جو تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان کیے رکھے ہیں (ف۳۵)
“That are kept marked, with your Lord, for the transgressors.”
जो तुम्हारे रब के पास हद से बढ़ने वालों के लिए निशान किए रखे हैं
Jo tumhare Rab ke paas had se badhne walon ke liye nishan kiye rakhe hain
(ف35)ان پتّھروں پر نشان تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ دنیا کے پتّھروں میں سے نہیں ہیں ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ ہر ایک پتّھر پر اس کا نام مکتوب تھا جو اس سے ہلاک کیاجانے والا تھا ۔
اور ہم نے اس میں (ف۳۷) نشانی باقی رکھی ان کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں (ف۳۸)
And We kept a sign remaining in it, for those who fear the painful punishment.
और हमने उसमें निशानी बाक़ी रखी उनके लिए जो दर्दनाक अज़ाब से डरते हैं
Aur humne us mein nishani baqi rakhi un ke liye jo dardnaak azab se darte hain
(ف37)یعنی قومِ لوط کے اس شہر میں کافروں کو ہلاک کرنے کے بعد ۔(ف38)تاکہ وہ عبرت حاصل کریں اور ان کے جیسے افعال سے باز رہیں ، اور وہ نشانی ان کے اجڑے ہوئے دیار تھے یا وہ پتّھر جن سے وہ ہلاک کئے گئے یا وہ کالا بدبو دار پانی جو اس سرزمین سے نکلا تھا ۔
اور موسیٰ میں (ف۳۹) جب ہم نے اسے روشن سند لے کر فرعون کے پاس بھیجا (ف٤۰)
And in Moosa, when We sent him with a clear proof towards Firaun.
और मूसा में जब हमने उसे रोशन سند लेकर फ़िरऔन के पास भेजा
Aur Musa mein jab humne use roshan sanad le kar Firaun ke paas bheja
(ف39)یعنی حضرت موسٰی علیہ السلام کے واقعہ میں بھی نشانی رکھی ۔(ف40)روشن سند سے مراد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے معجزات ہیں جو آپ نے فرعون اور فرعونیوں پر پیش فرمائے ۔
اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا (ف۵۱) اور بیشک ہم وسعت دینے والے ہیں (ف۵۲)
And We have built the heaven with hands (the Divine Power), and it is We Who give the expanse.
और आसमान को हमने हाथों से बनाया और बेशक हम वुसअत देने वाले हैं
Aur asman ko humne hathon se banaya aur beshak hum wusat dene wale hain
(ف51)اپنے دستِ قدرت سے ۔(ف52)اس کو اتنی کہ زمین مع اپنے فضا کے اس کے اندر اس طرح آجائے جیسے کہ ایک میدانِ وسیع میں گیند پڑی ہو یا یہ معنٰی ہیں کہ ہم اپنی خَلق پر رزق وسیع کرنے والے ہیں ۔
اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے (ف۵۳) کہ تم دھیان کرو (ف۵٤)
And We created all things in pairs, so that you may ponder.
और हमने हर चीज़ के दो जोड़ बनाए कि तुम ध्यान करो
Aur humne har cheez ke do jor banaye ke tum dhyaan karo
(ف53)مثل آسمان اور زمین اورسورج اور چاند اور رات اور دن اورخشکی و تری اور گرمی و سردی اور جن و انس اور روشنی وتاریکی اور ایمان وکفر اور سعادت و شقاوت اور حق و باطل اور نَر و مادّہ کے ۔(ف54)اور سمجھو کہ ان تمام جوڑوں کا پیدا کرنے والا فردِ واحد ہے نہ اس کا نظیر ہے ، نہ شریک ، نہ ضد ، نہ نِد ، وہی مستحقِ عبادت ہے ۔
کیا آپس میں ایک دوسرے کو یہ بات کہہ مرے ہیں بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں (ف۵۷)
What! Have they willed this utterance to one another? In fact they are a rebellious people.
क्या आपस में एक दूसरे को ये बात कह मरे हैं बल्कि वो सरकश लोग हैं
Kya aapas mein ek dusre ko ye baat keh mare hain balki wo sarkash log hain
(ف57)یعنی پہلے کفّار نے اپنے پچھلوں کو یہ وصیّت تو نہیں کی کہ تم انبیاء کی تکذیب کرنا اور ان کی شان میں اس طرح کی باتیں بنانا لیکن چونکہ سرکشی اور طغیان کی علّت دونوں میں ہے اس لئے گمراہی میں ایک دوسرے کے موافق رہے ۔
تو اے محبوب! تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کچھ الزام نہیں (ف۵۸)
Therefore turn away from them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), – so there is no blame upon you.
तो ऐ महबूब! तुम उनसे मुँह फेर लो तो तुम पर कुछ इल्ज़ाम नहीं
To ae mehboob! Tum unse munh pher lo to tum par kuch ilzaam nahin
(ف58)کیونکہ آپ رسالت کی تبلیغ فرماچکے اور دعوت و ارشاد میں جہدِ بلیغ صرف کرچکے اور آپ نے اپنی سعی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا ۔شانِ نزول : جب یہ آیت نازل ہوئی تورسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم غمگین ہوئے اور آپ کے اصحاب کو بہت رنج ہوا کہ جب رسول علیہ السلام کو اعراض کرنے کا حکم مل گیا تو اب وحی کیوں آئے گی اور جب نبی نے امّت کو تبلیغ بطریقِ اتم فرمادی اور امّت سرکشی سے باز نہ آئی اور رسول کو ان سے اعراض کا حکم مل گیا تو وقت آگیا کہ ان پر عذاب نازل ہو ، اس پر وہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی جو اس آیت کے بعد ہے اور اس میں تسکین دی گئی کہ سلسلۂِ وحی منقطع نہیں ہوا ہے ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ سلم کی نصیحت سعادت مندوں کے لئے جاری رہے گی چنانچہ ارشاد ہوا ۔
میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا (ف٦۰) اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں (ف٦۱)
I do not ask any sustenance from them, nor wish that they give Me food.
मैं उनसे कुछ रिज़्क़ नहीं माँगता और न ये चाहता हूँ कि वो मुझे खाना दें
Main unse kuch rizq nahin mangta aur na ye chahta hoon ke wo mujhe khana dein
(ف60)کہ میرے بندوں کو روزی دیں یا سب کی نہیں تو اپنی ہی روزی خود پیدا کریں کیونکہ رزّاق میں ہوں اور سب کی روزی کا میں ہی کفیل ہوں ۔(ف61)میری خَلق کے لئے ۔
تو بیشک ان ظالموں کے لیے (ف٦۳) عذاب کی ایک باری ہے (ف٦٤) جیسے ان کے ساتھ والوں کے لیے ایک باری تھی (ف٦۵) تو مجھ سے جلدی نہ کریں (ف٦٦)
And indeed for these unjust is also a turn of punishment, like that of their companions – so they must not ask Me to hasten.
तो बेशक इन ज़ालिमों के लिए अज़ाब की एक बारी है जैसे उनके साथ वालों के लिए एक बारी थी तो मुझ से जल्दी न करें
To beshak in zalimon ke liye azab ki ek bari hai jaise unke sath walon ke liye ek bari thi to mujh se jaldi na karein
(ف63)جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا ۔(ف64)حصّہ ہے ، نصیب ہے ۔(ف65)یعنی اُمَمِ سابقہ کے کفّار کے لئے جو انبیاء کی تکذیب میں ان کے ساتھی تھے ، ان کا عذاب و ہلاک میں حصّہ تھا ۔
تو کافروں کی خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں (ف٦۷)
So ruin is for disbelievers, from their day – which they are promised.
तो काफ़िरों की ख़राबी है उनके उस दिन से जिसका वादा दिए जाते हैं
To kafiron ki kharabi hai unke us din se jiska wada diye jate hain",
(ف66)عذاب نازل کرنے کی ۔(ف67)اور وہ روزِ قیامت ہے ۔
وَالطُّوۡرِۙ ﴿1﴾
طور کی قسم (ف۲)
By oath of (mount) Tur.
तौर की क़सम
Toor ki qasam
(ف2)یعنی اس پہاڑکی قَسم جس پر اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو شرفِ کلام سے مشرف فرمایا ۔
وَكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍۙ ﴿2﴾
اور اس نوشتہ کی (ف۳)
And by oath of a passage, written –
और उस नोश्ता की
Aur us noshta ki
(ف3)اس نوشتہ سے مراد یا توریت ہے یا قرآن یا لوحِ محفوظ یا اعمال نویس فرشتوں کے دفتر ۔
فِىۡ رَقٍّ مَّنۡشُوۡرٍۙ ﴿3﴾
جو کھلے دفتر میں لکھا ہے
On an open record.
जो खुले दफ्तर में लिखा है
Jo khule daftar mein likha hai
وَالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِۙ ﴿4﴾
اور بیت معمور (ف٤)
And by oath of the Inhabited House.
और बेत मआमूर
Aur Bait Ma'moor
(ف4)بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے ، یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ، ہر روز ستّر ہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لئے حاضر ہوتے ہیں ، پھر کبھی انہیں لوٹنے کا موقع نہیں ملتا ۲۴ہر روز نئے ستّر ہزار حاضر ہوتے ہیں ۔ حدیثِ معراج میں بصحت ثابت ہوا ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ساتویں آسمان میں بیت المعمور کو ملاحظہ فرمایا ۔
وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِۙ ﴿5﴾
اور بلند چھت (ف۵)
And the lofty roof.
और बुलंद छत
Aur buland chhat
(ف5)اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لئے بمنزلۂِ چھت کے ہے یا عرش جو جنّت کی چھت ہے ۔ (قرطبی عن ابنِ عباس)
وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِۙ ﴿6﴾
اور سلگائے ہوئے سمندر کی (ف٦)
And the sea set aflame.
और सुलगाए हुए समुंदर की
Aur sulgaye hue samundar ki
(ف6)مروی ہے کہ اللہ تعالٰی روزِ قیامت تمام سمندروں کو آ گ کردے گا جس سےجہنّم کی آ گ میں اور بھی زیادتی ہوجائے گی ۔ (خازن)
اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لوَاقِعٌ ۙ ﴿7﴾
بیشک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہے (ف۷)
Indeed your Lord’s punishment will surely take place.
बेशक तेरे रब का अज़ाब ज़रूर होना है
Beshak tere Rab ka azaab zaroor hona hai
(ف7)جس کا کفّار کو وعدہ دیا گیا ہے ۔
مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍۙ ﴿8﴾
اسے کوئی ٹالنے والا نہیں
No one can avert it.
उसे कोई टालने वाला नहीं
Use koi taalne wala nahi
يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا ۙ ﴿9﴾
جس دن آسمان ہلنا سا ہلنا ہلیں گے (ف۸)
A day on which the heavens will shake with a visible shaking.
जिस दिन आसमान हिलना सा हिलना हिलेंगे
Jis din aasman hilna sa hilna hilen ge
(ف8)چکّی کی طرح گھومیں گے اور اس طرح حرکت میں آئیں گے کہ ان کے اجزاء مختلف و منتشر ہوجائیں ۔
وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ؕ ﴿10﴾
اور پہاڑ چلنا سا چلنا چلیں گے (ف۹)
And the mountains will move with a visible movement.
और पहाड़ चलना सा चलना चलेंगे
Aur pahaar chalna sa chalna chalen ge
(ف9)جیسے کہ غبار ہوا میں اڑتا ہے ، یہ دن قیامت کا دن ہوگا ۔
جس دن جہنم کی طرف دھکا دے کر دھکیلے جائیں گے (ف۱۲)
A day when they will be pushed, forcibly shoved towards the fire of hell.
जिस दिन जहन्नम की तरफ़ धक्का देकर धकेले जाएंगे
Jis din jahannum ki taraf dhakka de kar dhakelay jaen ge
(ف12)اورجہنّم کے خازن کافروں کے ہاتھ گردنوں سے اور پاؤں پیشانیوں سے ملا کر باندھیں گے اور انہیں منہ کے بَل جہنّم میں ڈھکیل دیں گے اور ان سے کہا جائے گا ۔
(ف14)یہ ان سے اس لئے کہا جائے گا کہ وہ دنیا میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سِحر کی نسبت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہماری نظر بندی کردی ہے ۔
اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی (ف۲۰) اور ان کے عمل میں انہیں کچھ کمی نہ دی (ف۲۱) سب آدمی اپنے کیے میں گرفتار ہیں (ف۲۲)
And those who accepted faith, and whose descendants followed them with faith – We have joined their descendants with them, and have not reduced anything for them from their deeds; every soul is trapped in its own deeds.
और जो ईमान लाए और उनकी औलाद ने ईमान के साथ उनकी पैरवी की हम ने उनकी औलाद उनसे मिला दी और उनके अमल में उन्हें कुछ कमी न दी सब आदमी अपने किए में गिरफ्तार हैं
Aur jo imaan laaye aur unki aulaad ne imaan ke saath unki pairvi ki hum ne unki aulaad unse mila di aur unke amal mein unhein kuch kami na di sab aadmi apne kiye mein giraftar hain
(ف20)جنّت میں اگرچہ باپ دادا کے درجے بلند ہوں تو بھی ان کی خوشی کے لئے ان کی اولاد ان کے ساتھ ملادی جائے گی اور اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے اس اولاد کو بھی وہ درجہ عطا فرمائے گا ۔(ف21)انہیں ان کے اعمال کا پورا ثواب دیا اور اولاد کے درجے اپنے فضل و کرم سے بلند کئے ۔(ف22)یعنی ہر کافر اپنے کفری عمل میں دوزخ کے اندر گرفتار ہے ۔ (خازن)
ایک دوسرے سے لیتے ہیں وہ جام جس میں نہ بیہودگی اور گنہگاری (ف۲٤)
In it, they accept cups from each other, in which is neither any lewdness nor any sin.
एक दूसरे से लेते हैं वो जाम जिस में न बेहूदगी और गुनाह गारी
Ek doosre se lete hain woh jaam jis mein na behudgi aur gunah gaari
(ف24)جیسا کہ دنیا کی شراب میں قِسم قِسم کے مفاسد تھے کیونکہ شرابِ جنّت کے پینے سے نہ عقل زائل ہوتی ہے ، نہ خصلتیں خراب ہوتی ہیں ، نہ پینے والا بے ہودہ بکتا ہے ، نہ گنہگار ہوتا ہے ۔
اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گرد پھریں گے (ف۲۵) گویا وہ موتی ہیں چھپا کر رکھے گئے (ف۲٦)
And their boy servants shall go around them, as if they were pearls, safely hidden.
और उनके ख़िदमतगार लड़के उनके गर्द फिरेंगे गोया वो मोती हैं छुपा कर रखे गए
Aur unke khidmatgaar ladke unke gird phiren ge goya woh moti hain chhupa kar rakhe gaye
(ف25)خدمت کے لئے اور انکے حسن و صفا وپاکیزگی کا یہ عالَم ہے ۔(ف26)جنہیں کوئی ہاتھ ہی نہ لگا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ کسی جنّتی کے پاس خدمت میں دوڑنے والے غلام ہزار سے کم نہ ہوں گے اور ہر غلام جدا جدا خدمت پر مقرر ہوگا ۔
اور ان میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے (ف۲۷)
And one of them turned towards the other, questioning.
और उनमें एक ने दूसरे की तरफ़ मुँह किया पूछते हुए
Aur un mein ek ne doosre ki taraf munh kiya poochhte hue
(ف27)یعنی جنّتی جنّت میں ایک دوسرے سے دریافت کریں گے کہ دنیامیں کس حال میں تھے اور کیا عمل کرتے تھے ، اور یہ دریافت کرنا نعمتِ الٰہی کے اعتراف کے لئے ہوگا ۔
بولے بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے (ف۲۸)
Saying, “Indeed before this, we were in our houses, worried.”
बोले बेशक हम इस से पहले अपने घरों में सहमे हुए थे
Bole beshak hum is se pehle apne gharon mein sehme hue the
(ف28)اللہ تعالٰی کے خو ف سے اور اس اندیشہ سے کہ نفس و شیطان خللِ ایمان کا باعث نہ ہوں اور نیکیوں کے روکے جانے اور بدیوں پر گرفت کئے جانے کا بھی اندیشہ تھا ۔
تو اے محبوب! تم نصیحت فرماؤ (ف۳۲) کہ تم اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہو نہ مجنون،
Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), enlighten, for by the munificence of your Lord, you are neither a soothsayer nor a madman.
तो ऐ महबूब! तुम नसीहत फ़रमाओ कि तुम अपने रब के फ़ज़ल से न काहिन हो न मज़नून,
To ae Mehboob! Tum naseehat farmao ke tum apne Rab ke fazl se na kahin ho na majnoon,
(ف32)کفّارِ مکّہ کو ۔ اور ان کے کاہن اور مجنوں کہنے کی وجہ سے آپ نصیحت سے باز نہ رہیں اس لئے ۔
یا کہتے ہیں (ف۳۳) یہ شاعر ہیں ہمیں ان پر حوادث زمانہ کا انتظار ہے (ف۳٤)
Or they allege, “He is a poet – we await a calamity of the times to befall him.”
या कहते हैं ये शायर हैं हमें इन पर हादिसाते ज़माना का इंतज़ार है
Ya kehte hain ye shaaer hain humein in par haadisaate zamaana ka intezaar hai
(ف33)یہ کفّارِ مکّہ آپ کی شان میں ۔(ف34)کہ جیسے ان سے پہلے شاعر مرگئے اور ان کے جتھے ٹوٹ گئے یہی حال ان کا ہونا ہے ۔ ( معاذ اللہ) اور وہ کفّار یہ بھی کہتے تھے کہ ان کے والد کی موت جوانی میں ہوئی ہے ان کی بھی ایسی ہی ہوگی ۔ اللہ تعالٰی اپنے حبیب سے فرماتا ہے ۔
کیا ان کی عقلیں انہیں یہی بتاتی ہیں (ف۳۷) یا وہ سرکش لوگ ہیں (ف۳۸)
Is this what their senses tell them, or are they a rebellious people?
क्या उनकी अक़्लें उन्हें यही बताती हैं या वो सरकश लोग हैं
Kya unki aqlein unhein yahi batati hain ya woh sarkash log hain
(ف37)جو وہ حضور کی شان میں کہتے ہیں شاعر ، ساحر ، کاہن ، مجنون ، ایسا کہنا بالکل خلافِ عقل ہے اور طرّہ یہ کہ مجنون بھی کہتے جائیں اور شاعر ، ساحر ، کاہن بھی اور پھر اپنے عاقل ہونے کا دعوٰی ۔ (ف38)کہ عناد میں اندھے ہورہے ہیں اور کفر و طغیان میں حد سے گزر گئے ۔
یا کہتے ہیں انہوں نے (ف۳۹) یہ قرآن بنالیا، بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے (ف٤۰)
What! They say, “He has invented the Qur'an”? Rather they do not have faith.
या कहते हैं उन्होंने ये क़ुरआन बना लिया, बल्कि वो ईमान नहीं रखते
Ya kehte hain unhon ne ye Qur'an bana liya, balke woh imaan nahi rakhte
(ف39)یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے دل سے ۔(ف40)اور دشمنی و خبثِ نفس سے ایسے طعن کرتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی ان پر حجّت قائم فرماتا ہے کہ اگر ان کے خیال میں قرآن جیسا کلام کوئی انسان بناسکتا ہے ۔
کیا وہ کسی اصل سے نہ بنائے گئے (ف٤۲) یا وہی بنانے والے ہیں (ف٤۳)
Have they not been created from some source, or are they themselves the creators?
क्या वो किसी अस्ल से न बनाए गए या वही बनाने वाले हैं
Kya woh kisi asl se na banaye gaye ya wohi banane wale hain
(ف42)یعنی کیا وہ ماں باپ سے پیدا نہ ہوئے ، جماد ، بے عقل ہیں جن پر حجّت قائم نہ کی جائے گی ایسا نہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ کیا وہ نطفہ سے پیدا نہیں ہوئے اور کیا انہیں خدا نے نہیں بنایا ۔(ف43)کہ انہوں نے اپنے آپ کو خود ہی بنالیا ہو یہ بھی محال ہے تو لا محالہ انہیں اقرار کرنا پڑے گا کہ انہیں اللہ تعالٰی نے پیدا کیا پھر کیا سبب ہے کہ وہ اس کی عبادت نہیں کرتے اور بتوں کو پوجتے ہیں ۔
یا آسمان اور زمین انہوں نے پیدا کیے (ف٤٤) بلکہ انہیں یقین نہیں (ف٤۵)
Or did they create the heavens and the earth? Rather they are not certain.
या आसमान और ज़मीन उन्होंने पैदा किए बल्कि उन्हें यक़ीन नहीं
Ya aasman aur zameen unhon ne paida kiye balke unhein yaqeen nahi
(ف44)یہ بھی نہیں ۔ اور اللہ تعالٰی کے سوائے آسمان و زمین پیدا کرنے کی کوئی قدرت نہیں رکھتا تو کیوں اس کی عبادت نہیں کرتے ۔(ف45)اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کی قدرت و خالقیّت کا اگر اس کایقین ہوتا تو ضرور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لاتے ۔
یا کسی داؤں (فریب) کے ارادہ میں ہیں (ف۵٤) تو کافروں پر ہی داؤں (فریب) پڑنا ہے (ف۵۵)
Or are they planning a conspiracy? So the conspiracy will befall only upon the disbelievers.
