لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں منہ پھیرے ہیں (ف۲)
The people’s reckoning is near, whereas they are in neglect, turned away!
लोगों का हिसाब नज़दीक और वह ग़फ़लत में मुँह फेरें हैं
Logon ka hisaab nazdeek aur woh ghaflat mein munh phere hain
(ف2)یعنی حسابِ اعمال کا وقت روزِ قیامت قریب آ گیا اور لوگ ابھی تک غفلت میں ہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت منکرینِ بَعث کے حق میں نازِل ہوئی جو مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو نہیں مانتے تھے اور روزِ قیامت کو گزرے ہوئے زمانہ کے اعتبار سے قریب فرمایا گیاکیونکہ جتنے دن گزرتے جاتے ہیں آنے والا دن قریب ہوتا جاتا ہے ۔
ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں (ف٤) اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورت کی (ف۵) کہ یہ کون ہیں ایک تم ہی جیسے آدمی تو ہیں (ف٦) کیا جادو کے پاس جاتے ہو دیکھ بھال کر،
Their hearts are involved in play; and the unjust secretly conferred, “What is he, except another a human like you?! So do you follow magic although you have perceived?”
उनके दिल खेल में पड़े हैं और ज़ालिमों ने आपस में ख़फ़ी मशवरा की कि ये कौन हैं एक तुम ही जैसे आदमी तो हैं क्या जादू के पास जाते हो देख भाल कर,
Unke dil khel mein pade hain aur zalimon ne aapas mein khufiya mashwarah ki ke yeh kaun hain ek tum hi jaise aadmi to hain kya jadoo ke paas jaate ho dekh bhaal kar,
(ف4)اللہ کی یاد سے غافل ہیں ۔(ف5)اور اس کے اخفاء میں بہت مبالغہ کیا مگر اللہ تعالٰی نے ان کا راز فاش کر دیا اور بیان فرما دیا کہ وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ کہتے ہیں ۔(ف6)یہ کُفر کا ایک اصول تھا کہ جب یہ بات لوگوں کے ذہن نشین کر دی جائے گی کہ وہ تم جیسے بشر ہیں تو پھر کوئی ان پر ایمان نہ لائے گا ، حضور کے زمانہ کے کُفّار نے یہ بات کہی اور اس کو چھپایا لیکن آج کل کے بعض بے باک یہ کلمہ اعلان کے ساتھ کہتے ہیں اور نہیں شرماتے ، کُفّار یہ مقولہ کہتے وقت جانتے تھے کہ ان کی بات کسی کے دل میں جمے گی نہیں کیونکہ لوگ رات دن معجزات دیکھتے ہیں وہ کس طرح باور کر سکیں گے کہ حضور ہماری طرح بشر ہیں اس لئے انہوں نے معجزات کو جادو بتا دیا اور کہا ۔
نبی نے فرمایا میرا رب جانتا ہے آسمانوں اور زمین میں ہر بات کو، اور وہی ہے سنتا جانتا (ف۷)
And the Prophet said, “My Lord knows all that is spoken in the heavens and in the earth; and He only is the All Hearing, the All Knowing."
नबी ने फ़रमाया मेरा रब जानता है आसमानों और ज़मीन में हर बात को, और वही है सुनता जानता
Nabi ne farmaya mera Rab jaanta hai aasmanon aur zameen mein har baat ko, aur wahi hai sunta jaanta
(ف7)اس سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی خواہ کتنے ہی پردہ اور راز میں رکھی گئی ہو ، ان کا راز بھی اس میں ظاہر فرما دیا ، اس کے بعد قرآنِ کریم سے انہیں سخت پریشانی و حیرانی لاحق تھی کہ اس کا کس طرح انکار کریں ، وہ ایسا بیّن معجِزہ ہے جس نے تمام مُلک کے مایہ ناز ماہروں کو عاجز و متحیّر کر دیا ہے اور وہ اس کی دو چار آیتوں کی مثل کلام بنا کر نہیں لا سکے ، اس پریشانی میں انہوں نے قرآنِ کریم کی نسبت مختلف قسم کی باتیں کہیں جن کا بیان اگلی آیت میں ہے ۔
بلکہ بولے پریشان خوابیں ہیں (ف۸) بلکہ ان کی گڑھت (گھڑی ہوئی چیز) ہے (ف۹) بلکہ یہ شاعر ہیں (ف۱۰) تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں جیسے اگلے بھیجے گئے تھے (ف۱۱)
Rather they said, “These are confused dreams, but in fact he has fabricated it – but in fact he is a poet; so he must bring us some sign, like those who were sent before.”
बल्कि बोले परेशान ख्वाबें हैं बल्कि उनकी गढ़त (घड़ी हुई चीज़) है बल्कि ये शायर हैं तो हमारे पास कोई निशानी लाएँ जैसे अगले भेजे गए थे
Balki bole pareshan khawaben hain balki unki garht (ghadi hui cheez) hai balki yeh shayar hain to humare paas koi nishani laayen jaise agle bheje gaye the
(ف8)ان کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحیٔ الٰہی سمجھ گئے ہیں ، کُفّار نے یہ کہہ کر سوچا کہ یہ بات چسپاں نہیں ہو سکے گی تو اب اس کو چھوڑ کر کہنے لگے ۔(ف9)یہ کہہ کر خیال ہوا کہ لوگ کہیں گے کہ اگر یہ کلام حضرت کا بنایا ہوا ہے اور تم انہیں اپنے مثل بشر بھی کہتے ہو تو تم ایسا کلام کیوں نہیں بنا سکتے ، یہ خیال کر کے اس بات کو بھی چھوڑ ا اور کہنے لگے ۔(ف10)اور یہ کلام شعر ہے اسی طرح کی باتیں بناتے رہے کسی ایک بات پر قائم نہ رہ سکے اور اہلِ باطل کذّابوں کا یہی حال ہوتا ہے ، اب انہوں نے سمجھا کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی چلنے والی نہیں ہے تو کہنے لگے ۔(ف11)اس کے رد و جواب میں اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔
ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہ لائی جسے ہم نے ہلاک کیا، تو کیا یہ ایمان لائیں گے (ف۱۲)
There is not a township before them which did not believe which We have not destroyed; so will they believe?
उनसे पहले कोई बस्ती ईमान न लाई जिसे हमने हलाक़ किया, तो क्या ये ईमान लाएँगे
Un se pehle koi basti iman na laayi jise humne halaak kiya, to kya yeh iman laayenge
(ف12)معنٰی یہ ہیں کہ ان سے پہلے لوگوں کے پاس جو نشانیاں آئیں تو وہ ان پر ایمان نہ لائے اوران کی تکذیب کرنے لگے اور اس سبب سے ہلاک کر دیئے گئے تو کیا یہ لوگ نشانی دیکھ کر ایمان لے آئیں گے باوجودیکہ ان کی سرکشی ان سے بڑھی ہوئی ہے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جنہیں ہم وحی کرتے (ف۱۳) تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو (ف۱٤)
And We did not send (Prophets) before you except men, to whom We sent divine revelations – therefore, O people, ask the people of knowledge if you do not know.
और हमने तुमसे पहले न भेजे मगर मर्द जिन्हें हम वाह्य करते तो ऐ लोगो! इल्म वालों से पूछो अगर तुम्हें इल्म न हो
Aur humne tum se pehle na bheje magar mard jinhein hum wahi karte to aye logo! ilm walon se poocho agar tumhein ilm na ho
(ف13)یہ ان کے کلامِ سابق کا رد ہے کہ انبیاء کا صورتِ بشری میں ظہور فرمانا نبوّت کے منافی نہیں ، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے ۔(ف14)کیونکہ ناواقف کو اس سے چارہ ہی نہیں کہ واقف سے دریافت کرے اور مرضِ جہل کا علاج یہی ہے کہ عالِم سے سوال کرے اور اس کے حکم پر عامل ہو ۔مسئلہ : اس آیت سے تقلید کا وجوب ثابت ہوتا ہے ، یہاں انہیں علم والوں سے پوچھنے کا حکم دیا گیا کہ ان سے دریافت کرو کہ اللہ کے رسول صورتِ بشری میں ظہور فرما ہوئے تھے یا نہیں ، اس سے تمہارے تردُّد کا خاتمہ ہو جائے گا ۔
اور ہم نے انھیں (ف۱۵) خالی بدن نہ بنایا کہ کھانا نہ کھائیں (ف۱٦) اور نہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہیں،
And We did not create them without bodies so they would not eat food – nor that they abide on earth forever.
और हमने उन्हें खाली बदन न बनाया कि खाना न खाएँ और न वे दुनिया में हमेशा रहें,
Aur humne unhein khaali badan na banaya ke khana na khayein aur na woh duniya mein hamesha rahein,
(ف15)یعنی انبیاء کو ۔(ف16)تو ان پر کھانے پینے کا اعتراض کرنا اور یہ کہنا کہ مَا لِھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ مَحض بے جا ہے ، تمام انبیاء کا یہی حال تھا وہ سب کھاتے بھی تھے پیتے بھی تھے ۔
بیشک ہم سے تمہاری طرف (ف۲۰) ایک کتاب اتاری جس میں تمہاری ناموری ہے (ف۲۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۲۲)
We have indeed sent down towards you a Book, in which is your repute; so do you not have sense?
बेशक हमसे तुम्हारी तरफ़ एक किताब उतारी जिसमें तुम्हारी नामवरी है तो क्या तुम्हें अकल नहीं
Beshak hum se tumhari taraf ek kitaab utaari jis mein tumhari namoori hai to kya tumhein aqal nahi
(ف20)اے گروہِ قریش ۔(ف21)اگر تم اس پر عمل کرو یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ کتاب تمہاری زبان میں ہے یا یہ کہ اس میں تمہارے لئے نصیحت ہے یا یہ کہ اس میں تمہارے دینی اور دنیوی امور اور حوائج کا بیان ہے ۔(ف22)کہ ایمان لا کر اس عزّت و کرامت اور سعادت کو حاصل کرو ۔
تو جب انہوں نے (ف۲٤) ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے (ف۲۵)
And when they tasted Our punishment, they immediately started fleeing from it.
तो जब उन्होंने हमारा अज़ाब पाया तभी वह उससे भागने लगे
To jab unhone humara azaab paaya tabhi woh us se bhagne lage
(ف24)یعنی ان ظالموں نے ۔(ف25)شانِ نُزول : مفسِّرین نے ذکر کیا ہے کہ سرزمینِ یمن میں ایک بستی ہے جس کا نام حصور ہے وہاں کے رہنے والے عرب تھے انہوں نے اپنے نبی کی تکذیب کی اور ان کو قتل کیا تو اللہ تعالٰی نے ان پر بُخْتِ نَصَر کو مسلّط کیا ، اس نے انہیں قتل کیا اور گرفتار کیا اور اس کا یہ عمل جاری رہا تو یہ لوگ بستی چھوڑ کر بھاگے تو ملائکہ نے ان سے بطریقِ طنز کہا (جو اگلی آیت میں ہے) ۔
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنائے (ف۲۹)
And We have not created the heavens and the earth and all that is between them, unnecessarily.
और हमने आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके बीच है अब्स न बनाए
Aur humne aasman aur zameen aur jo kuch unke darmiyan hai abath na banaye
(ف29)کہ ان سے کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ اس میں ہماری حکمتیں ہیں مِنجُملہ ان کے یہ ہے کہ ہمارے بندے ان سے ہماری قدرت و حکمت پر استدلال کریں اور انہیں ہمارے اوصاف و کمال کی معرفت ہو ۔
اگر ہم کوئی بہلاوا اختیار کرنا چاہتے (ف۳۰) تو اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہمیں کرنا ہوتا (ف۳۱)
If We willed to choose a pastime, We could have chosen it from Ourselves – if We wanted to.
अगर हम कोई बहलावा इख़्तियार करना चाहते तो अपने पास से इख़्तियार करते अगर हमें करना होता
Agar hum koi behlawa ikhtiyar karna chahte to apne paas se ikhtiyar karte agar humein karna hota
(ف30)مثل زَن و فرزند کے جیسا کہ نصارٰی کہتے ہیں اور ہمارے لئے بی بی اور بیٹیاں بتاتے ہیں اگر یہ ہمارے حق میں ممکن ہوتا ۔(ف31)کیونکہ زَن و فرزند والے زَن و فرزند اپنے پاس رکھتے ہیں مگر ہم اس سے پاک ہیں ہمارے لئے یہ ممکن ہی نہیں ۔
بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے (ف۳۲) اور تمہاری خرابی ہے (ف۳۳) ان باتوں سے جو بناتے ہو (ف۳٤)
But in fact We hurl the truth upon falsehood, so it scatters its brains – thereupon it vanishes; and for you is the ruin due to the matters you fabricate.
बल्कि हम हक़ को बातिल पर फेंक मारते हैं तो वह इसका भेजा निकाल देता है तो तभी वह मिट कर रह जाता है और तुम्हारी ख़राबी है उन बातों से जो बनाते हो
Balki hum haq ko baatil par phenk marte hain to woh iska bheja nikal deta hai to tabhi woh mit kar reh jaata hai aur tumhari kharabi hai un baaton se jo banate ho
(ف32)معنٰی یہ ہیں کہ ہم اہلِ باطل کے کذب کو بیانِ حق سے مٹا دیتے ہیں ۔(ف33)اے کُفّارِ نابکار ۔(ف34)شانِ الٰہی میں کہ اس کے لئے بیوی و بچّہ ٹھہراتے ہو ۔
اور اسی کے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۳۵) اور اس کے پاس والے (ف۳٦) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ تھکیں،
And to Him only belong all those who are in the heavens and in the earth; and those with Him are not conceited towards worshipping Him, nor do they tire.
और उसी के हैं जितने आसमानों और ज़मीन में हैं और उसके पास वाले उसकी इबादत से तख़बर नहीं करते और न थकें,
Aur isi ke hain jitne aasmanon aur zameen mein hain aur uske paas wale uski ibadat se takabbur nahi karte aur na thaken,
(ف35)وہ سب کا مالک ہے اور سب اس کے مملوک تو کوئی اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے ، مملوک ہونے اور اولاد ہونے میں منافات ہے ۔(ف36)اس کے مقرّبین جنہیں اس کے کرم سے اس کے حضور قُرب و منزلت حاصل ہے ۔
کیا انہوں نے زمین میں سے کچھ ایسے خدا بنالیے ہیں (ف۳۸) کہ وہ کچھ پیدا کرتے ہیں (ف۳۹)
Have they appointed from the earth, Gods that create something?
क्या उन्होंने ज़मीन में से कुछ ऐसे ख़ुदा बना लिए हैं कि वह कुछ पैदा करते हैं
Kya unhone zameen mein se kuch aise khuda bana liye hain ke woh kuch paida karte hain
(ف38)جواہرِ ارضیہ سے مثل سونے چاندی پتھر وغیرہ کے ۔(ف39)ایسا تو نہیں ہے اور نہ یہ ہو سکتا ہے کہ جو خو د بےجان ہو وہ کسی کو جان دے سکے تو پھر اس کو معبود ٹھہرانا اور اِلٰہ قرار دینا کتنا کھلا باطل ہے ، اِلٰہ وہی ہے جو ہر ممکن پر قادر ہو جو قادر نہیں وہ اِلٰہ کیسا ۔
اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور وہ (ف٤۰) تباہ ہوجاتے (ف٤۱) تو پاکی ہے اللہ عرش کے مالک کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں (ف٤۲)
If other than Allah, there were Gods* in the heavens and the earth, they would be destroyed; therefore Purity is to Allah, Owner of the Throne, from the matters that they fabricate. (* Which is not possible. ** The heavens and the earth.)
अगर आसमान व ज़मीन में अल्लाह के सिवा और ख़ुदा होते तो जरूर वह तबाह हो जाते तो पाक़ी है अल्लाह अरश के मालिक को उन बातों से जो यह बनाते हैं
Agar aasman o zameen mein Allah ke siwa aur khuda hote to zaroor woh tabah ho jate to paaki hai Allah arsh ke malik ko un baaton se jo yeh banate hain
(ف40)آسمان و زمین ۔(ف41)کیونکہ اگر خدا سے وہ خدا مراد لئے جائیں جن کی خدائی کے بُت پرست معتقد ہیں تو فسادِ عالَم کا لزوم ظاہر ہے کیونکہ وہ جمادات ہیں ، تدبیرِ عالَم پر اصلاً قدرت نہیں رکھتے اور اگر تعمیم کی جائے تو بھی لزومِ فساد یقینی ہے کیونکہ اگر دو خدا فرض کئے جائیں تو دو حال سے خالی نہیں یا وہ دونوں متفق ہوں گے یا مختلف ، اگر شے واحد پر متفق ہوئے تو لازم آئے گا کہ ایک چیز دونوں کی مقدور ہو اور دونوں کی قدرت سے واقع ہو یہ محال ہے اور اگر مختلف ہوئے تو ایک شے کے متعلق دونوں کے ارادے یا معاً واقع ہوں گے اور ایک ہی وقت میں وہ موجود و معدوم دونوں ہو جائے گی یا دونوں کے ارادے واقع نہ ہوں اور شے نہ موجود ہو نہ معدوم یا ایک کا ارادہ واقع ہو دوسرے کا واقع نہ ہو یہ تمام صورتیں محال ہیں تو ثابت ہوا کہ فساد ہر تقدیر پر لازم ہے ۔ توحید کی یہ نہایت قوی بُرہان ہے اور اس کی تقریریں بہت بسط کے ساتھ ائمۂ کلام کی کتابوں میں مذکور ہیں ۔ یہاں اختصاراً اسی قدر پر اکتفا کیا گیا ۔ (تفسیرِ کبیر وغیرہ)(ف42)کہ اس کے لئے اولاد و شریک ٹھہراتے ہیں ۔
اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے (ف٤۳) اور ان سب سے سوال ہوگا (ف٤٤)
He is not questioned whatever He does, whereas they will all be questioned.
उससे नहीं पूछा जाता जो वह करे और इन सब से सवाल होगा
Is se nahi poocha jaata jo woh kare aur un sab se sawal ho ga
(ف43)کیونکہ وہ مالکِ حقیقی ہے جو چاہے کرے ، جسے چاہے عزّت دے جسے چاہے ذلّت دے ، جسے چاہے سعادت دے جسے چاہے شقی کرے ، وہ سب کا حاکم ہے کوئی اس کا حاکم نہیں جو اس سے پوچھ سکے ۔(ف44)کیونکہ سب اس کے بندے ہیں مملوک ہیں ، سب پر اس کی فرمانبرداری اور اطاعت لازم ہے ۔ اس سے توحید کی ایک اور دلیل مستفاد ہوتی ہے جب سب مملوک ہیں تو ان میں سے کوئی خدا کیسے ہو سکتا ہے اس کے بعد بطریقِ استفہام تو بیخاً فرمایا ۔
کیا اللہ کے سوا اور خدا بنا رکھے ہیں، تم فرماؤ (ف٤۵) اپنی دلیل لاؤ (ف٤٦) یہ قرآن میرے ساتھ والوں کا ذکر ہے (ف٤۷) اور مجھ سے اگلوں کا تذکرہ (ف٤۸) بلکہ ان میں اکثر حق کو نہیں جانتے تو وہ رو گرداں ، ہیں (ف٤۹)
Or have they set up other Gods besides Allah? Say, “Bring your proof; this is the remembrance of those with me and those before me”; but in fact most of them do not know the Truth, so they turn away.
क्या अल्लाह के सिवा और ख़ुदा बना रखे हैं, तुम फरमाओ अपनी दलील लाओ यह कुरआन मेरे साथ वालों का ज़िक्र है और मुझसे उगलों का तज़्क़रा बल्कि इन में अधिकतर हक़ को नहीं जानते तो वह रूगर्दाँ, हैं
Kya Allah ke siwa aur khuda bana rakhe hain, tum farmaao apni daleel lao yeh Quran mere saath walon ka zikr hai aur mujh se agalon ka tazkira balki un mein aksar haq ko nahi jaante to woh ro gardaan, hain
(ف45)اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان مشرکین سے کہ تم اپنے اس باطل دعوٰی پر ۔ (ف46)اور حُجّت قائم کرو خواہ عقلی ہو یا نقلی مگر نہ کوئی دلیل عقلی لا سکتے ہو جیسا کہ براہینِ مذکورہ سے ظاہر ہو چکا اور نہ کوئی دلیل نقلی پیش کر سکتے ہو کیونکہ تمام کتبِ سماویہ میں اللہ تعالٰی کی توحید کا بیان ہے اور سب میں شرک کا ابطال کیا گیا ہے ۔(ف47)ساتھ والوں سے مراد آپ کی اُمّت ہے ، قرآنِ کریم میں اس کا ذکر ہے کہ اس کو طاعت پر کیا ثواب ملے گا اور معصیت پر کیا عذاب کیا جائے گا ۔(ف48)یعنی پہلے انبیاء کی اُمّتوں کا اور اس کا کہ دنیا میں ان کے ساتھ کیا کیا گیا اور آخرت میں کیا کیا جائے گا ۔(ف49)اور غور و تأمُّل نہیں کرتے اور نہیں سوچتے کہ توحید پر ایمان لانا ان کے لئے ضروری ہے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی فرماتے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی کو پوجو،
And We did not send any Noble Messenger before you, but We divinely revealed to him that, “There is no God except I (Allah), therefore worship Me alone.”
