بیشک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے (ف۲) اور اللہ سے شکایت کرتی ہے، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
Allah has indeed heard the speech of the woman who is arguing with you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) concerning her husband, and is complaining to Allah; and Allah hears the conversation of you both; indeed Allah is All Hearing, All Knowing.
बेशक अल्लाह ने सुनी इस की बात जो तुम से अपने शोहर के मामला में बहस करती है और अल्लाह से शिकायत करती है, और अल्लाह तुम दोनों की गुफ्तगू सुन रहा है, बेशक अल्लाह सुनता देखता है,
Beshak Allah ne suni is ki baat jo tum se apne shauhar ke maamla mein behas karti hai aur Allah se shikayat karti hai, aur Allah tum dono ki guftagu sun raha hai, beshak Allah sunta dekhta hai,
(ف2)وہ خولہ بنتِ ثعلبہ تھیں ، اَوس بن صامت کی بی بی ۔شانِ نزول : کسی بات پر اَوس نے ان سے کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے ، یہ کہنے کے بعد اَوس کو ندامت ہوئی ، یہ کلمہ زمانۂِ جاہلیّت میں طلاق تھا ، اَوس نے کہا میرے خیال میں تو مجھ پر حرام ہوگئی ، خولہ نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام واقعات عرض کئے اور عرض کیا کہ میرا مال ختم ہوچکا ، ماں باپ گذر گئے ، عمر زیادہ ہوگئی ، بچے چھوٹے چھوٹے ہیں ، ان کے باپ کے پاس چھوڑ وں تو ہلاک ہوجائیں ، اپنے ساتھ رکھوں تو بھوکے مرجائیں ، کیا صورت ہے کہ میرے اور میرے شوہر کے درمیان جدائی نہ ہو ؟ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ تیرے باب میں میرے پاس کوئی حکم نہیں یعنی ابھی تک ظِہار کے متعلق کوئی حکمِ جدید نازل نہیں ہوا ، دستورِ قدیم یہی ہے کہ ظِہار سے عورت حرام ہوجاتی ہے ، عورت نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَوس نے طلاق کا لفظ نہ کہا ، وہ میرے بچّوں کا باپ ہے اور مجھے بہت ہی پیارا ہے ، اسی طرح وہ بار بار عرض کرتی رہی اور جواب حسبِ خواہش نہ پایا تو آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہنے لگی یا اللہ تعالٰی میں تجھ سے اپنی محتاجی و بے کسی اورپریشان حالی کی شکایت کرتی ہوں ، اپنے نبی پر میرے حق میں ایسا حکم نازل فرماجس سے میری مصیبت رفع ہو ، حضرت امّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے فرمایا خاموش ہو دیکھ چہرۂِ مبارکِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر آثارِ وحی ظاہر ہیں ، جب وحی پوری ہوگئی ، فرمایا اپنے شوہر کو بلا ، اوس حاضر ہوئے تو حضور نے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں ۔
وہ جو تم میں اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہہ بیٹھتے ہیں (ف۳) وہ ان کی مائیں نہیں (ف٤) ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں (ف۵) اور وہ بیشک بری اور نری جھوٹ بات کہتے ہیں (ف٦) اور بیشک اللہ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے،
Those among you who have proclaimed their wives as their mothers – so their wives are not their mothers; their mothers are only those that gave them birth; and undoubtedly they utter evil and a blatant lie; and indeed Allah is Most Pardoning, Oft Forgiving.
वह जो तुम में अपनी बीबियों को अपनी माँ की जगह कह बैठते हैं वह उनकी माएँ नहीं, उनकी माएँ तो वही हैं जिन से वह पैदा हैं और वह बेशक बुरी और नरी झूट बात कहते हैं और बेशक अल्लाह जरूर माफ़ करने वाला और बख्शने वाला है,
Woh jo tum mein apni beebiyon ko apni maan ki jagah keh baithte hain woh unki maaen nahin, unki maaen to wahi hain jin se woh paida hain aur woh beshak buri aur niri jhoot baat kehte hain aur beshak Allah zaroor maaf karne wala aur bakhshne wala hai,
(ف3)یعنی ظِہار کرتے ہیں ، ظِہار اس کو کہتے ہیں کہ اپنی بی بی کو محرماتِ نسبی یا رضائی کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دی جائے جس کو دیکھنا حرام ہے مثلاً بی بی سے کہے کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے یا بی بی کے ایسے عضو کو جس سے وہ تعبیر کی جاتی ہو یا اس کے جزوِ شائع کو محرمات کے ایسے عضو سے تشبیہہ دے جس کا دیکھنا حرام ہے مثلاً یہ کہے کہ تیرا سریا تیرا نصفِ بدن میری ماں کی پیٹھ یا اس کے پیٹ یا اس کی ران یا میری بہن یا پھوپھی یادودھ پلانے والی کی پیٹھ یا پیٹ کے مثل ہے تو ایسا کہنا ظِہار کہلاتا ہے ۔(ف4)یہ کہنے سے وہ مائیں نہیں ہوگئیں ۔(ف5)مسئلہ : اور دودھ پلانے والیاں بسبب دودھ پلانے کے ماؤں کے حکم میں ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ازواجِ مطہّرات بسببِ کمالِ حرمت مائیں بلکہ ماؤں سے اعلٰی ہیں ۔(ف6)جو بی بی کو ماں کہتے ہیں ، اس کو کسی طرح ماں کے ساتھ تشبیہ دینا ٹھیک نہیں ۔
اور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں (ف۷) پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بری بات کہہ چکے (ف۸) تو ان پر لازم ہے (ف۹) ایک بردہ آزاد کرنا (ف۱۰) قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (ف۱۱) یہ ہے جو نصیحت تمہیں کی جاتی ہے، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
And those among you who have proclaimed their wives as their mothers and then wish to revert to the matter upon which they had uttered such an enormous word, must then free a slave before they touch one another; this is what you are advised; and Allah is Aware of your deeds.
और वह जो अपनी बीबियों को अपनी माँ की जगह कहें फिर वही करना चाहें जिस पर इतनी बुरी बात कह चुके तो उन पर लाज़िम है एक बर्दा आज़ाद करना क़बल इस के कि एक दूसरे को हाथ लगाएँ यह है जो नसीहत तुम्हें की जाती है, और अल्लाह तुम्हारे कामों से ख़बरदार है,
Aur woh jo apni beebiyon ko apni maan ki jagah kahein phir wahi karna chahen jis par itni buri baat keh chuke to un par lazim hai ek barda azaad karna qabl is ke ke ek doosre ko haath lagayen, yeh hai jo naseehat tumhein ki jati hai, aur Allah tumhare kaamon se khabardaar hai,
(ف7)یعنی ان سے ظِہار کریں ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ باندی سے ظِہار نہیں ہوتااگر اس کو محرمات سے تشبیہ دے تو مظاہر نہ ہوگا ۔(ف8)یعنی اس ظِہار کو توڑ دینا اور حرمت کو اٹھا دینا ۔(ف9)کفار ۂِ ظِہار کا ، لہٰذا ان پر ضروری ہے ۔(ف10)خواہ وہ مومن ہو یا کافر ، صغیرہو یا کبیر ، مرد ہو یا عورت ، البتہ مُدَبَّر اور اُمِّ ولد اور ایسا مکاتَب جائز نہیں جس نے بدلِ کتابت میں سے کچھ ادا کیاہو ۔(ف11)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اس کَفّارہ کے دینے سے پہلے وطی اور اس کے دواعی حرام ہیں ۔
پھر جسے بردہ نہ ملے تو (ف۱۲) لگاتار دو مہینے کے روزے (ف۱۳) قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (ف۱٤) پھر جس سے روزے بھی نہ ہوسکیں (ف۱۵) تو ساٹھ مسکینوں کا پیٹ بھرنا (ف۱٦) یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو (ف۱۷) اور یہ اللہ کی حدیں ہیں (ف۱۸) اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے،
So one who cannot find a slave, must then fast for two successive months before they touch one another; and one who cannot even fast, must then feed sixty needy ones; this is in order that you keep faith in Allah and His Noble Messenger; and these are the limits of Allah; and for the disbelievers is a painful punishment.
फिर जिसे बर्दा न मिले तो लगातार दो महीने के रोज़े क़बल इस के कि एक दूसरे को हाथ लगाएँ फिर जिस से रोज़े भी न हो सकें तो साठ मिसकीनों का पेट भरना यह इस लिए कि तुम अल्लाह और उसके रसूल पर ईमान रखो और यह अल्लाह की हदें हैं और काफ़िरों के लिए दर्दनाक अज़ाब है,
Phir jise barda na mile to lagataar do mahine ke roze qabl is ke ke ek doosre ko haath lagayen, phir jis se roze bhi na ho saken to saath miskeenon ka pait bharna, yeh is liye ke tum Allah aur uske Rasool par imaan rakho aur yeh Allah ki hadein hain aur kafiron ke liye dardnaak azaab hai,
(ف12)اس کا کَفّارہ ۔(ف13)متصل اس طرح کہ نہ ان دو مہینوں کے درمیان رمضان آئے اور نہ ان پانچ دنوں میں سے کوئی دن آئے جن کا روزہ ممنوع ہے اور نہ کسی عذر سے یا بغیر عذر کے درمیان سے کوئی روزہ چھوڑا جائے اگر ایسا ہوا تو از سر نو روزے رکھنے پڑیں گے ۔(ف14)مسائل یعنی روزوں سے جو کَفّارہ دیا جائے اس کا بھی جِماع اور دواعیِ جماع سے مقدّم ہونا ضروری ہے اور جب تک وہ روزے پورے ہوں خاوند بیوی میں سے کوئی کسی کو ہاتھ نہ لگائے ۔(ف15)یعنی اسے روزے رکھنے کی قوّت ہی نہ ہو ، بوڑھاپے یا مرض وغیرہ کے باعث یا روزے تو رکھ سکتا ہو مگر متواترو متصل نہ رکھ سکتا ہو ۔ (ف16)یعنی ساٹھ مسکینوں کو کھانا دینا اور یہ اس طرح کہ ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جَو دے اور اگر مسکینوں کو اس کی قیمت دی یا صبح و شام دونوں وقت انہیں پیٹ بھر کر کھلادیا جب بھی جائز ہے ۔مسئلہ : اس کَفّارہ میں یہ شرط نہیں کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے قبل ہو حتّٰی کہ اگر کھانا کھلانے کے درمیان میں شوہر اور بی بی میں قربت واقع ہوئی تو نیا کَفّارہ لازم نہ ہوگا ۔(ف17)اور خدا اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور جاہلیّت کے طریقے چھوڑو ۔(ف18)ان کو توڑنا اور ان سے تجاوز کرنا جائز نہیں ۔
بیشک وہ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ذلیل کیے گئے جیسے ان سے اگلوں کو ذلت دی گئی (ف۱۹) اور بیشک ہم نے روشن آیتیں اتاریں (ف۲۰) اور کافروں کے لیے خواری کا عذاب ہے،
Indeed those who oppose Allah and His Noble Messenger have been humiliated, like those before them who were humiliated, and We have indeed sent down clear verses; and for the disbelievers is a disgraceful punishment.
बेशक वह जो मुख़ालिफ़त करते हैं अल्लाह और उसके रसूल की ज़लील किए गए जैसे उन से अगलों को ज़िल्लत दी गई और बेशक हम ने रोशन आयतें उतारीं और काफ़िरों के लिए ख़्वारी का अज़ाब है,
Beshak woh jo mukhalifat karte hain Allah aur uske Rasool ki zaleel kiye gaye jaise unse aglon ko zillat di gayi aur beshak humne roshan aayatein utaareen aur kafiron ke liye khwari ka azaab hai,
(ف19)رسولوں کی مخالفت کرنے کے سبب ۔(ف20)رسولوں کی صدق پر دلالت کرنے والی ۔
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا (ف۲۱) پھر انہیں ان کے کو تک جتادے گا (ف۲۲) اللہ نے انہیں گن رکھا ہے اور وہ بھول گئے (ف۲۳) اور ہر چیز اللہ کے سامنے ہے ،
The day when Allah will raise all of them together and inform them of their misdeeds; Allah has kept count of them, whereas they have forgotten them; and all things are present before Allah.
जिस दिन अल्लाह उन सब को उठाएगा फिर उन्हें उनके क़ो तक जता देगा, अल्लाह ने उन्हें गिन रखा है और वह भूल गए और हर चीज़ अल्लाह के सामने है,
Jis din Allah un sab ko uthayega phir unhein unke ko tak jata dega, Allah ne unhein gin rakha hai aur woh bhool gaye aur har cheez Allah ke samne hai,
(ف21)کسی ایک کو باقی نہ چھوڑے گا ۔(ف22)رسوا اور شرمندہ کرنے کےلئے ۔(ف23)اپنے اعمال جو دنیا میں کرتے تھے ۔
اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۲٤) جہاں کہیں تین شخصوں کی سرگوشی ہو (ف۲۵) تو چوتھا وہ موجود ہے (ف۲٦) اور پانچ کی (ف۲۷) تو چھٹا وہ (ف۲۸) اور نہ اس سے کم (ف۲۹) اور نہ اس سے زیادہ کی مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہے (ف۳۰) جہاں کہیں ہوں پھر انہیں قیامت کے دن بتادے گا جو کچھ انہوں نے کیا، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
O listener! Did you not see that Allah knows all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth? Wherever there is any discussion among three He is the fourth present with them, and among five He is the sixth, and there is no discussion among fewer or more except that He is with them wherever they may be; and then on the Day of Resurrection He will inform them of all what they did; indeed Allah knows all things.
ऐ सुनने वाले! क्या तू ने न देखा कि अल्लाह जानता है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में, जहाँ कहीं तीन शख़्सों की सरगोशी हो तो चौथा वह मौजूद है और पाँच की तो छठा वह, और न उस से कम और न उस से ज़्यादा की मगर यह कि वह उनके साथ है जहाँ कहीं हों फिर उन्हें क़यामत के दिन बता देगा जो कुछ उन्होंने किया, बेशक अल्लाह सब कुछ जानता है,
Aye sunne wale! Kya tu ne na dekha ke Allah jaanta hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein, jahan kahin teen shakhs ki sargoshi ho to chautha woh mojood hai aur paanch ki to chhata woh, aur na usse kam aur na usse zyada ki magar yeh ke woh unke saath hai jahan kahin hon, phir unhein qiyamat ke din bata dega jo kuch unhone kiya, beshak Allah sab kuch jaanta hai,
(ف24)اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ۔(ف25)اور اپنے راز آپس میں گوش در گوش کہیں اور اپنی مشاورت پر کسی کو مطّلع نہ کریں ۔(ف26)یعنی اللہ تعالٰی انہیں مشاہدہ کرتا ہے ، ان کے رازوں کو جانتا ہے ۔(ف27)سرگوشی ہو ۔(ف28)یعنی اللہ تعالٰی ۔(ف29)یعنی پانچ اور تین سے ۔ (ف30)اپنے علم وقدرت سے ۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں بری مشورت سے منع فرمایا گیا تھا پھر وہی کرتے ہیں (ف۳۱) جس کی ممانعت ہوئی تھی اور آپس میں گناہ اور حد سے بڑھنے (ف۳۲) اور رسول کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں (ف۳۳) اور جب تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں تو ان لفظوں سے تمہیں مجرا کرتے ہیں جو لفظ اللہ نے تمہارے اعزاز میں نہ کہے (ف۳٤) اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں کرتا ہمارے اس کہنے پر (ف۳۵) انہیں جہنم بس ہے، اس میں دھنسیں گے، تو کیا ہی برا انجام،
Did you not see those who were forbidden from conspiracy, yet they do what was forbidden, and consult each other for sinning, and for exceeding limits, and for disobeying the Noble Messenger? And when they come in your presence, they greet you with words not chosen by Allah for respectfully greeting you, and they inwardly say, “Why does not Allah punish us for what we say?”; hell is sufficient for them; they will sink into it; and what a wretched outcome!
क्या तुम ने उन्हें न देखा जिन्हें बुरी मश्वरत से मना फ़रमाया गया था फिर वही करते हैं जिस की ममानअत हुई थी और आपस में गुनाह और हद से बढ़ने और रसूल की नाफ़रमानी के मश्वरे करते हैं और जब तुम्हारे हज़ूर हाज़िर होते हैं तो उन लफ़्ज़ों से तुम्हें मुझरा करते हैं जो लफ़्ज़ अल्लाह ने तुम्हारे एज़ाज़ में न कहे और अपने दिलों में कहते हैं हमें अल्लाह अज़ाब क्यों नहीं करता हमारे इस कहने पर, उन्हें जहन्नम बस है, उस में धँसेंगे, तो क्या ही बुरा अंजाम,
Kya tum ne unhein na dekha jinhein buri mashwarat se mana farmaya gaya tha phir wahi karte hain jis ki mamanaat hui thi aur aapas mein gunaah aur had se badhne aur Rasool ki nafarmani ke mashware karte hain aur jab tumhare huzoor haazir hote hain to un lafzon se tumhein mujra karte hain jo lafz Allah ne tumhare aizaaz mein na kahe aur apne dilon mein kehte hain humein Allah azaab kyon nahin karta humare is kehne par, unhein jahannum bas hai, usmein dhansen ge, to kya hi bura anjaam,
(ف31)شانِ نزول : یہ آیت یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی جوآپس میں سرگوشیاں کرتے اور مسلمانوں کی طرف دیکھتے جاتے اور آنکھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے جاتے تاکہ مسلمان سمجھیں کہ ان کے خلاف کوئی پوشیدہ بات ہے اور اس سے انہیں رنج ہو ، ان کی اس حرکت سے مسلمانوں کو غم ہوتا تھا اور وہ کہتے تھے کہ شاید ا ن لوگوں کو ہمارے ان بھائیوں کی نسبت قتل یاہزیمت کی کوئی خبر پہنچی جو جہاد میں گئے ہیں اور یہ اسی کے متعلق باتیں بناتے اور اشارے کرتے ہیں ، جب یہ حرکات منافقین کے بہت زیادہ ہوئے اور مسلمانوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حضور میں اس کی شکایتیں کیں تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سرگوشی کرنے والوں کو منع فرمادیا لیکن وہ باز نہ آئے اور یہ حرکت کرتے ہی رہے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف32)گناہ اور حد سے بڑھنا ، یہ کہ مکاری کے ساتھ سرگوشیاں کرکے مسلمانوں کو رنج و غم میں ڈالتے ہیں ۔(ف33)اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نافرمانی یہ کہ باوجود ممانعت کے باز نہیں آتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان میں ایک دوسرے کو رائے دیتے تھے کہ رسول کی نافرمانی کرو ۔(ف34)یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آتے تواَلسَّامُ عَلَیْکَ کہتے ، سام موت کو کہتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے جواب میں عَلَیْکُمْ فرمادیتے ۔(ف35)اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اگر حضرت نبی ہوتے تو ہماری اس گستاخی پر اللہ تعالٰی ہمیں عذاب کرتا ۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔
اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو (ف۳٦) اور نیکی اور پرہیزگاری کی مشورت کرو، اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھائے جاؤ گے،
O People who Believe! When you consult each other, do not consult for sinning, nor for exceeding limits, nor for disobeying the Noble Messenger – and consult for righteousness and piety; and fear Allah, towards Whom you will be raised.
ऐ ईमान वालो! तुम जब आपस में मश्वरत करो तो गुनाह और हद से बढ़ने और रसूल की नाफ़रमानी की मश्वरत न करो और नेकी और परहेज़गारी की मश्वरत करो, और अल्लाह से डरो जिस की तरफ़ उठाए जाओगे,
Aye imaan walo! Tum jab aapas mein mashwarat karo to gunaah aur had se badhne aur Rasool ki nafarmani ki mashwarat na karo aur neki aur parhezgari ki mashwarat karo, aur Allah se daro jis ki taraf uthaye jaoge,
(ف36)اورجو طریقہ یہود اور منافقین کا ہے اس سے پرہیز کرو ۔
وہ مشورت تو شیطان ہی کی طرف سے ہے (ف۳۷) اس لیے کہ ایمان والوں کو رنج دے اور وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بےحکم خدا کے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۸)
The evil consultation is only from the devil in order that he may upset the believers, whereas he cannot harm them in the least without Allah’s command; and only upon Allah must the Muslims rely.
वह मश्वरत तो शैतान ही की तरफ़ से है इस लिए कि ईमान वालों को रंज दे और वह उस का कुछ नहीं बिगाड़ सकता ब-हुक्म खुदा के, और मुसलमानों को अल्लाह ही पर भरोसा चाहिए,
Woh mashwarat to shaitaan hi ki taraf se hai is liye ke imaan walon ko ranj de aur woh uska kuch nahin bigaad sakta be-hukm Khuda ke, aur musalmanon ko Allah hi par bharosa chahiye,
(ف37)جس میں گناہ اور حد سے بڑھنا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نافرمانی ہو اور شیطان اپنے دوستوں کو اس پر ابھارتا ہے ۔(ف38)کہ اللہ پر بھروسہ کرنے والا ٹوٹے میں نہیں رہتا ۔
اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا (ف۳۹) اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو (ف٤۰) تو اٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا (ف٤۱) درجے بلند فرمائے گا، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
O People who Believe! When you are told to give room in the assemblies, then do give room – Allah will give you room (in His mercy); and when it is said, “Stand up in reverence”, then do stand up – Allah will raise the believers among you, and those given knowledge, to high ranks; and Allah is Aware of your deeds.
ऐ ईमान वालो! जब तुम से कहा जाए मजलिसों में जगह दो तो जगह दो अल्लाह तुम्हें जगह देगा और जब कहा जाए उठ खड़े हो तो उठ खड़े हो, अल्लाह तुम्हारे ईमान वालों के और उनके जिन को इल्म दिया गया दर्जे बुलंद फ़रमाएगा, और अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है,
Aye imaan walo! Jab tum se kaha jaye majlison mein jagah do to jagah do, Allah tumhein jagah dega aur jab kaha jaye uth khade ho to uth khade ho, Allah tumhare imaan walon ke aur unke jin ko ilm diya gaya darje buland farmaayega, aur Allah ko tumhare kaamon ki khabar hai,
(ف39)شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بدر میں حاضر ہونے والے اصحاب کی عزّت کرتے تھے ، ایک روز چند بدری اصحاب ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ، انہوں نے حضور کے سامنے کھڑا ہو کر سلام عرض کیا ، حضور نے جواب دیا ، پھر انہوں نے حاضرین کو سلام کیا ، انہوں نے جواب دیا ، پھروہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ ان کےلئے مجلس شریف میں جگہ کی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ، یہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گراں گذرا تو حضور نے اپنے قریب والوں کو اٹھا کر ان کےلئے جگہ کی ، اٹھنے والوں کو اٹھنا شاق ہوا ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف40)نماز کے یا جہاد کے یا اور کسی نیک کام کےلئے اور اسی میں داخل ہےتعظیمِ ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کےلئے کھڑا ہونا ۔(ف41)اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کے باعث ۔
اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو (ف٤۲) یہ تمہارے لیے بہت بہتر اور بہت ستھرا ہے، پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
O People who Believe! When you wish to humbly consult with the Noble Messenger, give some charity before you consult; that is much better and much purer for you; so if you do not have the means, then (know that) Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ऐ ईमान वालो! जब तुम रसूल से कोई बात आहिस्ता अर्ज़ करना चाहो तो अपनी अर्ज़ से पहले कुछ सदक़ा दे लो यह तुम्हारे लिए बहुत बेहतर और बहुत सुथरा है, फिर अगर तुम्हें मक़्दूर न हो तो अल्लाह बख्शने वाला मेहरबान है,
Aye imaan walo! Jab tum Rasool se koi baat aahista arz karna chaho to apni arz se pehle kuch sadqa de lo, yeh tumhare liye bohot behtar aur bohot suthra hai, phir agar tumhein maqdoor na ho to Allah bakhshne wala mehrban hai,
(ف42)کہ اس میں باریابی بارگاہِ رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعظیم اور فقراء کا نفع ہے ۔شانِ نزول : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں جب اغنیاء نے عرض و معروض کا سلسلہ دراز کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فقراء کو اپنی عرض پیش کرنے کا موقع کم ملنے لگا تو عرض پیش کرنے والوں کو عرض پیش کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم دیا گیا اور اس حکم پر حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عمل کیا ، ایک دینار صدقہ کرکے دس مسائل دریافت کئے ، عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وفا کیا ہے ؟ فرمایا توحید اور توحید کی شہادت دینا ۔ عرض کیا ، فساد کیا ہے ؟ فرمایا کفر و شرک ۔ عرض کیا حق کیا ہے ؟ فرمایا اسلام و قرآن اور ولایت جب تجھے ملے ۔ عرض کیا حیلہ کیا ہے یعنی تدبیر ؟ فرمایا ترکِ حیلہ ۔ عرض کیا مجھ پر کیا لازم ہے ؟ فرمایا اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی طاعت ۔ عرض کیا اللہ تعالٰی سے کیسے دعا مانگوں ؟ فرمایا صدق ویقین کے ساتھ ۔ عرض کیا ،کیا مانگوں ؟ فرمایا عاقبت ۔ عرض کیا اپنی نجات کےلئے کیا کروں ؟ فرمایا حلال کھا اور سچ بول ۔ عرض کیا سرورکیا ہے ؟ فرمایا جنّت ۔ عرض کیا راحت کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کا دیدار ۔ جب حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ ان سوالوں سے فارغ ہوگئے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور رخصت نازل ہوئی سوائے حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اور کسی کو اس پر عمل کرنے کا وقت نہیں ملا ۔ (مدارک و خازن) حضرت مترجِم قدّس سرّہ نے فرمایا یہ اس کی اصل ہے جو مزاراتِ اولیاء پر تصدیق کےلئے شیرینی وغیرہ لے جاتے ہیں ۔
کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو (ف٤۳) پھر جب تم نے یہ نہ کیا، اور اللہ نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی (ف٤٤) تو نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو، اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
Were you afraid to offer charity before you consult? So when you did not do this, and Allah has inclined towards you with His mercy, keep the prayers established and pay the obligatory charity and obey Allah and His Noble Messenger; and Allah is Aware of your deeds.
