جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا، تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے (ف۵) تو نگاہ اٹھا کر دیکھ (ف٦) تجھے کوئی رخنہ نظر آتا ہے،
The One Who created the seven heavens atop each other; do you see any discrepancy in the creation of the Most Gracious? Therefore lift your gaze – do you see any cracks?
जिस ने सात आसमान बनाए एक के ऊपर दूसरा, तो रहमान के बनाने में क्या फ़र्क देखता है तो निगाह उठाकर देख तुझे कोई रुख़्ना नज़र आता है,
Jis ne saat aasman banaye aik ke ooper doosra, to Rehman ke banane mein kya farq dekhta hai to nigah uthakar dekh tujhe koi rukhna nazar aata hai,
(ف5)یعنی آسمانوں کی پیدائش سے قدرتِ الٰہی ظاہر ہے کہ اس نے کیسے مستحکم ، استوار ، مستقیم ، مستوی ، متناسب بنائے ۔(ف6)آسمان کی طرف بارِدگر ۔
اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو (ف۹) چراغوں سے آراستہ کیا (ف۱۰) اور انہیں شیطانوں کے لیے مار کیا (ف۱۱) اور ان کے لیے (ف۱۲) بھڑکتی آگ کا عذاب تیار فرمایا (ف۱۳)
And indeed We have beautified the lower heaven with lamps, and have made them weapons against the devils, and have kept prepared for them the punishment of the blazing fire.
और बेशक हम ने नीचे के आसमान को चराग़ों से आरास्ता किया और उन्हें शैतानों के लिए मार किया और उनके लिए भड़कती आग का अज़ाब तैयार फ़रमाया
Aur beshak hum ne neeche ke aasman ko charagon se aarasta kiya aur unhein shaitanon ke liye maar kiya aur unke liye bharkti aag ka azaab tayar farmaya
(ف9)جو زمین کی طرف سب سے زیادہ قریب ہے ۔(ف10)یعنی ستاروں سے ۔(ف11)کہ جب شیاطین آسمان کی طرف ان کی گفتگو سننے اور باتیں چُرانے پہنچیں تو کواکب سے شعلے اور چنگاریاں نکلیں جن سے انہیں مارا جائے ۔(ف12)یعنی شیاطین کے ۔(ف13)آخرت میں ۔
معلوم ہوتا ہے کہ شدت غضب میں پھٹ جائے گی، جب کبھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا اس کے داروغہ (ف۱۵) ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا تھا (ف۱٦)
As if about to explode with rage; whenever a group is thrown into it, the guardians of hell will ask them, “Did not a Herald of Warning come to you?”
मालूम होता है कि शिद्दत ग़ज़ब में फट जाएगी, जब कभी कोई गिरोह उस में डाला जाएगा उस के दारोग़ा उन से पूछेंगे क्या तुम्हारे पास कोई डर सुनाने वाला न आया था
Maloom hota hai ke shiddat-e-ghazab mein phat jaye gi, jab kabhi koi giroh us mein dala jaye ga us ke darogha un se puchhen ge kya tumhare paas koi dar sunane wala na aaya tha
(ف15)مالک اور ان کے اعوان بطریقِ تو بیخ ۔(ف16)یعنی اللہ کا نبی جو تمہیں عذابِ الٰہی کا خوف دلاتا ۔
کہیں گے کیوں نہیں بیشک ہمارے پاس ڈر سنانے والے تشریف لائے (ف۱۷) پھر ہم نے جھٹلایا اور کہا اللہ نے کچھ نہیں اتارا، تم تو نہیں مگر بڑی گمراہی میں،
They will say, “Yes, why not – indeed a Herald of Warning did come to us – in response we denied and said ‘Allah has not sent down anything – you are not except in a great error’.”
कहेंगे क्यों नहीं बेशक हमारे पास डर सुनाने वाले तशरीफ़ लाए फिर हम ने झुटलाया और कहा अल्लाह ने कुछ नहीं उतारा, तुम तो नहीं मगर बड़ी गुमराही में,
Kahen ge kyon nahin beshak hamare paas dar sunane wale tashreef laye phir hum ne jhutlaya aur kaha Allah ne kuch nahi utara, tum to nahin magar badi gumrahi mein,
(ف17)اور انہوں نے احکامِ الٰہی پہنچائے اور خدا کے غضب اور عذابِ آخرت سے ڈرایا ۔
اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے، وہ تو دلوں کی جانتا ہے (ف۲۲)
And whether you speak softly or proclaim it aloud; He indeed knows what lies within the hearts!
और तुम अपनी बात आहिस्ता कहो या आवाज़ से, वह तो दिलों की जानता है
Aur tum apni baat aahista kaho ya aawaz se, woh to dilon ki jaanta hai
(ف22)اس پر کچھ مخفی نہیں ۔ شانِ نزول : مشرکین آپس میں کہتے تھے چپکے چپکے بات کرو محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا خدا سن نہ پائے ۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ اس سے کوئی چیز چُھپ نہیں سکتی یہ کوشش فضول ہے ۔
یا تم نڈر ہوگئے اس سے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تم پر پتھراؤ بھیجے (ف۲۸) تو اب جانو گے (ف۲۹) کیسا تھا میرا ڈرانا،
Or have you become unafraid of the One Who controls the heavens, that He will not send a torrent of stones upon you? So now you will realise, how My warning turned out!
या तुम निडर हो गए उस से जिस की सल्तनत आसमान में है कि तुम पर पत्थराओ भेजे तो अब जानोगे कैसा था मेरा डराना,
Ya tum nidar ho gaye us se jis ki saltanat aasman mein hai ke tum par patharao bheje to ab jano ge kaisa tha mera darana,
(ف28)جیسا لوط علیہ السلام کی قوم پر بھیجا تھا ۔(ف29)یعنی عذاب دیکھ کر ۔
اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندے نہ دیکھے پر پھیلاتے (ف۳۲) اور سمیٹتے انہیں کوئی نہیں روکتا (ف۳۳) سوا رحمٰن کے (ف۳٤) بیشک وہ سب کچھ دیکھتا ہے،
And did they not see the birds above them, spreading and closing their wings? None except the Most Gracious holds them up; indeed He sees all things.
और क्या उन्होंने अपने ऊपर परिंदे न देखे पर फैलाते और समेटते उन्हें कोई नहीं रोकता सिवा रहमान के बेशक वह सब कुछ देखता है,
Aur kya unhon ne apne ooper parinde na dekhe par phailate aur samet-te unhein koi nahi rokta siwa Rehman ke beshak woh sab kuch dekhta hai,
(ف32)ہوا میں اڑتے وقت ۔ (ف33)پر پھیلانے اور سمیٹنے کی حالت میں گرنے سے ۔(ف34)یعنی باوجودیہ کہ پرندے بوجھل ، موٹے جسیم ہوتے ہیں اور شے ثقیل طبعاً پستی کی طرف مائل ہوتی ہے وہ فضا میں نہیں رک سکتی اللہ تعالٰی کی قدرت ہے کہ وہ ٹھہرے رہتے ہیں ایسے ہی آسمانوں کو جب تک وہ چاہے رکے ہوئے ہیں اور وہ نہ روکے تو گر پڑیں ۔
تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے (ف۳۹) زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے (ف٤۰) سیدھی راہ پر (ف٤۱)
So is one who walks inverted upon his face more rightly guided, or one who walks upright on the Straight Path?
तो क्या वह जो अपने मुंह के बल औंधा चले ज़्यादा राह पर है या वह जो सीधा चले सीधी राह पर
To kya woh jo apne munh ke bal oondha chale zyada raah par hai ya woh jo seedha chale seedhi raah par
(ف39)نہ آگے دیکھے نہ پیچھے نہ دائیں نہ بائیں ۔(ف40)راستہ کو دیکھتا ۔(ف41)جو منزلِ مقصود تک پہنچانے والی ہے ، مقصود اس مثل کا یہ ہے کہ کافر گمراہی کے میدان میں اس طرح حیران و سرگرداں جاتا ہے کہ نہ اسے منزل معلوم نہ راہ پہچانے اور مومن آنکھیں کھولے راہِ حق دیکھتا پہچانتا چلتا ہے ۔
تم فرماؤ (ف٤۲) وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے (ف٤۳) کتنا کم حق مانتے ہو (ف٤٤)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “It is He Who created you, and made ears and eyes and hearts for you; very little thanks do you offer!”
तुम फ़रमाओ वही है जिस ने तुम्हें पैदा किया और तुम्हारे लिए कान और आंख और दिल बनाए कितना कम हक़ मानते हो
Tum farmao wahi hai jis ne tumhein paida kiya aur tumhare liye kaan aur aankh aur dil banaye kitna kam haq mante ho
(ف42)اے مصطفٰی صلی اللہ عَلَیْکَ وَسلم مشرکین سے کہ جس خدا کی طرف میں تمہیں دعوت دیتا ہوں وہ ۔(ف43)جو آلاتِ علم ہیں لیکن تم نے ان قوٰی سے فائدہ نہ اٹھایا ، جو سنا وہ نہ مانا ، جو دیکھا اس سے عبرت حاصل نہ کی ، جو سمجھا اس میں غورنہ کیا ۔(ف44)کہ اللہ تعالٰی کے عطا فرمائے ہوئے قوٰی اور آلاتِ ادراک سے وہ کام نہیں لیتے جس کےلئے وہ عطا ہوئے یہی سبب ہے کہ شرک و کفر میں مبتلا ہوتے ہو ۔
پھر جب اسے (ف٤۹) پاس دیکھیں گے کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے (ف۵۰) اور ان سے فرمادیا جائے گا (ف۵۱) یہ ہے جو تم مانگتے تھے (ف۵۲)
So when they will see it close, the faces of the disbelievers will become ghastly, and it will be declared, “This is what you were demanding.”
फिर जब उसे पास देखेंगे काफ़िरों के मुंह बिगड़ जाएंगे और उन से फ़रमा दिया जाएगा यह है जो तुम मांगते थे
Phir jab use paas dekhen ge kafiron ke munh bigar jain ge aur un se farma diya jaye ga yeh hai jo tum mangte the
(ف49)یعنی عذابِ موعود کو ۔(ف50)چہرے سیاہ پڑ جائیں گے ، وحشت و غم سے صورتیں خراب ہوجائیں گی ۔(ف51)جہنّم کے فرشتے کہیں گے ۔(ف52)اور انبیاء علیہم السلام سے کہتے تھے کہ وہ عذاب کہاں ہے ؟ جلدی لاؤ ، اب دیکھ لو یہ ہے وہ عذاب جس کی تمہیں طلب تھی ۔
تم فرماؤ (ف۵۳) بھلا دیکھو تو اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو (ف۵٤) بلاک کردے یا ہم پر رحم فرمائے (ف۵۵) تو وہ کونسا ہے جو کافروں کو دکھ کے عذاب سے بچالے گا (ف۵٦)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “What is your opinion –Allah may either destroy me and those with me, or have mercy on us – so who is such that will protect the disbelievers from the painful punishment?”
तुम फ़रमाओ भला देखो तो अगर अल्लाह मुझे और मेरे साथ वालों को हलाक कर दे या हम पर रहमत फ़रमाए तो वह कौनसा है जो काफ़िरों को दुख के अज़ाब से बचा लेगा
Tum farmao bhala dekho to agar Allah mujhe aur mere sath walon ko halak kar de ya hum par rahmat farmae to woh kaunsa hai jo kafiron ko dukh ke azaab se bacha le ga
(ف53) اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کفّارِ مکّہ سے جو آپ کی موت کی آرزو رکھتے ہیں ۔(ف54)یعنی میرے اصحاب کو ۔(ف55) اور ہماری عمریں دراز کردے ۔(ف56)تمہیں تو اپنے کفر کے سبب ضرور عذاب میں مبتلا ہونا ہماری موت تمہیں کیا فائدہ دے گی ۔
تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے (ف۵۹) تو وہ کون ہے جو تمہیں پانی لادے نگاہ کے سامنے بہتا (ف٦۰)
Say, “What is your opinion – if in the morning all your water were to sink into the earth, then who is such who can bring you water flowing before you?”
तुम फ़रमाओ भला देखो तो अगर सुबह को तुम्हारा पानी ज़मीन में धंस जाए तो वह कौन है जो तुम्हें पानी ला दे निगाह के सामने बहता
Tum farmao bhala dekho to agar subah ko tumhara pani zameen mein dhans jaye to woh kaun hai jo tumhein pani la de nigah ke samne bahta",
(ف59)اور اتنی گہرائی میں پہنچ جائے کہ ڈول وغیرہ سے ہاتھ نہ آسکے ۔(ف60)کہ اس تک ہر ایک کا ہاتھ پہنچ سکے یہ صرف اللہ تعالٰی ہی کی قدرت میں ہے تو جو کسی چیز پر قدرت نہ رکھے انہیں کیوں عبادت میں اس قادرِ برحق کا شریک کرتے ہو ۔
نٓ وَالۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُوۡنَۙ ﴿1﴾
قلم (ف۲) اور ان کے لکھے کی قسم (ف۳)
Nuun* – by oath of the pen and by oath of what is written by it. (Alphabet of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)
क़लम और उन के लिखे की क़सम
Qalam aur un ke likhe ki qasam
(ف2)اللہ تعالٰی نے قلم کی قَسم ذکر فرمائی اس قلم سے مراد یا تو لکھنے والوں کے قلم ہیں جن سے دینی دنیوی مصالح و فوائد وابستہ ہیں اور یا قلمِ اعلٰی مراد ہے جو نوری قلم ہے اور اس کا طول فاصلۂِ زمین و آسمان کے برابر ہے اس نے بحکمِ الٰہی لوحِ محفوظ پر قیامت تک ہونے والے تمام امور لکھ دیئے ۔(ف3)یعنی اعمالِ بنی آدم کے نگہبان فرشتوں کے لکھے کی قَسم ۔
You are not insane, by the munificence of your Lord.
तुम अपने रब के फ़ज़्ल से मजनून नहीं
Tum apne Rab ke fazl se majnoon nahin
(ف4)اس کا لطف و کرم تمہارے شاملِ حال ہے اس نے تم پر انعام و احسان فرمائے نبوّت اور حکمت عطا کی فصاحتِ تامّہ ، عقلِ کامل ، پاکیزہ خصائل ، پسندیدہ اخلاق عطا کئے مخلوق کےلئے جس قدر کمالات امکان میں ہیں سب علٰی وجہِ الکمال عطا فرمائے ، ہر عیب سے ذاتِ عالی صفات کو پاک رکھا ۔ اس میں کُفّار کے اس مقولہ کا رد ہے جو انہوں نے کہا تھا ۔یٰۤاَ یُّہَاالَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ اِنَّکَ لَمَجْنُوْن ۔
وَاِنَّ لَڪَ لَاَجۡرًا غَيۡرَ مَمۡنُوۡنٍۚ ﴿3﴾
اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۵)
And indeed for you is an unlimited reward.
और ज़रूर तुम्हारे लिए बे इन्तहा सवाब है
Aur zaroor tumhare liye be intiha sawab hai
(ف5)تبلیغِ رسالت و اظہارِ نبوّت اور خَلق کو اللہ تعالٰی کی طرف دعوت دینے اور کفّار کی ان بے ہودہ باتوں اور افتراؤں اور طعنوں پر صبر کرنے کا ۔
وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ ﴿4﴾
اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہے (ف٦)
And indeed you possess an exemplary character.
और बेशक तुम्हारी ख़ू बू (ख़ुल्क़) बड़ी शान की है
Aur beshak tumhari khoo boo (khuluq) badi shaan ki hai
(ف6)حضرت اُمُّ المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خُلق قرآن ہے ۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مجھے مکارمِ اخلاق و محاسنِ افعال کی تکمیل وتتمیم کے لئے مبعوث فرمایا ۔
فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُوۡنَۙ ﴿5﴾
تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے (ف۷)
So very soon, you will see and they too will realise –
तो अब कोई दम जाता है कि तुम भी देख लोगे और वो भी देख लेंगे
To ab koi dam jata hai ke tum bhi dekh loge aur woh bhi dekh lenge
بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے، اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے،
Indeed your Lord well knows those who have strayed from His path, and He well knows those who are upon guidance.
बेशक तुम्हारा रब खूब जानता है जो उस की राह से बहके, और वो खूब जानता है जो राह पर है,
Beshak tumhara Rab khoob jaanta hai jo us ki raah se behke, aur woh khoob jaanta hai jo raah par hai,
فَلَا تُطِعِ الۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴿8﴾
تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا،
Therefore do not listen to the deniers.
तो झुटलाने वालों की बात न सुनना,
To jhutlane walon ki baat na sunna,
وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُوۡنَ ﴿9﴾
وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو (ف۸) تو وہ بھی نرم پڑجائیں،
They wish that in some way you may yield, so they too might soften their stand.
वो तो इस आरज़ू में हैं कि किसी तरह तुम नरमी करो तो वो भी नरम पड़ जाएं,
Woh to is aarzu mein hain ke kisi tarah tum narmi karo to woh bhi narm parh jayein,
(ف8)دِین کے معاملہ میں ان کی رعایت کرکے ۔
وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيۡنٍۙ ﴿10﴾
اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا (ف۹) ذلیل
Nor ever listen to any excessive oath maker, ignoble person.
और हर ऐसे की बात न सुनना जो बड़ा क़समें खाने वाला ज़लील
Aur har aise ki baat na sunna jo bara qasmen khane wala zaleel
(ف9)کہ جھوٹی اور باطل باتوں پر قَسمیں کھانے میں دلیر ہے مراد اس سے یاولید بن مغیرہ ہے یا اسود بن یَغُوث یا اخنس بن شَریق ۔ آگے اس کی صفتوں کا بیان ہوتا ہے ۔
هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۢ بِنَمِيۡمٍۙ ﴿11﴾
بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا (ف۱۰)
The excessively insulting one, spreader of spite.
बहुत ताने देने वाला बहुत इधर की उधर लगाता फिरने वाला
بھلائی سے بڑا روکنے والا (ف۱۱) حد سے بڑھنے والا گنہگار (ف۱۲)
One who excessively forbids the good, transgressor, sinner.
भलाई से बड़ा रोकने वाला हद से बढ़ने वाला गुनहगार
Bhalai se bara rokne wala had se barhne wala gunahgar
(ف11)بخیل نہ خود خرچ کرے ، نہ دوسرے کو نیک کاموں میں خرچ کرنے دے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس کے معنٰی میں یہ فرمایا ہے کہ بھلائی سے روکنے سے مقصود اسلام سے روکنا ہے کیونکہ ولید بن مغیرہ اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں سے کہتا تھا کہ اگر تم میں سے کوئی اسلام میں داخل ہوا تو میں اسے اپنے مال میں سے کچھ نہ دوں گا ۔(ف12)فاجر بدکار ۔
عُتُلٍّ ۢ بَعۡدَ ذٰلِكَ زَنِيۡمٍۙ ﴿13﴾
درشت خُو (ف۱۳) اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا (ف۱٤)
Foul mouthed, and in addition to all this, of improper lineage.
दरुश्त ख़ू इस सब पर तुर्रा ये कि उस की असल में ख़ता
Darusht khoo is sab par turra yeh ke us ki asal mein khata
(ف13) بد مزاج ، بد زبان ۔(ف14)یعنی بدگوہر تو اس سے افعالِ خبیثہ کا صدور کیا عجب ۔ مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جا کر کہا کہ محمّد (مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے میرے حق میں دس باتیں فرمائیں ہیں نوکو تومیں جانتا ہوں کہ مجھ میں موجود ہیں لیکن دسویں بات اصل میں خطا ہونے کی اس کا حال مجھے معلوم نہیں یا تو مجھے سچ سچ بتادے ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا اس پر اس کی ماں نے کہا کہ تیرا باپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ مرجائے گا تو اس کا مال غیر لے جائیں گے تو میں نے ایک چرواہے کوبلالیا تو اس سے ہے ۔ فائدہ : ولید نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں ایک جھوٹا کلمہ کہا تھا مجنون ، اس کے جواب میں اللہ تعالٰی نے اس کے دس واقعی عیوب ظاہر فرمادیئے اس سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی فضیلت اور شانِ محبوبیّت معلوم ہوتی ہے ۔
اَنۡ كَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِيۡنَؕ ﴿14﴾
اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے،
Because he* has some wealth and sons. (Walid bin Mugaira, who cursed the Holy Prophet.)
جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں (ف۱۵) کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف۱٦)
When Our verses are recited to him, he says, “These are stories of earlier people.”
जब उस पर हमारी आयतें पढ़ी जाएं कहता है कि अगलों की कहानियां हैं
Jab us par hamari aayatein padhi jayein kehta hai ke aglon ki kahaniyan hain
(ف15)یعنی قرآنِ مجید ۔(ف16)اور اس سے اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ جھوٹ ہے اور اس کا یہ کہنا اس کا نتیجہ ہے کہ ہم نے اس کو مال اور اولاد دی ۔
سَنَسِمُهٗ عَلَى الۡخُـرۡطُوۡمِ ﴿16﴾
قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے (ف۱۷)
We will soon singe his pig-nose.
क़रीब है कि हम उस की सूर की सी थूथनी पर दाग़ देंगे
Qareeb hai ke hum us ki soor ki si thuthni par daagh denge
(ف17)یعنی اس کا چہرہ بگاڑ دیں گے اوراس کی بد باطنی کی علامت اس کے چہرہ پر نمودار کردیں گے تاکہ اس کےلئے سببِ عار ہو آخرت میں تو یہ سب کچھ ہوگا ہی مگر دنیا میں بھی یہ خبر پوری ہو کر رہی اور اس کی ناک دغیلی ہوگئی کہتے ہیں کہ بدر میں اس کی ناک کٹ گئی کَذَا قِیْلَ خَازِن وَمدَارک وَجَلَالَیْنِ وَ اُعْتُرِاضَ عَلَیْہِ بِاَنَّ وَلِیْداً کَانَ مِنَ المُسْتَہْزِ ئِیۡنَ الَّذِیْنَ مَاتُوْا قَبْلَ بَدْرٍ ۔
بیشک ہم نے انہیں جانچا (ف۱۸) جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھا (ف۱۹) جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کھیت کو کاٹ لیں گے (ف۲۰)
We have indeed tested them the way We had tested the owners of the garden when they swore that they would reap its harvest the next morning.
बेशक हमने उन्हें जानचा जैसा उस बाग़ वालों को जानचा था जब उन्होंने क़सम खाई कि ज़रूर सुबह होते उस खेत को काट लेंगे
Beshak humne unhein jancha jaisa us bagh walon ko jancha tha jab unhon ne qasam khai ke zaroor subah hote us kheth ko kaat lenge
(ف18)یعنی اہلِ مکّہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دعا سے جو آپ نے فرمائی تھی کہ یارب انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں ہوئی تھی چنانچہ اہلِ مکّہ قحط کی ایسی مصیبت میں مبتلا کئے گئے کہ وہ بھوک کی شدّت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ۔(ف19)اس باغ کا نام ضردان تھا یہ باغ صنعاء یمن سے دو فرسنگ کے فاصلہ پر سرِ راہ تھا اس کا مالک ایک مردِ صالح تھا جو باغ کے میوے کثرت سے فقراء کو دیتا تھا جب باغ میں جاتا فقراء کو بلالیتا تمام گرے پڑے میوے فقراء لے لیتے اور باغ میں بستر بچھادیئے جاتے جب میوے توڑے جاتے تو جتنے میوے بستروں پر گرتے وہ بھی فقراء کو دے دیئے جاتے اور جو خالص اپنا حصّہ ہوتا اس سے بھی دسواں حصّہ فقراء کو دے دیتا اسی طرح کھیتی کاٹتے وقت بھی اس نے فقراء کے حقوق بہت زیادہ مقرر کئے تھے اس کے بعد اس کے تین بیٹے وارث ہوئے انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ مال قلیل ہے کنبہ بہت ہے اگر والد کی طرح ہم بھی خیرات جاری رکھیں تو تنگ دست ہوجائیں گے آپس میں مل کر قَسمیں کھائیں کہ صبح تڑکے لوگوں کے اٹھنے سے پہلے باغ چل کر میوے توڑ لیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔(ف20)تاکہ مسکینوں کو خبر نہ ہو ۔
Then when they saw it, they said, “We have indeed strayed.”
फिर जब उसे बोले बेशक हम रास्ता बहक गए
Phir jab use bole beshak hum rasta behak gaye
(ف27)یعنی باغ کو کہ اس میں میوہ کا نام و نشان نہیں ۔(ف28)یعنی کسی اور باغ پر پہنچ گئے ہمارا باغ تو بہت میوہ دار ہے پھر جب غور کیا اور اس کے درو دیوار کو دیکھا اور پہچانا کہ اپنا ہی باغ ہے تو بولے ۔
بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ ﴿27﴾
بلکہ ہم بےنصیب ہوئے (ف۲۹)
“In fact, we are unfortunate.”
बलके हम बे नसीब हुए
Balke hum be naseeb hue
(ف29)اس کے منافع سے مسکینوں کو نہ دینے کی نیّت کرکے ۔
امید ہے ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیں (ف۳۳)
“Hopefully, our Lord will give us a better replacement than this – we now incline towards our Lord.”
उम्मीद है हमें हमारा रब उस से बेहतर बदल दे हम अपने रब की तरफ़ रग़बत लाते हैं
Umeed hai humein hamara Rab us se behtar badal de hum apne Rab ki taraf raghbat late hain
(ف33)اس کے عفوو کرم کی امید رکھتے ہیں ان لوگوں نے صدق و اخلاص سے توبہ کی تو اللہ تعالٰی نے انہیں اس کے عوض اس سے بہتر باغ عطا فرمایا جس کا نام باغِ حیوان تھا اور اس میں کثرتِ پیدوار اور لطافتِ آب و ہوا کا یہ عالَم تھا کہ اس کے انگوروں کا ایک خوشہ ایک گدھے پر بار کیا جاتا تھا ۔
بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس (ف۳٦) چین کے باغ ہیں (ف۳۷)
Indeed for the pious, with their Lord, are Gardens of Serenity.
बेशक डर वालों के लिए उन के रब के पास चैन के बाग़ हैं
Beshak dar walon ke liye un ke Rab ke paas chain ke bagh hain
(ف36)یعنی آخرت میں ۔(ف37)شانِ نزول : مشرکین نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر مرنے کے بعد پھر ہم اٹھائے بھی گئے تو وہاں بھی ہم تم سے اچھے رہیں گے اور ہمارا ہی درجہ بلند ہوگا جیسے کہ دنیا میں ہمیں آسائش ہے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جو آگے آتی ہے ۔
یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی (ف٤۰) کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو (ف٤۱)
Or is it that you have a covenant from Us, right up to the Day of Judgement, that you will get all what you claim?
या तुम्हारे लिए हम पर कुछ क़समें हैं क़यामत तक पहुंचती हुई कि तुम्हें मिलेगा जो कुछ दावा करते हो
Ya tumhare liye hum par kuch qasmen hain qayamat tak pohanchti hui ke tumhein milega jo kuch daawa karte ho
(ف40)جو منقطع نہ ہوں اس مضمون کی ۔(ف41)اپنے لئے ا للہ تعالٰی کے نزدیک خیر و کرامت کا ۔ اب اللہ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خطاب فرماتا ہے ۔
سَلۡهُمۡ اَيُّهُمۡ بِذٰلِكَ زَعِيۡمٌ ۛۚ ﴿40﴾
تم ان سے (ف٤۲) پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے (ف٤۳)
Ask them, who among them is a guarantor for it?
तुम उन से पूछो उन में कौन सा उस का ज़ामिन है
Tum un se poochho un mein kaun sa us ka zamin hai
(ف42)یعنی کفّار سے ۔(ف43)کہ آخرت میں انہیں مسلمانوں سے بہتر یا ان کے برابر ملے گا ۔
یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں (ف٤٤) تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیں (ف٤۵)
Or is it that they have partners in worship? So they should bring their appointed partners, if they are truthful.
या उन के पास कुछ शरीक़ हैं तो अपने शरीकों को ले कर आएं अगर सच्चे हैं
Ya un ke paas kuch shareek hain to apne shareekon ko le kar aayein agar sachche hain
(ف44)جو اس دعوے میں ان کی موافقت کریں اور ذمّہ دار بنیں ۔(ف45)حقیقت میں وہ باطل پر ہیں نہ ان کے پاس کوئی کتاب جس میں یہ مذکور ہو جو وہ کہتے ہیں ، نہ اللہ تعالٰی کا کوئی عہد ، نہ کوئی ان کا ضامن ، نہ موافق ۔
جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے) (ف٤٦) اور سجدہ کو بلائے جائیں گے (ف٤۷) تو نہ کرسکیں گے (ف٤۸)
On the day when the Shin* will be exposed and they will be called to prostrate themselves, they will be unable. (Used as a metaphor)
जिस दिन एक साक़ खोली जाएगी (जिस के मानी अल्लाह ही जानता है) और सज्दा को बुलाए जाएंगे तो न कर सकेंगे
Jis din ek saaq kholi jaye gi (jis ke maani Allah hi jaanta hai) aur sajda ko bulaye jayein ge to na kar saken ge
(ف46)جمھور کے نزدیک کشفِ ساق شدّت و صعوبتِ امر سے عبارت ہے جو روزِ قیامت حساب و جزا کے لئے پیش آئے گی ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ قیامت میں وہ بڑا سخت وقت ہے سلف کا یہی طریقہ ہے کہ وہ اس کے معنٰی میں کلام نہیں کرتے اور یہ فرماتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس سے جو مراد ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف تفویض کرتے ہیں ۔(ف47)یعنی کفّار و منافقین بطریقِ امتحان و توبیخ ۔(ف48)ان کی پشتیں تانبے کے تختے کی طرح سخت ہوجائیں گی ۔
نیچی نگاہیں کیے ہوئے (ف٤۹) ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی، اور بیشک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے (ف۵۰) جب تندرست تھے (ف۵۱)
With lowered eyes, disgrace overcoming them; and indeed they used to be called to prostrate themselves whilst they were healthy.
नीची निगाहें किए हुए उन पर ख़्वारी चढ़ रही होगी, और बेशक दुनिया में सज्दा के लिए बुलाए जाते थे जब तंदरुस्त थे
Neechi nigahein kiye hue un par khuwari chadh rahi hogi, aur beshak duniya mein sajda ke liye bulaye jate the jab tandurust the
(ف49)کہ ان پر ذلّت و ندامت چھائی ہوئی ہوگی ۔(ف50)اور اذانوں اور تکبیروں میں حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کے ساتھ انہیں نماز و سجدے کی دعوت دی جاتی تھی ۔(ف51)باوجود اس کے سجدہ نہ کرتے تھے اسی کا نتیجہ ہے جو یہاں سجدے سے محروم رہے ۔
تو جو اس بات کو (ف۵۲) جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو (ف۵۳) قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے (ف۵٤) جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،
Therefore leave the one who denies this matter, to Me; We shall soon steadily take them away, from a place they do not know.
तो जो इस बात को झुटलाता है उसे मुझ पर छोड़ दो क़रीब है कि हम उन्हें आहिस्ता आहिस्ता ले जाएंगे जहां से उन्हें ख़बर न होगी,
To jo is baat ko jhutlata hai use mujh par chhod do qareeb hai ke hum unhein aahista aahista le jayein ge jahan se unhein khabar na hogi,
(ف52)یعنی قرآنِ مجید کو ۔(ف53)میں اس کو سزا دوں گا ۔(ف54)اپنے عذاب کی طرف اس طرح کہ باوجود معصیّتوں اور نافرمانیوں کے انہیں صحت و رزق سب کچھ ملتا رہے گا اور دمبدم عذاب قریب ہوتاجائے گا ۔
وَاُمۡلِىۡ لَهُمۡؕ اِنَّ كَيۡدِىۡ مَتِيۡنٌ ﴿45﴾
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے (ف۵۵)
And I will give them respite; indeed My plan is very solid.
और मैं उन्हें ढील दूंगा, बेशक मेरी ख़ुफ़िया तदबीर बहुत पक्की है
Aur main unhein dheel doonga, beshak meri khufiya tadbeer bohat pakki hai
تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کرو (ف٦۰) اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا (ف٦۱) جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا (ف٦۲)
Therefore wait for your Lord’s command, and do not be like the one of the fish; who cried out when he was distraught. (Prophet Yunus – peace be upon him.)
तो तुम अपने रब के हुक्म का इंतज़ार करो और उस मछली वाले की तरह न होना जब उस हाल में पुकारा कि उस का दिल घुट रहा था
To tum apne Rab ke hukm ka intezar karo aur us machhli wale ki tarah na hona jab us haal mein pukara ke us ka dil ghut raha tha
(ف60)جو وہ ان کے حق میں فرمائے ۔ اور چندے ان کی ایذاؤں پر صبر کرو ۔ قِیْلَ اِنَّہ مَنْسُوخ بِآٰ یٰۃِ السَّیْفِ(ف61)قوم پر تعجیلِ غضب میں ۔ اور مچھلی والے سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں ۔(ف62)مچھلی کے پیٹ میں غم سے ۔
اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں (ف٦۵) اور کہتے ہیں (ف٦٦) یہ ضرور عقل سے دور ہیں،
And indeed the disbelievers seem as if they would topple you with their evil gaze when they hear the Qur’an, and they say, “He is indeed insane.”
और ज़रूर काफ़िर तो ऐसे मालूम होते हैं कि गोया अपनी बद नज़र लगा कर तुम्हें गिरा देंगे जब कुरआन सुनते हैं और कहते हैं ये ज़रूर अक़्ल से दूर हैं,
Aur zaroor kafir to aise maloom hote hain ke goya apni bad nazar laga kar tumhein gira denge jab Qur'an sunte hain aur kehte hain yeh zaroor aql se door hain,
(ف65)اور بغض و عداوت کی نگاہوں سے گھور گھور کر دیکھتے ہیں ۔شانِ نزول : منقول ہے کہ عرب میں بعض لوگ نظر لگانے میں شہرۂِ آفاق تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ دعوٰی کرکرکے نظر لگاتے تھے اور جس چیز کو انہوں نے گزند پہنچانے کے ارادے سے دیکھا دیکھتے ہی ہلاک ہوگئی ، ایسے بہت واقعات ان کے تجربہ میں آچکے تھے کفّار نے ان سے کہا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نظر لگائیں تو ان لوگوں نے حضور کو بڑی تیز نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ ہم نے اب تک نہ ایسا آدمی دیکھا نہ ایسی دلیلیں دیکھیں اور ان کا کسی چیز کو دیکھ کر حیرت کرنا ہی ستم ہوتا تھا لیکن ان کی یہ تمام جِدّوجُہد کبھی مثل ان کے اور مکائد کے جو رات دن وہ کرتے رہتے تھے بے کار گئی اور اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جس کو نظر لگے اس پر یہ آیت پڑھ کر دم کردی جائے ۔(ف66)براہِ حسد و عناد ، اور لوگوں کو نفرت دلانے کےلئے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں جب آپ کو قرآنِ کریم پڑھتے دیکھتے ہیں ۔
وَمَا هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴿52﴾
اور وہ (ف٦۷) تو نہیں مگر نصیحت سارے جہاں کے لیے (ف٦۸)
Whereas it is not but an advice to the entire creation!
और वो तो नहीं मगर नसीहत सारे जहां के लिए
Aur woh to nahin magar naseehat saare jahan ke liye",
(ف67)یعنی قرآن شریف یا سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔
اَلۡحَـآقَّةُ ۙ ﴿1﴾
وہ حق ہونے والی (ف۲)
The true event!
वह हक होने वाली
Woh Haq hone waali
(ف2)یعنی قیامت جو حق و ثابت ہے اور اس کا وقوع یقینی و قطعی ہے جس میں کوئی شک نہیں ۔
مَا الۡحَـآقَّةُ ۚ ﴿2﴾
کیسی وہ حق ہونے والی (ف۳)
How tremendous is the true event!
कैसी वह हक होने वाली
Kaisi woh Haq hone waali
(ف3)یعنی وہ نہایت عجیب و عظیم الشان ہے ۔
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الۡحَــآقَّةُ ؕ ﴿3﴾
اور تم نے کیا جانا کیسی وہ حق ہونے والی (ف٤)
And what have you understood, how tremendous the true event is!
और तुम ने क्या जाना कैसी वह हक होने वाली
Aur tum ne kya jaana kaisi woh Haq hone waali
(ف4)جس کے اہوال واحوال اور شدائد تک فکرِ انسانی کا طائر پرواز نہیں کر سکتا ۔
كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ وَعَادٌۢ بِالۡقَارِعَةِ ﴿4﴾
ثمود اور عاد نے اس سخت صدمہ دینے والی کو جھٹلایا،
The tribes of Thamud and A’ad denied the event of great dismay. (The Day of Resurrection)
समूद और आद ने उस सख़्त सदमा देने वाली को झुटलाया,
Samood aur Aad ne us sakht sadma dene waali ko jhutlaya,
وہ ان پر قوت سے لگادی سات راتیں اور آٹھ دن (ف٦) لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں (ف۷) دیکھو بچھڑے ہوئے (ف۸) گویا وہ کھجور کے ڈھنڈ (سوکھے تنے) ہیں گرے ہوئے،
He forced it upon them with strength, consecutively for seven nights and eight days – so you would see those people overthrown in it, like trunks of date palms fallen down.
वह उन पर क़ुव्वत से लगा दी सात रातें और आठ दिन लगातार तो उन लोगों को उनमें देखो बिछड़े हुए गोया वह ख़जूर के ढंढ (सूखे तने) हैं गिरे हुए,
Woh un par quwwat se laga di saat raatein aur aath din lagataar to un logon ko un mein dekho bichhde hue goya woh khajoor ke dhund (sookhe tane) hain gire hue,
(ف6)چہار شنبہ سے چہار شنبہ تک آخرِ ماہ شوال میں نہایت تیز سردی کے موسم میں ۔(ف7)یعنی ان دنوں میں ۔(ف8)کہ موت نے انہیں ایسا ڈھا دیا ۔
فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۡۢ بَاقِيَةٍ ﴿8﴾
تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو (ف۹)
So do you see any survivor among them?
तो तुम उनमें किसी को बचा हुआ देखते हो
To tum un mein kisi ko bacha hua dekhte ho
(ف9)کہا گیا ہے کہ آٹھویں روز جب صبح کو وہ سب لوگ ہلاک ہوگئے تو ہواؤں نے انہیں اڑا کر سمندر میں پھینک دیا اور ایک بھی باقی نہ رہا ۔
بیشک جب پانی نے سر اٹھایا تھا (ف۱٤) ہم نے تمہیں (ف۱۵) کشتی میں سوار کیا (ف۱٦)
Indeed when the water swelled up, We boarded you onto the ship.
बेशक जब पानी ने सर उठाया था हम ने तुम्हें कश्ती में सवार किया
Beshak jab paani ne sar uthaya tha hum ne tumhein kashti mein sawar kiya
(ف14)اور وہ درختوں ، عمارتوں ، پہاڑوں اور ہر چیز سے بلند ہوگیا تھا ۔ یہ بیان طوفانِ نوح کا ہے علیہ السلام ۔(ف15)جب کہ تم اپنے آباء کے اصلاب میں تھے حضرت نوح علیہ السلام کی ۔(ف16)اور حضرت نوح علیہ السلام کو اور ان کے ساتھ والوں کو جو انپر ایمان لائے تھے نجات دی اور باقیوں کو غرق کیا ۔
اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے (ف۲۲) اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے (ف۲۳)
And the angels will be on its sides; and on that day, eight angels will carry the Throne of your Lord above them.
और फ़रिश्ते उस के किनारों पर खड़े होंगे और उस दिन तुम्हारे रब का अर्श अपने ऊपर आठ फ़रिश्ते उठाएंगे
Aur Farishte us ke kinaron par khade honge aur us din tumhare Rab ka Arsh apne upar aath Farishte uthayenge
(ف22)یعنی جن فرشتوں کا مسکن آسمان ہے وہ اس کے پھٹنے پر اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے پھر بحکمِ اٰلہی اتر کر زمین کا احاطہ کریں گے ۔(ف23)حدیث شریف میں ہے کہ حاملینِ عرش آج کل چار ہیں روزِ قیامت ان کی تائید کےلئے چار کا اور اضافہ کیا جائے گا آٹھ ہوجائیں گے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ اس سے ملائکہ کی آٹھ صفیں مراد ہیں جن کی تعداد اللہ تعالٰی ہی جانے ۔
اور وہ جو اپنا نامہٴ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا (ف۲۹) کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نوشتہ نہ دیا جاتا،
And whoever is given his book in his left hand – he will say, “Alas, if only my account were not given to me!”
