Al Fatiha سورۃ الفاتحۃ

پارہ نمبر 9

قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَـنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا​ ؕ قَالَ اَوَلَوۡ كُنَّا كَارِهِيۡنَ ۚ‏ ﴿88﴾

اس کی قوم کے متکبر سردار بولے، اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ کہا (ف۱٦۷) کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں (ف۱٦۸)

The proud leaders of his people said, “O Shuaib, we swear we will banish you and the Muslims who are with you, from our town or you must return to our religion”; he said, “Even though we detest it?”

قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِىۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰٮنَا اللّٰهُ مِنۡهَا​ ؕ وَمَا يَكُوۡنُ لَـنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا​ ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىۡءٍ عِلۡمًا​ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا​ ؕ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَـقِّ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ‏ ﴿89﴾

ضرور ہم اللہ پر جھوٹ باندھیں گے اگر تمہارے دین میں آجائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے بچایا ہے (ف۱٦۹) اور ہم مسلمانوں میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف۱۷۰) جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف۱۷۱) اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر (ف۱۷۲) اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ہے،

“We shall then have fabricated a lie against Allah if we return to your religion after Allah has rescued us from it; and it is not for any of us Muslims to return to your religion except if Allah, Who is our Lord, wills; the knowledge of our Lord encompasses all things; in Allah only we have trusted; our Lord! Decide with justice between us and our people – and Yours is the best decision.”

وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَٮِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ‏ ﴿90﴾

اور اسکی قوم کے کافر سردار بولے کہ اگر تم شعیب کے تابع ہوئے تو ضرور نقصان میں رہو گے،

And the disbelieving leaders of his people said, “If you obey Shuaib, you will indeed be in a loss.”

فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ​ ۛۙ  ۚ   ۖ‏ ﴿91﴾

تو انہیں زلز لہ نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (ف۱۷۳)

Therefore the earthquake seized them – so at morning they remained lying flattened in their homes.

الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا​​ ۛۚ اَ لَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰسِرِيۡنَ​​‏ ﴿92﴾

شعیب کو جھٹلانے والے گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے، شعیب کو جھٹلانے والے ہی تباہی میں پڑے،

As if those who denied Shoaib had never lived in those homes; those who denied Shoaib, were themselves ruined.

فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ وَقَالَ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّىۡ وَنَصَحۡتُ لَـكُمۡ​ۚ فَكَيۡفَ اٰسٰی عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ‏ ﴿93﴾

تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا (ف۱۷٤) اور کہا اے میری قوم! میں تمہیں رب کی رسالت پہنچا چکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی (ف۱۷۵) تو کیونکر غم کروں کافروں کا،

So Shoaib turned away from them saying, “O my people! Indeed I did deliver my Lord’s message to you and gave you sound advice; so why should I grieve for the disbelievers?” (The people in the graves can hear the speech of those who are on earth.)

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِىۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّبِىٍّ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَهۡلَهَا بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَضَّرَّعُوۡنَ‏ ﴿94﴾

اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی (ف۱۷٦) مگر یہ کہ اس کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا (ف۱۷۷) کہ وہ کسی طرح زاری کریں (ف۱۷۸)

And never did We send any Prophet to a dwelling but We seized its people with hardship and adversity so that they may become humble.

ثُمَّ بَدَّلۡـنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الۡحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّقَالُوۡا قَدۡ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏ ﴿95﴾

پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی (ف۱۷۹) یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے (ف۱۸۰) اور بولے بیشک ہمارے باپ دادا کو رنج و راحت پہنچے تھے (ف۱۸۱) تو ہم نے انہیں اچانک ان کی غفلت میں پکڑ لیا (ف۱۸۲)

Then We changed the misfortune into prosperity to the extent that they became numerous and said, “Indeed grief and comfort did reach our ancestors” – so We seized them suddenly in their neglect.

وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ وَلٰـكِنۡ كَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ‏ ﴿96﴾

اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے (ف۱۸۳) تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے (ف۱۸٤) مگر انہوں نے تو جھٹلایا (ف۱۸۵) تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا (ف۱۸٦)

And had the people of the dwellings believed and been pious, We would have surely opened for them the blessings from the sky and from the earth, but in fact they denied, and We therefore seized them on account of their deeds.

اَفَاَمِنَ اَهۡلُ الۡـقُرٰٓى اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا بَيَاتًا وَّهُمۡ نَآٮِٕمُوۡنَؕ‏ ﴿97﴾

کیا بستیوں والے (ف۱۸۷) نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سوتے ہوں

Do the people of the dwellings not fear that Our wrath may come upon them at night while they are asleep?

اَوَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰٓى اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ضُحًى وَّهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ‏  ﴿98﴾

یا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آئے جب وہ کھیل رہے ہوں (ف۱۸۸)

Or do the people of the dwellings not fear that Our wrath may come upon them during the day, while they are playing?

اَفَاَمِنُوۡا مَكۡرَ اللّٰهِ​ ۚ فَلَا يَاۡمَنُ مَكۡرَ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰسِرُوۡنَ‏ ﴿99﴾

کیا اللہ کی خفی تدبیر سے بےخبر ہیں (ف۱۸۹) تو اللہ کی خفی تدبیر سے نذر نہیں ہوتے مگر تباہی والے (ف۱۹۰)

Are they oblivious to Allah’s secret plan? So none is unafraid of Allah’s secret plan except the people of ruin!

اَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَهۡلِهَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ​ ۚ وَنَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ‏ ﴿100﴾

اور کیا وہ جو زمین کے ما لکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آفت پہنچائیں (ف۱۹۱) اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے (ف۱۹۲)

Or did not those who inherited the land after its owners, get enough guidance that if We will, We can afflict them with calamity for their sins? And We set seals upon their hearts so they do not hear.

تِلۡكَ الۡقُرٰى نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآٮِٕهَا​ ۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ​ ۚ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا مِنۡ قَبۡلُ​ ؕ كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿101﴾

یہ بستیاں ہیں (ف۱۹۳) جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۱۹٤) اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں (ف۱۹۵) لے کر آئے تو وہ (ف۱۹٦) اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے (ف۱۹۷) اللہ یونہی چھاپ لگادیتا ہے کافروں کے دلوں پر (ف۱۹۸)

These are the dwellings – the affairs of which We relate to you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and indeed their (respective) Noble Messengers came to them with clear proofs; so they were not able to believe in what they had denied before; this is how Allah sets seals upon the hearts of disbelievers.

وَمَا وَجَدۡنَا لِاَكۡثَرِهِمۡ مِّنۡ عَهۡدٍ​ۚ وَاِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَكۡثَرَهُمۡ لَفٰسِقِيۡنَ‏ ﴿102﴾

اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا (ف۱۹۹) اور ضرور ان میں اکثر کو بےحکم ہی پایا، پھر ان (ف۲۰۰) کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں (ف۲۰۱) کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو

And We found most of them not true to their words; and indeed We found most of them disobedient.

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ئِهٖ فَظَلَمُوۡا بِهَا​ ۚ فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿103﴾

انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی (ف۲۰۲) تو دیکھو کیسا انجام ہوا مفسدوں کا،

Then after them, We sent Moosa with our signs to Firaun and his court members, but they did injustice to those signs; therefore see what sort of fate befell the mischievous!

وَ قَالَ مُوۡسٰى يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّىۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ‏  ﴿104﴾

اور موسیٰ نے کہا اے فرعون! میں پروردگار عالم کا رسول ہوں،

And Moosa said, “O Firaun! Indeed I am a Noble Messenger from the Lord Of The Creation.”

حَقِيۡقٌ عَلٰٓى اَنۡ لَّاۤ اَقُوۡلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَـقَّ​ ؕ قَدۡ جِئۡـتُكُمۡ بِبَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ فَاَرۡسِلۡ مَعِىَ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ؕ‏ ﴿105﴾

مجھے سزاوار ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی بات (ف۲۰۳) میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں (ف۲۰٤) تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے (ف۲۰۵)

“It is obligatory for me not to speak concerning Allah except the truth; I have come to you all with a clear sign from your Lord, therefore let the Descendants of Israel go with me.”

قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏  ﴿106﴾

بولا اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ اگر سچے ہو،

Said Firaun, “If you have come with a sign, then present it if you are truthful!”

فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِىَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ​ ​ ۖ ​ۚ‏ ﴿107﴾

تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا ہوگیا (ف۲۰٦)

Therefore Moosa put down his staff – it immediately turned into a visible python.

وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِىَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ‏ ﴿108﴾

اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا (ف۲۰۷)

And putting his hand in his bosom, withdrew it – so it shone brightly before the beholders.

قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ ۙ‏ ﴿109﴾

قوم فرعون کے سردار بولے یہ تو ایک علم والا جادوگر ہے (ف۲۰۸)

Said the chieftains of Firaun’s people, “He is really an expert magician.”

يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ​ ۚ فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ‏ ﴿110﴾

تمہیں تمہارے ملک (ف۲۰۹) سے نکا لا چاہتا ہے تو تمہارا کیا مشورہ ہے،

“He wishes to expel you all from your kingdom; so what do you advise?”