क्या तुम इस से डरे कि तुम अपनी अर्ज़ से पहले कुछ सदके दो, फिर जब तुम ने यह न किया, और अल्लाह ने अपनी मेहर से तुम पर रजू फ़रमाई तो नमाज़ क़ायम रखो और ज़कात दो और अल्लाह और उसके रसूल के फ़रमानबरदार रहो, और अल्लाह तुम्हारे कामों को जानता है,
Kya tum is se dare ke tum apni arz se pehle kuch sadqe do, phir jab tum ne yeh na kiya, aur Allah ne apni mehr se tum par ruju farmaayi to namaz qaim rakho aur zakat do aur Allah aur uske Rasool ke farmanbardaar raho, aur Allah tumhare kaamon ko jaanta hai,
(ف43)بسبب اپنی غریبی و ناداری کے ۔(ف44)اور ترکِ تقدیمِ صدقہ کا مواخذہ تم پر سے اٹھالیا اور تم کو اختیار دے دیا ۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو ایسوں کے دوست ہوئے جن پر اللہ کا غضب ہے (ف٤۵) وہ نہ تم میں سے نہ ان میں سے (ف٤٦) وہ دانستہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں (ف٤۷)
Did you not see those who befriended those upon whom is Allah’s wrath? They are neither of you nor of these – and they swear a false oath, whereas they know.
क्या तुम ने उन्हें न देखा जो ऐसों के दोस्त हुए जिन पर अल्लाह का ग़ज़ब है, वह न तुम में से न उन में से, वह दानिस्ता झूटी क़सम खाते हैं,
Kya tum ne unhein na dekha jo aison ke dost hue jin par Allah ka ghazab hai, woh na tum mein se na un mein se, woh danista jhooti qasam khate hain,
(ف45)جن لوگوں پر اللہ تعالٰی کا غضب ہے ان سے مراد یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین ۔ شانِ نزول : یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے یہود سے دوستی کی اور ان کی خیر خواہی میں لگے رہتے اور مسلمانوں کے راز ان سے کہتے ۔(ف46)یعنی نہ مسلمان ، نہ یہودی بلکہ منافق ہیں مذبذب ۔(ف47)شانِ نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی بات یہودکے پاس پہنچاتا ، ایک روز حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دولت سرائے اقدس میں تشریف فرماتھے ، حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے ، تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا ، اس کی آنکھیں نیلی تھیں ، حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں ، وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا ، انہوں نے بھی قسم کھائی کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
انہوں نے اپنی قسموں کو (ف٤۸) ڈھال بنالیا ہے (ف٤۹) تو اللہ کی راہ سے روکا (ف۵۰) تو ان کے لیے خواری کا عذاب ہے (ف۵۱)
They use their oaths as a shield therefore preventing from Allah’s way – so for them is a disgraceful punishment.
उन्होंने अपनी क़समों को ढाल बना लिया है तो अल्लाह की राह से रोका तो उनके लिए ख़्वारी का अज़ाब है,
Unhon ne apni qasmon ko dhaal bana liya hai to Allah ki raah se roka to unke liye khwari ka azaab hai,
(ف48)جو جھوٹی ہیں ۔(ف49)کہ اپنا جان و مال محفوظ رہے ۔(ف50) یعنی منافقین نے اپنی اس حیلہ سازی سے لوگوں کو جہاد سے روکا اور بعض مفسّرین نے کہا کہ معنٰی یہ ہیں کہ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکا ۔(ف51) آخرت میں ۔
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو اس کے حضور بھی ایسے ہی قسمیں کھائیں گے جیسی تمہارے سامنے کھا رہے ہیں (ف۵۳) اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ کیا (ف۵٤) سنتے ہو بیشک وہی جھوٹے ہیں (ف۵۵)
The day when Allah will raise them all, they will swear in His presence the way they now swear in front of you, and they will assume that they have achieved something; pay heed! Indeed it is they who are the liars.
जिस दिन अल्लाह उन सब को उठाएगा तो उसके हज़ूर भी ऐसे ही क़समें खाएँगे जैसी तुम्हारे सामने खा रहे हैं और वह यह समझते हैं कि उन्होंने कुछ किया, सुनते हो बेशक वही झूटे हैं,
Jis din Allah un sab ko uthayega to uske huzoor bhi aise hi qasmein khayenge jaisi tumhare samne kha rahe hain aur woh yeh samajhte hain ke unhon ne kuch kiya, sunte ho beshak wahi jhoote hain,
(ف53)کہ دنیا میں مؤمن مخلص تھے ۔(ف54)یعنی وہ اپنی ان جھوٹی قسموں کو کار آمد سمجھتے ہیں ۔(ف55)اپنی قسموں میں اور ایسے جھوٹے کہ دنیا میں بھی جھوٹ بولتے رہے اور آخرت میں بھی ، رسول کے سامنے بھی اور خدا کے سامنے بھی ۔
ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اللہ کی یاد بھلا دی، وہ شیطان کے گروہ ہیں، سنتا ہے بیشک شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے (ف۵٦)
The devil has overpowered them, so they forgot the remembrance of Allah; they are the devil’s group; pay heed! Indeed it is the devil’s group who are the losers.
उन पर शैतान ग़ालिब आ गया तो उन्हें अल्लाह की याद भुला दी, वह शैतान के गिरोह हैं, सुनता है बेशक शैतान ही का गिरोह हार में है,
Un par shaitaan ghalib aa gaya to unhein Allah ki yaad bhula di, woh shaitaan ke giroh hain, sunta hai beshak shaitaan hi ka giroh haar mein hai,
(ف56)کہ جنّت کی دائمی نعمتوں سے محروم اور جہنّم کے ابدی عذاب میں گرفتار ۔
تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی (ف۵۹) اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں (ف٦۰) یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی (ف٦۱) اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی (ف٦۲) اور وہ اللہ سے راضی (ف٦۳) یہ اللہ کی جماعت ہے، سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے،
You will not find the people who believe in Allah and the Last Day, befriending those who oppose Allah and His Noble Messenger, even if they are their fathers or their sons or their brothers or their tribesmen; it is these upon whose hearts Allah has ingrained faith, and has aided them with a Spirit from Himself; and He will admit them into Gardens beneath which rivers flow, abiding in them forever; Allah is pleased with them, and they are pleased with Him; this is Allah’s group; pay heed! Indeed it is Allah’s group who are the successful.
तुम न पाओगे उन लोगों को जो यक़ीन रखते हैं अल्लाह और पिछले दिन पर कि दोस्ती करें उन से जिन्होंने अल्लाह और उसके रसूल से मुख़ालिफ़त की, अगरचे वह उनके बाप या बेटे या भाई या कुनबे वाले हों, यह हैं जिन के दिलों में अल्लाह ने ईमान नक़्श फ़रमा दिया और अपनी तरफ़ की रूह से उनकी मदद की और उन्हें बाग़ों में ले जाएगा जिन के नीचे नहरें बहें, उन में हमेशा रहें, अल्लाह उन से राज़ी और वह अल्लाह से राज़ी, यह अल्लाह की जमाअत है, सुनता है अल्लाह ही की जमाअत कामयाब है,
Tum na paoge un logon ko jo yaqeen rakhte hain Allah aur pichhle din par ke dosti karein unse jin hon ne Allah aur uske Rasool se mukhalifat ki, agarche woh unke baap ya bete ya bhai ya kunbe wale hon, yeh hain jin ke dilon mein Allah ne imaan naqsh farma diya aur apni taraf ki rooh se unki madad ki aur unhein baghon mein le jaayega jin ke neeche nahrein bahein, un mein hamesha rahein, Allah unse raazi aur woh Allah se raazi, yeh Allah ki jamaat hai, sunta hai Allah hi ki jamaat kaamyab hai.",
(ف59)یعنی مومنین سے یہ ہوہی نہیں سکتا اور ان کی یہ شان ہی نہیں اور ایمان اس کو گوارا ہی نہیں کرتا کہ خدا اور رسول کے دشمن سے دوستی کرے ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بددینوں اور بدمذہبوں اور خداو رسول کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں سے مودّت و اختلاط جائز نہیں ۔(ف60)چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے جنگِ اُحد میں اپنے باپ جراح کو قتل کیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے روزِ بدر اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مبارزت کےلئے طلب کیا لیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی اور معصب بن عمیر نے اپنے بھائی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو روزِ بدر قتل کیا اور حضرت علی بن ابی طالب و حمزہ و ابوعبیدہ نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں قتل کیا جوان کے رشتہ دار تھے ، خدا اور رسول پر ایمان لانے والوں کو قرابت اور رشتہ داری کا کیا پاس ۔(ف61)اس روح سے یا اللہ کی مدد مراد ہے یا ایمان یا قرآن یا جبریل یا رحمتِ الٰہی یا نور ۔(ف62)بسبب ان کے ایمان و اخلاص وطاعت کے ۔(ف63)اس کے رحمت و کرم سے ۔
اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اور وہ وہی عزت و حکمت والا ہے (ف۲)
All whatever is in the heavens and all whatever is in the earth proclaims the Purity of Allah; and He only is the Most Honourable, the Wise.
अल्लाह की पाकी बोलता है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में, और वह वही इज़्ज़त व हिकमत वाला है
Allah ki paaki bolta hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein, aur woh wahi izzat o hikmat wala hai
(ف2)شانِ نزول : یہ سورت بنی نضِیر کے حق میں نازل ہوئی ، یہ لوگ یہودی تھے ، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ طیّبہ میں رونق افروز ہوئے تو انہوں نے حضور سے اس شرط پر صلح کی کہ نہ آپ کے ساتھ ہو کر کسی سے لڑیں ، نہ آپ سے جنگ کریں ، جب جنگِ بدر میں اسلام کی فتح ہوئی تو بنی نضِیر نے کہا یہ وہی نبی ہیں جن کی صفت توریت میں ہے ، پھر جب اُحد میں مسلمانوں کو ہزیمت کی صورت پیش آئی تو یہ شک میں پڑے اور انہوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضور کے نیاز مندوں کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اورجو معاہدہ کیا تھا وہ توڑ دیا اور ان کا ایک سردار کعب بن اشرف یہودی چالیس یہودی سواروں کو ساتھ لے کر مکّہ مکرّمہ پہنچا اور کعبۂِ معظّمہ کے پردے تھام کر قریش کے سرداروں سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف معاہدہ کیا ۔ اللہ تعالٰی کے علم دینے سے حضور اس حال پر مطّلع تھے اور بنی نضِیر سے ایک خیانت اور بھی واقع ہوچکی تھی کہ انہوں نے قلعہ کے اوپر سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر بارادۂِ فاسد ایک پتّھر گرایا تھا ، اللہ تعالٰی نے حضور کو خبردار کردیا اور بفضلہٖ تعالٰی حضور محفوظ رہے ۔ غرض جب یہود بنی نضِیرنے خیانت کی اور عہد شکنی کی اور کفّارِ قریش سے حضور کے خلاف عہد کیا تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے محمّد بن مسلمہ انصاری کو حکم دیا اور انہوں نے کعب بن اشرف کو قتل کردیا ، پھر حضور مع لشکر کے بنی نضِیر کی طرف روانہ ہوئے اور ان کا محاصرہ کرلیا ، یہ محاصرہ اکّیس روز رہا ، اس درمیان میں منافقین نے یہود سے ہمدردی و موافقت کے بہت معاہدے کئے لیکن اللہ تعالٰی نے ان سب کو ناکام کیا ، یہود کے دلوں میں رعب ڈالا ، آخر کار انہیں حضور کے حکم سے جِلا وطن ہونا پڑا اور وہ شام و اریحا و خیبر کی طرف چلے گئے ۔
وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو (ف۳) ان کے گھروں سے نکالا (ف٤) ان کے پہلے حشر کے لیے (ف۵) تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے (ف٦) اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچالیں گے تو اللہ کا حکم ان کے پاس آیا جہاں سے ان کا گمان بھی نہ تھا (ف۷) اور اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا (ف۸) کہ اپنے گھر ویران کرتے ہیں اپنے ہاتھوں (ف۹) اور مسلمانوں کے ہاتھوں (ف۱۰) تو عبرت لو اے نگاہ والو،
It is He Who expelled the disbelievers among the People given the Book(s) from their homes, for their first gathering; you did not expect them to leave, whereas they assumed that their fortresses would save them from Allah, so Allah’s command came to them from a place they had not imagined; and He instilled awe in their hearts, so they ruin their own houses by their own hands and at the hands of the Muslims; therefore learn a lesson, O those who can perceive!
वही है जिसने उन काफ़िर किताबियों को उनके घरों से निकाला उनके पहले हश्र के लिए तुम्हें गुमान न था कि वह निकलेंगे और वह समझते थे कि उनके क़िले उन्हें अल्लाह से बचा लेंगे तो अल्लाह का हुक्म उनके पास आया जहाँ से उनका गुमान भी न था और उसने उनके दिलों में रुʽब डाला कि अपने घर वीरान करते हैं अपने हाथों और मुसलमानों के हाथों तो इबरत लो ऐ निगाह वालो,
Wohi hai jisne un kaafir kitabon walon ko unke gharon se nikala unke pehle hashr ke liye. Tumhein gumaan na tha ke woh niklenge aur woh samajhte the ke unke qile unhein Allah se bacha lenge. To Allah ka hukum unke paas aaya jahan se unka gumaan bhi na tha aur usne unke dilon mein roʽb dala ke apne ghar veeran karte hain apne hathon aur musalmanon ke hathon. To ibraat lo ae nigaah waalo,
(ف3)یعنی یہودِ بنی نضِیر کو ۔(ف4)جو مدینہ طیّبہ میں تھے ۔(ف5)یہ جِلاوطنی ان کا پہلا حشر ہے اور دوسرا حشر ان کا یہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے انہیں اپنے زمانۂِ خلافت میں خیبر سے شام کی طرف نکالا یا آخرِ حشر روزِقیامت کا حشر ہے کہ آ گ سب لوگوں کو سرزمینِ شام کی طرف لے جائے گی اور وہیں ان پر قیامت قائم ہوگی ، اس کے بعد اہلِ اسلام سے خطاب فرمایا جاتا ہے ۔(ف6)مدینہ سے ، کیونکہ وہ صاحبِ قوّت ، صاحبِ لشکر تھے ، مضبوط قلعے رکھتے تھے ، ان کی تعداد کثیر تھی ، جاگیردار ، صاحبِ مال ۔ (ف7)یعنی خطرہ بھی نہ تھا کہ مسلمان ان پر حملہ آور ہوسکتے ہیں ۔(ف8)ان کے سردار کعب بن اشرف کے قتل سے ۔(ف9)اور ان کو ڈھاتے ہیں تاکہ جو لکڑی وغیرہ انہیں اچھی معلوم ہو وہ جِلاوطن ہوتے وقت اپنے ساتھ لے جائیں ۔(ف10)کہ ان کے مکانوں کے جوحصّے باقی رہ جاتے تھے ۔ انہیں مسلمان گرادیتے تھے تاکہ جنگ کےلئے میدان صاف ہوجائے ۔
اور اگر نہ ہوتا کہ اللہ نے ان پر گھر سے اجڑنا لکھ دیا تھا تو دنیا ہی میں ان پر عذاب فرماتا (ف۱۱) اور ان کے لیے (ف۱۲) آخرت میں آگ کا عذاب ہے،
And had Allah not decreed exile for them, He would have surely punished them in this world; and for them in the Hereafter is the punishment of the fire.
और अगर न होता कि अल्लाह ने उन पर घर से उजड़ना लिख दिया था तो दुनिया ही में उन पर अज़ाब फरमाता और उनके लिए आख़िरत में आग का अज़ाब है,
Aur agar na hota ke Allah ne unpar ghar se ujarrna likh diya tha to duniya hi mein unpar azaab farmaata aur unke liye aakhirat mein aag ka azaab hai,
(ف11)اور انہیں قتل و قید میں مبتلا کرتا جیسا کہ یہودِ بنی قریضہ کے ساتھ کیا ۔(ف12)ہر حال میں خواہ جِلاوطن کئے جائیں یا قتل کئے جائیں ۔
یہ اس لیے کہ وہ اللہ سے اور اس کے رسول سے پھٹے (جدا) رہے (ف۱۳) اور جو اللہ اور اس کے رسول سے پھٹا رہے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
This is because they remained opposed to Allah and His Noble Messenger; and whoever remains opposed to Allah, (and His Noble Messenger) – then indeed Allah’s punishment is severe.
यह इस लिए कि वह अल्लाह से और उसके रसूल से फटे (जुदा) रहे और जो अल्लाह और उसके रसूल से फटा रहे तो बेशक अल्लाह का अज़ाब सख़्त है,
Ye is liye ke woh Allah se aur uske Rasool se phatte (juda) rahe aur jo Allah aur uske Rasool se phatta rahe to beshak Allah ka azaab sakht hai,
جو درخت تم نے کاٹے یا ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دیے یہ سب اللہ کی اجازت سے تھا (ف۱٤) اور اس لیے کہ فاسقوں کو رسوا کرے (ف۱۵)
The trees you had cut down or left standing on their roots was all by Allah’s permission, and in order to disgrace the sinners.
जो दरख़्त तुम ने काटे या उनकी जड़ों पर क़ायम छोड़ दिए यह सब अल्लाह की इजाज़त से था और इस लिए कि फासिक़ों को रुस्वा करे
Jo darakht tumne kaate ya unki jarron par qaaim chhod diye ye sab Allah ki ijaazat se tha aur is liye ke faasiqon ko ruswa kare,
(ف14)شانِ نزول : جب بنی نضِیراپنے قلعوں میں پناہ گزیں ہوئے تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے درخت کاٹ ڈالنے اور انہیں جَلادینے کا حکم دیا ، اس پر وہ دشمنانِ خدا بہت گھبرائے اور رنجیدہ ہوئے اور کہنے لگے کہ کیا تمہاری کتاب میں اس کا حکم ہے ؟ مسلمان اس باب میں مختلف ہوگئے ، بعض نے کہا درخت نہ کاٹو ، یہ غنیمت ہے جو اللہ تعالٰی نے ہمیں عطا فرمائی ۔ بعض نے کہا اس سے کفّار کو رسوا کرنا اور انہیں غیظ میں ڈالنا منظور ہے ، اس پر یہ یت نازل ہوئی اور اس میں بتایاگیا کہ مسلمانوں میں جو درخت کاٹنے والے ہیں ان کا عمل بھی درست ہے اور جو کاٹنا نہیں چاہتے وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ درختوں کا کاٹنا اور چھوڑ دینا یہ دونوں اللہ تعالٰی کے اذن و اجازت سے ہیں ۔(ف15)یعنی یہود کو ذلیل کرے درخت کاٹنے کی اجازت دے کر ۔
اور جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو ان سے (ف۱٦) تو تم نے ان پر نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ (ف۱۷) ہاں اللہ اپنے رسولوں کے قابو میں دے دیتا ہے جسے چاہے (ف۱۸) اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
And from them, the booty which Allah gave to His Noble Messenger – so you had not raced your horses or camels against them, but it is Allah Who gives whomever He wills within the control of His Noble Messengers; and Allah is Able to do all things.
और जो ग़नीमत दिलाई अल्लाह ने अपने रसूल को उनसे तो तुम ने उन पर न अपने घोड़े दौड़ाए थे और न ऊँट हाँ अल्लाह अपने रसूलों के क़ाबू में दे देता है जिसे चाहे और अल्लाह सब कुछ कर सकता है,
Aur jo ghanimat dilayi Allah ne apne Rasool ko unse to tumne unpar na apne ghoray dauraye the aur na oont. Haan Allah apne Rasoolon ke qaboo mein de deta hai jise chahe, aur Allah sab kuch kar sakta hai,
(ف16)یعنی یہودِ بنی نضِیرسے ۔(ف17)یعنی اس کےلئے تمہیں کوئی مشقّت اور کوفت اٹھانا نہیں پڑی ، صرف دو میل کا فاصلہ تھا ، سب لوگ پیادہ پا چلے گئے ، صرف رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سوار ہوئے ۔(ف18)اپنے دشمنوں میں سے ۔ مرا دیہ ہے کہ بنی نضِیر سے جو مال غنیمتیں حاصل ہوئیں ان کےلئے مسلمانوں کو جنگ کرنا نہیں پڑی ، اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان پر مسلّط کردیا تو یہ مال حضور کی مرضی پر ہے ، جہاں چاہیں خرچ کریں ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ مال مہاجرین پر تقسیم کردیا اور انصار میں سے صرف تین صاحبِ حاجت لوگوں کو دیا اور وہ ابودجانہ سماک بن خرشہ اور سہل بن حنیف اور حارث بن صمّہ ہیں ۔
جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے (ف۱۹) وہ اللہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں (ف۲۰) اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے کہ تمہارے اغنیا کا مال نہ جائے (ف۹۲۱ اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو (ف۲۲) اور جس سے منع فرمائیں باز رہو، اور اللہ سے ڈرو (ف۲۳) بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے (ف۲٤)
The booty which Allah gave to His Noble Messenger from the people of the townships, is for Allah and His Noble Messenger, and for the relatives, and the orphans, and the needy and the travellers – so that it does not become the wealth of the rich among you; and accept whatever the Noble Messenger gives you; and refrain from whatever he forbids you; and fear Allah; indeed Allah’s punishment is severe.
जो ग़नीमत दिलाई अल्लाह ने अपने रसूल को शहर वालों से वह अल्लाह और रसूल की है और रिश्तेदारों और यतीमों और मिस्कीनों और मुसाफ़िरों के लिए कि तुम्हारे अग़निया का माल न जाए और जो कुछ तुम्हें रसूल अता फरमाएँ वह लो और जिससे मना फरमाएँ बाज़ रहो, और अल्लाह से डरो बेशक अल्लाह का अज़ाब सख़्त है
Jo ghanimat dilayi Allah ne apne Rasool ko shehr walon se woh Allah aur Rasool ki hai aur rishtedaron aur yateemon aur miskeenon aur musafiron ke liye, taa ke tumhare aghniya ka maal na jaaye. Aur jo kuch tumhein Rasool ata farmaen woh lo aur jisse mana farmaen baaz raho. Aur Allah se daro, beshak Allah ka azaab sakht hai,
(ف19)پہلی آیت میں غنیمت کا جو حکم مذکور ہوا اس آیت میں اسی کی تفصیل ہے اور بعض مفسّرین نے اس قول کی مخالفت کی اور فرمایا کہ پہلی آیت اموالِ بنی نضِیر کے باب میں نازل ہوئی ، ان کو اللہ تعالٰی نے اپنے رسول کےلئے خاص کیا اور یہ آیت ہر اس شہر کی غنیمتوں کے باب میں ہے جس کو مسلمان اپنی قوّت سے حاصل کریں ۔ (مدارک)(ف20)رشتہ داروں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہلِ قرابت ہیں یعنی بنی ہاشم وبنی مطّلب ۔(ف21)اور غرباء اور فقراء نقصان میں رہیں جیسا کہ زمانۂِ جاہلیّت میں دستور تھا کہ غنیمت میں سے ایک چہارم تو سردار لے لیتا تھا ، باقی قوم کےلئے چھوڑ دیتا تھا ، اس میں سے مال دار لوگ بہت زیادہ لے لیتے تھے اور غریبوں کےلئے بہت ہی تھوڑا بچتا تھا ، اسی معمول کے مطابق لوگوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ حضور غنیمت میں سے چہارم لیں ، باقی ہم باہم تقسیم کرلیں گے ، اللہ تعالٰی نے اس کا رد فرمادیا اور تقسیم کا اختیار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیا اور اس کا طریقہ ارشاد فرمایا ۔(ف22)غنیمت میں سے ، کیونکہ وہ تمہارے لئے حلال ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمہیں جو حکم دیں اس کا اتباع کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت ہر امر میں واجب ہے ۔(ف23)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت نہ کرواور ان کے تعمیلِ ارشاد میں سستی نہ کرو ۔(ف24)ان پر جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نافرمانی کریں اور مالِ غنیمت میں جیسا کہ اوپر ذکر کئے ہوئے لوگوں کا حق ہے ایسا ہی ۔
ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے (ف۲۵) اللہ کا فضل (ف۲٦) اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے (ف۲۷) وہی سچے ہیں (ف۲۸)
And (the booty is) also for the poor migrants who were expelled from their homes and their wealth, seeking Allah’s munificence and His pleasure, and aiding Allah and His Noble Messenger; it is they who are the truthful.
उन फ़क़ीर हिजरत करने वालों के लिए जो अपने घरों और मालों से निकाले गए अल्लाह का फ़ज़्ल और उसकी रज़ा चाहते और अल्लाह व रसूल की मदद करते वही सच्चे हैं
Un faqeer hijrat karne walon ke liye jo apne gharon aur maalon se nikale gaye, Allah ka fazl aur uski raza chahte aur Allah o Rasool ki madad karte, wohi sachche hain,
(ف25)اور ان کے گھروں اور مالوں پر کفّارِ مکّہ نے قبضہ کرلیا ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ کفّار استیلاء سے اموالِ مسلمین کے مالک ہوجاتے ہیں ۔(ف26)یعنی ثوابِ آخرت ۔(ف27)اپنے جان و مال سے دِین کی حمایت میں ۔(ف28)ایمان و اخلاص میں ۔ قتادہ نے فرمایا کہ ان مہاجرین نے گھر اور مال اور کنبے اللہ تعالٰی اور رسول کی محبّت میں چھوڑے اور اسلام کو قبول کیا اور ان تمام شدّتوں اور سختیوں کو گوارا کیا جو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے انہیں پیش آئیں ، ان کی حالتیں یہاں تک پہنچیں کہ بھوک کی شدّت سے پیٹ پر پتّھر باندھتے تھے اور جاڑوں میں کپڑا نہ ہونے کے باعث گڑھوں اور غاروں میں گذارا کرتے تھے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ فقراءِ مہاجرین اغنیاسے چالیس سال قبل جنّت میں جائیں گے ۔
اور جنہوں نے پہلے سے (ف۲۹) اس شہر (ف۳۰) اور ایمان میں گھر بنالیا (ف۳۱) دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کرکے گئے (ف۳۲) اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے (ف۳۳) اس چیز کو جو دیے گئے (ف۳٤) اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں (ف۳۵) اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو (ف۳٦) اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا (ف۳۷) تو وہی کامیاب ہیں،
And those who accepted this city as their home and accepted faith before them, befriend those who migrated towards them, and in their breasts do not find any need for what they have been given, and prefer the migrants above themselves even if they themselves are in dire need; and whoever is saved from the greed of his soul – it is they who are the successful.
