اور (ف۷۸) جو تم میں فرمانبردار رہے اللہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے ہم اسے اوروں سے دُونا ثواب دیں گے (ف۷۹) اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے (ف۸۰)
And whoever among you remains obedient towards Allah and His Noble Messenger and does good deeds – We shall give her double the reward of others, and have kept prepared for her an honourable sustenance.
और जो तुम में फ़रमानबरदार रहे अल्लाह और रसूल की और अच्छा काम करे हम उसे औरों से दुना सवाब देंगे और हमने उसके लिए इज़्ज़त की रोज़ी तैयार कर रखी है
Ae Nabi ki bibiyo! Tum aur auraton ki tarah nahi ho agar Allah se daro to baat mein aisi narmi na karo ke dil ka rogi kuch lalach kare, haan achhi baat kaho,
(ف78)اے نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بیبیو ۔ (ف79)یعنی اگر اوروں کو ایک نیکی پر دس گنا ثواب دیں گے تو تمہیں بیس گنا کیونکہ تمام جہان کی عورتوں میں تمہیں شرف و فضیلت ہے اور تمہارے عمل میں بھی دو جہتیں ہیں ایک ادائے اطاعت دوسرے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضا جوئی اور قناعت و حُسنِ معاشرت کے ساتھ حضور کو خوشنود کرنا ۔(ف80)جنّت میں ۔
اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو (ف۸۱) اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے (ف۸۲) ہاں اچھی بات کہو (ف۸۳)
O the wives of the Prophet! You are not like any other women – if you really fear Allah, do not speak softly lest the one in whose heart is a disease have any inclination, and speak fairly.
ए नबी की बीबियों! तुम और औरतों की तरह नहीं हो अगर अल्लाह से डरो तो बात में ऐसी नरमी न करो कि दिल का रोगी कुछ लालच करे हाँ अच्छी बात कहो
Aur apne gharon mein thehri raho aur be-parda na raho jaise agli jahiliyat ki be-pardagi aur namaz qaim rakho aur zakat do aur Allah aur uske Rasool ka hukum mano, Allah to yehi chahta hai, Ae Nabi ke ghar walo! ke tumse har napakii door farma de aur tumhein pak kar ke khoob suthra kar de,
(ف81)تمہارا مرتبہ سب سے زیادہ ہے اور تمہارا اجر سب سے بڑھ کر جہان کی عورتوں میں کوئی تمہاری ہمسر نہیں ۔(ف82)اس میں تعلیمِ آداب ہے کہ اگر بہ ضرورت غیر مرد سے پسِ پردہ گفتگو کرنی پڑے تو قصد کرو کہ لہجہ میں نزاکت نہ آنے پائے اور بات میں لوچ نہ ہو ، بات نہایت سادگی سے کی جائے ، عِفّت مآب خواتین کے لئے یہی شایاں ہے ۔(ف83)دین و اسلام کی اور نیکی کی تعلیم اور پند و نصیحت کی اگر ضرورت پیش آئے مگر بے لوچ لہجہ سے ۔
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بےپردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بےپردگی (ف۸٤) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اللہ تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے (ف۸۵)
And remain in your houses and do not unveil yourselves like the unveiling prevalent in the times of ignorance, and keep the prayer established, and pay the charity, and obey Allah and His Noble Messenger; Allah only wills to remove all impurity from you, O the People of the Household, and by cleansing you make you utterly pure. (*The Holy Prophet’s household.)
और अपने घरों में ठहरी रहो और बे पर्दा न रहो जैसे अगली जाहिलियत की बे पर्दगी और नमाज़ कायम रखो और ज़क़ात दो और अल्लाह और उसके रसूल का हुक़्म मानो अल्लाह तो यही चाहता है, ए नबी के घर वालो! कि तुमसे हर नापाकी दूर फ़रमा दे और तुम्हें पाक कर के खूब सुथरा कर दे
Aur yaad karo jo tumhare gharon mein padhi jaati hain Allah ki aayatein aur hikmat, beshak Allah har bareeki jaanta khabardar hai,
(ف84)اگلی جاہلیّت سے مراد قبلِ اسلام کا زمانہ ہے اس زمانہ میں عورتیں اتراتی نکلتی تھیں ، اپنی زینت و محاسن کا اظہار کرتی تھیں کہ غیر مرد دیکھیں ، لباس ایسے پہنتی تھیں جن سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ ڈھکیں اور پچھلی جاہلیّت سے اخیرِ زمانہ مراد ہے جس میں لوگوں کے افعال پہلوں کی مثل ہو جائیں گے ۔(ف85)یعنی گناہوں کی نجاست سے تم آلودہ نہ ہو ۔ اس آیت سے اہلِ بیت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اوراہلِ بیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ازواجِ مطہرات اور حضرت خاتونِ جنّت فاطمہ زہرا اور علیِ مرتضٰی اور حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہم سب داخل ہیں ، آیات و احادیث کو جمع کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے اور یہی حضرت امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے ، ان آیات میں اہلِ بیتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نصیحت فرمائی گئی ہے تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور تقوٰی وپرہیزگاری کے پابند رہیں ، گناہوں کو ناپاکی سے اور پرہیزگاری کو پاکی سے استعارہ فرمایا گیا کیونکہ گناہوں کا مرتکب ان سے ایسا ہی ملوّث ہوتا ہے جیسا جسم نجاستوں سے ۔ اس طرزِ کلام سے مقصود یہ ہے کہ اربابِ عقول کو گناہوں سے نفرت دلائی جائے اور تقوٰی و پرہیزگاری کی ترغیب دی جائے ۔
اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں اللہ کی آیتیں اور حکمت (ف۸٦) بیشک اللہ ہر باریکی جانتا خبردار ہے،
And remember what is recited in your houses, from Allah’s verses and wisdom*; indeed Allah knows the minutest things, is All Aware. (The Holy Qur’an and the sayings- hadith – of the Holy Prophet.)
और याद करो जो तुम्हारे घरों में पढ़ी जाती हैं अल्लाह की आयतें और हिकमत बेशक अल्लाह हर बारिकी जानता ख़बरदार है,
Beshak musalman mard aur musalman aurat aur iman wale aur iman wali aur farmanbardar aur farmanbardar aur sachche aur sachchi aur sabr wale aur sabr wali aur aajzi karne wale aur aajzi karne wali aur khairaat karne wale aur khairaat karne wali aur roza rakhne wale aur roza rakhne wali aur apni parsaai nigah rakhne wale aur nigah rakhne wali aur Allah ko bohot yaad karne wale aur yaad karne wali, in sab ke liye usne bakhshish aur bada sawab tayar kar rakha hai,
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں (ف۸۷) اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمانبردار اور فرمانبرداریں اور سچے اور سچیاں (ف۸۸) اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اس نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے،
Indeed the Muslim men and Muslim women, and the believing men and the believing women, and the men who obey and the women who obey, and the truthful men and the truthful women, and the patient men and the patient women, and the humble men and the humble women, and charitable men and the charitable women, and the fasting men and the fasting women, and the men who guard their chastity and the women who guard their chastity, and the men who profusely remember Allah and the women who profusely remember Allah – for all of them, Allah has kept prepared forgiveness and an immense reward.
बेशक मुसलमान मर्द और मुसलमान औरतें और ईमान वाले और ईमान वाली और फ़रमानबरदार और फ़रमानबरदार और सच्चे और सच्चियाँ और सब्र वाले और सब्र वाली और عاجज़ी करने वाले और عاجज़ी करने वाली और ख़ैरात करने वाले और ख़ैरात करने वाली और रोज़े वाले और रोज़े वाली और अपनी पारसाई नज़र रखने वाले और नज़र रखने वाली और अल्लाह को बहुत याद करने वाले और याद करने वाली इन सब के लिए उसने बख़्शिश और बड़ा सवाब तैयार कर रखा है,
Aur na kisi musalman mard na musalman aurat ko pohanchta hai ke jab Allah o Rasool kuch hukum farma dein to unhein apne maamla ka kuch ikhtiyar rahe, aur jo hukum na maane Allah aur uske Rasool ka woh beshak sareeh gumrahi bahka,
(ف87)شانِ نُزول : اسماء بنتِ عمیس جب اپنے شوہر جعفر بن ابی طالب کے ساتھ حبشہ سے واپس آئیں تو ازواجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مل کر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا عورتوں کے باب میں بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں تو اسماء نے حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ حضور عورتیں بڑے ٹوٹے میں ہیں فرمایا کیوں ؟ عرض کیا کہ ان کا ذکر خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں جیسا کہ مَردوں کا ہوتا ہے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مَردوں کے ساتھ ذکر کئے گئے اور ان کے ساتھ ان کی مدح فرمائی گئی اور مراتب میں سے پہلا مرتبہ اسلام ہے جو خدا اور رسول کی فرمانبرداری ہے ، دوسرا ایمان کہ وہ اعتقادِ صحیح اور ظاہر و باطن کا موافق ہونا ہے ، تیسرا مرتبہ قنوت یعنی طاعت ہے ۔(ف88)اس میں چوتھے مرتبہ کا بیان ہے کہ وہ صدقِ نیّات و صدقِ اقوال و افعال ہے ، اس کے بعد پانچویں مرتبہ صبر کا بیان ہے کہ طاعتوں کی پابندی کرنا اور ممنوعات سے احتراز رکھنا خواہ نفس پر کتنا ہی شاق اور گراں ہو رضائے الٰہی کے لئے اختیار کیا جائے ، اس کے بعد پھرچھٹے مرتبہ خشوع کا بیان ہے جو طاعتوں اور عبادتوں میں قلوب و جوارح کے ساتھ متواضع ہونا ہے ، اس کے بعد ساتویں مرتبہ صدقہ کا بیان ہے جو اللہ تعالٰی کے عطا کئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں بطریقِ فرض و نفل دینا ہے پھر آٹھویں مرتبہ صوم کا بیان ہے یہ بھی فرض و نفل دونوں کو شامل ہے ۔ منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درم صدقہ کیا وہ متصدّقین میں اور جس نے ہر مہینہ ایامِ بیض کے تین روزے رکھے وہ صائمین میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد نویں مرتبہ عِفّت کا بیان ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنی پارسائی کو محفوظ رکھے اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچے ، سب سے آخر میں دسویں مرتبہ کثرتِ ذکر کا بیان ہے ذکر میں تسبیح ، تحمید ، تہلیل ، تکبیر ، قراءتِ قرآن ، علمِ دِین کا پڑھنا پڑھانا ، نماز ، وعظ ، نصیحت ، میلاد شریف ، نعت شریف پڑھنا سب داخل ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ بندہ ذاکرین میں جب شمار ہوتا ہے جب کہ وہ کھڑے ، بیٹھے ، لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرے ۔
اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللہ و رسول کچھ حکم فرمادیں تو انھیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے (ف۸۹) اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صریح گمراہی بہکا،
And no Muslim man or woman has any right in the affair, when Allah and His Noble Messenger have decreed a command regarding it; and whoever does not obey the command of Allah and His Noble Messenger, has indeed clearly gone very astray.
और न किसी मुसलमान मर्द न मुसलमान औरत को पहुँचता है कि जब अल्लाह व रसूल कुछ हुक़्म फ़रमा दें तो उन्हें अपने मुआमला का कुछ इख़्तियार रहे और जो हुक़्म न माने अल्लाह और उसके रसूल का वह बेशक सरीह ग़ुमराही बहका,
Aur Ae mehboob! Yaad karo jab tum farmaate the us se jise Allah ne nimat di aur tumne use nimat di ke apni biwi apne paas rehne de aur Allah se dar aur tum apne dil mein rakhte the woh jise Allah ko zahir karna manzoor tha aur tumhein logon ke taznah ka andesha tha aur Allah zyada saza war hai ke uska khauf rakho, phir jab Zaid ki gharz us se nikal gayi to humne woh tumhare nikah mein de di ke musalmanon par kuch harj na rahe unke lepalakon (munh bole beton) ki bibiyon mein jab un se unka kaam khatam ho jaaye aur Allah ka hukum ho kar rehna,
(ف89)شانِ نُزول : یہ آیت زینب بنتِ جحش اسدیہ اور ان کے بھائی عبداللہ بن حجش اور ان کی والدہ اُمیمہ بنتِ عبدالمطلب کے حق میں نازل ہوئی ، اُمیمہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پھوپھی تھیں ۔ واقعہ یہ تھا کہ زید بن حارثہ جن کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آزاد کیا تھا اور وہ حضور ہی کی خدمت میں رہتے تھے حضور نے زینب کے لئے ان کا پیام دیا ، اس کو زینب نے اور ان کے بھائی نے منظور نہیں کیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور حضرت زینب اور ان کے بھائی اس حکم کو سن کر راضی ہو گئے اور حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت زید کا نکاح ان کے ساتھ کر دیا اور حضور نے ان کا مَہر دس دینار ساٹھ درھم ، ایک جوڑا کپڑا ، پچاس مُد (ایک پیمانہ ہے) کھانا ، تیس صاع کھجوریں دیں ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طاعت ہر امر میں واجب ہے اور نبی علیہ السلام کے مقابلہ میں کوئی اپنے نفس کا بھی خود مختار نہیں ۔ مسئلہ : اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ امر وجوب کے لئے ہوتا ہے ۔فائدہ : بعض تفاسیر میں حضرت زید کو غلام کہا گیا ہے مگر یہ خالی از تسامح نہیں کیونکہ وہ حُر تھے گرفتاری سے بالخصوص قبلِ بعثت شرعاً کوئی شخص مرقوق یعنی مملوک نہیں ہو جاتا اور وہ زمانہ فَترت کا تھا اور اہلِ فَترت کو حربی نہیں کہا جاتا ۔ (کَذَافِی الْجُمل)
اور اے محبوب! یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللہ نے اسے نعمت دی (ف۹۰) اور تم نے اسے نعمت دی (ف۹۱) کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے (ف۹۲) اور اللہ سے ڈر (ف۹۳) اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا (ف۹٤) اور تمہیں لوگوں کے طعنہ کا اندیشہ تھا (ف۹۵) اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو (ف۹٦) پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی (ف۹۷) تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی (ف۹۸) کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے (ف۹۹) اور اللہ کا حکم ہو کر رہنا،
And O dear Prophet, remember when you said to him upon whom Allah has bestowed favour and you had bestowed favour, “Keep your wife with you, and fear Allah”, and you kept in your heart what Allah willed to make known, and you feared criticism from the people; and Allah has more right that you should fear Him; so when Zaid became unconcerned with her, We gave her to you in marriage, so that there may be no sin upon believers in respect of the wives of their adopted sons when they have become unconcerned with them; and the command of Allah must be carried out.
और ए महबूब! याद करो जब तुम फ़रमाते थे उससे जिसे अल्लाह ने उसे नेमत दी और तुमने उसे नेमत दी कि अपनी बीबी अपने पास रहने दे और अल्लाह से डर और तुम अपने दिल में रखते थे वह जिसे अल्लाह को ज़ाहिर करना मंजूर था और तुम्हें लोगों के तज़न का अंदेशा था और अल्लाह ज़्यादा सज़ावार है कि उसका ख़ौफ़ रखो फिर जब ज़ैद की ग़रज़ उससे निकल गई तो हमने वह तुम्हारे निकाह में दे दी कि मुसलमानों पर कुछ हरज न रहे उनके लेपालकों (मुँह बोले बेटों) की बीबियों में जब उनसे उनका काम ख़त्म हो जाए और अल्लाह का हुक़्म हो कर रहना,
Nabi par koi harj nahi is baat mein jo Allah ne uske liye muqarar farmayi, Allah ka dastoor chala aa raha hai is mein jo pehle guzre, aur Allah ka kaam muqarar taqdeer hai,
(ف90)اسلام کی جو بڑی جلیل نعمت ہے ۔(ف91)آزاد فرما کر ، مراد اس سے حضرت زید بن حارثہ ہیں کہ حضور نے انہیں آزاد کیا اور ان کی پرورش فرمائی ۔(ف92)شانِ نُزول : جب حضرت زید کا نکاح حضرت زینب سے ہو چکا تو حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس اللہ تعالٰی کی طرف سے وحی آئی کہ زینب آپ کے ازواجِ طاہرات میں داخل ہوں گی اللہ تعالٰی کو یہی منظور ہے ، اس کی صورت یہ ہوئی کہ حضرت زید اور زینب کے درمیان موافقت نہ ہوئی اور حضرت زید نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے حضرت زینب کی سخت گفتاری ، تیز زبانی ، عدمِ اطاعت اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کی شکایت کی ، ایسا بار بار اتفاق ہوا ، حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت زید کو سمجھا دیتے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف93)زینب پر کِبَر و ایذائے شوہر کے الزام لگانے میں ۔(ف94)یعنی آپ پر یہ ظاہر نہیں فرماتے تھے کہ زینب سے تمہارا نباہ نہیں ہو سکے گا اور طلاق ضرور واقع ہو گی اور اللہ تعالٰی انہیں ازواجِ مطہرات میں داخل کرے گا اور اللہ تعالٰی کو اس کا ظاہر کرنا منظور تھا ۔(ف95)یعنی جب حضرت زید نے زینب کو طلاق دے دی تو آپ کو لوگوں کے طعن کا اندیشہ ہوا کہ اللہ تعالٰی کا حکم تو ہے حضرت زینب کے ساتھ نکاح کرنے کا اور ایسا کرنے سے لوگ طعنہ دیں گے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایسی عورت کے ساتھ نکاح کر لیا جو ان کے منہ بولے بیٹے کے نکاح میں رہی تھی ۔ مقصود یہ ہے کہ امرِ مباح میں بے جا طعن کرنے والوں کا کچھ اندیشہ نہ کرنا چاہئے ۔(ف96)اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھنے والے اور سب سے زیادہ تقوٰی والے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔(ف97)اور حضر ت زید نے حضرت زینب کو طلاق دے دی اور عدّت گزر گئی ۔(ف98)حضرت زینب کی عدّت گزرنے کے بعد ان کے پاس حضرت زید رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا پیام لے کر گئے اور انہوں نے سر جھکا کر کمالِ شرم و ادب سے انہیں یہ پیام پہنچایا ، انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں اپنی رائے کو کچھ بھی دخل نہیں دیتی جو میرے ربّ کو منظور ہو اس پر راضی ہوں یہ کہہ کر وہ بارگاہِ الٰہی میں متوجّہ ہوئیں اور انہوں نے نماز شروع کر دی اور یہ آیت نازل ہوئی حضرت زینب کو اس نکاح سے بہت خوشی اور فخر ہوا ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس شادی کا ولیمہ بہت وسعت کے ساتھ کیا ۔(ف99)یعنی تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ لے پالک کی بی بی سے نکاح جائز ہے ۔
نبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی (ف۱۰۰) اللہ کا دستور چلا آرہا ہے اس میں جو پہلے گزر چکے (ف۱۰۱) اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے
There is no blame upon the Prophet regarding the matter that Allah has decreed for him; it has been Allah’s tradition in those who passed before; and the command of Allah is a certain destiny.
नबी पर कोई हरज नहीं उस बात में जो अल्लाह ने उसके लिए मुअय्यर फ़रमाई अल्लाह का दस्तूर चला आ रहा है इसमें जो पहले गुजर चुके और अल्लाह का काम मुअय्यर तक़दीर है
Woh jo Allah ke paigham pohanchate aur us se darte aur Allah ke siwa kisi ka khauf na kare, aur Allah bas hai hisaab lene wala,
(ف100)یعنی اللہ تعالٰی نے جو ان کے لئے مباح کیا اور بابِ نکاح میں جو و سعت انہیں عطا فرمائی اس پر اقدام کرنے میں کچھ حرج نہیں ۔(ف101)یعنی انبیاء علیہم السلام کو بابِ نکاح میں وسعتیں دی گئیں کہ دوسروں سے زیادہ عورتیں ان کے لئے حلال فرمائیں جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی سو بیبیاں اورحضرت سلیمٰن علیہ السلام کی تین سو بیبیاں تھیں یہ ان کے خاص احکام ہیں ان کے سوا دوسروں کو روا نہیں ، نہ کوئی اس پر معترض ہو سکتا ہے ۔ اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں جس کے لئے جو حکم فرمائے اس پر کسی کو اعتراض کی کیا مجال ۔ اس میں یہود کا رد ہے جنہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم پر چار سے زیادہ نکاح کرنے پر طعن کیا تھا اس میں انہیں بتایا گیا کہ یہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے خاص ہے جیسا کہ پہلے انبیاء کے لئے تعدادِ ازواج میں خاص احکام تھے ۔
محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں (ف۱۰۳) ہاں اللہ کے رسول ہیں (ف۱۰٤) اور سب نبیوں کے پچھلے (ف۱۰۵) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
Mohammed (peace and blessings be upon him) is not the father of any man among you – but he is the Noble Messenger of Allah and the Last of the Prophets*; and Allah knows all things. (* Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is the Last Prophet. There can be no new Prophet after him).
मुहम्मद तुम्हारे मर्दों में किसी के बाप नहीं हाँ अल्लाह के रसूल हैं और सब नबियों के पिछले और अल्लाह सब कुछ जानता है,
Ae iman walo! Allah ko bohot zyada yaad karo,
(ف103)تو حضرت زید کے بھی آپ حقیقت میں باپ نہیں کہ ان کی منکوحہ آپ کے لئے حلال نہ ہوتی ، قاسم و طیّب و طاہر و ابراہیم حضور کے فرزند تھے مگر وہ اس عمر کو نہ پہنچے کہ انہیں مرد کہا جائے ، انہوں نے بچپن میں وفات پائی ۔(ف104)اور سب رسول ناصح شفیق اور واجب التوقیر و لازم الطاعۃ ہونے کے لحاظ سے اپنی اُمّت کے باپ کہلاتے ہیں بلکہ ان کے حقوق حقیقی باپ کے حقوق سے بہت زیادہ ہیں لیکن اس سے اُمّت حقیقی اولاد نہیں ہو جاتی اور حقیقی اولاد کے تمام احکام وراثت وغیرہ اس کے لئے ثابت نہیں ہوتے ۔(ف105)یعنی آخر الانبیاء کہ نبوّت آپ پر ختم ہو گئی آپ کی نبوّت کے بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی حتّٰی کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام نازل ہو ں گے تو اگرچہ نبوّت پہلے پا چکے ہیں مگر نُزول کے بعد شریعتِ محمّدیہ پر عامل ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبہ معظّمہ کی طرف نماز پڑھیں گے ، حضور کا آخر الانبیاء ہونا قطعی ہے ، نصِّ قرآنی بھی اس میں وارد ہے اور صحاح کی بکثرت احادیثِ تو حدِّ تواتر تک پہنچتی ہیں ۔ ان سب سے ثابت ہے کہ حضور سب سے پچھلے نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں جو حضور کی نبوّت کے بعد کسی اور کو نبوّت ملنا ممکن جانے ، وہ ختمِ نبوّت کا منکِر اور کافِر خارج از اسلام ہے ۔
Wahi hai ke durood bhejta hai tum par, woh aur uske farishte ke tumhein andheriyon se ujale ki taraf nikale aur woh musalmanon par meherban hai,
(ف106)کیونکہ صبح اور شام کے اوقات ملائکۂ روز و شب کے جمع ہونے کے وقت ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اطرافِ لیل و نہار کا ذکر کرنے سے ذکر کی مداومت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ۔
وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے (ف۱۰۷) کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالے (ف۱۰۸) اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے،
It is He Who sends blessings upon you*, and so do His angels, so that He may bring you out from darkness into light; and He is Most Merciful upon the Muslims. (* Upon the companions of the Holy Prophet).
वही है कि दरूद भीजता है तुम पर वह और उसके फ़रिश्ते कि तुम्हें अंधेरियों से उजाले की तरफ़ निकालें और वह मुसलमानों पर मेहरबान है,
Unke liye milte waqt ki dua salaam hai aur unke liye izzat ka sawab tayar kar rakha hai,
(ف107)شانِ نُزول : حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جب آیت ' اِنَّ اللہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ' نازل ہوئی تو حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب آپ کو اللہ تعالٰی کوئی فضل و شرف عطا فرماتا ہے تو ہم نیاز مندوں کو بھی آپ کے طفیل میں نوازتا ہے ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔(ف108)یعنی کُفر و معصیت اور ناخدا شناسی کی اندھیریوں سے حق و ہدایت اور معرفت و خدا شناسی کی روشنی کی طرف ہدایت فرمائے ۔
ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے (ف۱۰۹) اور ان کے لیے عزت کا ثواب تیار کر رکھا ہے،
For them the salutation upon their meeting* is “Peace”; and an honourable reward is kept prepared for them. (* Upon death / while entering Paradise / meeting with Allah).
उनके लिए मिलते वक्त की दुआ सलाम है और उनके लिए इज़्ज़त का सवाब तैयार कर रखा है,
Ae ghaib ki khabrein batane wale (Nabi)! Beshak humne tumhe bheja hazir naazir aur khushkhbari deta aur dar sunata,
(ف109)ملتے وقت سے مراد یا موت کا وقت ہے یا قبروں سے نکلنے کا یا جنّت میں داخل ہونے کا ۔ مروی ہے کہ حضرت مَلَک الموت علیہ السلام کسی مومن کی روح اس کو سلام کئے بغیر قبض نہیں فرماتے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ جب مَلَک الموت مومن کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تیرا ربّ تجھے سلام فرماتا ہے اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ مومنین جب قبروں سے نکلیں گے تو ملائکہ سلامتی کی بشارت کے طور پر انہیں سلام کریں گے ۔ (جمل وخازن)
۔ ( اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر (ف۱۱۰) اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا (ف۱۱۱)
O Herald of the Hidden! We have indeed sent you as an observing present witness and a Herald of glad tidings and warning.
ए ग़ैब की खबरें बताने वाले (नबी) बेशक हमने तुम्हें भेजा हाज़िर नाज़िर और खुशख़बरी देता और डर सुनाता
Aur Allah ki taraf uske hukum se bulata aur chamka dene wala aftab,
(ف110)شاہد کا ترجمہ حاضر و ناظر بہت بہترین ترجمہ ہے ، مفرداتِ راغب میں ہے ' اَلشُّھُوْدُ وَ الشَّھَادَۃُ الْحُضُوْرُ مَعَ الْمُشَاھَدَۃِ اِمَّا بِالْبَصَرِ اَوْ بِالْبَصِیْرَۃِ ' یعنی شہود اور شہادت کے معنٰی ہیں حاضر ہونا مع ناظر ہونے کے بصر کے ساتھ ہو یا بصیرت کے ساتھ اور گواہ کو بھی اسی لئے شاہد کہتے ہیں کہ وہ مشاہدہ کے ساتھ جو علم رکھتا ہے اس کو بیان کرتا ہے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام عالَم کی طرف مبعوث ہیں ، آپ کی رسالت عامّہ ہے جیسا کہ سورۂ فرقان کی پہلی آیت میں بیان ہوا تو حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قیامت تک ہونے والی ساری خَلق کے شاہد ہیں اور ان کے اعمال و افعال و احوال ، تصدیق ، تکذیب ، ہدایت ، ضلال سب کا مشاہدہ فرماتے ہیں ۔ (ابوالسعود وجمل)(ف111)یعنی ایمانداروں کو جنّت کی خوشخبری اور کافِروں کو عذابِ جہنّم کا ڈر سناتا ۔
اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا (ف۱۱۲) اور چمکا دینے دینے والا آفتاب (ف۱۱۳)
And as a caller towards Allah, by His command, and as a sun that enlightens. (The Holy Prophet is a light from Allah.)