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَاخَاہُ وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَآٮِٕنِ حٰشِرِیْنَ ۙ‏ ﴿111﴾

بولے انہیں اور ان کے بھائی (ف۲۱۰) کو ٹھہرا اور شہروں میں لوگ جمع کرنے والے بھیج دے،

They said, “Stop him and his brother, and send announcers to the cities to gather people.”

يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيۡمٍ‏ ﴿112﴾

کہ ہر علم والے جادوگر کو تیرے پاس لے آئیں (ف۲۱۱)

“To bring all the expert magicians to you.”

وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ لَـنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ‏ ﴿113﴾

اور جادوگر فرعون کے پاس آئے بولے کچھ ہمیں انعام ملے گا اگر ہم غالب آئیں،

And the magicians came to Firaun, and said, “Will we get some reward if we are victorious?”

قَالَ نَـعَمۡ وَاِنَّكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ‏ ﴿114﴾

بولا ہاں اور اس وقت تم مقرب ہوجاؤ گے،

He said, “Yes, and you will then become close to me.”

قَالُوۡا يٰمُوۡسٰٓى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِىَ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ‏ ﴿115﴾

بولے اے موسیٰ یا تو (ف۲۱۲) آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں (ف۲۱۳)

They said, “O Moosa! You may throw first – or shall we be the first to throw?”

قَالَ اَلۡقُوۡا​ ۚ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ‏ ﴿116﴾

کہا تمہیں ڈالو (ف۲۱٤) جب انہوں نے ڈالا (ف۲۱۵) لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں ڈرایا اور بڑا جادو لائے،

He said, “You throw”; when they threw, they cast a magic spell upon the people’s eyes and terrified them, and they brought a great magic.

وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ​ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ​ۚ‏ ﴿117﴾

اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال تو ناگاہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا (ف۲۱٦)

And We inspired Moosa that, “Put forth your staff”; it immediately began swallowing up their fabrications.

فَوَقَعَ الۡحَـقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ​ۚ‏ ﴿118﴾

تو حق ثابت ہوا اور ان کا کام باطل ہوا،

So the truth was proved and their works were disproved.

فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ​ۚ‏ ﴿119﴾

تو یہاں وہ مغلوب پڑے اور ذلیل ہو کر پلٹے

They were therefore defeated here and they turned back humiliated.

وَ اُلۡقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيۡنَ ۙ‏ ﴿120﴾

اور جادوگر سجدے میں گرادیے گئے (ف۲۱۷)

And the magicians were obliged to fall prostrate.

قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ۙ‏ ﴿121﴾

بولے ہم ایمان لائے جہان کے رب پر،

They said, “We have accepted faith in the Lord Of The Creation.”

رَبِّ مُوۡسٰى وَهٰرُوۡنَ‏ ﴿122﴾

جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا،

“The Lord of Moosa and Haroon.”

قَالَ فِرۡعَوۡنُ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَـكُمۡ​ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِى الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا​ ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿123﴾

فرعون بولا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، یہ تو بڑا جعل (فریب) ہے جو تم سب نے (ف۲۱۸) شہر میں پھیلایا ہے کہ شہر والوں کو اس سے نکال دو (ف۲۱۹) تو اب جان جاؤ گے (ف۲۲۰)

Said Firaun, “You have accepted faith in Him before I gave you permission! This is indeed a grand conspiracy you have plotted in the city, in order to expel its people from it; so now you will come to know!”

لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ‏ ﴿124﴾

قسم ہے کہ میں تمہارے ایک طرف کہ ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سُو لی دوں گا (ف۲۲۱)

“I swear I will cut off your hands and your feet from alternate sides and then crucify you all.”

قَالُـوۡۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ​ۚ‏ ﴿125﴾

بولے ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں (ف۲۲۲)

They said, “We shall return to our Lord.”

وَمَا تَـنۡقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا​ ؕ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ‏ ﴿126﴾

اور تجھے ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آئیں، اے رب ہمارے! ہم پر صبر انڈیل دے (ف۲۲۳) اور ہمیں مسلمان اٹھا (ف۲۲٤)

“And what did you dislike in us, except that we believed in the signs of our Lord when they came to us? Our Lord! Pour (bestow abundantly) patience on us, and bestow us death as Muslims.”

وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اَتَذَرُ مُوۡسٰى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ​ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡىٖ نِسَآءَهُمۡ​ ۚ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قَاهِرُوۡنَ‏ ﴿127﴾

اور قوم فرعون کے سردار بولے کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لیے چھوڑتا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں (ف۲۲۵) اور موسیٰ تجھے اور تیرے ٹھہرائے ہوئے معبودوں کو چھوڑ دے (ف۲۲٦) بولا اب ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیاں زندہ رکھیں گے اور ہم بیشک ان پر غالب ہیں (ف۲۲۷)

The chieftains of Firaun’s people said, “Are you releasing Moosa and his people to cause turmoil in the land, and for Moosa to abandon you and your appointed deities?” He said, “We shall now slay their sons and spare their women; and indeed we have power over them.”

قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهِ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا​ ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ۙ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ​ ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ‏  ﴿128﴾

موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو (ف۲۲۸) اور صبر کرو (ف۲۲۹) بیشک زمین کا مالک اللہ ہے (ف۲۳۰) اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے (ف۲۳۱) اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے (ف۲۳۲)

Moosa said to his people, “Seek the help of Allah and patiently endure; indeed the Owner of the earth is Allah – He appoints as its successor whomever He wills; and the final triumph is for the pious.”

قَالُـوۡۤا اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا وَمِنۡۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا​ ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرَ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿129﴾

بولے ہم ستائے گئے آپ کے آنے سے پہلے (ف۲۳۳) اور آپ کے تشریف لانے کے بعد (ف۲۳٤) کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور اس کی جگہ زمین کا مالک تمہیں بنائے پھر دیکھے کیسے کام کرتے ہو (ف۲۳۵)

They said, “We have been oppressed before you came to us, and after you have come to us”; he said, “It is likely that your Lord may destroy your enemy and in his place make you the rulers of the earth, and then see what deeds you perform.”

وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُوۡنَ‏ ﴿130﴾

اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا (ف۲۳٦) کہ کہیں وہ نصیحت مانیں (ف۲۳۷)

And indeed We seized the people of Firaun with a famine of several years and with reduction of fruits, so that they may follow advice.

فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ قَالُوۡا لَـنَا هٰذِهٖ​ ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰى وَمَنۡ مَّعَهٗ​ ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓٮِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿131﴾

تو جب انہیں بھلائی ملتی (ف۲۳۸) کہتے یہ ہمارے لیے ہے (ف۲۳۹) اور جب برائی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے (ف۲٤۰) سن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے (ف۲٤۱) لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں،

So when good would reach them they would say, “This is for us”; and when misfortune reached them, they would infer it as ill omens of Moosa and his companions; pay heed! The misfortune of their ill luck lies with Allah, but most of them are unaware.

وَقَالُوۡا مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّـتَسۡحَرَنَا بِهَا ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿132﴾

اور بولے تم کیسی بھی نشانی لے کر ہمارے پاس آؤ کہ ہم پر اس سے جادو کرو ہم کسی طرح تم پر ایمان لانے والے نہیں (ف۲٤۲)

And said, “You may come with any sign to us, in order to cast a magic spell on us – yet by no means are we going to believe in you.”

فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَـرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ‏  ﴿133﴾

تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان (ف۲٤۳) اور ٹڈی اور گھن (یا کلنی یا جوئیں) اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں (ف۲٤٤) تو انہوں نے تکبر کیا (ف۲٤۵) اور وہ مجرم قوم تھی

We therefore sent against them the flood and the locusts and the vermin (or insects) and the frogs and the blood – separate signs; in response they were proud and were a guilty people.

وَلَـمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَـنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ​ۚ لَٮِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَـنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ​ۚ‏ ﴿134﴾

اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے (ف۲٤٦) بیشک اگر تم ہم پر عذاب اٹھا دو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے،

And whenever the punishment came upon them they said, “O Moosa! Pray to your Lord for us, by means of His covenant which you have; indeed if you lift the punishment from us we will surely accept faith in you and let the Descendants of Israel go with you.”

فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰٓى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ‏ ﴿135﴾

پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھالیتے ایک مدت کے کیے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے،

Consequently whenever We lifted the punishment from them for a term which they must reach, they used to then turn away.

فَانْتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ فِى الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ‏ ﴿136﴾

تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا (ف۲٤۷) اس لیے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بےخبر تھے (ف۲٤۸)

We therefore took revenge from them; so We drowned them in the sea for they used to deny Our signs and were ignoring them.

