اے محبوب! پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی (ف۱۰۹) اور نماز قائم فرماؤ، بیشک نماز منع کرتی ہے بےحیائی اور بری بات سے (ف۱۱۰) اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا (ف۱۱۱) اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو،
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), recite from the Book which has been sent down to you, and establish the prayer; indeed the prayer stops from indecency and evil; and indeed the remembrance of Allah is the greatest; and Allah knows all what you do.
ऐ महबूब! पढ़ो जो किताब तुम्हारी तरफ़ वही की गई और नमाज़ क़ायम फ़रमाओ, बेशक नमाज़ मना करती है बेहयाई और बुरी बात से और बेशक अल्लाह का ज़िक्र सबसे बड़ा और अल्लाह जानता है जो तुम करते हो,
Ae mehboob! Padho jo kitaab tumhari taraf wahi ki gayi aur namaz qaaim farmaao, beshak namaz mana karti hai behayai aur buri baat se aur beshak Allah ka zikr sab se bada aur Allah jaanta hai jo tum karte ho
(ف109)یعنی قرآن شریف کہ اس کی تلاوت عبادت بھی ہے اوراس میں لوگوں کے لئے پند و نصیحت بھی اور احکام و آداب و مکارمِ اخلاق کی تعلیم بھی ۔(ف110)یعنی ممنوعاتِ شرعیہ سے لہٰذا جو شخص نماز کا پابند ہوتا ہے اور اس کو اچھی طرح ادا کرتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک نہ ایک دن وہ ان برائیوں کو ترک کر دیتا ہے جن میں مبتلا تھا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری جوان سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتا تھا اور بہت سے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتا تھا حضور سے اس کی شکایت کی گئی فرمایا اس کی نماز کسی روز اس کو ان باتوں سے روک دے گی چنانچہ بہت ہی قریب زمانہ میں اس نے توبہ کی اور اس کا حال بہتر ہو گیا ۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جس کی نماز اس کو بے حیائی اور ممنوعات سے نہ روکے وہ نماز ہی نہیں ۔(ف111)کہ وہ افضل طاعات ہے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں وہ عمل جو تمہارے اعمال میں بہتر اور ربّ کے نزدیک پاکیزہ تر ، نہایت بلند رتبہ اور تمہارے لئے سونے چاندی دینے سے بہتر اور جہاد میں لڑنے اور مارے جانے سے بہتر ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا بے شک یارسولَ اللہ ، فرمایا وہ اللہ تعالٰی کا ذکر ہے ۔ ترمذی ہی کی دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ نے حضور سے دریافت کیا تھا کہ روزِ قیامت اللہ تعالٰی کے نزدیک کن بندوں کا درجہ افضل ہے ؟ فرمایا بکثرت ذکر کرنے والوں کا صحابہ نے عرض کیا اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے والا ؟ فرمایا اگر وہ اپنی تلوار سے کُفّار و مشرکین کو یہاں تک مارے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں رنگ جائے جب بھی ذاکرین ہی کا درجہ اس سے بلند ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس آیت کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ اللہ تعالٰی کا اپنے بندوں کو یاد کرنا بہت بڑا ہے اور ایک قول اس کی تفسیر میں یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کا ذکر بڑا ہے بے حیائی اور بُری باتوں سے روکنے اور منع کرنے میں ۔
اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر (ف۱۱۲) مگر وہ جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا (ف۱۱۳) اور کہو (ف۱۱٤) ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو تمہاری طرف اترا اور ہمارا تمہارا ایک معبود ہے اور ہم اس کے حضور گردن رکھتے ہیں (ف۱۱۵)
And O Muslims, do not argue with the People given the Book(s) except in the best manner – except (with) those among them who oppress, and say, “We believe in what has been sent down towards us and what has been sent towards you – and ours and your God is One, and we have submitted ourselves to Him.”
और ऐ मुसलमानो! किताबियों से न झगड़ो मगर बेहतर तरीका पर मगर वो जिन्होंने इन में से ज़ुल्म किया और कहो हम ईमान लाए इस पर जो हमारी तरफ़ उतरा और जो तुम्हारी तरफ़ उतरा और हमारा तुम्हारा एक माबूद है और हम उसके हज़ूर गर्दन रखते हैं
Aur ae musalmano! Kitabiyon se na jhagdo, magar behtareen tareeqa par, magar woh jin hone in mein se zulm kiya aur kaho hum iman laaye is par jo hamari taraf utra aur jo tumhari taraf utra aur hamara tumhara ek maabood hai aur hum us ke huzoor gardan rakhte hain
(ف112)اللہ تعالٰی کی طرف اس کی آیات سے دعوت دے کر اور حُجّتوں پر آگاہ کر کے ۔(ف113)زیادتی میں حد سے گزر گئے ، عناد اختیار کیا ، نصیحت نہ مانی ، نرمی سے نفع نہ اٹھایا ان کے ساتھ غِلظت اور سختی اختیار کرو اور ایک قول یہ ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ جن لوگوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایذا دی یا جنہوں نے اللہ تعالٰی کے لئے بیٹا اور شریک بتایا ان کے ساتھ سختی کرو یا یہ معنٰی ہیں کہ ذمّی جزیہ ادا کرنے والوں کے ساتھ احسن طریقہ پر مجادلہ کرو مگر جنہوں نے ظلم کیا اور ذمّہ سے نکل گئے اور جزیہ کو منع کیا ان سے مجادلہ تلوار کے ساتھ ہے ۔مسئلہ : اس آیت سے کُفّار کے ساتھ دینی امور میں مناظرہ کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے اور ایسے ہی علمِ کلام سیکھنے کا جواز بھی ۔(ف114)اہلِ کتاب سے جب وہ تم سے اپنی کتابوں کا کوئی مضمون بیان کریں ۔(ف115)حدیث شریف میں ہے جب اہلِ کتاب تم سے کوئی مضمون بیان کریں تو تم نہ ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب کرو یہ کہہ دو کہ ہم اللہ تعالٰی پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے تو اگر وہ مضمون انہوں نے غلط بیان کیا ہے تو اس کی تصدیق کے گناہ سے تم بچے رہو گے اور اگر مضمون صحیح تھا تو تم اس کی تکذیب سے محفوظ رہو گے ۔
اور اے محبوب! یونہی تمہاری طرف کتاب اتاری (ف۱۱٦) تو وہ جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۱۱۷) اس پر ایمان لاتے ہیں، اور کچھ ان میں سے ہیں (ف۱۱۸) جو اس پر ایمان لاتے ہیں، اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر (ف۱۱۹)
And this is how We sent down the Book to you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him); so those to whom We gave the Book believe in it; and some of these (polytheists) accept faith in it; and none except the disbelievers reject Our signs.
और ऐ महबूब! यूंही तुम्हारी तरफ़ किताब उतरी तो वो जिन्हें हमने किताब अता फ़रमाई इस पर ईमान लाते हैं, और कुछ इन में से हैं जो इस पर ईमान लाते हैं, और हमारी आयतों से मंकर नहीं होते मगर
Aur ae mehboob! Yunhi tumhari taraf kitaab utaari to woh jinhein hum ne kitaab aata farmaai is par iman laate hain, aur kuch in mein se hain jo is par iman laate hain, aur hamari aayaton se munkir nahin hote magar
(ف116)قرآنِ پاک ، جیسے ان کی طرف توریت وغیرہ اتاری تھیں ۔(ف117)یعنی جنہیں توریت دی جیسے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب ۔ فائدہ : یہ سورت مکّیہ ہے اور حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب مدینہ میں ایمان لائے اللہ تعالٰی نے اس سے پہلے ان کی خبر دی یہ غیبی خبروں میں سے ہے ۔ (جمل)(ف118)یعنی اہلِ مکّہ میں سے ۔(ف119)جو کُفر میں نہایت سخت ہیں ۔ جحود اس انکار کو کہتے ہیں جو معرفت کے بعد ہو یعنی جان بوجھ کر مُکرنا اور واقعہ بھی یہی تھا کہ یہود خوب پہچانتے تھے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالٰی کے سچّے نبی ہیں اور قرآن حق ہے یہ سب کچھ جانتے ہوئے انہوں نے عناداً انکار کیا ۔
اور اس (ف۱۲۰) سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا (ف۱۲۱) تو باطل ضرور شک لاتے (ف۱۲۲)
And you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) were not reading any Book before it, nor writing with your right hand – if it were, the people of falsehood would surely have doubted.
और इससे पहले तुम कोई किताब न पढ़ते थे और न अपने हाथ से कुछ लिखते थे यूँ होता तो बातिल जरूर शक़ लाते
Aur is se pehle tum koi kitaab na padte the aur na apne haath se kuch likhte the, yun hota to baatil zaroor shak laate
(ف120)قرآن کے نازِل ہونے ۔(ف121)یعنی آپ لکھتے پڑھتے ہوتے ۔(ف122)یعنی اہلِ کتاب کہتے کہ ہماری کتابوں میں نبیٔ آخر الزماں کی صفت یہ مذکور ہے کہ وہ اُمّی ہوں گے نہ لکھیں گے نہ پڑھیں گے مگر انہیں اس شک کا موقع ہی نہ ملا ۔
بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا (۱۲۳) اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر ظالم (ف۱۲٤)
In fact they are clear verses in the hearts of those who have been given knowledge; and none deny Our verses except the unjust.
बल्कि वो रोशन आयतें हैं उनके सीनों में जिन्हें इल्म दिया गया
Balki woh roshan aayatein hain un ke seenon mein jin ko ilm diya gaya, aur hamari aayaton ka inkaar nahin karte magar zaalim
(ف123)ضمیرِ ھُوَ کا مرجع قرآن ہے اس صورت میں معنٰی یہ ہیں کہ قرآنِ کریم روشن آیتیں ہیں جو عُلَماء اور حُفّاظ کے سینوں میں محفوظ ہیں ۔ روشن آیت ہونے کے یہ معنٰی کہ وہ ظاہر الاعجاز ہیں اور یہ دونوں باتیں قرآنِ پاک کے ساتھ خاص ہیں اور کوئی ایسی کتاب نہیں جو معجِزہ ہو اور نہ ایسی کہ ہر زمانے میں سینوں میں محفوظ رہی ہو اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے ھُوَ کی ضمیر کا مرجع سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو قرار دے کر آیت کے یہ معنٰی بیان فرمائے کہ سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم صاحب ہیں ان آیاتِ بیّنات کے جو ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں جنہیں اہلِ کتاب میں سے علم دیا گیا کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں آپ کی نعت و صفت پاتے ہیں ۔ (خازن)(ف124)یعنی یہودِ عنود کہ بعد ظہورِ معجزات کے جان پہچان کر عناداً منکِر ہوتے ہیں ۔
اور بولے (ف۱۲۵) کیوں نہ اتریں کچھ نشانیاں ان پر ان کے رب کی طرف سے (ف۱۲٦) تم فرماؤ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں (ف۱۲۷) اور میں تو یہی صاف ڈر سنانے والا ہوں (ف۱۲۸)
And they said, “Why did not signs come down to him from his Lord?” Say, “Signs are only with Allah; and I am purely a Herald of plain warning.”
और हमारी आयतों का इंकार नहीं करते मगर ज़ालिम
Aur bole kyon na utrein kuch nishaniyan in par, un ke Rab ki taraf se, tum farmao nishaniyan to Allah hi ke paas hain aur main to yehi saaf dar sunane wala hoon
(ف125)کُفّارِ مکّہ ۔(ف126)مثلِ ناقۂ حضرت صالح و عصائے حضرت موسٰی اور مائدۂ حضرت عیسٰی کے علیہم الصلٰوۃ والسلام ۔(ف127)حسبِ حکمت جو چاہتا ہے نازِل فرماتا ہے ۔(ف128)نافرمانی کرنے والوں کو عذاب کا اور اسی کا مکلّف ہوں اس کے بعد اللہ تعالٰی کُفّارِ مکّہ کے اس قول کا جواب ارشاد فرماتا ہے ۔
اور کیا یہ انھیں بس نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب اتاری جو ان پر پڑھی جاتی ہے (ف۱۲۹) بیشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لیے،
Is it not enough for them that We have sent down the Book upon you, which is read to them? Indeed in it are mercy and advice for the Muslims.
और बोले क्यों न उतरीं कुछ निशानियाँ इन पर उनके रब की तरफ़ से तुम फ़रमाओ निशानियाँ तो अल्लाह ही के पास हैं और मैं तो यही साफ़ डर सुनाने वाला हूँ
Aur kya ye unhein bas nahin ke hum ne tum par kitaab utaari jo in par padhi jaati hai, beshak is mein rehmat aur naseehat hai iman walon ke liye
(ف129)معنٰی یہ ہیں کہ قرآنِ کریم معجِزہ ہے ، انبیاءِ متقدّمین کے معجزات سے اتم و اکمل اور تمام نشانیوں سے طالبِ حق کو بے نیاز کرنے والا کیونکہ جب تک زمانہ ہے قرآنِ کریم باقی و ثابت رہے گا اور دوسرے معجزات کی طرح ختم نہ ہو گا ۔
تم فرماؤ اللہ بس ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ (ف۱۳۰) جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ جو باطل پر یقین لائے اور اللہ کے منکر ہوئے وہی گھاٹے میں ہیں،
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Allah is Sufficient as a Witness between me and you; He knows all what is in the heavens and in the earth; and those who accepted faith in falsehood and denied faith in Allah – it is they who are the losers.”
और क्या यह उन्हें बस नहीं कि हमने तुम पर किताब उतारी जो इन पर पढ़ी जाती है बेशक इसमें रहमत और नसीहत है ईमान वालों के लिए,
Tum farmao Allah bas hai mere aur tumhare darmiyan, gawah jaanta hai jo kuch aasmanon aur zameen mein hai, aur woh jo baatil par yaqeen laaye aur Allah ke munkir hue, wahi ghaate mein hain
(ف130)میرے صدقِ رسالت اور تمہاری تکذیب کا معجزات سے میری تائید فرما کر ۔
اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں (ف۱۳۱) اور اگر ایک ٹھہرائی مدت نہ ہوتی (ف۱۳۲) تو ضرور ان پر عذاب آجاتا (ف۱۳۳) اور ضرور ان پر اچانک آئے گا جب وہ بےخبر ہوں گے،
And they urge you to hasten the punishment; and if a time had not been fixed, the punishment would have certainly come upon them; and it will indeed come upon them suddenly whilst they are unaware.
तुम फ़रमाओ अल्लाह बस है मेरे और तुम्हारे बीच गवाह जानता है जो कुछ आसमानों और ज़मीन में है, और वो जो बातिल पर यक़ीन लाए और अल्लाह के मंकर हुए वही घाटे में हैं,
Aur tum se azaab ki jaldi karte hain aur agar ek thehraayi muddat na hoti to zaroor un par azaab aa jaata aur zaroor un par achaanak aata jab woh be-khabar hote
(ف131)یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازِل ہوئی جس نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ ہمارے اوپر آسمان سے پتّھروں کی بارش کرائیے ۔(ف132)جو اللہ تعالٰی نے معیّن کی ہے اور اس مدّت تک عذاب کا مؤخّر فرمانا مقتضائے حکمت ہے ۔(ف133)اور تاخیر نہ ہوتی ۔
اے میرے بندو! جو ایمان لائے بیشک میری زمین وسیع ہے تو میری ہی بندگی کرو (ف۱۳٦)
O My bondmen who believe! Indeed My earth is spacious – therefore worship Me alone.
जिस दिन उन्हें ढांपेगा अज़ाब उनके ऊपर और उनके पैरों के नीचे से और फ़रमाएगा चखो अपने किए का मज़ा
Ae mere bando! Jo iman laaye, beshak meri zameen wasee hai to meri hi bandagi karo
(ف136)جس زمین میں بسہولت عبادت کر سکو معنٰی یہ ہیں کہ جب مومن کو کسی سرزمین میں اپنے دین پر قائم رہنا اور عبادت کرنا دشوار ہو تو چاہئے کہ وہ ایسی سرزمین کی طرف ہجرت کرے جہاں آسانی سے عبادت کر سکے اور دین کی پابندی میں دشواریاں درپیش نہ ہوں ۔شانِ نُزول : یہ آیت ضعفاءِ مسلمینِ مکّہ کے حق میں نازِل ہوئی جنہیں وہاں رہ کر اسلام کے اظہار میں خطرے اور تکلیفیں تھیں اور نہایت ضیق میں تھے انہیں حکم دیا گیا کہ میری بندگی تو ضرور ہے یہاں رہ کر نہ کر سکو تو مدینہ شریف کو ہجرت کر جاؤ وہ وسیع ہے وہاں امن ہے ۔
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے (ف۱۳۷) پھر ہماری ہی طرف پھروگے (ف۱۳۸)
Every soul must taste death; then it is to Us that you will return.
ऐ मेरे बंदो! जो ईमान लाए बेशक मेरी ज़मीन वसीह है तो मेरी ही बन्दगी करो
Har jaan ko maut ka maza chakhna hai phir hamari hi taraf phirenge
(ف137)اور اس دارِ فانی کو چھوڑنا ہی ہے ۔(ف138)ثواب و عذاب اور جزائے اعمال کے لئے تو لازم ہے کہ ہمارے دین پر قائم رہو اور اپنے دین کی حفاظت کے لئے ہجرت کرو ۔
اور بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ضرور ہم انھیں جنت کے بالا خانوں پر جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے، کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا (ف۱۳۹)
And those who believed and did good deeds – indeed We will, surely, place them on high positions in Paradise beneath which rivers flow, abiding in it for ever; what an excellent reward of the performers!
हर जान को मौत का मज़ा चखना है फिर हमारी ही तरफ़ फर्ना होगा
Aur beshak jo iman laaye aur achhe kaam kiye, zaroor hum unhein Jannat ke bala khanon par jagah denge jin ke neeche nahrein behti hongi, hamesha un mein rahenge, kya hi acha ajr kaam walon ka
وہ جنہوں نے صبر کیا (ف۱٤۰) اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں (ف۱٤۱)
Those who patiently endured and who rely only upon their Lord.
और बेशक जो ईमान लाए और अच्छे काम किए जरूर हम उन्हें जन्नत के बाला ख़ानों पर जगह देंगे जिनके नीचे नहरें बहती होंगी हमेशा उनमें रहेंगे, क्या ही अच्छा अज्र काम वालों का
Woh jin hone sabr kiya aur apne Rab hi par bharosa rakha
(ف140)سختیوں پر اور کسی شدّت میں اپنے دین کو نہ چھوڑا ، مشرکین کی ایذا سہی ، ہجرت اختیار کر کے دین کی خاطر وطن کو چھوڑنا گوارا کیا ۔(ف141)تمام امور میں ۔
اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے (ف۱٤۲) اللہ روزی دیتا ہے انھیں اور تمہیں (ف۱٤۳) اور وہی سنتا جانتا ہے (ف۱٤٤)
And many creatures walk upon the earth that do not carry their own sustenance; Allah provides the sustenance to them and to you; and only He is the All Hearing, the All Knowing.
वो जिन्होंने सब्र किया और अपने रब ही पर भरोसा रखा
Aur zameen par kitne hi chalne wale hain ke apni rozi saath nahin rakhte, Allah rozi deta hai unhein aur tumhein, aur wahi sunta jaanta hai
(ف142)شانِ نُزول : مکّۂ مکرّمہ میں مومنین کو مشرکین شب و روز طرح طرح کی ایذائیں دیتے رہتے تھے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے مدینۂ طیّبہ کی طرف ہجرت کرنے کو فرمایا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم مدینہ شریف کو کیسے چلے جائیں نہ وہاں ہمارا گھر ، نہ مال ، کون ہمیں کھلائے گا ، کون پلائے گا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ بہت سے جاندار ایسے ہیں جو اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے اس کی انہیں قوّت نہیں اور نہ وہ اگلے دن کے لئے کوئی ذخیرہ جمع کرتے ہیں جیسے کہ بہائم ہیں طیور ہیں ۔(ف143)تو جہاں ہو گے وہی روزی دے گا تو یہ کیا پوچھنا کہ ہمیں کون کھلائے گا کون پلائے گا ساری خَلق کا اللہ رزّاق ہے ضعیف اور قوی مقیم اور مسافر سب کو وہی روزی دیتا ہے ۔(ف144)تمہارے اقوال اور تمہارے دل کی باتوں کو ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اگر تم اللہ تعالٰی پر توکُّل کرو جیسا چاہئے تو وہ تمہیں ایسی روزی دے جیسی پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے خالی پیٹ اٹھتے ہیں شام کو سیر واپس ہوتے ہیں ۔ (ترمذی)
اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۱٤۵) کس نے بنائے آسمان اور زمین اور کام میں لگائے سورج اور چاند تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تو کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱٤٦)
And if you ask them, “Who created the heavens and the earth, and subjected the sun and the moon?”, they will surely say, “Allah”; so where are they reverting?
और ज़मीन पर कितने ही चलने वाले हैं कि अपनी रोज़ी साथ नहीं रखते अल्लाह रोज़ी देता है उन्हें और तुम्हें और वही सुनता जानता है
Aur agar tum in se poochho kisne banaye aasman aur zameen aur kaam mein lagaye suraj aur chaand, to zaroor kahenge Allah ne, to kahan oondhe jaate hain
(ف145)یعنی کُفّارِ مکّہ سے ۔(ف146)اور باوجود اس اقرار کے کس طرح اللہ تعالٰی کی توحید سے منحرف ہوتے ہیں ۔
اور جو تم ان سے پوچھو کس نے اتارا آسمان سے پانی تو اس کے سبب زمین زندہ کردی مَرے پیچھے ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۱٤۷) تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو، بلکہ ان میں اکثر بےعقل ہیں (ف۱٤۸)
And if you ask them, “Who sent down the water from the sky, and with it revived the earth after its death?”, they will surely say, “Allah”; proclaim, “All praise is to Allah”; in fact most of them do not have any sense.
अल्लाह कुशादा करता है रज़क अपने बंदों में जिसे चाहे और तंगी फ़रमाता है जिसे चाहे, बेशक अल्लाह सब कुछ जानता है,
Aur jo tum in se poochho kisne utaara aasman se paani, to us ke sabab zameen zinda kar di, mare peechhe zaroor kahenge Allah ne, tum farmao sab khubiyan Allah ko, balki in mein aksar be-aqal hain
(ف147)اس کے مقِر ہیں ۔(ف148)کہ باوجود اس اقرار کے توحید کے منکِر ہیں ۔
اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۱٤۹) اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے (ف۱۵۰) کیا اچھا تھا اگر جانتے (ف۱۵۱)
And this worldly life is nothing but pastime and game; indeed the abode of the Hereafter – that is indeed the true life; if only they knew.
और जो तुम इनसे पूछो किसने उतारा आसमान से पानी तो उसके سبب ज़मीन ज़िंदा कर दी मरे पीछे जरूर कहेंगे अल्लाह ने तुम फ़रमाओ सब खूबियाँ अल्लाह को, बल्कि इन में अक़सर बे अक़्ल हैं
Aur ye duniya ki zindagi to nahin, magar khel kood, aur beshak aakhirat ka ghar zaroor wahi sachi zindagi hai, kya acha tha agar jaante
(ف149)کہ جیسے بچّے گھڑی بھر کھیلتے ہیں کھیل میں دل لگاتے ہیں پھر اس سب کو چھوڑ کر چل دیتے ہیں یہی حال دنیا کا ہے نہایت سریع الزوال ہے اور موت یہاں سے ایسا ہی جدا کر دیتی ہے جیسے کھیل والے بچّے منتشر ہو جاتے ہیں ۔(ف150)کہ وہ زندگی پائیدار ہے ، دائمی ہے ، اس میں موت نہیں ، زندگانی کہلانے کے لائق وہی ہے ۔(ف151)دنیا اور آخرت کی حقیقت ، تو دنیائے فانی کو آخرت کی جاودانی زندگی پر ترجیح نہ دیتے ۔
پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں (ف۱۵۲) اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی عقیدہ لاکر (ف۱۵۳) پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے (ف۱۵٤) جبھی شرک کرنے لگتے ہیں (ف۱۵۵)
And when they board the ships they pray to Allah, believing purely in Him; so when He delivers them safely to land, they immediately begin ascribing partners (to Him)!
और ये दुनिया की ज़िंदगी तो नहीं मगर खेल कूद और बेशक आख़िरत का घर जरूर वही सच्ची ज़िंदगी है क्या अच्छा था अगर जानते
Phir jab kashti mein sawar hote hain, Allah ko pukarte hain ek isi aqeeda la kar, phir jab woh unhein khushki ki taraf bacha lata hai, tabhi shirk karne lagte hain
(ف152)اور ڈوبنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو باوجود اپنے شرک و عناد کے بُتوں کو نہیں پکارتے بلکہ ۔(ف153)کہ اس مصیبت سے نَجات وہی دے گا ۔(ف154)اور ڈوبنے کا اندیشہ اور پریشانی جاتی رہتی ہے اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔(ف155)زمانۂ جاہلیّت کے لوگ بحری سفر کرتے وقت بُتوں کوساتھ لے جاتے تھے جب ہوا مخالف چلتی اور کَشتی خطرہ میں آتی تو بُتوں کو دریا میں پھینک دیتے اور یاربّ یاربّ پکارنے لگتے اور امن پانے کے بعد پھر اسی شرک کی طرف لوٹ جاتے ۔
کہ ناشکری کریں ہماری دی ہوئی نعمت کی (ف۱۵٦) اور برتیں ۔ (ف۱۵۷) تو اب جانا چاہتے ہیں، (ف۱۵۸)
In order to be ungrateful for Our favours; and to use the comforts; therefore they will soon come to know.