और हमने तुमसे पहले कोई रसूल न भेजा मगर यह कि हम उसकी तरफ़ वाह्य फरमाते कि मेरे सिवा कोई मआबूद नहीं तो मुझको पूजो,
Aur humne tum se pehle koi rasool na bheja magar yeh ke hum is ki taraf wahi karte ke mere siwa koi maabood nahi to mujhi ko poojho,
اور بولے رحمن نے بیٹا اختیار کیا (ف۵۰) پاک ہے وہ (ف۵۱) بلکہ بندے ہیں عزت والے (ف۵۲)
And they said, “The Most Gracious has chosen a son – Purity is to Him! In fact they are honourable bondmen.”
और बोले रहमान ने बेटा इख़्तियार किया पाक़ है वह बल्कि बंदे हैं इज़्ज़त वाले
Aur bole Rahman ne beta ikhtiyar kiya paak hai woh balki bande hain izzat wale
(ف50)شانِ نُزول : یہ آیت خزاعہ کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا تھا ۔(ف51)اس کی ذات اس سے منزّہ ہے کہ اس کے اولاد ہو ۔(ف52)یعنی فرشتے اس کے برگزیدہ اور مکرّم بندے ہیں ۔
وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے (ف۵۳) اور شفاعت نہیں کرتے مگر اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے (ف۵٤) اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں،
He knows what is before them and what is behind them, and they do not intercede except for him whom He likes, and they fear with awe of Him. (The Holy Prophets and virtuous people will be given the permission to intercede. Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – will be the first to intercede.)
वह जानता है जो उनके आगे है और जो उनके पीछे है और शफ़ाअत नहीं करते मगर उसके लिए जिसे वह पसंद फरमाए और वह उसके ख़ौफ़ से डर रहे हैं,
Woh jaanta hai jo unke aage hai aur jo unke peechhe hai aur shafaat nahi karte magar uske liye jise woh pasand farmaaye aur woh uske khauf se dar rahe hain,
(ف53)یعنی جو کچھ انہوں نے کیا اور جو کچھ وہ آئندہ کریں گے ۔(ف54)حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا یعنی جو توحید کا قائل ہو ۔
کیا کافروں نے یہ خیال نہ کیا کہ آسمان اور زمین بند تھے تو ہم نے انھیں کھولا (ف۵٦) اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی (ف۵۷) تو کیا وہ ایمان لائیں گے،
Did not the disbelievers observe that the heavens and the earth were together, so We parted them, and we made every living thing from water? So will they not accept faith?
क्या काफ़रों ने यह ख़याल न किया कि आसमान और ज़मीन बंद थे तो हमने उन्हें खोला और हमने हर जानदार चीज़ पानी से बनाई तो क्या वह ईमान लाएँगे,
Kya kafiron ne yeh khayal na kiya ke aasman aur zameen band the to humne unhein khola aur humne har jandar cheez paani se banai to kya woh iman laayenge,
(ف56)بند ہونا یا تو یہ ہے کہ ایک دوسرے سے ملا ہوا تھا ان میں فصل پیدا کر کے انہیں کھولا یا یہ معنی ہیں کہ آسمان بند تھا بایں معنٰی کہ اس سے بارش نہیں ہوتی تھی ، زمین بند تھی بایں معنی کہ اس سے روئیدگی پیدا نہیں ہوتی تھی تو آسمان کا کھولنا یہ ہے کہ اس سے بارش ہونے لگی اور زمین کا کھولنا یہ ہے کہ اس سے سبزہ پیدا ہونے لگا ۔(ف57)یعنی پانی کو جاندار وں کی حیات کا سبب کیا ۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنٰی یہ ہیں کہ ہر جاندار پانی سے پیدا کیا ہوا ہے اور بعضوں نے کہا اس سے نطفہ مراد ہے ۔
اور ہم نے آسمان کو چھت بنایا نگاہ رکھی گئی (ف٦۰) اور وہ (ف٦۱) اس کی نشانیوں سے روگرداں ہیں (ف٦۲)
And We have made the sky a roof, protected; and they turn away from its signs.
और हमने आसमान को छत बनाया निगाह रखी गई और वह उसकी निशानियों से रूगर्दाँ हैं
Aur humne aasman ko chhat banaya nigaah rakhi gayi aur woh uski nishaniyon se rogardaan hain
(ف60)گرنے سے ۔(ف61)یعنی کُفّار ۔(ف62)یعنی آسمانی کائنات سورج ، چاند ، ستارے اور اپنے اپنے افلاک میں ان کی حرکتوں کی کیفیّت اور اپنے اپنے مطالع سے ان کے طلوع اور غروب اور ان کے عجائبِ احوال جو صانعِ عالَم کے وجود اور اس کی وحدت اور اس کے کمالِ قدرت و حکمت پر دلالت کرتے ہیں ، کُفّار ان سب سے اعراض کرتے ہیں اور ان دلائل سے فائدہ نہیں اٹھاتے ۔
اور ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کے لیے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی (ف٦٦) تو کیا اگر تم انتقال فرماؤ تو یہ ہمیشہ رہیں گے (ف٦۷)
And before you, We did not appoint on earth a never-ending life for any human; will they, if you depart, become immortal?
और हमने तुमसे पहले किसी आदमी के लिए दुनिया में हमेशगी न बनाई तो क्या अगर तुम संक्रमण फरमाओ तो यह हमेशा रहेंगे
Aur humne tum se pehle kisi aadmi ke liye duniya mein hameshgi na banai to kya agar tum inteqal farmaao to yeh hamesha rahenge
(ف66)شانِ نُزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن اپنے ضلال و عناد سے کہتے تھے کہ ہم حوادثِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے کہ حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہو جائے گی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ دشمنانِ رسول کے لئے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہم نے دنیا میں کسی آدمی کے لئے ہمیشگی نہیں رکھی ۔(ف67)اور انہیں موت کے پنجے سے رہائی مل جائے گی جب ایسا نہیں ہے تو پھر خوش کس بات پر ہوتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ۔
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اور بھلائی سے (ف٦۸) جانچنے کو (ف٦۹) اور ہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے (ف۷۰)
Every living being must taste death; and We test you with harm and with good – a trial; and to Us only you have to return.
हर जान को मौत का मज़ा चखना है, और हम तुम्हारी आज़माइश करते हैं बुराई और भलाई से जाँचने को और हमारी ही तरफ़ तुम्हें लौट कर आना है
Har jaan ko maut ka maza chakhna hai, aur hum tumhari aazmaish karte hain burai aur bhalai se jaanchne ko aur humari hi taraf tumhein laut kar aana hai
(ف68)یعنی راحت و تکلیف و تندرستی و بیماری ، دولت مندی و ناداری نفع اور نقصان سے ۔(ف69)تاکہ ظاہر ہو جائے کہ صبر و شکر میں تمہارا کیا درجہ ہے ۔(ف70)ہم تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں گے ۔
اور جب کافر تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا (ف۷۱) کیا یہ ہیں وہ جو تمہارے خداؤں کو برا کہتے ہیں اور وہ (ف۷۲) رحمن ہی کی یاد سے منکر ہیں (ف۷۳)
And when the disbelievers see you, they do not appoint you except as an object of mockery; “Is he the one who speaks ill of your Gods?”; whereas they deny the remembrance of the Most Gracious Himself!
और जब काफ़र तुम्हें देखते हैं तो तुम्हें नहीं ठहराते मगर ठठा क्या ये हैं वह जो तुम्हारे ख़ुदाओं को बुरा कहते हैं और वह रहमान ही की याद से मंकर हैं
Aur jab kafir tumhein dekhte hain to tumhein nahi thahraate magar thatha kya yeh hain woh jo tumhare khudaon ko bura kehte hain aur woh Rahman hi ki yaad se munkir hain
(ف71)شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازِل ہوئی ، حضور تشریف لئے جاتے تھے وہ آپ کو دیکھ کر ہنسا اور کہنے لگا کہ یہ بنی عبدِ مناف کے نبی ہیں اورآپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے ۔(ف72)کُفّار ۔(ف73)کہتے ہیں کہ ہم رحمٰن کو جانتے ہی نہیں ، اس جہل و ضلال میں مبتلا ہونے کے باوجود آپ کے ساتھ تمسخُر کرتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ ہنسی کے قابل خود ان کا اپنا حال ہے ۔
آدمی جلد باز بنایا گیا، اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا مجھ سے جلدی نہ کرو (ف۷٤)
Man has been created hasty; very soon I shall show you My signs, do not be impatient.
आदमी जल्द बाज़ बनाया गया, अब मैं तुम्हें अपनी निशानियाँ दिखाऊँगा मुझसे जल्दी न करो
Aadmi jald baaz banaya gaya, ab main tumhein apni nishaniyan dikhaaoon ga mujh se jaldi na karo
(ف74)شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازِل ہوئی جو کہتا تھا کہ جلد عذاب نازِل کرائیے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا یعنی جو وعدے عذاب کے دیئے گئے ہیں ان کا وقت قریب آ گیا ہے چنانچہ روزِ بدر وہ منظر ان کی نظر کے سامنے آ گیا ۔
کسی طرح جانتے کافر اس وقت کو جب نہ روک سکیں گے اپنے مونہوں سے آگے (ف۷٦) اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد ہو (ف۷۷)
If only the disbelievers realised the time when they will not be able to stop the fire from their faces and from their backs – and nor are they to be helped.
किसी तरह जानते काफ़र उस वक्त को जब न रोक सकेंगे अपने मुँहों से आगे और न अपनी पीठों से और न उनकी मदद हो
Kisi tarah jaante kafir us waqt ko jab na rok sakein apne moonhon se aage aur na apni peethon se aur na unki madad ho
(ف76)دوزخ کی ۔(ف77)اگر وہ یہ جانتے ہوتے تو کُفر پر قائم نہ رہتے اور عذاب میں جلد ی نہ کرتے ۔
اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا (ف۸۰) تو مسخرگی کرنے والوں کا ٹھٹھا انھیں کو لے بیٹھا (ف۸۱)
And indeed the Noble Messengers before you were mocked at, but their mockery ruined the mockers themselves.
और बेशक तुमसे अगले रसूलों के साथ ठठा किया गया तो मख़रगी करने वालों का ठठा उन्हें को ले बैठा
Aur beshak tum se agle rasoolon ke saath thatha kiya gaya to maskhargi karne walon ka thatha unhein ko le baitha
(ف80)اے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف81)اور وہ اپنے اِستِہزاء اور مسخرگی کے وبال و عذاب میں گرفتار ہوئے ، اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تسلّی فرمائی گئی کہ آپ کے ساتھ اِستِہزاء کرنے والوں کا بھی یہی انجام ہونا ہے ۔
کیا ان کے کچھ خدا ہیں (ف۸٤) جو ان کو ہم سے بچاتے ہیں (ف۸۵) وہ اپنی ہی جانوں کو نہیں بچاسکتے (ف۸٦) اور نہ ہماری طرف سے ان کی یاری ہو،
Do they have some Gods who protect them from Us? Neither can they save themselves nor save their friends from Us.
क्या उनके कुछ ख़ुदा हैं जो उन्हें हम से बचाते हैं वह अपनी ही जानों को नहीं बचा सकते और न हमारी तरफ़ से उनकी यारी हो,
Kya unke kuch khuda hain jo unko hum se bachate hain woh apni hi jaanon ko nahi bacha sakte aur na humari taraf se unki yaari ho,
(ف84)ہمارے سوا ان کے خیال میں ۔(ف85)اور ہمارے عذاب سے محفوظ رکھتے ہیں ایسا تو نہیں ہے اور اگر وہ اپنے بُتوں کی نسبت یہ اعتقاد رکھتے ہیں تو ان کا حال یہ ہے کہ ۔(ف86)اپنے پُوجنے والوں کو کیا بچا سکیں گے ۔
بلکہ ہم نے ان کو (ف۸۷) اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا (ف۸۸) یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی (ف۸۹) تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم (ف۹۰) زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں (ف۹۱) تو کیا یہ غالب ہوں گے (ف۹۲)
But in fact We have given these (disbelievers) and their fathers a benefit to the extent that life became long for them; so do they not see that We are reducing the land from its borders? So will these be victorious?
बल्कि हमने उन्हें और उनके बाप दादा को बरतावा दिया यहाँ तक कि जिंदगी उनके ऊपर दराज़ हुई तो क्या नहीं देखते कि हम ज़मीन को उसके किनारों से घटाते आ रहे हैं तो क्या यह ग़ालिब होंगे
Balki humne unko aur unke baap dada ko bartaava diya yahan tak ke zindagi un par daraaz hui to kya nahi dekhte ke hum zameen ko us ke kinaaron se ghatate aa rahe hain to kya yeh ghalib honge
(ف87)یعنی کُفّار کو ۔(ف88)اور دنیا میں انہیں نعمت و مہلت دی ۔(ف89)اور وہ اس سے اور مغرور ہوئے اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے ۔(ف90)کُفرستان کی ۔(ف91)روز بروز مسلمانوں کو اس پر تسلّط دے رہے ہیں اور ایک شہر کے بعد دوسرا شہر فتح ہوتا چلا آ رہا ہے ، حدودِ اسلام بڑھ رہی ہیں اور سرزمینِ کُفر گھٹتی چلی آتی ہے اور حوالیٔ مکّہ مکرّمہ پر مسلمانوں کا تسلّط ہوتا جاتا ہے ، کیا مشرکین جو عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں اس کو نہیں دیکھتے اور عبرت حاصل نہیں کرتے ۔(ف92)جن کے قبضہ سے زمین دمبدم نکلتی جا رہی ہے یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب جو بفضلِ الٰہی فتح پر فتح پا رہے ہیں اور ان کے مقبوضات دم بدم بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔
تم فرماؤ کہ میں تم کو صرف وحی سے ڈراتا ہوں (ف۹۳ ) اور بہرے پکارنا نہیں سنتے جب ڈرائے جائیں، (ف۹٤)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) “I warn you only with the divine revelation; and the deaf do not hear the call when warned.”
तुम फरमाओ कि मैं तुमको सिर्फ़ वाह्य से डराता हूँ और बहरे पुकारना नहीं सुनते जब डराएँ जाएँ,
Tum farmaao ke main tum ko sirf wahi se darata hoon aur bahre pukarna nahi sunte jab daraye jaayein,
(ف93)اور عذابِ الٰہی کا اسی کی طرف سے خوف دلاتا ہوں ۔(ف94)یعنی کافِر ہدایت کرنے والے اور خوف دلانے والے کے کلام سے نفع نہ اٹھانے میں بہرے کی طرح ہیں ۔
اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، اور اگر کوئی چیز (ف۹٦) رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کو،
And We shall set up the scales of justice on the Day of Resurrection – therefore no soul will be wronged in the least; and if a thing is equal to a grain of mustard seed, We will bring it; and We are Sufficient to (take) account.
और हम अद्ल की तराज़ूएँ रखेंगें क़ियामत के दिन तो किसी जान पर कुछ ज़ुल्म न होगा, और अगर कोई चीज़ राई के दाने के बराबर हो तो हम उसे ले आएँगे, और हम काफ़ी हैं हिसाब को,
Aur hum adl ki tarazoain rakhenge qayamat ke din to kisi jaan par kuch zulm na ho ga, aur agar koi cheez rai ke daane ke barabar ho to hum use le aayenge, aur hum kaafi hain hisaab ko,
اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ دیا (ف۹۷) اور اجالا (ف۹۸) اور پرہیزگاروں کو نصیحت (ف۹۹)
And indeed We gave Moosa and Haroon the Judgement* and a light and an advice for the pious. (* The Holy Book Taurat.)
और बेशक हमने मूसा और हारून को फ़ैसला दिया और उजाला और परहेज़गारों को नसीहत
Aur beshak humne Musa aur Haroon ko faisla diya aur ujala aur parhezgaron ko naseehat
(ف97)یعنی توریت عطا کی جو حق و باطل میں تفرقہ کرنے والی ہے ۔(ف98)یعنی روشنی ہے کہ اس سے نجات کی راہ معلوم ہوتی ہے ۔(ف99)جس سے وہ پند پذیر ہوتے ہیں اور دینی امور کا علم حاصل کرتے ہیں ۔
بولے کیا تم ہمارے پاس حق لائے ہو یا یونہی کھیلتے ہو (ف۱۰٦)
They said, “Have you brought the Truth to us, or are you just making fun?”
बोले क्या तुम हमारे पास हक़ लाए हो या यूँ ही खेलते हो
Bole kya tum humare paas haq laaye ho ya yunhi khelte ho
(ف106)چونکہ انہیں اپنے طریقہ کا گمراہی ہونا بہت ہی بعید معلوم ہوتا تھا اور اس کا انکار کرنا وہ بہت بڑی بات جانتے تھے اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ کہا کہ کیا آپ یہ بات واقعی طور پر ہمیں بتا رہے ہیں یا بطریق کھیل کے فرماتے ہیں ، اس کے جواب میں آپ نے حضرت مَلِکِ عَلّام کی ربوبیت کا اثبات فرما کر ظاہر فرما دیا کہ آپ کھیل کے طریقے پرکلام فرمانے والے نہیں ہیں بلکہ حق کا اظہار فرماتے ہیں چنانچہ آپ نے ۔
اور مجھے اللہ کی قسم ہے میں تمہارے بتوں کا برا چاہوں گا بعد اس کے کہ تم پھر جاؤ پیٹھ دے کر (ف۱۰۷)
“And, by oath of Allah, I shall seek to harm your idols after you have gone away and turned your backs.”
और मुझे अल्लाह की क़सम है मैं तुम्हारे بتों का बुरा चाहूँगा बाद उसके कि तुम फिर जाओ पीठ दे कर
Aur mujhe Allah ki qasam hai main tumhare buton ka bura chahoon ga baad is ke ke tum phir jao peeth de kar
(ف107)اپنے میلے کو ۔ واقعہ یہ ہے کہ اس قوم کا سالانہ ایک میلہ لگتا تھا جنگل میں جاتے تھے اور شام تک وہاں لہو و لعب میں مشغول رہتے تھے ، واپسی کے وقت بُت خانہ میں آتے تھے اور بُتوں کی پُوجا کرتے تھے اس کے بعد اپنے مکانوں کو واپس جاتے تھے ، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی ایک جماعت سے بُتوں کے متعلق مناظرہ کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ کل کو ہماری عید ہے آپ وہاں چلیں دیکھیں کہ ہمارے دین اور طریقے میں کیا بہار ہے اور کیسے لطف آتے ہیں ، جب وہ میلے کا دن آیا اور آپ سے میلے میں چلنے کو کہا گیا تو آپ عذر کر کے رہ گئے ، وہ لوگ روانہ ہو گئے جب ان کے باقی ماندہ اور کمزور لوگ جو آہستہ آہستہ جا رہے تھے گزرے تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے بُتوں کا بُرا چاہوں گا ، اس کو بعض لوگوں نے سُنا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بُت خانہ کی طرف لوٹے ۔
تو ان سب کو (ف۱۰۸) چورا کردیا مگر ایک کو جو ان کا سب سے بڑا تھا (ف۱۰۹) کہ شاید وہ اس سے کچھ پوچھیں (ف۱۱۰)
He shattered them all, except the biggest among them, that perhaps they may question it.
