قرآن کریم کی آیات اور علم الاعداد۔ ایک رافضی کے اعتراض کا چند منٹ میں جواب

سوال: علمائے کرام کا اس میں کیا ارشاد ہے ایک رافضی نے کہا آیت کریمہ انا من المجرمین منتقمون ۔۱؂ ( بے شک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔ت) کے عدد ۱۲۰۲ ہیں اور یہ ہی عدد ابوبکر عثمان کے ہیں۔

الجواب : روافض لعنہم اﷲ تعالٰی کی بنائے مذہب ایسے ہی اوہام بے سرو پاو پا در ہوا پر ہے۔ اولاً : ہر آیت عذاب کے عدد اسماء اخیار سے مطابق کرسکتے ہیں اور آیت ثواب کے اسماء کفار سے کہ اسماء میں وسعت وسیعہ ہے۔”

“ثالثاً رافضی نے عدد غلط بتائے امیر المومنین عثمٰن غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نام پاک میں الف نہیں لکھا جاتا تو عدد بارہ سو ایک ہیں نہ کہ دو۔ ہاں او رافضی (۱) بارہ سو دو عدد کا ہے کے ہیں ابن سینا رافضہ کے۔ (۲) ہاں او ر افضی! بارہ سو دو عدد ان کے ہیں ابلیس یزید ابن زیاد شیطان الطاق کلینی ابن بابویہ قمی طوسی حلی۔”

“(۳) ہاں او رافضی ! اللہ عزوجل فرماتا ہے: انّ الذین فرقوادینھم وکانوا شیعا لست منھم فی شیئ ۲؂ بے شک جنہوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور شیعہ ہوگئے اے نبی ! تمہیں ان سے کچھ علاقہ نہیں۔ اس آیہ کریمہ کے عدد ۲۸ ۲۸ ہیں اور یہی عددی ہیں رفاض اثنا عشریہ شیطنیہ اسمعیلیہ کے اور اگر اپنی طرح سے اسمعیلیہ میں الف چاہے تو یہ ہی عدد ہیں روافض اثنا عشریہ و نصیریہ و اسماعیلیہ کے ۔ (۴) ہاں او رافضی ! اللہ تعالٰی فرماتا ہے: لھم اللعنۃ ولھم سوء الدار ۳ ؎ ان کے لیے ہے لعنت اور ان کے لیے ہے بُرا گھر۔”

“اس کے عدد چھ سو چوالیس ہیں اور یہی عدد ہیں شیطان الطاق طوسی حلی کے۔ (۵) نہیں او رافضی! بلکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: اولئٰک ھم الصدیقون والشہداء عند ربھم اجرھم ۔۴؂ وہی اپنے رب کے یہاں صدیق و شہید ہیں ان کے لیے ان کا ثواب ہے۔ اس کے عدد چودہ سو پینتالیس ہیں اور یہی عدد ابوبکر عمر عثمان علی سعد کے۔ (۶) نہیں او رافضی ! بلکہ مولٰی تعالٰی فرماتا ہے: اولئک ھم الصدیقون والشہداء عند ربھم لھم اجرھم ونورھم ۔۱؂ وہی اپنے رب کے حضور صدیق وشہید ہیں ان کے لیے ہے ان کا ثواب اور ان کا نور ۔”

“اس کے عدد ۱۷۵۲ ہیں اور یہی عدد ہیں ابوبکر و عمر و عثمن و علی وطلحہ و زبیر کے۔ (۷) نہیں اورافضی ! بلکہ اﷲ عزوجل فرماتاہے: والذین اٰمنوا باﷲ ورسلہ اولئٰک ھم الصدیقون والشہداء عندربھم لھم اجرھم و نورھم ۔۲؂ جو لوگ ایمان لائے اﷲ اور اس کے رسولوں پر وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق و شہید ہیں ان کے لیے ہے ان کا ثواب اور ان کا نور۔ آیۃ کریمہ کے عدد ۳۰۱۶ ہیں اور یہی عدد ہیں صدیق فاروق ذوالنورین علی طلحہ زبیر سعد سعید ابوعبیدہ عبدالرحمن بن عوف کے۔ الحمدﷲ آیۃ کریمہ کا تمام و کمال جملہ مدح بھی پورا ہوگیا اور حضرات عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے اسمائے طیبہ بھی سب آگئے جس میں اصلاً تکلف و تصنع کو دخل نہیں کچھ روزوں سے آنکھ دکھتی ہے یہ تمام آیات عذاب و اسمائے اشرار و آیت مدح و اسمائے اخیار کے عدد محض خیال میں مطابق کیے جن میں صرف چند منٹ صرف ہوئے اگر لکھ کر اعداد جوڑے جاتے تو مطابقتوں کی بہار نظر آتی مگر بعونہ تعالی اس قدر بھی کافی ہےوﷲ الحمد واﷲ تعالٰی اعلم۔”

فتاویٰ رضویہ جلد 29

امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمٰن کی اس بے مثال تحریر کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے

اللہ تعالیٰ کی ان رافضیوں پر لعنت ہو، ان کے مذہب کی بنیاد ہی ایسے بے بنیاد اور ہوا میں اڑتے وہموں پر ہے۔

پہلی بات: عذاب والی کسی بھی آیت کے اعداد کو نیک لوگوں کے ناموں کے اعداد سے، اور ثواب والی کسی بھی آیت کے اعداد کو کافروں کے ناموں کے اعداد سے ملایا جا سکتا ہے، کیونکہ ناموں کی تعداد اور ان کے حروف میں بہت وسعت ہوتی ہے۔

تیسری بات: اس رافضی نے اعداد ہی غلط بتائے ہیں۔ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مبارک نام میں ‘الف’ نہیں لکھا جاتا (یعنی عربی میں ‘عثمن’ لکھا جاتا ہے)، اس لیے ان کے نام کے اعداد 1201 بنتے ہیں نہ کہ 1202۔ ہاں اے رافضی! 1202 اعداد تمہارے رافضیوں کے عقیدے کے مطابق ‘ابن سینا’ کے بنتے ہیں۔ (2) اور ہاں اے رافضی! 1202 اعداد ان تمام برے ناموں کو ملا کر بنتے ہیں: ‘ابلیس، یزید، ابن زیاد، شیطان الطاق، کلینی، ابن بابویہ قمی، طوسی، حلی’۔

(3) ہاں اے رافضی! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور شیعہ (گروہ) بن گئے، اے نبی! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں”۔ اس قرآنی آیت کے اعداد 2828 بنتے ہیں، اور بالکل یہی اعداد ان ناموں کے بنتے ہیں: ‘رفاض اثنا عشریہ شیطنیہ اسمعیلیہ’۔ اور اگر تم اسماعیلیہ میں اپنی مرضی سے ایک اور ‘الف’ کا اضافہ کر لو، تو یہی اعداد ان ناموں کے بنتے ہیں: ‘روافض اثنا عشریہ و نصیریہ و اسماعیلیہ’۔

(4) اور ہاں اے رافضی! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا ٹھکانہ ہے”۔ اس آیت کے اعداد 644 بنتے ہیں، اور بالکل یہی اعداد (شیعہ علماء) ‘شیطان الطاق، طوسی، حلی’ کے ناموں کے بنتے ہیں۔

(5) نہیں اے رافضی! (اب ذرا حق سن) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہی لوگ اپنے رب کے ہاں صدیق اور شہید ہیں، ان کے لیے ان کا ثواب ہے”۔ اس آیت کے اعداد 1445 بنتے ہیں، اور بالکل یہی اعداد ان پانچ (صحابہ کرام) کے ناموں کے ہیں: ‘ابوبکر، عمر، عثمان، علی، سعد’۔

(6) نہیں اے رافضی! بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہی لوگ اپنے رب کے ہاں صدیق اور شہید ہیں، ان کے لیے ان کا ثواب اور ان کا نور ہے”۔ اس آیت کے اعداد 1752 بنتے ہیں، اور بالکل یہی اعداد ان چھ صحابہ کے ناموں کے ہیں: ‘ابوبکر و عمر و عثمن و علی و طلحہ و زبیر’۔

(7) نہیں اے رافضی! بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، ان کے لیے ان کا ثواب اور ان کا نور ہے”۔ اس پوری آیت کے اعداد 3016 بنتے ہیں، اور بالکل یہی اعداد (عشرہ مبشرہ کے) ان ناموں کے بنتے ہیں: ‘صدیق، فاروق، ذوالنورین، علی، طلحہ، زبیر، سعد، سعید، ابوعبیدہ، عبدالرحمن بن عوف’۔

الحمد للہ! قرآنی آیت کا مکمل تعریفی جملہ بھی پورا ہو گیا اور جنت کی خوشخبری پانے والے دس صحابہ کرام (عشرہ مبشرہ) رضی اللہ عنہم کے پاک نام بھی سب کے سب آ گئے، اور اس میں ذرا بھی تکلف یا بناوٹ شامل نہیں ہے۔

(مصنف امام احمد رضا خان فرماتے ہیں:) کچھ دنوں سے میری آنکھ دکھ رہی ہے، اس لیے میں نے یہ تمام عذاب والی آیتوں کو برے لوگوں کے ناموں کے ساتھ اور تعریف والی آیتوں کو نیک لوگوں کے ناموں کے اعداد کے ساتھ صرف اپنے ذہن میں ہی (زبانی) حساب کر کے ملایا ہے، جس میں مجھے صرف چند منٹ لگے ہیں۔ اگر میں ان اعداد کو باقاعدہ لکھ کر جوڑتا تو ایسی مناسبتوں اور مطابقتوں کی ایک بہار آ جاتی۔ مگر اللہ کی مدد سے اتنا جواب بھی کافی ہے۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ ہی سب سے بہتر جاننے والا ہے

Scroll to Top