(ف2)کفّارِ قریش ۔(ف3)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب اہلِ مکّہ کو توحید کی دعوت دی اور مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کی خبر دی اور قرآنِ کریم کی تلاوت فرما کر انہیں سنایا تو ان میں باہم گفتگوئیں شروع ہوئیں اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ محمّد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیا دِین لائے ہیں اس آیت میں ان کی گفتگوؤں کا بیان ہے اور تفخیمِ شان کے لئے استفہام کے پیرایہ میں بیان فرمایا ، یعنی وہ کیا عظیمُ الشان بات ہے جس میں یہ لوگ ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کررہے ہیں ۔ اس کے بعد وہ بات بیان فرمائی جاتی ہے ۔
عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ ﴿2﴾
بڑی خبر کی (ف٤)
About the great tidings!
बड़ी खबर की
Badi khabar ki
(ف4)بڑی خبر سے مراد یا قرآن ہے یا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوّت اور آپ کا دِین یا مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کا مسئلہ ۔
الَّذِىۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؕ ﴿3﴾
جس میں وہ کئی راہ ہیں (ف۵)
Regarding which they hold different views.
जिसमें वह कई राह हैं
Jismein woh kai raah hain
(ف5)کہ بعضے تو قطعی انکار کرتے ہیں ، بعضے شک میں ہیں اور قرانِ کریم کو ان میں سے کوئی توسِحر کہتا ہے ، کوئی شِعر ، کوئی کہانت اور کوئی اور کچھ ۔ اسی طرح سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کوئی ساحر کہتا ، ہے ، کوئی شاعر ، کوئی کاہن ۔
كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَۙ ﴿4﴾
ہاں ہاں اب جان جائیں گے،
Surely yes, they will soon come to know!
हां हां अब जाएंगे,
Haan haan ab jaayenge,
ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَ ﴿5﴾
پھر ہاں ہاں جان جائیں گے (ف٦)
Again surely yes, they will soon come to know!
फिर हां हां जान जाएंगे
Phir haan haan jaan jaayenge
(ف6)اس تکذیب و انکار کے نتیجہ کو ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے عجائبِ قدرت میں سے چند چیزیں ذکر فرمائیں تاکہ یہ لوگ ان کی دلالت سے اللہ تعالٰی کی توحید کو جانیں اور یہ سمجھیں کہ اللہ تعالٰی عالَم کو پیدا کرنے اور اس کے بعد اس کو فنا کرنے اور بعدِ فنا پھر حساب و جزا کے لئے پیدا کرنے پر قادر ہے ۔
اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا ۙ ﴿6﴾
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا (ف۷)
Did We not make the earth a bed?
क्या हम ने जमीन को बिछोना न किया
Kya hum ne zameen ko bichhona na kiya
(ف7)کہ تم اس میں رہو اور وہ تمہاری قرار گاہ ہو ۔
وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا ۙ ﴿7﴾
اور پہاڑوں کو میخیں (ف۸)
And the mountains as pegs?
और पहाड़ों को मेखें
Aur pahadon ko mekhain
(ف8)جن سے زمین ثابت و قائم رہے ۔
وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا ۙ ﴿8﴾
اور تمہیں جوڑے بنایا (ف۹)
And it is We who created you in pairs.
और तुम्हें जोड़े बनाया
Aur tumhein joday banaya
(ف9)مرد و عورت ۔
وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا ۙ ﴿9﴾
۔ (۹ ) اور تمہاری نیند کو آرام کیا (ف۱۰)
And made your sleep a rest.
और तुम्हारी नींद को आराम किया
Aur tumhari neend ko aaraam kiya
(ف10)تمہارے جسموں کے لئے تاکہ اس سے کوفت اور تکان دور ہو اور راحت حاصل ہو ۔
وَّجَعَلۡنَا الَّيۡلَ لِبَاسًا ۙ ﴿10﴾
اور رات کو پردہ پوش کیا (ف۱۱)
And made the night a cover.
और रात को पर्दा पोश किया
Aur raat ko parda posh kiya
(ف11)جو اپنی تاریکی سے ہر چیز کو چُھپاتی ہے ۔
وَّجَعَلۡنَا النَّهَارَ مَعَاشًا ﴿11﴾
اور دن کو روزگار کے لیے بنایا (ف۱۲)
And made the day for seeking livelihood.
और दिन को रोज़गार के लिए बनाया
Aur din ko rozgaar ke liye banaya
(ف12)کہ تم اس میں اللہ تعالٰی کا فضل اور اپنی روزی تلاش کرو ۔
وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا ۙ ﴿12﴾
اور تمہارے اوپر سات مضبوط چنائیاں چنیں (تعمیر کیں) (ف۱۳)
And built seven strong roofs above you.
और तुम्हारे ऊपर सात मजबूत छनाइयाँ छने (तामीर कीं)
Aur tumhare upar saat mazboot chunaaiyaan chune (taameer ki)
(ف13)جن پر زمانہ گذرنے کا اثر نہیں ہوتا اور کہنگی و بوسیدگی ان تک راہ نہیں پاتی ، مراد ان چنائیوں سے سات آسمان ہیں ۔
وَّ جَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا ۙ ﴿13﴾
اور ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا (ف۱٤)
And have kept a very bright lamp in it.
और इन में एक नहायत चमकता चिराग रखा
Aur in mein ek nihayat chamakta chiraag rakha
(ف14)یعنی آفتاب جس میں روشنی بھی ہے اور گرمی بھی ۔
And then sent down hard rain from the water bearing clouds.
और फिर बादलों से जोर का पानी उतारा,
Aur phir badlon se zor ka paani utaara,
لِّـنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا وَّنَبَاتًا ۙ ﴿15﴾
کہ اس سے پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ ،
In order to produce grain and plants with it.
कि इस से पैदा फरमाएं अनाज और सब्ज़ा,
Ke is se paida farmaaye anaaj aur sabza,
وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا ؕ ﴿16﴾
اور گھنے باغ (ف۱۵)
And dense gardens.
और घने बाग़
Aur ghane baagh
(ف15)تو جس نے اتنی چیزیں پیدا کردیں وہ انسان کو مرنے کے بعد زندہ کرے تو کیا تعجّب نیز ان اشیاء کا پیدا کرنا حکیم کا فعل ہے اور حکیم کا فعل ہر گز عبث اور بے کار نہیں ہوتا اور مرنے کے بعد اٹھنے اور سزا و جزا کے انکار کرنے سے لازم آتا ہے کہ منکِر کے نزدیک تمام افعال عبث ہوں اور عبث ہونا باطل توبعث وجزا کا انکار بھی باطل ۔ اس برہانِ قوی سے ثابت ہوگیاکہ مرنے کے بعد اٹھنا اور حساب و جزا ضرور ہے اس میں شک نہیں ۔
جس دن جبریل کھڑا ہوگا اور سب فرشتے پرا باندھے (صفیں بنائے) کوئی نہ بول سکے گا (ف۳۱) مگر جسے رحمن نے اذن دیا (ف۳۲) اور اس نے ٹھیک بات کہی (ف۳۳)
The day when Jibreel and all the angels will stand in rows; none will be able to speak except one whom the Most Gracious commands and who spoke rightly. (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – will be the first to be granted permission to intercede.)
जिस दिन जबरील खड़ा होगा और सब फ़रिश्ते परा बाँधे (सफ़ें बनाए) कोई न बोल सकेगा मगर जिसे रहमान ने इज़्न दिया और उसने ठीक बात कही
Jis din Jibraeel khada hoga aur sab farishte para baandhe (safain banaye) koi na bol sakega magar jise Rahman ne izn diya aur usne theek baat kahi
(ف31)اس کے رعب و جلال سے ۔(ف32)کلام یا شفاعت کا ۔(ف33)دنیا میں اور اسی کے مطابق عمل کیا ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ ٹھیک بات سے کلمۂِ طیّبہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مراد ہے ۔
ہم تمہیں (ف۳۵) ایک عذاب سے ڈراتے ہیں کہ نزدیک آگیا (ف۳٦) جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا (ف۳۷) اور کافر کہے گا ہائے میں کسی طرح خاک ہوجاتا (ف۳۸)
We warn you of a punishment that has come near; a day on which man will see what his own hands have sent ahead, and the disbeliever will say, “Alas – if only I were dust!”
हम तुम्हें एक अज़ाब से डराते हैं कि नज़दीक आया जिस दिन आदमी देखेगा जो कुछ उसके हाथों ने आगे भेजा और काफ़िर कहेगा हाय मैं किसी तरह ख़ाक हो जाता
Hum tumhein ek azaab se daraate hain ke nazdeek aaya jis din aadmi dekhega jo kuch uske haathon ne aage bheja aur kaafir kahega haaye main kisi tarah khaak ho jaata
(ف35)اے کافرو ۔(ف36)مراد اس سے عذابِ آخرت ہے ۔(ف37)یعنی ہر نیکی بدی اس کے نامۂِ اعمال میں درج ہوگی جس کو وہ روزِ قیامت دیکھے گا ۔(ف38)تاکہ عذاب سے محفوظ رہتا ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ روزِ قیامت جب جانوروں اور چوپایوں کو اٹھایا جائے گا اور انہیں ایک دوسرے سے بدلہ دلایا جائے گا اگر سینگ والے نے بے سینگ والے کو مارا ہوگا تو اسے بدلہ دلایا جائے گا ، اس کے بعد وہ سب خاک کردیئے جائیں گے یہ دیکھ کر کافر تمنّاکرے گا کہ کاش میں بھی خاک کردیا جاتا ۔ بعض مفسّرین نے اس کے یہ معنٰی بیان کئے ہیں کہ مومنین پر اللہ تعالٰی کے انعام دیکھ کر کافر تمنّا کرے گا کہ کاش وہ دنیا میں خاک ہوتا یعنی متواضع ہوتا متکبر وسرکش نہ ہوتا ۔ ایک قول مفسّرین کا یہ بھی ہے کہ کافر سے مراد ابلیس ہے جس نے حضرت آدم علیہ السلام پر طعنہ کیا تھا کہ وہ مٹی سے پیدا کئے گئے اور اپنے آ گ سے پیدا کئے جانے پر افتخار کیا تھا جب وہ حضرت آدم اور ان کی ایماندار اولاد کے ثواب کو دیکھے گا اوراپنے آپ کو شدّتِ عذاب میں مبتلا پائے گا تو کہے گا کاش میں مٹی ہوتا یعنی حضرت آدم کی طرح مٹی سے پیدا کیا ہوا ہوتا ۔
وَالنّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ۙ ﴿1﴾
قسم ان کی (ف۲) کہ سختی سے جان کھینچیں (ف۳)
By oath of those who harshly pull out the soul. (Of the disbeliever)
क़सम उनकी कि सख़्ती से जान खींचें
Qasam unki ke sakhti se jaan kheenchain
(ف2)یعنی ان فرشتوں کی ۔(ف3)کافروں کی ۔
وَّالنّٰشِطٰتِ نَشۡطًا ۙ ﴿2﴾
۔ (۲) اور نرمی سے بند کھولیں ) (ف٤)
And who softly release the soul. (Of the believer)
और नरमी से बंद खोलें
Aur narmi se band kholen
(ف4)یعنی مومنین کی جانیں نرمی کے ساتھ قبض کریں ۔
وَّالسّٰبِحٰتِ سَبۡحًا ۙ ﴿3﴾
۔ (۳) اور آسانی سے پیریں (ف۵)
And who glide with ease.
और आसानी से पैरें
Aur aasani se pairen
(ف5)جسم کے اندر یا آسمان و زمین کے درمیان مومنین کی روحیں لے کر ۔ (کماروی عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ)
فَالسّٰبِقٰتِ سَبۡقًا ۙ ﴿4﴾
۔ (٤) پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں (ف٦)
And who quickly present themselves.
फिर आगे बढ़ कर जल्द पहुँचें
Phir aage barh kar jald pohchen
(ف6)اپنی خدمت پر جس کے مامور ہیں ۔ (روح البیان)
فَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا ۘ ﴿5﴾
۔ (۵) پھر کام کی تدبیر کریں (ف۷)
And who plan the implementation.
फिर काम की तदबीर करें
Phir kaam ki tadbeer karein
(ف7)یعنی امورِ دنیویہ کے انتظام جو ان سے متعلق ہیں ان کے سر انجام کریں ۔ یہ قَسم اس پر ہے ۔
يَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَةُ ۙ ﴿6﴾
۔ (٦) کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی (ف۸)
On the day when the trembling one will tremble. (The disbelievers will certainly taste the punishment.)
कि काफ़रों पर जरूर अज़ाब होगा जिस दिन थरथराएगी थरथराने वाली
Ke kafiron par zaroor azaab hoga jis din thartharayegi thartharane wali
(ف8)زمین اور پہاڑ اور ہر چیز نفخۂِ اولٰی سے اضطراب میں آجائے گی اور تمام خَلق مرجائے گی ۔
تَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ ؕ ﴿7﴾
۔ (۷) اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی (ف۹)
And the following event will come after it.
इसके पीछे आएगी पीछे आने वाली
Iske peeche aayegi peeche aane wali
(ف9)یعنی نفخۂِ ثانیہ ہوگا ، جس سے ہر شے باذنِ الٰہی زندہ کردی جائے گی ، ان دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہوگا ۔
قُلُوۡبٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ وَّاجِفَةٌ ۙ ﴿8﴾
۔ (۸) کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے،
Many a heart will flutter on that day!
कितने दिल उस दिन धड़केंगे,
Kitne dil us din dhadkenge,
اَبۡصَارُهَا خَاشِعَةٌ ۘ ﴿9﴾
۔ (۹) آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے (ف۱۰)
Unable to lift their gaze.
आँख ऊपर न उठा सकेंगे
Aankh upar na utha sakenge
(ف10)اس دن کی ہول اور دہشت سے ۔ یہ حال کفّار کا ہوگا ۔
۔ (۱۰) کافر (ف۱۱) کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں پلٹیں گے (ف۱۲)
The disbelievers say, “Will we really return to our former state?”
काफ़र कहते हैं क्या हम फिर उल्टे पाँव पलटेंगे
Kafir kehte hain kya hum phir ulte paon paltenge
(ف11)جو مرنے کے بعد اٹھنے کے منکِر ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو ۔(ف12)یعنی موت کے بعد پھر زندگی کی طرف واپس کئے جائیں گے ۔
ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً ؕ ﴿11﴾
۔ (۱۱) کیا ہم جب گلی ہڈیاں ہوجائیں گے (ف۱۳)
“When we have become decayed bones?”
क्या हम जब गली हड्डियाँ हो जाएँगी
Kya hum jab gali haddiyan ho jaayengi
(ف13)ریزہ ریزہ بکھری ہوئی ، پھر بھی زندہ کئے جائیں گے ۔
قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ ۘ ﴿12﴾
۔ (۱۲) بولے یوں تو یہ پلٹنا تو نرا نقصان ہے (ف۱٤)
They said, “So this return is an obvious loss!”
बोले यूँ तो यह पलटना तो नराज़ नुक़सान है
Bole yun to ye palatna to nara nuksan hai
(ف14)یعنی اگر موت کے بعد زندہ کیا جانا صحیح ہے اور ہم مرنے کے بعد اٹھائے گئے تواس میں ہمارا بڑا نقصان ہے کیونکہ ہم دنیا میں اس کی تکذیب کرتے رہے ، یہ مقولہ ان کا بطریقِ استہزاء تھا ، اس پر انہیں بتایا گیا کہ تم مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالٰی کے لئے کچھ دشوار ہے کیونکہ قادرِ برحق پر کچھ بھی دشوار نہیں ۔
فَاِنَّمَا هِىَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ ۙ ﴿13﴾
۔ (۱۳) تو وہ (ف۱۵) نہیں مگر ایک جھڑکی (ف۱٦)
So that is not but a single shout.
तो वह नहीं मगर एक झड़की
To woh nahi magar ek jhadki
(ف15)نفخۂِ اخیرہ ۔(ف16)جس سے سب جمع کرلئے جائیں گے اور جب نفخۂِ اخیرہ ہوگا ۔
فَاِذَا هُمۡ بِالسَّاهِرَةِ ؕ ﴿14﴾
۔ (۱٤) جبھی وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے (ف۱۷)
So they will immediately be in an open plain.
तभी वह खुले मैदान में आ पड़े होंगे
Tabhi woh khule maidan mein aa pade honge
(ف17)زندہ ہو کر ۔
هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰىۘ ﴿15﴾
۔ (۱۵) کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی (ف۱۸)
Did the news of Moosa reach you?
क्या तुम्हें मूसा की खबर आई
Kya tumhein Musa ki khabar aayi
(ف18)یہ خطاب ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جب قوم کا تکذیب کرنا آپ کو شاق اور ناگوار گذرا تو اللہ تعالٰی نے آپ کی تسکین کے لئے حضرت موسٰی علیہ السلام کا ذکر فرمایا جنہوں نے اپنی قوم سے بہت تکلیفیں پائی تھیں مراد یہ ہے کہ انبیاء کو یہ باتیں پیش آتی رہتی ہیں ۔ آپ اس پر غمگین نہ ہوں ۔
۔(٤٦) گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے (ف٤۹) دنیا میں نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے،
The day when they will see it, it will seem as if they had not stayed on earth except for an evening or its morning.
ग़ोया जिस दिन वह इसे देखेंगें दुनिया में न रहे थे मगर एक शाम या इसके दिन चढ़े,
Goya jis din woh ise dekhenge duniya mein na rahe the magar ek shaam ya iske din chadhe,
(ف49)یعنی کافر قیامت کو جس کا انکار کرتے ہیں تو اس کے ہول و دہشت سے اپنی زندگانی کی مدّت بھول جائیں گے اور خیال کریں گے کہ ۔
عَبَسَ وَتَوَلّٰٓىۙ ﴿1﴾
۔(۱) تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا (ف۲)
He frowned and turned away.
थिएरी चढ़ाई और मुँह फेरा
Theory chadhai aur munh phera
(ف2)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ۔
اَنۡ جَآءَهُ الۡاَعۡمٰىؕ ﴿2﴾
۔(۲) اس پر کہ اس کے پاس وہ نابینا حاضر ہوا (ف۳)
Because the blind man had come in his august presence.
इस पर कि इसके पास वह नाबिना हाज़िर हुआ
Is par ke iske paas woh naabina haazir hua
(ف3)یعنی عبداللہ بن اُمِّ مکتوم ۔ شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عتبہ بن ربیعہ ابوجہل بن ہشام اور عبا س بن عبدالمطلب اور اُ بَی بن خلف اور اُمیّہ بن خلف اشرافِ قریش کو اسلام کی دعوت فرمارہے تھے ۔ اس درمیان میں عبداللہ ابنِ اُمِّ مکتوم نابینا حاضر ہوئے اورانہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بار بار ندا کرکے عرض کیا کہ جو اللہ تعالٰی نے آپ کو سکھایا ہے مجھے تعلیم فرمائیے ، ابنِ اُمِّ مکتوم نے یہ نہ سمجھا کہ حضوردوسروں سے گفتگو فرمارہے ہیں اس سے قطعِ کلام ہوگا یہ بات حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گراں گذری اور آثارِ ناگواری چہرۂِ اقدس پر نمایاں ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی دولت سرائے اقدس کی طرف واپس ہوئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ اور نابینا فرمانے میں عبداللہ بن اُمِّ مکتوم کی معذوری کی طرف اشارہ ہے کہ قطعِ کلام ان سے اس وجہ سے واقع ہوا ، اس آیت کے نزول کے بعد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عبداللہ بن اُمِّ مکتوم کا اکرام فرماتے تھے ۔
وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰٓىۙ ﴿3﴾
۔(۳) اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ ستھرا ہو (ف٤)
And what do you know, he may be of the pure!
और तुम्हें क्या मालूम शायद वह सुथरा हो
Aur tumhein kya maloom shayad woh suthra ho
(ف4)گناہوں سے آپ کا ارشاد سن کر ۔
اَوۡ يَذَّكَّرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰىؕ ﴿4﴾
۔(٤) یا نصیحت لے تو اسے نصیحت فائدہ دے،
Or that he may accept advice, so the advice may benefit him.
या नसीहत ले तो उसे नसीहत फ़ायदा दे,
Ya naseehat le to use naseehat faida de,
اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰىۙ ﴿5﴾
۔(۵) وہ جو بےپرواہ بنتا ہے (ف۵)
For him who does not care,
वह जो बेपरवाह बनता है
Woh jo beparwah banta hai
(ف5)اللہ تعالٰی سے اور ایمان لانے سے بسبب اپنے مال کے ۔
فَاَنۡتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ ﴿6﴾
۔(٦) تم اس کے تو پیچھے پڑتے ہو (ف٦)
So you are after him!
तुम उसके तो पीछे पड़ते हो
Tum uske to peeche padte ho
(ف6)اور اس کے ایمان لانے کی طمع میں اس کے درپے ہوتے ہو ۔
وَمَا عَلَيۡكَ اَلَّا يَزَّكّٰٓىؕ ﴿7﴾
۔(۷) اور تمہارا کچھ زیاں نہیں اس میں کہ وہ ستھرا نہ ہو (ف۷)
And you have nothing to lose if he does not become pure.
और तुम्हारा कुछ ज़ियां नहीं इसमें कि वह सुथरा न हो
Aur tumhara kuch ziyaan nahi is mein ke woh suthra na ho
(ف7)ایمان لا کر اور ہدایت پا کر کیونکہ آپ کے ذمّہ دعوت دینا اور پیامِ الٰہی پہنچادینا ہے ۔
وَاَمَّا مَنۡ جَآءَكَ يَسۡعٰىۙ ﴿8﴾
۔(۸) اور وہ جو تمہارے حضور ملکتا (ناز سے دوڑتا ہوا) آتا (ف۸)
And for him who came to you striving,
और वह जो तुम्हारे हज़ूर मिलता (नाज़ से दौड़ता हुआ) आता
Aur woh jo tumhare huzoor milta (Naz se daudta hua) aata
(ف8)یعنی ابنِ اُمِّ مکتوم ۔
وَهُوَ يَخۡشٰىۙ ﴿9﴾
۔(۹) اور وہ ڈر رہا ہے (ف۹)
And whereas he fears,
और वह डर रहा है
Aur woh dar raha hai
(ف9)اللہ عزَّوجلَّ سے ۔
فَاَنۡتَ عَنۡهُ تَلَهّٰىۚ ﴿10﴾
۔(۱۰) تو اسے چھوڑ کر اور طرف مشغول ہوتے ہو،
So you leave him, and are engrossed elsewhere!
तो उसे छोड़ कर और तरफ मशगूल होते हो,
To use chhod kar aur taraf mashghool hote ho,
كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ ۚ ﴿11﴾
(۱۱) یوں نہیں (ف۱۰) یہ تو سمجھانا ہے (ف۱۱)
Not this way – this is the advice.
यों नहीं यह तो समझाना है
Yoon nahi yeh to samjhana hai
(ف10)ایسا نہ کیجئے ۔(ف11)یعنی آیاتِ قرآن مخلوق کے لئے نصیحت ہیں ۔
فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗۘ ﴿12﴾
(۱۲) تو جو چاہے اسے یاد کرے (ف۱۲)
So whoever wishes may remember it.
तो जो चाहे उसे या द करे
To jo chahe use ya d kare
(ف12)اور اس سے پندپذیر ہو ۔
فِىۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ ﴿13﴾
(۱۳) ان صحیفوں میں کہ عزت والے ہیں (ف۱۳)
On honourable pages.
इन सहीफ़ों में कि इज़्ज़त वाले हैं
In sahifon mein ke izzat wale hain
(ف13)اللہ تعالٰی کے نزدیک ۔
مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ ۭۙ ﴿14﴾
(۱٤) بلندی والے (ف۱٤) پاکی والے (ف۱۵)
Exalted, pure.
बुलंदी वाले पाकी वाले
Bulandi wale paaki wale
(ف14)رفیعُ القدر ۔(ف15)کہ انہیں پاکوں کے سوا کوئی نہ چھوئے ۔
بِاَيۡدِىۡ سَفَرَةٍۙ ﴿15﴾
(۱۵) ایسوں کے ہاتھ لکھے ہوئے،
Written by the hands of emissaries.
इसों के हाथ लिखे हुए,
Eeson ke haath likhe hue,
كِرَامٍۢ بَرَرَةٍؕ ﴿16﴾
(۱٦) جو کرم والے نکوئی والے (ف۱٦)
Who are noble, virtuous.
जो करम वाले नक़ुई वाले
Jo karam wale nakui wale
(ف16)اللہ تعالٰی کے فرمانبردار ، اور وہ فرشتے ہیں جو اس کو لوحِ محفوظ سے نقل کرتے ہیں ۔
قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗؕ ﴿17﴾
(۱۷) آدمی مارا جائیو کیا ناشکر ہے (ف۱۷)
May man be slain – how ungrateful he is!
आदमी मारा जाईवो क्या नाशकर है
Aadmi maara jaayo kya nashkar hai
(ف17)کہ اللہ تعالٰی کی کثیر نعمتوں اور بے نہایت احسانوں کے باوجود کفر کرتا ہے ۔
مِنۡ اَىِّ شَىۡءٍ خَلَقَهٗؕ ﴿18﴾
(۱۸) اسے کاہے سے بنایا،
From what did He create him?
उसे काहे से बनाया,
Use kaahe se banaya,
مِنۡ نُّطۡفَةٍؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗ ۙ ﴿19﴾
(۱۹) پانی کی بوند سے اسے پیدا فرمایا، پھر اسے طرح طرح کے اندازوں پر رکھا (ف۱۸)
From a drop of liquid; He created him and then set several measures for him.
पानी की बूंद से उसे पैदा फ़रमाया, फिर उसे तरह तरह के अंदाज़ों पर रखा
Pani ki boond se use paida farmaaya, phir use tarah tarah ke andaazon par rakha
(ف18)کبھی نطفہ کی شکل میں ، کبھی علقہ کی صورت میں ، کبھی مضغہ کی شان میں ، تکمیلِ آفرینش تک ۔
ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗۙ ﴿20﴾
(۲۰) پھر اسے راستہ آسان کیا (ف۱۹)
Then eased the way for him.
फिर उसे रास्ता आसान किया
Phir use raasta aasaan kiya
(ف19)ماں کے پیٹ سے برآمد ہونے کا ۔
ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗۙ ﴿21﴾
(۲۱) پھر اسے موت دی پھر قبر میں رکھوایا (ف۲۰)
Then gave him death, so had him put in the grave.
फिर उसे मौत दी फिर क़ब्र में रखवाया
Phir use maut di phir qabr mein rakhwaya
(ف20)کہ بعدِ موت بے عزّت نہ ہو ۔
ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗؕ ﴿22﴾
(۲۲) پھر جب چاہا اسے باہر نکالا (ف۲۱)
Then, when He willed, He brought him out. (As during the night of Holy Prophet’s ascension, when all the Prophets gathered behind him in the Al Aqsa mosque in Jerusalem. Or when Allah will raise everyone on the Day of Resurrection.)
फिर जब चाहा उसे बाहर निकाला
Phir jab chaha use baahar nikala
(ف21)یعنی بعدِ موت حساب و جزا کے لئے پھر اس کے واسطے زندگانی مقرّر کی ۔
كَلَّا لَـمَّا يَقۡضِ مَاۤ اَمَرَهٗؕ ﴿23﴾
(۲۳) کوئی نہیں، اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اسے حکم ہوا تھا (ف۲۲)
Not one – he has not yet completed what he was commanded.
कोई नहीं, उसने अब तक पूरा न किया जो उसे हुक्म हुआ था
Koi nahi, usne ab tak poora na kiya jo use hukm hua tha
(ف22)اس کے رب کا یعنی کافر ایمان لا کر حکمِ الٰہی کو بجانہ لایا ۔
فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ ﴿24﴾
(۲٤) تو آدمی کو چاہیے اپنے کھانوں کو دیکھے (ف۲۳)
So man must look at his food.
