۔ (۲۲) (ف۲٦) اور مجھے کیا ہے کہ اس کی بندگی نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے، (ف۲۷)
“And what is the matter with me that I should not worship Him Who created me, whereas it is towards Him that you are to return?”
और मुझे क्या है कि उसकी बंदगी न करूँ जिसने मुझे पैदा किया और उसी की तरफ़ तुम्हें पलटना है,
Aur mujhe kya hai ke uski bandagi na karun jis ne mujhe paida kiya aur isi ki taraf tumhein palatna hai,
(ف27)یعنی ابتدائے ہستی سے جس کی ہم پر نعمتیں ہیں اور آخِرِ کار بھی اسی کی طرف رجوع کرنا ہے اس مالکِ حقیقی کی عبادت نہ کرنا کیا معنٰی اور اس کی نسبت اعتراض کیسا ، ہر شخص اپنے وجود پر نظر کر کے اس کے حقِ نعمت و احسان کو پہچان سکتا ہے ۔
کیا اللہ کے سوا اور خدا ٹھہراؤں (ف۲۸) کہ اگر رحمٰن میرا کچھ برا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ کام نہ آئے اور نہ وہ مجھے بچاسکیں،
“What! Shall I appoint Gods other than Allah? So that if the Most Gracious should wish me any harm, their intercession would be of no use to me, nor would they be able to save me?”
क्या अल्लाह के सिवा और ख़ुदा ठहराऊँ कि अगर रहमान मेरा कुछ बुरा चाहे तो उनकी सिफ़ारिश मेरे कुछ काम न आए और न वे मुझे बचा सकें,
Kya Allah ke siwa aur khuda thehraun ke agar Rahman mera kuch bura chahe to un ki sifarish mere kuch kaam na aaye aur na woh mujhe bacha sakein,
(ف28)یعنی کیا بُتوں کو معبود بناؤں ۔
اِنِّىۡۤ اِذًا لَّفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴿24﴾
بیشک جب تو میں کھلی گمراہی میں ہو (ف۲۹)
“Undoubtedly, I am then in open error.”
बेशक जब तू मैं खुली गुमराही में हो
Beshak jab tu main khuli gumraahi mein ho
(ف29)جب حبیب نجّار نے اپنی قوم سے ایسا نصیحت آمیز کلام کیا تو وہ لوگ ان پر یکبارگی ٹوٹ پڑے اور ان پر پتّھراؤ شروع کیا اور پاؤں سے کچلا یہاں تک کہ قتل کر ڈالا ۔ قبر ان کی انطاکیہ میں ہے جب قوم نے ان پر حملہ شروع کیا تو انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے فرستادوں سے بہت جلدی کر کے یہ کہا ۔
جیسی میرے رب نے میری مغفرت کی اور مجھے عزت والوں میں کیا (ف۳۲)
“The manner in which my Lord has pardoned me and made me of the honoured ones!”
जैसी मेरे रब ने मेरी माफ़ी की और मुझे इज़्ज़त वालों में किया
Jaisi mere Rab ne meri maghfirat ki aur mujhe izzat walon mein kya
(ف32)حبیب نجّار نے یہ تمنّا کی کہ ان کی قوم کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالٰی نے حبیب کی مغفرت کی اور اِکرام فرمایا تاکہ قوم کو مرسلِین کے دین کی طرف ر غبت ہو ۔ جب حبیب قتل کر دیئے گئے تو اللہ ربُّ العزّت کا اس قوم پر غضب ہوا اور ان کی عقوبت و سزا میں تاخیر نہ فرمائی گئی ۔ حضرت جبریل کو حکم ہوا اور ان کی ایک ہی ہولناک آواز سے سب کے سب مر گئے چنانچہ ارشاد فرمایا جاتا ہے ۔
اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا (ف۳۳) اور نہ ہمیں وہاں کوئی لشکر اتارنا تھا، (۲۹) وہ تو بس ایک ہی چیخ تھی جبھی وہ بجھ کر رہ گئے (ف۳٤)،
And after him, We did not send down any army from heaven against his people, nor did We intend to send down an army.
और हम ने उसके बाद उसकी क़ौम पर आसमान से कोई लश्कर न उतारा और न हमें वहां कोई लश्कर उतारना था,
Aur hum ne us ke baad us ki qaum par aasman se koi lashkar na utara aur na humein wahan koi lashkar utarna tha,
اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہ اتارا (ف۳۳) اور نہ ہمیں وہاں کوئی لشکر اتارنا تھا، (۲۹) وہ تو بس ایک ہی چیخ تھی جبھی وہ بجھ کر رہ گئے (ف۳٤)،
It was just one scream, and with it they were extinguished.
वह तो बस एक ही चीख़ थी जबही वह बुझ कर रह गए,
Woh to bas ek hi cheekh thi jabhi woh bujh kar reh gaye,
کیا انہوں نے نہ دیکھا (ف۳٦) ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں ہلاک فرمائیں کہ وہ اب ان کی طرف پلٹنے والے نہیں (ف۳۷)
Have they not seen how many generations We destroyed before them, which will not return to them?
क्या उन्होंने न देखा हम ने उनसे पहले कितनी संगतें हलाक़ फ़रमाईं कि वह अब उनकी तरफ़ पलटने वाले नहीं
Kya unhone na dekha hum ne un se pehle kitni sangatain halaak farmayen ke woh ab un ki taraf palatne wale nahin
(ف36)یعنی اہلِ مکّہ نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں کہ ۔(ف37)یعنی دنیا کی طرف لوٹنے والے نہیں کیا یہ لوگ ان کے حال سے عبرت حاصل نہیں کرتے ۔
اور ان کے لیے ایک نشانی (ف٤۷) رات ہے ہم اس پر سے دن کھینچ لیتے ہیں (ف٤۸) جبھی وہ اندھیروں میں ہیں،
And a sign for them is the night; We strip the day out of it, thereupon they are in darkness.
और उनके लिए एक निशानी रात है हम इस पर से दिन खींच लेते हैं जबही वे अंधेरों में हैं,
Aur un ke liye ek nishani raat hai hum is par se din kheencht lete hain jabhi woh andheron mein hain,
(ف47)ہماری قدرتِ عظیمہ پر دلالت کرنے والی ۔(ف48)تو بالکل تاریک رہ جاتی ہے جس طرح کالے بھوجنگے حبشی کا سفید لباس اتار لیا جائے تو پھر وہ سیاہ ہی سیاہ رہ جاتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کے درمیان کی فضا اصل میں تاریک ہے ، آفتاب کی روشنی اس کے لئے ایک سفید لباس کی طرح ہے جب آفتاب غروب ہو جاتا ہے تو یہ لباس اتر جاتا ہے اور فضا اپنی اصلی حالت میں تاریک رہ جاتی ہے ۔
اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے (ف٤۹) یہ حکم ہے زبردست علم والے کا (ف۵۰)
And the sun runs its course for its final destination; this is a command of the Almighty, the All Knowing.
और सूरज चलता है अपने एक ठहराव के लिए यह हुक़्म है ज़बरदस्त इल्म वाले का
Aur sooraj chalta hai apne ek thehraav ke liye yeh hukum hai zabardast ilm wale ka
(ف49)یعنی جہاں تک اس کی سیر کی نہایت مقرر فرمائی گئی ہے اور وہ روزِ قیامت ہے اس وقت تک وہ چلتا ہی رہے گا یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ اپنی منزلوں میں چلتا ہے اور جب سب سے دور والے مغرب میں پہنچتا ہے تو پھر لوٹ پڑتا ہے کیونکہ یہی اس کا مستقَر ہے ۔(ف50)اور یہ نشانی ہے جو اس کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ پر دلالت کرتی ہے ۔
اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کیں (ف۵۱) یہاں تک کہ پھر ہوگیا جیسے کھجور کی پرانی ڈال (ٹہنی) (ف۵۲)
And We have appointed positions for the moon till it returns like an old branch of the date palm.
और चाँद के लिए हमने मंज़िलें मुकर्रर कीं यहाँ तक कि फिर हो गया जैसे खजूर की पुरानी डाल (टहनी)
Aur chaand ke liye hum ne manzilein muqarrar kiin yahan tak ke phir ho gaya jaise khajoor ki purani daal (tahni)
(ف51)چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں ہر شب ایک منزل میں ہوتا ہے اور پوری منزل طے کر لیتا ہے نہ کم چلے نہ زیادہ ، طلوع کی تاریخ سے اٹھائیسویں تاریخ تک تمام منزلیں طے کر لیتا ہے اور اگر مہینہ تیس کا ہو تو دو شب اور انتیس ہو تو ایک شب چُھپتا ہے اور جب اپنے آخرِ منازل میں پہنچتا ہے تو باریک اور کمان کی طرح خمیدہ اور زرد ہو جاتا ہے ۔(ف52)جو سوکھ کرپَتلی اور خمیدہ اور زرد ہو گئی ہو ۔
سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑے (ف۵۳) اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے (ف۵٤) اور ہر ایک ، ایک گھیرے میں پیر رہا ہے،
It is not for the sun to catch up with the moon, nor does the night surpass the day; and each one of them floats in its orbit.
सूरज को नहीं पहुँचता कि चाँद को पकड़े और न रात दिन पर सबक़त ले जाए और हर एक, एक घेरे में पैर रहा है,
Sooraj ko nahin pohochta ke chaand ko pakde aur na raat din par sabqat le jaaye aur har ek, ek ghere mein pair raha hai,
(ف53)یعنی شب میں جو اس کے ظہورِ شوکت کا وقت ہے اس کے ساتھ جمع ہو کر اس کے نور کو مغلوب کرے کیونکہ سورج اور چاند میں سے ہر ایک کے ظہورِ شوکت کے لئے ایک وقت مقرر ہے ، سورج کے لئے دن اور چاند کے لئے رات ۔(ف54)کہ دن کا وقت پورا ہونے سے پہلے آ جائے ایسا بھی نہیں بلکہ رات اور دن دونوں معیّن حساب کے ساتھ آتے جاتے ہیں کوئی ان میں سے اپنے وقت سے قبل نہیں آتا اور نیّرَین یعنی آفتاب و ماہتاب میں سے کوئی دوسرےکے حدودِ شوکت میں داخل نہیں ہوتا نہ آفتاب رات میں چمکے نہ ماہتاب دن میں ۔
اور ان کے لیے نشانی یہ ہے کہ انہیں ان بزرگوں کی پیٹھ میں ہم نے بھری کشتی میں سوار کیا (ف۵۵)
And a sign for them is that We lodged them in a laden ship, while they were in their forefathers backs.
और उनके लिए निशानी यह है कि उन्हें उन बुज़ुर्गों की पीठ में हम ने भरी क़श्ती में सवार किया
Aur un ke liye nishani yeh hai ke unhein un buzurgon ki peeth mein hum ne bhari kashti mein sawar kiya
(ف55)جو سامان اسباب وغیرہ سے بھری ہوئی تھی ، مراد اس سے کَشتیٔ نوح ہے جس میں ان کے پہلے اجداد سوار کئے گئے تھے اور یہ ان کی ذُرِّیَّتیں ان کی پشت میں تھیں ۔
اور جب ان سے فرمایا جاتا ہے ڈرو تم اس سے جو تمہارے سامنے ہے (ف۵۸) اور جو تمہارے پیچھے آنے والا ہے (ف۵۹) اس امید پر کہ تم پر مہر ہو تو منہ پھیر لیتے ہیں،
And when it is said to them, “Beware of what is before you and what is behind you, in the hope of your gaining mercy”, they turn away!
और जब उनसे फ़रमाया जाता है “डरो तुम उस से जो तुम्हारे सामने है और जो तुम्हारे पीछे आने वाला है” इस उम्मीद पर कि तुम पर मेहर हो तो मुँह फेर लेते हैं,
Aur jab un se farmaya jaata hai “Daro tum us se jo tumhare samne hai aur jo tumhare peechhe aane wala hai” is umeed par ke tum par mehr ho to munh phair lete hain,
اور جب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو تو کافر مسلمانوں کے لیے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلادیتا (ف٦۱) تم تو نہیں مگر کھلی گمراہی میں،
And when it is said to them, “Spend in Allah’s cause, from what Allah has provided you”, the disbelievers say regarding the believers, “Shall we feed these, whom if Allah willed, would have fed? You are not but in open error!”
और जब उनसे फ़रमाया जाए “अल्लाह के दिए में से कुछ उसकी राह में खर्च करो” तो काफ़िर मुसलमानों के लिए कहते हैं कि क्या हम उसे खिलाएँ जिसे अल्लाह चाहता तो खिला देता तुम तो नहीं मगर खुली गुमराही में,
Aur jab un se farmaya jaaye “Allah ke diye mein se kuch is ki raah mein kharch karo” to kafir Musalmanon ke liye kehte hain ke kya hum use khilayein jise Allah chahta to khila deta tum to nahin magar khuli gumraahi mein,
(ف61)شانِ نُزول : یہ آیت کُفّارِ قریش کے حق میں نازل ہوئی جن سے مسلمانوں نے کہا تھا کہ تم اپنے مالوں کا وہ حصّہ مسکینوں پر خرچ کرو جو تم نے بَزُعمِ خود اللہ تعالٰی کے لئے نکالا ہے ، اس پر انہوں نے کہا کہ کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اللہ تعالٰی کھلانا چاہتا تھا تو کِھلا دیتا ، مطلب یہ تھا کہ خدا ہی کو مسکینوں کا محتاج رکھنا منظور ہے تو انہیں کھانے کو دینا اس کی مشیّت کے خلاف ہو گا یہ بات انہوں نے بخیلی اور کنجوسی سے بطورِ تمسخُر کے کہی تھی اور نہایت باطل تھی کیونکہ دنیا دارالامتحان ہے ، فقیری اور امیری دونوں آزمائشیں ہیں ، فقیر کی آزمائش صبر سے اور غنی کی انفاق فی سبیلِ اللہ سے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ مکّہ مکرّمہ میں زندیق لوگ تھے جب ان سے کہا جاتا تھا کہ مسکینوں کو صدقہ دو تو کہتے تھے ہرگز نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جس کو اللہ تعالٰی محتاج کرے ہم کھلائیں ۔
راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی (ف٦٤) کہ انہیں آلے گی جب وہ دنیا کے جھگڑے میں پھنسے ہوں گے، (ف٦۵)
They await just one scream, which will overcome them while they are involved in worldly disputes.
राह नहीं देखते मगर एक चीख़ कि उन्हें आएगी जब वे दुनिया के झगड़े में फँसे होंगे,
Raah nahin dekhte magar ek cheekh ki ke unhein aayegi jab woh duniya ke jhagde mein phanse honge,
(ف64)یعنی صور کے پہلے نفخہ کی جو حضرت اسرافیل علیہ السلام پھونکیں گے ۔(ف65)خرید و فروخت میں اور کھانے پینے میں اور بازاروں اور مجلسوں میں ، دنیا کے کاموں میں کہ اچانک قیامت قائم ہو جائے گی ۔ حدیث شریف میں ہے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ خریدار اور بائع کے درمیا ن کپڑا پھیلا ہو گا نہ سودا تمام ہونے پائے گا ، نہ کپڑا لپٹ سکے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی یعنی لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے اور وہ کام ویسے ہی ناتمام رہ جائیں گے نہ انہیں خود پورا کر سکیں گے ، نہ کسی دوسرے سے پورا کرنے کو کہہ سکیں گے اور جو گھر سے باہر گئے ہیں وہ واپس نہ آ سکیں گے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔
کہیں گے ہائے ہماری خرابی کس نے ہمیں سوتے سے جگادیا (ف٦۹) یہ ہے وہ جس کا رحمٰن نے وعدہ دیا تھا اور رسولوں نے حق فرمایا (ف۷۰)
Saying, “O our misfortune! Who has raised us from our sleep? This is what the Most Gracious had promised, and the Noble Messengers had spoken the truth!”
कहेंगे “हाय हमारी ख़राबी किस ने हमें सोते से जगा दिया यह है वह जिसका रहमान ने वादा दिया था और रसूलों ने हक़ फ़रमाया
Kahenge “Haaye hamari kharaabi kis ne humein sote se jaga diya yeh hai woh jis ka Rahman ne wada diya tha aur rasoolon ne haq farmaya
(ف69)یہ مقولہ کُفّار کا ہو گا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ وہ یہ بات اس لئے کہیں گے کہ اللہ تعالٰی دونوں نفخوں کے درمیان ان سے عذاب اٹھا دے گا اور اتنا زمانہ وہ سوتے رہیں گے اور نفخۂ ثانیہ کے بعد جب اٹھائے جائیں گے اور اہوالِ قیامت دیکھیں گے تو اس طرح چیخ اٹھیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب کُفّار جہنّم اور اس کے عذاب دیکھیں گے تو اس کے مقابلہ میں عذابِ قبر انہیں سہل معلوم ہو گا اس لئے وہ وَیل و افسوس پکار اٹھیں گے اور اس وقت کہیں گے ۔(ف70)اور اس وقت کا اقرار انہیں کچھ نافع نہ ہو گا ۔
بیشک جنت والے آج دل کے بہلاووں میں چین کرتے ہیں (ف۷۳)
Indeed this day the dwellers of Paradise are in comfort, with blissful hearts.
बेशक जन्नत वाले आज दिल के बहलाओं में चैन करते हैं
Beshak jannat wale aaj dil ke bahlaavon mein chain karte hain
(ف73)طرح طرح کی نعمتیں اور قِسم قِسم کے سرور اور اللہ تعالٰی کی طرف سے ضیافت ، جنّتی نہروں کے کنارے ، بہشتی اشجار کی دلنواز فضائیں ، طرب انگیز نغمات ، حسینانِ جنّت کا قرب اور قِسم قِسم کی نعمتوں سے التذاذ ، یہ ان کے شغل ہوں گے ۔
ان کے لیے اس میں میوہ ہے اور ان کے لیے ہے اس میں جو مانگیں،
In it (paradise) are fruits for them and whatever they ask for.
उनके लिए इसमें मेवा है और उनके लिए है इसमें जो माँगेँ,
Un ke liye is mein mewa hai aur un ke liye hai is mein jo maangein,
سَلٰمٌ قَوۡلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِيۡمٍ ﴿58﴾
ان پر سلام ہوگا، مہربان رب کا فرمایا ہوا (ف۷٤)
Upon them will be “Peace” – a Word from their Merciful Lord!
उन पर सलाम होगा, मेहरबान रब का फ़रमाया हुआ
Un par salaam ho ga, meherban Rab ka farmaya hua
(ف74)یعنی اللہ تعالٰی ان پر سلام فرمائے گا خواہ بواسطہ یا بے واسطہ اور یہ سب سے بڑی اور پیاری مراد ہے ۔ ملائکہ اہلِ جنّت کے پاس ہر دروازے سے آ کر کہیں گے تم پر تمہارے رحمت والے ربّ کا سلام ۔
“And be separated (from others) this day, O you criminals!”
और आज अलग फट जाओ, ऐ मुजरिमो!
Aur aaj alag phat jao, ai mujrim!
(ف75)جس وقت مومن جنّت کی طرف روانہ کئے جائیں گے ، اس وقت کُفّار سے کہا جائے گا کہ الگ ہھٹ جاؤ مومنین سے علیحدہ ہو جاؤ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ حکم کُفّار کو ہو گا کہ الگ الگ جہنّم میں اپنے اپنے مقام پر جائیں ۔
آج ہم ان کے مونھوں پر مہر کردیں گے (ف۸۰) اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے (ف۸۱)
This day We will set a seal on their mouths, and their hands will speak out to Us and their feet will bear witness to their deeds.
आज हम उनके मुँहों पर मोहर कर देंगे और उनके हाथ हम से बात करेंगे और उनके पाँव उनके किए की गवाही देंगे
Aaj hum un ke mounhon par mohar kar denge aur un ke haath hum se baat karenge aur un paon un ke kiye ki gawahi denge
(ف80)کہ وہ بول نہ سکیں اور یہ مُہر کرنا ان کے یہ کہنے کے سبب ہو گا کہ ہم مشرک نہ تھے نہ ہم نے رسولوں کو جھٹلایا ۔(ف81)ان کے اعضاء بول اٹھیں گے اور جو کچھ ان سے صادر ہوا ہے سب بیان کر دیں گے ۔
اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹادیتے (ف۸۲) پھر لپک کر رستہ کی طرف جاتے تو انہیں کچھ نہ سوجھتا (ف۸۳)
And had We willed, We could have quenched their eyes so they would rush towards the path, unable to see a thing.