फिर जब कश्ती में सवार होते हैं अल्लाह को पुकारते हैं एक उसी अकीदा ला कर फिर जब वो उन्हें ख़श्क़ी की तरफ़ बचा लाता है तभी shirk करने लगते हैं
Ke nashukri karein hamari di hui ne'mat ki aur bartan, to ab jana chahte hain
(ف156)یعنی اس مصیبت سے نَجات کی ۔(ف157)اور اس سے فائدہ اٹھائیں بخلاف مومنینِ مخلصین کے کہ وہ اللہ تعالٰی کی نعمتوں کے اخلاص کے ساتھ شکر گزار رہتے ہیں اور جب ایسی صورت پیش آتی ہے اور اللہ تعالٰی اس سے رہائی دیتا ہے تو اس کی اطاعت میں اور زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں مگر کافِروں کا حال اس کے بالکل برخلاف ہے ۔(ف158)نتیجہ اپنے کردار کا ۔
اور کیا انہوں نے (ف۱۵۹) یہ نہ دیکھا کہ ہم نے (ف۱٦۰) حرمت والی زمین پناہ بنائی (ف۱٦۱) اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں (ف۱٦۲) تو کیا باطل پر یقین لاتے ہیں (ف۱٦۳) اور اللہ کی دی ہوئی نعمت سے (ف۱٦٤) ناشکری کرتے ہیں،
Did they not observe that We have created a refuge in the Sacred Land, and people around them are snatched away? So do they believe in falsehood and are ungrateful for the favours of Allah?
कि नाशकरी करें हमारी दी हुई नेमत की और बरतें। तो अब जाना चाहते हैं,
Aur kya unhone ye na dekha ke hum ne haramat wali zameen panah banai aur unke aas paas wale log achak liye jaate hain, to kya baatil par yaqeen laate hain aur Allah ki di hui ne'mat se nashukri karte hain
(ف159)یعنی اہلِ مکّہ نے ۔(ف160)ان کے شہر مکّۂ مکرّمہ کی ۔(ف161)ا ن کے لئے جو اس میں ہوں ۔(ف162)قتل کئے جاتے ہیں گرفتار کئے جاتے ہیں ۔(ف163)یعنی بُتوں پر ۔(ف164)یعنی سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اور اسلام سے کُفر کر کے ۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱٦۵) یا حق کو جھٹلائے (ف۱٦٦) جب وہ اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں (ف۱٦۷)
And who is more unjust than one who fabricates lies against Allah, or denies the truth* when it comes to him? Is there not a place in hell for disbelievers? (* The Holy Prophet and / or the Holy Qur’an).
और क्या उन्होंने यह न देखा कि हमने हरमत वाली ज़मीन पनाह बनाई और उनके आस पास वाले लोग अच्छक लिए जाते हैं तो क्या बातिल पर यक़ीन लाते हैं और अल्लाह की दी हुई नेमत से नाशकरी करते हैं,
Aur is se barh kar zaalim kaun, jo Allah par jhoot baandhe ya haq ko jhuthlaaye, jab woh us ke paas aaye, kya Jahannam mein kaafiron ka thikana nahin
(ف165)اس کے لئے شریک ٹھہرائے ۔(ف166)سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوّت اور قرآن کو نہ مانے ۔(ف167)بے شک تمام کافِروں کا ٹھکانا جہنّم ہی ہے ۔
اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انھیں اپنے راستے دکھا دیں گے (ف۱٦۸) اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے (ف۱٦۹)
And those who strove in Our way – We shall surely show them Our paths; and indeed Allah is with the virtuous.
और इससे बढ़कर ज़ालिम कौन जो अल्लाह पर झूठ बाँधे या हक़ को झटला दे जब वो उसके पास आए, क्या जहन्नम में काफ़िरों का ठिकाना नहीं
Aur jin hone hamari raah mein koshish ki, zaroor hum unhein apne raste dikhayenge aur beshak Allah nekon ke saath hai",
(ف168)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ معنٰی یہ ہیں کہ جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ہم انہیں ثواب کی راہ دیں گے ۔ حضرت جنید نے فرمایا جو توبہ میں کوشش کریں گے انہیں اخلاص کی راہ دیں گے ۔ حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا جو طلبِ علم میں کوشش کریں گے انہیں ہم عمل کی راہ دیں گے ۔ حضرت سعد بن عبداللہ نے فرمایا جو اقامتِ سنّت میں کوشش کریں گے ہم انہیں جنّت کی راہ دکھا دیں گے ۔(ف169)ان کی مدد اور نصرت فرماتا ہے ۔
الٓمّٓ ۚ ﴿1﴾
الم
Alif-Laam-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
अलिफ लैम मीम
Alif Laam Meem
(ف2)شانِ نُزول : فارس اور روم کے درمیان جنگ تھی اورچونکہ اہلِ فارس مجوسی تھے اس لئے مشرکینِ عرب ان کا غلبہ پسند کرتے تھے ، رومی اہلِ کتاب تھے اس لئے مسلمانوں کو ان کا غلبہ اچھا معلوم ہوتا تھا ۔ خسرو پرویز بادشاہِ فارس نے رومیوں پر لشکر بھیجا اور قیصرِ روم نے بھی لشکر بھیجا یہ لشکر سرزمینِ شام کے قریب مقابل ہوئے اہلِ فارس غالب ہوئے ، مسلمانوں کو یہ خبر گراں گزری ، کُفّارِ مکّہ اس سے خوش ہو کر مسلمانوں سے کہنے لگے کہ تم بھی اہلِ کتاب اور نصارٰی بھی اہلِ کتاب اور ہم بھی اُمّی اور اہلِ فارس بھی اُمّی ہمارے بھائی اہلِ فارس تمہارے بھائیوں رومیوں پر غالب ہوئے ہماری تمہاری جنگ ہوئی تو ہم بھی تم پر غالب ہوں گے ۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور ان میں خبر دی گئی کہ چند سال میں پھر رومی اہلِ فارس پر غالب آ جائیں گے ، یہ آیتیں سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کُفّارِ مکّہ میں جا کر اعلان کر دیا کہ خدا کی قَسم رومی ضرور اہلِ فارس پر غلبہ پائیں گے اے اہلِ مکّہ تم اس وقت کے نتیجۂ جنگ سے خوش مت ہو ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خبر دی ہے ، اُ بَی بن خلف کافِر آپ کے مقابل کھڑا ہو گیا اور آپ کے اور اس کے درمیان سو سو اونٹ کی شرط ہو گئی اگر نو سال میں اہلِ فارس غالب آ جائیں تو حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اُ بَی کو سو اونٹ دیں گے اور اگر رومی غالب آ جائیں تو اُ بَی حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دے گا ۔ اس وقت تک قمار کی حرمت نازل نہ ہوئی تھی ۔مسئلہ : اور حضرت اما م ابوحنیفہ و امام محمّد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کے نزدیک حربی کُفّار کے ساتھ عقودِ فاسدہ ربٰوا وغیرہ جائز ہیں اور یہی واقعہ ان کی دلیل ہے ۔ القصّہ سات سال کے بعد اس خبر کا صدق ظاہر ہوا اور جنگِ حُدیبیہ یا بدر کے دن رومی اہلِ فارس پر غالب آئے اور رومیوں نے مدائن میں اپنے گھوڑے باندھے اور عراق میں رومیہ نامی ایک شہر کی بِنا رکھی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شرط کے اونٹ اُ بَیْ کی اولاد سے وصول کر لئے کیونکہ وہ اس درمیان میں مر چکا تھا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حکم دیا کہ شرط کے مال کو صدقہ کر دیں ۔ یہ غیبی خبر حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحتِ نبوّت اور قرآنِ کریم کے کلامِ الٰہی ہونے کی روشن دلیل ہے ۔ (خازن و مدارک)
چند برس میں (ف۵) حکم اللہ ہی کا ہے آگے اور پیچھے (ف٦) اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے،
Within a few (up to nine) years time; only for Allah is the command, before and after; and the believers will rejoice on that day.
चंद बरस में, हुक्म अल्लाह ही का है आगे और पीछे और उस दिन ईमान वाले खुश होंगे,
Chand baras mein, hukum Allah hi ka hai aage aur peeche aur us din iman wale khush honge,
(ف5)جن کی حد نو برس ہے ۔ (ف6)یعنی رومیوں کے غلبہ سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی ۔ مراد یہ ہے کہ پہلے اہلِ فارس کا غلبہ ہونا اور دوبارہ اہلِ روم کا یہ سب اللہ تعالٰی کے امر و ارادے اور اس کے قضا و قدر سے ہے ۔
اللہ کی مدد سے (ف۷) مدد کرتا ہے جس کی چاہے، اور وہی عزت والا مہربان،
With the help of Allah; He helps whomever He wills; and only He is the Almighty, the Most Merciful.
अल्लाह की मदद से मदद करता है जिस की चाहे, और वही इज़्ज़त वाला मेहरबान,
Allah ki madad se madad karta hai jis ki chahe, aur wahi izzat wala mehrban,
(ف7)کہ اس نے کتابیوں کو غیرِ کتابیوں پر غلبہ دیا اور اسی روز بدر میں مسلمانون کو مشرکوں پر اور مسلمانوں کا صدق اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قرآنِ کریم کی خبر کی تصدیق ظاہر فرمائی ۔
کیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا کہ، اللہ نے پیدا نہ کیے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق (ف۱۱) اور ایک مقرر میعاد سے (ف۱۲) اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں (ف۱۳)
Have they not inwardly pondered – that Allah has not created the heavens and the earth, and all that is between them, except with truth and a fixed term? And indeed many people deny the meeting with their Lord.
क्या उन्होंने अपने जी में न सोचा कि, अल्लाह ने पैदा न किए आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके दरमियान है मगर हक़ और एक मुकर्रर मियाद से और बेशक बहुत से लोग अपने रब से मिलने का इंकार रखते हैं
Kya unhone apne jee mein na socha ke, Allah ne paida na kiye aasman aur zameen aur jo kuch unke darmiyan hai magar haq aur ek muqarrar meyaad se aur beshak bohot se log apne Rab se milne ka inkaar rakhte hain
(ف11)یعنی آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اللہ تعالٰی نے ان کو عبث اور باطل نہیں بنایا ان کی پیدائش میں بے شمار حکمتیں ہیں ۔(ف12)یعنی ہمیشہ کے لئے نہیں بنایا بلکہ ایک مدّت معیّن کر دی ہے جب وہ مدّت پوری ہو جاوے گی تو یہ فنا ہو جائیں گے اور وہ مدّت قیامت قائم ہونے کا وقت ہے ۔(ف13)یعنی بَعث بعد الموت پر ایمان نہیں لاتے ۔
اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کہ ان سے اگلوں کا انجام کیسا ہوا (ف۱٤) وہ ان سے زیادہ زور آور تھے اور زمین جوتی اور آباد کی ان (ف۱۵) کی آبادی سے زیادہ اور ان کے رسول ان کے پاس روشن نشانیاں لائے (ف۱٦) تو اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا (ف۱۷) ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (ف۱۸)
And did they not travel in the land to see what sort of fate befell those before them? They were stronger than them, and they cultivated the land and inhabited it more than them, and their Noble Messengers came to them with clear proofs; so it did not befit Allah’s Majesty to oppress them, but it was they who used to wrong themselves.
और क्या उन्होंने ज़मीन में सफ़र न किया कि देखते कि उन से अगलों का अंजाम कैसा हुआ, वे उन से ज़्यादा ज़ोरावर थे और ज़मीन जोती और आबाद की उनकी आबादी से ज़्यादा और उनके रसूल उनके पास रोशन निशानियाँ लाए, तो अल्लाह की शान न थी कि उन पर ज़ुल्म करता, हाँ वे खुद ही अपनी जानों पर ज़ुल्म करते थे
Aur kya unhone zameen mein safar na kiya ke dekhte ke un se agalon ka anjaam kaisa hua, woh un se zyada zorawar the aur zameen joti aur abad ki unki abadi se zyada aur unke rasool unke paas roshan nishaniyan laaye to Allah ki shaan na thi ke un par zulm karta, haan woh khud hi apni jaanon par zulm karte the
(ف14)کہ رسولوں کی تکذیب کے باعث ہلاک کئے گئے ان کے اجڑے ہوئے دیار اور ان کی بربادی کے آثار دیکھنے والوں کے لئے موجِبِ عبرت ہیں ۔(ف15)اہلِ مکّہ ۔(ف16)تو وہ ان پر ایمان نہ لائے ، پس اللہ تعالٰی نے انہیں ہلاک کیا ۔(ف17)ان کے حقوق کم کر کے اور انہیں بغیر جُرم کے ہلاک کر کے ۔(ف18)رسولوں کی تکذیب کر کے اپنے آپ کو مستحقِ عذاب بنا کر ۔
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی (ف۲۱)
And on the Last Day– when it is established, the guilty* will lose all hope. (* The disbelievers.)
और जिस दिन क़यामत क़ायम होगी, मजरिमों की आस टूट जाएगी
Aur jis din Qiyamat qayam hogi mujrimoon ki aas toote gi
(ف21)اور کسی نفع اور بھلائی کی امید باقی نہ رہے گی ۔ بعض مفسِّرین نے یہ معنٰی بیان کئے ہیں کہ ان کا کلام منقطع ہو جائے گا وہ ساکت رہ جائیں گے کیونکہ ان کے پاس پیش کرنے کے قابل کوئی حُجّت نہ ہو گی ۔ بعض مفسِّرین نے یہ معنٰی بیان کئے ہیں کہ وہ رسوا ہوں گے ۔
تو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغ کی کیاری میں ان کی خاطرداری ہوگی (ف۲٤)
So those who believed and did good deeds – they will be hosted in the Garden.
तो वे जो ईमान लाए और अच्छे काम किए, बाग़ की कियारी में उनकी ख़ातिरदारी होगी
To woh jo iman laaye aur achhe kaam kiye, bagh ki kiari mein unki khatirdari ho gi
(ف24)یعنی بُستانِ جنّت میں ان کا اکرام کیا جائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے یہ خاطر داری جنّتی نعمتوں کے ساتھ ہو گی ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد سماع ہے کہ انہیں نغمات طرب انگیز سنائے جائیں گے جو اللہ تبارک و تعالٰی کی تسبیح پر مشتمل ہوں گے ۔
تو اللہ کی پاکی بولو (ف۲۷) جب شام کرو (ف۲۸) اور جب صبح ہو (ف۲۹)
So proclaim the Purity of Allah when you witness the night and the morning.
तो अल्लाह की पाक़ी बोलो जब शाम करो और जब सुबह हो
To Allah ki paaki bolo jab shaam karo aur jab subah ho
(ف27)پاکی بولنے سے یا تو اللہ تعالٰی کی تسبیح و ثناء مراد ہے اور اس کی احادیث میں بہت فضیلتیں وارد ہیں یا اس سے نماز مراد ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کیا پنجگانہ نمازوں کا بیان قرآنِ پاک میں ہے ؟ فرمایا ہاں اور یہ آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا کہ ان میں پانچوں نمازیں اور ان کے اوقات مذکور ہیں ۔(ف28)اس میں مغرب و عشاء کی نمازیں آ گئیں ۔(ف29)یہ نمازِ فجر ہوئی ۔
اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں (ف۳۰) اور کچھ دن رہے (ف۳۱) اور جب تمہیں دوپہر ہو (ف۳۲)
And only His is the praise in the heavens and the earth – and before the day ends and at noon.
और इसी की तारीफ़ है आसमानों और ज़मीन में और कुछ दिन रहे और जब तुम्हें दोपहर हो
Aur isi ki tareef hai aasmanon aur zameen mein aur kuch din rahe aur jab tumhein dopehar ho
(ف30)یعنی آسمان اور زمین والوں پر اس کی حمد لازم ہے ۔(ف31) یعنی تسبیح کرو کچھ دن رہے ، یہ نمازِ عصر ہوئی ۔(ف32)یہ نمازِ ظہر ہوئی ۔حکمت : نماز کے لئے یہ پنجگانہ اوقات مقرر فرمائے گئے اس لئے کہ افضل اعمال وہ ہے جو مدام ہو اور انسان یہ قدرت نہیں رکھتا کہ اپنے تمام اوقات نماز میں صرف کرے کیونکہ اس کے ساتھ کھانے پینے وغیرہ کے حوائج و ضروریات ہیں تو اللہ تعالٰی نے بندہ پر عبادت میں تخفیف فرمائی اور دن کے اوّل و اوسط و آخر میں اور رات کے اوّل و آخر میں نمازیں مقرر کیں تاکہ ان اوقات میں مشغولِ نماز رہنا دائمی عبادت کے حکم میں ہو ۔ (مدارک و خازن)
وہ زندہ کو نکالتا ہے مردے سے (ف۳۳) اور مردے کو نکالتا ہے زندہ سے (ف۳٤) اور زمین کو جٕلاتا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۳۵) اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے (ف۳٦)
He brings forth the living from the dead, and brings forth the dead from the living, and He revives the earth after its death; and this how you will be raised.
वह ज़िंदा को निकालता है मुरदे से और मुरदे को निकालता है ज़िंदा से और ज़मीन को जलाता है उसके मरे पीछे और यूँ ही तुम निकाले जाओगे
Woh zinda ko nikalta hai murde se aur murde ko nikalta hai zinda se aur zameen ko jalaata hai us ke mare peechhe aur yun hi tum nikale jaoge
(ف33)جیسے کہ پرندکو انڈے سے اور انسان کو نطفہ سے اور مومن کو کافِر سے ۔(ف34)جیسے کہ انڈے کو پرند سے نطفہ کو انسان سے کافِر کو مومن سے ۔(ف35)یعنی خشک ہو جانے کے بعد مینہ برسا کر سبزہ اُگا کر ۔(ف36)قبروں سے بَعث و حساب کے لئے ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی (ف۳۸) بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے،
And among His signs is that He created spouses for you from yourselves for you to gain rest from them, and kept love and mercy between yourselves; indeed in this are signs for the people who ponder.
और उसकी निशानियों से है कि तुम्हारे लिए तुम्हारी ही jins से जोड़े बनाए कि उनसे आराम पाओ और तुम्हारे आपस में मोहब्बत और रहमत रखी, बेशक इस में निशानियाँ हैं ध्यान करने वालों के लिए,
Aur uski nishaniyon se hai ke tumhare liye tumhari hi jins se jode banaye ke un se aaram pao aur tumhare aapas mein mohabbat aur rehmat rakhi, beshak is mein nishaniyan hain dhyan karne walon ke liye,
(ف38)کہ بغیر کسی پہلی معرفت اور بغیر کسی قرابت کے ایک دوسرے کے ساتھ مَحبت و ہمدردی ہے ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (ف۳۹) بیشک اس میں نشانیاں ہیتں جاننے والوں کے لیے،
And among His signs is the creation of the heavens and the earth, and the differences in your languages and colours; indeed in this are signs for people who know.
और उसकी निशानियों से है आसमानों और ज़मीन की पैदाइश और तुम्हारी ज़ुबानों और रंगत का इख़्तिलाफ़, बेशक इस में निशानियाँ हैं जानने वालों के लिए,
Aur uski nishaniyon se hai aasmanon aur zameen ki paidaish aur tumhari zubanon aur rangat ka ikhtilaf, beshak is mein nishaniyan hain jaan-ne walon ke liye,
(ف39)زبانوں کا اختلاف تو یہ ہے کہ کوئی عربی بولتا ہے ، کوئی عجمی ، کوئی اور کچھ اور رنگتوں کا اختلاف یہ ہے کہ کوئی گورا ہے ، کوئی کالا ، کوئی گندمی اور یہ اختلاف نہایت عجیب ہے کیونکہ سب ایک اصل سے ہیں اور سب حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈراتی (ف٤۳) اور امید دلاتی (ف٤٤) اور آسمان سے پانی اتارتا ہے ، تو اس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے (ف٤۵)
And among His signs is that He shows you the lightning, instilling fear and hope, and sends down water from the sky, so revives the earth after its death; indeed in this are signs for people of intellect.
और उसकी निशानियों से है कि तुम्हें बिजली दिखाता है, डराता और उम्मीद दिलाता और आसमान से पानी उतारता है, तो इस से ज़मीन को ज़िंदा करता है उसके मरे पीछे, बेशक इस में निशानियाँ हैं अकल वालों के लिए
Aur uski nishaniyon se hai ke tumhein bijli dikhata hai, darata aur ummeed dilata aur aasman se paani utarta hai, to is se zameen ko zinda karta hai us ke mare peechhe, beshak is mein nishaniyan hain aqal walon ke liye
(ف43)گرنے اور نقصان پہنچانے سے ۔ (ف44)بارش کی ۔(ف45)جو سوچیں اور قدرتِ الٰہی پر غور کریں ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں (ف٤٦) پھر جب تمہیں زمین سے ایک ندا فرمائے گا (ف٤۷) جبھی تم نکل پڑو گے (ف٤۸)
And among His signs is that the heavens and the earth remain established by His command; then when He calls you – from the earth – you will thereupon emerge.
और उसकी निशानियों से है कि उसके हुक्म से आसमान और ज़मीन क़ायम हैं, फिर जब तुम्हें ज़मीन से एक नदा फ़रमाएगा, तभी तुम निकल पड़ोगे
Aur uski nishaniyon se hai ke uske hukum se aasman aur zameen qayam hain, phir jab tumhein zameen se ek nida farmaaye ga, jabhi tum nikal parho ge
(ف46)حضرت ابنِ عباس اور حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہم نے فرمایا کہ وہ دونوں بغیر کسی سہارے کے قائم ہیں ۔(ف47)یعنی تمہیں قبروں سے بلائے گا اس طرح کہ حضرت اسرافیل علیہ السلام قبر والوں کے اٹھانے کے لئے صور پھونکیں گے تو اوّلین و آخرین میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا جو نہ اٹھے چنانچہ اس کے بعد ہی ارشاد فرماتا ہے ۔(ف48)یعنی قبروں سے زندہ ہو کر ۔
اور وہی ہے کہ اول بناتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا (ف٤۹) اور یہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیادہ آسان ہونا چاہیے (ف۵۰) اور اسی کے لیے ہے سب سے برتر شان آسمانوں اور زمین میں (ف۵۱) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
And it is He Who initiates the creation, and will then create it again – and this, according to you, should be easier for Him! And for Him only is the Supreme Majesty in the heavens and the earth; and only He is the Almighty, the Wise.
और वही है कि औल बना ता है, फिर इसे दोबारा बनाएगा और यह तुम्हारी समझ में इस पर ज़्यादा आसान होना चाहिए और इसी के लिए है सबसे बर्तर शान आसमानों और ज़मीन में और वही इज़्ज़त व हिकमत वाला है,
Aur wahi hai ke awwal banata hai, phir ise dobara banayega aur ye tumhari samajh mein is par zyada aasaan hona chahiye aur isi ke liye hai sab se bar tar shaan aasmanon aur zameen mein aur wahi izzat o hikmat wala hai,
(ف49)ہلاک ہونے کے بعد ۔(ف50)کیونکہ انسانوں کا تجربہ اور ان کی رائے یہی بتاتی ہے کہ شیٔ کا اعادہ اس کی ابتداء سے سہل ہوتا ہے اور اللہ تعالٰی کے لئے کچھ بھی دشوار نہیں ۔(ف51)کہ اس جیسا کوئی نہیں وہ معبودِ برحق ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔
تمہارے لیے (ف۵۲) ایک کہاوت بیان فرماتا ہے خود تمہارے اپنے حال سے (ف۵۳) کیا تمہارے لیے تمہارے ہاتھ کے غلاموں میں سے کچھ شریک ہیں (ف۵٤) اس میں جو ہم نے تمہیں روزی دی (ف۵۵) تو تم سب اس میں برابر ہو (ف۵٦) تم ان سے ڈرو (ف۵۷) جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو (ف۵۸) ہم ایسی مفصل نشانیاں بیان فرماتے ہیں عقل والوں کے لیے،
He illustrates an example for you from your own selves; do you have for yourselves, among the bondmen you possess, partners in the sustenance We have bestowed upon you, thereby you become equal in respect of it – you fearing them the way you fear each other? This is how We illustrate detailed signs for the people of intellect.