तो आदमी को चाहिए अपने ख़ानों को देखे
To aadmi ko chahiye apne khaanon ko dekhe
(ف23)جنہیں کھاتا ہے اور جو اسکی حیات کا سبب ہیں کہ انمیں اس کے رب کی قدرت ظاہر ہے کس طرح جزوِ بدن ہوتے ہیں اور کس نظامِ عجیب سے کام میں آتے ہیں اور کس طرح رب عزَّوجلَّ عطا فرماتا ہے ان حکمتوں کا بیان فرمایا جاتا ہے ۔
اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا ۙ ﴿25﴾
(۲۵) کہ ہم نے اچھی طرح پانی ڈالا (ف۲٤)
That We watered it in abundance.
कि हम ने अच्छी तरह पानी डाला
Ke hum ne achhi tarah pani daala
(ف24)بادل سے ۔
ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا ۙ ﴿26﴾
(۲٦) پھر زمین کو خوب چیرا،
Then We split the earth properly.
फिर ज़मीन को खूब चीरा,
Phir zameen ko khoob cheera,
فَاَنۡۢبَتۡنَا فِيۡهَا حَبًّا ۙ ﴿27﴾
(۲۷) تو اس میں اُگایا اناج،
Thereby produced grain in it.
तो उसमें उगाया अनाज,
To usmein ugaya anaaj,
وَّ عِنَبًا وَّقَضۡبًا ۙ ﴿28﴾
(۲۸) اور انگور اور چارہ،
And grapes and fodder,
और अंगूर और चारा,
Aur angoor aur chaara,
وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا ؕ ﴿29﴾
(۲۹) اور زیتون اور کھجور،
And olives and date palms,
और ज़ैतून और खजूर,
Aur zaitoon aur khajoor,
وَحَدَآٮِٕقَ غُلۡبًا ۙ ﴿30﴾
(۳۰) اور گھنے باغیچے،
And dense gardens,
और घने बाग़ीचे,
Aur ghane baagiche,
وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا ۙ ﴿31﴾
(۳۱) اور میوے اور دُوب ( گھاس)
And fruits and grass,
और मेवे और दूब (घास)
Aur mewe aur doob (ghaas)
مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡؕ ﴿32﴾
(۳۲) تمہارے فائدے کو اور تمہارے چوپایوں کے،
In order to benefit you and your cattle.
तुम्हारे फ़ायदे को और तुम्हारे चौपायों के,
Tumhare faide ko aur tumhare chhupayoon ke,
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ ﴿33﴾
(۳۳) پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ (ف۲۵)
So when the deafening Shout arrives,
फिर जब आएगी वह कान फाड़ने वाली चंघाड़
Phir jab aayegi woh kaan phadne wali changhaar
(ف25)یعنی قیامت کے نفخۂِ ثانیہ کی ہولناک آواز جو مخلوق کو بہرا کردے گی ۔
يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ ﴿34﴾
(۳٤) اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی،
On that day man will run away from his brother.
उस दिन आदमी भागेगा अपने भाई,
Us din aadmi bhagega apne bhai,
وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ ﴿35﴾
(۳۵) اور ماں اور باپ ،
And from his mother and father,
और माँ और बाप,
Aur maan aur baap,
وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ ﴿36﴾
(۳٦) اور جُورو اور بیٹوں سے (ف۲٦)
And from his wife and sons.
और जुरो और बेटों से
Aur juro aur beton se
(ف26)ان میں سے کسی کی طرف ملتفت نہ ہوگا ، اپنی ہی پڑی ہوگی ۔
(۳۷) ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے (ف۲۷)
On that day, each one has just one issue, which is enough for him.
इन में से हर एक को उस दिन एक फ़िक्र है कि वही उसे बस है
In mein se har ek ko us din ek fikr hai ke wahi use bas hai
(ف27)قیامت کا حال اوراس کے اہوال بیان فرمانے کے بعد مکلّفین کا ذکر فرمایا جاتا ہے کہ وہ دو قِسم ہیں سعید اور شقی ، جو سعید ہیں ان کا حال ارشاد ہوتا ہے ۔
وُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ مُّسۡفِرَةٌ ۙ ﴿38﴾
(۳۸) کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے (ف۲۸)
Many a face will be glittering on that day.
कितने मुँह उस दिन रोशन होंगे
Kitne munh us din roshan honge
(ف28)نورِ ایمان سے یا شب کی عبادتوں سے یا وضو کے آثارسے ۔
ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ ۚ ﴿39﴾
(۳۹) ہنستے خوشیاں مناتے (ف۲۹)
Laughing, rejoicing.
हँस्ते खुशियाँ मनाते
Hanste khushiyan manate
(ف29)اللہ تعالٰی کے نعمت و کرم اور اس کی رضا پر ۔ اس کے بعد اشقیا کا حال بیان فرمایا جاتا ہے ۔
(ف5) جن کے حمل کو دس مہینے گذر چکے ہوں اور بیاہنے کا وقت قریب آگیا ہو ۔(ف6)نہ ان کا کوئی چرانے والا ہو ، نہ نگران اس روز کی دہشت کا یہ عالَم ہو اور لوگ اپنے حال میں ایسے مبتلا ہوں کہ ان کی پرواہ کرنے والا کوئی نہ ہو ۔
وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡۙ ﴿5﴾
(۵) اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں (ف۷)
And when wild animals are herded together.
और जब वाहीशी जानवर इकट्ठे किए जाएँ
Aur jab vahishi jaanwar ikatthe kiye jaayein
(ف7)روزِ قیامت بعدِ بعث ، کہ ایک دوسرے سے بدلہ لیں ، پھر خاک کردیئے جائیں ۔
وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡۙ ﴿6﴾
(٦) اور جب سمندر سلگائے جائیں (ف۸)
And when the seas are set afire.
और जब समुंदर सुलगाए जाएँ
Aur jab samundar sulgaye jaayein
(ف8)پھر وہ خاک ہوجائیں ۔
وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡۙ ﴿7﴾
(۷) اور جب جانوں کے جوڑ بنیں (ف۹)
And when the souls are paired.
और जब जानों के जोड़ बनें
Aur jab jaanon ke jod banein
(ف9)اس طرح کہ نیک نیکوں کے ساتھ ہوں اور بد بدوں کے ساتھ، یا یہ معنٰی کہ جانیں اپنے جسموں سے ملادی جائیں ، یا یہ کہ اپنے عملوں سے ملادی جائیں ، یا یہ کہ ایمانداروں کی جانیں حوروں کے اور کافروں کی جانیں شیاطین کے ساتھ ملادی جائیں ۔
وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُٮِٕلَتۡۙ ﴿8﴾
(۸) اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے (ف۱۰)
And when the girl-child who was buried alive is asked.
और जब ज़िंदा दबाई हुई से पूछा जाए
Aur jab zinda dabai hui se poocha jaaye
(ف10)یعنی اس لڑکی سے جو زندہ دفن کی گئی ہو ، جیسا کہ عرب کا دستور تھا کہ زمانۂِ جاہلیّت میں لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے ۔
بِاَىِّ ذَنۡۢبٍ قُتِلَتۡۚ ﴿9﴾
(۹) کس خطا پر ماری گئی (ف۱۱)
Upon what sin was she killed for.
किस ख़ता पर मारी गई
Kis khata par maari gayi
(ف11)یہ سوال قاتل کی توبیخ کے لئے ہے تاکہ و ہ لڑکی جواب دے کہ میں بے گناہ ماری گئی ۔
وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتۡۙ ﴿10﴾
(۱۰) اور جب نامہٴ اعمال کھولے جائیں،
And when the Records of Account are laid bare.
और जब नामे-अअमाल खोले जाएँ,
Aur jab naamah-e-aamaal khole jaayein,
وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡۙ ﴿11﴾
(۱۱) اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے (ف۱۲)
And when the heaven is torn away.
और जब आसमान जगह से खींच लिया जाए
Aur jab aasman jagah se kheench liya jaaye
(ف12)جیسے ذبح کی ہوئی بکری کے جسم سے کھال کھینچ لی جاتی ہے ۔
وَاِذَا الۡجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡۙ ﴿12﴾
(۱۲) اور جب جہنم بھڑکایا جائے (ف۱۳)
And when hell is further enflamed.
और जब जहन्नम भड़काया जाए
Aur jab jahannum bhadkaaya jaaye
(ف13)دشمنانِ خدا کے لئے ۔
وَاِذَا الۡجَـنَّةُ اُزۡلِفَتۡۙ ﴿13﴾
(۱۳) اور جب جنت پاس لائی جائے (ف۱٤)
And when Paradise is brought near.
और जब जन्नत पास लाई जाए
Aur jab jannat paas laayi jaaye
(ف14)اللہ تعالٰی کے پیاروں کے ۔
عَلِمَتۡ نَفۡسٌ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡؕ ﴿14﴾
(۱٤) ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی (ف۱۵)
Every soul will then come know what it has brought.
हर जान को मालूम हो जाएगा जो हाज़िर लाई
Har jaan ko maloom ho jaayega jo haazir laayi
(ف15)نیکی یا بدی ۔
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالۡخُنَّسِۙ ﴿15﴾
(۱۵) تو قسم ہے ان (ف۱٦) کی جو الٹے پھریں،
So by oath of those that revolve. (The planets.)
तो क़सम है उनकी जो उल्टे फरीं,
To qasam hai unki jo ulte pharein,
(ف16)ستاروں ۔
الۡجَوَارِ الۡكُنَّسِۙ ﴿16﴾
(۱٦) سیدھے چلیں تھم رہیں (ف۱۷)
Who move straight and stop.
सीधे चलें थम रहें
Seedhe chalein tham rahein
(ف17)یہ پانچ ستارے ہیں جنہیں خمسۂِ متحیّرہ کہتے ہیں (۱)زحل(۲) مشتری (۳)مریخ(۴) زہرہ(۵) عطارد ۔ (کذاروی عن علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ)
وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَۙ ﴿17﴾
(۱۷) اور رات کی جب پیٹھ دے (ف۱۸)
And by oath of the night when it turns back.
और रात की जब पीठ दे
Aur raat ki jab peeth de
(ف18)اور اس کی تاریکی ہلکی پڑے ۔
وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ ﴿18﴾
(۱۸) اور صبح کی جب دم لے (ف۱۹)
And by oath of the morning when it takes birth.
और सुबह की जब दम ले
Aur subah ki jab dam le
(ف19)اوراس کی روشنی خوب پھیلے ۔
اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍۙ ﴿19﴾
(۱۹) بیشک یہ (ف۲۰) عزت والے رسول (ف۲۱) کا پڑھنا ہے ،
This is indeed the recitation of an honoured Noble Messenger. (Angel Jibreel – peace and blessings be upon him.)
बेशक यह इज़्ज़त वाले रसूल का पढ़ना है,
Baishak yeh izzat wale rasool ka parhna hai,
(ف20)قرآن شریف ۔ (ف21)حضرت جبریل علیہ السلام ۔
ذِىۡ قُوَّةٍ عِنۡدَ ذِى الۡعَرۡشِ مَكِيۡنٍۙ ﴿20﴾
(۲۰) جو قوت والا ہے مالک عرش کے حضور عزت والا وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے (ف۲۲)
The mighty, the honoured in the presence of the Lord of the Throne.
जो क़ौत वाला है मालिक अरश के हज़ूर इज़्ज़त वाला वहाँ उसका हुक्म माना जाता है
Jo quwat wala hai maalik Arsh ke huzoor izzat wala wahan uska hukm maana jaata hai
مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيۡنٍؕ ﴿21﴾
(۲۱) امانت دار ہے (ف۲۳)
The one who is obeyed, and trustworthy. (Other angels obey angel Jibreel).
अमानतदार है
Amanatdar hai
(ف22)یعنی آسمانوں میں فرشتے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔(ف23)وحیِ الٰہی کا ۔
وَ مَا صَاحِبُكُمۡ بِمَجۡنُوۡنٍۚ ﴿22﴾
(۲۲) اور تمہارے صاحب (ف۲٤) مجنون نہیں (ف۲۵)
And your companion is not insane.
और तुम्हारे साहिब मजनून नहीं
Aur tumhare saahib majnoon nahi
(ف24)حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف25)جیسا کہ کفّارِ مکّہ کہتے ہیں ۔
وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِۚ ﴿23﴾
(۲۳) اور بیشک انہوں نے اسے (ف۲٦) روشن کنارہ پر دیکھا (ف۲۷)
And indeed he saw him on the clear horizon. (Prophet Mohammed saw Angel Jibreel in his true shape – peace and blessings be upon them).
और बेशक उन्होंने इसे रोशन किनारा पर देखा
Aur baishak unhone ise roshan kinara par dekha
(ف26)یعنی جبریلِ امین کو ان کی اصلی صورت میں ۔(ف27)یعنی آفتاب کے جائے طلوع پر ۔
وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍۚ ﴿24﴾
(۲٤) اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں،
And this Prophet is not miserly upon the hidden. (Allah gave the knowledge of the hidden to the Holy Prophet – peace and blessings be upon him.)
और यह नबी ग़ैब बताने में बख़ील नहीं,
Aur yeh nabi ghaib batane mein bakhil nahi,
وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍۙ ﴿25﴾
(۲۵) اور قرآن، مردود شیطان کا پڑھا ہوا نہیں،
And the Qur’an is not the recitation of Satan the outcast.
और क़ुरआन, मर्दूद शैतान का पढ़ा हुआ नहीं,
Aur Quran, mardood shaitaan ka padha hua nahi,
فَاَيۡنَ تَذۡهَبُوۡنَؕ ﴿26﴾
(۲٦) پھر کدھر جاتے ہو (ف۲۸)
So where are you going?
फिर किधर जाते हो
Phir kidhar jaate ho
(ف28)اور کیوں قرآن سے اعراض کرتے ہو ۔
اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَۙ ﴿27﴾
(۲۷) وہ تو نصیحت ہی ہے سارے جہان کے لیے،
That is but an advice to the entire creation!
वह तो नसीहत ही है सारे जहान के लिए,
Woh to naseehat hi hai saare jahan ke liye,
لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَؕ ﴿28﴾
(۲۸) اس کے لیے جو تم میں سیدھا ہونا چاہے (ف۲۹)
For the one among you who wishes to become upright.
इसके लिए जो तुम में सीधा होना चाहे
Iske liye jo tum mein seedha hona chahe
(ف29)یعنی جس کو حق کا اتباع اور اس پر قیام منظور ہو ۔
(۱٤) کوئی نہیں (ف۱۲) بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے (ف۱۳)
Not at all – but rather their earnings have heaped rust upon their hearts.
कोई नहीं बल्कि उनके दिलों पर ज़ंग चढ़ा दिया है उनकी कमाईयों ने
Koi nahi balkay unke dilon par zang chadh diya hai unki kamaiyon ne
(ف12)اس کا کہناغلط ہے ۔(ف13)ان معاصی اور گناہوں نے جو وہ کرتے ہیں یعنی اپنے اعمالِ بد کی شامت سے ان کے دل زنگ خوردہ اور سیاہ ہوگئے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے اس کے دل میں ایک نقطۂِ سیاہ پیدا ہوتا ہے ، جب اس گناہ سے باز آتا ہے اور توبہ واستغفار کرتا ہے تو دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر پھر گناہ کرتا ہے تو وہ نقطہ بڑھتا ہے یہاں تک کہ تمام قلب سیاہ ہوجاتا ہے اور یہی رَین یعنی وہ زنگ ہے جس کا آیت میں ذکر ہوا ۔ (ترمذی)
(۱۵) ہاں ہاں بیشک وہ اس دن (ف۱٤) اپنے رب کے دیدار سے محروم ہیں (ف۱۵)
Yes indeed – they will be deprived of seeing their Lord on that day.
हाँ हाँ बेशक वह इस दिन अपने रब के दीदार से महरूम हैं
Haan haan baishak woh is din apne Rab ke didaar se mehroom hain
(ف14)یعنی روزِ قیامت ۔(ف15)جیسا کہ دنیا میں اس کی توحید سے محروم رہے ۔مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ مومنین کو آخرت میں دیدارِ الٰہی کی نعمت میسّر آئے گی کیونکہ محرومی دیدار سے کفّار کی وعید میں ذکر کی گئی اور جو چیز کفّار کے لئے وعید و تہدید ہو وہ مسلمان کے حق میں ثابت ہو نہیں سکتی تو لازم آیا کہ مومنین کے حق میں یہ محرومی ثابت نہ ہو ، حضرت امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جب اس نے اپنے دشمنوں کو اپنے دیدار سے محروم کیا تو دوستوں کو اپنی تجلّی سے نوازے گا اور اپنے دیدار سے سرفراز فرمائے گا ۔
(۳۱) اور جب (ف۹۳۳ اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے (ف۳٤)
And whilst returning to their homes, they used to return rejoicing.
और जब अपने घर पलटते खुशियाँ करते पलटते
Aur jab apne ghar palatte khushiyan karte palatte
(ف32)بطریقِ طعن و عیب کے ۔شانِ نزول : منقول ہے کہ حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلمانوں کی ایک جماعت میں تشریف لے جارہے تھے ، منافقین نے انہیں دیکھ کر آنکھوں سے اشارے کئے اور مسخرگی سے ہنسے اور آپس میں ان حضرات کے حق میں بے ہودہ کلمات کہے تو اس سے پہلے کہ علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پہنچیں یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔(ف33)کفّار ۔(ف34)یعنی مسلمانوں کو بُرا کہہ کر آپس میں ان کی ہنسی بناتے اور خوش ہوتے ہوئے ۔
(۳۲) اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں (ف۳۵)
And upon seeing the Muslims, they used to say, “Indeed they have gone astray.”
और जब मुसलमानों को देखते कहते बेशक यह लोग बहके हुए हैं
Aur jab Musalmanon ko dekhte kehte baishak yeh log behke hue hain
(ف35)کہ سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائے اور دنیا کی لذّتوں کو آخرت کی امیدوں پر چھوڑ دیا ، اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔
وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰفِظِيۡنَۙ ﴿33﴾
(۳۳) اور یہ (ف۳٦) کچھ ان پر نگہبان بناکر نہ بھیجے گئے (ف۳۷)
Whereas they have not at all been sent as guardians over them.
और यह कुछ उन पर निग़ाहबान बना कर न भी भेजे गए
Aur yeh kuch un par nigahbaan bana kar na bhi bheje gaye
(ف36)کفّار ۔(ف37)کہ ان کے احوال و اعمال پر گرفت کریں بلکہ انہیں اپنی اصلاح کا حکم دیا گیا ہے وہ اپنا حال درست کریں ، دوسروں کو بے وقوف بتانے اور انکی ہنسی اڑانے سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔
(۳٤) تو آج (ف۳۸) ایمان والے کافروں سے ہنستے ہیں (ف۳۹)
So this day it is the believers who laugh at the disbelievers.
तो आज ईमान वाले काफ़िरों से हँसते हैं
To aaj imaan wale kaafiron se hanste hain
(ف38)یعنی روزِ قیامت ۔(ف39)جیسا کافر دنیا میں مسلمانوں کی غربت و محنت پر ہنستے تھے ، یہاں معاملہ برعکس ہے مومن دائمی عیش و راحت میں ہیں اور کافر ذلّت و خواری کے دائمی عذاب میں ، جہنّم کا دروازہ کھولا جاتا ہے ، کافر اس سے نکلنے کے لئے دروازے کی طرف دوڑتے ہیں ، جب دروازہ کے قریب پہنچتے ہیں دروازہ بند ہوجاتا ہے ، بار بار ایسا ہی ہوتا ہے ، کافروں کی یہ حالت دیکھ کر مسلمان ان سے ہنسی کرتے ہیں اور مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ جنّت میں جواہرات کے ۔
عَلَى الۡاَرَآٮِٕكِۙ يَنۡظُرُوۡنَؕ ﴿35﴾
(۳۵) تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں (ف٤۰)
On high thrones, watching.
तख़्तों पर बैठे देखते हैं
Takhton par baithe dekhte hain
(ف40)کفّار کی ذلّت و رسوائی اور شدّتِ عذاب کو اور اس پر ہنستے ہیں ۔
(۷) تو وہ وہ اپنا نامہٴ اعمال دہنے ہاتھ میں دیا جائے (ف۱۰)
So whoever is given his record of deeds in his right hand –
तो वह अपना नामे-अअमाल दहने हाथ में दिया जाए
To woh apna naamah-e-aamaal dahne haath mein diya jaaye
(ف10)اور وہ مومن ہے ۔
فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا ۙ ﴿8﴾
(۸) اس سے عنقریب سہل حساب لیا جائے گا (ف۱۱)
Soon an easy account will be taken from him.
उससे अनक़रीब सहज हिसाब लिया जाएगा
Usse anqareeb sahal hisaab liya jaayega
(ف11)سہل حساب یہ ہے کہ اس پر اس کے اعمال پیش کئے جائیں ، وہ اپنی طاعت و معصیّت کو پہنچانے پھر طاعت پر ثواب دیا جائے اور معصیّت سے تجاوز فرمایا جائے ، یہ سہل حساب ہے ، نہ اس میں شدّتِ مناقشہ ، نہ یہ کہا جائے کہ ایسا کیوں کیا ، نہ عذر کی طلب ہو ، نہ اس پر حجّت قائم کی جائے کیونکہ جس سے مطالبہ کیا گیا اسے کوئی عذر ہاتھ نہ آئے گا اور وہ کوئی حجّت نہ پائے گا ، رسوا ہوگا ۔ (اللہ تعالٰی مناقشۂِ حساب سے پناہ دے)
وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰٓى اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا ؕ ﴿9﴾
(۹) اور اپنے گھر والوں کی طرف (ف۱۲) شاد شاد پلٹے گا (ف۱۳)
And he will return to his family rejoicing.
और अपने घर वालों की तरफ शाद शाद पलटेगा
Aur apne ghar walon ki taraf shaad shaad palatega
(ف12)گھر والوں سے جنّتی گھر والے مراد ہیں خواہ وہ حوروں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ۔(ف13)اپنی اس کامیابی پر ۔
(۱۰) اور وہ جس کا نامہٴ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے (ف۱٤)
And whoever is given his record of deeds behind his back –
और वह जिसका नामे-अअमाल उसकी पीठ के पीछे दिया जाए
Aur woh jiska naamah-e-aamaal uski peeth ke peeche diya jaaye
(ف14)اور وہ کافرہے جس کا داہنا ہاتھ تو اس کی گردن کے ساتھ ملا کر طوق میں باندھ دیا جائے گا اور بایاں ہاتھ پسِ پشت کردیا جائے گا ، اس میں اس کا نامۂِ اعمال دیا جائے گا ، اس حال کو دیکھ کر وہ جان لے گا کہ وہ اہلِ نار میں سے ہے تو ۔
فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا ۙ ﴿11﴾
(۱۱) وہ عنقریب موت مانگے گا (ف۱۵)
Soon he will pray for death.
वह अनक़रीब मौत मांगेगा
Woh anqareeb maut maangega
(ف15)اور یاثبوراہ کہے گا ۔ ثبور کے معنٰی ہلاکت کے ہیں ۔
وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا ؕ ﴿12﴾
(۱۲) اور بھڑکتی آگ میں جائے گا،
And will go into the blazing fire.
और भड़कती आग में जाएगा,
Aur bhadakti aag mein jaayega,
اِنَّهٗ كَانَ فِىۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا ؕ ﴿13﴾
(۱۳) بیشک وہ اپنے گھر میں (ف۱٦) خوش تھا (ف۱۷)
Indeed he used to rejoice in his home.
बेशक वह अपने घर में खुश था
Baishak woh apne ghar mein khush tha
(ف16)دنیا کے اندر ۔(ف17)اپنی خواہشوں اور شہوتوں میں اور متکبّر ومغرور ۔
اِنَّهٗ ظَنَّ اَنۡ لَّنۡ يَّحُوۡرَ ۛۚ ﴿14﴾
(۱٤) وہ سمجھا کہ اسے پھرنا نہیں (ف۱۸)
He assumed that he does not have to return.
वह समझा कि उसे फिरना नहीं
Woh samjha ke use phirna nahi
(ف18)اپنے رب کی طرف اور وہ مرنے کے بعد اٹھایا نہ جائے گا ۔
(۱۵) ہاں کیوں نہیں (ف۱۹) بیشک اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے،
Surely yes, why not? Indeed his Lord is seeing him.
हाँ क्यों नहीं बेशक उसका रब उसे देख रहा है,
Haan kyun nahi baishak uska Rab use dekh raha hai,
(ف19)ضرور اپنے رب کی طرف رجوع کرے گا، اور مرنے کے بعد اٹھایاجائے گا اور حساب کیا جائے گا ۔
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالشَّفَقِۙ ﴿16﴾
(۱٦) تو مجھے قسم ہے شام کے اجالے کی (ف۲۰)
So by oath of the late evening’s light.
तो मुझे क़सम है शाम के उजाले की
To mujhe qasam hai shaam ke ujale ki
(ف20)جو سرخی کے بعد نمودار ہوتا ہے اور جس کے غائب ہونے پر امام صاحب کے نزدیک وقتِ عشاء شروع ہوتا ہے ۔ یہی قول ہے کثیر صحابہ کا اور بعض علماء شفق سے سرخی مراد لیتے ہیں ۔
وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَۙ ﴿17﴾
(۱۷) اور رات کی اور جو چیزیں اس میں جمع ہوتی ہیں (ف۲۱)
And by oath of the night and all that gathers in it.
और रात की और जो चीज़ें उसमें जमा होती हैं
Aur raat ki aur jo cheezen usmein jama hoti hain
(ف21)مثل جانوروں کے جو دن میں منتشر ہوتے ہیں اور شب میں اپنے آشیانوں اور ٹھکانوں کی طرف چلے آتے ہیں اور مثل تاریکی کے اور ستاروں اور ان اعمال کے جو شب میں کئے جاتے ہیں مثل تہجّد کے ۔
وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَۙ ﴿18﴾
(۱۸) اور چاند کی جب پورا ہو (ف۲۲)
And by oath of the moon when it is full.
और चाँद की जब पूरा हो
Aur chaand ki jab poora ho
(ف22)اور اس کا نور کامل ہوجائے اور یہ ایّامِ بیض یعنی تیرھویں ، چودھویں ، پندرھویں تاریخوں میں ہوتا ہے ۔
لَتَرۡكَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍؕ ﴿19﴾
(۱۹) ضرور تم منزل بہ منزل چڑھو گے (ف۲۳)
You will surely go up level by level.
जरूर तुम मंज़िल बह मंज़िल चढ़ोगे
Zaroor tum manzil ba manzil chadhoge
(ف23)یہ خطاب یا تو انسانوں کو ہے اس تقدیر پر معنٰی یہ ہیں کہ تمہیں حال کے بعد حال پیش آئے گا ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ موت کے شدائد و اہوال ، پھر مرنے کے بعد اٹھنا ، پھر موقفِ حساب میں پیش ہونا ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان کے حالات میں تدریج ہے ، ایک وقت دودھ پیتا بچّہ ہوتا ہے ، پھر دودھ چھوٹتا ہے ، پھر لڑکپن کا زمانہ آتا ہے ، پھر جوان ہوتا ہے ، پھر جوانی ڈھلتی ہے ، پھر بوڑھا ہوتا ہے ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہے کہ آپ شبِ معراج ایک آسمان پر تشریف لے گئے ، پھر دوسرے پر ، اسی طرح درجہ بدرجہ ، مرتبہ بمرتبہ ، منازلِ قرب میں واصل ہوئے ۔ بخاری شریف میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کاحا ل بیان فرمایا گیا ہے معنٰی یہ ہیں آپ کو مشرکین پر فتح و ظفر حاصل ہوگی اور انجام بہت بہتر ہوگا ، آپ کفّار کی سرکشی اور ان کی تکذیب سے غمگین نہ ہوں ۔
فَمَا لَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ ﴿20﴾
(۲۰) تو کیا ہوا انہیں ایمان نہیں لاتے (ف۲٤)
What is the matter with them that they do not accept faith?
