اورآفتاب نیم روز کی طرح روشن کہ آدمی ہمہ تن اپنے محبوب کے نشرِ فضائل وتکثیرِ مدائح میں مشغول رہتاہے اورجو بات اس کی خوبی اورتعرفی یف کی سنتاہے کیسی خوشی اورطیبِ خاطر سے اظہار کرتاہے ، سچی فضیلتوں کا مٹانا اورشام وسحر نفیِ اوصاف کی فکر میں رہنا کام دشمن کا ہے نہ کہ دوست کا
۔ جانِ برادر!تُو نے کبھی سُنا ہے کہ جس کو تجھ سے اُلفت صادقہ ہے وہ تیری اچھی بات سن کر چیں بہ جبیں ہو اوراس کی محو کی فکر میںرہے اورپھر محبوب بھی کیسا ، جانِ ایمان وکانِ احسان ، جس کے جمالِ جہاں آراء کا نظیر کہیں نہ ملے گااورخامہ قدرت نے اس کی تصویر بناکر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسا نہ لکھے گا، کیسا محبوب، جسے اس کے مالک نے تمام جہان کے لئے رحمت بھیجا
۔ کیسا محبوب، جس نے اپنے تن پر ایک عالم کا بار اٹھالیا۔ کیسا محبوب ، جس نے تمہارے غممیں دن کاکھانا ، رات کا سونا ترک کردیا، تم رات دن اس کی نافرمانیوں میں منہمک اورلہو ولعب میں مشغول ہو اوروہ تمہاری بخشش کے لئے شب وروز گریاں وملول (فتاویٰ رضویہ جلد30)
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے
یہ بات دوپہر کے چمکتے سورج کی طرح بالکل واضح ہے کہ انسان ہر وقت اپنے محبوب کی خوبیاں اور تعریفیں بیان کرنے میں مگن رہتا ہے۔ وہ اپنے محبوب کی جو بھی اچھائی سنتا ہے، اسے بڑی خوشی اور دلی سکون کے ساتھ دوسروں کو بتاتا ہے۔ اس کے برعکس، کسی کی سچی خوبیوں کو چھپانا یا مٹانا، اور دن رات اس کی اچھائیوں کا انکار کرنے کی کوشش میں لگے رہنا کسی دشمن ہی کا کام ہو سکتا ہے، دوست یا چاہنے والے کا نہیں






