ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق کے ساتھ (ف۳) اور ایک مقرر میعاد پر (ف٤) اور کافر اس چیز سے کہ ڈرائے گئے (ف۵) منہ پھیرے ہیں (ف٦)
We did not create the heavens and the earth and all that is between them except with the truth, and for a fixed term; and the disbelievers have turned away from what they are warned!
हम ने न बनाये आसमान और ज़मीन और जो कुछ उनके दरमियान है मगर हक़ के साथ और एक मुक़र्रर मीयाद पर और काफ़िर उस चीज़ से कि डराये गये मुँह फेरे हैं
Hum ne na banaye aasman aur zameen aur jo kuchh un ke darmiyan hai magar haq ke sath aur ek muqarrar miyaad par aur kaafir us cheez se ke daraaye gaye munh phere hain
(ف3)کہ ہماری قدرت ووحدانیّت پر دلالت کریں ۔(ف4)وہ مقرر میعاد روزِ قیامت ہے جس کے آجانے پر آسمان و زمین فنا ہوجائیں گے ۔(ف5)اس چیز سے مراد یا عذاب ہے یا روزِ قیامت کی وحشت یا قرآنِ پاک جو بعث و حساب کا خوف دلاتا ہے ۔(ف6)کہ اس پر ایمان نہیں لاتے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۷) مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین کا کون سا ذرہ بنایا یا آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے، میرے پاس لاؤ اس سے پہلی کوئی کتاب (ف۸) یا کچھ بچا کھچا علم (ف۹) اگر تم سچے ہو (ف۱۰)
Proclaim, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “What is your opinion – regarding those whom you worship other than Allah – show me which part of the earth they have created, or do they own any portion of the heavens? Bring to me a Book preceding this (Qur’an), or some remnants of knowledge, if you are truthful.”
तुम फ़रमाओ भला बताओ तो वह जो तुम अल्लाह के सिवा पूजते हो मुझे दिखाओ उन्होंने ज़मीन का कौन सा ज़र्रा बनाया या आसमान में उनका कोई हिस्सा है, मेरे पास लाओ उस से पहली कोई किताब या कुछ बचा खुचा इल्म अगर तुम सच्चे हो
Tum farmao bhala batao to woh jo tum Allah ke siwa poojte ho mujhe dikhao unhon ne zameen ka kaun sa zarra banaya ya aasman mein un ka koi hissa hai, mere paas lao us se pehli koi kitaab ya kuchh bacha kucha ilm agar tum sachche ho
(ف7)یعنی بت جنہیں معبود ٹھہراتے ہو ۔(ف8)جو اللہ تعالٰی نے قرآن سے پہلے اتاری ہو ، مراد یہ ہے کہ یہ کتاب یعنی قرآنِ مجید توحید اور ابطالِ شرک پر ناطق ہے اور جو کتاب بھی اس سے پہلے اللہ تعالٰی کی طرف سے آئی اس میں یہی بیان ہے تم کُتُبِ ا لٰہیہ میں سے کوئی ایک کتاب تو ایسی لے آؤجس میں تمہارے دِین(بت پرستی)کی شہادت ہو ۔(ف9)پہلوں کا ۔(ف10)اپنے اس دعوے میں کہ خدا کا کوئی شریک ہے جس کی عبادت کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کے سوا ایسوں کو پوجے (ف۱۱) جو قیامت تک اس کی نہ سنیں اور انہیں ان کی پوجا کی خبر تک نہیں (ف۱۲)
And who is more astray than one who worships those, instead of Allah, who cannot listen to their prayer until* the Day of Resurrection, and who do not even know of their worship! (Will never listen.)
और उस से बढ़ कर गुमराह कौन जो अल्लाह के सिवा ऐसों को पूजे जो क़यामत तक उसकी न सुनें और उन्हें उनकी पूजा की ख़बर तक नहीं
Aur us se barh kar gumrah kaun jo Allah ke siwa aisun ko pooje jo qayamat tak us ki na sunein aur unhein un ki pooja ki khabar tak nahin
(ف11)یعنی بتوں کو ۔(ف12)کیونکہ وہ جماد بے جان ہیں ۔
اور جب لوگوں کا حشر ہوگا وہ ان کے دشمن ہوں گے (ف۱۳) اور ان سے منکر ہوجائیں گے (ف۱٤)
And on the day when people are gathered, they will become their enemies, and will reject their worshippers. (The idols will give testimony against the polytheists.)
और जब लोगों का हश्र होगा वह उनके दुश्मन होंगे और उन से मुनकिर हो जायेंगे
Aur jab logon ka hashr hoga woh un ke dushman honge aur un se munkir ho jaayenge
(ف13)یعنی بت اپنے پجاریوں کے ۔(ف14)اور کہیں گے کہ ہم نے انہیں اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی ، درحقیقت یہ اپنی خواہشوں کے پرستار تھے ۔
اور جب ان پر (ف۱۵) پڑھی جائیں ہماری روشن آیتیں تو کافر اپنے پاس آئے ہوئے حق کو (ف۱٦) کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے (ف۱۷)
And when Our clear verses are recited to them, the disbelievers say regarding the Truth that has come to them, “This is an obvious magic!”
और जब उन पर पढ़ी जायें हमारी रोशन आयतें तो काफ़िर अपने पास आये हुए हक़ को कहते हैं ये खुला जादू है
Aur jab un par padhi jaayen hamari roshan aayatein to kaafir apne paas aaye hue haq ko kehte hain ye khula jadoo hai
(ف15)یعنی اہلِ مکّہ پر ۔(ف16)یعنی قرآن شریف کو بغیر غور وفکر کئے اور اچھی طرح سنے ۔(ف17)کہ اس کے جادو ہونے میں شبہہ نہیں اور اس سے بھی بدتر بات کہتے ہیں ، جس کا آ گے ذکر ہے ۔
کیا کہتے ہیں انہوں نے اسے جی سے بنایا (ف۱۸) تم فرماؤ اگر میں نے اسے جی سے بنالیا ہوگا تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں رکھتے (ف۱۹) وہ خوب جانتا ہے جن باتوں میں تم مشغول ہو (ف۲۰) اور وہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۱)
What! They dare say, “He has fabricated it”? Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “If I have fabricated it, then (I know that) you have no power to support me against Allah; He well knows the matters you are involved in; He is Sufficient as a Witness between me and you; and He only is the Oft Forgiving, the Most Merciful.”
क्या कहते हैं उन्होंने उसे जी से बनाया तुम फ़रमाओ अगर मैं ने उसे जी से बना लिया होगा तो तुम अल्लाह के सामने मेरा कुछ इख़्तियार नहीं रखते वह ख़ूब जानता है जिन बातों में तुम मशग़ूल हो और वह काफ़ी है मेरे और तुम्हारे दरमियान गवाह, और वही बख़्शने वाला मेहरबान है
Kya kehte hain unhon ne use ji se banaya? Tum farmao agar maine use ji se bana liya hoga to tum Allah ke samne mera kuchh ikhtiyar nahin rakhte, woh khoob jaanta hai jin baton mein tum mashghool ho aur woh kafi hai mere aur tumhare darmiyan gawah, aur wahi bakhshne wala mehrban hai
(ف18)یعنی سیدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ۔(ف19)یعنی اگر بالفرض میں دل سے بناتا اور اس کو اللہ تعالٰی کا کلام بتاتا تو وہ اللہ تعالٰی پر افتراء ہوتا اور اللہ تبارک و تعالٰی ایسے افتراء کرنے والے کو جلد عقوبت میں گرفتار کرتا ہے ، تمہیں تو یہ قدرت نہیں کہ تم اس کی عقوبت سے بچاسکو یا اس کے عذاب کو دفع کرسکو تو کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں تمہاری وجہ سے اللہ تعالٰی پر افتراء کرتا ۔(ف20)اور جو کچھ قرآنِ پاک کی نسبت کہتے ہو ۔(ف21)یعنی اگر تم کفر سے توبہ کرکے ایمان لاؤ تو اللہ تعالٰی تمہاری مغفرت فرمائے گا ، اور تم پر رحمت کرے گا ۔
تم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں (ف۲۲) اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (ف۲۳) میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے (ف۲٤) اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا،
Say, “I am not something new* among the Noble Messengers, nor do I know (on my own) what will happen to me** or with you; I only follow that which is divinely revealed to me, and I am purely a Herald of clear warning. (* I am like the earlier ones. ** My knowledge comes due to divine revelations.)
तुम फ़रमाओ मैं कोई अनोखा रसूल नहीं और मैं नहीं जानता मेरे साथ क्या क्या किया जायेगा और तुम्हारे साथ क्या मैं तो उसी का ताबे हूँ जो मुझे वही होती है और मैं नहीं मगर साफ़ डर सुनाने वाला,
Tum farmao main koi anokha rasool nahin aur main nahin jaanta mere sath kya kya kiya jaayega aur tumhare sath kya, main to usi ka taabe hoon jo mujhe wahi hoti hai aur main nahin magar saaf dar sunane wala,
(ف22)مجھ سے پہلے بھی رسول آچکے ہیں تو تم کیوں نبوّت کا انکار کرتے ہو ۔(ف23)اس کے معنی میں مفسّرین کی چند قول ہیں ، ایک تو یہ کہ قیامت میں جو میرے اور تمہارے ساتھ کیا جائے گا ؟ وہ مجھے معلوم نہیں ، یہ معنی ہوں تو یہ آیت منسوخ ہے ، مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرک خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ لات و عزّٰی کی قَسم اللہ تعالٰی کے نزدیک ہمارا اور محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا یکساں حال ہے ، انہیں ہم پر کچھ بھی فضیلت نہیں ، اگر یہ قرآن انکا اپنا بنایا ہوا نہ ہوتا تو ان کا بھیجنے والا انہیں ضرور خبر دیتا کہ ان کے ساتھ کیا کرے گا تو اللہ تعالٰی نے آیت ' لِیَغْفِرَلَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ 'نازل فرمائی ، صحابہ نے عرض کیا یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضور کو مبارک ہو آپ کو تو معلوم ہوگیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا ، یہ انتظار ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ' لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ' اور یہ آیت نازل ہوئی ' بَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَھُمْ مِّنَ اﷲِ فَضْلاً کَبِیْراً ' تو اللہ تعالٰی نے بیان فرما دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ کیا کرے گا اور مومنین کے ساتھ کیا ، دوسرا قول آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ آخرت کا حال تو حضور کو اپنا بھی معلوم ہے ، مومنین کا بھی ، مکذّبین کا بھی ، معنٰی یہ ہیں کہ دنیا میں کیا کیا جائے گا ؟ یہ معلوم نہیں ، اگر یہ معنٰی لئے جائیں تو بھی آیت منسوخ ہے ، اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو یہ بھی بتادیا ' لِیُظْہِرَہ عَلیَ الدِّیْنِ کُلِّہٖ ' اور ' مَاکَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ'بہرحال اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حضور کے ساتھ اور حضور کی امّت کے ساتھ پیش آنے والے امور پر مطلع فرمادیا خواہ وہ دنیا کے ہوں یا آخرت کے اور اگر درایت بمعنٰی ادراک بالقیاس یعنی عقل سے جاننے کے معنٰی میں لیا جائے تو مضمون اور بھی زیادہ صاف ہے اور آیت کا اس کے بعد والا جملہ اس کا مؤیِّد ہے ، علامہ نیشا پوری نے اس آیت کے تحت میں فرمایا کہ اس میں نفی اپنی ذات سے جاننے کی ہے ، من جہت الوحی جاننے کی نفی نہیں ۔(ف24)یعنی میں جو کچھ جانتا ہوں اللہ تعالٰی کی تعلیم سے جانتا ہوں ۔
تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ (ف۲۵) اس پر گواہی دے چکا (ف۲٦) تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا (ف۲۷) بیشک اللہ راہ نہیں دیتا ظالموں کو،
Say, “What is your opinion – if the Qur’an is from Allah and you have rejected faith in it, and a witness among the Descendants of Israel has already testified upon this and accepted faith, while you became arrogant? Indeed Allah does not guide the unjust.”
तुम फ़रमाओ भला देखो तो अगर वह कुरआन अल्लाह के पास से हो और तुम ने उसका इंकार किया और बनी इस्राईल का एक गवाह उस पर गवाही दे चुका तो वह ईमान लाया और तुम ने तकब्बुर किया बेशक अल्लाह राह नहीं देता ज़ालिमों को,
Tum farmao bhala dekho to agar woh Quran Allah ke paas se ho aur tum ne us ka inkaar kiya aur Bani Israeel ka ek gawah us par gawahi de chuka to woh imaan laya aur tum ne takabbur kiya, beshak Allah raah nahin deta zaalimoon ko,
(ف25)وہ حضرت عبداللہ بن سلام ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کی صحتِ نبوّت کی شہادت دی ۔(ف26)کہ وہ قرآن اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے ۔(ف27)اور ایمان سے محروم رہے تو اس کا نتیجہ کیا ہونا ہے ۔
اور کافروں نے مسلمانوں کو کہا اگر اس میں (ف۲۸) کچھ بھلائی ہو تو یہ (ف۲۹) ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے (ف۳۰) اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب (ف۳۱) کہیں گے کہ یہ پرانا بہتان ہے،
And the disbelievers said regarding the Muslims, “If there were any good in it, the Muslims would not have surpassed us in achieving it!”; and since they did not receive guidance with it, they will now say, “This is an old slander.”
और काफ़िरों ने मुसलमानों को कहा अगर इस में कुछ भलाई हो तो ये हम से आगे इस तक न पहुँच जाते और जब उन्हें इसकी हिदायत न हुई तो अब कहेंगे कि ये पुराना बहुतान है,
Aur kaafiron ne musalmanon ko kaha agar is mein kuchh bhalai hoti to ye hum se aage is tak na pahunch jaate aur jab unhein us ki hidaayat na hui to ab kahenge ki ye purana buhtaan hai,
(ف28)یعنی دِینِ محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ۔(ف29)غریب لوگ ۔(ف30)شانِ نزول : یہ آیت مشرکینِ مکّہ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اگر دِینِ محمّدی حق ہوتا تو فلاں و فلاں اس کو ہم سے پہلے کیسے قبول کرلیتے ۔(ف31)عناد سے قرآن شریف کی نسبت ۔
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (ف۳۲) سے پیشوا اور مہربانی، اور یہ کتاب ہے تصدیق فرماتی (ف۳۳) عربی زبان میں کہ ظالموں کو ڈر سنائے ، اور نیکوں کو بشارت،
And whereas before this exists the Book of Moosa, a guide and a mercy; and this is a Book giving testimony, in the Arabic language, to warn the unjust; and to give glad tidings to the virtuous.
और उस से पहले मूसा की किताब से पेशवा और मेहरबानी, और ये किताब है तस्दीक़ फ़रमाती अरबी ज़बान में कि ज़ालिमों को डर सुनाये, और नेक़ों को बशारत,
Aur us se pehle Moosa ki kitaab se peshwa aur mehrbaani, aur ye kitaab hai tasdeeq farmaati Arabi zaban mein ke zaalimoon ko dar sunaye, aur nekon ko bashaarat,
اور ہم نے آدمی کو حکم کیا اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے، اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے، اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے (ف۳۷) یہاں تک کہ جب اپنے زور کو پہنچا (ف۳۸) اور چالیس برس کا ہوا (ف۳۹) عرض کی اے میرے رب! میرے دل میں ڈال کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی (ف٤۰) اور میں وہ کام کروں جو تجھے پسند آئے (ف٤۱) اور میرے لیے میری اولاد میں صلاح (نیکی) رکھ (ف٤۲) میں تیری طرف رجوع لایا (ف٤۳) اور میں مسلمان ہوں (ف٤٤)
And We have commanded man to be good towards parents; his mother bore him with hardship, and delivered him with hardship; and carrying him and weaning him is for thirty months; until when he* reached maturity and became forty years of age, he said, “My Lord! Inspire me to be thankful for the favours you bestowed upon me and my parents, and that I may perform the deeds pleasing to You, and keep merit among my offspring; I have inclined towards you and I am a Muslim.” (* This verse was revealed concerning S. Abu Bakr – the first caliph, R. A. A)
और हम ने आदमी को हुक्म किया अपने माँ बाप से भलाई करे, उसकी माँ ने उसे पेट में रखा तक्लीफ़ से और जना उसको तक्लीफ़ से, और उसे उठाये फिरना और उसका दूध छुड़ाना तीस महीने में है यहाँ तक कि जब अपने ज़ोर को पहुँचा और चालिस बरस का हुआ अर्ज़ की ऐ मेरे रब! मेरे दिल में डाल कि मैं तेरी नेमत का शुक्र करूँ जो तू ने मुझ पर और मेरे माँ बाप पर की और मैं वह काम करूँ जो तुझे पसन्द आये और मेरे लिये मेरी औलाद में सलाह (नेकी) रख मैं तेरी तरफ़ रुजू लाया और मैं मुसलमान हूँ
Aur hum ne aadmi ko hukm kiya apne maa baap se bhalai kare, us ki maa ne use pait mein rakha takleef se aur jana us ko takleef se, aur use uthaye phirna aur us ka doodh chhudana tees mahine mein hai yahan tak ke jab apne zor ko pohoncha aur chalis baras ka hua arz ki “ai mere Rab! mere dil mein daal ke main teri ne’mat ka shukr karoon jo tu ne mujh par aur mere maa baap par ki aur main woh kaam karoon jo tujhe pasand aaye aur mere liye meri aulaad mein salah (neki) rakh, main teri taraf rujoo laaya aur main musalman hoon”
(ف37)مسئلہ :اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اقل مدّتِ حمل چھ ماہ ہے کیونکہ جب دودھ چھڑانے کی مدّت دو سال ہوئی جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ' حَوْ لَیْنِ کَامِلَیْنِ' تو حمل کے لئے چھ ماہ باقی رہے ، یہی قول ہے امام ابویوسف و امام محمّد رحمہما اللہ تعالٰی کا اور حضرت امام صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک اس آیت سے رضاع کی مدّت ڈھائی سال ثابت ہوتی ہے ۔ مسئلہ کی تفاصیل مع دلائل کُتُبِ اصول میں مذکور ہیں ۔(ف38)اور عقل وقوّت مستحکم ہوئی اور یہ بات تیس سے چالیس سال تک کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ۔(ف39)یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی ، آپ کی عمر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دو سال کم تھی ، جب حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر اٹھارہ سال کی ہوئی تو آپ نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت اختیار کی ، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر شریف بیس سال کی تھی ، حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ہمراہی میں بغرضِ تجارت ملکِ شام کا سفر کیا ، ایک منزل پر ٹھہرے ، وہاں ایک بیری کا درخت تھا ، حضور سیدِ عالَم علیہ الصٰلوۃوالسلام اس کے سایہ میں تشریف فرما ہوئے ، قریب ہی ایک راہب رہتا تھا ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کے پاس چلے گئے ، راہب نے آپ سے کہا یہ کون صاحب ہیں جو اس بیری کے سایہ میں جلوہ فرما ہیں ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)ا بنِ عبداللہ ہیں ، عبدالمطلب کے پوتے ، راہب نے کہا خدا کی قَسم یہ نبی ہیں ، اس بیری کے سایہ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے آج تک ان کے سوا کوئی نہیں بیٹھا ، یہی نبی آخرُ الزّماں ہیں ، راہب کی یہ بات حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دل میں اثر کر گئی اور نبوّت کا یقین آپ کے دل میں جم گیا اور آپ نے صحبت شریف کی ملازمت اختیار کی ، سفر و حضر میں آپ سے جدا نہ ہوتے ، جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنی نبوّت و رسالت کے ساتھ سرفراز فرمایا تو حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ آپ پر ایمان لائے اس وقت حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر اڑتیس سال کی تھی ، جب حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو انہوں نے اللہ تعالٰی سے یہ دعا کی ۔(ف40)کہ ہم سب کو ہدایت فرمائی اور اسلام سے مشرف کیا ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والد کا نام ابوقحافہ اور والدہ کا نام امّ الخیر ہے ۔(ف41)آپ کی یہ دعا بھی مستجاب ہوئی اور اللہ تعالٰی نے آپ کو حسنِ عمل کی وہ دولت عطا فرمائی کہ تمام امّت کے اعمال آپ کے ایک عمل کے برابر نہیں ہوسکتے ، آپ کی نیکیوں میں سے ایک یہ ہے کہ نو مومن جو ایمان کی وجہ سے سخت ایذاؤں اور تکلیفوں میں مبتلا تھے ان کو آپ نے آزاد کیا ، انہیں میں سے ہیں حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ اور آپ نے یہ دعا کی ۔(ف42)یہ دعا بھی مستجاب ہوئی ، اللہ تعالٰی نے آپ کی اولاد میں صلاح رکھی ، آپ کی تمام اولاد مومن ہے اور ان میں حضرت امّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا مرتبہ کس قدر بلند و بالا ہے کہ تمام عورتوں پر اللہ تعالٰی نے انہیں فضیلت دی ہے ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والدین بھی مسلمان اور آپ کے صاحبزادے محمّد اور عبداللہ اور عبدالرحمٰن اور آپ کی صاحبزادیاں حضرت عائشہ اور حضرت اسماء اور آپ کے پوتے محمّد بن عبدالرحمٰن یہ سب مومن اور سب شرفِ صحابیّت سے مشرف صحابہ ہیں ، آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کو یہ فضیلت حاصل ہو کہ اس کے والدین بھی صحابی ہوں ، خود بھی صحابی ، اولاد بھی صحابی ، پوتے بھی صحابی ، چارپشتیں شرفِ صحابیّت سے مشرّف ۔(ف43)ہر امر میں جس میں تیری رضا ہو ۔(ف44)دل سے بھی اور زبان سے بھی ۔
یہ ہیں وہ جن کی نیکیاں ہم قبول فرمائیں گے (ف٤۵) اور ان کی تقصیروں سے درگزر فرمائیں گے جنت والوں میں، سچا وعدہ جو انہیں دیا جاتا تھا (ف٤٦)
These are the ones whose good deeds We will accept, and overlook their shortfalls – among the People of Paradise; a true promise which is being given to them.
ये हैं वह जिनकी नेक़ियाँ हम क़बूल फ़रमायेंगे और उनकी तक़सीरों से दरगुज़र फ़रमायेंगे जन्नत वालों में, सच्चा वादा जो उन्हें दिया जाता था
Ye hain woh jin ki nekian hum qabool farmaayenge aur un ki taqseerun se darguzar farmaayenge jannat walon mein, sachcha wada jo unhein diya jaata tha
(ف45)ان پر ثواب دیں گے ۔(ف46)دنیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبان مبارک سے ۔
اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا (ف٤۷) اُف تم سے دل پک گیا (بیزار ہے) کیا مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ پھر زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ پر سے پہلے سنگتیں گزر چکیں (ف٤۸) اور وہ دونوں (ف٤۹) اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیری خرابی ہو ایمان لا، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۵۰) تو کہتا ہے یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں
And the one who said to his parents, “Uff – I am fed up with both of you! What! You promise me that I will be raised again whereas generations have passed away before me?” And they both seek Allah’s help and say to him, “May you be ruined, accept faith! Indeed Allah’s promise is true”; he therefore answers, “This is nothing except stories of former people.”
और वह जिसने अपने माँ बाप से कहा उफ़ तुम से दिल पक गया (बेज़ार है) क्या मुझे ये वादा देते हो कि फिर ज़िन्दा किया जाऊँगा हालाँकि मुझ पर से पहले संगतें गुज़र चुकीं और वह दोनों अल्लाह से फ़रियाद करते हैं तेरी ख़राबी हो ईमान ला, बेशक अल्लाह का वादा सच्चा है तो कहता है ये तो नहीं मगर अगलों की कहानियाँ
Aur woh jis ne apne maa baap se kaha “uff tum se dil pak gaya (bezaar hai) kya mujhe ye wada dete ho ke phir zinda kiya jaaunga” halanke mujh par se pehle sangatein guzar chuki aur woh dono Allah se faryaad karte hain “teri kharabi ho imaan la, beshak Allah ka wada sachcha hai” to kehta hai “ye to nahin magar aglon ki kahaniyan”
(ف47)مراد اس سے کوئی خاص شخص نہیں ہے بلکہ ہر کافر جو بعث کا منکِر ہو اور والدین کا نافرمان اور اس کے والدین اس کو دِینِ حق کی دعوت دیتے ہوں اور وہ انکار کرتا ہو ۔(ف48)ان میں سے کوئی مر کر زندہ نہ ہوا ۔(ف49)ماں باپ ۔(ف50)مردے زندہ فرمانے کا ۔
اور ہر ایک کے لیے (ف۵۲) اپنے اپنے عمل کے درجے ہیں (ف۵۳) اور تاکہ اللہ ان کے کام انہیں پورے بھردے (ف۵٤)
And for all persons are ranks according to their deeds; and so that He may repay them in full for their deeds, and they will not be wronged.
और हर एक के लिये अपने अपने अमल के दर्ज़े हैं और ताकि अल्लाह उनके काम उन्हें पूरे भर दे
Aur har ek ke liye apne apne amal ke darje hain aur taake Allah un ke kaam unhein poore bhar de
(ف52)مومن ہو یا کافر ۔(ف53)یعنی منازل و مراتب ہیں ، اللہ تعالٰی کے نزدیک روزِ قیامت جنّت کے درجات بلند ہوتے چلے جاتے ہیں اور جہنّم کے درجات پست ہوتے چلے جاتے ہیں تو جن کے عمل اچھے ہوں وہ جنّت کے اونچے درجے میں ہوں گے اور جو کفر و معصیّت میں انتہا کو پہنچ گئے ہوں وہ جہنّم کے سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔(ف54)یعنی مومنوں اور کافروں کو فرمانبرداری اور نافرمانی کی پوری جزا دے ۔
اور ان پر ظلم نہ ہوگا، اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں برت چکے (ف۵۵) تو آج تمہیں ذلت کا عذاب بدلہ دیا جائے گا سزا اس کی کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور سزا اس کی کہ حکم عدولی کرتے تھے (ف۵٦)
And on the day when the disbelievers will be presented upon the fire; it will be said to them, “You have wasted your portion of the good things in the life of this world and enjoyed them; so this day you will be repaid with the disgraceful punishment, the recompense of your wrongfully priding yourself in the land, and because you used to disobey.”