तुम्हारे लिए एक कहावत बयान फरमाता है, खुद तुम्हारे अपने हाल से: क्या तुम्हारे लिए तुम्हारे हाथ के गुलामों में से कुछ शरीक हैं, इस में जो हमने तुम्हें रोज़ी दी तो तुम सब इस में बराबर हो, तुम उनसे डरें जैसे आपस में एक दूसरे से डरते हो, हम ऐसी मुफ़स्सल निशानियाँ बयान फरमाते हैं अकल वालों के लिए,
Tumhare liye ek kahawat bayan farmaata hai, khud tumhare apne haal se: kya tumhare liye tumhare haath ke ghulamon mein se kuch shareek hain, is mein jo humne tumhein rozi di to tum sab is mein barabar ho, tum un se daro jaise aapas mein ek doosre se darte ho, hum aisi mufassal nishaniyan bayan farmaate hain aqal walon ke liye,
(ف52)اے مشرکو ۔(ف53)وہ مثل (کہاوت) یہ ہے ۔(ف54)یعنی کیا تمہارے غلام تمہارے ساجھی ہیں ۔(ف55)مال و متاع وغیرہ ۔(ف56)یعنی آقا اور غلام کو اس مال و متاع میں یکساں استحقاق ہو ایسا کہ ۔(ف57)اپنے مال و متاع میں بغیر ان غلاموں کی اجازت سے تصرُّف کرنے سے ۔ (ف58)مدعٰی یہ ہے کہ تم کسی طرح اپنے مملوکوں کو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کر سکتے تو کتنا ظلم ہے کہ اللہ تعالٰی کے مملوکوں کو اس کا شریک قرار دو ۔ اے مشرکین تم اللہ تعالٰی کے سوا جنہیں اپنا معبود قرار دیتے ہو وہ اس کے بندے اور مملوک ہیں ۔
بلکہ ظالم (ف۵۹) اپنی خواہشوں کے پیچھے ہولیے بےجانے (ف٦۰) تو اسے کون ہدایت کرے جسے خدا نے گمراہ کیا (ف٦۱) اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ف٦۲)
Rather the unjust followed their own desires, without knowledge; so who can guide one whom Allah has sent astray? And they do not have supporters.
बल्कि ज़ालिम अपनी ख़्वाहिशों के पीछे होलीए, बे-जाने, तो इसे कौन हिदायत करे जिसे खुदा ने गुमराह किया और उनका कोई मददगार नहीं
Balki zalim apni khwahishon ke peeche holiye, be-jaane, to ise kaun hidaayat kare jise Khuda ne gumraah kiya aur unka koi madadgar nahi
(ف59)جنہوں نے شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلمِ عظیم کیا ہے ۔(ف60)جہالت سے ۔(ف61)یعنی کوئی اس کا ہدایت کرنے والا نہیں ۔(ف62)جو انہیں عذاب الٰہی سے بچا سکے ۔
تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لیے ایک اکیلے اسی کے ہو کر (ف٦۳) اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا (ف٦٤) اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا (ف٦۵) یہی سیدھا دین ہے، مگر بہت لوگ نہیں جانتے (ف٦٦)
Therefore set your attention for obeying Allah, devoted solely to Him; the foundation set by Allah, upon which He created man; do not change what Allah has created; this is the proper religion – but most people do not know.
तो अपना मुँह सीधा करो अल्लाह की इताअत के लिए, एक अकेले, इसी के हो कर, अल्लाह की डाली हुई बना, जिस पर लोगों को पैदा किया, अल्लाह की बनाई चीज़ न बदलना, यही सीधा दीन है, मगर बहुत लोग नहीं जानते
To apna munh seedha karo Allah ki itaat ke liye, ek akele, isi ke ho kar, Allah ki daali hui bana, jis par logon ko paida kiya, Allah ki banai cheez na badalna, yehi seedha deen hai, magar bohot log nahi jaante
(ف63)یعنی خلوص کے ساتھ دینِ الٰہی پر باستقامت و استقلال قائم رہو ۔(ف64)فطرت سے مراد دینِ اسلام ہے معنٰی یہ ہی کہ اللہ تعالٰی نے خَلق کو ایمان پر پیدا کیا جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر بچّہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے یعنی اسی عہد پر جو' اَ لَسْتُ بِرَبِّکُمْ ' فرما کر لیا گیا ہے ۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں ۔ اس آیت میں حکم دیا گیا کہ دینِ الٰہی پر قائم رہو جس پر اللہ تعالٰی نے خَلق کو پیدا کیا ہے ۔(ف65)یعنی دینِ الٰہی پر قائم رہنا ۔(ف66)اس کی حقیقت کو تو اس دین پر قائم رہو ۔
اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے (ف۷۰) تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انھیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے (ف۷۱) جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے،
And when some affliction reaches men, they pray to their Lord inclining towards Him – and when He gives them a taste of His mercy, thereupon a group among them begins setting up partners to their Lord!
और जब लोगों को तक़लीफ़ पहुँचती है तो अपने रब को पुकारते हैं, उसकी तरफ़ रुझू लाते हुए, फिर जब वह उन्हें अपने पास से रहमत का मज़ा देता है, तभी उनमें से एक ग्रुप अपने रब का शरीक ठहराने लगता है,
Aur jab logon ko takleef pohanchti hai to apne Rab ko pukarte hain, uski taraf rujoo laate hue, phir jab woh unhein apne paas se rehmat ka maza deta hai, jabhi un mein se ek giroh apne Rab ka shareek thahrane lagta hai,
(ف70)مرض کی یا قحط کی یا اس کے سوا اور کوئی ۔(ف71)اس تکلیف سے خلاصی عنایت کرتا ہے اور راحت عطا فرماتا ہے ۔
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۷٦) اس پر خوش ہوجاتے ہیں (ف۷۷) اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچے (ف۷۸) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے بھیجا (ف۷۹) جبھی وہ ناامید ہوجاتے ہیں (ف۸۰)
And when We give people the taste of mercy they rejoice at it; and if an ill fortune reaches them because of what their hands have sent ahead – thereupon they lose hope!
और जब हम लोगों को रहमत का मज़ा देते हैं, इस पर खुश हो जाते हैं और अगर उन्हें कोई बुराई पहुँचे, बदला इसका जो उनके हाथों ने भेजा, तभी वे नाउम्मीद हो जाते हैं
Aur jab hum logon ko rehmat ka maza dete hain, is par khush ho jaate hain, aur agar unhein koi burai pohche, badla iska jo unke haathon ne bheja, jabhi woh na-umeed ho jaate hain
(ف76)یعنی تندرستی اور وسعتِ رزق کا ۔(ف77)اور اِتراتے ہیں ۔(ف78)قحط یا خوف یا اور کوئی بَلا ۔(ف79)یعنی ان کی معصیتوں اور ان کے گناہوں کا ۔(ف80)اللہ تعالٰی کی رحمت سے اور یہ بات مومن کی شان کے خلاف ہے کیونکہ مومن کا حال یہ ہے کہ جب اسے نعمت ملتی ہے تو شکر گزاری کرتا ہے اور جب سختی ہوتی ہے تو اللہ تعالٰی کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے ۔
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ اللہ رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،
And did they not see that Allah eases the sustenance for whomever He wills and restricts it for whomever He wills? Indeed in this are signs for people who believe.
और क्या उन्होंने न देखा कि अल्लाह रज़क वसीअ फरमाता है जिस के लिए चाहे और तंगी फरमाता है जिस के लिए चाहे, बेशक इस में निशानियाँ हैं ईमान वालों के लिए,
Aur kya unhone na dekha ke Allah rizq wasee farmaata hai jis ke liye chahe aur tangi farmaata hai jis ke liye chahe, beshak is mein nishaniyan hain iman walon ke liye,
تو رشتہ دار کو اس کا حق دو (ف۸۱) اور مسکین اور مسافر کو (ف۸۲) یہ بہتر ہے ان کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں (ف۸۳) اور انھیں کا کام بنا،
Therefore give the relative his right, and to the needy, and to the traveller; this is better for those who seek the pleasure of Allah; and it is they who are the successful.
तो रिश्तेदार को उसका हक़ दो और मस्कीन और मुसाफ़िर को, यह बेहतर है उनके लिए जो अल्लाह की रज़ा चाहते हैं और उनका काम बना,
To rishtedaar ko uska haq do aur maskeen aur musafir ko, ye behtar hai unke liye jo Allah ki raza chahte hain aur unka kaam bana,
(ف81)اس کے ساتھ سلوک اور احسان کرو ۔(ف82)ان کے حق دو صدقہ دے کر اور مہمان نوازی کر کے ۔مسئلہ : اس آیت سے محارم کے نفقہ کا وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ (مدارک)(ف83)اور اللہ تعالٰی سے ثواب کے طالب ہیں ۔
اور تم جو چیز زیادہ لینے کو دو کہ دینے والے کے مال بڑھیں تو وہ اللہ کے یہاں نہ بڑھے گی (ف۸٤) اور جو تم خیرات دو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے (ف۸۵) تو انھیں کے دُونے ہیں (ف۸٦)
And that which you give upon usury, in order that it may increase the creditors’ property, will not increase before Allah; and the charity you give seeking the pleasure of Allah – only that will increase manifold.
और तुम जो चीज़ ज़्यादा लेने को दो कि देने वाले के माल बढ़ें, तो वह अल्लाह के यहाँ न बढ़ेगी, और जो तुम ख़ैरात दो अल्लाह की रज़ा चाहते हुए, तो उन्हें दोने हैं
Aur tum jo cheez zyada lene ko do ke dene wale ke maal barhein to woh Allah ke yahan na barhegi, aur jo tum khairat do Allah ki raza chahte hue, to unhein dono-ne hain
(ف84)لوگوں کا دستور تھا کہ وہ دوست احباب اور آشناؤں کو یا اور کسی شخص کو اس نیّت سے ہدیہ دیتے تھے کہ وہ انہیں اس سے زیادہ دے گا یہ جائز تو ہے لیکن اس پر ثواب نہ ملے گا اور اس میں برکت نہ ہو گی کیونکہ یہ عمل خالصاً لِلّٰہِ تَعالٰی نہیں ہوا ۔(ف85)نہ اس سے بدلہ لینا مقصود ہو نہ نام و نمود ۔(ف86)ان کا اجر و ثواب زیادہ ہو گا ایک نیکی کا دس گنا زیادہ دیا جائے گا ۔
اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا (ف۸۷) کیا تمہارے شریکوں میں (ف۸۸) بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرے (ف۸۹) پاکی اور برتری ہے اسے ان کے شرک سے،
It is Allah Who created you and then provided you sustenance, then will cause you to die, and will then give you life again; is there any among your ascribed partners that can do any of these things? Purity and Supremacy are to Him, above their ascribing of partners (to Him)!
अल्लाह है जिसने तुम्हें पैदा किया, फिर तुम्हें रोज़ी दी, फिर तुम्हें मारेगा, फिर तुम्हें जिला देगा, क्या तुम्हारे शरीकों में भी कोई ऐसा है जो इन कामों में से कुछ करे? पाक़ी और बरतरी है उसे उनके शिर्क से,
Allah hai jisne tumhein paida kiya, phir tumhein rozi di, phir tumhein maare ga, phir tumhein jilaaye ga, kya tumhare shareekon mein bhi koi aisa hai jo in kaamon mein se kuch kare? Paaki aur bartari hai usse unke shirk se,
(ف87)پیدا کرنا ، روزی دینا ، مارنا ، جِلانا یہ سب کام اللہ ہی کے ہیں ۔(ف88)یعنی بُتوں میں جنہیں تم اللہ تعالٰی کا شریک ٹھہراتے ہو ان میں ۔(ف89)اس کے جواب سے مشرکین عاجز ہوئے اور انہیں دَم مارنے کی مجال نہ ہوئی تو فرماتا ہے ۔
چمکی خرابی خشکی اور تری میں (ف۹۰) ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انھیں ان کے بعض کوتکوں (برے کاموں) کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں (ف۹۱)
Chaos appears in the land and the sea because of the evil deeds which people’s hands have earned, in order to make them taste the flavour of some of their misdeeds – in order that they may come back.
चमकी, ख़राबी, ख़ुष्की और तर में उन बुराइयों से जो लोगों के हाथों ने कमाए, ताकि उन्हें उनके कुछ कूटकों (बुरे कामों) का मज़ा चखाए, कहीं वे बाज़ आएँ
Chamki, kharabi, khushki aur tari mein un buraiyon se jo logon ke haathon ne kamaye, taake unhein unke baaz koutkon (bare kaamon) ka maza chakhaye, kahin woh baaz aayen
(ف90)شرک و معاصی کے سبب سے قحط اور امساکِ باراں اور قلّتِ پیداوار اور کھیتیوں کی خرابی اور تجارتوں کے نقصان اور آدمیوں اور جانوروں میں موت اور کثرتِ آتش زدگی اور غرق اور ہر شیٔ میں بے برکتی ۔(ف91)کُفر و معاصی سے اور تائب ہوں ۔
تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو کیا انجام ہوا اگلوں کا، ان میں بہت مشرک تھے (ف۹۲)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Travel in the land, and see what sort of fate befell the former people; and most of them were polytheists.”
तुम फ़रमाओ ज़मीन में चल कर देखो क्या अंज़ाम हुआ अगलों का, उनमें बहुत mushrik थे
Tum farmaao zameen mein chal kar dekho kya anjaam hua agalon ka, unmein bohot mushrik the
(ف92)اپنے شرک کے باعث ہلاک کئے گئے ان کے منازل اور مساکن ویران پڑے ہیں انہیں دیکھ کر عبرت حاصل کرو ۔
تو اپنا منہ سیدھا کر عبادت کے لیے (ف۹۳) قبل اس کے کہ وہ دن آئے جسے اللہ کی طرف ٹلنا نہیں (ف۹٤) اس دن الگ پھٹ جائیں گے (ف۹۵)
Therefore set your attention for worshipping, before the day from Allah which cannot be averted – on that day people will be split, separated.
तो अपना मुँह सीधा कर इबादत के लिए, क़बल उसके कि वह दिन आए, जिसे अल्लाह की तरफ़ टलना नहीं, उस दिन अलग फट जाएँगे
To apna munh seedha kar ibadat ke liye, qabl us ke ke woh din aaye, jise Allah ki taraf talna nahi, us din alag phat jaayenge
(ف93)یعنی دینِ اسلام پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو ۔(ف94)یعنی روزِ قیامت ۔(ف95)یعنی حساب کے بعد متفرق ہو جائیں گے جنّتی جنّت کی طرف جائیں گے اور دوزخی دوزخ کی طرف ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے مژدہ سناتی (ف۹۸) اور اس لیے کہ تمہیں اپنی رحمت کا ذائقہ دے اور اس لیے کہ کشتی (ف۹۹) اس کے حکم سے چلے اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو (ف۱۰۰) اور اس لیے کہ تم حق مانو (ف۱۰۱)
And among His signs is that He sends winds heralding glad tidings, to make you taste His mercy, and so that the ships may sail by His command, and so that you may seek His munificence, and for you to give thanks.
और उसकी निशानियों से है कि हवाएँ भेजता है, मुज़्दह सुनाता और इस लिए कि तुम्हें अपनी रहमत का ज़ायक़ा दे और इस लिए कि कश्ती उसके हुक्म से चले और इस लिए कि उसका फ़ज़ल तलाश करो और इस लिए कि तुम हक़ मानो
Aur uski nishaniyon se hai ke hawaein bhejta hai, muzhda sunata aur isliye ke tumhein apni rehmat ka zaiqa de aur isliye ke kashti uske hukum se chale aur isliye ke uska fazl talash karo aur isliye ke tum haq maano
(ف98)بارش اور کثرتِ پیدوار کا ۔(ف99)دریا میں ان ہواؤں سے ۔(ف100)یعنی دریائی تجارتوں سے کسبِ معاش کرو ۔(ف101) ان نعمتوں کا اور اللہ کی توحید قبول کرو ۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لائےپھر ہم نے مجرموں سے بدلہ لیا (ف۱۰۳) اور ہمارے ذمہٴ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا (ف۱۰٤)
And indeed We sent several Noble Messengers before you, to their nations – so they came to them with clear signs – We therefore took revenge from the guilty; and it is incumbent upon Our mercy, to help the Muslims.
और बेशक हमने तुमसे पहले कितने रसूल उनकी क़ौम की तरफ़ भेजे, तो वे उनके पास खुली निशानियाँ लाए, फिर हमने मजरिमों से बदला लिया और हमारे ज़िम्मा करम पर है मुसलमानों की मदद फ़रमाना
Aur beshak humne tumse pehle kitne rasool unki qaum ki taraf bheje, to woh unke paas khuli nishaniyan laaye, phir humne mujrimoon se badla liya aur hamare zimma karam par hai musalmanon ki madad farmaana
(ف102)جو ان رسولوں کے صدقِ رسالت پر دلیلِ واضح تھیں تو اس قوم میں سے بعض ایمان لائےاور بعض نے کُفر کیا ۔(ف103)کہ دنیا میں انہیں عذاب کر کے ہلاک کر دیا ۔(ف104)یعنی انہیں نجات دینا اور کافِروں کو ہلاک کرنا ۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو آخرت کی کامیابی اور اعداء پر فتح و نصرت کی بشارت دی گئی ہے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے جو مسلمان اپنے بھائی کی آبرو بچائے گا اللہ تعالٰی اسے روزِ قیامت جہنّم کی آ گ سے بچائے گا یہ فرما کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ' کَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ '۔
اللہ ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں کہ ابھارتی ہیں بادل پھر اسے پھیلادیتا ہے آسمان میں جیسا چاہے (ف۱۰۵) اور اسے پارہ پارہ کرتا ہے (ف۱۰٦) تو تو دیکھے کہ اس کے یبچ میں مینھ نکل رہا ہے پھر جب اسے پہنچاتا ہے (ف۱۰۷) اپنے بندوں میں جس کی طرف چاہے جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
It is Allah Who sends the winds raising the clouds – therefore spreads them in the sky as He wills and shatters them – so you see the rain dropping from inside it; so when He delivers it upon whomever He wills among His bondmen, thereupon they rejoice.
अल्लाह है के भेजता है हवाएँ कि उभरती हैं बादल, फिर इसे फैला देता है आसमान में जैसा चाहे और इसे पार्हा पार्हा करता है, तो तू देखे कि इसके बीच में मेघ निकल रहा है, फिर जब इसे पहुँचाता है अपने बंदों में जिस की तरफ़ चाहे, तभी वे खुशियाँ मनाते हैं,
Allah hai ke bhejta hai hawaein ke ubharti hain badal, phir ise phaila deta hai aasman mein jaisa chahe aur ise parah parah karta hai, to tu dekhe ke iske beech mein barish nikal rahi hai, phir jab ise pohchaata hai apne bandon mein jis ki taraf chahe, jabhi woh khushiyan manate hain,
(ف105)قلیل یا کثیر ۔(ف106)یعنی کبھی تو اللہ تعالٰی ابرِ محیط بھیج دیتا ہے جس سے آسمان گھرا معلوم ہوتا ہے اور کبھی متفرق ٹکڑے علٰیحدہ علٰیحدہ ۔(ف107)یعنی مینہ کو ۔
تو اللہ کی رحمت کے اثر دیکھو (ف۱۰۸) کیونکر زمین کو جِلاتا ہے اس کے مَرے پیچھے (ف۱۰۹) بیشک مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
Therefore observe the result of Allah’s mercy, how He revives the earth after its death; He will indeed resurrect the dead; and He is Able to do all things.
तो अल्लाह की रहमत के असर देखो, कैसे ज़मीन को ज़िलाता है उसके मरे पीछे, बेशक मर्दों को ज़िंदा करेगा और वह सब कुछ कर सकता है,
To Allah ki rehmat ke asar dekho, kaise zameen ko jilaata hai uske mare peechhe, beshak murdon ko zinda karega aur woh sab kuch kar sakta hai,
(ف108)یعنی بارش کے اثر جو اس پر مرتّب ہوتے ہیں کہ بارش زمین کو سیراب کرتی ہے ، اس سے سبزہ نکلتا ہے ، سبزے سے پھل پیدا ہوتے ہیں ، پھلوں میں غذائیت ہوتی ہے اور اس سے جانداروں کے اجسام کے قوام کو مدد پہنچتی ہے اور یہ دیکھو کہ اللہ تعالٰی یہ سبزے اور پھل پیدا کر کے ۔(ف109)اور خشک میدان کو سبزہ زار بنا دیتا ہے جس کی یہ قدرت ہے ۔
اور اگر ہم کوئی ہوا بھیجیں (ف۱۱۰) جس سے وہ کھیتی کو زرد دیکھیں (ف۱۱۱) تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگے (ف۱۱۲)
And if We send a wind and they see their fields yellow because of it, then indeed they would become ungrateful after it.
और अगर हम कोई हवा भेजें जिस से वे खेती को ज़र्द देखें, तो ज़रूर इसके बाद नाशुकरि करने लगें
Aur agar hum koi hawa bheje jis se woh kheti ko zard dekhein to zaroor iske baad nashukri karne lagte
(ف110)ایسی جو کھیتی اور سبزے کے لئے مُضِر ہو ۔(ف111)بعد اس کے کہ وہ سرسبز و شاداب تھی ۔(ف112)یعنی کھیتی زرد ہونے کے بعد ناشکری کرنے لگیں اور پہلی نعمت سے بھی مُکَر جائیں ۔ معنٰی یہ ہیں کہ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب انہیں رحمت پہنچتی ہے رزق ملتا ہے خوش ہو جاتے ہیں اور جب کوئی سختی آتی ہے کھیتی خراب ہوتی ہے تو پہلی نعمتوں سے بھی مُکَر جاتے ہیں ، چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالٰی پر توکُّل کرتے اور جب نعمت پہنچتی شکر بجا لاتے اور جب بَلا آتی صبر کرتے اور دعاء و استغفار میں مشغول ہوتے ۔ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی اپنے حبیبِ اکرم سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی فرماتا ہے کہ آپ ان لوگوں کی محرومی اور ان کے ایمان نہ لانے پر رنجیدہ نہ ہوں ۔
اس لیے کہ تم مردوں کو نہیں سناتے (ف۱۱۳) اور نہ بہروں کو پکارنا سناؤ جب وہ پیٹھ دے کر پھیریں (ف۱۱٤)
For you do not make the dead hear nor make the deaf hear the call when they flee, turning back. (The disbelievers are referred to as dead and deaf.)
इसलिए कि तुम मुर्दों को नहीं सुनाते और न बहरों को पुकारना सुनाओ जब वे पीठ दे कर फिरें
Isliye ke tum murdon ko nahi sunate aur na behron ko pukarna sunao jab woh peeth de kar pherein
(ف113)یعنی جن کے دل مر چکے اور ان سے کسی طرح قبولِ حق کی توقع نہیں رہی ۔(ف114)یعنی حق کے سننے سے بہرے ہوں اور بہرے بھی ایسے کہ پیٹھ دے کر پھر گئے ان سے کسی طرح سمجھنے کی امید نہیں ۔
اور نہ تم اندھوں کو (ف۱۱۵) ان کی گمراہی سے راہ پر لاؤ، تو تم اسی کو سناتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تو وہ گردن رکھے ہوئے ہیں،
Nor do you guide the blind out of their error; you only make those hear who believe in Our signs, so they have submitted. (The disbelievers are referred to as blind.)
और न तुम अंधों को उनकी ग़ुमराही से राह पर लाओ, तो तुम इसी को सुनाते हो जो हमारी आयतों पर ईमान लाए, तो वह गर्दन रखे हुए हैं,
Aur na tum andhon ko unki gumraahi se raah par laao, to tum isi ko sunate ho jo hamari aayaton par iman laaye, to woh gardan rakhe hue hain,
(ف115)یہاں اندھوں سے بھی دل کے اندھے مراد ہیں ۔ اس آیت سے بعض لوگوں نے مُردوں کے نہ سننے پر استدلال کیا ہے مگر یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ یہاں مُردوں سے مراد کُفّار ہیں جو دنیوی زندگی تو رکھتے ہیں مگر پند و موعظت سے منتفع نہیں ہوتے اس لئے انہیں اموات سے تشبیہ دی گئی جو دارالعمل سے گزر گئے اور وہ پند و نصیحت سے منتفع نہیں ہو سکتے لہذا آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر سند لانا درست نہیں اور بکثرت احادیث سے مُردوں کا سننا اور اپنی قبروں پر زیارت کے لئے آنے والوں کو پہچاننا ثابت ہے ۔
اللہ ہے جس نے تمہیں ابتداء میں کمزور بنایا (ف۱۱٦) پھر تمہیں ناتوانی سے طاقت بخشی (ف۱۱۷) پھر قوت کے بعد (ف۱۱۸) کمزوری اور بڑھاپا دیا، بناتا ہے جو چاہے (ف۱۱۹) اور وہی علم و قدرت والا ہے،
It is Allah Who created you weak, then after weakness gave you strength, then after strength gave you weakness and old age; He creates whatever He wills; and only He is the All Knowing, the Able.