और अल्लाह की तरफ़ उसके हुक़्म से बुलाता और चमका देने वाला आफ़ताब
Aur iman walon ko khushkhbari do ke unke liye Allah ka bada fazl hai,
(ف112)یعنی خَلق کو طاقتِ الٰہی کی دعوت دیتا ۔(ف113)سراج کا ترجمہ آفتاب قرآنِ کریم کے بالکل مطابق ہے کہ اس میں آفتاب کو سراج فرمایا گیا ہے جیسا کہ سورۂ نوح میں ' وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِراَجاً 'اور آخِرِ پارہ کی پہلی سورۃ میں ہے' وَجَعَلْنَا سِرَاجاً وَّھَّاجاً ' اور درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نورِ نبوّت نے پہنچائی اور کُفر و شرک کے ظلماتِ شدیدہ کو اپنے نُورِ حقیقت افروز سے دور کر دیا اور خَلق کے لئے معرفت و توحیدِ الٰہی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کر دیں اور ضلالت کے وادیٔ تاریک میں راہ گم کرنے والوں کو اپنے انوارِ ہدایت سے راہ یاب فرمایا اور اپنے نورِ نبوّت سے ضمائر وبصائر اور قلوب و ارواح کو منوّر کیا ، حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتابِ عالَم تاب ہے جس نے ہزارہا آفتاب بنا دیئے اسی لئے اس کی صفت میں منیر ارشاد فرمایا گیا ۔
اور کافروں اور منافقوں کی خوشی نہ کرو اور ان کی ایذا پر درگزر فرماؤ (ف۱۱٤) اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بس ہے کارساز،
And do not please the disbelievers and the hypocrites, and overlook the pain they cause and rely upon Allah; and Allah suffices as a Trustee.
और काफ़िरों और मुनाफ़िकों की खुशी न करो और उनकी एज़ा पर दरगुज़र फ़रमाओ और अल्लाह पर भरोसा रखो, और अल्लाह बस है क़ारसाज़,
Ae iman walo! Jab tum musalman auraton se nikah karo phir unhein be-haath lagae chhod do to tumhare liye kuch iddat nahi, jise gino to unhein kuch faida do aur achhi tarah se chhod do,
(ف114)جب تک کہ اس بارے میں اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی حکم دیا جائے ۔
اے ایمان والو! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انھیں بےہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لیے کچھ عدت نہیں جسے گنو (ف۱۱۵) تو انھیں کچھ فائدہ دو (ف۱۱٦) اور اچھی طرح سے چھوڑ دو (ف۱۱۷)
O People who Believe! If you marry Muslim women and divorce them without having touched them, so for you there is no waiting period for the women, which you may count; therefore give them some benefit and release them with a proper release.
ए ईमान वालो! जब तुम मुसलमान औरतों से निकाह करो फिर उन्हें बे हाथ लगाएँ छोड़ दो तो तुम्हारे लिए कुछ अद्दत नहीं जिसे गिनो तो उन्हें कुछ फ़ायदा दो और अच्छी तरह से छोड़ दो
Ae ghaib batane wale (Nabi)! Humne tumhare liye halal farmaaye tumhari woh bibiyan jin ko tum mehr do aur tumhare haath ka maal kaneezain jo Allah ne tumhe ghaneemat mein di aur tumhare chacha ki betiyan aur phuphiyon ki betiyan aur mamoon ki betiyan aur khalo ki betiyan jinhone tumhare saath hijrat ki aur iman wali aurat agar woh apni jaan Nabi ki nazar kare agar Nabi use nikah mein lana chahe, ye khaas tumhare liye hai, ummat ke liye nahi, humein maaloom hai jo humne musalmanon par muqarar kiya hai unki bibiyon aur unke haath ki maal kaneezon mein, ye khusoosiyat tumhari isliye ke tum par koi tangi na ho, aur Allah bakshne wala meherban,
(ف115)مسئلہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر عورت کو قبلِ قربت طلاق دی تو اس پر عدّت واجب نہیں ۔مسئلہ : خلوتِ صحیحہ قربت کے حکم میں ہے تو اگر خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق واقع ہو تو عدّت واجب ہوگی اگرچہ مباشرت نہ ہوئی ہو ۔مسئلہ : یہ حکم مومنہ اور کتابیہ دونوں کو عام ہے لیکن آیت میں مومنات کا ذکر فرمانا اس طرف مشیر ہے کہ نکاح کرنا مومنہ سے اَولٰی ہے ۔(ف116)مسئلہ : یعنی اگر ان کا مَہر مقرر ہو چکا تھا تو قبلِ خلوت طلاق دینے سے شوہر پر نصف مَہر واجب ہو گا اور اگر مَہر مقرر نہیں ہوا تھا تو ایک جوڑا دینا واجب ہے جس میں تین کپڑے ہوتے ہیں ۔(ف117)اچھی طرح چھوڑنا یہ ہے کہ ان کے حقوق ادا کر دیئے جائیں اور ان کو کوئی ضرر نہ دیا جائے اور انہیں روکا نہ جائے کیونکہ ان پر عدّت نہیں ہے ۔
اے غیب بتانے والے (نبی)! ہم نے تمہارے لیے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو (ف۱۱۸) اور تمہارے ہاتھ کا مال کنیزیں جو اللہ نے تمہیں غنیمت میں دیں (ف۱۱۹) اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور پھپیوں کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی (ف۱۲۰) اور ایمان والی عورت اگر وہ اپنی جان نبی کی نذر کرے اگر نبی اسے نکاح میں لانا چاہے (ف۱۲۱) یہ خاص تمہارے لیے ہہے امت کے لیے نہیں (ف۱۲۲) ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر مقرر کیا ہے ان کی بیبیوں اور ان کے ہاتھ کی مال کنیزوں میں (ف۱۲۳) یہ خصوصیت تمہاری (ف۱۲٤) اس لیے کہ تم پر کوئی تنگی نہ ہو، اور اللہ بخشنے والا مہربان،
O Herald of the Hidden! We have indeed made lawful for you the wives to whom you have paid their bridal money, and the bondwomen you possess whom Allah gave you as war booty, and the daughters of your paternal uncles, and the daughters of your paternal aunts, and the daughters of your maternal uncles, and the daughters of your maternal aunts, those who migrated with you; and the believing woman if she gifts her life to the Prophet, if the Prophet desires to take her in marriage; this is exclusively for you, not for your followers; We indeed know what We have enjoined upon the Muslims concerning their wives and the bondwomen they possess – this exclusivity for you is so that you may not have constraints; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ए ग़ैब बताने वाले (नबी)! हमने तुम्हारे लिए हलाल फ़रमाई तुम्हारी वह बीबियां जिन्हें तुम मेहर दो और तुम्हारे हाथ का माल क़नीज़ें जो अल्लाह ने तुम्हें घ़नीमत में दीं और तुम्हारे चाचा की बेटियाँ और फूफियों की बेटियाँ और मामूँ की बेटियाँ और खालाओं की बेटियाँ जिन्होंने तुम्हारे साथ हिजरत की और ईमान वाली औरत अगर वह अपनी जान नबी की नज़र करे अगर नबी उसे निकाह में लाना चाहे यह ख़ास तुम्हारे लिए है उम्मत के लिए नहीं हमें मालूम है जो हमने मुसलमानों पर मुअय्यर किया है उनकी बीबियों और उनके हाथ की माल क़नीज़ों में यह ख़ुसूसियत तुम्हारी इस लिए कि तुम पर कोई तंगी न हो, और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान,
Peechay hatao un mein se jise chaho aur apne paas jagah do jise chaho aur jise tumne kinara kar diya tha use tumhara ji chahe to is mein bhi tum par kuch gunah nahi, ye amr us se nazdeek tar hai ke unki aankhen thandi hoon aur gham na karein aur tum unhein jo kuch ata farmaao us par woh sab ki sab razi rahen aur Allah jaanta hai jo tum sab ke dilon mein hai, aur Allah ilm o hulm wala hai,
(ف118)مَہر کی تعجیل اور عقد میں تعیُّن افضل ہےشرطِ حلت نہیں کیونکہ مَہر کو مُعَجَّل طریقہ پر دینا یا اس کو مقرر کرنا اَولٰی اور بہتر ہے واجب نہیں ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف119)مثل حضرت صفیہ و حضرت جویریہ کے جن کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آزاد فرمایا اور ان سے نکاح کیا ۔مسئلہ : غنیمت میں ملنے کا ذکر بھی فضیلت کے لئے ہے کیونکہ مملوکات بمِلکِ یمین خواہ خرید سے مِلک میں آئی ہوں یا ہبہ سے یا وارثت سے یا وصیّت سے وہ سب حلال ہیں ۔(ف120)ساتھ ہجرت کرنے کی قید بھی افضل کا بیان ہے کیونکہ بغیر ساتھ ہجرت کرنے کے بھی ان میں سے ہر ایک حلال ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خاص حضور کے حق میں ان عورتوں کی حِلّت اس قید کے ساتھ مقیّد ہو جیسا کہ اُمِّ ہانی بنتِ ابی طالب کی روایت اس طرف مشیر ہے ۔(ف121)معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کے لئے اس مومنہ عورت کو حلال کیا جو بغیر مَہر اور بغیر شروطِ نکاح اپنی جان آپ کو ہبہ کرے بشرطیکہ آپ اسے نکاح میں لانے کا ارادہ فرمائیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس میں آئندہ کے حکم کابیان ہے کیونکہ وقتِ نُزولِ آیت حضور کے ازواج میں سے کوئی بھی ایسی نہ تھیں جو ہبہ کے ذریعہ سے مشرف بَزوجیّت ہوئی ہوں اور جن مومنہ بیبیوں نے اپنی جانیں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نذر کر دیں وہ میمونہ بنتِ حارث اور خولہ بنتِ حکیم اور اُمِّ شریک اور زینب بنتِ خزیمہ ہیں ۔ (تفسیرِ احمدی)(ف122)یعنی نکاح بے مَہرِ خاص آ پ کے لئے جائز ہے اُمّت کے لئے نہیں ، امّت پر بہرحال مَہر واجب ہے خواہ وہ مَہر معیّن نہ کریں یا قصداً مَہر کی نفی کریں ۔ مسئلہ : نکاح بلفظِ ہبہ جائز ہے ۔(ف123)یعنی بیبیوں کے حق میں جو کچھ مقرر فرمایا ہے مَہر اور گواہ اور باری کا واجب ہونا اور چار حُرّہ عورتوں تک کو نکاح میں لانا ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ شرعاً مَہر کی مقدار اللہ تعالٰی کے نزدیک مقرر ہے اور وہ دس درہم ہیں جس سے کم کرنا ممنوع ہےجیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔(ف124)جو اوپر ذکر ہوئی کہ عورتیں آپ کے لئے مَحض ہبہ سے بغیر مَہر کے حلال کی گئیں ۔
پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو (ف۱۲۵) اور جسے تم نے کنارے کردیا تھا اسے تمہارا جی چاہے تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۱۲٦) یہ امر اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غم نہ کریں اور تم انھیں جو کچھ عطا فرماؤ اس پر وہ سب کی سب راضی رہیں (ف۱۲۷) اور اللہ جانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے، اور اللہ علم و حلم والا ہے،
Put back in the order whom you wish among them and give your proximity to whomever you wish; and if you incline towards one whom you had set aside, there is no sin upon you in it; this command is closer to their eyes remaining soothed and not grieving, and all of them remaining happy with whatever you give them; and Allah knows what is in the hearts of you all; and Allah is All Knowing, Most Forbearing.
पीछे हटाओ उनमें से जिसे चाहो और अपने पास जगह दो जिसे चाहो और जिसे तुमने किनारे कर दिया था उसे तुम्हारा जी चाहे तो इस में भी तुम पर कुछ गुनाह नहीं यह अमर इससे नज़दीकतर है कि उनकी आँखें ठंडी हों और ग़म न करें और तुम उन्हें जो कुछ अता फ़रमाओ उस पर वे सब की सब रज़ी रहें और अल्लाह जानता है जो तुम सब के दिलों में है, और अल्लाह इल्म व हिल्म वाला है,
Unke baad aur auratein tumhein halal nahi aur na ye ke unke avaz aur bibiyan badlo agarche tumhein unka husn bhaye, magar kaneez tumhare haath ka malik aur Allah har cheez par nigehban hai,
(ف125)یعنی آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ جس بی بی کو چاہیں پاس رکھیں اور بیبیوں میں باری مقرر کریں یا نہ کریں لیکن باوجود اس اختیار کے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام ازواجِ مطہرات کے ساتھ عدل فرماتے اور ان کی باریاں برابر رکھتے بَجُز حضرت سودہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے جنہوں نے اپنی باری کا دن حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو دے دیا تھا اور بارگاہِ رسالت میں عرض کیا تھا کہ میرے لئے یہی کافی ہے کہ میرا حشر آپ کے ازواج میں ہو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ یہ آیت ان عورتوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنی جانیں حضور کو نذر کیں اور حضور کو اختیار دیا گیا کہ ان میں سے جس کو چاہیں قبول کریں اس کے ساتھ تزوُّج فرمائیں اور جس کو چاہیں انکار فرما دیں ۔(ف126)یعنی ازواج میں سے آپ نے جس کو معزول یا ساقط القسمۃ کر دیا ہو آپ جب چاہیں اس کی طرف التفات فرمائیں اور اس کو نوازیں اس کا آپ کو اختیار دیا گیا ہے ۔(ف127)کیونکہ جب وہ یہ جانیں گی کہ یہ تفویض اور یہ اختیار آپ کو اللہ تعالٰی کی طرف سے عطا ہوا ہے تو ان کے قلوب مطمئن ہو جائیں گے ۔
ان کے بعد (۱۲۸) اور عورتیں تمہیں حلال نہیں (ف۱۲۹) اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو (ف۱۳۰) اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے مگر کنیز تمہارے ہاتھ کا مالک (ف۱۳۱) اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے،
Other women are not permitted for you after these, nor that you change them for other wives even if their beauty pleases you except the bondwomen whom you possess; and Allah is the Guardian over all things.
उनके बाद औरतें तुम्हें हलाल नहीं और न यह कि उनके बदले और बीबियां बदलो भले तुम्हें उनका हुस्न भाए मगर क़नीज़ तुम्हारे हाथ का मालिक और अल्लाह हर चीज़ पर निग़हबान है,
Ae iman walo! Nabi ke gharon mein na hazir ho jab tak izn na pao, maslan khane ke liye bulaye jao, na yun ke khud uske pakne ki raah tako, haan jab bulaye jao to hazir ho aur jab kha chuko to mutafarriq ho jao, na ye ke baithe baaton mein dil behlao, beshak is mein Nabi ko eza hoti thi to woh tumhara lihaaz farmaate the aur Allah haq farmane mein nahi sharmata, aur jab tum un se bartne ki koi cheez mango to parde ke bahar mango, is mein zyada suthrai hai tumhare dilon aur unke dilon ki aur tumhein nahi pohanchta ke Rasool Allah ko eza do aur na ye ke unke baad kabhi unki bibiyon se nikah karo, beshak ye Allah ke nazdeek bari sakht baat hai,
(ف128)یعنی ان نو بیبیوں کے بعد جو آپ کے نکاح میں ہیں جہنیں آپ نے اختیار دیا تو انہوں نے اللہ تعالٰی اور رسول کو اختیار کیا ۔(ف129)کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ازواج کا نصاب نو ہے جیسے کہ اُمّت کے لئے چار ۔(ف130)یعنی انہیں طلاق دے کر ان کی جگہ دوسری عورتوں سے نکاح کر لو ایسا بھی نہ کرو ، یہ احترام ان ازواج کا اس لئے ہے کہ جب حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اختیار دیا تھا تو انہوں نے اللہ و رسول کو اختیار کیا اور آسائشِ دنیا کو ٹھکرا دیا چنانچہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں پر اکتفا فرمایا اور اخیر تک یہی بیبیاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں رہیں ، حضرت عائشہ و اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالٰی عہنما سے مروی ہے کہ آخِر میں حضور کے لئے حلال کر دیا گیا تھا کہ جتنی عورتوں سے چاہیں نکاح فرمائیں ، اس تقدیر پر آیت منسوخ ہے اور اس کا ناسخ آیۂ ' اِنَّآ اَحْلَلَنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ ' اَلآیۃَ ہے ۔(ف131)وہ تمہارے لئے حلال ہے اور اس کے بعد حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مِلک میں آئیں اور ان سے حضورکے فرزند حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جنہوں نے چھوٹی عمر میں وفات پائی ۔
اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں (ف۱۳۲) نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ (ف۱۳۳) مثلاً کھانے کے لیے بلائے جاؤ نہ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو (ف۱۳٤) ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہوجاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ (ف۱۳۵) بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے (ف۱۳٦) اور اللہ حق فرمانے میں نہیں شرماتا، اور جب تم ان سے (ف۱۳۷) برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر مانگو ، اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی (ف۱۳۸) اور تمہیں نہیں پہنچتا کہ رسول اللہ کو ایذا دو (ف۱۳۹) اور نہ یہ کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیبیوں سے نکاح کرو (ف۱٤۰) بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے (ف۱٤۱)
O People who Believe! Do not enter the houses of the Prophet without permission, as when called for a meal but not to linger around waiting for it – and if you are invited then certainly present yourself and when you have eaten, disperse – not staying around delighting in conversation; indeed that was causing harassment to the Prophet, and he was having regard for you; and Allah does not shy in proclaiming the truth; and when you ask the wives of the Prophet for anything to use, ask for it from behind a curtain; this is purer for your hearts and for their hearts; and you have no right to trouble the Noble Messenger of Allah, nor ever marry any of his wives after him; indeed that is a very severe matter in the sight of Allah. (To honour the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is part of faith. To disrespect him is blasphemy.)
ए ईमान वालो! नबी के घरों में न हाज़िर हो जब तक इज़न न पाओ उदाहरण के लिए खाने के लिए बुलाए जाओ न यूँ कि खुद उसके पकने की राह टको हाँ जब बुलाए जाओ तो हाज़िर हो और जब खा चुके तो म़ुतफ़र्रक हो जाओ न यह कि बैठे बातों में दिल बहलाओ बेशक इस में नबी को एज़ा होती थी तो वह तुम्हारा लिहाज़ फ़रमाते थे और अल्लाह हक़ फ़रमाने में नहीं शर्माता, और जब तुम उनसे बर्तने की कोई चीज़ मांगो तो पर्दे के बाहर मांगो, इस में ज़्यादा सुथराई है तुम्हारे दिलों और उनके दिलों की और तुम्हें नहीं पहुँचता कि रसूल अल्लाह को एज़ा दो और न यह कि उनके बाद कभी उनकी बीबियों से निकाह करो बेशक यह अल्लाह के नज़दीक बड़ी सख़्त बात है
Agar tum koi baat zahir karo ya chhupao to beshak sab kuch jaanta hai,
(ف132)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ گھر مرد کا ہوتا ہے اور اسی لئے اس سے اجازت حاصل کرنا مناسب ہے ، شوہر کے گھر کو عورت کا گھر بھی کہا جاتا ہے اس لحاظ سے کہ وہ اس میں سکونت کا حق رکھتی ہے اسی وجہ سے آیت 'وَ اذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْ تِکُنَّ 'میں گھروں کی نسبت عورتوں کی طرف کی گئی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مکانات جن میں حضورکے ازواجِ مطہرات کی سکونت تھی اور حضورکے پردہ فرمانے کے بعد بھی وہ اپنی حیات تک انہی میں رہیں وہ حضورکی مِلک تھے اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ازواجِ طاہرات کو ہبہ نہ فرمائے تھے بلکہ سکونت کی اجازت دی تھی اسی لئے ازواجِ مطہرات کی وفات کے بعد ان کے وارثوں کو نہ ملے بلکہ مسجد شریف میں داخل کر دیئے گئے جو وقف ہے اور جس کا نفع تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے ۔(ف133)اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں پر پردہ لازم ہے اور غیر مَردوں کو کسی گھر میں بے اجازت داخل ہونا جائز نہیں ۔ آیت اگرچہ خاص ازواجِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حق میں وارد ہے لیکن حکم اس کا تمام مسلمان عورتوں کے لئے عام ہے ۔شانِ نُزول : جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت زینب سے نکاح کیا اور ولیمہ کی عام دعوت فرمائی تو جماعتیں کی جماعتیں آتی تھیں اور کھانے سے فارغ ہو کر چلی جاتی تھیں ، آخر میں تین صاحب ایسے تھے جو کھانے سے فارغ ہو کر بیٹھے رہ گئے اور انہوں نے گفتگو کا طویل سلسلہ شروع کر دیا اور بہت دیر تک ٹھہرے رہے ، مکان تنگ تھا اس سے گھر والوں کو تکلیف ہوئی اور حرج ہوا کہ وہ ان کی وجہ سے اپنا کام کاج کچھ نہ کر سکے ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اٹھے اور ازواجِ مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے اور دورہ فرما کر تشریف لائے ، اس وقت تک یہ لوگ اپنی باتوں میں لگے ہوئے تھے حضورپھر واپس ہو گئے یہ دیکھ کر وہ لوگ روانہ ہوئے تب حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دولت سرائے میں داخل ہوئے اور دروازہ پرپردہ ڈال دیا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اس سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کمالِ حیا اور شانِ کرم و حسنِ اخلاق معلوم ہوتی ہے کہ باوجود ضرورت کے اصحاب سے یہ نہ فرمایا کہ اب آپ چلے جائیے بلکہ جو طریقہ اختیار فرمایا وہ حسنِ آداب کا اعلٰی ترین معلِّم ہے ۔(ف134)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ بغیر دعوت کسی کے یہاں کھانے نہ جائے ۔(ف135)کہ یہ اہلِ خانہ کی تکلیف اور ان کے حرج کاباعث ہے ۔(ف136)اور ان سے چلے جانے کے لئے نہیں فرماتے تھے ۔(ف137)یعنی ازواجِ مطہرات سے ۔(ف138)کہ وساوس اور خطرات سے امن رہتی ہے ۔(ف139)اور کوئی کام ایسا کرو جو خاطرِ اقدس پر گراں ہو ۔(ف140)کیونکہ جس عورت سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عقد فرمایا وہ حضورکے سوا ہر شخص پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی اسی طرح وہ کنیزیں جو باریابِ خدمت ہوئیں اور قربت سے سرفراز فرمائی گئیں وہ بھی اسی طرح سب کے لئے حرام ہیں ۔(ف141)اس میں اعلام ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بہت بڑی عظمت عطا فرمائی اور آپ کی حرمت ہر حال میں واجب کی ۔
اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ تو بیشک سب کچھ جانتا ہے،
Whether you disclose a thing or keep it hidden – then indeed Allah knows all things.
अगर तुम कोई बात ज़ाहिर करो या छुपाओ तो बेशक सब कुछ जानता है,
Un par muzaiqa nahi unke baap aur beton aur bhaiyon aur bhatijo aur bhanjon aur apne deen ki auratoun aur apni kaneezon mein aur Allah se darti ho, beshak Allah har cheez Allah ke samne hai,
ان پر مضائقہ نہیں (ف۱٤۲) ان کے باپ اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں (ف۱٤٤) اور اپنی کنیزوں میں (ف۱٤۵) اور اللہ سے ڈرتی ہو، بیشک اللہ ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
There is no sin upon your wives in (dealing with) their fathers, or their sons, or their brothers, or their brothers’ sons, or their sisters’ sons or women of their own religion, or their bondwomen; and O women, keep fearing Allah; indeed all things are present in front of Allah.
उन पर म़ुज़ाईक़ा नहीं उनके बाप और बेटों और भाइयों और भतीजों और भान्ज़ों और अपने दीन की औरतों और अपनी क़नीज़ों में और अल्लाह से डरती हो, बेशक अल्लाह हर चीज़ अल्लाह के सामने है,
Beshak Allah aur uske farishte durood bhejte hain is ghaib batane wale (Nabi) par, Ae iman walo! Un par durood aur khoob salaam bhejo,
(ف142)یعنی ان بیبیوں پر کچھ گناہ نہیں اس میں کہ وہ ان لوگوں سے پردہ نہ کریں جن کا آیت میں آگے ذکر فرمایا جاتا ہے ۔شانِ نُزول : جب پردہ کا حکم نازل ہوا تو عورتوں کے باپ بیٹوں اور قریب کے رشتہ داروں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیک وسلم کیا ہم اپنی ماؤں بیٹیوں کے ساتھ پردہ کے باہر سے گفتگو کریں ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف143)یعنی ان اقارب کے سامنے آنے اور ان سے کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔(ف144)یعنی مسلمان بیبیوں کے سامنے آنا جائز ہے اور کافِرہ عورتوں سے پردہ کرنا اور اپنے جسم چُھپانا لازم ہے سوائے جسم کے ان حصّوں کے جو گھر کے کام کاج کے لئے کھولنے ضروری ہوتے ہیں ۔ (جمل)(ف145)یہاں چچا اور ماموں کا صراحتہً ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ وہ والدین کے حکم میں ہیں ۔
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو (ف۱٤٦)
Indeed Allah and His angels send blessings on the Prophet; O People who Believe! Send blessings and abundant salutations upon him. (Everlasting peace and unlimited blessings be upon the Holy Prophet Mohammed.)
बेशक अल्लाह और उसके फ़रिश्ते दरूद भेजते हैं इस ग़ैब बताने वाले (नबी) पर, ए ईमान वालो! उन पर दरूद और खूब सलाम भेजो
Beshak jo eza dete hain Allah aur uske Rasool ko, un par Allah ki laanat hai dunya aur aakhirat mein aur Allah ne unke liye zilat ka azaab tayar kar rakha hai,
(ف146)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام بھیجنا واجب ہے ہر ایک مجلس میں آپ کا ذکر کرنے والے پر بھی اور سننے والے پر بھی ایک مرتبہ اور اس سے زیادہ مستحب ہے ، یہی قول معتمد ہے اور اس پر جمہور ہیں اور نماز کے قعدۂ اخیرہ میں بعدِ تشہد درود شریف پڑھنا سنّت ہے اور آپ کے تابع کر کے آپ کے آل و اصحاب و دوسرے مومنین پر بھی درود بھیجا جا سکتا ہے یعنی درود شریف میں آپ کے نامِ اقدس کے بعد ان کو شامل کیا جا سکتا ہے اور مستقل طور پر حضورکے سوا ان میں سے کسی پر درود بھیجنا مکرو ہ ہے ۔ مسئلہ : درود شریف میں آل و اصحاب کا ذکر متوارث ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آل کے ذکر کے بغیر مقبول نہیں ۔ درود شریف اللہ تعالٰی کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکریم ہے عُلَماء نے اللہم صل علٰی محمّد کے معنٰی یہ بیان کئے ہیں کہ یا ربّ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عظمت عطا فرما ، دنیا میں ان کا دین بلند ان کی دعوت غالب فرما کر اور ان کی شریعت کو بقا عنایت کر کے اور آخرت میں ان کی شفاعت قبول فرما کر اور ان کا ثواب زیادہ کر کے اور اوّلین و آخِرین پر ان کی فضیلت کا اظہار فرما کر اور انبیاء ، مرسلین و ملائکہ اور تمام خَلق پر ان کی شان بلند کر کے ۔مسئلہ : درود شریف کی بہت برکتیں اور فضیلتیں ہیں حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب درود بھیجنے والا مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔ مسلم کی حدیث شریف میں ہے جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللہ تعالٰی اس پر دس بار بھیجتا ہے ۔ ترمذی کی حدیث شریف میں ہے بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ درود نہ بھیجے ۔
بیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں (ف۱٤۷) اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے (ف۱٤۸)
Indeed those who trouble Allah and His Noble Messenger – upon them is Allah’s curse in the world and in the Hereafter, and Allah has kept prepared a disgraceful punishment for them. (To disrespect / trouble the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is blasphemy.)