और जिन्होंने पहले से इस शहर और ईमान में घर बना लिया दोस्त रखते हैं उन्हें जो उनकी तरफ़ हिजरत कर के गए और अपने दिलों में कोई हाजत नहीं पाते इस चीज़ को जो दिए गए और अपनी जानों पर उनको तरजीह देते हैं अगरचे उन्हें सख़्त मुहताजी हो और जो अपने नफ़्स के लालच से बचाया गया तो वही कामयाब हैं,
Aur jinhon ne pehle se is shehar aur imaan mein ghar bana liya, dost rakhte hain unhein jo unki taraf hijrat karke gaye, aur apne dilon mein koi haajat nahi paate us cheez ko jo diye gaye, aur apni jaanon par unko tarjeeh dete hain agarche unhein shadid mohtaaji ho. Aur jo apne nafs ke laalach se bachaya gaya to wohi kaamyab hain,
(ف29)یعنی مہاجرین سے پہلے یا ان کی ہجرت سے پہلے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے ۔(ف30)مدینۂِ پاک ۔(ف31)یعنی مدینۂِ پاک کو وطن اور ایمان کو اپنا مستقر بنایا اور اسلام لائے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے دوسال پہلے مسجد یں بنائیں ، ان کا یہ حال ہے کہ ۔(ف32)چنانچہ اپنے گھروں میں انہیں اتارتے ہیں ، اپنے مالوں میں انہیں نصف کا شریک کرتے ہیں ۔(ف33)یعنی ان کے دلوں میں کوئی خواہش و طلب نہیں پیدا ہوتی ۔(ف34)مہاجرین ۔ یعنی مہاجرین کو جو اموالِ غنیمت دیئے گئے انصار کے دل میں ان کی کوئی خواہش نہیں پیدا ہوتی رشک تو کیا ہوتا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی برکت نے قلوب ایسے پاک کردیئے کہ انصار مہاجرین کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں ۔(ف35)یعنی مہاجرین کو ۔(ف36)شانِ نزول : حدیث شریف میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں ایک بھوکا شخص آیا ، حضور نے ازواجِ مطہرات کے حجروں پر معلوم کرایا کیا کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ معلوم ہوا کسی بی بی صاحبہ کے یہاں کچھ بھی نہیں ہے ، تب حضور نے اصحاب سے فرمایا جو اس شخص کو مہمان بنائے ، اللہ تعالٰی اس پر رحمت فرمائے ، حضرت ابوطلحہ انصاری کھڑے ہوگئے اور حضور سے اجازت لے کر مہمان کو اپنے گھر لے گئے ، گھر جا کر بی بی سے دریافت کیا ، کچھ ہے ؟ انہوں نے کہا کچھ نہیں ، صرف بچّوں کےلئے تھوڑا سا کھانا رکھا ہے ، حضرت ابوطلحہ نے فرمایا بچّوں کو بَہلا کر سُلادو اور جب مہمان کھانے بیٹھے تو چراغ درست کرنے اٹھو اور چراغ کو بجھادو تاکہ وہ اچھی طرح کھا لے ، یہ اسلئے تجویز کی کہ مہمان یہ نہ جان سکے کہ اہلِ خانہ اس کے ساتھ نہیں کھارہے ہیں کیونکہ اس کو یہ معلوم ہوگا تو وہ اصرار کرے گا اور کھانا کم ہے بھوکا رہ جائے گا ، اس طرح مہمان کو کھلایا اور آپ ان صاحبوں نے بھوکے رات گذاری ، جب صبح ہوئی اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورِ اقدس علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا رات فلاں فلاں لوگوں میں عجیب معاملہ پیش آیا ، اللہ تعالٰی ان سے بہت راضی ہے اور یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف37)یعنی جس کے نفس کو لالچ سے پاک کیا گیا ۔
اور وہ جو ان کے بعد آئے (ف۳۸) عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ (ف۳۹) اے ہمارے رب بیشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے،
And those who came after them say, “O our Lord! Forgive us, and our brothers who accepted faith before us, and do not keep any malice in our hearts towards the believers – O our Lord! Indeed You only are the Most Compassionate, Most Merciful.”.
और वह जो उनके बाद आए अर्ज़ करते हैं ऐ हमारे रब हमें बख़्श दे और हमारे भाइयों को जो हम से पहले ईमान लाए और हमारे दिल में ईमान वालों की तरफ़ से कीना न रख ऐ हमारे रब बेशक तू ही नहायत मेहरबान रहम वाला है,
Aur woh jo unke baad aaye arz karte hain: ae hamare Rab humein bakhsh de aur hamare bhaiyon ko jo humse pehle imaan laaye aur hamare dil mein imaan walon ki taraf se keena na rakh, ae hamare Rab beshak tu hi nahayat mehrbaan rahm wala hai,
(ف38)یعنی مہاجرین و انصار کے ۔ اس میں قیامت تک پیدا ہونے والے مسلمان داخل ہیں ۔(ف39)یعنی اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے ۔ مسئلہ : جس کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے بغض یا کدورت ہو اور وہ ان کے لئے دعائے رحمت و استغفار نہ کرے وہ مومنین کے اقسام سے خارج ہے کیونکہ یہاں مومنین کی تین قِسمیں فرمائی گئیں ۔ مہاجرین ، انصاراور ان کے بعد والے جوان کے تابع ہوں اور ان کی طرف سے دل میں کوئی کدورت نہ رکھیں اور ان کے لئے دعائے مغفرت کریں تو جو صحابہ سے کدورت رکھے رافضی ہو یا خارجی وہ مسلمانوں کی ان تینوں قِسموں سے خارج ہے ، حضرت اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا کہ لوگوں کو حکم تو یہ دیا گیا کہ صحابہ کےلئے استغفار کریں ، اور کرتے ہیں یہ کہ گالیاں دیتے ہیں ۔
کیا تم نے منافقوں کو نہ دیکھا (ف٤۰) کہ اپنے بھائیوں کافر کتابیوں (ف٤۱) سے کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے (ف٤۲) تو ضرور ہم تمہارے ساتھ جائیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کسی کی نہ مانیں گے (ف٤۳) اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے، اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں (ف٤٤)
Did you not see the hypocrites, that they say to their disbelieving brothers among the People given the Book(s), “If you are expelled, then we will definitely go out with you, and we will not listen to anyone in your matters, and if you are fought against we will surely help you”; and Allah testifies that they are indeed liars.
क्या तुम ने मुनाफ़िक़ों को न देखा कि अपने भाइयों काफ़िर किताबियों से कहते हैं कि अगर तुम निकाले गए तो ज़रूर हम तुम्हारे साथ जाएँगे और हरगिज़ तुम्हारे बारे में किसी की न मानेंगे और अगर तुम से लड़ाई हुई तो हम ज़रूर तुम्हारी मदद करेंगे, और अल्लाह गवाह है कि वह झूठे हैं
Kya tumne munaafiqon ko na dekha ke apne bhaiyon kaafir kitabon walon se kehte hain: agar tum nikale gaye to zaroor hum tumhare saath jaayenge aur hargiz tumhare baare mein kisi ki na maanenge, aur agar tumse ladaai hui to hum zaroor tumhari madad karenge. Aur Allah gawah hai ke woh jhoote hain,
(ف40)عبداللہ بن اُ بَی بن سلول منافق اور اس کے رفیقوں کو ۔(ف41)یعنی بنی قُرَیْظَہ وبنی نضِیر ۔(ف42)مدینہ شریف سے ۔(ف43)یعنی تمہارے خلاف کسی کا کہا نہ مانیں گے ، نہ مسلمانوں کا ، نہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ۔(ف44)یعنی یہود سے ، منافقین کے یہ سب وعدے جھوٹے ہیں ، اس کے بعد اللہ تعالٰی منافقین کے حال کی خبر دیتا ہے ۔
اگر وہ نکالے گئے (ف٤۵) تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے، اور ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے (ف٤٦) اگر ان کی مدد کی بھی تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے، پھر (ف٤۷) مدد نہ پائیں گے،
If they are expelled, the hypocrites will not go out with them; and if they are fought against they will not help them; and even if they were to help them, they would turn their backs and flee; and then they will not be helped.
अगर वह निकाले गए तो यह उनके साथ न निकलेंगे, और उनसे लड़ाई हुई तो यह उनकी मदद न करेंगे अगर उनकी मदद की भी तो ज़रूर पीठ फेर कर भागेंगे, फिर मदद न पाएँगे,
Agar woh nikale gaye to yeh unke saath na niklenge, aur unse ladaai hui to yeh unki madad na karenge. Agar unki madad ki bhi to zaroor peeth pher kar bhaagenge, phir madad na paayenge,
(ف45)یعنی یہود ۔(ف46)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ یہود نکالے گئے اور منافقین ان کے ساتھ نہ نکلے اور یہود سے مقاتلہ ہوا اور منافقین نے یہود کی مدد نہ کی ۔(ف47)جب یہ مدد گار بھاگ نکلیں گے تو منافق ۔
بیشک (ف٤۸) ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے (ف٤۹) یہ اس لیے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (ف۵۰)
Indeed in their hearts is a greater fear of you than that of Allah; this is because they are a people who do not understand.
बेशक उनके दिलों में अल्लाह से ज़्यादा तुम्हारा डर है यह इस लिए कि वह नासमझ लोग हैं
Beshak unke dilon mein Allah se zyada tumhara darr hai, ye is liye ke woh naasamajh log hain,
(ف48)اے مسلمانوں ۔(ف49)کہ تمہارے سامنے تو اظہارِ کفر سے ڈرتے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللہ تعالٰی دلوں کی چُھپی باتیں جانتا ہے دل میں کفر رکھتے ہیں ۔(ف50)اللہ تعالٰی کی عظمت کو نہیں جانتے ورنہ جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے ڈرتے ۔
یہ سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر قلعہ بند شہروں میں یا دُھسّوں (شہر پناہ) کے پیچھے، آپس میں ان کی آنچ (جنگ) سخت ہے (ف۵۱) تم انہیں ایک جتھا سمجھو گے اور ان کے دل الگ الگ ہیں، یہ اس لیے کہ وہ بےعقل لوگ ہیں (ف۵۲)
They will not fight you even if they all come together, except in barricaded cities or from behind walls; they are severe fighters among themselves; you will assume them to be one, whereas their hearts are divided; this is because they are a people who do not have any sense.
यह सब मिल कर भी तुम से न लड़ेंगे मगर क़िला बंद शहरों में या धुस्सों (शहर पनाह) के पीछे, आपस में उनकी आँच (जंग) सख़्त है तुम उन्हें एक जत्था समझोगे और उनके दिल अलग अलग हैं, यह इस लिए कि वह बे अकल लोग हैं
Yeh sab milkar bhi tumse na ladenge magar qilaa band shehron mein ya dhusson (shehr panah) ke peeche. Aapas mein unki aanch (jang) sakht hai. Tum unhein ek jatha samjhoge aur unke dil alag alag hain, ye is liye ke woh be-aqal log hain,
(ف51)یعنی جب وہ آپس میں لڑیں تو بہت شدّت اور قوّت والے ہیں لیکن مسلمانوں کے مقابل بزدل اور نامرد ثابت ہوں گے ۔(ف52)اس کے بعد یہود کی ایک مثل ارشاد فرمائی ۔
ان کی سی کہاوت جو ابھی قریب زمانہ میں ان سے پہلے تھے (ف۵۳) انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا (ف۵٤) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۵۵)
Like the example of those who were before them not long ago – they tasted the evil result of their deeds; and for them is a painful punishment.
उनकी सी कहावत जो अभी क़रीब ज़माना में उन से पहले थे उन्होंने अपने काम का वबाल चखा और उनके लिए दर्दनाक अज़ाब है
Unki si kahawat jo abhi qareeb zamaana mein unse pehle the, unhon ne apne kaam ka wabaal chhakka aur unke liye dardnaak azaab hai,
(ف53)یعنی ان کا حال مشرکینِ مکّہ کا سا ہے کہ بدر میں ۔(ف54)یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ عداوت رکھنے اور کفر کرنے کا کہ ذلّت و رسوائی کے ساتھ ہلاک کئے گئے ۔(ف55)اور منافقین کا یہودِ بنی نضِیر کے ساتھ سلوک ایسا ہے جیسے ۔
شیطان کی کہاوت جب اس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب (ف۵٦)
The example of the devil – when he said to man “Disbelieve”; so when he has rejected faith, he says, “I am unconcerned with you – indeed I fear Allah, the Lord of The Creation.”
शैतान की कहावत जब उसने आदमी से कहा कुफ़्र कर फिर जब उसने कुफ़्र कर लिया बोला मैं तुझ से अलग हूँ मैं अल्लाह से डरता हूँ जो सारे जहान का रब
Shaitaan ki kahawat jab usne aadmi se kaha: kufr kar. Phir jab usne kufr kar liya bola: main tujh se alag hoon, main Allah se darta hoon jo saare jahaan ka Rab hai,
(ف56)ایسے ہی منافقین نے یہودِ بنی نضِیر کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا ، جنگ پر آمادہ کیا ، ان سے مدد کے وعدے کئے اور جب ان کے کہے سے وہ اہلِ اسلام سے برسرِ جنگ ہوئے تو منافق بیٹھ رہے ، ان کا ساتھ نہ دیا ۔
اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے (ف٦۵) تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے (ف٦٦) اور یہ مثالیں لوگوں کے لیے ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں،
Had We sent down this Qur’an upon a mountain, you would have then surely seen it bowed down, blown to bits by the fear of Allah; and We illustrate such examples for people, for them to ponder.
अगर हम यह क़ुरआन किसी पहाड़ पर उतारते तो ज़रूर तू उसे देखता झुका हुआ पाश पाश होता अल्लाह के ख़ौफ़ से और यह मिसालें लोगों के लिए हम बयान फरमाते हैं कि वह सोचें,
Agar hum yeh Qur’an kisi pahaad par utaarte to zaroor tu use dekhta jhuka hua paash paash hota Allah ke khauf se. Aur yeh misaalen logon ke liye hum bayaan farmaate hain taa ke woh sochein,
(ف65)اور اس کو انسان کی سی تمیز عطا کرتے ۔(ف66)یعنی قرآن کی عظمت و شان ایسی ہے کہ پہاڑ کو اگر ادراک ہوتا تو وہ باوجود اتنا سخت اور مضبوط ہونے کے پاش پاش ہوجاتا ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفّار کے دل کتنے سخت ہیں کہ ایسے باعظمت کلام سے اثر پذیر نہیں ہوتے ۔
وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں بادشاہ (ف٦۸) نہایت پاک (ف٦۹) سلامتی دینے والا (ف۷۰) امان بخشنے والا (ف۷۱) حفاظت فرمانے والا عزت والا عظمت والا تکبر والا (ف۷۲) اللہ کو پاکی ہے ان کے شرک سے،
It is Allah, except Whom there is no God; the King, the Pure, the Giver of Peace, the Bestower of Safety, the Protector, the Most Honourable, the Compeller, the Proud; Purity is to Allah from all what they ascribe as partners (to Him)!
वही है अल्लाह जिसके सिवा कोई माबूद नहीं बादशाह नहायत पाक सलामती देने वाला अमान बख़्शने वाला हिफ़ाज़त फरमाने वाला इज़्ज़त वाला अज़मत वाला तकब्बुर वाला अल्लाह को पाकी है उनके शिर्क से,
Wohi hai Allah jiske siwa koi ma’bood nahi, baadshah, nahayat paak, salaamati dene wala, amaan bakhshne wala, hifazat farmaane wala, izzat wala, azmat wala, takabbur wala. Allah ko paaki hai unke shirk se,
(ف68)مُلک و حکومت کا حقیقی مالک کہ تمام موجودات اس کے تحتِ مُلک و حکومت ہے اور اس کی مالکیّت و سلطنت دائمی ہے جسے زوال نہیں ۔(ف69)ہر عیب سے اور تمام برائیوں سے ۔(ف70)اپنی مخلوق کو ۔(ف71)اپنے عذاب سے اپنے فرمانبردار بندوں کو ۔(ف72)یعنی عظمت اور بڑائی والا اپنی ذات اور تمام صفات میں اور اپنی بڑائی کا اظہار اسی کے شایاں اور لائق ہے کہ اس کا ہر کمال عظیم ہے اور ہر صفت عالی ، مخلوق میں کسی کو نہیں پہنچتا کہ تکبر یعنی اپنی بڑائی کا اظہارکرے ، بندے کےلئے عجزو انکسار شایاں ہے ۔
وہی ہے اللہ بنانے والا پیدا کرنے والا (ف۷۳) ہر ایک کو صورت دینے والا (ف۷٤) اسی کے ہیں سب اچھے نام (ف۷۵) اس کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
It is Allah only, Who is the Creator, the Initiator, the Designer of all – His only are all the good names; all whatever is in the heavens and in the earth proclaims His Purity; and He only is the Most Honourable, the Wise.
वही है अल्लाह बनाने वाला पैदा करने वाला हर एक को सूरत देने वाला उसी के हैं सब अच्छे नाम उसकी पाकी बोलता है जो कुछ आसमानों और ज़मीन में है और वही इज़्ज़त व हिकमत वाला है,
Wohi hai Allah banane wala, paida karne wala, har ek ko soorat dene wala. Usi ke hain sab achhe naam. Usi ki paaki bolta hai jo kuch aasmanon aur zameen mein hai, aur wahi izzat o hikmat wala hai.",
(ف73)نیست سے ہست کرنے والا۔(ف74)جیسی چاہے ۔(ف75)ننانوے ۹۹جو حدیث میں وارد ہیں ۔
اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ (ف۲) تم انہیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکر ہیں اس حق کے جو تمہارے پاس آیا (ف۳) گھر سے جدا کرتے ہیں (ف٤) رسول کو اور تمہیں اس پر کہ تم اپنے رب پر ایمان لائے، اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے اور میری رضا چاہنے کو تو ان سے دوستی نہ کرو تم انہیں خفیہ پیامِ محبت بھیجتے ہو، اور میں خوب جانتا ہوں جو تم چھپاؤ اور جو ظاہر کرو، اور تم میں جو ایسا کرے بیشک وہ سیدھی راہ سے بہکا،
O People who Believe! Do not befriend My and your enemy – you reveal secrets to them out of friendship whereas they disbelieve in the truth which has come to you! It is they who remove the Noble Messenger and you from your homes, upon your believing in Allah, your Lord; if you have come out to fight for My cause, and to gain My pleasure, then do not befriend them; you send them secret messages of friendship – and I well know all what you hide and all what you disclose; and whoever among you does it, has indeed strayed away from the right path.
ए ईमान वालो मेरे और अपने दुश्मनों को दोस्त न बनाओ तुम उन्हें खबरें पहुंचाते हो दोस्ती से हालाँकि वह मुनकर हैं इस हक़ के जो तुम्हारे पास आया घर से जुदा करते हैं रसूल को और तुम्हें इस पर कि तुम अपने रब पर ईमान लाए, अगर तुम निकले हो मेरी राह में जिहाद करने और मेरी रज़ा चाहने को तो उनसे दोस्ती न करो तुम उन्हें ख़ुफ़िया पयामे मोहब्बत भेजते हो, और मैं खूब जानता हूँ जो तुम छुपाओ और जो ज़ाहिर करो, और तुम में जो ऐसा करे बेशक वह सीधी राह से बहका,
Ae imaan walo mere aur apne dushmanon ko dost na banao tum unhein khabrein pahunchate ho dosti se halanke woh munkir hain is haq ke jo tumhare paas aaya ghar se juda karte hain Rasool ko aur tumhein is par ke tum apne Rab par imaan laye, agar tum nikle ho meri raah mein jihad karne aur meri raza chahne ko to unse dosti na karo tum unhein khufiya payaam-e-mohabbat bhejte ho, aur main khoob jaanta hoon jo tum chhupao aur jo zaahir karo, aur tum mein jo aisa kare beshak woh seedhi raah se behka,
(ف2)یعنی کفّار کو ۔ شانِ نزول : بنی ہاشم کے خاندان کی ایک باندی سارہ مدینہ طیّبہ میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حضور میں حاضر ہوئی جب کہ حضورفتحِ مکّہ کا سامان فرمارہے تھے حضور نے اس سے فرمایا کیا تو مسلمان ہو کر آئی ؟ اس نے کہا نہیں ، فرمایا کیا ہجرت کرکے آئی ؟ عرض کیا نہیں فرمایا پھر کیوں آئی ؟ اس نے کہا محتاجی سے تنگ ہو کر ، بنی عبدالمطّلب نے اس کی امداد کی ، کپڑے بنائے ، سامان دیا ۔ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے ملے انہوں نے اس کو دس دینار دیئے ایک چادر دی اور ایک خط اہلِ مکّہ کے پاس اس کی معرفت بھیجا جس کا مضمون یہ تھا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تم پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں تم سے اپنے بچاؤ کی جو تدبیر ہوسکے کرو ، سارہ یہ خط لے کر روانہ ہوگئی اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب کو اس کی خبر دی حضور نے اپنے چند اصحاب کو جن میں حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی تھے گھوڑوں پر روانہ کیا اور فرمایا مقامِ روضہ خاخ پر تمہیں ایک مسافر عورت ملے گی اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا خط ہے جو اہلِ مکّہ کے نام لکھا گیا ہے وہ خط اس سے لے لو اور اس کو چھوڑ دو اگر انکارکرے تو اس کی گردن ماردویہ حضرات روانہ ہوئے اور عورت کو ٹھیک اسی مقام پر پایا جہاں حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تھا اس سے خط مانگا وہ انکار کر گئی اور قَسم کھا گئی صحابہ نے واپسی کا قصد کیا حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بقَسم فرمایا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خبر خلاف ہوہی نہیں سکتی اور تلوار کھینچ کر عورت سے فرمایا یا خط نکال یا گردن رکھ جب اس نے دیکھا کہ حضرت بالکل آمادۂِ قتل ہیں تو اپنے جوڑے میں سے خط نکالا حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت حاطب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بُلا کر فرمایا کہ اے حاطب اس کا کیا باعث ؟ انہوں نے عرض کیا یارسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں جب سے اسلام لایا کبھی میں نے کفر نہیں کیا اور جب سے حضور کی نیاز مندی میسّر آئی کبھی حضور کی خیانت نہ کی اور جب سے اہلِ مکّہ کو چھوڑا کبھی ان کی محبّت نہ آئی لیکن واقعہ یہ ہے کہ میں قریش میں رہتا تھا اور انکی قوم سے نہ تھا میرے سوائے اور جو مہاجرین ہیں ان کے مکّہ مکرّمہ میں رشتہ دار ہیں جو ان کے گھر بار کی نگرانی کرتے ہیں مجھے اپنے گھر والوں کا اندیشہ تھا اسلئے میں نے یہ چاہا کہ میں اہلِ مکّہ پر کچھ احسان رکھ دوں تاکہ وہ میرے گھر والوں کو نہ ستائیں اور یہ میں یقین سے جانتا ہوں کہ اللہ تعالٰی اہلِ مکّہ پر عذاب نازل فرمانے والا ہے میرا خط انہیں بچا نہ سکے گا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کا یہ عذر قبول فرمایا اور ان کی تصدیق کی حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مجھے اجازت دیجئے اس منافق کی گردن ماردوں حضور نے فرمایا اے عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اللہ تعالٰی خبردار ہے جب ہی اس نے اہلِ بدر کے حق میں فرمایا کہ جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے آنسو جاری ہوگئے اور یہ آیات نازل ہوئیں ۔(ف3)یعنی اسلام اور قرآن ۔(ف4) یعنی مکّہ مکرّمہ سے ۔
اگر تمہیں پائیں (ف۵) تو تمہارے دشمن ہوں گے اور تمہاری طرف اپنے ہاتھ (ف٦) اور اپنی زبانیں (ف۷) برائی کے ساتھ دراز کریں گے اور ان کی تمنا ہے کہ کسی طرح تم کافر ہوجاؤ (ف۸)
If they gain dominance over you they will be your enemies, and will extend their hands and their tongues towards you with evil, and they wish that in some way you turn disbelievers.
अगर तुम्हें पाएं तो तुम्हारे दुश्मन होंगे और तुम्हारी तरफ अपने हाथ और अपनी ज़बानें बुराई के साथ दराज़ करेंगे और उनकी तमन्ना है कि किसी तरह तुम काफ़िर हो जाओ
Agar tumhein paayen to tumhare dushman honge aur tumhari taraf apne haath aur apni zubanen burai ke saath daraaz karenge aur unki tamanna hai ke kisi tarah tum kafir ho jao
(ف5)یعنی اگر کفّار تم پر موقع پاجائیں ۔(ف6)ضرب و قتل کے ساتھ۔(ف7)سبّ وشتم اور ۔(ف8)تو ایسے لوگوں کو دوست بنانا اور ان سے بھلائی کی امید رکھنا اور انکی عداوت سے غافل رہنا ہر گز نہ چاہئے ۔
ہرگز کام نہ آئیں گے تمہیں تمہارے رشتے اور نہ تمہاری اولاد (ف۹) قیامت کے دن، تمہیں ان سے الگ کردے گا (ف۱۰) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
Neither your relations nor your offspring will in the least benefit you, on the Day of Resurrection; He will separate you from them; and Allah is seeing your deeds.