और वह जो अपना नाम-ए-आमाल बाएं हाथ में दिया जाएगा कहेगा हाए किसी तरह मुझे अपना नुश्ता न दिया जाता,
Aur woh jo apna naamah-e-aamaal baayein haath mein diya jaayega kahega haaye kisi tarah mujhe apna nushta na diya jaata,
(ف29)جب اپنے نامۂِ اعمال کو دیکھے گا اور اس میں اپنے بد اعمال مکتوب پائے گا تو شرمندہ و رسوا ہو کر ۔
وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡۚ ﴿26﴾
اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے،
“And had never come to know my account!”
और मैं न जानता कि मेरा हिसाब क्या है,
Aur main na jaanta ke mera hisaab kya hai,
يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ ۚ ﴿27﴾
ہائے کسی طرح موت ہی قصہ چکا جاتی (ف۳۰)
“Alas, if only it had been just death.”
हाए किसी तरह मौत ही क़िस्सा चका जाती
Haaye kisi tarah maut hi qissa chuka jaati
(ف30)اور حساب کےلئے نہ اٹھایا جاتا اور یہ ذلّت و رسوائی پیش نہ آتی ۔
مَاۤ اَغۡنٰى عَنِّىۡ مَالِيَهۡۚ ﴿28﴾
میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال (ف۳۱)
“My wealth did not in the least benefit me.”
मेरे कुछ काम न आया मेरा माल
Mere kuch kaam na aaya mera maal
(ف31)جو میں نے دنیا میں جمع کیا تھا وہ ذرا بھی میرا عذاب ٹال نہ سکا ۔
هَلَكَ عَنِّىۡ سُلۡطٰنِيَهۡۚ ﴿29﴾
میرا سب زور جاتا رہا (ف۳۲)
“All my power has vanished.”
मेरा सब ज़ोर जाता रहा
Mera sab zor jaata raha
(ف32)اور میں ذلیل و محتاج رہ گیا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس سے اسکی مراد یہ ہوگی کہ دنیا میں جو حجّتیں میں کیا کرتا تھا وہ سب باطل ہوگئیں اب اللہ تعالٰی جہنّم کے خازنوں کو حکم دے گا ۔
خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ ۙ ﴿30﴾
اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو (ف۳۳)
It will be said, “Seize him, and shackle him.”
उसे पकड़ो फिर उसे तौक डालो
Use pakdo phir use toq daalo
(ف33)اس طرح کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے ملا کر طوق میں باندھ دو ۔
“Indeed he refused to accept faith in Allah, the Greatest.”
बेशक वह अज़मत वाले अल्लाह पर ईमान न लाता था
Beshak woh azmat wale Allah par imaan na laata tha
(ف36)اس کی عظمت و وحدانیّت کا معتقدنہ تھا ۔
وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِؕ ﴿34﴾
اور مسکین کو کھانے دینے کی رغبت نہ دیتا (ف۳۷)
“And did not urge to feed the needy.”
और मिस्कीन को खाने देने की रग़बत न देता
Aur miskeen ko khane dene ki ragbat na deta
(ف37)نہ اپنے نفس کو ، نہ اپنے اہل کو ، نہ دوسروں کو ۔ اس میں اشارہ ہے کہ وہ بعث کا قائل نہ تھا کیونکہ مسکین کا کھانا دینے والا مسکین سے تو کسی بدلہ کی امید رکھتا ہی نہیں محض رضائے الٰہی و ثوابِ آخرت کی امید پر مسکین کو دیتا ہے اور جو بعث و آخرت پر ایمان ہی نہ رکھتا ہو اسے مسکین کو کھلانے کی کیا غرض ۔
فَلَيۡسَ لَـهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا حَمِيۡمٌۙ ﴿35﴾
تو آج یہاں (ف۳۸) اس کا کوئی دوست نہیں (ف۳۹)
“So he does not have any friend here this day.”
तो आज यहाँ उस का कोई दोस्त नहीं
To aaj yahan us ka koi dost nahi
(ف38)یعنی آخرت میں ۔(ف39)جو اسے کچھ نفع پہنچائے یا شفاعت کرے ۔
وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍۙ ﴿36﴾
اور نہ کچھ کھانے کو مگر دوزخیوں کا پیپ،
“Nor any food except the pus discharged from the people of hell.”
और न कुछ खाने को मगर दोज़ख़ियों का पीप,
Aur na kuch khane ko magar dozakhiyon ka peep,
لَّا يَاۡكُلُهٗۤ اِلَّا الۡخٰطِئُوْنَ ﴿37﴾
اسے نہ کھائیں گے مگر خطاکار (ف٤۰)
“Which none except the guilty shall eat.”
उसे न खाएंगे मगर ख़ताकार
Use na khayenge magar khatakaar
(ف40)کفّارِ بداطوار ۔
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَۙ ﴿38﴾
تو مجھے قسم ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو،
So by oath of the things you see.
तो मुझे क़सम उन चीज़ों की जिन्हें तुम देखते हो,
To mujhe qasam un cheezon ki jinhein tum dekhte ho,
وَمَا لَا تُبۡصِرُوۡنَۙ ﴿39﴾
اور جنہیں تم نہیں دیکھتے (ف٤۱)
And by oath of those you do not see.
और जिन्हें तुम नहीं देखते
Aur jinhein tum nahi dekhte
(ف41)یعنی تمام مخلوقات کی قَسم جو تمہارے دیکھنے میں آئے اس کی بھی ، جو نہ آئے اس کی بھی ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ مَا تُبْصِرُوْنَ سے دنیا اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَ سے آخرت مراد ہے ۔ اس کی تفسیر میں مفسّرین کے اور بھی کئی قول ہیں ۔
اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍۚ ۙ ﴿40﴾
بیشک یہ قرآن ایک کرم والے رسول (ف٤۲) سے باتیں ہیں (ف٤۳)
This Qur’an is the speech of Allah with a gracious Noble Messenger.
बेशक यह कुरआन एक करम वाले रसूल से बातें हैं
Beshak yeh Qur’an ek karam wale Rasool se baatein hain
(ف42)محمّد مصطفٰی حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف43)جو ان کے رب عزَّ و علا نے فرمائیں ۔
اور نہ کسی کاہن کی بات (ف٤٦) کتنا کم دھیان کرتے ہو (ف٤۷)
Nor is it the speech of a soothsayer; how little do you ponder!
और न किसी काहिन की बात कितना कम ध्यान करते हो
Aur na kisi kahin ki baat kitna kam dhyaan karte ho
(ف46)جیسا کہ تم میں سے بعضے کافر اس کتابِ الٰہی کی نسبت کہتے ہیں ۔(ف47)نہ اس کتاب کی ہدایات کو دیکھتے ہو ، نہ اس کی تعلیموں پر غور کرتے ہو کہ اس میں کیسی روحانی تعلیم ہے نہ اس کی فصاحت و بلاغت اور اعجازِ بے مثالی پر غور کرتے ہو جو یہ سمجھو کہ یہ کلام ۔
And indeed We know that some among you are deniers.
और ज़रूर हम जानते हैं कि तुम कुछ झुटलाने वाले हो,
Aur zaroor hum jaante hain ke tum kuch jhutlane wale ho,
وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴿50﴾
اور بیشک وہ کافروں پر حسرت ہے (ف۵۰)
And indeed it is a despair for the disbelievers.
और बेशक वह काफ़िरों पर हसरत है
Aur beshak woh kaafiron par hasrat hai
(ف50)کہ وہ روزِ قیامت جب قرآن پر ایمان لانے والوں کا ثواب اور اس کے انکار کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کا عذاب دیکھیں گے تو اپنے ایمان نہ لانے پر افسوس کریں گے اور حسرت و ندامت میں گرفتار ہوں گے ۔
وَاِنَّهٗ لَحَـقُّ الۡيَقِيۡنِ ﴿51﴾
اور بیشک وہ یقین حق ہے (ف۵۱)
And indeed it is a certain Truth.
और बेशक वह यक़ीन हक़ है
Aur beshak woh yaqeen haq hai
(ف51)کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ ﴿52﴾
تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کی پاکی بولو (ف۵۲)
Therefore (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), proclaim the purity of your Lord, the Greatest.
तो ऐ महबूब तुम अपने अज़मत वाले रब की पाकी बोलो
To aye Mahboob tum apne azmat wale Rab ki paaki bolo",
(ف52)اور اس کاشکر کرو کہ اس نے تمہاری طرف اپنے اس کلامِ جلیل کی وحی فرمائی ۔
سَاَلَ سَآٮِٕلٌ ۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ ﴿1﴾
ایک مانگنے والا وہ عذاب مانگتا ہے،
A requester seeks the punishment that will take place –
एक मांगने वाला वह अज़ाब मांगता है ,
ek maangne wala woh azaab maangta hai ,
لِّلۡكٰفِرِيۡنَ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌ ۙ ﴿2﴾
جو کافروں پر ہونے والا ہے، اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں (ف۲) ،
- Upon the disbelievers – the punishment that none can avert.
जो काफ़िरों पर होने वाला है , उसका कोई टालने वाला नहीं ,
jo kafiron par hone wala hai , uska koi taalne wala nahi ,
(ف2)شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب اہلِ مکّہ کو عذابِ الٰہی کا خوف دلایا تو وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس عذاب کے مستحق کو ن لوگ ہیں ؟ اور یہ کن پر آئے گا ؟ سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھو تو انہوں نے حضور سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دریافت کیا ۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور حضور سے سوال کرنے والا نضر بن حارث تھا ، اس نے دعا کی تھی کہ یارب اگر یہ قرآن حق ہو اور تیرا کلام ہو تو ہمارے اوپر آسمان سے پتّھر برسا ، یا درد ناک عذاب بھیج ۔ ان آیتوں میں ارشاد فرمایا گیا کہ کافر طلب کریں یا نہ کریں عذاب جو ان کےلئے مقدر ہے ضرور آنا ہے ، اسے کوئی ٹال نہیں سکتا ۔
مِّنَ اللّٰهِ ذِى الۡمَعَارِجِؕ ﴿3﴾
وہ ہوگا اللہ کی طرف سے جو بلندیوں کا مالک ہے (ف۳)
From Allah, the Lord of all pinnacles.
वह होगा अल्लाह की तरफ से जो बुलंदियों का मालिक है
woh hoga Allah ki taraf se jo bulandiyon ka malik hai
ملائکہ اور جبریل (ف٤) اس کی بارگاہ کی طرف عروج کرتے ہیں (ف۵) وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے (ف٦)
The angels and Jibreel, ascend towards Him – the punishment will befall on a day which spans fifty thousand years.
मलाइका और जब्रील उसकी बारगाह की तरफ उरूज करते हैं वह अज़ाब उस दिन होगा जिसकी मिक़दार पचास हज़ार बरस है
malaika aur Jibreel uski bargah ki taraf urooj karte hain woh azaab us din hoga jiski miqdar pachaas hazaar baras hai
(ف4)جو فرشتوں میں مخصوص فضل و شرف رکھتے ہیں ۔(ف5)یعنی اس مقامِ قرب کی طرف جو آسمان میں اس کے اوامر کا جائے نزول ہے ۔(ف6)وہ روزِ قیامت ہے جس کے شدائد کافروں کی نسبت تو اتنے دراز ہوں گے اور مومن کےلئے ایک فرض نماز سے بھی سُبک تر ہوگا ۔
فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا ﴿5﴾
تو تم اچھی طرح صبر کرو،
Therefore patiently endure, in the best manner (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him).
तो तुम अछ्छी तरह सब्र करो,
to tum achhi tarah sabr karo,
اِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًا ۙ ﴿6﴾
وہ اسے (ف۷) دور سمجھ رہے ہیں (ف۸)
They deem it to be remote.
वह उसे दूर समझ रहे हैं
woh use door samajh rahe hain
(ف7)یعنی عذاب کو ۔(ف8)اور یہ خیال کرتے ہیں کہ واقع ہونے والا ہی نہیں ۔
اور جتنے زمین میں ہیں سب پھر یہ بدلہ دنیا اسے بچالے،
And all those who are in the earth – then only if the redemption saves him!
और जितने ज़मीन में हैं सब फिर यह बदला दुनिया उसे बचा ले ,
aur jitne zameen mein hain sab phir yeh badla duniya use bacha le ,
كَلَّا ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ ﴿15﴾
ہرگز نہیں (ف۱٤) وہ تو بھڑکتی آگ ہے،
Never! That is indeed a blazing fire.
हरगिज़ नहीं वह तो भड़कती आग है ,
hargiz nahi woh to bhadakti aag hai ,
(ف14)یہ کچھ اس کے کام نہ آئے گا اور کسی طرح وہ عذاب سے بچ نہ سکے گا ۔
نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى ۖۚ ﴿16﴾
کھال اتار لینے والی بلارہی ہے (ف۱۵)
A fire that melts the hide.
खाल उतार लेने वाली बुला रही है
khaal utaar lene wali bula rahi hai
(ف15)نام لے لے کر کہ اے کافر میرے پاس آ ، اے منافق میرے پاس آ ۔
تَدۡعُوۡا مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ ﴿17﴾
اس کو جس نے پیٹھ دی اور منہ پھیرا (ف۱٦)
It calls out to him who reverted and turned away.
उसको जिसने पीठ दी और मुंह फेरा
usko jisne peeth di aur munh phera
(ف16)حق کے قبول کرنے اور ایمان لانے سے ۔
وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى ﴿18﴾
اور جوڑ کر سینت رکھا (محفوظ کرلیا) (ف۱۷)
And accumulated wealth and hoarded it.
और जोड़ कर सेंत रखा (محفوظ कर लिया)
aur jod kar sent rakha (mehfooz kar liya)
(ف17)مال کو ، اور اس کے حقوقِ واجبہ ادا نہ کئے ۔
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ هَلُوۡعًا ۙ ﴿19﴾
بیشک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بےصبرا حریص،
Indeed man is created very impatient, greedy.
बेशक आदमी बनाया गया है बड़ा बेसबरा हरीस,
beshak aadmi banaya gaya hai bada besabra harees,
اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ۙ ﴿20﴾
جب اسے برائی پہنچے (ف۱۸) تو سخت گھبرانے والا ،
Very nervous when touched by misfortune.
जब उसे बुराई पहुंचे तो सख़्त घबराने वाला ,
jab use burai pahunche to sakht ghabrane wala ,
(ف18)تنگ دستی و بیماری وغیرہ کی ۔
وَاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا ۙ ﴿21﴾
اور جب بھلائی پہنچے (ف۱۹) تو روک رکھنے والا (ف۲۰)
And refraining, when good reaches him.
और जब भलाई पहुंचे तो रोक रखने वाला
aur jab bhalai pahunche to rok rakhne wala
(ف19)دولت مندی و مال ۔ (ف20)یعنی انسان کی حالت یہ ہے کہ اسے کوئی ناگوار حالت پیش آتی ہے تو اس پر صبر نہیں کرتا اور جب مال ملتا ہے تو اس کو خرچ نہیں کرتا ۔
And those in whose wealth exists a recognised right,
और वह जिनके माल में एक मालूम हक़ है
aur woh jinke maal mein ek maloom haq hai
(ف22)مراد اس سے زکوٰۃ ہے جس کی مقدار معلوم ہے یا وہ صدقہ جو آدمی اپنے نفس پر معیّن کرے تو اسے معیّن اوقات میں ادا کیا کرے ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صدقاتِ مستحبّہ کےلئے اپنی طرف سے وقت معیّن کرنا شرع میں جائز اور قابلِ مدح ہے ۔
لِّلسَّآٮِٕلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِۙ ﴿25﴾
اس کے لیے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے (ف۲۳)
For those who beg, and for the needy who cannot even ask.
उसके लिए जो मांगे और जो मांग भी न सके तो महरूम रहे
uske liye jo maange aur jo maang bhi na sake to mehroom rahe
(ف23)یعنی دونوں قِسم کے محتاجوں کو دے ، انہیں بھی جو حاجت کے وقت سوال کرتے ہیں اور انہیں بھی جو شرم سے سوال نہیں کرتے اور ان کی محتاجی ظاہر نہیں ہوتی ۔
تو جو ان دو (ف۲٦) کے سوا اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں (ف۲۷)
So those who desire more than this – it is they who are the transgressors.
तो जो इन दो के सिवा और चाहे वही हद से बढ़ने वाले हैं
to jo in do ke siwa aur chahe wahi had se badhne wale hain
(ف26)یعنی زوجات و مملوکات ۔(ف27)کہ حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرتے ہیں ۔مسئلہ : اس آیت سے متعہ ، لواطت ، جانوروں کے ساتھ قضاءِ شہوت اور ہاتھ سے استمناء کی حرمت ثابت ہوتی ہے ۔
اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں (ف۲۸)
And those who protect the property entrusted to them, and their agreements.
और वह जो अपनी अमानतों और अपने अहद की हिफ़ाज़त करते हैं
aur woh jo apni amanaton aur apne ahad ki hifazat karte hain
(ف28)شرعی امانتوں کی بھی اور بندوں کی امانتوں کی بھی اور خَلق کے ساتھ جو عہد ہیں ان کی بھی اور حق کے جو عہد ہیں ان کی بھی نذریں اور قَسمیں بھی اس میں داخل ہیں ۔
(ف30)نماز کا ذکر مکرّر فرمایا گیا ۔ اس میں یہ اظہار ہے کہ نماز بہت اہم ہے یا یہ کہ ایک جگہ فرائض مراد ہیں دوسری جگہ نوافل ۔ اور حفاظت سے مراد یہ ہے کہ اس کے ارکان اور واجبات اور سنّتوں اور مستحبّات کو کامل طور پر ادا کرتے ہیں ۔
تو ان کافروں کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں (ف۳۲)
So what is the matter with these disbelievers, that they stare at you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him)?
तो इन काफ़िरों को क्या हुआ तुम्हारी तरफ़ तेज़ निगाह से देखते हैं
to in kafiron ko kya hua tumhari taraf tez nigah se dekhte hain
(ف32)شانِ نزول: یہ آیت کفّار کی اس جماعت کے حق میں نازل ہوئی جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے گرد حلقے باندھ کر گروہ کے گروہ جمع ہوتے تھے اور آپ کا کلامِ مبارک سنتے اور اس کو جھٹلاتے اور استہزاء کرتے اور کہتے کہ اگر یہ لوگ جنّت میں داخل ہوں گے جیسا کہ محمّد ( مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) فرماتے ہیں تو ہم ضرور ان سے پہلے اس میں داخل ہوں گے ۔ انکے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ ان کافروں کا کیا حال ہے کہ آپ کے پاس بیٹھتے بھی ہیں اور گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھتے بھی ہیں پھر بھی جو آپ سے سنتے ہیں اس سے نفع نہیں اٹھاتے ۔
وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا (ف۵) اور ایک مقرر میعاد تک (ف٦) تمہیں مہلت دے گا (ف۷) بیشک اللہ کا وعدہ جب آتا ہے ہٹایا نہیں جاتا کسی طرح تم جانتے (ف۸)
“He will forgive you some of your sins, and give you respite up to an appointed term; indeed the promise of Allah cannot be averted when it arrives; if only you knew.”
वह तुम्हारे कुछ गुनाह बख़्श देगा और एक मुक़र्रर मियाद तक तुम्हें मोहलत देगा बेशक अल्लाह का वादा जब आता है हटाया नहीं जाता किसी तरह तुम जानते
Woh tumhare kuch gunah bakhsh dega aur ek muqarrar miyaad tak tumhein mohlat dega beshak Allah ka wada jab aata hai hataya nahin jata kisi tarah tum jaante
(ف5)جو تم سے وقتِ ایمان تک صادر ہوئے ہوں گے یا جو بندوں کے حقوق سے متعلق نہ ہوں گے ۔(ف6)یعنی وقتِ موت تک ۔(ف7)کہ اس دوران میں تم پر عذاب نہ فرمائے گا ۔(ف8)اس کو اور ایمان لے آتے ۔
اور میں نے جتنی بار انہیں بلایا (ف۱۲) کہ تو ان کو بخشے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں (ف۱۳) اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے (ف۱٤) اور ہٹ کی (ف۱۵) اور بڑا غرور کیا (ف۱٦)
“And whenever I called them, so that You may forgive them, they always thrust their fingers into their ears, and covered themselves with their clothes, and remained stubborn and were extremely haughty.”