तो क्या हुआ उन्हें ईमान नहीं लाते
To kya hua unhein imaan nahi late
(ف24)یعنی اب ایمان لانے میں کیا عذر ہے باوجود دلائل ظاہر ہونے کے کیوں ایمان نہیں لاتے ۔
(۲۱) اور جب قرآن پڑھا جائے سجدہ نہیں کرتے (ف۲۵) السجدة ۔۱۳
And when the Qur’an is recited to them, they do not fall prostrate? (Command of Prostration # 13)
और जब कुरआन पढ़ा जाए सिज़्दा नहीं करते अलसिज़्दाह 13
Aur jab Quran padha jaaye sajda nahi karte Al-Sajdah 13
(ف25)مراد اس سے سجدۂِ تلاوت ہے ۔شانِ نزول : جب سورۂِ اقراء میں وَاسْجُدْوَاقْتَرِبْ نازل ہوا تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سجدہ کیا مومنین نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور کفّارِ قریش نے سجدہ نہ کیا ، ان کے اس فعل کی برائی میں یہ آیت نازل ہوئی کہ کفّار پر جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدۂِ تلاوت نہیں کرتے ۔مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہواکہ سجدۂِ تلاوت واجب ہے سننے والے پر اور حدیث سے ثابت ہے کہ پڑھنے والے سننے والے دونوں پر سجدہ واجب ہوجاتا ہے ۔ قرآنِ کریم میں سجدہ کی چودہ آیتیں ہیں جن کو پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہوجاتا ہے ، خواہ سننے والے نے سننے کا ارادہ کیا ہو یا نہ کیاہو ۔مسئلہ : سجدۂِ تلاوت کے لئے بھی وہی شرطیں ہیں جو نماز کے لئے مثلِ طہارت اور قبلہ رو ہونے اور سترِ عورت وغیرہ کے ۔مسئلہ : سجدہ کے اوّل و آخر اللہ اکبر کہنا چاہئے ۔مسئلہ : امام نے آیتِ سجدہ پڑھی تو اس پر اور مقتدیوں پر اور جو شخص نماز میں نہ ہو اور سن لے اس پر سجدہ واجب ہے ۔مسئلہ : سجدہ کی جتنی آیتیں پڑھی جائیں گی ، اتنے ہی سجدے واجب ہوں گے ، اگر ایک ہی آیت ایک مجلس میں بار بار پڑھی گئی تو ایک ہی سجدہ واجب ہوا ۔ والتفصیل فی کتب الفقہ ۔ (تفسیر احمدی)
بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ ۖ ﴿22﴾
(۲۲) بلکہ کافر جھٹلا رہے ہیں (ف۲٦)
In fact the disbelievers keep denying.
बल्कि काफ़िर झटला रहे हैं
Balkay kaafir jhatla rahe hain
(ف26)قرآن کو اور مرنے کے بعد اٹھنے کو ۔
وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ ۖ ﴿23﴾
(۲۳) اور اللہ خوب جانتا ہے جو اپنے جی میں رکھتے ہیں (ف۲۷)
And Allah well knows what they conceal in their hearts.
और अल्लाह खूब जानता है जो अपने जी में रखते हैं
Aur Allah khoob jaanta hai jo apne jee mein rakhte hain
(ف27)کفر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب ۔
فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍۙ ﴿24﴾
(۲٤) تو تم انہیں دردناک عذاب کی بشارت دو (ف۲۸)
Therefore give them the glad tidings of a painful punishment.
(۲۵) مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے وہ ثواب ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا،
Except those who believed and did good deeds – for them is a reward that will never end.
मगर जो ईमान लाए और अच्छे काम किए उनके लिए वह सवाब है जो कभी ख़त्म न होगा,
Magar jo imaan laaye aur achche kaam kiye unke liye woh sawab hai jo kabhi khatm na hoga,
وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡبُرُوۡجِۙ ﴿1﴾
(۱) قسم آسمان کی، جس میں برج ہیں (ف۲)
By oath of the heaven which contains the constellations.
क़सम आसमान की, जिसमें बर्ज़ हैं
Qasam aasman ki, jismein burj hain
(ف2)جن کی تعداد بارہ ہے اور ان میں عجائبِ حکمتِ الٰہی نمودار ہیں ، آفتابِ ماہتاب اور کواکب کی سیر ان میں معیّن اندازے پر ہے جس میں اختلاف نہیں ہوتا ۔
وَالۡيَوۡمِ الۡمَوۡعُوۡدِۙ ﴿2﴾
(۲) اور اس دن کی جس کا وعدہ ہے (ف۳)
And by oath of the Promised Day.
और उस दिन की जिसका वादा है
Aur us din ki jiska wada hai
(ف3)وہ روزِ قیامت ہے ۔
وَشَاهِدٍ وَّمَشۡهُوۡدٍؕ ﴿3﴾
(۳) اور اس دن کی جو گواہ ہے (ف٤) اور اس دن کی جس میں حاضر ہوتے ہیں (ف۵)
And by oath of the day that is a witness and by oath of a day in which the people present themselves.
और उस दिन की जो गवाह है और उस दिन की जिसमें हाज़िर होते हैं
Aur us din ki jo gawah hai aur us din ki jismein haazir hote hain
(ف4)مراد اس سے روزِ جمعہ ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔(ف5)آدمی اور فرشتے ۔ مراد اس سے روزِ عرفہ ہے ۔
قُتِلَ اَصۡحٰبُ الۡاُخۡدُوۡدِۙ ﴿4﴾
(٤) کھائی والوں پر لعنت ہو (ف٦)
Accursed be the People of the Ditch!
खाई वालों पर लानत हो
Khai walon par laanat ho
(ف6)مروی ہے کہ پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا ، جب اس کا جادوگر بوڑھا ہوا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس ایک لڑکا بھیج ، جسے میں جادو سکھادوں ، بادشاہ نے ایک لڑکا مقرّر کردیا ، وہ جادو سیکھنے لگا ، راہ میں ایک راہب رہتا تھا ، اس کے پاس بیٹھنے لگا اور اس کا کلام اس کے دلنشین ہوتا گیا ، اب آتے جاتے اس نے راہب کی صحبت میں بیٹھنا مقرّر کرلیا ، ایک روز راستہ میں ایک مہیّب جانور مِلا ، لڑکے نے ایک پتّھر ہاتھ میں لے کر یہ دعا کی کہ یارب اگر راہب تجھے پیارا ہو تو میرے پتّھر سے اس جانور کو ہلاک کردے ، وہ جانور اس کے پتّھر سے مر گیا ، اس کے بعد لڑکا مستجاب الدعوۃ ہوا اور اس کی دعا سے کوڑھی اور اندھے اچھے ہونے لگے ، بادشاہ کا ایک مصاحب نابینا ہوگیا تھا ، وہ آیا لڑکے نے دعا کی وہ اچھا ہوگیا اور اللہ تعالٰی پر ایمان لے آیا اور بادشاہ کے دربار میں پہنچا ، اس نے کہا تجھے کس نے اچھا کیا ،کہا میرے رب نے ، بادشاہ نے کہا میرے سوا اور بھی کوئی رب ہے ، یہ کہہ کر اس نے اس پر سختیاں شروع کیں ، یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا پتا بتایا ، لڑکے پر سختیاں کیں اور اس نے راہب کا پتہ بتایا ، راہب پر سختیاں کیں اور اس سے کہا اپنا دِین ترک کر ، اس نے انکار کیا تو اس کے سر پر آرا رکھ کر چِروادیا ، پھر مصاحب کو بھی چروادیا ، پھر لڑکے کو حکم دیاکہ پہاڑ کی چوٹی سے گرادیا جائے ، سپاہی اس کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے ، اس نے دعا کی ، پہاڑ میں زلزلہ آیا سب گر کر ہلاک ہوگئے ، لڑکا صحیح و سلامت چلا آیا ، بادشاہ نے کہا سپاہی کیا ہوئے ، کہا سب کو خدا نے ہلاک کردیا ، پھر بادشاہ نے لڑکے کو سمندر میں غرق کرنے کے لئے بھیجا ، لڑکے نے دعا کی ، کَشتی ڈوب گئی ، تمام شاہی آدمی ڈوب گئے ، لڑکا صحیح و سلامت بادشاہ کے پاس آگیا ، بادشاہ نے کہا وہ آدمی کیا ہوئے ، کہا سب کو اللہ تعالٰی نے ہلاک کردیا اور تو مجھے قتل کر ہی نہیں سکتا جب تک وہ کام نہ کرے جو میں بتاؤں ، کہا وہ کیا ؟ لڑکے نے کہا ایک میدان میں سب لوگوں کو جمع کر اورمجھے کھجور کے ڈھنڈ پر سولی دے ، پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکال کر بسم اللہ رب الغلام کہہ کر مار ، ایسا کرے گاتو مجھے قتل کرسکے گا ، بادشاہ نے ایسا ہی کیا ، تیر لڑکے کی کنپٹی پر لگا ، اس نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور واصلِ بحق ہوگیا ، یہ دیکھ کر تمام لوگ ایمان لے آئے اس سے بادشاہ کو اور زیادہ صدمہ ہوا اور اس نے ایک خندق کھدوائی اور اس میں آ گ جلوائی اور حکم دیا جو دِین سے نہ پھرے ، اسے اس آ گ میں ڈال دو ، لوگ ڈالے گئے ، یہاں تک کہ ایک عورت آئی ، اس کی گود میں بچّہ تھا ، وہ ذرا جھجکی ، بچّہ نے کہا اے ماں صبر کر ، نہ جھجک تو سچّے دِین پر ہے ، وہ بچّہ اور ماں بھی آ گ میں ڈال دیئے گئے ۔ یہ حدیث صحیح ہے مسلم نے اس کی تخریج کی ، اس سے اولیاء کی کرامتیں ثابت ہوتی ہیں ۔ آیت میں اس واقعہ کا ذکر ہے ۔
النَّارِ ذَاتِ الۡوَقُوۡدِۙ ﴿5﴾
(۵) اس بھڑکتی آگ والے،
The people of the fuelled blazing fire.
उस भड़कती आग वाले,
Us bhadakti aag wale,
اِذۡ هُمۡ عَلَيۡهَا قُعُوۡدٌ ۙ ﴿6﴾
(٦) جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے تھے
When they were sitting at its edge.
जब वह उसके किनारों पर बैठे थे और वह खुद गवाह हैं जो कि मुसलमानों के साथ कर रहे थे
Jab woh uske kinaron par baithe the aur woh khud gawah hain jo ke Musalmanon ke saath kar rahe the
(ف7)کرسیاں بچھائے اور مسلمانوں کو آ گ میں ڈال رہے تھے ۔
(ف۷) اور وه خد گواه ہیں جو کہ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے (ف۸)
And they themselves are witnesses to what they were doing to the Muslims!
और उन्हें मुसलमानों का क्या बुरा लगा यही न कि वे ईमान लाए अल्लाह वाले सब खूबियों सारा है पर,
Aur unhein Musalmanon ka kya bura laga yehi na ke woh imaan laaye Allah wale sab khoobiyon sara hai par,
(ف8)شاہی لوگ بادشاہ کے پاس آکر ایک دوسرے کے لئے گواہی دیتے تھے کہ انہوں نے تعمیلِ حکم میں کوتاہی نہیں کی ، ایمانداروں کو آ گ میں ڈال دیا ۔ مروی ہے کہ جو مومن آ گ میں ڈالے گئے ، اللہ تعالی نے انکے آ گ میں پڑنے سے قبل ان کی روحیں قبض فرما کر انہیں نجات دی اور آ گ نے خندق کے کناروں سے باہر نکل کر کنارے پر بیٹھے ہوئے کفّار کو جَلا دیا ۔ فائدہ : اس واقعہ میں مومنین کو صبر اور اہلِ مکّہ کی ایذا رسانیوں پر تحمّل کرنے کی ترغیب فرمائی گئی ۔
(۱۰) بیشک جنھوں نے ایذا دی مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو پھر توبہ نہ کی ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے (ف۱۱) اور ان کے لئے آگ کا عذاب (ف۱۲)
Indeed those who troubled the Muslim men and Muslim women, and then did not repent – for them is the punishment of hell, and for them is the punishment of fire.
बेशक जो ईमान लाए और अच्छे काम किए उनके लिए बाग़ हैं जिनके नीचे नहरें रवान यही बड़ी कामयाबी है,
Baishak jo imaan laaye aur achche kaam kiye unke liye baagh hain jin ke neeche nahrain rawan yehi bari kaamyabi hai,
(ف9)آ گ میں جَلا کر ۔(ف10)اور اپنے کفر سے باز نہ آئے ۔(ف11)آخرت میں بدلہ ان کے کفر کا ۔(ف12)دنیا میں کہ اسی آ گ نے انہیں جَلا ڈالا ۔ یہ بدلہ ہے مسلمانوں کوآ گ میں ڈالنے کا ۔
(۱۱) بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں یہی بڑی کامیابی ہے،
Indeed those who believed and did good deeds – for them are Gardens beneath which rivers flow; this is the great success.
बेशक तेरे रब की گرفت बहुत सख़्त है
Baishak tere Rab ki giraft bahut sakht hai
اِنَّ بَطۡشَ رَبِّكَ لَشَدِيۡدٌ ؕ ﴿12﴾
(۱۲) بیشک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے (ف۱۳)
Indeed the seizure of your Lord is very severe.
बेशक वह पहले और फिर करे
Baishak woh pehle aur phir kare
(ف13)جب وہ ظالموں کو عذاب میں پکڑے ۔
اِنَّهٗ هُوَ يُبۡدِئُ وَيُعِيۡدُ ۚ ﴿13﴾
(۱۳) بیشک وه پہلے اور پھر کرے (ف۱٤)
Indeed it is He Who initiates and redoes.
और वही है बख़्शने वाला अपने नेक बंदों पर प्यारा,
Aur wahi hai bakhshne wala apne nek bandon par pyara,
(ف14)یعنی پہلے دنیا میں پیدا کرے ، پھر قیامت میں اعمال کی جزا دینے کے لئے موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے ۔
وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ الۡوَدُوۡدُۙ ﴿14﴾
(۱٤) اور وہی ہے بخشنے والا اپنے نیک بندوں پر پیارا ،
And He only is the Oft Forgiving, the Beloved of His bondmen.
इज़्ज़त वाले अरश का मालिक,
Izzat wale Arsh ka maalik,
ذُو الۡعَرۡشِ الۡمَجِيۡدُ ۙ ﴿15﴾
(۱۵) عزت والے عرش کا مالک ،
Master of the Honourable Throne.
हमेशा जो चाहे कि लेने वाला,
Hamesha jo chahe ke lene wala,
فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ ؕ ﴿16﴾
(۱٦) ہمیشہ جو چاہے کر لینے والا ،
Always doing whatever He wills.
क्या तुम्हारे पास लश्करों के बात आई
Kya tumhare paas lashkaron ke baat aayi
هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ الۡجُـنُوۡدِۙ ﴿17﴾
(۱۷) کیا تمھارے پاس لشکروں کے بات آئی (ف۱۵)
Did the story of the armies reach you?
वह लश्कर कौन फ़िरऔन और थमूद
Woh lashkar kaun Fir’awn aur Thamood
(ف15)جن کو کافر انبیاء علیہم السلام کے مقابل لائے ۔
فِرۡعَوۡنَ وَثَمُوۡدَؕ ﴿18﴾
(۱۸) وه لشکر کون فرعون اور ثمود (ف۱٦)
(The armies of) Firaun and the tribe of Thamud.
बल्कि काफ़िर झटला ने में हैं
Balkay kaafir jhatla ne mein hain
(ف16)جو اپنے کفر کے سبب ہلاک کئے گئے ۔
بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِىۡ تَكۡذِيۡبٍۙ ﴿19﴾
(۱۹) بلکہ (ف۱۷) کافر جھٹلا نے میں ہیں (ف۱۸)
In fact the disbelievers are in denial.
और अल्लाह उनके पीछे से उन्हें घेरे हुए है
Aur Allah unke peeche se unhein ghere hue hai
(ف17)اے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ کی امّت کے ۔(ف18)آپ کو اور قرآنِ پاک کو جیسا کہ پہلے کافروں کا دستور تھا ۔
وَّاللّٰهُ مِنۡ وَّرَآٮِٕهِمۡ مُّحِيۡطٌۚ ﴿20﴾
(۲۰) اور اللہ ان کے پیچھے سے انھیں گھیرے ہوئے ہے (ف۱۹)
And Allah is after them, has them surrounded.
बल्कि वह कमाल शरफ़ वाला क़ुरआन है,
Balkay woh kamaal sharaf wala Quran hai,
(ف19)اس سے انہیں کوئی بچانے والا نہیں ۔
بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ ۙ ﴿21﴾
(۲۱) بلکہ وه کمال شرف والا قران ہے،
In fact it (what they deny) is the Noble Qur’an.
लूह़ महफ़ूज़ में,
Luh
فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ ﴿22﴾
(۲۲) لوح محفوظ میں ،
In the Preserved Tablet.
وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِۙ ﴿1﴾
(۱) آسمان کی قسم اور رات کے آنے والے کی، (ف۲)
By oath of the heaven, and by oath of the nightly arriver.
आसमान की क़सम और रात के आने वाले की,
Aasman ki qasam aur raat ke aane wale ki,
(ف2)یعنی ستارے کی جو رات کو چمکتا ہے ۔ شانِ نزول : ایک شب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں ابو طالب کچھ ہدیہ لائے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کو تناول فرمارہے تھے ، اس درمیان میں ایک تارا ٹوٹا اور تمام فضا آ گ سے بھر گئی ابو طالب گھبرا کر کہنے لگے یہ کیا ہے ، سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا یہ ستارہ ہے ، جس سے شیاطین مارے جاتے ہیں اور یہ قدرتِ الٰہی کی نشانیوں میں سے ہے ، ابو طالب کو اس سے تعجّب ہوا اور یہ سورت نازل ہوئی ۔
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الطَّارِقُۙ ﴿2﴾
(۲) اور کچھ تم نے جانا وه رات کو آنے والا کیا ہے ،
And have you understood what the nightly arriver is?
और कुछ तुमने जाना वह रात को आने वाला क्या है,
Aur kuch tumne jaana woh raat ko aane wala kya hai,
النَّجۡمُ الثَّاقِبُۙ ﴿3﴾
(۳) خوب چمکتا تارا ،
The very brightly shining star!
खूब चमकता तारा,
Khoob chamakta taara,
اِنۡ كُلُّ نَفۡسٍ لَّمَّا عَلَيۡهَا حَافِظٌؕ ﴿4﴾
(٤) کوئی جان نہیں جس پر نگہبان نہ ہو (ف۳)
There is not a soul that does not have a guardian over it.
कोई जान नहीं जिस पर निगाहबान न हो
Koi jaan nahi jis par nigahbaan na ho
(ف3)اس کے رب کی طرف سے جو اس کے اعمال کی نگہبانی کرے اور اس کی نیکی بدی سب لکھ لے ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ مراد اس سے فرشتے ہیں ۔
فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ ﴿5﴾
(۵) تو چاہئے کہ آدمی غور کرے کہ کس چیز سے بنایا گیا (ف٤)
So man must consider from what he has been created.
तो चाहिए कि आदमी गौर करे कि किस चीज़ से बनाया गया
To chahiye ke aadmi gaur kare ke kis cheez se banaya gaya
(ف4)تاکہ وہ جانے کہ اس کا پیدا کرنے والا اس کو بعدِ موت جزا کے لئے زندہ کرنے پر قادر ہے ۔ پس اس کو روزِجزا کے لئے عمل کرنا چاہئے ۔
خُلِقَ مِنۡ مَّآءٍ دَافِقٍۙ ﴿6﴾
(٦) جَست کرتے ( اوچھلتے ہوئے ) پانی سے ، (ف۵)
Created from a gushing fluid.
जस्त करते (उछलते हुए) पानी से,
Jast karte (uchhalte hue) paani se,
(ف5)یعنی مرد و عورت کے نطفوں سے ، جو رحم میں مل کر ایک ہوجاتے ہیں ۔
That is issued from between the backs and the ribs.
जो निकलता है पीठ और सीनों के बीच से
Jo nikalta hai peeth aur seenon ke beech se
(ف6)یعنی مرد کی پشت سے اور عورت کے سینہ کے مقام سے ۔ حضرت ابنِ عباس نے فرمایا سینہ کے اس مقام سے جہاں ہار پہنا جاتا ہے اورانہیں سے منقول ہے کہ عورت کی دونوں چھاتیوں کے درمیان سے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ منی انسان کے تمام اعضاء سے برآمد ہوتی ہے اور اس کا زیادہ حصّہ دماغ سے مرد کی پشت میں آتا ہے اورعورت کے بدن کے اگلے حصّہ کی بہت سی رگوں میں جوسینہ کے مقام پر ہیں نازل ہوتا ہے ، اسی لئے ان دونوں مقاموں کا ذکر خصوصیّت سے فرمایا گیا ۔
اِنَّهٗ عَلٰى رَجۡعِهٖ لَقَادِرٌؕ ﴿8﴾
(۸) بیشک اللہ اس کے واپس کرینے پر (ف۷) قادر ہے
Indeed Allah is Able to return him.
बेशक अल्लाह इसे वापस करने पर क़ादिर है
Baishak Allah ise wapas karne par qaadir hai
(ف7)یعنی موت کے بعد زندگی کی طرف لوٹا دینے پر ۔
يَوۡمَ تُبۡلَى السَّرَآٮِٕرُۙ ﴿9﴾
(۹) جس دن چھپی باتوں کی جانچ ہوگی (ف۸)
A day when the secrets will be examined.
जिस दिन छपी बातों की जांच होगी
Jis din chhupi baaton ki jaanch hogi
(ف8)چُھپی باتوں سے مراد عقائد اورنیّتیں اور وہ اعمال ہیں جن کو آدمی چُھپاتا ہے ، روزِ قیامت اللہ تعالٰی ان سب کو ظاہر کردے گا ۔
فَمَا لَهٗ مِنۡ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍؕ ﴿10﴾
(۱۰) تو آدمی کے پاس نہ کچھ زور ہوگا نہ کوئی مددگار (ف۹)
So man will neither have any strength nor any aide.
तो आदमी के पास न कुछ जोर होगा न कोई मददगार
To aadmi ke paas na kuch zor hoga na koi madadgaar
(ف9)یعنی جوآدمی منکِرِ بعث ہے ، نہ اس کو ایسی قوّت ہوگی جس سے عذاب کو روک سکے ، نہ اس کا کوئی ایسا مددگار ہوگا جو اسے بچاسکے ۔
وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِۙ ﴿11﴾
(۱۱) آسمان کی قسم! جس سے مینھ اترتا ہے (ف۱۰)
By oath of the sky from which comes down the rain.
आसमान की क़सम! जिससे मेघ उतरता है
Aasman ki qasam! Jisse megh utarta hai
(ف10)جو ارضی پیداوار نبات و اشجار کے لئے ، مثل باپ کے ہے ۔
وَالۡاَرۡضِ ذَاتِ الصَّدۡعِۙ ﴿12﴾
(۱۲) اور زمین کی جو اس سے کھلتی ہے (ف۱۱)
And by oath of the earth which flourishes with it.
और ज़मीन की जो उससे खुलती है
Aur zameen ki jo usse khulti hai
(ف11)اور نباتات کے لئے ، مثل ماں کے ہے اور یہ دونوں اللہ تعالٰی کی عجیب نعمتیں ہیں اور ان میں قدرتِ الٰہی کے بے شمار آثار نمودار ہیں جن میں غور کرنے سے آدمی کو بعث بعد الموت کے بہت سے دلائل ملتے ہیں ۔
اِنَّهٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌۙ ﴿13﴾
(۱۳) بیشک قرآن ضرور فیصلہ کی بات ہے (ف۱۲)
Indeed the Qur’an is a decisive Word.
बेशक कुरआन जरूर फ़ैसला की बात है
Baishak Quran zaroor faisla ki baat hai
(ف12)کہ حق وباطل میں فرق و امتیاز کردیتا ہے ۔
وَّمَا هُوَ بِالۡهَزۡلِؕ ﴿14﴾
(۱٤) اور کوئی ہنسی کی بات نہیں (ف۱۳)
And is not a matter of amusement.
और कोई हँसी की बात नहीं
Aur koi hansi ki baat nahi
(ف13)جو نکمی اور بے کار ہو ۔
اِنَّهُمۡ يَكِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا ۙ ﴿15﴾
(۱۵) بیشک کافر اپنا سا داؤ چلتے ہیں (ف۱٤)
Indeed the disbelievers carry out their evil schemes.
बेशक काफ़िर अपना सा दांव चलते हैं
Baishak kaafir apna sa daav chalte hain
(ف14)اور دِینِ الٰہی کے مٹانے اور نورِ حق کو بجھانے اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایذا پہنچانے کے لئے طرح طرح کے داؤں کرتے ہیں ۔
(۱۷) تو تم کافروں کو ڈھیل دو (ف۱٦) انہیں کچھ تھوڑی مہلت دو (ف۱۷)
Therefore give them some respite – give them some time.
तो तुम काफ़िरों को ढील दो उन्हें कुछ थोड़ी महलत दो
To tum kaafiron ko dheel do unhein kuch thodi mehlat do
(ف16)اے سیّدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف17)چند روز کہ وہ عنقریب ہلاک کئے جائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور بدر میں انہیں عذابِ الٰہی نے پکڑا ۔ ( وَنُسِخَ الْاِمْہَالُ بِآیَۃِ السَّیْفِ)
سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّكَ الۡاَعۡلَىۙ ﴿1﴾
(۱) اپنے رب کے نام کی پاکی بولو جب سے بلند ہے (ف۲)
Proclaim the Purity of your Lord, the Supreme.
अपने रब के नाम की पाकी बोलो जब से बुलंद है
Apne Rab ke naam ki paaki bolo jab se buland hai
(ف2)یعنی اس کا ذکر عظمت و احترام کے ساتھ کرو ۔ حدیث میں ہے جب یہ آیت نازل ہوئی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اس کو اپنے سجدہ میں داخل کرو یعنی سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہو ۔ (ابوداؤد)
الَّذِىۡ خَلَقَ فَسَوّٰى ۙ ﴿2﴾
(۲) جس نے بناکر ٹھیک کیا (ف۳)
The One Who created, and then made proper.
जिसने बना कर ठीक किया
Jisne bana kar theek kiya
(ف3)یعنی ہر چیز کی پیدائش ایسی مناسب فرمائی جو پیدا کرنے والے کے علم و حکمت پر دلالت کرتی ہے ۔
وَالَّذِىۡ قَدَّرَ فَهَدٰى ۙ ﴿3﴾
(۳) اور جس نے اندازہ پر رکھ کر راہ دی (ف٤)
And the One Who kept proper measure and then guided.
और जिसने अंदाज़ा पर रख कर राह दी
Aur jisne andaza par rakh kar raah di
(ف4)یعنی امور کو ازل میں مقدر کیا اور اس کی طرف راہ دی ، یا یہ معنٰی ہیں کہ روزیاں مقدر کیں اور ان کے طریقِ کسب کی راہ بتائی ۔
وَالَّذِىۡۤ اَخۡرَجَ الۡمَرۡعٰى ۙ ﴿4﴾
(٤) اور جس نے چارہ نکالا،
The One Who produced pasture.
और जिसने चारा निकाला,
Aur jisne chaara nikala,
فَجَعَلَهٗ غُثَآءً اَحۡوٰىؕ ﴿5﴾
(۵) پھر اسے خشک سیاہ کردیا،
Then made it dry and dark.
फिर उसे सूखा काला कर दिया,
Phir use sukha kaala kar diya,
سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰٓىۙ ﴿6﴾
(٦) اب ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم نہ بھولو گے (۵)
We shall now make you read (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), so you will not forget.
अब हम तुम्हें पढ़ाएँगे कि तुम न भूलो गे
Ab hum tumhein padhaayenge ke tum na bhoolo ge
(ف5)یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بشارت ہے کہ آپ کو حفظِ قرآن کی نعمت بے محنت عطا ہوئی اور یہ آپ کا معجزہ ہے کہ اتنی بڑی کتابِ عظیم بغیر محنت و مشقّت اور بغیر تکرار و دور کے آپ کو حفظ ہوگئی ۔ (جمل)
(۷) مگر جو اللہ چاہے (ف٦) بیشک وہ جانتا ہے ہر کھلے اور چھپے کو،
Except what Allah wills; indeed He knows all the evident and all the concealed.
