تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۷۸) اور حق کو جھٹلائے (ف۷۹) جب اس کے پاس آئے، کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانہ نہیں،
So who is more unjust than one who fabricates a lie against Allah, and denies the truth when it comes to him? Is not the destination of disbelievers in hell?
तो इससे बढ़कर ज़ालिम कौन जो अल्लाह पर झूठ बाँधे और हक़ को झुठलाए जब इसके पास आए, क्या जहन्नम में काफ़रों का ठिकाना नहीं,
To is se barh kar zalim kaun jo Allah par jhoot baandhe aur haq ko jhuthlaaye, jab us ke paas aaye? Kya jahannum mein kafiron ka thikana nahi?
(ف78)اور اس کے لئے شریک اور اولاد قرار دے ۔(ف79)یعنی قرآن شریف کو یارسول علیہ السلام کی رسالت کو ۔
کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں (ف۸۳) اور تمہیں ڈراتے ہیں اس کے سوا اوروں سے (ف۸٤) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کی کوئی ہدایت کرنے والا نہیں،
Is not Allah Sufficient for His slave? And they threaten you with others beside Him! And whomever Allah sends astray – there is no guide for him.
क्या अल्लाह अपने बंदे को काफी नहीं और तुम्हें डराते हैं इसके सिवा औरों से और जिसे अल्लाह गुमराह करे उसकी कोई हिदायत करने वाला नहीं,
Kya Allah apne bande ko kaafi nahi aur tumhein darate hain us ke siwa auron se, aur jise Allah gumrah kare us ki koi hidaayat karne wala nahi.
(ف83)یعنی سیّدِعالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے اور ایک قرأت میں عِبَادَہٗ بھی آیا ہے اس صورت میں انبیاء علیہم السلام مراد ہیں جن کے ساتھ ان کی قوموں نے ایذا رسانی کے ارادے کئے اللہ تعالٰی نے انہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھا اور ان کی کفایت فرمائی ۔(ف84)یعنی بتوں سے ۔ واقعہ یہ تھا کہ کفّارِ عرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ڈرانا چاہا اور آپ سے کہا کہ آپ ہمارے معبودوں یعنی بتوں کی برائی بیان کرنے سے باز آئیے ورنہ وہ آپ کو نقصان پہنچائیں گے ہلاک کردیں گے یا عقل کو فاسد کردیں گے ۔
اور اگر تم ان سے پوچھو آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے اللہ نے (ف۸٦) تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۸۷) اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے (ف۸۸) تو کیا وہ اس کی بھیجی تکلیف ٹال دیں گے یا وہ مجھ پر مہر (رحم) فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی مہر کو روک رکھیں گے (ف۸۹) تم فرماؤ اللہ مجھے بس ہے (ف۹۰) بھروسے والے اس پر بھروسہ کریں،
And if you ask them, “Who has created the heavens and the earth?”, they will surely say, “Allah”; say, “What is your opinion regarding those whom you worship other than Allah – if Allah wills to cause me some hardship, so will they avert the hardship sent by Him? Or if He wills to have mercy upon me, so will they restrain His mercy?” Proclaim, “Allah is Sufficient for me; the people who trust must rely only upon Him.”
और अगर तुम इनसे पूछो आसमान और ज़मीन किसने बनाए तो ज़रूर कहेंगे अल्लाह ने तुम फरमाओ भला बताओ तो वे जिन्हें तुम अल्लाह के सिवा पूजते हो अगर अल्लाह मुझे कोई तक़लीफ़ पहुँचाना चाहे तो क्या वे उसकी भेजी तक़लीफ़ टाल देंगे या वह मुझ पर मेहर (रहम) फ़रमाना चाहे तो क्या वे उसकी मेहर को रोक रखेंगे तुम फरमाओ अल्लाह मुझे बस है भरोसे वाले उस पर भरोसा करें,
Aur agar tum un se poocho aasman aur zameen kis ne banaye to zaroor kahenge Allah ne, tum farmaao, bhala batao, to woh jinhein tum Allah ke siwa poojhte ho, agar Allah mujhe koi takleef pohchana chahe to kya woh is ki bheji takleef taal dein ge? Ya woh mujh par mehr (reham) farmaana chahe to kya woh is ki mehr ko rok rakhenge? Tum farmaao, Allah mujhe bas hai, bharose wale is par bharosa karein.
(ف86)یعنی یہ مشرکین خدائے قادر ، علیم ، حکیم کی ہستی کے تو مقِر ہیں اور یہ بات تمام خَلق کے نزدیک مسلّم ہے اور خَلق کی فطرت اس کی شاہدہے اور جو شخص آسمان و زمین کے عجائب میں نظر کرے اس کو یقینی طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ موجودات ایک قادرِ حکیم کی بنائی ہوئی ہے ، اللہ تعالٰی اپنے نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان مشرکین پرحجّت قائم کیجئے چنانچہ فرماتا ہے ۔(ف87)یعنی بتوں کو یہ بھی تو دیکھو کہ وہ کچھ بھی قدرت رکھتے ہیں اور کسی کام بھی آسکتے ہیں ؟(ف88)کسی طرح کی مرض کی یا قحط کی یا ناداری کی یا اور کوئی ۔(ف89)جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین سے یہ سوال فرمایا تو وہ لاجواب ہوئے اور ساکت رہ گئے اب حجّت تمام ہوگئی اور ان کے سکوتی اقرار سے ثابت ہوگیا کہ بت محض بے قدرت ہیں نہ کوئی نفع پہنچاسکتے ہیں نہ کچھ ضرر ان کی عبادت کرنا نہایت ہی جہالت ہے اس لئے اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ارشاد فرمایا ۔(ف90)میرا اسی پر بھروسہ ہے اور جس کا اللہ تعالٰی پر بھروسہ ہو وہ کسی سے بھی نہیں ڈرتا تم جو مجھے بت جیسی بے قدرت و بے اختیار چیزوں سے ڈراتے ہو یہ تمہاری نہایت ہی بے وقوفی و جہالت ہے ۔
تم فرماؤ، اے میری قوم! اپنی جگہ کام کیے جاؤ (ف۹۱) میں اپنا کام کرتا ہوں (ف۹۲) تو آگے جان جاؤ گے،
Proclaim, “O my people! Keep on with your works in your positions, I am doing mine; so you will soon come to know.” –
तुम फरमाओ, ऐ मेरी क़ौम! अपनी जगह काम किए जाओ मैं अपना काम करता हूँ तो आगे जान जाओगे,
Tum farmaao, ae meri qoum! Apni jagah kaam kiye jao, main apna kaam karta hoon, to aage jaaoge.
(ف91)اور جو جو مَکَر و حیلے تم سے ہوسکیں میری عداوت میں سب ہی کر گزرو ۔(ف92)جس پر مامور ہوں ۔ یعنی دِین کا قائم کرنا اور اللہ تعالٰی میر امُعِین و ناصر ہے اور اسی پر میر ابھروسہ ہے ۔
بیشک ہم نے تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کو حق کے ساتھ اتاری (ف۹۵) تو جس نے راہ پائی تو اپنے بھلے کو (ف۹٦) اور جو بہکا وہ اپنے ہی برے کو بہکا (ف۹۷) اور تم کچھ ان کے ذمہ دار نہیں (ف۹۸)
We have indeed sent down this Book to you with the truth, in order to guide mankind; so whoever attains guidance has attained it is for his own good, and whoever strays, has strayed for his own harm; and you are not at all responsible for them.
बेशक हमने तुम पर ये किताब लोगों की हिदायत को हक़ के साथ उतारी तो जिसने राह पाई तो अपने भले को और जो बहका वह अपने ही बुरे को बहका और तुम कुछ उनके ज़िम्मेदार नहीं
Beshak hum ne tum par yeh kitaab logon ki hidaayat ke haq ke saath utari, to jis ne raah paayi to apne bhale ko aur jo behka woh apne hi bure ko behka, aur tum kuch unke zimmedar nahi.
(ف95)تاکہ اس سے ہدایت حاصل کریں ۔(ف96)کہ اس راہ یابی کا نفع وہی پائے گا ۔(ف97)اس کی گمراہی کا ضرر اور وبال اسی پر پڑے گا ۔(ف98)تم سے ان کی تقصیر کا مؤاخذہ نہ ہوگا۔
اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں انہیں ان کے سوتے میں پھر جس پر موت کا حکم فرمادیا اسے روک رکھتا ہے (ف۹۹) اور دوسری (ف۱۰۰) ایک میعاد مقرر تک چھوڑ دیتا ہے (ف۱۰۱) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لیے (ف۱۰۲)
It is Allah Who gives death* to living beings at the time of their demise, and to those who do not die, during their sleep; so He restrains the soul on which the decree of death has been passed, and leaves the other till the appointed term; indeed in this are signs for people who reflect. (*Death is of 2 types – passing to the next world, and sleeping.)
अल्लाह जानों को वफ़ात देता है उनकी मौत के वक्त और जो न मरे उन्हें उनके सुत में फिर जिस पर मौत का हुक्म फ़रमा दिया उसे रोक रखता है और दूसरी एक मियाद म़क़रर तक छोड़ देता है बेशक इसमें जरूर निशानियाँ हैं सोचने वालों के लिए
Allah jaanon ko wafaat deta hai unki maut ke waqt aur jo na marein unhe un ke sote mein, phir jis par maut ka hukum farma diya use rok rakhta hai aur doosri ek miyaad muqarar tak chhod deta hai, beshak is mein zaroor nishaniyan hain sochne walon ke liye.
(ف99)یعنی اس جان کو اس کے جسم کی طرف واپس نہیں کرتا ۔(ف100)جس کی موت مقدر نہیں فرمائی اس کو ۔(ف101)یعنی اس کی موت کے وقت تک ۔(ف102)جو سوچیں اور سمجھیں کہ جو اس پر قادر ہے وہ ضرورمُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے ۔
تم فرماؤ شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے (ف۱۰۵) اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، پھر تمہیں اسی کی طرف پلٹنا ہے (ف۱۰٦)
Proclaim, “To Allah only* belongs all the intercession! For Him only is the kingship of the heavens and the earth; and then it is towards you have to return.” (*Allah does not intercede – He gives the permission to intercede with Him, to whomever He wills.)
तुम फरमाओ शफ़ाअत तो सब अल्लाह के हाथ में है इसी के लिए है आसमानों और ज़मीन की बादशाही, फिर तुम्हें इसी की तरफ़ पलटना है
Tum farmaao, shafaat to sab Allah ke haath mein hai, isi ke liye hai aasmanon aur zameen ki badshahi, phir tumhein isi ki taraf palatna hai.
(ف105)جو اس کا ماذون ہو وہی شفاعت کرسکتا ہے اور اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جسے چاہے شفاعت کا اذن دیتا ہے بتوں کو اس نے شفیع نہیں بنایا اور عبادت تو خدا کے سوا کسی کی بھی جائز نہیں شفیع ہو یا نہ ہو ۔(ف106)آخرت میں ۔
اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے دل سمٹ جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے (ف۱۰۷) اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر ہوتا ہے (ف۱۰۸) جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،
And when Allah the One God is mentioned, the hearts of those who do not believe in the Hereafter get constricted; and when others (false deities) besides Him are mentioned, they rejoice!
और जब एक अल्लाह का ज़िक्र किया जाता है दिल सिमट जाते हैं उनके जो आख़िरत पर ईमान नहीं लाते और जब इसके सिवा औरों का ज़िक्र होता है तभी वे खुशियाँ मनाते हैं,
Aur jab ek Allah ka zikr kiya jata hai, dil simat jaate hain un ke jo aakhirat par iman nahi laate, aur jab uske siwa auron ka zikr hota hai, tabhi woh khushiyan manate hain.
(ف107)اور وہ بہت تنگ دل اور پریشان ہوتے ہیں اور ناگواری کا اثر ان کے چہروں پر ظاہر ہوجاتا ہے ۔(ف108)یعنی بتوں کا ۔
تم عرض کرو اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے نہاں اور عیاں کے جاننے والے تو اپنے بندوں میں فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے (ف۱۰۹)
Invoke (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O Allah! The Creator of the heavens and the earth, the All Knowing of all the hidden and the open, You will judge between Your bondmen, regarding the matters in which they differed.”
तुम अर्ज़ करो ऐ अल्लाह! आसमानों और ज़मीन के पैदा करने वाले नाहाँ और अ़यान के जानने वाले तो अपने बंदों में फैसला फ़रमाएगा जिसमें वे इत्तिफ़ाक़ रखते थे
Tum arz karo, ae Allah! Aasmanon aur zameen ke paida karne wale, nahaan aur ayan ke jaan ne wale, to apne bando mein faisla farmaayega jis mein woh ikhtilaf rakhte they.
(ف109)یعنی امرِدیِن میں ۔ ابنِ مسیّب سے منقول ہے کہ یہ آیت پڑھ کر جو دعا مانگی جائے قبول ہوتی ہے ۔
اور اگر ظالموں کے لیے ہوتا جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کے ساتھ اس جیسا (ف۱۱۰) تو یہ سب چھڑائی (چھڑانے) میں دیتے روز ِ قیامت کے بڑے عذاب سے (ف۱۱۱) اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی (ف۱۱۲)
And if the unjust owned all that is in the earth, and another one in addition to it, they would surely give it in exchange for freedom from the wretched punishment on the Day of Resurrection; and a matter which they had never imagined, appeared to them from their Lord.
और अगर ज़ालिमों के लिए होता जो कुछ ज़मीन में है सब और इसके साथ इस जैसा तो ये सब छुड़ाई (छुड़ाने) में देते रोज़ क़यामत के बड़े अज़ाब से और उन्हें अल्लाह की तरफ़ से वह बात ज़ाहिर हुई जो उनके ख़याल में न थी
Aur agar zalimon ke liye hota jo kuch zameen mein hai sab aur is ke saath us jaisa, to yeh sab chhadai (chhadaane) mein dete, roz-e-qiyamat ke bade azaab se, aur unhe Allah ki taraf se woh baat zaahir hui jo un ke khayaal mein na thi.
(ف110)یعنی اگر بالفرض کافر تمام دنیا کے اموال و ذخائر کے مالک ہوتے اور اتنا ہی اور بھی ان کے مِلک میں ہوتا ۔(ف111)کہ کسی طرح یہ اموال دے کر انہیں اس عذابِ عظیم سے رہائی مل جائے ۔(ف112)یعنی ایسے ایسے عذابِ شدید جن کا انہیں خیال بھی نہ تھا اور اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ گمان کرتے ہوں گے کہ ان کے پاس نیکیاں ہیں اور جب نامۂِ اعمال کُھلیں گے تو بدیاں ظاہر ہوں گی ۔
اور ان پر اپنی کمائی ہوئی برائیاں کھل گئیں (ف۱۱۳) اور ان پر آپڑا وہ جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۱٤)
And the evils they earned appeared to them, and the thing they used to mock at descended upon them.
और उनके ऊपर अपनी कमाई हुई बराइयां खुल गईं और उनके ऊपर आ पड़ा वह जिसकी हंसी बनाते थे
Aur un par apni kamai hui buraiyaan khul gayin aur un par aa pada woh jis ki hansi banate they.
(ف113)جو انہوں نے دنیا میں کی تھیں اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک کرنا اور اس کے دوستوں پر ظلم کرنا وغیرہ ۔(ف114)یعنی نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے خبر دینے پر وہ جس عذاب کی ہنسی بنایا کرتے تھے وہ نازل ہوگیا اور اس میں گِھر گئے ۔
پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں بلاتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں کہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے (ف۱۱۵) بلکہ وہ تو آزمائش ہے (ف۱۱٦) مگر ان میں بہتوں کو علم نہیں (ف۱۱۷)
So when some hardship reaches man, he prays to Us; then later when We bestow a favour upon him, he says, “I obtained this only because of some knowledge”; in fact it is a test, but most of them do not have any knowledge.
फिर जब आदमी को कोई तक़लीफ़ पहुँचती है तो हमें बुलाता है फिर जब उसे हम अपने पास से कोई नेअमत अता फ़रमाएं कहता है ये तो मुझे एक इल्म की बदौलत मिली है बल्कि वह तो आज़माइश है मगर इन में बहुतों को इल्म नहीं
Phir jab aadmi ko koi takleef pohchti hai to humein bulaata hai, phir jab use hum apne paas se koi naimat ata farmaain, kehta hai, "Yeh to mujhe ek ilm ki badolat mili hai," balke woh to aazmaish hai, magar un mein bohoton ko ilm nahi.
(ف115)یعنی میں معاش کا جو علم رکھتا ہوں اس کے ذریعہ سے میں نے یہ دولت کمائی جیسا کہ قارون نے کہا تھا۔(ف116)یعنی یہ نعمت اللہ تعالٰی کی طرف سے آزمائش و امتحان ہے کہ بندہ اسی پر شکر کرتا ہے یا ناشکری ۔(ف117)کہ یہ نعمت وعطا استدراج و امتحان ہے ۔
ان سے اگلے بھی ایسے ہی کہہ چکے (ف۱۱۸) تو ان کا کمایا ان کے کچھ کام نہ آیا،
Those before them also said the same, so their earnings did not benefit them at all.
उनसे अगले भी ऐसे ही कह चुके तो उनका कमाया उनके कुछ काम न आया,
Un se agle bhi aise hi keh chuke, to unka kamaya un ke kuch kaam na aaya.
(ف118)یعنی یہ بات قارون نے بھی کہی تھی کہ یہ دولت مجھے اپنے علم کی بدولت ملی اور اس کی قوم اس کی اس بے ہودہ گوئی پر راضی رہی تھی تو وہ بھی قائلوں میں شمار ہوئی ۔
تو ان پر پڑ گئیں ان کی کمائیوں کی برائیاں (ف۱۱۹) اور وہ جو ان میں ظالم عنقریب ان پر پڑیں گی ان کی کمائیوں کی برائیاں اور وہ قابو سے نہیں نکل سکتے (ف۱۲۰)
Therefore the evils of their earnings befell them; and those who are unjust among them – soon the evils of the earnings will befall them, and they cannot escape.
तो उनके ऊपर पड़ गईं उनकी कमाईयों की बराइयां और वह जो उनमें ज़ालिम अनक़रीब उनके ऊपर पड़ेंगी उनकी कमाईयों की बराइयां और वे क़ाबू से नहीं निकल सकते
To un par pad gayin unki kamaiyon ki buraiyaan aur woh jo un mein zalim anqareeb un par padengi, unki kamaiyon ki buraiyaan, aur woh qaboo se nahi nikal sakte.
(ف119)یعنی جو بدیاں انہوں نے کیں تھیں ان کی سزائیں ۔(ف120)چنانچہ وہ سات برس قحط کی مصیبت میں مبتلا رکھے گئے ۔
کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے،
Do they not know that Allah eases the sustenance for whomever He wills, and restricts it? Indeed in this are signs for the People who Believe.
क्या उन्हें मालूम नहीं कि अल्लाह रोज़ी क़ासदा करता है जिसके लिए चाहे और तंग फ़रमाता है, बेशक इसमें जरूर निशानियाँ हैं ईमान वालों के लिए,
Kya unhe maloom nahi ke Allah rozi kashaada karta hai jis ke liye chahe aur tang farmaata hai, beshak is mein zaroor nishaniyan hain iman walon ke liye.
تم فرماؤ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی (ف۱۲۱) اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے (ف۱۲۲) بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،(
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O my* slaves, who have wronged themselves, do not lose hope in Allah’s mercy; indeed Allah forgives all sins; indeed He only is the Oft Forgiving, the Most Merciful.” (All Muslims are truly the slaves of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him.)
तुम फरमाओ ऐ मेरे वह बंदो! जिन्होंने अपनी जानों पर ज़्यादती की अल्लाह की रहमत से नाउम्मीद न हो, बेशक अल्लाह सब गुनाह बख़्श देता है बेशक वही बख़्शने वाला मेहरबान है,
Tum farmaao, ae mere woh bando! Jinhone apni jaanon par ziadti ki, Allah ki rehmat se na-umeed na ho, beshak Allah sab gunaah baksh deta hai, beshak wahi bakshne wala meherbaan hai.
