قیامت کے علم کا اسی پر حوالہ ہے (ف۱۱٤) اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کسی مادہ کو پیٹ رہے اور نہ جنے مگر اس کے علم سے (ف۱۱۵) اور جس دن انہیں ندا فرمائے گا (ف۱۱٦) کہاں ہیں میرے شریک (ف۱۱۷) کہیں گے ہم تجھ سے کہہ چکے ہیں کہ ہم میں کوئی گواہ نہیں (ف۱۱۸)
The knowledge of the Last Day is directed towards Him; and no fruit comes out from its cover, and nor does any female conceive or give birth, but with His knowledge; and on the day when He will call out to them, “Where are My partners?” They will say, “We have told you that none among us can testify.”
क़ियामत के इल्म का उसी पर हवाला है और कोई फल अपने घ़लाफ़ से नहीं निकलता और न किसी मादा को पेट रहे और न जनने मगर इसके इल्म से और जिस दिन उन्हें नदा फ़रमाएगा कहाँ हैं मेरे शरिक़ कहेंगे हम तुझ से कह चुके हैं कि हम में कोई गवाह नहीं
Qiyamat ke ilm ka isi par hawala hai aur koi phal apne ghilaf se nahin nikalta aur na kisi maada ko peet rahe aur na janay magar is ke ilm se aur jis din unhein nida farmaaye ga kahan hain mere shareek kahenge hum tujh se keh chuke hain ke hum mein koi gawah nahin
(ف114)تو جس سے وقتِ قیامت دریافت کیا جائے اس کو لازم ہے کہ کہے کہ اللہ تعالٰی جاننے والا ہے ۔ (ف115)یعنی اللہ تعالٰی پھل کے غلاف سے برآمد ہونے کے قبل اس کے احوال کو جانتا ہے اور مادّہ کے حمل کو اور اس کی ساعتوں کو اور وضع کے وقت کو اور اس کے ناقص وغیرنا قص اور اچھے اوربُرے اور نَر و مادّہ ہونے کو سب کو جانتا ہے ، اس کا علم بھی اسی کی طرف حوالہ کرنا چاہئے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اولیائے کرام اصحابِ کشف بسا اوقات ان امور کی خبریں دیتے ہیں اور وہ صحیح واقع ہوتی ہیں بلکہ کبھی منجم اور کاہن بھی خبریں دیتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نجومیوں اور کاہنوں کی خبریں تو محض اٹکل کی باتیں ہیں جو اکثر و بیشتر غلط ہوجایا کرتی ہیں ، وہ علم ہی نہیں ، بے حقیقت باتیں ہیں اور اولیاء کی خبریں بے شک صحیح ہوتی ہیں اور وہ علم سے فرماتے ہیں اور یہ علم ان کا ذاتی نہیں ، اللہ تعالٰی کا عطا فرمایا ہوا ہے تو حقیقت میں یہ اسی کا علم ہوا ، غیر کا نہیں ۔ (خازن)(ف116)یعنی اللہ تعالٰی مشرکین سے فرمائے گا کہ ۔(ف117)جو تم نے دنیا میں گھڑ رکھے تھے جنہیں تم پوجا کرتے تھے ، اس کے جواب میں مشرکین ۔(ف118)جو آج یہ باطل گواہی دے کہ تیرا کوئی شریک ہے یعنی ہم سب مومنِ موحّد ہیں ، یہ مشرکین عذاب دیکھ کر کہیں گے اور اپنے بتوں سے بَری ہونے کا اظہار کریں گے ۔
آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اکتاتا (ف۱۲۱) اور کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۲) تو ناامید آس ٹوٹا (ف۱۲۳)
Man does not weary of seeking goodness; and if some misfortune reaches him, he loses hope, gets disappointed.
आदमी भलाई मांगने से नहीं उकताता और कोई बुराई पहुँचे तो नाउम्मीद आस टूटा
Aadmi bhalai maangne se nahin uktata aur koi burai pohche to naumeed aas toota
(ف121)ہمیشہ اللہ تعالٰی سے مال اور تونگری و تندرستی مانگتا رہتا ہے ۔(ف122)یعنی کوئی سختی و بلاو معاش کی تنگی ۔(ف123)اللہ تعالٰی کے فضل و رحمت سے مایوس ہوجاتا ہے ، یہ اور اس کے بعد جو ذکر فرمایا جاتا ہے وہ کافر کا حال ہے اور مومن اللہ تعالٰی کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے ۔ لَایَایْئَسُ مِنْ رَّ وْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔
اور اگر ہم اسے کچھ اپنی رحمت کا مزہ دیں (ف۱۲٤) اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تھی تو کہے گا یہ تو میری ہے (ف۱۲۵) اور میرے گمان میں قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر (ف۱۲٦) میں رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی خوبی ہی ہے (ف۱۲۷) تو ضرور ہم بتادیں گے کافروں کو جو انہوں نے کیا (ف۱۲۸) اور ضرور انہیں گاڑھا عذاب چکھائیں گے (ف۱۲۹)
And if We make him taste Our mercy after the hardship which befell him, he will say, “This is mine! And I do not think that the Last Day will ever be established – and even if I am returned to my Lord, with Him is only goodness for me”; so We shall indeed inform the disbelievers of what they did; and We shall indeed make them taste a solid punishment.
और अगर हम इसे कुछ अपनी रहमत का मज़ा दें इस तकलीफ़ के बाद जो इसे पहुँची थी तो कहेगा यह तो मेरी है और मेरे गुमान में क़ियामत कायम न होगी और अगर मैं रब की तरफ लौटाया भी गया तो जरूर मेरे लिए इसके पास भी खूबी ही है तो जरूर हम बता देंगे काफ़िरों को जो उन्होंने किया और जरूर उन्हें गाढ़ा अज़ाब चखाएँगे
Aur agar hum ise kuch apni rehmat ka maza dein is takleef ke baad jo ise pohanchi thi to kahe ga yeh to meri hai aur mere gumaan mein Qiyamat qaaim na ho gi aur agar main Rab ki taraf lautaya bhi gaya to zaroor mere liye is ke paas bhi khoobi hi hai to zaroor hum bata dein ge kaafiron ko jo unhone kiya aur zaroor unhein gaadha azaab chakhayein ge
(ف124)صحت و سلامت و مال و دولت عطا فرما کر ۔(ف125)خالص میرا حق ہے ، میں اپنے عمل سے اس کا مستحق ہوں ۔(ف126) بالفرض جیسا کہ مسلمان کہتے ہیں ۔(ف127)یعنی وہاں بھی میرے لئے دنیا کی طرح عیش و راحت وعزّت و کرامت ہے ۔(ف128)یعنی انکے اعمالِ قبیحہ اور ان اعمال کے نتائج اور جس عذاب کے وہ مستحق ہیں اس سے انہیں آگاہ کردیں گے ۔(ف129)یعنی نہایت سخت ۔
اور جب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے (ف۱۳۰) اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے (ف۱۳۱) اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے (ف۱۳۲) تو چوڑی دعا والا ہے (ف۱۳۳)
And when We favour man, he turns away and goes back afar; and when some hardship reaches him, he comes with a vast prayer!
और जब हम आदमी पर एहसान करते हैं तो मुंह फेर लेता है और अपनी तरफ दूर हट जाता है और जब इसे तकलीफ़ पहुँचती है तो चौड़ी दुआ वाला है
Aur jab hum aadmi par ehsaan karte hain to munh pher leta hai aur apni taraf door hat jaata hai aur jab ise takleef pohchti hai to chhodi dua wala hai
(ف130)اور اس احسان کا شکر بجانہیں لاتا اور اس نعمت پراتراتاہے اور نعمت دینے والے پروردگار کو بھول جاتا ہے ۔(ف131)یادِ الٰہی سے تکبّر کرتا ہے ۔(ف132)کسی قِسم کی پریشانی ، بیماری یا ناداری وغیرہ کی پیش آتی ہے ۔(ف133)خوب دعائیں کرتا ہے ، روتا ہے ،گڑگڑاتا ہے اور لگاتار دعائیں مانگے جاتا ہے ۔
تم فرماؤ (ف۱۳٤) بھلا بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ کے پاس سے ہے (ف۱۳۵) پھر تم اس کے منکر ہوئے تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو دور کی ضد میں ہے (ف۱۳٦)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “What is your opinion – if this Qur’an is from Allah and then you deny it – so who is more astray than whoever is in extreme opposition?”
तुम फरमाओ भला बताओ अगर यह कुरआन अल्लाह के पास से है फिर तुम इसके मंकर हुए तो इससे बढ़ कर गुमराह कौन जो दूर की ज़िद में है
Tum farmaao bhala batao agar yeh Qur’ān Allah ke paas se hai phir tum is ke munkar hue to is se barh kar gumrah kaun jo door ki zid mein hai
(ف134)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکّہ مکرّمہ کے کفّار سے ۔(ف135)جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں اور براہینِ قطعیہ ثابت کرتی ہیں ۔(ف136)حق کی مخالفت کرتا ہے ۔
ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں (ف۱۳۷) اور خود ان کے آپے میں (ف۱۳۸) یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ بیشک وہ حق ہے (ف۱۳۹) کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں،(۵٤)
We shall now show them Our signs in all the directions and within their own selves until it becomes clear to them that it is certainly the truth; is not your Lord sufficient as a Witness over all things?
अभी हम उन्हें दिखाएँगे अपनी आयतें दुनिया भर में और खुद उनके आपे में यहाँ तक कि उन पर खुल जाए कि बेशक वह हक़ है क्या तुम्हारे रब का हर चीज़ पर गवाह होना काफ़ी नहीं,
Abhi hum unhein dikhayein ge apni aayatein duniya bhar mein aur khud un ke aape mein yahan tak ke un par khul jaaye ke beshak woh haq hai kya tumhare Rab ka har cheez par gawah hona kaafi nahin,
(ف137) آسمان و زمین کے اقطار میں سورج ، چاند ، ستارے ، نباتات ، حیوان ، یہ سب اس کی قدرت و حکمت پر دلالت کرنے والے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ان آیات سے مراد گزری ہوئی امّتوں کی اجڑی ہوئی بستیاں ہیں جن سے انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا حال معلوم ہوتا ہے ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ ان نشانیوں سے مشرق و مغرب کی وہ فتوحات مراد ہیں جو اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے نیاز مندوں کو عنقریب عطا فرمانے والاہے ۔(ف138)ان کی ہستیوں میں لاکھوں لطائفِ صنعت اور بے شمار عجائبِ حکمت ہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ بدر میں کفّار کو مغلوب و مقہور کرکے خود ان کے اپنے احوال میں اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرادیا یا یہ معنٰی ہیں کہ مکّہ مکرّمہ فتح فرما کر ان میں اپنی نشانیاں ظاہر کر دیں گے ۔(ف139)یعنی اسلام و قرآن کی سچّائی اور حقانیّت ان پر ظاہر ہوجائے ۔
یونہی وحی فرماتا ہے تمہاری طرف (۲) اور تم سے اگلوں کی طرف (ف۳) اللہ عزت و حکمت والا،
This is how Allah the Most Honourable, the All Knowing sends the divine revelation to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) and to those before you.
युनही wahi फरमाता है तुम्हारी तरफ
Yunhi wahi farmata hai tumhari taraf
(ف2)غیبی خبریں ۔ (خازن) (ف3)انبیاء علیہم السلام میں سے وحی فرماچکا ۔
قریب ہوتا ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے شق ہوجائیں (ف٤) اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور زمین والوں کے لیے معافی مانگتے ہیں (ف۵) سن لو بیشک اللہ ہی بخشنے والا مہربان ہے،
The heavens nearly split apart from above – and the angels say the Purity of their Lord while praising Him, and seek forgiveness for those on earth; pay heed! Indeed Allah only is the Oft Forgiving, the Most Merciful.
उसी का है जो कुछ आसमान में है और जो कुछ जमीन में है, और वही बुलंदी व अज़मत वाला है,
Ussi ka hai jo kuch aasman mein hai aur jo kuch zameen mein hai, aur wohi bulandi o azmat wala hai,
(ف4)اللہ تعالٰی کی عظمت اور اس کے علوئے شان سے ۔(ف5)یعنی ایمان داروں کے لئے کیونکہ کافر اس لائق نہیں ہیں کہ ملائکہ ان کے لئے استغفار کریں ، یہ ہوسکتا ہے کہ کافروں کے لئے یہ دعا کریں کہ انہیں ایمان دے کر ان کی مغفرت فرما ۔
اور جنہوں نے اللہ کے سوا اور والی بنارکھے ہیں (ف٦) وہ اللہ کی نگاہ میں ہیں (ف۷) اور تم ان کے ذمہ دار نہیں، (ف۸)
And Allah is watching those who have chosen supporters besides Him; and you are not responsible for them.
क़रीब होता है कि आसमान अपने ऊपर से शक़ हो जाएँ और फ़रिश्ते अपने रब की तारीफ़ के साथ उसकी पाक़ी बोलते और ज़मीन वालों के लिए माफ़ी मांगते सुन लो बेशक अल्लाह ही बख़्शने वाला मेहरबान है,
Qareeb hota hai ke aasman apne oopar se shaq ho jayein aur farishte apne Rab ki tareef ke saath uski paaki bolte aur zameen walon ke liye maafi maangte hain sun lo beshak Allah hi bakhshne wala meherban hai,
(ف6)یعنی بت جن کو وہ پوجتے اور معبود سمجھتے ہیں ۔(ف7)ان کے اعمال ، افعال اس کے سامنے ہیں ، وہ انہیں بدلہ دے گا ۔(ف8)تم سے ان کے افعال کا مؤاخذہ نہ ہوگا ۔
اور یونہی ہم نے تمہاری طرف عربی قرآن وحی بھیجا کہ تم ڈراؤ سب شہروں کی اصل مکہ والوں کو اور جتنے اس کے گرد ہیں (ف۹) اور تم ڈراؤ اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں کچھ شک نہیں (ف۱۰) ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک گروہ دوزخ میں،
And this is how We have divinely revealed to you the Qur’an in Arabic, for you to warn the people of the mother of all towns – Mecca – and those around it, and to warn of the Day of Assembling of which there is no doubt; a group is in Paradise, and another group is in hell.
और जिनोंने अल्लाह के सिवा और वा ली बना रखे हैं वो अल्लाह की निगाह में हैं और तुम उनके ज़िम्मेदार नहीं,
Aur jin logon ne Allah ke siwa aur wali bana rakhe hain woh Allah ki nigah mein hain aur tum unke zimmedar nahin,
(ف9)یعنی تمام عالَم کے لوگ ان سب کو ۔(ف10)یعنی روزِ قیامت سے ڈراؤ جس میں اللہ تعالٰی اوّلین و آخرین او ر اہلِ آسمان و زمین سب کو جمع فرمائے گا اور اس جمع کے بعد پھر سب متفرّق ہوں گے ۔
اور اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک دین پر کردیتا لیکن اللہ اپنی رحمت میں لیتا ہے جسے چاہے (ف۱۱) اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ مددگار (ف۱۲)
And had Allah willed, He could have made them all upon one religion, but He admits whomever He wills into His mercy; and the unjust do not have any friend nor any supporter.
और युनही हम ने तुम्हारी तरफ़ अरबी क़ुरआन wahi भीजा कि तुम डराओ सब शहरों की असल मक्का वालों को और जितने इसके गिर्द हैं और तुम डराओ इकट्ठे होने के दिन से जिसमें कुछ शक़ नहीं एक ग्रुप जन्नत में है और एक ग्रुप दोज़ख़ में,
Aur yunhi humne tumhari taraf Arabi Quran wahi bheja taake tum darao sab shehron ki asal Makka walon ko aur jitne uske gird hain aur tum darao ikatthe hone ke din se jisme kuch shak nahin ek giroh Jannat mein hai aur ek giroh Dozakh mein,
(ف11)اس کو اسلام کی توفیق دیتاہے ۔(ف12)یعنی کافروں کو کوئی عذاب سے بچانے والا نہیں ۔
کیا اللہ کے سوا اور والی ٹھہرالیے ہیں (ف۱۳) تو اللہ ہی والی ہے اور وہ مردے جِلائے گا، اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۱٤)
What! Have they appointed supporters other than Allah? So (know that) Allah only is the Supporter, and He will revive the dead; and He is Able to do all things.
और अल्लाह चाहता तो इन सब को एक दीन पर कर देता लेकिन अल्लाह अपनी रहमत में लेता है जिसे चाहे और ज़ालिमों का न कोई दोस्त न मददगार
Aur Allah chahta to in sab ko ek deen par kar deta lekin Allah apni rehamat mein leta hai jise chahe aur zalimon ka na koi dost na madadgar,
(ف13)یعنی کفّار نے اللہ تعالٰی کو چھوڑ کر بتوں کو اپنا والی بنالیا ہے ، یہ باطل ہے ۔(ف14)تو اسی کو والی بنانا سزاوار ہے ۔
آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، تمہارے لیے تمہیں میں سے (ف۱۸) جوڑے بنائے اور نر و مادہ چوپائے، اس سے (ف۱۹) تمہاری نسل پھیلاتا ہے، اس جیسا کوئی نہیں، اور وہی سنتا دیکھتا ہے،
The Maker of the heavens and the earth; He has created pairs for you from yourselves and pairs from the animals; He spreads your generation; nothing is like Him; and He only is the All Hearing, the All Seeing.
तुम जिस बात में इख़्तिलाफ़ करो तो उसका फ़ैसला अल्लाह के सुपर्द है यह है अल्लाह मेरा रब मैंने इस पर भरोसा किया, और मैं उसकी तरफ़ रजू करता हूँ
Tum jis baat mein ikhtilaf karo to uska faisla Allah ke supurd hai yeh hai Allah mera Rab maine us par bharosa kiya, aur main uski taraf rujoo laata hoon,
(ف18)یعنی تمہاری جنس میں سے ۔(ف19)یعنی اس تزویج سے ۔ (خازن)
اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں (ف۲۰) روزی وسیع کرتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ فرماتا ہے (ف۲۱) بیشک وہ سب کچھ جانتا ہے،
For Him only are the keys of the heavens and the earth; He increases the sustenance for whomever He wills and restricts it; indeed He is the All Knowing.
आसमानों और ज़मीन का बनाने वाला, तुम्हारे लिए तुम्हें मैं से जोड़े बनाए और नर व मादा चौपायें, इससे तुम्हारी नस्ल फैलाता है, इस जैसा कोई नहीं, और वही सुनता देखता है,
Aasmanon aur zameen ka banane wala, tumhare liye tumhein mein se joray banaye aur nar o madah chopaaye, usse tumhari nasl phailata hai, us jaisa koi nahin, aur wohi sunta dekhta hai,
(ف20)مراد یہ ہے کہ آسمان وزمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں خواہ مینہ کے خزانے ہوں یا رزق کے ۔(ف21)جس کے لئے چاہے وہ مالک ہے ، رزق کی کنجیاں اس کے دستِ قدرت میں ہیں ۔
تمہارے لیے دین کی وہ راہ ڈالی جس کا حکم اس نے نوح کو دیا (ف۲۲) اور جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی (ف۲۳) اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا (ف۲٤) کہ دین ٹھیک رکھو (ف۲۵) اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو (ف۲٦) مشرکوں پر بہت ہی گراں ہے وہ (ف۲۷) جس کی طرف تم انہیں بلاتے ہو، اور اللہ اپنے قریب کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے (ف۲۸) اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے (ف۲۹)
He has kept for you the same path of religion which He commanded Nooh, and what We divinely reveal to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), and what We had commanded to Ibrahim and Moosa and Eisa that, “Keep the religion proper, and do not create divisions in it”; the polytheists find the matter what you call them to as intolerable; Allah chooses for His proximity whomever He wills, and guides towards Himself whoever inclines (towards Him).
उसी के लिए हैं आसमानों और ज़मीन की कुंजियाँ रोज़ी वसीअ करता है जिसे चाहे और तंग फरमाता है बेशक वह सब कुछ जानता है,
Ussi ke liye hain aasmanon aur zameen ki kunjiyan rozi wasee karta hai jiske liye chahe aur tang farmata hai beshak woh sab kuch jaanta hai,
(ف22)نوح علیہ السلام صاحبِ شرع انبیاء میں سب سے پہلے نبی ہیں ۔(ف23)اے سیدِ انبیاء محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف24)معنٰی یہ ہیں کہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام سے آپ تک اے سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جتنے انبیاء ہوئے سب کے لئے ہم نے دِین کی ایک ہی راہ مقرر کی جس میں وہ سب متفق ہیں وہ راہ یہ ہے ۔(ف25)مراد دِین سے اسلام ہے ، معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کی طاعت اور اس پر اور اس کے رسولوں پر اور اس کی کتابوں پر اور روزِ جزا پر اور باقی تمام ضروریاتِ دِین پر ایمان لانا لازم کرو کہ یہ امور تمام انبیاء کی امّتوں کے لئے یکساں لازم ہیں ۔(ف26)حضرت علیِ مرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم نے فرمایا کہ جماعت رحمت اور فرقت عذاب ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اصولِ دِین میں تمام مسلمان خواہ وہ کسی عہد یا کسی امّت کے ہوں یکساں ہیں ، ان میں کوئی اختلاف نہیں ، البتہ احکام میں امّتیں باعتبار اپنے احوال و خصوصیات کے جداگانہ ہیں ، چنانچہ اللہ تعالٰی نے فرمایا لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجاً ۔(ف27)یعنی بتوں کو چھوڑنا اور توحید اختیار کرنا ۔(ف28)اپنے بندوں میں سے اسی کو توفیق دیتا ہے ۔ (ف29)اور اس کی طاعت قبول کرے ۔
اور انہوں نے پھوٹ نہ ڈالی مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا تھا (ف۳۰) آپس کے حسد سے (ف۳۱) اور اگر تمہارے رب کی ایک بات گزر نہ چکی ہوتی (ف۳۲) ایک مقرر میعاد تک (ف۳۳) تو کب کا ان میں فیصلہ کردیا ہوتا (ف۳٤) اور بیشک وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۵) وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں (ف۳٦)
And they did not cause divisions except after the knowledge had come to them, because of jealousy among themselves; and were it not for a Word that had already gone forth from your Lord, the judgement would have been passed upon them long ago; and indeed those who inherited the Book after them are in an intriguing doubt regarding it.