अल्लाह है जिसने तुम्हें इब्तिदा में कमजोर बनाया, फिर तुम्हें नातवानि से ताक़त बख़्शी, फिर क़ुवत के बाद कमज़ोरी और बुढ़ापा दिया, बनाता है जो चाहे और वही इल्म ओ क़ुदरत वाला है,
Allah hai jisne tumhein ibtida mein kamzor banaya, phir tumhein na-taawani se taqat bakshi, phir quwat ke baad kamzori aur burhaapa diya, banata hai jo chahe aur wahi ilm o qudrat wala hai,
(ف116)اس میں انسان کے احوال کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے وہ ماں کے پیٹ میں جنین تھا پھر بچّہ ہو کر پیدا ہوا ، شیر خوار رہا یہ احوال نہایت ضعف کے ہیں ۔(ف117)یعنی بچپن کے ضعف کے بعد جوانی کی قوّت عطا فرمائی ۔(ف118)یعنی جوانی کی قوّت کے بعد ۔(ف119)ضعف اور قوّت اور جوانی اور بڑھاپا یہ سب اللہ کے پیدا کئے سے ہیں ۔
اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسم کھائیں گے کہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی (ف۱۲۰) وہ ایسے ہی اوندھے جاتے تھے (ف۱۲۱)
And on the day when the Last Day is established, the guilty will swear that they did not stay except for an hour; this is how they keep straying.
और जिस दिन क़यामत क़ायम होगी, मजरिम क़सम खाएंगे कि न रहे थे, मगर एक घड़ी वह ऐसे ही औंधे जाते थे
Aur jis din Qiyamat qayam hogi, mujrim qasam khaayenge ke na rahe the, magar ek ghadi woh aise hi ondhe jaate the
(ف120)یعنی آخرت کو دیکھ کر اس کو دنیا یا قبر میں رہنے کی مدّت بہت تھوڑی معلوم ہو گی اس لئے وہ اس مدّت کو ایک گھڑی سے تعبیرکریں گے ۔(ف121)یعنی ایسے ہی دنیا میں غلط اور باطل باتوں پر جمتے اور حق سے پھرتے تھے اور بَعث کا انکار کرتے تھے جیسے کہ اب قبر یا دنیا میں ٹھہرنے کی مدّت کو قَسم کھا کر ایک گھڑی بتا رہے ہیں ان کی اس قَسم سے اللہ تعالٰی انہیں تمام اہلِ محشر کے سامنے رسوا کرے گا اور سب دیکھیں گے کہ ایسے مجمعِ عام میں قَسم کھا کر ایسا صریح جھوٹ بول رہے ہیں ۔
اور بولے وہ جن کو علم اور ایمان مِلا (ف۱۲۲) بیشک تم رہے اللہ کے لکھے ہوئے میں (ف۱۲۳) اٹھنے کے دن تک تو یہ ہے وہ دن اٹھنے کا (ف۱۲٤) لیکن تم نہ جانتے تھے (ف۱۲۵)
And said those who received knowledge and faith, “You have indeed stayed in the decree of Allah until the Day of Restoration; so this is the Day of Restoration, but you did not know.”
और बोले वे जिन को इल्म और ईमान मिला, बेशक तुम रहे अल्लाह के लिखे हुए में उठने के दिन तक, तो यह है वह दिन उठने का, लेकिन तुम न जानते थे
Aur bole woh jin ko ilm aur iman mila, beshak tum rahe Allah ke likhe hue mein uthne ke din tak, to ye hai woh din uthne ka, lekin tum na jaante the
(ف122)یعنی انبیاء اور ملائکہ اور مومنین ان کا رد کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم جھوٹ کہتے ہو ۔(ف123)یعنی جو اللہ تعالٰی نے اپنے سابق علم میں لوحِ محفوظ میں لکھا اسی کے مطابق تم قبروں میں رہے ۔(ف124)جس کے تم دنیا میں منکِر تھے ۔(ف125)دنیا میں کہ وہ حق ہے ضرور واقع ہو گا ، اب تم نے جانا کہ وہ دن آ گیا اور اس کا آنا حق تھا تو اس وقت کا جاننا تمہیں نفع نہ دے گا جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔
اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان فرمائی (ف۱۲۷) اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر،
And indeed We have illustrated all kinds of examples in this Qur’an for mankind; and indeed if you bring a sign to them, the disbelievers will say, “You are upon nothing but falsehood.”
और बेशक हमने लोगों के लिए इस क़ुरआन में हर किस्म की मिसाल बयान फरमाई, और अगर तुम उनके पास कोई निशानी लाओ, तो ज़रूर काफ़िर कहेंगे, तुम तो नहीं मगर बातिल पर,
Aur beshak humne logon ke liye is Quran mein har qisam ki misaal bayan farmaai, aur agar tum unke paas koi nishani lao to zaroor kafir kahenge, tum to nahi magar baatil par,
(ف127)تاکہ انہیں تنبیہ ہو اور انذار اپنے کمال کو پہنچے لیکن انہوں نے اپنی سیاہ باطنی اور سخت دلی کے باعث کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ جب کوئی آیتِ قرآن آئی اس کو جھٹلا دیا اور اس کا انکار کیا ۔
تو صبر کرو (ف۱۲۹) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۳۰) اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے (ف۱۳۱)
Therefore patiently endure, indeed the promise of Allah is true; and may not those who do not have faith make you impatient.
तो सब्र करो, बेशक अल्लाह का वादा सच्चा है और तुम्हें सबक न कर दें वे जो यक़ीन नहीं रखते
"
To sabr karo, beshak Allah ka wada sachha hai aur tumhein sabak na kar dein woh jo yaqeen nahi rakhte
(ف129)ان کی ایذا و عداوت پر ۔(ف130)آپ کی مدد فرمانے کا اور دینِ اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرنے کا ۔(ف131)یعنی یہ لوگ جنہیں آخرت کا یقین نہیں ہے اور بَعث و حساب کے منکِر ہیں ان کی شدّتیں اور ان کے انکار اور ان کے نالائق حرکات آپ کے لئے طیش اور قلق کا باعث نہ ہوں اور ایسا نہ ہو کہ آپ ان کے حق میں عذاب کی دعا کرنے میں جلدی فرمائیں ۔
الٓمّٓ ۚ ﴿1﴾
الم
Alif-Lam-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں (ف۲) کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں بےسمجھے (ف۳) اور اسے ہنسی بنالیں، ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے،
And some people buy words of play, in order to mislead from Allah’s path, without knowledge; and to make it an article of mockery; for them is a disgraceful punishment.
और कुछ लोग खेल की बातें खरीदते हैं कि अल्लाह की राह से भटका दें बेसमझे और इसे हँसी बना लें, उनके लिए ज़िलत का अज़ाब है,
Aur kuch log khel ki baatein kharidte hain ke Allah ki raah se bhadka dein be samjhe aur ise hansi bana lein, unke liye zillat ka azaab hai,
(ف2)لہو یعنی کھیل ہر اس باطل کو کہتے ہیں جو آدمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے ، کہانیاں افسانے اسی میں داخل ہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی جو تجارت کے سلسلہ میں دوسرے مُلکوں میں سفر کیا کرتا تھا ، اس نے عجمیوں کی کتابیں خریدیں جن میں قصّے کہانیاں تھیں وہ قریش کو سناتا اور کہتا کہ سیدِ کائنات (محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) تمہیں عاد و ثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں رستم و اسفند یار اور شاہانِ فارس کی کہانیاں سناتا ہوں ، کچھ لوگ ان کہانیوں میں مشغول ہو گئے اور قرانِ پاک سننے سے رہ گئے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف3)یعنی براہِ جہالت لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے اور قرآنِ کریم سننے سے روکیں اور آیاتِ الٰہیہ کے ساتھ تمسخُر کریں ۔
اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو تکبر کرتا ہوا پھرے (ف٤) جیسے انھیں سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ٹینٹ (روئی کا پھایا) ہے (ف۵) تو اسے دردناک عذاب کا مژدہ دو،
And when Our verses are recited to him he haughtily turns away as if he did not hear them – as if there is deafness in his ears; so give him the glad tidings of a painful punishment.
और जब इस पर हमारी आयतें पढ़ी जाएँ तो तक़बर करता हुआ फिरे जैसे उन्हें सुना ही नहीं जैसे उसके कानों में टेंट (रुई का फाया) है तो उसे दर्दनाक अज़ाब का मुझ्दा दो,
Aur jab is par hamari aayatein padhi jaayein to takabbur karta hua phire jaise unhein suna hi nahin jaise uske kaanon mein tent (rooi ka phaaya) hai to use dardnaak azaab ka mujhda do,
(ف4)اور ان کی طرف التفات نہ کرے ۔(ف5)اور وہ بہرا ہے ۔
اس نے آسمان بنائے بے ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں (ف٦) اور زمین میں ڈالے لنگر (ف۷) کہ تمہیں لے کر نہ کانپے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلائے، اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا (ف۸) تو زمین میں ہر نفیس جوڑا اگایا (ف۹)
He created the heavens without any supports visible to you, and cast mountains as anchors into the earth so that it may not shake with you, and spread all kinds of beasts in it; and We sent down water from the sky so thereby grew all kinds of refined pairs in it.
उसने आसमान बनाए बे ऐसे स्तूनों के जो तुम्हें नजर आएँ और ज़मीन में डाले लंगर कि तुम्हें लेकर न कांपे और उसमें हर किस्म के जानवर फैलाए, और हमने आसमान से पानी उतारा तो ज़मीन में हर नफ़ीस जोड़ा उगाया
Usne aasman banaye be aise stoonon ke jo tumhein nazar aayein aur zameen mein daale langar ke tumhein le kar na kaampe aur is mein har qisam ke jaanwar phailaaye, aur humne aasman se paani utaara to zameen mein har nafees joda ugaya
(ف6)یعنی کوئی ستون نہیں ہے تمہاری نظر خود اس کی شاہد ہے ۔(ف7)بلند پہاڑوں کے ۔(ف8)اپنے فضل سے بارش کی ۔(ف9)عمدہ اقسام کے نباتات پیدا کئے ۔
اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی (ف۱۳) کہ اللہ کا شکر کر (ف۱٤) اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے (ف۱۵) اور جو ناشکری کرے تو بیشک اللہ بےپرواہ ہے سب خوبیاں سراہا،
And indeed We bestowed wisdom to Luqman (saying) that, “Be grateful to Allah”; and whoever is grateful, is grateful for his own good; and whoever is ungrateful – then indeed Allah is the Absolute, the Most Praiseworthy.
और बेशक हमने लक़मान को हिकमत अता फ़र्माई कि अल्लाह का शुक्र कर और जो शुक्र करे वह अपने भले को शुक्र करता है और जो नाशुक्र करे तो बेशक अल्लाह बेपरवाह है सब खूबियाँ सराहा,
Aur beshak humne Luqman ko hikmat ata farmaai ke Allah ka shukr kar aur jo shukr kare woh apne bhale ko shukr karta hai aur jo nashukri kare to beshak Allah be parwah hai sab khubiyan saraha,
(ف13)محمّد بن اسحٰق نے کہا کہ لقمان کا نسب یہ ہے لقمان بن باعور بن ناحور بن تارخ ۔ وہب کا قول ہے کہ حضرت لقمان حضرت ایّوب علیہ السلام کے بھانجے تھے ۔ مقاتل نے کہا کہ حضرت ایّوب علیہ السلام کی خالہ کے فرزند تھے ۔ واقدی نے کہا کہ بنی اسرائیل میں قاضی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ ہزار سال زندہ رہے اور حضرت داؤد علیہ السلام کا زمانہ پایا اور ان سے علم اخذ کیا اور ان کے زمانہ میں فتوٰی دینا ترک کر دیا اگرچہ پہلے سے فتوٰی دیتے تھے ، آپ کی نبوّت میں اختلاف ہے اکثر عُلَماء اسی طرف ہیں کہ آپ حکیم تھے نبی نہ تھے ، حکمت عقل و فہم کو کہتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ حکمت وہ علم ہے جس کے مطابق عمل کیا جائے ۔ بعض نے کہا کہ حکمت معرفت اور اصابت فی الامور کو کہتے ہیں اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ حکمت ایسی شئ ہے کہ اللہ تعالٰی اس کو جس کے دل میں رکھتا ہے اس کے دل کو روشن کر دیتی ہے ۔(ف14)اس نعمت پر کہ اللہ تعالٰی نے حکمت عطا کی ۔(ف15)کیونکہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے اور ثواب ملتا ہے ۔
اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ نصیحت کرتا تھا (ف۱٦) اے میرے بیٹے اللہ کا کسی کو شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے (ف۱۷)
And remember when Luqman said to his son, and he used to advise him, “O my son! Never ascribe anything as a partner to Allah; indeed ascribing partners to Him is a tremendous injustice.”
और याद करो जब लक़मान ने अपने बेटे से कहा और वह नसीहत करता था ऐ मेरे बेटे अल्लाह का किसी को शरीक न करना, बेशक shirk बड़ा ज़ुल्म है
Aur yaad karo jab Luqman ne apne bete se kaha aur woh naseehat karta tha: "Ai mere bete! Allah ka kisi ko shareek na karna, beshak shirk bada zulm hai."
(ف16)حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کے ان صاحبزادے کا نام انعم یا اشکم تھا اور انسان کا اعلٰی مرتبہ یہ ہے کہ وہ خود کامل ہو اور دوسرے کی تکمیل کرے تو حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کا کامل ہونا تو 'اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ' میں بیان فرما دیا اور دوسرے کی تکمیل کرنا 'وَھُوَ یَعِظُہٗ 'سے ظاہر فرمایا اور نصیحت بیٹے کو کی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نصیحت میں گھر والوں اور قریب تر لوگوں کو مقدم کرنا چاہئے اور نصیحت کی ابتداء منعِ شرک سے فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ یہ نہایت اہم ہے ۔(ف17)کیونکہ اس میں غیرِ مستحقِ عبادت کو مستحقِ عبادت کے برابر قرار دینا ہے اور عبادت کو اس کے محل کے خلاف رکھنا یہ دونوں باتیں ظلمِ عظیم ہیں ۔
اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی (ف۱۸) اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی (ف۱۹) اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا (ف۲۰) آخر مجھی تک آنا ہے،
And We ordained upon man concerning his parents; his mother bore him enduring weakness upon weakness, and his suckling is up to two years – therefore be thankful to Me and to your parents; finally towards Me is the return.
और हमने आदमी को उसके माँ बाप के बारे में ताकीद फ़र्माई उसकी माँ ने उसे पेट में रखा कमज़ोरी पर कमज़ोरी झेलती हुई और इसका दूध छूटना दो बरस में है ये कि हक़ मान मेरा और अपने माँ बाप का आख़िर मुझे तक आना है,
Aur humne aadmi ko uske maa baap ke baare mein taakeed farmaai, uski maa ne use pait mein rakha kamzori par kamzori jhelti hui aur iska doodh chhootna do baras mein hai ye ke haq maan mera aur apne maa baap ka aakhir mujhi tak aana hai,
(ف18)کہ ان کا فرمانبردار رہے اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرے ۔ (جیسا کہ اسی آیت میں آگے ارشاد ہے)(ف19)یعنی اس کا ضعف دَم بدَم ترقی پر ہوتا ہے جتنا حمل بڑھتا جاتا ہے بار زیادہ ہوتا ہے اور ضعف ترقی کرتا ہے ، عورت کو حاملہ ہونے کے بعد ضعف اور تعب اور مشقّتیں پہنچتی رہتی ہیں ، حمل خود ضعیف کرنے والاہے دردِ زہ ضعف پر ضعف ہے اور وضع اس پر اور مزید شدّت ہے ، دودھ پلانا ان سب پر مزید برآں ہے ۔(ف20)یہ وہ تاکید ہے جس کا ذکر اوپر فرمایا تھا ۔ سفیان بن عینیہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ جس نے پنج گانہ نمازیں ادا کیں وہ اللہ تعالٰی کا شکر بجا لایا اور جس نے پنجگانہ نمازوں کے بعد والدین کے لئے دعائیں کیں اس نے والدین کی شکر گزاری کی ۔
اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں (ف۲۱) تو ان کا کہنا نہ مان (ف۲۲) اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے (ف۲۳) اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا (ف۲٤) پھر میری ہی طرف تمہیں پھر آنا ہے تو میں بتادوں گا جو تم کرتے تھے (ف۲۵)
And if they force you, that you ascribe a partner to Me a thing concerning which you do not have knowledge – so do not obey them and support them well in the world; and follow the path of one who has inclined towards Me; then towards Me only is your return, and I shall tell you what you used to do.
और अगर वो दोनों तुझ से कोशिश करें कि मेरा शरीक ठहराए ऐसी चीज़ को जिसका तुझे इल्म नहीं तो उनका कहना न मान और दुनिया में अच्छी तरह उनका साथ दे और उसकी राह चल जो मेरी तरफ़ रुझू लाया फिर मेरी ही तरफ़ तुम्हें फिर आना है तो मैं बता दूँगा जो तुम करते थे
Aur agar woh dono tujh se koshish karein ke mera shareek thehraaye aisi cheez ko jiska tujhe ilm nahin to unka kehna na maan aur duniya mein achhi tarah unka saath de aur uski raah chal jo meri taraf rujoo laaya, phir meri hi taraf tumhein phir aana hai to main bata doonga jo tum karte the,
(ف21)یعنی علم سے تو کسی کو میرا شریک ٹھہرا ہی نہیں سکتے کیونکہ میرا شریک محال ہے ہو ہی نہیں سکتا ، اب جو کوئی بھی کہے گا تو بے علمی ہی سے کسی چیز کے شریک ٹھہرانے کو کہے گا ، ایسا اگر ماں باپ بھی کہیں ۔(ف22)نخعی نے کہا کہ والدین کی طاعت واجب ہے لیکن اگر وہ شرک کا حکم کریں تو ان کی اطاعت نہ کر کیونکہ خالِق کی نافرمانی کرنے میں کسی مخلوق کی طاعت روا نہیں ۔(ف23)حسنِ اخلاق اور حسنِ سلوک اور احسان و تحمّل کے ساتھ ۔(ف24)یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے اصحاب کی راہ اسی کو مذہبِ سنّت و جماعت کہتے ہیں ۔(ف25)تمہارے اعمال کی جزا دے کر ۔ 'وَصَّیْنَا الْاِ نْسَانَ' سے یہاں تک جو مضمون ہے یہ حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کا نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنے صاحبزادے کو اللہ تعالٰی کے شکرِ نعمت کا حکم دیا تھا اور شرک کی ممانعت کی تھی تو اللہ تعالٰی نے والدین کی طاعت اور اس کا محل ارشاد فرما دیا ، اس کے بعد پھر حضرت لقمان علٰی نبینا وعلیہ السلام کا مقولہ ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے فرزند سے فرمایا ۔
اے میرے بیٹے برائی اگر رائی کے دانہ برابر ہو پھر وہ پتھر کی چٹان میں یا آسمان میں یا زمین میں کہیں ہو (ف۲٦) اللہ اسے لے آئے گا (ف۲۷) بیشک اللہ ہر باریکی کا جاننے والا خبردار ہے (ف۲۸)
“O my son! If the evil deed is equal to the weight of a mustard-seed, and even if it is in a rock, or in the heavens, or wherever in the earth, Allah will bring it forth; indeed Allah knows all the minutest things, the All Aware.”
ऐ मेरे बेटे बराई अगर राय के दाना बराबर हो फिर वो पत्थर की चट्टान में या आसमान में या ज़मीन में कहीं हो अल्लाह उसे ले आएगा बेशक अल्लाह हर बारिकी का जानने वाला ख़बरदार है
Ai mere bete! Burai agar rai ke daana barabar ho phir woh patthar ki chattaan mein ya aasman mein ya zameen mein kahin ho, Allah use le aayega, beshak Allah har bareeki ka jaan-ne wala khabardaar hai,
(ف26)کیسی ہی پوشیدہ جگہ ہو اللہ تعالٰی سے نہیں چُھپ سکتی ۔(ف27)روزِ قیامت اور اس کاحساب فرمائے گا ۔(ف28)یعنی ہر صغیر و کبیر اس کے احاطۂ علمی میں ہے ۔
اے میرے بیٹے! نماز برپا رکھ اور اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کر اور جو افتاد تجھ پر پڑے (ف۲۹) اس پر صبر کر، بیشک یہ ہمت کے کام ہیں (ف۳۰)
“O my son! Keep the prayer established, and enjoin goodness and forbid from evil, and be patient upon the calamity that befalls you; indeed these are acts of great courage.”
ऐ मेरे बेटे! नमाज़ बरपा रख और अच्छी बात का हुक्म दे और बुरी बात से मना कर और जो आफ़ताद तुझ पर पड़े उस पर सब्र कर, बेशक ये हिम्मत के काम हैं
Ai mere bete! Namaaz barpa rakh aur achhi baat ka hukm de aur buri baat se mana kar aur jo aafat tujh par pade us par sabr kar, beshak ye himmat ke kaam hain,
(ف29)امر بالمعروف و نہی عن المنکَر کرنے سے ۔(ف30)ان کا کرنا لازم ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نماز اور امربالمعروف اور نہی عن المنکَر اور صبر بر ایذا یہ ایسی طاعتیں ہیں جن کا تمام اُمّتوں میں حکم تھا ۔
اور کسی سے بات کرنے میں (ف۳۱) اپنا رخسارہ کج نہ کر (ف۳۲) اور زمین میں اِتراتا نہ چل، بیشک اللہ کو نہیں بھاتا کوئی اِتراتا فخر کرتا،
“And do not contort your cheek while talking to anyone, nor boastfully walk upon the earth; indeed Allah does not like any boastful, haughty person.”
और किसी से बात करने में अपना रुख़सारा कज न कर और ज़मीन में इतराता न चल, बेशक अल्लाह को नहीं भाता कोई इतराता फ़ख़्र करता,
Aur kisi se baat karne mein apna rukhsaara kaj na kar aur zameen mein itraata na chal, beshak Allah ko nahi bhata koi itraata fakhr karta,
(ف31)براہِ تکبُّر ۔(ف32)یعنی جب آدمی بات کریں تو انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرنا جیسا متکبِّرین کا طریقہ ہے اختیار نہ کرنا ، غنی و فقیر سب کے ساتھ بتواضُع پیش آنا ۔
اور میانہ چال چل (ف۳۳) اور اپنی آواز کچھ پست کر (ف۳٤) بیشک سب آوازوں میں بری آواز، آواز گدھے کی (ف۳۵)
“And walk moderately and soften your voice; indeed the worst voice is the voice of the donkey.”
और मियाना चाल चल और अपनी आवाज़ कुछ पस्त कर बेशक सब आवाज़ों में बुरी आवाज़, आवाज़ गधे की
Aur miyana chaal chal aur apni aawaaz kuch past kar, beshak sab aawaazon mein buri aawaaz, aawaaz gadhe ki,
(ف33)نہ بہت تیز نہ بہت سُست کہ یہ دونوں باتیں مذموم ہیں ایک میں شانِ تکبُّر ہے اور ایک میں چھچھورا پن ۔ حدیث شریف میں ہے کہ بہت تیز چلنا مومن کا وقار کھوتا ہے ۔(ف34)یعنی شور و شغب اور چیخنے چِلّانے سے احتراز کر ۔(ف35)مدعٰی یہ ہے کہ شور مچانا اور آواز بلند کرنا مکروہ و ناپسندیدہ ہے اور اس میں کچھ فضیلت نہیں ہے ، گدھے کی آواز باوجود بلند ہونے کے مکروہ اور وحشت انگیز ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نرم آواز سے کلام کرنا پسند تھا اور سخت آواز سے بولنے کو ناپسند رکھتے تھے ۔
کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۳٦) اور تمہیں بھرپور دیں اپنی نعمتیں ظاہر اور چھپی (ف۳۷) اور بعضے آدمی اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں یوں کہ نہ علم نہ عقل نہ کوئی روشن کتاب (ف۳۸)
Did you not see that Allah has made all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth, subservient for you and bestowed His favours upon you in full, both visible and hidden? And some men argue regarding Allah, with neither knowledge, nor guidance, nor a clear Book!
