اس کی قوم کے متکبر سردار بولے، اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ کہا (ف۱٦۷) کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں (ف۱٦۸)
The proud leaders of his people said, “O Shuaib, we swear we will banish you and the Muslims who are with you, from our town or you must return to our religion”; he said, “Even though we detest it?”
उसकी क़ौम के मुतकब्बिर सरदार बोले, ऐ शुऐब क़सम है कि हम तुम्हें और तुम्हारे साथ वाले मुसलमानों को अपनी बस्ती से निकाल देंगे या तुम हमारे दीन में आ जाओ कहा क्या अगर हम बेज़ार हों
Us ki qawm ke mutakabbir sardar bole, aye Shoaib qasam hai ke hum tumhein aur tumhare sath wale musalmanon ko apni basti se nikal denge ya tum hamare deen mein aa jao, kaha kya agarche hum be-zaar hon,
(ف167)حضرت شُعیب علیہ السلام نے ۔(ف168)حاصل مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارا دین نہ قبول کریں گے اور اگر تم نے ہم پر جبر کیا جب بھی نہ مانیں گے کیونکہ ۔
ضرور ہم اللہ پر جھوٹ باندھیں گے اگر تمہارے دین میں آجائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے بچایا ہے (ف۱٦۹) اور ہم مسلمانوں میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف۱۷۰) جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف۱۷۱) اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر (ف۱۷۲) اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ہے،
“We shall then have fabricated a lie against Allah if we return to your religion after Allah has rescued us from it; and it is not for any of us Muslims to return to your religion except if Allah, Who is our Lord, wills; the knowledge of our Lord encompasses all things; in Allah only we have trusted; our Lord! Decide with justice between us and our people – and Yours is the best decision.”
ज़रूर हम अल्लाह पर झूट बाँधेंगे अगर तुम्हारे दीन में आ जाएँ बाद इसके कि अल्लाह ने हमें उस से बचाया है और हम मुसलमानों में किसी का काम नहीं कि तुम्हारे दीन में आए मगर यह कि अल्लाह चाहे जो हमारा रब है, हमारे रब का इल्म हर चीज़ को मुहीत है, अल्लाह ही पर भरोसा किया ऐ हमारे रब! हम में और हमारी क़ौम में हक़ फ़ैसला कर और तेरा फ़ैसला सबसे बेहतर है,
Zaroor hum Allah par jhoot bandhenge agar tumhare deen mein aa jaen baad is ke ke Allah ne humein us se bachaaya hai aur hum musalmanon mein kisi ka kaam nahi ke tumhare deen mein aaye magar ye ke Allah chahe jo hamara Rab hai, hamare Rab ka ilm har cheez ko muheet hai, Allah hi par bharosa kiya aye hamare Rab! hum mein aur hamari qawm mein haq faisla kar aur tera faisla sab se behtar hai,
(ف169)اور تمہارے دینِ باطل کے قُبح و فساد کا علم دیا ہے ۔(ف170)اور اس کو ہلاک کرنا منظور ہو اور ایسا ہی مقدّر ہو ۔(ف171)اپنے تمام اُمور میں ، وہی ہمیں ایمان پر ثابت رکھے گا وہی زیادتِ اِیقان کی توفیق دے گا ۔(ف172)زُ جاج نے کہا کہ اس کے یہ معنٰی ہو سکتے ہیں کہ اے ربّ ہمارے امر کو ظاہر فرما دے ۔ مراد اس سے یہ ہے کہ ان پر ایسا عذاب نازِل فرما جس سے ان کا باطل پر ہونا اور حضرت شُعیب علیہ السلام اور ان کے مُتّبِعین کا حق پر ہونا ظاہر ہو ۔
تو انہیں زلز لہ نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (ف۱۷۳)
Therefore the earthquake seized them – so at morning they remained lying flattened in their homes.
तो उन्हें ज़लज़ला ने आ लिया तो सुबह अपने घरों में औंधे पड़े रह गए
To unhein zalzala ne a liya to subah apne gharon mein undhe pade reh gaye
(ف173)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اس قوم پر جہنّم کا دروازہ کھولا اور ان پر دوزخ کی شدید گرمی بھیجی جس سے سانس بند ہوگئے ، اب نہ انہیں سایہ کام دیتا تھا نہ پانی اس حالت میں وہ تِہ خانہ میں داخل ہوئے تاکہ وہاں انہیں کچھ امن ملے لیکن وہاں باہر سے زیادہ گرمی تھی وہاں سے نکل کر جنگل کی طرف بھاگے ، اللہ تعالٰی نے ایک اَبر بھیجا جس میں نہایت سرد اور خوش گوار ہوا تھی ، اس کے سایہ میں آئے اور ایک نے دوسرے کو پُکار پُکار کر جمع کر لیا ، مرد ، عورتیں ، بچّے سب مجتمع ہوگئے تو وہ بحکمِ الٰہی آ گ بن کر بھڑک اُٹھا اور وہ اس میں اس طرح جل گئے جیسے بھاڑ میں کوئی چیز بُھن جاتی ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت شُعیب علیہ السلام کو اصحابِ ایکہ کی طرف بھی مبعوث فرمایا تھا اور اہلِ مَدۡ یَن کی طرف بھی ۔ اصحابِ ایکہ تو اَ بر سے ہلاک کئے گئے اور اہلِ مَدۡ یَن زلزلہ میں گرفتار ہوئے اور ایک ہولناک آواز سے ہلاک ہوگئے ۔
تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا (ف۱۷٤) اور کہا اے میری قوم! میں تمہیں رب کی رسالت پہنچا چکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی (ف۱۷۵) تو کیونکر غم کروں کافروں کا،
So Shoaib turned away from them saying, “O my people! Indeed I did deliver my Lord’s message to you and gave you sound advice; so why should I grieve for the disbelievers?” (The people in the graves can hear the speech of those who are on earth.)
तो शुऐब ने उनसे मुँह फेरा और कहा ऐ मेरी क़ौम! मैं तुम्हें रब की रिसालत पहुँचा चुका और तुम्हारे भले को नसीहत की तो क्योंकर ग़म करूँ काफ़िरों का,
To Shoaib ne unse munh phera aur kaha aye meri qawm! main tumhein Rab ki risaalat pohcha chuka aur tumhare bhale ko naseehat ki to kyun kar gham karun kaafiron ka,
(ف174)جب ان پر عذاب آیا ۔(ف175)مگر تم کسی طرح ایمان نہ لائے ۔
اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی (ف۱۷٦) مگر یہ کہ اس کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا (ف۱۷۷) کہ وہ کسی طرح زاری کریں (ف۱۷۸)
And never did We send any Prophet to a dwelling but We seized its people with hardship and adversity so that they may become humble.
और न भेजा हमने किसी बस्ती में कोई नबी मगर यह कि उसके लोगों को सख़्ती और तकलीफ़ में पकड़ा कि वह किसी तरह ज़ारी करें
Aur na bheja humne kisi basti mein koi Nabi magar ye ke us ke logon ko sakhti aur takleef mein pakda ke woh kisi tarah zari karein
(ف176)جس کو اس کی قوم نے نہ جھٹلایا ہو ۔(ف177)فَقر و تنگدستی اور مَرض و بیماری میں گرفتار کیا ۔(ف178)تکبُّر چھوڑیں ، توبہ کریں ، حکمِ الٰہی کے مطیع بنیں ۔
پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی (ف۱۷۹) یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے (ف۱۸۰) اور بولے بیشک ہمارے باپ دادا کو رنج و راحت پہنچے تھے (ف۱۸۱) تو ہم نے انہیں اچانک ان کی غفلت میں پکڑ لیا (ف۱۸۲)
Then We changed the misfortune into prosperity to the extent that they became numerous and said, “Indeed grief and comfort did reach our ancestors” – so We seized them suddenly in their neglect.
फिर हमने बुराई की जगह भलाई बदल दी यहाँ तक कि वह बहुत हो गए और बोले बेशक हमारे बाप दादा को रंज व राहत पहुँचे थे तो हमने उन्हें अचानक उनकी ग़फ़लत में पकड़ लिया
Phir humne burai ki jagah bhalai badal di yahan tak ke woh bohot ho gaye aur bole beshak hamare baap dada ko ranj o rahat pohche the to humne unhein achaanak un ki ghaflat mein pakad liya
(ف179)کہ سختی و تکلیف کے بعد راحت و آسائش پہنچنا اور بدنی و مالی نعمتیں ملنا اِطاعت و شکر گزاری کا مُسدَدۡعِی ہے ۔(ف180)انکی تعداد بھی زیادہ ہوئی اور مال بھی بڑھے ۔(ف181)یعنی زمانہ کا دستور ہی یہ ہے کبھی تکلیف ہوتی ہے کبھی راحت ۔ ہمارے باپ دادا پر بھی ایسے احوال گذر چکے ہیں ۔ اس سے ان کا مُدّعا یہ تھا کہ پچھلا زمانہ جو سختیوں میں گذرا ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے کچھ عُقوبت و سزا نہ تھا تو اپنا دین ترک کرنا نہ چاہئے نہ ان لوگوں نے شدّت و تکلیف سے کچھ نصیحت حاصل کی نہ راحت و آرام سے ان میں کوئی جذبۂ شکر و طاعت پیدا ہوا وہ غَفۡلت میں سرشار رہے ۔(ف182)جب کہ انہیں عذاب کا خیال بھی نہ تھا ۔ ان واقعات سے عبرت حاصل کرنی چاہئے اور بندوں کو گناہ و سرکشی ترک کرکے اپنے مالِک کا رضا جُو ہونا چاہئے ۔
اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے (ف۱۸۳) تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے (ف۱۸٤) مگر انہوں نے تو جھٹلایا (ف۱۸۵) تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا (ف۱۸٦)
And had the people of the dwellings believed and been pious, We would have surely opened for them the blessings from the sky and from the earth, but in fact they denied, and We therefore seized them on account of their deeds.
और अगर बस्तियों वाले ईमान लाते और डरते तो ज़रूर हम उन पर आसमान और ज़मीन से बरकतें खोल देते मगर उन्होंने तो झुटलाया तो हमने उन्हें उनके किए पर गिरफ़्तार किया
Aur agar bastiyon wale imaan laate aur darte to zaroor hum un par aasman aur zameen se barkatein khol dete magar unhon ne to jhutlaya to humne unhein un ke kiye par giraftar kiya
(ف183)اور خدا اور رسول کی اِطاعت اختیار کرتے اور جس چیز کو اللہ اور رسول نے منع فرمایا اس سے باز رہتے ۔(ف184)ہر طرف سے انہیں خیر پہنچتی ، وقت پر نافِع اور مفید بارشیں ہوتیں ، زمین سے کھیتی پھل بکثرت پیدا ہوتے ، رزق کی فراخی ہوتی ، امن و سلامتی رہتی ، آفتوں سے محفوظ رہتے ۔(ف185)اللہ کے رسولوں کو ۔(ف186)اور اَنواعِ عذاب میں مُبتلا کیا ۔
کیا اللہ کی خفی تدبیر سے بےخبر ہیں (ف۱۸۹) تو اللہ کی خفی تدبیر سے نذر نہیں ہوتے مگر تباہی والے (ف۱۹۰)
Are they oblivious to Allah’s secret plan? So none is unafraid of Allah’s secret plan except the people of ruin!
क्या अल्लाह की ख़फ़ी तदबीर से बेख़बर हैं तो अल्लाह की ख़फ़ी तदबीर से नज़र नहीं होते मगर तबाही वाले
Kya Allah ki khafi tadbeer se be khabar hain to Allah ki khafi tadbeer se nazar nahi hote magar tabahi wale
(ف189)اور اس کے ڈھیل دینے اور دُنیوی نعمت دینے پر مغرور ہو کر اس کے عذاب سے بے فکر ہوگئے ہیں ۔(ف190)اور اس کے مُخلِص بندے اس کا خوف رکھتے ہیں ۔ رَبیع بن خَثیم کی صاحبزادی نے ان سے کہا کیا سبب ہے میں دیکھتی ہوں سب لوگ سوتے ہیں اور آپ نہیں سوتے ہیں ؟ فرمایا ! اے نورِ نظر ، تیرا باپ شَب کو سونے سے ڈرتا ہے یعنی یہ کہ غافل ہو کر سوجانا کہیں سببِ عذاب نہ ہو ۔
اور کیا وہ جو زمین کے ما لکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آفت پہنچائیں (ف۱۹۱) اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے (ف۱۹۲)
Or did not those who inherited the land after its owners, get enough guidance that if We will, We can afflict them with calamity for their sins? And We set seals upon their hearts so they do not hear.
और क्या वह जो ज़मीन के मालिकों के बाद उसके वारिस हुए उन्हें इतनी हिदायत न मिली कि हम चाहें तो उन्हें उनके गुनाहों पर आफ़त पहुँचाएँ और हम उनके दिलों पर मुहर करते हैं कि वह कुछ नहीं सुनते
Aur kya woh jo zameen ke maalikon ke baad us ke waaris hue unhein itni hidayat na mili ke hum chahein to unhein un ke gunahon par aafat pohchaen aur hum un ke dilon par mohar karte hain ke woh kuch nahi sunte
(ف191)جیسا کہ ہم نے ان کے مَورِثوں کو ان کی نافرمانی کے سبب ہلاک کیا ۔(ف192)اور کوئی پَند و نصیحت نہیں مانتے ۔
یہ بستیاں ہیں (ف۱۹۳) جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۱۹٤) اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں (ف۱۹۵) لے کر آئے تو وہ (ف۱۹٦) اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے (ف۱۹۷) اللہ یونہی چھاپ لگادیتا ہے کافروں کے دلوں پر (ف۱۹۸)
These are the dwellings – the affairs of which We relate to you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and indeed their (respective) Noble Messengers came to them with clear proofs; so they were not able to believe in what they had denied before; this is how Allah sets seals upon the hearts of disbelievers.
यह बस्तियाँ हैं जिनके अहवाल हम तुम्हें सुनाते हैं और बेशक उनके पास उनके रसूल रोशन दलीलें ले कर आए तो वह उस क़ाबिल न हुए कि वह उस पर ईमान लाते जिसे पहले झुटला चुके थे अल्लाह यूँही छाप लगा देता है काफ़िरों के दिलों पर
Ye bastiyan hain jin ke ahwaal hum tumhein sunate hain aur be-shak un ke paas un ke Rasool roshan daleelen le kar aaye to woh is qabil na hue ke woh is par imaan laate jise pehle jhutla chuke the Allah yunhi chaap laga deta hai kafiron ke dilon par
(ف193)قوم حضرت نوح اور عاد و ثمود اور قوم حضرت لُوط وقوم حضرت شعیب کی ۔(ف194)تاکہ معلوم ہو کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اپنے دشمنوں یعنی کافِروں کے مُقابلہ میں مدد کیا کرتے ہیں ۔(ف195)یعنی مُعجزاتِ باہِرات ۔(ف196)تا دَمِ مَرۡ گ ۔(ف197)اپنے کُفر و تکذیب پر جمے ہی رہے ۔(ف198)جن کی نسبت اس کے علم میں ہے کہ کُفر پر قائم رہیں گے اور کبھی ایمان نہ لائیں گے ۔
اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا (ف۱۹۹) اور ضرور ان میں اکثر کو بےحکم ہی پایا، پھر ان (ف۲۰۰) کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں (ف۲۰۱) کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو
And We found most of them not true to their words; and indeed We found most of them disobedient.
और उनमें अक्सर को हमने क़ौल का सच्चा न पाया और ज़रूर उनमें अक्सर को बे हुक्म ही पाया,
फिर उनके बाद हमने मूसा को अपनी निशानियों के साथ फ़िरऔन और उसके दरबारियों की तरफ़ भेजा तो
Aur un mein aksar ko hum ne qoul ka sacha na paya aur zaroor un mein aksar ko be-hukum hi paya,
Phir un ke baad hum ne Moosa ko apni nishaniyon ke saath Firaun aur us ke darbariyon ki taraf bheja to
(ف199)انہوں نے اللہ کے عہد پورے نہ کئے ان پر جب کبھی کوئی مصیبت آتی تو عہد کرتے کہ یاربّ تو اگر اس سے ہمیں نَجات دے تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نَجات پاتے عہد سے پِھر جاتے ۔ (مَدارِک)
انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی (ف۲۰۲) تو دیکھو کیسا انجام ہوا مفسدوں کا،
Then after them, We sent Moosa with our signs to Firaun and his court members, but they did injustice to those signs; therefore see what sort of fate befell the mischievous!
उन्होंने उन निशानियों पर ज़्यादती की तो देखो कैसा अंजाम हुआ मुफ़्सिदों का,
unhon ne un nishaniyon par zyadaati ki to dekho kaisa anjaam hua mufsidon ka,
(ف200)انبیاءِ مذکورین ۔(ف201)یعنی مُعجزاتِ وَاضِحات مثل یَدِ بَیۡضا وعصا وغیرہ ۔(ف202)انہیں جھٹلایا اور کُفر کیا ۔
مجھے سزاوار ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی بات (ف۲۰۳) میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں (ف۲۰٤) تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے (ف۲۰۵)
“It is obligatory for me not to speak concerning Allah except the truth; I have come to you all with a clear sign from your Lord, therefore let the Descendants of Israel go with me.”
मुझे सज़ावार है कि अल्लाह पर न कहूँ मगर सच्ची बात मैं तुम सब के पास तुम्हारे रब की तरफ़ से निशानी ले कर आया हूँ तो बनी इस्राईल को मेरे साथ छोड़ दे
Mujhe sazawaar hai ke Allah par na kahoon magar sachi baat main tum sab ke paas tumhare Rab ki taraf se nishani le kar aaya hoon to Bani Israeel ko mere saath chhod de
(ف203)کیونکہ رسول کی یہی شان ہے وہ کبھی غلط بات نہیں کہتے اور تبلیغِ رِسالت میں ان کا کِذب مُمکِن نہیں ۔(ف204)جس سے میری رسالت ثابت ہے اور وہ نشانی مُعجزات ہیں ۔(ف205)اور اپنی قید سے آزاد کر دے تاکہ وہ میرے ساتھ اَرضِ مُقدّسہ میں چلے جائیں جو ان کا وطن ہے ۔
تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا ہوگیا (ف۲۰٦)
Therefore Moosa put down his staff – it immediately turned into a visible python.
तो मूसा ने अपना असीा डाल दिया वह फ़ौरन एक ज़ाहिर अजदहा हो गया
To Moosa ne apna asa daal diya woh foran ek zaahir ajdaha ho gaya
(ف206)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسّلام نے عصا ڈالا تو وہ ایک بڑا اژدہا بن گیا زَرۡ د رنگ ، مُنہ کھولے ہوئے ، زمین سے ایک مِیل اونچا ، اپنی دُم پر کھڑا ہوگیا اور ایک جبڑا اس نے زمین پر رکھا اور ایک قصرِ شاہی کی دیوار پر پھر اس نے فرعون کی طرف رُخ کیا تو فرعون اپنے تخت سے کُود کر بھاگا اور ڈر سے اس کی رِیح نِکل گئی اور لوگوں کی طرف رُخ کیا تو ایسی بھاگ پڑی کہ ہزاروں آدمی آپس میں کُچَل کر مَر گئے ۔ فرعون گھر میں جا کر چیخنے لگا اے موسٰی ! تمہیں اس کی قسم جس نے تمہیں رسول بنایا اس کو پکڑ لو میں تم پر ایمان لاتا ہوں اور تمہارے ساتھ بَنی اِسرائیل کو بھیجے دیتا ہوں ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس کو اُٹھا لیا تو وہ مثلِ سابِق عصا تھا ۔
بولے اے موسیٰ یا تو (ف۲۱۲) آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں (ف۲۱۳)
They said, “O Moosa! You may throw first – or shall we be the first to throw?”
बोले ऐ मूसा या तो आप डालें या हम डालने वाले हों
Bole ae Moosa ya to aap daalen ya hum daalne wale hon
(ف212)پہلے اپنا عصا ۔(ف213)جادُوگروں نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا یہ ادب کیا کہ آپ کو مُقَدّم کیا اور بغیر آپ کی اجازت کے اپنے عمل میں مشغول نہ ہوئے ، اس ادب کا عِوض انہیں یہ ملا کہ اللہ تعالٰی نے انہیں ایمان و ہدایت کے ساتھ مُشَرّف کیا ۔
کہا تمہیں ڈالو (ف۲۱٤) جب انہوں نے ڈالا (ف۲۱۵) لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں ڈرایا اور بڑا جادو لائے،
He said, “You throw”; when they threw, they cast a magic spell upon the people’s eyes and terrified them, and they brought a great magic.
कहा तुम ही डालो जब उन्होंने डाला लोगों की आँखों पर जादू कर दिया और उन्हें डराया और बड़ा जादू लाए,
Kaha tum daalo jab unhon ne daala logon ki aankhon par jadoo kar diya aur unhein daraya aur bara jadoo laaye,
(ف214)یہ فرمانا حضرت موسٰی علیہ السلام کا اس لئے تھا کہ آپ ان کی کچھ پروا ہ نہیں کرتے تھے اور اعتمادِ کامل رکھتے تھے کہ ان کے معجزے کے سامنے سِحر ناکام و مَغلوب ہوگا ۔(ف215)اپنا سامان جس میں بڑے بڑے رَسّے اور شَہتیر تھے تو وہ اَژدھے نظر آنے لگے اور میدان ان سے بھرا معلوم ہونے لگا ۔
اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال تو ناگاہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا (ف۲۱٦)
And We inspired Moosa that, “Put forth your staff”; it immediately began swallowing up their fabrications.
और हमने मूसा को वही फ़रमाई कि अपना असीा डाल तो नायगाह उनकी बनावटों को निगलने लगा
Aur hum ne Moosa ko wahi farmaayi ke apna asa daal to na-gah un ki banawaton ko nigalne laga
(ف216)جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنا عصا ڈالا تو وہ ایک عظیمُ الشّان اَژدہا بن گیا ۔ ابنِ زید کا قول ہے کہ یہ اجتماع اِسکندریہ میں ہوا تھا اور حضرت موسٰی علیہ السّلام کے اَژدھے کی دُم سَمُندر کے پار پہنچ گئی تھی ، وہ جادو گَروں کی سِحر کاریوں کو ایک ایک کر کے نِگل گیا اور تمام رَسّے و لَٹّھے جو انہوں نے جمع کئے تھے جو تین سو اُونٹ کا بار تھے سب کا خاتِمہ کر دیا ، جب موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس کو دستِ مبارَک میں لیا تو پہلے کی طرح عصا ہوگیا اور اس کا حُجم اور وَزن اپنے حال پر رہا ، یہ دیکھ کر جادو گَروں نے پہچان لیا کہ عصائے موسٰی سِحر نہیں اور قدرتِ بَشَری ایسا کرشمہ نہیں دِکھا سکتی ، ضرور یہ اَمۡرِ سَماوی ہے ۔ یہ بات سمجھ کر وہ اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتے ہوئے سجدے میں گر گئے ۔
فرعون بولا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، یہ تو بڑا جعل (فریب) ہے جو تم سب نے (ف۲۱۸) شہر میں پھیلایا ہے کہ شہر والوں کو اس سے نکال دو (ف۲۱۹) تو اب جان جاؤ گے (ف۲۲۰)
Said Firaun, “You have accepted faith in Him before I gave you permission! This is indeed a grand conspiracy you have plotted in the city, in order to expel its people from it; so now you will come to know!”
फ़िरऔन बोला तुम इस पर ईमान ले आए क़बल इस के कि मैं तुम्हें इजाज़त दूँ, यह तो बड़ा जाल (फ़रेब) है जो तुम सब ने शहर में फैलाया है कि शहर वालों को इससे निकाल दो तो अब जान जाओगे
Firaun bola tum is par imaan le aaye qabl is ke ke main tumhein ijaazat doon, ye to bara jaal (fareb) hai jo tum sab ne shehar mein phailaaya hai ke shehar walon ko is se nikal do to ab jaan jao ge
(ف218)یعنی تم نے اور حضرت موسٰی علیہ السّلام نے سب نے مُتّفِق ہو کر ۔(ف219)اور خود اس پر مسلّط ہو جاؤ ۔(ف220)کہ میں تمہارے ساتھ کس طرح پیش آتا ہوں ۔
قسم ہے کہ میں تمہارے ایک طرف کہ ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سُو لی دوں گا (ف۲۲۱)
“I swear I will cut off your hands and your feet from alternate sides and then crucify you all.”
क़सम है कि मैं तुम्हारे एक तरफ़ के हाथ और दूसरी तरफ़ के पाँव काटूँगा फिर तुम सब को सूली दूँगा
Qasam hai ke main tumhare ek taraf ke haath aur doosri taraf ke paon kaatoon ga phir tum sab ko sooli doonga
(ف221)نِیل کے کنارے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ دنیامیں پہلا سُولی دینے والا ، پہلا ہاتھ پاؤں کاٹنے والا فرعون ہے ۔ فرعون کی اس گفتگو پر جادو گَروں نے یہ جواب دیا جو اگلی آیت میں مذکور ہے ۔
(ف222)تو ہمیں موت کا کیا غم کیونکہ مَر کر ہمیں اپنے ربّ کی لِقاء اوراس کی رَحمت نصیب ہوگی اور جب سب کو اسی کی طرف رُجوع کرنا ہے تو وہ خود ہمارے تیرے درمیان فیصلہ فرما دے گا ۔
اور تجھے ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آئیں، اے رب ہمارے! ہم پر صبر انڈیل دے (ف۲۲۳) اور ہمیں مسلمان اٹھا (ف۲۲٤)
“And what did you dislike in us, except that we believed in the signs of our Lord when they came to us? Our Lord! Pour (bestow abundantly) patience on us, and bestow us death as Muslims.”
और तुझे हमारा क्या बुरा लगा यही न कि हम अपने रब की निशानियों पर ईमान लाए जब वह हमारे पास आएँ, ऐ रब हमारे! हम पर सब्र उँडेल दे और हमें मुसलमान उठा
Aur tujhe hamara kya bura laga yehi na ke hum apne Rab ki nishaniyon par imaan laaye jab woh hamare paas aayein, ae Rab hamare! hum par sabr andeil de aur humein Musalman uthaa
(ف223)یعنی ہم کو صَبرِ کامِل تام عطا فرما اور اس کثرت سے عطا فرما جیسے پانی کسی پر اُنڈیل دیا جاتا ہے ۔(ف224)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ لوگ دن کے اوّل وقت میں جادو گَر تھے اور اسی روز آخر وقت میں شہید ۔
اور قوم فرعون کے سردار بولے کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لیے چھوڑتا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں (ف۲۲۵) اور موسیٰ تجھے اور تیرے ٹھہرائے ہوئے معبودوں کو چھوڑ دے (ف۲۲٦) بولا اب ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیاں زندہ رکھیں گے اور ہم بیشک ان پر غالب ہیں (ف۲۲۷)
The chieftains of Firaun’s people said, “Are you releasing Moosa and his people to cause turmoil in the land, and for Moosa to abandon you and your appointed deities?” He said, “We shall now slay their sons and spare their women; and indeed we have power over them.”