हरगिज़ काम न आएंगे तुम्हें तुम्हारे रिश्ते और न तुम्हारी औलाद क़यामत के दिन, तुम्हें उनसे अलग कर देगा और अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है,
Hargiz kaam na aayenge tumhein tumhare rishte aur na tumhari aulaad Qayamat ke din, tumhein unse alag kar dega aur Allah tumhare kaam dekh raha hai,
(ف9)جن کی وجہ سے تم کفّار سے دوستی و موالات کرتے ہو ۔(ف10)کہ فرمانبردار جنّت میں ہوں گے اور کافر نافرمان جہنّم میں ۔
بیشک تمہارے لیے اچھی پیروی تھی (ف۱۱) ابراہیم اور اس کے ساتھ والوں میں (ف۱۲) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا (ف۱۳) بیشک ہم بیزار ہیں تم سے اور ان سے جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم تمہارے منکر ہوئے (ف۱٤) اور ہم میں اور تم میں دشمنی اور عداوت ظاہر ہوگئی ہمیشہ کے لیے جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں ضرور تیری مغفرت چاہوں گا (ف۱۵) اور میں اللہ کے سامنے تیرے کسی نفع کا مالک نہیں (ف۱٦) اے ہمارے رب ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع لائے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے (ف۱۷)
Indeed in Ibrahim, and those along with him, lay a good example for you follow – when they said to their people, “Indeed we are unconcerned with you and all what you worship besides Allah; we reject you, and between us and you has surfaced enmity and hatred for ever until you accept faith in the One Allah” – except the saying of Ibrahim to his father, “I will surely seek forgiveness for you, and I do not possess any power to benefit you against Allah”; “O our Lord! We have relied only upon You, and towards You only we have inclined and only towards You is the return”.
बेशक तुम्हारे लिए अच्छी पैरवी थी इबराहीम और उसके साथ वालों में जब उन्होंने अपनी क़ौम से कहा बेशक हम बेज़ार हैं तुमसे और उनसे जिन्हें अल्लाह के सिवा पूजते हो, हम तुम्हारे मुनकर हुए और हम में और तुम में दुश्मनी और अदावत ज़ाहिर हो गई हमेशा के लिए जब तक तुम एक अल्लाह पर ईमान न लाओ मगर इबराहीम का अपने बाप से कहना कि मैं ज़रूर तेरी मग़फ़िरत चाहूँगा और मैं अल्लाह के सामने तेरे किसी नफ़ा का मालिक नहीं ऐ हमारे रब हमने तुझी पर भरोसा किया और तेरी ही तरफ रुजू लाए और तेरी ही तरफ फिरना है
Beshak tumhare liye achhi pairwi thi Ibrahim aur uske saath walon mein jab unhon ne apni qaum se kaha beshak hum bezaar hain tumse aur unse jinhein Allah ke siwa poojte ho, hum tumhare munkir hue aur hum mein aur tum mein dushmani aur adawat zaahir ho gayi hamesha ke liye jab tak tum ek Allah par imaan na lao magar Ibrahim ka apne baap se kehna ke main zaroor teri maghfirat chaahunga aur main Allah ke samne tere kisi nafa ka malik nahin, ae hamare Rab humne tujh hi par bharosa kiya aur teri hi taraf ruju laye aur teri hi taraf phirna hai
(ف11)حضرت حاطب رضی اللہ تعالٰی عنہ اور دوسرے مومنین کو خطاب ہے اور سب کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اقتداء کرنے کا حکم ہے کہ دِین کے معاملہ میں اہلِ قرابت کے ساتھ انکا طریقہ اختیار کریں ۔(ف12)ساتھ والوں سے اہلِ ایمان مراد ہیں ۔(ف13)جو مشرک تھی ۔(ف14)اور ہم نے تمہارے دِین کی مخالفت اختیار کی ۔(ف15)یہ قابلِ اتباع نہیں ہے کیونکہ وہ ایک وعدے کی بناء پر تھا اور جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ظاہر ہوگیا کہ وہ کفر پر مستقل ہے تو آپ نے اس سے بیزاری کی، لہٰذا یہ کسی کےلئے جائز نہیں کہ اپنے بے ایمان رشتہ دار کےلئے دعائے مغفرت کرے ۔(ف16)اگر تو اس کی نافرمانی کرے اورشرک پر قائم رہے ۔ ( خازن)(ف17)یہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اور ان مومنین کی دعا ہے جو آپ کے ساتھ تھے اور ماقبل استثناء کے ساتھ متصل ہے لہذا مومنین کو اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اتباع کرنا چاہئے ۔
بیشک تمہارے لیے (ف۱۹) ان میں اچھی پیروی تھی (ف۲۰) اسے جو اللہ اور پچھلے دن کا امیدوار ہو (ف۲۱) اور جو منہ پھیرے (ف۲۲) تو بیشک اللہ ہی بےنیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
Indeed in them lay a good example for you to follow – for one who looks forward to (meeting) Allah and the Last Day; and whoever turns away – then (know that) indeed Allah only is the Independent, the Most Praiseworthy.
बेशक तुम्हारे लिए उनमें अच्छी पैरवी थी उसे जो अल्लाह और पिछले दिन का उम्मीदवार हो और जो मुँह फेरे तो बेशक अल्लाह ही बेनियाज़ है सब खूबियों सराहा,
Beshak tumhare liye unmein achhi pairwi thi use jo Allah aur pichhle din ka ummeedwar ho aur jo munh phere to beshak Allah hi beniyaaz hai sab khoobiyon ka saraha,
(ف19)اے امّتِ حبیبِ خدا محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔ (ف20)یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھ والوں میں ۔(ف21)اللہ تعالٰی کی رحمت و ثواب اور راحتِ آخرت کا طالب ہو اور عذابِ الٰہی سے ڈرے ۔(ف22)ایمان سے اور کفّار سے دوستی کرے ۔
قریب ہے کہ اللہ تم میں اور ان میں جو ان میں سے (ف۲۳) تمہارے دشمن ہیں دوستی کردے (ف۲٤) اور اللہ قادر ہے (ف۲۵) اور بخشنے والا مہربان ہے،
It is likely that Allah may create friendship between you and those among them who are now your enemies; and Allah is All Able; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
क़रीब है कि अल्लाह तुम में और उनमें जो उनमें से तुम्हारे दुश्मन हैं दोस्ती कर दे और अल्लाह क़ादिर है और बख़्शने वाला मेहरबान है,
Qareeb hai ke Allah tum mein aur unmein jo unmein se tumhare dushman hain dosti kar de aur Allah qadir hai aur bakhshne wala mehrban hai,
(ف23)یعنی کفّارِ مکّہ میں سے ۔(ف24)اس طرح کہ انہیں ایمان کی توفیق دے ۔ چنانچہ اللہ تعالٰی نے ایسا کیا اور بعدِ فتحِ مکّہ ان میں سے کثیر التعداد لوگ ایمان لے آئے اور مومنین کے دوست اور بھائی بن گئے اور باہمی محبّتیں بڑھیں ۔ شانِ نزول : جب اوپر کی آیات نازل ہوئیں تو مومنین نے اپنے اہلِ قرابت کی عداوت میں تشدّد کیا ، ان سے بیزار ہوگئے اور اس معاملہ میں بہت سخت ہوگئے تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرما کر انہیں امید دلائی کہ ان کفّار کا حال بدلنے والا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف25)دل بدلنے اور حال تبدیل کرنے پر ۔
اللہ تمہیں ان سے (ف۲٦) منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو، بیشک انصاف والے اللہ کو محبوب ہیں،
Allah does not forbid you from those who did not fight against you because of religion and did not drive you out from your homes, that you should be kind towards them and deal with them fairly; indeed the equitable are the beloved of Allah.
अल्लाह तुम्हें उनसे मना नहीं करता जो तुमसे दीन में न लड़े और तुम्हें तुम्हारे घरों से न निकाला कि उनके साथ एहसान करो और उनसे इंसाफ़ का बर्ताव बरतो, बेशक इंसाफ़ वाले अल्लाह को महबूब हैं,
Allah tumhein unse mana nahin karta jo tumse deen mein na lade aur tumhein tumhare gharon se na nikala ke unke saath ehsaan karo aur unse insaaf ka bartaav barto, beshak insaaf wale Allah ko mahboob hain,
(ف26)یعنی ان کافروں سے ۔ شانِ نزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت خزاعہ کے حق میں نازل ہوئی ۔ جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اس شرط پر صلح کی تھی کہ نہ آپ سے قتال کریں گے نہ آپ کے مخالف کو مدد دیں گے ۔ اللہ تعالٰی نے ان لوگوں کے ساتھ سلو ک کرنے کی اجازت دی ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر نے فرمایا کہ یہ آیت ان کی والدہ اسماء بنتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی ان کی والدہ مدینہ طیّبہ میں ان کےلئے تحفے لے کر آئی تھیں اور تھیں مشرکہ ، تو حضرت اسماء نے ان کے ہدایا قبول نہ کئے اور انہیں اپنے گھر میں آنے کی اجازت نہ دی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا حکم ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اجازت دی کہ انہیں گھر میں بلائیں ان کے ہدایا قبول کریں ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں ۔
اللہ تمہیں انہی سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے یا تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو (ف۲۷) اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی ستمگار ہیں،
Allah forbids you only from those who fought against you because of religion or drove you out from your homes or helped others to drive you out, that you should befriend them; and whoever befriends them – it is they who are the unjust.
अल्लाह तुम्हें इन्हीं से मना करता है जो तुमसे दीन में लड़े या तुम्हें तुम्हारे घरों से निकाला या तुम्हारे निकालने पर मदद की कि उनसे दोस्ती करो और जो उनसे दोस्ती करे तो वही सितमगार हैं,
Allah tumhein unhi se mana karta hai jo tumse deen mein lade ya tumhein tumhare gharon se nikala ya tumhare nikalne par madad ki ke unse dosti karo aur jo unse dosti kare to wahi sitamgar hain,
اے ایمان والو جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں کفرستان سے اپنے گھر چھوڑ کر آئیں تو ان کا امتحان کرو (ف۲۸) اللہ ان کے ایمان کا حال بہتر جانتا ہے، پھر اگر تمہیں ایمان والیاں معلوم ہوں تو انہیں کافروں کو واپس نہ دو، نہ یہ (ف۲۹) انہیں حلال (ف۳۰) نہ وہ انہیں حلال (ف۳۱) اور ان کے کافر شوہروں کو دے دو جو ان کا خرچ ہوا (ف۳۲) اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کرلو (ف۳۳) جب ان کے مہر انہیں دو (ف۳٤) اور کافرنیوں کے نکاح پر جمے نہ رہو (ف۳۵) اور مانگ لو جو تمہارا خرچ ہوا (ف۳٦) اور کافر مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا (ف۳۷) یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تم میں فیصلہ فرماتا ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
O People who Believe! When Muslim women leave the lands of disbelief and migrate towards you, examine them; Allah knows more about their faith; so if you judge the women to be believers, do not send them back to the disbelievers; neither are they lawful for the disbelievers, nor are the disbelievers lawful for them; and give their disbelieving husbands what they had spent; and there is no sin upon you to marry them if you give them their bridal money; and do not continue the marriage with disbelieving women – and ask for what you had spent, and the disbelievers may ask for what they had spent; this is Allah’s command; He judges between you; and Allah is All Knowing, Wise.
ऐ ईमान वालो जब तुम्हारे पास मुसलमान औरतें कुर्फ़िस्तान से अपने घर छोड़ कर आएं तो उनका इम्तिहान करो अल्लाह उनके ईमान का हाल बेहतर जानता है, फिर अगर तुम्हें ईमान वालियाँ मालूम हों तो उन्हें काफ़िरों को वापस न दो, न यह उन्हें हलाल न वह उन्हें हलाल और उनके काफ़िर शोहरों को दे दो जो उनका खर्च हुआ और तुम पर कुछ गुनाह नहीं कि उनसे निकाह कर लो जब उनके महर उन्हें दो और काफ़िरनियों के निकाह पर जमे न रहो और माँग लो जो तुम्हारा खर्च हुआ और काफ़िर माँग लें जो उन्होंने खर्च किया यह अल्लाह का हुक्म है, वह तुम में फैसला फ़रमाता है, और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है,
Ae imaan walo jab tumhare paas musalman auratein kufristan se apne ghar chhod kar aayen to unka imtihaan karo Allah unke imaan ka haal behtar jaanta hai, phir agar tumhein imaan waliyan maaloom hon to unhein kafiron ko wapas na do, na yeh unhein halal na woh unhein halal aur unke kafir shoharon ko de do jo unka kharch hua aur tum par kuch gunah nahin ke unse nikah kar lo jab unke mehr unhein do aur kafiron ki auraton ke nikah par jame na raho aur maang lo jo tumhara kharch hua aur kafir maang lein jo unhon ne kharch kiya yeh Allah ka hukm hai, woh tum mein faisla farmata hai, aur Allah ilm o hikmat wala hai,
(ف28)کہ ان کی ہجرت خالص دِین کےلئے ہے ایسا تو نہیں ہے کہ انہوں نے شوہروں کی عداوت میں گھر چھوڑا ہو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ان عورتوں کو قَسم دی جائے کہ وہ نہ شوہروں کی عداوت میں نکلی ہیں اور نہ کسی دنیوی وجہ سے انہوں نے صرف اپنے دِین و ایمان کےلئے ہجرت کی ہے ۔(ف29)مسلمان عورتیں ۔(ف30) یعنی کافروں کو ۔(ف31)یعنی نہ کافر مرد مسلمان عورتوں کو حلال ۔ مسئلہ :عورت مسلمان ہو کر کافر مرد کی زوجیّت سے خالی ہوگئی ۔(ف32)یعنی جو مَہرانہوں نے ان عورتوں کو دیئے تھے وہ انہیں واپس کردو یہ حکم اہلِ ذمّہ کےلئے ہے جن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی لیکن حربی عورتوں کے مَہر واپس کرنا نہ واجب ، نہ سنت وَاِنْ کَانَ الاَمْرُ بِاِیۡتَآءِ مَااَنْفَقُوْا لِلْوُجُوْبِ فَھُمْ مَنْسُوْخ وَاِنْ کَانَ لِنُدب کَمَا ھُوَ قَوْلُ الشَّافِعی فَلَا ۔ مسئلہ : اور یہ مَہر دینا اس صورت میں ہے جب کہ عورت کا کافر شوہر اس کو طلب کرے اوراگر نہ طلب کرے تو اس کو کچھ نہ دیا جائے گا ۔ مسئلہ : اسی طرح اگر کافر نے اس مہاجرہ کو مَہر نہیں دیا تھا تو بھی وہ کچھ نہ پائے گا ۔شانِ نزول : یہ آیت صلحِ حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی صلح میں یہ شرط تھی کہ مکّہ والوں میں سے جو شخص ایمان لا کر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو اس کو اہلِ مکّہ واپس لے سکتے ہیں اس آیت میں یہ بیان فرمادیا گیا کہ یہ شرط صرف مَردوں کےلئے ہے عورتوں کی تصریح عہد نامہ میں نہیں نہ عورتیں اس قرارداد میں داخل ہوسکتی ہیں کیونکہ مسلمان عورت کافر کےلئے حلال نہیں ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ یہ آیت حکمِ اوّل کی ناسخ ہے یہ اس تقدیر پر ہے کہ عورتیں عہدِ صلح میں داخل ہوں مگر عورتوں کا اس عہد میں داخل ہونا صحیح نہیں کیونکہ حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عہد نامہ کے یہ الفاظ مروی ہیں ۔لَایَاتِیْکَ مِنَّا رَجُل وَاِنْ کَانَ عَلٰی دِیْنِکَ اِلَّا رَدَدْتَہ یعنی ہم سے جو مرد آپ کے پاس پہنچے خواہ وہ آپ کے دِین ہی پر ہو آپ اس کو واپس دیں گے۔(ف33)یعنی مہاجرہ عورتوں سے ، اگرچہ دارالحرب میں ان کے شوہر ہوں کیونکہ اسلام لانے سے وہ ان شوہروں پر حرام ہوگئیں ۔ اور ان کی زوجیّت میں نہ رہیں ۔مسئلہ : وَاحْتَجَّ بِہٖ اَ بُوْ حَنِیفَۃَ عَلٰی اَنْ لَاعِدَّۃَ عَلَی المُہَاجِرَ ۃِ فَیَجُوۡزلَہَا التَّزَوُّجُ مِنۡ غَیۡرِ عِدَّۃٍ خِلَافاً لَہُمَا ۔(ف34)مَہر دینے سے مراد اس کو اپنے ذمّہ لازم کرلینا ہے اگرچہ بالفعل نہ دیا جائے ۔ مسئلہ : اس سے یہ ثابت ہوا کہ ان عورتوں سے نکاح کرنے پر نیا مَہر واجب ہوگا ان کے شوہروں کو جو ادا کردیا گیا وہ اس میں مجرا ومحسوب نہ ہوگا ۔(ف35)یعنی جو عورتیں دارالحرب میں رہ گئیں یا مرتدّہ ہو کردارالحرب میں چلی گئیں ان سے زوجیّت کا علاقہ نہ رکھو چنانچہ یہ آیت نازل ہونے کے بعد اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کافرہ عورتوں کو طلاق دے دی جو مکّہ مکرّمہ میں تھیں ۔مسئلہ : اگر مسلمان کی عورت (معاذ اللہ) مرتد ہوجائے تو اس کے قیدِ نکاح سے باہر نہ ہوگی ۔ عَلَیْہِ الْفَتْوٰی زَجْراً وَّ تَیَسُّراً (ف36)یعنی ان عورتوں کو تم نے جو مَہر دیئے تھے وہ ان کافروں سے وصول کرلو جنہوں نے ان سے نکاح کیا ۔(ف37)اپنی عورتوں پر جو ہجرت کرکے دارالاسلام میں چلی آئیں ان کے مسلمان شوہروں سے جنہوں نے ان سے نکاح کیا ۔
اور اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے کچھ عورتیں کافروں کی طرف نکل جائیں (ف۳۸) پھر تم کافروں کو سزا دو (ف۳۹) تو جن کی عورتیں جاتی رہی تھیں (ف٤۰) غنیمت میں سے انہیں اتنا دیدو جو ان کا خرچ ہوا تھا (ف٤۱) اور اللہ سے ڈرو جس پر تمہیں ایمان ہے،
And if some women go away from the Muslims to the disbelievers – then when you punish the disbelievers, give from the war booty to the Muslims who lost their wives the amount they had spent; and fear Allah in Whom you believe.
और अगर मुसलमानों के हाथ से कुछ औरतें काफ़िरों की तरफ निकल जाएं फिर तुम काफ़िरों को सज़ा दो तो जिनकी औरतें जाती रही थीं ग़नीमत में से उन्हें उतना ही दो जो उनका खर्च हुआ था और अल्लाह से डरो जिस पर तुम्हें ईमान है,
Aur agar musalmanon ke haath se kuch auratein kafiron ki taraf nikal jaayen phir tum kafiron ko saza do to jin ki auratein jaati rahi thin ghanimat mein se unhein utna hi dedo jo unka kharch hua tha aur Allah se daro jis par tumhein imaan hai,
(ف38)شانِ نزول : اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مسلمانوں نے تو مہاجرہ عورتوں کے مَہر ان کے کافر شوہروں کو ادا کردیئے اور کافروں نے مرتدّات کے مَہر مسلمانوں کو ادا کرنے سے انکار کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف39)جہاد میں اور ان سے غنیمت پاؤ ۔(ف40)یعنی مرتدّہ ہو کر دارالحرب میں چلی گئیں تھیں ۔(ف41)ان عورتوں کے مَہر دینے میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مومنین مہاجرین کی عورتوں میں سے چھ عورتیں ایسی تھیں جنہوں نے دارالحرب کو اختیار کیا اور مشرکین کے ساتھ لاحق ہوئیں اور مرتد ہوگئیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے شوہروں کو مالِ غنیمت سے ان کے مَہر عطا فرمائے ۔فائدہ : ان آیتوں میں مہاجرات کے امتحان اور کفّار نے جو اپنی بیبیوں پر خرچ کیا ہو وہ بعدِ ہجرت انہیں دینا اور مسلمانوں نے جو اپنی بیبیوں پر خرچ کیا ہو وہ ان کے مرتد ہو کر کافروں سے مل جانے کے بعد ان سے مانگنا اور جن کی بیبیاں مرتد ہو کر چلی گئی ہوں انہوں نے جو ان پر خرچ کیا تھا وہ انہیں مالِ غنیمت میں سے دینا یہ تمام احکام منسوخ ہوگئے آیتِ سیف یا آیتِ غنیمت یا سنّت سے کیونکہ یہ احکام جبھی تک باقی رہے جب تک یہ عہد رہا اور جب وہ عہد اٹھ گیا تو احکام بھی نہ رہے ۔
اے نبی جب تمہارے حضور مسلمان عورتیں حاضر ہوں اس پر بیعت کرنے کو کہ اللہ کا کچھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی (ف٤۲) اور نہ وہ بہتان لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان یعنی موضع ولادت میں اٹھائیں (ف٤۳) اور کسی نیک بات میں تمہاری نافرانی نہ کریں گی (ف٤٤) تو ان سے بیعت لو اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہو (ف٤۵) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him)! If Muslim women come humbly to you to take oath of allegiance that they will neither ascribe any partner to Allah, nor steal, nor commit adultery, nor kill their children, nor bring the lie that they carry between their hands and feet, nor disobey you in any rightful matter – then accept their allegiance and seek forgiveness from Allah for them; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ऐ नबी जब तुम्हारे हुज़ूर मुसलमान औरतें हाज़िर हों इस पर बैअत करने को कि अल्लाह का कुछ शरीक न ठहराएँगी और न चोरी करेंगी और न बदकारी और न अपनी औलाद को क़त्ल करेंगी और न वह बहुतान लाएँगी जिसे अपने हाथों और पैरों के दरमियान यानी मौज़े विलादत में उठाएँ और किसी नेक बात में तुम्हारी नाफ़रमानी न करेंगी तो उनसे बैअत लो और अल्लाह से उनकी मग़फ़िरत चाहो बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Ae Nabi jab tumhare huzoor musalman auratein haazir hon is par bai’at karne ko ke Allah ka kuch shareek na thehrayengi aur na chori karengi aur na badkari aur na apni aulaad ko qatl karengi aur na woh bohtan layengi jise apne haathon aur paon ke darmiyan ya’ni mauza-e-wiladat mein uthayen aur kisi nek baat mein tumhari nafarmaani na karengi to unse bai’at lo aur Allah se unki maghfirat chaho beshak Allah bakhshne wala mehrban hai,
(ف42)جیسا کہ زمانۂِ جاہلیّت میں دستور تھا کہ لڑکیوں کو بخیالِ عار و باندیشۂِ ناداری زندہ دفن کردیتے تھے اس سے اور ہر قتلِ ناحق سے باز رہنا اس عہد میں شامل ہے ۔(ف43)یعنی پرایا بچّہ لے کر شوہر کو دھوکہ دیں اور اس کے پیٹ سے جنا ہوا بتائیں ۔ جیسا کہ جاہلیّت کے زمانہ میں دستور تھا ۔(ف44)نیک بات اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری ہے ۔(ف45)مروی ہے کہ جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم روزِ فتحِ مکّہ مَردوں کی بیعت لے کر فارغ ہوئے تو کوہِ صفاء پر عورتوں سے بیعت لینا شروع کیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نیچے کھڑے ہوئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کلامِ مبارک عورتوں کو سناتے جاتے تھے ، ہند بنتِ عتبہ ابوسفیان کی بیوی خوف زدہ برقع پہن کر اس طرح حاضر ہوئی کہ پہچانی نہ جائے ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کر و ، ہند نے سر اٹھا کر کہا آپ ہم سے وہ عہد لیتے ہیں جو ہم نے آپ کو مَردوں سے لیتے نہیں دیکھا اور اس روز مَردوں سے صرف اسلام و جہاد پر بیعت لی گئی تھی ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اور چوری نہ کریں گی ، تو ہند نے عرض کیا کہ ابوسفیان بخیل آدمی ہیں اور میں نے ان کا مال ضرور لیا ہے میں نہیں سمجھتی مجھے حلال ہوا یا نہیں ، ابوسفیان حاضر تھے انہوں نے کہا جو تو نے پہلے لیا اور جو آئندہ لے سب حلال ، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تبسّم فرمایا اور ارشاد کیا تو ہند بنتِ عتبہ ہے ؟ عرض کیا جی ہاں جو کچھ مجھ سے قصور ہوئے ہیں معاف فرمائیے ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اور نہ بدکاری کریں گی ، تو ہند نے کہا کیا کوئی آزاد عورت بدکاری کرتی ہے ؟ پھر فرمایا نہ اپنی اولاد کو قتل کریں ، ہند نے کہا ہم نے چھوٹے چھوٹے پالے جب بڑے ہوگئے تم نے انہیں قتل کردیا تو تم جانو اور وہ جانیں اس کا لڑکا حنظلہ بن ابی سفیان بدر میں قتل کردیا گیا تھا۔ ہند کی یہ گفتگو سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بہت ہنسی آئی ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ پاؤں کے درمیان کوئی بہتان نہ گھڑیں گی ، ہند نے کہا بخدا بہتان بہت بُری چیز ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہم کو نیک باتوں اور برتر خصلتوں کا حکم دیتے ہیں ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ کسی نیک بات میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نافرمانی نہ کریں گی ، اس پر ہند نے کہا اس مجلس میں ہم اسلئے حاضر ہی نہیں ہوئے کہ اپنے دل میں آپ کی نافرمانی کا خیال آنے دیں ، عورتوں نے ان تمام امور کا اقرار کیا اورچار سو ستاون عورتوں نے بیعت کی اس بیعت میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مصافحہ نہ فرمایا اورعورتوں کو دستِ مبارک چھونے نہ دیا ۔ بیعت کی کیفیّت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ایک قدح پانی میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنا دستِ مبارک ڈالا پھر اسی میں عورتوں نے اپنے ہاتھ ڈالے ، اور یہ بھی کہا گیا ہے بیعت کپڑے کے واسطے سے لی گئی اور بعید نہیں ہے کہ دونوں صورتیں عمل میں آئی ہوں ۔ مسائل : بیعت کے وقت مقراض کا استعمال مشائخ کا طریقہ ہے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالی عنہ کی سنّت ہے خلافت کے ساتھ ٹوپی دینا مشائخ کا معمول ہے ، اور کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے منقول ہے عورتوں کی بیعت میں اجنبیہ کا ہاتھ چھونا حرام ہے یا بیعت زبان سے ہو یا کپڑے وغیرہ کے واسطہ سے ۔
اے ایمان والو ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہے (ف٤٦) وہ آخرت سے آس توڑ بیٹھے ہیں (ف٤۷) جیسے کافر آس توڑ بیٹھے قبر والوں سے (ف٤۸)
O People who Believe! Do not befriend the people upon whom is Allah’s wrath – they have lost hope in the Hereafter the way the disbelievers have lost hope in the people of the graves.