मगर जो अल्लाह चाहे बेशक वह जानता है हर खुले और छिपे को,
Magar jo Allah chahe baishak woh jaanta hai har khule aur chhupe ko,
(ف6)مفسّرین نے فرمایا کہ یہ استثناء واقع نہ ہوا اور اللہ تعالٰی نے نہ چاہا کہ آپ کچھ بھولیں ۔ (خازن)
وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرٰى ۖۚ ﴿8﴾
(۸) اور ہم تمہارے لیے آسانی کا سامان کردیں گے (ف۷)
And We shall create the means of ease for you.
और हम तुम्हारे लिए आसानी का सामान कर देंगे
Aur hum tumhare liye aasani ka saamaan kar denge
(ف7)کہ وحی تمہیں بے محنت یاد رہے گی ۔ مفسّرین کا ایک قول یہ ہے کہ آسانی کے سامان سے شریعتِ اسلام مراد ہے جو نہایت سہل و آسان ہے ۔
فَذَكِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰىؕ ﴿9﴾
(۹) تو تم نصیحت فرماؤ (ف۸) اگر نصیحت کام دے (ف۹)
Therefore advise, if advising is beneficial.
तो तुम नसीहत फरमाओ अगर नसीहत काम दे
To tum naseehat farmao agar naseehat kaam de
(ف8)اس قرآنِ مجید سے ۔(ف9)اور کچھ لوگ اس سے منتفع ہوں ۔
سَيَذَّكَّرُ مَنۡ يَّخۡشٰىۙ ﴿10﴾
(۱۰) عنقریب نصیحت مانے گا جو ڈرتا ہے (ف۱۰)
Soon whoever fears will heed advice.
अनक़रीब नसीहत मानेगा जो डरता है
Anqareeb naseehat maane ga jo darta hai
(ف10)اللہ تعالٰی سے ۔
وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ ﴿11﴾
(۱۱) اور اس (ف۱۱) سے وہ بڑا بدبخت دور رہے گا،
And the most wicked will stay away from it.
और उससे वह बड़ा बदबख़्त दूर रहेगा,
Aur usse woh bada badbakht door rahe ga,
(ف11)پندو نصیحت ۔
الَّذِىۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰىۚ ﴿12﴾
(۱۲) جو سب سے بڑی آگ میں جائے گا (ف۱۲)
The one who will enter the biggest fire.
जो सबसे बड़ी आग में जाएगा
Jo sabse badi aag mein jaayega
(ف12)شانِ نزول : بعض مفسّرین نے فرمایا کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی ۔
ثُمَّ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَلَا يَحۡيٰىؕ ﴿13﴾
(۱۳) پھر نہ اس میں مرے (ف۱۳) اور نہ جیے (ف۱٤)
Then he neither dies in it, nor lives.
फिर न उसमें मरे और न जिये
Phir na usmein mare aur na jiye
(ف13)کہ مر کر ہی عذاب سے چھوٹ سکے ۔(ف14)ایسا جینا جس سے کچھ بھی آرام پائے ۔
قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَكّٰىۙ ﴿14﴾
(۱٤) بیشک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا (ف۱۵)
Indeed successful is the one who became pure.
बेशक मुराद को पहुँचा जो सथरा हुआ
Baishak murad ko pohcha jo sathra hua
(ف15)ایمان لا کر ، یا یہ معنٰی ہیں کہ اس نماز کے لئے طہارت کی ، اس تقدیر پر آیت سے نماز کے لئے وضو اورغسل ثابت ہوتا ہے ۔ (تفسیر احمدی)
وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى ؕ ﴿15﴾
(۱۵) اور اپنے رب کا نام لے کر (ف۱٦) نماز پڑھی (ف۱۷)
And who mentioned the name of his Lord, then offered prayer.
और अपने रब का नाम लेकर नमाज़ पढ़ी
Aur apne Rab ka naam lekar namaaz padhi
(ف16)یعنی تکبیرِافتتاح کہہ کر ۔(ف17)پنج گانہ ۔ مسئلہ : اس آیت سے تکبیر افتتاح ثابت ہوئی اور یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ نماز کا جزو نہیں ہے کیونکہ نماز کا اس پر عطف کیا گیا ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ افتتا ح نماز کااللہ تعالٰی کے ہر نام سے جائز ہے اس آیت کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ تَزکّٰی سے صدقۂِ فطر دینا اور رب کا نام لینے سے عید گاہ کے راستہ میں تکبیریں کہنااور نماز سے نمازِ عید مراد ہے ۔ (تفسیر مدارک و احمدی )
بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ۖ ﴿16﴾
(۱٦) بلکہ تم جیتی دنیا کو ترجیح دیتے ہو (ف۱۸)
But rather you prefer the life of this world!
बल्कि तुम जीती दुनिया को तरजीह देते हो
Balkay tum jeeti duniya ko tarjih dete ho
(ف18)آخرت پر ۔ اسی لئے وہ عمل نہیں کرتے جو وہاں کام آئیں ۔
وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّ اَبۡقٰىؕ ﴿17﴾
(۱۷) اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی،
Whereas the Hereafter is better and everlasting.
और आख़िरत बेहतर और बाकी रहने वाली,
Aur aakhirat behtar aur baaqi rehne wali,
اِنَّ هٰذَا لَفِى الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰىۙ ﴿18﴾
(۱۸) بیشک یہ (ف۱۹) اگلے صحیفوں میں ہے (ف۲۰)
Indeed this is in the former scriptures.
बेशक यह अगले सहीफों में है
Baishak yeh agle saheefon mein hai
(ف19)یعنی ستھروں کا مراد کو پہنچنا اور آخرت کا بہتر ہونا ۔(ف20)جو قرآنِ کریم سے پہلے ناز ل ہوئے ۔
صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰى ﴿19﴾
(۱۹) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں،
In the Books of Ibrahim and Moosa.
इब्राहीम और मूसा के सहीफों में,
Ibrahim aur Moosa ke saheefon mein,
هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ الۡغَاشِيَةِؕ ﴿1﴾
(۱) بیشک تمہارے پاس (ف۲) اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی (ف۳)
Certainly the news of the calamity that will overwhelm has come to you!
बेशक तुम्हारे पास इस मुसीबत की खबर आई जो छा जाएगी
Baishak tumhare paas is museebat ki khabar aayi jo chha jaayegi
(ف2)اے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔ (ف3)خَلق پر مراد اس سے قیامت ہے ، جس کے شدائد وا ہوال ہر چیز پر چھا جائیں گے ۔
وُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ خَاشِعَةٌ ۙ ﴿2﴾
(۲) کتنے ہی منہ اس دن ذلیل ہوں گے،
Many a face will be disgraced on that day.
कितने ही मुँह उस दिन ज़लील होंगे,
Kitne hi munh us din zaleel honge,
عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ۙ ﴿3﴾
(۳) کام کریں مشقت جھیلیں،
Labouring, striving hard.
काम करें मशक्कत झेले,
Kaam karein mashaqat jhelen,
تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً ۙ ﴿4﴾
(٤) جائیں بھڑکتی آگ میں (ف٤)
(Yet) Going into the blazing fire.
जाएँ भड़कती आग में
Jaayein bhadakti aag mein
(ف4)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو دِینِ اسلام پر نہ تھے ، بت پرست تھے ، یا کتابی کافر ، مثل راہبوں اور پجاریوں کے ، انہوں نے محنتیں بھی اٹھائیں ، مشقّتیں بھی جھیلیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ جہنّم میں گئے ۔
تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍؕ ﴿5﴾
(۵) نہایت جلتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں،
Made to drink water from the boiling hot spring.
नहायत जलते चश्मा का पानी पिलाए जाएँ,
Nihayat jalte chashma ka paani pilayein jaayen,
لَـيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ ﴿6﴾
(٦) ان کے لیے کچھ کھانا نہیں مگر آگ کے کانٹے (ف۵)
There is no food for them except thorns of fire.
उनके लिए कुछ खाना नहीं मगर आग के कांटे
Unke liye kuch khana nahi magar aag ke kaante
(ف5)عذاب طرح طرح کا ہوگا اور جو لوگ عذاب دیئے جائیں گے ، ان کے بہت طبقے ہوں گے ، بعض کو زقوم کھانے کو دیا جائے گا ، بعض کوغِسْلِیْن (دوزخیوں کی پیپ) بعض آ گ کے کانٹے ۔
لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِىۡ مِنۡ جُوۡعٍؕ ﴿7﴾
(۷) کہ نہ فربہی لائیں اور نہ بھوک میں کام دیں (ف٦)
Which neither give strength nor satisfy the hunger.
कि न फ़रबाही लाएँ और न भूख में काम दें
Ke na farbahi laayein aur na bhookh mein kaam dein
(ف6)یعنی ان سے غذا کا نفع حاصل نہ ہوگا کیونکہ غذا کے دوہی فائدے ہیں ، ایک یہ کہ بھوک کی تکلیف رفع کرے ، دوسرے یہ کہ بدن کو فربہ کرے ، یہ دونوں وصف جہنّمیوں کے کھانے میں نہیں بلکہ وہ شدید عذاب ہے ۔
وُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ نَّاعِمَةٌ ۙ ﴿8﴾
(۸) کتنے ہی منہ اس دن چین میں ہیں (ف۷)
Many a face will be in serenity on that day.
कितने ही मुँह उस दिन चैन में हैं
Kitne hi munh us din chain mein hain
(ف7)عیش و خوشی میں اور نعمت و کرامت میں ۔
لِّسَعۡيِهَا رَاضِيَةٌ ۙ ﴿9﴾
(۹) اپنی کوشش پر راضی (ف۸)
Rejoicing over their efforts.
अपनी कोशिश पर राज़ी
Apni koshish par raazi
(ف8)یعنی اس عمل و طاعت پر جو دنیا میں بجالائے تھے ۔
فِىۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ ﴿10﴾
(۱۰) بلند باغ میں،
In a high Garden.
बुलंद बाग़ में,
Buland baagh mein,
لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا لَاغِيَةً ؕ ﴿11﴾
(۱۱) کہ اس میں کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے ،
In which they will not hear any lewd speech.
कि उसमें कोई बेहूदा बात न सुनेंगे,
Ke usmein koi behuda baat na sunenge,
فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ ۘ ﴿12﴾
(۱۲) اس میں رواں چشمہ ہے،
In it is a flowing spring.
उसमें रवान चश्मा है,
Usmein rawan chashma hai,
فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ ۙ ﴿13﴾
(۱۳) اس میں بلند تخت ہیں،
In which are high thrones.
उसमें बुलंद तख़्त हैं,
Usmein buland takht hain,
وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ ۙ ﴿14﴾
(۱٤) اور چنے ہوئے کوزے (ف۹)
And chosen goblets.
और चुने हुए कोज़े
Aur chune hue koze
(ف9)چشمے کے کناروں پر جن کے دیکھنے سے بھی لذّت حاصل ہو اور جب پینا چاہیں تو وہ بھرے ملیں ۔
وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ ۙ ﴿15﴾
(۱۵) اور برابر برابر بچھے ہوئے قالین
And arranged carpets.
और बराबर बराबर बिछे हुए क़ालिन
Aur barabar barabar biche hue qaalin
وَّزَرَابِىُّ مَبۡثُوۡثَةٌ ؕ ﴿16﴾
(۱٦) اور پھیلی ہوئی چاندنیاں (ف۱۰)
And linen spread out.
और फैली हुई चांदनियाँ
Aur phaili hui chaandniyaan
(ف10)اس سورت میں جنّت کی نعمتوں کا ذکر سن کر کفّار نے تعجّب کیا اور جھٹلایا تو اللہ تعالٰی انہیں اپنے عجائبِ صنعت میں نظر کرنے کی ہدایت فرماتا ہے تاکہ وہ سمجھیں کہ جس قادرِ حکیم نے دنیا میں ایسی عجیب و غریب چیزیں پیدا کی ہیں ، اس کی قدرت سے جنّتی نعمتوں کا پیدا فرمانا کسی طرح قابلِ تعجّب و لائقِ انکار ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔
So Allah will mete out to him the greatest punishment.
तो उसे अल्लाह बड़ा अज़ाब देगा
To use Allah bada azaab dega
(ف16)آخرت میں کہ اسے جہنّم میں داخل کرے گا ۔
اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡۙ ﴿25﴾
(۲۵) بیشک ہماری ہی طرف ان کا پھرنا (ف۱۷)
Indeed only towards Us is their return
बेशक हमारी ही तरफ़ उनका फिरना
Baishak hamari hi taraf unka phirna
(ف17)بعد موت کے ۔
ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمْ ﴿26﴾
(۲٦) پھر بیشک ہماری ہی طرف ان کا حساب ہے،
Then indeed only upon Us is their reckoning.
फिर बेशक हमारी ही तरफ़ उनका हिसाब है,
Phir baishak hamari hi taraf unka hisaab hai,
وَالۡفَجۡرِۙ ﴿1﴾
(۱) اس صبح کی قسم (ف۲)
By oath of the (particular) dawn.
उस सुबह की क़सम
Us subah ki qasam
(ف2)مراد اس سے یا یکم محرم کی صبح ہے جس سے سال شروع ہوتا ہے ، یا یکم ذی الحجّہ کی جس سے دس راتیں ملی ہوئی ہیں ، یا عیدالاضحٰی کی صبح ۔ اور بعض مفسّرین نے فرمایا کہ مراد اس سے ہر دن کی صبح ہے کیونکہ وہ رات کے گذرنے اور روشنی کے ظاہر ہونے اور تمام جانداروں کے طلبِ رزق کے لئے منتشر ہونے کا وقت ہے اور یہ مُردوں کے قبروں سے اٹھنے کے وقت کے ساتھ مشابہت و مناسبت رکھتا ہے ۔
وَلَيَالٍ عَشۡرٍۙ ﴿2﴾
(۲) اور دس راتوں کی (ف۳)
And by oath of ten nights.
और दस रातों की
Aur das raato ki
(ف3)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی ہے کہ مراد ان سے ذی الحجّہ کی پہلی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ زمانہ اعمالِ حج میں مشغول ہونے کا زمانہ ہے اور حدیث شریف میں اس عشرہ کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ۔ اور یہ بھی مروی ہے کہ رمضان کے عشرۂِ اخیرہ کی راتیں مراد ہیں یا محرّم کے پہلے عشرہ کی ۔
وَّالشَّفۡعِ وَالۡوَتۡرِۙ ﴿3﴾
(۳) اور جفت اور طاق کی (ف٤)
And by oath of the even and the odd.
और जूफ्त और ताक की
Aur juft aur taaq ki
(ف4)ہر چیز کے یا ان راتوں کے یا نمازوں کے ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جفت سے مراد خَلق اور طاق سے مراد اللہ تعالٰی ہے ۔
وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِۚ ﴿4﴾
(٤) اور رات کی جب چل دے (ف۵)
And by oath of the night when it recedes
और रात की जब चल दे
Aur raat ki jab chal de
(ف5)یعنی گذرے ۔ یہ پانچویں قَسم ہے عام رات کی ، اس سے پہلے دس خاص راتوں کی قَسم ذکر فرمائی گئی ۔ بعض مفسّرین فرماتے ہیں کہ اس سے خاص شبِ مزدلفہ مراد ہے جس میں بندگانِ خدا طاعتِ الٰہی کے لئے جمع ہوتے ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ اس سے شبِ قدر مراد ہے جس میں رحمت کا نزول ہوتا ہے اور جو کثرتِ ثواب کے لئے مخصوص ہے ۔
هَلۡ فِىۡ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِىۡ حِجۡرٍؕ ﴿5﴾
(۵) کیوں اس میں عقلمند کے لیے قسم ہوئی (ف٦)
Why is there an oath in this, for the intelligent?
क्यूँ इसमें अक़्लमंद के लिए क़सम हुई
Kyun is mein aqalmand ke liye qasam hui
(ف6)یعنی یہ امور اربابِ عقل کے نزدیک ایسی عظمت رکھتے ہیں کہ خبروں کوان کے ساتھ موکّد کرنا شایاں ہے کیونکہ یہ ایسے عجائب و دلائل پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کی ربوبیّت پر دلالت کرتے ہیں اور جوابِ قَسم یہ ہے کہ کافر ضرور عذاب کئے جائیں گے ، اس جواب پر اگلی آیتیں دلالت کرتی ہیں ۔
اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍۙ ﴿6﴾
(٦) کیا تم نے نہ دیکھا (ف۷) تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیسا کیا،
Did you not see how did your Lord deal with (the tribe of) Aad?
क्या तुमने न देखा तुम्हारे रब ने आद के साथ कैसा किया,
Kya tumne na dekha tumhare Rab ne Aad ke saath kaisa kiya,
(ف7)اے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔
اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِۙ ﴿7﴾
(۷) وہ اِرم حد سے زیادہ طول والے (ف۸)
(And) the tall giants of Iram?
वह इरम हद से ज़्यादा तौल वाले
Woh Iram had se zyada tool wale
(ف8)جن کے قد بہت دراز تھے انہیں عادِ ارم اور عادِ اولٰی کہتے ہیں ، مقصود اس سے اہلِ مکّہ کو خوف دلانا ہے کہ عادِ اولٰی جن کی عمریں بہت زیادہ اور قد بہت طویل اور نہایت قوی و توانا تھے انہیں اللہ تعالٰی نے ہلاک کردیا تو یہ کافر اپنے آ پ کو کیا سمجھتے ہیں اور عذابِ الٰہی سے کیوں بے خوف ہیں ۔
(ف9)زور و قوّت اور طولِ قامت میں ۔ عاد کے بیٹوں میں سے شدّاد بھی ہے جس نے دنیا پر بادشاہت کی اور تمام بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے اور اس نے جنّت کا ذکر سن کر براہِ سرکشی دنیا میں جنّت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک شہرِ عظیم بنایا ، جس کے محل سونے ، چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کئے گئے اور زبر جداور یاقوت کے ستون اس کی عمارتوں میں نصب ہوئے اور ایسے ہی فرش مکانوں اور رستوں میں بنائے گئے ، سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ، ہر محل کے گرد جواہرات پر نہریں جاری کی گئیں ، قِسم قِسم کے درخت حسنِ تزئین کے ساتھ لگائے گئے ، جب یہ شہر مکمل ہوا تو شدّاد بادشاہ اپنے اعیانِ سلطنت کے ساتھ اس کی طرف روانہ ہوا ، جب ایک منزل فاصلہ باقی رہا تو آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی ، جس سے اللہ تعالٰی نے ان سب کو ہلاک کردیا ، حضرت امیرِ معاویہ کے عہد میں حضرت عبداللہ بن قلابہ صحرائے عدن میں اپنے گمے ہوئے اونٹ کو تلاش کرتے ہوئے اس شہر میں پہنچے اور اس کی تمام زیب و زینت دیکھی اور کوئی رہنے بسنے والا نہ پایا ، تھوڑے سے جواہرات وہاں سے لے کر چلے آئے ، یہ خبر امیرِ معاویہ کو معلوم ہوئی ، انہوں نے انہیں بلا کر حال دریافت کیا ، انہوں نے تمام قصّہ سنایا تو امیرِ معاویہ نے کعب احبار کو بلاکر دریافت کیا کہ کیا دنیا میں کوئی ایسا شہر ہے ، انہوں نے فرمایا ہاں جس کا ذکر قرآنِ پاک میں بھی آیا ہے ، یہ شہر شدّاد بن عاد نے بنایا تھا ، وہ سب عذابِ الٰہی سے ہلاک ہوگئے ان میں سے کوئی باقی نہ رہا اور آپ کے زمانہ میں ایک مسلمان سرخ رنگ ، کبود چشم ، قصیر القامت جس کی ابرو ، پر ایک تل ہوگا ، اپنے اونٹ کی تلاش میں داخل ہوگا ، پھر عبداللہ بن قلابہ کو دیکھ کر فرمایا بخدا وہ شخص یہی ہے ۔
(۱٦) اور اگر آزمائے اور اس کا رزق اس پر تنگ کرے، تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے خوار کیا،
And if He tests him and restricts his livelihood – thereupon he says, “My Lord has degraded me!”
और अगर आज़माए और उसका रज़क उस पर तंग करे, तो कहता है मेरे रब ने मुझे ख़्वार किया,
Aur agar aazmaaye aur uska rizq us par tang kare, to kehta hai mere Rab ne mujhe khwaar kiya,
كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَۙ ﴿17﴾
(۱۷) یوں نہیں (ف۱۵) بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے (ف۱٦)
Not at all – but rather you do not honour the orphan.
यों नहीं बल्कि तुम यतीम की इज़्ज़त नहीं करते
Yun nahi balkay tum yateem ki izzat nahi karte
(ف15)یعنی عزّت و ذلّت دولت و فقر پر نہیں ، یہ اس کی حکمت ہے کبھی دشمن کو دولت دیتا ہے ، کبھی بندۂِ مخلص کو فقر میں مبتلا کرتا ہے ، عزّت و ذلّت طاعت و معصیّت پر ہے ، کفّار اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ۔(ف16)اور باوجود دولت مند ہونے کے ان کے ساتھ اچھے سلوک نہیں کرتے اور انہیں ان کے حقوق نہیں دیتے جن کے وہ وارث ہیں ۔ مقاتل نے کہا کہ اُمیّہ بن خلف کے پاس قدامہ بن مظعون یتیم تھے ، وہ انہیں انکا حق نہیں دیتا تھا ۔
(۲۳) اور اس دن جہنم لائے جائے (ف۲۰) اس دن آدمی سوچے گا (ف۲۱) اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں (ف۲۲)
And when hell is brought that day – on that day will man reflect, but where is the time now to think?
और उस दिन जहन्नम लाए जाए उस दिन आदमी सोचेगा और अब उसे सोचने का वक़्त कहाँ
Aur us din Jahannam laaye jaaye us din aadmi sochega aur ab use sochne ka waqt kahan
(ف20)جہنّم کی ستّر ہزار باگیں ہوں گی ، ہر باگ پر ستّر ہزار فرشتے جمع ہو کر اس کو کھینچیں گے اور وہ جوش و غضب میں ہوگی ، یہاں تک کہ فرشتے اس کو عرش کے بائیں جانب لائیں گے ، اس روز سب نفسی نفسی کہتے ہوں گے ، سوائے حضورِ پُرنور حبیبِ خدا سیّدِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ، کہ حضور یارب امّتی امّتی فرماتے ہوں گے ، جہنّم حضور سے عرض کرے گی کہ اے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ کا میرا کیا واسطہ اللہ تعالٰی نے آپ کو مجھ پر حرام کیا ہے ۔ (جمل)(ف21)اور اپنی تقصیر کو سمجھے گا ۔(ف22)اس وقت کا سوچنا ، سمجھنا کچھ بھی مفید نہیں ۔
(ف24)جو ایمان وایقان پر ثابت رہی اور اللہ تعالٰی کے حکم کے حضور سرِطاعت خم کرتی رہی ، یہ مومن سے وقتِ موت کہا جائے گا جب دنیا سے اس کے سفر کرنے کا وقت آئے گا ۔
(۲۸) اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی،
Return towards your Lord – you being pleased with Him, and He pleased with you!
अपने रब की तरफ़ वापस हो यों कि तो उस से राज़ी वह तुझ से राज़ी,
Apne Rab ki taraf wapas ho yun ke to us se raazi woh tujh se raazi,
فَادۡخُلِىۡ فِىۡ عِبٰدِىۙ ﴿29﴾
(۲۹) پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو،
Then enter the ranks of My chosen bondmen!
फिर मेरे ख़ास बंदों में दाखिल
Phir mere khaas bandon mein daakhil ho,
وَادۡخُلِىۡ جَنَّتِى ﴿30﴾
(۳۰) اور میری جنت میں آ،
And come into My Paradise!
لَاۤ اُقۡسِمُ بِهٰذَا الۡبَلَدِۙ ﴿1﴾
(۱) مجھے اس شہر کی قسم (ف۲)
I swear by this city (Mecca) –
मुझे उस शहर की क़सम
Mujhe us shehar ki qasam
(ف2)یعنی مکّہ مکرّمہ کی ۔
وَاَنۡتَ حِلٌّ ۢ بِهٰذَا الۡبَلَدِۙ ﴿2﴾
(۲) کہ اے محبوب! تم اس شہر میں تشریف فرما ہو (ف۳)
For you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) are in this city.
कि ऐ महबूब! तुम उस शहर में तशरीफ़ फ़रमा हो
Ke ai mehboob! Tum us shehar mein tashreef farma ho
(ف3)اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ عظمت مکّہ مکرّمہ کو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رونق افروزی کی بدولت حاصل ہوئی ۔
وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ ۙ ﴿3﴾
(۳) اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو (ف٤)
And by oath of your forefather Ibrahim, and by you – his illustrious son!
और तुम्हारे बाप इब्राहीम की क़सम और उसकी औलाद की कि तुम हो
Aur tumhare baap Ibrahim ki qasam aur uski aulaad ki ke tum ho
(ف4)ایک قول یہ بھی ہے والد سے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اولاد سے آپ کی امّت مراد ہے ۔(حسینی)
لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِىۡ كَبَدٍؕ ﴿4﴾
(٤) بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا (ف۵)
We have indeed created man surrounded by hardships.
बेशक हमने आदमी को मशक़्कत में रहता पैदा किया
Baishak humne aadmi ko mashaqat mein rehta paida kiya
(ف5)کہ حمل میں ایک تنگ و تاریک مکان میں رہے ، ولادت کے وقت تکلیف اٹھائے ، دودھ پینے ، دودھ چھوڑنے ، کسبِ معاش اور حیات و موت کی مشقّتوں کو برداشت کرلے ۔
(۵) کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا (ف٦)
Does man think that no one will ever have power over him?
क्या आदमी यह समझता है कि हरगज़ उस पर कोई क़ुदरत नहीं पाएगा
Kya aadmi yeh samajhta hai ke hargiz us par koi qudrat nahi paaye ga
(ف6)یہ آیت ابوالاشد اسید بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی وہ نہایت قوی اور زور آور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالَم تھا کہ چمڑہ پاؤں کے نیچے دبالیتا تھا دس دس آدمی اس کو کھینچتے اور وہ پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہر گز نہ نکل سکتا ۔ اور ایک یہ قول ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی معنٰی یہ ہیں کہ یہ کافر اپنی قوّت پر مغرور مسلمانوں کو کمزور سمجھتا ہے کس گمان میں ہے اللہ قادرِ برحق کی قدرت کو نہیں جانتا ۔ اس کے بعد اس کا مقولہ نقل فرمایا ۔
يَقُوۡلُ اَهۡلَكۡتُ مَالًا لُّبَدًا ؕ ﴿6﴾
(٦) کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال فنا کردیا (ف۷)
He says, “I destroyed vast wealth.”
कहता है मैंने ढेरों माल फ़ना कर दिया
Kehta hai maine dhero maal fana kar diya
(ف7)سیّدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو آزار پہنچائیں ۔
اَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ ؕ ﴿7﴾
(۷) کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا (ف۸)
Does man think that no one saw him?
क्या आदमी यह समझता है कि उसे किसी ने न देखा
Kya aadmi yeh samajhta hai ke use kisi ne na dekha
(ف8)یعنی کیا اس کا یہ گمان ہے کہ اسے اللہ تعالٰی نے نہیں دیکھا اور اللہ تعالٰی اس سے نہیں سوال کرے گا کہ اس نے یہ مال کہاں سے حاصل کیا کس کام میں خرچ کیا ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنی نعمتوں کا ذکر فرماتا ہے تاکہ اس کو عبرت حاصل کرنے کا موقع ملے ۔
اَلَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ عَيۡنَيۡنِۙ ﴿8﴾
(۸) کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں (ف۹)
Did We not make two eyes for him?
क्या हमने उसकी दो आँखें न बनाई
Kya humne uski do aankhein na banai
(ف9)جن سے دیکھتا ہے ۔
وَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِۙ ﴿9﴾
(۹) اور زبان (ف۱۰) اور دو ہونٹ (ف۱۱)
And a tongue and two lips?
