Fatawa Razaviah Volume 21 in Typed Format

#5246 · پیش لفظ
بسم الله الرحمن الرحیم

پیش لفظ
الحمدﷲ! اعلحضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضاخاں بریلوی رحمہ اﷲ علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخاءر فقہیہ کو جدید انداز میں عصرحاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظرعام پرلانے کے لہوئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ ماہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قاءم ہواتھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے۔ اب تك یہ ادارہ امام احمد رضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکاہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایہ النبویہ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعم ۱۴۱۰ھ /مارچ۱۹۹۰ء میں ہواتھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا بارہ۱۲ سال کے مختصر عرصہ میں اکیسویں۲۱ جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے قبل کتاب الطہارت کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر کتاب السیر کتاب الشرکۃ کتاب الوقف کتاب البیوع کتاب الحوالہ کتاب الشہادۃ کتاب القضاء والدعاوی کتاب الوکالہ کتاب الاقرار کتاب الصلح کتاب المضاربہ کتاب الامانات کتاب العاریہ کتاب الہبہ کتاب الاجارہ کتاب الاکراہ کتاب الحجر کتاب الغصب کتاب الشفعہ کتاب القسمہ کتاب المزارعہ کتاب الصید کتاب الذباءح اور کتاب الاضحیہ پرمشتمل بیس جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے:
#5247 · پیش لفظ
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
۱۹ کتاب الوکالۃکتاب الاقرارکتاب الصلحکتاب المضاربۃکتاب الاماناتکتاب العاریۃکتاب الھبہکتاب الاجارۃکتاب الاکراہکتاب الحجرکتاب الغصب ۲۹۶ ۳ ذیقعدہ ۱۴۲۱ فروری ۲۰۰۱ ۶۹۲
#5248 · پیش لفظ
۲۰ کتاب الشفعہکتاب القسمہکتاب المزارعہکتاب الصید و الذبائحکتاب الاضحیہ ۳۳۴ ۳ صفر المظفر______۱۴۲۲ ____مئی ۲۰۰۱ ۶۳۲
اکیسویں جلد:
فتاوی رضویہ قدیم کی پہلی آٹھ جلدوں کے ابواب کی ترتیب وہی ہے جو معروف ومتداول کتب فقہ و فتاوی میں مذکور ہے۔ رضافاؤنڈیشن کی طرف سے اب تك شائع ہونے والی بیس جلدوں میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھاگیاہے مگر فتاوی رضویہ قدیم کی بقیہ چارمطبوعہ جلدوں(جلدنہم دہم یازدہم دوازدہم) کی ترتیب ابواب فقہ سے عدم مطابقت کی وجہ سے محل نظر ہے۔ چنانچہ ادارہ ہذا کے سرپرست اعلی محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولنا مفتی محمدعبدالقیوم ہزاروی صاحب اور دیگر اکابر علماء ومشائخ سے استشارہ واستفسار کے بعد اراکین ادارہ نے فیصلہ کیا کہ آئندہ شائع ہونے والی جلدوں میں فتاوی رضویہ کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجائے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایاجاہوئے۔ عام طور پر فقہ وفتاوی کی قدیم جلدوں کی ترتیب کے بجاہوئے ابواب فقہ کی معروف ترتیب کو بنیاد بنایاجائے۔ عام طور پر فقہ وفتاوی کی کتب میں کتاب الاضحیہ کے بعد کتاب الحظر و الاباحۃ کا عنوان ذکر کیا جاتا ہے اور ہمارے ادارے سے شائع شدہ بیسویں۲۰ جلد کا اختتام چونکہ کتاب الاضحیہ پر ہوا لہذا اب اکیسویں۲۱ جلد میں مسائل حظرواباحت کی اشاعت کا آغاز کیاجارہاہے۔ اس سلسلہ میں ہم بحرالعلوم حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالمنان صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کی تحقیق انیق کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس سے بھرپور استفادہ اور رہنمائی حاصل کررہے ہیں۔
یادرہے کہ فتاوی رضویہ قدیم میں کتاب الحظروالاباحۃ کے عنوان پر مشتمل جلد جس کو مکتبہ رضاایوان عرفان بیسلپور نے جلددہم اور رضااکیڈمی بمبئی نے جلد نہم کے نام سے شائع کیاہے وہ غیرمرتب وغیرمبوب ہے اس میں شامل بعض رسائل کی ابتداوانتہا ممتازنہیں۔ کچھ رسائل بے نام شامل ہیں جبکہ بعض رسالوں کے مندرجات یکجاہونے کی بجائے متفرق ومنتشر طورپر مذکورہیں اس جلد میں شامل دونوں حصوں کے عنوانات ومسائل ایك جیسے ہونے کے باوجود دونوں کی فہرست یکجا نہیں کی گئی لہذا اس کی ترتیب وتبویب خاصا مشکل اور دقت طلب معاملہ تھا۔ راقم نے متوکلا علی اﷲ اس پر کام شروع کیا تو اﷲ تعالی کے فضل وکرم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نظر عنایت اور اعلحضرت علیہ الرحمۃ کے روحانی تصرف وکرامت کے صدقے میں توقع سے بھی کم وقت میں یہ کام پایہء تکمیل کو پہنچ گیا الحمدﷲ علی ذالك ۔
کتاب الحظروالاباحۃ کی ترتیب جدید میں ہم نے جن امور کو بطور خاص ملحوظ رکھاہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) حظرواباحت سے متعلق فتاوی رضویہ قدیم کے دونوں مطبوعہ حصوں کی (استفتاء میں مذکور)
#5249 · پیش لفظ
مسائل کے اعتبار سے یکجا تبویب کردی ہے۔
(ب) ایك ہی استفتاء میں مختلف ابواب سے متعلق مسائل مذکور ہونے کی صورت میں ہرمسئلہ کو مستفتی کے نام سمیت متعلقہ باب کے تحت درج کیاہے۔
(ج)فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل رسائل کو ان کے عنوانات کے مطابق متعلقہ ابواب کے تحت داخل کردیاہے۔
(د) رسائل کی ابتداء وانتہا کو ممتاز کیاہے۔
(ھ) بے نام رسائل کے ناموں کو ظاہرکیاہے۔
(و) جن رسائل کے مندرجات ومشمولات یکجانہ تھے ان کو اکٹھا کردیاہے۔
(ز) حظرواباحت سے متعلقہ بعض رسائل اعلحضرت علیہ الرحمۃ جو فتاوی رضویہ قدیم میں شامل نہ ہوسکے تھے ان کو بھی مناسب جگہ پرشامل اشاعت کردیاہے۔
(ح) تبویب جدید کے بعد موجودہ ترتیب سابق ترتیب سے بالکل مختلف ہوگئی ہے لہذا پوری کتاب کی مکمل فہرست موجودہ ابواب کے مطابق نئے سرے سے تیار کرناپڑی۔
(ط) جلد ہذا میں شامل تمام رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست مرتب کی گئی۔
(ی) اعلحضرت رحمۃ اﷲ تعالی علیہ بعض مقامات پرگفتگو کرتے ہوئے اپنے تبحرعلمی کے پیش نظر ایسے مسائل بھی زیربحث لےاتے ہیں جو متعلقہ ابواب میں سے کسی کے تحت مندرج نہیں ہوسکتے ایسے مسائل کے لئے مفصل فہرست کے بعد ہم نے ضمنی مسائل کے عنوان سے الگ فہرست مرتب کی ہے۔
کتاب الحظروالاباحۃ کے مترجم
سوائے ان رسائل کے جن کو اب فتاوی میں نئے سرے سے شامل کیاگیاہے پوری "کتاب الحظروالاباحۃ" کی عربی اور فارسی عبارات کامکمل ترجمہ جامع منقول ومعقول فاضل جلیل محقق شہیر مصنف کتب کثیرہ فخرالمدرسین حضرت مولانا علامہ مفتی قاضی محمد سیف الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کیاہے جو استاذالاساتذہ حضرت علامہ مولانا قاضی محمدعبد السبحان بن مولنامظہرجمیل بن مولانا مفتی محمد غوث(کھلابٹہزارہ) کے صاحبزادے اور استاذالاساتذہ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ مولینا محمدخلیل صاحب محدث ہزاروی کے نواسے ہیں۔ آپ نے تمام درسیات اپنے والدگرامی سے پڑھیں فارغ التحصیل ہوتے ہی درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے اور سالہاسال آپ نے اہلسنت کے معروف ادارے جامعہ رحمانیہ ہری پورمیں بطور شیخ الحدیث تدریسی فرائض سرانجام دئیے آپ کے آباؤ اجداد نے
#5250 · پیش لفظ
ڈنکے کی چوٹ پر احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ سرانجام دیا چنانچہ آپ کے والدگرامی حضرت مولانا قاضی محمدعبدالسبحان صاحب اور برادراکبرحضرت مولاناقاضی غلام محمدصاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہما کی متعدد درسی وغیردرسی تصانیف ارباب علم میں معروف ہیں مناظرہ وردبدمذہباں خصوصا ردوہابیہ میں ان بزرگوں کی خدمات کو اہل سنت وجماعت میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔
اکیسویں جلد
یہ جلد"کتاب الحظروالاباحۃ" کاپہلا حصہ ہے جو ۲۹۱ سوالوں کے جوابات اور مجموعی طور پر ۶۷۶ صفحات پرمشتمل ہے۔ اس جلد میں بنیادی طور پر جن چارابواب سے متعلق مسائل کو زیربحث لایاگیاہے وہ یہ ہیں:
(۱) اعتقادیات و سیر (۲)تصوف وطریقت
(۳) آثارمقدسہ سے تبرك وتوسل (۴) شرب وطعام
علاوہ ازیں دیگرکئی ایك ابواب کے مسائل کثیرہ پر ضمنا گفتگو واقع ہوئی لہذا راقم الحروف نے مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کی سہولت کے لئے تیارکردی ہے نیز اس جلد میں شامل چار مستقل ابواب کے مسائل اگرکہیں ایك دوسرے کے تحت ضمنا مندرج تھے تو ان کی فہرست ہم نے متعلقہ باب کی مفصل فہرست کے آخر میں بطور ضمیمہ ذکرکردی ہے تاکہ ان مسائل کی تلاش میں دقت وابہام پیدانہ ہو۔
انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل نو۹ رسائل بھی اسی جلد کی زینت ہیں:
(۱) جلی النص فی اماکن الرخص(۱۳۳۷ھ)
اس بات کا بیان کہ بعض اوقات بعض ممنوعات میں رخصت ملتی ہے۔
(۲) الرمزالمرصف علی سؤال مولینا السید آصف(۱۳۳۹ھ)
کفار سے معاملات احکام مرتدہ اور ایك اشتہار(اسلامی پیام) کے بعض مندرجات سے متعلق مولاناسیدآصف علیہ الرحمۃ کے سوالات کا مفصل ومدلل جواب۔
(۳) شفاء الوالہ فی صورالحبیب ومزارہ ونعالہ (۱۳۱۵ھ)
قدم شریف اور مقامات مقدسہ کے نقشے بناناجائزجبکہ جاندار خصوصا اولیاء کرام کی تصویریں بناناناجائزوگناہ ہیں۔
#5251 · پیش لفظ
(۴) برکات الامداد لاھل الاستمداد(۱۳۱۱ھ)
محبوبان خدا سے مدد طلب کرنے کا ثبوت قرآن وحدیث کی روشنی میں۔
(۵) بدرالانوارفی آداب الآثار (۱۳۲۶ھ)
بزرگان دین کے آثاروتبرکات کی تعظیم اور ان کی زیارت پرمعاوضہ کا بیان۔
(۶) فقہ شھنشاہ وان القلوب بیدالمحبوب بعطاء اﷲ(۱۳۲۶ھ)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو شہنشاہ کہناجائزہے نیز اس بات کا ثبوت کہ محبوبان خدا کو بعطاء الہی دلوں کامالك کہنا درست ہے۔
(۷) نقاء السلافۃ فی احکام البیعۃ والخلافۃ (۱۳۱۹ھ)
بیعت وخلافت اور سجادہ نشینی کے احکام کا بیان۔
(۸) مقال العرفاء باعزازشرع وعلماء (۱۳۲۷ھ)
علم وعلماء شریعت کی فضیلت کا بیان اور شریعت وطریقت کے بارے میں ایك شخص کے دس اقوال شنیعہ کا ردبلیغ۔
(۹) الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ (۱۳۰۹ھ)
تصورشیخ اور شغل برزخ کے اثبات پردلائل وبراہین۔
ان میں سے مقدم الذکرتین رسالے پہلے سے فتاوی رضویہ قدیم کی کتاب الحظروالاباحۃ میں شامل تھے جبکہ باقی چھ رسائل اب شامل کئےگئے ہیں۔ رسالہ نقاء السلافہ مطبوعہ ڈسکہ کے ساتھ ایك مسئلہ منسك تھا جو فتاوی افریقہ سے ماخوذ ہے اس کو بھی اس جلد میں شامل کردیاگیاجو پیش نظرجلد کے صفحہ ۴۹۶ پرمسئلہ نمبر۱۸۵ کے عنوان سے مذکورہے۔
ربیع الاول ۱۴۲۳ھ حافظ محمدعبدالستارسعیدی
مئی ۲۰۰۲ ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
#5252 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم

کتاب الحظروالاباحۃ
(ممنوع اور مباح کاموں کا تفصیل بیان)

اعتقادات وسیر
ایمانکفرشرکتقدیرردتہجرتسنیتگناہتوبہ وغیرہا سے متعلق مسائل

مسئلہ ۱: ۱۹ رجب ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك برات میں کچھ لوگ جمع تھےان میں ایك جذامی تھالوگوں نے اس کے ساتھ کھانا پسند نہ کیا۔ایك شخص مصر ہواجب بحث بڑھی تو براتیوں نے اس سے کہا واسطے خدا اور رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس وقت اسے علیحدہ کردو اور صاحب مکان کاکھانا خراب نہ کرو۔وہ بولا ہم خدا ار رسول کو نہیں جانتے۔اس وقت سب نے کہا یہ شخص کلمہ کفر بولا جذامی کے ساتھ اسے بھی الگ کردیا اور اپنے جلسہ سے نکال دیا چند شخص اور بھی اس کے شریك ہوکر چلے گئے اس صورت میں اس شخص اور اس کے شریکوں کے لئے کیاحکم ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ)
الجواب:
ہر چند جذامی کے ساتھ کھانا جائز ہے بلکہ خود حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مجذوم کو اپنے ساتھ کھلایا اور فرمایا:
کل معی بسم اﷲ ثقۃ باﷲ وتوکلا علی اﷲ۔رواہ میرے ساتھ ہو کر اﷲ تعالی کانام لے کر کھائے اﷲ تعالی پر اعتماد اور اس پر بھروسا رکھتے ہوئے
#5789 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
ابوداؤد والترمذی وابن ماجہ بسند حسن وابن حبان والحاکم وصححاہ۔ ابوداؤدترمذی اور ابن ماجہ نے اچھی سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (ت)
یہاں تك کہ اگر بقصد تواضع وتوکل واتباع ہو تو ثواب پائے گا۔
اخرج الطحطاوی عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل مع صاحب البلاء تواضعا لربك و ایمانا ۔ امام طحطاوی نے حضرت ابو ذر رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے تخریج فرمائی کہ صاحب مصیبت کے ساتھ کھاؤ اپنے پروردگار کے لئے عجز وانکساری کرتے ہوئے اور اس پر یقین رکھتے ہوئے(ت)
مگر خواہی نخواہی اس کے ساتھ کھانا ضرور بھی نہیں بلکہ جس کی نظر اسباب پر مقتصر ہو اور خدا پر سچاتوکل نہ رکھتا ہو اس کے حق میں بچنا ہی مناسب ہے نہ یہ سمجھ کر کہ بیماری اڑ کر لگ جاتی ہے۔کہ یہ خیال تو باطل محض ہے۔نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صحیح حدیثوں میں اسے ردفرمایا:
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاعدویاخرجہ احمد والشیخان وابوداؤد عن ابی ہریرۃ واحمد بن مسلم عن جابر بن عبداﷲ وعن السائب عن زید رضی اﷲ تعالی عنہم قال صلی اﷲ تعالی علیہ سلم فمن اعدی حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مرض میں تعدیہ نہیں۔امام احمدبخاریمسلم اور ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ سے اس کی تخریج فرمائیمسند احمد اور مسلم نے حضرت جابر بن عبداﷲ سے روایت فرمائی اور حضرت سائب بن یزید سے بھی(ﷲ تعالی ان سب سے راضی ہو)
حوالہ / References & جامع الترمذی کتاب الاطعمۃ باب ماجاء فی الاکل مع المجذوم €∞امین کمپنی دہلی ۲ /۴،€&سنن ابی داؤد کتاب الکہانۃ والطہر €∞آفتاب عالم پریس لاہور ۳ /۱۹۱،€&سنن ابن ماجہ ابواب الطب باب الجذام €∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۶۱€
شرح معانی الآثار لطحطاوی الکراہیۃ باب الاجتناب من ذی واء الطاعون الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۴۱۷€
صحیح البخاری کتاب الطب باب لجذام ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۵۸۰،€صحیح مسلم کتاب السلام باب لاعدوی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۰€
#5790 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
الاول اخرجہ الشیخان وابوداؤد عن ابی ہریرۃ ایضا رضی اﷲ تعالی عنہ۔ حضور اقدس نے ارشاد فرمایا پہلے اونٹ میں تعدیہ مرض کیسے ہوا۔بخاریمسلم اور ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسکی تخریج فرمائی۔(ت)
بلکہ اس نظر سے کہ شائد قضائے الہی کے مطابق کچھ واقع ہوا ور اس وقت شیطان کے بہکانے سے یہ سمجھ میں آیا کہ فلاں فعل سے ایسا ہوگیا ورنہ نہ ہوتا تو اس میں دین کا نقصان ہوگا۔
فان"لو"تفتح عمل الشیطان قالہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ لوگو! حرف"لو"سے بچوں کیونکہ یہ شیطان کاموں کا دروازہ کھول دیتاہے۔حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔ (ت)
غرض قوی الایمان کو توکلا علی اﷲ اس سے مخالطت میں کچھ نقصان نہیںاور ضعیف الاعتقاد کے حق میں اپنے دین کی احتیاط کو احتراز بہترولہذا سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فرمن المجذوم کما تفرمن الاسداخرجہ البخاری عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کوڑھے سے اسی طرح بھاگو جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ کے حوالہ سے اس کی تخریج فرمائی۔(ت)
دوسری حدیث میں ہے:
اتقوا صاحب الجذام کما یتقی السبع اذا ھبط وادیا فاھبطوا غیرہ رواہ ابن سعد فی الطبقات عن عبداﷲ بن جعفر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ کوڑھ کے مریض سے اسی طرح بچوں جس طرح موذی درندے سے بچاء کیا جاتاہے۔جب وہ کسی وادی میں اترے تو تم کسی دوسری میں اتر جاؤابن سعد نے طبقات میں حضرت عبداﷲ بن جعفر رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔ (ت)
نیز حدیث میں ہے:
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الطب باب لاعدوٰی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۵۹،€صحیح مسلم کتاب السلام باب لاعدوٰی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۰€
صحیح البخاری کتاب الطب باب الجذام ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۵۰€
طبقات الکبرٰی لابن سعد ترجمہ عبداﷲ ابن جعفر دارصادر بیروت ∞۴ /۱۱۷€
#5791 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
کلم المجذوم وبینك وبینہ قدر رمح اور محین رواہ ابن السنی وابونعیم فی الطب النبوی عن عبد اﷲ بن اوفی رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ کوڑھی سے اس حالت میں بات کرو کہ تمھارے اور اس کے درمیان ایك دونیزے کی مسافت کی مقدار ہومحدث ابن سنی اور ابونعیم نے طب نبوی میں حضرت عبداﷲ بن ابی اوفی کے حوالے سے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اسے روایت کیا ہے۔(ت)
بہر حال برات والوں کا انکار بے جا نہ تھا اور اس شخص کا اصرار محض ناحق۔پھر جب انھوں نے خدا کا واسطہ دیا اس پر بلاوجہ نہ ماننا گناہ ہواحدیث میں ہے:
ملعون من سئل بوجہ اﷲ ثم منع سائلہ مالم یسئل ھجرا اخرجہ الطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابی موسی الاشعری عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ وہ شخص ملعون ہے کہ جس سے خدا کے نام پر کچھ مانگاجائے تو وہ سائل کو کچھ نہ دے بشرطیکہ وہ کسی کو چھوڑنے کا سوال نہ کرے۔امام طبرانی نے معجم کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت ابو موسی اشعری کے حوالے سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے تخریج فرمائی۔(ت)
یہاں تك تو حماقت یا گناہ ہی تھا اس کے بعد وہ لفظ جو اس نے کہا کہ ہم خدااور رسول کو نہیں مانتے یہ صریح کلمہ کفر ہے۔والعیاذ باﷲ تعالیاس شخص پر فرض ہے کہ تو بہ کرے اور از سر نو مسلمان ہواور اگر عورت رکھتاہے تو نئے سرے سے نکاح چاہئے۔اور جس طرح وہ کلمہ مجمع میں کہا تھا تو بہ بھی مجمع میں کرےاگر نہ مانے تو مسلمان ضرور اسے اپنے گروہ سے نکال دیںنہ اپنے پاس بٹھائیں نہ اس کے پاس بیٹھیں نہ اس کے معاملات میں شریك ہوںنہ اپنی تقریبوں میں اسے شریك کریں۔ اﷲ تعالی فرماتاہے۔
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" ۔ اگر تجھے شیطان بھلادے تویاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ مت بیٹھ۔(ت)
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابن السنی وابی نعیم فی الطب ∞حدیث ۲۸۳۲۵€ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۱۰ /۵۴€
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتا ب الزکوٰۃ باب فیمن سأل بوجہ اﷲ ∞۳ /۱۰۳،€الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی کتاب الصدقات ∞۱ /۶۰۱€
القرآن الکریم ∞۶ /۶۸€
#5792 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
اور جو لوگ اس کا ساتھ دے کر اٹھ گئے وہ بھی سخت گنہ گار ہوئے ان پر بھی توبہ واجب اگر نہ کریں تو مسلمانوں کو ان سے بھی جدائی مناسب۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے حضور سرو کائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نیاز اگرچہ حرام مال پر دیتاہے مگر پھر بھی حضور قبول فرمالیتے ہیںجیسے کسی امیر کا لڑکا پیداہو تو بھاٹ بھکاری وغیرہ جو گھاس کا پودا یا اور کچھ ڈھوئی کے لے جاتے ہیں وہ اسے خوشی سے قبول کرلیتا ہے اسی طرح سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بھی قبول فرمالیتے ہیں۔ اور کہتاہے میں نے بعض کتابوں میں بھی ایسا لکھا دیکھا ہے۔آیا یہ قول زید کا صحیح ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کرو اجر پاؤ۔ ت)
الجواب:
یہ قول اس کا غلط صریح وباطل قبیح اور حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء فضیح ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار ۔ (نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:)جو مجھ پر دانستہ جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔(ت)
زنہار مال حرام قابل قبول نہیںنہ اسے راہ خدا میں صرف کرنا روا۔نہ اس پر ثواب ہے بلکہ نرا وبال ہے۔اﷲ تعالی فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا انفقوا من طیبت ما کسبتم" اے ایمان والو! اپنی کمائی میں سے پاکیزہ چزیں ہماری راہ میں خرچ کرو۔
پھر فرماتاہے:
"ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون" اور خبیث چیزوں کا قصد نہ کیا کرو کہ اس میں سے ہماری راہ میں اٹھاؤ۔
اور فرماتاہے:
"قال انما یتقبل اللہ من المتقین ﴿۲۷﴾ " خدا قبول نہیں کرتا مگر پرہیز گاروں سے۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب العلم باب اثم من کذب علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۱€
القرآن الکریم ∞۲ /۲۶۷€
القرآن الکریم ∞۲ /۲۶۷€
القرآن الکریم ∞۵ /۲۷€
#5793 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
بخاریمسلمترمذینسائیابن ماجہ خزیمہ اپنی صحاح میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تصدق بعدل تمرۃ من کسب طیب و لایقبل اﷲ الا الطیب فان اﷲ یقبلہا بیمینہ الحدیث۔
وفی روایۃ ابن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہ ان اﷲ طیب لا یقبل الاالطیب ۔واخرج الامام احمد و غیرہ عن عبد اﷲ بن مسعود رحمہ اﷲ تعالی قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایکسب عبد ما لامن حرام فیتصدق بہ فیقبل منہ ولا ینفق منہ فیبارك لہ فیہ ولایترك خلف ظہرہ والا کان زادہ الی النار ان اﷲ لایمحواالسیئ بالسیئ ولکن یمحوا السیئ بالحسن ان الخبیث لا یمحو الخبیث اختصرتہ من حدیث وقد حسنہ بعض العلماء۔
واخرج الحاکم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی جو ایك کھجور کے برابر پاك کمائی سے تصدق کرے اور اﷲ تعالی نہیں قبول فرماتا مگر پاك کو تو حق جلا وعلا سے اپنے یمین قدرت سے قبول فرماتا ہے۔الحدیث۔
یعنی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں بیشك اﷲ پاك ہے پاك ہی کو قبول فرماتاہے۔(امام احمد وغیرہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے تخریج کی کہ انھوں نے فرمایا)یعنی نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ نہ ہوگا کہ بندہ حرام کما کر اس سے تصدق کرے اور وہ قبول کرلیا جائے گااور نہ یہ کہ سے اپنے صرف میں لائے تو اس کے لئے اس میں برکت دیں اور نہ اسے اپنے پیچھے چھوڑ جائے گا مگر یہ کہ وہ اس کا توشہ ہوگا جہنم کی طرفبیشك اﷲ تعالی برائی سے برائی کو نہیں مٹاتاہاں بھلائی سے برائی کو مٹاتا ہے بیشك خبیث خبیث کو نہ مٹائے گا(یہ حدیث سے مختصرا بیان کیا ہے اور بعض علماء نے اسے حسن کہا۔ت)
(حاکم نے عبداﷲ ابن عباس(اﷲ تعالی ان دونوں سے راضی ہو)کے حوالے سے تخریج کی کہ
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ من کسب طیب ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۸۹€
اسنن الکبرٰی کتاب صلٰوۃ الاستسقاء ∞۳ /۳۴۶€ و صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۶€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث عبداﷲ بن مسعود دارالفکر بیروت ∞۱ /۳۸۷€
#5794 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
علیہ وسلم لایغبطن جامع المال من غیر حلہ اوقال من غیر حقہ فانہ ان تصدق لم یقبل منہ ومابقی کان زادہ الی النار قال الحاکم صحیح الاسناد ولم یصب ففیہ حنش متروك لکن لہ شاہد عند البیہقی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔


واخرج ابن خزیمۃ وابن حبان فی صحیحہما و الحاکم فی المستدرك من طریق دراج عن ابی حجیرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من جمع مالاحراماثم تصدق بہ لم یکن لہ فیہ اجر و کان اصرہ علیہ ۔

اخرجہ الطبرانی من ابی الطفیل رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ سلم من کسب مالا من حرام فاعتق منہ ووصل منہ رحمہ کان ذلك اصرہ علیہ ۔ انھوں نے فرمایا)یعنی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے جو غیر حلال سے جمع کرے اس پر کوئی رشك نہ لی جائے اگر وہ اس سے خیرات کرے گا تو قبول نہ ہوگی اور جو بچ رہے گا وہ اس کا توشہ ہوگا جہنم کی طرف۔(حاکم نے کہا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن اس نے ٹھیك نہیں کہا کیونکہ اس میں حنش نامی راوی متروك ہے لیکن امام بیہقی کے نزدیك اس کے لئے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے شاہد موجود ہے۔ت)
(ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں تخریج کی اور حاکم نے مستدرك میں دراج کے طریقے سے ابوحجیرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے فرمایا۔ت)یعنی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو حرام مال جمع کرے پھر اسے خیرات میں دے اس کے لئے ثواب کچھ نہ ہوگا اور اس کا وبال اس پر ہوگا۔
(امام طبرانی نے ابوالطفیل رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے تخریج فرمائی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت ہے۔ (ت)یعنی نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو حرام مال کھائے پس اس میں سے غلام آزاد کرے اور صلہ رحم کرے تویہ بھی اس پر وبال ٹھہرے۔
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب البیوع دارالفکر بیروت ∞۲ /۵€
المستدرك للحاکم کتاب الزکوٰۃ دارالفکر بیروت ∞۱ /۳۹۰€
کنز العمال بحوالہ طب عن ابی الطفیل ∞حدیث ۹۲۷۰€ موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۴ /۱۵€
#5795 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
واخرج ابوداؤد فی المراسیل عن القاسم عن مخیمرۃ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اکتسب ما لا من ماثم فوصلی بہ رحما اوتصدق بہ اوانفقہ فی سبیل اﷲ جمع ذلك جمیعا فقذف بہ فی جہنم ۔ (ابوداؤد نے مراسیل میں بواسطہ قاسم عن مخیمرۃ سے تخریج کی کہ انھوں نے فرمایا۔ت)یعنی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو گناہ کی وجہ سے مال کما کر اس سے صلہ رحم یا تصدق یا راہ خدا میں خرچ کرے یہ سب جمع کرکے اسے جہنم میں پھینك دیا جائے۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
سبحن اﷲ ! مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے تویہ قاہر تصریحیںاور بیباك لوگ حضور پر تہمت رکھیں کہ ناپاك مال بھی سرکار میں قبول ہوجاتاہے ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
اے عزیز! جو چیز خدا کی بارگاہ سے مردود اور اس کی ناراضی سے آلودہ ہے کیونکر ممکن کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دربار میں رضاو قبول سے مشرف ہو بلکہ درحقیقت زید کی یہ جرأت سرکار رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ میں گستاخی واہانت کہ معاذاﷲ انھیں ناپاك چیزوں کا پسند وقبول کرنے والا بتاتا ہے۔ہیہات ہیہات واﷲ وہ تمام عالم سے زیادہ ستھرے ہیں او ر ستھروں کے لائق نہیں مگر ستھری چیزگندی چیزیں گندوں کے سزا وار ہیں
قال اﷲ تعالی عزوجل:
" الخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت و الطیبت للطیبین و الطیبون للطیبت اولئک مبرءون مما یقولون " ۔ گندیاں گندوں کے لئے اور گندے گندیوں کو اور ستھریاں ستھروں کو اور ستھرے ستھریوں کو وہ بری ہیں ان باتوں سے جو لوگ کہتے ہیں۔
انھیں میں یہ بات بھی ہے کہ وہاں ناپاك مال مقبول ہو۔وہ طیب طاہر اس خبیث قول سے بری ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور گھاس کے پٹھی وغیرہ کی مثال محض حماقت کہ مباح وحرام میں کیا مناسبتلہذا امرائے دنیا بہتیرے خون آلودہ ہزاراں خباثات ہوتے ہیں انھیں تاجدار یطھرکم تطھیرا سے کیا نسبت۔صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ٹھیك مثال یوں ہے کہ جشن سلطانی میں کوئی احمق بیباك نذر شاہی کو پیشاب کا قارورہ لے جائے پھر دیکھے کہ مقبول ہوتاہے یا اس مردك کے منہ پر مارا جاتا ہے۔اور وہ جو علماء فرماتے ہیں کہ جس کے پاس مال حرام ہو اور مالك معلوم
حوالہ / References کتاب المراسیل باب الزکوٰۃ الفطر ∞حدیث ۱۱۷€ المکتبۃ القاسمیہ ∞فیصل آباد ص۷۱€
القرآن الکریم ∞۲۴ /۲۶€
#5796 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
نہ رہیں یا بے وارث مرجائیں تو ان کی طرف سے تصدق کردے اس کے یہ معنی نہیں کہ یہ صدقہ مقبولہ ہے یا ارادہ خود میں صرف کرنا ٹھہرے گا یا اس پر انفاق فی سبیل اﷲ کا ثواب پائے گا بلکہ وجہ یہ ہے کہ جب اس میں تصرف حرام ہو اور مالك تك پہنچانہیں سکتا نا چار اس کی نیت سے فقیر کو دے دے کہ اﷲ جلالہکے پاس امانت رہے اور وہ روز قیامت مالك کو پہنچادے۔
فی اخر متفرقات الغصب من الہندیۃ عن الغایۃ رجل لہ خصم فمات ولاوارث لہ یتصدق عن صاحب الحق المیت بمقدار ذلك لیکون ودیعۃ عنداﷲ تعالی فیوصل الی خصمائہ یوم القیمۃ ۔ فتاوی ہندیہ میں متفرق مسائل غصب کے آخر میں الغایہ سے منقول ہے ایك شخص کا فریق مخالف مرگیا کہ جس کا کوئی وارث نہیںیہ شخص صاحب حق میت کی طرف سے(جتنا مال میت کا اس کے پاس موجود ہے)اتنی مقدار خیرات کر دے تاکہ یہ خیرات کردہ مال اﷲ تعالی کی بارگاہ میں بطور امانت رہے تاکہ قیامت کے دن اﷲ تعالی اس کے مخالف تمام مدعیوں کو وہ مال پہنچادے۔(ت)
بالجملہ زید کی جہالت وضلالت میں شك نہیں اور اس کا دعوی کہ میں نے بعض کتابوں میں ایسا ہی دیکھا ہے۔یا تو محض حکایت بے محکی عنہ ہے یا کسی ایسے ہی سفیہ جاہل خواہ ضال مضل نے کہیں لکھ دیا ہوگا اور اگر فقہائے کرام کے ارشاد سنئےتو زید کے لئے حکم نہایت سخت وجگر شگاف نکلتاہے۔اس کا کہنا کہ حضور میں یہ نیاز قبول ہوتی ہے بعینہ یہ کہنا ہے کہ حق سبحانہ وتعالی اس پر ثواب دیتاہے کہ نیاز کاحاصل نہیں مگر یہ کہ لوجہ اﷲ تصدق کریں اور اس کا ثواب کسی محبوب خدا کی نذر ہو ورنہ یہ عین طعام ولباس وہاں نہیں پہنچتے۔
نظیر ذلك قولہ تعالی لن ینال اللہ لحومہا ولا دماؤہا ولکن ینالہ التقوی منکم " اس کی مثال اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:اﷲ تعالی کی بارگاہ تك قربانیوں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے بلکہ اس تك تمھارا تقوی پہنچتا ہے۔(ت)
خود قریات وطاعات میں قبول ووصول ثواب کا ایك حاصل۔ردالمحتارمیں ہے:
القبول ترتب الغرض المطلوب من الشیئ قبول کہتے ہیں کسی شے کی غرض مطلوب کا کسی
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتا ب الغصب باب المتفرقات ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۱۵۷€
القرآن الکریم ∞۲۲ /۳۷€
#5797 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
علی شیئ کترتب الثواب علی الطاعۃ ۔ شے پر مرتب ہونا جیسے ثواب کا عبادات پر مرتب ہونا۔(ت)
اسی میں ہے:
معنی الصلاۃ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قد ترد عدم اثابۃ العبد علیہا الخ۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ذات اقدس پر صلوۃ کے مردود ہونیکا مفہوم یہ ہوتاہے کہ بندے کو ثواب نہیں پہنچتا (یعنی اس نے درود تو بھیجا مگر اس کو نفع یعنی ثواب نہ ہوا۔) (ت)
تفسیر کبیر میں ہے:
قال المتکلمون کل عمل یقبلہ اﷲ تعالی فہو یثیب صاحبہا ویرضاہ عنہ واللذی لایثیبہ علیہ ولایرضاہ منہ فہو المردود ۔ متکلمین نےفرمایاکہ جس عمل کو اﷲ تعالی قبول فرمائے تو اس کاثواب اس کے صاحب تك پہنچا دیتاہے اور اس سے راضی ہوتاہے اور جس کا ثواب اسے نہ پہنچائے اور اس سے راضی نہ ہو تو وہ مردود ہے۔(ت)
تو صاف ثابت کہ زید کے نزدیك مال حرام سے تصدق پر بھی استحقاق ثواب ہے اور علماء فرماتے ہیں جو حرام مال سے تصدق کرکے اس پر ثواب کی امید رکھے کافرہو جائےخلاصہ میں ہے:
رجل تصدق من الحرام ویرجوا الثواب یکفر الخ۔ کسی شخص نے حرام مال سے صدقہ کیا اور اس پر ثواب کی امید رکھتاہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔الخ(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
لوتصدق علی فقیر شیئا من المال الحرام و اگر فقیر پر حرام مال میں سے کچھ صدقہ کیا اور ثواب
حوالہ / References ردالمحتار کتا ب الصلٰوۃ باب صفۃ الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۳۴۹€
ردالمحتار کتا ب الصلٰوۃ باب صفۃ الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۳۴۹€
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر)
خلاصہ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃ الجنس السابع ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۳۸۷€
#5798 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
یرجوا الثواب یکفر الخ۔ کی امید رکھتاہے تو وہ کافر ہوجائے گا۔الخ(ت)
زید پر فرض ہے کہ ایسے خرافات سے توبہ کرے اور اسے از سر نو کلمہ اسلام پڑھنا اور اس کے بعد اپنی عورت سے نکاح جدید کرنا چاہئے۔
نظرا الی ماقالہ الفقہاء کما یظہر بمراجعۃ الدر المختار وغیرہ من الاسفارواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اس بات پر نظر رکھتے ہوئے کہ جو کچھ فقہاء کرام نے ارشاد فرمایا جیسا کہ درمختار وغیرہ بڑی کتابوں کی طرف مراجعت سے ظاہر ہوتاہےاﷲ تعالی پاك وبرتر۔سب سے زیادہ علم رکھتاہے اور اس بزرگی والے کا علم زیادہ کامل اور زیادہ پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۳: ۴ رجب ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کو عارضہ جذام کی ابتداء ہے اس کے بھائی بند اور اولاد نے اس کے ساتھ کھانا پینا چھوڑ دیا ہے اور اس سے کہتے ہیں کہ تجھ سے تیری زوجہ بھی بلاطلاق علیحدہ ہوسکتی ہےایسی حالت میں جو حکم شرع مطہرہ میں ایسے مریض کے واسطے ہو بیان فرمائیںاﷲ تعالی اجر دے گا۔(ت)
الجواب:
فی الواقع ضعیف الاعتقاد لوگ جنھیں خدا ئے تعالی پر سچا توکل نہ ہو اور وہمی خیالات رکھتے ہوں انھیں جذامی کے ساتھ کھانے پینے سے بچنا چاہئے۔نہ اس خیال سے کہ اس کے ساتھ کھانے کی تاثیر سے دوسرا شخص بیمار ہوجاتاہے۔یہ خیال محض غلط ہے تقدیر الہی میں جو کچھ لکھا ہے ضرور ہوگا اور جو نہیں لکھا ہے ہرگزنہ ہوگا اﷲ تعالی مسلمانوں کو ارشاد فرماتاہے کہ یوں کہیں:
"قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا ہو مولىنا وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون ﴿۵۱﴾" ۔ ہمیں ہر گز نہ پہنچے گی مگر وہ بات جو الہ تعالی نے ہمارے لئے لکھ دیوہ ہمارا مولی ہے اور مسلمانوں کو اﷲ ہی پر بھروسہ چاہئے۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۷۲€
القرآن الکریم ∞۹ /۵۱€
#5799 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
خود نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایك جذامی کو اپنے ساتھ کھلایا بلکہ یہ لحاظ کرے کہ اس کے ساتھ کھایا پیا اور معاذاﷲ شاید حسب تقدیر الہی کچھ واقع ہواتوشیطان دل میں ڈالے گا کہ اس فعل نے ایسا کیا ورنہ نہ ہوتااس شیطانی خیال سے بچنے کے لئے اس سے احتراز کرے اس لئے حدیث میں حکم ہے کہ:"جذامی سے بچو جیسا کہ شیر سے بچتے ہیں اگر وہ ایك نالے میں اترے تم دوسرے نالے میں اترو "۔
اور ایك حدیث میں ہے کہ:"جذامی سے نیزہ دو نیزہ کے فاصلہ سے بات کرو" ۔
والعیاذ باﷲ رب العالمینیہ اسی کے لئے ہے جسے واقعی جذام ہو نہ یہ کہ خون میں صرف قدرے جوش کی کچھ علامت سی پاکر اسے دور دور کرنے لگیں کہ یہ تو ناحق مسلمان کا دل دکھانا ہے۔خصوصا بھائی بند اولاد کا ایسا کرنا کس قدر خدا ترسی وانسانیت سے بعید ہے۔اﷲ تعالی کی پناہ مانگیں کیا وہ ان کو مبتلا نہیں کرسکتا والعیاذ باﷲ رب العلمین اس طرح کے جوش کی علامت معاذاﷲ بعض اوقات بے مرض جذام بھی خون کی حدت وغیرہ سے پیدا ہوجاتی ہے اور باذن الہی مصفیات وغیرہا کے استعمال سے جاتی رہتی ہےاﷲ تعالی اپنے بلاؤں سے پناہ عطا فرمائے آمیناور لوگوں کا یہ کہنا کہ تیری زوجہ بلاطلاق علیحدہ ہوسکتی ہے اگر اس سے یہ مقصود کہ بے طلاق اس کے نکاح سے نکل سکتی ہے تومحض خطا ہےہمارے مذہب میں جب تك یہ طلاق نہ دے گا وہ ہر گز اس کے نکاح سے باہر نہ ہوگی۔درمختارمیں ہے:
لایتجرا حد الزوجین بعیب الاخر ولو فاحشا کجنون وجذام وبرص ورتق وقرن الخ۔واﷲ تعالی اعلم۔ میاں بیوی میں سے کوئی ایك دوسرے میں عیب پائے جانے کی وجہ سے خواہ عیب حد سے بھی زیادہ ہو جدائی کاحق نہیں رکھتا عیب سے مراد دیوانگیکوڑھبرص (پھلبہری) رتق(مقام ستر کا جڑ جانا)قرن(وہاں ہڈی نکل آنا)اﷲ تعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۴: کیا فرماتے ہیں دین اس مسئلہ میں کہ ایك بھنگی نے کسی برتن میں مردار بکری کی چربی رکھی تھی وہ برتن کتا اس کے یہاں سے لاکر ایك مسلمان عورت کے دروازہ پر ڈال دیا گیا وہ عورت جب باہر کے لوٹے میں چربی دیکھ کر گھر میں لے گئی اور تھوڑی سی چربی اپنے بالوں میں لگائی جس شخص نے
حوالہ / References کنز العمال ∞حدیث ۲۸۳۳۱ ۱۰ /۵€۴
کنز العمال ∞حدیث ۲۸۳۳۱ ۱۰ /۵€۴
کنز العمال ∞حدیث ۲۸۳۲۹ ۱۰/ ۵۴€
درمختار کتاب الطلاق کتا ب العنین ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۵۔۲۵۴€
#5800 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
اسے لوٹا لے جاتے دیکھا تھا اس نے مطعون کیا کہ اس نے سور کی چربی استعمال کی۔یہ سن کر زید اس کے یہاں گیا اور کہا تیرے ایمان میں فرق آگیا تو پھر مسلمان ہواسے مسلمان کیابعدہکہا ہمارا حق مسلمان کرنے کا پانچ روپیہ دےوہ بیچاری اپنی محتاجی کا عذر بھی کرتی رہیآخر سوا روپیہ لے کر چھوڑا۔اور جس نے لوٹالے جاتے دیکھا تھا اسے بھی دبایا کہ تو نے منع کیوں نہ کیا چارآنہ اس سے لیے۔یہ ڈیڑھ روپیہ زید کے لئے حلال تھا یاحرام اور وہ عورت اس صورت میں مسلمان رہی تھی یانہیں بینوا توجروا (بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)فقط
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ عورت گنہگار تو بیشك ہوئی کہ اگر جانتی تھی کہ اس میں مردار کی چربی ہے پھر بالوں میں لگائی تو یہ گناہ اور اگر نہ جانتی تھی تو بزعم خود پرایامال بے مشہور کے اپنے تصرف میں لانے کی مجرم ہوئیبہر حال اس کی معصیت میں شك نہیں مگر معاذاﷲ اتنی بات پر کافرہ نہیں ہوسکتی تجدید کلمہ اسلام بہتر ہے مگر اس فعل کے باعث اس کی حاجت نہ تھیتو زید اس وجہ سے اس عورت کے ایمان میں فرق بتا کر گناہ گا ر ہواپھر تلقین اسلام پر اجرت لینا اس کا دوسرا گنا تھ۔پھر اس دیکھنے والے کو دبا کر اس س چار آنہ لینا تیسرا گناہ ہوا۔
فان ائمتنا لایقولون بالتعزیر بالمال و علی القول بہ فذاك ای الامام دون العوام۔ کیونکہ ہمارے ائمہ کرام مال جرمانہ اور تاوان کے قائل نہیں اور مالی تاوان اور جرمانہ کے قول پر تو یہ امام کو حق ہے عوام کونہیں۔(ت)
یہ ڈیڑھ روپیہ کہ زید نے لیا اس کے حق میں حرام ہے اس پر واجب ہے کہ جن جن سے لیا انھیں پھیر دے کہ اگر کھاچکا ہو تو اپنے پاس سے دے۔بغیر اس کے اس گناہ سے توبہ نہ ہوگی۔
قال تعالی: " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم فقط۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو)ایك دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے باہم نہ کھایا کرو۔اﷲ تعالی سب کچھ خوب جانتا ہے اور اس بڑی شان والے کاعلم زیادہ مکمل اور پختہ ہے فقط (ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲ /۱۸۸€
#5801 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
مسئلہ ۵: از امروہہ مرسلہ مولوی سید محمد شاہ صاحب میلاد خواں ۲۲ شعبان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:بینوا توجروا(بیان کرواور اجر پاؤ۔ت)
مسئلہ ۵ اولی:
اﷲ تعالی کو عاشق اور حضور پرنور سرور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا معشوق کہنا جائزہے یانہیں
الجواب:
ناجائز ہے کہ معنی عشق اﷲ عزوجل کے حق میں محال قطعی ہے۔اور ایسا لفظ بے ورودثبوت شرعی حضرت عزت کی شان میں بولنا ممنوع قطعی۔ردالمحتارمیں ہے:
مجردایھام المعنی المحال کاف فی المنع ۔ صرف معنی محال کا وہم ممانعت کے لئے کافی ہے۔(ت)
امام علامہ یوسف اردبیلی شافعی رحمہ اﷲ تعالی کتا ب الانوار لاعمال الابرار میں اپنے اور شیخین مذہب امام رافعی وہ ہمارے علماء حنفیہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے نقل فرماتے ہیں:
لوقال انا اعشق اﷲ اویعشقنی فبتدع و العبارۃ الصحیحۃ ان یقول احبہ و یحبنی کقولہ تعالی " یحبہم ویحبونہ " ۔ اگر کوئی شخص کہے میں اﷲ تعالی سے عشق رکھتاہوں اور وہ مجھ سے عشق رکھتاہے تو وہ بدعتی ہے لہذا عبارت صحیح یہ ہے کہ وہ یوں کہےکہ میں اﷲ تعالی سے محبت کرتاہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتاہے اﷲ تعالی کے اس ارشاد کی طرح"اﷲ تعالی ان سے محبت رکھتاہے اور وہ لوگ اﷲ تعالی سے محبت رکھتے ہیں"۔ (ت)
اسی طرح امام ابن حجر مکی قدسی سرہ الملکی نے اعلام میں نقل فرما کر مقر رکھا۔
اقول:وظاھر ان منشاء الحکم لفظ یعشقنی دون ادعائہ لنفسہ الاتری الی قولہ ان اقول:(میں کہتاہوں)ظاہر یہ ہے کہ منشائے حکم لفظ"یعشقی" ہے نہ کہ وہ لفظ جس میں اپنی ذات کے لئے دعوی عشق کیا گیا ہے کیا تم
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروا لاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۵۳€
الانوار لاعمال الابرار کتا ب الردۃ المطبعۃ الجمالیہ ∞مصر ۲ /۳۲۱€
#5802 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
العبارۃ الصحیحۃ یحبنی ثم الظاھر ان تکون العبارۃ بواؤالعطف کقولہ احبہ ویحبنی فیکون الحکم لاجل قولہ یعشقنی والا فلا یظہر لہ وجہ بمجرد قولہ اعشقہ فقد قال العلامۃ احمد بن محمد بن المنیر الاسکندری فی الانتصاف ردا علی الزمخشری تحت قولہ تعالی فی سورۃ المائدۃ یحبہم ویحبونہ بعد اثبات ان محبۃ العبد اﷲ تعالی غیر الطاعۃ وانہا ثابتۃ واقعۃ بالمعنی الحقیقی اللغوی مانصہ ثم اذا ثبت اجراء محبۃ العبد ﷲ تعالی علی حقیقتہا لغۃ فالمحبۃ فی اللغۃ اذا تاکدت سمیت عشقا فمن تاکدت محبتہ ﷲ تعالی وظھرت آثارتأکدھا علیہ من استیعاب الاوقات فی ذکرہ وطاعتہ فلا یمنع ان تسمی محبتہ عشقا اذ العشق لیس الا المحبۃ البالغۃ اھ لکن الذی فی نسختی الانوار ونسختین عندی من الاعلام انما ھو بأو فلیستأمل ولیحرر ثم اقول لست بغافل عما اخرج واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اس قول کو نہیں دیکھتے کہ صحیح عبارت"یحبنی"ہے پھر ظاہرہے کہ عبارت واؤ عاطفہ کے ساتھ ہے جیسے اس کا قول ہے احبہویحبنی یعنی میں اس سے محبت رکھتاہوں اور وہ مجھ سے محبت رکھتاہے پھر حکم اس کے یعشقنی کہنے کی وجہ سے ہے ورنہ اس کے صرف اعشقہ کہنے سے کوئی امتناعی وجہ ظاہر نہیں ہوتی۔چنانچہ علامہ احمد بن محمد منیر اسکندری نے "الانتصاف"میں علامہ زمحشری کی تردید کرتے ہوئے فرمایا جو اﷲ تعالی کے اس ارشاد کے ذیل میں جو سورۃ مائدہ میں مذکور ہے:" یحبہم ویحبونہ "(اﷲ تعالی ان سے محبت رکھتاہے اور وہ اس سے محبت رکھتے ہیں)اس بات کو ثابت کرنے کے بعد کہ بندے کا اﷲ تعالی سے محبت کرنا اس کی اطاعت(فرمانبرداری)سے جدا ہے(الگ ہے)اور محبت معنی حقیقی لغوی کے طور پر ثابت اورواقع ہے(جیسا کہ) موصوف نے تصریح فرمائی پھر جب بندے کا اﷲ تعالی سے محبت کرنے کا اجراء حقیقت لغوی کے طریقہ سے ثابت ہوگیا اور محبت بمعنی لغوی جب پختہ اور مؤکد ہوجائے تو اسی کو عشق کا نام دیاجایاتاہے پھر جس کی اﷲ تعالی سے پختہ محبت ہوجائے اور اس پر پختگی محبت کے آثار ظاہر ہوجائیں(نظر آنے لگیں) کہ وہ ہمہ اوقات اﷲ تعالی کے ذکر وفکر اور اس کی اطاعت میں مصروف رہے تو پھر کوئی مانع نہیں کہ اس کی محبت کو عشق کہا جائے۔کیونکہ
حوالہ / References کتاب الانتصاف علی تفسیر الکشاف تحت آیۃ یحبہم و یحبونہ الخ ا نتشارات ∞آفتا ب تہران ایران ۱ /۶۲۲€
#5803 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
محبت ہی کا دوسرا نام عشق ہے اھ لیکن میرے پاس جو نسخہ"الانوار"ہے وہ دو نسخے میرے پاس"الاعلام"کے ہیں ان میں عبارت مذکورہ صرف"آو"کے ساتھ مذکور ہے لہذا غور وفکر کرنا چاہئے اور لکھنا چاہئے میں کہتاہوں کہ میں نے اس سے بے خبر نہیں جس کی موصوف نے تخریج فرمائی اور اﷲ تعالی خوب جانتاہے اور اس عظمت والے کاعلم بڑا کامل اوربہت پختہ ہے۔ (ت)
مسئلہ ۶ ثانیہ:کیا حکم شرع شریف کا اس بارے میں کہ مدینہ شریف کو"یثرب"کہنا جائز ہے یا نہیں اور جو شخص یہ لفظ کہے اس کی نسبت کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
مدینہ طیبہ کو یثرب کہنا ناجائز وممنوع وگناہ ہے اور کہنے والا گنہگار۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سمی المدینۃ یثرب فلیستغفر اﷲ ھی طابۃ ھی طابۃرواہ الامام احمد بسند صحیح عن البراء ان عازب رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو مدینہ کو یثرب کہے اس پر توبہ واجب ہے۔مدینہ طابہ ہے مدینہ طابہ ہے۔(اسے امام احمد نے بسند صحیح براء بن عازب رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
