اور جب سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا (ف۲۰۵) تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے ابل رہی ہیں (ف۲۰٦) اس لیے کہ وہ حق کو پہچان گئے ، کہتے ہیں اے رب ہمارے! ہم ایمان لائے (ف۲۰۷) تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے (ف۲۰۸)
And when they listen to what has been sent down to the Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), you observe their eyes overflowing with tears because they have recognised the truth; they say, “Our Lord, we have accepted faith – therefore record us among the witnesses of the truth.”
और जब सुनते हैं वह जो रसूल की तरफ उतरा तो उनकी आँखें देखो कि आँसुओं से उबल रही हैं इसलिये कि वह हक़ को पहचान गए, कहते हैं ऐ रब हमारे! हम ईमान लाए तो हमें हक़ के गवाहों में लिख ले
Aur jab sunte hain woh jo Rasool ki taraf utra, to un ki aankhen dekho ke aansuon se ubal rahi hain, is liye ke woh haq ko pehchaan gaye, kehte hain, Ae Rab! Hum imaan laaye, to humein haq ke gawahon mein likh le.
(ف205)یعنی قرآن شریف ۔(ف206)یہ ان کی رقّتِ قلب کا بیان ہے کہ قرآنِ کریم کے دل میں اثر کرنے والے مضامین سن کر رو پڑتے ہیں چنانچہ نجاشی بادشاہ کی درخواست پر حضرت جعفر نے اس کے دربار میں سورۂ مریم اور سورۂ طٰہٰ کی آیات پڑھ کر سنائیں تو نجاشی بادشاہ اور اس کے درباری جن میں اس کی قوم کے عُلَماء موجود تھے سب زار و قطار رونے لگے ، اسی طرح نجاشی کی قوم کے ستّر آدمی جو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے حضورسے سورۂ یٰسٓۤ سُن کر بہت روئے ۔(ف207)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ہم نے ان کے برحق ہونے کی شہادت دی ۔(ف208)اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت میں داخل کر جو روزِ قیامت تمام اُمّتوں کے گواہ ہوں گے ۔ (یہ انہیں انجیل سے معلوم ہو چکا تھا)
اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر کہ ہمارے پاس آیا اور ہم طمع کرتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے (ف۲۰۹)
“And what is the matter with us, that we should not believe in Allah and this truth which has come to us? And we hope that our Lord will admit us along with the righteous.”
और हमें क्या हुआ कि हम ईमान न लाएँ अल्लाह पर और इस हक़ पर कि हमारे पास आया और हम तमा करते हैं कि हमें हमारा रब नेक लोगों के साथ दाख़िल करे
Aur humein kya hua ke hum imaan na laayein Allah par aur is haq par ke hamare paas aaya, aur hum tamanna karte hain ke humein hamara Rab nek logon ke saath daakhil kare.
(ف209)جب حبشہ کا وفد اسلام سے مشرف ہو کر واپس ہوا تو یہود نے انہیں اس پر ملامت کی ، اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہا کہ جب حق واضح ہو گیا تو ہم کیوں ایمان نہ لاتے یعنی ایسی حالت میں ایمان نہ لانا قابلِ ملامت ہے ، نہ کہ ایمان لانا کیونکہ یہ سبب ہے فلاحِ دارَین کا ۔
تو اللہ نے ان کے اس کہنے کے بدلے انہیں باغ دیے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہ بدلہ ہے نیکوں کا (ف ۲۱۰)
So because of their saying, Allah bestowed them with Gardens beneath which rivers flow, in which they will abide forever; and this is the reward of the virtuous.
तो अल्लाह ने उनके इस कहने के बदले उन्हें बाग़ दिए जिनके नीचे नहरें रवाँ हमेशा उनमें रहेंगे, यह बदला है नेकों का
To Allah ne un ke is kehne ke badle unhein baagh diye jin ke neeche nahrein rawaan, hamesha un mein rahenge, ye badla hai nekon ka.
(ف210)جو صدق و اخلاص کے ساتھ ایمان لائیں اور حق کا اقرار کریں ۔
اے ایمان والو! (ف۲۱۱) حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں (ف۲۱۲) اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں،
O People who Believe! Do not forbid the pure things, which Allah has made lawful for you, and do not cross the limits; indeed Allah dislikes the transgressors.
ऐ ईमान वालो! हराम न ठहराओ वे साफ़ चीज़ें जो अल्लाह ने तुम्हारे लिए हलाल कीं और हद से न बढ़ो, बेशक हद से बढ़ने वाले अल्लाह को नापसंद हैं,
Ae imaan walo! Haram na thehrao woh suthri cheezen ke Allah ne tumhare liye halal ki hain aur had se na badho, be-shak had se badhne walay Allah ko na-pasand hain,
(ف211)شانِ نُزول : صحابہ کرام کی ایک جماعت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ سن کر ایک روز حضرت عثمان بن مظعون کے یہاں جمع ہوئی اور انہوں نے باہم ترکِ دنیا کا عہد کیا اور اس پر اتفاق کیا کہ وہ ٹاٹ پہنیں گے ، ہمیشہ دن میں روزے رکھیں گے ، شب عبادتِ الٰہی میں بیدار رہ کر گزارا کریں گے ، بستر پر نہ لیٹیں گے ،گوشت اور چکنائی نہ کھائیں گے ، عورتوں سے جُدا رہیں گے ، خوشبو نہ لگائیں گے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور انہیں اس ارادہ سے روک دیا گیا ۔(ف212)یعنی جس طرح حرام کو ترک کیا جاتا ہے اس طرح حلال چیزوں کو ترک نہ کرو اور نہ مبالغۃً کسی حلال چیز کو یہ کہو کہ ہم نے اس کو اپنےاوپر حرام کر لیا ۔
اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر (ف۲۱۳) ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتے ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا (ف۲۱٤) تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا (ف۲۱۵) اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے (ف۲۱٦) یا انہیں کپڑے دینا (ف۲۱۷) یا ایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے (ف۲۱۸) یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا، جب قسم کھاؤ (ف۲۱۹) اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو (ف۲۲۰) اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو،
Allah does not take you to task for oaths which are made unintentionally but He does take you to task for oaths which you ratify; so the redemption of such oaths is to provide food to ten needy persons equal to the average of what you feed your family, or to clothe them, or to free one slave; and for one who has no means, is the fasting for three days; this is the redemption of your oaths when you have sworn; and fulfil your oaths; this is how Allah explains His verses to you, so that you may be thankful.
अल्लाह तुम्हें नहीं पकड़ता तुम्हारी ग़लत फ़हमी की क़स्मों पर हाँ उन क़स्मों पर पकड़ फ़रमाता है जिन्हें तुमने मज़बूत किया तो ऐसी क़स्म का बदला दस मस्कीनों को खाना देना अपने घर वालों को जो खिलाते हो उसके औसत में से या उन्हें कपड़े देना या एक बंदा आज़ाद करना तो जो उनमें से कुछ न पाए तो तीन दिन के रोज़े यह बदला है तुम्हारी क़स्मों का, जब क़स्म खाओ और अपनी क़स्मों की हिफाज़त करो इसी तरह अल्लाह तुमसे अपनी आयतें बयान फ़रमाता है कि कहीं तुम एहसान मानो,
Allah tumhein nahi pakarta tumhari ghalat fehmi ki qasmon par haan un qasmon par giraft farmaata hai jinhein tumne mazboot kiya to aisi qasam ka badla das miskeenon ko khana dena apne ghar walon ko jo khilate ho us ke ausat mein se ya unhein kapray dena ya ek barda aazad karna to jo un mein se kuch na paye to teen din ke roze yeh badla hai tumhari qasmon ka, jab qasam khao aur apni qasmon ki hifazat karo isi tarah Allah tumse apni aayatein bayan farmata hai ke kahin tum ehsan mano,
(ف213)غلط فہمی کی قَسم یعنی یمینِ لَغویہ ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قَسم کھا لے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو ایسی قَسم پر کَفّارہ نہیں ۔(ف214)یعنی یمینِ منعقدہ پر جو کسی آئندہ امر پر قصد کر کے کھائی جائے ایسی قَسم توڑنا گناہ بھی ہے اور اس پر کَفّارہ بھی لازم ہے ۔(ف215)دونوں وقت کا خواہ انہیں کِھلاوے یا پونے دو سیر گیہوں یا ساڑھے تین سیر جَو صدقۂ فطر کی طرح دے دے ۔(۱) مسئلہ : یہ بھی جائز ہے کہ ایک مسکین کو دس روز دے دے یا کِھلا دیا کرے ۔(۱) اسّی روپے بھر کے سیر کے حساب سے فی مسکین کھانے کا وزن پونے دو سیر چار بھر ، یہ اصل وزن ہے مگر احتیاطی حکم یہ ہے کہ اتنے وزن کا جَو جس پیمانے میں سمائے اس پیمانے سے گندم دیا جائے جس کا وزن دو سیر تین چھٹانک اٹھنی بھر ہوتا ہے اور نئے حساب سے دو کلو پینتالیس گرام یہ نصف صاع کا احتیاطی وزن ہے ، تفصیل فتاوٰی رضویہ و بہارِ شریعت میں دیکھیں ، ۱۲ محمد عبد المبین نعمانی قادری ۔(ف216)یعنی نہ بہت اعلٰی درجہ کا نہ بالکل ادنٰی بلکہ متوسط ۔(ف217)اوسط درجہ کے جن سے اکثر بدن ڈھک سکے ۔ حضرت ابنِ عمر رضی ا للہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک تہبند اور کُرتا یا ایک تہبند اور ایک چادر ہو ۔مسئلہ : کَفّارہ میں ان تینوں باتوں کا اختیار ہے خواہ کھانا دے ، خواہ کپڑے ، خواہ غلام آزاد کرے ہر ایک سے کَفّارہ ادا ہو جائے گا ۔(ف218)مسئلہ : روزہ سے کَفّارہ جب ہی ادا ہو سکتا ہے جب کہ کھانا ، کپڑا دینے اور غلام آزاد کرنے کی قدرت نہ ہو ۔ مسئلہ : یہ بھی ضروری ہے کہ یہ روزے متواتر رکھے جائیں ۔(ف219)اور قَسم کھا کر توڑ دو یعنی اس کو پورا نہ کرو ۔ مسئلہ : قسم توڑنے سے پہلے کَفّارہ دینا درست نہیں ۔(ف220)یعنی انہیں پورا کرو اگر اس میں شرعاً کوئی ہرج نہ ہو اور یہ بھی حفاظت ہے کہ قَسم کھانے کی عادت ترک کی جائے ۔
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ،
O People who Believe! Wine (all intoxicants), and gambling, and idols, and the darts are impure – the works of Satan, therefore keep avoiding them so that you may succeed.
ऐ ईमान वालो! शराब और जुआ और बुत और पासे नापाक ही हैं शैतानी काम तो उनसे बचते रहो कि तुम फ़लाह पाओ,
Ae imaan walo! Sharaab aur jua aur but aur paanse napaak hi hain shaitani kaam to un se bachte rehna ke tum falaah pao,
شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے (ف۲۲۱) تو کیا تم باز آئے،
The devil only seeks to instil hatred and enmity between you with wine and gambling, and to prevent you from the remembrance of Allah and from prayer; so have you desisted?
शैतान यही चाहता है कि तुम में बैर और दुश्मनी डालवा दे शराब और जुए में और तुम्हें अल्लाह की याद और नमाज़ से रोके तो क्या तुम बाज़ आओगे,
Shaitaan yahi chahta hai ke tum mein bair aur dushmani dalwa de sharaab aur juye mein aur tumhein Allah ki yaad aur namaz se roke to kya tum baaz aaye,
(ف221)اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔
اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ہوشیار رہو، پھر اگر تم پھر جاؤ (ف۲۲۲) تو جان لو کہ ہمارے رسول کا ذمہ صرف واضح طور پر حکم پہنچادینا ہے (ف۲۲۳)
And obey Allah and obey the Noble Messenger, and be cautious; then if you turn away, so know that the duty of Our Noble Messenger is only to plainly convey the message.
और हुक्म मानो अल्लाह का और हुक्म मानो रसूल का और होशियार रहो, फिर अगर तुम फिर जाओ तो जान लो कि हमारे रसूल का ज़िम्मा सिर्फ़ वाज़िह़ तौर पर हुक्म पहुँचाना है
Aur hukum mano Allah ka aur hukum mano Rasool ka aur hoshiyar raho, phir agar tum phir jao to jaan lo ke hamare Rasool ka zimma sirf wazeh taur par hukum pohnchana hai,
(ف222)اطاعتِ خدا اور رسول سے ۔(ف223)یہ وعید و تہدید ہے کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمِ الٰہی صاف صاف پہنچا دیا تو ان کا جو فرض تھا اداہو چکا اب جو اعراض کرے وہ مستحقِ عذاب ہے ۔
جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں (ف۲۲٤) جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں، اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (ف۲۲۵)
Upon those who accepted faith and did good deeds, there shall be no sin for whatever they have consumed in the past, provided they fear and continue to believe and do good deeds, then again fear and continue to believe, and then again fear and remain virtuous; and Allah loves the virtuous.
जो ईमान लाए और नेक काम किए उन पर कुछ गुनाह नहीं जो कुछ उन्होंने चखा जब कि डरें और ईमान रखें और नेकियां करें फिर डरें और ईमान रखें फिर डरें और नेक रहें, और अल्लाह नेकों को दोस्त रखता है
Jo imaan laaye aur nek kaam kiye un par kuch gunah nahi jo kuch unhon ne chakkha jab ke daren aur imaan rakhen aur nekian karen phir daren aur imaan rakhen phir daren aur nek rahen, aur Allah nekon ko dost rakhta hai,
(ف224)شانِ نُزول : یہ آیت ان اصحاب کے حق میں نازل ہوئی جو شراب حرام کئے جانے سے قبل وفات پا چکے تھے ۔ حرمتِ شراب کا حکم نازل ہونے کے بعد صحابۂ کرام کو ان کی فکر ہوئی کہ ان سے اس کا مؤاخذہ ہو گا یا نہ ہو گا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ حرمت کا حکم نازل ہونے سے قبل جن نیک ایمانداروں نے کچھ کھایا پیا وہ گنہگار نہیں ۔(ف225)آیت میں لفظِ اِتَّقُوْا جس کے معنٰی ڈرنے اور پرہیز کرنے کے ہیں تین مرتبہ آیا ہے پہلے سے شرک سے ڈرنا اور پرہیز کرنا ، دوسرے سے شراب اور جوئے سے بچنا ، تیسرے سے تمام محرَّمات سے پرہیز کرنا مراد ہے ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ پہلے سے ترکِ شرک ، دوسرے سے ترکِ معاصی و محرَّمات ، تیسرے سے ترکِ شبہات مراد ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ پہلے سے تمام حرام چیزوں سے بچنا اور دوسرے سے اس پر قائم رہنا اور تیسرے سے زمانۂ نُزولِ وحی میں یا اس کے بعد جو چیزیں منع کی جائیں ان کو چھوڑ دینا مراد ہے ۔ (مدارک و خازن و جمل وغیرہ)
اے ایمان والوں ضرور اللہ تمہیں آزمائے گا ایسے بعض شکار سے جس تک تمہارا ہاتھ اور نیزے پہنچیں (ف۲۲٦) کہ اللہ پہچان کرادے ان کی جو اس سے بن دیکھے ڈرتے ہیں، پھر اس کے بعد جو حد سے بڑھے (ف۲۲۷) اس کے لئے دردناک عذاب ہے،
O People who Believe! Allah will surely test you with some prey that is within reach of your hands and your spears, so that Allah may make known those who fear Him without seeing; so henceforth, a painful punishment is for anyone who transgresses.
ऐ ईमान वालों ज़रूर अल्लाह तुम्हें आज़माएगा ऐसे कुछ शिकार से जिस तक तुम्हारा हाथ और नज़र पहुँचें कि अल्लाह पहचान करा दे उनकी जो उससे बन देखें डरते हैं, फिर उसके बाद जो हद से बढ़े उसके लिए दर्दनाक अज़ाब है,
Ae imaan walon zaroor Allah tumhein aazmaye ga aise baaz shikaar se jis tak tumhara haath aur neze pohnchen ke Allah pehchan kara de unki jo us se ban dekhe darte hain, phir is ke baad jo had se badhe us ke liye dardnaak azaab hai,
(ف226)۶ ہجری جس میں حُدیبیہ کا واقعہ پیش آیا ، اس سال مسلمان مُحْرِم (احرام پوش) تھے اس حالت میں وہ اس آزمائش میں ڈالے گئے کہ وُحوش و طیور بکثرت آئے اور ان کی سواریوں پر چھا گئے ، ہاتھ سے پکڑنا ، ہتھیار سے شکار کر لینا بالکل اختیا رمیں تھا ، اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس آزمائش میں وہ بفضلِ الٰہی فرمانبردار ثابت ہوئے اور حکمِ الٰہی کی تعمیل میں ثابت قدم رہے ۔ (خازن وغیرہ)(ف227)اور بعد ابتلاء کے نافرمانی کرے ۔
اے ایمان والو! شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو (ف۲۲۸) اور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے (ف۲۲۹) تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے (ف۲۳۰) تم میں کہ دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں (ف۲۳۱) یہ قربانی ہو کہ کعبہ کو پہنچتی (ف۲۳۲) یا کفارہ دے چند مسکینوں کا کھانا (ف۲۳۳) یا اس کے برابر روزے کہ اپنے کام کا وبال چکھے اللہ نے معاف کیا جو ہو گزرا (ف۲۳٤) اور جو اب کرے گا اس سے بدلہ لے گا، اور اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا،
O People who Believe! Do not kill prey while you are on the pilgrimage; and whoever among you kills it intentionally, so its recompense is that he shall give a similar domestic animal (for sacrifice), two honest men among you rendering the command, the sacrifice being brought to the Kaa’bah – or he gives as redemption, food for some needy persons, or fasts for the same number of days, so that he may taste the consequences of his deed; Allah has forgiven what has passed; and henceforth whoever does it, Allah will take recompense from him; and Allah is Almighty, Avenger.
ऐ ईमान वालो! शिकार न मारो जब तुम इहराम में हो और तुम में जो उसे क़स्दًا कत्ल करे तो उसका बदला यह है कि वैसा ही जानवर मवेशी से दो तुम में कि दो तुच्चे आदमी इसका हुक्म करें यह कुर्बानी हो कि काबा को पहुँचती या क़फ़ारा दे कुछ मस्कीनों का खाना या उसके बराबर रोज़े कि अपने काम का वेबाल चखें अल्लाह ने माफ़ किया जो हो गुज़रा और जो अब करेगा उससे बदला लेगा, और अल्लाह ग़ालिब है बदला लेने वाला,
Ae imaan walo! Shikaar na maaro jab tum ehraam mein ho aur tum mein jo ise qasdan qatl kare to us ka badla yeh hai ke waisa hi janwar maweshi se de tum mein ke do siqa aadmi us ka hukum karen yeh qurbani ho ke Ka’bah ko pohnchti ya kaffara de chand miskeenon ka khana ya us ke barabar roze ke apne kaam ka wabal chakhe Allah ne maaf kiya jo ho guzra aur jo ab karega us se badla le ga, aur Allah ghaalib hai badla lene wala,
(ف228)مسئلہ : مُحۡرِم پر شکار یعنی خشکی کے کسی وحشی جانور کو مارنا حرام ہے ۔مسئلہ : جانور کی طرف شکار کرنے کے لئے اشارہ کرنا یا کسی طرح بتانا بھی شکار میں داخل اور ممنوع ہے ۔ مسئلہ : حالتِ احرام میں ہر وحشی جانور کا شکار ممنوع ہے خواہ وہ حلال ہو یا نہ ہو ۔مسئلہ : کاٹنے والا کتّا اور کوّا اور بچھو اور چیل اور چوہا اور بھیڑیا اور سانپ ان جانوروں کو احادیث میں فواسق فرمایا گیا اور ان کے قتل کے اجازت دی گئی ۔ مسئلہ : مچّھر ، پسّو ، چیونٹی ، مکھی اور حشراتُ الارض اور حملہ آور درندوں کو مارنا معاف ہے ۔ (تفسیرِ احمدی وغیرہ)(ف229)مسئلہ : حالتِ احرام میں جن جانوروں کا مارنا ممنوع ہے وہ ہر حال میں ممنوع ہے عمداً ہو یا خطاءً ، عمداً کا حکم تو اس آیت سے معلوم ہوا اور خطاءً کا حدیث شریف سے ثابت ہے ۔ (مدارک) (ف230)ویسا ہی جانور دینے سے مراد یہ ہے کہ قیمت میں مارے ہوئے جانور کے برابر ہو حضرت امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما کا یہی قول ہے اور امام محمّد و شافعی رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک خلقت و صورت میں مارے ہوئے جانور کی مثل ہونا مراد ہے ۔ (مدارک و احمدی)(ف231)یعنی قیمت کا اندازہ کریں اور قیمت وہاں کی معتبر ہو گی جہاں شکار مارا گیا ہو یا اس کے قریب کے مقام کی ۔(ف232)یعنی کَفّارہ کے جانور کا حرمِ مکّہ شریف کے باہر ذبح کرنا درست نہیں مکّہ مکرّمہ میں ہونا چاہئے اور عین کعبہ میں بھی ذبح جائز نہیں ، اسی لئے کعبہ کو پہنچتی فرمایا ، کعبہ کے اندر نہ فرمایا اور کَفّارہ کھانے یا روزہ سے ادا کیا جائے تو اس کے لئے مکّہ مکرّمہ میں ہونے کی قید نہیں باہر بھی جائز ہے ۔ (تفسیرِ احمدی وغیرہ)(ف233)مسئلہ : یہ بھی جائز ہے کہ شکار کی قیمت کا غلّہ خرید کر مساکین کو اس طرح دے کہ ہر مسکین کو صدقۂ فطر کے برابر پہنچے اور یہ بھی جائز ہے کہ ا س قیمت میں جتنے مسکینوں کے ایسے حصّے ہوتے تھے اتنے روزے رکھے ۔(ف234)یعنی اس حکم سے قبل جو شکار مارے ۔
حلال ہے تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے اور مسافروں کے فائدے کو اور تم پر حرام ہے خشکی کا شکار (ف۲۳۵) جب تک تم احرام میں ہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اٹھنا ہے،
It is lawful for you to hunt from the sea and to eat from it, for your benefit and that of the travellers; and hunting on land is forbidden for you while you are on the pilgrimage; and fear Allah, towards Whom you will arise.
हलाल है तुम्हारे लिए दरिया का शिकार और इसका खाना तुम्हारे और मुसाफ़िरों के फ़ायदे को और तुम पर हराम है خش्की का शिकार जब तक तुम इहराम में हो और अल्लाह से डरो जिसकी तरफ तुम्हें उठना है,
Halal hai tumhare liye dariya ka shikaar aur us ka khana tumhare aur musafiron ke faide ko aur tum par haram hai khushki ka shikaar jab tak tum ehraam mein ho aur Allah se daro jis ki taraf tumhein uthna hai,
(ف235)اس آیت میں یہ مسئلہ بیان فرمایا گیا کہ مُحۡرِم کے لئے دریا کا شکار حلال ہے اور خشکی کا حرام ، دریا کا شکار وہ ہے جس کی پیدائش دریا میں ہو اور خشکی کا وہ جس کی پیدائش خشکی میں ہو ۔
اللہ نے ادب والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا باعث کیا (ف۲۳٦) اور حرمت والے مہینہ (ف۲۳۷) اور حرم کی قربانی اور گلے میں علامت آویزاں جانوروں کو (ف۲۳۸) یہ اس لیے کہ تم یقین کرو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور یہ کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے،
Allah has made the Kaa’bah, the respected house, a cause for peoples survival, and the Sacred Month, and the sacrifices in the holy land, and the garlanded animals; this is so that you may be convinced that Allah knows all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth, and that Allah is the All Knowing.
अल्लाह ने आदब वाले घर काबा को लोगों के क़ियाम का वजह बनाया और हरम वाले महीने और हरम की कुर्बानी और गले में निशान लटकाए जानवरों को यह इस लिए कि तुम यक़ीन करो कि अल्लाह जानता है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में और यह कि अल्लाह सब कुछ जानता है,
Allah ne adab walay ghar Ka’bah ko logon ke qiyaam ka bais kiya aur hurmat walay mahine aur haram ki qurbani aur galay mein alamat aawizaan janwaron ko yeh is liye ke tum yaqeen karo ke Allah jaanta hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein aur yeh ke Allah sab kuch jaanta hai,
(ف236)کہ وہاں دینی و دنیوی امور کا قیام ہوتا ہے ، خائف وہاں پناہ لیتا ہے ، ضعیفوں کو وہاں امن ملتی ہے ، تاجر وہاں نفع پاتے ہیں ، حج و عمرہ کرنے والے وہاں حاضر ہو کر مناسک ادا کرتے ہیں ۔(ف237)یعنی ذی الحجّہ کو جس میں حج کیا جاتا ہے ۔(ف238)کہ ان میں ثواب زیادہ ہے ، ان سب کو تمہارے مصالِح کے قیام کا سبب بنایا ۔
جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے (ف۲۳۹) اور اللہ بخشنے والا مہربان،
Know well that Allah’s punishment is severe, and that Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
जान लो कि अल्लाह का अज़ाब सख़्त है और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान,
Jaan rakho ke Allah ka azaab sakht hai aur Allah bakhshne wala meherban,
(ف239)تو حرم و احرام کی حرمت کا لحاظ رکھو ۔ اللہ تعالٰی نے اپنی رحمتوں کا ذکر فرمانے کے بعد اپنی صفت شدیدُ العقاب ذکر فرمائی تاکہ خوف و رجاء سے تکمیلِ ایمان ہو ، اس کے بعد صفتِ غفور و رحیم بیان فرما کر اپنی وسعت و رحمت کا اظہار فرمایا ۔
رسول پر نہیں مگر حکم پہنچانا (ف۲٤۰) اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو (ف۲٤۱)
There is no duty upon the Noble Messenger except to convey the command; and Allah knows all what you disclose and all what you hide.
रसूल पर नहीं मगर हुक्म पहुँचाना और अल्लाह जानता है जो तुम ज़ाहिर करते और जो तुम छुपाते हो
Rasool par nahi magar hukum pohnchana aur Allah jaanta hai jo tum zahir karte aur jo tum chupate ho,
(ف240)تو جب رسول حکم پہنچا کر فارغ ہو گئے تو تم پر طاعت لازم اور حجّت قائم ہو گئی اور جائے عذر باقی نہ رہی ۔(ف241)اس کو تمہارے ظاہر و باطن نفاق و اخلاص سب کا علم ہے ۔
تم فرمادو کہ گندہ اور ستھرا برابر نہیں (ف۲٤۲) اگرچہ تجھے گندے کی کثرت بھائے، تو اللہ سے ڈرتے رہو اے عقل والو! کہ تم فلاح پاؤ،
Say, “The impure (evil) and the pure (good) are not equal, even though the abundance of the impure may attract you; therefore keep fearing Allah, O men of intellect, so that you may succeed.”