और ज़बान और दो होंठ
Aur zubaan aur do hont
(ف10)جس سے بولتا ہے اور اپنے دل کی بات بیان میں لاتا ہے ۔(ف11)جن سے منہ کو بند کرتا ہے اور بات کرنے اور کھانے اور پینے اورپھونکنے میں ان سے کام لیتا ہے ۔
وَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِۚ ﴿10﴾
(۱۰) اور اسے دو ابھری چیزوں کی راہ بتائی (ف۱۲)
And did We not guide him to the two elevated things?
और उसे दो उभरी चीज़ों की राह बताई
Aur use do ubhri cheezon ki raah batai
(ف12)یعنی چھاتیوں کی کہ پیدا ہونے کے بعدان سے دودھ پیتا اور غذا حاصل کرتا رہا ، مراد یہ کہ اللہ تعالٰی کی نعمتیں ظاہر و وافر ہیں ان کا شکر لازم ۔
فَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ ۖ ﴿11﴾
(۱۱) پھر بےتامل گھاٹی میں نہ کودا (ف۱۳)
So he did not quickly enter the steep valley.
फिर बे तामल घाटी में न कूदा
Phir be-taamil ghaati mein na kooda
(ف13)یعنی اعمالِ صالحہ بجالا کر ان جلیل نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا ، اس کو گھاٹی میں کودنے سے تعبیر فرمایا اس مناسبت سے کہ اس راہ میں چلنانفس پر شاق ہے ۔ (ابوالسعود)
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الۡعَقَبَةُ ؕ ﴿12﴾
(۱۲) اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے (ف۱٤)
And what have you understood, what the valley is!
और तू ने क्या जाना वह घाटी क्या है
Aur tu ne kya jana woh ghaati kya hai
(ف14)اور اس میں کودنا کیا ۔ یعنی اس سے اس کے ظاہری معنٰی مراد نہیں بلکہ اس کی تفسیر وہ ہے جو اگلی آیتوں میں ارشاد ہوتی ہے ۔
فَكُّ رَقَبَةٍ ۙ ﴿13﴾
(۱۳) کسی بندے کی گردن چھڑانا (ف۱۵)
The freeing of a slave!
किसी बन्दे की गर्दन छुड़ाना
Kisi bande ki gardan chhudaana
(ف15)غلامی سے خواہ اس طرح ہو کہ کسی غلام کو آزاد کردے یا اس طرح کہ مکاتب کو اتنا مال دے جس سے وہ آزادی حاصل کرسکے یا کسی غلام کو آزاد کرانے میں مدد کرے یا کسی اسیریا مدیون کے رہا کرانے میں اعانت کرے ، اور یہ معنٰی بھی ہوسکتے ہیں کہ اعمالِ صالحہ اختیار کرکے اپنی گردن عذابِ آخرت سے چھڑائے ۔ (روح البیان)
اَوۡ اِطۡعٰمٌ فِىۡ يَوۡمٍ ذِىۡ مَسۡغَبَةٍ ۙ ﴿14﴾
(۱٤) یا بھوک کے دن کھانا دینا (ف۱٦)
Or the feeding on a day of hunger.
या भूख के दिन खाना देना
Ya bhookh ke din khana dena
(ف16)یعنی قحط و گرانی کے وقت کہ اس وقت مال نکالنا نفس پر بہت شاق اور اجرِ عظیم کاموجِب ہوتا ہے ۔
يَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ ۙ ﴿15﴾
(۱۵) رشتہ دار یتیم کو،
Of a related orphan,
रिश्तेदार यतीम को,
Rishtedaar yateem ko,
اَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ ؕ ﴿16﴾
(۱٦) یا خاک نشین مسکین کو (ف۱۷)
Or of a homeless needy person!
या ख़ाक निशीन मस्क़ीन को
Ya khaak nasheen maskeen ko
(ف17)جو نہایت تنگ دست اور درماندہ ، نہ اس کے پاس اوڑھنے کو ہو ، نہ بچھانے کو ۔ حدیث شریف میں ہے یتیموں اور مسکینوں کی مدد کرنے والا جہاد میں سعی کرنے والے اور بے تکان شب بیداری کرنے والے اور مدام روزہ رکھنے والے کی مثل ہے ۔
(۱۷) پھر ہو ان سے جو ایمان لائے (ف۱۸) اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں (ف۱۹) اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں (ف۲۰)
And moreover to be of those who accepted faith, and who urged patience to one another and who urged graciousness to one another.
फिर हो उनसे जो ईमान लाए और उन्होंने आपस में सब्र की वसीयतें कीं और आपस में मेहरबानी की वसीयतें कीं
Phir ho unse jo iman laaye aur unhone aapas mein sabr ki waseeyatain ki aur aapas mein mehrbani ki waseeyatain ki
(ف18)یعنی یہ تمام عمل جب مقبول ہیں کہ عمل کرنے والا ایماندار ہو اور جب ہی اس کو کہا جائے گا کہ گھاٹی میں کودا اور اگر ایمان دار نہیں تو کچھ نہیں سب عمل بےکار ۔(ف19)معصیّتوں سے باز رہنے اور طاعتوں کے بجالانے اور ان مشقّتوں کے برداشت کرنے پر جن میں مومن مبتلا ہو ۔(ف20)کہ مومنین ایک دوسرے کے ساتھ شفقت و محبّت کا برتاؤ کریں ۔
اُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ الۡمَيۡمَنَةِ ؕ ﴿18﴾
(۱۸) یہ داہنی طرف والے ہیں (ف۲۱)
These are the people of the right.
यह दाहिनी तरफ वाले हैं
Yeh dahini taraf wale hain
(ف21)جنہیں ان کے نامۂِ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور عرش کے داہنے جانب سے جنّت میں داخل ہوں گے ۔
(۱۹) اور جنہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا وہ بائیں طرف والے (ف۲۲)
And those who denied Our signs, are the people of the left.
और जिन्होंने हमारी आयतों से क़फ़र किया वह बाईं तरफ वाले
Aur jinhon ne humari ayaton se kufr kiya woh baayin taraf wale
(ف22)کہ انہیں ان کے نامۂِ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور عرش کے بائیں جانب سے جہنّم میں داخل کئے جائیں گے ۔
عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ ﴿20﴾
(۲۰) ان پر آگ ہے کہ اس میں ڈال کر اوپر سے بند کردی گئی (ف۲۳)
Upon them is a fire, in which they are imprisoned, closed and shut above them.
उन पर आग है कि उस में डाल कर ऊपर से बंद कर दी गई,
Un par aag hai ke us mein daal kar upar se band kar di gayi,
(ف23)کہ نہ اس میں باہر سے ہوا آسکے ، نہ اندر سے دھواں باہر جاسکے ۔
وَالشَّمۡسِ وَضُحٰٮهَا ۙ ﴿1﴾
(۱) سورج اور اس کی روشنی کی قسم،
By oath of the sun and its light
सूरज और उसकी रोशनी की क़सम,
Sooraj aur uski roshni ki qasam,
وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰٮهَا ۙ ﴿2﴾
(۲) اور چاند کی جب اس کے پیچھے آئے (ف۲)
And by oath of the moon when it follows the sun
और चाँद की जब उसके पीछे आए
Aur chaand ki jab uske peeche aaye
(ف2)یعنی غروبِ آفتاب کے بعد طلوع کرے ، یہ قمری مہینے کے پہلے پندرہ دن میں ہوتا ہے ۔
وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰٮهَا ۙ ﴿3﴾
(۳) اور دن کی جب اسے چمکائے (ف۳)
And by oath of the day when it reveals it
और दिन की जब इसे चमकाए
Aur din ki jab ise chamkaaye
(ف3)یعنی آفتاب کو خوب واضح کرے کیونکہ دن نورِ آفتاب کا نام ہے تو جتنا دن زیادہ روشن ہوگا اتنا ہی آفتاب کا ظہور زیادہ ہوگا کیونکہ اثر کی قوّت اور اس کا کمال مؤثر کے قوّت و کمال پر دلالت کرتاہے یا یہ معنٰی ہیں کہ جب دن دنیا کو یا زمین کو روشن کرے یا شب کی تاریکی کو دور کرے ۔
وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰٮهَا ۙ ﴿4﴾
(٤) اور رات کی جب اسے چھپائے (ف٤)
And by oath of the night when it hides it
और रात की जब इसे छुपाए
Aur raat ki jab ise chhupaaye
(ف4)یعنی آفتاب کو اور آفاق ظلمت و تاریکی سے بھرجائیں یا یہ معنٰی کہ جب رات دنیا کو چُھپائے ۔
وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰٮهَا ۙ ﴿5﴾
(۵) اور آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم،
And by oath of the heaven and by oath of Him Who made it.
और आसमान और उसके बनाने वाले की क़सम,
Aur aasman aur uske banane wale ki qasam,
وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰٮهَا ۙ ﴿6﴾
(٦) اور زمین اور اس کے پھیلانے والے کی قسم،
And by oath of the earth and by oath of Him Who spread it.
और ज़मीन और उसके फैलाने वाले की क़सम,
Aur zameen aur uske phailane wale ki qasam,
وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰٮهَا ۙ ﴿7﴾
(۷) اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا (ف۵)
And by oath of the soul and by oath of Him Who made it proper.
और जान की और उसकी जिसने इसे ठीक बनाया
Aur jaan ki aur uski jisne ise theek banaya
(ف5)اور قوائے کثیرہ عطا فرمائے ، نطق ، سمع ، بصر ، فکر ، خیال ، علم ، فہم سب کچھ عطا فرمایا ۔
فَاَلۡهَمَهَا فُجُوۡرَهَا وَتَقۡوٰٮهَا ۙ ﴿8﴾
(۸) پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی (ف٦)
And inspired in it the knowledge of its sins and its piety.
फिर उसकी बदकारी और उसकी परहेज़गारी दिल में डाली
Phir uski badkaari aur uski parhezgaari dil mein daali
(ف6)خیر و شر اور طاعت و معصیّت سے اسے باخبر کردیا اور نیک و بد بتادیا ۔
قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَكّٰٮهَا ۙ ﴿9﴾
(۹) بیشک مراد کو پہنچایا جس نے اسے (ف۷) ستھرا کیا (ف۸)
Indeed successful is the one who made it pure.
बेशक मुराद को पहुँचाया जिसने इसे स्थिर किया
Baishak murad ko pohanchaya jisne ise suthra kiya
(ف7)یعنی نفس کو ۔(ف8)برائیوں سے ۔
وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮهَا ؕ ﴿10﴾
(۱۰) اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا،
And indeed failed is the one who covered it in sin.
और नामुराद हुआ जिसने इसे मसीहत में छुपाया,
Aur namurad hua jisne ise masiyat mein chhupaya,
كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰٮهَآ ۙ ﴿11﴾
(۱۱) ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا (ف۹)
The tribe of Thamud denied with rebellion.
थमूद ने अपनी सरकशी से झुटलाया
Thamood ne apni sarkashi se jhuthlaya
(ف9)اپنے رسول حضرت صالح علیہ السلام کو ۔
اِذِ انۡۢبَعَثَ اَشۡقٰٮهَا ۙ ﴿12﴾
(۱۲) جبکہ اس کا سب سے بدبخت (ف۱۰) اٹھ کھڑا ہوا،
When the most wicked among them stood up in defiance.
जबकि उसका सबसे बदबख़्त उठ खड़ा हुआ,
Jabke uska sabse badbakht uth khada hua,
(ف10)قدار بن سالف ان سب کی مرضی سے ناقہ کی کو چیں کاٹنے کے لئے ۔
(۱٤) تو انہوں نے اسے جھٹلایا پھر ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں تو ان پر ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب (ف۱٤) تباہی ڈال کر وہ بستی برابر کردی (ف۱۵)
In response they belied him, and hamstrung the she camel – so Allah put ruin over them because of their sins and flattened their dwellings.
तो उन्होंने इसे झुटलाया फिर नाका की कुचें काट दीं तो उन पर उनके रब ने उनके गुनाह के سبب तबाही डाल कर वह बस्ती बराबर कर दी
To unhone ise jhuthlaya phir naqa ki kochen kaat di to un par unke Rab ne unke gunah ke sabab tabahi daal kar woh basti barabar kar di
(ف14)یعنی حضرت صالح علیہ السلام کی تکذیب اور ناقہ کی کوچیں کاٹنے کے سبب ۔(ف15)اور سب کو ہلاک کردیا ، ان میں سے کوئی نہ بچا ۔
وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا ﴿15﴾
(۱۵) اور اس کے پیچھا کرنے والے کا اسے خوف نہیں (ف۱٦)
And He does not fear its coming behind (to take vengeance).
और उसके पीछा करने वाले का उसे ख़ौफ़ नहीं,
Aur uske peecha karne wale ka use khauf nahi,",
(ف16)جیسا بادشاہوں کو ہوتا ہے کیونکہ وہ مالکُ المُلک ہے جو چاہے کرے کسی کو مجالِ دم زدن نہیں ۔ بعض مفسّرین نے اس کے معنٰی یہ بھی بیا ن کئے ہیں کہ حضرت صالح علیہ السلام کو ان میں سے کسی کا خوف نہیں کہ نزولِ عذاب کے بعد انہیں ایذا پہنچاسکے ۔
وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىۙ ﴿1﴾
(۱) اور رات کی قسم جب چھائے (ف۲)
By oath of the night when it covers
और रात की क़सम जब छाए
Aur raat ki qasam jab chhaaye
(ف2)جہاں پر اپنی تاریکی سے ، کہ وہ وقت ہے خَلق کے سکون کا ہر جاندار اپنے ٹھکانے پر آتا ہے اور حرکت واضطراب سے ساکن ہوتا ہے اور مقبولانِ حق صدقِ نیاز سے مشغولِ مناجات ہوتے ہیں ۔
وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ ﴿2﴾
(۲) اور دن کی جب چمکے (ف۳)
And by oath of the day when it shines
और दिन की जब चमके
Aur din ki jab chamke
(ف3)اور رات کے اندھیرے کو دور کرے کہ وہ وقت ہے سوتوں کے بیدار ہونے کا اور جانداروں کے حرکت کرنے کا اور طلبِ معاش میں مشغول ہونے کا ۔
وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰٓىۙ ﴿3﴾
(۳) اور اس (ف٤) کی جس نے نر و مادہ بنائے (ف۵)
And by oath of the One Who created the male and the female.
और उसकी जिसने नर व मादा बनाए
Aur uski jisne nar o maada banaye
(ف4)قادر ، عظیم القدرت ۔(ف5)ایک ہی پانی سے ۔
اِنَّ سَعۡيَكُمۡ لَشَتّٰىؕ ﴿4﴾
(٤) بیشک تمہاری کوشش مختلف ہے (ف٦)
Indeed your efforts differ.
बेशक तुम्हारी कोशिश विभिन्न है
Baishak tumhari koshish mukhtalif hai
(ف6)یعنی تمہارے اعمال جداگانہ ہیں ، کوئی طاعت بجالا کر جنّت کے لئے عمل کرتا ہے ، کوئی نافرمانی کرکے جہنّم کے لئے ۔
فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰى وَاتَّقٰىۙ ﴿5﴾
(۵) تو وہ جس نے دیا (ف۷) اور پرہیزگاری کی (ف۸)
So for one who gave and practised piety
तो वह जिसने दिया और परहेज़गारी की
To woh jisne diya aur parhezgaari ki
(ف7)اپنا مال راہِ خدا میں اور اللہ تعالٰی کے حق کو ادا کیا ۔(ف8)ممنوعات و محرمات سے بچا ۔
وَصَدَّقَ بِالۡحُسۡنٰىۙ ﴿6﴾
(٦) اور سب سے اچھی کو سچ مانا (ف۹)
And believed the best matter to be true
और सबसे अच्छी को सच माना
Aur sab se achi ko sach maana
(ف9)یعنی ملّتِ اسلام کو ۔
فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡيُسۡرٰىؕ ﴿7﴾
(۷) تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے (ف۱۰)
So We will very soon provide him ease.
तो बहुत जल्द हम इसे आसानी मुहैया कर देंगे
To bohot jald hum ise aasani muhaiya kar denge
(ف10)جنّت کے لئے اور اسے ایسی خصلت کی توفیق دیں گے جو اس کے لئے سببِ آسانی و راحت ہو اور وہ ایسے عمل کرے جن سے اس کا رب راضی ہو ۔
وَاَمَّا مَنۡۢ بَخِلَ وَاسۡتَغۡنٰىۙ ﴿8﴾
(۸) اور وہ جس نے بخل کیا (ف۱۱) اور بےپرواہ بنا (ف۱۲)
And for him who hoarded wealth and remained carefree,
और वह जिसने बख़ल किया और बेपरवाह बना
Aur woh jisne bakhl kiya aur beparwah bana
(ف11)اور مال نیک کاموں میں خرچ نہ کیا اور اللہ تعالٰی کے حق ادا نہ کئے ۔(ف12)ثواب اور نعمتِ آخرت سے ۔
وَكَذَّبَ بِالۡحُسۡنٰىۙ ﴿9﴾
(۹) اور سب سے اچھی کو جھٹلایا (ف۱۳)
And denied the best matter,
और सबसे अच्छी को झुठलाया
Aur sab se achi ko jhuthlaya
(ف13)یعنی ملّتِ اسلام کو ۔
فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلۡعُسۡرٰىؕ ﴿10﴾
(۱۰) تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کردیں گے (ف۱٤)
So We will very soon provide him hardship.
तो बहुत जल्द हम इसे कठिनाई मुहैया कर देंगे
To bohot jald hum ise dushwari muhaiya kar denge
(ف14)یعنی ایسی خصلت جو اس کے لئے دشواری و شدّت کا سبب ہو اور اسے جہنّم میں پہنچائے ۔ شانِ نزول : یہ آیتیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور اُمیّہ بن خلف کے حق میں نازل ہوئیں جن میں سے ایک حضرت صدیق ا تقی ہیں اور دوسرا اُمیّہ اشقی ۔ اُمیّہ ا بنِ خلف حضرت بلال کو جو اس کی مِلک میں تھے دِین سے منحرف کرنے کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں دیتا تھا ۔ اور انتہائی ظلم اور سختیاں کرتا تھا ایک روز حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دیکھا کہ اُمیّہ نے حضرت بلال کو گرم زمین پر ڈال کر تپتے ہوئے پتّھر ان کے سینہ پر رکھے ہیں اور اس حال میں کلمۂِ ایمان ان کی زبان پر جاری ہے ، آپ نے اُمیّہ سے فرمایا اے بدنصیب ایک خدا پرست پر یہ سختیاں اس نے کہا آپ کو اس کی تکلیف ناگوار ہو تو خرید لیجئے آپ نے گراں قیمت پر ان کو خرید کر آزاد کردیا اس پر یہ سورت نازل ہوئی اس میں بیان فرمایا گیا کہ تمہاری کوششیں مختلف ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کوشش اور اُمیّہ کی اور حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ رضائے الٰہی کے طالب ہیں اُمیّہ حق کی دشمنی میں اندھا ۔
(۱۹) اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے (ف۲۱)
And no one has done a favour to him, for which he should be compensated.
और किसी का उस पर कुछ एहसान नहीं जिसका बदला दिया जाए
Aur kisi ka us par kuch ehsaan nahi jis ka badla diya jaaye
(ف21)شانِ نزول : جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت بلال کو بہت گراں قیمت پر خرید کر آزاد کیا تو کفّار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسا کیوں کیا ؟ شاید بلال کا ان پر کوئی احسان ہوگا جو انہوں نے اتنی گراں قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ظاہر فرمادیا گیا کہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہ فعل محض اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے ہے کسی کے احسان کا بدلہ نہیں اور نہ ان پر حضرت بلال وغیرہ کا کوئی احسان ہے ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بہت لوگوں کو ان کے اسلام کے سبب خرید کر آزاد کیا ۔
(۲۰) صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے،
He desires only to please his Lord, the Supreme.
सिर्फ अपने रब की रज़ा चाहता है जो सबसे بلند है,
Sirf apne Rab ki raza chahta hai jo sab se buland hai,
وَلَسَوۡفَ يَرۡضٰى ﴿21﴾
(۲۱) اور بیشک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا (ف۲۲)
And indeed, soon he will be very pleased.
और बेशक क़रीब है कि वह रज़ी हो जाएगा,
Aur baishak qareeb hai ke woh raazi ho jaayega,
(ف22)اس نعمت و کرم سے جو اللہ تعالٰی ان کو جنّت میں عطا فرمائے گا ۔
وَالضُّحٰىۙ ﴿1﴾
(۱) چاشت کی قسم (ف۲)
By oath of the late morning,
चाश्त की क़सम
Chasht ki qasam
(ف2)جس وقت کہ آفتاب بلند ہو کیونکہ یہ وقت وہی ہے جس میں اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو اپنے کلام سے مشرف کیا اور اسی وقت جادو گر سجدے میں گرے ۔ مسئلہ : چاشت کی نماز سنّت ہے اور اس کا وقت آفتاب کے بلند ہونے سے قبل زوال تک ہے ۔ امام صاحب کے نزدیک چاشت کی نماز دو رکعتیں ہیں یا چار ایک سلام کے ساتھ ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا ہے کہ ضحٰی سے دن مراد ہے ۔
وَالَّيۡلِ اِذَا سَجٰىۙ ﴿2﴾
(۲) اور رات کی جب پردہ ڈالے (ف۳)
And by oath of the night when it covers,
और रात की जब पर्दा डाले
Aur raat ki jab parda daale
(ف3)اور اس کی تاریکی عام ہوجائے ۔ امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ چاشت سے مراد وہ چاشت ہے جس میں اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کلام فرمایا ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ چاشت سے اشارہ ہے نورِ جمالِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف اور شب کنایہ ہے آپ کے گیسوئے عنبرین سے ۔ (روح البیان)
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰىؕ ﴿3﴾
(۳) کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا، اور نہ مکروہ جانا،
Your Lord has not forsaken you nor does He dislike you!
कि तुम्हें तुम्हारे रब ने न छोड़ा, और न मक़रूह जाना,
Ke tumhein tumhare Rab ne na chhoda, aur na makrooh jana,
(٤) اور بیشک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے (ف٤)
And indeed the latter is better for you than the former.
और बेशक पिछली तुम्हारे लिए पहली से बेहतर है
Aur baishak pichhli tumhare liye pehli se behtar hai
(ف4)یعنی آخرت دنیا سے بہتر کیونکہ وہاں آپ کے لئے مقامِ محمود و حوضِ مورود و خیرِ موعود اور تمام انبیاء و رُسل پر تقدم اور آپ کی امّت کا تمام امّتوں پر گواہ ہونا اور آپ کی شفاعت سے مومنین کے مرتبے اور درجے بلند ہونا اور بے انتہا عزّتیں اور کرامتیں ہیں جو بیان میں نہیں آتیں ۔ اور مفسّرین نے اس کے یہ معنٰی بھی بیان فرمائے ہیں کہ آنے والے احوال آپ کے لئے گذشتہ سے بہتر و برتر ہیں گویا کہ حق تعالٰی کا وعدہ ہے کہ وہ روز بروز آپ کے درجے بلند کرے گا اور عزّت پر عزّت اور منصب پر منصب زیادہ فرمائے گا اور ساعت بساعت آپ کے مراتب ترقیوں میں رہیں گے ۔
وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰىؕ ﴿5﴾
(۵) اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں (ف۵) اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے (ف٦)
And indeed your Lord will soon give you so much that you will be pleased. (Allah seeks to please the Holy Prophet – peace and blessings be upon him.)
और बेशक क़रीब है कि तुम्हारा रब तुम्हें इतना देगा कि तुम राज़ी हो जाओगे
Aur baishak qareeb hai ke tumhara Rab tumhein itna dega ke tum raazi ho jao ge
(ف5)دنیا و آخرت میں ۔(ف6)اللہ تعالٰی کا اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے یہ وعدۂِ کریمہ ان نعمتوں کو بھی شامل ہے جو آپ کو دنیا میں عطا فرمائیں ۔ کمالِ نفس اور علومِ اوّلین و آخرین اور ظہورِ امر اور اعلائے دِین اور وہ فتوحات جو عہدِ مبارک میں ہوئیں اور عہدِ صحابہ میں ہوئیں اور تاقیامت مسلمانوں کو ہوتی رہیں گی اور دعوت کا عام ہونا اور اسلام کا مشارق و مغارب میں پھیل جانا اور آپ کی امّت کا بہترینِ اُمَم ہونا اور آپ کے وہ کرامات و کمالات جن کا اللہ ہی عالِم ہے اور آخرت کی عزّت و تکریم کو بھی شامل ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو شفاعتِ عامّہ و خاصّہ اور مقامِ محمود و غیرہ جلیل نعمتیں عطا فرمائیں ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دونوں دستِ مبارک اٹھا کر امّت کے حق میں رو کر دعا فرمائی اور عرض کیا اَللّٰھُمَّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ ، اللہ تعالٰی نے جبریل کو حکم دیاکہ محمّد( مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی خدمت میں جا کر دریافت کرو رونے کا کیا سبب ہے باوجود یہ کہ اللہ تعالٰی دانا ہے ، جبریل نے حسبِ حکم حاضر ہو کر دریافت کیا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں تمام حال بتایا اور غمِ امّت کا اظہار فرمایا، جبریلِ امین نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا کہ تیرے حبیب یہ فرماتے ہیں باوجود یہ کہ وہ خوب جاننے والا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے جبریل کو حکم دیا جاؤ اور میرے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے کہو کہ ہم آپ کو آپ کی امّت کے بارے میں عنقریب راضی کریں گے اور آپ کو گراں خاطر نہ ہونے دیں گے ، حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جب تک میرا ایک امّتی بھی دوزخ میں رہے میں راضی نہ ہوں گا ۔ آیتِ کریمہ صاف دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالٰی وہی کرے گا جس میں رسول راضی ہوں اور احادیثِ شفاعت سے ثابت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضا اسی میں ہے کہ سب گنہگار انِ امّت بخش دیئے جائیں تو آیت و احادیث سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شفاعت مقبول اور حسبِ مرضیِ مبارک گنہگار انِ امّت بخشے جائیں گے ، سبحان اللہ کیا رتبۂِ عُلیا ہے کہ جس پروردگار کو راضی کرنے کے لئے تمام مقرّبین تکلیفیں برداشت کرتے اور محنتیں اٹھاتے ہیں ، وہ اس حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو راضی کرنے کے لئے عطا عام کرتا ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی نے ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو آپ کے ابتدائے حال سے آپ پر فرمائیں ۔
اَلَمۡ يَجِدۡكَ يَتِيۡمًا فَاٰوٰى ﴿6﴾
(٦) کیا اس نے تمہیں یتیم نہ پایا پھر جگہ دی (ف۷)
Did He not find you an orphan, so provided you shelter?
क्या उसने तुम्हें यतीम न पाया फिर जगह दी
Kya usne tumhein yateem na paaya phir jagah di
(ف7)سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ابھی والدۂِ ماجدہ کے بطن میں تھے ، حمل دو ماہ کا تھا ، آپ کے والد صاحب نے مدینہ شریفہ میں وفات پائی اور نہ کچھ مال چھوڑا ، نہ کوئی جگہ چھوڑی ، آپ کی خدمت کے متکفّل آپ کے دادا عبدالمطلب ہوئے ، جب آپ کی عمر شریف چار یا چھ سال کی ہوئی تو والدہ صاحبہ نے بھی وفات پائی ، جب عمر شریف آٹھ سال کی ہوئی تو آپ کے دادا عبدالمطلب نے بھی وفات پائی ، انہوں نے اپنی وفات سے پہلے اپنے فرزند ابوطالب کو جو آپ کے حقیقی چچا تھے آپ کی خدمت و نگرانی کی وصیّت کی ابوطالب آپ کی خدمت میں سرگرم رہے ، یہاں تک کہ آپ کو اللہ تعالٰی نے نبوّت سے سرفراز فرمایا ۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسّرین نے ایک معنٰی یہ بیان کئے ہیں کہ یتیم معنٰی یکتا و بے نظیر کے ہے جیسے کہ کہا جاتا ہے درِّیتیمہ ۔ اس تقدیر پر آیت کے معنٰی یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو عزّ و شرف میں یکتا و بے نظیر پایا اور آپ کو مقامِ قرب میں جگہ دی اور اپنی حفاظت میں آپ کے دشمنوں کے اندر آپ کی پرورش فرمائی اور آپ کو نبوّت و اصطفا و رسالت کے ساتھ مشرف کیا ۔ (خازن و جمل روح البیان)
وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰى ﴿7﴾
(۷) اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی (ف۸)
And found you deeply engrossed in His love, so directed you?