तो उन सब को चुरा कर दिया मगर एक को जो उनका सबसे बड़ा था कि शायद वह उससे कुछ पूछें
To un sab ko chura kar diya magar ek ko jo unka sab se bada tha ke shayad woh us se kuch poochen
(ف108)یعنی بُتوں کو توڑ کر ۔(ف109)چھوڑ دیا اور بَسُولا اس کے کاندھے پر رکھ دیا ۔(ف110)یعنی بڑے بُت سے کہ ان چھوٹے بُتوں کا کیا حال ہے یہ کیوں ٹوٹے اور بَسُولا تیری گردن پر کیسا رکھا ہے اور انہیں اس کا عجز ظاہر ہو اور انہیں ہوش آئے کہ ایسے عاجز خدا نہیں ہو سکتے یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کریں اورآپ کو حُجّت قائم کرنے کا موقع ملے چنانچہ جب قوم کے لو گ شام کو واپس ہوئے اور بُت خانے میں پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ بُت ٹوٹے پڑے ہیں تو ۔
بولے تو اسے لوگوں کے سامنے لاؤ شاید وہ گواہی دیں (ف۱۱۲)
They said, “Therefore bring him in front of the people, perhaps they may testify.”
बोले तो उसे लोगों के सामने लाओ शायद वह गवाही दें
Bole to use logon ke samne lao shayad woh gawahi dein
(ف112)کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کا فعل ہے یا ان سے بُتوں کی نسبت ایسا کلام سُنا گیا ہے ۔ مدعا یہ تھا کہ شہادت قائم ہو تو وہ آپ کے درپے ہوں چنانچہ حضرت بلائے گئے اور وہ لوگ ۔
فرمایا بلکہ ان کے اس بڑے نے کیا ہوگا (ف۱۱٤) تو ان سے پوچھو اگر بولتے ہوں (ف۱۱۵)
Said he, “Rather, their chief may have done it; so question them, if they can speak.”
फ़रमाया बल्कि उनके इस बड़े ने किया हो गा तो उनसे पूछो अगर बोलते हों
Farmaya balki unke is bade ne kya ho ga to un se poocho agar bolte ho
(ف114)اس غصّہ سے کہ اس کے ہوتے تم اس کے چھوٹوں کو پوجتے ہو ، اس کے کندھے پر بَسُولا ہونے سے ایسا ہی قیاس کیا جا سکتا ہے ، مجھ سے کیا پوچھنا پوچھنا ہو ۔(ف115)وہ خود بتائیں کہ ان کے ساتھ یہ کس نے کیا ، مدعا یہ تھا کہ قوم غور کرے کہ جو بول نہیں سکتا جو کچھ کر نہیں سکتا وہ خدا نہیں ہو سکتا ، اس کی خدائی کا اعتقاد باطل ہے چنانچہ جب آپ نے یہ فرمایا ۔
تو اپنے جی کی طرف پلٹے (ف۱۱٦) اور بولے بیشک تمہیں ستمگار ہو (ف۱۱۷)
So they turned towards their own selves and (inwardly) said, “Indeed you yourselves are unjust.”
तो अपने जी की तरफ़ पलटे और बोले बेशक तुम्हें सत्मगार हो
To apne jee ki taraf palte aur bole beshak tumhein sitamgar ho
(ف116)اور سمجھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حق پر ہیں ۔(ف117)جو ایسے مجبوروں اور بے اختیاروں کو پوجتے ہو جو اپنے کاندھے سے بَسُولا نہ ہٹا سکے ، وہ اپنے پجاری کو مصیبت سے کیا بچا سکے اور اس کے کیا کام آ سکے ۔
پھر اپنے سروں کے بل اوندھائے گئے (ف۱۱۸) کہ تمہیں خوب معلوم ہے یہ بولتے نہیں (ف۱۱۹)
Again they were inverted upon their heads; saying, “You know well that these do not speak.”
फिर अपने सिरों के बल ऊँधाए गए कि तुम्हें खूब मालूम है ये बोलते नहीं
Phir apne saron ke bal oondhaye gaye ke tumhein khoob maloom hai yeh bolte nahi
(ف118)اور کلمۂ حق کہنے کے بعد پھر ان کی بدبختی ان کے سروں پر سوار ہوئی اور وہ کُفر کی طرف پلٹے اور باطل مجادلہ و مکابرہ شروع کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہنے لگے ۔(ف119)تو ہم ان سے کیسے پوچھیں اور اے ابراہیم تم ہمیں ان سے پوچھنے کا کیسے حکم دیتے ہو ۔
بولے ان کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کروں اگر تمہیں کرنا ہے (ف۱۲۳)
They said, “Burn him and help your Gods, if you want to.”
बोले उन्हें जला दो और अपने ख़ुदाओं की मदद करूँ अगर तुम्हें करना है
Bole un ko jala do aur apne khudaon ki madad karoon agar tumhein karna hai
(ف123)نمرود اور اس کی قوم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلا ڈالنے پر متفق ہو گئی اور انہوں نے آپ کو ایک مکان میں قید کر دیا اور قریۂ کوثٰی میں ایک عمارت بنائی اور ایک مہینہ تک بکوششِ تمام قِسم قِسم کی لکڑیاں جمع کیں اور ایک عظیم آ گ جلائی جس کی تپش سے ہوا میں پرواز کرنے والے پرندے جل جاتے تھے اور ایک منجنیق (گوپھن) کھڑی کی اور آپ کو باندھ کر اس میں رکھ کر آ گ میں پھینکا ، اس وقت آپ کی زبانِ مبارک پر تھا حَسْبِیَ اﷲُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ، جبریلِ امین نے آپ سے عرض کیا کہ کیا کچھ کام ہے ؟ آپ نے فرمایا تم سے نہیں ، جبرئیل نے عرض کیا تو اپنے ربّ سے سوال کیجئے ! فرمایا سوال کرنے سے اس کا میرے حال کو جاننا میرے لئے کفایت کرتا ہے ۔
اور انہوں نے اس کا برا چاہا تو ہم نے انھیں سب سے بڑھ کر زیاں کار کردیا (ف۱۲۵)
And they wished to cause him harm, so We made them the greatest of losers.
और उन्होंने इसका बुरा चाहा तो हमने उन्हें सबसे बढ़कर ज़ियान क़र दिया
Aur unhone uska bura chaha to humne unhein sab se barh kar ziyaankaar kar diya
(ف125)کہ ان کی مراد پوری نہ ہوئی اور سعی ناکام رہی اور اللہ تعالٰی نے اس قوم پر مچھّر بھیجے جو ان کے گوشت کھا گئے اور خون پی گئے اور ایک مچھر نمرود کے دماغ میں گھس گیا اور اس کی ہلاکت کا سبب ہوا ۔
اور ہم اسے اور لوط کو (ف۱۲٦) نجات بخشی (ف۱۲۷) اس زمین کی طرف (ف۱۲۸) جس میں ہم نے جہاں والوں کے لیے برکت رکھی (ف۱۲۹)
And We rescued him and Lut towards the land which We have blessed for the entire world.
और हमने उसे और लूत को नजात बख़्शी इस ज़मीन की तरफ़ जिस में हमने जहाँ वालों के लिए बरकत रखी
Aur hum use aur Lut ko najat bakhshi is zameen ki taraf jis mein humne jahan walon ke liye barkat rakhi
(ف126)جو ان کے بھیتجے ان کے بھائی ہاران کے فرزند تھے ، نمرود اور اس کی قوم سے ۔(ف127)اور عراق سے ۔(ف128)روانہ کیا ۔(ف129)اس زمین سے زمینِ شام مراد ہے ، اس کی برکت یہ ہے کہ یہاں کثرت سے انبیاء ہوئے اور تمام جہان میں ان کے دینی برکات پہنچے اور سرسبزی و شادابی کے اعتبار سے بھی یہ خطہ دوسرے خطوں پر فائق ہے ، یہاں کثرت سے نہریں ہیں ، پانی پاکیزہ اور خوش گوار ہے ، اشجار و ثمار کی کثرت ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مقامِ فلسطین میں نُزول فرمایا اور حضرت لُوط علیہ السلام نے مؤتفکہ میں ۔
اور ہم نے انھیں امام کیا کہ (ف۱۳۱) ہمارے حکم سے بلاتے ہیں اور ہم نے انھیں وحی بھیجی اچھے کام کرنے اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ ہماری بندگی کرتے تھے،
And We made them leaders who guide by Our command, and We sent them the divine revelation to do good deeds and to keep the prayer established and to give charity; and they used to worship Us.
और हमने उन्हें इमाम किया कि हमारे हुक्म से बुलाते हैं और हमने उन्हें वाह्य भी भेजी अच्छे काम करने और नमाज़ बरपार रखने और ज़कात देने की और वे हमारी बंदगी करते थे,
Aur humne unhein Imam kiya ke humare hukum se bulate hain aur humne unhein wahi bheji achhe kaam karne aur namaz barpa rakhne aur zakaat dene ki aur woh humari bandagi karte the,
اور داؤد اور سلیمان کو یاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چکاتے تھے، جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں (ف۱۳۵) اور ہم ان کے حکم کے وقت حاضر تھے،
And remember Dawud and Sulaiman, when they were deciding the dispute of a field, when some people’s sheep had strayed into it at night; and We were Present at the time of their deciding.
और दाऊद और सुलैमान को याद करो जब खेत का एक झगड़ा चुकाते थे, जब रात को उसमें कुछ लोगों की बकरियाँ छूटें और हम उनके हुक्म के वक्त मौजूद थे,
Aur Dawood aur Sulayman ko yaad karo jab kheti ka ek jhagra chukate the, jab raat ko us mein kuch logon ki bakriyan chhootin aur hum unke hukum ke waqt haazir the,
(ف135)ان کے ساتھ کوئی چَرانے والا نہ تھا ، وہ کھیتی کھا گئیں ، یہ مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش ہوا آپ نے تجویز کی کہ بکریاں کھیتی والے کو دے دی جائیں ، بکریوں کی قیمت کھیتی کے نقصان کے برابر تھی ۔
ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا (ف۱۳٦) اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا (ف۱۳۷) اور داؤد کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے اور پرندے (ف۱۳۸) اور یہ ہمارے کام تھے،
And We explained the case to Sulaiman; and to both We gave the kingdom and knowledge; and subjected the hills to proclaim the Purity along with Dawud, and (also subjected) the birds; and these were Our works.
हमने वह मामला सुलैमान को समझा दिया और दोनों को हुकूमत और इल्म अता किया और दाऊद के साथ पहाड़ मख़र फ़रमा दिए कि तसबिह करते और परिंदे और ये हमारे काम थे,
Humne woh maamla Sulayman ko samjha diya aur dono ko hukoomat aur ilm ata kiya aur Dawood ke saath pahaar maskhar farma diye ke tasbeeh karte aur parinday aur yeh humare kaam the,
(ف136)حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے جب یہ معاملہ پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ فریقین کے لئے اس سے زیادہ آسانی کی شکل بھی ہو سکتی ہے ، اس وقت حضرت کی عمر شریف گیارہ سال کی تھی ، حضرت داؤد علیہ السلام نے آپ پر لازم کیا کہ وہ صورت بیا ن فرمائیں ، حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ تجویز پیش کی کہ بکری والا کاشت کرے اور جب تک کھیتی اس حالت کو پہنچے جس حالت میں بکریوں نے کھائی ہے اس وقت تک کھیتی والا بکریوں کے دودھ وغیرہ سے نفع اٹھائے اور کھیتی اس حالت پر پہنچ جانے کے بعد کھیتی والے کو کھیتی دے دی جائے ، بکری والے کو اس کی بکریاں واپس کر دی جاویں ۔ یہ تجویز حضرت داؤد علیہ السلام نے پسند فرمائی ، اس معاملہ میں یہ دونوں حکم اجتہادی تھے اور اس شریعت کے مطابق تھے ، ہماری شریعت میں حکم یہ ہے کہ اگر چَرانے والا ساتھ نہ ہو تو جانور جو نقصانات کرے اس کا ضمان لازم نہیں ۔ مجاہد کا قول ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے جو فیصلہ کیا تھا وہ اس مسئلہ کا حکم تھا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو تجویز فرمائی یہ صورتِ صلح تھی ۔(ف137)وجوہِ اجتہاد و طریقِ احکام وغیرہ کا مسئلہ : جن عُلَماء کو اجتہاد کی اہلیت حاصل ہو انہیں ان امور میں اجتہاد کا حق ہے جس میں وہ کتاب و سنّت کا حکم نہ پاویں اور اگر اجتہاد میں خطا بھی ہو جاوے تو بھی ان پر مواخذہ نہیں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب حکم کرنے والا اجتہاد کے ساتھ حکم کرے اور اس حکم میں مُصِیب ہو تو اس کے لئے دو ۲ اجر ہیں اور اگر اجتہاد میں خطا واقع ہو جائے تو ایک اجر ۔(ف138)پتّھر اور پرندے آپ کے ساتھ آپ کی موافقت میں تسبیح کرتے تھے ۔
اور شیطانوں میں سے جو اس کے لیے غوطہ لگاتے (ف۱٤۱) اور اس کے سوا اور کام کرتے (ف۱٤۲) اور ہم انھیں روکے ہوئے تھے (ف۱٤۳)
And among the devils, were those who dived (in water) for him and did works other than this; and We had kept them restrained.
और शैतानों में से जो उसके लिए गोता लगाते और उसके सिवा और काम करते और हम उन्हें रोके हुए थे
Aur shaitanon mein se jo uske liye ghoota lagate aur uske siwa aur kaam karte aur hum unhein roke hue the
(ف141)دریا کی گہرائی میں داخل ہو کر سمندر کی تہ سے آپ کے لئے جواہر نکال کر لاتے ۔(ف142)عجیب عجیب صنعتیں ، عمارتیں ، محل ، برتن ، شیشے کی چیزیں ، صابون وغیرہ بنانا ۔(ف143)کہ آپ کے حکم سے باہر نہ ہوں ۔
اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا (ف۱٤٤) کہ مجھے تکلیف پہنچی اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا ہے،
And remember Ayyub (Job), when he called his Lord that, “Hardship has afflicted me, and You are the Most Merciful of all those who have mercy.”
और आयूब को (याद करो) जब उसने अपने रब को पुकारा कि मुझे तक़लीफ़ पहुँची और तू सब से म़हर वालों से बढ़कर म़हर वाला है,
Aur Ayyub ko (yaad karo) jab usne apne Rab ko pukara ke mujhe takleef pohanchi aur tu sab mehr walon se barh kar mehr wala hai,
(ف144)یعنی اپنے ربّ سے دعا کی ۔ حضرت ایوب علیہ السلام حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ، اللہ تعالٰی نے آپ کو ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں حسنِ صورت بھی ، کثرتِ اولاد بھی ، کثرتِ اموال بھی اللہ تعالٰی نے آپ کو اِبتلا میں ڈالا اور آ پ کے فرزند و اولاد مکان کے گرنے سے دب کر مر گئے ، تمام جانور جس میں ہزارہا اونٹ ، ہزارہا بکریاں تھیں سب مر گئے ، تمام کھیتیاں اور باغات برباد ہو گئے ، کچھ بھی باقی نہ رہا اور جب آپ کو ان چیزوں سے ہلاک ہونے اور ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو آپ حمدِ الٰہی بجا لاتے تھے اور فرماتے تھے میرا کیا ہے جس کا تھا اس نے لیا جب تک مجھے دیا اور میرے پاس رکھا اس کا شکر ہی ادا نہیں ہو سکتا ، میں اس کی مرضی پر راضی ہوں پھر آپ بیمار ہوئے ، تمام جسم شریف میں آبلے پڑے ، بدن مبارک سب کا سب زخموں سے بھر گیا ، سب لوگوں نے چھوڑ دیا بَجُز آپ کی بی بی صاحبہ کے کہ وہ آپ کی خدمت کرتی رہیں اور یہ حالت سالہا سال رہی ، آخر کار کوئی ایسا سبب پیش آیا کہ آپ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی ۔
تو ہم نے اس کی دعا سن لی تو ہم نے دور کردی جو تکلیف اسے تھی (ف۱٤۵) اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کیے (ف۱٤٦) اپنے پاس سے رحمت فرما کر اور بندی والوں کے لیے نصیحت (ف۱٤۷)
We therefore heard his prayer and removed the adversity that had afflicted him, and We gave him his family and in addition bestowed along with them a similar number, by mercy from Ourselves – and an advice for the people who worship.
तो हमने उसकी दुआ सुन ली तो हमने दूर कर दी जो तक़लीफ़ उसे थी और हमने उसे उसके घर वाले और उनके साथ उतने ही और अता किए अपने पास से रहमत फ़रमा कर और बंदियों के लिए नसीहत
To humne uski dua sun li to humne door kar di jo takleef use thi aur humne use uske ghar wale aur unke saath utne hi aur ata kiye apne paas se rehmat farma kar aur bandiyon ke liye naseehat
(ف145)اس طرح کہ حضرت ایوب علیہ السلام سے فرمایا کہ آپ زمین میں پاؤں ماریئے انہوں نے پاؤں مارا ایک چشمہ ظاہر ہوا ، حکم دیا گیا اس سے غسل کیجئے غسل کیا تو ظاہر بدن کی تمام بیماریاں دور ہو گئیں پھر آپ چالیس قدم چلے پھر دوبارہ زمین میں پاؤں مارنے کا حکم ہوا پھر آپ نے پاؤ ں مارا اس سے بھی ایک چشمہ ظاہر ہوا جس کا پانی نہایت سرد تھا ، آپ نے بحکمِ الٰہی پیا اس سے باطن کی تمام بیماریاں دور ہو گئیں اور آپ کو اعلٰی درجہ کی صحت حاصل ہوئی ۔(ف146)حضرت ابنِ مسعود و ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم اور اکثر مفسِّرین نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی تمام اولاد کو زندہ فرما دیا اور آپ کو اتنی ہی اولاد اور عنایت کی ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی دوسری روایت میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی بی بی صاحبہ کو دوبارہ جوانی عنایت کی اور ان کے کثیر اولادیں ہوئیں ۔(ف147)کہ وہ اس واقعہ سے بلاؤں پر صبر کرنے اور اس کے ثوابِ عظیم سے باخبر ہوں اور صبر کریں اور ثواب پائیں ۔
اور ذوالنون، کو (یاد کرو) (ف۱٤۹) جب چلا غصہ میں بھرا (ف۱۵۰) تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے (ف۱۵۱) تو اندھیریوں میں پکارا (ف۱۵۲) کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو، بیشک مجھ سے بےجا ہوا (ف۱۵۳)
And remember Zun-Noon,* when he left in anger, assuming that We would not restrict him – he therefore called out in the realms of darkness, saying, “There is no God except You, Purity is to You; I have indeed committed a lapse.” (* Prophet Yunus – peace and blessings upon him)
और ज़ुलनून को (याद करो) जब चला ग़ुस्सा में भरा तो गुमान किया कि हम उस पर तंगी न करेंगे तो अंधेरियों में पुकारा कोई माबूद नहीं सिवा तेरे पाक़ी है तुझ को, बेशक मुझ से बे जा हुआ
Aur Zul-Nun ko (yaad karo) jab chala gussa mein bhara to gumaan kiya ke hum us par tangi na karein to andheriyon mein pukara koi maabood nahi siwa tere paaki hai tujhe, beshak mujh se be ja hua
(ف149)یعنی حضرت یونس ابنِ متّٰی کو ۔(ف150)اپنی قوم سے جس نے ان کی دعوت نہ قبول کی تھی اور نصیحت نہ مانی تھی اور کُفر پر قائم رہی تھی ، آپ نے گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کُفر اور اہلِ کُفر کے ساتھ بغض اور اللہ کے لئے غضب کرنا ہے لیکن آپ نے اس ہجرت میں حکمِ الٰہی کا انتظار نہ کیا ۔(ف151)تو اللہ تعالٰی نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈالا ۔(ف152)کئی قِسم کی اندھیریاں تھیں دریا کی اندھیری ، رات کی اندھیری ، مچھلی کے پیٹ کی اندھیری ، ان اندھیریوں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی کہ ۔(ف153)کہ میں اپنی قوم سے ، قبل تیرا اِذن پانے کے جُدا ہوا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی مصیبت زدہ بارگاہِ الٰہی میں ان کلمات سے دعا کرے تو اللہ تعالٰی اس کی دعا قبول فرماتا ہے ۔
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور سے غم سے نجات بخشی (ف۱۵٤) اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو (ف۱۵۵)
We therefore heard his prayer and rescued him from grief; and similarly We shall rescue the Muslims.