(ف121)گناہوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہو کر ۔(ف122)اس کے جو کفر سے باز آئے ۔شانِ نزول : مشرکین میں سے چند آدمی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے حضور سے عرض کیا کہ آپ کا دِین تو بے شک حق اور سچّا ہے لیکن ہم نے بڑے بڑے گناہ کئے ہیں بہت سی معصیّتوں میں مبتلا رہے ہیں کیا کسی طرح ہمارے وہ گناہ معاف ہوسکتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
اور اس کی پیروی کرو جو اچھی سے اچھی تمہارے رب سے تمہاری طرف اتاری گئی (ف۱۲۵) قبل اس کے کہ عذاب تم پر اچانک آجائے اور تمہیں خبر نہ ہو (ف۱۲٦)
“And follow this, the best among all, which has been sent down towards you from your Lord, before the punishment comes suddenly upon you whilst you are unaware.”
और इसकी पीछा करो जो अच्छी से अच्छी तुम्हारे रब से तुम्हारी तरफ़ उतारी गई क़बूल इसके कि अज़ाब तुम पर अचानक आ जाए और तुम्हें खबर न हो
Aur uski pairwi karo jo achhi se achhi tumhare Rab se tumhari taraf utari gayi, qabl is ke ke azaab tum par achanak aa jaye aur tumhein khabar na ho.
(ف125)وہ اللہ کی کتاب قرآنِ مجید ہے ۔(ف126)تم غفلت میں پڑے رہو اس لئے چاہئے کہ پہلے سے ہوشیارر ہو ۔
ہاں کیوں نہیں بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافر تھا (ف۱۳۱)
It will be said to him, “Surely yes, why not?* My signs did come to you, so you denied them and you were haughty and you were a disbeliever.” (They will be mocked at.)
हाँ क्यों नहीं बेशक तेरे पास मेरी आयतें आईं तो तू ने उन्हें झुठलाया और तकरब किया और तू काफ़िर था
Haan, kyun nahi, beshak tere paas meri aayatein aayin to tu ne unhe jhuthlaaya aur takabbur kiya, aur tu kaafir tha.
(ف131)یعنی تیرے پاس قرآنِ پاک پہنچا اور حق و باطل کی راہیں واضح کردی گئیں اور تجھے حق و ہدایت اختیار کرنے کی قدرت دی گئی باوجود اس کے تو نے حق کو چھوڑا اور اس کو قبول کرنے سے تکبر کیا ، گمراہی اختیار کی ، جو حکم دیا گیا اس کی ضد و مخالفت کی تو اب تیرا یہ کہنا غلط ہے کہ اللہ تعالٰی مجھے راہ دکھاتا تو میں ڈر والوں میں ہوتا اور تیرے تمام عذرجھوٹے ہیں ۔
اور قیامت کے دن تم دیکھو گے انہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا (ف۱۳۲) کہ ان کے منہ کالے ہیں کیا مغرور ٹھکانا جہنم میں نہیں (ف۱۳۳)
And you will see on the Day of Resurrection the fabricators of lies against Allah, with their faces blackened; is not the destination of the haughty in hell?
और क़यामत के दिन तुम देखोगे उन्हें जिन्होंने अल्लाह पर झूठ बाँधा कि उनके मुंह काले हैं क्या मगरूर ठिकाना जहन्नम में नहीं
Aur qiyamat ke din tum dekho ge unhe jinhone Allah par jhoot baandha, ke unke munh kaale hain, kya magroor thikana jahannum mein nahi.
(ف132)اور شانِ الٰہی میں ایسی بات کہی جو اس کے لائق نہیں اس کے لئے شریک تجویز کئے اولاد بتائی اس کی صفات کا انکار کیا اس کا نتیجہ یہ ہے ۔(ف133)جو براہِ تکبر ایمان نہ لائے ۔
اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۱۳۵) اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی نقصان میں ہیں،(
For Him only are the keys of the heavens and the earth; and those who denied the signs of Allah – it is they who are the losers.
इसी के लिए हैं आसमानों और ज़मीन की कुंजीयां और जिन्होंने अल्लाह की आयतों का इंकार किया वही नुक़सान में हैं,
Isi ke liye hain aasmanon aur zameen ki kunjiyaan, aur jinhone Allah ki aayaton ka inkaar kiya wohi nuqsaan mein hain.
(ف135)یعنی خزائنِ رحمت و رزق و بارش وغیرہ کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں وہی ان کا مالک ہے یہ بھی کہا گیا کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی تو فرمایا کہ مقالیدِ سماوات و ارض یہ ہیں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ وَسُبحْانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ وَاَسْتَغْفِرُاللہَ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوۃَ اِلَّا باللہِ وَھُوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَ الظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر ۔ مراد یہ ہے کہ ان کلمات میں اللہ تعالٰی کی توحید و تمجید ہے یہ آسمان و زمین کی بھلائیوں کی کنجیاں ہیں جس مومن نے یہ کلمے پڑھے دارَین کی بہتری پائے گا ۔
تم فرماؤ (ف۱۳٦) تو کیا اللہ کے سوا دوسرے کے پوجنے کو مجھ سے کہتے ہو، اے جاہلو! (ف۱۳۷)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) “So do you instruct me to worship (deities) other than Allah? You ignorant fools!”
तुम फरमाओ तो क्या अल्लाह के सिवा दूसरे के पूजने को मुझसे कहते हो, ऐ जाहिलो!
Tum farmaao, to kya Allah ke siwa doosre ke poojne ko mujh se kehte ho, ae jaahilo!
(ف136)اے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کفّارِ قریش سے جو آپ کو اپنے دِین یعنی بت پرستی کی طرف بلاتے ہیں ۔(ف137)جاہل اس واسطے فرمایا کہ انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ اللہ تعالٰی کے سوا اور کوئی مستحقِ عبادت نہیں باوجود یہ کہ اس پر قطعی دلیلیں قائم ہیں ۔
اور بیشک وحی کی گئی تمہاری طرف اور تم سے اگلوں کی طرف کہ اسے سننے والے اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اَکارت جائے گا اور ضرور تو ہار میں رہے گا،(٦
And it was indeed revealed to you and to those before you; that, “O listener! If you ascribe a partner to Allah, all your deeds will go to waste and you will surely be a loser.”
और बेशक वाहि की गई तुम्हारी तरफ़ और तुमसे अगलों की तरफ़ कि इसे सुनने वाले अगर तू ने अल्लाह का शरीक किया तो जरूर तेरा सब किया धरअ क़ारत जायेगा और जरूर तू हार में रहेगा,
Aur beshak wahi wahi hui tumhari taraf aur tum se agalon ki taraf ke sunne wale, agar tu ne Allah ka shareek kiya to zaroor tera sab kuch akart ho jaayega aur zaroor tu haar mein rahega.
اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کا حق تھا (ف۱۳۹) اور وہ قیامت کے دن سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیے جائیں گے (ف۱٤۰) اور ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے،
And they did not realise the importance of Allah as was His right; and on the Day of Resurrection, He will compress the lands and the heavens will be rolled up by His power; Purity and Supremacy are to Him, from all what they ascribe as partners.
और उन्होंने अल्लाह की क़दर न की जैसा कि इसका हक़ था और वह क़यामत के दिन सब ज़मीनों को समेट देगा और इसकी क़ुदरत से सब आसमान लपेट दिए जाएंगे और उनके शर्क़ से पाक और बरतर है,
Aur unhone Allah ki qadr na ki jaisa ke uska haq tha, aur woh qiyamat ke din sab zameenon ko samet dega aur uski qudrat se sab aasman lapet diye jaayenge aur unke shirk se paak aur bartar hai.
(ف139)جبھی تو شرک میں مبتلا ہوئے اگر عظمتِ الٰہی سے واقف ہوتے اور اس کا مرتبہ پہچانتے ایسا کیوں کرتے ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی کے عظمت و جلال کا بیان ہے۔(ف140)حدیثِ بخاری و مسلم میں حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ روزِ قیامت اللہ تعالٰی آسمان کو لپیٹ کر اپنے دستِ قدرت میں لے گا پھر فرمائے گا میں ہوں بادشاہ ، کہاں ہیں جبّار ، کہاں ہیں متکبر ، مُلک و حکومت کے دعوےدار ، پھر زمینوں کو لپیٹ کر اپنے دوسرے دستِ قدرت میں لے گا اور یہی فرمائے گا میں ہوں بادشاہ ، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ۔
اور صور پھونکا جائے گا تو بیہوش ہوجائیں گے (ف۱٤۱) جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے (ف۱٤۲) پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا (ف۱٤۳) جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے (ف۱٤٤)
And the Trumpet will be blown, so everyone in the heavens and everyone in the earth will fall unconscious, except whomever* Allah wills; it will then be blown again, thereupon they will get up staring! (*Prophet Moosa and / or some angels).
और सूर फूँका जाएगा तो बेहोश हो जाएँगे जितने आसमानों में हैं और जितने ज़मीन में मगर जिसे अल्लाह चाहे फिर वह दुबारा फूँका जाएगा तभी वे देखते हुए खड़े हो जाएँगे
Aur soor phoonka jaaye ga to be-hoosh ho jaayenge jitne aasmanon mein hain aur jitne zameen mein, magar jise Allah chahe phir woh dobara phoonka jaaye ga, tabhi woh dekhte hue khade ho jaayenge.
(ف141)یہ پہلے نفخہ کا بیان ہے اس نفخہ سے جو بے ہوشی طاری ہوگی اس کا یہ اثر ہوگا کہ ملائکہ اور زمین والوں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہوں گے جن پر موت نہ آئی ہوگی وہ اس سے مرجائیں گے ۔ اور جن پر موت وارد ہوچکی پھر اللہ تعالٰی نے انہیں حیات عنایت کی وہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں جیسے کہ انبیاء و شہداء ان پر اس نفخہ سے بے ہوشی کی سی کیفیّت طاری ہوگی اور جو لوگ قبروں میں مرے پڑے ہیں انہیں اس نفخہ کا شعور بھی نہ ہوگا ۔ (جمل وغیرہ)(ف142)اس استثناء میں کون کون داخل ہے اس میں مفسّرین کے بہت اقوال ہیں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ نفخۂِ صعق سے تمام آسمان اور زمین والے مرجائیں گے سوائے جبرئیل و میکائیل و اسرافیل و مَلَک الموت کے پھر اللہ تعالٰی دونوں نفخوں کے درمیان جو چالیس برس کی مدّت ہے اس میں ان فرشتوں کو بھی موت دے گا ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مستثنٰے شہداء ہیں جن کے لئے قرانِ مجید میں'بَلْ اَحْیَاء ' آیا ہے ۔ حدیث شریف میں بھی ہے کہ وہ شہداء ہیں جو تلواریں حمائل کئے گردِ عرش حاضر ہوں گے ۔ تیسرا قول حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ مستثنٰی حضرت موسٰی علیہ السلام ہیں چونکہ آپ طور پر بے ہوش ہوچکے ہیں اس لئے اس نفخہ سے آپ بے ہوش نہ ہوں گے بلکہ آپ متیقظ و ہوشیار رہیں گے ۔ چوتھا قول یہ ہے کہ مستثنٰی جنّت کی حوریں اور عرش و کرسی کے رہنے والے ہیں ۔ ضحاک کا قول ہے کہ مستثنٰی رضوان اور حوریں اور وہ فرشتے جو جہنّم پر مامور ہیں وہ اور جہنّم کے سانپ بچھو ہیں ۔ (تفسیر کبیر وجمل) (ف143)یہ نفخۂِ ثانیہ ہے جس سے مردے زندہ کئے جائیں گے ۔(ف144)اپنی قبروں سے اور دیکھتے ہوئے کھڑے ہونے سے یا تو یہ مراد ہے کہ وہ حیرت میں آکر مبہوت کی طرح ہر طرف نگاہیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ یہ دیکھتے ہوں گے کہ اب انہیں کیا معاملہ پیش آئے گا ۔ اور مومنین کی قبروں پر اللہ تعالٰی کی رحمت سے سواریاں حاضر کی جائیں گے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے وعدہ فرمایا ہے'یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا '
اور زمین جگمگا اٹھے گی (ف۱٤۵) اپنے رب کے نور سے (ف۱٤٦) اور رکھی جائے گی کتاب (ف۱٤۷) اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کی امت کے ان پر گواہ ہونگے (ف۱٤۸) اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
And the earth will shine bright by the light of its Lord, and the Book will be established, and the Prophets and this Noble Prophet and the witnesses upon them from this nation will be brought, and it will be judged between them with the truth, and they will not be wronged.
और ज़मीन जगमगा उठेगी अपने रब के नूर से और रखी जाएगी किताब और लाए जाएँगे अनबीयाँ और ये नबी और इसकी उम्मत के उन पर गवाह होंगे और लोगों में सच्चा फ़ैसला फ़रमा दिया जाएगा और उन पर ज़ुल्म न होगा,
Aur zameen jagmaga uthaygi apne Rab ke noor se aur rakhi jaayegi kitaab, aur laaye jaayenge anbiya aur yeh nabi aur us ki ummat ke un par gawah honge, aur logon mein sachha faisla farma diya jaayega aur un par zulm na hoga.
(ف145)بہت تیز روشنی سے یہاں تک کہ سُرخی کی جھلک نمودار ہوگی یہ زمین دنیا کی زمین نہ ہوگی بلکہ نئی ہی زمین ہوگی جو اللہ تعالٰی روزِ قیامت کی محفل کے لئے پیدا فرمائے گا ۔(ف146)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہ چاند سورج کا نور نہ ہوگا بلکہ یہ اور ہی نور ہوگاجس کو اللہ تعالٰی پیدا فرمائے گا اس سے زمین روشن ہوجائے گی ۔ (جمل) (ف147)یعنی اعمال کی کتاب حساب کے لئے ۔ اس سے مراد یا تو لوحِ محفوظ ہے جس میں دنیا کے جمیع احوال قیامت تک شرح وبسط کے ساتھ ثبت ہیں یا ہر شخص کا اعمال نا مہ جو اس کے ہاتھ میں ہوگا ۔(ف148)جو رسولوں کی تبلیغ کی گواہی دیں گے ۔
اور کافر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے (ف۱۵۰) گروہ گروہ (ف۱۵۱) یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اس کے دروازے کھولے جائیں گے (ف۱۵۲) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمہیں اس دن سے ملنے سے ڈراتے تھے، کہیں گے کیوں نہیں (ف۱۵۳) مگر عذاب کا قول کافروں پر ٹھیک اترا (ف۱۵٤)(
And the disbelievers will be herded towards hell in groups; to the extent that when they reach it, its gates will be opened, and its guards will say to them, “Did not the Noble Messengers come to you from amongst you, who used to recite to you the verses of your Lord and warn you of confronting this Day?” They will say, “Yes indeed, why not?” But the Word of punishment proved true upon the disbelievers.
और काफ़र जहन्नम की तरफ़ हांकें जाएंगे ग़ुरूह ग़ुरूह यहाँ तक कि जब वहाँ पहुँचेंगे इसके दरवाज़े खोले जाएँगे और इसके दारोग़ा उनसे कहेंगे क्या तुम्हारे पास तुम्हें मैं से वह रसूल न आए थे जो तुम पर तुम्हारे रब की आयतें पढ़ते थे और तुम्हें इस दिन से मिलने से डराते थे, कहेंगे क्यों नहीं मगर अज़ाब का क़ौल काफ़रों पर ठीक उतरा
Aur kaafir jahannum ki taraf haanke jaayenge, giroh giroh, yahaan tak ke jab wahan pohonchenge us ke darwaze khol diye jaayenge aur us ke daroogha un se kahenge, "Kya tumhare paas tumhein mere se woh rasool na aaye the jo tum par tumhare Rab ki aayatein padhte they aur tumhein is din se milne se darate they?" Kahenge, "Kyun nahi," magar azaab ka qoul kafiron par theek utara.
(ف150)سختی کے ساتھ قیدیوں کی طرح ۔(ف151)ہر ہر جماعت اور امّت علٰیحدہ علٰیحدہ ۔(ف152)یعنی جہنّم کے ساتوں دروازے کھولے جائیں گے جو پہلے سے بند تھے ۔(ف153)بے شک انبیاء تشریف بھی لائے اور انہوں نے اللہ تعالٰی کے احکام بھی سنائے اور اس دن سے بھی ڈرایا ۔(ف154)کہ ہم پر ہماری بدنصیبی غالب ہو ئی اور ہم نے گمراہی اختیار کی اور حسبِ ارشادِ الٰہی جہنّم میں بھرے گئے ۔
اور جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کی سواریاں (ف۱۵۵) گروہ گروہ جنت کی طرف چلائی جائیں گی، یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے (ف۱۵٦) اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام تم پر تم خوب رہے تو جنت میں جاؤ ہمیشہ رہنے،
And the mounts of those who feared their Lord will be led towards Paradise, in groups; to the extent that when they reach it, its gates will be opened and its guards will say to them, “Peace be upon you! You have done well! Therefore enter Paradise, to abide in it forever.”
और जो अपने रब से डरते थे उनकी सवारियाँ ग़ुरूह ग़ुरूह जन्नत की तरफ़ चलाई जाएँगी, यहाँ तक कि जब वहाँ पहुँचेंगे इसके दरवाज़े खुले हुए होंगे और इसके दारोग़ा उनसे कहेंगे सलाम तुम पर तुम खूब रहे तो जन्नत में जाओ हमेशा रहने,
Aur jo apne Rab se darte they unki sawariyaan giroh giroh jannat ki taraf chalaai jaayengi, yahaan tak ke jab wahan pohonchenge aur us ke darwaze khule hue honge aur us ke daroogha un se kahenge, "Salaam tum par, tum khoob rahe to jannat mein jao hamesha rehne."
(ف155)عزّت و احترام اور لطف و کرم کے ساتھ ۔(ف156)ان کے عزّت و احترام کے لئے ۔ اورجنّت کے دروازے آٹھ ہیں ۔ حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ دروازۂِ جنّت کے قریب ایک درخت ہے اس کے نیچے سے دو چشمے نکلتے ہیں مومن وہاں پہنچ کر ایک چشمہ میں غسل کرے گا اس سے اس کا جسم پاک و صاف ہوجائے گا اور دوسرے چشمہ کا پانی پئے گا اس سے اس کا باطن پاکیزہ ہوجائے گا پھر فرشتے دروازۂِ جنّت پر استقبال کریں گے ۔
اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں رہیں جہاں چاہیں، تو کیا ہی اچھا ثواب کامیوں (اچھے کام کرنیوالوں) کا (ف۱۵۷)
And they will say, “All praise is to Allah, Who has made His promise to us come true, and has bequeathed us this land, to stay in Paradise wherever we wish!” So what an excellent reward for the performers!
और वे कहेंगे सब खूबियाँ अल्लाह को जिसने अपना वादा हमसे सच्चा किया और हमें इस ज़मीन का वारिस किया कि हम जन्नत में रहें जहाँ चाहें, तो क्या ही अच्छा सवाब कामियों (अच्छे काम करने वालों) का
Aur woh kahenge, "Sab khoobiyan Allah ko, jisne apna wada hum se sachcha kiya aur humein is zameen ka waaris kiya ke hum jannat mein rahein jahaan chahein," to kya hi acha sawab kaamiyon (achay kaam karne walon) ka.
اور تم فرشتوں کو دیکھو گے عرش کے آس پاس حلقہ کیے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱۵۸) اور کہا جائے گا کہ سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہاں کا رب (ف۱۵۹)
And you will see the angels gathered around the Throne, saying the Purity of their Lord, with praise; and a true judgement will be delivered between the people, and it will be said, “All praise is to Allah, the Lord Of The Creation!”
और तुम फ़रिश्तों को देखोगे अर्श के आस पास हल्का किए अपने रब की तारीफ़ के साथ इसकी पाकी बोलते और लोगों में सच्चा फ़ैसला फ़रमा दिया जाएगा और कहा जाएगा कि सब खूबियाँ अल्लाह को जो सारे जहाँ का रब
Aur tum farishton ko dekho ge arsh ke aas paas, halqa kiye apne Rab ki tareef ke saath, uski paaki bolte, aur logon mein sachha faisla farma diya jaayega, aur kaha jaayega ke sab khoobiyan Allah ko jo saare jahan ka Rab.",
(ف158)کہ مومنوں کو جنّت میں اور کافروں کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا ۔(ف159)اہلِ جنّت جنّت میں داخل ہو کر ادائے شکر کے لئے حمدِ الٰہی عرض کریں گے ۔
حٰمٓ ۚ ﴿1﴾
حٰمٓ
Ha-Meem. (Alphabets of the Arabic Language – Allah, and to whomever he reveals, know their precise meanings.)
گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا (ف۲) سخت عذاب کرنے والا (ف۳) بڑے انعام والا (ف٤) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۵)
The Forgiver of sin, and the Most Acceptor of Repentance, the Severe in Punishing, the Greatly Rewarding; there is no God except Him; towards Him only is the return.
गुनाह बख्शने वाला और तौबा क़बूल करने वाला सख़्त अज़ाब करने वाला बड़े इनाम वाला उसके सिवा कोई माबूद नहीं, उसी की तरफ फिरना है
Gunah bakshne wala aur tauba qubool karne wala sakht azaab karne wala bade inaam wala us ke siwa koi maabood nahi, isi ki taraf phirna hai
(ف2)ایمان داروں کی ۔(ف3)کافروں پر ۔(ف4)عارفوں پر ۔(ف5)بندوں کو آخرت میں ۔
اللہ کی آیتوں میں جھگڑا نہیں کرتے مگر کافر (ف٦) تو اے سننے والے تجھے دھوکا نہ دے ان کا شہروں میں اہل گہلے (اِتراتے) پھرنا (ف۷)
None except the disbelievers dispute the signs of Allah, therefore do not let their free movements in the land deceive you.
अल्लाह की आयतों में झगड़ा नहीं करते मगर काफ़िर तो ऐ सुनने वाले तुम्हें धोखा न दे उनका शहरों में अहले गहेले (इतराते) फिरना
Allah ki aayaton mein jhagra nahi karte magar kaafir to aye sun'ne wale tujhe dhoka na de unka shahron mein ahle gehle (itraate) phirna
(ف6)یعنی قرآنِ پاک میں جھگڑا کرنا کافر کے سوا مومن کا کام نہیں ۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے ۔ جھگڑے اور جدال سے مراد آیاتِ الٰہیہ میں طعن کرنا اور تکذیب و انکار کے ساتھ پیش آنا ہے اور حلِّ مشکلات و کشفِ مُعضَلات کے لئے علمی و اصولی بحثیں جدال نہیں بلکہ اعظم طاعات میں سے ہیں ،کفّار کا جھگڑا کرنا آیات میں یہ تھا کہ وہ کبھی قرآنِ پاک کو سِحر کہتے ،کبھی شِعر ، کبھی کہانت ، کبھی داستان ۔(ف7)یعنی کافروں کا صحت و سلامتی کے ساتھ مُلک مُلک تجارتیں کرتے پھرنا اور نفع پانا تمہارے لئے باعثِ تردّد نہ ہو کہ یہ کفر جیسا عظیم جُرم کرنے کے بعد بھی عذاب سے امن میں رہے کیونکہ ان کا انجام کار خواری اور عذاب ہے ، پہلی امّتوں میں بھی ایسے حالات گزر چکے ہیں ۔
ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں (ف۸) نے جھٹلایا، اور ہر امت نے یہ قصد کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں (ف۹) اور باطل کے ساتھ جھگڑے کہ اس سے حق کو ٹال دیں (ف۱۰) تو میں نے انہیں پکڑا، پھر کیسا ہوا میرا عذاب (ف۱۱) (
Before them, the people of Nooh and the groups after them had denied; and every nation intended to apprehend its Noble Messenger, and they fought along with falsehood to avert the truth, so I seized them; so how did My punishment turn out?
उनसे पहले नूह की क़ौम और उनके बाद के समूहों ने झुठलाया, और हर उम्मत ने यह क़स्द किया कि अपने रसूल को पकड़ लें और बातिल के साथ झगड़े कि इससे हक़ को टाल दें तो मैंने उन्हें पकड़ा, फिर कैसा हुआ मेरा अज़ाब
Un se pehle Nuh ki qaum aur unke baad ke girohon ne jhutlaya, aur har ummat ne ye qasd kiya ke apne rasool ko pakad lein aur baatil ke saath jhagde ke is se haq ko taal dein to maine unhein pakda, phir kaisa hua mera azaab
(ف8)عاد و ثمود و قو مِ لوط وغیرہ ۔(ف9)اور انہیں قتل اور ہلاک کردیں ۔(ف10)جس کو انبیالائے ہیں ۔(ف11)کیا ان میں کوئی اس سے بچ سکا ۔
وہ جو عرش اٹھاتے ہیں (ف۱۲) اور جو اس کے گرد ہیں (ف۱۳) اپنے کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے (ف۱٤) اور اس پر ایمان لاتے (ف۱۵) اور مسلمانوں کی مغفرت مانگتے ہیں (ف۱٦) اے رب ہمارے تیرے رحمت و علم میں ہر چیز کی سمائی ہے (ف۱۷) تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ پر چلے (ف۱۸) اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے،
Those* who bear the Throne, and those who are around it, say the Purity of their Lord while praising Him, and they believe in Him and seek forgiveness for the believers; “O Our Lord! Your mercy and knowledge encompass all things, therefore forgive those who repented and followed Your path, and save them from the punishment of hell.” (* The angels.)
वे जो अर्श उठाते हैं और जो उसके गिर्द हैं अपने की तारीफ़ के साथ उसकी पाकी बोलते और उस पर ईमान लाते और मुसलमानों की माफ़ी मांगते हैं ऐ रब हमारे तेरे रहमत व इल्म में हर चीज़ की समाई है तो उन्हें बख़्श दे जिन्होंने तौबा की और तेरी राह पर चले और उन्हें दोज़ख़ के अज़ाब से बचा ले,
Woh jo Arsh uthate hain aur jo us ke gird hain apne ki tareef ke saath us ki paaki bolte aur us par iman laate aur Musalmanon ki maghfirat maangte aye Rab hamare tere rehmat o ilm mein har cheez ki samaayi hai to unhein bakhsh de jinho ne tauba ki aur teri raah par chale aur unhein dozk ke azaab se bacha le,
(ف12)یعنی ملائکۂِ حاملینِ عرش جو اصحابِ قرب اور ملائکہ میں اشرف و افضل ہیں ۔(ف13)یعنی جو ملائکہ کہ عرش کا طواف کرنے والے ہیں انہیں کرّوبی کہتے ہیں اور یہ ملائکہ میں صاحبِ سیادت ہیں ۔(ف14)اور سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ کہتے ۔(ف15)اور اس کی وحدانیّت کی تصدیق کرتے ۔ شہربن حو شب نے کہا کہ حاملینِ عرش آٹھ ہیں ان میں سے چار کی تسبیح یہ ہے' سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلٰی حِلْمِکَ بَعْدَعِلْمِکَ' اور چار کی یہ' سُبحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَکَ الْحَمْدُ عَلٰی عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ'۔ (ف16)اور بارگاہِ الٰہی میں اس طرح عرض کرتے ہیں ۔(ف17)یعنی تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو وسیع ہے ۔فائدہ : دعا سے پہلے عرضِ ثنا سے معلوم ہوا کہ آدابِ دعا میں سے یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا کی جائے پھر مراد عرض کی جائے ۔(ف18)یعنی دِینِ اسلام پر ۔
اے ہمارے رب! اور انہیں بسنے کے باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کو جو نیک ہوں ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں (ف۱۹) بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے،
“O Our Lord! And admit them into the Gardens of everlasting stay which you have promised them, and those who are virtuous among their forefathers and their wives and their offspring; indeed You only are the Most Honourable, the Wise.”
ऐ हमारे रब! और उन्हें बसने के बागों में दाख़िल कर जिनका तू ने उनसे वादा फ़रमाया है और उन को जो नेक हों उनके बाप दादा और बीबियों और औलाद में बेशक तू ही इज़्ज़त व हिकमत वाला है,
Aye hamare Rab! Aur unhein basne ke baagon mein daakhil kar jin ka tu ne un se wada farmaya hai aur un ko jo nek hon unke baap dada aur beebiyon aur aulaad mein beshak tu hi izzat o hikmat wala hai,
اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے، اور جسے تو اس دن گناہوں کی شامت سے بچائے تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایا، اور یہی بڑی کامیابی ہے،
“And save them from the evil consequences of sins; and whomever You save from the evil consequences of sins on that Day – so You have indeed had mercy upon him; and this only is the greatest success.”
और उन्हें गुनाहों की शामत से बचा ले, और जिसे तू उस दिन गुनाहों की शामत से बचाए तो बेशक तू ने उस पर रहम फ़रमाया, और यही बड़ी कामियाबी है,
Aur unhein gunahon ki shamat se bacha le, aur jise tu us din gunahon ki shamat se bachaaye to beshak tu ne us par reham farmaya, aur yehi bari kaamyabi hai,
بیشک جنہوں نے کفر کیا ان کو ندا کی جائے گی (ف۲۰) کہ ضرور تم سے اللہ کی بیزاری اس سے بہت زیادہ ہے جیسے تم آج اپنی جان سے بیزار ہو جب کہ تم (ف۲۱) ایمان کی طرف بلائے جاتے تو تم کفر کرتے،
The disbelievers will indeed be called out to – “Indeed Allah’s disgust with you is greater than your own abhorrence of yourselves, whereas you used to deny when you were called towards the faith!”
बेशक जिन्होंने क़ुफ़्र किया उन्हें नदा की जाएगी कि जरूर तुम से अल्लाह की बेज़ारी इससे बहुत ज़्यादा है जैसे तुम आज अपनी जान से बेज़ार हो जब कि तुम ईमान की तरफ बुलाए जाते तो तुम क़ुफ़्र करते,
Beshak jinho ne kufr kiya un ko nida ki jaayegi ke zaroor tum se Allah ki bezari is se bohot zyada hai jaise tum aaj apni jaan se bezar ho jab ke tum iman ki taraf bulaaye jaate to tum kufr karte,
(ف20)روزِ قیامت جب کہ وہ جہنّم میں داخل ہوں گے اور ان کی بدیاں ان پر پیش کی جائیں گی اور وہ عذاب دیکھیں گے تو فرشتے ان سے کہیں گے ۔(ف21)دنیا میں ۔
کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دوبارہ مردہ کیا اور دوبارہ زندہ کیا (ف۲۲) اب ہم اپنے گناہوں پر مُقِر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے (ف۲۳) (
They will say, “O Our Lord! Twice You have given us death and twice You have given us life* – we now confess to our sins – so is there a way out of the fire?” (From nothingness to life in this world, to death and then Resurrection.)
कहेंगे ऐ हमारे रब तू ने हमें दोबारा मरा किया और दोबारा ज़िंदा किया अब हम अपने गुनाहों पर म़ुसीर हुए तो आग से निकलने की भी कोई राह है
Kahenge aye hamare Rab! Tu ne hume dobara murda kiya aur dobara zinda kiya ab hum apne gunahon par musir hue to aag se nikalne ki bhi koi raah hai
(ف22) کیونکہ پہلے نطفۂِ بے جان تھے اس موت کے بعد انہیں جان دے کر زندہ کیا پھر عمر پوری ہونے پر موت دی پھر بعث کے لئے زندہ کیا۔(ف23)اس کا جواب یہ ہوگا کہ تمہارے دوزخ سے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں اور تم جس حال میں ہو جس عذاب میں مبتلا ہو اور اس سے رہائی کی کوئی راہ نہیں پاسکتے ۔
یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے (ف۲٤) اور ان کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے (ف۲۵) تو حکم اللہ کے لیے ہے جو سب سے بلند بڑا،(
“This has occurred because when Allah the One was prayed to, you used to disbelieve; and when a partner was ascribed with Him, you used to believe; so the command is only for Allah, the Supreme, the Great.”
यह उस पर हुआ कि जब एक अल्लाह पुकारा जाता तो तुम क़ुफ़्र करते और उनका शरीक ठहराया जाता तो तुम मान लेते तो हुक्म अल्लाह के लिए है जो सब से बलंद बड़ा,
Ye is par hua ke jab ek Allah pukara jaata to tum kufr karte aur un ka shareek thehraaya jaata to tum maan lete to hukm Allah ke liye hai jo sab se buland bada,
(ف24)یعنی اس عذاب اور اس کے دوام و خلود کا سبب تمہارا یہ فعل ہے کہ جب توحیدِ الٰہی کا اعلان ہوتا اورلَا اِ لٰہَ اِلَّا اللہُ کہا جاتا تو تم اس کا انکار کرتے اور کفر اختیار کرتے ۔(ف25)اور اس شرک کی تصدیق کرتے ۔
وہی ہے کہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے (ف۲٦) اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اتارتا ہے (ف۲۷) اور نصیحت نہیں مانتا (ف۲۸) مگر جو رجوع لائے (ف۲۹)
It is He Who shows you His signs, and sends down sustenance from the sky for you; and none accept guidance except those who incline (towards Him).
वही है कि तुम्हें अपनी निशानियाँ दिखाता है और तुम्हारे लिए आसमान से रोज़ी उतारता है और नसीहत नहीं मानता मगर जो रजू’ लाए
Wohi hai ke tumhein apni nishaniyan dikhata hai aur tumhare liye aasman se rozi utaarta hai aur naseehat nahi maanta magar jo raju laaye
(ف26)یعنی اپنی مصنوعات کے عجائب جو اس کے کمالِ قدرت پر دلالت کرتے ہیں مثل ہوا اور بادل اور بجلی وغیرہ کے ۔(ف27)مینہ برسا کر ۔(ف28)اور ان نشانیوں سے پند پذیر نہیں ہوتا ۔(ف29)تمام امور میں اللہ تعالٰی کی طرف اور شرک سے تائب ہو ۔
بلند درجے دینے والا (ف۳۱) عرش کا مالک ایمان کی جان وحی ڈالتا ہے اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہے (ف۳۲) کہ وہ ملنے کے دن سے ڈرائے (ف۳۳)
Bestower of High Ranks, Owner of the Throne; it is He Who instils the spirit of faith into the one He wills among His bondmen, in order that he may warn of the Day of Meeting. –
बुलंद दर्जे देने वाला अर्श का मालिक ईमान की जान वही डालता है अपने हुक्म से अपने बंदों में जिस पर चाहे कि वह मिलने के दिन से डराए
Buland darje dene wala Arsh ka malik iman ki jaan wahi daalta hai apne hukm se apne bandon mein jis par chahe ke woh milne ke din se daraaye
(ف31)انبیاء و اولیاء و علماء کو جنّت میں ۔ (ف32)یعنی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے منصبِ نبوّت عطا فرماتا ہے اور جس کو نبی بناتا ہے اس کا کام ہوتا ہے ۔(ف33)یعنی خَلقِ خدا کو روزِ قیامت کا خوف دلائے جس دن اہلِ آسمان اوراہلِ زمین اور اوّلین و آخرین ملیں گے اور روحیں جسموں سے اور ہر عمل کرنے والا اپنے عمل سے ملے گا۔
جس دن وہ بالکل ظاہر ہوجائیں گے (ف۳٤) اللہ پر ان کا کچھ حال چھپا نہ ہوگا (ف۳۵) آج کسی کی بادشاہی ہے (ف۳٦) ایک اللہ سب پر غا لب کی ، (ف۳۷)
A day when they will be fully exposed; nothing from their affairs will be hidden from Allah; “For whom is the kingship this day? For Allah, the One, the All Dominant.”
जिस दिन वे बिल्कुल ज़ाहिर हो जाएँगे अल्लाह पर उनका कुछ हाल छुपा न होगा आज किसी की बादशाही है एक अल्लाह सब पर ग़ालिब की,
Jis din woh bilkul zahir ho jaayenge Allah par un ka kuch haal chhupa na hoga aaj kisi ki badshahi hai ek Allah sab par ghalib ki,
(ف34)قبروں سے نکل کر اور کوئی عمارت یا پہاڑ اور چُھپنے کی جگہ اور آڑ نہ پائیں گے ۔(ف35)نہ اعمال ، نہ اقوال ، نہ دوسرے احوال اور اللہ تعالٰی سے تو کوئی چیز کبھی نہیں چُھپ سکتی لیکن یہ دن ایسا ہوگا کہ ان لوگوں کے لئے کوئی پردہ اور آڑ کی چیز نہ ہوگی جس کے ذریعہ سے وہ اپنے خیال میں بھی اپنے حال کو چُھپا سکیں اور خَلق کی فنا کے بعد اللہ تعالٰی فرمائے گا ۔(ف36)اب کوئی نہ ہوگا کہ جواب دے ۔ خود ہی جواب میں فرمائے گا کہ اللہ واحدِ قہّار کی ، اور ایک قول یہ ہے کہ روزِ قیامت جب تمام اوّلین و آخرین حاضر ہوں گے تو ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا آج کس کی بادشاہی ہے ؟ تمام خَلق جواب دے گی ' لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ'اللہ واحدِ قھّار کی ، جیسا کہ آگے ارشاد ہوتا ہے ۔(ف37)مومن تو یہ جواب بہت لذّت کے ساتھ عرض کریں گے کیونکہ وہ دنیا میں یہی اعتقاد رکھتے تھے ، یہی کہتے تھے اور اسی کی بدولت انہیں مرتبے ملے اور کفّار ذلّت و ندامت کے ساتھ اس کا اقرار کریں گے اور دنیا میں اپنے منکِر رہنے پر شرمندہ ہوں گے ۔
اور انہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے (ف۳۹) جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے (ف٤۰) غم میں بھرے، اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے (ف٤۱)
And warn them of the day of impending calamity, when hearts will rise up to the throats filled with grief; and the disbelievers will have neither any friend nor any intercessor who will be obeyed. (Intercession will be accepted only for the Muslims, not for the disbelievers)
और उन्हें डराओ इस नज़दीक आने वाली आफ़त के दिन से जब दिल गुलों के पास आएँगे ग़म में भरे, और ज़ालिमों का न कोई दोस्त न कोई सफ़ारशी जिसका कहा माना जाए
Aur unhein darao is nazdeek aane waali aafat ke din se jab dil gulo ke paas aa jaayenge gham mein bhare, aur zalimon ka na koi dost na koi safarshi jis ka kaha maana jaaye
(ف39)اس سے رو زِ قیامت مراد ہے ۔(ف40)شدّتِ خوف سے نہ باہر ہی نکل سکیں ، نہ اندر ہی اپنی جگہ واپس جاسکیں ۔(ف41)یعنی کافر شفاعت سے محروم ہوں گے ۔
اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے، اور اس کے سوا جن کو (ف٤٤) پوجتے ہیں وہ کچھ فیصلہ نہیں کرتے (ف٤۵) بیشک اللہ ہی سنتا اور دیکھتا ہے (ف٤٦)
And Allah renders the true judgement; and those whom they worship instead of Him do not judge at all; indeed Allah only, is the All Hearing, the All Seeing.
और अल्लाह सच्चा फ़ैसला फ़रमाता है, और उसके सिवा जिन को पूजते हैं वे कुछ फ़ैसला नहीं करते बेशक अल्लाह ही सुनता और देखता है
Aur Allah sachcha faisla farmaata hai, aur us ke siwa jin ko poojhte hain woh kuch faisla nahi karte beshak Allah hi sunta aur dekhta hai
(ف44)یعنی جن بتوں کو یہ مشرکین ۔(ف45)کیونکہ نہ وہ علم رکھتے ہیں ، نہ قدرت ، تو ان کی عبادت کرنا اور انہیں خدا کا شریک ٹھہرانا بہت ہی کُھلا باطل ہے ۔(ف46)اپنی مخلوق کے اقوال و افعال اور جملہ احوال کو ۔
تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان سے اگلوں کا (ف٤۷) ان کی قوت اور زمین میں جو نشانیاں چھوڑ گئے (ف٤۸) ان سے زائد تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا، اور اللہ سے ان کا کوئی بچانے والا نہ ہوا (ف٤۹) (۲
So did they not travel in the land in order to see what sort of fate befell those before them? Their strength and the signs they left behind in the earth, exceeded them – so Allah seized them on account of their sins, and they had no one to save them from Allah.