और तुम्हें अपनी मोहब्बत में खुद रफ़्ता पाया तो अपनी तरफ राह दी
Aur tumhein apni mohabbat mein khud rafta paaya to apni taraf raah di
(ف8)اور غیب کے اسرار آپ پر کھول دیئے اور علومِ ماکان ومایکون عطا کئے ، اپنی ذات و صفات کی معرفت میں سب سے بلند مرتبہ عنایت کیا ۔ مفسّرین نے ایک معنٰی اس آیت کے یہ بھی بیان کئے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو ایسا وارفتہ پایا کہ آپ اپنے نفس اور اپنے مراتب کی خبر بھی نہیں رکھتے تھے توآپ کو آپ کے ذات و صفات اور مراتب و درجات کی معرفت عطا فرمائی ۔ مسئلہ : انبیاء علیہ السلام سب معصوم ہوتے ہیں نبوّت سے قبل بھی ، نبوّت سے بعد بھی اور اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کے صفات کے ہمیشہ سے عارف ہوتے ہیں ۔
وَوَجَدَكَ عَآٮِٕلًا فَاَغۡنٰىؕ ﴿8﴾
(۸) اور تمہیں حاجت مند پایا پھر غنی کردیا (ف۹)
And found you in need, so made you prosperous?
और तुम्हें हाजतमंद पाया फिर ग़नी कर दिया
Aur tumhein haajatmand paaya phir ghani kar diya
(ف9)دولت ، قناعت عطا فرما کر ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ تونگری کثرتِ مال سے حاصل نہیں ہوتی حقیقی تونگری نفس کا بے نیاز ہونا ۔
فَاَمَّا الۡيَتِيۡمَ فَلَا تَقۡهَرۡؕ ﴿9﴾
(۹) تو یتیم پر دباؤ نہ ڈالو (ف۱۰)
Therefore do not oppress the orphan.
तो यतीम पर दबाव न डालो
To yateem par dabao na daalo
(ف10)جیسا کہ اہلِ جاہلیّت کا طریقہ تھا کہ یتیموں کو دباتے اور ان پر زیادتی کرتے تھے ۔ حدیث شریف میں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کے گھروں میں وہ بہت اچھا گھر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اور وہ بہت برا گھر ہے جس میں یتیم کے ساتھ بُرا برتاؤ کیا جاتا ہے ۔
وَاَمَّا السَّآٮِٕلَ فَلَا تَنۡهَرۡؕ ﴿10﴾
(۱۰) اور منگتا کو نہ جھڑکو (ف۱۱)
And do not rebuke the beggar.
और मांगता को न झड़को
Aur mangta ko na jharko
(ف11)یاکچھ دے دو یا حسنِ اخلاق اور نرمی کے ساتھ عذر کردو ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سائل سے طا لبِ علم مراد ہے اس کا اکرام کرنا چاہئے اور جو اس کی حاجت ہو اس کا پورا کرنا اور اس کے ساتھ ترش روئی و بدخُلقی نہ کرنا چاہئے ۔
وَاَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثۡ ﴿11﴾
(۱۱) اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو (ف۱۲)
And abundantly proclaim the favours of your Lord.
और अपने रब की नेमत का खूब चर्च किया करो,
Aur apne Rab ki ne’mat ka khoob charcha karo,
(ف12)نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عطا فرمائیں اور وہ بھی جن کا حضور سے وعدہ فرمایا ۔ نعمتوں کے ذکر کا اس لئے حکم فرمایا کہ نعمت کا بیان کرنا شکر گذاری ہے ۔
اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَـكَ صَدۡرَكَۙ ﴿1﴾
(۱) کیا ہم نے تمہارا سینہ کشادہ نہ کیا (ف۲)
Did We not widen your bosom?
क्या हमने तुम्हारा सीना क़शादा न किया
Kya humne tumhara seenah kashada na kiya
(ف2)یعنی ہم نے آپ کے سینہ کو کشادہ اور وسیع کیا ہدایت و معرفت اور موعظت و نبوّت اور علم وحکمت کے لئے یہاں تک کہ عالِمِ غیب و شہادت اس کی وسعت میں سما گئے اور علائقِ جسمانیہ ، انوارِ روحانیہ کے لئے مانع نہ ہوسکے اور علومِ لدنّیہ و حکمِ الٰہیہ و معارفِ ربانیّہ و حقائقِ رحمانیہ سینۂِ پاک میں جلوہ نما ہوئے ۔ اور ظاہری شرحِ صدر بھی بار بار ہوا ابتدائے عمر شریف میں اور ابتدائے نزولِ وحی کے وقت اور شبِ معراج جیسا کہ احادیث میں آیا ہے ، اس کی شکل یہ تھی کہ جبریلِ امین نے سینۂِ پاک کو چاک کرکے قلبِ مبارک نکالا اور زریں طشت میں آبِ زمزم سے غسل دیا اور نور و حکمت سے بھر کر اس کو اس کی جگہ رکھ دیا ۔
وَوَضَعۡنَا عَنۡكَ وِزۡرَكَۙ ﴿2﴾
(۲) اور تم پر سے تمہارا بوجھ اتار لیا،
And relieve you of the burden –
और तुम पर से तुम्हारा बोझ उतार लिया,
Aur tum par se tumhara bojh utaar liya,
الَّذِىۡۤ اَنۡقَضَ ظَهۡرَكَۙ ﴿3﴾
(۳) جس نے تمہاری پیٹھ توڑی تھی (ف۳)
Which had broken your back?
जिसने तुम्हारी पीठ तोड़ी थी
Jisne tumhari peeth todi thi
(ف3)اس بوجھ سے مراد یا وہ غم ہے جو آپ کو کفّار کے ایمان نہ لانے سے رہتا تھا یا امّت کے گناہوں کا غم جس میں قلبِ مبارک مشغول رہتا تھا ، مراد یہ ہے کہ ہم نے آپ کو مقبول الشفاعت کر کے وہ بارِ غم دور کردیا ۔
وَرَفَعۡنَا لَـكَ ذِكۡرَكَؕ ﴿4﴾
(٤) اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا (ف٤)
And We have exalted your remembrance for you.
और हमने तुम्हारे लिए तुम्हारा ज़िक्र बुलंद कर दिया
Aur humne tumhare liye tumhara zikr buland kar diya
(ف4)حدیث شریف میں ہے سیّدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت جبریل سے اس آیت کو دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ آپ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے میرے ساتھ آپ کا بھی ذکر کیا جائے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اذان میں ، تکبیر میں ، تشہد میں ، منبروں پر ، خطبوں میں ۔ تو اگر کوئی اللہ تعالٰی کی عبادت کرے ہر بات میں اس کی تصدیق کرے اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رسالت کی گواہی نہ دے تو یہ سب بے کار وہ کافر ہی رہے گا ۔ قتادہ نے کہا کہ اللہ تعالٰی نے آپ کا ذکر دنیا و آخرت میں بلند کیا ہر خطیب ہر تشہد پڑھنے والا اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کے ساتھ اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ پکارتا ہے ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ آپ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے انبیاء سے آپ پر ایمان لانے کا عہد لیا ۔
فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا ۙ ﴿5﴾
(۵) تو بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے،
So indeed with hardship is ease.
तो बेशक कठिनाई के साथ आसानी है,
To baishak dushwari ke saath aasani hai,
اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا ؕ ﴿6﴾
(٦) بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے (ف۵)
Indeed with hardship is ease.
बेशक कठिनाई के साथ आसानी है
Baishak dushwari ke saath aasani hai
(ف5)یعنی جو شدّت و سختی کہ آپ کفّارکے مقابلے میں برداشت فرمارہے ہیں اس کے ساتھ ہی آسانی ہے کہ ہم آپ کو ان پر غلبہ عطا فرمائیں گے ۔
فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡۙ ﴿7﴾
(۷) تو جب تم نماز سے فارغ ہو تو دعا میں (ف٦) محنت کرو (ف۷)
So when you finish the prayer, strive in supplication.
तो जब तुम नमाज़ से फ़ारिग़ हो तो दुआ में मेहनत करो
To jab tum namaz se farigh ho to dua mein mehnat karo
(ف6)یعنی آخرت کی ۔(ف7)کہ دعا بعدِ نماز مقبول ہوتی ہے ، اس دعا سے مراد آخرِ نماز کی وہ دعا ہے جو نماز کے اندر ہو یا وہ دعا جو سلام کے بعد ہو ، اس میں اختلاف ہے ۔
وَاِلٰى رَبِّكَ فَارۡغَب ﴿8﴾
(۸) اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو (ف۸)
And incline towards your Lord.
और अपने रब ही की तरफ रग़बत करो,
Aur apne Rab hi ki taraf raghabat karo,
(ف8)اسی کے فضل کے طالب رہو اور اسی پر توکل کرو ۔
وَالتِّيۡنِ وَالزَّيۡتُوۡنِۙ ﴿1﴾
(۱) انجیر کی قسم اور زیتون (ف۲)
By oath of the fig and of the olive,
अंजीर की क़सम और ज़ैतून
Anjeer ki qasam aur zaitoon
(ف2)انجیر نہایت عمدہ میوہ ہے جس میں فضلہ نہیں ، سریع الہضم ،کثیر النفع ، ملیّن ، محلّل ، دافعِ ریگ ، مُفْتِحِ سدّہ ، جگر ، بدن کا فربہ کرنے والا ، بلغم کو چھانٹنے والا ۔ زیتون ایک مبارک درخت ہے اس کا تیل روشنی کے کام لایا جاتا ہے اور بجائے سالن کے بھی کھایا جاتا ہے ۔ یہ وصف دنیا کے کسی تیل میں نہیں ، اس کا درخت خشک پہاڑوں میں پیدا ہوتا ہے جن میں دہنیّت کا نام و نشا ن نہیں ، بغیر خدمت کے پرورش پاتا ہے ، ہزاروں برس رہتا ہے ، ان چیزوں میں قدرتِ الٰہی کے آثار ظاہر ہیں ۔
وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَۙ ﴿2﴾
(۲) اور طور سینا (ف۳)
And by oath of Mount Sinai,
और तूर सिना
Aur Toor Sina
(ف3)یہ وہ پہاڑ ہے جس پر اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو کلام سے مشرف فرمایا اور سینااس جگہ کا نام ہے جہاں یہ پہاڑ واقع ہے یا بمعنٰی خوش منظر کے ہے جہاں کثرت سے پھل دار درخت ہوں ۔
(۵) پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیردیا (ف۵)
We then turned him towards all the lowest of the low states.
फिर इसे हर नीची से नीची हालत की तरफ़ फेर दिया
Phir ise har neechi se neechi haalat ki taraf pher diya
(ف5)یعنی بڑھاپے کی طرف جب کہ بدن ضعیف ، اعضاء ناکارہ ، عقل ناقص ، پشت خم ، بال سفید ہوجاتے ہیں ، جلد میں جھریاں پڑ جاتی ہیں ، اپنے ضروریات انجام دینے میں مجبور ہوجاتا ہے یا یہ معنٰی ہیں کہ جب اس نے اچھی شکل و صورت کی شکر گذاری نہ کی اور نافرمانی پر جما رہا اور ایما ن نہ لایا تو جہنّم کے اسفل ترین درکات کو ہم نے اس کا ٹھکانا کرد یا ۔
(٦) مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ انہیں بیحد ثواب ہے (ف٦)
Except those who accepted faith and did good deeds – for them is a never ending reward.
मगर जो ईमान लाए और अच्छे काम किए कि उन्हें बेहद सवाब है
Magar jo iman laaye aur achhe kaam kiye ke unhein behad sawab hai
(ف6)اگرچہ ضعف پیری کے باعث وہ جوانی کی طرح کثیر طاعتیں بجا نہ لاسکیں اور ان کے عمل کم ہوجائیں لیکن کرمِ الٰہی سے انہیں وہی اجر ملے گا جو شباب اور قوّت کے زمانہ میں عمل کرنے سے ملتا تھا اور اتنے ہی عمل ان کے لکھے جائیں گے ۔
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالدِّيۡنِ ﴿7﴾
(۷) تو اب (ف۷) کیا چیز تجھے انصاف کے جھٹلانے پر باعث ہے (ف۸)
So after this, what causes you to deny the judgement?
तो अब क्या चीज़ तुम्हें इंसाफ़ के झुठलाने पर बाज़ है
To ab kya cheez tumhein insaaf ke jhuthlane par baais hai
(ف7)اس بیانِ قاطع و برہانِ ساطع کے بعد اے کافر ۔(ف8)اور تو اللہ تعالٰی کی یہ قدرتیں دیکھنے کے باوجود کیوں بعث و حساب و جزا کا انکار کرتا ہے ۔
اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰكِمِيۡنَ ﴿8﴾
(۸) کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں،
Is not Allah the Greatest Judge upon all judges?
क्या अल्लाह सब हाकिमों से बढ़कर हाकिम नहीं,
Kya Allah sab hakimoun se barh kar hakim nahi,
اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِىۡ خَلَقَۚ ﴿1﴾
(۱) پڑھو اپنے رب کے نام سے (ف۲) جس نے پیدا کیا
Read with the name of your Lord Who created,
पढ़ो अपने रब के नाम से जिस ने पैदा किया
Padho apne Rab ke naam se jis ne paida kiya
(ف2)یعنی قراء ت کی ابتداء ادباً اللہ تعالٰی کے نام سے ہو ۔ اس تقدیر پر آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قراء ت کی ابتداء بسم اللہ کے ساتھ مستحب ہے ۔(ف3)تمام خَلق کو ۔
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍۚ ﴿2﴾
(۲) آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا، پڑھو (ف٤)
Created man from a clot.
आदमी को खून की फटक से बनाया, पढ़ो
Aadmi ko khoon ki phatak se banaya, padho
اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُۙ ﴿3﴾
(۳) اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم،
Read, and your Lord only is the Most Beneficent,
और तुम्हारा रब ही सब से बड़ा करीम,
Aur tumhara Rab hi sab se bara Kareem,
(ف4)دوبارہ پڑھنے کا حکم تاکید کے لئے ہے ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوبارہ قراء ت کے حکم سے مراد یہ ہے کہ تبلیغ اور امّت کے تعلیم کے لئے پڑھئیے ۔
الَّذِىۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ ﴿4﴾
(٤) جس نے قلم سے لکھنا سکھایا (ف۵)
The One Who taught to write with the pen.
जिस ने क़लम से लिखना सिखाया
Jis ne qalam se likhna sikhaya
(ف5)اس سے کتابت کی فضیلت ثابت ہوئی اور درحقیقت کتابت میں بڑے منافع ہیں ،کتابت ہی سے علوم ضبط میں آتے ہیں گذرے ہوئے لوگوں کی خبر یں اور ان کے احوال اور ان کے کلام محفوظ رہتے ہیں ۔ کتابت نہ ہوتی تو دِین و دنیا کے کام قائم نہ رہ سکتے ۔
عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡؕ ﴿5﴾
(۵) آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا (ف٦)
The One Who taught man all what he did not know.
आदमी को सिखाया जो न जानता था
Aadmi ko sikhaya jo na jaanta tha
(ف6)آدمی سے مراد یہاں حضرت آدم ہیں اور جو انہیں سکھایا اس سے مراد علمِ اسماء ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ انسان سے مراد یہاں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں کہ آپ کو اللہ تعالٰی نے جمیع اشیاء کے علوم عطا فرمائے ۔ (معالم وخازن)
كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰٓىۙ ﴿6﴾
(٦) ہاں ہاں بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے،
Yes indeed, man is surely rebellious.
हाँ हाँ बेशक आदमी सरकशी करता है,
Haan haan baishak aadmi sarkashi karta hai,
اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰىؕ ﴿7﴾
(۷) اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا (ف۷)
As he considers himself independent!
उस पर कि अपने आप को घनी समझ लिया
Us par ke apne aap ko ghani samajh liya
(ف7)یعنی غفلت کا سبب دنیا کی محبّت اور مال پر تکبر ہے ۔ یہ آیتیں ابوجہل کے حق میں نازل ہوئیں اس کو کچھ مال ہاتھ آگیا تھا تو اس نے لباس اور سواری اور کھانے پینے میں تکلّفات شروع کئے اور اس کا غرور و تکبر بہت بڑھ گیا ۔
اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجۡعٰىؕ ﴿8﴾
(۸) بیشک تمہارے رب ہی کی طرف پھرنا ہے (ف۸)
Indeed towards your Lord only is the return.
बेशक तुम्हारे रब ही की तरफ़ फिरना है
Baishak tumhare Rab hi ki taraf phirna hai
(ف8)یعنی انسان کو یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ اسے اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے تو سرکشی و طغیان اور غرور و تکبر کا انجام عذاب ہوگا ۔
اَرَءَيۡتَ الَّذِىۡ يَنۡهٰىؕ ﴿9﴾
(۹) بھلا دیکھو تو جو منع کرتا ہے ،
What is your opinion – regarding him who forbids –
भला देखो तो जो मना करता है,
Bhala dekho to jo mana karta hai,
عَبۡدًا اِذَا صَلّٰىؕ ﴿10﴾
(۱۰) بندے کو جب وہ نماز پڑھے (ف۹)
A bondman when he offers the prayer?
बंदे को जब वह नमाज़ पढ़े
Bande ko jab woh namaz padhe
(ف9)شانِ نزول : یہ آیت بھی ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نماز پڑھنے سے منع کیا تھا اور لوگوں سے کہا تھا کہ اگر میں انہیں ایسا کرتا دیکھوں گا تو ( معاذ اللہ) گردن پاؤں سے کچل ڈالوں گا اور چہرہ خاک میں ملادوں گا ، پھر وہ اسی ارادۂِ فاسدہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نماز پڑھتے میں آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قریب پہنچ کر الٹے پاؤں پیچھے بھاگا ، ہاتھ آگے بڑھائے ہوئے جیسے کوئی کسی مصیبت کو روکنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے ، چہرہ کا رنگ اڑ گیا ، اعضاء کا نپنے لگے ، لوگوں نے کہا کیا حال ہے ، کہنے لگا میرے اور محمّد (مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے درمیان ایک خندق ہے جس میں آ گ بھری ہوئی ہے اور دہشت ناک پرند بازو پھیلائے ہوئے ہیں سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا عضو عضو جدا کر ڈالتے ۔
اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَانَ عَلَى الۡهُدٰٓىۙ ﴿11﴾
(۱۱) بھلا دیکھو تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا ،
What is your opinion – if he were upon guidance,
भला देखो तो अगर वह हिदायत पर होता,
Bhala dekho to agar woh hidaayat par hota,
اَوۡ اَمَرَ بِالتَّقۡوٰىۙ ﴿12﴾
(۱۲) یا پرہیزگاری بتاتا تو کیا خوب تھا،
He would enjoin piety, so how good it would be!
या परहेज़गारी बताता तो क्या खूब था,
Ya parhezgaari batata to kya khoob tha,
اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ وَتَوَلّٰىؕ ﴿13﴾
(۱۳) بھلا دیکھو تو اگر جھٹلایا (ف۱۰) اور منہ پھیرا (ف۱۱)
What is your opinion – if he denies and turns away, how wretched will be his state!
भला देखो तो अगर झुठलाया और मुँह फेरा
Bhala dekho to agar jhuthlaya aur munh phera
(ف10)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ۔(ف11)ایمان لانے سے ۔
اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰىؕ ﴿14﴾
(۱٤) تو کیا حال ہوگا کیا نہ جانا (ف۱۲) کہ اللہ دیکھ رہا ہے (ف۱۳)
Did he not realise that Allah is watching?
तो क्या हाल होगा क्या न जाना कि अल्लाह देख रहा है
To kya haal hoga kya na jaana ke Allah dekh raha hai
(ف12)ابوجہل نے ۔(ف13)اس کے فعل کو ۔ پس جزا دے گا ۔
(۱۵) ہاں ہاں اگر باز نہ آیا (ف۱٤) تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے (ف۱۵)
Yes certainly, if he does not desist, We will seize him by the forelock.
हाँ हाँ अगर बाज़ न आया तो जरूर हम पेशानी के बाल पकड़ कर खींचेंगे
Haan haan agar baaz na aaya to zaroor hum peshani ke baal pakad kar kheenchenge
(ف14)سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ایذا اور آپ کی تکذیب سے ۔(ف15)اور اس کو جہنّم میں ڈالیں گے ۔
نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ۚ ﴿16﴾
(۱٦) کیسی پیشانی جھوٹی خطاکار،
A forelock that lies, is sinful.
कैसी पेशानी झूठी ख़ताक़ार,
Kaisi peshani jhooti khatakaar,
فَلۡيَدۡعُ نَادِيَهٗ ۙ ﴿17﴾
(۱۷) اب پکارے اپنی مجلس کو (ف۱٦)
So let him now call his gang!
अब पुकारे अपनी मज़लिस को
Ab pukare apni majlis ko
(ف16)شانِ نزول : جب ابوجہل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نماز سے منع کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کو سختی سے جھڑک دیا اس پر اس نے کہا کہ آپ مجھے جھڑکتے ہیں خدا کی قَسم میں آپ کے مقابل نوجوان سواروں اور پیدلوں سے اس جنگل کو بھردوں گا ، آپ جانتے ہیں کہ مکّہ مکرّمہ میں مجھ سے زیادہ بڑے جتھے اور مجلس والا کوئی نہیں ہے ۔
سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ ۙ ﴿18﴾
(۱۸) ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں (ف۱۷)
We will now call the guards!
अभी हम सिपाहियों को बुलाते हैं
Abhi hum sipahiyon ko bulate hain
(ف17)یعنی عذاب کے فرشتوں کو ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر وہ اپنی مجلس کو بلا تا تو فرشتے اس کو بالاعلان گرفتار کرتے ۔
We have indeed sent down the Qur’an in the Night of Destiny.
बेशक हमने उसे शब-ए-क़द्र में उतारा
Beshak humne usay Shab-e-Qadr mein utara
(ف2)یعنی قرآنِ مجید کو لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا کی طرف یکبارگی ۔(ف3)شبِ قدر شرف و برکت والی رات ہے اس کو شبِ قدر اس لئے کہتے ہیں کہ اس شب میں سال بھر کے احکام نافذ کئے جاتے ہیں اور ملائکہ کو سال بھر کے وظائف و خدمات پر مامور کیا جاتا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس رات کی شرافت و قدر کے باعث اس کو شبِ قدر کہتے ہیں ۔ اور یہ بھی منقول ہے کہ چونکہ اس شب میں اعمالِ صالحہ منقول ہوتے ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں ان کی قدر کی جاتی ہے اس لئے اس کو شبِ قدر کہتے ہیں ۔ احادیث میں اس شب کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جس نے اس رات میں ایمان و اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی اللہ تعالٰی اس کے سال بھر کے گناہ بخش دیتا ہے آدمی کو چاہئے کہ اس شب میں کثرت سے استغفار کرے اور رات عبادت میں گذارے سال بھر میں شبِ قدر ایک مرتبہ آتی ہے اور روایاتِ کثیرہ سے ثابت ہے کہ وہ رمضان المبارک کے عشر ۂِ اخیرہ میں ہوتی ہے اور اکثر اس کی بھی طاق راتوں میں سے کسی رات میں ۔ بعض علماء کے نزدیک رمضان المبارک کی ستائیسویں رات شبِ قدر ہوتی ہے یہی حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ۔ اس رات کے فضائلِ عظیمہ اگلی آیتوں میں ارشاد فرمائے جاتے ہیں ۔
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِؕ ﴿2﴾
(۲) اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر،
And what have you understood, what the Night of Destiny is!
The Night of Destiny is better than a thousand months.
शब-ए-क़द्र हज़ार महीनों से बेहतर
Shab-e-Qadr hazar mahinon se behtar
(ف4)جو شبِ قدر سے خالی ہوں ، اس ایک رات میں نیک عمل کرنا ہزار راتوں کے عمل سے بہتر ہے حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اممِ گذشتہ کے ایک شخص کا ذکر فرمایا جو تمام رات عبادت کرتا تھا اور تمام دن جہاد میں مصروف رہتا تھا ، اس طرح اس نے ہزار مہینے گذارے تھے مسلمانوں کو اس سے تعجّب ہوا تو اللہ تعالٰی نے آپ کو شبِ قدر عطا فرمائی اور یہ آیت نازل کی کہ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ (اخرجہ ابن جریر عن طریق مجاہد) یہ اللہ تعالٰی کا اپنے حبیب پر کرم ہے کہ آپ کے امّتی شبِ قدر کی ایک رات عبادت کریں تو ان کا ثواب پچھلی امّت کے ہزار ماہ عبادت کرنے والوں سے زیادہ ہو ۔
(٤) اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں (ف۵) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے (ف٦)
In it descend the angels and Jibreel, by the command of their Lord – for all works.
इसमें फ़रिश्ते और जिब्रील उतरते हैं अपने रब के हुक्म से हर काम के लिए
Ismein farishte aur Jibreel utarte hain apne Rab ke hukm se har kaam ke liye
(ف5)زمین کی طرف اور جو بندہ کھڑا یا بیٹھا یادِ الٰہی میں مشغول ہوتا ہے اس کو سلام کرتے ہیں اور اس کے حق میں یہ دعا و استغفار کرتے ہیں ۔(ف6)جو اللہ تعالٰی نے اس سال کے لئے مقدر فرمایا ۔
(۱) کتابی کافر (ف۲) اور مشرک (ف۳) اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے (ف٤)
The disbelieving People of the Book(s) and the polytheists would not have left their religion until the clear proof came to them.
किताबी काफ़िर और مشرक अपना दिन छोड़ने को न थे जब तक उनके पास रोशन दलील न आए
Kitabi kaafir aur mushrik apna deen chhorne ko na the jab tak un ke paas roshan daleel na aaye
(ف2)یہود و نصارٰی ۔(ف3)بت پرست ۔(ف4)یعنی سیّدِ انبیاء محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جلوہ افروز ہوں کیونکہ حضورِ اقدس علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کی تشریف آوری سے پہلے یہ تمام یہی کہتے تھے کہ ہم اپنا دِین چھوڑنے والے نہیں جب تک کہ وہ نبیِ موعود تشریف فرما نہ ہوں جن کا ذکر توریت وانجیل میں ہے ۔
(٤) اور پھوٹ نہ پڑی کتاب والوں میں مگر بعد اس کے کہ وہ روشن دلیل (ف۸) ان کے پاس تشریف لائے (ف۹)
Nor did the People of the Book(s) get divided until after the clear proof came to them.
और फुट न पड़ी किताब वालों में मगर बाद इस के कि वह रोशन दलील उनके पास तशरीफ़ लाए
Aur phoot na padi kitaab walon mein magar baad is ke ke woh roshan daleel un ke paas tashreef laaye
(ف8)یعنی سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف9)مراد یہ ہے کہ پہلے سے تو سب اس پر متفق تھے کہ جب نبیِ موعود تشریف لائیں تو ہم ان پر ایمان لائیں گے لیکن جب وہ نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جلوہ افروز ہوئے تو بعض تو آپ پر ایمان لائے اور بعض نے حسداً و عناداً کفر اختیار کیا ۔
(۵) اور ان لوگوں کو تو (ف۱۰) یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے (ف۱۱) ایک طرف کے ہو کر (ف۱۲) اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں اور یہ سیدھا دین ہے،
And they were ordered only to worship Allah, believing purely in Him – devoted solely (to Him), and to establish the prayer and to pay the obligatory charity – and this is the straight religion.