तो हमने उसकी पुकार सुन ली और से ग़म से नजात बख़्शी और ऐसी ही नजात देंगे मुसलमानों को
To humne uski pukar sun li aur se gham se najat bakhshi aur aisi hi najat denge Musalmanon ko
(ف154)اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے پر پہنچا دیا ۔(ف155)مصیبتوں اور تکلیفوں سے جب وہ ہم سے فریاد کریں اور دعا کریں ۔
اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا ، اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ (ف۱۵٦) اور تو سب سے بہتر اور وارث (ف۱۵۷)
And remember Zakaria, when he prayed to his Lord, “O my Lord – do not leave me alone, and You are the Best Inheritor.
और ज़करिया को जब उसने अपने रब को पुकारा, ऐ मेरे रब मुझे अकेला न छोड़ और तू सब से बेहतर और वारिस
Aur Zakariya ko jab usne apne Rab ko pukara, aye mere Rab mujhe akela na chhod aur tu sab se behtar aur waaris
(ف156)یعنی بے اولاد بلکہ وارث عطا فرما ۔(ف157)خَلق کی فنا کے بعد باقی رہنے والا ۔ مدعا یہ ہے کہ اگر تو مجھے وارث نہ دے تو بھی کچھ غم نہیں کیونکہ تو بہتر وارث ہے ۔
تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے (ف۱۵۸) یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لیے اس کی بی بی سنواری (ف۱۵۹) بیشک وہ (ف۱٦۰) بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے، اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں،
We therefore heard his prayer; and bestowed him Yahya, and cured his wife for him; indeed they used to hasten to perform good deeds, and pray to Us with hope and fear; and used to weep before Us.
तो हमने उसकी दुआ स्वीकार की और उसे यह्या अता फ़रमाया और उसके लिए उसकी बीवी संवारि बेशक वे भले कामों में जल्दी करते थे और हमें पुकारते थे उम्मीद और ख़ौफ़ से, और हमारे हजरत गुड़गड़ाते हैं,
To humne uski dua qubool ki aur use Yahya ata farmaya aur uske liye uski biwi sanwari beshak woh bhale kaamon mein jaldi karte the aur humein pukarte the umeed aur khauf se, aur humare huzoor girgirate hain,
(ف158)فرزندِ سعید ۔(ف159)جو بانجھ تھی اس کو قابلِ ولادت کیا ۔(ف160)یعنی انبیاءِ مذکورین ۔
اور اس عورت کو اس نے اپنی پارسائی نگاہ رکھی (ف۱٦۱) تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی (ف۱٦۲) اور اسے اور اس کے بیٹے کو سارے جہاں کے لیے نشانی بنایا (ف۱٦۳)
And remember the woman who maintained her chastity, We therefore breathed Our Spirit into her and made her and her son a sign for the entire world.
और उस औरत को उसने अपनी पारसाई निगाह रखी तो हमने उसमें अपनी रूह फूँकी और उसे और उसके बेटे को सारे जहाँ के लिए निशानी बनाया
Aur us aurat ko usne apni parsai nigah rakhi to humne us mein apni rooh phoonki aur use aur uske bete ko saare jahan ke liye nishani banaya
(ف161)پورے طور پر کہ کسی طرح کوئی بشر اس کی پارسائی کو چھو نہ سکا ، مراد اس سے حضرت مریم ہیں ۔(ف162)اور اس کے پیٹ میں حضرت عیسٰی کوپیدا کیا ۔(ف163)اپنے کمالِ قدرت کی کہ حضرت عیسٰی کو اس کے بطن سے بغیر باپ کے پیدا کیا ۔
بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے (ف۱٦٤) اور میں تمہارا رب ہوں (ف۱٦۵) تو میری عبادت کرو،
Indeed this religion of yours, is one religion; and I am your Lord, therefore worship Me.
बेशक तुम्हारा यह दीन एक ही दीन है और मैं तुम्हारा रब हूँ तो मेरी इबादत करो,
Beshak tumhara yeh deen ek hi deen hai aur main tumhara Rab hoon to meri ibadat karo,
(ف164)دینِ اسلام ، یہی تمام انبیاء کا دین ہے اس کے سوا جتنے ادیان ہیں سب باطل ، سب کو اسی دین پر قائم رہنا لازم ہے ۔(ف165)نہ میرے سوا کوئی دوسرا ربّ ، نہ میرے دین کے سوا اور کوئی دین ۔
اور حرام ہے اس بستی پر جسے ہم نے ہلاک کردیا کہ پھر لوٹ کر آئیں (ف۱٦۸)
And it is forbidden for any township which We have destroyed, that they may return. (Once the disbelievers face death, their return to earth is impossible.)
और हराम है उस बस्ती पर जिसे हमने हलाक़ कर दिया कि फिर लौट कर आएँ
Aur haraam hai is basti par jise humne halaak kar diya ke phir laut kar aayen
(ف168)دنیا کی طرف تلافیٔ اعمال و تدارکِ احوال کے لئے یعنی اس لئے کہ ان کا واپس آنا ناممکن ہے ۔ مفسِّرین نے اس کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں کہ جس بستی والوں کو ہم نے ہلاک کیا ان کا شرک و کُفر سے واپس آنا محال ہے ، یہ معنی اس تقدیر پر ہیں جب کہ لا کو زائدہ قرار دیا جائے اور اگر لا زائدہ نہ ہو تو معنٰی یہ ہوں گے کہ دارِ آخرت میں ان کا حیات کی طرف نہ لوٹنا ناممکن ہے ۔ اس میں منکرینِ بَعث کا ابطال ہے اور اوپر جو کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْن اور لَاکُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ فرمایا گیا اس کی تاکید ہے ۔ (تفسیرِ کبیر وغیرہ)
اور قریب آیا سچا وعدہ (ف۱۷۰) تو جبھی آنکھیں پھٹ کر رہ جائیں گی کافروں کی (ف۱۷۱) کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم (ف۱۷۲) اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے (ف۱۷۳)
And the True Promise has come near – thereupon the eyes of the disbelievers will become fixed, staring wide; saying “Woe to us – we were in neglect of this, but in fact we were unjust.”
और करीब आया सच्चा वादा तो तभी आँखें फट कर रह जाएँगी काफ़रों की कि हाय हमारी ख़राबी बेशक हम उससे ग़फ़लत में थे बल्कि हम ज़ालिम थे
Aur qareeb aaya sachcha wada to jabhi aankhein phat kar reh jaayengi kafiron ki ke haaye humari kharabi beshak hum us se ghaflat mein the balki hum zalim the
(ف170)یعنی قیامت ۔(ف171)اس دن کے ہول اور دہشت سے اور کہیں گے ۔(ف172)دنیا کے اندر ۔(ف173)کہ رسولوں کی بات نہ مانتے تھے اور انہیں جھٹلاتے تھے ۔
بیشک تم (ف۱۷٤) اور جو کچھ اللہ کے سوا تم پوجتے ہو (ف۱۷۵) سب جہنم کے ایندھن ہو، تمہیں اس میں جانا،
“Indeed you* and all that you worship** besides Allah, are the fuel of hell; in it you must go.” (* All disbelievers ** Idols and disbelievers who claimed to be Gods. The Prophets like Eisa and Uzair who were worshipped are exempt from this, and so are Maryam, and trees and the moon etc.)
बेशक तुम और जो कुछ अल्लाह के सिवा तुम पूजते हो सब जहन्नम के ईंधन हो, तुम्हें उसमें जाना,
Beshak tum aur jo kuch Allah ke siwa tum poojte ho sab jahannum ke indhan ho, tumhein is mein jana,
وہ اس میں رینکیں گے (ف۱۷۸) اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے (ف۱۷۹)
They will bray in it and not be able to hear anything in it.
वह उसमें रेंकेंगे और वह उसमें कुछ न सुनेंगे
Woh is mein raingenge aur woh is mein kuch na sunenge
(ف178)اور عذاب کی شدّت سے چیخیں گے اور دھاڑیں گے ۔(ف179)جہنّم کے شدّتِ جوش کی وجہ سے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جب جہنّم میں وہ لوگ رہ جائیں گے جنہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہے تو وہ آ گ کے تابوتوں میں بند کئے جائیں گے ، وہ تابوت اور تابوتوں میں پھر وہ تابوت اور تابوتوں میں اور ان تابوتوں پر آ گ کی میخیں جڑ دی جائیں گی تو وہ کچھ نہ سُنیں گے اور نہ کوئی ان میں کسی کو دیکھے گا ۔
بیشک وہ جن کے لیے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جنہم سے دور رکھے گئے ہیں (ف۱۸۰)
Indeed those to whom Our promise of goodness has been made, have been kept far away from hell.
बेशक वह जिनके लिए हमारा वादा भलाई का हो चुका वह जहन्नम से दूर रखे गए हैं
Beshak woh jin ke liye humara wada bhalaai ka ho chuka woh jahannum se door rakhe gaye hain
(ف180)اس میں ایمان والوں کے لئے بشارت ہے ۔ حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعالٰی وجہَہ الکریم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ میں انہیں میں سے ہوں اور ابوبکر اور عمر اور عثمان اورطلحٰہ اور زبیر اور سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ۔شانِ نُزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز کعبۂ معظّمہ میں داخل ہوئے اس وقت قریش کے سردار حطیم میں موجود تھے اور کعبہ شریف کے گرد تین سو ساٹھ بُت تھے ، نضر بن حارث سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور آ پ سے کلام کرنے لگا حضور نے اس کو جواب دے کر ساکت کر دیا اور یہ آیت تلاوت فرمائی اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ حَصَبُ جَھَنَّمَ کہ تم اور جو کچھ اللہ کے سوا پُوجتے ہو سب جہنم کے ایندھن ہیں یہ فرما کر حضور تشریف لے آئے پھر عبداللہ بن زبعری سہمی آیا اوراس کو ولید بن مغیرہ نے اس گفتگو کی خبر دی ، کہنے لگا کہ خدا کی قسم میں ہوتا تو ان سے مباحثہ کرتا اس پر لوگوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا ، ابنِ زبعری یہ کہنے لگا کہ آپ نے یہ فرمایا ہے کہ تم اور جو کچھ اللہ کے سوا تم پُوجتے ہیں سب جہنّم کے ایندھن ہیں ؟ حضور نے فرمایا کہ ہاں کہنے لگا یہود تو حضرت عزیر کو پُوجتے ہیں اورنصارٰی حضرت مسیح کو پُوجتے ہیں اور بنی ملیح فرشتوں کو پُوجتے ہیں ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازِل فرمائی اور بیان فرما دیا کہ حضرت عزیر اور مسیح اور فرشتے وہ ہیں جن کے لئے بھلائی کا وعدہ ہو چکا اور وہ جہنّم سے دور رکھے گئے ہیں اور حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ درحقیقت یہود و نصارٰی وغیرہ شیطان کی پرستِش کرتے ہیں ۔ ان جوابوں کے بعد اس کو مجال دمِ زدن نہ رہی اور وہ ساکت رہ گیا اور درحقیقت اس کا اعتراض کمال عناد سے تھا کیونکہ جس آیت پر اس نے اعتراض کیا اس میں مَا تَعْبُدُوْنَ ہے اور مَا زبانِ عربی میں غیر ذوی العقول کے لئے بولا جاتا ہے ، یہ جانتے ہوئے اس نے اندھا بن کر اعتراض کیا ، یہ اعتراض تو اہلِ زبان کی نگاہوں میں کھلا ہوا باطل تھا مگر مزید بیان کے لئے اس آیت میں توضیح فرما دی گئی ۔
جس دن ہم آسمان کو لپیٹیں گے جیسے سجل فرشتہ (ف۱۸۵) نامہٴ اعمال کو لپیٹتا ہے، جیسے پہلے اسے بنایا تھا ویسے ہی پھر کردیں گے (ف۱۸٦) یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ، ہم کو اس کا ضرور کرنا،
The day when We shall roll up the heavens as the recording angel rolls up the register of deeds; We shall make him similar to Our making him the first time; this is a promise upon Us; We certainly have to do it.
जिस दिन हम आसमान को लपेटेंगे जैसे सज़्ज़ल फ़रिश्ता नामे अ’माल को लपेटता है, जैसे पहले इसे बनाया था वैसे ही फिर कर देंगे यह वादा है हमारे ज़िम्मे, हम को इसका जरूर करना,
Jis din hum aasman ko lapetenge jaise sijil farishta nama-e-aamaal ko lapetta hai, jaise pehle use banaya tha waise hi phir kar denge yeh wada hai humare zimmedaari, hum ko iska zaroor karna,
(ف185)جو کاتبِ اعمال ہے آدمی کی موت کے وقت اس کے ۔(ف186)یعنی ہم نے جیسے پہلے عدم سے بنایا تھا ویسے ہی پھر معدوم کرنے کے بعد پیدا کر دیں گے یا یہ معنی ہیں کہ جیسا ماں کے پیٹ سے برہنہ غیر مختون پیدا کیا تھا ایسا ہی مرنے کے بعد اٹھائیں گے ۔
اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے (ف۱۸۷)
And indeed We wrote, after the reminder in the Zaboor that, “My virtuous bondmen will inherit the earth.”
और बेशक हमने ज़बूर में नसीहत के बाद लिख दिया कि इस ज़मीन के वारिस मेरे नेक बन्दे होंगे
Aur beshak humne Zaboor mein naseehat ke baad likh diya ke is zameen ke waaris mere nek bande honge
(ف187)اس زمین سے مراد زمینِ جنّت ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ کُفّار کی زمینیں مراد ہیں جن کو مسلمان فتح کریں گے اور ایک قول یہ ہے کہ زمینِ شام مراد ہے ۔
This Qur’an is sufficient for people who are devout.
बेशक यह कुरआन काफ़ी है इबादत वालों को
Beshak yeh Quran kaafi hai ibadat walon ko
(ف188)کہ جو اس کا اِتّباع کرے اور اس کے مطابق عمل کرے جنّت پائے اور مراد کو پہنچے اور عبادت والوں سے مؤمنین مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اُمّتِ محمّدیہ مراد ہے جو پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں ، رمضان کے روزے رکھتے ہیں ، حج کرتے ہیں ۔
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے (ف۱۸۹)
And We did not send you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) except as a mercy for the entire world. (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is the Prophet towards all mankind.)
और हमने तुम्हें न भेजा मगर रहमत सारे जहाँ के लिए
Aur humne tumhein na bheja magar rehmat saare jahan ke liye
(ف189)کوئی ہو جن ہو یا انس مؤمن ہو یا کافِر ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور کا رحمت ہونا عام ہے ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا ، مؤمن کے لئے تو آپ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت تاخیرِ عذاب ہوئی اور خَسۡف و مَسۡخ اور اِستِیصال کے عذاب اٹھا دیئے گئے ۔ تفسیرِ روح البیان میں اس آیت کی تفسیر میں اکابر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمتِ مطلقہ تامّہ کاملہ عامہ شاملہ جامعہ محیطہ بہ جمیع مقیدات رحمتِ غیبیہ و شہادتِ علمیہ وعینیہ و وجود یہ و شہودیہ و سابقہ و لاحقہ و غیر ذلک تمام جہانوں کے لئے ، عالَمِ ارواح ہوں یا عالَمِ اجسام ، ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول اور جو تمام عالَموں کے لئے رحمت ہو لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو ۔
پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۹۰) تو فرمادو میں نے تمہیں لڑائی کا اعلان کردیا، برابری پر اور میں کیا جانوں (ف۱۹۱) کہ پاس ہے یا دور ہے وہ جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۱۹۲)
Then if they turn away, proclaim, “I have proclaimed a war against you on equal terms; and what do I know whether the promise which is given to you, is close or far?”
फिर अगर वह मुँह फेरें तो फ़रमा दो मैंने तुम्हें लड़ाई का एलान कर दिया, बराबरी पर और मैं क्या जानूँ कि पास है या दूर है वह जो तुम्हें वादा दिया जाता है
Phir agar woh munh pherein to farma do mainne tumhein laraai ka ilan kar diya, barabari par aur main kya jaanun ke paas hai ya door hai woh jo tumhein wada diya jaata hai
(ف190)اور اسلام نہ لائیں ۔(ف191)بے خدا کے بتائے یعنی یہ بات عقل و قیاس سے جاننے کی نہیں ہے ۔ یہاں درایت کی نفی فرمائی گئی درایت کہتے ہیں اندازے اور قیاس سے جاننے کو جیسا کہ مفرداتِ راغب اور ر دُّالمحتار میں ہے اسی لئے اللہ تعالٰی کے واسطے لفظِ درایت استعمال نہیں کیا جاتا اور قرآنِ کریم کے اطلاقات اس پر دلالت کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتَابُ وَلَا الْاِیْمَانُ لہٰذا یہاں بے تعلیم الٰہی مَحض اپنے عقل و قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ مطلق علم کی اور مطلق علم کی نفی کیسے ہو سکتی ہے جب کہ اسی رکوع کے اول میں آ چکا ہے وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ یعنی قریب آیا سچا وعدہ تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وعدے کا قُرب و بُعد کسی طرح معلوم نہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اپنے عقل و قیاس سے جاننے کی نفی ہے نہ کہ تعلیمِ الٰہی سے جاننے کی ۔(ف192)عذاب کا یا قیامت کا ۔
بیشک اللہ جانتا ہے آواز کی بات (ف۱۹۳) اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو (ف۱۹٤)
“Indeed Allah knows whatever is said, and knows all what you conceal.”
बेशक अल्लाह जानता है आवाज़ की बात और जानता है जो तुम छुपाते हो
Beshak Allah jaanta hai aawaaz ki baat aur jaanta hai jo tum chhupate ho
(ف193)جو اے کُفّار تم اعلان کے ساتھ اسلام پر بطریقِ طعن کہتے ہو ۔(ف194)اپنے دلوں میں یعنی نبی کی عداوت اور مسلمانوں سے حسد جو تمہارے دلوں میں پوشیدہ ہے اللہ اس کو بھی جانتا ہے سب کا بدلہ دے گا ۔
نبی نے عرض کی کہ اے میرے رب حق فیصلہ فرمادے (ف۱۹۸) اور ہمارے رب رحمنٰ ہی کی مدد درکار ہے ان باتوں پر جو تم بتاتے ہو، (ف۱۹۹)
And the Prophet submitted, “My Lord – render the true judgement”; “And only the help of Our Lord, the Most Gracious, is sought against all what you fabricate.”
नबी ने arz की कि ऐ मेरे रब हक़ फ़ैसला फ़रमा दे और हमारे रब रहमान ही की मदद दरकार है इन बातों पर जो तुम बताते हो,
Nabi ne arz ki ke aye mere Rab haq faisla farma de aur humare Rab Rahman hi ki madad darkaar hai un baaton par jo tum batate ho
(ف198)میرے اور ان کے درمیان جو مجھے جھٹلاتے ہیں اس طرح کہ میری مدد کر اور ان پر عذاب نازِل فرما ۔ یہ دعا مستجاب ہوئی اور کُفّار بدر و احزاب و حُنَین وغیرہ میں مبتلائے عذاب ہوئے ۔(ف199)شرک و کُفر اور بے ایمانی کی ۔
جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی (ف٤) اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر گابھ (ف۵) اپنا گابھ ڈال دے گی (ف٦) اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں اور نشہ میں نہ ہوں گے (ف۷) مگر ہے یہ کہ اللہ کی مار کڑی ہے،
On the day when you will witness it, every nursing mother will forget her nurseling and every pregnant one will discharge her burden, and you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) will see people as if they are drunk, whereas they will not be intoxicated, but the fact is that Allah’s punishment is very severe.
जिस दिन तुम उसे देखोगे हर दूध पिलाने वाली अपने दूध पीते को भूल जाएगी और हर गाभ अपना गाभ डाल देगी और तुम लोगों को देखोगे जैसे नशे में हैं और नशे में न होंगे मगर है यह कि अल्लाह की मार कड़ी है,
Jis din tum use dekho ge, har doodh pilane wali apne doodh peete ko bhool jaayegi aur har gaabh apna gaabh daal dega aur tum logo ko dekho ge jaise nasha mein hain aur nasha mein na honge magar hai ye ke Allah ki maar kadi hai,
(ف4)اس کی ہیبت سے ۔(ف5)یعنی حمل والی اس دن کے ہول سے ۔(ف6)حمل ساقط ہو جائیں گے ۔(ف7)بلکہ عذابِ الٰہی کے خوف سے لوگوں کے ہوش جاتے رہیں گے ۔
اور کچھ لوگ وہ ہیں کہ اللہ کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں بےجانے بوجھے، اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہو لیتے ہیں (ف۸)
And among people are some who argue concerning Allah without knowing, and blindly follow every rebellious devil.