فتسمیتھا بذلك حرام لان الاستغفار انما ھو عن خطیئۃ ۔ یعنی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدینہ طیبہ کا یثرب نام رکھنا حرام ہے کہ یثرب کہنے سے استغفار کاحکم فرمایا اور استغفار گناہ ہی سے ہوتی ہے۔
ملا علی قاری رحمہ الباری مرقاۃ شریف میں فرماتے ہیں:
قد حکی عن بعض السلف تحریم بعض اسلاف سے حکایت کی گئی ہے کہ مدینہ منورہ
حوالہ / References مسند امام احمد بن حنبل عن براء بن عازب رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۲۸€۵
التیسیر شرح جامع الصغیر تحت حدیث من سمی المدینۃ یثر ب الخ مکتبہ الامام الشافعی ∞ریاض ۲ /۴۲۴€
#5804 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
تسمیۃ المدینۃ بیثرب ویؤیدہ مارواہ احمد لافذکر الحدیث المذکور ثم قال)قال الطیبی رحمہ اﷲ تعالی فظہران من یحقر شان ما عظمہ اﷲ تعالی ومن وصف ماسماہ اﷲ تعالی بالایمان بمالایلیق بہ یستحق ان یسمی عاصیا الخ۔ کویثرب کہنا حرام ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو امام احمد نے روایت فرمایا ہے۔پھر حدیث مذکور بیان فرمائی۔پھر علامہ طیبی رحمہ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا پس اس سے ظاہر ہو اکہ جو اس کی شان کی تحقیر کرے کہ جس کو اﷲ تعالی نے عظمت بخشی اور جس کو اﷲ تعلی نے ایمان کانام دیا اس کا ایسا وصف بیان کرے جو اس کے لائق اور شایان شان نہیں تو وہ اس قابل ہے کہ اس کا نام عاصی(گنہگار)رکھا جائے الخ(ت)
قرآن عظیم میں کہ لفظ یثرب آیا وہ رب العزت جل وعلا نے منافقین کا قول نقل فرمایا ہے:
" و اذ قالت طائفۃ منہم یاہل یثرب لا مقام لکم " ۔ جب ان میں سے ایك گروہ نے کہااے یثرب کے رہنے والو! تمہارے لئے کوئی جگہ اور ٹھکانا نہیں۔(ت)
یثرب کا لفظ فساد وملامت سے خبر دیتاہے وہ ناپاك اسی طرف اشارہ کرکے یثرب کہتے اﷲ عزوجل نے ان پر رد کے لئے مدینہ طیبہ کا نام طابہ رکھاحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یقولون یثرب وھی المدینۃ۔رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ وہ اسے یثرب کہتے ہیں اور وہ تو مدینہ ہے۔(اس کو بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان اﷲ تعالی سمی المدینۃ بے شك اﷲ عزوجل نے مدینہ کا نام
حوالہ / References المرقاۃ شرح المشکوٰۃ کتاب المناسك ∞تحت حدیث ۲۷۳۸ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۵ /۶۲€۲
القرآن الکریم ∞۳۳ /۱۳€
صحیح البخاری فضائل المدینۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۲،€صحیح مسلم کتاب الحج باب المدینۃ تنفی خبثہا الخ ∞۱ /۴۴۴€
#5805 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
طابۃ۔رواہ الائمۃ احمد ومسلم والنسائی عن جابر بن سمرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ طابہ رکھا۔(اسے ائمہ احمدمسلم اور نسائی نے جابر بن سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
مرقاۃ میں ہے:
المعنی ان اﷲ تعالی سماھا فی اللوح المحفوظ او امرنبیہ ان یسمیھا بہا ردا علی المنافقین فی تسمیتھا بیثرب ایماء الی تثریبہم فی الرجوع الیہا ۔ مفہوم یہ ہے کہ اﷲ تعالی نے لوح محفوظ میں مدینہ منورہ کانام"طابہ"رکھا ہے یا اپنے محبوب نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ وہ مدینہ پاك کا نام طابہ رکھیں یثرب رکھنے میں اہل نفاق کارد کرتے ہوئے ان کی سرزنش (توبیخ)کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ انھوں نے پھر نازیبا (یامتروک)نام کی طرف رجوع کرلیا۔(ت)
اسی میں ہے:
قال النووی رحمہ اﷲ تعالی قد حکی عیسی بن دینار ان من سماھا یثرب کتب علیہ خطیئۃ واما تسمیتھا فی القران بیثرب فہی حکایۃ قول المنافقین الذین فی قلوبہم مرض ۔ امام نووی رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا عیسی بن دینار رحمۃ اﷲ علیہ سے حکایت کی گئی ہے کہ جس کسی نے مدینہ طیبہ کا نام یثرب رکھا یعنی اس نام سے پکارا تو وہ گناہ گار ہوگاجہاں تك قران مجید میں یثرب نام کے ذکر کا تعلق ہے تو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ منافقین کے قول کی حکایت ہے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے۔(ت)
بعض اشعار اکابرمیں کہ یہ لفظ واقع ہواان کی طرف سے عذر یہی ہے کہ اس وقت اس حدیث وحکم پر اطلاع نہ پائی تھی جو مطلع ہوکر کہے اس کے لئے عذر نہیں معہذا شرع مطہر شعر وغیرہ شعر
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۵ /۸۹،€صحیح مسلم کتا الحج باب المدینۃ تنفی خبثہا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۵€
المرقاۃ شرح المشکوٰۃ کتا ب المناسك ∞حدیث ۲۷۳۸ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۵/ ۶۲€۲
المرقاۃ شرح المشکوٰۃ کتا ب المناسك ∞حدیث ۲۷۳۸ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۵ /۶۲۲€
#5806 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
سب پر حجت ہے۔شعر شرع پر حجت نہیں ہوسکتا مولانا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قد سرہمشکوۃمیں فرماتے ہیں:
آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم او رامدینہ نام نہاد از جہت تمدن واجتماعی مردم واستیناس و ایتلاف ایشاں دردے ونہی کرد از خواندن یثرب یا از جہت آنکہ نام جاہلیت است یا سبب آنکہ مشتق از یثرب بمعنی ہلاك وفساد وتثریب بمعنی توبیخ وملامت ست یا بتقریب آنکہ دراصل نام صنمے یا یکے از جبابرہ بودبخاری درتاریخ خود حدیثے آوردہ کہ یکبار یثرب گوید باید کہ دہ بار مدینہ گوید تاتدارك و تلافی آں کند ودر روایتے دیگر آمدہ باید کہ استغفار کند و بعضے گفتہ اند کہ تعزیر باید کرد قائل آں را وآنکہ درقرآن مجید آمدہ است یا اہل یثرب از زباں منافقان ست کہ بذکر آں قصد اہانت آن می کردند عجب کہ برزبان بعضے اکابر دراشعار لفظ یثرب آمدہ انتہی۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ۔ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس کا نام"مدینہ" رکھااس کی وجہ وہاں لوگوں کارہنا سہنا اور جمع ہونا اور اس سے انس ومحبت رکھنا ہے اور آپ نے اسے یثرب کہنے سے منع فرمایا اس لئے کہ یہ زمانہ جاہلیت کا نام ہے یا اس لئے کہ یہ"ثرب"سے بنا ہے جس کے معنی ہلاکت اور فساد ہے اور تثریب بمعنی سرزنش اور ملامت ہے یا اس وجہ سے کہ یثرب کسی بت یا کسی جابر و سرکش بندے کا نام تھا۔امام بخاری اپنی تاریخ میں ایك حدیث لائے ہیں کہ جو کوئی ایك مرتبہ "یثرب"کہہ دے تو اسے دس مرتبہ"مدینہ"کہنا چاہئے تاکہ اس کی تلافی اور تدارك ہو جائے قرآن مجیدجو"یا اھل یثرب" آیا ہے تو وہ اہل نفاق کی زبان سے اد اہوا ہے کہ یثرب کہنے سے وہ مدینہ منورہ کی توہین کا ارادہ رکھتے تھےایك دوسری روایت میں ہے کہ یثرب کہنے والا اﷲ تعالی سے استغفار کرے اور معافی مانگے اور بعض نے فرمایا کہ اس نام سے پکارنے والے کو سزا دینی چاہئے۔حیرت کی بات ہے کہ بعض بڑے لوگوں کی زبان سے اشعار لفظ یثرب صادر ہوا ہے۔ انتہیاور اﷲ تعالی خوب جانتا ہے اور عظمت وشان والے کا علم بہت پختہ اور بڑا مکمل ہے۔(ت)
مسئلہ ۷: از کانپور مرسلہ مولوی وصی احمد سورتی ۲۱ ماہ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بت پرست کافر نے اپنے بت کے نام
حوالہ / References اشعۃ اللمعات شرح المشکوٰۃ کتا ب المناسك باب حرم المدینۃ ∞مکتبہ نوری رضویہ سکھر ۲ /۹۴۔۳۹۳€
#5807 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
بغرض تقرب روپیہ اٹھارکھا اسی مبلغ منذور سے بایں نیت اسباب اکل وشرب خریدا کہ خاص دن جس میں نذر ادا کی جاتی ہے۔ دعوت کھلائی جائے جب وہ دن آن پہنچا تو وہ ہندو اہل اسلام سے کہنے لگا کہ میری نیت ہےکہ میں تمام اہل اسلام کو ﷲ اس مال مذکورسے کھلاؤں اسی موجب اس ہندو نے مسلمانوں کو بکرے چاول وغیرہا دئےبروقت دینے کے مکر رسہ کرر ﷲ دیتاہو کہا بعض مسلمانوں نے وہ مال منذور قبول کرلیا آپس میں پکا کر دعوتیں کیں بعض لوگ باز رہے لہذا باہمی اختلاف واقع ہوا ہے آپ ﷲ جواب سے سرفراز فرمائیںآیا اس کافر کا قول"جو ﷲ دیتاہوں"کہا معتبر ہے یانہیں۔کھانا درست ہوگا یا نہیں در صورت ثانی جو لوگ کھا چکے ہیں وہ لوگ کس امر کے مرتکب ہوئے مفصل تحریر ہو۔بینوبالکتاب توجروا بالثواب(کتاب اﷲ کے حوالے سے بیان کرو تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
کافر مشرك کا کوئی عمل ﷲ نہیں فان الکفر ھو الجہل باﷲ فاذا جہلہ فکیف یعمل لہ(چونکہ اﷲ تعالی کو نہ جاننا کفر ہے پھر جب یہ اس کو نہیں جانتا(یعنی اس کے معاملے میں جہالت کا برتاؤ کرتاہے تو اس کے لئے عمل کیسے کرسکتاہے۔ت)مسلمان مال مذکور (نامکمل)
مسئلہ ۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہل اسلام میں سے کوئی شخص بغرض تماشہ دیکھنے کے کسی میلے اہل ہنود کے میں قصدا جائے تو اس کی عورت نکاح سے باہرہوجاتی ہے یا نہیں۔اگر چہ وہ شخص یہ تو جانتاہے کہ ہنود کے میلے میں جانا گناہ ہے اور اس شخص کے واسطے کیا حکم ہے جو کسی رئیس قوم ہنود کا ملازم ہے وہ بوجہ ملازمت کے اپنے آقا کے ساتھ مجبورا جائے۔ بینوا توجروا
الجواب:
کافروں کے میلے میں جانے سے آدمی کافرنہیں ہوتا کہ عورت نکاح سے نکل جائےجو لوگ ایسے فتوے دیتے ہیں شریعت مطہرہ پر افتراء کرتے ہیںالبتہ اس میں شریك ہونا مسلمان کو منع ہے۔ حدیث میں ہے:
من کثرسواد قوم فہو منہم ۔ جس شخص نے کسی قوم کی جماعتی تعداد میں اضافہ کیا تو وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
دوسری حدیث میں ہے:
حوالہ / References کنز العماال ∞حدیث ۲۴۷۳۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۹ /۲۲€
#5808 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
من جامع المشرك وسکن معہ فانہ مثلہ ۔ جوکوئی کسی مشرك کے ساتھ جمع ہوا اور اس کے ساتھ ٹھہرا تو بیشك وہ اسی مشرك کی برح ہے۔(ت)
علماء فرماتے ہیں مسلمان کو چاہئےکہ مجمع کفار پر ہو کرنہ گزرے کہ ان پر لعنت اترتی ہے اور پر ظاہر کہ ان کا میلہ صدہا کفر کے شعار اور شرك کی باتوں پر مشتمل ہوگا اور یہ ممانعت وازالہ منکر پرقادرنہ ہوگاتو خواہی نخواہی گونگاشیطان اور کافر کا تابعدار ہوکر مجمع کفار میں رہنا اور ان کے کفریات کو دیکھنا سننا مسلمان کی ذلت ہے اور کافر کی نوکری مسلمان کے لئے وہی جائز ہے جس میں اسلام ومسلم کی ذلت نہ ہو نص علیہ العلماء کمافی الغمز وغیرہ(علماء کرام نے اس کی تصریح فرمائی جیساکہ الغمز وغیرہ میں مذکور ہے۔ت)رزق اﷲ کے ذمہ ہے اور اس کے راستے کھلے ہوئےتو عذر مجبوری غلط ہے۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(اور اﷲ تعالی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے اور اس بزرگ وعظیم ذات کا علم بڑا کامل اور زیادہ محکم ہے۔ ت)
مسئلہ ۹: از ڈونگر گڑھ ضلع رائے پور سنٹرل پرونسس مرسلہ شیخ حسین الدین احمد صاحب ۸/ شعبان ۱۳۱۳ھ
زید شراب پیتاہے اور زید عمرو کو ورغلا کر شراب پلائی وہ بھی پینے لگا تھوڑے عرصہ میں زید تائب ہوا اور قطعا شراب چھوڑ دی مگر عمر وپیتا رہاتو کیا عمرو کے موأخذہ میں زید بھی پکڑا جائے گااگر پکڑا جائے گا تو زید کے بچنے کی کون سی صور ت ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
سچی توبہ اﷲ عزوجل نے وہ نفیس شیئ بنائی ہے کہ ہر گناہ کے ازالہ کو کافی ووافی ہے۔کوئی گناہ ایسانہیں کہ سچی توبہ کے بعد باقی رہے یہاں تك کہ شرك وکفرسچی توبہ کے یہ معنی ہیں کہ گناہ پر اس لئے کہ وہ اس کے رب عزوجل کی نافرمانی تھی نادم وپریشان ہو کر فورا چھوڑدے اور آئندہ کبھی اس گناہ کے پاس نہ جانے کا سچے دل سے پورا عزم کرے جو چارہ کار اس کی تلافی کا اپنے ہاتھ میں ہو بجالائے مثلا نماز روزے کے ترك یا غصبسرقہرشوتربا سے توبہ کی توصرف آئندہ کے لئے ان جرائم کا چھور ڈینا کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جو نماز روزے ناغہ کئے ان کی قضا کرے جو مال جس جس سے چینا چرایارشوتسود میں لیا انھیں اور وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی الاقامۃ بارض الشرك ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹€
#5809 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
واپس کردے یا معاف کرائےپتا نہ چلے توا تنا مال تصدق کردے اور دل میں نیت رکھے کہ وہ لوگ جب ملے اگرتصدق پرراضی نہ ہوئے اپنے پاس سے انھیں پھیردوں گا۔ شرح فقہ اکبر میں ہے:
قدنصوا علی ان ارکان التوبۃ ثلثۃ الندامۃ علی الماضی والا قلاع فی الحال والعزم علی عدم العود فی الاستقبال ھذا ان کانت التوبۃ فیما بینہ وبین اﷲ کشرب الخمر واما ان کانت ھما فرط فیہ من حقوق اﷲ کصلوۃ و صیام وزکوۃ فتوبتہ ان یندم علی تفریطہ اولا ثم یعزم علی ان لایعود ابداء ولو بتاخیر صلاۃ عن وقتہا ثم یقضی مافاتہ جمیعا وان کانت مما یتعلق بالعباد فان کانت من مظالم الاموال فتتوقف صحۃ التوبۃ منہا مع ماقدمناہ فی حقوق اﷲ تعالی علی الخروج عن عہدۃ الاموال وارجاء الخصم بان یتحلل عنہم ایردھا الیہم اوالی من یقوم مقامہم من وکیل او وارث وفی القنیۃ رجل علیہ دیون لاناس لایعرفہم من غصوب اومظالم اوجنایات یتصدق اہل علم نے تصریح فرمائی ہیے کہ توبہ کے ارکان تین ہیں(۱) گزشتہ جرم پر ندامت یعنی نادم وشرمسار ہونا(۲)موجودہ طرز عمل کو درست رکھنا اور گناہ کا ازالہ وبیخ کنی کرنا(۳)آئند کے لئے گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرنایہ اس وقت کا کام ہے جبکہ توبہ بندے اور اﷲ تعالی کے درمیان ہوجیسے شراب نوشیلیکن اگر اس نے حقوق اﷲ میں کوتاہی کی اور ان سے توبہ کرنا چاہے جیسے نمازروزے اور زکوۃ وغیرہ کی ادائیگی میں غفلت اور کوتاہی کی تو اس کے لئے توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کو تاہی پر نادم ہو پھر پختہ ارادہ کرے کہ آئندہ ان کی ادائیگی میں غفلت سے کام نہیں لے گا اور انھیں ہر گز ضائع نہیں کرے گاپھر تمام ضائع کردہ حقوق کی قضا کرے اور اگر ضائع کردہ حقوق کا تعلق بندوں سے ہو تو صحت تو بہ اس پر موقوف ہے جس کو ہم نے پہلے حقوق اﷲ کے ضمن میں بیان کردیا ہے کہ اس کی صورت میں اموال کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا اور مظلوم کو راضی کرنا ضروری ہے جن کا مال غصب کیا گیاوہ انھیں واپس کیاجائے یا ان سے معاف کرایا جائے اور وہ متعلقہ افراد موجود اوربقید حیات نہ ہوں تو ان کے ورثاء متعلقین اور قائم مقام افراد و وکلاء کے ذریعے اموال کی واپسی او ر معافی عمل میں
#5810 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
بقدر ھا علی الفقراء علی عزیمۃ القضاء ان وجدھم مع التوبۃ علی اﷲ تعالی فیعذر انتہی وان کانت المظالم فی الاعراض کالقذف والغیبۃ فیجب فی التوبۃ فیہا مع قدمناہ فی حقوق اﷲ تعالی ان یخبرا صحابہا بما قال من ذلك ویتحلل منہم فان تعذر ذلك فلیعزم علی انہ متی وجدھم تحلل منہم فان عجزبان کان میتا فلیستغفراﷲ والمرجو من فضلہ وکرمہ ان یرضی خصمائہ من خزائن احسانہ فانہ جواد کریم رؤف رحیم اھ ملتقطا۔ لائی جائےقنیہ میں ہے اگر کسی شخص پر لوگوں کے قرضہ جات مثلا غصبمظالماورجنایات کی قسم سے ہوں اور توبہ کرنے والا ان متعلقہ افراد کو نہیں جانتا پہچانتا تو اتنی مقدار فقراء ومساکین میں قضا کی نیت سے خیرات کردےاﷲ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کرنے کے باوجود اگر ان افراد کو کہیں پالے تو ان سے معذرت کرے(یعنی ان سے معافی مانگے اھ)اگر مظالم کا تعلق عزت وغیرہ سے ہو جیسے کسی گمراہ کو گالی دیناغیبت کرناتو ان میں وجوب توبہ اس شرط سمیت جو ہم نے حقوق اﷲ کے ضمن میں بیان کئے ہیں یہ ہے کہ جو کچھ اس نے ان کے بارے میں کہا انھیں اس جرم پر اطلاع دے اور ان سے معافی مانگےاگر یہ مشکل ہو تو پختہ ارادہ کرلے کہ جب بھی انھیں پائے گا تو ضرور معذرت کرے گااگر اس طریقہ سے بھی عاجز ہوجائے یعنی مظلوم وفات پاگیا ہو تو پھر اﷲ تعالی سے بخشش مانگےاور اﷲ تعالی کے فضل وکرم سے قوی امید ہے کہ وہ مظلوم مرحوم کو اپنے جو دواحسان کے خزانوں میں سے دے کر راضی کردے گا اور دونوں میں صلح کر ادے گا کیونکہ وہ بے حد سخیکرم کرنے والا۔انتہائی شفقت فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
انتخاب کردہ عبارت مکمل ہوگئی۔(ت)
مسئلہ ۱۰: از لکھنؤ محلہ رام گنج متصل حسین آباد مرسلہ اسد اﷲ خاں کوبك غرہ شعبان معظم ۱۳۱۵ھ
چہ مے فرمایند علائے دین ومفتیان شرع متین دریں باب کہ شیرینی از دکان حلوائی ہندو خرید کردہ اگر فاتحہ خواند وثواب آں بروح رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا دیگر بزرگان دین رساند جائز ست یا نہوجمہور ایں طریق علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ہندو حلوائی کی دکان سے مٹھائی خرید کر فاتحہ پڑھی جائے اور اس کا ثواب رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی روح مبارك یا دیگر بزرگان دین کی ارواح
حوالہ / References منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر التوبۃ وشرائطہا مصطفی البابی ∞مصر ص۵۹۔۱۵۸€
#5811 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
فاتحہ راجواز گفتہ اندیانہواحتراز از یشاں بایآت قرآنی و احادیث نبوی جائز ست یانہوایشاں کافراند یا مشرک و بصورت دیگر اگر کسے ایشاں را کافر ومشرك گوید دربارہ اوچہ حکم است بینو توجروا کو ایصال کیا جائے تو کیایہ جائز ہے جمہور اہل علم اس کے جواز کے قائل ہیں یا نہیں قرآن وحدیث کی رو سے یہ لوگ کافر ومشرك قرار پاتے ہیں یا نہیں اور ان سے پرہیز کرنا چاہئے یا نہیں اگر کوئی شخص انھیں کافر و مشرك نہ خیال کرے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔(ت)
الجواب:
ہندو ان قطعا کافران ومشرکانند ہر کہ ایشاں را کافر ومشرك نداند خود کافر ست آرے درویشاں طائفہ تازہ بر آمدہ کہ خود را آریہ خوانند وبزبان دعوی توحید کنند ودم تحریم بت پرستی زنند فاما برادری والفت ویك جہتی ایشاں ہر چہ ہست یاہمیں بت پرستان ست کہ سنگ وآب ودرخت وپیکر ہائے تراشیدہ را بخدائے پرستند ایناں راہم مذہب وبرادری دینی خواشاں دانند وازنام مسلمانان درآب وآتش مانند
" قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾ " ۔باز ایں خبیثاں اگر چہ بظاہر از پرستش غیر محترز مانند مادہ وروح ہر دو راہمچو خدا قدیم وغیر مخلوق دانند پس شرك اگر درعبارت نشد در وجوب وجود شد بہر وجہ سہ الہ برایشاں لازم ست واو قطعا بمشرکیت پس آں ادعائے توحید ہمہ پادر ہواست ہندو بلاشبہ قطعی طور پر کافر اور مشرك ہیں لہذا جو انھیں کافر و مشرك نہ جانے وہ خود کافر ہوجاتاہے ان میں ایك نیا فرقہ نکلا ہے جو آریہ کہلاتاہے وہ زبانی طور پر توحید کادعوی کرتے ہیں اور بت پرستی کے حرام ہونے کا اقرار بھی کرتے ہیں لیکن برادری الفت ومحبت اور اتحاد میں ان کا رویہ بت پرستوں سے مختلف نہیںان بت پرستوں کے ساتھ ان کی الفت ومحبت ان کا اتحاد قائم ہے جو پتھرپانیدرختوں اور تراشیدہ مورتیوں کو خدا سمجھتے ہوئے پوجتے ہیں اور یہ انھیں اپنا ہم مذہب اور دینی بھائی خیال کرتے ہیں(اور مسلمانوں کے نام سے پانی آگ بن جاتےہیں یعنی ان کے نام سے بھی جلتے ہیں اﷲ تعالی ان کا ستیا ناس کرے کہا ں اوندھے پھرے جاتے ہیں۔
پھریہ خبیث اگرچہ غیر کی عبادت وبندگی سے پرہیز کرتے ہیں مگر مادہ اور
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۹ /۳۰€
#5812 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
واگر فر کنیم غایت آنکہ ہمیں مشرك نباشد اما ادر کفر ایشاں چہ جائے سخن ہر کہ بامحمد رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم نگردہ کافر ست دہر کہ را کافر نداند خود باوہمسر ست قال اﷲ تعالی " ومن یبتغ غیر الاسلم دینا فلن یقبل منہ وہو فی الاخرۃ من الخسرین﴿۸۵﴾ " اگر دوستی ومولات با ہرکافر کہ باشد حرام اشد وکبیرہ اعظم ست واگربربنائے میل دینی باشد خود کفر قال اﷲ تعالی " ومن یتولہم منکم فانہ منہم "
وصحبت و مخالطت بے دوستی وموانست اگر درکار دنیوی بر بنائے ضرورت بقدر ضرورت بے تعظیم وتکریم وبے مداہنت درکار دین باشد رخصت ست ورنہ اینہم حرام مگر بحالت اکراہ شرعی قال اﷲ تعالی " فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔وقال تعالی الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن" ۔و درشرینی ساختہ ایشاں تاآنکہ بالخصوص دروخلط نجاستے یا چیزے حرام معلوم بناشد فتوی جواز ست وتقوی احتراز کماا نص علیہ فی الاحتساب ودرفاتحہ از واحتر از نسب ست فان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب وطیب بودن اشیائے روح دونوں کہ اﷲ تعالی کی طرح قدیم اور غیر مخلوق مانتے ہیں اور کہتے ہیں۔پس اگرعبادت میں شرك نہ ہوا تو وجوب وجود میں شرك ہوگیا پس ہر وجہ سے ان پر تین خدا لازم ہوگئے لہذا وہ یقینا مشرك ہیںان کا دعوی توحید ہوا میں پاؤں رکھنے کے مترادف ہے۔اگر ہم آخری درجہ پر فرض کرلیں کہ ہوہ مشرك نہیں تاہم ان کے کفر یعنی کافر ہونے میں بات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اس لئے کہ جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ نہ ہو وہ کافر ہے اور جو انھیں کافر نہ جانے وہ خود کفر میں ان کے ساتھ برابر ہےچنانچہ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے(اور اس کا طلب گار ہو)تو وہ اس سے ہر گز قبول نہ کیا جائےگا۔بلکہ وہ دار آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگالہذا ہر کافر سے دوستی اور ملاپ سخت منع حرام اور بہت بڑا گناہ ہے اور اگر دینی رجحان کی بناء پر ہو تو بلا شبہ کفر ہے۔چنانچہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:جو کوئی تم میں سے ان(کافروں)سے دوستی رکھے گا تو بلا شبہ وہ انہی میں سے ہے۔اور اگر
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۳ /۷۵€
القرآن الکریم ∞۵/ ۵۱€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
القرآن الکریم ∞۱۶ /۱۰۶€
مسند امام حمد بن حبنل حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۳۲۸€
#5813 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
ایشاں اگر چہ بحکم طاہر ست اما بیاطن مشکوك پس اسلم ہماں ست کہ حتی الامکان در ہمچوں امور نفیسہ گرد اونگر دند کما فصلنا ہ فی فتاونا ورنہ خیر کہ اصل دراشیاء طہارت ست ویقین بہ شك زائل نشود والدین یسر قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حرام بعینہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ مجلس اور میل جول بر بنائے ضرورت بقدر ضرورت بغیر دوستی اور انس ومحبت کے بلا تعظیم وتکریم اور بغیر دینی نقصان یا کمزوری کے ہو تو اس کی اجازت اور رخصت ہے۔بصورت دیگر میل جول اور مجلس بھی حرام ہے۔ہاں اگر کوئی فریق مخالف کے جبر واکراہ کے باعث مجبور ہوجائے تو وہ مستثنی ہے۔چنانچہ اﷲ تعالی کاارشاد ہے کہ یاد آجانے کے بعد ظالموں کے پاس ہر گز مت بیٹھو نیز ارشاد فرمایا:"کفر یہ بات زبان سے نکالنی کفر ہے مگر اس کہ کسی پر زبردستی کی جائے(یعنی اسے کفر کہنے پر مجبور کیا جائے۔مترجم)تو وہ(اپنی جان بچانے کے لئے۔مترجم)کلمہ کفر کہہ سکتا ہے بشرطیکہ اس کا دل (بدستور)ایمان پر قائم اور مطمئن ہو رہی یہ بات کہ ان کے ہاتھوں کی بنی ہوئی مٹھائی کا استعمال تو جب تك خصوصیت سے اس میں کسی نجاست یا حرام کی ملاوٹ نہ ہو تو بنائے فتوی اس کا استعمال جائز ہے۔مگر تقوی یہ ہے کہ اس سے بھی پرہیز کیا جائے جیسا کہ"نصاب الاحتساب"میں صراحۃ مذکور ہ۔لہذ فاتحہ کے عمل کے لئے اس سے پرہیز زیادہ مناسب ہے۔اس لئے کہ اﷲ تعالی(بیحد)پاك ہے لہذا وہ پاکیزہ چیزوں کے علاوہ کوئی چیز قبول نہیں فرماتا۔اور کافروں کی چیزیں اگر چہ ظاہری اور سرسری حکم میں پاك متصور ہوتی ہیں مگر درحقیقت مشتبہ اور مشکوك ہوتی ہیں لہذا وہ سلامتی اسی میں ہے کہ اس قسم کے نفیس کاموں کے سلسلے میں حتی الامکان کفارومشرکین کے نزدیك نہ جائیں جیسا کہ ہم نے اپنے فتوی میں اس کو تفصیل سے بیان کیاورنہ خیر(کچھ مضائقہ نہیں)کیونکہ اصل اشیاء میں طہارت پائی جاتی ہے اور یقین شك سے زائل نہیں ہوتا اور دین کی بنیاد آسانی پرہےچنانچہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین چیز کے حرام ہونے کو نہ جانیںاﷲ تعالی خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عالم وفقیہ کو گالی دے یا حقارت کرے تو
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الایمان باب الدین یسر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲€
#5814 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
اس کے اوپر حکم کفرجاری ہوگا یانہیں اور اکثر عوام الناس اس زمانے میں عالموں کو گالی دیتے اور حقارت اور غیبت کرتے ہیں بینوا توجروا
الجواب:
غیبت تو جاہل کی بھی سوا صور مخصوصہ کے حرم قطعی وگناہ کبیرہ ہے۔قرآن عظیم میں اسے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا فرمایا۔ حدیث میں آیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والغیبۃ فان الغیبۃ اشد من الزنا ان الرجل قد یزنی ویتوب اﷲ علیہ وان صاحب الغیبۃ لایغفر لہ حتی یغفرلہ صاحبہرواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابو الشیخ فی التوبیخ عن جابر بن عبداﷲ وابی یوسف الخدری رضی اﷲ تعالی عنہم۔ غیبت سے بچو کہ غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ زانی توبہ کرے تو اﷲ تعالی اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے اور غیبت کرنے والے کی بخشش ہی نہ ہوگی جب تےك وہ نہ بخشے جس کی غیبت کی تھی(اس کو ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ میں اور ابو الشیخ نے توبیخ میں جابر بن عبداﷲ اور ابوسعید خدری سے روایت کیا اﷲ تعالی ان سے راضی ہو۔(ت)
یوہیں بلا وجہ شرعی کسی مسلمان جاہل کی بھی تحقیر حرام قطعی ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یحسب امری من الشران یحقرا خاہ المسلم کل المسلم علی المسلم حرام دمہ ومالہ وعرضہرواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ آدمی کے بد ہونے کو یہ بہت ہے کہ اپنے بھائی مسلمان کی تحقیر کرے مسلمان کی ہر چیز مسلمان پر حرام ہے خون آبرو مال(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اسی طرح کسی مسلمان جاہل کو بھی بے اذن شرعی گالی دیناحرام قطعی ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References الغیبۃ والنمیمۃ رسالہ عن رسائل ابن ابی الدنیا باب الغیبۃ وذمہا ∞حدیث ۲۵€ موسسۃ الکتب الثقافیۃ ∞۲ /۴۶€
صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب تحریم خلم المسلم وخذلہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۷€
#5815 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
سباب المسلم فسوق رواہ البخاری ومسلم و الترمذی والنسائی وابن ماجۃ والحاکم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ مسلمان کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے(اسے امام بخاریمسلم ترمذینسائیابن ماجہ اور حاکم نے ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
سباب المسلم کالمشرف علی الہلکۃرواہ الامام احمد والبزار عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما بسند جید۔ مسلمان کو گالی دینے والا اس شخص کی مانند ہے جو عنقریب ہلاکت میں پڑ اچاہتاہے۔(اسے امام احمد اور بزار نے عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ تعالی کو ایذا دی(اسے امام طبرانی نے الاوسط میں سند حسن کے ساتھ حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
جب عام مسلمانوں کے باب میں یہ احکام ہیں تو علماء کرام کی شان تو ارفع واعلی ہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایستخف بحقہم الامنافق۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ علماء کو ہلکا نہ جانے گا مگر منافق(طبرانی نے کبیر میں ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الایمان باب سباب المسلم فسوق ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۸،€جامع الترمذی ابوا ب البر و الصلۃ ماجاء فی الشتم ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۹،€سنن ابن ماجہ ابواب الفتن ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۹۱€
الترغیب والترہیب بحوالہ البزار الترھیب من السباب واللعن مصطفی البابی ∞مصر ۳ /۴۶۷€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۳۶۳۳€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۴ /۳۷۳€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۷۸۱۹€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۸ /۲۳۸€
#5816 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لایستخف بحقہم الامنافق بین النفاق رواہ ابو الشیخ فی التوبیخ عن جابر بن عبداﷲ الانصاری رضی اﷲ تعالی عنہما۔ ان کے حق کو ہلکا نہ سمجھے گا مگر کھلا منافق(اسے ابوالشیخ نے التوبیخ میں حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
لیس من امتی من لم یعرف لعالمناحقہ۔رواہ احمد والحاکم والطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت سے نہیں۔(اسے احمدحاکم اور طبرانی نے کبیر میں عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
پھر اگر عالم کو اس لئے برا کہتاہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے اور اگر بوجہ علم اس کی تعظیم فرض جانتاہے مگر اپنی کسی دنیوی خصومت کے باعث برا کہتاہے گالی دیتاتحقیر کرتاہے تو سخت فاسق فاجر ہے اگر بے سبب رنج رکھتاہے تو مریض القلب خبیث الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔ خلاصہ میں ہے:
من ابغض عالما من غیر سبب ظاھر خیف علیہ الکفر ۔ جو کسی عالم سے بغیر سبب ظاہری کے عداوت رکھتاہے اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔(ت)
منح الروض الازہر میں ہے۔الظاھر انہ یکفر (ظاہر یہ ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا۔ت)
واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اور اﷲ تعالی سب سے بڑا علام ہے اور اس عزت ووقیر والے کا علم بڑا کامل اور بہت پختہ(محکم)ہے۔(ت)
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ ∞حدیث ۴۳۸۱۱€ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۱۶ /۳۲€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث عبادہ ابن صامت دارالفکر بیروت ∞۵ /۳۲۳€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر الفصل الثانی الجنس الثامن ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۳۸۸€
منح الروض الازھر شرح الفقۃ الاکبر فصل فی العلم والعلماء مصطفی البابی ∞مصر ص۱۷۳€
#5817 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
مسئلہ ۱۲: ۲۷ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عیسائی نے براہ فریب دہی مسلمان کا حقہ پیامسلمان چونکہ اسے مسلمان سمجھتے تھے انھوں نے اس کا پیا ہوا حقہ پیاپھر ایك شخص آیا اس نے عیسائی کو حقہ پیتے دیکھ کر کہا تو عیسائی ہوکر مسلمانوں کا حقہ پیتاہے۔اس نے کہا میں فلاں مسجد میں ایك مہینہ ہوا مسلمان ہوگیا ہوںجب اس مسجد میں تحقیق کیا گیا تو بیان اس کا بے ثبوت نکلا ایسی حالت میں وہ مسلمان جنھوں نے اس کا پیا ہوا حقہ پیا ہے کیا کریں بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
جب نادانستہ پیا ان پر کچھ الزام نہں بلکہ جب وہ کہتاہے میں مسلمان ہوچکا ہوں تو اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا جب تك اس سے کفر جدید ظاہر نہ ہو اور اس تحقیقات کا کچھ اعتبار نہیں کہ نفی کی گواہی نامعتبر ہے اور کافر کااقرار کرنا ہی اسے مسلمان ٹھہرانے کے لئے کافی ہے کمانص علیہ فی الدرالمختار وغیرہ(جیسا کہ اس پر درمختار وغیرہ میں نص کی گئی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳: از کٹرہ ڈاك خانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی سید کریم خاں صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ
کی فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کمھار کا گھر جو رعیت مسلمان زمیندار کا ہے مسجد کے متصل ہے۔کمھار نے اپنے گھر میں ناقوس بجایااس پر ایك مسلمان نے کلوخ اندازی کی اس کمھار نے منیجر زمیندار کے پاس کہ وہ بھی مسلمان ہے نالش کیمنیجر مسلمان نے اس مسلمان کی تنبیہ کی اور اس سے جرمانہ لیااس تائید کفر کے سبب منیجر مسلمان گنہ گار ہوگا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
ضرورکہ اس کا یہ حکم حکم قرآن عظیم کے مطابق نہ تھا۔
" ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الفسقون ﴿۴۷﴾" ۔
واﷲ تعالی اعلم۔ اور جو کوئی اﷲ تعالی کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے تووہی فاسق(نافرمان)ہیںاور اﷲ تعالی سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵ /۴۷€
#5818 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
مسئلہ ۱۴: از تحصیل چورو ریاست بیکانیر مرسلہ والد مولوی امتیاز احمد صاحب ۱۴ شعبان ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو بکرے نذر ونیاز یعنی تقرب وعبادت کسی پیر صاحب کے پرورش ہوتے ہیں اور قندوریاں بنائی جاتی ہیں اور پنڈا بھرتے ہیں جیسے ہنوز بھرتے ہیں اور ڈوری اور بدھی اور چوٹی اور جھرو لااور تاتے گلے میں ڈالتے ہیںیہ امور اخص شرع ہیں یانہیں اور ان امور کا کرنے والا مشرك ہوتاہے یا نہیں ہمارے شہر چوروریاست بیکانیر میں اندر ان مسائل کے بحث ہورہی ہے۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
اللھم احفظنا(اے اللہ! ہماری حفاظت فرما۔ت)آدمی حقیقۃ کسی بات سے مشرك نہیں ہوتا جب تك غیر خدا کو معبود یا مستقل بالذات وواجب الوجود نہ جانے۔بعض نصوص میں بعض افعال پر بلااطلاق شرك تشبیہا یا تغلیظا یا بارادہ و مقارنت باعتقاد منافی توحید وامثال ذلك من التاویلات المعروفۃ بین العلماء وارد ہوا جیسے کفر نہیں مگر انکار ضروریات دین اگر چہ ایسی ہی تاویلات سے بعض اعمال پر اطلاق کفر آیا ہے یہاں ہر گز علی الاطلاق شرك وکفر مصطلح علم عقائد کہ آدمی کو اسلام سے خارج کر دیں اور بے توبہ مغفور نہ ہوں زنہار مراد نہیں کہ یہ عقیدہ اجماعیہ اہلسنت کے خلاف ہے ہر شرك کفر ہے اور کفر مزیل اسلام اور اہلسنت کا اجماع ہے کہ مومن کسی کبیرہ کے سبب اسلام سے خارج نہیں ہوتا ایسی جگہ نصوص کو علی اطلاقہا کفر وشرك مصطلح پر حمل کرنا اشقیائے خوارج کا مذہب مطرود ہے اور شرك اصغر ٹھہرا کر پھر قطعا مثل شرك حقیقی غیر مغفورماننا وہابیہ نجدیہ کا خبط مردودواﷲ المستعان علی کل اعنود(اﷲ تعالی ہی سے مدد مانگی جاتی ہے ہر عناد کرنے والے کے مقابلے میں۔ت)شرح عقائد میں ہے:
الاشراك ھو اثبات الشریك فی الالوھیۃ بمعنی وجوب الوجود کما اللمجوس اوبمعنی استحقاق العبادۃ کما لعبدۃ الاصنام ۔ اشراك یعنی شرك اﷲ تعالی کی الوہیت میں کسی کو شریك سمجھنا ہے یعنی وجوب وجود میں شریك ماننا جیسے مجوس یا عبادت کے اسحقاق میں شریك بنانا جیسے بتوں کے پجاری۔ (ت)
حوالہ / References شرح العقائد النسفیہ بحث واﷲ تعالٰی خالق لافعال العباد دارالاشاعۃ العربیۃ ∞قندھار افغانستان ص ۶۱€
#5819 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
متون عقائد میں ہے:
الکبیرۃ لاتخریج العبد المومن من الایمان ولا تدخلہ فی الکفر ۔ کوئی گناہ کبیرہ بندہ مومن کو ایمان سے نکال کر کفر میں داخل نہیں کرتا۔(ت)
نذر ونیاز کہ مسلمین بقصد ایصال بارواح طیبہ حضرات اولیاء کرام نفعنا اﷲ تعالی ببرکاتھم(اﷲ تعالی ہمیں ان کی برکتوں سے مستفید فرمائے۔ت)کرتے ہیں ہر گز قصد عبادت نہیں رکھتے نہ انھیں معبود والہ و مستحق عبادت جانتے ہیںنہ یہ نذر شرعی ہے بلکہ اصطلاح عرفی ہے کہ سلاطین وعظماء کے حضور جو چیز پیش کی جائے اسے نذور نیاز کہتے ہیں اور نیاز تو اس سے بھی عام تر ہے۔عام محاورہ ہے کہ مجھے فلاں صاحب سے نیاز نہیںمیں تو آپ کا نیاز مند ہوںفقیر نے اپنے فتاوی میں ان اطلاقت کی بحث شافی لکھی ہے اور خود بھی کبائر مانعین سے ان کا اطلاق ثابت کیا۔ شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی تحفہ اثناء عشریہ میں فرماتے ہیں:
حضرت امیر وذریہ طاہرہ اوراتمام امت برمثال پیراں و مرشداں می پیرستند وامور تکوینیہ رابایشاں وابستہ م ی وانند و فاتحہ ودرود وصدقات ونذر بنام ایشاں رائج ومعمول گردیدہ چنانچہ باجمیع اولیاء ہمیں معاملہ است ۔ جناب امیر اور ان کی پاکیزہ اولاد کو تمام امت کے لوگ عقیدت ومحبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اورتکوینی معاملات کو ان سے وابستہ خیال کرتے ہیں اسی لئے فاتحہ درود وصدقات خیرات اور نذر ونیاذ کی کارگزاریاں لوگوں میں ان کے نام کے ساتھ رائج اور معمول بن گئی ہیں جیسا کہ دیگراولیاء کرام کے معاملے میں یہی صورت حال ہے۔(ت)
محبوبان خدا کی طرف تقرب مطلقا ممنوع نہیں جب تك بروجہ عبادت نہ ہوتقرب نزدیکی چاہنے رضامندی تلاش کرنے کو کہتے ہیں اور محبوبات بارگاہ عزت مقربان حضرت صمدیت علیہم الصلوۃ والسلام کی نزدیکی ورضا ہر مسلمان کو مطلوب ہے اور وہ افعال کہ اس کے اسباب ہوں بجالانا ضرور محبوبکہ ان کا قرب بعینہ قرب خدا اور ان کی رضا اﷲ کی رضا ہے۔
قال اﷲ تعالی" اللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین ﴿۶۲﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:ایمان والوں کے لئے اﷲ تعالی اور اس کا رسول زیادہ حق رکھتے ہیں کہ انھیں راضی کیا جائے۔(ت)
حوالہ / References متن شرح العقائد بحث الکبیرۃ دارالاشاعۃ العربیۃ ∞قندھار افغانستان ص۸۳۔۸۲،€مجموع المتون فی مختلف الفنون فی التوحید الشؤن الدینیہ وولۃ قطر ∞ص۶۱۵€
∞ تحفہ اثناء عشریہ باب ہفتم درامامۃ تمہید کلام وتقریر مرام سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۱€۴
القرآن الکریم ∞۹ /۶۲€
#5820 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الصدقۃ یبتغی بہا وجہ اﷲ تعالی والہدیۃ یبتغی بہا وجہ الرسول وقضاء الحاجۃ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عبدالرحمن بن علقۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ صدقے سے اﷲ تعالی عزوجل کی رضا مطلوب ہوتی ہے اور ہدیہ سے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رضا اور اپنی حاجت روائی منظور ہوتی ہے(امام طبرانی نے اس کو معجم الکبیر میں حضرت عبدالرحمن بن علقمہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے روایت کیا ہے۔ت)
درمختار میں ہے:
فی المنیۃ انا لانسیئ الظن بالمسلم انہ یتقرب الی الادمی بہذا النحر ونحوہ فی شرح الوہبانیۃ عن الذخیرۃ ۔ منیہ میں ہے کہ ہم کسی مسلمان کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کرتے کہ وہ اس قربانی اور اس جیسے کام سے کسی آدمی کا تقرب چاہتاہے شرح وہبانیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے اسی طرح مذکورہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ انہ یتقرب الی الادمی ای علی وجہ العبادۃ لانہ المکفر وھذا بعید من حال المسلم ۔ مصنف درمختار کا قول ہے کہ کسی آدمی کی تقرب چاہتاہو یعنی اس تقرب سے عبادت مراد ہو تو یہ کفر ہے اور یہ چیز مسلمان کے حال سے بعید ہے۔(ت)
ہاں جو شخص عبادت غیر کا قصد کرے ضرور مشرك ہے۔مگریہ قصد مسلمان کلمہ گو سے بدے اس کے صریح اقرار کے کہ وہ غیر خد ا کو معبود جانتاہے محض اپنے ظنوں سے ثابت نہ ہوگایہ سب سے بدتر بدگمانی ہے اور بدگمانی سب سے سخت تر جھوٹ اور اشد حرام۔
قال اﷲ تعالی " یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والوں! بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو کیونکہ بعض گمان
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ طب عن عبدالرحمن بن علقمہ ∞حدیث ۱۵۹۹۷€ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۶ /۳۴۸€
درمختار کتاب الذبائح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۰€
ردالمحتار کتا ب الذبائح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۹۷€
#5821 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
الظن اثم" گناہ ہوتے ہیں۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث۔رواہ الائمۃ مالک والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ لوگوں سے گمان بد کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔الحدیث(ائمہ کرام مثلا امام مالک بخاریمسلمابوداؤدامام ترمذی نے بحوالہ حضرت ابوہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اسے روات کیا ہے۔ت)

مرد کے سر پر چوٹی رکھنا ویسے ہی حرام ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ سلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ المتشابہات من النساء بالرجال و المتشبہین من الرجال بالنساء رواہ الائمۃ احمد و البخاری و ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما وفیہ احادیث کثیرہ بالغۃ حد التواتر۔ اﷲ تعالی نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو مردوں سے مشابہت اختیار کریںاور ان مردوں پر بھی لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کریں۔ائمہ کرام مثلا امام احمد بخاریابوداؤدترمذیاور ابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالہ سے روایت کیا ہے۔اس بارے میں بہت سی احادیث مروی ہیں جو تواتر کی حد تك
حوالہ / References القرآن الکریم∞ ۴۹/ ۱۲€
صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب تحریم الظن ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۶،€جامع الترمذی ابواب البر باب ماجاء فی سوء الظن ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۲۰،€صحیح البخاری کتاب الوصایا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۸۴،€موطاامام مالك ماجاء فی المہاجرۃ کتب خانہ کراچی ص۷۰۶
مسند امام احمد بن حنبل مرویات ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ∞۱ /۳۳۹،€سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب فی المخنثین ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۸،€صحیح البخاری کتا ب اللباس باب المتشبہین ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۴۷۴،€سنن ابی داؤد کتا ب اللباس ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱۰،€جامع الترمذی ابواب الادب ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۲€
#5822 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
پہنچی ہوئی ہیں۔(ت)
خصوصا کسی کے نام کی چوٹی کہ رسول کفار ہنود سے ہے یوہیں ڈوری بدھی کلاوہ بھی محض جہالت و بے اصل ہے۔پنڈا بھرنا قندوری بھرناتاتامیری زبان کے الفاظ نہیںنہ مجھے ان کے معانی معلوم۔یہ بھی اگر بدھی چوٹی وغیرہ کے مثل ہوں تو ان کا بھی وہی حکم ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵: از چاٹگام موضع قلاد جان مرسلہ نظام الدین ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۲۳ھ
چہ می فرمایند علماء دین رحمہکم اﷲ تعالی اندریں مسئلہ کہ زید و عمرو ہر دو عالم اندہرگاہ قطعہ فرائض بعبارت صحیحہ ومسئلہ صریحہ پیش ایشاں وقوع آمد پس زید بربنائے نفاق وعداوت دنیاوی گفتہ کہ اکثر جائے فرائض غلط کردہ ودستخط بہ صحیح مسئلہ آں ممنوع وعمر و او لا فرائض موصوفہ بغو رنظر دیدہ دستخط بداں برتصحیح مسئلہ آں کردہ اند باز از زبانی زید غلط عبارتش شنیدہ ودستخط خود ازوے منقطع کردہ اند ہر دو عالم موصوف باوجود یکہ حضرات متدینین ادام اﷲ فیوضہم آنرا تحقیق کردہ صحیح فرمودہ اند عبارتش رامغلطہ گوینددستخط بداں غیر مشروع پندارند پس دریں واقعہ دماغ وغروری منسوب شوند یا نہ و آنا نکہ صحیح وجائز راناجائز وحلال راحرام بربنائے دماغ وغروری میدانندکافر گرد د یا بارتکاب کبیرہ بینوا توجروا۔ علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں(اے علم والو! اﷲ تعالی تم پر رحم فرمائے)زید اور عمرو دونوں عالم ہیں ان دونوں کے سامنے قطعہ فرائض عبارت صحیحہ اور مسئلہ صریحہ کے ساتھ پیش کیا گیا تو زید نے نفاق اور دنیوی عداوت کی بناپر کہہ دیا کہ فرائض کے زیادہ تر مقامات میں غلطی کی گئی ہے لہذا اس مسئلے کی صحت پر دستخط کرنا جائز نہیں عمرو نے پہلے فرائض موصوفہ کو غور وفکر سے دیکھا پھر اس مسئلہ کی صحت کو تسلیم کرتے ہوئے دستخط کردئےازاں بعد زید کی زبانی اس کی غلط عبارت سنی تو دونوں موصوف عالموں نے اس سے اپنے اپنے دستخط مٹا دئے گر چہ دیندار حضرات(اﷲ تعالی ان کے فیوض و برکات ہمیشہ پھیلائے)نے اس کی تحقیق کے بعد اس کی تصحیح فرمائی کیونکہ یہ دونوں اس کے عبارت کو غلط کہہ کر اس پر دستخط کو ناجائز سمجھے پس کیا اس واقعہ میں وہ لوگ عالی دماغ اور تکبر کی طرف منسوب ہوں گے اور جو لوگ علودماغ اور تکبر کی بناء پر صحیح اور جائز کو ناجائز اورحلال کو حرام جانیں کافر قرار پائیں گے یا کبیرہ گناہ کے مرتکب بیان فرما کر اجر وثواب کے مستحق ہوں۔(ت)