और उन पर ज़ुल्म न होगा, और जिस दिन काफ़िर आग पर पेश किये जायेंगे, उन से फ़रमाया जायेगा तुम अपने हिस्सा की पाक चीज़ें अपनी दुनिया ही की ज़िन्दगी में फ़ना कर चुके और उन्हें बरत चुके तो आज तुम्हें ज़िल्लत का अज़ाब बदला दिया जायेगा सज़ा उसकी कि तुम ज़मीन में नाहक तकब्बुर करते थे और सज़ा उसकी कि हुक्म अदूली करते थे
Aur un par zulm na hoga, aur jis din kaafir aag par pesh kiye jaayenge, un se farmaaya jaayega “tum apne hissa ki paak cheezen apni duniya hi ki zindagi mein fana kar chuke aur unhein barat chuke to aaj tumhein zillat ka azaab badla diya jaayega, saza us ki ke tum zameen mein nahaq takabbur karte the aur saza us ki ke hukm adooli karte the”
(ف55)یعنی لذّت و عیش جو تمہیں پانا تھا وہ سب دنیا میں تم نے ختم کردیا ، اب تمہارے لئے آخرت میں کچھ بھی باقی نہ رہا ۔ اور بعض مفسّرین کا قول ہے کہ طیّبات سے قُوائے جسمانیہ اور جوانی مراد ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ تم نے اپنی جوانی اور اپنی قوّتوں کو دنیا کے اندر کفر و معصیّت میں خرچ کردیا۔(ف56)اس آیت میں اللہ تعالٰی نے دنیوی لذّات اختیارکرنے پر کفّار کو توبیخ فرمائی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضور کے اصحاب نے لذّاتِ دنیویہ سے کنارہ کشی اختیار فرمائی ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہلِ بیت نے کبھی جَو کی روٹی بھی دو روز بَرابر نہ کھائی ، یہ بھی حدیث میں ہے کہ پورا پور امہینہ گزر جاتا تھا دولت سرائے اقدس میں آ گ نہ جلتی تھی ، چند کھجوروں اورپانی پر گزر کی جاتی تھی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے تھے کہ میں چاہتا تو تم سے اچھا کھانا کھاتا اور تم سے بہتر لباس پہنتا لیکن میں اپنا عیش و راحت اپنی آخر ت کے لئے باقی رکھنا چاہتا ہوں ۔
اور یاد کرو عاد کے ہم قوم (ف۵۷) کو جب اس نے ان کو سرزمین احقاف میں ڈرایا (ف۵۸) اور بیشک اس سے پہلے ڈر سنانے والے گزر چکے اور اس کے بعد آئے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پُوجو، بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے،
And remember the fellowman of the tribe of A’ad; when he warned his nation in the Ahqaf* – and indeed Heralds of warning passed away before and after him – that, “Do not worship anyone except Allah; indeed I fear the punishment of a Great Day upon you. (* A country among sand dunes.)
और याद करो आद के हम क़ौम को जब उस ने उनको सरज़मीन-ए-अहक़ाफ़ में डराया और बेशक उस से पहले डर सुनाने वाले गुज़र चुके और उसके बाद आये कि अल्लाह के सिवा किसी को न पूजो, बेशक मुझे तुम पर एक बड़े दिन के अज़ाब का अन्देशा है,
Aur yaad karo Aad ke ham qawm ko jab us ne un ko sarzameen-e-Ahqaaf mein daraya aur beshak us se pehle dar sunane wale guzar chuke aur us ke baad aaye ke Allah ke siwa kisi ko na poojo, beshak mujhe tum par ek bade din ke azaab ka andesha hai,
(ف57)حضرت ہود علیہ السلام ۔(ف58)شرک سے ۔ اور احقاف ایک ریگستانی وادی ہے جہاں قومِ عاد کے لوگ رہتے تھے ۔
اس نے فرمایا (ف٦۱) اس کی خبر تو اللہ ہی کے پاس ہے (ف٦۲) میں تو تمہیں اپنے رب کے پیام پہنچاتا ہوں ہاں میری دانست میں تم نرے جاہل لوگ ہو (ف٦۳)
He said, “Its knowledge is only with Allah; and I convey to you the messages of my Lord, but I perceive that you are an ignorant nation.”
उस ने फ़रमाया उसकी ख़बर तो अल्लाह ही के पास है मैं तो तुम्हें अपने रब के पैग़ाम पहुँचाता हूँ हाँ मेरी दानिस्त में तुम निरे जाहिल लोग हो
Us ne farmaaya “us ki khabar to Allah hi ke paas hai, main to tumhein apne Rab ke paighaam pohonchata hoon, haan meri danist mein tum nire jaahil log ho”
(ف61)یعنی ہود علیہ السلام نے ۔(ف62)کہ عذاب کب آئے گا ۔(ف63)جو عذاب میں جلدی کرتے ہو اور عذاب کو جانتے نہیں ہو کہ کیا چیز ہے ۔
پھر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں پھیلا ہوا ان کی وادیوں کی طرف آتا
So when they saw the punishment coming towards their valleys, spread like a cloud on the horizon, they said, “That is a cloud which will shower rain upon us”; said Hud “In fact this is what you were being impatient for; a windstorm carrying a painful punishment.”
फिर जब उन्होंने अज़ाब को देखा बादल की तरह आसमान के किनारे में फैला हुआ उनकी वादियों की तरफ़ आता बोले ये बादल है कि हम पर बरसेगा बल्कि ये तो वह है जिसकी तुम जल्दी मचाते थे, एक आँधी है जिस में दर्दनाक अज़ाब,
Phir jab unhon ne azaab ko dekha baadal ki tarah aasman ke kinaare mein phaila hua un ki waadiyon ki taraf aata, bole “ye baadal hai ke hum par barsega” balki ye to woh hai jis ki tum jaldi machate the, ek aandhi hai jis mein dardnaak azaab
(ف64)اور مدّتِ دراز سے ان کی سرزمین میں بارش نہ ہوئی تھی ، اس کالے بادل کو دیکھ کر خوش ہوئے ۔(ف65)حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا ۔
ہر چیز کو تباہ کر ڈالتی ہے اپنے رب کے حکم سے (ف٦٦) تو صبح رہ گئے کہ نظر نہ آتے تھے مگر ان کے سُونے مکان، ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں مجرموں کو،
“That destroys all things by the command of its Lord” – so at morning none could be seen except their empty houses; this is the sort of punishment We mete out to the guilty.
हर चीज़ को तबाह कर डालती है अपने रब के हुक्म से तो सुबह रह गये कि नज़र न आते थे मगर उनके सूने मकान, हम ऐसी ही सज़ा देते हैं मुजरिमों को,
Har cheez ko tabah kar daalti hai apne Rab ke hukm se to subah reh gaye ke nazar na aate the magar un ke soonay makan, hum aisi hi saza dete hain mujrimoon ko,
(ف66)چنانچہ اس آندھی کے عذاب نے ان کے مَردوں ، عورتوں ، چھوٹوں ، بڑوں کو ہلاک کردیا ، ان کے اموال آسمان وز مین کے درمیان اڑتے پھرتے تھے ، چیزیں پارہ پارہ ہوگئیں ، حضر ت ہود علیہ السلام نے اپنے اور اپنے اوپر ایمان لانے والوں کے گرد ایک خط کھینچ دیا تھا ہوا ، جب اس خط کے اندر آتی تو نہایت نرم ، پاکیزہ ، فرحت انگیز ، سرد ۔ اور وہی ہَوا قوم پر شدید ، سخت ، مہلِک ، اوریہ حضرت ہود علیہ السلام کا ایک معجزۂِ عظیمہ تھا ۔
اور بیشک ہم نے انہیں وہ مقدور دیے تھے جو تم کو نہ دیے (ف٦۷) اور ان کے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے (ف٦۸) تو ان کے کام کان اور آنکھیں اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انہیں گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے،
And We had indeed given them the means which We have not given you, and made ears and eyes and hearts for them; so their ears and eyes and hearts did not benefit them at all because they used to deny the signs of Allah, and the punishment they used to mock at encompassed them.
और बेशक हम ने उन्हें वह मक़दूर दिये थे जो तुम को न दिये और उनके लिये कान और आँख और दिल बनाये तो उनके काम कान और आँखें और दिल कुछ काम न आये जबकि वह अल्लाह की आयतों का इंकार करते थे और उन्हें घेर लिया उस अज़ाब ने जिस की हँसी बनाते थे,
Aur beshak hum ne unhein woh maqdoor diye the jo tum ko na diye aur un ke liye kaan aur aankh aur dil banaye to un ke kaam kaan aur aankhen aur dil kuchh kaam na aaye jabke woh Allah ki aayaton ka inkaar karte the aur unhein ghere liya us azaab ne jis ki hansi banate the,
(ف67)اے اہلِ مکّہ وہ قوّت و مال اور طولِ عمر میں تم سے زیادہ تھے ۔(ف68)تاکہ دِین کے کام میں لائیں مگر انہوں نے سوائے دنیا کی طلب کے ان خدادا د نعمتوں سے دِین کا کام ہی نہیں لیا ۔
تو کیوں نہ مدد کی ان کی (ف۷۲) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کو خدا ٹھہرا رکھا تھا (ف۷۳) بلکہ وہ ان سے گم گئے (ف۷٤) اور یہ ان کا بہتان و افتراء ہے (ف۷۵)
So why did they – the ones whom they had chosen as Gods as a means of attaining Allah’s proximity – not help them? In fact the disbelievers lost them; and this is just their slander and fabrication.
तो क्यों न मदद की उनकी जिन को उन्होंने अल्लाह के सिवा क़ुर्ब हासिल करने को ख़ुदा ठहरा रखा था बल्कि वह उन से गुम गये और ये उनका बहुतान व इफ़्तिरा है
To kyon na madad ki un ki jin ko unhon ne Allah ke siwa qurb haasil karne ko khuda thehra rakha tha balki woh un se gum gaye aur ye un ka buhtaan o iftira hai
(ف72)ان کفّار کی ان بتوں نے ۔(ف73)اور جن کی نسبت یہ کہا کرتے تھے کہ ان بتوں کے پوجنے سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے ۔ (ف74)اور نزولِ عذاب کے وقت کام نہ آئے ۔(ف75)کہ وہ بتوں کو معبود کہتے ہیں اور بت پرستی کو قربِ الٰہی کا ذریعہ ٹھہراتے ہیں ۔
اور جبکہ ہم نے تمہاری طرف کتنے جن پھیرے (ف۷٦) کان لگا کر قرآن سنتے، پھر جب وہاں حاضر ہوئے آپس میں بولے خاموش رہو (ف۷۷) پھر جب پڑھنا ہوچکا اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے پلٹے (ف۷۸)
And when We sent a number of jinns towards you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), listening attentively to the Qur’an; so when they presented themselves there, they said to each other, “Listen quietly!”; and when the recitation finished, they turned back to their people, giving them warning.
और जबकि हम ने तुम्हारी तरफ़ कितने जिन फेरे कान लगा कर कुरआन सुनते, फिर जब वहाँ हाज़िर हुए आपस में बोले ख़ामोश रहो फिर जब पढ़ना हो चुका अपनी क़ौम की तरफ़ डर सुनाते पलटे
Aur jabke hum ne tumhari taraf kitne jinn phere kaan laga kar Quran sunte, phir jab wahan haazir hue aapas mein bole “khamosh raho” phir jab padhna ho chuka apni qawm ki taraf dar sunate palte
(ف76)یعنی اےسیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے آپ کی طرف جنّوں کی ایک جماعت کو بھیجا ، اس جماعت کی تعداد میں اختلاف ہے ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ سات جن تھے جنہیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کی قوم کی طرف پیام رساں بنایا ۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ نو تھے علماءِ محقّقین کا اس پر اتفاق ہے کہ جن سب کے سب مکلّف ہیں ۔ اب ان جنّوں کا حال ارشاد ہوتا ہے کہ جب آپ نخلہ میں مکّہ مکرّمہ اور طائف کے درمیان مکّہ مکرّمہ کو آتے ہوئے اپنے اصحاب کے ساتھ نمازِ فجر پڑھ رہے تھے اس وقت جن ۔(ف77)تاکہ اچھی طرح حضرت کی قرأت سن لیں ۔(ف78)یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم سے اپنی قوم کی طرف ایمان کی دعوت دینے گئے اور انہیں ایمان نہ لانے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت سے ڈرایا ۔
بولے اے ہماری قوم ہم نے ایک کتاب سنی (ف۷۹) کہ موسیٰ کے بعد اتاری گئی (ف۸۰) اگلی کتابوں کی تصدیق فرمائی حق اور سیدھی راہ دکھائی،
They said, “O our people! We have indeed heard a Book, sent down after Moosa, which confirms the Books preceding it, and guides towards the Truth and the Straight Path.”
बोले ऐ हमारी क़ौम हम ने एक किताब सुनी कि मूसा के बाद उतारी गयी अगली किताबों की तस्दीक़ फ़रमायी हक़ और सीधी राह दिखायी,
Bole “ai hamari qawm hum ne ek kitaab suni ke Moosa ke baad utaari gayi agali kitaabon ki tasdeeq farmaayi, haq aur seedhi raah dikhayi”
(ف79)یعنی قرآن شریف ۔(ف80)عطاء نے کہا چونکہ وہ جن دِینِ یہودیّت پر تھے اس لئے انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کا ذکر کیا اور حضرتٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام نہ لیا ۔ بعض مفسّرین نے کہا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی کتاب کا نام نہ لینے کا باعث یہ ہے کہ اس میں صرف مواعظ ہیں ، احکام بہت ہی کم ہیں ۔
اے ہماری قوم! اللہ کے منادی (ف۸۱) کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ کہ وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے (ف۸۲) اور تمہیں دردناک عذاب سے بچالے،
“O our people! Listen to Allah’s caller and accept faith in Him, so that He may forgive you some of your sins and save you from the painful punishment.”
ऐ हमारी क़ौम! अल्लाह के मुनादी की बात मानो और उस पर ईमान लाओ कि वह तुम्हारे कुछ गुनाह बख़्श दे और तुम्हें दर्दनाक अज़ाब से बचा ले,
“Ai hamari qawm! Allah ke munaadi ki baat maano aur us par imaan lao ke woh tumhare kuchh gunaah bakhsh de aur tumhein dardnaak azaab se bacha le”
(ف81)سیّدِ عالَم حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف82)جو اسلام سے پہلے ہوئے اور جن میں حق العباد نہیں ۔
اور جو اللہ کے منادی کی بات نہ مانے وہ زمین میں قابو سے نکل کر جانے والا نہیں (ف۸۳) اور اللہ کے سامنے اس کا کوئی مددگار نہیں (ف۸٤) وہ (ف۸۵) کھلی گمراہی میں ہیں،
“And whoever does not listen to Allah’s caller cannot escape in the earth, and he has no supporters against Allah; they are in open error.”
और जो अल्लाह के मुनादी की बात न माने वह ज़मीन में क़ाबू से निकल कर जाने वाला नहीं और अल्लाह के सामने उसका कोई मददगार नहीं वह खुली गुमराही में हैं,
Aur jo Allah ke munaadi ki baat na maane woh zameen mein qaabu se nikal kar jaane wala nahin aur Allah ke samne us ka koi madadgaar nahin, woh khuli gumraahi mein hain,
(ف83)اللہ تعالٰی سے کہیں بھاگ نہیں سکتا اور اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتا ۔(ف84)جو اسے عذاب سے بچاسکے ۔(ف85)جو اللہ تعالٰی کے منادی حضرت محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بات نہ مانیں ۔
کیا انہوں نے (ف۸٦) نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور ان کے بنانے میں نہ تھکا قادر ہے کہ مردے جِلائے، کیوں نہیں بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے
Have they not realised that Allah, Who did not tire in creating the heavens and the earth and in creating them, is Able to revive the dead? Surely yes, why not? Indeed He is Able to do all things.
क्या उन्होंने न जाना कि वह अल्लाह जिसने आसमान और ज़मीन बनाये और उनके बनाने में न थका क़ादिर है कि मुर्दे जिलाये, क्यों नहीं बेशक वह सब कुछ कर सकता है,
Kya unhon ne na jaana ke woh Allah jis ne aasman aur zameen banaye aur un ke banane mein na thaka, qadir hai ke murde jilaaye, kyon nahin beshak woh sab kuchh kar sakta hai,
اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے، ان سے فرمایا جائے گا کیا یہ حق نہیں کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم، فرمایا جائے گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا (ف۸۷)
And on the day when the disbelievers are presented upon the fire; it will be said, “Is this not a reality?” They will answer, “By oath of our Lord, surely yes, why not?”; it will be said, “Therefore taste the punishment, the recompense of your disbelief.”
और जिस दिन काफ़िर आग पर पेश किये जायेंगे, उन से फ़रमाया जायेगा क्या ये हक़ नहीं कहेंगे क्यों नहीं हमारे रब की क़सम, फ़रमाया जायेगा तो अज़ाब चखो बदला अपने कुफ़्र का
Aur jis din kaafir aag par pesh kiye jaayenge, un se farmaaya jaayega “kya ye haq nahin” kahenge “kyon nahin hamare Rab ki qasam”, farmaaya jaayega “to azaab chakho badla apne kufr ka”
(ف87)جس کے تم دنیا میں مرتکب ہوئے تھے ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے خطاب فرماتا ہے ۔
تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا (ف۸۸) اور ان کے لیے جلدی نہ کرو (ف۸۹) گویا وہ جس دن دیکھیں گے (ف۹۰) جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف۹۱) دنیا میں نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے (ف۹۲) تو کون ہلاک کیے جائیں گے مگر بےحکم لوگ (ف۹۳)
Therefore patiently endure (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) like the courageous Noble Messengers had endured, and do not be impatient for them; on the day when they see what they are promised, it will be as if they had not stayed on earth except part of a day; this is to be conveyed; will anyone be destroyed, except the disobedient?
तो तुम सब्र करो जैसा हिम्मत वाले रसूलों ने सब्र किया और उनके लिये जल्दी न करो गोया वह जिस दिन देखेंगे जो उन्हें वादा दिया जाता है दुनिया में न ठहरे थे मगर दिन की एक घड़ी भर ये पहुँचाना है तो कौन हलाक किये जायेंगे मगर बे हुक्म लोग
To tum sabr karo jaisa himmat wale rasoolon ne sabr kiya aur un ke liye jaldi na karo, goya woh jis din dekhenge jo unhein wada diya jaata hai, duniya mein na thahre the magar din ki ek ghadi bhar, ye pahunchana hai, to kaun halaak kiye jaayenge magar behukm log.
(ف88)اپنی قوم کی ایذا پر ۔(ف89)عذاب طلب کرنے میں ، کیونکہ عذاب ان پر ضرور نازل ہونے والاہے ۔(ف90)عذابِ آخرت کو ۔(ف91) تو اس کی درازی اور دوام کے سامنے دنیا میں ٹھہرنے کی مدّت کو بہت قلیل سمجھیں گے اور خیال کریں گے کہ ۔(ف92)یعنی یہ قرآن اور وہ ہدایت و بیّنات جو اس میں ہیں یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے تبلیغ ہے ۔(ف93)جو ایمان و طاعت سے خارج ہیں ۔
جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا (ف۲) اللہ نے ان کے عمل برباد کیے (ف۳)
Allah has destroyed the deeds of those who disbelieved and prevented from Allah’s way.
जिन्हों ने कुफ़्र किया और अल्लाह की राह से रोका अल्लाह ने उनके अमल बरबाद किए
Jinhnon ne kufr kiya aur Allah ki rah se roka Allah ne unke amal barbad kiye
(ف2)یعنی جو لوگ خود اسلام میں داخل نہ ہوئے اور دوسروں کو انہوں نے اسلام سے روکا ۔(ف3)جو کچھ بھی انہوں نے کئے ہوں خواہ بھوکوں کو کھلایا ہو یا اسیروں کو چھڑایا ہو یا غریبوں کی مد د کی ہو یا مسجدِ حرام یعنی خانۂِ کعبہ کی عمارت میں کوئی خدمت کی ہو سب برباد ہوئی ، آخرت میں اس کا کچھ ثواب نہیں ۔ ضحّاک کا قول ہے کہ مراد یہ ہے کہ کفّار نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے جو مَکر سوچے تھے اور حیلے بنائے تھے اللہ تعالٰی نے ان کے وہ تمام کام باطل کردیئے ۔
اور ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا گیا (ف٤) اور وہی ان کے رب کے پاس سے حق ہے اللہ نے ان کی برائیاں اتار دیں اور ان کی حالتیں سنوار دیں (ف۵)
And those who accepted faith and did good deeds and believed in what has been sent down upon Mohammed (peace and blessings be upon him) – and that is the truth from their Lord – Allah has relieved them of some of their evils and refined their condition.
और ईमान लाए और अच्छे काम किए और उस पर ईमान लाए जो मुहम्मद पर उतारा गया और वही उनके रब के पास से हक़ है अल्लाह ने उनकी बराइयाँ उतार दीं और उनकी हालते सँवार दीं
Aur imaan laye aur achhe kaam kiye aur us par imaan laye jo Muhammad par utara gaya aur wahi unke Rab ke paas se haq hai Allah ne unki baraiyan utar din aur unki halaten sanwar din
(ف4)یعنی قرآنِ پاک ۔ (ف5)امورِ دِین میں توفیق عطا فرما کر اور دنیا میں ان کے دشمنوں کے مقابل ان کی مدد فرما کر ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ان کے ایّامِ حیات میں ان کی حفاظت فرما کر کہ ان سے عصیاں واقع نہ ہو ۔
یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے (ف٦) اللہ لوگوں سے ان کے احوال یونہی بیان فرماتا ہے (ف۷)
This is because the disbelievers followed falsehood and the believers followed the Truth which is from their Lord; this is how Allah illustrates the examples of people to them.
यह इस लिए कि काफ़िर बातिल के पैरो हुए और ईमान वालों ने हक़ की पैरवी की जो उनके रब की तरफ़ से है अल्लाह लोगों से उनके अहवाल यूँही बयान फ़रमाता है
Ye is liye ke kafir batil ke pairo hue aur imaan walon ne haq ki pairwi ki jo unke Rab ki taraf se hai Allah logon se unke ahwaal yunhi bayan farmata hai
(ف6)یعنی قران شریف ۔(ف7)یعنی فریقین کے کہ کافروں کے عمل اکارت اور ایمانداروں کی لغزشیں بھی مغفور ۔
تو جب کافروں سے تمہارا سامناہو (ف۸) تو گردنیں مارنا ہے (ف۹) یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کرلو (ف۱۰) تو مضبوط باندھو، پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو (ف۱۱) یہاں تک کہ لڑائیاپنابوجھ رکھ دے (ف۱۲) بات یہ ہے اور اللہ چاہتا تو آپ ہی ان سے بدلہ لیتا (ف۱۳) مگر اس لئے (ف۱٤) تم میں ایک کو دوسرے سے جانچے (ف۱۵) اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا (ف۱٦)
So when you confront the disbelievers, strike at their necks; until when you have slain them in plenty, tie them up firmly; then after that, you may either release them as a favour or take ransom, until the war lays down its ordeal; this is it; and had Allah willed He Himself could have taken revenge from them, but this is to test some of you with others; and Allah will surely never waste the deeds of those who were killed in His way.
तो जब काफ़िरों से तुम्हारा सामना हो तो गर्दनें मारना है यहाँ तक कि जब उन्हें ख़ूब क़त्ल कर लो तो मज़बूत बाँधो, फिर उसके बाद चाहे एहसान करके छोड़ दो चाहे फिद्या ले लो यहाँ तक कि लड़ाई
अपना बोझ रख दे बात यह है और अल्लाह चाहता तो आप ही उन से बदला लेता मगर इस लिये तुम में एक को दूसरे से जाँचे और जो अल्लाह की राह में मारे गए अल्लाह हरगिज़ उनके अमल ज़ाया न फ़रमाएगा
To jab kafiron se tumhara samna ho to gardanen marna hai yahan tak ke jab unhen khoob qatal kar lo to mazboot bandho, phir us ke baad chahe ehsaaan kar ke chhod do chahe fidya le lo yahan tak ke larai
Apna bojh rakh de baat ye hai aur Allah chahta to aap hi un se badla leta magar is liye tum mein ek ko doosre se janche aur jo Allah ki rah mein mare gaye Allah hargiz unke amal zaya na farmayega
(ف8)یعنی جنگ ہو ۔(ف9)یعنی ان کو قتل کرو ۔(ف10)یعنی کثرت سے قتل کر چکو اور باقی ماندوں کو قید کرنے کا موقع آجائے ۔(ف11)دونوں باتوں کا اختیار ہے ۔ مسئلہ : مشرکین کے اسیروں کا حکم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا مملوک بنالیا جائے اور احساناً چھوڑنا اور فدیہ لینا ، جو اس آیت میں مذکور ہے وہ سورۂِ برأت کی آیت ' اُقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ ' سے منسوخ ہوگیا ۔(ف12)یعنی جنگ ختم ہوجائے اس طرح کہ مشرکین اطاعت قبول کریں اور اسلام لائیں ۔(ف13)بغیر قتال کے انہیں زمین میں دھنسا کر یا ان پر پتّھر برسا کر یا اور کسی طرح ۔(ف14)تمہیں قتال کا حکم دیا ۔(ف15)قتال میں تاکہ مسلمان مقتول ثواب پائیں اور کافر عذاب ۔(ف16)ان کے اعمال کا ثواب پورا پورا دے گا ۔شانِ نزول : یہ آیت روزِ اُحد نازل ہوئی جب کہ مسلمان زیادہ مقتول و مجروح ہوئے ۔
سَيَهۡدِيۡهِمۡ وَيُصۡلِحُ بَالَهُمۡۚ ﴿5﴾
جلد انہیں راہ دے گا (ف۱۷) اور ان کا کام بنادے گا ،
He will soon guide them (towards Paradise) and make them succeed.