और कुछ लोग वह हैं कि अल्लाह के मामले में झगड़ते हैं बे जाने बूझे, और हर सरकश शैतान के पीछे हो लेते हैं
Aur kuch log woh hain ke Allah ke maamle mein jhagadte hain be jaane boojhe, aur har sarkash shaytan ke peeche ho lete hain,
(ف8)شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی جو بڑا ہی جھگڑالو تھا اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں اور قرآن کو پہلوں کے قصّے بتاتا تھا اور موت کے بعد اٹھائے جانے کا منکِر تھا ۔
اے لوگو! اگر تمہیں قیامت کے دن جینے میں کچھ شک ہو تو یہ غور کرو کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا مٹی سے (ف۱۰) پھر پانی کی بوند سے (ف۱۱) پھر خون کی پھٹک سے (ف۹۱۲ پھر گوشت کی بوٹی سے نقشہ بنی اور بےبنی (ف۱۳) تاکہ ہم تمہارے لیے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں (ف۱٤) اور ہم ٹھہرائے رکھتے ہیں ماؤں کے پیٹ میں جسے چاہیں ایک مقرر میعاد تک (ف۱۵) پھر تمہیں نکالتے ہیں بچہ پھر (ف۱٦) اس لیے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو (ف ۱۷) اور تم میں کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب میں نکمی عمر تک ڈالا جاتا ہے (ف۱۸) کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے (ف۱۹) اور تو زمین کو دیکھے مرجھائی ہوئی (ف۲۰) پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا ترو تازہ ہوئی اور ابھر آئی اور ہر رونق دار جوڑا (ف۲۱) اُگا لائی (ف۲۲)
O people, if you doubt your revival on the Day of Resurrection, then ponder that We created you from dust, then from a drop of liquid, then from a clot, then from a piece of flesh formed and without form, so that We show you Our signs for you; and We keep whomever We want inside the mothers’ wombs up to an appointed time, then extract you as infants, then in order that you reach your puberty; and among you is one who dies earlier, and among you is one put to the most abject age, so after having knowledge, knows nothing; and you see the earth desolate, then when We sent down water upon it, it freshened up and developed and produced beautiful pairs of all kinds.
ए लोगो! अगर तुम्हें कयामत के दिन जीने में कुछ शक हो तो यह गौर करो कि हमने तुम्हें पैदा किया मिट्टी से फिर पानी की बूंद से फिर ख़ून की फट्क से फिर गोश्त की बूटी से नक़्शा बनी और बे बनी ताकि हम तुम्हारे लिए अपनी निशानियाँ ज़ाहिर फ़रमाएँ और हम ठहराए रखते हैं माँओं के पेट में जिसे चाहें एक निर्धारित मियाद तक फिर तुम्हें निकालते हैं बच्चा फिर इसके लिए कि तुम अपनी जवानी को पहुँचो और तुम में कोई पहले ही मर जाता है और कोई सब में निकमी उम्र तक डाला जाता है कि जानने के बाद कुछ न जाने और तुम ज़मीन को देखो मुरझाई हुई फिर जब हमने इस पर पानी उतारा तर व ताज़ा हुई और उभर आई और हर रौनकदार जोड़ा उगा लाई
Ae logo! Agar tumhein Qayamat ke din jeene mein kuch shakk ho to ye ghor karo ke hum ne tumhein paida kiya mitti se, phir paani ki boond se, phir khoon ki phatak se, phir gosht ki booti se, naqsha bani aur be bani, taake hum tumhare liye apni nishaniyan zahir farmaayein aur hum thaharae rakhte hain maaon ke pait mein jise chahein ek muqarrar miyaad tak, phir tumhein nikalte hain bacha, phir is liye ke tum apni jawani ko pahuncho aur tum mein koi pehle hi mar jaata hai aur koi sab mein nakami umar tak dala jaata hai ke jaan-ne ke baad kuch na jaane, aur tum zameen ko dekho, murjhayi hui, phir jab hum ne is par paani utara to tar o tazah hui aur ubhar aayi, aur har ronaq daar joda uga lai,
(ف10)تمہاری نسل کی اصل یعنی تمہارے جدِّ اعلٰی حضرت آدم علیہ السلام کو اس سے پیدا کر کے ۔(ف11)یعنی قطرۂ مَنی سے ان کی تمام ذُرِّیَّت کو ۔(ف12)کہ نطفۂ خونِ غلیظ ہو جاتا ہے ۔(ف13)یعنی مُصوَّر اور غیرِ مُصوَّر ۔ بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تم لوگوں کا مادۂ پیدائش ماں کے شکم میں چالیس روز تک نطفہ رہتا ہے پھر اتنی ہی مدّت خونِ بستہ ہو جاتا ہے پھر اتنی ہی مدّت گوشت کی بوٹی کی طرح رہتا ہے پھر اللہ تعالٌٰی فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کا رزق ، اس کی عمر ، اس کے عمل ، اس کا شقی یا سعید ہونا لکھتا ہے پھر اس میں روح پھونکتا ہے ۔ (الحدیث) اللہ تعالٰی انسان کی پیدائش اس طرح فرماتا ہے اور اس کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل کرتا ہے یہ اس لئے بیان فرمایا گیا ۔(ف14)اور تم اللہ تعالٰی کے کمالِ قدرت و حکمت کو جانو اور اپنی ابتدائے پیدائش کے حالات پر نظر کر کے سمجھ لو کہ جو قادرِ برحق بے جان مٹی میں اتنے انقلاب کر کے جاندار آدمی بنا دیتا ہے وہ مرے ہوئے انسان کو زندہ کرے تو اس کی قدرت سے کیا بعید ۔(ف15)یعنی وقتِ ولادت تک ۔(ف16)تمہیں عمر دیتے ہیں ۔(ف17)اور تمہاری عقل و قوّت کامل ہو ۔(ف18)اور اس کو اتنا بڑھاپا آ جاتا ہے کہ عقل و حوّاس بجا نہیں رہتے اور ایسا ہو جاتا ہے ۔(ف19)اور جو جانتا ہو وہ بھول جائے ۔ عِکرمہ نے کہا جو قرآن کی مداومت رکھے گا اس حالت کو نہ پہنچے گا ، اس کے بعد اللہ تعالٰی بَعث یعنی مرنے کے بعد اٹھنے پر دوسری دلیل بیان فرماتا ہے ۔(ف20)خشک بے گیاہ ۔(ف21)یعنی ہر قِسم کا خوش نما سبزہ ۔(ف22)یہ دلیلیں بیان فرمانے کے بعد نتیجہ مرتّب فرمایا جاتا ہے ۔
یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی حق ہے (ف۲۳) اور یہ کہ وہ مردے جِلائے گا اور یہ کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
This is because Allah only is True and because He will revive the dead, and because He is Able to do all things.
यह इसके लिए है कि अल्लाह ही हक़ है और यह कि वह मरे जिला देगा और यह कि वह सब कुछ कर सकता है,
Ye is liye hai ke Allah hi haq hai aur ye ke woh murde jilaaye ga aur ye ke woh sab kuch kar sakta hai,
(ف23)اور یہ جو کچھ ذکر کیا گیا آدمی کی پیدائش اور خشک بے گیاہ زمین کو سرسبز و شاداب کر دینا اس کے وجود و حکمت کی دلیلیں ہیں ان سے اس کا وجود بھی ثابت ہوتا ہے ۔
اور کوئی آدمی وہ ہے کہ اللہ کے بارے میں یوں جھگڑتا ہے کہ نہ تو علم نہ کوئی دلیل اور نہ کوئی روشن نوشتہ (تحریر) (ف۲٤)
And there is one who argues concerning Allah without having knowledge nor any proof nor a clear text.
और कोई आदमी वह है कि अल्लाह के बारे में यूँ झगड़ता है कि न तो इल्म न कोई दलील और न कोई रोशन नुस्ख़्ता (तहरीर)
Aur koi aadmi woh hai ke Allah ke baare mein yun jhagadta hai ke na to ilm na koi daleel aur na koi roshan noshta (tehreer),
(ف24)شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل وغیرہ ایک جماعتِ کُفّار کے حق میں نازل ہوئی جو اللہ تعالٰی کی صفات میں جھگڑا کرتے تھے اور اس کی طرف ایسے اوصاف کی نسبت کرتے تھے جو اس کی شان کے لائق نہیں ۔ اس آیت میں بتایا گیا کہ آدمی کو کوئی بات بغیر علم اور بے سند و دلیل کے کہنی نہ چاہیئے ، خاص کر شانِ الٰہی میں اور جو بات علم والے کے خلاف بے علمی سے کہی جائے گی وہ باطل ہو گی پھر اس پر یہ انداز کہ اصرار کرے اور براہِ تکبُّر ۔
حق سے اپنی گردن موڑے ہوئے تاکہ اللہ کی راہ سے بہکادے (ف۲۵) اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲٦) اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے (ف۲۷)
With his neck turned away from the truth, in order to deceive from the way of Allah; for him is disgrace in this world and on the Day of Resurrection We shall make him taste the punishment of fire.
हक़ से अपनी गर्दन मोड़े हुए ताकि अल्लाह की राह से भटका दे उसके लिए दुनिया में रसूाई है और कयामत के दिन हम उसे आग का अज़ाब चखाएँगे
Haq se apni gardan modne hue taake Allah ki raah se behka de, uske liye duniya mein ruswaai hai aur Qayamat ke din hum use aag ka azaab chakhayenge,
(ف25)اور اس کے دین سے منحرف کر دے ۔(ف26)چنانچہ بدر میں وہ ذلّت و خواری کے ساتھ قتل ہوا ۔(ف27)اور اس سے کہا جائے گا ۔
اور کچھ آدمی اللہ کی بندگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں (ف۳۰) پھر اگر انھیں کوئی بھلائی پہنچ گئی جب تو چین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آکر پڑی (ف۳۱) منہ کے بل پلٹ گئے ، (ف۳۲) دنیا اور آخرت دونوں کا گھاٹا (ف۳۳) یہی ہے صریح نقصان (ف۳٤)
And there are some men who worship Allah upon an edge; then if some good occurs to them, they are content; and if some trial comes, they turn way upon their faces; a loss of this world and the Hereafter; and this is the complete loss.
और कुछ आदमी अल्लाह की बंदगी एक किनारा पर करते हैं फिर अगर उन्हें कोई भलाई पहुँच गई जब तो चैन से हैं और जब कोई जाँच आ कर पड़ी मुँह के बल पलट गए, दुनिया और आख़िरत दोनों का घाटा यही है सरीह नुक़सान
Aur kuch aadmi Allah ki bandagi ek kinara par karte hain, phir agar unhein koi bhalai pahunche, to ye chain se hain, aur jab koi jaanch aa kar pari, munh ke bal palat gaye, duniya aur aakhirat dono ka ghaata, yehi hai sareeh nuqsan,
(ف30)اس میں اطمینان سے داخل نہیں ہوتے اور انہیں ثبات و قرار حاصل نہیں ہوتا ، شک و تردّد میں رہتے ہیں جس طرح پہاڑ کے کنارے کھڑا ہوا شخص تَزَلزُل کی حالت میں ہوتا ہے ۔شانِ نُزول : یہ آیت اعرابیوں کی ایک جماعت کے حق میں نازل ہوئی جو اطراف سے آ کر مدینہ میں داخل ہوتے اور اسلام لاتے تھے ، ان کی حالت یہ تھی کہ اگر وہ خوب تندرست رہے اور ان کی دولت بڑھی اور ان کے بیٹا ہوا تب تو کہتے تھےاسلام اچھا دین ہے اس میں آ کر ہمیں فائدہ ہوا اور اگر کوئی بات اپنی امید کے خلاف پیش آئی مثلاً بیمار ہو گئے یا لڑکی ہو گئی یا مال کی کمی ہوئی تو کہتے تھے جب سے ہم اس دین میں داخل ہوئے ہیں ہمیں نقصان ہی ہوا اور دین سے پھر جاتے تھے ۔ یہ آیت ان کی حق میں نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ انہیں ابھی دین میں ثبات ہی حاصل نہیں ہوا ان کا حال یہ ہے ۔(ف31)کسی قِسم کی سختی پیش آئی ۔(ف32)مرتد ہو گئے اور کُفر کی طرف لوٹ گئے ۔(ف33)دنیا کا گھاٹا تو یہ کہ جو ان کی امّیدیں تھیں وہ پوری نہ ہوئیں اور اِرتِداد کی وجہ سے ان کا خون مباح ہوا اور آخرت کا گھاٹا ہمیشہ کا عذاب ۔(ف34)وہ لوگ مرتد ہونے کے بعد بُت پرستی کرتے ہیں اور ۔
جو یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی (ف٤۰) کی مدد نہ فرمائے گا دنیا (ف٤۱) اور آخرت میں (ف٤۲) تو اسے چاہیے کہ اوپر کو ایک رسی تانے پھر اپنے آپ کو پھانسی دے لے پھر دیکھے کہ اس کا یہ داؤں کچھ لے گیا اس بات کو جس کی اسے جلن ہے (ف٤۳)
Therefore whoever assumes that Allah will not assist His Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) in this world and the Hereafter, should extend a rope upwards and hang himself, and then see whether his scheme has taken away what he envies.
जो यह ख़्याल करता हो कि अल्लाह अपने नबी की मदद न फ़रमाएगा दुनिया और आख़िरत में तो उसे चाहिए कि ऊपर को एक रस्सी ताने फिर अपने आप को फाँसी दे ले फिर देखे कि इसका यह दांव कुछ ले गया इस बात को जिस की उसे जलन है
Jo ye khayaal karta ho ke Allah apne Nabi ki madad na farmaaye ga, duniya aur aakhirat mein, to use chahiye ke oopar ko ek rassi taane, phir apne aap ko phaansi de le, phir dekhe ke iska ye daon kuch le gaya, is baat ko jis ki use jalan hai,
(ف40)حضرت محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف41)میں ان کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ۔(ف42)ان کے درجے بلند کر کے ۔(ف43)یعنی اللہ تعالٰی اپنے نبی کی مدد ضرور فرمائے گا جسے اس سے جلن ہو وہ اپنی انتہائی سعی ختم کر دے اور جلن میں مر بھی جائے تو بھی کچھ نہیں کر سکتا ۔
بیشک مسلمان اور یہودی اور ستارہ پرست اور نصرانی اور آتش پرست اور مشرک، بیشک اللہ ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا (ف٤٤) بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
Indeed the Muslims, and the Jews, and the Sabeans, and the Christians and the fire worshippers and the polytheists – indeed Allah will decide between all of them on the Day of Resurrection; indeed Allah witnesses all things.
बेशक मुसलमान और यहूदी और सितारा पूरस्त और नसरानी और आतिश पूरस्त और مشرक, बेशक अल्लाह इन सब में कयामत के दिन फ़ैसला कर देगा बेशक हर चीज़ अल्लाह के सामने है,
Beshak Musalman aur Yahudi aur sitara parast aur Nasrani aur aatish parast aur mushrik, beshak Allah in sab mein Qayamat ke din faisla kar dega, beshak har cheez Allah ke samne hai,
(ف44)مؤمنین کو جنّت عطا فرمائے گا اور کُفّار کو کسی قِسم کے بھی ہوں جہنّم میں داخل کرے گا ۔
کیا تم نے نہ دیکھا (ف٤۵) کہ اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے (ف٤٦) اور بہت آدمی (ف٤۷) اور بہت وہ ہیں جن پر عذاب مقرر ہوچکا (ف٤۸) اور جسے اللہ ذلیل کرے (ف٤۹) اسے کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللہ جو چاہے کرے، (السجدة) ٦
Did you not see that for Allah prostrate those who are in the heavens and in the earth, and the sun, and the moon, and the stars, and the hills, and the trees, and the beasts, and many among mankind; and there are many upon whom the punishment has been decreed; and he whom Allah disgraces – there is none to give him honour; indeed Allah may do whatever He wills. (Command of Prostration # 6)
क्या तुमने न देखा कि अल्लाह के लिए सजदा करते हैं वह जो आसमानों और ज़मीन में हैं और सूरज और चाँद और तारे और पहाड़ और पेड़ और चोपाय और बहुत आदमी और बहुत वे हैं जिन पर अज़ाब मुकर्रर हो चुका और जिसे अल्लाह ज़लील करे उसे कोई इज़्ज़त देने वाला नहीं, बेशक अल्लाह जो चाहे करे, (सिज्दह)
Kya tumne na dekha ke Allah ke liye sajda karte hain woh jo aasmanon aur zameen mein hain, aur sooraj aur chaand aur taare aur pahaad aur darakht aur choopaye aur bohot aadmi aur bohot woh hain jin par azaab muqarrar ho chuka, aur jise Allah zaleel kare, use koi izzat dene wala nahi, beshak Allah jo chahe kare, (As-Sajdah)
(ف45)اے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف46)سجدۂ خضوع جیسا اللہ چاہے ۔(ف47)یعنی مومنین مزید براں سجدۂ طاعت و عبادت بھی ۔(ف48)یعنی کُفّار ۔(ف49)اس کی شقاوت کے سبب ۔
یہ دو فریق ہیں (ف۵۰) کہ اپنے رب میں جھگڑے (ف۵۱) تو جو کافر ہوئے ان کے لیے آگ کے کپڑے بیونتے (کاٹے) گئے ہیں (ف۵۲) اور ان کے سروں پر کھولتا پانی ڈالا جائے گا (ف۵۳)
These are the two groups who fought concerning their Lord; so those who disbelieved – garments of fire have been fashioned for them; and boiling water will be poured onto their heads.
यह दो फ़रीक हैं कि अपने रब में झगड़े तो जो काफ़िर हुए उनके लिए आग के कपड़े बुनते (काटे) गए हैं और उनके सरों पर खोलता पानी डाला जाएगा
Ye do fareeq hain ke apne Rab mein jhagde, to jo kafir hue unke liye aag ke kapde bayunte (kaate) gaye hain aur unke saron par kholta paani dala jaayega,
(ف50)یعنی مؤمنین اور پانچوں قِسم کے کُفّار جن کا اوپر ذکر کیا گیا ۔(ف51)یعنی اس کے دین کے بارے میں اور اس کی صفات میں ۔(ف52)یعنی آ گ انہیں ہر طرف سے گھیر لے گی ۔(ف53)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ایسا تیز گرم کہ اگر اس کا ایک قطرہ دنیا کے پہاڑوں پر ڈال دیا جائے تو ان کو گلا ڈالے ۔
بیشک اللہ داخل کرے گا انھیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہیں اس میں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی (ف۵۷) اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے (ف۵۸)
Indeed Allah will admit those who believed and did good deeds into Gardens beneath which rivers flow – in it they will be made to wear armlets of gold, and pearls, and in it their garment is silk.
बेशक अल्लाह दाख़िल करेगा उन्हें जो ईमान लाए और अच्छे काम किए बहेष्तों में जिन के नीचे नहरें बहें इस में पहिनाए जाएंगे सोने के कंगन और मोती और वहाँ उनकी पोशाक रेशम है
Beshak Allah daakhil karega unhein jo iman laaye aur achhe kaam kiye, behishton mein jin ke neeche nahrein bahein, is mein pehnaye jaayenge soney ke kangan aur moti, aur wahan unki poshak resham hai,
(ف57)ایسے جن کی چمک مشرق سے مغرب تک روشن کر ڈالے ۔ (ترمذی)(ف58)جس کا پہننا دنیا میں مَردوں کو حرام ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے دنیا میں ریشم پہنا آخرت میں نہ پہنے گا ۔
بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور روکتے ہیں اللہ کی راہ (ف٦۱) اور اس ادب والی مسجد سے (ف٦۲) جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے مقرر کیا کہ اس میں ایک سا حق ہے وہاں کے رہنے والے اور پردیسی کا، اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے (ف٦۳)
Indeed those who have disbelieved and prevent from the way of Allah and from this Sacred Mosque, which We have appointed for all mankind – its resident and the foreigner have the same rights in it; and whoever wrongfully intends injustice in it – We shall make him taste a painful punishment.