या किसी दाओं (फ़रेब) के इरादा में हैं तो काफ़िरों पर ही दाओं (फ़रेब) पड़ना है
Ya kisi daaon (fareb) ke iraada mein hain to kaafiron par hi daaon (fareb) padna hai
(ف54)دارالنّدوہ میں جمع ہو کر اللہ تعالٰی کے نبی ہادیِ برحق صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ضرر و قتل کے مشورے کرتے ہیں ۔(ف55)انکے مَکر وکید کا وبال انہیں پرپڑے گا ، چنانچہ ایسا ہی ہو اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان کے مَکر سے محفوظ رکھا اور انہیں بدر میں ہلاک کیا ۔
اور اگر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتا دیکھیں تو کہیں گے تہ بہ تہ بادل ہے (ف۵۷)
And were they to see a portion of the sky falling, they will say, “It is a heap of clouds.”
और अगर आसमान से कोई टुकड़ा गिरता देखें तो कहेंगे तह बह तह बादल है
Aur agar aasman se koi tukda girta dekhen to kahenge tah bah tah badal hai
(ف57)یہ جواب ہے کفّار کے اس مقولہ کا جو کہتے تھے کہ ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گراکر عذاب کیجئے ، اللہ تعالٰی اسی کے جواب میں فرماتا ہے کہ ان کا کفر و عناد اس حد پر پہنچ گیا ہے کہ اگر ان پر ایسا ہی کیا جائے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادیا جائے اور آسمان سے اسے گرتے ہوئے دیکھیں تو بھی کفر سے باز نہ آئیں اور براہِ عناد یہی کہیں کہ یہ تو ابر ہے اس سے ہم سیراب ہوں گے ۔
اور بیشک ظالموں کے لیے اس سے پہلے ایک عذاب ہے (ف٦۰) مگر ان میں اکثر کو خبر نہیں (ف٦۱)
And indeed for the unjust is another punishment before this, but most of them do not know. (Punishment in the grave is proven by this verse.)
और बेशक ज़ालिमों के लिए उस से पहले एक अज़ाब है मगर उनमें अक़्सर को ख़बर नहीं
Aur beshak zalimon ke liye us se pehle ek azaab hai magar un mein aksar ko khabar nahi
(ف60)ان کے کفر کے سبب عذابِ آخرت سے پہلے اور وہ عذاب یا تو بدر میں قتل ہونا ہے یا بھوک و قحط کی ہفت سالہ مصیبت یا عذابِ قبر ۔(ف61)کہ وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔
اور اے محبوب! تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو (ف٦۲) کہ بیشک تم ہماری نگہداشت میں ہو (ف٦۳) اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو جب تم کھڑے ہو (ف٦٤)
And be patient upon your Lord’s command, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), for you are indeed in Our sight; and proclaim the Purity of your Lord while praising Him, whenever you stand.
और ऐ महबूब! तुम अपने रब के हुक्म पर ठहरे रहो कि बेशक तुम हमारी निगहदाश्त में हो और अपने रब की तारीफ़ करते हुए उसकी पाकी बोलो जब तुम खड़े हो
Aur ae Mehboob! Tum apne Rab ke hukm par thahre raho ke beshak tum humari nigahdaasht mein ho aur apne Rab ki tareef karte hue uski paaki bolo jab tum khade ho
(ف62)اور جو مہلت انہیں دی گئی ہے اس پر دل تنگ نہ ہو ۔(ف63)تمہیں وہ کچھ ضرر نہیں پہنچاسکتے ۔(ف64)نماز کے لئے ۔ اس سے تکبیرِ اولٰی کے بعدسُبْحَا نَکَ اللّٰھُمَّ پڑھنا مراد ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ جب سو کر اٹھو تو اللہ تعالٰی کی حمد و تسبیح کیا کرو یا یہ معنٰی ہیں کہ ہر مجلس سے اٹھتے وقت حمد و تسبیح بجالایا کرو ۔
اور کچھ رات میں اس کی پاکی بولو اور تاروں کے پیٹھ دیتے (ف٦۵)
And proclaim His Purity during the night, and when the stars turn back.
और कुछ रात में उसकी पाकी बोलो और तारों के पीठ देते
Aur kuch raat mein uski paaki bolo aur taaron ke peeth dete
(ف65)یعنی تاروں کے چُھپنے کے بعد ۔ مراد یہ ہے کہ ان اوقات میں اللہ تعالٰی کی تسبیح و تحمید کرو ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ تسبیح سے مراد نماز ہے ۔
وَالنَّجۡمِ اِذَا هَوٰىۙ ﴿1﴾
اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم! جب یہ معراج سے اترے (ف۲)
By oath of the beloved shining star Mohammed (peace and blessings be upon him), when he returned from the Ascent.
इस प्यारे चमकते तारे मुहम्मद की कसम! जब ये मेराज से उतरे
Is pyare chamakte tare Muhammad ki qasam! Jab ye meraaj se utare
(ف2)نجم کی تفسیر میں مفسّرین کے بہت سے قول ہیں بعض نے ثریّا مراد لیا ہے اگرچہ ثریّا کئی تارے ہیں لیکن نجم کا اطلاق ان پر عرب کی عادت ہے ۔ بعض نے نجم سے جنسِ نجوم مراد لی ہے ۔ بعض نے وہ نباتا ت جو ساق نہیں رکھتے ، زمین پر پھیلتے ہیں ۔ بعض نے نجم سے قرآن مراد لیا ہے لیکن سب سے لذیذ تفسیر وہ ہے جو حضرت مترجِم قدّس سرّہ نے اختیار فرمائی کہ نجم سے مراد ہے ذاتِ گرامی ہادیِ برحق سیّدِ انبیاء محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ۔ (خازن)
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوٰىۚ ﴿2﴾
تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بےراہ چلے (ف۳)
Your companion did not err, nor did he go astray.
तुम्हारे साहिब न बहके न बे राह चले
Tumhare sahib na behke na be raah chale
(ف3)'صَاحِبُکُمْ'سے مراد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں ۔ معنٰی یہ ہیں کہ حضورِ انور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کبھی طریقِ حق و ہدایت سے عدول نہ کیا ، ہمیشہ اپنے رب کی توحید و عبادت میں رہے ، آپ کے دامنِ عصمت پر کبھی کسی امرِ مکروہ کی گرد نہ آئی ۔ اور بے راہ نہ چلنے سے یہ مراد ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہمیشہ رشد و ہدایت کی اعلٰی منزل پر متمکن رہے ۔ اعتقادِ فاسد کا شائبہ بھی کبھی آپ کے حاشیۂِ بساط تک نہ پہنچ سکا ۔
وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰىؕ ﴿3﴾
اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے،
And he does not say anything by his own desire.
और वह कोई बात अपनी ख्वाहिश से नहीं करते,
Aur woh koi baat apni khwahish se nahin karte,
اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡىٌ يُّوۡحٰىۙ ﴿4﴾
وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے (ف٤)
It is but a divine revelation, which is revealed to him.
वह तो नहीं मगर वही जो उन्हीं की जाती है
Woh to nahin magar wahi jo unhein ki jati hai
(ف4)یہ جملہ اولٰی کی دلیل ہے کہ حضور کا بہکنا اور بے راہ چلنا ممکن و متصور ہی نہیں کیونکہ آپ اپنی خواہش سے کوئی بات فرماتے ہی نہیں جو فرماتے ہیں وحیِ الٰہی ہوتی ہے اور اس میں حضور کے خُلقِ عظیم اور آپ کی اعلٰی منزلت کا بیان ہے ۔ نفس کا سب سے اعلٰی مرتبہ یہ ہے کہ وہ اپنی خواہش ترک کردے ۔(کبیر) اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام اللہ تعالٰی کے ذات و صفات و افعال میں فنا کے اس اعلٰی مقام پر پہنچے کہ اپنا کچھ باقی نہ رہا تجلّیِ ربّانی کا یہ استیلائے تام ہوا کہ جو کچھ فرماتے ہیں وہ وحیِ الٰہی ہوتی ہے ۔ ( روح البیان)
عَلَّمَهٗ شَدِيۡدُ الۡقُوٰىۙ ﴿5﴾
انہیں (ف۵) سکھایا (ف٦) سخت قوتوں والے طاقتور نے (ف۷)
He has been taught by the Extremely Powerful.
उन्हें सिखाया सख्त क़ुव्वतों वाले ताकतवर ने
Unhein sikhaya sakht quwaton wale taqatwar ne
(ف5)یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ۔(ف6)جو کچھ اللہ تعالٰی نے ان کی طرف وحی فرمایا ۔ اور اس تعلیم سے مراد قلبِ مبارک تک پہنچادینا ہے ۔(ف7)بعض مفسّرین اس طرف گئے ہیں کہ سخت قوّتوں والے طاقتور سے مراد حضرت جبریل ہیں اور سکھا نے سے مراد بتعلیمِ الٰہی سکھانا یعنی وحیِ الٰہی کا پہنچانا ہے ۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ شَدِیْدُ الْقُوٰی ذُوْمِرَّۃٍ سے مراد اللہ تعالٰی ہے اس نے اپنی ذات کو اس وصف کے ساتھ ذکر فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالٰی نے بے واسطہ تعلیم فرمائی ۔ (تفسیر روح البیان)
ذُوۡ مِرَّةٍؕ فَاسۡتَوٰىۙ ﴿6﴾
پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا (ف۸)
The Strong; then the Spectacle inclined towards him.
फिर उस जल्वा ने क़स्द फरमाया
Phir us jalwa ne qasd farmaya
(ف8)عام مفسّرین نےفَاسْتَوٰی کا فاعل بھی حضرت جبریل کو قرار دیا ہے اور یہ معنٰی لئے ہیں کہ حضرت جبریلِ امین اپنی اصلی صورت پر قائم ہوئے اور اس کا سبب یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں ان کی اصلی صورت میں ملاحظہ فرمانے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی تو حضرت جبریل جنابِ مشرق میں حضور کے سامنے نمودار ہوئے اور ان کے وجود سے مشرق سے مغرب تک بھر گیا یہ بھی کہا گیا ہےکہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سوا کسی انسان نے حضرت جبریل کو ان کی اصلی صورت میں نہیں دیکھا ۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبریل کو دیکھنا تو صحیح ہے اور حدیث سے ثابت ہے لیکن یہ حدیث میں نہیں ہے کہ اس آیت میں حضرت جبریل کو دیکھنا مراد ہے بلکہ ظاہرِ تفسیر میں یہ ہے کہ مرادفَاسْتَوٰی سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مکانِ عالی اور منزلتِ رفیعہ میں استوٰی فرمانا ہے ۔ (تفسیر کبیر) تفسیرِ روح البیان میں ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے افقِ اعلٰی یعنی آسمانوں کے اوپر استوٰی فرمایا اور حضرت جبریل سدرۃ المنتہی پر رک گئے آگے نہ بڑھ سکے انہوں نے کہا اگر میں ذرا بھی آگے بڑھوں تو تجلّیاتِ جلال مجھے جَلا ڈالیں اور حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آگے بڑھ گئے اور مستوائے عرش سے بھی گزر گئے ۔ اور حضرت مترجِم قدّس سرّہ کا ترجمہ اس طرف مشیر ہے کہ استوٰی کی اسناد حضرت ربُّ العزّت عزَّ واعلٰی کی طرف ہے ، اور یہی قول حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے ۔
وَهُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰى ؕ ﴿7﴾
اور وہ آسمان بریں کے سب سے بلند کنارہ پر تھا (ف۹)
And he was on the horizon of the highest heaven.
और वह आसमान बरीन के सब से बुलन्द किनारा पर था
Aur woh aasman bareen ke sab se buland kinara par tha
(ف9)یہاں بھی عام مفسّرین اسی طرف گئے ہیں کہ یہ حال جبریلِ امین کا ہے لیکن امام رازی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ حال سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہے کہ آپ افقِ اعلٰی یعنی فوقِ سمٰوات تھے جس طرح کہنے والا کہتا ہے کہ میں نے چھت پر چاند دیکھا پہاڑ پر چاند دیکھا اس کے یہ معنٰی نہیں ہوتے کہ چاند چھت پر یا پہاڑ پر تھا بلکہ یہی معنٰی ہوتے ہیں کہ دیکھنے والا چھت یا پہاڑ پر تھا اسی طرح یہاں معنٰی ہیں کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام فوقِ سمٰوات پر پہنچے تو تجلّیِ ربّانی آپ کی طرف متوجّہ ہوئی ۔
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ ﴿8﴾
پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا (ف۱۰) پھر خوب اتر آیا (ف۱۱)
Then the Spectacle became closer, and came down in full view.
फिर वह जल्वा नज़दीक हुआ फिर खूब उतर आया
Phir woh jalwa nazdeek hua phir khoob utar aaya
(ف10)اس کے معنٰی میں بھی مفسّرین کے کئی قول ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبریل کا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے قریب ہونا مراد ہے کہ وہ اپنی صورت اصلی دکھادینے کے بعد حضورِ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب میں حاضر ہوئے دوسرے معنٰی یہ ہیں کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرتِ حق کے قرب سے مشرف ہوئے تیسرے یہ کہ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے قرب کی نعمت سے نوازا اور یہ ہی صحیح تر ہے ۔
فَكَانَ قَابَ قَوۡسَيۡنِ اَوۡ اَدۡنٰىۚ ﴿9﴾
تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم (ف۱۲)
So the distance between the Spectacle and the beloved was only two arms’ length, or even less. (The Heavenly Journey of Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – was with body and soul.)
तो उस जल्वे और उस महबूब में दो हाथ का फासला रहा बल्के इस से भी कम
To us jalwe aur us mehboob mein do haath ka faasla raha balke is se bhi kam
(ف11)اس میں چند قول ہیں ایک تویہ کہ نزدیک ہونے سے حضور کا عروج و وصول مراد ہے اور اتر آنے سے نزول ورجوع تو حاصلِ معنٰی یہ ہے کہ حق تعالٰی کے قرب میں باریاب ہوئے پھر وصال کی نعمتوں سے فیض یاب ہو کر خَلق کی طرف متوجّہ ہوئے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت ربُّ العزّت اپنے لطف و رحمت کے ساتھ اپنے حبیب سے قریب ہو اور اس قرب میں زیادتی فرمائی تیسرا قول یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مقربِ درگاہِ ربوبیّت ہو کر سجدۂِ طاعت ادا کیا ۔ (روح البیان) بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ قریب ہوا جبّار ربُّ العزّت الخ ۔ (خازن)(ف12)یہ اشارہ ہے تاکیدِ قرب کی طرف کہ قرب اپنے کمال کو پہنچا اور با ادب احبّاء میں جو نزدیکی متصور ہو سکتی ہے وہ اپنی غایت کو پہنچی ۔
فَاَوۡحٰۤى الٰى عَبۡدِهٖ مَاۤ اَوۡحٰىؕ ﴿10﴾
اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی (ف۱۳)
So Allah divinely revealed to His bondman, whatever He divinely revealed.
अब वही फरमाई अपने बन्दे को जो वही फरमाई
Ab wahi farmai apne bande ko jo wahi farmai
(ف13)اکثر علماءِ مفسّرین کے نزدیک اس کے معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندۂِ خاص حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو وحی فرمائی ۔ (جمل) حضرت جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو وحی فرمائی یہ وحی بے واسطہ تھی کہ اللہ تعالٰی اوراس کے حبیب کے درمیا ن کو ئی واسطہ نہ تھا اور یہ خدا اور رسول کے درمیان کے اسرار ہیں جن پر ان کے سوا کسی کو اطلاع نہیں ۔ بقلی نے کہا کہ اللہ تعالٰی نے اس راز کو تمام خَلق سے مخفی رکھا اور نہ بیان فرمایا کہ اپنے حبیب کو کیا وحی فرمائی اور محبّ و محبوب کے درمیان ایسے راز ہوتے ہیں جن کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ (روح البیان) علماء نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس شب میں جو آپ کو وحی فرمائی گئی وہ کئی قِسم کے علوم تھے ۔ ایک تو علمِ شرائع و احکام جن کی سب کو تبلیغ کی جاتی ہے دوسرے معارفِ الٰہیہ جو خواص کو بتائے جاتے ہیں تیسرے حقائق و نتائجِ علومِ ذوقیہ جو صرف اخصّ الخواص کو تلقین کئے جاتے ہیں اور ایک قِسم وہ اسرار جو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کے ساتھ خاص ہیں کوئی ان کا تحمّل نہیں کرسکتا ۔ (روح البیان)
مَا كَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰى ﴿11﴾
دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا (ف۱٤)
The heart did not deny, what it saw. (The Holy Prophet was bestowed with seeing Allah – see also preceding verses 8, 9, 10.)
दिल ने झूठ न कहा जो देखा
Dil ne jhoot na kaha jo dekha
(ف14)آنکھ نے یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قلبِ مبارک نے اس کی تصدیق کی جو چشمِ مبارک نے دیکھا ۔ معنٰی یہ ہیں کہ آنکھ سے دیکھا دل سے پہچانا اور اس رویت و معرفت میں شک وتردّد نے راہ نہ پائی اب یہ بات کہ کیا دیکھا بعض مفسّرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبریل کو دیکھا لیکن مذہبِ صحیح یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے رب تبارک و تعالٰی کو دیکھا اور یہ دیکھنا کس طرح تھا چشمِ سرسے یا چشمِ دل سے اس میں مفسّرین کے دونوں قول پائے جاتے ہیں ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا قول ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رب عزَّوجلّ کو اپنے قلبِ مبارک سے دوبار دیکھا (رواہ مسلم) ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آپ نے رب عزَّوجلّ کو حقیقتہً چشمِ مبارک سے دیکھا ۔ یہ قول حضرت انس بن مالک اور حسن و عکرمہ کا ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کو خُلّت اور حضرت موسٰی علیہ السلام کو کلام اور سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی کو اپنے دیدار سے امتیاز بخشا ۔ (صلوات اللہ تعالٌٰی علیہم) کعب نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے دوبار کلام فرمایا اور حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اللہ تعالٰی کو دو مرتبہ دیکھا ۔ (ترمذی) لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے دیدار کا انکار کیا اور آیت کو حضرت جبریل کے دیدار پر محمول کیا اور فرمایا کہ جو کوئی کہے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے اپنے رب کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا اور سند میں لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُتلاوت فرمائی ۔ یہاں چند باتیں قابلِ لحاظ ہیں ایک یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا قول نفی میں ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما کا اثبات میں اور مثبت ہی مقدم ہوتا ہے کیونکہ نافی کسی چیز کی نفی اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا نہیں اور مثبت اثبات اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا اور جانا تو علم مثبت کے پاس ہے علاوہ بریں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے یہ کلام حضور سے نقل نہیں کیا بلکہ آیت سے اپنے استنباط پر اعتماد فرمایا یہ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھاکی رائے ہے اور آیت میں ادراک یعنی احاطہ کی نفی ہے نہ رویت کی ۔ مسئلہ : صحیح یہ ہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دیدارِ الٰہی سے مشرّف فرمائے گئے ۔ مسلم شریف کی حدیثِ مرفوع سے بھی یہی ثابت ہے ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما جو بحرالامّۃ ہیں ، وہ بھی اسی پر ہیں ۔ مسلم کی حدیث ہے رَاَیْتُ رَبِّیْ بِعَیْنِیْ وَبِقَلْبِیْ میں نے اپنے رب کو اپنی آنکھ اوراپنے دل سے دیکھا ۔ حضرت حسن بصری علیہ الرحمۃ قَسم کھاتے تھے کہ محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شبِ معراج اپنے رب کو دیکھا ۔ حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں حدیثِ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما کا قائل ہوں حضو ر نے اپنے رب کو دیکھا اس کو دیکھا اس کو دیکھا ۔ امام صاحب یہ فرماتے ہی رہے یہاں تک کہ سانس ختم ہوگیا ۔
اَفَتُمٰرُوۡنَهٗ عَلٰى مَا يَرٰى ﴿12﴾
تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو (ف۱۵)
What! So do you dispute with him regarding what he saw?
तो क्या तुम उन से उन के देखे हुए पर झगड़ते हो
To kya tum un se un ke dekhe huwe par jhagar te ho
(ف15)یہ مشرکین کو خطاب ہے جو شبِ معراج کے واقعات کا انکار کرتے اور اس میں جھگڑتے تھے ۔
وَلَقَدۡ رَاٰهُ نَزۡلَةً اُخۡرٰىۙ ﴿13﴾
اور انہوں نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا (ف۱٦)
And indeed he did see the Spectacle again.
और उन्होंने तो वह जल्वा दो बार देखा
Aur unhon ne to woh jalwa do baar dekha
(ف16)کیونکہ تخفیف کی درخواستوں کے لئے چند بار عروج و نزول ہوا ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے رب عزَّوجلّ کو اپنے قلبِ مبارک سے دو مرتبہ دیکھا اور انہیں سے یہ بھی مروی ہے کہ حضور نے رب عزَّوجلّ کو آنکھ سے دیکھا ۔
عِنۡدَ سِدۡرَةِ الۡمُنۡتَهٰى ﴿14﴾
سدرة المنتہیٰ کے پاس (ف۱۷)
Near the lote-tree of the last boundary.