जल्द उन्हें राह देगा और उनका काम बना देगा,
Jald unhen rah dega aur unka kaam bana dega,
(ف17)درجاتِ عالیات کی طرف ۔
وَيُدۡخِلُهُمُ الۡجَـنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمۡ ﴿6﴾
اور انہیں جنت میں لے جائے گا انہیں اس کی پہچان کرادی ہے (ف۱۸)
And He will admit them into Paradise – they have been made familiar with it.
और उन्हें जन्नत में ले जाएगा उन्हें उसकी पहचान करा दी है
Aur unhen jannat mein le jayega unhen us ki pehchan kara di hai
(ف18)وہ منازلِ جنّت میں نو وارد ، نا آشنا کی طرح نہ پہنچیں گے جو کسی مقام پر جاتا ہے تو اس کو ہر چیز کے دریافت کرنے کی حاجت درپیش ہوتی ہے بلکہ وہ واقف کارانہ داخل ہوں گے ، اپنے منازل اور مساکن پہچانتے ہوں گے ، اپنی زوجہ اور خدّام کو جانتے ہوں گے ، ہر چیز کا موقع ان کے علم میں ہوگا گویا کہ وہ ہمیشہ سے یہیں کے رہنے بسنے والے ہیں ۔
تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں کا (ف۲۲) کیسا انجام ہوا، اللہ نے ان پر تباہی ڈالی (ف۲۳) اور ان کافروں کے لیے بھی ویسی کتنی ہی ہیں (ف۲٤)
So did they not travel in the land to see what sort of fate befell those who preceded them? Allah poured ruin upon them; and for the disbelievers are several like it.
तो क्या उन्हों ने ज़मीन में सफ़र न किया कि देखते उन से अगलों का कैसा अंजाम हुआ, अल्लाह ने उन पर तबाही डाली और उन काफ़िरों के लिये भी वैसी कितनी ही हैं
To kya unhon ne zameen mein safar na kiya ke dekhte un se aglon ka kaisa anjaam hua, Allah ne un par tabahi dali aur un kafiron ke liye bhi waisi kitni hi hain
(ف22)یعنی پچھلی امّتوں کا ۔(ف23)کہ انہیں اور ان کی اولاد اور ان کے اموال کو سب کو ہلاک کردیا۔(ف24)یعنی اگر یہ کافر سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان نہ لائیں توان کے لئے پہلے جیسی بہت سی تباہیاں ہیں ۔
بیشک اللہ داخل فرمائے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں جن کے نیچے نہریں رواں، اور کافر برتتے ہیں اور کھاتے ہیں (ف۲٦) جیسے چوپائے کھائیں (ف۲۷) اور آگ میں ان کا ٹھکانا ہے،
Allah will indeed admit those who believed and did good deeds into Gardens beneath which rivers flow; and the disbelievers enjoy, and they eat like the cattle eat, and their destination is in the fire.
बेशक अल्लाह दाख़िल फ़रमाएगा उन्हें जो ईमान लाए और अच्छे काम किए बाग़ों में जिनके नीचे नहरें रवाँ, और काफ़िर बरतते हैं और खाते हैं जैसे चौपाए खाएँ और आग में उनका ठिकाना है,
Beshak Allah dakhil farmayega unhen jo imaan laye aur achhe kaam kiye baghon mein jin ke neeche nahrein rawan, aur kafir barat te hain aur khate hain jaise chaupaaye khayen aur aag mein unka thikana hai,
(ف26)دنیا میں چند روز غفلت کے ساتھ اپنے انجام و مآل کو فراموش کئے ہوئے ۔(ف27)اور انہیں تمیز نہ ہو کہ وہ اس کھانے کے بعد وہ ذبح کئے جائیں گے ، یہی حال کفّار کا ہے جو غفلت کے ساتھ دنیا طلبی میں مشغول ہیں اور آنے والی مصیبتوں کا خیال بھی نہیں کرتے ۔
اور کتنے ہی شہر کہ اس شہر سے (ف۲۸) قوت میں زیادہ تھے جس نے تمہیں تمہارے شہر سے باہر کیا، ہم نے انہیں ہلاک فرمایا تو ان کا کوئی مددگار نہیں (ف۲۹)
And many a township existed which was stronger than your town (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) – those who removed you from your town – We destroyed them, so they do not have a supporter!
और कितने ही शहर कि उस शहर से क़ुव्वत में ज़्यादा थे जिसने तुम्हें तुम्हारे शहर से बाहर किया, हमने उन्हें हलाक फ़रमाया तो उनका कोई मददगार नहीं
Aur kitne hi shehar ke us shehar se quwwat mein zyada the jis ne tumhen tumhare shehar se bahar kiya, humne unhen halak farmaya to unka koi madadgar nahin
(ف28)یعنی مکّہ مکرّمہ والوں سے ۔(ف29)جو عذاب و ہلاک سے بچا سکے ۔ شانِ نزول : جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مکّہ مکرّمہ سے ہجرت کی اور غار کی طرف تشریف لے چلے تومکّہ مکرّمہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اللہ تعالٰی کے شہروں میں تو اللہ تعالٰی کو بہت پیارا ہے اور اللہ تعالٰی کے شہروں میں تو مجھے بہت پیارا ہے ، اگر مشرکین مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا ، اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
تو کیا جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو (ف۳۰) اس (ف۳۱) جیسا ہوگا جس کے برے عمل اسے بھلے دکھائے گئے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے (ف۳۲)
So will one who is upon on a clear proof from his Lord, ever be like any of those whose evil deeds are made to appear good to them and they follow their own desires?
तो क्या जो अपने रब की तरफ़ से रोशन दलील पर हो उस जैसा होगा जिस के बुरे अमल उसे भले दिखाए गए और वह अपनी ख़्वाहिशों के पीछे चले
To kya jo apne Rab ki taraf se roshan daleel par ho us jaisa hoga jis ke bure amal use bhale dikhaye gaye aur woh apni khwahishon ke peeche chale
(ف30)اور وہ مومنین ہیں کہ وہ قرآنِ معجز اور معجزاتِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی برہانِ قوی پر یقینِ کامل اور جزمِ صادق رکھتے ہیں ۔(ف31)اس کافر مشرک ۔(ف32)اور انہوں نے کفرو بت پرستی اختیار کی ، ہرگز وہ مومن اور یہ کافر ایک سے نہیں ہوسکتے اور ان دونوں میں کچھ بھی نسبت نہیں ۔
احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے ہے، اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے (ف۳۳) اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہ بدلا (ف۳٤) اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے (ف۳۵) اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا (ف۳٦) اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں، اور اپنے رب کی مغفرت (ف۳۷) کیا ایسے چین والے ان کی برابر ہوجائیں گے جنہیں ہمیشہ آگ میں رہنا اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے،
A description of the Garden which is promised to the pious; in it are rivers of water which shall never pollute; and rivers of milk the taste of which shall never change; and rivers of wine delicious to drink; and rivers of purified honey; and in it for them are fruits of all kinds, and the forgiveness of their Lord; so will such ever be equal to those who are to stay in the fire for ever and who will be given boiling water to drink so that it tears their guts apart?
अहवाल उस जन्नत का जिस का वादा परहेज़गारों से है, उस में ऐसी पानी की नहरें हैं जो कभी न बिगड़े और ऐसे दूध की नहरें हैं जिस का मज़ा न बदला और ऐसी शराब की नहरें हैं जिस के पीने में लज़्ज़त है और ऐसी शहद की नहरें हैं जो साफ़ किया गया और उनके लिये उस में हर क़िस्म के फल हैं, और अपने रब की मग़फ़िरत क्या ऐसे चैन वाले उनकी बराबर हो जाएँगे जिन्हे हमेशा आग में रहना और उन्हें खौलता पानी पिलाया जाएगा कि आँतों के टुकड़े टुकड़े कर दे,
Ahwaal us jannat ka jis ka wada parhezgaron se hai, us mein aisi paani ki nahrein hain jo kabhi na bigre aur aise doodh ki nahrein hain jis ka maza na badla aur aisi sharab ki nahrein hain jis ke peene mein lazzat hai aur aisi shahad ki nahrein hain jo saaf kiya gaya aur unke liye us mein har qism ke phal hain, aur apne Rab ki maghfirat kya aise chain waley unki barabar ho jayenge jinhen hamesha aag mein rehna aur unhen kholta paani pilaya jayega ke aanton ke tukde tukde kar de,
(ف33)یعنی ایسا لطیف کہ نہ سڑے ، نہ اس کی بوبدلے ، نہ اس کے ذائقہ میں فرق آئے ۔(ف34)بخلاف دنیا کے دودھ کے کہ خراب ہوجاتے ہیں ۔(ف35)خالص لذّت ہی لذّت ، نہ دنیا کی شرابوں کی طرح اس کا ذائقہ خراب ، نہ اس میں میل کچیل ، نہ خراب چیزوں کی آمیزش ، نہ وہ سڑ کر بنی ، نہ اس کے پینے سے عقل زائل ہو ، نہ سر چکرائے ، نہ خُمار آئے ، نہ دردِ سرپیدا ہو ۔ یہ سب آفتیں دنیا ہی کی شراب میں ہیں ، وہاں کی شراب ان سب عیوب سے پاک ، نہایت لذیذ ، مُفرِّ ح ، خوش گوار ۔(ف36)پیدائش میں یعنی صاف ہی پیدا کیا گیا ، دنیا کے شہد کی طرح نہیں جو مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے اور اس میں موم وغیرہ کی آمیزش ہوتی ہے ۔ (ف37)کہ وہ رب ان پر احسان فرماتا ہے اور ان سے راضی ہے اور ان پر سے تمام تکلیفی احکام اٹھالئے گئے ہیں جو چاہیں کھائیں ، جتنا چاہیں کھائیں ، نہ حساب ، نہ عقاب ۔(ف38)کفّار ۔
اور ان (ف۳۸) میں سے بعض تمہارے ارشاد سنتے ہیں (ف۳۹) یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں (ف٤۰) علم والوں سے کہتے ہیں (ف٤۱) ابھی انہوں نے کیا فرمایا (ف٤۲) یہ ہیں وہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی (ف٤۳) اور اپنی خواہشوں کے تابع ہوئے (ف٤۲)
And among them are some who listen to what you say; until when they go away from you, they say to those who have been given knowledge, “What did he say now?”; they are those whose hearts Allah has sealed, and they follow their own desires.
और उन में से बा'ज़ तुम्हारे इर्शाद सुनते हैं यहाँ तक कि जब तुम्हारे पास से निकल कर जाएँ इल्म वालों से कहते हैं अभी उन्हों ने क्या फ़रमाया यह हैं वह जिन के दिलों पर अल्लाह ने मोहर कर दी और अपनी ख़्वाहिशों के ताबे हुए
Aur un mein se baaz tumhare irshaad sunte hain yahan tak ke jab tumhare paas se nikal kar jayein ilm walon se kehte hain abhi unhon ne kya farmaya ye hain woh jin ke dilon par Allah ne mohar kar di aur apni khwahishon ke tabe hue
(ف39)خطبہ وغیرہ میں نہایت بے التفاتی کے ساتھ ۔(ف40)یہ منافق لوگ تو ۔(ف41)یعنی علماءِ صحابہ سے ، مثل ابنِ مسعود و ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم کے مسخّرگی کے طور پر ۔(ف42)یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ۔ اللہ تعاٍلٰی ان منافقوں کے حق میں فرماتا ہے ۔(ف43)یعنی جب انہوں نے حق کا اتباع ترک کیا تو اللہ تعالٰی نے ان کے قلوب کو مردہ کردیا۔(ف44)اور انہوں نے نفاق اختیار کیا ۔
اور جنہوں نے راہ پائی (ف٤۵) اللہ نے ان کی ہدایت (ف٤٦) اور زیادہ فرمائی اور ان کی پرہیزگاری انہیں عطا فرمائی (ف٤۷)
And those who attained the right path – Allah increases the guidance for them and bestows their piety to them.
और जिन्हों ने राह पाई अल्लाह ने उनकी हिदायत और ज़्यादा फ़रमाई और उनकी परहेज़गारी उन्हें अता फ़रमाई
Aur jinhnon ne rah payi Allah ne unki hidayat aur zyada farmayi aur unki parhezgari unhen ata farmayi
(ف45)یعنی وہ اہلِ ایمان جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کلام غور سے سنا اور اس سے نفع اٹھایا ۔(ف46)یعنی بصیرت و علم و شرحِ صدر ۔(ف47)یعنی پرہیزگاری کی توفیق دی اور اس پر مدد فرمائی یا یہ معنٰی ہیں کہ انہیں پرہیزگاری کی جزا دی اور اس کا ثواب عطا فرمایا ۔
تو کاہے کے انتظار میں ہیں (ف٤۸) مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے، کہ اس کی علامتیں تو آہی چکی ہیں (ف٤۹) پھر جب آجائے گی تو کہاں وہ اور کہاں ان کا سمجھنا،
So what are they waiting for, except that the Last Day suddenly come upon them? For its signs have already appeared; so when it does come, of what use is their realising it?
तो काहे के इंतज़ार में हैं मगर क़यामत के कि उन पर अचानक आ जाए, कि उसकी अलामतें तो आ ही चुकी हैं फिर जब आ जाएगी तो कहाँ वह और कहाँ उनका समझना,
To kahe ke intezar mein hain magar qayamat ke ke un par achanak aa jaye, ke us ki alamaten to aa hi chuki hain phir jab aa jaye gi to kahan woh aur kahan unka samajhna,
(ف48)کفّار و منافقین ۔(ف49)جن میں سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثتِ مبارکہ اور قمر کا شق ہونا ہے ۔
تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اے محبوب! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو (ف۵۰) اور اللہ جانتا ہے دن کو تمہارا پھرنا (ف۵۱) اور رات کو تمہارا آرام لینا (ف۵۲)
Therefore know (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) that there is none worthy of worship except Allah, and seek the forgiveness of sins of your close ones and for the common believing men and women; and Allah knows your movements during the day and your resting during the night.
तो जान लो कि अल्लाह के सिवा किसी की बंदगी नहीं और ऐ महबूब! अपने खासों और आम मुसलमान मर्दों और औरतों के गुनाहों की माफी माँगो और अल्लाह जानता है दिन को तुम्हारा फिरना और रात को तुम्हारा आराम लेना
To jaan lo ke Allah ke siwa kisi ki bandagi nahin aur ae Mehboob! apne khason aur aam Musalman mardon aur auraton ke gunahon ki maafi mango aur Allah janta hai din ko tumhara phirna aur raat ko tumhara aaram lena
(ف50)یہ اس امّت پر اللہ تعالٰی کا اکرام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فرمایا کہ ان کے لئے مغفرت طلب فرمائیں اور آپ شفیع ، مقبول الشفاعت ہیں ۔ اس کے بعد مومنین وغیرِ مومنین سب سے عام خطاب ہے ۔(ف51)اپنے اشغال میں اور معاش کے کاموں میں ۔(ف52)یعنی وہ تمہارے تمام احوال کا جاننے والا ہے ، اس سے کچھ بھی مخفی نہیں ۔
اور مسلمان کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نہ اتاری گئی (ف۵۳) پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی (ف۵٤) اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے (ف۵۵) کہ تمہاری طرف (ف۵٦) اس کا دیکھنا دیکھتے ہیں جس پر مُرونی چھائی ہو، تو ان کے حق میں بہتر یہ تھا کہ فرمانبرداری کرتے (ف۵۷)
And the Muslims say, “Why was not a chapter sent down?” So when a positive chapter was sent down, and war was commanded in it, you will see those in whose hearts is a disease looking at you with the dazed looks of a dying man; so it would be better for them. –
और मुसलमान कहते हैं कोई सूरत क्यों न उतारी गई फिर जब कोई पुख़्ता सूरत उतारी गई और उस में जिहाद का हुक्म फ़रमाया गया तो तुम देखोगे उन्हें जिन के दिलों में बीमारी है कि तुम्हारी तरफ़ उस का देखना देखते हैं जिस पर मर्दनी छाई हो, तो उनके हक़ में बेहतर यह था कि फ़रमाँबरदारी करते
Aur Musalman kehte hain koi surat kyon na utari gayi phir jab koi pukhta surat utari gayi aur us mein jihad ka hukm farmaya gaya to tum dekhoge unhen jin ke dilon mein bimaari hai ke tumhari taraf us ka dekhna dekhte hain jis par mardani chhayi ho, to unke haq mein behtar ye tha ke farmanbardari karte
(ف53)شانِ نزول : مومنین کو جہاد فی سبیل اللہ تعالٰی کا بہت ہی شوق تھا ، وہ کہتے تھے کہ ایسی سورت کیوں نہیں اترتی جس میں جہاد کا حکم ہوتا کہ ہم جہاد کریں ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف54)جس میں صاف غیر محتمل بیان ہو اور اس کا کوئی حکم منسوخ ہونے والا نہ ہو ۔(ف55)یعنی منافقین کو ۔(ف56)پریشان ہو کر ۔(ف57)اللہ تعالٰی اور رسول کی ۔
بیشک وہ جو اپنے پیچھے پلٹ گئے (ف٦۵) بعد اس کے کہ ہدایت ان پر کھل چکی تھی (ف٦٦) شیطان نے انہیں فریب دیا (ف٦۷) اور انہیں دنیا میں مدتوں رہنے کی امید دلائی (ف٦۸)
Indeed those who turn back after the guidance had become clear to them – Satan has deceived them; and made them optimistic of living for ages.
बेशक वह जो अपने पीछे पलट गए बाद इस के कि हिदायत उन पर खुल चुकी थी शैतान ने उन्हें फ़रेब दिया और उन्हें दुनिया में मुद्दतों रहने की उम्मीद दिलाई
Beshak woh jo apne peeche palat gaye baad is ke ke hidayat un par khul chuki thi Shaitan ne unhen fareb diya aur unhen duniya mein muddaton rehne ki umeed dilai
(ف65)نفاق سے ۔(ف66)اور طریقِ ہدایت واضح ہوچکا تھا ۔ قتادہ نے کہا کہ یہ کفّارِ اہلِ کتاب کا حال ہے جنہوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پہچانا اور آپ کی نعت و صفت اپنی کتاب میں دیکھی ، پھر باوجود جاننے پہچاننے کے کفر اختیار کیا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما اور ضحّاک وسدی کا قول ہے کہ اس سے منافق مراد ہیں جو ایمان لا کر کفر کی طرف پھر گئے ۔(ف67)اور برائیوں کو ان کی نظر میں ایسا مزیّن کیا کہ انہیں اچھا سمجھے ۔(ف68)کہ ابھی بہت عمر پڑی ہے ، خوب دنیا کے مزے اٹھا لو اور ان پر شیطان کا فریب چل گیا ۔
یہ اس لیے کہ انہوں نے (ف٦۹) کہا ان لوگوں سے (ف۷۰) جنہیں اللہ کا اتارا ہوا (ف۷۱) ناگوار ہے ایک کام میں ہم تمہاری مانیں گے (ف۷۲) اور اللہ ان کی چھپی ہوئی جانتا ہے،
This is because they said to those who dislike what Allah has sent down, “We will obey you regarding one matter*”; and Allah knows their secrets. (* To fight against the Holy Prophet).
यह इस लिए कि उन्हों ने कहा उन लोगों से जिन्हे अल्लाह का उतारा हुआ नागवार है एक काम में हम तुम्हारी मानेंगे और अल्लाह उनकी छुपी हुई जानता है,
Ye is liye ke unhon ne kaha un logon se jinhen Allah ka utara hua nagawar hai ek kaam mein hum tumhari manenge aur Allah unki chhupi hui janta hai,
(ف69)یعنی اہلِ کتاب یا منافقین نے پوشیدہ طور پر ۔(ف70)یعنی مشرکین سے ۔(ف71)قرآن اور احکامِ دِین ۔ (ف72)یعنی سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عداوت اور حضور کے خلاف انکے دشموں کی امداد کرنے میں اور لوگوں کو جہاد سے روکنے میں ۔
یہ اس لیے کہ وہ ایسی بات کے تابع ہوئے جس میں اللہ کی ناراضی ہے (ف۷٤) اور اس کی خوشی (ف۷۵) انہیں گوارا نہ ہوئی تو اس نے ان کے اعمال اَکارت کردیے،
This is because they followed the matter which displeases Allah, and they disliked what pleases Him – He therefore squandered away all their deeds.
यह इस लिये कि वह ऐसी बात के ताबे हुए जिस में अल्लाह की नाराज़ी है और उसकी ख़ुशी उन्हें गवारा न हुई तो उस ने उनके आमाल अकारत कर दिए,
Ye is liye ke woh aisi baat ke tabe hue jis mein Allah ki narazi hai aur us ki khushi unhen gawara na hui to us ne unke aamal akarat kar diye,
(ف74)اور وہ بات رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی معیّت میں جہاد کو جانے سے روکنا اور کافروں کی مدد کرنا ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ وہ بات توریت کے ان مضامین کا چُھپانا ہے جن میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نعت شریف ہے ۔(ف75)ایمان وطاعت اور مسلمانوں کی مدد اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ جہاد میں حاضر ہونا ۔
اور اگر ہم چاہیں تو تمہیں ان کو دکھا دیں کہ تم ان کی صورت سے پہچان لو (ف۷۸) اور ضرور تم انہیں بات کے اسلوب میں پہچان لو گے (ف۷۹) اور اللہ تمہارے عمل جانتا ہے (ف۸۰)
And if We will, We can show them to you so that you may recognise them by their faces; and you will surely recognise them by the way they talk; and Allah knows your deeds.
और अगर हम चाहें तो तुम्हें उनको दिखा दें कि तुम उनकी सूरत से पहचान लो और ज़रूर तुम उन्हें बात के अस्लूब में पहचान लोगे और अल्लाह तुम्हारे आमल जानता है
Aur agar hum chahein to tumhen unko dikha den ke tum unki soorat se pehchan lo aur zaroor tum unhen baat ke aslub mein pehchan loge aur Allah tumhare aamal janta hai
(ف78)حدیث : حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کوئی منافق مخفی نہ رہا ۔ آپ سب کو ان کی صورتوں سے پہچانتے تھے ۔(ف79)اور وہ اپنے ضمیر کا حال ان سے چُھپا نہ سکیں گے ، چنانچہ اس کے بعد جو منافق لب ہلاتا تھا حضور اس کے نفاق کو اس کی بات سے اور اس کے فحوائے کلام سے پہچان لیتے تھے ۔ فائدہ : اللہ تعالٰی نے حضور کو بہت سے وجوہِ علم عطا فرمائے ، ان میں سے صورت سے پہچاننا بھی ہے اور بات سے پہچاننا بھی ۔(ف80)یعنی اپنے بندوں کے تمام اعمال ہر ایک کو اس کے لائق جزا دے گا ۔
بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے (ف۸٤) روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ہدایت ان پر ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہچائیں گے، اور بہت جلد اللہ ان کا کیا دھرا اَکارت کردے گا (ف۸۵)
Indeed those who disbelieved and prevented others from Allah’s way, and opposed the Noble Messenger after the guidance had become clear to them – they cannot harm Allah in the least; and soon He will squander away their deeds.
बेशक वह जिन्हों ने कुफ़्र किया और अल्लाह की राह से रोका और रसूल की मुख़ालफ़त की बाद इस के कि हिदायत उन पर ज़ाहिर हो चुकी थी वह हरगिज़ अल्लाह को कुछ नुक़सान न पहुँचाएँगे, और बहुत जल्द अल्लाह उनका किया धरा अकारत कर देगा
Beshak woh jinhnon ne kufr kiya aur Allah ki rah se roka aur Rasool ki mukhalafat ki baad is ke ke hidayat un par zahir ho chuki thi woh hargiz Allah ko kuch nuqsan na pohchayenge, aur bohot jald Allah unka kiya dhara akarat kar dega
(ف84)اس کے بندوں کو ۔(ف85)اور وہ صدقہ وغیرہ کسی چیز کا ثواب نہ پائیں گے کیونکہ جو کام اللہ تعالٰی کے لئے نہ ہو اس کا ثواب ہی کیا ؟ شانِ نزول : جنگِ بدر کے لئے جب قریش نکلے تو وہ سال قحط کا تھا ، لشکر کا کھانا قریش کے دولتمندوں نے نوبت بنوبت اپنے ذمّہ لے لیا تھا ، مکّہ مکرّمہ سے نکل کر سب سے پہلا کھانا ابوجہل کی طرف سے تھا ، جس کے لئے اس نے دس اونٹ ذبح کئے تھے ، پھر صفوان نے مقامِ عُسفان میں نو۹اونٹ ، پھر سہل نے مقامِ قدید میں دس ، یہاں سے وہ لوگ سمندر کی طرف پھر گئے اور رستہ گم ہوگیا ، ایک دن ٹھہرے ، وہاں شیبہ کی طرف سے کھانا ہوا ، نو اونٹ ذبح ہوئے ، پھر مقامِ ابواء میں پہنچے ، وہاں مُقَیَّسْ جمحی نے نو اونٹ ذبح کئے ۔ حضرت عباس (رضی اللہ تعالٰی عنہ )کی طرف سے بھی دعوت ہوئی ، اس وقت تک آپ مشرف بہ اسلام نہ ہوئے تھے ، آپ کی طرف سے دس اونٹ ذبح کئے گئے ، پھر حارث کی طرف سے نو ، اور ابوالبختری کی طرف سے بدر کے چشمے پر دس اونٹ ۔ ان کھانا دینے والوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو (ف۸٦) اور اپنے عمل باطل نہ کرو (ف۸۷)
O People who Believe! Obey Allah and obey the Noble Messenger, and do not render your deeds void.