तो क्या उन्होंने ज़मीन में सफ़र न किया कि देखते कैसा अंज़ाम हुआ उनसे अगलों का उनकी क़ौत और ज़मीन में जो निशानियाँ छोड़ गए उनसे ज़्यादा तो अल्लाह ने उन्हें उनके गुनाहों पर पकड़ा, और अल्लाह से उनका कोई बचाने वाला न हुआ
To kya unho ne zameen mein safar na kiya ke dekhte kaisa anjaam hua un se aglon ka un ki quwat aur zameen mein jo nishaniyan chhod gaye un se zaid to Allah ne unhein un ke gunahon par pakda, aur Allah se un ka koi bachane wala na hua
(ف47)جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ۔(ف48)قلعے اور محل اور نہریں اور حوض اور بڑی بڑی عمارتیں ۔(ف49)کہ عذابِ الٰہی سے بچاسکتا ۔ عاقل کا کام ہے کہ دوسرے کے حال سے عبرت حاصل کرے اس عہدکے کافر یہ حالات دیکھ کر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ کیوں نہیں سوچتے کہ پچھلی قومیں ان سے زیادہ قوی و توانا اور صاحبِ ثروت و اقتدار ہونے کے باوجود اس عبرت ناک طریقہ پر تباہ کردی گئیں یہ کیوں ہوا ؟
یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے (ف۵۰) پھر وہ کفر کرتے تو اللہ نے انہیں پکڑا، بیشک اللہ زبردست عذاب والا ہے،(۳
This occurred because their Noble Messengers came to them with clear signs, thereupon they used to disbelieve, so Allah seized them; indeed Allah is All Powerful, Severe in Punishment.
यह इस लिए कि उनके पास उनके रसूल रोशन निशानियाँ लेकर आए फिर वे क़ुफ़्र करते तो अल्लाह ने उन्हें पकड़ा, बेशक अल्लाह ज़बरदस्त अज़ाब वाला है,
Ye is liye ke un ke paas un ke rasool roshan nishaniyan le kar aaye phir woh kufr karte to Allah ne unhein pakda, beshak Allah zabardast azaab wala hai,
پھر جب وہ ان پر ہمارے پاس سے حق لایا (ف۵۲) بولے جو اس پر ایمان لائے ان کے بیٹے قتل کرو اور عورتیں زندہ رکھو (ف۵۳) اور کافروں کا داؤ نہیں مگر بھٹکتا پھرتا (ف۵٤)
So when he brought the truth from Our presence to them, they said, “Kill the sons of those who believe in him, and keep their women alive”; and the evil scheme of the disbelievers only keeps wandering astray.
फिर जब वह उन पर हमारे पास से हक लाया बोले जो उस पर ईमान लाए उनके बेटे قتل करो और महिलाएँ ज़िंदा रखो और काफ़िरों का दांव नहीं मगर भटकता फिरता
Phir jab woh un par humare paas se haq laya bole jo us par iman laaye un ke betay qatal karo aur aurtein zinda rakho aur kaafiron ka daav nahi magar bhatkta phirta
(ف52)یعنی نبی ہو کر پیامِ الٰہی لائے تو فرعون اور فرعونی ۔(ف53)تاکہ لوگ حضرت موسٰی علیہ السلام کے اتباع سے باز آئیں ۔(ف54)کچھ بھی کار آمد نہیں ، بالکل نکمّا اور بے کار ، پہلے بھی فرعونیوں نے بحکمِ فرعون ہزار ہا قتل کئے مگر قضاءِ الٰہی ہو کر رہی اور حضرت موسٰی علیہ السلام کو پروردگارِ عالَم نے فرعون کے گھر بار میں پالا ، اس سے خدمتیں کرائیں ، جیسا وہ داؤں فرعونیوں کا بے کار گیا ایسے ہی اب ایمان والوں کو روکنے کے لئے پھر دوبارہ قتل شروع کرنا بے کار ہے ۔ حضرت موسٰی علی نبیّنا وعلیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کے دِین کا رواج اللہ تعالٰی کو منظور ہے اسے کون روک سکتا ہے ۔
اور فرعون بولا (ف۵۵) مجھے چھوڑو میں موسیٰ کو قتل کروں (ف۵٦) اور وہ اپنے رب کو پکارے (ف۵۷) میں ڈرتا ہوں کہیں وہ تمہارا دین بدل دے (ف۵۸) یا زمین میں فساد چمکائے (ف۵۹)
And said Firaun, “Allow me to kill Moosa and let him pray to his Lord; I fear that he will change your religion or cause chaos in the land!”
और फ़िरौन बोला मुझे छोड़ो मैं मूसा को قتل करूँ और वह अपने रब को पुकारे मैं डरता हूँ कहीं वह तुम्हारा दीन बदल दे या ज़मीन में फ़साद चमकाए
Aur Firun bola mujhe chhodo main Musa ko qatal karoon aur woh apne Rab ko pukare main darta hoon kahin woh tumhara deen badal de ya zameen mein fasaad chamkaaye
(ف55)اپنے گروہ سے ۔(ف56)فرعون جب کبھی حضرت موسٰی علیہ السلام کے قتل کرنے کا ارادہ کرتا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو اس سے منع کرتے اور کہتے کہ یہ وہ شخص نہیں ہے جس کا تجھے اندیشہ ہے یہ تو ایک معمولی جادوگر ہے ، اس پر تو ہم اپنے جادو سے غالب آجائیں گے ، اور اگر اس کو قتل کردیا تو عام لوگ شبہ میں پڑ جائیں گے کہ وہ شخص سچّا تھا ، حق پر تھا ، تو دلیل سے اس کا مقابلہ کرنے میں عاجز ہوا ، جواب نہ دے سکا تو تو نے اسے قتل کردیا ۔ لیکن حقیقت میں فرعون کا یہ کہنا کہ مجھے چھوڑ دو میں موسٰی کو قتل کروں خالص دھمکی ہی تھی ، اس کو خود آپ کے نبیِ برحق ہونے کا یقین تھا اور وہ جانتا تھا کہ جو معجزات آپ لائے ہیں وہ آیاتِ الٰہیہ ہیں ، سِحر نہیں لیکن یہ سمجھتا تھا کہ اگر آپ کے قتل کا ارادہ کرے گا تو آپ اس کو ہلاک کرنے میں جلدی فرمائیں گے ، اس سے یہ بہتر ہے کہ طولِ بحث میں زیادہ وقت گزار دیا جائے اگر فرعون اپنے دل میں آپ کو نبیِ برحق نہ سمجھتا اور یہ نہ جانتا کہ ربّانی تائیدیں جو آپ کے ساتھ ہیں ان کا مقابلہ ناممکن ہے تو آپ کے قتل میں ہر گز تأمّل نہ کرتا کیونکہ وہ بڑا خونخوار ، سفّاک ، ظالم ، بیدرد تھا ، ادنٰی سی بات میں ہزار ہا خون کر ڈالتا تھا ۔(ف57)جس کا اپنے آپ کو رسول بتاتا ہے تاکہ اس کا رب اس کو ہم سے بچائے ۔ فرعون کا یہ مقولہ اس پر شاہد ہے کہ اس کے دل میں آپ کا اور آپ کی دعاؤں کا خوف تھا وہ اپنے دل میں آپ سے ڈرتا تھا ظاہری عزّت بنی رکھنے کے لئے یہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ قوم کے منع کرنے کے باعث حضرت موسٰی علیہ السلام کو قتل نہیں کرتا ۔(ف58)اور تم سے فرعون پرستی بت چھڑادے ۔(ف59)جدال و قتال کرکے ۔
اور موسیٰ نے (ف٦۰) کہا میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر متکبر سے کہ حساب کے دن پر یقین نہیں لاتا (ف٦۱)
Said Moosa, “I seek the refuge of mine and your Lord, from every haughty person who does not believe in the Day of Reckoning.”
और मूसा ने कहा मैं तुम्हारे और अपने रब की पनाह लेता हूँ हर मटकबर से कि हिसाब के दिन पर यक़ीन नहीं लाता
Aur Musa ne kaha main tumhare aur apne Rab ki panah leta hoon har mutakabbir se ke hisaab ke din par yaqeen nahi laata
(ف60)فرعون کی دھمکیاں سن کر ۔ (ف61)حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرعون کی سختیوں کے جواب میں اپنی طرف سےکوئی کلمہ تعلِّی کا نہ فرمایا بلکہ اللہ تعالٰی سے پناہ چاہی اور اس پر بھروسہ کیا، یہی خدا شناسوں کا طریقہ ہے اور اسی لئے اللہ تعالٰی نے آپ کو ہر ایک بَلا سے محفوظ رکھا ، ان مبارک جملوں میں کیسی نفیس ہدایتیں ہیں ، یہ فرمانا کہ میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں اور اس میں ہدایت ہے ، رب ایک ہی ہے ، یہ بھی ہدایت ہے کہ جو اس کی پناہ میں آئے اس پر بھروسہ کرے اور وہ اس کی مدد فرمائے کوئی اس کو ضرر نہیں پہنچاسکتا ۔ یہ بھی ہدایت ہے کہ اسی پر بھروسہ کرنا شانِ بندگی ہے اور تمہارے رب فرمانے میں یہ بھی ہدایت ہی کہ اگر تم اس پر بھروسہ کرو تو تمہیں بھی سعادت نصیب ہو ۔
اور بولا فرعون والوں میں سے ایک مرد مسلمان کہ اپنے ایمان کو چھپاتا تھا کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور بیشک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے لائے ( ف٦۲) اور اگر بالفرض وہ غلط کہتے ہیں تو ان کی غلط گوئی کا وبال ان پر، اور اگر وہ سچے ہیں تو تمہیں پہنچ جائے گا کچھ وہ جس کا تمہیں وعدہ دیتے ہیں (ف٦۳) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہو (ف٦٤)
And said a Muslim man from the people of Firaun, who used to hide his faith, “What! You want to kill a man just because he says, ‘Allah is my Lord’ whereas he has indeed brought clear signs to you from your Lord? And supposedly if he is speaking wrongly, then the calamity of wrongful speech is upon him; and if he is truthful, then part of what he promises you will reach you; indeed Allah does not guide any transgressor, excessive liar.”
और बोला फ़िरौन वालों में से एक मर्द मुसलमान कि अपने ईमान को छुपाता था क्या एक मर्द को इस पर मारे डालते हो कि वह कहता है कि मेरा रब अल्लाह है और बेशक वह रोशन निशानियाँ तुम्हारे पास तुम्हारे रब की तरफ से लाए और अगर बलफ़र्ज़ वह ग़लत कहते हैं तो उनकी ग़लत गोई का वबाल उन पर, और अगर वे सच्चे हैं तो तुम्हें पहुँच जाएगा कुछ वह जिसका तुम्हें वादा देते हैं बेशक अल्लाह राह नहीं देता उसे जो हद से बढ़ने वाला बड़ा झूठा हो
Aur bola Firun walon mein se ek mard Musalman ke apne iman ko chhupata tha kya ek mard ko is par maar dalte ho ke woh kehta hai ke mera Rab Allah hai aur beshak woh roshan nishaniyan tumhare paas tumhare Rab ki taraf se laaye aur agar balfarz woh ghalat kehte hain to un ki ghalat goi ka wabaal un par, aur agar woh sache hain to tumhein pohanch jaayega kuch woh jiska tumhein wada dete hain beshak Allah raah nahi deta use jo had se badhne wala bada jhootha ho
(ف62)جن سے ان کا صدق ظاہر ہوگیا ، یعنی نبوّت ثابت ہوگئی ۔(ف63)مطلب یہ ہے کہ دو حال سے خالی نہیں یا یہ سچّے ہوں گے یا جھوٹے ، اگر جھوٹے ہوں تو ایسے معاملہ میں جھوٹ بول کر اس کے وبال سے بچ نہیں سکتے ، ہلاک ہوجائیں گے ۔ اور اگر سچّے ہیں تو جس عذاب کا تمہیں وعدہ دیتے ہیں اس میں سے بالفعل کچھ تمہیں پہنچ ہی جائے گا ۔ کچھ پہنچنا اس لئے کہا کہ آپ کا وعدۂِ عذاب دنیا و آخرت دونوں کو عام تھا اس میں سے بالفعل عذاب دینا ہی پیش آنا تھا ۔(ف64)کہ خدا پرجھوٹ باندھے ۔
اے میری قوم! آج بادشاہی تمہاری ہے اس زمین میں غلبہ رکھتے ہو (ف٦۵) تو اللہ کے عذاب سے ہمیں کون بچالے گا اگر ہم پر آئے فرعون بولا میں تو تمہیں وہی سمجھاتا ہوں جو میری سوجھ ہے (ف٦٦) اور میں تمہیں وہی بتاتا ہوں جو بھلائی کی راہ ہے،
“O my people! You now rule the earth, dominant; so who will save us from Allah’s punishment if it comes upon us?” Said Firaun, “I only explain to you what I think is correct, and I show you only the right path.”
ऐ मेरी क़ौम! आज बादशाही तुम्हारी है इस ज़मीन में ग़लिब रखते हो तो अल्लाह के अज़ाब से हमें कौन बचा लेगा अगर हम पर आए फ़िरौन बोला मैं तो तुम्हें वही समझाता हूँ जो मेरी सोज़ है और मैं तुम्हें वही बताता हूँ जो भलाई की राह है,
Aye meri qaum! Aaj badshahi tumhari hai is zameen mein ghalib rakhte ho to Allah ke azaab se hume kaun bacha lega agar hum par aaye Firun bola main to tumhein wahi samjhata hoon jo meri soojh hai aur main tumhein wahi batata hoon jo bhalai ki raah hai,
(ف65)یعنی مصر میں تو ایسا کام نہ کرو کہ اللہ تعالٰی کا عذاب آئے اگر اللہ تعالٰی کا عذاب آیا۔(ف66)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کو قتل کردینا ۔
جیسا دستور گزرا نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد اوروں کا (ف٦۹) اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں چاہتا (ف۷۰)
“Like the tradition of the people of Nooh, and Aad, and Thamud and others after them; and Allah does not will injustice upon bondmen.”
जैसा दस्तूर गुज़रा नूह की क़ौम और आद और समूद और उनके बाद और दूसरों का और अल्लाह बंदों पर ज़ुल्म नहीं चाहता
Jaisa dastoor guzra Nuh ki qaum aur Aad aur Samood aur un ke baad auron ka aur Allah bandon par zulm nahi chahta
(ف69)کہ انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کرتے رہے اور ہر ایک کو عذابِ الٰہی نے ہلاک کیا ۔(ف70)بغیر گناہ کے ان پر عذاب نہیں فرماتا اور بغیر اقامتِ حجّت کے ان کو ہلاک نہیں کرتا ۔
اور اے میری قوم میں تم پر اس دن سے ڈراتا ہوں جس دن پکار مچے گی (ف۷۱)
“O my people! I fear for you a day on which will be a great outcry!”
और ऐ मेरी क़ौम मैं तुम पर उस दिन से डराता हूँ जिस दिन पुकार मचेगी
Aur aye meri qaum main tum par is din se daraata hoon jis din pukar machegi
(ف71)وہ قیامت کا دن ہوگا ، قیامت کے دن کو یَوْمُ التَّنَاد یعنی پکار کا دن اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس روز طرح طرح کی پکاریں مچی ہوں گی ، ہر شخص اپنے سرگروہ کے ساتھ اور ہر جماعت اپنے امام کے ساتھ بلائی جائے گی، جنّتی دوزخیوں کو اور دوزخی جنّتیوں کو پکاریں گے ، سعادت و شقاوت کی ندائیں کی جائیں گی کہ فلاں سعید ہوا اب کبھی شقی نہ ہوگا اور فلاں شقی ہوگیا اب کبھی سعید نہ ہوگا اور جس وقت موت ذبح کی جائےگی اس وقت ندا کی جائے گی کہ اے اہلِ جنّت اب دوام ہے موت نہیں ہے اور اے اہلِ دوزخ اب دوام ہے موت نہیں ۔
اور بیشک اس سے پہلے (ف۷٤) تمہارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم ان کے لائے ہوئے سے شک ہی میں رہے، یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا تم بولے ہرگز اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا (ف۷۵) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے اسے جو حد سے بڑھنے والا شک لانے والا ہے (ف۷٦)
“And indeed Yusuf came to you with clear signs before this, thereupon you remained doubtful concerning what he had brought; to the extent that when he died, you said, ‘Allah will surely not send any Noble Messenger after him’”; this is how Allah sends astray whoever transgresses, is doubtful. –
और बेशक उससे पहले तुम्हारे पास यूसुफ़ रोशन निशानियाँ लेकर आए तो तुम उनके लाए हुए से शक ही में रहे, यहाँ तक कि जब उन्होंने निधन फ़रमाया तुम बोले हरगज़ अब अल्लाह कोई रसूल न भेजेगा अल्लाह यूंही गुमराह करता है उसे जो हद से बढ़ने वाला शक लाने वाला है
Aur beshak us se pehle tumhare paas Yusuf roshan nishaniyan le kar aaye to tum un ke laaye huye se shak hi mein rahe, yahaan tak ke jab unho ne inteqal farmaya tum bole harghaz ab Allah koi rasool na bheje ga Allah yunhi gumraah karta hai use jo had se badhne wala shak laane wala hai
(ف74)یعنی حضر ت موسٰی علیہ السلام سے قبل ۔(ف75)یہ بے دلیل بات تم نے یعنی تمہارے پہلوں نے خود گڑھی تاکہ حضرت یوسف علیہ ا لسلام کے بعد آنے والے انبیاء کی تکذیب کرو اور انہیں جھٹلاؤ تو تم کفر پر قائم رہے ، حضرت یوسف علیہ السلام کی نبوّت میں شک کرتے رہے اور بعد والوں کی نبوّت کے انکار کے لئے تم نے یہ منصوبہ بنالیا کہ اب اللہ تعالٰی کوئی رسول ہی نہ بھیجے گا ۔(ف76)ان چیزوں میں جن پر روشن دلیلیں شاہد ہیں ۔
وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں (ف۷۷) بغیر کسی سند کے، کہ انہیں ملی ہو، کس قدر سخت بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک اور ایمان لانے والوں کے نزدیک، اللہ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر (ف۷۸)
Those who dispute regarding the signs of Allah without any proof having come to them; how very disgusting this is, in the sight of Allah and in the sight of the believers! This is how Allah seals the entire heart of every haughty, rebellious person.
वह जो अल्लाह की आयतों में झगड़ा करते हैं बिना किसी सन्द के, कि उन्हें मिली हो, किस क़दर सख़्त बेज़ारी की बात है अल्लाह के नज़दीक और ईमान लाने वालों के नज़दीक, अल्लाह यूं ही महेर कर देता है मटकबर सर्ख़श के सारे दिल पर
Woh jo Allah ki aayaton mein jhagra karte hain baghair kisi sanad ke, ke unhein mili ho, kis qadar sakht bezari ki baat hai Allah ke nazdeek aur iman lane walon ke nazdeek, Allah yun hi mehr kar deta hai mutakabbir sarkash ke saare dil par
(ف77)انہیں جھٹلا کر ۔(ف78)کہ اس میں ہدایت قبول کرنے کا کوئی محل باقی نہیں رہتا ۔
کا ہے کے راستے آسمان کے تو موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے (ف۸۰) اور یونہی فرعون کی نگاہ میں اس کا برا کام (ف۸۱) بھلا کر دکھا گیا (ف۸۲) اور وہ راستے میں روکا گیا، اور فرعون کا داؤ (ف۸۳) ہلاک ہونے ہی کو تھا،(
“The routes of the heavens, in order to glance at the God of Moosa – and indeed I think he is a liar”; this is how the evil deeds of Firaun were made seeming good to him, and he was stopped from the path; and the evil scheme of Firaun was destined to be ruined.
का है के रास्ते आसमान के तू मूसा के ख़ुदा को झांक कर देखूँ और बेशक मेरे गुमान में तो वह झूठा है और यूंही फ़िरौन की निगाह में इसका बुरा काम भला कर दिखा गया और वह रास्ते में रोका गया, और फ़िरौन का दांव हलाक़ होने ही को था,
Ka hai ke raaste aasman ke tu Musa ke Khuda ko jhaank kar dekhoon aur beshak mere gumaan mein to woh jhootha hai aur yunhi Firun ki nigah mein iska bura kaam bhala kar dikha gaya aur woh raaste mein roka gaya, aur Firun ka daav halaak hone hi ko tha,
(ف80)یعنی موسٰی میرے سوا اور خدا بتانے میں ، اور یہ بات فرعون نے اپنی قوم کو فریب دینے کے لئے کہی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ معبودِ برحق صرف اللہ تعالٰی ہے اور فرعون اپنے آپ کو فریب کاری کے لئے معبود ٹھہراتا ہے ۔(اس واقعہ کا بیان سورۂِ قصص میں گزر چکا ہے)(ف81)یعنی اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک کرنا اور اس رسول کو جھٹلانا ۔(ف82)یعنی شیطانوں نے وسوسے ڈال کر اس کی برائیاں اس کی نظر میں بھلی کر دکھائیں ۔(ف83)جو حضرت موسٰی علیہ السلام کی آیات کو باطل کرنے کے لئے اس نے اختیار کیا ۔
اے میری قوم! یہ دنیا کا جینا تو کچھ برتنا ہی ہے (ف۸٤) اور بیشک وه پچھلا ہمیشہ رہنے کا گھر ہے ، (ف۸۵)
“O my people! The life of this world is just a brief usage, and indeed the next abode is one of everlasting stay.”