बेशक वे जिन्होंने क़फ़्र किया और रोकते हैं अल्लाह की राह और इस अदब वाली मस्जिद से जिसे हमने सब लोगों के लिए मुकर्रर किया कि इस में एक सा हक़ है वहाँ के रहने वाले और परदेसी का, और जो इस में किसी ज़ियादती का नाहक इरादा करे हम उसे दर्दनाक अज़ाब चखाएँगे
Beshak woh jinhone kufr kiya aur rokte hain Allah ki raah aur is adab wali masjid se, jise hum ne sab logon ke liye muqarrar kiya ke is mein ek sa haq hai, wahan ke rehne wale aur pardesi ka, aur jo is mein kisi ziyadti ka na-haq iraada kare, hum use dardnaak azaab chakhayenge,
(ف61)یعنی اس کے دین اور اس کی اطاعت سے ۔(ف62)یعنی اس میں داخل ہونے سے ۔شانِ نُزول : یہ آیت سفیان بن حرب وغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکّہ مکرّمہ میں داخل ہونے سے روکا تھا ۔ مسجدِ حرام سے یا خاص کعبۂ معظّمہ مراد ہے جیسا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں ، اس تقدیر پر معنی یہ ہوں گے کہ وہ تمام لوگوں کا قبلہ ہے ، وہاں کے رہنے والے اور پردیسی سب برابر ہیں ، سب کے لئے اس کی تعظیم و حرمت اور اس میں ادائے مناسکِ حج یکساں ہے اور طواف و نماز کی فضیلت میں شہری اور پردیسی کے درمیان کوئی فرق نہیں اور امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک یہاں مسجدِ حرام سے مکّہ مکرّمہ یعنی جمیع حرم مراد ہے ، اس تقدیر پر معنٰی یہ ہوں گے کہ حرم شریف شہری اور پردیسی سب کے لئے یکساں ہے ، اس میں رہنے اور ٹھہرنے کا سب کسی کو حق ہے بَجُز اس کے کہ کوئی کسی کو نکالے نہیں اسی لئے امام صاحب مکّہ مکرّمہ کی اراضی کی بیع اور اس کے کرایہ کو منع فرماتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مکّہ مکرّمہ حرام ہے اس کی اراضی فروخت نہ کی جائیں ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف63) اِلْحَادٍ بِظُلْم ناحق زیادتی سے یا شرک و بُت پرستی مراد ہے ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ ہر ممنوع قول و فعل مراد ہے حتی کہ خادم کو گالی دینا بھی ۔ بعض نے کہا اس سے مراد ہے حرم میں بغیر احرام کے داخل ہونا یا ممنوعاتِ حرم کا ارتکاب کرنا مثل شکار مارنے اور درخت کاٹنے کے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مراد یہ ہے کہ جو تجھے نہ قتل کرے تو اسے قتل کرے یا جو تجھ پر ظلم نہ کرے تو اس پر ظلم کرے ۔شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن انیس کو دو آدمیوں کے ساتھ بھیجا تھا جن میں ایک مہاجر تھا دوسرا انصاری ، ان لوگوں نے اپنے اپنے مفاخرِ نسب بیان کئے تو عبداللہ بن انیس کو غصّہ آیا اور اس نے انصاری کو قتل کر دیا اور خود مرتد ہو کر مکّہ مکرّمہ کی طرف بھاگ گیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
اور جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانا ٹھیک بتادیا (ف٦٤) اور حکم دیا کہ میرا کوئی شریک نہ کر اور میرا گھر ستھرا رکھ (ف٦۵) طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجدے والوں کے لیے (ف٦٦)
And remember when We showed Ibrahim the right place of the Sacred House (mosque) and commanded that, “Do not ascribe anything as a partner to Me, and keep My House clean for those who encircle it and those who stay in it (for worship) and those who bow and prostrate.”
और जब कि हमने इब्राहिम को इस घर का ठिकाना ठीक बता दिया और हुक्म दिया कि मेरा कोई शरीक न कर और मेरा घर सुथरा रख, तवाफ़ वालों और इतिकाफ़ वालों और रुकू सिज़्दे वालों के लिए
Aur jab ke hum ne Ibrahim ko is ghar ka thikana theek bata diya aur hukum diya ke mera koi shareek na kar aur mera ghar suthra rakh, tawaf walon aur itikaf walon aur ruku sajde walon ke liye,
(ف64)تعمیرِکعبہ شریف کے وقت پہلے عمارتِ کعبہ حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بنائی تھی اور طوفانِ نوح کے وقت وہ آسمان پر اٹھا لی گئی ، اللہ تعالٰی نے ایک ہوا مقرر کی جس نے اس کی جگہ کو صاف کر دیا اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے ایک اَبر بھیجا جو خاص اس بُقعَہ کے مقابل تھا جہاں کعبہ معظّمہ کی عمارت تھی اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کعبہ شریف کی جگہ بتائی گئی اور آپ نے اس کی قدیم بنیاد پر عمارتِ کعبہ تعمیر کی اور اللہ تعالٰی نے آ پ کو وحی فرمائی ۔(ف65)شرک سے اور بُتوں سے اور ہر قسم کی نجاستوں سے ۔(ف66)یعنی نمازیوں کے ۔
اور لوگوں میں حج کی عام ندا کردے (ف٦۷) وہ تیرے پاس حاضر ہوں گے پیادہ اور ہر دبلی اونٹنی پر کہ ہر دور کی راہ سے آتی ہیں (ف٦۸)
“And publicly announce the pilgrimage to all people – they will come to you, on foot and on every lean she-camel, coming from every far distant journey.” (The announcement by Prophet Ibrahim reached each and every soul.)
और लोगों में हज की आम नदा कर दे वे तेरे पास हाज़िर होंगे पैदाह और हर डिबली ऊंटनी पर कि हर दौड़ की राह से आती हैं
Aur logon mein Hajj ki aam nida kar de, woh tere paas haazir honge, paidah aur har dubli oontni par, ke har dour ki raah se aati hain,
(ف67)چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر جہان کے لوگوں کو ندا کر دی کہ بیت اللہ کا حج کرو ، جن کے مقدور میں حج ہے انہوں نے باپوں کی پشتوں اور ماؤں کے پیٹوں سے جواب دیا لَبَّیْکَ اَللّہُمَّ لَبَّیْکَ ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے کہ اس آیت میں اَذِّنْ کا خِطاب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہے چنانچہ حَجَّۃُ الوداع میں اعلان فرما دیا اور ارشاد کیا کہ اے لوگو اللہ نے تم پر حج فرض کیا تو حج کرو ۔(ف68)اور کثرتِ سیر و سفر سے دبلی ہو جاتی ہیں ۔
تاکہ وہ اپنا فائدہ پائیں (ف٦۹) اور اللہ کا نام لیں (ف۷۰) جانے ہوئے دنوں میں (ف۷۱) اس پر کہ انھیں روزی دی بےزبان چوپائے (ف۷۲) تو ان میں سے خود کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو کھلاؤ (ف۷۳)
In order that they may gain their benefit, and mention the name of Allah on the appointed days as He has bestowed the sustenance to them – the inarticulate animals; therefore eat from them yourself and feed the distressed destitute.
ताकि वे अपना फ़ायदा पाएं और अल्लाह का नाम लें जाने हुए दिनों में इस पर कि उन्हें रोज़ी दी बेज़ुबान चोपाय तो उन में से खुद खाओ और मुसीबत ज़दा मुहताज को खिलाओ
Taake woh apna faida paayen aur Allah ka naam lein, jaane hue dino mein is par ke unhein rozi di be zubaan choopaye, to un mein se khud khao aur museebat zadah mohtaaj ko khilao,
(ف69)دینی بھی دنیوی بھی جو اس عباد ت کے ساتھ خاص ہیں ، دوسری عبادت میں نہیں پائے جاتے ۔(ف70)وقتِ ذَبح ۔(ف71)جانے ہوئے دنوں سے ذِی الحِجّہ کا عشرہ مراد ہے جیسا کہ حضرت علی اور ابنِ عباس و حسن و قتادہ رضی اللہ عنہم کا قول ہے اور یہی مذہب ہے ہمارے امامِ اعظم حضرت ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اور صاحبین کے نزدیک جانے ہوئے دنوں سے ایّامِ نحر مراد ہیں ، یہ قول ہے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کا اور ہر تقدیر پر یہاں ان دنوں سے خاص روزِ عید مراد ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف72)اونٹ ، گائے ، بکری ، بھیڑ ۔(ف73)تطّوُع اور متعہ و قِرانْ و ہر ایک ہدی سے جن کا اس آیت میں بیان ہے کھانا جائز ہے ، باقی ہدایا سے جائز نہیں ۔ (تفسیرِ احمد ی و مدارک)
پھر اپنا میل کچیل اتاریں (ف۷٤) اور اپنی منتیں پوری کریں (ف۷۵) اور اس آزاد گھر کا طواف کریں (ف۷٦)
They must then remove their dirt and fulfil their pledges and go around the Free House.
फिर अपना मेल कचैल उतारें और अपनी मन्नतें पूरी करें और इस आज़ाद घर का तवाफ़ करें
Phir apna mail kachail utaaren aur apni muntain poori karein aur is azaad ghar ka tawaf karein,
(ف74)مونچھیں کتروائیں ، ناخن تراشیں ، بغلوں اور زیرِ ناف کے بال دور کریں ۔(ف75)جو انہوں نے مانی ہوں ۔(ف76)اس سے طوافِ زیارت مراد ہے ، مسائلِ حج بالتفصیل سورۂ بقر پارہ دو میں ذکر ہو چکے ۔
بات یہ ہے اور جو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے (ف۷۷) تو وہ اس کے لیے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے، اور تمہارے لیے حلال کیے گئے بےزبان چوپائے (ف۷۸) سوا ان کے جن کی ممانعت تم پر پڑھی جاتی ہے (ف۷۹) تو دور ہو بتوں کی گندگی سے (ف۸۰) اور بچو جھوٹی بات سے،
So it is; and whoever reveres the sacred things of Allah – that is then a goodness for him in the sight of his Lord; the inarticulate animals are lawful to you except those the forbidding of which is recited to you, therefore shun the filth of idols, and avoid false speech.
बात यह है और जो अल्लाह की हरमतों की तज़ीम करे तो वह उसके लिए उसके रब के यहाँ भला है, और तुम्हारे लिए हलाल किए गए बेज़ुबान चोपाय सिवा उनके जिन की मना करते तुम पर पढ़ी जाती है तो दूर हो बुतों की गंदगी से और बचो झूठी बात से,
Baat ye hai, aur jo Allah ki hurmaton ki taazeem kare to woh uske liye uske Rab ke yahan bhala hai, aur tumhare liye halaal kiye gaye be zubaan choopaye, siwa unke jin ki mamnuaat tum par padhi jaati hai, to door ho buton ki gandagi se aur bacho jhooti baat se,
(ف77)یعنی اس کے احکام کی خواہ وہ مناسکِ حج ہوں یا ان کے سوا اور احکام ۔ بعض مفسِّرین نے اس سے مناسکِ حج مراد لئے ہیں اور بعض نے بیتِ حرام و مشعرِ حرام و شہرِ حرام و بلدِ حرام و مسجدِ حرام مراد لئے ہیں ۔(ف78)کہ انہیں ذبح کر کے کھاؤ ۔(ف79)قرآنِ پاک میں جیسے کہ سورۂ مائدہ کی آیت حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ میں بیان فرمائی گئی ۔(ف80)جن کی پرستِش کرنا بدترین گندگی سے آلودہ ہونا ہے ۔
ایک اللہ کے ہو کر کہ اس کا ساجھی کسی کو نہ کرو، اور جو اللہ کا شریک کرے وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اچک لے جاتے ہیں (ف۸۱) یا ہوا اسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے (ف۸۲)
Devoting yourself to Allah, not ascribing any partner to Him; and whoever ascribes partners to Allah is as if he has fallen from the sky and the birds snatch him or the wind blows him away to a far-off place.
एक अल्लाह के हो कर कि उसका साझी किसी को न करो, और जो अल्लाह का शरीक करे वह गोया गिरा आसमान से कि परिंदे उसे छींक ले जाते हैं या हवा उसे किसी दूर जगह फेंकती है
Ek Allah ke ho kar, ke uska saajhi kisi ko na karo, aur jo Allah ka shareek kare, woh goya gir aa samaan se, ke parinde use achak le jaate hain ya hawa use kisi door jagah pheenkti hai,
(ف81)اور بوٹی بوٹی کر کے کھا جاتے ہیں ۔(ف82)مراد یہ ہے کہ شرک کرنے والا اپنی جان کو بدترین ہلاکت میں ڈالتا ہے ۔ ایمان کو بلندی میں آسمان سے تشبیہ دی گئی اور ایمان ترک کرنے والے کو آسمان سے گرنے والے کے ساتھ اور اس کی خواہشاتِ نفسانیہ کو جو اس کی فکروں کو منتشر کرتی ہیں بوٹی بوٹی لے جانے والے پرندے کے ساتھ اور شیاطین کو جو اس کو وادیٔ ضلالت میں پھینکتے ہیں ہَوا کے ساتھ تشبیہ دی گئی اور اس نفیس تشبیہ سے شرک کا انجامِ بد سمجھایا گیا ۔
بات یہ ہے، اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے (ف۸۳)
So it is; and whoever reveres the symbols of Allah – this is then part of the piety of the hearts.
बात यह है, और जो अल्लाह के निशानों की तज़ीम करे तो यह दिलों की परहेज़गारी से है
Baat ye hai, aur jo Allah ke nishanon ki taazeem kare, to ye dilon ki parhezgaari se hai,
(ف83)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ شعائر اللہ سے مراد بُدنے اور ہدایا ہیں اور ان کی تعظیم یہ ہے کہ فربہ ، خوبصورت ، قیمتی لئے جائیں ۔
اور ہر امت کے لیے (ف۸۷) ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بےزبان چوپایوں پر (ف۸۸) تو تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۸۹) تو اسی کے حضور گردن رکھو (ف۹۰) اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو،
And for every nation We have appointed a sacrifice, that they may mention the name of Allah over the inarticulate animal which He has provided them; so (remember) your God is One God, therefore submit only to Him; and give glad tidings (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) to the humble.
और हर उम्मत के लिए हमने एक क़ुर्बानी मुकर्रर फ़र्माई कि अल्लाह का नाम लें उसके दिए हुए बेज़ुबान चोपायों पर तो तुम्हारा माबूद एक माबूद है तो उसी के हज़ूर गर्दन रखो और ए महबूब ख़ुशी सुना दो उन तवाज़ु वाले को,
Aur har ummat ke liye hum ne ek qurbani muqarrar farmaai, ke Allah ka naam lein us ke diye hue be zubaan choopayon par, to tumhara maabood ek maabood hai, to usi ke huzoor gardan rakho, aur ae mehboob khushi suna do un tuwaazuh walon ko,
(ف87)پچھلی ایماندار اُمّتوں میں سے ۔(ف88)ان کے ذبح کے وقت ۔(ف89)تو ذبح کے وقت صرف اسی کا نام لو ۔ اس آیت میں دلیل ہے اس پر کہ نامِ خدا کا ذکر کر نا ذبح کے لئے شرط ہے ، اللہ تعالٰی نے ہر ایک اُمّت کے لئے مقرر فرما دیا تھا کہ اس کے لئے بہ طریقِ تَقَرُّب قربانی کریں اور تمام قربانیوں پر اسی کا نام لیا جائے ۔(ف90)اور اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرو ۔
کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں (ف۹۱) اور جو افتاد پڑے اس کے سنے والے اور نماز برپا رکھنے والے اور ہمارے دیے سے خرچ کرتے ہیں (ف۹۲)
Those whose hearts fear when Allah is mentioned, and those who patiently endure whatever befalls them, and those who keep the prayer established, and who spend part of what We have provided to them.
कि जब अल्लाह का ज़िक्र होता है उनके दिल डरने लगते हैं और जो इफ्ताद पड़े उसके सुनने वाले और नमाज़ बरपा रखने वाले और हमारे दिए से खर्च करते हैं
Ke jab Allah ka zikr hota hai, unke dil darne lagte hain, aur jo iftad pade, us ke sune wale aur namaz barpa rakhne wale aur humare diye se kharch karte hain,
(ف91)اس کے ہیبت و جلال سے ۔(ف92)یعنی صدقہ دیتے ہیں ۔
اور قربانی کے ڈیل دار جانور اور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے کیے (ف۹۳) تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے (ف۹٤) تو ان پر اللہ کا نام لو (ف۹۵) ایک پاؤں بندھے تین پاؤں سے کھڑے (ف۹٦) پھر جب ان کی کروٹیں گرجائیں (ف۹۷) تو ان میں سے خود کھاؤ (ف۹۸) اور صبر سے بیٹھنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ، ہم نے یونہی ان کو تمہارے بس میں دے دیا کہ تم احسان مانو،
And the large sacrificial animals – the camels and the cows – We have made them among the symbols of Allah, there is goodness for you in them; therefore mention the name of Allah over them with their one leg tied and standing on three feet; then when their flanks have fallen, eat from it yourself and feed the one who patiently awaits, and the beggar; this is how We have given them in your control, so that you be grateful.
और क़ुर्बानी के डीलदार जानवर और ऊँट और गाय हमने तुम्हारे लिए अल्लाह की निशानियों से किए तुम्हारे लिए उनमें भलाई है तो उन पर अल्लाह का नाम लो एक पाँव बंधे तीन पाँव से खड़े फिर जब उनकी करवटें गिर जाएँ तो उन में से खुद खाओ और सब्र से बैठने वाले और भीख माँगने वाले को खिलाओ, हमने यूं ही उन्हें तुम्हारे बस में दे दिया कि तुम एहसान मानो,
Aur qurbani ke deel daar janwar, aur oont aur gaaye, hum ne tumhare liye Allah ki nishaniyon se kiye, tumhare liye un mein bhalai hai, to un par Allah ka naam lo, ek paon bandhe, teen paon se khade, phir jab unki karwatein gir jaayen to un mein se khud khao aur sabr se baithne wale aur bheek maangne wale ko khilao, hum ne yunhi un ko tumhare bas mein de diya ke tum ehsaan maano,
(ف93)یعنی اس کے اَعلامِ دین سے ۔(ف94)دنیا میں نفع اور آخرت میں اجر و ثواب ۔(ف95)ان کے ذبح کے وقت جس حال میں کہ وہ ہوں ۔(ف96)اُونٹ کے ذبح کا یہی منسون طریقہ ہے ۔(ف97)یعنی بعدِ ذبح ان کے پہلو زمین پر گریں اور ان کی حرکت ساکن ہو جائے ۔(ف98)اگر تم چاہو ۔
اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے (ف۹۹) یونہی ان کو تمہارے پس میں کردیا کہ تم اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ تم کو ہدایت فرمائی، اور اے محبوب! خوشخبری سناؤ نیکی والوں کو (ف۱۰۰)
Never does their flesh nor their blood reach Allah, but your piety successfully reaches Him; this is how We have given them in your control so that you may speak His Greatness for guiding you; and O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) give glad tidings to the virtuous.
अल्लाह को हरगज़ न उनके गोश्त पहुँचते हैं न उनके ख़ून हाँ तुम्हारी परहेज़गारी इस तक बारियाब होती है यूं ही उन्हें तुम्हारे पास में कर दिया कि तुम अल्लाह की बड़ाई बोलो इस पर कि तुम को हिदायत फ़रमाई, और ए महबूब! खुशख़बरी सुनाओ नेकियों वालों को
Allah ko har guz na unke gosht pahunchte hain, na unke khoon, haan tumhari parhezgaari is tak baariyaab hoti hai, yunhi un ko tumhare pas mein kar diya ke tum Allah ki barhai bolo, is par ke tum ko hidaayat farmaai, aur ae mehboob! Khushkhabri sunao neki walon ko,
(ف99)یعنی قربانی کرنے والے صرف نیت کے اخلاص اور شروطِ تقوٰی کی رعایت سے اللہ تعالٰی کو راضی کر سکتے ہیں ۔شانِ نُزو ل : زمانۂ جاہلیت کے کُفّار اپنی قربانیوں کے خون سے کعبۂ معظّمہ کی دیواروں کو آلودہ کرتے تھے اور اس کو سببِ تقرُّب جانتے تھے ۔ اس پر آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف100)ثواب کی ۔
پروانگی (اجازت) عطا ہوئی انھیں جن سے کافر لڑتے ہیں (ف۱۰۳) اس بناء پر کہ ان پر ظلم ہوا (ف۱۰٤) اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے ،
Permission is granted to those against whom the disbelievers wage war, as they are being wronged; and indeed Allah is Able to assist them.