और अगर हम चाहते तो उनकी आँखें मिटा देते फिर लपक कर रास्ता की तरफ़ जाते तो उन्हें कुछ न सूझता
Aur agar hum chaahte to un ki aankhein mita dete phir lapak kar rasta ki taraf jaate to unhein kuch na soojhta
(ف82)کہ نشان بھی باقی نہ رہتا اس طرح کا اندھا کر دیتے ۔(ف83)لیکن ہم نے ایسا نہ کیا اور اپنے فضل و کرم سے نعمتِ بصر ان کے پاس باقی رکھی تو اب ان پر حق یہ ہے کہ وہ شکر گزاری کریں کُفر نہ کریں ۔
اور اگر ہم چاہتے تو ان کے گھر بیٹھے ان کی صورتیں بدل دیتے (ف۸٤) نہ آگے بڑھ سکتے نہ پیچھے لوٹتے (ف۸۵)
And had We willed, We could have disfigured their faces while they were in their homes, therefore unable to go forward or turn back.
और अगर हम चाहते तो उनके घर बैठे उनकी सूरतें बदल देते न आगे बढ़ सकते न पीछे लौटते
Aur agar hum chaahte to un ke ghar baithe un ki sooratain badal dete na aage barh sakte na peechhe laut te
(ف84)اور انہیں بندر یا سور بنا دیتے ۔(ف85)اور ان کے جُرم اس کے مستدعی تھے لیکن ہم نے اپنی رحمت و حکمت کے حسبِ اِقتضا عذاب میں جلدی نہ کی اور ان کے لئے مہلت رکھی ۔
اور جسے ہم بڑی عمر کا کریں اسے پیدائش میں الٹا پھیریں (ف۸٦) تو کیا سمجھے نہیں (ف۸۷)
And whomever We bring to an old age, We reverse him in creation; so do they not understand?
और जिसे हम बड़ी उम्र का करें उसे पैदाइश में उल्टा फेरें तो क्या समझे नहीं
Aur jise hum badi umar ka karein use paidaish mein ulta pheri, to kya samjhe nahin
(ف86)کہ وہ بچپن کے سے ضعف و ناتوانی کی طرف واپس ہونے لگے اور دم بدم اس کی طاقتیں ، قوّتیں اور جسم اور عقل گَھٹنے لگے ۔(ف87)کہ جو احوال کے بدلنے پر ایسا قادر ہو کہ بچپن کے ضعف و ناتوانی اور صِغرِ جسم و نادانی کے بعد شباب کی قوّتیں و توانائی و جسمِ قوی و دانائی عطا فرماتا ہے پھر کِبرِ سن اور آخرِ عمر میں اسی قوی ہیکل جوان کو دبلا اور حقیر کر دیتا ہے اب نہ وہ جسم باقی ہے نہ قوّتیں ، نشست برخاست میں مجبوریاں درپیش ہیں ، عقل کام نہیں کرتی ، بات یاد نہیں رہتی ، عزیز و اقارب کو پہچان نہیں سکتا ، جس پروردگار نے یہ تغیّر کیا وہ قادر ہے کہ آنکھیں دینے کے بعد انہیں مٹا دے اور اچھی صورتیں عطا کرنے کے بعد ان کو مسخ کر دے اور موت دینے کے بعد پھر زندہ کر دے ۔
اور ہم نے ان کو شعر کہنا نہ سکھایا (ف۸۸) اور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے، وہ تو نہیں مگر نصیحت اور روشن قرآن (ف۸۹)
And We have not taught him (Prophet Mohammed- peace and blessings be upon him) to recite poetry, nor does it befit him; it is nothing but an advice and the bright Qur’an.
और हमने उन्हें शेर कहना न सिखाया और न वह उनकी शान के लायक है, वह तो नहीं मगर नसीहत और रोशन कुरआन
Aur hum ne un ko sher kehna na sikhaya aur na woh un ki shaan ke laayak hai, woh to nahin magar naseehat aur roshan Quran
(ف88)معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کو شِعر گوئی کا ملکہ نہ دیا یا یہ کہ قرآن تعلیمِ شِعر نہیں ہے اور شِعر سے کلامِ کاذب مراد ہے خواہ موزوں ہو یا غیرِ موزوں ۔ اس آیت میں اشارہ ہے کہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالٰی کی طرف سے علو مِ اوّلین و آخرین تعلیم فرمائے گئے جن سے کشفِ حقائق ہوتا ہے اور آپ کے معلومات واقعی نفس الامری ہیں ، کذبِ شِعری نہیں جو حقیقت میں جہل ہے وہ آپ کی علمِ اوّلین و شان کے لائق نہیں اور آپ کا دامنِ تقدّس اس سے پاک ہے ۔ اس میں شِعر بمعنی کلامِ موزوں کے جاننے اور اس کے صحیح و سقیم جیّد و ردّی کو پہچاننے کی نفی نہیں ۔ علمِ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں طعن کرنے والوں کے لئے یہ آیت کسی طرح سند نہیں ہو سکتی ، اللہ تعالٰی نے حضور کو علومِ کائنات عطا فرمائے اس کے انکار میں اس آیت کو پیش کرنا مَحض غلط ہے ۔ شانِ نُزول : کُفّارِ قریش نے کہا تھا کہ محمّدِ (مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) شاعر ہیں اور جو وہ فرماتے ہیں یعنی قرآنِ پاک وہ شِعر ہے اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ (معاذ اللہ) یہ کلامِ کاذب ہے جیسا کہ قرآنِ کریم میں ا ن کا مقولہ نقل فرمایا گیا ہے کہ ' بَلِ افْتَرَاہُ بَلْ ھُوَ شَاعِر ' اسی کا اس آیت میں رد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایسی باطل گوئی کا ملکہ ہی نہیں دیا اور یہ کتاب اشعار یعنی اکاذیب پر مشتمل نہیں ، کُفّارِ قریش زبان سے ایسے بدذوق اور نظمِ عروضی سے ایسے ناواقف نہ تھے کہ نثر کو نظم کہہ دیتے اور کلامِ پاک کو شِعرِ عروضی بتا بیٹھتے اور کلام کا مَحض وزنِ عروضی پر ہونا ایسا بھی نہ تھا کہ اس پر اعتراض کیا جا سکے ، اس سے ثابت ہو گیا کہ ان بے دینوں کی مراد شِعر سے کلامِ کاذب تھی ۔ (مدارک و جمل و روح البیان) اور حضرت شیخ اکبر قدّس سرہ نے اس آیت کے معنٰی میں فرمایا ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے معمّے اور اجمال کے ساتھ خِطاب نہیں فرمایا جس میں مراد کے مخفی رہنے کا احتمال ہو بلکہ صاف صریح کلام فرمایا ہے جس سے تمام حجاب اٹھ جائیں اور علوم روشن ہو جائیں چونکہ شِعر لغز و توریہ اور رمز و اجمال کا محل ہوتا ہے اس لئے شِعر کی نفی فرما کر اس معنٰی کو بیان فرما دیا ۔(ف89)صاف صریح حق و ہدایت ، کہاں وہ پاک آسمانی کتاب تمام علوم کی جامع اور کہاں شِعر جیسا کلامِ کاذب چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک ۔ (الکبریت الاحمر للشیخ الاکبر)
اور ان کے لیے ان میں کئی طرح کے نفع (ف۹۳) اور پینے کی چیزیں ہیں (ف۹٤) تو کیا شکر نہ کریں گے (ف۹۵)
And for them in the animals are numerous different benefits and drinks; so will they not be grateful?
और उनके लिए उनमें कई तरह के नफ़ा और पीने की चीज़ें हैं तो क्या शुकर न करेंगे
Aur un ke liye un mein kai tarah ke nafa aur peene ki cheezen hain to kya shukar na karenge
(ف93)اور فائدے ہیں کہ ان کی کھالوں ، بالوں اور اون وغیرہ کام میں لاتے ہیں ۔(ف94)دودھ اور دودھ سے بننے والی چیزیں وہی مٹّھا وغیرہ ۔(ف95)اللہ تعالٰی کی ان نعمتوں کا ۔
وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے (ف۹۸) اور وہ ان کے لشکر سب گرفتار حاضر آئیں گے (ف۹۹)
They (the appointed Gods) cannot help them; and they and their armies will come (to Us), as captives.
वे उनकी मदद नहीं कर सकते और वे उनके लश्कर सब गिरफ़्तार हाज़िर आएँगे
Woh un ki madad nahin kar sakte aur woh un ke lashkar sab giraftaar hazir aayenge
(ف98)کیونکہ جماد بے جان ، بے قدرت ، بے شعور ہیں ۔(ف99)یعنی کافِروں کے ساتھ ان کے بُت بھی گرفتار کر کے حاضر کئے جائیں گے اور سب جہنّم میں داخل ہوں گے بُت بھی اور ان کے پجاری بھی ۔
تو تم ان کی بات کا غم نہ کرو (ف۱۰۰) بیشک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں (ف۱۰۱)
Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) do not grieve because of what they (the disbelievers) say; indeed We know what they conceal and what they disclose.
तो तुम उनकी बात का ग़म न करो बेशक हम जानते हैं जो वे छुपाते हैं और ज़ाहिर करते हैं
To tum un ki baat ka gham na karo beshak hum jaante hain jo woh chhupate hain aur zahir karte hain
(ف100)یہ خِطاب ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ، اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی فرماتا ہے کہ کُفّار کی تکذیب و انکار سے اور ان کی ایذاؤں اور جفاکاریوں سے آپ غمگین نہ ہوں ۔(ف101)ہم انہیں ان کے کردار کی جزا دیں گے ۔
اور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے (ف۱۰۲)
And did not man see that We have created him from a drop of semen? Yet he is an open quarreller!
और क्या आदमी ने न देखा कि हमने उसे पानी की बूंद से बनाया जबही वह सरीह झगड़ालू है
Aur kya aadmi ne na dekha ke hum ne use paani ki boond se banaya jabhi woh sarih jhagaralo hai
(ف102)شانِ نُزول : یہ آیت عاص بن وائل یا ابوجہل اور بقولِ مشہور اُ بَی بن خلف حُمَجی کے حق میں نازل ہوئی جو انکارِ بَعث میں یعنی مرنے کے بعد اٹھنے کے انکار میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بحث و تکرار کرنے آیا تھا ، اس کے ہاتھ میں ایک گلی ہوئی ہڈی تھی اس کو توڑتا جاتا تھا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہتا جاتا تھا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ اس ہڈی کو گل جانے اور ریزہ ریزہ ہو جانے کے بعد بھی اللہ تعالٰی زندہ کرے گا ؟ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا ہاں اور تجھے بھی مرنے کے بعد اٹھائے گا اور جہنّم میں داخل فرمائے گا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اس کے جہل کا اظہار فرمایا گیا کہ گلی ہوئی ہڈی کا بکھرنے کے بعد اللہ تعالٰی کی قدرت سے زندگی قبول کرنا اپنی نادانی سے ناممکن سمجھتا ہے ، کتنا احمق ہے اپنے آپ کو نہیں دیکھتا کہ ابتدا میں ایک گندہ نطفہ تھا گلی ہوئی ہڈی سے بھی حقیر تر ، اللہ تعالٰی کی قدرتِ کاملہ نے اس میں جان ڈالی ، انسان بنایا تو ایسا مغرور و متکبِّر انسان ہوا کہ اس کی قدرت ہی کا منکِر ہو کر جھگڑنے آ گیا ، اتنا نہیں دیکھتا کہ جو قادرِ برحق پانی کی بوند کو قوی اور توانا انسان بنا دیتا ہے اس کی قدرت سے گلی ہوئی ہڈی کو دوبارہ زندگی بخش دینا کیا بعید ہے اور اس کو ناممکن سمجھنا کتنی کُھلی ہوئی جہالت ہے ۔
اور ہمارے لیے کہاوت کہتا ہے (ف۱۰۳) اور اپنی پیدائش بھول گیا (ف۱۰٤) بولا ایسا کون ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرے جب وہ بالکل گل گئیں،
And he invents an example for Us, while forgetting his own creation, saying, “Who is such that can revive the bones when they have completely rotted away?”
और हमारे लिए कहावत कहता है और अपनी पैदाइश भूल गया बोला ऐसा कौन है कि हड्डियों को ज़िंदा करे जब वे बिलकुल गल गईं,
Aur humare liye kahawat kehta hai aur apni paidaish bhool gaya bola aisa kaun hai ke haddioun ko zinda kare jab woh bilkul gal gayi,
(ف103)یعنی گلی ہوئی ہڈی کو ہاتھ سے مل کر مثل بناتا ہے کہ یہ تو ایسی بکھر گئی کیسے زندہ ہو گی ۔(ف104)کہ قطر ۂ مَنی سے پیدا کیا گیا ہے ۔
تم فرماؤ وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا، اور اسے ہر پیدائش کا علم ہے (ف۱۰۵)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “They will be revived by the One Who created them the first time; and He is the All Knowing of every creation.”
तुम फ़रमाओ वह ज़िंदा करेगा जिसने पहली बार उन्हें बनाया, और उसे हर पैदाइश का इल्म है
Tum farmao woh zinda karega jis ne pehli baar unhe banaya, aur use har paidaish ka ilm hai
جس نے تمہارے لیے ہرے پیڑ میں آگ پیدا کی جبھی تم اس سے سلگاتے ہو (ف۱۰٦)
“The One Who has created for you fire from the green tree, so you kindle from it.”
जिसने तुम्हारे लिए हरे पेड़ में आग पैदा की जबही तुम उससे सुलगते हो
Jis ne tumhare liye hare ped mein aag paida ki jabhi tum us se sulgate ho
(ف106)عرب کے دو درخت ہوتے ہیں جو وہاں کے جنگلوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں ایک کا نام مرخ ہے دوسرے کا عفار ، ان کی خاصیّت یہ ہے کہ جب ان کی سبز شاخیں کاٹ کر ایک دوسرے پر رگڑی جائیں تو ان سے آ گ نکلتی ہے باوجود یہ کہ وہ اتنی تر ہوتی ہیں کہ ان سے پانی ٹپکتا ہوتا ہے ۔ اس میں قدرت کی کیسی عجیب و غریب نشانی ہے کہ آ گ اور پانی دونوں ایک دوسرے کی ضد ، ہر ایک ایک جگہ ایک لکڑی میں موجود ، نہ پانی آ گ کو بجھائے نہ آ گ لکڑی کو جَلائے ، جس قادرِ مطلق کی یہ حکمت ہے وہ اگر ایک بدن پر موت کے بعد زندگی وارد کرے تو اس کی قدرت سے کیا عجیب اور اس کو ناممکن کہنا آثارِ قدرت دیکھ کر جاہلانہ و معاندانہ انکار کرنا ہے ۔
اور کیا وہ جس نے آسمان اور زمین بنائے ان جیسے اور نہیں بناسکتا (ف۱۰۷) کیوں نہیں (ف۱۰۸) اور وہی بڑا پیدا کرنے والا سب کچھ جانتا،
And is it not possible for the One Who created the heavens and the earth to create the likes of them? It is surely possible, why not? And He is the Great Creator, the All Knowing of everything.
और क्या वह जिसने आसमान और ज़मीन बनाए उन्हें जैसे और नहीं बना सकता क्यों नहीं और वही बड़ा पैदा करने वाला सब कुछ जानता,
Aur kya woh jis ne aasman aur zameen banaye un jaise aur nahin bana sakta kyon nahin aur wahi bara paida karne wala sab kuch jaanta,
(ف107)یا انہیں کو بعدِ موت زندہ نہیں کر سکتا ۔(ف108)بے شک وہ اس پر قادر ہے ۔
تو پاکی ہے، اسے جس کے ہاتھ ہر چیز کا قبضہ ہے، اور اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے (ف۱۱۱)
Therefore Purity is to Him in Whose Hand* is the control over all things and it is towards Him that you will be returned. (Used as a metaphor to mean Power).
तो पाक़ी है, उसे जिसके हाथ हर चीज़ का क़ब्ज़ा है, और इसी की तरफ़ फ़ेरे जाओगे
"
To paaki hai, use jis ke haath har cheez ka qabza hai, aur isi ki taraf phere jaoge",
"
(ف111)آخرت میں ۔
وَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا ۙ ﴿1﴾
قسم ان کی کہ باقاعدہ صف باندھیں (ف۲)
By oath of those who establish proper ranks.
क़सम उनकी कि बाक़ायदा सफ़ बान्धें
Qasam unki ke baqaida saf baandhein
(ف2)اس آیت میں اللہ تبارک و تعالٰی نے قَسم یاد فرمائی چند گروہوں کی یا تو مراد اس سے ملائکہ کے گروہ ہیں جو نمازیوں کی طرح صف بستہ ہو کر اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں یا عُلَماءِ دین کے گروہ جو تہجّد اور تمام نمازوں میں صفیں باندھ کر مصروفِ عبادت رہتے ہیں یا غازیوں کے گروہ جو راہِ خدا میں صفیں باندھ کر دشمنانِ حق کے مقابل ہوتے ہیں ۔ (مدارک)
فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا ۙ ﴿2﴾
پھر ان کی کہ جھڑک کر چلائیں (ف۳)
And by oath of those who herd with a stern warning.
फिर उनकी कि झड़क कर चलाएँ
Phir unki ke jharak kar chalain
(ف3)پہلی تقدیر پر جھڑک کر چَلانے والوں سے مراد ملائکہ ہیں جو ابر پر مقرر ہیں اور اس کو حکم دے کر چَلاتے ہیں اور دوسری تقدیر پر وہ عُلَماء جو وعظ و پند سے لوگوں کو جھڑک کر دین کی راہ چَلاتے ہیں تیسری صورت میں وہ غازی جو گھوڑوں کو ڈپٹ کر جہاد میں چَلاتے ہیں ۔
مالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور مالک مشرقوں کا (ف٤)
Lord of the heavens and the earth and all that is between them – and the Lord of the sun’s rising points.
मालिक आसमानों और जमीन का और जो कुछ उनके बीच में है और मालिक मशरिकों का
Maalik asmanon aur zameen ka aur jo kuch unke darmiyan hai aur maalik mashriqon ka
(ف4)یعنی آسمان اور زمین اور ان کی درمیانی کائنات اور تمام حدود و جہات سب کا مالک وہی ہے تو کوئی دوسرا کس طرح مستحقِ عبادت ہو سکتا ہے لہذا وہ شریک سے منزّہ ہے ۔
اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۵) تاروں کے سنگھار سے آراستہ کیا ،
We have indeed adorned the lowest heaven with stars as ornaments.
और बेशक हमने नीचे के आसमान को तारों के संगार से आराख़्ता किया,
Aur baishak hum ne neeche ke asman ko taaron ke singhaar se aaraasta kiya,
(ف5)جو زمین کے بہ نسبت اور آسمانوں سے قریب تر ہے ۔
وَحِفۡظًا مِّنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ مَّارِدٍۚ ﴿7﴾
اور نگاہ رکھنے کو ہر شیطان سرکش سے (ف٦)
And to protect it from every rebellious devil.
और निगाह रखने को हर शैतान सरकश से
Aur nigaah rakhne ko har shaytaan sarkash se
(ف6)یعنی ہم نے آسمان کو ہر ایک نافرمان شیطان سے محفوظ رکھا کہ جب شیاطین آسمان پر جانے کا ارادہ کریں تو فرشتے شہاب مار کر ان کو دفع کر دیں لہذا شیاطین آسمان پر نہیں جا سکتے اور ۔
تو ان سے پوچھو (ف۱۲) کیا ان کی پیدائش زیادہ مضبوط ہے یا ہماری اور مخلوق آسمانوں اور فرشتوں وغیرہ کی (ف۱۳) بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے بنایا (ف۱٤)
Therefore ask them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Are they a stronger creation, or are other things of our creation, (the angels, the heavens etc.)?” We have indeed created them from sticky clay.