तुम्हारे लिए दीन की वह राह डाली जिसका हुक़्म उसने नूह को दिया और जो हम ने तुम्हारी तरफ़ wahi की और जिसका हुक़्म हम ने इब्राहीम और मूसा और ईसा को दिया कि दीन ठीक रखो और इस में फूट न डालो मुशरिकों पर बहुत ही ग़रान है वह जिसकी तरफ़ तुम उन्हें बुलाते हो, और अल्लाह अपने क़रीब के लिए चुन लेता है जिसे चाहे और अपनी तरफ़ राह देता है उसे जो रजू लाए
Tumhare liye deen ki woh raah daali jiska hukm usne Nooh ko diya aur jo humne tumhari taraf wahi ki aur jiska hukm humne Ibrahim aur Moosa aur Isa ko diya ke deen theek rakho aur ismein phoot na daalo mushrikon par bohot hi garaan hai woh jis ki taraf tum unhein bulaate ho, aur Allah apne qareeb ke liye chun leta hai jise chahe aur apni taraf raah deta hai use jo rujoo laaye,
(ف30)یعنی اہلِ کتاب نے اپنے انبیاء علیہم السلام کے بعد جو دِین میں اختلاف ڈالا کہ کسی نے توحید اختیار کی ، کوئی کافر ہوگیا ، وہ اس سے پہلے جان چکے تھے کہ اس طرح اختلاف کرنا اور فرقہ فرقہ ہوجانا گمراہی ہے لیکن باوجود اس کے انہوں نے یہ سب کچھ کیا ۔(ف31)اور ریاست وناحق کی حکومت کے شوق میں ۔(ف32)عذاب کے مؤخر فرمانے کی ۔(ف33)یعنی روزِ قیامت تک ۔(ف34)کافروں پر دنیا میں عذاب نازل فرما کر ۔(ف35)یعنی یہود و نصارٰی ۔(ف36)یعنی اپنی کتاب پر مضبوط ایمان نہیں رکھتے یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ قرآن کی طرف سے یا سیدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے شک میں پڑے ہیں ۔
تو اسی لیے بلاؤ (ف۳۷) اور ثابت قدم رہو (ف۳۸) جیسا تمہیں حکم ہوا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کوئی کتاب اللہ نے اتاری (ف۳۹) اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں (ف٤۰) اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے (ف٤۱) ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا کیا (ف٤۲) کوئی حجت نہیں ہم میں اور تم میں (ف٤۳) اللہ ہم سب کو جمع کرے گا (ف٤٤) اور اسی کی طرف پھرنا ہے،
For this reason, call them (to Islam); and remain firm, as you are commanded to; and do not follow their desires; and say, “I accept faith in whichever Book Allah has sent down; and I am commanded to judge fairly between you; Allah is the Lord of all – ours and yours; for us are our deeds and for you are your misdeeds; there is no debate between us and you; Allah will gather all of us together; and towards Him is the return.”
और उन्होंने फूट न डाली मगर बाद इस के कि उन्हें इल्म आ चुका था आपस के हसद से और अगर तुम्हारे रब की एक बात गुजर न चुकी होती एक मक़र्रर मियाद तक तो कब का इन में फ़ैसला कर दिया होता और बेशक वह जो उनके बाद किताब के वारिस हुए वह इस से एक धोखा डालने वाले शक़ में हैं
Aur unhone phoot na daali magar baad iske ke unhein ilm aa chuka tha aapas ke hasad se aur agar tumhare Rab ki ek baat guzar na chuki hoti ek muqarrar miyaad tak to kab ka unmein faisla kar diya hota aur beshak woh jo unke baad kitaab ke waaris hue woh usse ek dhoka dalne wale shak mein hain,
(ف37)یعنی ان کفّار کے اس اختلاف و پراگندگی کی وجہ سے انہیں توحید اور ملّتِ حنیفیہ پر متفق ہونے کی دعوت دو ۔(ف38)دِین پر اور دِین کی دعوت دینے پر ۔(ف39)یعنی اللہ تعالٰی کی تمام کتابوں پر کیونکہ متفرقین بعض پر ایمان لاتے تھے اور بعض سے کفر کرتے تھے ۔(ف40)تمام چیزوں میں اور جمیع احوال میں اور ہر فیصلہ میں ۔(ف41)اور ہم سب اس کے بندے ۔(ف42)ہر ایک اپنے عمل کی جزا پائے گا ۔(ف43)کیونکہ حق ظاہر ہوچکا وَھٰذِہِ الْآ یَۃُ مَنْسُوْخَۃبِآ یَۃِ الْقِتَالِ ۔(ف44)روزِ قیامت ۔
اور وہ جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ مسلمان اس کی دعوت قبول کرچکے ہیں (ف٤۵) ان کی دلیل محض بےثبات ہے ان کے رب کے پاس اور ان پر غضب ہے (ف٤٦) اور ان کے لیے سخت عذاب ہے (ف٤۷)
And those who fight regarding Allah after the Muslims have accepted His call, their reasoning does not hold at all before their Lord, and upon them is wrath, and for them is a severe punishment.
तो उसी लिए बुलाओ और साबिक़ कदम रहो जैसा तुम्हें हुक़्म हुआ है और उनकी ख़्वाहिशों पर न चलो और कहो कि मैं ईमान लाया इस पर जो कोई किताब अल्लाह ने उतारी और मुझे हुक़्म है कि मैं तुम में इन्साफ़ करूँ अल्लाह हमारा और तुम्हारा सब का रब है हमारे लिए हमारा अमल और तुम्हारे लिए तुम्हारा क्या कोई हिज्जत नहीं हम में और तुम में अल्लाह हम सब को इकट्ठा करेगा और उसी की तरफ़ फिरना है,
To issi liye bulao aur sabit qadam raho jaisa tumhein hukm hua hai aur unki khwahishon par na chalo aur kaho ke main imaan laya us par jo koi kitaab Allah ne utari aur mujhe hukm hai ke main tum mein insaaf karoon Allah hamara aur tumhara sab ka Rab hai hamare liye hamara amal aur tumhare liye tumhara, kya koi hujjat nahin hum mein aur tum mein Allah hum sab ko jama karega aur usi ki taraf phirna hai,
(ف45)مراد ان جھگڑنے والوں سے یہود ہیں ، وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو پھر کفر کی طرف لوٹائیں اس لئے جھگڑاکرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارا دِین پرانا ، ہماری کتاب پرانی ، ہمارے نبی پہلے ، ہم تم سے بہتر ہیں ۔(ف46)بسبب ان کے کفر کے ۔(ف47)آخرت میں ۔
اللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری (ف٤۸) اور انصاف کی ترازو (ف٤۹) اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو (ف۵۰)
It is Allah Who has sent down the Book with the truth, and the Scales of Justice; and what do you know – possibly the Last Day could really be near!
और वह जो अल्लाह के बारे में झगड़ते हैं बाद इस के कि मुसलमान उसकी दावत कबूल कर चुके हैं उनकी दलील महज़ बेथाब है उनके रब के पास और उन पर ग़ज़ब है और उनके लिए सख़्त अज़ाब है
Aur woh jo Allah ke bare mein jhagadte hain baad iske ke Musalmaan uski dawat qubool kar chuke hain unki daleel mahaz be-sabaat hai unke Rab ke paas aur unpar ghazab hai aur unke liye sakht azaab hai,
(ف48)یعنی قرآنِ پاک جو قِسم قِسم کے دلائل و احکام پر مشتمل ہے ۔(ف49)یعنی اس نے اپنی کتبِ منزّلہ میں عدل کا حکم دیا ۔ بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ مراد میزان سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے ۔(ف50)شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قیامت کا ذکر فرمایا تو مشرکین نے بطریقِ تکذیب کہا کہ قیامت کب ہوگی ؟ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
اس کی جلدی مچا رہے ہیں وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے (ف۵۱) اور جنہیں اس پر ایمان ہے وہ اس سے ڈر رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے، سنتے ہو بیشک جو قیامت میں شک کرتے ہیں ضرور دور کی گمراہی میں ہیں،
Those who do not believe in it are impatient for it, and those who believe in it fear it and know that indeed it is the truth; pay heed! Those who doubt the Last Day are certainly in extreme error.
अल्लाह है जिसने हक़ के साथ किताब उतारी और इन्साफ़ की तराज़ू और तुम क्या जानो शायद क़ियामत क़रीब ही हो
Allah hai jisne haq ke saath kitaab utari aur insaaf ki tarazu aur tum kya jaano shayad qayamat qareeb hi ho,
(ف51)اور یہ گمان کرتے ہیں کہ قیامت آنے والی ہی نہیں ، اسی لئے بطریقِ تمسخر جلدی مچاتے ہیں ۔
اللہ اپنے بندوں پر لطف فرماتا ہے (ف۵۲) جسے چاہے روزی دیتا ہے (ف۵۳) اور وہی قوت و عزت والا ہے،
Allah is Benevolent upon His bondmen – He bestows sustenance to whomever He wills; and He only is the All Powerful, the Most Honourable.
इस की जल्दी मचा रहे हैं वह जो इस पर ईमान नहीं रखते और जिन्हें इस पर ईमान है वह इस से डर रहे हैं और जानते हैं कि बेशक वह हक़ है, सुनते हो बेशक जो क़ियामत में शक़ करते हैं ज़रूर दूर की ग़ुमराही में हैं,
Uski jaldi macha rahe hain woh jo us par imaan nahin rakhte aur jinhein us par imaan hai woh usse darr rahe hain aur jaante hain ke beshak woh haq hai, sunte ho beshak jo qayamat mein shak karte hain zaroor door ki gumraahi mein hain,
(ف52)بے شماراحسان کرتا ہے نیکوں پر بھی اور بدوں پر بھی حتّٰی کہ بندے گناہوں میں مشغول رہتے ہیں اور وہ انہیں بھوک سے ہلاک نہیں کرتا۔(ف53)اور فراخیِٔ عیش عطا فرماتا ہے مومن کو بھی اور کافر کو بھی حسبِ اقتضاءِ حکمت ۔ حدیث شریف میں ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے میرے بعضے مومن بندے ایسے ہیں کہ تونگری ان کے قوّت و ایمان کا باعث ہے ، اگر میں انہیں فقیر محتاج کردوں تو ان کے عقیدے فاسد ہوجائیں اور بعضے بندے ایسے ہیں کہ تنگی اور محتاجی ان کے قوّتِ ایمان کا باعث ہے ، اگر میں انہیں غنی ، مالدار کردوں تو ان کے عقیدے خراب ہوجائیں ۔
جو آخرت کی کھیتی چاہے (ف۵٤) ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں (ف۵۵) اور جو دنیا کی کھیتی چاہے (ف۵٦) ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے (ف۵۷) اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں (ف۵۸)
Whoever aspires for the yield of the Hereafter – We increase its yield for him; and whoever aspires for the yield of this world – We give him part of it, and he has no portion in the Hereafter.
अल्लाह अपने बंदों पर लुत्फ़ फ़रमाता है जिसे चाहे रोज़ी देता है और वही क़ौवत व इज़्ज़त वाला है,
Allah apne bandon par lutaf farmata hai jise chahe rozi deta hai aur wohi quwwat o izzat wala hai,
(ف54)یعنی جس کو اپنے اعمال سے نفعِ آخرت مقصود ہو ۔(ف55)اس کو نیکیوں کی توفیق دے کر اور اس کے لئے خیرات و طاعات کی راہیں سہل کرکے اور اس کی نیکیوں کا ثواب بڑھا کر ۔(ف56)یعنی جس کا عمل محض دنیا حاصل کرنے کے لئے ہو اور وہ آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو ۔ (مدارک)(ف57)یعنی دنیا میں جتنا اس کے لئے مقدّر کیا ہے ۔(ف58)کیونکہ اس نے آخرت کے لئے عمل کیا ہی نہیں ۔
یا ان کے لیے کچھ شریک ہیں (ف۵۹) جنہوں نے ان کے لیے (ف٦۰) وہ دین نکال دیا ہے (ف٦۱) کہ اللہ نے اس کی اجازت نہ دی (ف٦۲) اور اگر ایک فیصلہ کا وعدہ نہ ہوتا (ف٦۳) تو یہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا (ف٦٤) اور بیشک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے (ف٦۵)
Or do they have associate deities who have appointed for them a religion, which Allah has not permitted? And were it not for a Word that had already been decided, the judgement would have been passed between them here itself; and indeed for the unjust is a painful punishment.
जो आख़िरत की खीती चाहे हम उसके लिए उसकी खीती बढ़ाएँ और जो दुनिया की खीती चाहे हम उसे इस में से कुछ देंगे और आख़िरत में उसका कुछ हिस्सा नहीं
Jo aakhrat ki kheti chahe hum uske liye uski kheti barhaate hain aur jo duniya ki kheti chahe hum use usmein se kuch dete hain aur aakhrat mein uska kuch hissa nahin,
(ف59)معنٰی یہ ہیں کہ کیا کفّارِ مکّہ اس دِین کو قبول کرتے ہیں جو اللہ تعالٰی نے ان کے لئے مقرّر فرمایا یا ان کے کچھ ایسے شرکاء ہیں شیاطین وغیرہ ۔(ف60)کفری دینوں میں سے ۔ (ف61)جو شرک و انکارِ بعث پر مشتمل ہے ۔(ف62)یعنی وہ دِینِ الٰہی کے خلاف ہے ۔(ف63)اور جزاء کے لئے روزِ قیامت معیّن نہ فرمادیا گیا ہوتا ۔(ف64)اور دنیا ہی میں تکذیب کرنے والوں کو گرفتارِ عذاب کردیا جاتا ۔(ف65)آخرت میں ۔ اور ظالموں سے مراد یہاں کافر ہیں ۔
تم ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنی کمائیوں سے سہمے ہوئے ہوں گے (ف٦٦) اور وہ ان پر پڑ کر رہیں گی (ف٦۷) اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنت کی پھلواریوں میں ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے جو چاہیں، یہی بڑا فضل ہے،
You will see the unjust getting terrified of their own deeds, and (evil of) their deeds will certainly befall them; and (that) those who accepted faith and performed good deeds are in blossoming Gardens of Paradise; for them is whatever they wish from their Lord; this only is the great munificence (of Allah).
या उनके लिए कुछ शरीक हैं जिनोंने उनके लिए वह दीन निकाल दिया है कि अल्लाह ने इसकी इज़ाज़त न दी और अगर एक फ़ैसला का वादा न होता तो यहीं इन में फ़ैसला कर दिया जाता और बेशक ज़ालिमों के लिए दर्दनाक अज़ाब है
Ya unke liye kuch shareek hain jinon ne unke liye woh deen nikaal diya hai ke Allah ne uski ijaazat na di aur agar ek faislay ka wada na hota to yahin unmein faisla kar diya jata aur beshak zalimon ke liye dardnaak azaab hai,
(ف66)یعنی کفرواعمالِ خبیثہ سے جو انہوں نے دنیامیں کماۓ تھے ۔ اس اندیشہ سے کہ اب انکی سزا ملنے والی ہے ۔(ف67)ضرور ان سے کسی طرح بچ نہیں سکتے ڈریں یا نہ ڈریں ۔
یہ ہے وہ جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، تم فرماؤ میں اس (ف٦۸) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا (ف٦۹) مگر قرابت کی محبت (ف۷۰) اور جو نیک کام کرے (ف۷۱) ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھائیں، بیشک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے،
This is what Allah gives the glad tidings of to His bondmen who accept faith and do good deeds; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) “I do not ask any fee from you upon this, except the love between close ones”; and whoever performs a good deed – We further increase the goodness in it for him; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Appreciative.
तुम ज़ालिमों को देखोगे कि अपनी कमाईयों से सहमे हुए होंगे और वह उन पर पड़ कर रहेंगी और जो ईमान लाए और अच्छे काम किए वह जन्नत की फ़ुलवारीयों में हैं, उनके लिए उनके रब के पास है जो चाहें, यही बड़ा फ़ज़्ल है,
Tum zalimon ko dekhoge ke apni kamaiyon se sahme hue honge aur woh unpar par kar rahengi aur jo imaan laaye aur achhe kaam kiye woh Jannat ki phalwariyon mein hain, unke liye unke Rab ke paas hai jo chahein, yahi bara fazl hai,
(ف68)تبلیغِ رسالت اور ارشاد و ہدایت ۔ (ف69)اور تمام انبیاء کا یہی طریقہ ہے ۔ شانِ نزول: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ طیّبہ میں رونق افروز ہوئے اور انصار نے دیکھا کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ذمّہ مصارف بہت ہیں اور مال کچھ بھی نہیں ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور حضور کے حقوق و احسانات یاد کرکے حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے بہت سا مال جمع کیا اور اس کو لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور کی بدولت ہمیں ہدایت ہوئی ، ہم نے گمراہی سے نجات پائی ، ہم دیکھتے ہیں ، کہ حضور کے مصارف بہت زیادہ ، اس لئے ہم یہ مال خدّامِ آستانہ کی خدمت میں نذر کے لئے لائے ہیں ، قبول فرما کر ہماری عزّت افزائی کی جائے ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وہ اموال واپس فرمادیئے ۔(ف70)تم پر لازم ہے کیونکہ مسلمانوں کے درمیان مودّت ، محبّت واجب ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا اَ لْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآ ءُ بَعْضٍ ۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ مسلمان مثل ایک عمارت کے ہیں جس کا ہر ایک حِصّہ دوسرے حصّہ کو قوّت اور مدد پہنچاتا ہے ، جب مسلمانوں میں باہم ایک دوسرے کے ساتھ محبّت واجب ہوئی تو سیدِ عالَمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ کس قدر محبّت فرض ہوگی ، معنٰی یہ ہیں کہ میں ہدایت و ارشاد پر کچھ اجرت نہیں چاہتا لیکن قرابت کے حقوق تو تم پر واجب ہیں ، ان کا لحاظ کرو اور میرے قرابت والے تمہارے بھی قرابتی ہیں ، انہیں ایذا نہ دو ۔ حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ قرابت والوں سے مراد حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آلِ پاک ہے ۔ (بخاری) مسئلہ: اہلِ قرابت سے کون کون مراد ہیں اس میں کئی قول ہیں، ایک تو یہ کہ مراد اس سے حضرت علی و حضرت فاطمہ و حسنین کریمین ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہم ، ایک قول یہ ہے کہ آلِ علی و آلِ عقیل و آلِ جعفر و آلِ عباس مراد ہیں ، اور ایک قول یہ ہے کہ حضور کے وہ اقارب مراد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور وہ مخلصینِ بنی ہاشم و بنی مطّلب ہیں ، حضور کی ازواجِ مطہّرات حضور کے اہلِ بیت میں داخل ہیں ۔ مسئلہ : حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبّت اور حضور کے اقارب کی محبّت دِین کے فرائض میں سے ہے ۔ (جمل وخازن وغیرہ)(ف71)یہاں نیک کام سے مراد یارسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آلِ پاک کی محبّت ہے یا تمام امورِ خیر ۔
یا (ف۷۲) یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا (ف۷۳) اور اللہ چاہے تو تمہارے اوپر اپنی رحمت و حفاظت کی مہر فرمادے (ف۷٤) اور مٹاتا ہے باطل کو (ف۷۵) اور حق کو ثابت فرماتا ہے اپنی باتوں سے (ف۷٦) بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے،
What! They dare say that, “He has fabricated a lie against Allah”? And if Allah wills, He can seal your heart by His mercy and protection*; and Allah wipes out falsehood and proves the truth by His Words; indeed He knows what lies within the hearts. (* So that you may not be agonised by what they do).
यह है वह जिसकी खुशख़बरी देता है अल्लाह अपने बंदों को जो ईमान लाए और अच्छे काम किए, तुम फ़रमाओ मैं इस पर तुम से कुछ उज़रत नहीं मांगता मगर क़रबात की मोहब्बत और जो नेक काम करे हम उसके लिए इस में और ख़ूब़ी बढ़ाएँ, बेशक अल्लाह बख़्शने वाला क़दर फ़रमाने वाला है,
Yeh hai woh jiski khushkhabri deta hai Allah apne bandon ko jo imaan laaye aur achhe kaam kiye, tum farmao main is par tumse kuch ujrat nahin maangta magar qarabat ki mohabbat aur jo nek kaam kare hum uske liye usmein aur khoobi barhaate hain, beshak Allah bakhshne wala qadar farmane wala hai,
(ف72)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت کفّارِ مکّہ ۔(ف73)نبوّت کا دعوٰی کرکے یا قرآنِ کریم کو کتابِ الٰہی بتا کر ۔(ف74)کہ آپ کو ان کی بدگوئیوں سے ایذا نہ ہو ۔(ف75)جو کفّار کہتے ہیں ۔(ف76)جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل فرمائیں چنانچہ ایسا ہی کیا کہ ان کے باطل کو مٹایا اور کلمۂِ اسلام کو غالب کیا ۔
اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے (ف۷۷) اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو،
And it is He Who accepts repentance from His bondmen, and pardons sins*, and knows all your deeds. (Repentance for the cardinal sins, while lesser sins are wiped out by good deeds.)