तुम फ़रमाओ कि गंदा और साफ़ बराबर नहीं भले ही तुम्हें गंदे की क़िस्रत भाए, तो अल्लाह से डरते रहो ऐ अकल वालो! कि तुम फ़लाह पाओ,
Tum farma do ke ganda aur suthra barabar nahi agarche tujhe gande ki kasrat bhaaye, to Allah se darte raho ae aql walo! ke tum falaah pao,
(ف242)یعنی حلال و حرام ، نیک و بد ، مسلم و کافِر اور کھرا کھوٹا ایک درجہ میں نہیں ہو سکتا ۔
اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں (ف۲٤۳) اور اگر انہیں اس وقت پوچھو گے کہ قرآن اتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی، اللہ انہیں معاف کرچکا ہے (ف۲٤٤) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے،
O People who Believe! Do not ask about matters which, if disclosed to you, would be disliked by you; and if you ask about them while the Qur’an is being sent down, they will be disclosed to you; Allah has forgiven these; and Allah is Oft Forgiving, Most Forbearing.
ऐ ईमान वालो! ऐसी बातें न पूछो जो तुम पर ज़ाहिर की जाएँ तो तुम्हें बुरी लगें और अगर उन्हें उस वक्त पूछोगे कि कुरआन उतर रहा है तो तुम पर ज़ाहिर कर दी जाएँगी, अल्लाह उन्हें माफ़ कर चुका है और अल्लाह बख़्शने वाला हलिम वाला है,
Ae imaan walo! Aisi baaten na poochho jo tum par zahir ki jayein to tumhein buri lagen aur agar unhein us waqt poochoge ke Qur’an utar raha hai to tum par zahir kar di jayein gi, Allah unhein maaf kar chuka hai aur Allah bakhshne wala halim wala hai,
(ف243)شانِ نُزول : بعض لوگ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سے بے فائدہ سوال کیا کرتے تھے یہ خاطرِ مبارک پر گراں ہوتا تھا ، ایک روز فرمایا کہ جو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرو میں ہر بات کا جواب دوں گا ، ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرا انجام کیا ہے ؟ فرمایا جہنّم ، دوسرے نے دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے اس کے اصلی باپ کا نام بتا دیا جس کے نطفہ سے وہ تھا کہ صداقہ ہے باوجود یکہ اس کی ماں کا شوہر اور تھا جس کا یہ شخص بیٹا کہلاتا تھا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو جو ظاہر کی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں ۔ (تفسیرِ احمدی) بخاری و مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ فرماتے ہوئے فرمایا جس کو جو دریافت کرنا ہو دریافت کرے ، عبداللہ بن حُذافہ سہمی نے کھڑے ہو کر دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے؟ فرمایا حذافہ پھر فرمایا اور پوچھو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی نے اٹھ کر اقرارِ ایمان و رسالت کے ساتھ معذرت پیش کی ۔ ابنِ شہاب کی روایت ہے کہ عبداللہ بن حُذافہ کی والدہ نے ان سے شکایت کی اور کہا کہ تو بہت نالائق بیٹا ہے تجھے کیا معلوم کہ زمانۂ جاہلیّت کی عورتوں کا کیا حال تھا ، خدا نخواستہ تیری ماں سے کوئی قصور ہوا ہوتا تو آج وہ کیسی رسوا ہوتی ، اس پر عبداللہ بن حُذافہ نے کہا کہ اگر حضور کسی حبشی غلام کو میرا باپ بتا دیتے تو میں یقین کے ساتھ مان لیتا ۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ لوگ بطریقِ اِستِہزاء اس قِسم کے سوا ل کیا کرتے تھے ، کوئی کہتا میرا باپ کون ہے ، کوئی پوچھتا میری اونٹنی گم ہو گئی ہے وہ کہاں ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں حج فرض ہونے کا بیان فرمایا ، اس پر ایک شخص نے کہا کیا ہر سال فرض ہے ؟ حضرت نے سکوت فرمایا ، سائل نے سوال کی تکرار کی تو ارشاد فرمایا کہ جو میں بیان نہ کروں اس کے درپے نہ ہو اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا اور تم نہ کر سکتے ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ احکام حضور کو مُفوَّض ہیں ، جو فرض فرما دیں وہ فرض ہو جائے نہ فرمائیں نہ ہو ۔(ف244)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس امر کی شرع میں ممانعت نہ آئی ہو وہ مباح ہے ۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حلال وہ ہے جو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا ، حرام وہ ہے جس کو اس نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے سکوت کیا وہ معاف تو کُلفت میں نہ پڑو ۔ (خازن)
اللہ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چِرا ہوا اور نہ بجار اور نہ وصیلہ اور نہ حامی (ف۲٤٦) ہاں کافر لوگ اللہ پر جھوٹا افترا باندھتے ہیں (ف۲٤۷) اور ان میں اکثر نرے بےعقل ہیں (ف۲٤۸)
Allah has not appointed (commanded to sacrifice) the camel with ears sliced (Bahira) or the she-camel (Saibah) or the she-goat (Wasilah) or the breeding camel (Hami), but the disbelievers fabricate lies against Allah; and most of them do not have any sense at all.
अल्लाह ने मुक़रर नहीं किया है कान चिरा हुआ और न बाज़ार और न वसीला और न हामि हाँ काफ़िर लोग अल्लाह पर झूठा इफ़्तिरा बाँधते हैं और उनमें अक्सर नरे बेअकल हैं
Allah ne muqarrar nahi kiya hai kaan chira hua aur na bijaar aur na waseelah aur na haami haan kafir log Allah par jhoota iftira bandhte hain aur un mein aksar narey be-aqal hain,
(ف246)زمانۂ جاہلیت میں کُفّار کا یہ دستور تھا کہ جو اونٹنی پانچ مرتبہ بچّے جنتی اور آخر مرتبہ اس کے نَر ہوتا اس کا کان چیر دیتے پھر نہ اس پر سواری کرتے ، نہ اس کو ذبح کرتے ، نہ پانی اور چارے پر سے ہنکاتے اس کو بحیرہ کہتے اور جب سفر پیش ہوتا یا کوئی بیمار ہوتا تو یہ نذر کرتے کہ اگر میں سفر سے بخیریت واپس آؤں یا تندرست ہو جاؤں تو میری اونٹنی سائبہ (بجار) ہے اور اس سے بھی نفع اٹھانا بحیرہ کی طرح حرام جانتے اور اس کو آزاد چھوڑ دیتے اور بکری جب سات مرتبہ بچّے جن چُکتی تو اگر ساتواں بچّہ نَر ہوتا توا س کو مرد کھاتے اور اگر مادّہ ہوتا تو بکریوں میں چھوڑ دیتے اور ایسے ہی اگر نَر مادّہ دونوں ہوتے اور کہتے کہ یہ اپنے بھائی سے مل گئی اس کو وصیلہ کہتے اور جب نَر اُونٹ سے دس گیابھ حاصل ہو جاتے تو اس کو چھوڑ دیتے نہ اس پر سواری کرتے ، نہ اس سے کام لیتے ، نہ اس کو چارے پانی پر سے روکتے اس کو حامِی کہتے ۔ (مدارک) بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ بحیرہ وہ ہے جس کا دودھ بُتوں کے لئے روکتے تھے کوئی اس جانور کا دودھ نہ دوہتا اور سائبہ وہ جس کو اپنے بُتوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے کوئی ان سے کام نہ لیتا ، یہ رسمیں زمانۂ جاہلیّت سے ابتدائے عہدِ اسلام تک چلی آ رہی تھیں ۔ اس آیت میں ان کو باطل کیا گیا ۔(ف247)کیونکہ اللہ تعالٰے نے ان جانوروں کو حرام نہیں کیا ، اس کی طرف اس کی نسبت غلط ہے ۔(ف248)جو اپنے سرداروں کے کہنے سے ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں ، اتنا شعور نہیں رکھتے کہ جو چیز اللہ اور اس کے رسول نے حرام نہ کی اس کو کوئی حرام نہیں کر سکتا ۔
اور جب ان سے کہا جائے آؤ اس طرف جو اللہ نے اتارا اور رسول کی طرف (ف۲٤۹) کہیں ہمیں وہ بہت ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانیں نہ راہ پر ہوں (ف۲۵۰)
And when it is said to them, “Come towards what Allah has sent down and towards the Noble Messenger”, they say, “Sufficient for us is what we found our forefathers upon”; even if their forefathers did not have knowledge nor had guidance?
और जब उनसे कहा जाए आओ इस तरफ जो अल्लाह ने उतारा और रसूल की तरफ कहें हमें वह बहुत है जिस पर हमने अपने बाप दादा को पाया, क्या भले ही उनके बाप दादा न कुछ जानें न राह पर हों
Aur jab un se kaha jaye aao is taraf jo Allah ne utara aur Rasool ki taraf kahen humein woh bohot hai jis par humne apne baap dada ko paya, kya agarche un ke baap dada na kuch jaanein na raah par hon,
(ف249)یعنی حکمِ خدا اور رسول کا اِتّباع کرو اور سمجھ لو کہ یہ چیزیں حرام نہیں ۔(ف250)یعنی باپ دادا کا اِتّباع جب درست ہو تا کہ وہ علم رکھتے اور سیدھی راہ پر ہوتے ۔
اے ایمان والو! تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو (ف۲۵۱) تم سب کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو تم کرتے تھے،
O People who Believe! Fear for your own souls; he who has strayed cannot harm you in the least if you are on guidance; towards Allah only you will all return – He will then inform you of what you used to do.
ऐ ईमान वालो! तुम अपनी फ़िक्र रखो तुम्हारा कुछ न बिगाड़ेगा जो गुमराह हुआ जब कि तुम राह पर हो तुम सब की रुझू अल्लाह ही की तरफ है फिर वह तुम्हें बता देगा जो तुम करते थे,
Ae imaan walo! Tum apni fikr rakho tumhara kuch na bigaadey ga jo gumrah hua jab ke tum raah par ho tum sab ki rujoo Allah hi ki taraf hai phir woh tumhein bata de ga jo tum karte thay,
(ف251)مسلمان کُفّار کی محرومی پر افسوس کرتے تھے اور انہیں رنج ہوتا تھا کہ کُفّار عناد میں مبتلا ہو کر دولتِ اسلام سے محروم رہے ، اللہ تعالٰے نے ان کی تسلّی فرما دی کہ اس میں تمہارا کچھ ضرر نہیں ، امر بالمعروف نہی عن المنکَر کا فرض ادا کر کے تم بری الذِّمہ ہو چکے ، تم اپنی نیکی کی جزا پاؤ گے ۔ عبداللہ بن مبارک نے فرمایا اس آیت میں امر بالمعروف و نہی عن المنکَر کے وجوب کی بہت تاکید کی ہے کیونکہ اپنی فکر رکھنے کے معنٰی یہ ہیں ایک دوسرے کی خبر گیری کرے ، نیکیوں کی رغبت دلائے ، بدیوں سے روکے ۔ (خازن)
اے ایمان والوں (ف۲۵۲) تمہاری آپس کی گواہی جب تم میں کسی کو موت آئے (ف۲۵۳) وصیت کرتے وقت تم میں کے دو معتبر شخص ہیں یا غیروں میں کے دو جب تم ملک میں سفر کو جاؤ پھر تمہیں موت کا حادثہ پہنچے، ان دونوں کو نماز کے بعد روکو (ف۲۵٤) وہ اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں کچھ شک پڑے (ف۲۵۵) ہم حلف کے بدلے کچھ مال نہ خریدیں گے (ف۲۵٦) اگرچہ قریب کا رشتہ دار ہو اور اللہ کی گواہی نہ چھپائیں گے ایسا کریں تو ہم ضرور گنہگاروں میں ہیں،
O People who Believe! The witnesses between you when death approaches any one of you, at the time of making a will, should be two reliable men from among you, or two from another tribe in case you are travelling in the land and the event of death approaches you; engage them after the prayers, and if you doubt, they must swear by Allah that, “We shall not exchange our oaths for any price even if he is a near relative, nor will we hide the testimony of Allah – if we do, then surely we are of the sinners.”
ऐ ईमान वालों तुम्हारी आपस की गवाही जब तुम में किसी को मौत आए वसीयत करते समय तुम में के दो म़ु’तबर शख़्स हैं या ग़ैरों में के दो जब तुम मुल्क में सफ़र को जाओ फिर तुम्हें मौत का हादसा पहुँचे, इन दोनों को नमाज़ के बाद रोको वे अल्लाह की क़सम खाएँ अगर तुम्हें कुछ शक पड़े हम हल्फ़ के बदले कुछ माल न खरीदेंगे भले ही करीब का रिश्ता हो और अल्लाह की गवाही न छिपाएँगे ऐसा करें तो हम ज़रूर गुनहगारों में हैं,
Ae imaan walon tumhari aapas ki gawahi jab tum mein kisi ko maut aaye waseeyat karte waqt tum mein ke do mu’tabar shakhs hain ya ghairon mein ke do jab tum mulk mein safar ko jao phir tumhein maut ka haadsa pohnche, in donon ko namaz ke baad roko woh Allah ki qasam khayein agar tumhein kuch shak paday hum half ke badlay kuch maal na kharidenge agarche qareeb ka rishta daar ho aur Allah ki gawahi na chhupayenge aisa karen to hum zaroor gunahgaaron mein hain,
(ف252)شانِ نُزول : مُہاجرین میں سے بدیل جو حضرت عمرو بن العاص کے مَوالی میں سے تھے بقصدِ تجارت مُلکِ شام کی طرف دو نصرانیوں کے ساتھ روانہ ہوئے ، ان میں سے ایک کا نام تمیم بن اوس داری تھا اور دوسرے کا عدی بن بداء ، شام پہنچتے ہی بدیل بیمار ہو گئے اور انہوں نے اپنے تمام سامان کی ایک فہرست لکھ کر سامان میں ڈال دی اور ہمراہیوں کو اس کی اطلاع نہ دی ، جب مرض کی شدّت ہوئی تو بدیل نے تمیم و عدی دونوں کو وصیّت کی کہ ان کا تمام سرمایہ مدینہ شریف پہنچ کر ان کے اہل کو دے دیں اور بدیل کی وفات ہو گئی ، ان دونوں نے ان کی موت کے بعد ان کا سامان دیکھا ، اس میں ایک چاندی کا جام تھا جس پر سونے کا کام بنا تھا اس میں تین سو مثقال چاندی تھی ، بدیل یہ جام بادشاہ کو نذر کرنے کے قصد سے لائے تھے ان کی وفات کے بعد ان کے دونوں ساتھیوں نے اس جام کو غائب کر دیا اور اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد جب یہ لوگ مدینہ طیّبہ پہنچے تو انہوں نے بدیل کا سامان ان کے گھر والوں کے سپرد کر دیا ، سامان کھولنے پر فہرست ان کے ہاتھ آ گئی جس میں تمام متاع کی تفصیل تھی ، سامان کو اس کے مطابق کیا تو جام نہ پایا اب وہ تمیم اور عدی کے پاس پہنچے اور انہوں نے دریافت کیا کہ کیا بدیل نے کچھ سامان بیچا بھی تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں ، کہا کوئی تجارتی معاملہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں پھر دریافت کیا بدیل بہت عرصہ بیمار رہے اور انہوں نے اپنے علاج میں کچھ خرچ کیا ؟ انہوں نے کہا نہیں ، وہ تو شہر پہنچتے ہی بیمار ہو گئے اور جلد ہی ان کا انتقال ہو گیا ، اس پر ان لوگوں نے کہا کہ ان کے سامان میں ایک فہرست ملی ہے اس میں چاندی کا ایک جام سونے سے مُنقَّش کیا ہوا جس میں تین سو مثقال چاندی ہے ، یہ بھی لکھا ہے تمیم و عدی نے کہا ہمیں نہیں معلوم ، ہمیں تو جو وصیّت کی تھی اس کے مطابق سامان ہم نے تمہیں دے دیا ، جام کی ہمیں خبر بھی نہیں ، یہ مقدمہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں پیش ہوا ، تمیم و عدی وہاں بھی انکار پر جمے رہے اور قَسم کھا لی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (خازن) حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ پھر وہ جام مکّہ مکرّمہ میں پکڑا گیا ، جس شخص کے پاس تھا اس نے کہا کہ میں نے یہ جام تمیم و عدی سے خریدا ہے ، مالکِ جام کے اولیاء میں سے دو شخصوں نے کھڑے ہو کر قَسم کھائی کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ احق ہے ، یہ جام ہمارے مُورِث کا ہے ۔ اس باب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ (ترمذی)(ف253)یعنی موت کا وقت قریب آئے ، زندگی کی امید نہ رہے ، موت کے آثار و علامات ظاہر ہوں ۔(ف254)اس نماز سے نمازِ عصر مراد ہے کیونکہ وہ لوگوں کے اجتماع کا وقت ہوتا ہے ۔ حسن رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ نمازِ ظہر یا عصر کیونکہ اہلِ حجاز مقدمات اسی وقت کرتے تھے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھ کر عدی و تمیم کو بلایا ، ان دونوں کو منبر شریف کے پاس قَسمیں دیں ، ان دونوں نے قَسمیں کھائیں ، اس کے بعد مکۂ مکرّمہ میں وہ جام پکڑا گیا تو جس شخص کے پاس تھا اس نے کہا میں نے تمیم و عدی سے خریدا ہے ۔ (مدارک)(ف255)ان کی امانت و دیانت میں اور وہ یہ کہیں کہ ۔(ف256)یعنی جھوٹی قَسم نہ کھائیں گے اور کسی کی خاطر ایسا نہ کریں گے ۔
پھر اگر پتہ چلے کہ وہ کسی گناہ کے سزاوار ہوئے (ف۲۵۷) تو ان کی جگہ دو اور کھڑے ہوں ان میں سے کہ اس گناہ یعنی جھوٹی گواہی نے ان کا حق لے کر ان کو نقصان پہنچایا (ف۲۵۸) جو میت سے زیادہ قریب ہوں تو اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی زیادہ ٹھیک ہے ان دو کی گواہی سے اور ہم حد سے نہ بڑھے (ف۲۵۹) ایسا ہو تو ہم ظالموں میں ہوں،
Then if it is later known that both of them committed sin, two others may take their place, from those who were caused the most harm by the false testimony, and they must swear by Allah that, “Our testimony is more accurate than the testimony of these two, and we have not exceeded the limits – if we do, then surely we shall be of the unjust.”
फिर अगर पता चले कि वे किसी गुनाह के सज़ा वार हुए तो उनकी जगह दो और खड़े हों उनमें से कि उस गुनाह यानी झूठी गवाही ने उनका हक़ लेकर उन्हें नुक़सान पहुँचाया जो मियत से ज़्यादा क़रीब हों तो अल्लाह की क़सम खाएँ कि हमारी गवाही ज़्यादा ठीक है इन दो की गवाही से और हम हद से न बढ़ें ऐसा हो तो हम ज़ालिमों में हैं,
Phir agar pata chale ke woh kisi gunah ke sazawaar huwe to un ki jagah do aur kharay hon un mein se ke us gunah ya’ni jhooti gawahi ne un ka haq le kar un ko nuqsaan pohnchaya jo mayyat se zyada qareeb hon to Allah ki qasam khayein ke hamari gawahi zyada theek hai in do ki gawahi se aur hum had se na badhein aisa ho to hum zalimon mein hon,
(ف257)خیانت کے یا جھوٹ وغیرہ کے ۔(ف258)اور وہ میّت کے اہل و اَقارب ہیں ۔(ف259)چنانچہ بدیل کے واقعہ میں جب ان کے دونوں ہمراہیوں کی خیانت ظاہر ہوئی تو بدیل کے ورثاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور انہوں نے قَسم کھائی کہ یہ جام ہمارے مُورِث کا ہے اور ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ ٹھیک ہے ۔
یہ قریب تر ہے اس سے کہ گواہی جیسی چاہیے ادا کریں یا ڈریں کہ کچھ قسمیں رد کردی جائیں ان کی قسموں کے بعد (ف۲٦۰) اور اللہ سے ڈرو اور حکم سنو، اور اللہ بےحکموں کو راہ نہیں دیتا،
This is more suitable than their bearing testimony as they wish or fear that some oaths may be made void, after their taking oath; so fear Allah and heed the commands; and Allah does not guide the disobedient.
यह क़रीबतर है इससे कि गवाही जैसी चाहिए अदा करें या डरें कि कुछ क़समें रद्द कर दी जाएँ उनकी क़स्मों के बाद और अल्लाह से डरें और हुक्म सुनो, और अल्लाह बेहुक्मों को राह नहीं देता,
Yeh qareeb tar hai is se ke gawahi jaisi chahiye ada karen ya daren ke kuch qasmein rad kar di jayein un ki qasmon ke baad aur Allah se daro aur hukum suno, aur Allah be-hukmon ko raah nahi deta,
(ف260)حاصل معنٰی یہ ہے کہ اس معاملہ میں جو حکم دیا گیا کہ عدی و تمیم کی قَسموں کے مال برآمد ہونے پر اولیاءِ میّت کی قَسمیں لی گئیں ، یہ اس لئے کہ لوگ اس واقعہ سے سبق لیں اور شہادتوں میں راہِ حق و صواب نہ چھوڑیں اور اس سے خائِف رہیں کہ جھوٹی گواہی کا انجام شرمندگی و رسوائی ہے ۔ فائدہ : مدّعی پر قَسم نہیں لیکن یہاں جب مال پایا گیا تو مدعا علیہا نے دعوٰی کیا کہ انہوں نے میّت سے خرید لیا تھا ، اب ان کی حیثیت مُدّعی کی ہو گئی اور ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہ تھا لہذا ان کے خلاف اولیاۓ میّت کی قَسم لی گئی ۔
جس دن اللہ جمع فرمائے گا رسولوں کو (ف۲٦۱) پھر فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا (ف۲٦۲) عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں، بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا جاننے والا (ف۲٦۳)
On the day when Allah will gather all the Noble Messengers, and then say, “What response did you get?” They will submit, “We do not have any knowledge; indeed it is only You, Who knows all the hidden.”
जिस दिन अल्लाह इकट्ठा करेगा रसूलों को फिर फ़रमाएगा तुम्हें क्या जवाब मिला आरज़ करेंगे हमें कुछ इल्म नहीं, बेशक तू ही है सब ग़ैबों का जानने वाला
Jis din Allah jama farmaye ga Rasoolon ko phir farmaaye ga tumhein kya jawab mila arz karenge humein kuch ilm nahi, be-shak tu hi hai sab ghaibon ka jaan-ne wala,
(ف261)یعنی روزِ قیامت ۔(ف262)یعنی جب تم نے اپنی اُمّتوں کو ایمان کی دعوت دی تو انہوں نے تمہیں کیا جواب دیا ، اس سوال میں منکِرین کی توبیخ ہے ۔(ف263)انبیاء کا یہ جواب ان کے کمالِ ادب کی شان ظاہر کرتا ہے کہ وہ علمِ الٰہی کے حضور اپنے علم کو اصلًا نظرمیں نہ لائیں گے اور قابلِ ذکر قرار نہ دیں گے اور معاملہ اللہ تعالٰی کے علم و عدل پر تفویض فرما دیں گے ۔
جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! یاد کر میرا احسان اپنے اوپر اور اپنی ماں پر (ف۲٦٤) جب میں نے پاک روح سے تیری مدد کی (ف۲٦۵) تو لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں (ف۲٦٦) اور پکی عمر ہو کر (ف۲٦۷) اور جب میں نے تجھے سکھائی کتاب اور حکمت (ف۲٦۸) اور توریت اور انجیل اور جب تو مٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا پھر اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتی (ف۲٦۹) اور تو مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے شفا دیتا اور جب تو مردوں کو میرے حکم سے زندہ نکالتا (ف۲۷۰) اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا (ف۲۷۱) جب تو ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے کہ یہ (ف۲۷۲) تو نہیں مگر کھلا جادو،
When Allah will say, “O Eisa, the son of Maryam! Remember My favour upon you and your mother; when I supported you with the Holy Spirit; you were speaking to people from the cradle and in maturity; and when I taught you the Book and wisdom and the Taurat and the Injeel; and when you used to mould a birdlike sculpture from clay, by My command, and blow into it – so it (the living bird) used to fly by My command, and you used to cure him who was born blind and cure the leper, by My command; and when you used to raise up the dead, by My command; and when I restrained the Descendants of Israel against you when you came to them with clear proofs, and the disbelievers among them said, ‘This is nothing but clear magic’.”
जब अल्लाह फ़रमाएगा ऐ मरियम के बेटे ईसा! याद कर मेरा एहसान अपने ऊपर और अपनी माँ पर जब मैंने पाक़ रूह से तेरी मदद की तो लोगों से बातें करता पालन में और पकी उम्र हो कर और जब मैंने तुझे सिखाई किताब और हिक़मत और तौरैत और इंजील और जब तू मिट्टी से परिंद की सी मूर्त मेरे हुक्म से बनाता फिर उसमें फूंक मारता तो वह मेरे हुक्म से उड़ने लगती और तू मादर ज़ाद अंधे और सफ़ेद दाग़ वाले को मेरे हुक्म से शफ़ा देता और जब तू मुरदों को मेरे हुक्म से ज़िंदा निकालता और जब मैंने बनी इस्राईल को तुझ से रोका जब तू उनके पास रोशन निशानियाँ लेकर आया तो उनमें के काफ़िर बोले कि यह तो नहीं मगर ख़ुला जादू,
Jab Allah farmaaye ga ae Maryam ke bete ‘Isa! Yaad kar mera ehsaan apne upar aur apni maan par jab main ne paak rooh se teri madad ki to logon se baatein karta paalne mein aur paki umar ho kar aur jab main ne tujhe sikhayi kitaab aur hikmat aur Taurait aur Injeel aur jab tu mitti se parind ki si moorat mere hukum se banata phir us mein phoonk maarta to woh mere hukum se udne lagti aur tu maadar zaad andhay aur safed daagh walay ko mere hukum se shifa deta aur jab tu murdon ko mere hukum se zinda nikalta aur jab main ne Bani Israel ko tujh se roka jab tu un ke paas roshan nishaniyan le kar aaya to un mein ke kafir bole ke yeh to nahi magar khula jadoo,
(ف264)کہ میں نے ان کو پاک کیا اور جہاں کی عورتوں پر ان کو فضیلت دی ۔(ف265)یعنی حضرت جبریل سے کہ وہ حضرت عیسٰی علیہ ا لسلام کے ساتھ رہتے اور حوادث میں ان کی مدد کرتے ۔(ف266)صِغر سِنی میں اور یہ معجِزہ ہے ۔(ف267)اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام قیامت سے پہلے نُزول فرمائیں گے کیونکہ کہولت (پختہ عمر) کا وقت آنے سے پہلے آپ اُٹھا لئے گئے ، نُزول کے وقت آپ تینتیس ۳۳ سال کے جوان کی صورت میں جلوہ افروز ہوں گے اور بمِصداق اس آیت کے کلام کریں گے اور جو پالنے میں فرمایا تھا اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ وہی فرمائیں گے ۔ (جمل)(ف268)یعنی اسرارِ علوم ۔(ف269)یہ بھی حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا معجِزہ تھا ۔(ف270)اندھے اور سفید داغ والے کو بینا اور تندرست کرنا اور مُردوں کو قبروں سے زندہ کر کے نکالنا ، یہ سب باذنِ اللہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے معجزاتِ جلیلہ ہیں ۔(ف271)یہ ایک اور نعمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو یہود کے شر سے محفوظ رکھا جنہوں نے حضرت کے معجزاتِ باہرات دیکھ کر آپ کے قتل کا ارادہ کیا ، اللہ تعالٰی نے آپ کو آسمان پر اُٹھا لیا اور یہود نامراد رہ گئے ۔(ف272)یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے معجزات ۔
اور جب میں نے حواریوں (ف۲۷۳) کے دل میں ڈالا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر (ف۲۷٤) ایمان لاؤ بولے ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں (ف۲۷۵)
“And when I inspired into the hearts of the disciples that, ‘Believe in Me and in My Noble Messenger’; they said, ‘We accept faith, and be witness that we are Muslims.’”