ऐ ईमान वालो अल्लाह का हुक्म मानो और रसूल का हुक्म मानो और अपने अमल बातिल न करो
Ae imaan walo Allah ka hukm mano aur Rasool ka hukm mano aur apne amal batil na karo
(ف86)یعنی ایمان و طاعت پر قائم رہو ۔(ف87)ریا یا نفاق سے ۔ شانِ نزول : بعض لوگوں کا خیال تھا کہ جیسے شرک کی وجہ سے تمام نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں اسی طرح ایمان کی برکت سے کوئی گناہ ضرر نہیں کرتا ۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی گئی اور بتایا گیا کہ مومن کے لئے اطاعتِ خدا اور رسول ضروری ہے گناہوں سے بچنا لازم ہے ۔مسئلہ : اس آیت میں عمل کے باطل کرنے کی ممانعت فرمائی گئی تو آدمی جو عمل شروع کرے خواہ وہ نفل ہی ہو نماز یا روزہ یا اور کوئی ، لازم ہے کہ اس کو باطل نہ کرے ۔
بیشک جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر کافر ہی مرگئے تو اللہ ہرگز انہیں نہ بخشے گا (ف۸۸)
Indeed those who disbelieved and prevented others from Allah’s way, and then died as disbelievers – so Allah will never forgive them.
बेशक जिन्हों ने कुफ़्र किया और अल्लाह की राह से रोका फिर काफ़िर ही मर गए तो अल्लाह हरगिज़ उन्हें न बख़्शेगा
Beshak jinhnon ne kufr kiya aur Allah ki rah se roka phir kafir hi mar gaye to Allah hargiz unhen na bakhshega
(ف88)شانِ نزول : یہ آیت اہلِ قلیب کے حق میں نازل ہوئی ۔ قلیب بدر میں ایک کنواں ہے جس میں مقتول کفّار ڈالے گئے تھے ابوجہل اور اس کے ساتھی ، اور حکم آیت کا ہرکافر کے لئے عام ہے جو کفر پر مرا ہو ، اللہ تعالٰی اس کی مغفرت نہ فرمائے گا ، اس کے بعد اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خطاب فرمایا جاتا ہے ٍاور حکم میں تمام مسلمان شامل ہیں ۔
تو تم سستی نہ کرو (ف۸۹) اور آپ صلح کی طرف نہ بلاؤ (ف۹۰) اور تم ہی غالب آؤ گے، اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال میں تمہیں نقصان نہ دے گا (ف۹۱)
Therefore do not relax, nor call towards truce by yourself; and it is you who will dominate; and Allah is with you, and He will never cause a loss in your deeds.
तो तुम सुस्ती न करो और आप सुलह की तरफ़ न बुलाओ और तुम ही ग़ालिब आओगे, और अल्लाह तुम्हारे साथ है और वह हरगिज़ तुम्हारे आमाल में तुम्हें नुक़सान न देगा
To tum susti na karo aur aap sulah ki taraf na bulao aur tum hi ghalib aoge, aur Allah tumhare sath hai aur woh hargiz tumhare aamaal mein tumhen nuqsan na dega
(ف89)یعنی دشمن کے مقابل میں کمزوری نہ دکھاؤ ۔(ف90)کفّار کو ۔ قرطبی میں ہے کہ اس آیت کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے ، بعض نے کہا یہ آیت ' وَاِنْ جَنَحُوْا' کی ناسخ ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کے صلح کی طرف مائل ہونے کو منع فرمایا جب کہ صلح کی حاجت نہ ہو اور بعض علماء نے کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے اور آیت ' وَاِنْ جَنَحُوْا' اس کی ناسخ ، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور دونوں آیتیں دو مختلف وقتوں اور مختلف حالتوں میں نازل ہوئیں ، اور ایک قول یہ ہے کہ آیت ' وَاِنْ جَنَحُوْا' کا حکم ایک معیّن قوم کے ساتھ خاص ہے اور یہ آیت عام ہے کہ کفّار کے ساتھ معاہدہ جائز نہیں مگر عندالضرورت جب کہ مسلمان ضعیف ہوں اور مقابلہ نہ کرسکیں ۔(ف91)تمہیں اعمال کا پورا پورا اجر عطا فرمائے گا ۔
دنیا کی زندگی تو یہی کھیل کود ہے (ف۹۲) اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو وہ تم کو تمہارے ثواب عطا فرمائے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال نہ مانگے گا (ف۹۳)
The worldly life is just a sport and pastime; and if you accept faith and be pious, He will bestow your rewards to you, and not at all ask you for your wealth.
दुनिया की ज़िंदगी तो यही खेल कूद है और अगर तुम ईमान लाओ और परहेज़गारी करो तो वह तुम को तुम्हारे सवाब अता फ़रमाएगा और कुछ तुम से तुम्हारे माल न माँगेगा
Duniya ki zindagi to yehi khel kood hai aur agar tum imaan lao aur parhezgari karo to woh tum ko tumhare sawab ata farmayega aur kuch tum se tumhare maal na maangega
(ف92)نہایت جلدگزرنے والی اور اس میں مشغول ہونا کچھ بھی نافع نہیں ۔(ف93)ہاں راہِ خدا میں خرچ کرنے کا حکم دے گا تاکہ تمہیں اس کا ثواب ملے ۔
ہاں ہاں یہ جو تم ہو بلائے جاتے ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۹۵) تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے (ف۹٦) وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور اللہ بےنیاز ہے (ف۹۷) اور تم سب محتاج (ف۹۸) اور اگر تم منہ پھیرو (ف۹۸) تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے (ف۱۰۰)
Yes, undoubtedly it is you who are being called, that you may spend in Allah’s way; so some among you act miserly; and whoever is miserly, is being a miser upon himself; and Allah is the Independent (Wealthy – Not requiring anything), whereas you all are needy; and if you renege, He will replace you with other people – and they will not be like you.
हाँ हाँ यह जो तुम हो बुलाए जाते हो कि अल्लाह की राह में खर्च करो तो तुम में कोई बख़्ल करता है और जो बख़्ल करे वह अपनी ही जान पर बख़्ल करता है और अल्लाह बेनियाज़ है और तुम सब मोहताज और अगर तुम मुँह फेरो तो वह तुम्हारे सिवा और लोग बदल लेगा फिर वह तुम जैसे न होंगे
Haan haan ye jo tum ho bulaye jate ho ke Allah ki rah mein kharch karo to tum mein koi bakhl karta hai aur jo bakhl kare woh apni hi jaan par bakhl karta hai aur Allah beniyaaz hai aur tum sab mohtaj aur agar tum munh phero to woh tumhare siwa aur log badal lega phir woh tum jaise na honge",
(ف95)جہاں خرچ کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے ۔(ف96)صدقہ دینے اور فرض ادا کرنے میں ۔(ف97)تمہارے صدقات اور طاعات سے ۔(ف98)اس کے فضل و رحمت کے ۔(ف99)اس کی اور اس کے رسول کی طاعت سے ۔(ف100)بلکہ نہایت مطیع وفرمانبردار ہوں گے ۔
اِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحًا مُّبِيۡنًا ۙ ﴿1﴾
بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح دی (ف۲)
We have indeed, for your sake (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), bestowed a clear victory.
बेशक हम ने तुम्हारे लिए रोशन फतह दी
Beshak hum ne tumhare liye roshan fatah di
(ف2)شانِ نزول :' اِنَّا فَتَحْنَا 'حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے حضور پر نازل ہوئی ، حضور کو اس کے نازل ہونے سے بہت خوشی حاصل ہوئی اور صحابہ نے حضور کو مبارکباد یں دیں ۔ (بخاری و مسلم و ترمذی) حدیبیہ ایک کنواں ہے مکّہ مکرّمہ کے نزدیک ۔ مختصر واقعہ یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خواب دیکھا کہ حضور مع اپنے اصحاب کے امن کے ساتھ مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے ، کوئی حلق کئے ہوئے ، کوئی قصر کئے ہوئے اور کعبہ معظمہ میں داخل ہوئے ، کعبہ کی کنجی لی ، طواف فرمایا ، عمرہ کیا ، اصحاب کو اس خواب کی خبر دی ، سب خوش ہوئے ، پھر حضور نے عمرہ کا قصد فرمایا اور ایک ہزار چار سو اصحاب کے ساتھ یکم ذی القعدہ ۶ ھ ہجری کو روانہ ہوگئے ، ذوالحلیفہ میں پہنچ کر وہاں مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر عمرہ کا احرام باندھا اور حضور کے ساتھ اکثر اصحاب نے بھی ، بعض اصحاب نے جحفہ سے احرام باندھا ، راہ میں پانی ختم ہوگیا ، اصحاب نے عرض کیا کہ پانی لشکر میں بالکل باقی نہیں ہے سوائے حضور کے آفتابہ کے کہ اس میں تھوڑا سا ہے ، حضور نے آفتابہ میں دستِ مبارک ڈالا تو انگشت ہائے مبارک سے چشمے جوش مارنے لگے تمام لشکر نے پیا ، وضو کئے ، جب مقامِ عُسفان میں پہنچے تو خبر آئی کہ کفّارِ قریش بڑے سرو سامان کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہیں ، جب حدیبیہ پر پہنچے تو اس کا پانی ختم ہوگیا ، ایک قطرہ نہ رہا ، گرمی بہت شدید تھی ، حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کنوئیں میں کلی فرمائی ، اس کی برکت سے کنواں پانی سے بھر گیا ، سب نے پیا ، اونٹوں کو پلایا ۔ یہاں کفّارِ قریش کی طرف سے حال معلوم کرنے کے لئے کئی شخص بھیجے گئے ، سب نے جا کر یہی بیان کیا کہ حضور عمرہ کے لئے تشریف لائے ہیں ، جنگ کا ارادہ نہیں ہے ۔ لیکن انہیں یقین نہ آیا ، آخر کار انہوں نے عروہ بن مسعود ثقفی کو جو طائف کے بڑے سردار اور عرب کے نہایت متموّل شخص تھے تحقیقِ حال کے لئے بھیجا ، انہوں نے آکر دیکھا کہ حضور دستِ مبارک دھوتے ہیں تو صحابہ تبرک کے لئے غسالہ شریف حاصل کرنے کے لئے ٹوٹے پڑتے ہیں ، اگر کبھی تھوکتے ہیں تو لوگ اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جس کو وہ حاصل ہوجاتا ہے وہ اپنے چہروں اور بدن پر برکت کے لئے ملتا ہے ، کوئی بال جسمِ اقدس کا گرنے نہیں پاتا اگر احیاناً جدا ہوا تو صحابہ اس کو بہت ادب کے ساتھ لیتے اور جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں ، جب حضور کلام فرماتے ہیں تو سب ساکت ہوجاتے ہیں ۔ حضور کے ادب و تعظیم سے کوئی شخص نظر اوپر کو نہیں اٹھا سکتا ۔ عروہ نے قریش سے جا کر یہ سب حال بیان کیا اور کہا کہ میں بادشا ہانِ فارس و روم و مصر کے درباروں میں گیا ہوں ، میں نے کسی بادشاہ کی یہ عظمت نہیں دیکھی جو محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ان کے اصحاب میں ہے ، مجھے اندیشہ ہے کہ تم ان کے مقابل کامیاب نہ ہوسکو گے ، قریش نے کہا ایسی بات مت کہو ، ہم اس سال انہیں واپس کردیں گے ، وہ اگلے سال آئیں ، عروہ نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں کوئی مصیبت پہنچے ۔ یہ کہہ کر وہ معہ اپنے ہمراہیوں کے طائف واپس چلے گئے اور اس واقعہ کے بعد اللہ تعالٰی نے انہیں مشرّف بہ اسلام کیا ، یہیں حضور نے اپنے اصحاب سے بیعت لی ، اس کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں ، بیعت کی خبر سے کفّار خوف زدہ ہوئے اور ان کے اہلُ الرائے نے یہی مناسب سمجھا کہ صلح کرلیں ، چنانچہ صلح نامہ لکھا گیا اور سالِ آئندہ حضور کا تشریف لانا قرار پایا اور یہ صلح مسلمانوں کے حق میں بہت نافع ہوئی بلکہ نتائج کے اعتبار سے فتح ثابت ہوئی ، اسی لئے اکثر مفسّرین فتح سے صلحِ حدیبیہ مراد لیتے ہیں اور بعض تمام فتوحاتِ اسلام جو آئیندہ ہونے والی تھیں ۔ اور ماضی کے صیغہ سے تعبیر ان کے یقینی ہونے کی وجہ سے ہے ۔ (خازن و روح البیان)
تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے (ف۳) اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے (ف٤) اور تمہیں سیدھی راہ دکھا دے (ف۵)
So that Allah may forgive, for your sake, the sins of those before you and those after you, and complete His favours upon you, and to show you the Straight Path.
ताके अल्लाह तुम्हारे सबब से गुनाह बख्शे तुम्हारे अगलों के और तुम्हारे पिछलों के और अपनी नेमतें तुम पर तमाम कर दे और तुम्हें सीधी राह दिखा दे
Taki Allah tumhare sabab se gunah bakhshe tumhare aglon ke aur tumhare pichhlon ke aur apni nematein tum par tamam kar de aur tumhe seedhi rah dikha de
(ف3)اور تمہاری بدولت امّت کی مغفرت فرمائے ۔ (خازن و روح البیان)(ف4)دنیوی بھی اور اخروی بھی ۔(ف5)تبلیغِ رسالت و اقامتِ مراسمِ ریاست میں ۔ (بیضاوی)
وہی ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا تاکہ انہیں یقین پر یقین بڑھے (ف۷) اور اللہ ہی کی ملک ہیں تمام لشکر آسمانوں اور زمین کے (ف۸) اور اللہ علم و حکمت والا ہے (ف۹)
It is He Who instilled peace in the hearts of the believers, so that it may increase their strength of conviction; and to Allah only belong the armies of the heavens and the earth; and Allah is All Knowing, Wise.
वही है जिसने ईमान वालों के दिलों में इत्मीनान उतारा ताके उन्हें यक़ीन पर यक़ीन बढ़े और अल्लाह ही की मिल्क हैं तमाम लश्कर आसमानों और ज़मीन के और अल्लाह इल्म ओ हिकमत वाला है
Wohi hai jisne imaan walon ke dilon mein itminan utara taki unhein yaqeen par yaqeen barhe aur Allah hi ki milk hain tamam lashkar aasmaanon aur zameen ke aur Allah ilm o hikmat wala hai
(ف7)اور باوجود عقیدۂِ راسخہ کے اطمینانِ نفس حاصل ہو ۔(ف8)وہ قادر ہے ، جس سے چاہے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدد فرمائے ۔ آسمان وز مین کے لشکروں سے یا تو آسمان اور زمین کے فرشتے مراد ہیں یا آسمانوں کے فرشتے اور زمین کے حیوانات ۔(ف9)اس نے مومنین کے دلوں کی تسکین اور وعدۂِ فتح و نصرت اس لئے فرمایا ۔
تاکہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور انکی برائیاں ان سے اتار دے، اور یہ اللہ کے یہاں بڑی کامیابی ہے،
In order to admit the believing men and believing women into Gardens beneath which rivers flow, in which they will abide, and to relieve them of their misdeeds; and this, in Allah’s sight, is the greatest success.
ताके ईमान वाले मर्दों और ईमान वाली औरतों को बाग़ों में ले जाए जिनके नीचे नहरें रवाँ हमेशा उनमें रहें और उनकी बुराइयाँ उनसे उतार दे, और ये अल्लाह के यहाँ बड़ी कामयाबी है,
Taki imaan wale mardon aur imaan wali aurton ko baghon mein le jaye jinke neeche nahrein rawan hamesha unmein rahein aur unki buraiyan unse utar de, aur ye Allah ke yahan badi kamiyabi hai,
اور عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ پر گمان رکھتے ہیں (ف۱۰) انہیں پر ہے بری گردش (ف۱۱) اور اللہ نے ان پر غضب فرمایا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار فرمایا، اور وہ کیا ہی برا انجام ہے،
And to punish the hypocrite men and hypocrite women, and the polytheist men and polytheist women, who think evilly about Allah; upon them only is the evil cycle of misfortune; and Allah has wreaked anger upon them, and has cursed them, and has prepared hell for them; and what an evil destination.
और अज़ाब दे मुनाफ़िक मर्दों और मुनाफ़िक औरतों और मुशरिक मर्दों और मुशरिक औरतों को जो अल्लाह पर गुमान रखते हैं उन्हीं पर है बुरी गर्दिश और अल्लाह ने उन पर ग़ज़ब फ़रमाया और उन्हें लानत की और उनके लिए जहन्नम तैयार फ़रमाया, और वो क्या ही बुरा अंजाम है,
Aur azaab de munafiq mardon aur munafiq aurton aur mushrik mardon aur mushrik aurton ko jo Allah par gumaan rakhte hain unhi par hai buri gardish aur Allah ne unpar ghazab farmaya aur unhein lanat ki aur unke liye jahannum tayyar farmaya, aur woh kya hi bura anjaam hai,
(ف10)کہ وہ اپنے رسول سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان پر ایمان لانے والوں کی مدد نہ فرمائے گا ۔(ف11)عذاب و ہلاک کی ۔
بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر (ف۱۲) اور خوشی اور ڈر سناتا (ف۱۳)
We have indeed sent you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) as a present witness and a Herald of glad tidings and warnings. (The Holy Prophet is a witness from Allah.)
बेशक हम ने तुम्हें भेजा हाज़िर ओ नाज़िर और खुशी और डर सुनाता
Beshak hum ne tumhe bheja haazir o naazir aur khushi aur darr sunata
(ف12)اپنی امّت کے اعمال و احوال کا تاکہ روزِ قیامت ان کی گواہی دو ۔(ف13)یعنی مومنینِ مقرِّین کو جنّت کی خوشی اور نافرمانوں کو عذابِ دوزخ کا ڈرسناتا ۔
تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو (ف۱٤ )
In order that you, O people, may accept faith in Allah and His Noble Messenger, and honour and revere the Noble Messenger; and may say the Purity of Allah, morning and evening. (To honour the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is part of faith. To disrespect him is blasphemy.)
ताके ऐ लोगो तुम अल्लाह और उसके रसूल पर ईमान लाओ और रसूल की ताज़ीम ओ तौक़ीर करो और सुबह ओ शाम अल्लाह की पाकी बोलो
Taki ae logo tum Allah aur uske Rasool par imaan lao aur Rasool ki tazim o tauqeer karo aur subah o shaam Allah ki paaki bolo
(ف14)صبح کی تسبیح میں نمازِ فجر اور شام کی تسبیح میں باقی چاروں نمازیں داخل ہیں ۔
وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں (ف۱۵) وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں (ف۱٦) ان کے ہاتھوں پر (ف۱۷) اللہ کا ہاتھ ہے، تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا (ف۱۸) اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اسے بڑا ثواب دے گا (ف۱۹)
Those who swear allegiance to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), do indeed in fact swear allegiance to Allah; Allah's Hand* of Power is above their hands; so whoever breaches his oath, has breached his own greater promise; and whoever fulfils the covenant he has with Allah – so very soon Allah will bestow upon him a great reward. (Used as a metaphor.)
वो जो तुम्हारी बैअत करते हैं वो तो अल्लाह ही से बैअत करते हैं उनके हाथों पर अल्लाह का हाथ है, तो जिसने अहद तोड़ा उसने अपने बड़े अहद को तोड़ा और जिसने पूरा किया वो अहद जो उसने अल्लाह से किया था तो बहुत जल्द अल्लाह उसे बड़ा सवाब देगा
Woh jo tumhari baiyat karte hain woh to Allah hi se baiyat karte hain unke hathon par Allah ka haath hai, to jisne ahad toda usne apne bade ahad ko toda aur jisne poora kiya woh ahad jo usne Allah se kiya tha to bohot jald Allah use bada sawab dega
(ف15)مراد اس بیعت سے بیعتِ رضوان ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حدیبیہ میں لی تھی ۔(ف16)کیونکہ رسول سے بیعت کرنا اللہ تعالٰی ہی سے بیعت کرنا ہے جیسے کہ رسول کی اطاعت اللہ تعالٰی کی اطاعت ہے ۔(ف17)جن سے انہوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کا شرف حاصل کیا ۔(ف18)اس عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا ۔(ف19)یعنی حدیبیہ سے تمہاری واپسی کے وقت ۔
اب تم سے کہیں گے جو گنوار (اعرابی) پیچھے رہ گئے تھے (ف۲۰) کہ ہمیں ہمارے مال اور ہمارے گھر والوں نے مشغول رکھا (ف۲۱) اب حضور ہماری مغفرت چاہیں (ف۲۲) اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں (ف۲۳) تم فرماؤ تو اللہ کے سامنے کسے تمہارا کچھ اختیار ہے اگر وہ تمہارا برا چاہے یا تمہاری بھلائی کا ارادہ فرمائے، بلکہ اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
The ignorant ones who had stayed behind will now say to you, “Our wealth and our families prevented us from going by keeping us pre-occupied, therefore seek forgiveness for us”; they utter with their tongues what is not in their hearts; say, “So does anyone have any control over you against Allah, if He wills to harm you or provide you benefit? In fact Allah is Aware of what you do.”
अब तुम से कहेंगे जो गनवार (अराबी) पीछे रह गए थे कि हमें हमारे माल और हमारे घर वालों ने मशग़ूल रखा अब हज़ूर हमारी मग़फ़िरत चाहें अपनी ज़बानों से वो बात कहते हैं जो उनके दिलों में नहीं तुम फ़रमाओ तो अल्लाह के सामने किसे तुम्हारा कुछ इख़्तियार है अगर वो तुम्हारा बुरा चाहे या तुम्हारी भलाई का इरादा फ़रमाए, बल्कि अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है,
Ab tumse kahenge jo ganwaar (Arabi) peeche reh gaye the ke humein hamare maal aur hamare ghar walon ne mashghool rakha ab Huzoor hamari maghfirat chahen apni zubanon se woh baat kehte hain jo unke dilon mein nahin tum farmao to Allah ke samne kise tumhara kuch ikhtiyar hai agar woh tumhara bura chahe ya tumhari bhalai ka irada farmae, balke Allah ko tumhare kamon ki khabar hai,
(ف20)قبیلۂِ غِفَار و مُزَ نِیَّہ وجُہَنِیَّہ واشجع و اسلم کے جب کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سالِ حدیبیہ بہ نیّتِ عمرہ مکّہ مکرّمہ کا ارادہ فرمایا تو حوالیِ مدینہ کے گانؤں والے اور اہلِ بادیہ بخوفِ قریش آپ کے ساتھ جانے سے رکے باوجود یہ کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور قربانیاں ساتھ تھیں اور اس سے صاف ظاہر تھا کہ جنگ کا ارادہ نہیں ہے پھر بھی بہت سے اعراب پر جانا بار ہوا اور وہ کام کا حیلہ کرکے رہ گئے اور ان کا گمان یہ تھا کہ قریش بہت طاقتور ہیں ، مسلمان ان سے بچ کر نہ آئیں گے ، سب وہیں ہلاک ہوجائیں گے ، اب جب کہ مددِ الٰہی سے معاملہ ان کے خیال کے بالکل خلاف ہوا تو انہیں اپنے نہ جانے پر افسوس ہوگا اور معذرت کریں گے ۔(ف21)کیونکہ عورتیں اور بچّے اکیلے تھے اور ان کا کوئی خبر گیراں نہ تھا ، اس لئے ہم قاصر رہے ۔(ف22)اللہ تعالٰی ان کی تکذیب فرماتا ہے ۔(ف23)یعنی وہ اعتذار و طلبِ استغفار میں جھوٹے ہیں ۔
بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز گھروں کو واپس نہ آئیں گے (ف۲٤) اور اسی کو اپنے دلوں میں بھلا سمجھیں ہوئے تھے اور تم نے برا گمان کیا (ف۲۵) اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے (ف۲٦)
“Rather you had assumed that the Noble Messenger and the Muslims will never return to their homes, and you thought this as good within your hearts, whereas you had thought evilly; and you were a people about to be ruined.”