और इन लोगों को तो यही हुक्म हुआ कि अल्लाह की बंदगी करें, नर्रे इसी पर अकीदा लाते, एक तरफ के हो कर और नमाज़ कायम करें और ज़कात दें और यह सीधा दिन है
Aur in logon ko to yehi hukm hua ke Allah ki bandagi karein, narre isi par aqeeda laate, ek taraf ke ho kar aur namaz qaim karein aur zakat dein aur ye seedha deen hai
(ف10)توریت و انجیل میں ۔(ف11)اخلاص کے ساتھ شرک و نفاق سے دور رہ کر ۔(ف12)یعنی تمام دِینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متّبع ہو کر ۔
(٦) بیشک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے، وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں،
Indeed all disbelievers, the People of the Book(s) and the polytheists, are in the fire of hell – they will remain in it for ever; it is they who are the worst among the creation.
बेशक जितने काफ़िर हैं किताबी और مشرक सब जहन्नुम की आग में हैं हमेशा इस में रहेंगे, वही तमाम मख़लूक में बदतर हैं
Baishak jitne kaafir hain kitabi aur mushrik sab Jahannum ki aag mein hain hamesha is mein rahenge, wahi tamaam makhluq mein badtar hain
(۸) ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی (ف۱۳) اور وہ اس سے راضی (ف۱٤) یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے (ف۱۵)
Their reward is – with their Lord – everlasting Gardens of Eden beneath which rivers flow, in which they will abide for ever and ever; Allah is pleased with them and they are pleased with Him; this is for one who fears his Lord.
उनका सला उनके रब के पास बसने के बाग़ हैं जिन के नीचे नहरें बहें, उनमें हमेशा हमेशा रहें, अल्लाह इन से राज़ी और वह इस से राज़ी, यह इसके लिए है जो अपने रब से डरे
Un ka sila un ke Rab ke paas basne ke baagh hain jin ke neeche nahren behen, un mein hamesha hamesha rahen, Allah un se raazi aur woh is se raazi, ye is ke liye hai jo apne Rab se dare
(ف13)اور ان کے اطاعت و اخلاص سے ۔(ف14)اور اس کے کرم و عطا سے ۔(ف15)اور اس کی نافرمانی سے بچے ۔
اِذَا زُلۡزِلَتِ الۡاَرۡضُ زِلۡزَالَهَا ۙ ﴿1﴾
(۱) جب زمین تھرتھرا دی جائے (ف۲) جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے (ف۳)
When the earth is shaken with its appointed tremor.
जब ज़मीन थरथरा दी जाए जैसा इसका थरथराना ठहरा है
Jab zameen tharthara di jaye jaisa iska thartharana thehra hai
(ف2)قیامت قائم ہونے کے نزدیک یا روزِ قیامت ۔(ف3)اور زمین پر کوئی درخت ، کوئی عمارت ، کوئی پہاڑ باقی نہ رہے ، ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے ۔
وَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا ۙ ﴿2﴾
(۲) اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے (ف٤)
And the earth throws out its burdens.
और ज़मीन अपने बोझ बाहर फेंक दे
Aur zameen apne bojh bahar phenk de
(ف4)یعنی خزانے اور مردے جو اس میں ہیں وہ سب نکل کر باہر آپڑیں ۔
وَقَالَ الۡاِنۡسَانُ مَا لَهَا ۚ ﴿3﴾
(۳) اور آدمی کہے اسے کیا ہوا (ف۵)
And man says, “What has happened to it?”
और आदमी कहे उसे क्या हुआ
Aur aadmi kahe use kya hua
(ف5)کہ ایسی مضطرب ہوئی اور اتنا شدید زلزلہ آیا کہ جو کچھ اس کے اندر تھا سب باہر پھینک دیا ۔
يَوۡمَٮِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخۡبَارَهَا ۙ ﴿4﴾
(٤) اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی (ف٦)
On that day earth will narrate its news,
उस दिन वह अपनी खबरें बताएगी
Us din woh apni khabrein batayegi
(ف6)اور جو نیکی بدی اس پر کی گئی سب بیان کرے گی ۔ حدیث شریف میں ہے کہ ہرمرد ، عورت نے جو کچھ اس پر کیا اس کی گواہی دے گی ، کہے گی فلاں روز یہ کیا ، فلاں روز یہ ۔ ( ترمذی)
بِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا ؕ ﴿5﴾
(۵) اس لیے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا (ف۷)
Because your Lord sent a command to it.
इसलिए कि तुम्हारे रब ने इसे हुक्म भीजा
Is liye ke tumhare Rab ne ise hukm bheja
(ف7)کہ اپنی خبریں بیان کرے اور عمل اس پر کئے گئے ہیں ان کی خبریں دے ۔
(۸) اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا (ف۱۱)
And whoever does an evil deed equal to the weight of the minutest particle, will see it.
और जो एक ज़र्रा भर बुराई करे उसे देखेगा
Aur jo ek zarra bhar burai kare use dekhega
(ف11)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ ہر مومن و کافر کو روزِ قیامت اس کے نیک و بداعمال دکھائے جائیں گے مومن کو اس کی نیکیاں اور بدیاں دکھا کر اللہ تعالٰی بدیاں بخش دے گا اور نیکیوں پر ثواب عطا فرمائے گا اورکافر کی نیکیاں رد کردی جائیں گی کیونکہ کفر کے سبب اکارت ہوچکیں اور بدیوں پر اس کو عذاب کیا جائے گا ۔ محمّد بن کعب قرظی نے فرمایا کہ کافر نے ذرّہ بھر نیکی کی ہوگی تووہ اس کی جزا دنیا ہی میں دیکھ لے گا یہاں تک کہ جب دنیا سے نکلے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی اور مومن اپنی بدیوں کی سز ا دنیا میں پائے گا تو آخرت میں اس کے ساتھ کوئی بدی نہ ہوگی ۔ اس آیت میں ترغیب ہے کہ نیکی تھوڑی سی بھی کارآمد ہے اور ترہیب ہے کہ گناہ چھوٹا سا بھی وبال ہے ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا ہے کہ پہلی آیت مومنین کے حق میں ہے اور پچھلی کفّار کے ۔
وَالۡعٰدِيٰتِ ضَبۡحًا ۙ ﴿1﴾
(۱) قسم ان کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی (ف۲)
By oath of those that sprint, breathing heavily. (The horses used in Holy War.)
क़सम उनकी जो दौड़ते हैं सीने से आवाज़ निकलती हुई
Qasam unki jo daurte hain seene se awaaz nikalti hui
(ف2)مراد ان سے غازیوں کے گھوڑے ہیں جو جہاد میں دوڑتے ہیں تو ان کے سینوں سے آوازیں نکلتی ہیں ۔
فَالۡمُوۡرِيٰتِ قَدۡحًا ۙ ﴿2﴾
(۲) پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مار کر (ف۳)
Striking stones with their hooves, sparking fire.
फिर पत्थरों से आग निकालते हैं सम मारकर
Phir pathron se aag nikalte hain sum maarkar
(ف3)جب پتّھریلی زمین پر چلتے ہیں ۔
فَالۡمُغِيۡرٰتِ صُبۡحًا ۙ ﴿3﴾
(۳) پھر صبح ہوتے تاراج کرتے ہیں (ف٤)
And by oath of those who raid at dawn.
फिर सुबह होते ताराज करते हैं
Phir subah hote taraj karte hain
(ف4)دشمن کو ۔
فَاَثَرۡنَ بِهٖ نَقۡعًا ۙ ﴿4﴾
(٤) پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں،
So thereupon raising dust.
फिर उस वक़्त गुबार उड़ाते हैं
Phir us waqt gubaar urate hain
فَوَسَطۡنَ بِهٖ جَمۡعًا ۙ ﴿5﴾
(۵) پھر دشمن کے بیچ لشکر میں جاتے ہیں،
Then penetrate to the centre of the enemy army.
फिर दुश्मन के बीच लश्कर में जाते हैं
Phir dushman ke beech lashkar mein jate hain
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَـكَنُوۡدٌ ۚ ﴿6﴾
(٦) بیشک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے (ف۵)
Indeed man is very ungrateful towards his Lord.
बेशक आदमी अपने रब का बड़ा नाशकरा है
Beshak aadmi apne Rab ka bara nashkara hai
(ف5)کہ اس کی نعمتوں سے مُکَرجاتا ہے ۔
وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ ۚ ﴿7﴾
(۷) اور بیشک وہ اس پر (٦) خود گواہ ہے،
And indeed he himself is a witness to it.
और बेशक वह उस पर खुद गवाह है
Aur beshak woh us par khud gawah hai
(ف6)اپنے عمل سے ۔
وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ لَشَدِيۡدٌ ؕ ﴿8﴾
(۸) اور بیشک وہ مال کی چاہت میں ضرور کرّا (تیز) ہے (ف۷)
And indeed he loves wealth to the extreme.
और बेशक वह माल की चाहत में जरूर कर्रा (तेज़) है
Aur beshak woh maal ki chahat mein zaroor karra (tez) hai
(ف3)یعنی جس طرح پتنگے شعلے پر گرنے کے وقت منتشر ہوتے ہیں اور ان کے لئے کوئی ایک جہت معیّن نہیں ہوتی ہر ایک دوسرے کے خلافِ جہت سے جاتا ہے یہی حال روزِ قیامت خَلق کے انتشار کا ہوگا ۔
(ف4)جس کے اجزاء متفرق ہو کر اڑتے ہیں یہی حال قیامت کے ہول و دہشت سے پہاڑوں کا ہوگا ۔
فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ۙ ﴿6﴾
(٦) تو جس کی تولیں بھاری ہوئیں (ف۵)
So for one whose scales prove heavy,
तू जिसकी तौले भारी हुईं
Tu jis ki taulen bhaari hui
(ف5)اور وزن دار عمل یعنی نیکیاں زیادہ ہوئیں ۔
فَهُوَ فِىۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ ؕ ﴿7﴾
(۷) وہ تو من مانتے عیش میں ہیں (ف٦)
He is therefore in the desired bliss.
वह तो मन मानते ऐश में हैं
Woh to man mante aish mein hain
(ف6)یعنی جنّت میں مومن کی نیکیاں اچھی صورت میں لا کر میزان میں رکھی جائیں گی تو اگر وہ غالب ہوئیں تو اس کے لئے جنّت ہے اور کافر کی برائیاں بدترین صورت میں لا کر میزان میں رکھی جائیں گی اور تول ہلکی پڑے گی کیونکہ کفّار کے اعمال باطل ہیں ان کا کچھ وزن نہیں تو انہیں جہنّم میں داخل کیا جائے گا ۔
وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ۙ ﴿8﴾
(۸) اور جس کی تولیں ہلکی پڑیں (ف۷)
And for one whose scales prove light,
और जिसकी तौले हल्की पड़ीं
Aur jis ki taulen halki parin
(ف7)بسبب اس کے کہ وہ باطل کا اتباع کرتا تھا ۔
فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ ؕ ﴿9﴾
(۹) وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہے (ف۸)
He is in the lap of one that abases.
वह नीचा दिखाने वाली गोद में है
Woh neechaa dikhane wali god mein hai
(ف8)یعنی اس کا مسکن آتشِ دوزخ ہے ۔
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا هِيَهۡ ؕ ﴿10﴾
(۱۰) اور تو نے کیا جانا، کیا نیچا دکھانے والی،
And what have you understood, what the one that abases is!
और तू ने क्या जाना, क्या नीचा दिखाने वाली
Aur tu ne kya jana, kya neechaa dikhane wali
نَارٌ حَامِيَةٌ ﴿11﴾
(۱۱) ایک آگ شعلے مارتی (ف۹)
A flaming fire!
एक आग शोलें मारती
Ek aag sholay marti
(ف9)جس میں انتہا کی سوزش و تیزی ہے ، اللہ تعالٰی اس سے پناہ میں رکھے ۔
اَلۡهٰٮكُمُ التَّكَاثُرُۙ ﴿1﴾
(۱) تمہیں غافل رکھا (ف۳) مال کی زیادہ طلبی نے (ف۳)
The craving for excess wealth kept you people neglectful.
तुम्हें ग़ाफ़िल रखा माल की ज़्यादा तलब ने यहाँ तक कि तुमने कब्रों का मुँह देखा
Tumhein ghafil rakha maal ki zyada talabi ne yahan tak ke tum ne qabron ka munh dekha
(ف2)اللہ تعالٰی کی طاعات سے ۔(ف3)اس سے معلوم ہوا کہ کثرتِ مال کی حرص اور اس پر مفاخرت مذموم ہے اور اس میں مبتلا ہو کر آدمی سعادتِ اُخرویہ سے محروم رہ جاتا ہے ۔
حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَؕ ﴿2﴾
(۲) یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا (ف٤)
Until you confronted the graves.
हाँ हाँ जल्द जान जाओगे फिर हाँ हाँ जल्द जान जाओगे
Haan haan jald jaan jaoge phir haan haan jald jaan jaoge
(ف4)یعنی موت کے وقت تک حرص تمہارے دامن گیرِ خاطر رہی ۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا مردے کے ساتھ تین ہوتے ہیں دو لوٹ آتے ہیں ایک اس کے ساتھ رہ جاتا ہے ایک مال ایک اس کے اہل و اقارب ایک اس کا عمل ساتھ رہ جاتا ہے باقی دونوں واپس ہوجاتے ہیں ۔ (بخاری )
كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ ﴿3﴾
(۳) ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے (ف۵)
Yes certainly, you will soon realise!
हाँ हाँ अगर यक़ीन का जानना जानते तो माल की मोहब्बत न रखते
Haan haan agar yaqeen ka jaan'na jaante to maal ki mohabbat na rakhte
(ف5)نزع کے وقت اپنے اس حال کے نتیجۂِ بد کو ۔
ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ ﴿4﴾
(٤) پھر ہاں ہاں جلد جان جاؤں گے (ف٦)
Again, yes certainly, you will soon realise!
बेशक ज़रूर जहन्नम को देखोगे
Beshak zaroor jahannum ko dekho ge
(ف6)قبروں میں ۔
كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِؕ ﴿5﴾
(۵) ہاں ہاں اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے (ف۷)
Yes certainly, if you had believed with certainty, you would not have craved for wealth.
फिर बेशक ज़रूर उसे यक़ीनी देखना देखोगे
Phir beshak zaroor usay yaqini dekhna dekho ge
(ف7)اور حرصِ مال میں مبتلا ہو کر آخرت سے غافل نہ ہوتے ۔
لَتَرَوُنَّ الۡجَحِيۡمَۙ ﴿6﴾
(٦) بیشک ضرور جنہم کو دیکھو گے (ف۸)
Indeed you will see hell.
फिर बेशक ज़रूर उस दिन तुमसे नेमतों की पूछ होगी
Phir beshak zaroor us din tum se naimaton ki pooch hogi
(۸) پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کی پرسش ہوگی (ف۹)
Then, on that day, you will surely be questioned regarding the favours.
(ف9)جو اللہ تعالٰی نے تمہیں عطا فرمائی تھیں صحت و فراغ و امن و عیش و مال وغیرہ جن سے دنیا میں لذّتیں اٹھاتے تھے پوچھا جائے گا یہ چیزیں کس کام میں خرچ کیں ، ان کا کیا شکرادا کیا ۔ اور ترکِ شکر پر عذاب کیاجائے گا ۔
وَالۡعَصۡرِۙ ﴿1﴾
(۱) اس زمانہ محبوب کی قسم (ف۲)
By oath of this era of yours (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him).
उस ज़माना महबूब की कसम
Us zamana mahboob ki qasam
(ف2)عصر زمانہ کو کہتے ہیں اور زمانہ چونکہ عجائبات پر مشتمل ہے اس میں احوال کا تغیّر و تبدّل ناظر کے لئے عبرت کا سبب ہوتا ہے اور یہ چیزیں خالقِ حکیم کی قدرت و حکمت اور اس کی واحدانیّت پر دلالت کرتی ہیں اس لئے ہوسکتا ہے کہ زمانہ کی قَسم مراد ہو ، اور عصر اس وقت کو بھی کہتے ہیں جو غروب سے قبل ہوتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ خاسر کے حق میں اس وقت کی قَسم یاد فرمائی جائے جیسا کہ رابح کے حق میں ضحٰی یعنی وقتِ چاشت کی قَسم ذکر فرمائی گئی ، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ عصر سے نمازِ عصر مراد ہوسکتی ہے جو دن کی عبادتوں میں سب سے پچھلی عبادت ہے اور سب سے لذیذ ۔ و راجح تفسیر وہی ہے جو حضرت مترجِم قدّس سِرّہ نے اختیار فرمائی کہ زمانہ سے مخصوص زمانہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مراد ہے جو بڑی خیر و برکت کا زمانہ اور تمام زمانوں میں سب سے زیادہ فضیلت و شرف والا ہے اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانۂِ مبارک کی قَسم یاد فرمائی جیسا کہ لَا اُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مسکن و مکان کی قَسم یاد فرمائی ہے اور جیسا کہ لَعَمْرُ کَ میں آپ کی عمر شریف کی قَسم یاد فرمائی اور اس میں شانِ محبوبیّت کا اظہار ہے ۔
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِىۡ خُسۡرٍۙ ﴿2﴾
(۲) بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے (ف۳)
Indeed man is surely in a loss.
बेशक आदमी ज़रूर नुकसान में है
Beshak aadmi zaroor nuqsan mein hai
(ف3)کہ اس کی عمر جو اس کا راسُ المال ہے اور اصل پونجی ہے وہ ہر دم گھٹ رہی ہے ۔
(۳) مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی (ف٤) اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی (ف۵)
Except those who accepted faith, and did good deeds and urged one another to the truth – and urged one another to have patience.
मगर जो ईमान लाए और अच्छे काम किए और एक दूसरे को हक़ की ताकीद की और एक दूसरे को सब्र की वसीयत की
Magar jo imaan laaye aur achhe kaam kiye aur ek doosre ko haqq ki takeed ki aur ek doosre ko sabr ki waseeyat ki
(ف4)یعنی ایمان و عملِ صالح کی ۔(ف5)ان تکلیفوں اور مشقّتوں پر جو دِین کی راہ میں پیش آئیں یہ لوگ بفضلِ الٰہی ٹوٹے میں نہیں ہیں کیونکہ انکی جتنی عمر گذری نیکی اور طاعت میں گذری تو وہ نفع پانے والے ہیں ۔
وَيۡلٌ لِّـكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ۙ ﴿1﴾
(۱) خرابی ہے اس کے لیے جو لوگوں کے منہ پر عیب کرے پیٹھ پیچھے بدی کرے (ف۲)
Ruin is for every open slanderer, backbiter.
खराबी है उसके लिए जो लोगों के मुँह पर ऐब करे और पीठ पीछे बुराई करे
Kharabi hai uske liye jo logon ke munh par aib kare aur peeth peechhe burai kare
(ف2)یہ آیتیں ان کفّار کے حق میں نازل ہوئیں جو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے اصحاب پر زبانِ طعن کھولتے تھے اور ان حضرات کی غیبت کرتے تھے مثل اخنس بن شریق واُمیّہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ وغیرہم کے ۔ اور حکم ہر غیبت کرنے والے کے لئے عام ہے ۔
اۨلَّذِىۡ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ ۙ ﴿2﴾
(۲) جس نے مال جوڑا اور گن گن کر رکھا،
Who accumulated wealth and hoarded it, counting.
जिसने माल जोड़ा और गिन गिन कर रखा
Jisne maal joda aur gin gin kar rakha
يَحۡسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخۡلَدَهٗ ۚ ﴿3﴾
(۳) کیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا (ف۳)
Does he think that his wealth will prolong his stay on earth forever?
क्या यह समझता है कि उसका माल उसे हमेशा रखेगा
Kya yeh samajhta hai ke uska maal use hamesha rakhega
(ف3)مرنے نہ دے گا جو وہ مال کی محبّت میں مست ہے اور عملِ صالح کی طرف التفات نہیں کرتا ۔
كَلَّا لَيُنۡۢبَذَنَّ فِى الۡحُطَمَةِ ۖ ﴿4﴾
(٤) ہرگز نہیں ضرور وہ روندنے والی میں پھینکا جائے گا (ف٤)
Never! He will certainly be thrown into the Crushing One.
(ف4)یعنی جہنّم کے اس درکہ میں جہاں آ گ ہڈیاں پسلیاں توڑ ڈالے گی ۔
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الۡحُطَمَةُ ؕ ﴿5﴾
(۵) اور تو نے کیا جانا کیا روندنے والی،
And what have you understood what the Crushing One is!
और क्या तुम जानते हो क्या है रौंदने वाली
Aur kya tum jante ho kya hai rondne wali
نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ ۙ ﴿6﴾
(٦) اللہ کی آگ کہ بھڑک رہی ہے (ف۵)
The fire of Allah, that is ablaze.
अल्लाह की आग जो भड़काई हुई है
Allah ki aag jo bhadkai hui hai
(ف5)اور کبھی سرد نہیں ہوتی ۔ حدیث شریف میں ہے جہنّم کی آ گ ہزار برس دھونکی گئی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی پھر ہزار برس دھونکی گئی تاآنکہ سفید ہوگئی پھر ہزار برس دھونکی گئی حتّٰی کہ سیاہ ہوگئی تو وہ سیاہ ہے اندھیری ۔ (ترمذی)
الَّتِىۡ تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡـــِٕدَةِ ؕ ﴿7﴾
(۷) وہ جو دلوں پر چڑھ جائے گی (ف٦)
Which will climb on to the hearts.
जो दिलों पर चढ़ जाएगी
Jo dilon par chadh jayegi
(ف6)یعنی ظاہرِ جسم کو بھی جَلائے گی اور جسم کے اندر بھی پہنچے گی اور دلوں کو بھی جَلائے گی دل ایسی چیز ہیں جن کو ذرا سی گرمی کی تاب نہیں تو جب آتشِ جہنّم کا ان پر استیلاہوگا اور موت آئے گی نہیں تو کیا حال ہوگا ۔ دلوں کو جَلانا اس لئے ہے کہ وہ مقام ہیں کفر اور عقائدِ باطلہ و نیّاتِ فاسدہ کے ۔
اِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ ۙ ﴿8﴾
(۸) بیشک وہ ان پر بند کردی جائے گی (ف۷)
Indeed it will be shut over them.
बेशक वह उन पर बन्द कर दी जाएगी
Beshak woh unpar band kar di jayegi
(ف7)یعنی آ گ میں ڈال کر دروازے بند کردیئے جائیں گے ۔
فِىۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ ﴿9﴾
(۹) لمبے لمبے ستونوں میں (ف۸)
In extended columns.
लम्बे लम्बे स्तम्भों में
Lambe lambe stambhon mein
(ف8)یعنی دروازوں کی بندش آتشیں لوہے کے ستونوں سے مضبوط کردی جائے گی کہ کبھی دروازہ نہ کُھلے ۔ بعض مفسّرین نے یہ معنٰی بیان کئے ہیں کہ دروازے بند کرکے آتشیں ستونوں سے ان کے ہاتھ پاؤں باند ھ دیئے جائیں گے ۔
(۱) اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کیا حال کیا (ف۲)
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), did you not see how did your Lord deal with the People of the Elephant?
ऐ महबूब! क्या तुम ने न देखा तुम्हारे रब ने उन हाथी वालों के साथ क्या हाल किया
Ai mehboob! kya tum ne na dekha tumhare Rab ne un haathi walon ke sath kya haal kiya
(ف2)ہاتھی والوں سے مراد ابرہہ اور اس کا لشکر ہے ، ابرہہ یمن و حبشہ کا بادشاہ تھا اس نے صنعاء میں ایک کنیسہ (عبادت خانہ) بنایاتھا اور چاہتا تھا کہ حج کرنے والے بجائے مکّہ مکرّمہ کے یہیں آئیں اور اسی کنیسہ کا طواف کریں عرب کے لوگوں کو یہ بات بہت شاق تھی ، قبیلۂِ بنی کنانہ کے ایک شخص نے موقع پا کر اس کنیسہ میں قضائے حاجت کی اور اس کو نجاست سے آلودہ کردیا اس پر ابرہہ کو بہت طیش آیا اوراس نے کعبہ کے ڈھانے کی قَسم کھائی اور اس ارادے سے اپنا لشکر لے کر جس میں بہت سے ہاتھی تھے اور ان کا پیش رو ایک بڑا عظیم الجثّہ کوہ پیکر ہاتھی تھا جس کا نام محمود تھا ابرہہ نے مکّہ مکرّمہ کے قریب پہنچ کر اہلِ مکّہ کے جانور قید کرلئے ان میں دو سو اونٹ عبدالمطلب کے بھی تھے عبدالمطلب ابرہہ کے پاس آئے تھے بہت جسیم و باشکوہ ، ابرہہ نے ان کی تعظیم کی اور اپنے پاس بٹھایا اور مطلب دریافت کیا آپ نے فرمایا میرا مطلب یہ ہے کہ میرے اونٹ واپس کئے جائیں ابرہہ نے کہا مجھے بہت تعجّب ہوتا ہے کہ میں خانۂِ کعبہ کو ڈھانے کے لئے آیا ہوں اور وہ تمہارا تمہارے باپ دادا کا معظّم و محترم مقام ہے تم اس کے لئے تو کچھ نہیں کہتے اپنے اونٹوں کے لئے کہتے ہو آپ نے فرمایا میں اونٹوں ہی کا مالک ہوں انہی کے لئے کہتا ہوں اور کعبہ کا جو مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت فرمائے گا ابرہہ نے آپ کے اونٹ واپس کردیئے عبدالمطلب نے قریش کو حال سنایا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ پہاڑوں کی گھاٹیوں اور چوٹیوں میں پناہ گذین ہوں چنانچہ قریش نے ایسا ہی کیا اور عبدالمطلب نے دروازۂِ کعبہ پر پہنچ کر بارگاہِ الٰہی میں کعبہ کی حفاظت کی دعا کی اور دعا سے فارغ ہو کر آپ اپنی قوم کی طرف چلے گئے ابرہہ نے صبح تڑکے اپنے لشکروں کو تیار ی کا حکم دیا اور ہاتھیوں کو تیار کیا لیکن محمود ہاتھی نہ اٹھا اور کعبہ کی طرف نہ چلا جس طرف چلاتے تھے چلتاتھا جب کعبہ کی طرف اس کا رخ کرتے تھے بیٹھ جاتا تھا اللہ تعالٰی نے چھوٹے چھوٹے پرند ان پر بھیجے جو چھوٹے چھوٹے سنگریزے گراتے تھے جن سے وہ ہلاک ہوجاتے تھے ۔
اَلَمۡ يَجۡعَلۡ كَيۡدَهُمۡ فِىۡ تَضۡلِيۡلٍۙ ﴿2﴾
(۲) کیا ان کا داؤ تباہی میں نہ ڈالا،
Did He not put their scheme into ruin?
क्या उनका दांव तबाही में न डाला
Kya unka daav tabahi mein na dala
وَّاَرۡسَلَ عَلَيۡهِمۡ طَيۡرًا اَبَابِيۡلَۙ ﴿3﴾
(۳) اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں (فوجیں) بھیجیں (ف۳)
And send flocks of birds upon them,
और उन पर परिंदों की टुकड़ियां (फौजें) भेजीं
Aur un par parindon ki tukdiyan (faujen) bhejeen
(ف3)جو سمندر کی جانب سے فوج آئیں ہر ایک کے پاس تین کنکریاں تھیں دو دونوں پاؤں میں ایک منقار میں ۔
تَرۡمِيۡهِمۡ بِحِجَارَةٍ مِّنۡ سِجِّيۡلٍۙ ﴿4﴾
(٤) کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے (ف٤)
Which hit them with stones of baked clay,
कि उन्हें कंकर के पत्थरों से मारते
Ke unhen kankar ke patharon se marte
(ف4)جس پر وہ پرند سنگریزہ چھوڑتے وہ سنگریزہ اس کے خود کو توڑ کر سر سے نکل کر جسم کو چیر کر ہاتھی میں گذرکر زمین پر پہنچتا ہر سنگریزہ پر اس شخص کا نام لکھا تھا جو اس سنگریزہ سے ہلاک کیا گیا ۔
فَجَعَلَهُمۡ كَعَصۡفٍ مَّاۡكُوۡلٍ ﴿5﴾
(۵) تو انہیں کر ڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی (بھوسہ) (ف۵)
So He made them like the leftover devoured leaves of farms?