और क़ौम फ़िरऔन के सरदार बोले क्या तू मूसा और उसकी क़ौम को इस लिए छोड़ता है कि वह ज़मीन में फ़साद फैलाएँ और मूसा तुझे और तेरे ठहराए हुए माबूदों को छोड़ दे बोला अब हम उनके बेटों को क़त्ल करेंगे और उनकी बेटियाँ ज़िंदा रखेंगे और हम बेशक उन पर ग़ालिब हैं
Aur qoum-e-Firaun ke sardaar bole kya tu Moosa aur us ki qoum ko is liye chhodta hai ke woh zameen mein fasaad phailaayein aur Moosa tujhe aur tere thehraaye hue ma’boodon ko chhod de bola ab hum un ke beton ko qatal karenge aur un ki betiyan zinda rakhenge aur hum be-shak un par ghaalib hain
(ف225)یعنی مِصر میں تیری مُخالفت کریں اور وہاں کے باشندوں کا دین بدلیں اور یہ انہوں نے اس لئے کہا تھا کہ ساحِروں کے ساتھ چھ لاکھ آدمی ایمان لے آئے تھے ۔ (مَدارِک) (ف226)کہ نہ تیری عبادت کریں نہ تیرے مقرّر کئے ہوئے معبودوں کی ۔ سدی کا قول ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کے لئے بُت بنوا دیئے تھے اور ان کی عبادت کرنے کا حکم دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تمہارا بھی ربّ ہوں اور ان بُتوں کا بھی ۔ بعض مُفسِّرین نے فرمایا کہ فرعون دَہۡرِی تھا یعنی صانِعِ عالَم کے وجود کا مُنکِر ، اس کا خیال تھا کہ عالَمِ سَفلی کے مُدبِّر کَواکِب ہیں اسی لئے اس نے ستاروں کی صورتوں پر بُت بنوائے تھے ان کی خود بھی عبادت کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ان کی عبادت کا حکم دیتا تھا اور اپنے آپ کو مطاع و مَخدُوم زمین کا کہتا تھا اسی لئے اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی کہتا تھا ۔(ف227)قومِ فرعون کے سرداروں نے فرعون سے یہ جو کہا تھا کہ کیا تو موسٰی اور اس کی قوم کو اس لئے چھوڑتا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں ، اس سے ان کا مطلب فرعون کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے اور آپ کی قوم کے قتل پر اُبھارنا تھا جب انہوں نے ایسا کیا تو موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان کو نُزولِ عذاب کا خوف دلایا اور فرعون اپنی قوم کی خواہش پر قدرت نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجزے کی قوّت سے مَرعُوب ہو چکا تھا اسی لئے اس نے اپنی قوم سے یہ کہا کہ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے ، لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے ۔ اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ اس طرح قومِ حضرت موسٰی علیہ السلام کی تعداد گھٹا کر ان کی قوّت کم کریں گے اور عوام میں اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ بھی کہہ دیا کہ ہم بے شک ان پر غالب ہیں لیکن فرعون کے اس قول سے کہ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے ، بنی اسرائیل میں کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور انہوں نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اس کی شکایت کی ، اس کے جواب میں حضرت موسٰی علیہ السلام نے یہ فرمایا ۔ ( جو اس کے بعد آتاہے )
موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو (ف۲۲۸) اور صبر کرو (ف۲۲۹) بیشک زمین کا مالک اللہ ہے (ف۲۳۰) اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے (ف۲۳۱) اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے (ف۲۳۲)
Moosa said to his people, “Seek the help of Allah and patiently endure; indeed the Owner of the earth is Allah – He appoints as its successor whomever He wills; and the final triumph is for the pious.”
मूसा ने अपनी क़ौम से फ़रमाया अल्लाह की मदद चाहो और सब्र करो बेशक ज़मीन का मालिक अल्लाह है अपने बंदों में जिसे चाहे वारिस बनाए और आख़िर मैदान परहेज़गारों के हाथ है
Moosa ne apni qoum se farmaya Allah ki madad chaaho aur sabr karo be-shak zameen ka malik Allah hai apne bandon mein jise chahe waaris banaye aur aakhir maidan parhezgaaron ke haath hai
(ف228)وہ کافی ہے ۔(ف229)مصیبتوں اور بلاؤں پر اور گھبراؤ نہیں ۔(ف230)اور زمینِ مِصر بھی اس میں داخل ہے ۔(ف231)یہ فرما کر حضرت موسٰی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو توقُع دلائی کہ فرعون اور اس کی قوم ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل ان کی زمینوں اور شہروں کے مالک ہوں گے ۔(ف232)انہیں کے لئے فَتح و ظَفر ہے اور انہیں کے لئے عاقبتِ محمودہ ۔
بولے ہم ستائے گئے آپ کے آنے سے پہلے (ف۲۳۳) اور آپ کے تشریف لانے کے بعد (ف۲۳٤) کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور اس کی جگہ زمین کا مالک تمہیں بنائے پھر دیکھے کیسے کام کرتے ہو (ف۲۳۵)
They said, “We have been oppressed before you came to us, and after you have come to us”; he said, “It is likely that your Lord may destroy your enemy and in his place make you the rulers of the earth, and then see what deeds you perform.”
बोले हम सताए गए आपके आने से पहले और आपके तशरीफ़ लाने के बाद कहा क़रीब है कि तुम्हारा रब तुम्हारे दुश्मन को हलाक करे और उसकी जगह ज़मीन का मालिक तुम्हें बनाए फिर देखे कैसे काम करते हो
Bole hum sataaye gaye aap ke aane se pehle aur aap ke tashreef laane ke baad kaha qareeb hai ke tumhara Rab tumhare dushman ko halaak kare aur us ki jagah zameen ka malik tumhein banaye phir dekhe kaise kaam karte ho
(ف233)کہ فرعون اور فرعونیوں نے طرح طرح کی مصیبتوں میں مُبتلا کر رکھّا تھا اور لڑکوں کو بہت زیادہ قتل کیا تھا ۔(ف234)کہ اب وہ پھر ہماری اولاد کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو ہماری مدد کب ہوگی اور یہ مصیبتیں کب دفع کی جائیں گی ۔(ف235)اور کس طرح شکرِ نعمت بجا لاتے ہو ۔
اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا (ف۲۳٦) کہ کہیں وہ نصیحت مانیں (ف۲۳۷)
And indeed We seized the people of Firaun with a famine of several years and with reduction of fruits, so that they may follow advice.
और बेशक हमने फ़िरऔन वालों को बरसों के क़हत और फलों के घटाने से पकड़ा कि कहीं वह नसीहत मानें
Aur be-shak hum ne Firaun walon ko barson ke qahat aur phalon ke ghatane se pakra ke kahin woh naseehat maaneyin
(ف236)اور فَقر و فاقہ کی مصیبت میں گرفتار کیا ۔(ف237)اور کُفر و معصیّت سے باز آئیں ۔ فرعون نے اپنی چار سو برس کی عمر میں سے تین سو بیس سال تو اس آرام کے ساتھ گزارے تھے کہ اس مدّت میں کبھی درد یا بخار یا بھوک میں مُبتلا ہی نہیں ہوا ، اب قَحۡط سالی کی سختی ان پر اس لئے ڈالی گئی کہ وہ اس سختی ہی سے خدا کو یاد کریں او راس کی طرف متوجّہ ہوں لیکن وہ کُفر میں اس قدر راسِخ ہو چکے تھے کہ ان تکلیفوں سے بھی ان کی سرکشی ہی بڑھتی رہی ۔
تو جب انہیں بھلائی ملتی (ف۲۳۸) کہتے یہ ہمارے لیے ہے (ف۲۳۹) اور جب برائی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے (ف۲٤۰) سن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے (ف۲٤۱) لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں،
So when good would reach them they would say, “This is for us”; and when misfortune reached them, they would infer it as ill omens of Moosa and his companions; pay heed! The misfortune of their ill luck lies with Allah, but most of them are unaware.
तो जब उन्हें भलाई मिलती कहते यह हमारे लिए है और जब बुराई पहुँचती तो मूसा और उसके साथ वालों से बदशगूनी लेते सुन लो उनके नसीबा की शामत तो अल्लाह के यहाँ है लेकिन उनमें अक्सर को खबर नहीं,
To jab unhein bhalai milti kehte ye hamare liye hai aur jab burai pohanchti to Moosa aur us ke saath walon se bad-shagooni lete sun lo un ke naseeba ki shamat to Allah ke yahan hai lekin un mein aksar ko khabar nahin,
(ف238)اور اَرۡزانی و فَراخی و امن و عافیت ہوتی ۔(ف239)یعنی ہم اس کے مستحق ہی ہیں اور اس کو اللہ کا فضل نہ جانتے او رشکرِ الٰہی نہ بجا لاتے ۔(ف240)اور کہتے کہ یہ بَلائیں ان کی وجہ سے پہنچیں اگر یہ نہ ہوتے تویہ مصیبتیں نہ آتیں ۔(ف241) جو اس نے مُقدّرکیا ہے وہی پہنچتا ہے اور یہ ان کے کُفر کے سبب ہے ۔ بعض مفسِّرین فرماتے ہیں معنٰی یہ ہیں کہ بڑی شامت تو وہ ہے جو ان کے لئے اللہ کے یہاں ہے یعنی عذابِ دوزخ ۔
تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان (ف۲٤۳) اور ٹڈی اور گھن (یا کلنی یا جوئیں) اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں (ف۲٤٤) تو انہوں نے تکبر کیا (ف۲٤۵) اور وہ مجرم قوم تھی
We therefore sent against them the flood and the locusts and the vermin (or insects) and the frogs and the blood – separate signs; in response they were proud and were a guilty people.
तो भेजा हमने उन पर तूफ़ान और टिड्डी और घुन (या कलनी या जुएँ) और मेढक और ख़ून जुदा जुदा निशानियाँ तो उन्होंने तकब्बुर किया और वह मुजरिम क़ौम थी
To bheja hum ne un par toofan aur tiddi aur ghan (ya kulni ya jooin) aur mendak aur khoon juda juda nishaniyan to unhon ne takabbur kiya aur woh mujrim qoum thi
(ف243)جب جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بھی فرعونی اپنے کُفر و سرکشی پر جمے رہے تو ان پر آیاتِ الٰہیہ پِیاپے وارِدہونے لگیں کیونکہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دعا کی تھی کہ یاربّ ! فرعون زمین میں بہت سرکش ہوگیا اور اس کی قوم نے عہد شکنی کی ، انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کر جو ان کے لئے سزا ہو اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت تو اللہ تعالٰی نے طوفان بھیجا ، اَبر آیا ، اندھیرا ہوا ، کثرت سے بارش ہونے لگی ، قُبطِیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا یہاں تک کہ وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی ان کی گردنوں کی ہَنسلِیوں تک آ گیا ، ان میں سے جو بیٹھا ڈوب گیا ، نہ ہل سکتے تھے نہ کچھ کام کر سکتے تھے ، سنیچرسے سنیچر تک سات روز تک اسی مصیبت میں مبتلا رہے اور باوجود اس کے کہ بنی اسرائیل کے گھر ان کے گھروں سے متصل تھے ان کے گھروں میں پانی نہ آیا ۔ جب یہ لوگ عاجِز ہوئے تو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے عرض کیا ہمارے لئے دعا فرمائیےکہ یہ مصیبت رفع ہو تو ہم آپ پر ایمان لائیں اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دیں ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے دعا فرمائی طوفان کی مصیبت رفع ہوئی ، زمین میں وہ سرسبزی و شادابی آئی جو پہلے نہ دیکھی تھی ، کھیتیاں خوب ہوئیں ، درخت خوب پھلے تو فرعونی کہنے لگے یہ پانی تو نعمت تھا اور ایمان نہ لائے ۔ ایک مہینہ تو عافیت سے گذرا پھر اللہ تعالٰی نے ٹِڈی بھیجی وہ کھیتیاں اور پھل ، درختوں کے پتے ، مکان کے دروازے ، چھتیں ، تختے ، سامان حتّٰی کہ لوہے کی کیلیں تک کھا گئیں اور قُبطِیوں کے گھروں میں بھر گئیں اور بنی اسرائیل کے یہاں نہ گئیں ۔ اب قُبطِیوں نے پریشان ہو کر پھر حضرت موسٰی علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی ، ایمان لانے کا وعدہ کیا اس پر عہد و پیمان کیا ۔ سات روز یعنی شنبہ سے شنبہ تک ٹڈی کی مصیبت میں مبتلا رہے پھر حضرت موسٰی علیہ السلام کی دعا سے نجات پائی ۔کھیتیاں اور پھل جو کچھ باقی رہ گئے تھے انہیں دیکھ کر کہنے لگے یہ ہمیں کافی ہیں ہم اپنا دین نہیں چھوڑتے چنانچہ ایمان نہ لائے عہدِ وفا نہ کیا اور اپنے اعمالِ خبیثہ میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک مہینہ عافیت سے گذرا پھر اللہ تعالٰی نے قُمَّل بھیجے ۔ اس میں مفسِّرین کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ قُمَّل گُھن ہے ، بعض کہتے ہیں جوں ، بعض کہتے ہیں ایک اور چھوٹا سا کیڑا ہے ، اس کیڑے نے جو کھیتیاں اور پھل باقی رہے تھے وہ کھا لئے ، کپڑوں میں گھس جاتا تھا اور جِلد کو کاٹتا تھا ، کھانے میں بھر جاتا تھا اگر کوئی دس بوری گیہوں چکی پر لے جاتا تو تین سیر واپس لاتا باقی سب کیڑے کھا جاتے ۔ یہ کیڑے فرعونیوں کے بال ، بَھنویں ، پَلکیں چاٹ گئے ، جسم پر چَیچک کی طرح بَھرجاتے ، سونا دشوار کر دیا تھا ۔ اس مصیبت سے فرعونی چیخ پڑے اور انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے عرض کیا ہم توبہ کرتے ہیں آپ اس بَلا کے دفع ہونے کی دعا فرمائیے چنانچہ سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی حضرت کی دعا سے رفع ہوئی لیکن فرعونیوں نے پھر عہد شکنی کی اور پہلے سے زیادہ خبیث تر عمل شروع کئے ، ایک مہینہ امن میں گذرنے کے بعد پھر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بددعا کی تو اللہ تعالٰی نے مینڈک بھیجے اور یہ حال ہوا کہ آدمی بیٹھتا تھا تو اسکی مجلس میں مینڈک بھر جاتے تھے ، بات کرنے کے لئے منہ کھولتا تو مینڈک کود کر مُنہ میں پہنچتا ۔ ہانڈیوں میں مینڈک ،کھانوں میں مینڈک ، چولھوں میں مینڈک بھر جاتے تھے ، آگ بجھ جاتی تھی ، لیٹتے تھے تو مینڈک اوپر سوار ہوتے تھے ۔ اس مصیبت سے فرعونی رو پڑے اور حضرت موسٰی علیہ السلام سے عرض کیا اب کی بار ہم پکی توبہ کرتے ہیں حضرت موسٰی علیہ السلام نے ان سے عہد و پیمان لے کر دعا کی تو سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی دفع ہوئی اور ایک مہینہ عافیت سے گزرا لیکن پھر انہوں نے عہد توڑ دیا اور اپنے کُفر کی طرف لوٹے پھر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بد دعا فرمائی تو تمام کنووں کا پانی ، نہروں اور چشموں کا پانی ، دریائے نیل کا پانی غرض ہر پانی ان کے لئے تازہ خون بن گیا ، انہوں نے فرعون سے اس کی شکایت کی تو کہنے لگا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے جادو سے تمہاری نظر بندی کر دی ۔ انہوں نے کہا کیسی نظر بندی ہمارے برتنوں میں خون کے سوا پانی کا نام و نشان ہی نہیں تو فرعون نے حکم دیا کہ قُبطِی بنی اسرائیل کے ساتھ ایک ہی برتن سے پانی لیں تو جب بنی اسرائیل نکالتے توپانی نکلتا قُبطی نکالتے تو اسی برتن سے خون نکلتا یہاں تک کہ فرعونی عورتیں پیاس سے عاجز ہو کر بنی اسرائیل کی عورتوں کے پاس آئیں اور ان سے پانی مانگا تو وہ پانی ان کے برتن میں آتے ہی خون ہوگیا تو فرعونی عورت کہنے لگی کہ تو پانی اپنے منہ میں لے کر میرے منہ میں کُلی کر دے جب تک وہ پانی اسرائیلی عورت کے منہ میں رہا پانی تھا جب فرعونی عورت کے منہ میں پہنچا خون ہوگیا ۔ فرعون خود پیاس سے مُضطر ہوا تو اس نے تر درختوں کی رَطوبت چُوسی وہ رَطوبت منہ میں پہنچتے ہی خون ہوگئی ۔ سات روز تک خون کے سوا کوئی چیز پینے کی مُیسّر نہ آئی تو پھر حضرت موسٰی علٰی نبِیّنا و علیہ الصلٰوۃ والسلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دعا فرمائی یہ مصیبت بھی رفع ہوئی مگر ایمان پھر بھی نہ لائے ۔(ف244)ایک کے بعد دوسری اور ہر عذاب ایک ہفتہ قائم رہتا اور دوسرے عذاب سے ایک مہینہ کا فاصلہ ہوتا ۔(ف245)اور حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان نہ لائے ۔
اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے (ف۲٤٦) بیشک اگر تم ہم پر عذاب اٹھا دو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے،
And whenever the punishment came upon them they said, “O Moosa! Pray to your Lord for us, by means of His covenant which you have; indeed if you lift the punishment from us we will surely accept faith in you and let the Descendants of Israel go with you.”
और जब उन पर अज़ाब पड़ता कहते ऐ मूसा हमारे लिए अपने रब से दुआ करो उस अहद के सबब जो उसका तुम्हारे पास है बेशक अगर तुम हम पर अज़ाब उठा दोगे तो हम ज़रूर तुम पर ईमान लाएँगे और बनी इसराईल को तुम्हारे साथ कर देंगे,
Aur jab un par azaab padta kehte ae Moosa hamare liye apne Rab se dua karo is ahd ke sabab jo us ka tumhare paas hai be-shak agar tum hum par azaab utha do ge to hum zaroor tum par imaan laayein ge aur Bani Israeel ko tumhare saath kar denge,
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا (ف۲٤۷) اس لیے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بےخبر تھے (ف۲٤۸)
We therefore took revenge from them; so We drowned them in the sea for they used to deny Our signs and were ignoring them.
तो हमने उनसे बदला लिया तो उन्हें दरिया में डुबो दिया इस लिए कि हमारी आयतें झटलाते और उनसे बेखबर थे
To hum ne un se badla liya to unhein darya mein dooba diya is liye ke hamari aayatein jhutlate aur un se be-khabar the
(ف247)یعنی دریائے نیل میں جب بار بار انہیں عذابوں سے نجات دی گئی اور وہ کسی عہد پر قائم نہ رہے اور ایمان نہ لائے اور کُفر نہ چھوڑا تو وہ میعاد پوری ہونے کے بعد جو ان کے لئے مقرر فرمائی گئی تھی انہیں اللہ تعالٰی نے غرق کرکے ہلاک کر دیا ۔(ف248)اصلاً تدبُّر و التفات نہ کرتے تھے ۔
اور ہم نے اس قوم کو (ف۲٤۹) جو دبا لی گئی تھی اس زمین (ف۲۵۰) کے پورب پچھم کا وارث کیا جس میں ہم نے برکت رکھی (ف۲۵۱) اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا، بدلہ ان کے صبر کا، اور ہم نے برباد کردیا (ف۲۵۲) جو کچھ فرعون اور اس کی قوم بناتی اور جو چنائیاں اٹھاتے (تعمیر کرتے) تھے،
And We made the people who were oppressed, the inheritors of the eastern and western parts of the land in which We placed blessings; and the good promise of your Lord was fulfilled for the Descendants of Israel – the reward of their patience; and We destroyed whatever Firaun and his people built and whatever they had contrived.
और हमने उस क़ौम को जो दबा ली गई थी उस ज़मीन के पूरब पच्छम का वारिस किया जिसमें हमने बरकत रखी और तेरे रब का अच्छा वादा बनी इसराईल पर पूरा हुआ, बदला उनके सब्र का, और हमने बरबाद कर दिया जो कुछ फ़िरऔन और उसकी क़ौम बनाती और जो चुनाइयाँ उठाते (तामीर करते) थे,
Aur hum ne is qoum ko jo daba li gayi thi is zameen ke poorab picham ka waaris kiya jis mein hum ne barkat rakhi aur tere Rab ka achha waada Bani Israeel par poora hua, badla un ke sabr ka, aur hum ne barbaad kar diya jo kuch Firaun aur us ki qoum banati aur jo chunaiyan uthate (ta’meer karte) the,
(ف249)یعنی بنی اسرائیل کو ۔(ف250)یعنی مصر و شام ۔(ف251)نہروں ، درختوں ، پھلوں ، کھیتیوں اور پیداوار کی کثرت سے ۔(ف252)ان تمام عمارتوں اور ایوانوں اور باغوں کو ۔
اور ہم نے (ف۲۵۳) بنی اسرائیل کو دریا پار اتارا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اپنے بتوں کے آگے آسن مارے (جم کر بیٹھے) تھے (ف۲۵٤) بولے اے موسیٰ! ہمیں ایک خدا بنادے جیسا ان کے لیے اتنے خدا ہیں، بولا تم ضرور جا ہل لوگ ہو، (ف۲۵۵)
And We transported the Descendants of Israel across the sea – so they came across a people who used to squat in seclusion in front of their idols; they said, “O Moosa! Make a God for us, the way they have so many Gods!” He said, “You are indeed an ignorant people.”
और हमने बनी इसराईल को दरिया पार उतारा तो उनका गुज़र एक ऐसी क़ौम पर हुआ कि अपने बुतों के आगे आसन मारे (जम कर बैठे) थे बोले ऐ मूसा! हमें एक ख़ुदा बना दे जैसा उनके लिए इतने ख़ुदा हैं, बोला तुम ज़रूर जाहिल लोग हो,
Aur hum ne Bani Israeel ko darya paar utaara to un ka guzar ek aisi qoum par hua ke apne buton ke aage aasan maare (jam kar baithe) the bole ae Moosa! humein ek Khuda bana de jaisa un ke liye itne Khuda hain, bola tum zaroor jaahil log ho,
(ف253)فرعون اور اس کی قوم کو دسویں محرّم کو غرق کرنے کے بعد ۔(ف254)اور ان کی عبادت کرتے تھے ۔ ابنِ جُرَیْح نے کہا کہ یہ بُت گائے کی شکل کے تھے ان کو دیکھ کر بنی اسرائیل ۔(ف255)کہ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی نہ سمجھے کہ اللہ واحد لاشریک لہ ہے اس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں اور کسی کی عبادت جائز نہیں ۔
کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں زمانے بھر پر فضیلت دی (ف۲۵۷)
He said, “Shall I seek for you a God other than Allah, whereas He has given you superiority above the entire world?” (By sending His message towards you).
कहा क्या अल्लाह के सिवा तुम्हारा और कोई ख़ुदा तलाश करूँ हालाँकि उसने तुम्हें ज़माने भर पर फ़ज़ीलत दी
Kaha kya Allah ke siwa tumhara aur koi Khuda talash karoon haalanke us ne tumhein zamaane bhar par fazilat di
(ف257)یعنی خدا وہ نہیں ہوتا جو تلاش کرکے بنا لیا جائے بلکہ خدا وہ ہے جس نے تمہیں فضیلت دی کیونکہ وہ فضل و احسان پر قادر ہے تو وہی عبادت کا مستحق ہے ۔
اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات بحشی کہ تمہیں بری مار دیتے تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے، اور اس میں رب کا بڑا فضل ہوا (ف۲۵۸)
And remember when We rescued you from Firaun’s people who were afflicting you with a dreadful torment; slaughtering your sons and sparing your daughters; and in it was a great favour from your Lord.
और याद करो जब हमने तुम्हें फ़िरऔन वालों से नजात बख़्शी कि तुम्हें बुरी मार देते तुम्हारे बेटे ज़बह करते और तुम्हारी बेटियाँ बाक़ी रखते, और उसमें रब का बड़ा फ़ज़ल हुआ
Aur yaad karo jab hum ne tumhein Firaun walon se nijaat bakhshi ke tumhein buri maar dete tumhare bete zabah karte aur tumhari betiyan baaqi rakhte, aur is mein Rab ka bara fazl hua
(ف258)یعنی جب اس نے تم پر ایسی عظیم نعمتیں فرمائیں تو تمہیں کب شایان ہے کہ تم اس کے سوا اور کی عبادت کرو ۔
اور ہم نے موسیٰ سے (ف۲۵۹) تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں (ف۲٦۰) دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا (ف۲٦۱) اور موسیٰ نے (ف۲٦۲) اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا،
And We agreed with Moosa a covenant for thirty nights (of solitude) and completed it by adding ten to them, so the covenant of His Lord amounted to forty nights in full; and Moosa said to his brother Haroon, “Be my deputy over my people and make reform and do not allow the ways of the mischievous to enter.”