ऐ मेरी क़ौम! यह दुनिया का जीना तो कुछ बरतना ही है और बेशक वह पिछला हमेशा रहने का घर है,
Aye meri qaum! Ye duniya ka jeena to kuch bartna hi hai aur beshak woh pichla hamesha rehne ka ghar hai,
(ف84)یعنی تھوڑی مدّت کے لئے ناپائیدار نفع ہے جس کو بقا نہیں ۔(ف85)مراد یہ ہے کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی و جاودانی اور جاودانی ہی بہتر ۔ اس کے بعد نیک اور بداعمال اور ان کے انجام بتائے ۔
جو برُا کام کرے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اتنا ہی اور جو اچھا کام کرے مرد خواه عورت اور جو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بےگنتی رزق پائیں گے (ف۸۷)
“Whoever commits an evil deed will not be repaid except to the same extent; and whoever does good deeds, whether a man or a woman, and is a Muslim, will be admitted into Paradise, in which they will receive sustenance without account.”
जो बुरा काम करे तो उसे बदला न मिलेगा मगर इतना ही और जो अच्छा काम करे मर्द चाहे औरत और जो मुसलमान
तो वह जन्नत में दाख़िल किए जाएँगे वहाँ बेगिन्ती रज़क पाएँगे
Jo bura kaam kare to usay badla na milega magar itna hi aur jo acha kaam kare mard khwah aurat aur jo Musalman
To woh Jannat mein daakhil kiye jaayenge wahan be ginti rizq paayenge
(ف86)کیونکہ اعمال کی مقبولیّت ایمان پر موقوف ہے ۔(ف87)یہ اللہ تعالٰی کا فضلِ عظیم ہے ۔
مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ اللہ کا انکا کروں اور ایسے کو اس کا شریک کروں جو میرے علم میں نہیں، اور میں تمہیں اس عزت والے بہت بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں،
“You call me to disbelieve in Allah and ascribe such as partners to Him, regarding whom I do not have any knowledge – whereas I call you towards the Most Honourable, the Oft Forgiving!”
मुझे इस तरफ बुलाते हो कि अल्लाह का इनका करूँ और ऐसे को इसका शरीक करूँ जो मेरे इल्म में नहीं, और मैं तुम्हें उस इज़्ज़त वाले बहुत बख़्शने वाले की तरफ बुलाता हूँ,
Mujhe is taraf bulaate ho ke Allah ka inka karoon aur aise ko iska shareek karoon jo mere ilm mein nahi, aur main tumhein us izzat wale bohot bakhshne wale ki taraf bulaata hoon,
آپ ہی ثابت ہوا کہ جس کی طرف مجھے بلاتے ہو (ف۹۰) اسے بلانا کہیں کام کا نہیں دنیا میں نہ آخرت میں (ف۹۱) اور یہ ہمارا پھرنا اللہ کی طرف ہے (ف۹۲) اور یہ کہ حد سے گزرنے والے (ف۹۳) ہی دوزخی ہیں،
“So it is self evident that what you call me towards has no benefit being prayed to, either in this world or in the Hereafter, and that our return is towards Allah, and that the transgressors only are the people of the fire.”
आप ही साबित हुआ कि जिसकी तरफ मुझे बुलाते हो उसे बुलाना कहीं काम का नहीं दुनिया में न आख़िरत में और यह हमारा फिरना अल्लाह की तरफ है और यह कि हद से गुज़रने वाले ही दोज़खी हैं,
Aap hi sabit hua ke jis ki taraf mujhe bulaate ho use bulana kahin kaam ka nahi duniya mein na aakhirat mein aur ye hamara phirna Allah ki taraf hai aur ye ke had se guzarte wale hi dozkhi hain,
(ف90)یعنی بت کی طرف ۔(ف91)کیونکہ وہ جماد ، بے جان ہے ۔(ف92)وہی ہمیں جزا دے گا ۔(ف93)یعنی کافر ۔
تو جلد وہ وقت آتا ہے کہ جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اسے یاد کرو گے (ف۹٤) اور میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں، بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے (ف۹۵)
“And soon the time will come when you will remember what I now say to you; and I entrust my tasks to Allah; indeed Allah sees the bondmen.”
तो जल्द वह वक़्त आता है कि जो मैं तुमसे कह रहा हूँ, उसे याद करोगे और मैं अपने काम अल्लाह को सौंपता हूँ, बेशक अल्लाह बंदों को देखता है
To jald woh waqt aata hai ke jo main tum se keh raha hoon, use yaad karo ge aur main apne kaam Allah ko sonpata hoon, beshak Allah bandon ko dekhta hai
(ف94)یعنی نزولِ عذاب کے وقت تم میری نصیحتیں یاد کرو گے اور اس وقت کا یاد کرنا کچھ کام نہ دے گا ، یہ سن کر ان لوگوں نے اس مومن کو دھمکایا کہ اگر تو ہمارے دِین کی مخالفت کرے گا تو ہم تیرے ساتھ بُرے پیش آئیں گے ، اس کے جواب میں اس نے کہا ۔(ف95)اور ان کے اعمال و احوال کو جانتا ہے پھر وہ مومن ان میں سے نکل کر پہاڑ کی طرف چلا گیا اور وہاں نماز میں مشغول ہوگیا، فرعون نے ہزار آدمی اس کی جستجو میں بھیجے ، اللہ تعالٰی نے درندے اس کی حفاظت پر مامور کردیئے جو فرعونی اس کیطرف آیا درندوں نے اسے ہلاک کیا اور جو واپس گیا اور اس نے فرعون سے حال بیان کیا فرعون نے اس کو سولی دے دی تاکہ یہ حال مشہور نہ ہو ۔
تو اللہ نے اسے بچالیا ان کے مکر کی برائیوں سے (ف۹٦) اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آ گھیرا، (ف۹۷)
Therefore Allah saved him from the evils of their scheming, and an evil punishment enveloped the people of Firaun. –
तो अल्लाह ने उसे बचा लिया उनके मकर की बराइयों से और फ़िरौन वालों को बुरे अज़ाब ने आ घेरा,
To Allah ne use bacha liya un ke makar ki baraiyon se aur Firun walon ko bure azaab ne a ghera,
(ف96)اور اس نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے ساتھ ہو کر نجات پائی اگرچہ وہ فرعون کی قوم کا تھا ۔(ف97)دنیا میں تو یہ عذاب کہ وہ فرعون کے ساتھ غرق ہوگئے اور آخرت میں دوزخ ۔
آگ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں (ف۹۸) اور جس دن قیامت قائم ہوگی، حکم ہوگا فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو،
The fire – upon which they are presented morning and evening; and when the Last Day is established – “Put the people of Firaun into the most severe punishment.” (Punishment in the grave is proven by this verse.)
आ ग़ुस पर सुबह व शाम पेश किए जाते हैं और जिस दिन क़ियामत क़ायम होगी, हुक्म होगा फ़िरौन वालों को सख़्ततर अज़ाब में दाख़िल करो,
Aag jis par subah o shaam pesh kiye jaate hain aur jis din Qiyamat qayam hogi, hukm hoga Firun walon ko sakht tar azaab mein daakhil karo,
(ف98)اس میں جَلائے جاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہم نے فرمایا فرعونیوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے قالب میں ہر روز دو ۲مرتبہ صبح و شام آ گ پر پیش کی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آ گ تمہارا مقام ہے اور قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا ۔مسئلہ : اس آیت سے عذابِ قبر کے ثبوت پر استدلال کیا جاتا ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ ہر مرنے والے پر اس کا مقام صبح و شام پیش کیا جاتا ہے جنّتی پر جنّت کا اور دوزخی پر دوزخ کا اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تاآنکہ روزِ قیامت اللہ تعالٰی تجھ کو اس کی طرف اٹھائے ۔
اور (ف۹۹) جب وہ آگ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور ان سے کہیں گے جو بڑے بنتے تھے ہم تمہارے تابع تھے (ف۱۰۰) تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ گھٹا لوگے،
And when they will quarrel amongst themselves in the fire, those who were weak will say to those who sought greatness, “We were your followers, so will you reduce from us some of the punishment of the fire?”
और जब वे आग में बहम झगड़ेंगे तो कमज़ोर उनसे कहेंगे जो बड़े बनते थे हम तुम्हारे ताबे थे तो क्या तुम हम से आग का कोई हिस्सा घटा लोगे,
Aur jab woh aag mein baahum jhagdein ge to kamzor un se kahenge jo bade bante the hum tumhare taabey the to kya tum hum se aag ka koi hissa ghata loge,
(ف99)ذکر فرمائیے اے سیّدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی قوم سے جہنّم کے اندر کفّار کے آپس میں جھگڑنے کا حال کہ ۔(ف100)دنیا میں اور تمہاری بدولت ہی کافر بنے ۔
وہ تکبر والے بولے (ف۱۰۱) ہم سب آگ میں ہیں (ف۱۰۲) بیشک اللہ بندوں میں فیصلہ فرماچکا (ف۱۰۳)
Those who were proud will say, “We are all in the fire – indeed Allah has already passed the judgement among the bondmen.”
वे तकरबर वाले बोले हम सब आग में हैं बेशक अल्लाह बंदों में फ़ैसला फ़रमा चुका
Woh takabbur wale bole hum sab aag mein hain beshak Allah bandon mein faisla farma chuka
(ف101)یعنی کافروں کے سردار جواب دیں گے ۔(ف102)ہر ایک اپنی مصیبت میں گرفتار ، ہم میں سے کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا ۔(ف103)ایمانداروں کو اس نے جنّت میں داخل کردیا اور کافروں کو جہنّم میں ، جو ہونا تھا ہوچکا ۔
انہوں نے کہا کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں نہ لاتے تھے (ف۱۰۵) بولے کیوں نہیں (ف۱۰٦) بولے تو تمہیں دعا کرو (ف۱۰۷) اور کافروں کی دعا نہیں، مگر بھٹکتے پھرنے کو،
They said, “Is it not that your Noble Messengers used to come to you with clear signs?” They said, “Why not, surely yes!” They said, “Then you yourselves pray”; and the prayer of the disbelievers is nothing but astray.
उन्होंने कहा क्या तुम्हारे पास तुम्हारे रसूल निशानियाँ न लाते थे बोले क्यों नहीं बोले तो तुम्हें दुआ करो और काफ़िरों की दुआ नहीं, मगर भटकते फिरने को,
Unho ne kaha kya tumhare paas tumhare rasool nishaniyan na late the bole kyun nahi bole to tumhein dua karo aur kaafiron ki dua nahi, magar bhatakte phirne ko,
(ف105)کیا انہوں نے ظاہرمعجزات پیش نہ کئے تھے ؟ یعنی اب تمہارے لئے جائے عذر باقی نہ رہی ۔(ف106)یعنی کافر انبیاء کے تشریف لانے اور اپنے کفر کرنے کا اقرار کریں گے ۔(ف107)ہم کافر کے حق میں دعا نہ کریں گے اور تمہارا دعا کرنا بھی بےکار ہے ۔
بیشک ضرور ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گے اور ایمان والوں کی (ف۱۰۸) دنیا کی زندگی میں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (ف۱۰۹)
Indeed We will surely help Our Noble Messengers, and the believers, in the life of this world and on the day when the witnesses will be standing.
बेशक जरूर हम अपने रसूलों की मदद करेंगे और ईमान वालों की दुनिया की ज़िंदगी में और जिस दिन गवाह खड़े होंगे
Beshak zaroor hum apne rasoolon ki madad karein ge aur iman walon ki duniya ki zindagi mein aur jis din gawaah khade honge
(ف108)ان کو غلبہ عطا فرما کر اور حجّتِ قویّہ دے کر اور ان کے دشمنوں سے انتقام لے کر ۔(ف109)وہ قیامت کا دن ہے کہ ملائکہ رسولوں کی تبلیغ اور کفّار کی تکذیب کی شہادت دیں گے ۔
تم صبر کرو (ف۱۱٤) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۱۱۵) اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو (ف۱۱٦) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو (ف۱۱۷)
Therefore be patient (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), undoubtedly Allah’s promise is true, and seek forgiveness for the sins of your own people, and praising your Lord, proclaim His Purity morning and evening.
तुम सब्र करो बेशक अल्लाह का वादा सच्चा है और अपनों के गुनाहों की माफ़ी चाहो और अपने रब की तारीफ़ करते हुए सुबह और शाम उसकी पाकी बोलो
Tum sabr karo beshak Allah ka wada sachcha hai aur apnon ke gunahon ki maafi chaho aur apne Rab ki tareef karte hue subah aur shaam us ki paaki bolo
(ف114)اپنی قوم کی ایذا پر ۔(ف115)وہ آپ کی مدد فرمائے گا آپ کے دِین کو غالب کرے گا آپ کے دشمنوں کو ہلاک کرے گا ۔ کلبی نے کہا کہ آیتِ صبر آیتِ قتال سے منسوخ ہوگئی ۔(ف116)یعنی اپنی امّت کے ۔ (مدارک)(ف117)یعنی اللہ تعالٰی کی عبادت پر مداومت رکھو ۔ اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا اس سے پانچوں نمازیں مراد ہیں ۔
وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی سند کے جو انہیں ملی ہو (ف۱۱۸) ان کے دلوں میں نہیں مگر ایک بڑائی کی ہوس (ف۱۱۹) جسے نہ پہنچیں گے (ف۱۲۰) تو تم اللہ کی پناہ مانگو (ف۱۲۱) بیشک وہی سنتا دیکھتا ہے،
Those who dispute concerning the signs of Allah without any proof having come to them – in their hearts is nothing but a craving for greatness which they shall never achieve; therefore seek the refuge of Allah; indeed He only is the All Hearing, the All Seeing.
वह जो अल्लाह की आयतों में झगड़ा करते हैं बिना किसी सन्द के जो उन्हें मिली हो उनके दिलों में नहीं मगर एक बड़ी की होस जिसे न पहुँचेंगे तो तुम अल्लाह की पनाह मांगो बेशक वही सुनता देखता है,
Woh jo Allah ki aayaton mein jhagra karte hain baghair kisi sanad ke jo unhein mili ho un ke dilon mein nahi magar ek barai ki hosh jise na pohchenge to tum Allah ki panah maango beshak wahi sunta dekhta hai,
(ف118)ان جھگڑا کرنے والوں سے کفّارِ قریش مراد ہیں ۔(ف119)اور ان کا یہی تکبّر ان کے تکذیب و انکار اور کفر کے اختیار کرنے کا باعث ہوا کہ انہوں نے یہ گوارا نہ کیا کہ کوئی ان سے اونچا ہو ، اس لئے سیّدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عداوت کی بایں خیالِ فاسد کہ اگر آپ کو نبی مان لیں گے تو اپنی بڑائی جاتی رہے گی اور امّتی اورچھوٹا بننا پڑےگا اور ہوَس رکھتے ہیں بڑے بننے کی ۔(ف120)اور بڑائی میسّر نہ آئے گی بلکہ حضور کی مخالفت و انکار ان کے حق میں ذلّت اور رسوائی کا سبب ہوگا۔(ف121)حاسِدوں کے مَکر و کید سے ۔
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی (ف۱۲۲) لیکن بہت لوگ نہیں جانتے (ف۱۲۳)
Certainly the creation of the heavens and the earth is far greater than the creation of men, but most people do not know.
बेशक आसमानों और ज़मीन की पैदाइश आदमियों की पैदाइश से बहुत बड़ी लेकिन बहुत लोग नहीं जानते
Beshak aasmanon aur zameen ki paidaish Aadamon ki paidaish se bohot bari lekin bohot log nahi jaante
(ف122)یہ آیت منکِرینِ بعث کے رد میں نازل ہوئی ان پر حجّت قائم کی گئی کہ جب تم آسمان و زمین کی پیدائش پر باوجود ان کی اس عظمت اور بڑائی کے اللہ تعالٰی کو قادر مانتے ہو تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کردینا اس کی قدرت سے کیوں بعید سمجھتے ہو ۔(ف123)بہت لوگوں سے مراد یہاں کفّار ہیں اور ان کے انکارِبعث کا سبب ان کی بے علمی ہے کہ وہ آسمان و زمین کی پیدائش پر قادر ہونے سے بعث پر استدلال نہیں کرتے تو وہ مثل اندھے کے ہیں اور جو مخلوقات کے وجود سے خالق کی قدرت پر استدلال کرتے ہیں وہ مثل بینا کے ہیں ۔
اور اندھا اور انکھیارا برابر نہیں (ف۱۲٤) اور نہ وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بدکار (ف۱۲۵) کتنا کم دھیان کرتے ہو،
And the blind and the sighted are not equal – and neither are the believers who perform good deeds and the wicked equal; how very little do you ponder!
और अंधा और अँखियार बराबर नहीं और न वे जो ईमान लाए और अच्छे काम किए और बदकार कितना कम ध्यान करते हो,
Aur andha aur ankhiyaara barabar nahi aur na woh jo iman laaye aur ache kaam kiye aur badkaar kitna kam dhyaan karte ho,
(ف124)یعنی جاہل و عالِم یکساں نہیں ۔(ف125)یعنی مومنِ صالح اور بد کاریہ دونوں بھی برابر نہیں ۔
اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا (ف۱۲۷) بیشک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھینچتے (تکبر کرتے) ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر،
And your Lord proclaimed, “Pray to Me, I will accept; indeed those who stay conceited towards worshipping Me, will enter hell in disgrace."
और तुम्हारे रब ने फ़रमाया मुझ से दुआ करो मैं क़बूल करूँगा बेशक वह जो मेरी इबादत से ऊँचे खींचते (तकबर करते) हैं अंर्क़िब जहन्नम में जाएँगे ज़लील हो कर,
Aur tumhare Rab ne farmaya mujh se dua karo main qubool karoonga beshak woh jo meri ibadat se oonche kheenchte (takabbur karte) hain anqareeb Jahannum mein jaayenge zaleel ho kar,
(ف127)اللہ تعالٰی بندوں کی دعائیں اپنی رحمت سے قبول فرماتا ہے اور ان کے قبول کے لئے چند شرطیں ہیں ایک اخلاص دعا میں ، دوسرے یہ ہے کہ قلب غیر کی طرف مشغول نہ ہو ، تیسرے یہ کہ وہ دعا کسی امرِ ممنوع پر مشتمل نہ ہو ، چوتھے یہ کہ اللہ تعالٰی کی رحمت پر یقین رکھتا ہو ، پانچویں یہ کہ شکایت نہ کرے کہ میں نے دعا مانگی قبول نہ ہوئی جب ان شرطوں سے دعا کی جاتی ہے قبول ہوتی ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے یا تو اس کی مراد دنیا ہی میں اس کو جلد دے دی جاتی ہے یا آخرت میں اس کے لئے ذخیرہ ہوتی ہے یا اس کے گناہوں کا کَفّارہ کردیا جاتا ہے ۔ آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ دعا سے مراد عبادت ہے اور قرآنِ کریم میں دعا بمعنٰی عبادت بہت جگہ وارد ہے ۔ حدیث شریف میں ہے : 'اَلدُّعَآ ءُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ' (ابوداؤد و ترمذی) اس تقدیر پر آیت کے معنٰی یہ ہوں گے کہ تم میری عبادت کرومیں تمہیں ثواب دوں گا ۔
اللہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں آرام پاؤ اور دن بنایا آنکھیں کھولتا (ف۱۲۸) بیشک اللہ لوگوں پر فضل والا ہے لیکن بہت آدمی شکر نہیں کرتے،(
It is Allah Who created night for you so that you may gain rest in it, and the day giving sight; indeed Allah is Most Munificent towards mankind, but most people do not give thanks.