और जब मैंने हवरियों के दिल में डाला कि मुझ पर और मेरे रसूल पर ईमान लाओ बोले हम ईमान लाए और गवाह रहें कि हम मुसलमान हैं
Aur jab main ne Hawariyon ke dil mein dala ke mujh par aur mere Rasool par imaan lao bole hum imaan laaye aur gawah reh ke hum Musalman hain,
(ف273)حواری حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے اصحاب اور آپ کے مخصوصین ہیں ۔(ف274)حضرت عیسٰی علیہ السلام پر ۔(ف275)ظاہر اور باطن میں مخلص و مطیع ۔
جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان اتارے (ف۲۷٦) کہا اللہ سے ڈرو ! اگر ایمان رکھتے ہو (ف۲۷۷)
When the disciples said, “O Eisa, the son of Maryam! Will your Lord send down a table spread (with food) for us from heaven?” He said, “Fear Allah, if you are believers.”
जब हवरियों ने कहा ऐ ईसा बिन मरियम! क्या आपका रब ऐसा करेगा कि हम पर आसमान से एक ख्वान उतारे कहा अल्लाह से डर! अगर ईमान रखते हो
Jab Hawariyon ne kaha ae Isa bin Maryam! Kya aap ka Rab aisa kare ga ke hum par aasman se ek khwan utare kaha Allah se daro! Agar imaan rakhte ho,
(ف276)معنٰی یہ ہیں کہ کیا اللہ تعالٰی اس باب میں آپ کی دعا قبول فرمائے گا ۔(ف277)اور تقوٰی اختیار کرو تاکہ یہ مراد حاصل ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا معنٰی یہ ہیں کہ تمام اُمّتوں سے نرالا سوال کرنے میں اللہ سے ڈرو یا یہ معنٰی ہیں کہ اس کی کمالِ قدرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں تردُّد نہ کرو ، حواری مؤمنِ عارف اور قدرت اِلٰہیہ کے معترف تھے انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام سے عرض کیا ۔
بولے ہم چاہتے ہیں (ف۲۷۸) کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل ٹھہریں (ف۲۷۹) اور ہم آنکھوں دیکھ لیں کہ آپ نے ہم سے سچ فرمایا (ف۲۸۰) اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں (ف۲۸۱)
They said, “We wish to eat from it and so that our hearts be convinced and to see that you have spoken the truth to us, and that we may be witnesses upon it.”
बोले हम चाहते हैं कि उसमें से खाएं और हमारे दिल ठहरीं और हम आँखों देखें कि आपने हमसे सच फ़रमाया और हम उस पर गवाह हो जाएँ
Bole hum chahte hain ke is mein se khayen aur hamare dil thehrain aur hum aankhon dekh lein ke aap ne hum se sach farmaya aur hum is par gawah ho jayein,
(ف278)حصولِ برکت کے لئے ۔(ف279)اور یقینِ قوی ہو اور جیسا کہ ہم نے قدرتِ الہٰی کو دلیل سے جانا ہے مشاہدہ سے بھی اس کو پختہ کر لیں ۔(ف280)بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں ۔(ف281)اپنے بعد والوں کے لئے ۔ حواریوں کے یہ عرض کرنے پر حضرت عیسٰی علیہ السلام نے انہیں تیس روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا جب تم ان روزوں سے فارغ ہو جاؤ گے تو اللہ تعالٰی سے جو دعا کرو گے قبول ہو گی ، انہوں نے روزے رکھ کر خوان اُترنے کی دعا کی ، اس وقت حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے غسل فرمایا اور موٹا لباس پہنا اور دو رکعت نماز ادا کی اور سر مبارک جھکایا اور رو کر یہ دعا کی جس کا اگلی آیت میں ذکر ہے ۔
عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللہ ! اے رب ہمارے! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو (ف۲۸۲) ہمارے اگلے پچھلوں کی (ف۲۸۳) اور تیری طرف سے نشانی (ف۲۸٤) اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے،
Eisa, the son of Maryam, said, “O Allah, O our Lord! Send down to us a table spread from heaven, so that it may become a day of celebration for us – for our former and latter people – and a sign from You; and give us sustenance – and You are the Best Provider Of Sustenance.”
ईसा बिन मरियम ने आरज़ की, ऐ अल्लाह! ऐ रब हमारे! हम पर आसमान से एक ख्वान उतार कि वह हमारे लिये ईद हो हमारे अगले पिछलों की और तेरी तरफ़ से निशानी और हमें रिज़्क़ दे और तू सबसे बेहतर रोज़ी देने वाला है,
Isa bin Maryam ne arz ki, ae Allah! Ae Rab hamare! Hum par aasman se ek khwan utaar ke woh hamare liye Eid ho hamare agle pichhlon ki aur teri taraf se nishani aur humein rizq de aur tu sab se behtar rozi dene wala hai,
(ف282)یعنی ہم اس کے نُزول کے دن کو عید بنائیں ، اس کی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لائیں ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ تعالٰی کی خاص رحمت نازل ہو اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں منانا ، عبادتیں کرنا ، شکرِ الٰہی بجا لانا طریقۂ صالحین ہے اور کچھ شک نہیں کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالٰی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے ، اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکرِ الٰہی بجا لانا اور اظہارِ فرح اور سرور کرنا مستحَسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ۔(ف283)جو دیندار ہمارے زمانہ میں ہیں ان کی اور جو ہمارے بعد آئیں ان کی ۔(ف284)تیری قدرت کی اور میری نبوّت کی ۔
اللہ نے فرمایا کہ میں اسے تم پر اتارتا ہوں، پھر اب جو تم میں کفر کرے گا (ف۲۸۵) تو بیشک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی پر نہ کروں گا (ف۲۸٦)
Said Allah, “Indeed I shall send it down to you; so thereafter whoever disbelieves amongst you – I will surely mete out to him a punishment with which I shall not punish anyone else in the whole world.”
अल्लाह ने फ़रमाया कि मैं उसे तुम पर उतारता हूँ, फिर अब जो तुम में कुफ़्र करेगा तो बेशक मैं उसे वह अज़ाब दूँगा कि सारे जहान में किसी पर न करूँगा
Allah ne farmaya ke main ise tum par utarta hoon, phir ab jo tum mein kufr kare ga to be-shak main use woh azaab doonga ke saare jahan mein kisi par na karoon ga,
(ف285)یعنی خوان نازل ہونے کے بعد ۔(ف286)چنانچہ آسمان سے خوان نازل ہوا ، اس کے بعد جنہوں نے ان میں سے کُفر کیا وہ صورتیں مسخ کر کے خنزیر بنا دیئے گئے اور تین روز میں سب ہلاک ہو گئے ۔
اور جب اللہ فرمائے گا (ف۲۸۷) اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اللہ کے سوا (ف۲۸۸) عرض کرے گا، پاکی ہے تجھے (ف۲۸۹) مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہنچتی (ف۲۹۰) اگر میں نے ایسا کہا ہو تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے، بیشک تو ہی ہے سب غیبوں کا خوب جاننے والا (ف۲۹۱)
And when Allah will say, “O Eisa, the son of Maryam! Did you say to the people, ‘Appoint me and my mother as two Gods, besides Allah’?” He will submit, “Purity is to You! It is not proper for me to say something for which I do not have a right; if I have said it, then surely You know it; You know what lies in my heart, and I do not know what is in Your knowledge; indeed You only know all the hidden.”
और जब अल्लाह फ़रमाएगा ऐ मरियम के बेटे ईसा! क्या तूने लोगों से कह दिया था कि मुझे और मेरी माँ को दो ख़ुदा बना लो अल्लाह के सिवा आरज़ करेगा, पाक़ी है तुझे मुझे रवा नहीं कि वह बात कहूँ जो मुझे नहीं पहुँचती अगर मैंने ऐसा कहा हो तो ज़रूर तुझे मालूम होगा तू जानता है जो मेरे जी में है और मैं नहीं जानता जो तेरे इल्म में है, बेशक तू ही है सब ग़ैबों का खूब जानने वाला
Aur jab Allah farmaaye ga ae Maryam ke bete ‘Isa! Kya tu ne logon se keh diya tha ke mujhe aur meri maan ko do khuda bana lo Allah ke siwa arz kare ga, paaki hai tujhe mujhe rawa nahi ke woh baat kahoon jo mujhe nahi pohnchti agar main ne aisa kaha ho to zaroor tujhe maaloom ho ga tu jaanta hai jo mere ji mein hai aur main nahi jaanta jo tere ilm mein hai, be-shak tu hi hai sab ghaibon ka khoob jaan-ne wala,
(ف287)روزِ قیامت عیسائیوں کی توبیخ کے لئے ۔(ف288)اس خِطاب کو سن کر حضرت عیسٰی علیہ السلام کانپ جائیں گے اور ۔(ف289)جملہ نقائص و عیوب سے اور اس سے کہ کوئی تیرا شریک ہو سکے ۔(ف290)یعنی جب کوئی تیرا شریک نہیں ہو سکتا تو میں یہ لوگوں سے کیسے کہہ سکتا تھا ۔(ف291)علم کو اللہ تعالٰی کی طرف نسبت کرنا اور معاملہ اس کو تفویض کر دینا اور عظمتِ الٰہی کے سامنے اپنی مسکینی کا اظہار کرنا یہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی شانِ ادب ہے ۔
میں نے تو ان سے نہ کہا مگر وہی جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کو پوجو جو میرا بھی رب اور تمھارا بھی رب اور میں ان پر مطلع تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھالیا (ف۲۹۲) تو تو ہی ان پر نگاہ رکھتا تھا، اور ہر چیز تیرے سامنے حاضر ہے (ف۲۹۳)
“I have not told them except what You commanded me, that ‘Worship Allah, Who is my Lord and is also your Lord’; I was aware of them till I was among them; and when You raised me, only You watched over them; and all things are present before You.”
मैंने तो उनसे न कहा मगर वही जो तूने मुझे हुक्म दिया था कि अल्लाह को पूजो जो मेरा भी रब और तुम्हारा भी रब और मैं उन पर मुंतज़र था जब तक उनमें रहा, फिर जब तूने मुझे उठा लिया तो तू ही उन पर निगाह रखता था, और हर चीज़ तेरे सामने हाज़िर है
Main ne to un se na kaha magar wohi jo tu ne mujhe hukum diya tha ke Allah ko poojo jo mera bhi Rab aur tumhara bhi Rab aur main un par muttali tha jab tak un mein raha, phir jab tu ne mujhe uthaliya to tu hi un par nigah rakhta tha, aur har cheez tere samne haazir hai,
(ف292) تَوَفَّیۡتَنِیۡ کے لفظ سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی موت پر دلیل لانا صحیح نہیں کیونکہ اول تو لفظ تَوَفّٰی موت کے لیے خاص نہیں ، کسی شے کے پورے طور پر لینے کو کہتے ہیں خواہ وہ بغیر موت کے ہو جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا اَللہُ یَتَوَفَّی الۡاَ نۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡ تِھَا وَالَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِھَا (رکوع ۲) دوم جب یہ سوال و جواب روزِ قیامت کا ہے تو اگر لفظ (تَوَفّی ) موت کے معنی میں بھی فرض کر لیا جائے جب بھی حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کی موت قبلِ نُزول اس سے ثابت نہ ہو سکے گی ۔(ف293)اور میرا ان کا کسی کا حال تجھ سے پوشیدہ نہیں ۔
اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا (ف۲۹٤)
“If you punish them, then indeed they are Your slaves; and if you forgive them, then indeed You only are the Almighty, the Wise.”
अगर तू उन्हें अज़ाब करे तो वे तेरे बंदे हैं, और अगर तू उन्हें बख़्श दे तो बेशक तू ही है ग़ालिब हिक़मत वाला
Agar tu unhein azaab kare to woh tere bande hain, aur agar tu unhein baksh de to be-shak tu hi hai ghaalib hikmat wala,
(ف294)حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو معلوم ہے کہ قوم میں بعض لوگ کُفر پر مُصِر رہے ۔ بعض شرفِ ایمان سے مشّرف ہوئے ، اس لئے آپ کی بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض ہے کہ ان میں سے جو کُفرپر قائم رہے ان پر تو عذاب فرمائے تو بالکل حق و بجا اور عدل و انصاف ہے کیونکہ انہوں نے حُجّت تمام ہونے کے بعد کُفر اختیار کیا اور جو ایمان لائے انہیں تو بخشے تو تیرا فضل وکرم ہے اور تیرا ہر کام حکمت ہے ۔
اللہ نے فرمایا کہ یہ (ف۲۹۵) ہے وہ دن جس میں سچوں کو (ف۲۹٦) ان کا سچ کام آئے گا، ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ ہے بڑی کامیابی،
Proclaimed Allah, “This is a day on which the truthful will benefit from their truthfulness; for them are Gardens beneath which rivers flow, in which they will abide for ever and ever; Allah is pleased with them and they are pleased with Allah; this is the greatest success.”
अल्लाह ने फ़रमाया कि यह है वह दिन जिस में सच्चों को उनका सच काम आएगा, उनके लिए बाग़ हैं जिनके नीचे नहरें रवाँ हमेशा हमेशा रहेंगे, अल्लाह उनसे रज़ी और वे अल्लाह से रज़ी, यह है बड़ी कामयाबी,
Allah ne farmaya ke yeh hai woh din jis mein sachchon ko un ka sach kaam aaye ga, un ke liye bagh hain jin ke neeche nahrein rawan hamesha hamesha rahenge, Allah un se raazi aur woh Allah se raazi, yeh hai badi kamiyabi,
(ف295)روزِ قیامت ۔(ف296)جو دنیا میں سچائی پر رہے جیسے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ۔
اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی سلطنت، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے (ف۲۹۷)
To Allah only belongs the kingship of the heavens and the earth and all that is in them: and He is Able to do all things.
अल्लाह ही के लिए है आसमानों और ज़मीन और जो कुछ उनमें है सब की सल्तनत, और वह हर चीज़ पर क़ादिर है
Allah hi ke liye hai aasmaanon aur zameen aur jo kuch un mein hai sab ki saltanat, aur woh har cheez par qadir hai.
(ف297)صادق کو ثواب دینے پر بھی اور کاذب کو عذاب فرمانے پربھی ۔مسئلہ : قدرت ممکنات سے متعلق ہوتی ہے نہ کہ واجبات و محالات سے تو معنٰی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالٰی ہر امرِ ممکن الوجود پر قادر ہے ۔ (جمل) مسئلہ : کذب وغیرہ عیوب و قبائح اللہ سُبحانہ تبارک و تعالٰی کے لئے محال ہیں ، ان کو تحتِ قدرت بتانا اور اس آیت سے سند لانا غلط و باطل ہے ۔
سب خوبیاں اللہ کو جس نے آسمان اور زمین بنائے (ف۲) اور اندھیریاں اور روشنی پیدا کی (ف۳) اس پر (ف٤) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں (ف۵)
All praise is to Allah, Who has created the heavens and the earth, and has created darkness and light; yet the disbelievers appoint equals (false deities) to their Lord!
सब खूबियां अल्लाह को जिस ने आसमान और जमीन बनाए और अंधेरियां और रोशनी पैदा की उस पर काफ़िर लोग अपने रब के बराबर ठहराते हैं
Sab khoobiyaan Allah ko jis ne aasman aur zameen banaye aur andheriyan aur roshni paida ki, us par kafir log apne Rab ke barabar thehrate hain.
(ف2)حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا توریت میں سب سے اول یہی آیت ہے اس آیت میں بندوں کو شانِ استغناء کے ساتھ حمد کی تعلیم فرمائی گئی اور پیدائشِ آسمان و زمین کا ذکر اس لئے ہے کہ ان میں ناظرین کے لئے بہت عجائبِ قدرت و غرائبِ حکمت اور عبرتیں و منافع ہیں ۔(ف3)یعنی ہر ایک اندھیری اور روشنی خواہ وہ اندھیری شب کی ہو یا کُفر کی یا جہل کی یا جہنّم کی اور روشنی خواہ دن کی ہو یا ایمان و ہدایت و علم و جنّت کی ۔ ظلمات کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ باطل کی راہیں بہت کثیر ہیں اور راہِ حق صرف ایک دینِ اسلام ۔(ف4)یعنی باوجود ایسے دلائل پر مطلِع ہونے اور ایسے نشانہائے قدرت دیکھنے کے ۔(ف5)دوسروں کو حتّٰی کہ پتّھروں کو پُوجتے ہیں باوجود یکہ اس کے مُقِر ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔
وہی ہے جس نے تمہیں (ف٦) مٹی سے پیدا کیا پھر ایک میعاد کا حکم رکھا (ف۷) اور ایک مقررہ وعدہ اس کے یہاں ہے (ف۸) پھر تم لوگ شک کرتے ہو،
It is He Who has created you from clay, and then decreed a term for you; and it is a fixed promise before Him, yet you still doubt!
वही है जिस ने तुम्हें मिट्टी से पैदा किया फिर एक मियाद का हुक्म रखा और एक मुक़र्रर वादा उस के यहाँ है फिर तुम लोग शक करते हो,
Wohi hai jis ne tumhein mitti se paida kiya phir ek miyaad ka hukm rakha aur ek muqarrar wada us ke yahan hai phir tum log shak karte ho.
(ف6)یعنی تمہاری اصل حضرت آدم کو جن کی نسل سے تم پیدا ہوئے ۔فائدہ : اس میں مشرکین کا رد ہے جو کہتے تھے کہ ہم جب گَل کر مٹی ہو جائیں گے پھر کیسے زندہ کئے جائیں گے ؟ انہیں بتایا گیا کہ تمہاری اصل مٹی ہی سے ہے تو پھر دوبارہ پیدا کئے جانے پر کیا تعجب ، جس قادر نے پہلے پیداکیا اس کی قدرت سے بعد موت زندہ فرمانے کو بعید جاننا نادانی ہے ۔(ف7)جس کے پورا ہو جانے پر تم مر جاؤ گے ۔(ف8)مرنے کے بعد اُٹھانے کا ۔
تو بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا (ف۱۰) جب ان کے پاس آیا، تو اب انہیں خبر ہوا چاہتی ہے اس چیز کی جس پر ہنس رہے تھے (ف۱۱)
So indeed they denied the truth* when it came to them; so now the tidings of the thing they used to mock at, will come to them. (Prophet Mohammed -peace and blessings be upon him, or the Holy Qur’an).
तो बेशक उन्होंने हक़ को झटलाया जब उनके पास आया, तो अब उन्हें खबर हुआ चाहती है उस चीज़ की जिस पर हंस रहे थे
To beshak unhon ne haqq ko jhutlaya jab unke paas aaya, to ab unhein khabar hua chahti hai us cheez ki jis par hans rahe the.
(ف10)یہاں حق سے یا قرآن مجیدکی آیات مراد ہیں یا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے معجزات ۔(ف11)کہ وہ کیسی عظمت والی ہے اور اس کی ہنسی بنانے کا اَنجام کیسا وبال و عذاب ۔
کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے (ف۱۲) کتنی سنگتیں کھپا دیں انہیں ہم نے زمین میں وہ جماؤ دیا (ف۱۳) جو تم کو نہ دیا اور ان پر موسلا دھار پانی بھیجا (ف۱٤) اور ان کے نیچے نہریں بہائیں (ف۱۵) تو انہیں ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا (ف۱٦) اور ان کے بعد اور سنگت اٹھائی (ف۱۷)
Do they not see how many civilisations We destroyed before them, whom We had established more firmly in the earth than We have established you, and We sent on them abundant rain from the sky, and made the rivers flow beneath them? So we destroyed them because of their sins, and created another civilisation after them.
क्या उन्होंने न देखा कि हम ने उनसे पहले कितनी संगतें खपा दीं उन्हें हम ने जमीन में वह जमाऊ दिया जो तुम को न दिया और उन पर मुसलाधार पानी भेजा और उनके नीचे नहरें बहाईं तो उन्हें हम ने उनके गुनाहों के सबब हलाक किया और उनके बाद और संगत उठाई
Kya unhon ne na dekha ke hum ne un se pehle kitni sangatein khapa dein, unhein hum ne zameen mein woh jamaao diya jo tumko na diya aur un par mousla-dhaar paani bheja aur unke neeche nahrein bahayin to unhein hum ne unke gunahon ke sabab halaak kiya aur unke baad aur sangat uthayi.
(ف12)پچھلی اُمّتوں میں سے ۔(ف13)قوّت و مال اور دنیا کے کثیر سامان دے کر ۔(ف14)جس سے کھیتیاں شاداب ہوں ۔(ف15)جس سے باغ پرورش پائے اور دنیا کی زندگانی کے لئے عیش و راحت کے اسباب بہم پہنچے ۔(ف16)کہ انہوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کا یہ سر و سامان انہیں ہلاک سے نہ بچا سکا ۔(ف17)اور دوسرے قَرن والوں کو ان کا جانشین کیا ، مدعا یہ ہے کہ گزری ہوئی اُمّتوں کے حال سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا چاہئے کہ وہ لوگ باوجود قوّت و دولت و کثرتِ مال و عیال کے کُفر و طُغیان کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے تو چاہئے کہ ان کے حال سے عبرت حاصل کر کے خوابِ غفلت سے بیدار ہوں ۔
اور اگر ہم تم پر کاغذ میں کچھ لکھا ہوا اتارتے (ف۱۸) کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے جب بھی کافر کہتے کہ یہ نہیں مگر کھلا جادو ،
And had We sent down to you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) something written on paper so that they could feel it with their hands, even then the disbelievers would have said, “This is nothing but clear magic.”
और अगर हम तुम पर काग़ज़ में कुछ लिखा हुआ उतारते कि वह उसे अपने हाथों से छूते जब भी काफ़िर कहते कि यह नहीं मगर खुला जादू ,
Aur agar hum tum par kagaz mein kuchh likha hua utaarte ke woh use apne haathon se chhoote jab bhi kafir kehte ke yeh nahin magar khula jadoo.
(ف18)شانِ نُزول : یہ آیت نضربن حارث اور عبداللہ بن اُمیّہ اور نَوفَل بن خُوَیلَد کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کہا تھا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب نہ لاؤ جس کے ساتھ چار فرشتے ہوں ، وہ گواہی دیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور تم اس کے رسول ہو ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ یہ سب حیلے بہانے ہیں اگر کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب اُتار دی جاتی وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر اور ٹٹول کر دیکھ لیتے اور یہ کہنے کا موقع بھی نہ ہوتا کہ نظر بندی کر دی گئی تھی کتاب اُترتی نظر آئی ، تھا کچھ بھی نہیں تو بھی یہ بدنصیب ایمان لانے والے نہ تھے ، اس کو جادو بتاتے اور جس طرح شَقُ القمر کو جادو بتایا اور اس معجِزہ کو دیکھ کر ایمان نہ لائے اس طرح اس پر بھی ایمان نہ لاتے کیونکہ جو لوگ عنادًا انکار کرتے ہیں وہ آیات و معجزات سے منتفِع نہیں ہو سکتے ۔
اور بولے (ف۱۹) ان پر (ف۲۰) کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا، اور اگر ہم فرشتہ اتارتے (ف۲۱) تو کام تمام ہوگیا ہوتا (ف۲۲) پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی (ف۲۳)
And they said, “Why has not an angel been sent down to him?” And had We sent down an angel, then the matter would have been finished, and they would not get any respite.
और बोले उन पर कोई फरिश्ता क्यों न उतारा गया, और अगर हम फरिश्ता उतारते तो काम तमाम हो गया होता फिर उन्हें मोहलत न दी जाती
Aur bole un par koi farishta kyun na utaara gaya, aur agar hum farishta utaarte to kaam tamaam ho gaya hota phir unhein mohlat na di jaati.
(ف19)مشرکین ۔(ف20)یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔(ف21)اور پھر بھی یہ ایمان نہ لاتے ۔(ف22)یعنی عذاب واجب ہو جاتا اور یہ سُنّتِ الٰہیہ ہے کہ جب کُفّار کوئی نشانی طلب کریں اور اس کے بعد بھی ایمان نہ لائیں تو عذاب واجب ہو جاتا ہے اور وہ ہلاک کر دیئے جاتے ہیں ۔(ف23)ایک لمحہ کی بھی اور عذاب مؤخَّر نہ کیا جاتا تو فرشتہ کا اُتارنا جس کو وہ طلب کرتے ہیں انہیں کیا نافع ہوتا ۔
اور اگر ہم نبی کو فرشتہ کرتے (ف۲٤) جب بھی اسے مرد ہی بناتے (ف۲۵) اور ان پر وہی شبہ رکھتے جس میں اب پڑے ہیں،
And had we appointed an angel as a Prophet, We would still have made him as a man and would keep them in the same doubt, as they are now in.
और अगर हम नबी को फरिश्ता करते जब भी उसे मर्द ही बनाते और उन पर वही शुब्हा रखते जिस में अब पड़े हैं ,
Aur agar hum Nabi ko farishta karte jab bhi use mard hi banate aur un par wohi shubhah rakhte jis mein ab pade hain.
(ف24)یہ ان کُفّار کا جواب ہے جو نبی علیہ السلام کو کہا کرتے تھے یہ ہماری طرح بشر ہیں اور اسی خَبط میں وہ ایمان سے محروم رہتے تھے ، انہیں انسانوں میں سے رسول مبعوث فرمانے کی حکمت بتائی جاتی ہے کہ ان کے منتفِع ہونے اور تعلیمِ نبی سے فیض اٹھانے کی یہی صورت ہے کہ نبی صورتِ بشری میں جلوہ گر ہو کیونکہ فرشتہ کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنے کی تو یہ لوگ تاب نہ لا سکتے ، دیکھتے ہی ہیبت سے بے ہوش ہو جاتے یا مر جاتے اس لئے اگر بالفرض رسول فرشتہ ہی بنایا جاتا ۔(ف25)اور صورتِ انسانی ہی میں بھیجتے تاکہ یہ لوگ اس کو دیکھ سکیں ، اس کا کلام سُن سکیں ، اس سے دین کے اَحکام معلوم کر سکیں لیکن اگر فرشتہ صورتِ بشری میں آتا تو انہیں پھر وہی کہنے کا موقع رہتا کہ یہ بشر ہے تو فرشتہ کو نبی بنانے کا کیا فائدہ ہوتا ۔
اور ضرور اے محبوب تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹھا کیا گیا تو وہ جو ان سے ہنستے تھے ان کی ہنسی انہیں کو لے بیٹھی (ف۲٦)
And certainly, O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) the Noble Messengers before you have also been mocked at, so those who laughed at them were themselves ruined by their own mocking.
और ज़रूर ऐ महबूब तुम से पहले रसूलों के साथ भी ठठ्ठा किया गया तो वह जो उनसे हँसते थे उनकी हंसी उन्हें को ले बैठी
Aur zaroor ae mehboob tum se pehle Rasoolon ke saath bhi thutha kiya gaya to woh jo un se hanste the unki hansi unhein ko le baithi.