बल्कि तुम तो ये समझे हुए थे कि रसूल और मुसलमान हरगिज़ घरों को वापस न आएँगे और इसी को अपने दिलों में भला समझे हुए थे और तुम ने बुरा गुमान किया और तुम हलाक होने वाले लोग थे
Balke tum to ye samjhe hue the ke Rasool aur Musalman hargiz gharon ko wapas na aayenge aur isi ko apne dilon mein bhala samjhe hue the aur tumne bura gumaan kiya aur tum halak hone wale log the
(ف24)دشمن ان سب کا وہیں خاتمہ کردیں گے ۔(ف25)کفر و فساد کے غلبہ کا اور وعدۂِ الٰہی کے پورا نہ ہونے کا ۔(ف26)عذابِ الٰہی کے مستحق ۔
اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے (ف۲۸) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
And for Allah only is the kingship of the heavens and the earth; He may forgive whomever He wills, and punish whomever He wills; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
और अल्लाह ही के लिए है आसमानों और ज़मीन की सल्तनत, जिसे चाहे बख्शे और जिसे चाहे अज़ाब करे और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Aur Allah hi ke liye hai aasmaanon aur zameen ki saltanat, jise chahe bakhshe aur jise chahe azaab kare aur Allah bakhshne wala mehrban hai,
اب کہیں گے پیچھے بیٹھ رہنے والے (ف۲۹) جب تم غنیمتیں لینے چلو (ف۳۰) تو ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو (ف۳۱) وہ چاہتے ہیں اللہ کا کلام بدل دیں (ف۳۲) تم فرماؤ ہرگز ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یونہی فرمادیا (ف۳۳) تو اب کہیں گے بلکہ تم ہم سے جلتے ہو (ف۳٤) بلکہ وہ بات نہ سمجھتے تھے (ف۳۵) مگر تھوڑی (ف۳٦)
Those who had stayed behind will now say, “When you go to receive the war booty, let us also go with you”; they wish to change the Words of Allah; say “You shall never come with us – this is already decreed by Allah”; so they will now say, “But rather you envy us”; in fact they never understood except a little.
अब कहेंगे पीछे बैठ रहने वाले जब तुम ग़नीमतें लेने चलो तो हमें भी अपने पीछे आने दो वो चाहते हैं अल्लाह का कलाम बदल दें तुम फ़रमाओ हरगिज़ हमारे साथ न आओ अल्लाह ने पहले से यूँही फ़रमा दिया तो अब कहेंगे बल्कि तुम हम से जलते हो बल्कि वो बात न समझते थे मगर थोड़ी
Ab kahenge peeche baith rehne wale jab tum ghanimatain lene chalo to humein bhi apne peeche aane do woh chahte hain Allah ka kalaam badal den tum farmao hargiz humare sath na aao Allah ne pehle se yunhi farma diya to ab kahenge balke tum hum se jalte ho balke woh baat na samajhte the magar thodi
(ف29)جو حدیبیہ کی حاضری سے قاصر رہے اے ایمان والو ۔(ف30)خیبر کی ۔ اس کاواقعہ یہ تھا کہ جب مسلمان صلحِ حدیبیہ سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو اللہ تعالٰی نے ان سے فتحِ خیبر کا وعدہ فرمایا اور وہاں کی غنیمتیں حدیبیہ میں حاضر ہونے والوں کے لئے مخصوص کردی گئیں ، جب مسلمانوں کو خیبر کی طرف روانہ ہونے کا وقت آیا تو ان لوگوں کو لالچ آیا اور انہوں نے بطمعِ غنیمت کہا ۔(ف31)یعنی ہم بھی خیبر کو تمہارے ساتھ چلیں اور جنگ میں شریک ہوں اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف32)یعنی اللہ کا وعدہ جو اہلِ حدیبیہ کے لئے فرمایا تھا کہ خیبر کی غنیمت خاص ان کے لئے ہے ۔(ف33)یعنی ہمارے مدینہ آنے سے پہلے ۔(ف34)اور یہ گوارا نہیں کرتے کہ ہم تمہارے ساتھ غنیمتیں پائیں اور اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف35)دِین کی ۔(ف36)یعنی محض دنیا کی ، حتّٰی کہ ان کا زبانی اقرار بھی دنیا ہی کی غرض سے تھا اور امورِ آخرت کو بالکل نہیں سمجھتے تھے ۔ (جمل)
ان پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں سے فرماؤ (ف۳۷) عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے (ف۳۸) کہ ان سے لڑو یا وہ مسلمان ہوجائیں، پھر اگر تم فرمان مانو گے اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا، اور اگر پھر گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمھیں درد ناک عذاب دے گا،
Say to the ignorant who stayed behind, “You will soon be called against a nation of great military strength – to fight against them or that they become Muslims; so if you obey, Allah will give you an excellent reward; and if you turn away, the way you had turned away before, He will mete out a painful punishment to you.”
उन पीछे रह गए हुए गनवारों से फ़रमाओ अन्क़रीब तुम एक सख़्त लड़ाई वाली क़ौम की तरफ़ बुलाए जाओगे कि उनसे लड़ो या वो मुसलमान हो जाएँ, फिर अगर तुम फ़रमान मानोगे अल्लाह तुम्हें अच्छा सवाब देगा, और अगर फिर गए जैसे पहले फिर गए तो तुम्हें दर्दनाक अज़ाब देगा,
Un peeche reh gaye hue ganwaron se farmao anqareeb tum ek sakht larai wali qaum ki taraf bulaye jaoge ke unse laro ya woh Musalman ho jayein, phir agar tum farmaan manoge Allah tumhe acha sawab dega, aur agar phir gaye jaise pehle phir gaye to tumhe dardnaak azaab dega,
(ف37)جو مختلف قبائل کے لوگ ہیں اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جن کے تائب ہونے کی امید کی جاتی ہے ، بعض ایسے بھی ہیں جو نفاق میں بہت پختہ اور سخت ہیں ، انہیں آزمائش میں ڈالنا منظور ہے تاکہ تائب وغیرِ تائب میں فرق ہوجائے اس لئے حکم ہوا کہ ان سے فرمادیجئے ۔(ف38)اس قوم سے بنی حنیفہ یمامہ کے رہنے والے جو مسیلمہ کذّاب کی قوم کے لوگ ہیں وہ مراد ہیں جن سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنگ فرمائی ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سے مراد اہلِ فارس و روم ہیں جن سے جنگ کے لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دعوت دی ۔(ف39)مسئلہ : یہ آیت شیخینِ جلیلین حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما کے صحتِ خلافت کی دلیل ہے کہ ان حضرات کی اطاعت پر جنّت کا اور انکی مخالفت پر جہنّم کا وعدہ دیا گیا ۔(ف40)حدیبیہ کے موقع پر ۔
اندھے پر تنگی نہیں (ف٤۱) اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر مواخذہ (ف٤۲) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور جو پھر جائے گا (ف٤۳) اسے دردناک عذاب فرمائے گا،
There is no reproach upon the blind, nor reproach against the lame, nor reproach upon the sick; and whoever obeys Allah and His Noble Messenger – Allah will admit him into Gardens beneath which rivers flow; and whoever turns away – He will mete out a painful punishment to him.
अन्धे पर तंगी नहीं और न लँगड़े पर मुवाज़ेका और न बीमार पर मोआख़ज़ा और जो अल्लाह और उसके रसूल का हुक्म माने अल्लाह उसे बाग़ों में ले जाएगा जिनके नीचे नहरें रवाँ और जो फिर जाएगा उसे दर्दनाक अज़ाब फ़रमाएगा,
Andhe par tangi nahin aur na langde par muzaeqa aur na beemar par moakhza aur jo Allah aur uske Rasool ka hukm maane Allah use baghon mein le jaega jinke neeche nahrein rawan aur jo phir jaega use dardnaak azaab farmaega,
(ف41)جہاد کے رہ جانے میں ۔ شانِ نزول : جب اوپر کی آیت نازل ہوئی تو جو لوگ اپاہج و صاحبِ عذر تھے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہمارا کیا حال ہوگا ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف42)کہ یہ عذر ظاہر ہے اور جہاد میں حاضر نہ ہونا ان کے لئے جائز ہے ، کیونکہ نہ یہ لوگ دشمن پر حملہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ، نہ اس کے حملہ سے بچنے اور بھاگنے کی ۔ انہیں کے حکم میں داخل ہیں وہ بڈھے ، ضعیف جنہیں نشست و برخاست کی طاقت نہیں یا جنہیں د مہ کھانسی ہے یا جن کی تلّی بہت بڑھ گئی ہے اورانہیں چلنا ، پھرنا دشوار ہے ، ظاہر ہے کہ یہ عذر جہاد سے روکنے والے ہیں ۔ ان کے علاوہ اور بھی اعذار ہیں مثلاً غایت درجہ کی محتاجی اور سفر کے ضروری حوائج پر قدرت نہ رکھنا یا ایسے اشغالِ ضروریہ جو سفر سے مانع ہوں جیسے کسی ایسے مریض کی خدمت جس کی خدمت اس پر لازم ہے اور اس کے سوائے کوئی اس کا انجام دینے والا نہیں ۔(ف43)طاعت سے اعراض کرے گا اور کفر و نفاق پر رہے گا ۔
بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے (ف٤٤) تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے (ف٤۵) تو ان پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا (ف٤٦)
Indeed Allah was truly pleased with the believers when they swore allegiance to you beneath the tree – so He knew what was in their hearts – He therefore sent down peace upon them, and rewarded them with an imminent victory.
बेशक अल्लाह राज़ी हुआ ईमान वालों से जब वो उस पेड़ के नीचे तुम्हारी बैअत करते थे तो अल्लाह ने जाना जो उनके दिलों में है तो उन पर इत्मीनान उतारा और उन्हें जल्द आने वाली फतह का इनआम दिया
Beshak Allah raazi hua imaan walon se jab woh us ped ke neeche tumhari baiyat karte the to Allah ne jana jo unke dilon mein hai to unpar itminan utara aur unhein jald aane wali fatah ka inaam diya
(ف44)حدیبیہ میں چونکہ ان بیعت کرنے والوں کو رضائے الٰہی کی بشارت دی گئی اس لئے اس بیعت کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں ، اس بیعت کے سبب باسبابِ ظاہر یہ پیش آیا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حدیبیہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اشرافِ قریش کے پاس مکّہ مکرّمہ بھیجا کہ انہیں خبر دیں کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بیت اللہ کی زیارت کے لئے بقصدِعمرہ تشریف لائے ہیں ، آپ کا ارادہ جنگ کا نہیں ہے اور یہ بھی فرمادیا تھا کہ جو کمزور مسلمان وہاں ہیں انہیں اطمینان دلادیں کہ مکّہ مکرّمہ عنقریب فتح ہوگا اور اللہ تعالٰی اپنے دِین کو غالب فرمائے گا ، قریش اس بات پر متفق رہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس سال تو تشریف نہ لائیں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہا کہ اگر آپ کعبہ معظّمہ کا طواف کرنا چاہیں تو کریں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں بغیر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے طواف کروں یہاں مسلمانوں نے کہا کہ عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ بڑے خوش نصیب ہیں جو کعبہ معظّمہ پہنچے اور طواف سے مشرف ہوئے ، حضور نے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ وہ ہمارے بغیر طواف نہ کریں گے ، حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مکّہ مکرّ مہ کے ضعیف مسلمانوں کو حسبِ حکم فتح کی بشارت بھی پہنچائی ، پھر قریش نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو روک لیا ، یہاں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ شہید کردیئے گئے ، اس پر مسلمانوں کو بہت جوش آیا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صحابہ سے کفّار کے مقابل جہاد میں ثابت رہنے پر بیعت لی ، یہ بیعت ایک بڑے خار دار درخت کے نیچے ہوئی ، جس کو عرب میں سَمُرَہ کہتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنا بایاں دستِ مبارک داہنے دستِ اقدس میں لیا اور فرمایا کہ یہ عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بیعت ہے اور فرمایا یا رب عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ تیرے اور تیرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کام میں ہیں ۔ ا س واقعہ سے معلوم ہوتا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نورِ نبوّت سے معلوم تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ شہید نہیں ہوئے جبھی تو ان کی بیعت لی ، مشرکین اس بیعت کا حال سن کر خائف ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بھیج دیا ۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا ۔ ( مسلم شریف) اور جس درخت کے نیچے بیعت کی گئی تھی اللہ تعالٰی نے اس کو ناپدید کردیا ، سالِ آئندہ صحابہ نے ہر چند تلاش کیا کسی کو اس کا پتہ بھی نہ چلا ۔(ف45)صدق و اخلاص و وفا ۔(ف46)یعنی فتحِ خیبر کا جو حدیبیہ سے واپس ہوکر چھ ماہ بعد حاصل ہوئی ۔
اور اللہ نے تم سے وعدہ کیا ہے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم لو گے (ف٤۸) تو تمہیں یہ جلد عطا فرمادی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے (ف٤۹) اور اس لیے کہ ایمان والوں کے لیے نشانی ہو (ف۵۰) اور تمہیں سیدھی راہ دکھائے (ف۵۱)
Allah has promised you plenty of booty which you will take, and has bestowed this to you quickly, and restrained peoples’ hands from you; and in order that it may be a sign for the believers, and to guide you on the Straight Path.
और अल्लाह ने तुम से वादा किया है बहुत सी ग़नीमतों का कि तुम लोगे तो तुम्हें ये जल्द अता फ़रमा दी और लोगों के हाथ तुम से रोक दिए और इस लिए कि ईमान वालों के लिए निशानी हो और तुम्हें सीधी राह दिखाए
Aur Allah ne tumse wada kiya hai bohot si ghanimaton ka ke tum loge to tumhein ye jald ata farma di aur logon ke haath tumse rok diye aur is liye ke imaan walon ke liye nishani ho aur tumhein seedhi rah dikhaye
(ف48)اور تمہاری فتوحات ہوتی رہیں گی ۔(ف49)کہ وہ خائف ہو کر تمہارے اہل و عیال کو ضرر نہ پہنچاسکے ۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ جب مسلمان جنگِ خیبر کے لئے روانہ ہوئے تو اہلِ خیبر کے حلیف بنی اسد و غطفان نے چاہا کہ مدینہ طیّبہ پر حملہ کرکے مسلمانوں کے اہل و عیال کو لوٹ لیں ، اللہ تعالٰی نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا اور ان کے ہاتھ روک دیئے ۔(ف50)یہ غنیمت دینا اور دشمنوں کے ہاتھ روک دینا ۔(ف51)اللہ تعالٰی پر توکل کرنے اور کام اس پر مفوَّض کرنے کی جس سے بصیرت و یقین زیادہ ہو ۔
اور ایک اور (ف۵۲) جو تمہارے بل (بس) کی نہ تھی (ف۵۳) وہ اللہ کے قبضہ میں ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،
And one more, not within your capacity, is within Allah’s hold; and Allah is Able to do all things.
और एक और जो तुम्हारे बल (बस) की न थी वो अल्लाह के क़ब्ज़ा में है, और अल्लाह हर चीज़ पर क़ादिर है,
Aur ek aur jo tumhare bal (bas) ki na thi woh Allah ke qabze mein hai, aur Allah har cheez par qadir hai,
(ف52)فتح ۔(ف53)مراد اس سے یا مغانمِ فارس و روم ہیں یا خیبر جس کا اللہ تعالٰی نے پہلے سے وعدہ فرمایا تھا اور مسلمانوں کو امیدِ کامیابی تھی ، اللہ تعالٰی نے انہیں فتح دی ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ وہ فتحِ مکّہ ہے ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ وہ ہر فتح ہے جو اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو عطا فرمائی ۔
اور وہی ہے جس نے ان کے ہاتھ (ف۵۷) تم سے روک دیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے وادی مکہ میں (ف۵۸) بعد اس کے کہ تمہیں ان پر قابو دے دیا تھا، اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے،
And it is He Who restrained their hands from you, and your hands from them in the valley of Mecca, after having given you control over them; and Allah sees all what you do.
और वही है जिसने उनके हाथ तुम से रोक दिए और तुम्हारे हाथ उनसे रोक दिए वादी-ए-मक्का में बाद इस के कि तुम्हें उन पर क़ाबू दे दिया था, और अल्लाह तुम्हारे काम देखता है,
Aur wohi hai jisne unke haath tumse rok diye aur tumhare haath unse rok diye waadi Makkah mein baad iske ke tumhein unpar qabo de diya tha, aur Allah tumhare kaam dekhta hai,
(ف57)یعنی کفّار کے ۔(ف58)روزِ فتحِ مکّہ ، اور ایک قول یہ ہے کہ بطنِ مکّہ سے حدیبیہ مراد ہے ۔ اوراس کے شانِ نزول میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ اہلِ مکّہ میں سے اسّی۸۰ ہتھیار بند جوان جبلِ تنعیم سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے ارادہ سے اترے ، مسلمانوں نے انہیں گرفتار کرکے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے معاف فرمایا اور چھوڑ دیا ۔
وہ (ف۵۹) وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے (ف٦۰) روکا اور قربانی کے جانور رُکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے (ف٦۱) اور اگر یہ نہ ہوتا کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں (ف٦۲) جن کی تمہیں خبر نہیں (ف٦۳) کہیں تم انہیں روند ڈالو (ف٦٤) تو تمہیں ان کی طرف سے انجانی میں کوئی مکروہ پہنچے تو ہم تمہیں ان کی قتال کی اجازت دیتے ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے جسے چاہے، اگر وہ جدا ہوجاتے (ف٦۵) تو ہم ضرور ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب دیتے (ف٦٦)
It was these who disbelieved and prevented you from the Sacred Mosque, and stopped the sacrificial animals from reaching their place; and were it not for some Muslim men and Muslim women, whom you do not know – lest you may crush them and unintentionally incur some violation due to them – Allah would have permitted you to slay them; this relief for them, is so that Allah may admit into His mercy whomever He wills; and had they been separated, We would have indeed punished the disbelievers among them with a painful punishment.
वो वो हैं जिन्होंने क़ुफ़्र किया और तुम्हें मस्जिदे हराम से रोका और क़ुर्बानी के जानवर रुके पड़े अपनी जगह पहुँचने से और अगर ये न होता कुछ मुसलमान मर्द और कुछ मुसलमान औरतें जिनकी तुम्हें ख़बर नहीं कहीं तुम उन्हें रौंद डालो तो तुम्हें उनकी तरफ़ से अन्जानी में कोई मकरूह पहुँचे तो हम तुम्हें उनकी क़िताल की इजाज़त देते उनका ये बचाव इस लिए है कि अल्लाह अपनी रहमत में दाख़िल करे जिसे चाहे, अगर वो जुदा हो जाते तो हम ज़रूर उनमें के काफ़िरों को दर्दनाक अज़ाब देते
Woh woh hain jinhone kufr kiya aur tumhein Masjid Haram se roka aur qurbani ke janwar ruke pade apni jagah pahunchne se aur agar ye na hota kuch Musalman mard aur kuch Musalman auratein jin ki tumhein khabar nahin kahin tum unhein raund daalo to tumhein unki taraf se anjaani mein koi makrooh pahunche to hum tumhein unki qitaal ki ijaazat dete unka ye bachaao is liye hai ke Allah apni rehmat mein daakhil kare jise chahe, agar woh juda ho jate to hum zaroor unmein ke kafiron ko dardnaak azaab dete
(ف59)کفّارِ مکّہ ۔(ف60)وہاں پہنچنے سے اور اس کا طواف کرنے سے ۔(ف61)یعنی مقامِ ذبح سے جو حرم میں ہے ۔(ف62)مکّہ مکرّمہ میں ہیں ۔(ف63)تم انہیں پہچانتے نہیں ۔(ف64)کفّار سے قتال کرنے میں ۔(ف65)یعنی مسلمان کافروں سے ممتاز ہوجاتے ۔(ف66)تمہارے ہاتھ سے قتل کراکے اور تمہاری قید میں لا کر ۔
جبکہ کافروں نے اپنے دلوں میں اَڑ رکھی وہی زمانہٴ جاہلیت کی اَڑ (ضد) (ف٦۷) تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتارا (ف٦۸) اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا (ف٦۹) اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے (ف۷۰) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۷۱)
Whereas the disbelievers had set up in their hearts an obstinacy – the same obstinacy of the days of ignorance – so Allah sent down His solace upon His Noble Messenger and upon the believers, and decreed upon them the words of piety, and they were more deserving and suitable for it; and Allah is the All Knowing.
जबकि काफ़िरों ने अपने दिलों में अड़ रखी वही ज़माना-ए-जाहिलियत की अड़ (ज़िद) तो अल्लाह ने अपना इत्मीनान अपने रसूल और ईमान वालों पर उतारा और परहेज़गारी का कलिमा उन पर लाज़िम फ़रमाया और वो उसके ज़्यादा सजावार और उसके अहल थे और अल्लाह सब कुछ जानता है
Jabke kafiron ne apne dilon mein ad rakhi wohi zamana e jahiliyat ki ad (zid) to Allah ne apna itminan apne Rasool aur imaan walon par utara aur parhezgari ka kalima unpar lazim farmaaya aur woh uske zyada sazawaar aur uske ahl the aur Allah sab kuch jaanta hai
(ف67)کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضور کے اصحاب کو کعبہ معظّمہ سے روکا ۔(ف68)کہ انہوں نے سالِ آئندہ آنے پر صلح کی ، اگر وہ بھی کفّارِ قریش کی طرح ضد کرتے تو ضرور جنگ ہوجاتی ۔(ف69)کلمۂِ تقوٰی سے مراد ' لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ' ہے ۔(ف70)کیونکہ اللہ تعالٰی نے انہیں اپنے دِین اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت سے مشرّف فرمایا ۔(ف71)کافروں کا حال بھی جانتا ہے ، مسلمانوں کا بھی ، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ۔
بیشک اللہ نے سچ کردیا اپنے رسول کا سچا خواب (ف۷۲) بیشک تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے اگر اللہ چاہے امن و امان سے اپنے سروں کے (ف۷۳) بال منڈاتے یا (ف۷٤) ترشواتے بےخوف، تو اس نے جانا جو تمہیں معلوم نہیں (ف۷۵) تو اس سے پہلے (ف۷٦) ایک نزدیک آنے والی فتح رکھی (ف۷۷)
Allah has indeed made the truthful dream of His Noble Messenger, come true; indeed you will all enter the Sacred Mosque, if Allah wills, in safety – with your heads shaven or hair cut short – without fear; so He knows what you do not know, and has therefore ordained another imminent victory before this.
बेशक अल्लाह ने सच कर दिया अपने रसूल का सच्चा ख़्वाब बेशक तुम ज़रूर मस्जिदे हराम में दाख़िल होगे अगर अल्लाह चाहे अम्न ओ अमान से अपने सरों के बाल मुँड़ाते या तरशवाते बे-ख़ौफ़, तो उसने जाना जो तुम्हें मालूम नहीं तो उस से पहले एक नज़दीक आने वाली फतह रखी
Beshak Allah ne sach kar diya apne Rasool ka sacha khwaab beshak tum zaroor Masjid Haram mein daakhil hoge agar Allah chahe amn o amaan se apne saron ke baal mundate ya tarshwate be khauf, to usne jana jo tumhein maloom nahin to us se pehle ek nazdeek aane wali fatah rakhi
(ف72)شانِ نزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حدیبیہ کا قصد فرمانے سے قبل مدینہ طیّبہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مع اصحاب کے مکّہ معظّمہ میں بامن داخل ہوئے اور اصحاب نے سر کے بال منڈائے ، بعض نے ترشوائے ، یہ خواب آپ نے اپنے اصحاب سے بیان فرمایا تو انہیں خوشی ہوئی اور انہوں نے خیال کیا کہ اسی سال وہ مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوں گے ، جب مسلمان حدیبیہ سے بعد صلح کے واپس ہوئے اور اس سال مکّہ مکرّمہ میں داخلہ نہ ہوا تو منافقین نے تمسخر کیا ، طعن کئے اور کہا کہ وہ خواب کیا ہوا ۔ اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس خواب کے مضمون کی تصدیق فرمائی کہ ضرور ایسا ہوگا چنانچہ اگلے سال ایسا ہی ہوا اور مسلمان اگلے سال بڑے شان و شکوہ کے ساتھ مکّہ مکرّمہ میں فاتحانہ داخل ہوئے ۔(ف73)تمام ۔(ف74)تھوڑے سے ۔(ف75)یعنی یہ کہ تمہارا داخل ہونا اگلے سال ہے اور تم اسی سال سمجھے تھے اور تمہارے لئے یہ تاخیر بہتر تھی کہ اس کے باعث وہاں کے ضعیف مسلمان پامال ہونے سے بچ گئے ۔ (ف76)یعنی دخولِ حرم سے قبل ۔(ف77)فتحِ خیبر کہ فتحِ موعود کے حاصل ہونے تک مسلمانوں کے دل اس سے راحت پائیں ، اس کے بعد جب اگلا سال آیا تو اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خواب کا جلوہ دکھلایا اور واقعات اس کے مطابق رونما ہوئے ، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۷۸) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۷۹)
It is He Who has sent His Noble Messenger with the guidance and the true religion, in order to make it prevail over all other religions; and Allah is sufficient as a Witness. (The Holy Prophet is a light from Allah.)
वही है जिसने अपने रसूल को हिदायत और सच्चे दीन के साथ भेजा कि उसे सब दीनों पर ग़ालिब करे और अल्लाह काफ़ी है गवाह
Wohi hai jisne apne Rasool ko hidayat aur sache deen ke sath bheja ke use sab deenon par ghalib kare aur Allah kafi hai gawah
(ف78)خواہ وہ مشرکین کے دِین ہوں یا اہلِ کتاب کے چنانچہ اللہ تعالٰی نے یہ نعمت عطا فرمائی اور اسلام کو تمام ادیان پر غالب فرمادیا ۔(ف79)اپنے حبیب محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت پر جیسا کہ فرماتا ہے ۔
محمد اللہ کے رسول ہیں، اور ان کے ساتھ والے (ف۸۰) کافروں پر سخت ہیں (ف۸۱) اور آپس میں نرم دل (ف۸۲) تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے (ف۸۳) اللہ کا فضل و رضا چاہتے ، ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے (ف۸٤) یہ ان کی صفت توریت میں ہے، اور ان کی صفت انجیل میں (ف۸۵) جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں کو بھلی لگتی ہے (ف۸٦) تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں، اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں (ف۸۷) بخشش اور بڑے ثواب کا،
Mohammed (peace and blessings be upon him) is the Noble Messenger of Allah; and his companions are stern with the disbelievers and merciful among themselves – you will see them bowing and falling in prostration, seeking Allah’s munificence and His pleasure; their signs are on their faces, from the effects of their prostration; this trait of theirs is mentioned in the Taurat; and their trait is mentioned in the Injeel; like a cultivation that sprouted its shoot, then strengthened it, then thickened and then stood firm upon its stem, pleasing the farmer – in order to enrage the disbelievers with them; Allah has promised forgiveness and a great reward to those among them who have faith and do good deeds.