क्या तुमने न देखा कि अल्लाह ने तुम्हारे लिए काम में लगाए जो कुछ आसमानों और ज़मीन में हैं और तुम्हें भरपूर दें अपनी नेमतें ज़ाहिर और छुपी और ब़सरे आदमी अल्लाह के बारे में झगड़ते हैं यूँ कि न इल्म न अक़्ल न कोई रोशन किताब
Kya tumne na dekha ke Allah ne tumhare liye kaam mein lagaye jo kuch aasmanon aur zameen mein hain aur tumhein bharpoor dein apni nematein zahir aur chhupi aur baaz aadmi Allah ke baare mein jhagadte hain yun ke na ilm na aqal na koi roshan kitaab,
(ف36)آسمانوں میں مثل سور ج ، چاند ، تاروں کے جن سے تم نفع اٹھاتے ہو اور زمینوں میں دریا ، نہریں ، کانیں ، پہاڑ ، درخت ، پھل ، چوپائے وغیرہ جن سے تم فائدے حاصل کرتے ہو ۔(ف37)ظاہری نعمتوں سے درستیٔ اعضاء و حواسِ خمسہ ظاہرہ اور حسن و شکل و صورت مراد ہیں اور باطنی نعمتوں سے علمِ معرفت و ملکاتِ فاضلہ وغیرہ ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ نعمتِ ظاہرہ تو اسلام و قرآن ہے اور نعمتِ باطنہ یہ ہے کہ تمہارے گناہوں پر پردے ڈال دیئے ، تمہارا افشاءِ حال نہ کیا ، سزا میں جلدی نہ فرمائی ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ نعمتِ ظاہرہ درستیٔ اعضاء اور حسنِ صورت ہے اور نعمتِ باطنہ اعتقادِ قلبی ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نعمتِ ظاہرہ رزق ہے اور باطنہ حسنِ خُلق ۔ ایک قول یہ ہے کہ نعمتِ ظاہرہ احکامِ شرعیہ کا ہلکا ہونا ہے اور نعمتِ باطنہ شفاعت ۔ ایک قول یہ ہے کہ نعمتِ ظاہرہ اسلام کا غلبہ اور دشمنوں پر فتح یاب ہونا ہے اور نعمتِ باطنہ ملائکہ کا امداد کے لئے آنا ۔ ایک قول یہ ہے کہ نعمتِ ظاہرہ رسول کا اِتّباع ہے اور نعمتِ باطنہ ان کی مَحبت ۔ رَزَقَنَا اللہُ تَعَالٰی اِتِّبَاعَہٗ وَ مَحَبَّتَہٗ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف38)تو جو کہیں گے جہل و نادانی ہو گا اور شانِ الٰہی میں اس طرح کی جرأت و لب کشائی نہایت بیجا اور گمراہی ہے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت نصر بن حارث و اُبَیْ بن خلف وغیرہ کُفّار کے حق میں نازل ہوئی جو باوجود بے علم و جاہل ہونے کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالٰی کی ذات و صفات کے متعلق جھگڑے کیا کرتے تھے ۔
اور جب ان سے کہا جائے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا (ف۳۹) کیا اگرچہ شیطان ان کو عذاب دوزخ کی طرف بلاتا ہو (ف٤۰)
And when it is said to them, “Follow what Allah has sent down”, they say, “On the contrary, we shall only follow that upon which we found our forefathers”; even if the devil was calling them to the punishment of hell?
और जब उन से कहा जाए इसकी पीरवी करो जो अल्लाह ने उतारा तो कहते हैं बल्कि हम तो इसकी पीरवी करेंगे जिस पर हमने अपने बाप दादा को पाया क्या अगरचाहे शैतान उन्हें अज़ाब-ए-दोज़ख की तरफ़ बुलाता हो
Aur jab un se kaha jaaye iski pairavi karo jo Allah ne utaara to kehte hain balki hum to iski pairavi karenge jis par humne apne baap dada ko paaya, kya agarche shaitan unko azaab-e-dozakh ki taraf bulaata ho,
(ف39)یعنی اپنے باپ دادا کے طریقے ہی پر رہیں گے ۔ اس پر اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف40)جب بھی وہ اپنے دادا ہی کی پیروی کئے جائیں گے ۔
اور جو کفر کرے تو تم (ف٤۲) اس کے کفر سے غم نہ کھاؤ، انھیں ہماری ہماری ہی طرف پھرنا ہے ہم انھیں بتادیں گے جو کرتے تھے (ف٤۳) بیشک اللہ والوں کی بات جانتا ہے،
And whoever disbelieves – then do not be aggrieved by his disbelief (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); they have to return to Us, and We will inform them what they were doing; indeed Allah knows what lies within the hearts.
और जो क़फ़र करे तो तुम उसके क़फ़र से ग़म न खाओ, उन्हें हमारी ही तरफ़ फिरना है हम उन्हें बता देंगें जो करते थे बेशक अल्लाह वालों की बात जानता है,
Aur jo kufr kare to tum uske kufr se gham na khao, unhein hamari hi taraf phirna hai, hum unhein bata denge jo karte the, beshak Allah walon ki baat jaanta hai,
(ف42)اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف43)یعنی ہم انہیں ان کے اعمال کی سزا دیں گے ۔
اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے بنائے آسمان اور زمین تو ضرور کہیں گے اللہ نے، تم فرماؤ سب خوبیاں اللہ کو (ف٤٦) بلکہ ان میں اکثر جانتے نہیں،
And if you ask them, “Who created the heavens and the earth?” – they will surely answer, “Allah”; proclaim, “All Praise is to Allah”; in fact most of them do not know.
और अगर तुम उनसे पूछो किसने बनाए आसमान और ज़मीन तो ज़रूर कहेंगे अल्लाह ने, तुम फ़रमाओ सब खूबियाँ अल्लाह को बल्कि उनमें अकसर जानते नहीं,
Aur agar tum un se poocho kis ne banaye aasman aur zameen to zaroor kahenge Allah ne, tum farmaao sab khubiyan Allah ko, balki un mein aksar jaante nahi,
(ف46)یہ ان کے اقرار پر انہیں الزام دینا ہے کہ جس نے آسمان و زمین پیدا کئے وہ اللہ واحد لاشریک لہ ہے تو واجب ہوا کہ اس کی حمد کی جائے ، اس کا شکر ادا کیا جائے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کی جائے ۔
اور اگر زمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں ہوجائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہو اس کے پیچھے سات سمندر اور (ف٤۸) تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی (ف٤۹) بیشک اللہ عزت و حکمت والا ہے،
And if all the trees in the earth were pens, and the seas were its ink, with seven more seas to back it up – the Words of Allah will not finish; indeed Allah is Almighty, Wise.
और अगर ज़मीन में जितने पेड़ हैं सब क़लमें हो जाएँ और समुंदर उसकी स्याही हो इसके पीछे सात समुंदर और तो अल्लाह की बातें ख़त्म न होंगी बेशक अल्लाह इज़्ज़त व हिकमत वाला है,
Aur agar zameen mein jitne ped hain sab qalamain ho jaayein aur samundar uski siyahi ho is ke peeche saat samundar aur, to Allah ki baatein khatam na hongi, beshak Allah izzat o hikmat wala hai,
(ف48)اور ساری خَلق اللہ تعالٰی کے کلمات کو لکھے اور وہ تمام قلم اور ان تمام سمندروں کی سیاہی ختم ہو جائے ۔(ف49)کیونکہ معلوماتِ الٰہیہ غیرِ متناہی ہیں ۔شانِ نُزول : جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیّبہ تشریف لائے تو یہود کے علماء و احبار نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں 'وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلاً ' یعنی تمہیں تھوڑا علم دیا گیا تو اس سے آپ کی مراد ہم لوگ ہیں یا صرف اپنی قوم ؟ فرمایا سب مراد ہیں ، انہوں نے کہا کیا آپ کی کتاب میں یہ نہیں ہے کہ ہمیں توریت دی گئی ہے اس میں ہر شئ کا علم ہے ؟ حضور نے فرمایا کہ ہر شئ کا علم بھی علمِ الٰہی کے حضور قلیل ہے اور تمہیں تو اللہ تعالٰی نے اتنا علم دیا ہے کہ اس پر عمل کرو تو نفع پاؤ ، انہوں نے کہا آپ کیسے یہ خیال فرماتے ہیں آپ کا قول تو یہ ہے کہ جسے حکمت دی گئی اسے خیرِ کثیر دی گئی تو علمِ قلیل اور خیرِ کثیر کیسے جمع ہو ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ، اس تقدیر پر یہ آیت مدنی ہو گی ۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہود نے قریش سے کہا تھا کہ مکّہ میں جا کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اس طرح کا کلام کریں ۔ ایک قول یہ ہے کہ مشرکین نے یہ کہا تھا کہ قرآن اور جو کچھ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لاتے ہیں یہ عنقریب تمام ہو جائے گا پھر قصّہ ختم ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
تم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا (ف۵۰) بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے
Creating you all and raising you from the dead are like that of one soul*; indeed Allah is All Hearing, All Knowing. (He can create you slowly or all at once).
तुम सब का पैदा करना और क़ियामत में उठाना ऐसा ही है जैसा एक जान का बेशक अल्लाह सुनता देखता है
Tum sab ka paida karna aur qiyamat mein uthana aisa hi hai jaisa ek jaan ka, beshak Allah sunta dekhta hai,
(ف50)اللہ پر کچھ دشوار نہیں اس کی قدرت یہ ہے کہ ایک کُن سے سب کو پیدا کر دے ۔
اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ رات لاتا ہے دن کے حصے میں اور دن کرتا ہے رات کے حصے میں (ف۵۱) اور اس نے سورج اور چاند کام میں لگائے (ف۵۲) ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے (ف۵۳) اور یہ کہ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
O listener, did you not see that Allah brings the night in a part of the day and brings the day in a part of the night, and that He has subjected the sun and the moon – each one runs for its fixed term – and that Allah is Well Aware of your deeds?
ऐ सुनने वाले क्या तुमने न देखा कि अल्लाह रात लाता है दिन के हिस्से में और दिन करता है रात के हिस्से में और उसने सूरज और चाँद काम में लगाए हर एक एक मुकर्रर मियाद तक चलता है और ये कि अल्लाह तुम्हारे कामों से ख़बरदार है,
Ai sun-ne wale! Kya tumne na dekha ke Allah raat laata hai din ke hisse mein aur din karta hai raat ke hisse mein, aur usne sooraj aur chaand kaam mein lagaye har ek ek muqarar miaad tak chalta hai, aur ye ke Allah tumhare kaamon se khabardaar hai,
(ف51)یعنی ایک کو گھٹا کر دوسرے کو بڑھا کر اور جو وقت ایک میں سے گھٹاتا ہے دوسرے میں بڑھا دیتا ہے ۔(ف52)بندوں کے نفع کے لئے ۔(ف53)یعنی روزِ قیامت تک یا اپنے اپنے اوقاتِ معیّنہ تک ، سورج آخر سال تک اور چاند آخرِ ماہ تک ۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ کشتی دریا میں چلتی ہے، اللہ کے فضل سے (ف۵٦) تاکہ تمہیں وہ اپنی (ف۵۷) کچھ نشانیاں دکھائے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے شکرگزار کو (ف۵۸)
Did you not see that the ship sails on the sea by Allah’s grace, so that He may show you some of His signs? Indeed in this are signs for every greatly enduring, grateful person.
क्या तुमने न देखा कि कश्ती दरिया में चलती है, अल्लाह के फ़ज़्ल से ताकि तुम्हें वह अपनी कुछ निशानियाँ दिखाए बेशक इसमें निशानियाँ हैं हर बड़े सब्र करने वाले शुक्रगुज़ार को
Kya tumne na dekha ke kashti dariya mein chalti hai, Allah ke fazl se, taake tumhein woh apni kuch nishaaniyaan dikhaaye, beshak is mein nishaaniyaan hain har bade sabr karne wale shukarguzar ko,
(ف56)اس کی رحمت اور اس کے احسان سے ۔(ف57)عجائبِ قدرت کی ۔(ف58)جو بلاؤں پر صبر کرے اور اللہ تعالٰی کی نعمتو ں کا شکر گزار ہو ، صبر و شکر یہ دونوں صفتیں مومن کی ہیں ۔
اور جب ان پر (ف۵۹) آپڑتی ہے کوئی موج پہاڑوں کی طرح تو اللہ کو پکارتے ہیں نرے اسی پر عقیدہ رکھتے ہوئے (ف٦۰) پھر جب انھیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو ان میں کوئی اعتدال پر رہتا ہے (ف٦۱) اور ہماری آیتوں کا انکار نہ کرے گا مگر ہر بڑا بےوفا ناشکرا،
And if a wave comes upon them like mountains, they pray to Allah believing purely in Him; then when He brings them safely to land, some of them remain upon justice; and none will deny Our signs except an extremely unfaithful, ungrateful person.
और जब उन पर आ पड़ती है कोई मौज पहाड़ों की तरह तो अल्लाह को पुकारते हैं नरे इसी पर अकीदा रखते हुए फिर जब उन्हें ख़ुश्क़ी की तरफ़ बचा लेता है तो उनमें कोई इत्तिदाल पर रहेगा और हमारी आयतों का इंकार न करेगा मगर हर बड़ा बेवफ़ा नाशुकरा,
Aur jab un par aa padti hai koi mauj pahadon ki tarah to Allah ko pukaarte hain nara, isi par aqeeda rakhte hue, phir jab unhein khushki ki taraf bacha le jaata hai to un mein koi ittidaal par rahega aur hamari aayaton ka inkaar na karega, magar har bada bewafaa nashukra,
(ف59)یعنی کُفّار پر ۔(ف60)اور اس کے حضور تضرُّع اور زاری کرتے ہیں اور اسی سے دعا و التجاء ، اس وقت ماسوا کو بھول جاتے ہیں ۔(ف61)اپنے ایمان و اخلاص پر قائم رہتا کُفر کی طرف نہیں لوٹتا ۔شانِ نُزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت عکرمہ بن ابی جہل کے حق میں نازل ہوئی جس سال مکّہ مکرّمہ کی فتح ہوئی تو وہ سمندر کی طرف بھاگ گئے ، وہاں بادِ مخالف نے گھیرا اور خطرے میں پڑ گئے تو عکرمہ نے کہا کہ اگر اللہ تعالٰی ہمیں اس خطرے سے نجات دے تو میں ضرور سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا یعنی اطاعت کروں گا ، اللہ تعالٰی نے کرم کیا ہوا ٹھہر گئی اور عکرمہ مکّہ مکرّمہ کی طرف آ گئے اور اسلام لائے اور بڑا مخلصانہ اسلام لائے اور بعض ان میں ایسے تھے جنہوں نے عہدِ وفا نہ کیا ، ان کی نسبت اگلے جملہ میں ارشاد ہوتا ہے ۔
اے لوگو! (ف٦۲) اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ بچہ کے کام نہ آئے گا، اور نہ کوئی کامی (کاروباری) بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے (ف٦۳) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف٦٤) تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی (ف٦۵) اور ہرگز تمہیں اللہ کے علم پر دھوکہ نہ دے وہ بڑا فریبی (ف٦٦)
O mankind! Fear your Lord, and fear the Day in which no father will benefit his child; nor will any good child be of any benefit to the father; indeed Allah’s promise is true; so never may the worldly life deceive you; and never may the great cheat deceive you in respect of Allah’s commands.
ऐ लोगो! अपने रब से डरो और उस दिन का ख़ौफ़ करो जिसमें कोई बाप बच्चा के काम न आएगा, और न कोई कामय (कारोबारी) बच्चा अपने बाप को कुछ नफ़ा दे बेशक अल्लाह का वादा सच्चा है तो हरग़ज़ तुम्हें धोखा न दे दुनिया की ज़िंदगी और हरग़ज़ तुम्हें अल्लाह के इल्म पर धोखा न दे वह बड़ा फ़रीबी
Ai logo! Apne Rab se daro aur us din ka khauf karo jismein koi baap bachha ke kaam na aaye, aur na koi kaami (kaarobari) bachha apne baap ko kuch nfa de, beshak Allah ka wada sachcha hai, to hargiz tumhein dhoka na de duniya ki zindagi aur hargiz tumhein Allah ke ilm par dhoka na de, woh bada farebi,
(ف62)یعنی اے اہلِ مکّہ ۔(ف63)روزِ قیامت ہر انسان نفسی نفسی کہتا ہو گا اور باپ بیٹے کے اور بیٹا باپ کے کام نہ آ سکے گا ، نہ کافِروں کی مسلمان اولاد انہیں فائدہ پہنچا سکے گی نہ مسلمان ماں باپ کافِر اولاد کو ۔(ف64)ایسا دن ضرور آنا اور بَعث و حساب و جزا کا وعدہ ضرور پورا ہونا ہے ۔(ف65)جس کی تمام نعمتیں اور لذّتیں فانی کہ ان کے شیفتہ ہو کر نعمتِ ایمان سے محروم رہ جاؤ ۔(ف66)یعنی شیطان دور و دراز کی امیدوں میں ڈال کر معصیّتوں میں مبتلا نہ کر دے ۔
بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم (ف٦۷) اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی، بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے (ف٦۸)
Indeed Allah has the knowledge of the Last Day! And He sends down the rain; and He knows all what is in the mothers’ wombs; and no soul knows what it will earn tomorrow; and no soul knows the place where it will die; indeed Allah is the All Knowing, the Informer. (He may reveal the knowledge to whomever He wills.)
बेशक अल्लाह के पास है क़ियामत का इल्म और उतारता है मेँह और जानता है जो कुछ माँओं के पेट में है, और कोई जान नहीं जानती कि कल क्या कमाएगी और कोई जान नहीं जानती कि किस ज़मीन में मरेगी, बेशक अल्लाह जानने वाला बताने वाला है
"
Beshak Allah ke paas hai qiyamat ka ilm aur utaarta hai meinh, aur jaanta hai jo kuch maon ke pait mein hai, aur koi jaan nahi jaanti ke kal kya kamaayegi aur koi jaan nahi jaanti ke kis zameen mein maregi, beshak Allah jaan-ne wala batane wala hai
(ف67)شانِ نُزول : یہ آیت حارث بن عمرو کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قیامت کا وقت دریافت کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ میں نے کھیتی بوئی ہے خبر دیجئے مینہ کب آئے گا اور میری عورت حاملہ ہے مجھے بتائیے کہ اس کے پیٹ میں کیا ہے لڑکایا لڑکی ، یہ تو مجھے معلوم ہے کہ کل میں نے کیا کیا ، یہ مجھے بتائیے کہ آئیندہ کل کو کیا کروں گا ، یہ بھی جانتا ہوں کہ میں کہاں پیدا ہوا مجھے یہ بتائیے کہ کہاں مروں گا ۔ اس کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف68)جس کو چاہے اپنے اولیا اور اپنے محبوبوں میں سے انہیں خبردار کرے ۔ اس آیت میں جن پانچ چیزوں کے علم کی خصوصیّت اللہ تبارک و تعالٰی کے ساتھ بیان فرمائی گئی انہیں کی نسبت سورۂ جن میں ارشاد ہوا 'عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ' غرض یہ کہ بغیر اللہ تعالٰی کے بتائے ان چیزوں کا علم کسی کو نہیں اور اللہ تعالٰی اپنے محبوبوں میں سے جسے چاہے بتائے اور اپنے پسندیدہ رسولوں کو بتانے کی خبر خود اس نے سورۂ جن میں دی ہے خلاصہ یہ کہ علمِ غیب اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے اور انبیاء و اولیاء کو غیب کا علم اللہ تعالٰی کی تعلیم سے بطریقِ معجِزہ و کرامت عطا ہوتا ہے ، یہ اس اختصاص کے منافی نہیں اور کثیر آیتیں اور حدیثیں اس پر دلالت کرتی ہیں ، بارش کا وقت اور حمل میں کیا ہے اور کل کو کیا کرے اور کہاں مَرے گا ان امور کی خبریں بکثرت اولیاء و انبیاء نے دی ہیں اور قرآن و حدیث سے ثابت ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں نے حضرت اسحٰق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی اور حضرت زکریا علیہ السلام کو حضرت یحیی علیہ السلام کے پیدا ہونے کی اور حضرت مریم کو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پیدا ہونے کی خبریں دیں تو ان فرشتوں کو بھی پہلے سے معلوم تھا کہ ان حملوں میں کیا ہے اور ان حضرات کو بھی جنہیں فرشتوں نے اطلاعیں دیں تھی اور ان سب کا جاننا قرآنِ کریم سے ثابت ہے تو آیت کے معنٰی قطعاً یہی ہیں کہ بغیر اللہ تعالٰی کے بتائے کوئی نہیں جانتا ۔ اس کے یہ معنٰی لینا کہ اللہ تعالٰی کے بتانے سے بھی کوئی نہیں جانتا مَحض باطل اور صدہا آیات و احادیث کے خلاف ہے ۔ (خازن ، بیضاوی ، احمدی ، روح البیان وغیرہ)
الٓمّٓ ﴿1﴾
الم
Alif-Lam-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
کیا کہتے ہیں (ف۳) ان کی بنائی ہوئی ہے (ف٤) بلکہ وہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے کہ تم ڈراؤ ایسے لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا (ف۵) اس امید پر کہ وہ راہ پائیں،
What! They dare say that, “He has fabricated it”? In fact it is the Truth from your Lord, in order that you warn a nation towards whom no Herald of Warning came before you, in the hope of their attaining guidance.
क्या कहते हैं उनकी बनाई हुई है बल्कि वही हक़ है तुम्हारे रब की तरफ़ से कि तुम डराओ ऐसे लोगों को जिन के पास तुम से पहले कोई डर सुनाने वाला न आया इस उम्मीद पर कि वो राह पाएं,
Kya kehte hain unki banai hui hai balki wahi haq hai tumhare Rab ki taraf se ke tum darao aise logon ko jin ke paas tum se pehle koi dar sunane wala na aaya is umeed par ke woh raah paayein,
(ف3)مشرکین کہ یہ کتابِ مقدَّس ۔(ف4)یعنی سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ۔(ف5)ایسے لوگوں سے مراد زمانۂ فطرت کے لوگ ہیں ، وہ زمانہ کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے سیدِ انبیاء محمدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت تک تھا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی رسول نہیں آیا ۔
اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استوا فرمایا (ف٦) اس سے چھوٹ کر (لا تعلق ہو کر) تمہارا کوئی حمایتی اور نہ سفارشی (ف۷) تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
It is Allah Who created the heavens and the earth, and all what is between them, in six days, then (befitting His Majesty) established Himself over the Throne (of control); leaving Allah, there is neither a friend nor an intercessor for you; so do you not ponder?
अल्लाह है जिसने आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके बीच में है छह दिन में बनाए फिर अर्श पर इस्तवा फरमाया, इस से छूट कर (ला तल्लुक़ हो कर) तुम्हारा कोई हिफ़ाज़ती और न सिफ़ारिशी, तो क्या तुम ध्यान नहीं करते,
Allah hai jisne aasman aur zameen aur jo kuch unke beech mein hai chay din mein banaye phir Arsh par istawa farmaaya, is se chhoot kar (la taalluq ho kar) tumhara koi himayati aur na sifarishi, to kya tum dhyaan nahin karte,
(ف6)جیسا استوا کہ اس کی شان کے لائق ہے ۔(ف7)یعنی اے گروہِ کُفّار جب تم اللہ تعالٰی کی راہِ رضا اختیار نہ کرو اور ایمان نہ لاؤ تو نہ تمہیں کوئی مدد گار ملے گا جو تمہاری مدد کر سکے نہ کوئی شفیع جو تمہاری شفاعت کرے ۔
کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک (ف۸) پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا (ف۹) اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں (ف۱۰)
He plans (all) the job(s) from the heaven to the earth – then it will return to Him on the Day which amounts to a thousand years in your count.
काम की तदबीर फरमाता है आसमान से ज़मीन तक फिर इसी की तरफ़ रुझू करेगा उस दिन कि जिसकी मिक़दार हज़ार बरस है तुम्हारी गिनती में,
Kaam ki tadbeer farmaata hai aasman se zameen tak phir isi ki taraf rujoo karega us din ke jis ki miqdaar hazaar baras hai tumhari ginti mein,
(ف8)یعنی دنیا کہ قیامت تک ہونے والے کاموں کی اپنے حکم و امر اور اپنے قضا و قدر سے ۔(ف9)امر و تدبیر فَنائے دنیا کے بعد ۔(ف10)یعنی ایامِ دنیا کے حساب سے اور وہ دن روزِ قیامت ہے ، روزِ قیامت کی درازی بعض کافِروں کے لئے ہزار برس کے برابر ہو گی اور بعض کے لئے پچاس ہزار برس کے برابر جیسے کہ سورۂ معارج میں ہے' تَعْرُجُ الْمَلٰۤئِکَۃُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْ مٍ کَانَ مِقْدَارُہ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ ' اور مومن پر یہ دن ایک نمازِ فرض کے وقت سے بھی ہلکا ہو گا جو دنیا میں پڑھتا تھا جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ۔
وہ جس نے جو چیز بتائی خوب بنائی (ف۲۱) اور پیدائش انسان کی ابتدا مٹی سے فرمائی (ف۱۳)
The One Who created all things excellent, and Who initiated the creation of man from clay.
वह जिसने जो चीज़ बताई खूब बनाई और पैदाइश इंसान की इब्तिदा मिट्टी से फरमाई,
Woh jisne jo cheez batayi khoob banai aur paidaish insaan ki ibtida mitti se farmaai,
(ف12)حسبِ اقتضائے حکمت بنائی ، ہر جاندار کو وہ صورت دی جو اس کے لئے بہتر ہے اور اس کو ایسے اعضاء عطا فرمائے جو اس کے معاش کے لئے مناسب ہیں ۔(ف13)حضرت آدم علیہ السلام کو اس سے بنا کر ۔
اور بولے (ف۱۷) کیا جب ہم مٹی میں مل جائیں گے (ف۱۸) کیا پھر نئے بنیں گے، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور حاضری سے منکر ہیں (ف۱۹)
And they said, “When we have mingled into the earth, will we be created again?”; in fact they disbelieve in the meeting with their Lord.