(ف26)وہ مبتلائے عذاب ہوئے ۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلّی و تسکینِ خاطر ہے کہ آپ رنجِیدہ و مَلُول نہ ہوں ، کُفّار کا پہلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی دستور رہا ہے اور اس کا وبال ان کُفّار کو اٹھانا پڑا ہے نیز مشرکین کو تنبیہ ہے کہ پچھلی اُمّتوں کے حال سے عبرت حاصل کریں اور انبیاء کے ساتھ طریقِ ادب ملحوظ رکھیں تاکہ پہلوں کی طرح مبتلائے عذاب نہ ہوں ۔
تم فرماؤ کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (ف۲۹) تم فرماؤ اللہ کا ہے (ف۳۰) اس نے اپنے کرم کے ذمہ پر رحمت لکھ لی ہے (ف ۳۱) بیشک ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا (ف۳۲) اس میں کچھ شک نہیں، وہ جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی (ف۳۳) ایمان نہیں لاتے،
Say, “To Whom does all whatever is in the heavens and the earth, belong?” Proclaim, “To Allah”; He has made mercy obligatory upon His grace; undoubtedly, He will surely gather you all together on the Day of Resurrection in which there is no doubt; those who put their souls to ruin, do not accept faith.
तुम फ़रमाओ किस का है जो कुछ आसमानों और जमीन में तुम फ़रमाओ अल्लाह का है उस ने अपने करम के जिम्मे पर रहमत लिख ली है बेशक ज़रूर तुम्हें क़यामत के दिन जमा करेगा उस में कुछ शक नहीं , वह जिन्होंने अपनी जान नुक़सान में डाली ईमान नहीं लाते ,
Tum farmao kis ka hai jo kuchh aasmanon aur zameen mein? Tum farmao Allah ka hai, us ne apne karam ke zimmah par rehmat likh li hai, beshak zaroor tumhein qayamat ke din jama karega, is mein kuchh shak nahin. Woh jinhon ne apni jaan nuqsan mein daali imaan nahin laate.
(ف29)اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو ۔(ف30)کیونکہ اس کے سوا اور کوئی جواب ہی نہیں ہے اور وہ اس کے خلاف نہیں کر سکتے کیونکہ بُت جن کو مشرکین پُوجتے ہیں وہ بے جان ہیں ، کسی چیز کے مالک ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے ، خود دوسرے کے مملوک ہیں ، آسمان و زمین کا وہی مالک ہو سکتا ہے جو حَیّ و قَیوم ، ازلی و ابدی ، قادرِ مطلق ہر شئے پر متصرِّف و حکمران ہو ، تمام چیزیں اس کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہوں ، ایسا سوائے اللہ کے کوئی نہیں اس لئے تمام سَمَاوی و اَرضی کائنات کا مالک اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا ۔(ف31)یعنی اس نے رحمت کا وعدہ کیا اور اس کا وعدہ خلاف نہیں ہو سکتا کیونکہ وعدہ خلافی و کذب اس کے لئے محال ہے اور رحمت عام ہے دینی ہو یا دنیوی اپنی معرفت اور توحید اور علم کی طرف ہدایت فرمانا بھی رحمت میں داخل ہے اور کُفّار کو مہلت دینا اور عقوبت میں تعجیل نہ فرمانا بھی کہ اس سے انہیں توبہ اور انابت کا موقع ملتا ہے ۔ (جمل وغیرہ)(ف32)اور اعمال کا بدلہ دے گا ۔(ف33)کُفر اختیار کر کے ۔
تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا کسی اور کو والی بناؤں (ف۳٦) وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین پیدا کیے اور وہ کھلاتا ہے اور کھانے سے پاک ہے (ف۳۷) تم فرماؤ مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے گردن رکھوں (ف۳۸) اور ہرگز شرک والوں میں سے نہ ہونا،
Say, “Shall I choose as a supporter someone other than Allah, Who is the Originator of the heavens and the earth and Who feeds and does not need to eat?” Say, “I have been ordered to be the first to submit myself (to Him), and O people, do not be of the polytheists.”
तुम फ़रमाओ क्या अल्लाह के सिवा किसी और को वाली बनाऊँ वह अल्लाह जिस ने आसमान और जमीन पैदा किए और वह खिलाता है और खाने से पाक है तुम फ़रमाओ मुझे हुक्म हुआ है कि सब से पहले गर्दन रखूँ और हरगिज़ शिर्क वालों में से न होना,
Tum farmao kya Allah ke siwa kisi aur ko wali banao? Woh Allah jis ne aasman aur zameen paida kiye aur woh khilata hai aur khanay se paak hai. Tum farmao mujhe hukm hua hai ke sab se pehle gardan rakhun aur hargiz shirk walon mein se na hona.
(ف36)شانِ نُزول : جب کُفّار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے باپ دادا کے دین کی دعوت دی تو یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف37)یعنی خَلق سب اس کی محتاج ہے وہ سب سے بے نیاز ۔(ف38)کیونکہ نبی اپنی اُمّت سے دین میں سابق ہوتے ہیں ۔
اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی (ف٤۱) پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے (ف٤۲) تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف٤۳)
And if Allah afflicts you with some misfortune, then there is none who can remove it, except Him; and if He sends you some good fortune, then (know that) He is Able to do all things.
और अगर तुझे अल्लाह कोई बुराई पहुँचाए तो उसके सिवा उसका कोई दूर करने वाला नहीं , और अगर तुझे भलाई पहुँचाए तो वह सब कुछ कर सकता है
Aur agar tujhe Allah koi burai pahunchaye to us ke siwa us ka koi door karne wala nahin, aur agar tujhe bhalai pahunchaye to woh sab kuchh kar sakta hai.
(ف41)بیماری یا تنگ دستی یا اور کوئی بلا ۔(ف42)مثل صحت و دولت وغیرہ کے ۔(ف43)قادرِ مطلق ہے ہر شے پر ذاتی قدرت رکھتا ہے ، کوئی اس کی مشیّت کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا تو کوئی اس کے سوا مستحقِ عبادت کیسے ہو سکتا ہے ، یہ ردِ شرک کی دل میں اثر کرنے والی دلیل ہے ۔
تم فرماؤ سب سے بڑی گواہی کس کی (ف٤٤) تم فرماؤ کہ اللہ گواہ ہے مجھ میں اور تم میں (ف٤۵) اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمھیں ڈراؤں (ف٤٦) اور جن جن کو پہنچے (ف٤۷) تو کیا تم (ف٤۸) یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور خدا ہیں، تم فرماؤ (ف٤۹) کہ میں یہ گواہی نہیں دیتا (ف۵۰) تم فرماؤ کہ وہ تو ایک ہی معبود ہے (ف۵۱) اور میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۵۲)
Proclaim (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “Whose testimony is the greatest?” Say, “Allah is the Witness between me and you; and this Qur’an has been sent down upon me, so I may warn you with it and whomever it may reach; so do you bear witness that there are other Gods along with Allah?” Say, “I do not bear witness to it”; Say, “He is the only One God and I do not have any relation with whatever you ascribe as partners (to Him).”
तुम फ़रमाओ सब से बड़ी गवाही किस की तुम फ़रमाओ कि अल्लाह गवाह है मुझ में और तुम में और मेरी तरफ़ इस कुरआन की वही हुई है कि मैं इस से तुम्हें डराऊँ और जिन जिन को पहुँचे तो क्या तुम यह गवाही देते हो कि अल्लाह के साथ और खुदा हैं , तुम फ़रमाओ कि मैं यह गवाही नहीं देता तुम फ़रमाओ कि वह तो एक ही माबूद है और मैं बेज़ार हूँ उनसे जिन को तुम शरीक ठहराते हो
Tum farmao sab se badi gawahi kis ki? Tum farmao ke Allah gawah hai mujh mein aur tum mein aur meri taraf is Qur’an ki wahi hui hai ke main is se tumhein daraaun aur jin jin ko pahunche. To kya tum yeh gawahi dete ho ke Allah ke saath aur khuda hain? Tum farmao ke main yeh gawahi nahin deta. Tum farmao ke woh to ek hi ma’bood hai aur main bezaar hoon un se jin ko tum shareek thehrate ho.
(ف44)شانِ نُزول : اہلِ مکّہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ اے محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں کوئی ایسا دکھائیے جو آپ کی رسالت کی گواہی دیتا ہو ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف45)اور اتنی بڑی اور قابلِ قبول گواہی اور کس کی ہو سکتی ہے ۔(ف46)یعنی اللہ تعالٰی میری نبوّت کی شہادت دیتا ہے اس لئے کہ اس نے میری طرف اس قرآن کی وحی فرمائی اور یہ ایسا معجِزہ ہے کہ تم باوجود فصیح بلیغ صاحبِ زبان ہونے کے اس کے مقابلہ سے عاجز رہے تو اس کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے ، جب یہ قرآن اللہ تعالٰی کی طرف سے یقینی شہادت ہے اور میری طرف وحی فرمایا گیا تاکہ میں تمہیں ڈراؤں کہ تم حکمِ الٰہی کی مخالفت نہ کرو ۔(ف47)یعنی میرے بعد قیامت تک آنے والے جنہیں یہ قرآن پاک پہنچے خواہ وہ انسان ہوں یا جن ان سب کو میں حکمِ الٰہی کی مخالفت سے ڈراؤں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص کو قرآنِ پاک پہنچا گویا کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کا کلام مبارک سنا ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کِسرٰی اور قیصر وغیرہ سلاطین کو دعوتِ اسلام کے مکتوب بھیجے (مدارک و خازن) اس کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ کہ مَنْ بَلَغَ میں مَنْ مرفوعُ المحل ہے اور معنٰی یہ ہیں کہ اس قرآن سے میں تم کو ڈراؤں اور وہ ڈرائیں جنہیں یہ قرآن پہنچے ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اللہ تر و تازہ کرے اس کو جس نے ہمارا کلام سنا اور جیسا سنا ویسا پہنچایا بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والے سے زیادہ اہل ہوتے ہیں اور ایک روایت میں ہے سننے والے سے زیادہ اَفۡقَہ ہوتے ہیں اس سے فقہا کی منزلت معلوم ہوتی ہے ۔(ف48)اے مشرکین ۔(ف49)اے حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۔(ف50)جو گواہی تم دیتے ہو اور اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھہراتے ہو ۔(ف51)اس کا کوئی شریک نہیں ۔(ف52)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جو شخص اسلام لائے اس کو چاہئے کہ توحید و رسالت کی شہادت کے ساتھ اسلام کے ہر مخالف عقیدہ و دین سے بیزاری کا اظہار کرے ۔
جن کو ہم نے کتاب دی (ف۵۳) اس نبی کو پہچانتے ہیں (ف۵٤) جیسا اپنے بیٹے کو پہچانتے ہیں (ف۵۵) جنہوں نے اپنی جان نقصان میں ڈالی وہ ایمان نہیں لاتے،
The people to whom We gave the Book(s) recognise this Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) as they recognise their own sons; those who put their own souls to ruin, do not accept faith.
जिन को हम ने किताब दी इस नबी को पहचानते हैं जैसा अपने बेटे को पहचानते हैं जिन्होंने अपनी जान नुक़सान में डाली वह ईमान नहीं लाते ,
Jin ko hum ne kitaab di is Nabi ko pehchante hain jaisa apne bete ko pehchante hain, jinhon ne apni jaan nuqsan mein daali woh imaan nahin laate.
(ف53)یعنی عُلَمائے یہود و نصارٰی جنہوں نے توریت و انجیل پائی ۔(ف54)آپ کے حُلیہ شریف اور آپ کے نعت و صفت سے جو ان کتابوں میں مذکور ہے ۔(ف55)یعنی بغیر کسی شک و شبہ کے ۔
اور جس دن ہم سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے،
And on the day when We will resurrect everyone together, then say to the polytheists, “Where are those partners (your false deities) whom you professed?”
और जिस दिन हम सब को उठाएँगे फिर मुश्रिकों से फ़रमाएँगे कहाँ हैं तुम्हारे वह शरीक जिन का तुम दावा करते थे ,
Aur jis din hum sab ko uthayenge phir mushrikon se farmaayenge kahan hain tumhare woh shareek jinka tum dawa karte the.
اور ان میں کوئی وہ ہے جو تمہاری طرف کان لگاتا ہے (ف۵۹) اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانٹ میں ٹینٹ (روئی) اور اگر ساری نشانیاں دیکھیں تو ان پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب تمہارے حضور تم سے جھگڑتے حاضر ہوں تو کافر کہیں یہ تو نہیں مگر اگلوں کی داستانیں (ف٦۰)
And among them is one who listens to you; and We have put covers upon their hearts so they may not understand it, and deafness in their ears; and (even) if they see all the signs, they will not believe in them; to the extent that when they come to you to debate with you, the disbelievers say, “This is nothing but stories of former people.”
और उनमें कोई वह है जो तुम्हारी तरफ़ कान लगाता है और हम ने उनके दिलों पर ग़िलाफ़ कर दिए हैं कि उसे न समझें और उनके कान में टेन्ट (रूई) और अगर सारी निशानियाँ देखें तो उन पर ईमान न लाएँगे यहाँ तक कि जब तुम्हारे हुज़ूर तुम से झगड़ते हाज़िर हों तो काफ़िर कहें यह तो नहीं मगर अगलों की दास्तानें
Aur un mein koi woh hai jo tumhari taraf kaan lagata hai aur hum ne unke dilon par ghilaaf kar diye hain ke use na samjhen aur unke kaanon mein tent (rooi). Aur agar sari nishaniyan dekhen to un par imaan na laayenge, yahan tak ke jab tumhare huzoor tum se jhagtay haazir hon to kafir kahen yeh to nahin magar uglon ki daastanen.
(ف59)ابوسفیان ، ولید و نضر اور ابوجہل وغیرہ جمع ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوتِ قرآنِ پاک سننے لگے تو نضر سے اس کے ساتھیوں نے کہا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا کہتے ہیں ؟ کہنے لگا میں نہیں جانتا زبان کو حرکت دیتے ہیں اور پہلوں کے قِصّہ کہتے ہیں جیسے میں تمہیں سُنایا کرتا ہوں ، ابوسفیان نے کہا کہ ان کی باتیں مجھے حق معلوم ہوتی ہیں ابوجہل نے کہا کہ اس کا اقرار کرنے سے مر جانا بہتر ہے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف60)اس سے ان کا مطلب کلامِ پاک کی وحیٔ الٰہی ہونے کا انکار کرنا ہے ۔
اور وہ اس سے روکتے (ف٦۱) اور اس سے دور بھاگتے ہیں اور بلاک نہیں کرتے مگر اپنی جانیں (ف٦۲) اور انہیں شعور نہیں،
And they stop (others) from it and run away from it; and they ruin none except themselves, and they do not have sense.
और वह उस से रोकते और उस से दूर भागते हैं और बलाक नहीं करते मगर अपनी जानें और उन्हें शऊर नहीं ,
Aur woh is se rokte aur is se door bhaagte hain aur balaak nahin karte magar apni jaanen aur unhein shu’oor nahin.
(ف61)یعنی مشرکین لوگوں کو قرآنِ شریف سے یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ پر ایمان لانے اور آپ کا اِتّباع کرنے سے روکتے ہیں ۔شانِ نُزول : یہ آیت کہ کُفّارِ مکہ کے حق میں نازل ہوئی جو لوگوں کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی مجلس میں حاضر ہونے اور قرآن کریم سننے سے روکتے تھے اور خود بھی دور رہتے تھے کہ کہیں کلام مبارک ان کے دل میں اثر نہ کر جائے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ آیت حضور کے چچا ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی جو مشرکین کو تو حضور کی ایذا رسانی سے روکتے تھے اور خود ایمان لانے سے بچتے تھے ۔(ف62)یعنی اس کا ضرر خود انہیں کو پہنچتا ہے ۔
اور کبھی تم دیکھو جب وہ آگ پر کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے کاش کسی طرح ہم واپس بھیجے جائیں (ف٦۳) اور اپنے رب کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور مسلمان ہوجائیں،
And if you see them when they will be placed above hell, they will say, “Alas, if only we might be sent back and not deny the signs of our Lord, and become Muslims!”
और कभी तुम देखो जब वह आग पर खड़े किए जाएँगे तो कहेंगे काश किसी तरह हम वापस भेजे जाएँ और अपने रब की आयतें न झटलाएँ और मुसलमान हो जाएँ ,
Aur kabhi tum dekho jab woh aag par khade kiye jayenge to kahenge kaash kisi tarah hum wapas bheje jaayen aur apne Rab ki aayaten na jhutlayen aur musalman ho jaayen.
بلکہ ان پر کھل گیا جو پہلے چھپاتے تھے (ف٦٤) اور اگر واپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں جس سے منع کیے گئے تھے اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں،
In fact it has become clear to them what they used to hide before; and were they to be sent back, they would commit the same which they were forbidden to, and undoubtedly they are liars.
बल्कि उन पर खुल गया जो पहले छुपाते थे और अगर वापस भेजे जाएँ तो फिर वही करें जिस से मना किए गए थे और बेशक वह ज़रूर झूठे हैं ,
Balke un par khul gaya jo pehle chhupate the aur agar wapas bheje jaayen to phir wohi karen jis se mana kiye gaye the aur beshak woh zaroor jhootey hain.
(ف64)جیسا کہ اوپر اسی رکوع میں مذکور ہو چکا کہ مشرکین سے جب فرمایا جائے گا کہ تمھارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنے کُفر کو چھپا جائیں گے اور اللہ کی قَسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے ۔ اس آیت میں بتایا گیاکہ پھر جب انہیں ظاہر ہو جائے گا جو وہ چھپاتے تھے یعنی ان کا کُفر اس طرح ظاہر ہو گا کہ ان کے اعضا و جوارح ان کے کُفر و شرک کی گواہیاں دیں گے تب وہ دنیا میں واپس جانے کی تمنّا کریں گے ۔
اور بولے (ف٦۵) وہ تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہمیں اٹھنا نہیں (ف٦٦)
And they said, “There is no other life except our life of this world, and we are not to be raised.”
और बोले वह तो यही हमारी दुनिया की ज़िन्दगी है और हमें उठना नहीं
Aur bole woh to yahi hamari duniya ki zindagi hai aur humein uthna nahin.
(ف65)یعنی کُفّار جو بَعث و آخرت کے منکِر ہیں اور اس کا واقعہ یہ تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کُفّارکو قیامت کے احوال اور آخرت کی زندگانی ، ایمانداروں اور فرمانبرداروں کے ثواب ، کافِروں اور نافرمانوں پر عذاب کا ذکر فرمایا تو کافِر کہنے لگے کہ زندگی تو بس دنیا ہی کی ہے ۔(ف66)یعنی مرنے کے بعد ۔
اور کبھی تم دیکھو جب اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے، فرمائے گا کیا یہ حق نہیں (ف٦۷) کہیں گے کیوں نہیں، ہمیں اپنے رب کی قسم ، فرمائے گا تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا،
And if you see when they are placed before their Lord, He will say, “Is this not real (the truth)? They will say, “Yes – why not, by our Lord!” He will say, “So now taste the punishment – the recompense of your disbelief.”
और कभी तुम देखो जब अपने रब के हुज़ूर खड़े किए जाएँगे , फ़रमाएगा क्या यह हक़ नहीं कहेंगे क्यों नहीं , हमें अपने रब की क़सम , फ़रमाएगा तो अब अज़ाब चखो बदला अपने कुफ़्र का,
Aur kabhi tum dekho jab apne Rab ke huzoor khade kiye jayenge, farmaayega kya yeh haqq nahin? Kahenge kyun nahin, humen apne Rab ki qasam. Farmaayega to ab azaab chakhho badla apne kufr ka.
بیشک ہار میں رہے وہ جنہوں نے اپنے رب سے ملنے کا انکار کیا، یہاں تک کہ جب ان پر قیامت اچانک آگئی بولے ہائے افسوس ہمارا اس پر کہ اس کے ماننے میں ہم نے تقصیر کی، اور وہ اپنے (ف٦۸) بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہیں ارے کتنا برُا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں (ف٦۹)
Those who denied their meeting with Allah, have indeed failed; to the extent that when the Last Day suddenly came upon them they said, “Woe to us that we failed to believe in it” – and they carry their burdens on their backs; what an evil burden they carry!
बेशक हार में रहे वह जिन्होंने अपने रब से मिलने का इन्कार किया, यहाँ तक कि जब उन पर क़यामत अचानक आ गई बोले हाय अफ़सोस हमारा उस पर कि उसके मानने में हमने तक़्सीर की, और वह अपने बोझ अपनी पीठ पर लादे हुए हैं अरे कितना बुरा बोझ उठाए हुए हैं
Beshak haar mein rahe woh jinhon ne apne Rab se milne ka inkaar kiya, yahan tak ke jab un par Qayamat achanak aa gayi, bole haaye afsos hamara is par ke is ke maanne mein hum ne taqseer ki, aur woh apne bojh apni peeth par la de huye hain. Aray kitna bura bojh uthaye huye hain.
(ف68)گناہوں کے ۔(ف69)حدیث شریف میں ہے کہ کافِر جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کے سامنے نہایت قبیح بھیانک اور بہت بدبودار صورت آئے گی ، وہ کافِر سے کہے گی تو مجھے پہچانتا ہے ؟ کافِر کہے گا نہیں تو وہ کافِر سے کہے گی میں تیرا خبیث عمل ہوں دنیا میں تو مجھ پر سوار رہا تھا آج میں تجھ پر سوار ہوں گا اور تجھے تمام خَلق میں رُسوا کروں گا ۔ پھر وہ اس پر سوار ہو جاتا ہے ۔
اور دنیا کی زندگی نہیں مگر کھیل کود (ف۷۰) اور بیشک پچھلا گھر بھلا ان کے لئے جو ڈرتے ہیں (ف۷۱) تو کیا تمہیں سمجھ نہیں،
The life of this world is nothing except a pastime and sport; and undoubtedly the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?
और दुनिया की ज़िन्दगी नहीं मगर खेल कूद और बेशक पिछला घर भला उनके लिये जो डरते हैं तो क्या तुम्हें समझ नहीं ,
Aur duniya ki zindagi nahin magar khel kood, aur beshak pichhla ghar bhala unke liye jo darte hain, to kya tumhein samajh nahin?
(ف70)جسے بقا نہیں جلد گزر جاتی ہے اور نیکیاں اور طاعتیں اگرچہ مؤمنین سے دنیا ہی میں واقع ہوں لیکن وہ امورِ آخرت میں سے ہیں ۔(ف71)اس سے ثابت ہوا کہ اعمالِ متّقِین کے سوا دنیا میں جو کچھ ہے سب لہو و لعب ہے ۔
ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں (ف۷۲) تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے (ف۷۳) بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں (ف۷٤)
We know well that their statement grieves you – so they do not deny you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) but in fact the unjust deny the signs of Allah.
हमें मालूम है कि तुम्हें रंज देती है वह बात जो यह कह रहे हैं तो वह तुम्हें नहीं झटلاتे बल्कि ज़ालिम अल्लाह की आयतों से इन्कार करते हैं
Humein maaloom hai ke tumhein ranj deti hai woh baat jo yeh keh rahe hain, to woh tumhein nahin jhutlate, balke zaalim Allah ki aayon se inkaar karte hain.
(ف72)شانِ نُزول : اَخنَس بن شریق او ر ابوجہل کی باہم ملاقات ہوئی تو اخنس نے ابوجہل سے کہا اے ابوالحَکَم (کُفّارابوجہل کو ابوالحَکَم کہتے تھے) یہ تنہائی کی جگہ ہے اور یہاں کوئی ایسا نہیں جو میری تیری بات پر مطلِع ہو سکے اب تو مجھے ٹھیک ٹھیک بتا کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) سچّے ہیں یا نہیں ؟ ابوجہل نے کہا کہ اللہ کی قسم محمّد (صلی اللہ علیہ وسلم) بے شک سچّے ہیں کبھی کوئی جھوٹا حرف ان کی زبان پر نہ آیا مگر بات یہ ہے کہ یہ قُصَی کی اولاد ہیں اور لِوَا ، سقایت ، حجابت ، ندوہ وغیرہ تو سارے اعزاز انہیں حاصل ہی ہیں ، نبوّت بھی انہیں میں ہو جائے تو باقی قریشیوں کے لئے اعزاز کیا رہ گیا ۔ ترمذی نے حضرت علی مرتضٰی سے روایت کی کہ ابوجہل نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے ہم تو اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں جوآپ لائے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف73)اس میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ قوم حضور کے صدق کا اعتقاد رکھتی ہے لیکن ان کی ظاہری تکذیب کا باعث ان کا حسد و عناد ہے ۔(ف74)آیت کے یہ معنٰی بھی ہوتے ہیں کہ اے حبیبِ اکرم آپ کی تکذیب آیاتِ الٰہیہ کی تکذیب ہے اور تکذیب کرنے والے ظالم ۔
اور تم سے پہلے رسول جھٹلائے گئے تو انہوں نے صبر کیا اس جھٹلانے اور ایذائیں پانے پر یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد آئی (ف۷۵) اور اللہ کی باتیں بدلنے والا کوئی نہیں (ف۷٦) اور تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آ ہی چکیں ہیں (ف۷۷)
And indeed Noble Messengers have been denied before you, so they patiently bore the denial and torture till Our help reached them; and there is none to alter the decisions of Allah; and the news of the Noble Messengers have already reached you.
और तुम से पहले रसूल झट्लाए गये तो उन्होंने सब्र किया उस झटलाने और ईज़ाएँ पाने पर यहाँ तक कि उन्हें हमारी मदद आई और अल्लाह की बातें बदलने वाला कोई नहीं और तुम्हारे पास रसूलों की खबरें आ ही चुकी हैं
Aur tum se pehle Rasool jhutlaye gaye to unhon ne sabr kiya is jhutlane aur ezaaen paane par, yahan tak ke unhein hamari madad aayi. Aur Allah ki baaten badalne wala koi nahin, aur tumhare paas Rasoolon ki khabrein aa hi chuki hain.
(ف75)اور تکذیب کرنے والے ہلاک کئے گئے ۔(ف76)اس کے حکم کو کوئی پلٹ نہیں سکتا ، رسولوں کی نُصرت اور ان کے تکذیب کرنے والوں کا ہلاک اس نے جس وقت مقدر فرمایا ہے ضرور ہو گا ۔(ف77)اور آپ جانتے ہیں کہ انہیں کُفّار سے کیسی ایذائیں پہنچیں ، یہ پیشِ نظر رکھ کر آپ دل مطمئن رکھیں ۔
اور اگر ان کا منہ پھیرنا تم پر شاق گزرا ہے (ف۷۸) تو اگر تم سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلو یا آسمان میں زینہ پھر ان کے لیے نشانی لے آؤ (ف۷۹) اور اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے تو ہرگز نادان نہ بن،
And if their turning away has grieved you, then if you can, seek a tunnel into the earth or a ladder into the sky to bring a sign for them; and if Allah willed, He could have brought them all together upon guidance, so O listener (followers of this Prophet) do not ever be of the ignorant.
और अगर उनका मुँह फेरना तुम पर शाक़ गुज़रा है तो अगर तुम से हो सके तो ज़मीन में कोई सुरंग तलाश कर लो या आसमान में ज़ीना फिर उनके लिये निशानी ले आओ और अल्लाह चाहता तो उन्हें हिदायत पर इकट्ठा कर देता तो ऐ सुनने वाले तू हरगिज़ नादान न बन,
Aur agar unka munh pherna tum par shaq guzra hai to agar tum se ho sake to zameen mein koi surang talaash kar lo ya aasman mein zeena, phir unke liye nishani le aao. Aur Allah chahta to unhein hidayat par akhatta kar deta, to ae sunne wale tu hargiz nadan na ban.