बेशक जो एज़ा देते हैं अल्लाह और उसके रसूल को उन पर अल्लाह की लानत है दुनिया और आख़िरत में और अल्लाह ने उनके लिए ज़िल्लत का आज़ाब तैयार कर रखा है
Aur jo iman wale mardon aur auraton ko be kiye sataate hain unhone bohotan aur khula gunah apne sar liya,
(ف147)وہ ایذا دینے والے کُفّار ہیں جو شانِ الٰہی میں ایسی باتیں کہتے ہیں جن سے وہ منزّہ اور پاک ہے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر دارین میں لعنت ۔(ف148)آخرت میں ۔
اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بےکئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا (ف۱٤۹)
And those who unnecessarily harass Muslim men and women, have burdened themselves with slander and open sin.
और जो ईमान वाले मर्दों और औरतों को बे किए सताते हैं उन्होंने बहुतान और खुला गुनाह अपने सर लिया
Ae Nabi! Apni bibiyon aur sahabzadiyon aur musalman auraton se farma do ke apni chadron ka ek hissa apne munh par daale rahen, ye us se nazdeek tar hai ke unki pehchaan ho to satayi na jaayein aur Allah bakshne wala meherban hai,
(ف149)شانِ نُزول : یہ آیت ان منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ایذا دیتے تھے اور ان کے حق میں بدگوئی کرتے تھے ۔ حضرت فضیل نے فرمایا کہ کتّے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جُرم ہے ۔
اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں (ف۱۵۰) یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو (ف۱۵۱) تو ستائی نہ جائیں (ف۱۵۲) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
O Prophet! Command your wives and your daughters and the women of the Muslims to cover their faces with a part of their cloaks; this is closer to their being recognised and not being harassed; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful. (It is incumbent upon women to cover themselves properly.)
ए नबी! अपनी बीबियों और साहिबज़ादियों और मुसलमानों की औरतों से फ़रमा दो कि अपनी चादरों का एक हिस्सा अपने मुँह पर डालें रहें यह इससे नज़दीकतर है कि उनकी पहचान हो तो सताई न जाएँ और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Agar baaz na aaye munafiq aur jin ke dilon mein rog hai aur Madina mein jhoot urhane wale to zaroor hum tumhein un par shah denge, phir woh Madina mein tumhare paas na rahenge magar thode din,
(ف150)اور سر اور چہرے کو چُھپائیں جب کسی حاجت کے لئے ان کو نکلنا ہو ۔(ف151)کہ یہ حُرَّہ ہیں ۔(ف152)اور منافقین ان کے درپے نہ ہوں ، منافقین کی عادت تھی کہ وہ باندیوں کو چھیڑا کرتے تھے اس لئے حُرَّہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ چادر سے جسم ڈھانک کر سر اور منہ چُھپا کر باندیوں سے اپنی وضع ممتاز کر دیں ۔
اگر باز نہ آئے منافق (ف۱۵۳) اور جن کے دلوں میں روگ ہے (ف۱۵٤) اور مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے (ف۱۵۵) تو ضرور ہم تمہیں ان پر شہ دیں گے (ف۱۵٦) پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن (ف۱۵۷)
If the hypocrites, and those in whose hearts is a disease, and the rumour mongers in Medinah do not desist, We shall then surely impel you against them, so then they will not remain your neighbours in Medinah except for a few days.
अगर वापस न आए मुनाफ़िक और जिनके दिल में रोग है और मदीना में झूठ उड़ाने वाले तो जरूर हम तुम्हें उन पर शह देंगे फिर वे मदीना में तुम्हारे पास न रहेंगे मगर थोड़े दिन
Phatkaare hue, jahan kahin milein pakde jaayein aur gan gan kar qatl kiye jaayein,
(ف153)اپنے نفاق سے ۔(ف154)اور جو بُرے خیال رکھتے ہیں یعنی فاجر بدکار ہیں وہ اگر اپنی بدکاری سے باز نہ آئے ۔(ف155)جو اسلامی لشکروں کے متعلق جھوٹی خبریں اڑایا کرتے تھے اور یہ مشہور کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کو ہزیمت ہو گئی وہ قتل کر ڈالے گئے ، دشمن چڑھا چلا آ رہا ہے اور اس سے ان کا مقصد مسلمانوں کی دل شکنی اور ان کا پریشانی میں ڈالنا ہوتا تھا ، ان لوگوں کے متعلق ارشاد فرمایا جاتا ہے کہ اگر وہ ان حرکات سے باز نہ آئے ۔(ف156)اور تمہیں ان پر مسلّط کریں گے ۔(ف157)پھر مدینہ طیّبہ ان سے خالی کرا لیا جائے گا اور وہاں سے نکال دیئے جائیں گے ۔
لوگ تم سے قیامت کا پوچھتے ہیں (ف۱۵۹) تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، اور تم کیا جانو شاید قیامت پاس ہی ہو (ف۱٦۰)
People ask you regarding the Last Day; proclaim, “Its knowledge is only with Allah; and what do you know, the Last Day may really be near!”
लोग तुमसे क़यामत का पूछते हैं तुम फ़रमाओ इसका इल्म तो अल्लाह ही के पास है, और तुम क्या जानो शायद क़यामत पास ही हो
Beshak Allah ne kafiron par laanat farmaai aur unke liye bhadakti aag tayar kar rakhi hai,
(ف159)کہ کب قائم ہو گی ۔شانِ نُزول : مشرکین تو تمسخُر و استہزاء کے طور پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے قیامت کا وقت دریافت کیا کرتے تھے گویا کہ ان کو بہت جلدی ہے اور یہود اس کو امتحاناً پوچھتے تھے کیونکہ توریت میں اس کا علم مخفی رکھا گیا تھا تو اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حکم فرمایا ۔(ف160)اس میں جلد کرنے والوں کو تہدید اور امتحاناً سوال کرنے والوں کا اسکات اور ان کی دہن دوزی ہے ۔
جس دن ان کے منہ الٹ الٹ کر آگ میں تلے جائیں گے کہتے ہوں گے ہائے کسی طرح ہم نے اللہ کا حکم مانا ہوتا اور رسول کا حکم مانا (ف۱٦۲)
On the day when their faces will be overturned being roasted inside the fire, they will say, “Alas – if only we had obeyed Allah and obeyed His Noble Messenger!”
जिस दिन उनके मुँह उलट-उलट कर आग में तले जाएँगे कहेंगे हाय किसी तरह हमने अल्लाह का हुक़्म माना होता और रसूल का हुक़्म माना
Aur kahenge, Ae humare Rab! Hum apne sardaroon aur apne bado ke kehne par chale to unhone humein raah se bhadka diya,
اے ہمارے رب! انھیں آگ کا دُونا عذاب دے (ف۱٦٤) اور ان پر بڑی لعنت کر،
“Our Lord! Give them double the punishment of the fire and send upon them a mighty curse!”
ए हमारे रब! उन्हें आग का दुना आज़ाब दे और उन पर बड़ी लानत कर,
Ae iman walo! Un jaise na hona jin hon ne Musa ko sataya to Allah ne use bari farma diya, is baat se jo unhone kahi aur Musa Allah ke yahan aabroo wala hai,
(ف164)کیونکہ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۔
اے ایمان والو! ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا (ف۱٦٦) تو اللہ نے اسے بَری فرمادیا اس بات سے جو انہوں نے کہی (ف۱٦۷) اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے (ف۱٦۸)
O People who Believe! Do not be like the people who troubled Moosa – so Allah freed him from the allegations they had uttered; and Moosa is honourable in the sight of Allah.
ए ईमान वालो! उन जैसे न होना जिन्होंने मूसा को सताया तो अल्लाह ने उसे बरी फ़रमाया इस बात से जो उन्होंने कही और मूसा अल्लाह के यहाँ आब्रू वाला है
Ae iman walo! Allah se daro aur seedhi baat kaho,
(ف165)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ادب و احترام بجا لاؤ اور کوئی کام ایسا نہ کرنا جو ان کے رنج و ملال کا باعث ہو اور ۔(ف166)یعنی ان بنی اسرائیل کی طرح نہ ہونا جو ننگے نہاتے تھے اور حضرت موسٰی علیہ السلام پر طعن کرتے تھے کہ حضرت ہمارے ساتھ کیوں نہیں نہاتے انہیں برص وغیرہ کی کوئی بیماری ہے ۔(ف167)اس طرح کہ جب ایک روز حضرت موسٰی علیہ السلام نے غسل کے لئے ایک تنہائی کی جگہ میں پتّھر پر کپڑے اتار کر رکھے اور غسل شروع کیا تو پتّھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگا ، آپ کپڑے لینے کے لئے اس کی طرف بڑھے تو بنی اسرائیل نے دیکھ لیا کہ جسمِ مبارک پر کوئی داغ اور کوئی عیب نہیں ہے ۔(ف168)صاحبِ جاہ اور صاحبِ منزلت اور مستجاب الدعوات ۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو (ف۱٦۹)
O People who Believe! Fear Allah, and speak rightly.
ए ईमान वालो! अल्लाह से डरो और सीधी बात कहो
Tumhare aamaal tumhare liye sanwaar dega aur tumhare gunah bakhsh dega, aur jo Allah aur uske Rasool ki farmanbardari kare usne bari kaamyaabi pai,
(ف169)یعنی سچّی اور درست حق و انصاف کی اور اپنی زبان اور کلام کی حفاظت رکھو یہ بَھلائیوں کی اصل ہے ایسا کرو گے تو اللہ تعالٰی تم پر کرم فرمائے گا اور ۔
بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی (ف۱۷۱) آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے (ف۱۷۲) اور آدمی نے اٹھالی، بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے، (
We indeed offered the trust to the heavens and the earth and the mountains, but they refused it and were afraid of it – and man accepted it; indeed he is one who puts himself into hardship, is extremely unwise.
बेशक हमने अमानत पेश फ़रमाई आसमानों और ज़मीन और पहाड़ों पर तो उन्होंने इसके उठाने से इनकार किया और इससे डर गए और आदमी ने उठा ली, बेशक वह अपनी जान को मुश्किल में डालने वाला बड़ा नादान है,
Taake Allah azaab munafiq mardon aur munafiq auraton aur mushrik mardon aur mushrik auraton ko, aur Allah tawba qubool farmaaye musalman mardon aur musalman auraton ki, aur Allah bakshne wala meherban hai.",
(ف171)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ امانت سے مراد طاعت و فرائض ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر پیش کیا ، انہیں کو آسمانوں ، زمینوں ، پہاڑوں پر پیش کیا تھا کہ اگر وہ انہیں ادا کریں گے تو ثواب دیئے جائیں گے نہ ادا کریں گے تو عذاب کئے جائیں گے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ امانت نمازیں ادا کرنا ، زکوٰۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا ، خانہ کعبہ کا حج ، سچ بولنا ، ناپ اور تول میں اور لوگوں کی ودیعتوں میں عدل کرنا ہے ۔ بعضوں نے کہا کہ امانت سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کا حکم دیا گیا اور جن کی ممانعت کی گئی ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عاص نے فرمایا کہ تمام اعضاء کان ، ہاتھ ، پاؤں وغیرہ سب امانت ہیں اس کا ایمان ہی کیا جو امانت دار نہ ہو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ امانت سے مراد لوگوں کی ودیعتیں اور عہدوں کا پورا کرنا ہے تو ہر مومن پر فرض ہے کہ نہ کسی مومن کی خیانت کرے نہ کافِر معاہد کی ، نہ قلیل میں نہ کثیر میں ، اللہ تعالٰی نے یہ امانت اعیانِ سمٰوٰت و ارض و جبال پر پیش فرمائی پھر ان سے فرمایا کیا تم ان امانتوں کو مع اس کی ذمّہ داری کے اٹھاؤ گے ؟ انہوں نے عرض کیا ذمّہ داری کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ اگر تم انہیں اچھی طرح ادا کرو تو تمہیں جزا دی جائے گی اور اگر نافرمانی کرو تو تمہیں عذاب کیا جائے گا ، انہوں نے عرض کیا نہیں اے ربّ ہم تیرے حکم کے مطیع ہیں نہ ثواب چاہیں نہ عذاب اور ان کا یہ عرض کرنا براہِ خوف و خشیت تھا اور امانت بطورِ تخییر پیش کی گئی تھی یعنی انہیں اختیار دیا گیا تھا کہ اپنے میں قوّت و ہمّت پائیں تو اٹھائیں ورنہ معذرت کر دیں ، اس کا اٹھانا لازم نہیں کیا گیا تھا اور اگر لازم کیا جاتا تو وہ انکار نہ کرتے ۔(ف172)کہ اگر ادا نہ کر سکے تو عذاب کئے جائیں گے تو اللہ عزوجل نے وہ امانت آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کی اور فرمایا کہ میں نے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر پیش کی تھی وہ نہ اٹھا سکے کیا تو مع اس کی ذمّہ داری کے اٹھا سکے گا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے اقرار کیا ۔
تاکہ اللہ عذاب منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو (ف۱۷۳) اور اللہ توبہ قبول فرمائے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
In order that Allah may punish the hypocrite men, and the hypocrite women, and the polytheist men, and the polytheist women – and accept the repentance of believing men and believing women; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ताकि अल्लाह आज़ाब मुनाफ़िक मर्दों और मुनाफ़िक औरतों और मुशरिक मर्दों और मुशरिक औरतों को और अल्लाह तौबा क़बूल फ़रमाए मुसलमान मर्दों और मुसलमान औरतों की, और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
"
(ف173)کہا گیا کہ معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے امانت پیش کی تاکہ منافقین کا نفاق اور مشرکین کا شرک ظاہر ہو اور اللہ تعالٰی انہیں عذاب فرمائے اور مومنین جو امانت کے ادا کرنے والے ہیں ان کے ایمان کا اظہار ہو اور تبارک و تعالٰی ان کی توبہ قبول فرمائے اور ان پر رحمت و مغفرت کرے اگرچہ ان سے بعض طاعات میں کچھ تقصیر بھی ہوئی ہو ۔ (خازن)
سب خوبیاں اللہ کو کہ اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۲) اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے (ف۳) اور وہی ہے حکمت والا خبردار،
All praise is to Allah – to Him only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth – and His is the praise in the Hereafter; and He is the Wise, the All Aware.
सब खूबियाँ अल्लाह को कि उसी का माल है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में और आख़िरत में उसी की तारीफ़ है और वही है हिकमत वाला ख़बरदार,
Sab khubiyan Allah ko, kyun ke isi ka maal hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein aur aakhirat mein isi ki tareef hai aur wahi hai hikmat wala, khabardaar.
(ف2)یعنی ہر چیز کا مالک ، خالِق اور حاکم اللہ تعالٰی ہے اور ہر نعمت اسی کی طرف سے تو وہی حمد و ثنا کا مستحق اور سزا وار ہے ۔(ف3)یعنی جیسا دنیا میں حمد کا مستحق اللہ تعالٰی ہے ویسا ہی آخرت میں بھی حمد کامستحق وہی ہے کیونکہ دونوں جہان اسی کی نعمتوں سے بھرے ہوئے ہیں دنیا میں تو بندوں پر اس کی حمد و ثنا واجب ہے کیونکہ یہ دارالتکلیف ہے اور آخرت میں اہلِ جنّت نعمتوں کے سرور اور راحتوں کی خوشی میں اس کی حمد کریں گے ۔
جانتا ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے (ف٤) اور جو زمین سے نکلتا ہے (ف۵) اور جو آسمان سے اترتا ہے (ف٦) اور جو اس میں چڑھتا ہے (ف۷) اور وہی ہے مہربان بخشنے والا،
He knows all that goes into the earth and all that comes out of it, and all that descends from the skies and all that ascends into it; and only He is the Most Merciful, the Oft Forgiving.
जानता है जो कुछ ज़मीन में जाता है और जो ज़मीन से निकलता है और जो आसमान से उतरता है और जो उस में चढ़ता है और वही है मेहरबान बख़्शने वाला,
Jaanta hai jo kuch zameen mein jaata hai aur jo zameen se nikalta hai aur jo aasman se utarta hai aur jo is mein charhta hai aur wahi hai meherban, bakhshne wala.
(ف4)یعنی زمین کے اندر داخل ہوتا ہے جیسے کہ بارش کا پانی اور مردے اور دفینے ۔(ف5)جیسے کہ سبزہ اور درخت اور چشمے اور کانیں اور بوقتِ حشر مُردے ۔(ف6)جیسے کہ بارش برف اولے اور طرح طرح کی برکتیں اور فرشتے ۔(ف7)جیسے کہ فرشتے اور دعائیں اور بندوں کے عمل ۔
اور کافر بولے ہم پر قیامت نہ آئے گی (ف۸) تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قسم بیشک ضرور آئے گی غیب جاننے والا (ف۹) اس سے غیب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر ایک صاف بتانے والی کتاب میں ہے (ف۱۰)
And the disbelievers said, “The Last Day will never come upon us”; proclaim, “Surely yes, why not? By oath of my Lord, it will surely come upon you – the All Knowing of the hidden; nothing is hidden from Him – equal to an atom or less than it or greater – in the heavens or in the earth, but it is in a clear Book.”
और काफ़िर बोले हम पर क़यामत न आएगी तुम फ़र्माओ क्यों नहीं मेरे रब की कसम बेशक ज़रूर आएगी ग़ैब जानने वाला, उससे ग़ैब नहीं ज़रा भर कोई चीज़ आसमानों में और न ज़मीन में और न उससे छोटी और न बड़ी मगर एक साफ़ बताने वाली किताब में है
Aur kafir bole hum par qayamat na aayegi, tum farmaao kyon nahin? Mere Rab ki qasam, beshak zaroor aayegi, ghaib jaanne wala. Is se ghaib nahin, zarra bhar koi cheez aasmanon mein aur na zameen mein, aur na is se chhoti aur na badi, magar ek saaf batane wali kitaab mein hai.
(ف8)یعنی انہوں نے قیامت کے آنے کا انکار کیا ۔(ف9)یعنی میرا ربّ غیب کا جاننے والا ہے اس سے کوئی چیز مخفی نہیں تو قیامت کا آنا اور اس کے قائم ہونے کا وقت بھی اس کے علم میں ہے ۔(ف10)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔
اور جنہیں علم والا (ف۱۳) وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۱٤) وہی حق ہے اور عزت والے سب خوبیوں سراہے کی راہ بتاتا ہے،
And those who received the knowledge know that what is sent down upon you from your Lord is the truth, and it shows the path of the Most Honourable, the Most Praiseworthy.
और जिन्हें इल्म वाला वह जानते हैं कि जो कुछ तुम्हारी तरफ तुम्हारे रब के पास से उतरा वही हक़ है और इज़्ज़त वाले सब खूबियों सराहे की राह बताता है,
Aur jinhein ilm wala woh jaante hain ke jo kuch tumhari taraf tumhare Rab ke paas se utra, wahi haq hai aur izzat wale sab khubiyon sarahaye ki raah batata hai.
(ف13)یعنی اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یا مومنین اہلِ کتاب مثل عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے ۔(ف14)یعنی قرآنِ مجید ۔
اور کافر بولے (ف۱۵) کیا ہم تمہیں ایسا مرد بتادیں (ف۱٦) جو تمہیں خبر دے کہ جب تم پرزہ ہو کر بالکل ریزہ ہو کر بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ تو پھر تمہیں نیا بَننا ہے،
And the disbelievers said, “Shall we show you a man who will tell you that ‘When you have disintegrated into the smallest pieces, you are to be created again’?”
और काफ़िर बोले क्या हम तुम्हें ऐसा मर्द बता दें जो तुम्हें खबर दे कि जब तुम परज़ा हो कर बिल्कुल रीज़ा हो कर बिल्कुल रीज़ा रीज़ा हो जाओ तो फिर तुम्हें नया बनना है,
Aur kafir bole kya hum tumhein aisa mard bata dein jo tumhein khabar de ke jab tum parza ho kar bilkul reza ho kar bilkul reza reza ho jao, to phir tumhein naya banna hai?
(ف15)یعنی کافِروں نے آپس میں متعجّب ہو کر کہا ۔(ف16)یعنی سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔
کیا اللہ پر اس نے جھوٹ باندھا یا اسے سودا ہے (ف۱۷) بلکہ وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ف۱۸) عذاب اور دور کی گمراہی میں ہیں،
“Has he fabricated a lie against Allah, or is he insane?” Rather those who disbelieve in the Hereafter are in the punishment and extreme error.
क्या अल्लाह पर उसने झूठ बाँधा या उसे सौदा है बल्कि वह जो आख़िरत पर ईमान नहीं लाते अज़ाब और दूर की गुमराही में हैं,
Kya Allah par usne jhoot baandha ya usse sauda hai? Balke woh jo aakhirat par iman nahin laate, azaab aur door ki gumraahi mein hain.
(ف17)جو وہ ایسی عجیب وغریب باتیں کہتے ہیں اللہ تعالٰی نے کُفّار کے اس مقولہ کا رد فرمایا کہ یہ دونوں باتیں نہیں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان دونوں سے مبرّا ہیں ۔(ف18)یعنی کافِر بَعث و حساب کا انکار کرنے والے ۔
تو کیا انہوں نے نہ دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے آسمان اور زمین (ف۱۹) ہم چاہیں تو انھیں (ف۲۰) زمین میں دھنسادیں یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرادیں، بیشک اس (ف۲۱) میں نشانی ہے ہر رجوع لانے والے بندے کے لیے (ف۲۲)
So did they not see what is before them and what is behind them in the sky and the earth? If We will, We can bury them into the earth or cause a part of the sky to fall on them; indeed in this is a sign for every repentant bondman.
तो क्या उन्होंने न देखा जो उनके आगे और पीछे है आसमान और ज़मीन हम चाहें तो उन्हें ज़मीन में धंसा दें या उन पर आसमान का टुकड़ा गिरा दें, बेशक उस में निशानी है हर रजुआ लाने वाले बंदे के लिए
To kya unho ne nahin dekha jo un ke aage aur peeche hai, aasman aur zameen? Hum chahein to unhein zameen mein dhansa dein ya un par aasman ka tukda gira dein, beshak is mein nishani hai har rujoo lane wale bande ke liye.
(ف19)یعنی کیا وہ اندھے ہیں کہ انہوں نے آسمان و ز مین کی طرف نظر ہی نہیں ڈالی اور اپنے آگے پیچھے دیکھا ہی نہیں جو انہیں معلوم ہوتا کہ وہ ہر طرف سے احاطہ میں ہیں اور زمین و آسمان کے اقطار سے باہر نہیں جا سکتے اور مُلکِ خدا سے نہیں نکل سکتے اور انہیں بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ، انہوں نے آیات اور رسول کی تکذیب و انکار کے دہشت انگیز جُرم کا ارتکاب کرتے ہوئے خوف نہ کھایا اور اپنی اس حالت کا خیال کر کے نہ ڈرے ۔(ف20)ان کی تکذیب و انکار کی سزائیں قارون کی طرح ۔(ف21)نظر و فکر ۔(ف22)جو دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالٰی بَعث پر اور اس کے منکِر کے عذاب پر اور ہر شئے پر قادر ہے ۔
اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنا بڑا فضل دیا (ف۲۳) اے پہاڑو! اس کے ساتھ اللہ کی رجوع کرو اور اے پرندو! (ف۲٤) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کیا (ف۲۵)
And indeed We gave Dawud the utmost excellence from Us; “O the hills and birds, repent towards Allah along with him”; and We made iron soft for him.
और बेशक हम ने दाउद को अपना बड़ा फ़ज़ल दिया ऐ पहाड़ो! उसके साथ अल्लाह की रजुआ करो और ऐ परिंदो! और हम ने उसके लिए लोहा नरम किया
Aur beshak hum ne Dawood ko apna bada fazl diya. Ae pahaado! Is ke saath Allah ki rujoo karo aur ae parindo! Aur hum ne is ke liye loha narm kiya.
(ف23)یعنی نبوّت اور کتاب اور کہا گیا ہے مُلک اور ایک قول یہ ہے کہ حُسنِ صوت وغیرہ تمام چیزیں جو آپ کو خصوصیت کے ساتھ عطا فرمائی گئیں اور اللہ تعالٰی نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دیا ۔(ف24)جب وہ تسبیح کریں ان کے ساتھ تسبیح کرو چنانچہ جب حضرت داؤد علیہ السلام تسبیح کرتے تو پہاڑوں سے بھی تسبیح سنی جاتی اور پرند جھک آتے ، یہ آپ کا معجِزہ تھا ۔(ف25)کہ آپ کے دستِ مبارک میں آ کر مثل موم یا گوندھے ہوئے آٹے کے نرم ہو جاتا اور آپ اس سے جو چاہتے بغیر آ گ کے اور بغیر ٹھونکے پیٹے بنا لیتے ۔ اس کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب آپ بنی اسرائیل کے بادشاہ ہوئے تو آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کے حالات کی جستجو کے لئے اس طرح نکلتے کہ لوگ آپ کو نہ پہچانیں اور جب کوئی ملتا اور آپ کو نہ پہچانتا تو اس سے آپ دریافت کرتے کہ داؤد کیسا شخص ہے ؟ سب لوگ تعریف کرتے ، اللہ تعالٰی نے ایک فرشتہ بصورتِ انسان بھیجا ، حضرت داؤد علیہ السلام نے اس سے بھی حسبِ عادت یہی سوال کیا تو وہ فرشتہ نے کہا کہ داؤد ہیں تو بہت ہی اچھے آدمی ،کاش ان میں ایک خصلت نہ ہوتی ، اس پر آپ متوجِّہ ہوئے اور فرمایا کہ بندۂ خدا کون سی خصلت ؟ اس نے کہا کہ وہ اپنا اور اپنے اہل و عیال کا خرچ بیت المال سے لیتے ہیں ، یہ سن کر آپ کے خیال میں آیا کہ اگر آپ بیت المال سے وظیفہ نہ لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا اس لئے آپ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ ان کے لئے کوئی ایسا سبب کر دے جس سے آپ اپنے اہل و عیال کا گذارہ کریں اور بیت المال (خزانۂ شاہی) سے آپ کو بے نیازی ہو جائے ، آپ کی یہ دعا مستجاب ہوئی اور اللہ تعالٰی نے آپ کے لئے لوہے کو نرم کیا اور آپ کو صنعتِ زِرہ سازی کا علم دیا ، سب سے پہلے زِرہ بنانے والے آپ ہی ہیں ، آپ روزانہ ایک زِرہ بناتے تھے و ہ چار ہزار کو بِکتی تھی ، اس میں سے اپنے اور اپنے اہل و عیال پر بھی خرچ فرماتے اور فقراء و مساکین پر بھی صدقہ کرتے ۔ اس کا بیان آیت میں ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم نے داؤد علیہ السلام کے لئے لوہا نرم کر کے ان سے فرمایا ۔
اور سلیمان کے بس میں ہوا کردی اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے کی راہ (ف۲۷) اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا (ف۲۸) اور جنوں میں سے وہ جو اس کے آگے کام کرتے اس کے رب کے حکم سے (ف۲۹) ادر جو ان میں ہمارے حکم سے پھرے (ف ۳۰) ہم اسے بھڑ کتی آگ کا عذاب چکھائیں گے،
And We gave the wind in Sulaiman’s control – its morning journey equal to a month’s course and the evening journey equal to a month’s course; and We sprung a stream of molten copper for him; and from the jinns, who worked before him by the command of his Lord; and those among them who turned away from Our command – We shall make them taste the punishment of the blazing fire.