मुहम्मद अल्लाह के रसूल हैं, और उनके साथ वाले काफ़िरों पर सख़्त हैं और आपस में नरम दिल तो उन्हें देखेगा रुकू करते सज्दे में गिरते अल्लाह का फ़ज़ल ओ रज़ा चाहते, उनकी अलामत उनके चेहरों में है सज्दों के निशान से ये उनकी सिफ़्त तौरैत में है, और उनकी सिफ़्त इंजील में जैसे एक खेती उसने अपना पत्ता निकाला फिर उसे ताक़त दी फिर दबीज़ हुई फिर अपनी साक़ पर सीधी खड़ी हुई किसानों को भली लगती है ताके उनसे काफ़िरों के दिल जलें, अल्लाह ने वादा किया उनसे जो उनमें ईमान और अच्छे कामों वाले हैं बख़्शिश और बड़े सवाब का,
Muhammad Allah ke Rasool hain, aur unke sath wale kafiron par sakht hain aur aapas mein naram dil to unhein dekhega ruku karte sajde mein girte Allah ka fazl o raza chahte, unki alamat unke chehron mein hai sajdon ke nishan se ye unki sifat Taurait mein hai, aur unki sifat Injeel mein jaise ek kheti usne apna pattha nikala phir use taqat di phir dabeiz hui phir apni saaq par seedhi khadi hui kisano ko bhali lagti hai taki unse kafiron ke dil jalen, Allah ne wada kiya unse jo unmein imaan aur ache kamon wale hain bakhshish aur bade sawab ka,
(ف80)یعنی ان کے اصحاب ۔(ف81)جیسا کہ شیر شکار پر ۔ اور صحابہ کا تشدّد کفّار کے ساتھ اس حد پر تھا کہ وہ لحاظ رکھتے تھے کہ ان کا بدن کسی کافر کے بدن سے نہ چھو جائے اور ان کے کپڑے سے کسی کافر کا کپڑا نہ لگنے پائے ۔ (مدارک )(ف82)ایک دوسر ے پر محبّت و مہربانی کرنے والے ایسے کہ جیسے باپ بیٹے میں ہو اور یہ محبّت اس حد تک پہنچ گئی کہ جب ایک مومن دوسرے کو دیکھے تو فرطِ محبّت سے مصافحہ و معانقہ کرے ۔(ف83)کثرت سے نمازیں پڑھتے ، نمازوں پر مداومت کرتے ۔(ف84)اور یہ علامت وہ نور ہے جو روزِ قیامت ان کے چہروں سے تاباں ہوگا ، اس سے پہچانے جائیں گے کہ انہوں نے دنیا میں اللہ تعالٰی کے لئے بہت سجدے کئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے چہروں میں سجدہ کا مقام ماہِ شب چہار دہم کی طرح چمکتا دمکتا ہوگا ۔ عطاء کا قول ہے کہ شب کی دراز نمازوں سے انکے چہروں پر نور نمایاں ہوتا ہے ، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ جو رات کو نماز کی کثرت کرتا ہے صبح کو اس کا چہرہ خوب صورت ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرد کا نشان بھی سجدہ کی علامت ہے ۔(ف85)یہ مذکور ہے کہ ۔(ف86)یہ مثال ابتدائے اسلام اور اس کی ترقی کی بیان فرمائی گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تنہا اٹھے ، پھر اللہ تعالٰی نے آپ کو آپ کے مخلصین اصحاب سے تقویّت دی ۔ قتادہ نے کہا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصحاب کی مثال انجیل میں یہ لکھی ہے کہ ایک قوم کھیتی کی طرح پیدا ہوگی ، وہ نیکیوں کا حکم کریں گے ، بدیوں سے منع کریں گے ، کہا گیا ہے کہ کھیتی حضور ہیں اور اس کی شاخیں اصحاب اور مومنین ۔(ف87)صحابہ سب کے سب صاحبِ ایمان و عملِ صالح ہیں ، اس لئے یہ وعدہ سب ہی سے ہے ۔
اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو (ف۲) اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
O People who Believe! Do not advance ahead of Allah and His Noble Messenger, and fear Allah; indeed Allah is All Hearing, All Knowing.
ऐ ईमान वालो अपनी आवाज़ें ऊँची न करो उस ग़ैब बताने वाले (नबी) की आवाज़ से और उनके हुज़ूर बात चला कर न कहो जैसे आपस में एक दूसरे के सामने चिलाते हो कि कहीं तुम्हारे अमल अकारत न हो जाएँ और तुम्हें ख़बर न हो
Ae imaan walo apni aawazen oonchi na karo us ghaib batane wale (Nabi) ki aawaz se aur unke huzoor baat chala kar na kaho jaise aapas mein ek doosre ke samne chilate ho ke kahin tumhare amal akarat na ho jayein aur tumhein khabar na ho
(ف2)یعنی تمہیں لازم ہے کہ اصلا تم سے تقدیم واقع نہ ہو ، نہ قول میں ، نہ فعل میں کہ تقدیم کرنا رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ادب و احترام کے خلاف ہے بارگاہِ رسالت میں نیاز مندی و آداب لازم ہیں ۔شانِ نزول : چند شخصوں نے عیدِاضحٰی کے دن سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے قربانی کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ دوبارہ قربانی کریں اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ بعضے لوگ رمضان سے ایک روز پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے ، ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ روزہ رکھنے میں اپنے نبی سے تقدم نہ کرو ۔ ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)
اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے (ف۳) اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو (ف٤)
O People who Believe! Do not raise your voices higher than the voice of the Prophet, nor speak to him loudly the way you shout to one another, lest your deeds go to waste whilst you are unaware. (Faith will go waste due to the slightest disrespect towards the Holy Prophet – peace and blessings be upon him. To honour him is part of faith. To disrespect him is blasphemy.)
बेशक वो जो अपनी आवाज़ें पस्त करते हैं रसूल अल्लाह के पास वो हैं जिनका दिल अल्लाह ने परहेज़गारी के लिए परख लिया है , उनके लिए बख़्शिश और बड़ा सवाब है ,
Beshak woh jo apni aawazen past karte hain Rasool Allah ke paas woh hain jinka dil Allah ne parhezgaari ke liye parkh liya hai , unke liye bakhshish aur bada sawab hai ,
(ف3)یعنی جب حضور میں کچھ عرض کر و تو آہستہ پست آواز سے عرض کرو ، یہی دربارِ رسالت کا ادب و احترام ہے ۔(ف4)اس آیت میں حضور کا اجلال و اکرام و ادب واحترام تعلیم فرمایا گیا اور حکم دیا گیا کہ ندا کرنے میں ادب کا پورا لحاظ رکھیں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہیں اس طرح نہ پکاریں بلکہ کلماتِ ادب و تعظیم و توصیف وتکریم والقابِ عظمت کے ساتھ عرض کرو جو عرض کرنا ہو کہ ترکِ ادب سے نیکیوں کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے ۔ شانِ نزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس کے حق میں نازل ہوئی انہیں ثقلِ سماعت تھا اور آواز ان کی اونچی تھی ، بات کرنے میں آواز بلند ہوجایا کرتی تھی ، جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور کہنے لگے کہ میں اہلِ نار سے ہوں ، حضور نے حضرت سعد سے ان کا حال دریافت فرمایا ، انھوں نے عرض کیا کہ وہ میرے پڑوسی ہیں اور میرے علم میں انہیں کوئی بیماری تو نہیں ہوئی ، پھر آ کر حضرت ثابت سے اس کا ذکر کیا ، ثابت نے کہا، یہ آیت نازل ہوئی اور تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں تو میں جہنّمی ہوگیا ، حضرت سعد نے یہ حال خدمتِ اقدس میں عرض کیا تو حضورنے فرمایا کہ وہ اہلِ جنّت سے ہیں ۔
بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس (ف۵) وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے،
Indeed those who suppress their voices in the presence of Allah’s Noble Messenger, are the ones whose hearts Allah has tested for piety; for them is forgiveness, and a great reward.
बेशक वो जो तुम्हें हुज्रों के बाहर से पुकारते हैं उनमें अक्सर बे अक़्ल हैं
Beshak woh jo tumhein hujron ke bahar se pukarte hain un mein aksar be-aqal hain
(ف5)براہِ ادب و تعظیم ۔شان نزول : آیۂِ یٰۤاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ کے نازل ہونے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما اور بعض اور صحابہ نے بہت احتیاط لازم کرلی اور خدمتِ اقدس میں بہت ہی پست آواز سے عرض معروض کرتے ۔ ان حضرات کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں (ف٦)
Indeed most of those who call you from outside the chambers do not have sense.
और अगर वो सब्र करते यहाँ तक कि तुम आप उनके पास तशरीफ़ लाते तो ये उनके लिए बेहतर था, और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है
Aur agar woh sabr karte yahan tak ke tum aap unke paas tashreef laate to ye unke liye behtar tha, aur Allah bakhshne wala mehrban hai
(ف6)شانِ نزول : یہ آیت وفدِ بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں دوپہر کے وقت پہنچے جب کہ حضور آرام فرما رہے تھے ان لوگوں نے حجروں کے باہر سے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو پکارنا شروع کیا ، حضور تشریف لے آئے ، ان لوگوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور اجلالِ شانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بیان فرمایا گیا کہ بارگاہِ اقدس میں اس طرح پکارنا جہل و بے عقلی ہے اور ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی ۔
اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ ان کے پاس تشریف لاتے (ف۷) تو یہ ان کے لیے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۸)
And had they been patient until you yourself came out to them, it would be better for them; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ऐ ईमान वालो अगर कोई फासिक तुम्हारे पास कोई ख़बर लाए तो तहरीक कर लो कि कहीं किसी क़ौम को बे जाने ईज़ा न दे बैठो फिर अपने किए पर पछताते रह जाओ,
Ae imaan walo agar koi faasiq tumhare paas koi khabar laye to tahqiq kar lo ke kahin kisi qaum ko be jaane eeza na de baitho phir apne kiye par pachtate rah jao,
(ف7)اس وقت وہ عرض کرتے جو انہیں عرض کرنا تھا ، یہ ادب ان پر لازم تھا ، اس کو بجالاتے ۔(ف8)ان میں سے ان کے لئے جو توبہ کریں ۔
اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو (ف۹) کہ کہیں کسی قوم کو بےجانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ،
O People who Believe! If any miscreant brings you some tidings, verify it, lest you unknowingly cause suffering to some people, and then remain repenting for what you did.
और जान लो कि तुम में अल्लाह के रसूल हैं बहुत मामलौं में अगर ये तुम्हारी ख़ुशी करें तो तुम ज़रूर मशक्क़त में पड़ो लेकिन अल्लाह ने तुम्हें ईमान प्यारा कर दिया है और उसे तुम्हारे दिलों में आरास्ता कर दिया और कुफ़्र और हुक्म अदूली और नाफ़रमानी तुम्हें नागवार कर दी, ऐसे ही लोग राह पर हैं
Aur jaan lo ke tum mein Allah ke Rasool hain bohot maamloon mein agar ye tumhari khushi karein to tum zaroor mashakkat mein parho lekin Allah ne tumhein imaan pyara kar diya hai aur use tumhare dilon mein aaraasta kar diya aur kufr aur hukm adooli aur nafrmaani tumhein na-gawaar kar di, aise hi log raah par hain
(ف9)کہ صحیح ہے یا غلط ۔شانِ نزول : یہ آیت ولید بن عقبہ کے حق میں نازل ہوئی کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کو بنی مصطلق سے صدقات وصول کرنے بھیجا تھا اور زمانۂِ جاہلیّت میں انکے اور انکے درمیان عداوت تھی ، جب ولید ان کے دیار کے قریب پہنچے اور انہیں خبر ہوئی تو اس خیال سے کہ وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں بہت سے لو گ تعظیماً ان کے استقبال کے واسطے آئے ، ولید نے گمان کیا کہ یہ پرانی عداوت سے مجھے قتل کرنے آرہے ہیں ، یہ خیال کرکے ولید واپس ہوگئے اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کردیا کہ حضور ان لوگوں نے صدقہ کو منع کردیا اور میرے قتل کے درپے ہوگئے ۔ حضور نے خالد بن ولید کو تحقیقِ حال کے لئے بھیجا ۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دیکھا کہ وہ لوگ اذانیں کہتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں اور ان لوگوں نے صدقات پیش کردیئے ، حضرت خالد یہ صدقات لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور واقعہ عرض کیا ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔ بعض مفسّرین نے کہا کہ یہ آیت عام ہے اس بیان میں نازل ہوئی ہے کہ فاسق کے قول پر اعتماد نہ کیا جائے ۔مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ ایک شخص اگر عادل ہو تو اس کی خبر معتبر ہے ۔
اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں (ف۱۰) بہت معاملوں میں اگر یہ تمہاری خوشی کریں (ف۱۱) تو تم ضرور مشقت میں پڑو لیکن اللہ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کر دی، ایسے ہی لوگ راہ پر ہیں (ف۱۲)
And know that Allah’s Noble Messenger is among you; in most of the affairs, were he to listen to you, you would surely fall into hardship, but Allah has made faith dear to you and has instilled it in your hearts, and has made disbelief and rebellion and disobedience abhorred by you; it is people like these who are on guidance.
अल्लाह का फ़ज़्ल और एहसान, और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है ,
Allah ka fazl aur ehsaan, aur Allah ilm o hikmat wala hai ,
(ف10)اگر تم جھوٹ بولو گے تو اللہ تعالٰی کے خبردار کرنے سے وہ تمہارا افشاءِ حال کرکے تمہیں رسوا کردیں گے ۔(ف11)اور تمہاری رائے کے مطابق حکم دے دیں ۔(ف12)کہ طریقِ حق پر قائم رہے ۔
اللہ کا فضل اور احسان، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
The munificence and favour of Allah; and Allah is All Knowing, Wise.
और अगर मुसलमानों के दो ग़ुरूह आपस में लड़ें तो उनमें सुलह कराओ फिर अगर एक दूसरे पर ज़ियादती करे तो उस ज़ियादती वाले से लड़ो यहाँ तक कि वो अल्लाह के हुक्म की तरफ़ पलट आए , फिर अगर पलट आए तो इंसाफ़ के साथ उनमें इस्लाह कर दो और अद्ल करो, बेशक अद्ल वाले अल्लाह को प्यारे हैं ,
Aur agar Musalmanon ke do grooh aapas mein ladein to unmein sulah karao phir agar ek doosre par ziadati kare to us ziadati wale se lado yahan tak ke woh Allah ke hukm ki taraf palat aaye , phir agar palat aaye to insaaf ke sath unmein islaah kar do aur adl karo, beshak adl wale Allah ko pyare hain ,
اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ (ف۱۳) پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے (ف۱٤) تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو، بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں،
And if two groups of Muslims fight against each other, reconcile them; and if one of them oppresses the other, fight against the oppressor till it returns to the command of Allah; then if it returns, reconcile between them with justice, and be fair; indeed Allah loves the equitable.
मुसलमान मुसलमान भाई हैं तो अपने दो भाइयों में सुलह करो और अल्लाह से डरो कि तुम पर रहमत हो
Musalman Musalman bhai hain to apne do bhaiyon mein sulah karo aur Allah se daro ke tum par rahmat ho
(ف13)شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دراز گوش پر سوار تشریف لے جاتے تھے ، انصار کی مجلس پر گزرہوا ، وہاں تھوڑا سا توقف فرمایا ، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو ابنِ اُ بَیْ نے ناک بند کرلی ۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ حضور کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے ، حضور تو تشریف لے گئے ، ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑ گئیں اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچی تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرادی اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف14)ظلم کرے اور صلح سے منکِر ہوجائے ۔ مسئلہ : باغی گروہ کا یہی حکم ہے کہ اس سے قتال کیا جائے یہاں تک کہ وہ جنگ سے باز آئے ۔
مسلمان مسلمان بھائی ہیں (ف۱۵) تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو (ف۱٦) اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو (ف۱۷)
The Muslims are brothers to each other, therefore make peace between your two brothers and fear Allah, so that you may gain mercy. (The entire Muslim nation is a single brotherhood, without any distinction for caste, creed or colour.)
ऐ ईमान वालो न मर्द मर्दों से हँसें अजब नहीं कि वो इन हँसने वालों से बेहतर हों और न औरतें औरतों से , दूर नहीं कि वो इन हँसने वालियों से बेहतर हों और आपस में ताना न करो और एक दूसरे के बुरे नाम न रखो क्या ही बुरा नाम है मुसलमान हो कर फासिक कहलाना और जो तौबा न करें तो वही ज़ालिम हैं ,
Ae imaan walo na mard mardon se hansein ajab nahi ke woh in hansne walon se behtar hon aur na auratein auraton se , door nahi ke woh in hansne waliyon se behtar hon aur aapas mein taana na karo aur ek doosre ke bure naam na rakho kya hi bura naam hai Musalman ho kar faasiq kehlana aur jo tauba na karein to wahi zaalim hain ,
(ف15)کہ آپس میں دینی رابطہ اورا سلامی محبّت کے ساتھ مربوط ہیں ، یہ رشتہ تمام دنیوی رشتوں سے قوی تر ہے ۔(ف16)جب کبھی ان میں نزاع واقع ہو ۔(ف17)کیونکہ اللہ تعالٰی سے ڈرنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا مومنین کی باہمی محبّت و مودّت کا سبب ہے اور جو اللہ تعالٰی سے ڈرتا ہے اللہ تعالٰی کی رحمت اس پر ہوتی ہے ۔
اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں (ف۱۸) عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں (ف۱۹) اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسے والیوں سے بہتر ہوں (ف۲۰) اور آپس میں طعنہ نہ کرو (ف۲۱) اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو (ف۲۲) کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا (ف۲۳) اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں،
O People who Believe! Men must not ridicule other men for it could be that the ridiculed are better than the mockers, nor must the women ridicule other women for the ridiculed women may be better than the mockers; and do not insult one another, nor assign evil nicknames; how base it is to be called a sinner after being a Muslim! And whoever does not repent – then it is they who are unjust.
ऐ ईमान वालो बहुत गुमानों से बचो
Ae imaan walo bohot gumaano se bacho
(ف18)شانِ نزول : اس آیت کا نزول کئی واقعوں میں ہوا پہلا واقعہ یہ ہے کہ ثابت ا بنِ قیس بن شمّاس کو ثقلِ سماعت تھا جب وہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو صحابہ انہیں آگے بٹھاتے اور ان کے لئے جگہ خالی کردیتے تاکہ وہ حضور کے قریب حاضر رہ کر کلامِ مبارک سن سکیں ، ایک روز انہیں حاضری میں دیر ہوگئی اور مجلس شریف خوب بھر گئی ، اس وقت ثابت آئے اور قاعدہ یہ تھا کہ جو شخص ایسے وقت آتا اور مجلس میں جگہ نہ پاتا تو جہاں ہوتا کھڑا رہتا ، ثابت آئے تو وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قریب بیٹھنے کے لئے لوگوں کو ہٹاتے ہوئے یہ کہتے چلے کہ جگہ دو جگہ یہاں تک کہ حضور کے قریب پہنچ گئے اور انکے اور حضور کے درمیان میں صرف ایک شخص رہ گیا ، انہوں نے اس سے بھی کہا کہ جگہ دو ، اس نے کہا تمہیں جگہ مل گئی ، بیٹھ جاؤ ، ثابت غصّہ میں آکر اس کے پیچھے بیٹھ گئے اور جب دن خوب روشن ہوا تو ثابت نے اس کا جسم دبا کر کہا کہ ،کون ؟ اس نے کہا میں فلاں شخص ہوں ، ثابت نے اس کی ماں کا نام لے کر کہا فلانی کا لڑکا اس پر اس شخص نے شرم سے سرجھکالیا اور اس زمانہ میں ایسا کلمہ عار دلانے کے لئے کہا جاتا تھا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ دوسرا واقعہ ضحاک نے بیان کیا کہ یہ آیت بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت عمّار و خبّاب وبلا ل و صہیب و سلمان و سالم وغیرہ غریب صحابہ کی غربت دیکھ کر ان کے ساتھ تمسخرکرتے تھے ، ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مَردوں سے نہ ہنسیں یعنی مال دار غریبوں کی ہنسی نہ بنائیں ، نہ عالی نسب غیرِ ذی نسب کی ، اور نہ تندرست اپاہج کی ، نہ بینا اس کی جس کی آنکھ میں عیب ہو ۔(ف19)صدق و اخلاص میں ۔(ف20)شانِ نزول : یہ آیت اُمُّ المومنین حضرت صفیہ بنت حُیَیّ رضی اللہ تعالٰی عنھا کے حق میں نازل ہوئی ، انہیں معلوم ہوا تھا کہ اُمُّ المومنین حضرت حفصہ نے انہیں یہودی کی لڑکی کہا ، اس پر انہیں رنج ہوا اور ر وئیں اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شکایت کی تو حضورنے فرمایا کہ تم نبی زادی اور نبی کی بی بی ہو تم پر وہ کیا فخر کرتی ہیں اور حضرت حفصہ سے فرمایا اے حفصہ خدا سے ڈرو ۔ (الترمذی وقال حسن صحیح غریب)(ف21)ایک دوسرے پر عیب نہ لگاؤ ، اگر ایک مومن نے دوسرے مومن پر عیب لگایا تو گویا اپنے ہی آپ کو عیب لگایا ۔(ف22)جو انہیں ناگوار معلوم ہوں ۔مسائل : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اگر کسی آدمی نے کسی برائی سے توبہ کرلی ہو اس کو بعدِ توبہ اس برائی سے عار دلانا بھی اس نہی میں داخل اور ممنوع ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو کُتّا یا گدھا یا سور کہنا بھی اسی میں داخل ہے ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ القاب مراد ہیں جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو لیکن تعریف کے القاب جو سچّے ہوں ممنوع نہیں جیسے کہ حضرت ابوبکر کا لقب عتیق اور حضرت عمرکا فاروق اور حضرت عثمانِ غنی کا ذوالنورین اور حضرت علی کا ابوتراب اور حضرت خالد کا سیف اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اور جو القاب بمنزلۂِ عَلم ہوگئے اور صاحبِ القاب کو ناگوار نہیں وہ القاب بھی ممنوع نہیں جیسے کہ اعمش ، اعرج ۔(ف23)تو اے مسلمانو کسی مسلمان کی ہنسی بنا کر یا اس کو عیب لگا کر یا اس کا نام بگاڑ کر اپنے آپ کو فاسق نہ کہلاؤ ۔
اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو (۲٤) بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے (ف۲۵) اور عیب نہ ڈھونڈھو (ف۲٦) اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو (ف۲۷) کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا (ف۲۸) اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،
O People who Believe! Avoid excessive assumptions; indeed assumption sometimes becomes a sin, and do not seek faults, and do not slander one another; would any one among you like to eat the flesh of his dead brother? So you will hate that! And fear Allah; indeed Allah is Most Acceptor of Repentance, Most Merciful.