और हमने मूसा से तीस रात का वादा फ़रमाया और उनमें दस और बढ़ाकर पूरी कीं तो उसके रब का वादा पूरी चालीस रात का हुआ और मूसा ने अपने भाई हारून से कहा मेरी क़ौम पर मेरे नाइब रहना और इस्लाह करना और फ़सादियों की राह को दख़ल न देना,
Aur hum ne Moosa se tees raat ka waada farmaya aur un mein das aur barha kar poori ki to us ke Rab ka waada poori chalis raat ka hua aur Moosa ne apne bhai Haroon se kaha meri qoum par mere naib rehna aur islaah karna aur fasaadiyon ki raah ko dakhal na dena,
(ف259) تورَیت عطا فرمانے کے لئے ماہِ ذُوالقَعدہ کی ۔(ف260)ذی الحِجّہ کی ۔(ف261)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بنی اسرائیل سے وعدہ تھا کہ جب اللہ تعالٰی ان کے دشمن فرعون کو ہلاک فرما دے تو وہ ان کے پاس اللہ تعالٰی کی جانب سے ایک کتاب لائیں گے جس میں حلال و حرام کا بیان ہوگا ۔ جب اللہ تعالٰی نے فرعون کو ہلاک کیا تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے ربّ سے اس کتاب کے نازِل فرمانے کی درخواست کی ، حکم ہوا کہ تیس روزے رکھیں جب وہ روزے پورے کر چکے تو آپ کو اپنے دہنِ مبارک میں ایک طرح کی بُو معلوم ہوئی ، آپ نے مسواک کی ، ملائکہ نے عرض کیا کہ ہمیں آپ کے دہنِ مبارک سے بڑی محبوب خوشبو آیا کرتی تھی آپ نے مسواک کر کے اس کو ختم کر دیا ۔ اللہ تعالٰی نے حکم فرمایا کہ ماہِ ذی الحِجّہ میں دس روزے اور رکھیں اور فرمایا کہ اے موسٰی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ روزے دار کے منہ کی خوشبو میرے نزدیک خوشبوئے مُشک سے زیادہ اَطیَب ہے ۔(ف262)پہاڑ پر مُناجات کے لئے جاتے وقت ۔
اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا (ف۲٦۳) عرض کی اے رب میرے! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا (ف۲٦٤) ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا (ف۲٦۵) پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بیہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (ف۲٦٦)
And when Moosa presented himself upon Our promise, and his Lord spoke to him, he said, “My Lord! Show me Your Self, so that I may see You”; He said, “You will never be able to see Me, but look towards the mountain – if it stays in its place, then you shall soon see Me”; so when his Lord directed His light on the mountain, He blew it into bits and Moosa fell down unconscious; then upon regaining consciousness he said, “Purity is to You! I incline towards You, and I am the first Muslim.”
और जब मूसा हमारे वादा पर हाज़िर हुआ और उससे उसके रब ने कलाम फ़रमाया अर्ज़ की ऐ रब मेरे! मुझे अपना दीदार दिखा कि मैं तुझे देखूँ फ़रमाया तू मुझे हरगिज़ न देख सकेगा हाँ इस पहाड़ की तरफ़ देख यह अगर अपनी जगह पर ठहरा रहा तो क़रीब तू मुझे देख लेगा फिर जब उसके रब ने पहाड़ पर अपना नूर चमकाया उसे पाश पाश कर दिया और मूसा गिरा बेहोश फिर जब होश हुआ बोला पाकी है तुझे मैं तेरी तरफ़ रुजू लाया और मैं सबसे पहला मुसलमान हूँ
Aur jab Moosa hamare waada par haazir hua aur us se us ke Rab ne kalaam farmaya arz ki ae Rab mere! mujhe apna deedaar dikha ke main tujhe dekhoon farmaya tu mujhe har giz na dekh sake ga haan is pahaar ki taraf dekh ye agar apni jagah par thehra raha to anqareeb tu mujhe dekh le ga phir jab us ke Rab ne pahaar par apna noor chamkaaya use paash paash kar diya aur Moosa gira behosh phir jab hosh hua bola paaki hai tujhe main teri taraf ruju laaya aur main sab se pehla Musalman hoon
(ف263)آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کلام فرمایا اس پر ہمارا ایمان ہے اور ہماری کیا حقیقت ہے کہ ہم اس کلام کی حقیقت سے بَحث کر سکیں ۔ اَخبار میں وارد ہے کہ جب موسٰی علیہ السلام کلام سننے کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے طہارت کی اور پاکیزہ لباس پہنا اور روزہ رکھ کر طورِ سِینا میں حاضر ہوئے ، اللہ تعالٰی نے ایک ابر نازِل فرمایا جس نے پہاڑ کو ہر طرف سے بقدر چار فرسنگ کے ڈھک لیا ۔ شیاطین اور زمین کے جانور حتٰی کہ ساتھ رہنے والے فرشتے تک وہاں سے علیٰحدہ کر دیئے گئے اور آپ کے لئے آسمان کھول دیا گیا تو آپ نے ملائکہ کو مُلاحظہ فرمایا کہ ہوا میں کھڑے ہیں اور آپ نے عرشِ الٰہی کو صاف دیکھا یہاں تک کہ اَلواح پر قلموں کی آواز سنی اور اللہ تعالٰی نے آپ سے کلام فرمایا ۔ آپ نے اس کی بارگاہ میں اپنے معروضات پیش کئے اس نے اپنا کلامِ کریم سُنا کر نوازا ۔ حضرت جبریل علیہ السلام آپ کے ساتھ تھے لیکن جو اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے فرمایا وہ انہوں نے کچھ نہ سُنا ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو کلامِ ربّانی کی لذّت نے اس کے دیدار کا آرزو مند بنایا ۔ ( خازن وغیرہ)(ف264)ان آنکھوں سے سوال کرکے بلکہ دیدارِ الٰہی بغیر سوال کے مَحض اس کی عطا و فضل سے حاصل ہوگا ، وہ بھی اس فانی آنکھ سے نہیں بلکہ باقی آنکھ سے یعنی کوئی بشر مجھے دنیا میں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ اللہ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا کہ میرا دیکھنا ممکن نہیں ۔ اس سے ثابت ہوا کہ دیدارِ الٰہی ممکن ہے اگرچہ دنیا میں نہ ہو کیونکہ صحیح حدیثوں میں ہے کہ روزِ قیامت مؤمنین اپنے ربّ عزّوجلّ کے دیدار سے فیضیاب کئے جائیں گے علاوہ بریں یہ کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام عارِف باللہ ہیں ، اگر دیدارِ الٰہی ممکن نہ ہوتا توآپ ہر گز سوال نہ فرماتے ۔(ف265)اور پہاڑ کا ثابت رہنا امرِ ممکن ہے کیونکہ اس کی نسبت فرمایا جَعَلَہٗ دَکاًّ اس کو پاش پاش کر دیا تو جو چیز اللہ تعالٰی کی مجعول ہو اور جس کو وہ موجود فرمائے ممکن ہے کہ وہ نہ موجود ہو اگر اس کو نہ موجود کرے کیونکہ وہ اپنے فعل میں مختار ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ پہاڑ کا استِقرار امرِ ممکن ہے مَحال نہیں اور جو چیز امرِ ممکن پر معلّق کی جائے وہ بھی ممکن ہی ہوتی ہے مَحال نہیں ہوتی لہٰذا دیدارِ الٰہی جس کو پہاڑ کے ثابت رہنے پر معلّق فرمایا گیا وہ ممکن ہوا تو ان کا قول باطِل ہے جو اللہ تعالٰی کا دیدار مَحال بتاتے ہیں ۔(ف266)بنی اسرائیل میں سے ۔
فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے، تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو،
Said Allah, “O Moosa! I have chosen you from mankind by (bestowing) My messages and by My speech; so accept what I have bestowed upon you and be among the thankful.”
फ़रमाया ऐ मूसा मैंने तुझे लोगों से चुन लिया अपनी रसालतों और अपने कलाम से, तो ले जो मैंने तुझे अता फ़रमाया और शुकर वालों में हो,
Farmaya ae Moosa main ne tujhe logon se chun liya apni risaalaton aur apne kalaam se, to le jo main ne tujhe ata farmaya aur shukr walon mein ho,
اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں (ف۲٦۷) لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل، اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کر اس کی اچھی باتیں اختیار کریں (ف۲٦۸) عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بےحکموں کا گھر (ف۲٦۹)
And We wrote for him on the tablets, the advice for all things and the details of all things; and commanded “Accept it firmly and command your people to choose its good advices; soon I shall show you people the destination of the disobedient.”
और हमने उसके लिए तख़्तियों में लिख दी हर चीज़ की नसीहत और हर चीज़ की तफ़सील, और फ़रमाया ऐ मूसा इसे मज़बूती से ले और अपनी क़ौम को हुक्म देकर इसकी अच्छी बातें इख़्तियार करें क़रीब मैं तुम्हें दिखाऊँगा बे-हुक्मों का घर
Aur hum ne us ke liye takhtiyon mein likh di har cheez ki naseehat aur har cheez ki tafseel, aur farmaya ae Moosa ise mazbooti se le aur apni qoum ko hukm de kar is ki achhi baatein ikhtiyaar karein anqareeb main tumhein dikhaoonga be-hukmon ka ghar
(ف267)توریت کی جو سات یا دس تھیں زَبَرجَد کی یا زُمُرّد کی ۔(ف268)اس کے اَحکام پر عامل ہوں ۔(ف269)جو آخرت میں ان کا ٹھکانا ہے ۔ حَسن و عطا نے کہا کہ بے حُکموں کے گھر سے جہنّم مراد ہے ۔ قَتادہ کا قول ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ میں تمہیں شام میں داخل کروں گا اور گزری ہوئی اُمّتوں کے منازِل دکھاؤں گا جنہوں نے اللہ کی مخالَفت کی تاکہ تمہیں اس سے عبرت حاصل ہو ۔ عطیہ عوفی کا قول ہے کہ دار الفاسقین سے فرعون اور اس کی قوم کے مکانات مراد ہیں جو مِصر میں ہیں ۔ سدی کا قو ل ہے کہ اس سے منازلِ کُفّار مراد ہیں ۔ کلبی نے کہا کہ عاد و ثمود اور ہلاک شدہ اُمّتوں کے منازِل مراد ہیں جن پر عرب کے لوگ اپنے سفروں میں ہو کر گزرا کرتے تھے ۔
اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں (ف۲۷۰) اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں (ف۳۲۷۱) اور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں، یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بےخبر بنے،
“And I shall turn away from My signs the people who unjustly wish to be admired in the earth; and if they see all the signs, they would not believe them; and if they see the path of guidance, they would not prefer to tread it; and if they see the way of error, they would present themselves to tread it; that is because they denied Our signs and were ignoring them.
और मैं अपनी आयतों से उन्हें फेर दूँगा जो ज़मीन में नाहक़ अपनी बड़ाई चाहते हैं और अगर सब निशानियाँ देखें उन पर ईमान न लाएँ और अगर हिदायत की राह देखें उसमें चलना पसंद न करें और गुमराही का रास्ता नज़र पड़े तो उसमें चलने को मौजूद हो जाएँ, यह इस लिए कि उन्होंने हमारी आयतें झटलाईं और उनसे बेख़बर बने,
Aur main apni aayaton se unhein phair doonga jo zameen mein na-haq apni barayi chahte hain aur agar sab nishaniyan dekhein un par imaan na laayen aur agar hidaayat ki raah dekhein is mein chalna pasand na karein aur gumraahi ka raasta nazar pare to is mein chalne ko mojood ho jaayen, ye is liye ke unhon ne hamari aayatein jhutlayeen aur un se be-khabar bane,
(ف270)ذوالنون قُدِّسَ سِرُّہٗ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی حکمتِ قرآن سے اہلِ باطل کے قُلوب کا اکرام نہیں فرماتا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مراد یہ ہے کہ جو لوگ میرے بندوں پر تَجبُّر کرتے ہیں اور میرے اولیاء سے لڑتے ہیں میں انہیں اپنی آیتوں کے قبول اور تصدیق سے پھیر دوں گا تاکہ وہ مجھ پر ایمان نہ لائیں یہ ان کے عناد کی سزا ہے کہ انہیں ہدایت سے محروم کیا گیا ۔(ف271)یہی تَکبُّر کا ثمرہ ، مُتَکبِّر کا انجام ہے ۔
اور جنہوں نے ہماری آیتیں اور آخرت کے دربار کو جھٹلایا ان کا سب کیا دھرا اَکارت گیا، انہیں کیا بدلہ ملے گا مگر وہی جو کرتے تھے،
And those who denied Our signs and the confronting of the Hereafter – all their deeds are wasted; what recompense will they get, except what they used to do?
और जिन्होंने हमारी आयतें और आख़िरत के दरबार को झटलाया उनका सब किया धरा अक़ारत गया, उन्हें क्या बदला मिलेगा मगर वही जो करते थे,
Aur jin hon ne hamari aayatein aur aakhrat ke darbaar ko jhutlaya un ka sab kiya dhara akaarat gaya, unhein kya badla mile ga magar wahi jo karte the,
اور موسیٰ کے (ف۲۷۲) بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے (ف۲۷۳) ایک بچھڑا بنا بیٹھی بےجان کا دھڑ (ف۲۷٤) گائے کی طرف آواز کرتا، کیا نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرتا ہے اور نہ انہیں کچھ راہ بتائے (ف۲۷۵) اسے لیا اور وہ ظالم تھے (ف۲۷٦)
And behind Moosa, his people moulded a calf from their ornaments – a lifeless body making sounds like a cow; did they not see that it neither speaks to them nor guides them in any way? They chose it (for worship), and were unjust.
और मूसा के बाद उसकी क़ौम अपने ज़ेवरों से एक बछड़ा बना बैठी बेजान का ढड़ गाय की तरफ़ आवाज़ करता, क्या न देखा कि वह उनसे न बात करता है और न उन्हें कुछ राह बताए उसे लिया और वह ज़ालिम थे
Aur Moosa ke baad us ki qoum apne zewaron se ek bachhra bana baithi bejaan ka dhar gaaye ki taraf awaaz karta, kya na dekha ke woh un se na baat karta hai aur na unhein kuch raah bataaye use liya aur woh zaalim the
(ف272)طور کی طرف اپنے ربّ کی مُناجات کے لئے جانے کے ۔(ف273)جو انہوں نے قومِ فرعون سے اپنی عید کے لئے عارِیَت لئے تھے ۔(ف274)اور اس کے مُنہ میں حضرت جبریل کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی خاک ڈالی جس کے اثر سے وہ ۔ (ف275)ناقِص ہے ، عاجِز ہے ، جَماد ہے یا حیوان ، دونوں تقدیروں پر صلاحیّت نہیں رکھتا کہ پُوجا جائے ۔(ف276)کہ انہوں نے اللہ تعالٰی کی عبادت سے اِعراض کیا اور ایسے عاجِز و ناقِص بَچھڑے کو پُوجا ۔
اور جب موسیٰ (ف۲۷۷) اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا جھنجلایا ہوا (ف۲۷۸) کہا تم نے کیا بری میری جانشینی کی میرے بعد (۲۷۹) کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی (ف۲۸۰) اور تختیاں ڈال دیں (ف۲۸۱) اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا (ف۲۸۲) کہا اے میرے ماں جائے (ف۲۸۳) قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا (ف۲۸٤) اور مجھے ظالموں میں نہ ملا (ف۲۸۵)
And when Moosa returned to his people, angry and upset, he said, “What an evil way you have handled affairs on my behalf, behind me; did you hasten upon the command of your Lord?” And he cast down the stone tablets, and catching hold of his brothers hair, began pulling him towards him; said Haroon said, “O the son of my mother! The people thought I was weak and would have probably killed me; so do not make my enemies laugh at me and do not identify me with the unjust.”
और जब मूसा अपनी क़ौम की तरफ़ पलटा ग़ुस्सा में भरा झुँझलाया हुआ कहा तुमने क्या बुरी मेरी जानशिनी की मेरे बाद
Aur jab Moosa apni qoum ki taraf palta ghussa mein bhara jhanjhlaya hua kaha tum ne kya buri meri jaanasheen ki mere baad kya tum ne apne Rab ke hukm se jaldi ki aur takhtiyan daal deen aur apne bhai ke sar ke baal pakar kar apni taraf kheenchne laga kaha ae mere maan jaaye qoum ne mujhe kamzor samjha aur qareeb tha ke mujhe maar daalein to mujh par dushmanon ko na hansa aur mujhe zaalimoon mein na mila
(ف277)اپنے ربّ کی مُناجات سے مشرّف ہو کر طور سے ۔(ف278)اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے ان کو خبر دے دی تھی کہ سامری نے ان کی قوم کو گمراہ کر دیا ۔(ف279)کہ لوگوں کو بَچھڑا پُوجنے سے نہ روکا ۔(ف280)اور میرے توریت لے کر آنے کا انتظار نہ کیا ۔(ف281)توریت کی حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔(ف282)کیونکہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اپنی قوم کا ایسی بدترین معصیّت میں مبتلا ہونا نہایت شاق اور گِراں ہوا ، تب حضرت ہارون علیہ السلام نے حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ۔(ف283)میں نے قوم کو روکنے اور انکو وَعظ و نصیحت کرنے میں کمی نہیں کی لیکن ۔(ف284)اور میرے ساتھ ایسا سُلوک نہ کرو جس سے وہ خوش ہوں ۔(ف285)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے بھائی کا عُذر قبول کرکے بارگاہِ الٰہی میں ۔
عرض کی اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے (ف۲۸٦) اور ہمیں اپنی رحمت کے اندر لے لے اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا
He submitted, “My Lord! Forgive me and my brother and admit us into Your mercy; and You are the Most Merciful of all those who show mercy.”
क्या तुमने अपने रब के हुक्म से जल्दी की और तख़्तियाँ डाल दीं और अपने भाई के सर के बाल पकड़ कर अपनी तरफ़ खींचने लगा कहा ऐ मेरे माँ जाए क़ौम ने मुझे कमज़ोर समझा और क़रीब था कि मुझे मार डालें तो मुझ पर दुश्मनों को न हँसा और मुझे ज़ालिमों में न मिला
Arz ki ae mere Rab! mujhe aur mere bhai ko bakhsh de aur humein apni rehmat ke andar le le aur tu sab mehr walon se barh kar mehr wala
(ف286)اگر ہم میں سے کسی سے کوئی اِفراط یا تفریط ہو گئی ۔ یہ دعا آپ نے بھائی کو راضی کرنے اور اَعدا کی شَماتَت رفع کرنے کے لئے فرمائی ۔
بیشک وہ جو بچھڑا لے بیٹھے عنقریب انہیں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچنا ہے دنیا کی زندگی میں، اور ہم ایسی ہی بدلہ دیتے ہیں بہتان ہایوں (باندھنے والوں) کو،
Indeed those who took the calf – the punishment from their Lord, and humiliation will reach them in the life of this world; and this is the way We reward those who fabricate lies.
अर्ज़ की ऐ मेरे रब! मुझे और मेरे भाई को बख़्श दे और हमें अपनी रहमत के अंदर ले ले और तू सब मेहर वालों से बढ़कर मेहर वाला
Beshak woh jo bachhra le baithe anqareeb unhein un ke Rab ka ghazab aur zillat pohanchna hai duniya ki zindagi mein, aur hum aisi hi badla dete hain bohtaan baandhne walon ko,
اور جنہوں نے برائیاں کیں اور ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۸۷)
And those who performed misdeeds and then repented and accepted faith – so after that, your Lord is Oft Forgiving, Most Merciful.
बेशक वह जो बछड़ा ले बैठे क़रीब उन्हें उनके रब का ग़ज़ब और ज़िल्लत पहुँचना है दुनिया की ज़िंदगी में, और हम ऐसी ही बदला देते हैं बहुतान बान्धने वालों को,
Aur jin hon ne buraaiyan keen aur un ke baad tauba ki aur imaan laaye to is ke baad tumhara Rab bakhshne wala mehrbaan hai
(ف287)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ جب بندہ ان سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تبارَ کَ و تعالٰی اپنے فضل و رحمت سے ان سب کو معاف فرماتا ہے ۔
اور موسیٰ نے اپنی قوم سے سترّ ۷۰، مرد ہمارے وعدہ کے لیے چنے (ف۲۸۸) پھر جب انہیں زلزلہ نے لیا (ف۲۸۹) موسیٰ نے عرض کی اے رب میرے! تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا (ف۲۹۰) کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بےعقلوں نے کیا (ف۲۹۱) وہ نہیں مگر تیرا آزمانا، تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے تو ہمارا مولیٰ ہے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر مہر کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے،
And Moosa chose seventy men from his people for Our promise; therefore when the earthquake seized them, he submitted, “My Lord! If You had willed You could have destroyed them and me, even earlier! Will You destroy us for the deeds which the ignorant among us did? That is not but Your testing us; with it You send astray whomever You will and guide whomever You will; You are our Master, so forgive us and have mercy on us, and You are the Best of the Forgiving.”
और जब मूसा का ग़ुस्सा थमा तख़्तियाँ उठा लीं और उनकी तहरीर में हिदायत और रहमत है उनके लिए जो अपने रब से डरते हैं,
Aur Moosa ne apni qoum se sattar
(ف288)کہ وہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہو کر قوم کی گوسالہ پرستی کی عُذر خواہی کریں چنانچہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام انہیں لے کر حاضر ہوئے ۔(ف289)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ زلزلہ میں مبتلا ہونے کا سبب یہ تھا کہ قوم نے جب بچھڑا قائم کیا تھا یہ ان سے جدا نہ ہوئے تھے ۔ (خازن)(ف290)یعنی مِیقات میں حاضر ہونے سے پہلے تاکہ بنی اسرائیل ان سب کی ہلاکت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور انہیں مجھ پر قتل کی تہمت لگانے کا موقع نہ ملتا ۔(ف291)یعنی ہمیں ہلاک نہ کر اور اپنا لطف و کرم فرما ۔
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ (ف۲۹۲) اور آخرت میں بیشک ہم تیری طرف رجوع لائے، فرمایا (ف۲۹۳) میرا عذاب میں جسے چاہوں دوں (ف۲۹٤) اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے (ف۲۹۵) تو عنقریب میں (ف۲۹٦) نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰة دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں،
“And destine good for us in this world and in the Hereafter – We have indeed inclined towards You”; He said, “I give My punishment to whomever I will; and My mercy encompasses all things; so I shall soon destine favours for those who fear and pay the charity, and they believe in Our signs.”
और मूसा ने अपनी क़ौम से सत्तर 70, मर्द हमारे वादा के लिए चुने फिर जब उन्हें ज़लज़ला ने लिया मूसा ने अर्ज़ की ऐ रब मेरे! तू चाहता तो पहले ही उन्हें और मुझे हलाक कर देता क्या तू हमें इस काम पर हलाक फ़रमाएगा जो हमारे बेअक़्लों ने किया वह नहीं मगर तेरा आज़माना, तू उससे बहकाए जिसे चाहे और राह दिखाए जिसे चाहे तू हमारा मौला है तू हमें बख़्श दे और हम पर मेहर कर और तू सबसे बेहतर बख़्शने वाला है,
mard hamare waada ke liye chune phir jab unhein zalzala ne liya Moosa ne arz ki ae Rab mere! tu chahta to pehle hi unhein aur mujhe halaak kar deta kya tu humein is kaam par halaak farmaaye ga jo hamare be-aqlon ne kiya woh nahin magar tera aazmana, tu is se behkaaye jise chahe aur raah dikhaaye jise chahe tu hamara Maula hai tu humein bakhsh de aur hum par mehr kar aur tu sab se behtar bakhshne wala hai,
(ف292)اور ہمیں توفیقِ طاعت مَرحمت فرما ۔(ف293)اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔(ف294)مجھے اختیار ہے سب میرے مَملوک اور بندے ہیں کسی کو مجالِ اعتراض نہیں ۔(ف295)دنیا میں نیک اور بد سب کو پہنچتی ہے ۔(ف296)آخرت کی ۔
وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بےپڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی (ف۲۹۷) جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں (ف۲۹۸) وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ (ف۲۹۹) اور گلے کے پھندے (ف۳۰۰) جو ان پر تھے اتارے گا، تو وہ جو اس پر (ف۳۰۱) ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا (ف۳۰۲) وہی بامراد ہوئے،
“Those who will obey this Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), the Herald of the Hidden who is untutored* (except by Allah), whom they will find mentioned in the Taurat and the Injeel with them; he will command them to do good and forbid them from wrong, and he will make lawful for them the good clean things and prohibit the foul for them, and he will unburden the loads and the neck chains which were upon them; so those who believe in him, and revere** him, and help him, and follow the light which came down with him – it is they who have succeeded." (*The Holy Prophet was taught by Allah Himself – see Surah 55 Al-Rahman. **To honour the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is part of faith. To disrespect him is blasphemy.)
