کہا اس کے بعد میں تم سے کچھ پوچھوں تو پھر میرے ساتھ نہ رہنا، بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا،
Said Moosa, “If I ask you anything after this, do not stay with me; indeed your condition from me is fulfilled.”
फिर दोनों चले यहाँ तक कि जब एक लड़का मिला इस बंदा ने उसे क़त्ल कर दिया, मूसा ने कहा क्या तुमने एक स़ुधरी जान बे किसी जान के बदले क़त्ल कर दी, बेशक तुमने बहुत बुरी बात की,
Phir dono chale yahan tak ke jab ek ladka mila, is banda ne use qatl kar diya, Musa ne kaha, “Kya tum ne ek suthri jaan be kisi jaan ke badle qatl kar di? Beshak tum ne bohat buri baat ki”
پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں کے پاس آئے (ف۱٦۱) ان دہقانوں سے کھانا مانگا انہوں نے انھیں دعوت دینی قبول نہ کی (ف۱٦۲) پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پائی کہ گرا چاہتی ہے اس بندہ نے (ف۱٦۳) اسے سیدھا کردیا، موسیٰ نے کہا تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے (ف۱٦٤)
So they both set out again; until they came to the people of a dwelling – they asked its people for food – they refused to invite them – then in the village they both found a wall about to collapse, and the chosen bondman straightened it; said Moosa, “If you wished, you could have taken some wages for it!”
कहा मैंने आप से न कहा था कि आप हरगज़ मेरे साथ न ठहर सकेंगे
Kaha, “Main ne aap se na kaha tha ke aap hargez mere saath na thehr sakenge”
(ف161)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس گاؤں سے مراد انطاکیہ ہے وہاں ان حضرات نے ۔(ف162)اور میزبانی پر آمادہ نہ ہوئے ۔ حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ وہ بستی بہت بدتر ہے جہاں مہمانوں کی میزبانی نہ کی جائے ۔(ف163)یعنی حضرت خضر علیہ السلام نے اپنا دستِ مبارک لگا کر اپنی کرامت سے ۔(ف164)کیونکہ یہ ہماری تو حاجت کا وقت ہے اور بستی والوں نے ہماری کچھ مدارات نہیں کی ایسی حالت میں ان کا کام بنانے پر اجرت لینا مناسب تھا ، اس پر حضرت خضر نے ۔
وہ جو کشتی تھی وہ کچھ محتاجوں کی تھی (ف۱٦۷) کہ دریا میں کام کرتے تھے، تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے پیچھے ایک بادشاہ تھا (ف۱٦۸) کہ ہر ثابت کشتی زبردستی چھین لیتا (ف۱٦۹)
“In respect of the boat – it belonged to the poor people who worked on the river, so I wished to flaw it – and behind them was a king who would capture every sound ship.”
फिर दोनों चले यहाँ तक कि जब एक गाँव वालों के पास आए उन देहकानों से खाना माँगा उन्होंने उन्हें दावत देनी स्वीकार न की फिर दोनों ने उस गाँव में एक दीवार पाई कि गिरा चाहती है इस बंदा ने इसे सीधा कर दिया, मूसा ने कहा तुम चाहते तो उस पर कुछ मज़दूरी ले लेते
Phir dono chale yahan tak ke jab ek gaon walon ke paas aaye, un dehqanon se khana maanga, unhon ne unhein daawat deni qubool na ki, phir dono ne is gaon mein ek deewar paayi ke gira chahti hai, is banda ne use seedha kar diya, Musa ne kaha, “Tum chahte to is par kuch mazdoori le lete”
(ف167)جو دس بھائی تھے ان میں پانچ تو اپاہج تھے جو کچھ نہیں کر سکتے تھے اور پانچ تندرست تھے جو ۔(ف168)کہ انہیں واپسی میں اس کی طرف گزرنا ہوتا ۔ اس بادشاہ کا نام جلندی تھا کَشتی والوں کو اس کا حال معلوم نہ تھا اور اس کا طریقہ یہ تھا ۔(ف169)اور اگر عیب دار ہوتی چھوڑ دیتا اس لئے میں نے اس کَشتی کو عیب دار کر دیا کہ وہ ان غریبوں کے لئے بچ رہے ۔
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ ان کو سرکشی اور کفر پر چڑھاوے (ف۱۷۰)
“And in respect of the boy – his parents were Muslims and we feared that he may incite them to rebellion and disbelief.”
कहा यह मेरी और आपकी जुदाई है अब मैं आप को इन बातों का फ़ैर (भेद) बताऊँगा जिन पर आप से صبر न हो सका
Kaha, “Yeh meri aur aap ki judaai hai, ab main aap ko in baaton ka pher (bhaid) bataoon ga jin par aap se sabr na ho saka”
(ف170)اور وہ اس کی مَحبت میں دین سے پھر جائیں اور گمراہ ہو جائیں اور حضرت خضر کا یہ اندیشہ اس سبب سے تھا کہ وہ باعلامِ الٰہی اس کے حالِ باطن کو جانتے تھے ۔ حدیثِ مسلم میں ہے کہ یہ لڑکا کافِر ہی پیدا ہوا تھا ۔ امام سبکی نے فرمایا کہ حالِ باطن جان کر بچّے کو قتل کر دینا حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے انہیں اس کی اجازت تھی ، اگر کوئی ولی کسی بچّے کے ایسے حال پر مطلع ہو تو اس کو قتل جائز نہیں ہے ۔ کتابِ عرائس میں ہے کہ جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے حضرت خصر سے فرمایا کہ تم نے ستھری جان کو قتل کر دیا تو یہ انہیں گراں گزرا اور انہوں نے اس لڑکے کا کندھا توڑ کر اس کا گوشت چیرا تو اس کے اندر لکھا ہوا تھا کافِر ہے کبھی اللہ پر ایمان نہ لائے گا ۔ (جمل)
تو ہم نے چاہا کہ ان دونوں کا رب اس سے بہتر (ف۱۷۱) ستھرا اور اس سے زیادہ مہربانی میں قریب عطا کرے (ف۱۷۲)
“So we wished that their Lord may bestow them a child – better, purer and nearer to mercy.”
वो जो कश्ती थी वो कुछ मुहताजों की थी कि दरिया में काम करते थे, तो मैंने चाहा कि इसे अ़ईबदार कर दूँ और उनके पीछे एक बादशाह था कि हर साबित कश्ती ज़बरदस्ती छीन लेता
Woh jo kashti thi woh kuch mohtaajon ki thi ke darya mein kaam karte the, to main ne chaha ke ise ayb daar kar doon aur un ke peeche ek badshah tha ke har saabit kashti zabardasti cheen leta
(ف171)بچّہ گناہوں اور نجاستوں سے پاک اور ۔(ف172)جو والدین کے ساتھ طریقِ ادب و حسنِ سلوک اور مودّت و مَحبت رکھتا ہو ۔ مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے انہیں ایک بیٹی عطا کی جو ایک نبی کے نکاح میں آئی اور اس سے نبی پیدا ہوئے جن کے ہاتھ پر اللہ تعالٰی نے ایک اُمّت کو ہدایت دی ، بندے کو چاہئے کہ اللہ کی قضا پر راضی رہے اسی میں بہتری ہوتی ہے ۔
رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی (ف۱۷۳) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا (ف۱۷٤) اور ان کا باپ نیک آدمی تھا (ف۱۷۵) تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں (ف۱۷٦) اور اپنا خزانہ نکالیں، آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا (ف۱۷۷) یہ پھیر ہے ان باتوں کا جس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا (ف۱۷۸)
“And in respect of the wall – it belonged to two orphan boys of the city, and beneath it was their treasure, and their father was a virtuous man; therefore your Lord willed that they should reach their maturity and remove their treasure; by the mercy of your Lord; and I have not done this at my own command; this is the interpretation of the matters you could not patiently bear.” (* Hazrat Khidr was given the knowledge of the hidden – as in all three explanations he gave).
और वह जो लड़का था उसके माँ बाप मुसलमान थे तो हमें डर हुआ कि वह उन्हें सरक़शी और क़ुफ़्र पर चढ़ावे
Aur woh jo ladka tha us ke maan baap Musalman the, to humein dar hua ke woh un ko sarkashi aur kufr par chadhaave
(ف173)جن کے نام اصرم اور صریم تھے ۔(ف174)ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اس دیوار کے نیچے سونا چاندی مدفون تھا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس میں سونے کی ایک تختی تھی اس پر ایک طرف لکھا تھا اس کا حال عجیب ہے جسے موت کا یقین ہو اس کو خوشی کس طرح ہوتی ہے ، اس کا حال عجیب ہے جو قضا و قدر کا یقین رکھے اس کو غصّہ کیسے آتا ہے ، اس کا حال عجیب ہے جسے رزق کا یقین ہو وہ کیوں تعب میں پڑتا ہے ، اس کا حال عجیب ہے جسے حساب کا یقین ہو وہ کیسے غافل رہتا ہے ، اس کا حال عجیب ہے جس کو دنیا کے زوال و تغیّر کا یقین ہو وہ کیسے مطمئن ہوتا ہے اور اس کے ساتھ لکھا تھا لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّد رَّسُوْلُ اللّٰہِ اور دوسری جانب اس لوح پر لکھا تھا میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں یکتا ہوں ، میرا کوئی شریک نہیں ، میں نے خیر و شر پیدا کی ، اس کے لئے خوشی جسے میں نے خیر کے لئے پیدا کیا اور اس کے ہاتھوں پر خیر جاری کی ، اس کے لئے تباہی جس کو شر کے لئے پیدا کیا اور اس کے ہاتھوں پر شر جاری کی ۔(ف175)اس کا نام کاشح تھا اور یہ شخص پرہیزگار تھا ۔ حضرت محمد ابنِ منکدر نے فرمایا اللہ تعالٰی بندے کی نیکی سے اس کی اولاد کو اوراس کی اولاد کی اولاد کو اور اس کے کنبہ والوں کو اور اس کے محلہ داروں کو اپنی حفاظت میں رکھتا ہے ۔ (سبحان اللہ)(ف176)اور ان کی عقل کا مل ہو جائے اور وہ قوی و توانا ہو جائیں ۔(ف177)بلکہ بامرِالٰہی و الہامِ خداوندی کیا ۔(ف178)بعضے لوگ ولی کو نبی پر فضیلت دے کر گمراہ ہو گئے اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ حضرت موسٰی کو حضرت خضر سے علم حاصل کرنے کا حکم دیا گیا باوجود یکہ حضرت خضر ولی ہیں اوردر حقیقت ولی کو نبی پر فضیلت دینا کفرِ جلی ہے اور حضرت خضر نبی ہیں اور اگر ایسا نہ ہو جیسا کہ بعض کا گمان ہے تو یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے حضرت موسٰی علیہ السلام کے حق میں ابتلاء ہے علاوہ بریں یہ کہ اہلِ کتاب اس کے قائل ہیں کہ یہ حضرت موسٰی پیغمبرِ بنی اسرائیل کا واقعہ ہی نہیں بلکہ موسٰی بن ماثان کا واقعہ ہے اور ولی تو نبی پر ایمان لانے سے مرتبۂ ولایت پر پہنچتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ وہ نبی سے بڑھ جائے ۔ (مدارک) اکثر عُلَماء اس پر ہیں اور مشائخِ صوفیہ و اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں ۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ یہ بھی منقول ہے کہ حضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا واللہ تعالٰی اعلم ۔ (خازن)
اور تم سے (ف۱۷۹) ذوالقرنین کو پوچھتے ہیں (ف۱۸۰) تم فرماؤ میں تمہیں اس کا مذکور پڑھ کر سناتا ہوں،
And they ask you regarding Zul-Qarnain; say, “I shall recite his story to you.”
तो हमने चाहा कि उन दोनों का रब इससे बेहतर सुथरा और इससे ज़्यादा मेहरबानी में क़रीब अता करे
To hum ne chaha ke un dono ka Rab is se behtar suthra aur is se zyada meherbani mein qareeb ata kare
(ف179)ابوجہل وغیرہ کُفّارِ مکّہ یا یہود بہ طریقِ امتحان ۔(ف180)ذوالقرنین کا نام اسکندر ہے یہ حضرت خضرعلیہ السلام کے خالہ زاد بھائی ہیں انہوں نے اسکندریہ بنایا اور اس کا نام اپنے نام پر رکھا ، حضرت خضر علیہ السلام ان کے وزیر اور صاحبِ لواء تھے ، دنیا میں ایسے چار بادشاہ ہوئے ہیں جو تمام دنیا پر حکمران تھے ، دو مومن حضرت ذوالقرنین اور حضرت سلیمان علٰی نبینا وعلیہما السلام اور دو کافِر نمرود اور بُخْتِ نصر اور عنقریب ایک پانچویں بادشاہ اور اس اُمَت سے ہونے والے ہیں جن کا اسمِ مبارک حضرت امام مہدی ہے ، ان کی حکومت تمام روئے زمین پر ہو گی ۔ ذوالقرنین کی نبوّت میں اختلاف ہے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ وہ نہ نبی تھے ، نہ فرشتے ، اللہ سے مَحبت کرنے والے بندے تھے ، اللہ نے انہیں محبوب بنایا ۔
بیشک ہم نے اسے زمین میں قابو دیا اور ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا (ف۱۸۱)
Indeed We gave him authority in the land and bestowed him the means of everything.
रही वह दीवार वह शहर के दो यतीम लड़कों की थी और इसके नीचे उनका ख़ज़ाना था और उनका बाप नेक आदमी था तो आपके रब ने चाहा कि वे दोनों अपनी जवानी को पहुँचें और अपना ख़ज़ाना निकालें, आपके रब की रहमत से और यह कुछ मैंने अपने हुक्म से न किया यह फ़ैर है उन बातों का जिस पर आप से صبر न हो सका
Rahi woh deewar, woh shehar ke do yateem ladkon ki thi aur us ke neeche un ka khazana tha aur un ka baap nek aadmi tha, to aap ke Rab ne chaha ke woh dono apni jawani ko pohchein aur apna khazana nikaalein, aap ke Rab ki rehmat se aur yeh kuch main ne apne hukum se na kiya. Yeh pher hai un baaton ka jis par aap se sabr na ho saka
(ف181)جس چیز کی خَلق کو حاجت ہوتی ہے اور جو کچھ بادشاہوں کو دیار و اَمصار فتح کرنے اور دشمنوں کے محاربہ میں درکار ہوتا ہے وہ سب عنایت کیا ۔
فَاَ تۡبَعَ سَبَبًا ﴿85﴾
تو وہ ایک سامان کے پیچھے چلا (ف۱۸۲)
He therefore pursued a purpose.
और तुम से ذو अलक़र्नै को पूछते हैं तुम फ़रमाओ मैं तुम्हें इसका ज़िक्र पढ़ कर सुनाता हूँ,
Aur tum se Zulqarnain ko poochhte hain, tum farmaao main tumhein is ka mazoor padh kar sunata hoon
(ف182)سبب وہ چیز ہے جو مقصود تک پہنچنے کا ذریعہ ہو خواہ وہ علم ہو یا قدرت تو ذوالقرنین نے جس مقصد کا ارادہ کیا اسی کا سبب اختیار کیا ۔
یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا اسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا پایا (ف۱۸۳) اور وہاں (ف۱۸٤) ایک قوم ملی (ف۱۸۵) ہم نے فرمایا اے ذوالقرنین یا تو تو انھیں عذاب دے (ف۱۸٦) یا ان کے ساتھ بھلائی اختیار کرے (ف۱۸۷)
To the extent that when he reached the setting-place of the sun, he found it setting in a muddy spring, and found a nation there; We said, “O Zul-Qarnain – either punish them or choose kindness for them.”
बेशक हमने उसे ज़मीन में क़ाबू दिया और हर चीज़ का एक सामान अता फ़रमाया
Beshak hum ne use zameen mein qabo diya aur har cheez ka ek samaan ata farmaaya
(ف183)ذوالقرنین نے کتابوں میں دیکھا تھا کہ اولادِ سام میں سے ایک شخص چشمۂ حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی ، یہ دیکھ کروہ چشمۂ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے اور آپ کے ساتھ حضرت خضر بھی تھے وہ تو چشمۂ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے پی بھی لیا مگر ذوالقرنین کے مقدر میں نہ تھا انہوں نے نہ پایا اس سفر میں جانبِ مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی ہے وہ سب منازل قطع کر ڈالے اور سمتِ مغرب میں وہاں پہنچے جہاں آبادی کا نام و نشان باقی نہ رہا ، وہاں انہیں آفتاب وقتِ غروب ایسا نظر آیا گویا کہ وہ سیاہ چشمہ میں ڈوبتا ہے جیسا کہ دریائی سفر کرنے والے کو پانی میں ڈوبتا معلوم ہوتا ہے ۔(ف184)اس چشمہ کے پاس ۔(ف185)جو شکار کئے ہوئے جانوروں کے چمڑے پہنے تھے اس کے سوا ان کے بدن پر اور کوئی لباس نہ تھا اور دریائی مردہ جانور ان کی غذا تھے ، یہ لوگ کافِر تھے ۔(ف186)اور ان میں سے جو اسلام میں داخل نہ ہو اس کو قتل کر دے ۔(ف187)اور انہیں احکامِ شرع کی تعلیم دے اگر وہ ایمان لائیں ۔
عرض کی کہ وہ جس نے ظلم کیا (ف۱۸۸) اسے تو ہم عنقریب سزادیں گے (ف۱۸۹) پھر اپنے رب کی طرف پھیرا جائے گا (ف۱۹۰) وہ اسے بری مار دے گا،
He submitted, “Regarding one who has done injustice, we shall soon punish him – he will then be brought back to his Lord, Who will punish him severely.”
तो वह एक सामान के पीछे चला
To woh ek samaan ke peeche chala
(ف188)یعنی کُفر و شرک اختیار کیا ایمان نہ لایا ۔(ف189)قتل کریں گے یہ تو اس کی دنیوی سزا ہے ۔(ف190)قیا مت میں ۔
اور جو ایمان لایا اور نیک کام کیا تو اس کا بدلہ بھلائی ہے (ف۱۹۱) اور عنقریب ہم اسے آسان کام کہیں گے (ف۱۹۲)
“And regarding one who believed and did good deeds – so his reward is goodness; and we shall soon give him an easy command.”
यहाँ तक कि जब सूरज डूबने की जगह पहुँचा उसे एक सियाह कीचड़ के चश्मे में डूबता पाया और वहाँ एक क़ौम मिली हमने फ़रमाया ऐ ذو अलक़र्नैन या तो तू उन्हें अज़ाब दे या उनके साथ भलाई इख़्तियार करे
Yahan tak ke jab sooraj doobne ki jagah pohcha, use ek siyah keechad ke chashme mein doobta paaya aur wahan ek qoum mili. Hum ne farmaya, “Ai Zulqarnain! Ya to tu unhein azaab de ya un ke saath bhalai ikhtiyar kare”
(ف191)یعنی جنّت ۔(ف192)اور اس کو ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو اس پر سہل ہوں دشوار نہ ہوں ۔ اب ذوالقرنین کی نسبت ارشاد فرمایا جاتا ہے کہ وہ ۔
ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿89﴾
پھر ایک سامان کے پیچھے چلا (ف۱۹۳)
He again pursued a purpose.
arz की कि वह जिसने ज़ुल्म किया उसे तो हम अन्क़रीब सज़ा देंगे फिर अपने रब की तरफ़ फ़िरा जाएगा वह उसे बुरी मार देगा,
Arz kiya, “Woh jis ne zulm kiya, use to hum anqareeb saza denge, phir apne Rab ki taraf phira jaaye ga, woh use buri maar dega”
یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ پہنچا، اسے ایسی قوم پر نکلتا پایا جن کے لیے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں رکھی (ف۱۹٤)
To the extent that when he reached the rising-place of the sun, he found it rising upon a nation for which We had not kept any shelter from it.
और जो ईमान लाया और नेक काम किया तो उसका बदला भलाई है और अन्क़रीब हम उसे आसान काम कहेंगे
Aur jo iman laya aur nek kaam kiya to us ka badla bhalai hai aur anqareeb hum use aasaan kaam kahenge
(ف194)اس مقام پر جس کے اور آفتاب کے درمیان کوئی چیز پہاڑ درخت وغیرہ حائل نہ تھی ، نہ وہاں کوئی عمارت قائم ہو سکتی تھی اور وہاں کے لوگوں کا یہ حال تھا کہ طلوعِ آفتاب کے وقت غاروں میں گھس جاتے تھے اور زوال کے بعد نکل کر اپنا کام کاج کرتے تھے ۔
بات یہی ہے، اور جو کچھ اس کے پاس تھا (ف۱۹۵) سب کو ہمارا علم محیط ہے (ف۱۹٦)
So it is; and Our knowledge encompasses all that he possessed.
फिर एक सामान के पीछे चला
Phir ek samaan ke peeche chala
(ف195)فوج ، لشکر ، آلاتِ حرب ، سامانِ سلطنت اور بعض مفسِّرین نے فرمایا سلطنت و مُلک داری کی قابلیت اور امورِ مملکت کے سر انجام کی لیاقت ۔(ف196)مفسِّرین نے کذالک کے معنی میں یہ بھی کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ذوالقرنین نے جیسا مغربی قوم کے ساتھ سلوک کیا تھا ایسا ہی اہلِ مشرق کے ساتھ بھی کیا کیونکہ یہ لوگ بھی ان کی طرح کافِر تھے تو جو ان میں سے ایمان لائے ان کے ساتھ احسان کیا اور جوکُفر پر مُصِر رہے ان کو تعذیب کی ۔
ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿92﴾
پھر ایک سامان کے پیچھے چلا (ف۱۹۷)
He again pursued a purpose.
यहाँ तक कि जब सूरज निकलने की जगह पहुँचा, उसे ऐसी क़ौम पर निकलता पाया जिनके लिए हमने सूरज से कोई आड़ नहीं रखी
Yahan tak ke jab sooraj nikalne ki jagah pohcha, use aisi qoum par nikalta paaya jin ke liye hum ne sooraj se koi aar na rakhi
انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بیشک یاجوج ماجوج (ف۱۹۹) زمین میں فساد مچاتے ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کردیں اس پر کہ آپ ہم میں اور ان میں ایک دیوار بنادیں (ف۲۰۰)
They said, “O Zul-Qarnain – indeed Yajuj and Majuj* are spreading chaos in the land – so shall we assign for you a consideration upon the condition that you set up a wall between us and them?” (* Gog and Magog.)
फिर एक सामान के पीछे चला
Phir ek samaan ke peeche chala
(ف199)یہ یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد سے فسادی گروہ ہیں ، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے ، زمین میں فساد کرتے تھے ، ربیع کے زمانے میں نکلتے تھے تو کھیتیاں اور سبزے سب کھا جاتے تھے ، کچھ نہ چھوڑتے تھے اور خشک چیزیں لاد کر لے جاتے تھے ، آدمیوں کو کھا لیتے تھے درندوں ، وحشی جانوروں ، سانپوں ، بچھوؤں تک کو کھا جاتے تھے ، حضرت ذوالقرنین سے لوگوں نے ان کی شکایت کی کہ وہ ۔(ف200)تاکہ وہ ہم تک نہ پہنچ سکیں اور ہم ان کے شر و ایذا سے محفوظ رہیں ۔
کہا وہ جس پر مجھے میرے رب نے قابو دیا ہے بہتر ہے (ف۲۰۱) تو میری مدد طاقت سے کرو (ف۲۰۲) میں تم میں اور ان میں ایک مضبوط آڑ بنادوں (ف۲۰۳)
He said, “That which my Lord has given me control over is better, therefore help me with strength – I shall set up a barrier between you and them.”
यहाँ तक कि जब दो पहाड़ों के बीच पहुँचा उनसे इधर कुछ ऐसे लोग पाए कि कोई बात समझते मालूम न होते थे
Yahan tak ke jab do pahadon ke beech pohcha, un se udhar kuch aise log paaye ke koi baat samajhte maloom na hote the
(ف201)یعنی اللہ کے فضل سے میرے پاس مالِ کثیر اور ہر قِسم کا سامان موجود ہے تم سے کچھ لینے کی حاجت نہیں ۔(ف202)اور جو کام میں بتاؤں وہ انجام دو ۔(ف203)ان لوگوں نے عرض کیا پھر ہمارے متعلق کیا خدمت ہے ؟ فرمایا ۔
میرے پاس لوہے کے تختے لاؤ (ف۲۰٤) یہاں تک کہ وہ جب دیوار دونوں پہاڑوں کے کناروں سے برابر کردی، کہا دھونکو، یہاں تک کہ جب اسے آگ کردیا کہا لاؤ، میں اس پر گلا ہوا تانبہ انڈیل دوں،
“Give me sheets of iron”; until when he had raised the wall equal to the edge of the two mountains, he said, “Blow”; to the extent that he made it ablaze – he said, “Bring me molten copper to pour upon it.”
उन्होंने कहा, ऐ ذو अलक़र्नैन! बेशक याजूज माजूज ज़मीन में फसाद मचाते हैं तो क्या हम आपके लिए कुछ माल मुक़रर कर दें इस पर कि आप हम में और उन में एक दीवार बना दें
Unhon ne kaha, “Ai Zulqarnain! Beshak Yajooj Majooj zameen mein fasad machate hain, to kya hum aap ke liye kuch maal muqarrar kar dein is par ke aap hum mein aur un mein ek deewar bana dein?”
(ف204)اور بنیاد کھودوائی جب پانی تک پہنچی تو اس میں پتّھر پگھلائے ہوئے تانبے سے جمائے گئے اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چن کر ان کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا دیا اور آ گ دے دی ، اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کر دی گئی اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی ، اوپر سے پگھلایا ہوا تانبہ دیوار میں پلا دیا گیا ، یہ سب مل کر ایک سخت جسم بن گیا ۔
کہا (ف۲۰۵) یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا (ف۲۰٦) اسے پاش پاش کردے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے (ف۲۰۷)
He said, “This is the mercy of my Lord; then when the promise of my Lord arrives, He will blow it to bits; and my Lord’s promise is true.”
