حضور ﷺ کو کن القاب سے پکارنا چاہیئے

سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ حضور ﷺ کو ایک اس لفظ سے پکارنا کیسا (جو آپ کی شان کے لائق نہیں)

جواباً فرمایا
” حضور اقدس قاسم النعم، مالک الارض ورقاب الامم،معطی منعم، قثم، قیم، ولی، والی، علی، عالی، کاشف الکرب، رافع الرتب، معین کافی، حفیظ وافی، شفیع شافی، عفو عافی، غفور جمیل، عزیز جلیل، وہاب کریم، غنی عظیم، خلیفہ مطلق حضرت رب، مالک الناس ودیان العرب، ولی الفضل جلی الافضال، رفیع المثل، ممتنع الامثال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وآلہ وصحبہ وشرف اعظم کے شان ارفع واعلی میں الفاظ مذکورہ کا اطلاق ناجائز وحرام ہے ( حوالہ: فتاویٰ رضویہ جلد14 )
اعلیٰ حضرت نے اس فتوے میں حضور ﷺ کے جن عظیم اور بلند پایہ اوصاف و القاب کا ذکر فرما کر آپ ﷺ کی عظمت کو واضح کیا ہے، ان کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ
قاسم النعم: اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی نعمتوں کو مخلوق میں تقسیم فرمانے والے۔
مالک الارض ورقاب الامم: زمین اور دنیا کی تمام امتوں کے حقیقی مالک و مختار
معطی منعم: اللہ کے اذن سے مخلوق کو عطا فرمانے والے اور ان پر انعام کرنے والے۔
قثم: ہر طرح کی بھلائیوں اور کثیر خیر کو اپنے اندر جمع کرنے والے (یہ حضور ﷺ کا ایک مبارک نام بھی ہے)۔
قیم: شریعت اور دینِ حق پر مضبوطی سے قائم رکھنے والے اور کائنات کے نگہبان۔
ولی: سچے مددگار، دوست اور سرپرست۔
والی: حاکم، مالک اور کائنات کے امور میں مالکانہ تصرف فرمانے والے
علی: بہت بلند مرتبہ اور نہایت عالی شان والے۔
عالی: بلند مقام اور رفیع المرتبت ہستی۔
کاشف الکرب: امت کی تکلیفوں، دکھوں اور پریشانیوں کو دور کرنے والے۔
رافع الرتب: لوگوں کے درجات اور مرتبوں کو بلند فرمانے والے۔
معین کافی: بہترین اور ہر معاملے میں کفایت کرنے والے مددگار۔
حفیظ وافی: کامل حفاظت فرمانے والے اور اپنے عہد کو پورا کرنے والے۔
شفیع شافی: روزِ محشر گنہگاروں کی شفاعت فرمانے والے اور دکھی دلوں کو شفا و تسکین دینے والے۔
عفو عافی: درگزر فرمانے والے، درپیش خطرات کو معاف کرنے والے اور عافیت بخشنے والے
غفور جمیل: گناہوں پر پردہ ڈالنے والے اور بے حد حسین و جمیل آقا۔
عزیز جلیل: سب پر غالب، عزت والے اور بڑی عظمت و جلالت والے۔
وہاب کریم: بہت زیادہ عطا فرمانے والے اور نہایت کرم کرنے والے۔
غنی عظیم: اللہ کی عطا سے پوری کائنات سے بے نیاز اور عظیم مرتبہ والے۔
خلیفہ مطلق حضرت رب: رب ذوالجلال کے کائنات میں نائبِ مطلق اور کارخانہِ الٰہی کے مختارِ کل
مالک الناس ودیان العرب: لوگوں کے مالک اور اہل عرب کے حاکم و منصف۔
ولی الفضل جلی الافضال: فضل و کرم کے سرپرست اور جن کے احسانات کائنات پر بالکل واضح اور عیاں ہیں۔
رفیع المثل: جن کی مثال اور نمونہِ حیات کائنات میں سب سے بلند ہے۔
ممتنع الامثال: جن کی مثل، مانند یا برابری کا کوئی دوسرا وجود ہونا بالکل محال اور ناممکن ہے۔

Scroll to Top