(ف78)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت خواہش تھی کہ سب لوگ اسلام لے آئیں جو اسلام سے محروم رہتے ہیں ان کی محرومی آپ پر بہت شاق رہتی ۔(ف79)مقصود ان کے ایمان کی طرف سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی امید منقطع کرنا ہے تاکہ آپ کو ان کے اِعراض کرنے اور ایمان نہ لانے سے رنج و تکلیف نہ ہو ۔
مانتے تو وہی ہیں جو سنتے ہیں (ف۸۰) اور ان مردہ دلوں (ف۸۱) کو اللہ اٹھائے گا (ف۸۲) پھر اس کی طرف ہانکے جائیں گے (ف۸۳)
It is only those who hear (with sincere hearts) that accept faith; and Allah will raise these people dead of heart, then towards Him they will be herded.
मानते तो वही हैं जो सुनते हैं और उन मुर्दा दिलों को अल्लाह उठाएगा फिर उसकी तरफ़ हाँके जाएँगे
Maante to wohi hain jo sunte hain, aur un murda dilon ko Allah uthayega, phir us ki taraf haanke jaayenge.
(ف80)دل لگا کر سمجھنے کے لئے وہی پَنۡدپذیر ہوتے ہیں اور دینِ حق کی دعوت قبول کرتے ہیں ۔(ف81)یعنی کُفّار ۔(ف82)روزِ قیامت ۔(ف83)اور اپنے اعمال کی جزا پائیں گے ۔
اور بولے (ف۸٤) ان پر کوئی نشانی کیوں نہ اتری ان کے رب کی طرف سے (ف۸۵) تم فرماؤ کہ اللہ قادر ہے کہ کوئی نشانی اتارے لیکن ان میں بہت نرے (بالکل) جاہل ہیں (ف۸٦)
And they said, “Why has no sign been sent down upon him from his Lord?” Say, “Indeed Allah is Able to send down a sign”, but most of them are totally ignorant.
और बोले उन पर कोई निशानी क्यों न उतरी उनके रब की तरफ़ से तुम फरमाओ कि अल्लाह क़ादिर है कि कोई निशानी उतारे लेकिन उनमें बहुत निरे (बिलकुल) जाहिल हैं
Aur bole un par koi nishani kyun na utri unke Rab ki taraf se? Tum farmao ke Allah qaadir hai ke koi nishani utaare, lekin in mein bohot nare (bilkul) jaahil hain.
(ف84)کُفّارِ مکہ ۔(ف85)کُفّار کی گمراہی اور ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ کثیر آیات و معجزات جو انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشاہدہ کئے تھے ان پر قناعت نہ کی اور سب سے مُکر گئے اور ایسی آیت طلب کرنے لگے جس کے ساتھ عذابِ الٰہی ہو جیسا کہ انہوں نے کہا تھا ۔ اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ یا ربّ اگر یہ حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا (تفسیر ابوالسعود)(ف86)نہیں جانتے کہ اس کا نُزول ان کے لئے بَلا ہے کہ انکار کرتے ہی ہلاک کر دیئے جائیں گے ۔
اور نہیں کوئی زمین میں چلنے والا اور نہ کوئی پرند کہ اپنے پروں پر اڑتا ہے مگر تم جیسی امتیں (ف۸۷) ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا (ف۸۸) پھر اپنے رب کی طرف اٹھائے جائیں گے (ف۸۹)
And there is not an animal moving in the earth nor a bird flying on its wings, but they are a nation like you; We have left out nothing in this Book – then towards their Lord they will be raised.
और नहीं कोई ज़मीन में चलने वाला और न कोई परिन्द कि अपने परों पर उड़ता है मगर तुम जैसी उम्मतेँ हमने इस किताब में कुछ उठा न रखा फिर अपने रब की तरफ़ उठाए जाएँगे
Aur nahin koi zameen mein chalne wala aur na koi parind jo apne paron par urta hai magar tum jaisi ummatein. Hum ne is kitaab mein kuchh uthha na rakha, phir apne Rab ki taraf uthaye jaayenge.
(ف87)یعنی تمام جاندار خواہ وہ بہائم ہو یا درندے یا پرند ، تمہاری مثل اُمّتیں ہیں ۔ یہ مماثلت جمیع وجوہ سے تو ہے نہیں بعض سے ہے ، ان وجوہ کے بیان میں بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ حیوانات تمھاری طرح اللہ کو پہچانتے ، واحد جانتے ، اس کی تسبیح پڑھتے ، عبادت کرتے ہیں ۔ بعض کا قول ہے کہ وہ مخلوق ہونے میں تمہاری مثل ہیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ انسان کی طرح باہمی الفت رکھتے اور ایک دوسرے سے تفہیم و تَفَہُّم کرتے ہیں ۔ بعض کا قول ہے کہ روزی طلب کرنے ، ہلاکت سے بچنے ، نر مادہ کی امتیاز رکھنے میں تمہاری مثل ہیں ۔ بعض نے کہا کہ پیدا ہونے ، مرنے ، مرنے کے بعد حساب کے لئے اٹھنے میں تمہاری مثل ہیں ۔(ف88)یعنی جملہ علوم اور تمام مَاکَانَ وَ مَا یَکُوْنُ کا اس میں بیان ہے اور جمیع اشیاء کا علم اس میں ہے ، اس کتاب سے یا قرآنِ کریم مراد ہے یا لوحِ محفوظ ۔ (جمل وغیرہ)(ف89)اور تمام دَوَابّ و طیور کا حساب ہو گا ، اس کے بعد وہ خاک کر دیئے جائیں گے ۔
اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں بہرے اور گونگے ہیں (ف۹۰) اندھیروں میں (ف۹۱) اللہ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھے راستہ ڈال دے (ف۹۲)
And those who deny Our signs are deaf and dumb in realms of darkness; Allah may send astray whomever He wills; and may place on the Straight Path whomever He wills.
और जिन्होंने हमारी आयतें झट्लाईं बहरे और गूँगे हैं अंधेरों में अल्लाह जिसे चाहे गुमराह करे और जिसे चाहे सीधे रास्ता डाल दे
Aur jinhon ne hamari aayaten jhutlayin, behre aur goonge hain andheron mein. Allah jise chahe gumraah kare aur jise chahe seedhe raaste daal de.
(ف90)کہ حق ماننا اور حق بولنا انہیں میسّر نہیں ۔(ف91)جَہل اور حیرت اور کُفر کے ۔(ف92)اسلام کی توفیق عطا فرمائے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے (ف۹۳) اگر سچے ہو (ف۹٤)
Say, “What is your opinion – if the punishment of Allah comes upon you or the Hour arrives, will you call upon anyone (deity) besides Allah; if you are truthful?”
तुम फरमाओ भला बताओ तो अगर तुम पर अल्लाह का अज़ाब आए या क़यामत क़ायम हो क्या अल्लाह के सिवा किसी और को पुकारोगे अगर सच्चे हो
Tum farmao bhala batao to agar tum par Allah ka azaab aaye ya Qayamat qaim ho, kya Allah ke siwa kisi aur ko pukaroge agar sachche ho?
(ف93)اور جن کو دنیا میں معبود مانتے تھے ان سے حاجت روائی چاہو گے ۔(ف94)اپنے اس دعوٰی میں کہ معاذ اللہ بُت معبود ہیں تو اس وقت انہیں پکارو مگر ایسا نہ کرو گے ۔
بلکہ اسی کو پکارو گے تو وہ اگر چاہے (ف۹۵) جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھالے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے (ف۹٦)
“In fact you will only call upon Him, and if He wills, He may remove that because of which you prayed to Him, and you will forget the partners (you ascribe to Him).”
बल्कि उसी को पुकारोगे तो वह अगर चाहे जिस पर उसे पुकारते हो उसे उठा ले और शरीकों को भूल जाओगे
Balke usi ko pukaroge to woh agar chahe jis par use pukarte ho use uthaa le, aur shareekon ko bhool jaoge.
(ف95)تو اس مصیبت کو ۔(ف96)جنہیں اپنے اعتقادِ باطل میں معبود جانتے تھے اور ان کی طرف التفات بھی نہ کرو گے کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ تمہارے کام نہیں آ سکتے ۔
اور بیشک ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو انہیں سختی اور تکلیف سے پکڑا (ف۹۷) کہ وہ کسی طرح گڑگڑائیں (ف۹۸)
And We have indeed sent Noble Messengers towards the nations that were before you – We therefore seized them with hardship and adversity so that, in some way, they may humbly plead.
और बेशक हमने तुम से पहली उम्मतों की तरफ़ रसूल भेजे तो उन्हें सख़्ती और तकलीफ़ से पकड़ा कि वह किसी तरह गिड़गिड़ाएँ
Aur beshak hum ne tum se pehli ummaton ki taraf Rasool bheje to unhein sakhti aur takleef se pakda taake woh kisi tarah girgiraayen.
(ف97)فَقر و اِفلاس اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کیا ۔(ف98)اللہ کی طرف رجوع کریں ، اپنے گناہوں سے باز آئیں ۔
تو کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑائے ہوتے لیکن ان کے دل تو سخت ہوگئے (ف۹۹) اور شیطان نے ان کے کام ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے،
So why did they not humbly plead when Our punishment came to them? But their hearts were hardened and the devil made all their deeds appear good to them!
तो क्यों न हुआ कि जब उन पर हमारा अज़ाब आया तो गिड़गिड़ाए होते लेकिन उनके दिल तो सख़्त हो गये और शैतान ने उनके काम उनकी निगाह में भले कर दिखाए ,
To kyun na hua ke jab un par hamara azaab aaya to girgiraaye hote? Lekin unke dil to sakht ho gaye, aur shaitaan ne unke kaam unki nigaah mein bhale kar dikhaye.
(ف99)وہ بارگاہِ الٰہی میں عاجز ی کرنے کے بجائے کُفر و تکذیب پر مُصِر رہے ۔
پھر جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحتیں ان کو کی گئیں تھیں (ف۱۰۰) ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے (ف۱۰۱) یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملا (ف۱۰۲) تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا (ف۱۰۳) اب وہ آس ٹوٹے رہ گئے،
So when they forgot the advices made to them, We opened the gates of all things for them; to the extent that when they were rejoicing for what they had received, We seized them suddenly, hence they remained dejected.
फिर जब उन्होंने भुला दिया जो नसीहतें उनको की गईं थीं हमने उन पर हर चीज़ के दरवाज़े खोल दिये यहाँ तक कि जब खुश हुए उस पर जो उन्हें मिला तो हमने अचानक उन्हें पकड़ लिया अब वह आस टूटे रह गये ,
Phir jab unhon ne bhula diya jo naseehatein unko ki gayi thein, hum ne unpar har cheez ke darwaze khol diye, yahan tak ke jab khush hue us par jo unhein mila, to hum ne achanak unhein pakad liya, ab woh aas toote rah gaye.
(ف100)اور وہ کسی طرح پَند پذیر نہ ہوئے ، نہ پیش آئی ہوئی مصیبتوں سے ، نہ انبیاء کی نصیحتوں سے ۔(ف101)صحت و سلامت اور وسعتِ رزق و عیش وغیرہ کے ۔(ف102)اور اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھے اور قارون کی طرح تکبُّر کرنے لگے ۔(ف103)اور مبتلائے عذاب کیا ۔
تو جڑ کاٹ دی گئی ظالموں کی (ف۱۰٤) اور سب خوبیاں سراہا اللہ رب سارے جہاں کا (ف۱۰۵)
The origins of the unjust people were therefore cut off; and all praise is to Allah, Lord Of The Creation.
तो जड़ काट दी गई ज़ालिमों की और सब खूबियाँ सराहा अल्लाह रब सारे जहाँ का
To jarr kaat di gayi zaalimoon ki, aur sab khoobiyaan saraha Allah Rab saare jahan ka.
(ف104)اور سب کے سب ہلاک کر دیئے گئے کوئی باقی نہ چھوڑا گیا ۔(ف105)اس سے معلوم ہوا کہ گمراہوں ، بے دینوں ، ظالموں کی ہلاکت اللہ تعالٰی کی نعمت ہے اس پر شکر کرنا چاہئے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر اللہ تمہارے کان آنکھ لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے (ف۱۰٦) تو اللہ سوا کون خدا ہے کہ تمہیں یہ چیزیں لادے (ف۱۰۷) دیکھو ہم کس کس رنگ سے آیتیں بیان کرتے ہیں پھر وہ منہ پھیر لیتے ہیں،
Say, “What is your opinion – if Allah were to take away your hearing and your sight and seal your hearts, then is there a God besides Allah who could restore it for you?” Observe how We explain the verses to them, yet they turn away!
तुम फरमाओ भला बताओ तो अगर अल्लाह तुम्हारे कान आँख ले ले और तुम्हारे दिलों पर मोहर कर दे तो अल्लाह सिवा कौन ख़ुदा है कि तुम्हें यह चीज़ें ला दे देखो हम किस किस रंग से आयतें बयान करते हैं फिर वह मुँह फेर लेते हैं ,
Tum farmao bhala batao to agar Allah tumhare kaan aankh le le aur tumhare dilon par mohar kar de to Allah siwa kaun khuda hai jo tumhein yeh cheezen la de? Dekho hum kis kis rang se aayaten bayan karte hain phir woh munh pher lete hain.
(ف106)اور علم و معرفت کا تمام نظام درہم برہم ہو جائے ۔(ف107)اس کا جواب یہی ہے کہ کوئی نہیں تو اب توحید پر قوی دلیل قائم ہو گئی کہ جب اللہ کے سوا کوئی اتنی قدرت و اختیار والا نہیں تو عبادت کا مستحق صرف وہی ہے اور شرک بدترین ظلم و جُرم ہے ۔
تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے اچانک (ف۱۰۸) یا کھلم کھلا (ف۱۰۹) تو کون تباہ ہوگا سوا ظالموں کے (ف۱۱۰)
Say, “What is your opinion – if the punishment of Allah were to come upon you suddenly or openly (with forewarning), who would be destroyed except the disbelieving people?”
तुम फरमाओ भला बताओ तो अगर तुम पर अल्लाह का अज़ाब आए अचानक या खुलम खुला तो कौन तबाह होगा सिवा ज़ालिमों के
Tum farmao bhala batao to agar tum par Allah ka azaab aaye achanak ya khullam khulla, to kaun tabaah hoga siwa zaalimoon ke?
(ف108)جس کے آثار و علامات پہلے سے معلوم نہ ہوں ۔(ف109)آنکھوں دیکھتے ۔(ف110)یعنی کافِروں کے کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور یہ ہلاکت ان کے حق میں عذاب ہے ۔
اور ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشی اور ڈر سناتے (ف۱۱۱) تو جو ایمان لائے اور سنورے (ف۱۱۲) ان کو نہ کچھ اندیشہ نہ کچھ غم،
And We did not send Noble Messengers except as Heralds of glad tidings and warnings; so upon those who accept faith and reform themselves, shall be no fear nor shall they grieve.
और हम नहीं भेजते रसूलों को मगर खुशी और डर सुनाते तो जो ईमान लाए और सँवरे उनको न कुछ अन्देशा न कुछ ग़म,
Aur hum nahin bhejte Rasoolon ko magar khushi aur darr sunaate. To jo imaan laaye aur sanware, unko na kuchh andesha na kuchh gham.
(ف111)ایمانداروں کو جنّت و ثواب کی بِشارتیں دیتے اور کافِروں کو جہنّم و عذاب سے ڈراتے ۔(ف112)نیک عمل کرے ۔
تم فرمادو میں تم سے نہیں کہتا میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں کہ میں آپ غیب جان لیتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں (ف۱۱۳) میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی آتی ہے (ف۱۱٤) تم فرماؤ کیا برابر ہو جائیں گے اندھے اور انکھیارے (ف۱۱۵) تو کیا تم غور نہیں کرتے،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I do not say to you that I possess the treasures of Allah, nor do I say that I gain knowledge of the hidden on my own, nor do I say to you that I am an angel; I only follow what is divinely revealed to me”; say, “Will the blind and the sighted ever be equal? So do you not think?”
तुम फ़रमा दो मैं तुम से नहीं कहता मेरे पास अल्लाह के ख़ज़ाने हैं और न यह कहूँ कि मैं आप ग़ैब जान लेता हूँ और न तुम से यह कहूँ कि मैं फ़रिश्ता हूँ मैं तो उसी का ताबे हूँ जो मुझे वही आती है तुम फ़रमाओ क्या बराबर हो जाएँगे अंधे और अन्खियारे तो क्या तुम ग़ौर नहीं करते ,
Tum farma do main tum se nahin kehta mere paas Allah ke khazane hain, aur na yeh kahoon ke main ghaib jaan leta hoon, aur na tum se yeh kahoon ke main farishta hoon. Main to usi ka taabe hoon jo mujhe wahi aati hai. Tum farmao kya barabar ho jaayenge andhe aur ankhiyaare? To kya tum ghour nahin karte?
(ف113)کُفّار کا طریقہ تھا کہ وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے طرح طرح کے سُوال کیا کرتے تھے ، کبھی کہتے کہ آپ رسول ہیں تو ہمیں بہت سی دولت اور مال دیجئے کہ ہم کبھی محتاج نہ ہوں ، ہمارے لئے پہاڑوں کو سونا کر دیجئے ، کبھی کہتے کہ گزشۃ اور آیٔندہ کی خبریں سنائیے اور ہمیں ہمارے مستقبل کی خبر دیجئے کیا کیا پیش آئے گا تاکہ ہم منافِع حاصل کر لیں اور نقصانوں سے بچنے کے پہلے سے انتظام کر لیں ، کبھی کہتے ہمیں قیامت کا وقت بتائیے کب آئے گی ، کبھی کہتے آپ کیسے رسول ہیں جو کھاتے پیتے بھی ہیں نکاح بھی کرتے ہیں ، ان کے ان تمام باتوں کا اس آیت میں جواب دیا گیا کہ یہ کلام نہایت بے مَحل اور جاہلانہ ہے کیونکہ جو شخص کسی امر کا مُدعی ہو اس سے وہی باتیں دریافت کی جا سکتی ہیں جو اس کے دعوٰی سے تعلق رکھتی ہوں ، غیر متعلق باتوں کا دریافت کرنا اور ان کو اس دعوٰی کے خلاف حُجّت بنانا انتہا درجہ کا جَہل ہے اس لئے ارشاد ہوا کہ آپ فرما دیجئے کہ میرا دعوٰی یہ تو نہیں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں جو تم مجھ سے مال دولت کا سوال کرو اور میں اس کی طرف التفات نہ کروں تو رسالت سے منکِر ہو جاؤ ، نہ میرا دعوٰی ذاتی غیب دانی کا ہے کہ اگر میں تمہیں گزشۃ یا آیٔندہ کی خبریں نہ بتاؤں تو میری نبوّت ماننے میں عُذر کر سکو ، نہ میں نے فرشتہ ہونے کا دعوٰی کیا ہے کہ کھانا پینا ، نکاح کرنا قابلِ اعتراض ہو تو جن چیزوں کا دعوٰی ہی نہیں کیا ان کا سوال بے مَحل ہے اور اس کی اجابت مجھ پر لازم نہیں ، میرا دعوٰی نبوّت و رسالت کا ہے اور جب اس پر زبردست دلیلیں اور قوی برہانیں قائم ہو چکیں تو غیر متعلق باتیں پیش کرنا کیا معنٰی رکھتا ہے ۔ فائدہ : اس سے صاف واضح ہو گیا کہ اس آیتِ کریمہ کو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے غیب پر مطلِع کئے جانے کی نفی کے لئے سند بنانا ایسا ہی بے محل ہے جیسا کُفّار کا ان سوالات کو انکارِ نبوّت کی دستاویز بنانا بے محل تھا علاوہ بریں اس آیت سے حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کےعلمِ عطائی کی نفی کسی طرح مراد ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس صورت میں تعارُض بینَ الآیات کا قائِل ہونا پڑے گا وَ ہُوَ بَاطِل ۔ مفسِّرین کا یہ بھی قول ہے کہ حضور کا لَۤا اَقُوْلُ لَکُمْ الآیہ فرمانا بطریقِ تواضع ہے ۔ (خازن و مدارک و جمل وغیرہ)(ف114)اور یہی نبی کا کام ہے تو میں تمہیں وہی دوں گا جس کا مجھے اِذن ہو گا ، وہی بتاؤں گا جس کی اجازت ہوگی ، وہی کروں گا جس کا مجھے حکم ملا ہو ۔(ف115)مؤمن و کافِر عالِم و جاہل ۔
اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو کہ اپنے رب کی طرف یوں اٹھائے جائیں کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو نہ کوئی سفارشی اس امید پر کہ وہ پرہیزگار ہوجائیں
And with this Qur’an warn those who fear, that they will be raised towards their Lord in a state when, except Allah, there will be no protector for them nor an intercessor, so that they may be pious.
और इस क़ुरआन से उन्हें डराओ जिन्हें ख़ौफ़ हो कि अपने रब की तरफ़ यूँ उठाए जाएँ कि अल्लाह के सिवा न उनका कोई हमायती हो न कोई सिफ़ारिशी इस उम्मीद पर कि वह परहेज़गार हो जाएँ
Aur is Qur’an se unhein darao jinhon ko khauf ho ke apne Rab ki taraf yun uthaye jaayen ke Allah ke siwa na unka koi himaayati ho na koi sifaarishi, is umeed par ke woh parhezgaar ho jaayen.
اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے (ف۱۱٦) تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں (ف۱۱۷) پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے
And do not repel those who call upon their Lord in the morning and evening, seeking His pleasure; you are not responsible for their account nor are they responsible for your account – then your repelling them would be far from justice.
और दूर न करो उन्हें जो अपने रब को पुकारते हैं सुबह और शाम उसकी रज़ा चाहते तुम पर उनके हिसाब से कुछ नहीं और उन पर तुम्हारे हिसाब से कुछ नहीं फिर उन्हें तुम दूर करो तो यह काम इनसाफ़ से बईद है
Aur door na karo unhein jo apne Rab ko pukarte hain subah aur shaam, us ki raza chaahte. Tum par unke hisaab se kuchh nahin aur un par tumhare hisaab se kuchh nahin. Phir unhein tum door karo to yeh kaam insaaf se baeed hai.
(ف116)شانِ نُزول : کُفّار کی ایک جماعت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی انہوں نے دیکھا کہ حضور کے گرد غریب صحابہ کی ایک جماعت حاضر ہے جو ادنٰی درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں ، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے ، اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں ، حضور نے اس کو منظور نہ فرمایا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف117)سب کا حِساب اللہ پر ہے ، وہی تمام خَلق کو روزی دینے والا ہے ، اس کے سوا کسی کے ذمّہ کسی کا حساب نہیں ۔ حاصل معنٰی یہ کہ وہ ضعیف فُقَراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے ۔
اور یونہی ہم نے ان میں ایک دوسرے کے لئے فتنہ بنایا کہ مالدار کافر محتاج مسلمانوں کو دیکھ کر (ف۱۱۸) کہیں کیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں سے (ف۱۱۹) کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو،
And similarly We have made some as a trial for others – that the wealthy disbelievers upon seeing the needy Muslims say, “Are these whom Allah has favoured among us?” Does not Allah recognise those who are thankful?
और यूँही हमने उनमें एक दूसरे के लिये फ़ित्ना बनाया कि मालदार काफ़िर मोहताज मुसलमानों को देख कर कहें क्या यह हैं जिन पर अल्लाह ने एहसान किया हम में से क्या अल्लाह खूब नहीं जानता हक़ मानने वालों को,
Aur yoonhi hum ne un mein ek doosre ke liye fitna banaya, ke maaldaar kafir mohtaaj musalmanon ko dekh kar kahen: kya yeh hain jin par Allah ne ehsaan kiya ham mein se? Kya Allah khoob nahin jaanta haqq maanne walon ko?
(ف118)بطریقِ حسد ۔(ف119)کہ انہیں ایمان و ہدایت نصیب کی باوجودیکہ وہ لوگ فقیر غریب ہیں اور ہم رئیس سردار ہیں ، اس سے ان کا مطلب اللہ تعالٰی پر اعتراض کرنا ہے کہ غُرَباء اُمراء پر سبقت کا حق نہیں رکھتے تو اگر وہ حق ہوتا جس پر یہ غُرَباء ہیں تو وہ ہم پر سابق نہ ہوتے ۔
اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کر لی ہے (ف۱۲۰) کہ تم میں جو کوئی نادانی سے کچھ برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
And when those who believe in Our signs come humbly in your presence, say to them, “Peace be upon you – your Lord has prescribed mercy for Himself by His grace – that whoever among you commits a sin by folly and thereafter repents and reforms (himself), then indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.”
और जब तुम्हारे हुज़ूर वह हाज़िर हों जो हमारी आयतों पर ईमान लाते हैं तो उनसे फ़रमाओ तुम पर सलाम तुम्हारे रब ने अपने ज़िम्मे करम पर रहमत लाज़िम कर ली है कि तुम में जो कोई नादानी से कुछ बुराई कर बैठे फिर उसके बाद तौबा करे और सँवर जाए तो बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है ,
Aur jab tumhare huzoor woh haazir hon jo hamari aayaton par imaan laate hain to un se farmao: tum par salaam! Tumhare Rab ne apne zimma karam par rahmat laazim kar li hai ke tum mein jo koi nadaani se kuchh burai kar baithe phir us ke baad tauba kare aur sanwar jaaye to beshak Allah bakhshne wala meherbaan hai.
تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۲۳) تم فرماؤ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا (ف۱۲٤) یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں،
Say, “I have been forbidden to worship those whom you worship other than Allah”; say, “I do not follow your desires – if it were, I would then go astray and not be on the right path.”
तुम फ़रमाओ मुझे मना किया गया है कि उन्हें पूजूँ जिन को तुम अल्लाह के सिवा पूजते हो तुम फ़रमाओ मैं तुम्हारी ख़्वाहिशों पर नहीं चलता यूँ हो तो मैं बहक जाऊँ और राह पर न रहूँ ,
Tum farmao mujhe mana kiya gaya hai ke unhein poojun jin ko tum Allah ke siwa poojte ho. Tum farmao main tumhari khwahishon par nahin chalta, yoon ho to main behak jaaun aur raah par na rahun.
(ف123)کیونکہ یہ عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے ۔(ف124)یعنی تمہارا طریقہ اِتّباعِ نفس و خواہشِ ہَوا ہے نہ کہ اِتّباعِ دلیل اس لئے اختیار کرنے کے قابل نہیں ۔
تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (ف۱۲۳) تم فرماؤ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا (ف۱۲٤) یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں،
Say, “I am on the clear proof from my Lord, whereas you deny Him; I do not have what you are impatient for; there is no command except that of Allah; He states the truth and He is the Best of Judges."
तुम फ़रमाओ मैं तो अपने रब की तरफ़ से रोशन दलील पर हूँ और तुम उसे झट्लाते हो मेरे पास नहीं जिस की तुम जल्दी मचा रहे हो हुक्म नहीं मगर अल्लाह का वह हक़ फ़रमाता है और वह सबसे बेहतर फ़ैसला करने वाला,
Tum farmao main to apne Rab ki taraf se roshan daleel par hoon aur tum use jhutlate ho. Mere paas nahin jis ki tum jaldi macha rahe ho. Hukm nahin magar Allah ka. Woh haqq farmaata hai aur woh sab se behtar faisla karne wala.
(ف125)اور مجھے اس کی معرفت حاصل ہے ، میں جانتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں ، روشن دلیل قرآن شریف اور معجزات اور توحید کے براہینِ واضحہ سب کو شامل ہے ۔(ف126)کُفّار اِستِہزاءً حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ ہم پر جلدی عذاب نازل کرائیے ۔ اس آیت میں انہیں جواب دیا گیا اور ظاہر کر دیا گیا کہ حضور سے یہ سوال کرنا نہایت بے جا ہے ۔
تم فرماؤ اگر میرے پاس ہوتی وہ چیز جس کی تم جلدی کررہے ہو (ف۱۲۷) تو مجھ میں تم میں کام ختم ہوچکا ہوتا (ف۱۲۸) اور اللہ خوب جانتا ہے ستمگاروں کو،
Say, “If I had the thing for which you are impatient, then the matter between me and you would have already been decided”; and Allah is Well Aware of the unjust.