या यह कहते हैं कि उन्होंने अल्लाह पर झूठ बाँध लिया और अल्लाह चाहे तो तुम्हारे ऊपर अपनी रहमत व हिफ़ाज़त की मुहर फ़रमा दे और मिटा देता है बातिल को और हक़ को साबित फ़रमाता है अपनी बातों से बेशक वह दिलों की बातें जानता है,
Ya yeh kehte hain ke unhon ne Allah par jhoot baandh liya aur Allah chahe to tumhare upar apni rehamat o hifazat ki mehr farma de aur mitaata hai baatil ko aur haq ko sabit farmata hai apni baton se beshak woh dilon ki baton ko jaanta hai,
(ف77)مسئلہ : توبہ ہر ایک گناہ سے واجب ہے اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی بدی و معصیّت سے باز آئے اور جو گناہ اس سے صادر ہوا اس پر نادم ہو اور ہمیشہ گناہ سے مجتنب رہنے کا پختہ ارادہ کرے ، اور اگر گناہ میں کسی بندے کی حق تلفی بھی تھی تو اس حق سے بطریقِ شرعی عہدہ برآہو ۔
اور دعا قبول فرماتا ہے ان کی جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور انہیں اپنے فضل سے اور انعام دیتا ہے، (ف۷۸) اور کافروں کے لیے سخت عذاب ہے،
And He accepts the prayers of those who accept faith and do good deeds, and gives them a greater reward by His munificence; and for the disbelievers is a severe punishment.
और वही है जो अपने बंदों की तौबा कबूल फ़रमाता और गुनाहों से दरगज़र फ़रमाता है और जानता है जो कुछ तुम करते हो,
Aur wohi hai jo apne bandon ki tauba qubool farmata aur gunahon se dar guzar farmata hai aur jaanta hai jo kuch tum karte ho,
(ف78)یعنی جتنا دعا مانگنے والے نے طلب کیا تھا اس سے زیادہ عطا فرماتا ہے ۔
اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے (ف۷۹) لیکن وہ اندازہ سے اتارتا ہے جتنا چاہے، بیشک وہ بندوں سے خبردار ہے (ف۸۰) انہیں دیکھتا ہے،
And had Allah increased the sustenance for all His slaves, they would have surely caused turmoil in the land, but He sends it down by a proper assessment as He wills; indeed He is Well Aware of, Seeing His bondmen.
और दुआ कबूल फ़रमाता है उनकी जो ईमान लाए और अच्छे काम किए और उन्हें अपने फ़ज़्ल से और इन'आम देता है, और काफ़रों के लिए सख़्त अज़ाब है,
Aur dua qubool farmata hai unki jo imaan laaye aur achhe kaam kiye aur unhein apne fazl se aur inaam deta hai, aur kaafiron ke liye sakht azaab hai,
(ف79)تکبّر وغرور میں مبتلا ہو کر ۔(ف80)جس کے لئے جتنا مقتضائے حکمت ہے اس کو اتنا عطافرماتا ہے ۔
اور وہی ہے کہ مینہ اتارتا ہے ان کے ناامید ہونے پر اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے (ف۸۱) اور وہی کام بنانے والا ہے سب خوبیوں سراہا،
And it is He Who sends down the rain when they have despaired, and spreads out His mercy; and He is the Benefactor, the Most Praiseworthy.
और अगर अल्लाह अपने सब बंदों का रज़क वसीअ कर देता तो ज़रूर ज़मीन में फ़साद फैलाते लेकिन वह अंदाज़ा से उतारता है जितना चाहे, बेशक वह बंदों से ख़बरदार है उन्हें देखता है,
Aur agar Allah apne sab bandon ka rozi wasee kar deta to zaroor zameen mein fasaad phailate lekin woh andazay se utarta hai jitna chahe, beshak woh bandon se khabardaar hai unhein dekhta hai,
(ف81)اور مینھ سے نفع دیتا ہے اور قحط کو دفع فرماتا ہے ۔
اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو چلنے والے ان میں پھیلائے، اور وہ ان کے اکٹھا کرنے پر (ف۸۲) جب چاہے قادر ہے،(
And among His signs is the creation of the heavens and the earth, and the moving creatures dispersed in it; and He is Able to gather them whenever He wills.
और वही है कि मेन्हा उतारता है उनके ना उम्मीद होने पर और अपनी रहमत फैलाता है और वही काम बनाने वाला है सब ख़ूबियों सराहा,
Aur wohi hai ke mehn utarta hai unke naa-umeed hone par aur apni rehamat phailata hai aur wohi kaam banane wala hai sab khoobiyon se saraha,
اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا (ف۸۳) اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے،
And whatever calamity befalls you, is because of what your hands have earned – and there is a great deal He pardons!
और इसकी निशानियों से है आसमानों और ज़मीन की पेदाइश और जो चलने वाले उनमें फैलाए, और वह उनके इकट्ठा करने पर जब चाहे क़ादिर है,
Aur uski nishaniyon se hai aasmanon aur zameen ki paidaish aur jo chalne wale unmein phailaye, aur woh unke ikattha karne par jab chahe qaadir hai,
(ف83)یہ خطاب مومنینِ مکلَّفین سے ہے جن سے گناہ سرزد ہوتے ہیں ، مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثران کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ، ان تکلیفوں کو اللہ تعالٰی ان کے گناہوں کا کَفّارہ کردیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے رفعِ درجات کے لئے ہوتی ہے جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں وارد ہے انبیاء علیہم السلام جو گناہوں سے پاک ہیں اور چھوٹے بچّے جو مکلَّف نہیں ہیں اس آیت کے مخاطب نہیں ۔فائدہ : بعضے گمراہ فرقے جو تناسخ کے قائل ہیں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ چھوٹے بچّوں کو جو تکلیف پہنچتی ہے ، اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ان کے گناہوں کا نتیجہ ہو اور ابھی تک ان سے کوئی گناہ ہوا نہیں تو لازم آیا کہ اس زندگی سے پہلے کوئی اور زندگی ہو جس میں گناہ ہوئے ہوں ، یہ بات باطل ہے کیونکہ بچّے اس کلام کے مخاطب ہی نہیں جیسا کہ بالعموم تمام خطاب عاقلین ، بالغین کو ہوتے ہیں ، پس تناسخ والوں کا استدلال باطل ہوا ۔
وہ چاہے تو ہوا تھما دے (ف۸۷) اس کی پیٹھ پر (ف۸۸) ٹھہری رہ جائیں (ف۸٦) بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کو (ف۹۰)
If He wills, He can calm the winds so the ships remain still on the sea surface; indeed in this are signs for every greatly enduring, grateful person.
और इसकी निशानियों से हैं दरिया में चलने वालियाँ फ़ जैसे पहाड़ियाँ,
Aur uski nishaniyon se hain dariya mein chalne waliyan jaise pahaariyan,
(ف87)جوکَشتیوں کو چلاتی ہے ۔(ف88)یعنی دریا کے اوپر ۔(ف89)چلنے نہ پائیں ۔(ف90)صابر ، شاکر سے مومنِ مخلص مراد ہے جو سختی و تکلیف میں صبر کرتا ہے اور راحت و عیش میں شکر ۔
تمہیں جو کچھ ملا ہے (ف۹۵) وہ جیتی دنیا میں برتنے کا ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے (ف۹۷) بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (ف۹۸)
Whatever you have received is only for usage in the life of this world, and that which is with Allah is much better and more lasting – for those who believe and rely upon their Lord.
और जान लें वह जो हमारी आयतों में झगड़ते हैं, कि उन्हें कहीं भागने की जगह नहीं,
Aur jaan jayein woh jo hamari aayaton mein jhagadte hain, ke unhein kahin bhaagne ki jagah nahin,
(ف95)دنیوی مال و اسباب ۔(ف96)صرف چند روز اس کو بقا نہیں ۔(ف97)یعنی ثواب وہ ۔(ف98)شانِ نزول : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے اپنا کل مال صدقہ کردیا اور اس پر عرب کے لوگوں نے آپ کو ملامت کی ۔
اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں،
And (for) those who avoid cardinal sins and indecencies, and forgive (even) when they are angry.
तुम्हें जो कुछ मिला है वह जीती दुनिया में बरतने का है और वह जो अल्लाह के पास है बेहतर है और अधिक बाक़ी रहने वाला उनके लिए जो ईमान लाए और अपने रब पर भरोसा करते हैं
Tumhein jo kuch mila hai woh jeeti duniya mein bartne ka hai aur woh jo Allah ke paas hai behtar hai aur zyada baaqi rehne wala unke liye jo imaan laaye aur apne Rab par bharosa karte hain,
اور وہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا (ف۹۹) اور نماز قائم رکھی (ف۱۰۰) اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے (ف۱۰۱) اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں،
And those who obeyed the command of their Lord and kept the prayer established; and whose affairs are with mutual consultation; and who spend in Our cause from what We have bestowed upon them.
और वह जो बड़े बड़े गुनाहों और बे-हयाईयों से बचते हैं और जब ग़ुस्सा आए माफ़ कर देते हैं,
Aur woh jo bade bade gunahon aur be-hiyaiyon se bachte hain aur jab gussa aaye maaf kar dete hain,
(ف99)شانِ نزول : یہ آیت انصار کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرکے ایمان و طاعت کو اختیار کیا ۔(ف100)اس پر مداومت کی ۔(ف101)وہ جلدی اور خود رائی نہیں کرتے ۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جو قوم مشورہ کرتی ہے وہ صحیح راہ پر پہنچتی ہے ۔
اور وہ کہ جب انہیں بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں (ف۱۰۲)
And those who take revenge when rebellion harms them.
और वह जिन्होंने अपने रब का हुक़्म माना और नमाज़ कायम रखी और उनका काम उनके आपस के मशवरे से है और हमारे दिए से कुछ हमारी राह में ख़र्च करते हैं,
Aur woh jinon ne apne Rab ka hukm maana aur namaz qayam rakhi aur unka kaam unke aapas ke mashware se hai aur hamare diye se kuch hamari raah mein kharch karte hain,
(ف102)یعنی جب ان پر کوئی ظلم کرے تو انصاف سے بدلہ لیتے ہیں اور بدلے میں حد سے تجاوز نہیں کرتے ۔ ابنِ زید کا قول ہے کہ مومن دو طرح کے ہیں ایک وہ جو ظلم کو معاف کرتے ہیں ، پہلی آیت میں ان کا ذکر فرمایا گیا ، دوسرے وہ جو ظالم سے بدلہ لیتے ہیں ، ان کا اس آیت میں ذکر ہے ۔ عطا نے کہا کہ یہ وہ مومنین ہیں جنہیں کفّار نے مکّہ مکرّمہ سے نکالا اوران پر ظلم کیا پھر اللہ تعالٰی نے انہیں اس سرزمین میں تسلّط دیا اور انہوں نے ظالموں سے بدلہ لیا ۔
اور برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے (ف۱۰۳) تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو (ف۱۰٤)
The retribution of a harmful deed is the harm equal to it; so whoever forgives and makes amends, so his reward is upon Allah; indeed He does not befriend the unjust.
और वह कि जब उन्हें बग़ावत पहुंचे बदला लेते हैं
Aur woh ke jab unhein baghawat pohonche badla lete hain,
(ف103)معنٰی یہ ہیں کہ بدلہ قدرِ جنایت ہونا چاہئے ، اس میں زیادتی نہ ہو اور بدلے کو برائی کہنا مجاز ہے کہ صورۃً مشابہ ہونے کے سبب سے کہا جاتا ہے اور جس کو وہ بدلہ دیاجائے اسے بُرا معلوم ہوتا ہے اور برائی کے ساتھ تعبیر کرنے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اگرچہ بدلہ لینا جائز ہے لیکن عفو اس سے بہتر ہے ۔(ف104)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ظالموں سے وہ مراد ہیں جو ظلم کی ابتدا کریں ۔
اور بیشک جس نے اپنی مظلومی پر بدلہ لیا ان پر کچھ مواخذہ کی راه نہیں،
And there is no way of reproach against those who take revenge after being wronged.
और बुराई का बदला उसी की बराबर बुराई है तो जिसने माफ़ किया और काम संवार लिया तो उसका इकर अल्लाह पर है, बेशक वह दोस्त नहीं रखता ज़ालिमों को
Aur burayi ka badla usi ki barabar burayi hai to jisne maaf kiya aur kaam sanwaara to uska ajar Allah par hai, beshak woh dost nahin rakhta zalimon ko,
اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی رفیق نہیں اللہ کے مقابل (ف۱۰۸) اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب عذاب دیکھیں گے (ف۱۰۹) کہیں گے کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے (ف۱۱۰)
And whomever Allah sends astray, there is no friend for him against Allah; and you will see the unjust when they behold the punishment saying, “Is there a way to return?”
और बेशक जिसने सब्र किया और बख़्श दिया तो यह जरूर हिम्मत के काम हैं,
Aur beshak jisne sabr kiya aur bakhsh diya to yeh zaroor himmat ke kaam hain,
(ف108)کہ اسے عذاب سے بچاسکے ۔(ف109)روزِ قیامت ۔(ف110)یعنی دنیامیں تاکہ وہاں جا کر ایمان لے آئیں ۔
اور تم انہیں دیکھو گے کہ آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ذلت سے دبے لچے چھپی نگاہوں دیکھتے ہیں (ف۱۱۱) اور ایمان والے کہیں گے بیشک ہار (نقصان) میں وہ ہیں جو اپنی جانیں اور اپنے گھر والے ہار بیٹھے قیامت کے دن (ف۱۱۲) سنتے ہو بیشک ظالم (ف۱۱۳) ہمیشہ کے عذاب میں ہیں،
And you will see them being presented upon the fire, cowering with disgrace watching with concealed eyes; and the believers will say, “Indeed ruined are those who have lost themselves and their families on the Day of Resurrection”; pay heed! Indeed the unjust are in a punishment that will never end.
और जिसे अल्लाह गुमराह करे उसका कोई रफ़ीक़ नहीं अल्लाह के मुकाबिल और तुम ज़ालिमों को देखोगे कि जब अज़ाब देखेंगे कहीं कहेंगे क्या वापिस जाने का कोई रास्ता है
Aur jise Allah gumraah kare uska koi rafeeq nahin Allah ke muqabil aur tum zalimon ko dekhoge ke jab azaab dekhenge kahenge kya wapas jaane ka koi rasta hai,
(ف111)یعنی ذلّت و خوف کے باعث آ گ کو دزدیدہ نگاہوں سے دیکھیں گے جیسے کوئی گردن زدنی اپنے قتل کے وقت تیغ زن کی تلوار کو دزدیدہ نگاہ سے دیکھتا ہے ۔(ف112)جانوں کا ہارنا تو یہ ہے کہ وہ کفر اختیار کرکے جہنّم کے دائمی عذاب میں گرفتار ہوئے اور گھر والوں کا ہارنا یہ ہے کہ ایمان لانے کی صورت میں جنّت کی جو حوریں ان کے لئے نامزد تھیں ان سے محروم ہوگئے ۔(ف113)یعنی کافر ۔
اور ان کے کوئی دوست نہ ہوئے کہ اللہ کے مقابل ان کی مدد کرتے (ف۱۱٤) اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کہیں راستہ نہیں (ف۱۱۵)
And they had no friends to help them against Allah; and there is no way for one whom Allah sends astray.
और तुम उन्हें देखोगे कि आग पर पेश किए जाते हैं ज़िल्लत से दबे लचे छुपी निगाहों देखते हैं और ईमान वाले कहेंगे बेशक हार (नुक़सान) में वे हैं जो अपनी जानें और अपने घर वाले हार बैठे क़ियामत के दिन सुनते हो बेशक ज़ालिम हमेशा के अज़ाब में हैं,
Aur tum unhein dekhoge ke aag par pesh kiye ja rahe hain zillat se dabe luche chhupi nigaahon dekhte hain aur imaan wale kahenge beshak haar (nuqsan) mein woh hain jo apni jaanen aur apne ghar wale haar baithe qayamat ke din sunte ho beshak zalim hamesha ke azaab mein hain,
(ف114)اور اس کے عذاب سے بچاسکتے ۔(ف115)خیر کا ۔ نہ وہ دنیا میں حق تک پہنچ سکے ، نہ آخرت میں جنّت تک ۔
اپنے رب کا حکم مانو (ف۱۱٦) اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں (ف۱۱۷) اس دن تمہیں کوئی پناہ نہ ہوگی اور نہ تمہیں انکار کرتے بنے (ف۱۱۸)
Obey your Lord before the advent of a Day from Allah, which cannot be averted; you will not have any refuge on that day, nor will you be able to deny.
और उनके कोई दोस्त न हुए कि अल्लाह के मुकाबिल उनकी मदद करते और जिसे अल्लाह गुमराह करे उसके लिए कहीं रास्ता नहीं
Aur unke koi dost na hue ke Allah ke muqabil unki madad karte aur jise Allah gumraah kare uske liye kahin rasta nahin,
(ف116)اور سیدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فرماں برداری کرکے توحید و عبادتِ الٰہی اختیار کرو ۔(ف117)اس سے مراد یا موت کا دن ہے یا قیامت کا ۔(ف118)اپنے گناہوں کا یعنی اس دن کوئی رہائی کی صورت نہیں ، نہ عذاب سے بچ سکتے ہو ، نہ اپنے اعمالِ قبیحہ کا انکار کرسکتے ہو جو تمہارے اعمال ناموں میں درج ہیں ۔
تو اگر وہ منہ پھیریں (ف۱۱۹) تو ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا (ف۱۲۰) تم پر تو نہیں مگر پہنچا دینا (ف۱۲۱) اور جب ہم آدمی کو اپنی طرف سے کسی رحمت کا مزہ دیتے ہیں (ف۱۲۲) اور اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۱۲۳) بدلہ اس کا جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۱۲٤) تو انسان بڑا ناشکرا ہے (ف۱۲۵)
So if they turn away from you, We have not sent you as a guardian over them; upon you is nothing but to convey (the message); and when We make man taste some mercy from Us, he rejoices upon it; and if some harm reaches them because of what their own hands have sent before, thereupon man is ungrateful!
अपने रब का हुक़्म मानो उस दिन के आने से पहले जो अल्लाह की तरफ़ से टलने वाला नहीं इस दिन तुम्हें कोई पनाह न होगी और न तुम्हें इंकार करते बने
Apne Rab ka hukm maano us din ke aane se pehle jo Allah ki taraf se talne wala nahin us din tumhein koi panaah na hogi aur na tumhein inkaar karte bane,
(ف119)ایمان لانے اور اطاعت کرنے سے ۔ (ف120)کہ تم پر ان کے اعمال کی حفاظت لازم ہو ۔(ف121)اور وہ تم نے ادا کردیا ۔ (وکان ہٰذا قبل الامربالجہاد)(ف122)خواہ وہ دولت و ثروت ہو یا صحت و عافیّت یا امن و سلامت یا جاہ و مرتبت ۔(ف123)یااور کوئی مصیبت و بَلا مثل قحط و بیماری و تنگ دستی وغیرہ کے رونما ہو ۔(ف124)یعنی ان کی نافرمانیوں اور معصیّتوں کے سبب سے ۔(ف125)نعمتوں کو بھول جاتا ہے ۔
اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت (ف۱۲٦) پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے (ف۱۲۷) اور جسے چاہے بیٹے دے (ف۱۲۸)
For Allah only is the kingship of the heavens and the earth; He creates whatever He wills; He may bestow daughters to whomever He wills, and sons to whomever He wills.
तो अगर वह मुँह फेरें तो हम ने तुम्हें उन पर निग़हबान बना कर नहीं भेजा तुम पर तो नहीं मगर पहुँचा देना और जब हम आदमी को अपनी तरफ़ से किसी रहमत का मज़ा देते हैं और इस पर खुश हो जाता है और अगर उन्हें कोई बुराई पहुँचे बदला इसका जो उनके हाथों ने आगे भेजा तो इंसान बड़ा नाशकरा है
To agar woh munh pheri to humne tumhein unpar nigehban bana kar nahin bheja tum par to nahin magar pohcha dena aur jab hum aadmi ko apni taraf se kisi rehamat ka maza dete hain aur uspar khush ho jata hai aur agar unhein koi burai pohonche badla uska jo unke haathon ne aage bheja to insaan bada na-shukra hai,
(ف126)جیسا چاہتاہے تصرّف فرماتا ہے ،کوئی دخل دینے اور اعتراض کرنے کی مجال نہیں رکھتا ۔(ف127)بیٹانہ دے ۔(ف128)دُختر نہ دے ۔
یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے (ف۱۲۹) بیشک وہ علم و قدرت والا ہے،
Or may mix them, the sons and daughters; and may make barren whomever He wills; indeed He is All Knowing, Able.