मेरे पास लोहे के तख़्ते लाओ यहाँ तक कि वह जब दीवार दोनों पहाड़ों के किनारों से बराबर कर दी, कहा धौंको, यहाँ तक कि जब उसे आग कर दिया कहा लाओ, मैं उस पर गला हुआ तांबा उंडेल दूँ,
Mere paas lohay ke takhte laao, yahan tak ke woh jab deewar dono pahadon ke kinare se barabar kar di, kaha dhanko, yahan tak ke jab use aag kar diya, kaha, “Laao, main is par gila hua taanba undeel doon”
(ف205)ذوالقرنین نے کہ ۔(ف206)اور یاجوج ماجوج کے خروج کا وقت آپہنچے گا قریبِ قیامت ۔(ف207)حدیث شریف میں ہے کہ یاجوج ماجوج روزانہ اس دیوار کو توڑتے ہیں اور دن بھر محنت کرتے کرتے جب اس کے توڑنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان میں کوئی کہتا ہے اب چلو باقی کل توڑ لیں گے دوسرے روز جب آتے ہیں تو وہ بحکمِ الٰہی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے ، جب ان کے خروج کا وقت آئے گا تو ان میں کہنے والا کہے گا کہ اب چلو باقی دیوار کل توڑ لیں گے ان شاء اللہ ، ان شاء اللہ کہنے کا یہ ثمرہ ہوگا کہ اس دن کی محنت رائیگاں نہ جائے گی اور اگلے دن انہیں دیوار اتنی ٹوٹی ملی گی جتنی پہلے روز توڑ گئے تھے ، اب وہ نکل آئیں گے اور زمین میں فساد اٹھائیں گے ، قتل و غارت کریں گے اور چشموں کا پانی پی جائیں گے ، جانوروں درختوں کو اور جو آدمی ہاتھ آئیں گے ان کو کھا جائیں گے ، مکّہ مکرّمہ ، مدینہ طیّبہ اور بیت المقدِس میں داخل نہ ہو سکیں گے ، اللہ تعالٰی بدعائے حضرت عیسٰی علیہ السلام انہیں ہلاک کرے گا اس طرح کہ ان کی گردنوں میں کیڑے پیدا ہوں گے جو ان کی ہلاکت کا سبب ہوں گے ۔
اور اس دن ہم انھیں چھوڑ دیں گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر ریلا (سیلاب کی طرح) آوے گا اور صور پھونکا جائے گا (ف۲۰۸) تو ہم سب کو (ف۲۰۹) اکٹھا کر لائیں گے
And on that day We shall release them in groups surging like waves one after another, and the Trumpet will be blown – so We shall gather them all together. (* Gog and Magog will come out during the time of Eisa (Jesus – when he comes back to earth) and cause great destruction in the land.)
तो याजूज व माजूज उस पर न चढ़ सके और न उस में स़ुराख़ कर सके,
To Yajooj Majooj is par na charh sake aur na is mein surakh kar sake
(ف208)اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یا جوج ماجوج کا نکلنا قربِ قیامت کے علامات میں سے ہے ۔(ف209)یعنی تمام خَلق کو عذاب و ثواب کے لئے روزِ قیامت ۔
وہ جن کی آنکھوں پر میری یاد سے پردہ پڑا تھا (ف۲۱۱) اور حق بات سن نہ سکتے تھے (ف۲۱۲)
The ones whose eyes were covered from My remembrance, and who could not bear to hear Truth.
और उस दिन हम उन्हें छोड़ देंगें कि उनका एक समूह दूसरे पर रीला (सीलाब की तरह) आएगा और स़ूर फ़ूँका जाए तो हम सब को एकठ्ठा कर लाएँगे
Aur is din hum unhein chhod dein ge ke un ka ek giroh doosre par rela (saelab ki tarah) aawega aur soor phoonka jaaye ga to hum sab ko ikathha kar laayenge
(ف211)اور وہ آیاتِ الٰہیہ اور قرآن و ہدایت و بیان اور دلائلِ قدرت و ایمان سے اندھے بنے رہے اور ان میں سے کسی چیز کو وہ نہ دیکھ سکے ۔(ف212)اپنی بدبختی سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ عداوت رکھنے کے باعث ۔
تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو (ف۲۱۳) میرے سوا حمایتی بنالیں گے (ف۲۱٤) بیشک ہم نے کافروں کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے،
Do the disbelievers assume that they will be able to choose My bondmen as supporters other than Me? Indeed We have prepared hell to welcome the disbelievers.
और हम उस दिन जहन्नम काफ़रों के सामने लाएँगे
Aur hum is din jahannum kafiron ke samne laayenge
(ف213)مثل حضرت عیسٰی و حضرت عزیر و ملائکہ کے ۔(ف214)اور اس سے کچھ نفع پائیں گے یہ گمان فاسد ہے بلکہ وہ بندے ان سے بیزار ہیں اور بے شک ہم ان کے اس شرک پر عذاب کریں گے ۔
تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں (ف۲۱۵)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Shall we inform you whose are the most failed works?”
वे जिनकी आँखों पर मेरी याद से पर्दा पड़ा था और हक़ बात सुन न सकते थे
Woh jin ki aankhon par meri yaad se parda pada tha aur haq baat sun na sakte the
(ف215)یعنی وہ کون لوگ ہیں جو عمل کر کے تھکے اورمشقّتیں اٹھائیں اور یہ امید کرتے رہے کہ ان اعمال پر فضل و نوال سے نوازے جائیں گے مگر بجائے اس کے ہلاکت و بربادی میں پڑے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا وہ یہود و نصارٰی ہیں ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ وہ راہب لوگ ہیں جو صوامع میں عُزلت گزین رہتے تھے ۔ حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اہلِ حروراء یعنی خوارج ہیں ۔
یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا (ف۲۱۷) تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی تول نہ قائم کریں گے (ف۲۱۸)
The people who disbelieved in the signs of their Lord and in the meeting with Him, therefore all their deeds are in vain –We shall therefore not establish any weighing for them on the Day of Resurrection.
तुम फ़रमाओ क्या हम तुम्हें बताएँ कि सबसे बढ़ कर नाक़िस अमल कौन के हैं
Tum farmaao, “Kya hum tumhein bata dein ke sab se barh kar naaqis amal kon ke hain?”
(ف217)رسول و قرآن پر ایمان نہ لائے اور بعث و حساب و ثواب و عذاب کے منکِر رہے ۔(ف218)حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ روزِ قیامت بعضے لوگ ایسے اعمال لائیں گے جو ان کے خیالوں میں مکّہ مکرّمہ کے پہاڑوں سے زیادہ بڑے ہوں گے لیکن جب وہ تولے جائیں گے تو ان میں وزن کچھ نہ ہوگا ۔
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے (ف۲۱۹)
Indeed those who believed and did good deeds – their welcome are the Gardens of Paradise.
ये लोग जिन्होंने अपने रब की आयतें और इसका मिलना न माना तो उनका क्या धरा सब अक़ार्त है तो हम उनके लिए क़यामत के दिन कोई तोल न कायम करेंगें
Yeh log jin hon ne apne Rab ki aayatein aur is ka milna na maana, to un ka kya dhara sab akarat hai, to hum un ke liye qayamat ke din koi tol na qaim kareinge
(ف219)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ جنّتوں میں سب کے درمیان اور سب سے بلند ہے اور اس پر عرشِ رحمٰن ہے اوراسی سے جنّت کی نہریں جاری ہوتی ہیں ۔ حضرت کعب نے فرمایا کہ فردوس جنّتوں میں سب سے اعلٰی ہے ، اس میں نیکیوں کا حکم کرنے والے اور بدیوں سے روکنے والے عیش کریں گے ۔
وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے (ف۲۲۰)
They will abide in it for ever, never wanting to shift from it.
यह उनका बदला है जहन्नम, इस पर कि उन्होंने क़ुफ़्र किया और मेरी आयतों और मेरे रसूलों की हँसी बनाई,
Yeh un ka badla hai jahannum, is par ke un hon ne kufr kiya aur meri aayaton aur mere rasoolon ki hansi banai
(ف220)جس طرح دنیا میں انسان کیسی ہی بہتر جگہ ہو اس سے اور اعلٰی و ارفع کی طلب رکھتا ہے یہ بات وہاں نہ ہوگی کیونکہ وہ جانتے ہوں گے کہ فضلِ الٰہی سے انہیں بہت اعلٰی و ارفع مکان و مکانت حاصل ہے ۔
تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے، سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں (ف۲۲۱)
Proclaim, “If the sea became ink for the Words of my Lord, the sea would indeed be used up and the Words of my Lord would never – even if we bring another like it for help.”
बेशक जो ईमान लाए और अच्छे काम किए फ़िरदौस के बाग़ उनकी मेहमानियों हैं
Beshak jo iman laaye aur achhe kaam kiye, Firdous ke baagh un ki mehmani hai
(ف221)یعنی اگر اللہ تعالٰی کے علم و حکمت کے کلمات لکھے جائیں اور ان کے لئے تمام سمندروں کا پانی سیاہی بنا دیا جائے اور تمام خَلق لکھے تو وہ کلمات ختم نہ ہوں اور یہ تمام پانی ختم ہو جائے اور اتنا ہی اور بھی ختم ہو جائے ۔ مدعا یہ ہے کہ اس کے علم و حکمت کی نہایت نہیں ۔شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہود نے کہا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) آپ کا خیال ہے کہ ہمیں حکمت دی گئی اور آپ کی کتاب میں ہے کہ جسے حکمت دی گئی اسے خیرِ کثیر دی گئی پھر آپ کیسے فرماتے ہیں کہ تمہیں نہیں دیا گیا مگر تھوڑا علم ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔ ایک قول یہ ہے کہ جب آیۂِ وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلاَّ قَلِیْلاً نازِل ہوئی تو یہود نے کہا کہ ہمیں توریت کا علم دیا گیا اور اس میں ہر شے کا علم ہے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ، مدعا یہ ہے کہ کل شے کا علم بھی علمِ الٰہی کے حضور قلیل ہے اتنی بھی نسبت نہیں رکھتا جتنی ایک قطرے کو سمندر سے ہو ۔
تو فرماؤ ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں (ف۲۲۲) مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے (ف۲۲۳) تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے (ف۲۲٤)
Proclaim, “Physically I am a human* like you – my Lord sends divine revelations to me – that your God is only One God; so whoever expects to the meet his Lord must perform good deeds and not ascribe anyone as a partner in the worship of his Lord.” (* Human but not equal to you, in fact the greatest in spiritual status.)
वे हमेशा उन्हीं में रहेंगे उनसे जगह बदलना न चाहेंगे
Woh hamesha un hi mein rahenge, un se jagah badalna na chahein ge
(ف222)کہ مجھ پر بشری اعراض و امراض طاری ہوتے ہیں اور صورتِ خاصّہ میں کوئی بھی آپ کا مثل نہیں کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو حسن و صورت میں بھی سب سے اعلٰی و بالا کیا اور حقیقت و روح و باطن کے اعتبار سے تو تمام انبیاء اوصافِ بشر سے اعلٰی ہیں جیسا کہ شفاءِ قاضی عیاض میں ہے اور شیخ عبدالحق محدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام کے اجسام و ظواہر تو حدِّ بشریت پر چھوڑے گئے اور ان کے ارواح و بواطن بشریت سے بالا اور ملاءِ اعلٰی سے متعلق ہیں ۔ شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے سورۂ والضحٰی کی تفسیر میں فرمایا کہ آپ کی بشریت کا وجود اصلاً نہ رہے اور غلبۂ انوارِحق آپ پر علی الدوام حاصل ہو بہرحال آپ کی ذات و کمالات میں آ پ کا کوئی بھی مثل نہیں ۔ اس آیتِ کریمہ میں آپ کو اپنی ظاہری صورتِ بشریّہ کے بیان کا اظہار تواضع کے لئے حکم فرمایا گیا ، یہی فرمایا ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ۔ (خازن) مسئلہ : کسی کو جائز نہیں کہ حضورکو اپنے مثل بشر کہے کیونکہ جو کلمات اصحابِ عزّت و عظمت بہ طریقِ تواضع فرماتے ہیں ان کا کہنا دوسروں کے لئے روا نہیں ہوتا ، دوئم یہ کہ جس کو اللہ تعالٰی نے فضائلِ جلیلہ و مراتبِ رفیعہ عطا فرمائے ہوں اس کے ان فضائل و مراتب کا ذکر چھوڑ کر ایسے وصفِ عام سے ذکر کرنا جو ہر کہ و مِہ میں پایا جائے ان کمالات کے نہ ماننے کا مُشعِر ہے ، سویم یہ کہ قرآنِ کریم میں جا بجا کُفّار کا طریقہ بتایا گیا ہے کہ وہ انبیاء کو اپنے مثل بشرکہتے تھے اور اسی سے گمراہی میں مبتلا ہوئے پھر اس کے بعد آیت یُوْحٰۤی اِلَیَّ میں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مخصوص بالعلم اور مکرّم عنداللہ ہونے کا بیان ہے ۔(ف223)اس کا کوئی شریک نہیں ۔(ف224)شرکِ اکبر سے بھی بچے اور ریاء سے بھی جس کو شرکِ اصغر کہتے ہیں ۔ مسلم شریف میں ہے کہ جو شخص سورۂ کہف کی پہلی دس آیتیں حفظ کرے اللہ تعالٰی اس کو فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا ۔ یہ بھی حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص سورۂ کہف کو پڑھے وہ آٹھ روز تک ہر فتنہ سے محفوظ رہے گا ۔
كٓهٰيٰـعٓـصٓ ۚ ﴿1﴾
کھیٰعص
Kaf-Ha-Ya-A’in-Sad. (* Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals know their precise meanings.)
ख़ियास
Yeh mazkūr hai tere Rab ki is rehmat ka jo usne apne banda Zakariya par ki,
یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی،
This is the remembrance of the mercy of your Lord upon His bondman Zakaria.
यह मज़कूर है तेरे रब की इस रहमत का जो उसने अपने बंदे ज़करिया पर की,
Jab usne apne Rab ko ahista pukara
اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا ﴿3﴾
جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا (ف۲)
When he softly prayed to his Lord.
जब उसने अपने रब को आहिस्ता पुकारा
Arz kiya, "Ae mere Rab! meri haddi kamzor ho gayi aur sare se burhapa ka bhubhooka phoota (sho’la chamka) aur ae mere Rab! main tujhe pukar kar kabhi namurad na raha"
(ف2)کیونکہ اخفاء ریا سے دور اور اخلاص سے معمور ہوتا ہے نیز یہ بھی فائدہ تھا کہ پیرانہ سالی کی عمر میں جب کہ سن شریف پچھتّر یا اسّی برس کا تھا اولاد کا طلب کرنا احتمال رکھتا تھا کہ عوام اس پر ملامت کریں اس لئے بھی اس دعا کا اخفاء مناسب تھا ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ضعفِ پیری کے باعث حضرت کی آواز بھی ضعیف ہو گئی تھی ۔ (مدارک ، خازن)
عرض کی اے میرے رب میری ہڈی کمزور ہوگئی (ف۳) اور سر سے بڑھاپے کا بھبھوکا پھوٹا(سفیدی ظاہر ہوئی)(ف۴) اور اے میرے رب میں تجھے پکار کر کبھی نامراد نہ رہا(ف۵)
He submitted, “O my Lord – my bones have become weak and old age shines forth from my head, and O my Lord, I have never been disappointed in my prayer to you.”
arz की ऐ मेरे रब मेरी हड्डी कमज़ोर हो गई और सरै से बुढ़ापे का भभूका फूटा (शोला चमका) और ऐ मेरे रब मैं तुझे पुकार कर कभी नामराद न रहा
"Aur mujhe apne baad apne qarabat walon ka dar hai aur meri aurat banjh hai, to mujhe apne paas se koi aisa de daal jo mera kaam uthaye"
(ف3)یعنی پیرانہ سالی کا ضعف غایت کو پہنچ گیا کہ ہڈی جو نہایت مضبوط عضو ہے اس میں کمزوری آ گئی تو باقی اعضا و قوٰی کا حال محتاجِ بیان ہی نہیں ۔(ف4)کہ تمام سر سفید ہو گیا ۔(ف5)ہمیشہ تو نے میری دعا قبول کی اور مجھے مستجابُ الدعوات کیا ۔
اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے (ف٦) اور میری عورت بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے (ف۷)
“And I fear my relatives after me and my wife is barren therefore bestow upon me from Yourself one who will take up my work.”
और मुझे अपने बाद अपने क़रबात वालों का डर है और मेरी औरत बांझ है तो मुझे अपने पास से कोई ऐसा दे डाल जो मेरा काम उठाए
"Woh mera jaanasheen ho aur aulaad Ya’qub ka waaris ho, aur ae mere Rab! use pasandeeda kar"
(ف6)چچازاد وغیرہ کا کہ وہ شریر لوگ ہیں کہیں میرے بعد دین میں رخنہ اندازی نہ کریں جیسا کہ بنی اسرائیل سے مشاہدہ میں آ چکا ہے ۔(ف7)اور میرے علم کا حامل ہو ۔
وہ میرا جانشین ہو اور اولاد یعقوب کا وارث ہو، اور اے میرے رب! اسے پسندیدہ کر (ف۸)
“He being my successor and the heir of the Descendants of Yaqub (Jacob); and my Lord, make him a cherished* one.” (* Make him a Prophet among the Descendants of Israel.)
वह मेरा जानशीन हो और औलाद याक़ूब का वारिस हो, और ऐ मेरे रब! उसे पसंदीदा कर
"Ae Zakariya! hum tujhe khushi sunate hain ek ladke ki, jiska naam Yahya hai; is se pehle humne is naam ka koi na kiya"
(ف8)کہ تو اپنے فضل سے اس کو نبوّت عطا فرمائے ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت زکریا علیہ السلام کی یہ دعا قبول فرمائی اور ارشاد فرمایا ۔
عرض کی اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا (ف۹)
He submitted, “My Lord – how can I have a son whereas my wife is barren and I have reached infirmity due to old age?”
arz की ऐ मेरे रब! मेरे लड़का कहाँ से होगा मेरी औरत तो बांझ है और मैं बुढ़ापे से सूख जाने की हालत को पहुँच गया
Farmaya, "Aisa hi hai, tere Rab ne farmaya, woh mujhe aasan hai aur maine to us se pehle tujhe us waqt banaya jab tak kuch bhi na tha"
(ف9)یہ سوال استبعاد نہیں بلکہ مقصود یہ دریافت کرنا ہے کہ عطائے فرزند کس طریقہ پر ہو گا کیا دوبارہ جوانی مرحمت ہوگی یا اسی حال میں فرزند عطا کیا جائے گا ۔
عرض کی اے میرے رب! مجھے کوئی نشانی دے دے (ف۱۲) فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات دن لوگوں سے کلام نہ کرے بھلا چنگا ہو کر (ف۱۳)
He said, “My Lord, give me a sign”; He said, “Your token is that you will not speak to people for three nights, although in proper health.”
arz की ऐ मेरे रब! मुझे कोई निशानी दे दे फरमाया तेरी निशानी यह है कि तू तीन रात दिन लोगों से कलाम न करे भला चंगा हो कर
"To apni qoum par masjid se bahar aaya to unhein ishara se kaha, 'Subah o shaam tasbeeh karte raho'"
(ف12)جس سے مجھے اپنی بی بی کے حاملہ ہونے کی معرفت ہو ۔(ف13)صحیح سالم ہو کر بغیر کسی بیماری کے اور بغیر گونگا ہونے کے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان ایام میں آپ لوگوں سے کلام کرنے پر قادر نہ ہوئے ، جب اللہ کا ذکر کرنا چاہتے زبان کُھل جاتی ۔
تو اپنی قوم پر مسجد سے باہر آیا (ف۱٤) تو انھیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو،
He therefore emerged upon his people from the mosque, and told them through gestures, “Keep proclaiming the Purity (of your Lord) morning and evening.”
तू अपनी क़ौम पर मस्जिद से बाहर आया तो उन्हें इशारा से कहा कि सुबह व शाम तसबिह करते रहो,
"Ae Yahya! kitaab mazboot tham, aur humne use bachpan hi mein nabuwat di"
(ف14)جو اس کی نماز کی جگہ تھی اور لوگ پسِ محراب انتظار میں تھے کہ آپ ان کے لئے دروازہ کھولیں تو وہ داخل ہوں اور نماز پڑھیں ، جب حضرت زکریا علیہ السلام باہر آئے تو آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا ، گفتگو نہیں فرما سکتے تھے یہ حال دیکھ کر لوگوں نے دریافت کیا ، کیا حال ہے ۔(ف15)اور حسبِ عادت فجر و عصر کی نمازیں ادا کرتے رہو ، اب حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنے کلام نہ کر سکنے سے جان لیا کہ آپ کی بیوی صاحبہ حاملہ ہو گئیں اور حضرت یحیٰی علیہ السلام کی ولادت سے دو سال بعد اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا ۔
اے یحییٰ کتاب (ف۱٦) مضبوط تھام، اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی (ف۱۷)
“O Yahya – hold the Book firmly”; and We gave him Prophethood in his infancy. (Prophet Yahya was only 2 years old at that time.)
ऐ यह्यी किताब मज़बूत थाम, और हम ने उसे बचपन ही में नबूवत दी
"Aur apni taraf se meherbani aur suthrai aur kamal dar wala tha"
(ف16)یعنی توریت کو ۔(ف17)جب کہ آپ کی عمر شریف تین سال کی تھی اس وقت میں اللہ تبارک و تعالٰی نے آپ کو عقلِ کا مل عطا فرمائی اور آپ کی طرف وحی کی ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما کا یہی قول ہے اور اتنی سی عمر میں فہم و فراست اور کمالِ عقل و دانش خوارقِ عادات میں سے ہے اور جب بکرمہٖ تعالٰی یہ حاصل ہو تو اس حال میں نبوّت ملنا کچھ بھی بعید نہیں لہٰذا اس آیت میں حکم سے نبوّت مراد ہے یہی قول صحیح ہے ۔ بعض مفسِّرین نے اس سے حکمت یعنی فہمِ توریت اور فقہ فی الدین بھی مراد لی ہے ۔ (خازن و مدارک ، کبیر) منقول ہے کہ اس کم سنی کے زمانہ میں بچوں نے آپ کو کھیل کے لئے بلایا تو آپ نے فرمایا مَا لِلُعْبٍ خُلِقْنَا ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کئے گئے ۔
اور اپنی طرف سے مہربانی (ف۱۸) اور ستھرائی (ف۱۹) اور کمال ڈر والا تھا (ف۲۰)
And compassion from Ourselves, and chastity; and he was extremely pious.
और अपनी तरफ़ से मेहरबानी और सथराई और कमाल डर वाला था
"Aur apne maa baap se acha sulook karne wala tha, zabardast o nafarmān na tha"
(ف18)عطا کی اور ان کے دل میں رقت و رحمت رکھی کہ لوگوں پر مہربانی کریں ۔(ف19)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ زکٰوۃ سے یہاں طاعت و اخلاص مراد ہے ۔(ف20)اور آپ خوفِ الٰہی سے بہت گریہ و زاری کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے رخسار مبارکہ پر آنسوؤں سے نشان بن گئے تھے ۔
اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن مردہ اٹھایا جائے گا (ف۲۲)
And peace is upon him the day he was born, and the day he will taste death, and the day he will be raised alive.
और सलामती है उस पर जिस दिन पैदा हुआ और जिस दिन मरेगा और जिस दिन मरा उठाया जाएगा
"Aur kitaab mein Maryam ko yaad karo jab apne ghar walon se pooreb ki taraf ek jagah alag gayi"
(ف22)کہ یہ تینوں دن بہت اندیشہ ناک ہیں کیونکہ ان میں آدمی وہ دیکھتا ہے جو اس سے پہلے اس نے نہیں دیکھا اس لئے ان تینوں موقعوں پرنہایت وحشت ہوتی ہے ، اللہ تعالٰی نے حضرت ےحیٰی علیہ السلام کا اکرام فرمایا انہیں ان تینوں موقعوں پر امن و سلامتی عطا کی ۔
اور کتاب میں مریم کو یاد کرو (ف۲۳) جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی (ف۲٤)
And remember Maryam in the Book; when she went away from her family to a place towards east.
और किताब में मरियम को याद करो जब अपने घर वालों से पूरब की तरफ़ एक जगह अलग गई
"To un se udhar ek parda kar liya, to uski taraf humne apna ruhani (Ruh al-Amin) bheja, woh uske samne ek tandrust aadmi ke roop mein zahir hua"
(ف23)یعنی اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قرآنِ کریم میں حضرت مریم کا واقعہ پڑھ کر ان لوگوں کو سنائیے تاکہ انہیں ان کا حال معلوم ہو ۔(ف24)اوراپنے مکان میں یا بیتُ المقدس کی شرقی جانب میں لوگوں سے جدا ہو کر عبادت کے لئے خلوت میں بیٹھیں ۔
تو ان سے ادھر (ف۲۵) ایک پردہ کرلیا، تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا (ف۲٦) وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا،
So there she screened herself from them; We therefore sent Our Spirit towards her – he appeared before her in the form of a healthy man. (Angel Jibreel – peace be upon him.)
तो उन से अदूर एक पर्दा कर लिया, तो उसकी तरफ़ हमने अपना रूहानी (रूह अल-अमीन) भीजा वह उसके सामने एक तंदरुस्त आदमी के रूप में ज़ाहिर हुआ,
Boli, "Main tujh se Rahman ki panaah mangti hoon agar tujhe Khuda ka dar hai"
(ف25)یعنی اپنے اور گھر والوں کے درمیان ۔(ف26)جبریل علیہ السلام ۔
بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بدکار ہوں،
She said, “How can I bear a son? No man has ever touched me, nor am I of poor conduct!”
बोली मेरे लड़का कहाँ से होगा मुझे तो किसी आदमी ने हाथ न लगाया न मैं बदकार हूँ,
Kaha, "Yun hi hai, tere Rab ne farmaya, yeh mujhe aasan hai, aur is liye ke hum use logon ke waste nishani karein aur apni taraf se ek rehmat, aur yeh kaam thehar chuka hai"
کہا یونہی ہے (ف۲۷) تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ (ف۲۸) مجھے آسان ہے، اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی (ف۲۹) کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت (ف۳۰) اور یہ کام ٹھہرچکا ہے (ف۳۱)
He said, “So it is; your Lord has said, ‘This is easy for Me’; and in order that We make him a sign for mankind and a Mercy from Us; and this matter has been decreed.”
कहा युनही है तेरे रब ने फरमाया है कि यह मुझे आसान है, और इसलिए कि हम उसे लोगों के वास्ते निशानी करें और अपनी तरफ़ से एक रहमत और यह काम ठहर चुका है
Ab Maryam ne use pait mein liya, phir use liye hue ek door jagah chali gayi
(ف27)یہی منظورِ الٰہی ہے کہ تمہیں بغیر مرد کے چھوئے ہی لڑکا عنایت فرمائے ۔(ف28)یعنی بغیر باپ کے بیٹا دینا ۔(ف29)اور اپنی قدرت کی برہان ۔(ف30)ان کے لئے جو اس کے دین کا اِتّباع کریں اس پر ایمان لائیں ۔(ف31)علمِ الٰہی میں ، اب نہ رد ہو سکتا ہے نہ بدل سکتا ہے ۔ جب حضرت مریم کو اطمینان ہوگیا اور ان کی پریشانی جاتی رہی تو حضرت جبریل نے ان کے گریبان میں یا آستین میں یا دامن میں یا منہ میں دم کیا اور بقدرتِ الٰہی فی الحال حاملہ ہو گئیں اس وقت حضرت مریم کی عمر تیرہ سال یا دس سال کی تھی ۔
اب مریم نے اسے پیٹ میں لیا پھر اسے لیے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی (ف۳۲)
So she conceived him, and she went away with him to a far place.