और हमारे लिए इस दुनिया में भलाई लिख और आख़िरत में बेशक हम तेरी तरफ़ रुजू लाए, फ़रमाया मेरा अज़ाब मैं जिसे चाहूँ दूँ और मेरी रहमत हर चीज़ को घेरे है तो क़रीब मैं नेमतों को उनके लिए लिख दूँगा जो डरते और ज़कात देते हैं और वह हमारी आयतों पर ईमान लाते हैं,
Aur hamare liye is duniya mein bhalai likh aur aakhrat mein beshak hum teri taraf ruju laaye, farmaya mera azaab main jise chaahoon doon aur meri rehmat har cheez ko ghairay hai to anqareeb main ne’maton ko un ke liye likh doonga jo darte aur zakaat dete hain aur woh hamari aayaton par imaan laate hain,
(ف297)یہاں رسول سے بہ اجماع مفسِّرین سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰےصلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں ۔ آپ کا ذکر وصفِ رسالت سے فرمایا گیا کیونکہ آپ اللہ اور اس کے مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں ۔ فرائضِ رسالت ادا فرماتے ہیں ، اللہ تعالٰی کے اوامِر و نہی و شرائِع و اَحکام اس کے بندوں کو پہنچاتے ہیں ، اس کے بعد آپ کی توصیف میں نبی فرمایا گیا اس کا ترجمہ حضرت مُتَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے (غیب کی خبریں دینے والے) کیا ہے اور یہ نہایت ہی صحیح ترجمہ ہے کیونکہ نَبَاْ خبر کو کہتے ہیں جو مفیدِ علم ہو اور شائبۂ کِذب سے خالی ہو ۔ قرآنِ کریم میں یہ لفظ اس معنٰی میں بکثرت مستعمل ہوا ہے ۔ ایک جگہ ارشاد ہوا قُلْ ھُوَ نَبَؤُ عَظِیمٌ ایک جگہ فرمایا تِلْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْھَآ اِلَیْکَ ایک جگہ فرمایا فَلَمَّا اَنْبَأَھُمْ بِاَسْمَآءِ ھِمْ اور بکثرت آیات میں یہ لفظ اس معنٰی میں وارد ہوا ہے پھر یہ لفظ یا فاعِل کے معنٰی میں ہوگا یا مفعول کے معنٰی میں ، پہلی صورت میں اس کے معنٰی غیب کی خبریں دینے والے اور دوسری صورت میں اس کے معنٰی ہوں گے غیب کی خبریں دیئے ہوئے اور دونوں معنٰی کو قرآنِ کریم سے تائید پہنچتی ہے ۔ پہلے معنٰی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے نَبِّیءْ عِبَادِیْ دوسری آیت میں فرمایا قُلْ اَؤُنَبِّئُکُمْ اور اسی قبیل سے ہے حضرت مسیح علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد جو قرآنِ کریم میں وارِد ہوا اُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّ خِرُوْنَ اور دوسری صورت کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے۔ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ اور حقیقت میں انبیاء علیہم السلام غیب کی خبریں دینے والے ہی ہوتے ہیں ۔ تفسیرِ خازن میں ہے کہ آپ کے وصف میں نبی فرمایا کیونکہ نبی ہونا اعلٰی اور اشرف مراتب میں سے ہے اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ اللہ کے نزدیک بہت بلند درجے رکھنے والے اور اس کی طرف سے خبر دینے والے ہیں اُمِّی کا ترجمہ حضرت متَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے (بے پڑھے) فرمایا یہ ترجمہ بالکل حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کے مطابق ہے اور یقیناً اُمِّی ہونا آپ کے معجزات میں سے ایک معجِزہ ہے کہ دنیا میں کسی سے پڑھا نہیں اور کتاب وہ لائے جس میں اوّلین و آخرین اور غیبوں کے علوم ہیں ۔ (خازن) خاکی وبَر اُوج عرش منزل ، اُمِّی و کتاب خانہ در دِل دیگر : اُمِّی و دقیقہ دان عالَم ، بے سایہ و سائبان عالَم صلوٰۃ اللہ تعالیٰ علیہ وسَلَامُہ ۔(ف298)یعنی توریت و انجیل میں آپ کی نعت و صفت و نبوّت لکھی پائیں گے ۔ حدیث : حضرت عطاء ابنِ یسار نے حضرت عبداللہ بن عَمۡرو رضی اللہ عنہ سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اوصاف دریافت کئے جو توریت میں مذکور ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضور کے جو اوصاف قرآنِ کریم میں آئے ہیں انہیں میں کے بعض اوصاف توریت میں مذکور ہیں ، اس کے بعد انہوں نے پڑھنا شروع کیا اے نبی ہم نے تمہیں بھیجا شاہِد و مبشِّر اور نذیر اور اُمّیّوں کا نگہبان بنا کر ۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو میں نے تمہارا نام مُتوَکِّل رکھا ، نہ بد خُلق ہو نہ سخت مزاج ، نہ بازاروں میں آواز بلند کرنے والے ، نہ بُرائی سے بُرائی کو دفع کرو لیکن خطا کاروں کو معاف کرتے ہو اور ان پر احسان فرماتے ہو ، اللہ تعالٰی تمہیں نہ اُٹھائے گا جب تک کہ تمہاری برکت سے غیر مُستقیم مِلّت کو اس طرح راست نہ فرماوے کہ لوگ صِدق و یقین کے ساتھ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پکارنے لگیں اور تمہاری بدولت اندھی آنکھیں بینا اور بہرے کان شُنوا اور پردوں میں لپٹے ہوئے دل کشادہ ہو جائیں اور حضرت کعب اَحبار سے حضور کی صفات میں توریت شریف کا یہ مضمون بھی منقول ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی صفت میں فرمایا کہ میں انہیں ہر خوبی کے قابِل کروں گا ،اور ہر خُلقِ کریم عطا فرماؤں گا اور اطمینانِ قلب و وقار کو ان کا لباس بناؤں گا اور طاعات و اِ حسان کو ان کا شعار کروں گا اور تقوٰی کو ان کا ضمیر اور حکمت کو ان کا راز اور صدق و وفا کو ان کی طبیعت اور عفو و کرم کو ان کی عادت اور عدل کو ان کی سیرت اور اظہارِ حق کو ان کی شریعت اور ہدایت کو ان کا اِمام اور اسلام کو ان کی مِلّت بناؤں گا ۔ اَحمد انکا نام ہے ، خَلق کو ان کے صدقے میں گمراہی کے بعد ہدایت اور جہالت کے بعد علم و معرِفت اور گمنامی کے بعد رِفعت و منزِلت عطا کروں گا اور انہیں کی برکت سے قِلّت کے بعد کثرت اور فقر کے بعد دولت اور تفرُّقے کے بعد مَحبت عنایت کروں گا ، انہیں کی بدولت مختلف قبائل غیر مُجتمع خواہشوں اور اختلاف رکھنے والے دلوں میں اُلفت پیدا کروں گا اور ان کی اُمّت کو تمام اُمّتوں سے بہتر کروں گا ۔ ایک اور حدیث میں توریت شریف سے حضور کے یہ اوصاف منقول ہیں میرے بندے احمدِ مختار ، انکا جائے ولادت مکّۂ مکرّمہ اور جائے ہجرت مدینہ طیّبہ ہے ، ان کی اُمّت ہر حال میں اللہ کی کثیر حمد کرنے والی ہے ۔ یہ چند نقول احادیث سے پیش کئے گئے ، کُتُبِ اِلٰہیہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صِفَت سے بھری ہوئی تھیں ۔ اہلِ کتاب ہر قَرن میں اپنی کتابوں میں تراش خراش کرتے رہے اور ان کی بڑی کوشِش اس پر مسلّط رہی کہ حضور کا ذکر اپنی کتابوں میں نام کو نہ چھوڑیں ۔ توریت انجیل وغیرہ ان کے ہاتھ میں تھیں اس لئے انہیں اس میں کچھ دشواری نہ تھی لیکن ہزاروں تبدیلیں کرنے کے بعد بھی موجودہ زمانہ کی بائیبل میں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی بِشارت کا کچھ نہ کچھ نشان باقی رہ ہی گیا ۔ چنانچہ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی لاہور ۱۹۳۱ء کی چھپی ہوئی بائیبل میں یوحنّا کی انجیل کے باب چودہ کی سولھویں آیت میں ہے ۔ اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے لفظِ مددگار پر حاشیہ ہے اس میں اس کے معنٰی وکیل یا شفیع لکھے تو اب حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد ایسا آنے والا جو شفیع ہو اور ابد تک رہے یعنی اس کا دین کبھی منسوخ نہ ہو بجُز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے کون ہے پھر اُنتیسویں تیسویں آیت میں ہے ۔ اور اب میں نے تم سے اس کے ہونے سے پہلے کہہ دیا ہے تاکہ جب ہو جائے تو تم یقین کرو اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں کیسی صاف بِشارت ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی اُمّت کو حضور کی ولادت کا کیسا منتظِر بنایا اور شوق دلایا ہے اور دنیا کا سردار خاص سیدِ عالَم کا ترجمہ ہے اور یہ فرمانا کہ مجھ میں اس کا کچھ نہیں حضور کی عظمت کا اظہار اور اس کے حضور اپنا کمالِ ادب و انکسار ہے پھر اسی کتاب کے باب سولہ کی ساتویں آیت ہے ۔ لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مدد گار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا اس میں حضور کی بشارت کے ساتھ اس کا بھی صاف اظہار ہے کہ حضور خاتَم الانبیاء ہیں ، آپ کا ظہور جب ہی ہوگا جب حضرت عیسٰی علیہ السلام بھی تشریف لے جائیں ۔ اس کی تیرھویں آیت ہے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا ۔ اس آیت میں بتایا گیا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر دینِ الٰہی کی تکمیل ہو جائے گی اور آپ سچائی کی راہ یعنی دینِ حق کو مکمّل کر دیں گے ۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور یہ کلمہ کہ اپنی طرف سے نہ کہے گا جو کچھ سنے گا وہی کہے گا خاص مَایَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّاوَحْیٌ یُّوْحٰی کا ترجمہ ہے اور یہ جملہ کہ تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا اس میں صاف بیان ہے کہ وہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیبی علوم تعلیم فرمائیں گے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا۔ یُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ اور مَاھُوَعَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ ۔(ف299)یعنی سخت تکلیفیں جیسے کہ توبہ میں اپنے آپ کو قتل کرنا اور جن اعضاء سے گناہ صادِر ہوں ان کو کاٹ ڈالنا ۔(ف300)یعنی احکامِ شاقّہ جیسے کہ بدن اور کپڑے کے جس مقام کو نَجاست لگے اس کو قینچی سے کاٹ ڈالنا اور غنیمتوں کو جلانا اور گناہوں کا مکانوں کے دروازوں پر ظاہر ہونا وغیرہ ۔(ف301)یعنی محمّدِ مصطفٰےصلی اللہ علیہ وسلم پر ۔(ف302)اس نُور سے قرآن شریف مراد ہے جس سے مومن کا دل روشن ہوتا ہے اور شک و جہالت کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں اور علم و یقین کی ضیاء پھیلتی ہے ۔
تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں (ف۳۰۳) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بےپڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O people! Indeed I am, towards you all, the Noble Messenger of Allah – for Whom (Allah) only is the kingship of the heavens and the earth; there is none worthy of worship, except Him – giving life and giving death; therefore believe in Allah and His Noble Messenger, the Prophet who is untutored (except by Allah), who believes in Allah and His Words, and obey him (the Prophet) to attain guidance.” (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is the Prophet towards all mankind.)
वह जो ग़ुलामी करेंगे उस रसूल बे-पढ़े ग़ैब की ख़बरें देने वाले की जिसे लिखा हुआ पाएँगे अपने पास तौरैत और इंजील में वह उन्हें भलाई का हुक्म देगा और बुराई से मना करेगा और सुथरी चीज़ें उनके लिए हलाल फ़रमाएगा और गंदी चीज़ें उन पर हराम करेगा और उन पर से वह बोझ और गले के फंदे जो उन पर थे उतार देगा, तो वह जो उस पर ईमान लाएँ और उसकी तअज़ीम करें और उसे मदद दें और उस नूर की पैरवी करें जो उसके साथ उतरा वही बामुराद हुए,
Woh jo ghulami kareinge is Rasool be-parhe ghaib ki khabrein dene wale ki jise likha hua paayeinge apne paas Taurait aur Injeel mein woh unhein bhalai ka hukm de ga aur burai se man kare ga aur suthri cheezain un ke liye halal farmaaye ga aur gandi cheezain un par haraam kare ga aur un par se woh bojh aur galey ke phande jo un par the utaare ga, to woh jo is par imaan laayen aur us ki ta’zeem karein aur use madad dein aur is noor ki pairwi karein jo us ke saath utra wahi ba-muraad hue,
(ف303)یہ آیت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے عُمومِ رسالت کی دلیل ہے کہ آپ تمام خَلق کے رسول ہیں اور کُل جہاں آپ کی اُمّت ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے حضور فرماتے ہیں پانچ چیزیں مجھے ایسی عطا ہوئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں ۔ (۱) ہر نبی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں سُرخ و سیاہ کی طرف مبعوث فرمایا گیا ۔ (۲) میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے نہیں ہوئی تھیں ۔ (۳) میرے لئے زمین پاک اور پاک کرنے والی (قابلِ تَیَمُّم) اور مسجد کی گئی جس کسی کو کہیں نماز کا وقت آئے وہیں پڑھ لے ۔ (۴) دشمن پر ایک ماہ کی مَسافت تک میرا رُعب ڈال کر میری مدد فرمائی گئی ۔ (۵) اور مجھے شفاعت عنایت کی گئی ۔ مسلم شریف کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ میں تمام خَلق کی طرف رسول بنایا گیا اور میرے ساتھ انبیاء ختم کئے گئے ۔
اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے کہ حق کی راہ بتاتا اور اسی سے (ف۳۰٤) انصاف کرتا،
And among the people of Moosa is a group that shows the true path, and establishes justice with it.
तुम फ़रमाओ ऐ लोगो! मैं तुम सब की तरफ़ उस अल्लाह का रसूल हूँ कि आसमानों और ज़मीन की बादशाही उसी को है उसके सिवा कोई माबूद नहीं जलाए और मारे तो ईमान लाओ अल्लाह और उसके रसूल बे-पढ़े ग़ैब बताने वाले पर कि अल्लाह और उसकी बातों पर ईमान लाते हैं और उनकी ग़ुलामी करो कि तुम राह पाओ,
Tum farmao ae logo! main tum sab ki taraf is Allah ka Rasool hoon ke aasmaanon aur zameen ki baadshaahi usi ko hai us ke siwa koi ma’bood nahin jalaye aur maare to imaan lao Allah aur us ke Rasool be-parhe ghaib batane wale par ke Allah aur us ki baaton par imaan laate hain aur un ki ghulami karo ke tum raah paao,
اور ہم نے انہیں بانٹ دیا بارہ قبیلے گروہ گروہ، اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کو جب اس سے اس کی قوم نے (ف۳۰۵) پانی ما نگا کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (ف۳۰٦) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا، اور ہم نے ان پر ابر کا سائبان کیا (ف۳۰۷) اور ان پر من و سلویٰ اتارا، کھاؤ ہماری دی ہوئی پاک چیزیں اور انہوں نے (ف۳۰۸) ہمارا کچھ نقصان نہ کیا لیکن اپنی ہی جانوں کا برا کرتے ہیں،
And We divided them into twelve tribes, as separate groups; and when his people asked him for water, We revealed to Moosa, “Strike the rock with your staff”; so twelve springs gushed forth from it; each group recognised its drinking-place; and We made the clouds a canopy over them and sent down the Manna and the Salwa (birds) on them; “Eat of the good things we have provided you”; and they did not wrong Us in the least, but they used to wrong themselves.
और मूसा की क़ौम से एक गिरोह है कि हक़ की राह बताता और उसी से इंसाफ़ करता,
Aur Moosa ki qoum se ek groh hai ke haqq ki raah bataata aur usi se insaaf karta,
(ف305)تِیہ میں ۔(ف306)ہر گروہ کے لئے ایک چشمہ ۔(ف307)تاکہ دھوپ سے امن میں رہیں ۔(ف308)ناشکری کر کے ۔
اور یاد کرو جب ان (ف۳۰۹) سے فرمایا گیا اس شہر میں بسو (ف۳۱۰) اور اس میں جو چاہو کھاؤ اور کہو گناہ اترے اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے، عنقریب نیکوں کو زیادہ عطا فرمائیں گے،
And remember when they were commanded, “Reside in this township and eat whatever you wish in it, and say ‘Sins are forgiven’ and enter the gate prostrating – We will forgive you your sins; We shall soon bestow more upon the virtuous.”
और हमने उन्हें बाँट दिया बारह क़बीले गिरोह गिरोह, और हमने वही भेजी मूसा को जब उससे उसकी क़ौम ने पानी माँगा कि इस पत्थर पर अपना अ़स्सा मारो तो उसमें से बारह चश्मे फूट निकले हर गिरोह ने अपना घाट पहचान लिया, और हमने उन पर अब्र का सायबान किया और उन पर मन व सलवा उतारा, खाओ हमारी दी हुई पाक चीज़ें और उन्होंने हमारा कुछ नुक़सान न किया लेकिन अपनी ही जानों का बुरा करते हैं,
تو ان میں کے ظالموں نے بات بدل دی اس کے خلاف جس کا انہیں حکم تھا (ف۳۱۱) تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا بدلہ ان کے ظلم کا (ف۳۱۲)
So the unjust among them changed the words, contrary to what they had been commanded – consequently We sent down upon them a punishment from the sky – the recompense of their injustice.
और याद करो जब उनसे फ़रमाया गया इस शहर में बसो और इसमें जो चाहो खाओ और कहो गुनाह उतरे और दरवाज़े में सज्दा करते दाख़िल हो हम तुम्हारे गुनाह बख़्श देंगे, क़रीब नेक़ों को ज़्यादा अता फ़रमाएँगे,
qabeelay groh groh, aur hum ne wahi bheji Moosa ko jab us se us ki qoum ne paani maanga ke is pathar par apna asa maaro to is mein se barah chashmey phoot nikle har groh ne apna ghaat pehchaan liya, aur hum ne un par abr ka saayaan kiya aur un par mann o salwa utaara, khao hamari di hui paak cheezen aur unhon ne hamara kuch nuqsaan na kiya lekin apni hi jaanon ka bura karte hain.
(ف311)یعنی حکم تو تھا کہ حِطَّۃُ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں ، حطۃ توبہ اور استغفار کا کلمہ ہے لیکن وہ بجائے اس کے براہِ تمسخُر حنطۃ فی شعیرۃ کہتے ہوئے داخل ہوئے ۔(ف312)یعنی عذاب بھیجنے کا سبب ان کا ظلم اور حکمِ الٰہی کی مخالفت کرنا ہے ۔
اور ان سے حال پوچھو اس بستی کا کہ دریا کنارے تھی (ف۳۱۳) جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھتے (ف۳۱٤) جب ہفتے کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ان کے سامنے آتیں اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا نہ آتیں اس طرح ہم انہیں آزمانتے تھے ان کی بےحکمی کے سبب،
And ask them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) of the township that was by the sea; when they used to exceed in the matter of the Sabbath – when their fish used to come swimming atop the water in front of them on the day of Sabbath and not come on the days it was not Sabbath; this is how We used to test them, due to their disobedience.
तो उनमें के ज़ालिमों ने बात बदल दी उसके ख़िलाफ़ जिसका उन्हें हुक्म था तो हमने उन पर आसमान से अज़ाब भेजा बदला उनके ज़ुल्म का
Aur yaad karo jab un se farmaya gaya is shehar me baso aur is me jo chaho khao aur kaho gunah utare aur darwaze me sajda karte daakhil ho hum tumhare gunah baksh denge, anqareeb nekon ko ziada ata farmaenge.
(ف313)حضرت نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خِطاب ہے کہ آپ اپنے قریب رہنے والے یہود سے تَو بِیخاً اس بستی والوں کا حال دریافت فرمائیں ۔ مقصود اس سوال سے یہ تھا کہ کُفّار پر ظاہر کر دیا جائے کہ کُفر و معصیت ان کا قدیمی دستور ہے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اورحضور کے معجزات کا انکار کرنا یہ ان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ان کے پہلے بھی کُفر پر مُصِر رہے ہیں ، اس کے بعد ان کے اَسلاف کا حال بیان فرمایا کہ وہ حکمِ الٰہی کی مخالفت کے سبب بندروں اور سُوروں کی شکل میں مسخ کر دیئے گئے ۔ اس بستی میں اختلاف ہے کہ وہ کون تھی ۔ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ ایک قَریہ مِصر و مدینہ کے درمیان ہے ، ایک قول ہے کہ مدین و طور کے درمیان ، زُہری نے کہا کہ وہ قَریہ طبریہ شام ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی ایک روایت میں ہے کہ وہ مَدْیَنْ ہے ، بعض نے کہا اِیلہ ہے واللہ تعالٰی اعلم ۔(ف314)کہ باوجود ممانعت کے ہفتے کے روز شکار کرتے ۔ اس بستی کے لوگ تین گروہ میں منقسم ہوگئے تھے ، ایک تہائی ایسے لوگ تھے جو شکار سے باز رہے اور شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے اور ایک تہائی خاموش تھے دوسروں کو منع نہ کرتے تھے اور منع کرنے والوں سے کہتے تھے ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے اور ایک گروہ وہ خطا کار لوگ تھے جنہوں نے حکمِ الٰہی کی مخالفت کی اور شکار کیا اور کھایا اور بیچا اور جب وہ اس معصیّت سے باز نہ آئے تو منع کرنے والے گروہ نے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ بُود و باش نہ رکھیں گے اور گاؤں کو تقسیم کر کے درمیان میں ایک دیوار کھینچ دی ، منع کرنے والوں کا ایک دروازہ الگ تھا جس سے آتے جاتے تھے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے خطا کاروں پر لعنت کی ، ایک روز منع کرنے والوں نے دیکھا کہ خطاکاروں میں سے کوئی نہیں نکلا تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید آج شراب کے نشہ میں مدہوش ہوگئے ہوں گے انہیں دیکھنے کے لئے دیوار پر چڑھے تو دیکھا کہ وہ بندروں کی صورتوں میں مسخ ہوگئے تھے اب یہ لوگ دروازہ کھول کر داخل ہوئے تو وہ بندر اپنے رشتہ داروں کو پہچانتے تھے اور ان کے پاس آ کر ان کے کپڑے سونگھتے تھے اور یہ لوگ ان بندر ہو جانے والوں کو نہیں پہچانتے تھے ، ان لوگوں نے ان سے کہا کیا ہم لوگوں نے تم سے منع نہیں کیا تھا انہوں نے سَر کے اشارے سے کہا ہاں اور وہ سب ہلاک ہوگئے اور منع کرنے والے سلامت رہے ۔
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا، بولے تمہارے رب کے حضور معذرت کو (ف۳۱۵) اور شاید انہیں ڈر ہو (ف۳۱٦)
And when a group among them said, “Why do you preach to a people whom Allah is going to destroy or mete out a severe punishment?” They said, “To have an excuse before your Lord, and that perhaps they may fear.”
और उनसे हाल पूछो उस बस्ती का कि दरिया किनारे थी जब वह हफ़्ते के बारे में हद से बढ़ते जब हफ़्ते के दिन उनकी मछलियाँ पानी पर तैरती उनके सामने आतीं और जो दिन हफ़्ते का न होता न आतीं इस तरह हम उन्हें आज़माते थे उनकी बे-हुक़्मी के सबब,
To un me ke zalimon ne baat badal di is ke khilaf jis ka unhein hukum tha to hum ne un par aasman se azab bheja badla un ke zulm ka.
(ف315)تاکہ ہم پر نہی عنِ المنکَر ترک کرنے کا اِلزام نہ رہے ۔(ف316)اور وہ نصیحت سے نفع اُٹھا سکیں ۔
پھر جب بھلا بیٹھے جو نصیحت انہیں ہوئی تھی ہم نے بچالیے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا،
And when they forgot the advices they had been given, We rescued those who forbade evil, and seized the unjust with a dreadful punishment – the recompense of their disobedience.
और जब उनमें से एक गिरोह ने कहा क्यों नसीहत करते हो उन लोगों को जिन्हें अल्लाह हलाक करने वाला है या उन्हें सख़्त अज़ाब देने वाला, बोले तुम्हारे रब के हुज़ूर मअज़रत को और शायद उन्हें डर हो
Aur un se haal poocho is basti ka ke darya kinare thi jab woh haftay ke baray me had se barhte, jab haftay ke din un ki machhliyan pani par teerti un ke samne aatin aur jo din haftay ka na hota na aatin, is tarah hum unhein aazmate the un ki be-hukmi ke sabab.
پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے (ف۲۱۷)
Consequently when they rebelled against the command to refrain, We said to them, “Be apes, despised!”
फिर जब भुला बैठे जो नसीहत उन्हें हुई थी हमने बचा लिए वह जो बुराई से मना करते थे और ज़ालिमों को बुरे अज़ाब में पकड़ा बदला उनकी नाफ़रमानी का,
Aur jab un me se ek giroh ne kaha kyon naseehat karte ho un logon ko jinhain Allah halak karne wala hai ya unhein sakht azab dene wala, bole tumhare Rab ke huzoor ma’zerat ko aur shayad unhein dar ho.
(ف317)وہ بندر ہوگئے اور تین روز اسی حال میں مبتلا رہ کر ہلاک ہوگئے ۔
اور جب تمہارے رب نے حکم سنادیا کہ ضرور قیامت کے دن تک ان (ف۳۱۸) پر ایسے کو بھیجتا رہوں گا جو انہیں بری مار چکھائے (ف۳۱۹) بیشک تمہارا رب ضرور جلد عذاب والا ہے (ف۳۲۰) اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۲۱)
And remember when your Lord announced the command that till the Day of Resurrection I will certainly send such oppressors against them, who will inflict them with a dreadful punishment; indeed your Lord is swift in meting out punishment; and indeed He is Oft Forgiving, Most Merciful.
फिर जब उन्होंने ममनाअत के हुक्म से सरकशी की हमने उनसे फ़रमाया हो जाओ बंदर धुत्कारे हुए
Phir jab bhula baithe jo naseehat unhein hui thi hum ne bacha liye woh jo burai se mana karte the aur zalimon ko bure azab me pakra badla un ki nafarmaani ka.
(ف318)یہود ۔ (ف319)چنانچہ ان پر اللہ تعالٰی نے بختِ نصر اور سنجاریب اور شاہانِ روم کو بھیجا جنہوں نے انہیں سخت ایذائیں اور تکلیفیں دیں اور قیامت تک کے لئے ان پر جِزیہ اور ذِلّت لازم ہوئی ۔(ف320)انکے لئے جو کُفر پر قائم رہیں ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ ان پر عذاب مُستَمِر رہے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔(ف321)ان کو جو اللہ کی اطاعت کریں اورا یمان لائیں ۔
اور انہیں ہم نے زمین میں متفرق کردیا گروہ گروہ، ان میں کچھ نیک ہیں (ف۳۲۲) اور کچھ اور طرح کے (ف۳۲۳) اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایا کہ کہیں وہ رجوع لائیں (ف۳۲٤)
And We divided them in the earth as separate groups; some of them are righteous and some are the other type; and We tested them with good (favours) and evil things (adversities) so that they may return.
और जब तुम्हारे रब ने हुक्म सुना दिया कि ज़रूर क़यामत के दिन तक उन पर ऐसे को भेजता रहूँगा जो उन्हें बुरी मार चखाए बेशक तुम्हारा रब ज़रूर जल्द अज़ाब वाला है और बेशक वह बख़्शने वाला मेहरबान है
Phir jab unhon ne mumana’at ke hukum se sarkashi ki hum ne un se farmaya ho jao bandar dhatkaare huwe.
(ف322)جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ا یمان لائے اور دین پر ثابت رہے ۔(ف323)جنہوں نے نافرمانی کی اور جنہوں نے کُفر کیا اور دین کو بدلا اور مُتغیَّر کیا ۔(ف324)بھلائیوں سے نعمت و راحت اور بُرائیوں سے شدّت و تکلیف مراد ہے ۔
پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ (ف۳۲۵) ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۲٦) اس دنیا کا مال لیتے ہیں (ف۳۲۷) اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی (ف۳۲۸) اور اگر ویسا ہی مال ان کے پاس اور آئے تو لے لیں (ف۳۲۹) کیا ان پر کتاب میں عہد نہ لیا گیا کہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں مگر حق اور انہوں نے اسے پڑھا (ف۳۳۰) اور بیشک پچھلا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کو (ف۳۳۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں،
And after them in their place, came those unworthy successors who inherited the Books – they accept the goods of this world (as bribes) and say, “We shall soon be forgiven”; and if similar goods come to them again, they would accept it; was not the covenant taken from them in the Book, that they must not relate anything to Allah except the truth, and they have studied it? And indeed the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?