तो उनसे पूछो क्या उनकी पैदाइश ज़्यादा मजबूत है या हमारी और मख़्लूक आसमानों और फ़रिश्तों आदि की बेशक हमने उन्हें चिपकती मिट्टी से बनाया
To un se poochho kya un ki paidash zyada mazboot hai ya humari aur makhlooq asmanon aur farishton waghera ki baishak hum ne unko chipakti mitti se banaya
(ف12)یعنی کُفّارِ مکّہ سے ۔(ف13)تو جس قادرِ برحق کو آسمان و زمین جیسی عظیم مخلو ق کا پیدا کر دینا کچھ بھی مشکل اور دشوار نہیں تو انسانوں کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو سکتا ہے ۔(ف14)یہ ان کے ضعف کی ایک اور شہادت ہے کہ ان کی پیدائش کا اصل مادّہ مٹی ہے جو کوئی شدّت و قوّت نہیں رکھتی اور اس میں ان پر ایک اور برہان قائم فرمائی گئی ہے کہ چپکتی مٹی ان کا مادّۂ پیدائش ہے تو اب پھر جسم کے گل جانے اور غایت یہ ہے کہ مٹی ہو جانے کہ بعد اس مٹی سے پھر دوبارہ پیدائش کو وہ کیوں ناممکن جانتے ہیں مادّہ موجود اور صانع موجود پھر دوبارہ پیدائش کیسے محال ہو سکتی ۔
بَلۡ عَجِبۡتَ وَيَسۡخَرُوۡنَ ﴿12﴾
بلکہ تمہیں اچنبھا آیا (ف۱۵) اور وہ ہنسی کرتے ہیں (ف۱٦)
Rather you are surprised, whereas they keep mocking.
बल्कि तुम्हें अचम्भा आया और वे हँसी करते हैं
Balki tumhein achambha aaya aur woh hansi karte hain
(ف15)ان کے تکذیب کرنے سے کہ ایسے واضح الدلالۃ آیات وبیّنات کے باوجود وہ کس طرح تکذیب کرتے ہیں ۔(ف16)آپ سے اور آپ کے تعجّب سے یا مرنے کے بعد اٹھنے سے ۔
وَاِذَا ذُكِّرُوۡا لَا يَذۡكُرُوۡنَ ﴿13﴾
اور سمجھائے نہیں سمجھتے،
And they do not understand, when explained to.
और समझाए नहीं समझते,
Aur samjhaaye nahi samajhte,
وَاِذَا رَاَوۡا اٰيَةً يَّسۡتَسۡخِرُوۡنَ ﴿14﴾
اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں (ف۱۷) ٹھٹھا کرتے ہیں،
And whenever they see a sign, they mock at it.
और जब कोई निशानी देखते हैं ठठा करते हैं,
Aur jab koi nishani dekhte hain thattha karte hain,
کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے کیا ہم ضرور اٹھائے جائیں گے،
“When we are dead and have turned into dust and bones, will we certainly be raised again?”
क्या जब हम मर कर मिट्टी और हड्डियां हो जाएँगे क्या हम जरूर उठाए जाएँगे,
Kya jab hum mar kar mitti aur haddiyan ho jaayenge kya hum zaroor uthaye jaayenge,
اَوَاٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَؕ ﴿17﴾
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (ف۱۸)
“And also our forefathers?”
और क्या हमारे अगले बाप दादा भी
Aur kya humare agle baap dada bhi
(ف18)جو ہم سے زمانہ میں مقدم ہیں ۔ کُفّار کے نزدیک ان کے باپ دادا کا زندہ کیا جانا خود ان کے زندہ کئے جانے سے زیادہ بعید تھا اس لئے انہوں نے یہ کہا ۔ اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرماتاہے ۔
ہانکو ظالموں اور ان کے جوڑوں کو (ف۲٤) اور جو کچھ وہ پوجتے تھے ،
“Gather all the unjust persons and their spouses, and all that they used to worship!” –
हाँको ज़ालिमों और उनके जोड़ों को और जो कुछ वे पूजते थे,
Haan ko zaalimoon aur unke joron ko aur jo kuch woh poojhte the,
(ف24)ظالموں سے مراد کافِر ہیں اور ان کے جوڑوں سے مراد ان کے شیاطین جو دنیا میں ان کے جلیس و قرین رہتے تھے ہر ایک کافِر اپنے شیطان کے ساتھ ایک ہی زنجیر میں جکڑ دیا جائے گا اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جوڑوں سے مراد اشباہ و امثال ہیں یعنی ہر کافِر اپنے ہی قِسم کے کُفّار کے ساتھ ہانکا جائے گا ، بُت پرست بُت پرستوں کے ساتھ اور آتش پرست آتش پرستوں کے ساتھ وعلٰی ہذا القیا س ۔
“Instead of Allah – and herd them to the path leading to hell.”
अल्लाह के सिवा, उन सब को हाँको राह-ए-دوزख की तरफ,
Allah ke siwa, un sab ko haan ko raah-e-dozakh ki taraf,
وَقِفُوۡهُمۡ اِنَّهُمۡ مَّسْـُٔـوۡلُوۡنَۙ ﴿24﴾
اور انہیں ٹھہراؤ (ف۲۵) ان سے پوچھنا ہے (ف۲٦)
“And stop them – they are to be questioned.”
और उन्हें ठहराओ उनसे पूछना है
Aur unhein thehrao un se poochhna hai
(ف25)صراط کے پاس ۔(ف26)حدیث شریف میں ہے کہ روزِ قیامت بندہ جگہ سے ہل نہ سکے گا جب تک چار باتیں اس سے نہ پوچھ لی جائیں (۱) ایک اس کی عمر کہ کس کام میں گزری (۲) دوسرے اس کا علم کہ اس پر کیا عمل کیا (۳)تیسرے اس کا مال کہ کہاں سے کمایا کہاں خرچ کیا (۴) چوتھے اس کا جسم کہ اس کو کس کام میں لایا ۔
مَا لَـكُمۡ لَا تَنَاصَرُوۡنَ ﴿25﴾
تمہیں کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے (ف۲۷)(
“What is the matter with you, that you do not help one another?”
तुम्हें क्या हुआ एक दूसरे की मदद क्यों नहीं करते
Tumhein kya hua aik doosre ki madad kyun nahi karte
(ف27)یہ ان سے جہنّم کے خازن بطریقِ توبیخ کہیں گے کہ دنیا میں تو ایک دوسرے کی امداد پر بہت غرّہ رکھتے تھے آج دیکھو کیسے عاجز ہو تم میں سے کوئی کسی کی مدد نہیں کر سکتا ۔
نہ اس میں خمار ہے (ف٤۷) اور نہ اس سے ان کا سَر پِھرے (ف٤۸)
Neither does it intoxicate, nor give a headache.
न इस में ख़ुमार है और न इस से उनका सर फ़िरे
Na is mein khumaar hai aur na is se un ka sar phire
(ف47)جس سے عقل میں خلل آئے ۔(ف48)بخلاف دنیا کی شراب کے جس میں بہت سے فسادات اور عیب ہیں اس سے پیٹ میں بھی درد ہوتا ہے ، سر میں بھی ، پیشاب میں بھی تکلیف ہو جاتی ہے ، طبیعت مالش کرتی ہے ، قے آتی ہے ، سر چکراتا ہے ، عقل ٹھکانے نہیں رہتی ۔
وَعِنۡدَهُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ عِيۡنٌۙ ﴿48﴾
اور ان کے پاس ہیں جو شوہروں کے سوا دوسری طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں گی (ف٤۹)
And with them are those who do not set gaze upon men except their husbands, the maidens with gorgeous eyes.
और उनके पास हैं जो शोहरों के सिवा दूसरी तरफ़ आँख उठा कर न देखेंगी
Aur unke paas hain jo shohron ke siwa doosri taraf aankh utha kar na dekhein gi
(ف49)کہ اس کے نزدیک اس کاشوہر ہی صاحبِ حُسن اور پیارا ہے ۔
كَاَنَّهُنَّ بَيۡضٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴿49﴾
بڑی آنکھوں والیاں گویا وہ انڈے ہیں پوشیدہ رکھے ہوئے (ف۵۰)
As if they were eggs, safely hidden.
बड़ी आँखों वालियाँ फ ग़ोया वे अंडे हैं पोशिदा रखे हुए
Badi aankhon waliyan f goya woh ande hain posheeda rakhe hue
اور میرا رب فضل نہ کرے (ف۵۹) تو ضرور میں بھی پکڑ کر حاضر کیا جاتا (ف٦۰)
“And were it not for the munificence of my Lord, I too would have been seized and brought forth (captive)!”
और मेरा रब फ़ज़ल न करे तो जरूर मैं भी पकड़ कर हाज़िर किया जाता
Aur mera Rab fazl na kare to zaroor main bhi pakad kar haazir kiya jaata
(ف59)اور اپنے رحمت و کرم سے مجھے تیرے اغوا سے محفوظ نہ رکھتا اور اسلام پر قائم رہنے کی توفیق نہ دیتا ۔(ف60)تیرے ساتھ جہنّم میں اور جب موت ذبح کر دی جائے گی تو اہلِ جنّت فرشتوں سے کہیں گے ۔
اَفَمَا نَحۡنُ بِمَيِّتِيۡنَۙ ﴿58﴾
تو کیا ہمیں مرنا نہیں،
“So are we never to die?” (The people of Paradise will ask the angels, with delight, after the announcement of everlasting life.)
مگر ہماری پہلی موت (ف٦۱) اور ہم پر عذاب نہ ہوگا (ف٦۳)
“Except our earlier death, and nor will we be punished?”
मगर हमारी पहली मौत और हम पर अज़ाब न होगा
Magar humari pehli maut aur hum par azaab na hoga
(ف61)وہی جو دنیا میں ہو چکی ۔(ف62)فرتشے کہیں گے نہیں اور اہلِ جنّت کا یہ دریافت کرنا اللہ تعالٰی کی رحمت کے ساتھ تلذُّذ اور دائمی حیات کی نعمت اور عذاب سے مامون ہونے کے احسان پر اس کی نعمت کا ذکر کرنے کے لئے ہے اور اس ذکر سے انہیں سرور حاصل ہو گا ۔
اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴿60﴾
بیشک یہی بڑی کامیابی ہے،
“This is, most certainly, the supreme success.”
बेशक यही बड़ी कामयाबी है,
Baishak yehi badi kaamyabi hai,
لِمِثۡلِ هٰذَا فَلۡيَعۡمَلِ الۡعٰمِلُوۡنَ ﴿61﴾
ایسی ہی بات کے لیے کامیوں کو کام کرنا چاہیے،
For such a reward should the workers perform.
ऐसी ही बात के लिए कामियों को काम करना चाहिए,
Aisi hi baat ke liye kaamiyon ko kaam karna chahiye,
(ف63)یعنی جنّتی نعمتیں اور لذّتیں اور وہاں کے نفیس و لطیف مآ کل و مشارب اور دائمی عیش اور بے نہایت راحت و سرور ۔(ف64)نہایت تلخ ، انتہا کا بدبودار ، حد درجہ کا بدمزہ ، سخت ناگوار جس سے دوزخیوں کی میزبانی کی جائے گی اور ان کو اس کے کھانے پر مجبور کیا جائے گا ۔
اِنَّا جَعَلۡنٰهَا فِتۡنَةً لِّلظّٰلِمِيۡنَ ﴿63﴾
بیشک ہم نے اسے ظالموں کی جانچ کیا ہے (ف٦۵)
We have indeed made that a punishment for the unjust.
बेशक हमने इसे ज़ालिमों की जान्च किया है
Baishak hum ne use zaalimoon ki jaanch kiya hai
(ف65)کہ دنیا میں کافِر اس کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آ گ درختوں کو جَلا ڈالتی تو آ گ میں درخت کیسے ہو گا ۔
پھر بیشک ان کے لیے اس پر کھولتے پانی کی ملونی (ملاوٹ) ہے (ف٦۹)
Then after it, indeed for them is the drink of boiling hot water.
फिर बेशक उनके लिए उस पर खोलते पानी की मिलोनी (मिलावट) है
Phir baishak un ke liye is par kholte paani ki maloni (milaawat) hai
(ف69)یعنی جہنّمی تھوہڑ سے ان کے پیٹ بھریں گے وہ جلتا ہو گا پیٹوں کو جَلائے گا ، اس کی سوزش سے پیاس کا غلبہ ہو گا اور مدّت تک تو پیاس کی تکلیف میں رکھے جائیں گے پھر جب پینے کو دیا جائے گا تو گرم کھولتا پانی اس کی گرمی اور سوزش اس تھوہڑ کی گرمی اور جلن سے مل کر اور تکلیف و بے چینی بڑھائے گی ۔
Phir un ki baazgasht zaroor bhadakti aag ki taraf hai
(ف70)کیونکہ زقوم کِھلانے اور گرم پانی پلانے کے لئے ، ان کو اپنے درکات سے دوسرے درکات میں لے جایا جائے گا ، اس کے بعد پھر اپنے درکات کی طرف لوٹائے جائیں گے ، اس کے بعد ان کے مستحقِ عذاب ہونے کی علّت ارشاد فرمائی جاتی ہے ۔
اور بیشک ہمیں نوح نے پکارا (ف۷٦) تو ہم کیا ہی اچھے قبول فرمانے والے (ف۷۷)
And indeed Nooh prayed to Us – so what an excellent Acceptor of Prayer We are!
और बेशक हमें नूह ने पुकारा तो हम क्या ही अच्छे स्वीकार फ़रमाने वाले
Aur baishak humein Nuh ne pukara to hum kya hi achhe qubool farmaane wale
(ف76)اور ہم سے اپنی قوم کے عذاب و ہلاک کی درخواست کی ۔(ف77)کہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی اور ان سے پورا انتقام لیا کہ انہیں غرق کر کے ہلاک کر دیا ۔
(ف78)تو اب دنیا میں جتنے انسان ہیں سب حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام کے کَشتی سے اُترنے کے بعد ان کے ہمراہیوں میں جس قدر مرد و عورت تھے سبھی مر گئے سوا آپ کی اولاد اور ان کی عورتوں کے ، انہیں سے دنیا کی نسلیں چلیں ، عرب اور فارس اور روم آپ کے فرزند سام کی اولاد سے ہیں اور سوڈان کے لوگ آپ کے بیٹے حام کی نسل سے اور ترک اور یاجوج ماجوج وغیرہ آپ کے صاحب زادے یافث کی اولاد سے ۔
وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِى الۡاٰخِرِيۡنَ ۖ ﴿78﴾
اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی (ف۷۹)
And We kept his praise among the latter generations.
और हमने पिछलों में उसकी तारीफ़ बाकी रखी
Aur hum ne pichhlon mein us ki tareef baaqi rakhi
(ف79)یعنی ان کے بعد والے انبیاء علیہم السلام اور ان کی اُمّتوں میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکرِ جمیل باقی رکھا ۔
سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴿79﴾
نوح پر سلام ہو جہاں والوں میں (ف۸۰)
Peace be upon Nooh, among the entire people.
नूह पर सलाम हो जहाँ वालों में
Nuh par salaam ho jahan walon mein
(ف80)یعنی ملائکہ اور جنّ و انس سب ان پر قیامت تک سلام بھیجا کریں ۔
اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴿80﴾
بیشک ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
This is how We reward the virtuous.
बेशक हम ऐसा ही सला देते हैं नेक़ों को,
Baishak hum aisa hi sula dete hain nekon ko,
اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴿81﴾
بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہے،
He is indeed one of Our high ranking, firmly believing bondmen.
बेशक वह हमारे आला दरजा के क़ामिल एमान बंदों में है,
(ف81)یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کافِروں کو ۔
وَاِنَّ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ لَاِبۡرٰهِيۡمَۘ ﴿83﴾
اور بیشک اسی کے گروہ سے ابراہیم ہے (ف۸۲)
And indeed Ibrahim is from his (Nooh’s) group.
और बेशक उसी के ग्रुप से इब्राहीम है
Aur baishak isi ke group se Ibraheem hai
(ف82)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے دین و ملت اور انہیں کے طریق و سنّت پر ہیں ، حضرت نوح علیہ السلام و حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان دو ہزار چھ سو چالیس برس کا زمانی فرق ہے اور دونوں حضرات کے درمیان جو عہد گذرا اس میں صرف دو نبی ہوئے حضرت ہود و حضرت صالح علیہما السلام ۔
اِذۡ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ ﴿84﴾
اور بیشک اسی کے گروہ سے ابراہیم ہے (ف۸۲)
When he came to his Lord, with a sound heart. (Free from falsehood).
जबकि अपने रब के पास हाज़िर हुआ गैर से सलामत दिल ले कर
Jabke apne Rab ke paas haazir hua ghair se salaamat dil le kar
(ف83)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے قلب کو اللہ تعالٰی کے لئے خالص کیا اور ہر چیز سے فارغ کر لیا ۔
“What! You desire, through fabrication, Gods other than Allah?”
क्या बहुतान से अल्लाह के सिवा और खुदा चाहते हो,
Kya bohtan se Allah ke siwa aur khuda chahte ho,
فَمَا ظَنُّكُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴿87﴾
تو تمہارا کیا گمان سے رب العالمین پر (ف۸۵)
“So what do you assume regarding the Lord Of The Creation?” (That He will not punish you?)
तो तुम्हारा क्या गुमान से रब-उल-आलमीन पर
To tumhara kya guman se Rab-ul-Alameen par
(ف85)کہ جب تم اس کے سوا دوسرے کو پُوجو گے تو کیا وہ تمہیں بے عذاب چھوڑ دے گا باوجود یہ کہ تم جانتے ہو کہ وہی منعِمِ حقیقی ، مستحقِ عبادت ہے ۔ قوم نے کہا کہ کل کو ہماری عید ہے ، جنگل میں میلہ لگے گا ، ہم نفیس کھانے پکا کر بُتوں کے پاس رکھ جائیں گے اور میلہ سے واپس ہو کر تبرُّ ک کے طور پر ان کو کھائیں گے ، آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں اور مجمع اور میلہ کی رونق دیکھیں ، وہاں سے واپس ہو کر بُتوں کی زینت اور سجاوٹ اور ا ن کا بناؤ سنگار دیکھیں ، یہ تماشا دیکھنے کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ آپ بُت پرستی پر ہمیں ملامت نہ کریں گے ۔
فَنَظَرَ نَظۡرَةً فِى النُّجُوۡمِۙ ﴿88﴾
پھر اس نے ایک نگاہ ستاروں کو دیکھا (ف۸٦)
He then shot a glance at the stars.
फिर उसने एक निगाह सितारों को देखा
Phir us ne aik nigaah sitaaron ko dekha
(ف86)جیسے کہ ستارہ شناس نجوم کے ماہر ستاروں کے مواقعِ اتصالات و انصرافات کو دیکھا کرتے ہیں ۔
فَقَالَ اِنِّىۡ سَقِيۡمٌ ﴿89﴾
پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں (ف۸۷)
He then said, “I feel sick (of you)!”
फिर कहा मैं बीमार होने वाला हूँ
Phir kaha main bimaar hone wala hoon
(ف87)قوم نجوم کی بہت معتقد تھی وہ سمجھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں سے اپنے بیمار ہونے کا حال معلوم کر لیا ، اب یہ کسی متعدّی مرض میں مبتلا ہونے والے ہیں اور متعدّی مرض سے وہ لوگ بہت ڈرتے تھے ۔مسئلہ : علمِ نجوم حق ہے اور سیکھنے میں مشغول ہونا منسوخ ہو چکا ۔مسئلہ : شرعاً کوئی مرض متعدّی نہیں ہوتا یعنی ایک شخص کا مرض بعینہٖ دوسرے میں نہیں پہنچ جاتا ، مادّوں کے فساد اور ہوا وغیرہ کی سَمِیّتوں کے اثر سے ایک وقت میں بہت سے لوگوں کو ایک طرح کے مرض ہو سکتے ہیں لیکن حدوث مرض کا ہر ایک میں جداگانہ ہے ، کسی کا مرض کسی دوسرے میں نہیں پہنچتا ۔
فَتَوَلَّوۡا عَنۡهُ مُدۡبِرِيۡنَ ﴿90﴾
تو وہ اس پر پیٹھ دے کر پھر گئے (ف۸۸)
And they turned their backs on him and went away. (The pagans thought he would transmit the disease).