और बोले क्या जब हम मिट्टी में मिल जाएँगे क्या फिर नए बनेंगे, बल्कि वो अपने रब के हज़ूर हाज़री से मंकर हैं,
Aur bole kya jab hum mitti mein mil jaayenge kya phir naye banenge, balki woh apne Rab ke huzoor hazri se munkir hain,
(ف17)منکِرینِ بَعث ۔(ف18)اور مٹی ہو جائیں گے اور ہمارے اجزا مٹی سے ممتاز نہ رہیں گے ۔(ف19)یعنی موت کے بعد اٹھنے اور زندہ کئے جانے کا انکار کر کے وہ اس انتہا تک پہنچے ہیں کہ عاقبت کے تمام امور کے منکِر ہیں حتّٰی کہ ربّ کے حضور حاضر ہونے کے بھی ۔
تم فرماؤ تمہیں وفات دیتا ہے موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے (ف۲۰) پھر اپنے رب کی طرف واپس جاؤ گے (ف۲۱)
Proclaim, “The angel of death, who is appointed over you, causes you to die and then towards your Lord you will return.”
तुम फ़रमाओ तुम्हें वफ़ात देता है मौत का फ़रिश्ता जो तुम पर मुक़र्रर है, फिर अपने रब की तरफ़ वापस जाओगे,
Tum farmaao tumhein wafaat deta hai maut ka farishta jo tum par muqarrar hai, phir apne Rab ki taraf wapas jaaoge,
(ف20)اس فرشتہ کا نام عزرائیل ہے علیہ السلام اور وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے روحیں قبض کرنے پر مقرر ہیں ، اپنے کام میں کچھ غفلت نہیں کرتے جس کا وقت آ جاتا ہے بے درنگ اس کی روح قبض کر لیتے ہیں ۔ مروی ہے کہ مَلَک الموت کے لئے دنیا مثلِ کفِ دست کر دی گئی ہے تو وہ مشارق و مغارب کی مخلوق کی روحیں بے مشقّت اٹھا لیتے ہیں اور رحمت و عذاب کے بہت فرشتے ان کے ماتحت ہیں ۔(ف21)اور حساب و جزا کے لئے زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے ۔
اور کہیں تم دیکھو جب مجرم (ف۲۲) اپنے رب کے پاس سر نیچے ڈالے ہوں گے (ف۲۳) اے ہمارے رب اب ہم نے دیکھا (ف۲٤) اور سنا (ف۲۵) ہمیں پھر بھیج کہ نیک کام کریں ہم کو یقین آگیا (ف۲٦)
And if you see when the guilty will hang their heads before their Lord; “Our Lord! We have seen and heard, therefore send us back in order that we do good deeds – we are now convinced!”
और कहीं तुम देखो जब मुज़रिम अपने रब के पास सर नीचे डाले होंगे: "ऐ हमारे रब! अब हम ने देखा और सुना हमें फिर भेज कि नेक काम करें हम को यक़ीन आगया",
Aur kahin tum dekho jab mujrim apne Rab ke paas sar neeche daale honge: "Ai hamare Rab! Ab humne dekha aur suna humein phir bhej ke nek kaam karein, hum ko yaqeen aagaya",
(ف22)یعنی کُفّار و مشرکین ۔(ف23)اپنے افعال و کردار سے شرمندہ و نادم ہو کر اور عرض کرتے ہوں گے ۔(ف24)مرنے کے بعد اٹھنے کو اور تیرے وعدہ وعید کے صدق کو جن کے ہم دنیا میں منکِر تھے ۔(ف25)تجھ سے تیرے رسولوں کی سچّائی کو تو اب دنیا میں ۔(ف26)اور اب ہم ایمان لے آئے لیکن اس وقت کا ایمان لانا انہیں کچھ کام نہ دے گا ۔
اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت فرماتے (ف۲۷) مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھردوں گا ان جِنوں اور آدمیوں سب سے (ف۲۸)
And had We willed We would have given every soul its guidance, but My Word is decreed that I will certainly fill hell with these jinns and men, combined.
और अगर हम चाहते हर जान को उसकी हिदायत फरमाते मगर मेरी बात क़रार पा चुकी कि ज़रूर जहन्नम को भर दूँगा उन जिनों और आदमियों सब से,
Aur agar hum chahte har jaan ko uski hidaayat farmaate magar meri baat qaraar pa chuki ke zaroor Jahannam ko bhar doon ga un jinon aur aadmiyon sab se,
(ف27)اور اس پر ایسا لطف کرتے کہ اگر وہ اس کو اختیارکرتا تو راہ یاب ہوتا لیکن ہم نے ایسا نہ کیا کیونکہ ہم کافِروں کو جانتے تھے کہ وہ کُفر ہی اختیار کریں گے ۔(ف28)جنہوں نے کُفر اختیار کیا اور جب وہ جہنّم میں داخل ہوں گے تو جہنّم کے خازن ان سے کہیں گے ۔
اب چکھو بدلہ اس کا کہ تم اپنے اس دن کی حاضری بھولے تھے (ف۲۹) ہم نے تمہیں چھوڑ دیا (ف۳۰) اب ہمیشہ کا عذاب چکھو اپنے کیے کا بدلہ،
“Therefore taste the recompense of your forgetting the confronting of this day of yours; We have abandoned you – now taste the everlasting punishment, the recompense of your deeds!”
अब चखो बदला इसका कि तुम अपने इस दिन की हाज़री भूले थे, हमने तुम्हें छोड़ दिया, अब हमेशा का अज़ाब चखो अपने किए का बदला,
Ab chakkho badla iska ke tum apne is din ki hazri bhoolay the, humne tumhein chhod diya, ab hamesha ka azaab chakkho apne kiye ka badla,
(ف29)اور دنیا میں ایمان لائے تھے ۔(ف30)عذاب میں اب تمہاری طرف التفات نہ ہو گا ۔
ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب وہ انھیں یاد دلائی جاتی ہیں سجدہ میں گر جاتے ہیں (ف۳۱) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ، السجدة۔۹
Only those believe in Our signs who, when they are reminded of them, fall down in prostration and proclaim the Purity of their Lord while praising Him, and are not conceited. (Command of prostration # 9).
हमारी आयतों पर वही ईमान लाते हैं कि जब वो उन्हें याद दिलाई जाती हैं, सजदा में गिर जाते हैं और अपने रब की तारीफ़ करते हुए इसकी पाकी बोलते हैं और तक़बुर नहीं करते, अल-सज्दह: 9,
Hamari aayaton par wahi imaan laate hain ke jab woh unhein yaad dilayi jaati hain, sajda mein gir jaate hain aur apne Rab ki tareef karte hue is ki paaki bolte hain aur takabbur nahi karte, al-sajdah: 9,
(ف31)تواضُع اور خشوع سے اور نعمتِ اسلام پر شکر گزاری کے لئے ۔
ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں سے (ف۳۲) اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے (ف۳۳) اور ہمارے دیے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں،
Their sides stay detached from their beds and they pray to their Lord with fear and hope – and they spend from what We have bestowed upon them.
उनकी करवातेँ जुदा होती हैं ख़्वाबगाहों में और अपने रब को पुकारते हैं, डरते और उम्मीद करते और हमारे दिए हुए से कुछ ख़ैरात करते हैं,
Unki karwatein juda hoti hain khwabgahon mein aur apne Rab ko pukaarte hain, darte aur umeed karte aur hamare diye hue se kuch khairaat karte hain,
(ف32)یعنی خوابِ استراحت کے بستروں سے اٹھتے ہیں اور اپنے راحت و آرام کو چھوڑتے ہیں ۔(ف33)یعنی اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اس کی رحمت کی امید کرتے ہیں یہ تہجُّد ادا کرنے والوں کی حالت کا بیان ہے ۔ شانِ نُزول : حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت ہم انصاریوں کے حق میں نازل ہوئی کہ ہم مغرب پڑھ کر اپنی قیام گاہوں کو واپس نہ آتے تھے جب تک کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عشاء نہ پڑھ لیتے ۔
تو کیا جو ایمان والا ہے وہ اس جیسا ہوجائے گا جو بےحکم ہے (ف۳٦) یہ برابر نہیں،
So will the believer ever be equal to the one who is lawless? They are not equal!
तो क्या जो ईमान वाला है वह इस जैसा हो जाएगा जो बे-हुक्म है, ये बराबर नहीं,
To kya jo imaan wala hai woh is jaisa ho jaayega jo be-hukm hai, ye barabar nahi,
(ف36)یعنی کافِر ہے ۔شانِ نُزول : حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعا لٰی وجہہَ الکریم سے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کسی بات میں جھگڑ رہا تھا ، دورانِ گفتگو میں کہنے لگا خاموش ہو جاؤ تم لڑکے ہو میں بوڑھا ہوں ، میں بہت زبان دراز ہوں ، میری نوکِ سنان تم سے زیادہ تیز ہے ، میں تم سے زیادہ بہادر ہوں ، میں بڑا جھتے دار ہوں ، حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعالٰی وجہہَ الکریم نے فرمایا چپ تو فاسق ہے ، مراد یہ تھی کہ جن باتوں پر تو ناز کرتا ہے انسان کے لئے ان میں سے کوئی قابلِ مدح نہیں ، انسان کا فضل و شرف ایمان و تقوٰی میں ہے جسے یہ دولت نصیب نہیں وہ انتہا کا رذیل ہے ، کافِر مومن کے برابر نہیں ہو سکتا ، اللہ تبارک و تعالٰی نے حضرت علی مرتضٰی کرّم اللہ تعا لٰی وجہہَ الکریم کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی ۔
رہے وہ جو بےحکم ہیں (ف۳۸) ان کا ٹھکانا آگ ہے، جب کبھی اس میں سے نکلنا چاہیں گے پھر اسی میں پھیر دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلاتے تھے،
And those who are lawless – their destination is the fire; whenever they wish to come out of it, they will be returned into it, and it will be said to them, “Taste the punishment of the fire you used to deny!”
रहे वो जो बे-हुक्म हैं, उनका ठिकाना आग है, जब कभी इसमें से निकलना चाहेंगे फिर उसी में फेर दिए जाएंगे और उनसे कहा जाएगा: "चखो इस आग का अज़ाब जिसे तुम झुठलाते थे",
Rahe woh jo be-hukm hain, unka thikaana aag hai, jab kabhi is mein se nikalna chaahenge phir isi mein pher diye jaayenge aur un se kaha jaayega: "Chakkho is aag ka azaab jise tum jhuthlate the",
اور ضرور ہم انھیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب (ف۱۳۹) اس بڑے عذاب سے پہلے (ف٤۰) جسے دیکھنے والا امید کرے کہ ابھی باز آئیں گے،
And We shall indeed make them taste the smaller punishment before the greater punishment, so that they may return.
और ज़रूर हम उन्हें चखाएँगे कुछ नज़दीक का अज़ाब, इस बड़े अज़ाब से पहले, जिसे देखने वाला उम्मीद करे कि अभी बाज़ आएँगे,
Aur zaroor hum unhein chakhayenge kuch nazdik ka azaab, is bade azaab se pehle, jise dekhne wala umeed kare ke abhi baaz aayenge,
(ف39)دنیا ہی میں قتل اور گرفتاری اور قحط و امراض وغیرہ میں مبتلا کر کے چنانچہ ایسا ہی پیش آیا کہ حضور کی ہجرت سے قبل قریش امراض و مصائب میں گرفتار ہوئے اور بعدِ ہجرت بدر میں مقتول ہوئے ، گرفتار ہوئے اور سات برس قحط کی ایسی سخت مصیبت میں مبتلا رہے کہ ہڈیاں اور مردار اور کتّے تک کھا گئے ۔(ف40)یعنی عذابِ آخرت سے ۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا (ف٤۱) بیشک ہم مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں،
And who is more unjust than one who is preached to from the verses his Lord, then he turns away from them? We will indeed take revenge from the guilty.
और इससे बढ़ कर ज़ालिम कौन जिसे उसके रब की आयतों से नसीहत की गई फिर उसने उनसे मुँह फेर लिया, बेशक हम मुज़रिमों से बदला लेने वाले हैं,
Aur is se barh kar zaalim kaun jise uske Rab ki aayaton se naseehat ki gayi phir usne un se munh pher liya, beshak hum mujrimoon se badla lene wale hain,
(ف41)اور آیات میں غور نہ کیا اور ان کے وضوح و ارشاد سے فائدہ نہ اٹھایا اور ایمان سے بہرہ اندوز نہ ہوا ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (ف٤۲) عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو (ف٤۳) اور ہم نے اسے (ف٤٤) بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کیا،
And indeed We bestowed the Book to Moosa, therefore have no doubt in its acquisition, and made it a guidance for the Descendants of Israel.
और बेशक हमने मूसा को किताब अता फरमाई तो तुम इसके मिलने में शक न करो और हमने इसे बनी इस्राएल के लिए हिदायत किया,
Aur beshak humne Musa ko kitaab ata farmaai to tum is ke milne mein shak na karo aur humne use Bani Israel ke liye hidaayat kiya,
(ف42)یعنی توریت ۔(ف43)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کو کتاب کے ملنے میں یا یہ معنٰی ہیں کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے ملنے اور ان سے ملاقات ہونے میں شک نہ کرو چنانچہ شبِ معراج حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضرت موسٰی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی جیسا کہ احادیث میں وارد ہے ۔(ف44)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کو یا توریت کو ۔
اور ہم نے ان میں سے (ف٤۵) کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بناتے (٤٦) جبکہ انہوں نے صبر کیا (ف٤۷) اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے،
And We made some leaders among them, guiding by Our command, when they had persevered; and they used to accept faith in Our signs.
और हमने उनमें से कुछ इमाम बनाए कि हमारे हुक्म से बनाते
Aur humne un mein se kuch imam banaye ke hamare hukum se banate
(ف45)یعنی بنی اسرائیل میں سے ۔(ف46)لوگوں کو خدا کی طاعت اور اس کی فرمانبرداری اور اللہ تعالٰی کے دین اور اس کی شریعت کا اِتّباع ، توریت کے احکام کی تعمیل اور یہ امامِ انبیاءِ بنی اسرائیل تھے یا انبیاء کے متّبِعین ۔(ف47)اپنے دین پر اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں پر ۔ فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ صبر کا ثمرہ امامت اور پیشوائی ہے ۔
اور کیا انھیں (ف۵۰) اس پر ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں (قومیں) (ف۵۱) ہلاک کردیں کہ آج یہ ان کے گھروں میں چل پھر رہے ہیں (ف۵۲) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں تو کیا سنتے نہیں (ف۵۳)
And did they not obtain guidance by the fact that We did destroy many generations before them, so now they walk in their houses? Indeed in this are signs; so do they not heed?
बेशक तुम्हारा रब उनमें फ़ैसला कर देगा क़ियामत के दिन जिस बात में इख़्तिलाफ़ करते थे,
Beshak tumhara Rab un mein faisla kar dega qiyamat ke din jis baat mein ikhtilaf karte the,
(ف50)یعنی اہلِ مکّہ کو ۔(ف51)کتنی اُمّتیں مثلِ عاد و ثمود و قومِ لوط کے ۔(ف52)یعنی اہلِ مکّہ جب بسلسلۂ تجارت شام کے سفر کرتے ہیں تو ان لوگوں کے منازل و بلاد میں گزرتے ہیں اور ان کی ہلاکت کے آثار دیکھتے ہیں ۔(ف53)جو عبرت حاصل کریں اور پندپذیر ہوں ۔
اور کیا نہیں دیکھتے کہ ہم پانی بھیجتے ہیں خشک زمین کی طرف (ف۵٤) پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں (ف۵۵) تو کیا انھیں سوجھتانہیں (ف۵٦)
And do they not see that We send the water to the barren land and produce crops with it, so their animals and they themselves eat from it? So do they not perceive?
और क्या उन्हें इस पर हिदायत न हुई कि हमने उनसे पहले कितनी संगतें (क़ौमें) हलाक़ कर दीं कि आज ये उनके घरों में चल फिर रहे हैं, बेशक इसमें जरूर निशानियाँ हैं, तो क्या सुनते नहीं,
Aur kya unhein is par hidaayat na hui ke humne un se pehle kitni sangatein (qaumein) halaak kar di ke aaj ye unke gharon mein chal phir rahe hain, beshak is mein zaroor nishaniyan hain, to kya sunte nahi,
(ف54)جس میں سبزہ کا نام و نشان نہیں ۔(ف55)چوپائے بھوسہ اور وہ خود غلّہ ۔(ف56)کہ وہ یہ دیکھ کر اللہ تعالٰی کے کمالِ قدرت پر استدلال کریں اور سمجھیں کہ جو قادرِ برحق خشک زمین سے کھیتی نکالنے پر قادر ہے مُردوں کا زندہ کرنا اس کی قدرت سے کیا بعید ۔
And they say, “When will this decision take place, if you are truthful?”
और क्या नहीं देखते कि हम पानी भेजते हैं ख़ुश्क ज़मीन की तरफ़, फिर इससे खेती निकालते हैं कि इसमें से उनके चौपाए और वो खुद खाते हैं, तो क्या उन्हें सूझता नहीं,
Aur kya nahi dekhte ke hum paani bhejte hain khushk zameen ki taraf, phir is se kheti nikalte hain ke is mein se unke choupaye aur woh khud khate hain, to kya unhein soojhta nahi,
(ف57)مسلمان کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالٰی ہمارے اور مشرکین کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور فرمانبردار اور نافرمان کو ان کے حسبِ عمل جزا دے گا ، اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم پر رحمت و کرم کرے گا اور کُفّار و مشرکین کو عذاب میں مبتلا کرے گا ، اس پر کافِر بطورِ تمسخُر و اِستِہزاء کہتے تھے کہ یہ فیصلہ کب ہو گا ، اس کا وقت کب آئے گا ۔ اللہ تعالٰی اپنے حبیب سے ارشاد فرماتا ہے ۔
تم فرماؤ فیصلہ کے دن (ف۵۸) کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ انھیں مہلت ملے (ف۵۹)
Proclaim, “On the Day of Decision*, the disbelievers will not benefit from their accepting faith, nor will they get respite.” (* Of death or of resurrection)
और कहते हैं ये फ़ैसला कब होगा, अगर तुम सच्चे हो, तुम फ़रमाओ फ़ैसला के दिन काफ़िरों को उनका ईमान लाना नफ़ा नहीं देगा और न उन्हें मोहलत मिले,
Aur kehte hain ye faisla kab hoga agar tum sacche ho, tum farmaao faisla ke din kafiron ko unka imaan lana nafa nahi dega aur na unhein mohalat mile,
(ف58)جب عذابِ الٰہی نازل ہو گا ۔(ف59)توبہ و معذرت کی فیصلہ کے دن سے یا روزِ قیامت مراد ہے یا روزِ فتحِ مکّہ یاروزِ بدر برتقدیرِ اوّل اگر روزِ قیامت مراد ہو تو ایمان کا نافع نہ ہونا ظاہر ہے کیونکہ ایمان وہی مقبول ہے جو دنیا میں ہو اور دنیا سے نکلنے کے بعد نہ ایمان مقبول ہو گا نہ ایمان لانے کے لئے دنیا میں واپس آنا میسّر آئے گا اور اگر فیصلہ کے دن سے روزِ بدریا روزِ فتحِ مکّہ مراد ہو تو معنٰی یہ ہیں کہ جبکہ عذاب آ جائے اور وہ لوگ قتل ہونے لگیں تو حالتِ قتل میں ان کا ایمان لانا قبول نہ کیا جائے گا اور نہ عذاب مؤخّر کر کے انہیں مہلت دی جائے چنانچہ جب مکّہ مکرّمہ فتح ہوا تو قوم بنی کنانہ بھاگی حضرت خالد بن ولید نے جب انہیں گھیرا اور انہوں نے دیکھا کہ اب قتل سر پر آ گیا کوئی امید جاں بَری کی نہیں تو انہوں نے اسلام کا اظہار کیا ، حضرت خالد نے قبول نہ فرمایا اور انہیں قتل کر دیا ۔ (جمل وغیرہ)
تو ان سے منہ پھیرلو اور انتظار کرو (ف٦۰) بیشک انھیں بھی انتظار کرنا ہے (ف٦۱)
Therefore turn away from them and wait – indeed they too have to wait.
तो उनसे मुँह फेर लो और इंतज़ार करो, बेशक उन्हें भी इंतज़ार करना है।
To un se munh pher lo aur intezaar karo, beshak unhein bhi intezaar karna hai.
"
(ف60)ان پر عذاب نازل ہونے کا ۔(ف61)بخاری و مسلم شریف کی حدیث شریف میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم روزِ جمعہ نمازِ فجر میں یہ سورت یعنی سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر پڑھتے تھے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ جب تک حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ سورت اور سورۂ ' تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ' پڑھ نہ لیتے خواب نہ فرماتے ۔ حضرت ابنِ مسعودرضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ سورۂ سجدہ عذابِ قبر سے محفوظ رکھتی ہے ۔ (خازن و مدارک)
اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) (ف۲) اللہ کا یوں ہی خوف رکھنا اور کافروں اور منافقوں کی نہ سننا (ف۳) بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،
O Herald of the Hidden (the Prophet), continue to fear Allah and never listen to the disbelievers and the hypocrites; indeed Allah is All Knowing, Wise.
ए ग़ैब की खबरें बताने वाले (नबी) अल्लाह का यूँ ही ख़ौफ़ रखना और काफ़िरों और मुनाफ़िकों की न सुनना बेशक अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है,
Aur uski pairwi rakho jo tumhare Rab ki taraf se tumhe wahi wahi hoti hai, Ae logo! Allah tumhare kaam dekh raha hai,
(ف2)یعنی ہماری طرف سے خبریں دینے والے ، ہمارے اسرار کے امین ، ہمارا خطاب ہمارے پیارے بندوں کو پہنچانے والے ، اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو' یٰآ اَیُّہَا النَّبِیُّ ' کے ساتھ خِطاب فرمایا جس کے یہ معنٰی ہیں جو ذکر کئے گئے نامِ پاک کے ساتھ ، یَا مُحَمَّدُ ذکر فرما کر خِطاب نہ کیا جیسا کہ دوسرے انبیاء علیہم السلام کو خِطاب فرمایا ہے اس سے مقصود آپ کی تکریم اور آپ کا احترام اور آپ کی فضیلت کا ظاہر کرنا ہے ۔ (مدارک)(ف3)شانِ نُزول : ابوسفیان بن حرب اور عکرمہ بن ابی جہل اور ابوالاعور سلمی جنگِ اُحد کے بعد مدینہ طیّبہ میں آئے اور منافقین کے سردار عبداللہ بن اُ بَی بن سلول کے یہاں مقیم ہوئے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے گفتگو کے لئے امان حاصل کر کے انہوں نے یہ کہا کہ آپ لات ، عزّٰی ، منات وغیرہ بُتوں کو جنہیں مشرکین اپنا معبود سمجھتے ہیں کچھ نہ فرمائیے اور یہ فرما دیجئے کہ ان کی شفاعت ان کے پجاریوں کے لئے ہے اور ہم لوگ آپ کو اور آپ کے ربّ کو کچھ نہ کہیں گے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان کی یہ گفتگو بہت ناگوار ہوئی اور مسلمانوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قتل کی اجازت نہ دی اور فرمایا کہ میں انہیں امان دے چکا ہوں اس لئے قتل نہ کرو ، مدینہ شریف سے نکال دو چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نکال دیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اس میں خِطاب تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ہے اور مقصود ہے آپ کی اُمّت سے فرمانا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے امان دی تو تم اس کے پابند رہو اور نقضِ عہد کا ارادہ نہ کرو اور کُفّار و منافقین کی خلافِ شرع بات نہ مانو ۔
اور اے محبوب! تم اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کام بنانے والا،
And trust Allah; and Allah is Sufficient as a Trustee.
और ए महबूब! तुम अल्लाह पर भरोसा रखो, और अल्लाह बस है काम बनाने वाला,
Allah ne kisi aadmi ke andar do dil na rakhe aur tumhari un auraton ko jinhen tum ke barabar kaho tumhari maa na banaya aur na tumhare lepalakon ko tumhara beta banaya, ye tumhare apne munh ka kehna hai aur Allah haq farmata hai aur wahi raah dikhata hai,
اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے (ف٤) اور تمہاری ان عورتوں کو جنہیں تم کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہ بنایا (ف۵) اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا (ف٦) یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے (ف۷) اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے (ف۸)
Allah has not kept two hearts in the body of any man; nor has He made them your mothers those wives of yours, whom you declare to be your mothers; nor has He made them your sons, whom you have adopted; this is the statement of your mouths; and Allah proclaims the truth and it is He Who shows the path.