अब मरियम ने उसे पेट में लिया फिर उसे लिए हुए एक दूर जगह चली गई
Phir use jan’ne ka dard ek khajoor ki jad mein le aaya, boli, "Haaye, kisi tarah main is se pehle mar gayi hoti aur bhooli basri ho jati"
(ف32)اپنے گھر والوں سے اور وہ جگہ بیت اللحم تھی ۔ وہب کا قول ہے کہ سب سے پہلے جس شخص کو حضرت مریم کے حمل کا علم ہوا وہ ان کا چچا زاد بھائی یوسف نجار ہے جو مسجدِ بیت المقدس کا خادم تھا اور بہت بڑا عابد شخص تھا اس کو جب معلوم ہوا کہ مریم حاملہ ہیں تو نہایت حیرت ہوئی ، جب چاہتا تھا کہ ان پر تہمت لگائے تو ان کی عبادت و تقوٰی ، ہر وقت کا حاضر رہنا ،کسی وقت غائب نہ ہونا یاد کر کے خاموش ہو جاتا تھا اور جب حمل کا خیال کرتا تھا تو ان کو بُری سمجھنا مشکل معلوم ہوتا تھا بالآخر اس نے حضرت مریم سے کہا کہ میرے دل میں ایک بات آئی ہے ہر چند چاہتا ہوں کہ زبان پر نہ لاؤں مگر اب صبر نہیں ہوتا ہے آپ اجازت دیجئے کہ میں کہہ گزروں تاکہ میرے دل کی پریشانی رفع ہو ، حضرت مریم نے کہا کہ اچھی بات کہو تو اس نے کہا کہ اے مریم مجھے بتاؤ کہ کیا کھیتی بغیر تخم اور درخت بغیر بارش کے اور بچہ بغیر باپ کے ہو سکتا ہے ؟ حضرت مریم نے فرمایا کہ ہاں تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالٰی نے جو سب سے پہلے کھیتی پیدا کی بغیر تخم ہی کے پیدا کی اور درخت اپنی قدرت سے بغیر بارش کے اگائے کیا تو یہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالٰی پانی کی مدد کے بغیر درخت پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟ یوسف نے کہا میں یہ تو نہیں کہتا بے شک میں اس کا قائل ہوں کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے جسے کن فرمائے وہ ہو جاتی ہے ، حضرت مریم نے کہا کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم اور ان کی بی بی کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا ، حضرت مریم کے اس کلام سے یوسف کا شبہ رفع ہو گیا اور حضرت مریم حمل کے سبب سے ضعیف ہو گئیں تھیں اس لئے وہ خدمتِ مسجد میں ان کی نیابت انجام دینے لگا ، اللہ تعالٰی نے حضرت مریم کو الہام کیا کہ وہ اپنی قوم سے علٰیحدہ چلی جائیں اس لئے وہ بیت اللحم میں چلی گئیں ۔
پھر اسے جننے کا درد ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا (ف۳۳) بولی ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مرگئی ہوتیاور بھولی بسری ہوجاتی،
Then the pangs of childbirth brought her to the base of the palm-tree; she said, “Oh, if only had I died before this and had become forgotten, unremembered.”
फिर उसे जनने का दर्द एक खजूर की जड़ में ले आया बोली हाय किसी तरह मैं उससे पहले मर गई होती और भुली बिसरी हो जाती,
To use uske tale se pukara, "Ke gham na kha, beshak tere Rab ne neeche ek nehar baha di hai"
(ف33)جس کا درخت جنگل میں خشک ہو گیا تھا ، وقت تیز سردی کا تھا ، آپ اس درخت کی جڑ میں آئیں تاکہ اس سے ٹیک لگائیں اور فضیحت کے اندیشہ سے ۔
تو اسے (ف۳٤) اس کے تلے سے پکارا کہ غم نہ کھا (ف۳۵) بیشک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہادی ہے (ف۳٦)
(The angel) Therefore called her from below her, “Do not grieve – your Lord has made a river flow below you.”
तो उसे उसके तले से पुकारा कि ग़म न खा बेशक तेरे रब ने नीचे एक नहर बहा दी है
"Aur khajoor ki jad pakad kar apni taraf hila, tuj par taazi pakki khajooren girengi"
(ف34)جبریل نے وادی کے نشیب سے ۔(ف35)اپنی تنہائی کا اور کھانے پینے کی کوئی چیز موجود نہ ہونے کا اور لوگوں کی بدگوئی کرنے کا ۔(ف36)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے یا حضرت جبریل نے اپنی ایڑی زمین پر ماری تو آبِ شیریں کا ایک چشمہ جاری ہو گیا اور کھجور کا درخت سرسبز ہو گیا ، پھل لایا وہ پھل پختہ اور رسیدہ ہو گئے اور حضرت مریم سے کہا گیا ۔
اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی (ف۳۷)
“And shake the trunk of the palm-tree towards you – ripe fresh dates will fall upon you.” (This was a miracle – the date palm was dry and it was winter season.)
और खजूर की जड़ पकड़ कर अपनी तरफ़ हला तुझ पर ताज़ी पकी खजूरें गिरींगी
"To kha aur pi aur aankh thandi rakh, phir agar tu kisi aadmi ko dekhe to keh dena, 'Main ne aaj Rahman ka roza maana hai, to aaj har guz kisi aadmi se baat na karungi'"
تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ (ف۳۸) پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے (ف۳۹) تو کہہ دینا میں نے آج رحمان کا روزہ مانا ہے تو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کروں گی (ف٤۰)
“Therefore eat and drink and appease your eyes; so if you meet any person then say, ‘I have pledged a fast (of silence) to the Most Gracious – I will therefore not speak to any person today.’”
तो खा और पी और आँख ठंडी रख फिर अगर तू किसी आदमी को देखे तो कह देना मैंने आज रहमान का रोज़ा माना है तो आज हरगज़ किसी आदमी से बात न करूँगी
To use god mein le apni qoum ke paas aayi, bole, "Ae Maryam! beshak tu ne bohot buri baat ki"
(ف38)اپنے فرزند عیسٰی سے ۔(ف39)کہ تجھ سے بچے کو دریافت کرتا ہے ۔(ف40)پہلے زمانہ میں بولنے اور کلام کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا جیسا کہ ہماری شریعت میں کھانے اور پینے کا روزہ ہوتا ہے ، ہماری شریعت میں چپ رہنے کا روزہ منسوخ ہوگیا ۔ حضرت مریم کو سکوت کی نذر ماننے کا اس لئے حکم دیا گیا تاکہ کلام حضرت عیسٰی فرمائیں اور ان کا کلام حجّتِ قویہ ہو جس سے تہمت زائل ہو جائے اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے ۔ مسئلہ : سفیہ کے جواب میں سکوت و اعراض چاہیئے ؎ جواب جاہلاں باشد خموشی ۔مسئلہ : کلام کو افضل شخص کی طرف تفویض کرنا اولٰی ہے ، حضرت مریم نے یہ بھی اشارہ سے کہا کہ میں کسی آدمی سے بات نہ کروں گی ۔
اے ہارون کی بہن (ف٤۲) تیرا باپ (ف٤۳) برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں (ف٤٤) بدکار،
“O sister of Haroon, neither was your father an evil man nor was your mother of poor conduct!”
ऐ हारून की बहन तेरा बाप बुरा आदमी न था और न तेरी माँ बदकार,
Is par Maryam ne bachche ki taraf ishara kiya, woh bole, "Hum kaise baat karein us se jo paalne mein bachha hai"
(ف42)اور ہارون یا توحضرت مریم کے بھائی کا نام تھا یا بنی اسرائیل میں اور نہایت بزرگ اور صالح شخص کا نام تھا جن کے تقوٰی اور پرہیزگاری سے تشبیہ دینے کے لئے ان لوگوں نے حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہا یا حضرت ہارون برادرِ حضرت موسٰی علیہ السلام ہی کی طرف نسبت کی باوجود یکہ ان کا زمانہ بہت بعید تھا اور ہزار برس کا عرصہ ہو چکا تھا مگر چونکہ یہ ان کی نسل سے تھیں اس لئے ہارون کی بہن کہہ دیا جیسا کہ عربوں کا محاورہ ہے کہ وہ تمیمی کو یا اخا تمیم کہتے ہیں ۔(ف43)یعنی عمران ۔(ف44)حنّہ ۔
اس پر مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا (ف٤۵) وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے (ف٤٦)
Thereupon she pointed towards the child; they said, “How can we speak to an infant who is in the cradle?”
उस पर मरियम ने बच्चे की तरफ़ इशारा किया वह बोले हम कैसे बात करें उससे जो पालने में बच्चा है
Bachche ne farmaya, "Main Allah ka banda hoon, usne mujhe kitaab di aur mujhe ghaib ki khabrein batane wala (nabi) kiya"
(ف45)کہ جو کچھ کہنا ہے خود ان سے کہو اس پر قوم کے لوگوں کو غصّہ آیا اور ۔(ف46)یہ گفتگو سن کر حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام نے دودھ پینا چھوڑ دیا اور اپنے بائیں ہاتھ پرٹیک لگاکر قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور داہنے دستِ مبارک سے اشارہ کر کے کلام شروع کیا ۔
بچہ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ (ف٤۷) اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا (ف٤۸)
The child proclaimed, “I am Allah’s bondman; He has given me the Book and made me a Herald of the Hidden (a Prophet).”
बच्चा ने फरमाया मैं अल्लाह का बंदा हूँ उसने मुझे किताब दी और मुझे ग़ैब की ख़बरें बताने वाला (नबी) किया
"Aur usne mujhe mubarak kiya, main kahin hoon aur mujhe namaz o zakat ki taakeed farmaai, jab tak jiyoon"
(ف47)پہلے اپنے بندہ ہونے کا اقرار فرمایا تاکہ کوئی انہیں خدا اور خدا کا بیٹا نہ کہے کیونکہ آپ کی نسبت یہ تہمت لگائی جانے والی تھی اور یہ تہمت اللہ تبارک و تعالٰی پر لگتی تھی اس لئے منصبِ رسالت کا اقتضا یہی تھا کہ والدہ کی براءت بیان کرنے سے پہلے اس تہمت کو رفع فرما دیں جو اللہ تعالٰی کے جنابِ پاک میں لگائی جائے گی اور اسی سے وہ تہمت بھی رفع ہو گئی جو والدہ پر لگائی جاتی کیونکہ اللہ تبارک و تعالٰی اس مرتبۂ عظیمہ کے ساتھ جس بندے کو نوازتا ہے بالیقین اس کی ولادت اور اس کی سرشت نہایت پاک و طاہر ہے ۔(ف48)کتاب سے انجیل مراد ہے ۔ حسن کا قول ہے کہ آپ بطنِ والدہ ہی میں تھے کہ آپ کو توریت کا الہام فرما دیا گیا تھا اور پالنے میں تھے جب آپ کو نبوّت عطا کر دی گئی اور اس حالت میں آپ کا کلام فرمانا آپ کا معجزہ ہے ۔ بعض مفسِّرین نے آیت کے معنٰی میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ نبوّت اور کتاب ملنے کی خبر تھی جو عنقریب آپ کو ملنے والی تھی ۔
اور وہی سلامتی مجھ پر (ف۵۱) جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں (ف۵۲)
“And peace is upon me the day I was born, and on the day I shall taste death, and on the day I will be raised alive.”
और वही सलामती मुझ पर जिस दिन मैं पैदा हुआ और जिस दिन मरो और जिस दिन ज़िंदा उठाया जाऊँ
"Yeh hai Isa Maryam ka beta, sacchi baat jis mein shak karte hain"
(ف51)جو حضرت یحیٰی پر ہوئی ۔(ف52)جب حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے یہ کلام فرمایا تو لوگوں کو حضرت مریم کی براءت و طہارت کا یقین ہو گیا اور حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام اتنا فرما کر خاموش ہو گئے اور اس کے بعد کلام نہ کیا جب تک کہ اس عمر کو پہنچے جس میں بچے بولنے لگتے ہیں ۔ (خازن)
یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا سچی بات جس میں شک کرتے ہیں (ف۵۳)
This is Eisa (Jesus), the son of Maryam; a true statement, in which they doubt.
यह है ईसा मरियम का बेटा सच्ची बात जिस में शक करते हैं
"Allah ko laayiq nahi ke kisi ko apna bacha thehraaye, paaki hai usko, jab kisi kaam ka hukum farmaata hai to yun hi ke us se farmaata hai 'Ho jao' woh foran ho jata hai"
(ف53)کہ یہود تو انہیں ساحر کذّاب کہتے ہیں (معاذ اللہ) اور نصارٰی انہیں خدا اور خدا کا بیٹا اور تین میں کا تیسرا کہتے ہیں تَعَا لٰی اللہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوّاً کَبِیْراً ۔ اس کے بعد اللہ تبارک وتعالٰی اپنی تنزیہ بیان فرماتا ہے ۔
اللہ کو لائق نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے پاکی ہے اس کو (ف۵٤) جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اس سے فرماتا ہے ہوجاؤ وہ فوراًٰ ہوجاتا ہے،
It does not befit Allah to appoint someone as His son – Purity is to Him! When He ordains a matter, He just commands it, “Be” – and it thereupon happens.
अल्लाह को लायक नहीं कि किसी को अपना बच्चा ठहराए पाकी है उसे जब किसी काम का हुक्म फरमाता है तो युनही कि उससे फरमाता है हो जाओ वह फौरन हो जाता है,
"Aur Isa ne kaha, beshak Allah Rab hai mera aur tumhara, to uski bandagi karo, yeh raah seedhi hai"
پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں (ف۵٦) تو خرابی ہے، کافروں کے لیے ایک بڑے دن کی حاضری سے (ف۵۷)
Then groups among them differed; so ruin is for the disbelievers from the witnessing of a Great Day.
फिर जामातें आपस में मख़्तलिफ़ हो गईं तो ख़राबी है, काफ़रों के लिए एक बड़े दिन की हाज़री से
"Kitna sunenge aur kitna dekhenge jis din humare paas hazir honge, magar aaj zalim khuli gumraahi mein hain"
(ف56)اور حضرت عیسٰی کے باب میں نصارٰی کے کئی فرقے ہوگئے ، ایک یعقوبیہ ، ایک نسطور یہ ، ایک ملکانیہ ۔ یعقوبیہ کہتا تھا کہ وہ اللہ ہے ، زمین پر اتر آیا تھا ، پھر آسمان پر چڑھ گیا ۔ نسطوریہ کا قول ہے کہ وہ خدا کا بیٹا ہے ، جب تک چاہا اسے زمین پر رکھا پھر اٹھا لیا اور تیسرا فرقہ یہ کہتا تھا کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ، مخلوق ہیں ، نبی ہیں ، یہ مؤمن تھا ۔ (مدارک)(ف57)بڑے دن سے روزِ قیامت مراد ہے ۔
کتنا سنیں گے اور کتنا دیکھیں گے جس دن ہمارے پاس حاضر ہونگے (ف۵۸) مگر آج ظالم کھلی گمراہی میں ہیں (ف۵۹)
Much will they listen and much will they see, on the Day when they come to Us, but today the unjust are in open error.
कितना सुनेंगे और कितना देखेंगे जिस दिन हमारे पास हाज़िर होंगे मगर आज ज़ालिम खुली ग़ुमराही में हैं
"Aur unhein dar sunao pachtaway ke din ka, jab kaam ho chuke honge aur woh ghaflat mein hain aur nahin maante"
(ف58)اور اس دن کا دیکھنا او رسننا کچھ نفع نہ دے گا جب انہوں نے دنیا میں دلائلِ حق کو نہیں دیکھا اور اللہ تعالٰی کے مواعید کو نہیں سنا ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ یہ کلام بطریقِ تہدید ہے کہ اس روز ایسی ہولناک باتیں سنیں اور دیکھیں گے جن سے دل پھٹ جائیں ۔(ف59)نہ حق دیکھیں نہ حق سنیں ، بہرے اندھے بنے ہوئے ہیں ، حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اِ لٰہ اور معبود ٹھہراتے ہیں باوجود یکہ انہوں نے بصراحت اپنے بندہ ہونے کا اعلان فرمایا ۔
اور انھیں ڈر سناؤ پچھتاوے کے دن کا (ف٦۰) جب کام ہوچکے گا (ف٦۱) اور وہ غفلت میں ہیں (ف٦۲) اور نہیں مانتے،
And warn them of the Day of Regret when the matter will have been decided; and they are in neglect, and they do not accept faith.
और उन्हें डर सुनाओ पछतावे के दिन का जब काम हो चुकेगा और वे ग़फ़लत में हैं और नहीं मानते,
"Beshak zameen aur jo kuch us par hai sab ke waaris hum honge aur woh humari hi taraf phrein ge"
(ف60)حدیث شریف میں ہے کہ جب کافِر منازلِ جنّت دیکھیں گے جن سے وہ محروم کئے گئے تو انہیں ندامت و حسرت ہوگی کہ کاش وہ دنیا میں ایمان لے آئے ہوتے ۔(ف61)اور جنّت والے جنّت میں اور دوزخ والے دوزخ میں پہنچیں گے ایسا سخت دن درپیش ہے ۔(ف62)اور اس دن کے لئے کچھ فکر نہیں کرتے ۔
اور کتاب میں (ف٦۵) ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ صدیق (ف٦٦) تھا (نبی) غیب کی خبریں بتاتا،
And remember Ibrahim in the Book; he was very truthful, a Herald of the Hidden (a Prophet).
और किताब में इब्राहीम को याद करो बेशक वह सदीक था (नबी) ग़ैब की ख़बरें बताता,
"Jab apne baap se bola, 'Ae mere baap! kyun aise ko poojhta hai jo na sunay na dekhe aur na kuch tere kaam aaye'"
(ف65)یعنی قرآن میں ۔(ف66)یعنی کثیرُ الصدق ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ صدیق کے معنی ہیں کثیرُ التصدیق جو اللہ تعالٰی اور اس کی وحدانیّت اور اس کے انبیاء اور اس کے رسولوں کی اور مرنے کے بعد اٹھنے کی تصدیق کرے اور احکامِ الٰہیہ بجا لائے ۔
جب اپنے باپ سے بولا (ف٦۷) اے میرے باپ کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئے (ف٦۸)
When he said to his father,* “O my father – why do you worship one which neither hears nor sees, and cannot benefit you in any way?” (* His uncle Azar.)
जब अपने बाप से बोला ऐ मेरे बाप क्यों ऐसे को पूजता है जो न सुने न देखे और न कुछ तेरे काम आए
"'Ae mere baap! beshak mere paas woh ilm aaya jo tujhe na aaya, to tu mere peeche chala aa, main tujhe seedhi raah dikhaoon'"
(ف67)یعنی آزر بُت پرست سے ۔(ف68)یعنی عبادت معبود کی غایت تعظیم ہے اس کا وہی مستحق ہو سکتا ہے جو صاحبِ اوصافِ کمال اور ولیِ نِعَم ہو ، نہ کہ بُت جیسی ناکارہ مخلوق ۔ مدعا یہ ہے کہ اللہ واحد لاشریک لہ کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ۔
اے میرے باپ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمن کا کوئی عذاب پہنچے تو تو شیطان کا رفیق ہوجائے (ف۷۳)
“O my father, I fear that a punishment from the Most Gracious may reach you, so you would become a companion of the devil.”
ऐ मेरे बाप मैं डरता हूँ कि तुझे रहमान का कोई अज़ाब पहुँचे तो तू शैतान का रफ़ीक़ हो जाए
Bola, "Kya tu mere khudaon se munh phirta hai? Ae Ibrahim! beshak agar tu baaz na aaya, to main tujhe patharoon ga aur mujh se zamana daraz tak be aalaqa ho ja"
(ف73)اور لعنت و عذاب میں اس کا ساتھی ہو ۔ اس نصیحتِ لطف آمیز اور ہدایتِ دلپذیر سے آزر نے نفع نہ اٹھایا اور اس کے جواب میں ۔
بولا کیا تو میرے خداؤں سے منہ پھیرتا ہے، اے ابراہیم بیشک اگر تو (ف۷٤) باز نہ آیا تو میں تجھے پتھراؤ کروں گا اور مجھ سے زمانہ دراز تک بےعلاقہ ہوجا (ف۷۵)
He said, “What! You turn away from my Gods, O Ibrahim? If you do not desist, I will certainly stone you, and keep no relation with me for a long while.”
बोला क्या तू मेरे खुदाओं से मुंह फ़ेरता है, ऐ इब्राहीम बेशक अगर तू बाज़ न आया तो मैं तुझे पत्थराऊँगा और मुझ से ज़माना दराज़ तक बे इलाक़ा हो जा
Kaha, "Bas tujhe salaam hai, qareeb hai ke main tere liye apne Rab se maafi mangoon ga, beshak woh mujh meherban hai"
(ف74)بُتوں کی مخالفت اور ان کو برا کہنے اور ان کے عیوب بیان کرنے سے ۔(ف75)تاکہ میرے ہاتھ اور زبان سے امن میں رہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ۔
کہا بس تجھے سلام ہے (ف۷٦) قریب ہے کہ میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا (ف۷۷) بیشک وہ مجھ مہربان ہے،
He said, “Stop it – peace be upon you; I shall seek forgiveness for you from my Lord; indeed He is very kind to me.”
कहा बस तुझे सलाम है क़रीब है कि मैं तेरे लिए अपने रब से माफ़ी माँगूँगा बेशक वह मुझ मेहरबान है,
"Aur main ek kinare ho jaoonga tum se aur un sab se jinko Allah ke siwa poojhte ho aur apne Rab ko poojhoonga, qareeb hai ke main apne Rab ki bandagi se badbakht na hoon"
(ف76)یہ سلامِ متارکت تھا ۔(ف77)کہ وہ تجھے توفیقِ توبہ و ایمان دے کر تیری مغفرت کرے ۔
اور میں ایک کنارے ہوجاؤں گا (ف۷۸) تم سے اور ان سب سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو اور اپنے رب کو پوجوں گا (ف۷۹) قریب ہے کہ میں اپنے رب کی بندگی سے بدبخت نہ ہوں (ف۸۰)
"And I shall remain separated from you and all that you worship other than Allah and shall worship my Lord; possibly, by worshipping my Lord, I will not be amongst the unfortunate.”
और मैं एक किनारे हो जाऊँगा तुम से और उन सब से जिनको अल्लाह के सिवा पूजते हो और अपने रब को पूजूँगा क़रीब है कि मैं अपने रब की बंदगी से बदबख़्त न होऊँ
"Phir jab un se aur Allah ke siwa unke ma’budon se kinara kar gaya, humne use Ishaq aur Ya’qub ata kiye, aur har ek ko ghaib ki khabrein batane wala kiya"
(ف78)شہرِ بابل سے شام کی طرف ہجرت کر کے ۔(ف79)جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھ پر احسان فرمائے ۔(ف80)اس میں تعریض ہے کہ جیسے تم بُتوں کی پوجا کر کے بدنصیب ہوئے خدا کے پرستار کے لئے یہ بات نہیں اس کی بندگی کرنے والا شقی و محروم نہیں ہوتا ۔
پھر جب ان سے اور اللہ کے سوا ان کے معبودوں سے کنارہ کر گیا (ف۸۱) ہم نے اسے اسحاق (ف۸۲) اور یعقوب (ف۸۳) عطا کیے، اور ہر ایک کو غیب کی خبریں بتانے والا کیا،
So when he had separated from them and what they worshipped other than Allah, We bestowed him Ishaq and Yaqub; and We made each of them a Herald of the Hidden.
फिर जब उन से और अल्लाह के सिवा उनके मअबूदों से किनारा कर गया हमने उसे इशाक़ और याक़ूब अता किए, और हर एक को ग़ैब की ख़बरें बताने वाला किया,
"Aur humne unhein apni rehmat ata ki aur unke liye sacchi buland namuri rakhi"
(ف81)ارضِ مقدّسہ کی طرف ہجرت کر کے ۔(ف82)فرزند ۔(ف83)فرزند کے فرزند یعنی پوتے ۔ فائدہ : اس میں اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کی عمر شریف اتنی دراز ہوئی کہ آپ نے اپنے پوتے حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیکھا ۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا کہ اللہ کے لئے ہجرت کرنے اور اپنے گھر بار کو چھوڑنے کی یہ جزا ملی کہ اللہ تعالٰی نے بیٹے اور پوتے عطا فرمائے ۔
اور ہم نے انھیں اپنی رحمت عطا کی (ف۸٤) اور ان کے لیے سچی بلند ناموری رکھی (ف۸۵)
And We gave them Our mercy, and assigned for them a true and high repute.
और हमने उन्हें अपनी रहमत अता की और उनके लिए सच्ची बुलंद नामूरी रखी
"Aur kitaab mein Musa ko yaad karo, beshak woh chuna hua tha aur rasool tha ghaib ki khabrein batane wala"
(ف84)کہ اموال و اولاد بکثرت عنایت کئے ۔(ف85)کہ ہر دین والے مسلمان ہوں خواہ یہودی خواہ نصرانی سب ان کی ثنا کرتے ہیں اور نمازوں میں ان پر اور ان کی آل پر درود پڑھاجاتا ہے ۔
اور اسے ہم نے طور کی داہنی جانب سے ندا فرمائی (ف۸٦) اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا (ف۸۷)
We called him from the right side of the mountain Tur, and brought him close to reveal Our secret.
और उसे हमने तोर की दाहनी तरफ़ से नदा फरमाई और उसे अपना राज़ कहने को क़रीब किया
"Aur apni rehmat se uska bhai Haroon ata kiya (ghaib ki khabrein batane wala nabi)"
(ف86)طور ایک پہاڑ کا نام ہے جو مِصر و مدیَن کے درمیان ہے ، حضرت موسٰی علیہ السلام کو مدین سے آتے ہوئے طور کی اس جانب سے جو حضرت موسٰی علیہ السلام کے داہنی طرف تھی ایک درخت سے ندا دی گئی یٰمُوْسٰی اِنِّیْ اَنَا اللہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ اے موسٰی میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا پالنے والا ۔(ف87)مرتبۂ قرب عطا فرمایا ، حجاب مرتفع کئے یہاں تک کہ آپ نے صریرِ اقلام سنی اور آپ کی قدر و منزلت بلند کی گئی اور آپ سے اللہ تعالٰی نے کلام فرمایا ۔
اور اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون عطا کیا (غیب کی خبریں بتانے والا نبی) (ف۸۸)
And with Our mercy We bestowed upon him his brother Haroon, a Prophet.
और अपनी रहमत से उसका भाई हारून अता किया (ग़ैब की ख़बरें बताने वाला नबी)
"Aur kitaab mein Isma’il ko yaad karo, beshak woh vaade ka saccha tha aur rasool tha ghaib ki khabrein batata"
(ف88)جب کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے دعا کی کہ یاربّ میرے گھر والوں میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے یہ دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون علیہ السلام کو آپ کی دعا سے نبی کیا اور حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسٰی علیہ السلام سے بڑے تھے ۔
اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو (ف۸۹) بیشک وہ وعدے کا سچا تھا (ف۹۰) اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا،
And remember Ismail in the Book; he was indeed true to his promise and was a Noble Messenger, a Prophet.