ऐ ईमान वालो उन लोगों से दोस्ती न करो जिन पर अल्लाह का ग़ज़ब है वह आख़िरत से आस तोड़ बैठे हैं जैसे काफ़िर आस तोड़ बैठे क़ब्र वालों से
",
Ae imaan walo un logon se dosti na karo jin par Allah ka ghazab hai woh aakhirat se aas tod baithe hain jaise kafir aas tod baithe qabr walon se.",
(ف46)ان لوگوں سے مراد یہود ہیں ۔(ف47) کیونکہ انہیں کُتُبِ سابقہ سے معلوم ہوچکا تھا اور وہ بیقین جانتے تھے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالٰی کے رسول ہیں اور یہود نے اس کی تکذیب کی ہے اسلئے انہیں اپنی مغفرت کی امید نہیں ۔(ف48)پھر دنیا میں واپس آنے کی یا یہ معنٰی ہیں کہ یہود ثوابِ آخرت سے ایسے ناامید ہوئے جیسے کہ مرے ہوئے کافر اپنی قبروں میں اپنے حال کو جان کر ثوابِ آخرت سے بالکل مایوس ہیں ۔
O People who Believe! Why do you preach what you do not practice?
ऐ ईमान वालो क्यो कहते हो वह जो नहीं करते
Ae imaan walo kyon kehte ho woh jo nahin karte
(ف2)شانِ نزول : صحابۂِ کرام کی ایک جماعت گفتگو ئیں کررہی تھی یہ وہ وقت تھا جب تک کہ حکمِ جہاد نازل نہیں ہوا تھا اس جماعت میں یہ تذکرہ تھا کہ اللہ تعالٰی کو سب سے زیادہ کیا عمل پیارا ہے ہمیں معلوم ہوتا تو ہم وہی کرتے چاہے اس میں ہمارے مال اور ہماری جانیں کام آجاتیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس آیت کی شانِ نزول میں اور بھی کئی قول ہیں منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو مسلمانوں سے مدد کا جھوٹا وعدہ کرتے تھے ۔
اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم مجھے کیوں ستاتے ہو (ف٤) حالانکہ تم جانتے ہو (ف۵) کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں (ف٦) پھر جب وہ (ف۷) ٹیڑھے ہوئے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیے (ف۸) اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نہیں دیتا (ف۹)
And remember when Moosa said to his people, “O my people! Why do you trouble me, whereas you know that I am Allah’s Noble Messenger towards you?” So when they deviated, Allah deviated their hearts; and Allah does not guide the sinning people.
और याद करो जब मूसा ने अपनी क़ौम से कहा, ऐ मेरी क़ौम मुझे क्यों सताते हो हालाँकि तुम जानते हो कि मैं तुम्हारी तरफ अल्लाह का रसूल हूँ फिर जब वह टेढ़े हुए अल्लाह ने उनके दिल टेढ़े कर दिए और अल्लाह फ़ासिक लोगो को राह नहीं देता
Aur yaad karo jab Moosa ne apni qaum se kaha, ae meri qaum mujhe kyon satate ho halanke tum jaante ho ke main tumhari taraf Allah ka Rasool hoon phir jab woh terhe hue Allah ne unke dil terhe kar diye aur Allah faasiq logon ko raah nahin deta
(ف4)آیات کا انکار کرکے اور میرے اوپر جھوٹی تہمتیں لگا کر ۔(ف5)یقین کے ساتھ ۔(ف6)اور رسول واجبُ التعظیم ہوتے ہیں ان کی توقیر اور ان کا احترام لازم ہے انہیں ایذا دینا سخت حرام اور انتہا درجہ کی بدنصیبی ہے ۔(ف7)حضرت موسٰی علیہ السلام کو ایذا دے کر راہِ حق سے منحرف اور ۔(ف8)انہیں اتباعِ حق کی توفیق سے محروم کرکے ۔(ف9)جو اس کے علم میں نافرمان ہیں اس آیت میں تنبیہ ہے کہ رسولوں کو ایذا دینا شدید ترین جُرم ہے اور اس کے وبال سے دل ٹیڑھے ہوجاتے ہیں اور آدمی ہدایت سے محروم ہوجاتا ہے ۔
اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا (ف۱۰) اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے (ف۱۱) پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے بولے یہ کھلا جادو،
And remember when Eisa the son of Maryam said, “O Descendants of Israel! Indeed I am Allah’s Noble Messenger towards you, confirming the Book Torah which was before me, and heralding glad tidings of the Noble Messenger who will come after me – his name is Ahmed (the Praised One)”; so when Ahmed came to them with clear proofs, they said, “This is an obvious magic.”
और याद करो जब ईसा बिन मरियम ने कहा ऐ बनी इस्राईल मैं तुम्हारी तरफ अल्लाह का रसूल हूँ अपने से पहली किताब तौरात की तसदीक करता हुआ और उन रसूल की बशारत सुनाता हुआ जो मेरे बाद तशरीफ लाएँगे उनका नाम अहमद है फिर जब अहमद उनके पास रोशन निशानियाँ लेकर तशरीफ लाए बोले यह खुला जादू,
Aur yaad karo jab Eesa bin Maryam ne kaha ae Bani Israeel main tumhari taraf Allah ka Rasool hoon apne se pehli kitaab Taurat ki tasdeeq karta hua aur un Rasool ki basharat sunata hua jo mere baad tashreef laayenge unka naam Ahmad hai phir jab Ahmad unke paas roshan nishaniyan le kar tashreef laaye bole yeh khula jaadu,
(ف10)اور توریت و دیگر کُتُبِ الٰہیہ کا اقرار و اعتراف کرتا ہوا اور تمام پہلے انبیاء کو مانتا ہوا ۔(ف11)حدیث : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حکم سے اصحابِ کرام نجاشی بادشاہ کے پاس گئے تو نجاشی بادشاہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہی رسول ہیں جن کی حضرت عیسٰی علیہ السلام نے بشارت دی اگر امورِ سلطنت کی پابندیاں نہ ہوتیں تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر کفش برداری کی خدمت بجالاتا ۔ (ابواؤد ) حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ توریت میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صفت مذکور ہے اور یہ بھی کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام آپ کے پاس مدفون ہوں گے ۔ ابوداؤد مدنی نے کہا کہ روضۂِ اقدس میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے ۔ (ترمذی)حضرت کعب احبارسے مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام سے عرض کیا یاروحَ اللہ کیا ہمارے بعد اور کوئی امّت بھی ہے فرمایا ہاں احمدِ مجتبٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امّت ، وہ لوگ حکماء ، علماء ، ابرار و اتقیاء ہیں اور فقہ میں نائبِ انبیاء ہیں اللہ تعالٰی سے تھوڑے رزق پر راضی اور اللہ تعالٰی ان سے تھوڑے عمل پر راضی ۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۲) حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہو (ف۱۳) اور ظالم لوگوں کو اللہ راہ نہیں دیتا،
And who is more unjust than one who fabricates a lie against Allah whereas he is being called towards Islam? And Allah does not guide the unjust people.
और उस से बढ़ कर ज़ालिम कौन जो अल्लाह पर झूठ बाँधे हालाँकि उसे इस्लाम की तरफ बुलाया जाता हो और ज़ालिम लोगो को अल्लाह राह नहीं देता,
Aur us se barh kar zaalim kaun jo Allah par jhoot baandhe halanke use Islam ki taraf bulaya jata ho aur zaalim logon ko Allah raah nahin deta,
(ف12)اس کی طرف شریک اور ولد کی نسبت کرکے اور اس کی آیات کو جادو بتا کر ۔(ف13)جس میں سعادتِ دارَین ہے ۔
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے (ف۱٦) پڑے برا مانیں مشرک،
It is He Who has sent His Noble Messenger with guidance and the religion of truth, in order that He may make it prevail over all other religions, even if the polytheists get annoyed.
वही है जिसने अपने रसूल को हिदायत और सच्चे दीन के साथ भेजा कि उसे सब दीनों पर ग़ालिब करे पड़े बुरा मानें मुशरिक,
Wohi hai jisne apne Rasool ko hidaayat aur sache deen ke saath bheja ke use sab deeno par ghalib kare pade bura maanen mushrik,
(ف16)چنانچہ ہر ایک دِین بعنایتِ الٰہی ا سلام سے مغلوب ہوگیا ۔ مجاہد سے منقول ہے کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام نزول فرمائیں گے تو روئے زمین پر سوائے اسلام کے اور کوئی دِین نہ ہوگا ۔
اے ایمان والو (ف۱۷) کیا میں بتادوں وہ تجارت جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے (ف۱۸)
O People who Believe! Shall I show you a trade that can save you from the painful punishment?
ऐ ईमान वालो क्या मैं बता दूँ वह तिजारत जो तुम्हें दर्दनाक अज़ाब से बचा ले
Ae imaan walo kya main bata doon woh tijarat jo tumhein dardnaak azaab se bacha le
(ف17)شانِ نزول : مومنین نے کہا تھا کہ اگر ہم جانتے کہ اللہ تعالٰی کو کون سا عمل بہت پسند ہے تو ہم وہی کرتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اوراس آیت میں اس عمل کو تجارت سے تعبیر فرمایا گیا کیونکہ جس طرح تجارت سے نفع کی امید ہوتی ہے اسی طرح ان اعمال سے بہترین نفع رضائے الٰہی اور جنّت و نجات حاصل ہوتی ہے ۔(ف18)اب وہ تجارت بتائی جاتی ہے ۔
وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور پاکیزہ محلوں میں جو بسنے کے باغوں میں ہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
He will forgive you your sins and admit you into Gardens beneath which rivers flow, and superb dwellings in everlasting Gardens of Eden; this is the greatest success.
वह तुम्हारे गुनाह बख्श देगा और तुम्हें बाग़ों में ले जाएगा जिनके नीचे नहरे रवाँ और पाकीज़ा महलों में जो बसने के बाग़ों में हैं, यही बड़ी कामयाबी है,
Woh tumhare gunaah baksh dega aur tumhein baghon mein le jaayega jinke neeche naahre rawan aur paakiza mahalon mein jo basne ke baghon mein hain, yahi badi kaamyabi hai,
اور ایک نعمت تمہیں اور دے گا (ف۲۱) جو تمہیں پیاری ہے اللہ کی مدد اور جلد آنے والی فتح (ف۲۲) اور اے محبوب مسلمانوں کو خوشی سنادو (ف۲۳)
And He will give you another favour, which is dear to you – the help from Allah and an imminent victory; and O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), give glad tidings to the Muslims.
और एक नेमत तुम्हें और देगा जो तुम्हें प्यारी है अल्लाह की मदद और जल्द आने वाली फ़तह और ऐ महबूब मुसलमानों को खुशी सुना दो
Aur ek ne’mat tumhein aur dega jo tumhein pyaari hai Allah ki madad aur jald aane wali fatah aur ae mehboob musalmanon ko khushi suna do
(ف21)اس کے علاوہ جلد ملنے والی ۔(ف22)اس فتح سے یا فتحِ مکّہ مراد ہے یا بلادِ فارس و روم کی فتح ۔(ف23)دنیا میں فتح کی اور آخرت میں جنّت کی ۔
اے ایمان والو دین خدا کے مددگار ہو جیسے (ف۲٤) عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کون ہے جو اللہ کی طرف ہو کر میری مدد کریں حواری بولے (ف۲۵) ہم دین خدا کے مددگار ہیں تو بنی اسرائیل سے ایک گروہ ایمان لایا (ف۲٦) اور ایک گروہ نے کفر کیا (ف۲۷) تو ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں پر مدد دی تو غالب ہوگئے (ف۲۸)
O People who Believe! Become the aides of Allah’s religion, the way Eisa the son of Maryam had said to the disciples, “Who will help me, inclining towards Allah?” The disciples said, “We are the aides of Allah’s religion” – so a group among the Descendants of Israel accepted faith and another group disbelieved; We therefore aided the believers against their enemies, so they were victorious.
ऐ ईमान वालो दीन-ए-ख़ुदा के मददगार हो जैसे ईसा बिन मरियम ने हवारियों से कहा था कौन है जो अल्लाह की तरफ हो कर मेरी मदद करे हवारी बोले हम दीन-ए-ख़ुदा के मददगार हैं तो बनी इस्राईल से एक गिरोह ईमान लाया और एक गिरोह ने कुफ्र किया तो हमने ईमान वालो को उनके दुश्मनों पर मदद दी तो ग़ालिब हो गए",
Ae imaan walo deen-e-Khuda ke madadgaar ho jaise Eesa bin Maryam ne Hawariyon se kaha tha kaun hai jo Allah ki taraf ho kar meri madad kare Hawari bole hum deen-e-Khuda ke madadgaar hain to Bani Israeel se ek giroh imaan laya aur ek giroh ne kufr kiya to humne imaan walon ko unke dushmanon par madad di to ghalib ho gaye
(ف24) حواریوں نے دِینِ الٰہی کی مدد کی تھی جب کہ ۔(ف25)حواری حضرت عیسٰی علیہ السلام کے مخلصین کو کہتے ہیں یہ بارہ حضرات تھے جو حضرت عیسٰی علیہ ا لسلام پر اوّل ایمان لائے انہوں نے عرض کیا ۔(ف26)حضرت عیسٰی علیہ السلام پر ۔(ف27)ان دونوں میں قتال ہوا ۔(ف28) ایمان والے ۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان پر اٹھالیے گئے تو ان کی قوم تین فرقوں میں منقسم ہوگئی ایک فرقے نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نسبت کہا کہ وہ اللہ تھا آسمان پر چلا گیا دوسرے فرقہ نے کہا کہ وہ اللہ تعالی کا بیٹا تھا اس نے اپنے پاس بُلالیا تیسرے فرقہ نے کہا کہ وہ اللہ تعالٰی کے بندے اور اس کے رسول تھے اس نے اٹھالیا ۔ یہ تیسرے فرقے والے مومن تھے ان کی ان دونوں فرقوں سے جنگ رہی اور کافر گروہ ان پر غالب رہے یہاں تک کہ سیّدِ انبیاء محمّدمصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ظہور فرمایا اس وقت ایمان دار گروہ ان کافروں پر غالب ہوا اس تقدیر پر مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی ہم نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تصدیق کرنے سے مدد فرمائی ۔
اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (ف۲) بادشاہ کمال پاکی والا عزت والا حکمت والا،
All whatever is in the heavens and all whatever is in the earth proclaims the Purity of Allah, the King, the Most Pure, the Most Honourable, the Wise.
अल्लाह की पाकी बोलता है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ जमीन में है बादशाह कमाल पाकी वाला इज़्ज़त वाला हिकमत वाला,
Allah ki paaki bolta hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein hai badshah kamal paaki wala izzat wala hikmat wala,
(ف2)تسبیح تین طرح کی ہے ایک تسبیحِ خلقت کہ ہر شے کی ذات اور اس کی پیدائش حضرت خالقِ قدیر جلَّ جلالہ کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدانیّت اور تنزیہ پر دلالت کرتی ہے دوسری تسبیحِ معرفت کہ اللہ تعالٰی اپنے لطف و کرم سے مخلوق میں اپنی معرفت پیدا کرے تیسری تسبیحِ ضروری وہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی ہر ایک جوہر پر اپنی تسبیح جاری فرماتا ہے یہ تسبیح معرفت پر مرتب نہیں ۔
وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا (ف۳) کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں (ف٤) اور انہیں پاک کرتے ہیں (ف۵) اور انہیں کتاب و حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں (ف٦) اور بیشک وہ اس سے پہلے (ف۷) ضرور کھلی گمراہی میں تھے (ف۸)
It is He Who has sent among the unlettered people a Noble Messenger from themselves, who recites His verses to them and purifies them, and bestows them the knowledge of the Book and wisdom; and indeed before this, they were in open error.
वही है जिसने अन पढ़ों में इन्हीं में से एक रसूल भेजा कि उन पर इसकी आयतें पढ़ते हैं और उन्हें पाक करते हैं और उन्हें किताब व हिकमत का इल्म अता फरमाते हैं और बेशक वो इससे पहले ज़रूर खुली गुमराही में थे
Wohi hai jisne an parhon mein inhi mein se ek Rasool bheja ke un par uski ayatein padhte hain aur unhein paak karte hain aur unhein kitaab o hikmat ka ilm ata farmate hain aur beshak woh isse pehle zaroor khuli gumraahi mein the
(ف3)جس کے نسب و شرافت کو وہ اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں ان کا نامِ پاک محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے حضور سیّدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صفت نبی اُمّی ہے اس کے بہت وجوہ ہیں ایک ان میں سے یہ ہے کہ آپ امّتِ اُمِیّہ کی طرف مبعوث ہوئے کتاب شعیاء میں ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے میں اُمِیّوں میں ایک اُمّی بھیجوں گا اور اس پر نبوّت ختم کردوں گا اور ایک وجہ یہ ہے کہ آپ کی بعثت اُمُّ القرٰی یعنی مکّہ مکرّمہ میں ہوئی اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حضورِ انور علیہ الصلٰوۃ والسلام لکھتے اور کتاب سے کچھ پڑھتے نہ تھے اور یہ آپ کی فضیلت تھی کہ غایتِ حضورِ علم سے اس کی حاجت نہ تھی خط ایک صنعتِ ذہنیہ ہے جو آلٰۂِ جسمانیہ سے صادر ہوتی ہے تو جو ذات ایسی ہو کہ قلمِ اعلٰی اس کے زیرِ فرمان ہو اس کو اس کتابت کی کیا حاجت پھر حضور کا کتابت نہ فرمانا اور کتابت کا ماہر ہونا ایک معجز ۂِ عظیمہ ہے کاتبوں کو علمِ خط اور رسمِ کتابت کی تعلیم فرماتے اور اہلِ حرفت کو حرفتوں کی تعلیم دیتے اور ہر کمالِ دنیوی و اخروی میں اللہ تعالٰی نے آپ کو تمام خَلق سے اعلم کیا ۔(ف4)یعنی قرآنِ پاک سناتے ہیں ۔(ف5)عقائدِ باطلہ و اخلاقِ رذیلہ و خبائثِ جاہلیّت و قبائحِ اعمال سے ۔(ف6)کتاب سے مراد قرآن اور حکمت سےسنّت و فقہ ہے یا احکامِ شریعت اور اسرارِ طریقت ۔(ف7)یعنی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے قبل ۔(ف8)کہ شرک و عقائدِ باطلہ و خبائثِ اعمال میں گرفتار تھے اور انہیں مرشدِ کا مل کی شدید حاجت تھی ۔
اور ان میں سے (ف۹) اوروں کو (ف۱۰) پاک کرتے اور علم عطا فرماتے ہیں، جو ان اگلوں سے نہ ملے (ف۱۱) اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
And he (the Holy Prophet) bestows knowledge to others along with them, who have not yet joined them; and He only is the Most Honourable, the Wise.
और उनमें से औरों को पाक करते और इल्म अता फरमाते हैं, जो उन अगलों से न मिले और वही इज़्ज़त व हिकमत वाला है,
Aur un mein se auron ko paak karte aur ilm ata farmate hain, jo un aglon se na mile aur wohi izzat o hikmat wala hai,
(ف9)یعنی اُمِیّوں میں سے ۔(ف10)اوروں سے مراد یا تو عجم ہیں یا وہ تمام لوگ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد قیامت تک اسلام میں داخل ہوں ان کو ۔(ف11)ان کا زمانہ نہ پایا ان کے بعد آئے یا فضل و شرف میں ان کے درجہ کو نہ پہنچے کیونکہ صحابہ کے بعد لوگ خواہ غوث و قطب ہوجائیں مگر فضیلتِ صحابیّت نہیں پاسکتے ۔
ان کی مثال جن پر توریت رکھی گئی تھی (ف۱۳) پھر انہوں نے اس کی حکم برداری نہ کی (ف۱٤) گدھے کی مثال ہے جو پیٹھ پر کتابیں اٹھائے (ف۱۵) کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں، اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دیتا،
The example of those who were entrusted with the Taurat, and did not carry out its commands, is like the donkey carrying books; what a wretched example is of the people who denied the signs of Allah; and Allah does not guide the unjust.
उनकी मिसाल जिन पर तौरैत रखी गई थी फिर उन्होंने उसकी हुक्म बरदारी न की गधे की मिसाल है जो पीठ पर किताबें उठाए क्या ही बुरी मिसाल है उन लोगों की जिन्होंने अल्लाह की आयतें झुटलाईं, और अल्लाह ज़ालिमों को राह नहीं देता,
Unki misaal jin par Taurait rakhi gayi thi phir unhon ne uski hukm bardari na ki gadhe ki misaal hai jo peeth par kitaben uthaye kya hi buri misaal hai un logon ki jinhon ne Allah ki ayatein jhutlayin, aur Allah zalimon ko raah nahi deta,
(ف13)اور اس کے احکام کا اتباع ان پر لازم کیا گیا تھا ، وہ لوگ یہود ہیں ۔(ف14)اور اس پر عمل نہ کیا اوراس میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نعت و صفت دیکھنے کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان نہ لائے ۔(ف15)اور بوجھ کے سوا ان سے کچھ بھی نفع نہ پائے اور جو علوم ان میں ہیں ان سے اصلاً واقف نہ ہو یہی حال ان یہود کا ہے جو توریت اٹھائے پھرتے ہیں اس کے الفاظ رٹتے ہیں اور اس سے نفع نہیں اٹھاتے اس کے مطابق عمل نہیں کرتے اور یہی مثال ان لوگوں پر صادق آتی ہے جو قرآنِ کریم کے معانی کو نہ سمجھیں اور اس پر عمل نہ کریں اور اس سے اعراض کریں ۔
تم فرماؤ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تو ضرور تمہیں ملنی ہے (ف۲۰) پھر اس کی طرف پھیرے جاؤ گے جو چھپا اور ظاہر سب کچھ جانتا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو تم نے کیا تھا،
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Indeed death which you run away from will surely confront you, then you will be returned to Him Who knows all the hidden and the visible – He will then inform you of what you did.”
तुम फरमाओ वो मौत जिस से तुम भागते हो वो तो ज़रूर तुम्हें मिलनी है फिर उसकी तरफ फेरे जाओगे जो छुपा और ज़ाहिर सब कुछ जानता है फिर वो तुम्हें बता देगा जो तुमने किया था,
Tum farmao woh maut jis se tum bhagte ho woh to zaroor tumhein milni hai phir uski taraf phere jaoge jo chhupa aur zaahir sab kuch jaanta hai phir woh tumhein bata dega jo tumne kiya tha,
اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن (ف۲۱) تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو (ف۲۲) اور خرید و فروخت چھوڑ دو (ف۲۳) یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو،
O People who Believe! When the call for prayer is given on (Friday) the day of congregation, rush towards the remembrance of Allah and stop buying and selling; this is better for you if you understand.
ऐ ईमान वालो जब नमाज़ की अज़ान हो जुमा के दिन तो अल्लाह के ज़िक्र की तरफ दौड़ो और खरीद व फ़रोख़्त छोड़ दो यह तुम्हारे लिए बेहतर है अगर तुम जानो,
Ae imaan walo jab namaz ki azan ho Juma ke din to Allah ke zikr ki taraf daudo aur khareed o farokht chhod do ye tumhare liye behtar hai agar tum jano,
(ف21)روزِ جمعہ اس دن کا نام عربی زبان میں عروبہ تھا جمعہ اس کو اسلئے کہا جاتا ہے کہ نماز کےلئے جماعتوں کا اجتماع ہوتا ہے وجہِ تسمیہ میں اور بھی اقوال ہیں سب سے پہلے جس شخص نے اس دن کا نام جمعہ رکھا وہ کعب بن لُوی ہیں پہلا جمعہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ پڑھا اصحابِ سیَر کا بیان ہے کہ حضور علیہ السلام جب ہجرت کرکے مدینہ طیّبہ تشریف لائے تو بارہویں ربیع الاوّل روزِ دوشنبہ کو چاشت کے وقت مقامِ قباء میں اقامت فرمائی دو شنبہ ، سہ شنبہ ، چہار شنبہ ، پنج شنبہ یہاں قیام فرمایا اور مسجد کی بنیاد رکھی روزِ جمعہ مدینہ طیّبہ کا عزم فرمایا بنی سالم بن عوف کے بطنِ وادی میں جمعہ کا وقت آیا اس جگہ کو لوگوں نے مسجد بنایا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وہاں جمعہ پڑھایا اور خطبہ فرمایا جمعہ کا دن سیّدُ الایام ہے جو مومن اس روز مرے حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی اس کو شہید کا ثواب عطا فرماتا ہے اور فتنۂِ قبر سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اذان سے مراد اذانِ اوّل ہے نہ اذانِ ثانی جو خطبہ سے متصل ہوتی ہے اگرچہ اذانِ اوّل زمانۂِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں اضافہ کی گئی مگر وجوبِ سعی اور ترکِ بیع و شراء اسی سے متعلق ہے ۔ (کذافی الدرالمختار)(ف22)دوڑنے سے بھاگنا مراد نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ نماز کےلئے تیاری شروع کردو اور ذِکْرُاللہِ سے جمہور کے نزدیک خطبہ مراد ہے ۔(ف23)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی اذان ہوتے ہی خرید و فروخت حرام ہوجاتی ہے اور دنیا کے تمام مشاغل جو ذکرِ الٰہی سے غفلت کا سبب ہوں اس میں داخل ہیں اذان ہونے کے بعد سب کو ترک کرنا لازم ہے ۔ مسئلہ : اس آیت سے نمازِ جمعہ کی فرضیّت اور بیع وغیرہ مشاغلِ دنیویہ کی حرمت اور سعی یعنی اہتمامِ نماز کا وجوب ثابت ہوا اور خطبہ بھی ثابت ہوا ۔مسئلہ: جمعہ مسلمان ، مرد ، مکلّف ، آزاد ، تندرست ، مقیم پر شہر میں واجب ہوتا ہے نابینا اور لنگڑے پر واجب نہیں ہوتا صحتِ جمعہ کےلئے سات شرطیں ہیں ۔(۱) شہر جہاں فیصلۂِ مقدمات کا اختیار رکھنے والا کوئی حاکم موجود ہو یا فناءِ شہر جو شہر سے متصل ہو اور اہلِ شہر اس کو اپنے حوائج کے کام میں لاتے ہوں(۲) حاکم (۳)وقتِ ظہر (۴)خطبہ وقت کے اندر (۵)خطبہ کا قبلِ نماز ہونا اتنی جماعت میں جو جمعہ کےلئے ضروری ہے(۶)جماعت اور اس کی اقلِّ مقدار تین مرد ہیں سوائے امام کے(۷)اذنِ عام کہ نمازیوں کو مقامِ نماز میں آنے سے روکا نہ جائے ۔
پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو (ف۲٤) اور اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ،
And when the prayer ends, spread out in the land and seek Allah’s munificence, and profusely remember Allah, in the hope of attaining success.