और मैं ने जितनी बार उन्हें बुलाया कि तू उन को बख़्शे उन्होंने अपने कानों में उंगलियाँ दे लीं और अपने कपड़े ओढ़ लिए और हठ की और बड़ा ग़ुरूर किया
Aur maine jitni baar unhein bulaya ke tu unko bakhshe unhon ne apne kaanon mein ungliyan de lein aur apne kapde oodh liye aur hath ki aur bara ghuroor kiya
(ف12)تجھ پر ایمان لانے کی طرف ۔(ف13)تاکہ میری دعوت کو نہ سنیں ۔(ف14)اور منھ چُھپا لئے تاکہ مجھے نہ دیکھیں کیونکہ انہیں دِینِ الٰہی کی طرف نصیحت کرنے والے کو دیکھنا بھی گوارا نہ تھا ۔(ف15)اپنے کفر پر ۔(ف16)اور میری دعوت کو قبول کرنا اپنی شان کے خلاف جانا ۔
پھر میں نے ان سے با علان بھی کہا (ف۱۸) اور آہستہ خفیہ بھی کہا (ف۱۹)
“Then I also told them publicly and also spoke to them softly in private.”
फिर मैं ने उन से बआलान भी कहा और आहिस्ता ख़ुफ़िया भी कहा
Phir maine un se ba-ilaan bhi kaha aur aahista khufiya bhi kaha
(ف18)اور دعوت بالاعلان کی تکرار بھی کی ۔(ف19)ایک ایک سے ، اور کوئی دقیقہ دعوت کا اٹھا نہ رکھا قوم زمانۂِ دراز تک حضرت نو ح علیہ السلام کی تکذیب ہی کرتی رہی تو اللہ تعالٰی نے ان سے بارش روک دی اور ان کی عورتوں کو بانجھ کردیا ، چالیس سال تک انکے مال ہلاک ہوگئے ، جانور مرگئے جب یہ حال ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں استغفار کا حکم دیا ۔
تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو (ف۲۰) وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے (ف۲۱)
“I therefore told them, ‘Seek forgiveness from your Lord; He is indeed Most Forgiving.’
तो मैं ने कहा अपने रब से माफी मांगो वह बड़ा मआफ़ फ़रमाने वाला है
To maine kaha apne Rab se maafi maango woh bara maaf farmane wala hai
(ف20)کفر و شرک سے ، اور ایمان لا کر مغفرت طلب کرو تاکہ اللہ تعالٰی تم پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھولے کیونکہ طاعات میں مشغول ہونا خیر و برکت اور وسعتِ رزق کا سبب ہوتا ہے ۔(ف21)توبہ کرنے والوں کو اگر تم ایمان لائے اور تم نے توبہ کی تو وہ ۔
اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا (ف۲۲) اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا (ف۲۳)
‘And will aid you with wealth and sons, and will create gardens for you and cause rivers to flow for you.’
और माल और बेटों से तुम्हारी मदद करेगा और तुम्हारे लिए बाग़ बना देगा और तुम्हारे लिए नहरें बनाएगा
Aur maal aur beton se tumhari madad karega aur tumhare liye bagh bana dega aur tumhare liye nahrain banayega
(ف22)مال و اولادبکثرت عطا فرمائے گا ۔(ف23)حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے قلّتِ بارش کی شکایت کی ، آپ نے استغفار کا حکم دیا ، دوسرا آیا ، اس نے تنگ دستی کی شکایت کی ، اسے بھی یہی حکم فرمایا ، پھر تیسرا آیا ، اس نے قلّتِ نسل کی شکایت کی ، اس سے بھی یہی فرمایا ، پھر چوتھا آیا ، اس نے اپنی زمین کی قلّتِ پیداوار کی شکایت کی ، اس سے بھی یہی فرمایا ، ربیع بن صبیح جو حاضر تھے انھوں نے عرض کیا چند لوگ آئے قِسم قِسم کی حاجتیں انہوں نے پیش کیں ، آپ نے سب کو ایک ہی جواب دیا کہ استغفار کرو تو آپ نے یہ آیت پڑھی ۔ ( ان حوائج کےلئے یہ قرآنی عمل ہے)
تمہیں کیا ہوا اللہ سے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں کرتے (ف۲٤)
‘What is the matter with you, that you do not desire honour from Allah?’
तुम्हें क्या हुआ अल्लाह से इज़्ज़त हासिल करने की उम्मीद नहीं करते
Tumhein kya hua Allah se izzat hasil karne ki umeed nahin karte
(ف24)اس طرح کہ اس پر ایمان لاؤ ۔
وَقَدۡ خَلَقَكُمۡ اَطۡوَارًا ﴿14﴾
حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح بنایا (ف۲۵)
‘Whereas it is He Who created you in different stages?’
हालाँकि उस ने तुम्हें तरह तरह बनाया
Halaanke us ne tumhein tarah tarah banaya
(ف25)کبھی نطفہ ، کبھی علقہ ، کبھی مضغہ ، یہاں تک کہ تمہاری خلقت کا مل کی ، اس کی آفرینش میں نظر کرنا ، اس کی خالقیّت و قدرت اور اس کی وحدانیّت پر ایمان لانے کو و اجب کرتا ہے ۔
اور ان میں چاند کو روشن کیا (ف۲٦) اور سورج کو چراغ (ف۲۷)
‘And in them, has illuminated the moon, and made the sun a lamp?’
और उन में चाँद को रोशन किया और सूरज को चिराग़
Aur un mein chaand ko roshan kiya aur sooraj ko chiraagh
(ف26)حضرت ابنِ عباس و ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مروی ہے کہ آفتاب و ماہتاب کے چہرے تو آسمانوں کی طرف ہیں اور ہر ایک کی پشت زمین کی طرف تو آسمانوں کی لطافت کے باعث ان کی روشنی تمام آسمانوں میں پہنچتی ہے اگر چہ چاند آسمانِ دنیا میں ہے ۔(ف27)کہ دنیا کو روشن کرتا ہے اور اس کی روشنی چاند کے نور سے قوی تر ہے اور آفتاب چوتھے آسمان میں ہے ۔
نوح نے عرض کی، اے میرے رب! انہوں نے میری نافرمانی کی (ف۳۱) اور (ف۳۲) ایسے کے پیچھے ہولیے جیسے اس کے مال اور اولاد نے نقصان ہی بڑھایا (ف۳۳)
Prayed Nooh, “O my Lord! They have disobeyed me, and they follow the one whose wealth and children increase nothing for him except ruin.”
नूह ने अर्ज़ की, ऐ मेरे रब! उन्होंने मेरी नाफ़रमानी की और ऐसे के पीछे हो लिए जैसे उस के माल और औलाद ने नुक़सान ही बढ़ाया
Nuh ne arz ki, aye mere Rab! unhon ne meri nafarmaani ki aur aise ke peeche ho liye jaise uske maal aur aulaad ne nuqsaan hi badhaya
(ف31)اور میں نے جو ایمان و استغفار کا حکم دیا تھا ، اس کو انہوں نے نہ مانا ۔(ف32)ان کے عوام ، غرباء اور چھوٹے لوگ ، سرکش رؤساء اور اصحابِ اموال و اولاد کے تابع ہوئے ۔(ف33)اور وہ غرورِ مال میں مست ہو کر کفر و طغیان میں بڑھتا رہا ۔
وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا كُبَّارًا ۚ ﴿22﴾
اور (ف۳٤) بہت بڑا داؤں کھیلے (ف۳۵)
“And they carried out a very sinister scheme.”
और बहुत बड़ा दाओं खेले
Aur bohot bara daon kheyle
(ف34)وہ رؤساء ۔(ف35)کہ انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام کی تکذیب کی اور انہیں اور ان کے متّبعین کو ایذائیں پہنچائیں ۔
اور بولے (ف۳٦) ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو (ف۳۷) اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (ف۳۸)
“And they said, ‘Do not ever abandon your Gods – and never abandon Wadd, or Suwa – or Yaghuth or Yauq or Nasr.’”
और बोले हरगिज़ न छोड़ना अपने ख़ुदाओं को और हरगिज़ न छोड़ना वद्द और सुवाअ और यग़ूस और यऊक़ और नसर को
Aur bole hargiz na chhodna apne khudaon ko aur hargiz na chhodna Wadd aur Suwa' aur Yaghoos aur Ya'ooq aur Nasr ko
(ف36)رؤساءِ کفّار اپنے عوام سے ۔(ف37)یعنی ان کی عبادت ترک نہ کرنا ۔(ف38)یہ ان کے بتوں کے نام ہیں جنہیں وہ پوجتے تھے بت تو ان کے بہت تھے مگر یہ پانچ ان کے نزدیک بڑی عظمت والے تھے وَدّ تو مرد کی صورت پر تھا اور سُواع عورت کی صورت پر اور یغوث شیر کی شکل اور یعوق گھوڑے کی اور نسر کرگس کی ، یہ بت قومِ نوح سے منتقل ہو کر عرب میں پہنچے اور مشرکین کے قبائل سے ایک ایک نے ایک ایک کو اپنے لئے خاص کرلیا ۔
اور بیشک انہوں نے بہتوں کو بہکایا (ف۳۹) اور تو ظالموں کو (ف٤۰) زیادہ نہ کرنا مگر گمراہی (ف٤۱)
“And they have misled a large number; and (I pray that) You increase nothing for the unjust except error.”
और बेशक उन्होंने बहुतों को बहकाया और तू ज़ालिमों को ज़्यादा न करना मगर गुमराही
Aur beshak unhon ne bohton ko behkaya aur tu zalimon ko zyada na karna magar gumraahi
(ف39)یعنی یہ بت بہت سے لوگوں کےلئے گمراہی کا سبب ہوئے یا یہ معنٰی ہیں کہ رؤساءِ قوم نے بتوں کی عبادت کا حکم کرکے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ۔(ف40)جوبتوں کو پوجتے ہیں ۔(ف41)یہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا ہے جب انہیں وحی سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ایمان لاچکے قوم میں انکے سوا اور لوگ ایمان لانے والے نہیں تب آپ نے یہ دعا کی ۔
اپنی کیسی خطاؤں پر ڈبوئے گئے (ف٤۲) پھر آگ میں داخل کیے گئے (ف٤۳) تو انہوں نے اللہ کے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پایا (ف٤٤)
Because of their sins they were drowned and then put into the fire; so they did not find any supporter for themselves against Allah. (Punishment in the grave is proven by this verse.)
अपनी कैसी ख़ताओं पर डुबोए गए फिर आग में दाख़िल किए गए तो उन्होंने अल्लाह के मुक़ाबिल अपना कोई मददगार न पाया
Apni kaisi khataon par duboye gaye phir aag mein daakhil kiye gaye to unhon ne Allah ke muqabil apna koi madadgar na paya
(ف42)طوفان میں ۔(ف43)بعد غرق ہونے کے ۔(ف44)جو انہیں عذابِ الٰہی سے بچاسکتا ۔
بیشک اگر تو انہیں رہنے دے گا (ف٤۵) تو تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کے اولاد ہوگی تو وہ بھی نہ ہوگی مگر بدکار بڑی ناشکر (ف٤٦)
“Indeed, if You spare them, they will mislead your bondmen – and their descendants, if any, will be none except the wicked, very ungrateful.”
बेशक अगर तू उन्हें रहने देगा तो तेरे बंदों को गुमराह कर देंगे और उन की औलाद होगी तो वह भी न होगी मगर बदकार बड़ी नाशुक्र
Beshak agar tu unhein rehne dega to tere bandon ko gumraah kar denge aur unki aulaad hogi to woh bhi na hogi magar badkaar badi naashukr
(ف45)اور ہلاک نہ فرمائے گا ۔ (ف46)یہ حضرت نوح علیہ السلام کو وحی سے معلوم ہوچکا تھا اور حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے اور اپنے والدین اور مومنین و مومنات کےلئے دعا فرمائی ۔
اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (ف٤۷) اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو، اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی (ف٤۸)
“O my Lord! Forgive me, and my parents, and the believers who are in my house, and all other Muslim men and Muslim women; and do not increase anything for the unjust except ruin.”
ऐ मेरे रब मुझे बख़्श दे और मेरे माँ बाप को और उसे जो ईमान के साथ मेरे घर में है और सब मुसलमान मर्दों और सब मुसलमान औरतों को, और काफ़िरों को न बढ़ा मगर तबाही
Aye mere Rab mujhe bakhsh de aur mere maan baap ko aur usay jo imaan ke sath mere ghar mein hai aur sab musalman mardon aur sab musalman auraton ko, aur kaafiron ko na badha magar tabaahi",
(ف47)کہ وہ دونوں مومن تھے ۔(ف48)اللہ تعالٰی نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اوران کی قوم کے تمام کفّار کو عذاب سے ہلاک کردیا ۔
تم فرماؤ (ف۲) مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے (ف۳) میرا پڑھنا کان لگا کر سنا (ف٤) تو بولے (ف۵) ہم نے ایک عجیب قرآن سنا (ف٦)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I have received the divine revelation that some jinns attentively listened to my recitation, so they said, ‘We have heard a unique Qur’an.’
तुम फ़रमाओ मुझे वही हुई कि कुछ जिनों ने मेरा पढ़ना कान लगा कर सुना तो बोले हम ने एक अजीब कुरआन सुना
Tum farmaao mujhe wahi hui ke kuch jino ne mera parhna kaan laga kar suna to bole hum ne ek ajeeb Quran suna
(ف2)اے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف3)نصیبین کے ۔ جن کی تعداد مفسّرین نے نو۹ بیان کی ۔(ف4)نمازِ فجر میں بمقامِ نخلہ مکّہ مکرّمہ و طائف کے درمیان ۔ (ف5)وہ جنّ اپنی قوم میں جا کر ۔(ف6)جو اپنی فصاحت و بلاغت و خوبیِ مضامین و علوِّ معنٰی میں ایسا نادر ہے کہ مخلوق کا کوئی کلام اس سے کوئی نسبت نہیں رکھتا اور اس کی یہ شان ہے ۔
اور یہ کہ ہمیں خیال تھا کہ ہرگز آدمی اور جن اللہ پر جھوٹ نہ باندھیں گے (ف۱۰)
‘Whereas we thought that men and jinns would never fabricate a lie against Allah!’
और यह कि हमें ख्याल था कि हरगज़ आदमी और जिन अल्लाह पर झूठ न बांधेंगे
Aur yeh ke humein khayaal tha ke hargiz aadmi aur jin Allah par jhoot na baandhenge
(ف10)اور اس پر افتراء نہ کریں گے اس لئے ہم ان کی باتوں کی تصدیق کرتے تھے جو کچھ وہ شانِ الٰہی میں کہتے تھے اور خداوندِ عالَم کی طرف بی بی اور بچّے کی نسبت کرتے تھے یہاں تک کہ قرآنِ کریم کی ہدایت سے ہمیں ان کا کذب و بہتان ظاہر ہوگیا ۔
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا (ف۱٤) تو اسے پایا کہ (ف۱۵) سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں سے بھردیا گیا ہے (ف۱٦)
‘And we reached the sky, so we found it strongly guarded and filled with comets.’
और यह कि हम ने आसमान को छुआ तो इसे पाया कि सख़्त पहरे और आग की चन गारियों से भर दिया गया है
Aur yeh ke hum ne aasman ko chhua to ise paaya ke sakht pehre aur aag ki chun gaariyon se bhar diya gaya hai
(ف14)یعنی اہلِ آسمان کا کلام سننے کےلئے آسمانِ دنیا پر جانا چاہا ۔(ف15)فرشتوں کے ۔(ف16)تاکہ جنّات کو اہلِ آسمان کی باتیں سننے کےلئے آسمان تک پہنچنے سے روکا جائے ۔
اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت سنی (ف۲٤) اس پر ایمان لائے، تو جو اپنے رب پر ایمان لائے اسے نہ کسی کمی کا خوف (ف۲۵) اور نہ زیادگی کا (ف۲٦)
‘And that when we heard the guidance, we accepted faith in it; so whoever accepts faith in his Lord, has no fear – neither of any loss nor of any injustice.’
और यह कि हमने जब हिदायत सुनी इस पर ईमान लाए, तो जो अपने रब पर ईमान लाए उसे न किसी कमी का ख़ौफ़ और न ज़ियादती का
Aur yeh ke humne jab hidaayat suni is par iman laaye, to jo apne Rab par iman laaye use na kisi kami ka khauf aur na ziadaati ka
(ف24)یعنی قرآنِ پاک ۔(ف25)یعنی نیکیوں یا ثواب کی کمی کا ۔(ف26)بدیوں کی ۔
اور فرماؤ کہ مجھے یہ وحی ہوئی ہے کہ اگر وہ (ف۳۱) راہ پر سیدھے رہتے (ف۳۲) تو ضرور ہم انہیں وافر پانی دیتے (ف۳۳)
And proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I have received the divine revelation that ‘Had they remained upright on the straight path, We would have given them abundant water.’
और फ़रमाओ कि मुझे यह वही हुई है कि अगर वे राह पर सीधे रहते तो जरूर हम उन्हें वाफ़र पानी देते
Aur farmaao ke mujhe yeh wahi hui hai ke agar woh raah par seedhe rahte to zaroor hum unhein waafar paani dete
(ف31)یعنی انسان ۔(ف32)یعنی دِینِ حق و طریقۂِ اسلام پر ۔(ف33)کثیر ۔ مراد وسعتِ رزق ہے اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ سات برس تک وہ بارش سے محروم کردیئے گئے تھے ، معنٰی یہ ہیں کہ اگر وہ لوگ ایمان لاتے تو ہم دنیا میں ان پر رزق وسیع کرتے اور انہیں کثیر پانی اور فراخیِ عیش عنایت فرماتے ۔
اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ (ف۳۹) اس کی بندگی کرنے کھڑا ہوا (ف٤۰) تو قریب تھا کہ وہ جن اس پر ٹھٹھ کے ٹھٹھ ہوجائیں (ف٤۱)
‘And that when Allah’s bondman stood up to worship Him, the jinns had almost crowded upon him.’”
और यह कि जब अल्लाह का बंदा इसकी बंदगी करने खड़ा हुआ तो क़रीब था कि वे जिन इस पर ठठ के ठठ हो जाएँ
Aur yeh ke jab Allah ka banda iski bandagi karne khada hua to qareeb tha ke woh jin is par thath ke thath ho jaayein
(ف39)یعنی سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بطنِ نخلہ میں وقتِ فجر ۔(ف40)یعنی نماز پڑھنے ۔(ف41)کیونکہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عبادت و تلاوت اور آپ کے اصحاب کی اقتداء نہایت عجیب اورپسندیدہ معلو م ہوئی ، اس سے پہلے انہوں نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا اور ایسا بے مثل کلام نہ سنا تھا ۔
مگر اللہ کے پیام پہنچاتا اور اس کی رسالتیں (ف٤۳) اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے (ف٤٤) تو بیشک ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں،
“I only convey the commands from Allah, and His messages; and whoever disobeys the commands of Allah and His Noble Messenger – then indeed for him is the fire of hell, in which they will remain for ever and ever.”
मगर अल्लाह के पैग़ाम पहुँचाता और इसकी रसालतें और जो अल्लाह और इसके रसूल का हुक्म न माने तो बेशक उनके लिए जहन्नम की आग है जिस में हमेशा हमेशा रहें,
Magar Allah ke paighaam pohchata aur iski risalatain aur jo Allah aur iske Rasool ka hukm na maane to beshak unke liye Jahannam ki aag hai jis mein hamesha hamesha rahen,
(ف43)یہ میرا فرض ہے جس کو انجام دیتا ہوں ۔(ف44)اور ان پر ایمان نہ لائے ۔
یہاں تک کہ جب دیکھیں گے (ف٤۵) جو وعدہ دیا جاتا ہے تو اب جان جائیں گے کہ کس کے مددگار کمزور اور کس کی گنتی کم (ف٤٦)
Till the time when they will see what they are promised – so they will now come to know whose aide is weak, and who is lesser in number.