#5823 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
الجواب :
دریں سوال کمال اجمال بلکہ اہمال بکار بردہ شد می یا لیست نقل آن فتوی فرستند تادیدہ شود کہ آیا فی الواقع غلط است وزید بخطائے اوبے پردہ وباز عمر ونیز آگاہ ومتنبہ شدہ تصحیح خود ازوے جدا کردہ دریں صورت ہر دو ہر صواب باشند یا حقیقۃ صحیح ست وانگاہ دیدنی ست کہ مسئلہ ازاں باب ست کہ خطا وانگاہ دیدنی ست کہ مسئلہ ازاں باب ست کہ خطا در فہم اوباینان عارض شود و دریں صورت درانچہ کردند معذورباشند یاآنچناں نیست کہ بالقصد مکابرہ حق کردہ اند انگاہ لاجرم آثم وبزہ کارشوند فاما کفر نبود مگرانکہ مسئلہ از ضروریات دین باشد کہ انکار بلکہ شك دراں کفر است۔والعیاذباﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔ اس سوال میں مکمل اجمال بلکہ ناقص چھوڑ دینے سے کام لیا گیا ہے۔(یعنی سوال ہی ادھورا ہے)مناسب تویہ تھا کہ اس فتوی کی نقل ہمراہ سوال بھیجی جاتی تاکہ یہ دیکھا جاتا کہ آیاواقعی وہ غلب ہے اور زید اس کی غلطی کی تہہ تك پہنچا اور عمرو بھی اور وہ اس سے آگاہ اور ہوشیار ہوگئے اس لئے اپنی تصحیح(ضمانت صحت)اس سے الگ کرلی۔پس اس صورت میں دونوں راہ صواب پر ہیں یا درحقیقت وہ صحیح ہےپھر یہ دیکھنا ہے کہ مسئلہ اس باب سے ہے کہ اس کے سمجھنے میں ان کو غلطی لاحق ہوگئی اس صورت میں وہ معذور متصور ہوں گے پھر یہ دیکھنا ہےکہ کیا انھوں نے دانستہ حق کا مقابلہ کیااگر ایسا ہے تو اس صورت میں وہ ضرور گناہ کے مرتکب ہوئے لیکن کفر پھر بھی نہیں ہوگا الایہ کہ مسئلہ ضروریات دین سے ہو(اور اس کا صراحۃ انکار ہو تو پھر کفر لازم آئے گا۔مترجم)کہ اس کا انکار یا اس میں شك کیا جائے تو کفر ہے اﷲ تعالی کی پناہ۔اور اﷲ سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۶: ازیں شہر مرسلہ منشی احمد حسین خرسند نقشہ نویس فیض آباد دفتراسسٹنٹ ریلوے
بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسلمانوں کے حق میں جو آریہ سما جوں میں جاکر کاپی نویسی کرتے ہیں یا پریس میں ہیں یا ان کے اخبار اور مذہبی پرچے روانہ یا تقسیم کرتے ہیں حالانکہ ان پرچوں میں قرآن کریم اور رسول رحیم پر کھلے کھلے اعتراض والزام ہوتے ہیں رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو نعوذ باﷲ منہا اور علمائے متقدمین ومتاخرین کو کھلی کھلی گالیاں دے جاتے ہیں جس کے شاہد سماجی کتب ترك اسلامتہذیب الاسلامآریہ مسافر جالندھرآریہ مسافر میگزینمسافر بہرائچاریہ پتر بریلیستیارتھ پرکاش موجود ہیںنمونے کے طور پر چن الفاظ نقل ذیل ہیں:ستیاپرکاشمسافر
#5824 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
بہرائچآیا ان مسلمانوں سے جو سماجوں میں ملازم ہیں میل جول رکا جائے اور مسلمان سمجھے جائیںایسے مسلمان جو مخالفین اسلام ودشمنان خدا ورسول کی اعانت کرنے والے ہیں ان کے جنازے کی نماز پڑھنا درست ہے اور ان کے ساتھ شراکت ونکاح جائز ہے یانہیں مفصل بیان فرمائےاﷲ اس کا اجرعظیم عطا فرمائے۔
الجواب:
اﷲ عزوجل اپنے غضب سے پناہ دے۔الحمدﷲ فقیر ے وہ ناپاك ملعون کلمات نہ دیکھےجب سوال کی اس سطر پر آیا جس سے معلوم ہوا کہ آگے کلمات لعینہ ملعونہ منقول ہوں گے ان پر نگاہ نہ کینیچے کی سطریں جن میں سوال ہے باحتیاط دیکھیںایك ہی لفظ اوپر سائل نے نقل کیا اور نادانستگی میں نظر پڑا وہی مسلمان کے دل پرزخم کو کافی ہے اب یہ کہ جواب لکھ رہاہوں کاغذ تہہ کرلیا ہے کہ اﷲ تعالی ملعونات کو نہ دکھائے نہ سنائے جونام کے مسلمان کاپی نویسی کرتے ہیں اورعزوجل وقرآن عظیم ومحمدر سول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان میں ایسے ملعون کلمات ایسی گالیاں اپنے قلم سے لکھتے چاپتے ہیں یا کسی طرح اس میں اعانت کرتے ہیں ان سب پر اﷲ تعالی کی لعنت اترتی ہے وہ اﷲ ورسول کے مخالف اور اپنے ایمان کے دشمن ہیں قہر الہی کی آگ ان کے لئے بھڑکتی ہے صبح کرتے ہیں تو اﷲ کے غضب میں اور شام کرتے ہیں تو اﷲ کے غضب میںاور خاص جس وقت ان ملعون کلموں کو آنکھ سے دیکھتے قلم سے لکھتے۔مقابلہ وغیرہ میں زبان سے نکالتے یا پتھر پر اس کا ہلکا بھرا بناتے ہیں ہر کلمے پر اﷲ عزجل کی سخت لعنتیںملائکہ اﷲ کی شدید لعنتیں ان پر اترتی ہیں یہ میں نہیں کہتاہوں قرآن فرماتاہے:
"ان الذین یؤذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الاخرۃ و اعد لہم عذابا مہینا ﴿۵۷﴾ " بیشك وہ لوگ جو ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت ہے دنیا واخرت میں اﷲ نے ان کے تیار کر رکھا ہے ذلت کا عذاب۔
ان ناپاکوں کا یہ گمان کہ گناہ تو اس خبیث کا ہے جو مصنف ہے ہم تو نقل کردینے یا چھاپ دینے والے ہیں سخت ملعون ومردود وگمان ہے۔زید کسی دنیا کی عزت دار کو گالیاں لکھ کر چھپوانا چاہے تو ہر گز نہ چھاپیں گے جانتے ہیں کہ مصنف کے ساتھ چھاپنے والی بھی گرفتار ہوں گے مگر اﷲ واحد قہار کے قہر وعذاب و لعنت وعتاب کی کیا پرواہ یقینا یقینا کاپی لکھنے ولا پتھر بنانے والاچھاپنے والاکل چلانے والا
حوالہ / References ا لقرآن الکریم ∞۳۳/ ۵۷€
#5825 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
غرض جان کرکے کہ اس میں یہ کچھ ہے کسی طرح اس میں اعانت کرنے والا سب ایك ہی باندھ کر جہنم کی بھڑکتی آگ میں ڈالے جانے کے مستحق ہیں۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" گناہ اور حد سے بڑھنے میں ایك دوسرے کی مدد نہ کرو۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خرج من الاسلامرواہ الطبرانی فی الکبیر والضیاء فی صحیح المختارۃ عن اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو دانستہ کسی ظالم کے ساتھ اس کی مدد دینے چلا وہ یقینا اسلام سے نکل گیا(امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور ضیاء نے صحیح مختارہ میں حضرت اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)
یہ اس ظالم کے لئے ہے جو گرہ بھر زمین یا چار پیسے کسی کے دبالے یا زید وعمرو کسی کو ناحق سست کہے اس کے مددگار کو ارشاد ہوا کہ اسلام سے نکل جاتاہے نہ کہ یہ اشد ظالمین جو اﷲ ورسول کو گالیاں دیتے ہیں ان باتوں میں ان کا مددگار کیونکر مسلمان رہ سکتا ہے۔طریقہ محمدیہ اوعر اس کی شرح حدیقہ ندیہ میں ہے:
من افات الید کتابۃ مایحرم تلفظہ من شعر المجون والفواحش والقذف والقصص التی فیہا نحو ذلك ولاھاجی نثر اونظما والمصنافات المشتملۃ علی مذاھب الفرق الضالۃ فان القلم احدی اللسانین فکانت الکتابۃ فی معنی الکلام بل ابلغ منہ لبقائہا علی صفحات اللیالی والایام والکلمۃ تذھب فی الہواء و الاتبقی اھ مختصرا۔ ہاتھ کی آفتوں سے ایك ہے کہ وہ کچھ لکھا جائے جس کا بولنا حرام ہے یعنی جیسے مذمت کے اشعارفحش باتیں۔گالی گلوچ اور وہ واقعات جو اسی قسم کی باتوں پو مشتمل ہوں اور ہجوں کرنا خواہ نثر میں ہو یا نظم میں اور گمراہ فرقوں کے مذاہب پر مشتمل تصنیفات اس لئے کہ بولنے والی زبان کی طرح قلم بھی ایك زبان ہے(جس کے ذریعے اظہار خیال ہوتاہے)لہذا لکھنا بولنے ہی کی طرح ہے بلکہ بولنے سے بھی زیادہ بلیغ ہے جبکہ(زبان سے ادا ہونے والے)کلمات ہوا میں(منتشر ہو کر)گم ہوجاتے ہیں اور باقی نہیں رہتے مختصرا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵ /۲€
المعجم الکبیر حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ∞۱ /۲۲۷€
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقہ المحمدیہ الصنف الخامس ∞مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۴۔۴۴۳€
#5826 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
ایسے اشد فاسق فاجر اگر توبہ نہ کریں تو ان سے میل جول ناجائز ہے ان کے پاس دوستانہ اٹھنا بیٹھنا حرام ہے۔پھر مناکحت توبڑی چیز ہے۔ اﷲ تعالی فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر تجھے شیطان(غلط قسم کی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت کا حکم) بھلادے تو یاد آجانے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ (ت)
اور جو ان میں اس ناپاك کبیرہ کو حلال بتائے اس پر اصرار واستکبارو مقابلہ شرع سے پیش آئے وہ یقینا کاف رہے اس کی عورت اس کے نکاح سے باہر ہے اس کے جنازے کی نماز حرام۔اسے مسلمانوں کی طرح غسل دیناکفن دینادفن کرنااس کے دفن میں شریك ہونااس کی قبر پر جانا سب پر حرام ہے۔اﷲ تعالی فرماتاہے:
" ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔
واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ جب ان کافروں میں سے کوئی مرجائے تو اس پر نماز مت پڑھو اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
فقیر کے یہاں فتاوی مجموعہ پر نقل ہوتے ہیںمیں نے نقل فرمانے والے صاحب سے کہہ دیا ہے کہ ان ملعون الفاظ کی نقل نہ کریںسنا گیا ہے کہ سائل کا قصہ اس فتوے کے چھاپنے کاہے میں درخواست کرتاہوں کہ ان ملعونات کو نکال ڈالیں ان کی جگہ دوا ایك سطریں خالی صرف نقطے لگا کر چھوڑ دیں کہ مسلمانوں کی آنکھیں ان لعنتی ناپاکوں کے دیکھنے سے باذنہ تعالی محفوظ رہیں فاﷲ خیر حافظ وھو ارحم الراحمین(اﷲ تعالی سب سے بہتر نگہبان ہے اور وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ت)
مسئلہ ۱۷: از گونڈا ملك اودھ مرسلہ مسلمانان گونڈا عموما وحافظ عبدالعزیز صاحب مدرس انجمن اسلامیہ گونڈا ذوالحجہ ۱۳۲۴ھ
زید نے پیشتر جس کو عرصہ قریب چار سال کے ہو ا تین چارشخصوں کے سامنے یہ کلمات توہین وبے ادبی کے کہے کہ جملہ انبیاء علیہم السلام نے گناہ کیا اور گناہ میں مبتلا رہے جب بہت کچھ کہا گیا تو پھر زید نے بلا توبہ یہ کلمہ کہا کہ اچھا ہی نبی معصوم سہی مگر ہم سوائے انبیاء کے کسی کو قطعی جنتی نہیں کہہ سکتے۔اور یہ کلمات ساٹھ ستر مسلمانوں کے سامنے مکرر سہ کررکہےاس کا جواب زید کو دیا گیا کہ تم نے یہ بھی خلاف کلام اﷲ وحدیث شریف کے کہا
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶ /۶۸€
القرآن الکریم ∞۹ /۸۲€
#5827 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
کیونکہ عشرہ مبشرہ واصحاب بدر وشہداء وغیرہ وغیرہ ضرور قطعی جنتی ہیں اور ان کی نسبت حدیث وکلام پاك میں حکم آچکا ہے مگر زید نے ایك نہ مانی اور یہ ہی کہتا رہا کہ ہم ہر گز نہیں کہہ سکتے بلکہ فوجداری کرنے کو مستعد وامادہ ہوگیابروقت استفسار علمائے دین نے فتوی دیا کہ زید ایسے کلمات کہنے سے قطعا بد مذہب وگمراہ وبے دین وخارج ازا دائرہ اہلسنت وجماعت ہے۔اور اس کے پیچھے نماز ناجائز کیا بلکہ بالکل باطل ہے اس کو مناسب ہے کہ توبہ کرے جبکہ زید مذکور کو توبہ کرنے کے واسطے کہا گیا تو اول تو ا س نے کلمات بالا کے کہنے سے انکارکیا جب سب لوگوں پر پورے طور سے کلمات ناشائستہ بالا کا کہنا ثابت ہوگیا تو پھر یہ حیلہ کیا کہ فلاں فلاں دوشخصوں کے روبروہم نے توبہ کرلیاور ان دو شخصوں کا نام لیا جو زید کے دست واحباب ہیں اور جنھوں نے سابقا مثل زید کے یہ کہا تھا کہ ایسے کلمات زید نے نہیں کہے اور پھر وہی دونوں شخص کہنے لگے کہ زید نے توبہ کرلی ہے۔لیکن دیگر صاحبان نے اس کہنے زید اور ان کے احبابوں کے کہنے کو تسلیم نہ کیا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنی ترك کردی جب علماء سے دریافت کیا کہ زیددو شخص کو گواہ دتیاہے کہ ان کے رو برو توبہ کرلی وہ شاہد ہیں تویہ توبہ لائق پذیر ائی ہے یانہیں۔تو عالم صاحب نے ارقام فرمایا کہ جب زید نے کلمات ضلالت علانیہ ساٹھ ستر مسلمانو کے مجمع میں کہے اور مسلمانوں کواپنی گواہی پر گواہ کرلیا اس کو لازم ہے کہ یونہی علی الاعلان توبہ کرکے مسلمانوں کو ان کلمات کے ضلالت ہونے اور اپنے رجوع کرنے پر گواہ کرلے جبکہ خود زید زندہ ہے تو توبہ کرسکتاہے شہادت کی کیا حاجت ہے۔اور مفتی صاحب نے یہ حدیث شریف بھی ارقام فرمادی ہے:
اذا علمت سیئۃ فاحدث عندھا التوبۃ السر بالسر و العلانیۃ بالعلانیۃرواہ الطبرانی فی معجمہ الکبیر۔ جب تم کوئی گناہ کرو تو اسی وقت توبہ کرو پوشیدہ گناہ کی تو بہ پوشیدگی ہے اور اعلانیہ گناہ کی توبہ اعلانیہچنانچہ امام طبرانی نے اپنی معجم کبیر میں اسے روایت کیا ہے۔(ت)
اور مولوی صاحب نے یہ کل مسئلہ تحفہ حنفیہ میں طبع کراکے شائع کرادیا ہے۔اب پھر بعد چار سال کے دو تین آدمیوں کے سامنے کلمات لاطائل کا اقرار کرکے توبہ کرلی ہے اور یہ تین شخص ضرور معتبر اور معتمد ہیں مگر جس وقت زید نے ایك مجمع میں وہ کلمات بیہودہ کہے تھے اس وقت یہ صاحب اس مجمع میں نہ تھے
حوالہ / References المعجم الکبیر عن معاذ بن جبل ∞حدیث ۳۳۱€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۲۰ /۱۵۹،€کنز العمال برمزحم فی الفردوس ∞حدیث ۱۰۱۸۰€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۴ /۲۰۹€
#5828 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
اور معاملہ کو ضرورسنا تھاایك مفتی صاحب سے جو اس بارہ میں استفسار کیا گیا تو وہ فرماتے ہیں کہ جب دو تین شخص معتبر توبہ کے شاہد ہیں اور وہ اس کی توبہ کی خبر دیتے ہیں تو یہ بھی ایك قسم کا اعلان ہے جب مجمع میں کہتاہے کہ میں نے فلاں فلاں کے رو برو توبہ کرلی ہے تو اخبار عن التوبۃجو مجمع میں ہوا بمنزلہ توبہ کے ہے پس اعلان حاصل ہوگیا اس لئے یہ توبہ معتبر وصحیح ہوگی اس کا اعتبار کرلینا چاہئے اگر چہ اس فرمان عالم صاحب کو مان لیا گا مگر دوسرے صاحبوں نے کہا کہ آپ سے بھی استفسار لیا جائے یعنی دیگر علماء سے تاکہ کامل اطمینان ہوجائے۔
الجواب:
اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲ کی توفیق ہی سے کہتاہوں۔ت)اس مسئلہ میں مجملا تحقیق حق یہ ہے کہ وہ گناہ جو خلق پربھی ظاہر ہو جس طرح خود اس کے لئے وہ تعلق ہیں ایك بندے اور خدامیں کہ اﷲ عزوجل کی نافرمانی کی اس کا ثمرہ حق جل وعلا کی معاذا ﷲ ناراضی اس کے عذاب منقطع یا ابدی کا استحقاق دوسرا بندے اور خلق میں کہ مسلمانوں کے نزدیك وہ آثم وظالم یا گمراہ کافربحسب حیثیت گناہ ٹھہرے اور اس کے لائق سلام وکلام وتعظیم وکرام واقتدائے نماز وغیرہاامور ومعاملات میں اس کے ساتھ انھیں برتاکرنا ہو۔یوہیں اس سے توبہ کے لئے بھی دو رخ ہیںایك جانب خدااس کا رکن اعظم بصدق دل اس گناہ سے ندامت ہے فی الحال اس کا ترك اور اس کے آثار کامٹانا اورآئندہ کبھی نہ کرنے کا یہ صحیح عزمیہ سب باتیں سچی پریشانی کو لازم ہیں۔ولہذا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الندم توبۃ رواہ احمد والبخاری فی التاریخ وابن ماجۃ والحاکم عن ابن مسعود والحاکم والبیہقی فی شعب الایمان عن انس والطبرانی فی الکبیر وابونعیم ندامت توبہ ہے(امام احمد اور امام بخاری نے تاریخ میںابن ماجہ اورحاکم نے حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا امام حاکم اورامام بیہقی نے شعب الایمان
حوالہ / References مسند امام احمد عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ دارالفکر بیروت ∞۱ /۳۷۶،€سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکر التوبۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۳،€المستدرك للحاکم کتا ب التوبۃ والانابۃ دارالفکر بیروت ∞۴ /۲۴۳،€شعب الایمان ∞حدیث ۷۱۸۳€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۵ /۴۳۷€
#5829 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
فی الحلیۃ عن ابی سعید الانصاری رضی اﷲ تعالی عنہم وھو حدیث صحیح۔ میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ کی سند سے اسے روایت کیا۔امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور ابونعیم نے حلیہ میں حضرت ابوسعیدانصاری رضی اﷲ تعالی عنہم سے اسے روایت کیا اور وہ صحیح حدیث ہے۔(ت)
یعنی وہی سچی صادقہ ندامت کہ بقیہ ارکان توبہ کو مستلزم ہے اسی نام تو بۃ السر ہے۔دوسرا جانب خلق کہ جس طرح ان پر گناہ ظاہر ہوا اور ان کے قلوب میں اس کی طرف سے کشیدگی پیدا ہوئی اور معاملات میں اس کے ساتھ اس کے گناہ لائق انھیں احکام دئے گئے اسی طرح ان پر اس کی توبہ ورجوع ظاہر ہو کہ ان کے دل اس سے صاف ہوں اور احکام حالت برأت کی طرف مراجعت کریں یہ توبہ علانیہ ہے توبہ سر سے تو کوئی گناہ خالی نہیں ہوسکتا اور گناہ علانیہ کے لئے شرع نے توبہ علانیہ کاحکم دیا ہے امام احمد کتاب الزہد میں بسند حسن اور طبرانی معجم الکبیراور بیہقی شعب الایمان میں بسند جید سیدنا معا ذ بن جبل سے اور ویلمی مسند الفردوسی میں انس بن مالك سے موصولا اور امام احمد زہد میں عطار بن یسار سے مرسلا بالفاظ عدیدہ مطولہ ومختصرہ راوی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
علیك بتقوی اﷲ عزوجل مااستطعت و اذکر اﷲ عزوجل عند کل حجر وشجر واذا علمت سیئۃ فاحدث عندھا توبۃ السر بالسر والعلانیۃ بالعلانیۃ ۔ ھذا لفظ احمد عن معاذ وفی مرسلہ من قولہ اذا عملت سیئۃ الحدیث ۔ولفظ الدیلمی اذا احد ثت ذنبا فاحدث عند توبۃ ان سرا فسر وان علانیۃ فعلانیۃ ۔ اﷲ عزوجل سے تقوی لازم رکھ اور ہر پتھر اور پیڑ کے پاس اﷲ کی یاد کراور جب کوئی گناہ کرے اس وقت توبہ لا۔خفیہ کی خفیہ اور آشکارا کی آشکارا۔(یہ حضرت معاذ کے حوالے سے مسند احمد کے الفاظ ہیں اور مسند احمد کی مرسل حدیث میںان کے قول اذا عملت(الحدیث)تك الفاظ میں اور محدث ویلمی کے الفاظ ہیں)جب تجھ سے نیا گناہ ہو تو فورا نئی توبہ کر۔نہاں کی نہاںاور عیاں کی عیاں۔
حوالہ / References الزھد لاحد بن حنبل مقدمہ الکتاب دارالدیان للتراث القاہرۃ ∞ص۳۵€
اتحاف السادۃ المتقین برمزاحمد فی الزھد عن عطاربن یسار مرسلا دارالفکر بیروت ∞۸/ ۶۰۳€
کنز العمال بحوالہ الدیلمی عن انس ∞حدیث ۱۰۲۴۸€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۴ /۲۲۰€
#5830 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
اقول:وباﷲ التوفیق(اﷲ تعالی کی عطا کردہ توفیق ہی سے میں کہتاہوں۔ت)اس حکم میں بکثرت حکمتیں ہیں:
اول: اصلاح ذات بین کا حکم ہے یعنی آپس میں صفائی اور صلح رکھویہ گناہ علانیہ میں توبہ علانیہ ہی پر موقوف کہ جب مسلمان اس کے گناہ سے آگاہ ہوئے اگر توبہ سے وقاقف نہ ہوں تو ان کے قلوب اس سے ویسے ہی رہیں گے جیسے قبل توبہ تھے۔
دوم: جب وہ اسے برا سمجھتے ہوئے ہیں تو اس کے ساتھ وہی معاملات بعد وتنفر رکھیں گے جو بدون کے ساتھ درکار ہیں علی الخصوص بد مذہب لوگ جیسا زید کا حال ہے یہ بہت برکات سے محرومی کا باعث ہوگا۔
سوم: جب یہ واقع میں تائب ہولے اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ۔ گناہ سے توبہ کرنے والا ایساہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ (ت)
تو اب مسلمانوں کے وہ معاملات نظر بواقع بیجا ہوں گے اور انھیں اس بیجا پر خود یہ شخص حامل ہوا کہ اگر اپنی توبہ کا اعلان کردیتاہے تو کیوں وہ معاملات رہتے تو لازم ہوا کہ انھیں مطلع کردے جیسے کسی کے کپڑے میں نجاست ہو اور وہ مطلع نہیں تو جاننے والے پر اسے خبر دینی ضروری ہے۔
چہارم: ایسے گناہوں میں جو بددینی ہے جیسے صور ت مسئولہ میں زید کے وہ کلمات خبیثہ ان میں ایك اور سخت آفت کا اندیشہ ہے کہ اگر یہ مرگیا اور مسلمانوں پر اس کی توبہ ظاہر نہیں اور بد مذہب کی مذمت اس کے مرنے پر بھی جائز بلکہ کبھی شرعا واجب ہے تو اہل سنت اسے برا اور بددین اور گمراہ کہیں گے اور ان کے سید ومولی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے انھیں زمین میں اﷲ عزوجل گواہ بتادیا ہے آسمان میں اس کے گواہ ملائکہ ہیں اور زمین میں اہلسنت تو ان کی گواہی سے اس پر سخت ضرر کا خوف ہے اور وہ خود اس میں تقصیر وار ہے کہ اعلان توبہ سے ان کا قلب صاف نہ کردیارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تشریف فرما تھے ایك جنازہ گزرا حاضرین نے اس کی تعریف کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ سلم نے فرمایا:۔"وجبت" واجب ہوگئیایك دوسرا جنازہ گزرا اس کی مذمت کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:"وجبت"واجب ہوگئیامیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کی:یا رسول اﷲ
حوالہ / References کنز العمال برمزھ 'ق' طب عن ابن مسعود ∞حدیث ۱۰۲۴۹€ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۴ /۲۲۰€
#5831 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
کیا واجب ہوگئی۔فرمایا:
ھذا اثنیتم علیہ خیرا فوجبت لہ الجنۃ و ھذا اثنیتم علیہ شرا فوجبت لہ النار انتم شہداء اﷲ فی الارض۔رواہ احمد والشیخان عن انس رضی ﷲ تعالی عنہ۔ پہلے کی تم نے تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوگئی دوسرے کی مذمت کی اس کے لئے دوزخ واجب ہوگئیتم اﷲ تعالی کے گواہ ہو زمین میں(امام احمدبخاری اورمسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے اسے روایت کیا۔ت)
اور یہ نہ بھی ہو تو اتنا ضرور ہے کہ علماء وصلحاء اہلسنت اس کی تجہیز میں شرکت اور اس کے جنازہ پر نماز سے احتراز کریں گے شفاعت اخیار سے محروم رہے گایہ شناعت کیا کم ہےوالعیاذ باﷲ تعالی(اﷲ کی پناہ۔ت)
پنجم: اصل یہ کہ گناہ علانیہ دوہرا گناہ ہے کہ اعلان گناہ دوہرا گناہ بلکہ اس گناہ سے بھی بدتر گناہ ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل امتی معافی الاالمجاہرینرواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الاوسط عن ابی قتادۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ میری سب امت عافیت میں ہے سوان کے جو گناہ آشکاراکرتے ہیں(بخاری ومسلم نے حضرت بوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے اور امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابوقتادہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہے سے اسے روایت کیا ہے۔ت)
نیز حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لایزال العذاب مکشوفا عن العباد لما استتروا بمعاصی اﷲ فاذا اعلنوھا ہمیشہ اﷲ کا عذاب بندوں سے دور رہے گا جبکہ وہ اﷲ تعالی کی نافرمانیوں کو ڈھانپیں
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ثناء الناس علی المیت ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۸۳،€صحیح مسلم کتاب الجنائز باب فی وجوب الجنۃ والنار بشہادۃ المومنین الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۰۸€
صحیح البخاری کتاب الادب باب ستر المؤمن علی نفسہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۹۶،€صحیح مسلم کتاب الزہد باب عقوبۃ من یامر بالمعروف الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۴۱۲،€المعجم الاوسط ∞حدیث ۴۴۹۵€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۵ /۵۲۔۲۵۱€
#5832 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
استر جبوا عذاب الناررواہ فی مسند الفردوس عن المغیرۃ بن شعبۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اور چھپائیں گے پھر جب علانیہ گناہ ور نافرمانیاں کریں گے تو وہ عذاب کے مستحق اور سزا وار ہوجائیں گے محدث دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کیا۔(ت)
اعلان پر باعث نفس کہ جرأت وجسارت وسرکشی وبے حیائی اور مرض کا علاج ضد سے ہوتاہے جب مسلمانوں کے مجمع میں اپنی ندامت وپشیمانی ظاہر کرے گا اور اپنے قول یا فعل یا عقیدہ کی بدی وشناعت پر اقرار لائے گا تو اس سے جو انکساری پیداہوگا اس سرکشی کی دواہو گافکر حاضر میں اس وقت اتنی حکمتیں خیال میں آئیں اور شریعت مطہرہ کی حکمتوں کو کون حصر کرسکتاہے ان میں اکثر وجوہ یہ ہوتاہے کہ جن جن لوگوں کے سامنے گناہ کیا ہے ان سب کے مواجدہ میں توبہ کرے مگر یہ کثرت مجمع کی حالت میں مطلقا اور بعض صورتیں ویسے بھی حرج سے خالی نہیں اور حرج مدفوع بالنص ہے تاہم اس قدر ضرور چاہئے کہ مجمع توبہ مجمع گناہ کے مشابہ ہو سب میں ادنی درجہ کا اعلان اگر چہ دو کے سامنے بھی حاصل ہوسکتاہے۔
کما اجاب علماؤنا تمسك الامام مالك فی اشتراط الاعلان بحدیث اعلنوا النکاح ان من اشہد فقد اعلن کما فی مختصر الکرخی ومبسوط الامام محرر المذھب وغیرھما۔ جیساکہ ہمارے علماء کرام نے حضرت امام مالك کو ان کے استدلال سے جواب دیا کیونکہ امام مالك نے حدیث اعلنوا النکاح(لوگو! نکاح کا اعلان کیا کرو)سے نکاح کے لئے اسے شرط قرار دیا ہے ہمارے ائمہ نے فرمایا:جو شخص نکاح پر گواہ بنائیگا تو بلاشبہہ اس نے نکاح کا اعلان کردیا۔(گویا حدیث میں اعلان سے تشہیر مراد ہے۔مترجم)جیسا کہ مختصر کرخی اور مذہب تحریر کرنے والے امام محمد رحمہۃ اﷲ تعالی علیہ کی مبسوط اور ان دو کے علاوہ دوسری کتابوں میں مذکورہے۔(ت)
مگر وہ مقاصد شرح یہاں بے مشاکلت ومشابہت حاصل نہ ہوں گے ولہذا علامہ مناوی نے فیض القدیر میں اس حدیث کی شرح میں لکھا:
احدث عندھاتوبۃ تجانسہا مع رعایۃ المقابلۃ وتحقق گناہ کے ہوتے ہی ایسی نئی توبہ کریں جو اس گناہ کی مجانس(اس کی مثل)ہو باوجود یکہ اس
حوالہ / References الفردوس بما ثور الخطاب ∞حدیث۷۵۷۸€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۵/ ۹۶€
#5833 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
المشاکلۃ اھ مختصرا۔ میں رعایت مقابلہ وتحقق مشاکلت ہو(مختصرا عبارت مکمل ہوئی)۔(ت)
سو کے سامنے گناہ کیا اور ایك گوشہ میں دو کے آگے اظہار توبہ کردیا تو اس کا اشتہار مثل اشتہار گناہ نہ ہو اور وہ فوائد کہ مطلوب تھے پورے نہ ہوئے بلکہ حقیقۃ وہ مرض کہ باعث اعلان تھا توبہ میں کمی اعلان پر بھی وہی باعث ہے کہ گناہ تو دل کھول کر مجمع کثیر میں کرلیا اور اپنی خطا پر اقرار کرتے عار آتی ہے چپکے سے دو تین کے سامنے کہہ لیا وہ انکساری کہ مطلوب شرع تھا حاصل ہونا درکنار ہنوز خود داری واستنکاف باقی ہے اورجب واقع ایسا ہو تو حاشا توبہ سر کی بھی خبر نہیں کہ وہ ندامت صادقہ چاہتی ہے اور اس کا خلوص مانع استنکافپھر انصاف کیجئے تو اس کا یہ کہنا کہ میں نے توبہ کرلی ہے اور اس مجمع میں توبہ نہ کرنا خود بھی اسی خود داری واستنکاف کی خبر دے رہا ہے ورنہ گزشتہ توبہ کا قصہ پیش کرنا گواہوں کے نام گنانا ان سے تحقیقات پر موقوف رکھنا مگر یہ جھگڑا آسان تھا یا مسلمانوں کے سامنے یہ دو حروف کہہ لینا کہ الہی! میں نے اپنے ان ناپاك اقوال سے توبہ کیپھر یہاں ایك نکتہ اور ہے اس کے ساتھ بندوں کے معاملے تین قسم ہیں ایك یہ کہ گناہ کی اس کی سزا دی جائے اس پر یہاں قدرت کہاںدوسرے یہ کہ اس کے ارتباط واختلاط سے تحفظ وتحرز نہ کیا جائے کہ بد مذہب کا ضرر سخت معتذر ہوتاہےتیسرے یہ کہ اس کی تعظیم وتکریم مثل قبول شہادت و اقتدائے نماز وغیرہ سے احتراز کریںفاسق و بدمذہب کے اظہار توبہ کرنے سے قسم اول تو فورا موقوف ہوجاتی ہے الا فی بعض صورت مستثنیات مذکورۃ فی الدر وغیرہ(مگر بعض ان صورتوں میں جو درمختاروغیرہ میں مذکور ہیں۔ت)مگر دو قسم باقی ہنوز باقی رہتی ہیں یہاں تك کہ اس کی صلاح حال ظاہر ہو اور مسلمان اس کے صدق توبہ پر اطمنان حاصل ہو اس لیے کہ بہت عیار اپنے بچاؤ اور مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے زبانی توبہ کرلیتے ہیں اور قلب میں وہی فساد بھرا ہواہے۔عراق میں ایك شخص صبیغ بن عسل تمیمی کے سر میں کچھ خیالات بد مذہبی گھومنے لگےامیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے حضور عرضی حاضر کی گئی طلبی کاحکم صادر فرمایا وہ حاضر ہوا امیر المومنین نے کھجور کی شاخیں جمع کر رکھیں اور اسے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا فرمایا تو کون ہے کہا میں عبداﷲ صبیغ ہوںفرمایا اور میں عبداﷲ عمر ہوں اور ان شاخوں سے مارنا شروع کیا کہ خون بہنے لگا پھر قید خانے بھیج دیجب زخم اچھے ہوئے پھر بلایا اور ویسا ہی مارا پھر قید کردیا سہ بارہ پھر ایسا ہی کیا یہاں تك کہ وہ بولا یا امیر المومنین! واﷲ اب وہ
حوالہ / References فیض القدیر شرح الجامع الصغیر للمناوی ∞حدیث ۷۶۳€ دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۴۰۶€
#5834 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
ہوا میرے سر سے نکل گئیامیر المومنین نے اسے حاکم یمن حضرت ابوموسی اشعری رضی ااﷲ تعالی عنہ کے پاس بھیج دیا اور حکم فرمایا کہ کوئی مسلمان اس کے پاس نہ بیٹھے وہ جدھر گزرتا اگر سو آدمی بیٹھے ہوتے سب متفرق ہوجاتے یہاں تك کہ ابوموسی رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرضی بھیجی کہ یا امیر المومنین! اب اس کا حال صلاح پر ہے اس وقت مسلمانوں کو ان کے پاس بیٹھنے کی اجازت فرمائیدارمی سنن اور نصر مقدسی وابوالقاسم اصبہانی دونوں کتاب الحجہ ابن الابناری کتاب المصارف اور لالکائی کتاب السنۃ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں سلیمان بن یسار سے راوی:
رجل من بنی تمیم یقال لہ صبیغ بن عسل قدم المدینۃ وکان عندہ کتب فکان یسأل عن متشابہ القران فبلغ ذلك عمر رضی اﷲ تعالی عنہ فبعث الیہ وقد اعدلہ عراجین النحل فلما دخل علیہ قال من انت قال انا عبداﷲ صبیغ قال عمر رضی اﷲ تعالی عنہ وانا عبداﷲ عمر واوما الیہ فجعل یضربہ بتلك العراجین فما زال بضربہ حتی فما زال یضربہ حتی شجہ وجعل الدم یسیل علی وجہہ فقال حسبك یا امیر المومنین واﷲ فقد ذھب الذی اجد فی رأسی ۔ قبیلہ بنی تمیم کا ایك شخص جس کو"صبیغ بن عسل"کہا جاتاتھا مدینہ منورہ آیا اس کے پاس کچھ کتابیں تھیں اور قرآن مجید کے متشابہات کے بارے میں پوچھتا تھا۔حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ تك یہ بات پہنچی تو آپ نے ایك آدمی بھیج کر اسے اپنے ہاں بلالیا اور اس کے لئے کھجوروں کی چند بڑی ٹہنیاں تیار رکھیں جب وہ امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا:تم کون ہو اس نے جواب دیامیں عبداﷲ صبیغ ہوںحضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:میں اﷲ تعالی کا بندہ عمر ہوںپھر اس کی طرف بڑھے اور ان ٹہنیوں سے اسے مارنے لگے اسے مسلسل مارتے رہے یہاں تك کہ وہ زخمی ہوگیا اور اس کے چہرے پر خون بہنے لگا اس نے کہا بس بھی کریں کافی ہوگیا ہے امیر المومنین ! خد ا کی قسم میں اپنے دماغ میں جو کچھ پاتا تھا وہ نکل گیا ہے یعنی ختم
حوالہ / References تنہذیب تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ صبیغ بن عسل داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۶ /۳۸۷،€سنن الدارمی ∞حدیث ۱۴۶€ دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ ∞۱ /۵۱€
#5835 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
ولنصر وابن عساکر عن ابی عثمان النہدی عن صبیغ کتب یعنی امیرالمومنین الی اھل البصرۃ ان لاتجالسوا صبیغا قال ابوعثمن فلوجاء ونحن مائۃ لتفرقناعنہ ۔وللدارمی وابن عبد الحکیم ابن عساکر عن مولی ابن عمر قال قال لہ عمر عما تسأل فحدثہ فارسل الی عمر یطلب الجرید ضربہ بہا حتی ترك ظہرہ دبرۃ ثم ترکہ حتی برء ثم دعا بہ لیعود بہ فقال صبیغ یا امیر المومنین ان کنت ترید قتلی فاقتلنی قتلا جمیلا وان کنت ترید تداوینی فقد و اﷲ برئت فاذن لہ الی ارضہ وکتب لہ الی ابی موسی الاشعری ان لایجالسہ احد من المسلمین فاشتد ذلك علی الرجل
ہوگیا ہے نصر مقدسی اور ابن عساکر نے ابوعثمان نہدی کے حوالے سے صبیغ سے روایت کیامیر المومنین نے اہل بصرہ کو لکھا کہ وہ صبیغ کے پاس نہ بیٹھاکریںچنانچہ ابو عثمان نے بیان کیا(کہ اس حکم کے بعد لوگوں کی یہ حالت ہوگئی کہ)اگر وہ شخص آتا او رہم ایك سو کی تعداد میں موجود ہوتے تو ہم ادھر ادھر بکھر جاتےدارمیابن عبدالحکیم اور ابن عساکر نے حضرت عبداﷲ ابن عمر کے آزاد کردہ غلام سے روایت کی غلام نے کہا حضرت عمر فاروق نے اس سے دریافت فرمایا:تو کس بارے میں سوال کرنا چاہتاہےاس نے جواب دیا اور بیان کیا۔پھر امیر المومنین نے لاٹھیاں منگوا نے کے لیے میرے پاس آدمی بھیجا اور لاٹھیاں منگواکر اس سے مارا پیٹا یہاں تك کہ اس کی پیٹھ زخمی ہوگئیاسے اس حالت میں رخصت کردیا تا آنکہ وہ صحت یاب ہوکر ٹھیك ہوگیاپھر اسے طلب کیا تاکہ اسے مزید زدوکوب کریںصبیغ مذکور نے عرض کی اے امیر المومنین! اگر مجھے ماڈالنا چاہتے ہیں تو مجھے مار ڈالیں اور اگر میرا علاج کرنا چاہتے ہیں تو خدا کی قسم اب میں ٹھیك ہوگیا ہوںامیر المومنین نے پھر اسے اپنے وطن جانے کی اجازت دے دی اور اس کے بارے میں حضرت
حوالہ / References تہذیب دمشق الکبیر ترجمہ صبیغ بن عسل داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۶ /۳۸۷€
#5836 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
فکتب ابو موسی الی عمر ان قد حسنت ھیأتہ ان ائذن للناس فی مجالستہ ولابن الابناری ولنصر و اللالکائی وابن عساکر عن السائب بن یزید رضی اﷲ تعالی عنہ وذکر القصۃ قال فلم یزل یعنی صبیغا وضیعا فی قومہ حتی ھلك وکان سید قومہ ۔ ابوموسی اشعری کی طرف یہ ہدایت تحریر بھیجی کہ کوئی مسلمان اس شخص کے پاس نہ بیٹھنے پائےیہ حکم اسے گراں گزراکچھ عرصہ بعد ابوموسی اشعری نے امیر المومنین کو لکھا کہ اس کی حالت اچھی ہوگئی ہے۔آپ نے انھیں جواب بھیجا کہ اب لوگوں کو اس کے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دیںابن ابی الابناری نصر مقدسی لالکائی اور ابن عساکر نے حضرت سائب بن یزید رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت فرمائی کہ انھوں نے پورا واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ پھر ہمیشہ صبیغ اپنی قم(بے قدر)کہتر ہوگیا یہاں تك کہ اسے موت آگئیباوجود یہ کہ وہ اپنی قوم کا سردار تھا۔(ت)
پھر صحت توبہ پر اطمینان کتنی مدت میں حاصل ہوتاہے صحیح یہ ہے کہ اس کے لئے کوئی مدت متعین نہیں کرسکتے جب اس شخص کی حالت کے لحاظ سے اطمینان ہوجائے کہ اب اس کی اصطلاح ہوگئی اس وقت اس سے دو قسم اخیر کے معاملات بر طرف ہوں گےفتاوی امام قاضی خاں پھر فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
الفاسق اذا تاب لاتقبل شہادتہ مالم یمض علیہ زمان یظہر علیہ اثر التوبۃ والصحیح ان ذلك مفوض الی رائی القاضی ۔ بدکردار جب تائب ہوجائے تب بھی اس کی شہادت مقبول نہ ہوگی جب تك کہ کچھ زمانہ بیت جائے تاکہ اس پر توبہ کے آثار ہو جائیںاور صحیح یہ ہے کہ یہ مسئلہ قاضی کی رائے پر منحصر ہے۔ (یعنی جب قاضی کو اس سے مکمل اطمینان ہوجائے توپھر شہادت مقبول ہوگی۔مترجم)۔(ت)
ظاہر ہے کہ یہ بات نظر بحالات مختلف ہوجاتی ہے ایك سادہ دل راست گو سے کوئی گناہ ہوا اس نے توبہ کی اس کے صدقہ پر جلد اطمینان ہوجائے گا اور دروغ گو مکار کی توبہ کااعتبار نہ کریں گے اگر چہ ہزار مجمع میں تائب ہوامام اجل ملك العلماء ابو بکر مسعود کاشانی قدس سرہالربانی بدائع میں
حوالہ / References تہذیب دمشق الکبیر ترجمہ صبیغ بن عسل ∞۶ /۳۸۷€ وسنن الدارامی ∞حدیث ۱۵۰ ۱/ ۵۱€
تہذیب دمشق ترجمہ صبیغ بن عسل داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۶ /۳۸۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الرابع الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۴۶۸€
#5837 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
فرماتے ہیں:
المعروف بالکذب لاعدالۃ لہ ولا تقبل شہادتہ ابدا وان تاب بخلاف من وقع فی الکذب سہوا اوابتلی بہ مرۃ ثم تاب واﷲ تعالی اعلم۔ جو کوئی دروغ گوئی یعنی جھوٹ بولنے میں مشہور ہو تو اس کے لئے کوئی عدالت نہیں لہذا کبھی بھی اس کی شہادت مقبول نہیں ہوسکتی اگر چہ تائب ہوجائے بخلاف اس شخص کے جس نے بھول کر جھوٹ کہہ دیا یا کبھی کبھار اس سے غلط بیان ہو گئی پھر اس نے توبہ کرڈالی(تو اس کی شہادت توبہ کرنےکے بعد مقبول ہوگیمترجم)اور اﷲ تعالی سب سے بڑاعالم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں:
زید کہتاہے کہ حضرت محبوب سبحانی علیہ الرحمۃ صحابہ سے افضل ہیں اور ایصال نفع ونقصان کے مالك ہیں چنانچہ مجھ کو ان کی گیارھویں کرنے سے ترقی ہوئیگیارھویں اورمولود میرا ایمان ہے۔عمرو کہتاہےکہ حضرت محبوب سبحانی علیہ الرحمۃ صحابہ کرام سے افضل نہیں اور نہ مالك نفع وضرر ہیں البتہ ان کی مقدس روح کو فاتحہ شرینی وغیرہ کا ثواب پہنچانا موجوب خیر وبرکت ہے۔ گیارھویں اور مولود اقدس مروجہ داخل ایمان نہیں کیونکہ میں نے یہ دونوں امنت باﷲ کے معنی میں سے نہیں سنے لیکن یہ بات ضرور ہے کہ ذکر ولادت جناب رسالتمآب علیہ افضل التحیات کا مشروع طور پر کرنا ایمان کے لوازمات سے ہے اور باعث فلاح دارین ہے ____ کس کا قول درست ہے بینوا توجروا(بیا ن کروتاکہ اجرو ثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کو صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے افضل کہنا گمراہی ہے اور بعطائے الہی مالك نفع وضرر کہنے میں حرج نہیںمسلمان جب ایسا لفظ کہتاہے اس کی مراد یہی ہوتی ہے نہ یہ کہ معاذاﷲ بذات خود بے عطائے الہی مالك نفع وضرر جانے کہ یہ کفر خاص ہے اور کوئی مسلمان اس قصہ سے نہیں کہتا۔مجلس میلاد مبارك ویازد ہم شریف میں دو حیثیتیں ہیں ایك حیثیت خصوصی فعل اس طور پر تو فرائض حتی کہ نماز و روزہ بھی داخل ایمان وجزء ایمان نہیںامنت باﷲ (میں اﷲ پر ایمان لایا۔ت)میں ان کا بھی ذکر صریح نہیںدوسری حیثیت مقصدو منشاء یعنی محبت وتعظیم حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو محبت وتعظیم اہلبیت وصحابہ واولیاء وعلماء رضی اﷲ تعالی
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب الشہادۃ فصل اما الشرائط ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۲۶۹€
#5838 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
عنہم بھی اس میں داخل ہے یہ ضرور رکن ایمان ہے:
قال اﷲ تعالی "و تعزروہ و توقروہ " ۔
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایؤمن احد کم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے(قرآن مجید میں)ارشاد فرمایا ان کی(یعنی حضور اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کی)تعظیم وتوقیر کرو۔(ت)
اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:تم لوگوں میں اس وقت تك کوئی ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تك اس میں اس کے نزدیك اس کے والدیناس کی اولاد او ر سب لوگوں سے زیادہ محبو ب نہ ہوجاؤ(یعنی وہ سب سے زیادہ مجھے محبوب رکھے)۔اور اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۹ تا ۲۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)زید نے ایك شخص کو حقہ بھر کردیاشخص مذکور نے حقہ لے کر ایك شعر پڑھازید نے لاعلمی کی وجہ سے یہ کہا سمع اﷲ لمن ہمیں کیااس کے واسطے کیاحکم ہے
(۲)دیگرسوال یہ ہے کہ جس شخص کی قرابت داری رافضیوں سے ہو اور ان کے کھانے پینے میں اور زیست ومرگ میں بھی شامل ہو اور کوئی سمجھائے تو اس کا یہ جواب کہ ہم سے یہ ترك ہو نہیں سکتا
(۳)اورمسئلہ سوم یہ ہے کہ جو شخص سود خور سے محبت قلبی رکھے اور بعد مرگ اس کے مال کی پیروی بہت سی کرے اس کے واسطے کیا حکم ہے
(۴)چہارم زید کی والدہ کا زید کی شادی کے وقت تك یہ عقیدہ تھا کہ حضرت علی شیر خدا کرم اﷲ وجہہ کے برابر کسی صحابی کا رتبہ نہیں ہے۔بینوا توجروا۔(بیان کرو تاکہ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)پہلا لفظ ناپاك جس نے بکا اسے نئے سرے سے کلمہ پڑھنا چاہئے اور اپنی عورت سے تجدید نکاح کرے لا نہ استہزاء بکلمۃ الحمد الا لھی عزجلالہ(اس لئے کہ یہ اﷲ تعالی(کہ جس کا جلال ورعب غالب ہے)کے کلمہ حمد کے ساتھ مذاق ہے۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴۸/ ۹€
صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من الایمان ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۷€
#5839 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
(۲)رافضیوں سے میل جول حرام ہے اور اس کا مرتکب اگر رافضی نہ بھی ہو تو سخت درجہ کا فاسق فاجر ضرور ہے اور جب وہ اس پرا صرار کرتاہے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ خود اس سے ملنا جلنا ترك کردیں۔
قال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے(قرآن مجید میں)ارشادفرمایا:اگر شیطان تمھیں بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے پرظالموں کے پاس مت بیٹھو۔(ت)
(۳)سود خور سے محبت اگر پنی کسی قرابترشتہجائز احسان کی وجہ سے ہے تو اس قدر پر انسان مجبور ہے اور بے اس کے اس سے بھی خلط ملط منع ہے۔
فی التفسیر الاحمدی بما ذکر شمول الکریمۃ المتلوۃ لکل کافر والمبتدع والفاسق ان القعود مع کلہم ممنوع ۔ تفسیر احمدی میں یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اوپر ذکرکردہ آیہ کریمہ ہر کافر بدعتی اور فاسق کو شامل ہے یہ بیان فرمایا کہ ان سب کے پاس بیٹھنا شرعا منع ہے۔(ت)
اور بعد مرگ اس کے مال کی پیروی سے اگر مراد یہ ہے کہ اس کا سود جو لوگوں پر پھیلا ہوا تھا وصول میں کوشش کی جب تو یہ کوشش کرنے والا بھی سود خوار کی طرح ملعون ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ اکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ ۔ سود کھانے والےکھلانے والےلکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے سب پراﷲ تعالی کی لعنت ہے۔(ت)
اور اگر کسی مال حلال کے لئے کوشش کی تو حرج نہیں۔
(۴)زید کی والدی عقیدہ مذکورہ کے سبب اہلسنت سے خارج اور ایك گمراہ فرقے تفضیلیہ میں داخل ہے جن کو ائمہ دین نے رافضیوں کا چھوٹا بھائی کہا ہے مگر اس سے زید پر کچھ الزام
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶ /۶۸€
التفسیرات الاحمدیہ تحت آیۃ وما علی الذین یتقون من حسابہم ∞مطبعہ کریمیہ بمبئی ص۳۸۸€
صحیح مسلم کتاب البیوع با ب الرباء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۲۷€
#5840 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
نہیں جبکہ وہ اس عقیدہ میں شریك نہ ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳: از سنھبل ضلع مراد آباد محلہ ٹیلہ مرسلہ نادر حسین صاحب ۱۴ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
زید نے بھنگی کے گھر پر جاکر اس کے گھر کے کھانے پکے ہوئے پر فاتحہ جناب شاہ بدیع الدین یعنی مدار صاحب دے کر کچھ دام اور شیرینی اور خشك آٹا وغیرہ اپنے گھر لاکر استعمال میں لایا اور سالہا سال سے ایسا ہی کیا کرتاہے یعنی وہ اپنا اسے پیر سمجھتے ہیںاب دریافت طلب امریہ ہے کہ زید کایہ فعل شرعا جائز تھایا ناجائز اگر جائز تھا تو احکام شرعیہ کے کون شے کے جواز سے اور اس کے لائے جنس کا کھانا دوسرے مسلمان کو چاہئے یا نہیں اور اگر ناجائز تھا تو اس کی نسبت کیاحکم مسلمانوں کو اس سے بچنا بہترہے یانہیں
الجواب:
زید بیقید کا یہ فعل بہت ناپاك وبد ہے۔یہاں علی العموم بھنگی کفا رہیںاور کافر کی کوئی نیاز کوئی عمل قبول نہیںنہ ہر گز اس پر ثواب ممکن جسے پہنچایاجائے۔
قال اﷲ تعالی" و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ہباء منثورا ﴿۲۳﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے(قرآن مجید میں)ارشاد فرمایا:اور ہم نے ان کاموں کا ارادہ کیا جو انھوں نے(دنیاوی زندگی میں)کئے پھر ہم انھیں بکھرا ہوا گرد وغبار نباکر اڑادیں گے۔(ت)
ا س کے کھانے پر فاتحہ دینا اس کا ثواب پہنچنے کا اعتقاد ہے اور یہ قرآن عظیم کے خلاف ہے زیر پر توبہ فرض ہے بلکہ تجدید اسلام ونکاح چاہئےبھنگی کا صدقہ جو یہ شخص لاتااور کھاتا ہے اسلام کو ذلیل اور مسلمانوں کو متنفر کرتاہے مسلمان اسے نہ کھائیںاوریہ شخص تائب نہ ہو تو اسے بھنگیوں ہی پر چھوڑدیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴: از ڈیسہ اسحاق اﷲ ملك گجرات مرسلہ پیر زادہ محمد معصوم شاہ صاحب ۱۷ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
بخدمت جناب مجدد ہند مولانا مولوی صاحب احمد رضا خاں صاحببعد تسلیم کے گزارش حال یہ ہے کہ آپ کے نام پیرڈیسہ سے فتوی لکھا ہے وہ شخص مولوی اشرفعلی کاپیرو ہے اور یہاں پر چار سو مکان اہلسنت وجماعت کے ہیں ان کو مولوی اشرفعلی کے سپرد کرنا چاہتاہے یعنی ہمارے ہاں
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۵/ ۲۳€
#5841 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
دستور ہےکہ شادی میں نکاح کے وقت تاشہ بجایاکرتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ غیر مقلد ہماری جماعت میں نہ آنے پائیں مگریہ شخص اشرفعلی کے پیرو ہوکر تاشہ بجانا منع کرتاہے اور جس شے میں گناہ نہ ہو اس کو بھی منع کرتا ہے اس واسطہ آپ اسحاق اﷲ کے نام پر لکھنا تاکہ ہم ان شیطانوں کے پھندوں سے بچیں اگر چہ یہاں پر تاشہ بجن بند ہووے تو ہم کو اپنے مذہب سے پھر جانے کا خوف ہے۔
الجواب:
جناب پیر زادہ صاحب دام مجدہم تسلیم!