और सुलैमान के बस में हुआ कर दी उसकी सुबह की मंज़िल एक महीना की राह और शाम की मंज़िल एक महीने की राह और हम ने उसके लिए पिघले हुए तांबे का चश्मा बहाया और जिनों में से वह जो उसके आगे काम करते उसके रब के हुक़्म से अदर जो उन में हमारे हुक़्म से फिरें हम उसे भड़कती आग का अज़ाब चखाएँगे,
Aur Suleiman ke bas mein hua kar di is ki subah ki manzil ek mahine ki raah aur shaam ki manzil ek mahine ki raah aur hum ne is ke liye pighle hue taanbe ka chashma bahaaya aur jinnon mein se woh jo is ke aage kaam karte, is ke Rab ke hukum se adar jo un mein hamare hukum se phire, hum use bhadakti aag ka azaab chakhayenge.
(ف27)چنانچہ آپ صبح کو دمشق سے روانہ ہوتے تو دوپہر کو قیلولہ اُصُطخر میں فرماتے جو مُلکِ فارَس میں ہے اور دمشق سے ایک مہینہ کی راہ پر ہے اور شام کو اُصُطخر سے روانہ ہوتے تو شب کو کابل میں آرام فرماتے ، یہ بھی تیز سوار کے لئے ایک مہینہ کا راستہ ہے ۔(ف28)جو تین روز سرزمینِ یمن میں پانی کی طر ح جاری رہا اور ایک قول یہ ہے کہ ہر مہینہ میں تین روز جاری رہتا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے تانبے کو پِگھلا دیا جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہے کو نرم کیا تھا ۔(ف29)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے جِنّات کو مطیع کیا ۔(ف30)اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی فرمانبرداری نہ کرے ۔
اس کے لیے بناتے جو وہ چاہتا اونچے اونچے محل (ف۳۱) اور تصویریں (ف۳۲) اور بڑے حوضوں کے برابر لگن (ف۳۳) اور لنگردار دیگیں (ف۳٤) اے داؤد والو! شکر کرو (ف۳۵) اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے، پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا (ف۳٦) جنوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی، پھر جب سلیمان زمین پر آیا جِنوں کی حقیقت کھل گئی (ف۳۷) اگر غیب جانتے ہوتے (ف۳۸) تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے (ف۳۹)
They made for him whatever he wished – synagogues and statues, basins like ponds, and large pots built into the ground; “Be thankful, O the people of Dawud!” And few among My bondmen are grateful.
उसके लिए बनाते जो वह चाहता ऊँचे ऊँचे महल और तस्वीरें और बड़े हौज़ों के बराबर लगन और लंगरदार दीगें ऐ दाउद वालों! शुक्र करो और मेरे बंदों में कम हैं शुक्र वाले,
Is ke liye banate jo woh chahta, unche unche mahal aur tasveerain aur bade hauzon ke barabar lagan aur langar daar deegein. Ae Dawood walo! Shukar karo aur mere bandon mein kam hain shukar wale.
(ف31)اور عالی شان عمارتیں اور مسجدیں اور انہیں میں سے بیت المقدس بھی ہے ۔(ف32)درندوں اور پرندوں وغیرہ کی تانبے اور بلور اور پتّھر وغیرہ سے اور اس شریعت میں تصویر بنانا حرام نہ تھا ۔(ف33)اتنے بڑے کہ ایک لگن میں ہزار آدمی کھاتے ۔(ف34)جو اپنے پایوں پر قائم تھیں اور بہت بڑی تھیں حتّٰی کہ اپنی جگہ سے ہٹائی نہیں جا سکتی تھیں سیڑھیاں لگا کر ان پرچڑھتے تھے یہ یمن میں تھیں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم نے فرمایا کہ ۔(ف35)اللہ تعالٰی کا ان نعمتوں پر جو اس نے تمہیں عطا فرمائیں اس کی اطاعت بجا لا کر ۔
پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا (ف۳٦) جنوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی، پھر جب سلیمان زمین پر آیا جِنوں کی حقیقت کھل گئی (ف۳۷) اگر غیب جانتے ہوتے (ف۳۸) تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے (ف۳۹)
So when We sent the command of death towards him, no one revealed his death to the jinns except the termite of the earth which ate his staff; and when he came to the ground, the truth about the jinns was exposed – if they had known the hidden, they would not have remained in the disgraceful toil.
फिर जब हम ने उस पर मौत का हुक़्म भेजा जिनों को उसकी मौत न बताई मगर ज़मीन की दीमक ने कि उसका असा खाती थी, फिर जब सुलैमान ज़मीन पर आया जिनों की हक़ीक़त खुल गई अगर ग़ैब जानते होते तो उस ख़्वारी के अज़ाब में न होते
Phir jab hum ne is par maut ka hukum bheja, jinnon ko is ki maut na batai, magar zameen ki deemak ne ke is ka asaa khati thi, phir jab Suleiman zameen par aaya, jinnon ki haqeeqat khul gayi, agar ghaib jaante hote to is khuwari ke azaab mein na hote.
(ف36)حضرت سلیمان علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی تھی کہ ان کی وفات کا حال جِنّات پر ظاہر نہ ہوتا کہ انسانوں کو معلوم ہو جائے کہ جن غیب نہیں جانتے پھر آپ محراب میں داخل ہوئے اور حسبِ عادت نماز کے لئے اپنے عصا پر تکیہ لگا کر کھڑے ہو گئے ، جِنّات حسبِ دستور اپنی خدمتوں میں مشغول رہے اور یہ سمجھتے رہے کہ حضرت زندہ ہیں اورحضرت سلیمان علیہ السلام کا عرصہ دراز تک اسی حال پر رہنا ان کے لئے کچھ حیرت کا باعث نہیں ہوا کیونکہ وہ بارہا دیکھتے تھے کہ آپ ایک ماہ ، دو۲ دو۲ ماہ اور اس سے زیادہ عرصہ تک عبادت میں مشغول رہتے ہیں اورآپ کی نماز بہت دراز ہوتی ہے حتّٰی کہ آپ کی وفات کے پورے ایک سال بعد تک جِنّات آپ کی وفات پر مطلع نہ ہوئے اور اپنی خدمتوں میں مشغول رہے یہاں تک کہ بحکمِ الٰہی دیمک نے آپ کا عصا کھا لیا اور آپ کا جسمِ مبارک جو لاٹھی کے سہارے سے قائم تھا زمین پر آیا ، اس وقت جِنّات کو آپ کی وفات کا علم ہوا ۔(ف37)کہ وہ غیب نہیں جانتے ۔(ف38)تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات سے مطلع ہوتے ۔(ف39)اور ایک سال تک عمارت کے کاموں میں تکلیفِ شاقّہ اٹھاتے نہ رہتے ۔ مروی ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بِنا اس مقام پر رکھی تھی جہاں حضرت موسٰی علیہ السلام کا خیمہ نصب کیا گیا تھا ، اس عمارت کے پورا ہونے سے قبل حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کا وقت آ گیا تو آپ نے اپنے فرزندِ ارجمند حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس کی تکمیل کی وصیّت فرمائی چنانچہ آپ نے شیاطین کو اس کی تکمیل کا حکم دیا جب آپ کی وفات کا وقت قریب پہنچا تو آپ نے دعا کی کہ آپ کی وفات شیاطین پر ظاہر نہ ہو تاکہ وہ عمارت کی تکمیل تک مصروفِ عمل رہیں اور انہیں جو علمِ غیب کا دعوٰی ہے وہ باطل ہو جائے ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر شریف تریپن سال کی ہوئی تیرہ سال کی عمر شریف میں آپ سر یر آرائے سلطنت ہوئے چالیس سال حکمرانی فرمائی ۔
بیشک سبا (ف٤۰) کے لیے ان کی آبادی میں (ف٤۱) نشانی تھی (ف٤۲) دو باغ دہنے اور بائیں (ف٤۳) اپنے رب کا رزق کھاؤ (ف٤٤) اور اس کا شکر ادا کرو (ف٤۵) پاکیزہ شہر اور (ف٤٦) بخشنے والا رب (ف٤۷)
Indeed for (the tribe of) Saba was a sign in their dwelling-place – two gardens on the right and the left; “Eat the sustenance provided by your Lord and be grateful to Him”; a pure land and an Oft Forgiving Lord!
बेशक सबा के लिए उनकी आबादी में निशानी थी दो बाग़ दाहिने और बाएं अपने रब का रज़क खाओ और उसका शुक्र अदा करो पाकीज़ा शहर और बख़्शने वाला रब
Beshak Saba ke liye un ki abaadi mein nishani thi, do baagh, dahine aur baen, apne Rab ka rizq khao aur iska shukar ada karo, paakiza shehar aur bakshne wala Rab.
(ف40)سبا عرب کا ایک قبیلہ ہے جو اپنے جد کے نام سے مشہور ہے اور وہ جد سبا بن یشجب بن یعرب بن قحطان ہے ۔(ف41)جو حدودِ یمن میں واقع تھی ۔(ف42)اللہ تعالٰی کی وحدانیّت و قدرت پر دلالت کرنے والی اور وہ نشانی کیا تھی اس کا آگے بیان ہوتا ہے ۔(ف43)یعنی ان کی وادی کے داہنے اور بائیں دور تک چلے گئے اور ان سے کہا گیا تھا ۔(ف44)باغ ایسے کثیر الثمر تھے کہ جب کوئی شخص سر پر ٹوکرہ لئے گزرتا تو بغیر ہاتھ لگائے قِسم قِسم کے میووں سے اس کا ٹوکرہ بھر جاتا ۔(ف45)یعنی اس نعمت پر اس کی طاعت بجا لاؤ ۔(ف46)لطیف آب و ہوا صاف ستھری سرزمین ، نہ اس میں مچھر ، نہ مکھی ، نہ کھٹمل ، نہ سانپ ، نہ بچھو ، ہوا کی پاکیزگی کا یہ عالَم کہ اگر کہیں اور کا کوئی شخص اس شہر میں گزر جائے اور اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوں تو سب مر جائیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ شہرِ سبا صنعا سے تین فرسنگ کے فاصلہ پر تھا ۔(ف47)یعنی اگر تم ربّ کی روزی پر شکر کرو اور اطاعت بجا لاؤ تو وہ بخشش فرمانے والا ہے ۔
تو انہوں نے منہ پھیرا (ف٤۸) تو ہم نے ان پر زور کا اہلا (سیلاب) بھیجا (ف٤۹) اور ان کے باغوں کے عوض دو باغ انھیں بدل دیے جن میں بکٹا (بدمزہ) میوہ (ف۵۰) اور جھاؤ اور کچھ تھوڑی سی بیریاں (ف۵۱)
In response they turned away – We therefore sent upon them a tremendous flood, and in exchange of their two gardens gave them two gardens bearing bitter fruit, and tamarisk, and some berries.
तो उन्होंने मुँह फैलाया तो हम ने उन पर जोर का अहला (सीलाब) भेजा और उनके बाग़ों के अदल्द दो बाग़ उन्हें बदल दिए जिन में बिकटा (बदमज़ा) मेवा और झाऊ और कुछ थोड़ी सी बेरीयाँ
To unho ne munh phera to hum ne un par zor ka ehla (seelaab) bheja aur un ke baaghon ke awaz do baagh unhein badal diye, jin mein bikta (badmaza) mewa aur jhaao aur kuch thodi si beri.
(ف48)اس کی شکر گزاری سے اور انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کی ۔ وہب کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان کی طرف تیرہ نبی بھیجے جنہوں نے ان کو حق کی دعوتیں دیں اور اللہ تعالٰی کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کے عذاب سے ڈرایا مگر وہ ایمان نہ لائے اور انہوں نے انبیاء کو جھٹلا دیا اور کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہم پر خدا کی کوئی بھی نعمت ہو تم اپنے ربّ سے کہہ دو کہ اس سے ہو سکے تو وہ ان نعمتوں کو روک لے ۔(ف49)عظیم سیلاب جس سے ان کے باغ اموال سب ڈوب گئے اور ان کے مکانات ریت میں دفن ہوگئے اور اس طرح تباہ ہوئے کہ ان کی تباہی عرب کے لئے مثل بن گئی ۔(ف50)نہایت بدمزہ ۔(ف51)جیسی ویرانوں میں جم آتی ہیں اس طرح کی جھاڑیوں اور وحشت ناک جنگل کو جو ان کے خوش نما باغوں کی جگہ پیدا ہو گیا تھا بطریقِ مشاکلت باغ فرمایا ۔
اور ہم نے کیے تھے ان میں (ف۵۳) اور ان شہروں میں ہم نے برکت رکھی (ف۵٤) سر راہ کتنے شہر (ف۵۵) اور انھیں منزل کے اندازے پر رکھا (ف۵٦) ان میں چلو راتوں اور دنوں امن و امان سے (ف۵۷)
And We had made several towns upon the road between them and the towns which We had blessed – and kept them according to the length of the journey; “Travel safely in them, by night and by day.”
और हम ने किए थे उन में और उन शहरों में हम ने बरकत रखी सर राह कितने शहर और उन्हें मंज़िल के अंदाज़े पर रखा उनमें चलो रातों और दिनों अमन और अमान से
Aur hum ne kiye the un mein aur un shehron mein, hum ne barkat rakhi, sar raah kitne shehr aur unhein manzil ke andaaz par rakha, un mein chalo, raaton aur dinon aman o aman se.
(ف53)یعنی شہرِ سبا میں ۔(ف54)کہ وہاں کے رہنے والوں کو وسیع نعمتیں اور پانی اور درخت اور چشمے عنایت کئے ، مراد ان سے شام کے شہر ہیں ۔(ف55)قریب قریب سبا سے شام تک سفر کرنے والوں کو اس راہ میں توشہ اور پانی ساتھ لے جانے کی ضرورت نہ ہوتی ۔(ف56)کہ چلنے والا ایک مقام سے صبح چلے تو دوپہر کو ایک آبادی میں پہنچ جائے جہاں ضروریات کے تمام سامان ہوں اور جب دوپہر کو چلے تو شام کو ایک شہر میں پہنچ جائے ، یمن سے شام تک کا تمام سفر اسی آسائش کے ساتھ طے ہو سکے اور ہم نے ان سے کہا کہ ۔(ف57)نہ راتوں میں کوئی کھٹکا ، نہ دنوں میں کوئی تکلیف ، نہ دشمن کا اندیشہ ، نہ بھوک پیاس کا غم ، مالداروں میں حسد پیدا ہوا کہ ہمارے اور غریبوں کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں رہا قریب قریب کی منزلیں ہیں لوگ خراماں خراماں ہوا خوری کرتے چلے جاتے ہیں ، تھوڑی دیر کے بعد دوسری آبادی آ جاتی ہے وہاں آرام کرتے ہیں ، نہ سفر میں تکان ہے نہ کوفت ، اگر منزلیں دور ہوتیں ، سفر کی مدّت دراز ہوتی ، راہ میں پانی نہ ملتا ، جنگلوں اور بیابانوں میں گزر ہوتا تو ہم توشہ ساتھ لیتے ، پانی کے انتظام کرتے ، سواریاں اور خدام ساتھ رکھتے ، سفر کا لطف آتا اور امیر و غریب کا فرق ظاہر ہوتا ، یہ خیال کر کے انہوں نے کہا۔
تو بولے اے ہمارے رب! ہمیں سفر میں دوری ڈال (ف۵۸) اور انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا تو ہم نے انھیں کہانیاں کردیا (ف۵۹) اور انھیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا (ف٦۰) بیشک اس میں ضروری نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر والے ہر بڑے شکر والے کے لیے (ف٦۱)
So they said, “Our Lord! Make the stage between our journeys longer” and they wronged themselves – We therefore turned them into fables and scattered them completely with adversity; indeed in this are signs for every greatly enduring, most grateful person.
तो बोले ऐ हमारे रब! हमें सफ़र में दूरी डाल और उन्होंने खुद अपना ही नुकसान किया तो हम ने उन्हें कहानियां कर दिया और उन्हें पूरी परेशानी से परागंदा कर दिया बेशक उस में ज़रूरी निशानियां हैं हर बड़े सब्र वाले हर बड़े शुक्र वाले के लिए
To bole ae humare Rab! Humein safar mein doori daal, aur unho ne khud apna hi nuqsan kiya, to hum ne unhein kahaniyan kar diya aur unhein poori pareshani se paraghanda kar diya, beshak is mein zaroori nishaniyan hain har bade sabr wale, har bade shukar wale ke liye.
(ف58)یعنی ہمارے اور شام کے درمیان جنگل اور بیابان کر دے کہ بغیر توشہ اور سواری کے سفر نہ ہو سکے ۔(ف59)بعد والوں کے لئے کہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کریں ۔(ف60)قبیلہ قبیلہ منتشر ہو گیا وہ بستیاں غرق ہوگئیں اور لوگ بے خانماں ہو کر جُدا جُدا بلاد میں پہنچے ۔ غسان شام میں اور ازل عمّان میں اور خزاعہ تہامہ میں اور آلِ خزیمہ عراق میں اور اوس خزرج کا جد عمروبن عامر مدینہ میں ۔(ف61)اور صبر و شکر مومن کی صفت ہے کہ جب وہ بَلا میں مبتلا ہوتا ہے صبر کرتا ہے اور جب نعمت پاتا ہے شکر بجا لاتا ہے ۔
اور بیشک ابلیس نے انھیں اپنا گمان سچ کر دکھایا (ف٦۲) تو وہ اس کے پیچھے ہولیے مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا (ف٦۳)
And indeed Iblis made his assumptions regarding them seem true, so they all followed him except the group of Muslims.
और बेशक इब्लीस ने उन्हें अपना गुमान सच कर दिखाया तो वह उसके पीछे होलिये मगर एक ग्रुप कि मुसलमान था
Aur beshak Iblees ne unhein apna gumaan sach kar dikhaya, to woh us ke peeche chalay, magar ek giroh ke jo Musalman tha.
(ف62)یعنی ابلیس جو گمان رکھتا تھا کہ بنی آدم کو وہ شہوت و حرص اور غضب کے ذریعہ گمراہ کر دے گا ۔ یہ گمان اس نے اہلِ سبا پر بلکہ تمام کافِروں پر سچّا کر دکھایا کہ وہ اس کے متبع ہو گئے اور اس کی اطاعت کرنے لگے ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ شیطان نے نہ کسی پر تلوار کھینچی ، نہ کسی پر کوڑے مارے جھوٹے ، وعدوں اور باطل امیدوں سے اہلِ باطل کو گمراہ کر دیا ۔(ف63)انہوں نے اس کا اِتّباع نہ کیا ۔
اور شیطان کا ان پر (ف٦٤) کچھ قابو نہ تھا مگر اس لیے کہ ہم دکھا دیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا اور کون اس سے شک میں ہے، اور تمہارا رب ہر چیز پر نگہبان ہے،
And Satan had no control over them at all, except that We willed to reveal as to who believes in the Hereafter and who is in doubt of it; and your Lord is a Guardian over all things.
और शैतान का उन पर कुछ क़ाबू न था मगर इस लिए कि हम दिखा दें कि कौन आख़िरत पर ईमान लाता और कौन उससे शक़ में है, और तुम्हारा रब हर चीज़ पर नगीबान है,
Aur shaitaan ka un par kuch qaabu na tha, magar is liye ke hum dikhayein ke kaun aakhirat par iman laata aur kaun is se shak mein hai, aur tumhara Rab har cheez par nighban hai.
تم فرماؤ (ف٦۵) پکارو انھیں جنہیں اللہ کے سوا (ف٦٦) سمجھے بیٹھے ہو (ف٦۷) وہ ذرہ بھر کے مالک نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ حصہ اور نہ اللہ کا ان میں سے کوئی مددگار،
Proclaim, “Call those whom you assume (as Gods) besides Allah”; they do not own anything equal even to an atom either in the heavens or in the earth, nor do they have any share in them, nor is any one among them an aide to Allah.
तुम फ़र्माओ: पुकारो उन्हें जिन्हें अल्लाह के सिवा समझे बैठे हो, वह ज़रा भर के मालिक नहीं आसमानों में और न ज़मीन में और न उनका इन दोनों में कुछ हिस्सा और न अल्लाह का इनमें से कोई मददगार,
Tum farmaao pukaaro unhein jinhein Allah ke siwa samjhe baithe ho, woh zarra bhar ke malik nahin, aasmanon mein aur na zameen mein, aur na un ka dono mein kuch hissa, aur na Allah ka un mein se koi madadgar.
(ف65)اے محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکّہ مکرّمہ کے کافِروں سے ۔(ف66)اپنا معبود ۔(ف67)کہ وہ تمہاری مصیبتیں دور کریں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ کسی نفع و ضرر میں ۔
اور اس کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر جس کے لیے وہ اذن فرمائے، یہاں تک کہ جب اذن دے کر ان کے دلوں کی گھبراہٹ دور فرمادی جاتی ہے، ایک دوسرے سے (ف٦۸) کہتے ہیں تمہارے ربنے کیا ہی بات فرمائی، وہ کہتے ہیں جو فرمایا حق فرمایا (ف٦۹) اور وہی ہے بلند بڑائی والا،
And intercession does not benefit before Him, except for one whom He permits; to the extent that when the fear is removed from their hearts by giving permission, they say to each other, “How splendidly has your Lord spoken!” They say, “All that He has proclaimed is the Truth; and He is the Supreme, the Great.”
और उसके पास शफ़ाअत काम नहीं देती मगर जिस के लिए वह इज़ाज़त फ़रमाए, यहाँ तक कि जब इज़ाज़त दे कर उनके दिलों की घबराहट दूर फ़रमा दी जाती है, एक दूसरे से कहते हैं तुम्हारे रब ने क्या ही बात फ़रमाई, वह कहते हैं जो फ़रमाया हक़ फ़रमाया और वही है बुलंद बढ़ाई वाला,
Aur is ke paas shafaat kaam nahin deti, magar jis ke liye woh ijaazat farmaaye, yahaan tak ke jab ijaazat de kar un ke dilon ki ghabraahat door farma di jaati hai, ek doosre se kehte hain: Tumhare Rab ne kya hi baat farmaai, woh kehte hain jo farmaaya haq farmaaya aur wahi hai buland bardaai wala.
(ف68)بطریقِ استبشار ۔(ف69)یعنی شفاعت کرنے والوں کو ایمانداروں کی شفاعت کا اذن دیا ۔
تم فرماؤ کون جو تمہیں روزی دیتا ہے آسمانوں اور زمین سے (ف۷۰) تم خود ہی فرماؤ اللہ (ف۷۱) اور بیشک ہم یا تم (ف۷۲) یا تو ضرور ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں (ف۷۳)
Proclaim, “Who provides you sustenance from the sky and the earth?” Proclaim, “Allah – and indeed either we or you are upon guidance, or in open error.”
तुम फ़र्माओ: कौन जो तुम्हें रोज़ी देता है आसमानों और ज़मीन से? तुम खुद ही फ़रमाओ: अल्लाह और बेशक हम या तुम या तो ज़रूर हिदायत पर हैं या खुली गुमराही में,
Aur is ke paas shafaat kaam nahin deti magar jis ke liye woh ijaazat farmaaye, yahan tak ke jab ijaazat de kar un ke dilon ki ghabraahat door farma di jaati hai, ek doosre se kehte hain: Tumhare Rab ne kya hi baat farmaai, woh kehte hain jo farmaaya haq farmaaya aur wahi hai buland bardaai wala.
(ف70)یعنی آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین سے سبزہ اُگا کر ۔ (ف71)کیونکہ اس سوال کا بَجُز اس کے اورکوئی جواب ہی نہیں ۔(ف72)یعنی دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کے لئے ان دونوں حالوں میں سے ایک حال ضروری ہے ۔(ف73)اور یہ ظاہر ہے کہ جو شخص صرف اللہ تعالٰی کو روزی دینے والا ، پانی برسانے والا ، سبزہ اُگانے والا جانتے ہوئے بھی بُتوں کو پُوجے جو کسی ایک ذرّہ بھر چیز کے مالک نہیں (جیسا کہ اوپر آیات میں بیان ہو چکا ) وہ یقینا کُھلی گمراہی میں ہے ۔
تم فرماؤ ہم نے تمہارے گمان میں اگر کوئی جرم کیا تو اس کی تم سے پوچھ نہیں، نہ تمہارے کوتکوں کا ہم سے سوال (ف۷٤)
Proclaim, “You will not be questioned regarding the sins you assume we have committed, nor will we be questioned regarding your misdeeds.”
तुम फ़र्माओ: हम ने तुम्हारे ग़ुमान में अगर कोई जुर्म किया तो उसकी तुम से पूछ नहीं, न तुम्हारे क़ौतकों का हम से सवाल,
Tum farmaao: Kaun jo tumhein rozi deta hai aasmanon aur zameen se? Tum khud hi farmaao: Allah, aur beshak hum ya tum ya to zaroor hidaayat par hain ya khuli gumraahi mein.
(ف74)بلکہ ہر شخص سے اس کے عمل کا سوال ہو گا اور ہر ایک اپنے عمل کی جزا پائے گا ۔
م فرماؤ مجھے دکھاؤ تو وہ شریک جو تم نے اس سے ملائے ہیں (ف۷۷) ہشت، بلکہ وہی ہے اللہ عزت والا حکمت والا،
Say, “(Dare you) Show me those whom you have matched with Him – never! Rather only He is Allah, the Most Honourable, the Wise.”
तुम फ़र्माओ: मुझे दिखाओ तो वह शरीक जो तुम ने इसके साथ मिलाए हैं, हष्ट, बल्कि वही है अल्लाह इज़्ज़त वाला, हिकमत वाला,
Tum farmaao: Hamara Rab hum sab ko jama karega, phir hum mein sachaa faisla farma dega, aur wahi hai bada nyaay chukane (durust faisla karne) wala, sab kuch jaanta.
(ف77)یعنی جن بُتوں کو تم نے عبادت میں شریک کیا ہے مجھے دکھاؤ تو کس قابل ہیں ، کیا وہ کچھ پیدا کرتے ہیں ، روزی دیتے ہیں اور جب یہ کچھ نہیں تو ان کو خدا کا شریک بنانا اور ان کی عبادت کرنا کیسی عظیم خطا ہے اس سے باز آؤ ۔
اور اے محبوب! ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے (ف۷۸) خوشخبری دیتا (ف۷۹) اور ڈر سناتا (ف۸۰) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۸۱)
And O dear Prophet, We have not sent you except with a Prophethood that covers the entire mankind, heralding glad tidings and warnings, but most people do not know. (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is the Prophet towards all mankind.)