अल्लाह ही के लिए है आसमानों और ज़मीन की सुल्तानत पैदा करता है जो चाहे जिसे चाहे बेटियाँ अता फ़रमाए और जिसे चाहे बेटे दे
Allah hi ke liye hai aasmanon aur zameen ki saltanat paida karta hai jo chahe jise chahe betiyan ata farmaye aur jise chahe betay de,
(ف129)کہ اس کے اولاد ہی نہ ہو ، وہ مالک ہے ، اپنی نعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کرے ، جسے جو چاہے دے ، انبیاء علیہم السلام میں بھی یہ سب صورتیں پائی جاتی ہیں ، حضرت لوط و حضرت شعیب علیہما السلام کے صرف بیٹیاں تھیں ،کوئی بیٹا نہ تھا اور حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے صرف فرزند تھے ، کوئی دُختر ہوئی ہی نہیں اور سیدِ انبیاء حبیبِ خدامحمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالٰی نے چار فرزند عطا فرمائے اور چار صاحب زادیاں اور حضرت یحیٰی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے کوئی اولاد ہی نہیں ۔ٍ
اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر (ف۱۳۰) یا یوں کہ وہ بشر پر وہ عظمت کے ادھر ہو (ف۱۳۱) یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے (ف۱۳۲) بیشک وہ بلندی و حکمت والا ہے،(۲
And it is not for any human that Allah may speak to him except as a divine revelation or while the human is on this side of the veil of greatness, or that He sends an angel to reveal by His permission, whatever He wills; indeed He is Supreme, Wise.
या दोनों मिला दे बेटे और बेटियाँ और जिसे चाहे बाँच कर दे बेशक वह इल्म व क़ुदरत वाला है,
Ya dono mila de betay aur betiyan aur jise chahe baanjh kar de beshak woh ilm o qudrat wala hai,
(ف130)یعنی بے واسطہ اس کے دل میں القا فرما کر اور الہام کرکے بیداری میں یا خواب میں ، اس میں وحی کا وصول بے واسطہ سمع کے ہے اور آیت میں اِلاَّوَحْیًا سے یہی مراد ہے ، اس میں یہ قید نہیں کہ اس حال میں سامع متکلم کو دیکھتا ہو یا نہ دیکھتا ہو ۔ مجاہد سے منقول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد علیہ السلام کے سینۂِ مبارک میں زبور کی وحی فرمائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذبحِ فرزند کی خواب میں وحی فرمائی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے معراج میں اسی طرح کی وحی فرمائی جس کا فَاَوۡحٰی اِلٰی عَبْدِہٖ مَآ اَوْحٰی میں بیا ن ہے ، یہ سب اسی قِسم میں داخل ہیں ، انبیاء کے خواب حق ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ انبیاء کے خواب وحی ہیں ۔ (تفسیرابی السعودو کبیر و مدارک وزرقانی علی المواہب وغیرہ)(ف131)یعنی رسول پسِ پردہ اس کا کلام سنے ، اس طریقِ وحی میں بھی کوئی واسطہ نہیں ، مگر سامع کو اس حال میں متکلم کا دیدار نہیں ہوتا ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام اسی طرح کے کلام سے مشرف فرمائے گئے ۔ شانِ نزول : یہود نے حضورِ پرنورسیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو اللہ تعالٰی سے کلام کرتے وقت اس کو کیوں نہیں دیکھتے جیسا کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام دیکھتے تھے حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جواب دیا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نہیں دیکھتے تھے اور اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ مسئلہ: اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کے لئے کوئی ایسا پردہ ہو جیسا جسمانیات کے لئے ہوتا ہے ، اس پردہ سے مراد سامع کا دنیا میں دیدار سے محجوب ہونا ہے ۔(ف132)اس طریقِ وحی میں رسول کی طرف فرشتہ کی وساطت ہے ۔
اور یونہی ہم نے تمہیں وحی بھیجی (ف۱۳۳) ایک جان فزا چیز (ف۱۳٤) اپنے حکم سے، اس سے پہلے نہ تم کتاب جانتے تھے نہ احکام شرع کی تفصیل ہاں ہم نے اسے (ف۱۳۵) نور کیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں سے جسے چاہتے ہیں، اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو (ف۱۳٦)
And this is how We sent the divine revelation to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) – a life giving thing, by Our command; neither did you know the Book nor the detailed commands of religion, but We have made this Qur’an a light by which We guide whomever We will from Our bondmen; and indeed you surely do guide to the Straight Path.
और किसी आदमी को नहीं पहुँचता कि अल्लाह इस से कलाम फ़रमाए मगर wahi के तौर पर या यूँ कि वह बशर पर वह अजमत के इधर हो या कोई फ़रिश्ता भेजे कि वह इसके हुक़्म से wahi करे जो वह चाहे बेशक वह बुलंदी व हिक़मत वाला है,
Aur kisi aadmi ko nahin pohonchta ke Allah usse kalaam farmaye magar wahi ke taur par ya yun ke woh bashar par woh azmat ke idhar ho ya koi farishta bheje ke woh uske hukm se wahi kare jo woh chahe beshak woh bulandi o hikmat wala hai,
(ف133)اے سیدِ عالَم خاتَمُ المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔ (ف134)یعنی قرآنِ پاک جو دلوں میں زندگی پیدا کرتا ہے ۔(ف135)یعنی قرآن شریف کو ۔(ف136)یعنی دِینِ اسلام ۔
اللہ کی راہ (ف۱۳۷) کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، سنتے ہو سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرتے ہیں،
The path of Allah – the One to Whom only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; pay heed! Towards Allah only do all matters return.
और युनही हम ने तुम्हें wahi भीजी एक जान फ़ज़ा चीज़ अपने हुक़्म से, इससे पहले न तुम किताब जानते थे न अहकाम शरअ की तफ़सील हाँ हमने इसे नूर किया जिससे हम राह दिखाते हैं अपने बंदों से जिसे चाहते हैं, और बेशक तुम ज़रूर सीधी राह बताते हो
Aur yunhi humne tumhein wahi bheji ek jaan-fiza cheez apne hukm se, isse pehle na tum kitaab jaante the na ahkaam-e-shar’a ki tafseel haan humne ise noor kiya jisse hum raah dikhate hain apne bandon se jise chaahte hain, aur beshak tum zaroor seedhi raah batate ho,
(ف137)جو اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے لئے مقرّر فرمائی ۔
حٰمٓ ۛۚ ﴿1﴾
حٰمٓ
Ha-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
हामٓ
Haa Meem
وَالۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ۛۙ ﴿2﴾
روشن کتاب کی قسم (ف۲)
By oath of the clear Qur’an.
रोशन किताब की कसम
Roshan kitaab ki qasam
(ف2)یعنی قرآنِ پاک کی ، جس میں ہدایت و ضلالت کی راہیں جدا جدا اور واضح کردیں اور امّت کے تمام شرعی ضروریات کو بیان فرمادیا ۔
تو کیا ہم تم سے ذکر کا پہلو پھیردیں اس پر کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو (ف۵)
So shall We divert the advice away from you, because you are a nation that exceeds the limits?
तो क्या हम तुम से ज़िक्र का पहलू फेर दें इस पर कि तुम लोग हद से बढ़ने वाले हो
To kya hum tum se zikr ka pehlu pher den is par ke tum log had se barhne wale ho
(ف5)یعنی تمہارے کفر میں حد سے بڑھنے کی وجہ سے کیا ہم تمہیں مہمل چھوڑ دیں اور تمہاری طرف سے وحیِ قرآن کا رخ پھیردیں اور تمہیں امر و نہی کچھ نہ کریں ۔ معنٰی یہ ہیں کہ ہم ایسا نہ کریں گے ۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ خدا کی قَسم اگر یہ قرآنِ پاک اٹھالیا جاتا اس وقت جب کہ اس امّت کے پہلے لوگوں نے اس سے اعراض کیا تھا تو وہ سب ہلاک ہوجاتے لیکن اس نے اپنی رحمت و کرم سے اس قرآن کا نزول جاری رکھا ۔
تو ہم نے وہ ہلاک کردیے جو ان سے بھی پکڑ میں سخت تھے (ف۷) اور اگلوں کا حال گزر چکا ہے،
We therefore destroyed the people who were more forceful than these, and the example of the earlier ones has already gone by.
तो हम ने वह हलाक कर दिए जो उनसे भी पकड़ में सख़्त थे और अगलों का हाल गुज़र चुका है,
To hum ne woh halak kar diye jo un se bhi pakar mein sakht the aur aglon ka haal guzar chuka hai,
(ف7)اور ہر طرح کا زور و قوّت رکھتے تھے ، آپ کی امّت کے لوگ جو پہلے کفّار کی چال چلتے ہیں ، انہیں ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان کا بھی وہی انجام نہ ہو جو ان کا ہوا کہ ذلّت و رسوائی کی عقوبتوں سے ہلاک کئے گئے ۔
اور اگر تم ان سے پوچھو (ف۸) کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے انہیں بنایا اس عزت والے علم والے نے (ف۹)
And if you ask them, “Who has created the heavens and the earth?”, they will surely say, “They are created by the Most Honourable, the All Knowing.”
और अगर तुम उनसे पूछो कि आसमान और ज़मीन किस ने बनाए तो ज़रूर कहेंगे उन्हें बनाया उस इज़्ज़त वाले इल्म वाले ने
Aur agar tum un se pucho ke aasmaan aur zameen kis ne banaye to zaroor kahenge unhen banaya us izzat wale ilm wale ne
(ف8)یعنی مشرکین سے ۔(ف9)یعنی اقرار کریں گے کہ آسمان وزمین کو ا للہ تعالٰی نے بنایا اور یہ بھی اقرار کریں گے کہ وہ عزّت و علم والا ہے باوجود اس اقرار کے بعث کا انکار کیسی انتہادرجہ کی جہالت ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے اظہارِ قدرت کے لئے اپنے مصنوعات کا ذکر فرماتا ہے اور اپنے اوصاف و شان کا اظہار کرتا ہے ۔
اور وہ جس نے آسمان سے پانی اتارا ایک اندازے سے (ف۱۱) تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر زندہ فرمادیا، یونہی تم نکالے جاؤ گے (ف۱۲)
And Who sent down water from the sky with a proper measure, so We revived a dead city with it; this is how you will be taken out.
और वह जिस ने आसमान से पानी उतारा एक अंदाज़े से तो हम ने उस से एक मुर्दा शहर ज़िन्दा फ़रमा दिया, यूं ही तुम निकाले जाओगे
Aur woh jis ne aasmaan se paani utara ek andaze se to hum ne is se ek murda shehar zinda farma diya, yoonhi tum nikale jaoge
(ف11)تمہاری حاجتوں کی قدر نہ اتنا کم کہ اس سے تمہاری حاجتیں پوری نہ ہوں ، نہ اتنا زیادہ کہ قومِ نوح کی طرح تمہیں ہلاک کردے ۔(ف12)اپنی قبروں سے زندہ کرکے ۔
کہ تم ان کی پیٹھوں پر ٹھیک بیٹھو (ف۱٤) پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو جب اس پر ٹھیک بیٹھ لو اور یوں کہو پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارے بوتے (قابو) کی نہ تھی،
So that you may properly mount their backs, and may remember your Lord’s favour when you have mounted them, and say, “Purity is to Him, Who has given this ride in our control, and we did not have the strength for it.”
कि तुम उन की पीठों पर ठीक बैठो फिर अपने रब की नेमत याद करो जब उस पर ठीक बैठ लो और यूं कहो पाकी है उसे जिस ने इस सवारी को हमारे बस में कर दिया और यह हमारे बोते (क़ाबू) की न थी,
Ke tum un ki peethon par theek baitho phir apne Rab ki ne’mat yaad karo jab us par theek baith lo aur yoon kaho: Paaki hai usay jis ne is sawaari ko hamare bas mein kar diya aur yeh hamare bote (qaabu) ki na thi,
(ف14)خشکی اور تری کے سفر میں ۔
وَاِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿14﴾
اور بیشک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے (ف۱۵)
“And indeed we have to return to our Lord.”
और बेशक हमें अपने रब की तरफ़ पलटना है
Aur beshak humein apne Rab ki taraf palatna hai
(ف15)آخر کار ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب سفر میں تشریف لے جاتے تو اپنے ناقہ پر سوار ہوتے وقت پہلے الحمد للہ پڑھتے ، پھر سبحان اللہ اور اللہ اکبر ، یہ سب تین تین بار پھر یہ آیت پڑھتے : سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِیْنَoوَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ، اس کے بعد اور دعائیں پڑھتے اور جب حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کَشتی میں سوار ہوتے تو فرماتے بِسْمِ اللہِ مَجْرٖھَا وَمُرْسٰھَا ط اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْر رَّحِیْم ۔
اور اس کے لیے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا ٹھہرایا (ف۱٦) بیشک آدمی (ف۱۷) کھلا ناشکرا ہے (ف۱۸)
And from* His bondmen, they appointed a portion for Him; man is indeed an open ingrate. (* Appointed some of His creation as His sons and daughters).
और उसके लिए उसके बन्दों में से टुकड़ा ठहराया बेशक आदमी खुला नाशुक्रा है
Aur uske liye uske bandon mein se tukra thehraya beshak aadmi khula nashukra hai
(ف16)یعنی کفّار نے اس اقرار کے باوجود کہ اللہ تعالٰی آسمان و زمین کا خالق ہے یہ ستم کیا کہ ملائکہ کو اللہ تعالٰی کی بیٹیاں بتایا اور اولاد صاحبِ اولاد کا جز ہوتی ہے ، ظالموں نے اللہ تبارک و تعالٰی کے لئے جزقرار دیا ،کیسا عظیم جُرم ہے ۔(ف17)جو ایسی باتوں کا قائل ہے ۔(ف18)اس کا کفر ظاہر ہے ۔
اور جب ان میں کسی کو خوشخبری دی جائے اس چیز کی (ف۲۰) جس کا وصف رحمن کے لیے بتاچکا ہے (ف۲۱) تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے (ف۲۲)
And if one of them is given the glad tidings of what he professes regarding the Most Gracious, his face blackens and he is mournful!
और जब उन में किसी को खुशख़बरी दी जाए उस चीज़ की जिस का वर्णन रहमान के लिए बता चुका है तो दिन भर उस का मुँह काला रहे और ग़म खाया करे
Aur jab un mein se kisi ko khush khabri di jaye us cheez ki jiska wasf Rehman ke liye bata chuka hai to din bhar uska munh kaala rahe aur gham khaya kare
(ف20)یعنی بیٹی کی کہ تیرے گھرمیں بیٹی پیدا ہوئی ہے ۔(ف21)کہ معاذ اللہ وہ بیٹی والا ہے ۔(ف22)اور بیٹی کا ہونا اس قدر ناگوار سمجھے باوجود اس کے خدائے پاک کے لئے بیٹیاں بتائے تَعَالٰی اللہُ عَنْ ذٰلِکَ ۔
اور کیا (ف۲۳) وہ جو گہنے (زیور) میں پروان چڑھے (ف۲٤) اور بحث میں صاف بات نہ کرے (ف۲۵)
And (do they chose for Him) one who is brought up among ornaments, and cannot express herself clearly in debate?
और क्या वह जो गहने (ज़ेवर) में परवान चढ़े और बहस में साफ़ बात न करे
Aur kya woh jo gehne (zevar) mein parwan chadhe aur behas mein saaf baat na kare
(ف23)کافر حضرت رحمٰن کے لئے اولاد کی قِسموں میں سے تجویز کرتے ہیں ۔(ف24)یعنی زیوروں کی زیب و زینت میں نازو نزاکت کے ساتھ پرورش پائے ۔فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ زیور سے تزیّن دلیلِ نقصان ہے تو مَردوں کو اس سے اجتناب چاہئے ، پرہیزگاری سے اپنی زینت کریں ۔ اب آگے آیت میں لڑکی کی ایک اور کمزوری کا اظہار فرمایا جاتا ہے ۔(ف25)یعنی اپنے ضعفِ حال اور قلّتِ عقل کی وجہ سے ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ عورت جب گفتگو کرتی ہے اور اپنی تائید میں کوئی دلیل پیش کرنا چاہتی ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے خلاف دلیل پیش کردیتی ہے ۔
اور انہوں نے فرشتوں کو، کہ رحمٰن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا (ف۲٦) کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے (ف۲۷) اب لکھ لی جائے گی ان کی گواہی (ف۲۸) اور ان سے جواب طلب ہوگا (ف۲۹)
And they appoint the angels, who are the bondmen of the Most Gracious, as females; were they present at the time of the angels’ creation? Their declaration will be now recorded and they will be questioned.
और उन्होंने फ़रिश्तों को, कि रहमान के बन्दे हैं औरतें ठहराया क्या उनके बनाते वक़्त यह हाज़िर थे अब लिख ली जाएगी उनकी गवाही और उनसे जवाब तलब होगा
Aur unhon ne farishton ko, ke Rehman ke bande hain auratein thehraya kya unke banate waqt yeh haazir the? Ab likh li jaye gi unki gawahi aur un se jawab talab hoga
(ف26)حاصل یہ ہے کہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بتانے میں بے دینوں نے تین کفر کئے ، ایک تو اللہ تعالٰی کی طرف اولاد کی نسبت ، دوسرے اس ذلیل چیز کا اس کی طرف منسوب کرنا جس کووہ خود بہت ہی حقیر سمجھتے ہیں اور اپنے لئے گوارا نہیں کرتے ، تیسرے ملائکہ کی توہین انہیں بیٹیاں بتانا ۔ (مدارک ) اب اس کا رد فرمایا جاتاہے ۔(ف27)فرشتوں کا مذکر یا مؤنث ہونا ایسی چیز تو ہے نہیں جس پر کوئی عقلی دلیل قائم ہوسکے اور ان کے پاس خبر کوئی آئی نہیں توجو کفّار ان کو مؤنث قرار دیتے ہیں ان کا ذریعۂِ علم کیا ہے ؟ کیا ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے اورانہوں نے مشاہدہ کرلیا ہے ؟ جب یہ بھی نہیں تو محض جاہلانہ گمراہی کی بات ہے ۔(ف28)یعنی کفّار کا فرشتوں کے مؤنث ہونے پر گواہی دینا لکھ لیا جائے گا ۔
اور بولے اگر رحمٰن چاہتا ہم انہیں نہ پوجتے (ف۳۰) انہیں اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں (ف۳۱) یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں (ف۳۲)
And they say, “If the Most Gracious had willed, we would not have worshipped them!” They do not know its truth at all; they only make guesses.
और बोले अगर रहमान चाहता हम उन्हें न पूजते उन्हें उसकी हक़ीक़त कुछ मालूम नहीं यूं ही अटकले दौड़ाते हैं
Aur bole agar Rehman chahta hum unhen na poojte, unhein uski haqiqat kuch maloom nahin, yoonhi atklein dorhate hain
(ف29)آخرت میں اور اس پر سزا دی جائے گی ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کفّار سے دریافت فرمایا کہ تم فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کس طرح کہتے ہو ؟ تمہارا ذریعۂِ علم کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا سے سنا ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں وہ سچّے تھے ۔ اس گواہی کو اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ لکھی جائے گی اور اس پر جواب طلب ہوگا ۔(ف30)یعنی ملائکہ کو ۔ مطلب یہ تھا کہ اگر ملائکہ کی پرستش کرنے سے اللہ تعالٰی راضی نہ ہوتا تو ہم پر عذاب نازل کرتا اور جب عذاب نہ آیا تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ یہی چاہتا ہے ، یہ انہوں نے ایسی باطل بات کہی جس سے لازم آئے کہ تمام جُرم جو دنیا میں ہوتے ہیں ان سے خدا راضی ہے ، اللہ تعالٰی ان کی تکذیب فرماتا ہے ۔(ف31)وہ رضائے الٰہی کے جاننے والے ہی نہیں ۔(ف32)جھوٹ بکتے ہیں ۔
بلکہ بولے ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر پر چل رہے ہیں (ف۳٤)
Rather they said, “We found our forefathers upon a religion, and we are following their footsteps.”
बल्कि बोले हम ने अपने बाप दादा को एक दीन पर पाया और हम उनकी लकीर पर चल रहे हैं
Balke bole hum ne apne baap dada ko ek deen par paaya aur hum unki lakeer par chal rahe hain
(ف34)آنکھیں میچ کر بے سوچے سمجھے ان کا اتباع کرتے ہیں ، وہ مخلوق پرستی کیا کرتے تھے ، مطلب یہ ہے کہ اس کی کوئی دلیل بجز اس کے نہیں ہے کہ یہ کام وہ باپ دادا کی پیروی میں کرتے ہیں ، اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ان سے پہلے بھی ایسا ہی کہا کرتے تھے ۔
اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسُودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں (ف۳۵)
And similarly, whenever We sent a Herald of Warning before you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) into any town, its wealthy people said, “We found our forefathers upon a religion, and we are behind their footsteps.”