तो वे उस पर पीठ दे कर फिर गए
To woh us par peeth de kar phir gaye
(ف88)اپنی عید کی طرف اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ گئے آپ بُت خانہ میں آئے ۔
اور کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں (ف۹٦) اب وہ مجھے راہ دے گا (ف۹۷)
And he said, “Indeed I shall go to my Lord Who will guide me.”
और कहा मैं अपने रब की तरफ़ जाने वाला हूँ अब वह मुझे राह देगा
Aur kaha main apne Rab ki taraf jaane wala hoon ab woh mujhe raah dega
(ف96)اس دارالکفر سے ہجرت کر کے جہاں جانے کا میرا ربّ حکم دے ۔(ف97)چنانچہ بحکمِ الٰہی آپ سرزمینِ شام میں ارضِ مقدَّسہ کے مقام پر پہنچے تو آپ نے اپنے ربّ سے دعا کی ۔
رَبِّ هَبۡ لِىۡ مِنَ الصّٰلِحِيۡنَ ﴿100﴾
الٰہی مجھے لائق اولاد دے،
“My Lord! Give me a meritorious child.”
इलाही मुझे लायक औलाद दे
Ilahi mujhe laaiq aulaad de,
فَبَشَّرۡنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِيۡمٍ ﴿101﴾
تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقل مند لڑکے کی،(
We therefore gave him the glad tidings of an intelligent son.
तो हमने उसे खुशख़बरी सुनाई एक अकलमंद लड़के की,
To hum ne use khushkhabri sunai aik aqalmand larke ki,
پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا کہا اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں (ف۹۸) اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے (ف۹۹) کہا اے میرے باپ کی جیئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے، خدا نے چاہتا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے،
And when he became capable of working with him, Ibrahim said, “O my son, I dreamt that I am sacrificing you – therefore now consider what is your opinion”; he said, “O my father! Do what you are commanded! Allah willing, you will soon find me patiently enduring!”
फिर जब वह उसके साथ काम के क़ाबिल हो गया कहा ए मेरे बेटे मैंने ख़्वाब देखा मैं तुझे ज़बाह करता हूँ अब तो देख तेरी क्या राय है कहा ए मेरे बाप की जिए जिस बात का आप को हुक्म होता है, ख़ुदा ने चाहा तो करीब है कि आप मुझे साबिर पाएँगे,
Phir jab woh us ke saath kaam ke qabil ho gaya kaha, "Ai mere betay, main ne khwab dekha main tujhe zabh karta hoon, ab to dekh teri kya raye hai." Kaha, "Ai mere baap ki jeeye, jis baat ka aap ko hukum hota hai, Khuda ne chaaha to qareeb hai ke aap mujhe sabr payenge,"
(ف98)یعنی تیرے ذبح کا انتظام کر رہا ہوں اور انبیاء علیہم السلام کی خواب حق ہوتی ہے اور ان کے افعال بحکمِ الٰہی ہوا کرتے ہیں ۔(ف99)یہ آپ نے اس لئے کہا تھا کہ فرزند کو ذبح سے وحشت نہ ہو اور اطاعتِ امرِ الٰہی کے لئے وہ برغبت تیار ہوں چنانچہ اس فرزندِ ارجمند نے رضا ئے الٰہی پر فدا ہونے کا کمالِ شوق سے اظہار کیا ۔
بیشک تو نے خواب سچ کردکھایا (ف۱۰۱) ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
“You have indeed made the dream come true”; and this is how We reward the virtuous.
बेशक तू ने ख़्वाब सच कर दिखाया हम ऐसा ही सला देते हैं नेक़ों को,
Baishak tu ne khwab sach kar dikhaya, hum aisa hi sila dete hain nekon ko,
(ف101)اطاعت و فرمانبرداری کمال کو پہنچا دی ، فرزند کو ذبح کے لئے بے دریغ پیش کر دیا بس اب اتنا کافی ہے ۔
اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡبَلٰٓؤُا الۡمُبِيۡنُ ﴿106﴾
بیشک یہ روشن جانچ تھی،
Indeed this was a clear test.
बेशक यह रोशन जांच थी,
Baishak ye roshan jaanch thi,
وَفَدَيۡنٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيۡمٍ ﴿107﴾
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا (ف۱۰۲)
And We rescued him in exchange of a great sacrifice. (The sacrifice of Ibrahim and Ismail – peace be upon them – is commemorated every year on 10, 11 and 12 Zil Haj).
और हमने एक बड़ा ज़बिहा उसके फदीय में दे कर उसे बचा लिया
Aur hum ne aik bada zabeeha us ke fidya mein de kar use bacha liya
(ف102)اس میں اختلاف ہے کہ یہ فرزند حضرت اسمٰعیل ہیں یا حضرت اسحٰق علیہما السلام لیکن دلائل کی قوّت یہی بتاتی ہے کہ ذبیح حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہی ہیں اور فدیہ میں جنّت سے بکری بھیجی گئی تھی جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا ۔
وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِى الۡاٰخِرِيۡنَۖ ﴿108﴾
اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی،
And We kept his praise among the latter generations.
और हमने पिछलों में उसकी तारीफ़ बाकी रखी,
Aur hum ne pichhlon mein us ki tareef baaqi rakhi,
سَلٰمٌ عَلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَ ﴿109﴾
سلام ہو ابراہیم پر (ف۱۰۳)
Peace be upon Ibrahim!
सलाम हो इब्राहीम पर
Salaam ho Ibraheem par
(ف103)ہماری طرف سے ۔
كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴿110﴾
ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو،
This is how We reward the virtuous.
हम ऐसा ही सला देते हैं नेक़ों को,
Hum aisa hi sila dete hain nekon ko,
اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴿111﴾
بیشک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں،
He is indeed one of Our high ranking, firmly believing bondmen.
बेशक वह हमारे आला दर्जा के क़ामिल एमान बंदों में हैं,
اور ہم نے برکت اتاری اس پر اور اسحاق پر (ف۱۰۵) اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والا (ف۱۰٦) اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا (ف۱۰۷)
And We sent blessings upon him and Ishaq; and among their descendants – some who do good deeds, and some who clearly wrong themselves.
और हमने बरकत उतारी उस पर और इशाक़ पर और उनकी औलाद में कोई अच्छा काम करने वाला और कोई अपनी जान पर सरीह ज़ुल्म करने वाला
Aur hum ne barkat utaari us par aur Ishaq par aur un ki aulaad mein koi achha kaam karne wala aur koi apni jaan par sareeh zulm karne wala
(ف104)واقعۂ ذبح کے بعد حضرت اسحٰق کی خوشخبری اس کی دلیل ہے کہ ذبیح حضرت اسمٰعیل علیہما السلام ہیں ۔(ف105)ہر طرح کی برکت دینی بھی اور دنیوی بھی اور ظاہری برکت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی اولاد میں کثرت کی اور حضرت اسحٰق علیہ السلام کی نسل سے بہت سے انبیاء کئے حضرت یعقوب سے لے کر حضرت عیسٰی علیہ السلام تک ۔(ف106)یعنی مومن ۔(ف107)یعنی کافِر ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی باپ کے صاحبِ فضائلِ کثیرہ ہونے سے اولاد کا بھی ویسا ہی ہونا لازم نہیں ، یہ اللہ تعالٰی کی شانیں ہیں ، کبھی نیک سے نیک پیدا کرتا ہے ، کبھی بد سے بد ، کبھی بد سے نیک ، نہ اولاد کا بد ہونا آباء کے لئے عیب ہو ، نہ آباء کی بدی اولاد کے لئے ۔
کیا بعل کو پوجتے ہو (ف۱۱٦) اور چھوڑتے ہو سب سے اچھا پیدا کرنے والے اللہ کو،
“What! You worship Baal (an idol) and leave the Best Creator?” –
क्या बाअल को पूजते हो और छोड़ते हो सबसे अच्छा पैदा करने वाले अल्लाह को,
"Kya Baal ko poojhte ho aur chhodte ho sab se achha paida karne wale Allah ko,"
(ف116)بعل ان کے بت کا نام تھاجو سونے کا تھا اس کی لمبائی بیس گز تھی چار منھ تھے ، اس کی بہت تعظیم کرتے تھے جس مقام میں وہ تھا اس جگہ کا نام بک تھا اسی سے بَعلَبَکَّ مرکب ہوا یہ بلادِ شام میں ہے ۔
(ف123)یعنی اپنے سفروں میں روز و شب تم ان کے آثار و منازل پر گزرتے ہو ۔(ف124)کہ ان سے عبرت حاصل کرو ۔
وَاِنَّ يُوۡنُسَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَؕ ﴿139﴾
اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے،
And indeed Yunus is one of the Noble Messengers.
और बेशक युनुस पैग़म्बरों से है,
Aur baishak Yunus paighambaron se hai,
اِذۡ اَبَقَ اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِۙ ﴿140﴾
جبکہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا (ف۱۲۵)
When he left towards the laden ship.
जबकि भरी कश्ती की तरफ़ निकल गया
Jabke bhari kashti ki taraf nikal gaya
(ف125)حضرت ابنِ عباس اور وہب کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا اس میں تاخیر ہوئی تو آپ ان سے چُھپ کر نکل گئے اور آپ نے دریائی سفر کا قصد کیا کَشتی پر سوار ہوئے دریا کے درمیان میں کَشتی ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی سببِ ظاہر موجود نہ تھا ۔ ملّاحوں نے کہا اس کَشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے قرعہ ڈالنے سے ظاہر ہوجائے گا قرعہ ڈالا گیا تو آپ ہی کے نام نکلا ، تو آپ نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں اور آپ پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کَشتی چلتی نہ تھی ۔
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَۚ ﴿141﴾
تو قرعہ ڈالا تو ڈھکیلے ہوؤں میں ہوا،
Then lots were drawn and he became of those who were pushed into the sea.
तो क़रअ डाला तो ढक़ीले होउँ में हुआ,
To qara’a daala to dhakele huon mein hua,
فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَهُوَ مُلِيۡمٌ ﴿142﴾
پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا (ف۱۲٦)
The fish then swallowed him and he blamed himself. (For not waiting for Allah’s command.)
फिर उसे मछली ने निगल लिया और वह अपने आप को मलामत करता था
Phir use machhli ne nigal liya aur woh apne aap ko mulaamat karta tha
(ف126)کہ کیوں نکلنے میں جلدی کی اور قوم سے جدا ہونے میں امرِ الٰہی کا انتظار نہ کیا۔
پھر ہم نے اسے (ف۱۲۹) میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا (ف۱۳۰)
We then put him ashore on a plain, and he was sick.
फिर हमने उसे मैदान में डाल दिया और वह बीमार था
Phir hum ne use maidan mein daal diya aur woh beemar tha
(ف129)مچھلی کے پیٹ سے نکال کر اسی روز یا تین روز یا سات روز یا چالیس روز کے بعد ۔(ف130)یعنی مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے باعث آپ ایسے ضعیف ونحیف اور نازک ہوگئے تھےجیسا بچّہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے جسم کی کھال نرم ہوگئی اور بدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔
And We grew a tree of gourd (as a shelter) above him.
और हमने उस पर कद्दू का पेड़ उगाया
Aur hum ne us par kaddu ka ped ugaya
(ف131)سایہ کرنے اور مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ۔(ف132)کدّو کی بیل ہوتی ہے جو زمین پر پھیلتی ہے ۔ مگر یہ آپ کا معجزہ تھا کہ یہ کدّو کا درخت قد والے درختوں کی طرح شاخ رکھتا تھا اور اس کے بڑے بڑے پتّوں کے سایہ میں آپ آرام کرتے تھے ۔ اور بحکمِ الٰہی روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت کے دہانِ مبارک میں دے کر آپ کو صبح و شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ جسمِ مبارک کی جِلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے موقع سے بال جمے اور جسم میں توانائی آئی ۔
اور ہم نے اسے (ف۱۳۳) لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ،
And We sent him towards a hundred thousand people, in fact more.
और हमने उसे लाख आदमियों की तरफ़ भेजा बल्कि ज्यादा,
Aur hum ne use lakh aadmiyon ki taraf bheja, balke zyada,
(ف133)پہلے کی طرح سرزمینِ موصل میں قومِ نینوٰی کے ۔
فَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍؕ ﴿148﴾
تو وہ ایمان لے آئے (ف۱۳٤) تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا (ف۱۳۵)
So they accepted faith – We therefore gave them usage for a while.
तो वह ईमान ले आए तो हमने उन्हें एक वक्त तक बरतने दिया
To woh iman le aaye to hum ne unhein aik waqt tak bartne diya
(ف134)آثارِ عذاب دیکھ کر ۔ (اس کا بیان سورۂِ یونس کے دسویں رکوع میں گذر چکا ہے اور اس واقعہ کا بیان سورۂِ انبیاء کے چھٹے رکوع میں بھی آچکا ہے)(ف135)یعنی ان کی آخرِ عمر تک انہیں آسائش کے ساتھ رکھا ۔ اس واقعہ کے بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالٰی اپنے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرماتا ہے کہ آپ کفّارِ مکّہ سے انکارِ بعث کی وجہ دریافت کیجئے چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔
تو ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں (ف۱۳٦) اور ان کے بیٹے (ف۱۳۷)
Therefore ask them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), whether the daughters are for your Lord and the sons for them!
तो उनसे पूछो क्या तुम्हारे रब के लिए बेटियाँ हैं और उनके बेटे
To un se poochho, "Kya tumhare Rab ke liye betiyan hain aur un ke bete,
(ف136)جیسا کہ جہینہ اور بنی سلمہ وغیرہ کفّار کا اعتقاد ہے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ۔(ف137)یعنی اپنے لئے تو بیٹیاں گوارا نہیں کرتے ، بُری جانتے ہیں اور پھر ایسی چیز کو خدا کی طرف نسبت کرتے ہیں ۔
اور اس میں اور جنوں میں رشتہ ٹھہرایا (ف۱٤۲) اور بیشک جنوں کو معلوم ہے کہ وہ (ف۱٤۳) ضرور حاضر لائے جائیں گے (ف۱٤٤)
And they have appointed a relationship between Him and the jinns; and indeed the jinns surely know that they will be brought forth.
और इसमें और जिन्नों में रिश्ता ठहराया और बेशक जिन्नों को मालूम है कि वे जरूर हाज़िर लाए जाएँगे
Aur us mein aur jinnon mein rishta thehraaya aur baishak jinnon ko maaloom hai ke woh zaroor haazir laaye jaayenge
(ف142)جیساکہ بعض مشرکین نےکہا تھا کہ اللہ تعالٰی نے جنّوں میں شادی کی اس سے فرشتے پیدا ہوئے(معاذ اللہ) کیسے عظیم کفر کے مرتکب ہوئے ۔(ف143)یعنی اس بے ہودہ بات کے کہنے والے ۔(ف144)جہنّم میں عذاب کے لئے ۔
سُبۡحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَۙ ﴿159﴾
پاکی ہے اللہ کو ان باتوں سے کہ یہ بتاتے ہیں،
Purity is to Allah from the matters they fabricate.
पाक़ी है अल्लाह को इन बातों से कि ये बताते हैं,
Paaki hai Allah ko in baaton se ke ye batate hain,
اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴿160﴾
مگر اللہ کے چنے ہوئے بندے (ف۱٤۵)
Except the chosen bondmen of Allah.
मगर अल्लाह के चुने हुए बंदे
Magar Allah ke chune hue bande
(ف145)ایماندار اللہ تعالٰی کی پاکی بیان کرتے ہیں ان تمام باتوں سے جو کفّارِ نابکار کہتے ہیں ۔
فَاِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَۙ ﴿161﴾
تو تم اور جو کچھ تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱٤٦)
Therefore you and all what you worship. (The disbelievers and their deities.)
तो तुम और जो कुछ तुम अल्लाह के सिवा पूजते हो
To tum aur jo kuch tum Allah ke siwa poojhte ho
(ف146)یعنی تمہارے بت سب کے سب وہ اور ۔
مَاۤ اَنۡـتُمۡ عَلَيۡهِ بِفٰتِنِيۡنَۙ ﴿162﴾
تم اس کے خلاف کسی کو بہکانے والے نہیں (ف۱٤۷)
You cannot make anyone rebel against Him.
तुम इसके ख़िलाफ़ किसी को बहकाने वाले नहीं
Tum us ke khilaf kisi ko behkane wale nahi
(ف147)گمراہ نہیں کرسکتے ۔
اِلَّا مَنۡ هُوَ صَالِ الۡجَحِيۡمِ ﴿163﴾
مگر اسے جو بھڑکتی آگ میں جانے والا ہے (ف۱٤۸)
Except the one who will go into the blazing fire.
मगर उसे जो भड़कती आग में जाने वाला है
Magar use jo bhadakti aag mein jaane wala hai
(ف148)جس کی قسمت ہی میں یہ ہے کہ وہ اپنے کردارِ بد سے مستحقِ جہنّم ہو ۔
اور فرشتے کہتے ہیں ہم میں ہر ایک کا ایک مقام معلوم ہے (ف۱٤۹)
And the angels say, “Each one of us has an appointed known position.”
और फ़रिश्ते कहते हैं हम में हर एक का एक मक़ाम मालूम है
Aur farishte kehte hain, "Hum mein har aik ka aik maqam maaloom hai"
(ف149)جس میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ آسمانوں میں بالشت بھر بھی جگہ ایسی نہیں ہے جس میں کوئی فرشتہ نماز نہ پڑھتا ہو یا تسبیح نہ کرتا ہو ۔
وَّاِنَّا لَـنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَۚ ﴿165﴾
اور بیشک ہم پر پھیلائے حکم کے منتظر ہیں،
“And indeed we, with our wings spread, await the command.”
और बेशक हम पर फैलाए हुक्म के मंतेज़र हैं,
Aur baishak hum par phailaye hukum ke muntazir hain,
وَاِنَّا لَـنَحۡنُ الۡمُسَبِّحُوۡنَ ﴿166﴾
اور بیشک ہم اس کی تسبیح کرنے والے ہیں،
“And indeed we are those who say His purity.”
और बेशक हम उसकी तसबिह करने वाले हैं,
Aur baishak hum us ki tasbeeh karne wale hain,
وَاِنۡ كَانُوۡا لَيَقُوۡلُوۡنَۙ ﴿167﴾
اور بیشک وہ کہتے تھے (ف۱۵۰)
And indeed the disbelievers used to say, –
और बेशक वे कहते थे
Aur baishak woh kehte the
(ف150)یعنی مکّہ مکرّمہ کے کفّار و مشرکین سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ۔
اور بیشک ہمارا کلام گزر چکا ہے ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے،
And indeed Our Word has already gone forth for Our bondmen who were sent.
और बेशक हमारा कलाम गुजर चुका है हमारे भेजे हुए बंदों के लिए,
Aur baishak humara kalaam guzar chuka hai humare bheje hue bandon ke liye,
اِنَّهُمۡ لَهُمُ الۡمَنۡصُوۡرُوۡنَ ﴿172﴾
کہ بیشک انہیں کی مدد ہوگی،
That undoubtedly, only they will be helped.
कि बेशक उन्हें की मदद होगी,
Ke baishak unhein ki madad hogi,
وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿173﴾
اور بیشک ہمارا ہی لشکر (ف۱۵٤) غالب آئے گا،
And surely, only Our army will be victorious.
और बेशक हमारा ही लश्क़र ग़ालिब आएगा,
Aur baishak humara hi lashkar ghaalib aayega,
(ف154)یعنی اہلِ ایمان ۔
فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ حَتّٰى حِيۡنٍۙ ﴿174﴾
تو ایک وقت تم ان سے منہ پھیر لو (ف۱۵۵)
Therefore turn away from them for some time.