شرح مطہر نے شادی میں دف جس میں جلاجل نہ ہوں اور قانون موسیقی پر نہ بجائیں جائز رکھا ہے۔ڈھول تاشے باجے جس طرح رائج ہیں جائز نہیں ناجائز بات کو اگر کوئی بد مذہب یا کافر منع کرے تو اسے جائز نہیں کہا جاسکتاکل کو کوئی وہابی ناچ کو منع کرے تو کیا اسے بھی جائز کردینا ہوگاسنی مسلمانوں کو دین پر ایسا بودا پوچ اعتقا نہ چاہئے کہ گناہ کی اجازت نہ ملے تو دین ہی سے پھر جائیںدین پر اعتقاد ایسا چاہئے کہ لاتشرك باﷲ وان حرقت(اﷲ تعالی کے ساتھ کسی کو شریك نہ کر اگر چہ تجھے جلادیا جائے۔ت)اگر کوئی جلا کر خاك کردے تو دین سے نہ پھرےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و من الناس من یعبد اللہ علی حرف فان اصابہ خیرۨ اطمان بہ و ان اصابتہ فتنۃۨ انقلب علی وجہہ خسر الدنیا والاخرۃ ذلک ہو الخسران المبین ﴿۱۱﴾ " ۔ و العیاذ باﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم۔ کچھ لوگ کنارے پر کھڑے اﷲ کو پوجھتے ہیں اگر کوئی بھلائی پہنچی جب تو خوش ہیں اور کوئی آزمائش ہوئی تو الٹے منہ پلٹ گئے ایسوں کا دنیا وآخر ت دونوں میں گھاٹا ہے یہی صریح زیاں کاری ہے۔اﷲ تعالی کی پناہ۔اور اﷲ تعالی سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
سود کھانا اور جوا کھیلنا اور زانی وغیرہا سب فعل بدکی گناہ ایك برابر ہے یا نہ اور ایسے آدمی کے ساتھ کھانا پینا کیساہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ سب افعال حرام اور سخت کبائر ہیںاور ان میں سے کسی فعل کا مرتکب مستحق نار وغضب جبار ہے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۲/ ۱۱€
#5842 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
پھر زنا کہ سخت خبیث کبیرہ ہے اس میں اگر حق العبد شامل نہ ہو تو سود اور جوا اس سے بد تر ہیں سودم کی نسبت صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الربو ثلث وسبعون حوبا ادناھن ان یقع الرجل علی امہ ۔ سود کھانا تہتر گناہوں کا مجموعہ ہے ان میں سے سب سے ہلکا گناہ ایساہے جیسے آدمی ماں سے زنا کرے۔
اور اگر زنا میں حق العبد بھی شامل ہے تو وہ سود اور جوئے دونوں سے بد ترہے کہ سو دا ورجوئے کا اثر مال پر ہے اور زنا کا ناموس پر اور ناموس مال سے عزیز تر ہے۔ایسے لوگوں کے ساتھ کھانا کھانا نہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶ تا ۲۹: از مقام سوجت مارواڑ بازار کے اند ر مسئولہ شیخ ننے میاں کلاہ فروش داہن منڈی
(۱)یہ کہ کاہنوں اور جوتشیوں سے ہاتھ دکھلاکر تقدیر کا بھلا یا برا دریافت کرنا۔
(۲)اور بیچاری نوجوان بیوہ عورتوں کے نکاح ثانی کو برا سمجھنے اورنکاح ثانی کرنے والوں پر طعن کرنا۔
(۳)اور بیاہ شادیوں میں طوائف اوربھانڈ نچانا
(۴)اور جوئے کا انگہہ لگانا ہارجیت کا جیسا کہ اکثر ہندو مہاجن وغیرہ لگایاکرتے ہیں ایسا کام کرنے والے حنفی المذہب اور اہلسنت و جماعت رہے یا نہیںکیا حکم ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤتاکہ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)کاہنوں اور جوتشیوں سے ہاتھ دکھا کر تقدیر کا بھلا برا دریافت کرنا اگر بطور اعتقاد ہو یعنی جویہ بتائیں حق ہے تو کفر خالص ہے۔اسی کو حدیث میں فرمایا:
فقد کفر بما نزل علی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ بے شك اس سے انکار کیا جو کچھ حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر اتارا گیا۔(ت)
اور اگر بطور اعتقاد وتیقن نہ ہو مگر میل ورغبت کے ساتھ ہو توگناہ کبیرہ ہے۔اسی کو حدیث میں فرمایا:
حوالہ / References سنن ابن ماجہ ابواب التجارات با ب التغلیظ فے الرباء ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۵€
جامع الترمذی کتاب الطہارت بب ماجاء فی کراھیۃ ایتان الحائض ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۹€
#5843 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
لم یقبل اﷲ لہ صلوۃ اربعین صباحا۔ اﷲ تعالی چالیس دن تك اس کی نماز قبول نہ فرمائیگا۔
اور اگر ہزل واستہزاء ہو تو عبث ومکروہ حماقت ہے۔ہاں اگر بقصد تعجیز ہو تو حرج نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)نکاح ثانی کو بر اسمجھنا اور اس پر طعن کرنا اگر محض بربنائے رسم ورواج ومصالح عرفیہ ہے نہ یوں کہ اسے شرعا حرام جانیں یا شرعا حلال جان کر تحلیل تکمیل شرع کو برا سمجھے تو چنداں مورد الزام نہیں۔
کما فصلناہ باطیب تفصیل فی رسالتنا عقائد التہانی فی حکم النکاح الثانی۔ جیسا کہ ہم نے اس مسئلہ کی بہت عمدہ تفصیل اپنے رسالہ عقائد التہانی فی حکم نکاح الثانی میں بیان کی ہے۔(ت)
اور اگر اسے شرعا حرام سمجھتاہے تو حکم کفر ہے اور شرعا حلال جان کر تحلیل شرع کو معاذاﷲ برا جانتاہے تو صریح مرتدواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)طوائفوں کا ناچ مطلقا حرام قطعی ہے جس کی حرمت پر متعد د آیات قرآنیہ ناطق ہیں بھانڈ جس طرح نقلیں بنایا اور لوگوں کو ہنسایا کرتے ہیں یہ بھی شرعا حرام ہے۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قعدو سط الحلقۃ فہو ملعون ۔ جو مجلس بری کے درمیان بیٹھا وہ ملعون ہے۔(ت)
اور مزامیر کے ساتھ ان کا گانا بھی حرام ہے اور اگر لچکے توڑے کے ساتھ ناچتے ہوں تویہ بھی حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)جو ابھی بنص قطعی قرآن حرام ہے مگر ان افعال کے کرنے سے آدمی گنہگار ہوتاہے مستحق عذاب نار ہوتاہے مگر حنفیت یا سنیت سے خارج نہیں ہوتا جب تك اعتقاد میں فرق نہ ہو واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں اطاعت والدین وبرداران واجب ہے یا فرض اور در صورت ارتکاب ان کے یہ گناہ کبیرہ مثلا زنا کرناچوری کرناداڑھی منڈانا
حوالہ / References جامع الترمذی کتاب الاشربۃ باب ماجاء فی شارب الخمر ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۸€
جامع الترمذی کتاب الادب ماجاء فی کراھیۃ القعود وسط الحلقہ ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۰€
#5844 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
یاکترواناترك اطاعت ہے یا اب بھی اطاعت کرنا چاہئےاور اگر بعد ارتکاب کے لڑکا اپنے باپ سے یا چھوٹا بھائی بڑے بھائی سے کہے کہ داڑھی منڈانا یا زنا کرنا یاچوری کرنا چھوڑ دواور اس کے جواب میں وہ کہے کہ یہ تو ضرور کروں گا۔اس حالت میں طاعت کرے یانہیں اور اگر وہ شخص تو بہ سے انکار کرے تو کافر ہوایانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اطاعت والدین جائز باتوں میں فرض ہے اگر چہ وہ خود مرتکب کبیرہ ہوںان کے کبیرہ کاوبال ان پر ہے مگر اس کے سبب یہ امور جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہر نہیں ہوسکتاہاں اگر وہ کسی ناجائز بات کا حکم کریں تو اس میں ان کی اطاعت جائز نہیں۔
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالی ۔ اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت(فرمانبرداری) نہیں۔(ت)
ماں باپ اگر گناہ کرتے ہوں تو ان سے بہ نرمی وادب گزارش کرے اگر مان لیں بہتر ورنہ سختی نہیں کرسکتا بلکہ غیبت میں ان کے لئے دعا کرےاور ان کا یہ جاہلانہ جواب دینا کہ یہ تو ضرور کروں گا یا توبہ سے انکار کرنا دوسرا سخت کبیرہ ہے مگر مطلقا کفر نہیں جب تك حرام قطعی کو حلال جاننا یا حکم شرعی کی توہین کے طو رپر نہ ہو اس سے بھی جائز باتوں میں ان کی اطاعت منع نہ کی جائے گی ہاں اگر معاذاﷲ یہ انکار بروجہ کفر ہو تو وہ مرتد ہوجائیں گے اور مرتد کے لئے مسلمان پر کوئی حق نہیں رہا بڑا بھائی وہ ان احکام میں ماں باپ کا ہمسر نہیںہاں اسے بھی حق تعظیم حاصل ہے۔اور بلاوجہ شرعی ایذا رسانی تو کسی مسلمان کی حلال نہیںاور اﷲ تعالی سب مخلوق سے زیادہ جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۱:از پیلی بھیت کچہری کلکٹری مرسلہ جناب مولوی عرفان علی صاحب رضوی برکاتی بیسلپوری ۱۰ ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
اہل ہنود کے میلوں میں مثل دسہرہ وغیرہ میں جو مسلمان دیکھنے کی غرض سے جاتے ہیں کیا ان کی عورتیں نکاح سے باہر ہوجاتی ہیں کیا تجارت پیشہ لوگوں کو بھی جانا ممنوع ہے
الجواب:
ان کا میلہ دیکھنے کے لئے جانا مطلقا ناجائز ہے۔اگر ان کا مذہبی میلہ ہے جس میں وہ اپنا
حوالہ / References مسندامام احمد بن حنبل بقیہ حدیث الحکم بن عمرو الغفاری المکتب الاسلامی بیروت ∞۵ /۶۶€
#5845 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
کفر وشرك کریں گے کفر کی آواز وں سے چلائیں گے جب تو ظاہر ہے اوریہ صورت سخت حرام منجملہ کبائر ہے پھر یہ بھی کفرنہیں اگر کفری باتوں سے نافر ہے ہاں معاذاﷲ ان میں سے کسی بات کو پسند کرے یا ہلکا جانے تو آپ ہی کافر ہے اس صورت میں عورت نکاح سے نکل جائے گی اور یہ اسلام سے ورنہ فاسق ہے۔اور فسق سے نکاح نہیں جاتاپھر بھی وعید شدید ہے او ر کفریات کو تماشا بنانا ضلال بعید ہے۔حدیث میں ہے:
من کثر سواد قوم فہومنہم ومن رضی عمل قوم کان شریك من عمل بہرواہ ابویعلی فی مسندہ وعلی بن معبدفی کتاب الطاعۃ والمعصیۃ عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ورواہ الامام عبداﷲ بن المبارك فی کتاب الزھد عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ من قولہ وھو عند الخطیب عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلفظ من سود مع قوم فہو منہم ۔ جو کسی قوم کا جتھا بڑھائے وہ انھیں میں سے ہے اور جو کسی قوم کا کوئی کام پسند کرے وہ اس کام کرنے والوں کا شریك ہے (امام ابویعلی نے اپنی مسند میں اس کو روایت فرمایا اور علی بن معبد نے کتاب الطاعۃ والمعصیۃ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ کی سند سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے اسے روایت کیا اور امام عبداﷲ بن مبارك علیہ الرحمۃ نے کتاب الزہد میں حضرت ابو ذر رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول سے اس کو روایت کیا جبکہ وہ خطیب کےنزدیك حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ کےحوالے سےحضور علیہ الصلوۃ والسلام سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے جو کسی قوم کے ساتھ ہوکر ان کا جتھا بڑھائے تو وہ انہی میں شمار ہے۔ت)
اور اگر مذہبی میلہ نہیں لہو ولعب کا ہے جب بھی ناممکن کہ منکرات وقبائح سے خالی ہو اور منکرات کاتماشا بنانا جائز نہیں۔ رد المحتارمیں ہے:
کرہ کل لہو والاطلاق ہرکھیل مکروہ یعنی ناپسندیدہ کام ہے اور اس کو
حوالہ / References نصب الرایۃ لاحدیث الہدایۃ بحوالہ ابی یعلی وعلی بن معبد کتاب الجنایات المکتبہ الاسلامیہ ∞۳ /۳۴۶€
کنزالعمال بحوالہ حن عن انس ∞حدیث ۲۴۶۸۱€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۹ /۱۰،تاریخ بغداد ترجمہ عبداﷲ بن عتاب ۴۱۶۷€ دارالکتاب العربی بیروت ∞۱۰ /۴۰€
#5846 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
شامل لنفس الفعل واستماعہ ۔ مطلق(بغیر کسی قید)ذکر کرنا اس کے کرنے اور سننے دونوں کو شامل ہے۔(ت)
طحطاوی صدر کتاب بیان علوم مخفی ذکر شعبدہ میں ہے:
یظہر من ذلك حرمۃ التفرج علیہم لان الفرجۃ علی المحرم حرام ۔ اس سے کھیل(تماشا)پر خوشی منانے کی حرمت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ کسی حرام کام پر خوشی منانا بھی حرام ہے۔(ت)
یعنی شعبدہ باز بھان متی بازیگر کے افعال حرام ہے اور اس کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے کہ حرام کو تماشا بنانا حرام ہے خصوصا اگر کافروں کی کسی شیطانی خرافات کو اچھا جانا تو آفت اشد ہے اور اس وقت تجدید اسلام وتجدید نکاح کا حکم کیا جائے گا۔غمز العیون میں ہے:
اتفق مشائخنا ان من رأی امر الکفار حسنا فقد کفر حتی قالوا فی رجل قال ترك الکلام عنداکل الطعام حسن من المجوس اوترك المضاجعۃ عند ھم حال الحیض حسن فہو کافر ۔ ہمارے مشائخ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ جس نے کافروں کے کسی کام کو اچھا سمجھا تو وہ کافر ہوگیا انھوں نے یہاں تك شدت اختیار فرمائی کہ اگر کسی شخص نے(آتش پرستوں کے بارے میں کہا کہ ان کا طعام کھانے کے وقت خاموش رہنا اچھی بات ہے اور اسی طرح ایام ماہواری میں عورت کے پاس نہ لیٹنا عمدہ بات ہے تو وہ کافر ہے(یعنی اہل کفر کی بات کو بھی اچھا کہنا یا سمجھنا خالص اسلام میں موجب کفر ہے)۔ (ت)
اوراگر تجارت کے لئے جائے تو اگر میلہ ان کے کفروشرك کاہے جانا ناجائزوممنوع ہے کہ اب وہ جگہ ان کا معبد ہے اور معبدکفار میں جانا گناہ۔تیمیہ پھر تتارخانیہ پھر ہندیہ میں ہے:
یکرہ للمسلم الدخول فی البیعۃ والکنسیۃ وانما یکرہ من حیث انہ مجمع الشیاطین ۔ یہودیوں کی عبادت گاہ اور عیسائیوں کے گرجے(چرچ)میں کسی مسلمان کا داخل ہونا مکروہ ہے اس لئے کہ وہ شیاطین کے جمع ہونے کی جگہ ہے۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۵۳€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار خطبۃ الکتاب دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۳۱€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی اداراۃ القرآن والعلوم الاسلامی ∞کراچی ۱/ ۲۹۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۶€
#5847 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
بحرالرائق میں ہے:
والظاھر انہا تحریمیۃ لانہا المرادۃ عند اطلاقہم ۔ ظاہر یہ ہے کہ کراہت سے کراہۃ تحریمی مرا دہے کیونکہ"عند الاطلاق"وہی مراد ہواکرتی ہے۔(ت)
بلکہ ردالمحتار میں ہے:
فاذا حرم الدخول فالصلوۃ اولی ۔ جب وہاں جانا اور داخل ہونا حرام ہے تو نما پڑھنا بدرجہ اولی حرام ہے۔(ت)
اوراگر لہو ولعب کا ہے اور خود اس سے بچے نہ اس میں شریك ہو نہ اسے دیکھے نہ وہ چیزیں بیچے جو ان کے لہو ولعب ممنوع کی ہوں تو جائز ہے پھر بھی مناسب نہیں کہ ان کا مجمع ہر وقت محل لعنت ہے تو اس سے دوری ہی میں خیر وسلامت ہے ولہذا علماء نے فرمایا کہ ان کے محلہ میں ہو کر نکلے تو جلد لمکتا ہوا گزر جائےغنیہ ذوی الاحکام پھر فتح اﷲ المعینپھر طحطاوی میں ہے:
ھم محل نزول اللعنۃ فی کل وقت ولا شك انہ یکرہ السکون فی جمیع یکون کذلك بل وان یمر فی امکنتہم الا ان یھرول ویسرع وقد ردت بذلك اثار ۔ اس لئے کہ ہر وقت مقامات کفار پر خدا کی لعنت برستی ہے۔ اور اس میں کوئی شك نہیں کہ ایسی مجلس(اور جگہ)میں ٹھہرنا مکروہ ہے(ناپسندیدہ امر)ہے بلکہ ان کے مقامات کے قریب جب کبھی گزرنا پڑے تو جلدی سے دوڑ کر گزرے چنانچہ آثار یہی وارد ہواہے۔(ت)
اوراگر خود شریك ہویا تماشا دیکھے یا ان کے لہو وممنوع کی چیز بیچے تو آپ ہی گناہ وناجائز ہے درمختارمیں ہے:
قدمنا معزیا للنہر ان ماقامت المعصیۃ بعینہ یکرہ بیعہ تحریما والافتنزیہا ۔ ہم نے"النہر الفائق"کی طرف نسبت کرتے ہوئے پہلے بیان کردیا ہے جس کے ساتھ"بعینہ"گناہ قائم ہو اس کا فروخت کرنا مکروہ تحریمی ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو پھر کراہۃ تنزیہی ہوگی(ت)
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ مطلب تکرہ الصلٰوۃ فی الکنسیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۵۴€
ردالمحتار بحوالہ بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ مطلب تکرہ الصلٰوۃ فی الکنسیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۲۵۴€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۷€
#5848 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
اذا ارا دالمسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ ومعہ فرسہ وسلاحہ وھو لایرید بیعہ منہم لم یمنع ذلك منہ ۔ جب کوئی مسلمان دارحرب(دار کفر)میں کاروبار کے لئے جاناچاہے اور اس کے ساتھ گھوڑا اور ہتھیار وغیرہ ہوں او روہ انھیں(وہاں)بیچنے کا ارادہ نہ رکھتاہو تو اسے نہ روکا جائے۔ (ت)
ہاں ایك صورت جواز مطلق کی ہے وہ یہ کہ عالم انھیں ہدایت اور اسلام کی طرف دعوت کے لئے جائے جبکہ اس پر قادر ہو یہ جانا حسن ومحمود ہے اگر چہ ان کامذہبی میلہ ہو ایسا تشریف لے جانا خود حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے بارہا ثابت ہے مشرکین کا موسم بھی اعلان شرك ہوتا لبیك میں کہتے:
لاشریك لك الا شریکا ل ھو ك تمبلکہ وماملک۔ تیرا کوئی شریك نہیں مگر وہ شریك جس کاتو مالك ہے مگر وہ تیرا مالك نہیں۔(ت)
جب وہ سفہاء لاشریك تك پہنچے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے:ویلکم قط قط خرابی ہو تمھارے لئے بس بس یعنی آگے استثنا نہ بڑھاؤواﷲ تعالی اعلم۔(اور اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم رکھتاہے۔ت)
مسئلہ ۳۲: مسئولہ اکبر یار خاں محصل چندہ مدرسہ اہلسنت باشندہ شہر کہنہ روز پنچشنبہ ۲۵ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
اس مسئلہ میں کہ حرام اور کفر اور سود کھانے میں کون سا گناہ صغیرہ ہے اور کون سا کبیرہ ہے مہربانی فرماکر کے جواب بالتفصیل وار دہونا چاہئے
الجواب:
لا الہ الا اللہکفر ہر کبیرہ سے بد ترکبیرہ ہے اور سود بھی کبیرہ ہے " الا اللمم ان ربک وسع المغفرۃ " (جو لوگ بڑے بڑے گناہون اور بیحیائی کے کاموں سے بچتے رہتے ہیں مگر یہ کبھی(شاذونادر)ان سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے یقینا تمھارا پرودگار وسیع بخشش والا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔(اور اﷲ سب کچھ طرح اچھی جانتا ہے۔ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۳۳€
القرآن الکریم ∞۵۳ /۳۲€
#5849 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
مسئلہ ۳۳ و ۳۴:ازبناس محلہ کچی باغ مدرسہ مظہر العلوم حافظ نور محمد طالب علم ساکن مئوی روز پنچشنبہ تاریخ ۹ محرم ۱۳۳۴ھ
(۱)بدعت سیئہ کا عامل ومعتقد گناہ کبیرہ کے عامل سے زیادہ فاسق ہے یا کم یا برابر
(۲)غیبت کرناجھوٹ بولناکاص کر وہ جھوٹ جن سے خلق خدا میں فتنہہودو دوست میں یا شوہر بی بی میں یا باپ بیٹے میں یا بھائی بھائی میں اس جھوٹ سے رنجش ہوجائے باہم جدائی ہوکے گھر کی خرابی کی نوبت آجائےاور مسلمان کے عیب کی تلاش وتجسس میں رہناکوئی مسلمان اگر پوشیدگی سے کوئی گناہ کرتاہو تو اس کی تجسس میں لگے رہنا اور پتا پاتے پر یا محض اپنی شبہ وقیاس سے اس کو فاش کرنا شہرت دینا کس درجہ کا گناہ ہے اور گناہان مذکورہ بالا کا مرتکب فاسق ومستحق لعنت خدا اور رسول ہے یانہیں اور یہ سب گناہ شرعا درجہ فسق میں زنا سے کم ہے یا زیادہ یا برابر جواب مفصل اور مدلل درکارہے۔بینوا توجروا (بیان کرو اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)عمل بدعت سیئہ مکروہ وحرام وصغیرہ وکبیرہ ہر قسم ہے تو اس کا مرتکب مطلقا فاسق بھی نہیں ہوسکتا جب تك اصرار نہ کرے اور اعتقاد بالبدعۃ السیئہ یعنی کسی عقیدہ قطعیہ اجماعیہ اہلسنت کے خلاف اعتقاد رکھنے والا ضرور ہر کبیرہ عمل سے بدتر کبیرہ کا مرتکب اور فاسق عملی سے بد تر فاسق ہے ۔غنیہ میں ہے:
فسق الاعتقاد اشد من فسق العمل ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اعتقاد میں فسقعمل کے فسق سے بدترہےاور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
(۲)یہ سب گناہان کبیرہ ہیں اور ان کا مرتکب فاسق ومستحق لعنتحدیث میں فرمایا:
الغیبۃ اشد من الزنا ۔ غیبت سخت ہے زنا سے۔
اور ظاہر ہے کہ قتل مومن غیبت سے اشد ہے۔اور اﷲ تعالی فرماتاہے:
" الفتنۃ اشد من القتل" ۔ فتنہ قتل سے سخت ترہے۔
حوالہ / References غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی الامامۃ ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴€
شعب الایمان ∞حدیث ۶۷۴۱،۶۷۴۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۵ /۳۰۶،€مجمع الزوائد باب ماجاء فی الغبیۃ الی آخرہ دارالکتاب بیروت ∞۸ /۹€۱
القرآن الکریم ∞۲ /۱۹۱€
#5850 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
اور ان سب میں حق العباد ہے تو اس زنا سے ضرور بدتر ہے۔جس میں حق العباد نہ ہو مگر وہ جھوٹ جس سے کسی کا ضرر نہ ہو کہ بے مصلحت شرعی ہو تو گناہ وضرور ہے مگر اسے زنا کے برابر نہیں کہہ سکتے کہ یہ صغیرہ ہے بعد اصرار کبیرہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۵: از موضع سوہاوہ ضلع بجنور محلہ مولویاں مسئولہ حفظ الرحمن روز شنبہ ۱۷/ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
جو مسلمان نماز پڑھتے ہے قبلہ کی طرفلیکن تصویر کو سجدہ کرتا ہے۔اس کو کافر کہنا چاہئے یانہیں اگر کافر کہا جائے تو قول امام لایکفر اھل القبلۃ(امام اعظم کے نزدیک)اہل قبلہ کی تکفیر نہ کی جائے گی۔ت)کی کیا توجیہ ہے نیز بخاری میں ہے حضرت انس سے روایت ہے کہ فرمایا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے:"جوہماری طرح نماز پڑھےہمارے قبلہ کی طرف متوجہ ہوہمارا ذبیحہ کھائےوہ مسلمان ہےاس کے لئے اﷲ ورسول کا ذمہ ہے اس کے ذمہ میں اﷲ کا عہد نہ توڑو"۔ اس کا کیا مطلب ہے فقط
الجواب:
سجدہ تحیت اگر بت یا چاند یا سورج کو کرتاہے ضرور اس پر حکم کفر ہےکفر اگر چہ عقد قلبی ہے مگر جس طرح اقوال زبان اس پر دلیل ہوتے ہیں یوہیں بعض افعال جن کو شریعت نے ٹھہرادیا ہے کہ یہ صادر نہیں ہوتے مگر کافر سے انھیں سے اشیاء مذکورہ کو سجدہ ہے یا معاذاﷲ مصحف شریف کو نجاست میں پھینك دینا یا کسی نبی کی شان میں گستاخی
کما صرح بہ علماؤ نا المتکلمون فی المسایرۃ وشروح المقاصد والمواقف والفقہ الاکبر وغیرھا۔ جیسا کہ اس کی تصریح ہمارے متکلمین علماء نے(متعدد کتب عقائد)مثلا المسایرہشروحمقاصدالمواقف اور فقہ اکبر وغیرہ میں(اچھے انداز سے)فرمائی ہے۔(ت)
یوہیں تصویر اگر مشرکین کے معبودان باطل کی ہو تو اسے سجدہ کرنے پر بھی مطلقا حکم کفر ہے۔
لاشتراك العلۃ بل لافرق بینہا وبین الوثن الا بالتسطیح بالتجسیم۔ اس لئے کہ علت مشترك ہے(لہذا حکم بھی ایك ہے)بلکہ اس میں(یعنی تصویر)اور بت میں سوائے جسمانیت اور کوئی فرق نہیں(مراد یہ کہ وثن(بت)میں جسم ہے جبکہ عکسی اور نقشی تصویر میں جسم نہیں)۔(ت)
اور اگر ایسی نہیں تو اسے سجدہ کرنا مطلقا حرام وکبیرہ ہے مگر کفر نہیں جب تك بہ نیت عبادت
#5851 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
نہ ہوجس صورت پر حکم کفر نہیں اس پر تو حدیث فقہ اکبر سے کوئی اشتباہ ہی نہیں اور جن صورتوں پر حکم کفر ہے ان پر جواب ظاہر ہے اہل قبلہ وہی ہے کہ ضروریات دین پر ایمان لاتاہو ا ورکوئی قول وفعل قاطع ایمان اس سے صادر نہ ہو ورنہ صرف قبلہ کی طرف ہماری کی سی نماز پڑھنا اور ہمارا ذبیحہ کھانا بنصوص قطعیہ قرآن ایمان کے لئے کافی نہیںمنافقین یہ سب کچھ کرتے تھے اور یقینا کافر تھے۔
قال تعالی" ولایاتون الصلوۃ الا وہم کسالی" وقال تعالی " اذا جاءک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ و اللہ یعلم انک لرسولہ و اللہ یشہد ان المنفقین لکذبون ﴿۱﴾"
الی اخر الرکوع الشریفقال تعالی
" ولئن سالتہم لیقولن انماکنا نخوض ونلعب قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستہزءون ﴿۶۵﴾ لاتعتذروا قدکفرتم بعد ایمنکم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:وہ(اہل نفاق)نماز ادا نہیں کرتے مگر جی ہارے سستی سےاور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ یقیناآپ اﷲ تعالی کے رسول ہیںاور اﷲ تعالی جانتاہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن اﷲ گواہی دیتاہے کہ منافق نرے جھوٹے ہیںآخر رکوع شریف تک(یہی ذکر ہے)۔اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگر ااپ ان سے پوچھیں(کہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو)تو جھوٹ کہہ دین گے یہ تو ہم ہنسی کھیل کررہے ہیں(ان سے)فرمادیجئے کیا اﷲ تعالیاس کی آیتوں اور اس کے رسول(گرامی)سے ہنسی مذاق کررہے ہو(یعنی کیا تم نے اتنا بھی نہ سوچا کہ اپنے مذاق کا محل کسی کو بنارہے ہو)لہذا اب بے جابہانے نہ بناؤ کیونکہ اب تم اپنے ایمان کے بعد (کھلے)کافرہوگئے ہو۔(ت)
مسئلہ شرح فقہ اکبر وردالمحتار وغیرہمامیں مصرح ہے اور ہم نے تمہید ایمان وغیرہ میں بارہا اسے مفصل کیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۹/ ۵۴€
القرآن الکریم ∞۶۳/ ۱€
القرآن الکریم ∞۹ /۶۶-۶۵€
#5852 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
مسئلہ ۳۶ تا ۴۱:مسئولہ سید منظور حسین بتوسط احمد حسن خاں رضوی نجیب آباد محلہ بوعلیخان مرحوم ضلع بجنور ۲۵ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
اعلیحضرت عظیم البرکت مجدد دین وملت صاحب حجت قاہرہمؤید ملت طاہرہ جناب مولانا صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!
حضورکا کیا ارشاد ہے حضور کا فضل ہمیشہ رہے درباہ مسئلہ ذیل:کل یہاں نجیب آباد کے بازاروں گلی کوچوں میں مسلمانوں کی ایك جماعت(جس میں پرھے لکھے بلکہ متعدد ذی اثر ومقتدرشرفاء قصبہ بھی شامل تھے اور جن میں سے بعض تو عوامی کی زبانوں پر معاذ اﷲ دین کا جھنڈااسلام کا رکن واسلام کا پایہ وغیرہ وغیرہ ناموں سے مشہور ہیں)بہ معیت ایك ہجوم کفار ہنود رنگ پاشی کرتی مغلظ وشرمناك ہولیاں گاتیجے جے کے نعرے بلند کرتیدکانوں پر سے مسلمانوں کو ہولی بازی میں حصہ لینے کے لئے بالجبر کھینچتی اور ہر سامنے آنے والے ہندو مسلمان پر رنگ برساتی ہوئی گزریوالعیاذ باﷲ تعالیمسلمانوں کی داڑھیاں (جن کے تھیں)چہرے کپڑے گلال ورنگ میں شہڈوب تھے باؤلوں دیوانوں کی طرح بےہوشآبے سے باہر کودتے پھاندتے چیختے چلاتے پھرتے تھےغرض ہر باغیرت مسلمان کے پیش نظر ایك ہولناك وحشت خیز منظر جماعت مذکورہ نے بعض غیور مسلمانوں کے مطالبہ کرنے پر یہ جواب دیا کہ یہ حرکت شنیعہ بدیں وجہ کی گئی ہے کہ اس طرح(ان کے زعم میں) ہندو مسلم باہم متحد ومتفق ہوجائیں اور کہ ایسا کرنے میں کوئی دینی مضرت نہیں ہے مسلمان پہلے بھی کھیلاکرتے تھےبلکہ ایك مقام پر کسی مولوی صاحب نے بھی شرکت کی تھی ہم ہنود کے کندھوں پر تعزیے رکھا کر بدلہ لیں گے جو(ان کے زعم میں)دینکا نفع عظیم ہے اب دریافت طلب امور ذیل ہیں:
(۱)معاذاﷲ اگر کسی نے حرکت مذکورہ جائز جان کی کی
(۲)یا قصدا برضا ورغبت ا س کا ارتکاب کیا(جیسا کہ ظاہر ہے کہ جماعت مذکورہ نے کیا اگر وہ نہ چاہتے تو کفار مذکور ہر گز ایسا نہ کرتےنہ پیشتر کبھی یہاں ایسا ہوا چنانچہ امسال بھی شہرکے اکثر باحمیت مسلامان بحمدہ تعالی اس ناپاك وخفیف حرکت سے مجتنب ومحفوظ رہے)
(۳)یا اگر کسی مسلمان نے جماعت مذکورہ کے فعل کو بجائے رنج ونفرت وحقارت کی نگاہ سے دیکھنے کے بنظر مسرت وعظمت واستحسان دیکھا بلکہ غیور معترضین سے الٹا معارضہ کیا اگرچہ خود شریك نہیں ہوا۔
(۴)یا اگر کوئی مسلمان باجماعت مذکورہ کو قبل از اعلانیہ توبہ رکن اسلام سمجھے یا حرکت مذکورہ کی تعریف
#5853 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
کرے یاکسی طرح اس کا ساتھ دے تو ہر چہار اشخاص کے ایمان ونکاح وبیعت پر کسی قسم کا ناقص اثر تو نہیں پڑتاہے۔اگر ناقص اثر پڑتا ہے تو ان سے کسی طرح توبہ کرائی جائے۔
(۵)اور کیا ایسا اتحاد جائز ہےجواب مدلل ومفصل وآسان عبارت میں اور حتی الامکان جلد عطا ہو تاکہ ہر مسلمان سمجھ سکے اور جو بروز جمعہ مساجد میں اعلان کرکے مسلمانوں کو اس قبیح حرکت سے ڈرایا اور بچایا جانے ورنہ معاذا ﷲ ممکن ہے کہ رسم ناپاك نجیب آباد میں ہمیشہ کے لئے قائم ہوجائے اور نمونہ ملعونہ کی تقلید تمام ضلع بلکہ دور دور شہروں میں کی جائے۔
(۶)نیز ارشاد فرمائے کہ اگر جماعت مذکورہ جناب کے حکم شرعی پر عمل کرکے تائب نہ ہو تو عام مسلمان ان سے سلام کلام کریں یا نہیں جواب دستخط اقدس ومہر شریف سے مزین ہو۔
ہم مستفیان اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضور بباعث ہجوم کام نہایت عدیم الفرصت ہیں لیکن امرہذا اگر حضور سے(کہ صدی موجود میں واحد نافذ اسلام ہیں)نہ عرض کیا جائے اور کہا جائیں اﷲ تعالی حضور کو ہم غریبوں کے سروں پر تاعرصہ دراز باعافیت وعزت صحت سلامت باکرامت اعداء دین اﷲ پر نمایاں طور پر مظفر ومنصور مع جمیع متبعین قائم رکھے اور شب وروز اپنی بے انتہاء برکات نازل فرماتا رہے بطفیل حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وآلم واصحابہ اجمعین برحمتك یا ارحم الراحمین۔
الجواب:
ظاہر ہے کہ افعال شنیعہ مذکورہ سخت ملعون ہیں جس نے انھیں مستحسن جانا باتفاق ائمہ کرام کافرہے۔ غمز العیون البصائر میں ہے:
من استحسن فعلا من افعلال الکفار کفر باتفاق المشائخ ۔ جس(بدنصیب)نے کفار کے افعال میں سے کسی فعل کو اچھا سمجھا(اور اس کی تحسین کی)تو وہ مشائخ کے اتفاق سے کافر ہو گیا۔(ت)
یہ لوگ تو اسلام سے خارج ہوگئے ان کی عورتیں نکاح سے نکل گئیں ان کی بیعتیں جاتی رہیں نیز جس نے ان افعال کو جائز و حلال جانا اور ان پر راضی ہوا اور ان پر معترضین سے معارضہ کیا یہ لوگ بھی اسی حکم میں ہیں کہ مشرکین کے تہوار کی خوشی منانا ان کے ایسے افعال ملعونہ میں شرکت کرنا معصیت قطعیہ ہے۔اور معصیت قطعیہ کا استحلال کفر ہے۔اور جنھوں نے ان افعال ملعونہ کو ملعون وشنیع ہی جانا اور انھیں برا جان کر
حوالہ / References غمز عیون البصائر الفن الثانی کتا ب السیر والردۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۲۹۵€
#5854 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
اپنی شیطانی مصلحت کے خیال سے شرکت کی ان کے قلب کا حال اﷲ عزوجل جانتا ہے مرتکب کبائر ہوئے مستحق عذاب نار ہوئے سزوار لعنت ہوئے مگر عنداﷲ کافر نہ ہوئےلیکن شرع ظاہر پر حکم فرماتی ہےحدیث میں ہے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فہو منہم ۔ جو کسی قوم کے سے مشابہت پیدا کرے گا وہ انھیں میں سے ہوگا۔
دوسری حدیث میں ہے حضورصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من کثر سواد قوم فہو منہم ۔ جو کسی قوم کی جماعت بڑھائے وہ انھیں میں سے ہے۔
ان پر بھی توبہ اور تجدید اسلام فرض ہے تائب ہوں اور نئے سرے سے کلمہ پڑھ کر اپنی عورتوں سے نکاح دوبارہ کریں اور وہ مصلحت ملعونہ اتحاد کہ ان کے قلب میں ابلیس نے القاء کیوہ خود کب حلال ہے۔کافرومومن میں اتحاد کیسا اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء" اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ ٹھہراؤ۔
اور فرماتاہے:
" لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین" ایمان والے ایمان والوں کے سوا کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں۔
اور فرماتاہے:
لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم تم نہ پاؤ گے انھیں جو ایمان رکھتے ہیں اﷲ اور قیامت کے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنھوں نے مخالفت کی اﷲ ورسول کی اگرچہ وہ ان کے باپ ہوں یا
او اخونہم او عشیرتہم " بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا کنبے والے ہوں۔
اور فرماتاہے:
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " تم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انھیں میں سے ہے۔
کفار میں امور دنیوی مثل تجارت وغیرہا میں موافقت کی جاسکتی ہے جہاں تك مخالفت شرع نہ ہو مگر ان کے امور مذہبی میں موافقت اور وہ بھی معاذاﷲ اس حد تك ضرور لعنت الہی اترنے کی باعث ہے اور وہ بیہودہ خیال کہ ہم ان سے تعزیہ مسلمانوں کی کوئی عید نہیں بلکہ جہال نے اسے
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳€
∞تاریخ بغداد ترجمہ عبداﷲ بن عتاب ۵۱۶۷€ دارالکتاب العربی بیروت ∞۱۰ /۴۰،€اتحاف السادۃ المتقین کتاب الحلال والحرام الباب السادس دارالفکر بیروت ∞۶ /۱۲۸€
القرآن الکریم ∞۶۰ /۱€
القرآن الکریم ∞۳ /۲۸€
القرآن الکریم ∞۵۸ /۲۲€
القرآن الکریم ∞۵/ ۵۱€
#5855 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
موسم ماتم بنا رکھا ہے مسلمانوں کا کوئی امر مذہبی نہیں بلکہ مذہب میں ممنوع وناروا ہے۔ ہندؤوں کے مذہب میں ان کی ممانعت نہیںاودھ میں بہتیرے ہندو آپ ہی تعزیہ بناتے اور اٹھاتے ہیں بخلاف ہولی کہ عید کفار ہے اور ان کا مذہبی شعار ہے اور دین اسلام میں سخت حرام ہے تو یہ اس کا معاوضہ کیسے ہوسکتاہےایسا ملعون اتحاد منانے والے کیا ہنود سے یہ قرار داد لے سکتے ہیں کہ وہ عید الضحی میں ان کا ساتھ دیں گے گائے یہ پچھاڑن چھوٹی سی بچھیا وہ بھی لٹائیں گے سیر بھر یہ کھائیں تو پاؤ بھر وہ بھی کھالیں گےایسا ہوتا تو کچھ جاہلانہ معاوضہ کا گمان ممکن تھا کہ عید الضحی مسلمانوں کی عید ہے اور گاؤ کشی ان کا مذہبی مسئلہ اور ہندؤوں کے یہاں حرام ہے ان سے کہہ کر دیکھیں کیا جواب ملتاہے اس وقت کھل جائے گا کہ اس ملعون اتحاد کی تالی ایك ہی ہاتھ سے بجی ہندؤوں اپنے مذہب پر قائم ہیں اور تم مسلمان اپنے دین سے نکل گئے ایسوں کو رکن اسلام کہنا اسلام کی توہین کرنا ہے اﷲ تعالی مسلمانوں کو ہدایت دے اور شیطان ملعون کے دھوکوں سے بچائے اگریہ لوگ نہ مانیں اور ایسے ہی اعلان کے ساتھ توبہ نہ کریں جس اعلان کے ساتھ وہ کفریات کئے تھے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کو چھوڑ دیں ان سے میل جول سلام کلام سب ترك کردیں
قال اﷲ تعالی:" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کہیں تمھیں شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ہر گزظالموں کے ساتھ نہ بیٹھوں واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶ /۶۸€
#5856 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
مسئلہ ۴۲: مرسلہ صالح محمد خاں سابق مدرس ساکن قصبہ بابلکہ ضلع بلند شہر ۵/ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ کیا حال ہے ایسے شخص کا جو گناہان مندرجہ ذیل کا مرتکب ہوا وہ شخص مسلمان رہا یا نہیں اور نماز اس کے پیچھے جائز ہے یانہیں
(۱)ایك شخص نے جان بوجھ کر بسبب دنیوی رنجش کے قصدا فعل حلال شرعی کو حرام کردیا۔
(۲)غیر مقلدین کو جو اپنےکو عامل بالحدیث مشہور کرتے ہیں اور امامان مجتہدین رحمہم اﷲ تعالی کو بدعتی اور اصحاب الرائے کہتے ہیں ان کو درباہ شخصے خلاف شرع مدد دی۔
(۳)شرعی معاملہ میں عمدا بحلف جھوٹی شہادت دی۔
(۴)چار مسلمانان اہلسنت وجماعت حنفی مذہب واقف مسائل شرعی کے روبرو شرعی فعل حلال و جائز کو برحق اور سچا تسلیم کرکے پھر اس کلمہ حق سے منحرف ہوکر ناجواز کا قائل ہوا اور یہ شخص پیش امام مسجد بھی ہے آیا نماز اس کے پیچھے جائز ہے یا نہیں مع دلیل وحوالہ کتاب اﷲ وحدیث رسول اﷲ یاعبارت فقہیہ مرتب فرمایا کر مزین بمہر خاص فرمائیں۔
(۵)اگر قاضی شہر کے علاوہ دوسرا کوئی شخص مطابق شرع شریف نکاح پڑھادے لیکن اندراج اس کا رجسٹر قاضی شہر مذکور میں نہ ہو تو وہ نکاح جائز وصحیح ہے یانہیں جواب مرحمت ہو۔بینوا توجروا(بیان کروتاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
ایسے لوگ سخت گنہگار بلکہ گمراہ ہیں کہ حق کے مقابل باطل کی اعانت کرتے ہیںایسے شخص کے پیچھے نماز ناجائز ہے بلکہ جب تك توبہ نہ کریں مسلمانوں کو ان سے بالکل قطع علاقہ کردینا چاہئے کہ وہ ظالم ہیں اور ظالم بھی کس پر دین پر اور اﷲ تعالی عزوجل فرماتا ہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر تمھیں شیطان بھلادے تو یا د آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو۔(ت)
قاضی کا رجسٹر شرعاکوئی شرط نکاح نہیںرجسٹر آج سے نکلے ہیںپہلے نکاح کیونکر ہوتے تھے ہاں یادداشت کے لئے درج ہونا بہتر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶ /۶۸€
#5857 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
مسئلہ ۴۳: مرسلہ حافظ عبدالمجید خاں حنفی از قصبہ بابلکہ ضلع بلند شہر ۵ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اہل ہنود میں کم زیادہ ایك ہفتہ تك شام سے آدھی رات تك یا بعد تك ایسی مجلس ہوتی رہے کہ جس میں رام ولچھمن وراون وسیتا وغیرہ عورت ومرد کے قسم قسم کی تصویریں دکھائی جائیں اورساتھ ہی ان کے طرح طرح کاباجابجا کر بھجن وغیرہ گانا گایا جائے اور ان تصویروں کو نعوذ باﷲ معبود حقیقی سمجھیں اور ہر طرح کے فحش ولغویات پیدا ہوتے ہوں تو ایسی مجلسوں میں ان مسلمانوں کو جو ازروئے تحقیق مذہب اسلام ایسی تقاریب کی برائیوں سے بھی فی الجملہ واقف ہوں اور نمازی بھی ہوں شریك مجلس ہونا اور دلچسپی حظ نفس اٹھانا وبعض بعض شبیہ ناپاك پر نظر ڈالنا وبعض شبیہ عورات پرشہوت کی نظر ڈالنا اور مثل عقائد باطلہ اہل ہنود تعریف و توصیف سوانگ وتماشہ میں بتا لیف قلوب مشرکین تائید یا ہوں ہاں کرنا اور عشاء وفجر کی نمازیں بایں نمط کہ عشاء بمصروفی تماشہ وفجر کی نماز غلبہ نیند سے قضا کرنا وباعتراض بعض مانعین یہ کہنا کہ ہم تو حق و باطل میں امتیاز ہوجانے کی غرض سے شامل ہوتے ہیں اور ایسی ہی بے سود تاویلات کرنا اور زینت مجلس کے واسطے اپنے گھروں سے جاجم ودیگر فرش وچوکیات وپارچہ وزیورات دینا اور بوقت اختتام جلسہ اپنی نام آوری یا فخر یا شخصیت یا اہل ہنود میں اپنی وقعت ہونے یا بصورت نہ دینے کے اپنی ذلت وحقارت جان کر ہمراہ اہل ہنود روپیہ روپیہ دینا بالخصوص وہ مسلمان جو کسی مسافر مسکین کو باوجود مقدرت آنہ دو آنہ نہ دے سکتے ہوں اور اس مجلس کی شیرینی جو بنام نہاد پرشاد تقسیم ہوتی ہے کھانا تو ایسے مسلمانوں کے واسطے ازروئے احکام شرع شریف کیا کیا حکم ہے صاف صاف مع عبارت قرآن مجید وحدیث شریف وفقہ مبارك جداگانہ ہر امور مستفسرہ صدر کا جواب مفصل ارقام فرمائیں اﷲ تعالی اجر دے گا فقط والسلام علی ختم الکلام(کلام کے اختتام پر سلام ہو۔ت)(یعنی آپ کو الوداعی سلام ہو)۔
الجواب:
ایسے لوگ فساق فجار کبائر مستحق عذاب نار وغضب جبار ہیںمسلمان کو حکم ہے راہ چلتاہوا کفار کے محلہ سے گزرے تو جلد نکل جائے کہ وہ محل لعنت ہے نہ کہ خاص ان کی عبادت کی جگہجس وقت وہ غیر خدا کو پوج رہے ہوں قطعا اس وقت لعنت اترتی ہے اور بلا شبہ اس میں تماشائیوں کا بھی حصہ ہے۔یہ اس وقت ہے کہ محض تماشا مقصود ہو اور اسی غرض سے نقد واسباب دے کر اعانت کی جاتی ہو اور اگر ان افعال ملعونہ کو اچھا جانا یا ان تصاویر باطلہ کو وقعت کی نگاہ سے دیکھا یا ان کےکسی حکم کفر پر ہوں ہاں کہا جیسا کہ سوال میں مذکورجب تو صریح کفر ہے۔غمز العیون
#5858 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
میں ہے:
من استحسن فعلا من افعال الکفار کفر باتفاق المشائخ ۔ جس شخص نے کافروں کے افعال میں سے کسی فعل کو اچھا سمجھاتومشائخ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ بلا شك وشبہ کافر ہوگیا ہے۔(ت)
ان لوگوں کواگر اسلام عزیز ہے اور یہ جانتے ہیں کہ قیامت کبھی آئے گی اور واحد قہار کے حضور جانا ہوگا تو ان پر فرض ہے کہ توبہ کریں اور ایسی ناپاك مجلسوں سے دور بھاگیں نئے سرے سے کلمہ اسلام اور اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریں ورنہ عذاب الہی کے منتظر رہیں
قال اﷲ تعالی:" یایہا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ۪ و لا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین﴿۲۰۸﴾ " ۔ اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤاور شیطان کے قدموں پر نہ چلوکیونکہ وہ انسان کا کھلا اور واضح دشمن ہے۔(ت)
مسئلہ ۴۴ تا ۵۲: مرسلہ محمد سوداگر پارچہ الموڑہ متصل مسجد کارخانہ بازار ۱۵/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ:
(۱)زید خاکروب نے مع اپنی ایك بی بی اور جوان لڑکی کے قبول اسلام کی درخواست کی چنانچہ ان کو فورا مسلمان کرلیا گیاکیا فورا ہی ان کو اپنا حقہ دینا اور ان کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ درست ہے یانہیں
(۲)مسماۃ ہندہ جو اس خاکروب نومسلم کی جوان نومسلمہ لڑکی ہے اس کو مسلمان کرنے والے عالم کے پیچھے کیا نماز درست ہے حالانکہ اس کے پیچھے اب تك نماز پڑھتے تھے
(۳)کسی عالم باعمل اور صالح پر جس نے خاکروب کی جوان لڑکی کو مسلمان کیا ہوکیا یہ اتہام کر نا گناہ نہیں کہ تونے اپنے نفس کے لئے اس کو مسلمان کیا ہے اور تو اس سے آشنائی کرے گا۔
(۴)اگر ایك بار قبول اسلام کرنے کے بعد وہ خاکروب پھر اپنی قوم میں مل گیا ہو اور دوبارہ قبول اسلام کی درخواست کرے تو کیا اس کے مسلمان کرنے میں کچھ تامل کرنا چاہئے حالانکہ خوف ہے کہ آریہ اور عیسائی فورا اس کو لے لیں گے۔
(۵)اگر خاکروب کو مسلمان کرنے اور اس کے ساتھ کھانے پینے سے اس خوف سے پرہیز کرے
حوالہ / References غمزالعیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر والردۃ ادارۃالقرآن ∞کراچی ۱/ ۲۹۵€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۰۸€
#5859 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
کہ اس کے ہمسایہ ہنوداس پر ہنسیں گے اور اعتراض کریں گے تویہ اس مسلمان کی مذہبی کمزوری ہے یا اس کو کیا کہیں گے
(۶)کیا شریعت اسلام کے نزدیك ایك برہمن سےایك خاکروب ناپاك اور نجس تر سمجھا جاتاہےحالانکہ برہمن کو سخت شرك کی وجہ سے زیادہ ناپاك سمجھنا چاہئے۔
(۷)مستند علمائے دین کے فتاوی کو جو شخص ہیچ وپوچ سمجھ کر اس پر عمل نہ کرے اور کہے کہ فتوی وہی ہے جو ہمارا دل گواہی دےایسا شخص شریعت کے نزدیك کیساہے
(۸)اگر کوئی مسلمان نو مسلم خاکروب کے ساتھ حقہ پینےکھانا کھانے پر ایك مسلمان کی ہنسی اڑائے وہ مسلمان کیساہے
(۹)خاکروب کی بالغہ لڑکی جو مسلمان ہوگئی ہے کیا اس کے پانے کا اس کا شوہر خاکروب مستحق ہے یا قبول اسلام سے پیشتر باقاعدہ طور پراس کے ماں باپ کے یہاں سے اس کی رسم رخصت عمل میں نہ آئی ہو اور دور ان مقدمہ میں(جو اس کے شوہر نے اس کے نام دائر کیا ہے)مسلمان ہوگئی ہوبینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)اسلام لاتے ہی معاہر قوم والے کو غسل کرنا چاہئے خصوصا وہ قوم کہ نجاست سے تلوث جن کا پیشہ ہو مسلمان کرتے ہی ان کو خوب پاك کرکے نہلادیں اس کے بعد معا ان کے ساتھ کھائیں پئیں۔
(۲)جو کافر تلقین اسلام چاہے اسے تلقین فرض ہے اور اس میں دیر لگانا اشد کبیرہ بلکہ اس میں تاخیر کو علماء نے کفر لکھا اگر بلا وجہ شرعی دیرکرتاہے تو اس کے پیچھے نماز ناجائز ہوتی نہ کہ وہ فرض بجالایا اس بناء پر اس کے پیچھے نماز میں تامل کریں۔
(۳)مسلمان پر بدگمانی حرام ہے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو بے شك کچھ گمان گناہ ہے۔
اور فرماتاہے:
" و لا تقف ما لیس لک بہ علم ان السمع و البصر غیر یقینی بات کے پیچھے نہ جا بیشك کان اور آنکھ
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴۹/ ۱۲€
#5860 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
والفؤادکل اولئک کان عنہ مسؤلا ﴿۳۶﴾ " اور دل سب سے پرسش ہونی ہے۔
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث بدگمانی سے دور بھاگو بدگمانی سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔
(۴)ہر گز تامل جائز نہیںبارگا ہ عزت وہ بار گاہ کرم ہے کہ ع
باز آباز آہر آنچہ ہستی بازآ گر کافر ورند وبت پرستی باز آ
ایں درکہ مادر گہ ناامیدی نیست صد بار اگر توبہ شکستی بازآ
(جو کچھ بھی تو ہے اس کام سے مکرر سہ کرر رك جا یعنی اسے چھوڑ دےاگر تو کافر ہے اوباش اور بت کا پجاری ہے تاہم اس کو چھوڑ دےیہ دروازہ(یعنی اﷲ تعالی کی بارگاہ)ہمارے ناامید ہوکر لوٹ جانے کا دروازہ نہیںاگر تو نے سو مرتبہ بھی توبہ کرکے توڑ دی تو پھر بھی(اس بارگاہ کی طرف)لوٹ آؤ۔ت)
(۵)کافروں کے غلط طعنہ کا لحاظ کرنا اور اس کا خیال نہ کرنا کہ اس مسلمان کی دل شکنی ہوگی کسی ایسے ہی کا کام ہے جو نرا جاہل ہے۔ یا معاذ اﷲ کافروں کی طرف مائل ہے۔
(۶)کفر کی نجاست میں برہمن خاکروب سے نجس تر ہیں مگر ظاہر ی نجاست سے تلوث اس کو زائد رہتاہے ولہذا مسلمانوں میں رائج ہے کہ خاکروب کی چھوئی چیز سے جیسا احترا ز کرتے ہیں برہمن کی چھوئی ہوئی سے نہیں کرتے لیکن یہ اسی وقت ہے جب تك وہ مسلمان نہ ہوا جب اسلام لے آیا اور طہارت کرلی اب وہ اپنا بھائی ہے۔
(۷)یہ شخص اگر خود عالم کامل نہیں تو مستند علمائے دین کے فتوے نہ ماننے کے سبب ضال وگمراہ ہےقرآن عظیم نے غیر عالم کےلئے یہ حکم دیا کہ عالم سے پوچھو نہ یہ کہ جس پر تمھارا دل گواہی دے عمل کرو۔قال اﷲ تعالی:
" فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾" علم والوں سے پوچھ لیا کرو اگر تمھیں علم نہ ہو۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۷ /۳۶€
جامع الترمذی ابوا ب البروالصلۃ باب ماجاء فی ظن السوء ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۰€
القرآن الکریم ∞۱۶/ ۴۳€
#5861 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
جاہل کیا اور جاہل کا دل کیا:
نعم من کان عالما فقیہا مبصرا ماھرا متبحرا فہو مامور بقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استفت قلبك وان افتاك المفتون ۔ ہاں اگر وہ عالمفقیہ(یعنی قانون فقہ جاننے والا)بصیرت رکھنے والا علم میں مہارت اور تجربہ رکھنے والا اور علم کا سمندر ہو تو اسے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشادگرامی کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا کہ اپنے دل سے فتوی پوچھئے اگر چہ تمھیں مفتیان کرام کچھ فتوی دیں(ت)
(۸)یہ ہنسی اڑانے والا سخت گنہ گا ر ہوگاقال اﷲ تعالی:
" یایہا الذین امنوا لا یسخر قوم من قوم عسی ان یکونوا خیرا منہم ولا نساء من نساء عسی ان یکن خیرا منہن " ۔ اے ایمان والو! کوئی قوم کسی دوسری قوم سے ہنسی مذاق نہ کرےکیا خبرشاید وہ(جن سے ہنسی مذاق کیا گیا)ہنسی کرنے والوں سے بہتر ہوںاور نہ عورتیں عورتوں سے ہنسی مذاق کریں شاید وہ ہنسی مذاق کی جانے والی عورتیں ان سے بہتر ہوں(مقصد یہ کہ کوئی کسی دوسرے کو کہتر اورکمتر نہ سمجھے ہوسکتاہے کہ انجام کے لحاظ سے وہ کمتر اس بالاتر سے اچھا اور افضل ہو)۔(ت)
کیا معلوم کہ اﷲ تعالی کے نزدیك اس ہنسنے والے سے وہ خاکروب ہی بہتر ہو۔
(۹)عورت جب مسلمان ہوجائے حکم یہ ہے کہ اس کے شوہر سے اسلام کے لئے کہا جائے اگر مان لے فبہا وہ اس کی عورت ہے اور نہ مانے تو اس کایہ انکار کرنا اس نکاح کو ساقط کرتاہے یہ حکم اس وقت ہے کہ حاکم اسلام اس پر اسلام پیش کرے اور وہ نہ مانے جہاں حاکم اسلام نہیں عورت تین حیض کا انتظارکرےاس مدت میں اگروہ مسلمان نہ ہو نکاح زائل ہوجائے گابہر حال مسلمہ عور ت پر کافر کو شرعا کوئی دعوی نہیں پہنچتاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۳: مسئولہ مولوی محمد واحد صاحب ۳/ جمادی الآخرہ ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مستحبات کو بدعت سیئہ کہہ کر روکنے والے یا(قرون ثلثہ میں نہ تھے)کہہ کر منع کرنے والے کے پیچھے نماز ہوتی ہے یانہیں اور ایسے لوگوں کو کسی مسجد کا امام مستقل