तुम फ़रमाओ अगर मेरे पास होती वह चीज़ जिस की तुम जल्दी कर रहे हो तो मुझ में तुम में काम ख़त्म हो चुका होता और अल्लाह खूब जानता है सितमगारों को,
Tum farmao agar mere paas hoti woh cheez jis ki tum jaldi kar rahe ho to mujh mein tum mein kaam khatam ho chuka hota, aur Allah khoob jaanta hai sitamgaron ko.
(ف127)یعنی عذاب ۔(ف128)میں تمہیں ایک ساعت کی مہلت نہ دیتا اور تمہیں ربّ کا مخالف دیکھ کر بے دَرَنگ ہلاک کر ڈالتا لیکن اللہ تعالٰی حلیم ہے عَقوبت میں جلدی نہیں فرماتا ۔
اور اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی انہیں وہی جانتا ہے (ف۱۲۹) اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہے، اور جو پتّا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو (ف۱۳۰)
And it is He Who has the keys of the hidden – only He knows them; and He knows all that is in the land and the sea; and no leaf falls but He knows it – and there is not a grain in the darkness of the earth, nor anything wet or dry, which is not recorded in a clear Book.
और इसी के पास हैं कुंजियाँ ग़ैब की उन्हें वही जानता है और जानता है जो कुछ ख़ुश्की और तरी में है , और जो पत्ता गिरता है वह उसे जानता है और कोई दाना नहीं ज़मीन की अंधेरियों में और न कोई तर और न ख़ुश्क जो एक रोशन किताब में लिखा न हो
Aur usi ke paas hain kunjiyaan ghaib ki, unhein wohi jaanta hai, aur jaanta hai jo kuchh khushki aur tari mein hai. Aur jo patta girta hai woh use jaanta hai. Aur koi daana nahin zameen ki andheriyon mein, aur na koi tar aur na khushk jo ek roshan kitaab mein likha na ho.
(ف129)تو جسے وہ چاہے وہی غیب پر مطلع ہو سکتا ہے بغیر اس کے بتائے کوئی غیب نہیں جان سکتا ۔ (واحدی)(ف130)کتابِ مبین سے لوحِ محفوظ مراد ہے ، اللہ تعالٰی نے ماَکَانَ وَ مَایَکُوْنُ کے علوم اس میں مکتوب فرمائے ۔
اور وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے (ف۱۳۱) اور جانتا ہے جو کچھ دن میں کماؤ پھر تمہیں دن میں اٹھاتا ہے کہ ٹھہرائی ہوئی میعاد پوری ہو (ف۱۳۲) پھر اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۱۳۳) پھر وہ بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے،
And it is He Who removes your souls at night (while asleep) and knows whatever you commit by day; then He raises you again during the day, to complete the term appointed (for you); then it is to Him that you are to return – He will then inform you of what you used to do.
और वही है जो रात को तुम्हारी रूहें क़ब्ज़ करता है और जानता है जो कुछ दिन में कमाओ फिर तुम्हें दिन में उठाता है कि ठहराई हुई मियाद पूरी हो फिर उसी की तरफ़ फिरना है फिर वह बता देगा जो कुछ तुम करते थे ,
Aur wohi hai jo raat ko tumhari roohen qabz karta hai aur jaanta hai jo kuchh din mein kamaao. Phir tumhein din mein uthata hai ke thehraayi hui miyaad poori ho. Phir usi ki taraf phirna hai, phir woh bata dega jo kuchh tum karte the.
(ف131)تو تم پر نیند مسلَّط ہوتی ہے اور تمہارے تصرُّفات اپنے حال پر باقی نہیں رہتے ۔(ف132)اور عمر اپنی انتہا کو پہنچے ۔(ف133)آخرت میں ۔ اس آیت میں بَعث بعدَ الموت یعنی مرنے کے بعد زندہ ہونے پر دلیل ذکر فرمائی گئی جس طرح روزمرّہ سونے کے وقت ایک طرح کی موت تم پر وارد کی جاتی ہے جس سے تمہارے حواس معطل ہو جاتے ہیں اور چلنا پھرنا پکڑنا اور بیداری کے افعال سب معطل ہوتے ہیں ، اس کے بعد پھر بیداری کے وقت اللہ تعالٰی تمام قُوٰی کو ان کے تصرّفات عطا فرماتا ہے یہ دلیل بَیِّن ہے اس بات کی کہ وہ زندگانی کے تصرُّفات بعدِ موت عطا کرنے پر اسی طرح قادر ہے ۔
اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے (ف۱۳٤) یہاں تک کہ جب تم میں کسی کو موت آتی ہے ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرتے ہیں (ف۱۳۵) اور وہ قصور نہیں کرتے (ف۱۳٦)
And He is Omnipotent over His bondmen and sends guardians over you; to the extent that when death comes to one of you, Our angels remove his soul, and they do not err.
और वही ग़ालिब है अपने बन्दों पर और तुम पर निगहबान भेजता है यहाँ तक कि जब तुम में किसी को मौत आती है हमारे फ़रिश्ते उसकी रूह क़ब्ज़ करते हैं और वह क़ुसूर नहीं करते
Aur wahi ghalib hai apne bandon par aur tum par nigahban bhejta hai yahan tak ke jab tum mein kisi ko maut aati hai hamare farishte uski rooh qabz karte hain aur woh qasoor nahin karte
(ف134)فرشتے جن کو کِراماً کاتبین کہتے ہیں وہ بنی آدم کی نیکی اور بدی لکھتے رہتے ہیں ، ہر آدمی کے ساتھ دو فرشتے ہیں ایک داہنے ایک بائیں ، نیکیاں داہنی طرف کا فرشتہ لکھتا ہے اور بدیاں بائیں طرف کا ، بندوں کو چاہئے ہوشیار رہیں اور بدیوں اور گناہوں سے بچیں کیونکہ ہر ایک عمل لکھا جاتا ہے اور روزِ قیامت وہ نامۂ اعمال تمام خَلق کے سامنے پڑھا جائے گا تو گناہ کتنی رسوائی کا سبب ہوں گے اللہ پناہ دے ۔ ( آمین ثم آمین )(ف135)ان فرشتوں سے مراد یا تو تنہا مَلَکُ الموت ہیں ، اس صورت میں صیغۂ جمع تعظیم کے لئے ہے یا مَلَکُ الموت مع ان فرشتوں کے مراد ہیں جو ان کے اَعوان ہیں جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے مَلَکُ الموت بحکمِ الٰہی اپنے اَعوان کو اس کی روح قبض کرنے کا حکم دیتے ہیں جب روح حلق تک پہنچتی ہے تو خود قبض فرماتے ہیں ۔ (خازن)(ف136)اور تعمیلِ حکم میں ان سے کوتاہی واقع نہیں ہوتی اور ان کے عمل میں سُستی اور تاخیر راہ نہیں پاتی ، اپنے فرائض ٹھیک وقت پر ادا کرتے ہیں ۔
تم فرماؤ وہ کون ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے جسے پکارتے ہو گِڑ گِڑا کر اور آہستہ کہ اگر وہ ہمیں اس سے بچاوے تو ہم ضرور احسان مانیں گے (ف۱۳۹)
Say, “Who rescues you from the calamities of the land and the sea – Whom you call upon crying loudly and in whispers that, ‘If we are saved from this we will surely be grateful’?”
तुम फ़रमाओ वह कौन है जो तुम्हें नजात देता है जंगल और दरिया की आफ़तों से जिसे पुकारते हो गिड़गिड़ा कर और आहिस्ता कि अगर वह हमें उस से बचावे तो हम ज़रूर एहसान मानेंगे
Tum farmao woh kaun hai jo tumhein najat deta hai jungle aur darya ki aafaton se jise pukarte ho girgira kar aur aahista ke agar woh humein is se bachave to hum zaroor ehsaan manenge
(ف139)اس آیت میں کُفّار کو تنبیہ کی گئی کہ خشکی اور تری کے سفروں میں جب وہ مبتلائے آفات ہو کر پریشان ہوتے ہیں اور ایسے شدائد و اَہوال پیش آتے ہیں جن سے دل کانپ جاتے ہیں اور خطرات قلوب کو مضطرِب اور بے چین کر دیتے ہیں اس وقت بُت پرست بھی بُتوں کو بھول جاتا ہے اور اللہ تعالٰی ہی سے دعا کرتا ہے اسی کی جناب میں تضرُّع و زاری کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس مصیبت سے اگر تو نے نجات دی تو میں شکر گزار ہوں گا اور تیرا حقِ نعمت بجا لاؤں گا ۔
تم فرماؤ اللہ تمہیں نجات دیتا ہے اس سے اور ہر بےچینی سے پھر تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۱٤۰)
Say, “Allah delivers you from these and from all distresses – yet you ascribe partners to Him!”
तुम फ़रमाओ अल्लाह तुम्हें नजात देता है उस से और हर बेचैनी से फिर तुम शरीक ठहराते हो
Tum farmao Allah tumhein najat deta hai is se aur har be chaini se phir tum shareek thehrate ho
(ف140)اور بجائے شکر گزاری کے ایسی بڑی ناشکری کرتے ہو اور یہ جانتے ہوئے کہ بُت نِکمے ہیں ، کسی کام کے نہیں پھر انہیں اللہ کا شریک کرتے ہو ، کتنی بڑی گمراہی ہے ۔
تم فرماؤ وہ قادر ہے کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے تلے (نیچے) سے یا تمہیں بھڑا دے مختلف گروہ کرکے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے، دیکھو ہم کیونکر طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں کہ کہیں ان کو سمجھ ہو (ف۱٤۱)
Say, “He is Able to send punishment upon you from above you or from beneath your feet, or to cause you to fight each other by dividing you into different groups, and make you taste the harshness of one another”; observe how We explain the verses so that they may understand.
तुम फ़रमाओ वह क़ादिर है कि तुम पर अज़ाब भेजे तुम्हारे ऊपर से या तुम्हारे पाँव के तले (नीचे ) से या तुम्हें भड़ा दे मुख़्तलिफ़ गिरोह कर के और एक को दूसरे की सख़्ती चखाए , देखो हम क्यूँकर तरह तरह से आयतें बयान करते हैं कि कहीं उनको समझ हो
Tum farmao woh qadir hai ke tum par azaab bheje tumhare ooper se ya tumhare paon ke tale (neeche) se ya tumhein bhida de mukhtalif giroh karke aur ek ko doosre ki sakhti chakhaye, dekho hum kaisay tarah tarah se aayatein bayan karte hain ke kahin unko samajh ho
(ف141)مفسِّرین کا اس میں اختلاف ہے کہ اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں ، ایک جماعت نے کہا کہ اس سے اُمّتِ محمّدیہ مراد ہے اور آیت انہیں کے حق میں نازل ہوئی ۔ بخاری کی حدیث میں ہے کہ جب یہ نازل ہوا کہ وہ قادر ہے تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے ، تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ نازل ہوا کہ یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے تو فرمایا میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اور جب یہ نازل ہوا یا تمہیں بھڑاوے مختلف گروہ کر کے اور ایک کو دوسرے کی سختی چکھائے تو فرمایا یہ آسان ہے ۔ مسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجدِ بنی معاویہ میں دو رکعت نماز ادا فرمائی اور اس کے بعد طویل دعا کی پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں نے اپنے ربّ سے تین سوال کئے ان میں سے صرف دو قبول فرمائے گئے ، ایک سوال تو یہ تھا کہ میری اُمّت کو قحطِ عام سے ہلاک نہ فرمائے یہ قبول ہوا ، ایک یہ تھا کہ انہیں غرق سے عذاب نہ فرمائے یہ بھی قبول ہوا ، تیسرا سوال یہ تھا کہ ان میں باہَم جنگ و جدال نہ ہو یہ قبول نہیں ہوا ۔
اور اسے (ف۱٤۲) جھٹلایا تمہاری قوم نے اور یہی حق ہے، تم فرماؤ میں تم پر کچھ کڑوڑا (حاکمِ اعلیٰ) نہیں (ف۱٤۳)
And your people (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) denied it whereas this is undoubtedly the truth; say, “I am not responsible for you.”
और उसे झट्लाया तुम्हारी क़ौम ने और यही हक़ है , तुम फ़रमाओ मैं तुम पर कुछ कड़ोड़ा (हाकिम-ए-आला) नहीं
Aur ise jhutlaya tumhari qaum ne aur yahi haq hai, tum farmao main tum par kuch kroora (haakim-e-alaa) nahin
(ف142)یعنی قرآن شریف کو یا نُزولِ عذاب کو ۔(ف143)میرا کام ہدایت ہے قلوب کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ۔
اور اے سننے والے! جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں (ف۱٤۵) تو ان سے منہ پھیر لے (ف۱٤٦) جب تک اور بات میں پڑیں، اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ،
And O listener (followers of this Prophet) when you see those who argue in Our verses, turn away from them until they engage in another topic; and if the devil causes you to forget, then do not sit with the unjust after remembering.
और ऐ सुनने वाले ! जब तू उन्हें देखे जो हमारी आयतों में पड़ते हैं तो उनसे मुँह फेर ले जब तक और बात में पड़ें , और जो कहीं तुझे शैतान भुलावे तो याद आए पर ज़ालिमों के पास न बैठ,
Aur ae sunne wale! jab tu unhein dekhe jo hamari aayaton mein parte hain to unse munh pher le jab tak aur baat mein parein, aur jo kahin tujhe shaitaan bhulave to yaad aaye par zalimon ke paas na baith
(ف145)طعن تَشنیع اِستِہزاء کے ساتھ ۔(ف146)اور ان کی ہم نشینی ترک کر ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بے دینوں کی جس مجلس میں دین کا احترام نہ کیا جاتا ہو مسلمان کو وہاں بیٹھنا جائز نہیں ، اس سے ثابت ہو گیا کہ کُفّار اور بے دینوں کے جلسے جن میں وہ دین کے خلاف تقریریں کرتے ہیں ان میں جانا ، سننے کے لئے شرکت کرنا جائز نہیں اور رد و جواب کے لئے جانا مُجالَست نہیں بلکہ اظہارِ حق ہے ممنوع نہیں جیسا کہ اگلی آیت سے ظاہر ہے ۔
اور پرہیز گاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں (ف۱٤۷) ہاں نصیحت دینا شاید وہ باز آئیں (ف۱٤۸)
And the pious are not accountable for them in the least, apart from the giving of advice so that they may avoid.
और परहेज़गारों पर उनके हिसाब से कुछ नहीं हाँ नसीहत देना शायद वह बाज़ आएँ
Aur parheizgaron par unke hisaab se kuch nahin, haan naseehat dena shayad woh baaz aayen
(ف147)یعنی طعن و اِستِہزاء کرنے والوں کے گناہ انہیں پر ہیں ، انہیں سے اس کا حساب ہوگا ، پرہیزگاروں پر نہیں شانِ نُزول : مسلمانوں نے کہا تھا کہ ہمیں گناہ کا اندیشہ ہے جب کہ ہم انہیں چھوڑ دیں اور منع نہ کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(ف148)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ پند و نصیحت اور اظہارِ حق کے لئے ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے ۔
اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنا لیا اور انہیں دنیا کی زندگانی نے فریب دیا اور قرآن سے نصیحت دو (ف۱٤۹) کہ کہیں کوئی جان اپنے کئے پر پکڑی نہ جائے اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی اور اگر اپنے عوض سارے بدلے دے تو اس سے نہ لیے جائیں یہ ہیں (ف۱۵۱) وہ جو اپنے کیے پر پکڑے گئے انہیں پینے کا کھولتا پانی اور درد ناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا،
And forsake those who have made their religion a mockery and play, and whom the worldly life has deceived – and advise them with this Qur’an so that a soul may not be seized for what it earns; other than Allah it will not have a protector nor an intercessor; and if it offers every recompense in exchange for itself, it will not be accepted from it; these are the ones who are seized for their own deeds; for them is boiling water to drink and a painful punishment, as a recompense of their disbelief. (The disbelievers will not have any intercessors.)
और छोड़ दे उनको जिन्होंने अपना दीन हँसी खेल बना लिया और उन्हें दुनिया की ज़िन्दगानी ने फ़रेब दिया और क़ुरआन से नसीहत दो कि कहीं कोई जान अपने किये पर पकड़ी न जाए अल्लाह के सिवा न उसका कोई हमायती हो न सिफ़ारिशी और अगर अपने एवज़ सारे बदले दे तो उस से न लिये जाएँ यह हैं वह जो अपने किये पर पकड़े गये उन्हें पीने का खौलता पानी और दर्दनाक अज़ाब बदला उनके कुफ़्र का,
Aur chhod de unko jinhon ne apna deen hansi khel bana liya aur unhein duniya ki zindagani ne fareb diya aur Qur’an se naseehat do ke kahin koi jaan apne kiye par pakdi na jaye, Allah ke siwa na uska koi himayati ho na sifarishi aur agar apne awwaz saare badle de to us se na liye jayein, yeh hain woh jo apne kiye par pakde gaye, unhein peene ka ubalta paani aur dardnaak azaab badla unke kufr ka
(ف149)اور احکامِ شرعیہ بتاؤ ۔(ف150)اور اپنے جرائم کے سبب عذابِ جہنّم میں گرفتار نہ ہو ۔(ف151)دین کو ہنسی اور کھیل بنانے والے اور دنیا کے مفتون ۔
تم فرماؤ (ف۱۵۲) کیا ہم اللہ کے سوا اس کو پوجیں جو ہمارا نہ بھلا کرے نہ برُا (ف۱۵۳) اور الٹے پاؤں پلٹا دیے جائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں راہ دکھائی (ف۱۵٤) اس کی طرح جسے شیطان نے زمین میں راہ بھلادی (ف۱۵۵) حیران ہے اس کے رفیق اسے راہ کی طرف بلا رہے ہیں کہ ادھر آ، تم فرماؤ کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۱۵٦) اور ہمیں حکم ہے کہ ہم اس کے لیے گردن رکھ دیں (ف۱۵۷) جو رب ہے سارے جہان
Say, “Shall we worship, other than Allah, that which neither benefits us nor harms us, and (therefore) be turned back after Allah has guided us, like one whom the devils have led astray in the earth – bewildered?; his companions call him to the path (saying), ‘Come here’”; say, “Indeed only the guidance of Allah is (the true) guidance; and we are commanded to submit to the Lord Of The Creation.”
तुम फ़रमाओ क्या हम अल्लाह के सिवा उस को पूजें जो हमारा न भला करे न बुरा और उल्टे पाँव पलटा दिये जाएँ बाद उस के कि अल्लाह ने हमें राह दिखाई उसकी तरह जिसे शैतान ने ज़मीन में राह भुला दी हैरान है उसके रफ़ीक़ उसे राह की तरफ़ बुला रहे हैं कि इधर आ, तुम फ़रमाओ कि अल्लाह ही की हिदायत हिदायत है और हमें हुक्म है कि हम उसके लिये गर्दन रख दें जो रब है सारे जहान
Tum farmao kya hum Allah ke siwa usko poojein jo hamara na bhala kare na bura aur ulte paon palta diye jayein baad iske ke Allah ne humein raah dikhayi, uski tarah jise shaitaan ne zameen mein raah bhula di, hairaan hai, uske rafiq use raah ki taraf bula rahe hain ke idhar aa, tum farmao ke Allah hi ki hidayat hidayat hai aur humein hukm hai ke hum uske liye gardan rakh dein jo Rab hai saare jahan
(ف152)اے مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ان مشرکین سے جو اپنے باپ دادا کے دین کی دعوت دیتے ہیں ۔(ف153)اور اس میں کوئی قدرت نہیں ۔(ف154)اور اسلام اور توحید کی نعمت عطا فرمائی اور بُت پرستی کے بدترین وبال سے بچایا ۔(ف155)اس آیت میں حق و باطل کے دعوت دینے والوں کی ایک تمثیل بیان فرمائی گئی کہ جس طرح مسافر اپنے رفیقوں کے ساتھ تھا جنگل میں بُھوتوں اور شیطانوں نے اس کو رستہ بہکا دیا اور کہا منزلِ مقصود کی یہی راہ ہے اور اس کے رفیق اس کو راہِ راست کی طرف بلانے لگے وہ حیران رہ گیا کدھر جائے ، انجام اس کا یہی ہو گا کہ اگر وہ بُھوتوں کی راہ پر چل دے تو ہلاک ہو جائے گا اور رفیقوں کا کہا مانے تو سلامت رہے گا اور منزل پر پہنچ جائے گا ۔ یہی حال اس شخص کا ہے جو طریقۂ اسلام سے بہکا اور شیطان کی راہ چلا ، مسلمان اس کو راہِ راست کی طرف بلاتے ہیں اگر ان کی بات مانے گا راہ پائے گا ورنہ ہلاک ہو جائے گا ۔(ف156)یعنی جو طریق اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے لئے واضح فرمایا اور جو دین (اسلام) ان کے لئے مقرر کیا وہی ہدایت و نور ہے اور جو اس کے سوا ہے وہ دین باطل ہے ۔(ف157)اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور خاص اسی کی عبادت کریں ۔
اور وہی ہے جس نے آسمان و زمین ٹھیک بنائے (ف۱۵۸) اور جس دن فنا ہوئی ہر چیز کو کہے گا ہو جا وہ فوراً ہوجائے گی، اس کی بات سچی ہے، اور اسی کی سلطنت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا (ف۱۵۹) ہر چھپے اور ظاہر کو جاننے والا، اور وہی حکمت والا خبردار،
And it is He Who perfectly created the heavens and the earth; and when He will say “Be” on the Day (of resurrection) to all the extinct things, it will happen immediately; His Word is true; and it will be His kingship on the day when the Trumpet is blown; All Knowing of all the hidden and the revealed; and He only is the Wise, the Aware.
और वही है जिस ने आसमान व ज़मीन ठीक बनाए और जिस दिन फ़ना हुई हर चीज़ को कहेगा हो जा वह फ़ौरन हो जाएगी, उसकी बात सच्ची है , और उसी की सल्तनत है जिस दिन सूर फूँका जाएगा हर छुपे और ज़ाहिर को जानने वाला, और वही हिकमत वाला ख़बरदार,
Aur wahi hai jisne aasman o zameen theek banaye aur jis din fana hui har cheez ko kahega ho ja, woh foran ho jayegi, uski baat sachi hai, aur usi ki saltanat hai jis din soor phoinka jayega, har chhupe aur zaahir ko jaane wala, aur wahi hikmat wala khabardaar
(ف158)جن سے اس کی قدرتِ کاملہ اور اس کا علم محیط اور اس کی حکمت و صنعت ظاہر ہے ۔(ف159)کہ نام کو بھی کوئی سلطنت کا دعوٰی کرنے والا نہ ہو گا ، تمام جبابرہ ، فراعنہ اور سب دنیا کی سلطنت کا غرور کرنے والے دیکھیں گے کہ دنیا میں جو وہ سلطنت کا دعوٰی رکھتے تھے وہ باطل تھا ۔
اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ (ف۱٦۰) آزر سے کہا، کیا تم بتوں کو خدا بناتے ہو، بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں (ف۱٦۱)
And remember when Ibrahim said to his father (paternal uncle) Azar, “What! You appoint idols as Gods? Indeed I find you and your people in open error.” (Prophet Ibrahim was rightly guided since birth).
और याद करो जब इब्राहीम ने अपने बाप आज़र से कहा, क्या तुम बुतों को ख़ुदा बनाते हो, बेशक मैं तुम्हें और तुम्हारी क़ौम को खुली गुमराही में पाता हूँ
Aur yaad karo jab Ibraheem ne apne baap Aazar se kaha, kya tum buton ko khuda banate ho, beshak main tumhein aur tumhari qaum ko khuli gumraahi mein paata hoon
(ف160)قاموس میں ہے کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا کا نام ہے ۔ امام علامہ جلال الدین سیوطی نے مسالک الحُنَفاء میں بھی ایسا ہی لکھا ہے ، چچا کو باپ کہنا تمام ممالک میں معمول ہے بالخصوص عرب میں ، قرآنِ کریم میں ہے نَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَ اِلہٰ اٰبَآ ئِکَ اِبْرَاھِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰھًا وَّاحِدًا ۔ اس میں حضرت اسمٰعیل کو حضرت یعقوب کے آباء میں ذکر کیا گیا ہے باوجودیکہ آپ عَم ہیں ۔ حدیث شریف میں بھی حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اَب فرمایا چنانچہ ارشاد کیا رُدُّوْا عَلَیَّ اَبِیْ اور یہاں اَبِی سے حضرت عباس مراد ہیں ۔ (مفرداتِ راغب وکبیر وغیرہ)(ف161)یہ آیت مشرکینِ عرب پر حُجَّت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو معظَّم جانتے تھے اور ان کی فضیلت کے معترف تھے ، انہیں دکھایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام بُت پرستی کو کتنا بڑا عیب اور گمراہی بتاتے ہیں اگر تم انہیں مانتے ہو تو بُت پرستی تم بھی چھوڑ دو ۔
اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی (ف۱٦۲) اور اس لیے کہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے (ف۱٦۳)
And likewise We showed Ibrahim the entire kingdom of the heavens and the earth and so that he be of those who believe as eyewitnesses.
और इसी तरह हम इब्राहीम को दिखाते हैं सारी बादशाही आसमानों और ज़मीन की और इस लिये कि वह अयनुल यक़ीन वालों में हो जाए
Aur isi tarah hum Ibraheem ko dikhate hain saari badshahi aasmanon aur zameen ki aur isliye ke woh ain-ul-yaqeen walon mein ho jaye
(ف162)یعنی جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دین میں بِینائی عطا فرمائی ایسے ہی انہیں آسمانوں اور زمین کے مُلک دکھاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا اس سے آسمانوں اور زمین کی خَلق مراد ہے ۔ مجاہد اور سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ آیاتِ سمٰوات و ارض مراد ہیں ، یہ اس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو صَخرہ (پتھر) پر کھڑا کیا گیا اور آپ کے لئے سماوات مکشوف کئے گئے یہاں تک کہ آپ نے عرش و کرسی اور آسمانوں کے تمام عجائب اور جنّت میں اپنے مقام کو معائنہ فرمایا ، آپ کے لئے زمین کشف فرما دی گئی یہاں تک کہ آپ نے سب سے نیچے کی زمین تک نظر کی اور زمینوں کے تمام عجائب دیکھے ۔ مفسِّرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ رویت بچشمِ باطن تھی یا بچشمِ سر ۔ (درِّ منثور و خازن وغیرہ)(ف163)کیونکہ ہر ظاہر و مخفی چیز ان کے سامنے کر دی گئی اور خَلق کے اعمال میں سے کچھ بھی ان سے نہ چُھپا رہا ۔
پھر جب ان پر رات کا اندھیرا آیا ایک تارا دیکھا (ف۱٦٤) بولے اسے میرا رب ٹھہراتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا بولے مجھے خوش نہیں آتے ڈوبنے والے،
So when the night became dark upon him he saw a star; he said (to Azar / the people), “(You portray that) this is my Lord?”; then when it set he said, “I do not like the things that set.”