और ऐ महबूब! हम ने तुम को न भेजा मगर ऐसी रिसालत से जो तमाम आदमियों को घेरने वाली है, खुशख़बरी देता और डर सुनाता लेकिन बहुत लोग नहीं जानते,
Tum farmaao: Mujhe dikhayo to woh shareek jo tum ne is se milaye hain, hasht, balke wahi hai Allah izzat wala, hikmat wala.
(ف78)اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت عامّہ ہے تمام انسان اس کے احاطہ میں ہیں گورے ہوں یا کالے ، عربی ہوں یا عجمی ، پہلے ہوں یا پچھلے سب کے لئے آپ رسول ہیں اور وہ سب آپ کے اُمّتی ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے سیدِ عالَم علیہ الصلٰوۃ والسلام فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا فرمائی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ دی گئیں (۱) ایک ماہ کی مسافت کے رعب سے میری مدد کی گئی (۲) تمام زمین میرے لئے مسجد اور پاک کی گئی کہ جہاں میرے اُمّتی کو نماز کا وقت ہو نماز پڑھے (۳) اور میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھیں (۴) اور مجھے مرتبۂ شفاعت عطا کیا گیا (۵) اور انبیاء خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے اور میں تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا ۔ حدیث میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فضائلِ مخصوصہ کا بیان ہے جن میں سے ایک آپ کی رسالتِ عا مّہ ہے جو تمام جن و انس کو شامل ہے خلاصہ یہ کہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام خَلق کے رسول ہیں اور یہ مرتبہ خاص آپ کا ہے جو قرآنِ کریم کی آیات اور احادیثِ کثیرہ سے ثابت ہے سورۂ فرقان کی ابتداء میں بھی اس کا بیان گزر چکا ہے ۔ (خازن)(ف79)ایمان والوں کو اللہ تعالٰی کے فضل کی ۔(ف80)کافِروں کے اس کے عدل کا ۔(ف81)اور اپنے جہل کی وجہ سے آپ کی مخالفت کرتے ہیں ۔
اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا (ف۸۲) اگر تم سچے ہو،
And they say, “When will this promise come, if you are truthful?
और कहते हैं यह वादा कब आएगा अगर तुम सच्चे हो।
Aur ae mehboob! Hum ne tum ko na bheja magar aisi risalat se jo tamaam aadmiyon ko gherne wali hai, khushkhabri deta aur dar sunata, lekin bohot log nahin jaante.
اور کافر بولے ہم ہرگز نہ ایمان لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے آگے تھیں (ف۸٤) اور کسی طرح تو دیکھے جب ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے جائیں گے، ان میں ایک دوسرے پر بات ڈالے گا وہ جو دبے تھے (ف۸۵) ان سے کہیں گے جو اونچے کھینچتے (بڑے بنے ہوئے) تھے (ف۸٦) اگر تم نہ ہوتے (ف۸۷) تو ہم ضرور ایمان لے آتے،
And the disbelievers said, “We shall never believe in this Qur’an nor in the Books that were before it”; and if only you see, when the unjust will be brought before their Lord; they will hurl allegations on one another; those who were subdued will say to those who were conceited, “If it were not for you, we would have certainly accepted faith.”
और काफ़िर बोले हम हरगज़ न ईमान लाएंगे इस क़ुरआन पर और न उन किताबों पर जो इस से आगे थीं और किसी तरह तो देखे जब ज़ालिम अपने रब के पास खड़े किए जाएंगे, उन में एक दूसरे पर बात डालेगा, वह जो दबे थे उनसे कहेंगे जो ऊँचे खींचते (बड़े बने हुए) थे अगर तुम न होते तो हम ज़रूर ईमान ले आते,
Tum farmaao: Tumhare liye ek aise din ka waada jis se tum na ek ghadi peeche hat sako aur na aage barh sako.
(ف84)توریت اور انجیل وغیرہ ۔(ف85)یعنی تابع اور پیرو تھے ۔(ف86)یعنی اپنے سرداروں سے ۔ (ف87)اور ہمیں ایمان لانے سے نہ روکتے ۔
وہ جو اونچے کھینچتے تھے ان سے کہیں گے جو دبے ہوئے تھے کیا ہم نے تمہیں روک دیا ہدایت سے بعد اس کے کہ تمہارے پاس آئی بلکہ تم خود مجرم تھے،
Those who were conceited will say to those who were subdued, “Did we stop you from the guidance after it came to you? In fact you yourselves were guilty!”
वह जो ऊँचे खींचते थे उनसे कहेंगे जो दबे हुए थे क्या हम ने तुम्हें रोक दिया हिदायत से बाद इसके कि तुम्हारे पास आई बल्कि तुम खुद मुजरिम थे,
Aur kafir bole: Hum hargez na iman layenge is Quran par aur na un kitabon par jo is se aage thi, aur kisi tarah to dekhe jab zaalim apne Rab ke paas khade kiye jayenge, un mein ek doosre par baat daalega. Woh jo dabe the un se kahenge: Jo unche kheenchte (bade bane hue) the, agar tum na hote to hum zaroor iman le aate.
اور کہیں گے وہ جو دبے ہوئے تھے ان سے جو اونچے کھینچتے تھے بلکہ رات دن کا داؤں (فریب) تھا (ف۸۸) جبکہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ اللہ کا انکار کریں اور اس کے برابر والے ٹھہرائیں، اور دل ہی دل میں پچھتانے لگے (ف۸۹) جب عذاب دیکھا (ف۹۰) اور ہم نے طوق ڈالے ان کی گردنوں میں جو منکر تھے (ف۹۱) وہ کیا بدلہ پائیں گے مگر وہی جو کچھ کرتے تھے (ف۹۲)
Those who were subdued will say to those who were conceited, “Rather it was your deceit during night and day, for you commanded us to deny Allah and to set up equals to Him”; and inwardly they began regretting when they saw the punishment; and We placed shackles around the necks of the disbelievers; what recompense will they get except what they used to do?
और कहेंगे वह जो दबे हुए थे उनसे जो ऊँचे खींचते थे बल्कि रात दिन का दांव (फ़रेब) था जबकि तुम हमें हुक़्म देते थे कि अल्लाह का इंकार करें और उसके बराबर वाले ठहराएं, और दिल ही दिल में पछताने लगे जब अज़ाब देखा और हम ने तोक डालें उनकी गर्दनों में जो मंकर थे, वह क्या बदला पाएँगे मगर वही जो कुछ करते थे
Woh jo unche kheenchte the un se kahenge jo dabe hue the: Kya hum ne tumhein rok diya hidaayat se baad is ke ke tumhare paas aayi? Balke tum khud mujrim the.
(ف88)یعنی تم شب و روز ہمارے لئے مَکَر کرتے تھے اور ہمیں ہر وقت شرک پر ابھارتے تھے۔(ف89)دونوں فریق تابع بھی اور متبوع بھی ، پیرو بھی اور ان کے بہکانے والے بھی ایمان نہ لانے پر ۔ (ف90)جہنّم کا ۔(ف91)خواہ بہکانے والے ہوں یا ان کے کہنے میں آنے والے تمام کُفّار کی یہی سزا ہے ۔(ف92)دنیا میں کُفر اور معصیت ۔
اور ہم نے جب کبھی کسی شہر میں کوئی ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ تم جو لے کر بھیجے گئے ہم اس کے منکر ہیں (ف۹۳)
And whenever We sent a Herald of Warning to any town, its wealthy people said, “We disbelieve in what you have been sent with.”
और हम ने जब कभी किसी शहर में कोई डर सुनाने वाला भेजा वहाँ के आसूदों (अमीरों) ने यही कहा कि तुम जो लेकर भेजे गए हम इसके मंकर हैं
Aur kahenge woh jo dabe hue the un se jo unche kheenchte the: Balke raat din ka daao (fareb) tha, jabke tum humein hukum dete the ke Allah ka inkaar karein aur us ke barabar wale thahrein, aur dil hi dil mein pachtane lage jab azaab dekha. Aur hum ne towq daale un ki gardanon mein jo munkir the. Woh kya badla paayenge? Magar wahi jo kuch karte the.
(ف93)اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسکینِ خاطر فرمائی گئی کہ آپ ان کُفّار کی تکذیب و انکار سے رنجیدہ نہ ہوں ، کُفّار کا انبیاء علیہم السلام کے ساتھ یہی دستور رہا ہے اور مالدار لوگ اسی طرح اپنے مال اور اولاد کے غرور میں انبیاء کی تکذیب کرتے رہے ہیں ۔شانِ نزول : دو شخص شریکِ تجارت تھے ان میں سے ایک مُلکِ شام کو گیا اور ایک مکّہ مکرّمہ میں رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مبعوث ہوئے اور اس نے مُلکِ شام میں حضور کی خبرسنی تو اپنے شریک کو خط لکھا اور اس سے حضور کا مفصّل حال دریافت کیا ، اس شریک نے جواب میں لکھا کہ محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی نبوّت کا اعلان تو کیا ہے لیکن سوائے چھوٹے درجے کے حقیر و غریب لوگوں کے اور کسی نے ان کا اِتّباع نہیں کیا جب یہ خط اس کے پاس پہنچا تو وہ اپنے تجارتی کام چھوڑ کر مکّہ مکرّمہ آیا اور آتے ہی اپنے شریک سے کہا کہ مجھے سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا پتہ بتاؤ اور معلوم کر کے حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ دنیا کو کیا دعوت دیتے ہیں اور ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟ فرمایا بُت پرستی چھوڑ کر ایک اللہ تعالٰی کی عبادت کرنا اور آپ نے احکامِ اسلام بتائے ، یہ باتیں اس کے دل میں اثر کر گئیں اور وہ شخص پچھلی کتابوں کا عالِم تھا کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بے شک اللہ تعالٰی کے رسول ہیں ، حضور نے فرمایا تم نے یہ کیسے جانا ؟ اس نے کہا کہ جب کبھی کوئی نبی بھیجا گیا پہلے چھوٹے درجے کے غریب لوگ ہی اس کے تابع ہوئے یہ سنتِ الٰہیہ ہمیشہ ہی جاری رہی ۔ اس پر آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
اور بولے ہم مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہم پر عذاب ہونا نہیں (ف۹٤)
And they said, “We are greater in wealth and children; we will not be punished!”
और बोले हम माल और औलाद में बढ़ कर हैं और हम पर अज़ाब होना नहीं
Aur hum ne jab kabhi kisi shehar mein koi dar sunane wala bheja, wahan ke aasudon (ameeron) ne yehi kaha: Tum jo le kar bheje gaye hum is ke munkir hain.
(ف94)یعنی جب دنیا میں ہم خوش حال ہیں تو ہمارے اعمال و افعال اللہ تعالٰی کو پسند ہوں گے اور ایسا ہوا تو آخرت میں عذاب نہیں ہو گا ، اللہ تعالٰی نے ان کے اس خیالِ باطل کا ابطال فرما دیا کہ ثوابِ آخرت کو معیشتِ دنیا پر قیاس کرنا غلط ہے ۔
تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے (ف۹۵) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے،
Proclaim “Indeed my Lord eases the sustenance for whomever He wills and restricts it for whomever He wills, but most people do not know.”
तुम फ़रमाओ बेशक मेरा रब रज़क वसीع करता है जिसके लिए चाहे और तंगी फ़रमाता है लेकिन बहुत लोग नहीं जानते,
Aur bole: Hum maal aur aulad mein barh kar hain aur hum par azaab hona nahin.
(ف95)بطریقِ اِبتلا و امتحان تو دنیا میں روزی کی کشائش رضائے الٰہی کی دلیل نہیں اور ایسے ہی اس کی تنگی اللہ تعالٰی کی ناراضی کی دلیل نہیں ، کبھی گنہگار پر وسعت کرتا ہے ، کبھی فرمانبردار پر تنگی ، یہ اس کی حکمت ہے ثوابِ آخرت کو اس پر قیاس کرنا غلط و بیجا ہے ۔
اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں کہ تمہیں ہمارے قریب تک پہنچائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیکی کی (ف۹٦) ان کے لیے دُونا دُوں (کئی گنا) صلہ (ف۹۷) ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں (ف۹۸)(
And your wealth and your children are not capable of bringing you near to Us, but one who believes and did good deeds (is brought close); for them is double the reward – the recompense of their deeds and they are in high positions, in peace.
और तुम्हारे माल और तुम्हारी औलाद इस क़ाबिल नहीं कि तुम्हें हमारे करीब तक पहुँचाएँ मगर वह जो ईमान लाए और नेक़ी की उनके लिए दूना दूँ (कई गुना) सिला उनके अमल का बदला और वे बाला ख़ानों में अमन और अमान से हैं
Tum farmaao: Beshak mera Rab rizq wasee karta hai jis ke liye chahe aur tangi farmaata hai, lekin bohot log nahin jaante.
(ف96)یعنی مال کسی کے لئے سببِ قرب نہیں سوائے مومنِ صالح کے جو اس کو راہِ خدا میں خرچ کرے اور اولاد کسی کے لئے سببِ قرب نہیں سوائے اس مومن کے جو انہیں نیک علم سکھائے ، دین کی تعلیم دے اور صالح و متقی بنائے ۔(ف97)ایک نیکی کے بدلے دس سے لے کر سات سو گنے تک اور اس سے بھی زیادہ جتنا خدا چاہے ۔(ف98)یعنی جنّت کے منازلِ بالا میں ۔
اور ہو جو ہماری آیتوں میں ہرانے کی کوشش کرتے ہیں (ف۹۹) وہ عذاب میں لادھرے جائیں گے (ف۱۰۰)(
And those who strive in Our signs in order to defeat, will be brought into the punishment.
और जो हमारी आयतों में हराने की कोशिश करते हैं वह अज़ाब में ला धरें जाएंगे
Aur tumhare maal aur tumhari aulad is qabil nahin ke tumhein hamare qareeb tak pohchaayein, magar woh jo iman laaye aur neki ki, un ke liye doona do (kai guna) sila un ke amal ka badla, aur woh bala khanon mein aman o aman se hain.
(ف99)یعنی قرآنِ کریم پر زبانِ طعن کھولتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اپنی ان باطل کاریوں سے وہ لوگوں کو ایمان لانے سے روک دیں گے اور ان کا یہ مَکَر اسلام کے حق میں چل جائے گا اور وہ ہمارے عذاب سے بچ رہیں گے کیونکہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ مرنے کے بعد اٹھنا ہی نہیں ہے تو عذاب ثواب کیسا ۔(ف100)اور ان کی مکّاریاں انہیں کچھ کام نہ آئیں گی ۔
تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع فرماتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے (ف۱۰۱) اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا (ف۱۰۲) اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا (ف۱۰۳)
Say, “Indeed my Lord eases the sustenance for whomever He wills among His bondmen, and restricts it for whomever He wills; and whatever you spend in Allah's cause, He will restore it; and He is the Best Sustainer.”
तुम फ़रमाओ बेशक मेरा रब रज़क वसीع फ़रमाता है अपने बंदों में जिसके लिए चाहे और तंगी फ़रमाता है जिसके लिए चाहे और जो चीज़ तुम अल्लाह की राह में खर्च करो वह उसके बदले और देगा और वह सब से बेहतर रज़क देने वाला
Aur jo hamari aayaton mein haraane ki koshish karte hain, woh azaab mein la dhare jayenge.
(ف101)اپنے حسبِ حکمت ۔(ف102)دنیا میں یا آخرت میں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے خرچ کرو تم پر خرچ کیا جائے گا ۔ دوسری حدیث میں ہے صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ، معاف کرنے سے عزّت بڑھتی ہے ، تو اضُع سے مرتبے بلند ہوتے ہیں ۔(ف103)کیونکہ اس کے سوا جو کوئی کسی کو دیتا ہے خواہ بادشاہ لشکر کو یا آقا غلام کو یا صاحبِ خانہ اپنے عیال کو وہ اللہ تعالٰی کی پیدا کی ہوئی اور اس کی عطا فرمائی ہوئی روزی میں سے دیتا ہے ، رزق اور اس سے منتفع ہونے کے اسباب کا خالِق سوائے اللہ تعالٰی کے کوئی نہیں وہی رزّاقِ حقیقی ہے ۔
اور جس دن ان سب کو اٹھائے گا (ف۱۰٤) پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ تمہیں پوجتے تھے (ف۱۰۵)
And on the day when He will raise them all, and then say to the angels, “Did they worship you?”
और जिस दिन इन सब को उठाएगा फिर फरिश्तों से फ़रमाएगा क्या ये तुम्हें पूजते थे
Tum farmaao: Beshak mera Rab rizq wasee farmaata hai apne bandon mein, jis ke liye chahe aur tangi farmaata hai, jis ke liye chahe, aur jo cheez tum Allah ki raah mein kharch karo, woh us ke badle dega, aur woh sab se behtar rozi dene wala hai.
وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھ کو تو ہمارا دوست ہے نہ وہ (ف۱۰٦) بلکہ وہ جِنوں کو پوجتے تھے (ف۱۰۷) ان میں اکثر انہیں پر یقین لائے تھے (ف۱۰۸)
They will say, “Purity is to you – only you are our Supporter, not they; in fact they worshipped the jinns; most of them believed only in them.”
वह अर्श करेंगे पाक़ी है तुझ को तो हमारा दोस्त है न वह बल्कि वह जिनों को पूजते थे उनमें अक्सर उन्हें पर यक़ीन लाए थे
Aur jis din in sab ko uthaaye ga, phir farishton se farmaega: Kya ye tumhein poojhte the?
(ف106)یعنی ہماری ان سے کوئی دوستی نہیں تو ہم کس طرح ان کے پُوجنے سے راضی ہو سکتے تھے ہم اس سے بَری ہیں ۔(ف107)یعنی شیاطین کو کہ ان کی اطاعت کے لئے غیرِ خدا کو پُوجتے تھے ۔(ف108)یعنی شیاطین پر ۔
تو آج تم میں ایک دوسرے کو بھلے برے کا کچھ اختیار نہ رکھے گا (ف۱۰۹) اور ہم فرمائیں گے ظالموں سے اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے تھے (ف۱۱۰)
So this day you will not have the power to benefit or hurt one another; and We shall say to the unjust, “Taste the punishment of the fire which you used to deny!”
तो आज तुम में एक दूसरे को भले बुरे का कुछ अधिकार न रखेगा और हम फ़रमाएँगे ज़ालिमों से उस आग का अज़ाब चखो जिसे तुम झटलाते थे
Woh arz karein ge: Paaki hai tuj ko, to humara dost hai, na woh, balke woh jinnon ko poojhte the, un mein aksar unhein par yaqeen laaye the.
(ف109) اور وہ جھوٹے معبود اپنے پجاریوں کو کچھ نفع نقصان نہ پہنچا سکیں گے ۔(ف110)دنیا میں ۔
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں (ف۱۱۱) پڑھی جائیں تو کہتے ہیں (ف۱۱۲) یہ تو نہیں مگر ایک مرد کہ تمہیں روکنا چاہتے ہیں تمہارے باپ دادا کے معبودوں سے (ف۱۱۳) اور کہتے ہیں (ف۱۱٤) یہ تو نہیں مگر بہتان جوڑا ہوا، اور کافروں نے حق کو کہا (ف۱۱۵) جب ان کے پاس آیا یہ تو نہیں مگر کھلا جادو،
And if Our clear verses are recited to them, they say, “He is nothing but a man who wishes to turn you away from the deities of your forefathers!”; and they say, “This is nothing but a fabricated lie”; and said the disbelievers regarding the truth when it reached them, “This is nothing but obvious magic.”
और जब उन पर हमारी रोशन आयतें पढ़ी जाएँ तो कहते हैं यह तो नहीं मगर एक मर्द कि तुम्हें रोकना चाहते थे तुम्हारे बाप दादा के मअबूदों से और कहते हैं यह तो नहीं मगर बहुतान जोड़ा हुआ, और काफ़िरों ने हक़ को कहा जब उनके पास आया यह तो नहीं मगर खुला जादू,
To aaj tum mein ek doosre ko bhale bure ka kuch ikhtiyar nahin rahega, aur hum farmaayenge: Zaalimon se is aag ka azaab chakhon, jise tum jhatlata the.
(ف111)یعنی آیاتِ قرآن زبانِ سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ۔(ف112)حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت ۔(ف113)یعنی بُتوں سے ۔(ف114)قرآن شریف کی نسبت ۔(ف115)یعنی قرآن شریف کو ۔
اور ہم نے انہیں کچھ کتابیں نہ دیں جنہیں پڑھتے ہوں نہ تم سے پہلے ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا (ف۱۱٦)
And We did not give them any Books which they may read, nor did We send to them any Herald of Warning before you.
और हम ने उन्हें कुछ किताबें न दीं जिन्हें पढ़ते हों न तुम से पहले उनके पास कोई डर सुनाने वाला आया
Aur jab un par hamari roshan aayatein padhi jaayengi, to kehte hain: Ye to nahin, magar ek mard, ke tumhein rokna chahte hain tumhare baap dada ke maaboodon se, aur kehte hain: Ye to nahin, magar bohotan joda hua. Aur kafiron ne haq ko kaha, jab un ke paas aaya: Ye to nahin, magar khula jadoo.
(ف116)یعنی آپ سے پہلے مشرکینِ عرب کے پاس نہ کوئی کتاب آئی نہ رسول جس کی طرف اپنے دین کی نسبت کر سکیں تو یہ جس خیال پر ہیں ان کے پاس اس کی کوئی سند نہیں وہ ان کے نفس کا فریب ہے ۔
اور ان سے اگلوں نے (ف۱۱۷) جھٹلایا اور یہ اس کے دسویں کو بھی نہ پہنچے جو ہم نے انہیں دیا تھا (ف۱۱۸) پھر انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا انکا کرنا (ف۱۱۹)
And those before them had denied – and these have not reached even a tenth of what We had given them – so they denied My Noble Messengers; so how did My rejection turn out?
और उनसे अगले ने झटलाया और यह उसके दसवें को भी न पहुँचे जो हम ने उन्हें दिया था फिर उन्होंने मेरे रसूलों को झटलाया तो कैसा हुआ मेरा उनका करना
Aur hum ne unhein kuch kitabein na di, jinhein padhte hon, na tum se pehle un ke paas koi dar sunane wala aaya.
(ف117)یعنی پہلی اُمّتوں نے مثل قریش کے رسولوں کی تکذیب کی اور ان کو ۔(ف118)یعنی جو قوّت و کثرتِ مال و اولاد و طولِ عمر پہلوں کو دی گئی تھی مشرکینِ قریش کے پاس تو اس کا دسواں حصّہ بھی نہیں ، ان کے پہلے تو ان سے طاقت و قوّت مال و دولت میں دس گنے سے زیادہ تھے ۔(ف119)یعنی ان کو ناپسند رکھنا اور عذاب دینا اور ہلاک فرمانا یعنی پہلے مکذِّبین نے جب میرے رسولوں کو جھٹلایا تو میں نے اپنے عذاب سے انہیں ہلاک کیا اور ان کی طاقت و قوّت اور مال و دولت کوئی چیز بھی کام نہ آئی ان لوگوں کی کیا حقیقت ہے انہیں ڈرنا چاہئے ۔
تم فرماؤ میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں (ف۱۲۰) کہ اللہ کے لیے کھڑے رہو (ف۱۲۱) دو دو (ف۱۲۲) اور اکیلے اکیلے (ف۱۲۳) پھر سوچو (ف۱۲٤) کہ تمہارے ان صاحب میں جنون کی کوئی بات نہیں، وہ تو نہیں مگر نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے (ف۱۲۵) ایک سخت عذاب کے آگے (ف۱۲٦)
Proclaim, “I advise you just one thing; that stand up for Allah's sake, in twos and ones, and then think”; there is not a trace of insanity in this companion of yours; he is not but a Herald of Warning for you, before the advent of a severe punishment!
तुम फ़रमाओ मैं तुम्हें एक नसीहत करता हूँ कि अल्लाह के लिए खड़े रहो दो दो और अकेले अकेले फिर सोचो कि तुम्हारे इन साहिब में जुनून की कोई बात नहीं, वह तो नहीं मगर नहीं मगर तुम्हें डर सुनाने वाले एक सख़्त अज़ाब के आगे
Aur un se agalon ne jhuthlaya, aur ye us ke dasve ko bhi na pohche jo hum ne unhein diya tha, phir unhone mere rusoolon ko jhuthlaya, to kaisa hua mera inka karna.
(ف120)اگر تم نے اس پر عمل کیا تو تم پر حق واضح ہو جائے گا اور تم وَساوِس و شبہات اور گمراہی کی مصیبت سے نجات پاؤ گے وہ نصیحت یہ ہے ۔(ف121)مَحض طلبِ حق کی نیّت سے اپنے آپ کو طرفداری اور تعصّب سے خالی کر کے ۔(ف122)تاکہ باہم مشورہ کر سکو اور ہر ایک دوسرے سے اپنی فکر کا نتیجہ بیان کر سکے اور دونوں انصاف کے ساتھ غور کر سکیں ۔(ف123)تاکہ مجمع اور اژدھام سے طبیعت متوحّش نہ ہو اور تعصّب اور طرفداری و مقابلہ و لحاظ وغیرہ سے طبیعتیں پاک رہیں اور اپنے دل میں انصاف کرنے کا موقع ملے ۔(ف124)اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت غور کرو کہ کیا جیسا کہ کُفّار آپ کی طرف جنّون کی نسبت کرتے ہیں اس میں سچّائی کا کچھ شائبہ بھی ہے ؟ تمہارے اپنے تجربہ میں قریش میں یا نوعِ انسان میں کوئی شخص بھی اس مرتبہ کا عاقل نظر آیا ہے ؟ کیا ایسا ذہین ایسا صائب الرائے دیکھا ہے ، ایسا سچّا ، ایسا پاک نفس کوئی اور بھی پایا ہے ؟ جب تمہارا نفس حکم کر دے اور تمہارا ضمیر مان لے کہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان اوصاف میں یکتا ہیں تو تم یقین جانو ۔(ف125)اللہ تعالٰی کے نبی ۔(ف126)اور وہ عذابِ آخرت ہے ۔
تم فرماؤ میں نے تم سے اس پر کچھ اجر مانگا ہو تو وہ تمہیں کو (ف۱۲۷) میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے،
Say, “Whatever fee I might have asked from you upon this, is yours; my reward is only upon Allah; and He is Witness over all things.”
तुम फ़रमाओ मैंने तुम से इस पर कुछ अज्र माँगा हो तो वह तुम्हें का मेरा अज्र तो अल्लाह ही पर है और वह हर चीज़ पर गवाह है,
Tum farmaao: Main tumhein ek naseehat karta hoon, ke Allah ke liye khade raho, do do aur akele akele, phir socho ke tumhare in saahib mein junoon ki koi baat nahin, woh to nahin, magar tumhein dar sunane wale ek sakht azaab ke aage.
(ف127)یعنی میں نصیحت و ہدایت اور تبلیغ و رسالت پر تم سے کوئی اجر نہیں طلب کرتا ۔
م فرماؤ اگر میں بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا (ف۱۳۱) اور اگر میں نے راہ پائی تو اس کے سبب جو میرا رب میری طرف وحی فرماتا ہے (ف۱۳۲) بیشک وہ سننے والا نزدیک ہے (ف۱۳۳)
Proclaim, “If I stray, I stray only for my own harm; and if I attain guidance, it is because of what my Lord has sent down to me; indeed He is All Hearing, Close.”