حوالہ / References اتحاف السادۃ المتقین کتاب عجائب القلب بیان مایؤاخذ بہ العبد من وساوس القلوب الخ دارالفکر بیروت ∞۷/ ۲۹۸،€کنز العمال برمز تخ عن وابعۃ ∞حدیث ۲۹۳۲۹€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۰/ ۲۵۰€
القرآن الکریم ∞۴۹/ ۱۱€
#5862 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
بنانا یا مدرس مقرر کرناجائزہے یانہیں
الجواب:
کتب عقائد میں تصریح ہے کہ تحلیل حرام وتحریم حلال دونوں کفرہیں یعنی جو شے مباح ہو جیسے اﷲ ورسول نے منع نہ فرمایا اسے ممنوع جاننے والا کافر ہے جبکہ اس کی اباحت وحلت ضروریات دین سے ہو یا کم از کم حنفیہ کے طور پر قطعی ہو ورنہ اس میں شك نہیں کہ بے منع خدا و رسول منع کرنے والا شریعت مطہرہ پر افتراء کرتاہے اور اﷲ عزوجل پر بہتان اٹھاتاہے اور اس کا ادنی درجہ فسق شدید وکبیرہ وخبیثہ ہے۔قال اﷲ تعالی:
" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾" ۔ اور جو کچھ تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں(اس کے متعلق یہ نہ کہا کرو کہ یہ حلال او ریہ حرام ہے تاکہ تم اﷲ تعالی پر جھوٹ باندھو(یا در کھو)جو لوگ اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے۔(ت)
وقال اﷲ تعالی(نیز اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا۔ت)
" انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون " اﷲ تعالی کے ذمے وہی لوگ جھوٹا الزام لگاتے ہیں(جو در حقیقت)ایمان نہیں رکھتے(ت)
فاسق ومرتکب کبیرہ ومفتری علی اﷲ ہونا ہی اس کے پیچھے نماز ممنوع اور اسے امام بنانا ناجائز ہونے کے لئے بس تھافتاوی الحجہ و غنیہ میں ہے:
لوقدموا فاسقا یاثمون ۔ اگر لوگوں نے کسی فاسق(مرتکب گناہ کبیرہ)کو امام بناکر آگے کیا تو لوگ گنہ گار ہونگے(ت)
تبیین الحقائق وطحطاوی میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ و کیونکہ اس کو(یعنی فاسق کو)آگے کھڑا کرنے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۶/ ۱۱۶€
القرآن الکریم ∞۱۶/ ۱۰۵€
غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی الامامۃ ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳€
#5863 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
قد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۔ میں اس کی تعظیم ہے جبکہ لوگوں پر شرعا اس کی توہین ضروری ہے۔(ت)
مگریہ وجہ منع کہ سوال میں مذکور آج کل اصول وہابیت مردودہ مخذولہ سے ہے اور وہابیہ بے دین ہیں اور ان کے پیچھے نماز باطل محضفتح القدیرمیں ہے:
الصلوۃ خلف اھل الا ھواء لا تجوز ۔ اہل ہوا(خواہش پرست)کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز ہے۔(ت)
انھیں امام ومدرس بنانا حرام قطعی اور اﷲ ورسول کے ساتھ سخت خیانتاورمسلمانوں کی کمال بدخواہی صحیح مستدرك میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استعمل علی عشرۃ رجلا وفیہم من ھو ارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین ۔ اگر کسی نے دس آدمیوں پر ایك شخص کو حاکم بنایا جبکہ ان میں وہ شخص بھی تھا جو اس حاکم سے اﷲ تعالی کو زیادہ پسند تھاتو اس حاکم بنانے والے شخص نے اﷲ تعالیاس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی۔(ت)
اوراگر ان کے عقائد کفر پر مطلع ہو کر ان کے استحسان یا آسان سمجھنے سے ہوتو امام ومدرس بنانے والا خود کافر ہوجائے گا۔
فان الرضی بالکفر کفر ومن انکر شیئا من ضروریات الدین فقد کفر ومن شك فی کفرہ وعذابہ فقدکفر ۔ پس کفرسے خوشنودی کفر ہےاور جو کوئی ضروریات دین سے کسی بات کا انکار کرے تو وہ بلا شبہ کافر ہے۔پھر جو کوئی اس کے کفراور عذاب میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔(ت)
کسی مسجدیا مدرسہ کے مہتمم کیا روارکھیں گے کہ اپنے اختیار سے اسے امام ومدرس کریں جو ان کے ماں باپ کو علانیہ مغلظہ گالیاں دیا کرےہر گز نہیںپھر وہابیہ تو اﷲ عزوجل کے محبوب
حوالہ / References تبیین الحقائق باب الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۱/ ۱۳۴€
فتح القدیر باب الامامۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۴€
المستدرك للحاکم کتاب الاحکام ∞۴/ ۹۲€ و نصب الرایۃ کتاب ادب القاضی ∞۴/ ۶۳€
حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین خطبہ الکتاب ∞مکتبہ نوریہ لاہور ص۱۳€
#5864 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو علانیہ گالیاں دیتے لکھتے چھاپتے ہیںوہ کیسا مسلمان کہ اسے ہلکا جانے اور ایسوں کو مدرس وامام کرےاﷲ تعالی سچا اسلام دے اور اس پر سچی استقامت عطا فرمائے اوراپنی اوراپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سچی محبت دے اور ان کے دشمنوں سے کامل عداوت ونفرت عطا فرمائے کہ بغیر اس کے مسلمان نہیں ہوسکتا اگر چہ لاکھ دعوی اسلام کرے اور شبانہ روز نماز روزے میں منہمك رہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایؤمن احد کم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین ۔ (لوگو!)تم میں سے کوئی شخص اس وقت تك مومن نہیں ہوسکتا جب تك میں اس کی نگاہوں میں اس کے والدین اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔(ت)
کاش مسلمان اتنا ہی کریں کہ اﷲ ورسول کی محبت وعظمت کو ایك پلہ میں رکھیں اپنے ماں باپ کی الفت وعزت کو دوسرے میںپھر دشمنان وبدگویان محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اتنا ہی برتاؤ کریں جو اپنی ماں کو گالیاں دینے والے کے ساتھ برتتے ہیں تو یہ صلح کلی یہ بے پرواہییہ سہل انگاری یہ نیچیری ملعون تہذیبسدراہ ایمان نہ ہو ورنہ ماں باپ کی محبت وعزت رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبت وعزت سے زائد ہوکر ایمان کا دعوی محض باطل اور اسلام قطعا زائل۔والعیاذ باﷲ تعالی(اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا۔ت)
" الـم ﴿۱﴾ احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وہم لا یفتنون ﴿۲﴾" کیا لوگ اس گھمنڈ میں پڑگئے کہ وہ صرف اتنا کہنے پر کہ ہم ایمان لائےچھوڑ دئے جائینگے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔ (ت)
زبان سے سب کہہ دیتے ہیں کہ ہاں ہمیں اﷲ ورسول کی محبت وعظمت سب سے زائد ہے مگر عملی کا رروائیاں آزمائش کرادیتی ہیں کہ کون اس دعوے میں جھوٹا اور کون سچا۔
" ربنا لا تز غ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب﴿۸﴾" وصلی اﷲ تعالی وسلم و بارك علی اے ہمارے پروردگار ! ہمارے دلوں کو نہ پھیر جبکہ تو نے سیدھی راہ دکھادی اور ہمیں اپنے پاس رحمت سے نواز دے یقینا تو ہی
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الایمان باب حب الرسول ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷€
القرآن الکریم ∞۲۹/ ۲€
القرآن الکریم ∞۳/ ۸€
#5865 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
مالکنا ومولینا والآل والاصحاب امین۔واﷲ تعالی اعلم۔ بہت زیادہ عطا کرنیوالاہے۔ہمارے مالك و مولی پر اﷲ تعالی درود وسلام اور برکات کا نزول فرمائے اور ان کی آل اور ساتھیوں پر بھی(درود وسلام اور برکات نازل ہوں)اور اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۵۴: از شاہجہان پور مرسلہ منصور حسن خاں صاحب تحصیلدار ۹ ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ
اس وقت ہندوستان میں بہت زور کے ساتھ حکومت خود اخیتیاری کی بحث چھڑی ہوئی ہے۔حکومت خود اختیاری کے یہ معنی ہیں کہ برائے نام انگریزوں کی نگرانی رہے گی اور حکومت درحقیقت باشندگان ہندوستان کے ہاتھ میں ہوگیاگر گورنمنٹ نے اسے عطا کردیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہندو صاحبان جو اعداد اور تمول میں ہم سے بہت زائد ہیں ہم پر فوقیت رکھیں گے بحالت موجودہ ہندو صاحبان کا مسلمانوں کے معاملات میں جو رویہ ہے اس پر مندرجہ ذیل واقعات روشنی ڈالتے ہیں۔
(۱)کانپور کے پریڈ گراؤنڈ پر ہندو مجارٹی نے فیصلہ دیاکہ مسلمان نماز جنازہ نہ پڑھیں۔
(۲)ساور اجمیر شریف میں یہ احکام نافذ کردئے گئے کہ مسلمان عقیقہ اور قربانی میں بکرا بکری بھی ذبح نہ کرنے پائیں۔
(۳)جبلپور میں تراویح کے وقت باجا بجانا فرض سمجھا گیا اور کسی ہندو تعلیم یافتہ سے مسلمانوں کی فریاد پر توجہ تك نہ کی مسجدوں میں نماز بند کردی گئی۔
(۴)بنگال میں شبرات کی رخصت تك ہندو سپرنٹنڈنٹ کی وجہ سے مسلمانوں کو نہ مل سکی۔
(۵)بنگال کی کونسل میں سرسنہار نے رخصت نماز جمعہ کی مخالفت کی اس لئے ریزولیوشن مسٹر ابوالقاسم نے واپس لے لیااگر ہندو ممبر مل کر ووٹ دیتے تو ریزولیوشن پاس ہوجاتا۔
(۶)صوبہ متحدہ میں پیران کلیر شریف کی چھوٹی سی سڑك بننے میں ہندوؤں نے ووٹ نہیں دئے اور سید آل نبی صاحب کا ریزولیوشن پاس نہ ہوسکا۔
(۷)الہ آباد اورلکھنو میں اب تك ہندو میونسپلٹیوں کو چھوڑے ہوئے ہیں اس لئے کہ مسلمانوں کے ساتھ گورنمنٹ نے رعایت کی ہے۔
(۸)ہندو لیڈروں نے جو کانگریس کے ارکان وعناصر ہیں میونسلپٹی کے قانون سے اس لئے مخالفت کی کہ مسلمانوں کو تین جگہ ان کی تعداد سے زیادہ دے دیں اس کے متعلق صرف اخبار لیڈر اور آنریبل مالوی جی اور ہندو سبھا کے جلسوں کا مطالعہ کافی ہے خصوصی اس جلسہ کا جو بنارس میں راجہ
#5866 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
رامپال سنگھ کی صدارت میں ہوا تھا۔
(۹)بنگال گورنمنٹ کے بار باراصرار پر بھی ہندوؤں نے مسلمانوں کو کلر کی لائین میں نہیں گھسنے دیا جس کے لئے گورنمنٹ کو آخری کارروائی کرنی پڑی۔
(۱۰)ہندو ممبروں نے جو مشترکہ ووٹ سے کونسلوں میں جاتے ہیں کبھی مسلمانوں کے حق میں اپنی رائے نہیں دینہ مسلمانوں کے حقوق کاخیال کیا۔
(۱۱)چندوسی میں ہندوؤں نے لٹھ کے ذریعہ محفل میلاد شریف بند کردی۔
(۱۲)اردو کی مخالفت صرف مالوی جی اور چنتا منی جی ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ مسٹر گاندھی بھی کرتے ہیں اورنہایت شائستگی سے سمجھاتے ہیں کہ جب تك مسلمان ہندی حروف نہ سیکھ لیں اس وقت تك انھیں اردو خط میں اجازت دی جائے۔
(۱۳)قربانی کا مسئلہ ہمیشہ زیر بحث نہیں بلکہ موجب کشت وخون رہتاہے اور زبردستی مسلمانوں کو اپنے فرائض سے روکا جاتاہے اور کوشش اس بات پر کی جاتی ہے کہ بکرا بکری بھی وہ نہ ذبح کرنے پائیں۔
(۱۴)نوکریوں کایہ حال ہے کہ جہاں تك ممکن ہوتاہے ہر صوبہ میں مسلمانوں کو محبان وطن اور ہوم رولر اصحاب گھسنے نہیں دیتے۔
مندرجہ بالا واقعات پر نظر ڈالنے کے بعد کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمانوں کو اس شورش میں جو ہندو صاحبان اس کے متعلق کررہے ہیں مذہبا شریك ہونا چاہئے یانہیں
الجواب:
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
" لتجدن اشد الناس عدوۃ للذین امنوا الیہود والذین اشرکوا " ضرور ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن یہود اور مشرکوں کو پاؤ گے۔
اور فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا ودوا ماعنتم قد بدت البغضاء من افوہہم اے ایمان والو اوروں کو اپنا ولی دوست نہ سمجھو وہ تمھاری ضرر رسانی میں گئی نہیں کرتےان کی دلی تمنا ہے کہ تم مشقت میں پڑودشمنی ان کے منہ سے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵/ ۸۲€
#5867 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾" ظاہر ہورہی ہے اور وہ جو ان کے سینوں میں دبی ہے بہت زیادہ ہے ہم نے روشن نشانیاں تمھیں بتادیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔
اس ارشاد الہی کے بعدکیا کوئی عاقل دیندار مسلمان ہنود کی شورش میں ان کا ساتھ دینا روا رکھے گا اور وقت پر زبانی باتوں کے دھوکے میں آکر بالآخر ان سے اسلام ومسلمین کے ساتھ نیك برتاؤ اوردلی دوستی کی امیدرکھے گا اس حکومت با اختیار کا حاصل اگر ہندوستان میں صرف اس قدر ہوا کہ اوپر کی کونسلوں میں ہندو ممبر بکثرت کردئے گئے اورامورانتظامیہ کے سوا دیگر احکام میں ان کی رائے سنی گئی اور کثرت پرفیصلہ ہوا جب تو ظاہر کہ ہر طرح ہنود کی جیت ہے انھیں کی کثرت رہے گی اور انھیں کی بات جیسا کہ بعض وقائع مذکورہ سوال اس کا نمونہ ہیںنیچر کی کمیٹیوں میں ان کے اور تمھارے حالات وعادات جو سنے گئے وہ اور بھی ان کے مؤید ہیں یعنی یہ کہ بہت ہنود نہ فقط اپنے حفظ حقوق بلکہ مسلمانوں کی پامالی حقوق میں بیدریغ کوشش کرتے ہیںاور بہتیرے مسلمان ممبردم نہیں مارتے بلکہ بعض تو صلح کل وبے تعصب بننے کو الٹا ان کا ساتھ دیتے ہیں مسلمانوں کی تعداد ایك تو کم تھی ہی اور بھی کم رہ جاتے ہیںآخر بارہا پالی ہنود کے ہاتھ رہتا ہےاب اس کا اثرجزئیات پر پڑتاہےاس حالت میں کلیات پر پڑے گاگورنمنٹ کو مسلمانوں ہندوؤں کے معاملہ میں نہ کسی کی طرفداری نہ کسی سے خصومتجب ہندوستانی ممبربڑھے اور کثرت ہنود کی ہوئی اب احکام ان رایوں سے فیصل ہوکر آئیں گے جو ایك قوم کی ذاتی طرفداری اور دوسروں کی ذاتی مخالف ہے اس وقت وہ اسی لئے مسلمان کو بلارہے ہیں کہ یوں اختیارات اپنے کرلیں اور انھیں کی کوششوں سے ان کی حقوق پامال کرنے پر خاطر خواہ قادر ہوجائیں گے جب یہ جم گئی پھر کیا ہوتاہے ع
دریغ سودندارد چوکار رفت از دست
(جب کام ہاتھ سے نکل جائے تو پھر پشیمان ہونے کا کچھ فائدہ نہیں۔ت)
ع مرد آخر بین مبارك بندہ است
(نتیجہ کو دیکھنے والا مرد بابرکت آدمی ہے۔ت)
اور اگر بالفرض حکومت خوداختیاری اپنے حقیقی معنی پر ملی تو وقت سخت ترہے غور کرو اس وقت کہ
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۳/ ۱۱۸€
#5868 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
ملك ان کے ہاتھ میں نہیں تمھارے مذہبی شعائر میں کتنی رکاوٹیں ڈالتے ہیںرات دن کوشاں رہتے ہیںاور اپنی کثرت تعداد وکثرت مال کے سبب کچھ نہ کچھ کامیاب ہوتے رہتے ہیںجب اختیارات ان کے ہاتھ میں ہوئے اس وقت کاکیا اندازہ ہوسکتاہے مثلا اس وقت تو قربانیا ں ان قیود وحدود کے ساتھ کہ ان کا لگایا جانا بھی شورش ہنود کے باعث ہے ہو بھی جاتی ہیں اس وقت قتل انسان سے بڑھ کر جرم ٹھہریں گی اور مسلمانوں کو مجبورانہ اپنا یہ شعار دینی بند کرنا پڑے گا کیا گورنمنٹ تنہا تمھیں ملك دے دے گی کہ اس میں خالص احکام اسلام جاری کرویہ تو ممکن نہیںنہ تنہا ان کو ملےپھر شرکت رکھو گے یا ملك بانٹ لوگے کہ ایك حصہ میں تم اسلامی احکام جاری کرو ایك میں وہ اپنے مذہبی احکام جو تمھاری شریعت کی رو سے احکام کفر ہیں برتقدیر ثانی ظاہر ہے کہ ہندوستانی کا کوئی شہر اسلامی آبادی سے خالی نہیں تو ان لاکھوں مسلمانوں پر اپنی شریعت مطہرہ کے خلاف احکام تم نے اپنی کوشش متفقہ سے جاری کرائے اور اس کے تم ذمہ دار ہوئے اور
" ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکفرون ﴿۴۴﴾ہم الظلمون ﴿۴۵﴾ ہم الفسقون ﴿۴۷﴾" جو کچھ اﷲ تعالی نے نازل فرمایا)بندوں پر اتارا)جو لوگ اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافرظالم اور نافرمان ہیں۔(ت)
کے تمغے پائےبرتقدیر اول کیا ہنود راضی ہوجائیں گے کہ ملك مشترك ہو اور احکام تنہا احکام اسلام ہرگزنہیںآخر تمھیں ان کے ساتھ کسی نہ کسی قانون خلاف اسلام پر راضی ہونا اور اپنی رضا وسعی سے مسلمانوں کو اس کا پابند کرنا پڑے گا اور قرآن عظیم سے وہی تین خطابوں کا تمغہ ملے گا یہ سب اس وقت ہے کہ جھگڑا نہ اٹھے اور اگر پھوٹ پڑی اور تجربہ کہتاہے کہ ضرور پڑے گی اس وقت اگر ہنود حسب عادت آپ بے قصور بنے اور سب ڈھلی بگڑی تمھارے سر ڈالی تو زمین میں بیٹھے بٹھائے فساد اٹھانے اور حکم الہی " ولا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ" " (لوگو! اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔ت)کی مخالفت کرکے خود اپنی اور لاکھوں نا کردہ مسلمانوں کی جان وعزت معرض خطرہ میں ڈالنے کا ذمہ دار کون ہوگااﷲ عزوجل سیدھی سمجھ دےآمین! واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵/ ۴۴،۴۵،۴۷€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۹۵€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۹۵€
#5869 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
مسئلہ ۵۵: خبیرآباد اودھ ضلع سیتاپور مرسلہ سید امتیاز حسن صاحب انریری مجسٹریٹ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید مسلمان ہے اور اس کے گلے میں ہندو مذہب کی ایك کتاب بید جزدان میں مثل کلام مجید کے بطور حمائل کے پڑا ہے۔زید کو علم ہے کہ میرے گلے میں ہندو مذہب کی کتاب ہے یا اور کوئی غیر معظم کتاب ہے مگر کافر اس کو یہ سمجھتاہے کہ یہ شخص مسلمان ہے اور اس کے گلے میں کلام مجید ہے یہ سمجھ کراس کتاب کی جس کو وہ کافر اپنے خیال میں کلام مجید سمجھتے ہوئے توہین کرنا چاہتاہے زید اس کی حفاظت کرتاہے محض اس وجہ سے کہ یہ کافر کلام اﷲ سمجھ کر توہین کرتا ہے ایسی صورت میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ زید کے شریك ہوں اور اس کافر کے حملہ کو روکیں یا سمجھ کر کہ اس کے اندر غیر مذہب کی کتاب ہے اور کوئی معظم چیز نہیں ہے سکوت اختیار کریں اور زید کو لعنت ملامت کریںشرعا کیا حکم ہے اگر زید کو کوئی نقصان پہنچے اور اس کے معاونین کو مدد کرنے سے تکلیف پہنچے تو وہ عنداﷲ ماجور(اﷲ تعالی کے نزدیك اجروثواب دئے ہوئے۔ت)ہوں گےمشرح جواب تحریر فرمائے۔فقط
الجواب:
سوال تمثیلی ساختہ معلوم ہوتاہے مثال میں بسااوقات فرق رہ جاتاہے جس کے سبب حکم بدل جاتاہے اگر چہ تمثیل قائم کرنے والا اپنے ذہن میں یہ سمجھے کہ میں نے اصل واقعہ کا بالکل چربہ اتارلیا ہے بہر حال اس صورت مستفسرہ کاحکم یہ ہے کہ زید بوجوہ قابل سخت ملامت ہے اول تو سب سے پہلے اس کا جرم شدید یہ ہے کہ اس نے ایك کافر مذہب کی کتاب کو معاذاﷲ قرآن مجید سے تشبیہ دی جزدان میں رکھاگلے میں حمائل کے طور پر ڈالایہ خود اس نے قرآن عظیم کی توہین کیامیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے ایك کنیز کودیکھا کہ بیبیوں کی طرح دوپٹہ اوڑھے جارہی ہے اس پر درہ لیا اور فرمایا:
ای وفار القی عنك الحمار اتتشبہین بالحرائر ۔ اے بدبووالی! اپنی اوڑھنی اتارکیا بیبیوں کے مشابہ بنتی ہے۔
اوراگر واقعی اس نے کافر مذہب کی کتاب معاذ اﷲ مثل قرآن کریم مستحق تعظیم سمجھا جب تو وہ خود ہی کافر مرتدہے ورنہ کم از کم مبتلائے حرام ضرور ہےاور اس حرام کے باقی رکھنے ہی نے اس ہندو کو غلط فہمی پیدا کی تو یہ اس کا دوسرا جرم ہے کہ حرام پر مصر ہے۔پھر اس کے سبب جو فتنہ فساد پید اہوگا اسی کامنشایہی اس کااصرار علی الحرام ہے کیوں نہیں اسے جزدان سے نکال کر فورا پھینك دیتا ہے کہ یہ تیرے ہی مذہب کی ناپاك کتاب ہے اس کی جتنی چاہے توہین کریوں یہ خود بھی حرام سے بچے اور فتنہ بھی فرو ہواب کہ یہ ایسا نہیں کرتا خود بانی فتنہ ہے۔یہ اس کا تیسرا جرم ہے۔اگرپٹا تو ایك پوتھی
حوالہ / References الدرالمنثور تحت آیۃ ذلك ادنی ان یعرفن فلایؤذین منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العطمی ∞قم ایران ۵/ ۲۲۱€
#5870 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
کی حمایت میں پٹا اور مارا بھی تو ایك پوتھی کے پیچھے مارااور اگروہ غالب آیا اور اس نے اس کتاب کی توہین جسے اس نے اپنے فعل واصرار باطل سے اسے معاذاﷲ قرآن عظیم باور کرایا ہے تو اس ہندو کے زعم میں توہین قرآن عظیم پرقادر ہونا اور اس معاملہ دینیہ مذہبیہ میں مسلمان پر فتح پانا اس کا منشا بھی یہی شخص ہے اوراگر وہ مغلوب ہوا اور اس نے مارا اور جیل خانہ گیا محض بلاوجہ شرعی بلکہ برخلاف وجہ شرعی ایك گناہ پر اصرار کے لئے اپنے نفس کو سزا و ذلت پر پیش کیا اوریہ بھی بحکم حدیث حرام ہے۔اور یہ اس کا چوتھا جرم ہے۔بہر حال یہ شخص سخت ملامتوں کا مستحق وسزاوار ہے جو اس کی اعانت کرینگے وہ بھی ان جرائم سے حصہ لیں گے اور گناہ پر مدد دے کر گنہ گار ہوں گے
قال اﷲ تعالی:ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ۔ لوگو! گناہ اور زیادتی میں ایك دوسرے کی مددنہ کرو۔(ت)
ان پر لازم ہے کہ اگر وہ فتنہ اٹھاتا ہے یہ فرو کریں اور زعم کافرمیں توہین اسلام نہ ہونے دیں اس کے گلے سے لے کر جزدان سے نکال کر وہ ہندوانی پستك اس ہندو کے سامنے پھینك دیں کہ فتنہ بند ہو اور وہ جرائم مذکورہ سب مسدودواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۶ تا ۵۸: از رائے پور چھیتگڑھ مرسلہ گوھر علی عرائض نویس نیا پارہ اکھاڑا
(۱)کہ جہاں مسلمان بستے ہیں وہاں ایك شراب کی بھٹی ہے چند لوگ شیعہ اس راہ سے گزرے جو اپنی قوم میں مقرر ہیں انھیں معلوم ہوا کہ یہاں پر مسلمان شراب پیا کرتے ہیں تو انھوں نے ایك انجمن مقرر کیا اور اپنی قوم کے چند لوگوں کو سکریٹری پریزیڈنٹ انجمن بنایا اور اس میں سنیوں کو ممبر مقرر کیاازروئے شرعی سنی بھی ان کی رائے سے موافقت کرسکتے ہیں کیا یہ جائزہے
(۲)اس انجمن میں دو مسئلے پیش ہیں کہ کوئی سنی شراب پئے یا زنا کرے اس کو خارج از قوم کردینا اور شادی و غمی میں شریك نہ ہونا زنا کس حالت میں سمجھا جائے گا جبکہ کوئی شخص کسی عورت سے صرف بات کررہا ہے یا عورت مذکورہ اس کے گھر میں کسی مزدوری کے لئے بیٹھی ہے یا کسی پیشرو شخص کے مکان کو ضرورت سے آتی ہے کیونکہ اس شہر میں مزدور عورتیں بہت ہیں جو آدمی تنہا نوکری پیشہ وجن کی مستوراتیں نہیں وہ ان کو اپنے گھروں میں کام کرنے کے ساتھ تعلق ہے اور وہ شخص باہر کھڑا ہوا اندر مکان کا حال کیا جانتا ہے کہ مکان کے اندر کیا ہورہاہے علمائے دین
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵/ ۲€
#5871 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
باطن کے حالات کی نسبت کیا بیان کرتے ہیںکیایہی زنا کی صورتیں ہیں۔
(۳)شیعہ قوم سے سنی کہاں تك شریك ہوسکتے ہیں
ان اوپر کہئے ہوئے وجوہ کی نسبت حضور کرم فرماکر اس فقیر کو جواب سے سرفراز فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگیخداوند کریم آپ کو جزائے خیردے گا۔
الجواب:
(۱)سنیوں کو غیر مذہب والوں سے اختلاط میل جول ناجائز ہے خصوصا یوں کہ وہ افسر ہوں یہ ماتحت۔ قال اﷲ تعالی:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اگر تجھے شیطان کبھی بھول میں ڈال دے تو یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔(ت)
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
فایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ تم ان سے دور رہو اور وہ تم سے دور رہیں کہیں تمھیں گمراہ نہ کردیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۲)زنانہیں ثابت ہوسکتا جب تك چار مرد عاقل بالغثقہمتقیپرہیزگار اپنی آنکھ سے ایسامشاہدہ نہ بیان کریں جیسے سرمہ دانی میں سلائیبغیر اس کے جو شخص کسی مسلمان کی نسبت زنا کی تہمت رکھے گا بحکم قرآن مجید اسی کوڑوں کا مستحق ہوگا پھر اس کی گواہی ہمیشہ کو مردودہاں یہ ضرور ہے کہ اجنبی عورت سے خلوت حرام ہے۔جولوگ انھیں نوکر رکھتے ہیں ضرور مکان میں دونوں تنہا ہوتے ہوں گےاور اسے شرع نے حرام فرمایا۔
(۳)کہیں تك بھی نہیںآیت وحدیث میں مطلقا ممانعت فرمائیبلکہ حدیث خاص اس قوم کا نام لے کر آئی کہ:
یاتی قوم لہم نبز یقال لہم الرافضۃ لایشہدون جمعۃ یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:ایك قوم انے والی ہے ان کا بدلقب ہوگا
حوالہ / References لقرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰€
#5872 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
ولاجماعۃ ویطعنون السلف فلا تجالسو ہم ولا تواکلوھم ولاتشاربوہم ولا تناکحوہم واذا مرضوا فلاتعودوہم واذا ماتوا فلا تشہدوھم ولا تصلوا علیہم ولا تصلوا معہم ۔ انھیں رافضی کہا جائے گا وہ نہ جمعہ پڑھیں گے نہ جماعت اورامت کے اگلوں پر طعنہ کریں گےتم ان کے پاس مت بیٹھناان کے ساتھ کھانا نہ کھاناان کے ساتھ پانی نہ پیناان کے ساتھ شادی بیاہت نہ کرناوہ بیمار پڑیں تو انھیں پوچھنے کو نہ جانامرجائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جانانہ ان پر نماز پڑھنانہ ان کے ساتھ نماز پڑھنا
دیکھو حدیث نے موت وحیات کے سب تعلق کو ان سے قطع کرنے کا حکم فرمایا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۹: از قصبہ کرت پور ضلع بجنور محلہ مدہو پاڑہ مرسلہ منشی منیر الدین صاحب ۲۲/ ربیع لآخر ۱۳۳۶ھ
اگر کوئی مسلمان دسہرہ کی جھنڈی کے جلسہ میں ہنود کا شریك ہویا اس میں گنگا پھری یا بینٹی یا دیگر کھیل خود کھیلے یا دوسروں کو کھلائے یا اس میں کسی قسم کا باجا خود بجائے یا دوسروں سے بجوائے یا کوئی راگ خود گائے یا اوروں سے گوائے یا اس میں کسی قسم کی امداد دامے در مے قلمے جلوس مذکور کی رونق افزائی کی نیت سے کرے یا اس جلوس کا تماشا تفریحا اور دوسروں کو ترغیب دیکھنے کی دلائے یا میل ملاپ باہمی کی وجہ سے شرکت کرے یا دیگر اغراض دنیا کے باعث ہنود سے بامید حصول خوشنودی ہنود جلوس کی اعانت میں سرپر ستانہ پیش آئے یا ایسی سرپرستی کا ارادہ کرے اور اس حد تك کہ اگر اس جلوس میں اس مقام کے رواج ودستور کے خلاف منجانب ہنود امور جدیدہ کے اضافہ کرنے کی آمادگی ہو اور اس کی اطلاع پاکر خواہ اس کا ظہور دیکھ کر وہاں کے غرباء مسلمانان بخوف ہیجان فتنہ حسب ضابطہ کچہری اس کے انسداد کی کوشش وچار ہ جوئی کریں اور کوئی شخص مسلمان سر برآوردہ خواہ رئیس حکام رس بذات خود یا بذریعہ اپنے آدمیوں کے خوددار ریاست واستطاعت یا سرپنچی ومنبری کے مسلمانان کو چارہ جوئی سے باز رکھے اور تخویف دلائے یا اگر مسلمانان بامید انصاف گورنمنٹ بلاخوف وخطر مصروف چارہ جوئی رہیں اور مسلمان مانع چارہ جوئی جانب دار اہل ہنود ہوکر امر جدید کو جلوس مذکور میں اپنی کوشش سے اضافہ کرے اور اس جلوس مذکور میں ایسی نمایاں سعی وپیروی کرے کہ جس سے ایك مسجد کے اس احترام میں فرق آجائے جس کو حکام ضلع نے بلحاظ عبادت گاہوں کے بذریعہ احکام تحریری منظور کیا ہو یعنی باوجود ممانعت حاکم علاقہ کے مسجد مسلماناں
حوالہ / References ∞تاریخ بغداد ترجمہ€ الفضل بن غانم∞۶۷۹۰€ دارالکتب العربی بیروت ∞۱۲/ ۳۵۸€
کنز العمال ∞حدیث ۳۲۴۶۸ و ۳۲۵۲۹ و ۳۲۵۴۲€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۲/ ۵۲۹،۵۴۰،۵۴۲€
#5873 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
کے گرد پچاس پچاس قدم دونوں طرف باجا گاجا شوروغل ہر قسم اہل جلوس جھنڈی سے کرادے تو ایسا مسلمان نیز مسلمانان متذکرہ بالا شرعا کسی گناہ کے مرتکب ہیں آیا بدعت یا فسق یا کفر یا ارتداد اور دیگر مسلمانان کو ان سے میل جول رکھنا کیسا ہے بصراحت وتفصیل فتوی میں ارقام فرمایاجائے۔فقط۔
الجواب:
مراسم کفر کی اعانت اور ان میں شرکت ممنوع وناجائز وگناہ اور مخالفت حکم الہ ہے۔
قال اﷲ تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایك دوسرے کی مدد نہ کرو۔(ت)
حدیث میں ارشاد ہوا:
من سود مع قوم فہو منہم وفی لفظ من کثر سواد قوم فہو منہم ۔ جو کسی قوم کی جماعت میں شریك ہو کر ان کا گروہ بڑھائے وہ انھیں میں سے ہے۔
خصوصا توہین مسجد پر اعانت کہ بہت سخت تر ہے پھر اگر یہ باتیں شامت نفس اور طمع دنیا سے ہوں تو صرف استحقاق جہنم ہے اور اگر کسی رسم کفر کے پسند ورضا کے ساتھ ہوں تو کھلا کفر ہے۔غمز العیون میں ہے:
من استحسن فعلا من افعال الکفار کفر باتفاق المشائخ ۔ جس شخص نے کافروں کے کسی کام کو اچھا سمجھا تو وہ باتفاق مشائخ کافر ہوگیا۔(ت)
مسلمانوں کو ایسے شخص سے میل جول منع ہے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر تمھیں شیطان کسی بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵ /۲€
کنزالعمال بحوالہ خط عن انس ∞حدیث ۲۴۶۸۱€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۹/ ۱۰،€کنزالعمال بحوالہ الدیلمی عن ابن مسعود ∞حدیث ۲۴۷۳۵€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۹/ ۲۲€
غمز العیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب السیر والردۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۲۹۵€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
#5874 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
اور فرماتاہے:
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " (لوگو!)ظالموں کی طرف مت جھکو ورنہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔(ت)
مسئلہ ۶۰ تا ۶۲: از گودھرہ مدرسہ فیض عام مرسلہ مولوی عبدالرحمن بن مولوی محمد عیسی صاحب ۲۳ / ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)قصبہ لونا واڑہ میں ہنودبکثرت رہتے ہیں یہ لوگ بماہ ساون آٹھ روز تہوار مناتے ہیں اس کو اپنی اصطلاح میں "پچوسن" کہتے ہیںان دنوں میں آٹھ روزے بھی اپنے مذہب کے موافق رکھتے ہیں اور جاندارشیئ کو مارنا اور تکلیف دینا برا سمجھتے ہیںچنانچہ مسلمان تیلیوں کو اس بناء پر گھانی چلانے سے روکتے ہیں اس لئے کہ تلوں میں کچھ کیڑے جو ہوتے ہیں وہ پل جاتے ہیںاس آٹھ روز گھانی نہ چلانے کے عوض میں روپے بھی دینا چاہتے ہیں پس مسلمانوں کو اس آٹھ روز گھانی نہ چلانا اور روپیہ لے کر اس امر میں ان کی اتباع کرنا کیسا ہے
(۲)جو مسلمان کہ ہنود کے تہوار میں ان کی موافقت کرے اور اس کو منائے اس کے لئے کیا وعید ہے
(۳)کسی قصبہ کا رئیس مسلمانوں کو کہے کہ تم ہنود کے تہواروں میں ان کی اتباع کرو ورنہ تم کو سخت اذیت پہنچاؤں گاپس مسلمانوں کو اس امر میں رئیس کی اتباع درست ہے یانہیں
الجواب:
(۱)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما الاعمال بالنیات ولکل امرئ مانوی ۔ (یاد رکھو)اعمال کا مدار ارادوں پر ہے اور آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے۔(ت)
اگر اس سے تیلیوں کی نیت ان کی موافقت اور ان کی رسم مذہبی میں شرکت ہے تو حرام ہے۔اور حرام فعل کی اجرت میں جو کچھ لیا جائے وہ بھی حرام کہ اجارہ نہ معاصی پرجائز ہے نہ اطاعت پراور اگر انھوں نے یہ سمجھا کہ واقعی تیل پیلنا فعل شنیع ہے کہ اس سے کیڑے پس جاتے ہیں تو یہ وہی خیالات باطلہ ہنود کی شرکت ہوئیایسا ہو تو یہ فعل ہمیشہ ناجائز ہے اور ناجائز کا ترك واجب اور
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۱/ ۱۱۳€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
#5875 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
اجرت اس پر لینا حراماوراگر انھوں نے یہ سمجھا کہ ہمارا وہ کام ایك مباح شرعی ہے کچھ واجب تو نہیں کہ اس کا کرنا ضرور ہو آٹھ دن محنت سے بچتے ہیںاور مفت کے دام مال مباح کافر سے ملتے ہیں یہ سمجھ کر آرام کریں اور دام لئے تو حرام نہیںپھر بھی اغراض فاسدہ کفار کی تحصیل نامناسب ہے ایسے موہومات کہ کیڑے ہوں گے اور پس جائیں گے شرعا عرفا عقلا کسی طرح قابل اعتبار نہیں ورنہ رات کو چلنا منع ہوجائے کیا معلوم اندھیرے میں کوئی چیونٹی پس جائے بلکہ پانی پینا منع ہوجائے کیا معلوم اس میں کوئی باریك کیڑا ہو کہ نظر نہ آتاہوبلکہ خوردبین سے مشاہدہ ہوا ہے کہ دودھ اور پانی سب میں یقیناکیڑے ہوتے ہیںاور یہی مطابق قانون فطرت ہے کہ رطوبت میں حرارت جب عمل کرے گی فیضان روح ہوگاتو دین ودنیا سب کی عافیت تنگ ہوجائےایسے بیہودہ خیال کسی طرح موافق اسلام نہیں ہوسکتےصحیح حدیث میں ہے:
نہی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یفتش التمر عما فیہرواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسنواﷲ تعالی اعلم۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس وہم کو پالنے سے منع فرمایا کہ کھاتے وقت چھوہارا توڑ کر اس کی تلاشی لیجائے کہ اس میں کوئی کیڑا تو نہیں(طبرانی نے معجم الکبیر میں ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے بسند حسن اسے روایت کیا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)اگر ان کے مذہبی تہوار کو اچھا جان کر منائے گا اسلام سے خارج ہوجائے گاغمز العیون میں ہے:
من استحسن فعلا من افعال الکفار کفر باتفاق المشائخ ۔ جس آدمی نے کافروں کے کسی کام کو اچھا سمجھا تو مشائخ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ کافر ہوگیا۔(ت)
ورنہ فسق ومعصیت ضرور ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)اﷲ عزوجل کی معصیت میں کسی کا اتباع درست نہیںنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ طب عن ابن عمر ∞حدیث ۴۰۸۶۴€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۵/ ۲۶۰€
غمز العیون البصائر شرح الاشباح والنظائر الفصل الثانی کتا ب السیر والردۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۲۹۵€
#5876 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی فرمانبرداری نہیں واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۳: از گونڈل کاٹھیا واڑ مرسلہ عبدالستار رضوی برکاتی ۹ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
مباہلہ کیا ہے۔او ر وہ کس وقتکس سےکس طرح کیا جاتا ہے
الجواب:
مباہلہ یہ کہ دو فریق جمع ہو کر اپنا اپنا دعوی بیان کریں اور ہر فریق دعا کرے کہ ان دونوں میں جو جھوٹا ہو اس پر لعنت الہی ہویہ جائز ہےاور اب تك مشروع ہے کما نص علیہ فی ردالمحتار(جیسا کہ ردالمحتار میں ہے اس پر نص کی گئی ہے۔ت)مباہلہ ہر اس صور ت میں ہوسکتاہے کہ اپنے قول کی حقانیت پر یقین قطعی ہومشکوك یا مظنون بات پر مباہلہ سخت جرأت ہے مثلا ہم کسی شافعی المذہب سے اس امر پر مباہلہ نہیں کرسکتے کہ قرأت خلف الامام ناجائز ہے۔نہ شافعی ہم سے مباہلہ کرسکتا ہے کہ واجب ہے۔اورہم اور وہ دونوں غیر مقلدوں سے اس پر مباہلہ کرسکتے ہیں کہ امام اعظم وامام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہما ائمہ دین ہیں اور ان کی تقلید جائزواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۴: از ادیپور میواڑ راجپوتانہ اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب مدرس ۲۴/ ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
اس شہر میں روافض فرقہ اسمعیلہ بوہرہوں کے امام بڑے ملا آئے ہیں ان کا دعوی ہے کہ"میں داعی وقت ہوںامام اور عامل میں ہی مقرر کرتاہوںمیں قوم کا مالك ومختار ہوں"ان کو بوہرے سیدنا کے لفظ سے پکارتے ہیںجب یہ شہر میں آئے تو ان کی سواری بڑی شان وشوکت کے ساتھ مع دو تین ہزار بوہروں کے مدرسہ اسلامیہ حنفیہ جس راستہ میں واقع ہے اس طرف ہوکر نکلی تو مدرسہ حنفیہ کے ممبران سنت جماعت حنفی مذہب والوں نے مدرسہ کو رنگ برنگ کے کاغذ کے پھریروں سے آراستہ کیااور ایك بڑے سرخ کپڑے پر بڑے بڑے کاغذ کے حروف بنا کر"خوش آمدید"لکھا اور بڑے ملا صاحب کے نظارے کے لئے آویزاں کردیا اور جب ملا صاحب کی سواری مدرسہ کے قریب آئی تو حنفی ممبران مدرسہ نے ادب کے ساتھ ملا صاحب کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے اور گلدستے نذر کئے اور ان کے سر پر پھول اچھالے اور بعد میں ممبران مدرسہ
حوالہ / References المعجم الکبیر ∞حدیث ۳۱۵۰€ مکتبہ الفیصلیہ بیروت ∞۳/ ۲۰۸ و ۲۰۹€
#5877 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
ملاصاحب کی قیام گاہ میں ملاصاحب کو مدرسہ میں آنے کی دعوت دینے کو گئےتو ملاصاحب نے ان لوگوں کو دس دس بیس بیس روپے کا انعام دے کر رخصت کیااب ارشاد فرمائیں کہ حنفیوں کا بوہرے فرقہ کے امام کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا کیسا ہے۔اگر ان ممبروں نے اس لالچ سے کہ ملا صاحب مدرسہ میں کچھ روپیہ دے جائیں گے ایسا کیا تو یہ ان کا ایسا کرنا کیسا ہے اور یہ لوگ حنفی مذہب کے مدرسہ کے ممبر مانے جانے کے قابل ہیں یانہیں اور بے پڑھے مسلمانوں پر اس کیا اثر پڑے گا
الجواب:
جن لوگوں نے ایسا کیا انھوں نے اپنے لئے جہنم کا سامان پورا کرلیا انھوں نے بدفعلی سے عرش الہی کو ہلادیاانھوں نے واحد قہار کا غضب اپنے سرلیاانھوں نے قرآن عظیم کی تحقیر کیانھوں نے دین اسلام کے ڈھانے پر مدد دییہ اسی بنا پر ہے کہ انھوں نے روپیہ کے لالچ سے ایسا کیا اگر دل سے اسے ان تعظیموں کا مستحق جانتے تو کھلے کافر ہوتےاور اب بھی فقہاء کے اطلاق ان کے بارے میں بہت سخت ہیں کہ وہ بخوشی بلا ضرورت ان ملعون حرکات کے مرتکب ہوئے ہیں ان پرفرض ہے کہ جس اعلان کے ساتھ ان ناپاك حرکتوں سے شیطان پھیلایا اور بے پڑھے مسلمانوں کا دین ڈھایا ابلیس لعین کا پھریرا سر بازار اڑایا اسی اعلان کے ساتھ عام مجمعوں میں توبہ کریں اور مناسب کہ از سر نو کلمہ اسلام پڑھیں پھر اپنی عورتوں سے نکاح جدید کریںاگر توبہ نہ مانیں تو ایسے لوگ اس قابل بھی نہیں کہ مسلمان ان کو اپنے پاس بیٹھنے دیں سنی مدرسے کی رکنیت تو بڑی چیز ہےاس حال پر بھی جو انھیں رکن مدرسہ دینیہ رکھیں گے اﷲ ورسول ومسلمین سب کے خائن وبدخواہ ہوں گےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تم کو دوزخ کی آگ لگے گی۔
دوسری آیت میں ارشاد ہوا:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
دو حدیثوں میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۱/ ۱۱۳€
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۸€
#5878 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلك العرش رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی فی المسند و البیہقی فی شعب الایمان عن انس وابن عدی فی الکامل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب غضب فرماتاہے اور عرش الہی ہل جاتاہے(محدث ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ میں روایت کیا ہے اور ابو یعلی نے اپنی مسند میں اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس کے حوالے سے اور ابن عدی نے"الکامل"میں حضرت ابوہریرہ کے حوالے سے روایت کیا (اﷲ تعالی ان دونوں سے راضی ہو۔ت)
نیز حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من سلم علی صاحب بدعۃ اولقیہ بالبشر اواستقبلہ بما یسرہ فقد استخف بما انزل علی محمد رواہ الخطیب عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جو کسی بدمذہب کو سلام کرے یا اس سے بکشادہ پیشانی ملے یا ایسی بات کے ساتھ اس سے پیش آئے جس میں اس کا دل خویش ہو اس نے اس چیز کی تحقیر کی جو محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اتاری گئی(اسے خطیب نے حضرت ابن عمر(اﷲ تعالی ان دونوں سے راضی ہو)سے روایت کیا۔ت)
نیزچھ حدیثوں میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ہدم الدین۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر وابونعیم فی الحلیۃ عن عبد اﷲ بن بشیر وابن عدی وابن عساکر عن ام المؤمنین الصدیقۃ والحسن بن سفین فی مسندہ و ابونعیم فی الحلیۃ عن معاذ بن جبل جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی اس نے دین کے ڈھا دینے پر مدددی(امام طبرانی نے معجم کبیر اور ابونعیم نے الحلیہ میں عبداﷲ بن بشیر سے اس کو روایت کیا۔ابن عدی اور ابن عساکر نے مسلمانوں کی ماں سیدہ عائشہ صدیقہ سے اور حضرت حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اور ابو نعیم نے الحلیۃ میں معاذ بن جبل کے حوالہ سے
حوالہ / References شعب الایمان ∞حدیث ۴۸۸۶€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۴/ ۲۳۰،€الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ترجمہ سابق بن عبداﷲ الرقی دارالفکر بیروت ∞۳/ ۱۳۰۷€
تاریخ بغداد ترجمہ عبدالرحمن بن نافع ∞۵۳۷۸€ دارالفکر بیروت ∞۱۰/ ۲۶۴€
#5879 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
والسخری فی الابانۃ عن ابن عمرو ھو وابن عدی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم والبیہقی فی شعب الایمان عن ابراہیم بن میسرۃ التابعی المکی الثقۃ مرسلا ۔ اور السخری نے الابانۃ میں عبداﷲ ابن عمر کے حوالے سے اور اس نے ابن عدی نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے اس کو روایت کیانیز امام بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابراہیم بن میسرہ جوکہ تابعی مکی اور قابل اعتماد ہیں نے بصورت ارسال اس کو روایت کیا۔ت)
دوحدیثوں میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا عملت سیئۃ فاحدث عندہا توبۃ السر بالسر و العلانیۃ بالعلانیۃ رواہ الامام احمد فی کتاب الزہد والطبرانی فی الکبیر والبیھقی فی الشعب عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن جید واحمد ایضا فیہ عن عطاء بن یسار مرسلا۔ جب تو کوئی گناہ کرے تو فورا توبہ کرپوشیدہ کی پوشیدہ اور علانیہ کی علانیہ(امام احمد نے کتاب الزہد اور طبرانی نے معجم کبیر میں اور بہیقی نے شعب الایمان میں معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ سے اچھی اور عمدہ سند کے ساتھ روایت کیانیز امام احمد نے اسی میں عطا بن یسار سے بطور مرسل روایت فرمائی۔ت)
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استعمل رجلا من عصابۃ جس نے کسی گروہ پر ایسے کو افسر بنایا کہ اس گروہ
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ طب عن عبداﷲ بن بشیر ∞حدیث ۱۱۰۲€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱/ ۲۱۹،€الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ترجمہ الحسن بن یحیی ابوعبدالملك الخشئی دارالفکربیروت ∞۲/ ۷۳۶،€شعب الایمان دارالدیان للتراث بیروت ∞ص۳۵،€حلیۃ الاولیاء وشرح خالد بن معدان ∞۳۱۸€ دارالکتب العربی بیروت ∞۵/ ۲۱۸،€تہدیب تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ حسن بن یحیٰی داراحیاء التراث العربی بیروت∞۴/ ۲۸۳€
کتاب الزہد لامام احمد بن حنبل دارالدیان للتراث القاہرہ ∞ص۳۵،€المعجم الکبیر عن معاذ بن جبل ∞حدیث ۳۳۱€ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ∞۲۰/ ۱۵۹€
#5880 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
وفیہم من ہو ارضی اﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنینرواہ الحاکم وصححہ وابن عدی والعقیلی والطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ میں اس سے زیادہ اﷲ کو پسندیدہ شخص موجودہے اس نے اﷲ و رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور مسلمانوں سب کی خیانت کی(ابن حاکم نے اس کو روایت کرکے صحیح قرار دیا ابن عدیعقیلیطبرانی اور خطیب بغدادی نے حضرت ابن عباس سے اس کو روایت کیا(اﷲ تعالی باپبیٹے دونوں سے راضی ہو)۔ت)
فتاوی ظہیریہ امام ظہیر الدین واشباہ والنظائر محقق زین وتنویر الابصار شیخ الاسلام غزی و درمختارمیں ہے:
لوسلم علی الذمی تبجیلا یکفر لان تبجیل الکافر کفر ولوقال لمجوسی یااستاد تبجیلا کفر ۔ اگر کسی مسلمان نے کسی ذمی کافر کو بطور عزت و توقیرسلام کیا تو وہ کافر ہوجائے گاکیونکہ کافر کی عزت افزائی کفرہےاور اگر کسی نے آتش پرست کو تعظیم کے طور پر"اے استاد"کہا تو وہ کافر ہوگیا۔ت)
فصول عمادی وعقد الفرائد ودرمختار وجامع الفصولین ونورالعین ومحیط وعالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
مایکون کفرااتفاقا یبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنا ومافیہ خلاف یؤمر بالاستغفار والتوبۃ و تجدید النکاح واﷲ تعالی اعلم۔ جو چیز بالاتفاق کفرہے وہ عمل اور نکاح کو باطل کردیتاہے اس کی اولاداولاد زنا ہوگی اور جس چیز کے کفر ہونے میں اختلاف ہے تو ارتکاب کرنے والے کو توبہ استغفار اور تجدیدنکاح کاحکم ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب الاحکام دارالفکر بیروت ∞۴/ ۹۲€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱€
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۹€
#5881 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
مسئلہ ۶۵: از ریاست لشکر گوالیار بازار پاٹنگر مسئولہ عطا حسین صاحب مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن واقع مسجد بازار مذکور ۱۵ صفر ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحمیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
امابعدکیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اعلان کرنے والے صاحب کی بابت جو باوجود اہل علم اور سنت وجماعت ہونے کے اپنے اعلان کی سطر چودہ وپندرہ میں تحریرفرماتے ہیںاعتراض اول یہ کہ اعلان کے شروع میں نہ حمد ہے۔نہ نعت۔اعتراض دوم سطور پندرہ وچودہ میں نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا وسیلہ بھی تحریر نہیںیہ دونوں اعتراض صحیح ہیں یا غلط اگر صحیح ہیں تو اعلان کرنے والے صاحب کے حق میں شرعی حکم کیا ہے اور وہ اہل سنت وجماعت کہے جاسکتے ہیں اور اگر غلط ہے تو کس طرح بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)امید ہے کہ حسب ذیل پتہ پر جواب باصواب سے مطلع فرمائیں گے تاکہ اس کو شائع کردیا جائے۔
الجواب:
جب سوال میں اعلان دہندہ کے سنی ذی علم ہونے کا اقرار ہے تو سنی خصوصا ذی علم پر ایسی باتوں میں مواخذہ کوئی وجہ نہیں رکھتاشروع میں حمد ونعتنہ لکھنا ممکن کہ بلحاظ ادب ہو کہ ایسے پرچے لوگ احتیاط سے نہیں رکھتےاور وقت تحریر زبان سے ادا کرلینا کافی ہے۔جیسا کہ امام ابن الحاجب نے کافیہ میں کیا مسلمان پر نیك گمان کا حکم ہے
قال اﷲ تعالی: ظن المؤمنون و المؤمنت بانفسہم خیرا " ۔ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو اپنے لوگوں پراچھا گمان کرنا چاہئے۔(ت)
سطر چودہ میں ہے:"وہ ہماری خطاؤں کو محض اپنے فضل وکرم سے معاف فرمائے"اس میں توسل کا ذکر نہیں تو معاذاﷲ توسل سے انکار بھی تو نہیںاور سنی کیونکر انکار کرے گا اور انکار کرے تو سنی کب ہوگامسلمان کے دل میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے توسل رچا ہوا ہے اس کی کوئی دعا توسل سے خالی نہیں ہوتی اگرچہ بعض وقت زبان سے نہ کہے
مولنا قدس سرہ مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
