حضور ﷺ کی عظمت و شان کا شاندار بیان

جان برادر! اپنے ایمان پر رحم کرخدائے قہار وجبار جل جلالہ سے لڑائی نہ باندھووہ تیرے اورتمام جہان کی پیدائش سے پہلے ازل میں لکھ چکا تھا ” و رفعنا لک ذکرک ” یعنی ارشاد ہوتا ہے اے محبوب ہمارے !ہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند کیا کہ جہاں ہماری یاد ہوگی تمہارا بھی چرچا ہوگا اور ایمان بے تمہاری یاد کے ہرگز پورا نہ ہوگاآسمانوں کے طبقے اورزمینوں کے پردے تمہارے نام نامی سے گونجیں گےمؤذن اذانوں اورخطیب خطبوں اورذاکرین اپنی مجالس اور واعظین اپنے منابر پر ہمارے ذکر کے ساتھ تمہاری یا د کریں گے۔اشجار واحجارآہو وسوسمارودیگر جاندار واطفال شیرخوار ومعبودان کفار جس طرح ہماری توحید بتائیں گے ویسا ہی بہ زبان فصیح وبیان صحیح تمہارامنشور رسالت پڑھ کر سنائیں گےچار اکناف عالم میں لا الہ الا الله محمد رسول الله کاغلغلہ ہوگاجز اشقیائے ازل ہر ذرہ کلمہ شہادت پڑھتا ہوگامسبحان ملاء اعلی کو ادھر اپنی تسبیح وتقدیس میں مصروف کروں گا ادھر تمھارے محمود درود مسعود کا حکم دوں گا۔عرش وکرسی ہفت اوراق سردہ قصور جناں جہاں پر الله لکھوں گا۔ محمد رسول الله بھی تحریر فرماؤں گااپنے پیغمبروں اوراولوالعزم رسولوں کو ارشاد کروں گا کہ ہر وقت تمہارا دم بھریں اور تمہاری یاد سے اپنی آنکھوں کو روشنی اورجگر کو ٹھنڈك اورقلب کو تسکین اوربزم کو تزئین دیں۔جو کتاب نازل کروں گا اس میں
تمہاری مدح وستائش اورجمال صورت وکمال سیرت ایسی تشریح وتوضیح سے بیان کروں گا کہ سننے والوں کے دل بے اختیار تمہاری طرف جھك جائیں اورنادیدہ تمہارے عشق کی شمع ان کے کانوں سینوں میں بھڑك اٹھے گی۔ایك عالم اگر تمہارادشمن ہوکر تمہاری تنقیص شان اورمحو فضال میں مشغول ہوتو میں قادر مطلق ہوں میرے ساتھ کسی کا بس چلے گا۔آخر اسی وعدے کا اثر تھا کہ یہود صدہا برس سے اپنی کتابوں سے ان کا ذکر نکالتے اورچاند پر خاك ڈالتے ہیں تو اہل ایمان اس بلند آواز سے ان کی نعت سناتے ہیں کہ سامع اگر انصاف کرے بے ساختہ پکار اٹھے۔لاکھوں بے دینوں نے ان کے محو فضائل پر کمر باندھی مگر مٹانے والے خود مٹ گئے اور ان کی خوبی روز بروز مترقی رہی پھر اپنے مقصود سے تو یاس ونا امیدی کرلینا مناسب ہے ورنہ برب کعبہ ان کا کچھ نقصان نہیں بالآخر ایك دن تو نہیں تیرا ایمان نہیں۔
قمر التمام فی نفی الظل عن سید الانام

امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے

اے بھائی! اپنے ایمان پر رحم کھا اور زبردست طاقت و غلبے والے اللہ جل جلالہ سے دشمنی یا لڑائی نہ مول لے، اللہ تعالیٰ نے تیری اور اس پوری دنیا کے پیدا ہونے سے بھی پہلے (ازل میں) یہ لکھ دیا تھا کہ “اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا”۔ یعنی اللہ کا ارشاد ہے کہ اے ہمارے پیارے محبوب! ہم نے آپ کی خاطر آپ کے ذکر اور چرچے کو اتنا اونچا کر دیا ہے کہ جہاں بھی ہماری یاد کی جائے گی، وہاں آپ کا بھی چرچا ہو گا، اور آپ کی یاد کے بغیر کسی کا بھی ایمان ہرگز مکمل نہیں ہو گا۔ آسمانوں کی تہیں اور زمینوں کے پردے آپ کے مبارک نام سے گونج اٹھیں گے، اذان دینے والے اذانوں میں، خطبہ دینے والے خطبوں میں، ذکر کرنے والے اپنی محفلوں میں، اور وعظ کرنے والے اپنے ممبروں پر ہماری یاد کے ساتھ ساتھ آپ کا ذکر بھی کریں گے۔ درخت، پتھر، ہرن، گوہ (ایک جانور) اور دوسرے جاندار، دودھ پیتے بچے، اور کافروں کے جھوٹے خدا جس طرح ہماری توحید (ایک ہونے) کا اقرار کریں گے، بالکل اسی طرح وہ صاف زبان اور درست انداز میں آپ کی رسالت کا اعلان بھی پڑھ کر سنائیں گے۔

دنیا کے چاروں کونوں میں “لا الہ الا الله محمد رسول الله” کا شور گونجے گا، اور ازل کے بدبختوں کے سوا کائنات کا ہر ذرہ گواہی کا یہ کلمہ پڑھتا ہوگا۔ میں ایک طرف تو عالمِ بالا کے فرشتوں کو اپنی پاکی اور تعریف بیان کرنے میں مصروف رکھوں گا، اور دوسری طرف انہیں آپ پر پیارا اور برکت والا درود بھیجنے کا حکم دوں گا۔ عرش، کرسی، ساتوں آسمانوں کے پتوں اور جنت کے محلات میں، غرض جہاں جہاں میں “اللہ” لکھوں گا، وہاں ساتھ ہی “محمد رسول اللہ” بھی تحریر کروں گا۔ میں اپنے پیغمبروں اور بلند ہمت رسولوں کو یہ حکم دوں گا کہ وہ ہر وقت آپ ہی کے گن گائیں، اور آپ کی یاد سے اپنی آنکھوں کو روشنی، کلیجے کو ٹھنڈک، دل کو سکون دیں، اور اپنی محفلوں کو سجائیں۔

میں جو بھی کتاب نازل کروں گا، اس میں آپ کی تعریف و خوبیاں، آپ کے چہرے کا حسن اور آپ کی عادات کا کمال اتنی تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان کروں گا کہ اسے سننے والوں کے دل خود بخود آپ کی طرف جھک جائیں گے، اور آپ کو دیکھے بغیر ہی ان کے کانوں اور سینوں میں آپ کے عشق کی آگ بھڑک اٹھے گی۔ اگر پوری دنیا بھی آپ کی دشمن بن کر آپ کی شان گھٹانے اور آپ کی خوبیاں مٹانے میں لگ جائے، تو میں پوری طاقت رکھنے والا (قادرِ مطلق) خدا ہوں، میرے سامنے کسی کا کیا بس چلے گا۔

آخر یہ اسی خدائی وعدے کا اثر تھا کہ یہودی سینکڑوں سالوں سے اپنی کتابوں میں سے آپ کا ذکر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور چاند پر خاک ڈال رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایمان والے اتنی بلند آواز سے آپ کی نعت سناتے ہیں کہ اگر کوئی سننے والا انصاف کرے تو وہ بے اختیار پکار اٹھے۔ لاکھوں بے دین لوگوں نے آپ کی فضیلتیں مٹانے کی پوری کوشش کی، مگر مٹانے والے خود ہی مٹ گئے اور آپ کی خوبیاں دن بدن ترقی پاتی گئیں۔ لہٰذا، (اے دشمن!) تیرے لیے اپنے اس برے ارادے سے مایوس ہو جانا ہی بہتر ہے، ورنہ کعبے کے رب کی قسم، اس سے آپ ﷺ کا تو کچھ نقصان نہیں ہوگا، مگر آخر کار ایک دن تو خود ختم ہو جائے گا اور تیرا ایمان برباد ہو جائے گا۔

Scroll to Top