सदरत्वलमुन्तहा के पास
Sidratul muntaha ke paas
(ف17)سدرۃ المنتہٰی ایک درخت ہے جس کی اصل (جڑ) چھٹے آسمان میں ہے اور اس کی شاخیں ساتویں آسمان میں پھیلی ہیں اور بلند ی میں وہ ساتویں آسمان سے بھی گزر گیا ملائکہ اور ارواحِ شہداء و اتقیاء اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں ۔
عِنۡدَهَا جَنَّةُ الۡمَاۡوٰىؕ ﴿15﴾
اس کے پاس جنت الماویٰ ہے،
Close to which is the Everlasting Paradise.
उस के पास जन्नतुल्मअवा है,
Us ke paas jannatul mawa hai,
اِذۡ يَغۡشَى السِّدۡرَةَ مَا يَغۡشٰىۙ ﴿16﴾
جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (ف۱۸)
When the lote-tree was being enveloped, by whatever around it.
जब सदरह पर छा रहा था जो छा रहा था
Jab sidrah par chha raha tha jo chha raha tha
(ف18)یعنی ملائکہ اور انوار ۔
مَا زَاغَ الۡبَصَرُ وَمَا طَغٰى ﴿17﴾
آنکھ نہ کسی طرف پھر نہ حد سے بڑھی (ف۱۹)
The sight did not shift, nor did it cross the limits.
आँख न किसी तरफ़ फिर न हद से बढ़ी
Aankh na kisi taraf phiri na had se barhi
(ف19)اس میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے کمالِ قوّت کا اظہار ہے کہ اس مقام میں جہاں عقلیں حیرت زدہ ہیں آپ ثابت رہے اور جس نور کا دیدار مقصود تھا اس سے بہر ہ اندوز ہوئے ، داہنے بائیں کسی طرف ملتفت نہ ہوئے ، نہ مقصودکی دید سے آنکھ پھیری ، نہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرح بے ہوش ہوئے بلکہ اس مقام عظیم میں ثابت رہے ۔
لَقَدۡ رَاٰى مِنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِ الۡكُبۡرٰى ﴿18﴾
بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں (ف۲۰)
Indeed he saw the supreme signs of his Lord.
बेशक अपने रब की बहुत बड़ी निशानियाँ देखीं
Beshak apne Rab ki bohot badi nishaniyan dekheen
(ف20)یعنی حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شبِ معراج عجائبِ مُلک وملکوت کا ملاحظہ فرمایا اور آپ کا علم تمام معلوماتِ غیبیہ ملکوتیہ پر محیط ہوگیا جیسا کہ حدیثِ اختصامِ ملائکہ میں وارد ہوا ہے اور دوسری اور احادیث میں آیا ہے ۔ (روح البیان)
اَفَرَءَيۡتُمُ اللّٰتَ وَالۡعُزّٰىۙ ﴿19﴾
تو کیا تم نے دیکھا لات اور عزیٰ
So did you observe the idols Lat and Uzza?
तो क्या तुम ने देखा लात और उज़्ज़ा
To kya tum ne dekha Laat aur Uzza
وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الۡاُخۡرٰى ﴿20﴾
اور اس تیسری منات کو (ف۲۱)
And subsequently the third, the Manat?
और उस तीसरी मनात को
Aur us teesri Manaat ko
(ف21)لات وعزّٰی اور منات بتوں کے نام ہیں جنہیں مشرکین پوجتے تھے ۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ کیا تم نے ان بتوں کو دیکھا یعنی بنظرِ تحقیق و انصاف اگر اس طرح دیکھا ہو تو تمہیں معلوم ہوگیا ہوگا کہ یہ محض بے قدرت ہیں اور اللہ تعالٰی قادرِ برحق کو چھوڑ کر ان بے قدرت بتوں کو پوجنا اور اس کا شریک ٹھہرانا کس قدر ظلمِ عظیم اور خلافِ عقل و دانش ہے اور مشرکینِ مکّہ یہ کہا کرتے تھے کہ یہ بت اور فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ اس پر اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے ۔
اَلَـكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الۡاُنۡثٰى ﴿21﴾
کیا تم کو بیٹا اور اس کو بیٹی (ف۲۲)
What! For you the son, and for Him the daughter?
क्या तुम को बेटा और उस को बेटी
Kya tum ko beta aur us ko beti
(ف22)جو تمہارے نزدیک ایسی بُری چیز ہے کہ جب تم میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ بگڑ جاتا ہے اور رنگ تاریک ہوجاتا ہے اور لوگوں سے چُھپتا پھرتا ہے حتٰی کہ تم بیٹیوں کو زندہ درگور کر ڈالتے ہو پھر بھی اللہ تعالٰی کی بیٹیاں بتاتے ہو ۔
تِلۡكَ اِذًا قِسۡمَةٌ ضِيۡزٰى ﴿22﴾
جب تو یہ سخت بھونڈی تقسیم ہے (ف۲۳)
Then that is surely a very unjust distribution!
जब तो ये सख्त भोंडी तक़्सीम है
Jab to ye sakht bhondi taqseem hai
(ف23)کہ جو چیز بُری سمجھتے ہو وہ خدا کے لئے تجویز کرتے ہو ۔
وہ تو نہیں مگر کچھ نام کہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں (ف۲٤) اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری، وہ تو نرے گمان اور نفس کی خواہشوں کے پیچھے ہیں (ف۲۵) حالانکہ بیشک ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آئی (ف۲٦)
They are nothing but some names that you have coined, you and your forefathers – Allah has not sent any proof for them; they follow only guesses and their own desires; whereas the guidance from their Lord has come to them.
वह तो नहीं मगर कुछ नाम कि तुम ने और तुम्हारे बाप दादा ने रख लिए हैं अल्लाह ने उन की कोई سند नहीं उतारी, वह तो निरे गुमान और नफ़्स की ख्वाहिशों के पीछे हैं हालाँकि बेशक उन के पास उन के रब की तरफ़ से हिदायत आई
Woh to nahin magar kuch naam ke tum ne aur tumhare baap dada ne rakh liye hain Allah ne un ki koi sanad nahin utari, woh to nire gumaan aur nafs ki khwahishon ke peeche hain halanke beshak un ke paas un ke Rab ki taraf se hidayat aayi
(ف24)یعنی ان بتوں کا نام الٰہ اور معبود تم نے اور تمہارے باپ دادا نے بالکل بیجا اور غلط طور پر رکھ لیا ہے ، نہ یہ حقیقت میں الٰہ ہیں ، نہ معبود ۔(ف25)یعنی ان کابتوں کو پوجنا عقل و علم و تعلیمِ الٰہی کے خلاف اتباعِ نفس وہو ا اور وہم پرستی کی بنا پر ہے ۔ (ف26)یعنی کتابِ الٰہی اور خدا کے رسول جنہوں نے صراحت کے ساتھ بار بار بتایا کہ بت معبود نہیں اور اللہ تعالٰی کے سوائے کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔
اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰى ۖ ﴿24﴾
کیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے (ف۲۷)
What! Will man get whatever he dreams of?
क्या आदमी को मिल जाएगा जो कुछ वह खयाल बांधे
Kya aadmi ko mil jayega jo kuch woh khayal baandhe
(ف27)یعنی کافر جو بتوں کے ساتھ جھوٹی امیدیں رکھتے ہیں کہ وہ ان کے کام آ ئیں گے ، یہ امیدیں باطل ہیں ۔
فَلِلّٰهِ الۡاٰخِرَةُ وَالۡاُوۡلٰى ﴿25﴾
تو آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے (ف۲۸)
So (know that) Allah only is the Owner of all – the Hereafter and this world.
तो आख़िरत और दुनिया सब का मालिक अल्लाह ही है
To aakhirat aur duniya sab ka Malik Allah hi hai
(ف28)جسے جو چاہے دے اس کی عبادت کرنا اور اسی کو راضی رکھنا کام آئے گا ۔
اور کتنے ہی فرشتے ہیں آسمانوں میں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آتی مگر جبکہ اللہ اجازت دے دے جس کے لیے چاہے اور پسند فرمائے (ف۲۹)
And many an angel is in the heavens, whose intercession does not benefit the least unless Allah gives permission for whomever He wills, and whom He likes.
और कितने ही फरिश्ते हैं आसमानों में कि उन की सिफ़ारिश कुछ काम नहीं आती मगर जबकि अल्लाह इजाज़त दे दे जिस के लिए चाहे और पसंद फरमाए
Aur kitne hi farishte hain aasmanon mein ke un ki sifarish kuch kaam nahin aati magar jab Allah ijaazat de de jis ke liye chahe aur pasand farmae
(ف29)یعنی ملائکہ باوجود یہ کہ بارگاہِ الٰہی میں قرب و منزلت رکھتے ہیں ، بعد ازاں صرف اس کے لئے شفاعت کریں گے جس کے لئے اللہ تعالٰی کی مرضی ہو یعنی مومن موحِّد کے لئے ، تو بتوں سے شفاعت کی امید رکھنا نہایت باطل ہے کہ نہ انہیں بارگاہِ حق میں قرب حاصل ، نہ کفّار شفاعت کے اہل ۔
یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے (ف۳۵) بیشک تمہارا خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے راہ پائی،
This is the extent of their knowledge; indeed your Lord well knows one who has strayed from His path, and He well knows one who has attained guidance.
यहाँ तक उन के इल्म की पहुँची है बेशक तुम्हारा रब खूब जानता है जो उस की राह से बहका और वह खूब जानता है जिस ने राह पाई,
Yahan tak un ke ilm ki pohonch hai beshak tumhara Rab khoob jaanta hai jo us ki raah se behka aur woh khoob jaanta hai jis ne raah payi,
(ف35)یعنی وہ اس قدر کم عقل و کم علم ہیں کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ ان کے علم کی انتہا و ہم وگمان ہیں جو انہوں نے باند ھ رکھے ہیں کہ ( معاذ اللہ) فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ان کی شفاعت کریں گے اور اس وہمِ باطل پر بھروسہ کرکے انہوں نے ایمان اور قرآن کی پرواہ نہ کی ۔
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں تاکہ برائی کرنے والوں کو ان کے کیے کا بدلہ دے اور نیکی کرنے والوں کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے،
And to Allah only belongs all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth, in order to repay those who do evil for what they have done, and give an excellent reward to those who do good.
और अल्लाह ही का है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में ताकि बुराई करने वालों को उन के किए का बदला दे और नेकी करने वालों को नहायत अच्छा सिला अता फरमाए,
Aur Allah hi ka hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein taake burai karne walon ko un ke kiye ka badla de aur neki karne walon ko nihayat acha sila ata farmae,
وہ جو بڑے گناہوں اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں (ف۳٦) مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے (ف۳۷) بیشک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے (ف۳۸) تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل تھے، تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ (ف۳۹) وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں (ف٤۰)
Those who avoid the cardinal sins and lewdness, except that they approached it and refrained; indeed your Lord’s mercy is limitless; He knows you very well – since He has created you from clay, and when you were foetuses in your mothers’ wombs; therefore do not, on your own, claim yourselves to be clean; He well knows who are the pious.
वह जो बड़े गुनाहों और बेहयाइयों से बचते हैं मगर इतना कि गुनाह के पास गए और रुक गए बेशक तुम्हारे रब की मग़फिरत वसी है, वह तुम्हें खूब जानता है तुम्हें मिट्टी से पैदा किया और जब तुम अपनी माँओं के पेट में ह़मल थे, तो आप अपनी जानों को सुथरा न बताओ वह खूब जानता है जो परहेज़गार हैं
Woh jo bade gunaahon aur behayaiyon se bachte hain magar itna ke gunah ke paas gaye aur ruk gaye beshak tumhare Rab ki maghfirat wasee hai, woh tumhein khoob jaanta hai tumhein mitti se paida kiya aur jab tum apni maaon ke pait mein hamal the, to aap apni jaanon ko suthra na batao woh khoob jaanta hai jo parhezgar hain
(ف36)گناہ وہ عمل ہے جس کا کرنے والا عذاب کا مستحق ہو اور بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ گناہ وہ ہے جس کا کرنے والا ثواب سے محروم ہو بعض کا قول ہے ناجائز کام کرنے کو گناہ کہتے ہیں ۔ بہرحال گناہ کی دو قسمیں ہیں صغیرہ اور کبیرہ ۔ کبیرہ وہ جس کا عذاب سخت ہو اور بعض علماء نے فرمایا کہ صغیرہ وہ جس پر وعید نہ ہو ۔ کبیرہ وہ جس پر وعید ہو اور فواحش وہ جن پر حد ہو ۔(ف37)کہ اتنا تو کبائر سے بچنے کی برکت سے معاف ہوجاتا ہے ۔(ف38)شانِ نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو نیکیاں کرتے تھے اور اپنے عملوں کی تعریف کرتے تھے اور کہتے تھے ہماری نمازیں ، ہمارے روزے ، ہمارے حج ۔(ف39)یعنی تفاخراً اپنی نیکیوں کی تعریف نہ کروکیونکہ اللہ تعالٰی اپنے بندوں کے حالات کا خود جاننے والا ہے وہ ان کی ابتداءِ ہستی سے آخرِ ایام کے جملہ احوال جانتا ہے ۔ مسئلہ : اس آیت میں ریا اور خود نمائی اور خود سرائی کی ممانعت فرمائی گئی لیکن اگر نعمتِ الٰہی کے اعتراف اور اطاعت و عبادتِ پُر مسرّت اور اس کے ادائے شکر کے لئے نیکیوں کا ذکر کیا جائے تو جائز ہے ۔(ف40)اور اسی کا جاننا کافی وہی جزا دینے والا ہے دوسروں پر اظہار اور نام و نمود سے کیا فائدہ ۔
اَفَرَءَيۡتَ الَّذِىۡ تَوَلّٰىۙ ﴿33﴾
تو کیا تم نے دیکھا جو پھر گیا (ف٤۱)
So did you observe him who turned away?
तो क्या तुम ने देखा जो फिर गया
To kya tum ne dekha jo phir gaya
(ف41)اسلام سے ۔ شانِ نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دِین میں اتباع کیا تھا ، مشرکین نے اس کو عار دلائی اور کہا کہ تو نے بزرگوں کا دِین چھوڑ دیا اور تو گمراہ ہوگیا اس نے کہا میں نے عذابِ الٰہی کے خوف سے ایسا کیا تو عار دلانے والے کافر نے اس سے کہا کہ اگر تو شرک کی طرف لوٹ آئے اور اس قدر مال مجھ کو دے تو تیرا عذاب میں اپنے ذمّے لیتا ہوں اس پر ولید اسلام سے منحرف و مرتد ہو کر پھر شرک میں مبتلا ہوگیا اور جس شخص سے مال دینا ٹھہرا تھا اس نے تھوڑا سا دیا اور باقی سے منع کردیا ۔
وَاَعۡطٰى قَلِيۡلًا وَّاَكۡدٰى ﴿34﴾
اور کچھ تھوڑا سا دیا اور روک رکھا (ف٤۲)
And he gave a little, then refrained?
और कुछ थोड़ा सा दिया और रोक रखा
Aur kuch thora sa diya aur rok rakha
(ف42)باقی ۔ شانِ نزول : یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت عاص بن وائل سہمی کے حق میں نازل ہوئی وہ اکثر امور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تائید و موافقت کیا کرتا تھا ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی کہ اس نے کہا تھا اللہ تعالٰی کی قَسم محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہمیں بہترین اخلاق کا حکم فرماتے ہیں ۔ اس تقدیر پر معنٰی یہ ہیں کہ تھوڑا سا اقرار کیا اور حقِ لازم میں سے قدرے قلیل ادا کیا اور باقی سے باز رہا یعنی ایمان نہ لایا ۔
اَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ الۡغَيۡبِ فَهُوَ يَرٰى ﴿35﴾
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ دیکھ رہا ہے (ف٤۳)
Does he have knowledge of the hidden, so he can foresee?
क्या उस के पास ग़ैब का इल्म है तो वह देख रहा है
Kya us ke paas ghaib ka ilm hai to woh dekh raha hai
(ف43)کہ دوسرا شخص اس کا بارِ گناہ اٹھالے گا اور اس کے عذاب کو اپنے ذمّہ لے گا ۔
کیا اسے اس کی خبر نہ آئی جو صحیفوں میں ہے موسیٰ کے (ف٤٤)
Did not the news reach him, of that which is mentioned in the Books of Moosa?
क्या उसे इस की खबर न आई जो सहिफ़ों में है मूसा के
Kya usay is ki khabar na aayi jo sahifon mein hai Musa ke
(ف44)یعنی اسفارِ توریت میں ۔
وَاِبۡرٰهِيۡمَ الَّذِىۡ وَفّٰىٓ ۙ ﴿37﴾
اور ابراہیم کے جو پورے احکام بجالایا (ف٤۵)
And of Ibrahim, who was most obedient?
और इब्राहीम के जो पूरे अहकाम बजा लाया
Aur Ibraheem ke jo poore ahkaam baja laya
(ف45)یہ حضرت ابراہیم کی صفت ہے کہ انہیں جو کچھ حکم دیا گیا تھا وہ انہوں نے پورے طورپر ادا کیا اس میں بیٹے کا ذبح بھی ہے اور اپنا آ گ میں ڈالا جانا بھی اور اس کے علاوہ اور مامورات بھی ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اس مضمون کا ذکر فرماتا ہے جو حضرت موسٰی علیہ السلام کی کتاب اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں مذکور فرمایا گیا تھا ۔
اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰىۙ ﴿38﴾
کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی (ف٤٦)
That no burdened soul bears another soul’s burden?
कि कोई बोझ उठाने वाली जान दूसरी का बोझ नहीं उठाती
Ke koi bojh uthaanay wali jaan doosri ka bojh nahin uthati
(ف46)اور کوئی دوسرے کے گناہ پر نہیں پکڑا جاتا اس میں اس شخص کے قول کا ابطال ہے جو ولید بن مغیرہ کے عذاب کا ذمّہ دار بنا تھا اور اس کے گناہ اپنے ذمّہ لینے کو کہتا تھا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ زمانۂِ حضرت ابراہیم سے پہلے لوگ آدمی کو دوسرے کے گناہ پر بھی پکڑ لیتے تھے اگر کسی نے کسی کو قتل کیا ہوتا تو بجائے اس قاتل کے اس کے بیٹے یا بھائی یا بی بی یا غلام کو قتل کردیتے تھے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ آیا تو آپ نے اس کی ممانعت فرمائی اور اللہ تعالٰی کا یہ حکم پہنچایا کہ کوئی کسی کے بار گناہ میں ماخوذ نہیں ۔
And that man will not obtain anything except what he strove for?
और ये कि आदमी न पाएगा मगर अपनी कोशिश
Aur ye ke aadmi na payega magar apni koshish
(ف47)یعنی عمل ۔ مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی ہی نیکیوں سے فائدہ پاتا ہے یہ مضمون بھی صُحُفِ ابراہیم و موسٰی کا ہے ۔ علیہما السلام اور کہا گیا ہے کہ ان ہی امّتوں کے لئے خاص تھا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہ حکم ہماری شریعت میں آیت اَ لْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ سے منسوخ ہوگیا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ میری ماں کی وفات ہوگئی اگر میں اس کی طرف سے صدقہ دوں کیا نافع ہوگا ؟ فرمایا : ہاں ۔ مسائل اور بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ میّت کو صدقات و طاعات سے جو ثواب پہنچایا جاتاہے پہنچتا ہے اور اس پر علماءِ امّت کا اجماع ہے اور اسی لئے مسلمانوں میں معمول ہے کہ وہ اپنے اموات کو فاتحہ ، سوم ، چہلم ، برسی ، عرس وغیرہ میں طاعات و صدقات سے ثواب پہنچاتے رہتے ہیں یہ عمل احادیث کے بالکل مطابق ہے ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں انسان سے کافر مراد ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ کافر کو کوئی بھلائی نہ ملے گی بجز اس کے جو اس نے کی ہو کہ دنیا ہی میں وسعتِ رزق یا تندرستی وغیرہ سے اس کا بدلہ دے دیا جائے گا تاکہ آخرت میں اس کا کچھ حصّہ باقی نہ رہے ۔ اور ایک معنٰی آیت کے مفسّرین نے یہ بھی بیان کئے ہیں کہ آدمی بمقتضائے عدل وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو اور اللہ تعالٰی اپنے فضل سے جو چاہے عطا فرمائے ۔ اور ایک قول مفسّرین کا یہ بھی ہے کہ مومن کے لئے دوسرا مومن جو نیکی کرتا ہے وہ نیکی خود اسی مومن کی شمار کی جاتی ہے جس کے لئے کی گئی ہو کیونکہ اس کا کرنے والا مثل نائب و وکیل کے اس کا قائم مقام ہوتا ہے ۔
وَاَنَّ سَعۡيَهٗ سَوۡفَ يُرٰى ﴿40﴾
اور یہ کہ اس کی کوشش عنقریب دیکھی جاے گی (ف٤۸)
And that his effort will soon be scrutinised?
और ये कि उस की कोशिश अनकरीब देखी जाएगी
Aur ye ke us ki koshish anqareeb dekhi jaegi
(ف48)آخرت میں ۔
ثُمَّ يُجۡزٰٮهُ الۡجَزَآءَ الۡاَوۡفٰىۙ ﴿41﴾
پھر اس کا بھرپور بدلا دیا جائے گا
Then he will be fully repaid for it?