यहाँ तक कि जब देखेंगे जो वादा दिया जाता है तो अब जान जाएँगे कि किस का मददगार कमज़ोर और किस की गिनती कम
Yahan tak ke jab dekhenge jo wada diya jaata hai to ab jaan jaayenge ke kis ka madadgaar kamzor aur kis ki ginti kam
(ف45)وہ عذاب ۔(ف46)کافر کی یا مومن کی ، یعنی اس روز کافر کا کوئی مددگار نہ ہوگا اور مومن کی مدد اللہ تعالٰی اور اس کے انبیاء اور ملائکہ سب فرمائیں گے ۔شانِ نزول : نضر بن حارث نے کہا تھا کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اس کے جواب میں اگلی آیت نازل ہوئی ۔
تم فرماؤ میں نہیں جانتا آیا نزدیک ہے وہ جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا میرا رب اسے کچھ وقفہ دے گا (ف٤۷)
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I do not know whether what you are promised is close or if my Lord will postpone it for a while.”
तुम फ़रमाओ मैं नहीं जानता आया नज़दीक है वह जिसका तुम्हें वादा दिया जाता है या मेरा रब इसे कुछ वक़्फ़ा देगा
Tum farmaao main nahi jaanta aaya nazdik hai woh jiska tumhein wada diya jaata hai ya mera Rab ise kuch waqfa dega
(ف47)یعنی وقتِ عذاب کا علم غیب ہے جسے اللہ تعالی ہی جانے ۔
غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر (ف٤۸) کسی کو مسلط نہیں کرتا (ف٤۹)
The All Knowing of all the hidden does not give anyone the control over His secrets.
ग़ैब का जानने वाला तो अपने ग़ैब पर किसी को मसल्लत नहीं करता
Ghaib ka jaanne wala to apne ghaib par kisi ko maslat nahi karta
(ف48)یعنی اپنے غیبِ خاص پر جس کے ساتھ وہ منفرد ہے ۔ (خازن و بیضاوی وغیرہ)(ف49)یعنی اطلاعِ کامل نہیں دیتا جس سے حقائق کا کشفِ تام اعلٰی درجۂِ یقین کے ساتھ حاصل ہو ۔
سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے (ف۵۰) کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرر کر دیتا ہے (ف۵۱)
Except to His chosen Noble Messengers – so He appoints guards in front and behind him. (Allah gave the knowledge of the hidden to the Holy Prophet – peace and blessings be upon him.)
सिवाय अपने पसंदीदा रसूलों के कि उनके आगे पीछे पहरा मुअक्क़र कर देता है
Siwa apne pasandeeda rasoolon ke ke unke aage peeche pehra muakkar kar deta hai
(ف50)تو انہیں غیوب پر مسلط کرتا ہے اور اطلاعِ کامل اور کشفِ تام عطا فرماتا ہے اور یہ علمِ غیب ان کےلئے معجزہ ہوتا ہے ، اولیاء کو بھی اگرچہ غیوب پر اطلاع دی جاتی ہے مگر انبیاء کا علم باعتبارِ کشف و انجلاء اولیاء کے علم سے بہت بلند وبالا وارفع و اعلٰی ہے اور اولیاء کے علوم انبیاء ہی کے وساطت اور انہیں کے فیض سے ہوتے ہیں ۔ معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے وہ اولیاء کےلئے علمِ غیب کا قائل نہیں اس کا خیال باطل اور احادیثِ کثیرہ کے خلاف ہے اور اس آیت سے ان کا تمسّک صحیح نہیں ۔ بیانِ مذکورہ بالا میں اس کا اشارہ کردیا گیا ہے سیّد الرُّسُل خاتمُ الانبیاء محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مرتضٰی رسولوں میں سب سے اعلٰی ہیں اللہ تعالٰی نے آپ کو تمام اشیاء کے علوم عطا فرمائے جیسا کہ صحاح کی معتبر احادیث سے ثابت ہے اور یہ آیت حضور کے اور تمام مرتضٰی رسولوں کےلئے غیب کا علم ثابت کرتی ہے ۔(ف51)فرشتوں کو جو ان کی حفاظت کرتے ہیں ۔
تاکہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیام پہنچا دیے اور جو کچھ ان کے پاس سب اس کے علم میں ہے اور اس نے ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے (ف۵۲)
In order to see that they have conveyed the messages of their Lord – and His knowledge encompasses all whatever they have, and He has kept all things accounted for.
ता कि देख ले कि उन्होंने अपने रब के पैग़ाम पहुँच दिए और जो कुछ उनके पास सब इसके इल्म में है और इसे ने हर चीज़ की गिनती शुमार कर रखी है
Ta ke dekh le ke unhone apne Rab ke paighaam pohcha diye aur jo kuch unke paas sab iske ilm mein hai aur isne har cheez ki ginti shumar kar rakhi hai
"
(ف52)اس سے ثابت ہوا کہ جمیع اشیاء محدود و محصور و متناہی ہیں ۔
يٰۤاَيُّهَا الۡمُزَّمِّلُۙ ﴿1﴾
اے جھرمٹ مارنے والے (ف۲)
O the One Wrapped in piety! (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him)
ऐ झरमट मारने वाले
Ai jharmaṭ maarne wale
(ف2) یعنی اپنے کپڑوں سے لپٹنے والے ۔ اس کے شانِ نزول میں کئی قول ہیں بعض مفسّرین نے کہا کہ ابتداءِ زمانۂِ وحی میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خوف سے اپنے کپڑوں میں لپٹ جاتے تھے ، ایسی حالت میں آپ کو حضرت جبریل نے یٰۤاَ یُّھَاالْمُزَّمِّلُ کہہ کر ندا کی ۔ ایک قول یہ ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم چادر شریف میں لپٹے ہوئے آرام فرما رہے تھے ، اس حالت میں آپ کو ندا کی گئی یٰۤاَ یُّھَاالْمُزَّمِّلُ بہرحال یہ ندا بتاتی ہے کہ محبوب کی ہر ادا پیاری ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنٰی یہ ہیں کہ رداءِ نبوّت و چادرِ ر سالت کے حامل و لائق ۔
قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۙ ﴿2﴾
رات میں قیام فرما (ف۳) سوا کچھ رات کے (ف٤)
Stand up for worship during the night, except for some part of it.
रात में क़ियाम फ़रमा सवा कुछ रात के
Raat mein qiyam farma sawa kuch raat ke
(ف3)نماز اور عبادت کے ساتھ ۔(ف4)یعنی تھوڑا حِصّہ آرام کےلئے ہو ، باقی شب عبادت میں گذاریئے ۔ اب وہ باقی کتنی ہو اس کی تفصیل آگے ارشاد فرمائی جاتی ہے ۔
یا اس پر کچھ بڑھاؤ (ف۵) اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو (ف٦)
Or increase a little upon it, and recite the Qur’an slowly in stages.
या उस पर कुछ बढ़ाओ और कुरआन खूब ठहर ठहर कर पढ़ो
Ya us par kuch barhao aur Quran khoob thehar thehar kar padho
(ف5)مراد یہ ہے کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ خواہ قیام نصف شب سے کم ہو یا نصف شب یا اس سے زیادہ ہو (بیضاوی) مراد اس قیام سے تہجّد ہے جو ابتدائے اسلام میں واجب وبقولے فرض تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے اصحاب شب کو قیام فرماتے اور لوگ نہ جانتے کہ تہائی رات یا آدھی رات یا دو تہائی رات کب ہوئی تو وہ تمام شب قیام میں رہتے اور صبح تک نمازیں پڑھتے ، اس اندیشہ سے کہ قیام قدرِ واجب سے کم نہ ہوجائے یہاں تک کہ ان حضرات کے پاؤں سوج جاتے تھے ، پھر یہ حکم ایک سال کے بعد منسوخ ہوگیا اور اس کا ناسخ بھی اسی سورت میں ہے فَاقْرَءُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ ۔(ف6)رعایتِ وقوف اور ادائے مخارج کے ساتھ اور حروف کو مخارج کے ساتھ تا بہ امکانِ صحیح ادا کرنا نماز میں فرض ہے ۔
اِنَّا سَنُلۡقِىۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا ﴿5﴾
بیشک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں گے (ف۷)
Indeed We shall soon ordain a heavy responsibility upon you.
बेशक अंक़रीब हम तुम पर एक भारी बात डालेंगे
Beshak anqareeb hum tum par ek bhaari baat daalenge
(ف7)یعنی نہایت جلیل و باعظمت ۔ مراد اس سے قرآنِ مجید ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ ہم آپ پر قرآن نازل فرمائیں گے جس میں اوامر ، نواہی اور تکالیفِ شاقّہ ہیں جو مکلّفین پر بھاری ہوں گے ۔
بیشک رات کا اٹھنا (ف۸) وہ زیادہ دباؤ ڈالتا ہے (ف۹) اور بات خوب سیدھی نکلتی ہے (ف۱۰)
Indeed getting up in the night is tougher, and the words flow with strength.
बेशक रात का उठना वह ज्यादा दबाव डालता है और बात खूब सीधी निकलती है
Beshak raat ka uthna woh zyada dabao daalta hai aur baat khoob seedhi nikalti hai
(ف8)سونے کے بعد ۔(ف9)بہ نسبت دن کی نماز کے ۔(ف10)کیونکہ وہ وقت سکون و اطمینان کا ہے ، شور و شغب سے امن ہوتی ہے ، اخلاص تام و کامل ہوتا ہے ، ریاء و نمائش کا موقع نہیں ہوتا ۔
اور اپنے رب کا نام یاد کرو (ف۱۲) اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو (ف۱۳)
And remember the name of your Lord and, leaving others, devote yourself solely to Him.
और अपने रब का नाम याद करो और सब से टूट कर उसी के हो रहो
Aur apne Rab ka naam yaad karo aur sab se toot kar usi ke ho raho
(ف12)رات و دن کے جملہ اوقات میں تسبیح ، تہلیل ، نماز ، تلاوتِ قرآن شریف ، درسِ علم وغیرہ کے ساتھ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنٰی یہ ہیں کہ اپنی قرأت کی ابتداء میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھو ۔(ف13)یعنی عبادت میں انقطاع کی صفت ہو کہ دل اللہ تعالٰی کے سوا اور کسی طرف مشغول نہ ہو ، سب علاقہ قطع ہوجائیں ، اسی کی طرف توجہ رہے ۔
بیشک تمہارا رب جانتا ہے کہ تم قیام کرتے ہو کبھی دو تہائی رات کے قریب، کبھی آدمی رات، کبھی تہائی اور ایک جماعت تمہارے ساتھ والی (ف۲۸) اور اللہ رات اور دن کا اندازہ فرماتا ہے، اسے معلوم ہے کہ اے مسلمانو! تم سے رات کا شمار نہ ہوسکے گا (ف۲۹) تو اس نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی اب قرآن میں سے جتنا تم پر آسان ہو اتنا پڑھو (ف۳۰) اسے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ تم میں سے بیمار ہوں گے اور کچھ زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل تلاش کرنے (ف۳۱) اور کچھ اللہ کی راہ میں لڑتے ہوں گے (ف۳۲) تو جتنا قرآن میسر ہو پڑھو (ف۳۳) اور نماز قائم رکھو (ف۳٤) اور زکوٰة دو اور اللہ کو اچھا قرض دو (ف۳۵) اور اپنے لیے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پاؤ گے، اور اللہ سے بخشش مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Indeed your Lord knows that you stand up in prayer, sometimes almost two-thirds of the night, and sometimes half the night or sometimes a third of it – and also a group of those along with you; Allah keeps measure of the night and day; He knows that you, O Muslims, will not be able to measure the night, so He has inclined towards you with mercy – therefore recite from the Qur’an as much as is easy for you; He knows that soon some of you will fall ill, and some will travel in the land seeking the munificence of Allah, and some will be fighting in Allah’s cause; therefore recite from the Qur’an as much as is easy for you, and establish prayer and pay the obligatory charity, and lend an excellent loan to Allah; and whatever good you send ahead for yourselves, you will find it with Allah, better and having a great reward; and seek forgiveness from Allah; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
बेशक तुम्हारा रब जानता है कि तुम क़ियाम करते हो कभी दो तिहाई रात के करीब, कभी आदमी रात, कभी तिहाई और एक जमात तुम्हारे साथ वाली और अल्लाह रात और दिन का अंदाज़ा फ़रमाता है, उसे मालूम है कि ऐ मुसलमानो! तुम से रात का शुमार न हो सकेगा तो उसने अपनी महर से तुम पर रजु’ फ़रमाई अब कुरआन में से जितना तुम पर आसान हो उतना पढ़ो उसे मालूम है कि अंक़रीब कुछ तुम में से बीमार होंगे और कुछ ज़मीन में सफ़र करेंगे अल्लाह का फ़ज़ल तलाश करने और कुछ अल्लाह की राह में लड़ते होंगे तो जितना कुरआन मयस्सर हो पढ़ो और नमाज़ क़ायम रखो और ज़क़ात दो और अल्लाह को अच्छा क़रज़ दो और अपने लिए जो भलाई आगे भेजोगे उसे अल्लाह के पास बेहतर और बड़े सवाब की पाओगे, और अल्लाह से बख़्शिश माँगो, बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है।
Beshak tumhara Rab jaanta hai ke tum qiyam karte ho kabhi do tihai raat ke qareeb, kabhi aadmi raat, kabhi tihai aur ek jamaat tumhare saath wali aur Allah raat aur din ka andaza farmaata hai, use maaloom hai ke ai Musalmano! Tum se raat ka shumaar na ho sakega to usne apni mehr se tum par rajoo’ farmaai ab Quran mein se jitna tum par aasan ho utna padho use maaloom hai ke anqareeb kuch tum mein se beemar honge aur kuch zameen mein safar karenge Allah ka fazl talaash karne aur kuch Allah ki raah mein larte honge to jitna Quran mayassar ho padho aur namaaz qayam rakho aur zakaat do aur Allah ko achha qarz do aur apne liye jo bhalai aage bhejoge use Allah ke paas behtar aur bade sawab ki pao ge, aur Allah se bakhshish mango, beshak Allah bakhshne wala meherban hai.",
(ف28) تمہارے اصحاب کی ، وہ بھی قیامِ لیل میں آپ کا اتباع کرتے ہیں ۔(ف29)اور ضبطِ اوقات نہ کرسکو گے ۔(ف30)یعنی شب کا قیام معاف فرمایا ۔مسئلہ : اس آیت سے نماز میں مطلق قراء ت کی فرضیّت ثابت ہوئی ۔ مسئلہ : اقل درجۂِ قراء ت مفروض ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتیں ہیں ۔(ف31)یعنی تجارت یا طلبِ علم کےلئے ۔(ف32)ان سب پر رات کا قیام دشوار ہوگا ۔(ف33)اس سے پہلا حکم منسوخ کیا گیا اور یہ بھی پنج گانہ نمازوں سے منسوخ ہوگیا ۔(ف34)یہاں نماز سے فرض نمازیں مراد ہیں ۔(ف35)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس قرض سے مراد زکوٰۃ کے سوا راہِ خدا میں خرچ کرنا ہے ، صلہ رحمی میں اور مہمان داری میں اور یہ بھی کہا گیا کہ اس سے تمام صدقات مراد ہیں جنہیں اچھی طرح مالِ حلا ل سے خوش دِلی کے ساتھ راہِ خد امیں خرچ کیا جائے ۔
يٰۤاَيُّهَا الۡمُدَّثِّرُۙ ﴿1﴾
اے بالا پوش اوڑھنے والے! (ف۲)
O the Cloaked One! (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him)
ऐ आला पोश ओढ़ने वाले!
Ae bala posh oṛhne wale!
(ف2)یہ خطاب حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوہے ۔شانِ نزول : حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا میں کوہِ حرا پر تھا کہ مجھے ندا کی گئی یَامُحَمَّدْ اِنِّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا کچھ نہ پایا ، اوپر دیکھا ، ایک شخص آسمان زمین کے درمیان بیٹھا ہے (یعنی وہی فرشتہ جس نے ندا کی تھی ) یہ دیکھ کر مجھ پر رعب ہوا اور میں خدیجہ کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ مجھے بالا پوش اڑھاؤ انھوں نے اڑھا دیا تو جبریل آئے ، انھوں نے کہا یٰاَ یُّھَاالْمُدَّثِّرُ ۔
قُمۡ فَاَنۡذِرۡۙ ﴿2﴾
کھڑے ہوجاؤ (ف۳) پھر ڈر سناؤ (ف٤)
Rise up and warn!
खड़े हो जाओ फिर डर सुनाओ
Khade ho jao phir dar sunao
(ف3)اپنی خواب گاہ سے ۔ (ف4)قوم کو عذابِ الٰہی کا ایمان نہ لانے پر ۔
وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡۙ ﴿3﴾
اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو (ف۵)
And proclaim the Purity of your Lord.
और अपने रब ही की बढ़ाई बोलो
Aur apne Rab hi ki barhai bolo
(ف5)جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اللہ اکبر فرمایا ، حضرت خدیجہ نے بھی حضور کی تکبیرسن کر تکبیر کہی اور خوش ہوئیں اور انہیں یقین ہوا کہ وحی آئی ۔
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡۙ ﴿4﴾
اور اپنے کپڑے پاک رکھو (ف٦)
And keep your clothes clean.
और अपने कपड़े पाक रखो
Aur apne kapde paak rakho
(ف6)ہر طرح کی نجاست سے کیونکہ نماز کےلئے طہارت ضروری ہے اور نماز کے سوا اور حالتوں میں بھی کپڑے پاک رکھنا بہتر ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ اپنے کپڑے کو تاہ کیجئے ، ایسے دراز نہ ہوں جیسی کہ عربوں کی عادت ہے کیونکہ بہت زیادہ دراز ہونے سے چلنے پھرنے میں نجس ہونے کا احتمال رہتا ہے ۔
وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡۙ ﴿5﴾
اور بتوں سے دور رہو،
And stay away from idols.
और बुतों से दूर रहो,
Aur buton se door rho,
وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُۙ ﴿6﴾
اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو (ف۷)
And do not favour others in order to receive more.
और ज्यादा लेने की नीयत से किसी पर एहसान न करो
Aur zyada lene ki niyat se kisi par ehsaan na karo
(ف7)یعنی جیسے کہ دنیا میں ہدیئے اور نیوتے دینے کا دستور ہے کہ دینے والا یہ خیال کرتا ہے کہ جس کو میں نے دیا ہے وہ اس سے زیادہ مجھے دے دے گا ، اس قِسم کے نیوتے اور ہدیئے شرعاً جائز ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس سے منع فرمایا گیا کیونکہ شانِ نبوّت بہت ارفع واعلٰی ہے اور اس منصبِ عالی کے لائق یہی ہے کہ جس کو جو دیں وہ محض کرم ہو اس سے لینے یا نفع حاصل کرنے کی نیت نہ ہو ۔
وَ لِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡؕ ﴿7﴾
اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو (ف۸)
And for the sake of your Lord, patiently endure.
और अपने रब के लिए सब्र किए रहो
Aur apne Rab ke liye sabr kiye rho
(ف8)اوامر و نواہی اور ان ایذاؤں پر جو دِین کی خاطر آپ کو برداشت کرنی پڑیں ۔
فَاِذَا نُقِرَ فِى النَّاقُوۡرِۙ ﴿8﴾
پھر جب صور پھونکا جائے گا (ف۹)
So when the Trumpet will be blown.
फिर जब सूर फूँका जाएगा
Phir jab soor phoonka jaega
(ف9)مراد اس سے بقولِ صحیح نفخۂِ ثانیہ ہے ۔
فَذٰلِكَ يَوۡمَٮِٕذٍ يَّوۡمٌ عَسِيۡرٌۙ ﴿9﴾
تو وہ دن کڑا (سخت) دن ہے،
So that is a tough day.
तो वह दिन कड़ा (सख्त) दिन है,
To woh din kaṛa (sakht) din hai,
عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ غَيۡرُ يَسِيۡرٍ ﴿10﴾
کافروں پر آسان نہیں (ف۱۰)
Not easy upon the disbelievers.