और किताब में इस्माईल को याद करो बेशक वह वादे का सच्चा था और रसूल था ग़ैब की ख़बरें बताता,
"Aur apne ghar walon ko namaz aur zakat ka hukum deta aur apne Rab ko pasand tha"
(ف89)جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جد ہیں ۔(ف90)انبیاء سب ہی سچے ہوتے ہیں لیکن آپ اس وصف میں خاص شہرت رکھتے ہیں ۔ ایک مرتبہ کسی مقام پر آپ سے کوئی شخص کہہ گیا تھا کہ آپ یہیں ٹھہرے رہیئے جب تک میں واپس آؤں آپ اس جگہ اس کے انتظار میں تین روز ٹھہرے رہے آپ نے صبر کا وعدہ کیا تھا ذبح کے موقع پر اس شان سے اس کو وفا فرمایا کہ سُبحان اللہ ۔
اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو (ف۹۳) بیشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا،
And remember Idrees in the Book; he was indeed very truthful, a Prophet.
और किताब में अद्रीस को याद करो बेशक वह सदीक था ग़ैब की ख़बरें देता,
"Aur humne use buland makan par utha liya"
(ف93)آپ کا نام اخنوخ ہے ، آپ حضرت نوح علیہ السلام کے والد کے دادا ہیں ، حضرت آدم علیہ السلام کے بعد آپ ہی پہلے رسول ہیں ، آپ کے والد حضرت شیث بن آدم علیہ السلام ہیں ، سب سے پہلے جس شخص نے قلم سے لکھا وہ آپ ہی ہیں ، کپڑوں کے سینے اور سلے کپڑے پہننے کی ابتداء بھی آپ ہی سے ہوئی ، آپ سے پہلے لوگ کھالیں پہنتے تھے ، سب سے پہلے ہتھیار بنانے والے ترازو اور پیمانے قائم کرنے والے اور علمِ نجوم و حساب میں نظر فرمانے والے بھی آپ ہی ہیں ، یہ سب کام آپ ہی سے شروع ہوئے ، اللہ تعالی نے آپ پر تیس صحیفے نازِل کئے اور کتبِ الٰہیہ کی کثرتِ درس کے باعث آپ کا نام ادریس ہوا ۔
وَّرَفَعۡنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا ﴿57﴾
اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا (ف۹٤)
And We lifted him to a high position. (Living with soul & body in heaven, after his death.)
और हमने उसे बुलंद मकान पर उठा लिया
"Yeh hain jin par Allah ne ehsan kiya ghaib ki khabrein batane mein, Adam ki aulaad se, aur un mein jin ko humne Nuh ke saath sawar kiya tha, aur Ibrahim aur Ya’qub ki aulaad se, aur un mein se jinhein humne raah dikhai aur chun liya, jab un par Rahman ki aayatein padhi jaati, gir padte, sajda karte aur rote (As-Sajdah 5)"
(ف94)دنیا میں انہیں علوِ مرتبت عطا کیا یا یہ معنی ہیں کہ آسمان پر اٹھا لیا اور یہی صحیح تر ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شبِ معراج حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمانِ چہارم پر دیکھا ۔ حضرت کعب احبار وغیرہ سے مروی ہے کہ حضرت ادریس علیہ الصلٰوۃ و السلام نے مَلک الموت سے فرمایا کہ میں موت کا مزہ چکھنا چاہتا ہوں کیساہوتا ہے ؟ تم میری روح قبض کر کے دکھاؤ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور روح قبض کر کے اسی وقت آپ کی طرف لوٹا دی آپ زندہ ہو گئے فرمایا کہ اب مجھے جہنّم دکھاؤ تاکہ خوفِ الٰہی زیادہ ہو چنانچہ یہ بھی کیا گیا جہنّم دیکھ کر آپ نے مالکِ داروغۂ جہنّم سے فرمایا کہ دروازہ کھولو میں اس پر گزرنا چاہتا ہوں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور آپ اس پر سے گزرے پھر آپ نے مَلک الموت سے فرمایا کہ مجھے جنّت دکھاؤ وہ آپ کو جنّت میں لے گئے آپ دروازے کھلوا کر جنّت میں داخل ہوئے تھوڑی دیر انتظار کر کے مَلک الموت نے کہا کہ آپ اب اپنے مقام پر تشریف لے چلئے فرمایا اب میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ وہ میں چکھ ہی چکا ہوں اور یہ فرمایا ہے وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا ہر شخص کو جہنّم پر گزرنا ہے تو میں گزر چکا اب میں جنّت میں پہنچ گیا اور جنّت میں پہنچنے والوں کے لئے اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے وَمَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْن کہ وہ جنّت سے نکالے نہ جائیں گے اب مجھے جنّت سے چلنے کے لئے کیوں کہتے ہو ؟ اللہ تعالٰی نے مَلک الموت کو وحی فرمائی کہ حضرت ادریس علیہ السلام نے جو کچھ کیا میرے اذن سے کیا اور وہ میرے اذن سے جنّت میں داخل ہوئے انہیں چھوڑ دو وہ جنّت ہی میں رہیں گے چنانچہ آپ وہاں زندہ ہیں ۔
یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا غیب کی خبریں بتانے میں سے آدم کی اولاد سے (ف۹۵) اور ان میں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا (ف۹٦) اور ابراہیم (ف۹۷) اور یعقوب کی اولاد سے (ف۹۸) اور ان میں سے جنہیں ہم نے راہ دکھائی اور چن لیا (ف۹۹) جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گر پڑتے سجدہ کرتے اور روتے (ف۱۰۰) (السجدة) ۵
It is these upon whom Allah has bestowed favour among the Prophets, from the descendants of Adam; and from those whom We boarded along with Nooh; and from the descendants of Ibrahim and Israel; and from those whom We guided and chose; when the verses of the Most Gracious were recited to them, they fell down, prostrating and weeping. (* Command of Prostration # 5.)
यह हैं जिन पर अल्लाह ने एहसान किया ग़ैब की ख़बरें बताने में से आदम की औलाद से और उन में जिनको हमने नूह के साथ सवार किया था और इब्राहीम और याक़ूब की औलाद से और उन में से जिन्हें हमने राह दिखाई और चुन लिया जब उन पर रहमान की आयतें पढ़ी जातीं गिर पड़ते, स्ज़ु्दा करते और रोते (अस्सुजुदा) 5
"To un ke baad unki jagah woh na khalif aaye jinhone namazen ginoai aur apni khwahishon ke peeche hue, to anqareeb woh dozakh mein ghee ka jungle paayenge"
(ف95)یعنی حضرت ادریس و حضرت نوح ۔(ف96)یعنی ابراہیم علیہ السلام جو حضرت نوح علیہ السلام کے پوتے اور آپ کے فرزند سام کے فرزند ہیں ۔(ف97)کی اولاد سے حضرت اسمٰعیل و حضرت اسحٰق اور حضرت یعقوب ۔(ف98)حضرت موسٰی اورحضرت ہارون اور حضرت زکریا اور حضرت یحیٰ اور حضرت عیسٰی صلوٰۃ اللہ علیہم و سلامہ ۔(ف99)شرحِ شریعت و کشفِ حقیقت کے لئے ۔(ف100)اللہ تعالٰی نے ان آیات میں خبر دی کہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ و السلام اللہ تعالٰی کی آیتوں کو سن کر خضوع و خشوع اور خو ف سے روتے اور سجدے کرتے تھے ۔مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ قرآنِ پاک بخشوعِ قلب سننا اور رونا مستحب ہے ۔
تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے (ف۱۰۱) جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے (ف۱۰۲) تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے (ف۱۰۳)
And after them came the unworthy successors who squandered prayer and pursued their own desires, so they will soon encounter the forest of Gai in hell.
तो उनके बाद उनके जगह वो ना ख़लफ़ आए जिन्होंने नमाज़ें ग़ुनवाई और अपनी ख़वाहिशों के पीछे हुए तो आनक़रीब वो दोज़ख़ में ग़ै का जंगल पाएंगे
"Magar jo ta’ib hue aur imaan laaye aur achhe kaam kiye to yeh log jannat mein jaayenge aur unhein kuch nuqsan na diya jaayega"
(ف101)مثل یہود و نصارٰی وغیرہ کے ۔(ف102)اور بجائے طاعتِ الٰہی کے مَعاصی کو اختیار کیا ۔(ف103)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا غی جہنّم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی سے جہنّم کے وادی بھی پناہ مانگتے ہیں یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو زنا کے عادی اور اس پر مُصِر ہوں اور جو شراب کے عادی ہوں اورجو سود خوار ، سود کے خوگر ہوں اور جو والدین کی نافرمانی کرنے والے ہوں اور جو جھوٹی گواہی دینے والے ہوں ۔
مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور انھیں کچھ نقصان نہ دیا جائے گا (ف۱۰٤)
Except those who repented and accepted faith and did good deeds – so these will enter heaven, and they will not be deprived* in the least. (* Of their due reward.)
मगर जो ताइब हुए और ईमान लाए और अच्छे काम किए तो ये लोग जन्नत में जाएँगे और उन्हें कुछ नुक़सान न दिया जाएगा
"Basne ke bagh jinka waada Rahman ne apne bandon se ghaib mein kiya, beshak iska waada aane wala hai"
(ف104)اور ان کے اعمال کی جزا میں کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی ۔
بسنے کے باغ جن کا وعدہ رحمن نے اپنے (ف۱۰۵) بندوں سے غیب میں کیا (ف۱۰٦) بیشک اس کا وعدہ آنے والا ہے،
Everlasting Gardens of Eden, which the Most Gracious has promised to His bondmen in the unseen; indeed His promise will come.
बसने के बाग़ जिनका वादा रहमान ने अपने बंदों से ग़ैब में किया बेशक इसका वादा आने वाला है,
"Woh ismein koi bekaar baat na sunenge, magar salaam, aur unhein ismein unka rizq hai subah o shaam"
(ف105)ایماندار صالح و تائب ۔(ف106)یعنی اس حال میں جنّت ان سے غائب ہے ان کی نظر کے سامنے نہیں یا اس حال میں کہ وہ جنّت سے غائب ہیں اس کا مشاہدہ نہیں کرتے ۔
وہ اس میں کوئی بیکار بات نہ سنیں گے مگر سلام (ف۱۰۷) اور انھیں اس میں ان کا رزق ہے صبح و شام (ف۱۰۸)
They will not hear any lewd talk in it, but only Peace; and in it for them is sustenance, every morning and evening.
वह इसमें कोई बेकार बात न सुनेंगे मगर सलाम और उन्हें इसमें उनका रज़क़ है सुबह व शाम
"Yeh woh bagh hai jiska waaris hum apne bandon mein se ise karenge jo parhezgar hai"
(ف107)ملائکہ کا یا آپس میں ایک دوسرے کا ۔(ف108)یعنی علَی الدوام کیونکہ جنّت میں رات اور دن نہیں ہیں اہلِ جنّت ہمیشہ نور ہی میں رہیں گے یا مراد یہ ہے کہ دنیا کے دن کی مقدار میں دو مرتبہ بہشتی نعمتیں ان کے سامنے پیش کی جائیں گی ۔
یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہے،
It is the Paradise that We will bequeath to those among Our bondmen who remain pious.
ये वो बाग़ है जिसका वारिस हम अपने बंदों में से उसे करेंगे जो परहेज़गार है,
"(Aur Jibreel ne Mehboob se arz ki, hum farishte nahin utarte magar Huzoor ke Rab ke hukum se, isi ka hai jo humare aage hai aur jo humare peeche aur jo is ke darmiyan hai, aur Huzoor ka Rab bhoolne wala nahin)"
(ف109)شانِ نُزول : بخاری شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جبریل سے فرمایا ا ے جبریل تم جتنا ہمارے پاس آیا کرتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔
۔ (اور جبریل نے محبوب سے عرض کی) (ف ۱۰۹) ہم فرشتے نہیں اترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے (ف۱۱۰) اور حضور کا رب بھولنے والا نہیں (ف۱۱۱)
(Said Angel Jibreel to Prophet Mohammed – peace and blessings be upon them) “And we angels do not come down except by the command of your Lord; to Him only belongs all that is ahead of us and all that is behind us and all that is between them; and your Lord is not forgetful.”
(और जिब्रईल ने महबूब से arz की हम फ़रिश्ते नहीं उतरते मगर हाज़ुर के रब के हुक्म से उसी का है जो हमारे आगे है और जो हमारे पीछे और जो उसके बीच में है और हाज़ुर का रब भूलने वाला नहीं
"Aasmaano aur zameen aur jo kuch unke beech mein hai sab ka maalik, to ae poojho aur uski bandagi par sabit raho, kya uske naam ka doosra jaante ho?"
(ف110)یعنی تمام اماکن کا وہی مالک ہے ، ہم ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف نقل و حرکت کرنے میں اس کے حکم و مشیت کے تابع ہیں ، وہ ہر حرکت و سکون کا جاننے والا اور غفلت و نسیان سے پاک ہے ۔(ف111)جب چاہے ہمیں آپ کی خدمت میں بھیجے ۔
آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سب کا مالک تو اے پوجو اور اس کی بندگی پر ثابت رہو، کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو (ف۱۱۲)
Lord of the heavens and the earth and all that is between them – therefore worship Him and be firm in His worship; do you know any other of the same name as His?
आसमानों और ज़मीन और जो कुछ उनके बीच में है सब का मालिक तू ऐ पूजो और उसकी बंदगी पर सबूत रहो, क्या उसके नाम का दूसरा जानते हो
"Aur aadmi kehta hai, 'Kya jab main mar jaoonga to zaroor anqareeb jila kar nikala jaoonga'"
(ف112)یعنی کسی کو اس کے ساتھ اسمی شرکت بھی نہیں اور اس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی معبودِ باطل کا نام اللہ نہیں رکھا ۔
اور آدمی کہتا ہے کیا جب میں مرجاؤں گا تو ضرور عنقریب جِلا کر نکالا جاؤں گا (ف۱۱۳)
And says man, “When I am dead, will I soon be brought forth alive?”
और आदमी कहता है क्या जब मैं मर जाऊँगा तो जरूर आनक़रीब जला कर निकाला जाऊँगा
"Aur kya aadmi ko yaad nahin ke humne is se pehle use banaya aur woh kuch na tha"
(ف113)انسان سے یہاں مراد وہ کُفّار ہیں جو موت کے بعد زندہ کئے جانے کے منکِر تھے جیسے کہ اُبی بن خلف اور ولید بن مغیرہ انہیں لوگوں کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی اور یہی اس کی شانِ نُزول ہے ۔
پھر ہم (ف۱۱۷) ہر گروہ سے نکالیں گے جو ان میں رحمن پر سب سے زیادہ بےباک ہوگا (ف۱۱۸)
We shall then pick out from every group the one who was most arrogant towards the Most Gracious.
फिर हम हर ग़ुरूह से निकालेंगे जो उन में रहमान पर सब से ज्यादा बेबाक होगा
"Phir hum khoob jaante hain jo is aag mein bhunne ke zyada laayak hain"
(ف117)کُفّار کے ۔(ف118)یعنی دخولِ نار میں جو سب سے زیادہ سرکش اور کُفر میں اشد ہوگا وہ مقدّم کیا جائے گا ۔ بعض روایات میں ہے کہ کُفّار سب کے سب جہنّم کے گرد زنجیروں میں جکڑے طوق ڈالے ہوئے حاضر کئے جائیں گے پھر جو کُفر و سرکشی میں اشد ہوں گے وہ پہلے جہنّم میں داخل کئے جائیں گے ۔
اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو (ف۱۱۹) تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے (ف۱۲۰)
And there is none among you who shall not pass over hell; this is an obligatory affair, binding upon your Lord. (Allah will make everyone pass over the back of hell – on a thin bridge.)
और तुम में कोई ऐसा नहीं जिसका ग़ुज़र दोज़ख़ पर न हो तुम्हारे रब के ज़िम्मे पर यह जरूर ठहरी हुई बात है
"Phir hum dar walon ko bacha lenge aur zalimon ko ismein chhod denge, ghatno ke bal gire"
(ف119)نیک ہو یا بد مگر نیک سلامت رہیں گے اور جب ان کا گزر دوزخ پر ہو گا تو دوزخ سے صدا اٹھے گی کہ اے مومن گزر جا کہ تیرے نور نے میری لپٹ سرد کر دی ۔ حسن و قتادہ سے مروی ہے کہ دوزخ پر گزرنے سے پل صراط پر گزرنا مراد ہے جو دوزخ پر ہے ۔(ف120)یعنی ورودِ جہنّم قضائے لازم ہے جو اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر لازم کیا ہے ۔
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں (ف۱۲۲) کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اور مجلس بہتر ہے (ف۱۲۳)
And when Our clear verses are recited to them, the disbelievers say to the Muslims, “Which group has a better home, and a better alliance?”
और जब उन पर हमारी रोशन आयतें पढ़ी जाती हैं काफ़िर मुसलमानों से कहते हैं कौन से ग़ुरूह का मकान अच्छा और मज़लिस बेहतर है
"Aur humne un se pehle kitni sangatain khapa dein (qomain halaak kar dein) ke woh un se bhi samaan aur namood mein behtar the"
(ف122)مثل نضر بن حارث وغیرہ کُفّارِ قریش ۔ بناؤ سنگار کر کے ، بالوں میں تیل ڈال کر ، کنگھیاں کر کے ، عمدہ لباس پہن کر ، فخر و تکبُّر کے ساتھ ، غریب فقیر ۔(ف123)مدعا یہ ہے کہ جب آیات نازِل کی جاتی ہیں اور دلائل و براہین پیش کئے جاتے ہیں تو کُفّار ان میں تو فکر نہیں کرتے اور ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور بجائے اس کے دولت و مال اور لباس و مکان پر فخر و تکبُّر کرتے ہیں ۔
اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپادیں (قومیں ہلاک کردیں) (ف۱۲٤) کہ وہ ان سے بھی سامان اور نمود میں بہتر تھے،
And many a generation We did destroy before them, who exceeded them in wealth and pomp!
और हमने उन से पहले कितनी संगतें खपा दीं (क़ौमें हलाक़ कर दीं) कि वे उन से भी सामान और नमूद में बेहतर थे,
"Tum farmaao, jo gumraahi mein ho to use Rahman khoob dheel de, yahan tak ke jab woh dekhein woh cheez jiska unhein waada diya jaata hai, ya to azaab ya qayamat, to ab jaan lenge ke kis ka bura darja hai aur kis ki fauj kamzor"
تم فرماؤ جو گمراہی میں ہو تو اسے رحمن خوب ڈھیل دے (ف۱۲۵) یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں وہ چیز جس کا انھیں وعدہ دیا جاتا ہے یا تو عذاب (ف۱۲٦) یا قیامت (ف۱۲۷) تو اب جان لیں گے کہ کس کا برا درجہ ہے اور کس کی فوج کمزور (ف۱۲۸)
Proclaim, “For one in error – so the Most Gracious may give him respite; to the extent that when they see the thing which they are promised – either the punishment or the Last Day; so then they will come to know for whom is the evil rank and whose army is weak.”
तुम फ़रमाओ जो ग़ुमराही में हो तो उसे रहमान खूब ढील दे यहाँ तक कि जब वह देखें वह चीज़ जिसका उन्हें वादा दिया जाता है या तो अज़ाब या क़ियामत तो अब जान लें कि किस का बुरा दरजा है और किस की फौज कमज़ोर
"Aur jin honay hidaayat pai, Allah unhein aur hidaayat barhaye ga, aur baaqi rehne wali nek baaton ka tere Rab ke yahan sab se behtar sawab aur sab se bhala anjaam"
(ف125)دنیا میں اس کی عمر دراز کر کے اور اس کو اس کی گمراہی و طغیان میں چھوڑ کر ۔(ف126)دنیا کا قتل و گرفتاری ۔(ف127)جو طرح طرح کی رسوائی اور عذاب پر مشتمل ہے ۔(ف128)کُفّار کی شیطانی فوج یا مسلمانوں کا مُلکی لشکر ۔ اس میں مشرکین کے اس قول کا رد ہے جو انہوں نے کہا تھا کہ کون سے گروہ کا مکان اچھا اور مجلس بہتر ہے ۔
اور جنہوں نے ہدایت پائی (ف۱۲۹) اللہ انھیں اور ہدایت بڑھائے گا (ف۱۳۰) اور باقی رہنے والی نیک باتوں کا (ف۱۳۱) تیرے رب کے یہاں سب سے بہتر ثواب اور سب سے بھلا انجام (ف۱۳۲)
And Allah will increase the guidance for those who have received guidance; and good deeds that remain have the best reward before your Lord, and the best outcome.
और जिन्होंने हिदायत पाई अल्लाह उन्हें और हिदायत बढ़ाएगा और बाकी रहने वाली नेक बातों का तेरे रब के यहाँ सब से बेहतर सवाब और सब से भला अंज़ाम
"To kya tumne use dekha jo hamari aayaton se munkir hua aur kehta hai, 'Mujhe zaroor maal o aulaad milenge'"
(ف129)اور ایمان سے مشرف ہوئے ۔(ف130)اس پر استقامت عطا فرما کر اور مزید بصیرت و توفیق دے کر ۔(ف131)طاعتیں اور آخرت کے تمام اعمال اور پنجگانہ نمازیں اور اللہ تعالٰی کی تسبیح و تحمید اور اس کا ذکر اور تمام اعمالِ صالحہ یہ سب باقیاتِ صالحات ہیں کہ مومن کے لئے باقی رہتے ہیں اور کام آتے ہیں ۔(ف132)بخلاف اعمالِ کُفّار کے کہ وہ سب نکمے اور باطل ہیں ۔
تو کیا تم نے اسے دیکھا جو ہماری آیتوں سے منکر ہوا اور کہتا ہے مجھے ضرور مال و اولاد ملیں گے (ف۱۳۳)
So have you seen him who denied Our signs and says, “I shall certainly be given wealth and children?”
तो क्या तुमने उसे देखा जो हमारी आयतों से मंकर हुआ और कहता है मुझे जरूर माल व औलाद मिलेंगे
"Kya ghaib ko jhaank aaya hai ya Rahman ke paas koi qarar rakha hai?"
(ف133)شانِ نُزول : بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت خبّاب بن ارت کا زمانۂ جاہلیت میں عاص بن وائل سہمی پر قرض تھا وہ اس کے پاس تقاضے کو گئے تو عاص نے کہا کہ میں تمہارا قرض نہ ادا کروں گا جب تک کہ تم سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پھر نہ جاؤ اور کُفر اختیار نہ کرو حضرت خبّاب نے فرمایا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو مرے اور مرنے کے بعد زندہ ہو کر اٹھے وہ کہنے لگا کیا میں مرنے کے بعد پھر اٹھوں گا ؟ حضرت خبّاب نے کہا ہاں عاص نے کہا تو پھر مجھے چھوڑ یئے یہاں تک کہ میں مر جاؤں اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں اور مجھے مال و اولاد ملے جب ہی آپ کا قرض ادا کروں گا ۔ اس پر یہ آیاتِ کریمہ نازِل ہوئیں ۔
اور جو چیزیں کہہ رہا ہے (ف۱۳٦) ان کے ہمیں وارث ہوں گے اور ہمارے پاس اکیلا آئے گا (ف۱۳۷)
And it is We only Who shall inherit what he says (belongs to him), and he will come to Us, alone.
और जो चीज़ें कह रहा है उन के हमें वारिस होंगे और हमारे पास अकेला आएगा
"Aur Allah ke siwa aur Khuda bana liye ke woh unhein zor dein"
(ف136)یعنی مال و اولاد ان سب سے اس کی مِلک اور اس کا تصرُّف اس کے ہلاک ہونے سے اٹھ جائے گا اور ۔(ف137)کہ نہ اس کے پاس مال ہوگا نہ اولاد اور اس کا یہ دعوٰی کرنا جھوٹا ہو جائے گا ۔
ہرگز نہیں (ف۱٤۰) کوئی دم جاتا ہے کہ وہ (ف۱٤۱) ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالفت ہوجائیں گے (ف۱٤۲)
Never; soon they will deny ever worshipping them, and will turn into their opponents.
हरगज़ नहीं कोई दम जाता है कि वह उनकी बंदगी से मंकर होंगे और उनके मुक़ालफ़त हो जाएँगे
"Kya tumne na dekha ke humne kafiron par Shaitan bheje ke woh unhein khoob uchhalte hain"
(ف140)ایسا ہو ہی نہیں سکتا ۔(ف141)بُت جنہیں یہ پوجتے تھے ۔(ف142)انہیں جھٹلائیں گے اور ان پر لعنت کریں گے اللہ تعالٰی انہیں زبان دے گا اور وہ کہیں گے یاربّ انہیں عذاب کر ۔
تو تم ان پر جلدی نہ کرو، ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں (ف۱٤۵)
So do not be impatient for them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); We are only completing their number.* (* The number of days left for them or their evil deeds.)
तो तुम उन पर जल्दी न करो, हम तो उनकी गिनती पूरी करते हैं
"Jis din hum parhezgaron ko Rahman ki taraf le jaayenge mehmaan bana kar"
(ف145)اعمال کی جزا کے لئے یا سانسوں کی فنا کے لئے یا دنوں مہینوں اور برسوں کی اس میعاد کے لئے جو ان کے عذاب کے واسطے مقرر ہے ۔
جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکر (ف۱٤٦)
On the day when We shall assemble the righteous towards the Most Gracious, as guests.
जिस दिन हम परहेज़गारों को रहमान की तरफ़ ले जाएँगे मेहमान बना कर
"Aur mujrimoon ko jahannam ki taraf haankenge, pyaase"
(ف146)حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ مومنینِ متّقین حشر میں اپنی قبروں سے سوار کر کے اٹھائیں جائیں گے اور ان کی سواریوں پر طلائی مرصّع زینیں اور پالان ہوں گے ۔
لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار رکھا ہے (ف۱٤۸)
People do not own the right to intercede, except those* who have made a covenant with the Most Gracious. (* The Holy Prophets and virtuous people will be given the permission to intercede. Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – will be the first to intercede.)
लोग शफ़ाअत के मालिक नहीं मगर वही जिन्होंने रहमान के पास क़रार रखा है
"Aur kafir bole, 'Rahman ne aulaad ikhtiyar ki'"
(ف148)یعنی جنہیں شفاعت کا اذن مل چکا ہے وہی شفاعت کریں گے یا یہ معنٰی ہیں کہ شفاعت صرف مومنین کی ہو گی اور وہی اس سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ حدیث شریف میں ہے جو ایمان لایا ، جس نے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا اس کے لئے اللہ کے نزدیک عہد ہے ۔
وَقَالُوۡا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا ؕ ﴿88﴾
اور کافر بولے (ف۱٤۹) رحمن نے اولاد اختیار کی،
And the disbelievers said, “The Most Gracious has chosen an offspring.”
और काफ़िर बोले रहमान ने औलाद इख़्तियार की,
"Beshak tum had ki bhaari baat laaye"
(ف149)یعنی یہودی و نصرانی و مشرکین جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے کہ ۔
لَـقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡــًٔـا اِدًّا ۙ ﴿89﴾
بیشک تم حد کی بھاری بات لائے (ف۱۵۰)
You have indeed brought an extremely grave speech!