और उन्हें हमने ज़मीन में मुतफ़र्रिक कर दिया गिरोह गिरोह, उनमें कुछ नेक़ हैं और कुछ और तरह के और हमने उन्हें भलाईयों और बुराईयों से आज़माया कि कहीं वह रुजू लाएँ
Aur jab tumhare Rab ne hukum suna diya ke zaroor qayamat ke din tak un par aise ko bhejta rahoon ga jo unhein buri maar chakhae, beshak tumhara Rab zaroor jald azab wala hai aur beshak woh bakhshne wala meharban hai.
(ف325)جن کی دو قسمیں بیان فرمائی گئیں ۔(ف326)یعنی توریت کے جو انہوں نے اپنے اَسلاف سے پائی اور اس کے اوامِر و نواہی اور تحلیل و تحریم وغیرہ مضامین پر مطّلع ہوئے ۔ مدارک میں ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے ان کی حالت یہ ہے کہ ۔(ف327)بطورِ رشوت کے احکام کی تبدیل اور کلام کی تغیِیر پر اور و ہ جانتے بھی ہیں کہ یہ حرام ہے لیکن پھر بھی اس گناہِ عظیم پر مُصِر ہیں ۔(ف328)اور ان گناہوں پر ہم سے کچھ مؤاخَذہ نہ ہوگا ۔(ف329)اور آئیندہ بھی گناہ کرتے چلے جائیں ۔ سدی نے کہا کہ بنی اسرائیل میں کوئی قاضی ایسا نہ ہوتا تھا جو رشوت نہ لے جب اس سے کہا جاتا تھا کہ تم رشوت لیتے ہو تو کہتا تھا کہ یہ گناہ بخش دیا جائے گا ، اس کے زمانہ میں دوسرے اس پر طعن کرتے تھے لیکن جب وہ مر جاتا یا معزول کر دیا جاتا اور وہی طعن کرنے والے اس کی جگہ حاکِم و قاضی ہوتے تو وہ بھی اسی طرح رشوت لیتے ۔(ف330)لیکن باوجود اس کے انہوں نے اس کے خلاف کیا ۔ توریت میں گناہ پر اصرار کرنے والے کے لئے مغفرت کا وعدہ نہ تھا تو ان کا گناہ کئے جانا ، توبہ نہ کرنا اور اس پر یہ کہنا کہ ہم سے مؤاخذہ نہ ہوگا یہ اللہ پر افترا ہے ۔(ف331)جو اللہ کے عذاب سے ڈریں اور رشوت و حرام سے بچیں اور اس کی فرمانبرداری کریں ۔
اور وہ جو کتاب کو مضبوط تھامتے ہیں (ف۳۳۲) اور انہوں نے نماز قائم رکھی، ہم نیکوں کا نیگ (اجر) نہیں گنواتے،
And those who hold fast to the Book, and have kept the prayer established; and We do not waste the wages of the righteous.
फिर उनकी जगह उनके बाद वह नाख़लफ़ आए कि किताब के वारिस हुए इस दुनिया का माल लेते हैं और कहते अब हमारी बख़्शिश होगी और अगर वैसा ही माल उनके पास और आए तो ले लें क्या उन पर किताब में अहद न लिया गया कि अल्लाह की तरफ़ निस्बत न करें मगर हक़ और उन्होंने उसे पढ़ा और बेशक पिछला घर बेहतर है परहेज़गारों को तो क्या तुम्हें अक़्ल नहीं,
Aur unhein hum ne zameen me mutafarriq kar diya giroh giroh, un me kuch nek hain aur kuch aur tarah ke, aur hum ne unhein bhalaiyon aur buraiyon se aazmaya ke kahin woh rujoo laen.
(ف332)اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اس کے تمام احکام کو مانتے ہیں اور اس میں تغیِیر و تبدیل روا نہیں رکھتے ۔شانِ نُزول : یہ آیت اہلِ کتاب میں سے حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ ایسے اصحاب کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے پہلی کتاب کا اِتّباع کیا اور اس کی تحریف نہ کی ، اس کے مضامین کو نہ چھپایا اور اس کتاب کے اِتّباع کی بدولت انہیں قرآنِ پاک پر ا یمان نصیب ہوا ۔ (خازن و مدارک)
اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا (ف۳۳۳) تو جو ہم نے تمہیں دیا زور سے (ف۳۳٤) اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیزگار ہو،
And when We raised the Mount (Sinai) above them as if it were a canopy, and they thought that it would fall upon them; “Accept firmly what We have given you, and remember what is in it, so that you may become pious.”
और वह जो किताब को मज़बूत थामते हैं और उन्होंने नमाज़ क़ायम रखी, हम नेक़ों का नेग (अज्र) नहीं गिनवाते,
Phir un ki jagah un ke baad woh na-khalaf aaye ke kitab ke waris huwe, is duniya ka maal lete hain aur kehte ab hamari bakhshish ho gi aur agar waisa hi maal un ke paas aur aaye to le lein, kya un par kitab me ahad na liya gaya ke Allah ki taraf nisbat na karein magar haq aur unhon ne use parha aur beshak pichhla ghar behtar hai parhezgaron ko, to kya tumhein aqal nahi.
(ف333)جب بنی اسرائیل نے تکالیفِ شاقّہ کی وجہ سے احکامِ توریت کو قبول کرنے سے انکار کیا تو حضرت جبریل نے بحکمِ الٰہی ایک پہاڑ جس کی مقدار ان کے لشکر کے برابر ایک فرسنگ طویل ، ایک فرسنگ عریض تھی اُٹھا کر سائبان کی طرح ان کے سرداروں کے قریب کر دیا اور ان سے کہا گیا کہ احکامِ توریت قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا ۔ پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر سب کے سب سجدے میں کر گر گئے مگر اس طرح کے بایاں رخسارہ و ابرو تو انہوں نے سجدے میں رکھ دی ا ور داہنی آنکھ سے پہاڑ کو دیکھتے رہے کہ کہیں گر نہ پڑے چنانچہ اب تک یہودیوں کے سجدے کی یہی شان ہے ۔(ف334)عزم و کوشش سے ۔
اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا رب نہیں (ف۳۳۵) سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے (ف۳۳٦) کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی (ف۳۳۷)
And remember when your Lord brought forth the generations from the backs of the Descendants of Adam, and made them their own witness; “Am I not your Lord?”; they all said, “Yes surely You are, why not? We testify”; for you may say on the Day of Resurrection that, “We were unaware of this.”
और जब हमने पहाड़ उन पर उठाया गोया वह साइबान है और समझे कि वह उन पर गिर पड़ेगा तो जो हमने तुम्हें दिया जोर से और याद करो जो उस में है कि कहीं तुम परहेज़गार हो,
Aur woh jo kitab ko mazboot thaamte hain aur unhon ne namaz qayam rakhi, hum nekon ka najig (ajr) nahi ginaate.
(ف335)حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی ذُرِّیَّت نکالی ا ور ان سے عہد لیا ۔ آیات و حدیث دونوں پر نظر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذُرِّیَّت نکالنا اس سلسلہ کے ساتھ تھا جس طرح کہ دنیا میں ایک دوسرے سے پیدا ہوں گے اور انکے لئے ربوبیت اور وحدانیت کے دلائل قائم فرما کر اور عقل دے کر ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت طلب فرمائی ۔(ف336)اپنے اوپر اور ہم نے تیری ربوبیت اور وحدانیت کا اقرار کیا ، یہ شاہِد کرنا اس لئے ہے ۔(ف337)ہمیں کوئی تنبیہ نہیں کی گئی تھی ۔
یا کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے (ف۳۳۸) تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا (ف۳۳۹)
Or you may say, “It is our ancestors who first ascribed partners (to Allah) and we were (their) children after them; so will You destroy us on account of the deeds of the followers of falsehood?”
और ऐ महबूब! याद करो जब तुम्हारे रब ने औलाद आदम की पुश्त से उन की नस्ल निकाली और उन्हें खुद उन पर गवाह किया, क्या मैं तुम्हारा रब नहीं सब बोले क्यों नहीं हम गवाह हुए कि कहीं क़यामत के दिन कहो कि हमें उस की ख़बर न थी
Aur jab hum ne pahad un par uthaya goya woh saayaban hai aur samjhe ke woh un par gir pade ga to jo hum ne tumhein diya zor se, aur yaad karo jo us me hai ke kahin tum parhezgar ho.
(ف338)جیسا انہیں دیکھا ان کے اِتّباع و اقتداء میں ویسا ہی کرتے رہے ۔(ف339)یہ عذر کرنے کا موقع نہ رہا جب کہ ان سے عہد لے لیا گیا اور ان کے پاس رسول آئے اور انہوں نے اس عہد کو یاد دلایا اور توحید پر دلائل قائم ہوئے ۔
اور ہم اسی طرح آیتیں رنگ رنگ سے بیان کرتے ہیں (ف۳٤۰) اور اس لیے کہ کہیں وہ پھر آئیں (ف۳٤۱)
And this is how We explain the verses in different ways, and so that they may return.
या कहो कि शिर्क तो पहले हमारे बाप दादा ने किया और हम उन के बाद बचे हुए तो क्या तू हमें उस पर हलाक फ़रमाएगा जो अहले बातिल ने किया
Aur ae mehboob! yaad karo jab tumhare Rab ne aulaad-e-Adam ki pusht se un ki nasal nikali aur unhein khud un par gawah kiya, kya main tumhara Rab nahi, sab bole kyon nahi, hum gawah huwe ke kahin qayamat ke din kaho ke humein is ki khabar na thi.
(ف340)تاکہ بندے تدبُّر و تفکُّر کرکے حق و ا یمان قبول کریں ۔(ف341)شرک و کُفر سے توحید و ا یمان کی طرف اور نبی صاحبِ معجزات کے بتانے سے اپنے عہدِ میثاق کو یاد کریں اور اس کے مطابق عمل کریں ۔
اور اے محبوب! انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں (ف۳٤۲) تو وہ ان سے صاف نکل گیا (ف۳٤۳) تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا،
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) recite to them the case of the one to whom We gave Our revelations, and in response he departed from them completely – so Satan went after him – he therefore became of the astray.
और हम इसी तरह आयतें रंग रंग से बयान करते हैं और इस लिए कि कहीं वह फिर आएं
Ya kaho ke shirk to pehle hamare baap dada ne kiya aur hum un ke baad bache huwe, to kya tu humein is par halak farmae ga jo ahl-e-batil ne kiya.
(ف342)یعنی بلعم باعور جس کا واقعہ مفسِّرین نے اس طرح بیان کیا ہے کہ جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے جبّارین سے جنگ کا قصد کیا اور سر زمینِ شام میں نُزول فرمایا تو بلعم باعور کی قوم اس کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگی کہ حضرت موسٰی علیہ السلام بہت تیز مزاج ہیں اور ان کے ساتھ کثیر لشکر ہے وہ یہاں آئے ہیں ہمیں ہمارے بلاد سے نکالیں گے اور قتل کریں گے اور بجائے ہمارے بنی اسرائیل کو اس سر زمین میں آباد کریں گے ، تیرے پاس اسمِ اعظم ہے اور تیری دعا قبول ہوتی ہے تو نکل اور اللہ تعالٰی سے دعا کر اللہ تعالٰی انہیں یہاں سے ہٹا دے ۔ بلعم باعور نے کہا تمہارا بُرا ہو حضرت مُوسٰی علیہ السلام نبی ہیں اور ان کے ساتھ فرشتے ہیں اور ا یمان دار لوگ ہیں ، میں کیسے ان پر دعا کروں ؟ میں جانتا ہوں جو اللہ تعالٰی کے نزدیک ان کا مرتبہ ہے اگر میں ایسا کروں تو میری دنیا و آخرت برباد ہو جائے گی مگر قوم اس سے اصرار کرتی رہی اور بہت اِلحاح و زاری کے ساتھ انہوں نے اپنا یہ سوال جاری رکھا تو بلعم باعور نے کہا کہ میں اپنے ربّ کی مرضی معلوم کر لوں اور اس کا یہی طریقہ تھا کہ جب کبھی کوئی دعا کرتا پہلے مرضی الٰہی معلوم کر لیتا اور خواب میں اس کا جواب مل جاتا چنانچہ اس مرتبہ بھی اس کو یہی جواب ملا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کے ہمراہیوں کے خلاف دعا نہ کرنا ، اس نے قوم سے کہہ دیا کہ میں نے اپنے ربّ سے اجازت چاہی تھی مگر میرے ربّ نے ان پر دعا کرنے کی مُمانعت فرما دی تب قوم نے اس کو ہدیئے اور نذرانے دیئے جو اس نے قبول کئے اور قوم نے اپنا سوال جاری رکھا تو پھر دوسری مرتبہ بلعم باعور نے ربّ تبارَک وتعالٰی سے اجازت چاہی اس کا کچھ جواب نہ ملا ، اس نے قوم سے کہہ دیا کہ مجھے اس مرتبہ کچھ جواب ہی نہ ملا قوم کے لوگ کہنے لگے کہ اگر اللہ کو منظور نہ ہوتا تو وہ پہلے کی طرح دوبارہ بھی منع فرماتا اور قوم کا اِلحاح و اصرار اور بھی زیادہ ہوا حتٰی کہ انہوں نے اس کو فتنہ میں ڈال دیا اور آخر کار وہ بددعا کرنے کے لئے پہاڑ پر چڑھا تو جو بددعا کرتا اللہ تعالٰی اس کی زبان کو اس کی قوم کی طرف پھیر دیتا تھا اور اپنی قوم کے لئے جو دعائے خیر کرتا تھا بجائے قوم کے بنی اسرائیل کا نام اس کی زبان پر آتا تھا ۔ قوم نے کہا اے بلعم یہ کیا کر رہا ہے ؟ بنی اسرائیل کے لئے دعا کرتا ہے ہمارے لئے بددعا ، کہا یہ میرے اختیار کی بات نہیں ، میری زبان میرے قبضہ میں نہیں ہے اور اس کی زبان باہر نکل پڑی تو اس نے اپنی قوم سے کہا میری دنیا و آخرت دونوں برباد ہوگئیں ۔ اس آیت میں اس کا بیان ہے ۔(ف343)اور ان کا اِتّباع نہ کیا ۔
اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھالیتے (ف۳٤٤) مگر وہ تو زمین پکڑ گیا (ف۳٤۵) اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے (ف۲٤٦) یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں،
And had We willed We could have raised him because of the revelations, but he clung to the earth and followed his own desires; his condition therefore is like that of a dog; if you attack him he hangs out his tongue and if you leave him he hangs out his tongue; this is the state of the people who denied Our signs; therefore preach, so that they may give thought.
और ऐ महबूब! उन्हें उस का अहवाल सुनाओ जिसे हमने अपनी आयतें दीं तो वह उन से साफ़ निकल गया तो शैतान उस के पीछे लगा तो गुमराहों में हो गया,
Aur hum isi tarah ayatein rang rang se bayan karte hain aur is liye ke kahin woh phir aayen.
(ف344)اور بلند درجہ عطا فرما کر اَبرار کی منازِل میں پہنچاتے ۔(ف345)اور دنیا کامَفتوں ہوگیا ۔(ف346)یہ ایک ذلیل جانور کے ساتھ تشبیہ ہے کہ دنیا کی حِرص رکھنے والا اگر اس کو نصیحت کرو تو مفید نہیں , مبتلائے حرص رہتا ہے ، چھوڑ دو تو اسی حرص کا گرفتار ۔ جس طرح زبان نکالنا کُتّے کی لازمی طبیعت ہے ایسی ہی حرص ان کے لئے لازم ہوگئی ہے ۔
کیا بری کہاوت ہے ان کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور اپنی ہی جان کا برا کرتے تھے،
What an evil example is of those who denied Our signs and used to wrong only their own souls.
और हम चाहते तो आयतों के सबब उसे उठा लेते मगर वह तो ज़मीन पकड़ गया और अपनी ख़्वाहिश का ताबे हुआ तो उस का हाल कुत्ते की तरह है तू उस पर हमला करे तो ज़बान निकाले और छोड़ दे तो ज़बान निकाले यह हाल है उन का जिन्होंने हमारी आयतें झटलाईं तो तुम नसीहत सुनाओ कि कहीं वह ध्यान करें,
Aur ae mehboob! unhein is ka ahwaal sunao jise hum ne apni ayatein di to woh un se saaf nikal gaya to shaitaan us ke peeche laga to gumraahon me ho gaya.
جسے اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے،
Whomever Allah guides – only he is on the right path; and whomever He sends astray – it is they who are the losers.
क्या बुरी कहावत है उन की जिन्होंने हमारी आयतें झटलाईं और अपनी ही जान का बुरा करते थे,
Aur hum chahte to ayaton ke sabab use utha lete magar woh to zameen pakad gaya aur apni khwahish ka tab’ah huwa, to us ka haal kutte ki tarah hai tu us par hamla kare to zuban nikaale aur chhod de to zuban nikaale, yeh haal hai un ka jinhon ne hamari ayatein jhutlayin, to tum naseehat sunao ke kahin woh dhyaan karein.
اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی (ف۳٤۷) اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں (ف۳٤۸) اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں (ف۳٤۹) اور وہ کان جن سے سنتے نہیں (ف۳۵۰) وہ چوپایوں کی طرح ہیں (ف۳۵۱) بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ (ف۳۵۲) وہی غفلت میں پڑے ہیں،
And indeed We have created many jinns and men for hell; they have hearts in which their is no understanding; and the eyes they do not see with; and the ears they do not hear with; they are like cattle – in fact more astray; it is they who are the neglectful.
जिसे अल्लाह राह दिखाए तो वही राह पर है, और जिसे गुमराह करे तो वही नुक़सान में रहे,
Kya buri kahawat hai un ki jinhon ne hamari ayatein jhutlayin aur apni hi jaan ka bura karte the.
(ف347)یعنی کُفّارجو آیاتِ الٰہیہ میں تدبّر سے اِعراض کرتے ہیں ، ان کا کافِر ہونا اللہ کے علمِ ازلی میں ہے ۔(ف348)یعنی حق سے اعراض کرکے آیاتِ الٰہیہ بھی تدبّر کرنے سے محروم ہوگئے اور یہی دل کا خاص کام تھا ۔(ف349)راہِ حق و ہدایت اور آیاتِ الٰہیہ اور دلائلِ توحید ۔(ف350)موعِظت و نصیحت کو بگوش قبول اور باوجود قلب و حواس رکھنے کے وہ امورِ دین میں ان سے نفع نہیں اٹھاتے لہٰذا ۔(ف351)کہ اپنے قلب و حواس سے مَدارکِ علمیّہ و معارِفِ ربّانیّہ کا اِدراک نہیں کرتے ہیں ۔کھانے پینے کے دُنیوی کاموں میں تمام حیوانات بھی اپنے حواس سے کام لیتے ہیں ، انسان بھی اتنا ہی کرتا رہا تو اس کو بہائِم پر کیا فضیلت ۔(ف352)کیونکہ چوپایہ بھی اپنے نفع کی طرف بڑھتا ہے اور ضَرر سے بچتا اور اس سے پیچھے ہٹتا ہے اور کافِر جہنّم کی راہ پر چل کر اپنا ضَرر اختیار کرتا ہے تو اس سے بدتر ہوا ۔ آدمی روحانی ، شہوانی ، سماوی ، ارضی ہے جب اس کی روح شہوات پر غالب ہو جاتی ہے تو ملائکہ سے فائِق ہو جاتا ہے اور جب شہوات روح پر غلبہ پاجاتی ہیں تو زمین کے جانوروں سے بدتر ہو جاتا ہے ۔
اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام (ف۳۵۳) تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں (ف۳۵٤) وہ جلد اپنا کیا پائیں گے،
And for Allah only are the best names, so invoke Him by them; and abandon those who depart from the truth regarding His names; they will soon receive the reward of their deeds.
और बेशक हमने जहन्नम के लिए पैदा किए बहुत जिन और आदमी और दिल रखते हैं जिन में समझ नहीं और वह आंखें जिन से देखते नहीं और वह कान जिन से सुनते नहीं वह चौपायों की तरह हैं बल्कि उन से बढ़ कर गुमराह वही ग़फ़लत में पड़े हैं,
Jise Allah raah dikhaye to wohi raah par hai, aur jise gumrah kare to wohi nuqsan me rahe.
(ف353)حدیث شریف میں ہے اللہ تعالٰی کے ننانوے نام جس کسی نے یاد کر لئے جنّتی ہوا ۔ عُلَماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے اِلٰہیہ ننانوے میں منحصَر نہیں ہیں ۔ حدیث کا مقصود صرف یہ ہے کہ اتنے ناموں کے یاد کرنے سے انسان جنّتی ہو جاتا ہے ۔ شانِ نُزول : ابو جہل نے کہا تھا کہ محمّد (مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ) کا دعوٰی تو یہ ہے کہ وہ ایک پروردگار کی عبادت کرتے ہیں پھر وہ اللہ اور رحمٰن دو کو کیوں پکارتے ہیں ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور اس جاہِل بے خِرَد کو بتایا گیا کہ معبود تو ایک ہی ہے نام اس کے بہت ہیں ۔(ف354)اس کے ناموں میں حق و استِقامت سے نکلنا کئی طرح پر ہے ۔ مسائل : ایک تو یہ کہ اس کے ناموں کو کچھ بگاڑ کر غیروں پر اِطلاق کرنا جیسے کہ مشرکین نے اِلٰہ کا لات اور عزیز کا عُزّٰی اور منان کا منات کر کے اپنے بُتوں کے نام رکھے تھے ، یہ ناموں میں حق سے تجاوز اور ناجائز ہے ، دوسرے یہ کہ اللہ تعالٰی کے لئے ایسا نام مقرّر کیا جائے جو قرآن و حدیث میں نہ آیا ہو یہ بھی جائز نہیں جیسے کہ سخی یا رفیق کہنا کیونکہ اللہ تعالٰی کے اسماء توقیفیہ ہیں ۔ تیسرے حسنِ ادب کی رعائیت کرنا تو فقط یا ضار ، یا مانِع ، یا خالِق القِردۃ کہنا جائز نہیں بلکہ دوسرے اسماء کے ساتھ ملا کر کہا جائے گا یا ضار ، یا نافِع اور یا مُعطی ، یا خالِقَ الخَلق ۔ چوتھے یہ کہ اللہ تعالٰی کے لئے کوئی ایسا نام مقرّر کیا جائے جس کے معنٰی فاسِد ہوں یہ بھی بہت سخت ناجائز ہے جیسے کہ لفظ رام اور پرماتما وغیرہ ۔ پنجم ایسے اسماء کا اطلاق جن کے معنٰی معلوم نہیں ہیں اور یہ نہیں جانا جاسکتا کہ وہ جلالِ الٰہی کے لائق ہیں یا نہیں ۔
اور ہمارے بنائے ہوؤں میں ایک گروہ وہ ہے کہ حق بتائیں اور اس پر انصاف کریں (ف۳۵۵)
And from Our creation is a group that shows the truth and establishes justice with it.
और अल्लाह ही के हैं बहुत अच्छे नाम तो उसे उन से पुकारो और उन्हें छोड़ दो जो उस के नामों में हक़ से निकलते हैं वह जल्द अपना किया पाएंगे,
Aur beshak hum ne jahannam ke liye paida kiye bohot jinn aur aadmi, aur dil rakhte hain jinhain samajh nahi, aur woh aankhen jinh se dekhte nahi, aur woh kaan jinh se sunte nahi, woh chopaayon ki tarah hain, balke un se barh kar gumrah, wohi ghaflat me pade hain.
(ف355)یہ گروہ حق پژوہ عُلَماء اور ہادیانِ دین کا ہے ۔ اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ ہر زمانہ کے اہلِ حق کا اِجماع حُجّت ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کوئی زمانہ حق پرستوں اور دین کے ہادیوں سے خالی نہ ہوگا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک گروہ میری اُمّت کا تا قیامت دینِ حق پر قائم رہے گا اس کو کسی کی عداوت و مخالفت ضَرر نہ پہنچا سکے گی ۔
کیا سوچتے نہیں کہ ان کے صاحب کو جنوں سے کچھ علاقہ نہیں، وہ تو صاف ڈر سنانے والے ہیں (ف۳۵۹)
Do they not ponder that their companion is far removed from insanity? In fact he is clearly a Herald of Warning.
और मैं उन्हें ढील दूंगा बेशक मेरी ख़फ़ी तदबीर बहुत पक्की है
Aur jinhon ne hamari ayatein jhutlayin jald hum unhein aahista aahista azab ki taraf le jaenge jahan se unhein khabar na hogi.
(ف359)شانِ نُزول : جب نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہِ صفا پر چڑھ کرشب کے وقت قبیلہ قبیلہ کو پکارا اور فرمایا کہ میں تمہیں عذابِ الٰہی سے ڈرانے والا ہوں اورآپ نے انہیں اللہ کا خوف دلایا اور پیش آنے والے حوادِث کا ذکر کیا تو ان میں سے کسی نے آپ کی طرف جُنون کی نسبت کی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کیا انہوں نے فِکر و تامُّل سے کام نہ لیا اور عاقِبت اندیشی و دور بینی بالکل بالائے طاق رکھ دی اور یہ دیکھ کر کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اقوال و افعال میں ان کے مخالِف ہیں اور دنیا اور اس کی لذّتوں سے آپ نے مُنہ پھیر لیا ہے ، آخرت کی طرف متوجہ ہیں اور اللہ تعالٰی کی طرف دعوت دینے اور اس کا خوف دلانے میں شب و روز مشغول ہیں ۔ ان لوگوں نے آپ کی طرف جُنون کی نسبت کر دی یہ ان کی غلطی ہے ۔
کیا انہوں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو جو چیز اللہ نے بنائی (ف۳٦۰) اور یہ کہ شاید ان کا وعدہ نزدیک آگیا ہو (ف۳٦۱) تو اس کے بعد اور کونسی بات پر یقین لائیں گے (ف۳٦۲)
Have they not pondered deeply regarding the kingdom of the heavens and the earth, and whatever things Allah created? And that possibly their promise (of death) may have come near? So after this*, in what will they believe? (*Advent of the Last Prophet and the Holy Qur’an.)
क्या सोचते नहीं कि उन के साहब को जिन्नों से कुछ ताल्लुक़ नहीं, वह तो साफ़ डर सुनाने वाले हैं
Aur main unhein dheel doonga beshak meri khufiya tadbeer bohot pakki hai.