अल्लाह है जिसने तुम्हारे लिए रात बनाई कि उसमें आराम पाओ और दिन बनाया आंखें खोलता बेशक अल्लाह लोगों पर फ़ज़ल वाला है लेकिन बहुत आदमी शुकर नहीं करते,
Allah hai jis ne tumhare liye raat banai ke is mein aaraam pao aur din banaya aankhen kholta beshak Allah logon par fazl wala hai lekin bohot admi shukar nahi karte,
اللہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین ٹھہراؤ بنائی (ف۱۳۲) اور آسمان چھت (ف۱۳۳) اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں (ف۱۳٤) اور تمہیں ستھری چیزیں (ف۱۳۵) روزی دیں یہ ہے اللہ تمہارا رب، تو بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،(
It is Allah Who made for you the earth your resting place and the sky a canopy, and moulded you so gave you the best shape, and gave you pure things for sustenance; such is Allah, your Lord; so Most Auspicious is Allah, the Lord Of The Creation.
अल्लाह है जिसने तुम्हारे लिए ज़मीन ठहराव बनाई और आसमान छत और तुम्हारी तस्वीर की तो तुम्हारी सूर्तें अच्छी बनाई और तुम्हें सुथरी चीज़ें रोज़ी दी यह है अल्लाह तुम्हारा रब, तो बड़ी बरकत वाला है अल्लाह रब सारे जहान का,
Allah hai jis ne tumhare liye zameen thaharaav banai aur aasman chhat aur tumhari tasveer ki to tumhari soortein achi banai aur tumhein suthri cheezein rozi di ye hai Allah tumhara Rab, to bari barkat wala hai Allah Rab saare jahan ka,
(ف132)کہ وہ تمہاری قرار گاہ ہو زندگی میں بھی اور بعدِ موت بھی ۔(ف133)کہ اس کو مثل قبّہ کے بلند فرمایا ۔(ف134)کہ تمہیں راست قامت ، پاکیزہ رو ، متناسب الاعضاء کیا ، بہائم کی طرح نہ بنایا کہ اوندھے چلتے ۔(ف135)نفیس مآ کل و مشارب ۔
تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انہیں پوجوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۳۷) جبکہ میرے پاس روشن دلیلیں (ف۱۳۸) میرے رب کی طرف سے آئیں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں،
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I have been forbidden to worship those whom you worship besides Allah whilst clear proofs have come to me from my Lord; and I have been commanded to submit to the Lord Of The Creation.”
तुम फ़रमाओ मैं मना किया गया हूँ कि उन्हें पूजो जिन्हें तुम अल्लाह के सिवा पूजते हो जबकि मेरे पास रोशन दलीलें मेरे रब की तरफ से आईं और मुझे हुक्म हुआ कि रब अलअलमीन के हाज़िर गर्दन रखूँ,
Tum farmaao main mana kiya gaya hoon ke unhein pojo jinhein tum Allah ke siwa poojte ho jab ke mere paas roshan daleelain mere Rab ki taraf se aain aur mujhe hukm hua hai ke Rab-ul-Alameen ke huzoor gardan rakhoon,
(ف137)شانِ نزول :کفّارِ نابکار نے براہِ جہالت و گمراہی اپنے دِینِ باطل کی طرف حضورِ پُر نور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دعوت دی تھی اور آپ سے بت پرستی کی درخواست کی تھی ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف138)عقل و وحی کی توحید پر دلالت کرنے والی ۔
وہی ہے جس نے تمہیں (ف۱۳۹) مٹی سے بنایا پھر (ف۱٤۰) پانی کی بوند سے (ف۱٤۱) پھر خون کی پھٹک سے پھرتمہیں نکالتا ہے بچہ پھرتمہیں باقی رکھتا ہے کہ اپنی جوانی کو پہنچو (ف۱٤۲) پھر اس لیے کہ بوڑھے ہو اور تم میں کوئی پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے (ف۱٤۳) اور اس لیے کہ تم ایک مقرر وعدہ تک پہنچو (ف۱٤٤) اور اس لیے کہ سمجھو (ف۱٤۵)
It is He Who created you from clay, then from a drop of liquid, then from a clot of blood, and then brings you forth as a child, then keeps you alive for you to reach adulthood and then to become old; and some among you pass away earlier, and for you to reach an appointed term, and so that you may understand.
वही है जिसने तुम्हें मिट्टी से बनाया फिर पानी की बूँद से फिर ख़ून की फट्क से फिर तुम्हें निकालता है बच्चा फिर तुम्हें बाकी रखता है कि अपनी जवानी को पहुँचो फिर इस लिए कि बूढ़े हो और तुम में कोई पहले ही उठा लिया जाता है और इस लिए कि तुम एक मुक़र्रर वादा तक पहुँचो और इस लिए कि समझो
Wohi hai jis ne tumhein mitti se banaya phir paani ki boond se phir khoon ki phatak se phir tumhein nikalta hai bacha phir tumhein baaqi rakhta hai ke apni jawani ko pahuon phir is liye ke boorhe ho aur tum mein koi pehle hi utha liya jaata hai aur is liye ke tum ek muqarrar wada tak pahuon aur is liye ke samjho
(ف139)یعنی تمہارے اصل اور تمہارے جدِّ اعلٰی حضرت آدم علیہ السلام کو ۔(ف140)بعد حضرت آدم علیہ السلام کے ان کی نسل کو ۔(ف141)یعنی قطر ۂِ مَنی سے ۔(ف142)اور تمہاری قوّت کامل ہو ۔(ف143)یعنی بڑھاپے یا جوانی کو پہنچنے سے قبل ہی ، یہ اس لئے کیا کہ تم زندگانی کرو ۔(ف144)زندگانی کے وقتِ محدو د تک ۔ (ف145)دلائلِ توحید کو اور ایمان لاؤ ۔
وہی ہے کہ جِلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب کوئی حکم فرماتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہو جا جبھی وہ ہوجاتا ہے (ف۱٤٦)
It is He Who gives life and death; so whenever He wills a thing, He only says to it “Be” – it thereupon happens!
वही है कि जिलाता है और मारता है फिर जब कोई हुक्म फ़रमाता है तो उससे यही कहता है कि हो जा तभी वह हो जाता है
Wohi hai ke jilaata hai aur maarta hai phir jab koi hukm farmaata hai to us se yehi kehta hai ke ho ja tabhi woh ho jaata hai
(ف146)یعنی اشیاء کا وجود اس کے ارادہ کا تابع ہے کہ اس نے ارادہ فرمایا اور شے موجود ہوئی ، نہ کوئی کلفت ہے ، نہ مشقّت ہے ، نہ کسی سامان کی حاجت ، یہ اس کے کمالِ قدرت کا بیان ہے ۔
وہ جنہوں نے جھٹلائی کتاب (ف۱٤۹) اور جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا ، (ف۱۵۰) وہ عنقریب جان جائیں گے (ف۱۵۱)
Those who denied the Book and what We sent with Our Noble Messengers; so they will soon come to know. –
वे जिन्होंने झुठलाई किताब और जो हमने अपने रसूलों के साथ भेजा, वे अंर्क़िब जान जाएँगे
Woh jinho ne jhutlai kitaab aur jo hum ne apne rasoolon ke saath bheja, woh anqareeb jaan jaayenge
(ف149)یعنی کفّار جنہو ں نے قرآن شریف کی تکذیب کی ۔(ف150)اس کی بھی تکذیب کی اور اس کے رسولوں کے ساتھ جو چیز بھیجی ، اس سے مراد یا تو وہ کتابیں ہیں جو پہلے رسول لائے یا وہ عقائدِ حقّہ جو تمام انبیاء نے پہنچائے مثل توحیدِ الٰہی اور بعث بعدِ موت کے ۔(ف151)اپنی تکذیب کا انجام ۔
اللہ کے مقابل، کہیں گے وہ تو ہم سے گم گئے (ف۱۵۵) بلکہ ہم پہلے کچھ پوجتے ہی نہ تھے (ف۱۵٦) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے کافروں کو،
“As rivals to Allah?”; they will say, “We have lost them – in fact we never used to worship anything before!”; this is how Allah sends the disbelievers astray.
अल्लाह के मुकाबले, कहेंगे वे तो हम से ग़म गए बल्कि हम पहले कुछ पूजते ही न थे अल्लाह यूंही गुमराह करता है काफ़िरों को,
Allah ke muqaable, kahenge woh to hum se gum gaye balkeh hum pehle kuch poojte hi na the Allah yunhi gumraah karta hai kaafiron ko,
(ف155)کہیں نظر ہی نہیں آتے ۔(ف156)بتوں کی پرستش کا انکار کرجائیں گے ، پھر بت حاضر کئے جائیں گے اور کفّار سے فرمایا جائے گا کہ تم اور تمہارے یہ معبود سب جہنّم کا ایندھن ہو ، بعض مفسّرین نے فرمایا :کہ جہنّمیوں کا یہ کہنا کہ ہم پہلے کچھ پوجتے ہی نہ تھے اس کے یہ معنٰی ہیں کہ اب ہمیں ظاہر ہوگیا کہ جنہیں ہم پوجتے تھے وہ کچھ نہ تھے کہ کوئی نفع یا نقصان پہنچاسکتے ۔
تو تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ (ف۱٦۰) سچا ہے، تو اگر ہم تمہیں دکھا دیں (ف۱٦۱) کچھ وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۱٦۲) یا تمہیں پہلے ہی وفات دیں بہرحال انہیں ہماری ہی طرف پھرنا (ف۱٦۳)
Therefore be patient (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), undoubtedly Allah’s promise is true; and whether We show some of what We promise them, or cause you to pass away before it – in any case they will return to Us.
तो तुम सब्र करो बेशक अल्लाह का वादा सच्चा है, तो अगर हम तुम्हें दिखा दें कुछ वह चीज़ जिसका उन्हें वादा दिया जाता है या तुम्हें पहले ही वफ़ात दें बहरहाल उन्हें हमारी ही तरफ़ फिरना
To tum sabr karo beshak Allah ka wada sachcha hai, to agar hum tumhein dikha dein kuch woh cheez jis ka unhein wada diya jaata hai ya tumhein pehle hi wafaat dein baharhal unhein hamari hi taraf phirna
(ف160)کفّار پر عذاب فرمانے کا ۔(ف161)تمہاری وفات سے پہلے ۔(ف162)انواعِ عذاب سے مثل بدر میں مارے جانے کے جیسا کہ یہ واقع ہوا ۔(ف163)اور عذابِ شدید میں گرفتار ہونا۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے کہ جن میں کسی کا احوال تم سے بیان فرمایا (ف۱٦٤) اور کسی کا احوال نہ بیان فرمایا (ف۱٦۵) اور کسی رسول کو نہیں پہنچتا کہ کوئی نشانی لے آئے بےحکم خدا کے، پھر جب اللہ کا حکم آئے گا (ف۱٦٦) سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا (ف۱٦۷) اور باطل والوں کا وہاں خسارہ،
Indeed We sent many Noble Messengers before you, so We have related to you the affairs of some among them, and not related the affairs of some; and no Noble Messenger has the right to bring any sign except with the command of Allah; so the time when the command of Allah comes, the true judgement will be delivered and there will the people of falsehood be ruined.
और बेशक हमने तुमसे पहले कितने रसूल भेजे कि जिनमें किसी का अहवाल तुमसे बयान फ़रमाया और किसी का अहवाल न बयान फ़रमाया और किसी रसूल को नहीं पहुँचता कि कोई निशानी ले आए बहे हुक्म ख़ुदा के, फिर जब अल्लाह का हुक्म आएगा सच्चा फ़ैसला फ़रमा दिया जाएगा और बातिल वालों का वहाँ ख़सारा,
Aur beshak hum ne tum se pehle kitne rasool bheje ke jin mein kisi ka haal tum se bayan farmaaya aur kisi ka haal na bayan farmaaya aur kisi rasool ko nahi pohchenge ke koi nishani le aaye baghair hukm Khuda ke, phir jab Allah ka hukm aayega sachcha faisla farma diya jaayega aur baatil walon ka wahan khasara,
(ف164)اس قرآن میں صراحت کے ساتھ۔ (ف165)قرآن شریف میں تفصیلاً و صراحتہً ۔ (مرقاۃ) اور ان تمام انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالٰی نے نشانی اور معجزات عطا فرمائے اور ان کی قوموں نے ان سے مجادلہ کیا اور انہیں جھٹلایا ، اس پر ان حضرات نے صبر کیا ۔ اس تذکرہ سے مقصود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی ہے کہ جس طرح کے واقعات قوم کی طرف سے آپ کو پیش آرہے ہیں اور جیسی ایذائیں پہنچ رہی ہیں پہلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی حالات گزر چکے ہیں انہوں نے صبر کیا آپ بھی صبر فرمائیں ۔(ف166)کفّار پر عذاب نازل کرنے کی بابت ۔(ف167)رسولوں کے اور ان کی تکذیب کرنے والوں کے درمیان ۔
اور تمہارے لیے ان میں کتنے ہی فائدے ہیں (ف۱٦۸) اور اس لیے کہ تم ان کی پیٹھ پر اپنے دل کی مرادوں کو پہنچو (ف۱٦۹) اور ان پر (ف۱۷۰) اور کشتیوں پر (ف۱۷۱) سوار ہوتے ہو،
And in them are numerous benefits for you, and for you to reach your hearts’ desires while riding them – and you ride upon them and upon the ships.
और तुम्हारे लिए इनमें कितने ही फ़ायदे हैं और इस लिए कि तुम उनकी पीठ पर अपने दिल की मुरादों को पहुँचो और उन पर और कश्तियों पर सवार होते हो,
Aur tumhare liye un mein kitne hi faide hain aur is liye ke tum unki peeth par apne dil ki muradon ko pahuon aur un par aur kashtiyon par sawar hote ho,
(ف168)کہ ان کے دودھ اور اُون وغیرہ کام میں لاتے ہو اوران کی نسل سے نفع اٹھاتے ہو ۔(ف169)یعنی اپنے سفروں میں اپنے وزنی سامان ان کی پیٹھوں پر لاد کر ایک مقام سے دوسرے مقام پر لے جاتے ہو ۔(ف170)خشکی کے سفروں میں ۔(ف171)دریائی سفروں میں ۔
یا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا کیسا انجام ہوا، وہ ان سے بہت تھے (ف۱۷٤) اور ان کی قوت (ف۱۷۵) اور زمین میں نشانیاں ان سے زیادہ (ف۱۷٦) تو ان کے کیا کام آیا جو انہوں نے کمایا، (ف۱۷۷)
Did they not travel in the land to see what sort of fate befell those before them? They were more than these in number, and they exceeded them in strength and the signs they left behind in the earth – so what benefit did they get from what they earned?
क्या उन्होंने ज़मीन में सफ़र न किया कि देखते उनसे अगलों का कैसा अंज़ाम हुआ, वे उनसे बहुत थे और उनकी क़ौत और ज़मीन में निशानियाँ उनसे ज़्यादा तो उनके क्या काम आया जो उन्होंने कमाया,
Kya unho ne zameen mein safar na kiya ke dekhte un se aglon ka kaisa anjaam hua, woh un se bohot the aur un ki quwat aur zameen mein nishaniyan un se zyada to un ke kya kaam aaya jo unho ne kamayaa,
(ف174)تعداد ان کی کثیر تھی ۔(ف175)اور جسمانی طاقت بھی ان سے زیادہ تھی ۔(ف176)یعنی ان کے محل اور عمارتیں وغیرہ ۔(ف177)معنٰی یہ ہیں کہ اگر یہ لوگ زمین میں سفر کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ منکِرینِ متمرّ دین کا کیا انجام ہوا اور وہ کس طرح ہلاک و برباد ہوئے اور ان کی تعداد ان کے زور اور ان کے مال کچھ بھی ان کے کام نہ آسکے ۔
تو جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لائے، تو وہ اسی پر خوش رہے جو ان کے پاس دنیا کا علم تھا (ف۱۷۸) اور انہیں پر الٹ پڑا جس کی ہنسی بناتے تھے (ف۱۷۹)
So when their Noble Messengers came to them with clear signs, they remained happy over the worldly knowledge they possessed, and upon them only reverted what they used to mock at!
तो जब उनके पास उनके रसूल रोशन दलीलें लाए, तो वे उसी पर खुश रहे जो उनके पास दुनिया का इल्म था और उन्हें पर उलट पड़ा जिसकी हंसी बनाते थे
To jab un ke paas un ke rasool roshan daleelain laaye, to woh isi par khush rahe jo un ke paas duniya ka ilm tha aur unhein par ulat pada jis ki hansi banate the
(ف178)اور انہوں نے علمِ انبیاء کی طرف التفات نہ کیا ، اس کی تحصیل اور اس سے انتفاع کی طرف متوجّہ نہ ہوئے بلکہ اس کو حقیر جانا اور اس کی ہنسی بنائی اور اپنے دنیوی علم کو جو حقیقت میں جہل ہے ، پسند کرتے رہے ۔(ف179)یعنی اللہ تعالٰی کا عذاب ۔
تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا (ف۱۸۱) اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے (ف۱۸۲)
So their accepting of faith did not benefit them when they saw Our punishment; the tradition of Allah which has passed among His bondmen; and there were the disbelievers ruined.
तो उनके ईमान ने उन्हें काम न दिया जब उन्होंने हमारा अज़ाब देख लिया, अल्लाह का दस्तूर जो उसके बंदों में गुज़र चुका और वहाँ काफ़िर घाटे में रहे
To un ke iman ne unhein kaam na diya jab unho ne hamara azaab dekh liya, Allah ka dastoor jo us ke bandon mein guzar chuka aur wahan kaafir ghate mein rahe",
(ف181)یہی ہے کہ نزولِ عذاب کے وقت ایمان لانا نافع نہیں ہوتا ، اس وقت ایمان قبول نہیں کیا جاتا اور یہ بھی اللہ تعالٰی کی سنّت ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے والوں پر عذاب نازل کرتا ہے ۔(ف182)یعنی ان کا گھاٹا اور ٹوٹا اچھی طرح ظاہر ہوگیا ۔
حٰمٓ ۚ ﴿1﴾
حٰمٓ
Ha-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
ह़ाम्म़
Ha-Meem
تَنۡزِيۡلٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۚ ﴿2﴾
یہ اتارا ہے بڑے رحم والے مہربان کا،
This (Qur’an) is sent down from the Most Gracious, the Most Merciful.
اور بولے (ف٦) ہمارے دل غلاف میں ہیں اس بات سے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو (ف۷) اور ہمارے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۸) اور ہمارے اور تمہارے درمیان روک ہے (ف۹) تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کرتے ہیں (ف۱۰)
And they say, “Our hearts are covered against the affair you call us to, and there is deafness in our ears, and there is a barrier between us and you – therefore mind your own business, we are minding ours.”