बेशक तुम हद की भारी बात लाए
"Qareeb hai ke aasman us se phat padein aur zameen shaq ho jaaye aur pahad gir jaayein dhak kar (masmar ho kar)"
(ف150)اور انتہا درجہ کا باطل و نہایت سخت و شنیع کلمہ تم نے منہ سے نکالا ۔
قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھ کر (مسمار ہو کر) (ف۱۵۱)
The heavens are close to being torn apart by it, and the earth being split asunder, and the mountains succumbing and falling down.
क़रीब है कि आसमान उससे फट पड़ें और ज़मीन शक हो जाए और पहाड़ गिर जाएँ ढ़ कर (मिस्मार हो कर)
"Is par ke unhone Rahman ke liye aulaad batai"
(ف151)یعنی یہ کلمہ ایسی بے ادبی و گستاخی کا ہے کہ اگر اللہ تعالٰی غضب فرمائے تو اس پر تمام جہان کا نظام درہم برہم کر دے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ کُفّار نے جب یہ گستاخی کی اور ایسا بے باکانہ کلمہ منہ سے نکالا تو جن و انس کے سوا آسمان ، زمین ، پہاڑ وغیرہ تمام خَلق پریشانی سے بے چین ہو گئی اور قریب ہلاکت کے پہنچ گئی ملائکہ کو غضب ہوا اور جہنّم کو جوش آیا پھر اللہ تعالٰی نے اپنی تنزیہ بیان فرمائی ۔
اَنۡ دَعَوۡا لِـلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا ۚ ﴿91﴾
اس پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد بتائی،
Due to their ascribing of an offspring to the Most Gracious.
उस पर कि उन्होंने रहमान के लिए औलाद बताई,
"Aur Rahman ke laayiq nahin ke aulaad ikhtiyar kare"
آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے، (ف۱۵۳)
All those who are in the heavens and the earth will come to the Most Gracious as His bondmen.
आसमानों और ज़मीन में जितने हैं सब उसके हज़ूर बंदे हो कर हाज़िर होंगे,
"Beshak woh unka shumar jaanta hai aur unko ek ek kar ke gin rakha hai"
(ف153)بندہ ہونے کا اقرار کرتے ہوئے اور بندہ ہونا اور اولاد ہونا جمع ہو ہی نہیں سکتا اور اولاد مملوک نہیں ہوتی تو جو مملوک ہے ہر گز اولاد نہیں ۔
لَـقَدۡ اَحۡصٰٮهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا ﴿94﴾
بیشک وہ ان کا شمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے گن رکھا ہے (ف۱۵٤)
He knows their number and has counted each one of them.
बेशक वह उनका शुमार जानता है और उन्हें एक-एक कर के गिन रखा है
"Aur un mein har ek roz qayamat uske huzoor akela hazir ho ga"
(ف154)سب اس کے علم میں محصور و محاط ہیں اور ہر ایک کے انفاس ، ایام ، آثار اور تمام احوال اور جملہ امور اس کے شمار میں ہیں اس پر کچھ مخفی نہیں سب اس کی تدبیر و قدرت کے تحت میں ہیں ۔
بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمن محبت کردے گا (ف۱۵٦)
Indeed those who believed and did good deeds – the Most Gracious will appoint love for them. (In the hearts of other believers.)
बेशक वह जो ईमान लाए और अच्छे काम किए आनक़रीब उनके लिए रहमान मुहब्बत कर देगा
"To humne yeh Quran tumhari zubaan mein yun hi aasan farmaaya ke tum is se dar walon ko khushkhabri do aur jhagaralu logon ko is se dar sunao"
(ف156)یعنی اپنا محبوب بنائے گا اور اپنے بندوں کے دل میں ان کی مَحبت ڈال دے گا ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالٰی کسی بندے کو محبوب کرتا ہے تو جبریل سے فرماتا ہے کہ فلانا میرا محبوب ہے جبریل اس سے مَحبت کرنے لگتے ہیں پھر حضرت جبریل آسمانوں میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی فلاں کو محبوب رکھتا ہے سب اس کو محبوب رکھیں تو آسمان والے اس کو محبوب رکھتے ہیں پھر زمین میں اس کی مقبولیت عام کر دی جاتی ہے ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مومنینِ صالحین و اولیائے کاملین کی مقبولیتِ عامہ ان کی محبوبیت کی دلیل ہے جیسے کہ حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت سلطان نظام الدین دہلوی اور حضرت سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالٰی عنہم اور دیگر حضرات اولیائے کاملین کی عام مقبولیتیں ان کی محبوبیت کی دلیل ہیں ۔
تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں یونہی آسان فرمایا کہ تم اس سے ڈر والوں کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس سے ڈر سناؤ،
We have therefore made this Qur’an easy upon your tongue, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) for you to announce glad tidings with it to those who fear, and warn those who are quarrelsome.
तो हमने यह कुरआन तुम्हारी ज़बान में युनही आसान फरमाया कि तुम उससे डर वालों को खुशख़बरी दो और झगड़ालू लोगों को उससे डर सुनाओ,
"Aur humne un se pehle kitni sangatain khapai (qomain halaak ki) kya tum un mein kisi ko dekhte ho ya un ki bhank (zara bhi aawaz) sunte ho"
",
اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (قومیں ہلاک کیں) (ف۱۵۷) کیا تم ان میں کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک (ذرا بھی آواز) سنتے ہو (ف۱۵۸)
And many a generation We did destroy before them; do you see any one of them or hear their faintest sound?
और हमने उन से पहले कितनी संगतें खपाईं (क़ौमें हलाक़ कीं) क्या तुम उन में किसी को देखते हो या उनकी भनक (ज़रा भी आवाज़) सुनते हो
(ف157)تکذیبِ انبیاء کی وجہ سے کتنی بہت سی اُمّتیں ہلاک کیں ۔(ف158)وہ سب نیست و نابود کر دیئے گئے اسی طرح یہ لوگ اگر وہی طریقہ اختیار کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہو گا ۔
طٰهٰ ۚ ﴿1﴾
طٰهٰ
Ta-Ha.* (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) (Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals know their precise meanings.)
ऐ महबूब! हम ने तुम पर ये कुरआन इस लिए न उतारा कि मुश्किल में पड़ो
اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ مشقت میں پڑو (ف۲)
We have not sent down this Qur’an upon you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) for you to fall into hardship! (Either because he used to pray at length during the night or because he was distressed due to the disbelievers not accepting faith.)
हाँ इस को नसीहत जो डर रखता हो
Ae Mehboob! Humne tum par ye Qur'an is liye na utara ke mashaqat mein pado
(ف2)اور تمام شب کے قیام کی تکالیف اٹھاؤ ۔شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عبادت میں بہت جہد فرماتے تھے اور تمام شب قیام میں گزارتے یہاں تک کہ قدم مبارک ورم کر آتے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور جبریل علیہ السلام نے حاضر ہو کر بحکمِ الٰہی عرض کیا کہ اپنے نفسِ پاک کو کچھ راحت دیجئے اس کا بھی حق ہے ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لوگوں کے کُفر اور ان کے ایمان سے محروم رہنے پر بہت زیادہ متأسّف و متحسّر رہتے تھے اور خاطرِ مبارک پر اس سبب سے رنج و ملال رہا کرتا تھا اس آیت میں فرمایا گیا کہ آپ رنج و ملال کی کوفت نہ اٹھائیں قرآنِ پاک آپ کی مشقت کے لئے نازِل نہیں کیا گیا ہے ۔
اس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں اور جو کچھ اس گیلی مٹی کے نیچے ہے (ف٤)
To Him only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth, and all whatever is between them, and all whatever is beneath this wet soil.
और अगर तू बात पुकार कर कहे तो वह तो भेद को जानता है और उसे जो उससे भी ज़्यादा छुपा है
Iska hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein aur jo kuch unke beech mein aur jo kuch is gili mitti ke neeche hai
(ف4)جو ساتوں زمینوں کے نیچے ہے ۔ مراد یہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہے عرش و سماوات ، زمین و تحت الثرٰی ، کچھ ہو ،کہیں ہو ، سب کا مالک اللہ ہے ۔
اور اگر تو بات پکار کر کہے تو وہ تو بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے (ف۵)
And if you speak aloud – so He surely knows the secret and that which is more concealed.
अल्लाह कि उसके सिवा किसी की बंदगी नहीं, उसी के हैं सब अच्छे नाम
Aur agar tu baat pukār kar kahe to woh to bhed ko jaanta hai aur use jo us se bhi zyada chhupa hai
(ف5)سِر یعنی بھید وہ ہے جس کو آدمی رکھتا اور چُھپاتا ہے اور اس سے زیادہ پوشیدہ وہ ہے جس کو انسان کرنے والا ہے مگر ابھی جانتا بھی نہیں نہ اس سے اس کا ارادہ متعلق ہوا ، نہ اس تک خیال پہنچا ۔ ایک قول یہ ہے کہ بھید سے مراد وہ ہے جس کو انسانوں سے چُھپاتا ہے اور اس سے زیادہ چُھپی ہوئی چیز وسوسہ ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ بھید بندہ کا وہ ہے جسے بندہ خود جانتا ہے اور اللہ تعالٰی جانتا ہے اس سے زیادہ پوشیدہ ربّانی اسرار ہیں جن کو اللہ جانتا ہے بندہ نہیں جانتا ۔ آیت میں تنبیہ ہے کہ آدمی کو قبائحِ افعال سے پرہیز کرنا چاہیئے وہ ظاہرہ ہوں یا باطنہ کیونکہ اللہ تعالٰی سے کچھ چُھپا نہیں اوراس میں نیک اعمال پر ترغیب بھی ہے کہ طاعت ظاہر ہو یا باطن اللہ سے چھپی نہیں وہ جزا عطا فرمائے گا ۔ تفسیرِ بیضاوی میں قول سے ذکرِ الٰہی اور دعا مراد لی ہے اور فرمایا ہے کہ اس آیت میں اس پر تنبیہہ کی گئی ہے کہ ذکر و دعا میں جہر اللہ تعالٰی کو سنانے کے لئے نہیں ہے بلکہ ذکر کو نفس میں راسخ کرنے اور نفس کو غیر کے ساتھ مشغولی سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے ہے ۔
اللہ کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اسی کے ہیں سب اچھے نام (ف٦)
Allah – there is no worship except for Him; His only are the best names.
और कुछ तुम्हें मूसा की ख़बर आई
Allah ke uske siwa kisi ki bandagi nahi, isi ke hain sab achhe naam
(ف6)وہ واحد بالذات ہے اور اسماء و صفات عبارات ہیں اور ظاہر ہے کہ تعدّدِ عبارات تعدّدِ معنٰی کو مقتضی نہیں ۔
وَهَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰىۘ ﴿9﴾
اور کچھ تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۷)
And did the news of Moosa reach you?
जब उसने एक आग देखी तो अपनी बीबी से कहा ठहरो मुझे एक आग नज़र पड़ी है शायद मैं तुम्हारे लिए इस में से कोई चुन गारी लाऊँ या आग पर रास्ता पाऊँ,
Aur kuch tumhein Moosa ki khabar aayi
(ف7)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے احوال کا بیان فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ انبیاء علیہم السلام جو درجۂ عُلیا پاتے ہیں وہ ادائے فرائضِ نبوّت و رسالت میں کس قدر مشقّتیں برداشت کرتے اور کیسے کیسے شدائد پر صبر فرماتے ہیں ۔ یہاں حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اس سفر کا واقعہ بیان فرمایا جاتا ہے جس میں آپ مدیَن سے مِصر کی طرف حضرت شعیب علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اجازت لے کر اپنی والدہ ماجدہ سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے تھے ، آپ کے اہلِ بیت ہمراہ تھے اور آپ نے بادشاہانِ شام کے اندیشہ سے سڑک چھوڑ کر جنگل میں قطعِ مسافت اختیار فرمائی ، بی بی صاحبہ حاملہ تھیں ، چلتے چلتے طور کے غربی جانب پہنچے یہاں رات کے وقت بی بی صاحبہ کو دردِ زہ شروع ہوا ، یہ رات اندھیری تھی ، برف پڑ رہا تھا ، سردی شدت کی تھی ، آپ کو دور سے آ گ معلوم ہوئی ۔
جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا ٹھہرو مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں تمہارے لیے اس میں سے کوئی چنگاری لاؤں یا آگ پر راستہ پاؤں،
When he saw a fire and said to his wife, “Wait – I have seen a fire – perhaps I may bring you an ember from it or find a way upon the fire.”
फिर जब आग के पास आया नदा फ़रमाई गई कि ऐ मूसा,
Jab usne ek aag dekhi to apni biwi se kaha thahro mujhe ek aag nazar padi hai shayad main tumhare liye is mein se koi chun gārī laun ya aag par rasta paun
فَلَمَّاۤ اَتٰٮهَا نُوۡدِىَ يٰمُوۡسٰىؕ ﴿11﴾
پھر جب آگ کے پاس آیا (ف۸) ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ،
So when he came near the fire, it was announced, “O Moosa!”
बेशक मैं तेरा रब हूँ तू अपने जूते उतार डाल बेशक तू पाक जंगल तोवा में है
Phir jab aag ke paas aaya nada farmaayi gayi ke ae Moosa,
(ف8)وہاں ایک درخت سرسبز و شاداب دیکھا جو اوپر سے نیچی تک نہایت روشن تھا جتنا اس کے قریب جاتے ہیں دور ہوتا ہے جب ٹھہر جاتے ہیں قریب ہوتا ہے اس وقت آپ کو ۔
بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار ڈال (ف۹) بیشک تو پاک جنگل طویٰ میں ہے (ف۱۰)
“Indeed I am your Lord, therefore take off your shoes; indeed you are in the holy valley of Tuwa!”
और मैंने तुझे पसंद किया अब कान लगाकर सुन जो तुझे वहीह होती है,
Beshak main tera Rab hoon to tu apne jootay utar daal beshak tu paak jungle Ṭuwā mein hai
(ف9)کہ اس میں تواضع اور بقعۂ معظّمہ کا احترام اور وادیٔ مقدّس کی خاک سے حصولِ برکت کا موقع ہے ۔(ف10)طوٰی وادی کا مقدّس کا نام ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا ۔
اور میں نے تجھے پسند کیا (ف۱۱) اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے،
“And I have chosen you, therefore listen carefully to what is divinely revealed to you.”
बेशक मैं ही हूँ अल्लाह कि मेरे सिवा कोई मआबूद नहीं तो मेरी बंदगी कर और मेरी याद के लिए नमाज़ कायम रख
Aur main ne tujhe pasand kiya ab kaan laga kar sun jo tujhe wahi hoti hai
(ف11)تیری قوم میں سے نبوّت و رسالت و شرفِ کلام کے ساتھ مشرّف فرمایا ۔ یہ ندا حضرت موسٰی علیہ الصلیوۃ والسلام نے اپنے ہر جزوِ بدن سے سنی اور قوّتِ سامعہ ایسی عام ہوئی کہ تمام جسمِ اقدس کان بن گیا سبحان اللہ ۔
بیشک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ (ف۱۲)
“Indeed it is Me, Allah – there is no God except I – therefore worship Me and keep the prayer established for My remembrance.”
बेशक कयामत आने वाली है करीब था कि मैं इसे सब से छुपाऊँ कि हर जान अपनी कोशिश का बदला पाए
Beshak main hi hoon Allah ke mere siwa koi ma'bood nahi to meri bandagi kar aur meri yaad ke liye namaz qaim rakh
(ف12)تاکہ تو اس میں مجھے یاد کرے اور میری یاد میں اخلاص ا ور میری رضا مقصود ہو کوئی دوسری غرض نہ ہو اسی طرح ریا کا دخل نہ ہو یا یہ معنٰی ہیں کہ تو میری نماز قائم رکھ تاکہ میں تجھے اپنی رحمت سے یاد فرماؤں ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے بعد اعظم فرائض نماز ہے ۔
بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں (ف۱۳) کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے (ف۱٤)
“The Last Day will surely come – it was close that I hide it from all – in order that every soul may get the reward of its effort.” (He revealed it to His Prophets, so that people may fear and get ready. The exact time is not revealed to the people.)
तू हरगज़ तुझे उसके मानने से वह बाज न रखे जो उस पर ईमान नहीं लाता और अपनी ख़्वाहिश के पीछे चला फिर तू हलाक हो जाए,
Beshak qayamat aane wali hai qareeb tha ke main ise sab se chhupaaun ke har jaan apni koshish ka badla paaye
(ف13)اور بندوں کو اس کے آنے کے خبر نہ دوں اور اس کے آنے کی خبر نہ دی جاتی اگر اس خبر دینے میں یہ حکمت نہ ہوتی ۔(ف14)اور اس کے خوف سے مَعاصی ترک کرے نیکیاں زیادہ کرے اور ہر وقت توبہ کرتا رہے ۔
تو ہرگز تجھے (ف۱۵) اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کے م پیچھے چلا (ف۱٦) پھر تو ہلاک ہوجائے،
“Therefore never let one, who does not accept faith in it and follows his own desires, prevent you from accepting this, so then you become ruined.”
और ये तेरे दाहिने हाथ में क्या है ऐ मूसा
To har guz tujhe is ke maanne se woh baaz na rakhe jo is par iman nahi lata aur apni khwahish ke peeche chala phir to halak ho jaye
(ف15)اے اُمّتِ موسٰی ۔ خِطاب بظاہر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو ہے اور مراد اس سے آپ کی اُمّت ہے ۔ (مدارک)(ف16)اگر تو اس کا کہنا مانے اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو ۔
وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰى ﴿17﴾
اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ (ف۱۷)
“And what is this in your right hand, O Moosa?”
عرض की ये मेरा असा है मैं इस पर ताकिया लगाता हूँ और इस से अपनी बकरियों पर पत्ते झाड़ता हूँ और मेरे इस में और काम हैं
Aur ye tere daahne haath mein kya hai ae Moosa
(ف17)اس سوال کی حکمت یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام اپنے عصا کو دیکھ لیں اور یہ بات قلب میں خوب راسخ ہو جائے کہ یہ عصا ہے تاکہ جس وقت وہ سانپ کی شکل میں ہو تو آپ کی خاطرِ مبارک پر کوئی پریشانی نہ ہو یا یہ حکمت ہے کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مانوس کیا جائے تاکہ ہیبتِ مکالمت کا اثر کم ہو ۔ (مدارک وغیرہ )
عرض کی یہ میرا عصا ہے (ف۱۸) میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں (ف۱۹)
He said, “This is my staff; I support myself on it, and I knock down leaves for my sheep with it, and there are other uses for me in it.”
फ़रमाया इसे डाल दे ऐ मूसा,
Arz ki ye mera asa hai main is par takiya lagata hoon aur is se apni bakriyon par patte jhaarta hoon aur mere is mein aur kaam hain
(ف18)اس عصا میں اوپر کی جانب دو شاخیں تھیں اور اس کا نام نبعہ تھا ۔(ف19)مثل توشہ اور پانی اٹھانے اور موذی جانوروں کو دفع کرنے اور اعداء سے محاربہ میں کام لینے وغیرہ کے ، ان فوائد کا ذکر کرنا بطریقِ شکرِ نِعَمِ الٰہیہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔
قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰى ﴿19﴾
فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ،
He said, “Put it down, O Moosa!
तू मूसा ने डाल दिया तो तभी वह दौड़ता हुआ साँप हो गया
Farmaaya ise daal de ae Moosa
فَاَلۡقٰٮهَا فَاِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴿20﴾
تو موسیٰ نے ڈال دیا تو جبھی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا (ف۲۰)
So Moosa put it down – thereupon it became a fast moving serpent.
फ़रमाया इसे उठाले और डर नहीं, अब हम इसे फिर पहली तरह कर देंगे
To Moosa ne daal diya to jabhi woh daurta hua saanp ho gaya
(ف20)اور قدرتِ الٰہی دکھائی گئی کہ جو عصا ہاتھ میں رہتا تھا اور اتنے کاموں میں آتا تھا اب اچانک وہ ایسا ہیبت ناک اژدہا بن گیا یہ حال دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کو خوف ہوا تو اللہ تعالٰی نے ان سے ۔
فرمایا اسے اٹھالے اور ڈر نہیں، اب ہم اسے پھر پہلی طرح کردیں گے (ف۲۱)
He said, “Pick it up and do not fear; We shall restore it to its former state.”
और अपना हाथ अपने बाजू से मिला खूब सफ़ेद निकलेगा बे किसी मर्ज के एक और निशानी
Farmaaya ise utha le aur dar nahi, ab hum ise phir pehli tarah kar denge
(ف21)یہ فرماتے ہی خوف جاتا رہا حتی کہ آپ نے اپنا دستِ مبارک اس کے منہ میں ڈال دیا اور وہ آپ کے ہاتھ لگاتے ہی مثلِ سابق عصا بن گیا اب اس کے بعد ایک اور معجِزہ عطا فرمایا جس کی نسبت ارشاد فرمایا ۔
اور اپنا ہاتھ اپنے بازو سے ملا (ف۲۲) خوب سپید نکلے گا بےکسی مرض کے (ف۲۳) ایک اور نشانی (ف۲٤)
“And put your hand inside your armpit – it will come out shining white, not due to any illness – one more sign.”
कि हम तुझे अपनी बड़ी बड़ी निशानियाँ दिखाएँ,
Aur apna haath apne baazu se mila khoob safed nikle ga be kisi marz ke ek aur nishani
(ف22)یعنی کفِ دستِ راست بائیں بازو سے بغل کے نیچے ملا کر نکالئے تو آفتاب کی طرح چمکتا نگاہوں کو خیرہ کرتا اور ۔(ف23)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے دستِ مبارک سے رات و دن میں آفتاب کی طرح نور ظاہر ہوتا تھا اور یہ معجِزہ آپ کے اعظم معجزات میں سے ہے جب آپ دوبارہ اپنا دست مبارک بغل کے نیچے رکھ کر بازو سے ملاتے تو وہ دستِ اقدس حالتِ سابقہ پر آ جاتا ۔(ف24)آپ کے صدقِ نبوّت کی عصا کے بعد اس نشانی کو بھی لیجئے ۔
لِنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡـكُبۡـرٰىۚ ﴿23﴾
کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں،
“In order that We may show you Our great signs.”
फ़िरौन के पास जा उसने सर उठाया
Ke hum tujhe apni bari bari nishaniyan dikhayein
اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴿24﴾
فرعون کے پاس جا (ف۲۵) اس نے سر اٹھایا (ف۲٦)
“Go to Firaun, he has rebelled.”
عرض की ऐ मेरे रब मेरे लिए मेरा सीन खुला दे
Fir'awn ke paas ja usne sar uthaya
(ف25)رسول ہو کر ۔(ف26)اور کُفر میں حد سے گزر گیا اور الوہیّت کا دعوٰی کرنے لگا ۔
قَالَ رَبِّ اشۡرَحۡ لِىۡ صَدۡرِىْ ۙ ﴿25﴾
عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے (ف۲۷)
Said Moosa, “My Lord, open up my breast for me.”
और मेरे लिए मेरा काम आसान कर,
Arz ki ae mere Rab mere liye mera seenā khol de
(ف27)اور اسے تحمّلِ رسالت کے لئے وسیع فرما دے ۔
وَيَسِّرۡ لِىۡۤ اَمۡرِىْ ۙ ﴿26﴾
اور میرے لیے میرا کام آسان کر،
“And make my task easy for me.”
और मेरी ज़बान की ग्रेह खोल दे,
Aur mere liye mera kaam aasan kar
وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِیْ ۙ ﴿27﴾
اور میری زبان کی گرہ کھول دے، (ف۲۸)
“And untie the knot of my tongue.”
कि वे मेरी बात समझें,
Aur meri zubaan ki girah khol de
(ف28)جو خورد سالی میں آ گ کا انگارہ منہ میں رکھ لینے سے پڑ گئی ہے اور اس کا واقعہ یہ تھا کہ بچپن میں آپ ایک روز فرعون کی گود میں تھے آپ نے اس کی داڑھی پکڑ کر اس کے منہ پر زور سے طمانچہ مارا اس پر اسے غصہ آیا اور اس نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا آسیہ نے کہا کہ اے بادشاہ یہ نادان بچہ ہےکیا سمجھے ؟ تو چاہے تو تجربہ کر لے اس تجربہ کے لئے ایک طشت میں آ گ اور ایک طشت میں یاقوت سرخ آپ کے سامنے پیش کئے گئے آپ نے یاقوت لینا چاہا مگر فرشتہ نے آپ کا ہاتھ انگارہ پر رکھ دیا اور وہ انگارہ آپ کے منہ میں دے دیا اس سے زبانِ مبارک جل گئی اور لکنت پیدا ہو گئی اس کے لئے آپ نے یہ دعا کی ۔
يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِیْ ﴿28﴾
کہ وہ میری بات سمجھیں،
“In order that they may understand my speech.”
और मेरे लिए मेरे घर वालों में से एक वज़ीर कर दे,
Ke woh meri baat samjhein
وَاجۡعَلْ لِّىۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِىْ ۙ ﴿29﴾
اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے، (ف۲۹)
“And appoint for me a viceroy from among my family.”
वह कौन मेरा भाई हारून,
Aur mere liye mere ghar walon mein se ek wazir kar de
(ف29)جو میرا معاون اور معتمد ہو ۔
هٰرُوۡنَ اَخِى ۙ ﴿30﴾
وہ کون میرا بھائی ہارون ،
“That is Haroon, my brother.”
उससे मेरी कमर मज़बूत कर,
Woh kaun mera bhai Haroon
اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِىْ ۙ ﴿31﴾
اس سے میری کمر مضبوط کر،
“Back me up with him.”
और उसे मेरे काम में शरीक कर
Is se meri kamar mazboot kar
وَاَشۡرِكۡهُ فِىۡۤ اَمۡرِىْ ۙ ﴿32﴾
اور اسے میرے کام میں شریک کر (ف۳۰)
“And make him a partner in my task.”
कि हम बक़्सरत तेरी पाकी बोलें,
Aur use mere kaam mein sharik kar
(ف30)یعنی امرِ نبوّت و تبلیغِ رسالت میں ۔
كَىۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًا ۙ ﴿33﴾
کہ ہم بکثرت تیری پاکی بولیں،
“In order that we may profusely proclaim Your Purity.”
और बक़्सरत तेरी याद करें
Ke hum baksurat teri paaki bolen
وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا ؕ ﴿34﴾
اور بکثرت تیری یاد کریں (ف۳۱)
“And profusely remember You.”
बेशक तू हमें देख रहा है
Aur baksurat teri yaad karein
(ف31)نمازوں میں بھی اور خارجِ نماز بھی ۔
اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴿35﴾
بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے (ف۳۲)
“Indeed You see us.”
फ़रमाया ऐ मूसा तेरी माँग तुझे अता हुई,
Beshak tu humein dekh raha hai
(ف32)ہمارے احوال کا عالِم ہے ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کی اس درخواست پر اللہ تعالٰی نے ۔
قَالَ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَـكَ يٰمُوۡسٰى ﴿36﴾
فرمایا اے موسیٰ تیری مانگ تجھے عطا ہوئی،
He said, “O Moosa, you have been granted your prayer.”
