حضرات شیخین ، صاحبین صہرین وزیرین امیرین مشیرین ضجیعین رفیقین سیّدنا و مولٰنا عبداﷲ العتیق ابوبکر صدیق و جناب حق مآب ابوحفص عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما کی شانِ والا سب کی شانوں سے جدا ہے اور ان پر سب سے زیادہ عنایت خدا اور رسولِ خدا جل جلالہ و صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بعد انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین کے جو مرتبہ ان کا خدا کے نزدیک ہے دوسرے کا نہیں اور رب تبارک و تعالٰی سے جو قرب و نزدیکی اور بارگاہِ عرش اشتباہ رسالت میں جو عزت و سر بلندی ان کا حصہ ہے اوروں کا نصیبا نہیں، اور منازل جنت و مواہب بے منت میں انہیں کے درجات سب پر عالی فضائل و فواضل و حسنات طیبات میں انہیں کو تقدم و پیشی
۔ ہمارے علماء و ائمہ نے اس باب میں مستقل تصنیفیں فرما کر سعادتِ کونین و شرافتِ دارین حاصل کی ورنہ غیر متناہی کا شمار کس کے اختیار واﷲ العظیم اگر ہزاروں دفتر ان کے شرح فضائل میں لکھے جائیں یکے ازہزار تحریر میں نہ آئیں۔ (فتاویٰ رضویہ جلد29)
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے
دونوں بزرگوں، یعنی نبی کریم ﷺ کے ساتھیوں، سسرالی رشتہ داروں، وزیروں، مشیروں، آپ ﷺ کے پہلو میں آرام فرمانے والوں اور دوستوں، سیدنا عبداللہ العتیق ابوبکر صدیق اور حق کے ساتھی جناب ابو حفص عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی عظیم شان سب سے الگ اور منفرد ہے
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ان پر سب سے زیادہ مہربانی ہے، اور نبیوں، رسولوں اور مقرب فرشتوں کے بعد اللہ کے ہاں جو بلند مقام ان دونوں کا ہے، وہ کسی اور کا نہیں ہے
اللہ تعالیٰ کی ذات سے جو قرب اور رسالت کی عظیم بارگاہ میں جو عزت و بلندی ان کے حصے میں آئی ہے، وہ کسی اور کا نصیب نہیں ہے
جنت کے مقامات اور اللہ کی بے شمار عطاؤں میں انہی کے درجے سب سے بلند ہیں، اور خوبیوں، فضیلتوں اور پاکیزہ نیکیوں میں انہی کو سب پر برتری اور پہل حاصل ہے
ہمارے عالموں اور اماموں نے ان کی شان میں الگ سے کتابیں لکھ کر دونوں جہانوں کی نیک بختی اور عزت حاصل کی ہے، ورنہ ان کی ان گنت خوبیوں کو گننا کس کے بس کی بات ہے
اللہ کی قسم! اگر ان کی فضیلتیں اور خوبیاں بیان کرنے کے لیے ہزاروں کتابیں بھی لکھ دی جائیں، تو بھی ان کی ہزار خوبیوں میں سے ایک حصہ بھی بیان نہیں ہو سکے گا