तो एक वक्त तुम उनसे मुँह फेर लो
To aik waqt tum un se munh pher lo
(ف155)جب تک کہ تمہیں ان کے ساتھ قتال کرنے کا حکم دیا جائے ۔
وَاَبۡصِرۡهُمۡ فَسَوۡفَ يُبۡصِرُوۡنَ ﴿175﴾
اور انہیں دیکھتے رہو کہ عنقریب وہ دیکھیں گے (ف۱۵٦)
And watch them, for they will soon see.
और उन्हें देखते रहो कि अनक़रीब वे देखेंगे
Aur unhein dekhte raho ke anqareeb woh dekhenge
(ف156)طرح طرح کے عذاب دنیا و آخرت میں ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کفّار نے براہِ تمسخر و استہزاء کہا کہ یہ عذاب کب نازل ہوگا اس کے جواب میں اگلی آیت نازل ہوئی ۔
پاکی ہے تمہارے رب کو عزت والے رب کو ان کی باتوں سے (ف۱۵۷)
Purity is to your Lord, the Lord of Honour, from all what they say.
पाक़ी है तुम्हारे रब को इज़्ज़त वाले रब को उनकी बातों से
Paaki hai tumhare Rab ko izzat wale Rab ko in ki baaton se
(ف157)جو کافر اس کی شان میں کہتے ہیں اور اس کے لئے شریک اور اولاد ٹھہراتے ہیں ۔
وَسَلٰمٌ عَلَى الۡمُرۡسَلِيۡنَۚ ﴿181﴾
اور سلام ہے پیغمبروں پر (ف۱۵۸)
And peace is upon the Noble Messengers.
और सलाम है पैग़म्बरों पर
Aur salaam hai paighambaron par
(ف158)جنہوں نے اللہ عزَّوجلَّ کی طرف سے توحید اور احکامِ شرع پہنچائے انسانی مراتب میں سب سے اعلٰی مرتبہ یہ ہے کہ خود کامل ہواور دوسروں کی تکمیل کرے یہ شان انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی ہے تو ہر ایک پر ان حضرات کا اتباع اور ان کی اقتدا لازم ہے ۔
وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴿182﴾
اور سب خوبیاں اللہ کو سارے جہاں کا رب ہے،
And all praise is to Allah, the Lord Of The Creation.
और सब खूबियाँ अल्लाह को सारे जहाँ का रब है,
Aur sab khubiyan Allah ko, saare jahan ka Rab hai"
صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِى الذِّكۡرِؕ ﴿1﴾
اس نامور قرآن کی قسم (ف۲)
Saad* – By oath of the renowned Qur’an, (Alphabet of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں (ف٤) تو اب وہ پکاریں (ف۵) اور چھوٹنے کا وقت نہ تھا (ف٦)
Many a generation We did destroy before them – thereupon they cried out whereas it is not the time to escape!
हम ने उन से पहले कितनी संगतें खपाईं तो अब वह पुकारें और छूटने का वक्त न था
Hum ne un se pehle kitni sangatain khapayen to ab woh pukarein aur chhootne ka waqt na tha
(ف4)یعنی آپ کی قوم سے پہلے کتنی امّتیں ہلاک کردیں اسی استکبار اور انبیاء کی مخالفت کے باعث ۔(ف5)یعنی نزولِ عذاب کے وقت انہوں نے فریاد کی ۔(ف6)کہ خَلاص پاسکتے اس وقت کی فریاد بیکار تھی کفّارِ مکّہ نے ان کے حال سے عبرت حاصل نہ کی ۔
کیا اس نے بہت خداؤں کا ایک خدا کردیا (ف۸) بیشک یہ عجیب بات ہے،
“Has he made all the Gods into One God? This is really something very strange!”
क्या इस ने बहुत ख़ुदाओं का एक ख़ुदा कर दिया बेशक यह अजीब बात है,
Kya is ne bohat khudaon ka ek khuda kar diya beshak yeh ajeeb baat hai,
(ف8)شانِ نزول : جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٌٰی عنہ اسلام لائے تو مسلمانوں کو خوشی ہوئی اور کافروں کو نہایت رنج ہوا ولید بن مغیرہ نے قریش کے عمائد اور سر بر آوردہ پچّیس آدمیوں کو جمع کیا اور انہیں ابو طالب کے پاس لایا اور ان سے کہا کہ تم ہمارے سردار ہو اور بزرگ ہو ہم تمہارے پا س اس لئے آئے ہیں کہ تم ہمارے اور اپنے بھتیجے کے درمیان فیصلہ کردو ان کی جماعت کے چھوٹے درجے کے لوگوں نے جو شورش برپا کررکھی ہے وہ تم جانتے ہو ابوطالب نے حضرت سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بُلا کر عرض کیا کہ یہ آپ کی قوم کے لوگ ہیں اور آپ سے صلح چاہتے ہیں آپ ان کی طرف سے یک لخت انحراف نہ کیجئے ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا یہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اتنا چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اور ہمارے معبودوں کے ذکر کوچھوڑ دیجئے ہم آپ کے اور آپ کے معبود کی بدگوئی کے درپے نہ ہوں گے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ کیا تم ایک کلمہ قبول کرسکتے ہو جس سے عرب و عجم کے مالک و فرمانبردار ہوجاؤ ؟ ابوجہل نے کہا کہ ایک کیا ہم دس کلمے قبول کرسکتے ہیں ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہو' لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ' اس پر وہ لوگ اٹھ گئے اور کہنے لگے کہ کیا انہوں نے بہت سے خداؤں کا ایک خدا کردیا اتنی بہت سی مخلوق کے لئے ایک خدا کیسے کافی ہوسکتا ہے ۔
کیا ان پر قرآن اتارا گیا ہم سب میں سے (ف۱۱) بلکہ وہ شک میں ہیں میری کتاب سے (ف۱۲) بلکہ ابھی میری مار نہیں چکھی ہے (ف۱۳)
“Is the Qur’an which is sent to him, among us?” In fact they are in a doubt concerning My Book; in fact, they have not yet tasted My punishment.
क्या उन पर कुरान उतारा गया हम सब में से बल्की वह शक में हैं मेरी किताब से बल्की अभी मेरी मार नहीं चुक़ी है
Kya un par Quran utara gaya hum sab mein se balki woh shak mein hain meri kitaab se balki abhi meri maar nahi chukhi hai
(ف11)اہلِ مکّہ کو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے منصبِ نبوّت پر حسد آیا اور انہوں نے یہ کہا کہ ہم میں صاحبِ شرف و عزّت آدمی موجود تھے ان میں سے کسی پر قرآن نہ اترا خاص حضرت سیّدِ انبیاء محمّد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) پر اترا ۔(ف12)کہ اس کے لانے والے حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ۔(ف13)اگر میرا عذاب چکھ لیتے تو یہ شک و تکذیب و حسد کچھ باقی نہ رہتا اور نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تصدیق کرتے لیکن اس وقت کی تصدیق مفید نہ ہوتی ۔
کیا وہ تمہارے رب کی رحمت کے خزانچی ہیں (ف۱٤) وہ عزت والا بہت عطا فرمانے والا ہے (ف۱۵)
Or do they hold the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Great Bestower?
क्या वह तुम्हारे रब की रहमत के ख़ज़ांची हैं वह इज़्ज़त वाला बहुत अता फ़रमाने वाला है
Kya woh tumhare Rab ki rehmat ke khazaanchi hain woh izzat wala bohat ata farmane wala hai
(ف14)اور کیا نبوّت کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں ہیں جسے چاہیں دیں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں اللہ تعالٰی اور اس کی مالکیّت کو نہیں جانتے ۔(ف15)حسبِ اقتضائے حکمت جسے جو چاہے عطا فرمائے اس نے اپنے حبیب محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نبوّت عطا فرمائی تو کسی کو اس میں دخل دینے اورچوں چرا کی کیا مجال ۔
کیا ان کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، تو رسیاں لٹکا کر چڑھ نہ جائیں (ف۱٦)
Is the kingdom of the heavens and the earth and all that is between them, for them? So would they not just ascend using ropes?
क्या उनके लिए है सल्तनत आसमानों और ज़मीन की और जो कुछ उनके दरमियाँ है, तो रस्सियां लटका कर चढ़ न जाएँ
Kya un ke liye hai saltanat aasmaano aur zameen ki aur jo kuch un ke darmiyan hai, to rassiain latka kar charh na jaayein
(ف16)اور ایسا اختیار ہو تو جسے چاہیں وحی کے ساتھ خاص کریں اور عالَم کی تدبیر اپنے ہاتھ میں لیں اور جب یہ کچھ نہیں ہے تو امورِ ربّانیہ و تدابیرِ الٰہیہ میں دخل کیوں دیتے ہیں انہیں اس کا کیا حق ہے ، کفّار کو یہ جواب دینے کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے نبی کریم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نصرت و مدد کا وعدہ فرمایا ہے ۔
یہ ایک ذلیل لشکر ہے انہیں لشکروں میں سے جو وہیں بھگادیا جائے گا (ف۱۷)
This is just one of the disgraced armies, that will be routed there and then.
यह एक ज़लील लश्कर है उन्हें लश्करों में से जो वहीं भगा दिया जाएगा
Yeh ek zaleel lashkar hai unhein lashkaron mein se jo wahiin bhaga diya jaayega
(ف17)یعنی ان قریش کی جماعت انہیں لشکروں میں سے ایک ہے جو آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے مقابل گروہ باندھ باندھ کر آیا کرتے تھے اور زیادتیاں کیا کرتے تھے اس سبب سے ہلاک کردیئے گئے اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خبر دی کے یہی حال ان کا ہے کہ انھیں بھی ہزیمت ہو گی چنانچہ بدر میں ایسا واقع ہوا اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسکینِ خاطر کے لئے پچھلے انبیاء علیہم السلام اور ان قوموں کا ذکر فرمایا ۔
ان سے پہلے جھٹلا چکے ہیں نوح کی قوم اور عاد اور چومیخا کرنے والے فرعون (ف۱۸)
Before them, the people of Nooh had denied, and the tribe of A’ad, and Firaun who used to crucify.
उन से पहले झुठला चुके हैं नूह की क़ौम और आद और चूमिखा करने वाले फ़िरौन
Un se pehle jhutla chuke hain Nuh ki qaum aur A’ad aur Chumikhah karne wale Firaun
(ف18)جو کسی پر غصّہ کرتا تھا تو اسے لٹا کر اس کے چاروں ہاتھ پاؤں کھینچ کر چاروں طرف کھونٹوں میں بندھو ا دیتا تھا پھر اس کو پٹواتا تھا اور اس پر طرح طرح کی سختیاں کرتا تھا ۔
تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد نعمتوں والے کو یاد کرو (ف۲٤) بیشک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے (ف۲۵)
Have patience upon what they say, and remember Our bondman Dawud, the one blessed with favours; he is indeed most inclined (towards His Lord).
तुम उनके बातों पर सब्र करो और हमारे बंदे दाऊद नेमतों वाले को याद करो बेशक वह बड़ा रुजू करने वाला है
Tum un ki baaton par sabr karo aur humare bande Dawood ni’maton wale ko yaad karo beshak woh bara rujoo karne wala hai
(ف24)جن کو عبادت کی بہت قوّت دی گئی تھی آپ کا طریقہ تھا کہ ایک دن روزہ رکھتے ایک دن افطار فرماتے اور رات کے پہلے نصف حصّہ میں عبادت کرتے اس کے بعد شب کی ایک تہائی آرام فرماتے پھر باقی چھٹا حصّہ عبادت میں گزارتے ۔(ف25)اپنے رب کی طرف ۔
بیشک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑ مسخر فرمادیے کہ تسبیح کرتے (ف۲٦) شام کو اور سورج چمکتے (ف۲۷)
Indeed We subjected the hills to say the praise with him, at night and at morn.
बेशक हम ने इसके साथ पहाड़ मस्कर फ़रमा दिए के तसबिह करते शाम को और सूरज चमकते
Beshak hum ne is ke saath pahaar maskhar farma diye ke tasbeeh karte shaam ko aur sooraj chamakte
(ف26)حضرت داؤد علیہ السلام کی تسبیح کے ساتھ ۔(ف27)اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے پہاڑوں کو ایسا مسخّر کیا تھا کہ جہاں آپ چاہتے انھیں اپنے ساتھ لے جاتے ۔ (مدارک)
اور پرندے جمع کیے ہوئے (ف۲۸) سب اس کے فرمانبردار تھے (ف۲۹)
And birds gathered together; they were all obedient to him.
और परिंदे जमा किए हुए सब इसके फ़रमानबदार थे
Aur parinday jama kiye hue sab is ke farmanbardar the
(ف28)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام تسبیح کرتے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح کرتے اور پرندے آپ کے پاس جمع ہو کر تسبیح کرتے ۔(ف29)پہاڑ بھی اور پرند بھی ۔
اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کیا (ف۳۰) اور اسے حکمت (ف۳۱) اور قولِ فیصل دیا (ف۳۲)
And We strengthened his kingdom and gave him wisdom and just speech.
और हम ने इसकी सल्तनत को मज़बूत किया और उसे हिक़मत और क़ौल-ए-फ़ैसाल दिया
Aur hum ne is ki saltanat ko mazboot kiya aur use hikmat aur qawl-e-faisal diya
(ف30)فوج و لشکر کی کثرت عطا فرما کر ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ روئے زمین کے بادشاہوں میں حضرت داؤد علیہ السلام کی سلطنت بڑی مضبوط اور قوی سلطنت تھی چھتّیس ہزار مرد آپ کے محراب کے پہرے پر مقرر تھے ۔(ف31)یعنی نبوّت ۔ بعض مفسّرین نے حکمت کی تفسیر عدل کی ہے ، بعض نے کتابُ اللہ کا علم ، بعض نے فقہ ، بعض نے سنّت ۔ (جمل)(ف32)قولِ فیصل سے علمِ قضا مراد ہے جوحق و باطل میں فرق وتمیُّز کردے ۔
جب وہ داؤد پر داخل ہوئے تو وہ ان سے گھبرا گیا انہوں نے عرض کی ڈریے نہیں ہم دو فریق ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے (ف۳۵) تو ہم میں سچا فیصلہ فرمادیجئے اور خلاف حق نہ کیجئے (ف۳٦) اور ہمیں سیدھی راہ بتایے،
When they entered upon David, so he feared them – they said, “Do not fear! We are two disputants, one of whom has wronged the other, therefore judge fairly between us and do not judge unjustly – and show us the right way.”
जब वह दाऊद पर दाख़िल हुए तो वह उन से घबरा गया उन्होंने अर्जी की डरे नहीं हम दो फ़रीक हैं कि एक ने दूसरे पर ज़ियादती की है तो हम में सच्चा फ़ैसला फ़रमा दीजिए और खिलाफ-ए-हक़ न कीजिए और हमें सीधी राह बताइए,
Jab woh Dawood par daakhil hue to woh un se ghabra gaya unhone arz ki darye nahi hum do fareeq hain ke ek ne doosre par ziadati ki hai to hum mein sachaa faisla farma dijiye aur khilaf-e-haq na kijiye aur humein seedhi raah bataiye,
(ف35)ان کا یہ قول ایک مسئلہ کی فرضی شکل پیش کرکے جواب حاصل کرنا تھا اور کسی مسئلہ کے متعلق حکم معلوم کرنے کے لئے فرضی صورتیں مقرر کرلی جاتی ہیں اور معیّن اشخاص کی طرف انکی نسبت کردی جاتی ہے تاکہ مسئلہ کا بیان بہت واضح طریقہ پر ہواور ابہام باقی نہ رہے یہاں جو صورتِ مسئلہ ان فرشتوں نے پیش کی اس سے مقصود حضرت داؤد علیہ السلام کو توجّہ دلانا تھی اس امر کی طرف جو انہیں پیش آیا تھا اور وہ یہ تھا کہ آپ کی ننانوے بیبیاں تھیں اس کے بعد آپ نے ایک اور عورت کو پیام دے دیا جس کو ایک مسلمان پہلے سے پیام دے چکا تھا لیکن آپ کا پیام پہنچنے کے بعد عورت کے اعزّہ واقارب دوسرے کی طرف التفات کرنے والے کب تھے آپ کے لئے راضی ہوگئے اور آپ سے نکاح ہوگیا ایک قول یہ بھی ہے کہ اس مسلمان کے ساتھ نکاح ہوچکا تھا آپ نے اس مسلمان سے اپنی رغبت کا اظہار کیا اور چاہا کہ وہ اپنی عورت کو طلاق دے دے وہ آپ کے لحاظ سے منع نہ کرسکا اور اس نے طلاق دے دی آپ کا نکاح ہوگیا اور اس زمانہ میں ایسا معمول تھا کہ اگر کسی شخص کو کسی عورت کی طرف رغبت ہوتی تو اس سے استدعا کرکے طلاق دلوا لیتا اور بعدِ عدت نکاح کرلیتا ، یہ بات نہ تو شرعاً ناجائز ہے نہ اس زمانہ کے رسم وعادت کے خلاف لیکن شانِ انبیاء بہت ارفع و اعلٰی ہوتی ہے اس لئے یہ آپ کے منصبِ عالی کے لائق نہ تھا تو مرضیِ الٰہی یہ ہوئی کہ آپ کو اس پر آگاہ کیا جائے اور اس کا سبب یہ پیدا کیا کہ ملائکہ مدعی اور مدعا علیہ کی شکل میں آپ کے سامنے پیش ہوئے ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ اگر بزرگوں سے کوئی لغزش صادر ہو اور کوئی امر خلافِ شان واقع ہوجائے تو ادب یہ ہے کہ معترضانہ زبان نہ کھولی جائے بلکہ اس واقعہ کی مثل ایک و اقعہ متصور کرکے اس کی نسبت سائلانہ و مستفتیانہ و مستفیدانہ سوال کیا جائے اور ان کی عظمت و احترام کا لحاظ رکھا جائے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی عزَّوجلَّ مالک ومولٰی اپنے انبیاء کی ایسی عزّت فرماتا ہے کہ ان کو کسی بات پرآگا ہ کرنے کے لئے ملائکہ کو اس طریقِ ادب کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیتا ہے ۔(ف36)جس کی غلطی ہو بے رو رعایت فرمادیجئے ۔
بیشک یہ میرا بھائی ہے (ف۳۷) اس کے پاس ننانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دُنبی ، اب یہ کہتا ہے وہ بھی مجھے حوالے کردے اور بات میں مجھ پر زور ڈالتا ہے،
“This is my brother; he has ninety nine ewes and I have one ewe; and he now says ‘Give that one also to me’ – and he is very demanding in speech.”