और ऐसे ही हम ने तुम से पहले जब किसी शहर में डर सुनाने वाला भेजा वहाँ के आसूदों (अमीरों) ने यही कहा कि हम ने अपने बाप दादा को एक दीन पर पाया और हम उनकी लकीर के पीछे हैं
Aur aise hi hum ne tum se pehle jab kisi shehar mein dar sunane wala bheja wahan ke asoodon (amiron) ne yehi kaha ke hum ne apne baap dada ko ek deen par paaya aur hum unki lakeer ke peeche hain
(ف35)اس سے معلوم ہوا کہ باپ دادا کی اندھے بن کرپیروی کرناکفّار کا قدیمی مرض ہے اور انہیں اتنی تمیز نہیں کہ کسی کی پیروی کرنے کے لئے یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ وہ سیدھی راہ پر ہو ، چنانچہ ۔
نبی نے فرمایا اور کیا جب بھی کہ میں تمہارے پاس وہ (ف۳٦) لاؤں جو سیدھی راہ ہو اس سے (ف۳۷) جس پر تمہارے باپ دادا تھے بولے جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے (ف۳۸)
The prophet said, “What! Even if I bring to you a path better than what you found your forefathers following?”; they said, “We do not believe in whatever you have been sent with.”
नबी ने फ़रमाया और क्या जब भी कि मैं तुम्हारे पास वह लाऊँ जो सीधी राह हो उस से जिस पर तुम्हारे बाप दादा थे बोले जो कुछ तुम ले कर भेजे गए हम उसे नहीं मानते
Nabi ne farmaya aur kya jab bhi ke main tumhare paas woh laoon jo seedhi raah ho is se jis par tumhare baap dada the, bole jo kuch tum lekar bheje gaye hum use nahin maante
(ف36)دِینِ حق ۔(ف37)یعنی اس دِین سے ۔(ف38)اگرچہ تمہارا دِین حق و صواب ہو مگر اپنے باپ دادا کا دِین چھوڑنے والے نہیں چاہے وہ کیسا ہی ہو ، اٍس پر اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے ۔
اور اسے (ف٤۰) اپنی نسل میں باقی کلام رکھا (ف٤۱) کہ کہیں وہ باز آئیں (ف٤۲)
And Ibrahim kept this declaration among his progeny, in order that they may desist.
और उसे अपनी नस्ल में बाक़ी कलाम रखा कि कहीं वह बाज़ आएं
Aur use apni nasal mein baaqi kalaam rakha ke kahin woh baaz aayen
(ف40)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اس توحیدی کلمہ کو جو فرمایا تھا کہ میں بیزار ہوں تمہارے معبودوں سے سوائے اس کے جس نے مجھ کو پیدا کیا ۔(ف41)تو آپ کی اولاد میں موحِّد اور توحید کے داعی ہمیشہ رہیں گے ۔(ف42)شرک سے اور یہ دِینِ برحق قبول کریں ۔ یہاں حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ذکر فرمانے میں تنبیہہ ہے کہ اے اہلِ مکّہ اگر تمہیں اپنے باپ دادا کا ابتاع کرنا ہی ہے توتمہارے آباء میں جو سب سے بہتر ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کا اتباع کرو اور شرک چھوڑ دو اور یہ بھی دیکھو کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو راہِ راست پر نہیں پایا تو ان سے بیزاری کا اعلان فرمادیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو باپ دادا راہِ راست پر ہوں دِینِ حق رکھتے ہوں ان کا اتباع کیا جائے اور جو باطل پر ہوں ،گمراہی میں ہوں ان کے طریقہ سے بیزاری کا اعلان کیا جائے ۔
بلکہ میں نے انہیں (ف٤۳) اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دیے (ف٤٤) یہاں تک کہ ان کے پاس حق (ف٤۵) اور صاف بتانے والا رسول تشریف لایا (ف٤٦)
In fact I gave them and their forefathers the usage of this world until the truth and the Noble Messenger who conveyed the message clearly, came to them.
बल्कि मैं ने उन्हें और उनके बाप दादा को दुनिया के फ़ायदे दिए यहाँ तक कि उनके पास हक़ और साफ़ बताने वाला रसूल तशरीफ़ लाया
Balke main ne unhein aur unke baap dada ko duniya ke faide diye yahan tak ke unke paas haq aur saaf batane wala Rasool tashreef laya
(ف43)یعنی کفّارِ مکّہ کو ۔(ف44)دراز عمریں عطا فرمائیں اور انکے کفر کے باعث ان پر عذاب نازل کرنے میں جلدی نہ کی ۔(ف45)یعنی قرآن شریف ۔(ف46)یعنی سیدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم روشن ترین آیات و معجزات کے ساتھ رونق افروز ہوئے اور آپ نے شرعی احکام واضح طور پر بیان فرمائے اور ہمارے اس انعام کا حق یہ تھا کہ اس رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا ۔
اور بولے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں (ف٤۷) کے کسی بڑے آدمی پر (ف٤۸)
And they said, “Why was the Qur’an not sent down upon some chieftain of these two great towns?” (The chiefs of Mecca and Taif).
और बोले क्यों न उतारा गया यह क़ुरआन उन दो शहरों के किसी बड़े आदमी पर
Aur bole kyon na utara gaya yeh Qur’an in do shahron ke kisi bade aadmi par
(ف47)مکّہ مکرّمہ و طائف ۔(ف48)جو کثیرُ المال ، جتھے دار ہو جیسے کہ مکّہ مکرّمہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ثقفی ۔ اللہ تعالٰی ان کی اس بات کا رد فرماتا ہے ۔
کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں (ف٤۹) ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا (ف۵۰) اور ان میں ایک دوسرے پر درجوں بلندی دی (ف۵۱) کہ ان میں ایک دوسرے کی ہنسی بنائے (ف۵۲) اور تمہارے رب کی رحمت (ف۵۳) ان کی جمع جتھا سے بہتر (ف۵٤)
Are they the distributors of your Lord’s mercy? We have distributed among them their comforts in the life of this world, and gave high status to some over others so that they mock at each other; and the mercy of your Lord is better than all what they hoard.
क्या तुम्हारे रब की रहमत वह बाँटते हैं हम ने उनमें उनकी ज़ीस्त का सामान दुनिया की ज़िन्दगी में बाँटा और उनमें एक दूसरे पर दरजों बुलंदी दी कि उनमें एक दूसरे की हंसी बनाए और तुम्हारे रब की रहमत उनकी जमा जथा से बेहतर
Kya tumhare Rab ki rehmat woh baant-te hain? Hum ne in mein unki zeest ka samaan duniya ki zindagi mein baanta aur in mein ek doosre par darjon bulandi di ke in mein ek doosre ki hansi banaye aur tumhare Rab ki rehmat unki jama-jatha se behtar
(ف49)یعنی کیا نبوّت کی کنجیاں انکے ہاتھ میں ہیں کہ جس کو چاہیں دے دیں ، کس قدر جاہلانہ بات کہتے ہیں ۔(ف50)تو کسی کو غنی کیا ، کسی کو فقیر ، کسی کو قوی ، کسی کو ضعیف ۔ مخلوق میں کوئی ہمارے حکم کو بدلنے اور ہماری تقدیر سے باہر نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا تو جب دنیا جیسی قلیل چیز میں کسی کو مجالِ اعتراض نہیں تو نبوّت جیسے منصبِ عالی میں کیا کسی کو دم مارنے کا موقع ہے ؟ ہم جسے چاہتے ہیں غنی کرتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں مخدوم بناتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں خادم بناتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں نبی بناتے ہیں ، جسے چاہتے ہیں امّتی بناتے ہیں ، امیر کیا کوئی اپنی قابلیّت سے ہوجاتا ہے ؟ ہماری عطا ہے جسے جو چاہیں کریں ۔(ف51)قوّت ودولت وغیرہ دنیوی نعمت میں ۔(ف52)یعنی مالدار فقیرکی ہنسی کرے ، یہ قرطبی کی تفسیر کے مطابق ہے ۔ اور دوسرے مفسّرین نے سُخْرِیًّا ہنسی بنانے کے معنٰی میں نہیں لیا ہے بلکہ اعمال و اشغال کے مسخّر بنانے کے معنٰی میں لیا ہے ، اس صورت میں معنٰی یہ ہوں گے کہ ہم نے دولت و مال میں لوگوں کو متفاوت کیا تاکہ ایک دوسرے سے مال کے ذریعہ خدمت لے اور دنیا کا نظام مضبوط ہو ، غریب کو ذریعۂِ معاش ہاتھ آئے اور مالدار کو کام کرنے والے بہم پہنچیں تو اس پر کون اعتراض کرسکتا ہے کہ فلاں کو کیوں غنی کیا اور فلاں کو فقیر اور جب دنیوی امور میں کوئی شخص دم نہیں مارسکتا تو نبوّت جیسے رتبۂِ عالی میں کسی کو کیا تابِ سخن و حقِ اعتراض ؟ اس کی مرضی جس کو چاہے سرفراز فرمائے ۔(ف53)یعنی جنّت ۔(ف54)یعنی اس مال سے بہتر ہے جس کو دنیا میں کفّار جمع کرکے رکھتے ہیں ۔
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں (ف۵۵) تو ہم ضرور رحمٰن کے منکروں کے لیے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے جن پر چڑھتے،
And were it not for that all people be on one religion, We would have made for the disbelievers of the Most Gracious, roofs and stairs of silver which they would climb.
और अगर यह न होता कि सब लोग एक दीन पर हो जाएं तो हम ज़रूर रहमान के मुनकरों के लिए चांदी की छतें और सीढ़ियां बनाते जिन पर चढ़ते,
Aur agar yeh na hota ke sab log ek deen par ho jayein to hum zaroor Rehman ke munkiron ke liye chaandi ki chhattein aur seedhiyan banate jin par chadhte,
(ف55)یعنی اگر اس کا لحاظ نہ ہوتا کہ کافروں کو فراخیِٔ عیش میں دیکھ کر سب لوگ کافر ہوجائیں گے ۔
اور طرح طرح کی آرائش (ف۵٦) اور یہ جو کچھ ہے جیتی دنیا ہی کا اسباب ہے، اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے (ف۵۷)
And diverse adornments; and all this is usage only of the life of this world; and the Hereafter with your Lord, is for the pious.
और तरह तरह की आराइश और यह जो कुछ है जीती दुनिया ही का अस्बाब है, और आख़िरत तुम्हारे रब के पास परहेज़गारों के लिए है
Aur tarah tarah ki aaraish aur yeh jo kuch hai jeeti duniya hi ka asbaab hai, aur aakhirat tumhare Rab ke paas parheizgaaron ke liye hai
(ف56)کیونکہ دنیا اور اس کے سامان کی ہمارے نزدیک کچھ قدر نہیں ، وہ سریعۃ الزوال ہے ۔(ف57)جنہیں دنیا کی چاہت نہیں ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اگراللہ تعالٰی کے نزدیک دنیامچھّر کے پر کے برابر بھی قدررکھتی توکافرکو اس سے ایک پیاس پانی نہ دیتا ۔ (قال الترمذی حدیث حسن غریب) دوسری حدیث میں ہے کہ سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نیازمندوں کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف لے جاتے تھے ، راستہ میں ایک مُردہ بکری دیکھی ، فرمایا دیکھتے ہو ، اس کے مالکوں نے اسے بہت بے قدری سے پھینک دیا ، دنیا کی اللہ تعالٰی کے نزدیک اتنی بھی قدر نہیں جتنی بکری والوں کے نزدیک اس مری بکری کی ہو ۔ ( اخرجہ الترمذی و قال حدیث حسن) حدیث : سیدِ عالَم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا کہ جب اللہ تعالٰی اپنے کسی بندے پر کرم فرماتا ہے تو اسے دنیا سے ایسا بچاتا ہے جیسا تم اپنے بیمار کو پانی سے بچاؤ ۔ (الترمذی وقال حسن غریب) حدیث : دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنّت ہے ۔
یہاں تک کہ جب (ف٦۱) کافر ہمارے پاس آئے گا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں تجھ میں پورب پچھم کا فاصلہ ہوتا تو کیا ہی برا ساتھی ہے،
To the extent that when the disbeliever will be brought to Us, he will say to his devil, “Alas – if only there was the distance* of east and west, between you and me!” – so what an evil companion** he is! (* Had I not listened to you. **They will be bound together in chains.)
यहाँ तक कि जब काफ़िर हमारे पास आएगा अपने शैतान से कहेगा हाय किसी तरह मुझ में तुझ में पूरब पच्छम का फ़ासला होता तो क्या ही बुरा साथी है,
Yahan tak ke jab kaafir hamare paas aayega apne shaitan se kahega haaye kisi tarah mujh mein tujh mein poorab picham ka faasla hota to kya hi bura saathi hai,
تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے (ف٦٤) یا اندھوں کو راہ دکھاؤ گے (ف٦۵) اور انہیں جو کھلی گمراہی میں ہیں (ف٦٦)
So will you make the deaf listen or show the path to the blind, and to those who are in open error? (The disbelievers whose hearts are sealed, are deaf and blind to the truth).
तो क्या तुम बहरों को सुनाओगे या अंधों को राह दिखाओगे और उन्हें जो खुली गुमराही में हैं
To kya tum behron ko sunao ge ya andhon ko raah dikhao ge aur unhein jo khuli gumraahi mein hain
(ف64)جو گوشِ قبول نہیں رکھتے ۔(ف65)جو چشمِ حق بیں سے محروم ہیں ۔(ف66)جن کے نصیب میں ایمان نہیں ۔
اور بیشک وہ (ف۷۱) شرف ہے تمہارے لیے (ف۷۲) اور تمہاری قوم کے لیے (ف۱۷۳) اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا (ف۷٤)
And it is undoubtedly an honour for you and your people; and you will soon be questioned.
और बेशक वह शर्फ़ है तुम्हारे लिए और तुम्हारी क़ौम के लिए और क़रीब ही तुम से पूछा जाएगा
Aur beshak woh sharaf hai tumhare liye aur tumhari qaum ke liye aur anqareeb tum se poocha jayega
(ف71)قرآن شریف ۔(ف72)کہ اللہ تعالٰی نے تمہیں نبوّت و حکمت عطا فرمائی ۔(ف73)یعنی امّت کے لئے کہ انہیں اس سے ہدایت فرمائی ۔(ف74)روزِ قیامت کہ تم نے قرآن کا کیا حق ادا کیا ؟ اس کی کیا تعظیم کی ؟ اس نعمت کا کیا شکر بجالائے ؟
اور ان سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے کیا ہم نے رحمان کے سوا کچھ اور خدا ٹھہرائے جن کو پوجا ہو (ف۷۵)
And ask them – did any of the Noble Messengers We sent before you, appoint any other Gods except the Most Gracious, whom they used to worship?
और उनसे पूछो जो हम ने तुम से पहले रसूल भेजे क्या हम ने रहमान के सिवा कुछ और ख़ुदा ठहराए जिन को पूजा हो
Aur unse poocho jo hum ne tum se pehle Rasool bheje kya hum ne Rehman ke siwa kuch aur khuda thehraye jin ko pooja ho
(ف75)رسولوں سے سوال کرنے کے معنٰی یہ ہیں کہ ان کے ادیان و مِلَل کو تلاش کرو ،کہیں بھی کسی نبی کی امّت میں بت پرستی روا رکھی گئی ہے اور اکثر مفسّرین نے اس کے معنٰی یہ بیان کئے ہیں کہ مومنینِ اہلِ کتاب سے دریافت کرو کہ کیا کبھی کسی نبی نے غیرُ اللہ کی عبادت کی اجازت دی تاکہ مشرکین پر ثابت ہوجائے کہ مخلوق پرستی نہ کسی رسول نے بتائی ، نہ کسی کتاب میں آئی یہ بھی ۔ ایک روایت ہے کہ شبِ معراج سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیتُ المقدِس میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی جب حضورنماز سے فارغ ہوئے جبریلِ امین نے عرض کیا کہ اے سرورِ اکرم اپنے سے پہلے انبیاء سے دریافت فرمالیجئے کہ کیا اللہ تعالٰی نے اپنے سوا کسی اور کی عبادت کی اجازت دی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اس سوال کی کچھ حاجت نہیں یعنی اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ تمام انبیاء توحید کی دعوت دیتے آئے ، سب نے مخلوق پرستی کی ممانعت فرمائی ۔
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشایوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو اس نے فرمایا بیشک میں اس کا رسول ہوں جو سارے جہاں کا مالک ہے،(
And indeed We sent Moosa along with Our signs towards Firaun and his chieftains – he therefore said, “Indeed I am a Noble Messenger of the Lord of the Creation.”
और बेशक हम ने मूसा को अपनी निशानियों के साथ फिरऔन और उसके सरदारों की तरफ़ भेजा तो उस ने फ़रमाया बेशक मैं उसका रसूल हूँ जो सारे जहाँ का मालिक है,
Aur beshak hum ne Musa ko apni nishaniyon ke saath Firaun aur uske sardaron ki taraf bheja to usne farmaya beshak main uska Rasool hoon jo saare jahan ka Maalik hai,
اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے وہ پہلے سے بڑی ہوتی (ف۷۸) اور ہم نے انہیں مصیبت میں گرفتار کیا کہ وہ بام آئیں (ف۷۹)
And all the signs We showed them were always greater than the earlier ones; and We seized them with calamities, so that they may return.
और हम उन्हें जो निशानी दिखाते वह पहले से बड़ी होती और हम ने उन्हें मुसीबत में गिरफ्तार किया कि वह बाज़ आएं
Aur hum unhein jo nishani dikhate woh pehle se badi hoti aur hum ne unhein museebat mein giraftar kiya ke woh baam aayen
(ف78)یعنی ہر ایک نشانی اپنی خصوصیت میں دوسری سے بڑھی چڑھی تھی ، مراد یہ ہے کہ ایک سے ایک اعلٰی تھی ۔(ف79)کفر سے ایمان کی طرف اور یہ عذاب قحط سالی اور طوفان و ٹڈی وغیرہ سے کئے گئے ، یہ سب حضرت موسٰی عَلٰی نبیّناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی نشانیاں تھیں جو ان کی نبوّت پر دلالت کرتی تھیں اور ان میں ایک سے ایک بلندو بالاتھی ۔
اور بولے (ف۸۰) کہ اے جادوگر (ف۸۱) ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے (ف۸۲) بیشک ہم ہدایت پر آئیں گے (ف۸۳)
And they said, “O you magician! Pray for us to your Lord, by the means of His covenant which is with you; we will certainly come to guidance.”
और बोले कि ऐ जादूगर हमारे लिए अपने रब से दुआ कर कि उस अहद के सबब जो उसका तेरे पास है बेशक हम हिदायत पर आएंगे
Aur bole ke ae jaadugar hamare liye apne Rab se dua kar ke us ahad ke sabab jo uska tere paas hai beshak hum hidayat par aayenge
(ف80)عذا ب دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔(ف81)یہ کلمہ انکے عرف اور محاورہ میں بہت تعظیم وتکریم کا تھا وہ عالِم و ماہر و حاذقِ کامل کو جادوگر کہا کرتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ ان کی نظر میں جادو کی بہت عظمت تھی اور وہ اس کو صفتِ مدح سمجھتے تھے ، اس لئے انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو بوقتِ التجا اس کلمہ سے ندا کی ، کہا ۔(ف82)وہ عہد یاتو یہ ہے کہ آپ کی دعا مستجاب ہے یا نبوّت یا ایمان لانے والوں اور ہدایت قبول کرنے والوں پر سے عذاب اٹھالینا ۔
اور فرعون اپنی قوم میں (ف۸۵) پکارا کہ اے میری قوم! کیا میرے لیے مصر کی سلطنت نہیں اور یہ نہریں کہ میرے نیچے بہتی ہیں (ف۸٦) تو کیا تم دیکھتے نہیں (ف۸۷)
And said Firaun, “O my people! Is not the kingdom of Egypt for me, and these rivers that flow beneath me? So do you not see?”
और फिरऔन अपनी क़ौम में पुकारा कि ऐ मेरी क़ौम! क्या मेरे लिए मिस्र की सल्तनत नहीं और यह नहरें कि मेरे नीचे बहती हैं तो क्या तुम देखते नहीं
Aur Firaun apni qaum mein pukara ke ae meri qaum! Kya mere liye Misr ki saltanat nahin aur yeh nahrain ke mere neeche behti hain to kya tum dekhte nahin
(ف85)بہت افتخار کے ساتھ ۔(ف86)یہ دریائے نیل سے نکلی ہوئی بڑی بڑی نہریں تھیں جو فرعون کے قصر کے نیچے جاری تھیں ۔ (ف87)میری عظمت و قوّت اور شانِ وسطوت ۔ اللہ تعالٰی کی عجیب شان ہے ، خلیفہ رشید نے جب یہ آیت پڑھی اور حکومتِ مصر پر فرعون کا غرور دیکھا تو کہا کہ میں وہ مصر اپنے ادنٰی غلام کو دے دوں گا چنانچہ انہوں نے مصر خصیب کو دے دیا جو ان کا غلام تھا اور وضو کرانے کی خدمت پر مامور تھا۔
یا میں بہتر ہوں (ف۸۸) اس سے کہ ذلیل ہے (ف۸۹) اور بات صاف کرتا معلوم نہیں ہوتا (ف۹۰)
“Or that I am better than him, for he is lowly – and he does not seem to talk plainly.”