جب ہم نے تیری ماں کو الہام کیا جو الہام کرنا تھا (ف۳٤)
“When We inspired in your mother’s heart whatever was to be inspired.”
कि इस बच्चे को संदूक में रख कर दरिया में डाल दे, तो दरिया इसे किनारे पर डालें कि उसे वह उठाले जो मेरा दुश्मन और उसका दुश्मन और मैंने तुझ पर अपनी तरफ की मोहब्बत डाली और इस लिए कि तू मेरी निगाह के सामने तैयार हो
Jab humne teri maa ko ilhaam kiya jo ilhaam karna tha
(ف34)دل میں ڈال کر یا خواب کے ذریعے سے جبکہ انہیں آپ کی ولادت کے وقت فرعو ن کی طرف سے آپ کو قتل کر ڈالنے کا اندیشہ ہوا ۔
کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں (ف۳۵) ڈال دے ، تو دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھالے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن (ف۳٦) اور میں نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت ڈالی (ف۳۷) اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو (ف۳۸)
“That, ‘Put him into a chest and cast it into the river, so the river shall deposit it on to a shore – therefore one who is an enemy to Me and you, shall pick him up’; and I bestowed upon you love from Myself; and for you to be brought up in My sight.”
तेरी बहन चली फिर कहा क्या मैं तुम्हें वह लोग बताऊँ जो इस बच्चे की परवरिश करें तो हम तुझे तेरी माँ के पास फ़ीर लाए कि उसकी आँख ठंडी हो और ग़म न करे और तू ने एक जान को क़त्ल किया तो हमने तुझे ग़म से निजात दी और तुझे खूब जाँचा तू तो कई बरस मदीन वालों में रहा फिर तू एक ठहराए वादा पर हाज़िर हुआ ऐ मूसा!
Ke is bachche ko sandook mein rakh kar dariya mein daal de, to dariya use kinare par daale ke use woh utha le jo mera dushman aur us ka dushman aur main ne tujh par apni taraf ki mohabbat daali aur is liye ke tu meri nigah ke samne tayyar ho
(ف35)یعنی نیل میں ۔(ف36)یعنی فرعون چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی والدہ نے ایک صندو ق بنایا اور اس میں روئی بچھائی اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اس میں رکھ کر صندوق بند کر دیا اور اس کی درزیں روغنِ قیر سے بند کر دیں آپ اس صندوق کے اندر پانی میں پہنچے پھر اس صندوق کو دریائے نیل میں بہا دیا اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں گرتی تھی فرعون مع اپنی بی بی آسیہ نہر کے کنارہ بیٹھا تھا نہر میں صندوق آتا دیکھ کر اس نے غلاموں اور کنیزوں کو اس کے نکالنے کا حکم دیا وہ صندوق نکال کر سامنے لایا گیا کھولا تو اس میں ایک نورانی شکل فرزند جس کی پیشانی سے وجاہت و اقبال کے آثار نمودار تھے نظر آیا دیکھتے ہی فرعون کے دل میں ایسی مَحبت پیدا ہوئی کہ وہ وارفتہ ہو گیا اور عقل و حواس بجا نہ رہے اپنے اختیار سے باہر ہو گیا اس کی نسبت اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف37)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے انہیں محبوب بنایا اور خَلق کا محبوب کر دیا اور جس کو اللہ تبارک و تعالٰی اپنی محبوبیت سے نوازاتا ہے قلوب میں اس کی مَحبت پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا یہی حال حضرت موسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کا تھا جو آپ کو دیکھتا تھا اسی کے دل میں آپ کی مَحبت پیدا ہو جاتی تھی ۔ قتادہ نے کہا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی آنکھوں میں ایسی ملاحت تھی جسے دیکھ کر ہر دیکھنے والے کے دل میں مَحبت جوش مارنے لگتی تھی ۔(ف38)یعنی میری حفاظت و نگہبانی میں پرورش پائے ۔
تیری بہن چلی (ف۳۹) پھر کہا کیا میں تمہیں وہ لوگ بتادوں جو اس بچہ کی پرورش کریں (ف٤۰) تو ہم تجھے تیری ماں کے پاس پھیر لائے کہ اس کی آنکھ (ف٤۱) ٹھنڈی ہو اور غم نہ کرے (ف٤۲) اور تو نے ایک جان کو قتل کیا (ف٤۳) تو ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھے خوب جانچ لیا (ف٤٤) تو تو کئی برس مدین والوں میں رہا (ف٤۵) پھر تو ایک ٹھہرائے وعدہ پر حاضر ہوا اے موسیٰ! (ف٤٦)
“When your sister went, then said, ‘Shall I show you the people who may nurse him?’ And We brought you back to your mother in order to soothe her eyes and that she may not grieve; and you killed a man, so We freed you from sorrow, and tested you to the maximum; you therefore stayed for several years among the people of Madyan; then you came (here) at an appointed time, O Moosa.”
और मैंने तुझे ख़ास अपने लिए बनाया
Teri behan chali phir kaha kya main tumhein woh log bata doon jo is bachcha ki parwarish karein to hum tujhe teri maa ke paas pher laaye ke uski aankh thandi ho aur gham na kare aur tu ne ek jaan ko qatl kiya to humne tujhe gham se nijaat di aur tujhe khoob jaanch liya tu to kai baras Madain walon mein raha phir tu ek thahraye vaada par hazir hua ae Moosa!
(ف39)جس کا نام مریم تھا تاکہ وہ آپ کے حال کا تجسّس کرے اور معلوم کرے کہ صندوق کہاں پہنچا آپ کس کے ہاتھ آئے جب اس نے دیکھا کہ صندوق فرعون کے پاس پہنچا اور وہاں دودھ پلانے کے لئے دائیاں حاضر کی گئیں اور آپ نے کسی کی چھاتی کو منہ نہ لگایا تو آپ کی بہن نے ۔(ف40)ان لوگوں نے اس کو منظور کیا وہ اپنی والدہ کو لے گئیں آپ نے ان کا دودھ قبول فرمایا ۔(ف41)آپ کے دیدار سے ۔(ف42)یعنی غمِ فراق دور ہو اس کے بعد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ایک اور واقعہ کاذکر فرمایا جاتا ہے ۔(ف43)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرعون کی قوم کے ایک کافِر کو مارا تھا وہ مرگیا ، کہا گیا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر شریف بارہ سال کی تھی اس واقعہ پر آپ کو فرعون کی طرف سے اندیشہ ہوا ۔(ف44)محنتوں میں ڈال کر اور ان سے خلاصی عطا فرما کر ۔(ف45)مدیَن ایک شہر ہے مِصر سے آٹھ منزل فاصلہ پر یہاں حضرت شعیب علیہ الصلٰوۃ والسلام رہتے تھے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام مِصر سے مدیَن آئے اور کئی برس تک حضرت شعیب علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس اقامت فرمائی اور ان کی صاحبزادی صفوراء کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا ۔(ف46)یعنی اپنی عمر کے چالیسویں سال اور یہ وہ سن ہے کہ انبیاء کی طرف اس سن میں وحی کی جاتی ہے ۔
وَاصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِىۚ ﴿41﴾
اور میں نے تجھے خاص اپنے لیے بنایا (ف٤۷)
“And I created you especially for Myself.”
तू और तेरा भाई दोनों मेरी निशानियाँ लेकर जाओ और मेरी याद में सस्ती न करना,
Aur main ne tujhe khaas apne liye banaya
(ف47)اپنی وحی اور رسالت کے لئے تاکہ تو میرے ارادہ اور میری مَحبت پر تصرُّف کرے اور میری حُجّت پر قائم رہے اور میرے اور میری خَلق کے درمیان خِطاب پہنچانے والا ہو ۔
تو اس سے نرم بات کہنا (ف٤۹) اس امید پر کہ وہ دھیان کرے یا کچھ ڈرے (ف۵۰)
“And speak to him courteously, that perhaps he may ponder or have some fear.”
दोनों ने عرض किया, ऐ हमारे रब! बेशक हम डरते हैं कि वह हम पर ज़ियादती करे या शरारत से पेश आए,
To us se narm baat karna is ummeed par ke woh dhyaan kare ya kuch dare
(ف49)یعنی اس کو بہ نرمی نصیحت فرمانا اور نرمی کا حکم اس لئے تھا کہ اس نے بچپن میں آپ کی خدمت کی تھی اور بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ نرمی سے مراد یہ ہے کہ آپ اس سے وعدہ کریں کہ اگر وہ ایمان قبول کرے گا تو تمام عمر جوان رہے گا کبھی بڑھاپا نہ آئے گا اور مرتے دم تک اس کی سلطنت باقی رہے گی اور کھانے پینے اور نکاح کی لذّتیں تادمِ مرگ باقی رہیں گی ا ور بعدِ موت دخولِ جنتّ میسّر آئے گا جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرعون سے یہ وعدے کئے تو اس کو یہ بات بہت پسند آئی لیکن وہ کسی کام پر بغیر مشورۂ ہامان کے قطعی فیصلہ نہیں کرتا تھا ، ہامان موجود نہ تھا جب وہ آیا تو فرعون نے اس کو یہ خبر دی اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ہدایت پر ایمان قبول کر لوں ، ہامان کہنے لگا میں تو تجھ کو عاقل و دانا سمجھتا تھا تو رب ہے بندہ بنا چاہتا ہے ، تو معبود ہے عابد بننے کی خواہش کرتا ہے ؟ فرعون نے کہا تو نے ٹھیک کہا اور حضرت ہارون علیہ السلام مِصر میں تھے اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو حکم کیا کہ وہ حضرت ہارون کے پاس آئیں اور حضرت ہارون علیہ السلام کو وحی کی کہ حضرت موسٰی علیہ السلام سے ملیں چنانچہ وہ ایک منزل چل کر آپ سے ملے اور جو وحی انہیں ہوئی تھی اس کی حضرت موسٰی علیہ السلام کو اطلاع دی ۔(ف50)یعنی آپ کی تعلیم و نصیحت اس امید کے ساتھ ہونی چاہیئے تاکہ آپ کے لئے اجر اور اس پر الزامِ حُجّت اور قطع عذر ہو جائے اور حقیقت میں ہونا تو وہی ہے جو تقدیرِ الٰہی ہے ۔
فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں (ف۵۱) سنتا اور دیکھتا (ف۵۲)
He said, “Do not fear – I am with you, All Hearing and All Seeing.”
तो उसके पास जाओ और उससे कहो कि हम तेरे रब के भेजे हुए हैं तो औलाद याक़ूब को हमारे साथ छोड़ दे और उन्हें तकलीफ़ न दे बेशक हम तेरे रब की तरफ से निशानी लाए हैं और सलामती उसे जो हिदायत की पेरवी करे
Farmaaya daro nahi main tumhare saath hoon sunta aur dekhta
تو اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں تو اولاد یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے (ف۵۳) اور انھیں تکلیف نہ دے (ف۵٤) بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے نشانی لائے ہیں (ف۵۵) اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے (ف۵٦)
“Therefore go to him and say, ‘We are the sent ones of your Lord, therefore let the Descendants of Israel go with us, and do not trouble them; we have indeed brought to you a sign from your Lord; and peace be upon him who follows the guidance.’
बेशक हमारी तरफ़ वहीह होती है कि अज़ाब उस पर है जो झٹلाए और मुँह फेरे
To us ke paas jao aur us se kaho ke hum tere Rab ke bheje hue hain to aulaad Yaqub ko humare saath chhod de aur unhein takleef na de beshak hum tere Rab ki taraf se nishani laaye hain aur salaamti usse jo hidaayat ki pairvi kare
(ف53)اور انہیں بندگی و اسیری سے رہا کر دے ۔(ف54)محنت و مشقت کے سخت کام لے کر ۔(ف55)یعنی معجزے جو ہمارے صدقِ نبوّت کی دلیل ہیں فرعون نے کہا وہ کیا ہیں ؟ تو آپ نے معجِزۂ یدِ بیضا دکھایا ۔(ف56)یعنی دونوں جہان میں اس کے لئے سلامتی ہے وہ عذاب سے محفوظ رہے گا ۔
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی (ف۵۹) پھر راہ دکھائی (ف٦۰)
He said, “Our Lord is One Who gave everything its proper shape, then showed the path.”
बोला अगली संगतों (क़ौमों) का क्या हाल है
Kaha hamara Rab woh hai jisne har cheez ko us ke layak soorat di phir raah dikhayi
(ف59)ہاتھ کو اس کے لائق ایسی کہ کسی چیز کو پکڑ سکے ، پاؤں کو اس کے قابل کہ چل سکے ، زبان کو اس کے مناسب کہ بول سکے ، آنکھ کو اس کے موافق کہ دیکھ سکے ، کان کو ایسی کہ سن سکے ۔(ف60)اور اس کی معرفت دی کہ دنیا کی زندگانی اور آخرت کی سعادت کے لئے اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کو کس طرح کام میں لایا جائے ۔
قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى ﴿51﴾
بولا (ف٦۱) اگلی سنگتوں (قوموں) کا کیا حال ہے (ف٦۲)
Said Firaun, “What is the state of the former generations?”
कहा उनका इल्म मेरे रब के पास एक किताब में है मेरा रब न बहके न भूले,
Bola agli sangaton (qomon) ka kya haal hai
(ف61)فرعون ۔(ف62)یعنی جو اُمّتیں گزر چکی ہیں مثل قومِ نوح و عاد و ثمود کے جو بُتوں کو پُوجتے تھے اور بَعث بعدالموت یعنی مرنے کے بعد زندہ کرکے اُٹھائے جانے کے منکِر تھے اس پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔
وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اور تمہارے لیے اس میں چلتی راہیں رکھیں اور آسمان سے پانی اتارا (ف٦٤) تو ہم نے اس سے طرح طرح کے سبزے کے جوڑے نکالے (ف٦۵)
The One Who has made the earth a bed for you and kept operative roads for you in it and sent down water from the sky; so with it We produced different pairs of vegetation.
तुम खाओ और अपने मवेशियों को चराओ बेशक इस में निशानियां हैं अक्ल वालों को,
Woh jisne tumhare liye zameen ko bichona kiya aur tumhare liye is mein chalti rahein rakhein aur aasman se paani utara to humne us se tarah tarah ke sabze ke jode nikaale
(ف64)حضرت موسٰی علیہ السلام کا کلام تو یہاں تمام ہو گیا اب اللہ تعالٰی اہلِ مکہ کو خِطاب کر کے اس کو تتمیم فرماتا ہے ۔(ف65)یعنی قِسم قِسم کے سبزے مختلف رنگتوں خوشبویوں شکلوں کے ، بعض آدمیوں کے لئے بعض جانوروں کے لئے ۔
تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے (ف۷٤) تو ہم میں اور اپنے میں ایک وعدہ ٹھہرا دو جس سے نہ ہم بدلہ لیں نہ تم ہموار جگہ ہو،
“So we will also produce before you a similar magic, therefore set up an agreed time between us and you, from which neither we nor you shall turn away, at a level place.”
मूसा ने कहा तुम्हारा वादा मेले का दिन है और यह कि लोग दिन चढ़े इकट्ठे किए जाएँ
To zaroor hum bhi tumhare aage waisa hi jadoo laayein, to hum mein aur apne mein ek waada thahra do jis se na hum badla lein na tum, hamwar jagah ho
موسیٰ نے کہا تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے (ف۷۵) اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں (ف۷٦)
Said Moosa, “Your meeting is the day of the festival, and that the people be assembled at late morning.”
तो फिरौन फरा और अपने दाओं (फ़रेब) इकट्ठे किए फिर आया
Moosa ne kaha tumhara waada mele ka din hai aur ye ke log din charhe jamay kiye jaayen
(ف75)اس میلہ سے فرعونیوں کا میلہ مراد ہے جو ان کی عید تھی اور اس میں وہ زینتیں کر کر کے جمع ہوتے تھے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہ دن عاشوراء یعنی دسویں محرّم کا تھا اور اس سال یہ تاریخ سنیچر کو واقع ہوئی تھی ، اس روز کو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس لئے معیّن فرمایا کہ یہ روز ان کی غایتِ شوکت کا دن تھا اس کو مقرر کرنا اپنے کمالِ قوّت کا اظہار ہے نیز اس میں یہ بھی حکمت تھی کہ حق کا ظہور اور باطل کی رسوائی کے لئے ایسا ہی وقت مناسب ہے جب کہ اطراف و جوانب کے تمام لوگ مجتمع ہوں ۔(ف76)تاکہ خوب روشنی پھیل جائے اور دیکھنے والے باطمینان دیکھ سکیں اور ہر چیز صاف صاف نظر آئے ۔
ان سے موسیٰ نے کہا تمہیں خرابی ہو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو (ف۷۹) کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کردے اور بیشک نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا (ف۸۰)
Moosa said to them, “Ruin is to you – do not fabricate a lie against Allah, that He may destroy you by a punishment; and indeed one who fabricates lies has failed.”
तो अपने मामला में बाअहम़ विभिन्न हो गए और छिप कर मशवरा किया,
Un se Moosa ne kaha tumhein kharabi ho, Allah par jhoot na baandho ke woh tumhein azaab se halak kar de aur beshak namuraad raha jisne jhoot baandha
(ف79)کسی کو اس کا شریک کر کے ۔(ف80)اللہ تعالٰی پر ۔
تو اپنے معاملہ میں باہم مختلف ہوگئے (ف۸۱) اور چھپ کر مشاورت کی،
So they differed with one another in their task, and secretly conferred.
बोले बेशक ये दोनों जरूर जादूगर हैं चाहते हैं कि तुम्हें तुम्हारी ज़मीन ज़मीन से अपने जादू के ज़ोर से निकाल दें और तुम्हारा अच्छा دین ले जाएँ,
To apne maamla mein baaham mukhtalif ho gaye aur chhup kar mashauraat ki
(ف81)یعنی جادوگر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا یہ کلام سُن کر آپس میں مختلف ہو گئے ، بعض کہنے لگے کہ یہ بھی ہماری مثل جادوگر ہیں ، بعض نے کہا کہ یہ باتیں ہی جادوگروں کی نہیں وہ اللہ پرجھوٹ باندھنے کو منع کرتے ہیں ۔
بولے بیشک یہ دونوں (ف۸۲) ضرور جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری زمین زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں اور تمہارا اچھا دین لے جائیں،
They said, “Undoubtedly these two are magicians for sure, who wish to expel you from your land by the strength of their magic, and destroy your exemplary religion!”
तो अपना दाउ (फ़रेब) पका कर लो फिर पारा बाँध (सफ़ बँध) कर आओ आज मुराद को पहुँचा जो ग़ालिब रहा,
Bole beshak ye dono zaroor jadoogar hain, chahte hain ke tumhein tumhari zameen se apne jadoo ke zor se nikaal dein aur tumhara acha deen le jaayen
بولے (ف۸۳) اے موسیٰ یا تو تم ڈالو (ف۸٤) یا ہم پہلے ڈالیں (ف۸۵)
They said, “O Moosa, either you throw first – or shall we throw first?”
मूसा ने कहा बल्कि तुम्हें डालो तभी उनकी रस्सियां और लाठियाँ उनके जादू के ज़ोर से उनके ख़्याल में दौड़ती माली हुईं
Bole ae Moosa! Ya to tum daalo ya hum pehle daalein
(ف83)جادوگر ۔(ف84)پہلے اپنا عصا ۔(ف85)اپنے سامان ۔ ابتداء کرنا جادو گروں نے ادباً حضرت موسٰی علیہ السلام کی رائے مبارک پر چھوڑا اور اس کی برکت سے آخر کار اللہ تعالٰی نے انہیں دولتِ ایمان سے مشرف فرمایا ۔
موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو (ف۸٦) جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں (ف۸۷)
He said, “Rather, you may throw”; thereupon their cords and their staves, by the strength of their magic, appeared to him as if they were (serpents) moving fast.
तो अपने जी में मूसा ने ख़ौफ़ पाया,
Moosa ne kaha balki tumhein daalo, jabhi unki rasiyaan aur lathiyan unke jadoo ke zor se unke khayal mein daurte ma'loom hui
(ف86)یہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس لئے فرمایا کہ جو کچھ جادو کے مَکر ہیں پہلے وہ سب ظاہر کر چکیں اس کے بعد آپ معجِزہ دکھائیں اور حق باطل کو مٹائے اور معجِزہ سحر کو باطل کرے تو دیکھنے والوں کو بصیرت و عبرت حاصل ہو چنانچہ جادوگروں نے رسیاں لاٹھیاں وغیرہ جو سامان لائے تھے سب ڈال دیا اور لوگوں کی نظر بندی کر دی ۔(ف87)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دیکھا کہ زمین سانپوں سے بھر گئی اور مِیلوں کے میدان میں سانپ ہی سانپ دوڑ رہے ہیں اور دیکھنے والے اس باطل نظر بندی سے مسحور ہو گئے کہیں ایسا نہ ہو کہ بعض معجِزہ دیکھنے سے پہلے ہی اس کے گرویدہ ہو جائیں اور معجِزہ نہ دیکھیں ۔
We said, “Do not fear – it is you who is dominant.”
और डाल तो दे जो तेरे दाहिने हाथ में है और उनकी बनावटों को निगल जाएगा, वह जो बनाकर लाए हैं वह तो जादूगर का फ़रेब है, और जादूगर का भला नहीं होता कहीं आवे
اور ڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے (ف۸۸) اور ان کی بناوٹوں کو نگل جائے گا، وہ جو بناکر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے (ف۸۹)
“And cast down which is in your right hand – it will devour all that they have fabricated; what they have made is only a magician’s deceit; and a magician is never successful, wherever he comes.”
तो सब जादूगर सजदे में गिरा लिए गए बोले हम इस पर ईमान लाए जो हारून और मूसा का रब है
Aur daal to de jo tere daahne haath mein hai aur un ki banawat ko nigal jaayega, woh jo banakar laaye hain woh to jadoogar ka fareb hai, aur jadoogar ka bhala nahi hota kahin aave
(ف88)یعنی اپنا عصا ۔(ف89)پھر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات نے اپنا عصا ڈالا وہ جادوگروں کے تمام اژدہوں اور سانپوں کو نگل گیا اور آدمی اس کے خوف سے گھبرا گئے ، حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اسے اپنے دستِ مبارک میں لیا تو مثلِ سابق عصا ہو گیا یہ دیکھ کر جادوگروں کو یقین ہوا کہ یہ معجِزہ ہے جس سے سحر مقابلہ نہیں کر سکتا اور جادو کی فریب کاری اس کے سامنے قائم نہیں رہ سکتی ۔
(ف90)
سبحان اللہ کیا عجیب حال تھا جن لوگوں نے ابھی کفر و جحود کے لئے رسیاں اور عصا ڈالے تھے ابھی معجزہ دیکھ کر انہوں نے شکر و سجود کے لئے سر جھکا دیئے اور گردنیں ڈال دیں ۔ منقول ہے کہ اس سجدے میں انہیں جنّت اور دوزخ دکھائی گئی اور انہوں نے جنّت میں اپنے منازل دیکھ لئے ۔
Therefore all the magicians were thrown down prostrate – they said, “We accept faith in the One Who is the Lord of Haroon and Moosa.”
फिरौन बोला क्या तुम इस पर ईमान लाए पहले कि मैं तुम्हें इजाज़त दूँ, बेशक वह तुम्हारा बड़ा है जिसने तुम सब को जादू सिखाया तो मुझे क़सम है जरूर मैं तुम्हारे एक तरफ के हाथ और दूसरी तरफ के पाँव काटूँगा और तुम्हें खजूर के ढंड (तन) पर सुली चढ़ाऊँगा, और जरूर तुम जान जाओगे कि हम में किस का अज़ाब सख़्त और देरपा है
To sab jadoogar sajde mein giraye gaye, bole hum is par iman laaye jo Haroon aur Moosa ka Rab hai
(ف90)سبحان اللہ کیا عجیب حال تھا جن لوگوں نے ابھی کفر و جحود کے لئے رسیاں اور عصا ڈالے تھے ابھی معجزہ دیکھ کر انہوں نے شکر و سجود کے لئے سر جھکا دیئے اور گردنیں ڈال دیں ۔ منقول ہے کہ اس سجدے میں انہیں جنّت اور دوزخ دکھائی گئی اور انہوں نے جنّت میں اپنے منازل دیکھ لئے ۔
فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا (ف۹۱) تو مجھے قسم ہے ضرور میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا (ف۹۲) اور تمہیں کھجور کے ڈھنڈ (تنے) پر سُولی چڑھاؤں گا، اور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے (ف۹۳)
Said Firaun, “You accepted faith in him before I permitted you! He is indeed your leader who taught you magic; I therefore swear, I will cut off your hands and your legs from alternate sides, and crucify you on the trunks of palm-trees, and you will surely come to know among us two, whose punishment is more severe and more lasting.”
बोले हम हरगज़ तुम्हें तरजीह न देंगे उन रोशन दलीलों पर जो हमारे पास आईं हमें अपने पैदा करने वाले वाले की क़सम तो तुम कर चुके जो तुम्हें करना है तो इस दुनिया ही की ज़िंदगी में तो करेगा
Fir'awn bola kya tum is par iman laaye qabl is ke ke main tumhein ijaazat doon, beshak woh tumhara bada hai jisne tum sab ko jadoo sikhaya, to mujhe qasam hai zaroor main tumhare ek taraf ke haath aur doosri taraf ke paon kaatunga aur tumhein khajoor ke dhanḍ (tanne) par sooli charhaunga, aur zaroor tum jaan jao ge ke hum mein kis ka azaab sakht aur derpa hai
(ف91)یعنی جادو میں وہ استادِ کامل اور تم سب سے فائق ہیں ۔ (معاذا للہ)(ف92)یعنی داہنے ہاتھ اور بائیں پاؤں ۔(ف93)اس سے فرعون ملعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب سخت تر ہے یا ربُّ العالمین کا ، فرعون کا یہ متکبرانہ کلمہ سُن کر وہ جادوگر ۔
بولے ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے ان روشن دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں (ف۹٤) ہمیں اپنے پیدا کرنے والے والے کی قسم تو تو کر چک جو تجھے کرنا ہے (ف۹۵) تو اس دنیا ہی کی زندگی میں تو کرے گا (ف۹٦)
They said, “We shall never prefer you above the clear proofs that have come to us from the One Who has created us – therefore carry out what you want to; only in the life of this world will you be able to!”