तुम फ़रमाओ अगर मैं बहका तो अपने ही बुरे को बहका और अगर मैंने राह पाई तो उसके سبب जो मेरा रब मेरी तरफ वहि फ़रमाता है बेशक वह सुनने वाला नज़दीक है
Tum farmaao: Haq aaya aur baatil na pehl kare aur na phir kar aaye.
(ف131)کُفّارِ مکّہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ گمراہ ہو گئے ۔ (معاذ اللہ تعالٰی) اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حکم دیا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ اگر یہ فرض کیا جائے کہ میں بہکا تو اس کا وبال میرے نفس پر ہے ۔(ف132)حکمت و بیان کی کیونکہ راہ یاب ہونا اسی کی توفیق و ہدایت پر ہے ۔،انبیاء سب معصوم ہوتے ہیں گناہ ان سے نہیں ہو سکتا اور حضور تو سید الانبیاء ہیں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، خَلق کو نیکیوں کی راہیں آپ کے اِتّباع سے ملتی ہیں باوجود جلالتِ منزلت و رفعتِ مرتبت کے آپ کو حکم دیا گیا کہ ضلالت کی نسبت علٰی سبیلِ الفرض اپنے نفس کی طرف فرمائیں تاکہ خَلق کو معلوم ہو کہ ضلالت کا منشاء انسان کا نفس ہے ، جب اس کو اس پر چھوڑ دیا جاتا ہے اس سے ضلالت پیدا ہوتی ہے اور ہدایت حضرتِ حق عزّ وعلا کی رحمت و موہبت سے حاصل ہوتی ہے نفس اس کا منشاء نہیں ۔(ف133)ہر راہ یاب اور گمراہ کو جانتا ہے اور ان کے عمل و کردار سے باخبر ہے کوئی کتنا ہی چُھپائے کسی کا حال اس سے چُھپ نہیں سکتا ۔ عرب کے ایک مایہ ناز شاعر اسلام لائے تو کُفّار نے ان سے کہا کہ کیا تم اپنے دین سے پھر گئے اور اپنے بڑے شاعر اور زبان کے ماہر ہو کر محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائے ؟ انہوں نے کہا ہاں وہ مجھ پر غالب آ گئے ، قرآنِ کریم کی تین آیتیں میں نے سنیں اور چاہا کہ ان کے قافیہ پر تین شِعر کہوں ہر چندکوشش کی ، محنت اٹھائی ، اپنی قوّت صَرف کر دی مگر یہ ممکن نہ ہو سکا تب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ بشر کا کلام نہیں وہ آیتیں ' قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ' سے 'سَمِیْع قَرِیْب ' تک ہیں ۔ (روح البیان)
اور کسی طرح تو دیکھے (ف۱۳٤) جب وہ گھبراہٹ میں ڈالے جائیں گے پھر بچ کر نہ نکل سکیں گے (ف۱۳۵) اور ایک قریب جگہ سے پکڑ لیے جائیں گے (ف۱۳٦)
And if only you see, when they will be forced into a terror from which they will be unable to escape, and are seized from a place nearby. (Wherever they go, they are never far).
और किसी तरह तो देखे जब वे घबराहट में डाले जाएँगे फिर बच कर न निकल सकेंगे और एक नज़दीक जगह से पकड़ लिए जाएंगे
Tum farmaao: Agar main behka to apne hi bure ko behka, aur agar main ne raah paayi to us ke sabab jo mera Rab meri taraf wahi farmaata hai, beshak woh sun-ne wala, nazdeek hai.
(ف134)کُفّار کو مرنے یا قبر سے اٹھنے کے وقت یا بدر کے دن ۔
اور کہیں گے ہم اس پر ایمان لائے (ف۱۳۷) اور اب وہ اسے کیونکر پائیں اتنی دور جگہ سے (ف۱۳۸)
And they will say, “We accept faith in it”; and how can they attain it from so far away? (After they have crossed the limit of life allotted to them.)
और कहेंगे हम इस पर ईमान लाए और अब वह इसे क्यूँकर पाएँ इतनी दूर जगह से
Aur kisi tarah to dekhe, jab woh ghabraahat mein daale jaayenge, phir bach kar na nikal saken ge, aur ek nazdeek jagah se pakad liye jaayenge.
(ف135)اور کوئی جگہ بھاگنے اور پناہ لینے کی نہ پا سکیں گے ۔(ف136)جہاں بھی ہوں گے کیونکہ کہیں بھی ہوں اللہ تعالٰی کی پکڑ سے دور نہیں ہو سکتے اس وقت حق کی معرفت کے لئے مضطر ہوں گے ۔(ف137)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ۔(ف138)یعنی اب مکلَّف ہونے کے محل سے دور ہو کر توبہ و ایمان کیسے پا سکیں گے ۔
کہ پہلے (ف۱۳۹) تو اس سے کفر کرچکے تھے، اور بےدیکھے پھینک مارتے ہیں (ف۱٤۰) دور مکان سے (ف۱٤۱)
For they had disbelieved in it before; and they hurl allegations without seeing, from far away.
कि पहले तो इससे क़ुफ़्र कर चुके थे, और बे देखे फेंक मारते हैं दूर मकान से
Aur kahenge: Hum is par iman laaye, aur ab woh ise kaise paaye itni door jagah se?
(ف139)یعنی عذاب دیکھنے سے پہلے ۔(ف140)یعنی بے جانے کہہ گزرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں کہا تھا کہ وہ شاعر ہیں ، ساحر ہیں ، کاہن ہیں اور انہوں نے کبھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شعر و سحر و کہانت کا صدور نہ دیکھا تھا ۔(ف141)یعنی صدق و واقعیّت سے دور کہ ان کے ان مطاعن کو صدق سے قرب و نزدیکی بھی نہیں ۔
اور روک کردی گئی ان میں اور اس میں جسے چاہتے ہیں (ف۱٤۲) جیسے ان کے پہلے گروہوں سے کیا گیا تھا (ف۱٤۳) بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے (ف۱٤٤)
And a barrier is set between them and what they desire*, as was done for their earlier groups; indeed they are in a doubt that deceives. (To accept faith or return to earth)
और रोक कर दी गई उन में और उस में जिसे चाहते हैं जैसे उनके पहले ग्रुपों से किया गया था बेशक वे धोखा डालने वाले शक़ में थे
"
Ke pehle to is se kufr kar chuke the, aur be dekhe phenk maarte hain door makan se.
(ف142)یعنی توبہ و ایمان میں ۔(ف143)کہ ان کی توبہ و ایمان وقتِ یاس قبول نہ فرمائی گئی ۔(ف144)ایمانیات کے متعلق ۔
سب خوبیاں اللہ کو جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا فرشتوں کو رسول کرنے والا (ف۲) جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں، بڑھاتا ہے آفرینش (پیدائش) میں جو چاہے (ف۳) بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
All praise is to Allah, the Maker of the heavens and the earth, Who assigns angels as messengers – who have pairs of two, three, four wings; He increases in creation whatever He wills; indeed Allah is Able to do all things.
सब खूबियाँ अल्लाह को जो आसमानों और जमीन का बनाने वाला फ़रिश्तों को रसूल करने वाला जिन के दो दो तीन तीन चार चार पर हैं, बढ़ाता है आफ़रिश (पैदाइश) में जो चाहे बेशक अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है,
Sab khubiyan Allah ko jo aasmanon aur zameen ka banane wala farishton ko rasool karne wala jin ke do do teen teen chaar chaar par hain, barhata hai aafreensh (paidaish) mein jo chahe, beshak Allah har cheez par qadir hai,
(ف2)اپنے انبیاء کی طرف ۔(ف3)فرشتوں میں اور ان کے سوا اور مخلوق میں ۔
اللہ جو رحمت لوگوں کے لیے کھولے (ف٤) اس کا کوئی روکنے والا نہیں، اور جو کچھ روک لے تو اس کی روک کے بعد اس کا کوئی چھوڑنے والا نہیں، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
No one can withhold the mercy which Allah opens to mankind; and whatever He withholds – so after it, none can release it; and only He is the Most Honourable, the Wise.
अल्लाह जो रहमत लोगों के लिए खोले उसका कोई रोकने वाला नहीं, और जो कुछ रोक ले तो उसकी रोक के बाद उसका कोई छोड़ने वाला नहीं, और वही इज़्ज़त व हिक़मत वाला है,
Allah jo rehmat logon ke liye khole uska koi rokne wala nahi, aur jo kuch rok le to uski rok ke baad uska koi chhodne wala nahi, aur wahi izzat o hikmat wala hai,
اے لوگو! اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو (ف۵) کیا اللہ کے سوا اور بھی کوئی خالق ہے کہ آسمان اور زمین سے تمہیں روزی دے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۷)
O people! Remember the favour of Allah upon you; is there a Creator other than Allah who can provide you sustenance from the sky and the earth? There is no God except Him; so where are you reverting?
ऐ लोगो! अपने ऊपर अल्लाह का एहसान याद करो क्या अल्लाह के सिवा और भी कोई ख़ालिक है कि आसमान और जमीन से तुम्हें रोज़ी दे, उसके सिवा कोई माबूद नहीं, तो तुम कहाँ औंधे जाते हो
Ae logo! Apne upar Allah ka ehsaan yaad karo kya Allah ke siwa aur bhi koi khalik hai ke aasman aur zameen se tumhein rozi de, uske siwa koi maabood nahi, to tum kahan ondhay jate ho
(ف5)کہ اس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ، آسمان کو بغیر کسی ستون کے قائم کیا ، اپنی راہ بتانے اور حق کی دعوت دینے کے لئے رسولوں کو بھیجا ، رزق کے دروازے کھولے ۔(ف6)مینہ برسا کر اور طرح طرح کے نباتات پیدا کر کے ۔(ف7)اور یہ جانتے ہوئے کہ وہی خالِق و رازّق ہے ایمان و توحید سے کیوں پھرتے ہو ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی کے لئے فرمایا جاتا ہے ۔
اور اگر یہ تمہیں جھٹلائیں (ف۸) تو بیشک تم سے پہلے کتنے ہی رسول جھٹلائے گئے (ف۹) اور سب کام اللہ ہی کی طرف سے پھرتے ہیں (ف۱۰)
And if they deny you, many Noble Messengers were denied before you; and towards Allah only is the return of all matters.
और अगर ये तुम्हें झटला दें तो बेशक तुमसे पहले कितने ही रसूल झटला दिए गए और सब काम अल्लाह ही की तरफ़ से फ़िरते हैं
Aur agar ye tumhein jhuthlayen to beshak tum se pehle kitne hi rasool jhuthlaye gaye aur sab kaam Allah hi ki taraf se phirte hain
(ف8)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور تمہاری نبوّت و رسالت کو نہ مانیں اور توحید و بَعث و حساب اور عذاب کا انکار کریں ۔(ف9)انہوں نے صبر کیا آپ بھی صبر فرمائیے ،کُفّار کا انبیاء کے ساتھ قدیم سے یہ دستور چلا آتا ہے ۔(ف10)وہ جھٹلانے والوں کو سزا دے گا اور رسولوں کی مدد فرمائے گا ۔
اے لوگو! بیشک اللہ کا وعدہ سچ ہے (ف۱۱) تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی، (ف۱۲) اور ہرگز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی (ف۱۳)
O people! Allah’s promise is indeed true; therefore do not ever let the worldly life deceive you; nor ever let the great cheat deceive you in respect of Allah’s commands.
ऐ लोगो! बेशक अल्लाह का वादा सच है तो हरगज़ तुम्हें धोखा न दे दुनिया की जिंदगी, और हरगज़ तुम्हें अल्लाह के हुक्म पर फ़रेब न दे वह बड़ा फ़रेबी
Ae logo! Beshak Allah ka wada sach hai to hargiz tumhein dhoka na de duniya ki zindagi, aur hargiz tumhein Allah ke hukum par fareb na de, woh bada farebi
(ف11)قیامت ضرور آنی ہے مرنے کے بعد ضرور اٹھنا ہے ، اعمال کا حساب یقیناً ہو گا ، ہر ایک کو اس کے کئے کی جزاء بے شک ملے گی ۔(ف12)کہ اس کی لذّتوں میں مشغول ہو کر آخرت کو بھول جاؤ ۔(ف13)یعنی شیطان تمہارے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال کر کہ گناہوں سے مزہ اٹھا لو اللہ تعالٰی حلم فرمانے والا ہے وہ درگذر کرے گا ، اللہ تعالٰی بے شک حلم والا ہے لیکن شیطان کی فریب کاری یہ ہے کہ وہ بندوں کو اس طرح توبہ و عملِ صالح سے روکتا ہے اور گناہ و معصیت پر جری کرتا ہے اس کے فریب سے ہوشیار رہو ۔
بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو (ف۱٤) وہ تو اپنے گروہ کو (ف۱۵) اسی لیے بلاتا ہے کہ دوزخیوں میں ہوں (ف۱٦)
Indeed Satan is your enemy, therefore you too take him as an enemy; he only calls his group so that they become the people of hell!
बेशक शैतान तुम्हारा दुश्मन है तो तुम भी उसे दुश्मन समझो वह तो अपने ग्रुप को उसी लिए बुलाता है कि दोज़खियों में हों
Beshak Shaitan tumhara dushman hai to tum bhi use dushman samjho, woh to apne group ko usi liye bulata hai ke dozakhiyon mein hon
(ف14)اور اس کی اطاعت نہ کرو اور اللہ تعالٰی کی طاعت میں مشغول رہو ۔(ف15)یعنی اپنے متّبعین کو کُفر کی طرف ۔(ف16)اب شیطان کے متّبِعین اور اس کے مخالفین کا حال تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا جاتا ہے ۔
تو کیا وہ جس کی نگاہ میں اس کا برا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے اسے بھلا سمجھا ہدایت والے کی طرح ہوجائے گا (ف۱۹) اس لیے اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور راہ دیتا ہے جسے چاہے، تو تمہاری جان ان پر حسرتوں میں نہ جائے (ف۲۰) اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں،
So will one whose misdeeds are made seeming good to him – so he deems them good – be ever equal to the one who is upon guidance? Therefore indeed Allah sends astray whomever He wills, and guides whomever He wills; so may not your life be lost in despairing after them; Allah knows their deeds very well.
तो क्या वह जिसकी निगाह में उसका बुरा काम आराख़्त किया गया कि उसने उसे भला समझा हिदायत वाले की तरह हो जाएगा इसलिए अल्लाह गुमराह करता है जिसे चाहे और राह देता है जिसे चाहे, तो तुम्हारी जान उन पर हसरतों में न जाए अल्लाह खूब जानता है जो कुछ वह करते हैं,
To kya woh jiski nigah mein uska bura kaam aaraasta kiya gaya ke usne use bhala samjha hidaayat wale ki tarah ho jayega is liye Allah gumraah karta hai jise chahe aur raah deta hai jise chahe, to tumhari jaan un par hasraton mein na jaye Allah khoob jaanta hai jo kuch woh karte hain,
(ف19)ہر گز نہیں بُرے کام کو اچھا سمجھنے والا راہ یاب کی طرح کیا ہو سکتا ہے ؟ وہ اس بدکار سے بدرجہا بدتر ہے جو اپنے خراب عمل کو بُرا جانتا ہو اور حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھتا ہو ۔شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل وغیرہ مشرکینِ مکّہ کے حق میں نازل ہوئی جو اپنے شرک و کُفر جیسے قبیح افعال کو شیطان کے بہکانے اور بَھلا سمجھانے سے اچھا سمجھتے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت اصحابِ بدعت و ہَوا کے حق میں نازل ہوئی جن میں روافض و خوارج وغیرہ داخل ہیں جو اپنی بدمذہبیوں کو اچھا جانتے ہیں اور انہیں کے زُمرہ میں داخل ہیں ، تمام بدمذہب خواہ وہابی ہوں یا غیرِ مقلِد یا مرزائی یا چکڑالی اور کبیرہ گناہ والے جو اپنے گناہوں کو بُرا جانتے ہیں اور حلال نہیں سمجھتے اس میں داخل نہیں ۔(ف20)کہ افسوس وہ ایمان نہ لائے اور حق کو قبول کرنے سے محروم رہے ۔ مراد یہ کہ آپ ان کے کُفر و ہلاکت کا غم نہ فرمائیں ۔
اور اللہ ہے جس نے بھیجیں ہوائیں کہ بادل ابھارتی ہیں، پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں (ف۲۱) تو اس کے سبب ہم زمین کو زندہ فرماتے ہیں اس کے مرے پیچھے (ف۲۲) یونہی حشر میں اٹھنا ہے (ف۲۳)
And it is Allah Who sent the winds – so they raise clouds and We then direct it towards a dead city – so with it We revive the earth after its death; and this is how the resurrection will be.
और अल्लाह है जिसने भेजें हवाएँ कि बादल उभारती हैं, फिर हम उसे किसी मरे शहर की तरफ़ रवाँ करते हैं तो उसके سبب हम ज़मीन को ज़िंदा फ़रमाते हैं उसके मरे पीछे युन्ही हशर में उठना है
Aur Allah hai jisne bhejein hawaayein ke baadal ubhaarti hain, phir hum use kisi murda shahar ki taraf rawaan karte hain to uske sabab hum zameen ko zinda farmaate hain, uske mare peeche yunhi hashr mein uthna hai
(ف21)جس میں سبزہ اور کھیتی نہیں اور خشک سالی سے وہاں کی زمین بے جان ہو گئی ہے ۔(ف22)اور اس کو سرسبز و شاداب کر دیتے ہیں اس سے ہماری قدرت ظاہر ہے ۔(ف23)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایک صحابی نے عرض کیا کہ اللہ تعالٰی مُردے کس طرح زندہ فرمائے گا ؟ خَلق میں اس کی کوئی نشانی ہو تو ارشاد فرمائیے ، فرمایا کہ کیا تیرا کسی ایسے جنگل میں گذر ہوا ہے جو خشک سالی سے بے جان ہو گیا ہو اور وہاں سبزہ کا نام و نشان نہ رہا ہو پھر کبھی اسی جنگل میں گزر ہوا ہو اور اس کو ہرا بھرا لہلہاتا پایا ہو ؟ ان صحابہ نے عرض کیا بے شک ایسا دیکھاہے حضورنے فرمایا ایسے ہی اللہ مُردوں کو زندہ کرے گا اور خَلق میں یہ اس کی یہ نشانی ہے ۔
جسے عزت کی چاہ ہو تو عزت تو سب اللہ کے ہاتھ ہے (ف۲٤) اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام (ف۲۵) اور جو نیک کام سے وہ اسے بلند کرتا ہے (ف۲٦) اور وہ جو برے داؤں (فریب) کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف۲۷) اور انہیں کا مکر برباد ہوگا (ف۲۸
Whoever desires honour – therefore all honour belongs to Allah!* Towards Him only ascends the pure good speech, and He raises high the pious deed; and for those who conspire evil is a severe punishment; and their own conspiracy will be destroyed. (It is Allah Who bestows honour, to whomever He wills.)
जिसे इज़्ज़त की चाह हो तो इज़्ज़त तो सब अल्लाह के हाथ है उसी की तरफ़ चढ़ता है पाकीज़ा कलाम और जो नेक काम से वह उसे बुलंद करता है और वह जो बुरे दाओं (फ़रेब) करते हैं उनके लिए सख़्त अज़ाब है और उन्हें का मक़र बरबाद होगा (फ़ 28)
Jise izzat ki chaah ho to izzat to sab Allah ke haath hai, usi ki taraf charhta hai pakeeza kalaam aur jo nek kaam se woh use buland karta hai aur woh jo bure daon (fareb) karte hain unke liye sakht azaab hai aur unka makr barbaad hoga (F 28)
(ف24)دنیا و آخرت میں وہی عزّت کا مالک ہے جسے چاہے عزّت دے تو جو عزّت کا طلب گار ہو وہ اللہ تعالٰی سے عزّت طلب کرے کیو نکہ ہر چیز اس کے مالک ہی سے طلب کی جاتی ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ربّ تبارک و تعالٰی ہر روز فرماتا ہے جسے عزّتِ دارَین کی خواہش ہو چاہئے کہ وہ حضرت عزیز جَلَّتۡ عِزّ تُہ کی اطاعت کرے اور ذریعہ طلبِ عزّت کا ایمان اور اعمالِ صالحہ ہیں ۔(ف25)یعنی اس کے محلِّ قبول و رضا تک پہنچتا ہے اور پاکیزہ کلام سے مراد کلمۂ توحید و تسبیح و تحمید و تکبیر وغیرہ ہیں جیسا کہ حاکم و بیہقی نے روایت کیا اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کلمۂ طیّب کی تفسیر ذکر سے فرمائی اور بعض مفسِّرین نے قرآن اور دعا بھی مراد لی ہے ۔(ف26)نیک کام سے مراد وہ عمل و عبادت ہے جو اخلاص سے ہو اور معنٰی یہ ہیں کہ کلمۂ طیّبہ عمل کو بلند کرتا ہے کیونکہ عمل بے توحید و ایمان مقبول نہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ عملِ صالح کو اللہ تعالٰی رفعتِ قبول عطا فرماتا ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ عملِ نیک عمل کرنے والے کا مرتبہ بلند کرتے ہیں تو جو عزّت چاہے اس کو لازم ہے کہ نیک عمل کرے ۔(ف27)مراد ان مَکَر کرنے والوں سے وہ قریش ہیں جنہوں نے دارالنَّدوہ میں جمع ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت قید کرنے اور قتل کرنے اور جِلا وطن کرنے کے مشورہ کئے تھے جس کا تفصیلی بیان سورۂ انفال میں ہو چکا ہے ۔(ف28)اور وہ اپنے داؤں و فریب میں کامیاب نہ ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے شر سے محفوظ رہے اور انہوں نے اپنی مکّاریوں کی سزائیں پائیں کہ بدر میں قید بھی ہوئے ، قتل بھی کئے گئے اور مکّہ مکرّمہ سے نکالے بھی گئے ۔
اور اللہ نے تمہیں بنایا (ف۲۹) مٹی سے پھر (ف۳۰) پانی کی بوند سے پھر تمہیں کیا جوڑے جوڑے (ف۳۱) اور کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا اور نہ وہ جتنی ہے مگر اس کے علم سے، اور جس بڑی عمر والے کو عمر دی جائے یا جس کسی کی عمر کم رکھی جائے یہ سب ایک کتاب میں ہے (ف۳۲) بیشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف۳۳)
And Allah created you from clay, then a drop of liquid, then made you as couples; and no female conceives or gives birth except with His knowledge; and every aged being that is given the age, and every one whose life is kept short – all this is in a Book; indeed this is easy for Allah.
और अल्लाह ने तुम्हें बनाया मिट्टी से फिर पानी की बूँद से फिर तुम्हें किया जोड़े जोड़े और किसी मादा को पेट नहीं रहता और न वह जितनी है मगर उसके इल्म से, और जिस बड़ी उम्र वाले को उम्र दी जाए या जिस किसी की उम्र कम रखी जाए यह सब एक किताब में है बेशक यह अल्लाह को आसान है
Aur Allah ne tumhein banaya mitti se, phir paani ki boond se, phir tumhein kiya jode jode aur kisi maada ko pait nahi rehta aur na woh jitni hai magar uske ilm se, aur jis badi umr wale ko umr di jaye ya jis kisi ki umr kam rakhi jaye yeh sab ek kitaab mein hai, beshak yeh Allah ko aasan hai
(ف29)یعنی تمہاری اصل حضرت آدم علیہ السلام کو ۔(ف30)ان کی نسل کو ۔ (ف31)مرد و عورت ۔(ف32)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔ حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ معمّر وہ ہے جس کی عمر ساٹھ سال پہنچے اور کم عمر والا وہ جو اس سے قبل مر جائے ۔(ف33)یعنی عمل و اَجل کا مکتوب فرمانا ۔
اور دونوں سمندر ایک سے نہیں (ف۳٤) یہ میٹھا ہے خوب میٹھا پانی خوشگوار اور یہ کھاری ہے تلخ اور ہر ایک میں سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت (ف۳۵) اور نکالتے ہو پہننے کا ایک گہنا (زیور) (ف۳٦) اور تو کشتیوں کو اس میں دیکھے کہ پانی چیرتی ہیں (ف۳۷) تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو (ف۳۸) اور کسی طرح حق مانو (ف۳۹)
And the two seas are not alike; this is sweet, very sweet and palatable – and this is salty, bitter; and from each you eat fresh meat and extract the ornament which you wear; and you see the ship cleaving through it, so that you may seek His munificence, and in some way become grateful.
और दोनों समंदर एक से नहीं यह मीठा है खूब मीठा पानी खुशगवार और यह खारी है तल्ख़ और हर एक में से तुम खाते हो ताज़ा ग़ोसत और निकालते हो पहनने का एक गहना (ज़ेवर) और तो कश्तीओं को इस में देखे कि पानी चीरती हैं ताकि तुम उसका फ़ज़ल तलाश करो और किसी तरह हक़ मानो
Aur dono samundar ek se nahi, yeh meetha hai khoob meetha paani khushgawar aur yeh khaari hai talkh, aur har ek mein se tum khate ho taaza gosht aur nikalte ho pehnne ka ek gehna (zevar), aur tum kashtiyon ko is mein dekho ke paani cheertee hain taake tum iska fazl talaash karo aur kisi tarah haq mano
(ف34)بلکہ دونوں میں فرق ہے ۔(ف35)یعنی مچھلی ۔(ف36)گوہر و مرجان ۔(ف37)دریا میں چلتے ہوئے اور ایک ہی ہوا میں آتی بھی ہیں جاتی بھی ہیں ۔(ف38)تجارتوں میں نفع حاصل کر کے ۔(ف39)اور اللہ تعالٰی کی نعمتوں کی شکر گزاری کرو ۔
رات لاتا ہے دن کے حصہ میں (ف٤۰) اور دن لاتا ہے رات کے حصہ میں (ف٤۱) اور اس نے کام میں لگائے سورج اور چاند ہر ایک ایک مقرر میعاد تک چلتا ہے (ف٤۲) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اور اس کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو (ف٤۳) دانہ خُرما کے چھلکے تک کے مالک نہیں،
He brings the night in a part of the day and He brings the day in a part of the night; and He has subjected the sun and moon; each one runs to its fixed term; such is Allah, your Lord – only His is the kingship; and those whom you worship instead of Him do not own even the husk of a date-seed.