बेशक यह मेरा भाई है इसके पास निनानवे दूनबियाँ हैं और मेरे पास एक दूनबी, अब यह कहता है वह भी मुझे हवाले कर दे और बात में मुझ पर ज़ोर डालता है,
Beshak yeh mera bhai hai is ke paas ninnaveh dunbiyan hain aur mere paas ek dunbi, ab yeh kehta hai woh bhi mujhe hawale kar de aur baat mein mujh par zor daalta hai,
داؤد نے فرمایا بیشک یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری دُنبی اپنی دُنبیوں میں ملانے کو مانگتا ہے، اور بیشک اکثر ساجھے والے ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور وہ بہت تھوڑے ہیں (ف۳۸) اب داؤد سمجھا کہ ہم نے یہ اس کی جانچ کی تھی (ف۳۹) تو اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر پڑا (ف٤۰) اور رجوع لایا ، ( السجدة ۱۰)
Said Dawud, “He is indeed being unjust to you in that he demands to add your ewe to his ewes; and indeed most partners wrong one another, except those who believe and do good deeds – and they are very few!” Thereupon Dawud realised that We had tested him, so he sought forgiveness from his Lord, and fell prostrate and inclined (towards his Lord). (Command of Prostration # 10)
दाऊद ने फ़रमाया बेशक यह तुझ पर ज़ियादती करता है कि तेरी दूनबी अपनी दूनबियों में मिलाने को मांगता है, और बेशक अक्सर साझे वाले एक दूसरे पर ज़ियादती करते हैं मगर जो ईमान लाए और अच्छे काम किए और वह बहुत थोड़े हैं अब दाऊद समझा कि हम ने यह इसकी जाँच की थी तो अपने रब से माफ़ी मांगी और स्ज़ुदे में गिर पड़ा और रुजू लाया, (अस-सज्दह 10)
Dawood ne farmaya beshak yeh tujh par ziadati karta hai ke teri dunbi apni dunbiyon mein milane ko maangta hai, aur beshak aksar saajhe wale ek doosre par ziadati karte hain magar jo iman laaye aur achhe kaam kiye aur woh bohat thode hain ab Dawood samjha ke hum ne yeh is ki jaanch ki thi to apne Rab se maafi maangi aur sajde mein gir pada aur rujoo laya, (As-Sajdah 10)
(ف38)حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ گفتگو سن کر فرشتوں میں سے ایک نے دوسرے کی طرف دیکھا اور تبسّم کرکے وہ آسمان کی طرف روانہ ہوگئے ۔(ف39)اور دنبی ایک کنایہ تھا جس سے مراد عورت تھی کیونکہ ننانوے عورتیں آپ کے پاس ہوتے ہوئے ایک اور عورت کی آپ نے خواہش کی تھی اس لئے دنبی کے پیرایہ میں سوال کیا گیا جب آپ نے یہ سمجھا ۔(ف40)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں رکوع کرنا سجدۂِ تلاوت کے قائم مقام ہوجاتا ہے جب کہ نیّت کی جائے ۔
اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب کیا (ف٤۱) تو لوگوں میں سچا حکم کر اور خواہش کے پیچھے نہ جانا کہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی، بیشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس پر کہ وہ حساب کے دن کو بھول بیٹھے (ف٤۲)
“O Dawud! We have indeed appointed you as a Viceroy in the earth, therefore judge between mankind with the truth, and do not follow desire for it will lead you astray from Allah’s path; indeed for those who stray away from Allah’s path is a severe punishment, because they forgot the Day of Reckoning.”
ऐ दाऊद बेशक हम ने तुझे ज़मीन में नायब किया तो लोगों में सच्चा हुक्म कर और ख़्वाहिश के पीछे न जाना कि तुझे अल्लाह की राह से भटका देगी, बेशक वह जो अल्लाह की राह से भटकते हैं उनके लिए सख़्त अज़ाब है इस पर कि वह हिसाब के दिन को भूल बैठें
Ae Dawood beshak hum ne tujhe zameen mein naib kiya to logon mein sachaa hukum kar aur khwahish ke peeche na jaa ke tujhe Allah ki raah se behka degi, beshak woh jo Allah ki raah se behakte hain un ke liye sakht azaab hai is par ke woh hisaab ke din ko bhool baithen
(ف41)خَلق کی تدبیر پر آپ کو مامور کیا اور آپ کا حکم ان میں نافذ فرمایا ۔(ف42)اور اس وجہ سے ایمان سے محروم رہے اگر انہیں روزِ حساب کا یقین ہوتا تو دنیا ہی میں ایمان لے آتے ۔
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بیکار نہ بنائے ، یہ کافروں کا گمان ہے (ف٤۳) تو کافروں کی خرابی ہے آگ سے،
And We have not created the heaven and the earth and all that is between them without purpose; this is what the disbelievers assume; therefore ruin is for the disbelievers, by the fire.
और हम ने आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके दरमियाँ है बेकार न बनाए, यह काफ़िरों का गुमान है तो काफ़िरों की ख़राबी है आग से,
Aur hum ne aasmaan aur zameen aur jo kuch un ke darmiyan hai bekaar na banaye, yeh kafiron ka gumaan hai to kafiron ki kharabi hai aag se,
(ف43)اگرچہ وہ صراحۃً یہ نہ کہیں آسمان و زمین اور تمام دنیا بےکار پیدا کی گئی لیکن جب کہ بعث و جزا کے منکِر ہیں تو نتیجہ یہی ہے کہ عالَم کی ایجاد کو عبث اور بے فائدہ مانیں ۔
کیا ہم انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان جیسا کردیں جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یا ہم پرہیزگاروں کو شریر بےحکموں کے برابر ٹھہرادیں (ف٤٤)
Shall We make those who believe and do good deeds equal to those who spread turmoil in the earth? Or shall We equate the pious with the disobedient?
क्या हम उन्हें जो ईमान लाए और अच्छे काम किए उन जैसा कर दें जो ज़मीन में फ़साद फैलाते हैं, या हम परहेज़गारों को शरीर बे-हुक्मों के बराबर ठहरा दें
Kya hum unhein jo iman laaye aur achhe kaam kiye un jaisa kar dein jo zameen mein fasaad phailate hain, ya hum parhezgaron ko sharir be-hukmon ke barabar thehra dein
(ف44)یہ بات بالکل حکمت کے خلاف ہے اور جو شخص جزا کا قائل نہیں وہ ضرور مفسِد و مصلِح اور فاجِر و متّقی کو برابر قرار دے گا اور ان میں فرق نہ کرے گا کفّار اس جہل میں گرفتار ہیں ۔شانِ نزول : کفّارِ قریش نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ آخرت میں جو نعمتیں تمہیں ملیں گی وہی ہمیں بھی ملیں گی اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ نیک و بد مومن و کافر کو برابر کردینا متقضائے حکمت نہیں کفّار کا خیال باطل ہے ۔
جبکہ اس پر پیش کیے گئے تیسرے پہر کو (ف٤۸) کہ روکئے تو تین پاؤں پر کھڑے ہوں چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے اور چلائے تو ہوا ہوجائیں (ف٤۹)
When fast footed steeds were presented to him at evening.
जबकि इस पर पेश किए गए तीसरे पहर को कि रोकीए तो तीन पाँव पर खड़े हों चौथे सम का किनारा ज़मीन पर लगाए हुए और चलाएं तो हवा हो जाएँ
Jabke is par pesh kiye gaye teesre pehar ko ke rokiye to teen paon par khade hon chauthe sam ka kinara zameen par lagaye hue aur chalaye to hawa ho jaayein
(ف48)بعدِ ظہر ایسے گھوڑے ۔(ف49)یہ ہزار گھوڑے تھے جو جہاد کے لئے حضرت سلیمان علیہ السلام کے ملاحظہ میں بعدِ ظہر پیش کئے گئے ۔
تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے (ف۵۰) پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے (ف۵۱)
Therefore Sulaiman said, “I cherish the love of these horses*, out of remembrance of my Lord”; he then ordered them to be raced until they vanished in a curtain out of sight. (To be used in holy war.)
तो सुलैमान ने कहा मुझे उन घोड़ों की मोहब्बत पसंद आई है अपने रब की याद के लिए फिर उन्हें चलाने का हुक्म दिया यहाँ तक कि निगाह से पर्दे में छुप गए
To Sulayman ne kaha mujhe un ghodon ki mohabbat pasand aayi hai apne Rab ki yaad ke liye phir unhein chalane ka hukum diya yahan tak ke nigah se parde mein chhup gaye
(ف50)یعنی میں ان سے رضائے الٰہی اور تقویّت و تائیدِ دِین کے لئے محبّت کرتا ہوں میری محبّت ان کے ساتھ دنیوی غرض سے نہیں ہے ۔ (تفسیر کبیر)(ف51)یعنی نظر سے غائب ہوگئے ۔
پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا (ف۵۲)
He then ordered, “Bring them back to me”; and he began caressing their shins and necks.
फिर हुक्म दिया कि उन्हें मेरे पास वापस लाओ तो उनकी पिंडलियों और गर्दनों पर हाथ फेरने लगा
Phir hukum diya ke unhein mere paas wapas laao to un ki pandliyon aur gardan par haath pherne laga
(ف52)اور اس ہاتھ پھیرنے کے چند باعث تھے ایک تو گھوڑوں کی عزّت و شرف کا اظہار کہ وہ دشمن کے مقابلے میں بہتر مُعِین ہیں ۔ دوسرے امورِ سلطنت کی خود نگرانی فرمانا کہ تمام عُمّال مستعِد رہیں ۔ سوم یہ کہ آپ گھوڑوں کے احوال اور ان کے امراض و عیوب کے اعلٰی ماہر تھے ان پر ہاتھ پھیر کر ان کی حالت کا امتحان فرماتے تھے بعض مفسّرین نے ان آیات کی تفسیر میں بہت سے واہی اقوال لکھ دیئے ہیں جن کی صحت پر کوئی دلیل نہیں اور وہ محض حکایات ہیں جو دلائلِ قویّہ کے سامنے کسی طرح قابلِ قبول نہیں اور یہ تفسیر جو ذکر کی گئی یہ عبارتِ قرآن سے بالکل مطابق ہے وللہ الحمد ۔ (تفسیر کبیر)
اور بیشک ہم نے سلیمان کو جانچا (ف۵۳) اور اس کے تخت پر ایک بےجان بدن ڈال دیا (ف۵٤) پھر رجوع لایا (ف۵۵)(
And We indeed tested Sulaiman, and placed a dead body on his throne – he therefore inclined towards His Lord.
और बेशक हम ने सुलैमान को जाँचा और उसके तक़्त पर एक बे-जान बदन डाल दिया फिर रुजू लाया
Aur beshak hum ne Sulayman ko jaancha aur us ke takht par ek be-jaan badan daal diya phir rujoo laya
(ف53)بخاری و مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ حضرت سلیمان علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ میں آج رات میں اپنی نوّے بیبیوں پر دورہ کروں گا ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہِ خدا میں جہاد کرنے والا سوار پیدا ہوگا مگر یہ فرماتے وقت زبانِ مبارک سے ان شاء اللہ تعالٰی نہ فرمایا ۔ (غالباً حضرت کسی ایسے شغل میں تھے کہ اس کا خیال نہ رہا) تو کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی سوائے ایک کے اور اس کے بھی ناقص الخلقت بچّہ پیدا ہوا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اگر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان شاء اللہ فرمایا ہوتا تو ان سب عورتوں کے لڑکے ہی پیدا ہوتے اور وہ راہِ خدا میں جہاد کرتے ۔ (بخاری پارہ تیرہ کتاب الانبیاء)(ف54)یعنی غیرِ تامُّ الخلقت بچّہ ۔(ف55)اللہ تعالٰی کی طرف استغفار کرکے ان شاء اللہ کہنے کی بھول پر اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں ۔
اور دیو بس میں کردیے ہر معمار (ف۵۸) اور غوطہ خور (ف۵۹)
And made the demons subservient to him, all builders and divers.
और देव बस में कर दिए हर मिमार और गोता खोर
Aur deo bas mein kar diye har ma’mar aur ghoota khor
(ف58)جو آپ کے حکم سے حسبِ مرضی عجیب و غریب عمارتیں تعمیر کرتا ۔(ف59)جو آپ کے لئے سمندر سے موتی نکالتا ۔ دنیا میں سب سے پہلے سمندر سے موتی نکلوانے والے آپ ہی ہیں ۔
اور یاد کرو ہمارے بندہ ایوب کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذا لگادی، (ف٦۳)(۲
And remember Our bondman Ayyub (Job); when he cried out* to his Lord, “The devil has struck me with hardship and pain.” (After seven years of patience.)
और याद करो हमारे बंदे आयूब को जब उसने अपने रब को पुकारा कि मुझे शैतान ने तकलीफ़ और ऐज़ा लगा दी,
Aur yaad karo humare bande Ayyub ko jab us ne apne Rab ko pukara ke mujhe shaitaan ne takleef aur aiza laga di,
(ف63)جسم اور مال میں اس سے آپ کا مرض اور اس کے شدائد مراد ہیں ۔ ( اس واقعہ کا مفصّل بیان سور ۂِ انبیاء کے رکوع چھ میں گزر چکا ہے)
ہم نے فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مار (ف٦٤) یہ ہے ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو (ف٦۵)
We said to him, “Strike the earth with your foot; this cool spring is for bathing and drinking.” (A spring of gushed forth when he struck the earth – this was a miracle.)
हम ने फ़रमाया ज़मीन पर अपना पाँव मार यह है ठंडा चश्मा नहाने और पीने को
Hum ne farmaya zameen par apna paon maar yeh hai thanda chashma nahaane aur peene ko
(ف64)چنانچہ آپ نے زمین میں پاؤں مارا اور اس سے آبِ شیریں کا ایک چشمہ ظاہر ہوا اور آپ سے کہا گیا ۔(ف65)چنانچہ آپ نے اس سے پیا اور غسل کیا اور تمام ظاہری و باطنی مرض اور تکلیفیں دفع ہوگئیں ۔
اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دے (ف٦۷) اور قسم نہ توڑ بےہم نے اسے صابر پایا کیا اچھا بندہ (ف٦۸) بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے،
And We said, “Take a broom in your hand and strike her with it, and do not break your vow”; We indeed found him patiently enduring; what an excellent bondman! He is indeed most inclined.
और फ़रमाया कि अपने हाथ में एक झाड़ू लेकर इस से मार दे और क़सम न तोड़े बेशक हम ने उसे सब्र पाया क्या अच्छा बंदा बेशक वह बहुत रुजू लाने वाला है,
Aur farmaya ke apne haath mein ek jhaadoo le kar is se maar de aur qasam na tode bes hum ne use sabr paya kya achha banda beshak woh bohat rujoo laane wala hai,
(ف67)اپنی بی بی کو جس کو سو ضربیں مارنے کی قَسم کھائی تھی دیر سے حاضر ہونے کے باعث ۔(ف68)یعنی ایوب علیہ السلام ۔
ان سے کہا جائے گا یہ ایک اور فوج تمہارے ساتھ دھنسی پڑتی ہے جو تمہاری تھی (ف۸۰) وہ کہیں گے ان کو کھلی جگہ نہ ملیو آگ میں تو ان کو جانا ہی ہے،
“Here is another group that was with you, falling along with you”; they will answer, “Do not give them plenty of open space; they surely have to enter the fire – let them also be confined!”
उनसे कहा जाएगा यह एक और फ़ौज तुम्हारे साथ धंसी पड़ती है जो तुम्हारी थी वह कहेंगे उन्हें खुली जगह न मिली आग में तो उन्हें जाना ही है,
Un se kaha jaayega yeh ek aur fauj tumhare saath dhansi padti hai jo tumhari thi woh kahenge un ko khuli jagah na miley aag mein to un ko jana hi hai,
(ف80)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جب کافروں کے سردار جہنّم میں داخل ہوں گے اور ان کے پیچھے پیچھے ان کی اتباع کرنے والے تو جہنّم کے خازِن ان سرداروں سے کہیں گے یہ تمہارے متّبعین کی فوج ہے جو تمہاری طرح تمہارے ساتھ جہنّم میں دھنسی پڑتی ہے ۔
اور (ف۸۳) بولے ہمیں کیا ہوا ہم ان مردوں کو نہیں دیکھتے جنہیں برا سمجھتے تھے (ف۸٤)
And they say, “What is the matter with us that we do not see the men whom we thought were evil?”
और बोले हमें क्या हुआ हम उन मर्दों को नहीं देखते जिन्हें बुरा समझते थे
Aur bole humein kya hua hum un mardon ko nahi dekhte jinhein bura samjhte the
(ف83)کفّار کے عمائد اور سردار ۔ (ف84)یعنی غریب مسلمانوں کو اور انہیں وہ اپنے دِین کا مخالف ہونے کے باعث شریر کہتے تھے اور غریب ہونے کی وجہ سے حقیر سمجھتے تھے جب کفّار جہنّم میں انہیں نہ دیکھیں گے تو کہیں گے وہ ہمیں کیوں نظر نہیں آتے ۔
کیا ہم نے انہیں ہنسی بنالیا (ف۸۵) یا آنکھیں ان کی طرف سے پھر گئیں (ف۸٦)
“Did we mock at them or did our eyes turn away from them?”
क्या हम ने उन्हें हँसी बना लिया या आँखें उनकी तरफ़ से फिर गईं
Kya hum ne unhein hansi bana liya ya aankhein un ki taraf se phir gayi
(ف85)اور درحقیقت وہ ایسے نہ تھے دوزخ میں آئے ہی نہیں ہمارا ان کے ساتھ استہزاء کرنا اور ان کی ہنسی بنانا باطل تھا ۔(ف86)اس لئے وہ ہمیں نظر نہ آئے ۔ یا یہ معنٰی ہیں کہ ان کی طرف سے آنکھیں پھر گئیں اور دنیا میں ہم ان کے مرتبے اور بزرگی کو نہ دیکھ سکے ۔
تم فرماؤ (ف۸۷) میں ڈر سنانے والا ہی ہوں (ف۸۸) اور معبود کوئی نہیں مگر ایک اللہ سب پر غالب،
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I am purely a Herald of Warning – and there is no God except Allah, the One, the All Dominant.”
तुम फ़रमाओ मैं डर सुनाने वाला ही हूँ और माबूद कोई नहीं मगर एक अल्लाह सब पर ग़ालिब,
Tum farmaao main darr sunane wala hi hoon aur ma’bud koi nahi magar ek Allah sab par ghaalib,
(ف87)اے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکّہ کے کفّار سے ۔(ف88)تمہیں عذابِ الٰہی کا خوف دلاتا ہوں ۔
مجھے عالم بالا کی کیا خبر تھی جب وہ جھگڑتے تھے (ف۹۱)
“What did I know of the heavenly world, when the angels had disputed.”
मुझे आलम-ए-बाला की क्या ख़बर थी जब वह झगड़ते थे
Mujhe aalam-e-bala ki kya khabar thi jab woh jhagrate the
(ف91)یعنی فرشتے حضرت آدم علیہ السلام کے باب میں ۔ یہ حضرت سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحتِ نبوّت کی ایک دلیل ہے ۔ مدّعا یہ ہے کہ عالَمِ بالا میں فرشتوں کا حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے باب میں سوال و جواب کرنا مجھے کیا معلوم ہوتا اگر میں نبی نہ ہوتا اس کی خبر دینا میری نبوّت اور میرے پاس وحی آنے کی دلیل ہے ۔
مجھے تو یہی وحی ہوتی ہے کہ میں نہیں مگر روشن ڈر سنانے والا (ف۹۲)
“I receive only the divine revelations, that I am purely a clear Herald of Warning.”
मुझे तो यही वाही होती है कि मैं नहीं मगर रोशन डर सुनाने वाला
Mujhe to yehi wahi hoti hai ke main nahi magar roshan darr sunane wala
(ف92)دارمی اور ترمذی کی حدیثوں میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے بہترین حال میں اپنے رب عزَّوجلَّ کے دیدار سے مشرف ہوا ۔ (حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ واقعہ خواب کا ہے) حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ حضرت ربُّ العزّت عزَّوعلا و تبارک و تعالٰی نے فرمایا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) عالَمِ بالا کے ملائکہ کس بحث میں ہیں ؟ میں نے عرض کیا یارب تو ہی دانا ہے ۔ حضور نے فرمایا پھر ربُّ العزّت نے اپنا دستِ رحمت و کرم میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا اور میں نے اس کے فیض کا اثر اپنے قلبِ مبارک میں پایا تو آسمان و زمین کی تمام چیزیں میرے علم میں آگئیں پھر اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا تم جانتے ہو کہ عالَمِ بالا کے ملائکہ کس امر میں بحث کررہے ہیں میں نے عرض کیا ہاں اے رب میں جانتا ہوں وہ کَفّارات میں بحث کررہے ہیں اور کَفّارات یہ ہیں نمازوں کے بعد مسجدمیں ٹھہرنا اور پیادہ پا جماعتوں کے لئے جانا اور جس وقت سردی وغیرہ کے باعث پانی کا استعمال ناگوار ہو اس وقت اچھی طرح وضو کرنا جس نے یہ کیا اس کی زندگی بھی بہتر ، موت بھی بہتر اور گناہوں سے ایسا پاک صاف نکلے گا جیسا اپنی ولادت کے دن تھا اور فرمایا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نماز کے بعد یہ دعا کیا کرو اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنَ وَاِذَا اَۤرَدْتَّ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِیْ اِلَیْکَ غَیْرَمَفْتُوْنٍ بعض روایتوں میں یہ ہے کہ حضرت سیّدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا مجھے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی اور ایک روایت میں ہے کہ جو کچھ مشرق و مغرب میں ہے سب میں نے جان لیا ۔ امام علّامہ علاؤ الدین علی بن محمّد ابنِ ابراہیم بغدادی معروف بِخازِن اپنی تفسیر میں اس کے معنٰی یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا سینۂِ مبارک کھول دیا اور قلب شریف کومنوّر کردیا اور جو کوئی نہ جانے اس سب کی معرفت آپ کو عطا کردی تاآنکہ آپ نے نعمت و معرفت کی سردی اپنے قلبِ مبارک میں پائی اور جب قلب شریف منوّر ہوگیا اور سینۂِ پاک کُھل گیا تو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے باعلامِ الٰہی جان لیا ۔
فرمایا اے ابلیس تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تجھے غرور آگیا یا تو تھا ہی مغروروں میں (ف۹۸)
Said Allah, “O Iblis! What prevented you from prostrating before one whom I have created with My hands*? Have you become proud or were you haughty from the beginning?” (Used as a metaphor).