फिर जब नमाज़ हो चुके तो ज़मीन में फैल जाओ और अल्लाह का फ़ज़्ल तलाश करो और अल्लाह को बहुत याद करो इस उम्मीद पर कि फ़लाह पाओ, और जब उन्होंने कोई तिजारत या खेल देखा उसकी तरफ चल दिए और तुम्हें ख़ुतबे में खड़ा छोड़ गए तुम फरमाओ वो जो अल्लाह के पास है खेल से और तिजारत से बेहतर है, और अल्लाह का रिज़्क सबसे अच्छा,
Phir jab namaz ho chuke to zameen mein phail jao aur Allah ka fazl talash karo aur Allah ko bohot yaad karo is umeed par ke falaah pao, aur jab unhon ne koi tijarat ya khel dekha uski taraf chal diye aur tumhein khutbe mein khada chhod gaye tum farmao woh jo Allah ke paas hai khel se aur tijarat se behtar hai, aur Allah ka rizq sabse achha,",
(ف24)یعنی اب تمہارے لئے جائز ہے کہ معاش کے کاموں میں مشغول ہو یا طلبِ علم یا عیادتِ مریض یا شرکتِ جنازہ یا زیارتِ علماء اور اس کے مثل کاموں میں مشغول ہو کر نیکیاں حاصل کرو ۔
اور جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا اس کی طرف چل دیے (ف۲۵) اور تمہیں خطبے میں کھڑا چھوڑ گئے (ف۲٦) تم فرماؤ وہ جو اللہ کے پاس ہے (ف۲۷) کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے، اور اللہ کا رزق سب سے اچھا،
And when they see some trade or sport, they move towards it and leave you standing delivering the sermon; proclaim, “That which is with Allah, is better than sport and trade; and the sustenance of Allah is the best.”
(ف25)شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ طیّبہ میں روزِ جمعہ خطبہ فرمارہے تھے اس حال میں تاجروں کا ایک قافلہ آیا اور اور حسبِ دستور اعلان کےلئے طبل بجایا گیا زمانہ بہت تنگی اور گرانی کا تھا لوگ بایں خیال اس کی طرف چلے گئے کہ ایسا نہ ہو کہ دیر کرنے سے اجناس ختم ہوجائیں اور ہم نہ پاسکیں اور مسجد شریف میں صرف بارہ آدمی رہ گئے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف26)مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ خطیب کو کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنا چاہئے ۔(ف27)یعنی نماز کا اجرو ثواب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے کی برکت و سعادت ۔
جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں (ف۲) کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں (ف۳)
When the hypocrites come in your presence (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) they say, “We testify that you surely are Allah’s Noble Messenger”; and Allah knows that you indeed are His Noble Messenger, and Allah testifies that the hypocrites are indeed liars.
जब मुनाफ़िक तुम्हारे हज़ूर हाज़िर होते हैं कहते हैं कि हम गवाही देते हैं कि हज़ूर बेशक यक़ीनन अल्लाह के रसूल हैं और अल्लाह जानता है कि तुम उसके रसूल हो, और अल्लाह गवाही देता है कि मुनाफ़िक ज़रूर झूठे हैं
Jab munafiq tumhare huzoor hazir hote hain kehte hain ke hum gawahi dete hain ke huzoor beshak yaqeenan Allah ke Rasool hain aur Allah janta hai ke tum uske Rasool ho, aur Allah gawahi deta hai ke munafiq zaroor jhootay hain
(ف2)تو اپنے ضمیر کے خلاف ۔(ف3)ان کا باطن ظاہر کے موافق نہیں ، جو کہتے ہیں اس کے خلاف اعتقاد رکھتے ہیں ۔
اور انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرالیا (ف٤) تو اللہ کی راہ سے روکا (ف۵) بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں (ف٦)
They have taken their oaths as a shield, thereby prevented others from Allah’s way; indeed they commit extremely evil deeds.
और उन्होंने अपनी क़स्मों को ढाल ठहरा लिया तो अल्लाह की राह से रोका बेशक वह बहुत ही बुरे काम करते हैं
Aur unhon ne apni qasmon ko dhal thehra liya to Allah ki rah se roka beshak woh bohot hi bure kaam karte hain
(ف4)کہ ان کے ذریعہ سے قتل وقید سے محفوظ رہیں ۔(ف5)لوگوں کو ، یعنی جہاد سے یا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لانے سے طرح طرح کے وسوسے اور شبہے ڈال کر ۔(ف6)کہ بمقابلہ ایمان کے کفر اختیار کرتے ہیں ۔
یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے،
That is because they accepted faith with their tongues then disbelieved with their hearts, therefore their hearts were sealed – so now they do not understand anything.
यह इस लिए कि वह ज़ुबान से ईमान लाए फिर दिल से काफ़िर हुए तो उनके दिलों पर मुहर कर दी गई तो अब वह कुछ नहीं समझते,
Yeh is liye ke woh zuban se imaan laye phir dil se kafir huwe to unke dilon par mohar kar di gayi to ab woh kuch nahi samajhte,
اور جب تو انہیں دیکھے (ف۷) ان کے جسم تجھے بھلے معلوم ہوں، اور اگر بات کریں تو تو ان کی بات غور سے سنے (ف۸) گویا وہ کڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئی (ف۹) ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں (ف۱۰) وہ دشمن ہیں (ف۱۱) تو ان سے بچتے رہو (ف۱۲) اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں (ف۱۳)
And when you see them, their appearance would please you; and when they speak, you would listen carefully to their speech; like wooden blocks propped against the wall; they assume every cry to be against them; they are the enemy, so beware of them; may Allah slay them! Where are they reverting!
और जब तू उन्हें देखे उनके जिस्म तुझे भले मालूम हों, और अगर बात करें तो तू उनकी बात ग़ौर से सुने गोया वह कड़ियाँ हैं दीवार से टिकाई हुई हर बुलंद आवाज़ अपने ही ऊपर ले जाते हैं वह दुश्मन हैं तू उनसे बचते रहो अल्लाह उन्हें मारे कहाँ औंधे जाते हैं
Aur jab tu unhein dekhe unke jism tujhe bhale maaloom hon, aur agar baat karein to tu unki baat ghaur se sune goya woh kadiyan hain deewar se tikai hui har buland awaaz apne hi oopar le jaate hain woh dushman hain tu unse bachte raho Allah unhein mare kahan oondhe jaate hain
(ف7)یعنی منافقین کو مثل عبداللہ بن اُبی ابنِ سلول وغیرہ کے ۔(ف8)ابنِ اُبَی جسیم ، صبیح ، خوبرو ، وخوش بیان آدمی تھا اور اس کے ساتھ والے منافقین قریب قریب ویسے ہی تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس شریف میں جب یہ لوگ حاضر ہوتے تو خوب باتیں بناتے جو سننے والے کو اچھی معلوم ہوتیں ۔(ف9)جن میں بے جان تصویر کی طرح نہ ایمان کی روح ، نہ انجام سوچنے والی عقل ۔(ف10)کوئی کسی کو پکارتا ہو ، یا اپنی گُمی چیز ڈھونڈھتا ہو ، یا لشکر میں کسی مقصد کےلئے کوئی بات بلند آواز سے کہیں تو یہ اپنے خبثِ نفس اور سوءِ ظن سے یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں کچھ کہا گیا اور انہیں یہ اندیشہ رہتا ہے کہ ان کے حق میں کوئی ایسا مضمون نازل ہوا جس سے ان کے راز فاش ہوجائیں ۔(ف11)دل میں شدید عداوت رکھتے ہیں اور کفّار کے پاس یہاں کی خبریں پہنچاتے ہیں ، ان کے جاسوس ہیں ۔(ف12)اور ان کے ظاہرِ حال سے دھوکا نہ کھاؤ ۔(ف13)اور روشن برہانیں قائم ہونے کے باوجود حق سے منحرف ہوتے ہیں ۔
اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ (ف۱٤) رسول اللہ تمہارے لیے معافی چاہیں تو اپنے سر گھماتے ہیں اور تم انہیں دیکھو کہ غور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں (ف۱۵)
And when it is said to them, “Come! Allah’s Noble Messenger may seek forgiveness for you” – they turn heads away, and you will see them turning away in pride.
और जब उनसे कहा जाए कि आओ रसूल अल्लाह तुम्हारे लिए माफ़ी चाहें तो अपने सर घुमाते हैं और तुम उन्हें देखो कि ग़ौर करते हुए मुँह फेर लेते हैं
Aur jab unse kaha jaye ke aao Rasool Allah tumhare liye maafi chahein to apne sar ghumate hain aur tum unhein dekho ke ghaur karte huwe munh pher lete hain
(ف14)معافی چاہنے کے لئے ۔ (ف15)شانِ نزول : غزوۂِ مریسیع سے فارغ ہو کر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سرِ چاہ نزول فرمایا تو وہاں یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اجیر جہجاہ غِفَاری اور ابنِ اُبی کے حلیف سنان بن دبرجُہَنِی کے درمیان جنگ ہوگئی ، جہجاہ نے مہاجرین کو اور سنان نے انصار کو پکار ا، اس وقت ابنِ اُبَی منافق نے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں بہت گستاخانہ اور بے ہودہ باتیں بکیں اور یہ کہا کہ مدینہ طیّبہ پہنچ کر ہم میں سے عزّت والے ذلیلوں کو نکال دیں گے اور اپنی قوم سے کہنے لگا کہ اگر تم انہیں اپنا جھوٹا کھانا نہ دو تو یہ تمہاری گردنوں پر سوار نہ ہوں ، اب ان پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ یہ مدینہ سے بھاگ جائیں ، اس کی یہ ناشائستہ گفتگو سن کر زید بن ارقم کو تاب نہ رہی انہوں نے اس سے فرمایا کہ خدا کی قَسم تو ہی ذلیل ہے اپنی قوم میں بغض ڈالنے والا اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سرِ مبارک پر معراج کا تاج ہے ، حضرت رحمٰن نے انہیں عزّت و قوّت دی ہے ، ابنِ اُبَی کہنے لگا چپ میں تو ہنسی سے کہہ رہا تھا ، زید بن ارقم نے یہ خبر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پہنچائی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ابنِ اُبَی کے قتل کی اجازت چاہی ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے منع فرمایا اور ارشاد کیا کہ لوگ کہیں گے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں ، حضورِ انور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ابنِ اُبَی سے دریافت فرمایا کہ تو نے یہ باتیں کہیں تھیں؟ وہ مُکَر گیا اور قَسم کھا گیا کہ میں نے کچھ بھی نہیں کہا ، اس کے ساتھی جو مجلس شریف میں حاضر تھے ، وہ عرض کرنے لگے کہ ابنِ اُبَی بوڑھا بڑا شخص ہے ، یہ جو کہتا ہے ٹھیک ہی کہتا ہے ، زید بن ارقم کو شاید دھوکا ہوا اور بات یاد نہ رہی ہو ، پھر جب اوپر کی آیتیں نازل ہوئیں اور ابنِ اُبَی کا جھوٹ ظاہر ہوگیا توا س سے کہا گیا کہ جا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے درخواست کر ، حضور تیرے لئے اللہ تعالٰی سے معافی چاہیں ، تو گردن پھیری اور کہنے لگا کہ تم نے کہا ، ایمان لا تو میں ایمان لے آیا ، تم نے کہا ، زکوٰۃ دے تو میں نے زکوۃ دی ، اب یہی باقی رہ گیا ہے کہ محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سجدہ کروں ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
ان پر ایک سا ہے تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو، اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا (ف۱٦) بیشک اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا،
It is the same for them, whether you seek forgiveness for them or do not seek forgiveness for them; Allah will never forgive them; indeed Allah does not guide the sinning people.
उन पर एक सा है तुम उनकी माफ़ी चाहो या न चाहो, अल्लाह उन्हें हरगिज़ न बख़्शेगा बेशक अल्लाह फ़ासिक़ों को राह नहीं देता,
Un par ek sa hai tum unki maafi chaho ya na chaho, Allah unhein hargiz na bakhshega beshak Allah fasiqon ko rah nahi deta,
(ف16)اس لئے کہ وہ نفاق میں راسخ اور پختہ ہوچکے ہیں ۔
وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہوجائیں، اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے (ف۱۷) مگر منافقوں کو سمجھ نہیں،
It is they who say, “Do not spend upon those who are with Allah’s Noble Messenger until they get distraught”; whereas to Allah only belong the treasures of the heavens and the earth, but the hypocrites do not have sense.
वही हैं जो कहते हैं कि उन पर ख़र्च न करो जो रसूल अल्लाह के पास हैं यहाँ तक कि परेशान हो जाएँ, और अल्लाह ही के लिए हैं आसमानों और ज़मीन के ख़ज़ाने मगर मुनाफ़िकों को समझ नहीं,
Wohi hain jo kehte hain ke un par kharch na karo jo Rasool Allah ke paas hain yahan tak ke pareshan ho jayein, aur Allah hi ke liye hain aasmaanon aur zameen ke khazane magar munafiqon ko samajh nahi,
کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے (ف۱۸) تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے (ف۱۹) اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں (ف۲۰)
They say, “If we return to Medinah, then indeed the honourable group will soon expel the lowly one”; whereas all honour belongs to Allah and to His Noble Messenger and to the Muslims, but the hypocrites do not know.
कहते हैं हम मदीना फिर कर गए तो ज़रूर जो बड़ी इज़्ज़त वाला है वह इसमें से निकाल दे گا उसे जो निहायत ज़िल्लत वाला है और इज़्ज़त तो अल्लाह और उसके रसूल और मुसलमानों ही के लिए है मगर मुनाफ़िकों को ख़बर नहीं
Kehte hain hum Madina phir kar gaye to zaroor jo badi izzat wala hai woh is mein se nikal dega use jo nihayat zillat wala hai aur izzat to Allah aur uske Rasool aur Musalmanon hi ke liye hai magar munafiqon ko khabar nahi
(ف18)اس غزوہ سے لوٹ کر ۔(ف19)منافقین نے اپنے کو عزّت والا کہا اور مومنین کو ذلّت والا ، اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف20)اس آیت کے نازل ہونے کے چند ہی روز بعد ابنِ اُبَی منافق اپنے نفاق کی حالت پر مر گیا ۔
اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے (ف۲۱) اور جو ایسا کرے (ف۲۲) تو وہی لوگ نقصان میں ہیں (ف۲۳)
O People who Believe! May not your wealth or your children cause you to neglect the remembrance of Allah; and whoever does this – so it is they who are in a loss.
ऐ ईमान वालो तुम्हारे माल न तुम्हारी औलाद कोई चीज़ तुम्हें अल्लाह के ज़िक्र से ग़ाफ़िल न करे और जो ऐसा करे तो वही लोग नुक़सान में हैं
Aye imaan walo tumhare maal na tumhari aulad koi cheez tumhein Allah ke zikr se ghaafil na kare aur jo aisa kare to wahi log nuqsan mein hain
(ف21)پنجگانہ نمازوں سے یا قرآن شریف سے ۔(ف22)کہ دنیا میں مشغول ہو کر دِین کو فراموش کردے اور مال کی محبّت میں اپنے حال کی پروا نہ کرے اور اولاد کی خوشی کےلئے راحتِ آخرت سے غافل رہے ۔(ف23)کہ انہوں نے دنیائے فانی کے پیچھے دارِآخرت کی باقی رہنے والی نعمتوں کی پرواہ نہ کی ۔
اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو (ف۲٤) قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے، اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا،
And spend from what We have provided you before death approaches any one of you and he then says, “My Lord! Why did you not give me respite for a little while, so I would have given charity and become of the virtuous?”
और हमारे दिए में से कुछ हमारी राह में ख़र्च करो क़ब्ल इसके कि तुम में किसी को मौत आए फिर कहने लगे, ऐ मेरे रब तू ने मुझे थोड़ी मुद्दत तक क्यों मोहलत न दी कि मैं सदक़ा देता और नेकों में होता,
Aur hamare diye mein se kuch hamari rah mein kharch karo qabl iske ke tum mein kisi ko maut aaye phir kehne lage, aye mere Rab tu ne mujhe thodi muddat tak kyun mohlat na di ke main sadqa deta aur nekon mein hota,
اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف (ف۲) اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،
All whatever is in the heavens and all whatever is in the earth proclaims the Purity of Allah; His only is the kingship and His only is all praise; and He is Able to do all things.
अल्लाह की पाकी बोलता है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ जमीन में, उसी का मुल्क है और उसी की तारीफ और वह हर चीज पर कादिर है,
Allah ki paaki bolta hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein, usi ka mulk hai aur usi ki tareef aur woh har cheez par qadir hai,
(ف2)اپنے مُلک میں متصرف ہے ، جو چاہتا ہے ، جیسا چاہتا ہے کرتا ہے ، نہ کوئی شریک ، نہ ساجھی ، سب نعمتیں اسی کی ہیں ۔
جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو، اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،
He knows all whatever is in the heavens and in the earth, and He knows all what you hide and all what you disclose; and Allah knows what lies within the hearts.
जानता है जो कुछ आसमानों और जमीन में है और जानता है जो तुम छुपाते और ज़ाहिर करते हो, और अल्लाह दिलों की बात जानता है,
Janta hai jo kuch aasmanon aur zameen mein hai aur janta hai jo tum chhupate aur zahir karte ho, aur Allah dilon ki baat janta hai,
کیا تمہیں (ف٦) ان کی خبر نہ آئی جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا (ف۷) اور اپنے کام کا وبال چکھا (ف۸) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے (ف۹)
Did not the news of those who disbelieved before you reach you? So they tasted the evil outcome of their deeds, and for them is a painful punishment.
क्या तुम्हें उनकी खबर न आई जिन्होंने तुम से पहले कुफ्र किया और अपने काम का वबाल चखा और उनके लिए दर्दनाक अज़ाब है
Kya tumhein unki khabar na aayi jinhon ne tum se pehle kufr kiya aur apne kaam ka wabal chhka aur unke liye dardnaak azaab hai
(ف6)اے کفّارِ مکّہ ۔(ف7)یعنی کیا تمہیں گذری ہوئی امّتوں کے احوال معلوم نہیں جنہوں نے انبیاء کی تکذیب کی ۔(ف8)دنیا میں اپنے کفر کی سزا پائی ۔(ف9)آخرت میں ۔
یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے (ف۱۰) تو بولے، کیا آدمی ہمیں راہ بتائیں گے (ف۱۱) تو کافر ہوئے (ف۱۲) اور پھر گئے (ف۱۳) اور اللہ نے بےنیازی کو کام فرمایا، اور اللہ بےنیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
This is because their Noble Messengers used to bring clear proofs to them, in response they said, “What! Will humans show us the way?”; they therefore became disbelievers and turned away, and Allah acted independently; and Allah is the Independent, the Most Praiseworthy.
यह उस लिए कि उनके पास उनके रसूल रोशन दलीलें लाते तो बोले, क्या आदमी हमें राह बताएँगे तो काफ़िर हुए और फिर गए और अल्लाह ने बेनियाज़ी को काम फरमाया, और अल्लाह बेनियाज़ है सब खूबियों सराहा,
Yeh us liye ke unke paas unke Rasool roshan daleelen late to bole, kya aadmi humein raah batayenge to kafir hue aur phir gaye aur Allah ne beniyazi ko kaam farmaaya, aur Allah beniyaz hai sab khubiyon saraha,
(ف10)معجزے دکھاتے ۔ (ف11)یعنی انہوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا اور یہ کمالِ بے عقلی و نافہمی ہے ، پھر بشر کا رسول ہونا تو نہ مانا اور پتّھر کا خدا ہونا تسلیم کرلیا ۔(ف12)رسولوں کا انکار کرکے ۔(ف13)ایمان سے ۔
کافروں نے بکا کہ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے، تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہارے کوتک تمہیں جتا دیے جائیں گے، اور یہ اللہ کو آسان ہے،
The disbelievers alleged that they will surely not be raised again; proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Surely yes, why not? By oath of Lord, you will surely be raised again and you will then be informed of your misdeeds; and this is easy for Allah.”
काफ़िरों ने बका कि वह हरगिज़ न उठाए जाएँगे, तुम फ़रमाओ क्यों नहीं मेरे रब की क़सम तुम ज़रूर उठाए जाओगे फिर तुम्हारे कोतक तुम्हें जता दिए जाएँगे, और यह अल्लाह को आसान है,
Kafiron ne bka ke woh hargiz na uthaye jayenge, tum farmao kyon nahi mere Rab ki qasam tum zaroor uthaye jaoge phir tumhare kotak tumhein jta diye jayenge, aur yeh Allah ko aasan hai,
جس دن تمہیں اکٹھا کرے گا سب جمع ہونے کے دن (ف۱۵) وہ دن ہے ہار والوں کی ہار کھلنے کا (ف۱٦) اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے اللہ اس کی برائیاں اتاردے گا اور اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں کہ وہ ہمیشہ ان میں رہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
The day when He will gather you, on the Day of Collective Assembly – that is the day when the loss of the losers will be laid bare; and whoever believes in Allah and does good deeds, Allah will relieve him of his sins and admit him into Gardens beneath which rivers flow, for them to abide in it forever; this is the greatest success.
जिस दिन तुम्हें अकठ्ठा करेगा सब जमा होने के दिन वह दिन है हार वालों की हार खुलने का और जो अल्लाह पर ईमान लाए और अच्छा काम करे अल्लाह उसकी बुराइयाँ उतार देगा और उसे बाग़ों में ले जाएगा जिनके नीचे नहरें बहें कि वह हमेशा उनमें रहें, यही बड़ी कामयाबी है,
Jis din tumhein akhatta karega sab jama hone ke din woh din hai haar walon ki haar khulne ka aur jo Allah par iman laye aur achha kaam kare Allah uski buraiyan utaar dega aur use baghon mein le jayega jinke neeche nahrein behin ke woh hamesha un mein rahin, yahi badi kamiyabi hai,
(ف15)یعنی روزِ قیامت ، جس میں سب اوّلین و آخرین جمع ہوں گے ۔(ف16)یعنی کافروں کی محرومی ظاہر ہونے کا ۔
کوئی مصیبت نہیں پہنچتی (ف۱۷) مگر اللہ کے حکم سے، اور جو اللہ پر ایمان لائے (ف۱۸) اللہ اس کے دل کو ہدایت فرمادے گا (ف۱۹) اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
No misfortune befalls except by Allah’s command; and Allah will guide the heart of whoever accepts faith in Him; and Allah knows all things.
कोई मुसिबत नहीं पहुँचती मगर अल्लाह के हुक्म से, और जो अल्लाह पर ईमान लाए अल्लाह उसके दिल को हिदायत फरमा देगा और अल्लाह सब कुछ जानता है,
Koi museebat nahi pohonchti magar Allah ke hukm se, aur jo Allah par iman laye Allah uske dil ko hidayat farma dega aur Allah sab kuch janta hai,
(ف17)موت کی ، یا مرض کی ، یا نقصانِ مال کی ، یا اور کوئی ۔(ف18)اور جانے کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالٰی کی مشیّت اور اس کے ارادے سے ہوتا ہے اور وقتِ مصیبت اِنَّالِلہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھے اور اللہ تعالٰی کی عطا پر شکر اور بَلا پر صبر کرے ۔(ف19)کہ وہ اور زیادہ نیکیوں اور طاعتوں میں مشغول ہو ۔
اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم منہ پھیرو (ف۲۰) تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف صریح پہنچا دینا ہے (ف۲۱)
And obey Allah and obey His Noble Messenger; then if you turn away, know that the duty upon Our Noble Messenger is only to plainly convey.
