Noble Messengers except as Heralds of glad tidings and warnings; and the disbelievers debate by means of falsehood to drive away the Truth with it, and they took My signs and warnings they were given, as a mockery!

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعۡرَضَ عَنۡهَا وَنَسِىَ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰهُ​ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا​ ؕ وَاِنۡ تَدۡعُهُمۡ اِلَى الۡهُدٰى فَلَنۡ يَّهۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا‏ ﴿57﴾

ان کی ہنسی بنالی اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو وہ ان سے منہ پھیرلے (ف۱۲٦) اور اس کے ہاتھ جو آگے بھیج چکے (ف۱۲۷) اسے بھول جائے ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیں کہ قرآن نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی (ف۱۲۸) اور اگر تم انھیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی ہرگز کبھی راہ نہ پائیں گے (ف۱۲۹)

And who is more unjust than one who, when reminded of the signs of his Lord, turns away from them and forgets what his hands have sent forward? We have put covers on their hearts so as not to understand the Qur’an, and deafness in their ears; and even if you call them to guidance, they will never attain the right path.

وَرَبُّكَ الۡغَفُوۡرُ ذُوۡ الرَّحۡمَةِ​ ؕ لَوۡ يُؤَاخِذُهُمۡ بِمَا كَسَبُوۡا لَعَجَّلَ لَهُمُ الۡعَذَابَ​ ؕ بَلْ لَّهُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ يَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖ مَوۡٮِٕلًا‏ ﴿58﴾

اور تمہارا رب بخشنے والا مہربانی والا ہے، اگر وہ انھیں (ف۱۳۰) ان کے کیے پر پکڑتا تو جلد ان پر عذاب بھیجتا (ف۱۳۱) بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے (ف۱۳۲) جس کے سامنے کوئی پناہ نہ پائیں گے،

And your Lord is the Oft Forgiver, the Merciful; if He seized them for their deeds, He would soon send the punishment upon them; but for them is an appointed time from which they will not find any refuge.

وَتِلۡكَ الۡقُرٰٓى اَهۡلَكۡنٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِمۡ مَّوۡعِدًا‏ ﴿59﴾

اور یہ بستیاں ہم نے تباہ کردیں (ف۱۳۳) جب انہوں نے ظلم کیا (ف۱۳٤) اور ہم نے ان کی بربادی کا ایک وعدہ رکھا تھا،

And these towns – We destroyed them when they committed injustice, and We had set an appointed time for their destruction.

وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِفَتٰٮهُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِىَ حُقُبًا‏ ﴿60﴾

اور یاد کرو جب موسیٰ (ف۱۳۵) نے اپنے خادم سے کہا (ف۱۳٦) میں باز نہ رہوں گا جب تک وہاں نہ پہنچوں جہاں دو سمندر ملے ہیں (ف۱۳۷) یا قرنوں (مدتوں تک) چلا جاؤں (ف۱۳۸)

And recall when Moosa said to his assistant, “I will not give up until I reach the place where the two seas meet or until I have progressed for ages.”

فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِى الۡبَحۡرِ سَرَبًا‏ ﴿61﴾

پھر جب وہ دونوں ان دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے (ف۱۳۹) اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے سمندر میں اپنی راہ لی سرنگ بناتی،

And when they reached the place where the two seas meet, they forgot about their fish, and it took its way into the sea, making a tunnel. (The dead fish came alive and went into the water.)

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰٮهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا‏ ﴿62﴾

پھر جبب وہاں سے گزر گئے (ف۱٤۰) موسیٰ نے خادم سے کہا ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا، (ف۱٤۱)

So when they had gone beyond that place, Moosa said to his assistant, “Bring our breakfast – we have indeed faced great exertion in this journey of ours.”

قَالَ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّىۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ وَ مَاۤ اَنۡسٰٮنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ​ ​ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِىۡ الۡبَحۡر​ِ ​ۖ عَجَبًا‏ ﴿63﴾

بولا بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بیشک میں مچھلی کو بھول گیا، اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا مذکور کروں اور اس نے (ف۱٤۲) تو سمندر میں اپنی راہ لی، اچنبھا ہے،

He said, “Just imagine – when we had taken shelter near the rock, so indeed I forgot the fish; and none but Satan caused me to forget to mention it; and the fish took its way into the sea – its amazing!”