फिर जब उन पर रात का अंधेरा आया एक तारा देखा बोले उसे मेरा रब ठहराते हो फिर जब वह डूब गया बोले मुझे खुश नहीं आते डूबने वाले ,
Phir jab un par raat ka andhera aaya ek tara dekha, bole ise mera Rab thehrate ho? Phir jab woh doob gaya bole mujhe khush nahin aate doobne wale
(ف164)عُلَماءِ تفسیر اور اصحابِ اَخبار و سِیَر کا بیان ہے کہ نَمرود ابنِ کنعان بڑا جابر بادشاہ تھا ، سب سے پہلے اسی نے تاج سر پر رکھا ، یہ بادشاہ لوگوں سے اپنی پرستِش کراتا تھا ، کاہِن اور مُنجِم کثرت سے اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے ۔ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا ہے اس کی روشنی کے سامنے آفتاب ماہتاب بالکل بے نور ہو گئے اس سے وہ بہت خوف زدہ ہوا ، کاہنوں سے تعبیر دریافت کی ، انہوں نے کہا اس سال تیری قلمرو میں ایک فرزند پیدا ہو گا جو تیرے زَوالِ مُلک کا باعث ہو گا اور تیرے دین والے اس کے ہاتھ سے ہلاک ہوں گے ، یہ خبر سن کر وہ پریشان ہوا اور اس نے حکم دے دیا کہ جو بچہ پیدا ہو قتل کر ڈالا جائے اور مرد عورتوں سے علیٰحدہ رہیں اور اس کی نگہبانی کے لئے ایک محکمہ قائم کر دیا گیا ۔ تقدیراتِ الٰہیہ کو کون ٹال سکتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حاملہ ہوئیں اور کاہنوں نے نمرود کو اس کی بھی خبر دی کہ وہ بچہ حمل میں آ گیا لیکن چونکہ حضرت کی والدہ صاحبہ کی عمر کم تھی ان کا حمل کسی طرح پہچانا ہی نہ گیا جب زمانۂ ولادت قریب ہوا تو آپ کی والدہ اس تہ خانے میں چلی گئیں جو آپ کے والد نے شہر سے دور کھود کر تیار کیا تھا ، وہاں آپ کی ولادت ہوئی اور وہیں آپ رہے ، پتھروں سے اس تہ خانہ کا دروازہ بند کر دیا جاتا تھا ، روزانہ والدہ صاحبہ دودھ پلا آتی تھیں اور جب وہاں پہنچتی تھیں تو دیکھتی تھیں کہ آپ اپنی سَرِ اَنگُشت چُوس رہے ہیں اور اس سے دودھ برآمد ہوتا ہے ، آپ بہت جلد بڑھتے تھے ، ایک مہینہ میں اتنا جتنے دوسرے بچے ایک سال میں ، اس میں اختلاف ہے کہ آپ تہ خانہ میں کتنے عرصہ رہے ۔ بعض کہتے ہیں سات برس ، بعض تیرہ برس ، بعض سترہ برس ، یہ مسئلہ یقینی ہے کہ انبیاء ہرحال میں معصوم ہوتے ہیں اور وہ اپنی ابتداءِ ہستی سے تمام اوقاتِ وجود میں عارف ہوتے ہیں ، ایک روز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی والدہ سے دریافت فرمایا میرا ربّ (پالنے والا) کون ہے ؟ انہوں نے کہا میں ، فرمایا تمہارا ربّ کون ہے ؟ انہوں نے کہا تمہارے والد ، فرمایا ان کا ربّ کون ہے ؟ اس پر والدہ نے کہا خاموش رہو اور اپنے شوہر سے جا کر کہا کہ جس لڑکے کی نسبت یہ مشہور ہے کہ وہ زمین والوں کا دین بدل دے گا وہ تمہارا فرزند ہی ہے اور یہ گفتگو بیان کی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابتدا ہی سے توحید کی حمایت اور عقائدِ کُفریہ کا اِبطال شروع فرما دیا اور جب ایک سوراخ کی راہ سے شب کے وقت آپ نے زُہرہ یا مُشتری ستارہ کو دیکھا تو اِقامتِ حُجَّت شروع کر دی کیونکہ اس زمانہ کے لوگ بُت اور کواکب کی پرستش کرتے تھے تو آپ نے ایک نہایت نفیس اور دل نشیں پیرایہ میں انہیں نظر و استدلال کی طرف رہنمائی کی جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ عالَم بتمامہٖ حادِث ہے ، اِلٰہ نہیں ہو سکتا ، وہ خود مُوجِد و مُدَبِّر کا محتاج ہے جس کے قدرت و اختیار سے اس میں تغیُّر ہوتے رہتے ہیں ۔
پھر جب چاند چمکتا دیکھا بولے اسے میرا رب بتاتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں بھی انہیں گمراہوں میں ہوتا (ف۱٦۵)
Then when he saw the moon shining, he said, “(You proclaim that) this is my Lord?”; then when it set, he said, “If my Lord had not guided me*, I too would be one of these astray people.” (* Prophet Ibrahim was rightly guided before this event).
फिर जब चाँद चमकता देखा बोले उसे मेरा रब बताते हो फिर जब वह डूब गया कहा अगर मुझे मेरा रब हिदायत न करता तो मैं भी उनमें गुमराहों में होता
Phir jab chaand chamakta dekha bole ise mera Rab batate ho? Phir jab woh doob gaya kaha agar mujhe mera Rab hidayat na karta to main bhi inhi gumraahon mein hota
(ف165)اس میں قوم کو تنبیہ ہے کہ جو قمر کو اِلٰہ ٹھہرائے وہ گمراہ ہے کیونکہ اس کا ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونا دلیلِ حدوث و اِمکان ہے ۔
پھر جب سورج جگمگاتا دیکھا بولے اسے میرا رب کہتے ہو (ف۱٦٦) یہ تو ان سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اے قوم میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو (ف۱٦۷)
Then when he saw the sun shining brightly, he said, “(You say that) this is my Lord? This is the biggest of them all!”; then when it set he said, “O people! I do not have any relation with the whatever you ascribe as partners (to Him).”
फिर जब सूरज जगमगाता देखा बोले उसे मेरा रब कहते हो यह तो उन सब से बड़ा है , फिर जब वह डूब गया कहा ऐ क़ौम मैं बेज़ार हूँ उन चीज़ों से जिन्हें तुम शरीक ठहराते हो
Phir jab sooraj jagmagata dekha bole ise mera Rab kehte ho? Ye to in sab se bada hai, phir jab woh doob gaya kaha ae qaum main bezar hoon un cheezon se jinhein tum shareek thehrate ho
(ف166)شمس مؤنث غیر حقیقی ہے اس کے لئے مذکر و مؤنث کے دونوں صیغے استعمال کئے جا سکتے ہیں ، یہاں ہذا مذکر لایا گیا اس میں تعلیمِ ادب ہے کہ لفظِ ربّ کی رعایت کے لئے لفظِ تانیث نہ لایا گیا اسی لحاظ سے اللہ تعالٰی کی صفت میں عَلّام آتا ہے نہ کہ علامہ ۔(ف167)حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ثابت کر دیا کہ ستاروں میں چھوٹے سے بڑے تک کوئی بھی ربّ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، ان کا اِلٰہ ہونا باطل ہے اور قوم جس شرک میں مبتلا ہے آپ نے اس سے بیزاری کا اظہار کیا اور اس کے بعد دینِ حق کا بیان فرمایا جو آگے آتا ہے ۔
میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ایک اسی کا ہو کر (ف۱٦۸) اور میں مشرکین میں نہیں،
“I have directed my attention towards Him Who has created the heavens and the earth, am devoted solely to Him, and am not of the polytheists.”
मैंने अपना मुँह उसकी तरफ़ किया जिस ने आसमान और ज़मीन बनाए एक उसी का हो कर और मैं मुश्रिकीन में नहीं ,
Maine apna munh uski taraf kiya jisne aasman aur zameen banaye, ek usi ka ho kar aur main mushrikeen mein nahin
(ف168)یعنی اسلام کے سوا باقی تمام اَدیان سے جُدا رہ کر ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ دینِ حق کا قیام و استحکام جب ہی ہو سکتا ہے جب کہ تمام اَدیانِ باطلہ سے بیزاری ہو ۔
اور ان کی قوم ان سے جھگڑے لگی کہا کیا اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو تو وہ مجھے راہ بتا چکا (ف۱٦۹) اور مجھے ان کا ڈر نہیں جنہیں تم شریک بتاتے ہو (ف۱۷۰) ہاں جو میرا ہی رب کوئی بات چاہے (ف۱۷۱) میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے
And his people argued with him; he said, “What! You dispute with me concerning Allah? So He has guided me; and I do not have any fear of whatever you ascribe as partners, except what my Lord wills (to happen); my Lord’s knowledge encompasses all things; so will you not accept advice?”
और उनकी क़ौम उनसे झगड़े लगी कहा क्या अल्लाह के बारे में मुझ से झगड़ते हो तो वह मुझे राह बता चुका और मुझे उनका डर नहीं जिन्हें तुम शरीक बताते हो हाँ जो मेरा ही रब कोई बात चाहे मेरा रब का इल्म हर चीज़ को मुहीत है , तो क्या तुम नसीहत नहीं मानते
81) और मैं तुम्हारे शरीकों से क्यौंकर डरूँ और तुम नहीं डरते कि तुम ने अल्लाह का शरीक उसको ठहराया जिस की तुम पर उस ने कोई सन्द न उतारी, तो दोनों गरोहों में अमान का ज्यादा सज़ा वार कौन है अगर तुम जानते हो,
Aur unki qaum unse jhagde lagi, kaha kya Allah ke baare mein mujhse jhagte ho to woh mujhe raah bata chuka aur mujhe unka darr nahin jinhain tum shareek batate ho, haan jo mera hi Rab koi baat chahe, mera Rab ka ilm har cheez ko moheet hai, to kya tum naseehat nahin maante
(ف169)اپنی توحید و معرفت کی ۔(ف170)کیونکہ وہ بے جان بُت ہیں نہ ضرر دے سکتے ہیں نہ نفع پہنچا سکتے ہیں ، ان سے کیا ڈرنا ، یہ آپ نے مشرکین سے جواب میں فرمایا تھا جنہوں نے آپ سے کہا تھا کہ بُتوں سے ڈرو ان کے بُرا کہنے سے کہیں آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچ جائے ۔(ف171)وہ ہو گی کیونکہ میرا ربّ قادرِ مطلق ہے ۔
اور میں تمہارے شریکوں سے کیونکر ڈروں (ف۱۷۲) اور تم نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کا شریک اس کو ٹھہرایا جس کی تم پر اس نے کوئی سند نہ اتاری، تو دونوں گروہوں میں امان کا زیادہ سزا وار کون ہے (ف۱۷۳) اگر تم جانتے ہو،
“And how should I fear whatever you ascribe as partners, whilst you do not fear that you have ascribed partners to Allah – for which He has not sent down on you any proof? So which of the two groups has more right to refuge, if you know?”
वह जो ईमान लाए और अपने ईमान में किसी नाहक़ की आमेज़िश न की उनहीं के लिए अमान है और वही राह पर हैं,
Aur main tumhare shareekon se kyun kar daroon aur tum nahin darte ke tumne Allah ka shareek usko thehraya jiski tum par usne koi sanad na utari, to dono girohon mein amaan ka zyada sazaawar kaun hai agar tum jaante ho
(ف172)جو بے جان جَماد اور عاجزِ مَحض ہیں ۔(ف173)مُوحِّد یا مشرک ۔
اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر عطا فرمائی، ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں (ف۱۷٤) بیشک تمہارا رب علم و حکمت والا ہے
And this is Our argument, which We gave Ibrahim against his people; We raise to high ranks whomever We will; indeed your Lord is Wise, All Knowing.
और हम ने उन्हें इसहाक़ और याक़ूब अता किए, उन सब को हम ने राह दिखायी और उन से पहले नूह को राह दिखायी और उस की औलाद में से दाऊद और सुलेमान और अय्यूब और यूसुफ़ और मूसा और हारून को, और हम ऐसा ही बदला देते हैं नेकोकारों को,
Aur ye hamari daleel hai ke humne Ibraheem ko uski qaum par ata farmai, hum jise chahein darjon buland karein, beshak tumhara Rab ilm o hikmat wala hai
(ف174)علم و عقل و فہم و فضیلت کے ساتھ جیسے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درجے بلند فرمائے ، دنیا میں علم و حکمت و نبوّت کے ساتھ اور آخرت میں قرب و ثواب کے ساتھ ۔
اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ان سب کو ہم نے راہ دکھائی اور ان سے پہلے نوح کو راہ دکھائی اور میں اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو، اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو،
And We bestowed upon him Ishaq (Isaac) and Yaqub (Jacob); We guided all of them; and We guided Nooh before them and of his descendants, Dawud and Sulaiman and Ayyub and Yusuf and Moosa and Haroon; and this is the way We reward the virtuous.
और ज़करिया और याह्या और ईसा और इलयास को यह सब हमारे क़ुर्ब के लायक़ हैं
Aur humne unhein Ishaq aur Yaqoob ata kiye, un sab ko humne raah dikhayi aur unse pehle Nooh ko raah dikhayi aur unki aulaad mein se Daood aur Sulaiman aur Ayub aur Yusuf aur Moosa aur Haroon ko, aur hum aisa hi badla dete hain nekokaron ko
اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو یہ سب ہمارے قرب کے لائق ہیں
And (We guided) Zakaria and Yahya (John) and Eisa and Elias; all these are worthy of Our proximity.
और इस्माईल और यसअ और यूनुस और लूत को, और हम ने हर एक को उस के वक्त में सब पर फ़ज़ीलत दी और कुछ उनके बाप-दादा और औलाद और भाइयों में से, और हम ने उन्हें चुन लिया और सीधी राह दिखायी,
Aur Zakariya aur Yahya aur Isa aur Ilyas ko, ye sab hamare qurb ke laayiq hain
اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو، اور ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر
And Ismael (Ishmael) and Yasa’a (Elisha) and Yunus (Jonah) and Lut (Lot); and to each one during their times, We gave excellence over all others.
यह अल्लाह की हिदायत है कि अपने बन्दों में जिसे चाहे दे, और अगर वह शिर्क करते तो ज़रूर उनका किया अकारत जाता,
Aur Ismaeel aur Yasa aur Yunus aur Loot ko, aur humne har ek ko uske waqt mein sab par fazilat di aur kuch unke baap dada aur aulaad aur bhaiyon mein se baaz ko, aur humne unhein chun liya aur seedhi raah dikhayi
(ف175)نبوّت و رسالت کے ساتھ ۔مسئلہ : اس آیت سے اس پر سند لائی جاتی ہے کہ انبیاء ملائکہ سے افضل ہیں کیونکہ عالَم اللہ کے سوا تمام موجودات کو شامل ہے ، فرشتے بھی اس میں داخل ہیں تو جب تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو ملائکہ پر بھی فضیلت ثابت ہو گئی ، یہاں اللہ تعالٰی نے اٹھارہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور اس ذکر میں ترتیب نہ زمانہ کے اعتبار سے ہے نہ فضیلت کے ، نہ واو ترتیب کا مقتضی لیکن جس شان سے کہ انبیاء علیہم السلام کے اسماء ذکر فرمائے گئے اس میں ایک عجیب لطیفہ ہے وہ یہ کہ اللہ تعالٰی نے انبیاء کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا تو حضرت نوح و ابراہیم و اسحٰق و یعقوب کا اوّل ذکر کیا کیونکہ یہ انبیاء کے اُصول ہیں یعنی ان کی اولاد میں بکثرت انبیاء ہوئے جن کے اَنساب انہیں کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ نبوّت کے بعد مراتبِ معتبرہ میں سے مُلک و اختیار و سلطنت و اقتدار ہے ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت داؤد و سلیمان کو اس کا حَظِّ وافر دیا اور مراتبِ رفیعہ میں سے مصیبت و بلاء پر صابر رہنا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت ایوب کو اس کے ساتھ ممتاز فرمایا پھر مُلک و صبر کے دونوں مرتبے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کو عنایت کئے کہ آپ نے شدّت و بلاء پر مدتوں صبر فرمایا پھر اللہ تعالٰی نے نبوّت کے ساتھ مُلکِ مِصر عطا کیا ۔ کثرتِ معجزات و قوتِ بَراہین بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی و ہارون کو اس کے ساتھ مشرف کیا ۔ زُہد و ترکِ دنیا بھی مراتبِ معتبرہ میں سے ہے ۔ حضرت زکریا و یحیٰی و عیسٰی و الیاس کو اس کے ساتھ مخصوص فرمایا ، ان حضرات کے بعد اللہ تعالٰی نے ان انبیاء کا ذکر فرمایا کہ جن کے نہ مُتّبِعین باقی رہے نہ ان کی شریعت جیسے کہ حضرت اسمٰعیل ، یسع ، یونس ، لوط علیہم الصلٰوۃ والسلام ۔ اس شان سے انبیاء کا ذکر فرمانے میں ان کی کرامتوں اور خصوصیتوں کا ایک عجیب لطیفہ نظر آتا ہے ۔
یہ اللہ کی ہدایت ہے کہ اپنے بندوں میں جسے چاہے دے، اور اگر وہ شرک کرتے تو ضرور ان کا کیا اکارت جاتا،
This is the guidance of Allah, which He may give to whomever He wills among His bondmen; and had they ascribed partners (to Allah), their deeds would have been wasted.
यह हैं जिन को अल्लाह ने हिदायत दी तो तुम उन्हीं की राह चलो, तुम फ़रमाओ मैं क़ुरआन पर तुम से कोई अज्र नहीं माँगता, वह तो नहीं मगर नसीहत सारे जहान को
Ye hain jinko humne kitaab aur hukm aur nubuwwat ata ki, to agar ye log is se munkir hon to humne iske liye ek aisi qaum laga rakhi hai jo inkaar wali nahin
یہ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تو اگر یہ لوگ (ف۱۷۷) اس سے منکر ہوں تو ہم نے اس کیلئے ایک ایسی قوم لگا رکھی ہے جو انکار والی نہیں (ف۱۷۸)
These are the ones whom We gave the Book and the wisdom and the Prophethood; so if these people do not believe in it, We have then kept ready for it a nation who do not reject (the truth).
और यहूद ने अल्लाह की क़द्र न जानी जैसी चाहिए थी, जब बोले अल्लाह ने किसी आदमी पर कुछ नहीं उतारा, तुम फ़रमाओ किस ने उतारी वह किताब जो मूसा लाए थे रोशनी और लोगों के लिए हिदायत, जिस के तुम ने अलग-अलग काग़ज़ बना लिए, ज़ाहिर करते हो और बहुत-से छुपा लेते हो, और तुम्हें वह सिखाया जाता है जो न तुम को मालूम था न तुम्हारे बाप-दादा को, अल्लाह कहो फिर उन्हें छोड़ दो उनकी बे-हूदगी में उन्हें खेलता,
Ye hain jinko Allah ne hidayat ki to tum unhi ki raah chalo, tum farmao main Qur’an par tumse koi ujrat nahin mangta, woh to nahin magar naseehat saare jahan ko
(ف177)یعنی اہلِ مکّہ ۔(ف178)اس قوم سے یا انصار مراد ہیں یا مہاجرین یا تمام اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا حضور پر ایمان لانے والے سب لوگ ۔فائدہ : اس آیت میں دلالت ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نُصرت فرمائے گا اور آپ کی دین کو قوت دے گا اور اس کو تمام اَدیان پر غالب کرے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ غیبی خبر واقع ہو گئی ۔
یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو (ف۱۷۹) تم فرماؤ میں قرآن پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کو (ف۱۸۰)
These are the ones whom Allah guided, so follow their guidance; say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “I do not ask from you any fee for the Qur’an; it is nothing but an advice to the entire world.”
और यह है बरकत वाली किताब कि हम ने उतारी, तसदीक़ फरमाती उन किताबों की जो आगे थीं और इस लिए कि तुम डर सुनाओ सब बस्तियों के सरदार को और जो कोई सारे जहान में उस के गर्द हैं, और जो आख़िरत पर ईमान लाते हैं उस किताब पर ईमान लाते हैं और अपनी नमाज़ की हिफ़ाज़त करते हैं,
Aur Yahood ne Allah ki qadr na jaani jaisi chahiye thi jab bole Allah ne kisi aadmi par kuch nahin utara, tum farmao kisne utari woh kitaab jo Moosa laaye the roshni aur logon ke liye
Hidayat jis ke tum ne alag alag kagaz bana liye zahir karte ho aur bohot se chhupa lete ho aur tumhe woh sikhaya jata hai jo na tum ko maloom tha na tumhare baap dada ko, Allah kaho phir unhein chhod do un ki behoodgi mein unhein khelta
(ف179)مسئلہ : عُلَمائے دین نے اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں کیونکہ خِصالِ کمال و اوصافِ شرف جو جُدا جُدا انبیاء کو عطا فرمائے گئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سب کو جمع فرما دیا اور آپ کو حکم دیا فَبِھُدٰھُمُ اقْتَدِہْ تو جب آپ تمام ا نبیاء کے اوصافِ کمالیہ کے جامع ہیں تو بے شک سب سے افضل ہوئے ۔(ف180)اس آیت سے ثابت ہوا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم تمام خَلق کی طرف مبعوث ہیں اور آپ کی دعوت تمام خَلق کو عام اور کل جہان آپ کی اُمّت ۔ (خازن)
اور یہود نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی (ف۱۸۱) جب بولے اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا، تم فرماؤ کس نے اتاری وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے روشنی اور لوگوں کے لیے ہدایت جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے ظاہر کرتے ہو (ف۱۸۲) اور بہت سے چھپالیتے ہو (ف۱۸۳) اور تمہیں وہ سکھایا جاتا ہے (ف۱۸٤) جو نہ تم کو معلوم تھا نہ تمہارے باپ دادا کو، اللہ کہو (ف۱۸۵) پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں انہیں کھیلتا (ف۱۸٦)
And they (the Jews) did not realise (or appreciate) the importance of Allah as was required when they said, “Allah has not sent down anything upon any human being”; say, “Who has sent down the Book which Moosa brought, a light and guidance for mankind, which you have divided into different papers, some which you show and hide most of them? And (by which) you are taught what you did not know nor did your forefathers?” Say, “Allah” – then leave them playing in their indecency.
और उस से बढ़ कर ज़ालिम कौन जो अल्लाह पर झूट बाँधे या कहे मुझे वही हुई और उस को कुछ वही न हुई, और जो कहे अभी मैं उतारता हूँ ऐसा जैसा अल्लाह ने उतारा, और कभी तुम देखो जिस वक्त ज़ालिम मौत की सख़्तियों में हैं और फ़रिश्ते हाथ फैलाते हुए हैं कि निकालो अपनी जानें, आज तुम्हें ख़्वारी का अज़ाब दिया जाएगा बदला उस का कि अल्लाह पर झूट लगाते थे और उस की आयतों से तकब्बुर करते,
Aur yeh hai barkat wali kitaab ke hum ne utari tasdeeq farmati un kitaabon ki jo aage thin aur is liye ke tum dar sunao sab bastiyon ke sardaar ko aur jo koi sare jahan mein us ke gird hain aur jo aakhirat par imaan laate hain is kitaab par imaan laate hain aur apni namaz ki hifazat karte hain,
(ف181)اور اس کی معرفت سے محروم رہے اور اپنے بندوں پر اس کو جو رحمت و کرم ہے اس کو نہ جانا ۔شانِ نُزول : یہود کی ایک جمات اپنے حِبرُ الاَحبار مالک ابنِ صیف کو لے کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سےمجادلہ کرنے آئی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تجھے اس پروردگار کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسٰی علیہ السلام پر توریت نازل فرمائی ، کیا توریت میں تو نے یہ دیکھا ہے اِنَّ اللَّٰہَ یَبْغَضُ الْحِبْرَ السَّمِیْنَ یعنی اللہ کو موٹا عالِم مبغوض ہے ؟ کہنے لگا ہاں یہ توریت میں ہے ، حضور نے فرمایا تو موٹا عالِم ہی تو ہے اس پر غضبناک ہو کر کہنے لگا کہ اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اُتارا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اس میں فرمایا گیا کس نے اُتاری وہ کتاب جو موسٰی لائے تھے تو وہ لاجواب ہوا اور یہود اس سے برہم ہوئے اور اس کو جھڑکنے لگے اور اس کو حِبْر کے عہدہ سے معزول کر دیا ۔ (مدارک و خازن)(ف182)ان میں سے بعض کو جس کا اظہار اپنی خواہش کے مطابق سمجھتے ہو ۔(ف183)جو تمہاری خواہش کے خلاف کرتے ہیں جیسے کہ توریت کے وہ مضامین جن میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صفت مذکور ہے ۔(ف184)سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور قرآنِ کریم سے ۔(ف185)یعنی جب وہ اس کا جواب نہ دے سکیں کہ وہ کتاب کس نے اُتاری تو آپ فرما دیجئے اللہ نے ۔(ف186)کیونکہ جب آپ نے حُجّت قائم کر دی اور انداز و نصیحت نہایت کو پہنچا دی اور ان کے لئے جائے عذر نہ چھوڑی ، اس پر بھی وہ باز نہ آئیں تو انہیں ان کی بے ہودگی میں چھوڑ دیجئے ۔ یہ کُفّار کے حق میں وعید و تہدید ہے ۔
اور یہ ہے برکت والی کتاب کہ ہم نے اتاری (ف۱۸۷) تصدیق فرماتی ان کتابوں کی جو آگے تھیں اور اس لیے کہ تم ڈر سناؤ سب بستیوں کے سردار کو (ف۱۸۸) اور جو کوئی سارے جہاں میں اس کے گرد ہیں اور جو آخرت پر ایمان لاتے ہیں (ف۱۸۹) اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں،
And this is the blessed Book which We have sent down, confirming the Books preceding it, and in order that you may warn the leader of all villages and all those around it in the entire world; and those who believe in the Hereafter accept faith in this Book, and guard their prayers.
और बेशक तुम हमारे पास अकेले आए जैसा हम ने तुम्हें पहली बार पैदा किया था और पीठ पीछे छोड़ आए जो माल व मताअ हम ने तुम्हें दिया था और हम तुम्हारे साथ तुम्हारे उन सिफ़ारिशियों को नहीं देखते जिन का तुम अपने में साज़ा बताते थे, बेशक तुम्हारे आपस की डोर कट गयी और तुम से गए जो दावे करते थे
Aur is se barh kar zalim kaun jo Allah par jhoot baandhe ya kahe mujhe wahi hui aur use kuch wahi na hui aur jo kahe abhi main utarta hoon aisa jaisa Allah ne utara aur kabhi tum dekho jis waqt zalim mout ki sakhtiyon mein hain aur farishte haath phelate hue hain ke nikalo apni jaanen, aaj tumhe khwari ka azaab diya jaye ga badla is ka ke Allah par jhoot lagate the aur us ki aayaton se takabbur karte,
(ف187)یعنی قرآن شریف ۔(ف188)اُمُّ القُرٰی مکّہ مکرّمہ ہے کیونکہ وہ تمام زمین والوں کا قبلہ ہے ۔(ف189)اور قیامت و آخرت اور مرنے کے بعد اُٹھنے کا یقین رکھتے ہیں اور اپنے انجام سے غافل و بے خبر نہیں ہیں ۔
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۹۰) یا کہے مجھے وحی ہوئی اور اسے کچھ وحی نہ ہوئی (ف۱۹۱) اور جو کہے ابھی میں اتارتا ہوں ایسا جیسا اللہ نے اتارا (ف۱۹۲) اور کبھی تم دیکھوں جس وقت ظالم موت کی سختیوں میں ہیں اور فرشتے ہاتھ پھیلاتے ہوئے ہیں (ف۱۹۳) کہ نکالو اپنی جانیں، آج تمہیں خواری کا عذاب دیا جائے گا بدلہ اس کا کہ اللہ پر جھوٹ لگاتے تھے (ف۱۹٤) اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے،
Who is more unjust than one who fabricates lies against Allah or says, “I have received divine inspiration”, whereas he has not been inspired at all – and one who says, “I will now reveal something similar to what Allah has sent down”? And if you see when the unjust are in the throes of death and the angels are with their hands outstretched; (saying) “Surrender your souls; this day you shall be given a disgraceful punishment – the recompense of your fabricating lies against Allah, and your scorning His signs.”