फिर उस का भरपूर बदला दिया जाएगा
Phir us ka bharpoor badla diya jaega
وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الۡمُنۡتَهٰىۙ ﴿42﴾
اور یہ کہ بیشک تمہارے رب ہی کی طرف انتہا ہے (ف٤۹)
And that the end is only towards your Lord?
और ये कि बेशक तुम्हारे रब ही की तरफ़ इंतिहा है
Aur ye ke beshak tumhare Rab hi ki taraf intiha hai
(ف49)آخرت میں اسی کی طرف رجوع ہے وہی اعمال کی جزا دے گا ۔
وَاَنَّهٗ هُوَ اَضۡحَكَ وَاَبۡكٰىۙ ﴿43﴾
اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا (ف۵۰)
And that it is He Who made (you) laugh and made (you) cry?
और ये कि वही है जिस ने हंसाया और रुलाया
Aur ye ke wahi hai jis ne hansaya aur rulaya
(ف50)جسے چاہا خوش کیا ، جسے چاہاغمگین کیا ۔
وَاَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحۡيَا ۙ ﴿44﴾
اور یہ کہ وہی ہے جس نے مارا اور جِلایا (ف۵۱)
And that it is He Who gave death and gave life?
और ये कि वही है जिस ने मारा और जिलाया
Aur ye ke wahi hai jis ne maara aur jilaya
(ف51)یعنی دنیا میں موت دی اور آخرت میں زندگی عطا فرمائی ۔ یا یہ معنٰی کہ باپ دادا کو موت دی اوران کی اولاد کو زندگی بخشی ، یا یہ مراد کہ کافروں کو موتِ کفر سے ہلاک کیا اور ایمانداروں کو ایمانی زندگی بخشی ۔
And that it is He Who has created the two pairs, male and female?
और ये कि उसी ने दो जोड़े बनाए नर और मादा
Aur ye ke usi ne do jode banaye nar aur madah
مِنۡ نُّطۡفَةٍ اِذَا تُمۡنٰى ﴿46﴾
نطفہ سے جب ڈالا جائے (ف۵۲)
From a drop of liquid, when it is added?
नुत्फ़ा से जब डाला जाए
Nutfa se jab dala jaye
(ف52)رحم میں ۔
وَاَنَّ عَلَيۡهِ النَّشۡاَةَ الۡاُخۡرٰىۙ ﴿47﴾
اور یہ کہ اسی کے ذمہ ہے پچھلا اٹھانا (دوبارہ زندہ کرنا) (ف۵۳)
And that only upon Him is the next revival?
और ये कि उसी के ज़िम्मे है पिछला उठाना (दोबारा ज़िन्दा करना)
Aur ye ke usi ke zimmah hai pichhla uthana (dobara zinda karna)
(ف53)یعنی موت کے بعد زندہ فرمانا ۔
وَاَنَّهٗ هُوَ اَغۡنٰى وَ اَقۡنٰىۙ ﴿48﴾
اور یہ کہ اسی نے غنیٰ دی اور قناعت دی
And that it is He Who has given wealth and contentment?
और ये कि उसी ने ग़नी दी और क़नाअत दी
Aur ye ke usi ne ghani di aur qanaat di
وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعۡرٰىۙ ﴿49﴾
اور یہ کہ وہی ستارہ شِعریٰ کا رب ہے (ف۵٤)
And that He only is the Lord of the star Sirius?
और ये कि वही सितारा शिअरा का रब है
Aur ye ke wahi sitara Shi’ra ka Rab hai
(ف54)جو کہ شدّتِ گرما میں جو زاء کے بعد طالع ہوتاہے ۔ اہلِ جاہلیّت اس کی عبادت کرتے تھے اس آیت میں بتایا گیا کہ سب کا رب اللہ ہے اس ستارہ کا رب بھی اللہ ہی ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرو ۔
(ف64)یعنی وہی اس کو ظاہر فرمائے گا ۔ یا یہ معنٰی ہیں کہ اس کے اہوال اور شدائد کو اللہ تعالٰی کے سوائے کوئی نہیں دفع کرسکتا اور اللہ تعالٰی دفع نہ فرمائے گا ۔
اَفَمِنۡ هٰذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ ﴿59﴾
تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو (ف٦۵)
So are you surprised at this fact?
तो क्या इस बात से तुम तअज्जुब करते हो
To kya is baat se tum taajjub karte ho
(ف65)یعنی قرانِ مجید سے منکِر ہوتے ہو ۔
وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ ﴿60﴾
اور ہنستے ہو اور روتے نہیں (ف٦٦)
And you laugh, and do not weep!
और हंसते हो और रोते नहीं
Aur hanste ho aur rote nahin
(ف66)اس کے وعدہ ، وعید سن کر ۔
وَاَنۡتُمۡ سٰمِدُوۡنَ ﴿61﴾
اور تم کھیل میں پڑے ہو،
And you are lost in play!
और तुम खेल में पड़े हो,
Aur tum khel mein pare ho,
فَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ وَاعۡبُدُوۡا ۩ ﴿62﴾
تو اللہ کے لیے سجدہ اور اس کی بندگی کرو (ف٦۷) السجدة۔۱۲
Therefore prostrate for Allah, and worship Him. (Command of Prostration # 12)
और अगर देखें कोई निशानी तो मुँह फेरते और कहते हैं यह तो जादू है चला आता,
Aur agar dekhen koi nishani to munh pherte aur kahte hain ye to jadoo hai chala aata,
(ف2)اس کے نزدیک ہونے کی نشانی ظاہر ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معجزہ سے ۔(ف3)دوپارہ ہو کر شق القمر جس کا اس آیت میں بیان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معجزاتِ باہرہ میں سے ہے ، اہلِ مکّہ نے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایک معجزہ کی درخواست کی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چاند شق کرکے دکھایا ، چاند کے دو حصّے ہو گئے اور ایک حصّہ دوسرے سے جدا ہو گیا اور فرمایا کہ گواہ رہو ، قریش نے کہا محمّد ( مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)جادو سے ہماری نظر بند کردی ہے ، اس پر انہیں کی جماعت کے لوگوں نے کہا کہ اگر یہ نظر بندی ہے تو باہر کہیں بھی کسی کو چاند کے دو حصّے نظر نہ آئے ہوں گے ، اب جو قافلے آنے والے ہیں ان کی جستجو رکھو اور مسافروں سے دریافت کرو ، اگر دوسرے مقامات سے بھی چاند شق ہونا دیکھا گیا ہے تو بے شک معجزہ ہے چنانچہ سفر سے آنے والوں سے دریافت کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے دیکھا کہ اس روز چاند کے دوحصّے ہوگئے تھے ، مشرکین کو انکار کی گنجائش نہ رہی اور وہ جاہلانہ طور پر جادو ہی جادو کہتے رہے ، صحاح کی احادیثِ کثیرہ میں اس معجزۂِ عظیمہ کا بیان ہے اور خبر اس درجۂِ شہرت کو پہنچ گئی ہے کہ اس کا انکار کرنا عقل و انصاف سے دشمنی اور بے دینی ہے ۔
اور انہوں نے جھٹلایا (ف٦) اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے (ف۷) اور ہر کام قرار پاچکا ہے (ف۸)
And they denied and followed their own desires, whereas each matter has been decided!
और बेशक उनके पास वह खबरें आईं जिनमें काफ़ी रोक थी
Aur beshak unke paas woh khabrein aayin jin mein kafi rok thi
(ف6)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اوران معجزات کو جو اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔(ف7)ان اباطیل کے جو شیطان نے ان کے دل نشین کیں تھیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے معجزات کی تصدیق کی تو ان کی سرداری تمام عالَم میں مسلّم ہوجائے گی اور قریش کی کچھ بھی عزّت و قدر باقی نہ رہے گی ۔(ف8)وہ اپنے وقت پر ہونے ہی والا ہے کوئی اس کو روکنے والا نہیں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دِین غالب ہو کر رہے گا ۔
تو تم ان سے منہ پھیرلو (ف۱۱) جس دن بلانے والا (ف۱۲) ایک سخت بےپہچانی بات کی طرف بلائے گا (ف۱۳)
Therefore turn away from them; on the day when the announcer will call towards a severe unknown matter –
नीची आँखें किए हुए कब्रों से निकलेंगे गोया वह टिड्डी हैं फैली हुई
Neechi aankhen kiye hue qabron se niklenge goya woh tiddi hain phaili hui
(ف11)کیونکہ وہ نصیحت و انداز سے پندپزیر ہونے والے نہیں ۔ (وَکَانَ ھٰذَا قَبْلَ الْاَمْرِ بِالْقِتَالِ ثُمَّ نُسِخَ)(ف12)یعنی حضرت اسرافیل علیہ السلام صخرۂِ بیتُ المقدِس پر کھڑے ہو کر ۔(ف13)جس کی مثل سختی کبھی نہ دیکھی ہوگی اور وہ ہولِ قیامت و حساب ہے ۔
ان سے (ف۱٦) پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو ہمارے بندہ (ف۱۷) کو جھوٹا بتایا اور بولے وہ مجنون ہے اور اسے جھڑکا (ف۱۸)
Before these, the people of Nooh denied and they belied Our bondman and said, “He is a madman” and rebuffed him.
तो उसने अपने रब से दुआ की कि मैं मग़लूब हूँ तो मेरा बदला ले,
To usne apne Rab se dua ki ke main maghloob hoon to mera badla le,
(ف16)یعنی قریش سے ۔(ف17)نوح علیہ السلام ۔(ف18)اور دھمکایا کہ اگر تم اپنے پندو نصیحت اور وعظ و دعوت سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں قتل کردیں گے ، سنگسار کر ڈالیں گے ۔
اور زمین چشمے کرکے بہا دی (ف۲۰) تو دونوں پانی (ف۲۱) مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی (ف۲۲)
And caused springs to gush out from the earth, so that the two waters met totalling a quantity that had been destined.
और हमने नूह को सवार किया तख़्तों और कीलों वाली पर कि
Aur humne Nuh ko sawar kiya takhton aur keelon wali par ke
(ف20)یعنی زمین سے اس قدر پانی نکلا کہ تمام زمین مثل چشموں کے ہوگئی ۔ (ف21)آسمان سے برسنے والے اور زمین سے ابلنے والے ۔(ف22)اور لوحِ محفوظ میں مکتوب تھی کہ طوفان اس حد تک پہنچے گا ۔
اور ہم نے اس (ف۲٦) نشانی چھوڑا تو ہے کوئی دھیان کرنے والا (ف۲۷)
And We left it as a sign – so is there one who would ponder?
तो कैसा हुआ मेरा अज़ाब और मेरी धमकियाँ,
To kaisa hua mera azaab aur meri dhamkiyan,
(ف26)یعنی اس واقعہ کو کہ کفّار غرق کرکے ہلاک کردیئے گئے اور حضرت نوح علیہ السلام کو نجات دی گئی ۔ اور بعض مفسّرین کے نزدیک تَرَکْنٰھَاکی ضمیر کَشتی کی طرف رجوع کرتی ہے ۔ قتادہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس کَشتی کو سرزمینِ جزیرہ میں اور بعض کے نزدیک جو دی پہاڑ پر مدّتوں باقی رکھا یہاں تک کہ ہماری امّت کے پہلے لوگوں نے اس کو دیکھا ۔(ف27)جو پندپذیر ہواور عبرت حاصل کرے ۔
فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِىۡ وَنُذُرِ ﴿16﴾
تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میری دھمکیاں،
So how did My punishment turn out, and My threats?
और बेशक हमने क़ुरान याद करने के लिए आसान फ़रमा दिया तो है कोई याद करने वाला
Aur beshak humne Quran yaad karne ke liye aasan farma diya to hai koi yaad karne wala
اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا (ف۲۸)
And We have indeed made the Qur’an easy to memorise, so is there one who would remember?
आद ने झुठलाया तो कैसा हुआ मेरा अज़ाब और मेरे डर दिलाने के फ़रमान
Aad ne jhutlaya to kaisa hua mera azaab aur mere dar dilane ke farmaan
(ف28)اس آیت میں قرآنِ کریم کی تعلیم و تعلّم اور اس کے ساتھ اشتغال رکھنے اور اسکو حفظ کرنے کی ترغیب ہے اور یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ قرآن یاد کرنے والے کی اللہ تعالٰی کی طرف سے مدد ہوتی ہے اور اس کا حفظ سہل و آسان فرمادینے ہی کا ثمرہ ہے کہ بچّے تک اس کو یاد کرلیتے ہیں سوائے اس کے کوئی مذہبی کتاب ایسی نہیں ہے جو یاد کی جاتی ہو اور سہولت سے یاد ہوجاتی ہو ۔
تو بولے کیا ہم اپنے میں کے ایک آدمی کی تابعداری کریں (ف۳٤) جب تو ہم ضرور گمراہ اور دیوانے ہیں (ف۳۵)
So they said, “What! Shall we follow a man from among us? If we do, we are indeed astray, and insane!”
क्या हम सब में से इस पर बल्कि यह सख़्त झूठा उत्रौना (शेखीबाज़) है
Kya hum sab mein se is par balki ye sakht jhoota utrona (shekhibaaz) hai
(ف34)یعنی ہم بہت سے ہو کر ایک آدمی کے تابع ہوجائیں ، ہم ایسا نہ کریں گے کیونکہ اگر ایسا کریں ۔(ف35)یہ انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کا کلام لوٹایا ، آپ نے ان سے فرمایا تھا کہ اگر تم نے میرا اتباع نہ کیا تو تم گمراہ وبے عقل ہو ۔
کیا ہم سب میں سے اس پر (ف۳٦) بلکہ یہ سخت جھوٹا اترونا (شیخی باز) ہے (ف۳۸)
“What! Of all the men among us, the remembrance has come down upon him? In fact, he is a mischievous, great liar.”
बहुत जल्द कल जान जाएंगे कौन था बड़ा झूठा उत्रौना (शेखीबाज़)
Bohat jald kal jaan jayenge kaun tha bada jhoota utrona (shekhibaaz)
(ف36)یعنی حضرت صالح علیہ السلام پر ۔(ف37)وحی نازل کی گئی اور کوئی ہم میں اس قابل ہی نہ تھا ۔(ف38)کہ نبوّت کا دعوٰی کرکے بڑا بننا چاہتا ہے ، اللہ تعالی فرماتا ہے ۔
ہم ناقہ بھیجنے والے ہیں انکی جانچ کو (ف٤۰) تو اے صالح! تو راہ دیکھ (ف٤۱) اور صبر کر (ف٤۲)
“We shall send a she-camel to test them, therefore O Saleh, wait and have patience.”
और उन्हें ख़बर दे दे कि पानी उनमें हिस्सों से है हर हिस्सा पर वह हाज़िर हो जिसकी बारी है
Aur unhein khabar de de ke paani unmein hisson se hai har hissa par woh haazir ho jiski baari hai
(ف40)یہ اس پر فرمایا گیا کہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے آپ سے یہ کہا تھا کہ آپ پتھر سے ایک ناقہ نکال دیجئے ، آپ نے ان کے ایمان کی شرط کرکے یہ بات منظور کرلی تھی چنانچہ اللہ تعالٰی نے ناقہ بھیجنے کا وعدہ فرمایا اور حضرت صالح علیہ السلام سے ارشاد کیا ۔(ف41)کہ وہ کیا کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کیاکیاجاتا ہے ۔(ف42)ان کی ایذا پر ۔
بیشک ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی (ف٤۹) جبھی وہ ہوگئے جیسے گھیرا بنانے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئی (ف۵۰)
Indeed We sent upon them a single Scream – thereupon they became like the barrier builder’s residual dry trampled hay.
और बेशक हमने आसान किया क़ुरान याद करने के लिए तो है कोई याद करने वाला,
Aur beshak humne aasan kiya Quran yaad karne ke liye to hai koi yaad karne wala,
(ف49)یعنی فرشتہ کی ہولناک آواز ۔(ف50)یعنی جس طرح چرواہے جنگل میں اپنی بکریوں کی حفاظت کے لئے گھاس ، کا نٹوں کا احاطہ بنالیتے ہیں اس میں سے کچھ گھاس بچی رہ جاتی ہے اور وہ جانوروں کے پاؤں میں روند کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے ، یہ حالت ان کی ہوگئی ۔
بیشک ہم نے ان پر (ف۵۱) پتھراؤ بھیجا (ف۵۲) سوائے لوط کے گھر والوں کے (ف۵۳) ہم نے انہیں پچھلے پہر (ف۵٤) بچالیا،
Indeed We sent a shower of stones upon them, except the family of Lut; We rescued them before dawn.
अपने पास की नेमत फ़रमा कर, हम यूँही सिला देते हैं उसे जो शुक्र करे
Apne paas ki ne’mat farma kar, hum yunhi sila dete hain usse jo shukr kare
(ف51)اس تکذیب کی سزا میں ۔(ف52)یعنی ان پر چھوٹے چھوٹے سنگریزے برسائے ۔(ف53)یعنی حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی دونوں صاحبزادیاں اس عذاب سے محفوظ رہیں ۔(ف54)یعنی صبح ہونے سے پہلے ۔
(ف59)اور حضرت لوط علیہ ا لسلام سے کہا کہ آپ ہمارے اور اپنے مہمانوں کے درمیان د خیل نہ ہوں ، انہیں ہمارے حوالہ کردیں اور یہ انہوں نے نیّتِ فاسد اور خبیث ارادہ سے کہا تھا اور مہمان فرشتے تھے ، انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے کہا کہ آپ انہیں چھوڑ دیجئے ، گھر میں آنے دیجئے ، جبھی وہ گھر میں آئے تو حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک دستک دی ۔(ف60)فوراً وہ اندھے ہوگئے اور آنکھیں ایسی ناپید ہوگئیں کہ نشان بھی باقی نہ رہا ، چہرے سپاٹ ہوگئے ، حیرت زدہ مارے مارے پھرتے تھے ، دروازہ ہاتھ نہ آتا تھا ، حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں دروازے سے باہر کیا ۔(ف61)جو تمہیں حضرت لوط علیہ السلام نے سنائے تھے ۔
کیا (ف۲۲) تمہارے کافر ان سے بہتر ہیں (ف٦۷) یا کتابوں میں تمہاری چھٹی لکھی ہوئی ہے (ف٦۸)
Are your disbelievers better than they were, or have you been given exemption in the Books?
या यह कहते हैं कि हम सब मिलकर बदला ले लेंगे
Ya ye kehte hain ke hum sab mil kar badla le lenge
(ف66)اے اہلِ مکّہ ۔(ف67)یعنی ان قوموں سے زیادہ قوی و توانا ہیں ، یا کفر و عناد میں کچھ ان سے کم سے ہیں ۔(ف68)کہ تمہارے کفر کی گرفت نہ ہوگی اور تم عذابِ الٰہی سے امن میں رہو گے ۔
اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت (ف۷۱) اور پیٹھیں پھیردیں گے (ف۷۲)
The group will soon be routed, and will turn their backs to flee.
बल्कि उनका वादा क़यामत पर है और क़यामत नहायत कड़वी और सख़्त कड़वी
Balki unka waada Qayamat par hai aur Qayamat nihayat kadvi aur sakht kadvi
(ف71)کفّارِ مکّہ کی ۔(ف72)اور اس طرح بھاگیں گے کہ ایک بھی قائم نہ رہے گا ۔شانِ نزول : روزِ بدر جب ابوجہل نے کہا کہ ہم سب مل کر بدلہ لیں گے ، یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے زرہ پہن کر یہ آیت تلاوت فرمائی ، پھر ایسا ہی ہوا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فتح ہوئی اور کفّار کو ہزیمت ہوئی ۔
جس دن آگ میں اپنے مونہوں پر گھسیٹے جائیں گے اور فرمایا جائے گا، چکھو دوزخ کی آنچ،
On the day when they are dragged upon their faces in the fire – “Taste the heat of hell.”
बेशक हमने हर चीज़ एक अंदाज़ा से पैदा फ़रमाई
Beshak humne har cheez ek andaaza se paida farmai
اِنَّا كُلَّ شَىۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ ﴿49﴾
بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی (ف۷٦)
We have indeed created all things by a proper measure.
और हमारा काम तो एक बात की बात है जैसे पलक मारना
Aur hamara kaam to ek baat ki baat hai jaise palk maarna
(ف76)حسبِ اقتضائے حکمت ۔ شانِ نزول : یہ آیت قَدریوں کے رد میں نازل ہوئی جو قدرتِ الٰہی کے منکِر ہیں اور حوادث کو کواکب وغیرہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ مسائلِ احادیث میں انہیں اس امّت کا مجوس فرمایا گیا اور ان کے پاس بیٹھنے اور ان کے ساتھ کلام شروع کرنے اور وہ بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت کرنے اور مرجائیں تو ان کے جنازے میں شریک ہونے کی ممانعت فرمائی گئی اور انہیں دجّال کا ساتھی فرمایا گیا ، وہ بدترین خَلق ہیں ۔
سچ کی مجلس میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور (ف۸۲)
Seated in an assembly of the Truth, in the presence of Allah, the Omnipotent King.
(ف82) یعنی اس کی بارگاہ کے مقرّب ہیں ۔
اَلرَّحۡمٰنُۙ ﴿1﴾
رحمٰن
Allah, the Most Gracious
रहमान
Rehman
عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَؕ ﴿2﴾
نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا (ف۲)
Has taught the Qur’an to His beloved Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him).