अल्लाह ने किसी आदमी के अंदर दो दिल न रखे और तुम्हारी उन औरतों को जिन्हें तुम के बराबर कह दो तुम्हारी माँ न बनाया और न तुम्हारे लेपालकों को तुम्हारा बेटा बनाया यह तुम्हारे अपने मुँह का कहना है और अल्लाह हक़ फ़रमाता है और वही राह दिखाता है
Unhein unke baap hi ka keh kar pukaro, ye Allah ke nazdeek zyada theek hai, phir agar tumhein unke baap maloom na hon to deen mein tumhare bhai hain aur bashriyat mein tumhare chacha zad, aur tum par is mein kuch gunah nahi jo na-danista tum se sadar hua, haan woh gunah hai jo dil ke qasd se karo aur Allah bakshne wala meherban hai,
(ف4)کہ ایک میں اللہ کا خوف ہو دوسرے میں کسی اور کا ، جب ایک ہی دل ہے تو اللہ ہی سے ڈرے ۔شانِ نُزول : ابو معمر حمید فہری کی یاد داشت اچھی تھی جو سنتا تھا یاد کر لیتا تھا ، قریش نے کہا کہ اس کے دو دل ہیں جبھی تو اس کا حافظہ اتنا قوی ہے وہ خود ہی کہتا تھاکہ اس کے دو دل ہیں اور ہر ایک میں حضرت سیدِ (عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) سے زیادہ دانش ہے ۔ جب بدر میں مشرک بھاگے تو ابو معمر اس شان سے بھاگا کہ ایک جوتی ہاتھ میں ایک پاؤں میں ، ابوسفیان سے ملاقات ہوئی تو ابوسفیان نے پوچھا کیا حال ہے ؟ کہا لوگ بھاگ گئے تو ابوسفیان نے پوچھا ایک جوتی ہاتھ میں ایک پاؤں میں کیوں ہے ؟ کہا اس کی مجھے خبر ہی نہیں میں تو یہی سمجھ رہا ہوں کہ دونوں جوتیاں پاؤں میں ہیں ۔ اس وقت قریش کو معلوم ہوا کہ دو ۲ دل ہوتے تو جوتی جو ہاتھ میں لئے ہوئے تھا بھول نہ جاتا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ منافقین سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے دو ۲ دل بتاتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کا ایک دل ہمارے ساتھ ہے اور ایک اپنے اصحاب کے ساتھ نیز زمانۂ جاہلیت میں جب کوئی اپنی عورت سے ظِہار کرتا تھا تو وہ لوگ اس ظِہار کو طلاق کہتے اور اس عورت کو اس کی ماں قرار دیتے تھے اور جب کوئی شخص کسی کو بیٹا کہہ دیتا تھا تو اس کو حقیقی بیٹا قرار دے کر شریکِ میراث ٹھہراتے اور اس کی زوجہ کو بیٹا کہنے والے کے لئے صُلبی بیٹے کی بی بی کی طرح حرام جانتے ۔ ان سب کی رد میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف5)یعنی ظِہار سے عورت ماں کے مثل حرام نہیں ہو جاتی ۔ ظِہار : منکوحہ کو ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو ہمیشہ کے لئے حرام ہو اور یہ تشبیہ ایسے عضو میں ہو جس کو دیکھنا اور چھونا جائز نہیں ہے مثلاً کسی نے اپنی بی بی سے یہ کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ یا پیٹ کے مثل ہے تو وہ مظاہر ہو گیا ۔مسئلہ : ظِہار سے نکاح باطل نہیں ہوتا لیکن کَفّارہ ادا کرنا لازم ہو جاتا ہے اور کَفّارہ ادا کرنے سے پہلے عورت سے علٰیحدہ رہنا اور اس سے تمتع نہ کرنا لازم ہے ۔مسئلہ: ظِہار کا کَفّارہ ایک غلام کا آزاد کرنا اور یہ میسّر نہ ہو تو متواتر دو مہینے کے روزے اور یہ بھی نہ ہو سکے تو ساٹھ مسکینوں کا کھلانا ہے ۔مسئلہ : کَفّارہ ادا کرنے کے بعد عورت سے قربت اور تمتُّع حلال ہو جاتا ہے ۔ (ہدایہ)(ف6)خواہ انہیں لوگ تمہارا بیٹا کہتے ہوں ۔(ف7)یعنی بی بی کو ماں کے مثل کہنا اور لے پالک کو بیٹا کہنا بے حقیقت بات ہے ، نہ بی بی ماں ہو سکتی ہے نہ دوسرے کا فر زند اپنا بیٹا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب حضرت زینب بنتِ حجش سے نکاح کیا تو یہود و منافقین نے زبانِ طعن کھولی اور کہا کہ (حضرت) محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے بیٹے زید کی بی بی سے شادی کر لی کیونکہ پہلے حضرت زینب زید کے نکاح میں تھیں اور حضرت زید اُمُّ المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے زر خرید تھے انہوں نے حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں انہیں ہبہ کر دیا ، حضور نے انہیں آزاد کر دیا تب بھی وہ اپنے باپ کے پاس نہ گئے حضور ہی کی خدمت میں رہے ، حضور ان پر شفقت و کرم فرماتے تھے اس لئے لوگ انہیں حضور کا فرزند کہنے لگے ، اس سے وہ حقیقتہً حضور کے بیٹے نہ ہو گئے اور یہود و منافقین کا طعنہ مَحض غلط اور بیجا ہو ا ۔ اللہ تعالٰی نے یہاں ان طاعنین کی تکذیب فرمائی اور انہیں جھوٹا قرار دیا ۔(ف8)حق کی لہٰذا لے پالکوں کو ان کے پالنے والوں کا بیٹا نہ ٹھہراؤ بلکہ ۔
انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو (ف۹) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں (ف۱۰) تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد (ف۱۱) اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نادانستہ تم سے صادر ہوا (ف۱۲) ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو (ف۱۳) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Call them with their fathers’ names – this is more suitable in the sight of Allah; and if you do not know their fathers, then they are your brothers in the faith, (and your cousins as humans) and your friends; and there is no sin upon you for what you did unknowingly in the past – however it is a sin what you do with your heart’s intention; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
उन्हें उनके बाप ही का कह कर पुकारो यह अल्लाह के नज़दीक ज़्यादा ठीक है फिर अगर तुम्हें उनके बाप मालूम न हों तो दीन में तुम्हारे भाई हैं और बशरियत में तुम्हारे चाचा ज़ाद और तुम पर इस में कुछ गुनाह नहीं जो ना जाने तुमसे जारी हुआ हाँ वह गुनाह है जो दिल के क़सद से करो और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Ye Nabi musalmanon ka unki jaan se zyada malik hai aur uski bibiyan unki maen hain aur rishta wale Allah ki kitaab mein ek doosre se zyada qareeb hain bahut aur musalmanon aur muhajiron ke, magar ye ke tum apne doston par ehsaan karo ye kitaab mein likha hai,
(ف9)جن سے وہ پیدا ہوئے ۔(ف10)اور اس وجہ سے تم انہیں ان کے باپوں کی طرف نسبت نہ کر سکو ۔(ف11)تو تم انہیں بھائی کہو اور جس کے لے پالک ہیں اس کا بیٹا نہ کہو ۔(ف12)ممانعت سے پہلے یا یہ معنٰی ہیں کہ اگر تم نے لے پالکوں کو خطأً بے ارادہ ان کے پرورش کرنے والوں کا بیٹا کہہ دیا یا کسی غیر کی اولاد کو مَحض زبان کی سبقت سے بیٹا کہا تو ان صورتوں میں گناہ نہیں ۔(ف13)ممانعت کے بعد ۔
یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے (ف۱٤) اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں (ف۱۵) اور رشتہ والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں (ف۱٦) بہ نسبت اور مسلمانوں اور مہاجروں کے (ف۱۷) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو (ف۱۸) یہ کتاب میں لکھا ہے (ف۱۹)
The Prophet is closer to the Muslims than their own lives, and his wives are their mothers; and the relatives are closer to each other in the Book of Allah, than other Muslims and immigrants, except that you may be kind towards your friends; this is written in the Book.
यह नबी मुसलमानों का उनकी जान से ज़्यादा मालिक है और उसकी बीबियां उनकी मां हैं और रिश्ते वाले अल्लाह की किताब में एक दूसरे से ज़्यादा क़रीब हैं बहरहाल और मुसलमानों और मुहाजिरों के मगर यह कि तुम अपने दोस्तों पर एहसान करो यह किताब में लिखा है
Aur Ae mehboob! Yaad karo jab humne nabiyon se ahad liya aur tum se aur Nuh aur Ibrahim aur Musa aur Isa bin Maryam se, aur humne un se gahra ahad liya,
(ف14)دنیا و دین کے تمام امور میں اور نبی کا حکم ان پر نافذ اور نبی کی طاعت واجب اور نبی کے حکم کے مقابل نفس کی خواہش واجب الترک یا یہ معنٰی ہیں کہ نبی مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ رافت و رحمت اور لطف و کرم فرماتے ہیں اور نافع تر ہیں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہر مومن کے لئے دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ اولٰی ہوں اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو ' اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ 'حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قراءت میں 'مِنْ اَنْفُسِھِمْ ' کے بعد ' وَ ھُوَ اَبُ لَّھُمْ 'بھی ہے ۔ مجاہد نے کہا کہ تمام انبیاء اپنی اُمّت کے باپ ہوتے ہیں او ر اسی رشتہ سے مسلمان آپس میں بھائی کہلاتے ہیں کہ وہ اپنے نبی کی دینی اولاد ہیں ۔(ف15)تعظیم و حرمت میں اور نکاح کے ہمیشہ کے لئے حرام ہونے میں اور اس کے علاوہ دوسرے احکام میں مثل وراثت اور پردہ وغیرہ کے ان کا وہی حکم ہے جو اجنبی عورتوں کا اور ان کی بیٹیوں کو مومنین کی بہنیں اور ان کے بھائیوں اور بہنوں کو مومنین کے ماموں خالہ نہ کہا جائے گا ۔(ف16)توارث میں ۔(ف17)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اُو لِی الاَرحام ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں ، کوئی اجنبی دینی برادری کے ذریعہ سے وارث نہیں ہوتا ۔(ف18)اس طرح کہ جس کے لئے چاہو کچھ وصیّت کرو تو وصیّت ثُلُث مال کے قدر میں توارث پر مقدم کی جائے گی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اوّل مال ذوِی الفروض کو دیا جائے گا پھر عصبات کو پھر نسبی ذوِی الفروض پر رد کیا جائے گا پھر ذوِی الارحام کو دیا جاوے گا پھر مولٰی الموالاۃ کو ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف19)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔
اور اے محبوب! یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا (ف۲۰) اور تم سے (ف۲۱) اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ ٰ اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا،
And remember O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) when We took a covenant from the Prophets – and from you – and from Nooh, and Ibrahim, and Moosa, and Eisa the son of Maryam; and We took a firm covenant from them.
और ए महबूब! याद करो जब हमने नबियों से अहद लिया और तुमसे और नूह और इब्राहिम और मूसा और ईसा बिन मरियम से और हमने उनसे गाढ़ा अहद लिया,
Taake sachon se unke sach ka sawal kare aur usne kafiron ke liye dardnaak azaab tayar kar rakha hai,
(ف20)رسالت کی تبلیغ اور دینِ حق کی دعو ت دینے کا ۔(ف21)خصوصیت کے ساتھ ۔مسئلہ : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر دوسرے انبیاء پر مقدم کرنا ان سب پر آپ کی افضلیت کے اظہار کے لئے ہے ۔
تاکہ سچوں سے (ف۲۲) ان کے سچ کا سوال کرے (ف۲۳) اور اس نے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے،
So that He may question the truthful regarding their truth; and He has kept prepared a painful punishment for the disbelievers.
ताकि सचों से उनके सच का सवाल करे और उसने काफ़िरों के लिए दर्दनाक आज़ाब तैयार कर रखा है,
Ae iman walo! Allah ka ehsaan apne upar yaad karo, jab tum par kuch lashkar aaye to humne un par aandi aur woh lashkar bheje jo tumhe nazar na aaye aur Allah tumhare kaam dekhta hai,
(ف22)یعنی انبیاء سے یا ان کے تصدیق کرنے والوں سے ۔(ف23)یعنی جو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا اور انہیں تبلیغ کی وہ دریافت فرمائے یا مومنین سے ان کی تصدیق کا سوال کر یا یہ معنٰی ہیں کہ انبیاء کو جو ان کی اُمّتوں نے جواب دیئے وہ دریافت فرمائے اور اس سوال سے مقصود کُفّار کی تذلیل و تبکیت ہے ۔
اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو (ف۲٤) جب تم پر کچھ لشکر آئے (ف۲۵) تو ہم نے ان پر آندھی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے (ف۲٦) اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے (ف۲۷)
O People who believe! Remember the favour of Allah upon you when some armies came against you, so We sent against them a windstorm and the armies you could not see; and Allah sees your deeds.
ए ईमान वालो! अल्लाह का एहसान अपने ऊपर याद करो जब तुम पर कुछ लश्कर आए तो हमने उन पर आँधी और वो लश्कर भेजे जो तुम्हें नजर न आए और अल्लाह तुम्हारे काम देखता है
Jab kafir tum par aaye tumhare upar se aur tumhare neeche se aur jab thtak kar reh gayi nigahen aur dil gulo ke paas aa gaye aur tum Allah par tarah tarah ke gumaan karne lage umeed o yaas ke,
(ف24)جو اس نے جنگِ احزاب کے دن فرمایا جس کو غزوۂ خندق کہتے ہیں جو جنگِ اُحد سے ایک سال بعد تھا جب کہ مسلمانوں کا نبیٌٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ مدینۂ طیّبہ میں محاصرہ کر لیا گیا تھا ۔(ف25)قریش اور غطفان اور یہود قُرَیظہ و نُضَیر کے ۔(ف26)یعنی ملائکہ کے لشکر ۔ غزوۂ احزاب کا مختصر بیان یہ غزوہ شوال ۴ یا ۵ ہجری میں پیش آیا جب یہودِ بنی نُضَیر کو جِلاوطن کیا گیا تو ان کے اکابر مکّہ مکرّمہ میں قریش کے پاس پہنچے اور انہیں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ جنگ کی ترغیب دلائی اور وعدہ کیا کہ ہم تمہارا ساتھ دیں گے یہاں تک کہ مسلمان نیست و نابود ہو جائیں ، ابوسفیان نے اس تحریک کی بہت قدر کی اور کہا کہ ہمیں دنیا میں وہ سب سے پیارا ہے جو (محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کی عداوت میں ہمارا ساتھ دے پھر قریش نے ان یہودیوں سے کہا کہ تم پہلی کتاب والے ہو بتاؤ تو ہم حق پر ہیں یا محمّدِ (مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ؟ یہود نے کہا تمہی حق پر ہو ، اس پر قریش خوش ہوئے اسی پر آیت ' اَ لَمْ تَرَ اِلیَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْباً مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ ' نازل ہوئی پھر یہودی قبائلِ غطفان و قیس و غیلان وغیرہ میں گئے ، وہاں بھی یہی تحریک کی وہ سب ان کے موافق ہو گئے اس طرح انہوں نے جابجا دورے کئے اور عرب کے قبیلہ قبیلہ کو مسلمانوں کے خلاف تیار کر لیا ، جب سب لوگ تیار ہو گئے تو قبیلۂ خزاعہ کے چند لوگوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کُفّار کی ان زبردست طیّاریوں کی اطلاع دی ، یہ اطلاع پاتے ہی حضور نے بمشورۂ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ خندق کھدوانی شروع کر دی ، اس خندق میں مسلمانوں کے ساتھ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود بھی کام کیا ، مسلمان خندق تیار کر کے فارغ ہوئے ہی تھے کہ مشرکین بارہ ہزار کا لشکرِ گراں لے کر ان پر ٹوٹ پڑے اور مدینہ طیّبہ کا محاصرہ کر لیا ، خندق مسلمانوں کے اور ان کے درمیان حائل تھی اس کو دیکھ کر متحیّر ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ ایسی تدبیر ہے جس سے عرب لوگ اب تک واقف نہ تھے ، اب انہوں نے مسلمانوں پر تیر اندازی شروع کی اور اس محاصرہ کو پندرہ روز یا چوبیس روز گزرے ، مسلمانوں پر خوف غالب ہوا اور وہ بہت گھبرائے اور پریشان ہوئے تو اللہ تعالٰی نے مدد فرمائی اور ان پر تیز ہوا بھیجی نہایت سرد اور اندھیری رات میں اس ہوا نے ان کے خیمے گرا دیئے ، طنابیں توڑ دیں ، کھونٹے اکھاڑ دیئے ، ہانڈیاں الٹ دیں ، آدمی زمین پر گرنے لگے اور اللہ تعالٰی نے فرشتے بھیج دیئے جنہوں نے کُفّار کو لرزا دیا ، ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی مگر اس جنگ میں ملائکہ نے قتال نہیں کیا پھر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حذیفہ بن یمان کو خبر لینے کے لئے بھیجا وقت نہایت سرد تھا یہ ہتھیار لگا کر روانہ ہوئے ، حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روانہ ہوتے وقت ان کے چہرے اور بدن پر دستِ مبارک پھیرا جس سے ان پر سردی اثر نہ کر سکی اور یہ دشمن کے لشکر میں پہنچ گئے ، وہاں تیز ہوا چل رہی تھی اور سنگریزے اڑ اڑ کر لوگوں کے لگ رہے تھے ، آنکھوں میں گرد پڑ رہی تھی ، عجب پریشانی کا عالَم تھا ، لشکرِ کُفّار کے سردار ابوسفیان ہوا کا یہ عالَم دیکھ کر اٹھے اور انہوں نے قریش کو پکار کر کہا کہ جاسوسوں سے ہوشیار رہنا ، ہر شخص اپنے برابر والے کو دیکھ لے ، یہ اعلان ہونے کے بعد ہر ایک شخص نے اپنے برابر والے کو ٹٹولنا شروع کیا ، حضرت حذیفہ نے دانائی سے اپنے داہنے شخص کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں ، اس کے بعد ابوسفیان نے کہا اے گروہِ قریش تم ٹھہرنے کے مقام پر نہیں ہو ، گھوڑے اور اونٹ ہلاک ہو چکے ، بنی قُرَیظہ اپنے عہد سے پھر گئے اور ہمیں ان کی طرف سے اندیشہ ناک خبریں پہنچی ہیں ، ہوا نے جو حال کیا ہے وہ تم دیکھ ہی رہے ہو ، بس اب یہاں سے کوچ کر دو ، میں کوچ کرتا ہوں ابوسفیان یہ کہہ کر اپنی اونٹنی پر سوار ہو گئے اور لشکر میں الرحیل الرحیل یعنی کو چ کوچ کا شور مچ گیا ، ہوا ہر چیز کو اُلٹے ڈالتی تھی مگر یہ ہوا اس لشکر سے باہر نہ تھی ، اب یہ لشکر بھاگ نکلا اور سامان کا بار کر کے لے جانا اس کو شاق ہو گیا اس لئے کثیر سامان چھوڑ گیا ۔ (جمل)(ف27)یعنی تمہارا خندق کھودنا اور نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فرمانبرداری میں ثابت قدم رہنا ۔
جب کافر تم پر آئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے (ف۲۸) اور جبکہ ٹھٹک کر رہ گئیں نگاہیں (ف۲۹) اور دل گلوں کے پاس آگئے (ف۳۰) اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے امید و یاس کے (ف۳۱)
When the disbelievers came upon you from above you and from below you, and when the eyes became fixed in stare and the hearts came up to the throats, and you were imagining matters regarding Allah.
जब काफ़िर तुम्हारे ऊपर आए तुम्हारे ऊपर से और तुम्हारे नीचे से और जबकि ठटक कर रह गईं निगाहें और दिल गुलों के पास आ गए और तुम अल्लाह पर तरह-तरह के गुमान करने लगे उम्मीद व यास के
Woh jagah thi ke musalmanon ki jaanch hui aur khoob sakhti se jhanjhoda gaye,
(ف28)یعنی وادی کی بالائی جانب مشرق سے قبیلۂ اسد و غطفان کے لوگ مالک بن عوف نصری وعُیَیۡنہ بن حسن فزاری کی سرکردگی میں ایک ہزار کی جمعیت لے کر اور ان کے ساتھ طلیحہ بن خویلد اسدی بنی اسد کی جمعیت لے کر اور حُیَیْ بن اخطب ، یہودِ بنی قریظہ کی جمعیت لے کر اور وادی کی زیریں جانب مغرب سے قریش اور کنانہ بَسَرکردگی ابو سفیان بن حرب ۔(ف29)اور شدّتِ رعب و ہیبت سے حیرت میں آ گئیں ۔(ف30)خوف و اضطراب انتہا کو پہنچ گیا ۔(ف31)منافق تویہ گمان کرنے لگے کہ مسلمانوں کا نام و نشان باقی نہ رہے گا ، کُفّار کی اتنی بڑی جمعیت سب کو فنا کر ڈالے گی اور مسلمانوں کو اللہ تعالٰی کی طرف سے مدد آنے اور اپنے فتحیاب ہونے کی امید تھی ۔
اور جب کہنے لگے منافق اور جن کے دلوں میں روگ تھا (ف۳۳) ہمیں اللہ و رسول نے وعدہ نہ دیا تھا مگر فریب کا (ف۳٤)
And when the hypocrites, and those in whose hearts is a disease, began saying, “Allah and His Noble Messenger have not given us a promise except one of deceit.”
और जब कहने लगे मुनाफ़िक और जिनके दिलों में रोग था हमें अल्लाह व रसूल ने वादा न दिया था मगर फ़ریب का
Aur jab un mein se ek group ne kaha, Ae Madina walo! Yahan tumhare thehrne ki jagah nahi, tum gharon ko wapas chalo, aur un mein se ek group Nabi se izn mangta tha ye keh kar ke hamare ghar be-hifazat hain, aur woh be-hifazat na the, woh to na chahte the magar bhagna,
(ف33)یعنی ضعفِ اعتقاد ۔(ف34)یہ بات معتب بن قشیر نے کُفّار کے لشکر دیکھ کر کہی تھی کہ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو ہمیں فارس و روم کی فتح کا وعدہ دیتے ہیں اور حال یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کی یہ مجال بھی نہیں کہ اپنے ڈیرے سے باہر نکل سکے تو یہ وعدہ نِرا دھوکا ہے ۔
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا (ف۳۵) اے مدینہ والو! (ف۳٦) یہاں تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں (ف۳۷) تم گھروں کو واپس چلو اور ان میں سے ایک گروہ (ف۳۸) نبی سے اذن مانگتا تھا یہ کہہ کر ہمارے گھر بےحفاظت ہیں، اور وہ بےحفاظت نہ تھے، وہ تو نہ چاہتے تھے مگر بھاگنا،
And when a group among said, “O people of Medinah! This is no place of stay for you, therefore go back to your homes”; and a group among them sought exemption from the Prophet by saying, “Our homes are unprotected” whereas their homes were not unprotected; they willed nothing except to flee.
और जब उनमें से एक ग्रुप ने कहा ए मदीना वालो! यहाँ तुम्हारे ठहरने की जगह नहीं तुम घरों को वापस चलो और उनमें से एक ग्रुप नबी से इज़न मांगता था यह कह कर हमारे घर बे-हिफाज़त हैं, और वो बे-हिफाज़त न थे, वो तो न चाहते थे मगर भागना,
Aur agar un par foujain Madina ke itraaf se aayein phir un se kufr chahte to zaroor unka manga de baithe aur is mein der na karte magar thodi,
(ف35)یعنی منافقین کے ایک گروہ نے ۔(ف36)یہ مقولہ منافقین کا ہے انہوں نے مدینہ طیّبہ کو یثرب کہا ۔ مسئلہ : مسلمانوں کو یثرب نہ کہنا چاہئے حدیث شریف میں مدینہ طیّبہ کو یثرب کہنے کی ممانعت آئی ہے ، حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ناگوار تھا کہ مدینہ پاک کو یثرب کہا جائے کیونکہ یثرب کے معنٰی اچھے نہیں ہیں ۔(ف37)یعنی رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لشکر میں ۔(ف38)یعنی بنی حارثہ و بنی سلمہ ۔
اور اگر ان پر فوجیں مدینہ کے اطراف سے آئیں پھر ان سے کفر چاہتیں تو ضرور ان کا مانگا دے بیٹھتے (ف۳۹) اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑی
And if the armies had come upon them from the outskirts of Medinah and demanded disbelief from them, they would certainly have given them their demand and would not have hesitated in it except a little.
और अगर उन पर फ़ौजें मदीना के इर्द-गिर्द आएँ फिर उनसे क़फ़र चाहतें तो जरूर उनका माँगा दे बैठते और इस में देर न करते मगर थोड़ी
Aur beshak us se pehle woh Allah se ahad kar chuke the ke peeth na pherenge, aur Allah ka wada poocha jaega,
تم فرماؤ ہرگز تمہیں بھاگنا نفع نہ دے گا اگر موت یا قتل سے بھاگو (ف٤۱) اور جب بھی دنیا نہ برتنے دیے جاؤ گے مگر تھوڑی (ف٤۲)
Proclaim, “Fleeing will never benefit you if you flee from death or killing, and even then you will not be given the usage of this world except a little.”
तुम फ़रमाओ हरगज़ तुम्हें भागना नफ़ा न देगा अगर मौत या कत्ल से भागो और जब भी दुनिया न बरतने दी जाएँगे मगर थोड़ी
Tum farmaao, woh kaun hai jo Allah ka hukum tum par se taal de, agar woh tumhara bura chahe ya tum par mehr (rehm) farmaana chahe, aur woh Allah ke siwa koi haami na paayenge na madadgar,
(ف41)کیونکہ جو مقدر ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا ۔(ف42)یعنی اگر وقت نہیں آیا ہے تو بھی بھاگ کر تھوڑے ہی دن جتنی عمر باقی ہے اتنے ہی دنیا کو برتو گے اور یہ ایک قلیل مدّت ہے ۔
تم فرماؤ وہ کون ہے جو اللہ کا حکم تم پر سے ٹال دے اگر وہ تمہارا برا چاہے (ف٤۳) یا تم پر مہر (رحم) فرمانا چاہے (ف٤٤) اور وہ اللہ کے سوا کوئی حامی نہ پائیں گے نہ مددگار،
Say, “Who is he who can avert the command of Allah from you, if He wills harm for you or wills to have mercy upon you?” And other than Allah, they will not find any friend or supporter.