(ف360)ان سب میں اس کی وحدانیت اور کمالِ حکمت و قدرت کی روشن دلیلیں ہیں ۔(ف361)اور وہ کُفر پر مر جائیں اور ہمیشہ کے لئے جہنّمی ہو جائیں ۔ ایسے حال میں عاقِل پر ضروری ہے کہ وہ سوچے سمجھے دلائل پر نظر کرے ۔(ف362)یعنی قرآنِ پاک کے بعد اور کوئی کتاب اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کوئی رسُول آنے والا نہیں جس کا انتظار ہو کیونکہ آپ خاتَم الانبیاء ہیں ۔
جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں چھوڑتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،
For one whom Allah sends astray, there is none to guide him; and He leaves them to wander in their rebellion.
क्या उन्होंने निगाह न की आसमानों और ज़मीन की सल्तनत में और जो जो चीज़ अल्लाह ने बनाई और यह कि शायद उन का वादा नज़दीक आ गया हो तो उस के बाद और कौन सी बात पर यक़ीन लाएंगे
Kya sochte nahi ke un ke sahib ko jinno se kuch alaqa nahi, woh to saaf dar sunane wale hain.
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں (ف۳٦۳) کہ وہ کب کو ٹھہری ہے تم فرماؤ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے، اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا (ف۳٦٤) بھاری پڑ رہی ہے آسمانوں اور زمین میں، تم پر نہ آئے گی مگر اچانک، تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب تحقیق کر رکھا ہے، تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے اس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں (ف۳٦۵)
They ask you about the Resurrection, as to when it is destined; say, “Indeed its knowledge is with my Lord; only He will manifest it at its time; it is proving cumbersome in the heavens and the earth; it will not come to you except suddenly”; they question you as if you have researched it deeply; say, “Indeed its knowledge is with Allah only but most people do not know.”
जिसे अल्लाह गुमराह करे उसे कोई राह दिखाने वाला नहीं और उन्हें छोड़ता है कि अपनी सरकशी में भटका करें,
Kya unhon ne nigah na ki aasmanon aur zameen ki saltanat me aur jo jo cheez Allah ne banayi aur yeh ke shayad un ka wada nazdeek aagaya ho, to is ke baad aur kaunsi baat par yaqeen laayenge.
(ف363)شانِ نُزول : حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو ہمیں بتائیے کہ قیامت کب قائم ہوگی کیونکہ ہمیں اس کا وقت معلوم ہے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔(ف364)قیامت کے وقت کا بتانا رسالت کے لوازم سے نہیں ہے جیسا کہ تم نے قرار دیا اور اے یہود تم نے جو اس کا وقت جاننے کا دعوٰی کیا یہ بھی غلط ہے ، اللہ تعالٰی نے اس کو مخفی کیا ہے اور اس میں اس کی حکمت ہے ۔(ف365)اس کے اِخفاء کی حکمت تفسیرِ روح البیان میں ہے کہ بعض مشائخ اس طرف گئے ہیں کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باِعلا مِ الٰہی وقتِ قیامت کا علم ہے اور یہ حَصر آیت کے مُنافی نہیں ۔
تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں (ف۳٦٦) مگر جو اللہ چاہے (ف۳٦۷) اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی (ف۳٦۸) میں تو یہی ڈر (ف۳٦۹) اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں،
Say, “I have no autonomy to benefit or hurt myself, except what Allah wills; and were I to procure knowledge of the hidden on my own, it would be that I had accumulated a lot of good; and no misfortune would touch me; I am purely a Herald of Warning and Glad Tidings to the people who believe.”
तुम से क़यामत को पूछते हैं कि वह कब को ठहरी है तुम फ़रमाओ उस का इल्म तो मेरे रब के पास है, उसे वही उस के वक़्त पर ज़ाहिर करेगा भारी पड़ रही है आसमानों और ज़मीन में, तुम पर न आएगी मगर अचानक, तुम से ऐसा पूछते हैं गोया तुम ने उसे खूब तहक़ीक़ कर रखा है, तुम फ़रमाओ उस का इल्म तो अल्लाह ही के पास है लेकिन बहुत लोग जानते नहीं
Jise Allah gumrah kare use koi raah dikhane wala nahi aur unhein chhodta hai ke apni sarkashi me bhatka karein.
(ف366)شانِ نُزول : غزوۂ بنی مُصطلَق سے واپسی کے وقت راہ میں تیز ہو ا چلی چوپائے بھاگے تو نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ مدینہ طیبہ میں رفاعہ کا انتقال ہوگیا اور یہ بھی فرمایا کہ دیکھو میرا ناقہ کہاں ہے ؟ عبداللہ بن اُبَیٔ منافِق اپنی قوم سے کہنے لگا ان کا کیسا عجیب حال ہے کہ مدینہ میں مرنے والے کی تو خبر دے رہے ہیں اور اپنا ناقہ معلوم ہی نہیں کہ کہاں ہے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا یہ قول بھی مخفی نہ رہا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافِق لوگ ایسا ایسا کہتے ہیں اور میرا ناقہ اس گھاٹی میں ہے اس کی نکیل ایک درخت میں اُلجھ گئی ہے چنانچہ جیسا فرمایا تھا اسی شان سے وہ ناقہ پایا گیا اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔ (تفسیر کبیر)(ف367)وہ مالکِ حقیقی ہے جو کچھ ہے اس کی عطا سے ہے ۔(ف368)یہ کلام براہِ ادب و تواضُع ہے ۔ معنٰی یہ ہیں کہ میں اپنی ذات سے غیب نہیں جانتا ، جو جانتا ہوں وہ اللہ تعالٰی کی اطلاع اور اس کی عطا سے ۔ (خازن ) حضرت مُتَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے فرمایا بھلائی جمع کرنا اور بُرائی نہ پہنچنا اسی کے اختیار میں ہو سکتا ہے جو ذاتی قدرت رکھے اور ذاتی قدرت وہی رکھے گا جس کا علم بھی ذاتی ہو کیونکہ جس کی ایک صفت ذاتی ہے اس کے تمام صفات ذاتی ، تو معنٰی یہ ہوئے کہ اگر مجھے غیب کا علم ذاتی ہوتا تو قدرت بھی ذاتی ہوتی اور میں بھلائی جمع کر لیتا اور برائی نہ پہنچنے دیتا ۔ بھلائی سے مراد راحتیں اور کامیابیاں اور دشمنوں پر غلبہ ہے اور برائیوں سے تنگی و تکلیف اور دشمنوں کا غالب آنا ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھلائی سے مراد سرکشوں کا مُطیع اور نافرمانوں کا فرمانبردار اور کافِروں کا مؤمن کر لینا ہو اور بُرائی سے بدبخت لوگوں کا باوجود دعوت کے محروم رہ جانا ، تو حاصلِ کلام یہ ہوگا کہ اگر میں نفع و ضَرر کا ذاتی اختیار رکھتا تو اے منافقین وکافِرین تمہیں سب کو مومِن کر ڈالتا اور تمہاری کُفری حالت دیکھنے کی تکلیف مجھے نہ پہنچتی ۔(ف369)سنانے والا ہوں کافِروں کو ۔
وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳۷۰) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا (ف۳۷۱) کہ اس سے چین پائے پھر جب مرد اس پر چھایا اسے ایک ہلکا سا پیٹ رہ گیا (ف۳۷۲) تو اسے لیے پھراکی پھر جب بوجھل پڑی دونوں نے اپنے رب سے دعا کی ضرور اگر تو ہمیں جیسا چاہیے بچہ دے گا تو بیشک ہم شکر گزار ہوں گے،
It is He Who created you from a single soul, and from him made its mate for him to gain comfort with her; so when the male covered her, she was burdened lightly in her womb, and she therefore moved easily carrying it; and when she felt the burden heavy, they both cried to their Lord Allah, “Indeed You may give to us a child as You will, so we will surely be thankful.”
तुम फ़रमाओ मैं अपनी जान के भले बुरे का ख़ुदमुख्तार नहीं मगर जो अल्लाह चाहे और अगर मैं ग़ैब जान लिया करता तो यूं होता कि मैंने बहुत भलाई जमा कर ली, और मुझे कोई बुराई न पहुंची मैं तो यही डर और ख़ुशी सुनाने वाला हूं उन्हें जो ईमान रखते हैं,
Tum se qayamat ko poochhte hain ke woh kab ko thehri hai, tum farmao us ka ilm to mere Rab ke paas hai, use wahi us ke waqt par zaahir kare ga, bhari parh rahi hai aasmanon aur zameen me, tum par na aayegi magar achanak, tum se aisa poochhte hain goya tum ne use khoob tehqiqat kar rakha hai, tum farmao us ka ilm to Allah hi ke paas hai lekin bohot log jaante nahi.
(ف370)عِکرمہ کا قول ہے کہ اس آیت میں خِطاب عام ہے ہر ایک شخص کو اور معنٰی یہ ہیں کہ اللہ وہی ہے جس نے تم میں سے ہر ایک کو ایک جان سے یعنی اس کے باپ سے پیدا کیا اور اس کی جِنس سے اس کی بی بی کو بنایا پھر جب وہ دونوں جمع ہوئے اور حمل ظاہر ہوا اور ان دونوں نے تندرست بچہ کی دعا کی اور ایسا بچہ ملنے پر ادائے شکر کا عہد کیا پھر اللہ تعالٰی نے انہیں ویسا ہی بچہ عنایت فرمایا ۔ ان کی حالت یہ ہوئی کہ کبھی تو وہ اس بچہ کو طبائع کی طرف نسبت کرتے ہیں جیسے دہریوں کا حال ہے ، کبھی ستاروں کی طرف جیسا کواکب پرستوں کا طریقہ ہے ، کبھی بُتوں کی طرف جیسا بُت پرستوں کا دستور ہے ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ وہ ان کے اس شرک سے برتر ہے ۔ (کبیر)(ف371)یعنی اس کے باپ کی جِنس سے اس کی بی بی بنائی ۔(ف372)مرد کا چھانا کنایہ ہے جِماع کرنے سے اور ہلکا سا پیٹ رہنا ابتدائے حمل کی حالت کا بیان ہے ۔
پھر جب اس نے انہیں جیسا چاہیے بچہ عطا فرمایا انہوں نے اس کی عطا میں اس کے ساجھی ٹھہرائے تو اللہ کو برتری ہے ان کے شرک سے (ف۳۷۳)
So when He bestowed them a normal child, they ascribed partners (to Him) in respect of what He had bestowed upon them; therefore Supreme is Allah, above all that they ascribe as partners.
वही है जिसने तुम्हें एक जान से पैदा किया और उसी में से उस का जोड़ा बनाया कि उस से चैन पाए फिर जब मर्द उस पर छाया उसे एक हलका सा पेट रह गया तो उसे लिए फेरा कि फिर जब बोज़्हल पड़ी दोनों ने अपने रब से दुआ की ज़रूर अगर तू हमें जैसा चाहिए बच्चा देगा तो बेशक हम शुक्र गुज़ार होंगे,
Tum farmao main apni jaan ke bhale bure ka khud-mukhtar nahi magar jo Allah chahe, aur agar main ghaib jaan liya karta to yun hota ke main ne bohot bhalai jama kar li aur mujhe koi burai na pohnchi, main to yahi dar aur khushi sunane wala hoon unhein jo iman rakhte hain.
(ف373)بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اس آیت میں قریش کو خِطاب ہے جو قُصَیْ کی اولاد ہیں ۔ ان سے فرمایا گیا کہ تمہیں ایک شخص قُصَیۡ سے پیدا کیا اور اس کی بی بی اسی کی جِنس سے عرَبی قرَشی کی تاکہ اس سے چین و آرام پائے پھر جب ان کی درخواست کے مطابق انہیں تندرست بچہ عنایت کیا تو انہوں نے اللہ کی اس عطا میں دوسروں کو شریک بنایا اور اپنے چاروں بیٹوں کا نام عبد مُناف ، عبدالعُزّٰی ، عبد قُصَیۡ اور عبدالدار رکھا ۔
کیا اسے شریک کرتے ہیں جو کچھ نہ بنائے (ف۳۷٤) اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں،
Do they (the disbelievers) ascribe (false deities) that which do not create anything, but are themselves created?
फिर जब उस ने उन्हें जैसा चाहिए बच्चा अता फ़रमाया उन्होंने उस की अता में उस के साझी ठहराए तो अल्लाह को बर्तरी है उन के शिर्क से
Wohi hai jis ne tumhein ek jaan se paida kiya aur usi me se us ka joda banaya ke us se chain paaye, phir jab mard us par chhaya usse ek halka sa pait reh gaya to use liye phira ki phir jab boojhal padi dono ne apne Rab se dua ki zaroor agar tu humein jaisa chahiye bacha de ga to beshak hum shukarguzar honge.
اور نہ وہ ان کو کوئی مدد پہنچاسکیں اور نہ اپنی جانوں کی مدد کریں (ف۳۷۵)
And cannot provide any help to them, nor do they help themselves?
क्या उसे शरीक करते हैं जो कुछ न बनाए और वह खुद बनाए हुए हैं,
Phir jab us ne unhein jaisa chahiye bacha ata farmaya unhon ne us ki ata me us ke saajhi thehraaye, to Allah ko bartri hai un ke shirk se.
(ف375)اس میں بُتوں کی بے قدری اور بُطلانِ شرک کا بیان اور مشرکین کے کمالِ جہل کا اِظہار ہے اور بتایا گیا ہے کہ عبادت کا مستحق وہی ہو سکتا ہے جو عابِدکو نفع پہنچانے اور ا س کا ضَرر دفع کرنے کی قدرت رکھتا ہو ۔ مشرکین جن بُتوں کو پُوجتے ہیں ان کی بے قدرتی اس درجہ کی ہے کہ وہ کسی چیز کے بنانے والے نہیں ، کسی چیز کے بنانے والے تو کیا ہوتے خود اپنی ذات میں دوسرے سے بے نیاز نہیں ، آپ مخلوق ہیں ، بنانے والے کے محتاج ہیں ، اس سے بڑھ کر بے اختیاری یہ ہے کہ وہ کسی کی مدد نہیں کر سکتے اور کسی کی کیا مدد کریں خود انہیں ضَرر پہنچے تو دفع نہیں کر سکتے ، کوئی انہیں توڑ دے ، گرا دے جو چاہے کرے وہ اس سے اپنی حفاظت نہیں کر سکتے ، ایسے مجبور بے اختیار کو پُوجنا انتہا درجہ کا جہل ہے ۔
کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے گرفت کریں یا ان کے آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا ان کے کان ہیں جن سے سنیں (ف۳۸۰) تم فرماؤ کہ اپنے شریکوں کو پکارو اور مجھ پر داؤ چلو اور مجھے مہلت نہ دو (ف۳۸۱)
Do they have feet to walk with? Or have they hands to hold with? Or have they eyes to see with? Or have they ears to hear with? Say, “Call upon your ascribed partners and conspire against me, and do not give me respite.”
बेशक वह जिन को तुम अल्लाह के सिवा पूजते हो तुम्हारी तरह बंदे हैं तो उन्हें पुकारो फिर वह तुम्हें जवाब दें अगर तुम सच्चे हो,
Aur agar tum unhein raah ki taraf bulao to tumhare peeche na aayen, tum par ek sa hai chaahe unhein pukaro ya chup raho.
(ف380)یہ کچھ بھی نہیں تو پھر اپنے سے کمتر کو پُوج کر کیوں ذلیل ہوتے ہو ۔(ف381)شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بُت پرستی کی مَذمّت کی اور بُتوں کی عاجزی اور بے اختیاری کا بیان فرمایا تو مشرکین نے دھمکایا اور کہا کہ بُتوں کو بُرا کہنے والے تباہ ہو جاتے ہیں ، برباد ہوجاتے ہیں ، یہ بُت انہیں ہلاک کر دیتے ہیں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی کہ اگر بُتوں میں کچھ قدرت سمجھتے ہو تو انہیں پُکارو اور میری نقصان رسانی میں ان سے مدد لو اور تم بھی جو مکر و فریب کر سکتے ہو وہ میرے مقابلہ میں کرو اور اس میں دیر نہ کرو ، مجھے تمہاری اور تمہارے معبودوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں اور تم سب میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔
بیشک میرا والی اللہ ہے جس نے کتاب اتاری (ف۳۸۲) اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (ف۳۸۳)
“Indeed my Protector is Allah Who has sent down the Book; and He befriends the righteous.”
क्या उन के पांव हैं जिन से चलें या उन के हाथ हैं जिन से गिरफ़्त करें या उन के आंखें हैं जिन से देखें या उन के कान हैं जिन से सुनें तुम फ़रमाओ कि अपने शरीकों को पुकारो और मुझ पर दांव चलो और मुझे मोहलत न दो
Beshak woh jinh ko tum Allah ke siwa poojte ho tumhari tarah bande hain, to unhein pukaro phir woh tumhein jawab dein agar tum sachche ho.
(ف382)اور میری طرف وحی بھیجی اور میری عزّت کی ۔(ف383)اور ان کا حافِظ وناصِر ہے اس پر بھروسہ رکھنے والوں کو مشرکین وغیرہ کا کیا اندیشہ ، تم اور تمہارے معبود مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔
اور جنہیں اس کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے، اور نہ خود اپنی مدد کریں (ف۳۸٤)
“And those whom you worship besides Him cannot help you nor do they help themselves.”
बेशक मेरा वाली अल्लाह है जिसने किताब उतारी और वह नेकौं को दोस्त रखता है
Kya un ke paon hain jinh se chalein ya un ke haath hain jinh se girift karein ya un ke aankhen hain jinh se dekhein ya un ke kaan hain jinh se sunein, tum farmao ke apne shareekon ko pukaro aur mujh par daav chalo aur mujhe mohlat na do.
اور اگر تم انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو نہ سنیں اور تو انہیں دیکھے کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں (ف۳۸۵) اور انہیں کچھ بھی نہیں سوجھتا،
And if you call them to guidance they do not listen; and you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) observe them looking towards you, whereas they do not perceive anything.
और जिन्हें उस के सिवा पूजते हो वह तुम्हारी मदद नहीं कर सकते, और न खुद अपनी मदद करें
Beshak mera wali Allah hai jis ne kitab utari aur woh nekon ko dost rakhta hai.
(ف385)کیونکہ بُتوں کی تصویریں اس شکل کی بنائی جاتی تھیں جیسے کوئی دیکھ رہاہے ۔
اور اے محبوب! جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو کہتے ہیں تم نے دل سے کیوں نہ بنائی تم فرماؤ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لیے،
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) when you do not bring to them a verse, they say, “Why did you not fabricate it?” Say, “I follow only what is divinely revealed to me from my Lord”; this (the Holy Qur’an) is an enlightenment from your Lord, and a guidance and a mercy for the Muslims.
और वह जो शैतानों के भाई हैं शैतान उन्हें गुमराही में खींचते हैं फिर कमी नहीं करते,
Beshak woh jo dar wale hain jab unhein kisi shaitani khayaal ki thees lagti hai hoshyaar ho jaate hain usi waqt un ki aankhen khul jaati hain.
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو (ف۳۸۹)
And when the Qur’an is recited, listen to it attentively and keep silent, so that you receive mercy.
और ऐ महबूब! जब तुम उन के पास कोई आयत न लाओ तो कहते हैं तुम ने दिल से क्यों न बनाई तुम फ़रमाओ मैं तो उसी की पैरवी करता हूं जो मेरी तरफ़ मेरे रब से वही होती है यह तुम्हारे रब की तरफ़ से आंखें खोलना है और हिदायत और रहमत मुसलमानों के लिए,
Aur woh jo shaitanon ke bhai hain, shaitaan unhein gumraahi me kheenchte hain phir kami nahi karte.
(ف389)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارِجِ نماز ، اس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے ۔ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم اس طرف ہیں کہ یہ آیت مقتدی کے سننے اور خاموش رہنے کے باب میں ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں خطبہ سننے کے لئے گوش برآواز ہونے اور خاموش رہنے کا حکم ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے نماز و خطبہ دونوں میں بغور سُننا اور خاموش رہنا واجب ثابت ہوتا ہے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے آپ نے کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ نماز میں امام کے ساتھ قرأت کرتے ہیں تو نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم اس آیت کے معنٰی سمجھو ۔ غرض اس آیت سے قرأت خَلْفَ الْاِمام کی ممانَعت ثابت ہوتی ہے اور کوئی حدیث ایسی نہیں ہے جس کو اس کے مقابل حُجّت قرار دیا جا سکے ۔ قرأت خَلۡفَ الاِمام کی تائید میں سب سے زیادہ اعتماد جس حدیث پر کیا جاتا ہے وہ یہ ہے ۔ لَاصَلٰوۃَ اِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ مگر اس حدیث سے قرأت خَلۡفَ الاِمَامِ کا وجوب تو ثابت نہیں ہوتا صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ بغیر فاتحہ کے نماز کامِل نہیں ہوتی تو جب کہ حدیث قرأۃُ الامامِؒ لَہ قِرَاء َۃٌ سے ثابت ہے کہ امام کا قرأت کرنا ہی مقتدی کا قرأت کرنا ہے تو جب امام نے قرأت کی اور مقتدی ساکِت رہا تو اس کی قرأت حُکمیہ ہوئی اس کی نماز بے قرأت کہاں رہی ، یہ قرأت حُکمیہ ہے تو امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے سے قرآن و حدیث دونو ں پر عمل ہو جاتا ہے اور قرأت کرنے سے آیت کا اِتّباع ترک ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ امام کے پیچھے فاتحہ وغیرہ کچھ نہ پڑھے ۔
اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو (ف۳۹۰) زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اور شام (ف۳۹۱) اور غافلوں میں نہ ہونا،
And remember your Lord within your hearts humbly and with fear, and softly with your tongues, morning and evening, and do not be of the neglectful.
और जब क़ुरआन पढ़ा जाए तो उसे कान लगा कर सुनो और ख़ामोश रहो कि तुम पर रहम हो
Aur ae mehboob! jab tum un ke paas koi ayat na lao to kehte hain tum ne dil se kyon na banayi, tum farmao main to usi ki pairwi karta hoon jo meri taraf mere Rab se wahi hoti hai, yeh tumhare Rab ki taraf se aankhen kholna hai aur hidayat aur rehmat musalmanon ke liye.
(ف390)اوپر کی آیت کے بعد اس آیت کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف سننے والے کو خاموش رہنا اور بے آواز نکالے دل میں ذکر کرنا یعنی عظمت و جلالِ الٰہی کا استِحضار لازم ہے کذا فی تفسیر ابنِ جریر ۔ اس سے امام کے پیچھے بلند یا پست آواز سے قرأت کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اور دل میں عظمت و جلالِ حق کا استحضار اور ذکرِ قلبی ہے ۔ مسئلہ : ذکر بالجَہر اور ذکر بالاِخفاء دونوں میں نُصوص وارِد ہیں ، جس شخص کو جس قسم کے ذکر میں ذوق و شوقِ تام و اخلاصِ کامل مَیسّر ہو اس کے لئے وہی افضل ہے کذافی ردّالمحتار وغیرہ ۔(ف391)شام عصر و مغرب کے درمیان کا وقت ہے ان دونوں وقتوں میں ذکر افضل ہے کیونکہ نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک اور اسی طرح نمازِ عصر کے بعد غروب تک نماز ممنوع ہے اس لئے ان وقتوں میں ذکر مُستحَب ہوا تاکہ بندے کے تمام اوقات قربت و طاعت میں مشغول رہیں ۔
بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں (ف۳۹۲) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بولتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں (ف۳۹۳) السجدة ۔۵
Indeed those who are with your Lord are not conceited towards worshipping Him, and they proclaim His Purity and it is to Him they prostrate. (Command of Prostration # 1)
और अपने रब को अपने दिल में याद करो ज़ारी और डर से और बे आवाज़ निकले ज़बान से सुबह और शाम और ग़ाफ़िलों में न होना,
Aur jab Qur’an padha jaye to use kaan laga kar suno aur khamosh raho ke tum par rahm ho.
(ف392)یعنی ملائکہ مقرّبین ۔(ف393)یہ آیت آیاتِ سجدہ میں سے ہے ان کے پڑھنے اور سننے والے دونوں پر سجدہ لازم ہو جاتا ہے ۔مُسلم شریف کی حدیث میں ہے جب آدمی آیتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہے اور کہتا ہے افسوس بنی آدم کو سجدہ کا حکم دیا گیا وہ سجدہ کرکے جنّتی ہوا اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں انکار کر کے جہنّمی ہو گیا ۔
اے محبوب! تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں (ف۲) تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں (ف۳) تو اللہ ڈرو (ف٤) اور اپنے آ پس میں میل (صلح صفائی) رکھو اور اللہ اور رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو،
They ask you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) concerning the war booty; say, “Allah and the Noble Messenger are the owners of the war booty; so fear Allah and maintain friendship among yourselves; and obey Allah and His Noble Messenger, if you have faith."
ऐ महबूब! तुम से ग़नीमतों को पूछते हैं तुम फ़रमाओ ग़नीमतों के मालिक अल्लाह और रसूल हैं तो अल्लाह डरो और अपने आपस में मेल (सुलह सफ़ाई) रखो और अल्लाह और रसूल का हुक्म मानो अगर ईमान रखते हो,
Ae Mehboob! Tum se ghanimatoun ko poochte hain, tum farmao ghanimatoun ke malik Allah aur Rasool hain, to Allah se daro aur apne aapas mein mail (sulah safai) rakho aur Allah aur Rasool ka hukm maano agar imaan rakhte ho,
(ف2) شانِ نزول : حضرت عُبادہ بن صامِت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت ہم اہلِ بدر کے حق میں نازِل ہوئی جب غنیمت کے معاملہ میں ہمارے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور بدمزگی کی نوبت آگئی تو اللہ تعالٰی نے معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکال کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا آپ نے وہ مال برابر تقسیم کردیا ۔(ف3) جیسے چاہیں تقسیم فرمائیں ۔(ف4)اور باہم اختلاف نہ کرو ۔
ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے (ف۵) ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں (ف٦)
Only they are the believers whose hearts fear when Allah is remembered, and their faith advances when His verses are recited to them, and who trust only in their Lord.
ईमान वाले वही हैं कि जब अल्लाह याद किया जाए उनके दिल डर जाएँ और जब उन पर उसकी आयतें पढ़ी जाएँ उनका ईमान तरक़्क़ी पाए और अपने रब ही पर भरोसा करें
Imaan wale wahi hain ke jab Allah yaad kiya jaye unke dil dar jayein aur jab unpar uski aayatein padhi jayein to unka imaan taraqqi paaye aur apne Rab hi par bharosa karein,
(ف5)تو اس کے عظمت و جلال سے ۔(ف6)اور اپنے تمام کاموں کو اس کے سپرد کریں ۔
یہی سچے مسلمان ہیں، ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس (ف۷) اور بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۸)
These are the true Muslims; for them are ranks before their Lord, and forgiveness and an honourable sustenance.