या मैं बेहतर हूँ उस से कि ज़लील है और बात साफ़ करता मालूम नहीं होता
Ya main behtar hoon usse ke zaleel hai aur baat saaf karta maloom nahin hota
(ف88)یعنی کیا تمہارے نزدیک ثابت ہوگیا اور تم نے سمجھ لیا کہ میں بہتر ہوں ۔(ف89)یہ اس بے ایمان متکبّر نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی شان میں کہا ۔(ف90)زبان میں گرہ ہونے کی وجہ سے ، جو بچپن میں آ گ منہ میں رکھنے سے پڑ گئی تھی اور یہ اس ملعون نے جھوٹ کہا کہ کیونکہ آپ کی دعا سے اللہ تعالٰی نے زبانِ اقدس کی وہ گرہ زائل کردی تھی لیکن فرعونی پہلے ہی خیال میں تھے ۔ آگے پھر اسی فرعون کا کلام ذکر فرمایا جاتا ہے ۔
تو اس پر کیوں نہ ڈالے گئے سونے کے کنگن (ف۹۱) یا اس کے ساتھ فرشتے آتے کہ اس کے پاس رہتے (ف۹۲)
“So why was he not bestowed with armlets of gold? Or angels should have come with him staying at his side!”
तो उस पर क्यों न डाले गए सोने के कंगन या उसके साथ फ़रिश्ते आते कि उसके पास रहते
To is par kyon na daale gaye sone ke kangan ya uske saath farishte aate ke uske paas rehte
(ف91)یعنی اگر حضرت موسٰی علیہ السلام سچّے ہیں اور اللہ تعالٰی نے ان کو واجبُ الاطاعت سردار بنایا ہے تو انہیں سونے کا کنگن کیوں نہیں پہنا یا یہ بات اس نے اپنے زمانہ کے دستور کے مطابق کہی کہ اس زمانہ میں جس کسی کو سردار بنایا جاتا تھااس کو سونے کے کنگن اور سونے کا طوق پہنایا جاتا تھا ۔(ف92)اور اس کے صدق کی گواہی دیتے ۔
اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی جائے، جبھی تمہاری قوم اس سے ہنسنے لگتے ہیں (ف۹٦)
And when the example of the son of Maryam is given, your people laugh at it!
और जब इब्न-ए-मरियम की मिसाल बयान की जाए, तभी तुम्हारी क़ौम उस से हंसने लगते हैं
Aur jab Ibn-e-Maryam ki misaal bayan ki jaye, tabhi tumhari qaum us se hansne lagte hain
(ف96)شانِ نزول : جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے قریش کے سامنے یہ آیت وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ پڑھی جس کے معنٰی یہ ہیں کہ اے مشرکین تم اور جو چیز اللہ کے سوا تم پوجتے ہو سب جہنّم کا ایندھن ہے ، یہ سن کر مشرکین کو بہت غصّہ آیا اور ابنِ زبعری کہنے لگا یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا یہ خاص ہمارے اور ہمارے معبودوں ہی کے لئے ہے یا ہر امّت و گروہ کے لئے ؟ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے لئے بھی ہے اور سب امّتوں کے لئے بھی ، اس پر اس نے کہا کہ آپ کے نزدیک عیسٰی بن مریم نبی ہیں اور آپ ان کی اور انکی والدہ کی تعریف کرتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے نصارٰی ان دونوں کو پوجتے ہیں اور حضرت عزیر اور فرشتے بھی پوجے جاتے ہیں یعنی یہود وغیرہ ان کو پوجتے ہیں تو اگر یہ حضرات (معاذاللہ)جہنّم میں ہوں تو ہم راضی ہیں کہ ہم اور ہمارے معبود بھی ان کے ساتھ ہوں اور یہ کہہ کر کفّار خوب ہنسے ، اس پر یہ آیت اللہ تعالٰی نے نازل فرمائی اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤی اُولٰۤئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ اوریہ آیت نازل ہوئی وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ الآیۃ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب ابنِ زبعری نے اپنے معبودوں کے لئے حضرت عیسٰی بن مریم کی مثال بیان کی اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مجادلہ کیا کہ نصارٰی انہیں پوجتے ہیں تو قریش اس کی اس بات پر ہنسنے لگے ۔
اور کہتے ہیں کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ (ف۹۷) انہوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو (ف۹۸) بلکہ وہ ہیں جھگڑالو لوگ (ف۹۹)
And they say, “Are our deities better or he?” They did not say this to you except to unjustly argue; in fact they are a quarrelsome people.
और कहते हैं क्या हमारे माबूद बेहतर हैं या वह उन्होंने तुम से यह न कही मगर नाहक झगड़े को बल्कि वह हैं झगड़ालू लोग
Aur kehte hain kya hamare ma’bood behtar hain ya woh, unhon ne tumse yeh na kahi magar na-haal jhagde ko balke woh hain jhagdalu log
(ف97)یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام ۔ مطلب یہ تھا کہ آپ کے نزدیک حضرت عیسٰی علیہ السلام بہتر ہیں تو اگر (معاذاللہ) وہ جہنّم میں ہوئے تو ہمارے معبود یعنی بت بھی ہوا کریں کچھ پروا نہیں ، اس پر اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف98)یہ جانتے ہوئے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں باطل ہے اور آیۂِ کریمہ اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ سے صرف بت مراد ہیں ، حضرت عیسٰی و حضرت عزیر اور ملائکہ کوئی مراد نہیں لئے جاسکتے ، ابنِ زبعری عربی تھا ، عربی زبان کا جاننے والا تھا ، یہ اس کو خوب معلوم تھا کہ ماتعبدون میں جو' ما ' ہے اس کے معنٰی چیز کے ہیں ، اس سے غیرِ ذوی العقول مراد ہوتے ہیں لیکن باوجود اس کے اس کا زبانِ عرب کے اصول سے جاہل بن کر حضرت عیسٰی اور حضرت عزیر اور ملائکہ کو اس میں داخل کرنا کٹھ حجّتی اور جہل پروری ہے ۔(ف99)باطل کے درپے ہونے والے ۔ اب حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نسبت ارشاد فرمایا جاتا ہے ۔
اور بیشک عیسی ٰ قیامت کی خبر ہے (ف۱۰٤) تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میرے پیرو ہونا (ف۱۰۵) یہ سیدھی راہ ہے،
And indeed Eisa is a sign* of the Last Day, therefore do not ever doubt in the Last Day, and obey Me**; this is the Straight Path. (* The advent of Prophet Eisa to earth for the second time. ** By obeying the Noble Messenger.)
और बेशक ईसा क़यामत की ख़बर है तो हरगिज़ क़यामत में शक न करना और मेरे पैरो होना यह सीधी राह है,
Aur beshak Isa qiyamat ki khabar hai to hargiz qiyamat mein shakk na karna aur mere pairo hona yeh seedhi raah hai,
(ف104)یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام کا آسمان سے اترنا علاماتِ قیامت میں سے ہے ۔(ف105)یعنی میری ہدایت و شریعت کا اتباع کرنا ۔
اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں (ف۱۰۷) لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا (ف۱۰۸) اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو (ف۱۰۹) تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
And when Eisa came to them with clear signs, he said, “I have come to you with wisdom, and to explain to you some of the matters regarding which you dispute; therefore fear Allah, and obey me.”
और जब ईसा रोशन निशानियां लाया उस ने फ़रमाया मैं तुम्हारे पास हिकमत ले कर आया और इस लिए मैं तुम से बयान कर दूं बाज़ वह बातें जिन में तुम इख़्तिलाफ़ रखते हो तो अल्लाह से डरो और मेरा हुक्म मानो,
Aur jab Isa roshan nishaniyan laya usne farmaya main tumhare paas hikmat lekar aaya aur is liye main tumse bayan kar doon baaz woh baaten jin mein tum ikhtilaf rakhte ho to Allah se daro aur mera hukm maano,
(ف107)یعنی معجزات ۔(ف108)یعنی نبوّت اور انجیلی احکام ۔(ف109)توریت کے احکام میں سے ۔
پھر وہ گروہ آپس میں مختلف ہوگئے (ف۱۱۱) تو ظالموں کی خرابی ہے (ف۱۱۲) ایک درد ناک دن کے عذاب سے (ف۱۱۳)
Then the groups differed amongst themselves; therefore ruin is for the unjust by the punishment of an agonising day.
फिर वह गिरोह आपस में मुख़्तलिफ़ हो गए तो ज़ालिमों की ख़राबी है एक दर्दनाक दिन के अज़ाब से
Phir woh groh aapas mein mukhtalif ho gaye to zaalimoon ki kharaabi hai ek dard-naak din ke azaab se
(ف111)حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد ان میں سے کسی نے کہا کہ عیسٰی خدا تھے ،کسی نے کہا خدا کے بیٹے ،کسی نے کہا ، تین میں کے تیسرے ، غرض نصرانی فرقے فرقے ہوگئے یعقوبی ، نسطوری ، ملکانی ، شمعونی ۔(ف112)جنہوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں کفر کی باتیں کہیں ۔(ف113)یعنی روزِ قیامت کے ۔
کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو،
What are they waiting for – except the Last Day, that it may suddenly come upon them while they are unaware?
काहे के इन्तज़ार में हैं मगर क़यामत के कि उन पर अचानक आ जाए और उन्हें ख़बर न हो,
Kaahe ke intezaar mein hain magar qiyamat ke ke unpar achaanak aa jaye aur unhein khabar na ho,
(ف114)یعنی دینی دوستی اور وہ محبّت جو اللہ تعالٰی کے لئے ہے باقی رہے گی ۔ حضرت علیِ مرتضٰے رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے آپ نے فرمایا دو دوست مومن اور دو دوست کافر ، مومن دوستوں میں ایک مرجاتا ہے تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتا ہے یارب فلاں مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرمانبرداری کا اور نیکی کرنے کا حکم کرتا تھا اور مجھے برائی سے روکتا تھا اور خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حاضر ہونا ہے ، یارب اس کو میرے بعد گمراہ نہ کر اور اس کو ہدایت دے جیسی میری ہدایت فرمائی اور اس کا اکرام کر جیسا میرا اکرام فرمایا ، جب اس کا مومن دوست مرجاتا ہے تو اللہ تعالٰی دونوں کو جمع کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم میں ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے تو ہر ایک کہتا ہے کہ یہ اچھا بھائی ہے ، اچھا دوست ہے ، اچھا رفیق ہے ۔ اور دوکافر دوستوں میں سے جب ایک مرجاتا ہے تو دعا کرتا ہے ، یارب فلاں مجھے تیری اور تیرے رسول کی فرماں برداری سے منع کرتا تھا اور بدی کا حکم دیتا تھا ، نیکی سے روکتا تھااور خبر دیتا تھا کہ مجھے تیرے حضور حاضرہونا نہیں ، تو اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک دوسرے کی تعریف کرے تو ان میں سے ایک دوسرے کو کہتا ہے بُرا بھائی ، بُرا دوست ، بُرا رفیق ۔
ان پر دورہ ہوگا سونے کے پیالوں اور جاموں کا اور اس میں جو جی چاہے اور جس سے آنکھ کو لذت پہنچے (ف۱۱٦) اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے،
“Rounds of golden cups and wine will be presented upon them; and in it is whatever the hearts wish for, and what pleases the eye; and you will stay in it forever.”
उन पर दौरा होगा सोने के प्यालों और जामों का और उस में जो जी चाहे और जिस से आँख को लज़्ज़त पहुँचे और तुम उस में हमेशा रहोगे,
Unpar daurah hoga sone ke pyaalon aur jaamon ka aur is mein jo ji chahe aur jis se aankh ko lutf pahunchے aur tum is mein hamesha raho ge,
تمہارے لیے اس میں بہت میوے ہیں کہ ان میں سے کھاؤ (ف۱۱۷)
“For you are many fruits in it, for you to eat therefrom.”
तुम्हारे लिए उस में बहुत मेवे हैं कि उन में से खाओ
Tumhare liye is mein bohot mewe hain ke un mein se khao
(ف117)جنّتی درخت ثمردار ، سدا بہار ہیں ، ان کی زیب و زینت میں فرق نہیں آتا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر کوئی ان سے ایک پھل لے گا تو درخت میں اس کی جگہ دو پھل نمودار ہوجائیں گے ۔
اور وہ پکاریں گے (ف۱۲۱) اے مالک تیرا رب ہمیں تمام کرچکے (ف۱۲۲) وہ فرمائے گا (ف۱۲۳) تمہیں تو ٹھہرنا (ف۱۲٤)
And they will cry out, “O Malik*, ask your Lord to finish us!” He will answer, “Rather you are to stay (forever).” (*The guard of hell)
और वह पुकारेंगे ऐ मालिक तेरा रब हमें तमाम कर चुका वह फ़रमाएगा तुम्हें तो ठहरना
Aur woh pukarenge ae Maalik tera Rab humein tamam kar chuka, woh farmayega tumhein to thehrna
(ف121)جہنّم کے داروغہ کو کہ ۔(ف122)یعنی موت دے دے ، مالک سے درخواست کریں گے کہ وہ اللہ تبارک وتعالٰی سے ان کی موت کی دعا کرے ۔(ف123)ہزار برس بعد ۔(ف124)عذاب میں ہمیشہ کبھی اس سے رہائی نہ پاؤ گے ، نہ موت سے اور نہ کسی طرح ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اہلِ مکّہ سے خطاب فرماتا ہے ۔
کیا انہوں نے (ف۱۲٦) اپنے خیال میں کوئی کام پکا کرلیا ہے (ف۱۲۷)
Do they assume that they have made their work thorough? So We shall make Our work thorough.
क्या उन्होंने अपने ख़याल में कोई काम पक्का कर लिया है
Kya unhon ne apne khayaal mein koi kaam paka kar liya hai
(ف126)یعنی کفّارِ مکّہ نے ۔(ف127)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ مَکر کرنے اور فریب سے ایذا پہنچانے کا اور در حقیقت ایسا ہی تھا کہ قریش دارُالنّدوہ میں جمع ہو کر حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ایذا رسانی کے لئے حیلے سوچتے تھے ۔
تو ہم اپنا کام پکا کرنے والے ہیں (ف۱۲۸) کیا اس گھمنڈ میں ہیں کہ ہم ان کی آہستہ بات اور ان کی مشورت نہیں سنتے، ہاں کیوں نہیں (ف۱۲۹) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہیں،
Do they fancy that We do not listen to their whispers and their counselling? Why not, We surely do! And Our angels are with them, writing down.
तो हम अपना काम पक्का करने वाले हैं क्या उस घमंड में हैं कि हम उनकी आहिस्ता बात और उनकी मशविरत नहीं सुनते, हाँ क्यों नहीं और हमारे फ़रिश्ते उनके पास लिख रहे हैं,
To hum apna kaam paka karne wale hain kya is ghamand mein hain ke hum unki aahista baat aur unki mashwarat nahin sunte, haan kyun nahin aur hamare farishte unke paas likh rahe hain,
(ف128)ان کے اس مَکرو فریب کا بدلہ جس کا انجام ان کی ہلاکت ہے ۔(ف129)ہم ضرور سنتے ہیں اور پوشیدہ ظاہر ہر بات جانتے ہیں ، ہم سے کچھ نہیں چُھپ سکتا ۔
تم فرماؤ بفرض محال رحمٰن کے کوئی بچہ ہوتا، تو سب سے پہلے میں پوجتا (ف۱۳۰)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “If supposedly, the Most Gracious had an offspring* – I would be the first to worship!” (*Which is impossible)
तुम फ़रमाओ बफ़र्ज़े-महाल रहमान के कोई बच्चा होता, तो सबसे पहले मैं पूजता
Tum farmayo b-farz-e-muhal Rehman ke koi bacha hota, to sab se pehle main poojta
(ف130)لیکن اس کے بچّہ نہیں اور اس کے لئے اولاد محال ہے یہ نفیِ ولد میں مبالغہ ہے ۔شانِ نزول : نضر بن حارث نے کہا تھا کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی تو نضر کہنے لگا دیکھتے ہو قرآن میں میری تصدیق آگئی ولید نے کہا کہ تیری تصدیق نہیں ہوئی بلکہ یہ فرمایا گیا کہ رحمٰن کے ولد نہیں ہے اور میں اہلِ مکّہ میں سے پہلا موحِّد ہوں ، اس سے ولد کی نفی کرنے والا ، اس کے بعد اللہ تبارک و تعالٰی کی تنزیہ کا بیان ہے ۔
اور بڑی برکت والا ہے وہ کہ اسی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم، اور تمہیں اس کی طرف پھرنا،(
And Most Auspicious is He, for Whom is the kingship of the heavens and the earth and all that is between them; and only with Him is the knowledge of the Last Day; and towards Him you are to return.
और बड़ी बरकत वाला है वह कि उसी के लिए है सल्तनत आसमानों और ज़मीन की और जो कुछ उनके दरमियान है और उसी के पास है क़यामत का इल्म, और तुम्हें उसकी तरफ़ फिरना,
Aur badi barkat wala hai woh ke usi ke liye hai saltanat aasmaanon aur zameen کی aur jo kuch unke darmiyan hai aur usi ke paas hai qiyamat ka ilm, aur tumhein uski taraf phirna,
اور جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے ، ہاں شفاعت کا اختیار انہیں ہے جو حق کی گواہی دیں (ف۱۳۵) اور علم رکھیں (ف۱۳٦)
And those whom they worship besides Allah do not have the right of intercession – the right of intercession is only for those who testify to the Truth and have knowledge.
और जिन को यह अल्लाह के सिवा पूजते हैं शफ़ा'अत का इख़्तियार नहीं रखते, हाँ शफ़ा'अत का इख़्तियार उन्हें है जो हक़ की गवाही दें और इल्म रखें
Aur jin ko yeh Allah ke siwa poojte hain shafaa’at ka ikhtiyaar nahin rakhte, haan shafaa’at ka ikhtiyaar unhein hai jo haq ki gawahi dein aur ilm rakhein
(ف135)یعنی توحیدِ الٰہی کی ۔(ف136)اس کا کہ اللہ ان کا رب ہے ، ایسے مقبول بندے ایمان داروں کی شفاعت کریں گے ۔
مجھے رسول (ف۱٤۰) کے اس کہنے کی قسم (ف۱٤۱) کہ اے میرے رب! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ،
And by oath of the saying of My Prophet “O my Lord! These people do not accept faith!”
मुझे रसूल के उस कहने की क़सम कि ऐ मेरे रब! यह लोग ईमान नहीं लाते,
"
Mujhe Rasool ke is kehne ki qasam ke ae mere Rab! Yeh log imaan nahin laate,
(ف140)سیدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف141)اللہ تبارک و تعالٰی کا حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قولِ مبارک کی قَسم فرمانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اکرام اور حضور کی دعا و التجا کے احترام کا اظہار ہے ۔
تو ان سے درگزر کرو (ف۱٤۲) اور فرماؤ بس سلام ہے (ف۱٤۳) کہ آگے جان جائیں گے (ف۱٤٤)
Therefore excuse them and proclaim, “Peace”; for they will soon come to know.
(ف142)اور انہیں چھوڑدو ۔(ف143)یہ سلامِ متارکت ہے ۔ اس کے معنٰی یہ ہیں کہ ہم تمہیں چھوڑتے ہیں اور تم سے امن میں رہنا چاہتے ہیں ، وَکَانَ ھٰذَا قَبْلُ الْاَمْرِبِالْجِہَادِ ۔(ف144)اپنا انجام کار ۔
حٰمٓ ۛۚ ﴿1﴾
حٰمٓ
Ha-Meem. (Alphabets of the Arabic language – Allah, and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
हामٓ
Haa-Meem
وَالۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ ۛۙ ﴿2﴾
قسم اس روشن کتاب کی (ف۲)
By oath of this clear Book.
कसम उस रोशन किताब की
Qasam us roshan kitaab ki
(ف2)یعنی قرآنِ پاک کی جو حلال و حرام وغیرہ احکام کا بیان فرمانے والاہے ۔
بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا (ف۳) بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں (ف٤)
We have indeed sent it down in a blessed night – indeed it is We Who warn.
बेशक हम ने उसे बरकत वाली रात में उतारा बेशक हम डर सुनाने वाले हैं
Beshak hum ne ise barkat wali raat mein utaara beshak hum dar sunaane wale hain
(ف3)اس رات سے یا شبِ قدر مراد ہے یا شبِ براء ۃ ۔ اس شب میں قرآنِ پاک بِتمامہ لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا کی طرف اتارا گیا ، پھر وہاں سے حضرت جبرئیل بیس۲۰ سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوئے ، اس شب کو شبِ مبارکہ اس لئے فرمایا گیا کہ اس میں قرآنِ پاک نازل ہوا اور ہمیشہ اس شب میں خیر و برکت نازل ہوتی ہے دعائیں قبول کی جاتی ہیں ۔(ف4)اپنے عذاب کا ۔
فِيۡهَا يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍۙ ﴿4﴾
اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام (ف۵)
During it are distributed all the works of wisdom.
اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں وہ جِلائے اور مارے، تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب،
There is no worship except for Him – He gives life and causes death; your Lord and the Lord of your forefathers.
उसके सिवा किसी की बंदगी नहीं वह जिलाए और मारे, तुम्हारा रब और तुम्हारे अगले बाप दादा का रब,
Uske siwa kisi ki bandagi nahi woh jilaaye aur maare, tumhara Rab aur tumhare agle baap dada ka Rab,
بَلۡ هُمۡ فِىۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴿9﴾
بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں (ف۸)
Rather they are in doubt, playing.