ने अपने महबूब को कुरआन सिखाया
ne apne mehboob ko Quran sikhaya
(ف2)شانِ نزول : جب آیت اُسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ نازل ہوئی ، کفّارِ مکّہ نے کہا رحمٰن کیا ہے ، ہم نہیں جانتے ، اس پر اللہ تعالٰی نے اَلرّحمٰن نازل فرمائی کہ رحمٰن جس کا تم انکار کرتے ہو ، وہی ہے جس نے قرآن نازل فرمایا ، اور ایک قول یہ ہے کہ اہلِ مکّہ نے جب کہا کہ محمّد (مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کو کوئی بشر سکھاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا کہ رحمٰن نے قرآن اپنے حبیب محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سکھایا ۔ (خازن)
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَۙ ﴿3﴾
انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا،
Has created Prophet Mohammed (peace and blessings be upon him) as the soul of mankind.
इंसानियत की जान मुहम्मद को पैदा किया,
insaniyat ki jaan Muhammad ko paida kiya,
عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ ﴿4﴾
ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا (ف۳)
Has taught him the knowledge of the past and the future.
मा कान व मा यकून का बयान उन्हें सिखाया
ma kaan wa ma yakoon ka bayan unhein sikhaya
(ف3)انسان سے اس آیت میں سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مراد ہیں اور بیان سےمَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ کا بیان ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اوّلین و آخرین کی خبریں دیتے تھے ۔ (خازن)
اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ ﴿5﴾
سورج اور چاند حساب سے ہیں (ف٤)
The sun and the moon are scheduled.
सूरज और चांद हिसाब से हैं
suraj aur chaand hisaab se hain
(ف4)کہ تقدیرِ معیّن کے ساتھ اپنے بروج و منازل میں سیر کرتے ہیں اور اس میں خَلق کے لئے منافع ہیں ، اوقات کے حساب ، سالوں اور مہینوں کی شمار انہیں پر ہے ۔
اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا (ف٦) اور ترازو رکھی (ف۷)
And Allah has raised the sky; and He has set the balance.
और आसमान को अल्लाह ने बुलन्द किया और तराज़ू रखी
aur aasman ko Allah ne buland kiya aur tarazu rakhi
(ف6)اور اپنے ملائکہ کا مسکن اور اپنے احکام کا جائے صدوربنایا ۔(ف7)جس سے اشیاء کا وزن کیا جائے اور ان کی مقداریں معلوم ہوں تاکہ لین دین میں عدل قائم رکھا جائے ۔
And grain covered with husk, and fragrant flowers.
और भुस के साथ अनाज और ख़ुश्बू के फूल,
aur bhus ke saath anaj aur khushbu ke phool,
(ف11)مثل گیہوں ، جَو وغیرہ کے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿13﴾
تو اے جن و انس! تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے (ف۱۲)
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो ऐ जिन व इंस! तुम दोनों अपने रब की कौन-सी नेमत को झटलाओगे
to ai jin o ins! tum dono apne Rab ki kaun si ne’mat ko jhutlaoge
(ف12)اس سورۃ شریفہ میں یہ آیت اکتیس۳۱ بار آئی ہے ، بار بار نعمتوں کا ذکر فرما کر یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ، یہ ہدایت وارشاد کا بہترین اسلوب ہے تاکہ سامع کے نفس کو تنبیہ ہو اور اسے اپنے جُرم اور ناسپاسی کا حال معلوم ہوجائے کہ اس نے کس قدر نعمتوں کو جھٹلایا ہے اور اسے شرم آئے اور وہ ادائے شکر و طاعت کی طرف مائل ہو اور یہ سمجھ لے کہ اللہ تعالٰی کی بے شمار نعمتیں اس پر ہیں ، حدیث : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سورت میں نے جنّات کو سنائی وہ تم سے اچھا جواب دیتے تھے ، جب میں آیت فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰن پڑھتا ، وہ کہتے اے رب ہمارے ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تجھے حمد ۔ ( الترمذی وقال غریب)
He created man from clay like that of earthenware.
उसने आदमी को बनाया बजती मिट्टी से जैसे ठीकरी
usne aadmi ko banaya bajti mitti se jaise theekri
(ف13)یعنی خشک مٹی سے جو بجانے سے بجے اور کوئی چیز کھنکھناتی آواز دے ، پھر اس مٹی کو تر کیا کہ وہ مثل گارے کے ہوگئی ، پھر اس کو گَلایا کہ وہ مثل سیاہ کیچ کے ہوگئی ۔
اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ (ف۲۰)
To Him only belong the sailing ships, raised above the sea like hills.
और उसी की हैं वो चलने वालियां फ़ कि दरिया में उठी हुई हैं जैसे पहाड़
aur usi ki hain woh chalne waliyan F ke dariya mein uthi hui hain jaise pahad
(ف20)جن چیزوں سے وہ کَشتیاں بنائی گئیں وہ بھی اللہ تعالٰی نے پیدا کیں اور ان کو ترکیب دینے اور کَشتی بنانے اور صنّاعی کرنے کی عقل بھی اللہ تعالٰی نے پیدا کی اور دریاؤں میں ان کَشتیوں کا چلنا اور تیرنا یہ سب اللہ تعالٰی کی قدرت سے ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿25﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۲۳) اسے ہر دن ایک کام ہے (ف۲٤)
All those who are in the heavens and the earth seek only from Him; every day is an enterprise for Him.
उसी के मंगता हैं जितने आसमानों और ज़मीन में हैं उसे हर दिन एक काम है
usi ke mangta hain jitne aasmanon aur zameen mein hain use har din ek kaam hai
(ف23)فرشتے ہوں یا جن یا انسان یا اور کوئی مخلوق ، کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں ، سب اس کے فضل کے محتاج ہیں اور زبانِ حال و قال سے اس کے حضور سائل ۔(ف24)یعنی وہ ہر وقت اپنی قدرت کے آثار ظاہر فرماتا ہے ، کسی کو روزی دیتا ہے ، کسی کو مارتا ہے ، کسی کو جِلاتا ہے ، کسی کو عزّت دیتا ہے ، کسی کو ذلّت ، کسی کو غنی کرتا ہے ، کسی کو محتاج ، کسی کے گناہ بخشتا ہے ، کسی کی تکلیف رفع کرتا ہے ۔ شانِ نزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اللہ تعالٰی سنیچر کے روز کوئی کام نہیں کرتا ، ان کے قول کا بطلان ظاہر فرمایا گیا ، منقول ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیت کے معنٰی دریافت کئے اس نے ایک روز کی مہلت چاہی اور نہایت متفکِّر و مغموم ہو کر اپنے مکان پر آیا ، اس کے ایک حبشی غلام نے وزیر کو پریشان دیکھ کر کہا : اے میرے آقا آپ کو کیا مصیبت پیش آئی ، بیان کیجئے ، وزیر نے بیان کیا تو غلام نے کہا کہ اس کے معنٰی بادشاہ کو میں سمجھادوں گا ، وزیر نے اس کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا تو غلام نے کہا کہ اے بادشاہ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں اور مردے سے زندہ نکالتا ہے اور زندے سے مردہ اور بیمار کو تندرسی دیتا ہے اور تندرست کو بیمار کرتا ہے ، مصیبت زدہ کو رہائی دیتا ہے اور بے غموں کو مصیبت میں مبتلا کرتا ہے ، عزّت والوں کو ذلیل کرتا ہے ، ذلیلوں کو عزّت دیتا ہے ، مالداروں کو محتاج کرتا ہے ، محتاجوں کو مالدار ، بادشاہ نے غلام کا جواب پسند کیا اور وزیر کو حکم دیا کہ اس غلام کو خلعتِ وزارت پہنائے ، غلام نے وزیر سے کہا اے آقا یہ بھی اللہ تعالٰی کی ایک شان ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿30﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
سَنَفۡرُغُ لَـكُمۡ اَيُّهَ الثَّقَلٰنِۚ ﴿31﴾
جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ (ف۲۵)
Disposing all works quickly We tend towards your account, O you two large groups!
जल्द सब काम निबटा कर हम तुम्हारे हिसाब का क़स्द फ़रमाते हैं ऐ दोनों भारी गिरोह
jald sab kaam nibhata kar hum tumhare hisaab ka qasd farmaate hain ai dono bhaari giroh
(ف25)جن و انس کے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿32﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
تم پر (ف۲۷) چھوڑی جائے گی بےدھویں کی آگ کی لپٹ اور بےلپٹ کا کالا دھواں (ف۲۸) تو پھر بدلا نہ لے سکو گے (ف۲۹)
Flames of smokeless fire and black smoke without flames, will be let loose on you, so you will not be able to retaliate.
तुम पर छोड़ी जाएगी बे-धुएं की आग की लपट और बे-लपट का काला धुआँ तो फिर बदला न ले सकोगे
tum par chhodi jaegi be dhuen ki aag ki lapet aur be lapet ka kaala dhuan to phir badla na le sakoge
(ف27)روزِ قیامت جب تم قبروں سے نکلو گے ۔(ف28)حضرت مترجِم قدّس سِرّہ نے فرمایا لَپٹ میں دھواں ہو تو اس کے سب اجزاء جَلانے والے نہ ہوں گے کہ زمین کے اجزاء شامل ہیں ، جن سے دھواں بنتا ہے اور دھوئیں میں لَپٹ ہو تو وہ پورا سیاہ اور اندھیرا نہ ہوگا کہ لَپٹ کی رنگت شامل ہے ، ان پر بے دھوئیں کی لَپٹ بھیجی جائے گی جس کے سب اجزاء جَلانے والے اور بے لَپٹ کا دھواں جو سخت کالا اندھیرا اوراسی کے وجہ کریم کی پناہ ۔(ف29)اس عذاب سے نہ بچ سکو گے اور آپس میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکوگے بلکہ یہ لَپٹ اور دھواں تمہیں محشرکی طرف لے جائیں گے ، پہلے سے اس کی خبر دے دینا یہ بھی اللہ تعالٰی کا لطف و کرم ہے تاکہ اس کی نافرمانی سے باز رہ کر اپنے آپ کو اس بَلاسے بچاسکو ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿36﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
تو اس دن (ف۳۱) گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جن سے (ف۳۲)
On that day no sinner will be questioned about his sins, from men or from jinns.
तो उस दिन गुनहगार के गुनाह की पूछ न होगी किसी आदमी और जिन से
to us din gunahgaar ke gunah ki poochh na hogi kisi aadmi aur jin se
(ف31)یعنی جب کہ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور آسمان پھٹے گا ۔(ف32)اس روز ملائکہ مجرمین سے دریافت نہ کریں گے ان کی صورتیں ہی دیکھ کر پہچان لیں گے اور سوال دوسرے وقت ہوگا جب کہ لوگ موقف میں جمع ہوں گے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿40﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے (ف۳۳) تو ماتھا اور پاؤں پکڑ کر جہنم میں ڈالے جائیں گے (ف۳٤)
The criminals will be recognised from their faces, so will be caught by their forelocks and feet, and thrown into hell.
मुजरिम अपने चेहरे से पहचाने जाएंगे तो माथा और पाँव पकड़ कर जहन्नम में डाले जाएंगे
mujrim apne chehre se pehchane jaenge to maatha aur paon pakad kar jahannum mein daale jaenge
(ف33)کہ ان کے منہ کالے اور آنکھیں نیلی ہوں گی ۔(ف34)پاؤں پیٹھ کے پیچھے سے لا کر پیشانیوں سے ملادیئے جائیں گے اور گھسیٹ کرجہنّم میں ڈالے جائیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعضے پیشانیوں سے گھسیٹے جائیں گے بعضے پاؤں سے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿42﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے (ف۳۵)
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں (ف۳٦)
They shall keep going back and forth between it and the extremely hot boiling water.
फेरे करेंगे उसमें और इंतहा के जलते खौलते पानी में
phere karenge usmein aur intiha ke jalte khaultay paani mein
(ف36)کہ جب جہنّم کی آ گ سے جل بُھن کر فریاد کریں گے تو انہیں جلتا ، کھولتا پانی پلایا جائے گا اور اس کے عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے ۔ خدا کی نافرمانی کے اس انجام سے آگاہ فرمادینا اللہ تعالٰی کی نعمت ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿45﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ﴿46﴾
اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے (ف۳۷) اس کے لیے دو جنتیں ہیں (ف۳۸)
And for one who fears to stand before his Lord, are two Gardens.
और जो अपने रब के हुज़ूर खड़े होने से डरे उसके लिए दो जन्नतें हैं
aur jo apne Rab ke huzoor khade hone se dare uske liye do jannaten hain
(ف37)یعنی جسے اپنے رب کے حضور روزِ قیامت موقف میں حساب کے لئے کھڑے ہونے کا ڈر ہو اور وہ معاصی ترک کرے اور فرائض بجالائے ۔(ف38)جنّتِ عدن اور جنّتِ نعیم ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک جنّت رب سے ڈر نے کا صلہ اور ایک شہوات ترک کرنے کا صلہ ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ ﴿47﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍۚ ﴿48﴾
بہت سی ڈالوں والیاں (ف۳۹)
Having numerous branches.
बहुत-सी डालों वालियां फ़
bohot si daalon waliyan F
(ف39)اور ہر ڈالی میں قِسم قِسم کے میوے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿49﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِۚ ﴿50﴾
ان میں دو چشمے بہتے ہیں (ف٤۰)
In the two Gardens flow two springs.
उनमें दो चश्मे बहते हैं
unmein do chashme bahtay hain
(ف40)ایک آبِ شیریں کا ، اور ایک شرابِ پاک کا ، یا ایک تسنیم ، دوسرا سلسبیل ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿51﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰنِۚ ﴿52﴾
ان میں ہر میوہ دو دو قسم کا،
In which are fruits of all kinds, each of two varieties.
उनमें हर मेवा दो-दो क़िस्म का,
unmein har mewa do do qism ka,
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿53﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
اور ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے جن کا اَستر قناویز کا (ف٤۱) اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو (ف٤۲)
Reclining upon thrones that are lined with brocade, with the fruit of both Gardens close enough to be picked from under.
और ऐसे बिछौनों पर तकिया लगाए जिनका अस्तर क़नावीज़ का और दोनों के मेवे इतने झुके हुए कि नीचे से चुन लो
aur aise bichhonon par takiya lagaye jinka astar qanavez ka aur dono ke mewe itne jhuke hue ke neeche se chun lo
(ف41)یعنی سنگین ریشم کا ، جب استرکا یہ حال ہے تو ابرا کیسا ہوگا ، سبحان اللہ ۔(ف42)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما نے فرمایا کہ درخت اتنا قریب ہوگا کہ اللہ تعالٰی کے پیارے کھڑے ، بیٹھے اس کا میوہ چُن لیں گے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿55﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں (ف٤۳) ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جن نے،
Upon thrones are the women who do not gaze at men except their husbands, and before them, are untouched by any man or jinn.
उन बिछौनों पर वो औरतें हैं कि शौहर के सिवा किसी को आँख उठाकर नहीं देखतीं उनसे पहले उन्हें न छुआ किसी आदमी और न जिन ने,
un bichhonon par woh auratein hain ke shohar ke siwa kisi ko aankh utha kar nahin dekhti, unse pehle unhein na chhua kisi aadmi aur na jin ne,
(ف43)جنّتی بیبیاں اپنے شوہر سے کہیں گی مجھے اپنے رب کے عزّت و جلال کی قَسم جنّت میں مجھے کوئی چیز تجھ سے زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی تو اس خدا کی حمد جس نے تجھے میرا شوہر کیا اور مجھے تیری بی بی بنایا ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۚ ﴿57﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُۚ ﴿58﴾
گویا وہ لعل اور یاقوت اور مونگا ہیں (ف٤٤)
They are like rubies and coral-stone.
गोया वो लाल और याकूत और मूंगा हैं
goya woh laal aur yaqoot aur moonga hain
(ف44)صفائی اور خوش رنگی میں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جنّتی حوروں کے صفائے ابدان کا یہ عالَم ہے کہ ان کی پنڈلی کا مغز اس طرح نظر آتا ہے جس طرح آبگینہ کی صراحی میں شرابِ سرخ ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿59﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
What is the reward of virtue except virtue (in return)?
नेकी का बदला क्या है मगर नेकी
neki ka badla kya hai magar neki
(ف45)یعنی جس نے دنیا میں نیکی کی اس کی جزا آخرت میں احسانِ الٰہی ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما نے فرمایا کہ جولَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا قائل ہو اور شریعتِ محمّدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر عامل ، اس کی جزا جنّت ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿61﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ ﴿62﴾
اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں (ف٤٦)
And besides them, there are two more Gardens.
और उनके सिवा दो जन्नतें और हैं
aur unke siwa do jannaten aur hain
(ف46)حدیث شریف میں ہے کہ دو جنّتیں تو ایسی ہیں جن کے ظروف اور سامان چاندی کے ہیں اور دو جنّتیں ایسی کہ جن کے ظروف و اسباب سونے کے ، اورایک قول یہ بھی ہے کہ پہلی دو جنّتیں سونے اور چاندی کی اور دوسری یاقوت و زبرجد کی ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ ﴿63﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
مُدۡهَآمَّتٰنِۚ ﴿64﴾
نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں،
Densely covered with foliage, appearing dark.
नहायत सब्ज़ी से सियाही की झलक दे रही हैं,
nihayat sabzi se siyaahi ki jhalak de rahi hain,
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿65﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ ﴿66﴾
ان میں دو چشمے ہیں چھلکتے ہوئے،
In the Gardens are two springs, overflowing with abundance.
उनमें दो चश्मे हैं छलकते हुए,
unmein do chashme hain chhalkte hue,
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿67﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌۚ ﴿68﴾
ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں،
In them are fruits (of all kinds), and dates and pomegranate.
उनमें मेवे और खजूरें और अनार हैं,
unmein mewe aur khajooren aur anaar hain,
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿69﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
فِيۡهِنَّ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌۚ ﴿70﴾
ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی
In them are women of good behaviour and gorgeous faces.
उनमें औरतें हैं आदत की नेक सूरत की अच्छी
unmein auratein hain aadat ki nek soorat ki achhi
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿71﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
حُوۡرٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِى الۡخِيَامِۚ ﴿72﴾
حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین (ف٤۷)
They are houris (maidens of Paradise), hidden from view, in pavilions.
हूरें हैं ख़ेमों में पर्दा-नशीन
hoorain hain khemon mein parda nasheen
(ف47)کہ ان خیموں سے باہر نہیں نکلتیں یہ ان کی شرافت و کرامت ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر جنّتی عورتوں میں سے زمین کی طرف کسی ایک کی جھلک پڑجائے تو آسمان وزمین کے درمیان کی تمام فضا روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے ، اور ان کے خیمے موتی اور زبر جد کے ہوں گے ۔
بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا،
Most Auspicious is the name of your Lord, the Most Majestic and the Most Honourable.
बड़ी बरकत वाला है तुम्हारे रब का नाम जो अज़मत और बज़ुर्गी वाला,
badi barkat wala hai tumhare Rab ka naam jo azmat aur buzurgi wala,
اِذَا وَقَعَتِ الۡوَاقِعَةُ ۙ ﴿1﴾
جب ہولے گی وہ ہونے والی (ف۲)
When the forthcoming event does occur.
जब होले गी वह होने वाली
Jab hole gi woh hone wali
(ف2)یعنی جب قیامت قائم ہو جو ضرور ہونے والی ہے ۔
لَيۡسَ لِـوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ ۘ ﴿2﴾
اس وقت اس کے ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی،
Then none will be able to deny its occurrence.
उस वक्त उसके होने में किसी को इनकार की गुंजाइश न होगी,
Us waqt us ke hone mein kisi ko inkaar ki gunjaish na ho gi,
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ ۙ ﴿3﴾
کسی کو پست کرنے والی (ف۳) کسی کو بلندی دینے والی (ف٤)
The event will be abasing some, and exalting some.
किसी को पस्त करने वाली किसी को बुलन्दी देने वाली
Kisi ko past karne wali kisi ko bulandi dene wali
(ف3)جہنّم میں گرا کر ۔(ف4)دخولِ جنّت کے ساتھ ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں اونچے تھے قیامت انہیں پست کرے گی اور جو دنیا میں پستی میں تھے ان کے مرتبے بلند کرے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اہلِ معصیّت کو پست کرے گی اور اہلِ طاعت کو بلند ۔
اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا ۙ ﴿4﴾
جب زمین کانپے گی تھرتھرا کر (ف۵)
When the earth will tremble, shivering.
जब ज़मीन कांपे गी थरथरा कर
Jab zameen kanpe gi thar thara kar
(ف5)حتی کہ اس کی تمام عمارتیں گر جائیں گی ۔
وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا ۙ ﴿5﴾
اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے چورا ہوکر
And the mountains will be crushed, blown to bits.
और पहाड़ रेज़ा रेज़ा हो जाएंगे चूरा हो कर
Aur pahaar reza reza ho jaayenge choora ho kar
فَكَانَتۡ هَبَآءً مُّنۡۢبَـثًّا ۙ ﴿6﴾
تو ہوجائیں گے جیسے روزن کی دھوپ میں غبار کے باریک ذرے پھیلے ہوئے
So they will become like fine dust, scattered in a shaft of light.
तो हो जाएंगे जैसे रोज़न की धूप में ग़ुबार के बारीक ज़र्रे फैले हुए
To ho jaayenge jaise rozan ki dhoop mein ghubaar ke bareek zarre phailay hue
وَّكُنۡـتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰـثَـةً ؕ ﴿7﴾
اور تین قسم کے ہوجاؤ گے،
And you will become divided into three categories.