اے بسانا وردہ استثنا بہ گفت جان اوباجان استثنا ست حقت
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۲€
∞ مثنوی معنوی دفتر اول حکایت عاشق شدن بادشاہ برکنیز ك نورانی کتب خانہ پشاور ص€۵
#5882 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
(اے شخص کہ بسا اوقات تیرے کلام میں استثناء نہیں لایا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی جان استثناء کی جان سے گانٹھی ہوئی ہے۔ت)
اور"محض"کا لفظ معاذاﷲ تو سل کی نفی نہیںدین ودنیا وجسم وجان میں جو نعمت کسی کو ملی اور ملتی ہے اور ابدالآباد تك ملے گی سب حضور اقدس خلیفۃ اﷲ الاعظم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وسیلے اور حضور کے مبارك ہاتھوں سے ملی اور ملتی ہے اور ابدا الاباد تك ملیگی قال النبی انما انا قاسمواﷲ المعطی دینے والا اﷲ ہے ور بانٹنے والا میں۔صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
بایں ہمہ جو نعمت ہے اﷲ عزوجل کے محض فضل و کرم سے ہے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا وسیلہ وواسطہ وقاسم ہر نعمت ہونا یہ بھی تو محض فضل وکرم الہی جل وعلا ہے۔" فبما رحمۃ من اللہ لنت لہم " اے محبوب اﷲ کی کتنی رحمت ہے کہ تم ان کے لئے نرم ورحیم ومہربان ہوئے۔والحمدﷲ رب العلمین وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(ہرتعریف اﷲ تعالی کے لئے ہے جو پروردگار ہے سارے جہانوں کا۔حضور پر اﷲ تعالی کی رحمت اور سلام ہو۔ت)
اعتراض اگر چہ صحیح نہیں مگر میں معترض کے اس حسن اعتقاد کی داد دیتاہوں کہ تو سل اقدس کا ذکر نہ آنا اسے ناگوار ہواجزاہ اﷲ خیراواﷲ تعالی اعلم۔(اﷲ تعالی سائل کو بہت اچھا صلہ عطا فرمائےاور اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ت)
مسئلہ ۶۶:از ڈربن ناٹال جنوبی افریقہ مسئولہ مولوی عبدالعلیم صاحب قادری برکاتی رضوی میرٹھی ۲۱ صفر ۱۳۳۷ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام(اے معزز اہل علم مسئلہ ذیل کے متعلق تمھارا کیا ارشاد ہے۔ت)حکومت کی طرف سے اعلان ہواہے کہ اگر کوئی شخص ہندوستان سے باہر جاناچاہے یا باہر سے ہندوستان آنا چاہے تو اس کو گورنمنٹ سے ایك اجازت نامہ جس کو بزبان انگریزی پاسپورٹ کہتے ہیں لینا ضروری ہوگا ورنہ داخلہ خارجہ کی اجازت نہ دی جائے گییہ اجازت نامہ نہیں مل سکتاتاوقتیکہ ایك تصویر کم ازکم نصف حصہ اعلی بدن کی اجازت لینے والا داخل کرے اس تصویر کی تین نقلیں ہوں گی جو تینوں بھیجی جائیں گی دو گورنمنٹ میں محفوظ رہیں گی اور ایك اجازت نامہ کے ساتھ واپس مل جائے گی جس کا اجازت گیرند ہ کو اپنے پاس رکھنا ضروری ہے بعض اشخاص مسلمین اپنے اہل وعیال سے دور بعض
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل ترجمہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکربیروت ∞۲/ ۲۳۴€
القرآن الکریم ∞۳/ ۱۵۹€
#5883 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
تجارتی کاروبار میں مبتلا نقل وحرکت کے بغیر چارہ نہیںبعض علماء کو اعلاء کلمہ الحق کے لئے باہر جانے یا جاکر واپس آنے کی ضرورت ایسی اشد شدید ضروریات میں کہ جہاں بعض شکلوں میں سخت ترین دینی نقصانات بھی ہیں اجازت لینے کی غرض سے نصف حصہ اعلی بدن کی تصویر کھنچوانا بذریعہ فوٹو گراف جائزہے یانہیں اور اس اجازت نامہ کو اپنے پاس رکھنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
شك نہیں کہ ذی روح کی تصویر کھینچنی بالاتفاق حرام ہے اگر چہ نصف اعلی بلکہ صرف چہرہ کی ہی ہو کہ تصویر چہرہ کا نام ہے۔امام طحطاوی رحمہ اﷲ تعالی شرح معانی الاثار میں سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی الصورۃ الرأس (سر کی تصویر کے لئے یہ حکم نہیں کیونکہ وہ جائز نہیںاس لئے کہ تصویر چہرہ ہی کانام ہے۔ت)اگر چہ ان کے پاس رکھنے میں خلاف ہے اور صحیح ومعتمد یہ ہے کہ ان کا بھی رکھنا حرام ہے جیسا پوری تصویر کا مگر جبکہ اتنی چھوٹی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے ہوکر دیکھنے سے اعضاء کی تفصیل نظر نہ آئے یاذلت وخواری کی جگہ مثلافرش پا انداز میں ہو یا چہرہ بگاڑدیں کاٹ دیں محو کریں کہ ان صورتوں میں پوری تصویر بھی رکھنی جائزہے یا ضرورت ومجبوری ہوجیسے سکہ کی تصویریں اس کی کامل تحقیق ہمارے رسالہ"عطایا القدیرفی حکم التصویر"(اﷲ تعالی قدرت وطاقت رکھنے والے کی عطائیں تصویر کا حکمبیان کرنے میں۔ت)میں ہے اور ان صورتوں میں اگر چہ رکھناجائز ہے کھینچنا ان کا بھی حرام ہے:
لاطلاق نصوص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی احادیث متواترۃ ثم اطلاق الائمۃ فی کتب متکاثرۃ۔ اس لئے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کے متعلق متواتر حدیثوں میں مطلق نصوص وارد ہوئیںاور پھر ائمہ کرام نے متعدد کتابوں میں اس کو علی الاطلاق(بغیر کسی قید کے)ذکرفرمایا ہے۔(ت)
اور جس کا کھینچنا حرام ہے کھنچوانا بھی حرام ہے۔شرع مطہرہ کا قاعدہ ہے:
ماحرم اخذہ حرم العطاؤہ قال اﷲ تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ جس چیز کالینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے۔اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگوں!)گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایك دوسرے کے ساتھ مدد نہ کیا کرو۔
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الکراہیۃ باب التصاویر فی الثوب ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۴۰۳€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الرابعہ عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۸۹€
القرآن الکریم ∞۵ /۲€
#5884 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
وقال تعالی " کانوا لا یتناہون عن منکر فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلون ﴿۷۹﴾" اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:جو بر اکام لوگ کیا کرتے ہیں اہل کتاب اس کے کرنے سے ایك دوسرے کو نہ روکتےکتنا بڑا رویہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔(ت)
مگر مواضع ضرورت مستثنی رہتے ہیںالضرورات تبیح المحظورات (ضرورتیں(مجبوریاں)ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں۔ (ت)اور حرج نہیں بین وضرورت ومشقت شدیدہ کا بھی لحاظ فرمایا گیا ہے۔
" " ما جعل علیکم فی الدین من حرج لاضرر ولاضرار ۔" یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر۫" ۔ اﷲ تعالی نے دین اسلام میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھینہ تو کسی سے نقصان اٹھاؤ اور نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ اﷲ تعالی تم پر آسانی کرنے کا ارادہ رکھتاہے وہ تمھیں کسی تنگی میں ڈالنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔(ت)
ہاں مجردتحصیل منفعت کےلئے کوئی ممنوع مباح نہیں ہوسکتا مثلا جائز نوکری تیس۳۰ روپیہ ماہوار کی ملتی ہواور ناجائز ڈیڑھ سو روپیہ مہینہ کی تو اس ایك سو بیس روپے ماہانہ نفع کے لئے ناجائز کا اختیار حرام ہے۔فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل اخر نفسہ من النصاری لضرب الناقوس کل یوم بخمسۃ دراھم ویعطی فی عمل اخر کل یوم درھم علیہ ان یطلب الرزق من موضع اخر ۔ ایك شخص نے عیسائیوں کے ہاں اجرت پر بگل بجانے کی ملازمت اختیار کی اس شرط پر کہ اسے یومیہ پانچ درہم ملیں گےاور کسی دوسرے(جائز کام پر)ہر روز اسے ایك درہم دئے جانے کا وعدہ ہوا تو پھر اس پر لازم ہے کہ وہ دوسری جگہ رزق حلال تلاش کرے لہذا تھوڑی اجرت پرجائز کام کرے اور زیادہ پر حرام کام نہ کرے)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵ /۷۹€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ∞۱ /۱۱۸€
القرآن الکریم ∞۲۲ /۷۸€
مسند امام احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱ /۳۱۳€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۸۵€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع نولکشور دہلی ۴ /۷۸۰€
#5885 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
اس سوال کے ورود پر ہم نے ایك رسالہ"جلی النص فی اماکن الرخص"(۱۳۳۷ھ)(مقامات رخصت میں واضح اور ظاہر نص کا بیان۔ت)تحققیات جلیلہ پر مشتمل لکھا ان تمام مباحث کی تنقیح وتشریح اس میں ہے تصویر کھینچوانے میں معصیت بوجہ اعانت معصیت ہے پھراگر بخوشی ہو تو بلاشبہ خود کھینچے ہی کی مثل ہے یونہی اگر اسے کھینچوانا مقصود نہیں بلکہ دوسرا مقصد مباح مثلا کوئی جائز سفرمگر قانونا تصویر دینی ہوگی تو اگر وہ مقصد ضرورت وحاجت صحیحہ موجب حرام وضرورت مشقت شدیدہ تك نہ پہنچا جب بھی ناجائز کہ منفعت کے لئے ناجائز جائز نہیں ہوسکتااور اگر یہ حالت ہے تو ایسی صور ت میں فعل کی نسبت فاعل پر مقتصر رہتی ہے اور یہ اس نیت سے بری اور اپنے اوپر سے دفع حرج وضرر کا قاصد ہونے کے سبب ولا تزر وازرۃ وزر اخری " " (کوئی شخص کسی دوسرے کا شخص کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ت)اور انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی (یاد رکھو اعمال کا دارومدار ارادوں پر ہے اور ہر آدمی کے لئے وہی کچھ ہے جس کا اس نے ارادہ کیا ہے۔ت)کافائدہ پاتاہے۔فتح القدیر میں ہے:
ماذکر انہ لایتوصل الی الحج الا بارشائہم فتکون الطاعۃ سبب المعصیۃ فیہ نظر بل الاثم فی مثلہ علی الاخذ لا المعطی علی ما عرف من تقسیم الرشوۃ فی کتاب القضاء ۔ جو کچھ ذکر کیا گیا یہ ہے کہ ادائیگی حج کا سوائے رشوت دینے کے اور کوئی ذریعہ نہیںتوپھر(اس صورت میں)طاعت گناہ کا سبب ہوجائے گیاس پر اعتراض اور اشکال ہے وہ یہ ہے کہ اس نوع کے مسائل میں رشوت لینے والے کو گناہ ہوگا نہ کہ دینے والے کو جیسا کہ کتاب القضاء میں"تقسیم رشوت" کے عنوان سے معلوم ہوا۔(ت)
اہل وعیال کے پاس جانے یا انھیں لانے کی ضرورت بیشك ضرورت ہے رؤف ورحیم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شریعت ہر گز یہ حکم نہ دے گی کہ تصویر لیں گے تم یہیں رہوا ور انھیں سمندر پار پڑا رہنے دو کہ نہ تم ان کی موت وحیات میں شریك ہو سکو نہ وہ تمھاریتجارت اگر پہلے سے وہاں تھی اور اب اسے قطع کرکے مال وہاں سے لانے کے لئے ایك بار جاناہے اگر نہ جائے تو مال جائے تو یہ بھی صورت اجازت ہے کہ شرع میں مال شقیق نفس ہے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶ /۱۶۴€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲€
فتح القدیر کتاب الحج مقدمۃ یکرہ الخروج الی الحج ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۳۲۹€
#5886 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
قال اﷲ تعالی " امولکم التی جعل اللہ لکم قیما" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)تمھارے وہ مال کہ جنھیں اﷲ تعالی نے تمھارے ٹھہراؤ اور قیام کاذریعہ بنایاہے۔(ت)
اور اگر تجارت قائم رکھنے کو جاناہے مگر ایك ہی بار کہ پھر وہیں توطن کا ارادہ ہے یا بارہامگر تصویر اول ہی بارلی جائے گی تویہ بھی جواز میں ہے کہ ایك بار جانے سے چارہ نہیںاور اگر ہر بار تصویر دینی ہوگ تو دو صورتیں ہیںـ:اول یہ کہ اس کے پاس ذریعہ رزق وہی تجارت ہے اور وہ تجارت وہیں چلتی ہیںاگریہاں مال آٹھالائے بیکارجائے یا نقصان شدید اٹھائے تو یہ بھی حرج وضرر کی صورت میں آگیا والحرج مدفوعاور اگر اس کے قطع میں معتمد بہ ضرر نہیں یا وہ تجارت یہاں بھی چلے گی اگر چہ نفع کم ملے گا تو صرف بغرض قطع ایك بار جانے کی اجازت ہے دوبارہ کی نہیں کہ منفعت کے لئے نارواروا کرنا ناروااعلائے کلمۃ اﷲ میں تین صورتیں ہیں اگر کچھ کافروں نے وہاں سے اسے لکھا کہ ہم تمھارے ہی ہاتھ پر مسلمان ہوں گے آکر ہمیں مسلمان کر لوتو لازم ہے کہ جائے کہ اس کے لئے فرض نماز کی نیت توڑ دینا واجب ہوتاہے۔حدیقۃ ندیہ بحث آفات الید میں ہے:
وقال ذمی للمسلم اعرض علی الاسلام یقطع وان کان فی الفرض کذا فی خزانۃ الفتاوی ۔ اگر کسی ذمی کافر نے مسلمان سے کہا کہ مجھ پر اسلام پیش کیجئے تو وہ فرض نماز کی نیت توڑدے(اور پہلی فرصت میں اس کافر کو مسلمان کردے)خزانۃ الفتاوی میں یونہی مذکور ہے۔(ت)
یا وہاں کچھ کفار اسلام کی طرف مائل ہیں کوئی ہدایت کرنے والا ہو تو ظن غالب رہے کہ مسلمان ہوجائیں گےاس صورت میں بھی اجازت ہوگی فان الظن الغالب ملتحق بالیقین(کیونکہ ظن غالب(یعنی غالب گمان)یقین کے ساتھ لاحق ہے۔ ت)بلکہ ا س صورت میں بھی وجوب چاہئے کہ ایسی حالت میں تاخیر جائز نہیںکیا معلوم کہ دیرمیں شیطان راہ ماردے اوریہ مستعدی جاتی رہے اور یہاں یہ خیال نہیں ہوسکتا کہ کچھ میں ہی تو متعین نہیں کہ ہر ایك یہی خیال کرے تو کوئی نہ جائے گا اور اگر یہ بھی نہیں عام کفا رکی سی حالت ہے تو بحمداﷲ دعوت اسلام ایك ایك ذرہ زمین کو پہنچ چکیولہذا اب قتال کفار میں تقدیم دعوت صرف مستحب ہے۔ ہدایہ میں ہے:
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴ /۵€
الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیہ الصنف الخامس المکتبہ النوریۃ الرضویہ ∞لائلپور ۲ /۴۵۹€
#5887 · اعتقادات وسیر (ایمان،کفر،شرک،تقدیر،ردت،ہجرت،سنیت،گناہ،توبہ وغیرہا سے متعلق مسائل)
یستحب ان یدوعو من بلغۃ الدعوۃ مبالغۃ فی الانذار ولایجب ذلك ۔ جس شخص کو دعوت اسلام پہنچ گئی ہو تو اسے ڈراوے میں مبالغہ کرتے ہوئے دوبارہ اسلام کی دعوت دینا مستحب ہے لیکن واجب نہیں۔(ت)
اب یہ صرف منفعت کے درجہ میں آگیا اس کے لئے اجازت نہ چاہئےہا ں اگر معلوم ہو کہ وہاں ہنوز دعوت اسلام پہنچی ہی نہیں تو تبلیغ واجب ہے یہ صورت دوم کی مثل ہو کہ اجازت میں رہے گاظاہر ہے کہ صورت سوال و ہ نئی تازی حال کی صورت ہے کہ کتب میں ہونا درکنار اس سے پہلے کبھی سننے ہی میں نہیں آئیفقیر نے جو کچھ ذکر کیا تفقہا ہے اور مولی تعالی سے امید صواب و ثواب ہے
فان اصبت فمن ربی ولہ الحمد وان اخطأنت فمنی و من الشیطان واﷲ ورسولہ عنہ برئیان جل وعلا و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلمواﷲ تعالی اعلم۔ اگر میں مصیب ہوا(مراد یہ کہ میں نے ٹھیك کہا)تو پھر یہ میرے پرورگار کی طرف سے ہے اور اگر میں خطا کارہوا تو پھر یہ میرا قصور اور شیطان کا وسوسہ ہے لہذا اﷲ تعالی اور اس کا محبوب رسول دونوں اس سے بری الذمہ ہیںاﷲ تعالی بڑی شان والا اور بلند مرتبہ ہے۔رسول گرامی پر اﷲ تعالی کی رحمت اور سلام ہواور اﷲ سب سے زیادہ علم رکھتاہے۔(ت)
حوالہ / References الہدایہ کتا ب السیر باب کیفیۃالقتال المکتبۃ العربیہ ∞کراچی ۲ /۵۴۰€
#5888 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
رسالہ
جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ
(مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)

مسئلہ ۶۷: بعض اوقات بعض ممنوعات میں رخصت ملتی ہے ان کی اجمالی تفصیل کیا ہے
بسم اﷲ الرحمن الرحیمالحمد ﷲ الذی بعث نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشریعۃ سمحۃ سہلۃ غراء بیضاء لیلہا کنہارھا وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی من احل لنا الطیبات وحرم علینا الخبائث ووضع عنا ما کان علی الامم الخالیۃ من الاصرو الاغلال واو زارھا وعلی الہ وصحبہ واولیائہ وحزبہ الذین جعلہم اﷲ تعالی کے مقدس نام سے شروع کرتاہوں جو بے حد رحم کرنے والا مہربان ہے ہر قسم کی تعریف اس اﷲ تعالی کے لئے ہے کہ جس نے ہمارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ایسی شریعت دے کر بھیجا جو کشادہنرمآسان اور بے حد روشن ہے جس کی رات دن کی طرح ہے۔اور عمدہ درود اور سب سے زیادہ کامل سلام ان پر نازل ہو کہ جنھوں نے ہمارے لئے پاك اور ستھری چیزیں حلال فرمادیںاور گندی چیزی ہم پر حرام کردیںاور جو بوجھ طوق اور گناہ گزشتہ امتوں کے ذمے تھے وہ ہم سے اتار دیئےاور ان کی اولادصحابہدوست اور ان کے گروہ پر بھی(درود و
#5889 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
ربہم امۃ وسطا فقالوا بالحق وقاموابالعدل وفاز وابفیوض الشریعۃ وانوارہا وعلینا بہم و لہم وفیہم یاارحم الراحمین ابدالابدین فی کل ان وحین عدد اوبار الہدایا واصواف الضحایا واشعار ہا امین! سلام ہو)جن کو ان کے پروردگار نے درمیانی امت بنایاپھر انھوں نے حق بیان فرمایا اور انصاف قائم کیااور شریعت کے فیوضات و انوار کی وجہ سے کامیاب ہوئےپھر ان کی وجہ سے ہم پر اور ان کے لئے اور ان کے اندراے سب سے بڑے رحم کرنے والے ! ہر لمحہ اور ہمیشہ ہمیشہ رہےقربانی کے اونٹوں کے بال اور مینڈھوں کی اون اور بکریوں کے بالوں کی تعداد کے مطابق رہےیا اللہ! ہماری اس دعا کو شرف قبولیت سے نواز دے۔(ت)
اما بعدیہ چندسطور کا شفۃ الستور بعون الغفور لامعۃ النور(چندسطریں پردہ اٹھانے والیگناہ بخشنے والے روشن نور کی مدد سے۔ت) اس بیان میں ہیں کہ بعض اوقات بعض ممنوعات میں رخصت ملتی ہے۔اس کی اجمالی تفصیل کیا ہے۔ظاہرہے کہ نہ ہر ممنوع کسی نہ کسی وقت مباح ہوسکتا ہے نہ ہر وقت ایسا کہ کسی نہ کسی ممنوع میں رخصت کی قابلیت رکھتا ہے ادھر اس کے متعلق بعض قواعد فقہیہ میں بظاہر تعارض معلوم ہوتاہے
ایک: اصل یہ ہے کہ درء المفاسدا ھم من جلب المصالح مفسدہ کا دفع مصلحت کی تحصیل سے زیادہ اہم ہے۔
حدیث ذکر کی جاتی ہے:ترك ذرۃ ممانہی اﷲ عنہ افضل من عبادۃ الثقلین ۔ایك ذرہ ممنوع شرعی کا چھوڑدینا جن وانس کی عبادت سے افضل ہے۔
یہ قاعدہ مطلقا لحاظ نہی بتاتا ہے۔
دوم: الضرورات تبیح المحظورات مجبوریاں ممنوح کو مباح کردیتی ہیں۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اس کا استنباط کریمہ " فاتقوا اللہ ما استطعتم" وکریمہ
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۲۵€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۲۵€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسہ اداراۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۱۸€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۸۶€
#5890 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا " میں ہے یعنی مقدور ربھر پرہیزگاری کرو اﷲ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتایہ مطلقا لحاظ ضرورت فرماتاہے۔
سوم: من ابتلی بلیتین اختارا ھو نہما دوبلاؤں کا مبتلا ان میں ہلکی کو اختیار کرے۔
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)یہ کریمہ " الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمن" (مگر وہ شخص کہ جس پر زبردستی کی جائے جبکہ اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو۔ت)سے ماخوذ ہے یہ قاعدہ دونوں اطلاق نہیں کرتا بلکہ موازنہ چاہتاہے۔
چہارم: الضرر یزال (نقصان کو دو رکیا جاتاہے۔ت)ضرر مدفوع ہے۔قال عزوجل " " ما جعل علیکم فی الدین من حرج (اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا)تم پر دین میں کوئی تنگی نہ رکھیرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاضرر ولا ضراررواہ ابن ماجۃ عن عبادۃ واحمد عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم بسند حسن۔ نہ ضرر لو نہ ضرر دو(ابن ماجہ نے اس کو حضرت عبادہ سے روایت کیا اور امام احمد نے عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔(ت)
ارتکاب ممنوع بھی ضرر ہے تویہ اصل اول سے موافق ہے اورانسانی ضرورت بھی ضرر ہے تو اصل دوم کے مطابق ہے۔
پنجم: المشقۃ تجلب التیسیر مشقت آسانی لاتی ہے۔اور اسی کے معنی میں ہے ما ضاق
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶۴/ ۱۶€
کشف الخفاء ∞حدیث ۲۳۹۸€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۲۰۷،€الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۲۳€
القرآن الکریم ∞۱۶ /۱۰۶€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۱۸€
القرآن الکریم ∞۲۲ /۷۸€
سنن ابن ماجہ کتاب الاحکام باب من بنی فی حقہ مایضر بجارہ الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۰،€مسند امام احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ عنہما المکتب الاسلامی بیروت ∞۱ /۱۰۵€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۸۹€
#5891 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
امر الا اتسع (کوئی معاملہ تنگ نہیں ہوا مگر اس میں کشادگی رکھی گئی۔ت)مولی سبحانہ فرماتاہے:
" یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر۫" اﷲ تمھارے ساتھ آسانی چاہتاہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔
اس کا دائرہ ضرورت ومجبوری سے وسیع ترہے۔
ششم: ماحرم اخذہ حرام اعطاؤہ جس کا لینا حرام اس کا دینا بھی حرام۔
قال تعالی:" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪
" ہفتم: انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا:)گناہ اور حد سے بڑھنے پر ایك دوسرے کی مدد نہ کرو۔
اعمال نیتوں پر ہیں اور ہر ایك کے لئے اس کی نیت۔
قال عزوجل:
" یایہا الذین امنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اہتدیتم " ۔ ایمان والو! آپ ٹھیك رہو دوسرے کا بہکنا تمھیں ضرر نہ دے گا جب تم راہ پر ہو۔
ہم دیکھتے ہیں حج میں مدت سے ٹیکس لئے جاتے ہیں اور اس سے حج ممنوع نہیں ہوجاتامتجارتوں پر صدہا سال سے تمام دنیا میں ٹیکس اور چنگیاں ہیں اس اس سے تجارت بند نہیں کی جاتی یہ قاعدہ ہفتم کے موافق ہے لیکن سود کا لینا دینا دونوں حرام حدیث صحیح میں دونوں پر لعنت فرمائی دوسری حدیث میں ارشاد ہوا:
الراشی والمرتشی کلاہما فی النار ۔ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنم میں ہیں۔
یہ قاعدہ ششم کے مطابق ہے لہذا بقدر وسعت ان مواقع واماکن کا بیان چاہئے جہاں رخصت
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ ∞۱ /۱۱۷€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۸۵€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدہ الرابعۃ عشر ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۸۹€
القرآن الکریم ∞۵ /۲€
صحیح البخاری باب کیف ماکان بدء الوحی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲€
القرآن الکریم ∞۵ /۱۰۵€
کنزالعمال بحوالہ طب ∞ص حدیث ۱۵۰۷۷€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶ /۱۱۳،€الترغیب والترہیب ترہیب الراشی والمرتشی مصطفی البابی ∞مصر ۳ /۱۸۰€
#5892 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
ملتی ہے اورجہاں نہیں کہ ان قواعد کے موارد واضح ہوں نیز مسائل کثیرہ ومباحت غزیرہ باذنہ تعالی روشن ولائح ہوں نیز اس شریعت مطہر کی رحمتیں اور اس کااعتدلال اور برخلاف شرائع یہو د نصاری سختی ونرمی محض سے انفصال ظاہرہوں وباﷲ التوفیق(اﷲ تعالی ہی کے کرم سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔ت)
علماء فرماتے ہیں:مراتب پانچ ہیں:
(۱)ضرورت(۲)حاجت(۳)منفعت(۴)زینت(۵)فضول
امام محقق علی الاطلاق نے اسے اقسام اکل میں دکھایا اور ضرورت یہ بتائی کہ بے اس کے ہلاك یا قریب ہلاك ہواور حاجت یہ کہ حرج ومشقت میں پڑےباقیوں کی تعریف نہ فرمائی مثال بتائیمنفعت گیہوں کی روٹی بکری کا گوشتزینت حلوامٹھائیفضول طعام شبہہ حرامونقلہ فی غمز العیون من قاعدۃ الضرر یزال واقتصر علیہ(غمز العیون میں اسے اس قاعدے سے نقل فرمایا کہ نقصان دور کیا جائے۔اور اسی پر اکتفاء کیا۔ت)
فقیر بقدر فہم کلام عام کرے فاقول:(پس میں کہتاہوں)پانچ چیزیں ہیں جن کے حفظ کو اقامت شرائع الہیہ ہے دین وعقل و نسب ونفس ومال عبث محض کے سوا تمام افعال انھیں میں دورہ کرتے ہیں اب اگر فعل(کہ ترك بمعنی کف کو کہ وہی مقدور وزیر تکلیف ہے نہ کہ بمعنی عدم کما فی الغمز وغیرہ بھی شامل)اگر ان میں کسی کا موقوف علیہ ہے کہ بے اس کے یہ فوت یا قریب فوت ہو تو یہ مرتبہ ضرورت ہے جیسے دین کے لئے تعلم ایمانیات و فرائض عینعقل ونسب کے لئے ترك خمروزنانفس کے لئے اکل وشرب بقدر قیام بنیہمال کے لئے کسب ودفع غصب امثال ذلکاور اگر توقف نہیں مگر ترك میں لحوق مشقت وضرر وحرج ہے تو حاجت جیسے معیشت کے لئے چراغ کہ موقوف علیہ نہیں ابتدائے زمانہ رسالت علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ(صاحب رسالت پر عمدہ درود اور ثناء ہو۔ت)میں ان مبارك مقدس کاشانو ں میں چراغ نہ ہوتاام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
والبیوت یومئذ لیس فیہا مصابیحرواہ الشیخان ۔ گھروں میں ان دنوں چراغ نہیں ہوتے تھے بخاری ومسلم نے اسے روایت کیا۔(ت)
حوالہ / References غمز عیون البصائر القاعدۃ الخامسۃ الضرر یزال ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۱۱۹€
صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ علی الفروش ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۶،€صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب سترۃ المصلی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۸€
#5893 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
مگر عامہ کے لئے گھر میں بالکل روشنی نہ ہونا ضرورباعث مشقت وحرج ہےاوراگر یہ بھی نہ ہو مگر حصول مفید ہے نفس فائدہ مقصودہ اس سے حاصل ہوتا ہےتو منفعت جیسے مکان کے ہر دالان میں ایك چراغاوراگر فائدہ مقصودہ کی تحصیل اس پر نہیں بلکہ ایك امرزائد زیب وزیبائش بقدر اعتدال کے لئے ہے تو زینت جیسے چراغ کی جگہ فانوساوراگر اس سے اتنافائدہ بھی نہیں یا اس میں افراط اور خروج عن الحد ہے فضول جیسے بے کسی نیت محمودہ کے گھر میں چراغاںاب مواضع ضرورت کا استثناء تو بدیہی جس کے لئے اصل دوم کافی اور اس کی فروع معروف ومشہور اور استفسار سے بعید و مہجورمثلا کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکے بیٹھ کر پڑھے ورنہ لیٹ کر ورنہ اشارہ سے الی غیر ذلك مما لایخفی(ان کے علاوہ باقی صورتیں جو کسی سے پوشیدہ نہیں۔ت)ا س کے لئے تمام ممنوعات کہ کسی حال میں قابل اباحت یا متحمل رخصت ہوں یا مرخص ہوجاتے ہیں نہ مثل زنا وقتل ناحق مسلم کہ کسی شدید سے شدید ضرورت کے لئے بھی مرخص نہیں ہوسکتےیہاں تك کہ اگر صحیح خوف قتل کے سبب بھی ان پر اقدام کرے گا مجرم ہوگاحکم ہے کہ بازر ہے اگر چہ قتل ہوجائےاگر مارا گیا اجر پائے گا کما نصوا علیہ اصولا و فروعا(جیسا کہ اصول وفروع کے لحاظ سے ائمہ کرام نے اس کی تصریح فرمائی۔ت)پھر اپنی ضرورت تو ضرورت ہے ہی دوسرے مسلم کی ضرورت کا بھی لحاظ فرمایا گیا۔مثلا:
(۱)دریا کے کنارے نماز پڑھتا ہے اور کوئی شخص ڈوبنے لگااور یہ بچا سکتا ہے لازم ہے کہ نیت توڑ ے اور اسے بچائےحالانکہ ابطال عمل حرام تھا۔
قال تعالی " لا تبطلوا اعملکم ﴿۳۳﴾" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو اپنے اعمال کو باطل نہ کیا کرو۔(ت)
(۲)نماز کا وقت تنگ ہے ڈوبتے کو بچانے میں نکل جائے گابچائےاور نماز قضاء پڑھے اگر چہ قصد ا قضا کرنا حرام تھا۔
(۳)نماز کا وقت جاتاہے اور قابلہ اگر نماز میں مشغول ہو بچے پر ضائع ہونے کا اندیشہ ہے نماز کی تاخیر کرے۔
(۴)نماز پڑھتاہے اور اندھا کنویں کے قریب پہنچااگر یہ نہ بتائے وہ کنویں میں گرجائے نیت تو ڑکر بتانا واجب ہے۔اشباہ میں ہے:
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۷/ ۳۳€
#5894 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
تخفیفات الشرع انواع الخامس تخفیف تاخیر کتاخیر الصلوۃ عن وقتہا فی حق مشتغل بانقاذ غریق و نحوہ ۔ شریعت کی سہولتوں کی کئی قسمیں ہیںپانچویں قسم یہ ہے کہ تاخیر کی سہولت ہے۔جیسے دو شخص جو کسی ڈوبتے ہوئے کو بچائے تو اس کا اپنی نماز میں تاخیر کرنا۔(ت)
ردالمحتار کتا ب الحج میں ہے:
جاز قطع الصلوۃ اوتاخیرہا لخوفہ علی نفسہ اومالہ او نفس غیرہ اومالہ کخوف القابلۃ علی الولد والخوف من تردی اعمی وخوف الراعی من الذئب وامثال ذلك ۔ نماز توڑنا دینا یا اس میں تاخیر کرنا جائزہے جبکہ کسی شخص کو اپنی جان یا اپنے مال کا خطرہ ہویا کسی دوسرے کی جان ومال کے تباہ ہونے کا اندیشہ ہوجیسے دایہ کا بچے کی پیدائش کے وقت ڈریا اندھے کے کنویں میں گرنے کا خوفیا چرواہے کا بھیڑئیے سے خطرہیا اس قسم کے دوسرے مواقع(ت)
اقول:(میں کہتاہوں)یہ بھی حقیقۃ اپنے نفس کی طرف راجع کہ یہ شرعا ان کے بچانے پر مامور ہے
اگر بینم کہ نابینا وچاہ است اگر خاموش نبشینم گناہ است
(اگر میں یہ دیکھوں کہ اندھا اور کنواں ہے تو اگر اس موقع پر خاموش رہوں تو گناہ ہے۔ت)
ولہذا جن کا نفقہ اس پر لازم ہے بے ان کا بندوبست کئے حج کو نہ جائے اور جن کا نفقہ اس پر نہیں اگر چہ اس کے چلے جانے سے ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو اس پر لحاظ لازم نہیں کہ یہ یہاں رہتاجب بھی تو انھیں نفقہ دینے کا شرعا مامور نہ تھا پھر عالمگیریہ میں ہے:
کرھت خروجہ(ای للحج)زوجتہ واولادہ او من سواھم ممن تلزمہ نفقتہ وھو لایخاف الضیعۃ علیہم فلا باس بان یخرج ومن لاتلزم نفقتہ لوکان حاضرا فلاباس بالخروج مع کراہتہ وان اگر اس کی بیوی اور بچے یا ان کے علاوہ دوسرے افراد کنبہ کہ جن کا خرچہ اس پر لازم ہے اگر یہ حج کے لئے جائے اوریہ سب اس کے جانے کو پسند نہ کریں اور اسے ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو پھر اس صورت میں اس کے جانے میں کوئی حرج نہیں اور جن لوگوں کا خرچہ
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ ادارۃ القرآن وعلوم الاسلامیہ ∞کراچی ۱/ ۱۱۷€
ردالمحتار کتاب الحج داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۱۴۴€
#5895 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
کان یخاف الضیعۃ علیہم ۔ اس پر لازم نہیںاگر یہ موجود ہو تو ناپسندیدگی کے باجود اس کے باہر جانے میں کوئی حرج نہیں اگر چہ اس کے ضائع ہونے کا خدشہ ہو۔(ت)
اور زینت وفضول کے لیے کسی ممنوع شرعی کی اصلا رخصت نہ ہوسکنا بھی ایضاح سے غنی جس پر اصل اول بدرجہ اولی دلیل وافی ورنہ احکام معاذاﷲ ہوائے نفس کا بازیچہ ہوجائیں
اقول:یوہیں مجرد منفعت کے لئے کہ وہ اصل مدلول اصل اول اور اس پر کتب معتمدہ میں فروع کثیرہ دال:
(۱)حقنہ بضرورت مرض جائز ہے اور منفعت ظاہرہ مثلا قوت جماع کے لئے ناجائز ہے۔ردالمحتار میں ذخیرہ امام اجل برہان الدین محمود سے ہے:
یجوز الاحقان للمرض فلواحتقن لا لضرورۃ بل لمنفعۃ ظاہرۃ بان یتقوی علی الجماع لایحل عندنا اھ بیمار کے لئے حقنہ کرنے کی اجازت ہے اگر اس نے بغیر ضرورت حقنہ لیا کسی ظاہر ی فائدے کے لے مثلا اس لئے کہ جماع پر قوی ہو تو ہمارے لئے یہ حلال نہیں اھ(ت)
اس پر حواشی فقیر میں ہے:
اقول:ھذا ظاہر اذا کان معہ من القوۃ مایقدر بہ علی اداء حق المرأۃ فی الدیانۃ وتحصین فرجہا اما اذا عجز عن ذلك فہل یعد ضرورۃ الظاہر لالانہ بسبیل من ان یطلقہا فتنکح من شاءت فان الواجب علیہ احد امرین امساك بمعروف او تصریح باحسان فان عجز عن الاول لم یعجز عن میں کہتاہوں کہ یہ بات ظاہر ہے کہ جب اس میں قوت مردمی موجو دہو کہ جس کی وجہ سے یہ عورت کا حق ادا کرنے پرقدرت رکھتا ہے دیانت اور حفاظت فروج کے لحاظ سے لیکن اگر یہ اس سے عاجز ہے تو کیا اس کو بھی ضرورت میں شمار کیا جائے گا ظاہر یہ ہے کہ صورت ضرورت میں شمار نہیںکیونکہ ز کہ اس صورت میں یہ عورت کو طلاق دے دے تو پھر وہ جس سے چاہے نکاح کرلےکیونکہ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتا ب المناسک الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۲۲۱€
ردالمحتار کتاب الحظرو الاباحۃ فصل فی النظر والمس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۳۷€
#5896 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
الاخر نعم المعہود فی الہندان النساء یتعیرن بالزواج الثانی تعیراشدیدالکن ہذا من قبلہن بجہلہن لیس علیہ فیہ اخذ فلیتأمل انتہی ما کتبت علیہ۔ اس پر دوباتوں میں سے ایك واجب ہے۔یا بھلائی کے ساتھ روك رکھنا یا احسان کرتے ہوئے چھوڑ دینااگریہ پہلی بات سے عاجز ہوگیا تو دوسری سے عاجز نہیںہاں البتہ ہندوستان میں مشہور ومتعارف یہ ہے کہ عورتیں دوسرا نکاح کرنے سے سخت عار محسوس کرتی ہیںلیکن یہ پابندی عورتوں کی طرف سے عائد کردہ ہے ان کی ناسمجھی کی وجہ سےاس میں اس پر کوئی گرفت نہیںاس بات میں غور وفکر کرنا چاہئےیہ آخر عبارت ہے جو میں نے اس کے حاشیہ میں لکھی۔(ت)
(۲)حلال کام میں تیس۳۰ روپیہ مہینہ پاتاہے اور نصرانی ناقوس بجانے پر ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار دیں گے اس منفعت کے لئے یہ نوکری جائز نہیں۔
(۳)یوہیں بھٹی کے لئے شیرہ نکالنے کیفتاوی امام اجل قاضی خان میں ہے:
رجل اجر نفسہ من النصاری لضرب الناقوس کل یوم بخسمۃ دراہم ویعطی فی عمل اخر کل یوم درھم قال ابراھیم بن یوسف رحمہ اﷲ تعالی لاینبغی ان یؤاجر نفسہ منہم انما علیہ ان یطلب الرزق من موضع اخر وکذا لو اجر نفسہ منہم بعصر العنب للخمر لان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ ولسم لعن العاصر اھ۔ ایك آدمی عیسائیوں کے ہاں بگل بجانے کی نوکری اختیار کرتاہے کہ اسے ہر دن اس کام پر پانچ درھم ملیں گے لیکن اگر کوئی دوسرا جائز کام کرے تو اس پر یومیہ ایك درہم ملے گا امام ابراہیم بن یوسف رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا کہ اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ عیسائیوں کے باں بگل بجانے کی نوکری کرےبلکہ اس کے لئے لازم ہے کہ وہ کسی دوسری جگہ سے رزق حلال تلاش کرےاوریہی حکم ہے اس شخص کا جو شراب بنانے کے لئے انگور نچوڑنےکی ملازمت کرتاہے اس لئے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس باب میں جن بدنصیبوں پر لعنت فرمائی ان میں انگور نچوڑنے والا بھی شامل ہے (عبارت مکمل ہوگئی)۔(ت)
حوالہ / References جدالممتارعلی ردالمحتار
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۸۰€
#5897 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
اقول: ولاینبغی ہھنا بمعنی لایجوز بدلیل قولہ "علیہ"فانہ لایجاب وبدلیل تشبیہ فی الحاکم بما صح علیہ اللعن۔ اقول:(میں کہتاہوں)لاینبغی یہاں بمعنی لایجوز ہے۔یعنی اس کے لئے یہ جائز ہی نہیںاور اس کی دلیل مصنف کا یہ قول"علیہ"ہے کیونکہ لفظ علی ایجاب کے لئے آتا ہے اور اس دلیل سے کہ مصنف نے اس مسئلے کوحکم میں اس سے تشبیہ دی کہ جس پر لعنت ہے۔(ت)
(۴و ۵)موچی کو نیچری وغیرہ فاسقانہ وضع کا جوتا بنانے یا درزی کو ایسی وضع کے کپڑے سینے پر کتنی ہی اجرت ملے اجازت نہیں کہ معصیت پر اعانت ہے۔خانیہ میں متصل عبارت مذکورہ ہے:
وکذا الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذلك کثیراجر لا یستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ اھ اقول:ولایستحب ھھنا للنہی لاجل التشبیہ المذکور و بدلیل الدلیل ففی الخانیۃ مسئلۃ الطبل لایجوز لانہ اعانۃعلی المعصیۃ وفی اوائل شہادات الہندیۃ عن المحیط الاعانۃ علی المعاصی من جملۃ الکبائر ۔ اوریہی حکم ہے موچی اور درزی کا کہ جب اسے کسی ایسی چیز کے لینے اور بنانے پر اجرت دی جائے جو فاسقوں کی وضع اور شکل کا لباس ہواور اس میں اسے زیادہ اجرت دینے کا وعدہ کیا جائے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ یہ کام کرے اس لئے کہ گناہ پر یہ دوسرے کی امداد کرناہے۔اھ اقول:(میں کہتاہوں کہ)یہاں "لا یستحب"بمعنی نہی ہے تشبیہ مذکور کی وجہ سےاور دلیل کی دلیل کی وجہ سے چنانچہ فتاوی قاضی خاں میں طبلہ بجانے کے متعلق ہے کہ جائز نہیں اس لئے کہ یہ گناہ پر امداد دینا ہے اور فتاوی عالمگیری کی بحث"اوائل شہادات"میں محیط سے نقل کیا کہ گناہ کے کاموں میں کسی کی امداد کرنا کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ (ت)
(۶)لکڑی جنگل سے مفت مل سکتی ہے اور ایك شخص لینے نہیں دیتا جب تك اسے رشوت نہ دودینا حرامبحرالرائق میں ہے:
وفی القنیۃ قبیل التحری الظلمۃ تمنع الناس من الاحتطاب من قنیہ کی بحث تحریسے تھوڑا پہلے یہ مسئلہ مذکورہے کہ ظالم لوگ چراگاہ سے لوگوں کو لکڑیاں نہیں
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتا ب الحظروالاباحۃ فصل فی النظر والمس ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۸۰€
فتاوٰی قاضی خاں کتا ب الحظرولاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۹۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۵۱€
#5898 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
المروج الا بدفع شیئ الیہم فالدفع والاخذ حرام لانہ رشوۃ ۔ لانے دیتے جب تك کہ انھیں کچھ نہ دےاور دینااور لینا دونوں حرام ہیں اس لئے کہ یہ رشوت ہے۔(ت)
(۷)کعبہ معظمہ کی داخلی کس درجہ منفعت عظیمہ ہے مگر بے لئے دئے نہ کرنے دیں تو جائز نہیں کہ اس پر لینا حرام ہے تو دینا بھی حراماور حرام محض منفعت کے لئے حلال نہیں ہوسکتاردالمحتارمیں ہے:
فی شرح اللباب ویحرم اخذ الاجرۃ لمن یدخل البیت اویقصد زیارۃ مقام ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام بلاخلاف بین علماء الاسلام وائمۃ الانام کما صرح بہ فی البحر وغیرہ اھ وقد صرحوا بان ما حرم اخذہ حرم دفعہ الا لضرورۃ ولا ضرورۃ ہنا لان دخول البیت لیس من مناسك الحج اھ۔ شرح لباب میں ہے اس شخص کو اجرت دینا حرام ہے جو کسی کو کعبہ شریف کے اندر لے جائےیا وہ مقام ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کرنے کاارادہ کرےاس مسئلہ میں تمام علماء کا اتفاق ہے۔علماء اسلام اور ائمہ انام میں سے کسی کا اختلاف نہیں جیسا کہ"بحررائق"وغیرہ میں اس کی تصریح کی گئی اھاہل علم نے یہ تصریح فرمائی کہ جس چیز کا لینا حرام اس چیز کا دوسرے کو دینا بھی حرام ہے۔مگریہ کہ خاص مجبوری ہواور یہاں کوئی مجبوری نہیںکیونکہ کعبہ شریف کے اندر داخل ہونا احکام حج میں سے نہیں اھ(ت)
اس پر حواشی فقیر میں ہے:
ولاہو واجبا فی نفسہ فمن الجہل ارتکابہ لاتیان مستحب بل این الاستحباب مع لزوم الحرام وما عن الامام رضی اﷲ تعالی عنہ من بذلہ شطر مالہ للسدنۃ لیبیت لیلۃ فی الکعبۃ الشریفۃ اور یہ اس بناء پر بذاتہ واجب بھی نہیں تو پھر مستحب ادا کرنے کے لئے اجرت دینے کا ارتکاب جہالت ہے بلکہ لزوم حرام کے ساتھ استحباب کیسے ہوسکتاہے۔اور جو کچھ امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے مال کا کچھ حصہ خادمان کعبہ کےلئے خرچ کیا تاکہ خانہ کعبہ میں رات گزاریں اور وہاں
حوالہ / References بحرالرائق کتاب القضاء ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۲۶۲€
ردالمحتار کتاب الحج باب الہدی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۵۶۔۲۵۵€
#5899 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
فختم فیہا القران الکریم فی رکعتین فاقول: یجب انہ کان بعد التصریح بنفی الاجرۃ والصریح یفوق الدلالۃ کما نصوا علیہ فی الخانیۃ وغیرہا۔ دو نفلوں میں پورا قرآن مجید ختم کریںفاقول:(پس میں کہتاہوں)ضروری ہے کہ یہ کام نفی اجرت کی تصریح کے بعد ہواور صریح کلام دلالت سے فائق(اوپر)ہوتا ہےجیسا کہ فتاوی قاضیخاں وغیرہ میں ائمہ کرام کی اس پر تصریح موجود ہے۔(ت)
(۸)وقف اگر قابل انتفاع نہ رہے اسے بیچ کراس کے عوض دوسری زمین خرید کر وقف کرسکتے ہیں لیکن اگر وہ قابل انتفاع ہے اور اس کی قیمت کو دوسری جگہ وہ زمین مل سکتی ہے کہ اس سے سو حصے زائد منفعت رکھتی ہو تبدیل جائز نہیںفتح القدیرمیں ہے:
الاستبدلال لا عن شرط ان کان لخروج الوقف عن انتفاع الموقوف علیہم بہ فینبغی ان لا یختلف فیہ وان کان لالذلك بل امکن ان یوخذ بثمن الوقف ما ھو خیر منہ فینبغی ان لا یجوز لان الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری (ملتقطا) تبادلہ کرنا بغیر شرط جبکہ وقف"موقوف علیہ"کے لئے قابل انتفاع نہ ہومناسب ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہ کیا جائے اور اگر یہ نہ ہو(یعنی وقف قابل انتفاع ہو)لیکن وقف کو فروخت کردیا جائے اور اس کے بدل اس سے اعلی اور عمدہ زمین خرید لی جائے تو مناسب ہے کہ یہ صورت جائزنہ ہو کیونکہ واجب یہ ہے کہ جس حالت پر پہلے وقف تھا اسی حالت پر اسے باقی رکھا جائے اور اس میں کوئی زیادت اور اضافہ نہ کیا جائے۔(ت)
بالجملہ مسائل بکثرت ہیں کہ محض منفعت مبیح ممنوع نہیں ہوسکتی۔
فانقلت الیس فی سیر الہندیۃ عن الذخیرۃ وفی کراھیتہا عن المحیط مانصہ وان اراد الخروج للتجارۃ الی ارض العدو اگر کہا جائے کہ کیا فتاوی عالمگیری بحث سیربحوالہ ذخیرہ اور بحث کراہیۃ بحوالہ محیط میں یہ مذکور نہیں کہ جس کی اس نے تصریح فرمائی اگر تجارت کے لئے سرزمین دشمن کی طرف
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الوقف ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰€
#5900 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
بامان فکرہا(ای الابوان)خروجہ فان کان امرا یخاف علیہ منہ وکانوا قوما یوفون بالعہد یعرفون بذلك ولہ فی ذلك منفعۃ فلا باس بان یعصیھما اھ فقد ابیح عصیا نہما للمنفعۃ اقول: یجب ان یراد بہ ما اذا کان نہیھما لمجرد محبۃ وکراہۃ فراقہ غیر جاز م ولذا فرضوا خروجہ بامان وکونہم معروفین بالوفاء حتی لا یخاف علیہ منہ اما اذا خیف لم یحل لہ الخروج بغیر اذنہما لان نہیھما اذن یکون نہی جزم ففی الکتابین بعدہ وانکان یخرج فی تجارۃ ارض العدو مع عسکر من عساکر المسلمین فکرہ ذلك ابواہ او احد ہما فان کان ذلك العسکر عظیما لا یخاف علیہم من العد وبالکبرالرائ فلا باس بان یخرج وان کان یخاف علی العسکر من العدو اجازت نامہ لے کر جانا چاہے لیکن والدین اس کے وہاں جانے کو ناپسند کریںاگر معاملہ پر امن ہواس میں کوئی خطرہ اور اندیشہ نہ ہواور وہ وعدہ وفا کرتے ہوں اور اس وصف میں مشہور ومعروف ہوں اور اس کا بھی وہاں جانے میں فائدہ ہوتو پھر اس صورت میں والدین کاحکم نہ ماننے میں کوئی حرج نہیں اھ(یہاں دیکھئے کہ)حصول فائدہ کےلئے والدین کی نافرمانی کو جائز اور مباح قرار دیا گیا اقول:(میں کہتاہوں) واجب ہے کہ اس سے وہ صورت مراد ہو کہ جس میں والدین کا اور اسے روکنا محض محبت اور شفقت کے طور پر ہو اور اس کی جدائی کا ناپسند ہونا غیر یقینی ہویہی وجہ ہے کہ فقہاء نے خروج کو امن اور وہاں کے لوگوں کا وفادار ہونے میں مشہور ومعروف ہونے پر مسئلہ کو فرض کیا یہاں تك کہ اسے اس معاملہ میں کوئی خوف وخطرہ نہ ہولیکن اگر خطرہ واندیشہ ہو تو پھر والدین کی اجازت بغیر اس کا باہر جانا اور سفر کرنا جائز نہیںاس لئے کہ دریں صورت ان کی نہی یقینی ہوگیپھر ازیں بعد دو کتابوں میں مذکور ہے اگر کاروبار کے لئے دشمن کے ملك میں اسلامی فوجوں میں سے کسی اسلامی فوج کے ساتھ باہر جائے تو والدین یا ان میں سے کوئی ایك اس جانے کو ناپسند
حوالہ / References فتاوی ٰ ہندیہ کتا ب السیر الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۱۸۹،€فتاویٰ ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب السادس والعشرون ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۶۔۳۶۵€
#5901 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
الغالب الرائ لایخرج بغیر اذنہما و کذلك ان کانت سریۃ اوجریدۃ الخیل لایخرج الاباذنہما لان الغالب ہو الہلاك فی السرایا اھ فتسمیۃ عصیانا بحسب الصورۃ الا تری ان العبد بسبیل من خیرۃ نفسہ فی نہی الشرع الارشادی الغیر الجازم فکیف بنہی الابوین کذلك لو لم یرد ذلك فکیف یحل عصیانھما لمنفعۃ مالیۃ وہذا نبینا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قائلا ولا تعقن والدیك وان امراك ان تخرج من اھلك ومالك رواہ احمد بسند صحیح علی اصولنا والطبرانی فی الکبیر عن معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ ولفظہ فی اوسط الطبرانی اطع والدیك وان اخرجاك من مالك وعن کل شیئ ہو لك فافہم وتثبت بالتنبہ فلیس الفقہ الابالتفقہ و لا تفقہ الا بالتوفیق۔ کریںپس اگریہ لشکر عظیم ہو کہ ان کی موجودگی میں غالب رائے کے مطابق دشمن سے کوئی خطرہ اور کھٹکا نہ ہو تو پھر اس صورت میں اس کے باہر جانے میں کچھ حرج نہیں لیکن اگر لشکر اسلام کو غالب رائے کے مطابق دشمن سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ وخطرہ ہو تو پھر والدین کی اجازت کے بغیر نہ جائے اور اسی طرح اگر فوجی دستہ یا گھڑ سواروں کا رسالہ ہو تو بغیر اجازت والدین باہر نہ جائے کیونکہ فوجی دستوں میں غالبا ہلاکت ہوا کرتی ہے اھ پھر اس کو"عصیان"کہنا بلحاظ صورت ہے۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ شرعی غیر جازم نہیں اورشادی کے باوجود بندے کو اپنے نفس کا اختیا رہوتاہےپھر جب والدین کی نفی بھی ایسی ہے تو کیسے نہ ہوگااگریہ مراد نہ ہو تو پھر ا ن کا"عصیان"دنیاوی مالی فائدے کے لئے کیسے جائز ہوگایہ ہمارے حضور پاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرمارہے ہیں" اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرو اگر چہ وہ تمھیں اہل وعیال اور مال سے الگ ہونے کا حکم دیں"امام احمد نے ہمارے اصولوں کے مطابق سند حسن کے ساتھ اس کو روایت فرمایااور امام طبرانی نے معجم الکبیر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے اس کو روایت فرمایا۔اور اس کے الفاظ "اوسط طبرانی"میں
حوالہ / References فتاوی ہندیہ کتاب السیر الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۱۸۹،€فتاوی ہندیہ کتا ب الکراھیۃ الباب السادس والعشرون ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۶€
مسند امام احمد بن حنبل ترجمہ معاذ بن جبل دارالفکر بیروت ∞۵/ ۲۳۸€
المعجم الاوسط للطبرانی ترجمہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ المعارف الریاض ∞۸/ ۴۶۰€
#5902 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
یہ ہیں:"(اے شخص!)اپنے والدین کی اطاعت کیجئے اگر چہ تمھیں تمھارے مال اور تمھارے ہر مملوکہ شے سے تمھیں الگ اور برطرف کردیں"اس کو خوب سمجھ لیجئےاور ہوشیاری سے ثابت قدم رہیےکیونکہ فقہ بغیر سمجھے نہیں ہوسکتیاور سمجھ بوجھ حصول توفیق کے بغیر نہیں ہوسکتی ت)رسالہ جلی النص فی اماکن الرخص ختم شد)
مسئلہ ۶۸ و ۶۹: مسئولہ عبدالرحیم صاحب دکان محمد عمر صاحب عطار محلہ پاٹہ نالہ لکھنو
حضرت قامع ضلالت قیم ومروج سنت حسناتکم السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!