और अल्लाह का हुक्म मानो और रसूल का हुक्म मानो, फिर अगर तुम मुँह फेरे तो जान लो कि हमारे रसूल पर सिर्फ़ सरीह पहुँचा देना है
Aur Allah ka hukm mano aur Rasool ka hukm mano, phir agar tum munh pherro to jan lo ke humare Rasool par sirf sariih pohcha dena hai
(ف20)اللہ تعالٰی اور ا س کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فرمانبرداری سے ۔(ف21)چنانچہ انہوں نے اپنا فرض ادا کردیا اور کامل طور پر دِین کی تبلیغ فرمادی ۔
اے ایمان والو تمہاری کچھ بی بیاں اور بچے تمہارے دشمن ہیں (ف۲۲) تو ان سے احتیاط رکھو (ف۲۳) اور اگر معاف کرو اور درگزرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
O People who Believe! Some of your wives and children are your enemies, therefore be wary of them; and if you pardon and overlook and forgive, then indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ऐ ईमान वालो तुम्हारी कुछ बी बियाँ और बच्चे तुम्हारे दुश्मन हैं तो उनसे एहतियात रखो और अगर माफ़ करो और दरगुज़रो और बख़्श दो तो बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Ae iman walo tumhari kuch bi biyaan aur bachche tumhare dushman hain to unse ehtiyaat rakho aur agar maaf karo aur darguzro aur bakhsh do to beshak Allah bakhshne wala mehrban hai,
(ف22)کہ تمہیں نیکی سے روکتے ہیں ۔(ف23)اور ان کے کہنے میں آکر نیکی سے باز نہ رہو ۔ شانِ نزول : چند مسلمانوں نے مکّہ مکرّمہ سے ہجرت کا ارادہ کیا تو ان کی بی بی اور بچّوں نے انہیں روکا اور کہا ہم تمہاری جدائی پر صبر نہ کرسکیں گے ، تم چلے جاؤ گے ہم تمہارے پیچھے ہلاک ہوجائیں گے ، یہ بات ان پر اثر کر گئی اور وہ ٹھہر گئے ، کچھ عرصہ کے بعد جب انہوں نے ہجرت کی تو انہوں نے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھا کہ وہ دِین میں بڑے ماہر اور فقیہ ہوگئے ہیں ، یہ دیکھ کر انہوں نے اپنی بی بی ، بچّوں کو سزا دینے کا ارادہ کیا اوریہ قصد کیا کہ ان کا خرچ بند کردیں کیونکہ وہی لوگ انہیں ہجرت سے مانع ہوئے تھے جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ حضور کے ساتھ ہجرت کرنے والے اصحاب علم وفقہ میں ان سے منزلوں آ گے نکل گئے ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور انہیں اپنے بی بی بچّوں سے درگذر کرنے اور معاف کرنے کی ترغیب فرمائی گئی ، چنانچہ آ گے ارشاد فرمایا جاتا ہے ۔
تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں (ف۲٤) اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے (ف۲۵)
Your wealth and your children are just a test; and with Allah is a tremendous reward.
तुम्हारे माल और तुम्हारे बच्चे जानच ही हैं और अल्लाह के पास बड़ा सवाब है
Tumhare maal aur tumhare bachche jaanch hi hain aur Allah ke paas bada sawab hai
(ف24)کہ کبھی آدمی ان کی وجہ سے گناہ اور معصیّت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور ان میں مشغول ہو کر امورِ آخرت کے سر انجام سے غافل ہوجاتا ہے ۔(ف25)تو لحاظ رکھو ، ایسا نہ ہو کہ اموال و اولاد میں مشغول ہو کر ثوابِ عظیم کھو بیٹھو ۔
تو اللہ سے ڈرو جہاں تک ہوسکے (ف۲٦) اور فرمان سنو اور حکم مانو (ف۲۷) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اپنے بھلے کو، اور جو اپنی جان کے لالچ سے بچایا گیا (ف۲۸) تو وہی فلاح پانے والے ہیں،
Therefore fear Allah as much as possible, and heed the commands, and obey, and spend in Allah’s cause, for your own good; and whoever is rescued from the greed of his own soul – is they who will be successful.
तो अल्लाह से डरो जहाँ तक हो सके और फ़रमान सुनो और हुक्म मानो और अल्लाह की राह में खर्च करो अपने भले को, और जो अपनी जान के लालच से बचाया गया तो वही फ़लाह पाने वाले हैं,
To Allah se daro jahan tak ho sake aur farmaan suno aur hukm mano aur Allah ki raah mein kharch karo apne bhale ko, aur jo apni jaan ke lalach se bachaya gaya to wohi falaah pane waley hain,
(ف26)یعنی بقدر اپنی وسعت وطاقت کے طاعت و عبادت بجالاؤ ، یہ تفسیر ہے اِتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ کی ۔(ف27)اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ۔(ف28)اور اس نے اپنے مال کو اطمینان کے ساتھ حکمِ شریعت کے مطابق خرچ کیا ۔
اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (ف۲۹) وہ تمہارے لیے اس کے دونے کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ قدر فرمانے والے حلم والا ہے
If you lend an excellent loan to Allah, He will double it for you and forgive you; and Allah is Most Appreciative, Most Forbearing.
अगर तुम अल्लाह को अच्छा क़र्ज़ दोगे वह तुम्हारे लिए उसके दोने कर देगा और तुम्हें बख़्श देगा और अल्लाह क़दर फ़रमाने वाला हल्म वाला है
Agar tum Allah ko achha qarz doge woh tumhare liye uske done kar dega aur tumhein bakhsh dega aur Allah qadr farmaanewala halm wala hai
(ف29)یعنی خوش دلی سے نیک نیتی کے ساتھ مالِ حلال سے صدقہ دو گے ، صدقہ دینے کو براہِ لطف و کرم قرض سے تعبیر فرمایا ، اس میں صدقہ کی ترغیب ہے کہ صدقہ دینے والا نقصان میں نہیں ہے بالیقین اس کی جزا پائے گا ۔
اے نبی (ف۲) جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو (ف۳) اور اپنے رب اللہ سے ڈرو، عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں (ف٤) مگر یہ کہ کوئی صریح بےحیائی کی بات لائیں (ف۵) اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھا بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، تمہیں نہیں معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی نیا حکم بھیجے (ف٦)
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him)! When you people divorce women, divorce them at the time of their completing the appointed period, and keep count of the appointed period; and fear Allah, your Lord; do not expel them from their houses during the appointed period nor should they leave on their own, unless they bring about some matter of blatant lewdness; and these are the limits of Allah; and whoever crosses Allah’s limits has indeed wronged himself; do you not know, it is likely that Allah may send some new decree after this?
ए नबी जब तुम लोग औरतों को तलाक दो तो उनकी अद्दत के वक्त पर उन्हें तलाक दो और अद्दत का शुमार रखो और अपने रब अल्लाह से डरो, अद्दत में उन्हें उनके घरों से न निकालो और न वे आप निकलें मगर ये कि कोई सरीह बे हयाई की बात लाएं और ये अल्लाह की हदें हैं , और जो अल्लाह की हदों से आगे बढ़ा बेशक उसने अपनी जान पर ज़ुल्म किया, तुम्हें नहीं मालूम शायद अल्लाह उसके बाद कोई नया हुक्म भेजे
Ae Nabi jab tum log auraton ko talaaq do to unki iddat ke waqt par unhein talaaq do aur iddat ka shumaar rakho aur apne Rab Allah se daro, iddat mein unhein unke ghuron se na nikalo aur na woh aap niklein magar ye ke koi sareeh be-hayai ki baat laayen aur ye Allah ki hadein hain, aur jo Allah ki hadon se aage badha beshak usne apni jaan par zulm kiya, tumhein nahin maloom shayad Allah uske baad koi naya hukm bheje
(ف2)اپنی امّت سے فرمادیجئے ۔(ف3)شانِ نزول : یہ آیت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حق میں نازل ہوئی ، انہوں نے اپنی بی بی کو عورتوں کے ایّامِ مخصوصہ میں طلاق دی تھی ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ رجعت کریں ، پھر اگر طلاق دینا چاہیں تو طُہر یعنی پاکی کے زمانہ میں طلاق دیں ، اس آیت میں عورتوں سے مراد مدخول بہا عورتیں ہیں (جو اپنے شوہروں کے پاس گئی ہوں) صغیرہ ، حاملہ اور آ ئسہ نہ ہوں ۔ آئسہ وہ عورت ہے جس کے ایّام بڑھاپے کی وجہ سے بند ہو گئے ہوں ، ان کا وقت نہ رہاہو ۔مسئلہ : غیرِ مدخول بہا پر عدّت نہیں ہے ۔ باقی تینوں قِسم کی عورتیں جو ذکر کی گئی تھیں انہیں ایّام نہیں ہوتے تو ان کی عدّت حیض سے شمار نہ ہوگی ۔ مسئلہ : غیرِ مدخول بہا کو حیض میں طلاق دینا جائز ہے ۔ آیت میں جو حکم دیا گیا اس سے مراد ایسی مدخول بہا عورتیں ہیں جن کی عدّت حیض سے شمار کی جائے انہیں طلاق دینا ہو تو ایسے طُہر میں طلاق دیں جس میں ان سے جماع نہ کیا گیا ہو ، پھر عدّت گذرنے تک ان سے تعرّض نہ کریں اس کو طلاقِ احسن کہتے ہیں ۔ طلاقِ حسن غیرِ موطوء ہ عورت یعنی جس سے شوہر نے قربت نہ کی ہو اس کو ایک طلاق دینا طلاق حسن ہے خواہ یہ طلاق حیض میں ہو ۔ اور موطوء ہ عورت اگر صاحبِ حیض ہو تو اسے تین طلاقیں ایسے تین طُہروں میں دینا جن میں اس سے قربت نہ کی ہو طلاقِ حسن ہے اور اگر موطوء ہ صاحبِ حیض نہ ہو تو اس کو تین طلاقیں تین مہینوں میں دینا طلاقِ حسن ہے ، طلاقِ بدعی حالتِ حیض میں طلاق دینا یا ایسے طُہر میں طلاق دینا جس میں قربت کی گئی ہو طلاقِ بدعی ہے ، ایسے ہی ایک طُہر میں تین یا دو طلاقیں یکبارگی یا دو مرتبہ میں دینا طلاقِ بِدعی ہے اگرچہ اس طُہر میں وطی نہ کی گئی ہو ۔مسئلہ : طلاقِ بدعی مکروہ ہے مگر واقع ہوجاتی ہے اور ایسی طلاق دینے والا گنہگار ہوتاہے ۔(ف4)مسئلہ : عورت کو عدّت شوہر کے گھر پوری کرنی لازم ہے نہ شوہر کو جائز کہ مطلّقہ کو عدّت میں گھر سے نکالے ، نہ ان عورتوں کو وہاں سے خود نکلنا روا ۔(ف5)ان سے کوئی فسق ظاہر صادر ہو جس پر حد آتی ہے مثل زنا اور چوری کے ، اسلئے انہیں نکا لنا ہی ہوگا ۔مسئلہ : اگر عورت فحش بکے اور گھر والوں کو ایذا دے تو اس کو نکالنا جائز ہے کیونکہ وہ ناشزہ کے حکم میں ہے ۔ مسئلہ : جو عورت طلاقِ رجعی یا بائن کی عدّت میں ہو اس کو گھر سے نکلنا بالکل جائز نہیں اور جو موت کی عدّت میں ہو وہ حاجت پڑے تو دن میں نکل سکتی ہے لیکن شب گذارنا اس کو شوہر کے گھر ہی میں ضروری ہے ۔ مسئلہ : جو عورت طلاقِ بائن کی عدّت میں ہو اس کے اور شوہر کے درمیان پردہ ضروری ہے اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ کوئی اور عورت ان دونوں کے درمیان حائل ہو ۔ مسئلہ : اگر شوہر فاسق ہو یا مکان بہت تنگ ہو تو شوہر کو اس مکان سے چلا جانا بہتر ہے ۔(ف6)رجعت کا ۔
تو جب وہ اپنی میعاد تک پہنچنے کو ہوں (ف۷) تو انہیں بھلائی کے ساتھ روک لو یا بھلائی کے ساتھ جدا کرو (ف۸) اور اپنے میں دو ثقہ کو گواہ کرلو اور اللہ کے لیے گواہی قائم کرو (ف۹) اس سے نصیحت فرمائی جاتی ہے اسے جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو (ف۱۰) اور جو اللہ سے ڈرے (ف۱۱) اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا (ف۱۲)
So when they are about to reach their appointed term, hold them back with kindness or separate them with kindness, and make two just men among you as witnesses, and establish the testimony for Allah; with this is advised whoever believes in Allah and the Last Day; and whoever fears Allah – Allah will create for him a way of deliverance.
तो जब वे अपनी मीयाद तक पहुँचने को हों तो उन्हें भलाई के साथ रोक लो या भलाई के साथ जुदा करो और अपने में दो स़िक़ा को गवाह कर लो और अल्लाह के लिए गवाही क़ायम करो इससे नसीहत फ़रमाई जाती है उसे जो अल्लाह और पिछले दिन पर ईमान रखता हो और जो अल्लाह से डरे अल्लाह उसके लिए नजात की राह निकाल देगा
To jab woh apni miyaad tak pohnchne ko hon to unhein bhalai ke saath roak lo ya bhalai ke saath juda karo aur apne mein do siqa ko gawah kar lo aur Allah ke liye gawahi qaim karo is se naseehat farmai jati hai use jo Allah aur pichhle din par imaan rakhta ho aur jo Allah se dare Allah uske liye najat ki raah nikal dega
(ف7)یعنی عدّت آخر ہونے کے قریب ہو ۔(ف8)یعنی تمہیں اختیار ہے اگر تم ان کے ساتھ بحسنِ معاشرت و مرافقت رہنا چاہو تو رجعت کرلو اور دل میں پھر دوبارہ طلاق دینے کا ارادہ نہ رکھو اور اگر تمہیں ان کے ساتھ خوبی سے بسر کرسکنے کی امید نہ ہو تو مَہر وغیرہ ان کے حق ادا کرکے ان سے جدائی کرلو اور انہیں ضرر نہ پہنچاؤ اس طرح کہ آخرِ عدّت میں رجعت کرلو ، پھرطلاق دے دو اور اس طرح انہیں ان کی عدّت دراز کرکے پریشانی میں ڈالو ایسا نہ کرو اور خواہ رجعت کرو یا فرقت اختیار کرو دونوں صورتوں میں دفعِ تہمت اور رفعِ نزاع کےلئے دو مسلمانوں کو گواہ کرلینا مستحب ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔(ف9)مقصود اس سے اس کی رضا جوئی ہو اور اقامتِ حق و تعمیلِ حکمِ الٰہی کے سوا اپنی کوئی فاسد غرض اس میں نہ ہو ۔(ف10)مسئلہ : اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ کفّار شرائع و احکام کے ساتھ مخاطب نہیں ۔(ف11)اور طلاق دے تو طلاقِ سنّی دے اور معتدّہ کو ضرر نہ پہنچائے ، نہ اسے مسکن سے نکالے اور حسبِ حکمِ الٰہی مسلمانوں کو گواہ کرلے ۔(ف12)جس سے وہ دنیا و آخرت کے غموں سے خلاص پائے اور ہر تنگی و پریشانی سے محفوظ رہے ۔ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے مروی ہے کہ جو شخص اس آیت کو پڑھے اللہ تعالٰی اس کےلئے شبہاتِ دنیا غمراتِ موت و شدائدِ روزِ قیامت سے خلاص کی راہ نکالے گا اور اس آیت کی نسبت سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میرے علم میں ایک ایسی آیت ہے جسے لوگ محفوظ کرلیں توان کی ہر ضرورت و حاجت کےلئے کافی ہے ۔ شانِ نزول : عوف بن مالک کے فرزند کو مشرکین نے قید کرلیا تو عوف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ بھی عرض کیا کہ میرا بیٹا مشرکین نے قید کرلیا ہے اور اسی کے ساتھ اپنی محتاجی و ناداری کی شکایت کی ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی کا ڈر رکھو اور صبر کرو اور کثرت سےلاَحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم پڑھتے رہو عوف نے گھرآکر اپنی بی بی سے یہ کہا اور دونوں نے پڑھنا شروع کیا وہ پڑھ ہی رہے تھے کہ بیٹے نے دروازہ کھٹکھٹایا دشمن غافل ہوگیا تھا اس نے موقع پایا قید سے نکل بھاگا اور چلتے ہوئے چار ہزار بکریاں بھی دشمن کی ساتھ لے آیا ، عوف نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ یہ بکریاں انکے لئے حلال ہیں ؟ حضور نے اجازت دی اور یہ آیت نازل ہوئی ۔
اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے (ف۱۳) بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے،
And will provide him sustenance from a place he had never expected; and whoever relies on Allah – then Allah is Sufficient for him; indeed Allah will accomplish His command; indeed Allah has set a proper measure for all things.
और उसे वहाँ से रोज़ी देगा जहाँ उसका गुमान न हो, और जो अल्लाह पर भरोसा करे तो वह उसे काफ़ी है बेशक अल्लाह अपना काम पूरा करने वाला है , बेशक अल्लाह ने हर चीज़ का एक अंदाज़ा रखा है ,
Aur use wahan se rozi dega jahan uska gumaan na ho, aur jo Allah par bharosa kare to woh use kaafi hai, beshak Allah apna kaam poora karne wala hai, beshak Allah ne har cheez ka ek andaaza rakha hai,
اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی (ف۱٤) اگر تمہیں کچھ شک ہو (ف۱۵) تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی جنہیں ابھی حیض نہ آیا (ف۱٦) اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں (ف۱۷) اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی فرمادے گا،
And for those of your women who have no hope of menstruation, if you doubt, the appointed period is three months – and also for those who have not yet had menstruation; and the appointed period for the pregnant women is up to the time they deliver their burden; and whoever fears Allah – Allah will create ease for him in his affairs.
और तुम्हारी औरतों में जिन्हें हायज़ की उम्मीद न रही अगर तुम्हें कुछ शक हो तो उनकी अद्दत तीन महीने है और उनकी जिन्हें अभी हायज़ न आया और हामिल वालियों की मीयाद ये है कि वे अपना हामिल जन लें और जो अल्लाह से डरे अल्लाह उसके काम में आसानी फ़रमा देगा,
Aur tumhari auraton mein jinhein haiz ki umeed na rahi agar tumhein kuchh shak ho to unki iddat teen mahine hai aur unki jinhein abhi haiz na aaya aur haamil waliyon ki miyaad ye hai ke woh apna haamil jan len aur jo Allah se dare Allah uske kaam mein aasani farma dega,
(ف14)بوڑھی ہوجانے کی وجہ سے کہ وہ سنِّ ایاس کو پہنچ گئی ہوں ۔ سنِّ ایاس ایک قول میں پچپن اور ایک قول میں ساٹھ سال کی عمر ہے اور اصح یہ ہے کہ جس عمر میں بھی حیض منقطع ہوجائے وہی سنِّ ایاس ہے ۔(ف15)اس میں کہ ان کا حکم کیا ہے ۔ شانِ نزول : صحابہ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ حیض والی عورتوں کی عدّت تو ہمیں معلوم ہوگئی جو حیض والی نہ ہوں ان کی عدّت کیا ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف16) یعنی وہ صغیرہ ہیں ، یا عمر تو بلوغ کی آگئی مگر ابھی حیض نہ شروع ہو ا ، ان کی عدّت بھی تین ماہ ہے ۔(ف17)مسئلہ : حاملہ عورتوں کی عدّت وضعِ حمل ہے خواہ وہ عدّت طلاق کی ہو یا وفات کی ۔
عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت بھر (ف۲۰) اور انہیں ضرر نہ دو کہ ان پر تنگی کرو (ف۲۱) اور اگر (ف۲۲) حمل والیاں ہوں تو انہیں نان و نفقہ دو یہاں تک کہ ان کے بچہ پیدا ہو (ف۲۳) پھر اگر وہ تمہارے لیے بچہ کو دودھ پلائیں تو انہیں اس کی اجرت دو (ف۲٤) اور آپس میں معقول طور پر مشورہ کرو (ف۲۵) پھر اگر باہم مضائقہ کرو (دشوار سمجھو) (ف۲٦) تو قریب ہے کہ اسے اور دودھ پلانے والی مل جائے گی،
Accommodate them where you also reside, according to your means, and do not harass them to make it difficult upon them; and if they are pregnant, give them the provision till they deliver their burden; then if they suckle the child for you, pay them its due; and consult with each other in a reasonable manner; and if you create hardship for one another, the child will get another breast feeding nurse.
औरतों को वहाँ रखो जहाँ खुद रहते हो अपनी ताक़त भर और उन्हें ज़रर न दो कि उन पर तंगी करो और अगर हामिल वालियाँ हों तो उन्हें नान व नफ़क़ा दो यहाँ तक कि उनके बच्चे पैदा हों फिर अगर वे तुम्हारे लिए बच्चे को दूध पिलाएँ तो उन्हें उसकी उजरत दो और आपस में माक़ूल तौर पर मशविरा करो फिर अगर बाहम मज़ाइका करो (दुश्वार समझो) तो क़रीब है कि उसे और दूध पिलाने वाली मिल जाएगी,
Auraton ko wahan rakho jahan khud rehte ho apni taaqat bhar aur unhein zarar na do ke un par tangi karo aur agar haamil waliyan hon to unhein naan-o-nafaqa do yahan tak ke unke bachche paida hon phir agar woh tumhare liye bachche ko doodh pilayen to unhein uski ujrat do aur aapas mein maqool taur par mashwara karo phir agar baham muzaeqa karo (dushwaar samjho) to qareeb hai ke use aur doodh pilane wali mil jaayegi,
(ف20)مسئلہ : طلاق دی ہوئی عورت کو تا عدّت رہنے کےلئے اپنے حسبِ حیثیت مکان دینا شوہر پر واجب ہے اور اس زمانہ میں نقفہ دینا بھی واجب ہے ۔(ف21)جگہ میں ان کے مکان کو گھیر کر ، یا کسی ناموافق کو ان کے شریکِ مسکن کرکے ، یا اور کوئی ایسی ایذا دے کر ، کہ وہ نکلنے پر مجبور ہوں ۔(ف22)وہ مطلّقات ۔(ف23)کیونکہ ان کی عدّت جب ہی تمام ہوگی ۔ مسئلہ : نفقہ جیسا حاملہ کو دینا واجب ہے ایسا ہی غیرِ حاملہ کو بھی خواہ اس کو طلاقِ رجعی دی ہو یا بائن ۔(ف24)مسئلہ : بچّہ کو دودھ پلانا ماں پر واجب نہیں ، باپ کے ذمّہ ہے کہ اجرت دے کر دود ھ پلوائے لیکن اگر بچّہ ماں کے سوا کسی اور عورت کا دود ھ نہ پئے یا باپ فقیر ہو تواس حالت میں ماں پر دود ھ پلانا واجب ہوجاتا ہے ، بچّے کی ماں جب تک اس کے باپ کے نکاح میں ہو یا طلاقِ رجعی کی عدّت میں ایسی حالت میں اس کودود ھ پلانے کی اجرت لینا جائز نہیں بعدِ عدّت جائز ہے ۔مسئلہ : کسی عورت کو معیّن اجرت پر دود ھ پلانے کےلئے مقرّر کرنا جائز ہے ۔ مسئلہ : غیر عورت کی بہ نسبت اجرت پر دود ھ پلانے کی ماں زیادہ مستحق ہے ۔ مسئلہ : اگر ماں زیادہ اجرت طلب کرے تو پھر غیر زیادہ اولٰی ۔مسئلہ : دود ھ پلائی پر بچّے کونہلانا ، اس کے کپڑے دھونا ، اس کے تیل لگانا، اس کی خوراک کا انتظام رکھنا لازم ہے لیکن ان سب چیزوں کی قیمت اس کے والد پر ہے ۔ مسئلہ : اگر دود ھ پلائی نے بچّے کو بجائے اپنے بکری کا دود ھ پلایا یا کھانے پر رکھا تو وہ اجرت کی مستحق نہیں ۔(ف25)نہ مرد عورت کے حق میں کوتاہی کرے ، نہ عورت معاملہ میں سختی ۔(ف26) مثلاً ماں غیرِ عورت کے برابر اجرت پر راضی نہ ہو اور باپ زیادہ دینا نہ چاہے ۔
مقدور والا (ف۲۷) اپنے مقدور کے قابل نفقہ دے، اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا وہ اس میں سے نفقہ دے جو اسے اللہ نے دیا، اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتا مگر اسی قابل جتنا اسے دیا ہے، قریب ہے اللہ دشواری کے بعد آسانی فرمادے گا (ف۲۸)
Whoever has the capacity must give provisions according to his means; and the one whose sustenance is restricted upon him, must give provisions from what Allah has given him; Allah does not burden any soul except according to what He has given it; Allah will soon, after the hardship, create ease.
मक़दूर वाला अपने मक़दूर के क़ाबिल नफ़क़ा दे , और जिस पर उसका रिज़्क़ तंग किया गया वह उसमें से नफ़क़ा दे जो उसे अल्लाह ने दिया, अल्लाह किसी जान पर बोझ नहीं रखता मगर उसी क़ाबिल जितना उसे दिया है , क़रीब है अल्लाह दुश्वारी के बाद आसानी फ़रमा देगा
Maqdūr wala apne maqdūr ke qabil nafaqa de, aur jis par uska rizq tang kiya gaya woh us mein se nafaqa de jo use Allah ne diya, Allah kisi jaan par bojh nahin rakhta magar usi qabil jitna use diya hai, qareeb hai Allah dushwari ke baad aasani farma dega
(ف27)مطلّقہ عورتوں کو اور دود ھ پلانے والی عورتوں کو ۔(ف28)یعنی تنگیِ معاش کے بعد ۔
اور کتنے ہی شہر تھے جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حساب لیا (ف۲۹) اور انہیں بری مار دی (ف۳۰)
And many a town existed that rebelled against the command of its Lord and His Noble Messengers, so We took a severe account from it – and struck them with a dreadful punishment.
और कितने ही शहर थे जिन्होंने अपने रब के हुक्म और उसके रसूलों से सरकशी की तो हमने उनसे सख़्त हिसाब लिया और उन्हें बुरी मार दी
Aur kitne hi shehar the jinhon ne apne Rab ke hukm aur uske Rasoolon se sarkashi ki to humne unse sakht hisaab liya aur unhein buri maar di
(ف29)اس سے حسابِ آخرت مراد ہے جس کا وقوع یقینی ہے ، اس لئے صیغۂِ ماضی سے اس کی تعبیر فرمائی گئی ۔ (ف30)عذابِ جہنّم کی یاد ، دنیا میں قحط و قتل وغیرہ بلاؤں میں مبتلا کرکے ۔
اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے تو اللہ سے ڈرو اے عقل والو! وہ جو ایمان لائے ہو، بیشک اللہ نے تمہارے لیے عزت اتاری ہے،
Allah has kept prepared a severe punishment for them – therefore fear Allah, O men of intellect! O People who Believe! Allah has sent down a Remembrance (or an honour) for you. (The Holy Prophet is a Remembrance from Allah.)