बेशक अल्लाह दाने और गुठली को चीरने वाला है, ज़िन्दा को मुर्दा से निकालने और मुर्दा को ज़िन्दा से निकालने वाला, यह है अल्लाह, तुम कहाँ औंधे जाते हो
Aur beshak tum humare paas akele aaye jaisa hum ne tumhe pehli baar paida kiya tha aur peeth peeche chhod aaye jo maal o mataa hum ne tumhe diya tha aur hum tumhare saath tumhare un safarshiyon ko nahi dekhte jin ka tum apne mein saajha batate the beshak tumhare aapas ki door kat gayi aur tum se gaye jo daaway karte the
(ف190)اور نبوّت کا جھوٹا دعوٰی کرے ۔(ف191)شانِ نُزول : یہ آیت مُسَیلمہ کَذّاب کے بارے میں نازل ہوئی جس نے یَمامہ عَلاقۂ یمن میں نبوّت کا جھوٹا دعوٰی کیا تھا ۔ قبیلۂ بنی حنیفہ کے چند لوگ اس کے فریب میں آ گئے تھے یہ کذّاب زمانۂ خلافتِ حضرت ابو بکر صدیق میں وحشی قاتلِ امیرِ حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے قتل ہوا ۔(ف192)شانِ نُزول : یہ عبداللہ بن ابی سرح کاتِبِ وحی کے حق میں نازل ہوئی ۔ جب آیت وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ نازل ہوئی اس نے اس کو لکھا اور آخر تک پہنچتے پہنچتے پیدائشِ انسان کی تفصیل پر مطلع ہو کر متعجب ہوا اور اس حالت میں آیت کا آخر فَتَبَارَکَ اللّٰہ ُاَحْسَنُ الْخَالِقِیْن بے اختیار اس کی زبان پر جاری ہو گیا ، اس پر اس کو یہ گھمنڈ ہوا کہ مجھ پر وحی آنے لگی اور مرتد ہو گیا ، یہ نہ سمجھا کہ نورِ وحی اور قوت و حُسنِ کلام سے آیت کا آخر کلمہ زبان پر آ گیا ، اس میں اس کی قابلیت کا کوئی دخل نہ تھا زورِ کلام خود اپنے آخر کو بتا دیا کرتا ہے جیسے کبھی کوئی شاعر نفیس مضمون پڑھے وہ مضمون خود قافیہ بتا دیتا ہے اور سننے والے شاعر سے پہلے قافیہ پڑھ دیتے ہیں ، ان میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہرگز ویسا شعر کہنے پر قادر نہیں تو قافیہ بتانا ان کی قابلیّت نہیں کلام کی قوت ہے اور یہاں تو نورِ وحی اور نورِ نبی سے سینہ میں روشنی آتی تھی چنانچہ مجلس شریف سے جُدا ہونے اور مرتد ہو جانے کے بعد پھر وہ ایک جملہ بھی ایسا بنانے پر قادر نہ ہوا جو نظمِ قرآنی سے مل سکتا ، آخر کار زمانۂ اقدس ہی میں قبل فتحِ مکّہ پھر اسلام سے مشرف ہوا ۔(ف193)اَرواح قبض کرنے کے لئے جھڑکتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں ۔(ف194)نبوّت اور وحی کے جھوٹے دعوے کر کے اور اللہ کے لئے شریک اور بی بی بچے بتا کر ۔
اور بیشک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا (ف۱۹۵) اور پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے جو مال و متاع ہم نے تمہیں دیا تھا اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو نہیں دیکھتے جن کا تم اپنے میں ساجھا بتاتے تھے (ف۱۹٦) بیشک تمہارے آپس کی ڈور کٹ گئی (ف۱۹۷) اور تم سے گئے جو دعوے کرتے تھے (ف۱۹۸)
“And indeed you (the disbelievers) have now come to Us alone as We had created you at first, and you have left behind you all the wealth and riches We had bestowed upon you; and We do not see your intercessors along with you, whom you claimed to possess a share in you; indeed the link between yourselves is cut off, and you have lost all what you contended.”
तारीकी चाक कर के सुबह निकालने वाला और उस ने रात को चैन बनाया और सूरज और चाँद को हिसाब, यह सधा हुआ है ज़बरदस्त जानने वाले का,
Beshak Allah daane aur guthli ko cheerne wala hai zinda ko murda se nikalne aur murda ko zinda se nikalne wala yeh hai Allah tum kahan oondhe jaate ho
(ف195)نہ تمہارے ساتھ مال ہے نہ جاہ ، نہ اولاد جن کی مَحبت میں تم عمر بھر گرفتار رہے ، نہ وہ بُت جنہیں پُوجا کئے ، آج ان میں سے کوئی تمہارے کام نہ آیا ، یہ کُفّار سے روزِ قیامت فرمایا جاو ے گا ۔(ف196)کہ وہ عبادت کے حقدار ہونے میں اللہ کے شریک ہیں ۔ (معاذ اللّٰہ)(ف197)اور علاقے ٹوٹ گئے ، جماعت منتشر ہو گئی ۔(ف198)تمہارے وہ تمام جُھوٹے دعوے جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے باطل ہو گئے ۔
بیشک اللہ دانے اور گٹھلی کو چیر نے والا ہے (ف۱۹۹) زندہ کو مردہ سے نکالنے (ف۲۰۰) اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا (ف۲۰۱) یہ ہے اللہ تم کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۲۰۲)
Indeed it is Allah Who splits the grain and the seed; it is He Who brings forth living from the dead, and it is He Who brings forth dead from the living; such is Allah; so where are you reverting?
और वही है जिस ने तुम्हारे लिए तारे बनाए कि उन से राह पाओ ख़ुश्की और तरी के अंधेरों में, हम ने निशानियाँ मुफ़स्सल बयान कर दीं इल्म वालों के लिए,
Tareeki chaak kar ke subah nikalne wala aur us ne raat ko chain banaya aur sooraj aur chaand ko hisaab yeh saadha (sidhaya hua) hai zabardast jaan-ne wale ka,
(ف199)توحید و نبوّت کے بیان کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنے کمالِ قدرت و علم و حکمت کے دلائل ذکر فرمائے کیونکہ مقصودِ اعظم اللہ سبحانہ اور اس کے تمام صفات و افعال کی معرفت ہے اور یہ جاننا کہ وہی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے اور جو ایسا ہو وہی مستحقِ عبادت ہو سکتا ہے ، نہ کہ وہ بُت جنہیں مشرکین پُوجتے ہیں ۔ خشک دانہ اور گٹھلی کو چیر کر ان سے سبزہ اور درخت پیدا کرنا اور ایسی سنگلاخ زمینوں میں ان کے نرم ریشوں کو رواں کرنا جہاں آہنی میخ بھی کام نہ کر سکے اس کی قدرت کے کیسے عجائبات ہیں ۔(ف200)جاندار سبزہ کو بے جان دانے اور گٹھلی سے اور انسان و حیوان کو نُطفہ سے اور پرند کو انڈے سے ۔(ف201)جاندار درخت سے بے جان گُٹھلی اور دانہ کو اور انسان و حیوان سے نُطفہ کو اور پرندے سے انڈے کو یہ اس کے عجائبِ قدرت و حکمت ہیں ۔(ف202)اور ایسے براہین قائم ہونے کے بعد کیوں ایمان نہیں لا تے اور موت کے بعد اٹھنے کا یقین نہیں کرتے ، جو بے جان نُطفہ سے جاندار حیوان پیدا کرتا ہے اس کی قدرت سے مُردہ کو زندہ کرنا کیا بعید ہے ۔
تاریکی چاک کرکے صبح نکالنے والا اور اس نے رات کو چین بنایا (ف۲۰۳) اور سورج اور چاند کو حساب (ف۲۰٤) یہ سادھا (سدھایا ہوا) ہے زبردست جاننے والے کا،
It is He Who breaks dawn (by splitting the dark); and He has made the night a calmness, and the sun and the moon a count (for time); this is the command set by the Almighty, the All Knowing.
और वही है जिस ने तुम को एक जान से पैदा किया, फिर कहीं तुम्हें ठहरना है और कहीं अमानत रहना, बेशक हम ने मुफ़स्सल आयतें बयान कर दीं समझ वालों के लिए,
Aur wahi hai jis ne tumhare liye taare banaye ke un se raah pao khushki aur tari ke andheron mein, hum ne nishaniyan mufassal bayan kar di ilmu walon ke liye,
(ف203)کہ خَلق اس میں چین پا تی ہے اور دن کی تَکان و ماندگی کو استراحت سے دور کرتی ہے اور شب بیدار زاہد تنہائی میں اپنے ربّ کی عبادت سے چین پا تے ہیں ۔(ف204)کہ ان کے دورے اور سیر سے عبادات و معاملات کے اوقات معلوم ہوں ۔
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تارے بنائے کہ ان سے راہ پاؤ خشکی اور تری کے اندھیروں میں، ہم نے نشانیاں مفصل بیان کردیں علم والوں کے لیے،
And it is He Who has created the stars for you, so that you may find your way by them in the darkness of the land and the sea; indeed We have explained Our verses in detail for the people of knowledge.
और वही है जिस ने आसमान से पानी उतारा, तो हम ने उस से हर उगने वाली चीज़ निकाली, तो हम ने उस से निकाली सब्ज़ी जिस में से दाने निकालते हैं एक दूसरे पर चढ़े हुए और खजूर के गाभे से पास-पास गुच्छे और अंगूर के बाग़ और ज़ैतून और अनार, किसी बात में मिलते और किसी बात में अलग, उस का फल देखो जब फले और उस का पकना, बेशक उस में निशानियाँ हैं ईमान वालों के लिए,
Aur wahi hai jis ne tum ko ek jaan se paida kiya phir kahin tumhe thehrna hai aur kahin amaanat rehna beshak hum ne mufassal aayatein bayan kar di samajh walon ke liye,
اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا (ف۲۰۵) پھر کہیں تمہیں ٹھہرنا ہے (ف۲۰٦) اور کہیں امانت رہنا (ف۲۰۷) بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کے لیے،
And it is He Who has created you from a single soul – then you have to stop over* in one place and stay entrusted** in another; indeed We have explained Our verses in detail for people of understanding. (* This earth. ** The grave.)
और अल्लाह का शरीक ठहराया जिन्नों को, हालाँकि उसी ने उन को बनाया, और उस के लिए बेटे और बेटियाँ गढ़ लीं जहालत से, पाकी और बर्तरी है उस को उनकी बातों से,
Aur wahi hai jis ne aasman se paani utara, to hum ne us se har ugne wali cheez nikali to hum ne us se nikali sabzi jis mein se daane nikalte hain ek doosre par chadhe hue aur khajoor ke gaabhe se paas paas gucche aur angoor ke baagh aur zaitoon aur anaar kisi baat mein milte aur kisi baat mein alag, us ka phal dekho jab phale aur us ka pakna beshak is mein nishaniyan hain imaan walon ke liye,
(ف205)یعنی حضرت آدم سے ۔(ف206)ماں کے رِحم میں یا زمین کے اوپر ۔(ف207)باپ کی پُشت میں یا قبر کے اندر ۔
اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا، تو ہم نے اس سے ہر اُگنے والی چیز نکالی (ف۲۰۸) تو ہم نے اس سے نکالی سبزی جس میں سے دانے نکالتے ہیں ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور کھجور کے گابھے سے پاس پاس گچھے اور انگور کے باغ اور زیتون اور انار کسی بات میں ملتے اور کسی بات میں الگ، اس کا پھل دیکھو جب پھلے اور اس کا پکنا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے ،
And it is He Who sends down water from the sky; so with it We produced all things that grow; hence We produce from it vegetation from which We bring forth grains in clusters; and from the pollen of dates, dense bunches – and gardens of grapes and olives and pomegranates, similar in some ways and unlike in some; look at its fruit when it bears yield, and its ripening; indeed in it are signs for the people who believe.
बे-किसी नमूने के आसमानों और ज़मीन का बनाने वाला, उस का बच्चा कहाँ से हो हालाँकि उस की औरत नहीं और उस ने हर चीज़ पैदा की और वह सब कुछ जानता है,
Aur Allah ka shareek thehraya jinno ko halanke usi ne un ko banaya aur us ke liye betay aur betiyan garh li jaahalat se, paaki aur bartri hai us ko un ki baton se,
(ف208)پانی ایک اور اس سے جو چیزیں اُگائیں وہ قِسم قِسم اور رنگارنگ ۔
اور (ف۲۰۹) اللہ کا شریک ٹھہرایا جنوں کو (ف۲۱۰) حالانکہ اسی نے ان کو بنایا اور اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گڑھ لیں جہالت سے، پاکی اور برتری ہے اس کو ان کی باتوں سے،
And out of sheer ignorance they have ascribed jinns as partners of Allah, whereas it is He Who created them, and they have invented sons and daughters for Him! Purity and Supremacy is to Him, from all what they ascribe.
यह है अल्लाह तुम्हारा रब और उस के सिवा किसी की बन्दगी नहीं, हर चीज़ का बनाने वाला तो उसे पूजो, वह हर चीज़ पर निगहबान है
Be kisi namoona ke aasmanon aur zameen ka banane wala, us ke bacha kahan se ho halanke us ki aurat nahi aur us ne har cheez paida ki aur woh sab kuch jaanta hai,
(ف209)باوجودیکہ ان دلائلِ قدرت و عجائبِ حکمت اور اس انعام و اکرام اور ان نعمتوں کے پیدا کرنے اور عطا فرمانے کا اِقتضاء تھا کہ اس کریم کارساز پر ایمان لاتے بجائے اس کے بُت پرستوں نے یہ ستم کیا (جو آیت میں آگے مذکور ہے)کہ ۔(ف210)کہ ان کی اطاعت کر کے بُت پرست ہو گئے ۔
بےکسی نمو نہ کے آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، اسکے بچہ کہاں سے ہو حالانکہ اس کی عورت نہیں (ف۲۱۱) اور اس نے ہر چیز پیدا کی (ف۲۱۲) اور وہ سب کچھ جانتا ہے،
The Originator of the heavens and the earth; how can He possibly have a child when, in fact, He does not have a spouse? And He has created all things; and He knows everything.
आँखें उसे एहाता नहीं करतीं और सब आँखें उस के एहाता में हैं और वही है पूरा बातिन पूरा ख़बरदार,
Yeh hai Allah tumhara Rab aur us ke siwa kisi ki bandagi nahi har cheez ka banane wala to use poojo woh har cheez par nigehbaan hai
(ف211)اور بے عورت اولاد نہیں ہوتی اور زوجہ اس کی شان کے لائق نہیں کیونکہ کوئی شے اس کی مثل نہیں ۔(ف212)تو جو ہے وہ اس کی مخلوق ہے اور مخلوق اولاد نہیں ہو سکتی تو کسی مخلوق کو اولاد بتانا باطل ہے ۔
یہ ہے اللہ تمہارا رب (ف۲۱۳) اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہر چیز کا بنانے والا تو اسے پوجو وہ ہر چیز پر نگہبان ہے (ف۲۱٤)
Such is Allah, your Lord; and none is worthy of worship except Him; the Creator of all things – therefore worship Him; and He is the Trustee over all things.
तुम्हारे पास आँखें खोलने वाली दलीलें आयीं तुम्हारे रब की तरफ़ से, तो जिस ने देखा तो अपने भले को और जो अंधा हुआ अपने बुरे को, और मैं तुम पर निगहबान नहीं,
Aankhen use ihata nahi karteen aur sab aankhen us ke ihata mein hain aur wahi hai poora baatin poora khabardaar,
(ف213)جس کے صفات مذکور ہوئے اور جس کے یہ صفات ہوں وہی مستحقِ عبادت ہیں ۔(ف214)خواہ وہ رزق ہو یا اَجَل یا حمل ۔
آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں (ف۲۱۵) اور سب آنکھیں اس کے احاطہ میں ہیں اور وہی ہے پورا باطن پورا خبردار،
Eyes do not encompass Him – and all eyes are within His domain*; He is the Most Subtle, the Fully Aware. (* control / knowledge)
और हम इसी तरह आयतें तरह-तरह से बयान करते और इस लिए कि काफ़िर बोल उठें कि तुम तो पढ़े हो, और इस लिए कि उसे इल्म वालों पर वाज़ेह कर दें,
Tumhare paas aankhen kholne wali daleelein aayin tumhare Rab ki taraf se to jis ne dekha to apne bhale ko aur jo andha hua apne bure ko, aur main tum par nigehbaan nahi,
(ف215)مسائل : اِدراک کے معنٰی ہیں مَرئی کے جوانِب و حدود پر واقف ہونا اسی کو اِحاطہ کہتے ہیں ۔ ادراک کی یہی تفسیر حضرت سعید ابنِ مسیّب اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے منقول ہے اور جمہور مفسِّرین ادراک کی تفسیر احاطہ سے فرماتے ہیں اور احاطہ اسی چیز کا ہو سکتا ہے جس کے حدود و جہات ہوں ، اللہ تعالٰی کے لئے حد و جِہت محال ہے تو اس کا ادراک و احاطہ بھی ناممکن ، یہی مذہب ہے اہلِ سُنّت کا ، خوارج و معتزِلہ وغیرہ گمراہ فرقے ادراک اور رویت میں فرق نہیں کرتے اس لئے وہ اس گمراہی میں مبتلا ہو گئے کہ انہوں نے دیدارِ الٰہی کو محالِ عقلی قرار دے دیا باوجودیکہ نفیٔ رویت نفیٔ علم کو مستلزم ہے ورنہ جیسا کہ باری تعالٰی بخلاف تمام موجودات کے بلا کیفیت و جِہت جانا جا سکتا ہے ایسے ہی دیکھا بھی جا سکتا ہے کیونکہ اگر دوسری موجودات بغیر کیفیت و جِہت کے دیکھی نہیں جا سکتی تو جانی بھی نہیں جا سکتی ، راز اس کا یہ ہے کہ رویت و دید کے معنٰی یہ ہیں کہ بصر کسی شئے کو جیسی کہ وہ ہو ویسا جانے تو جو شئے جِہت والی ہو گی اس کی رویت و دید جِہت میں ہو گی اور جس کے لئے جِہت نہ ہو گی اس کی دید بے جہت ہو گی ۔دیدارِ الٰہی : آخرت میں اللہ تعالٰی کا دیدار مومنین کے لئے اہلِ سُنّت کا عقیدہ اور قرآن و حدیث و اِجماعِ صحابہ و سلفِ اُمّت کے دلائلِ کثیرہ سے ثابت ہے ۔ قرآنِ کریم میں فرمایا وُجُوہ ُ یَّوْمَئِذٍ نَاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ اس سے ثابت ہے کہ مومنین کو روزِ قیامت ان کے ربّ کا دیدار میسّر ہو گا ، اس کے علاوہ اور بہت آیات اور صحاح کی کثیر احادیث سے ثابت ہے ۔ اگر دیدارِ الٰہی ناممکن ہوتا تو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام دیدار کا سوال نہ فرماتے ۔ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرُ اِلَیْکَ ارشاد نہ کرتے اور ان کے جواب میں اِنِ اسۡتقَرَّ مَکَانَہ فَسَوْفَ تَرَانِیْ نہ فرمایا جاتا ۔ ان دلائل سے ثابت ہو گیا کہ آخرت میں مؤمنین کے لئے دیدارِ الٰہی شرع میں ثابت ہے اور اس کا انکار گمراہی ۔
تمہارے پاس آنکھیں کھولنے والی دلیلیں آئیں تمہارے رب کی طرف سے تو جس نے دیکھا تو اپنے بھلے کو اور جو اندھا ہوا اپنے برُے کو، اور میں تم پر نگہبان نہیں،
“Enlightening proofs came to you from your Lord; so whoever observes, it is for his own good; and whoever is blind, it is for his own harm; and I am not a guardian over you.”
उस पर चलो जो तुम्हें तुम्हारे रब की तरफ़ से वही होती है, उस के सिवा कोई माबूद नहीं और मुशरिकों से मुँह फेर लो
Aur hum isi tarah aayatein tarah tarah se bayan karte aur is liye ke kafir bol uthain ke tum to padhe ho aur is liye ke use ilmu walon par wazeh kar dein,
اور ہم اسی طرح آیتیں طرح طرح سے بیان کرتے (ف۲۱٦) اور اس لیے کہ کافر بول اٹھیں کہ تم تو پڑھے ہو اور اس لیے کہ اسے علم والوں پر واضح کردیں،
And this is how We explain Our verses in different ways that they (the disbelievers) may say to you, (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “You have studied” – and to make it clear for the people of knowledge.
और अल्लाह चाहता तो वह शिर्क नहीं करते, और हम ने तुम्हें उन पर निगहबान नहीं किया और तुम उन पर कड़ौड़े (हाकिम-ए-आला) नहीं,
Is par chalo jo tumhe tumhare Rab ki taraf se wahi hoti hai us ke siwa koi maabood nahi aur mushrikon se munh pher lo
اس پر چلو جو تمہیں تمہارے رب کی طرف سے وحی ہوتی ہے (ف۲۱۷) اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے منہ پھیر لو
Follow what is divinely revealed to you from your Lord; there is none worthy of worship except Him; and turn away from the polytheists.
और उन्हें गाली न दो वह जिन को वह अल्लाह के सिवा पूजते हैं कि वह अल्लाह की शान में बे-अदबी करेंगे ज़ियादती और जहालत से, यूँही हम ने हर उम्मत की निगाह में उस के अमल भले कर दिए हैं, फिर उन्हें अपने रब की तरफ़ फिरना है और वह उन्हें बता देगा जो करते थे,
Aur Allah chahta to woh shirk nahi karte, aur hum ne tumhe un par nigehbaan nahi kiya aur tum un par karora (haakim-e-aala) nahi,
(ف217)اور کُفّار کی بے ہودہ گوئیوں کی طرف التفات نہ کرو ، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ آپ کُفّار کی یاوَہ گوئیوں سے رنجیدہ نہ ہوں ، یہ ان کی بدنصیبی ہے کہ وہ ایسی واضح برہانوں سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔
اور اللہ چاہتا تو وہ شرک نہیں کرتے، اور ہم نے تمہیں ان پر نگہبان نہیں کیا اور تم ان پر کڑوڑے (حاکمِ اعلیٰ) نہیں،
And if Allah willed, they would not ascribe (any partner to Him); We have not made you as a guardian over them; and you are not responsible for them.
और उन्होंने अल्लाह की क़सम खायी अपने हलफ़ में पूरी कोशिश से कि अगर उनके पास कोई निशानी आयी तो ज़रूर उस पर ईमान लायेंगे, तुम फ़रमा दो कि निशानियाँ तो अल्लाह के पास हैं और तुम्हें क्या ख़बर कि जब वह आयें तो यह ईमान न लायेंगे
Aur unhein gaali na do woh jin ko woh Allah ke siwa poojte hain ke woh Allah ki shaan mein be-adbi karenge ziyaadati aur jaahalat se, yoonhi hum ne har ummat ki nigah mein us ke amal bhale kar diye hain phir unhein apne Rab ki taraf phirna hai aur woh unhein bata de ga jo karte the,
اور انہیں گالی نہ دو وہ جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے (ف۲۱۸) یونہی ہم نے ہر امت کی نگاہ میں اس کے عمل بھلے کردیے ہیں پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے اور وہ انہیں بتادے گا جو کرتے تھے،
Do not abuse those whom they worship besides Allah lest they become disrespectful towards Allah’s Majesty, through injustice and ignorance; likewise, in the eyes of every nation, We have made their deeds appear good – then towards their Lord they have to return and He will inform them of what they used to do.
और हम फेर देते हैं उनके दिलों और आँखों को जैसा वह पहली बार ईमान न लाए थे और उन्हें छोड़ देते हैं कि अपनी सरकशी में भटका करें,
Aur unhon ne Allah ki qasam khai apne halaf mein poori koshish se ke agar un ke paas koi nishani aayi to zaroor us par imaan laayenge, tum farma do ke nishaniyan to Allah ke paas hain aur tumhe kya khabar ke jab woh aayen to yeh imaan na laayenge
(ف218)قتادہ کا قول ہے کہ مسلمان کُفّار کے بُتوں کی بُرائی کیا کرتے تھے تاکہ کُفّار کو نصیحت ہو اور وہ بُت پرستی کے عیب سے باخبر ہوں مگر ان ناخدا شَناس جاہلوں نے بجائے پند پذیر ہونے کے شانِ الٰہی میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولنی شروع کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اگرچہ بُتوں کو برا کہنا اور ان کی حقیقت کا اظہار طاعت و ثواب ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کُفّار کی بدگوئیوں کو روکنے کے لئے اس کو منع فرمایا گیا ۔ ابنِ اَنباری کا قول ہے کہ یہ حکم اول زمانہ میں تھا جب اللہ تعالٰی نے اسلام کو قوت عطا فرمائی منسوخ ہو گیا ۔
اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے، تم فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں (ف۲۱۹) اور تمہیں (ف۲۲۰) کیا خبر کہ جب وہ آئیں تو یہ ایمان نہ لائینگے
And they swore by Allah vehemently in their oaths that if any sign came to them, they will certainly believe in it; say, “The signs are with Allah, and what do you people know that if they came to them, they will not believe.”
और अगर हम उनकी तरफ़ फ़रिश्ते उतारते और उन से मुर्दे बातें करते और हम हर चीज़ उनके सामने उठा लाते, जब भी वह ईमान लाने वाले न थे मगर यह कि ख़ुदा चाहता, लेकिन उन में बहुत निरे जाहिल हैं
Aur hum pher dete hain un ke dilon aur aankhon ko jaisa woh pehli baar imaan na laaye the aur unhein chhod dete hain ke apni sarkashi mein bhatka karein,
(ف219)وہ جب چاہتا ہے حسبِ اقتضائے حکمت نازل فرماتا ہے ۔(ف220)اے مسلمانو ۔
اور ہم پھیردیتے ہیں ان کے دلوں اور آنکھوں کو (ف۲۲۱) جیسا وہ پہلی بار ایمان نہ لائے تھے (ف۲۲۲) اور انہیں چھوڑ دیتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،
And We revert their hearts and their eyes – the way they had not believed the first time – and We leave them to keep wandering blindly in their rebellion.
और इसी तरह हम ने हर नबी के दुश्मन किए हैं आदमियों और जिन्नों में के शैतान कि उन में एक दूसरे पर ख़ुफ़िया डालता है बनावट की बात धोखे को, और तुम्हारा रब चाहता तो वह ऐसा न करते, तो उन्हें उनकी बनावटों पर छोड़ दो
Aur agar hum un ki taraf farishte utarte aur un se murde baatein karte aur hum har cheez un ke saamne utha laate jab bhi woh imaan laane wale na the magar yeh ke Khuda chahta walekin un mein bohot nire jaahil hain
(ف221)حق کے ماننے اور دیکھنے سے ۔(ف222)ان آیات پر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر ظاہر ہوئی تھیں مثل شقُ القمر وغیرہ معجزاتِ باہِرات کے ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page