और बोले हमारे दिल घ़लाफ में हैं इस बात से जिसकी तरफ तुम हमें बुलाते हो और हमारे कानों में टेंट (रुई) है और हमारे और तुम्हारे बीच रोक है तो तुम अपना काम करो हम अपना काम करते हैं
Aur bole humare dil ghilaf mein hain is baat se jis ki taraf tum humein bulate ho aur humare kaanon mein tent (rui) hai aur humare aur tumhare darmiyan rok hai to tum apna kaam karo hum apna kaam karte hain
(ف6)مشرکین حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ۔(ف7)ہم اس کو سمجھ ہی نہیں سکتے یعنی توحید و ایمان کو ۔(ف8)ہم بہرے ہیں ، آپ کی بات ہمارے سننے میں نہیں آتی ، اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ آپ ہم سے ایمان و توحید کے قبول کرنے کی توقّع نہ رکھئے ، ہم کسی طرح ماننے والے نہیں اور نہ ماننے میں ہم بمنزلۂِ اس شخص کے ہیں جو نہ سمجھتا ہو ، نہ سنتا ہو ۔(ف9)یعنی دینی مخالفت ، تو ہم آپ کی بات ماننے والے نہیں ۔(ف10)یعنی تم اپنے دِین پر رہو ، ہم اپنے دِین پر قائم ہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ تم سے ہمارا کام بگاڑنے کی جو کوشش ہوسکے وہ کرو ، ہم بھی تمہارے خلاف جو ہوسکے گا کریں گے ۔
تم فرماؤ (ف۱۱) آدمی ہونے میں تو میں تمہیں جیسا ہوں (ف۱۲) مجھے وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، تو اس کے حضور سیدھے رہو (ف۱۳) اور اس سے معافی مانگو (ف۱٤) اور خرابی ہے شرک والوں کو،
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Physically I am a human like you – I receive the divine revelation that your God is only One God, therefore be upright towards Him and seek forgiveness from Him”; and woe is to the polytheists. –
तुम फरमाओ आदमी होने में तो मैं तुम्हें जैसा हूँ मुझे वहि होती है कि तुम्हारा मआबूद एक ही मआबूद है, तो उसके हजूर सीधे रहो और उससे माफी मांगो और खराबी है शिर्क वालों को,
Tum farmaao aadmi hone mein to main tumhein jaisa hoon mujhe wahi hoti hai ke tumhara Ma’bood ek hi Ma’bood hai, to is ke huzoor seedhe raho aur is se maafi maango aur kharabi hai shirk walon ko,
(ف11)اے اکرمُ الخلق سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم براہِ تواضع ان لوگوں کے ارشادات و ہدایات کے لئے کہ ۔(ف12)ظاہر میں ، کہ میں دیکھا بھی جاتا ہوں ، میری بات بھی سنی جاتی ہے اور میرے تمہارے درمیان میں بظاہر کوئی جنسی مغایرت بھی نہیں ہے تو تمہار ایہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ میری بات نہ تمہارے دل تک پہنچے ، نہ تمہارے سننے میں آئے اور میرے تمہارے درمیان کوئی روک ہو ، بجائے میرے کوئی غیرِ جنس جن یا فرشتہ آتا تو تم کہہ سکتے تھے کہ نہ وہ ہمارے دیکھنے میں آئیں ، نہ ان کی بات سننے میں آئے ، نہ ہم ان کے کلام کو سمجھ سکیں ، ہمارے ان کے درمیان تو جنسی مخالفت ہی ، بڑی روک ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں کیونکہ میں بشری صورت میں جلوہ نما ہوا تو تمہیں مجھ سے مانوس ہونا چاہئے اور میرے کلام کے سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی بہت کوشش کرنا چاہئے کیونکہ میرا مرتبہ بہت بلند ہے اور میرا کلام بہت عالی ہے ، اس لئے میں وہی کہتا ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے ۔فائدہ : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بلحاظِ ظاہراَنَا بَشَرمِّثْلُکُمْ فرمانا حکمتِ ہدایت و ارشاد کے لئے بطریقِ تواضع ہے اور جو کلمات تواضع کے لئے کہے جائیں وہ تواضع کرنے والے کے علوِّ منصب کی دلیل ہوتے ہیں ، چھوٹوں کا ان کلمات کو اس کی شان میں کہنا یا اس سے برابری ڈھونڈھنا ترکِ ادب اور گستاخی ہوتا ہے تو کسی امّتی کو روا نہیں کہ وہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے مماثل ہونے کا دعوٰی کرے یہ بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ آپ کی بشریت بھی سب سے اعلٰی ہے ہماری بشریت کو اس سے کچھ بھی نسبت نہیں ۔(ف13)اس پر ایمان لاؤ ، اس کی ا طاعت اختیار کرو ، اس کی راہ سے نہ پھرو ۔(ف14)اپنے فسادِ عقیدہ و عمل کی ۔
وہ جو زکوٰة نہیں دیتے (ف۱۵) اور وہ آخرت کے منکر ہیں (ف۱٦)
Those who do not give the obligatory charity, and who deny the Hereafter.
वह जो ज़क़ात नहीं देते और वह आख़रत के मंकर हैं
Woh jo zakaat nahin dete aur woh aakhirat ke munkar hain
(ف15)یہ منعِ زکوٰۃ سے خوف دلانے کے لئے فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ زکوٰۃ کو منع کرنا ایسا بُرا ہے کہ قرآنِ کریم میں مشرکین کے اوصاف میں ذکر کیا گیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو مال بہت پیارا ہوتا ہے تو مال کا راہِ خدا میں خرچ کر ڈالنا اس کے ثُبات و استقلال اور صدق و اخلاصِ نیّت کی قوی دلیل ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ زکوٰۃ سے مراد ہے توحید کا معتقد ہونا اور'(لاالہ الا اللہ)'کہنا ، اس تقدیر پر معنٰی یہ ہوں گے کہ جو توحید کا اقرار کرکے اپنے نفسوں کو شرک سے باز نہیں رکھتے ۔ اور قتادہ نے اس کے معنٰی یہ لئے ہیں کہ جو لوگ زکوٰۃ کو واجب نہیں جانتے ۔ اس کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں ۔(ف16)کہ مرنے کے بعد اٹھنے اور جزا کے ملنے کے قائل نہیں ۔
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۱۷)
Indeed for those who believed and did good deeds, is a limitless reward.
बेशक जो ईमान लाए और अच्छे काम किए उनके लिए बे अंतहा सवाब है
Beshak jo iman laaye aur achhe kaam kiye un ke liye be inteha sawab hai
(ف17)جو منقطع نہ ہوگا ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت بیماروں ، اپاہجوں اور بوڑھوں کے حق میں نازل ہوئی جو عمل وطاعت کے قابل نہ رہیں ، انہیں وہی اجر ملے گا جو تندرستی میں عمل کرتے تھے ۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ جب بندہ کوئی عمل کرتا ہے اور کسی مرض یا سفر کے باعث وہ عامل اس عمل سے مجبور ہوجاتا ہے تو تندرستی اور اقامت کی حالت میں جو کرتا تھا ویسا ہی اس کے لئے لکھا جاتا ہے ۔
تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی (ف۱۸) اور اس کے ہمسر ٹھہراتے رہو (ف۱۹) وہ ہے سارے جہان کا رب (ف۲۰)
Say “What! You disbelieve in Him Who created the earth in two days, and you appoint equals to Him? He is the Lord Of The Creation!”
तुम फरमाओ क्या तुम लोग इसका इंकार रखते हो जिसने दो दिन में ज़मीन बनाई और इसके हमसरा ठहराते रहो वह है सारे जहान का रब
Tum farmaao kya tum log iska inkaar rakhte ho jis ne do din mein zameen banai aur is ke humsar thehrate raho woh hai saare jahan ka Rab
(ف18)اس کی ایسی قدرتِ کاملہ ہے اور چاہتا تو ایک لمحہ سے بھی کم میں بنادیتا ۔(ف19)یعنی شریک ۔(ف20)اور وہی عبادت کا مستحق ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ، سب اس کی مملوک و مخلوق ہیں ۔ اس کے بعد پھر اس کی قدرت کا بیان فرمایا جاتا ہے ۔
اور اس میں (ف۲۱) اس کے اوپر سے لنگر ڈالے (ف۲۲) (بھاری بوجھ رکھے) اور اس میں برکت رکھی (ف۲۳) اور اس میں اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملاکر چار دن میں (ف۲٤) ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو،
And in it He placed mountains as anchors from above it, and blessings in it, and appointed the sustenance for those who dwell in it – all this in four days; a proper answer to those who question.
और इसमें इसके ऊपर से लंगर डाले (भारी बोझ रखें) और इसमें बरकत रखी और इसमें इसके बसने वालों की रोज़ियां मुकर्रर कीं यह सब मिला कर चार दिन में ठीक जवाब पूछने वालों को,
Aur is mein is ke upar se langar daale (bhaari bojh rakhe) aur is mein barkat rakhi aur is mein is ke basne walon ki roziyan muqarrar kiin yeh sab mila kar chaar din mein theek jawab poochne walon ko,
(ف21)یعنی زمین میں ۔(ف22)پہاڑوں کے ۔(ف23)دریا اور نہریں اور درخت و پھل اور قِسم قِسم کے حیوانات وغیرہ پیدا کرکے ۔(ف24)یعنی دودن زمین کی پیدائش اور دو دن میں یہ سب ۔
پھر آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ دھواں تھا (ف۲۵) تو اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں حاضر ہو خوشی سے چاہے ناخوشی سے، دونوں نے عرض کی کہ ہم رغبت کے ساتھ حاضر ہوئے ،
He then inclined towards the heavens and it was smoke – thereupon He said to it and to the earth, “Both of you present yourselves, willingly or with reluctance”; they said, “We present ourselves, with zeal.”
फिर आसमान की तरफ क़सद फ़रमाया और वह धुआँ था तो उससे और ज़मीन से फ़रमाया कि दोनों हाज़िर हो खुशी से चाहे ना खुशी से, दोनों ने आरज़ की कि हम रग़बत के साथ हाज़िर हुए,
Phir aasman ki taraf qasd farmaaya aur woh dhuan tha to us se aur zameen se farmaaya ke dono haazir ho khushi se chahe na khushi se, dono ne arz ki ke hum raghbat ke saath haazir hue,
تو انہیں پورے سات آسمان کردیا دو دن میں (ف۲٦) اور ہر آسمان میں اسی کے کام کے احکام بھیجے (ف۲۷) اور ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۲۸) چراغوں سے آراستہ کیا (ف۲۹) اور نگہبانی کے لیے (ف۳۰) یہ اس عزت والے علم والے کا ٹھہرایا ہوا ہے،
He then established them into seven heavens in two days, and to each heaven He sent the command of its affairs; and We decorated the lower heaven with lamps; and for its protection; this is the command set by the Most Honourable, the All Knowing.
तो उन्हें पूरे सात आसमान कर दिया दो दिन में और हर आसमान में उसी के काम के अहकाम भेजे और हमने नीचे के आसमान को चरागों से आरास्ता किया और निगरबानी के लिए यह उस इज़्ज़त वाले इल्म वाले का ठहराया हुआ है,
To unhein poore saat aasman kar diya do din mein aur har aasman mein isi ke kaam ke ahkaam bheje aur hum ne neeche ke aasman ko charagho se aaraasta kiya aur nigarbani ke liye yeh is izzat wale ilm wale ka thehraya hua hai,
(ف26)یہ کل چھ دن ہوئے ، ان میں سب سے پچھلاجمعہ ہے ۔(ف27)وہاں کے رہنے والوں کو طاعات و عبادات و امرو نہی کے ۔ (ف28)جو زمین سے قریب ہے ۔(ف29)یعنی روشن ستاروں سے ۔(ف30)شیاطینِ مسترقہ سے ۔
جب رسول ان کے آگے پیچھے پھرتے تھے (ف۳۳) کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو ، بولے (ف۳٤) ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتارتا (ف۳۵) تو جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے (ف۳٦)
When their Noble Messengers approached them from front and from behind saying, "Do not worship any one except Allah"; they said, "If our Lord willed, He would surely have sent down angels – we therefore deny whatever you have been sent with.”
जब रसूल उनके आगे पीछे फرتे थे कि अल्लाह के सिवा किसी को न पूजो, बोले हमारा रब चाहता तो फ़रिश्ते उतारता तो जो कुछ तुम ले कर भेजे गए हम उसे नहीं मानते
Jab Rasool un ke aage peeche phirte the ke Allah ke siwa kisi ko na pojo, bole hamara Rab chahta to farishte utaarta to jo kuch tum le kar bheje gaye hum use nahin maante
(ف33)یعنی قو مِ عاد و ثمود کے رسول ہر طرف سے آتے تھے اور ان کی ہدایت کی ہر تدبیر عمل میں لاتے تھے اور انہیں ہر طرح نصیحت کرتے تھے ۔(ف34)ان کی قوم کے کافر ان کے جواب میں کہ ۔(ف35)بجائے تمہارے ، تم تو ہماری مثل آدمی ہو ۔(ف36)یہ خطاب ان کا حضرت ھوداور حضرت صالح اور تمام انبیاء سے تھا جنہوں نے ایمان کی دعوت دی ، امام بغوی نے باسنادِ ثعلبی حضرت جابر سے روایت کی کہ جماعتِ قریش نے جن میں ابوجہل وغیرہ سردار بھی تھے یہ تجویز کیا کہ کوئی ایسا شخص جو شعر ، سِحر ، کہا نت میں ماہر ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کلام کرنے کے لئے بھیجا جائے چنانچہ عتبہ بن ربیعہ کا انتخاب ہوا ، عتبہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے آکر کہا کہ آپ بہتر ہیں یا ہاشم ؟ آپ بہتر ہیں یا عبدالمطلب ؟ آپ بہتر ہیں یا عبداللہ؟ آپ کیوں ہمارے معبودوں کو بُرا کہتے ہیں ؟ کیوں ہمارے باپ دادا کو گمراہ بتاتے ہیں ؟ حکومت کا شوق ہو توہم آپ کو بادشاہ مان لیں ، آپ کے پھریریے اڑائیں ، عورتوں کا شوق ہو تو قریش کی جن لڑکیوں میں سے آپ پسند کریں ہم دس آپ کے عقد میں دیں ، مال کی خواہش ہو تو اتنا جمع کردیں جو آپ کی نسلوں سے بھی بچ رہے ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ تمام گفتگو خاموش سنتے رہے ، جب عتبہ اپنی تقریر کرکے خاموش ہوا تو حضورِ انور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے یہی سورت حٰمٓۤ سجدہ پڑھی ، جب آپ آیت'فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِثْلَ صَاعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ ' پر پہنچے تو عتبہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ حضور کے دہانِ مبارک پر رکھ دیا اور آپ کو رشتہ وقرابت کے واسطہ سے قَسم دلائی اور ڈر کر اپنے گھر بھاگ گیا ، جب قریش اس کے مکان پر پہنچے تو اس نے تمام واقعہ بیان کرکے کہا کہ خدا کی قَسم محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) جو کہتے ہیں نہ وہ شعر ہے ، نہ سِحر ہے ، نہ کہانت ، میں ان چیزوں کو خوب جانتا ہوں ، میں نے ان کا کلام سنا ، جب انہوں نے آیت 'فَاِنْ اَعْرَضُوْا 'پڑھی تو میں نے ان کے دہانِ مبارک پر ہاتھ رکھ دیا اور انہیں قَسم دی کہ بس کریں اور تم جانتے ہی ہو کہ وہ جو کچھ فرماتے ہیں وہی ہوجاتا ہے ، ان کی بات کبھی جھوٹی نہیں ہوتی ، مجھے اندیشہ ہوگیا کہ کہیں تم پر عذاب نازل نہ ہونے لگے ۔
تو وہ جو عاد تھے انہیں نے زمین میں ناحق تکبر کیا (ف۳۷) اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زور، اور کیا انہوں نے نہ جانا کہ اللہ جس نے انہیں بنایا ان سے زیادہ قوی ہے، اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،
So regarding the A’ad, they were haughty in the land without right, and they said, “Who is more powerful than us?” Did they not realise that Allah, Who created them, is more powerful than them? And they used to deny Our signs.
तो वह जो आद थे उन्हें ने ज़मीन में नाहक तक़बर किया और बोले हमसे ज्यादा किस का ज़ोर, और क्या उन्होंने न जाना कि अल्लाह जिसने उन्हें बनाया उनसे ज्यादा क़वी़ है, और हमारी आयतों का इंकार करते थे,
To woh jo A’ad the unhone zameen mein na-haq takabbur kiya aur bole hum se zyada kis ka zor, aur kya unhone na jana ke Allah jis ne unhein banaya un se zyada qawi hai, aur humari aayaton ka inkaar karte the,
(ف37)قو مِ عاد کے لوگ بڑے قوی اور شہ زور تھے ، جب حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں عذابِ الٰہی سے ڈرایا تو انہوں نے کہا ہم اپنی طاقت سے عذاب کو ہٹاسکتے ہیں ۔
تو ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی سخت گرج کی (ف۳۸) ان کی شامت کے دنوں میں کہ ہم انہیں رسوائی کا عذاب چکھائیں دنیا کی زندگی میں اور بیشک آخرت کے عذاب میں سب سے بڑی رسوائی ہے اور ان کی مدد نہ ہوگی،(
We therefore sent a violent thunderstorm towards them in their days of misfortune, in order to make them taste a disgraceful punishment in the life of this world; and indeed the punishment of the Hereafter is more disgracing, and they will not be helped.
तो हमने उन पर एक आंधी भेजी सख़्त गर्ज़ की उनकी शामत के दिनों में कि हम उन्हें रसवाई का अज़ाब चखाएँ दुनिया की ज़िंदगी में और बेशक आख़रत के अज़ाब में सबसे बड़ी रसवाई है और उनकी मदद न होगी,
To hum ne un par ek aandhi bheji sakht garaj ki un ki shamat ke dino mein ke hum unhein ruswaai ka azaab chakhayein duniya ki zindagi mein aur beshak aakhirat ke azaab mein sab se badi ruswaai hai aur unki madad na hogi,
اور رہے ثمود انہیں ہم نے راہ دکھائی (ف۳۹) تو انہوں نے سوجھنے پر اندھے ہونے کو پسند کیا (ف٤۰) تو انہیں ذلت کے عذاب کی کڑک نے آ لیا (ف٤۱) سزا ان کے کیے کی (ف٤۲)
And regarding the Thamud, We showed them the right path – so they chose to be blind above being guided, therefore the thunderbolt of the disgraceful punishment overcame them – the recompense of their deeds.
और रहे थमूद उन्हें हमने राह दिखाई तो उन्होंने सोज़ने पर अंधे होने को पसंद किया तो उन्हें ज़ुल्त के अज़ाब की करक ने आ लिया सज़ा उनके किए की
Aur rahe Thamood unhein hum ne raah dikhai to unhone soojhne par andhe hone ko pasand kiya to unhein zilat ke azaab ki kadak ne aa liya saza un ke kiye ki
(ف39)اور نیکی اور بدی کے طریقے ان پر ظاہر فرمائے ۔(ف40)اور ایمان کے مقابلہ میں کفر اختیار کیا ۔(ف41)اور ہولناک آواز کے عذاب سے ہلاک کئے گئے ۔(ف42)یعنی ان کے شرک و تکذیبِ پیغمبر اور معاصی کی ۔
اور وه اپنی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہم پر کیوں گواہی دی، وہ کہیں گی ہمیں اللہ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی اور اس نے تمہیں پہلی بار بنایا اور اسی کی طرف تمہیں پھرنا ہے،
And they will say to their skins, “Why did you testify against us?"; they will say, “Allah has made us talk, Who has given all things the power of speech, and it is He Who created you the first time, and it is to Him that you have to return.”
और वह अपनी खालों से कहेंगे तुम ने हम पर क्यों गवाही दी, वह कहेंगी हमें अल्लाह ने बुलवाया जिसने हर चीज़ को ग़वाई बख़्शी और उसने तुम्हें पहली बार बनाया और उसी की तरफ तुम्हें फिरना है,
Aur woh apni khaalon se kahenge tum ne hum par kyun gawahi di, woh kahengi humein Allah ne bulwaya jis ne har cheez ko gawai bakhshi aur us ne tumhein pehli baar banaya aur isi ki taraf tumhein phirna hai,
اور تم (ف٤۹) اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں (ف۵۰) لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا (ف۵۱)
And where could you hide from Him, so that your ears and your eyes and your skins may not testify against you? But you had assumed that Allah does not know most of your deeds!
और तुम इससे कहाँ छुप कर जाते कि तुम पर गवाही दें तुम्हारे कान और तुम्हारी आँखें और तुम्हारी खालें लेकिन तुम तो यह समझे बैठे थे कि अल्लाह तुम्हारे बहुत से काम नहीं जानता
Aur tum is se kahan chhup kar jaate ke tum par gawahi dein tumhare kaan aur tumhari aankhen aur tumhari khaalain lekin tum to yeh samjhe baithe the ke Allah tumhare bohot se kaam nahin jaanta
(ف49)گناہ کرتے وقت ۔(ف50)تمہیں تو اس کا گمان بھی نہ تھا بلکہ تم تو بعث و جزا کے سرے ہی سے قائل نہ تھے ۔(ف51)جو تم چُھپا کرکرتے ہو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ کفّار یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالٰی ظاہر کی باتیں جانتا ہے اور جو ہمارے دلوں میں ہے اس کو نہیں جانتا ۔ (معاذ اللہ)
اور ہم نے ان پر کچھ ساتھی تعینات کیے (ف۵٦) انہوں نے انہیں بھلا کردیا جو ان کے آگے ہے (ف۵۷) اور جو ان کے پیچھے (ف۵۸) اور ان پر بات پوری ہوئی (ف۵۹) ان گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے جن اور آدمیوں کے، بیشک وہ زیاں کار تھے،
And We appointed companions for them, who made what is before them and what is after them seem good to them, and the Word proved true upon them along with the groups of jinns and men who passed away before them; they were indeed losers.