रात लाता है दिन के हिस्सा में और दिन लाता है रात के हिस्सा में और उसने काम में लगाए सूरज और चाँद हर एक एक मुअय्यन मीयाद तक चलता है यह है अल्लाह तुम्हारा रब उसी की बड़शाही है, और उसके सिवा जिन्हें तुम पूजते हो दाना ख़ुरमा के छलके तक के मालिक नहीं,
Raat laata hai din ke hissa mein aur din laata hai raat ke hissa mein, aur usne kaam mein lagaye sooraj aur chaand, har ek ek muayyan meyaad tak chalta hai, yeh hai Allah tumhara Rabb, isi ki badshahi hai, aur uske siwa jinhein tum poojhte ho daana khurma ke chhalke tak ke malik nahi,
(ف40)تو دن بڑھ جاتا ہے ۔ (ف41)تو رات بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ بڑھنے والی دن یا رات کی مقدار پندرہ گھنٹہ تک پہنچتی ہے اور گَھٹنے والا نو گھنٹے کا رہ جاتا ہے ۔(ف42)یعنی روزِ قیامت تک کہ جب قیامت آ جائے گی تو ان کا چلنا موقوف ہو جائے گا اور یہ نظام باقی نہ رہے گا ۔(ف43)یعنی بُت ۔
تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں، (ف٤٤) اور بالفرض سن بھی لیں تو تمہاری حاجت روانہ کرسکیں (ف٤۵) اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک سے منکر ہوں گے (ف٤٦) اور تجھے کوئی نہ بتائے گا اس بتانے والے کی طرح (ف٤۷)
If you call them, they do not hear your call; and supposedly if they heard it, they cannot fulfil your needs; and on the Day of Resurrection they will deny your ascribed partnership; and none will inform you like Him Who informs.
तुम उन्हें पुकारो तो वह तुम्हारी पुकार न सुनें, और बालफ़र्ज़ सुन भी लें तो तुम्हारी हाज़त रवाना कर सकें और क़ियामत के दिन वह तुम्हारे शिर्क़ से मंकर होंगे और तुम्हें कोई न बताएगा इस बताने वाले की तरह
Tum unhein pukaro to woh tumhari pukar na sunein, aur balfarz sun bhi lein to tumhari haajat rawana kar sakein, aur Qiyamat ke din woh tumhare shirk se mankar honge aur tumhein koi na bataega is batane wale ki tarah
(ف44)کیونکہ جماد بے جان ہیں ۔(ف45)کیونکہ اصلاً قدرت و اختیار نہیں رکھتے ۔(ف46)اور بیزاری کا اظہار کریں گے اور کہیں گے تم ہمیں نہ پُوجتے تھے ۔(ف47)یعنی دارَین کے احوال اور بُت پرستی کے مآل کی جیسی خبر اللہ تعالٰی دیتا ہے اور کوئی نہیں دے سکتا ۔
اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج (ف٤۸) اور اللہ ہی بےنیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
O people! You are dependant on Allah; and Allah only is the Independent (Absolute, Not Needing Anything), the Most Praiseworthy.
ऐ लोगो! तुम सब अल्लाह के मुहताज और अल्लाह ही बेनियाज़ है सब खूबियों सराहा,
Ae logo! Tum sab Allah ke mohtaj aur Allah hi be-niaz hai, sab khubiyon saraha,
(ف48)یعنی اس کے فضل و احسان کے حاجت مند ہو اور تمام خَلق اس کی محتاج ہے ۔ حضرت ذوالنّون نے فرمایا کہ خَلق ہر دم اور ہر لحظہ اللہ تعالٰی کی محتاج ہے اور کیوں نہ ہو گی ان کی ہستی اور ان کی بقا سب اس کے کرم سے ہے ۔
اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی (ف۵۱) اور اگر کوئی بوجھ والی اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو اس کے بوجھ میں سے کوئی کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قریب رشتہ دار ہو (ف۵۲) اے محبوب! تمہارا ڈر سناتا انہیں کو کام دیتا ہے جو بےدیکھے اپنے رب! سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں، اور جو ستھرا ہوا (ف۵۳) تو اپنے ہی بھلے کو ستھرا ہوا (ف۵٤) اور اللہ ہی کی طرف پھرنا ہے،
And no burdened soul will carry another soul’s burden; and if a burdened soul calls another to share the burden, no one will carry any part of it, even if he is a close relative; O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), your warning only benefits those who fear their Lord without seeing and who keep the prayer established; and whoever cleansed himself, has cleansed for his own benefit; and towards Allah only is the return.
और कोई बोझ उठाने वाली जान दूसरे का बोझ न उठाएगी और अगर कोई बोझ वाली अपना बोझ बाटने को किसी को बुलाए तो उसके बोझ में से कोई कुछ न उठाएगा अगरचे क़रीब रिश्तेदार हो ऐ महबूब! तुम्हारा डर सुनाता उन्हें को काम देता है जो बेदेखे अपने रब! से डरते हैं और नमाज़ क़ायम रखते हैं, और जो सुथरा हुआ तो अपने ही भले को सुथरा हुआ और अल्लाह ही की तरफ़ फिरना है,
Aur koi bojh uthane wali jaan doosre ka bojh na uthaaye gi aur agar koi bojh wali apna bojh batane ko kisi ko bulaye to uske bojh mein se koi kuch na uthaaye ga, agarche qareeb rishtedar ho. Ae Mehboob! Tumhara darr sunata unhein ko kaam deta hai jo be-dekhe apne Rabb se darte hain aur namaz qaim rakhte hain, aur jo suthra hua to apne hi bhale ko suthra hua aur Allah hi ki taraf phirna hai,
(ف51)معنٰی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر ایک جان پر اسی کے گناہوں کا بار ہو گا جو اس نے کئے ہیں اور کوئی جان کسی دوسرے کے عوض نہ پکڑی جائے گی البتہ جو گمراہ کرنے والے ہیں ان کے گمراہ کرنے سے جو لوگ گمراہ ہوئے ان کی تمام گمراہیوں کا بار ان گمراہوں پر بھی ہو گا اور ان گمراہ کرنے والوں پر بھی جیسا کہ کلامِ کریم میں ارشا دہوا 'وَ لَیَحْمِلُنَّ اَ ثْقَالَھُمْ وَ اَ ثْقَالاً مَّعَ اَ ثْقَالِھِمْ ' اور درحقیقت یہ ان کی اپنی کمائی ہے دوسرے کی نہیں ۔(ف52)باپ یا ماں، بیٹا یا بھائی کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ماں باپ بیٹے کو لپٹیں گے اور کہیں گے اے ہمارے بیٹے ہمارے کچھ گناہ اٹھا لے ، وہ کہے گا میرے امکان میں نہیں میرا اپنا بار کیا کم ہے ۔(ف53)یعنی بدیوں سے بچا اور نیک عمل کئے ۔(ف54)اس نیکی کا نفع وہی پائے گا ۔
اور برابر نہیں زندے اور مردے (ف٦۰) بیشک اللہ سناتا ہے جسے چاہے (ف٦۱) اور تم نہیں سنانے والے انہیں جو قبروں میں پڑے ہیں (ف٦۲)
And not equal are the living and the dead! Indeed Allah causes them to listen*, whomever He wills; and you cannot make those who are in the graves** listen. (* Listen to guidance **The disbelievers are referred to as dead, whose fates are sealed.)
और बराबर नहीं ज़िंदे और मरदे बेशक अल्लाह सुनाता है जिसे चाहे और तुम नहीं सुनाने वाले उन्हें जो कब्रों में पड़े हैं
Aur barabar nahi zinday aur marday, beshak Allah sunata hai jise chahe aur tum nahi sunane wale unhein jo qubron mein paday hain
(ف60)یعنی مومنین اور کُفّار یا عُلَماء اور جُھّال ۔(ف61)یعنی جس کی ہدایت منظور ہو اس کو توفیق عطا فرماتا ہے ۔(ف62)یعنی کُفّار کو ۔ اس آیت میں کُفّارکو مُردوں سے تشبیہ دی گئی کہ جس طرح مردے سنی ہوئی بات سے نفع نہیں اٹھا سکتے اور پند پذیر نہیں ہوتے ، بدانجام کُفّار کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ہدایت و نصیحت سے منتفع نہیں ہوتے ۔ اس آیت سے مُردوں کے نہ سننے پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ آیت میں قبر والوں سے مراد کُفّار ہیں نہ کہ مردے اور سننے سے مراد وہ سنتا ہے جس پر راہ یابی کا نفع مرتب ہو ، رہا مُردوں کا سننا وہ احادیثِ کثیرہ سے ثابت ہے ۔ اس مسئلہ کا بیان بیسویں پارے کے دوسرے رکوع میں گزرا ۔
اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِيۡرٌ ﴿23﴾
تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو (ف٦۳)
You are purely a Herald of Warning.
तुम तो यही डर सुनाने वाले हो
Tum to yehi darr sunane wale ho
(ف63)تو اگر سننے والا آپ کے اِنذار پر کان رکھے اور بگوشِ قبول سنے تو نفع پائے اور اگر مصرِّین منکِرین میں سے ہو اور آپ کی نصیحت سے پندپذیر نہ ہو تو آپ کا کچھ حرج نہیں وہی محروم ہے ۔
اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا (ف٦٤) اور ڈر سناتا (ف٦۵) اور جو کوئی گروہ تھا سب میں ایک ڈر سنانے والا گزر چکا (ف٦٦)
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), We have indeed sent you with the Truth, giving glad tidings and heralding warnings; and there was a Herald of Warning in every group.
ऐ महबूब! बेशक हमने तुम्हें हक़ के साथ भेजा खुशख़बरी देता और डर सुनाता और जो कोई ग्रुप था सब में एक डर सुनाने वाला गुजर चुका
Ae Mehboob! Beshak humne tumhein haq ke saath bheja, khushkhabri deta aur darr sunata aur jo koi group tha sab mein ek darr sunane wala guzar chuka
(ف64)ایمانداروں کو جنّت کی ۔(ف65)کافِروں کو عذاب ۔(ف66)خواہ وہ نبی ہو یا عالِمِ دین جو نبی کی طرف سے خَلقِ خدا کو اللہ تعالٰی کا خوف دلائے ۔
اور اگر یہ (ف٦۷) تمہیں جھٹلائیں تو ان سے اگلے بھی جھٹلاچکے ہیں (ف٦۸) ان کے پاس ان کے رسول آئے روشن دلیلیں (ف٦۹) اور صحیفے اور چمکتی کتاب (ف۷۰) لے کر،
And if these disbelievers deny you, those before them had also denied; their Noble Messengers came to them with clear proofs and scriptures and the bright Book.
और अगर ये तुम्हें झटला दें तो उनसे अगले भी झटला चुके हैं उनके पास उनके रसूल आए रोशन दलीलें और सहीफ़े और चमकती किताब लेकर,
Aur agar ye tumhein jhuthlayen to un se agle bhi jhuthla chuke hain, unke paas unke rasool aaye roshan daleelain aur saheefe aur chamakti kitaab lekar,
(ف67)کُفّارِ مکّہ ۔(ف68)اپنے رسولوں کو ، کُفّار کا قدیم سے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ یہی برتاؤ رہا ہے ۔(ف69)یعنی نبوّت پر دلالت کرنے والے معجزات ۔(ف70)توریت و انجیل و زبور ۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا (ف۷۳) تو ہم نے اس سے پھل نکالے رنگ برنگ (ف۷٤) اور پہاڑوں میں راستے ہیں سفید اور سرخ رنگ رنگ کے اور کچھ کالے بھوچنگ (سیاہ کالے)
Have you not seen that it is Allah Who causes the water to descend from the sky? So with it We have grown various colourful fruits; and among the mountains are tracks white and red, of different hues, and others dark black.
क्या तूने न देखा कि अल्लाह ने आसमान से पानी उतारा तो हमने उससे फल निकाले रंग बरंग और पहाड़ों में रास्ते हैं सफ़ेद और सरख़ रंग रंग के और कुछ काले भूजंग (सियाह काले)
Kya tu ne na dekha ke Allah ne aasman se paani utara to humne us se phal nikale rang barang aur pahadon mein raste hain safed aur surkh rang rang ke aur kuch kaale bhoojang (siyah kaale)
(ف73)بارش نازل کی ۔(ف74)سبز ، سرخ ، زرد وغیرہ طرح طرح کے انار ، سیب ، انجیر ، انگور ، کھجور وغیرہ بے شمار ۔
اور آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے رنگ یونہی طرح طرح کے ہیں (ف۷۵) اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں (ف۷٦) بیشک اللہ بخشنے والا عزت والا ہے،
And similarly the colours of men and beasts and cattle, are different; among the bondmen of Allah, only the people of knowledge fear Him; indeed Allah is the Most Honourable, Oft Forgiving.
और आदमियों और जानवरों और चौपायों के रंग युन्ही तरह तरह के हैं अल्लाह से उसके बंदों में वही डरते हैं जो इल्म वाले हैं बेशक अल्लाह बख़्शने वाला इज़्ज़त वाला है,
Aur aadmiyon aur janwaron aur choupayon ke rang yunhi tarah tarah ke hain, Allah se uske bandon mein wahi darte hain jo ilm wale hain, beshak Allah bakhshne wala izzat wala hai,
(ف75)جیسے پھلوں اور پہاڑوں میں یہاں اللہ تعالٰی نے اپنی آیتیں اور اپنے نشانہائے قدرت اور آثارِ صنعت جن سے اس کی ذات و صفات پر استدلال کیا جائے ذکر کئے ، اس کے بعد فرمایا ۔(ف76)اور اس کے صفات جانتے اور اس کی عظمت کو پہچانتے ہیں ، جتنا علم زیادہ اتنا خوف زیادہ ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ مخلوق میں اللہ تعالٰی کا خوف اس کو ہے جو اللہ تعالٰی کے جبروت اور اس کی عزّت و شان سے باخبر ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا قَسم اللہ عزَّوجلَّ کی کہ میں اللہ تعالٰی کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور سب سے زیادہ اس کا خوف رکھنے والا ہوں ۔
بیشک وہ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں (ف۷۷) جس میں ہرگز ٹوُٹا (نقصان) نہیں،
Indeed those who read the Book of Allah, and keep the prayer established, and spend from what We have bestowed upon them in secret and publicly, are hopeful of a trade in which there is never a loss.
बेशक वह जो अल्लाह की किताब पढ़ते हैं और नमाज़ क़ायम रखते और हमारे दिए से कुछ हमारी राह में खर्च करते हैं पोशीदा और ज़ाहिर वह ऐसी तिजारत के उम्मीदवार हैं जिसमें हरगज़ टूटा (नुकसान) नहीं,
Beshak woh jo Allah ki kitaab padhte hain aur namaz qaim rakhte aur humare diye se kuch humari raah mein kharch karte hain, posheeda aur zaahir, woh aisi tijarat ke ummedwar hain jismein hargiz toota (nuqsan) nahi,
اور ہو کتاب جو ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی (ف۷۸) وہی حق ہے اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی ہوئی، بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے (ف۷۹)
And the Book which We have divinely revealed to you – that is the Truth, confirming the Books which were before it; indeed Allah is Aware of His bondmen, All Seeing.
और हो किताब जो हमने तुम्हारी तरफ़ वही हक़ है अपने से अगली किताबों की तसदीक फ़रमाती हुई, बेशक अल्लाह अपने बंदों से ख़बरदार देखने वाला है
Aur ho kitaab jo humne tumhari taraf wahi haq hai, apne se agli kitaabon ki tasdeeq farmaati hui, beshak Allah apne bandon se khabardar dekhne wala hai
(ف78)یعنی قرآنِ مجید ۔ (ف79)اور ان کے ظاہر و باطن کا جاننے والا ۔
پھر ہم نے کتاب کا وارث کیا اپنے چنے ہوئے بندوں کو (ف۸۰) تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور ان میں کوئی میانہ چال پر ہے، اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا (ف۸۱) یہی بڑا فضل ہے،
We then made Our chosen bondmen the inheritors of the Book; so among them is one who wrongs himself; and among them is one who stays on the middle course; and among them is one who, by the command of Allah, surpassed others in good deeds; this is the great favour!
फिर हमने किताब का वारिस किया अपने चुने हुए बंदों को तो उनमें कोई अपनी जान पर ज़ुल्म करता है और उनमें कोई मियाँना चाल पर है, और उनमें कोई वह है जो अल्लाह के हुक्म से भलाईयों में सबक़त ले गया यही बड़ा फ़ज़ल है,
Phir humne kitaab ka waaris kiya apne chune hue bandon ko, to unmein koi apni jaan par zulm karta hai aur unmein koi miyana chaal par hai, aur unmein koi woh hai jo Allah ke hukum se bhalaiyon mein sabqat le gaya, yehi bada fazl hai,
(ف80)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمّت کو یہ کتاب عطا فرمائی جنہیں تمام اُمّتوں پر فضیلت دی اور سیدِ رُسُل صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی غلامی و نیاز مندی کی کرامت و شرافت سے مشرف فرمایا ، اس اُمّت کے لوگ مختلف مدارج و مراتب رکھتے ہیں ۔(ف81)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ سبقت لے جانے والا مومنِ مخلص ہے اور مقتصد یعنی میانہ روی کرنے والا وہ جس کے عمل ریا سے ہوں اور ظالم سے مراد یہاں وہ ہے جو نعمتِ الٰہی کا منکِر تو نہ ہو لیکن شکر بجا نہ لائے ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا سابق تو سابق ہی ہے اور مقتصد ناجی اور ظالم مغفور اور ایک اور حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا نیکیوں میں سبقت لے جانے والا جنّت میں بے حساب داخل ہو گا اور مقتصد سے حساب میں آسانی کی جائے گی اور ظالم مقامِ حساب میں روکا جائے گا اس کو پریشانی پیش آئے گی پھر جنّت میں داخل ہو گا ۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ سابق عہدِ رسالت کے وہ مخلصین ہیں جن کے لئے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جنّت کی بشارت دی اور مقتصد وہ اصحاب ہیں جو آپ کے طریقہ پر عامل رہے اور ظالم لنفسہٖ ہم تم جیسے لوگ ہیں یہ کمالِ انکسار تھا ۔ حضرت اُمّ المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنھما کا کہ اپنے آپ کو اس تیسرے طبقہ میں شمار فرمایا باوجود اس جلالتِ منزلت و رفعتِ درَجت کے جو اللہ تعالٰی نے آپ کو عطا فرمائی تھی اور بھی اس کی تفسیر میں بہت اقوال ہیں جو تفاسیر میں مفصلاً مذکور ہیں ۔
بسنے کے باغوں میں داخل ہوں گے وہ (ف۸۲) ان میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشمی ہے،
They shall enter the Gardens of everlasting stay (Eden) – in which they shall be given to adorn armlets of gold and pearls; and their garment in it is silk.
बसने के बाग़ों में दाख़िल होंगे वह उन में सोने के कंगन और मोती पहनाए जाएंगे और वहाँ उनकी पोशाक रेशमी है,
اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمارا غم دور کیا (ف۸۳) بیشک ہمارا رب بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے (ف۸٤)
And they will say; “All praise is to Allah Who has put away our grief; indeed Our Lord is Oft Forgiving, Most Appreciative.”
और कहेंगे सब खूबियाँ अल्लाह को जिसने हमारा ग़म दूर किया बेशक हमारा रब बख़्शने वाला क़दर फ़रमाने वाला है
Aur kahenge sab khubiyan Allah ko jisne humara gham door kiya, beshak humara Rabb bakhshne wala qadar farmaane wala hai
(ف83)اس غم سے مراد یا دوزخ کا غم ہے یا موت کا یا گناہوں کا یا طاعتوں کے غیرِ مقبول ہونے کا یا اہوالِ قیامت کا ، غرض انہیں کوئی غم نہ ہو گا اور وہ اس پر اللہ کی حمد کریں گے ۔(ف84)کہ گناہوں کو بخشتا ہے اور طاعتیں قبول فرماتا ہے ۔
اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے نہ ان کی قضا آئے کہ مرجائیں (ف۸۵) اور نہ ان پر اس کا (ف۸٦) عذاب کچھ ہلکا کیا جائے، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ہر بڑے ناشکرے کو،
And for those who disbelieved is the fire of hell; neither does their final seizure come that they may die, nor is its punishment lightened for them; this is how We punish every extremely ungrateful person.
और जिन्होंने क़फ़र किया उनके लिए जहन्नम की आग है न उनकी क़ज़ा आए कि मर जाएँ और न उन पर इसका अज़ाब कुछ हल्का किया जाए, हम ऐसी ही सज़ा देते हैं हर बड़े नाश्क़रे को,
Aur jinho ne kufr kiya unke liye jahannum ki aag hai, na unki qaza aaye ke mar jayein, aur na un par iska azaab kuch halka kiya jaaye, hum aisi hi saza dete hain har bade nashkare ko,
(ف85)اور مَرکر عذاب سے چھوٹ سکیں ۔(ف86)یعنی جہنّم کا ۔
اور وہ اس میں چلاتے ہوں گے (ف۸۷) اے ہمارے رب! ہمیں نکال (ف۸۸) کہ ہم اچھا کام کریں اس کے خلاف جو پہلے کرتے تھے (ف۸۹) اور کیا ہم نے تمہیں وہ عمر نہ دی تھی جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا اور ڈر سنانے والا (ف۹۰) تمہارے پاس تشریف لایا تھا (ف۹۱) تو اب چکھو (ف۹۲) کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں،
And they shall be screaming in it; “Our Lord! Extricate us, so that we may do good deeds, the opposite of what we used to do”; (It will be said to them) “And did We not give you an age long enough, in which anyone who wants to understand would have understood? And the Herald of Warning did come to you; therefore now taste it – for the unjust do not have any supporter.”
और वह इसमें चलाते होंगे ऐ हमारे रब! हमें निकाल कि हम अच्छा काम करें इसके खिलाफ जो पहले करते थे और क्या हमने तुम्हें वह उम्र न दी थी जिसमें समझ लेता जिसे समझना होता और डर सुनाने वाला तुम्हारे पास तशरीफ़ लाया था तो अब चखो कि ज़ालिमों का कोई मददगार नहीं,
Aur woh is mein chalayenge honge, Ae humare Rabb! Humein nikaal ke hum achha kaam karein uske khilaaf jo pehle karte they, aur kya humne tumhein woh umr na di thi jismein samajh leta jise samajhna hota, aur darr sunane wala tumhare paas tashreef laya tha, to ab chakhho ke zalimon ka koi madadgar nahi,
(ف87)یعنی جہنّم میں چیختے اور فریاد کرتے ہوں گے کہ ۔(ف88)یعنی دوزخ سے نکال اور دنیا میں بھیج ۔(ف89)یعنی ہم بجائے کُفر کے ایمان لائیں اور بجائے معصیت و نافرمانی کے تیری اطاعت اور فرمانبرداری کریں ، اس پر انہیں جواب دیا جائے گا ۔(ف90)یعنی رسولِ اکرم سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف91)تم نے اس رسولِ محترم کی دعوت قبول نہ کی اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری بجا نہ لائے ۔(ف92)عذاب کا مزہ ۔
وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں اگلوں کا جانشین کیا (ف۹۳) تو جو کفر کرے (ف۹٤) اس کا کفر اسی پر پڑے (ف۹۵) اور کافروں کو ان کا کفر ان کے رب کے یہاں نہیں بڑھائے گا مگر بیزاری (ف۹٦) اور کافروں کو ان کا کفر نہ بڑھائے گا مگر نقصان (ف۹۷)
It is He Who has made you the successors of your predecessors in the earth; so whoever disbelieves – (the harm of) his disbelief falls only on him; and for the disbelievers, their disbelief increases nothing in their Lord’s sight except disgust; and for the disbelievers, their disbelief increases nothing for them except ruin.
वही है जिसने तुम्हें ज़मीन में उगलों का जानशीन किया तो जो क़फ़र करे उसका क़फ़र उसी पर पड़े और काफ़रों को उनका क़फ़र उनके रब के यहाँ नहीं बढ़ाएगा मगर बैज़ारी और काफ़रों को उनका क़फ़र न बढ़ाएगा मगर नुक़सान
Wohi hai jisne tumhein zameen mein uglo ka jaansheen kiya, to jo kufr kare uska kufr isi par pade aur kafiron ko unka kufr unke Rabb ke yahan nahi barhaye ga, magar be-zaari aur kafiron ko unka kufr na barhaye ga magar nuqsan
(ف93)اور ان کے املاک و مقبوضات کا مالک و متصرف بنایا اور ان کے منافع تمہارے لئے مباح کئے تاکہ تم ایمان و طاعت اختیار کر کے شکر گزاری کرو ۔(ف94)اور ان نعمتوں پر شکرِ الٰہی نہ بجا لائے ۔(ف95)یعنی اپنے کُفر کا وبال اسی کو برداشت کرنا پڑے گا ۔(ف96)یعنی غضبِ الٰہی ۔(ف97)آخرت میں ۔
تم فرماؤ بھلا بتلاؤ تو اپنے وہ شریک (ف۹۸) جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین میں سے کونسا حصہ بنایا یا آسمانوں میں کچھ ان کا ساجھا ہے (ف۹۹) یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی روشن دلیلوں پر ہیں (ف۱۰۰) بلکہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو وعدہ نہیں دیتے مگر فریب کا (ف۱۰۱)
Proclaim, “Just show me your partners (false deities) whom you worship other than Allah; show me which part of the earth have they created – or do they have any share in the heavens?” Or have We given them some Book, so they are on its clear proofs? In fact the unjust do not give promises to each other, except of deceit.
तुम फ़रमाओ भला बतलाओ तो अपने वह शिर्क़ जिन्हें अल्लाह के सिवा पूजते हो मुझे दिखाओ उन्होंने जमीन में से कौनसा हिस्सा बनाया या आसमानों में कुछ उनका साझा है या हमने उन्हें कोई किताब दी है कि वह उसकी रोशन दलीलों पर हैं बल्कि ज़ालिम आपस में एक दूसरे को वादा नहीं देते मगर फ़रेब का
Tum farmaao bhala batlaao to apne woh sharik jinhein Allah ke siwa poojhte ho, mujhe dikhao unhone zameen mein se konsa hissa banaya ya aasmanon mein kuch unka saajha hai, ya humne unhein koi kitaab di hai ke woh uski roshan daleelon par hain, balke zaalim aapas mein ek doosre ko wada nahi dete magar fareb ka
(ف98)یعنی بُت ۔(ف99)کہ آسمانوں کے بنانے میں انہیں کچھ دخل ہو کس سبب سے انہیں مستحقِ عبادت قرار دیتے ہو ۔(ف100)ان میں سے کوئی بھی بات نہیں ۔ (ف101)کہ ان میں جو بہکانے والے ہیں وہ اپنے متّبِعین کو دھوکا دیتے ہیں اور بُتوں کی طرف سے انہیں باطل امیدیں دلاتے ہیں ۔
بیشک اللہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں (ف۱۰۲) اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں کون روکے اللہ کے سوا، بیشک وہ علم بخشنے والا ہے،
Indeed Allah restrains the heavens and the earth from convulsing; and were they to convulse, who could stop them except Allah? Indeed He is Most Forbearing, Oft Forgiving.
बेशक अल्लाह रोके हुए है आसमानों और जमीन को कि झंवेश न करें और अगर वह हट जाएँ तो उन्हें कौन रोके अल्लाह के सिवा, बेशक वह इल्म बाँटने वाला है,
Beshak Allah roke hue hai aasmanon aur zameen ko ke jumbish na karein, aur agar woh hat jaayein to unhein kaun roke Allah ke siwa, beshak woh ilm baantne wala hai,
(ف102)ورنہ آسمان و زمین کے درمیان شرک جیسی معصیت ہو تو آسمان و زمین کیسے قائم رہیں ۔
اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنی قسموں میں حد کی کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آیا تو وہ ضرور کسی نہ کسی گروہ سے زیادہ راہ پر ہوں گے (ف۱۰۳) پھر جب ان کے پاس ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۱۰٤) تو اس نے انہیں نہ بڑھا مگر نفرت کرنا (ف۱۰۵)
And they swore by Allah most vehemently in their oaths, that if a Herald of Warning came to them, they would be more upon guidance than any other group; then when a Herald of Warning did come to them, he increased nothing in them except hatred.