फ़रमाया ऐ इब्लीस तुझे किस चीज़ ने रोका कि तू इसके लिए सज्दा करे जिसे मैं ने अपने हाथों से बनाया तुझे घुरूर आगया या तू था ही मग़रूरों में
Farmaya ae Iblees tujhe kis cheez ne roka ke tu is ke liye sajda kare jise main ne apne haathon se banaya tujhe ghuroor aagaya ya tu tha hi maghrooroon mein
بولا میں اس سے بہتر ہوں (ف۹۹) تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا،
Said Iblis, “I am better than him; You made me from fire, and You have created him from clay!”
बोला मैं इस से बेहतर हूँ तू ने मुझे आग से बनाया और उसे मिट्टी से पैदा किया,
Bola main is se behtar hoon to ne mujhe aag se banaya aur use mitti se paida kiya,
(ف99)اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ اگر آدم آ گ سے پیداکئے جاتے اور میرے برابر بھی ہوتے جب بھی میں انہیں سجدہ نہ کرتا چہ جائیکہ ان سے بہتر ہو کر انہیں سجدہ کروں ۔
فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو راندھا (لعنت کیا) گیا (ف۱۰۰)
He said, “Therefore exit from heaven, for you have been outcast.” (To disrespect the Prophets – peace and blessings be upon them – is blasphemy.)
फ़रमाया तू जन्नत से निकल जा कि तू रांधा (लानत किया) गया
Farmaya tu jannat se nikal ja ke tu randha (l'anat kiya) gaya
(ف100)اپنی سرکشی و نافرمانی و تکبر کےباعث ۔ پھر اللہ تعالٰی نے اس کی صورت بدل دی وہ پہلے حسین تھا بدشکل روسیاہ کردیا گیا ۔ اور اس کی نورانیّت سلب کردی گئی ۔
بولا اے میرے رب ایسا ہے تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں (ف۱۰۲)
He said, “My Lord! Therefore give me respite till the day when all will be raised.”
बोला ऐ मेरे रब ऐसा है तो मुझे मोहालत दे उस दिन तक कि उठाए जाएँ
Bola ae mere Rab aisa hai to mujhe mohalat de us din tak ke uthaye jaayein
(ف102)آدم علیہ السلام او ر ان کی ذرّیّت اپنے فنا ہونے کے بعد جزا کے لئے ۔ اور اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ وہ انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے فراغت پائے اور ان سے اپنا بغض خوب نکالے اور موت سے بالکل بچ جائے کیونکہ اٹھنے کے بعد موت نہیں ۔
قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ ﴿80﴾
فرمایا تو تو مہلت والوں میں ہے،(
Said Allah, “You are therefore among those given respite.”
फ़रमाया तू तू मोहालत वालों में है,
Farmaya tu tu mohalat walon mein hai,
اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴿81﴾
اس جانے ہوئے وقت کے دن تک (ف۱۰۳)
“Until the time of the known day.”
उस जाने हुए वक्त के दिन तक
Us jaane hue waqt ke din tak
(ف103)یعنی نفخۂِ اولٰی تک جس کو خَلق کی فنا کے لئے معیّن فرمایا گیا ۔
بیشک ہم نے تمہاری طرف (ف۳) یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کو پوجو نرے اس کے بندے ہو کر،
We have indeed divinely revealed the Book to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) with the truth, therefore worship Allah, as His sincere bondman.
बेशक हमने तुम्हारी तरफ ये किताब हक़ के साथ उतारी तो अल्लाह को पूजो नरे इसके बंदे हो कर,
Beshak hum ne tumhari taraf yeh kitaab haq ke saath utari to Allah ko pojo, nara uske banday ho kar,
(ف3)اے سیّدِعالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔
ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے (ف٤) اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور والی بنالیے (ف۵) کہتے ہیں ہم تو انہیں (ف٦) صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کردیں، اللہ ان پر فیصلہ کردے گا اس بات کا جس میں اختلاف کررہے ہیں (ف۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو (ف۸)
Pay heed! Worship is for Allah only; and those who have taken others as their supporters beside Him say; “We worship* them only so that they get us closer to Allah”; Allah will surely judge between them regarding the matter in which they dispute; indeed Allah does not guide one who is a big liar, extremely ungrateful. (*The pagans regarded their idols as smaller Gods and worshipped them. So did the Christians. This does not apply to Muslims who only respect their elders, and ask for their blessings.)
हाँ खालिस अल्लाह ही की बंदगी है और वह जिनहोंने इसके सिवा और वाली बना लिए कहते हैं हम तो उन्हें सिर्फ इतनी बात के लिए पूजते हैं कि ये हमें अल्लाह के पास नज़दीक कर दें, अल्लाह इन पर फैसला कर देगा इस बात का जिसमें इत्तिफ़ाक़ कर रहे हैं बेशक अल्लाह राह नहीं देता उसे जो झूठा बड़ा नाशकरा हो
Haan khalis Allah hi ki bandagi hai aur woh jinhone is ke siwa aur wali bana liye kehte hain hum to unhe sirf itni baat ke liye poojte hain ke yeh humein Allah ke paas nazdeek kar dein, Allah un par faisla kar dega is baat ka jis mein ikhtilaf kar rahe hain, beshak Allah raah nahi deta usay jo jhoota bara nashkura ho.
(ف4)اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔(ف5)معبود ٹھہرا لئے ۔ مراد ان سے بت پرست ہیں ۔(ف6)یعنی بتوں کو ۔(ف7)ایمان داروں کو جنّت میں اور کافروں کو دوزخ میں داخل فرما کر ۔(ف8)جھوٹا اس بات میں کہ بتوں کو اللہ تعالٰی سے نزدیک کرنے والا بتائے اور خدا کے لئے اولاد ٹھہرائے اور ناشکر ایسا کہ بتوں کوپوجے ۔
اللہ اپنے لیے بچہ بناتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا (ف۹) پاکی ہے اسے (ف۱۰) وہی ہے ایک اللہ (ف۱۱) سب پر غالب،
Were Allah to create a son* for Himself, He would have chosen any one from His creation! Purity is to Him! He is Allah, the One, the All Dominant. (*Which is impossible.)
अल्लाह अपने लिए बच्चा बनाता तो अपनी मख़लूक में से जिसे चाहता चुन लेता पाकी है उसे वही है एक अल्लाह सब पर ग़ालिब,
Allah apne liye bacha banata to apni makhlooq mein se jise chahta chun leta, paaki hai usay wohi hai, ek Allah sab par ghalib,
(ف9)یعنی اگر بالفرض اللہ تعالٰی کے لئے اولاد ممکن ہوتی تو وہ جسے چاہتا اولاد بناتا نہ کہ یہ تجویز کفّار پر چھوڑتا کہ وہ جسے چاہیں خدا کی اولاد قرار دیں ۔ (معاذا للہ)(ف10)اولاد سے اور ہر اس چیز سے جو اس کی شانِ اقدس کے لائق نہیں ۔(ف11)نہ اس کا کوئی شریک نہ اس کی کوئی اولاد ۔
اس نے آسمان اور زمین حق بنائے رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے (ف۱۲) اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہر ایک، ایک ٹھہرائی میعاد کے لیے چلتا ہے (ف۱۳) سنتا ہے وہی صاحب عزت بخشنے والا ہے،
It is He Who created the heavens and the earth with the truth; He envelops the night over day and envelops the day over night, and He has subjected the sun and the moon; each one runs for its appointed term; pay heed! He only is the Most Honourable, the Oft Forgiving.
उसने आसमान और ज़मीन हक़ बनाए रात को दिन पर लपेटता है और दिन को रात पर लपेटता है और उसने सूरज और चाँद को काम में लगाया हर एक, एक ठहरी मियाद के लिए चलता है सुनता है वही साहिब इज़्ज़त बख़्शने वाला है,
Us ne aasman aur zameen haq banaye, raat ko din par lapaitta hai aur din ko raat par lapaitta hai aur us ne sooraj aur chaand ko kaam mein lagaya har ek, ek thehraai miyaad ke liye chalta hai, sunta hai wohi sahib izzat bakshne wala hai,
(ف12)یعنی کبھی رات کی تاریکی سے دن کے ایک حصّہ کو چُھپاتا ہے اور کبھی دن کی روشنی سے رات کےحصّہ کو ، مراد یہ ہے کہ کبھی دن کا وقت گھٹا کر رات کو بڑھاتا ہے ، کبھی رات گھٹا کر دن کو زیادہ کرتا ہے ۔ اور رات اور دن میں سے گَھٹنے والا گَھٹتے گَھٹتے دس گھنٹہ کا رہ جاتا ہے اور بڑھنے والا بڑھتے چودہ گھنٹے کا ہوجاتا ہے ۔(ف13)یعنی قیامت تک وہ اپنے مقرر نظام پر چلتے رہیں گے ۔
اس نے تمہیں ایک جان سے بنایا (ف۱٤) پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا کیا (ف۱۵) اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے (ف۱٦) آٹھ جوڑے تھے (ف۱۷) تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں بناتا ہے ایک طرح کے بعد اور طرح (ف۱۸) تین اندھیریوں میں (ف۱۹) یہ ہے اللہ تمہارا رب اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، پھر کہیں پھیرے جاتے ہو (ف۲۰)
It is He Who created you from a single being, and then from the same being created its spouse, and sent down for you eight pairs of animals; He creates you in your mothers’ wombs, from one sort to another, in a triple darkness; such is Allah, your Lord – for Him only is the kingship; there is no God except Him; so where are you being turned away?
उसने तुम्हें एक जान से बनाया फिर उसी से उसका जोड़ पैदा किया और तुम्हारे लिए चौपायों में से आठ जोड़े थे तुम्हें तुम्हारी माओं के पेट में बनाता है एक तरह के बाद और तरह तीन अंधेरियों में ये है अल्लाह तुम्हारा रब उसी की बादशाही है, इसके सिवा किसी की बंदगी नहीं, फिर कहीं फेरें जाते हो
Us ne tumhein ek jaan se banaya phir usi se uska jorr paida kiya aur tumhare liye chhupayon mein se aath joray the, tumhein tumhari maaon ke pait mein banata hai ek tarah ke baad aur tarah teen andheriyon mein, yeh hai Allah tumhara Rab, isi ki badshahi hai, uske siwa kisi ki bandagi nahi, phir kahin phire jate ho.
(ف14)یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے ۔(ف15)یعنی حضرت حوّا کو ۔(ف16)یعنی اونٹ ، گائے ، بکری ، بھیڑ سے ۔(ف17)یعنی پیدا کئے جوڑوں سے ، مراد نر اور مادّہ ہیں ۔(ف18)یعنی نطفہ پھر علقہ (خون بستہ) پھر مضغہ( گوشت پارہ ) ۔(ف19)ایک اندھیری پیٹ کی دوسری رحم کی تیسری بچّہ دان کی ۔(ف20)اور طریقِ حق سے دور ہوتے ہو کہ اس کی عبادت چھوڑ کر غیر کی عبادت کرتے ہو ۔
اگر تم ناشکری کرو تو بیشک اللہ بےنیاز ہے تم سے (ف۲۱) اور اپنے بندوں کی ناشکری اسے پسند نہیں، اور اگر شکر کرو تو اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے (ف۲۲) اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی (ف۲۳) پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۲٤) تو وہ تمہیں بتادے گا جو تم کرتے تھے (ف۲۵) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے، (
If you become ungrateful, then (know that) indeed Allah is Independent of you; and He does not like the ungratefulness of His bondmen; and if you give thanks, He is pleased with it for you; and no burdened soul will bear another soul’s burden; you have then to return towards your Lord – He will therefore inform you of what you used to do; undoubtedly, He knows what lies within the hearts.
अगर तुम नाश्करी करो तो बेशक अल्लाह बेनियाज़ है तुमसे और अपने बंदों की नाश्करी उसे पसंद नहीं, और अगर शुक्र करो तो इसे तुम्हारे लिए पसंद फरमाता है और कोई बोज़ उठाने वाली जान दूसर का बोज़ नहीं उठाएगी फिर तुम्हें अपने रब ही की तरफ फिरना है तो वह तुम्हें बता देगा जो तुम करते थे बेशक वह दिलों की बात जानता है,
Agar tum nashkuri karo to beshak Allah be-niyaaz hai tum se aur apne bandon ki nashkuri use pasand nahi, aur agar shukr karo to use tumhare liye pasand farmaata hai, aur koi bojh uthane wali jaan doosre ka bojh nahi uthaayegi, phir tumhein apne Rab hi ki taraf phirna hai to woh tumhein bata dega jo tum karte they, beshak woh dilon ki baat jaanta hai.
(ف21)یعنی تمہاری طاعت و عبادت سے اور تم ہی اس کے محتاج ہو ۔ ایمان لانے میں تمہارا ہی نفع اور کافر ہوجانے میں تمہارا ہی ضرر ہے ۔(ف22)کہ وہ تمہاری کامیابی کا سبب ہے اس پر تمہیں ثواب دے گا اور جنّت عطا فرمائے گا ۔(ف23)یعنی کوئی شخص دوسرے کے گناہ میں ماخوذ نہ ہوگا ۔(ف24)آخرت میں ۔(ف25)دنیا میں اور اس کی تمہیں جزا دے گا ۔
اور جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے (ف۲٦) اپنے رب کو پکارتا ہے اسی طرف جھکا ہوا (ف۲۷) پھر جب اللہ نے اسے اپنے پاس سے کوئی نعمت دی تو بھول جاتا ہے جس لیے پہلے پکارا تھا (ف۲۸) اور اللہ کے برابر والے ٹھہرانے لگتا ہے (ف۲۹) تاکہ اس کی راہ سے بہکا دے تم فرماؤ (ف۳۰) تھوڑے دن اپنے کفر کے ساتھ برت لے (ف۳۱) بیشک تو دوزخیوں میں ہے،
And when some hardship strikes man, he prays to his Lord, inclined only towards Him – then when Allah grants him a favour from Himself, he forgets why he had prayed to Him earlier, and sets up equals to Allah in order to mislead from Allah’s way; proclaim, “Revel in your disbelief for some days; you are indeed of the people of the fire.”
और जब आदमी को कोई तक़लीफ़ पहुँचती है अपने रब को पकड़ता है इसी तरफ झुका हुआ फिर जब अल्लाह ने उसे अपने पास से कोई नेअमत दी तो भूल जाता है जिसके लिए पहले पकड़ा था और अल्लाह के बराबर वाले ठहराने लगता है ताकि उसकी राह से बहका दे तुम फरमाओ थोड़े दिन अपने कफ़र के साथ बरत लो बेशक तो दोज़ख़ियों में है,
Aur jab aadmi ko koi takleef pohchti hai apne Rab ko pukarta hai, isi taraf jhuka hua, phir jab Allah ne use apne paas se koi naimat di to bhool jaata hai jis liye pehle pukara tha aur Allah ke barabar wale thehraane lagta hai taake uski raah se behka de, tum farmaao thode din apne kufr ke saath bart lo, beshak tu dozakhiyon mein hai.
(ف26)یہاں آدمی سے مطلقاً کافر یا خاص ابوجہل یا عتبہ بن ربیعہ مراد ہے ۔(ف27)اسی سے فریاد کرتا ہے ۔(ف28)یعنی اس شدّت و تکلیف کو فراموش کردیتا ہے جس کے لئے اللہ سے فریاد کی تھی ۔(ف29)یعنی حاجت بر آری کے بعد پھر بت پرستی میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔(ف30)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کافر سے ۔(ف31)اور دنیا کی زندگی کے دن پورے کرلے ۔
کیا وہ جسے فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں گزریں سجود میں اور قیام میں (ف۳۲) آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے (ف۳۳) کیا وہ نافرمانوں جیسا ہو جائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان، نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں،
Will he, whose night hours pass in obedience while prostrating and standing, fearing the Hereafter and hoping for the mercy of his Lord, ever be equal to the disobedient? Proclaim, “Are the knowledgeable and the ignorant equal?” It is only the men of intellect who heed advice.
क्या वह जिसे फरमानबर्दारी में रात की घड़ियां गुज़रीं सजूद में और क़ियाम में आख़िरत से डरता और अपने रब की रहमत की आस लगाए क्या वह ना फरमानों जैसा हो जाएगा तुम फरमाओ क्या बराबर हैं जानने वाले और अन्ज़ान, नसीहत तो वही मानते हैं जो अ़क़ल वाले हैं,
Kya woh jise farmaanbardari mein raat ki ghadiyan guzriyan sajood mein aur qiyam mein, aakhirat se darta aur apne Rab ki rehmat ki aas lagaye, kya woh nafarmaanon jaisa ho jaayega? Tum farmaao, kya barabar hain jaane wale aur anjaan? Naseehat to wohi maante hain jo aqal walay hain.
(ف32)شانِ نزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی شان میں نازل ہوئی اور حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت ابنِ مسعود اور حضرت عمّار اور حضرت سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہم کے حق میں نازل ہوئی ۔فائدہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ رات کے نوافل و عبادت دن کے نوافل سے افضل ہیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ رات کا عمل پوشیدہ ہوتا ہے اس لئے وہ ریا سے بہت دور ہوتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ دنیا کے کاروبار بند ہوتے ہیں اس لئے قلب بہ نسبت دن کے بہت فارغ ہوتا ہے اور توجّہ الَی اللہ اور خشوع دن سے زیادہ رات میں میسّر آتا ہے ۔ تیسرے رات چونکہ راحت و خواب کا وقت ہوتا ہے اس لئے اس میں بیدار رہنا نفس کو بہت مشقّت و تعب میں ڈالتا ہے تو ثواب بھی اس کا زیادہ ہوگا ۔(ف33)اس سے ثابت ہوا کہ مومن کے لئے لازم ہے کہ وہ بین الخوف والرجاء ہو ، اپنے عمل کی تقصیر پر نظر کرکے عذاب سے ڈرتا رہے اور اللہ تعالٰی کی رحمت کا امیدوار رہے ، دنیا میں بالکل بے خوف ہونا یا اللہ تعالٰی کی رحمت سے مطلقاً مایوس ہونا یہ دونوں قرآنِ کریم میں کفّار کی حالتیں بتائی گئی ہیں ۔ قال اللہ تعالٰی فَلَایَاْمَنُ مَکْرَاللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الخٰسِرُوْنَ وَقَالَ تَعَالٰی لَایَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ
تم فرماؤ اے میرے بندو! جو ایمان لائے اپنے سے ڈرو، جنہوں نے بھلائی کی (ف۳٤) ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے (ف۳۵) اور اللہ کی زمین وسیع ہے (ف۳٦) صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بےگنتی (ف۳۷)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O my slaves who have accepted faith! Fear your Lord; for those who do good deeds in this world is goodness (in return); and Allah’s earth is spacious; it is the steadfast who will be paid their full reward, without account.”