बेशक हम अपने रब पर ईमान लाए कि वह हमारी ख़ताइयां बख़्श दे और वह जो तुमने हमें मजबूर किया जादू पर और अल्लाह बेहतर है और सबसे ज़्यादा बाक़ी रहने वाला
Bole hum har guz tujhe tarjih na deinge, in roshan daleelon par jo hamare paas aayen, humein apne paida karne wale ki qasam tu kar chuk jo tujhe karna hai to is duniya hi ki zindagi mein to karega
(ف94)یدِ بیضا اور عصائے موسٰی ۔ بعض مفسِّرین نے کہا ہے کہ ان کا استدلال یہ تھا کہ اگر تو حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجِزہ کو بھی سحر کہتا ہے تو بتا وہ رسّے اور لاٹھیاں کہاں گئیں ۔ بعض مفسِّرین کہتے ہیں کہ بیِّنات سے مراد جنّت اور اس میں اپنے منازل کا دیکھنا ہے ۔(ف95)ہمیں اس کی کچھ پروا نہیں ۔(ف96)آگے تو تیری کچھ مجال نہیں اور دنیا زائل اور یہاں کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے تو مہربان بھی ہو تو بقائے دوام نہیں دے سکتا پھر زندگانی دینا اور اس کی راحتوں کے زوال کا کیا غم بالخصوص اس کو جو جانتا ہے کہ آخرت میں اعمالِ دنیا کی جزا ملے گی ۔
بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں بخش دے اور وہ جو تو نے ہمیں مجبور کیا جادو پر (ف۹۷) اور اللہ بہتر ہے (ف۹۸) اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا (ف۹۹)
“Indeed we have accepted faith in our Lord, so that He may forgive us our sins and the magic which you forced us to perform; and Allah is Better, and the Most Lasting.”
बेशक जो अपने रब के हज़ूर मुजरिम हो कर आए तो जरूर उसके लिए जहन्नम है जिसमें न मरे न जिए
Beshak hum apne Rab par iman laaye ke woh hamari khataayein bakhsh de aur woh jo tu ne humein majboor kiya jadoo par aur Allah behtar hai aur sab se zyada baqi rehne wala
(ف97)حضرت موسٰی علیہ السلام کے مقابلے میں ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ فرعون نے جب جادوگروں کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے بلایا تھا تو جادو گروں نے فرعون سے کہا تھا کہ ہم حضرت موسٰی علیہ السلام کو سوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں چنانچہ اس کی کوشش کی گئی اور انہیں ایسا موقع بہم پہنچا دیا گیا ، انہوں نے دیکھا کہ حضرت خواب میں ہیں اور عصائے شریف پہرہ دے رہا ہے یہ دیکھ کر جادوگروں نے فرعون سے کہا کہ موسٰی جادوگر نہیں کیونکہ جادوگر جب سوتا ہے تو اس وقت اس کا جادو کام نہیں کرتا مگر فرعون نے انہیں جادو کرنے پر مجبور کیا ۔ اس کی مغفرت کے وہ اللہ تعالٰی سے طالب اور امیدوار ہیں ۔(ف98)فرمانبرداروں کو ثواب دینے میں ۔(ف99)بلِحاظ عذاب کرنے کے نافرمانوں پر ۔
اور جو اس کے حضور ایمان کے ساتھ آئے کہ اچھے کام کیے ہوں (ف۱۰۳) تو انھیں کے درجے اونچے ،
And the one who presents himself as a believer before Him, having done good deeds – so for them are the high ranks.
बसने के बाग़ जिनके नीचे नहरें बहें हमेशा उनमें रहें, और यह सिला है उसका जो पाक हुआ
Aur jo us ke huzoor iman ke saath aaye ke achhe kaam kiye hon to unke darje oonche, basne ke baagh jin ke neeche nahrain bahein, hamesha un mein rahein, aur ye sila hai us ka jo paak hua
(ف103)یعنی جن کا ایمان پر خاتمہ ہوا ہو اور انہوں نے اپنی زندگی میں نیک عمل کئے ہوں ، فرائض اور نوافل بجا لائے ہوں ۔
بسنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ان میں رہیں، اور یہ صلہ ہے اس کا جو پاک ہوا (ف۱۰٤)
Everlasting Gardens of Eden beneath which rivers flow, abiding in them for ever; and this is the reward of one who became pure.
और बेशक हमने मूसा को वहि की कि रातों रात मेरे बन्दों को ले चल और उनके लिए दरिया में सूखा रास्ता निकाल दे तुम्हें डर न होगा कि फिरौन आए और न खतरा
Aur beshak humne Moosa ko wahi ki ke raaton raat mere bandon ko le chal aur un ke liye dariya mein sookha rasta nikal de, tujhe dar nahi hoga ke Fir'awn aaye aur na khatra
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو وحی کی (ف۱۰۵) کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے چل (ف۱۰٦) اور ان کے لیے دریا میں سوکھا راستہ نکال دے (ف۱۰۷) تجھے ڈر نہ ہوگا کہ فرعون آلے اور نہ خطرہ (ف۱۰۸)
And We divinely inspired Moosa that, “Journey with My bondmen in a part of the night and strike a dry path in the sea for them, you shall have no fear of Firaun getting to you, nor any danger.”
तो उनके पीछे फिरौन पड़ा अपने لش्कर ले कर तो उन्हें दरिया ने ढाँप लिया जैसा ढाँप लिया,
To un ke peeche Fir'awn pada apne lashkar le kar, to unhein dariya ne dhaank liya jaisa dhaank liya
(ف105)جب کہ فرعون معجزات دیکھ کر راہ پر نہ آیا اور پندپذیر نہ ہوا اور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم اور زیادہ کرنے لگا ۔(ف106)مِصر سے اور جب دریا کے کنارے پہنچیں اور فرعونی لشکر پیچھے سے آئے تو اندیشہ نہ کر ۔(ف107)اپنا عصا مار کر ۔(ف108)دریا میں غرق ہونے کا ۔ موسٰی علیہ السلام حکمِ الٰہی پا کر شب کے اوّل وقت ستّر ہزار بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر مِصر سے روانہ ہو گئے ۔
اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن (ف۱۱۲) سے نجات دی اور تمہیں طور کی داہنی طرف کا وعدہ دیا (ف۱۱۳) اور تم پر من اور سلوی ٰ اتارا (ف۱۱٤)
O Descendants of Israel, indeed We rescued you from your enemy, and We made a covenant with you on the right side of Mount Tur, and sent down Manna and Salwa upon you.
खाओ जो पाक चीज़ें हमने तुम्हें रोज़ी दीं और इसमें ज़ियादती न करो कि तुम पर मेरा ग़ज़ब उतरे और जिस पर मेरा ग़ज़ब उतरा बेशक वह गिरा
Khao jo paak cheezen humne tumhein rozi di aur is mein zyada na karo ke tum par mera ghazab utre aur jis par mera ghazab utra, beshak woh gira
(ف112)یعنی فرعون اور اس کی قوم ۔(ف113)کہ ہم موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو وہاں توریت عطا فرمائیں گے جس پر عمل کیا جائے ۔(ف114)تِیہ میں اور فرمایا ۔
کھاؤ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اس میں زیادتی نہ کرو (ف۱۱۵) کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترا بیشک وہ گرا (ف۱۱٦)
“Eat the good clean things We have provided you, and do not exceed the limits in respect of it causing My wrath to descend upon you; and indeed the one on whom My wrath descended, has fallen.”
और बेशक मैं बहुत बख़्शने वाला हूँ उसे जिसने तौबा की और ईमान लाया और अच्छा काम किया फिर हिदायत पर रहा
Aur beshak main bohot bakshne wala hoon usse jisne tauba ki aur iman laya aur acha kaam kiya phir hidaayat par raha
(ف115)ناشکری اور کُفرانِ نعمت کر کے اور ان نعمتوں کی معاصی اور گناہوں میں خرچ کر کے یا ایک دوسرے پرظلم کر کے ۔(ف116)جہنّم میں اور ہلاک ہوا ۔
اور بیشک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی (ف۱۱۷) اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا (ف۱۱۸)
And indeed I am Most Oft Forgiving for him who repented and accepted faith and did good deeds, and then remained upon guidance.
और तुमने अपनी क़ौम से क्यों जल्दी की ऐ मूसा
Aur tu ne apni qaum se kyun jaldi ki ae Moosa?
(ف117)شرک سے ۔(ف118)تادمِ آخر ۔
وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰى ﴿83﴾
اور تو نے اپنی قوم سے کیوں جلدی کی اے موسیٰ (ف۱۱۹)
“And why did you come in haste ahead of your people, O Moosa?”
عرض की कि वे यह हैं मेरे पीछे और ऐ मेरे रब तेरी तरफ मैं जल्दी कर के हाज़िर हुआ कि तू रज़ी हो,
Arz kiya ke woh ye hain mere peeche aur ae mere Rab! Teri taraf main jaldi kar ke hazir hua ke tu raazi ho
(ف119)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام جب اپنی قوم میں سے ستّر آدمیوں کو منتخب کر کے توریت لینے طُور پر تشریف لے گئے پھر کلامِ پروردگار کے شوق میں ان سے آگے بڑھ گئے انہیں پیچھے چھوڑ دیا اور فرما دیا کہ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ ، اس پر اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا ۔ وَمَآ اَعْجَلَکَ تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔
فرمایا، تو ہم نے تیرے آنے کے بعد تیری قوم (ف۱۲۱) بلا میں ڈالا اور انھیں سامری نے گمراہ کردیا، (ف۱۲۲)
He said, “We have therefore tried your people after you came, and Samri has led them astray.”
तो मूसा अपनी क़ौम की तरफ पलटा ग़ुस्से में भरा अफ़सोस करता कहा ऐ मेरी क़ौम क्या तुम से तुम्हारे रब ने अच्छा वादा न था क्या तुम पर मुदत लंबी गुज़री या तुमने चाहा कि तुम पर तुम्हारे रब का ग़ज़ब उतरे तो तुमने मेरा वादा ख़िलाफ़ किया
To Moosa apni qaum ki taraf palta gussa mein bhara afsos karta kaha ae meri qaum! Kya tum se tumhare Rab ne acha waada na tha, kya tum par muddat lambi guzri ya tum ne chaha ke tum par tumhare Rab ka ghazab utre, to tum ne mera waada khilaf kiya?
(ف121)جنہیں آپ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ چھوڑا ہے ۔(ف122)گوسالہ پرستی کی دعوت دے کر ۔مسئلہ : اس آیت میں اِضلال یعنی گمراہ کرنے کی نسبت سامری کی طرف فرمائی گئی کیونکہ وہ اس کا سبب و باعث ہوا ۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی چیز کو سبب کی طرف نسبت کرنا جائز ہے اسی طرح کہہ سکتے ہیں کہ ماں باپ نے پرورش کی ، دینی پیشواؤں نے ہدایت کی ، اولیاء نے حاجت روائی فرمائی ، بزرگوں نے بلا دفع کی ۔ مفسِّرین نے فرمایا ہے کہ امور ظاہر میں منشاء و سبب کی طرف منسوب کر دیئے جاتے ہیں اگرچہ حقیقت میں ان کا موجِد اللہ تعالٰی ہے اور قرآنِ کریم میں ایسی نسبتیں بکثرت وارد ہیں ۔ (خازن)
تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا (ف۱۲۳) غصہ میں بھرا افسوس کرتا (ف۱۲٤) کہا اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ تھا (ف۱۲۵) کیا تم پر مدت لمبی گزری یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اترے تو تم نے میرا وعدہ خلاف کیا (ف۱۲٦)
So Moosa turned back to his people, angry and grieving; he said, “O my people, had not your Lord given you a good promise? Did a long time pass away for you, or did you wish that your Lord’s wrath come upon you, therefore you broke your promise with me?”
बोले हमने आपका वादा अपने इख़्तियार से ख़िलाफ़ न किया लेकिन हम से कुछ बोझ उठोए गए इस क़ौम के गहने तो हमने उन्हें डाल दिया फिर इसी तरह सामरी ने डाला
Bole hum ne aap ka waada apne ikhtiyar se khilaf na kiya, lekin hum se kuch bojh uthwaya gaya, is qaum ke gehne to hum ne unhein daal diya phir usi tarah Samri ne daala
(ف123)چالیس دن پورے کر کے توریت لے کر ۔(ف124)ان کے حال پر ۔(ف125)کہ وہ تمہیں توریت عطا فرمائے گا جس میں ہدایت ہے ، نور ہے ، ہزار سورتیں ہیں ، ہر سورت میں ہزار آیتیں ہیں ۔(ف126)اور ایسا ناقص کام کیا کہ گوسالہ کو پُوجنے لگے ، تمہارا وعدہ تو مجھ سے یہ تھا کہ میرے حکم کی اطاعت کرو گے اور میرے دین پر قائم رہو گے ۔
بولے ہم نے آپ کا وعدہ اپنے اختیار سے خلاف نہ کیا لیکن ہم سے کچھ بوجھ اٹھوائے گئے اس قوم کے گہنے کے (ف۱۲۷) تو ہم نے انھیں (ف۱۲۸) ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈالا (۱۲۹)
They said, “We did not renege on our promise to you on our own will, but we were made to carry the burdens of ornaments of the people, so we cast them – and similarly did Samri cast.”
तो उसने उनके लिए एक बछड़ा निकाला बेज़ान का धड़ गाय की तरह बोलता यह है तुम्हारा महबूद और मूसा का महबूद तो भूल गए
To us ne un ke liye ek bichhda nikaala, bejaan ka dhadh gai ke tarah bolta, ye hai tumhara ma’bood aur Moosa ka ma’bood, to bhool gaye
(ف127)یعنی قومِ فرعون کے زیوروں کے جو بنی اسرائیل نے ان لوگوں سے عاریت کے طور پر مانگ لئے تھے ۔(ف128)سامری کے حکم سے آ گ میں ۔(ف129)ان زیوروں کو جو اس کے پاس تھے اور اس خاک کو جو حضرت جبریل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے اس نے حاصل کی تھی ۔
تو اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا بےجان کا دھڑ گائے کی طرح بولتا (ف۱۳۰) یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود تو بھول گئے (ف۱۳۲)
He therefore made a calf for them – a lifeless body, making sounds like a cow – so they said, “This is your God and the God of Moosa; whereas Moosa has forgotten.”
तो क्या नहीं देखते कि वह उन्हें किसी बात का जवाब नहीं देता और उनके सिवा किसी बुरे भले का इख़्तियार नहीं रखता
To kya nahin dekhte ke woh unhein kisi baat ka jawab nahi deta aur un ke siwa kisi bure bhale ka ikhtiyar nahi rakhta
(ف130)یہ بچھڑا سامری نے بنایا اور اس میں کچھ سوراخ اس طرح رکھے کہ جب ان میں ہوا داخل ہو تو اس سے بچھڑے کی آواز کی طرح آواز پیدا ہو ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ اَسۡپِ جبریل کی خاک زیرِ قدم ڈالنے سے زندہ ہو کر بچھڑے کی طر ح بولتا تھا ۔(ف131)سامری اور اس کے متّبِعین ۔(ف132)یعنی موسٰی علیہ السلام معبود کو بھول گئے اور اس کو یہاں چھوڑ کر اس کی جستجو میں طور پر چلے گئے (معاذ اللہ) ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ نَسِیَ کا فاعِل سامری ہے اور معنی یہ ہیں کہ سامری نے جو بچھڑے کو معبود بنایا وہ اپنے ربّ کو بھول گیا یا وہ حُدوثِ اجسام سے استدلال کرنا بھول گیا ۔
تو کیا نہیں دیکھتے کہ وہ (ف۱۳۳) انھیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور ان کے سوا کسی برے بھلے کا اختیار نہیں رکھتا (ف۱۳٤)
So do they not see that it does not answer to any of their speech? And has no power to cause them any harm or benefit?
और बेशक उनसे हारून ने इससे पहले कहा था कि ऐ मेरी क़ौम यूँ ही है कि तुम इसके سبب फ़ितने में पड़े और बेशक तुम्हारा रब रहमान है तो मेरी पेरवी करो और मेरा हुक्म मानो,
Aur beshak un se Haroon ne is se pehle kaha tha ke ae meri qaum! Yunhi hai ke tum is ke sabab fitne mein pade aur beshak tumhara Rab Rahman hai, to meri pairvi karo aur mera hukum maano
(ف133)بچھڑا ۔(ف134)خِطاب سے بھی عاجز اور نفع و ضرر سے بھی ، وہ کس طرح معبود ہو سکتا ہے ۔
اور بیشک ان سے ہارون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اے میری قوم یونہی ہے کہ تم اس کے سبب فتنے میں پڑے (ف۱۳۵) اور بیشک تمہارا رب رحمن ہے تو میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو،
And undoubtedly Haroon had told them before it that, “O my people – you have needlessly fallen into trial because of this; and indeed your Lord is the Most Gracious, therefore follow me and obey my command.”
बोले हम तो इस पर आसन मारे जमे (पूजा के लिए बैठे) रहेंगें जब तक हमारे पास मूसा लौट के आएँ
Bole hum to is par aasan maare jamay (pooja ke liye baithe) rahenge jab tak hamare paas Moosa laut ke aayein
بولے ہم تو اس پر آسن مارے جمے (پوجا کے لیے بیٹھے) رہیں گے (ف۱۳٦) جب تک ہمارے پاس موسیٰ لوٹ کے آئیں (ف۱۳۷)
They said, “We will continue to squat* before it, till Moosa returns to us.” (* Continue worshipping it.)
मूसा ने कहा, ऐ हारून! तुम्हें किस बात ने रोका था जब तुमने उन्हें गुमराह होते देखा था कि मेरे पीछे आते
Moosa ne kaha, ae Haroon! Tumhein kis baat ne roka tha jab tum ne unhein gumrah hote dekha, ke mere peeche aate?
(ف136)گوسالہ پرستی پر قائم رہیں گے اور تمہاری بات نہ مانیں گے ۔(ف137)اس پر حضرت ہارون علیہ السلام ان سے علیٰحدہ ہو گئے اور ان کے ساتھ بارہ ہزار وہ لوگ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہ کی تھی ، جب حضرت موسٰی علیہ السلام واپس تشریف لائے تو آپ نے ان کے شور مچانے اور باجے بجانے کی آوازیں سنیں جو بچھڑے کے گرد ناچتے تھے تب آپ نے اپنے ستّر ہمراہیوں سے فرمایا یہ فتنہ کی آواز ہے جب قریب پہنچے اور حضرت ہارون کو دیکھا تو غیرتِ دینی سے جو آپ کی سَرِشۡت تھی جوش میں آ کر ان کے سر کے بال داہنے ہاتھ اورداڑھی بائیں میں پکڑی اور ۔
موسیٰ نے کہا ، اے ہارون! تمہیں کس بات نے روکا تھا جب تم نے انھیں گمراہ ہوتے دیکھا تھا کہ میرے پیچھے آتے (ف۱۳۸)
Said Moosa, “O Haroon – what prevented you when you saw them going astray?”
तो क्या तुमने मेरा हुक्म न माना,
To kya tum ne mera hukum na maana?
اَلَّا تَتَّبِعَنِؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِىْ ﴿93﴾
تو کیا تم نے میرا حکم نہ مانا،
“That you did not come after me? So did you disobey my order?”
कहा ऐ मेरी माँ जाए! न मेरी दाढ़ी पकड़ो और न मेरे सर के बाल मुझे यह डर हुआ कि तुम कहोगे तुमने बनी इस्राइल में फर्क़ डाल दिया और तुमने मेरी बात का इंतज़ार न किया
Kaha ae mere maa jaaye! Na meri daarhi pakdo aur na mere sar ke baal, mujhe ye dar hua ke tum kaho ge tum ne Bani Israel mein tafreeq daal diya aur tum ne meri baat ka intezaar na kiya
(ف138)اور مجھے خبر دے دیتے یعنی جب انہوں نے تمہاری بات نہ مانی تھی تو تم مجھ سے کیوں نہیں آ ملے کہ تمہارا ان سے جُدا ہونا بھی ان کے حق میں ایک زَجر ہوتا ۔
کہا اے میرے ماں جائے! نہ میری ڈاڑھی پکڑو اور نہ میرے سر کے بال مجھے یہ ڈر ہوا کہ تم کہو گے تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور تم نے میری بات کا انتظار نہ کیا (ف۱۳۹)
He said, “O son of my mother, do not clutch my beard nor the hair on my head; I feared that you may say, ‘You have caused a division among the Descendants of Israel and did not wait for my advice.’”
मूसा ने कहा अब तेरा क्या हाल है ऐ सामरी!
Moosa ne kaha ab tera kya haal hai ae Samri!
(ف139)یہ سن کر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سامری کی طرف متوجہ ہوئے چنانچہ ۔
قَالَ فَمَا خَطۡبُكَ يٰسَامِرِىُّ ﴿95﴾
موسیٰ نے کہا اب تیرا کیا حال ہے اے سامری! (ف۱٤۰)
Said Moosa, “And what is your explanation, O Samri?”
बोला मैंने वह देखा जो लोगों ने न देखा तो एक मुट्ठी भर ली फरिश्ते के निशान से फिर उसे डाल दिया और मेरे जी को यही भला लगा
Bola main ne woh dekha jo logon ne na dekha, to ek mutthi bhar li farishte ke nishan se, phir use daal diya aur mere jee ko yehi bhala laga
بولا میں نے وہ دیکھا جو لوگوں نے نہ دیکھا (ف۱٤۱) تو ایک مٹھی بھر لی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا (ف۱٤۲) اور میرے جی کو یہی بھلا لگا (ف۱٤۳)
He said, “I witnessed what the people did not witness – I therefore took a handful from the tracks* of the angel, then threw it** – and this is what seemed pleasing to my soul.” (* The marks left behind by the mount of Angel Jibreel. ** Into the mouth of the calf.)
कहा तो चलता बन कि दुनिया की ज़िंदगी में तेरी सज़ा यह है कि तो कहे छू न जा और बेशक तेरे लिए एक वादा का वक़्त है जो तुझ से ख़िलाफ़ न होगा और अपने इस महबूद को देख जिसके सामने तू दिन भर आसन मारे (पूजा के लिए बैठा) रहा क़सम है हम जरूर उसे जलाएँगे फिर रेज़ा रेज़ा कर के दरिया में बहाएँगे
Kaha tu chalta ban ke duniya ki zindagi mein teri saza ye hai ke tu kahe choo na ja aur beshak tere liye ek waada ka waqt hai jo tujh se khilaf na ho ga, aur apne is ma’bood ko dekh jiske samne tu din bhar aasan maare (pooja ke liye baithe) raha, qasam hai hum zaroor use jalaenge phir reza reza kar ke dariya mein bahaayenge
(ف141)یعنی میں نے حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا اور ان کو پہنچان لیا وہ اسپِ حیات پر سوار تھے ، میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں ان کے گھوڑے کے نشانِ قدم کی خاک لے لوں ۔(ف142)اس بچھڑے میں جس کو بنایا تھا ۔(ف143)اور یہ فعل میں نے اپنے ہی ہوائے نفس سے کیا کوئی دوسرا اس کا باعث و محرِّک نہ تھا اس پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔
کہا تو چلتا بن (ف۱٤٤) کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ (ف۱٤۵) تو کہے چھو نہ جا (ف۱٤٦) اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے (ف۱٤۷) جو تجھ سے خلاف نہ ہوگا اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو دن بھر آسن مارے (پوجا کے لیے بیٹھا) رہا (ف۱٤۸) قسم ہے ہم ضرور اسے جلائیں گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہائیں گے (ف۱٤۹)
Said Moosa, “Therefore go away, for in this life your punishment is that you exclaim ‘Do not touch!’* And indeed for you is a time appointed, which you cannot break; and look at your deity, in front of which you remained squatting the whole day; we swear we will surely burn it and, smashing it into bits, discharge it into the river.” (* He was cursed with a disease.)
तुम्हारा महबूद तो वही अल्लाह है जिसके सिवा किसी की बंदगी नहीं हर चीज़ को इसका इल्म माहित है,
Tumhara ma’bood to wohi Allah hai jiske siwa kisi ki bandagi nahi, har cheez ka us ka ilm maheet hai
(ف144)دور ہو جا ۔(ف145)جب تجھ سے کوئی ملنا چاہے جو تیرے حال سے واقف نہ ہو تو اس سے ۔(ف146)یعنی سب سے علیٰحدہ رہنا نہ تجھ سے کوئی چھوئے نہ تو کسی سے چھوئے ، لوگوں سے ملنا اس کے لئے کلّی طورپر ممنوع قرار دیا گیا اور ملاقات ، مکالمت ، خرید و فروخت ہر ایک کے ساتھ حرام کر دی گئی اور اگر اتفاقاً کوئی اس سے چھو جاتا تو وہ اور چھونے والا دونوں شدید بخار میں مبتلا ہوتے ، وہ جنگل میں یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی چھو نہ جانا اور وحشیوں اور درندوں میں زندگی کے دن نہایت تلخی و وحشت میں گزارتا تھا ۔(ف147)یعنی عذاب کے وعدے کا آخرت میں بعد اس عذابِ دنیا کے تیرے شرک و فساد انگیزی پر ۔(ف148)اور اس کی عبادت پر قائم رہا ۔(ف149)چنانچہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ایسا کیا اور جب آپ سامری کے اس فساد کو مٹا چکے تو بنی اسرائیل سے مخاطبہ فرما کر دینِ حق کا بیان فرمایا اور ارشاد کیا ۔
ہم ایسا ہی تمہارے سامنے اگلی خبریں بیان فرماتے ہیں اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے ایک ذکر عطا فرمایا (ف۱۵۰)
This is how We relate the former tidings to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and We have given you a Remembrance* from Ourselves. (*The Holy Qur’an.)
जो इससे मुँह फेरे तो बेशक वह क़ियामत के दिन एक बोझ उठाएगा
Jo us se munh phere to beshak woh qayamat ke din ek bojh uthaye ga
(ف150)یعنی قرآنِ پاک کہ وہ ذکرِ عظیم ہے اور جو اس کی طرف متوجہ ہو اس کے لئے اس کتابِ کریم میں نجات اور برکتیں ہیں اور اس کتابِ مقدّس میں اُمَمِ ماضیہ کے ایسے حالات کا ذکر و بیان ہے جو فکر کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے لائق ہیں ۔
اور تم سے پہاڑوں کو پوچھتے ہیں (ف۱٦۰) تم فرماؤ انھیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا ،
They ask you regarding the mountains; proclaim, “My Lord will blow them into bits and scatter them.”
तो ज़मीन को पट पर (चटील मैदान) ह्मवार कर छोड़ेगा
To zameen ko pat par (chatil maidan) hamwar kar chhodega
(ف160)شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ قبیلۂ ثقیف کے ایک آدمی نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن پہاڑوں کا کیا حال ہوگا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفۡصَفًا ۙ ﴿106﴾
تو زمین کو پٹ پر (چٹیل میدان) ہموار کر چھوڑے گا
“Therefore leaving the earth just as an empty plain.”
उस दिन पुकारने वाले के पीछे दौड़ेंगे इसमें कजी न होगी और सब आवाज़ें रहमान के हज़ूर पस्त हो कर रह जाएँगी तो तुम न सुनोगे मगर बहुत आहिस्ता आवाज़
Is din pukarne wale ke peeche daudenge, is mein kaji na ho gi aur sab aawazen Rahman ke huzoor past ho kar rah jaayengi, to tu na sunega magar bohot aahista aawaz
اس دن پکارنے والے کے پیچھے دوڑیں گے (ف۱٦۱) اس میں کجی نہ ہوگی (ف۱٦۲) اور سب آوازیں رحمن کے حضور (ف۱٦۳) پست ہو کر رہ جائیں گی تو تو نہ سنے گا مگر بہت آہستہ آواز (ف۱٦٤)
On that day they will run after a caller, there will be no deviation in it; and voices shall become hushed before the Most Gracious, so you will not hear except a faint sound.