काफ़िरों पर आसान नहीं
Kafiron par aasan nahi
(ف10)اس میں اشارہ ہے کہ وہ دن بفضلِ الٰہی مومنین پر آسان ہوگا ۔
ذَرۡنِىۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا ۙ ﴿11﴾
اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا (ف۱۱)
Leave him to Me, the one whom I created single.
उसे मुझ पर छोड़ जिसे मैंने अकेला पैदा किया
Use mujh par chhod jise maine akela paida kiya
(ف11)اس کی ماں کے پیٹ میں بغیر مال و اولاد کے ۔ شانِ نزول : یہ آیت ولید بن مغیرہ مخزومی کے حق میں نازل ہوئی وہ اپنی قوم میں وحیدکے لقب سے ملقّب تھا ۔
وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا ۙ ﴿12﴾
اور اسے وسیع مال دیا (ف۱۲)
And gave him vast wealth.
और उसे وسیع माल दिया
Aur use wasee maal diya
(ف12)کھیتیاں اور کثیر مویشی اور تجارتیں ۔ مجاہدسے منقول ہے کہ وہ ایک لاکھ دینار نقد کی حیثیّت رکھتا تھا اور طائف میں اس کا ایسا بڑا باغ تھا جو سال کے کسی وقت پھلوں سے خالی نہ ہوتا تھا ۔
وَّبَنِيۡنَ شُهُوۡدًا ۙ ﴿13﴾
اور بیٹے دیے سامنے حاضر رہتے (ف۱۳)
And gave him sons present before him.
और बेटे दिए सामने حاضر रहते
Aur betay diye samne haazir rhte
(ف13)جن کی تعداد دس تھی اور چونکہ مالدار تھے انہیں کسبِ معاش کےلئے سفر کی حاجت نہ تھی اس لئے سب باپ کے سامنے رہتے ، ان میں تین مشرّف بہ اسلام ہوئے ، خالد اور ہشام اور ولید ابنِ ولید ۔
وَّمَهَّدتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا ۙ ﴿14﴾
اور میں نے اس کے لیے طرح طرح کی تیاریاں کیں (ف۱٤)
And made several preparations for him.
और मैंने उसके लिए तरह तरह की तैयारियाँ कीं
Aur maine us ke liye tarah tarah ki tayariyan ki
(ف14)جاہ بھی دیا اور ر یاست بھی عطا فرمائی ، عیش بھی دیا اور طولِ عمر بھی ۔
And said, “This is nothing but magic learnt from earlier men.”
फिर बोला यह तो वही जादू है उगलो से सीखा,
Phir bola yeh to wahi jaadu hai uglo se seekha,
اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِؕ ﴿25﴾
یہ نہیں مگر آدمی کا کلام (ف۱۷)
“This is nothing but the speech of a man.”
यह नहीं मगर आदमी का कलाम
Yeh nahi magar aadmi ka kalaam
(ف17)شانِ نزول : جب حٰمۤ تَنْزِیْلُ الْکِتَابِ مِنَ اللہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ نازل ہوئی اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مسجد میں تلاوت فرمائی ، ولید نے سنا اور اس قوم کی مجلس میں آکر اس نے کہا کہ خدا کی قَسم میں نے محمّدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ابھی ایک کلام سنا ، نہ وہ آدمی کا ، نہ جن کا ، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد و دلکشی ہے ، وہ کلام سب پر غالب رہے گا ، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا اور ان میں مشہور ہوگیا کہ ولید آبائی دِین سے برگشتہ ہوگیا ، ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمّہ لیا اور اس کے پاس آکر بہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ، ولید نے کہا کیا غم ہے ؟ ابوجہل نے کہا ، غم کیسے نہ ہو تو بوڑھا ہوگیاہے ، قریش تیرے خرچ کےلئے روپیہ جمع کردیں گے ، انہیں خیال ہے کہ تو نے محمّد (مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے کلام کی تعریف اس لئے کی ہے کہ تجھے ان کے دستر خوان کا بچا کھانا مل جائے ، اس پر اسے بہت طیش آیا اور کہنے لگا کہ کیا قریش کو میرے مال و دولت کا حال معلوم نہیں ہے اور کیا محمّد ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اور ان کے اصحاب نے کبھی سیر ہو کر کھانا بھی کھایا ہے ، ان کے دستر خوان پر کیا بچے گا ، پھر ابوجہل کے ساتھ اٹھا اور قوم میں آکر کہنے لگا تمہیں خیال ہے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) مجنون ہیں ، کیا تم نے ان میں کبھی دیوانگی کی کوئی بات دیکھی ؟ سب نے کہا ہر گز نہیں ،کہنے لگا تم انہیں کاہن سمجھتے ہو ، کیا تم نے انہیں کبھی کہانت کرتے دیکھاہے ؟ سب نے کہا نہیں ، کہا تم انہیں شاعر گمان کرتے ہو ،کیا تم نے کبھی انہیں شعر کہتے پایا ؟ سب نے کہا نہیں ،کہنے لگا تم انہیں کذّاب کہتے ہو ،کیا تمہارے تجربہ میں کبھی انہوں نے جھوٹ بولا ؟ سب نے کہا نہیں ، اور قریش میں آپ کا صدق و دیانت ایسا مشہور تھا کہ قریش آپ کو امین کہا کرتے تھے ، یہ سن کر قریش نے کہا ، پھر بات کیا ہے تو ولید سوچ کر بولا کہ بات یہ ہے کہ وہ جادو گر ہیں ، تم نے دیکھا ہوگا کہ انکی بدولت رشتہ دار رشتہ دار سے ، باپ بیٹے سے جدا ہوجاتے ہیں ، بس یہی جادو گر کا کام ہے اور جو قرآن وہ پڑھتے ہیں وہ دل میں اثر کر جاتا ہے ، اس کا باعث یہ ہے کہ وہ جادو ہے ۔ اس آیتِ کریمہ میں اس کا ذکر فرمایا گیا ۔
سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ ﴿26﴾
کوئی دم جاتا ہے کہ میں اسے دوزخ میں دھنساتا ہوں،
I will soon fling him into hell.
कोई दम जाता है कि मैं उसे दोज़ख में धंसाता हूँ,
Koi dam jata hai ke mai use dozakh mein dhansata hoon,
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا سَقَرُؕ ﴿27﴾
اور تم نے کیا جانا دوزخ کیا ہے،
And what have you understood, what hell is!
और तुम ने क्या जाना दोज़ख क्या है,
Aur tum ne kya jana dozakh kya hai,
لَا تُبۡقِىۡ وَ لَا تَذَرُۚ ﴿28﴾
نہ چھوڑے نہ لگی رکھے (ف۱۸)
It neither leaves, nor spares.
न छोड़े न लगी रखे
Na chhode na lagi rakhe
(ف18)یعنی نہ کسی مستحقِ عذاب کو چھوڑے ، نہ کسی کے جسم پر گوشت پوست کھال لگی رہنے دے ، بلکہ مستحقِ عذاب کو گرفتار کرے اور گرفتار کو جَلائے اور جب جل جائیں پھر ویسے ہی کردیئے جائیں ۔
اور ہم نے دوزخ کے داروغہ نہ کیے مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی یہ گنتی نہ رکھی مگر کافروں کی جانچ کو (ف۲۱) اس لیے کہ کتاب والوں کو یقین آئے (ف۲۲) اور ایمان والوں کا ایمان بڑھے (ف۲۳) اور کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے اور دل کے روگی (مریض) (ف۲٤) اور کافر کہیں اس اچنبھے کی بات میں اللہ کا کیا مطلب ہے، یونہی اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ (ف۲۵) تو نہیں مگر آدمی کے لیے نصیحت،
We have not appointed the guards of hell, except angels; and did not keep this number except to test the disbelievers – in order that the People given the Book(s) may be convinced, and to increase the faith of the believers – and so that the People given the Book(s) and the Muslims may not have any doubt – and so that those in whose hearts is a disease and the disbelievers, may say, “What does Allah mean by this amazing example?” This is how Allah sends astray whomever He wills, and guides whomever He wills; and no one knows the armies of Allah except Him; and this is not but an advice to man.
और हमने दोज़ख के दारोग़ा न किए मगर फ़रिश्ते, और हमने उनकी यह गिनती न रखी मगर काफ़िरों की जाँच को इस लिए कि किताब वालों को यकीन आए और ईमान वालों का ईमान बढ़े और किताब वालों और मुसलमानों को कोई शक न रहे और दिल के रोगी (मरीज़) और काफ़िर कहीं इस अचम्भे की बात में अल्लाह का क्या मतलब है, यूंही अल्लाह गुमराह करता है जिसे चाहे और हिदायत फ़रमाता है जिसे चाहे, और तुम्हारे रब के लश्करों को इसके सिवा कोई नहीं जानता, और वह तो नहीं मगर आदमी के लिए नसीहत,
Aur humne dozakh ke darogha na kiye magar farishte, aur humne un ki yeh ginti na rakhi magar kafiron ki jaanch ko is liye ke kitaab walon ko yaqeen aaye aur iman walon ka iman badhe aur kitaab walon aur musalmanon ko koi shak na rahe aur dil ke rogi (mareez) aur kafir kahin is achambhe ki baat mein Allah ka kya matlab hai, yunhi Allah gumraah karta hai jise chahe aur hidaayat farmata hai jise chahe, aur tumhare Rab ke lashkaron ko is ke siwa koi nahi jaanta, aur woh to nahi magar aadmi ke liye naseehat,
(ف21)کہ حکمتِ الٰہی پر اعتماد نہ کرکے اس تعداد میں کلام کریں اور کہیں انیس کیوں ہوئے ۔(ف22)یعنی یہود کو یہ تعداد اپنی کتابوں کے موافق دیکھ کر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدق کا یقین حاصل ہو ۔(ف23)یعنی اہلِ کتاب میں سے جو ایمان لائے ان کا اعتقاد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ اور زیادہ ہو اور جان لیں کہ حضور جو کچھ فرماتے ہیں وہ وحیِ الٰہی ہے اس لئے کُتُبِ سابقہ سے مطابق ہوتی ہے ۔(ف24)جن کے دلوں میں نفاق ہے ۔(ف25) یعنی جہنّم اور اس کی صفت یا آیاتِ قرآن ۔
كَلَّا وَالۡقَمَرِۙ ﴿32﴾
ہاں ہاں چاند کی قسم،
Yes, never!* By oath of the moon. (Hell will never spare the disbelievers).
हाँ हाँ चाँद की कसम,
Haan haan chaand ki qasam,
وَالَّيۡلِ اِذۡ اَدۡبَرَۙ ﴿33﴾
اور رات کی جب پیٹھ پھیرے،
And by oath of the night when it turns back.
और रात की जब पीठ फेरें,
Aur raat ki jab peeth phere,
وَالصُّبۡحِ اِذَاۤ اَسۡفَرَۙ ﴿34﴾
اور صبح کی جب اجا لا ڈالے (ف۲٦)
And by oath of the morning, when it spreads light.
اسے جو تم میں چاہے، کہ آگے آئے (ف۲۷) یا پیچھے رہے (ف۲۸)
For the one among you who wishes to come forward or stay back.
उसे जो तुम में चाहे, कि आगे आए या पीछे रहे
Use jo tum mein chahe, ke aage aaye ya peeche rahe
(ف27)خیر یا جنّت کی طرف ایمان لا کر ۔(ف28) کفر اختیار کرکے اور برائی و عذاب میں گرفتار ہو ۔
كُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِيۡنَةٌ ۙ ﴿38﴾
ہر جان اپنی کرنی (اعمال) میں گروی ہے،
Every soul is mortgaged for its own deeds.
हर जान अपनी करनी (अमाल) में गिरवी है,
Har jaan apni karni (amaal) mein girovi hai,
اِلَّاۤ اَصۡحٰبَ الۡيَمِيۡنِۛ ؕ ﴿39﴾
مگر دہنی طرف والے (ف۲۹)
Except those on the right side.
मगर दहनी तरफ वाले
Magar dahni taraf wale
(ف29)یعنی مومنین وہ گروی نہیں ، وہ نجات پانے والے ہیں اور انہوں نے نیکیاں کرکے اپنے آپ کو آزاد کرالیا ہے وہ اپنے رب کی رحمت سے منتفع ہیں ۔
فِىۡ جَنّٰتٍ ۛ يَتَسَآءَلُوۡنَۙ ﴿40﴾
باغوں میں پوچھتے ہیں،
In Gardens, they seek answers,
बागों में पूछते हैं,
Baagon mein poochte hain,
عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَۙ ﴿41﴾
مجرموں سے ،
- From the guilty.
मुजरिमों से,
Mujrimon se,
مَا سَلَـكَكُمۡ فِىۡ سَقَرَ ﴿42﴾
تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی،
“What took you into the hell?”
तुम्हें क्या बात दोज़ख में ले गई,
Tumhein kya baat dozakh mein le gayi,
قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ ﴿43﴾
وہ بولے ہم (ف۳۰) نماز نہ پڑھتے تھے،
They said, “We never used to offer the prayer.”
वह बोले हम नमाज़ न पढ़ते थे,
Woh bole hum namaz na parhte the,
(ف30)دنیا میں ۔
وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَۙ ﴿44﴾
اور مسکین کو کھانا نہ دیتے تھے (ف۳۱)
“Nor used to feed the needy.”
और मसीन को खाना न देते थे
Aur maseen ko khana na dete the
(ف31)یعنی مساکین پر صدقہ نہ کرتے تھے ۔
وَكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَـآٮِٕضِيۡنَۙ ﴿45﴾
اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے،
“And used to dwell on evil matters with those who think evilly.”
और बेहूदा फिक्र वालों के साथ बेहूदा फिकरें करते थे,
Aur behuda fikr walon ke sath behuda fikren karte the,
وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِۙ ﴿46﴾
اور ہم انصاف کے دن کو (ف۳۲) جھٹلاتے رہے،
“And used to deny the Day of Justice.”
और हम इंसाफ़ के दिन को झुठलाते रहे,
Aur hum insaaf ke din ko jhutlate rahe,
(ف32)جس میں اعمال کا حساب ہوگا اور جزا دی جائے گی ۔ مراد اس سے روزِ قیامت ہے ۔
حَتّٰٓى اَتٰٮنَا الۡيَقِيۡنُؕ ﴿47﴾
یہاں تک کہ ہمیں موت آئی،
“Till death overcame us.”
यहाँ तक कि हमें मौत आई,
Yahan tak ke hume maut aayi,
فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَؕ ﴿48﴾
تو انہیں سفارشیوں کی سفارش کام نہ دے گی (ف۳۳)
So the intercession of the intercessors will not benefit them. (The disbelievers will not have any intercessor.)
तो उन्हें सिफ़ारिशियों की सिफ़ारिश काम न देगी
To unhein sifaarishiyon ki sifaarish kaam na degi
(ف33)یعنی انبیاء ، ملائکہ ، شہداء ، صالحین جنہیں اللہ تعالٰی نے شافع کیا ہے ، وہ ایمانداروں کی شفاعت کریں گے ، کافروں کی شفاعت نہ کریں گے ، تو جو ایمان نہیں رکھتے انہیں شفاعت بھی میسّرنہ آئے گی ۔
So what is the matter with them that they turn away from the advice?
तो उन्हें क्या हुआ नसीहत से मुँह फेरते हैं
To unhein kya hua naseehat se munh pherte hain
(ف34)یعنی مواعظِ قرآن سے اعراض کرتے ہیں ۔
كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ ۙ ﴿50﴾
گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں،
As if they were startled donkeys –
गोया वह भड़क़े हुए गधे हों,
Goya woh bhadke hue gadhe hon,
فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ؕ ﴿51﴾
کہ شیر سے بھاگے ہوں (ف۳۵)
Fleeing away from a lion.
कि शेर से भागे हों
Ke sher se bhage hon
(ف35)یعنی مشرکین نادانی و بے وقوفی میں گدھے کی مثل ہیں ، جس طرح شیر کو دیکھ کر وہ بھاگتاہے اسی طرح یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تلاوتِ قرآن سن کر بھاگتے ہیں ۔
بلکہ ان میں کا ہر شخص چاہتا ہے کہ کھلے صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیے جائیں (ف۳٦)
Rather each one of them desires that he should be given open Books.
बल्कि उनमें का हर शख़्स चाहता है कि खुले सहीफ़े उसके हाथ में दे दिए जाएँ
Balki unmein ka har shakhs chahta hai ke khule sahife us ke haath mein de diye jaayein
(ف36) کفّارِ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ ہم ہر گز آپ کا اتباع نہ کریں گے جب تک کہ ہم میں ہر ایک کے پاس اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک ایک کتاب نہ آئے جس میں لکھا ہو کہ یہ اللہ تعالٰی کی کتاب ہے ، فلاں بن فلاں کے نام ، ہم اس میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اتباع کا حکم دیتے ہیں ۔
کیا آدمی (ف۳) یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے،
Does man assume that We will never assemble his bones?
क्या आदमी यह समझता है कि हम हरग़ज़ उसकी हड्डियाँ जमा न फ़रमाएँगे,
Kya aadmi ye samajhta hai ke hum hargiz uski haddiyan jama na farmaenge,
(ف3)یہاں آدمی سے مراد کافر منکِرِ بعث ہے ۔شانِ نزول : یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا تھا کہ اگر میں قیامت کا دن دیکھ بھی لوں جب بھی نہ مانوں اور آپ پر ایمان نہ لاؤں کیا اللہ تعالٰی بکھری ہوئی ہڈیاں جمع کردے گا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کے معنٰی یہ ہیں کہ کیا اس کافر کا یہ گمان ہے کہ ہڈیاں بکھرنے اور گلنے اور ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں ملنے اور ہواؤں کے ساتھ اڑ کر دور دراز مقامات میں منتشر ہوجانے سے ایسی ہوجاتی ہیں کہ ان کا جمع کرنا کافر ہماری قدرت سے باہر سمجھتا ہے؟ یہ خیالِ فاسد اس کے دل میں کیوں آیا اوراس نے کیوں نہیں جانا کہ جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے وہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر ضرور قادر ہے ؟۔
کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک بنادیں (ف٤)
Surely yes, why not? We can properly make all his phalanxes.
क्यों नहीं हम क़ादिर हैं कि उसके पूर ठिक बना दें
Kyun nahin hum qadir hain ke uske poore theek bana dein
(ف4)یعنی اس کی انگلیاں جیسی تھیں بغیرفرق کے ویسی ہی کردیں اور ان کی ہڈیاں ان کے موقع پر پہنچا دیں ، جب چھوٹی چھوٹی ہڈیاں اس طرح ترتیب دے دی جائیں تو بڑی کا کیا کہنا ۔
بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کی نگاہ کے سامنے بدی کرے (ف۵)
In fact man wishes to commit evil in front of Him!
बल्कि आदमी चाहता है कि उसकी निगाह के सामने बदी करे
Balki aadmi chahta hai ke uski nigaah ke samne badi kare
(ف5)انسان کا انکارِ بعث اشتباہ اور عدمِ دلیل کے باعث نہیں ہے بلکہ حال یہ ہے کہ وہ بحالِ سوال بھی اپنے فجور پر قائم رہنا چاہتا ہے کہ بطریقِ استہزاء پوچھتا ہے ، قیامت کا دن کب ہوگا (جمل) حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے اس آیت کے معنٰی میں فرمایا کہ آدمی بعث و حساب کو جھٹلاتا ہے جو اس کے سامنے ہے ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ آدمی گناہ کو مقدّم کرتا ہے اور توبہ کو مؤخر ، یہی کہتا رہتا ہے اب توبہ کروں گا ، اب عمل کروں گا ، یہاں تک کہ موت آجاتی ہے اور وہ اپنی بدیوں میں مبتلا ہوتا ہے ۔
يَسۡـَٔـلُ اَيَّانَ يَوۡمُ الۡقِيٰمَةِؕ ﴿6﴾
پوچھتا ہے قیامت کا دن کب ہوگا،
He asks, “When will be the Day of Resurrection?”
पूछता है क़यामत का दिन कब होगा,
Pooshta hai Qayamat ka din kab hoga,
فَاِذَا بَرِقَ الۡبَصَرُۙ ﴿7﴾
پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی (ف٦)
So when the eyes will be blinded by light.