बल्के वह शक में पड़े खेल रहे हैं
Balke woh shak mein pare khel rahe hain
(ف8)ان کا قرار علم و یقین سے نہیں بلکہ ان کی بات میں ہنسی اور تمسخر شامل ہے اور وہ آپ کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان پر دعا کی کہ یارب انہیں ایسی ہفت سالہ قحط کی مصیبت میں مبتلا کر جیسے سات سال کا قحط حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں بھیجا تھا ، یہ دعا مستجاب ہوئی اور حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ارشاد فرمایا گیا ۔
تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا،
So you await the day when the sky will bring forth a visible smoke. –
तो तुम उस दिन के मुन्तज़िर रहो जब आसमान एक ज़ाहिर धुआँ लाएगा,
To tum us din ke muntazir raho jab aasmaan ek zaahir dhuan laayega,
يَغۡشَى النَّاسَؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴿11﴾
کہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا (ف۹) یہ ہے دردناک عذاب،
Which will envelop the people; this is a painful punishment.
कि लोगों को ढाँप लेगा यह है दर्दनाक अज़ाब,
Ke logon ko dhaanp lega yeh hai dardnaak azaab,
(ف9)چنانچہ قریش پر قحط سالی آئی اور یہاں تک اس کی شدّت ہوئی کہ وہ لوگ مردار کھا گئے اور بھوک سے اس حال کو پہنچ گئے کہ جب اوپر کو نظر اٹھاتے ، آسمان کی طرف دیکھتے تو ان کو دھواں ہی دھواں معلوم ہوتا یعنی ضعف سے نگاہوں میں خیر گی آگئی تھی اور قحط سے زمین سے خشک ہوگئی ، خاک اڑنے لگی ، غبار نے ہوا کو مکدر کردیا ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ دھوئیں سے مراد وہ دھواں ہے جو علاماتِ قیامت میں سے ہے اور قریبِ قیامت ظاہر ہوگا ، مشرق و مغرب اس سے بھر جائیں گے ، چالیس روز و شب رہے گا ، مومن کی حالت تو اس سے ایسی ہوجائے گی جیسے زکام ہوجائے اور کافر مدہوش ہوں گے ، ان کے نتھنوں اور کانوں اور بدن کے سوراخوں سے دھواں نکلے گا ۔
اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس ایک روشن سند لاتا ہوں (ف۱۸)
And saying, “And do not rebel against Allah; I have brought a clear proof to you.”
और अल्लाह के मुक़ाबिल सरकशी न करो, मैं तुम्हारे पास एक रोशन सन्द लाता हूँ
Aur Allah ke muqabil sarkashi na karo, main tumhare paas ek roshan sanad laata hoon
(ف18)اپنے صدقِ نبوّت و رسالت کی ، جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے یہ فرمایا تو فرعونیوں نے آپ کو قتل کی دھمکی دی اور کہا کہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے تو آپ نے فرمایا ۔
ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں (ف۲۱) کو راتوں رات لے نکل ضرور تمہارا پیچھا کیا جائے گا (ف۲۲)
We commanded him, “Journey with My bondmen in a part of the night – you will be pursued.”
हम ने हुक्म फ़रमाया कि मेरे बंदों को रातों रात ले निकल ज़रूर तुम्हारा पीछा किया जाएगा
Hum ne hukm farmaaya ke mere bandon ko raaton raat le nikal zaroor tumhara peecha kiya jaayega
(ف21)یعنی بنی اسرائیل ۔(ف22)یعنی فرعون مع اپنے لشکروں کے تمہارے درپے ہوگا ، چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام روانہ ہوئے اور دریا پر پہنچ کر آپ نے عصا مارا ، اس میں بارہ رستے خشک پیدا ہوگئے ، آپ مع بنی اسرائیل کے دریا میں سے گزر گئے ، پیچھے فرعون اور اس کا لشکر آرہا تھا ، آپ نے چاہا کہ پھرعصا مار کر دریا کو ملادیں تاکہ فرعون اس میں سے گزر نہ سکے تو آپ کو حکم ہوا ۔
اور دریا کو یونہی جگہ جگہ سے چھوڑ دے (ف۲۳) بیشک وہ لشکر ڈبو دیا جائے گا (ف۲٤)
“And leave the sea as it is, parted in several places; indeed that army will be drowned.”
और दरिया को यूँही जगह जगह से छोड़ दे बेशक वह लश्कर डुबो दिया जाएगा
Aur dariya ko yunhi jagah jagah se chhod de beshak woh lashkar dubo diya jaayega
(ف23)تاکہ فرعونی ان راستوں سے دریا میں داخل ہوجائیں ۔(ف24)حضرت موسٰی علیہ السلام کو اطمینان ہوگیا اور فرعون اور اس کے لشکر دریامیں غرق ہوگئے اور ان کا تمام مال و متاع اور سامان یہیں رہ گیا ۔
كَمۡ تَرَكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ﴿25﴾
کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے ،
How many gardens and water-springs they left behind!
تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے (ف۲۸) اور انہیں مہلت نہ دی گئی (ف۲۹)
So the heavens and the earth did not weep for them, and they were not given respite.
तो उन पर आसमान और ज़मीन न रोए और उन्हें मोहलत न दी गई
To unpar aasmaan aur zameen na roye aur unhein mohlat na di gayi
(ف28)کیونکہ وہ ایماندار نہ تھے اور ایماندار جب مرتا تو اس پر آسمان و زمین چالیس روز تک روتے ہیں ، جیسا کہ ترمذی کی حدیث میں ہے مجاہد سے کہا گیا کہ مومن کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں ، فرمایا زمین کیوں نہ روئے اس بندے پر جو زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا اور آسمان کیوں نہ روئے اس بندے پر جس کی تسبیح و تکبیر آسمان میں پہنچتی تھی ۔ حسن کا قول ہے کہ مومن کی موت پر آسمان والے اور زمین والے روتے ہیں ۔(ف29)توبہ وغیرہ کے لئے عذاب میں گرفتار کرنے کے بعد ۔
وہ تو نہیں مگر ہمارا ایک دفعہ کا مرنا (ف۳٤) اور ہم اٹھائے نہ جائیں گے (ف۳۵)
“There is nothing except our dying just once, and we will not be raised.”
वह तो नहीं मगर हमारा एक दफ़ा का मरना और हम उठाए न जाएँगे
Woh to nahi magar humara ek dafa ka marna aur hum uthaye na jaayenge
(ف34)یعنی اس زندگانی کے بعد سوائے ایک موت کے ہمارے لئے اور کوئی حال باقی نہیں ، اس سے ان کا مقصود بعث یعنی موت کے بعد زندہ کئے جانے کا انکار کرنا تھا جس کو اگلے جملے میں واضح کردیا ۔ (کبیر)(ف35)بعدِ موت زندہ کرکے ۔
“Therefore bring back our forefathers, if you are truthful!”
तो हमारे बाप दादा को ले आओ अगर तुम सच्चे हो
To humare baap dada ko le aao agar tum sachche ho
(ف36)اس بات میں کہ ہم بعد مرنے کے زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے ، کفّارِ مکّہ نے یہ سوال کیا تھا کہ قُصَیْ بِن کلاب کو زندہ کردو ، اگر موت کے بعد کسی کا زندہ ہونا ممکن ہو ، اور یہ ان کی جاہلانہ بات تھی کیونکہ جس کام کے لئے وقت معیّن ہو اس کا اس وقت سے قبل وجود میں نہ آنا اس کے ناممکن ہونے کی دلیل نہیں ہوتا اور نہ اس کا انکار صحیح ہوتا ہے ، اگر کوئی شخص کسی نئے جمے ہوئے درخت یا پودے کو کہے کہ اس میں سے اب پھل نکالو ورنہ ہم نہیں مانیں گے کہ اس درخت سے پھل نکل سکتا ہے تو اس کو جاہل قرار دیا جائے گا اور اس کا انکار محض حُمُق یا مکابرہ ہوگا ۔
کیا وہ بہتر ہیں (ف۳۷) یا تبع کی قوم (ف۳۸) اور جو ان سے پہلے تھے (ف۳۹) ہم نے انہیں ہلاک کردیا (ف٤۰) بیشک وہ مجرم لوگ تھے (ف٤۱)
Are they better, or the people of Tubba? And those who were before them? We destroyed them; they were indeed criminals.
क्या वह बेहतर हैं या तुब्बा की कौम और जो उन से पहले थे हम ने उन्हें हलाक कर दिया बेशक वह मुजरिम लोग थे
Kya woh behtar hain ya Tubba ki qaum aur jo unse pehle the hum ne unhein halaak kar diya beshak woh mujrim log the
(ف37)یعنی کفّارِ مکّہ زور و قوّت میں ۔ (ف38)تُبَّع حمِیْری بادشاہِ یمن صاحبِ ایمان تھے اور ان کی قوم کافر تھی جو نہایت قوی ، زور آور اور کثیرُ التعداد تھی ۔(ف39)کافر امّتوں میں سے ۔(ف40)ان کے کفر کے باعث ۔(ف41)کافر ، منکِرِ بعث ۔
اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر (ف٤۲)
And We did not create the heavens and the earth, and all that is between them, just for play.
और हम ने न बनाए आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके दरमियान है खेल के तौर पर
Aur hum ne na banaye aasmaan aur zameen aur jo kuch unke darmiyan hai khel ke taur par
(ف42)اگر مرنے کے بعد اٹھنا اور حساب و ثواب نہ ہو تو خَلق کی پیدائش محض فنا کے لئے ہوگی اور یہ عبث و لعب ہے ۔ تو اس دلیل سے ثابت ہوا کہ اس دنیوی زندگی کے بعد اخروی زندگی ضرور ہے جس میں حساب و جزا ہو ۔
مگر جس پر اللہ رحم کرے (ف٤۸) بیشک وہی عزت والا مہربان ہے،
Except those upon whom Allah has mercy; indeed He only is the Most Honourable, the Most Merciful.
मगर जिस पर अल्लाह रहम करे बेशक वही इज़्ज़त वाला मेहरबान है,
Magar jis par Allah rahm kare beshak wahi izzat wala mehrbaan hai,
(ف48)یعنی سوائے مومنین کے ، کہ وہ باذنِ الٰہی ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے ۔ (جمل)
اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِۙ ﴿43﴾
بیشک تھوہڑ کا پیڑ (ف٤۹)
Indeed the tree of Zaqqum, –
बेशक थोहड़ का पेड़
Beshak Thohar ka paid
(ف49)تھوہڑ ایک خبیث ، نہایت کڑوا درخت ہے جو اہلِ جہنّم کی خوراک ہوگا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر ایک قطرہ اس تھوہڑ کا دنیا میں ٹپکا دیا جائے تو اہلِ دنیا کی زندگانی خراب ہوجائے ۔
طَعَامُ الۡاَثِيۡمِ ۛۚ ۖ ﴿44﴾
گنہگاروں کی خوراک ہے (ف۵۰)
Is the food of the sinners.
गुनहगारों की ख़ुराक है
Gunahgaaron ki khuraak hai
(ف50)ابوجہل کی اور اس کے ساتھیوں کی جو بڑے گنہگار ہیں ۔
كَالۡمُهۡلِ ۛۚ يَغۡلِىۡ فِى الۡبُطُوۡنِۙ ﴿45﴾
گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں جوش مارتا ہے ،
Like molten copper; it churns in their bellies.
गले हुए ताँबे की तरह पेटों में जोश मारता है,
Galay hue taambe ki tarah peton mein josh maarta hai,
چکھ، (ف۵٤) ہاں ہاں تو ہی بڑا عزت والا کرم والا ہے (ف۵۵)
Saying “Taste it! Indeed you only are the most honourable, the dignified!”
चख, हाँ हाँ तू ही बड़ा इज़्ज़त वाला करम वाला है
Chakh, haan haan tu hi bada izzat wala karam wala hai
(ف54)اس عذاب کو ۔(ف55)ملائکہ یہ کلمہ اہانت اور تذلیل کے لئے کہیں گے کیونکہ ابوجہل کہا کرتا تھا کہ بطحاء میں میں بڑا عزّت والا کرم والا ہوں ، اس کو عذاب کے وقت یہ طعنہ دیا جائے گا اور کفّار سے یہ بھی کہا جائے گا کہ ۔
اِنَّ هٰذَا مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴿50﴾
بیشک یہ ہے وہ (ف۵٦) جس میں تم شبہہ کرتے تھے (ف۵۷)
“Indeed this is what you used to doubt about.”
बेशक यह है वह जिस में तुम शुब्हा करते थे
Beshak yeh hai woh jismein tum shubha karte the
(ف56)عذاب جو تم دیکھتے ہو ۔(ف57)اور اس پر ایمان نہیں لاتے تھے اس کے بعد پرہیزگاروں کا ذکر فرمایا جاتا ہے ۔
اس میں ہر قسم کا میوہ مانگیں گے (ف٦۱) امن و امان سے (ف٦۲)
In it they will ask for all kinds of fruit, with safety.
उस में हर क़िस्म का मेवा माँगेंगे अम्न व अमान से
Us mein har qism ka mewa maangen ge amn-o-amaan se
(ف61)یعنی جنّت میں اپنے جنّتی خادموں کو میوے حاضر کرنے کا حکم دیں گے ۔(ف62)کہ کسی قِسم کا اندیشہ ہی نہ ہوگا ، نہ میوے کے کم ہونےکا ، نہ ختم ہوجانےکا ، نہ ضرر کرنےکا ، نہ اور کوئی ۔
اور تمہاری پیدائش میں (ف۳) اور جو جو جانور وہ پھیلاتا ہے ان میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے،
And in your creation, and all the creatures He scatters in the earth – in them are signs for the people who are certain.
और तुम्हारी पैदाइश में और जो जो जानवर वह फैलाता है उन में निशानियाँ हैं यक़ीन वालों के लिए,
Aur tumhari paidaaish mein aur jo jo janwar woh phailaata hai un mein nishaniyan hain yaqeen walon ke liye,
(ف3)یعنی تمہاری پیدائش میں بھی اس کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں کہ نطفہ کو خون بناتا ہے ، خون کو بستہ کرتا ہے ، خونِ بستہ کو گوشت پارہ یہاں تک کہ پورا انسان بنادیتا ہے ۔
اور رات اور دن کی تبدیلیوں میں (ف٤) اور اس میں کہ اللہ نے آسمان سے روزی کا سبب مینہ اتارا تو اس سے زمین کو اس کے مَرے پیچھے زندہ کیا اور ہواؤں کی گردش میں (ف۵) نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے،
And in the alternation of night and day, and in the means of sustenance – water – which Allah sends down from the sky whereby He gave life to the earth after its death, and in the movement of the winds – (in all these) are signs for people of intellect.
और रात और दिन की तबदीलियों में और उस में कि अल्लाह ने आसमान से रोज़ी का सबब मेह बरसाया तो उस से ज़मीन को उस के मरे पीछे ज़िंदा किया और हवाओं की गर्दिश में निशानियाँ हैं अक़्लमंदों के लिए,
Aur raat aur din ki tabdeeliyon mein aur is mein ke Allah ne aasmaan se rozi ka sabab mehn utara to us se zameen ko us ke mare peeche zinda kiya aur hawaon ki gardish mein nishaniyan hain aqal mando ke liye,
(ف4)کہ کبھی گٹھتے ہیں ،کبھی بڑھتے ہیں اور ایک جاتا ہے ، دوسرا آتا ہے ۔(ف5)کہ کبھی گرم چلتی ، کبھی سرد ، کبھی جنوبی ، کبھی شمالی ، کبھی شرقی ، کبھی غربی ۔
یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم تم پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی بات پر ایمان لائیں گے،
These are the verses of Allah which We recite to you with the truth; so forsaking Allah and His signs, what will they believe in?
यह अल्लाह की आयतें हैं कि हम तुम पर हक़ के साथ पढ़ते हैं, फिर अल्लाह और उस की आयतों को छोड़ कर कौन सी बात पर ईमान लाएँगे,
Ye Allah ki aayaten hain ke hum tum par haq ke saath parhte hain, phir Allah aur us ki aayaton ko chhod kar kaunsi baat par imaan layenge,
وَيۡلٌ لِّـكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍۙ ﴿7﴾
خرابی ہے ہر بڑے بہتان ہائے گنہگار کے لیے (ف٦)
Ruin is for every great slanderer, excessive sinner.
ख़राबी है हर बड़े बहुतानहाए गुनहगार के लिए
Kharaabi hai har baday buhtan-haaye gunahgaar ke liye
(ف6)یعنی نضر بن حارث کے لئے ۔ شانِ نزول :کہا گیا ہے کہ یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازل ہوئی جو عجم کے قصّے کہانیاں سنا کر لوگوں کو قرآنِ پاک سننے سے روکتا تھا اور یہ آیت ہر ایسے شخص کے لئے عام ہے جو دِین کو ضرر پہنچائے اور ایمان لانے اور قرآن سننے سے تکبر کرے ۔
اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے کہ اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر ہٹ پر جمتا ہے (ف۷) غرور کرتا (ف۸) گویا انہیں سنا ہی نہیں تو اسے خوشخبری سناؤ درد ناک عذاب کی،
Who hears the verses of Allah which are recited to him, then remains stubborn, proud, as if he did not hear them; therefore give him the glad tidings of a painful punishment.
अल्लाह की आयतों को सुनता है कि उस पर पढ़ी जाती हैं फिर हठ पर जमता है ग़ुरूर करता गोया उन्हें सुना ही नहीं तो उसे खुशख़बरी सुनाओ दर्दनाक अज़ाब की,
Allah ki aayaton ko sunta hai ke us par padhi jaati hain phir hath par jamta hai ghuroor karta goya unhein suna hi nahin to use khushkhbari sunao dardnaak azaab ki,
ان کے پیچھے جہنم ہے (ف۹) اور انہیں کچھ کام نہ دے گا ان کا کمایا ہوا (ف۱۰) اور نہ وہ جو اللہ کے سوا حمایتی ٹھہرا رکھے تھے (ف۱۱) اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،
Hell is after them; and what they have earned will not benefit them at all, nor those whom they have chosen as supporters besides Allah; and for them is a terrible punishment.
उन के पीछे जहन्नम है और उन्हें कुछ काम न देगा उन का कमाया हुआ और न वह जो अल्लाह के सिवा हमायती ठहरा रखे थे और उन के लिए बड़ा अज़ाब है,
Un ke peeche jahannam hai aur unhein kuch kaam na dega un ka kamaya hua aur na woh jo Allah ke siwa humaayati thehra rakhe the aur un ke liye bara azaab hai,
(ف9)یعنی بعدِ موت ان کا انجام کار اور مآل دوزخ ہے ۔(ف10)مال جس پر وہ بہت نازاں ہیں ۔(ف11)یعنی بت جن کو پوجا کرتے تھے ۔
اللہ ہے جس نے تمہارے بس میں دریا کردیا کہ اس میں اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور اس لیے کہ اس کا فضل تلاش کرو (ف۱۳) اور اس لیے کہ حق مانو (ف۱٤)
It is Allah Who has subjected the sea for you so that ships may sail upon it by His command, and for you to seek His munificence, and so that you may give thanks.
अल्लाह है जिस ने तुम्हारे बस में दरिया कर दिया कि उस में उस के हुक्म से कश्तियाँ चलें और इस लिए कि उस का फ़ज़्ल तलाश करो और इस लिए कि हक़ मानो
Allah hai jis ne tumhare bas mein dariya kar diya ke us mein us ke hukm se kashtiyan chalain aur is liye ke us ka fazl talaash karo aur is liye ke haq maano
(ف13)بحری سفروں سے اور تجارتوں سے اور غوّاصی کرنے اور موتی وغیرہ نکالنے سے ۔(ف14)اس کے نعمت و کرم اور فضل و احسان کا ۔
اور تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمان میں ہیں (ف۱۵) اور جو کچھ زمین میں (ف۱٦) اپنے حکم سے بیشک اس میں نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لئے ،
And has subjected for you all whatever is in the heavens and in the earth, by His command; indeed in this are signs for people who ponder.
और तुम्हारे लिए काम में लगाए जो कुछ आसमान में हैं और जो कुछ ज़मीन में अपने हुक्म से बेशक उस में निशानियाँ हैं सोचने वालों के लिए,
Aur tumhare liye kaam mein lagaaye jo kuch aasmaan mein hain aur jo kuch zameen mein apne hukm se, beshak us mein nishaniyan hain sochnay walon ke liye,
ایمان والوں سے فرماؤ درگزریں ان سے جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے (ف۱۷) تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے (ف۱۸) (
Tell the believers to ignore those who do not expect the days of Allah, in order that Allah may give a nation the reward of what they used to earn.