قَالَ ذٰ لِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ ​​ۖ  فَارۡتَدَّا عَلٰٓى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا ۙ‏ ﴿64﴾

موسیٰ نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے (ف۱٤۳) تو پیچھے پلٹے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے،

Said Moosa, “This is exactly what we wanted”; so they came back retracing their steps.

فَوَجَدَا عَبۡدًا مِّنۡ عِبَادِنَاۤ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا‏ ﴿65﴾

تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا (ف۱٤٤) جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی (ف۱٤۵) اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا (ف۱٤٦)

So they found a bondman* from amongst Our (chosen) bondmen, to whom We had given mercy from Us, and had bestowed the inspired knowledge from Ourselves. (* Hazrat Khidr – peace be upon him.)

قَالَ لَهٗ مُوۡسٰى هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰٓى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا‏ ﴿66﴾

اس سے موسیٰ نے کہا کیا میں تمہارے ساتھ رہوں اس شرط پر کہ تم مجھے سکھا دو گے نیک بات جو تمہیں تعلیم ہوئی (ف۱٤۷)

Moosa said to him, “May I stay with you upon the condition that you will teach me the righteousness that you have been taught?”

قَالَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِىَ صَبۡرًا‏ ﴿67﴾

کہا آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے (ف۱٤۸)

He said, “You will never be able to patiently stay with me.”

وَكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا‏ ﴿68﴾

اور اس بات پر کیونکر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں (ف۱٤۹)

“And how will you bear something which your knowledge does not encompass?”

قَالَ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِىۡ لَكَ اَمۡرًا‏  ﴿69﴾

کہا عنقریب اللہ چاہے تو تم مجھے صابر پاؤ گے اور میں تمہارے کسی حکم کے خلاف نہ کروں گا،

Said Moosa, “Allah willing, you will soon find me patient and I will not do anything against your instructions.”

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِىۡ فَلَا تَسۡـَٔـلۡنِىۡ عَنۡ شَىۡءٍ حَتّٰٓى اُحۡدِثَ لَـكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا‏ ﴿70﴾

کہا تو اگر آپ میرے ساتھ رہنے ہیں تو مجھ سے کسی بات کو نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر نہ کروں (ف۱۵۰)

He said, “Therefore if you stay with me, do not ask me about anything until I myself mention it to you.”

فَانْطَلَقَا حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِى السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا​ ؕ قَالَ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا​ ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡــًٔـا اِمۡرًا‏ ﴿71﴾

اب دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے (۱۵۱) اس بندہ نے اسے چیر ڈالا (ف۱۵۲) موسیٰ نے کہا کیا تم نے اسے اس لیے چیرا کہ اس کے سواروں کو ڈبا دو بیشک یہ تم نے بری بات کی، (ف۱۵۳)

So they both set out; until when they had boarded the boat, the chosen bondman ruptured the boat; said Moosa, “Did you make a hole in the boat in order to drown its passengers? You have indeed done an evil thing.”

قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِىَ صَبۡرًا‏ ﴿72﴾

کہا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے (ف۱۵٤)

He said, “Did I not say that you will never be able to patiently stay with me?”

قَالَ لَا تُؤَاخِذۡنِىۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِىۡ مِنۡ اَمۡرِىۡ عُسۡرًا‏  ﴿73﴾

کہا مجھ سے میری بھول پر گرفت نہ کرو (ف۱۵۵) اور مجھ پر میرے کام میں مشکل نہ ڈالو،

Said Moosa, “Do not apprehend me upon my forgetting, and do not impose difficulty on me in my task.”

فَانْطَلَقَاحَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ ۙ قَالَ اَقَتَلۡتَ نَـفۡسًا زَكِيَّةً ۢ بِغَيۡرِ نَـفۡسٍ ؕ لَـقَدۡ جِئۡتَ شَيۡــًٔـا نُّـكۡرًا‏ ﴿74﴾

پھر دونوں چلے (ف۱۵٦) یہاں تک کہ جب ایک لڑکا ملا (ف۱۵۷) اس بندہ نے اسے قتل کردیا، موسیٰ نے کہا کیا تم نے ایک ستھری جان (ف۱۵۸) بیکسی جان کے بدلے قتل کردی، بیشک تم نے بہت بری بات کی،

So they set out again; until when they met a boy, the chosen bondman slew him – Moosa said, “Did you slay an innocent soul not in retribution for another? You have indeed done an extremely evil thing.”

Scroll to Top