So those on the right – how (fortunate) are those on the right!
तो दहनी तरफ वाले कैसे दहनी तरफ वाले
To dahni taraf walay kaise dahni taraf walay
(ف6)یعنی جن کے نامۂِ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے ۔(ف7)یہ ان کی تعظیمِ شان کے لئے فرمایا وہ بڑی شان رکھتے ہیں ، سعید ہیں ، جنّت میں داخل ہوں گے ۔
And those on the left – how (wretched) are those on the left!
और बाईँ तरफ वाले कैसे बाईँ तरफ वाले
Aur baiin taraf walay kaise baiin taraf walay
(ف8)جن کے نامۂِ اعمال بائیں ہاتھوں میں دیئے جائیں گے ۔ (ف9)یہ ان کی تحقیرِ شان کے لئے فرمایا کہ وہ شقی ہیں ، جہنّم میں داخل ہوں گے ۔
وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَۚ ۙ ﴿10﴾
اور جو سبقت لے گئے (ف۱۰) وہ تو سبقت ہی لے گئے (ف۱۱)
And those who surpassed have indeed excelled.
और जो सबक़त ले गए वह तो सबक़त ही ले गए
Aur jo sabqat le gaye woh to sabqat hi le gaye
(ف10)نیکیوں میں ۔(ف11)دخول جنّت میں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ وہ ہجرت میں سبقت کرنے والے ہیں کہ آخرت میں جنّت کی طرف سبقت کریں گے ۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اسلام کی طرف سبقت کرنے والے ہیں ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ وہ مہاجرین و انصار ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نمازیں پڑھیں ۔
اُولٰٓٮِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَۚ ﴿11﴾
وہی مقربِ بارگاہ ہیں،
It is they who are the close ones.
वही मुक़र्रब-ए-बारगाह हैं,
Wohi muqarrab-e-bargah hain,
فِىۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ ﴿12﴾
چین کے باغوں میں،
They are in Gardens of peace.
चैन के बाग़ों में,
Chain ke baaghon mein,
ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَۙ ﴿13﴾
اگلوں میں سے ایک گروہ
A large group from the earlier generations.
उगलोँ में से एक गिरोह
Uglon mein se ek giroh
وَقَلِيۡلٌ مِّنَ الۡاٰخِرِيۡنَؕ ﴿14﴾
اور پچھلوں میں سے تھوڑے (ف۱۲)
And a few from the latter.
और पिच्छलोँ में से थोड़े
Aur pichhlon mein se thore
(ف12)یعنی سابقین اگلوں میں سے بہت ہیں اور پچھلوں میں سے تھوڑے اور اگلوں میں سے مراد یا پہلی امّتیں ہیں زمانۂِ حضرت آدم علیہ السلام سے ہمارے سرکار سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عہد مبارک تک جیسا کہ اکثر مفسّرین کا قول ہے لیکن یہ قول نہایت ضعیف ہے اگرچہ مفسّرین نے اس کے وجوہِ ضعف کے جواب میں بہت سی توجیہات بھی کی ہیں ، قولِ صحیح تفسیر میں یہ ہے کہ اگلوں سے امّتِ محمّدیہ ہی کے پہلے لوگ مہاجرین و انصار میں سے جو سابقین اوّلین ہیں وہ مراد ہیں اور پچھلوں سے ان کے بعد والے احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے حدیثِ مرفوع میں ہے کہ اوّلین و آخرین یہاں اسی امّت کے پہلے اور پچھلے ہیں اور یہ بھی مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ دونوں گروہ میری ہی امّت کے ہیں ۔ (تفسیر کبیرو بحر العلوم وغیرہ)
کہ اس سے نہ انہیں درد سر ہو اور نہ ہوش میں فرق آئے (ف۱۷)
Their heads shall not ache with it, nor shall they lose their senses.
कि उससे न उन्हें दर्द-ए-सिर हो और न होश में फ़र्क आए
Ke us se na unhein dard-e-sar ho aur na hosh mein farq aaye
(ف17)بخلاف شرابِ دنیا کے کہ اس کے پینے سے حواس مختل ہوجاتے ہیں ۔
وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوۡنَۙ ﴿20﴾
اور میوے جو پسند کریں
And fruits that they may like.
और मेवे जो पसंद करें
Aur mewe jo pasand karein
وَلَحۡمِ طَيۡرٍ مِّمَّا يَشۡتَهُوۡنَؕ ﴿21﴾
اور پرندوں کا گوشت جو چاہیں (ف۱۸)
And meat of birds that they may wish.
और परिन्दोँ का गोश्त जो चाहें
Aur parindon ka gosht jo chaahein
(ف18)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اگر جنّتی کو پرندوں کے گوشت کی خواہش ہوگی تو اس کے حسبِ مرضی پرند اڑتا ہوا سامنے آئے گا اور رکابی میں آکر سامنے پیش ہوگااس میں سے جتنا چاہے گا جنّتی کھائے گا پھر وہ اُڑ جائے گا ۔ (خازن)
وَحُوۡرٌ عِيۡنٌۙ ﴿22﴾
اور بڑی آنکھ والیاں حوریں (ف۱۹)
And gorgeous eyed fair maidens.
और बड़ी आंख वालियां फ़ हूरें
Aur badi aankh waliyan fa hoorain
(ف19)ان کے لئے ہوں گی ۔
كَاَمۡثَالِ اللُّـؤۡلُـوٴِالۡمَكۡنُوۡنِۚ ﴿23﴾
جیسے چھپے رکھے ہوئے موتی (ف۲۰)
Like pearls safely hidden.
जैसे छुपे रखे हुए मोती
Jaise chhupe rakhe hue moti
(ف20)یعنی جیسا موتی صدف میں چُھپا ہوتا ہے کہ نہ تو اسے کسی کے ہاتھ نے چھوا ، نہ دھوپ اور ہوا لگی اس کی صفائی اپنی نہایت پر ہے اس طرح حوریں اچھوتی ہوں گی ۔ یہ بھی مروی ہے کہ حوروں کے تبسّم سے جنّت میں نورچمکے گا اور جب وہ چلیں گی تو ان کے ہاتھوں اور پاؤں کے زیوروں سے تقدیس و تمجید کی آوازیں آئیں گی اور یاقوتی ہار ان کے گردنوں کے حسن و خوبی سے ہنسیں گے ۔
اس میں نہ سنیں گے نہ کوئی بیکار بات نہ گنہگاری (ف۲۲)
They will not hear any useless speech in it, or any sin.
उसमें न सुनेंगे न कोई बेकार बात न गुनाह गारी
Us mein na sunein ge na koi bekaar baat na gunah gaari
(ف22)یعنی جنّت میں کوئی ناگوارا اور باطل بات سننے میں نہ آئے گی ۔
اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ﴿26﴾
ہاں یہ کہنا ہوگا سلام سلام (ف۲۳)
Except the saying, “Peace, peace.”
हाँ यह कहना होगा सलाम सलाम
Haan yeh kehna ho ga salaam salaam
(ف23)جنّتی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے ، ملائکہ اہلِ جنّت کو سلام کریں گے ، اللہ ربُّ العزّت کی طرف سے ان کی طرف سلام آئے گا ۔ یہ حال تو سابقین مقرّبین کا تھا اس کے بعد جنّتیوں کے دوسرے گروہ اصحابِ یمین کا ذکر فرمایا جاتا ہے ۔
And those on the right – how (fortunate) are those on the right!
और दहनी तरफ वाले कैसे दहनी तरफ वाले
Aur dahni taraf walay kaise dahni taraf walay
(ف24)ان کی عجیب شان ہے کہ اللہ کے حضور میں معزّز و مکرّم ہیں ۔
فِىۡ سِدۡرٍ مَّخۡضُوۡدٍۙ ﴿28﴾
بےکانٹوں کی بیریوں میں
Among thorn-less lote-trees.
बे काँटोँ की बैरियोँ में
Be kaanton ki bairiyon mein
وَّطَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍۙ ﴿29﴾
اور کیلے کے گچھوں میں (ف۲۵)
And clusters of banana plants.
और केले के गुच्छोँ में
Aur kele ke guchchon mein
(ف25)جن کے درخت جڑ سے چوٹی تک پھلوں سے بھرے ہوں گے ۔
وَّظِلٍّ مَّمۡدُوۡدٍۙ ﴿30﴾
اور ہمیشہ کے سائے میں
And in everlasting shade.
और हमेशा के साये में
Aur hamesha ke saaye mein
وَّ مَآءٍ مَّسۡكُوۡبٍۙ ﴿31﴾
اور ہمیشہ جاری پانی میں
And in perpetually flowing water.
और हमेशा जारी पानी में
Aur hamesha jaari paani mein
وَّفَاكِهَةٍ كَثِيۡرَةٍۙ ﴿32﴾
اور بہت سے میووں میں
And plenty of fruits.
और बहुत से मेवोँ में
Aur bohot se mewon mein
لَّا مَقۡطُوۡعَةٍ وَّلَا مَمۡنُوۡعَةٍۙ ﴿33﴾
جو نہ ختم ہوں (ف۲٦) اور نہ روکے جائیں (ف۲۷)
That will neither finish, nor ever be stopped.
जो न ख़त्म हों और न रोके जाएँ
Jo na khatm hon aur na roke jaayen
(ف26)جب کوئی پھل توڑ اجائے فوراً اس کی جگہ ویسے ہی دو موجود ہیں ۔(ف27)اہلِ جنّت پھلوں کے لینے سے ۔
وَّ فُرُشٍ مَّرۡفُوۡعَةٍؕ ﴿34﴾
اور بلند بچھونوں میں (ف۲۸)
And raised couches.
और बुलन्द बिछ्वनोँ में
Aur buland bichhonon mein
(ف28)جو مرصّع اونچے اونچے تختوں پر ہوں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچھونوں سے مراد عورتیں ہیں اس تقدیر پر معنٰی یہ ہوں گے کہ عورتیں فضل و جمال میں بلند درجہ رکھتی ہوں گی ۔
اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰهُنَّ اِنۡشَآءًۙ ﴿35﴾
بیشک ہم نے ان عورتوں کو اچھی اٹھان اٹھایا،
We have indeed developed these women with an excellent development.
बेशक हमने उन औरतोँ को अछ्छी उठान उठाया,
Beshak hum ne un aurton ko achhi uthan uthaya,
فَجَعَلۡنٰهُنَّ اَبۡكَارًاۙ ﴿36﴾
تو انہیں بنایا کنواریاں اپنے شوہر پر پیاریاں،
So made them as maidens.
तो उन्हें बनाया कुँवारियां अपने शौहर पर प्यारीं,
To unhein banaya kunwaariyan apne shauhar par pyaariyan,
عُرُبًا اَتۡرَابًاۙ ﴿37﴾
انہیں پیار دلائیاں ایک عمر والیاں (ف۲۹)
The beloved of their husbands, of one age.
उन्हें प्यार दिलाईं एक उमर वालियां फ़
Unhein pyaar dilaiyan ek umar waliyan fa
(ف29)جوان اور ان کے شوہر بھی جوان اور یہ جوانی ہمیشہ قائم رہنے والی ۔
لِّاَصۡحٰبِ الۡيَمِيۡنِؕ ﴿38﴾
دہنی طرف والوں کے لیے،
For those on the right.
दहनी तरफ वालोँ के लिए,
Dahni taraf walon ke liye,
ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَۙ ﴿39﴾
اگلوں میں سے ایک گروہ،
A large group from the earlier generations.
उगलोँ में से एक गिरोह,
Uglon mein se ek giroh,
وَثُلَّةٌ مِّنَ الۡاٰخِرِيۡنَؕ ﴿40﴾
اور پچھلوں میں سے ایک گروہ (ف۳۰)
And a large group from the latter.
और पिच्छलोँ में से एक गिरोह
Aur pichhlon mein se ek giroh
(ف30)یہ اصحابِ یمین کے دو گروں کا بیان ہے کہ وہ اس امّت کے پہلوں ، پچھلوں دونوں گروہوں میں سے ہوں گے پہلے گروہ اصحابِ رسول اللہ ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اور پچھلے ان کے بعد والے اس سے پہلے رکوع میں سابقین مقرّبین کی دو جماعتوں کا ذکر تھا اور اس آیت میں اصحابِ یمین کے دو گروہوں کا بیان ہے ۔
And upon it, you will drink the hot boiling water.
फिर उस पर खोलता पानी पियोगे,
Phir us par kholta paani piyo ge,
فَشٰرِبُوۡنَ شُرۡبَ الۡهِيۡمِؕ ﴿55﴾
پھر ایسا پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پئیں (ف۳۸)
Drinking the way thirsty camels drink.
फिर ऐसा पियोगे जैसे सख़्त प्यासे ऊँट पियें
Phir aisa piyo ge jaise sakht pyaase oont piyein
(ف38)ان پر ایسی بھوک مسلّط کی جائے گی کہ وہ مضطرہو کرجہنّم کا جلتا تھوہڑ کھائیں گے ، پھر جب اس سے پیٹ بھرلیں گے ان پر پیاس مسلّط کی جائے گی جس سے مضطر ہو کر ایسا کھولتا پانی پئیں گے جو آنتیں کاٹ ڈالے گا ۔
هٰذَا نُزُلُهُمۡ يَوۡمَ الدِّيۡنِؕ ﴿56﴾
یہ ان کی مہمانی ہے انصاف کے دن،
This is their reception on the Day of Justice.
यह उनकी मेहमाननवाज़ी है इंसाफ के दिन,
Yeh unki mehman nawazi hai insaaf ke din,
نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ ﴿57﴾
ہم نے تمہیں پیدا کیا (ف۳۹) تو تم کیوں نہیں سچ مانتے (ف٤۰)
It is We Who created you, so why do you not accept the truth?
हमने तुम्हें पैदा किया तो तुम क्यों नहीं सच मानते
Hum ne tumhein paida kiya to tum kyun nahin sach maante
(ف39)نیست سے ہست کیا ۔(ف40)مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو ۔
اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا تُمۡنُوۡنَؕ ﴿58﴾
تو بھلا دیکھو تو وہ منی جو گراتے ہو (ف٤۱)
So what is your opinion regarding the semen you discharge?
ہم نے تم میں مرنا ٹھہرایا (ف٤۳) اور ہم اس سے ہارے نہیں،
It is We Who have ordained death among you, and We have not been beaten –
हमने तुम में मरना ठहराया और हम उस से हारे नहीं,
Hum ne tum mein marna thehraya aur hum us se haare nahin,
(ف43)حسبِ اقتصائے حکمت و مشیّت اور عمریں مختلف رکھیں کوئی بچپن میں ہی مرجاتا ہے ، کوئی جوان ہو کر ، کوئی ادھیڑ عمر میں کوئی بڑھاپے تک پہنچتا ہے جو ہم مقدر کرتے ہیں وہی ہوتا ہے ۔
ہم نے اسے (ف۵۷) جہنم کا یادگار بنایا (ف۵۸) اور جنگل میں مسافروں کا فائدہ (ف۵۹)
We have made it as a reminder of hell and as a utility for travellers in the jungle.
हमने उसे जहन्नुम का यादगार बनाया और जंगल में मुसाफ़िरोँ का फ़ायदा
Hum ne use jahannum ka yaadgar banaya aur jungle mein musafiron ka faida
(ف57)یعنی آ گ کو ۔(ف58)کہ دیکھنے والا اس کو دیکھ کرجہنّم کی بڑی آ گ کو یاد کرے اور اللہ تعالٰی سے اور اس کے عذاب سے ڈرے ۔(ف59)کہ اپنے سفروں میں اس سے نفع اٹھاتے ہیں ۔
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ ﴿74﴾
تو اے محبوب تم پاکی بولو اپنے عظمت والے رب کے نام کی،
Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) proclaim the Purity of the name of your Lord, the Greatest.
तो ऐ महबूब तुम पाकी बोलो अपने अज़मत वाले रब के नाम की,
To ae mehboob tum paaki bolo apne azmat walay Rab ke naam ki,
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِۙ ﴿75﴾
تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں (ف٦۰)
So I swear by the setting places of the stars.
तो मुझे क़सम है उन जगहोँ की जहाँ तारे डूबते हैं
To mujhe qasam hai un jaghon ki jahan taare doobte hain
And that is indeed a tremendous oath, if you understand.
और तुम समझो तो यह बड़ी क़सम है,
Aur tum samjho to yeh badi qasam hai,
اِنَّهٗ لَـقُرۡاٰنٌ كَرِيۡمٌۙ ﴿77﴾
بیشک یہ عزت والا قرآن ہے (ف٦۱)
This is indeed the noble Qur’an.
बेशक यह इज़्ज़त वाला क़ुरआन है
Beshak yeh izzat wala Qur’an hai
(ف61)وہ سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل فرمایا گیا کیونکہ یہ کلامِ الٰہی اور وحیِ ربّانی ہے ۔
فِىۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍۙ ﴿78﴾
محفوظ نوشتہ میں (ف٦۲)
Kept in a secure Book.
महफ़ूज़ नुश्ता में
Mehfooz nushta mein
(ف62)جس میں تبدیل و تحریف ممکن نہیں ۔
لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَؕ ﴿79﴾
اسے نہ چھوئیں مگر باوضو (ف٦۳)
None may touch it, except with ablution.
उसे न छुएँ मगर बा वुज़ू
Use na chuyein magar ba wuzu
(ف63)مسائل : جس کو غسل کی حاجت ہو یا جس کا وضو نہ ہو یا حائضہ عورت یا نفاس والی ان میں سے کسی کو قرآنِ مجید کا بغیر غلاف وغیرہ کسی کپڑے کے چھونا جائز نہیں ہے بے وضو کو یاد پر قرآن شریف پڑھنا جائز ہے لیکن بے غسل اور حیض والی کو یہ بھی جائز نہیں ۔
So why is it not, that if you are not to be repaid, –
तो क्यों न हुआ अगर तुम्हें बदला मिलना नहीं
To kyun na hua agar tumhein badla milna nahin
(ف69)مرنے کے بعد اٹھ کر ۔
تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ﴿87﴾
کہ اسے لوٹا لاتے اگر تم سچے ہو (ف۷۰)
That you bring it back, if you are truthful?
कि उसे लौटा लाते अगर तुम सच्चे हो
Ke use lauta late agar tum sachche ho
(ف70)کفّار سے فرمایا گیا کہ اگر بخیال تمہارے مرنے کے بعد اٹھنا اور اعمال کا حساب کیا جانا اور جزا دینے والا معبود یہ کچھ بھی نہ ہو تو پھر کیا سبب ہے کہ جب تمہارے پیاروں کی روح حلق میں پہنچتی ہے تو تم اسے لوٹا کیوں نہیں لاتے اور جب یہ تمہارے اختیار میں نہیں تو سمجھو کہ کام اللہ تعالٰی کے اختیار میں ہے اس پر ایمان لاؤ ۔ اس کے بعد مخلوقات کے طبقات کے احوال وقتِ موت اور ان کے درجات کا بیان فرمایا ۔
فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَۙ ﴿88﴾
پھر وہ مرنے والا اگر مقربوں سے ہے (ف۷۱)
Then if the dying one is of those having proximity, –
फिर वह मरने वाला अगर मुक़र्रबोँ से है
Phir woh marne wala agar muqarrabon se hai
(ف71)سابقین میں سے جن کا ذکر اوپر ہوچکا تو اس کے لئے ۔
Then is relief, and flowers – and Gardens of peace.
तो राहत है और फूल और चैन के बाग़
To raahat hai aur phool aur chain ke baagh
(ف72)ابوالعالیہ نے کہا کہ مقرّبین سے جو کوئی دنیا سے مفارقت کرتا ہے اس کے پاس جنّت کے پھولو ں کی ڈالی لائی جاتی ہے اس کی خوشبو لیتا ہے تب روح قبض ہوتی ہے ۔(ف73)آخرت میں ۔
Then upon you is the greetings of peace (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), from those on the right.
तो ऐ महबूब तुम पर सलाम दहनी तरफ वालोँ से
To ae mehboob tum par salaam dahni taraf walon se
(ف75)معنٰی یہ ہیں کہ اے سیّدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ ان کا سلام قبول فرمائیں اور انکے لئے غمگین نہ ہوں وہ اللہ تعالٰی کے عذاب سے سلامت و محفوظ رہیں گے اور آپ ان کو اسی حال میں دیکھیں گے جو آپ کو پسند ہو ۔
اور اگر (ف۷٦) جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہو (ف۷۷)
And if he is from the deniers, the astray, –
और अगर झटलाने वाले गुमराहोँ में से हो
Aur agar jhutlane wale gumraahon mein se ho
(ف76)مرنے والا ۔(ف77)یعنی اصحابِ شمال میں سے ۔
فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ ﴿93﴾
تو اس کی مہمانی کھولتا پانی،
Then his reception is the hot boiling water.
तो उसकी मेहमाननवाज़ी खोलता पानी,
To uski mehman nawazi kholta paani,
وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ﴿94﴾
اور بھڑکتی آگ میں دھنسانا (ف۷۸)
And a hurling into the blazing fire.
और भड़कती आग में धँसाना
Aur bhadakti aag mein dhansana
(ف78)جہنّم کی اور مرنے والوں کے احوال اور جو مضامین اس سورت میں بیان کئے گئے ۔
اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الۡيَـقِيۡنِۚ ﴿95﴾
یہ بیشک اعلیٰ درجہ کی یقینی بات ہے،
This is indeed an utmost certainty.