परवांगी (इजाज़त) अता हुई उन्हें जिन से काफ़िर लड़ते हैं इस बुनियाद पर कि उन पर ज़ुल्म हुआ और बेशक अल्लाह उनकी मदद करने पर ज़रूर क़ादिर है,
Parwanagi (ijazat) ata hui unhein jin se kafir larte hain, is binaa par ke un par zulm hua, aur beshak Allah unki madad karne par zaroor qadir hai,
(ف103)جہاد کی ۔(ف104)شانِ نُزول : کُفّارِ مکّہ اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزمرہ ہاتھ اور زبان سے شدید ایذائیں دیتے اور آزار پہنچاتے رہتے تھے اور صحابہ حضور کے پاس اس حال میں پہنچتے تھے کہ کسی کا سر پھٹا ہے کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہے کسی کا پاؤں بندھا ہوا ہے روزمرہ اس قسم کی شکایتیں بارگاہِ اقدس میں پہنچتی تھیں اور اصحابِ کرام کفُاّر کے مظالم کی حضور کے دربار میں فریادیں کرتے حضور یہ فرما دیا کرتے کہ صبر کرو مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں دیا گیا ہے جب حضور نے مدینہ طیّبہ کو ہجرت فرمائی تب یہ آیت نازل ہوئی اور یہ وہ پہلی آیت ہے جس میں کُفّار کے ساتھ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔
وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے (ف۱۰۵) صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے (ف۱۰٦) اور اللہ اگر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا (ف۱۰۷) تو ضرور ڈھا دی جاتیں خانقاہیں (ف۱۰۸) اور گرجا (ف۱۰۹) اور کلیسے (ف۱۱۰) اور مسجدیں (ف۱۱۱) جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے، اور بیشک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے، (۱۰۹)
Those who were unjustly expelled from their homes just because they said, “Allah is Our Lord”; and had Allah not repelled some men by means of other men, the abbeys, churches, synagogues and mosques – in which the name of Allah is profusely mentioned – would definitely be demolished; and indeed Allah will assist the one who helps His religion; indeed surely Allah is Almighty, Dominant.
वे जो अपने घरों से नाहक निकाले गए सिर्फ़ इतनी बात पर कि उन्होंने कहा हमारा रब अल्लाह है और अल्लाह अगर आदमियों में एक को दूसरे से दफ़ा न फ़रमाता तो ज़रूर ढा दी जातीं ख़ानक़ाहें और गिरजा और कैलिसे और मस्जिदें जिन में अल्लाह का बक़्सरात नाम लिया जाता है, और बेशक अल्लाह ज़रूर मदद फ़रमाएगा उसकी जो उसके दीन की मदद करेगा बेशक ज़रूर अल्लाह क़ुदरत वाला ग़ालिब है,
Woh jo apne gharon se na-haq nikale gaye, sirf itni baat par ke unhone kaha humara Rab Allah hai, aur Allah agar aadmiyon mein ek ko doosre se dafa na farmaata to zaroor dhaa di jaati khanqahen aur girja aur kalisayein aur masjiden jin mein Allah ka bakhturat naam liya jaata hai, aur beshak Allah zaroor madad farmaayega us ki jo us ke deen ki madad karega, beshak zaroor Allah qudrat wala ghalib hai,
(ف105)اور بے وطن کئے گئے ۔(ف106)اور یہ کلام حق ہے اور حق پر گھروں سے نکالنا اور بے وطن کرنا قطعاً ناحق ۔(ف107)جہاد کی اجازت دے کر اور حدود قائم فرما کر تو نتیجہ یہ ہوتا کہ مشرکین کا استیلا ہو جاتا اور کوئی دین و ملّت والا ان کے دستِ تعدّی سے نہ بچتا ۔(ف108)راہبوں کی ۔(ف109)نصرانیوں کے ۔(ف110)یہودیوں کے ۔(ف111)مسلمانوں کی ۔
وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں قابو دیں (ف۱۱۲) تو نماز برپا رکھیں اور زکوٰة اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں (ف۱۱۳) اور اللہ ہی کے لیے سب کاموں کا انجام،
The people who, if We give them control in the land, would keep the prayer established and pay charity and enjoin virtue and forbid from evil; and for Allah only is the result of all works.
वे लोग कि अगर हम उन्हें ज़मीन में क़ाबू दें तो नमाज़ बरपा रखें और ज़क़ात और भलाई का हुक्म करें और बुराई से रोकें और अल्लाह ही के लिए सब कामों का अंज़ाम,
Woh log ke agar hum unhein zameen mein qaboo dein to namaz barpa rakhein aur zakat aur bhalai ka hukum karein aur burai se roken, aur Allah hi ke liye sab kaamon ka anjaam,
(ف112)اور ان کے دشمنوں کے مقابل ان کی مدد فرمائیں ۔(ف113)اس میں خبر دی گئی ہے کہ آئندہ مہاجرین کو زمین میں تصرف عطا فرمانے کے بعد ان کی سیرتیں ایسی پاکیزہ رہیں گی اور وہ دین کے کاموں میں اخلاص کے ساتھ مشغول رہیں گے اس میں خلفاءِ راشدین مہدیّین کے عدل اور ان کے تقوٰی و پرہیزگاری کی دلیل ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے تمکین و حکومت عطا فرمائی اور سیرتِ عادلہ عطا کی ۔
اور اگر یہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں (ف۱۱٤) تو بیشک ان سے پہلے جھٹلا چکی ہے نوح کی قوم اور عاد (ف۱۱۵) اور ثمود (ف۱۱٦)
If they belie you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), then indeed the people of Nooh, and the tribes of A’ad and Thamud have belied before them.
और अगर ये तुम्हारी तज़दीब करें तो बेशक उन से पहले झूठला चुकी है नूह की क़ौम और आद और थमूद
Aur agar ye tumhari takzeeb karte hain to beshak un se pehle jhuthla chuki hai Nuh ki qaum aur ‘Aad aur Thamud,
(ف114)اے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔(ف115)حضرت ہود کی قوم ۔(ف116)حضرت صالح کی قوم ۔
وَقَوۡمُ اِبۡرٰهِيۡمَ وَقَوۡمُ لُوۡطٍ ۙ ﴿43﴾
اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم ،
And (so did) the people of Ibrahim and the people of Lut.
اور مدین والے (ف۱۱۷) اور موسیٰ کی تکذیب ہوئی (ف۱۱۸) تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی (ف۱۱۹) پھر انھیں پکڑا (ف۱۲۰) تو کیسا ہوا میرا عذاب (ف۱۲۱)
And the people of Madyan; and Moosa was belied, so I gave the disbelievers respite and then seized them, so how (dreadful) was My punishment!
और मदीन वाले और मूसा की तज़दीब हुई तो मैंने काफ़िरों को ढील दी फिर उन्हें पकड़ा तो कैसा हुआ मेरा अज़ाब
Aur Madain wale aur Musa ki takzeeb hui, to maine kafiron ko dheel di, phir unhein pakda to kaisa hua mera azaab,
(ف117)یعنی حضرت شعیب کی قوم ۔(ف118)یہاں موسٰی کی قوم نہ فرمایا کیونکہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قوم بنی اسرائیل نے آپ کی تکذیب نہ کی تھی بلکہ فرعون کی قوم قبطیوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی تکذیب کی تھی ، ان قوموں کا تذکرہ اور ہر ایک کے اپنے رسول کی تکذیب کرنے کا بیان سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تسکینِ خاطر کے لئے ہے کہ کُفّار کا یہ قدیمی طریقہ ہے پچھلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی دستور رہا ہے ۔(ف119)اور ان کے عذاب میں تاخیر کی اور انہیں مہلت دی ۔(ف120)اور ان کے کفر و سرکشی کی سزا دی ۔(ف121)آپ کی تکذیب کرنے والوں کو چاہیئے کہ اپنے انجام کو سوچیں اور عبرت حاصل کریں ۔
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے کھپادیں (ہلاک کردیں) (ف۱۲۲) کہ وہ ستمگار تھیں (ف۱۲۳) تو اب وہ اپنی چھتوں پر ڈہی (گری) پڑی ہیں اور کتنے کنویں بیکار پڑے (ف۱۲٤) اور کتنے محل گچ کیے ہوئے (ف۱۲۵)
And many a township did We destroy, for they were oppressors – so they now lie flat on their roofs, and many a well lying useless and many a palace in ruins.
और कितनी ही बस्तियाँ हमने खपा दीं (हलाक कर दीं) कि वे सितमगार थीं तो अब वे अपनी छतों पर ढही (गिरी) पड़ी हैं और कितने कुएँ बेकार पड़े और कितने महल गच किए हुए
Aur kitni hi bastiyan hum ne khapa di (halaak kar di) ke woh sitamgaar the, to ab woh apni chhaton par dhee (giri) padi hain aur kitne kunwein bekaar pade aur kitne mahal gach kiye hue,
(ف122)اور وہاں کے رہنے والوں کو ہلاک کر دیا ۔(ف123)یعنی وہاں کے رہنے والے کافِر تھے ۔(ف124)کہ ان سے کوئی پانی بھرنے والا نہیں ۔
تو کیا زمین میں نہ چلے (ف۱۲٦) کہ ان کے دل ہوں جن سے سمجھیں (ف۱۲۷) یا کان ہوں جن سے سنیں (ف۱۲۸) تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں (ف۱۲۹) بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں، (ف۱۳۰)
So have they not travelled in the land, to have hearts with which to understand and ears to hear with? So it is not the eyes that are blind, but it is the hearts in the bosoms, that are blind.
तो क्या ज़मीन में न चले कि उनके दिल हों जिन से समझें या कान हों जिन से सुनें तो यह कि आंखें अंधी नहीं होतीं बल्कि वे दिल अंधे होते हैं जो सीनों में हैं,
To kya zameen mein na chale ke unke dil hon jise samjhein ya kaan hon jise sunein, to ye ke aankhen andhi nahi hoti, balki woh dil andhe hote hain jo seenon mein hain,
(ف125)ویران پڑے ہیں ۔(ف126)کُفّار کہ ان حالات کا مشاہدہ کریں ۔(ف127)کہ انبیاء کی تکذیب کا کیا انجام ہوا اور عبرت حاصل کریں ۔(ف128)پچھلی اُمّتوں کے حالات اور ان کا ہلاک ہونا اور ان کی بستیوں کی ویرانی کہ اس سے عبرت حاصل ہو ۔(ف129)یعنی کُفّار کی ظاہری حِس باطل نہیں ہوئی ہے وہ ان آنکھوں سے دیکھنے کی چیزیں دیکھتے ہیں ۔(ف130)اور دلوں ہی کا اندھا ہونا غضب ہے اسی لئے آدمی دین کی راہ پانے سے محروم رہتا ہے ۔
اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں جلدی کرتے ہیں (ف۱۳۱) اور اللہ ہرگز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا (ف۱۳۲) اور بیشک تمہارے رب کے یہاں (ف۱۳۳) ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس (ف۱۳٤)
And they ask you for the punishment – they are impatient – and Allah will not make His promise untrue; and indeed a single day before Allah is like a thousand years in your calculation.
और यह तुम से अज़ाब माँगने में जल्दी करते हैं और अल्लाह हरगज़ अपना वादा झूठा न करेगा और बेशक तुम्हारे रब के यहाँ एक दिन ऐसा है जैसे तुम लोगों की गिनती में हज़ार बरस
Aur ye tum se azaab maangne mein jaldi karte hain, aur Allah har guz apna waada jhoota na karega, aur beshak tumhare Rab ke yahan ek din aisa hai jaise tum logo ki ginti mein hazaar saal,
(ف131)یعنی کُفّارِ مکّہ مثل نضر بن حارث وغیرہ کے اور یہ جلدی کرنا ان کا استہزاء کے طریقہ پر تھا ۔(ف132)اور ضرور حسبِ وعدہ عذاب نازل فرمائے گا چنانچہ یہ وعدہ بدر میں پورا ہوا ۔(ف133)آخرت میں عذاب کا ۔(ف134)تو یہ کُفّار کیا سمجھ کر عذاب کی جلدی کرتے ہیں ۔
اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی بھیجے (ف۱۳۹) سب پر کبھی یہ واقعہ گزرا ہے کہ جب انہوں نے پڑھا تو شیطان نے ان کے پڑھنے میں لوگوں پر کچھ اپنی طرف سے ملادیا تو مٹا دیتا ہے اللہ اس شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اللہ اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے (ف۱٤۰) اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
And all the Noble Messengers or Prophets whom We sent before you – it occurred with all of them – that whenever they recited (the message) Satan included a bit (from his own speech) in their recitation to the people; so Allah obliterates what Satan includes and then Allah fortifies His verses; and Allah is All Knowing, Wise.
और हमने तुम से पहले जितने रसूल या नबी भेजे सब पर कभी यह वाक़िया गुज़रा है कि जब उन्होंने पढ़ा तो शैतान ने उनके पढ़ने में लोगों पर कुछ अपनी तरफ़ से मिला दिया तो मिटा देता है अल्लाह उस शैतान के डाले हुए को फिर अल्लाह अपनी आयतें पक्की कर देता है और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है,
Aur hum ne tum se pehle jitne rasool ya nabi bheje, sab par kabhi ye waaqia guzra hai ke jab unhone padha to shaytan ne un ke padhne mein logo par kuch apni taraf se mila diya, to mita deta hai Allah is shaytan ke daale hue ko, phir Allah apni aayatein pakki kar deta hai, aur Allah ilm o hikmat wala hai,
(ف139)نبی اور رسول میں فرق ہے نبی عام ہے اور رسول خاص ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ رسول شرع کے واضع ہوتے ہیں اور نبی اس کے حافظ اور نگہبان ۔شانِ نُزول : جب سورۂ والنجم نازل ہوئی تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجدِ حرام میں اس کی تلاوت فرمائی اور بہت آہستہ آہستہ آیتوں کے درمیان وقفہ فرماتے ہوئے جس سے سننے والے غور بھی کر سکیں اور یاد کرنے والوں کو یاد کرنے میں مدد بھی ملے جب آپ نے آیت وَمَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی پڑھ کر حسبِ دستور وقفہ فرمایا تو شیطان نے مشرکین کے کان میں اس سے ملا کر دو کلمے ایسے کہہ دیئے جن سے بُتوں کی تعریف نکلتی تھی ، جبریلِ امین نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ حال عرض کیا اس سے حضور کو رنج ہوا ، اللہ تعالٰی نے آپ کی تسلّی کے لئے یہ آیت نازل فرمائی ۔(ف140)جو پیغمبر پڑھتے ہیں اور انہیں شیطانی کلمات کے خلط سے محفوظ فرماتا ہے ۔
تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو فتنہ کردے (ف۱٤۱) ان کے لیے جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱٤۲) اور جن کے دل سخت ہیں (ف۱٤۳) اور بیشک ستمگار (ف۱٤٤) دُھرکے (پرلے درجے کے) جھگڑالو ہیں،
So that He may make what the devil includes a trial for those in whose hearts is a disease, and those whose hearts are hardened; indeed the unjust are extremely quarrelsome.
ताकि शैतान के डाले हुए को फितना कर दे उनके लिए जिन के दिलों में बीमारी है और जिन के दिल सख़्त हैं और बेशक सितमगार धुरके (परले दर्जे के) झगड़ालू हैं,
Taake shaytan ke daale hue ko fitna kar de un ke liye jinh ke dilon mein bemari hai aur jinh ke dil sakht hain, aur beshak sitamgaar dhurke (parlay darje ke) jhagadalu hain,
(ف141)اور ابتلا و آزمائش بنا دے ۔(ف142)شک اور نفاق کی ۔(ف143)حق کو قبول نہیں کرتے اور یہ مشرکین ہیں ۔(ف144)یعنی مشرکین و منافقین ۔
اور اس لیے کہ جان لیں وہ جن کو علم ملا ہے (ف۱٤۵) کہ وہ (ف۱٤٦) تمہارے رب کے پاس سے حق ہے تو اس پر ایمان لائیں تو جھک جائیں اس کے لیے ان کے دل، اور بیشک اللہ ایمان والوں کو سیدھی راہ چلانے والا ہے،
And so that the people given the knowledge may know that it is the truth from your Lord, in order that they may accept faith in it, therefore their hearts may humble before Him; and indeed Allah will guide the believers on the Straight Path.
और इसलिए कि जान लें वे जिन को इल्म मिला है कि वे तुम्हारे रब के पास से हक़ है तो इस पर ईमान लाएँ तो झुक जाएँ उसके लिए उनके दिल, और बेशक अल्लाह ईमान वालों को सीधी राह चलाने वाला है,
Aur is liye ke jaan lein woh jinh ko ilm mila hai ke woh tumhare Rab ke paas se haq hai, to is par iman laayein, to jhuk jaayein us ke liye un ke dil, aur beshak Allah iman walon ko seedhi raah chalane wala hai,
(ف145)اللہ کے دین کا اور اس کی آیات کا ۔(ف146)یعنی قرآن شریف ۔
اور کافر اس سے (ف۱٤۷) ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے اچانک (ف۱٤۸) یا ان پر ایسے دن کا عذاب آئے جس کا پھل ان کے لیے کچھ اچھا نہ ہو (ف۱٤۹)
And the disbelievers will always be in doubt of it, to the extent that the Last Day will suddenly come upon them, or will come upon them the punishment of a day the result of which is not at all good for them.
और काफ़िर इस से हमेशा शक़ में रहेंगे यहाँ तक कि उन पर कयामत आ जाए अचानक या उन पर ऐसे दिन का अज़ाब आए जिसका फल उनके लिए कुछ अच्छा न हो
Aur kafir is se hamesha shakk mein rahenge, yahan tak ke un par Qayamat aa jaaye achaanak, ya un par aise din ka azaab aaye jis ka phal un ke liye kuch acha na ho,
(ف147)یعنی قرآن سے یا دینِ اسلام سے ۔(ف148)یا موت کہ وہ بھی قیامتِ صغرٰی ہے ۔(ف149)اس سے بدر کا دن مراد ہے جس میں کافِروں کے لئے کچھ کشائش و راحت نہ تھی اور بعض مفسّرین نے کہا کہ اس سے روزِ قیامت مراد ہے ۔
اور وہ جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے (ف۱۵۲) پھر مارے گئے یا مرگئے تو اللہ ضرور انھیں اچھی روزی دے گا (ف۱۵۳) اور بیشک اللہ کی روزی سب سے بہتر ہے،
And those who left their homes and belongings in Allah's cause and were then killed or died – Allah will therefore indeed provide for them an excellent sustenance; and indeed the sustenance bestowed by Allah is the best.
और वे जिन्होंने अल्लाह की राह में अपने घर बार छोड़े फिर मारे गए या मर गए तो अल्लाह ज़रूर उन्हें अच्छी रोज़ी देगा और बेशक अल्लाह की रोज़ी सबसे बेहतर है,
Aur woh jinhone Allah ki raah mein apne ghar bar chhode, phir maare gaye ya mar gaye, to Allah zaroor unhein achhi rozi dega, aur beshak Allah ki rozi sab se behtar hai,
(ف152)اور اس کی رضا کے لئے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر وطن سے نکلے اور مکّہ مکرّمہ سے مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت کی ۔(ف153)یعنی رزقِ جنت جو کبھی منقطع نہ ہو ۔
ضرور انھیں ایسی جگہ لے جائے گا جسے وہ پسند کریں گے (ف۱۵٤) اور بیشک اللہ علم اور حلم والا ہے،
He will certainly admit them to a place they will love; and indeed Allah is All Knowing, Most Forbearing.
ज़रूर उन्हें ऐसी जगह ले जाएगा जिसे वे पसंद करेंगे और बेशक अल्लाह इल्म और हल्म वाला है,
Zaroor unhein aisi jagah le jaaye ga jise woh pasand kareinge, aur beshak Allah ilm aur helm wala hai,
(ف154)وہاں ان کی ہر مراد پوری ہو گی اور کوئی ناگوار بات پیش نہ آئے گی ۔شانِ نُزول : نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کے بعض اصحاب نے عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے جو اصحاب شہید ہو گئے ہم جانتے ہیں کہ بارگاہِ الٰہی میں ان کے بڑے درجے ہیں اور ہم جہادوں میں حضور کے ساتھ رہیں گے لیکن اگر ہم آپ کے ساتھ رہے اور بے شہادت کے موت آئی تو آخرت میں ہمارے لئے کیا ہے ، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ ۔
بات یہ ہے اور جو بدلہ لے (ف۱۵۵) جیسی تکلیف پہنچائی گئی تھی پھر اس پر زیادتی کی جائے (ف۱۵٦) تو بیشک اللہ اس کی مدد فرمائے گا (ف۱۵۷) بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے،
So it is; and whoever retaliates similarly to the affliction he was made to suffer, and then he is wronged again – so Allah will definitely assist him; indeed Allah is Oft Pardoning, Oft Forgiving.