बेशक कोई गुमान गुनाह हो जाता है और ऐब न ढूँढो और एक दूसरे की ग़ीबत न करो क्या तुम में कोई पसंद रखेगा कि अपने मरे भाई का गोश्त खाए तो ये तुम्हें गवारा न होगा और अल्लाह से डरो बेशक अल्लाह बहुत तौबा क़ुबूल करने वाला मेहरबान है ,
beshak koi gumaan gunaah ho jata hai aur aib na dhoondho aur ek doosre ki gheebat na karo kya tum mein koi pasand rakhega ke apne mare bhai ka gosht khaye to ye tumhein gawara na hoga aur Allah se daro beshak Allah bohot tauba qubool karne wala mehrban hai ,
(ف24)کیونکہ ہر گمان صحیح نہیں ہوتا ۔(ف25)مسئلہ : مومنِ صالح کے ساتھ بُرا گمان ممنوع ہے ، اسی طرح اس کا کوئی کلام سن کر فاسد معنٰی مراد لینا باوجود یہ کہ اس کے دوسرے صحیح معنٰی موجود ہوں اور مسلمان کا حال ان کے موافق ہو ، یہ بھی گمانِ بد میں داخل ہے ۔ سفیان ثوری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا گمان دو طرح کا ہے ، ایک وہ کہ دل میں آئے اور زبان سے بھی کہہ دیا جائے ، یہ اگر مسلمان پر بدی کے ساتھ ہے گناہ ہے ، دوسرا یہ کہ دل میں آئے اور زبان سے نہ کہا جائے ، یہ اگرچہ گناہ نہیں مگر اس سے بھی دل خالی کرنا ضرور ہے ۔ مسئلہ : گمان کی کئی قسمیں ہیں ، ایک واجب ہے وہ اللہ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا ایک مستحب وہ مومنِ صالح کے ساتھ نیک گمان ایک ممنوع حرام وہ اللہ کے ساتھ بُرا گمان کرنا اور مومن کے ساتھ بُرا گمان کرنا ایک جائز وہ فاسقِ معلن کے ساتھ ایسا گمان کرنا جیسے افعال اس سے ظہور میں آتے ہوں ۔(ف26)یعنی مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو اور ان کے چُھپے حال کی جستجو میں نہ رہوجسے اللہ تعالٰی نے اپنی ستّاری سے چُھپایا ۔ حدیث شریف میں ہے گمان سے بچو گمان بڑی جھوٹی بات ہے اور مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو ، ان کے ساتھ حرص و حسد ، بغض ، بے مروتی نہ کرو ، اے اللہ تعالٰی کے بندو بھائی بنے رہو جیسا تمہیں حکم دیا گیا ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، اس پر ظلم نہ کرے ، اس کو رسوا نہ کرے ، اس کی تحقیر نہ کرے ، تقوٰی یہاں ہے ، تقوٰی یہاں ہے ، تقوٰی یہاں ہے ، ( اور یہاں کے لفظ سے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا) آدمی کے لئے یہ برائی بہت ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر دیکھے ، ہر مسلمان مسلمان پرحرام ہےاس کا خون بھی ، اس کی آبرو بھی ، اس کا مال بھی ، اللہ تعالٰی تمہارے جسموں اور صورتوں اور عملوں پر نظر نہیں فرماتا لیکن تمہارے دلوں پر نظر فرماتا ہے ۔ (بخاری و مسلم) حدیث جو بندہ دنیا میں دوسرے کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالٰی روزِ قیامت اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔(ف27)حدیث شریف : میں ہے کہ غیبت یہ ہے کہ مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے ایسی بات کہی جائے جو اسے ناگوار گذرے اگر وہ بات سچّی ہے تو غیبت ہے ورنہ بہتان ۔(ف28)تو مسلمان بھائی کی غیبت بھی گوارا نہ ہونی چاہئے کیونکہ اس کو پیٹھ پیچھے بُرا کہنا اس کے مرنے کے بعد اس کا گوشت کھانے کے مثل ہے کیونکہ جس طرح کسی کا گوشت کاٹنے سے اس کو ایذا ہوتی ہے اسی طرح اس کو بدگوئی سے قلبی تکلیف ہوتی ہے اور درحقیقت آبرو گوشت سے زیادہ پیاری ہے ۔ شانِ نزول : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب جہاد کے لئے روانہ ہوتے اور سفر فرماتے تو ہر دو مال داروں کے ساتھ ایک غریب مسلمان کو کردیتے کہ وہ غریب ان کی خدمت کرے وہ اسے کھلائیں پلائیں ہر ایک کاکا م چلے اسی طرح حضرت سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہ دو آدمیوں کے ساتھ کئے گئے تھے ، ایک روز وہ سوگئے اور کھانا تیار نہ کرسکے تو ان دونوں نے انہیں کھانا طلب کرنے کے لئے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، حضور کے خادمِ مطبخ حضرت اُسامہ تھے رضی اللہ تعالٰی عنہ ، ان کے پاس کچھ رہا نہ تھا ، انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں ، حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے یہی آکر کہہ دیا تو ان دونوں رفیقوں نے کہا کہ اُسامہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے بُخل کیا ، جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، فرمایا میں تمہارے منہ میں گوشت کی رنگت دیکھتا ہوں ، انہوں نے عرض کیا ہم نے گوشت کھایا ہی نہیں ، فرمایا تم نے غیبت کی اور جو مسلمان کی غیبت کرے اس نے مسلمان کا گوشت کھایا ۔مسئلہ : غیبت بالاتفاق کبائر میں سے ہے ، غیبت کرنے والے کو توبہ لازم ہے ، ایک حدیث میں یہ ہے کہ غیبت کا کَفّارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے اس کے لئے دعائے مغفرت کرے ۔مسئلہ : فاسقِ معلِن کے عیب کا بیان غیبت نہیں ، حدیث شریف میں ہے کہ فاجر کے عیب بیان کرو کہ لوگ اس سے بچیں ۔ مسئلہ : حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ تین شخصوں کی حرمت نہیں ایک صاحبِ ہوا (بدمذہب) ، دوسرا فاسقِ معلِن ، تیسرا بادشاہ ظالم ، یعنی ان کے عیوب بیان کرنا غیبت نہیں ۔
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد (ف۲۹) اور ایک عورت (ف۳۰) سے پیدا کیا (ف۳۱) اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو (ف۳۲) بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے (ف۳۳) بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے،
O mankind! We have indeed created you from one man and one woman, and have made you into various nations and tribes so that you may know one another; indeed the more honourable among you, in the sight of Allah, is one who is more pious among you; indeed Allah is All Knowing, All Aware. (Piety is the basis of honour in Allah’s sight.)
ऐ लोगो! हमने तुम्हें एक मर्द और एक औरत से पैदा किया और तुम्हें शाख़ें और क़बीले किया कि आपस में पहचान रखो बेशक अल्लाह के यहाँ तुम में ज़्यादा इज़्ज़त वाला वो जो तुम में ज़्यादा परहेज़गार है बेशक अल्लाह जानने वाला ख़बरदार है ,
Ae logo! Humne tumhein ek mard aur ek aurat se paida kiya aur tumhein shaakhein aur qabile kiya ke aapas mein pehchaan rakho beshak Allah ke yahan tum mein zyada izzat wala woh jo tum mein zyada parhezgaar hai beshak Allah jaanne wala khabardaar hai ,
(ف29)حضرت آدم علیہ السلام ۔(ف30)حضرت حوا ۔(ف31)نسب کے اس انتہائی درجہ پر جا کر تم سب کے سب مل جاتے ہو تو نسب میں تفاخر اور تفاضل کی کوئی وجہ نہیں ، سب برابر ہو ، ایک جدِّ اعلی کی اولاد ۔(ف32)اور ایک دوسرے کا نسب جانے اور کوئی اپنے باپ دادا کے سوا دوسرے کی طرف اپنی نسبت نہ کرے ، نہ یہ کہ نسب پر فخر کرے اور دوسروں کی تحقیر کرے ۔ اس کے بعد اس چیز کا بیان فرمایا جاتا ہے جو انسان کے لئے شرافت وفضیلت کا سبب اور جس سے اس کو بارگاہِ الٰہی میں عزّت حاصل ہوتی ہے ۔(ف33)اس سے معلوم ہوا کہ مدار عزّت و فضیلت کا پرہیزگاری ہے ، نہ کہ نسب ۔شانِ نزول : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بازارِ مدینہ میں ایک حبشی غلام ملاحظہ فرمایا جو یہ کہہ رہا تھا کہ جو مجھے خریدے اس سے میری یہ شرط ہے کہ مجھے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اقتداء میں پانچوں نمازیں ادا کرنے سے منع نہ کرے ، اس غلام کو ایک شخص نے خرید لیا ، پھر وہ غلام بیمار ہوگیا تو سیّدِ عالَمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کی عیادت کے لئے تشریف لائے ، پھر اس کی وفات ہوگئی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کے دفن میں تشریف لائے ، اس پر لوگوں نے کچھ کہا ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
گنوار بولے ہم ایمان لائے (ف۳٤) تم فرماؤ تم ایمان تو نہ لائے (ف۳۵) ہاں یوں کہوں کہ ہم مطیع ہوئے (ف۳٦) اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا (ف۳۷) اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے (ف۳۸) تو تمہارے کسی عمل کا تمہیں نقصان نہ دے گا (ف۳۹) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
The ignorant said, “We have accepted faith”; say, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “You have surely not accepted faith, but you should say ‘We have submitted’, for faith has not yet entered your hearts; and if you obey* Allah and His Noble Messenger, He will not reduce the reward of any of your deeds; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.” (* By accepting faith and then obeying the commands).
गँवार बोले हम ईमान लाए तुम फ़रमाओ तुम ईमान तो न लाए हाँ यूँ कहो कि हम मतीअ हुए और अभी ईमान तुम्हारे दिलों में कहाँ दाख़िल हुआ और अगर तुम अल्लाह और उसके रसूल की फ़रमाबरदारी करोगे तो तुम्हारे किसी अमल का तुम्हें नुक़सान न देगा बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है ,
Ganwaar bole hum imaan laye tum farmao tum imaan to na laye haan yun kaho ke hum muti hue aur abhi imaan tumhare dilon mein kahan daakhil hua aur agar tum Allah aur uske Rasool ki farma-bardari karoge to tumhare kisi amal ka tumhein nuqsaan na dega beshak Allah bakhshne wala mehrban hai ,
(ف34)شانِ نزول : یہ آیت بنی اسد بن خزیمہ کی ایک جماعت کے حق میں نازل ہوئی جو خشک سالی کے زمانہ میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام کا اظہار کیا اور حقیقت میں وہ ایمان نہ رکھتے تھے ، ان لوگوں نے مدینہ کے رستہ میں گندگیاں کیں اور وہاں کے بھاؤگراں کردیئے ، صبح و شام رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں آکر اپنے اسلام لانے کا احسان جتاتے اور کہتے ہمیں کچھ دیجئے ، ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف35)صدقِ دل سے ۔(ف36)ظاہر میں ۔(ف37)مسئلہ : محض زبانی اقرار جس کے ساتھ قلبی تصدیق نہ ہو معتبر نہیں ، اس سے آدمی مومن نہیں ہوتا ، اطاعت و فرمانبرداری اسلام کے لغوی معنٰی ہیں اور شرعی معنٰی میں اسلام اور ایمان ایک ہیں کوئی فرق نہیں ۔(ف38)ظاہراً و باطناً صدق و اخلاص کے ساتھ نفاق کو چھوڑ کر ۔(ف39)تمہاری نیکیوں کا ثواب کم نہ کرے گا ۔
ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک نہ کیا (ف٤۰) اور اپنی جان اور مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی سچے ہیں (ف٤۱)
The true believers are only those who accepted faith in Allah and His Noble Messenger and then did not have any doubt, and fought with their wealth and their lives in Allah’s way; it is they who are the truthful.
ईमान वाले तो वही हैं जो अल्लाह और उसके रसूल पर ईमान लाए फिर शक न किया और अपनी जान और माल से अल्लाह की राह में जिहाद किया वही सच्चे हैं
Imaan wale to wahi hain jo Allah aur uske Rasool par imaan laye phir shak na kiya aur apni jaan aur maal se Allah ki raah mein jihaad kiya wahi sache hain
(ف40)اپنے دِین و ایمان میں ۔(ف41)ایمان کے دعوٰی میں ۔شانِ نزول : جب یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں تو اعراب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے قَسمیں کھائیں کہ ہم مومنِ مخلص ہیں ۔ اس پر اگلی آیت نازل ہوئی اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خطاب فرمایا گیا ۔
تم فرماؤ کیا تم اللہ کو اپنا دین بتاتے ہو، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے (ف٤۲) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف٤۳)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Are you teaching Allah your own religion? Whereas Allah knows all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth; and Allah knows all things.”
तुम फ़रमाओ क्या तुम अल्लाह को अपना दीन बताते हो, और अल्लाह जानता है जो कुछ आसमानों में और जो कुछ ज़मीन में है और अल्लाह सब कुछ जानता है
Tum farmao kya tum Allah ko apna deen batate ho, aur Allah jaanta hai jo kuch aasmanon mein aur jo kuch zameen mein hai aur Allah sab kuch jaanta hai
(ف42)اس سے کچھ مخفی نہیں ۔(ف43)مومن کا ایمان بھی اور منافق کا نفاق بھی ، تمہارے بتانے اور خبر دینے کی حاجت نہیں ۔
اے محبوب وہ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے، تم فرماؤ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں اسلام کی ہدایت کی اگر تم سچے ہو (ف٤٤)
They portray that they are doing a great favour to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) by having become Muslims; say, “Do not think that you have done me a favour by accepting Islam; in fact Allah has bestowed a favour upon you, for He guided you to Islam, if you are truthful.”
ऐ महबूब वो तुम पर एहसान जताते हैं कि मुसलमान हो गए , तुम फ़रमाओ अपने इस्लाम का एहसान मुझ पर न रखो बल्कि अल्लाह तुम पर एहसान रखता है कि उसने तुम्हें इस्लाम की हिदायत की अगर तुम सच्चे हो
Ae mehboob woh tum par ehsaan jatate hain ke Musalman ho gaye , tum farmao apne Islam ka ehsaan mujh par na rakho balki Allah tum par ehsaan rakhta hai ke usne tumhein Islam ki hidaayat ki agar tum sache ho
بیشک اللہ جانتا ہے آسمانوں اور زمین کے سب غیب، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف٤۵)
Indeed Allah knows all the hidden of the heavens and the earth; and Allah is seeing your deeds.
बेशक अल्लाह जानता है आसमानों और ज़मीन के सब ग़ैब, और अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है
Beshak Allah jaanta hai aasmanon aur zameen ke sab ghaib, aur Allah tumhare kaam dekh raha hai",
(ف45)اس سے تمہارا کوئی حال چُھپا نہیں ، نہ ظاہر ، نہ مخفی ۔
قٓ ۚ وَالۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِيۡدِۚ ﴿1﴾
عزت والے قرآن کی قسم (ف۲)
Qaf; by oath of the Glorious Qur’an.
ऐ ईमान वालो अपनी آوازें ऊँची न करो इस ग़ैब बताने वाले (नबी) की आवाज़ से और उनके हुज़ूर बात चला कर न कहो जैसे आपस में एक दूसरे के सामने चिल्लाते हो कि कहीं तुम्हारे अमल अकारत न हो जाएँ और तुम्हें ख़बर न हो
Ae iman walo Allah aur us ke Rasool se aage na barho aur Allah se daro beshak Allah sunta janta hai,
(ف2)ہم جانتے ہیں کہ کفّارِ مکّہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان نہیں لائے ۔
بلکہ انھیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہی میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا (ف۳) تو کافر بولے یہ تو عجیب بات ہے،
Rather they were shocked that a Herald of Warning came to them from among themselves, so the disbelievers said, “This is something really strange.”
बेशक वो जो अपनी आवाज़ें पस्त करते हैं रसूलुल्लाह के पास वो हैं जिनका दिल अल्लाह ने परहेज़गारी के लिए परख लिया है, उनके लिए बख़्शिश और बड़ा सवाब है,
Ae iman walo apni aawazen oonchi na karo is ghaib batane wale (Nabi) ki aawaz se aur un ke huzoor baat chala kar na kaho jaise aapas mein ek doosre ke samne chillate ho ke kahin tumhare aamal akarat na ho jayein aur tumhein khabar na ho
(ف3)جس کی عدالت و امانت اور صدق و راست بازی کو وہ خوب جانتے ہیں اور یہ بھی ان کے دل نشین ہے کہ ایسے صفات کا شخص سچّا ، ناصح ہوتا ہے باوجود اس کے ان کا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوّت اور حضورکے انذار سے تعجّب و انکار کرنا قابلِ حیرت ہے ۔
کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے پھر جیئں گے یہ پلٹنا دور ہے (ف٤)
“When we are dead and have turned to dust, will we be raised again? That return is impossible!”
बेशक वो जो तुम्हें हुजरों के बाहर से पुकारते हैं उनमें अक्सर बे अक़्ल हैं
Beshak woh jo apni aawazen past karte hain Rasool Allah ke paas woh hain jinka dil Allah ne parhezgari ke liye parakh liya hai, un ke liye bakhshish aur bara sawab hai,
(ف4)ان کی اس بات کے ردّ و جواب میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔
ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے گھٹاتی ہے (ف۵) اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے (ف٦)
We know all what the earth decreases from them; and with Us is a Book that retains.
और अगर वो सब्र करते यहाँ तक कि तुम आप उनके पास तशरीफ़ लाते तो ये उनके लिए बेहतर था, और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है
Beshak woh jo tumhein hujron ke bahar se pukarte hain un mein aksar be-aqal hain
(ف5)یعنی ان کے جسم کے جو حصّے گوشت ، خون ، ہڈیاں وغیرہ زمین کھا جاتی ہے ان میں سے کوئی چیز ہم سے چُھپی نہیں تو ہم ان کو ویسے ہی زندہ کرنے پر قادر ہیں جیسے کہ وہ پہلے تھے ۔(ف6)جس میں ان کے اسماءِ اعداد اور جو کچھ ان میں سے زمین نے کھایا سب ثابت و مکتوب و محفوظ ہے ۔
بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا (ف۷) جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک مضطرب بےثبات بات میں ہیں (ف۸)
In fact they denied the Truth when it came to them, so they are now in a dilemma.
ऐ ईमान वालो अगर कोई फासिक तुम्हारे पास कोई ख़बर लाए तो तहक़ीक़ कर लो कि कहीं किसी क़ौम को बे जाने ईज़ा न दे बैठो फिर अपने किए पर पछताते रह जाओ,
Aur agar woh sabr karte yahan tak ke tum aap un ke paas tashreef late to ye un ke liye behtar tha, aur Allah bakhshne wala mehrban hai
(ف7)بغیر سوچے سمجھے ۔ اور حق سے مراد یا نبوّت ہے جس کے ساتھ معجزاتِ باہرات ہیں یا قرآنِ مجید ۔(ف8)تو کبھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو شاعر ، کبھی ساحر ، کبھی کاہن اور اسی طرح قرآنِ پاک کو شِعر و سِحر و کہانت کہتے ہیں ،کسی ایک بات پر قرار نہیں ۔
تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا (ف۹) ہم نے اسے کیسے بنایا (ف۱۰) اور سنوارا (ف۱۱) اور اس میں کہیں رخنہ نہیں (ف۱۲)
So did they not see the sky above them – how We have made it and beautified it, and there are no cracks in it?
और जान लो कि तुम में अल्लाह के रसूल हैं बहुत मामलों में अगर ये तुम्हारी ख़ुशी करें तो तुम ज़रूर मशक्क़त में पड़ो लेकिन अल्लाह ने तुम्हें ईमान प्यारा कर दिया है और उसे तुम्हारे दिलों में आरास्ता कर दिया और कुफ़्र और हुक्म अदूली और नाफ़रमानी तुम्हें नागवार कर दी, ऐसे ही लोग राह पर हैं
Ae iman walo agar koi fasiq tumhare paas koi khabar laye to tehqiq kar lo ke kahin kisi qaum ko be-jaane eeza na de baitho phir apne kiye par pachtate rah jao,
(ف9)چشمِ بینا و نظرِ اعتبار سے کہ اس کی آفرینش میں ہماری قدرت کے آثار نمایاں ہیں ۔(ف10)بغیر ستون کے بلند کیا ۔(ف11)کواکب کے روشن اجرام سے ۔(ف12)کوئی عیب و قصور نہیں ۔
اور زمین کو ہم نے پھیلایا (ف۱۳) اور اس میں لنگر ڈالے (بھاری وزن رکھے) (ف۹۱٤ اور اس میں ہر بارونق جوڑا اُگایا ،
And (how) We have spread the earth, and placed mountains as anchors in it, and have grown all kinds of beautiful pairs in it?
अल्लाह का फ़ज़ल और एहसान, और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है,
Aur jaan lo ke tum mein Allah ke Rasool hain bohot maamlat mein agar ye tumhari khushi karein to tum zaroor mushqqat mein paro lekin Allah ne tumhein iman pyara kar diya hai aur usay tumhare dilon mein arasta kar diya aur kufr aur hukm adooli aur nafarmaani tumhein nagawaar kar di, aise hi log raah par hain
سوجھ اور سمجھ (ف۱۵) ہر رجوع والے بندے کے لیے (ف۱٦)
A perception and an understanding, for every bondman who inclines.
और अगर मुसलमानों के दो गिरोह आपस में लड़ें तो उनमें सुलह कराओ फिर अगर एक दूसरे पर ज़्यादती करे तो उस ज़्यादती वाले से लड़ो यहाँ तक कि वो अल्लाह के हुक्म की तरफ़ पलट आए, फिर अगर पलट आए तो इंसाफ़ के साथ उनमें इस्लाह कर दो और अद्ल करो, बेशक अद्ल वाले अल्लाह को प्यारे हैं,
Allah ka fazl aur ehsaaan, aur Allah ilm o hikmat wala hai,
(ف15)کہ اس سے بینائی و نصیحت حاصل ہو ۔(ف16)جو اللہ تعالٰی کے بدائعِ صنعت و عجائبِ خلقت میں نظر کرکے اس کی طرف رجوع ہو ۔
اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا (ف۱۷) تو اس سے باغ اُگائے اور اناج کہ کاٹا جاتا ہے (ف۱۸)
And We sent down the auspicious water from the sky, therefore producing gardens with it, and the grain that is harvested.
मुसलमान मुसलमान भाई हैं तो अपने दो भाइयों में सुलह करो और अल्लाह से डरो कि तुम पर रहमत हो
Aur agar musalmanon ke do groh aapas mein laren to un mein sulah karao phir agar ek doosre par zyada-ti kare to us zyada-ti wale se laro yahan tak ke woh Allah ke hukm ki taraf palat aaye, phir agar palat aaye to insaaf ke sath un mein islaah kar do aur adl karo, beshak adl wale Allah ko pyare hain,
(ف17)یعنی بارش جس سے ہر چیز کی زندگی اور بہت خیرو برکت ہے ۔(ف18)طرح طرح کا گیہوں ، جَو ، چنا وغیرہ ۔
ऐ ईमान वालो न मर्द मर्दों से हँसें अजब नहीं कि वो इन हँसने वालों से बेहतर हों और न औरतें औरतों से, दूर नहीं कि वो इन हँसने वालियों से बेहतर हों और आपस में ताना न करो और एक दूसरे के बुरे नाम न रखो क्या ही बुरा नाम है मुसलमान होकर फासिक कहलाना और जो तौबा न करें तो वही ज़ालिम हैं,
Musalman musalman bhai hain to apne do bhaiyon mein sulah karo aur Allah se daro ke tum par rahmat ho
ندووں کی روزی کے لیے اور ہم نے اس (ف۱۹) سے مردہ شہر جِلایا (ف۲۰) یونہی قبروں سے تمہارا نکلنا ہے (ف۲۱)
As sustenance for the bondmen; and with it We revived a dead city; this is how you will be raised.
ऐ ईमान वालो बहुत गुमानों से बचो बेशक कोई गुमान गुनाह हो जाता है और ऐब न ढूँढ़ो और एक दूसरे की ग़ीबत न करो क्या तुम में कोई पसंद रखेगा कि अपने मरे भाई का गोश्त खाए तो ये तुम्हें गवारा न होगा और अल्लाह से डरो बेशक अल्लाह बहुत तौबा क़बूल करने वाला मेहरबान है,
Ae iman walo na mard mardon se hansein ajab nahi ke woh in hansne walon se behtar hon aur na auratein auraton se, door nahi ke woh in hansne waliyon se behtar hon aur aapas mein taana na karo aur ek doosre ke bure naam na rakho kya hi bura naam hai musalman ho kar fasiq kehlana aur jo tauba na karein to wohi zalim hain,
(ف19)بارش کے پانی ۔(ف20)جس کے نباتات خشک ہوچکے تھے ، پھر اس کو سبزہ زار کردیا ۔(ف21)تو اللہ تعالٰی کی قدرت کے آثار دیکھ کر مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے کا کیوں انکار کرتے ہو ۔
ان سے پہلے جھٹلایا (ف۲۲) نوح کی قوم اور رس والوں (ف۲۳) اور ثمود
Before these, the people of Nooh had denied, and so did the dwellers of Rass and the Thamud.
ऐ लोगो! हमने तुम्हें एक मर्द और एक औरत से पैदा किया और तुम्हें शाखें और क़बीलें किया कि आपस में पहचान रखो बेशक अल्लाह के यहाँ तुम में ज़्यादा इज़्ज़त वाला वो जो तुम में ज़्यादा परहेज़गार है बेशक अल्लाह जानने वाला ख़बरदार है,
Ae iman walo bohot gumano se bacho beshak koi guman gunaah ho jata hai aur aib na dhoondo aur ek doosre ki gheebat na karo kya tum mein koi pasand rakhega ke apne mare bhai ka gosht khaye to ye tumhein gawara na hoga aur Allah se daro beshak Allah bohot tauba qubool karne wala mehrban hai,
(ف22)رسولوں کو ۔(ف23)رَسْ ایک کنواں ہے جہاں یہ لوگ مع اپنے مویشی کے مقیم تھے اور بتوں کو پوجتے تھے ، یہ کنواں زمین میں دھنس گیا اور اس کے قریب کی زمین بھی ، یہ لوگ اور ان کے اموال اس کے ساتھ دھنس گئے ۔
وَعَادٌ وَّفِرۡعَوۡنُ وَاِخۡوَانُ لُوۡطٍۙ ﴿13﴾
اور عاد اور فرعون اور لوط کے ہم قوموں
And the tribe of A’ad, and Firaun, and the fellowmen of Lut.
गँवार बोले हम ईमान लाए तुम फ़रमाओ तुम ईमान तो न लाए हाँ यूँ कहो कि हम मतीअ हुए और अभी ईमान तुम्हारे दिलों में कहाँ दाख़िल हुआ और अगर तुम अल्लाह और उसके रसूल की फ़रमाँबरदारी करोगे तो तुम्हारे किसी अमल का तुम्हें नुक़सान न देगा बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Ae logo! hum ne tumhein ek mard aur ek aurat se paida kiya aur tumhein shaakhein aur qabile kiya ke aapas mein pehchaan rakho beshak Allah ke yahan tum mein zyada izzat wala woh jo tum mein zyada parhezgaar hai beshak Allah jan-ne wala khabardaar hai,
اور بَن والوں اور تبع کی قوم نے (ف۲٤) ان میں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا (ف۲۵)
And the Dwellers of the Woods, and the people of Tubb’a; each one of them one denied the Noble Messengers, so My promised punishment proved true.