फिर जिस दिन आँख चोंधीाएगी
Phir jis din aankh chondhiyaayegi
(ف6)اور حیرت دامن گیر ہوگی ۔
وَخَسَفَ الۡقَمَرُۙ ﴿8﴾
اور چاند کہے گا (ف۷)
And the moon will be eclipsed.
और चाँद कहेगा
Aur chaand kahega
(ف7)تاریک ہوجائے گا اور روشنی زایل ہوجائے گی ۔
وَجُمِعَ الشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُۙ ﴿9﴾
اور سورج اور چاند ملادیے جائیں گے (ف۸)
And the sun and the moon will be united.
और सूरज और चाँद मिला दिए जाएँगे
Aur sooraj aur chaand mila diye jaayenge
(ف8)یہ ملا دینا یا طلوع میں ہوگا دونوں مغرب سے طلوع کریں گے یا بے نور ہونے میں ۔
On that day man will cry out, “Where shall I flee?”
उस दिन आदमी कहेगा किधर भाग कर जाऊँ
Us din aadmi kahega kidhar bhaag kar jaun
(ف9)جو اس حال و دہشت سے رہائی ملے ۔
كَلَّا لَا وَزَرَؕ ﴿11﴾
ہرگز نہیں کوئی پناہ نہیں،
Never! There is no refuge!
हरग़ज़ नहीं कोई पनाह नहीं,
Hargiz nahin koi panah nahin,
اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَٮِٕذِ اۨلۡمُسۡتَقَرُّ ؕ ﴿12﴾
اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے (ف۱۰)
On that day, the station is only towards your Lord.
उस दिन तेरे रब ही की तरफ़ जा कर ठहरना है
Us din tere Rab hi ki taraf ja kar thehrna hai
(ف10)تمام خَلق اس کے حضور حاضر ہوگی ، حساب کیا جائے گا ، جزا دی جائے گی ، جسے چاہے گا اپنی رحمت سے جنّت میں داخل کرے گا ، جسے چاہے گا اپنے عدل سے جہنّم میں ڈالے گا ۔
جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو (ف۱۲)
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), do not cause your tongue to move along with the Qur’an in order to learn it faster.
जब भी न सुना जाएगा तुम याद करने की जल्दी में कुरआन के साथ अपनी ज़बान को हड़क़त न दो
Jab bhi na suna jaayega tum yaad karne ki jaldi mein Quran ke saath apni zubaan ko harkat na do
(ف12)شانِ نزول : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جبریلِ امین کے وحی پہنچا کر فارغ ہونے سے قبل یاد فرمانے کی سعی فرماتے تھے اور جلد جلد پڑھتے اور زبانِ اقدس کو حرکت دیتے اللہ تعالٰی نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مشقّت گوارا نہ فرمائی اور قرآنِ کریم کا سینہ پاک میں محفوظ کرنا اور زبانِ اقدس پر جاری فرمانا اپنے ذمّۂِ کرم پر لیا اور یہ آیتِ کریمہ نازل فرما کر حضور کومطمئن فرمادیا ۔
اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗۚ ۖ ﴿17﴾
بیشک اس کا محفوظ کرنا (ف۱۳) اور پڑھنا (ف۱٤) ہمارے ذمہ ہے ،
Indeed assembling the Qur’an and reading it are upon Us.
تو جب ہم اسے پڑھ چکیں (ف۱۵) اس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو (ف۱٦)
So when We have read it, you should thereupon follow what is read.
तो जब हम इसे पढ़ चुके उस वक़्त उस पढ़े हुए की इताबा करो
To jab hum ise parh chuke us waqt us padhe hue ki itba karo
(ف15)یعنی آپ کے پاس وحی آچکے ۔(ف16)اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وحی کو باطمینان سنتے اور جب وحی تمام ہوجاتی تب پڑھتے تھے ۔
ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗؕ ﴿19﴾
پھر بیشک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمہ ہے ،
Then indeed, to explain its details to you is upon Us.
फिर बेशक इसकी बारिकियों का तुम पर ज़ाहिर फ़रमाना हमारे ज़िम्मे है,
Phir beshak iski bareekiyon ka tum par zahir farmaana humare zimme hai,
كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ ۙ ﴿20﴾
کوئی نہیں بلکہ اے کافرو! تم پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز دوست رکھتے ہو (ف۱۷)
None except you, O disbelievers – you love what you have, the fleeting one.
कोई नहीं बल्कि ऐ काफ़र! तुम पाँव तले की (दुनियावी फ़ायदे को) अज़ीज़ दोस्त रखते हो
Koi nahin balki aye kaafir! Tum paon tale ki (duniyavi faide ko) azeez dost rakhte ho
(ف17)یعنی تمہیں دنیا کی چاہت ہے ۔
وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ ؕ ﴿21﴾
اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو،
And you have forsaken the Hereafter.
और आख़िरत को छोड़ बैठे हो,
Aur aakhirat ko chhod baithe ho,
وُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ نَّاضِرَةٌ ۙ ﴿22﴾
کچھ منہ اس دن (ف۱۸) تر و تازہ ہوں گے (ف۱۹)
On that day, some faces will shine with freshness.
कुछ मुँह उस दिन तर व ताज़ा होंगे
Kuch munh us din tar o taza honge
(ف18)یعنی روزِ قیامت ۔(ف19)اللہ تعالٰی کے نعمت و کرم پر مسرور چہروں سے انوارِ تاباں یہ مومنین کا حال ہے ۔
اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ۚ ﴿23﴾
اپنے رب کا دیکھتے (ف۲۰)
Looking toward their Lord.
अपने रब का देखते
Apne Rab ka dekhte
(ف20)انہیں دیدارِ الٰہی کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا ۔مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ آخرت میں مومنین کو دیدارِ الٰہی میسّر آئے گا ، یہی اہلِ سنت کا عقیدہ و قرآن و حدیث و اجماع کے دلائلِ کثیرہ اس پر قائم ہیں اور یہ دیدار بے کیف اور بے جہت ہوگا ۔
وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍۢ بَاسِرَةٌ ۙ ﴿24﴾
اور کچھ منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے (ف۲۱)
And on that day some faces will be ghastly.
और कुछ मुँह उस दिन बिगड़े हुए होंगे
Aur kuch munh us din bigre hue honge
(ف21)سیاہ تاریک غمزدہ مایوس ۔ یہ کفّار کا حال ہے ۔
تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ ؕ ﴿25﴾
سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہ کی جائے گی جو کمر کو توڑ دے (ف۲۲)
Knowing that they will be subjected to a torment that breaks the backs.
समझते होंगे कि उनके साथ वही की जाएगी जो कमर को तोड़ दे
Samajhte honge ke unke saath wahi ki jaayegi jo kamar ko tod de
(ف22)یعنی وہ شدّتِ عذاب اور ہولناک مصائب میں گرفتار کئے جائیں گے ۔
كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِىَۙ ﴿26﴾
ہاں ہاں جب جان گلے کو پہنچ جائے گی (ف۲۳)
Yes indeed, when the soul will reach up to the throat.
हाँ हाँ जब जान गले को पहुँच जाएगी
Haan haan jab jaan gale ko pohanch jaayegi
(ف23)وقتِ موت ۔
وَقِيۡلَ مَنۡ رَاقٍۙ ﴿27﴾
اور کہیں گے (ف۲٤) کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرے (ف۲۵)
And they will say, “Is there any one – any magician?”
और कहेंगे कि है कोई झाड़ फ़ूंक करे
Aur kahenge ke hai koi jhaad phoonk kare
(ف24)جو اس کے قریب ہوں گے ۔(ف25)تاکہ اس کو شفا حاصل ہو ۔
وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُۙ ﴿28﴾
سمجھ لے گا کہ یہ جدائی کی گھڑی ہے (ف۲۷)
And he will realise that this is the parting.
समझ लेगा कि यह जुदाई की घड़ी है
Samajh lega ke ye judaai ki ghadi hai
(ف26)یعنی مرنے والا ۔(ف27)کہ اہلِ مکّہ اور دنیا سب سے جدا ئی ہوتی ہے ۔
وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ ﴿29﴾
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی (ف۲۸)
And one shin will curl up with the other shin.
और पिंडली से पिंडली लपेट जाएगी
Aur pindli se pindli lapet jaayegi
(ف28)یعنی موت کی کرب و سختی سے پاؤں باہم لپٹ جائیں گے ، یا یہ معنٰی ہیں کہ دونوں پاؤں کفن میں لپیٹے جائیں گے ، یایہ معنٰی ہیں کہ شدّت پر شدّت ہوگی ایک دنیا کی جدائی کی سختی اس کے ساتھ موت کی کرب یا ایک موت کی سختی اور اس کے ساتھ آخرت کی سختیاں ۔
اِلٰى رَبِّكَ يَوۡمَٮِٕذِ اۨلۡمَسَاقُؕ ﴿30﴾
اس دن تیرے رب ہی کی طرف ہانکنا ہے (ف۱۹)
On that day, the herding will be only towards your Lord.
उस दिन तेरे रब ही की तरफ़ हांकना है
Us din tere Rab hi ki taraf haankna hai
(ف29)یعنی بندوں کا رجوع اسی کی طرف ہے ، وہی ان میں فیصلہ فرمائے گا ۔
فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰىۙ ﴿31﴾
اس نے (ف۳۰) نہ تو سچ مانا (ف۳۱) اور نہ نماز پڑھی ،
Neither did he believe it to be true, nor did he offer the prayer.
उसने न तो सच माना और न नमाज़ पढ़ी,
Usne na to sach maana aur na namaz padhi,
(ف30)یعنی انسان نے ۔ مراد اس سے ابوجہل ہے ۔(ف31)رسالت اور قرآن کو ۔
وَلٰڪِنۡ كَذَّبَ وَتَوَلّٰىۙ ﴿32﴾
ہاں جھٹلایا اور منہ پھیرا (ف۳۲)
But he denied and turned away.
हाँ झुठलाया और मुँह फ़ेरा
Haan jhuthlaya aur munh pheraa
(ف32)ایمان لانے سے ۔
ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰٓى اَهۡلِهٖ يَتَمَطّٰىؕ ﴿33﴾
پھر اپنے گھر کو اکڑتا چلا (ف۳۳)
Then he went back to his home in pride.
फिर अपने घर को अकड़ता चला
Phir apne ghar ko akarta chala
(ف33)متکبّرانہ شان سے ۔ اب اس سے خطاب فرمایا جاتا ہے ۔
اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىۙ ﴿34﴾
تیری خرابی آ لگی اب آ لگی ،
Your ruin has come close, still closer.
तेरी ख़राबी आ लगी अब आ लगी,
Teri kharabi aa lagi ab aa lagi,
ثُمَّ اَوۡلٰى لَكَ فَاَوۡلٰىؕ ﴿35﴾
پھر تیری خرابی آ لگی اب آ لگی ، (ف۳٤)
Again your ruin has come close, still closer.
फिर तेरी ख़राबी आ लगी अब आ लगी,
Phir teri kharabi aa lagi ab aa lagi,
(ف34)جب یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بطحا میں ابوجہل کے کپڑے پکڑ کر اس سے فرمایا اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی ثُمَّ اَوْلٰی لَکَ فَاَوْلٰی یعنی تیری خرابی آلگی ، اب آلگی ، پھر تیری خرابی آلگی ، اب آلگی تو ابوجہل نے کہا اے محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا تم مجھے دھمکاتے ہو تم اور تمہارا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، مکّہ کے پہاڑوں کے درمیان میں سب سے زیادہ قوی ، زور آور ، صاحبِ شوکت و قوّت ہوں مگر قرآنی خبر ضرور پوری ہونی تھی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ضرور پورا ہونے والا تھا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور جنگِ بدر میں ابوجہل ذلّت و خواری کے ساتھ بُری طرح مارا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : ہر امّت میں ایک فرعون ہوتا ہے ، میری امّت کا فرعون ابوجہل ہے ، اس آیت میں اس کی خرابی کا ذکر چار مرتبہ فرمایا گیا ہے ، پہلی خرابی بے ایمانی کی حالت میں ذلّت کی موت ، دوسری خرابی قبر کی سختیاں اور وہاں کی شدّتیں ، تیسری خرابی مرنے کے بعد اٹھنے کے وقت گرفتارِ مصائب ہونا ، چوتھی خرابی عذابِ جہنّم ۔
کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا (ف۳۵)
Does man assume that he will be let loose?
क्या आदमी इस घमंड में है कि आज़ाद छोड़ दिया जाएगा
Kya aadmi is ghamand mein hai ke aazad chhod diya jaayega
(ف35)کہ نہ اس پر امرونہی وغیرہ کے احکام ہوں ، نہ وہ مرنے کے بعد اٹھایا جائے ، نہ اس سے اعمال کا حساب لیا جائے ، نہ اسے آخرت میں جزا دی جائے ایسا نہیں ۔
بیشک آدمی پر (ف۲) ایک وقت وہ گزرا کہ کہیں اس کا نام بھی نہ تھا (ف۳)
Indeed there has been a time for man, when even his name did not exist anywhere.
बेशक आदमी पर एक वक्त वह गुज़रा कि कहीं उसका नाम भी न था
Beshak aadmi par ek waqt woh guzra ke kahin uska naam bhi na tha
(ف2)یعنی حضرت آدم علیہ السلام پر نفخِ روح سے پہلے چالیس سال کا ۔(ف3)کیونکہ وہ ایک مٹی کا خمیر تھا ، نہ کہیں اس کا ذکر تھا ، نہ اس کو کوئی جانتا تھا ، نہ کسی کو اس کی پیدائش کی حکمتیں معلوم تھیں ۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے انسان سے جنس مراد ہے اوروقت سے اس کے حمل میں رہنے کا زمانہ ۔
اپنی منتیں پوری کرتے ہیں (ف۱۵) اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی (ف۱٦) پھیلی ہوئی ہے (ف۱۷)
They fulfil their pledges, and fear a day the evil of which is widespread.
अपनी मनतें पूरी करते हैं और उस दिन से डरते हैं जिसकी बुराई फैली हुई है
Apni mantain poori karte hain aur us din se darte hain jis ki burai phaili hui hai
(ف15)مَنّت یہ ہے کہ جو چیز آدمی پر واجب نہیں ہے وہ کسی شرط سے اپنے اوپر واجب کرے ، مثلاً یہ کہے کہ اگر میرا مریض اچھا ہو یا میرا مسافر بخیر واپس آئے تو میں راہِ خدا میں اس قدر صدقہ دوں گا یا اتنی رکعتیں نماز پڑھوں گا ۔ اس نذر کی وفا واجب ہوتی ہے ۔ معنٰی یہ ہیں کہ وہ لوگ طاعت و عبادت اور شرع کے واجبات کے عامل ہیں حتّٰی کہ جو طاعاتِ غیرِ واجبہ اپنے اوپر نذر سے واجب کرلیتے ہیں ، اس کو بھی ادا کرتے ہیں ۔(ف16)یعنی شدّت اور سختی ۔(ف17)قتادہ نے کہا کہ اس دن کی شدّت اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ آسمان پھٹ جائیں گے ، ستارے گِر پڑیں گے ، چاند سورج بے نور ہوجائیں گے ، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ، کوئی عمارت باقی نہ رہے گی ۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے اعمال ریا و نمائش سے خالی ہیں ۔
اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر (ف۱۸) مسکین اور یتیم اور اسیر کو،
And out of His love, they give food to the needy, the orphan and the prisoner.
और खाना खिलाते हैं उसकी मोहब्बत पर मिस्किन और यतीम और असीर को,
Aur khana khilate hain us ki mohabbat par miskeen aur yateem aur aseer ko,
(ف18)یعنی ایسی حالت میں جب کہ خود انہیں کھانے کی حاجت و خواہش ہو اور بعض مفسّرین نے اس کے یہ معنٰی لئے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی محبّت میں کھلاتے ہیں ۔شانِ نزول: یہ آیت حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ان کی کنیز فضّہ کے حق میں نازل ہوئی ، حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالٰی عنھما بیمار ہوئے ، ان حضرات نے ان کی صحت پر تین روزوں کی نذر مانی ، اللہ تعالٰی نے صحت دی ، نذر کی وفا کا وقت آیا ، سب صاحبوں نے روزے رکھے ، حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک یہودی سے تین صاع (صاع ایک پیمانہ ہے) جَو لائے ، حضرت خاتونِ جنّت نے ایک ایک صاع تینوں دن پکایا لیکن جب افطار کاوقت آیا اور روٹیاں سامنے رکھیں تو ایک روز مسکین ، ایک روز یتیم ، ایک روز اسیر آیا اور تینوں روز یہ سب روٹیاں ان لوگوں کو دے دی گئیں اور صرف پانی سے افطار کرکے اگلا روزہ رکھ لیا گیا ۔
کیسے شیشے چاندی کے (ف۲۳) ساقیوں نے انہیں پورے اندازہ پر رکھا ہوگا (ف۲٤)
Glass made from silver, which the servers have filled up to the measure.
कैसे शीशे चाँदी के साक़ियों ने उन्हें पूरे अंदाज़े पर रखा होगा
Kaise sheeshe chaandi ke saaqiyon ne unhein poore andaazay par rakha hoga
(ف23)جنّتی برتن چاندی کے ہوں گے اور چاندی کے رنگ اور اس کے حسن کے ساتھ مثل آبگینہ کے صاف شفاف ہوں گے ،کہ ان میں جو چیز پی جائے گی وہ باہر سے نظر آئے گی ۔(ف24)یعنی پینے والوں کی رغبت کی قدر ، نہ اس سے کم ، نہ زیادہ ۔ یہ سلیقہ جنّتی خدام کے ساتھ خاص ہے دنیا کے ساقیوں کو میسّرنہیں ۔
اور اس میں وہ جام پلائے جائیں گے (ف۲۵) جس کی ملونی ادرک ہوگی (ف۲٦)
And in Paradise they will be given to drink cups, filled with a mixture of ginger.
और इसमें वह जाम पिलाए जाएंगे जिसकी मिलोनी अदरक होगी
Aur ismein woh jaam pilaye jaayenge jis ki miloni adrak hogi
(ف25)شرابِ طہور کے ۔(ف26)اس کی آمیزش سے شراب کی لذّت اور زیادہ ہوجائے گی ۔
عَيۡنًا فِيۡهَا تُسَمّٰى سَلۡسَبِيۡلًا ﴿18﴾
وہ ادرک کیا ہے جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہتے ہیں (ف۲۷)
Which is a spring in Paradise called Salsabeel.
वह अदरक क्या है जन्नत में एक चश्मा है जिसे सलसबीळ कहते हैं
Woh adrak kya hai jannat mein ek chashma hai jise Salsabeel kehte hain
(ف27)مقرّبین تو خالص اسی کو پئیں گے اور باقی اہلِ جنّت کی شرابوں میں اس کی آمیزش ہوگی ۔ یہ چشمہ زیرِ عرش سے جنّتِ عدن ہوتا ہوا تمام جنّتوں میں گذرتا ہے ۔
اور ان کے آس پاس خدمت میں پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے (ف۲۸) جب تو انہیں دیکھے تو انہیں سمجھے کہ موتی ہیں بکھیرے ہوئے (ف۲۹)
Immortal youths shall surround them, waiting upon them; when you see them, you would think they are scattered pearls.
और उनके आस-पास ख़िदमत में फिरेंगे हमेशा रहने वाले लड़के जब तो उन्हें देखें तो उन्हें समझें कि मोती हैं बिखेरे हुए
Aur unke aas paas khidmat mein phirenge hamesha rehne wale ladke jab to unhein dekhen to unhein samjhein ke moti hain bikhere hue
(ف28)جو نہ کبھی مریں گے ، نہ بوڑھے ہوں گے ، نہ ان میں کوئی تغیّر آئے گا ، نہ خدمت سے اکتائیں گے ، ان کے حسن کا یہ عالَم ہوگا ۔(ف29)یعنی جس طرح فرشِ مصفّٰی پر گوہرِ آبدار غلطاں ہو اس حسن و صفا کے ساتھ جنّتی غلمان مشغولِ خدمت ہوں گے ۔
اور جب تو ادھر نظر اٹھائے ایک چین دیکھے (ف۳۰) اور بڑی سلطنت (ف۳۱)
And when you look towards it, you will see serenity and a great kingdom.