अल्लाह ने उनके लिए सख़्त अज़ाब तैयार कर रखा है तो अल्लाह से डरो ए अक़्ल वालो! वह जो ईमान लाए हो, बेशक अल्लाह ने तुम्हारे लिए इज़्ज़त उतारी है ,
Allah ne unke liye sakht azaab tayyar kar rakha hai to Allah se daro ae aql walon! woh jo imaan laaye ho, beshak Allah ne tumhare liye izzat utari hai,
(۱۱ ) وہ رسول (ف۳۱) کہ تم پر اللہ کی روشن آیتیں پڑھتا ہے تاکہ انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے (ف۳۲) اندھیریوں سے (ف۳۳) اجالے کی طرف لے جائے، اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے وہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، بیشک اللہ نے اس کے لیے اچھی روزی رکھی ۔ (ف۳٤)
The Noble Messenger who recites the clear verses of Allah to you, so that he may take those who accept faith and do good deeds, away from the realms of darkness towards light; and whoever accepts faith in Allah and does good deeds, Allah will admit him into Gardens beneath which rivers flow, to abide in them for ever and ever; indeed Allah has kept an excellent sustenance for him.
वह रसूल कि तुम पर अल्लाह की रोशन आयतें पढ़ता है ताकि उन्हें जो ईमान लाए और अच्छे काम किए अंधेरियों से उजाले की तरफ ले जाए , और जो अल्लाह पर ईमान लाए और अच्छा काम करे वह उसे बाग़ों में ले जाएगा जिनके नीचे नहरें बहें जिनमें हमेशा हमेशा रहें , बेशक अल्लाह ने उसके लिए अच्छी रोज़ी रखी
Woh Rasool ke tum par Allah ki roshan aayatein padhta hai taake unhein jo imaan laaye aur acche kaam kiye andheriyon se ujale ki taraf le jaaye, aur jo Allah par imaan laaye aur accha kaam kare woh use baghon mein le jaayega jinke neeche nahrein behen jismein hamesha hamesha rahen, beshak Allah ne uske liye acchi rozi rakhi
(ف31) یعنی وہ عزّت رسولِ کریم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف32)کفرو جہل کی ۔(ف33)ایمان و علم کے ۔ (ف34)جنّت جس کی نعمتیں ہمیشہ باقی رہیں گی ، کبھی منقطع نہ ہوں گی ۔
اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائے (ف۳۵) اور انہی کی برابر زمینیں (ف۳٦) حکم ان کے درمیان اترتا ہے (ف۳۷) تاکہ تم جان لو کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے،
It is Allah Who has created the seven heavens, and seven earthly worlds like them; the command descends within them, so that you may know that Allah is Able to do all things, and that Allah’s knowledge encompasses everything.
अल्लाह है जिसने सात आसमान बनाए और उन्हीं की बराबर ज़मीनें हुक्म उनके दरमियान उतरता है ताकि तुम जान लो कि अल्लाह सब कुछ कर सकता है , अल्लाह का इल्म हर चीज़ को मुहीत है ,
Allah hai jisne saat aasman banaye aur unhi ki barabar zameenen hukm unke darmiyan utarta hai taake tum jaan lo ke Allah sab kuch kar sakta hai, Allah ka ilm har cheez ko muheet hai,
(ف35) ایک کے اوپر ایک ، ہر ایک کی موٹائی پانچ سو برس کی راہ ، اور ہر ایک کا دوسرے سے فاصلہ پانچ سو برس کی راہ ۔(ف36)یعنی سات ہی زمینیں ۔(ف37) یعنی اللہ تعالٰی کا حکم ان سب میں جاری و نافذ ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ جبریلِ امین آسمان سے وحی لے کر زمین کی طرف اترتے ہیں ۔
اے غیب بتانے والے ( نبی ) تم اپنے اوپر کیوں حرام کئے لیتے ہو وه چیز جو اللہ نے تمھارے لئے حلال کی (ف۲) اپنی بیبیوں کی مرضی چاہتے ہو اور اللہ بخشنے والا ٴ مہربان ہے،
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him)! Why do you forbid for yourself the things that Allah has made lawful for you? You wish to please some of your wives; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ऐ़ ग़ैब बताने वाले (नबी) तुम अपने ऊपर क्यों हराम किये लेते हो वह चीज़ जो अल्लाह ने तुम्हारे लिये हलाल की अपनी बीबियों की मरज़ी चाहते हो और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Ae ghaib batane wale (Nabi) tum apne ooper kyon haraam kiye lete ho woh cheez jo Allah ne tumhare liye halal ki apni bibiyon ki marzi chahte ho aur Allah bakhshne wala mehrban hai,
(ف2)شانِ نزول: سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت اُمّ المومنین حفصہ رضی اللہ عنھا کے محل میں رونق ا فروز ہوئے ، وہ حضور کی اجازت سے اپنے والد حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عیادت کےلئے تشریف لے گئیں ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت ماریہ قبطیہ کو سرفرازِ خدمت کیا ، یہ حضرت حفصہ پر گراں گذرا ، حضور نے ان کی دلجوئی کےلئے فرمایا کہ میں نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کیا اور میں تمہیں خوش خبری دیتا ہوں کہ میرے بعد امورِ امّت کے مالک ابوبکر و عمر (رضی اللہ تعالٰی عنھما) ہونگے ، وہ اس سے خوش ہوگئیں اور نہایت خوشی میں انہوں نے یہ تمام گفتگو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا کو سنائی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ جو چیز اللہ تعالٰی نے آپ کےلئے حلال کی یعنی ماریہ قبطیہ آپ انہیں اپنے لئے کیوں حرام کئے لیتے ہیں ، اپنی بیبیوں حفصہ و عائشہ (رضی اللہ تعالٰی عنھما) کی رضا جوئی کےلئے ، اور ایک قول اس آیت کی شانِ نزول میں یہ بھی ہے کہ اُمّ المومنین زینب بنتِ حجش کے یہاں جب حضور تشریف لے جاتے تو وہ شہد پیش کرتیں ، اس ذریعہ سے ان کے یہاں کچھ زیادہ دیر تشریف فرما رہتے ۔ یہ بات حضرت عائشہ و حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنھما وغیرھما کو ناگوار گزری اور انہیں رشک ہوا ، انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ جب حضور تشریف فرما ہوں تو عرض کیا جائے کہ دہنِ مبارک سے مغافیر کی بُو آتی ہے اور مغافیر کی بُو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ناپسند تھی ، چنانچہ ایسا کیا گیا ، حضور کو ان کا منشاء معلوم تھا ، فرمایا مغافیر تو میرے قریب نہیں آیا ، زینب کے یہاں شہد میں نے پیا ہے ، اس کومیں اپنے اوپر حرام کرتا ہوں ۔ مقصود یہ کہ حضرت زینب کے یہاں شہد کا شغل ہونے سے تمہاری دل شکنی ہوتی ہے تو ہم شہد ہی ترک فرمائے دیتے ہیں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
بیشک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا اتار مقرر فرمادیا (ف۳) اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،
Allah has ordained expiation for your oaths; and Allah is your Master; and Allah is the All Knowing, the Wise.
बेशक अल्लाह ने तुम्हारे लिये तुम्हारी क़समों का उतार मुक़र्रर फ़रमा दिया और अल्लाह तुम्हारा मौला है, और अल्लाह इल्म व हिकमत वाला है,
Beshak Allah ne tumhare liye tumhari qasmon ka utaar muqarrar farma diya aur Allah tumhara maula hai, aur Allah ilm o hikmat wala hai,
(ف3)یعنی کَفّارہ تو ماریہ کو خدمت سے سرفراز فرمائیے یا شہد نوش فرمائیے یا قَسم کے اوتار سے یہ مراد ہے کہ قَسم کے بعد ان شاء اللہ کہا جائے تاکہ اس کے خلاف کرنے سے حِنْث (قسم شکنی) نہ ہو ۔ مقاتل سے مروی ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت ماریہ کی تحریم کے کَفّارہ میں ایک غلام آزاد کیا اور حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کفّارہ نہیں دیا کیونکہ آپ مغفور ہیں ، کفّارہ کا حکم تعلیمِ امّت کےلئے ہے ۔ مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ حلال کو اپنے اوپر حرام کرلینا یمین یعنی قَسم ہے ۔
اور جب نبی نے اپنی ایک بی بی (ف٤) سے ایک راز کی بات فرمائی (ف۵) پھر جب وہ (ف٦) اس کا ذکر کر بیٹھی اور اللہ نے اسے نبی پر ظاہر کردیا تو نبی نے اسے کچھ جتایا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی (ف۷) پھر جب نبی نے اسے اس کی خبر دی بولی (ف۸) حضور کو کس نے بتایا، فرمایا مجھے علم والے خبردار نے بتایا (ف۹)
And when the Holy Prophet confided a matter to one of his wives; so when she disclosed it and Allah conveyed this to the Holy Prophet, he told her part of it and held back a part; so when the Holy Prophet informed her about it, she said, “Who informed you?”; he said, “The All Knowing, the All Aware has informed me.”
और जब नबी ने अपनी एक बीबी से एक राज़ की बात फ़रमाई फिर जब वह उसका ज़िक्र कर बैठी और अल्लाह ने उसे नबी पर ज़ाहिर कर दिया तो नबी ने उसे कुछ जताया और कुछ से चश्मपोषी फ़रमाई फिर जब नबी ने उसे उसकी ख़बर दी बोली हुज़ूर को किसने बताया, फ़रमाया मुझे इल्म वाले ख़बरदार ने बताया,
Aur jab Nabi ne apni ek bibi se ek raaz ki baat farmai phir jab woh uska zikr kar baithi aur Allah ne use Nabi par zahir kar diya to Nabi ne use kuchh jataya aur kuchh se chashm poshi farmai phir jab Nabi ne use uski khabar di boli huzoor ko kisne bataya, farmaaya mujhe ilm wale khabardaar ne bataya,
(ف4)یعنی حضرت حفصہ ۔(ف5)ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرلینے کی اور اس کے ساتھ یہ فرمایا کہ اس کا کسی پر اظہار نہ کرنا ۔(ف6)یعنی حضرت حفصہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ۔(ف7)یعنی تحریمِ ماریہ اور خلافتِ شیخین کے متعلق جو دو باتیں فرمائی تھیں ، ان میں سے ایک بات کا ذکر فرمایا کہ تم نے یہ بات ظاہر کردی اور دوسری بات کا ذکر نہ فرمایا ۔ یہ شانِ کریمی تھی کہ گرفت فرمانے میں بعض سے چشم پوشی فرمائی ۔(ف8)حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنھا ۔(ف9)جس سے کچھ بھی چُھپا نہیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی حضرت عائشہ و حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کو خطاب فرماتا ہے ۔
نبی کی دونوں بیبیو! اگر اللہ کی طرف تم رجوع کرو تو (ف۱۰) ضرور تمہارے دل راہ سے کچھ ہٹ گئے ہیں (ف۱۱) اور اگر ان پر زور باندھو (ف۱۲) تو بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے، اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں،
If you both, the wives of the Holy Prophet, incline towards Allah, for indeed your hearts have deviated a little; and if you come together against him (the Holy Prophet – peace and blessings be upon him) then indeed Allah is his Supporter, and Jibreel and the virtuous believers are also his aides; and in addition the angels are also his aides. (Allah has created several supporters for the believers.)
नबी की दोनों बीबियो! अगर अल्लाह की तरफ़ तुम रजू करो तो ज़रूर तुम्हारे दिल राह से कुछ हट गये हैं और अगर उन पर जोर बाँधो तो बेशक अल्लाह उनका मददगार है और जिब्रील और नेक ईमान वाले, और उसके बाद फ़रिश्ते मदद पर हैं,
Nabi ki dono bibiyo! agar Allah ki taraf tum ruju karo to zaroor tumhare dil raah se kuchh hat gaye hain aur agar unpar zor baandho to beshak Allah unka madadgar hai aur Jibreel aur nek imaan wale, aur uske baad farishte madad par hain,
(ف10)یہ تم پر واجب ہے ۔(ف11)کہ تمہیں وہ بات پسند آئی جو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گراں ہے یعنی تحریمِ ماریہ ۔(ف12)اور باہم مل کر ایسا طریقہ اختیار کرو جو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ناگوار ہو ۔
ان کا رب قریب ہے اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں کہ انہیں تم سے بہتر بیبیاں بدل دے اطاعت والیاں ایمان والیاں ادب والیاں (ف۱۳) توبہ والیاں بندگی والیاں (ف۱٤) روزہ داریں بیاہیاں اور کنواریاں (ف۱۵)
It is likely that, if he divorces you, his Lord will give him wives better than you in your place -widows and maidens who are obedient, believing, respectful, penitent, serving and fasting.
उनका रब क़रीब है अगर वह तुम्हें तलाक़ दे दें कि उन्हें तुम से बेहतर बीबियाँ बदल दे इताअत वालियाँ फ़ ईमान वालियाँ फ़ अदब वालियाँ फ़ तौबा वालियाँ फ़ बंदगी वालियाँ फ़ रोज़ेदारें ब्याहियाँ और कुँवारियाँ,
Unka Rab qareeb hai agar woh tumhein talaaq de den ke unhein tum se behtar bibiyan badal de ita'at waliyan fa imaan waliyan fa adab waliyan fa tauba waliyan fa bandagi waliyan fa roza darain biyahiyan aur kunwariyan,
(ف13)جو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کی فرمانبردار اور ان کی رضا جو ہوں ۔(ف14)یعنی کثیر العبادت ۔(ف15)یہ تخویف ہے ازواجِ مطہرات کو کہ اگر انہوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو آزردہ کیا اور حضورِ انور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں طلاق دی تو حضورِ انور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالٰی اپنے لطف و کرم سے اور بہتر بیبیاں عطا فرمائے گا ۔ اس تخویف سے ازواجِ مطہرات متاثر ہوئیں اور انہوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے شرفِ خدمت کو ہر نعمت سے زیادہ سمجھا اور حضور کی دلجوئی اور رضا طلبی مقدّم جانی ، لہذا آپ نے انہیں طلاق نہ دی ۔
اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ (ف۱٦) جس کے ایندھن آدمی (ف۱۷) اور پتھر ہیں (ف۱۸) اس پر سخت کرّے (طاقتور) فرشتے مقرر ہیں (ف۱۹) جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں (ف۲۰)
O People who Believe! Save yourselves and your families from the fire, the fuel of which is men and stones – appointed over it are the extremely strict angels, who do not refuse the command of Allah and carry out whatever they are commanded.
ऐ ईमान वालो! अपनी जानों और अपने घर वालों को आग से बचाओ जिसके ईंधन आदमी और पत्थर हैं उस पर सख़्त कर्रे (ताक़तवर) फ़रिश्ते मुक़र्रर हैं जो अल्लाह का हुक्म नहीं टालते और जो उन्हें हुक्म हो वही करते हैं,
Ae imaan walo! apni jaanon aur apne ghar walon ko aag se bachaao jiske eindhan aadmi aur patthar hain us par sakht karre (taqatwar) farishte muqarrar hain jo Allah ka hukm nahi taalte aur jo unhein hukm ho wahi karte hain,
(ف16)اللہ تعالٰی اور ا س کے رسول کی فرمانبرداری اختیار کرکے ، عبادتیں بجالا کر ، گناہوں سے باز رہ کر اور گھر والوں کو نیکی کی ہدایت اور بدی سے ممانعت کرکے ،اور انہیں علم و ادب سکھا کر ۔(ف17)یعنی کافر ۔(ف18)یعنی بت وغیرہ ، مراد یہ ہے کہ جہنّم کی آ گ بہت ہی شدیدُ الحرارت ہے اور جس طرح دنیا کی آ گ لکڑی وغیرہ سے جلتی ہے جہنّم کی آ گ ان چیزوں سے جلتی ہے جن کا ذکر کیا گیا ہے ۔(ف19)جو نہایت قوی اور زور آور ہیں اور ان کی طبیعتوں میں رحم نہیں ۔(ف20)کافروں سے وقتِ دخولِ دوزخ کہا جائے گا جب کہ وہ آتشِ دوزخ کی شدّت اور اس کا عذاب دیکھیں گے ۔
اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے (ف۲۲) قریب ہے تمہارا رب (ف۲۳) تمہاری برائیاں تم سے اتار دے اور تمہیں باغوں میں لے جائے جن کے نیچے نہریں بہیں جس دن اللہ رسوا نہ کرے گا نبی اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو (ف۲٤) ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے آگے اور ان کے دہنے (ف۲۵) عرض کریں گے، اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کردے (ف۲٦) اور ہمیں بخش دے، بیشک تجھے ہر چیز پر قدرت ہے،
O People who Believe! Incline towards Allah in a repentance that becomes a guidance for the future; it is likely that your Lord will relieve you of your sins and admit you into Gardens beneath which rivers flow – on the day when Allah will not humble the Prophet and the believers along with him; their light will be running ahead of them and on their right; they will say, “Our Lord! Perfect our light for us, and forgive us; indeed You are Able to do all things.”
ऐ ईमान वालो! अल्लाह की तरफ़ ऐसी तौबा करो जो आगे को नसीहत हो जाये क़रीब है तुम्हारा रब तुम्हारी बुराइयाँ तुम से उतार दे और तुम्हें बाग़ों में ले जाये जिनके नीचे नहरे बहें जिस दिन अल्लाह रुसवा न करेगा नबी और उनके साथ के ईमान वालों को उनका नूर दौड़ता होगा उनके आगे और उनके दाहिने अर्ज़ करेंगे, ऐ हमारे रब! हमारे लिये हमारा नूर पूरा कर दे और हमें बख़्श दे, बेशक तुझे हर चीज़ पर क़ुदरत है,
Ae imaan walo! Allah ki taraf aisi tauba karo jo aage ko naseehat ho jaye qareeb hai tumhara Rab tumhari buraiyan tum se utaar de aur tumhein baagon mein le jaye jinke neeche nahrain bahein jis din Allah ruswa na karega Nabi aur unke saath ke imaan walon ko unka noor daudta hoga unke aage aur unke dahine arz karenge, Ae hamare Rab! hamare liye hamara noor poora kar de aur humein bakhsh de, beshak tujhe har cheez par qudrat hai,
(ف22)یعنی توبۂِ صادقہ جس کا اثر توبہ کرنے والے کے اعمال میں ظاہر ہو اور اس کی زندگی طاعتوں اور عبادتوں سے معمور ہوجائے اور وہ گناہوں سے مجتنب رہے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک اور دوسرے اصحاب نے فرمایا تو بۂِ نصوح وہ ہے کہ توبہ کے بعد آدمی پھر گناہ کی طرف نہ لوٹے جیسا کہ نکلا ہوا دودھ پھر تھن میں واپس نہیں ہوتا ۔(ف23)توبہ قبول فرمانے کے بعد ۔(ف24)اس میں کفّار پر تعریض ہے کہ وہ دن ان کی رسوائی کا ہوگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضور کے ساتھ والوں کی عزّت کا ۔(ف25)صراط پر ۔ اور جب مومن دیکھیں گے کہ منافقوں کا نور بجھ گیا ۔(ف26)یعنی اس کو باقی رکھ کر دخولِ جنّت تک باقی رہے ۔
اے غیب بتانے والے! (نبی) (ف۲۷) کافروں پر اور منافقوں پر (ف۲۸) جہاد کرو اور ان پر سختی فرماؤ، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی برا انجام،
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), wage holy war against the disbelievers and the hypocrites, and be strict with them; and their destination is hell; and what a wretched outcome!
ऐ ग़ैब बताने वाले! (नबी) काफ़िरों पर और मुनाफ़िकों पर जिहाद करो और उन पर सख़्ती फ़रमाओ, और उनका ठिकाना जहन्नम है, और क्या ही बुरा अंजाम,
Ae ghaib batane wale! (Nabi) kaafiron par aur munafiqon par jihad karo aur unpar sakhti farmao, aur unka thikana jahannam hai, aur kya hi bura anjaam,
(ف27)تلوار سے ۔(ف28)قولِ غلیظ اور وعظِ بلیغ اور حجّتِ قوی سے ۔
اللہ کافروں کی مثال دیتا ہے (ف۲۹) نوح کی عورت اور لوط کی عورت، وہ ہمارے بندوں میں دو سزا وارِ (لائق) قرب بندوں کے نکاح میں تمہیں پھر انہوں نے ان سے دغا کی (ف۳۰) تو وہ اللہ کے سامنے انہیں کچھ کام نہ آئے اور فرما دیا گیا (ف۳۱) کے تم دونوں عورتیں جہنم میں جاؤ جانے والوں کے ساتھ (ف۳۲)
Allah illustrates the example of the disbelievers – the wife of Nooh and the wife of Lut; they were bonded in marriage to two of Our bondmen deserving Our proximity – they then betrayed them so they did not benefit them the least against Allah and it was declared, “Both of you women enter the fire, along with others who enter.”
अल्लाह काफ़िरों की मिसाल देता है नूह की औरत और लूत की औरत, वह हमारे बन्दों में दो सज़ा वार-ए (लायक़) क़ुर्ब बन्दों के निकाह में थीं फिर उन्होंने उनसे दग़ा की तो वह अल्लाह के सामने उन्हें कुछ काम न आये और फ़रमा दिया गया कि तुम दोनों औरतें जहन्नम में जाओ जाने वालों के साथ,
Allah kaafiron ki misaal deta hai Nooh ki aurat aur Loot ki aurat, woh hamare bandon mein do saza war-e (laaiq) qurb bandon ke nikah mein thin phir unhon ne unse dagha ki to woh Allah ke saamne unhein kuchh kaam na aaye aur farma diya gaya ke tum dono auratein jahannam mein jao janewalon ke saath,
(ف29)اس بات میں کہ انہیں ان کے کفر اور مومنین کی عداوت پر عذاب کیا جائے گا اور اس کفر و عداوت کے ہوتے ہوئے ان کا نسب اور مومنین و مقرّبین کے ساتھ انکی قرابت و رشتہ داری انہیں کچھ نفع نہ دے گی ۔(ف30)دِین میں کہ کفر اختیار کیا ، حضرت نوح کی عورت واہلہ اپنی قوم سے حضرت نوح علیہ السلام کی نسبت کہتی تھی کہ وہ مجنون ہیں اور حضرت لوط علیہ السلام کی عورت و اعلہ اپنا نفاق چُھپاتی تھی اور جو مہمان آپ کے یہاں آتے تھے آ گ جلا کر اپنی قوم کو ان کے آنے سے خبردار کرتی تھی ۔(ف31)ان سے وقتِ موت یا روزِ قیامت (اور تعبیر صیغۂِ ماضی سے) بلحاظِ تحقّقِ وقوع کے ہے ۔(ف32)یعنی اپنی قوموں کے کفّار کے ساتھ کیونکہ تمہارے اور ان انبیاء کے درمیان تمہارے کفر کے باعث علاقہ باقی نہ رہا ۔
اور اللہ مسلمانوں کی مثال بیان فرماتا ہے (ف۳۳) فرعون کی بی بی (ف۳٤) جب اس نے عرض کی، اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا (ف۳۵) اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے (ف۳٦) اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش (ف۳۷)
And Allah illustrates an example of the Muslims – the wife of Firaun; when she prayed, “My Lord! Build a house for me near You, in Paradise, and deliver me from Firaun and his works, and rescue me from the unjust people.”
और अल्लाह मुसलमानों की मिसाल बयान फ़रमाता है फ़िरऔन की बीबी जब उसने अर्ज़ की, ऐ मेरे रब! मेरे लिये अपने पास जन्नत में घर बना और मुझे फ़िरऔन और उसके काम से नजात दे और मुझे ज़ालिम लोगों से नजात बख़्श,
Aur Allah musalmanon ki misaal bayan farmaata hai Firaun ki bibi jab usne arz ki, Ae mere Rab! mere liye apne paas jannat mein ghar bana aur mujhe Firaun aur uske kaam se najat de aur mujhe zalim logon se najat bakhsh,
(ف33)کہ انہیں دوسرے کی معصیّت ضرر نہیں دیتی ۔(ف34)جن کا نام آسیہ بنتِ مزاحم ہے ۔ جب حضرت موسٰی علیہ ا لسلام نے جادو گروں کو مغلوب کیا تو یہ آسیہ آپ پر ایمان لے آئیں ، فرعون کو خبر ہوئی تو اس نے ان پر سخت عذاب کئے انہیں چو میخا کیا ، اور بھاری چکّی سینہ پر رکھی اور دھوپ میں ڈال دیا ، جب فرعونی ان کے پاس سے ہٹتے تو فرشتہ ان پر سایہ کرتے ۔(ف35)اللہ تعالٰی نے انکا مکان جو جنّت میں ہے ان پر ظاہر فرمایا اور اس کی مسرت میں فرعون کی سختیوں کی شدّت ان پر سہل ہوگئی ۔(ف36)فرعون کے کام سے یا اس کا شرک و کفر و ظلم مراد ہے یا اس کا قرب ۔(ف37)یعنی فرعون کے دِین والوں سے ، چنانچہ یہ دعا ان کی قبول ہوئی اور اللہ تعالٰی نے ان کی روح قبض فرمائی اور ابنِ کیسان نے کہا کہ وہ زندہ اٹھا کرجنّت میں داخل کی گئیں ۔
اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں (ف۳۸) اور اس کی کتابوں (ف۳۹) کی تصدیق کی اور فرمانبرداروں میں ہوئی،
And the example of Maryam the daughter of Imran, who guarded her chastity – We therefore breathed into her a Spirit from Ourselves – and she testified for the Words of her Lord and His Books, and was among the obedient.
और इमरान की बेटी मरयम जिसने अपनी पारसाई की हिफ़ाज़त की तो हमने उसमें अपनी तरफ़ की रूह फूँकी और उसने अपने रब की बातों और उसकी किताबों की तस्दीक़ की और फ़रमानबरदारों में हुई।
Aur Imran ki beti Maryam jisne apni paarsai ki hifazat ki to humne usmein apni taraf ki rooh phoonki aur usne apne Rab ki baton aur uski kitabon ki tasdeeq ki aur farmanbardaron mein hui.",
(ف38)رب کی باتوں سے شرائع و احکام مراد ہیں جو اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کےلئے مقرّر فرمائے ۔(ف39)کتابوں سے وہ کتابیں مراد ہیں جو انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئی تھیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page