ईमान वालों से फ़रमाओ दरगुज़रें उन से जो अल्लाह के दिनों की उम्मीद नहीं रखते ताकि अल्लाह एक क़ौम को उस की कमाई का बदला दे
Imaan walon se farmaao darguzrein un se jo Allah ke dino ki umeed nahin rakhte taake Allah ek qaum ko us ki kamaayi ka badla de
(ف17)جو دن کہ اس نے مومنین کی مدد کے لئے مقرر فرمائے ، یا اللہ تعالٰی کے دنوں سے وہ وقائع مراد ہیں جن میں وہ اپنے دشمنوں کو گرفتار کرتا ہے ۔ بہرحال ان امید نہ رکھنے والوں سے مراد کفّار ہیں اور معنٰی یہ ہیں کہ کفّار سے جو ایذا پہنچے اور ان کے کلمات جو تکلیف پہنچائیں ، مسلمان ان سے در گزر کریں ، منازعت نہ کریں وَقِیْلَ اِنَّ الاٰیَۃَ مَنْسُوْخۃبِآیَۃِ الْقِتَالِ ۔شانِ نزول : اس آیت کی شانِ نزول میں کئی قول ہیں ایک یہ کہ غزوہ بنی مصطلق میں مسلمان بیرِ مُریسیع پر اترے یہ ایک کنواں تھا عبداللہ بن اُ بَیْ منافق نے اپنے غلام کو پانی کے لئے بھیجا وہ دیر میں آیا تو اس سے سبب دریافت کیا اس نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کنوئیں کے کنارے پر بیٹھے تھے جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مشکیں نہ بھر گئیں اس وقت تک انہوں نے کسی کو پانی بھرنے نہ دیا یہ سن کر اس بدبخت نے ان حضرات کی شان میں گستاخانہ کلمے کہے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ تلوار لے کر تیار ہوئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس تقدیر پر آیت مدنی ہوگی ۔ مقاتل کا قول ہے کہ قبیلہ بنی غفّار کے ایک شخص نے مکّہ مکرّمہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو گالی دی تو آپ نے اس کو پکڑنے کا ارادہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ جب آیت مَنْ ذَالَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا نازل ہوئی تو فِنْحَاص یہودی نے کہا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا رب محتاج ہوگیا (معاذ اللہ تعالٰی) اس کو سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تلوار کھینچی اور اس کی تلاش میں نکلے حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں واپس بلوالیا ۔(ف18)یعنی ان کے اعمال کا ۔
اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ف۲۱) اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی (ف۲۲) اور ہم نے انہیں ستھری روزیاں دیں (ف۲۳) اور انہیں ان کے زمانے والوں پر فضیلت بخشی،
And indeed We gave the Descendants of Israel the Book, and the rule, and the Prophethood, and gave good things for sustenance and gave them superiority over all others of their time.
और बेशक हम ने बनी इस्राईल को किताब और हुकूमत और नुबूवत अता फ़रमाई और हम ने उन्हें सुथरी रोज़ियाँ दीं और उन्हें उन के ज़माने वालों पर फ़ज़ीलत बख़्शी,
Aur beshak hum ne Bani Israeel ko kitaab aur hukoomat aur nubuwwat ata farmaayi aur hum ne unhein suthri rozian deen aur unhein un ke zamaane walon par fazilat bakhshi,
(ف21)یعنی توریت ۔(ف22)ان میں بکثرت انبیاء پیدا کرکے ۔(ف23)حلال کشائش کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے اموال و دیار کا مالک کرکے اور مَنْ و سَلْوٰی نازل فرما کر ۔
اور ہم نے انہیں اس کام کی (ف۲٤) روشن دلیلیں دیں تو انہوں نے اختلاف نہ کیا (ف۲۵) مگر بعد اس کے کہ علم ان کے پاس آچکا (ف۲٦) آپس کے حسد سے (ف۲۷) بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے یں،
And We gave them clear proofs in the command; so they did not differ except after the knowledge had come to them – due to jealousy among themselves; indeed your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning the matter in which they differ.
और हम ने उन्हें उस काम की रौशन दलीलें दीं तो उन्होंने इख़्तिलाफ़ न किया मगर बाद उस के कि इल्म उन के पास आ चुका आपस के हसद से बेशक तुम्हारा रब क़यामत के दिन उन में फ़ैसला कर देगा जिस बात में इख़्तिलाफ़ करते हैं,
Aur hum ne unhein us kaam ki roshan daleelen deen to unhon ne ikhtilaaf na kiya magar baad us ke ke ilm un ke paas aa chuka aapas ke hasad se, beshak tumhara Rab qayaamat ke din un mein faisla kar dega jis baat mein ikhtilaaf karte hain,
(ف24)یعنی امرِ دِین اور بیانِ حلال و حرام اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مبعوث ہونے کی ۔(ف25)حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت میں ۔(ف26)اور علم زوالِ اختلاف کا سبب ہوتا ہے اور یہاں ان لوگوں کے لئے اختلاف کا سبب ہوا ، اس کا باعث یہ ہے کہ علم ان کا مقصود نہ تھا بلکہ مقصود ان کا جاہ و ریاست کی طلب تھی ، اسی لئے انہوں نے اختلاف کیا ۔(ف27)کہ انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جلوہ افروزی کے بعد اپنے جاہ و ریاست کے اندیشہ سے آپ کے ساتھ حسد اور دشمنی کی اور کافر ہوگئے ۔
پھر ہم نے اس کام کے (ف۲۸) عمدہ راستہ پر تمہیں کیا (ف۲۹) تو اسی راہ پر چلو اور نادانوں کی خواہشوں کا ساتھ نہ دو (ف۳۰)
We then placed you (O dear prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) upon the clear path of the command, therefore continue following it and do not listen to the desires of the ignorant.
फिर हम ने उस काम के उम्दा रास्ता पर तुम्हें किया तो उसी राह पर चलो और नादानों की ख़्वाहिशों का साथ न दो
Phir hum ne us kaam ke umda raasta par tumhein kiya to usi raah par chalo aur nadaanon ki khwahishon ka saath na do
(ف28)یعنی دِین کے ۔(ف29)اے حبیبِ خدا محمّد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف30)یعنی رؤسائے قریش کی جو اپنے دِین کی دعوت دیتے ہیں ۔
بیشک وہ اللہ کے مقابل تمہیں کچھ کام نہ دیں گے، اور بیشک ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں (ف۳۱) اور ڈر والوں کا دوست اللہ (ف۳۲)(
Indeed they cannot benefit you at all against Allah; and indeed the unjust are the friends of each other; and Allah is the Friend of the pious.
बेशक वह अल्लाह के मुक़ाबिल तुम्हें कुछ काम न देंगे, और बेशक ज़ालिम एक दूसरे के दोस्त हैं और डर वालों का दोस्त अल्लाह
Beshak woh Allah ke muqabil tumhein kuch kaam na denge, aur beshak zaalim ek doosre ke dost hain aur dar walon ka dost Allah
(ف31)صرف دنیا میں ، آخرت میں ان کا کوئی دوست نہیں ۔(ف32)دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، ڈر والوں سے مراد مومنین ہیں اور آگے قرآنِ پاک کی نسبت ارشاد ہوتا ہے ۔
کیا جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا (ف۳٤) یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کی ان کی زندگی اور موت برابر ہوجائے (ف۳۵) کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں،
Do those who commit evil assume that We will make them equal to those who believe and do good deeds, therefore both becoming equal in life and death? What an evil judgement they impose!
क्या जिनों ने बुराइयों का इर्तिकाब किया यह समझते हैं कि हम उन्हें उन जैसा कर देंगे जो ईमान लाए और अच्छे काम किए कि उन की ज़िंदगी और मौत बराबर हो जाए क्या ही बुरा हुक्म लगाते हैं,
Kya jin hon ne buraiyon ka irtikab kiya ye samajhte hain ke hum unhein un jaisa kar denge jo imaan laaye aur achhe kaam kiye ke un ki zindagi aur maut barabar ho jaaye? Kya hi bura hukm lagate hain,
(ف34)کفر و معاصی کا ۔(ف35)یعنی ایمانداروں اور کافروں کی موت و حیات برابر ہوجائے ایسا ہر گز نہیں ہوگا کیونکہ ایماندار زندگی میں طاعت پر قائم رہے اور کافر بدیوں میں ڈوبے رہے تو ان دونوں کی زندگی برابر نہ ہوئی ، ایسے ہی موت بھی یکساں نہیں کہ مومن کی موت بشارت و رحمت و کرامت پر ہوتی ہے اور کافر کی رحمت سے مایوسی اور ندامت پر ۔ شانِ نزول : مشرکینِ مکّہ کی ایک جماعت نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر تمہاری بات حق ہو اور مرنے کے بعد اٹھنا ہو تو بھی ہمیں ہی افضل رہیں گے جیسا کہ دنیا میں ہم تم سے بہتر رہے ، ان کی رد میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
اور اللہ نے آسمان اور (ف۳٦) زمین کو حق کے ساتھ بنایا (ف۳۷) اور اس لیے کہ ہر جان اپنے کیے کا بدلہ پائے (ف۳۸) اور ان پر ظلم نہ ہوگا،
And Allah has created the heavens and the earth with the truth, and so that every soul is repaid for what it has earned, and they will not be wronged.
और अल्लाह ने आसमान और ज़मीन को हक़ के साथ बनाया और इस लिए कि हर जान अपने किए का बदला पाए और उन पर ज़ुल्म न होगा,
Aur Allah ne aasmaan aur zameen ko haq ke saath banaya aur is liye ke har jaan apne kiye ka badla paaye aur un par zulm na hoga,
(ف36)مخالف سرکش مخلص فرمانبردار کے برابر کیسے ہوسکتا ہے ؟ مومنین جَنّاتِ عالیات میں عزّت و کرامت اور عیش و راحت پائیں گے اور کفّار اسفلُ السافلین میں ذلّت و اہانت کے ساتھ سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔(ف37)کہ اس کی قدرت ووحدانیّت کی دلیل ہو ۔(ف38)نیک نیکی کا اور بدبدی کا ، اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس عالَم کی پیدائش سے اظہارِ عدل و رحمت مقصود ہے اور یہ پوری طرح قیامت ہی میں ہوسکتا ہے کہ اہلِ حق اور اہلِ باطل میں امتیاز کامل ہو ، مومن مخلص درجاتِ جنّت میں ہوں اور کافر نافرمان درکاتِ جہنّم میں ۔
بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرالیا (ف۳۹) اور اللہ نے اسے با وصف علم کے گمراہ کیا (ف٤۰) اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا (ف٤۱) تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے، تو کیا تم دھیان نہیں کرتے،
Just look at him who makes his desire as his God, and Allah has sent him astray despite his having knowledge, and set a seal upon his ears and his heart, and a covering upon his eyes; so who will guide him after Allah? So do you not ponder?
भला देखो तो वह जिस ने अपनी ख़्वाहिश को अपना ख़ुदा ठहरा लिया और अल्लाह ने उसे बावजुद इल्म के गुमराह किया और उस के कान और दिल पर मुहर लगा दी और उस की आँखों पर पर्दा डाला तो अल्लाह के बाद उसे कौन राह दिखाए, तो क्या तुम ध्यान नहीं करते,
Bhala dekho to woh jis ne apni khwahish ko apna khuda thehra liya aur Allah ne use bawajood ilm ke gumraah kiya aur us ke kaan aur dil par muhr laga di aur us ki aankhon par parda daala to Allah ke baad use kaun raah dikhaye, to kya tum dhyaan nahin karte,
(ف39)اور اپنی خواہش کا تابع ہوگیا ، جسے نفس نے چاہا پوجنے لگا ، مشرکین کا یہی حال تھا کہ وہ پتّھر اور سونے اور چاندی وغیرہ کو پوجتے تھے ، جب کوئی چیز انہیں پہلی چیز سے اچھی معلوم ہوتی تھی تو پہلی کو توڑ دیتے پھینک دیتے ، دوسروں کو پوجنے لگتے ۔(ف40)کہ اس گمراہ نے حق کو جان پہچان کر بے راہی اختیار کی ۔ مفسّرین نے اس کے یہ معنٰی بھی بیان کئے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اس کے انجام کار اور اس کے شقی ہونے کو جانتے ہوئے اسے گمراہ کیا یعنی اللہ تعالٰی پہلے سے جانتا تھا کہ یہ اپنے اختیار سے راہِ حق سے منحرف ہوگا اور گمراہی اختیار کرے گا ۔(ف41)تو اس نے ہدایت و موعظت کو نہ سنا اور نہ سمجھا اور راہِ حق کو نہ دیکھا ۔
اور بولے (ف٤۲) وہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی (ف٤۳) مرتے ہیں اور جیتے ہیں (ف٤٤) اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ (ف٤۵) اور انہیں اس کا علم نہیں (ف٤٦) وہ تو نرے گمان دوڑاتے ہیں (ف٤۷)
And they said, “There is nothing except our life of this world – we die and we live – and nothing destroys us except the passage of time”; and they do not have any knowledge of it; they only make guesses.
और बोले वह तो नहीं मगर यही हमारी दुनिया की ज़िंदगी मरते हैं और जीते हैं और हमें हलाक नहीं करता मगर ज़माना और उन्हें उस का इल्म नहीं वह तो निरे गुमान दौड़ाते हैं
Aur bole woh to nahin magar yehi hamari duniya ki zindagi marte hain aur jeete hain aur humein halaak nahin karta magar zamaana aur unhein us ka ilm nahin, woh to nire gumaan dauraate hain
(ف42)منکِرینِ بعث ۔ (ف43)یعنی اس زندگی کے علاوہ اور کوئی زندگی نہیں ۔(ف44)یعنی بعضے مرتے ہیں اور بعضے پیدا ہوتے ہیں ۔(ف45)یعنی روز و شب کا دورہ وہ اسی کو مؤثر اعتقاد کرتے تھے اور مَلَک الموت کا اور بحکمِ الٰہی روحیں قبض کئے جانے کا انکار کرتے تھے اور ہر ایک حادثہ کو دہر اور زمانہ کی طرف منسوب کرتے تھے اور اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف46)یعنی وہ یہ بات بے علمی سے کہتے ہیں ۔(ف47)خلافِ واقع ۔مسئلہ : حوادث کو زمانہ کی طرف نسبت کرنا اور ناگوار حوادث رونما ہونے سے زمانہ کو بُرا کہنا ممنوع ہے ، احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے ۔
اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں (ف٤۸) تو بس ان کی حجت یہی ہوتی ہے کہ کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کو لے آؤ (ف٤۹) اگر تم سچے ہو (ف۵۰)
And when Our clear verses are recited to them, their only argument is, “Bring back our forefathers, if you are truthful!”
और जब उन पर हमारी रौशन आयतें पढ़ी जाएँ तो बस उन की हुज्जत यही होती है कि कहते हैं कि हमारे बाप दादा को ले आओ अगर तुम सच्चे हो
Aur jab un par hamari roshan aayaten padhi jaayein to bas un ki hujjat yehi hoti hai ke kehte hain ke hamare baap dada ko le aao agar tum sachche ho
(ف48)یعنی قرآنِ پاک کی آیتیں جن میں اللہ تعالٰی کے بعث بعد الموت پر قادر ہونے کی دلیلیں مذکور ہیں ، جب کفّار ان کے جواب سے عاجز ہوتے ہیں ۔(ف49)زندہ کرکے ۔(ف50)اس بات میں کہ مردے زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے ۔
تم فرماؤ اللہ تمہیں جِلاتا ہے (ف۵۱) پھر تم کو مارے گا (ف۵۲) پھر تم سب کو اکٹھا کریگا (ف۵۳) قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں لیکن بہت آدمی نہیں جانتے (ف۵٤)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “It is Allah Who gives you life, then will give you death, then will gather you all on the Day of Resurrection in which there is no doubt, but most people do not know.”
तुम फ़रमाओ अल्लाह तुम्हें जिलाता है फिर तुम्हें मारेगा फिर तुम सब को अकठ्ठा करेगा क़यामत के दिन जिस में कोई शक नहीं लेकिन बहुत आदमी नहीं जानते
Tum farmaao Allah tumhein jilaata hai phir tum ko maarega phir tum sab ko akhatta karega qayaamat ke din jis mein koi shak nahin lekin bohot aadmi nahin jaante
(ف51)دنیا میں بعد اس کے کہ تم بے جان نطفہ تھے ۔(ف52)تمہاری عمریں پوری ہونے کے وقت ۔(ف53)زندہ کرکے تو جو پروردگار ایسی قدرت والا ہے وہ تمہارے باپ دادا کے زندہ کرنے پر بھی بالیقین قادر ہے ، وہ سب کو زندہ کرے گا ۔(ف54)اس کو کہ اللہ تعالٰی مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے اور ان کا نہ جاننا دلائل کی طرف ملتفت نہ ہونے اور غور نہ کرنے کے باعث ہے ۔
اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، اور جس دن قیامت قائم ہوگی باطل والوں کی اس دن ہار ہے (ف۵۵)
And to Allah only belongs the kingship of the heavens and the earth; and when the Last Day is established – on that day the followers of falsehood will suffer loss.
और अल्लाह ही के लिए है आसमानों और ज़मीन की सल्तनत, और जिस दिन क़यामत क़ायम होगी बातिल वालों की उस दिन हार है
Aur Allah hi ke liye hai aasmaanon aur zameen ki saltanat, aur jis din qayaamat qaaim hogi baatil walon ki us din haar hai
(ف55)یعنی اس دن کافروں کا ٹوٹے میں ہونا ظاہر ہوگا ۔
اور تم ہر گرو ه (ف۵٦) کو دیکھو گے زانو کے بل گرے ہوئے ہر گروہ اپنے نامہٴ اعمال کی طرف بلایا جائے گا (ف۵۷) آج تمہیں تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا،
And you will see every group down on its knees; every group will be called towards its book of deeds; “This day you will be repaid for what you did.”
और तुम हर गिरोह को देखोगे जानू के बल गिरे हुए हर गिरोह अपने नाम-ए-आमाल की तरफ़ बुलाया जाएगा आज तुम्हें तुम्हारे किए का बदला दिया जाएगा,
Aur tum har giroh ko dekhoge zaanu ke bal gire hue, har giroh apne naam-e-aamaal ki taraf bulaya jaayega aaj tumhein tumhare kiye ka badla diya jaayega,
اور جب کہا جاتا بیشک اللہ کا وعدہ (ف٦۱) سچا ہے اور قیامت میں شک نہیں (ف٦۲) تم کہتے ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں (ف٦۳) یقین نہیں،
“And when it was said, ‘Indeed Allah’s promise is true and there is no doubt regarding the Last Day”, you used to say, ‘We do not know what the Last Day is – we think it is nothing except an imagination, and we are not convinced.’”
और जब कहा जाता बेशक अल्लाह का वादा सच्चा है और क़यामत में शक नहीं तुम कहते हम नहीं जानते क़यामत क्या चीज़ है हमें तो यूँ ही कुछ गुमान सा होता है और हमें यक़ीन नहीं,
Aur jab kaha jaata beshak Allah ka waada sachcha hai aur qayaamat mein shak nahin, tum kehte hum nahin jaante qayaamat kya cheez hai, humein to yunhi kuch gumaan sa hota hai aur humein yaqeen nahin,
(ف61)مُردوں کو زندہ کرنے کا ۔(ف62)وہ ضرور آئے گی تو ۔(ف63)قیامت کے آنے کا ۔
اور فرمایا جائے گا آج ہم تمہیں چھوڑ دیں گے (ف٦٦) جیسے تم اپنے اس دن کے ملنے کو بھولے ہوئے تھے (ف٦۷) اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں (ف٦۸)
And it will be said, “This day We shall forsake you, the way you had forgotten the confronting of this day of yours – and your destination is the fire, and you do not have any supporters.”
और फ़रमाया जाएगा आज हम तुम्हें छोड़ देंगे जैसे तुम अपने उस दिन के मिलने को भूले हुए थे और तुम्हारा ठिकाना आग है और तुम्हारा कोई मददगार नहीं
Aur farmaaya jaayega aaj hum tumhein chhod denge jaise tum apne us din ke milne ko bhoole hue the aur tumhara thikaana aag hai aur tumhara koi madadgar nahin
(ف66)عذابِ دوزخ میں ۔(ف67)کہ ایمان و طاعت چھوڑ بیٹھے ۔(ف68)جو تمہیں اس عذاب سے بچاسکے ۔
یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کا ٹھٹھا (مذاق) بنایا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں فریب دیا (ف٦۹) تو آج نہ وہ آگ سے نکالے جائیں اور نہ ان سے کوئی منانا چاہے (ف۷۰)
“This is because you mocked at the signs of Allah, and the worldly life deceived you”; so this day they are not to be removed from the fire, nor will anyone seek amends from them.
यह उस लिए कि तुम ने अल्लाह की आयतों का ठठ्ठा (मज़ाक़) बनाया और दुनिया की ज़िंदगी ने तुम्हें फ़रेब दिया तो आज न वह आग से निकाले जाएँ और न उन से कोई मनाना चाहे
Ye is liye ke tum ne Allah ki aayaton ka thuttha (mazaaq) banaya aur duniya ki zindagi ne tumhein fareb diya to aaj na woh aag se nikale jaayenge aur na un se koi manaana chahe
(ف69)کہ تم اس کے مفتوں ہوگئے اور تم نے بعث و حساب کا انکار کردیا ۔(ف70)یعنی اب ان سے یہ بھی مطلوب نہیں کہ وہ توبہ کرکے اور ایمان و طاعت اختیار کرکے اپنے رب کو راضی کریں کیونکہ اس روز کوئی اور توبہ قبول نہیں ۔
اور اسی کے لیے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
And for Him only is the Greatness, in the heavens and in the earth; and He only is the Most Honourable, the Wise.
और उसी के लिए बड़ाई है आसमानों और ज़मीन में, और वही इज़्ज़त व हिकमत वाला है,
",
Aur usi ke liye barrai hai aasmaanon aur zameen mein, aur wahi izzat o hikmat wala hai,",
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page