और जब तो इधर नज़र उठाए एक चैन देखें और बड़ी सुल्तत
Aur jab to idhar nazar uthaye ek chain dekhein aur badi saltanat
(ف30)جس کا وصف بیان میں نہیں آسکتا ۔(ف31)جس کی حدّ و نہایت نہیں ، نہ اس کو زوال ، نہ جنّتی کو وہاں سے انتقال ۔ وسعت کا یہ عالَم کہ ادنٰی مرتبہ کا جنّتی جب اپنے مِلک میں نظر کرے گا تو ہزار برس کی راہ تک ایسے ہی دیکھے گا جیسے اپنے قریب کی جگہ دیکھتاہو ، شوکت و شکوہ یہ ہوگا کہ ملائکہ بے اجازت نہ آئیں گے ۔
ان کے بدن پر ہیں کریب کے سبز کپڑے (ف۳۲) اور قنا ویز کے (ف۳۳) اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے گئے (ف۳٤) اور انہیں ان کے رب نے ستھری شراب پلائی (ف۳۵)
In it they adorn clothes of fine green silk and gold embroidery; and they are given silver bracelets to wear; and their Lord gave them pure wine to drink.
उनके बदन पर हैं करीब के हरे कपड़े और क़नावीज़ के और उन्हें चाँदी के कंगन पहनाए गए और उन्हें उनके रब ने सुथरी शराब पिलाई
Unke badan par hain kareeb ke hare kapde aur qanaveez ke aur unhein chaandi ke kangan pehnaye gaye aur unhein unke Rab ne suthri sharab pilai
(ف32)یعنی باریک ریشم کے ۔(ف33)یعنی دبیز ریشم کے ۔(ف34)حضرت ابنِ مسیّب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ ہر ایک جنّتی کے ہاتھ میں تین گنگن ہوں گے ، ایک چاندی کا ، ایک سونے کا ، ایک موتی کا ۔(ف35)جو نہایت پاک صاف ، نہ اسے کسی کا ہاتھ لگا، نہ کسی نے چھوا ، نہ وہ پینے کے بعد شرابِ دنیا کی طرح جسم کے اندر سڑ کر بول بنے ، بلکہ اس کی صفائی کا یہ عالَم ہے کہ جسم کے اندر اتر کر پاکیزہ خوشبو بن کر جسم سے نکلتی ہے اہلِ جنّت کو کھانے کے بعدشراب پیش کی جائے گی ، اس کو پینے سے ان کے پیٹ صاف ہوجائیں گے اور جو انہوں نے کھایا ہے وہ پاکیزہ خوشبو بن کر ان کے جسموں سے نکلے گا اور ان کی خواہشیں اور رغبتیں پھرتازہ ہوجائیں گی ۔
تو اپنے رب کے حکم پر صابر رہو (ف٤۰) اور ان میں کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ سنو (ف٤۱)
Therefore stay patient upon your Lord’s command, and do not listen to any of the sinners or ingrates among them.
तो अपने रब के हुक्म पर सब्र रहो और उनमें किसी गुनहगार या नाश्करे की बात न सुनो
To apne Rab ke hukm par sabr raho aur unmein kisi gunahgar ya nashkare ki baat na suno
(ف40)رسالت کی تبلیغ فرما کر اور اس میں مشقّتیں اٹھا کر اور دشمنانِ دِین کی ایذائیں برداشت کرکے ۔(ف41)شانِ نزول : عتبہ بن ربیعہ اور ولید ابنِ مغیرہ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ اس کام سے باز آئیے یعنی دِین سے ، عتبہ نے کہا کہ آپ ایسا کریں تو میں اپنی بیٹی آپ کو بیاہ دوں اور بغیر مَہر کے آپ کی خدمت میں حاضر کردوں ، ولید نے کہا کہ میں آپ کو اتنا مال دے دوں کہ آپ راضی ہوجائیں ۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی ۔
اور کچھ میں اسے سجدہ کرو (ف٤۳) اور بڑی رات تک اس کی پاکی بولو (ف٤٤)
And prostrate for Him in a part of the night, and proclaim His purity into the long night.
और कुछ में उसे सजदा करो और बड़ी रात तक उसकी पाकी बोलो
Aur kuch mein use sajda karo aur badi raat tak uski paaki bolo
(ف43)یعنی مغرب و عشاء کی نمازیں پڑھو ۔ اس آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر فرمایا گیا ۔(ف44)یعنی فرائض کے بعد نوافل پڑھتے رہو ، اس میں نمازِ تہجد آگئی ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا ہے کہ مراد ذکرِ لسانی ہے مقصود یہ ہے کہ روز و شب کے تمام اوقات میں دل اور زبان سے ذکرِ الٰہی میں مشغول رہو ۔
بیشک یہ لوگ (ف٤۵) پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز رکھتے ہیں (ف٤٦) اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں (ف٤۷)
Indeed these people love what they have, the fleeting one, and have forsaken the immensely important day behind them.
बेशक ये लोग पाँव तले की (दुनियावी फ़ायदे को) अज़ीज़ रखते हैं और अपने पीछे एक भारी दिन को छोड़ बैठे हैं
Beshak ye log paon tale ki (dunyawi faayde ko) azeez rakhte hain aur apne peeche ek bhaari din ko chhod baithe hain
(ف45)یعنی کفّار ۔(ف46)یعنی محبّتِ دنیا میں گرفتار ہیں ۔(ف47)یعنی روزِ قیامت کو جس کے شدائد کفّار پر بہت بھاری ہوں گے ، نہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، نہ اس دن کےلئے عمل کرتے ہیں ۔
اپنی رحمت میں لیتا ہے (ف۵۳) جسے چاہے (ف۵٤) اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے (ف۵۵)
He admits into His mercy, whomever He wills; and for the unjust He has kept prepared a painful punishment.
अपनी रहमत में लेता है जिसे चाहे और ज़ालिमों के लिए उसने दर्दनाक अज़ाब तैयार कर रखा है
Apni rehmat mein leta hai jise chahe aur zalimon ke liye usne dardnaak azaab tayaar kar rakha hai",
(ف53)یعنی جنّت میں داخل فرماتا ہے ۔(ف54)ایمان عطا فرما کر ۔(ف55)ظالموں سے مراد کافر ہیں ۔
وَالۡمُرۡسَلٰتِ عُرۡفًا ۙ ﴿1﴾
قسم ان کی جو بھیجی جاتی ہیں لگاتار (ف۲)
By oath of those that are sent, one after the other. (The verses of the Holy Qur’an or the angels or the winds).
क़सम उनकी जो भेजी जाती हैं लगातार
Qasam unki jo bheji jaati hain lagataar
(ف2)ان آیتوں میں جو قَسمیں مذکور ہیں وہ پانچ صفات ہیں جن کے موصوفات ظاہر میں مذکور نہیں اسی لئے مفسّرین نے ان کی تفسیر میں بہت وجوہ ذکر کئے ہیں بعض نے یہ پانچوں صفتیں ہواؤں کی قراردی ہیں ، بعض نے ملائکہ کی ، بعض نے آیاتِ قرآن کی ، بعض نے نفوسِ کاملہ کی جو استکمال کےلئے ابدان کی طرف بھیجے جاتے ہیں ، پھر وہ ریاضتوں کے جھونکوں سے ماسوائے حق کو اڑا دیتے ہیں ، پھر تمام اعضا ء میں اس اثر کو پھیلاتے ہیں ، پھر حق بالذات اور باطل فی نفسہٖ میں فرق کرتے ہیں اور ذاتِ الٰہی کے سوا ہر شے کو ہالک دیکھتے ہیں ، پھر ذکر کا القاء کرتے ہیں اس طرح کہ دلوں میں اور زبانوں پر اللہ تعالٰی کا ذکر ہی ہوتا ہے اور ایک وجہ یہ ذکر کی ہے کہ پہلی تین صفتوں سے ہوائیں مراد ہیں اور باقی دو سے فرشتے ۔ اس تقدیر پر معنٰی یہ ہیں کہ قَسم ان ہواؤں کی جو لگاتار بھیجی جاتی ہیں پھر زور سے جھونکے دیتی ہیں ان سے مراد عذاب کی ہوائیں ہیں ۔ (خازن وجمل وغیرہ)
فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا ۙ ﴿2﴾
پھر زور سے جھونکا دینے والیاں،
Then by oath of those that push with a strong gust.
फिर जोर से झोंका देने वालियाँ फ़,
Phir zor se jhonka dene waliyan f,
وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا ۙ ﴿3﴾
پھر ابھار کر اٹھانے والیاں (ف۳)
Then by oath of those that lift and carry.
फिर उभार कर उठाने वालियाँ फ़
Phir ubhar kar uthane waliyan f
(ف3)یعنی وہ رحمت کی ہوائیں جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں ۔ اس کے بعد جو صفتیں مذکور ہیں وہ قولِ اخیر پر جماعاتِ ملائکہ کی ہیں ۔ ابنِ کثیر نے کہا کہ فارقات و ملقیات سے جماعاتِ ملائکہ مراد ہونے پر اجماع ہے ۔
فَالۡفٰرِقٰتِ فَرۡقًا ۙ ﴿4﴾
پھر حق ناحق کو خوب جدا کرنے والیاں،
Then by those that clearly differentiate the right and wrong.
फिर हक नाहक को खूब जुदा करने वालियाँ फ़,
Phir haq nahaq ko khoob juda karne waliyan f,
فَالۡمُلۡقِيٰتِ ذِكۡرًا ۙ ﴿5﴾
پھر ان کی قسم جو ذکر کا لقا کرتی ہیں (ف٤)
And then by those that instil Remembrance into the hearts.
फिर उनकी क़सम जो ज़िक्र का लिक़ा करती हैं
Phir unki qasam jo zikr ka liqa karti hain
(ف4)انبیاء ومرسلین کے پاس وحی لا کر ۔
عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا ۙ ﴿6﴾
حجت تمام کرنے یا ڈرانے کو،
To complete the argument or to warn.
हजत तमाम करने या डराने को,
Hujjat tamam karne ya darane ko,
اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ ﴿7﴾
بیشک جس بات کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (ف۵) ضرور ہونی ہے (ف٦)
Indeed what you are promised, will surely befall.
बेशक जिस बात का तुम वादा दिए जाते हो ज़रूर होनी है
Beshak jis baat ka tum wada diye jaate ho zaroor honi hai
(ف5)یعنی بعث و عذاب اور قیامت کے آنے کا ۔ (ف6)کہ اس کے ہونے میں کچھ بھی شک نہیں ۔
فَاِذَا النُّجُوۡمُ طُمِسَتۡۙ ﴿8﴾
پھر جب تارے محو کردیے جائیں،
So when the lights of the stars are put out.
फिर जब तारे महव कर दिए जाएँ,
Phir jab tare mahv kar diye jaayen,
وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتۡۙ ﴿9﴾
اور جب آسمان میں رخنے پڑیں،
And when the sky is split apart.
और जब आसमान में रुखने पड़ें,
Aur jab aasman mein rukhne paden,
وَاِذَا الۡجِبَالُ نُسِفَتۡۙ ﴿10﴾
اور جب پہاڑ غبار کرکے اڑا دیے جا ئیں،
And when the mountains are made into dust and blown away.
और जब पहाड़ धूल करके उड़ा दिए जाएँ,
Aur jab pahad dhool karke uda diye jaayen,
وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡؕ ﴿11﴾
اور جب رسولوں کا وقت آئے (ف۷)
And when the time of the Noble Messengers arrives.
और जब रसूलों का वक़्त आए
Aur jab rasoolon ka waqt aaye
(ف7)کہ وہ امّتوں پر گواہی دینے کےلئے جمع کئے جائیں ۔
لِاَىِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡؕ ﴿12﴾
کس دن کے لیے ٹھہرائے گئے تھے،
For which day were they appointed?
किस दिन के लिए ठहराए गए थे,
Kis din ke liye thehraye gaye the,
لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِۚ ﴿13﴾
روز فیصلہ کے لیے،
For the Day of Decision.
रोज़ फ़ैसला के लिए,
Roz faisla ke liye,
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِؕ ﴿14﴾
اور تو کیا جانے وہ روز فیصلہ کیا ہے (ف۸)
And what do you know, what the Day of Decision is!
और तो क्या जाने वह रोज़ फ़ैसला क्या है
Aur to kya jaane woh roz faisla kya hai
(ف8)اور اس کے ہول و شدّت کا کیا عالَم ہے ۔
وَيۡلٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴿15﴾
جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی (ف۹)
Ruin is for the deniers on that day!
झٹلाने वालों की उस दिन ख़राबी
Jhatlane walon ki us din kharabi
(ف9)جو دنیا میں توحید و نبوّت اور روزِ آخرت اور بعث و حساب کے منکِر تھے ۔
اَلَمۡ نُهۡلِكِ الۡاَوَّلِيۡنَؕ ﴿16﴾
کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہ فرمایا (ف۱۰)
Did We not destroy the earlier people?
क्या हमने अगलों को हलाक न फ़रमाया
Kya humne aglon ko halak na farmaya
(ف10)دنیا میں عذاب نازل کرکے جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا ۔
ثُمَّ نُتۡبِعُهُمُ الۡاٰخِرِيۡنَ ﴿17﴾
پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے (ف۱۱)
We shall then send the latter after them.
फिर पिछलों को उनके पीछे पहुँचाएँगे
Phir pichhlon ko unke peeche pahunchayenge
(ف11)یعنی جو پہلی امّتوں کے مکذِّبین کی راہ اختیار کرکے سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں انہیں بھی پہلوں کی طرح ہلاک فرمائیں گے ۔
چلو اس دھوئیں کے سائے کی طرف جس کی تین شاخیں (ف۲۱)
“Move towards the shadow of the smoke having three branches.”
चलो उस धुएँ के साए की तरफ जिसकी तीन शाखें
Chalo us dhuen ke saaye ki taraf jis ki teen shaakhen
(ف21)اس سے جہنّم کا دھواں مراد ہے جو اونچا ہو کر تین شاخیں ہوجائے گا ایک کُفّار کے سروں پر ایک ان کے دائیں اور ایک ان کے بائیں اور حساب سے فارغ ہونے تک انہیں اسی دھوئیں میں رہنے کا حکم ہوگا جب کہ اللہ تعالٰی کے پیارے بندے اس کے عرش کے سایہ میں ہوں گے ۔ اس کے بعد جہنّم کے دھوئیں کی شان بیان فرمائی جاتی ہے کہ وہ ایسا ہے کہ ۔
“Which neither gives shade, nor saves from the flame.”
न साया दे न लिपट से बचाए
Na saaya de na lipat se bachaye
(ف22)جس سے اس دن کی گرمی سے کچھ امن پاسکیں ۔(ف23)آتشِ جہنّم کی ۔
اِنَّهَا تَرۡمِىۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ ﴿32﴾
بیشک دوزخ چنگاریاں اڑاتی ہے (ف۲٤)
Indeed hell throws up sparks like huge castles.
बेशक दोज़ख चिंगारियाँ उड़ाती है
Beshak dozak chingariyan udaati hai
(ف24)اتنی اتنی بڑی ۔
كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ ؕ ﴿33﴾
جیسے اونچے محل گویا وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں،
Seeming like yellow camels.
जैसे ऊँचे महल गोया वह ज़र्द रंग के ऊँट हैं,
Jaise oonche mahal goya woh zard rang ke oont hain,
وَيۡلٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴿34﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
Ruin is for the deniers on that day!
उस दिन झटलाने वालों की ख़राबी,
Us din jhatlane walon ki kharabi,
هٰذَا يَوۡمُ لَا يَنۡطِقُوۡنَۙ ﴿35﴾
یہ دن ہے کہ وہ بول نہ سکیں گے (ف۲۵)
This is a day in which they will not be able to speak.
यह दिन है कि वह बोल न सकेंगे
Yeh din hai ke woh bol na sakenge
(ف25)نہ کوئی ایسی حجّت پیش کرسکیں گے جو انہیں کام دے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ روزِ قیامت بہت سے موقع ہوں گے بعض میں کلام کریں گے بعض میں کچھ بول نہ سکیں گے ۔
وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَـعۡتَذِرُوۡنَ ﴿36﴾
اور نہ انہیں اجازت ملے کہ عذر کریں (ف۲٦)
Nor will they be given permission to present excuses.
और न उन्हें इजाज़त मिले कि उज़र करें
Aur na unhein ijazat mile ke uzr karein
(ف26)اور درحقیقت ان کے پاس کوئی عذر ہی نہ ہوگا کیونکہ دنیا میں حجّتیں تمام کر دی گئیں اور آخرت کےلئے کوئی جائے عذر باقی نہیں رکھی گئی ، البتہ انہیں یہ خیالِ فاسد آئے گا کہ کچھ حیلے بہانے بنائیں ، یہ حیلے پیش کرنے کی اجازت نہ ہوگی ۔ جنید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اس کو عذر ہی کیا ہے جس نے نعمت دینے والے سے رو گردانی کی اس کی نعمتوں کو جھٹلایا اس کے احسانوں کی ناسپاسی کی ۔
یہ ہے فیصلہ کا دن، ہم نے تمہیں جمع کیا (ف۲۷) اور سب اگلوں کو (ف۲۸)
This is the Day of Decision; We have gathered you and all the earlier men.
यह है फ़ैसला का दिन, हमने तुम्हें जमा किया और सब अगलों को
Yeh hai faisla ka din, humne tumhein jama kiya aur sab aglon ko
(ف27)اے سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرنے والو ۔(ف28)جو تم سے پہلے انبیاء کی تکذیب کرتے تھے تمہارا ، ان کا ، سب کا حساب کیا جائے گا اور تمہیں ، انہیں ، سب کو عذاب کیا جائے گا ۔
فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ كَيۡدٌ فَكِيۡدُوۡنِ ﴿39﴾
اب اگر تمہارا کوئی داؤ ہو تو مجھ پر چل لو (ف۲۹)
If you now have any conspiracy, carry it out on Me.
अब अगर तुम्हारा कोई दांव हो तो मुझ पर चल लो
Ab agar tumhara koi daav ho to mujh par chal lo
(ف29)اور کسی طرح اپنے آپ کو عذاب سے بچا سکو تو بچا لو ، یہ انتہا درجہ کی توبیخ ہے کیونکہ یہ تو وہ یقینی جانتے ہوں گے کہ نہ آج کوئی مَکَر چل سکتا ہے نہ کوئی حیلہ کام دے سکتا ہے ۔
(ف30)جو عذابِ الٰہی کا خوف رکھتے تھے جنّتی درختوں کے ۔
وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَؕ ﴿42﴾
اور میووں میں جو ان کا جی چاہے (ف۳۱)
And among fruits whichever they may desire.
और मिवों में जो उनका जी चाहे
Aur mevon mein jo unka ji chahe
(ف31)اس سے لذّت اٹھاتے ہیں ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اہلِ جنّت کو ان کے حسبِ مرضی نعمتیں ملیں گی بخلاف دنیا کے کہ یہاں آدمی کو جو میسّر آتا ہے اسی پر راضی ہونا پڑتا ہے اور اہلِ جنّت سے کہا جائے گا ۔
And when it is said to them, “Offer the prayer” – they do not!
और जब उनसे कहा जाए कि नमाज़ पढ़ो तो नहीं पढ़ते,
Aur jab unse kaha jaaye ke namaz padho to nahin padhte,
وَيۡلٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴿49﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
Ruin is for the deniers on that day!
उस दिन झटलाने वालों की ख़राबी,
Us din jhatlane walon ki kharabi,
فَبِاَىِّ حَدِيۡثٍۢ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴿50﴾
پھر اس (ف۳۷) کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے (ف۳۸) ۳
So after this, in what matter will they believe?
फिर उसके बाद कौन सी बात पर ईमान लाएँगे
Phir uske baad kaun si baat par imaan laayenge",
(ف37)قرآن شریف ۔(ف38)یعنی قرآن شریف کُتُبِ الٰہیہ میں سب سے آخر کتاب ہے اور بہت ظاہر معجزہ ہے اس پر ایمان نہ لائے تو پھر ایمان لانے کی کوئی صورت نہیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page