ईमान वाले तो वही हैं जो अल्लाह और उसके रसूल पर ईमान लाए फिर शक न किया और अपनी जान और माल से अल्लाह की राह में जिहाद किया वही सच्चे हैं
Ganwaar bole hum iman laye tum farmao tum iman to na laye haan yun kaho ke hum mutii hue aur abhi iman tumhare dilon mein kahan daakhil hua aur agar tum Allah aur us ke Rasool ki farma-bardari karoge to tumhare kisi amal ka tumhein nuqsan na dega beshak Allah bakhshne wala mehrban hai,
(ف24)ان سب کے تذکرے سورۂِ فرقان و حجر و دخان میں گزر چکے ۔(ف25)اس میں قریش کو تہدید اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تسلّی ہے کہ آپ قریش کے کفر سے تنگ دل نہ ہوں ، ہم ہمیشہ رسولوں کی مدد فرماتے اور ان کے دشمنوں پر عذاب کرتے رہے ہیں ۔ اس کے بعد منکِرینِ بعث کے انکار کا جواب ارشاد ہوتا ہے ۔
تو کیا ہم پہلی بار بناکر تھک گئے (ف۲٦) بلکہ وہ نئے بننے سے (ف۲۷) شبہ میں ہیں،
So did We tire by creating the first time? Rather they doubt being created again.
तुम फ़रमाओ क्या तुम अल्लाह को अपना दीन बताते हो, और अल्लाह जानता है जो कुछ आसमानों में और जो कुछ ज़मीन में है और अल्लाह सब कुछ जानता है
Iman wale to wahi hain jo Allah aur us ke Rasool par iman laye phir shak na kiya aur apni jaan aur maal se Allah ki raah mein jihad kiya wahi sachche hain
(ف26)جو دوبارہ پیدا کرنا ہمیں دشوار ہو ۔ اس میں منکِرینِ بعث کے کمالِ جہل کا اظہار ہے کہ باوجود اس اقرار کے کہ خَلق اللہ تعالٰی نے پیدا کی اس کے دوبارہ پیدا کرنے کو محال اور مستبعد سمجھتے ہیں ۔(ف27)یعنی موت کے بعد پیدا کئے جانے سے ۔
اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے (ف۲۸) اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں (ف۲۹)
And indeed We have created man and We know what his soul instils in him; and We are nearer to him than the hearts artery.
ऐ महबूब वो तुम पर एहसान जताते हैं कि मुसलमान हो गए, तुम फ़रमाओ अपने इस्लाम का एहसान मुझ पर न रखो बल्कि अल्लाह तुम पर एहसान रखता है कि उसने तुम्हें इस्लाम की हिदायत की अगर तुम सच्चे हो
Tum farmao kya tum Allah ko apna deen batate ho, aur Allah jaanta hai jo kuch aasmanon mein aur jo kuch zameen mein hai aur Allah sab kuch jaanta hai
(ف28)ہم سے اس کے سرائر و ضمائر چُھپے نہیں ۔(ف29)یہ کمالِ علم کا بیان ہے کہ ہم بندے کے حال کو خود اس سے زیادہ جاننے والے ہیں ۔ وَرِیْد وہ رگ ہے جس میں خون جاری ہو کر بدن کے ہر ہر جزو میں پہنچتا ہے ، یہ رگ گردن میں ہے ۔ معنٰی یہ ہیں کہ انسان کے اجزاء ایک دوسرے سے پردے میں ہیں مگر اللہ تعالٰی سے کوئی چیز پردے میں نہیں ۔
اور جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے (ف۳۰) ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں (ف۳۱)
When the two receiving angels receive from him, one seated on the right and one on the left.
बेशक अल्लाह जानता है आसमानों और ज़मीन के सब ग़ैब, और अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है
Ae mehboob woh tum par ehsaaan jatate hain ke musalman ho gaye, tum farmao apne Islam ka ehsaaan mujh par na rakho balke Allah tum par ehsaaan rakhta hai ke us ne tumhein Islam ki hidayat di agar tum sachche ho
(ف30)فرشتے ۔ اور وہ انسان کا ہر عمل اور اس کی ہر بات لکھنے پر مامور ہیں ۔(ف31)داہنی طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور بائیں طرف والا بدیاں ۔ اس میں اظہار ہے کہ اللہ تعالٰی فرشتوں کے لکھنے سے بھی غنی ہے ، وہ اخفی الخفیات کا جاننے والا ہے ، خطراتِ نفس تک اس سے چُھپے نہیں ، فرشتوں کی کتابت حسبِ اقتضائے حکمت ہے کہ روزِ قیامت نامۂِ اعمال ہر شخص کے اس کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں ۔
کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو (ف۳۲)
He does not utter a single word, without a ready recorder seated next to him.
(ف32)خواہ وہ کہیں ہو سوائے وقتِ قضائے حاجت اور وقتِ جماع کے اس وقت یہ فرشتے آدمی کے پاس سے ہٹ جاتے ہیں ۔مسئلہ : ان دونوں حالتوں میں آدمی کو بات کرنا جائز نہیں تاکہ اس کے لکھنے کے لئے فرشتوں کو اس حالت میں اس سے قریب ہونے کی تکلیف نہ ہو ، یہ فرشتے آدمی کی ہر بات لکھتے ہیں بیماری کا کراہنا تک ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف وہی چیزیں لکھتے ہیں جن میں اجرو ثواب یا گرفت و عذاب ہو ۔ امام بغوی نے ایک حدیث روایت کی ہے کہ جب آدمی ایک نیکی کرتا ہے تو دہنی طرف والا فرشتہ دس لکھتا ہے اور جب بدی کرتا ہے تو دہنی طرف والا فرشتہ بائیں جانب والے فرشتے سے کہتا ہے کہ ابھی توقّف کر شاید یہ شخص استغفار کرلے ۔ منکِرینِ بعث کارد فرمانے اور اپنے قدرت و علم سے ان پر حجّتیں قائم کرنے کے بعد انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ جس چیز کا انکار کرتے ہیں وہ عنقریب ان کی موت اور قیامت کے وقت پیش آنے والی ہے ۔ اور صیغۂِ ماضی سے ان کی آمد کی تعبیر فرما کر اس کے قرب کا اظہار کیا جاتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔
اور آئی موت کی سختی (ف۳۳) حق کے ساتھ (ف۳٤) یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا
And the hardship of death came with the truth; “This is what you were escaping from!”
(ف33)جو عقل و حوّاس کو مختل ومکدر کردیتی ہے ۔(ف34)حق سے مراد یا حقیقتِ موت یا امرِ آخرت جس کو انسان خود معائنہ کرتا ہے یا انجام کار سعادت و شقاوت اور سکرات کی حالت میں مرنے والے سے کہا جاتا ہے کہ موت ۔
اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا (ف۳۷) اور ایک گواہ (ف۳۸)
And every soul came, along with a herder and a witness.
(ف37)فرشتہ جو اسے محشر کی طرف ہانکے ۔(ف38)جو اس کے عملوں کی گواہی دے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھمانے فرمایا کہ ہانکنے والا فرشتہ ہوگا اور گواہ خود اس کا اپنا نفس ۔ ضحاک کا قول ہے کہ ہانکنے والا فرشتہ ہے اور گواہ اپنے اعضائے بدن ہاتھ ، پاؤں وغیرہ ۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بَرسرِ منبر فرمایا کہ ہانکنے والا بھی فرشتہ ہے اور گواہ بھی فرشتہ ۔ (جمل) پھر کافر سے کہا جائے گا ۔
اس کے ساتھی شیطان نے کہا (ف٤۵) ہمارے رب میں نے اسے سرکش نہ کیا (ف٤٦) ہاں یہ آپ ہی دور کی گمراہی میں تھا (ف٤۷)
His accompanying devil said, “Our Lord! I did not cause him to rebel, but he himself was in extreme error.”
(ف45)جو دنیا میں اس پر مسلّط تھا ۔(ف46)یہ شیطان کی طرف سے کافر کا جواب ہے جو جہنّم میں ڈالے جاتے وقت کہے گا کہ اے ہمارے رب مجھے شیطان نے ورغلایا ، اس پر شیطان کہے گا کہ میں نے اسے گمراہ نہ کیا ۔(ف47)میں نے اسے گمراہی کی طرف بلایا اس نے قبول کرلیا ۔ اس پر ارشادِ الٰہی ہوگا اللہ تعالٰی ۔
فرمائے گا میرے پاس نہ جھگڑو (ف٤۸) میں تمہیں پہلے ہی عذاب کا ڈر سنا چکا تھا (ف٤۹)
He will say, “Do not dispute before Me – I had already warned you of the punishment.”
(ف48)کہ دارالجزا اور موقفِ حساب میں جھگڑا کچھ نافع نہیں ۔(ف49)اپنی کتابوں میں اور اپنے رسولو ں کی زبانوں پر میں نے تمہارے لئے کوئی حجّت باقی نہ چھوڑی ۔
جس دن ہم جہنم سے فرمائیں گے کیا تو بھر گئی (ف۵۰) وہ عرض کرے گی کچھ اور زیادہ ہے (ف۵۱)
The day when We will ask hell, “Are you filled up?” and it will answer, “Are there some more?”
(ف50)اللہ تعالٰی نے جہنّم سے وعدہ فرمایا ہے کہ اسے جنّوں اور انسانوں سے بھرے گا ، اس وعدہ کی تحقیق کے لئے جہنّم سے یہ سوال فرمایا جائے گا ۔(ف51)اس کے معنٰی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اب مجھ میں گنجائش باقی نہیں ، میں بھر چکی ۔ اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ابھی اور بھی گنجائش ہے ۔
یہ ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (ف۵۳) ہر رجوع لانے والے نگہداشت والے کے لیے (ف۵٤)
This is what you are promised – for every repenting, careful person.
(ف53)رسولوں کی معرفت دنیا میں ۔(ف54)رجوع لانے والے سے وہ مراد ہے جو معصیّت کو چھوڑ کر طاعت اختیار کرے ۔ سعید بن مسیّب نے فرمایا 'اَوَّاب' وہ ہے جو گناہ کرے ، پھر توبہ کرے ، پھر اس سے گناہ صادر ہو ، پھر توبہ کرے اور نگہداشت والا جو اللہ کے حکم کا لحاظ رکھے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا جو اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھے اوران سے استغفار کرے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو اللہ تعالٰی کی امانتوں اور اس کے حقوق کی حفاظت کرے ۔ اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو طاعات کا پابند ہو خدا اور رسول کے حکم بجالائے اور اپنے نفس کی نگہبانی کرے یعنی ایک دم بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ ہو ۔ پاس انفاس کرے ، اگر تو پاسداری پاس انفاس: بسلطانی رسانندت ازیں پاس : ترایک پند بس درہردوعالَم : زجانت برنیاید بے خدا دم ۔
اور ان سے پہلے (ف۵۹) ہم نے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں کہ گرفت میں ان سے سخت تھیں (ف٦۰) تو شہروں میں کاوشیں کیں (ف٦۱) ہے کہیں بھاگنے کی جگہ (ف٦۲)
And many a generation We did destroy before them, who exceeded them in strength, therefore venturing in the cities! Is there a place to escape?
(ف59)یعنی آپ کے زمانہ کے کفّار سے قبل ۔(ف60)یعنی وہ امّتیں ان سے قوی اور زبردست تھیں ۔(ف61)اور جستجومیں جا بجا پھرا کئے ۔(ف62)موت اور حکمِ الٰہی سے ، مگر کوئی ایسی جگہ نہ پائی ۔
بیشک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دِل رکھتا ہو (ف٦۳) یا کان لگائے (ف٦٤) اور متوجہ ہو،
Indeed in this is an advice for anyone who keeps a heart, or listens attentively.
(ف63)دلِ دانا شبلی قدّس سرّہ نے فرمایا کہ قرآنی نصائح سے فیض حاصل کرنے کے لئے قلبِ حاضر چاہئے جس میں طرفۃ العین کے لئے بھی غفلت نہ آئے ۔(ف64)قران اور نصیحت پر ۔
اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا، اور تکان ہمارے پاس نہ آئی (ف٦۵)
And We have indeed created the heavens and the earth, and all what is between them, in six days; and fatigue did not even approach Us.
(ف65)شانِ نزول : مفسّرین نے کہا کہ یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالٰی نے آسمان و زمین اور ان کے درمیانی کائنات کو چھ روز میں بنایا جس میں سے پہلا یک شنبہ ہے اور پچھلا جمعہ ، پھر وہ معاذ اللہ تھک گیا اور سنیچر کو اس نے عرش پر لیٹ کر آرام کیا ، اس آیت میں ان کا رد ہے کہ اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ تھکے ، وہ قادر ہے کہ ایک آن میں سارا عالَم بنادے ، ہر چیز کو حسبِ اقتضائے حکمت ہستی عطا فرماتا ہے ۔ شانِ الٰہی میں یہود کا یہ کلمہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بہت ناگوار ہوا اور شدّتِ غضب سے چہرۂِ مبارک پر سرخی نمودار ہوگئی تو اللہ تعالٰی نے آپ کی تسکین فرمائی اور خطاب ہوا ۔
تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے (ف٦٦)
Therefore (O dear prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) patiently bear upon what they say, and praising your Lord say His Purity before the sun rises and before the sun sets.
اور کچھ رات گئے اس کی تسبیح کرو (ف٦۷) اور نمازوں کے بعد (ف٦۸)
And say His Purity during the night, and after the customary prayers.
(ف67)یعنی وقتِ مغرب و عشاء و تہجّد ۔(ف68)حدیث : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما سے مروی ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تمام نمازوں کے بعد تسبیح کرنے کا حکم فرمایا ۔ (بخاری ) حدیث : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ، تینتیس۳۳ مرتبہ ، الحمد للہ تینتیس۳۳ مرتبہ اللہ اکبر اور ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شیء قدیر پڑھے اس کے گناہ بخشے جائیں چاہے سمندر کے جھاگوں کے برابر ہوں یعنی بہت ہی کثیر ہوں ۔ (مسلم شریف)
اور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والا پکارے گا (ف٦۹) ایک پاس جگہ سے (ف۷۰)
And listen attentively on the day when an announcer will proclaim from a place nearby.
(ف69)یعنی حضرت اسرافیل علیہ السلام ۔(ف70)یعنی صخرۂِ بیت المقدِس سے ، جو آسمان کی طرف زمین کا سب سے قریب مقام ہے ۔ حضرت اسرافیل کی ندا یہ ہوگی اے گلی ہوئی ہڈیو ، بکھرے ہوئے جوڑو ، ریزہ ریزہ شدہ گوشتو ، پراگندہ بالو ، اللہ تعالٰی تمہیں فیصلہ کے لئے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے ۔
ہم خوب جان رہے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں (ف۷٤) اور کچھ تم ان پر جبر کرنے والے نہیں (ف۷۵) تو قرآن سے نصیحت کرو اسے جو میری دھمکی سے ڈرے،
We well know what they say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), and you are not one to use force over them; therefore advise him with the Qur’an, whoever fears My threat.
(ف74)یعنی کفّارِ قریش ۔(ف75)کہ انہیں بزور اسلام میں داخل کرو ، آپ کا کام دعوت دینا اور سمجھا دینا ہے ' وکان ھذاقبل الامربالقتال '۔
وَالذّٰرِيٰتِ ذَرۡوًا ۙ ﴿1﴾
قسم ان کی جو بکھیر کر اڑانے والیاں (ف۲)
By oath of those which carry away while dispersing.
क़सम उनकी जो बिखेर कर उड़ाने वालियाँ फ
Qasam un ki jo bikher kar urane waliyan f
(ف2)یعنی وہ ہوائیں جو خاک وغیرہ کو اڑاتی ہیں ۔
فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا ۙ ﴿2﴾
پھر بوجھ اٹھانے والیاں (ف۳)
Then by oath of those which carry the burdens.
फिर बोझ उठाने वालियाँ फ
Phir bojh uthhane waliyan f
(ف3)یعنی وہ گھٹائیں اور بدلیاں جو بارش کا پانی اٹھاتی ہیں ۔
فَالۡجٰرِيٰتِ يُسۡرًا ۙ ﴿3﴾
پھر نرم چلنے والیاں (ف٤)
Then by oath of those which move with ease.
फिर नरम चलने वालियाँ फ
Phir narm chalne waliyan f
(ف4)وہ کَشتیاں جو پانی میں بسہولت چلتی ہیں ۔
فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ ﴿4﴾
پھر حکم سے بانٹنے والیاں (ف۵)
Then by oath of those which distribute by the command.
फिर हुक्म से बाँटने वालियाँ फ
Phir hukm se baantne waliyan f
(ف5)یعنی فرشتوں کی وہ جماعتیں جو بحکمِ الٰہی بارش و رزق وغیرہ تقسیم کرتی ہیں اور جن کو اللہ تعالٰی نے مدبّرات الامر کیا ہے اور عالَم میں تدبیر و تصرّف کا اختیار عطا فرمایا ہے ۔ بعض مفسّرین کا قول ہے کہ یہ تمام صفتیں ہواؤں کی ہیں کہ وہ خاک بھی اڑاتی ہیں ، بادلوں کو بھی اٹھائے پھرتی ہیں ، پھر انہیں لے کر بسہولت چلتی ہیں ، پھر اللہ تعالٰی کے بلاد میں اس کے حکم سے بارش کو تقسیم کرتی ہیں ۔ قَسم کا مقصودِ اصلی اس چیز کی عظمت بیان کرنا ہے جس کے ساتھ قَسم فرمائی گئی کیونکہ یہ چیزیں کمالِ قدرتِ الٰہی پر دلا لت کرنے والی ہیں ۔ اربابِ دانش کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ان میں نظر کرکے بعث و جزا پر استدلال کریں کہ جو قادرِ برحق ایسے امورِ عجیبہ پر قدرت رکھتا ہے وہ اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کو فنا کرنے کے بعد دوبارہ ہستی عطا فرمانے پر بے شک قادر ہے ۔
اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ ﴿5﴾
بیشک جس بات کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے (ف٦) ضروری سچ ہے،
Undoubtedly, the promise you are given is surely true.
बेशक जिस बात का तुम्हें वादा दिया जाता है ज़रूरी सच है,
Beshak jis baat ka tumhen wada diya jata hai zaruri sach hai,
(ف6)یعنی بعث و جزا ۔
وَّاِنَّ الدِّيۡنَ لوَاقِعٌ ؕ ﴿6﴾
اور بیشک انصاف ضرور ہونا (ف۷)
And undoubtedly justice will surely be done.
और बेशक इंसाफ़ ज़रूर होना
Aur beshak insaf zarur hona
(ف7)اور حساب کے بعد نیکی بدی کا بدلہ ضرور ملنا ۔
وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُـبُكِ ۙ ﴿7﴾
آرائش والے آسمان کی قسم (ف۸)
And by oath of the decorated heaven.
आराइश वाले आसमान की क़सम
Aaraish wale asman ki qasam
(ف8)جس کو ستاروں سے مزیّن فرمایا ہے کہ اےاہلِ مکّہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں اور قرآنِ پاک کے بارے میں ۔
اِنَّـكُمۡ لَفِىۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ ﴿8﴾
تم مختلف بات میں ہو (ف۹)
You are indeed in different opinions regarding this Qur’an.
तुम मुख़्तलिफ़ बात में हो
Tum mukhtalif baat mein ho
(ف9)کبھی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ساحر کہتے ہو ، کبھی شاعر ، کبھی کاہن ، کبھی مجنون (معاذ اللہ تعالٰی) اسی طرح قرآنِ کریم کو کبھی سِحر بتاتے ہو ، کبھی شِعر ،کبھی کہانت ، کبھی اگلوں کی داستانیں ۔
يُّـؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ اُفِكَ ؕ ﴿9﴾
اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت ہی میں اوندھایا جانا ہو (ف۱۰)
Only those who are destined to revert, are reverted from it.
इस क़ुरआन से वही औंधा किया जाता है जिसकी क़िस्मत ही में औंधाया जाना हो
Is Quran se wahi undha kiya jata hai jis ki qismat hi mein undhaya jana ho
(ف10)اور جو محرومِ ازلی ہے اس سعادت سے محروم رہتا ہے اور بہکانے والوں کے بہکائے میں آتا ہے ۔ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ کے کفّار جب کسی کو دیکھتے کہ ایمان لانے کا ارادہ کرتا ہے توا س سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت کہتے کہ ان کے پاس کیوں جاتا ہے ؟ وہ تو شاعر ہیں ، ساحر ہیں ۔ کاذب ہیں ۔ (معاذ اللہ تعالٰی) اور اسی طرح قرآنِ پاک کو کہتے ہیں کہ وہ شِعر ہے ، سِحر ہے ، کذب ہے ۔ (معاذ اللہ تعالٰی)
قُتِلَ الۡخَـرّٰصُوۡنَۙ ﴿10﴾
مارے جایں دل سے تراشنے والے
Slain be those who mould from their imaginations.
मारे जाएँ दिल से تراशने वाले
Mare jayein dil se tarashne wale
الَّذِيۡنَ هُمۡ فِىۡ غَمۡرَةٍ سَاهُوۡنَۙ ﴿11﴾
جو نشے میں بھولے ہوئے ہیں (ف۱۱)
Those who have forgotten in a state of intoxication.
जो नशे में भूले हुए हैं
Jo nashe mein bhoole huwe hain
(ف11)یعنی نشۂِ جہالت میں آخرت کو بھولے ہوئے ہیں ۔
يَسۡـَٔــلُوۡنَ اَيَّانَ يَوۡمُ الدِّيۡنِؕ ﴿12﴾
پوچھتے ہیں (ف۱۲) انصاف کا دن کب ہوگا (ف۱۳)
They ask, “When will be the Day of Judgement?”
पूछते हैं इंसाफ़ का दिन कब होगा
Poochhte hain insaf ka din kab hoga
(ف12)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تمسخر اور تکذیب کے طور پر کہ ۔(ف13)ان کے جوا ب میں فرمایا جاتا ہے ۔
يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ ﴿13﴾
اس دن ہوگا جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے (ف۱٤)
It will be on the day when they will be roasted in the fire.
They used to sleep only a little during the night.
वो रात में कम सोया करते
Wo raat mein kam soya karte
(ف18)اور زیادہ حصّہ شب کا نماز میں گزارتے ۔
وَبِالۡاَسۡحَارِ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿18﴾
اور پچھلی رات استغفار کرتے (ف۱۹)
And used to seek forgiveness before dawn.
और पिछली रात इस्तिग़फ़ार करते
Aur pichhli raat istighfar karte
(ف19)یعنی رات تہجّد اور شب بیداری میں گزارتے ہیں اور بہت تھوڑی دیر سوتے ہیں اور شب کا پچھلا حصّہ استِغفار میں گزارتے ہیں اور اتنے سوجانے کو بھی تقصیر سمجھتے ہیں ۔
اور ان کے مالوں میں حق تھا منگتا اور بےنصیب کا (ف۲۰)
And the beggar and the destitute had a share in their wealth.
और उनके मालों में हक़ था मंगता और बे नसीब का
Aur un ke malon mein haq tha mangta aur be naseeb ka
(ف20)منگتا تو وہ جو اپنی حاجت کے لئے لوگوں سے سوال کرے اور محروم وہ کہ حاجت مند ہو اور حیاءً سوال بھی نہ کرے ۔
وَفِى الۡاَرۡضِ اٰيٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِيۡنَۙ ﴿20﴾
اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کو (ف۲۱)
And in the earth are signs for those who are certain.
और ज़मीन में निशानियाँ हैं यक़ीन वालों को
Aur zameen mein nishaniyan hain yaqeen walon ko
(ف21)جو اللہ تعالٰی کی وحدانیّت اور اس کی قدرت و حکمت پر دلالت کرتی ہیں ۔
وَفِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿21﴾
اور خود تم میں (ف۲۲) تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں،
And in your own selves; so can you not perceive?
और ख़ुद तुम में तो क्या तुम्हें सूझता नहीं,
Aur khud tum mein to kya tumhen soojhta nahin,
(ف22)تمہاری پیدائش میں اور تمہارے تغیّرات میں اور تمہارے ظاہر و باطن میں اللہ تعالٰی کی قدرت کے ایسے بے شمار عجائب و غرائب ہیں جس سے بندوں کو اس کی شانِ خدائی معلوم ہوتی ہے ۔
تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا (ف۲۹) وہ بولے ڈریے نہیں (ف۳۰) اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی،
He therefore inwardly sensed fear of them; they said, “Do not fear!”; and they gave him the glad tidings of a knowledgeable son.
तो अपने जी में उनसे डरने लगा वो बोले डरिए नहीं और उसे एक इल्म वाले लड़के की बशारत दी,
To apne ji mein un se darne laga wo bole dariye nahin aur usse ek ilm wale ladke ki basharat di,
(ف29)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ آپ کے دل میں بات آئی کہ یہ فرشتے ہیں اور عذاب کے لئے بھیجے گئے ہیں ۔(ف30)ہم اللہ تعالٰی کے بھیجے ہوئے ہیں ۔
اس پر اس کی بی بی (ف۳۱) چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ (ف۳۲)
So his wife came screaming, and striking her forehead cried, “What! For a barren old woman?”
इस पर इसकी बीबी चिलाती आई फिर अपना माथा ठोंका और बोली क्या बुढ़िया बाँझ
Is par is ki biwi chilati aayi phir apna matha thonka aur boli kya budhiya banjh
(ف31)یعنی حضرت سارہ ۔ (ف32)جس کے کبھی بچّہ نہیں ہوا اور نوّے ۹۰یا ننانوے ۹۹سال کی عمر ہوچکی ، مطلب یہ تھا کہ ایسی عمر اور ایسی حالت میں بچّہ ہونا نہایت تعجّب کی بات ہے ۔
انہوں نے کہا تمہارے رب نے یونہی فرمادیا، اور وہی حکیم دانا ہے،
They said, “This is how your Lord has decreed; indeed He only is the Wise, the All Knowing.”
उन्होंने कहा तुम्हारे रब ने यूँही फ़रमा दिया, और वही हकीम दाना है,
Unhon ne kaha tumhare Rab ne yunhi farma diya, aur wahi hakeem dana hai,
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page