افسوس کہ ان شرک فروش اندھوں کو اتنا نہیں سوجھتا کہ علمِ الہیٰ ذاتی ہے اور علمِ خلق عطائی، وہ واجب یہ ممکن، وہ قدیم یہ حادث، وہ نامخلوق یہ مخلوق وہ نامقدور یہ مقدور، وہ ضروری البقا یہ جائز الفنا، وہ ممتنع التغیر یہ ممکن التبدّل ۔ان عظیم تفرقوں کے بعد احتمال شرک نہ ہوگا مگر کسی مجنون کو، بصیرت کے اندھے اس علم ماکان ومایکون بمعنی مذکور ثابت جاننے کو معاذ اﷲ علمِ الہٰی سے مساوات مان لینا سمجھتے ہیں حالانکہ العظمۃُ ﷲ علمِ الہٰی تو علمِ الہٰی جس میں غیر متناہی علوم تفصیلی فراوانی بالفعل کے غیر متناہی سلسلے غیر متناہی یا وہ جسے گویا مصطلح حساب کے طور پر غیر متناہی کا مکعب کہئے بالفعل وبالدوام ازلاً ابداً موجود ہیں۔ یہ شرق تا غرب و سماوات وارض وعرش تا فرش وماکان ومایکون من اوّل یوم الٰی اٰخر الایام سب کے ذرے ذرّے کا حال تفصیل سے جاننا وہ بالجملہ جملہ مکتوبات لوح و مکنونات قلم کو تفصیلاً محیط ہونا علوم محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے، یہ تو ان کے طفیل سے ان کے بھائیوں حضرات مرسلین، کرام علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ واکمل السلام بلکہ ان کی عطا سے ان کے غلاموں، بعض اعاظم اولیائے عظام قدست اسرار ہم کو ملا، اور ملتا ہے ہنوز علومِ محمدیہ میں وہ بجارذخارنا پیدا کنار ہیں جن پر ان کی افضلیت کلیہ اور افضلیت مطلقہ کی بناء ہے۔(فتاویٰ رضویہ جلد29)۔
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے
افسوس ہے کہ شرک کا فتویٰ لگانے والے ان نادانوں کو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی اپنی ذات سے ہے جبکہ مخلوق کا علم اللہ کا عطا کردہ ہے۔ اللہ کا علم ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، جبکہ مخلوق کا علم بعد میں پیدا ہوا ہے، اللہ کا علم غیر مخلوق، ناقابلِ تغیر اور تبدیل نہ ہونے والا ہے، جبکہ مخلوق کا علم پیدا کیا گیا ہے اور اس کا ختم ہونا یا اس میں تبدیلی ممکن ہے۔ ان بڑے اور واضح فرق کے بعد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو اللہ کے علم کے برابر سمجھ کر شرک کا شک کسی پاگل کو ہی ہو سکتا ہے۔ بصیرت سے محروم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس بات کا علم ماننے کو شرک سمجھتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے ‘جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ ہونے والا ہے’، حالانکہ اللہ کی عظمت بہت بلند ہے اور اس کا علم تو ایسا لامحدود ہے کہ اس میں بے شمار اور نہ ختم ہونے والے تفصیلی علم کے سلسلے ہمیشہ سے اور ہمیشہ کے لیے موجود ہیں، جسے اگر حساب کی زبان میں لامحدود کا مکعب (کیوب) کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
مشرق سے لے کر مغرب تک، آسمانوں سے لے کر زمین تک، اور عرش سے لے کر فرش تک کے ذرے ذرے کا تفصیلی حال جاننا، اور دنیا کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ ہونے والا ہے اس سب کا علم ہونا، نیز لوح و قلم میں چھپی ہوئی تمام باتوں کو تفصیل سے جان لینا، دراصل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیع علم کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں تو یہ علم آپ کے بھائیوں یعنی دیگر رسولوں کو، اور آپ کی عطا سے آپ کے غلاموں یعنی بڑے بڑے اولیاء کرام کو بھی ملا ہے اور آج تک ملتا رہتا ہے۔ جبکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم تو ٹھاٹھیں مارتے ہوئے ایسے گہرے سمندر ہیں جن کا کوئی کنارہ نہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مخلوق پر مکمل اور مطلق فضیلت کی اصل بنیاد بھی یہی بے پناہ علوم ہیں