यह बेशक आला दर्जा की यक़ीनी बात है,
Yeh beshak aala darja ki yaqini baat hai,
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ ﴿96﴾
تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بولو (ف۷۹)
Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) proclaim the Purity of the name of your Lord, the Greatest.
तो ऐ महबूब तुम अपने अज़मत वाले रब के नाम की पाकी बोलो
To ae mehboob tum apne azmat walay Rab ke naam ki paaki bolo",
(ف79)حدیث : جب یہ آیت نازل ہوئی فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْم تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اس کو اپنے رکوع میں داخل کرو اور جب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی نازل ہوئی تو فرمایا اسے اپنے سجدوں میں داخل کرو ۔ (ابوداؤد)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ رکوع و سجود کی تسبیحات قرآنِ کریم سے ماخوذ ہیں ۔
(ف5)قدیم ہر شے سے قبل ، اوّل بے ابتداء کہ وہ تھا اور کچھ نہ تھا ۔(ف6)ہر شے کے ہلاک و فنا ہونے کے بعد رہنے والا، سب فنا ہوجائیں گے اور وہ ہمیشہ رہے گا اس کے لئے انتہا نہیں ۔(ف7)دلائل وبراہین سے یا یہ معنٰی کہ غالب ہر شے پر ۔(ف8)حواس اس کے ادراک سے عاجز ، یا یہ معنٰی کہ ہر شے کا جاننے والا ۔
وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیے (ف۹) پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے، جانتا ہے جو زمین کے اندر جاتا ہے (ف۱۰) اور جو اس سے باہر نکلتا ہے (ف۱۱) اور جو آسمان سے اترتا ہے (ف۱۲) اور جو اس میں چڑھتا ہے (ف۱۳) اور وہ تمہارے ساتھ ہے (ف۱٤) تم کہیں ہو، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۱۵)
It is He Who created the heavens and the earth in six days, then ascended the Throne (of Control), in a manner befitting His Majesty; He knows all what goes into the earth and all what comes out of it, and all what descends from the sky and all that rises in it; and He is with you, wherever you may be; and Allah is seeing your deeds.
वही है जिसने आसमान और ज़मीन छ: दिन में पैदा किए फिर अर्श पर इस्तिवा फ़रमाया जैसा कि उसकी शान के लायक है, जानता है जो ज़मीन के अंदर जाता है और जो उस से बाहर निकलता है और जो आसमान से उतरता है और जो उस में चढ़ता है और वह तुम्हारे साथ है तुम कहीं हो, और अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है
Wohi hai jis ne aasman aur zameen chhe din mein paida kiye phir arsh par istiwa farmaya jaisa ke uski shaan ke laayiq hai, jaanta hai jo zameen ke andar jaata hai aur jo us se baahar nikalta hai aur jo aasman se utarta hai aur jo us mein charhta hai aur woh tumhare saath hai tum kahin ho, aur Allah tumhare kaam dekh raha hai
(ف9)ایّامِ دنیا سے ، کہ پہلا ا ن کایک شنبہ اور پچھلا جمعہ ہے ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ وہ اگر چاہتا توطرفۃ العین میں پیدا کردیتا لیکن اس کی حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کہ چھ کو اصل بنائے اور ان پر مدار رکھے ۔(ف10)خواہ وہ دانہ ہو یا قطرہ یا خزانہ ہو یا مردہ ۔ (ف11)خواہ وہ نبات ہو یا دھات یا اور کوئی چیز ۔(ف12)رحمت و عذاب اور فرشتے اور بارش ۔(ف13)اعمال اور دعائیں ۔(ف14)اپنے علم وقدرت کے ساتھ عموماً اور فضل و رحمت کے ساتھ خصوصاً ۔(ف15)تو تمہیں تمہارے حسبِ اعمال جزا دے گا۔
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اَوروں کا جانشین کیا (ف۱۹) تو جو تم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا ان کے لیے بڑا ثواب ہے،
Accept faith in Allah and His Noble Messenger, and spend in His cause from what He has made you the heirs of; so for those among you who accepted faith and spent in His cause, is a great reward.
अल्लाह और उसके रसूल पर ईमान लाओ और उसकी राह में कुछ वह खर्च करो जिस में तुम्हें औरों का जानशीन किया तो जो तुम में ईमान लाए और उसकी राह में खर्च किया उनके लिए बड़ा सवाब है,
Allah aur uske Rasool par imaan lao aur uski raah mein kuchh woh kharch karo jis mein tumhein auron ka janashin kiya to jo tum mein imaan laaye aur uski raah mein kharch kiya unke liye bada sawaab hai,
(ف19)جو تم سے پہلے تھے اور تمہارا جانشین کرے گا تمہارے بعد والوں کو ۔ معنٰی یہ ہیں کہ جو مال تمہارے قبضہ میں ہیں سب اللہ تعالٰی کے ہیں اس نے تمہیں نفع اٹھانے کے لئے دے دیئے ہیں تم حقیقتہً ان کے مالک نہیں ہو بمنزلۂِ نائب و وکیل کے ہو انہیں راہِ خدا میں خرچ کرو اور جس طرح نائب اور وکیل کو مالک کے حکم سے خرچ کرنے میں کوئی تأمّل نہیں ہوتا توتمہیں بھی کوئی تأمّل و تردّد نہ ہو ۔
اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ پر ایمان نہ لاؤ، حالانکہ یہ رسول تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ (ف۲۰) اور بیشک وہ (ف۲۱) تم سے پہلے سے عہد لے چکا ہے (ف۲۲) اگر تمہیں یقین ہو،
And what is the matter with you, that you should not accept faith in Allah? Whereas this Noble Messenger is calling you to believe in your Lord, and Allah has indeed already taken a covenant from you, if you believe.
और तुम्हें क्या है कि अल्लाह पर ईमान न लाओ, हालाँकि ये रसूल तुम्हें बुला रहे हैं कि अपने रब पर ईमान लाओ और बेशक वह तुम से पहले से अहद ले चुका है अगर तुम्हें यक़ीन हो,
Aur tumhein kya hai ke Allah par imaan na lao, halanke ye Rasool tumhein bula rahe hain ke apne Rab par imaan lao aur beshak woh tum se pehle se ahad le chuka hai agar tumhein yaqeen ho,
(ف20)اور برہانیں اور حجّتیں پیش کرتے ہیں اور کتابِ الٰہی سناتے ہیں اب تمہیں کیا عذر ہوسکتا ہے ۔(ف21)یعنی اللہ تعالٰی ۔(ف22)جب اس نے تمہیں پشتِ آدم علیہ السلام سے نکالا تھا کہ اللہ تعالٰی تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔
وہی ہے کہ اپنے بندہ پر (ف۲۳) روشن آیتیں اتارتا ہے تاکہ تمہیں اندھیریوں سے (ف۲٤) اجالے کی طرف لے جائے (ف۲۵) اور بیشک اللہ تم پر ضرور مہربان رحم والا،
It is He Who sends down clear verses upon His chosen bondman, in order to take you out from the realms of darkness towards light; and indeed Allah is Most Compassionate, Most Merciful upon you.
वही है कि अपने बंदा पर रोशन आयतें उतारता है ताकि तुम्हें अंधेरियों से उजाले की तरफ़ ले जाए और बेशक अल्लाह तुम पर ज़रूर मेहरबान रहम वाला,
Wohi hai ke apne banda par roshan aayatein utarta hai taake tumhein andheriyon se ujale ki taraf le jaye aur beshak Allah tum par zaroor mehrbaan rahm wala,
(ف23)سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ۔(ف24)کفر و شرک کی ۔(ف25)یعنی نورِ ایمان کی طرف ۔
اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث اللہ ہی ہے (ف۲٦) تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا (ف۲۷) وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا، اور ان سب سے (ف۲۸) اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا (ف۲۹) اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
And what is the matter with you that you should not spend in Allah’s cause, whereas Allah is the Inheritor of all that is in the heavens and in the earth? Those among you who spent and fought before the conquest of Mecca are not equal to others; they are greater in rank than those who spent and fought after the conquest; and Allah has promised Paradise to all of them; and Allah well knows what you do.
और तुम्हें क्या है कि अल्लाह की राह में खर्च न करो हालाँकि आसमानों और ज़मीन में सब का वारिस अल्लाह ही है तुम में बराबर नहीं वह जिन्होंने फ़त्हे मक्का से क़बल खर्च और जिहाद किया, वह मरतबा में उन से बड़े हैं जिन्होंने बाद फ़त्ह के खर्च और जिहाद किया, और उन सब से अल्लाह जन्नत का वादा फ़रमा चुका और अल्लाह को तुम्हारे कामों की खबर है,
Aur tumhein kya hai ke Allah ki raah mein kharch na karo halanke aasmanon aur zameen mein sab ka waaris Allah hi hai tum mein barabar nahin woh jinhon ne Fath-e-Makka se qabl kharch aur jihad kiya, woh martaba mein unse bade hain jinhon ne baad Fath ke kharch aur jihad kiya, aur un sab se Allah jannat ka wada farma chuka aur Allah ko tumhare kaamon ki khabar hai,
(ف26)تم ہلاک ہوجاؤ گے اور مال اسی کی مِلک میں رہ جائیں گے اور تمہیں خرچ کرنے کا ثواب بھی نہ ملے گا اور اگر تم خدا کی راہ میں خرچ کرو تو ثواب بھی پاؤ ۔(ف27)جب کہ مسلمان کم اور کمزور تھے اس وقت جنہوں نے خرچ کیا اور جہاد کیا وہ مہاجرین و انصار میں سے سابقین اوّلین ہیں ان کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تو بھی ان کے ایک مُد کے برابر نہ ہو ، نہ نصف مُد کے ۔ مُد ایک پیمانہ ہے جس سے جَوناپے جاتے ہیں ۔ شانِ نزول : کلبی نے کہا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ آپ پہلے شخص ہیں جو اسلام لائے اور پہلے وہ شخص جس نے راہِ خدا میں مال خرچ کیا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حمایت کی ۔(ف28)یعنی پہلے خرچ کرنے والوں سے بھی اور فتح کے بعد خرچ کرنے والوں سے بھی ۔(ف29)البتہ درجات میں تفاوت ہے قبلِ فتح خرچ کرنے والوں کا درجہ اعلٰی ہے ۔
جس دن تم ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو (ف۳۱) دیکھو گے کہ ان کا نور ہے (ف۳۲) ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے (ف۳۳) ان سے فرمایا جارہا ہے کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں تم ان میں ہمیشہ رہو، یہی بڑی کامیابی ہے،
The day when you will see the believing men and believing women, that their light runs before them and on their right – it being said to them, “This day, the best tidings for you are the Gardens beneath which rivers flow – abide in it forever; this is the greatest success.”
जिस दिन तुम ईमान वाले मर्दों और ईमान वाली औरतों को देखोगे कि उनका नूर है उनके आगे और उनके दहने दौड़ता है, उन से फ़रमाया जा रहा है कि आज तुम्हारी सबसे ज़्यादा खुशी की बात वह जन्नतें हैं जिन के नीचे नहरें बहें तुम उन में हमेशा रहो, यही बड़ी कामयाबी है,
Jis din tum imaan wale mardon aur imaan wali aurton ko dekhoge ke unka noor hai unke aage aur unke dahne daurta hai, unse farmaya ja raha hai ke aaj tumhari sabse zyada khushi ki baat woh jannaten hain jin ke neeche nahrein bahein tum un mein hamesha raho, yahi badi kaamyabi hai,
(ف31)پلِ صراط پر ۔(ف32)یعنی ان کے ایمان و طاعت کا نور ۔(ف33)اور جنّت کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے ۔
جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہمیں یک نگاہ دیکھو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں، کہا جائے گا اپنے پیچھے لوٹو (ُ۳٤) وہاں نور ڈھونڈو وہ لوٹیں گے، جبھی ان کے (ف۳۵) درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی (ف۳٦) جس میں ایک دروازہ ہے (ف۳۷) اس کے اندر کی طرف رحمت (ف۳۸) اور اس کے باہر کی طرف عذاب،
The day when hypocrite men and hypocrite women will say to the Muslims, “Look mercifully towards us, so that we may gain some of your light!”; it will be said to them, “Turn back, search light over there!”; so they will turn around, whereupon a wall will be erected between them, in which is a gate; inside the gate is mercy, and on the outer side is the punishment.
जिस दिन मुनाफ़िक मर्द और मुनाफ़िक औरतें मुसलमानों से कहेंगे कि हमें एक निगाह देखो कि हम तुम्हारे नूर से कुछ हिस्सा लें, कहा जाएगा अपने पीछे लौटो वहाँ नूर ढूँढो, वह लौटेंगे, जबही उनके दरमियान एक दीवार खड़ी कर दी जाएगी जिस में एक दरवाज़ा है, उसके अंदर की तरफ़ रहमत और उसके बाहर की तरफ़ अज़ाब,
Jis din munafiq mard aur munafiq auraten musalmanon se kahenge ke humein ek nigaah dekho ke hum tumhare noor se kuchh hissa lein, kaha jayega apne peeche lauto wahan noor dhoondo, woh lautenge, jabhi unke darmiyan ek deewar khadi kar di jayegi jis mein ek darwaza hai, uske andar ki taraf rahmat aur uske baahar ki taraf azaab,
(ف34)جہاں سے آئے تھے یعنی موقف کی طرف جہاں ہمیں نور دیا گیا ہے وہاں نور طلب کر و یا یہ معنٰی ہیں کہ تم ہمارا نور نہیں پاسکتے نور کی طلب کے لئے پیچھے لوٹ جاؤ پھر وہ نور کی تلاش میں واپس ہوں گے اور کچھ نہ پائیں گے دوبارہ مومنین کی طرف پھریں گے ۔(ف35)یعنی مومنین اور منافقین کے ۔(ف36)بعض مفسّرین نے کہا کہ وہی اعراف ہے ۔(ف37)اس سے جنّتی جنّت میں داخل ہوں گے ۔(ف38)یعنی اس دیوار کے اندرونی جانب جنّت ۔
منافق (ف۳۹) مسلمانوں کو پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (ف٤۰) وہ کہیں گے کیوں نہیں مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں (ف٤۱) اور مسلمانوں کی برائی تکتے اور شک رکھتے (ف٤۲) اور جھوٹی طمع نے تمھیں فریب دیا (ف٤۳) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا (ف٤٤) اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا (ف٤۵)
The hypocrites will call out to the Muslims, “Were we not with you?”; they will answer, “Yes you were, why not? But you had put your souls into trial, and you used to await misfortune for the Muslims, and you doubted, and false hopes deceived you until Allah’s command came – and the big cheat had made you conceited towards the command of Allah.”
मुनाफ़िक मुसलमानों को पुकारेंगे क्या हम तुम्हारे साथ न थे? वह कहेंगे क्यों नहीं मगर तुम ने तो अपनी जानें फ़ितना में डालें और मुसलमानों की बुराई तकते और शक रखते और झूटी तमा ने तुम्हें फ़रेब दिया यहाँ तक कि अल्लाह का हुक्म आ गया और तुम्हें अल्लाह के हुक्म पर उस बड़े फ़रेबी ने मग़रूर रखा
Munafiq musalmanon ko pukaarenge kya hum tumhare saath na the? Woh kahenge kyon nahin magar tumne to apni jaanen fitna mein daalein aur musalmanon ki burai takte aur shak rakhte aur jhooti tama ne tumhein fareb diya yahan tak ke Allah ka hukm aa gaya aur tumhein Allah ke hukm par us bade farebi ne maghroor rakha
(ف39)اس دیوار کے پیچھے سے ۔(ف40)دنیا میں نماز یں پڑھتے روزہ رکھتے ۔(ف41)نفاق و کفر اختیار کرکے ۔(ف42)دِینِ اسلام میں ۔(ف43)اور تم باطل امیدوں میں رہے کہ مسلمانوں پر حوادث آئیں گے وہ تباہ ہوجائیں گے ۔(ف44)یعنی موت ۔(ف45)یعنی شیطان نے دھوکا دیا کہ اللہ تعالٰی بڑا حلیم ہے تم پر عذاب نہ کرے گا اور نہ مرنے کے بعد اٹھنا ، نہ حساب تم اس کے اس فریب میں آ گئے ۔
تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے (ف٤٦) اور نہ کھلے کافروں سے، تمہارا ٹھکانا آگ ہے، وہ تمہاری رفیق ہے، اور کیا ہی برا انجام،
“So this day no ransom is to be taken from you nor from the declared disbelievers; your destination is the fire; that is your companion; and what a wretched outcome!”
तो आज न तुम से कोई फ़िदया लिया जाए और न खुले काफ़िरों से, तुम्हारा ठिकाना आग है, वह तुम्हारी रफ़ीक़ है, और क्या ही बुरा अंजाम,
To aaj na tumse koi fidya liya jaye aur na khule kafiron se, tumhara thikana aag hai, woh tumhari rafeeq hai, aur kya hi bura anjaam,
(ف46)جس کو دے کر تم اپنی جان عذاب سے چھڑا سکو ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ آج نہ تم سے ایمان قبول کیا جائے ، نہ توبہ ۔
کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اترا (ف٤۷) اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی (ف٤۸) پھر ان پر مدت دراز ہوئی (ف٤۹) تو ان کے دل سخت ہوگئے (ف۵۰) اور ان میں بہت فاسق ہیں (ف۵۱)
Has not the time come for the believers to surrender their hearts to Allah’s remembrance and to this truth that has come down? And do not be like those who were earlier given the Book(s) and when a long term passed over them, their hearts became hardened; and many of them are sinners.
क्या ईमान वालों को अभी वह वक़्त न आया कि उनके दिल झुक जाएँ अल्लाह की याद और उस हक़ के लिए जो उतरा और उन जैसे न हों जिन को पहले किताब दी गई फिर उन पर मुद्दत दराज़ हुई तो उनके दिल सख़्त हो गए और उन में बहुत फासिक़ हैं
Kya imaan walon ko abhi woh waqt na aaya ke unke dil jhuk jaayen Allah ki yaad aur us haqq ke liye jo utra aur un jaise na hon jin ko pehle kitaab di gayi phir un par muddat daraaz hui to unke dil sakht ho gaye aur un mein bohot faasiq hain
(ف47)شانِ نزول : حضرت اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دولت سرائے اقدس سے باہر تشریف لائے تو مسلمانوں کو دیکھا کہ آپس میں ہنس رہے ہیں فرمایا تم ہنستے ہو ابھی تک تمہارے رب کی طرف سے امان نہیں آئی اور تمہارے ہنسنے پر یہ آیت نازل ہوئی ، انہو ں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس ہنسی کا کَفّارہ کیا ہے ؟ فرمایا اتنا ہی رونا ۔ اور اترنے والے حق سے مراد قرآنِ مجید ہے ۔(ف48)یعنی یہود و نصارٰی کے طریقے اختیار نہ کریں ۔(ف49)یعنی وہ زمانہ جو ان کے اور ان کے انبیاء کے درمیان تھا ۔(ف50)اور یادِ الٰہی کے لئے نرم نہ ہوئے دنیا کی طرف مائل ہوگئے اور مواعظ سے انہوں نے اعراض کیا ۔(ف51)دِین سے خارج ہونے والے ۔
جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۵۲) بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان فرمادیں کہ تمہیں سمجھ ہو،
Know that it is Allah Who revives the earth after its death; We have indeed illustrated the signs for you, for you to understand.
जान लो कि अल्लाह ज़मीन को ज़िंदा करता है उसके मरे पीछे बेशक हमने तुम्हारे लिए निशानियाँ बयान फ़रमा दीं कि तुम्हें समझ हो,
Jaan lo ke Allah zameen ko zinda karta hai uske mare pichhe beshak humne tumhare liye nishaaniyan bayaan farma deen ke tumhein samajh ho,
(ف52)مینھ برسا کر سبز ہ اُگا کر بعد اس کے کہ خشک ہوگئی تھی ایسے ہی دلوں کو سخت ہوجانے کے بعد نرم کرتا ہے اور انہیں علم و حکمت سے زندگی عطا فرماتا ہے ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ یہ تمثیل ہے ذکر کے دلوں میں اثر کرنے کی جس طرح بارش سے زمین کو زندگی حاصل ہوتی ہے ایسے ہی ذکرِ الٰہی سے دل زندہ ہوتے ہیں ۔
اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے، اور اَوروں پر (ف۵۵) گواہ اپنے رب کے یہاں، ان کے لیے ان کا ثواب (ف۵٦) اور ان کا نور ہے (ف۵۷) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں،
And those who believe in Allah and all His Noble Messengers, are the truly sincere; and are witness upon others, before their Lord; for them is their reward, and their light; and those who disbelieved and denied Our signs, are the people of hell.
और वह जो अल्लाह और उसके सब रसूलों पर ईमान लाएँ वही हैं कामिल सच्चे, और औरों पर गवाह अपने रब के यहाँ, उनके लिए उनका सवाब और उनका नूर है और जिन्होंने कुफ़्र किया और हमारी आयतें झटलाईं वह दोज़खी हैं,
Aur woh jo Allah aur uske sab Rasoolon par imaan laayen wahi hain kaamil sachche, aur auron par gawah apne Rab ke yahan, unke liye unka sawaab aur unka noor hai aur jinhon ne kufr kiya aur hamari aayatein jhutlayeen woh dozakhi hain,
(ف55)گزری ہوئی امّتوں میں سے ۔(ف56)جس کا وعدہ کیا گیا ۔(ف57)جو حشر میں ان کے ساتھ ہوگا ۔
جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۵۸) اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا (ف۵۹) اس مینھ کی طرح جس کا اُگایاسبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا (ف٦۰) کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن (پامال کیا ہوا) ہوگیا (ف٦۱) اور آخرت میں سخت عذاب ہے (ف٦۲) اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا (ف٦۳) اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال (ف٦٤)
Know that the life of this world is nothing but play and pastime, and adornment, and boasting amongst yourselves, and the desire to surpass each other in wealth and children; like the rain the produce of which pleased the farmer, then dried so you see it yellow, and then turned into dry trampled hay; and in the Hereafter is a severe punishment, and the forgiveness from Allah and His pleasure; and the life of this world is nothing but counterfeit wealth.