यही सच्चे मुसलमान हैं, उनके लिए दर्ज़े हैं उनके रब के पास और बख़्शिश है और इज़्ज़त की रोज़ी
Yehi sache Musalman hain, unke liye darje hain unke Rab ke paas aur bakhshish hai aur izzat ki rozi,
(ف7) بقدر ان کے اعمال کے کیونکہ مؤمنین کے احوال ان اوصاف میں متفاوَت ہیں ۔ اس لئے ان کے مراتب بھی جُدا گانہ ہیں ۔(ف8)جو ہمیشہ اِکرام و تعظیم کے ساتھ بے محنت و مشقت عطا کی جائے ۔
جس طرح اے محبوب! تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا (ف۹) اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا (ف۱۰)
The way your Lord caused you, O dear Prophet to come forth from your home with the truth; and indeed a group of Muslims were unhappy about it.
जिस तरह ऐ महबूब! तुम्हें तुम्हारे रब ने तुम्हारे घर से हक़ के साथ बरामद किया और बेशक मुसलमानों का एक गिरोह इस पर नाख़ुश था
Jis tarah ae Mehboob! Tumhein tumhare Rab ne tumhare ghar se Haq ke saath baramad kiya aur beshak Musalmanon ka ek groh is par naraaz tha,
(ف9)یعنی مدینہ طیّبہ سے بدر کی طرف ۔ (ف10) کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ انکی تعداد کم ہے ، ہتھیار تھوڑے ہیں ، دشمن کی تعداد بھی زیادہ ہے اور وہ اسلحہ وغیرہ کا بڑا سامان رکھتا ہے ۔ مختصر واقعہ یہ ہے کہ ابو سفیان کے مُلکِ شام سے ایک قافلہ ساتھ آنے کی خبر پا کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ انکے مقابلہ کے لئے روانہ ہوئے ، مکّہ مکرّمہ سے ابو جہل قریش کا ایک لشکر گراں لے کر قافلہ امداد کے لئے روانہ ہوا ۔ ا بوسفیان تو رستہ سے کترا کر مع اپنے قافلہ کے ساحلِ بحر کی راہ چل پڑے اور ابو جہل سے اس کے رفیقوں نے کہا کہ قافلہ تو بچ گیا اب مکّۂ مکرّمہ واپس چل تو اس نے انکار کردیا اور وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے قصد سے بدر کیطرف چل پڑا ۔ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالٰی کُفّار کے دونوں گروہوں میں سے ایک پر مسلمان کو فتح مند کرے گا خواہ قافلہ ہو یا قریش کا لشکر ۔ صحابہ نے اس میں موافقت کی مگر بعض کو یہ عُذر ہوا کہ ہم اس تیاری سے نہیں چلے تھے اور نہ ہماری تعداد اتنی ہے ، نہ ہمارے پاس کافی سامانِ اسلحہ ہے ۔ یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گراں گزرا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قافلہ تو ساحل کی طرف نکل گیا اور ابو جہل سامنے آ رہا ہے ۔ اس پر ان لوگوں نے پھر عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیک وسلم قافلے ہی کا تعاقُب کیجئے اور لشکرِ دشمن کو چھوڑ دیجئے ، یہ بات ناگوارِ خاطرِ اقدس ہوئی تو حضرت صدیقِ اکبر و حضرتِ عمر رضی اللہ عنہما نے کھڑے ہو کر اپنے اخلاص و فرمانبرداری اور رضا جُوئی و جاں نثاری کا اظہار کیا اور بڑی قوت و استحکام کے ساتھ عرض کی کہ وہ کسی طرح مرضیٔ مبارک کے خلاف سُستی کرنے والے نہیں ہیں پھر اور صحابہ نے بھی عرض کیا کہ اللہ تعالٰی نے حضور کو جو امر فرمایا اس کے مطابق تشریف لے چلیں ہم ساتھ ہیں ،کبھی تخلُّف نہ کریں گے ، ہم آپ پر ا یمان لائے ، ہم نے آپ کی تصدیق کی ، ہم نے آپ کے اِتِّباع کے عہد کئے ،ہمیں آپ کی اِتِّباع میں سمندر کے اندر کُود جانے سے بھی عذر نہیں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا چلو اللہ کی برکت پر بھروسہ کرو اس نے مجھے وعدہ دیا ہے میں تمہیں بشارت دیتا ہوں ،مجھے دشمنوں کے گرنے کی جگہ نظر آ رہی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کُفّار کے مرنے اور گرنے کی جگہ نام بنام بتا دیں اور ایک ایک کی جگہ پر نشانات لگادیئے اور یہ معجزہ دیکھا گیا کہ ان میں سے جو مر کر گرا اسی نشان پر گرا اس سے خطا نہ کی ۔
سچی بات میں تم سے جھگڑتے تھے (ف۱۱) بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی (ف۱۲) گویا وہ آنکھوں دیکھی موت کی طرف ہانکے جاتے ہیں (ف۱۳)
Disputing with you regarding the truth after it had been made clear, as if they were being herded towards a visible death.
सच्ची बात में तुम से झगड़ते थे बाद इसके कि ज़ाहिर हो चुकी गोया वो आँखों देखी मौत की तरफ़ हाँके जाते हैं
Sachi baat mein tumse jhagde the baad iske ke zahir ho chuki goya woh aankhon dekhi maut ki taraf haanke ja rahe hain,
(ف11) اور کہتے تھے کہ ہمیں لشکرِ قریش کا حال ہی معلوم نہ تھا کہ ہم ان کے مقابلہ کی تیاری کرکے چلتے ۔(ف12) یہ بات کہ حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کرتے ہیں حکمِ الٰہی سے کرتے ہیں اور آپ نے اعلان فرمادیا ہے کہ مسلمانوں کو غیبی مدد پہنچے گی ۔(ف13)یعنی قریش سے مقابلہ انہیں ایسا مُہِیب معلوم ہوتا ہے ۔
اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں (ف۱٤) میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں (کوئی نقصان نہ ہو) (ف۱۵) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے (ف۱٦) اور کافروں کی جڑ کاٹ دے (ف۱۷)
And remember when Allah promised you that one of the two groups (of enemies) is for you, and you wished to get the one that posed no danger, and Allah willed to prove the truth with His Words, and to cut the origins of the disbelievers.
और याद करो जब अल्लाह ने तुम्हें वादा दिया था कि इन दोनों गिरोहों में एक तुम्हारे लिए है और तुम ये चाहते थे कि तुम्हें वो मिले जिसमें काँटे का खटका नहीं (कोई नुक़सान न हो) और अल्लाह ये चाहता था कि अपने कलाम से सच को सच कर दिखाए और काफ़िरों की जड़ काट दे
Aur yaad karo jab Allah ne tumhein waada diya tha ke in donon grohon mein se ek tumhare liye hai aur tum yeh chahte the ke tumhein woh mile jismein kaante ka khatka nahin (koi nuqsan na ho) aur Allah yeh chahta tha ke apne kalaam se sach ko sach kar dikhaaye aur kafiron ki jad kaat de,
(ف14)یعنی ابو سفیان کے قافلے اور ابو جہل کے لشکر ۔(ف15)یعنی ابوسفیان کا قافلہ ۔(ف16)دینِ حق کو غلبہ دے اس کو بلند و بالا کرے ۔(ف17)اور انہیں اس طرح ہلاک کرے کہ ان میں سے کوئی باقی نہ بچے ۔
جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے (ف۱۹) تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزاروں فرشتوں کی قطار سے (ف۲۰)
When you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) were seeking the help of your Lord, so He answered your prayers that, “I will help you with a row of thousands of angels.”
जब तुम अपने रब से फ़रियाद करते थे तो उसने तुम्हारी सुन ली कि मैं तुम्हें मदद देने वाला हूँ हज़ारों फ़रिश्तों की क़तार से
Jab tum apne Rab se faryaad karte the to usne tumhari sun li ke main tumhein madad dene wala hoon hazaaron farishton ki qataar se,
(ف19)شانِ نُزُول : مسلم شریف کی حدیث ہے روزِ بدر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کو ملاحَظہ فرمایا کہ ہزار ہیں اور آپ کے اصحاب تین سو دس سے کچھ زیادہ تو حضور قبلے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے مبارک ہاتھ پھیلا کر اپنے ربّ سے یہ دعا کرنے لگے ، یا ربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے پورا کر ، یاربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا عنایت فرما ، یاربّ اگر تو اہلِ اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردے گا تو زمین میں تیری پرستِش نہ ہوگی ۔ اسی طرح حضور دعا کرتے رہے یہاں تک کہ دوشِ مبارک سے چادر شریف اُتر گئی تو حضرت ابوبکر حاضر ہوئے اور چادر مبارک دوشِ اقدس پر ڈالی اور عرض کیا یا نبیَ اللہ آپ کی مناجات اپنے ربّ کے ساتھ کافی ہوگئی ، وہ بہت جلد اپنا وعدہ پورا فرمائے گا ۔ اس پر یہ آیتِ شریفہ نازِل ہوئی ۔(ف20)چنانچہ اوّل ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار پھر پانچ ہزار ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مسلمان اس روز کافِروں کا تعاقُب کرتے تھے اور کافِر مسلمانوں کے آگے آگے بھاگتا جاتا تھا اچانک اوپر سے کوڑے کی آواز آتی تھی اور سوار کا یہ کلمہ سنا جاتا تھا اَقْدِمْ حَیْزومُ یعنی آگے بڑھ اے حیزوم ( حیزوم حضرت جبریل علیہ السلام کے گھوڑے کا نام ہے) اور نظر آتا تھا کہ کافِر گر کر مر گیا اور اس کی ناک تلوار سے اُڑا دی گئی اور چہرہ زخمی ہوگیا ۔ صحابہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے یہ معائنے بیان کئے تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آسمان سوم کی مدد ہے ۔ ابوجہل نے حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کہاں سے ضرب آتی تھی ؟ مارنے والا تو ہم کو نظر نہیں آتا تھا آپ نے فرمایا فرشتوں کی طرف سے تو کہنے لگا پھر وہی تو غالب ہوئے تم تو غالب نہیں ہوئے ۔
اور یہ تو اللہ نے کیا مگر تمہاری خوشی کو اور اس لیے کہ تمہارے دل چین پائیں، اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے (ف۲۱) بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
And Allah did this just for your happiness and for your hearts to gain contentment; and help does not come except from Allah; indeed Allah is Almighty, Wise.
और ये तो अल्लाह ने किया मगर तुम्हारी ख़ुशी को और इस लिए कि तुम्हारे दिल चैन पाएँ, और मदद नहीं मगर अल्लाह की तरफ़ से बेशक अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है,
Aur yeh to Allah ne kiya magar tumhari khushi ko aur is liye ke tumhare dil chain paayein, aur madad nahin magar Allah ki taraf se, beshak Allah ghalib hikmat wala hai,
(ف21)تو بندے کو چاہئے کہ اسی پر بھروسہ کرے اور اپنے زور و قوّت اور اسباب و جماعت پر ناز نہ کرے ۔
جب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین (تسکین) تھی (ف۲۲) اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرمادے اور تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے (ف۲۳)
When He made the slumber overcome you, so it was as a peacefulness from Him, and sent down water from the sky upon you to purify you with it, and to remove the impurity of Satan from you, and to give your hearts fortitude and firmly establish your feet with it.
जब उसने तुम्हें ऊँघ से घेर दिया तो उसकी तरफ़ से चैन (तस्कीन) थी और आसमान से तुम पर पानी उतारा कि तुम्हें उससे सुथरा कर दे और शैतान की नापाकी तुम से दूर फ़रमा दे और तुम्हारे दिलों की ढारस बँधाए और उससे तुम्हारे क़दम जमा दे
Jab usne tumhein oongh se gher diya to uski taraf se chain (taskeen) thi aur aasman se tum par paani utara ke tumhein usse suthra kar de aur shaitaan ki napaaki tumse door kar de aur tumhare dilon ki dhaaras bandhaaye aur usse tumhare qadam jamaa de,
(ف22)حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ غُنودگی اگر جنگ میں ہو تو امن ہے اور اللہ کی طرف سے ہے اور نماز میں ہو تو شیطان کی طرف سے ہے ۔ جنگ میں غُنودگی کا امن ہونا اس سے ظاہر ہے کہ جسے جان کا اندیشہ ہو اسے نیند اور اونگھ نہیں آتی ۔ وہ خطرے اور اِضطِراب میں رہتا ہے ۔ خوفِ شدید کے وقت غُنودگی آنا حصولِ امن اور زوالِ خوف کی دلیل ہے ۔ بعض مفسِّرین نے کہا ہے کہ جب مسلمانوں کو دشمنوں کی کثرت اور مسلمانوں کی قِلّت سے جانوں کا خوف ہوا اور بہت زیادہ پیاس لگی تو ان پر غُنودگی ڈال دی گئی جس سے انہیں راحت حاصل ہوئی اور تَکان اور پیاس رفع ہوئی اور وہ دُشمن سے جنگ کرنے پر قادِر ہوئے ، یہ اُونگھ ان کے حق میں نعمت تھی اور یکبارگی سب کو آئی ۔ جماعتِ کثیر کا خوفِ شدید کی حالت میں اسی طرح یکبارگی اُونگھ جانا خلافِ عادت ہے اسی لئے بعض عُلَماء نے فرمایا کہ یہ اُونگھ معجِزہ کے حکم میں ہے ۔(ف23)روزِ بدر مسلمان ریگستان میں اُترے ، ان کے اور ان کے جانوروں کے پاؤں ریت میں دھنسے جاتے تھے اور مشرکین ان سے پہلے لبِ آب قبضہ کر چکے تھے ۔ صحابہ میں بعض حضرات کو وضو کی ، بعض کو غسل کی ضرورت تھی اور پیاس کی شدّت تھی تو شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ تم گمان کرتے ہو کہ تم حق پر ہو ، تم میں اللہ کے نبی ہیں اور تم اللہ والے ہو اور حال یہ ہے کہ مشرکین غالب ہو کر پانی پر پہنچ گئے تم بغیر وضو اور غسل کئے نمازیں پڑھتے ہو تو تمہیں دشمن پر فتح یاب ہونے کی کس طرح امید ہے ؟ تو اللہ تعالٰی نے مِیۡنہ بھیجا جس سے جنگل سیراب ہوگیا اور مسلمانوں نے اس سے پانی پیا اور غسل کئے اور وضو کئے اور اپنی سواریوں کو پلایا اور اپنے برتنوں کو بھرا اور غبار بیٹھ گیا اور زمین اس قابل ہوگئی کہ اس پر قدم جمنے لگے اور شیطان کا وسوسہ زائل ہو ا اور صحابہ کے دل خوش ہوئے اور یہ نعمت فتح و ظَفر حاصل ہونے کی دلیل ہوئی ۔
جب اے محبوب! تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو (ف۲٤) عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا تو کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کی ایک ایک پور (جوڑ) پر ضرب لگاؤ (ف۲۵)
And when O dear Prophet, your Lord was inspiring the angels that, “I am with you – so make the believers stand firm; I will soon instil fear into the hearts of the disbelievers, so strike above the disbelievers’ necks and hit their each and every bone joint.”
जब ऐ महबूब! तुम्हारा रब फ़रिश्तों को वही भेजता था कि मैं तुम्हारे साथ हूँ तुम मुसलमानों को साबित रखो अन्क़रीब मैं काफ़िरों के दिलों में हैबत डालूँगा तो काफ़िरों की गर्दनों से ऊपर मारो और उनकी एक एक पोर (जोड़) पर ज़र्ब लगाओ
Jab ae Mehboob! Tumhara Rab farishton ko wahi bhejta tha ke main tumhare saath hoon, tum Musalmanon ko saabit rakho, anqareeb main kafiron ke dilon mein haibat daalunga, to kafiron ki gardanon se ooper maaro aur unki ek ek por (jod) par zarb lagao,
(ف24)ان کی اعانت کرکے اور انہیں بشارت دے کر ۔(ف25)ابو داؤد مازنی جو بدر میں حاضر ہوئے تھے ، فرماتے ہیں کہ میں مشرک کی گردن مارنے کے لئے اس کے درپے ہوا اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کٹ کر گر گیا تو میں نے جان لیا کہ اس کو کسی اور نے قتل کیا ۔ سہل بن حنیف فرماتے ہیں کہ روزِ بدر ہم میں سے کوئی تلوار سے اشارہ کرتا تھا تو اس کی تلوار پہنچنے سے پہلے ہی مشرک کا سر جسم سے جدا ہو کر گر جاتا تھا ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یک مشت سنگریزے کُفّار پر پھینک کر مارے تو کوئی کافِر ایسا نہ بچا جس کی آنکھوں میں اس میں سے کوئی پڑا نہ ہو ۔ بدر کا یہ واقعہ صبحِ جمعہ سترہ رمضان مبارک ۲ ہجری میں پیش آیا ۔
یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
This is because they opposed Allah and His Noble Messenger; and whoever opposes Allah and His Noble Messenger – then indeed Allah’s punishment is severe.
ये इस लिए कि उन्होंने अल्लाह और उसके रसूल से मुख़ालिफ़त की और जो अल्लाह और उसके रसूल से मुख़ालिफ़त करे तो बेशक अल्लाह का अज़ाब सख़्त है,
Yeh is liye ke unhone Allah aur uske Rasool se mukhalifat ki, aur jo Allah aur uske Rasool se mukhalifat kare to beshak Allah ka azaab sakht hai,
اور جو اس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنرَ کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو، تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی، (ف۲۹)
And on that day whoever turns his back to them, except for a battle strategy or to join one’s own company, has then turned towards Allah’s wrath, and his destination is hell; and what an evil place of return!
और जो उस दिन उन्हें पीठ देगा मगर लड़ाई का हुनर करने या अपनी जमाअत में जा मिलने को, तो वो अल्लाह के ग़ज़ब में पलटा और उसका ठिकाना दोज़ख़ है, और क्या बुरी जगह है पलटने की,
Aur jo us din unhein peeth dega magar ladai ka hunar karne ya apni jamaat mein ja milne ko, to woh Allah ke gazab mein palta aur uska thikana dozakh hai, aur kya buri jagah hai palatne ki,
(ف29)یعنی مسلمانوں میں سے جو جنگ میں کُفّار کے مقابلہ سے بھاگا وہ غضبِ الٰہی میں گرفتار ہوا ، اس کا ٹھکانا دوزخ ہے سوائے دو حالتوں کے ، ایک تو یہ کہ لڑائی کا ہنر یا کرتب کرنے کے لئے پیچھے ہٹا ہو وہ پیٹھ دینے اور بھاگنے والا نہیں ہے ، دوسرے جو اپنی جماعت میں ملنے کے لئے پیچھے ہٹا ہو وہ بھی بھاگنے والا نہیں ہے ۔
تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے (۳۰) انہیں قتل کیا، اور اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
So you did not slay them, but in fact Allah slew them; and O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) you did not throw (the sand) when you did throw, but in fact Allah threw; and in order to bestow an excellent reward upon the Muslims; indeed Allah is the All Hearing, the All Knowing.
तो तुम ने उन्हें क़त्ल न किया बल्कि अल्लाह ने उन्हें क़त्ल किया, और ऐ महबूब! वो ख़ाक जो तुम ने फेंकी थी बल्कि अल्लाह ने फेंकी और इस लिए कि मुसलमानों को इससे अच्छा इनाम अता फ़रमाए, बेशक अल्लाह सुनता जानता है,
To tumne unhein qatal na kiya, balke Allah ne unhein qatal kiya, aur ae Mehboob! Woh khaak jo tumne phainki thi balke Allah ne phainki, aur is liye ke Musalmanon ko usse acha inaam ata farmaaye, beshak Allah sunta jaanta hai,
(ف30)شانِ نُزُول : جب مسلمان جنگِ بدر سے واپس ہوئے تو ان میں سے ایک کہتا تھا کہ میں نے فلاں کو قتل کیا ، دوسرا کہتا تھا میں نے فلاں کو قتل کیا اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اس قتل کو تم اپنے زور و قوت کی طرف نسبت نہ کرو کہ یہ درحقیقت اللہ کی امداد اور اس کی تقویت اور تائید ہے ۔
اے کافرو! اگر تم فیصلہ مانگتے ہو تو یہ فیصلہ تم پر آچکا (ف۳۲) اور اگر باز آؤ (ف۳۳) تو تمہارا بھلا ہے اور اگر تم پھر شرارت کرو تو ہم پھر نہ دیں گے اور تمہارا جتھا تمہیں کچھ کام نہ دے گا چاہے کتنا ہی بہت ہو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے،
O disbelievers! If you seek a judgement, then this judgement has come to you; and if you desist, it is better for you; and if you return to mischief, We will punish you again; and your populace will not benefit you, however large it may be – and besides this, Allah is with the Muslims.
ऐ काफ़िरो! अगर तुम फ़ैसला माँगते हो तो ये फ़ैसला तुम पर आ चुका और अगर बाज़ आओ तो तुम्हारा भला है और अगर तुम फिर शरारत करो तो हम फिर न देंगे और तुम्हारा जत्था तुम्हें कुछ काम न देगा चाहे कितना ही बहुत हो और इसके साथ ये है कि अल्लाह मुसलमानों के साथ है,
Ae kafiro! Agar tum faisla maangte ho to yeh faisla tum par aa chuka, aur agar baaz aao to tumhara bhala hai, aur agar tum phir shararat karo to hum phir na denge, aur tumhara jatha tumhein kuchh kaam na dega chahe kitna hi bohot ho, aur iske saath yeh hai ke Allah Musalmanon ke saath hai,
(ف32)شانِ نُزُول : یہ خِطاب مشرکین کو ہے جنہوں نے بدر میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کی اور ان میں سے ابو جہل نے اپنی اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ دعا کی کہ یاربّ ہم میں جو تیرے نزدیک اچھا ہو اسکی مدد کر اور جو بُرا ہو اسے مبتلائے مصیبت کر اور ایک روایت میں ہے کہ مشرکین نے مکّۂ مکرّمہ سے بدر کو چلتے وقت کعبۂ معظّمہ کے پردوں سے لپٹ کر یہ دعا کی تھی کہ یاربّ اگر محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) حق پر ہوں تو ان کی مدد فرما اور اگر ہم حق پر ہوں تو ہماری مدد کر اس پر یہ آیت نازِل ہوئی کہ جو فیصلہ تم نے چاہا تھا وہ کردیا گیا اور جو گروہ حق پر تھا اس کو فتح دی گئی ، یہ تمہارا مانگا ہوا فیصلہ ہے اب آسمانی فیصلہ سے بھی جو ان کا طلب کیا ہوا تھا ، اسلام کی حقانیت ثابت ہوئی ۔ ابوجہل بھی اس جنگ میں ذلّت اورسوائی کے ساتھ مارا گیا اور اس کا سر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں حاضر کیا گیا ۔(ف33)سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عداوت اور حضور کے ساتھ جنگ کرنے سے ۔
اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا اور وہ نہیں سنتے (ف۳۵)
And do not be like those who said, “We have heard”, whereas they do not hear.
और उन जैसे न होना जिन्होंने कहा हमने सुना और वो नहीं सुनते
Aur un jese na hona jinhone kaha humne suna aur woh nahin sunte,
(ف35)کیونکہ جو سن کر فائدہ نہ اُٹھائے اور نصیحت پذیر نہ ہو اس کا سُننا سُننا ہی نہیں ہے ۔ یہ منافقین و مشرکین کا حال ہے مسلمانوں کو اس سے دور رہنے کا حکم دیا جاتا ہے ۔
بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں (ف۳٦)
Indeed the worst beasts in the sight of Allah are those (people) who are deaf, dumb – who do not have any sense.
बेशक सब जानवरों में बदतर अल्लाह के नज़दीक वो हैं जो बहरे गूँगे हैं जिनको अक़्ल नहीं
Beshak sab janwaron mein badtar Allah ke nazdeek woh hain jo behre gungay hain jinko aqal nahin,
(ف36)نہ وہ حق سنتے ہیں ، نہ حق بولتے ہیں ، نہ حق کو سمجھتے ہیں ۔ کان اور زبان و عقل سے فائدہ نہیں اُٹھاتے ، جانوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ یہ دیدۂ و دانستہ بہرے گونگے بنتے اور عقل سے دشمنی کرتے ہیں ۔ شانِ نُزُول : یہ آیت بنی عبد الدار بن قُصَیْ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ جو کچھ محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ہم اس سے بہرے گونگے اندھے ہیں ۔ یہ سب لوگ جنگِ اُحد میں مقتول ہوئے اور ان میں سے صرف دو شخص ا یمان لائے معصب بن عمیر اور سویبط بن حرملہ ۔
اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی (ف۳۷) جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر (ف۳۸) سنا دیتا جب بھی انجام کار منہ پھیر کر پلٹ جاتے (ف۳۹)
And had Allah found any goodness in them, He would have made them hear; and had He made them hear they would, in the end, have turned away and gone back.
और अगर अल्लाह उनमें कुछ भलाई जानता तो उन्हें सुना देता और अगर सुना देता जब भी अंजामकार मुँह फेर कर पलट जाते
Aur agar Allah unmein kuchh bhalai jaanta to unhein suna deta, aur agar suna deta jab bhi anjaam kar munh pher kar palat jaate,
(ف37)یعنی صدق و رغبت ۔(ف38)بحالتِ موجودہ یہ جانتے ہوئے کہ ان میں صدقِ رغبت نہیں ہے ۔(ف39)اپنے عِناد اور حق سے دشمنی کے باعث ۔
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو (ف٤۰) جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی (ف٤۱) اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے،
O People who Believe! Present yourselves upon the command of Allah and His Noble Messenger, when the Noble Messenger calls you towards the matter that will bestow you life; and know that the command of Allah becomes a barrier between a man and his heart’s intentions, and that you will all be raised towards Him.