बात यह है और जो बदला ले जैसी तक़लीफ़ पहुँचाई गई थी फिर उस पर ज़ियादती की जाए तो बेशक अल्लाह उसकी मदद फ़रमाएगा बेशक अल्लाह माफ़ करने वाला, बख़्शने वाला है,
Baat ye hai, aur jo badla le, jaisi takleef pohanchai gayi thi, phir is par ziyadti ki jaaye, to beshak Allah is ki madad farmaayega, beshak Allah maaf karne wala, bakhshne wala hai,
(ف155)کوئی مؤمن ظلم کا مشرک سے ۔(ف156)ظالم کی طرف سے اس کو بے وطن کر کے ۔(ف157)شانِ نُزول : یہ آیت مشرکین کے حق میں نازل ہوئی جو ماہِ محرّم کی اخیر تاریخوں میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے اور مسلمانوں نے ماہِ مبارک کی حرمت کے خیال سے لڑنا نہ چاہا مگر مشرک نہ مانے اور انہوں نے قتال شروع کر دیا مسلمان ان کے مقابل ثابت رہے اللہ تعالٰی نے ان کی مدد فرمائی ۔
یہ (ف۱۵۸) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ رات کو ڈالتا ہے دن کے حصہ میں اور دن کو لاتا ہے رات کے حصہ میں (ف۱۵۹) اور اس لیے کہ اللہ سنتا دیکھتا ہے،
This is because Allah inserts the night into a part of the day and inserts the day into a part of the night, and because Allah is All Hearing, All Seeing.
यह इसलिए कि अल्लाह तआला रात को डालता है दिन के हिस्से में और दिन को लाता है रात के हिस्से में और इसलिए कि अल्लाह सुनता देखता है,
Ye is liye ke Allah taala raat ko daalta hai din ke hissa mein aur din ko lata hai raat ke hissa mein, aur is liye ke Allah sunta dekhta hai,
(ف158)یعنی مظلوم کی مدد فرمانا اس لئے ہے کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے اور اس کی قدرت کی نشانیاں ظاہر ہیں ۔(ف159)یعنی کبھی دن کو بڑھاتا رات کو گھٹاتا ہے اور کبھی رات کو بڑھاتا دن کو گھٹاتا ہے اس کے سوا کوئی اس پر قدرت نہیں رکھتا جو ایسا قدرت والا ہے وہ جس کی چاہے مدد فرمائے اور جسے چاہے غالب کرے ۔
اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور بیشک اللہ ہی بےنیاز سب خوبیوں سراہا ہے،
To Him only belongs all that is in the heavens and all that is in the earth; and indeed Allah only is the Perfect (Not Needing Anything), the Most Praiseworthy.
इसी का माल है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में है, और बेशक अल्लाह ही बेनियाज़ सब खूबियों सराहा है,
Isi ka maal hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein hai, aur beshak Allah hi be niyaz sab khoobiyon saraha hai,
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے بس میں کردیا جو کچھ زمین میں ہے (ف۱٦۳) اور کشتی کہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہے (ف۱٦٤) اور وہ روکے ہوئے ہے آسمان کو کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے حکم سے، بیشک اللہ آدمیوں پر بڑی مہر والا مہربان ہے (ف۱٦۵)
Did you not see that Allah has given in your control all that is in the earth – and the ship that moves upon the sea by His command? And He restricts the heavens that it may not fall on to the earth except by His command; indeed Allah is Most Compassionate, Most Merciful upon mankind.
क्या तुमने न देखा कि अल्लाह ने तुम्हारे बस में कर दिया जो कुछ ज़मीन में है और कश्ती कि दरिया में उसके हुक्म से चलती है और वह रोके हुए है आसमान को कि ज़मीन पर न गिर पड़े मगर उसके हुक्म से, बेशक अल्लाह आदमियों पर बड़ी मेहर वाला मेहरबान है
Kya tu ne na dekha ke Allah ne tumhare bas mein kar diya jo kuch zameen mein hai aur kashti ke dariya mein uske hukum se chalti hai, aur woh roke hue hai aasman ko ke zameen par na gir pade, magar iske hukum se, beshak Allah aadmiyon par bari mehr wala meherban hai,
(ف163)جانور وغیرہ جن پر تم سوار ہوتے ہو اور جن سے تم کام لیتے ہو ۔(ف164)تمہارے لئے اس کے چلانے کے واسطے ہوا اور پانی کو مسخر کیا ۔(ف165)کہ اس نے ان کے لئے منفعتوں کے دروازے کھولے اور طرح طرح کی مضرتوں سے ان کو محفوظ کیا ۔
اور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا (ف۱٦٦) اور پھر تمہیں مارے گا (ف۱٦۷) پھر تمہیں جِلائے گا (ف۱٦۸) بیشک آدمی بڑا ناشکرا ہے (ف۱٦۹)
And it is He Who gave you life, then will cause you to die, and will then revive you; indeed man is very ungrateful.
और वही है जिसने तुम्हें ज़िंदा किया और फिर तुम्हें मारेगा फिर तुम्हें जिलाएगा बेशक आदमी बड़ा नाशुकरा है
Aur wahi hai jis ne tumhein zinda kiya aur phir tumhein maara, phir tumhein jilaaye ga, beshak aadmi bada nashukra hai,
(ف166)بے جان نطفہ سے پیدا فرما کر ۔(ف167)تمہاری عمریں پوری ہونے پر ۔(ف168)روزِ بَعث ثواب و عذاب کے لئے ۔(ف169)کہ باوجود اتنی نعمتوں کے اس کی عبادت سے منہ پھیرتا ہے اور بے جان مخلوق کی پرستش کرتا ہے ۔
ہر امت کے لیے (ف۱۷۰) ہم نے عبادت کے قاعدے بنادیے کہ وہ ان پر چلے (ف۱۷۱) تو ہرگز وہ تم سے اس معاملہ میں جھگڑا نہ کریں (ف۱۷۲) اور اپنے رب کی طرف بلاؤ (ف۱۷۳) بیشک تم سیدھی راہ پر ہو،
For each nation We have made the rules of worship for them to follow – so never should they quarrel with you in this matter – and call them towards your Lord; indeed you are upon the Straight Path.
हर उम्मत के लिए हमने इबादत के क़ाएदे बना दिए कि वे उन पर चलें तो हरगज़ वे तुम से इस मामले में झगड़ा न करें और अपने रब की तरफ़ बुलाओ बेशक तुम सीधी राह पर हो,
Har ummat ke liye hum ne ibadat ke qaiday bana diye ke woh un par chale, to har guz woh tum se is maamle mein jhagra na karein aur apne Rab ki taraf bulao, beshak tum seedhi raah par ho,
(ف170)اہلِ دین و ملل میں سے ۔(ف171)اور عامل ہو ۔(ف172)یعنی امرِ دین میں یا ذبیحہ کے امر میں ۔شانِ نُزول : یہ آیت بدیل ابن ور قاء اور بشر بن سفیان اور یزید ابنِ خنیس کے حق میں نازل ہوئی ان لوگوں نے اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کیا سبب ہے جس جانور کو تم خود قتل کرتے ہو اسے تو کھاتے ہو اور جس کو اللہ مارتا ہے اس کو نہیں کھاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف173)اور لوگوں کو اس پر ایمان لانے اور اس کا دین قبول کرنے اور اس کی عبادت میں مشغول ہونے کی دعوت دو ۔
کیا تو نے نہ جانا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بیشک یہ سب ایک کتاب میں ہے (ف۱۷٦) بیشک یہ (ف۱۷۷) اللہ پر آسان ہے (ف۱۷۸)
Did you not realise that Allah knows all that is in the heavens and in the earth? Indeed all this is in a Book; indeed this is easy for Allah.
क्या तुमने न जाना कि अल्लाह जानता है जो कुछ आसमानों और ज़मीन में है, बेशक यह सब एक किताब में है बेशक यह अल्लाह पर आसान है
Kya tu ne na jaana ke Allah jaanta hai jo kuch aasmanon aur zameen mein hai, beshak ye sab ek kitaab mein hai, beshak ye Allah par aasaan hai,
(ف176)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔(ف177)یعنی ان سب کا علم یا تمام حوادث کا لوحِ محفوظ میں ثبت فرمانا ۔(ف178)اس کے بعد کُفّار کی جہالتوں کا بیان فرمایا جاتا ہے کہ وہ ایسوں کی عبادت کرتے ہیں جو عبادت کے مستحق نہیں ۔
اور اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں (ف۱۷۹) جن کی کوئی سند اس نے نہ اتاری اور ایسوں کو جن کا خود انھیں کچھ علم نہیں (ف۱۸۰) اور ستمگاروں کا (ف۱۸۱) کوئی مددگار نہیں (ف۱۸۲)
And they worship those instead of Allah regarding whom He has not sent down any proof, and those regarding whom they themselves do not have any knowledge; and there are no supporters for the unjust.
और अल्लाह के सिवा ऐसे को पूजते हैं जिनकी कोई सन्द नहीं उसने न उतारी और ऐसे को जिनका खुद उन्हें कुछ इल्म नहीं और सितमगारों का कोई मददगार नहीं
Aur Allah ke siwa aise ko poojhte hain jinki koi sanad us ne na utari, aur aise ko jinka khud unhein kuch ilm nahi, aur sitamgaaron ka koi madadgar nahi,
(ف179)یعنی بُتوں کو ۔(ف180)یعنی ان کے پاس اپنے اس فعل کی نہ کوئی دلیلِ عقلی ہے نہ نقلی ، مَحض جہل و نادانی سے گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں اور جو کسی طرح پُوجے جانے کے مستحق نہیں ان کوپُوجتے ہیں یہ شدید ظلم ہے ۔(ف181)یعنی مشرکین کا ۔(ف182)جو انہیں عذابِ الٰہی سے بچا سکے ۔
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں (۱۸۳) تو تم ان کے چہروں پر بگڑنے کے آثار دیکھو گے جنہوں نے کفر کیا، قریب ہے کہ لپٹ پڑیں ان کو جو ہماری آیتیں ان پر پڑھتے ہیں، تم فرمادو کیا میں تمہیں بتادوں جو تمہارے اس حال سے بھی (ف۱۸٤) بدتر ہے وہ آگ ہے، اللہ نے اس کا وعدہ دیا ہے کافروں کو، اور کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ،
And when Our clear verses are recited to them, you will see traces of anger in the faces of the disbelievers; possibly they may attack those who recite Our verses to them; say, “Shall I show you what is worse than your current state? That is the fire! Allah has promised it to the disbelievers; and what a wretched place to return!”
और जब उन पर हमारी रोशन आयतें पढ़ी जाएँ तो तुम उनके चेहरों पर बिगड़ने के آثار देखोगे जिन्होंने क़फ़्र किया, क़रीब है कि लिपट पड़ें उन को जो हमारी आयतें उन पर पढ़ते हैं, तुम फ़रमा दो क्या मैं तुम्हें बता दूँ जो तुम्हारे इस हाल से भी बदतर है वह आग है, अल्लाह ने इसका वादा दिया है काफ़िरों को, और क्या ही बुरी पलटने की जगह,
Aur jab un par hamari roshan aayatein padhi jaayein, to tum unke chehron par bigadne ke asaar dekho ge, jinhone kufr kiya, qareeb hai ke lipat padhein un ko jo hamari aayatein un par padhte hain, tum farma do, kya main tumhein bata doon jo tumhare is haal se bhi badtar hai, woh aag hai, Allah ne iska waada diya hai kafiron ko, aur kya hi buri palatne ki jagah,
(ف183)اور قرآنِ کریم انہیں سُنایا جائے جس میں بیانِ احکام اور تفصیلِ حلال و حرام ہے ۔(ف184)یعنی تمہارے اس غیظ و ناگواری سے بھی جو قرآنِ پاک سُن کر تم میں پیدا ہوتی ہے ۔
اے لوگو! ایک کہاوت فرمائی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو (ف۱۸۵) وہ جنہیں اللہ کے سوا تم پوجتے ہو (ف۱۸٦) ایک مکھی نہ بناسکیں گے اگرچہ سب اس پر اکٹھے ہوجائیں (ف۱۸۷) اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے (ف۱۸۸) تو اس سے چھڑا نہ سکیں (ف۱۸۹) کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا (ف۱۹۰)
O people, an example is being illustrated therefore listen to it attentively; “Those whom you worship besides Allah can never create a fly even if they all come together for it; and if a fly took away something from them, they cannot retrieve that from it; how weak are the seeker and the sought!”
ए लोगो! एक कहावत फ़रमाई जाती है इसे कान लगा कर सुनो, वे जिन्हें अल्लाह के सिवा तुम पूजते हो एक मक्खी न बना सकेंगे अगरचे सब उस पर इकट्ठे हो जाएँ और अगर मक्खी उन से कुछ छीन कर ले जाए तो उससे छूड़ा न सके, कितना कमजोर चाहने वाला और वह जिसे चाहा
Ae logo! Ek kahawat farmaai jaati hai, ise kaan laga kar suno, woh jinhien Allah ke siwa tum poojhte ho, ek makhi na bana sakein, agarche sab is par ikatthe ho jaayein, aur agar makhi un se kuch cheen kar le jaaye to is se chhuda na sake, kitna kamzor chaahne wala aur woh jisko chaha,
(ف185)اور اس میں خوب غور کرو وہ کہاوت یہ ہے کہ تمہارے بُت ۔(ف186)ان کی عاجزی اور بے قدرتی کا یہ حال ہے کہ وہ نہایت چھوٹی سی چیز ۔(ف187)تو عاقل کو کب شایاں ہے کہ ایسے کو معبود ٹھہرائے ایسے کو پُوجنا اور اِلٰہ قرار دینا کتنا انتہا درجہ کا جہل ہے ۔(ف188)وہ شہد و زعفران وغیرہ جو مشرکین بُتوں کے منہ اور سروں پر ملتے ہیں جس پر مکھیاں بھنکتی ہیں ۔(ف189)ایسے کو خدا بنانا اور معبود ٹھہرانا کتنا عجیب اور عقل سے دور ہے ۔(ف190)چاہنے والے سے بُت پرست اور چاہے ہوئے سے بُت مراد ہے یا چاہنے والے سے مکھی مراد ہے جو بُت پر سے شہد و زعفران کی طالب ہے اور مطلوب سے بُت اور بعض نے کہا کہ طالب سے بُت مراد ہے اور مطلوب سے مکھی ۔
اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے رسول (ف۱۹۲) اور آدمیوں میں سے (ف۱۹۳) بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
Allah chooses the Noble Messengers from the angels, and from men; indeed Allah is All Hearing, All Seeing.
अल्लाह चुन लेता है फ़रिश्तों में से रसूल और आदमियों में से बेशक अल्लाह सुनता देखता है,
Allah chun leta hai farishton mein se rasool aur aadmiyon mein se, beshak Allah sunta dekhta hai,
(ف192)مثل جبریل و میکائیل وغیرہ کے ۔(ف193)مثل حضرت ابراہیم و حضرت موسٰی و حضرت عیسٰی وحضرت سیدِ عالَم صلوٰۃ اللہ تعالٰی علیہم و سلامہ کے ۔شانِ نُزول : یہ آیت ان کُفّار کے رد میں نازل ہوئی جنہوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ بشر کیسے رسول ہو سکتا ہے اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ مالک ہے جسے چاہے اپنا رسول بنائے وہ انسانوں میں سے بھی رسول بناتا ہے اور ملائکہ میں سے بھی جنہیں چاہے ۔
اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو (ف۱۹۵) اور اپنے رب کی بندگی کرو (ف۱۹٦) اور بھلے کام کرو (ف۱۹۷) اس امید پر کہ تمہیں چھٹکارا ہو، (السجدة) عندالشافعی
O People who Believe, bow and prostrate yourselves, and worship your Lord, and do good deeds in the hope of attaining salvation.
ए ईमान वालो! रुकू और सजदा करो और अपने रब की बंदगी करो और भले काम करो इस उम्मीद पर कि तुम्हें छुटकारा हो,
Ae iman walon! Rukoo aur sajda karo aur apne Rab ki bandagi karo aur bhale kaam karo is umeed par ke tumhein chhutkara ho, (As-Sajdah)
(ف195)اپنی نمازوں میں اسلام کے اوّل عہد میں نماز بغیر رکوع و سجود کے تھی پھر نماز میں رکوع و سجود کا حکم فرمایا گیا ۔(ف196)یعنی رکوع و سجود خاص اللہ کے لئے ہوں اور عبادت میں اخلاص اختیار کرو ۔(ف197)صلہ رحمی و مکارمِ اخلاق وغیرہ نیکیاں ۔
اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا حق ہے جہاد کرنے کا (ف۱۹۸) اس نے تمہیں پسند کیا (ف۱۹۹) اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی (ف۲۰۰) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (ف۲۰۱) اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے اگلی کتابوں میں اور اس قرآن میں تاکہ رسول تمہارا نگہبان و گواہ ہو (ف۲۰۲) اور تم اور لوگوں پر گواہی دو (ف۲۰۳) تو نماز برپا رکھو (ف۲۰٤) اور زکوٰة دو اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو (ف۲۰۵) وہ تمہارا مولیٰ ہے تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار،
And fight in Allah's cause as is the true manner of fighting; He has preferred you and has not kept any hardship upon you in religion; the religion of your father Ibrahim; Allah has named you Muslims – in the previous Books and in this Qur’an, so that the Noble Messenger be your guardian and witness, and you be witness against other people; therefore keep the prayer established and give charity, and hold fast to the rope of Allah; He is your Master; so what an excellent Master and what an excellent Supporter!
और अल्लाह की राह में जिहाद करो जैसा हक़ है जिहाद करने का, उसने तुम्हें पसंद किया और तुम पर दीन में कुछ तंगी न रखी, तुम्हारे बाप इब्राहिम का दीन अल्लाह ने तुम्हारा नाम मुस्लिमान रखा है अगली किताबों में और इस कुरआन में ताकि रसूल तुम्हारा नगीबान व गवाह हो और तुम और लोगों पर गवाही दो, तो नमाज़ बरपा रखो और ज़क़ात दो और अल्लाह की रस्सी मज़बूत थाम लो वह तुम्हारा मौला है तो क्या ही अच्छा मौला और क्या ही अच्छा मददगार।
"
Aur Allah ki raah mein jihad karo jaisa haq hai jihad karne ka, us ne tumhein pasand kiya aur tum par deen mein kuch tangi na rakhi, tumhare baap Ibrahim ka deen, Allah ne tumhara naam Musalman rakha hai agli kitaabon mein aur is Quran mein, taake rasool tumhara naghban o gawah ho aur tum aur logo par gawahi do, to namaz barpa rakho aur zakat do aur Allah ki rassi mazboot tham lo, woh tumhara maula hai, to kya hi acha maula aur kya hi acha madadgar.",
(ف198)یعنی نیتِ صادقہ خالصہ کے ساتھ اعلاءِ دین کے لئے ۔(ف199)اپنے دین و عبادت کے لئے ۔(ف200)بلکہ ضرورت کے موقعوں پر تمہارے لئے سہولت کر دی جیسے کہ سفر میں نماز کا قصر اور روزے کے افطار کی اجازت اور پانی نہ پانے یا پانی کے ضرر کرنے کی حالت میں غسل اور وضو کی جگہ تیمم تو تم دین کی پیروی کرو ۔(ف201)جو دینِ محمّدی میں داخل ہے ۔(ف202)روزِ قیامت کہ تمہارے پاس خدا کا پیام پہنچا دیا ۔(ف203)کہ انہیں ان رسولوں نے احکامِ خداوندی پہنچا دیئے اللہ تعالٰی نے تمہیں یہ عزت و کرامت عطا فرمائی ۔(ف204)اس پر مداومت کرو ۔(ف205)اور اس کے دین پر قائم رہو ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page