तो उन्हें कर डाला जैसे खाई खेत की पत्ती (भूसा)
To unhen kar dala jaise khai kheti ki patti (bhusa)
(ف5)جس روز یہ واقعہ ہوا اسی سال اس واقعہ سے پچاس روز کے بعد سیّدِ عالَم حبیبِ خدا محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت ہوئی ۔
لِاِيۡلٰفِ قُرَيۡشٍۙ ﴿1﴾
(۱) اس لیے کہ قریش کو میل دلایا (ف۲)
Because of giving alliances to the Quraish.
इस लिये कि कुरैश को मेल दिलाया
Is liye ke Quraish ko mail dilaya
(ف2)یعنی اللہ تعالٰی کی نعمتیں بے شمار ہیں ان میں سے ایک نعمتِ ظاہرہ یہ ہے کہ اس نے قریش کو ہر سال میں دو سفروں کی طرف رغبت دلائی ان کی محبّت ان میں ڈالی جاڑے کے موسم میں یمن کا سفر اور گرمی کے موسم میں شام کا ، کہ قریش تجارت کے لئے ان موسموں میں یہ سفر کرتے تھے اور ہر جگہ کے لوگ انہیں اہلِ حرم کہتے تھے اور ان کی عزّت و حرمت کرتے تھے یہ امن کے ساتھ تجارتیں کرتے اور فائدے اٹھاتے اور مکّہ مکرّمہ میں اقامت کرنے کے لئے سرمایہ بہم پہنچاتے ۔ جہاں نہ کھیتی ہے ، نہ اور اسبابِ معاش ، اللہ تعالٰی کی یہ نعمت ظاہر ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
(٤) جس نے انہیں بھوک میں (ف٤) کھانا دیا، اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا (ف۵)
The One Who gave them food in hunger, and bestowed them safety from a great fear.
जिसने उन्हें भूख में खाना दिया और उन्हें एक बड़े ख़ौफ़ से अमान बख़्शा
Jisne unhein bhookh mein khana diya, aur unhein ek bade khauf se aman bakhsha
(ف4)جس میں ان سفروں سے پہلے اپنے وطن میں کھیتی نہ ہونے کے باعث مبتلا تھے ان سفروں کے ذریعہ سے ۔(ف5)بسببِ حرم شریف کے اور بسببِ اہلِ مکّہ ہونے کے کہ کوئی ان سے تعرّض نہیں کرتا باوجود یہ کہ اطراف وحوالی میں قتل و غارت ہوتے رہتے ہیں ، قافلے لٹتے ہیں ، مسافر مارے جاتے ہیں ۔ یا یہ معنٰی ہیں کہ انہیں جذام سے امن دی کہ ان کے شہر میں انہیں کچھ جذام نہ ہوگا یا یہ مراد کہ سیّدِ عالَم محمّد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی برکت سے انہیں خوفِ عظیم سے امان عطا فرمائی ۔
اَرَءَيۡتَ الَّذِىۡ يُكَذِّبُ بِالدِّيۡنِؕ ﴿1﴾
(۱) بھلا دیکھو تو جو دین کو جھٹلاتا ہے (ف۲)
Just look at him, who belies the religion!
भला देखो तो जो दीन को झुटलाता है
Bhala dekho to jo deen ko jhutlata hai
(ف2)یعنی حساب و جزا کا انکار کرتا ہے باوجود دلائل واضح ہونے کے ۔ شانِ نزول : یہ آیتیں عاص بن وائل سہمی یا ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئیں ۔
فَذٰلِكَ الَّذِىۡ يَدُعُّ الۡيَتِيۡمَۙ ﴿2﴾
(۲) پھر وہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (ف۳)
So it is he, who pushes away the orphan,
फिर वह वह है जो यतीम को धक्के देता है
Phir woh woh hai jo yateem ko dhakke deta hai
(ف3)اور اس پر شدّت و سختی کرتا ہے اور اس کا حق نہیں دیتا ۔
وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِؕ ﴿3﴾
(۳) اور مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہیں دیتا (ف٤)
And does not urge to feed the needy.
और मिस्कीन को खाना देने की रग़बत नहीं देता
Aur miskeen ko khana dene ki ragbat nahin deta
(ف4)یعنی نہ خود دیتا ہے نہ دوسرے سے دلاتا ہے انتہا درجہ کا بخیل ہے ۔
فَوَيۡلٌ لِّلۡمُصَلِّيۡنَۙ ﴿4﴾
(٤) تو ان نمازیوں کی خرابی ہے،
So ruin is to those offerers of prayer –
तो उन नमाज़ियों की खराबी है,
To un namazion ki kharabi hai
الَّذِيۡنَ هُمۡ عَنۡ صَلَاتِهِمۡ سَاهُوۡنَۙ ﴿5﴾
(۵) جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں (ف۵)
Those who are neglectful of their prayer.
जो अपनी नमाज़ से भूले बैठे हैं
Jo apni namaz se bhoolay baithe hain
(ف5)مراد اس سے منافقین ہیں جو تنہائی میں نماز نہیں پڑھتے کیونکہ اس کے معتقد نہیں اور لوگوں کے سامنے نمازی بنتے ہیں اور اپنے آپ کو نمازی ظاہر کرتے ہیں اور دکھانے کے لئے اٹھ بیٹھ لیتے ہیں اور حقیقت میں نماز سے غافل ہیں ۔
الَّذِيۡنَ هُمۡ يُرَآءُوۡنَۙ ﴿6﴾
(٦) وہ جو دکھاوا کرتے ہیں (ف٦)
Those who make a display (of their deeds).
वह जो दिखावा करते हैं
Woh jo dikhawa karte hain
(ف6)عبادتوں میں ۔ آگے ان کے بُخل کا بیان فرمایا جاتا ہے ۔
وَيَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ ﴿7﴾
(۷) اور برتنے کی چیز (ف۷) مانگے نہیں دیتے (ف۸)
And do not let others ask for small utilities.
और बरतने की चीज़ माँगे नहीं देते
Aur baratne ki cheez maange nahin dete
(ف7)مثل سوئی و ہانڈی و پیالے کے ۔(ف8)مسئلہ : علماء نے فرمایا کہ مستحب ہے کہ آدمی اپنے گھر میں ایسی چیز یں اپنی حاجت سے زیادہ رکھے جن کی ہمسایوں کو حاجت ہوتی ہے اور انہین عاریۃً دیا کرے ۔
اِنَّاۤ اَعۡطَيۡنٰكَ الۡكَوۡثَرَؕ ﴿1﴾
(۱) اے محبوب! بیشک ہم نے تمہیں بیشمار خوبیاں عطا فرمائیں (ف۲)
We have indeed bestowed the Kausar* upon you (O dear prophet Mohammed – peace and blessings be upon him). (*Infinite excellent qualities / the greatest number of followers / the sweet pond on the Day of Resurrection)
Ae mehboob! beshak humne tumhein behisaab khoobiyaan ata ki
(ف2)اور فضائلِ کثیرہ عنایت کرکے تمام خَلق پر افضل کیا ، حسنِ ظاہر بھی دیا ، حسنِ باطن بھی ، نسبِ عالی بھی ، نبوّت بھی ، کتاب بھی ، حکمت بھی ، علم بھی ، شفاعت بھی ، حوضِ کوثر بھی ، مقامِ محمود بھی ، کثرتِ امّت بھی ، اعدائے دِین پر غلبہ بھی ، کثرتِ فتوح بھی اور بے شمار نعمتیں اور فضیلتیں جن کی نہایت نہیں ۔
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانۡحَرۡ ؕ ﴿2﴾
(۲) تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو (ف۳) اور قربانی کرو (ف٤)
So offer the prayers for your Lord, and perform the sacrifice.
तो तुम अपने रब के लिए नमाज़ पढ़ो और क़ुर्बानी करो
To tum apne Rab ke liye namaz padho aur qurbani karo
(ف3)جس نے تمیں عزّت و شرافت دی ۔(ف4)اس کے لئے اس کے نام پر ، بخلاف بت پرستوں کے جو بتوں کے نام پر ذبح کرتے ہیں ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے نمازِ عید مراد ہے ۔
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الۡاَبۡتَرُ ﴿3﴾
(۳) بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے (ف۵)
Indeed it is your enemy who is bereft of all goodness.
बेशक जो तुम्हारा दुश्मन है वही हर भलाई से महरूम है
Beshak jo tumhara dushman hai wahi har bhalai se mehroom hai
(ف5)نہ آپ ، کیونکہ آپ کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ، آپکی اولاد میں بھی کثرت ہوگی اور آپ کے متّبعین سے دنیا بھر جائے گی ، آپ کا ذکر منبروں پر بلند ہوگا ، قیامت تک پیدا ہونے والے عالِم اور واعظ اللہ تعالٰی کے ذکر کے ساتھ آپ کا ذکر کرتے رہیں گے ، بے نام و نشان اور ہر بھلائی سے محروم تو آپ کے دشمن ہیں ۔ شانِ نزول : جب سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فرزند حضرت قاسم کا وصال ہوا تو کفّار نے آپ کو ابتر یعنی منقطعُ النسل کہا اور یہ کہا کہ اب ان کی نسل نہیں رہی ان کے بعد اب ان کا ذکر بھی نہ رہے گا یہ سب چرچا ختم ہوجائے گا ۔ اس پرسورۂِ کریمہ نازل ہوئی اور اللہ تعالٰی نے ان کفّار کی تکذیب کی اور ان کا بالغ رد فرمایا ۔
قُلۡ يٰۤاَيُّهَا الۡكٰفِرُوۡنَۙ ﴿1﴾
(۱) تم فرماؤ اے کافرو،
Proclaim, (O dear prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O disbelievers!”
तुम फ़रमाओ ऐ काफ़िरो,
Tum farmao ae kafiro,
(ف2)مخاطب یہاں مخصوص کافر ہیں جو علمِ الٰہی میں ایمان سے محروم ہیں ۔
لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَۙ ﴿2﴾
(۲) نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو،
Neither do I worship what you worship.
न मैं पूजता हूँ जो तुम पूजते हो,
Na main poojta hoon jo tum poojte ho,
وَلَاۤ اَنۡـتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ۚ ﴿3﴾
(۳) اور نہ تم پوجتے ہو جو میں پوجتا ہوں،
Nor do you worship Whom I worship.
और न तुम पूजते हो जो मैं पूजता हूँ,
Aur na tum poojte ho jo main poojta hoon,
وَلَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡۙ ﴿4﴾
(٤) اور نہ میں پوجوں گا جو تم نے پوجا،
And neither will I ever worship what you worship.
और न मैं पूजूँगा जो तुमने पूजा,
Aur na main poojunga jo tumne pooja,
وَ لَاۤ اَنۡـتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ؕ ﴿5﴾
(۵) اور نہ تم پوجو گے جو میں پوجتا ہوں،
Nor will you worship Whom I worship.
और न तुम पूजो जो मैं पूजता हूँ,
Aur na tum poojo jo main poojta hoon,
لَـكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَلِىَ دِيۡنِ ﴿6﴾
(٦) تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین (ف۳)
For you is your religion, and for me is mine.
तुम्हें तुम्हारा दीन और मुझे मेरा दीन
Tumhein tumhara deen aur mujhe mera deen
(ف3)یعنی تمہارے لئے تمہاراکفر اور میرے لئے میری توحید اور میرا اخلاص اور مقصود اس سے تہدید ہے ۔' وَھٰذِہِ الاٰ یَۃُ مَنْسُوْخَۃ بِآ یَۃِ الْقِتَالِ'
اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰهِ وَالۡفَتۡحُۙ ﴿1﴾
(۱) جب اللہ کی مدد اور فتح آئے (ف۲)
When the help and victory of Allah come,
जब अल्लाह की मदद और फ़तह आए
Jab Allah ki madad aur fatah aaye
(ف2)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے دشمنوں کے مقابلے میں ۔ اس سے یا عام فتوحاتِ اسلام مراد ہیں یا خاص فتحِ مکّہ ۔
(۳) تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو (ف٤) بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے (ف۵)
Then proclaim the Purity of your Lord while praising Him, and seek forgiveness from Him; indeed He is the Most Acceptor of Repentance.
तो अपने रब की सना करते हुए उसकी पाकी बोलो और उससे बख्शिश चाहो, बेशक वह बहुत तौबा क़ुबूल करने वाला है
To apne Rab ki sana karte hue uski paaki bolo aur us se bakhshish chaho, beshak woh bohot tauba qubool karne wala hai
(ف4)امّت کے لئے ۔(ف5)اس سورت کے نازل ہونے کے بعد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے' سُبْحَان اللہِ وَبِحَمدِہ اَسْتَغفِرُ اللہَ وَاتُوبُ اِلیہ ' کی بہت کثرت فرمائی ۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ یہ سورت حجّۃ الوداع میں بمقامِ مِنٰی نازل ہوئی اس کے بعد آیت' اَلیَومَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ 'نازل ہوئی اس کے نازل ہونے کے بعد اسّی۸۰ روز سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دنیا میں تشریف رکھی پھر آیۃ 'الکلالۃ' نازل ہوئی اس کے بعد حضور پچاس روز تشریف فرما رہے پھر آیت 'وَاتَّقُوْا یَوْماً تُرْجَعُوْنَ فِیۡہِ اِلَی اللہِ 'نازل ہوئی اس کے بعد حضور اکّیس روز یا سات روز تشریف فرما رہے اس سورت کے نازل ہونے کے بعد صحابہ نے سمجھ لیا تھا کہ دِین کامل اور تمام ہوگیا تو اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دنیا میں زیادہ تشریف نہ رکھیں گے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ سورت سن کر اسی خیال سے روئے ، اس سورت کے نازل ہونے کے بعد سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ ایک بندہ کو اللہ تعالٰی نے اختیار دیا چاہے دنیا میں رہے چاہے اس کی لقاء قبول فرمائے اس بندہ نے لقائے الٰہی اختیار کی ، یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا آپ پر ہماری جانیں ، ہمارے مال ، ہمارے آباء، ہماری اولادیں سب قربان ۔
تَبَّتۡ يَدَاۤ اَبِىۡ لَهَبٍ وَّتَبَّؕ ﴿1﴾
(۱) تباہ ہوجائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہوہی گیا (ف۲)
May both the hands of Abu Lahab be destroyed – and they are destroyed!
तबाह हो जाएं अबू लहब के दोनों हाथ और वह तबाह हो ही गया
Tabah ho jayein Abu Lahab ke dono haath aur woh tabah ho hi gaya
(ف2)ابولہب کا نام عبدالعزٰی ہے یہ عبدالمطلب کا بیٹا اور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا چچا تھا بہت ہی گورا خوبصورت آدمی تھا اسی لئے اس کی کنّیت ابولہب ہے اور اسی کنّیت سے وہ مشہور تھا ۔ دونوں ہاتھوں سے مراد اس کی ذات ہے ۔
مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُ مَالُهٗ وَمَا كَسَبَؕ ﴿2﴾
(۲) اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا (ف۳)
His wealth did not benefit him in the least, nor did whatever he earned.
उसे कुछ काम न आया उसका माल और न जो कमाया
Usay kuch kaam na aaya uska maal aur na jo kamaya
(ف3)یعنی اس کی اولاد ۔ مروی ہے کہ ابولہب نے جب پہلی آیت سنی تو کہنے لگا کہ جو کچھ میرے بھتیجے کہتے ہیں اگر سچ ہے تو میں اپنی جان کے لئے اپنے مال و اولاد کو فدیہ کردوں گا ، اس آیت میں اس کا رد فرمایا گیا کہ یہ خیال غلط ہے اس وقت کوئی چیز کام آنے والی نہیں ۔
سَيَصۡلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ۖۚ ﴿3﴾
(۳) اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آگ میں وہ،
He will soon enter the flaming fire.
अब धँसता है लपट मारती आग में वह
Ab dhasta hai lapat maarti aag mein woh
وَّامۡرَاَ تُهٗ ؕ حَمَّالَةَ الۡحَطَبِۚ ﴿4﴾
(٤) اور اس کی جُورو (ف٤) لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی،
And so will his wife; carrying a bundle of firewood on her head.
और उसकी जورو लकड़ियों का गठ्ठा सर पर उठाती
Aur uski joru lakdiyon ka ghattha sar par uthati
(ف4)اُمِّ جمیل بنتِ حرب بن اُمیّہ ابوسفیان کی بہن جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نہایت عناد وعداوت رکھتی تھی اور باوجود یہ کہ بہت دولتمند اور بڑے گھرانے کی تھی لیکن سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عداوت میں انتہا کو پہنچی تھی کہ خود اپنی سر پر کانٹوں کا گٹھا لا کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے راستہ میں ڈالتی تاکہ حضور کو اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصحاب کو ایذا و تکلیف ہو اور حضور کی ایذا رسانی اس کو اتنی پیاری تھی کہ وہ اس کام میں کسی دوسرے سے مدد لینا بھی گوارا نہ کرتی تھی ۔
فِىۡ جِيۡدِهَا حَبۡلٌ مِّنۡ مَّسَدٍ ﴿5﴾
(۵) اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسّا، (ف۵)
A rope made from palm fibre around her neck!
उसके गले में खजूर की छाल का रस्सा
Uske gale mein khajoor ki chaal ka rassa
(ف5)جس سے کانٹوں کا گٹھا باندھتی تھی ، ایک روز یہ بوجھ اٹھا کر لارہی تھی کہ تھک کر آرام لینے کے لئے ایک پتّھر پر بیٹھ گئی ایک فرشتے نے بحکمِ الٰہی اس کے پیچھے سے اس گٹھے کو کھینچا وہ گرا اور رسی سے گلے میں پھانسی لگ گئی اور وہ مرگئی ۔
قُلۡ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ ۚ ﴿1﴾
(۱) تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے (ف۲)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “He is Allah, He is One.”
तुम फ़रमाओ वह अल्लाह है वह एक है
Tum farmao woh Allah hai woh aik hai
(ف2)ربوبیّت والوہیّت میں صفاتِ عظمت و کمال کے ساتھ موصوف ہے ، مثل و نظیر و شبیہ سے پاک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔
اَللّٰهُ الصَّمَدُ ۚ ﴿2﴾
(۲) اللہ بےنیاز ہے (ف۳)
“Allah is the Un-wanting.” (Perfect, does not require anything.)
अल्लाह बे-नियाज़ है
Allah be-niyaaz hai
(ف3)ہر چیز سے نہ کھائے ، نہ پیئے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے ۔
لَمۡ يَلِدۡ ۙ وَلَمۡ يُوۡلَدۡ ۙ ﴿3﴾
(۳) نہ اس کی کوئی اولاد (ف٤) اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا (ف۵)
“He has no offspring, nor is He born from anything.”
न उसकी कोई औलाद और न वह किसी से पैदा हुआ
Na uski koi aulaad aur na woh kisi se paida hua
(ف4)کیونکہ کوئی اس کا مجانس نہیں ۔(ف5)کیونکہ وہ قدیم ہے اور پیدا ہونا حادث کی شان ہے ۔
وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ ﴿4﴾
(٤) اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی (ف٦)
“And there is none equal to Him.”
और न उसके जोड़ का कोई
Aur na uske jor ka koi
(ف6)یعنی کوئی اس کا ہمتا و عدیل نہیں ۔ اس سورت کی چند آیتوں میں علمِ الٰہیات کے نفیس و اعلٌٰی مطالب بیان فرمادیئے گئے ہیں جن کی تفصیلات سے کُتُب خانے کے کُتُب خانے لبریز ہوجائیں ۔
قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِۙ ﴿1﴾
(۱) تم فرماؤ میں اس کی پناہ لیتا ہوں جو صبح کا پیدا کرنے والا ہے (ف۲)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I take refuge of the One Who creates the Daybreak.”
तुम फ़रमाओ मैं उसकी पनाह लेता हूँ जो सुबह का पैदा करने वाला है
Tum farmao main uski panah leta hun jo subah ka paida karne wala hai
(ف2)تعوُّذ میں اللہ تعالٰی کا اس وصف کے ساتھ ذکر اس لئے ہے اللہ تعالٰی صبح پیدا کرکے شب کی تاریکی دور فرماتا ہے تو وہ قادر ہے کہ پناہ چاہنے والے کو جن حالات سے خوف ہے ان کو دورفرمائے نیز جس طرح شبِ تار میں آدمی طلوعِ صبح کا انتظار کرتا ہے ایسا ہی خائف امن و راحت کا منتظر رہتا ہے علاوہ بریں صبح اہلِ اضطرار و اضطراب کی دعاؤں کا اور ان کے قبول ہونے کا وقت ہے تو مراد یہ ہوئی کہ جس وقت اربابِ کرب و غم کو کشائش دی جاتی ہیں اور دعائیں قبول کی جاتی ہیں میں اس وقت کے پیدا کرنے والے کی پناہ چاہتا ہوں ، ایک قول یہ بھی ہے کہ فلق جہنّم میں ایک وادی ہے ۔
مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَۙ ﴿2﴾
(۲) اس کی سب مخلوق کی شر سے (ف۳)
“From the evil of His entire creation.”
उसकी सब मख़लूक की शर से
Uski sab makhluq ki shar se
(ف3)جاندار ہو یا بے جان مکلّف ہو یا غیرِ مکلف ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا ہے کہ مخلوق سے مراد خاص ابلیس ہے جس سے بدتر مخلوق میں کوئی نہیں اور جادو کے عمل اس کی اور اس کے اعوان و لشکروں کی مدد سے پورے ہوتے ہیں ۔
وَمِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ ﴿3﴾
(۳) اور اندھیری ڈالنے والے کے شر سے جب وہ ڈوبے (ف٤)
“And from the evil of the matter that darkens when it sets.”
और अंधेरी डालने वाले की शर से जब वह डूबे
Aur andheri dalne wale ki shar se jab woh doobe
(ف4)حضرت اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چاند کی طرف نظر کرکے ان سے فرمایا اے عائشہ اللہ کی پناہ لو اس کے شر سے یہ اندھیری ڈالنے والا ہے جب ڈوبے ۔ ( ترمذی) یعنی آخرِ ماہ میں جب چاند چُھپ جائے تو جادو کے وہ عمل جو بیمار کرنے کے لئے ہیں اسی وقت میں کئے جاتے ہیں ۔
وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِى الۡعُقَدِۙ ﴿4﴾
(٤) اور ان عورتوں کے شر سے جو گرہوں میں پھونکتی ہیں (ف۵)
“And from the evil of the witches who blow into knots.”
और उन औरतों की शर से जो गिरहों में फूंकती हैं
Aur un aurton ki shar se jo girahon mein phoonkti hain
(ف5)یعنی جادوگر عورتیں جو ڈوروں میں گرہ لگا لگا کر ان میں جادو کے منتر پڑھ پڑھ کر پھونکتی ہیں جیسے کہ لبید کی لڑکیاں ۔مسئلہ : گنڈے بنانا اور ان پر گرہ لگانا آیاتِ قرآن یا اسماءِ الٰہیہ دم کرنا جائز ہے جمہور صحابہ و تابعین اسی پر ہیں اور حدیثِ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا میں ہے کہ جب حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تو حضور معوّذات پڑھ کر اس پر دم فرماتے ۔
وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ﴿5﴾
(۵) اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے (ف٦)
“And from the evil of the envier when he is envious of me.”
और हसद वाले की शर से जब वह मुझसे जले
Aur hasad wale ki shar se jab woh mujh se jale
(ف6)حسد والا وہ ہے جو دوسرے کے زوالِ نعمت کی تمنّا کرے ، یہاں حاسد سے یہود مراد ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے حسد کرتے تھے یا خاص لبید بن اعصم یہودی ۔ حسد بدترین صفت ہے اور یہی سب سے پہلا گناہ ہے جو آسمان میں ابلیس سے سرزد ہوا اور زمین میں قابیل سے ۔
قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ ﴿1﴾
(۱) تم کہو میں اس کی پناہ میں آیا جو سب لوگوں کا رب (ف۲)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I take refuge of the One Who is the Lord of all mankind.”
कहो मैं पनाह मांगता हूँ जो सब लोगों का रब है
Tum kaho main us ki panah mein aaya jo sab logon ka Rab.
(ف2)سب کا خالق و مالک ۔ ذکر میں انسانوں کی تخصیص ان کی تشریف کے لئے ہے کہ انہیں اشرف المخلوقات کیا ۔
مَلِكِ النَّاسِۙ ﴿2﴾
(۲) سب لوگوں کا بادشاہ (ف۳)
“The King of all mankind.”
सब लोगों का बादशाह
Sab logon ka Badshah.
(ف3)ان کے کاموں کی تدبیر فرمانے والا ۔
اِلٰهِ النَّاسِۙ ﴿3﴾
(۳) سب لوگوں کا خدا (ف٤)
“The God of all mankind.”
सब लोगों का ख़ुदा
Sab logon ka Khuda.
(ف4)کہ الٰہ اور معبود ہونا اسی کے ساتھ خاص ہے ۔
مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ ۙ الۡخَـنَّاسِ ۙ ﴿4﴾
(٤) اس کے شر سے جو دل میں برے خطرے ڈالے (ف۵) اور دبک رہے (ف٦)
“From the evil of the one who instils evil thoughts in the hearts – and stays hidden.”
उस के शर से जो दिल में बुरे ख़याल डालता है और छुप जाता है
Us ke shar se jo dil mein bure khatre daale aur dubak rahe.
(ف5)مراد اس سے شیطان ہے ۔(ف6)یہ اس کی عادت ہی ہے کہ انسان جب غافل ہوتا ہے تو اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اورجب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان دبک رہتا ہے اور ہٹ جاتاہے ۔
الَّذِىۡ يُوَسۡوِسُ فِىۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ ﴿5﴾
(۵) وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں،
“Those who instil evil thoughts into the hearts of men.”
जो लोगों के दिलों में वसवसे डालते हैं
Woh jo logon ke dilon mein waswase daalte hain.
مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿6﴾
(٦) جن اور آدمی (ف۷)
“Among the jinns and men.”
जिन और इंसान
Jin aur Aadmi.
(ف7)یہ بیان ہے وسوسے ڈالنے والے شیطان کا کہ وہ جنّوں میں سے بھی ہوتا ہے اور انسانوں میں سے بھی جیسا شیاطین جن انسانوں کو وسوسے میں ڈالتے ہیں ایسے ہی شیاطین انس بھی ناصح بن کر آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں پھر اگر آدمی ان وسوسوں کو مانتا ہے تو اس کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے اور خوب گمراہ کرتے ہیں اگر اس سے متنفر ہوتا ہے تو ہٹ جاتے ہیں اور دبک رہتے ہیں ۔ آدمی کو چاہئے کہ شیاطین جن کے شر سے بھی پناہ مانگے اور شیاطین انس کے شر سے بھی ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شب کو جب بسترِ مبارک پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں دستِ مبارک جمع فرماکر ان میں دم کرتے اور سورۂِ قُلْ ھُوَاللہُ اَحَد وَقُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ اور قُلْ اَعُوۡ ذُبِرَبِ النَّاس پڑھ کر اپنے مبارک ہاتھوں کو سرِ مبارک سے لے کر تمام جسمِ اقدس پر پھیرتے جہاں تک دستِ مبارک پہنچ سکتے یہ عمل تین مرتبہ فرماتے ۔وَاللہ تَعَالٰی اَعْلَمُ بِمُرَادِہٖ وَاَسْرَارِ کِتَابِہٖ وَاٰخِرُ دَعْوَانَآ اَنِ الْحَمْدُ اللہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَاَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ واَزکَی السَّلامِ عَلٰی حَبِیْبِہٖ وَسَیِّدِ اَنْبِیَآئِہ وَرُسُلِہٖ سَیِّدنَا مُحَمَّدٍ وَاٰلِہٖ وَاَصْحٰبِہ اَجْمَعِیْنَ '
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page