तुम फरमाओ ऐ मेरे बंदो! जो ईमान लाए अपने से डरो, जिनहोंने भलाई की उनके लिए इस दुनिया में भलाई है और अल्लाह की ज़मीन वसीह है सावरों ही को उनका सवाब भरपूर दिया जाएगा बेगिनती
Tum farmaao, ae mere bando! Jo iman laaye, apne se daro, jinhone bhalai ki, unke liye is duniya mein bhalai hai aur Allah ki zameen wasee hai, saabron hi ko unka sawab bharpoor diya jaayega, be-ginti.
(ف34)طاعت بجالائے اور اچھے عمل کئے ۔(ف35)یعنی صحت و عافیت ۔(ف36)اس میں ہجرت کی ترغیب ہے کہ جس شہر میں معاصی کی کثرت ہو اور وہاں رہنے سے آدمی کو اپنی دینداری پر قائم رہنادشوار ہوجائے چاہئے کہ اس جگہ کو چھوڑ دے اور وہاں سے ہجرت کرجائے ۔شانِ نزول : یہ آیت مہاجرینِ حبشہ کے حق میں نازل ہوئی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ہمراہیوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے مصیبتوں اور بلاؤں پر صبر کیا اور ہجرت کی اور اپنے دِین پر قائم رہے اس کو چھوڑنا گوارا نہ کیا ۔(ف37)حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا سوائے صبر کرنے والوں کے کہ انہیں بے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا ۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ اصحابِ مصیبت و بَلا حاضر کئے جائیں گے نہ ا ن کے لئے میزان قائم کی جائے ، نہ ان کے لئے دفتر کھولے جائیں ان پر اجرو ثواب کی بے حساب بارش ہوگی یہاں تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے انہیں دیکھ کر آرزو کریں گے کہ کاش وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے کہ آج یہ صبر کا اجرپاتے ۔
اور مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے گردن رکھوں (ف۳۹)
“And I am commanded that I be the first to submit.”
और मुझे हुक्म है कि मैं सब से पहले गर्दन रखूँ
Aur mujhe hukm hai ke main sab se pehle gardan rakhoon.
(ف39)اور اہلِ طاعت و اخلاص میں مقدم و سابق ہوں ۔ اللہ تعالٰی نے پہلے اخلاص کا حکم دیا جو عملِ قلب ہے پھر اطاعت یعنی اعمالِ جوارح کا چونکہ احکامِ شرعیہ رسول سے حاصل ہوتے ہیں وہی انکے پہچانے والے ہیں تو وہ ان کے شروع کرنے میں سب سے مقدم اور اوّل ہوئے اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کو یہ حکم دے کر تنبیہ کی کہ دوسروں پر اس کی پابندی نہایت ضروری ہے اور دوسروں کی ترغیب کے لئے نبی علیہ السلام کو یہ حکم دیا گیا ۔
تم فرماؤ بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف٤۰)
Say, “Were I to disobey my Lord, I too would fear the punishment of the great Day (of Resurrection).”
तुम फरमाओ बलफ़र्ज़ अगर मुझसे नाफ़रमानी हो जाए तो मुझे अपने रब से एक बड़े दिन के अज़ाब का डर है
Tum farmaao, bal- farz agar mujh se nafarmaani ho jaaye to mujhe apne Rab se ek bade din ke azaab ka dar hai.
(ف40)شانِ نزول :کفّارِ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ آپ اپنی قوم کے سرداروں اور اپنے رشتہ داروں کو نہیں دیکھتے جو لات و عزّٰی کی پرستش کرتے ہیں ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
تو تم اس کے سوا جسے چاہو پوجو (ف٤۱) تم فرماؤ پوری ہار انہیں جو اپنی جان اور اپنے گھر والے قیامت کے دن ہار بیٹھے (ف٤۲) ہاں ہاں یہی کھلی ہار ہے،
“Therefore you can worship what you want besides Him!” Say, “The worst losers are those who will lose themselves and their household on the Day of Resurrection; pay heed! This is the plain loss!”
तो तुम इसके सिवा जिसे चाहो पूजो तुम फरमाओ पूरी हार उन्हें जो अपनी जान और अपने घर वाले क़यामत के दिन हार बैठे हाँ हाँ यही खुली हार है,
To tum uske siwa jise chaho poojho, tum farmaao poori haar unhe jo apni jaan aur apne ghar walay qiyamat ke din haar baithay, haan haan, yahi khuli haar hai.
(ف41)یہ بہ طریقِ تہدید و توبیخ فرمایا ۔(ف42)یعنی گمراہی اختیار کرکے ہمیشہ کے لئے مستحقِ جہنّم ہوگئے اور جنّت کی نعمتوں سے محروم ہوگئے جو ایمان لانے پر انہیں ملتیں ۔
اور وہ جو بتوں کی پوجا سے بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے انہیں کے لیے خوشخبری ہے تو خوشی سناؤ میرے ان بندوں کو،
And those who stayed away from the worship of idols, and inclined towards Allah – for them are glad tidings; therefore give glad tidings to My bondmen. –
और वह जो बुतों की पूजा से बचे और अल्लाह की तरफ रजू हुए उन्हें के लिए खुशखबरी है तो खुशी सुनाओ मेरे इन बंदों को,
Aur woh jo buton ki pooja se bache aur Allah ki taraf rujoo hue, unke liye khushkhabri hai, to khushi sunao mere un bando ko.
جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں (ف٤٦) یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہ ہیں جن کو عقل ہیں (ف٤۷)
Those who heed attentively and follow the best from it; it is these whom Allah has guided, and it is these who have intelligence.
जो कान लगा कर बात सुनें फिर इसके बेहतर पर चलें ये हैं जिनको अल्लाह ने हिदायत फ़रमाई और ये हैं जिनको अ़क़ल हैं
Jo kaan laga kar baat sunein phir uske behtar par chalein, yeh hain jin ko Allah ne hidaayat farmaai aur yeh hain jin ko aqal hain.
(ف46)جس میں ان کی بہبود ہو ۔ (ف47)شانِ نزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ایمان لائے تو آپ کے پاس حضرت عثمان اور عبدالرحمٰن ابنِ عوف اور طلحہ و زبیر و سعد بن ابی وقاص و سعید بن زید آئے اور ان سے حال دریافت کیا انہوں نے اپنے ایمان کی خبر دی یہ حضرات بھی سُن کر ایمان لے آئے ان کے حق میں یہ نازل ہوئی فَبَشِّرْعِبَادِیۡ الآیۃ ۔
تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی نجات والوں کے برابر ہوجائے گا تو کیا تم ہدایت دے کر آگ کے مستحق کو بچالو گے (ف٤۸)
So will the one upon whom the Word of punishment has proved true, ever be equal to those who are forgiven? So will you guide and save the one who deserves the fire? (Because the hearts of some disbelievers are sealed).
तो क्या वह जिस पर अज़ाब की बात साबित हो चुकी नजात वालों के बराबर हो जाएगा तो क्या तुम हिदायत देकर आग के مستحق को बचा लोगे
To kya woh jis par azaab ki baat sabit ho chuki, najat walon ke barabar ho jaayega? To kya tum hidaayat de kar aag ke mustahiq ko bacha loge?
(ف48)جو ازلی بدبخت اور علمِ الٰہی میں جہنّمی ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما نے فرمایا کہ مراد اس سے ابولہب اور اس کے لڑکے ہیں ۔
لیکن جو اپنے رب سے ڈرے (ف٤۹) ان کے لیے بالا خانے ہیں ان پر بالا خانے بنے (ف۵۰) ان کے نیچے نہریں بہیں، اللہ کا وعدہ، اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا،
But for those who fear their Lord, are the high chambers with more high chambers built above them – rivers flowing beneath them; a promise of Allah; Allah does not renege on His promise.
लेकिन जो अपने रब से डरें उनके लिए बाला ख़ाने हैं उनके ऊपर बाला ख़ाने बने उनके नीचे नहरें बहें, अल्लाह का वादा, अल्लाह वादा ख़िलाफ़ नहीं करता,
Lekin jo apne Rab se dare, un ke liye bala-khane hain, un par bala-khane bane, unke neeche nahrein behein, Allah ka wada, Allah wada khilaaf nahi karta.
(ف49)اور انہوں نے اللہ تعالٰی کی فرمانبراری کی ۔(ف50)یعنی جنّت کے منازلِ رفیعہ جن کے اوپر اور ارفع منازل ہیں ۔
کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین میں چشمے بنائے پھر اس سے کھیتی نکالتا ہے کئی رنگت کی (ف۵۱) پھر سوکھ جاتی ہے تو تو دیکھے کہ وہ (ف۵۲) پیلی پڑ گئی پھر اسے ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بیشک اس میں دھیان کی بات ہے عقل مندوں کو (ف۵۳)
Did you not see that it is Allah Who sent down water from the sky, and then with it made springs in the earth, and then with it produces crops of various colours, and then it dries up and you see it has become yellow, and He then fragments them into small pieces; indeed in this is a reminder for people of intellect.
क्या तू ने न देखा कि अल्लाह ने आसमान से पानी उतारा फिर इससे ज़मीन में चश्मे बनाए फिर इससे खेती निकालता है कई रंगत की फिर सूख जाती है तो तू देखे कि वह पीली पड़ गई फिर इसे रीज़ा रीज़ा कर देता है, बेशक इसमें ध्यान की बात है अ़क़लमंदों को
Kya tu ne na dekha ke Allah ne aasman se paani utara, phir us se zameen mein chashme banaye, phir us se kheti nikalta hai kai rangat ki, phir sookh jaati hai to tu dekhe ke woh peeli par gayi, phir usey reza reza kar deta hai, beshak is mein dhyan ki baat hai aqalmandon ko.
(ف51)زرد ، سبز ، سرخ ، سفید قِسم قِسم کی گیہوں ، جَو اور طرح طرح کے غلّے ۔(ف52)سرسبز و شاداب ہونے کے بعد ۔(ف53)جو اس سے اللہ تعالٰی کی وحدانیّت و قدرت پر دلیلیں قائم کرتے ہیں ۔
تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا (ف۵٤) تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (ف۵۵) اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یاد خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں (ف۵٦) وہ کھلی گمراہی میں ہیں،
So will he whose bosom Allah has opened up for Islam – he is therefore upon a light from his Lord – ever be equal to one who is stone hearted? Therefore ruin is for those whose hearts are hardened towards the remembrance of Allah; they are in open error.
तो क्या वह जिसका सीना अल्लाह ने इस्लाम के लिए खोल दिया तो वह अपने रब की तरफ़ से नूर पर है इसका जैसा हो जाएगा जो संगदिल है तो खराबी है उनके जिनके दिल याद-ए-ख़ुदा की तरफ़ से क़ठिन हो गए हैं वे खुली ग़ुमराही में हैं,
To kya woh jiska seenah Allah ne Islam ke liye khol diya, to woh apne Rab ki taraf se noor par hai, us jaisa ho jaayega jo sang-dil hai? To kharabi hai un ki jinh ke dil yaad-e-Khuda ki taraf se sakht ho gaye hain, woh khuli gumraahi mein hain.
(ف54)اور اس کو قبولِ حق کی توفیق عطا فرمائی ۔(ف55)یعنی یقین و ہدایت پر ۔ الحدیث : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سینہ کا کُھلنا کس طرح ہوتا ہے ؟ فرمایا کہ جب نور قلب میں داخل ہوتا ہے تو وہ کُھلتا ہے اور اس میں وسعت ہوتی ہے صحابہ نے عرض کیا اس کی کیا علامت ہے ؟ فرمایا دارالخُلود کی طرف متوجّہ ہونا اور دارالغرور (دنیا )سےدور رہنا اور موت کے لئے اس کے آنے سے قبل آمادہ ہونا ۔(ف56)نفس جب خبیث ہوتا ہے تو قبولِ حق سے اس کو بہت دوری ہوجاتی ہے اور ذکر اللہ کے سننے سے اس کی سختی اور کدورت بڑھتی ہے جیسے کہ آفتاب کی گرمی سے موم نرم ہوتا ہے اور نمک سخت ہوتا ہے ایسے ہی ذکر اللہ سے مومنین کے قلوب نرم ہوتے ہیں اور کافروں کے دلوں کی سختی اور بڑھتی ہے ۔ فائدہ : اس آیت سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنا چاہئے جنہوں نے ذکر اللہ کو روکنا اپنا شعار بنالیا ہے وہ صوفیوں کے ذکر کو بھی منع کرتے ہیں ، نمازوں کے بعد ذکر اللہ کرنے والوں کو بھی روکتے اور منع کرتے ہیں ، ایصالِ ثواب کے لئے قرآنِ کریم اور کلمہ پڑھنے والوں کو بھی بدعتی بتاتے ہیں ، اور ان ذکر کی محفلوں سے نہایت گھبراتے اور بھاگتے ہیں اللہ تعالٰی ہدایت دے ۔
اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب (ف۵۷) کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے (ف۵۸) دوہرے بیان والی (ف۵۹) اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یاد خدا کی طرف رغبت میں (ف٦۰) یہ اللہ کی ہدایت ہے راہ دکھائے اس سے جسے چاہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں،
Allah has sent down the best of Books (the Holy Qur’an), which is consistent throughout, the one with paired statements; the hairs on the skins of those who fear their Lord, stand on end with it; then their skins and their hearts soften, inclined towards the remembrance of Allah; this is the guidance of Allah, He may guide whomever He wills with it; and whomever Allah sends astray, there is no guide for him.
अल्लाह ने उतारी सबसे अच्छी किताब कि उल से आख़िर तक एक सी है दोहरे बयान वाली इससे बाल खड़े होते हैं उनके बदन पर जो अपने रब से डरते हैं, फिर उनकी खालें और दिल नरम पड़ते हैं याद-ए-ख़ुदा की तरफ़ रग़ब्त में ये अल्लाह की हिदायत है राह दिखाए इससे जिसे चाहे, और जिसे अल्लाह गुमराह करे उसे कोई राह दिखाने वाला नहीं,
Allah ne utari sab se achhi kitaab ke awwal se aakhir tak ek si hai, dohray bayaan wali, is se baal khade hote hain un ke badan par jo apne Rab se darte hain, phir un ki khaal aur dil narm padte hain yaad-e-Khuda ki taraf raghbat mein, yeh Allah ki hidaayat hai, raah dikhaye is se jise chahe, aur jise Allah gumrah kare use koi raah dikhane wala nahi.
(ف57)قرآن شریف جو عبارت میں ایسا فصیح و بلیغ کہ کوئی کلام اس سے کچھ نسبت ہی نہیں رکھ سکتا ، مضمون نہایت دل پذیر باوجود یہ کہ نہ نظم ہے نہ شِعر ، نرالے ہی اسلوب پر ہے اور معنٰی میں ایسا بلند مرتبہ کہ تمام علوم کا جامع اور معرفتِ الٰہی جیسی عظیم الشان نعمت کا رہنما ۔(ف58)حسن و خوبی میں ۔(ف59)کہ اس میں وعد کے ساتھ وعید اور امر کے ساتھ نہی اور اخبار کے ساتھ احکام ہیں ۔(ف60)حضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ اولیاء اللہ کی صفت ہے کہ ذکرِ الٰہی سے ان کے بال کھڑے ہوتے جسم لرزتے ہیں اور دل چین پاتے ہیں ۔
تو کیا وہ جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرے کے سوا (ف٦۱) نجات والے کی طرح ہوجائے گا (ف٦۲) اور ظالموں سے فرمایا جائے گا اپنا کمایا چکھو (ف٦۳)
So will he who will not have a shield except his own face against the wretched punishment on the Day of Resurrection, ever be equal to one who is forgiven? And it will be said to the unjust, “Taste what you have earned!”
तो क्या वह जो क़यामत के दिन बुरे अज़ाब की ढाल न पाएगा अपने चेहरے के सिवा नजात वाले की तरह हो जाएगा और ज़ालिमों से फरमाया जाएगा अपना कमाया चखो
To kya woh jo qiyamat ke din bure azaab ki dhal na paaye ga, apne chehre ke siwa najat walon ki tarah ho jaayega aur zalimon se farmaya jaaye ga, apna kamaya chakhho.
(ف61)وہ کافر ہے جس کے ہاتھ گردن کے ساتھ ملا کر باندھ دیئے جائیں گے اور اس کی گردن میں گندھک کا ایک جلتا ہوا پہاڑ پڑا ہوگا جو اس کے چہرے کو بھونے ڈالتا ہوگا اس حال سے اوندھا کرکے آتشِ جہنّم میں گرایا جائے گا ۔(ف62)یعنی اس مومن کی طرح جو عذاب سے مامون و محفوظ ہو ۔(ف63)یعنی دنیا میں جو کفر ، سرکشی اختیار کی تھی اب اس کا وبال و عذاب برداشت کرو ۔
اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے (ف۷۲) ایک غلام میں کئی بدخو آقا شریک اور ایک نرے ایک مولیٰ کا، کیا ان دونوں کا حال ایک سا ہے (ف۷۳) سب خوبیاں اللہ کو (ف۷٤) بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے (ف۷۵)
Allah illustrates an example – “A man having several wicked masters as partners, and another man belonging wholly to just one master; are the two equal in comparison?” All praise is to Allah; in fact, most among them do not know.
अल्लाह एक मिसाल बयान फ़रमाता है एक गुलाम में कई बदख़ू उक़ा शरीक और एक नरे एक मौला का, क्या इन दोनों का हाल एक सा है सब खूबियाँ अल्लाह को बल्कि उनके अधिकतर नहीं जानते
Allah ek misaal bayan farmaata hai: ek ghulam mein kai bad-khu aaqa shareek aur ek nara ek maula ka, kya in dono ka haal ek sa hai? Sab khoobiyan Allah ko, balki un ke aksar nahi jaante.
(ف72)مشرک اور موحِّد کی ۔(ف73)یعنی ایک جماعت کا غلام نہایت پریشان ہوتا ہے کہ ہر ایک آقا اسے اپنی طرف کھینچتا ہے اور اپنے اپنے کام بتاتا ہے وہ حیران ہے کہ کس کا حکم بجالائے اور کس طرح تمام آقاؤں کو راضی کرے اور خود اس غلام کو جب کوئی حاجت و ضرورت پیش ہو تو کس آقا سے کہے بخلاف اس غلام کے جس کا ایک ہی آقا ہو وہ اس کی خدمت کرکے اسے راضی کرسکتا ہے اور جب کوئی حاجت پیش آئے تو اسی سے عرض کرسکتا ہے اس کو کوئی پریشانی پیش نہیں آتی یہ حال مومن کا ہے جو ایک مالک کا بندہ ہے اسی کی عبادت کرتا ہے اور مشرک جماعت کے غلام کی طرح ہے کہ اس نے بہت سے معبود قرار دے دیئے ہیں ۔(ف74)جو اکیلا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔(ف75)کہ اس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ۔
اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ ﴿30﴾
بیشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے (ف۷٦)
Indeed you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) will taste death, and they (the disbelievers) too will die.
बेशक तुम्हें इन्तेक़ाल फ़रमाना है और इनको भी मरना है
Beshak tumhein inteqal farmaana hai aur unko bhi marna hai.
(ف76)اس میں کفّار کا رد ہے جو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کا انتظارکیا کرتے تھے انہیں فرمایا گیا کہ خود مرنے والے ہو کر دوسرے کی موت کا انتظار کرنا حماقت ہے کفّار تو زندگی میں بھی مرے ہوئے ہیں اور انبیاء کی موت ایک آن کے لئے ہوتی ہے پھر انہیں حیات عطا فرمائی جاتی ہے ۔ اس پر بہت سی شرعی برہانیں قائم ہیں ۔
Then you will dispute before your Lord on the Day of Resurrection.
फिर तुम क़यामत के दिन अपने रब के पास झगड़ोगे
Phir tum qiyamat ke din apne Rab ke paas jhagdo ge.
(ف77)انبیاء امّت پر حجّت قائم کریں گے کہ انہوں نے رسالت کی تبلیغ کی اور دِین کی دعوت دینے میں جُہدِ بلیغ صرف فرمائی اور کافر بے فائدہ معذرتیں پیش کریں گے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اختصامِ عام ہے کہ لوگ دنیوی حقوق میں مخاصمہ کریں گے اور ہر ایک اپنا حق طلب کرے گا ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page