وَاَوۡرَثۡنَا الۡـقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِىۡ بٰرَكۡنَا فِيۡهَا​ ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَۙ بِمَا صَبَرُوۡا​ ؕ وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ‏ ﴿137﴾

اور ہم نے اس قوم کو (ف۲٤۹) جو دبا لی گئی تھی اس زمین (ف۲۵۰) کے پورب پچھم کا وارث کیا جس میں ہم نے برکت رکھی (ف۲۵۱) اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا، بدلہ ان کے صبر کا، اور ہم نے برباد کردیا (ف۲۵۲) جو کچھ فرعون اور اس کی قوم بناتی اور جو چنائیاں اٹھاتے (تعمیر کرتے) تھے،

And We made the people who were oppressed, the inheritors of the eastern and western parts of the land in which We placed blessings; and the good promise of your Lord was fulfilled for the Descendants of Israel – the reward of their patience; and We destroyed whatever Firaun and his people built and whatever they had contrived.

وَجَاوَزۡنَا بِبَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَ تَوۡا عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰٓى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ​ ۚ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى اجۡعَلْ لَّـنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ​  ؕ قَالَ اِنَّكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ‏ ﴿138﴾

اور ہم نے (ف۲۵۳) بنی اسرائیل کو دریا پار اتارا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اپنے بتوں کے آگے آسن مارے (جم کر بیٹھے) تھے (ف۲۵٤) بولے اے موسیٰ! ہمیں ایک خدا بنادے جیسا ان کے لیے اتنے خدا ہیں، بولا تم ضرور جا ہل لوگ ہو، (ف۲۵۵)

And We transported the Descendants of Israel across the sea – so they came across a people who used to squat in seclusion in front of their idols; they said, “O Moosa! Make a God for us, the way they have so many Gods!” He said, “You are indeed an ignorant people.”

اِنَّ هٰٓؤُلَۤاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏  ﴿139﴾

یہ حال تو بربادی کا ہے جس میں یہ (ف۲۵٦) لوگ ہیں اور جو کچھ کررہے ہیں نرا باطل ہے،

“The condition they are in is, in fact, one of destruction – and all what they do is utter falsehood.”

قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡكُمۡ اِلٰهًا وَّهُوَ فَضَّلَـكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ‏  ﴿140﴾

کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں زمانے بھر پر فضیلت دی (ف۲۵۷)

He said, “Shall I seek for you a God other than Allah, whereas He has given you superiority above the entire world?” (By sending His message towards you).

وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَـكُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ​ ۚ يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَ يَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ​ ؕ وَفِىۡ ذٰ لِكُمۡ بَلَاۤ ءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ‏ ﴿141﴾

اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات بحشی کہ تمہیں بری مار دیتے تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے، اور اس میں رب کا بڑا فضل ہوا (ف۲۵۸)

And remember when We rescued you from Firaun’s people who were afflicting you with a dreadful torment; slaughtering your sons and sparing your daughters; and in it was a great favour from your Lord.

وَوٰعَدۡنَا مُوۡسٰى ثَلٰثِيۡنَ لَيۡلَةً وَّاَتۡمَمۡنٰهَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِيۡقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرۡبَعِيۡنَ لَيۡلَةً ​ ۚ وَقَالَ مُوۡسٰى لِاَخِيۡهِ هٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِىۡ فِىۡ قَوۡمِىۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿142﴾

اور ہم نے موسیٰ سے (ف۲۵۹) تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں (ف۲٦۰) دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا (ف۲٦۱) اور موسیٰ نے (ف۲٦۲) اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا،

And We agreed with Moosa a covenant for thirty nights (of solitude) and completed it by adding ten to them, so the covenant of His Lord amounted to forty nights in full; and Moosa said to his brother Haroon, “Be my deputy over my people and make reform and do not allow the ways of the mischievous to enter.”

وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰى لِمِيۡقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِىۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ​ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰٮنِىۡ وَلٰـكِنِ انْظُرۡ اِلَى الۡجَـبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوۡفَ تَرٰٮنِىۡ​ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّخَرَّ مُوۡسٰى صَعِقًا​ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَكَ تُبۡتُ اِلَيۡكَ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿143﴾

اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا (ف۲٦۳) عرض کی اے رب میرے! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا (ف۲٦٤) ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا (ف۲٦۵) پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بیہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (ف۲٦٦)

And when Moosa presented himself upon Our promise, and his Lord spoke to him, he said, “My Lord! Show me Your Self, so that I may see You”; He said, “You will never be able to see Me, but look towards the mountain – if it stays in its place, then you shall soon see Me”; so when his Lord directed His light on the mountain, He blew it into bits and Moosa fell down unconscious; then upon regaining consciousness he said, “Purity is to You! I incline towards You, and I am the first Muslim.”

قَالَ يٰمُوۡسٰٓى اِنِّى اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِىۡ وَ بِكَلَامِىۡ ​ۖ  فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ‏ ﴿144﴾

فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے، تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو،

Said Allah, “O Moosa! I have chosen you from mankind by (bestowing) My messages and by My speech; so accept what I have bestowed upon you and be among the thankful.”

وَكَتَبۡنَا لَهٗ فِى الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّـكُلِّ شَىۡءٍ​ ۚ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا​ ؕ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ‏ ﴿145﴾

اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں (ف۲٦۷) لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل، اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کر اس کی اچھی باتیں اختیار کریں (ف۲٦۸) عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بےحکموں کا گھر (ف۲٦۹)

And We wrote for him on the tablets, the advice for all things and the details of all things; and commanded “Accept it firmly and command your people to choose its good advices; soon I shall show you people the destination of the disobedient.”

سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِىَ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ ؕ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا​ ۚ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ لَا يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا​ ۚ وَّاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَىِّ يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا​ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ‏ ﴿146﴾

اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں (ف۲۷۰) اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں (ف۳۲۷۱) اور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں، یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بےخبر بنے،

“And I shall turn away from My signs the people who unjustly wish to be admired in the earth; and if they see all the signs, they would not believe them; and if they see the path of guidance, they would not prefer to tread it; and if they see the way of error, they would present themselves to tread it; that is because they denied Our signs and were ignoring them.

وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ​ؕ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿147﴾

اور جنہوں نے ہماری آیتیں اور آخرت کے دربار کو جھٹلایا ان کا سب کیا دھرا اَکارت گیا، انہیں کیا بدلہ ملے گا مگر وہی جو کرتے تھے،

And those who denied Our signs and the confronting of the Hereafter – all their deeds are wasted; what recompense will they get, except what they used to do?

وَاتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰى مِنۡۢ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ​ ؕ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا ۘ اِتَّخَذُوۡهُ وَكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ‏ ﴿148﴾

اور موسیٰ کے (ف۲۷۲) بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے (ف۲۷۳) ایک بچھڑا بنا بیٹھی بےجان کا دھڑ (ف۲۷٤) گائے کی طرف آواز کرتا، کیا نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرتا ہے اور نہ انہیں کچھ راہ بتائے (ف۲۷۵) اسے لیا اور وہ ظالم تھے (ف۲۷٦)

And behind Moosa, his people moulded a calf from their ornaments – a lifeless body making sounds like a cow; did they not see that it neither speaks to them nor guides them in any way? They chose it (for worship), and were unjust.

وَلَـمَّا سُقِطَ فِىۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ۙ قَالُوۡا لَٮِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَيَغۡفِرۡ لَـنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏  ﴿149﴾

اور جب پچھتائے اور سمجھے کہ ہم بہکے بولے اگر ہمارا رب ہم پر مہربانی نہ کرے اور ہمیں نہ بخشے تو ہم تباہ ہوئے،

And when they repented and realised that they had gone astray, they said, “If our Lord does not have mercy on us and forgive us, we are ruined.”

وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰٓى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِىۡ ۚ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ​ ۚ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ​ؕ قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡـقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِىۡ وَكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِىۡ ​ۖ  فَلَا تُشۡمِتۡ بِىَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِىۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿150﴾

اور جب موسیٰ (ف۲۷۷) اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا جھنجلایا ہوا (ف۲۷۸) کہا تم نے کیا بری میری جانشینی کی میرے بعد (۲۷۹) کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی (ف۲۸۰) اور تختیاں ڈال دیں (ف۲۸۱) اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا (ف۲۸۲) کہا اے میرے ماں جائے (ف۲۸۳) قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا (ف۲۸٤) اور مجھے ظالموں میں نہ ملا (ف۲۸۵)

And when Moosa returned to his people, angry and upset, he said, “What an evil way you have handled affairs on my behalf, behind me; did you hasten upon the command of your Lord?” And he cast down the stone tablets, and catching hold of his brothers hair, began pulling him towards him; said Haroon said, “O the son of my mother! The people thought I was weak and would have probably killed me; so do not make my enemies laugh at me and do not identify me with the unjust.”

قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِىۡ وَلِاَخِىۡ وَ اَدۡخِلۡنَا فِىۡ رَحۡمَتِكَ ​ۖ  وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‏ ﴿151﴾

عرض کی اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے (ف۲۸٦) اور ہمیں اپنی رحمت کے اندر لے لے اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا

He submitted, “My Lord! Forgive me and my brother and admit us into Your mercy; and You are the Most Merciful of all those who show mercy.”

اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّـةٌ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا​ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِىۡ الۡمُفۡتَرِيۡنَ‏ ﴿152﴾

بیشک وہ جو بچھڑا لے بیٹھے عنقریب انہیں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچنا ہے دنیا کی زندگی میں، اور ہم ایسی ہی بدلہ دیتے ہیں بہتان ہایوں (باندھنے والوں) کو،

Indeed those who took the calf – the punishment from their Lord, and humiliation will reach them in the life of this world; and this is the way We reward those who fabricate lies.

وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِهَا وَاٰمَنُوۡۤا اِنَّ رَبَّكَ مِنۡۢ بَعۡدِهَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿153﴾

اور جنہوں نے برائیاں کیں اور ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۸۷)

And those who performed misdeeds and then repented and accepted faith – so after that, your Lord is Oft Forgiving, Most Merciful.

وَلَـمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ​ۖ  وَفِىۡ نُسۡخَتِهَا هُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّـلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ‏ ﴿154﴾

اور جب موسیٰ کا غصہ تھما تختیاں اٹھالیں اور ان کی تحریر میں ہدایت اور رحمت ہے ان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں،

And when the anger of Moosa abated, he picked up the stone tablets; and in their texts are guidance and mercy for those who fear their Lord.

وَاخۡتَارَ مُوۡسٰى قَوۡمَهٗ سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا لِّمِيۡقَاتِنَا​ ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ قَالَ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَـكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّاىَ​ ؕ اَ تُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا ۚ اِنۡ هِىَ اِلَّا فِتۡنَـتُكَ ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِىۡ مَنۡ تَشَآءُ ​ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَـنَا وَارۡحَمۡنَا​ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغَافِرِيۡنَ‏ ﴿155﴾

اور موسیٰ نے اپنی قوم سے سترّ ۷۰، مرد ہمارے وعدہ کے لیے چنے (ف۲۸۸) پھر جب انہیں زلزلہ نے لیا (ف۲۸۹) موسیٰ نے عرض کی اے رب میرے! تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا (ف۲۹۰) کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بےعقلوں نے کیا (ف۲۹۱) وہ نہیں مگر تیرا آزمانا، تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے تو ہمارا مولیٰ ہے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر مہر کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے،

And Moosa chose seventy men from his people for Our promise; therefore when the earthquake seized them, he submitted, “My Lord! If You had willed You could have destroyed them and me, even earlier! Will You destroy us for the deeds which the ignorant among us did? That is not but Your testing us; with it You send astray whomever You will and guide whomever You will; You are our Master, so forgive us and have mercy on us, and You are the Best of the Forgiving.”

وَاكۡتُبۡ لَـنَا فِىۡ هٰذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً وَّفِى الۡاٰخِرَةِ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ​ؕ قَالَ عَذَابِىۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ​ ۚ وَرَحۡمَتِىۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَىۡءٍ​ ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ​ۚ‏ ﴿156﴾

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ (ف۲۹۲) اور آخرت میں بیشک ہم تیری طرف رجوع لائے، فرمایا (ف۲۹۳) میرا عذاب میں جسے چاہوں دوں (ف۲۹٤) اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے (ف۲۹۵) تو عنقریب میں (ف۲۹٦) نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰة دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں،

“And destine good for us in this world and in the Hereafter – We have indeed inclined towards You”; He said, “I give My punishment to whomever I will; and My mercy encompasses all things; so I shall soon destine favours for those who fear and pay the charity, and they believe in Our signs.”

اَ لَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِىَّ الۡاُمِّىَّ الَّذِىۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ يَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهٰٮهُمۡ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡخَبٰۤٮِٕثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِىۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ​ ؕ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ وَنَصَرُوۡهُ وَ اتَّبَـعُوا النُّوۡرَ الَّذِىۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗ ۤ​ ۙ اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ﴿157﴾

وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بےپڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی (ف۲۹۷) جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں (ف۲۹۸) وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ (ف۲۹۹) اور گلے کے پھندے (ف۳۰۰) جو ان پر تھے اتارے گا، تو وہ جو اس پر (ف۳۰۱) ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا (ف۳۰۲) وہی بامراد ہوئے،

“Those who will obey this Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), the Herald of the Hidden who is untutored* (except by Allah), whom they will find mentioned in the Taurat and the Injeel with them; he will command them to do good and forbid them from wrong, and he will make lawful for them the good clean things and prohibit the foul for them, and he will unburden the loads and the neck chains which were upon them; so those who believe in him, and revere** him, and help him, and follow the light which came down with him – it is they who have succeeded." (*The Holy Prophet was taught by Allah Himself – see Surah 55 Al-Rahman. **To honour the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is part of faith. To disrespect him is blasphemy.)

قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّىۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعَاْ ۨالَّذِىۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ​ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُ​ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِىِّ الۡاُمِّىِّ الَّذِىۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ‏ ﴿158﴾

تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں (ف۳۰۳) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بےپڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ،

Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O people! Indeed I am, towards you all, the Noble Messenger of Allah – for Whom (Allah) only is the kingship of the heavens and the earth; there is none worthy of worship, except Him – giving life and giving death; therefore believe in Allah and His Noble Messenger, the Prophet who is untutored (except by Allah), who believes in Allah and His Words, and obey him (the Prophet) to attain guidance.” (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is the Prophet towards all mankind.)

وَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰٓى اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَـقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ‏  ﴿159﴾

اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے کہ حق کی راہ بتاتا اور اسی سے (ف۳۰٤) انصاف کرتا،

And among the people of Moosa is a group that shows the true path, and establishes justice with it.

وَقَطَّعۡنٰهُمُ اثۡنَتَىۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا​ ؕ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اِذِ اسۡتَسۡقٰٮهُ قَوۡمُهٗۤ اَنِ اضۡرِبْ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ​ ۚ فَاْنۢبَجَسَتۡ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا​ ؕ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ​ؕ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰىؕ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ​ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَلٰـكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ‏ ﴿160﴾

اور ہم نے انہیں بانٹ دیا بارہ قبیلے گروہ گروہ، اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کو جب اس سے اس کی قوم نے (ف۳۰۵) پانی ما نگا کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (ف۳۰٦) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا، اور ہم نے ان پر ابر کا سائبان کیا (ف۳۰۷) اور ان پر من و سلویٰ اتارا، کھاؤ ہماری دی ہوئی پاک چیزیں اور انہوں نے (ف۳۰۸) ہمارا کچھ نقصان نہ کیا لیکن اپنی ہی جانوں کا برا کرتے ہیں،

And We divided them into twelve tribes, as separate groups; and when his people asked him for water, We revealed to Moosa, “Strike the rock with your staff”; so twelve springs gushed forth from it; each group recognised its drinking-place; and We made the clouds a canopy over them and sent down the Manna and the Salwa (birds) on them; “Eat of the good things we have provided you”; and they did not wrong Us in the least, but they used to wrong themselves.

وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰذِهِ الۡقَرۡيَةَ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ وَقُوۡلُوۡا حِطَّةٌ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا نَّـغۡفِرۡ لَـكُمۡ خَطِيْٓــٰٔــتِكُمۡ​ ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿161﴾

اور یاد کرو جب ان (ف۳۰۹) سے فرمایا گیا اس شہر میں بسو (ف۳۱۰) اور اس میں جو چاہو کھاؤ اور کہو گناہ اترے اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے، عنقریب نیکوں کو زیادہ عطا فرمائیں گے،

And remember when they were commanded, “Reside in this township and eat whatever you wish in it, and say ‘Sins are forgiven’ and enter the gate prostrating – We will forgive you your sins; We shall soon bestow more upon the virtuous.”

فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِىۡ قِيۡلَ لَهُمۡ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ‏  ﴿162﴾

تو ان میں کے ظالموں نے بات بدل دی اس کے خلاف جس کا انہیں حکم تھا (ف۳۱۱) تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا بدلہ ان کے ظلم کا (ف۳۱۲)

So the unjust among them changed the words, contrary to what they had been commanded – consequently We sent down upon them a punishment from the sky – the recompense of their injustice.

وَسۡـــَٔلۡهُمۡ عَنِ الۡـقَرۡيَةِ الَّتِىۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ​ۘ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِى السَّبۡتِ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ​ ۙ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ​​ ۛۚ كَذٰلِكَ ​ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ‏ ﴿163﴾

اور ان سے حال پوچھو اس بستی کا کہ دریا کنارے تھی (ف۳۱۳) جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھتے (ف۳۱٤) جب ہفتے کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ان کے سامنے آتیں اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا نہ آتیں اس طرح ہم انہیں آزمانتے تھے ان کی بےحکمی کے سبب،

And ask them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) of the township that was by the sea; when they used to exceed in the matter of the Sabbath – when their fish used to come swimming atop the water in front of them on the day of Sabbath and not come on the days it was not Sabbath; this is how We used to test them, due to their disobedience.

وَاِذۡ قَالَتۡ اُمَّةٌ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡمَاْ ​ ۙ اۨللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًا​ ؕ قَالُوۡا مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ‏ ﴿164﴾

اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا، بولے تمہارے رب کے حضور معذرت کو (ف۳۱۵) اور شاید انہیں ڈر ہو (ف۳۱٦)

And when a group among them said, “Why do you preach to a people whom Allah is going to destroy or mete out a severe punishment?” They said, “To have an excuse before your Lord, and that perhaps they may fear.”

فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡۤءِ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَـِٕيۡسٍۢ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ‏ ﴿165﴾

پھر جب بھلا بیٹھے جو نصیحت انہیں ہوئی تھی ہم نے بچالیے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا،

And when they forgot the advices they had been given, We rescued those who forbade evil, and seized the unjust with a dreadful punishment – the recompense of their disobedience.

فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ قُلۡنَا لَهُمۡ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِـٮِٕیْنَ‏ ﴿166﴾

پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے (ف۲۱۷)

Consequently when they rebelled against the command to refrain, We said to them, “Be apes, despised!”

وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ​ ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ​ ​ۖۚ وَاِنَّهٗ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿167﴾

اور جب تمہارے رب نے حکم سنادیا کہ ضرور قیامت کے دن تک ان (ف۳۱۸) پر ایسے کو بھیجتا رہوں گا جو انہیں بری مار چکھائے (ف۳۱۹) بیشک تمہارا رب ضرور جلد عذاب والا ہے (ف۳۲۰) اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۲۱)

And remember when your Lord announced the command that till the Day of Resurrection I will certainly send such oppressors against them, who will inflict them with a dreadful punishment; indeed your Lord is swift in meting out punishment; and indeed He is Oft Forgiving, Most Merciful.

وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اُمَمًا​ ۚ مِنۡهُمُ الصّٰلِحُوۡنَ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰ لِكَ​ وَبَلَوۡنٰهُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‏  ﴿168﴾

اور انہیں ہم نے زمین میں متفرق کردیا گروہ گروہ، ان میں کچھ نیک ہیں (ف۳۲۲) اور کچھ اور طرح کے (ف۳۲۳) اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایا کہ کہیں وہ رجوع لائیں (ف۳۲٤)

And We divided them in the earth as separate groups; some of them are righteous and some are the other type; and We tested them with good (favours) and evil things (adversities) so that they may return.

فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ سَيُغۡفَرُ لَـنَا​ ۚ وَاِنۡ يَّاۡتِهِمۡ عَرَضٌ مِّثۡلُهٗ يَاۡخُذُوۡهُ​ ؕ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّيۡثَاقُ الۡـكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَـقَّ وَدَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ​ ؕ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ​ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿169﴾

پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ (ف۳۲۵) ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۲٦) اس دنیا کا مال لیتے ہیں (ف۳۲۷) اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی (ف۳۲۸) اور اگر ویسا ہی مال ان کے پاس اور آئے تو لے لیں (ف۳۲۹) کیا ان پر کتاب میں عہد نہ لیا گیا کہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں مگر حق اور انہوں نے اسے پڑھا (ف۳۳۰) اور بیشک پچھلا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کو (ف۳۳۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں،

And after them in their place, came those unworthy successors who inherited the Books – they accept the goods of this world (as bribes) and say, “We shall soon be forgiven”; and if similar goods come to them again, they would accept it; was not the covenant taken from them in the Book, that they must not relate anything to Allah except the truth, and they have studied it? And indeed the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?

وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡـكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ؕ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ‏ ﴿170﴾

اور وہ جو کتاب کو مضبوط تھامتے ہیں (ف۳۳۲) اور انہوں نے نماز قائم رکھی، ہم نیکوں کا نیگ (اجر) نہیں گنواتے،

And those who hold fast to the Book, and have kept the prayer established; and We do not waste the wages of the righteous.

وَاِذۡ نَـتَقۡنَا الۡجَـبَلَ فَوۡقَهُمۡ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌ ۢ بِهِمۡ​ ۚ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ‏ ﴿171﴾

اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا (ف۳۳۳) تو جو ہم نے تمہیں دیا زور سے (ف۳۳٤) اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیزگار ہو،

And when We raised the Mount (Sinai) above them as if it were a canopy, and they thought that it would fall upon them; “Accept firmly what We have given you, and remember what is in it, so that you may become pious.”

وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَنِىۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَ اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ​ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ​ ؕ قَالُوۡا بَلٰى​ ۛۚ شَهِدۡنَا ​ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰذَا غٰفِلِيۡنَ ۙ‏ ﴿172﴾

اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا رب نہیں (ف۳۳۵) سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے (ف۳۳٦) کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی (ف۳۳۷)

And remember when your Lord brought forth the generations from the backs of the Descendants of Adam, and made them their own witness; “Am I not your Lord?”; they all said, “Yes surely You are, why not? We testify”; for you may say on the Day of Resurrection that, “We were unaware of this.”

اَوۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَشۡرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۡۢ بَعۡدِهِمۡ​ۚ اَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ‏ ﴿173﴾

یا کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے (ف۳۳۸) تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا (ف۳۳۹)

Or you may say, “It is our ancestors who first ascribed partners (to Allah) and we were (their) children after them; so will You destroy us on account of the deeds of the followers of falsehood?”

وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‏ ﴿174﴾

اور ہم اسی طرح آیتیں رنگ رنگ سے بیان کرتے ہیں (ف۳٤۰) اور اس لیے کہ کہیں وہ پھر آئیں (ف۳٤۱)

And this is how We explain the verses in different ways, and so that they may return.

وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِىۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ‏ ﴿175﴾

اور اے محبوب! انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں (ف۳٤۲) تو وہ ان سے صاف نکل گیا (ف۳٤۳) تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا،

And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) recite to them the case of the one to whom We gave Our revelations, and in response he departed from them completely – so Satan went after him – he therefore became of the astray.

وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا وَلٰـكِنَّهٗۤ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ وَاتَّبَعَ هَوٰٮهُ​ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الۡـكَلۡبِ​ ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُكۡهُ يَلۡهَث ​ؕ ذٰ لِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا​ ۚ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُوۡنَ‏ ﴿176﴾

اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھالیتے (ف۳٤٤) مگر وہ تو زمین پکڑ گیا (ف۳٤۵) اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے (ف۲٤٦) یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں،

And had We willed We could have raised him because of the revelations, but he clung to the earth and followed his own desires; his condition therefore is like that of a dog; if you attack him he hangs out his tongue and if you leave him he hangs out his tongue; this is the state of the people who denied Our signs; therefore preach, so that they may give thought.

سَآءَ مَثَلَاْ ۨالۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ‏ ﴿177﴾

کیا بری کہاوت ہے ان کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور اپنی ہی جان کا برا کرتے تھے،

What an evil example is of those who denied Our signs and used to wrong only their own souls.

مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِىۡ​ۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَاُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ‏ ﴿178﴾

جسے اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے،

Whomever Allah guides – only he is on the right path; and whomever He sends astray – it is they who are the losers.

وَلَـقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَـهَنَّمَ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ​ ​ۖ  لَهُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ بِهَا  وَلَهُمۡ اَعۡيُنٌ لَّا يُبۡصِرُوۡنَ بِهَا  وَلَهُمۡ اٰذَانٌ لَّا يَسۡمَعُوۡنَ بِهَا ؕ اُولٰۤٮِٕكَ كَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ هُمۡ اَضَلُّ​ ؕ اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ‏ ﴿179﴾

اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی (ف۳٤۷) اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں (ف۳٤۸) اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں (ف۳٤۹) اور وہ کان جن سے سنتے نہیں (ف۳۵۰) وہ چوپایوں کی طرح ہیں (ف۳۵۱) بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ (ف۳۵۲) وہی غفلت میں پڑے ہیں،

And indeed We have created many jinns and men for hell; they have hearts in which their is no understanding; and the eyes they do not see with; and the ears they do not hear with; they are like cattle – in fact more astray; it is they who are the neglectful.

وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا​ وَذَرُوا الَّذِيۡنَ يُلۡحِدُوۡنَ فِىۡۤ اَسۡمَآٮِٕهٖ​ ؕ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿180﴾

اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام (ف۳۵۳) تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں (ف۳۵٤) وہ جلد اپنا کیا پائیں گے،

And for Allah only are the best names, so invoke Him by them; and abandon those who depart from the truth regarding His names; they will soon receive the reward of their deeds.

وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَاۤ اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَـقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ‏  ﴿181﴾

اور ہمارے بنائے ہوؤں میں ایک گروہ وہ ہے کہ حق بتائیں اور اس پر انصاف کریں (ف۳۵۵)

And from Our creation is a group that shows the truth and establishes justice with it.

وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ​ۖ ​ ۚ‏ ﴿182﴾

اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں جلد ہم انہیں آہستہ آہستہ (ف۳۵٦) عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی

And those who denied Our signs – We shall soon steadily lead them towards the punishment, from the place they will not know.

وَاُمۡلِىۡ لَهُمۡ ​ؕ اِنَّ كَيۡدِىۡ مَتِيۡنٌ‏ ﴿183﴾

اور میں انہیں ڈھیل دوں گا (ف۳۵۷) بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے (ف۳۵۸)

And I will give them respite; indeed My secret plan is extremely solid.

اَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُوۡا​ مَا بِصَاحِبِهِمۡ مِّنۡ جِنَّةٍ​ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿184﴾

کیا سوچتے نہیں کہ ان کے صاحب کو جنوں سے کچھ علاقہ نہیں، وہ تو صاف ڈر سنانے والے ہیں (ف۳۵۹)

Do they not ponder that their companion is far removed from insanity? In fact he is clearly a Herald of Warning.

اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِىۡ مَلَـكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَىۡءٍ ۙ وَّاَنۡ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ​ ۚ فَبِاَىِّ حَدِيۡثٍۢ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿185﴾

کیا انہوں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو جو چیز اللہ نے بنائی (ف۳٦۰) اور یہ کہ شاید ان کا وعدہ نزدیک آگیا ہو (ف۳٦۱) تو اس کے بعد اور کونسی بات پر یقین لائیں گے (ف۳٦۲)

Have they not pondered deeply regarding the kingdom of the heavens and the earth, and whatever things Allah created? And that possibly their promise (of death) may have come near? So after this*, in what will they believe? (*Advent of the Last Prophet and the Holy Qur’an.)

مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِىَ لَهٗ ​ؕ وَ يَذَرُهُمۡ فِىۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ‏ ﴿186﴾

جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں چھوڑتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،

For one whom Allah sends astray, there is none to guide him; and He leaves them to wander in their rebellion.

يَسۡـَٔـــلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰٮهَا ​ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّىۡ​ ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَۘ ​ؕ ثَقُلَتۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ​ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً ​ ؕ يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِىٌّ عَنۡهَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿187﴾

تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں (ف۳٦۳) کہ وہ کب کو ٹھہری ہے تم فرماؤ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے، اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا (ف۳٦٤) بھاری پڑ رہی ہے آسمانوں اور زمین میں، تم پر نہ آئے گی مگر اچانک، تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب تحقیق کر رکھا ہے، تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے اس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں (ف۳٦۵)

They ask you about the Resurrection, as to when it is destined; say, “Indeed its knowledge is with my Lord; only He will manifest it at its time; it is proving cumbersome in the heavens and the earth; it will not come to you except suddenly”; they question you as if you have researched it deeply; say, “Indeed its knowledge is with Allah only but most people do not know.”

قُلْ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِىۡ نَـفۡعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ​ ؕ وَلَوۡ كُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ لَاسۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَيۡرِ ۖ ​ۛۚ وَمَا مَسَّنِىَ السُّۤوۡءُ​ ​ۛۚ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ وَّبَشِيۡرٌ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏  ﴿188﴾

تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں (ف۳٦٦) مگر جو اللہ چاہے (ف۳٦۷) اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی (ف۳٦۸) میں تو یہی ڈر (ف۳٦۹) اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں،

Say, “I have no autonomy to benefit or hurt myself, except what Allah wills; and were I to procure knowledge of the hidden on my own, it would be that I had accumulated a lot of good; and no misfortune would touch me; I am purely a Herald of Warning and Glad Tidings to the people who believe.”

هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّـفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا​ ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰٮهَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا فَمَرَّتۡ بِهٖ​ ۚ فَلَمَّاۤ اَثۡقَلَتۡ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَٮِٕنۡ اٰتَيۡتَـنَا صَالِحًا لَّـنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ‏ ﴿189﴾

وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳۷۰) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا (ف۳۷۱) کہ اس سے چین پائے پھر جب مرد اس پر چھایا اسے ایک ہلکا سا پیٹ رہ گیا (ف۳۷۲) تو اسے لیے پھراکی پھر جب بوجھل پڑی دونوں نے اپنے رب سے دعا کی ضرور اگر تو ہمیں جیسا چاہیے بچہ دے گا تو بیشک ہم شکر گزار ہوں گے،

It is He Who created you from a single soul, and from him made its mate for him to gain comfort with her; so when the male covered her, she was burdened lightly in her womb, and she therefore moved easily carrying it; and when she felt the burden heavy, they both cried to their Lord Allah, “Indeed You may give to us a child as You will, so we will surely be thankful.”

فَلَمَّاۤ اٰتٰٮهُمَا صَالِحًـا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰٮهُمَا​ ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‏ ﴿190﴾

پھر جب اس نے انہیں جیسا چاہیے بچہ عطا فرمایا انہوں نے اس کی عطا میں اس کے ساجھی ٹھہرائے تو اللہ کو برتری ہے ان کے شرک سے (ف۳۷۳)

So when He bestowed them a normal child, they ascribed partners (to Him) in respect of what He had bestowed upon them; therefore Supreme is Allah, above all that they ascribe as partners.

اَيُشۡرِكُوۡنَ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـــا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ​ ​ۖ ‏  ﴿191﴾

کیا اسے شریک کرتے ہیں جو کچھ نہ بنائے (ف۳۷٤) اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں،

Do they (the disbelievers) ascribe (false deities) that which do not create anything, but are themselves created?

وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ لَهُمۡ نَـصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ‏  ﴿192﴾

اور نہ وہ ان کو کوئی مدد پہنچاسکیں اور نہ اپنی جانوں کی مدد کریں (ف۳۷۵)

And cannot provide any help to them, nor do they help themselves?

وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ اِلَى الۡهُدٰى لَا يَتَّبِعُوۡكُمۡ​ ؕ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡـتُمۡ صٰمِتُوۡنَ‏ ﴿193﴾

اور اگر تم انہیں (ف۳۷٦) راہ کی طرف بلاؤ تو تمہارے پیچھے نہ آئیں (ف۳۷۷) تم پر ایک سا ہے چاہے انہیں پکارو یا چپ رہو (ف۳۷۸)

And if you call the disbelievers to guidance, they do not follow you; it is the same for you, whether you invite them or remain silent.

اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمۡثَالُـكُمۡ​ فَادۡعُوۡهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لَـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿194﴾

بیشک وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں (ف۳۷۹) تو انہیں پکارو پھر وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو،

Indeed those whom you (the disbelievers) worship besides Allah are slaves like you – so call them and they may answer you, if you are truthful!

اَلَهُمۡ اَرۡجُلٌ يَّمۡشُوۡنَ بِهَآ اَمۡ لَهُمۡ اَيۡدٍ يَّبۡطِشُوۡنَ بِهَآ اَمۡ لَهُمۡ اَعۡيُنٌ يُّبۡصِرُوۡنَ بِهَآ اَمۡ لَهُمۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا​ ؕ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ‏ ﴿195﴾

کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے گرفت کریں یا ان کے آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا ان کے کان ہیں جن سے سنیں (ف۳۸۰) تم فرماؤ کہ اپنے شریکوں کو پکارو اور مجھ پر داؤ چلو اور مجھے مہلت نہ دو (ف۳۸۱)

Do they have feet to walk with? Or have they hands to hold with? Or have they eyes to see with? Or have they ears to hear with? Say, “Call upon your ascribed partners and conspire against me, and do not give me respite.”

اِنَّ وَلىِّۦَ اللّٰهُ الَّذِىۡ نَزَّلَ الۡـكِتٰبَ ​ۖ  وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيۡنَ‏ ﴿196﴾

بیشک میرا والی اللہ ہے جس نے کتاب اتاری (ف۳۸۲) اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (ف۳۸۳)

“Indeed my Protector is Allah Who has sent down the Book; and He befriends the righteous.”

وَالَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ نَـصۡرَكُمۡ وَلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ‏ ﴿197﴾

اور جنہیں اس کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے، اور نہ خود اپنی مدد کریں (ف۳۸٤)

“And those whom you worship besides Him cannot help you nor do they help themselves.”

وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ اِلَى الۡهُدٰى لَا يَسۡمَعُوۡا​ ؕ وَتَرٰٮهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ وَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ‏ ﴿198﴾

اور اگر تم انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو نہ سنیں اور تو انہیں دیکھے کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں (ف۳۸۵) اور انہیں کچھ بھی نہیں سوجھتا،

And if you call them to guidance they do not listen; and you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) observe them looking towards you, whereas they do not perceive anything.

خُذِ الۡعَفۡوَ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰهِلِيۡنَ‏ ﴿199﴾

اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو،

And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) adopt forgiveness, and enjoin virtue, and turn away from the ignorant.

وَاِمَّا يَنۡزَغَـنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ​ؕ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‏ ﴿200﴾

اور اے سننے والے اگر شیطان تجھے کوئی کونچا دے (کسی برے کام پر اکسائے) تو اللہ کی پناہ مانگ بیشک وہی سنتا جانتا ہے،

And O listener! If the devil provokes you, seek the refuge of Allah; indeed He is All Hearing, All Knowing.

اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّهُمۡ طٰۤٮِٕفٌ مِّنَ الشَّيۡطٰنِ تَذَكَّرُوۡا فَاِذَا هُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ​ۚ‏ ﴿201﴾

بیشک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں (ف۳۸۷)

Indeed those who fear get alerted whenever a temptation from the devil troubles them, and they perceive immediately.

وَاِخۡوَانُهُمۡ يَمُدُّوۡنَهُمۡ فِى الۡغَىِّ ثُمَّ لَا يُقۡصِرُوۡنَ‏  ﴿202﴾

اور وہ جو شیطانوں کے بھائی ہیں (ف۳۸۸) شیطان انہیں گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر کمی نہیں کرتے،

And the devils pull those who their brothers into error, and then do not make any relaxation.