और हमने उन पर कुछ साथी तय किए उन्होंने उन्हें भुला दिया जो उनके आगे है और जो उनके पीछे और उन पर बात पूरी हुई उन ग्रुपों के साथ जो उनसे पहले गुज़र चुके जिन और आदमियों के, बेशक वे ज़ियानकार थे,
Aur hum ne un par kuch saathi taayun kiye unhone unhein bhula diya jo un ke aage hai aur jo un ke peeche aur un par baat poori hui un groupon ke saath jo un se pehle guzar chuke jin aur aadmiyon ke, beshak woh ziyaankaar the,
(ف56)شیاطین میں سے ۔(ف57)یعنی دنیا کی زیب و زینت ، اور خواہشاتِ نفس کا اتباع ۔(ف58)یعنی امرِ آخرت ، یہ وسوسہ ڈال کر کہ نہ مرنے کے بعد اٹھنا ہے ، نہ حساب ، نہ عذاب ، چین ہی چین ہے ۔(ف59)عذاب کی ۔
اور کافر بولے (ف٦۰) یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بیہودہ غل کرو (ف٦۱) شاید یونہی تم غالب آؤ (ف٦۲)
And the disbelievers said, “Do not listen to this Qur’an and engulf it in noise – perhaps you may be victorious this way.”
और काफ़िर बोले यह कुरआन न सुनो और इसमें बेहुदा गल करो शायद यूंही तुम ग़ालिब आओ
Aur kaafir bole yeh Qur’ān na suno aur is mein behuda ghal karo shayad yunhi tum ghaalib aao
(ف60)یعنی مشرکینِ قریش ۔(ف61)اور شور مچاؤ ۔ کفّار ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ جب حضرت محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قرآن شریف پڑھیں تو زور زور سے شور کرو ، خوب چلاؤ ، اونچی اونچی آوازیں نکال کر چیخو ، بے معنٰی کلمات سے شور کرو ، تالیاں اور سیٹیاں بجاؤ تاکہ کوئی قرآن نہ سننے پائے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پریشان ہوں ۔(ف62)اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قراء ت موقوف کردیں ۔
اور کافر بولے (ف٦٤) اے ہمارے رب ہمیں دکھا وہ دونوں جن اور آدمی جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا کہ ہم انہیں اپنے پاؤں تلے ڈالیں (ف٦٦) کہ وہ ہر نیچے سے نیچے رہیں (ف٦۷)
And the disbelievers said, “Our Lord! Show us both – among jinns and men – who misled us, for us to put them beneath our feet so that they be the lowest of the low.”
और काफ़िर बोले ऐ हमारे रब हमें दिखा वह दोनों जिन और आदम जिन्होंने हमें गुमराह किया कि हम उन्हें अपने पाँव तले डालें कि वे हर नीचे से नीचे रहें
Aur kaafir bole ae humare Rab humein dikha woh dono jin aur aadmi jinhone humein gumrah kiya ke hum unhein apne paon tale daalein ke woh har neeche se neeche rahen
(ف64)جہنّم میں ۔(ف65)یعنی ہمیں وہ دونوں شیطان دکھا جِنِّی بھی اور انسی بھی ، شیطان دو قسم کے ہوتے ہیں ایک جنّوں میں سے ، ایک انسانوں میں سے جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ ، جہنّم میں کفّار ان دونوں کے دیکھنے کی خواہش کریں گے ۔(ف66)آ گ میں ۔(ف67)درکِ اسفل میں ہم سے زیادہ سخت عذاب میں ۔
بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے (ف٦۸) ان پر فرشتے اترتے ہیں (ف٦۹) کہ نہ ڈرو (ف۷۰) اور نہ غم کرو (ف۷۱) اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا (ف۷۲)
Indeed those who said, “Allah is our Lord” and remained firm upon it – upon them descend the angels, (saying), “Do not fear nor grieve, and be happy for the Paradise which you are promised.”
बेशक वे जिन्होंने कहा हमारा रब अल्लाह है फिर उस पर कायम रहे उन पर फ़रिश्ते उतरते हैं कि न डरो और न ग़म करो और खुश हो उस जन्नत पर जिसका तुम्हें वादा दिया जाता था
Beshak woh jinhone kaha hamara Rab Allah hai phir us par qaaim rahe un par farishte utarte hain ke na daro aur na gham karo aur khush ho us jannat par jiska tumhein wada diya jaata tha
(ف68)حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے دریافت کیا گیا استقامت کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا استقامت یہ ہے کہ امرونہی پر قائم رہے ۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا استقامت یہ ہے کہ عمل میں اخلاص کرے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا استقامت یہ ہے کہ فرائض ادا کرے ۔ اور استقامت کے معنٰی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی کے امر کو بجالائے اور معاصی سے بچے ۔(ف69)موت کے وقت یا وہ جب قبروں سے اٹھیں گے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مومن کو تین بار بشارت دی جاتی ہے ایک وقتِ موت ، دوسرے قبر میں ، تیسرے قبروں سے اٹھنے کے وقت ۔(ف70)موت سے اور آخرت میں پیش آنے والے حالات سے ۔(ف71)اہلِ اولاد کے چھوٹنے کا یا گناہوں کا ۔(ف72)اور فرشتے کہیں گے ۔
اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے (ف۷٦) اور نیکی کرے (ف۷۷) اور کہے میں مسلمان ہوں (ف۷۸)
And whose speech is better than one who calls towards his Lord and does righteous deeds, and says, “I am a Muslim.”?
और इससे ज्यादा किस की बात अच्छी जो अल्लाह की तरफ बुलाए और नेक़ी करे और कहे मैं मुस्लिम हूँ
Aur is se zyada kis ki baat achhi jo Allah ki taraf bulaaye aur neki kare aur kahe main Musalman hoon
(ف76)اس کی توحید و عبادت کی طرف ۔ کہا گیا ہے کہ اس دعوت دینے والے سے مراد حضور سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مومن مراد ہے جس نے نبی علیہ السلام کی دعوت کو قبول کیا اور دوسروں کو نیکی کی دعوت دی ۔(ف77)شانِ نزول : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھانے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ آیت مؤذّنوں کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جو کوئی کسی طریقہ پر بھی اللہ تعالٰی کی طرف دعوت دے وہ اس میں داخل ہے ۔ دعوت الَی اللہ کے کئی مرتبے ہیں اوّل دعوتِ انبیاء علیہ الصلٰوۃ والسلام معجزات اور حجج و براہین و سیف کے ساتھ، یہ مرتبہ انبیاء ہی کے ساتھ خاص ہے ۔ دوّم دعوتِ علماء فقط حجج و براہن کے ساتھ، اور علماء کئی طرح کے ہیں ایک عالِم باللہ ، دوسرے عالِم بصفاتِ اللہ ، تیسرے عالِم باحکامِ اللہ ۔ مرتبۂِ سوم دعوتِ مجاہدین ہے یہ کفّار کو سیف کے ساتھ ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ دِین میں داخل ہوں اور طاعت قبول کرلیں ۔ مرتبۂِ چہارم مؤذنین کی دعوت نماز کے لئے ، عملِ صالح کی دو قِسم ہے ایک وہ جو قلب سے ہو ، وہ معرفتِ الٰہی ہے ، دوسرے جو اعضاء سے ہو تو وہ تمام طاعات ہیں ۔(ف78)اور یہ فقط قول نہ ہو بلکہ دِینِ اسلام کا دل سے معتقد ہو کر کہے کہ سچّا کہنا یہی ہے ۔
اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی، اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال (ف۷۹) جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست (ف۸۰)
And the good deed and the evil deed will never be equal; O listener! Repel the evil deed with a good one, thereupon the one between whom and you was enmity, will become like a close friend.
और नेक़ी और बदी बराबर न हो जाएंगी, ऐ सुनने वाले बुराई को भलाई से टाल जबही वह कि तुझ में और इसमें दुश्मनी थी ऐसा हो जाएगा जैसा कि गहरा दोस्त
Aur neki aur badi barabar na ho jaayengi, ae sunne wale burai ko bhalai se taal jabhi woh ke tujh mein aur is mein dushmani thi aisa ho jaayega jaisa ke gehra dost
(ف79)مثلاً غصّہ کو صبر سے ، اور جہل کو حلم سے ، بدسلوکی کو عفو سے کہ اگر تیرے ساتھ کوئی برائی کرے تو معاف کر ۔(ف80)یعنی اس خصلت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن دوستوں کی طرح محبّت کرنے لگیں گے ۔شانِ نزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کے حق میں نازل ہوئی کہ باوجود ان کی شدّتِ عداوت کے نبی کریم نے ان کے ساتھ سلوکِ نیک کیا ، ان کی صاحب زادی کو اپنی زوجیّت کا شرف عطا فرمایا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صادقُ المحبّت ، جان نثار ہوگئے ۔
اور اگر تجھے شیطان کا کوئی کونچا (تکلیف) پہنچے (ف۸۲) تو اللہ کی پناہ مانگ (ف۸۳) بیشک وہی سنتا جانتا ہے،
And O listener! If a distracting thought from the devil reaches you, seek the refuge of Allah; indeed He is the All Hearing, the All Knowing.
और अगर तुम्हें शैतान का कोई कौनचा (तकलीफ़) पहुँचे तो अल्लाह की पनाह माँग बेशक वही सुनता जानता है,
Aur agar tumhein shaitaan ka koi koncha (takleef) pohche to Allah ki panah maang beshak wahi sunta jaanta hai,
(ف82)یعنی شیطان تجھ کوبرائیوں پر ابھارے اور اس خصلتِ نیک سے اور اس کے علاوہ اور نیکیوں سے منحرف کرے ۔(ف83)اس کے شر سے اور اپنی نیکیوں پر قائم رہ ، شیطان کی راہ نہ اختیار کر ، اللہ تعالٰی تیری مدد فرمائے گا ۔
اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں رات اور دن اور سورج اور چاند (ف۸٤) سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو (ف۸۵) اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا (ف۸٦) اگر تم اس کے بندے ہو،
And the night, and the day, and the sun, and the moon are among His signs; do not prostrate for the sun or the moon, but prostrate for Allah Who has created them, if you are His bondmen.
और उसकी निशानियों में से हैं रात और दिन और सूरज और चाँद सिज़्दह न करो सूरज को और न चाँद को और अल्लाह को सिज़्दह करो जिसने उन्हें पैदा किया अगर तुम उसके बंदे हो,
Aur is ki nishaniyon mein se hain raat aur din aur sooraj aur chaand sajda na karo sooraj ko aur na chaand ko aur Allah ko sajda karo jis ne unhein paida kiya agar tum us ke bande ho,
(ف84)جو اس کی قدرت و حکمت اور اس کی ربوبیّت و وحدانیّت پر دلالت کرتے ہیں ۔(ف85)کیونکہ وہ مخلوق ہیں اور حکمِ خالق سے مسخّر ہیں اور جو ایسا ہو ، مستحقِ عبادت نہیں ہوسکتا ۔(ف86)وہی سجدہ اور عبادت کا مستحق ہے ۔
تو اگر یہ تکبر کریں (ف۸۷) تو وہ جو تمہارے رب کے پاس ہیں (ف۸۸) رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور اکتاتے نہیں، ( السجدة ۔۱۱)
So if these (disbelievers) be haughty, so (in any case) those (the angels) who are with your Lord say His Purity night and day, and they do not get weary. (Command of prostration # 11)
तो अगर यह तक़बर करें तो वह जो तुम्हारे रब के पास हैं रात दिन उसकी पाक़ी बोलते हैं और उकताते नहीं, (सज्दह. 11)
To agar yeh takabbur karein to woh jo tumhare Rab ke paas hain raat din is ki paaki bolte hain aur uktate nahin, (As-Sajdah.11)
اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تو زمین کو دیکھے بےقدر پڑی (ف۸۹) پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا (ف۹۰) تر و تازہ ہوئی اور بڑھ چلی، بیشک جس نے اسے جِلایا ضرور مردے جِلائے گا، بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،
And among His signs is that you see the earth lying neglected, so when We sent down water on it, it freshened up and grew forth; indeed He Who gave it life, will revive the dead; indeed He is Able to do all things.
और उसकी निशानियों से है कि तो ज़मीन को देखे बे क़दर पड़ी फिर जब हमने इस पर पानी उतारा तर व ताज़ा हुई और बढ़ चली, बेशक जिसने इसे जलाया जरूर मरे जलाएगा, बेशक वह सब कुछ कर सकता है,
Aur is ki nishaniyon se hai ke tu zameen ko dekhe be qadr padi phir jab hum ne is par paani utara tar o taaza hui aur barh chali, beshak jis ne ise jilaaya zaroor murde jilaaye ga, beshak woh sab kuch kar sakta hai,
(ف89)سوکھی کہ اس میں سبزہ کا نام و نشان نہیں ۔(ف90)بارش نازل کی ۔
بیشک وہ جو ہماری آیتوں میں ٹیڑھے چلتے ہیں (ف۹۱) ہم سے چھپے نہیں (ف۹۲) تو کیا جو آگ میں ڈالا جائے گا (ف۹۳) وہ بھلا، یا جو قیامت میں امان سے آئے گا (ف۹٤) جو جی میں آئے کرو بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،(
Indeed those who distort Our verses are not hidden from Us; so is one who is cast into the fire better, or one who comes in safety on the Day of Resurrection? Do whatever you wish! He is indeed seeing your deeds.
बेशक वह जो हमारी आयतों में टेढ़े चलते हैं हम से छुपे नहीं तो क्या जो आग में डाला जाएगा वह भला, या जो क़ियामत में आमान से आएगा जो जी में आए करो बेशक वह तुम्हारे काम देख रहा है,
Beshak woh jo humari aayaton mein tedhe chalte hain hum se chhupe nahin to kya jo aag mein daala jaayega woh bhala, ya jo Qiyamat mein amaan se aaye ga jo ji mein aaye karo beshak woh tumhare kaam dekh raha hai,
(ف91)اور تاویلِ آیات میں صحت و اسقامت سے عدول و انحراف کرتے ہیں ۔(ف92)ہم انہیں اس کی سزا دیں گے ۔(ف93)یعنی کافرِ ملحد ۔(ف94)مومنِ صادقُ العقیدہ ، بے شک وہی بہتر ہے ۔
تم سے نہ فرمایا جائے (ف۹۸) مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایا، کہ بیشک تمہارا رب بخشش والا (ف۹۹) اور دردناک عذاب والا ہے (ف۱۰۰)(٤
You will not be told except what was said to the Noble Messengers before you; that “Your Lord is the Owner of Forgiveness, and the Owner of Painful Punishment.”
तुम से न फ़रमाया जाए मगर वही जो तुम से अगले रसूलों को फ़रमाया, कि बेशक तुम्हारा रब बख़्शिश वाला और दर्दनाक अज़ाब वाला है
Tum se na farmaaya jaaye magar wahi jo tum se agle rasoolon ko farmaaya, ke beshak tumhara Rab bakhshish wala aur dardnaak azaab wala hai
(ف98)اللہ تعالٰی کی طرف سے ۔(ف99)اپنے انبیاء علیہم السلام کے لئے اور ان پر ایمان لانے والوں کے لئے ۔(ف100)انبیاء علیہم السلام کے دشمنوں اور تکذیب کرنے والوں کے لئے ۔
اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن کرتے (ف۱۰۱) تو ضرور کہتے کہ اس کی آیتیں کیوں نہ کھولی گئیں (ف۱۰۲) کیا کتاب عجمی اور نبی عربی (ف۱۰۳) تم فرماؤ وہ (ف۱۰٤) ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے (ف۱۰۵) اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) ہے (ف۱۰٦) اور وہ ان پر اندھا پن ہے (ف۱۰۷) گویا وہ دور جگہ سے پکارے جاتے ہیں (ف۱۰۸)
And if We had made it as a Qur’an in a foreign language they would have certainly said, “Why were its verses not explained in detail?” What! The Book in a foreign language, and the Prophet an Arab?! Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “It is a guidance and a cure for the believers”; and there is deafness in the ears of those who do not believe, and it is blindness upon them; as if they are being called from a place far away!
और अगर हम इसे अजमी ज़बान का कुरआन करते तो जरूर कहते कि इसकी आयतें क्यों न खोली गईं क्या किताब अजमी और नबी अरबी तुम फरमाओ वह ईमान वालों के लिए हिदायत और शिफ़ा है और वह जो ईमान नहीं लाते उनके कानों में टेंट (रुई) है और वह उन पर अंधापन है गोया वह दूर जगह से पुकारे जाते हैं
Aur agar hum ise ajmi zubaan ka Qur’ān karte to zaroor kehte ke is ki aayatein kyon na kholi gayin kya kitaab ajmi aur nabi arabi tum farmaao woh iman walon ke liye hidaayat aur shifa hai aur woh jo iman nahin laate un ke kaanon mein tent (rui) hai aur woh un par andha pan hai goya woh door jagah se pukare jaate hain
(ف101)جیسا کہ یہ کفّار بطریقِ اعتراض کہتے ہیں کہ یہ قرآن عجمی زبان میں کیوں نہ اترا ۔(ف102)اور زبانِ عربی میں بیان نہ کی گئیں ۔ کہ ہم سمجھ سکتے ۔(ف103)یعنی کتاب نبی کی زبان کے خلاف کیوں اتری ۔ حاصل یہ ہے کہ قرآنِ پاک عجمی زبان میں ہوتا تو یہ کافر اعتراض کرتے ، عربی میں آیا تو معترض ہوئے ۔ بات یہ ہے کہ خوئے بد را بہانۂِ بسیار ۔ ایسے اعتراض طالبِ حق کی شان کے لائق نہیں ۔(ف104)قرآنِ شریف ۔(ف105)کہ حق کی راہ بتاتا ہے ،گمراہی سے بچاتا ہے ، جہل و شک وغیرہ قلبی امراض سے شفا دیتا ہے اور جسمانی امراض کے لئے بھی اس کا پڑھ کر دم کرنا دفعِ مرض کے لئے مؤثر ہے ۔(ف106)کہ وہ قرآنِ پاک کے سننے کی نعمت سے محروم ہیں ۔(ف107)کہ شکوک و شبہات کی ظلمتوں میں گرفتار ہیں ۔(ف108)یعنی وہ اپنے عدمِ قبول سے اس حالت کو پہنچ گئے ہیں جیسا کہ کسی کو دور سے پکارا جائے تو وہ پکارنے والے کی بات نہ سنے ، نہ سمجھے ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۱۰۹) تو اس میں اختلاف کیا گیا (ف۱۱۰) اور اگر ایک بات تمہارے رب کی طرف سے گزر نہ چکی ہوتی (ف۱۱۱) تو جبھی ان کا فیصلہ ہوجاتا (ف۱۱۲) اور بیشک وہ (ف۱۱۳) ضرور اس کی طرف سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں،
And We indeed gave the Book to Moosa, so a dispute was created regarding it; and were it not for a Word that had already gone forth from your Lord, the judgement would have been immediately passed upon them; and indeed they are in an intriguing doubt regarding it.
और बेशक हमने मूसा को किताब अता फ़रमाई तो उसमें इख़्तिलाफ़ किया गया और अगर एक बात तुम्हारे रब की तरफ से ग़ुज़र न चुकी होती तो जबही उनका फ़ैसला हो जाता और बेशक वह जरूर इसकी तरफ से एक धोखा डालने वाले शक में हैं,
Aur beshak hum ne Moosa ko kitaab ata farmaai to is mein ikhtilaaf kiya gaya aur agar ek baat tumhare Rab ki taraf se guzar na chuki hoti to jabhi un ka faisla ho jaata aur beshak woh zaroor is ki taraf se ek dhoka daalne wale shak mein hain,
(ف109)یعنی توریتِ مقدّس ۔(ف110)بعضوں نے اس کو مانا اور بعضوں نے نہ مانا ، بعضوں نے اس کی تصدیق کی اور بعضوں نے تکذیب ۔(ف111)یعنی حساب و جزا کو روزِ قیامت تک مؤخر نہ فرمادیا ہوتا ۔(ف112)اور دنیا ہی میں انہیں اس کی سزا دے دی جاتی ۔(ف113)یعنی کتابِ الٰہی کی تکذیب کرنے والے ۔
جو نیکی کرے وہ اپنے بھلے کو اور جو برائی کرے اپنے برے کو، اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا،
Whoever does good deeds, so it is for his own good, and whoever commits evil, so it is for his own harm; and your Lord does not at all oppress the bondmen.
जो नेक़ी करे वह अपने भले को और जो बदी करे अपने बुरे को, और तुम्हारा रब बंदों पर ज़ुल्म नहीं करता,
Jo neki kare woh apne bhale ko aur jo burai kare apne bure ko, aur tumhara Rab bandon par zulm nahin karta,
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page