ऐ ईमान वालो! अल्लाह और उसके रसूल के बुलाने पर हाज़िर हो जब रसूल तुम्हें उस चीज़ के लिए बुलाएँ जो तुम्हें ज़िन्दगी बख़्शेगी और जान लो कि अल्लाह का हुक्म आदमी और उसके दिली इरादों में हाइल हो जाता है और ये कि तुम्हें उसकी तरफ़ उठना है,
Ae Imaan walo! Allah aur uske Rasool ke bulane par haazir ho jab Rasool tumhein us cheez ke liye bulayein jo tumhein zindagi bakhsh de, aur jaan lo ke Allah ka hukm aadmi aur uske dili iraadon mein haayil ho jaata hai, aur yeh ke tumhein uski taraf uthna hai,
(ف40)کیونکہ رسول کا بلانا اللہ ہی کا بلانا ہے ۔ بخاری شریف میں سعید بن معلی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھتا تھا مجھے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکارا میں نے جواب نہ دیا پھر میں نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو ۔ ایسا ہی دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب نماز پڑھتے تھے حضور نے انہیں پکارا ، انہوں نے جلدی نماز تمام کرکے سلام عرض کیا ، حضور نے فرمایا تمہیں جواب دینے سے کیا بات مانِع ہوئی ، عرض کیا حضورمیں نماز میں تھا ۔ حضور نے فرمایا کیا تم نے قرآنِ پاک میں یہ نہیں پایا کہ اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو عرض کیا بے شک آئندہ ایسا نہ ہوگا ۔(ف41)اس چیز سے یا ا یمان مراد ہے کیونکہ کافِر مردہ ہوتا ہے ، ا یمان سے اس کو زندگی حاصل ہوتی ہے ۔ قتادہ نے کہا کہ وہ چیز قرآن ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ہے اور اس میں نَجات ہے اور عِصمتِ دارین ہے ۔ محمد بن اسحاق نے کہا کہ وہ چیز جہاد ہے کیونکہ اس کی بدولت اللہ تعالٰی ذلّت کے بعد عزّت عطا فرماتا ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ وہ شہادت ہے اس لئے شہداء اپنے ربّ کے نزدیک زندہ ہیں ۔
اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہ پہنچے گا (ف٤۲) اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے،
And fear the turmoil which will certainly not fall only upon a few selected unjust people among you; and know that Allah’s punishment is severe.
और उस फ़ितना से डरते रहो जो हरगिज़ तुम में ख़ास ज़ालिमों को ही न पहुँचेगा और जान लो कि अल्लाह का अज़ाब सख़्त है,
Aur us fitna se darte raho jo har-giz tum mein khaas zaalimon ko hi na puhnchega, aur jaan lo ke Allah ka azaab sakht hai,
(ف42)بلکہ اگر تم اس سے نہ ڈرے اور اس کے اسباب یعنی ممنوعات کو ترک نہ کیا اور وہ فتنہ نازِل ہوا تو یہ نہ ہوگا کہ اس میں خاص ظالم اوربدکار ہی مبتلا ہوں بلکہ وہ نیک اور بد سب کو پہنچ جائے گا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مؤمنین کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے درمیان ممنوعات نہ ہونے دیں یعنی اپنے مقدور تک برائیوں کو روکیں اور گناہ کرنے والوں کو گناہ سے منع کریں اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو عذاب ان سب کو عام ہوگا ، خطا کار اور غیر خطا کار سب کو پہنچے گا ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی مخصوص لوگوں کے عمل پر عذاب عام نہیں کرتا جب تک کہ عام طور پر لوگ ایسا نہ کریں کہ ممنوعات کو اپنے درمیان ہوتا دیکھتے رہیں اور اس کے روکنے اور منع کرنے پر قادِر ہوں باوجود اس کے نہ روکیں نہ منع کریں جب ایسا ہوتا ہے تو اللہ تعالٰی عذاب میں عام و خاص سب کو مبتلا کرتا ہے ۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی قوم میں سرگرمِ معاصی ہو اور وہ لوگ باوجود قدرت کے اس کو نہ روکیں تو اللہ تعالٰی مرنے سے پہلے انہیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو قوم نہی عنِ المنکَر ترک کرتی ہے اور لوگوں کو گناہوں سے نہیں روکتی وہ اپنے اس ترکِ فرض کی شامت میں مبتلا ئے عذاب ہوتی ہے ۔
اور یاد کرو (ف٤۳) جب تم تھوڑے تھے ملک میں دبے ہوئے (ف٤٤) ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں تو اس نے تمہیں (ف٤۵) جگہ دی اور اپنی مدد سے زور دیا اور ستھری چیزیں تمہیں روزی دیں (ف٤٦) کہ کہیں تم احسان مانو،
And remember when you were only a few and meek in the land, and feared that men may snatch you away – He therefore gave you refuge and strengthened you with His help, and gave you good things as sustenance, so that you may be thankful.
और याद करो जब तुम थोड़े थे मुल्क में दबे हुए डरते थे कि कहीं लोग तुम्हें उचक न ले जाएँ तो उसने तुम्हें जगह दी और अपनी मदद से ज़ोर दिया और सुथरी चीज़ें तुम्हें रोज़ी दीं कि कहीं तुम एहसान मानो,
Aur yaad karo jab tum thode the mulk mein dabe hue darte the ke kahin log tumhein uchak na le jaayein, to usne tumhein jagah di aur apni madad se zor diya aur suthri cheezein tumhein rozi di ke kahin tum ehsaaan maano,
(ف43)اے مؤمنین مہاجرین ابتدائے اسلام میں ہجرت کرنے سے پہلے مکّۂ مکرّمہ میں ۔(ف44)قریش تم پر غالب تھے اور تم ۔(ف45)مدینہ طیّبہ میں ۔ (ف46)یعنی اموالِ غنیمت جو تم سے پہلے کسی اُمّت کے لئے حلال نہیں کئے گئے تھے ۔
اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو (ف٤۷) اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت،
O People who Believe! Do not betray Allah and His Noble Messenger, nor purposely defraud your trusts.
ऐ ईमान वालो! अल्लाह और रसूल से दग़ा न करो और न अपनी अमानतों में दानिस्ता ख़यानत,
Ae Imaan walo! Allah aur Rasool se dagha na karo aur na apni amaanaton mein danista khiyanat,
(ف47)فرائض کا چھوڑ دینا اللہ تعالٰی سے خیانت کرنا ہے اور سنّت کا ترک کرنا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔ شانِ نُزُول : یہ آیت ابو لبابہ ہارون بن عبد المنذر انصاری کے حق میں نازِل ہوئی ۔ واقعہ یہ تھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودِ بنی قُریظہ کا دو ہفتے سے زیادہ عرصہ تک محاصَرہ فرمایا ، وہ اس محاصَرہ سے تنگ آگئے اور ان کے دل خائِف ہوگئے تو ان سے ان کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب تین شکلیں ہیں یا تو اس شخص یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت کر لو کیونکہ قسم بخدا وہ نبیٔ مُرسَل ہیں یہ ظاہر ہوچکا اور یہ وہی رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے ، ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال اہل و اولاد سب محفوظ رہیں گے مگر اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری شکل پیش کی اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بی بی بچوں کو قتل کر دیں پھر تلواریں کھینچ کر محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب کے مقابل آئیں کہ اگر ہم اس مقابلہ میں ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہل و اولاد کا غم تو نہ رہے ، اس پر قوم نے کہا کہ اہل و اولاد کے بعد جینا ہی کس کام کا تو کعب نے کہا یہ بھی منظور نہیں ہے تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کی درخواست کرو شایداس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے تو انہوں نے حضور سے صلح کی درخواست کی لیکن حضور نے منظور نہ فرمایا سوائے اس کے کہ اپنے حق میں سعد بن معاذ کے فیصلہ کو منظور کریں ، اس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ابو لبابہ کو بھیج دیجئے کیونکہ ابو لبابہ سے ان کے تعلقات تھے اور ابو لبابہ کا مال اور ان کی اولاد اور ان کے عیال سب بنی قُریظہ کے پاس تھے ، حضور نے ابو لبابہ کو بھیج دیا ۔ بنی قُریظہ نے ان سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم سعد بن معاذ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو ۔ ابو لبابہ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ توگلے کٹوانے کی بات ہے ، ابو لبابہ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خیانت واقع ہوئی ، یہ سوچ کر وہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تو نہ آئے سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف کے ایک سُتون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مَرجائیں یا اللہ تعالٰی ان کی توبہ قبول کرے ۔ وقتاً فوقتاً ان کی بی بی آ کر انہیں نمازوں کے لئے اور انسانی حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے ۔ حضور کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابو لبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب انہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ ان کی توبہ قبول نہ کرے ۔ وہ سات روز بندھے رہے نہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے پھر اللہ تعالٰی نے ان کی توبہ قبول کی ، صحابہ نے انہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی تو انہوں نے کہا میں خدا کی قسم نہ کُھلوں گا جب تک رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے خود نہ کھولیں ۔ حضرت نے انہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا ، ابو لبابہ نے کہا میری توبہ اس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنے کُل مال کو اپنے مِلک سے نکال دوں ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ، ان کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔
اے ایمان والو! اگر اللہ سے ڈرو گے (ف۵۰) تو تمہیں وہ دیگا جس سے حق کو باطل سے جدا کرلو اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
O People who Believe! If you fear Allah, He will bestow upon you (the criterion) that with which you will separate the truth from falsehood, and He will unburden your misdeeds and forgive you; and Allah is the Extremely Munificent.
ऐ ईमान वालो! अगर अल्लाह से डरो गे तो तुम्हें वो देगा जिससे हक़ को बाक़िल से जुदा कर लो और तुम्हारी बुराइयाँ उतार देगा और तुम्हें बख़्श देगा और अल्लाह बड़े फ़ज़्ल वाला है,
Ae Imaan walo! Agar Allah se daroge to tumhein woh dega jisse Haq ko baatil se juda kar lo aur tumhari buraiyaan utaar dega aur tumhein bakhsh dega aur Allah bade fazl wala hai,
اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند کرلیں یا شہید کردیں یا نکال دیں (ف۱۵۱) اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر،
And remember O dear Prophet when the disbelievers were scheming against you to either imprison you, or to kill you or to banish you; and they were scheming, and Allah was making His secret plan; and Allah’s secret plan is the best.
और ऐ महबूब याद करो जब काफ़िर तुम्हारे साथ मकर करते थे कि तुम्हें बन्द कर लें या शहीद कर दें या निकाल दें अपना सा मकर करते थे और अल्लाह अपनी ख़ुफ़िया तद्बीर फ़रमाता था और अल्लाह की ख़ुफ़िया तद्बीर सबसे बेहतर,
Aur ae Mehboob yaad karo jab kafir tumhare saath makar karte the ke tumhein band kar lein ya shaheed kar dein ya nikal dein, apna sa makar karte the aur Allah apni khufiya tadbeer farmaata tha aur Allah ki khufiya tadbeer sabse behtar,
(ف51) اس میں اس واقعہ کا بیان ہے جو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر فرمایا کہ کُفّارِ قریش دارالندوہ (کمیٹی گھر) میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت مشورہ کرنے کے لئے جمع ہوئے اور ابلیسِ لعین ایک بُڈھے کی صورت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں شیخِ نجد ہوں ، مجھے تمہارے اس اجتماع کی اطلاع ہوئی تو میں آیا مجھ سے تم کچھ نہ چھپانا ، میں تمہارا رفیق ہوں اور اس معاملہ میں بہتر رائے سے تمہاری مدد کروں گا ، انہوں نے اس کو شامل کرلیا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق رائے زنی شروع ہوئی ، ابوالبختری نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑ کر ایک مکان میں قید کردو اور مضبوط بندشوں سے باندھ دو ، دروازہ بند کر دو ، صرف ایک سوراخ چھوڑ دو جس سے کبھی کبھی کھانا پانی دیا جائے اور وہیں وہ ہلاک ہو کر رہ جائیں ۔ اس پر شیطانِ لعین جو شیخِ نجدی بنا ہوا تھا بہت ناخوش ہوا اور کہا نہایت ناقص رائے ہے ، یہ خبر مشہور ہوگی اور ان کے اصحاب آئیں گے اور تم سے مقابلہ کریں گے اور ان کو تمہارے ہاتھ سے چُھڑا لیں گے ۔ لوگوں نے کہا شیخِ نجدی ٹھیک کہتا ہے پھر ہشام بن عمرو کھڑا ہوا اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان کو (یعنی محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) اونٹ پر سوار کرکے اپنے شہر سے نکال دو پھر وہ جوکچھ بھی کریں اس سے تمہیں کچھ ضَرر نہیں ۔ ابلیس نے اس رائے کو بھی ناپسند کیا اور کہا جس شخص نے تمہارے ہوش اُڑا دیئے اور تمہارے دانشمندوں کو حیران بنادیا اس کو تم دوسروں کی طر ف بھیجتے ہو ، تم نے اس کی شیریں کلامی ، سیف زبانی ، دل کشی نہیں دیکھی ہے اگر تم نے ایسا کیا تو وہ دوسری قوم کے قلوب تسخیر کرکے ان لوگوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے ۔ اہلِ مجمع نے کہا شیخِ نجدی کی رائے ٹھیک ہے اس پر ابوجہل کھڑا ہوا اور اس نے یہ رائے دی کہ قریش کے ہر ہر خاندان سے ایک ایک عالی نسب جوان منتخب کیا جائے اور ان کو تیز تلوار یں دی جائیں ، وہ سب یکبارگی حضرت پر حملہ آور ہو کر قتل کردیں تو بنی ہاشم قریش کے تمام قبائل سے نہ لڑ سکیں گے ۔ غایت یہ ہے کہ خون کا معاوضہ دینا پڑے وہ دے دیا جائے گا ۔ ابلیسِ لعین نے اس تجویز کوپسند کیا اور ابوجہل کی بہت تعریف کی اور اسی پر سب کا اتفاق ہوگیا ۔ حضرتِ جبریل علیہ السلام نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ گزارش کیا اور عرض کیا کہ حضور اپنی خواب گاہ میں شب کو نہ رہیں ، اللہ تعالٰی نے اِذن دیا ہے مدینہ طیبہ کا عزم فرمائیں ۔ حضور نے علی مرتضٰی کو شب میں اپنی خواب گاہ میں رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہماری چادر شریف اوڑھو تمہیں کوئی ناگواربات پیش نہ آئے گی اور حضور دولت سرائے اقدس سے باہر تشریف لائے اور ایک مشتِ خاک دستِ مبارک میں لی اور آیت اِنَّا جَعَلْنَا فِیْ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلٰلاً پڑھ کر محاصَرہ کرنے والوں پر ماری ، سب کی آنکھوں اور سروں پر پہنچی ، سب اندھے ہوگئے اور حضور کو نہ دیکھ سکے اور حضور مع ابوبکر صدیق کے غارِ ثور میں تشریف لے گئے اور حضرت علی مرتضٰی کو لوگوں کو امانتیں پہنچانے کے لئے مکّۂ مکرّمہ میں چھوڑا ۔ مشرکین رات بھر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت سرائے کا پہرہ دیتے رہے ، صبح کو جب قتل کے ارادہ سے حملہ آور ہوئے تو دیکھا کہ حضرت علی ہیں ، ان سے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دریافت کیا گیا کہ کہاں ہیں انہوں نے فرمایا کہ ہمیں معلوم نہیں تو تلاش کے لئے نکلے جب غار پر پہنچے تو مکڑی کے جالے دیکھ کر کہنے لگے کہ اگر اس میں داخل ہوتے تو یہ جالے باقی نہ رہتے ۔ حضور اس غار میں تین روز ٹھہرے پھر مدینہ طیبہ روانہ ہوئے ۔
اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو کہتے ہیں ہاں ہم نے سنا ہم چاہتے تو ایسی ہم بھی کہہ دیتے یہ تو نہیں مگر اگلوں کے قصے (ف۵۲)
And when Our verses are recited to them they say, “Yes, we have heard – if we wanted we could also say something like this – these are nothing but stories of former people!”
और जब उन पर हमारी आयतें पढ़ी जाएँ तो कहते हैं हाँ हमने सुना हम चाहते तो ऐसी हम भी कह देते ये तो नहीं मगर अगलों के क़िस्से
Aur jab unpar hamari aayatein padhi jaati hain to kehte hain haan humne suna, hum chahte to aisi hum bhi keh dete, yeh to nahin magar aglon ke qissay,
(ف52)شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازِل ہوئی جس نے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآنِ پاک سُن کر کہا تھا کہ ہم چاہتے تو ہم بھی ایسی ہی کتاب کہہ لیتے ۔ اللہ تعالٰی نے ان کا یہ مقولہ نقل کیا کہ اس میں ان کی کمال بے شرمی و بے حیائی ہے کہ قرآنِ پاک کی تَحدّی فرمانے اور فُصَحائے عرب کو قرآنِ کریم کے مثل ایک سورۃ بنا لانے کی دعوتیں دینے اور ان سب کے عاجز و درماندہ رہ جانے کے بعد یہ کلمہ کہنا اور ایسا اِدّعائے باطل کرنا نہایت ذلیل حرکت ہے ۔
اور جب بولے (ف۵۳) کہ اے اللہ اگر یہی (قرآن) تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لا،
And when they said, “O Allah! If this (the Qur’an) is really the truth from You, then shower upon us a rain of stones from the sky, or bring upon us some painful punishment.”
और जब बोले कि ऐ अल्लाह अगर यही (क़ुरआन) तेरी तरफ़ से हक़ है तो हम पर आसमान से पत्थर बरसा या कोई दर्दनाक अज़ाब हम पर ला,
Aur jab bole ke ae Allah! Agar yeh (Quran) teri taraf se Haq hai to hum par aasman se pathar barsa ya koi dardnaak azaab hum par la,
(ف53)کُفَّار اور ان میں یہ کہنے والا یا نضر بن حارث تھا یا ابوجہل جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے ۔
اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب! تم ان میں تشریف فرما ہو (ف۵٤) اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں (ف۵۵)
And it is not for Allah to punish them while you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) are amongst them; and Allah will not punish them as long as they are seeking forgiveness. (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is a mercy unto mankind.)
और अल्लाह का काम नहीं कि उन्हें अज़ाब करे जब तक ऐ महबूब! तुम उनमें तशरीफ़ फ़रमा हो और अल्लाह उन्हें अज़ाब करने वाला नहीं जब तक वो बख़्शिश माँग रहे हैं
Aur Allah ka kaam nahin ke unhein azaab kare jab tak ae Mehboob! Tum unmein tashreef farma ho, aur Allah unhein azaab karne wala nahin jab tak woh bakhshish maang rahe hain,
(ف54)کیونکہ رحمۃ لِلعالمین بنا کر بھیجے گئے ہو اور سنّتِ الٰہیہ یہ ہے کہ جب تک کسی قوم میں اس کے نبی موجود ہوں ان پر عام بربادی کا عذاب نہیں بھیجتا جس سے سب کے سب ہلاک ہوجائیں اور کوئی نہ بچے ۔ ایک جماعت مفسِّرین کا قول ہے کہ یہ آیت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس وقت نازِل ہوئی جب آپ مکّۂ مکرّمہ میں مقیم تھے پھر جب آپ نے ہجرت فرمائی اور کچھ مسلمان رہ گئے جو استغِفار کیا کرتے تھے تو وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ نازِل ہوا جس میں بتایا گیا کہ جب تک استغِفار کرنے والے ایماندار موجود ہیں اس وقت تک بھی عذاب نہ آئے گا پھر جب وہ حضرات بھی مدینہ طیّبہ کو روانہ ہو گئے تو اللہ تعالٰی نے فتحِ مکّہ کا اِذن دیا اور یہ عذابِ مَوعود آگیا جس کی نسبت اس آیت میں فرمایا وَمَالَھُمْ اَلَّا یُعَذِّبَھُمُ اللّٰہُ محمد بن اسحاق نے کہا کہ مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ بھی کُفَّار کا مقولہ ہے جو ان سے حکایۃً نقل کیا گیا ، اللہ عزوجل نے ان کی جہالت کا ذکر فرمایا کہ اس قدر احمق ہیں ، آپ ہی تو یہ کہتے ہیں کہ یاربّ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر نازِل کر اور آپ ہی یہ کہتے ہیں کہ یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )جب تک آپ ہیں عذاب نازِل نہ ہوگا کیونکہ کوئی اُمّت اپنے نبی کی موجودگی میں ہلاک نہیں کی جاتی ، کس قدر مُعارِض اقوال ہیں ۔(ف55)اس آیت سے ثابت ہوا کہ استغِفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے میری اُمّت کے لئے دو امانیں اتاریں ۔ ایک میرا ان میں تشریف فرماہونا ، ایک ان کا استغِفار کرنا ۔
اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجد حرام سے روک رہے ہیں (ف۵٦) اور وہ اس کے اہل نہیں (ف۵۷) اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں،
And what is with them that Allah should not punish them, whereas in fact they prevent from the Sacred Mosque and they are not worthy (of being the custodians) of it; only the pious are its befitting custodians, but most of them do not have knowledge.
और उन्हें क्या है कि अल्लाह उन्हें अज़ाब न करे वो तो मस्जिद हराम से रोक रहे हैं और वो उसके अहल नहीं उसके औलिया तो परहेज़गार ही हैं मगर उनमें अक्सर को इल्म नहीं,
Aur unhein kya hai ke Allah unhein azaab na kare woh to Masjid-e-Haram se rokte hain aur woh uske ahl nahin, uske auliya to parhezgaar hi hain magar unmein aksar ko ilm nahin,
(ف56)اور مؤمنین کو طوافِ کعبہ کے لئے نہیں آنے دیتے جیسا کہ واقعۂ حُدیبیہ کے سال سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو روکا ۔(ف67)ایمان لانے سے ۔
اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی (ف۵۸) تو اب عذاب چکھو (ف۵۹) بدلہ اپنے کفر کا،
And their prayer near the Kaa’bah is nothing except whistling and clapping; “So now taste the punishment – the result of your disbelief.”
और काबा के पास उनकी नमाज़ नहीं मगर सीटी और ताली तो अब अज़ाब चखो बदला अपने कुफ़्र का,
Aur Kaaba ke paas unki namaz nahin magar seeti aur tali, to ab azaab chakho badla apne kufr ka,
(ف58)یعنی نماز کی جگہ سیٹی اور تالی بجاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ قریش ننگے ہو کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اور یہ فعل ان کا یا تو اس اعتقادِ باطل سے تھا کہ سیٹی اور تالی بجانا عبادت ہے اور یا اس شرارت سے کہ ان کے اس شور سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں پریشانی ہو ۔(ف59)قتل و قید کا بدر میں ۔
بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں (ف٦۰) تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے (ف٦۱) پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا،
Indeed the disbelievers spend their wealth in order to prevent people from the way of Allah; so they will spend it now, and then regret over it, then they will be defeated; and the disbelievers will be gathered towards hell.
बेशक काफ़िर अपने माल खर्च करते हैं कि अल्लाह की राह से रोकें तो अब उन्हें खर्च करेंगे फिर वो उन पर पछतावा होंगे फिर ग़ालिब कर दिए जाएँगे और काफ़िरों का हश्र जहन्नम की तरफ़ होगा,
Beshak kafir apne maal kharch karte hain ke Allah ki raah se rokein, to ab woh kharch karenge, phir woh unpar pachtawa hoga, phir maghloob kar diye jaayenge, aur kafiron ka hashr jahannam ki taraf hoga,
(ف60)یعنی لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے مانع ہوں ۔شانِ نُزول : یہ آیت کُفّار میں سے ان بارہ قریشیوں کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے لشکرِ کُفّار کا کھانا اپنے ذمّہ لیا تھا اور ہر ایک ان میں سے لشکر کوکھانا دیتا تھا ہر روز دس اونٹ ۔(ف61)کہ مال بھی گیا اور کام بھی نہ بنا ۔
اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے (ف٦۲) اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں (ف٦۳)
In order that Allah may separate the filthy from the pure, and placing the filthy atop one another, make a heap and throw them into hell; it is they who are the losers.
इस लिए कि अल्लाह गन्दे को सुथरे से जुदा फ़रमा दे और नजासतों को तले ऊपर रखकर सब एक ढेर बना कर जहन्नम में डाल दे वही नुक़सान पाने वाले हैं
Is liye ke Allah gande ko suthre se juda farma de aur nijaaston ko tale upar rakh kar sab ek dher bana kar jahannam mein daal de, wahi nuqsan paane wale hain,
(ف62)یعنی گر وہِ کُفّار کو گروہِ مؤمنین سے ممتاز کر دے ۔(ف63)کہ دنیا و آخرت کے ٹوٹے میں رہے اور اپنے مال خرچ کرکے عذابِ آخرت مول لیا ۔
تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو جو ہو گزرا وہ انہیں معاف فرمادیا جائے گا (ف٦٤) اور اگر پھر وہی کریں تو اگلوں کا دستور گزر چکا ہے (ف٦۵)
Say to the disbelievers that if they desist, what has passed will be forgiven to them; and if they do the same, the tradition of former people has already passed.
तुम काफ़िरों से फ़रमाओ अगर वो बाज़ रहे तो जो हो गुज़रा वो उन्हें माफ़ फ़रमा दिया जाएगा और अगर फिर वही करें तो अगलों का दस्तूर गुज़र चुका है
Tum kafiron se farmao agar woh baaz rahe to jo ho guzra woh unhein maaf farma diya jaayega aur agar phir wahi karein to aglon ka dastoor guzar chuka hai,
(ف64)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافِر جب کُفر سے باز آئے اور اسلام لائے تو اس کا پہلا کُفر اور مَعاصی مُعاف ہوجاتے ہیں ۔(ف65)کہ اللہ تعالٰی اپنے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے اور اپنے انبیاء اور اولیاء کی مدد فرماتا ہے ۔
اور اگر ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد (ف٦٦) باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کا ہوجائے، اگر پھر وہ باز رہیں تو اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے،
And fight them until no mischief remains and the entire religion is only for Allah; then if they desist, Allah sees all what they do.
और अगर उनसे लड़ो यहाँ तक कि कोई फ़साद बाक़ी न रहे और सारा दीन अल्लाह ही का हो जाए, अगर फिर वो बाज़ रहें तो अल्लाह उनके काम देख रहा है,
Aur agar unse lado yahan tak ke koi fasaad baqi na rahe aur sara deen Allah hi ka ho jaaye, agar phir woh baaz rahein to Allah unke kaam dekh raha hai,
اور اگر وہ پھریں (ف۲۷) تو جان لو کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے (ف٦۸) تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار،
And if they turn away, then know that Allah is your Master; so what an Excellent Master and what an Excellent Supporter!
और अगर वो फिरें तो जान लो कि अल्लाह तुम्हारा मौला है तो क्या ही अच्छा मौला और क्या ही अच्छा मददगार,
Aur agar woh phiren to jaan lo ke Allah tumhara Moula hai, to kya hi acha Moula aur kya hi acha madadgaar,
(ف67)ایمان لانے سے ۔(ف68)تم اس کی مدد پر بھروسہ رکھو ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page