وَاِذَا لَمۡ تَاۡتِهِمۡ بِاٰيَةٍ قَالُوۡا لَوۡلَا اجۡتَبَيۡتَهَا​ ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا يُوۡحٰٓى اِلَىَّ مِنۡ رَّبِّىۡ ​ۚ هٰذَا بَصَآٮِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ وَهُدًى وَّ رَحۡمَةٌ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿203﴾

اور اے محبوب! جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو کہتے ہیں تم نے دل سے کیوں نہ بنائی تم فرماؤ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لیے،

And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) when you do not bring to them a verse, they say, “Why did you not fabricate it?” Say, “I follow only what is divinely revealed to me from my Lord”; this (the Holy Qur’an) is an enlightenment from your Lord, and a guidance and a mercy for the Muslims.

وَاِذَا قُرِئَ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ‏  ﴿204﴾

اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو (ف۳۸۹)

And when the Qur’an is recited, listen to it attentively and keep silent, so that you receive mercy.

وَاذۡكُرْ رَّبَّكَ فِىۡ نَفۡسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيۡفَةً وَّدُوۡنَ الۡجَـهۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ بِالۡغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ وَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِيۡنَ‏ ﴿205﴾

اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو (ف۳۹۰) زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اور شام (ف۳۹۱) اور غافلوں میں نہ ہونا،

And remember your Lord within your hearts humbly and with fear, and softly with your tongues, morning and evening, and do not be of the neglectful.

اِنَّ الَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَيُسَبِّحُوۡنَهٗ وَلَهٗ يَسۡجُدُوۡنَ۩‏ ﴿206﴾

بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں (ف۳۹۲) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بولتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں (ف۳۹۳) السجدة ۔۵

Indeed those who are with your Lord are not conceited towards worshipping Him, and they proclaim His Purity and it is to Him they prostrate. (Command of Prostration # 1)

يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ​ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ​ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ​ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿1﴾

اے محبوب!  تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں (ف۲) تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں (ف۳) تو اللہ ڈرو (ف٤) اور اپنے آ پس میں میل (صلح صفائی) رکھو اور اللہ اور رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو،

They ask you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) concerning the war booty; say, “Allah and the Noble Messenger are the owners of the war booty; so fear Allah and maintain friendship among yourselves; and obey Allah and His Noble Messenger, if you have faith."

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُوۡنَ ​​ۖ ​ۚ‏ ﴿2﴾

ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے (ف۵) ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں (ف٦)

Only they are the believers whose hearts fear when Allah is remembered, and their faith advances when His verses are recited to them, and who trust only in their Lord.

الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَؕ‏  ﴿3﴾

وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں،

Those who keep the prayer established and spend in Our cause from what We have bestowed upon them.

اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ​ؕ لَهُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ وَمَغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ​ۚ‏ ﴿4﴾

یہی سچے مسلمان ہیں، ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس (ف۷) اور بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۸)

These are the true Muslims; for them are ranks before their Lord, and forgiveness and an honourable sustenance.

كَمَاۤ اَخۡرَجَكَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَيۡتِكَ بِالۡحَـقِّ وَاِنَّ فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ لَـكٰرِهُوۡنَۙ‏ ﴿5﴾

جس طرح اے محبوب! تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا (ف۹) اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا (ف۱۰)

The way your Lord caused you, O dear Prophet to come forth from your home with the truth; and indeed a group of Muslims were unhappy about it.

يُجَادِلُوۡنَكَ فِى الۡحَـقِّ بَعۡدَ مَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوۡنَ اِلَى الۡمَوۡتِ وَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَؕ‏ ﴿6﴾

سچی بات میں تم سے جھگڑتے تھے (ف۱۱) بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی (ف۱۲) گویا وہ آنکھوں دیکھی موت کی طرف ہانکے جاتے ہیں (ف۱۳)

Disputing with you regarding the truth after it had been made clear, as if they were being herded towards a visible death.

وَاِذۡ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحۡدَى الطَّآٮِٕفَتَيۡنِ اَنَّهَا لَـكُمۡ وَتَوَدُّوۡنَ اَنَّ غَيۡرَ ذَاتِ الشَّوۡكَةِ تَكُوۡنُ لَـكُمۡ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ الۡحَـقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ الۡـكٰفِرِيۡنَۙ‏ ﴿7﴾

اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں (ف۱٤) میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں (کوئی نقصان نہ ہو) (ف۱۵) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے (ف۱٦) اور کافروں کی جڑ کاٹ دے (ف۱۷)

And remember when Allah promised you that one of the two groups (of enemies) is for you, and you wished to get the one that posed no danger, and Allah willed to prove the truth with His Words, and to cut the origins of the disbelievers.

لِيُحِقَّ الۡحَـقَّ وَيُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ​ۚ‏  ﴿8﴾

کہ سچ کو سچ کرے اور جھوٹ کو جھوٹا (ف۱۸) پڑے برا مانیں مجرم،

In order that He may prove the truth and disprove falsehood, even if the criminals get annoyed.

اِذۡ تَسۡتَغِيۡثُوۡنَ رَبَّكُمۡ فَاسۡتَجَابَ لَـكُمۡ اَنِّىۡ مُمِدُّكُمۡ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰۤٮِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ‏ ﴿9﴾

جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے (ف۱۹) تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزاروں فرشتوں کی قطار سے (ف۲۰)

When you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) were seeking the help of your Lord, so He answered your prayers that, “I will help you with a row of thousands of angels.”

وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشۡرٰى وَلِتَطۡمَٮِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ​ۚ وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ​ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ‏ ﴿10﴾

اور یہ تو اللہ نے کیا مگر تمہاری خوشی کو اور اس لیے کہ تمہارے دل چین پائیں، اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے (ف۲۱) بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،

And Allah did this just for your happiness and for your hearts to gain contentment; and help does not come except from Allah; indeed Allah is Almighty, Wise.

اِذۡ يُغَشِّيۡكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنۡهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّيُطَهِّرَكُمۡ بِهٖ وَيُذۡهِبَ عَنۡكُمۡ رِجۡزَ الشَّيۡطٰنِ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَؕ‏ ﴿11﴾

جب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین (تسکین) تھی (ف۲۲) اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرمادے اور تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے (ف۲۳)

When He made the slumber overcome you, so it was as a peacefulness from Him, and sent down water from the sky upon you to purify you with it, and to remove the impurity of Satan from you, and to give your hearts fortitude and firmly establish your feet with it.

اِذۡ يُوۡحِىۡ رَبُّكَ اِلَى الۡمَلٰۤٮِٕكَةِ اَنِّىۡ مَعَكُمۡ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا​ ؕ سَاُلۡقِىۡ فِىۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍؕ‏ ﴿12﴾

جب اے محبوب! تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو (ف۲٤) عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا تو کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کی ایک ایک پور (جوڑ) پر ضرب لگاؤ (ف۲۵)

And when O dear Prophet, your Lord was inspiring the angels that, “I am with you – so make the believers stand firm; I will soon instil fear into the hearts of the disbelievers, so strike above the disbelievers’ necks and hit their each and every bone joint.”

ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآ قُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ​ ۚ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‏ ﴿13﴾

یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،

This is because they opposed Allah and His Noble Messenger; and whoever opposes Allah and His Noble Messenger – then indeed Allah’s punishment is severe.

ذٰ لِكُمۡ فَذُوۡقُوۡهُ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ‏ ﴿14﴾

یہ تو چکھو (ف۲٦) اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ کافروں کو آگ کا عذاب ہے (ف۲۷)

Therefore taste this for now, and along with it for the disbelievers is the punishment of fire.

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا زَحۡفًا فَلَا تُوَلُّوۡهُمُ الۡاَدۡبَارَ​ۚ‏ ﴿15﴾

اے ایمان والو! جب کافروں کے لام (لشکر) سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دو (ف۲۸)

O People who Believe! When you confront a large army of disbelievers in battle, do not turn your backs to them.

وَمَنۡ يُّوَلِّهِمۡ يَوۡمَٮِٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدۡ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاۡوٰٮهُ جَهَـنَّمُ​ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ‏ ﴿16﴾

اور جو اس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنرَ کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو، تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی، (ف۲۹)

And on that day whoever turns his back to them, except for a battle strategy or to join one’s own company, has then turned towards Allah’s wrath, and his destination is hell; and what an evil place of return!

فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى​ ۚ وَلِيُبۡلِىَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَاۤءً حَسَنًا​ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‏ ﴿17﴾

تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے (۳۰) انہیں قتل کیا، اور اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،

So you did not slay them, but in fact Allah slew them; and O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) you did not throw (the sand) when you did throw, but in fact Allah threw; and in order to bestow an excellent reward upon the Muslims; indeed Allah is the All Hearing, the All Knowing.

ذٰ لِكُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡـكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿18﴾

یہ (ف۳۱) تو لو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ کافروں کا داؤ سست کرنے والا ہے،

Therefore take this, and (know that) Allah will weaken the scheme of the disbelievers.

اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا فَقَدۡ جَآءَكُمُ الۡفَتۡحُ​ۚ وَاِنۡ تَنۡتَهُوۡا فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ​ۚ وَ اِنۡ تَعُوۡدُوۡا نَـعُدۡ​ۚ وَلَنۡ تُغۡنِىَ عَنۡكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَيۡـًٔـا وَّلَوۡ كَثُرَتۡۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿19﴾

اے کافرو! اگر تم فیصلہ مانگتے ہو تو یہ فیصلہ تم پر آچکا (ف۳۲) اور اگر باز آؤ (ف۳۳) تو تمہارا بھلا ہے اور اگر تم پھر شرارت کرو تو ہم پھر نہ دیں گے اور تمہارا جتھا تمہیں کچھ کام نہ دے گا چاہے کتنا ہی بہت ہو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے،

O disbelievers! If you seek a judgement, then this judgement has come to you; and if you desist, it is better for you; and if you return to mischief, We will punish you again; and your populace will not benefit you, however large it may be – and besides this, Allah is with the Muslims.

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَا تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَاَنۡـتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ​ ۖ​ ۚ‏ ﴿20﴾

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو (ف۳٤) اور سن سنا کہ اسے نہ پھرو،

O People who Believe! Obey Allah and His Noble Messenger, and do not turn away from him after you have heard him speak.

وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ​‏  ﴿21﴾

اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا اور وہ نہیں سنتے (ف۳۵)

And do not be like those who said, “We have heard”, whereas they do not hear.

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الۡبُكۡمُ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿22﴾

بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں (ف۳٦)

Indeed the worst beasts in the sight of Allah are those (people) who are deaf, dumb – who do not have any sense.

وَلَوۡ عَلِمَ اللّٰهُ فِيۡهِمۡ خَيۡرًا لَّاَسۡمَعَهُمۡ​ؕ وَلَوۡ اَسۡمَعَهُمۡ لَـتَوَلَّوْا وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ‏ ﴿23﴾

اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی (ف۳۷) جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر (ف۳۸) سنا دیتا جب بھی انجام کار منہ پھیر کر پلٹ جاتے (ف۳۹)

And had Allah found any goodness in them, He would have made them hear; and had He made them hear they would, in the end, have turned away and gone back.

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِيۡبُوۡا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيۡكُمۡ​ۚ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوۡلُ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهٖ وَاَنَّهٗۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ‏ ﴿24﴾

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو (ف٤۰) جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی (ف٤۱) اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے،

O People who Believe! Present yourselves upon the command of Allah and His Noble Messenger, when the Noble Messenger calls you towards the matter that will bestow you life; and know that the command of Allah becomes a barrier between a man and his heart’s intentions, and that you will all be raised towards Him.

وَاتَّقُوۡا فِتۡنَةً لَّا تُصِيۡبَنَّ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡكُمۡ خَآصَّةً​ ۚ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‏ ﴿25﴾

اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہ پہنچے گا (ف٤۲) اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے،

And fear the turmoil which will certainly not fall only upon a few selected unjust people among you; and know that Allah’s punishment is severe.

وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡـتُمۡ قَلِيۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ تَخَافُوۡنَ اَنۡ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰٮكُمۡ وَاَيَّدَكُمۡ بِنَصۡرِهٖ وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿26﴾

اور یاد کرو (ف٤۳) جب تم تھوڑے تھے ملک میں دبے ہوئے (ف٤٤) ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں تو اس نے تمہیں (ف٤۵) جگہ دی اور اپنی مدد سے زور دیا اور ستھری چیزیں تمہیں روزی دیں (ف٤٦) کہ کہیں تم احسان مانو،

And remember when you were only a few and meek in the land, and feared that men may snatch you away – He therefore gave you refuge and strengthened you with His help, and gave you good things as sustenance, so that you may be thankful.

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ وَتَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿27﴾

اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو (ف٤۷) اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت،

O People who Believe! Do not betray Allah and His Noble Messenger, nor purposely defraud your trusts.

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَاَوۡلَادُكُمۡ فِتۡنَةٌ  ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ‏ ﴿28﴾

اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے (ف٤۸) اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے (ف٤۹)

And know that your wealth and your children are a test, and that with Allah is an immense reward.

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّـكُمۡ فُرۡقَانًا وَّيُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ​ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ‏ ﴿29﴾

اے ایمان والو! اگر اللہ سے ڈرو گے (ف۵۰) تو تمہیں وہ دیگا جس سے حق کو باطل سے جدا کرلو اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے،

O People who Believe! If you fear Allah, He will bestow upon you (the criterion) that with which you will separate the truth from falsehood, and He will unburden your misdeeds and forgive you; and Allah is the Extremely Munificent.

وَاِذۡ يَمۡكُرُ بِكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِيُثۡبِتُوۡكَ اَوۡ يَقۡتُلُوۡكَ اَوۡ يُخۡرِجُوۡكَ​ؕ وَيَمۡكُرُوۡنَ وَيَمۡكُرُ اللّٰهُ​ؕ وَاللّٰهُ خَيۡرُ الۡمٰكِرِيۡنَ‏  ﴿30﴾

اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند کرلیں یا شہید کردیں یا نکال دیں (ف۱۵۱) اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر،

And remember O dear Prophet when the disbelievers were scheming against you to either imprison you, or to kill you or to banish you; and they were scheming, and Allah was making His secret plan; and Allah’s secret plan is the best.

وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَـقُلۡنَا مِثۡلَ هٰذَٓا​ ۙ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ ﴿31﴾

اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو کہتے ہیں ہاں ہم نے سنا ہم چاہتے تو ایسی ہم بھی کہہ دیتے یہ تو نہیں مگر اگلوں کے قصے (ف۵۲)

And when Our verses are recited to them they say, “Yes, we have heard – if we wanted we could also say something like this – these are nothing but stories of former people!”

وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰذَا هُوَ الۡحَـقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَ لِيۡمٍ‏ ﴿32﴾

اور جب بولے (ف۵۳) کہ اے اللہ اگر یہی (قرآن) تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لا،

And when they said, “O Allah! If this (the Qur’an) is really the truth from You, then shower upon us a rain of stones from the sky, or bring upon us some painful punishment.”

وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ​ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ‏ ﴿33﴾

اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب! تم ان میں تشریف فرما ہو (ف۵٤) اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں (ف۵۵)

And it is not for Allah to punish them while you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) are amongst them; and Allah will not punish them as long as they are seeking forgiveness. (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is a mercy unto mankind.)

وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ وَمَا كَانُوۡۤا اَوۡلِيَآءَهٗ​ ؕ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿34﴾

اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجد حرام سے روک رہے ہیں (ف۵٦) اور وہ اس کے اہل نہیں (ف۵۷) اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں،

And what is with them that Allah should not punish them, whereas in fact they prevent from the Sacred Mosque and they are not worthy (of being the custodians) of it; only the pious are its befitting custodians, but most of them do not have knowledge.

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمۡ عِنۡدَ الۡبَيۡتِ اِلَّا مُكَآءً وَّتَصۡدِيَةً​  ؕ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ‏ ﴿35﴾

اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی (ف۵۸) تو اب عذاب چکھو (ف۵۹) بدلہ اپنے کفر کا،

And their prayer near the Kaa’bah is nothing except whistling and clapping; “So now taste the punishment – the result of your disbelief.”

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَـصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ​ ؕ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ ؕ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَـنَّمَ يُحۡشَرُوۡنَۙ‏ ﴿36﴾

بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں (ف٦۰) تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے (ف٦۱) پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا،

Indeed the disbelievers spend their wealth in order to prevent people from the way of Allah; so they will spend it now, and then regret over it, then they will be defeated; and the disbelievers will be gathered towards hell.

لِيَمِيۡزَ اللّٰهُ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَ يَجۡعَلَ الۡخَبِيۡثَ بَعۡضَهٗ عَلٰى بَعۡضٍ فَيَرۡكُمَهٗ جَمِيۡعًا فَيَجۡعَلَهٗ فِىۡ جَهَـنَّمَ​ؕ اُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ‏ ﴿37﴾

اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے (ف٦۲) اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں (ف٦۳)

In order that Allah may separate the filthy from the pure, and placing the filthy atop one another, make a heap and throw them into hell; it is they who are the losers.

قُلْ لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَۚ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ ﴿38﴾

تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو جو ہو گزرا وہ انہیں معاف فرمادیا جائے گا (ف٦٤) اور اگر پھر وہی کریں تو اگلوں کا دستور گزر چکا ہے (ف٦۵)

Say to the disbelievers that if they desist, what has passed will be forgiven to them; and if they do the same, the tradition of former people has already passed.

وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ​ۚ فَاِنِ انْـتَهَوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ‏ ﴿39﴾

اور اگر ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد (ف٦٦) باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کا ہوجائے، اگر پھر وہ باز رہیں تو اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے،

And fight them until no mischief remains and the entire religion is only for Allah; then if they desist, Allah sees all what they do.

وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰٮكُمۡ​ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ‏ ﴿40﴾

اور اگر وہ پھریں (ف۲۷) تو جان لو کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے (ف٦۸) تو کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار،

And if they turn away, then know that Allah is your Master; so what an Excellent Master and what an Excellent Supporter!

Scroll to Top