उस दिन किसी की शफ़ा'त काम न देगी, मगर उसकी जिसे रहमान ने इज़्न दे दिया है और उसकी बात पसंद फरमाई,
Is din kisi ki shafaat kaam na de gi, magar us ki jise Rahman ne izn diya hai aur us ki baat pasand farmaayi
(ف161)جو انہیں روزِ قیامت موقَف کی طرف بلا ئے گا اور ندا کرے گا چلو رحمٰن کے حضور پیش ہو نے کو اور یہ پُکارنے والے حضرت اسرافیل ہوں گے ۔(ف162)اور اس دعوت سے کوئی انحراف نہ کر سکے گا ۔(ف163)ہیبت و جلال سے ۔(ف164)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ایسی کہ اس میں صرف لبوں کی جنبش ہوگی ۔
اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی، مگر اس کی جسے رحمن نے (ف۱٦۵) اذن دے دیا ہے اور اس کی بات پسند فرمائی،
On that day no one’s intercession shall benefit except his to whom the Most Gracious has given permission and whose word He has liked. (The Holy Prophets and virtuous people will be given the permission to intercede. Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – will be the first to intercede.)
वह जानता है जो कुछ उनके आगे है और जो कुछ उनके पीछे और उनका इल्म इसे नहीं घेर सकता
Woh jaanta hai jo kuch un ke aage hai aur jo kuch un ke peeche, aur un ka ilm use nahi gher sakta
وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ف۱٦٦) اور ان کا علم اسے نہیں گھیر سکتا (ف۱٦۷)
He knows all that is before them and all that is behind them, whereas their knowledge cannot encompass it.
और सब मुँह झुक जाएँगे इस ज़िंदा कायम रखने वाले के हज़ूर और बेशक नामुराद रहा जिसने ज़ुल्म का बोझ लिया
Aur sab munh jhuk jaayenge is zinda qaim rakhne wale ke huzoor, aur beshak namuraad raha jisne zulm ka bojh liya
(ف166)یعنی تمام ماضیات و مستقبلات اور جملہ امورِ دنیا و آخرت یعنی اللہ تعالٰی کا علم بندوں کے ذات و صفات اور جملہ حالات کو مُحیط ہے ۔(ف167)یعنی تمام کائنات کا علم ذاتِ الٰہی کا احاطہ نہیں کر سکتا ، اس کی ذات کا ادراک علومِ کائنات کی رسائی سے برتر ہے ، وہ اپنے اسماء و صفات اور آثارِ قدرت و شیونِ حکمت سے پہچانا جاتا ہے ۔شعر :کجا دریابد او را عقل چالاککہ اوبالا تر است ازحدِ ادراک نظر کن اندر اسماء وصفاتش کہ واقف نیست کس از کنہ ذاتش ۔بعض مفسِّرین نے اس آیت کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ علومِ خَلق معلوماتِ الٰہیہ کا احاطہ نہیں کر سکتے ۔ بظاہر یہ عبارتیں دو ہیں مگر مآل پر نظر رکھنے والے بآسانی سمجھ لیتے ہیں کہ فرق صرف تعبیر کا ہے ۔
اور سب منہ جھک جائیں گے اس زندہ قائم رکھنے والے کے حضور (ف۱٦۸) اور بیشک نامراد رہا جس نے ظلم کا بوجھ لیا (ف۱٦۹)
And all faces shall bow before the Living, the All Sustaining; and the one who bore the burden of injustice, has failed.
और जो कुछ नेक काम करे और हो मुसलमान तो उसे न ज़ियादती का ख़ौफ़ होगा और न नुक़सान का
Aur jo kuch nek kaam kare aur ho Musalman to use na ziadti ka khauf ho ga aur na nuqsan ka
(ف168)اور ہر ایک شانِ عجز و نیاز کے ساتھ حاضر ہو گا ، کسی میں سرکشی نہ رہے گی ، اللہ تعالٰی کے قہر و حکومت کا ظہورِ تام ہو گا ۔(ف169)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس کی تفسیر میں فرمایا جس نے شرک کیا ٹوٹے میں رہا اور بے شک شرک شدید ترین ظلم ہے اور جو اس ظلم کا زیرِ بار ہو کر موقَفِ قیامت میں آئے اس سے بڑھ کر نامراد کون ۔
اور جو کچھ نیک کام کرے اور ہو مسلمان تو اسے نہ زیادتی کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا (ف۱۷۰)
And the one who does some good deeds, and is a Muslim – he shall have no fear of injustice, nor suffer any loss.
और यूँ ही हमने इसे अरबी क़ुरआन उतारा और इसमें तरह तरह से अज़ाब के वादे दिए कि कहीं उन्हें डर हो या उनके दिल में कुछ सोच पैदा करे
Aur yunhi humne isay Arabi Qur’an utara aur is mein tarah tarah se azaab ke waade diye ke kahin unhein dar ho ya un ke dil mein kuch soch paida kare
(ف170)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ طاعت اور نیک اعمال سب کی قبولیت ایمان کے ساتھ مشروط ہے کہ ایمان ہو تو سب نیکیاں کار آمد ہیں اور ایمان نہ ہو تویہ سب عمل بے کار ۔
اور یونہی ہم نے اسے عربی قرآن اتارا اور اس میں طرح طرح سے عذاب کے وعدے دیے (ف۱۷۱) کہ کہیں انھیں ڈر ہو یا ان کے دل میں کچھ سوچ پیدا کرے (ف۱۷۲)
And this is how We revealed it as an Arabic Qur’an, and in different ways gave promises of punishment, that they may fear or it may create some pondering in their hearts.
तो सबसे बुलंद है अल्लाह सच्चा बादशाह और क़ुरआन में जल्दी न करो जब तक इसकी वही तुम्हें पूरी न होले और عرض करो कि ऐ मेरे रब! मुझे इल्म ज़्यादा दे,
To sab se buland hai Allah, sachcha Badshah, aur Qur’an mein jaldi na karo jab tak is ki wahi tumhein poori na ho le, aur arz karo ke ae mere Rab! Mujhe ilm zyada de
(ف171)فرائض کے چھوڑنے اور ممنوعات کا ارتکاب کرنے پر ۔(ف172)جس سے انہیں نیکیوں کی رغبت اور بدیوں سے نفرت ہو اور وہ پند و نصیحت حاصل کریں ۔
تو سب سے بلند ہے اللہ سچا بادشاہ (ف۱۷۳) اور قرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تمہیں پوری نہ ہولے (ف۱۷٤) اور عرض کرو کہ اے میرے رب! مجھے علم زیادہ دے،
Therefore Supreme is Allah, the True King; and do not hasten in the Qur’an (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) until its divine revelation has been completed to you; and pray, “My Lord, bestow me more knowledge.”
और बेशक हमने आदम को इससे पहले एक ताकीदि हुक्म दिया था तो वह भूल गया और हमने इसका क़सद न पाया,
Aur beshak humne Adam ko is se pehle ek taakidi hukum diya tha to woh bhool gaya aur humne is ka qasd na paaya
(ف173)جو اصل مالک ہے اور تمام بادشاہ اس کے محتاج ۔(ف174)شانِ نُزول : جب حضرت جبریل قرآنِ کریم لے کر نازل ہوتے تھے تو حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے اور جلدی کرتے تھے تاکہ خوب یاد ہو جائے ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی فرمایا گیا کہ آپ مشقت نہ اٹھائیں اورسورۂ قیامہ میں اللہ تعالٰی نے خود ذمہ لے کر آپ کی اور زیادہ تسلّی فرما دی ۔
اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدہ میں گرے مگر ابلیس، اس نے نہ مانا،
And when We commanded the angels, “Prostrate before Adam” – so they all prostrated, except Iblis; he refused.
तो हमने फरमाया, ऐ आदम! बेशक यह तेरा और तेरी बीबी का दुश्मन है तो ऐसा न हो कि वह तुम दोनों को जन्नत से निकाल दे फिर तो मशक्कत में पड़े
To humne farmaya, ae Adam! Beshak yeh tera aur teri biwi ka dushman hai, to aisa na ho ke woh tum dono ko Jannat se nikaal de, phir to mashaqat mein pade
تو ہم نے فرمایا، اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے (ف۱۷٦) تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے (ف۱۷۷)
We therefore said, “O Adam, he is your and your wife’s enemy, so may he not get you both out from heaven, so you then fall into hardship.”
बेशक तेरे लिए जन्नत में यह है कि न तो भूखा हो और न नंगा हो,
Beshak tere liye Jannat mein yeh hai ke na tu bhooka ho aur na nanga ho
(ف176)اس سے معلوم ہوا کہ صاحبِ فضل و شرف کی فضیلت کو تسلیم نہ کرنا اور اس کی تعظیم و احترام بجا لانے سے اعراض کرنا دلیلِ حسد و عداوت ہے ۔ اس آیت میں شیطان کا حضرت آدم کو سجدہ نہ کرنا آپ کے ساتھ اس کی دشمنی کی دلیل قرار دیا گیا ۔(ف177)اور اپنی غذا اور خوراک کے لئے زمین جوتنے ، کھیتی کرنے ، دانہ نکالنے ، پیسنے ، پکانے کی محنت میں مبتلا ہو اور چونکہ عورت کا نفقہ مرد کے ذمہ ہے اس لئے اس تمام محنت کی نسبت صرف حضرت آدم علیہ السلام کی طرف فرمائی گئی ۔
تو شیطان نے اسے وسوسہ دیا بولا، اے آدم! کیا میں تمہیں بتادوں ہمیشہ جینے کا پیڑ (ف۱۷۹) اور وہ بادشاہی کہ پرانی نہ پڑے (ف۱۸۰)
So the devil incited him, saying, “O Adam, shall I show you the tree of immortality and a kingdom that does not erode?”
तो इन दोनों ने इसमें से खा लिया अब उन पर उनकी शर्म की चीज़ें ज़ाहिर हुईं और जन्नत के पत्ते अपने ऊपर चिपकाने लगे और आदम से अपने रब के हुक्म में लघ्ज़िश हुई तो जो मतलब चाहता था उसकी राह न पाई
To in dono ne is mein se khaa liya, ab un par un ki sharam ki cheezen zahir ho gayin aur Jannat ke patte apne upar chipkane lage, aur Adam se apne Rab ke hukum mein laghzish waqea hui, to jo matlab chaaha tha us ki raah na paayi
(ف179)جس کو کھا کر کھانے والے کو دائمی زندگی حاصل ہو جاتی ہے ۔(ف180)اور اس میں زوال نہ آئے ۔
تو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں (ف۱۸۱) اور جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے (ف۱۸۲) اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی (ف۱۸٦)
So they both ate from it – thereupon their shame became manifest to them, and they started applying on themselves the leaves of heaven; and Adam lapsed in obeying his Lord, so did not reach his goal. (Of achieving immortality)
फिर इसके रब ने चुना तो इस पर अपनी रहमत से रुझू फरमाई और अपने क़urb़ ख़ास की राह दिखाई,
Phir us ke Rab ne chun liya to us par apni rehmat se rujoo farmayi aur apne qurb khaas ki raah dikhayi
(ف181)یعنی بہشتی لباس ان کے جسم سے اُتر گئے ۔(ف182)ستر چھپانے اور جسم ڈھکنے کے لئے ۔(ف183)اور اس درخت کے کھانے سے دائمی حیات نہ ملی پھر حضرت آدم علیہ السلام توبہ و اِستِغفار میں مشغول ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ سے دعا کی ۔
پھر اس کے رب نے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قرب خاص کی راہ دکھائی،
Then his Lord chose him, and inclined towards him with His mercy, and guided him.
फरमाया तुम दोनों मिल कर जन्नत से उतरो तुम में एक दूसरे का दुश्मन है, फिर अगर तुम सब को मेरी तरफ़ से हिदायत आए, तो जो मेरी हिदायत का पेरो हो वह न बहके न बदबख़्त हो
Farmaaya tum dono mil kar Jannat se utro, tum mein ek doosre ka dushman hai, phir agar tum sab ko meri taraf se hidaayat aaye, to jo meri hidaayat ka pairo ho woh na bhatke na badbakht ho
فرمایا تم دونوں مل کر جنت سے اترو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے، پھر اگر تم سب کو میری طرف سے ہدایت آئے، (ف۱۸٤) تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا وہ نہ بہکے (ف۱۸۵) نہ بدبخت ہو (ف۱۸٦)
He said, “Both of you go down from heaven, one of you is an enemy to the other; then if the guidance from Me comes to you – then whoever follows My guidance, will not go astray nor be ill-fated.”
और जिसने मेरी याद से मुँह फेरा तो बेशक उसके लिए तंग ज़िंदगी है और हम इसे क़ियामत के दिन अँधा उठाएँगे,
Aur jis ne meri yaad se munh phera to beshak us ke liye tang zindagani hai aur hum use qayamat ke din andha uthaayenge
(ف184)یعنی کتاب اور رسول ۔(ف185)یعنی دنیا میں ۔(ف186)آخرت میں کیونکہ آخرت کی بدبختی دنیا میں طریقِ حق سے بہکنے کا نتیجہ ہے تو جو کوئی کتابِ الٰہی اور رسولِ برحق کا اِتّباع کرے اور ان کے حکم کے مطابق چلے وہ دنیا میں بہکنے سے اور آخرت میں اس کے عذاب و وبال سے نجات پائے گا ۔
اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا (ف۱۸۷) تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے (ف۱۸۸) اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے،
“And the one who turned away from My remembrance – for him is a confined existence, and We shall raise him blind on the Day of Resurrection.”
कहेगा ऐ रब मेरे! मुझे तूने क्यों अँधा उठाया मैं तो अँखीरा (बिना) था
Kahe ga ae Rab mere! Mujhe to ne kyun andha uthaaya, main to ankhiyara (bina) tha
(ف187)اور میری ہدایت سے روگردانی کی ۔(ف188)دنیا میں یا قبر میں یا آخرت میں یا دین میں یا ان سب میں دنیا کی تنگ زندگانی یہ ہے کہ ہدایت کا اِتّباع نہ کرنے سے عملِ بد اور حرام میں مبتلا ہو یا قناعت سے محروم ہو کر گرفتارِ حرص ہو جائے اور کثرتِ مال و اسباب سے بھی اس کو فراخِ خاطر اور سکونِ قلب میسّر نہ ہو ، دل ہر چیز کی طلب میں آوارہ ہو اور حرص کے غموں سے کہ یہ نہیں وہ نہیں حال تاریک اور وقت خراب رہے اور مومن متوکِّل کی طرح اس کو سکون و فراغ حاصل ہی نہ ہو جس کو حیاتِ طیبہ کہتے ہیں قَالَ تَعَالیٰ فَلَنُحْیِیَنَّہ، حَیٰوۃً طَیِبَّۃً اور قبر کی تنگ زندگانی یہ ہے کہ حدیث شریف میں وارد ہوا کہ کافِر پر ننانوے اژدہے اس کی قبر میں مسلّط کئے جاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا شانِ نُزول : یہ آیت اسود بن عبد العزی مخزومی کے حق میں نازِل ہوئی اور قبر کی زندگانی سے مراد قبر کا اس سختی سے دبانا ہے جس سے ایک طرف کی پسلیاں دوسری طرف آ جاتی ہیں اور آخرت میں تنگ زندگانی جہنّم کے عذاب میں جہاں زقوم (تھوہڑ) اور کھولتا پانی اور جہنّمیوں کے خون اور ان کے پیپ کھانے پینے کو دی جائے گی اور دین میں تنگ زندگانی یہ ہے کہ نیکی کی راہیں تنگ ہو جائیں اور آدمی کسبِ حرام میں مبتلا ہو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ بندے کو تھوڑا ملے یا بہت اگر خوفِ خدا نہیں تو اس میں کچھ بھلائی نہیں اور یہ تنگ زندگانی ہے ۔ (تفسیرِ کبیر و خازن و مدارک وغیرہ)
اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں جو حد سے بڑھے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب سب سے سخت تر اور سب سے دیرپا ہے،
And this is how We reward him who transgresses and does not accept faith in the signs of his Lord; and indeed the punishment of the Hereafter is the most severe and more lasting.
तो क्या उन्हें इससे राह न मिली कि हमने उनसे पहले कितनी संगतें (क़ौमें) हलाक़ कर दीं कि ये उनके बसने की जगह चलते फिरते हैं बेशक इसमें निशानियां हैं अक्ल वालों को
Aur beshak aakhirat ka azaab sab se sakht tar aur sab se derpa hai
تو کیا انھیں اس سے راہ نہ ملی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک کردیں (ف۱۹۲) کہ یہ ان کے بسنے کی جگہ چلتے پھرتے ہیں (ف۱۹۳) بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو (ف۱۹٤)
So did they not gain guidance from (knowing) how many generations We have destroyed before them, among whose dwellings they walk? Indeed in it are signs for men of intellect.
और अगर तुम्हारे रब की एक बात न गज़र चुकी होती तो जरूर अज़ाब उन्हें लपेट जाता और अगर न होता एक वादा ठहराया हुआ
To kya unhein is se raah na mili ke humne un se pehle kitni sangatein (qomon) halaak kar di, ke ye un ke basne ki jagah chalte phirte hain, beshak is mein nishaniyan hain aqal walon ko
(ف192)جو رسولوں کو نہیں مانتی تھیں ۔(ف193)یعنی قریش اپنے سفروں میں ان کے دیار پر گزرتے ہیں اور ان کی ہلاکت کے نشان دیکھتے ہیں ۔(ف194)جو عبرت حاصل کریں اور سمجھیں کہ انبیاء کی تکذیب اور ان کی مخالفت کا انجام بُرا ہے ۔
اور اگر تمہارے رب کی ایک بات نہ گزر چکی ہوتی (ف۱۹۵) تو ضرور عذاب انھیں (ف۱۹٦) لپٹ جاتا اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ ٹھہرایا ہوا (ف۱۹۷)
And had not a command of your Lord been passed, then the punishment would have gripped them – and had a term not been appointed.
तो उनकी बातों पर सब्र करो और अपने रब को सराहते हुए उसकी पाकी बोलो सूरज चमकने से पहले और इसके डूबने से पहले और रात की घड़ियों में इसकी पाकी बोलो और दिन के किनारों पर इस उम्मीद पर कि तुम रज़ी हो
Aur agar tumhare Rab ki ek baat na guzri hoti to zaroor azaab unhein lipat jata, aur agar na hota ek waada thahraaya hua
(ف195)یعنی کہ یہ اُمّتِ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عذاب میں تاخیر کی جائے گی ۔(ف196)دنیا ہی میں ۔(ف197)یعنی روزِ قیامت ۔
تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے (ف۱۹۸) اور اس کے ڈوبنے سے پہلے (ف۱۹۹) اور رات کی گھڑیوں میں اس کی پاکی بولو (ف۲۰۰) اور دن کے کناروں پر (ف۲۰۱) اس امید پر کہ تم راضی ہو (ف۲۰۲)
Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), patiently forbear upon their speech, and praising your Lord proclaim His Purity, before the sun rises and before it sets; and proclaim His Purity at some times of the night and at the two ends of the day, in the hope that you be pleased. (*With the great reward from your Lord)
और ऐ सुनने वाले अपनी आँखें न फैला इस की तरफ़ जो हमने काफ़िरों के जोड़ो को बरतने के लिए दी है जितनी दुनिया की ताज़गी कि हम उन्हें इसके سبب फ़ित्ना में डालें और तुम्हारे रब का रोज़क़ सबसे अच्छा और सबसे देरपा है,
To un ki baaton par sabr karo aur apne Rab ko sarahte hue us ki paaki bolo, suraj chamakne se pehle aur us ke doobne se pehle aur raat ki ghadiyon mein us ki paaki bolo aur din ke kinare par is ummeed par ke tum raazi ho
(ف198)اس سے نمازِ فجر مراد ہے ۔(ف199)ا س سے ظہر و عصر کی نمازیں مراد ہیں جو دن کے نصفِ آخر میں آفتاب کے زوال و غروب کے درمیان واقع ہیں ۔(ف200)یعنی مغرب و عشا کی نمازیں پڑھو ۔(ف201)فجر و مغرب کی نمازیں ان کی تاکیداً تکرار فرمائی گئی اور بعض مفسِّرین قبلِ غروب سے نمازِ عصر اور اطرافِ نہار سے ظہر مراد لیتے ہیں ، ان کی توجیہہ یہ ہے کہ نمازِ ظہر زوال کے بعد ہے اور اس وقت دن کے نصفِ اوّل اور نصفِ آخر کے اطراف ملتے ہیں نصف اول کی انتہا ہے اور نصف آخر کی ابتدا ۔ (مدارک و خازن)(ف202)اللہ کے فضل و عطا اور اس کے انعام و اکرام سے کہ تمہیں اُمّت کے حق میں شفیع بنا کر تمہاری شفاعت قبول فرمائے اور تمہیں راضی کرے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے ۔ وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ۔
اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لیے دی ہے جتنی دنیا کی تازگی (ف۲۰۳) کہ ہم انھیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں (ف۲۰٤) اور تیرے رب کا رزق (ف۲۰۵) سب سے اچھا اور سب سے دیرپا ہے،
And O listener, do not extend your eyes towards what We have given to disbelieving couples to enjoy – the bloom of the worldly life – so that We may test them with it; and the sustenance of your Lord is the best, and more lasting.
और अपने घर वालों को नमाज़ का हुक्म दे और खुद इस पर सथिर रह, कुछ हम तुमसे रोज़ी नहीं माँगते हम तुम्हें रोज़ी देंगे और अंज़ाम का भला परहेज़ गारी के लिए,
Aur ae sunne wale apni aankhein na phela us ki taraf jo humne kaafiron ke joron ko bartne ke liye di hai, jitni duniya ki tazgi ke hum unhein is ke sabab fitna mein daalein, aur tere Rab ka rizq sab se acha aur sab se derpa hai
(ف203)یعنی اصناف و اقسامِ کُفّار یہود و نصارٰی وغیرہ کو جو دنیوی ساز و سامان دیا ہے مؤمن کو چاہیئے کہ اس کو استحسان و اعجاب کی نظر سے نہ دیکھے ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ نافرمانوں کے طمطراق نہ دیکھو لیکن یہ دیکھو کہ گناہ اور معصیت کی ذلّت کس طرح ان کی گردنوں سے نمودار ہے ۔(ف204)اس طرح کہ جتنی ان پر نعمت زیادہ ہو اتنی ہی ان کی سرکشی اور ان کا طُغیان بڑھے اور وہ سزائے آخرت کی سزاوار ہوں ۔(ف205)یعنی جنّت اور اس کی نعمتیں ۔
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور خود اس پر ثابت رہ، کچھ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے (ف۲۰٦) ہم تجھے روزی دیں گے (ف۲۰۷) اور انجام کا بھلا پرہیزگاری کے لیے،
And command your household to establish prayer, and yourself be steadfast in it; We do not ask any sustenance from you; We will provide you sustenance; and the excellent result is for piety.
और काफ़िर बोले यह अपने रब के पास से कोई निशानी क्यों नहीं लाते और क्या उन्हें इसका बयान न आया जो अगले सहीफ़ों में है
Aur apne ghar walon ko namaz ka hukum de aur khud is par sabit raho, kuch hum tujh se rozi nahi maangte, hum tujhe rozi denge aur anjaam ka bhala parhezgari ke liye
(ف206)اور اس کا مکلَّف نہیں کرتے کہ ہماری خَلق کو روزی دے یا اپنے نفس اور اپنے اہل کی روزی کا ذمہ دار ہو بلکہ ۔(ف207)اور انہیں بھی ، تو روزی کے غم میں نہ پڑ ، اپنے دل کو امرِ آخرت کے لئے فارغ رکھ کہ جو اللہ کے کام میں ہوتا ہے اللہ اس کی کارسازی کرتا ہے ۔
اور کافر بولے یہ (ف۲۰۸) اپنے رب کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے (ف۲۰۹) اور کیا انھیں اس کا بیان نہ آیا جو اگلے صحیفوں میں ہے (ف۲۱۰)
And the disbelievers said, “Why does he not bring to us a sign from his Lord?”; did not the explanation of what is in the former Books, come to them?
और अगर हम उन्हें किसी अज़ाब से हलाक़ कर देते रसूल के आने से पहले तो जरूर कहते ऐ हमारे रब! तूने हमारी तरफ़ कोई रसूल क्यों न भेजा कि हम तेरी आयतों पर चलते पहले कि ज़लिल व रसवां होते,
Aur kafir bole ye apne Rab ke paas se koi nishani kyun nahi late aur kya unhein is ka bayan na aaya jo agli sahifon mein hai
(ف208)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف209)جو ان کی صحتِ نبوّت پر دلالت کرے باوجودیکہ آیاتِ کثیرہ آ چکی تھیں اور معجزات کا متواتر ظہور ہو رہا تھا پھر کُفّار ان سب سے اندھے بنے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ کہہ دیا کہ آپ اپنے ربّ کے پاس سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ، اس کے جواب میں اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف210)یعنی قرآن اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت اور آپ کی نبوّت و بعثت کا ذکر ، یہ کیسے اعظم آیات ہیں ان کے ہوتے ہوئے اور کسی نشانی کی طلب کرنے کا کیا موقع ہے ۔
اور اگر ہم انھیں کسی عذاب سے ہلاک کردیتے رسول کے آنے سے پہلے تو (ف۲۱۱) ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے قبل اس کے کہ ذلیل و رسوا ہوتے،
And had We destroyed them with some punishment before the advent of a Noble Messenger, they would have certainly said, “Our Lord, why did You not send a Noble Messenger to us, so we would have followed Your signs, before being humiliated and disgraced?”
तुम फरमाओ सब राह देख रहे हैं तो तुम भी राह देखो तो अब जान जाओगे कि कौन हैं सीधी राह वाले और किसने हिदायत पाई
Aur agar hum unhein kisi azaab se halak kar dete Rasool ke aane se pehle, to zaroor kehte ae humare Rab! Tu ne hamari taraf koi Rasool kyun na bheja ke hum teri aayaton par chalte qabl is ke ke zaleel o ruswa hote,
تم فرماؤ سب راہ دیکھ رہے ہیں (ف۲۱۲) تو تم بھی راہ دیکھو تو اب جان جاؤ گے (ف۲۱۳) کہ کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے ہدایت پائی،
Proclaim, “Each one is waiting; so you too wait; very soon you will come to know who are the people of the right path, and who has attained guidance.”
(ف212)ہم بھی اور تم بھی ۔شانِ نُزول : مشرکین نے کہا تھا کہ ہم زمانے کے حوادِث اور انقلاب کا انتظار کرتے ہیں کہ کب مسلمانوں پر آئیں اور ان کا قصہ تمام ہو ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ تم مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا انتظار کر رہے ہو اورمسلمان تمہارے عقوبت و عذاب کا انتظار کر رہے ہیں ۔(ف213)جب خدا کا حکم آئے گا اور قیامت قائم ہو گی ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page