तुम फ़रमाओ वह कौन है जो अल्लाह का हुक़्म तुम पर से टाल दे अगर वह तुम्हारा बुरा चाहे या तुम पर मेहर (रह्म) फ़रमाना चाहे और वह अल्लाह के सिवा कोई हामी न पाएँगे न मददगार,
Beshak Allah jaanta hai tumhare un ko jo auron ko jihad se rokte hain aur apne bhaiyon se kehte hain hamari taraf chale aao aur ladai mein nahi aate magar thode,
(ف43)یعنی اس کو تمہار ا قتل و ہلاک منظور ہو تو اس کو کوئی دفع نہیں کر سکتا ۔(ف44)امن و عافیت عطا فرما کر ۔
بیشک اللہ جانتا ہے تمہارے ان کو جو اوروں کو جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں ہماری طرف چلے آؤ (ف٤۵) اور لڑائی میں نہیں آتے مگر تھوڑے (ف٤٦)
Indeed Allah knows those among you who prevent others from the holy war, and those who say to their brothers, “Come towards us”; and they do not come to fight, except a few.
बेशक अल्लाह जानता है तुम्हारे उन को जो औरों को जिहाद से रोकते हैं और अपने भाइयों से कहते हैं हमारी तरफ़ चले आओ और लड़ाई में नहीं आते मगर थोड़े
Tumhari madad mein gayi karte hain, phir jab dar ka waqt aaye tum unhein dekho ge, tumhari taraf yun nazar karte hain ke unki aankhen ghoom rahi hain jaise kisi par maut chhaayi ho, phir jab dar ka waqt nikal jaaye tumhein taane dene lage tez zubano se maal e ghanimat ke lalach mein, ye log iman laaye hi nahi, to Allah ne unke amal akaarat kar diye aur ye Allah ko aasan hai,
(ف45)اور سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چھوڑ دو ، ان کے ساتھ جہاد میں نہ رہو اس میں جان کا خطرہ ہے ۔ شانِ نُزول : یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی ان کے پاس یہود نے پیام بھیجا تھا کہ تم کیوں اپنی جانیں ابوسفیان کے ہاتھوں سے ہلاک کرانا چاہتے ہو ، اس کے لشکری اس مرتبہ اگر تمہیں پا گئے تو تم میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑیں گے ، ہمیں تمہارا اندیشہ ہے تم ہمارے بھائی اور ہمسایہ ہو ہمارے پاس آ جاؤ ، یہ خبر پا کر عبداللہ بن اُ بَی بن سلول منافق اور اس کے ساتھی مومنین کو ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں سے ڈرا کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دینے سے روکنے لگے اور اس میں انہوں نے بہت کوشش کی لیکن جس قدر انہوں نے کوشش کی مومنین کا ثباتِ استقلال اور بڑھتا گیا ۔(ف46)ریاکاری اور دکھاوٹ کے لئے ۔
تمہاری مدد میں گئی کرتے (کمی کرتے) ہیں پھر جب ڈر کا وقت آئے تم انھیں دیکھو گے تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گھوم رہی ہیں جیسے کسی پر موت چھائی ہو پھر جب ڈر کا وقت نکل جائے (ف٤۷) تمہیں طعنے دینے لگیں تیز زبانوں سے مال غنیمت کے لالچ میں (ف٤۸) یہ لوگ ایمان لائے ہی نہیں (ف٤۹) تو اللہ نے ان کے عمل اکارت کردیے (ف۵۰) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
They reduce the help towards you; so when a fearful time comes, you will observe them looking at you with eyes rolling like one enveloped by death; then when the time of fear is over, they begin slandering you with sharp tongues in their greed for the war booty; they have not accepted faith, therefore Allah has nullified their deeds; and this is easy for Allah.
तुम्हारी मदद में गई करते हैं फिर जब डर का वक्त आए तुम्हें उन्हें देखोगे तुम्हारी तरफ़ यूँ नजर करते हैं कि उनकी आँखें घूम रही हैं जैसे किसी पर मौत छाई हो फिर जब डर का वक्त निकल जाए तुम्हें ताने देने लगें तेज़ ज़ुबानों से माल-ए-ग़नीमत के लालच में ये लोग ईमान लाए ही नहीं तो अल्लाह ने उनके अमल अकारत कर दिए और यह अल्लाह को आसान है,
Woh samajh rahe hain ke kafiron ke lashkar abhi na gaye aur agar lashkar dobara aaye to unki khwahish hogi ke kisi tarah gaon mein nikal kar tumhari khabrein poochte aur agar woh tum mein rahte jab bhi na ladte magar thode,
(ف47)اور امن و غنیمت حاصل ہو ۔(ف48)اور یہ کہیں ہمیں زیادہ حصّہ دو ہماری ہی وجہ سے تم غالب ہوئے ہو ۔(ف49)حقیقت میں اگر چہ انہوں نے زبانوں سے ایمان کا اظہار کیا ۔(ف50)یعنی چونکہ حقیقت میں وہ مومن نہ تھے اس لئے ان کے تمام ظاہری عمل جہاد وغیرہ سب باطل کر دیئے ۔
وہ سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کے لشکر ابھی نہ گئے (ف۵۱) اور اگر لشکر دوبارہ آئیں تو ان کی (ف۵۲) خواہش ہوگی کہ کسی طرح گا نؤں میں نکل کر (ف۵۳) تمہاری خبریں پوچھتے (ف۵٤) اور اگر وہ تم میں رہتے جب بھی نہ لڑتے مگر تھوڑے (ف۵۵)
They assume that the armies of the disbelievers have not gone away; and were the armies to come again, their wish would be to go out to the villages seeking information about you; and were they to stay among you even then they would not fight, except a few.
वह समझ रहे हैं कि काफ़िरों के लश्कर अभी न गए और अगर लश्कर दुबारा आएँ तो उनकी ख्वाहिश होगी कि किसी तरह गाँव में निकल कर तुम्हारी खबरें पूछते और अगर वे तुम में रहते जब भी न लड़ते मगर थोड़े
Beshak tumhein Rasool Allah ki pairwi behtar hai is ke liye ke Allah aur pichle din ki umeed rakhta ho aur Allah ko bohot yaad kare,
(ف51)یعنی منافقین اپنی بزدلی و نامردی سے ابھی تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ کُفّارِ قریش و غطفان و یہود و غیرہ ابھی تک میدان چھوڑ کر بھاگے نہیں ہیں اگرچہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ بھاگ چکے ۔(ف52)یعنی منافقین کی اپنی نامردی کی باعث یہی آرزو اور ۔(ف53)مدینہ طیّبہ کے آنے جانے والوں سے ۔(ف54)کہ مسلمانوں کا کیا انجام ہوا ، کُفّار کے مقابلہ میں ان کی کیا حالت رہی ۔(ف55)ریاکاری اور عذر رکھنے کے لئے تاکہ یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ ہم بھی تو تمہارے ساتھ جنگ میں شریک تھے ۔
بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے (ف۵٦) اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے (ف۵۷)
Indeed following the Noble Messenger of Allah is better for you – for one who is confident of Allah and the Last Day, and remembers Allah much.
बेशक तुम्हें रसूल अल्लाह की पीरवी बेहतर है इसके लिए कि अल्लाह और पिछले दिन की उम्मीद रखता हो और अल्लाह को बहुत याद करे
Aur jab musalmanon ne kafiron ke lashkar dekhe bole, ye hai woh jo humein wada diya tha Allah aur uske Rasool ne aur sach farmaaya Allah aur uske Rasool ne, aur is se unhein na badha magar iman aur Allah ki raza par razi hona,
(ف56)ان کا اچھی طرح اِتّباع کرو اور دینِ الٰہی کی مدد کرو اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑو اور مصائب پر صبر کرو اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنّتوں پر چلو یہ بہتر ہے ۔(ف57)ہر موقع پر اس کا ذکر کرے خوشی میں بھی رنج میں بھی ، تنگی میں بھی فراخی میں بھی ۔
اور جب مسلمانوں نے کافروں کے لشکر دیکھے بولے یہ ہے وہ جو ہمیں وعدہ دیا تھا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۸) اور سچ فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے (ف۵۹) اور اس سے انھیں نہ بڑھا مگر ایمان اور اللہ کی رضا پر راضی ہونا
And when the Muslims saw the armies, they said, “This is what Allah and His Noble Messenger promised us, and Allah and His Noble Messenger have spoken the truth”; and it did not increase anything for them but faith and acceptance of Allah’s will.
और जब मुसलमानों ने काफ़िरों के लश्कर देखे बोले यह है वह जो हमें वादा दिया था अल्लाह और उसके रसूल ने और सच फ़रमाया अल्लाह और उसके रसूल ने और इस से उन्हें न बढ़ा मगर ईमान और अल्लाह की रज़ा पर रज़ी होना,
Musalmanon mein kuch woh mard hain jinhon ne sachha kar diya jo ahad Allah se kiya tha, to un mein koi apni manat poori kar chuka aur koi raah dekh raha hai aur woh zara na badle,
(ف58)کہ تمہیں شدّت و بَلا پہنچے گی اور تم آزمائش میں ڈالے جاؤ گے اور پہلوں کی طرح تم پر سختیاں آئیں گی اور لشکر جمع ہو ہو کر تم پر ٹوٹیں گے اور انجام کار تم غالب ہو گے اور تمہاری مدد فرمائی جائے گی جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے' اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ 'اَلآ یَۃَ اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ پچھلی نو یا دس راتوں میں لشکر تمہاری طرف آنے والے ہیں ، جب انہوں نے دیکھا کہ اس میعاد پر لشکر آ گئے تو کہا یہ ہے وہ جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ دیا تھا ۔(ف59)یعنی جو اس کے وعدے ہیں سب سچّے ہیں سب یقیناً واقع ہوں گے ، ہماری مدد بھی ہو گی ، ہمیں غلبہ بھی دیا جائے گا اور مکّہ مکرّمہ اور روم و فارس بھی فتح ہوں گے ۔
مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا (ف٦۰) تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا (ف٦۱) اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے (ف٦۲) اور وہ ذرا نہ بدلے (ف٦۳)
Among the Muslims are the men who have proved true what they had covenanted with Allah; so among them is one who has already fulfilled his vow, and among them is one still waiting; and they have not changed a bit.
मुसलमानों में कुछ वह मर्द हैं जिन्होंने सच्चा कर दिया जो अहद अल्लाह से किया था तो उनमें कोई अपनी मन्नत पूरी कर चुका और कोई राह देख रहा है और वह ज़रा न बदले
Taake Allah sachon ko unke sach ka sila de aur munafiqon ko azaab kare agar chahe, ya unhein tawba de, beshak Allah bakshne wala meherban hai,
(ف60)حضرت عثمانِ غنی اور حضرت طلحہ اور حضرت سعید بن زید اور حضرت حمزہ اور حضرت مصعب وغیرہم رضی اللہ تعالٰی عنہم نے نذر کی تھی کہ وہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ جہاد کا موقع پائیں گے تو ثابت رہیں گے یہاں تک کہ شہید ہو جائیں ، ان کی نسبت اس آیت میں ارشاد ہوا کہ انہو ں نے اپنا وعدہ سچّا کر دیا ۔(ف61)جہاد پر ثابت رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا جیسے کہ حضرت حمزہ و مصعب رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔(ف62)اور شہادت کا انتظار کر رہا ہے جیسے کہ حضرت عثمان اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔(ف63)اپنے عہد پر ویسے ہی ثابت قدم رہے شہید ہو جانے والے بھی اور شہادت کا انتظار کرنے والے بھی ، ان منافقین اور مریض القلب لوگوں پر تعریض ہے جو اپنے عہد پر قائم نہ رہے ۔
تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو عذاب کرے اگر چاہے ، یا انھیں توبہ دے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
In order that Allah may reward the truthful for their truthfulness, and punish the hypocrites if He wills, or give them repentance; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ताकि अल्लाह सच्चों को उनके सच का सला दे और मुनाफ़िकों को आज़ाब करे अगर चाहे, या उन्हें तौबा दे, बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Aur Allah ne kafiron ko unke dilon ki jalan ke sath palat diya ke kuch bhala na paaya aur Allah ne musalmanon ko ladai ki kifayat farma di aur Allah zabardast izzat wala hai,
اور اللہ نے کافروں کو (ف٦٤) ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ پلٹایا کہ کچھ بھلا نہ پایا (ف٦۵) اور اللہ نے مسلمانوں کو لڑائی کی کفایت فرمادی (ف٦٦) اور اللہ زبردست عزت والا ہے،
And Allah turned back the disbelievers in their hearts’ jealousy, gaining no good; and Allah sufficed the Muslims in their fight; and Allah is Almighty, Most Honourable.
और अल्लाह ने काफ़िरों को उनके दिलों की जलन के साथ पलटा कि कुछ भला न पाया और अल्लाह ने मुसलमानों को लड़ाई की किफ़ायत फरमा दी और अल्लाह ज़बरदस्त इज़्ज़त वाला है,
Aur jin Ahl e Kitab ne unki madad ki thi unhein unke qilon se utara aur unke dilon mein rub dalaa, un mein ek group ko tum qatl karte ho aur ek group ko qaid,
(ف64)یعنی قریش و غطفان وغیرہ کے لشکروں کو جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ۔(ف65)ناکام و نامراد واپس ہوئے ۔(ف66)دشمن فرشتوں کی تکبیروں اور ہوا کی سختیوں سے بھاگ نکلے ۔
اور جن اہل کتاب نے ان کی مدد کی تھی (ف٦۷) انھیں ان کے قلعوں سے اتارا (ف٦۸) اور ان کے دلوں میں رعب ڈالا ان میں ایک گروہ کو تم قتل کرتے ہو (ف٦۹) اور ایک گروہ کو قید (ف۷۰)
And He brought down from their forts, the People given the Book(s) who had supported them, and instilled awe into their hearts – you slay a group among them and another group you make captive.
और जिन अहल-ए-किताब ने उनकी मदद की थी उन्हें उनके क़िलों से उतारा और उनके दिलों में रूअब डाला उनमें एक ग्रुप को तुम क़त्ल करते हो और एक ग्रुप को क़ैद
Aur humne tumhare haath lagaye unki zameen aur unki zameen aur unke makan aur unke maal aur woh zameen jis par tumne abhi qadam nahi rakha hai aur Allah har cheez par qadir hai,
(ف67)یعنی بنی قُرَیظہ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مقابل قریش و غطفان وغیرہ احزاب کی مدد کی تھی ۔(ف68)اس میں غزوۂ بنی قُرَیظہ کا بیان ہے ، یہ آخِرِ ذی قعدہ ۴ ھ یا ۵ھ میں ہوا جب غزوۂ خندق میں شب کو مخالفین کے لشکر بھاگ گئے جس کا اوپر کی آیات میں ذکر ہو چکا ہے اس شب کی صبح کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور صحابۂ کرام مدینہ طیّبہ میں تشریف لائے اور ہتھیار اتار دیئے ، اس روز ظہر کے وقت جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سر مبارک دھویا جا رہا تھا ، جبریلِ امین حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور نے ہتھیار رکھ دیئے ، فرشتوں نے چالیس روز سے ہتھیار نہیں رکھے ہیں ، اللہ تعالٰی آپ کو بنی قُرَیظہ کی طرف جانے کا حکم فرماتا ہے ، حضور نے حکم فرمایا کہ ندا کر دی جائے کہ جو فرمانبردار ہو وہ عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قُرَیظہ میں جا کر حضور یہ فرما کر روانہ ہو گئے اور مسلمان چلنے شروع ہوئے اور یکے بعد دیگرے حضور کی خدمت میں پہنچتے رہے یہاں تک کہ بعضے حضرات نمازِ عشا کے بعد پہنچے لیکن انہوں نے اس وقت تک عصر کی نماز نہیں پڑھی تھی کیونکہ حضور نے بنی قُرَیظہ میں پہنچ کر عصر کی نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا اس لئے اس روز انہوں نے عصر بعدِ عشا پڑھی اور اس پر نہ اللہ تعالٰی نے ان کی گرفت فرمائی نہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ، لشکرِ اسلام نے پچیس روز تک بنی قُرَیظہ کا محاصرہ رکھا اس سے وہ تنگ آ گئے اور اللہ تعالٰی نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم میرے حکم پر قلعوں سے اُتروگے ؟ انہوں نے انکار کیا تو فرمایا کیا قبیلۂ اوس کے سردار سعد بن معاذ کے حکم پر اُترو گے ؟ اس پر وہ راضی ہوئے اور سعد بن معاذ کو ان کے بارے میں حکم دینے پر مامور فرمایا ، حضرت سعد نے حکم دیاکہ مرد قتل کر دیئے جائیں ، عورتیں اور بچّے قید کئے جائیں پھر بازارِ مدینہ میں خندق کھودی گئی اور وہاں لا کر ان سب کی گردنیں ماری گئیں ، ان لوگوں میں قبیلۂ بنی نُضَیر کا سردار حُیَی بن اخطب اور بنی قُرَیظہ کا سردار کعب بن اسد بھی تھا اور یہ لوگ چھ سو یا سات سو جوان تھے جو گردنیں کاٹ کر خندق میں ڈال دیئے گئے ۔ (مدارک و جمل)(ف69)یعنی مقاتلین کو ۔(ف70)عورتوں اور بچّوں کو ۔
اور ہم نے تمہارے ہاتھ لگائے ان کی زمین اور ان کی زمین اور ان کے مکان اور ان کے مال (ف۷۱) اور وہ زمین جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا ہے (ف۷۲) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
And He bequeathed you their lands and their houses and their wealth, and land that you have not yet set foot upon; and Allah is Able to do all things.
और हमने तुम्हारे हाथ लगाए उनकी ज़मीन और उनकी ज़मीन और उनके मकान और उनके माल और वह ज़मीन जिस पर तुमने अभी कदम नहीं रखा है और अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है,
Ae ghaib batane wale (Nabi)! Apni bibiyon se farma de agar tum duniya ki zindagi aur uski aaraish chahti ho to aao main tumhein maal doon aur achhi tarah chhod doon,
(ف71)نقد اور سامان اور مویشی سب مسلمان کے قبضہ میں آئیں ۔(ف72)اس زمین سے مراد خیبر ہے جو فتحِ قُرَیظہ کے بعد مسلمانوں کے قبضہ میں آیا یا وہ ہر زمین مراد ہے جو قیامت تک فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آنے والی ہے ۔
اے غیب بتانے والے (نبی)! اپنی بیبیوں سے فرمادے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو (ف۷۳) تو آؤ میں تمہیں مال دُوں (ف۷٤) اور اچھی طرح چھوڑ دُوں (ف۷۵)
O Herald of the Hidden! Say to your wives, “If you desire the worldly life and its adornment – therefore come, I shall give you wealth and a befitting release!”
ए ग़ैब बताने वाले (नबी)! अपनी बीबियों से फ़रमा दे अगर तुम दुनिया की ज़िंदगी और उसकी आरीश चाहती हो तो आओ मैं तुम्हें माल दूँ और अच्छी तरह छोड़ दूँ
Aur agar tum Allah aur uske Rasool aur aakhirat ka ghar chahti ho to beshak Allah ne tumhari neki walion ke liye bada ajr tayar kar rakha hai,
(ف73)یعنی اگر تمہیں مالِ کثیر او ر اسبابِ عیش در کار ہے ۔ شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہٖ وسلم کی ازواجِ مطہرات نے آپ سے دنیوی سامان طلب کئے اور نفقہ میں زیادتی کی درخواست کی یہاں تو کمالِ زہد تھا سامانِ دنیا اور اس کا جمع کرنا گوارا ہی نہ تھا ، اس لئے یہ خاطرِ اقدس پر گراں ہوا اور یہ آیت نازل ہوئی اور ازواجِ مطہرات کو تخییر دی گئی ، اس وقت حضور کی نو بیبیاں تھیں ، پانچ قریشیہ (۱) حضرت عائشہ بنتِ ابی بکر صدیق (رضی اللہ تعالٰی عنہا) (۲) حفصہ بنتِ فاروق (۳) اُمِّ حبیبہ بنتِ ابی سفیان (۴) اُمِّ سلمٰی بنتِ امیہ (۵) سودہ بنتِ زَمْعَہ اور چار غیر قریشیہ (۶) زینب بنتِ جحش اسدیہ (۷) میمونہ بنتِ حارث ہلالیہ (۸) صفیہ بنتِ حُیَی بن اخطب خیبریہ (۹) جویریہ بنتِ حارث مصطلقیہ رضی اللہ تعالٰی عنھنّ ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہٖ وسلم نے سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کو یہ آیت سنا کر اختیا ر دیا اور فرمایا کہ جلدی نہ کرو اپنے والدین سے مشورہ کر کے جو رائے ہو اس پر عمل کرو ، انھوں نے عرض کیا حضور کے معا ملہ میں مشورہ کیسا ، میں اللہ کو اور اس کے رسول کو اور دارِ آخرت کو چاہتی ہو ں اور باقی از واج نے بھی یہی جواب دیا ۔ مسئلہ : جس عورت کو اختیار دیا جائے وہ اگر اپنے زوج کو اختیا ر کرے تو طلاق واقع نہیں ہوتی اور اگر اپنے نفس کو اختیار کرے تو ہمارے نزدیک طلاقِ بائن واقع ہو تی ہے ۔(ف74)جس عورت کے ساتھ بعدِ نکاح دخول یا خلوتِ صحیحہ ہوئی اس کو طلاق دی جائے تو کچھ سامان دینا مستحب ہے اور وہ سامان تین کپڑوں کا جوڑا ہو تا ہے ، یہا ں مال سے وہی مراد ہے ۔ مسئلہ : جس عورت کا مَہر مقرر نہ کیا گیا ہو اس کو قبلِ دخول طلاق دی تو یہ جوڑا دینا واجب ہے ۔(ف75)بغیر کسی ضرر کے ۔
اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے،
“And if you desire Allah and His Noble Messenger and the abode of the Hereafter – then indeed Allah has kept prepared an immense reward for the virtuous among you.”
और अगर तुम अल्लाह और उसके रसूल और आख़िरत का घर चाहती हो तो बेशक अल्लाह ने तुम्हारी नیکی वालों के लिए बड़ा अज्र तैयार कर रखा है,
Ae Nabi ki bibiyo! Jo tum mein sareeh haya ke khilaf koi jurrat kare us par auron se doona azaab hoga aur ye Allah ko aasan hai,
اے نبی کی بیبیو! جو تم میں صریح حیا کے خلاف کوئی جرأت کرے (ف۷٦) اس پر اوروں سے دُونا عذاب ہوگا (ف۷۷) اور یہ اللہ کو آسان ہے،
O the wives of the Prophet! If any among you dares to commit an act contrary to decency, for her will be double the punishment of others; and this is easy for Allah.
ए नबी की बीबियों! जो तुम में सरीह हया के ख़िलाफ़ कोई जुर्रत करे उस पर औरों से दुना आज़ाब होगा और यह अल्लाह को आसान है,
Aur jo tum mein farmanbardar rahe Allah aur Rasool ki aur acha kaam kare hum use auron se doona sawab denge aur humne uske liye izzat ki rozi tayar kar rakhi hai,
(ف76)جیسے کہ شوہر کی ا طاعت میں کوتاہی کرنا اور اس کے ساتھ کج خُلقی سے پیش آنا کیونکہ بدکاری سے تو اللہ تعالٰی انبیاء کی بیبیوں کو پاک رکھتا ہے ۔(ف77)کیونکہ جس شخص کی فضیلت زیادہ ہوتی ہے اس سے اگر قصور واقع ہو تو وہ قصور بھی دوسروں کے قصور سے زیادہ سخت قرار دیا جاتا ہے ۔مسئلہ : اسی لئے عالِم کا گناہ جاہل کے گناہ سے زیادہ قبیح ہوتا ہے اور اسی لئے آزادوں کی سزا شریعت میں غلاموں سے زیادہ مقرر ہے اور نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بیبیاں تمام جہان کی عورتوں سے زیادہ فضیلت رکھتی ہیں اس لئے ان کی اَدنٰی بات سخت گرفت کے قابل ہے ۔فائدہ : لفظِ فاحشہ جب معرفہ ہو کر وارد ہو تو اس سے زنا و لواطت مراد ہوتی ہے اور اگر نکرہ غیرِ موصو فہ ہو کر لایا جائے تو اس سے تمام گناہ مراد ہوتے ہیں اور جب موصو ف ہو کر وارد ہو تو اس سے شو ہر کی نافرمانی اور فسادِ معشرت مراد ہوتا ہے ، اس آیت میں نکرہ موصو فہ ہے اسی لئے اس سے شوہر کی اطاعت میں کوتاہی اور کج خُلقی مراد ہے جیسا کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما سے منقول ہے ۔ (جمل وغیرہ)
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page