जान लो कि दुनिया की ज़िंदगी तो नहीं मगर खेल कूद और आराइश और तुम्हारा आपस में बड़ाई मारना और माल और औलाद में एक दूसरे पर ज़ियादती चाहना, उस मेहँ की तरह जिस का उगाया सब्ज़ा किसानों को भाया फिर सूखा कि तू उसे ज़र्द देखे फिर रौंदन (पामाल किया हुआ) हो गया और आख़िरत में सख़्त अज़ाब है और अल्लाह की तरफ़ से बख़्शिश और उसकी रज़ा और दुनिया का जीना तो नहीं मगर धोके का माल
Jaan lo ke duniya ki zindagi to nahin magar khel kood aur aaraish aur tumhara aapas mein barai maarna aur maal aur aulaad mein ek doosre par ziyadati chaahna us mehn ki tarah jis ka ugaya sabza kisano ko bhaya phir sookha ke tu use zard dekhe phir raundan (paamaal kiya hua) ho gaya aur aakhirat mein sakht azaab hai aur Allah ki taraf se bakhshish aur uski raza aur duniya ka jeena to nahin magar dhokhe ka maal
(ف58)جس میں وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ۔(ف59)اور ان چیزوں میں مشغول رہنا اور ان سے دل لگانا دنیا ہے لیکن طاعتیں اور عبادتیں اور جو چیزیں کہ طاعت پر مُعِین ہوں اور وہ امورِ آخرت سے ہیں ۔ اب اس زندگانی دنیا کی ایک مثال ارشاد فرمائی جاتی ہے ۔(ف60)اس کی سبزی جاتی رہی ، پیلا پڑ گیا کسی آفتِ سماوی یا ارضی سے ۔(ف61)ریزہ ریزہ ، یہی حال دنیا کی زندگی کا ہے جس پر طالبِ دنیا بہت خوش ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بہت سی امیدیں رکھتا ہے وہ نہایت جلد گزر جاتی ہے ۔(ف62)اس کے لئے جو دنیا کا طالب ہو اور زندگی لہو و لعب میں گزارے اور وہ آخرت کی پرواہ نہ کرے ایسا حال کافر کا ہوتا ہے ۔(ف63)جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دی ۔(ف64)یہ اس کے لئے ہے جو دنیا ہی کا ہوجائے اور اس پر بھروسہ کرلے اور آخرت کی فکر نہ کرے اور جو شخص دنیا میں آخرت کا طالب ہو اور اسبابِ دنیوی سے بھی آخرت ہی کے لئے علاقہ رکھے تو اس کے لئے دنیا کی کامیابی آخرت کا ذریعہ ہے ۔ حضرت ذوالنّون رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اے گروہِ مرید ین دنیا طلب نہ کرو اور اگر طلب کرو تو اس سے محبّت نہ کرو توشہ یہاں سے لو آرام گاہ اور ہے ۔
بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف (ف٦۵) جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ (ف٦٦) تیار ہوئی ہے ان کے لیے جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑا فضل والا ہے،
Rush towards the forgiveness of your Lord and a Paradise wide as the expanse of the heavens and the earth – made for those who believe in Allah and all His Noble Messengers; this is Allah’s munificence, He may bestow it to whomever He wills; and Allah is Extremely Munificent.
बढ़ कर चलो अपने रब की बख़्शिश और उस जन्नत की तरफ़ जिस की चौड़ाई जैसे आसमान और ज़मीन का फैलाव तैयार हुई है उनके लिए जो अल्लाह और उसके सब रसूलों पर ईमान लाए, ये अल्लाह का फ़ज़्ल है जिसे चाहे दे, और अल्लाह बड़ा फ़ज़्ल वाला है,
Barh kar chalo apne Rab ki bakhshish aur us jannat ki taraf jis ki chaudai jaise aasman aur zameen ka phailaav tayyar hui hai unke liye jo Allah aur uske sab Rasoolon par imaan laaye, ye Allah ka fazl hai jise chahe de, aur Allah bada fazl wala hai,
(ف65)رضائے الٰہی کے طالب بنو اس کی طاعت اختیار کرو اور اس کی فرمانبرداری بجالا کر جنّت کی طرف بڑھو ۔(ف66)یعنی جنّت کا عرض ایسا ہے کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے ورق ملا کر باہم ملا دیئے جائیں تو جتنے وہ ہوں اتنا جنّت کا عرض پھر طول کی کیا انتہا ۔
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں (ف٦۷) اور نہ تمہاری جانوں میں (ف٦۸) مگر وہ ایک کتاب میں ہے (ف٦۹) قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں (ف۷۰) بیشک یہ (ف۷۱) اللہ کو آسان ہے،
There is no misfortune that reaches in the earth or in your selves but is mentioned in a Book, before We initiate it; indeed this is easy for Allah.
नहीं पहुँचती कोई मुसीबत ज़मीन में और न तुम्हारी जानों में मगर वह एक किताब में है क़बल इसके कि हम उसे पैदा करें, बेशक ये अल्लाह को आसान है,
Nahin pahunchti koi museebat zameen mein aur na tumhari jaanon mein magar woh ek kitaab mein hai qabl iske ke hum use paida karein, beshak ye Allah ko aasan hai,
(ف67)قحط کی ، امساکِ باراں کی ، عدم پیدوار کی ، پھلوں کی کمی کی ، کھیتیوں کے تباہ ہونے کی ۔(ف68)امراض کی اور اولاد کے غموں کی ۔(ف69)لوحِ محفوظ میں ۔(ف70)یعنی زمین کو یا جانوں کو یا مصیبت کو ۔(ف71)یعنی ان امور کا باوجود کثرت کے لوح میں ثبت فرمانا ۔
اس لیے کہ غم نہ کھاؤ اس (ف۷۲) پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو (ف۷۳) اس پر جو تم کو دیا (ف۷٤) اور اللہ کو نہیں کوئی اترونا (شیخی بگھارنے والا) بڑائی مارنے والا،
So that you may not be saddened upon losing something, nor rejoice upon what you are given; and Allah does not like any boastful, conceited person.
इस लिए कि ग़म न खाओ उस पर जो हाथ से जाए और खुश न हो उस पर जो तुम को दिया और अल्लाह को नहीं कोई उतरौना (शेख़ी बघारने वाला) बड़ाई मारने वाला,
Is liye ke gham na khao us par jo haath se jaye aur khush na ho us par jo tumko diya aur Allah ko nahin koi utarona (shekhi baghaar ne wala) barai maarne wala,
(ف72)متاعِ دنیا ۔(ف73)یعنی نہ اتراؤ ۔(ف74)دنیا کا مال و و متاع ۔ اور یہ سمجھ لو کہ جو اللہ تعالٰی نے مقدر فرمایا ہے ضرور ہونا ہے نہ غم کرنے سے کوئی ضائع شدہ چیز واپس مل سکتی ہیں ، نہ فنا ہونے والی چیز اترانے کے لائق ہے تو چاہئے کہ خوشی کی جگہ شکر اورغم کی جگہ صبر اختیا ر کرو ۔ غم سے مراد یہاں انسان کی وہ حالت ہے جس میں صبر اور رضا بقضائے الٰہی اور امیدِ ثواب باقی نہ رہے ۔ اور خوشی سے وہ اترانا مراد ہے جس میں مست ہو کر آدمی شکر سے غافل ہوجائے ۔ اور وہ غم و رنج جس میں بندہ اللہ تعالٰی کی طرف متوجّہ ہو اور اس کی رضا پر راضی ہو ایسے ہی وہ خوشی جس پر حق تعالٰی کا شکر گزار ہو ممنوع نہیں ۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اے فرزندِ آدم کسی چیز کے فقدان پر کیوں غم کرتا ہے یہ اس کو تیرے پاس واپس نہ لائے گا اور کسی موجود چیز پر کیوں اتراتا ہے موت اس کو تیرے ہاتھ میں نہ چھوڑ ے گی ۔
وہ جو آپ بخل کریں (ف۷۵) اور اوروں سے بخل کو کہیں (ف۷٦) اور جو منہ پھیرے (ف۷۷) تو بیشک اللہ ہی بےنیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
Those who practice miserliness, and exhort others to miserliness; and whoever turns away, then (know that) Allah is the Independent, the Most Praiseworthy.
वह जो आप बुख़्ल करें और औरों से बुख़्ल को कहें और जो मुँह फेरे तो बेशक अल्लाह ही बेनियाज़ है सब खूबियों सराहा,
Woh jo aap bukhl karein aur auron se bukhl ko kahen aur jo munh phere to beshak Allah hi beniyaaz hai sab khubiyon saraaha,
(ف75)اور راہِ خدا اور امورِ خیر میں خرچ نہ کریں اور حقوقِ مالیہ کی ادا سے قاصر رہیں ۔ (ف76)اسکی تفسیر میں مفسّرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ یہود کے حال کا بیان ہے ، اور بُخل سے مراد ان کا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ان اوصاف کو چُھپانا ہے جو کُتُبِ سابقہ میں مذکور تھے ۔ (ف77)ایمان سے یا مال خرچ کرنے سے یا خدا اور رسول کی فرمانبرداری سے ۔
بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب (ف۷۸) اور عدل کی ترازو اتاری (ف۷۹) کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں (ف۸۰) اور ہم نے لوہا اتارا (ف۸۱) اس میں سخت آنچ (نقصان) (ف۸۲) اور لوگوں کے فائدے (ف۸۳) اور اس لیے کہ اللہ دیکھے اس کو جو بےدیکھے اس کی (ف۸٤) اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قورت والا غالب ہے (ف۸۵)
Indeed We sent Our Noble Messengers with proofs, and sent down the Book and the Balance of Justice along with them, so that people may stay upon justice; and We sent down iron having severe heat and benefits for mankind, and so that Allah may see him, who without seeing aides Him and His Noble Messengers; indeed Allah is Almighty, Dominant.
बेशक हमने अपने रसूलों को दलीलों के साथ भेजा और उनके साथ किताब और अद्ल की तराज़ू उतारी कि लोग इंसाफ़ पर क़ायम हों और हमने लोहे को उतारा उस में सख़्त आँच (नुक़सान) और लोगों के फायदे और इस लिए कि अल्लाह देखे उस को जो बे देखे उसकी और उसके रसूलों की मदद करता है, बेशक अल्लाह क़ुव्वत वाला ग़ालिब है
Beshak humne apne Rasoolon ko daleelon ke saath bheja aur unke saath kitaab aur adl ki tarazu utaari ke log insaaf par qaaim hon aur humne loha utaara us mein sakht aanch (nuqsaan) aur logon ke faayde aur is liye ke Allah dekhe usko jo be dekhe uski aur uske Rasoolon ki madad karta hai, beshak Allah quwwat wala ghaalib hai
(ف78)احکام و شرائع کی بیان کرنے والی ۔(ف79)ترازو سے مراد عدل ہے معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے عدل کا حکم دیا ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ ترازو سے وزن کا آلہ ہی مراد ہے ۔ مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے پاس ترازولائے اور فرمایا کہ اپنی قوم کو حکم دیجئے کہ اس سے وزن کریں ۔(ف80)اور کوئی کسی کی حق تلفی نہ کرے ۔(ف81)بعض مفسّرین نے فرمایا کہ اتارنا یہاں پیدا کرنے کے معنٰی میں ہے مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کے لئے معادن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم دیا اور یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے چار بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاریں(۱) لوہا(۲) آ گ(۳) پانی(۴) نمک ۔(ف82)اور نہایت قوّت کہ اس سے اسلحہ اور آلاتِ جنگ بنائے جاتے ہیں ۔(ف83)کہ صنعتوں اور حرفتوں میں وہ بہت کام آتا ہے ، خلاصہ یہ کہ ہم نے رسولوں کو بھیجا اور ان کے ساتھ ان چیزوں کو نازل فرمایا کہ لوگ حق و عدل کا معاملہ کریں ۔(ف84)یعنی اس کے دِین کی ۔(ف85)اس کو کسی کی مدد درکار نہیں دِین کی مدد کرنے کا جو حکم دیا گیا یہ انہیں لوگوں کے نفع کے لئے ہے ۔
اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی (ف۸٦) تو ان میں (ف۸۷) کوئی راہ پر آیا اور ان میں بہتیرے فاسق ہیں،
And indeed We sent Nooh and Ibrahim, and placed Prophethood and the Book among their descendants, so some among them took to guidance; and many of them are sinners.
और बेशक हमने नूह और इब्राहीम को भेजा और उनकी औलाद में नबुव्वत और किताब रखी तो उन में कोई राह पर आया और उन में बहुतिरे फासिक़ हैं,
Aur beshak humne Nooh aur Ibraheem ko bheja aur unki aulad mein nabuwat aur kitaab rakhi to un mein koi raah par aaya aur un mein bahutire faasiq hain,
(ف86)یعنی توریت وانجیل وزبورا ور قرآن ۔ (ف87)یعنی ان کی ذرّیت میں جن میں نبی اور کتابیں بھیجیں ۔
پھر ہم نے ان کے پیچھے (ف۸۸) اسی راہ پر اپنے اور رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی اور اس کے پیروں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی (ف۸۹) اور راہب بننا (ف۹۰) تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا (ف۹۱) تو ان کے ایمان والوں کو (ف۹۲) ہم نے ان کا ثواب عطا کیا، اور ان میں سے بہتیرے (ف۹۳) فاسق ہیں،
We then sent Our other Noble Messengers after them following their footsteps, and after them We sent Eisa, the son of Maryam, and bestowed the Injeel to him; and We instilled compassion and mercy in the hearts of his followers; and they invented monasticism which We had not ordained upon them only to seek Allah’s pleasure, then did not properly abide by it as it should have been rightfully abided; We therefore gave the believers among them their reward; and many of them are sinners.
फिर हमने उनके पीछे उसी राह पर अपने और रसूल भेजे और उनके पीछे ईसा बिन मरियम को भेजा और उसे इंजील अता फ़रमाई और उसके पेरों के दिल में नर्मी और रहमत रखी और राहिब बनना तो ये बात उन्होंने दीन में अपनी तरफ़ से निकाली, हमने उन पर मुक़र्रर न की थी, हाँ ये बिदअत उन्होंने अल्लाह की रज़ा चाहने को पैदा की फिर उसे न निभाया जैसा उसके निभाने का हक़ था तो उनके ईमान वालों को हमने उनका सवाब अता किया, और उन में से बहुतिरे फासिक़ हैं,
Phir humne unke peeche usi raah par apne aur Rasool bheje aur unke peeche Eesa bin Maryam ko bheja aur use Injeel ata farmai aur uske pairon ke dil mein narmi aur rahmat rakhi aur raahib banna to ye baat unhon ne deen mein apni taraf se nikaali, humne un par muqarrar na ki thi, haan ye bidat unhon ne Allah ki raza chaahne ko paida ki phir use na nibhaaya jaisa uske nibhaane ka haq tha to unke imaan walon ko humne unka sawaab ata kiya, aur un mein se bahutire faasiq hain,
(ف88)یعنی نوح و ابراہیم علیہما السلام کے بعد تا زمانۂِ حضرت عیسٰی علیہ السلام یکے بعد دیگرے ۔(ف89)کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبّت و شفقت رکھتے ۔(ف90)پہاڑوں اور غاروں اور تنہا مکانوں میں خلوت نشین ہونا اور صومعہ بنانا اور اہلِ دنیا سے مخالطت ترک کرنا اور عبادتوں میں اپنے اوپر زائد مشقّتیں بڑھا لینا ، تارک ہوجانا ، نکاح نہ کرنا ، نہایت موٹے کپڑے پہننا ، ادنٰی غذا نہایت کم مقدار میں کھانا ۔(ف91)بلکہ اس کو ضائع کردیا اور تثلیث و اتحاد میں مبتلا ہوئے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دِین سے کفر کرکے اپنے بادشاہوں کے دِین میں داخل ہوئے اور کچھ لوگ ان میں سے دِینِ مسیحی پر قائم اور ثابت بھی رہے اور جب زمانۂِ پاک حضور سیّدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پایا تو حضور پر بھی ایمان لائے ۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بدعت یعنی دِین میں کسی بات کا نکالنا اگر وہ بات نیک ہو اور اس سے رضائے الٰہی مقصود ہو تو بہتر ہے ، اس پر ثواب ملتا ہے ، اور اس کو جاری رکھنا چاہئے ایسی بدعت کو بدعتِ حسنہ کہتے ہیں البتہ دِین میں بُری بات نکالنا بدعتِ سیّئہ کہلاتا ہے ، وہ ممنوع اور ناجائز ہے اور بدعتِ سیّئہ حدیث شریف میں وہ بتائی گئی ہے جو خلافِ سنّت ہو اس کے نکالنے سے کوئی سنّت اٹھ جائے اس سے ہزار ہا مسائل کا فیصلہ ہوجاتا ہے جن میں آج کل لوگ اختلاف کرتے ہیں اور اپنی ہوائے نفسانی سے ایسے امورِ خیر کو بدعت بتا کر منع کرتے ہیں جن سے دِین کی تقویّت و تائید ہوتی ہے اور مسلمانوں کو اخروی فوائد پہنچتے ہیں اور وہ طاعات و عبادات میں ذوق و شوق کے ساتھ مشغول رہتے ہیں ایسے امور کو بدعت بتانا قرآنِ مجید کی اس آیت کے صریح خلاف ہے ۔(ف92)جو دِین پر قائم رہے تھے ۔(ف93)جنہوں نے رہبانیّت کو ترک کیا اور دِینِ حضرت عیسٰی علیہ السلام سے منحرف ہوگئے ۔
اے ایمان والو! (ف۹٤) اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (ف۹۵) پر ایمان لاؤ وہ اپنی رحمت کے دو حصے تمہیں عطا فرمائے گا (ف۹٦) اور تمہارے لیے نور کردے گا (ف۹۷) جس میں چلو اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
O People who Believe (in the earlier Noble Messengers)! Fear Allah and accept faith in this Noble Messenger of His – He will bestow two portions of His mercy to you and will create a light for you to walk in it, and will forgive you; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ऐ ईमान वालो! अल्लाह से डरो और उसके रसूल पर ईमान लाओ, वह अपनी रहमत के दो हिस्से तुम्हें अता फ़रमाएगा और तुम्हारे लिए नूर कर देगा जिस में चलो और तुम्हें बख़्श देगा, और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Aye imaan walo! Allah se daro aur uske Rasool par imaan lao, woh apni rahmat ke do hisse tumhein ata farmaayega aur tumhare liye noor kar dega jis mein chalo aur tumhein bakhsh dega, aur Allah bakhshne wala mehrbaan hai,
(ف94)حضرت موسٰی و حضرت عیسٰی پر علیہما السلام ۔ یہ خطاب اہلِ کتاب کو ہی ان سے فرمایا جاتا ہے ۔(ف95)سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف96)یعنی تمہیں دونا اجر دے گا کیونکہ تم پہلی کتاب اور پہلے نبی پر بھی ایمان لائے او ر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قرآنِ پاک پر بھی ۔(ف97)صراط پر ۔
یہ اس لیے کہ کتاب والے کافر جان جائیں کہ اللہ کے فضل پر ان کا کچھ قابو نہیں (ف۹۸) اور یہ کہ فضل اللہ کے ہاتھ ہے دیتا ہے جسے چاہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
This is so that the disbelievers among People given the Book(s) may know that they do not have any control over Allah’s munificence, and that the munificence is in Allah’s Hand (control) – He bestows to whomever He wills; and Allah is Extremely Munificent.
ये इस लिए कि किताब वाले काफ़िर जान जाएँ कि अल्लाह के फ़ज़्ल पर उनका कुछ क़ाबू नहीं और ये कि फ़ज़्ल अल्लाह के हाथ है देता है जिसे चाहे, और अल्लाह बड़े फ़ज़्ल वाला है,
"
Ye is liye ke kitaab wale kaafir jaan jaayen ke Allah ke fazl par unka kuchh qaabu nahin aur ye ke fazl Allah ke haath hai deta hai jise chahe, aur Allah bade fazl wala hai,
(ف98) وہ اس میں سے کچھ نہیں پاسکتے نہ دونا اجر ، نہ نور ، نہ مغفرت کیونکہ وہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان نہ لائے تو ان کا پہلے انبیاء پر ایمان لانا بھی مفید نہ ہوگا ۔شانِ نزول : جب اوپر کی آیت نازل ہوئی اور اس میں مومنینِ اہلِ کتاب کو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اوپر ایمان لانے پر دونے اجر کا وعدہ دیا گیا تو کفّارِ اہلِ کتاب نے کہا اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائیں تو دونا اجر ملے اور اگر نہ لائیں تو ایک اجر جب بھی رہے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے اس خیال کا ابطال کردیا گیا ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page