और उन्होंने अल्लाह की कसम खाई अपनी कसमों में हद की कोशिश से कि अगर उनके पास कोई डर सुनाने वाला आया तो वह ज़रूर किसी न किसी ग्रुप से ज्यादा राह पर होंगे फिर जब उनके पास डर सुनाने वाला तशरीफ़ लाया तो उसने उन्हें न बढ़ा मगर नफ़रत करना
Aur unhone Allah ki qasam khai apni qasmon mein had ki koshish se ke agar unke paas koi darr sunane wala aaya to woh zaroor kisi na kisi group se zyada raah par honge, phir jab unke paas darr sunane wala tashreef laya to usne unhein na badha magar nafrat karna
(ف103)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے پہلے قریش نے یہود و نصارٰی کے اپنے رسولو ں کو نہ ماننے اور ان کو جھٹلانے کی نسبت کہا تھا کہ اللہ تعالٰی ان پر لعنت کرے کہ ان کے پاس اللہ تعالٰی کی طرف سے رسول آئے اور انہوں نے انہیں جھٹلایا اور نہ مانا ، خدا کی قَسم اگر ہمارے پاس کوئی رسول آئے تو ہم ان سے زیادہ راہ پر ہوں گے اور اس رسول کو ماننے میں ان کے بہتر گروہ پر سبقت لے جائیں گے ۔(ف104)یعنی سیدُ المرسلین خاتمُ النّبیّین حبیبِ خدا محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رونق افروزی و جلوہ آرائی ہوئی ۔(ف105)حق و ہدایت سے اور ۔
اپنی جان کو زمین میں اونچا کھینچنا اور برا داؤں (ف۱۰٦) اور برا داؤں (فریب) اپنے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے (ف۱۰۷) تو کا ہے کے انتظار میں ہیں مگر اسی کے جو اگلوں کا دستور ہوا (ف۱۰۸) تو تم ہرگز اللہ کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے اور ہرگز اللہ کے قانون کو ٹلتا نہ پاؤ گے،
Priding themselves in the earth and scheming evil; and the evil scheming falls only upon those who scheme it; so what are they waiting for, except the tradition of the earlier nations? So you will never find the traditions of Allah changing; and you will never find Allah’s law being avoided.
अपनी जान को जमीन में ऊँचा खींचना और बुरा दाओं और बुरा दाओं (फ़रेब) अपने चलने वाले ही पर पड़ता है तो का है के इंतज़ार में हैं मगर उसी के जो उगलों का दस्तूर हुआ तो तुम हरगज़ अल्लाह के दस्तूर को बदलता न पाओगे और हरगज़ अल्लाह के क़ानून को टलता न पाओगे,
Apni jaan ko zameen mein ooncha kheenchna aur bura daon aur bura daon (fareb) apne chalne wale hi par padta hai, to ka hai ke intezaar mein hain magar usi ke jo uglo ka dastoor hua, to tum hargiz Allah ke dastoor ko badalta na pao ge aur hargiz Allah ke qanoon ko talta na pao ge,
(ف106)بُرے داؤں سے مراد یا تو شرک وکُفر ہے اور یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ مَکَر و فریب کرنا ۔(ف107)یعنی مکّار پر چنانچہ فریب کاری کرنے والے بدر میں مارے گئے ۔(ف108)کہ انہوں نے تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے ۔
اور کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا (ف۱۰۹) اور وہ ان سے زور میں سخت تھے (ف۱۱۰) اور اللہ وہ نہیں جس کے قابو سے نکل سکے کوئی شئے آسمانوں اور نہ زمین میں، بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،
And did they not travel in the land in order to see what sort of fate befell those who were before them, whereas they exceeded them in strength? And Allah is not such that anything in the heavens or in the earth can break away from His control; indeed He is All Knowing, Able.
और क्या उन्होंने ज़मीन में सफ़र न किया कि देखते उनसे उगलों का कैसा अंज़ाम हुआ और वह उनसे जोर में सख़्त थे और अल्लाह वह नहीं जिसके क़ाबू से निकल सके कोई चीज़ आसमानों और न जमीन में, बेशक वह इल्म व क़ुदरत वाला है,
Aur kya unhone zameen mein safar na kiya ke dekhte unse uglo ka kaisa anjaam hua aur woh unse zor mein sakht they, aur Allah woh nahi jiske qabo se nikal sake koi shai aasmanon aur na zameen mein, beshak woh ilm o qudrat wala hai,
(ف109)یعنی کیا انہوں نے شام اور عراق اور یمن کے سفروں میں انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کرنے والو ں کی ہلاکت و بربادی اور ان کے عذاب اور تباہی کے نشانات نہیں دیکھے کہ ان سے عبرت حاصل کرتے ۔(ف110)یعنی وہ تباہ شدہ قومیں ان اہلِ مکّہ سے زور و قوّت میں زیادہ تھیں باوجود اس کے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ وہ عذاب سے بھاگ کر کہیں پناہ لے سکتیں ۔
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے کیے پر پکڑتا (ف۱۱۱) تو زمین کی پیٹھ پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا لیکن ایک مقرر میعاد (ف۱۱۲) تک انہیں ڈھیل دیتا ہے پھر جب ان کا وعدہ آئے گا تو بیشک اللہ کے سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں (ف۱۱۳)
If Allah were to seize people upon their deeds, He would leave no creature walking on the surface of the earth, but He gives them respite till a fixed term; and when their term comes – so indeed Allah is observing all His bondmen!
और अगर अल्लाह लोगों को उनके किए पर पकड़ता तो ज़मीन की पीठ पर कोई चलने वाला न छोड़ता लेकिन एक मुअय्यन मीयाद तक उन्हें ढील देता है फिर जब उनका वादा आएगा तो बेशक अल्लाह के सब बंदे उसकी निगाह में हैं
"
Aur agar Allah logon ko unke kiye par pakadta to zameen ki peeth par koi chalne wala na chhodega, lekin ek muayyan meyaad tak unhein dheel deta hai, phir jab unka wada aaye ga to beshak Allah ke sab bande uski nigah mein hain
(ف111)یعنی ان کے معاصی پر ۔(ف112)یعنی روزِ قیامت ۔(ف113)انہیں ان کے اعمال کی جزا دے گا جو عذاب کے مستحق ہیں انہیں عذاب فرمائے گا اور جو لائقِ کرم ہیں ان پر رحم و کرم کرے گا ۔
يٰسٓ ۚ ﴿1﴾
یسٰں
Yaa-Seen (Alphabets of Arabic language – Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
यासीन
Yaseen
وَالۡقُرۡاٰنِ الۡحَكِيۡمِ ۙ ﴿2﴾
حکمت والے قرآن کی قسم،
By oath of the wise Qur’an.
हिकमत वाले कुरआन की क़सम,
Hikmat wale Quran ki qasam,
اِنَّكَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَۙ ﴿3﴾
بیشک تم (ف۲)
You (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) are indeed one of the Noble Messengers.
बेशक तुम
Beshak tum
(ف2)اے سیدِ انبیاء محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔
عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍؕ ﴿4﴾
سیدھی راہ پر بھیجے گئے ہو (ف۳)
On the Straight Path.
सीधी राह पर भेजे गए हो
Seedhi raah par bheje gaye ho
(ف3)جو منزلِ مقصود کو پہنچانے والی ہے یہ راہ توحید و ہدایت کی راہ ہے تمام انبیاء علیہم السلام اسی راہ پر رہے ہیں ، اس آیت میں کُفّار کا رد ہے جو حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہتے تھے 'لَسْتَ مُرْسَلاً ' تم رسول نہیں ہو ۔ اس کے بعد قرآنِ کریم کی نسبت ارشاد فرمایا ۔
تَنۡزِيۡلَ الۡعَزِيۡزِ الرَّحِيۡمِ ۙ ﴿5﴾
عزت والے مہربان کا اتارا ہوا،
(The Qur’an is) Sent down by the Almighty, the Most Merciful.
بیشک ان میں اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے (ف۵) تو وہ ایمان نہ لائیں گے (ف٦)
Undoubtedly, it (their disbelief) has proved true for most of them, so they will not believe.
बेशक उनमें अकसर पर बात साबित हो चुकी है तो वह ईमान न लाएंगे
Beshak un mein aksar par baat sabit ho chuki hai to woh iman na layenge
(ف5)یعنی حکمِ الٰہی و قضائے ازلی ان کے عذاب پر جاری ہو چکی ہے اور اللہ تعالٰی کا ارشاد' لَاَ مْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ' ان کے حق میں ثابت ہو چکا ہے اور عذاب کا ان کے لئے مقرر ہو جانا اس سبب سے ہے کہ وہ کُفر و انکار پر اپنے اختیار سے مُصِر رہنے والے ہیں ۔(ف6)اس کے بعد ان کے کُفر میں پختہ ہونے کی ایک تمثیل ارشاد فرمائی ۔
ہم نے ان کی گردنوں میں طوق کردیے ہیں کہ وہ ٹھوڑیوں تک ہیں تو یہ اوپر کو منہ اٹھائے رہ گئے (ف۷)
We have indeed put shackles around their necks reaching up to the chins, so they remain facing upwards.
हम ने उनकी गर्दनों में तौक़ कर दिए हैं कि वह ठोड़ी तक हैं तो ये ऊपर को मुँह उठाए रहे गए
Hum ne un ki gardanoun mein tooq kar diye hain ke woh thodioun tak hain to yeh upar ko munh uthaye reh gaye
(ف7)یہ تمثیل ہے ان کے کُفر میں ایسے راسخ ہونےکی آیات و نُذر پند و ہدایت کسی سے وہ منتفع نہیں ہو سکتے جیسے کہ وہ شخص جن کی گردنوں میں غُل کی قِسم کا طوق پڑا ہو جو ٹھوڑی تک پہنچتا ہے اور اس کی وجہ سے وہ سر نہیں جھکا سکتے ، یہی حال ان کا ہے کہ کسی طرح ان کو حق کی طرف التفات نہیں ہوتا اور اس کے حضور سر نہیں جھکاتے اور بعض مفسِّرین نے فرمایا ہے کہ یہ ان کی حقیقتِ حال ہے ، جہنّم میں انہیں اسی طرح کا عذاب کیا جائے گا جیسا کہ دوسری آیت میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا' اِذِ الْاَغْلَالُ فِیْ اَعْنَا قِہِمْ '۔شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل اور اس کے دو مخزومی دوستوں کے حق میں نازل ہوئی ابوجہل نے قَسم کھائی تھی کہ اگر وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھے گا تو پتّھر سے سرکچل ڈالے گا جب اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تو وہ اسی ارادۂ فاسدہ سے ایک بھاری پتّھر لے کر آیا جب اس نے پتّھر کو اٹھایا تو اس کے ہاتھ گردن میں چِپکے رہ گئے اور پتّھر ہاتھ کو لپٹ گیا یہ حال دیکھ کر اپنے دوستوں کی طر ف واپس ہوا اور ان سے واقعہ بیان کیا تو اس کے دوست ولید بن مغیرہ نے کہا کہ یہ کام میں کروں گا اور ان کا سرکچل کر ہی آؤں گا چنانچہ وہ پتّھر لے آیا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ابھی نماز ہی پڑھ رہے تھے ، جب یہ قریب پہنچا تو اللہ تعالٰی نے اس کی بینائی سلب کر لی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آواز سنتا تھا آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا تھا ، یہ بھی پریشان ہو کر اپنے یاروں کی طرف لوٹا وہ بھی نظر نہ آئے انہوں نے ہی اسے پکار ا اور اس سے کہا کہ تو نے کیا کیا ؟ کہنے لگا میں نے ان کی آواز تو سنی مگر وہ نظر ہی نہیں آئے ، اب ابوجہل کے تیسرے دوست نے دعوٰی کیا کہ وہ اس کام کو انجام دے گا اور بڑے دعوے کے ساتھ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف چلا تھا کہ الٹے پاؤں ایسا بدحواس ہو کر بھاگا کہ اوندھے منھ گر گیا اس کے دوستوں نے حال پوچھا تو کہنے لگا کہ میرا حال بہت سخت ہے میں نے ایک بہت بڑا سانڈ دیکھا جو میرے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درمیان حائل ہو گیا ، لات و عزّٰی کی قَسم اگر میں ذرا بھی آ گے بڑھتا تو وہ مجھے کھا ہی جاتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (خازن و جمل)
اور ہم نے ان کے آگے دیوار بنادی اور ان کے پیچھے ایک دیوار اور انہیں اوپر سے ڈھانک دیا تو انہیں کچھ نہیں سوجھتا (ف۸)
And We have set a wall before them and a wall behind them, and covered the top – so they are unable to see anything.
और हम ने उनके आगे दीवार बना दी और उनके पीछे एक दीवार और उन्हें ऊपर से ढांक दिया तो उन्हें कुछ नहीं सूझता
Aur hum ne un ke aage deewar bana di aur un ke peechhe ek deewar aur unhein upar se dhaank diya to unhein kuch nahin soojhta
(ف8)یہ بھی تمثیل ہے کہ جیسے کسی شخص کے لئے دونوں طرف دیواریں ہوں اور ہر طرف سے راستہ بند کر دیا گیا ہو وہ کسی طرح منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکتا یہی حال ان کُفّار کا ہے کہ ان پر ہر طرف سے ایمان کی راہ بند ہے سامنے ان کے غرورِ دنیا کی دیوار ہے اور ان کے پیچھے تکذیبِ آخرت کی اور وہ جہالت کے قید خانہ میں محبوس ہیں آیات و دلائل میں نظر کرنا انہیں میسّر نہیں ۔
تم تو اسی کو ڈر سناتے ہو (ف۹) جو نصیحت پر چلے اور رحمن سے بےدیکھے ڈرے، تو اسے بخشش اور عزت کے ثواب کی بشارت دو (ف۱۰)
You warn only him who follows the advice and fears the Most Gracious without seeing; therefore give him glad tidings of forgiveness and an honourable reward.
तुम तो उसी को डर सुनाते हो जो नसीहत पर चले और रहमान से बे-देखे डरे, तो उसे बख़्शिश और इज़्ज़त के सवाब की बशारत दो
Tum to usi ko dar sunate ho jo naseehat par chale aur Rahman se be-dikhe dare, to usay bakhshish aur izzat ke sawab ki basharat do
(ف9)یعنی آپ کے ڈر سنانے اور خوف دلانے سے وہی نفع اٹھاتا ہے ۔(ف10)یعنی جنّت کی ۔
بیشک ہم مردوں کو جِلائیں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا (ف۱۱) اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے (ف۱۲) اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے ایک بتانے والی کتاب میں (ف۱۳)
We will surely bring the dead to life and We record what they send ahead and the signs they will leave behind; and We have accounted all things in a clear Book.
बेशक हम मुर्दों को जिलाएंगे और हम लिख रहे हैं जो उन्होंने आगे भेजा और जो निशानियां पीछे छोड़ गए और हर चीज़ हम ने गिन रखी है एक बताने वाली किताब में
Beshak hum murdon ko jilaayenge aur hum likh rahe hain jo unhone aage bheja aur jo nishaniyan peechhe chhod gaye aur har cheez hum ne gin rakhi hai ek batane wali kitaab mein
(ف11)یعنی دنیا کی زندگانی میں جو نیکی یا بدی کی تاکہ اس پر جزا دی جائے ۔(ف12)یعنی اور ہم ان کی وہ نشانیاں ، وہ طریقے بھی لکھتے ہیں جو وہ اپنے بعد چھوڑ گئے خواہ وہ طریقے نیک ہوں یا بد ، جو نیک طریقے اُمّتی نکالتے ہیں ان کو بدعتِ حسنہ کہتے ہیں اور اس طریقے کو نکالنے والوں اور عمل کرنے والوں دونوں کو ثواب ملتا ہے اور جو بُرے طریقے نکالتے ہیں ان کو بدعتِ سیّئہ کہتے ہیں اس طریقے کے نکالنے والے اور عمل کرنے والوں دونوں گناہ گار ہوتے ہیں ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اسلام میں نیک طریقہ نکالا اس کو طریقہ نکالنے کا بھی ثواب ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں کو بھی ثواب بغیر اس کے کہ عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے اور جس نے اسلام میں بُرا طریقہ نکالا تو اس پر وہ طریقہ نکالنے کا بھی گناہ اور اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کے بھی گناہ بغیر اس کے کہ ان عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ کمی کی جائے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ صدہا امورِ خیر مثلِ فاتحہ گیارہویں و تیجہ و چالیسواں و عرس و توشہ و ختم و محافلِ ذکرِ میلاد و شہادت جن کو بدمذہب لوگ بدعت کہہ کر منع کرتے ہیں اور لوگوں کو ان نیکیوں سے روکتے ہیں یہ سب درست اور باعثِ اجر و ثواب ہیں اور ان کو بدعتِ سیّئہ بتانا غلط و باطل ہے ۔ یہ طاعات اور اعمالِ صالحہ جو ذکر و تلاوت اور صدقہ و خیرات پر مشتمل ہیں بدعتِ سیّئہ نہیں ۔ بدعتِ سیّئہ وہ بُرے طریقے ہیں جن سے دین کو نقصان پہنچتا ہے اور جو سنّت کے مخالف ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں آیا کہ جو قوم بدعت نکالتی ہے اس سے ایک سنّت اٹھ جاتی ہے تو بدعت سیّئہ وہی ہے جس سے سنّت اٹھتی ہو جیسے کہ رفض ، خروج ، وہابیّت یہ سب انتہا درجہ کی خراب سیّئہ بدعتیں ہیں ، رفض و خروج جو اصحاب و اہلِ بیتِ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عداوت پر مبنی ہیں ، ان سے اصحاب و اہلِ بیت کے ساتھ مَحبت و نیاز مندی رکھنے کی سنّت اٹھ جاتی ہے جس کے شریعت میں تاکیدی حکم ہیں ، وہابیّت کی اصل مقبولانِ حق حضراتِ انبیاء و اولیاء کی جناب میں بے ادبی و گستاخی اور تمام مسلمانوں کو مشرک قرار دینا ہے ، اس سے بزرگانِ دین کی حرمت و عزّت اور ادب و تکریم اور مسلمانوں کے ساتھ اخوّت و مَحبت کی سنّتیں اٹھ جاتی ہیں جن کی بہت شدید تاکید یں ہیں اور جو دین میں بہت ضروری چیز یں ہیں اور اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا کہ آثار سے مراد وہ قَدم ہیں جو نمازی مسجد کی طرف چلنے میں رکھتا ہے اور اس معنٰی پر آیت کی شانِ نزول یہ بیان کی گئی ہے کہ بنی سلمہ مدینہ طیّبہ کے کنارے پر رہتے تھے انہوں نے چاہا کہ مسجد شریف کے قریب آ بسیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور سیدِ عاَلم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے قَدم لکھے جاتے ہیں تم مکان تبدیل نہ کرویعنی جتنی دور سے آؤ گے اتنے ہی قدم زیادہ پڑیں گے اور اجر و ثواب زیادہ ہو گا ۔(ف13)یعنی لوحِ محفوظ میں ۔
اور ان سے نشانیاں بیان کرو اس شہر والوں کی (ف۱٤) جب ان کے پاس فرستادے (رسول) آئے، (ف۱۵)
And relate to them the signs of the people of the city – when two emissaries came to them.
और उनसे निशानियां बयां करो इस शहर वालों की जब उनके पास फरिश्ते (रसूल) आए,
Aur un se nishaniyan bayan karo is shehar walon ki jab unke paas farista (rasool) aaye,
(ف14)اس شہر سے مراد انطاکیہ ہے یہ ایک بڑا شہر ہے اس میں چشمے ہیں ، کئی پہاڑ ہیں ، ایک سنگین شہرِ پناہ ہے ، بارہ میل کے دور میں بستا ہے ۔(ف15)حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے واقعہ کا مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے دو حواریوں صادق و صدوق کو انطاکیہ بھیجا تاکہ وہاں کے لوگوں کو جو بُت پرست تھے دینِ حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرا رہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجّار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ، ان دونوں نے کہا کہ ہم حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بھیجے ہوئے ہیں تمہیں دینِ حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بُت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی اختیار کرو ، حبیب نجّار نے نشانی دریافت کی انہوں نے کہا کہ نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں ، اندھوں کو بینا کرتے ہیں ، برص والے کا مرض دور کر دیتے ہیں ، حبیب نجّار کا ایک بیٹا دو سال سے بیمار تھا ، انہوں نے اس پر ہاتھ پھیرا وہ تندرست ہو گیا ، حبیب ایمان لائے اور اس واقعہ کی خبر مشہور ہو گئی تا آنکہ ایک خَلقِ کثیر نے ان کے ہاتھوں اپنے امراض سے شفا پائی یہ خبر پہنچنے پر بادشاہ نے انہیں بُلا کر کہا کیا ہمارے معبودوں کے سوا اور کوئی معبود بھی ہے ؟ ان دونوں نے کہا ہاں وہی جس نے تجھے اور تیرے معبودوں کو پیدا کیا پھر لوگ ان کے درپے ہوئے اور انہیں مارا اور یہ دونوں قید کر لئے گئے پھر حضرت عیسٰی علیہ السلام نے شمعون کو بھیجا وہ اجنبی بن کر شہر میں داخل ہوئے اور بادشاہ کے مصاحبین و مقرَّبین سے رسم و راہ پیدا کر کے بادشاہ تک پہنچے اور اس پر اپنا اثر پیدا کر لیا جب دیکھا کہ بادشاہ ان سے خوب مانوس ہو گیا ہے تو ایک روز بادشاہ سے ذکر کیا کہ دو جو آدمی قید کئے گئے ہیں کیا ان کی بات سنی گئی تھی وہ کیا کہتے تھے ؟ بادشاہ نے کہا کہ نہیں جب انہوں نے نئے دین کا نام لیا فوراً ہی مجھے غصّہ آ گیا شمعون نے کہا کہ اگر بادشاہ کی رائے ہو تو انہیں بلایا جائے دیکھیں ان کے پاس کیا ہے چنانچہ وہ دونوں بلائے گئے ، شمعون نے ان سے دریافت کیا تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ انہوں نے کہا اس اللہ نے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر جاندار کو روزی دی اورجس کا کوئی شریک نہیں ، شمعون نے کہا اس کی مختصر صفت بیان کرو انہوں نے کہا وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے ، شمعون نے کہا تمہاری نشانی کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جو بادشاہ چاہے تو بادشاہ نے ایک اندھے لڑکے کو بلایا انہوں نے دعا کی وہ فوراً بینا ہو گیا ، شمعون نے بادشاہ سے کہا کہ اب مناسب یہ ہے کہ تو اپنے معبودوں سے کہہ کہ وہ بھی ایسا ہی کر کے دکھائیں تاکہ تیری اور ان کی عزّت ظاہر ہو ، بادشاہ نے شمعون سے کہا کہ تم سے کچھ چُھپانے کی بات نہیں ہے ہمارا معبود نہ دیکھے ، نہ سنے ، نہ کچھ بگاڑ سکے ، نہ بنا سکے پھر بادشاہ نے ان دونوں حواریوں سے کہا کہ اگر تمہارے معبود کو مُردے کے زندہ کر دینے کی قدرت ہو تو ہم اس پر ایمان لے آئیں ، انہوں نے کہا ہمارا معبود ہر شے پر قادر ہے ، بادشاہ نے ایک دہقان کے لڑکے کو منگایا جس کو مرے ہوئے سات دن ہو گئے تھے اور جسم خراب ہو چکا تھا ، بدبو پھیل رہی تھی ، ان کی دعا سے اللہ تعالٰی نے اس کو زندہ کیا اور وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں مشرک مرا تھا مجھ کو جہنّم کے سات وادیوں میں داخل کیا گیا ، میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ جس دین پر تم ہو بہت نقصان دہ ہے ، ایمان لاؤ اور کہنے لگا کہ آسمان کے دروازے کُھلے اور ایک حسین جوان مجھے نظر آیا جو ان تینوں شخصوں کی سفارش کرتا ہے ، بادشاہ نے کہا کون تین ؟ اس نے کہا ایک شمعون اور دو یہ ، بادشاہ کو تعجّب ہوا ، جب شعمون نے دیکھا کہ اس کی بات بادشاہ میں اثر کر گئی تو اس نے بادشاہ کو نصیحت کی وہ ایمان لایا اور اس کی قوم کے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ ایمان نہ لائے اور عذابِ الٰہی سے ہلاک کئے گئے ۔
جب ہم نے ان کی طرف دو بھیجے (ف۱٦) پھر انہوں نے ان کو جھٹلایا تو ہم نے تیسرے سے زور دیا (ف۱۷) اب ان سب نے کہا (ف۱۸) کہ بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،
When We had sent two towards them and they denied them both, so We fortified them with a third, and they all said, “Indeed we have been sent to you.”
जब हम ने उनकी तरफ़ दो भेजे फिर उन्होंने उन्हें झुठलाया तो हम ने तीसरे से जोर दिया अब उन सब ने कहा कि बेशक हम तुम्हारी तरफ़ भेजे गए हैं,
Jab hum ne un ki taraf do bheje phir unhone un ko jhuthlaya to hum ne teesre se zor diya ab un sab ne kaha ke beshak hum tumhari taraf bheje gaye hain,
(ف16)یعنی دو حواری ۔ وہب نے کہا کہ ان کے نام یوحنا اور بولس تھے اور کعب کا قول ہے کہ صادق و صدوق ۔(ف17)یعنی شمعون سے تقویت اور تائید پہنچائی ۔(ف18)یعنی تینوں فرستادوں نے ۔
بولے ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں (ف۲۰) بیشک اگر تم باز نہ آئے (ف۲۱) تو ضرور ہم تمہیں سنگسار کریں گے بیشک ہمارے ہاتھوں تم پر دکھ کی مار پڑے گی،
They (the people of the city) said, “We think you are ominous; indeed, if you do not desist, we shall surely stone you to death, and you will surely face a grievous torture at our hands.”
बोले हम तुम्हें मनहूस समझते हैं बेशक अगर तुम बाज़ न आए तो जरूर हम तुम्हें संगसार करेंगे बेशक हमारे हाथों तुम पर दुख की मार पड़ेगी,
Bole hum tumhein manhoos samajhte hain beshak agar tum baaz na aaye to zaroor hum tumhein sangsar karein beshak humare haathon tum par dukh ki maar padegi,
(ف20)جب سے تم آئے ہو بارش ہی نہیں ہوئی ۔(ف21)اپنے دین کی تبلیغ سے ۔
ایسوں کی پیروی کرو جو تم سے کچھ نیگ (اجر) نہیں مانگتے اور وہ راہ پر ہیں،
“Obey those who do not ask any fee from you, and they are on guidance.”
ऐसों की पैरीवी करो जो तुम से कुछ नैग (अज़र) नहीं मांगते और वह राह पर हैं,
Aeson ki pairwi karo jo tum se kuch naig (ajr) nahin maangte aur woh raah par hain,
(ف26)حبیب نجّار کی یہ گفتگو سن کر قوم نے کہا کہ کیا تو ان کے دین پر ہے اور تو ان کے معبود پر ایمان لے آیا ؟ اس کے جواب میں حبیب نجّار نے کہا ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page