(۱)جناب کیا ارشاد ہے اس مسئلہ میں کہ زید نے مؤذن مسجد کی اذان کے ساتھ تمسخر کیا یعنی لفظ حی علی الصلوۃ سن کر یوں یوں مضحکہ اڑایا"بھیا لٹھ چلا"آیا زید کےلئے حکم ارتداد و سقوط نکاح ثابت ہوا یانہیں اور زید کا نکاح ٹوٹا یانہیں اس کی منکوحہ اس پر حرام ہوئی یانہیں اور بغیر دوبارہ نکاح میں لائے ہوئے وطی کرنا حرام اور زنا کاری ہے یانہیں اور بعد علم اگر منکوحہ زید نہ مانے اور ہمبستری ہوتی رہے تو منکوحہ زید پر بھی شرعا جرم زنا عائد ہوگایانہیں
(۲)زید نے ایك مرتبہ شعار اسلام داڑھی کے متعلق کہا کہ میں داڑھی نہیں رکھوں گا مجھے ان خفاش پروں کی ضرورت نہیںیہ بھی دین کے ساتھ استہزاء اور موجب ردت وسقوط نکاح ہے یانہیں اور زید کا عذر کہ ہم کو مسئلہ معلوم نہ تھا لہذا ہمارا نکاح باقی ہے۔شریعت میں مقبول ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)اذان سے استہزاء ضرور کفر ہے اگر اذان ہی سے اس نے استہزاء کیا تو بلا شبہہ کافرہوگیااس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئییہ اگر پھر مسلمان ہو اور عورت اس سے نکاح کرے اس وقت وطی حلال ہوگی ورنہ زنااور عورت اگر بلا اسلام ونکاح اس سے قربت پر راضی ہو وہ بھی زانیہ ہے۔اور اگر اذان سے استہزاء مقصود نہ تھا بلکہ خاص اس مؤذن سے بایں وجہ کہ وہ غلط پڑھتا ہے تو اس حالت میں زید کو تجدید اسلام وتجدید نکاح کاحکم دیا جائے گاواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)داڑھی کے ساتھ استہزاء بھی ضرور کفرہے۔زید کاایمان زائل اورنکاح باطل اور عذر جہل غلط وعاطل کہ زید نہ کسی دور دراز پہاڑ کی تلی کا رہنے والا ہے نہ ابھی تازہ ہندو سے مسلمان ہوا ہے کہ اسے نہ معلوم ہو کہ داڑھی شعار اسلام ہے۔اور شعار اسلام سے استہزاءاسلام سے
#5903 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
استہزاء ہے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ اس سے نکاح ٹوٹ جانانہ جانتاہومگر اس کا نہ جاننا اس کے نکاح کو محفوط نہ رکھے گا شیشے پر پتھر پھینکے شیشہ ضرورٹوٹ جائے گااگر چہ یہ نہ جانتاہو کہ اس سے ٹوٹ جاتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۰: مسئولہ حکیم محمد اکبر صاحب جگدیش کاچوك اودے پور میواڑ
جس شخص کے عقائد کاٹھکانہ نہ ہو دائرہ اسلام سے خارج ہے یانہیں
الجواب:
عقائد کا ٹھکانہ نہ ہونا کئی معنی پر مشتمل ہوتاہے۔کبھی یہ کہ اس کی صحت عقیدہ پر اطمینان نہیںکبھی یہ کہ یہ مذبذب العقیدہ متزلزل العقیدہ ہے۔کبھی سنیوں کی سی باتیں کرتاہےکبھی بد مذہبوں کی سیان دونوں پر معنی اسلام سے خارج ہونا لازم نہیں ہوتاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۱ تا ۷۳: ازمیرٹھ مرسلہ مولوی محمد حبیب اﷲ صاحب قادری رضوی خطیب مسجد جامع خیر نگر مدرس مدرسہ قومیہ
(۱)ہمزا د کیاہے اس کے تسخیر کے لئے عمل کرنا کیساہے
(۲)آسیبچڑیل وغیرہ شہید وغیرہ جو مشہور ہیں صحیح ہے یاغلط
(۳)دست غیب اور مصلی کے نیچے سے اشرفی وغیرہ کا نکلنا صحیح ہے یانہیں
الجواب:
(۱)ہمزاد از قسم شیاطین ہے۔وہ شیطان کہ ہر وقت آدمی کے ساتھ رہتاہے وہ مطلقا کافر ملعون ابدی ہے سوا اس کے جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں حاضر تھا وہ برکت صحبت اقدس سے مسلمان ہوگیاصحیح مسلم میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مامنکم من احد الا وقدوکل اﷲ قرینہ من الجن وقرینہ من الملئکۃ قالوا وایاك یارسول اﷲ قال و ایای الاا ن اﷲ اعاننی علیہ فاسلم فلا یامرنی الا بخیر اھاعنی علی لوگو! تم میں سے کوئی شخص نہیں کہ جس کے ساتھ ہمزاد جن اور ہمزاد فرشتہ نہ ہولوگوں نے عرض کی اے اﷲ کے رسول! کیا اپ کے ساتھ بھی ہے ارشاد فرمایا کہ ہاں میرے ساتھ بھی ہےلیکن اﷲ تعالی نے میری مدد فرمائی کہ وہ مسلمان ہوگیا
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب صفۃ المنافقین باب تحریش الشیطان الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۷۶،€مسند احمد بن حنبل عن ابن مسعود المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۳۸۵€
#5904 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
روایۃ الفتح المؤیدۃ بمایأتی من الاحادیث۔ لہذا وہ مجھے سوائے بھلائی کے کچھ نہیں کہتااھ اس سے میری مراد فتح الباری کی روایت ہے کہ جس کی تائید آئندہ احادیث سے ہوتی ہے۔(ت)
اسی طرح طبرانی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی اور بزار حضرت عبداﷲ بن عباس یا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہم سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فضلت علی الانبیاء بخصلتین کان شیطانی کافرا فاعاننی اﷲ علیہ حتی اسلم الحدیث دوسرے انبیاء کرام پر دو باتوں میں مجھے فضیلت بخشی گئیایك یہ کہ میرا شیطان کافر تھا کہ اﷲ تعالی نے مجھے اس پر قوت دی یہاں تك کہ وہ مسلمان ہوگیا الحدیث(ت)
بہیقی وابونعیم دلائل النبوۃ میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فضلت علی ادم بخصلتین کان شیطانی کافر افاعاننی اﷲ علیہ حتی اسلم وکن ازواجی عونالی وکان شیطان آدم کافراوزوجتہ عونا لہ علی خطیئتہ ۔ حضرت آدم پر مجھے دو خصلتوں میں فضیلت دی گئیایك یہ کہ میرا شیطان کافر تھا کہ اﷲ تعالی نے مجھے اس پر غلبہ دیا یہاں تك کہ وہ مسلمان ہوگیا اور میری بیویاں میری مدد گار ہیںاور حضرت آدم کا شیطان کافر رہا اور انکی بیوی نے خطا پر ان کی مدد کی۔(ت)
اس کی تسخیر جو سفلیات سے ہو وہ تو حرام قطعی بلکہ اکثر صورتوں میں کفر ہے کہ بے ان کے خوشامد اور مدائح ومرضیات کے نہیں ہوتیاور جو علویات سے ہو تو اگر چہ بصولت وسطوت ہے مگر اس کا ثمرہ غالبا اپنے کاموں میں شیطان سے ایك نوع استعانت سے خالی نہیں ہوتا کہ وہ غلبہ قاہرہ کہ:
" و من یزغ منہم عن امرنا نذقہ من عذاب السعیر ﴿۱۲﴾ " اور ان میں سے جو کوئی اس کے حکم سے منہ پھیرے ہم اسے بھڑکتی آگ کا عذاب چکھائیں گے۔(ت)
حوالہ / References کشف الاستار عن زوائد البزار ∞حدیث ۲۴۳۸€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۳/ ۱۴۶،€مجمع الزوائد البزار باب عصمتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عن القرین ∞۸/ ۲۲۵€ وباب منہ خصائص ∞۸/ ۲۶۹€
دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء فی تحدث رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۵/ ۴۸۸€
القرآن الکریم ∞۳۴/ ۱۲€
#5905 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
جو استجابت دعا " ہب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی " (مجھے ایسی بادشاہی دے ڈال جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔ت) سے تاشی ہر ایك کو کہاں نصیب اور بالفرض نہ بھی ہو تو کافر شیطان کی مخالطت ضرور مورث تغیر احوال وحدوث ظلمت حضرت سیدنا شیخ اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ کم از کم وہ ضرر کہ صحبت جن سے ہوتاہے یہ کہ آدمی متکبر ہوجاتاہے و العیاذ باللہتو راہ سلامت اس سے بعد ومجانبت ہی میں ہےرب عزوجل تو اس دعا کا حکم دے کہ " " اعوذ بک رب ان یحضرون ﴿۹۸﴾ (اے میرے پرودگار! میں تیری پناہ مانگتاہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس حاضر ہوں۔ت)اوریہاں یہ رٹ لگائی جائے کہ حاضر شو حاضر شو والعیا ذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔(حاضر ہوجاحاضر ہوجااور اﷲ تعالی کی پناہاور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔ت)
(۲)ہاں جن اور ناپاك روحیں مرد وعورت احادیث سے ثابت ہیں اور وہ اکثر ناپاك موقعوں پر ہوتی ہیںانھیں سے پناہ کے لئے پاخانہ جانے سے پہلے یہ دعا وار د ہوئی:اعوذباﷲ من الخبث والخبائث ۔میں گندی اورناپاك چیزوں سے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں۔(ت)وہ سخت جھوٹے کذاب ہوتے ہیں اپنا نام کبھی شہید بتاتے ہیں او ر کبھی کچھاس وجہ سے جاہلان بے خرد ہیں شہیدوں کا سر پر آنا مشہور ہوگیا ورنہ شہداء کرام ایسی خبیث حرکات سے منزہ ومبراہیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)ہاں صحیح ہے مگر اس عملداری میں کمیاب بلکہ نایاب ہے۔دست غیب کے نہایت درجہ کا حاصل اب صرف فتوح ظاہرہ و وسعت رزق ہونا ہے۔پھر اگردست غیب اس طرح ہو کہ جن کو تابع کرکے اس کے ذریعہ سے لوگوں کے مال معصوم منگوائے جائیں توا شد سخت حرام کبیرہ ہے اور اگر سفلیات سے ہوتو قریب کفر اور علویات سے ہو توخود یہ شخص ماراجائے گا یا کم از کم پاگل ہوجائے گا یا سخت سخت امراض وبلایا میں گرفتار ہو اعمال علویہ کو ذریعہ حرام بنانا ہمیشہ ایسے ثمرے لاتاہے اور اس کے حرام قطعی ہونے میں کیا شبہہ ہے۔
قال اﷲ تعالی " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)اپنے مال آپس میں ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۳۸/ ۳۵€
القرآن الکریم ∞۲۳/ ۹۸€
مسند امام احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳/ ۱۰۱€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۸۸€
#5906 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
اور اگر کسی دوسرے کی ملك معصوم نہ لائی جاتی ہو بلکہ خزانہ غیب سے اس کو کچھ پہنچایا جائے یا مال مباح غیر معصوم اور وہ جن کہ مسخر کیا جائے مسلمان ہو نہ کہ شیطاناور اعمال علویہ سے ہو نہ کہ سفلیہ سے اور اسے منگا کر مصارف محمودہ یا مباحہ میں صرف کرےنہ کہ معاذاﷲ حرام واسراف میںتو یہ عمل جائز ہےاور جو اس طریقے سے ملے اس کا صرف کرنا بھی جائز کہ جس طرح کسب حلال کے اور طرق ہیں اسی طرح ایك طریقہ یہ بھی ہے۔دست غیب کاسب سے اعلی عمل قطعی عملیقینی عملجس میں تخلف ممکن نہیں ا اور سب اعمال سے سہل تر خود قرآن عظیم میں موجود ہےلوگ اسے چھوڑ کر دشوار دشوار ظنیات بلکہ وہمیات کے پیچھے پڑتے ہیں اور اس سہل وآسان یقینی وقطعی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔
قال اﷲ تعالی " و من یـتق اللہ یجعل لہ مخرجا ﴿۲﴾ و یرزقہ من حیث لا یحتسب " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:جو اﷲ سے ڈرے تقوی و پرہیزگاری کرے اﷲ تعالی عزوجل ہر مشکل سے اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔
اور دست غیب کسے کہتے ہیںاسی طرح لوگ عمل حب کے پیچھے خستہ وخوار پھرتے ہیںاور نہیں ملتااور حب کا سہل ویقینی قطعی عمل قرآن عظیم میں مذکور ہے اس کی غرض نہیں کرتے۔
قال اﷲ تعالی" ان الذین امنوا وعملوا الصلحت سیجعل لہم الرحمن ودا ﴿۹۶﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:بیشك جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے قریب ہے کہ یہ رحمان ان کے لئے محبت کردے گا(دلوں میں ان کی حب ڈال دے گا)
نسأل اﷲ حسن التوفیق(ہم اﷲ تعالی سے حسن توفیق مانگتے ہیں۔ت)واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۴: مرسلہ حامد علی طالب عالم مدرسہ اہلسنت وجماعت بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص نصیر الدین طوسی ملوم ومذموم کو بلفظ مولی الاعظم اور قدوۃ العلماء الراسخین اور نصیر الملۃ والدین قدس سرہ تعالی نفسہ روح رمسہ(بڑا مولیپختہ علماء کے پیشوادین اور ملت کے مددگاراﷲ تعالی ان کے نفس کو پاك کرے اور ان کی ہڈیوں کو آرام پہنچائے۔ت)سے تعبیر کرے تو ایسے کو فاسق یا کافرنہ جاننے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوا یا
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶۵ /۲€
القرآن الکریم ∞۱۹ /۹۶€
#5907 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
نہیںاگر نہ ہواتوفاسق بھی ہوا یانہیں امید کہ دلیل عقلی ونقلی سے اس کا اثبات فرمایا جائے۔
الجواب:
طوسی کا رفض حدکفرنہ تھا بلکہ اس نے حتی الامکان اپنے اگلوں کے کفر کی تاویلات کیںاور نہ بن پڑی تو منکر ہوگیا اور اس کی ایسی توجیہ گناہ ضرور ہے اور منطقی فلسفی شراح ومحشین معصوم نہیں جہاں جہاں اس نے خلاف اہلسنت کیا ہے اس کا رد کردیا گیا واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۵: ۲۳ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ جومشہورہے کہ گھر اور گھوڑا اور عورت منحوس ہوتے ہیں اس کی کیا اصل ہے
الجواب:
یہ سب محض باطل ومردود خیالات ہندؤوں کے ہیںشریعت مطہرہ میں ان کی کوئی اصل نہیںشرعا گھر کی نحوست یہ ہے کہ تنگ ہوہمسائے برے ہوںگھوڑے کی نحوست یہ کہ شریر ہوبدلگامبدرکاب ہوعورت کی نحوست یہ کہ بدزبان ہوبدرویہ ہوباقی وہ خیال کہ عورت کے پہرے سے یہ ہوافلاں کے پہرے سے یہیہ سب باطل اور کافروں کے خیال ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۶: از جاورہ مرسلہ مصاحب علی صاحب امام مسجد چھیپیاں ۲۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص تعزیہ ثواب وعبادت جان کر خود بنائے اور لوگوں کو بنانے کی ترغیب دے اور تعزیہ دیکھ کر تعظیما کھڑا ہوجائے اور اس پر فاتحہ پڑھے اور تعزیہ کے ساتھ ننگے پیر تعظیما چلے اور مرثیہ بھی پڑھوا تاجائے شاہ مولینا عبدالعزیز صاحب علیہ الرحمۃ نے اپنے فتاوی کی جلد اول میں لکھا ہے کہ جو بدعت کو عبادت سمجھ کر کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس پر ابن ماجہ کی ایك حدیث لائے ہیں اس کا مضمون یہ ہے کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے:
"بدعتی اسلام سے ایسا صاف نکل جاتاہے جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے بال صاف "
تو شاہ صاحب کے قول"خارج اسلام ہے"سے کیا مطلب ہے یعنی ایسا شخص کافر ومرتد ہے یا گمراہ
حوالہ / References فتاوٰی عزیزیہ رسالہ بیع کنیزان ∞مطبع مجتبائی دہلی(فوٹوسٹیٹ) ۱/ ۷۱€
سنن ابن ماجہ مقدمہ باب اجتناب البدع والجدل ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۶€
#5908 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
ورافضی ہے۔بہر نوع ایسے شخص کا ذبح کیا ہوا جانور حرام یا حلال ایسے شخص کی نما زجنازہ درست ہے یا نہیں جولوگ ایسے تعزیہ پر ست کے مرید ہوں ان کا کیا حکم ہے ایسے تعزیہ پرست اور بت پرست میں کیا فرق ہے ایسے تعزیہ پرست پر لعنت آتی ہے یانہیں کیا بزرگان چشت سے کسی بزرگ نے تعزیہ بنایا یا بنوایا یا تعظیم دی ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
تعزیہ ضرور ناجائز وبدعت ہے مگرحاشا کفر نہیں کہ نماز جنازہ ناجائز یا ذبیحہ مرداریا بت پرستوں میں شمارہوافراط وتفریط دونوں مذموم ہیںیہ حدیث ابن ماجہ قطع نظر اس سے کہ شدید الضعف ہے اپنے امثال کی طرح اسلام کامل سے مأول یا بدعت مکفرہ پر محمولورنہ ہر بدعت سیئہ کفر ہو جبکہ اس کا صاحب استحسان کرے اوریہی غالب ہے۔اور بدعت عقیدہ تو مطلقا کفر ہو جانا لازم کہ اس کی تعریف ہی یہ کہ:
مااحدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و جعل دینا قویما وصراطا مستقیما کما فی البحر الرائق ۔ جو حق حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے(بطور یقین)ہمیں موصول ہوا اس کے خلاف کوئی نیا عقیدہ ایجاد کرکے اس کو ٹھیك اور سیدھا دین قرار دینا جیسا کہ بحرالرائق میں مذکور ہے(بدعت اعتقاد کرے)۔(ت)
حالانکہ باجماع امت بعض بد مذہبیاں کفرنہیںفتاوی خلاصہ وفتح القدیر وعالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
الروافض ان فضل علیا علی غیرہ فہو مبتدع وان انکر خلافۃ الصدیق فہو کافر ۔ اگر رافضی(کٹر شیعہ)جناب علی کو دوسرے خلفاء پر فضیلت دے تو وہ بدعتی ہے لیکن اگر حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کا انکار کرے تو پھر وہ کافر ہے۔(ت)
خلاصہ وغیرہ میں ہے:
اذقال ان ﷲ یدا او رجلا کما جب یہ کہے کہ بندوں کی طرح اﷲ تعالی کے ہاتھ
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۴۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب السیر باب احکام المرتدین ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴،€خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ الفصل الخامس عشر ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۱۴۹€
#5909 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
للعباد فہو کافر وان قال جسم لا کاجسام فہو مبتدع ۔ پاؤں ہیںتو وہ کافر ہے اور اگر کہے کہ اﷲ تعالی کا جسم ہے لیکن دوسرے اجسام کی طرح نہیں تو وہ بدعتی ہے۔(ت)
نیز اسی میں ہے:
وجملۃ ان من کان اہل قبلتنا ولم یغل فی ھواہ حتی لم یحکم بکونہ کافرا یجوز الصلوۃ خلفہ ویکرہ ۔ خلاصہ کلام اگر ہماری طرح اہل قبلہ ہیںاور اپنی خواہش پرستی میں حد سے بڑھے ہوئے درجہ غلو میں نہیں یہاں تك کہ ان کے کافرہونے کا فیصلہ نہیں کیا گیا تو ایسے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے لیکن مکروہ ہے۔(ت)
ہزار ہا مسائل متواترہ اسی تفصیل پر دال ہیں تو حکم مطلق کیسے صحیح ہوسکتاہے ہاں افعال مذکورہ سوال کا مرتکب قابل بیعت نہیں کہ شرائط پیر سے اس کا سنی العقیدہ غیر فاسق معلن ہوناہے اور لعنت بہت سخت چیز ہے ہر مسلمان کو اس سے بچایاجائے بلکہ لعین کافر پر بھی لعنت جائز نہیں جب تك اس کا کفر پر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت نہ ہووالعیاذ باﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۷:از مانیا والہ ڈاك خانہ قاسم پور گڈھی ضلع بجنور مرسلہ سید کفایت علی صاحب ۵/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مولوی قصبہ دیوبند مدرسہ مولوی اشرفعلی تھانوی کے یہاں سے سند یافتہ ہو ویسے ہی عقائد میں حقہسگریٹ وپان نماز خوردنوش میں شرکتیہ سب باتیں چاہئے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
دیوبندیوں کے عقائد والے مرتد ہیں ان کے ساتھ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا میل جول سب حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۸: ا ز گونڈل کاٹھیا وار مرسلہ قاضی قاسم میاں صاحب ۲۶/ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فریمیسن کیا ہے اور اس میں داخل ہونے والے کے لئے کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
فریمیسن سحر ہے اورجہاں تك اس کی نسبت معلوم ہوا وہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر ایمان کے سلب کے لئے رکھا گیا ہے فلہذا اس میں صرف مسلمان یا کتابی کو لیتے ہیںمعاذاﷲ جو اس کے اثر کا
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ الفصل الخامس عشر ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۱۴۹€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ الفصل الخامس عشر ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۱۴۹€
#5910 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
معمول ہو جاتاہے بظاہر اپنے دین پر جو پہلے تھا زیادہ مستقیم ہوجاتاہے اور باطن میں تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے محض انکار " نقیض لہ شیطنا فہو لہ قرین ﴿۳۶﴾ " (لہذا ہم اس پر ایك شیطان مسلط کردیتے ہیں پھر وہ اس کا ہم نشین ہوجاتاہے۔(اوروہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتاہے)۔ت)کا کھلا مصداق ہوجاتاہے۔ایك شیطان علانیہ اس کے ساتھ رہتاہے جسے وہ دیکھتاہے اوراس سے باتیں کرتاہے اور وہ اسے یہ راز ظاہر کرنے سے ہر وقت مانع رہتاہےاوریہی سبب ہے کہ فریمیسن اگر شہر کے ایك کنارے سے گزرے تو دوسرے کو جو شہر کے دوسرے کنارے پر ہے اطلاع ہوجاتی ہے۔ایك کاشیطان دوسرے کے شیطان کو اطلاع کردیتا ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۷۹: از موضع ہری پورہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو مسلمان کافر کو نفع پہنچائے اور مسلمانوں کو ضرر اورمسلمانوں کو ضرراور مسلمانوں کو برا کہے اور کافروں کو اچھا سمجھے اور ان کی طرفداری کرے اور مسلمانوں کی نہیںکیاحکم ہے اس شخص پر اور دائرہ اسلام میں ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
تفصیل واقعہ کی لکھی جائے اجمالی لفظ ہولناك ہوتے ہیںاور تفصیل معلوم کی جائے تو کچھ سے کچھ نکلتا ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۸۰: از مرادآبا دحسن پور مرسلہ عبدالرحمن مدرس ۸/ ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
کواکب فلکی کے اثرات سعد ونحس پر عقیدت رکھنا کیساہے اور تعویذات میں عامل کو ان کی رعایت کہاں تك درست ہے
الجواب:
مسلمان مطیع پر کوئی چیز نحس نہیں اور کافروں کے لئے کچھ سعدنہیںاور مسلمان عاصی کے لئے اس کا اسلام سعد ہے۔طاعت بشرط قبول سعد ہے۔معصیت بجائے خود نحس ہے اگر رحمت و شفاعت اس کی نحوست سے بچالیں بلکہ نحوست کو سعادت کر دیں " فاولئک یبدل اللہ سیاتہم حسنت " (یہی وہ لوگ ہیں کہ اﷲ تعالی ان کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دیتاہے۔ت) بلکہ کبھی گناہ
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴۳/ ۳۶€
القرآن الکریم ∞۶۵/ ۷۰€
#5911 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
یوں سعادت ہوجاتا ہے کہ بندہ اس پر خائف وترساں وتائب وکوشاں رہتاہے وہ دھل گیا اور بہت سی حسنات مل گئیںباقی کواکب میں کوئی سعادت ونحوست نہیں اگر ان کو خود مؤثر جانے شرك ہے اور ان سے مدد مانگے تو حرام ہے ورنہ ان کی رعایت ضرور خلاف توکل ہے۔
اشعۃ اللمعات میں ہے:آنچہ اہل عزائم وتکسیرمی کنند مثل تبخیر وتلوین وحفظ ساعات نیز مکروہ وحرام ست نزد اہل دیانت و تقوی کذا قال العلماء ۔ جو کچھ اہل عزائم اور اصحاب تکسیر کرتے ہیں جیسے تبخیر(یعنی بخورات کا استعمال کرنا)اور تلوین(یعنی مصلی وغیرہ کو ستاروں کے خصوصی رنگوں کی طرح رنگین کرنا)اور ان کی ساعات کی حفاظت کرنا پس یہ بھی اہل دیانت اور احباب تقوی کے نزدیك مکروہ اور حرام ہے۔(چنانچہ)علمائے کرام نے اسی طرح فرمایاہے۔(ت)
تبخیرسے مراد حسب رعایت کواکب وقت اس کے بخورات خاصہ کا استعمال ورنہ تعظیم ذکر وتلاوت کے لئے عود و لوبان سلگانا مستحب ہےاور تلوین سے مراد مصلی وغیر کو الوان خاصہ کواکب سے رنگین کرنا اور فقیر نے اس کے ہامش پر لکھا۔
یعنی چونکہ مقصود استعانت بکواکب باشد حرام ست کہ استعانت بانچہ استقلال اوبزعم مشرکان راسخ شدہ است روانبود ورنہ مکروہ وترك اولی ست کہ از اعمال اہل توکل نیست ومشابہتے دارد بافعال آنان وظاہر ست کہ اگر استعانت بکواکب نباشد واہل تجربہ صلحاء بتجربہ دانستہ باشد کہ مراعات ایں امور ہمچوں مراعات اوزان و تخصیصات کثیرہ در ادویہ مقصود وبقضاء اﷲ تعالی مے افتد دریں حال باکے نیست خود اشد ہم فی امر اﷲ عزوجل امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی ہنگام استسقاء بمراعات منزل قمر چونکہ اصل مقصود ستاروں سے طلب امداد ہے اس لئے حرام ہے اس لئے کہ ان اشیاء سے مدد لینا جائز نہیں کہ جن کا استقلال مشرکین کے خیال میں پختہ ہوگیا ہے ورنہ مکروہ اور ترك اولی ہے(یعنی بہتر کام نہ کرنا)اس لئے کہ یہ ارباب توکل کے اعمال میں سے نہیں بلکہ ان دوسرے لوگوں کے افعال سے مشابہ ہے اور یہ ظاہر ہے بشرطیکہ طلب امداد ستاروں سے نہ ہو اور صالح اہل تجربہ اپنے تجربہ سے جانتے ہیں کہ ان امور کی رعایت کرنا بالکل اسی طرح ہے جس طرح اوزان اور بے شمار تخصیصات کی رعایت کرنا
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتاب الطب والرقی ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر پاکستان ۳/ ۵۹۸€
#5912 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
امر فرمود وہمبرین محمول باشد آنچہ شاہ محمد غوث گوالیاری وحضرت شیخ محمد شناوی وغیرہما اجلہ اکابر قدست اسرارہم کردہ اندو درکتب نفیسسہ خود ہا ہمچو جواہر وشروح آن باوتصریح فرمودہ فلیکن التوفیق وباﷲ التوفیق ۔ دواؤں میں مناسب مقصوداور وہ اﷲ تعالی کے فیصلہ کے مطابق واقع ہو(اور ان کا ظہور ہو)پس اس صورت میں کچھ ڈر نہیں(کیا غورنہیں کرتے)کہ خود وہ بزرگ ہستی جو اﷲ تعالی غالب اور جلیل القدر کے معاملات میں بہت سخت گیر تھے یعنی مومنوں کے امیر حضرت عمرسب سے بڑے فرق کرنےوالے(یعنی حق وباطل میں معیار اور کسوٹی)اﷲ تعالی ان سے راضی ہونے طلب باراں کی دعا مانگتے وقت منزل قمر کی رعایت کرنے کاحکم فرمایااور اسی پر وہ سب باتیں قیاس شدہ ہیں جو شاہ محمدغوث گوالیاری اور حضرت شیخ محمد شناوی اور ان کے علاوہ دوسرے جلیل القدر اکابرین نے(ان کے اسرار ورموز پاك کردئے جائیں)اپنی اپنی عمدہ کتابوں میں ذکر فرمائیںجیسا کہ جواہر خمسہ اور اس کی شروح میں ان کی صراحت فرمائیلہذا توفیق ہونی چاہئےاور حصول توفیق اﷲ تعالی کے فضل وکرم ہی سے ہوسکتی ہے۔(ت)
مسئلہ ۸۱: ازشہرکہنہ محلہ قاضی ٹولہ کلن خاں ۴ محرم الحرام ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے پالے کی بازی بدیپھر ایك شخص کے سمجھانے سے منکر ہوگیاجب پالے والے مصر ہوئے اور کھیل پر مجبور کیا تو اس معصیت کے بچانے کی غرض سے دو شخصوں نے جھوٹ کہہ دیا کہ اس نے بازی نہیں بدی تھیپس بازی والوں نے ان دو شخصوں سے طعنا پوچھا کیا تمھارے یہاں فقیری میں جھوٹ بولنا اور حرام کھانا جائزہے ان شخصوں نے جواب دیا:ہاں اس میں جائزہے۔اور نیت جانب خیر سے یہ الفاظ کہےپس اس صورت میں ان پر کیا معصیت ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
سوال میں حرام کھانا بھی تھا اور حرام کھانا کبھی جائز نہیں ہوتا جس وقت جائز ہوتا ہے اس وقت وہ حرام نہیں رہتا اگر"ہاں جائز ہے"کہنے میں حرام کھانا بھی اس نے مراد لیا تو البتہ سخت لفظ کہا توبہ لازم ہے بلکہ تجدید اسلام چاہئےاوراگر صرف جھوٹ بولنے کی نسبت کہا کہ ایسی صورت میں جہاں حرام سے بچنا ہوتا ہو خلاف واقع بات کہنا جائز ہے توحرج نہیںاگر چہ اس میں بھی تفصیل ہےواﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References حاشیہ امام احمد رضا خاں علی اشعۃ اللمعات
#5913 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
مسئلہ ۷۲ تا ۷۵: از محلہ کچی باغ مسئولہ خلیل الرحمن بنارسی ۶/ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
معدن عالم صوری ومخزن اسرار معنوی جناب مولانا حافظ مفتی احمد رضاخاں دام ظلہ بعد ہدیہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہبکمال ادب ملتجی ہوں براہ کرم اپنے اوقات گرانمایہ سے چند منٹ حرج فرماکر جواب سوالات مرسلہ مزین فرماکر بصیغہ بیرنگ پتہ ذیل سے مرحمت فرماکر مجھ مترصد کو شاد فرمائےان مسائل کی یہاں سخت ضررت ہے۔ہم سب اعلیحضرت دام فیضہ کے معتقدین سے ہیں لہذاہم سب بیحد انتظار کرتے رہیں گےاگر جلد جواب سے مزین فرما کر مرحمت فرمایاجائے تو عنایت لطف وکرم ہے۔اس سے پیشتر حقیر نے اعلیحضرت کے دار الافتاء سے ڈھائی سو نسخے رسالہ"انفس الفکر"منگوا کر مسلمانوں کو تقسیم کیا جس سے بہ نسبت سال گزشتہ سال پیوستہ کے امسال باوجود کوشش بلیغ دشمنان دین کے قربانی گاؤ بکثرت المضاعف ہوئی الحمدﷲ حضور کا فیض ایسا ہی ہے۔زیادہ بجز تمنائے حصول زیارت اور کیا عرض کروں فقط۔
آپ کا خادم عاصی خلیل الرحمن عفی عنہ بنارسی از محلہ کچی باغ مؤرخہ ۶ محرم الحرام ۱۳۳۹ہجری
(۱)یہ کہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ جس میں عرصہ پچیس سال سے خزانہ گورنمنٹ سے امداد ماہوار ایك سو روپے مقرر ہے جس سے یہ درسگاہ جس میں کتب فقہ واحادیث وقرآن شریف کی تعلیم ہوتی ہے۔اس میں ممبران خلافت کمیٹی نے جو تجویز پا س کیا ہے کہ گورنمنٹ سے امدادنہ لینا چاہئےپس استفسار ہے کہ یہ امداد جو گورنمنٹ سے عرصہ پچیس سال سے برابر ملتی ہے اب لینا جائز ہے یانہیں مدرسہ ہذا میں سوائے تعلیم دینیات کے ایك حرف کسی غیر ملت وغیر زبان کی نہیں ہوتی۔
(۲)یہ کہ زید جو اس درسگاہ دینی کا منتظم وخادم ہے بسبب حسن انتظام گورنمنٹ نے خطاب دیا ہے او ریہ خطاب بھی عرصہ دس سال سے ملاہے ممبران خلافت کمیٹی نے یہ بھی پاس کیا ہے کہ گورنمنٹ کو خطاب واپس کردینا چاہئے پس ایسی حالت میں کہ جس خدمت انتظام درسگاہ تعلیم علوم دین کے صلہ میں خطاب دیا ہے اندیشہ ہے کہ واپس کرنے میں یہ امداد بھی نہ ملے ایسی حالت میں خطاب کا واپس کرنا ضروری ہے یانہیں
(۳)یہ کہ زید جلسہ خلافت کمیٹی میں اس سبب سے شرکت نہیں کرتا کہ اس میں اہل ہنود جن کو اس وقت ممبران خلافت کمیٹی اپنا بھائی کہتے ہیں اور ان سے اس قدرارتباط بڑھا رکھا ہے کہ تلك مہراج کے مرنے کے غم میں بروز دسواں جامع مسجد میں ننگے سرننگے پیر جمع ہو کر تلك مہراج کے لے دعا اور فاتحہ اور نماز کا ان کی مغفرت کے لئے اشتہار شائع کیا اور قربانی گاؤ کو بخاطر اہل ہنود منع کرتے ہیں اور بکری قربانی کرناافضل وفعل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بتلاتے ہیں اور نقصان اور عدم جواز قربانی گاؤ میں رسالے چھاپتے ہیں اور جلسہ خلافت کمیٹی میں کل دشمنان دین محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اسپیچ وتقریر کراتے ہیں جو اپنی کتاب"الجرح علی ابی حنیفۃ"میں حضرت امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالی کو سگ وزندیق وبے علم و
#5914 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
صد ہا باتیں ناشائستہ ناگفتہ بہ لکھاہے۔اگر ایسے شخصوں کی تقریر نہ سننے کی غرض سے اور کفار کی اعانت وشرکت نہ کرنے کی غرض سے اگر زید ایسے جلسوں میں نہ شریك ہو تو کیا بوجہ ان امور متذکرہ بالا کے زید قابل ملامت وناقابل امامت ہے۔ کیونکہ جو لوگ کہ ان وجوہ سے شرکت نہیں کرتے ان کے پیچھے نمازپڑھنا ناجائز بتلاتے ہیںان لوگوں نے اس قدر ارتباط ان کفاروں سے بڑھا رکھا ہے کہ جس وقت ان میں کوئی مقرر ونا مور کسی شہر میں جاتاہے تو اہل اسلام ان کفاروں کی گاڑیاں بدست خود کھینچ لاتے ہیںان کفاروں نے اس قدر تعصب اپنے مذہب میں بڑھا رکھا ہے کہ یہاں بعض مسجد میں اذان نہیں کہنے دیتےبعض مسجدوں کے فرش پرجوان کی پرستش کے درخت کی ڈالیں لٹکی ہوئی ہیں جس سے حوض دہ دردہ کاپانی پتیوں کے گرنے اور سڑنے سے متغیر ومتعفن ہوجاتاہے اس درخت کی ڈال کو تعصب مذہبی سے نہیں کاٹتےبعض مسجد پر صحن مسجد میں جو ان کا بت پرستش کا نصب ہے اس کی پرستش کے لئے فرش مسجد پر سے جو سجدہ گاہ مسلمانان ہے بپائے نجس مرور کرتے ہیں مگر افسوس کہ مسلمانان اہل ہنود کو اپنا بھائی بناتے ہیں اور ان کی خاطر داری سے گاؤ کی قربانی بند کرنے میں بہر نوع کوشش تام کرتے ہیں اپنے مساجد کی بے حرمتی ونقصان اور اذان بند ہونے کا جو بعض مسجد پر بند کررکھا ہے کچھ صدمہ وخیال نہیں ہوتا ایا ایسے دشمنوں کے جلسہ میں نہ شرکت ہونے سے کیا آدمی گنہگار ہوتاہے قابل امامت نہیں رہتا۔
(۴)یہ کہ زید جو پنجگانہ وبروز جمعہ وخطبہ ثانیہ بروز جمعہ وخطبہ عیدین وغیرہا میں بیشتر مسلمانان کی جماعت کثیر میں بہ اعلان تمام دعاء وترقی جاہ وجلال وقیام سلطنت سلطان اعظم والی سلطنت روم بلاد عرب کےلئے محافظت مقامات مقدسہ حرمین شریفین کے لئے دعاکرتاہے اور خطبہ نباتہ جس کے خطبہ ثانیہ میں سلطان المعظم کے لئے خلد اﷲ مبلکہ کے لئے دعا دراز طبع ہے پڑھتاہے سامعین آمین کہتے ہیںآیا اس طریق پر دعا کرنا سلطان المعظم کے لئے جائز ہے یا جلسہ کفار اور غیر مقلدین میں شریك ہوکر دشنام دہی کرنا اور اظہار وفاداری سلطان المعظم کے لیے کرنا جائز ہےزید پر بیحد حملہ اس امر کا ہے کہ تو کیوں نہیں ایسے جلسوں میں شریك ہوتااس لئے طرح طرح کی بندشیں عدم جواز امامت وواپسی خطاب وغیرہ کے لئے حملہ کرتاہےپس آیا اس صورت سے دعا کرنا بعد نماز ودرمیان خطبہ جائز ہے یا اس جلسہ مخالفین میں بینو ا بالکتاب وتوجروا بالصواب (کتاب کے حوالہ سے(مسئلہ کو)بیان فرماؤ اور راہ صواب یعنی راہ راست کا اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)جبکہ وہ مدرسہ صرف دینیات کا ہے اور امداد کی بناء پر انگریزی وغیرہ اس میں داخل نہ کی گئی تو اس کے لینے میں شرعاکوئی حرج نہیںتعلیم دینیات کو جو مدد پہنچی تھی اس کا بند کرنا محض بے وجہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
#5915 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
(۲)خطاب واپس کرنا نہ کرنا کوئی مسئلہ شرعی نہیں اوراگر یہ اندیشہ صحیح ہے کہ واپسی خطاب میں امداد بھی بند ہوجائے گی تو واپس کرنا حماقت ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)اگر یہ امور واقعی ہیں تو ایسے جلسوں کی شرکت حرام ہے اور جو ان میں شریك ہو قابل ملامت اور ناقابل امامت ہے۔نہ وہ کہ احتراز کرےدشمنان دین سے احتراز فرض ہےاور فرض کا تارك موجب ملامت اور مانع امامت ہے نہ کہ اس کا بجالانااور کافر کے لئے دعائے مغفرت وفاتحہ خوانی کفر خالص وتکذیب قران عظیم ہے کما فی العالمگیریۃ وغیرھا(جیسا کہ فتاوی عالمگیری اور اس کے علاوہ دوسرے فتاووں میں مسئلہ مذکور ہے۔ت)اور ان کے خار وبوار کے لئے یہی بہت تھا کہ مشرك کے ماتم میں سر ننگا کیا اور اس پر ظلم شدید یہ کہ عبادت گاہ واحد قہار کو مشرك کا ماتم گاہ بنایا پھر اس کے لئے نماز کا اشتہار پورا پورا موجب لعنت جبار قہار ہے۔
قال اﷲ تعالی" ولا تصل علی احد منہم مات ابدا ولاتقم علی قبرہ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اگر ان میں سے کوئی مرجائے تو اس پر نماز نہ پڑھو اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہو۔(ت)
بلا شبہہ یہ اشتہار دینے اور اس پر عمل کرنے والے سب قطعی مرتد ہیں وہ اسلام سے نکل گئے اور ان کی عورتیں نکاح سے " قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾ " (اﷲ تعالی انھیں مارے وہ کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت)اور قربانی گاؤ شعار اسلام ہے۔
قال اﷲ تعالی " والبدن جعلنہا لکم من شعئراللہ" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:ہم نے بدنہ(قربانی کا جانور)کو تمھارے لئے اﷲ تعالی کی نشانیوں میں سے کیاہے۔(ت)
اور ہندوستان میں اس کا جاری رکھنا واجب ہے کما حققناہ فی انفس الفکر فی قربان البقر(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق (اپنے ایك رسالہ بنام)انفس الفکر فی قربان البقر(بہت عمدہ سوچ گائیوں کی قربانی کرنے میں)میں کردی۔ت)اور خوشنودی ہنود کےلئے اس کا بند کرنا حرام ہے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۹/ ۸۴€
القرآن الکریم ∞۹/ ۳۰€
القرآن الکریم ∞۲۲/ ۳۶€
#5916 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
قال اﷲ تعالی " ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:(لوگو!)ظالموں کی طرف مت جھکو(اور مائل نہو)ورنہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔(ت)
ناپاکوں کافروں مرتدوں کو واعظ مسلمین بنانے والے اسلام کو ڈھاتے ہیں اور کفر ولعنت الہی کی نیو چنواتے ہیں حدیث تو بد مذہب کی توقیر پر فرماتی ہے:
من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔ جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی اس نے دین اسلام کے ڈھادینے پر مدد دی۔(ت)
نہ کہ کفار و زنادقہ مثل وہابیہ وغیر مقلدین ودیوبند یہ وغیرہم کو واعظ مسلمین وپیشوائے دین بنانا کہ صراحۃ اسلام کو کند چھری سے ذبح کرنا ہے۔افسوس کہ گائے کی قربانی بنداور ذبح اسلام کے نعرے بلند مگر اسلام گائے سے بھی گیا گزراعزت وجبروت ہے اس کے لئے جس نے ان کی دل الٹ دئے اور آنکھیں پلٹ دیں کہ ان کو اسلام کفر سوجھتا ہے اور کفر اسلام۔
فسبحن مقلب القلوب والابصار ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنك رحمۃ انك انت الوھاب۔ پاك اور منزہ ہے دلوں او ر آنکھوں کا پھیرنے والا اے ہمارے پروردگار ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کردیجئے اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا کر دیجئےیقینا تو بلا معاوضہ بہت زیادہ بخشش اور عطا فرمانے والا ہے۔(ت)
کفا ر اور مشرکین سے اتحاد و وداد حرام قطعی ہے۔قرآن عظیم کے نصوص اس کی تحریم سے گونج رہے ہیں اور کچھ نہ ہو تو اتنا کافی ہے کہ:
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " ۔ واحد قہار فرماتاہے کہ تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا وہ بیشك انھیں میں سے ہے۔
اﷲ عزوجل کا ارشاد اور وہ بھی"بیشک"کے ساتھآخر اس کے نتائج ظاہر ہیں کہ کفار سے اتحاد و وداد منانے والے موافق ارشاد الہی بیشك منہم(انہی میں سے)ہوگئےکیاآج تك کبھی ہوا تھا
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۱/ ۱۱۳€
کنز العمال ∞حدیث ۱۱۰۲€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱/ ۲۱۹€
القرآن الکریم ∞۵/ ۵۱€
#5917 · جلی النص فی اماکن الرخص ۱۳۳۷ھ (مقامات رخصت کے بیان میں واضح نص)
کہ مشرك کے ماتم میں مسلمان سر برہنہ ہوئے ہوںمسلمانوں نے مسجد کواس کی ماتم گاہ بنایا ہومسلمانوں نے اس کے لئے دعا ونماز کا اشتہار دیا ہو۔مسلمان مشرکوں کی گاڑی کے بیل بنے ہوںاور یہ ہونا ہی تھا کہ جب اسلام چھوڑا انسانیت خود گئیاب جو چاہے بیل بنے چاہے گدھا کہ اﷲ عزوجل فرماچکا:
" اولئک کالانعم بل ہم اضل " ۔ وہی لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے زیادہ بھٹکے ہوئے۔(ت)
بلکہ فرمایا:
" اولئک ہم شر البریۃ ﴿۶﴾" وہی لوگ بدترین مخلو ق ہیں۔(ت)
کافر تو کافر فاسق کی تعریف پر حدیث میں فرمایا:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلك العرش ۔ جب فاسق کی تعر یف کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتاہے اور عرش الہی ہل جاتاہے۔
نہ کہ مشرك کی تعظیم اور وہ بھی اس درجہ عظیم۔
" فانہا لا تعمی الابصر ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ﴿۴۶﴾" ۔ (لوگو!)آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں مستور ہیں۔(ت)
سائل بیچارہ اس کا شاکی ہے کہ ہندوؤں نے اذان بند کی اور یہ کیا اوریہ کیاان مسلمان کہلانے والوں نے اس کے برعکس یہ کچھ کیایہ شکایت محض بے جا ونادانی ہے۔ہندو اپنے دین باطل پر قائم ہیں وہ کیوں چھوڑیں دین تو انھوں نے چھوڑا ہے۔ہر جھوٹ انھیں کی طرف سے چاہئے ایسے لوگوں کے جلسوں میں شرکت ہر گزجائز نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)جلسہ مخالفین کا حکم اوپر گزرا اور سلاطین اسلام وممالك اسلام واماکن مقدسہ اسلام کے لئے دعا خطبہ جمعہ وخطبہ عیدین میں اورہر نماز کے بعد مستحب ومندوب ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۷/ ۱۷۹€
القرآن الکریم ∞۹۸/ ۶€
کشف الخفاء ∞حدیث ۲۷۵€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۸۷€
القرآن الکریم ∞۲۲/ ۴۶€
#5918 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
رسالہ
الرمز المرصف علی سوال مولنا السید اصف
(مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)

مسئلہ ۸۶:ا زکانپور فیل خانہ قدیم مسئولہ جناب مولنا مولوی سید محمد آصف صاحب قادری برکاتی رضوی ۱۶جمادی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم(یاحبیب محبوب اﷲ روحی فداک)قبلہ کونین وکعبہ دارین دامت برکاتہم۔ اﷲ تعالی کے مقدس نام سے شروع جو نہایت رحم کرنے والا مہربان ہے۔ہم اﷲ تعالی کی نئی نئی تعریف کرتے ہیں اور اس کے رسول کریم پر نئے نئے انداز سے درود بھیجتے ہیںاے اﷲ کے محبوب کے حبیب! میری روح آپ پر قربان ہو دونوں جہاں کے قبلہ اور دنیا واخرت کے کعبہان کے فیوض وبرکات ہمیشہ رہیں۔(ت)
بعد تسلیمات فدویانہ تمنائے حصول سعادت آستانہ بوسی التماس ایں کہ بفضلہ تعالی کمترین بخیریت ہے صحتوری ملازمان سامی کی مدام بارگاہ احدیث سے مطلوباشتہار اسلامی پیام میں عبدالماجد کے اس لکھنے پر کہ"مسلمان ڈوب رہاہے نا مسلم تیراك ہاتھ دے تو جان بچانا چاہئے یانہیں"یوں
#5919 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
درج ہے کہ"مسلمان کو اگر ڈوبنے پر یقین نہ ہو ہاتھ پاؤں مارکر بچ جانے کی امیدہو یا کوئی مسلمان فریاد رس خواہ کوئی درخت وغیرہ ملنے کاظن ہو تو کافر کو ہاتھ دینے کی اجازت نہیں الخ"معلوم ہوتاہے کہ کفار سے معاملت کی بھی اجازت نہ ہو ان سے علاج بھی نہ کرائے " لا یا لونکم خبلا " (وہ تمھیں نقصان پہنچانے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ت)سے کیا مقصودہے آیا دین کے معاملہ میں کفار محارب فی الدین نقصان پہنچانے میں کمی نہ کریں گے یا ہر معاملہ میں اور ہروقت جب موقع پائیں اور ایك کافر گو غیر محارب ہو تفسیر کبیر میں آیہ کریمہ " لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم "الی اخرالایۃ(اﷲ تعالی تمھیں ان لوگوں سے نہیں روکتا جو تم سے جنگ نہیں کرتے الی اخر الآیۃ۔ت)کے متعلق لکھاہے:
وقال اھل التاویل ھذہ الایۃ تدل علی جواز البربین المشرکین والمسلمین وان کانت الموالاۃ منقطعۃ ۔ (امام رازی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ)ائمہ تفسیر نے اس آیۃ کے متعلق فرمایا کہ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اہل شرك اور اہل اسلاام کے درمیان حسن سلوك کرنا جائز ہے اگرچہ موالات منقطع ہے(ت)
رسالہ الرضا بابت ماہ ذیقعدہ حصہ ملفوظات ص ۸۶ میں ہے:"حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انھیں سے خلق فرماتے ہیں جو رجوع لانے والے ہوتے جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہے اور کفار ومرتدین کے ساتھ ہمیشہ سختی فرمائی الخ"بعض کفار کی انکھوں میں سلائی پھیرنا تو قصاصا تھا کیا رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم قبل نزول آیت
" یایہا النبی جہد الکفار و المنفقین " (اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ت)نرمی نہ فرماتے تھے اور کیا رجوع نہ لانے والے تھے ان سے ہمیشہ بشدت پیش آتے تھے یا پہلے ان سے بھی نرمی سے پیش آتےکفار مختلف طبائع کے تھےاور ہیں بعض کو اسلام اور مسلمانوں سے سخت عداوت ہے اور بعض کو بہت کم۔کیا سب سے یکساں حکم ہے یا امر المعروف(نہی عن المنکر میں ان سے حسب مراتب تدریجا سختی کرنے کاحکم ہے اور محارب وغیر محارب کا فرق ہے۔حضور فدوی کو اس مسئلہ میں کہ مرتدہ کا نکاح باقی رہتاہے لیکن فتاوی کی کتابوں کے خلاف ہونے کی وجہ خلجان رہتاہے حضور کے فتاوی میں اور کتابوں کے خلاف لکھاہے گو بعض احکام بوجہ اختلاف زمانہ مختلف ہوجاتے ہیںلیکن
حوالہ / References مفاتیح الغیب(تفسیر الکبیر) تحت آیۃ لاینھکم اﷲ عن الذین الخ مطبعۃ البہیمۃ المصریۃ ∞مصر ۲۹ /۳۰۴€
القرآن الکریم ∞۹ /۷۳€
#5920 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
فتاوی ہندیہ جو قریب زمانہ کی ہے اس میں بھی نہیں ہے اگر چہ بوجہ سلطنت اسلامیہ نہ ہونے کے مرتدہ پر احکام شریعت نہیں جاری کئے جاسکتے ہیں مثل ضرب وغیرہ کےلیکن جب وہ اسلام سے خارج ہوگئی تو نکاح کاباقی رہنا کیساکیا وہ ترکہ بھی اپنے سابق شوہر کا شرعا پائے گی اور اس کے مرنے پر اس کا جو پہلے شوہر تھا ترکہ اس کا شوہر پائے گااگر کفار غیر محارب کے ہمراہ محارب کفار کا مقابلہ کیا جائے اور محارب کفار کہ غیر محارب کے امداد سے نقصان پہنچا یا جائے تو کیا گناہ ہے اسی"اسلامی پیغام"میں ہے"اب جو قرآن کو جھٹلائے"وہ مشرك یا مرتفد کو ڈوبنے سے نجات دینے والا حامی ومدد گار جانے"کیا نعوذ باﷲ جتنے مسلمان کفار سے علاج کراتے ہیں اور معاملات میں ان سے مدد لیتے ہیں سب قرآن کو جھٹلاتے ہیں فقط والتسلیم عریضہ ادب فدوی محمد آصف یغفراﷲ لہ ولوالد یہ ولجمیع المؤمنین والمؤمنات بحرمۃ النبی الکریم علیہ الصلوۃ والتسلیم(اﷲ تعالی اسے اس کے والدین اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو حضور نبی کریم کے طفیل بخش دےان پر صلوۃ وسلام کا نزول ہو۔ت)
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریممولانا المکرم اکرمکم اﷲ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ اﷲ تعالی کے عظیم نام سے شروع جو بیحد رحم کرنے والا ہےہم اﷲ تعالی کی تعریف کرتے ہیں اور اس کے رسول کریم پر درود بھیجتے ہیں مولانا گرامی! اﷲ تعالی تمھاری عزت وتوقیر فرمائے تم پر سلام ہو اور اﷲ تعالی کی برکت اور اس کی برکتیں ہوں۔(ت)
ارشاد الہی " یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا" (اے ایمان والو! اپنے سوا غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمھیں نقصان پہنچانے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ت)عام ومطلق ہے کافر کو راز دار بنانا مطلقاممنوع ہے اگر چہ امور دنیویہ میں ہو وہ ہر گز تاقدرقدرت ہماری بدخواہی میں گئی نہ کریں گے " قل صدق اللہ " ومن اصدق من اللہ قیلا ﴿۱۲۲﴾ (فرمادیجئے اﷲ تعالی نے سچ فرمایا اور بات کرنے میں اﷲ تعالی سے زیادہ سچا کون ہوسکتاہے۔ت)سیدنا امام اجل حسن بصری رضی اﷲ تعالی عنہ نے حدیث لاتستضیئوا بنارالمشرکین (مشرکین کی آگ سے روشنی نہ لو)کی
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۳/ ۱۱۸€
القرآن الکریم ∞۳/ ۹۵€
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۲۲€
مسند احمد بن حنبل عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳ /۹۹€
#5921 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
تفسیر فرمائی کہ اپنے کسی کام میں ان سے مشورہ نہ لو اور اسے اسی آیہ کریمہ سے ثابت بتایاابویعلی مسند اور عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن المنذر وابن حاتم تفاسیر اور بیہقی شعب الایمان میں بطریق ازہر بن راشد انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روای:
قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا تستضیئوا بنارالمشرکین قال فلم تدر ماذلك حتی اتوالحسن فسألوہ فقال نعمیقول لا تستشیرو ھم فی شیئ من امور کم قال الحسن و تصدیق ذلك فی کتاب اﷲ تعالی ثم تلا ھذہ الایۃ
یایہا الذین امنوا لا تتخذوا بطانۃ من دونکم ۔ انس بن مالك نے فرمایا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)شرك کرنے والوں کی آگ سے روشنی نہ لو فرمایا:ہم نہ سمجھے کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔یہاں تك کہ لوگ حسن بصری کے پاس گئے ان سے اس کا مفہوم دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ٹھیك ہے اﷲ تعالی ارشاد فرماتاہے کہ "اپنے کسی کام میں شرك کرنے والوں سے مشورہ نہ لو" حضرت حسن نے فرمایا کہ اس کی تصدیق اﷲ تعالی کی کتاب میں موجود ہے پھر یہی آیت تلاوت فرمائیاے ایمان والو! اپنے سوادوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔(ت)
امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے اسی آیت کریمہ سے کافر کو محرر بنانا منع فرمایا ابن ابی شیبہ مصنف اور ابنائے حمید وابی حاتم رازی تفاسیر میں اس جناب سے راوی:
انہ قیل لہ ان ھہنا غلاما من اھل الحیرۃ حافظا کاتبا فلوا تخذتہ کاتبا قال اتخذت اذا بطانۃ من دون المؤمنین ۔ حضرت عمر فاروق کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ یہاں حیرہ کا رہنے والا ایك غلام ہے جو حافظ اور کاتب ہے اگر آپ اس کو اپنے ہاں کاتب مقرر کردیں تو(کیا ہی اچھا ہوگا)اس پر ارشاد فرمایا کہ پھر تو میں نے مسلمانوں کو چھوڑ کر اس کافر کو اپنا راز دار بنالیا۔(ت)
تفسیر کبیر میں انھیں امور دنیویہ میں ان سے مشاورت وموانست کو سبب نزول کریمہ اور اس سے
حوالہ / References جامع البیان(تفسیر ابن جریر) ∞تحت آیۃ€ یٰایہا الذین اٰمنوا لاتتخذوا بطانۃ الخ المطبعۃ المیمنۃ ∞مصر ۴ /۳۸،€شعب الایمان ∞حدیث ۹۳۷۵€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۷ /۴۰€
تفسیر لابن ابی حاتم تحت آیۃ یایہا الذین اٰمنوا لاتتخذوا بطانۃ الخ ∞حدیث ۴۰۳۸€ مکتبہ خرار مصطفی الباز مکۃ المکرمہ ∞۳ /۷۴۳€
#5922 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
نہی مطلق کے لئے بتایا اور اسے اس گمان کا کہ ان سے مخالفت تو دین میں ہے دنیوی امور میں بدخواہی نہ کریں گےرد ٹھہرایاکہ:
ان المسلمین کانوا یشاورونہم فی امورھم و یؤانسونہم لما کان بینہم من الرضاع والحلف ظنا منہم انہم خالفوھم فی الدین فہم ینصحون لہم فی اسباب المعاش فنہاھم اﷲ تعالی بہذہ الایۃ عنہفمنع المؤمنین ان یتخذوا بطانۃ من غیر المومنین فیکون ذلك نہیا عن جمیع الکفار وقال تعالی یایھا الذین امنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء ومما یؤکد ذلك ماروی انہ قیل لعمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالی عنہ ھہنا رجل من اھل الحیرۃ نصرانی لا یعرف اقوی حفظا ولااحسن خطا منہفان رأیت ان تخذہ کاتبا فامتنع عمر رضی اﷲ تعالی عنہ من ذلك و قال اذا اتخذت بطانۃ من غیر المومنین فقد جعل عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ھذہ الایۃ دلیلا علی النہی عن اتخاذ النصرانی بطانۃ ۔ مسلمان اپنے دنیوی معاملات میں کافروں سے مشورہ کیا کرتے تھے اور ان سے موانست رکھتے تھے اس لئے دونوں کے درمیان رضاعت اور قسمیں تھیںپس مسلمانوں کایہ خیال تھا کہ اگر چہ کافر دین میں ان کے مخالف ہیں تاہم اسباب معاش وغیرہ میں ان کے خیرخواہ ہیںپھر اﷲ تعالی نے مسلمانوں کو اس آیۃ مذکورہ میں کافروں کے ساتھ رواداری اور راز داری سے منع فرمایا لہذا اﷲ تعالی نے مسلمانوں کو اہل ایمان کے علاوہ غیروں کو راز دار بنانے کی ممانعت فرمائیپھر یہ تمام کافروں سے نہی ہے۔اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو!میرے اوراپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ اور اس کی اس روایت سے تاکید ہوتی ہےکہ جس میں یہ مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں یہ درخواست کی گئی کہ یہاں اہل جیرہ میں سے ایك شخص عیسائی ہے اس کی یادداشت(قوت حافظہ)بھی بڑی قوی ہے اور خط بھی خوبصورت(یعنی خوشنویس)ہے اگر آپ مناسب سمجھیں تو اپنے ہاں اسے منشی مقرر کرلیںارشاد فرمایا پھر تومیں غیر مسلموں کو اپنا راز دار بنالیالہذا حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس آیۃ مذکورہ کو اس پر دلیل ٹھہرایا کہ عیسائی کو راز دار بنانے کی ممانعت ہے۔(ت)
اس سے جملہ انواع معاملت کیوں ناجائز ہوگئے۔بیع وشراء اجارہ داستئجار وغیرہا میں کیا راز دار
حوالہ / References مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ یایہاالذین آمنوا لاتتخذوا بطانۃ الخ مطبعۃ البہیمۃ المصریۃ ∞مصر ۸ /۱۰۔۲۰۹€
#5923 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
بنانا یا اس پر اعتماد کرنا ہے جیسے چمار کو دام دئے جوتا گنٹھوالیابھنگی کو مہینہ دیا پاخانہ اٹھوالیابزار کو روپے دئے کپڑا مول لے لیااپ تاجر ہےکوئی جائز چیز اس کے ہاتھ بیچی دام لے لئے وغیرہ وغیرہہر کافرحربی کافر محارب ہے حربی ومحارب ایك ہی ہے جیسے جدلی ومجادلی۔وہ ذمی ومعاہد کا مقابل ہے۔راز داربناناذمی ومعاہد کو بھی جائز نہیںامیر المومنین کا وہ ارشاد ذمی ہی کے بارے میں ہے یونہی موالات مطلقا جملہ کفار سے حرام ہے حربی ہو یا ذمیہاں صرف دربارہ برواحسان ان میں فرق ہے معاہد سے جائز ہے کہ
" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم فی الدین " (اﷲ تعالی تمھیں ان لوگوں سے(معاملات کرنے سے) نہیں روکتا جو دین میں تم سے جنگ نہیں کرتے۔ت)اور عربی سے حرام کہ " انما ینہىکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین " (البتہ ان لوگوں سے تمھیں منع فرماتاہے جو دین میں تم سے جنگ کرتے ہیں۔ت)عبارت کبیر منقولہ سوال کایہی مطلب ہے یہی قول اکثر تاویل اور اسی پر اعتماد وتعویل ہے۔اور ائمہ حنفیہ کے یہاں تو اس پر اتفاق جلیل ہے خود کبیر میں زیرکریمہ لا ینہىکم اللہ ہے:
الاکثرون علی انہم اھل العہد وھذا قول ابن عباس ولمقاتلین والکلبی ۔ اکثر ائمہ تفیسر کی رائے یہ ہے کہ اس سے اہل عہد مراد ہے۔ چنانچہ حضرت عبداﷲ بن عباس۔دو مقاتلوں اور کلبی کایہی قول ہے۔(ت)
ہم نے المحجۃ المؤتمنہ میں یہ مطلب نفیس ۱جامع صغیر امام محمد و۲ہدایہ و۳درر الحکام و۴غایۃ البیان و۵کفایہ و ۶جوہرہ نیرہ و۷ مستصفی و ۸نہایہ و۹فتح القدیر و۱۰بحرالرائق و۱۱کافی و۱۲التبیین الحقائق و۱۳تفسیر احمدی و۱۴فتح اﷲ المعین و۱۵غنیہ ذوی الاحکام و۱۶ معراج الدرایہ و ۱۷عنایہ و۱۸محیط برہانی و۱۹جوی زادہ و۲۰بدائع امام ملك العلماء سے ثابت کیا حضور رحمۃ اللعلمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رحمۃ اللعلمین ہیں قبل ارشاد واغلظ علیہم (کافروں اور منافقوں پر سختی کرو۔ت)انواع انواع کے نرمی وعفو وصفح فرمائے خود اموال غنیمت میں مؤلفۃ القلوب کاایك سہم مقرر تھا مگر اس ارشاد کریم پر عفو وسفہ کو نسخ فرمادیا اور مؤلفۃ القلوب کاسہم ساقط ہوگیا۔
" وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن و من شاء فلیکفر انا اعتدنا للظلمین نارا احاط بہم سرادقہا " ۔ فرمادیجئے حق تمھارے رب کی طرف سے ہے لہذا جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے یقینا ہم نے ظالموں کے لئے ایك ایسی آگ تیار کر رکھی ہے کہ جس کی دیواروں نے انھیں گھیرے میں لے رکھا ہے۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶۰/ ۸€
القرآن الکریم ∞۶۰/ ۹€
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ لاینہکم الذین لم یقاتلوکم الخ مطبعۃ البہیمۃ المصریۃ ∞مصر ۲۹/ ۳۰۳€
القرآن الکریم ∞۱۸/۲۹€
#5924 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے افضل الاساتذہ امام عطاء بن ابی رباح رضی اﷲ تعالی عن جن کی نسبت امام فرماتے ہیں میں نے ان سے افضل کسی کو نہ دیکھا وہ کریمہ واغلظ علیہم کو فرماتے ہیں:
نسخت ھذہ الاۃ کل شیئ من العقود والصفح ۔ اس آیت کریمہ نے ہر قسم کی معافی اور درگزر کرنےکو منسوخ کردیا ہے۔(ت)
قرآن عظیم نے یہود مشرکین کو عداوت مسلمین میں سب کافروں سے سخت تر فرمایا:
" لتجدن اشد الناس عدوۃ للذین امنوا الیہود والذین اشرکوا " تم اہل ایمان سے عداوت کرنے میں سب سے زیادہ یہودیوں اور مشرکوں کا پاؤ گے۔(ت)
مگر ارشاد :
" یایہا النبی جہد الکفار والمنفقین واغلظ علیہم وماوىہم جہنم وبئس المصیر ﴿۷۳﴾ " اے نبی مکرم! کافروں اور منافقوں سے جہاد کر و اور ان پر سختی کیا کرواور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ (ت)
عام آیہ اس میں سب کا استثناء نہ فرمایا کسی وصف پر حکم مرتب ہونا اس کی علیت کا مشعر ہوتاہے یہاں انھیں وصف کفر سے ذکر فرماکر اس پر جہاد وغلظت کا حکم دیا تو یہ سزا ان کے نفس کفر کی ہے۔نہ کہ عداوت مومنین کیاور نفس کفر میں وہ سب برابر ہیں الکفر ملۃ واحدۃ(سارا کفر ایك ہی ملت ہے۔ت)ہاں معاہدکا استثناء دلائل قاطعہ متواترہ ہے سے ضرورۃ معلوم ومستقر فی الاذہان کہ حکم جاہد سن کر اس کی طرف ذہن جاتاہی نہیں فنفس النص لم یتعلق بہ ابتداء کما افادہ فی البحر الرائق(پھر نفس نص ابتداء ہی اس سے متعلق نہیں(یعنی معاہد کو نص شامل ہی نہیں)جیسا کہ البحرالرائق میں یہ افادہ پیش کیا ہے۔(ت) تفاوت عداوت پر بنائے کار ہوتی تویہود کوحکم مجوسی سے سخت تر ہوتاہے حالانکہ امر بالعکس ہے اور نصاری کا حکم یہود سے کم تر ہوتاہے حالانکہ یکساں ہے۔ذمی وحربی کافر کافرق میں بتا چکاہوں اور یہ کہ ہرحربی محارب ہے حسب حاجت ذلیل قلیل ذمیوں سے حربیوں کے مقاتلہ(مقابلہ میں مدد لے سکتے ہیں ایسی جیسے سدھائے ہوئے مسخر کتے سے شکار میںامام سرخسی نے شرح صغیر
حوالہ / References معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ واغلظ علیہم الخ مصطفی البابی ∞مصر ۳ /۲۳۔۱۲۲€
القرآن الکریم ∞۵ /۸۲€
القرآن الکریم ∞۹/ ۷۳€
#5925 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
میں فرمایا:
والاستعانۃ باھل الذمۃ کالاستعانۃ بالکلاب ۔ ذمی کافروں سے مددلینا سدھائے ہوئے کتوں سے مددلینے کی طرح ہے۔(ت)
اوربروایت امام طحاوی ہمارے ائمہ ممذہب امام اعظم وصاحبین وغیرہم رضی اﷲ تعالی عنہم نے اس میں بھی کتابی کی تخصیص فرمائی مشرك سے استعانت مطلقا ناجائز رکھی اگر چہ ذمی ہو ان مباحث کی تفصیل جلیل"المحجۃ المؤتمنۃ"میں ملاحظہ ہو۔رہا کافر طیب سے علاج کرانا خارجی یا ظاہر مکشوف علاج جس میں اس کی بدخواہی نہ چل سکے وہ تو " لا یا لونکم خبلا " (وہ کافر تمھیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔ت)سے بالکل بےعلاقہ ہے اور دنیاوی معاملات میں بیع وشراء واجارہ واستئجار کی مثل ہے۔ہاں اندرونی علاج جس میں اس کے فریب کی گنجائش ہو اس میں اگر کافروں پر یوں اعتماد کیا کہ ان کو پانی مصیبت میں ہمدرد اپنا ولی خیر خواہ اپنا مخلص بااخلاص خلوص کے ساتھ ہمدردی کرکے اپنا دوست بنانے والا اس کی بیکسی میں اس کی طرف اتحاد کا ہاتھ بڑھانے والا جانا تو توبیشك آیہ کریمہ کا مخالف ہے اور ارشاد آیت جان کر ایسا سمجھا تو نہ صرف اپنی جان بلکہ جان وایمان وقرآن سب کا دشمن اورانھیں اس کی خبر ہوجائے اور اس کے بعد واقعی دل سے اس کی خیرخواہی کریں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ تو مسلمان کے دشمن ہیں اوریہ مسلمان ہی نہ رہا فانہ منہم (وہ انہی میں سے ہے۔ت)ہوگیاان کی تو دلی تمنا یہی تھی:
قال تعالی" ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سواء " ۔ (اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا)ان کی آرزو ہے کہ کسی طرح تم بھی ان کی کسی طرح تم بھی ان کی طرح کافر بنو تو تم اور وہ ایك سے ہوجاؤ۔
والعیاذ باﷲ تعالی(اور اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)_____ مگر الحمد ﷲ کوئی مسلمان آیہ کریم پرمطلع ہوکر ہر گز نہ جانے گا اور جانے تو اپ ہی اس نے تکذیب قرآن کیبلکہ یہ خیال ہوتاہے کہ یہ ان کا پیشہ ہے اس سے روٹیاں کماتے ہیں ایسا کریں تو بدنام ہوں دکان پھیکی پڑےکھل جائے تو حکومت کا مواخذہ ہو سزا ہو یوں
حوالہ / References شرح الجامع الصغیر للسرخسی∞(محمد بن احمد)€
القرآن الکریم ∞۳ /۱۱۸€
سنن ابی داؤد کتاب اللباس ∞۲ /۲۰۳€
القرآن الکریم∞۴/۸۹€
#5926 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
بدخواہی سے بازرہتے ہیں تو اپنے خیر خواہ ہیں نہ کہ ہمارےاس میں تکذیب نہ ہوئیپھر بھی خلاف احتیاط و شنیع ضرور ہے خصوصا یہود ومشرکین سے خصوصا سربراوردہ مسلمان کو جس کے کم ہونے میں وہ اشقیاء اپنی فتح سمجھیں وہ جسے جان وایمان دونوں عزیز ہیں اس بارے میں کریمہ لا تتخذوا بطانۃ من دونکم لا یا لونکم خبلا " کسی کافر کو راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بد خواہی میں گئی نہ کریں گے۔وکریمہ " ولم یتخذوا من دون اللہ ولارسولہ ولا المؤمنین ولیجۃ " اﷲ وررسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو دخیل کار نہ بناناوحدیث مذکور لاتستضیئوا بنار المشرکین (مشرکوں کی آگ سے روشنی نہ لو) بس ہیں۔اپنی جان کامعاملہ اس کے ہاتھ میں دے دینے سے زیادہ کیا راز دار ودخیل کار ومشیر بنانا ہوگاامام محمدعبدری ابن الحاج مکی قدس سرہ مدخل میں فرماتے ہیں:
واشد فی القبح واشنع ماارتکبہ بعض الناس فی ھذا الزمان من معالجۃ الطبیب والکحال الکافرین اللذین لایرجی منہما نصح ولاخیر بل یقطع بغشہما واذیتہما لمن ظفرا بہ من المسلمین سیما ان کان المریض کبیرا فی دینہ اوعلمہ ۔ یعنی سخت تر قبیح وشنیع ہے وہ جس کاارتکاب آجکل بعض لوگ کرتے ہیںکافر طبیب اورسیتے سے علاج کراناجن سے خیر خواہی اور بھلائی کی امید درکنار یقین ہے کہ جس مسلمان پر قابو پائیں اس کی بد سگالی کرینگے اور اسے ایذا پہنچائیں گے خصوصاجبکہ مریض دین یا علم میں عظمت والا ہو۔
پھر فرمایا:
لہم لا یعطون لاحد من المسلمین شیئا من الادویۃ التی تضرھا ظاھرا لانہم لو فعلوا ذلك لظہر غشہم و انقطعت مادۃ معاشہم لکنہم یضیفون لہ من الادویۃ مایلیق یعنی وہ مسلمان کو کھلے ضرر کی دوانہیں دیتے کہ یوں تو ان کی بدخواہی ظاہر ہوجائے اور ان کی روزی میں خلل آئے بلکہ مناسب دوا دیتے اور اس میں اپنی خیر خواہی وفن دافی ظاہر کرتے ہیں اور کبھی مریض اچھا ہوجاتاہے جس میں ان کا نام ہو اور معاش خوب چلے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۳ /۱۱۸€
القرآن الکریم ∞۹/ ۱۶€
مسند امام احمد بن حنبل عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳ /۹۹€
المدخل لابن الحاج فصل فی المزین الکحال والطبیب الکافرین دارالکتب العربی بیروت ∞۴ /۱۱۴€
#5927 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
بذلك المرض ویظہرون الصنعۃ فیہ و النصح وقد یتعافی المریض فینسب ذلك الی حذق الطبیب و معرفتہ لیقع علیہ المعاش کثیرا بسبب ماوقع لہ من الثناء علی نصحہ فی صنعۃ لکنہ یدس فی اثناء وصفہ حاجۃ لایفطن لما فیہا من الضرر غالبا وتکون تلك الحاجۃ مما تنفع ذلك المریض وینتعش منہ فی الحاللکنہ یبقی المریض بعدھا مدۃ فی صحۃ و عافیۃ ثم یعود علیہ بالضرر فی اخر الحال وقد یدس حاجۃ اخری کما تقدم لکنہ ان جامع انتکس ومات وکذالك یفعل فی حاجۃ اخری یصح المریض بعد استعمالہا لکنہ اذا دخل الحمام انتکس ومات وقد یدس حاجۃ اخری فاذا استعملہا المریض صح واقام من مرضہ لکن لہا مدۃ فاذا انقضت تلك المدۃ عادت بالضرر علیہوتختلف المدۃ فی ذلکفمنہا ما یکون مدتہا سنۃ اواقل اواکثر الی غیر ذلك من غشہم و ھو کثیر ثم یتعلل عدواﷲ بان ھذا مرض اخر دخل علیہ فلیس لہ فیہ حیلۃ فلوسلم منہ لعاش وصح ویظھر التأسف والحزن علی ما اصاب المریض ثم یصف بعد ذلك اشیاء تنفع لمرضہ لکنہا لاتفید بعد ان فات الامر فیہ فینصح حیث لاینفع نصحہ فمن یری ذلك منہ یعتقد انہ من الناصحین وھو من اکبر الغاشین وقد قیل: اور اسی کے ضمن میں ایسی دوا دیتے ہیں کہ فی الحال مریض کو نفع دے اور آئندہ ضرر لائے یا ایسی دوا کہ اس وقت مرض کھودے مگر جب مریض جماع کرے مرض لوٹ آئے اور مرجائے یا ایسی کہ سردست تندرست کردےمگر جب حمام کرے مرض پلٹے اور موت ہو یا ایسی کہ اسی وقت مریض کھڑا ہوجائے اور ایك مدت سال بھر یا کم وبیشك کے بعد وہ اپنا رنگ لائے اور ان کے سوا ان کے فریبوں کے اور بہت طریقے ہیںپھر جب مرض پلٹا تو اﷲ کا دشمن یوں بہانے بناتا ہے کہ یہ جدید مرض ہے اس میں میرا کیا اختیار ہے اور مریض کی حالت پر افسوس کرتاہے پھر صحیح نافع نسخے بتاتا ہے مگر جب بات ہاتھ سے نکل گئی کیا فائدہتو اس وقت خیر خواہی دکھاتاہے جب اس سے نفع نہیںدیکھنے والے اسے خیرخواہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت تربد خواہ ہے
#5928 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
کل العداوۃ قد ترجی ازالتہا
الاعداوۃ من عاداك فی الدین ہرعداوت کے ازالہ کے لئے امید کی جاسکتی ہے سوائے اس شخص کے جو تیرے ساتھ دین میں عداوت رکھے۔
پھر فرمایا:
وقد یستعملون النصح فی بعض الناس ممن لاخطر لہم فی الدین ولا علم وذلك ایضا من الغش لانہم لولم ینصحوا لما حصلت لہم الشہرۃ بالمعرفۃ بالطب ولتعطل علیہم معاشہم وقد ینفطن لغشہم ومن غشہم نصحہم لبعض انباء الدنیا لیشتھروا بذلك وتحصل لہم الحظوۃ عندھم وعند کثیر ممن شابہہم ویتسلطون بسبب ذلك علی قتل العلماء والصالحین وھذا النوع موجود ظاہروقد ینصحون العلماء و الصالحین وذلك منہم غش ایضا لانہم یفعلون ذلك لکی تحصل لھم الشھرۃ وتظھر ضعتہم فیکون سببا الی اتلاف من یریدون اتلافہ منہم وھذا منہم مکر عظیم ۔ یعنی وہ کبھی عوام کے علاج میں خیرخواہی کرتے ہیں اوریہ بھی ان کا مکر ہے کہ ایسا نہ کریں تو شہرت کیسے ہو روٹیوں میں فرق آئے اور کبھی ان کے فریب پر لوگ چرچ جائیںیوہیں یہ فریب ہےکہ بعض رئیسوں کا علاج اچھا کرتے ہیں کہ شہرت اور اس کے نزدیك اور اس جیسوں کی نگاہ میں وقعت ہو پھر علماء وصلحا کے قتل کا موقع ملے اور ایسے اب موجودو ظاہر ہیں اور کھبی علماء وصلحا کے علاج میں بھی خیرخواہی کرتے ہیں اور یہ بھی فریب ہےکہ مقصود ساکھ بندھن ہے پھر جس عالم یا دیندار کا قتل مقصود ہے اس کی راہ ملنا اور یہ ان کا بڑا مکر ہے پھر اپنے زمانے کا ایك واقعہ ثقہ معتمد کی زبانی بیان فرمایا کہ مصر میں ایك رئیس کے یہاں ایك یہودی طبیب تھا رئیس نے کسی بات پر ناراض ہوکر اسے نکال دیا وہ خوشامدیں کرتا رہا یہاں تك کہ رئیس راضی ہوگیا کافر وقت کا منتظر رہا پھر رئیس کو کوئی سخت مرض ہوامیں طبیب مغربی سے طب پڑھ رہا تھا لوگ انھیں بلانے آئے انھوں نے عذر کیا لوگوں نے اصرار کیاگئےاور مجھے فرماگئے میرے آنے تك بیٹھے رہناتھوڑی دیر ہوئی تھی کہ کانپتے تھر تھراتے واپس آئے میں نے کہا خیر ہے۔فرمایا میں نے پوچھا کہ یہودی نےکیا نسخہ دیامعلوم ہوا کہ وہ رئیس کا کام تمام کرچکامیں اندر نہ گیا کہ ایك تو اس کے بچنے کی امید نہیں
حوالہ / References المدخل لابن الحاج فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر دارالکتاب العربی بیروت ∞۴ /۱۶۔۱۱۵€
المدخل لابن الحاج فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر دارالکتاب العربی بیروت ∞۴ /۱۷۔۱۱۶€
#5929 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
پھر یہ اندیشہ کہ کہیں یہودی میرے ذمے نہ رکھ دے رئیس کل تك نہ بچے گاوہی ہوا کہ صبح تك اس کا انتقال ہوگیاپھر فرمایا کہ بعض لوگ کافر طبیب کے ساتھ مسلمان طبیب کو بھی شریك کرتے ہیں کہ جو نسخہ وہ بتائے مسلمان کو دکھالیںیوں اس کے مکر سے امن سمجھتے ہیں اور اس میں کچھ حرج نہیں جانتے۔
فرمایا:
وھذا لیس بشیئ ایضا من وجوہ الاول ان المسلم قد یفعل عن بعض ماوصفہ الثانی مافیہ اقتداء الغیر بہ الثالث مافیہ الاعانۃ لہم علی کفرھم بما یعطیہ لہم الرابع ما فیہ ذلۃ المسلم لہم الخامس مافیہ تعظیم شانہم سیما ان کان المریض رئیسا وقد امر الشارع علیہ الصلوۃ والسلام بتصغیر شانہم وھذا عکسہ ۔ یہ بوجوہ کچھ نہیںایك تو ممکن کہ جودوا کافر نے بتائی اس وقت مسلمان طبیب کے خیال میں اس کا ضرر نہ آئے پھر اس کو دیکھا دیکھی اور مسلمان بھی کافر سے علاج کرائیں گے۔فیس وغیرہ جو اسے دی جائے وہ اس کے کفر پر مدد ہوگیمسلمان کو اس کے لئے تواضع کرنی پڑے گیعلاج کی ناسوری سے کافر کی شان بڑھے گی خصوصا اگر مریض رئیس تھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی تقیر کا حکم دیا اور یہ اس کا عکس ہے۔
پھر فرمایا:
ثم مع ذلك مایحصل من الانس والودلہم وان قل الامن عصم اﷲ وقلیل ماھم ولیس ذلك من اخلاق اھل الدین ۔ پھر ان سب وجو ہ کے ساتھ یہ ہے کہ اس سے ان کے ساتھ انس اور کچھ محبت پیدا ہوجاتی ہے اگر چہ تھوڑی ہی سہی سوا اس کے جسے اﷲ محفوظ رکھے اور وہ بہت کم ہیں اور کافر سے انس اہل دین کی شان نہیں۔
پھر فرمایا:
ومع ذلك یخشی علی دین بعض من یستطبہم من المسلمین ۔ ان سب قباحتوں کے ساتھ سخت آفت یہ ہے کہ کبھی ان سے علاج کروانے والے کے ایمان پر اندیشہ ہوتاہے۔
حوالہ / References المدخل لابن الحاج فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر دارالکتب العربی بیروت ∞۴ /۱۸۔۱۱۷€
المدخل لابن الحاج فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر دارالکتب العربی بیروت ∞۴ /۱۲۰€
المدخل لابن الحاج فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر دارالکتب العربی بیروت ∞۴ /۱۲۰€
#5930 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
پھر اپنے بعض ثقہ معتمد برادران دینی کا واقعہ بیان فرمایا کہ ان کے یہاں بیماری ہوئی مریض نے ایك یہودی طبیب کی طرف رجوع پر اصرار کیاانھوں نے اسے بلایاوہ علاج کرتارہا ایك دن اسے خواب میں دیکھا کہ ان سے کہتاہے کہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کادین قدیم ہے اسی کو اختیار کرنا چاہئےاور یوہیں میں کیا کیا بکتا رہایہ ترساں ولرزاں جاگے اور عہد کرلیا کہ اب وہ میرے گھر نہ آنے پائے راستے میں بھی وہ جہاں ملتا یہ اور راہ ہوجاتے کہ مبادا اس کا وبال انھیں پہنچے امام فرماتے ہیں:
فہذاقد رحم بسبب انہ کان معتنی بہ فیخاف من استطبہم ولم یکن معتنی بہ ان یہلك معہم ولو لم یکن فیہ الا الخوف من ھذا الامر الخطر لکان متعینا ترکہ فکیف مع وجود ماتقدم ۔ ان صاحب پر تو یوں رحمت ہوئی کہ زیر عنایت تھے جو ایسا نہ ہو اور ان سے علاج کرائے اس پر خوف ہے کہ ان کے ساتھ ہلاك ہوجائے ان کے علاج میں اس شدید خطرناك خوف کے سوا اور کچھ نہ ہوتا تو اس قدر سے اس کا ترك لازم ہوتا نہ کہ اور شناعتوں کے ساتھ جن کا ذکر گزرا۔
ان امام ناصح رحمہ اﷲ تعالی کے ان نفیس بیانوں کے بعد زیادت کی حاجت نہیں اور بالخصوص علمائے وعظمائے دین کے لئے زیادہ خطر کا مؤید امام مارزی رحمہ اﷲ تعالی کا واقعہ ہے علیل ہوئے ایك یہودی معالج تھا اچھے ہوجاتے پھر مرض عود کرتا کئی بار یوہیں ہواآخر اسے تنہائی میں بلاکر دریافت فرمایا اس نے کہا اگر آپ سچ پوچھتے ہیں تو ہمارے نزدیك اس سے زیادہ کوئی کار ثواب نہیں کہ آپ جیسے امام کو مسلمانوں کے ہاتھ سے کھودوںامام نے اسے دفع فرمایامولی تعالی نے شفا بخشیپھر امام نے طب کی طرف متوجہ فرمائی اور اس میں تصانیف کیں اور طلبہ کو حاذق اطباء کردیا اور مسلمانوں کو ممانعت فرمادی کہ کافر طبیب سے کبھی علاج نہ کرائیںیہود کے مثل مشرکین ہیں کہ قرآن عظیم نے دونوں کو ایك ساتھ مسلمانوں کا سب سے سخت تر دشمن بتایا اور " لا یا لونکم خبلا "تو عام کفار کے لئے فرمایا۔
عورت کا مرتد ہوکر نکاح سے نہ نکلنا تمام کتب ظاہر الروایۃ وجملہ متون وعام شروح وفتاوی قدیمہ سب کے خلا ف ہے اور سب کے موافقخلاف ہے قول صوری کے اور موافق ہے قول ضروری کےقول ضروری اور صوری کا فرق میرے رسالہ اجل الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام(بالکل ظاہر اور واضح اعلان ہےکہ فتوی دینا علی الاطلاق امام کے قول پر ہے۔ت)میں ملے گا کہ میرے فتاوی
حوالہ / References المدخل لابن الحاج فی فصل فی المزین وسائس الطبیب الکافر دارالکتب العربی بیروت ∞۴ /۱۲۰€
#5931 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
جلد اول فـــــ میں طبع ہوا اور اس کا قول ضروری کے موافق ہونا میرے فتوئے سے کہ بجواب سول علی گڑھ لکھا ظاہر اس کی نقل حاضر ہوگی اوریہ حکم صرف نکاح میں ہے باقی تمام احکام ارتداد جاری ہوں گےنہ وہ شوہر کا ترکہ پائے گی نہ شوہر اس کا اگر اپنے مرض الموت میں مرتدہ نہ ہوئی ہونیز جب تك وہ اسلام لائے شوہر کواسے ہاتھ لگانا حرام ہوگاعالمگیری منشاء مسئلہ مذکورہ سے خالی نہیں باب نکاح الکفار میں دیکھئے:
لواجرت کلمۃ الکفر علی لسانہا مغایظۃ لزوجہا او اخراجا لنفسہا عن حبالتہ او لاستیجاب المہر علیہ بنکاح مستانف تحرم علی زوجھا فتجبر علی الاسلام ولکل قاض ان یجدد النکاح بادنی شیئ ولو بدینار سخطت او رضیت ولیس لہا ان تتزوج الا بزوجہا قال الہند وانی اخذ بہذا قال ابواللیث وبہ ناخذ کذا فی التمرتاشی ۔ اگر کسی منکوحہ عورت نے اپنی زبان پر کلمہ کفر جاری کیا اپنے شوہر کو طیش دلاتے ہوئے یا اپنی ذات کو اس سے باہر کرنے کے لئے یا اس لئے کہ اس پر جدید نکاح سے مہر واجب ہو تو وہ اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی پھر اسے اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گااور ہر قاضی کے جائز ہے کہ وہ بالکل کسی معمولی چیز سے دوبارہ اس کا نکاح پڑھادے اگر چہ ایك اشرفی ہی کیوں نہ ہو چاہے عورت ناراض ہو یا راضیاورعورت کے لئے یہ گنجائش نہیں کہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور سے نکاح کرے فقیہ ہندوانی نے فرمایا کہ مں اسی کو اختیار کرتاہوںفقیہ ابو اللیث نے فرمایا کہ ہم اسی پر عمل کرتے ہیںیونہی تمرتاشی میں مذکور ہے۔(ت)
اسی کے بیان میں درمختارمیں ہے:
صرحوا بتعزیرھا خمسۃ وسبعین وتجبر علی الاسلام وعلی تجدید النکاح بمہر یسیر کدینار وعلیہ الفتوی والوالجیۃ ۔ فقہاء کرام نے تصریح فرمائی کہ عورت کو پچھتر کوڑے سزادی جائے اوراسلام لانے پر مجبورکیاجائے اور بالکل معمولی مہر سے جدید نکاح کیا جائے جیسے کہ ایك اشرفی وغیرہاور اسی پر فتوی ہے ولوالجیہ(ت)
یہ احکام اسی طرح مذہب کے خلاف ہیں جب مرتدہ ہوتے ہیں نکاح فورا فسخ ہوگیا کہ ارتداداحد ہما فسخ فی الحال
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب النکاح الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۳۳۹€
درمختار کتاب النکاح باب نکاح الکافر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۱۰€
فـــــ∞:رسالہ €اجل الاعلام∞ فتاوٰی رضویہ،رضا فاؤنڈیشن لاہور جلد اول کے صفحہ ۹۵ پر موجود ہے€۔
#5932 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
(میاں بیوی دونون میں سے کسی ایك کا اسلام سے روگردانی کرنا فورا نکاح کو ختم کردیتاہے۔ت)پھر بعدعدت دوسرے سے اسے نکاح ناجائز ہونا کیا معنی اور پہلے سے تجدید نکاح پر جبرکیا معنیکیوں نہیں جائز کہ وہ کسی سے نکاح نہ کرے اور اس تجدید میں زبردستی ادنی سے ادنی مہر باندھنے کا ہرقاضی کو اختیار ملنا کیا معنیمہر عوض بضع ہے اور معاوضات میں تراضی شرط اقول:(میں کہتاہوں)بلکہ ان اکابر کے قول ماخوذ ومفتی بہ کو کہ قول ائمہ بخارا ہے فتوائے ائمہ بلخ رحمہم اﷲ تعالی سے جسے فقیر نے باتباع نہرالفائق وغیرہ اختیار کیابعد نہیں تجدید نکاح بنظر احتیاط ہے اور شوہر پر حرام ہوجانا موجب زوال نکاح نہیں بارہا عورت ایك مدت تك حرام ہوجاتی ہے اور نکاح باقی ہے جیسے بحال نماز وروزہ رمضان واعتکاف واحرام وحیض ونفاس یوہیں جبکہ زوجہ کی بہن سے نکاح کرکے قربت کرنے زوجہ حرام ہوگئی یہاں تك کہ اس کی بہن کو جدا کردے اور اس کی عدت گزر جائے بلکہ کبھی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے اور نکاح زائل نہیں جیسے حرمت مصاہرت طاری ہونے سے کہ متارکہ لازم ہے تو نکاح قائم ہے اور زن مفضاۃ کہ سبیلین ایك ہوجائیں نکاح میں اصل خلل نہیںاور حرمت ابدیدائم ہے والمسائل منصوص علیہا فی الدروغیرہ من الاسفار الخ(مسائل مذکورہ کی درمختار وغیرہ بڑی کتابوں میں صراحت کردی گئی الخ۔ت) واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References (رسالہ"€&الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف€∞"ختم شد)
#5933 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مسئلہ ۸۷: از وزیر احمد مدرس مہارانا ہائی اسکول اودے پور میواڑ ۱۲/ محرم ۱۳۳۹ھ
بت یا تعزیہ کا چڑھاوا مسلمان کو کھاناجائز ہے یانہیں
الجواب:
مسلمان کے نزدیك بت اور تعزیہ برابر نہیں ہوسکتے اگرچہ تعزیہ بھی جائز نہیںبت کا چڑھاوا غیر خدا کی عبادت ہے اور تعزیہ پر جوہوتاہے وہ حضرات شہدائے کرام کی نیاز ہےاگر چہ تعزیہ پر رکھنا لغوہے۔بت کی پوجا اور محبوبان خدا کی نیاز کیونکر برابر ہوسکتی ہے اس کا کھانا مسلمانوں کو حرام ہےاور اس کا کھانا بھی نہ چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۸: از شہر کنہ مسئولہ محمد خلیل الدین احمد صاحب ۱۶ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ۸ محرم الحرام کو روافض جریدہ اٹھاتے ہیں گشت کے وقت ان کو اگر کوئی اہل سنت وجماعت شربت کی سبیل لگا کر شربت پلائے یا ان کو چائے بسکٹ یا کھانا کھلائے اور ان کی شمول میں کچھ اہلسنت وجماعت بھی ہوں اور کھائیں پئیںتو یہ فعل کیساہے اور اس سبیل وغیرہ میں چندہ دینا کیساہے
الجواب:
یہ سبیل اور کھانا چائے بسکٹ کہ رافضیوں کے مجمع کے لئے کئے جائیں جو تبرا ولعنت کا مجمع ہے ناجائز وگناہ ہیں ا ور ان میں چندہ دینا گناہ ہے۔اور ان میں شامل ہونے والوں کا حشر بھی انھیں کے ساتھ ہوگا۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من کثر سواد قوم فہو منہم ۔ وقال اﷲ تعالی" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " وقال تعالی" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جو کوئی کسی جماعت کو بڑھائے(اور اس میں اضافہ کرے)تو وہ انہی میں سے شمار ہوگااور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)ظالموں کی طرف مائل نہ ہو ورنہ تمھیں آگ چھوئے گیاور اﷲ تعالی نے فرمایا:اور گناہ اورزیادتی کے معاملات میں ایك دوسرے کی مدد نہ کرو۔(ت)
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ الدیلمی عن ابن مسعود ∞حدیث ۲۴۷۳۵€ مؤسسۃالرسالہ بیروت ∞۹ /۲۲€
القرآن الکریم ∞۱۱ /۱۱۳€
القرآن الکریم ∞۵ /۲€
#5934 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مسئلہ ۷۹: از موضع لاہور بڑا بازار مسئولہ اﷲ دتہ زرگر ۱۶ / محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موضع مزنگ لاہور میں فرقہ وہابیہ ودیوبندیہ نے اس بات پر بہت زور دے رکھا ہے بلکہ جابجا اشتہار جاری کئے ہیں کہ محرم شریف کے دنوں میں تعزیہ نکالنا اور سبیل لگانا اور گھوڑا نکالنا سخت گناہ ہے برائے مہربانی ان کی تردید فرمائیںبینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
سبیل لگانا ضرور جائز ہے۔دیوبندی ضرور گمراہ ہیں بے دین ہیںالبتہ تعزیہ ناجائز ہے۔اور گھوڑا نکالنا نقل بنانا ہے اور اکابر کی نقل بنانی بے ادبی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۰: خلیل الرحمن خاں صاحب رکن انجمن خادم الساجدین قاضی ٹولہ ۳/ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گاندھی کا جلوس جو آنے والا ہے اس کو لیڈر یعنی ہادی اور رہبر سمجھ کر اور یہ جان کر کہ اس کا بڑا رتبہ بڑی عزت ہے اور اس کے آنے سے شہر کی خاك پاك ہوجائے گی اس کا استقبال شاندار بنانےکےلئے جانا کیسا ہے۔اور یہ جو بعض جاہلوں نے مشہور کیا ہے کہ کوئی کسی نیت سے جائے مطلقا کاف ہوجائے گایہ سچ ہے یا افتراء بینوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
اس جلوس میں شرکت حرام ہے اور اسے شاندار بنانے کی نیت بدخواہی اسلام ہے اور اس کی آمد سے شہر کی خاك پاك ہونے کا خیال تکذیب کلام ذی الجلال والاکرام ہے۔اور صرف تماشا دیکھنے کی نیت سے جانا ہر گز کفر نہیں البتہ یہ بھی حرام ہے۔ طحطاوی علی الد رالمختارمیں ہے:
التفرج علی المحرم حرام ۔ حرام کام پر خوش ہونا حرام ہے۔(ت)
یہ جس نے کہا کہ مطلقا جانے پر حکم کفر ہے محض افتراء کیاالبتہ ایسی تعظیم کو ائمہ نے کفر لکھا ہے جبکہ بلااکراہ ہو اشباہ والنظائر وتنویر الابصار ودرمختار وغیرہ میں ہے:
لو سلم علی الذمی تبجیلا کفر ۔ اگر کسی نے ذمی کافر کی تعظیم کرتے ہوئے سلام دیا تو کافر ہو گیا۔(ت)
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۳۱€
درمختار کتاب الکراھیۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱€
#5935 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
انھیں میں ہے:
لوقال لمجوسی یا استاد تجبیلا یکفر ۔ اگر آتش پرست کو عزت افزائی سے"اے استاد"کہا تو کافر ہوجائے گا(ت)
جو صرف تماشا دیکھنے کو جائے اور شریك تعظیم نہ ہو اسے افر کہنا وہابیوں کا شیوہ ہے ان کے یہاں یہ مسئلہ ہے کہ ہنود کے میلوں میں جانے سے مطلقا کافر ہوجاتاہے اور بی بی نکاح سے نکل جاتی ہے حالانکہ وہابیہ خود کافر ہیںتماشا کافر نہیں ہوسکتا البتہ کوگنہگار ضرور ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۱: از شہر محلہ قانون گویاں مسئولہ دردی بیگ ۳/ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولوی شوکت علی اور مولوی مسٹر گاندھی ان کے جلسہ میں جانا چاہئے یاکہ نہیں اور جیسا حکم حضور دیں۔
الجواب:
اس جلسہ میں جانا حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۲ تا ۹۴:از کراچی کمپ(سندھ)صدربازار مسئولہ سیٹھ حاجی ابوبکر وحاجی ایوب عفاﷲ عنہ رکن اعلی مجلس منتظمہ مدرسہ اسلامیہ جماعت میمنان ۲۲ صفر ۱۳۳۹ھ
الحمداﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ و حبیبہ سیدنا وسید المرسلین محمد والہ الطیبین الطاھرین وصحبہ اجمعین۔ سب تعریف اﷲ تعالی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور درود وسلام اس کے رسول اور اس کے حبیب پر ہو جو ہمارے آقا اور رسول کے سردارہیں جو کہ محمد کریم ہیں اور ان کی پاك صاف اولاد پر اور ان کے تمام ساتھیوں پر۔(ت)
فامابعد! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان ومسند آرایان شرع متین حضرت سیدنا وسید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس باب میں کہ:
(۱)آج کل کی شور شہائے سیاسی میں ہندوستان کے اہل اسلام کو ارباب حکومت ہند سے شرعا قطع علائق ضروری ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس حد تک
(۲)نیز ایك ایسے صوبہ میں جس کی قریبا پچاسی فیصد آبادی اسلامی فلاحین اور کاشتکاروں
حوالہ / References درمختار کتاب الکراھیۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱€
#5936 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
پر مشتمل ہے جن کے سالانا محاصل اراضی کا ایك حصہ تعلیمی امدا د کے ذیل وصولی کرکے پھر سے حصہ رسدی اور بلا تفریق مذہب وملت ومدارس مروجہ امدادیہ کو تقسیم کیاجاتاہے۔آیا اس حصہ رسدی امداد سے جو ایك طرح سے اپنی ہی رقم ادا کردہ کاحصہ واپس کردہ ہے استفادہ کرنا شرعا جائز ہے یاناجائزخصوصا ایسے مدارس ومکاتب کے لئے جو کامل اسلامی اہتمام کے ماتحت جاری ہیں اور جن کے دینی ومذہبی شعبہ تعلیم پر ارباب حکومت ہر گز کسی نہج معترض نہیں ہوتے اور جن کے نصاب تعلیم کا سرکاری حصہ مروجہ تعلیم بھی کسی خفیف سے خفیف شائبہ موانع شرعیہ سے جزء ا وکلا پاك ہے مثلا کلام مجیدحدیث شریف فقہ حنفیہ وغیرہ کی تعلیم وتدریس کی پوری پوری آزادی کے پہلو بہ پہلو صرف علوم مروجہ مثل ریاضیات تاریخ جغرافیہ اور کتب اردو بھی ا س اہتمام خاص کے ساتھ پڑھانے کی اجازت ہے کہ بجائے مقررہ مدارس گورنمنٹی کے کتب السلام پڑھائی جائیں جن کا بیشتر حصہ ارکان خمسہ اسلامی تشریح وتوضیح سے مملواور خالص ومستند اسلامی تاریخ مثل سریات وغزوات نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے معمو رہے اس امداد سے متمتع ہونا شرعا جائز ہے یا ناجائز
(۳)نیز بصورت جوازجوشخص(مسلمان)محض مشرکین ہنود سے خراج تحسین وآفرین حاصل کرنے کے لئے ایسے اسلامی مدارس کے لئے جن میں غریب ومفلس وکم استطاعت طلباء اور مساکین ویتامی کی تعلیم وتدریس دینی ودنیوی کا اہتمام مفت ہوتا ہو اور انھیں سال بھر میں دوبار سرد وگرم پوشاکیں بمناسبت موسم مفت بہبہ پہنچائی جاتی ہیں اور محض اﷲ پاك کے بھروسہ پر اور کافی امدادی فنڈ کے بل بوتے پر ہی ان کی رہائش وخورش کااتنظام مناسب بھی زیر غور ہے نیز ان بیکس طلباء کو آئندہ اپنی تعلیمات دینی ودنیوی کے اس اہتمام کے یعنی اہتمام پابندی جملہ اشعار اسلام کے ساتھ جاری رکھتے ہیں ﷲ اور محض حبۃ لوجہ اﷲ ہر طرح کی ممکن امداد دی جاتی ہے اسی امدادی سرکاری سے دست کشی پرمجبور کرکے اسے نقصان صریح پہنچانا چاہتاہو محض بایں خیال کہ چونکہ بعض مشرکین ہنود اسے ناجائز قرار دیتے ہیں لہذا یہ شرعا بھی ناجائز ہے۔اس کے باب میں شرعا کیا رائے ان کی درست ہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)حکومت ہویا رعیت ہند کی ہو یا کہیں کیہر شخص سے جتنا تعلق حدود شرعی سے باہر نہیںاپنے تنوع احوال پر جائز یا مستحسن یا فرض ہے اور جو کچھ حد سے باہر ہو باختلاف احوال مکروہ یا ممنوع یا حرام ہے یہ حکم جیسا پہلے تھا اب بھی ہے جدید شورشوں نے جو نئے احکام جاری کئے بے اصل ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)جو مدارس ہر طرح خالص اسلامی ہوں اور ان میں وہابیت نیچریت وغیرہما کا دخل نہ ہو ان کا جاری رکھنا موجب اجر عظیم ہے احادیث کثیرہ ان کے فضائل سے مملوہیںایسے مدارس کے لئے گورنمنٹ
#5937 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
اگر اپنے پاس سے امداد کرتی ہے بلا شبہ اس کا لینا جائز تھا اور اس کا قطع کرنا حماقت خصوصا جبکہ اس کے قطع سے مدرسہ نہ چلے کہ اب یہ سدباب خیر تھا اور مناع للخیر پر وعید شدید وارد ہےنہ کہ جب وہ امداد بھی رعایا ہی کے مال سے ہواب دوہری حماقت بلکہ دوناظلم ہے کہ اپنے مال سے اپنے دین کو نفع پہنچانا بند کیا اور جب وہ مدارس اسلامیہ میں نہ لیا گیا گورنمنٹ اپنے قانون کے مطابق اسے دوسرے مدارس غیر اسلامیہ میں دے گی تو حاصل یہ ہوا کہ ہمارا مال ہمارے دین کی اشاعت میں صرف نہ ہوبلکہ اور کسی دین باطل کی تائید میں خرچ ہو کیا کوئی مسلم عاقل اسے گوارا کرسکتاہےردالمحتار میں قبیل باب المرتد ہے:
وفی اواخر الفن الثالث من الاشباہ اذا ولی السلطان مدرسا لیس باھل لم تصح تولیتہ وفی البزازیۃ السلطان اذا اعطی غیر المستحق فقد ظلم مرتین بمنع المستحق واعطاء غیرہ اھ ففی توجیہ ھذہ الوضائف لابناء ھؤلاء الجھلۃ ضیاع العلم والدین و اعانتہم علی اضرار المسلمین ۔واﷲ تعالی اعلم۔ الاشباہ والنظائر کے تیسرے فن کے آخر میں ہے کہ اگر بادشاہ کوئی ایسا پڑھانے والا استاد مقرر کرے کہ جو قابل نہ ہو تو اس کا تقرر کرنا صحیح نہیںاور فتاوی بزازیہ میں ہے کہ جب بادشاہ کسی غیر مستحق کو کچھ دے تو اس نے دگنا ظلم کیاایك یہ کہ مستحق کو نہ دیادوسرایہ کہ غیر مستحق کو دے دیا(اھ)پس یہ وظائف اس قسم کے جاہلوں کودینا علم اور دین کو ضائع کرنا ہے۔اور مسلمانوں کو دکھ پہنچانے پر ان کی مدد کرنا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۳)ظاہر ہے کہ اس کی یہ رائے باطل ومضر ہے اور مشرك کے کہنے کو شرع کاحکم ماننا سراسر خلاف اسلام ہے احمق جاہلوں نے آج کل مشرکین کو اپنا خیرخواہ سمجھ رکھاہے۔اور یہ صراحۃ قرآن عظیم کی تکذیب ہے اﷲ تعالی عزوجل فرماتاہے:
" لا یا لونکم خبلا ودوا ماعنتم قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر قد بینا لکم الایت ان کنتم تعقلون﴿۱۱۸﴾" ۔ وہ تمھاری نقصان رسانی میں گئی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے کہ تم مشقت میں پڑو بے شك عداوت ان کے منہوں سے ظاہر ہوچکی ہے اور وہ جو ان کے دلوں میں دبی ہے اور بڑی ہے بے شك ہم نے نشانیاں صاف بیان فرمادیں اگر تمھیں سمجھ ہوواﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۲۸۱€
القرآن الکریم ∞۳ /۱۱۸€
#5938 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مسئلہ ۹۵ تا ۹۷:از سندیلہ ضلع ہردوئی مکان چودھری نبی جان صاحب مرسلہ مولوی مقیم الدین صاحب دامانی ۲ ربیع الاول شریف ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت وطریقت اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ ۱رابطہ شیخ بدعت اور شرك ہے اور نماز میں کفر ہے۔ اور مکتوب ۳۰ جلد ثانی مکتوبات امام ربانی صاحب کی یہ تاویل کرتاہے کہ وہ حالت بے اختیار کی تھی اور بے اختیاری خیال نماز زمیں جائز ہے۔عمرو کہتاہے کہ یہ مذہب فرقہ اسمعیلیہ کا ہے۔اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ قول زید کا حق ہے یا عمرو کا اگر قول عمرو کا حق ہے تو حکم کفر مطابق حدیث شریف زید پر عائد ہوگا یا نہیں اور زید پر تعزیر شرعی آئے گی یانہیں زید چونکہ علم سے ناواقف ہوکر فتوی دے بیٹھا تو مورد حدیث فافتوا بغیر علم فضلوا واضلو (پھر انھوں نے بغیر علم فتوی دیا تو خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ت)کا ہوگا یا نہیں
اگر کوئی ایسا کامل ظہور ہو کہ جس کے فیض سے علاوہ فوائد دینی و دنیوی کے صدہا لوگ نمازوںمیں روتے نظر آئیں اگر کوئی اس فیض کو روکنے کی کوشش کرے تو مورد " یصدون عن سبیل اللہ" (اور وہ دوسروں کو اﷲ تعالی کے راستہ سے روکتے ہیں۔ ت)کا ہوگا یانہیں
۲دوسرا امریہ کہ علماء سابق کہ جن کا تقوی ار تبحر علمی شہرہ آفاق تھا انھوں نے مسائل اختلافیہ فقہیہ میں ایك جانب کو راجح سمجھ کر عوام میں رائج اور شائع کردیا اور عوام میں بلحاظ فتنہ وفساد اس اختلاف کو ظاہر نہ کیااب اس زمانہ میں بعض علماء نے دوسری جانب کو عوام میں شائع کرکے فتنہ اور فساد میں ڈال دیا کہ اول تو عوام کہنے لگے کہ ہم کس کس مولوی کی مانیں کہ کوئی مولوی کچھ کہتاہے کوئی کچھ کہتاہےدوسرا علمائے سابق کہ تقوی اور تبحر علمی میں مشہور تھے ان پر الزام غلطی کا لگاکر ضمنا راستہ جہنم کا دکھایا۔
۳تیسرے پہلے تو ذبح قبور اور ذبح فو ق العقدہ اور ضاد ظا اور سنت فجر وغیرہ میں جھگڑا کرکے انا اعتبار جمایا پھر رفع یدین اور جہر آمین تك بھی پہنچیں گے کہ یہ بھی حدیث سے ثابت ہے تو جب ان علماء سابق سے تقلید چھڑائی حالانکہ ان کے دلائل ترجیح کی کتابوں میں موجود ہیں کہ بعض رسالہ صیقل میں راقم نے ذکر کئے ایسا ہی بڑے اماموں سے بھی تقلید چھڑا کر اپنا مقلد بنا کر چھوڑیں گے تو ایسے مولویوں کاکیاحکم ہے المستفتی خاکسار محمد مقیم الدین دامانی
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۰€
القرآن الکریم ∞۷ /۴۵€
#5939 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
الجواب:
دربارہ رابطہ قول عمرو حق ہے اور قول زید سراسر باطل۔را بطہ شیخ بلا شبہہ جائز ومستحسن وسنت اکابر ہے فقیر کا رسالہ"الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ"اسی مسئلہ کے بیان میں ہے عبارت مکتوبات کی تاویل کہ زید نے کیتاویل نہیںتحویل وتبدیل ہے۔اور اسے شرك وکفر کہنا مسئلہ وہابیت ہے۔اور وہابیہ خود مشرك وکافر ہیںکسی شخص مسلم پر بلا وجہ شرعی حکم تکفیر بحسب ظواہر احادیث صحیحہ و نصوص صریحہ جمھورفقہاءخود قائل کے لئے مستلزم کفر ہے۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقد باء بہ احد ھما ۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص کو "اوکافر"کہےتو وہ کفر دونوں میں سے کسی ایك پر لوٹ پڑتا ہے۔(ت)
اور اس پر ضرور تعزیر شرعی لازم ہے کہ حاکم اسلام کی رائے پر ہے سلطان اسلام یا اس کے مقرر کردہ حکام ضرب وحبس سے قتل تك اسے تعزیر دے سکتے ہیںتعزیر ہم لوگوں کے ہاتھ میں نہیںہمارے پاس اسی قدر ہے کہ اس سے میل جول سلام کلام ترك کریں۔
قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فایاکم و ایاھم لا یضلونکم و لا یفتنونکم ۔ و قال تبارك و تعالی " و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)گمراہوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ تمھیں گمراہ نہ کریں اورتمھیں فتنے میں نہ ڈال دیںاور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگر تمیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو(ت)
بے علم فتوی دینے والااگر چہ جاہلوں کا مقتدا ہو تو ضرور حدیث فضلوا واضلوا(وہ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو گمراہ کا۔ت)کا مصداق ہے آپ بھی گمراہ ہوا اور انھیں بھی گمراہ کرے گا کہ صدر حدیث یوں ہے:
اتخذ الناس رؤسا جہالا لوگوں نے جاہل سرداروں کو(سربراہ)بنالیا پھر
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۰۱€
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰€
ا لقرآن الکریم ∞۶ /۶۸€
#5940 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا ۔ ان سے اسلامی مسائل دریافت کئے گئے تو انھوں نے بے علمی سے فتوے دئیےخود بھی بھٹك گئے اور دوسروں کو بھی بہکا دیا۔(ت)
اور اگرمقتدائےدیگران نہ ہو تو اس حدیث سے کسی حال بچ کر نہیں جا سکتا کہ :
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض ۔ جو بغیر علم کے فتوی دے آسمان وزمین کے فرشتے اس پر لعنت کریں۔(ت)
والعیاذ باﷲ تعالی(اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)نماز میں حضور قلب وخشوع وخضوع مغز مقصود واعز مطلوب ہے اگر واقعی کسی کامل کے فیض سے حاصل ہو جو شرائط اربعہ مشیخت کا جامع ہے تو اس سے روکنے والے بیشك " فصدوا عن سبیل اللہ " (پھر وہ اوروں کو اﷲ تعالی کی راہ سے روکتے ہیں۔ت)کے مصداق ہیں باطل یا ضعیف یا مشکوك مسائل پھیلا کر مسلمانوں میں اختلاف وفتنہ وفساد ڈالنا حرام ہے۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بشروا ولاتنفروا ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:بشارت دیا کرونفرت نہ دلایاکرو۔(ت)
جو بنا علم کسب شہرت کے لئے ایسا کرے عالم نہیںعالم دین نائب رسول ہے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور مسلمانوں میں بلاوجہ شرعی اختلاف وفتنہ پیدا کرنا نیابت شیطانحدیث میں ہے:
الفتنۃ نائمۃ لعن اﷲ من ایقظہا ۔ فتنہ سو رہاہے اس کے جگانے والے پر اﷲ کی لعنت۔
والعیاذ باﷲ تعالی(اور اﷲ تعالی کی پناہ۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۰€
کنزالعمال ∞حدیث ۲۹۰۱۸€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۰ /۱۹۳€
القرآن الکریم ∞۵۸ /۱۶€
صحیح البخاری کتاب العلم ماکان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یتخولہم بالموعظۃ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶€
کشف الخفاء حرف الفاء ∞حدیث ۱۸۱۵€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۷۷€
#5941 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مسئلہ ۹۸: از قصبہ مالیگاؤں ضلع ناسك احاطہ بمبئی مسئولہ سیکریٹری انجمن ہدایت اسلام ۲۵ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
بحضور ہادی متین مدظلہ العالی پس از سلام سنت والاسلام ہم چند درد مند مسلمانان قصبہ مالیگاؤں خدمت اقدس میں عرض پرداز ہیں کہ آیا گاندھی کو مہاتما کہناجائز ہے نا ن کوآپریشن میں ہم شریك ہوں یانہیں اور ہمارے مدرسہ میں گورنمنٹ سے گرانٹ ملتی ہے آیا ہمارے لئے اس کا لینا شرعا جائزہے یانہیں یہ بات واضح رائے عالی ہےکہ گورنمنٹ مالگزاری کے ساتھ بطریق ابواب ہم لوگوں سے بنام نہاد تعلیمڈاکخانہسڑکشفاخانہ وغیرہ وغیرہ روپیہ وصول کرلیتی ہے تویہ روپیہ ہمار اہی ہے جو ہم کو ملتاہے۔زیادہ ادب!
الجواب:
گاندھی خواہ کسی مشرك یاکافر بدمذہب کو مہاتما کہنا حرام اور سخت حرام ہے۔"مہاتما"کے معنی ہے روح اعظم۔یہ وصف سیدنا جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے۔مخالفان دین کی ایسی تعریف اﷲ عزوجل ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ایذا دینا ہے۔حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتزلذلك العرش ۔ رواہ ابویعلی فی مسندہ والبیہقی فی شعب الایمان عن انس وابن عدی فی الکامل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ عنہا۔ جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتاہے اور عرش الہی ہل جاتاہے۔(ابویعلی نے اپنی مسند میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس سے اس کو روایت کیا اور ابن عدی نے الکامل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے روایت کیا۔ت)
جب فاسق کی مدح پر یہ حکم اس مشر ك کی مدح پر اور ایسی عظیم مدح پر کیا حال ہوگانان کوآپریشن کہ آج کل کے لیڈر بننے والوں نے نکالا محض بے بنیاد ہے شرع مطہرمیں اس کی کچھ اصل نہیںشرع شریف میں ہر کافر سے مطلقا ترك موالات کاحکم ہے۔مجوس ہوں یا ہنودنصاری یا یہودخصوصا وہابیہ وغیرہم مرتدین عنوداور عام طور پر صاف ارشاد ہوا:
"لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل مسلمان مسلمانوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے اسے اﷲ سے کچھ
حوالہ / References الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ سابق بن عبداﷲ الرقی دارالفکربیروت ∞۳ /۱۳۰۷،€شعب الایمان ∞حدیث ۴۸۸۶€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۴ /۲۳۰€
#5942 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
ذلک فلیس من اللہ فی شیء علاقہ نہیں۔
اور صاف تر فرمادیا:
" ومن یتولہم منکم فانہ منہم " جو تم میں ان سے دوستی کرے وہ انھیں میں سے ہے۔
ان ساختہ لیڈروں نے معاملت کانام موالات رکھ کر اسے تو مطلقا حرام بلکہ کفر ٹھہرایااور مشرکوں سے موالات بلکہ اتحاد بابلکہ ان کی غلامی وانقیاد کو حلال بلکہ موجب رضائے الہی بنالیا ہر طرح اﷲ ورسول و شریعت پر سخت افتراء کیاجس مدرسہ میں تعلیم خلاف شرع ہوتی ہو اور کسی طرح مخالفت شرع ہو وہ خود ہی ناجائز ہے اورناجائز پر امداد لینی بھی ناجائزورنہ جو امداد نہ کسی امر خلاف شرع سے مشروط نہ اس کی طرف منجر ہو اس میں حرج نہیں خصوصا جبکہ ہمارا ہی روپیہ ہم کو دیا جاتاہے اسے حرام کہنا شریعت پر افتراء ہے۔
" ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون ﴿۶۹﴾" جو لوگ اﷲ تعالی کے ذمہ جھوٹ لگاتے ہیں وہ کبھی بامراد نہیں ہوسکتے۔(ت)
مسائل موالات وامداد کے روشن بیان میں ہماری کتاب"المحجۃ المؤتمنہ فی ایۃ الممتحنۃ"زیر طبع عــــــہ ہے اس سے تفصیل معلوم ہوسکتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۹: از امروہہ محلہ گذری مسئولہ سید خادم علی صاحب ۱۷ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك طرف تو خلافت اسلامیہ کے دردناك مصیبت میں عالم اسلامی گھرا ہوا ہے اور مسلمانوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ رہاہے اور دوسری طرف ہندوستان کے بعض مقامات پر مرزائیوں کا بعض مقامات پر شیعوں کا زور بڑھ رہا ہے وہ لوگ اہلسنت وجماعت سے مذہبی چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں اور عوام کا بہکاکر اور مطاعن مذہب سنا سنا کر اکثر کو مذہب میں متشکك اور بعض کو بالکل برگشتہ بنارہے ہیں اور اس مقصد کے لئے ان کے یہاں بہت سی انجمنیں
عــــــہ: فتاوی رضویہ کی جلد ۱۴ میں شامل اشاعت کردی گئی ہے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۳ /۲۸€
القرآن الکریم ∞۵/ ۵۱€
القرآن الکریم ∞۱۰ /۶۹€
#5943 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
قائم ہیں اور بہت سے رسائل موقت وشیوع وجاری ہیں ہزاروں روپیہ ماہوار وہ لوگ ان کاموں میں صرف کررہے ہیں آیا اس قت بحالت موجودہ اہلسنت کو وعظ کی مجالس قائم کرکے عوام کے خیالات کو صاف کرنے اور ان کو شکوك وشبہات سے بچانےکی غرض سے ان کا جواب دینا اوررد کرنا اوراگر فریق ثانی مباحثہ پر آمادہ ہو اور مطالبہ کرے تو اس کا انتظام کرنا چاہئے یا نہیں اور اگر چاہئے تو یہ کام فرض ہے یا واجب مستحب یا ناجائز اور اگر زمانہ حال کا لحاظ کرکے اس طرف سے چشم پوشی کی جائے تویہ فعل جائز ہے یاناجائزاور بعض ایسے مخصوص مقامات پر جہاں ان لوگوں کا زور ہے ان کی مدافعت کے لئے دو ایك ٹوٹی پھوٹی انجمنیں بھی قائم ہیں اور وہ کبھی کبھی ان کا رد کرتی ہیں اب ان انجمنوں کا قائم رکھنا اور مدافت کرتے رہنا چاہئے یا ان کاموں کو ترك کردینا چاہئے اور اس وقت ان امور مں روپیہ صر ف کرنا جائزہے یا نہیں بعض لیڈران قوم جن میں کچھ مولوی بھی ہیں جو اج کل مسئلہ خلافت میں بڑے بڑے کام کررہے ہیں زمانہ موجودہ میں کسی رد وجواب اور بحث مباحثہ کو اور اسی قسم کے دوسرے مذہبی کاموں میں اشتغال کو مسئلہ خلافت کے اہتمام میں مخل خیال فرماکر ناجائز فرماتے ہیںان کی یہ رائے صحیح اور ان کا یہ حکم قابل پابند ی ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
جب کوئی گمراہ بددین رافضی ہو یا مرزائیوہابی ہو یا دیوبندی وغیرہم خذلہم اﷲ تعالی اجمعین(اﷲ تعالی ان کو بے یارو مددگار چھوڑے۔ت)مسلمانوں کو بہکائے فتنہ وفساد پیدا کرے تو اس کا دفع اور قلوب مسلمین سے شہبات شیاطین کا رفع فرض اعظم ہے جو اس سے روکتا ہے " یصدون عن سبیل اللہ ویبغونہا عوجا " میں داخل ہے کہ اﷲ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ اور خلافت کمیٹی کا حیلہ اﷲ کے فرض کو باطل نہیں کرتا نہ شیطان کے مکر کو دفع کرنے سے روکنا شیطان کے سوا کسی کا کام ہوسکتاہے۔جوایسا کہتے ہیں اﷲ عزوجل اور شریعت مطہرہ پر افتراء کرتے ہیں مستحق عذاب نار وغضب جبارہوتے ہیں۔ادھر ہندو سے وداد واتحاد منایاادھر روافض ومرزائیہ وغیرہم ملاعنہ کا سد فتنہ ناجائز ٹھہرایاغرض یہ ہےکہ ہر طرف سے ہر طرح سے اسلام کو بے چھری حلال کردیں اور خود مسلمان بلکہ لیڈر بنے رہیں
" واللہ لا یہدی القوم الظلمین﴿۲۵۸﴾ " (اور اﷲ تعالی ظالم لوگوں کوراہ نہیں
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۷ /۴۵€
القرآن الکریم ∞۲ /۲۵۸€
#5944 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
دکھاتا۔ت) مسلمانوں پر فرض ہے کہ ایسے گمراہوںگمراہ گروبے دینوں کی بات پر کان نہ رکھیںان پر فرض ہے کہ روافض و مرزائیہ اور خود ان بے دینوں یا جس کا فتنہ اٹھتادیکھیں سدباب کریںوعظ علماء کی ضرورت ہو وعظ کہلوائیںاشاعت رسائل کی حاجت ہو اشاعت کرائیںحسب استطاعت اس فرض عظیم میں روپیہ صرف کرنا مسلمانوں پر فرض ہے حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لما ظہرت الفتن اوقال البدع فلیظہر العالم علمہ ومن لم یفعل ذلك فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولاعدلا ۔ جب ظاہر ہوں فتنے یا فساد یابدمذہبیاں اور عالم اپنا علم اس وقت ظاہر نہ کرے تو اس پر اﷲ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہے۔اﷲ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل
جب بدمذہبوں کے دفع نہ کرنے والے پر لعنتیں ہیں توجو خبیث ان کے دفع کرنے سے روکے اس پر کس قدر اشد غضب ولعنت اکبر ہوگی۔
" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور ظالم جلدی جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گئے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۰۰ تا ۱۰۲: از اجکوٹ کاٹھیا وار مسئولہ قاضی سید عبدالاول صاحب سنی حنفی ۱۳ جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك ہندو مشرك کا لکچر مسجد میں ہو اور سننے کو مشرك اور مسلمان مسجد میں جمع ہوں اور تالی اور جے اور اﷲ اکبرکے نعرے بلند کریںتو آیا یہ جائزہے یا ناجائز زید کہتاہے کہ یہ جائز ہے اور علمائے دین نے فتوی دیا ہے اس بابت دہلی وغیرہ شہروں میں ایسا ہواہے۔
(۲)اور اس روز جمعہ تھا تو جائے نماز اور مصلی وغیرہ بچھے ہوئے تھے اور اس کے اوپر کھلے پیر پھرنے والے مشرك پیر دھوئے بغیر پھرتے رہے تو اب یہ جائے نماز اور مصلی دھو کر پاك کئے جائیں یانہیں
(۳)اور مولی شوکت علی ومحمد علی اور گاندھی وغیرہ خلافت کے نام کاجو چندہ کررہے ہیں اس چندہ میں
حوالہ / References الفردوس بماثور الخطاب ∞حدیث ۱۲۷۱€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۳۲۱€ وصحیح البخاری ∞۲/ ۱۰۸۴€
القرآن الکریم ∞۲۶ /۲۲۷€
#5945 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
روپیہ دیاجائے یا نہیں بینوا توجرو(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
(نوٹ):یہاں پر راجکوٹ میں ایك گاندھی کا چیلا آیا ہوا ہے اور لکچر کرکے ہنود مشرك اور مسلمان کو ایك کرنا چاہتاہے او ر مسلمان کثرت سے شامل ہورہے ہیں اورمالی امداد بھی دے رہے ہیں اور آئندہ بھی خوف ہے کہ مسجدمیں لکچر ہوں گے ﷲ آپ بہت جلد اس مسئلہ کا جواب مرحمت فرمائیں تاکہ اس خرافات کا بندوبست ہو۔
الجواب:
(۱)یہ حرام حرام سخت حرام ہےتوہین مسجد ہے۔تعظیم مشرك ہے۔تذلیل اسلام ہے۔جہاں ہوا ابلیس کے فتوے سے ہوا کسی مسلمان عالم اسلام نے اس کے جواز کا فتوی نہ دیااور جو پابندی اسلام سے آزد اور کفر ابلیس کے غلام ومنقاد ہوں نہ وہ قابل فتوی نہ ان کے بکنے پر التفات روا۔والتفصیل فی المحجۃ المؤتمنۃ فی ایۃ الممتحنۃ(اس کی تفصیل رسالہ المحجۃ المؤتمنۃ فی ایۃ الممتحنۃ میں بیان کی گئی ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)کتا اگر جانماز پر چلاجائے اور اس کے پاؤں اور جانماز دونوں خشك ہوں تو بالاتفاق اس کا دھونا لازم نہیں آتا تو مشرکوں کے یوں پھرنے سے مسجد کو توہین ضرور ہوئی مگر مصلی ناپاك نہ ہوئےواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)گاندی کو امام بنانا ہندوؤں مشرکوں سے اتحاد منانا سخت سے سخت حرام کبیرہ ودشمنی اسلام ہے۔اسلام کی بیخ کنی کے لئے چندہ دینا کسی مسلمان کا کام نہیں۔
قال اﷲ " فسینفقونہا ثم تکون علیہم حسرۃ ثم یغلبون ۬" ۔ یعنی اس وقت تو مال دے رہے ہیں پھر قیامت میں اس دینے کی حسرت اٹھائیں گے ہاتھ چاٹیں گے کہ مال بھی دیا اور خدا کا غضب بھی سر پر لیا پھر مغلوب ومقہور کرکے جنہم میں پھینك دئے جائیں گے۔
ترکوں کی حمایت اور اماکن مقدسہ کی حفاظت کانام دھوکے کی ٹٹی بنا رکھاہے۔صاف چھاپ چکے ہیں کہ اگر ترکی مسئلہ حسب خواہش فیصل بھی ہوجائے جب بھی ہماری کوشش برابر جاری رہے گی جب تك گنگا جمنا کی مقدس زمینیں آباد نہ کرالیںصاف چھاپ چکے ہیں کہ اگر ترك بھی ہندوستان پر چڑھ آئیں تو ہم ان سے بھی لڑیں گے تو اصل غرض ہندوؤں کی جے منانا اور گنگا جمنا کی زمینوں کو مقدس کرانا ہے ایسی کفری غرض کے لئے چندہ دینا اسلام کی دشمنی اور اﷲ واحد قہار کی سخت ناراضی ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۸ /۳۶€
#5946 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مسئلہ ۱۰۳: ضلع بھاگلپور ڈاك خانہ سبور موضع ابراہیم پور مسئولہ محمد شریف عالم صاحب ۱۵ جمادی الآخرہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںزیدعمروبکر تین اشخاص ہیں جن کی تعریف ذیل میں درج ہے:
(۱)زید ایك وہابی کافرر مرتد شخص ہے۔
(۲)عمرو ایك پکا سنی خوش عقیدہ مسلمان ہے لیکن زید مذکور کے مکان پر جاتا آتاہے۔اس سے ہم کلام ہوتاہے اس کے یہاں کھاتاپیتاہے لیکن زید مذکور کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا اور نہ مناکحت کرتاہے بلکہ اس سے عقیدہ ونفرت رکھتاہے اور اس کے کفر میں شك نہیں کرتاایسی صورت میں کیا عمرو بھی مثل زید کے عند الشرع وہابی کافر مرتد ہوجائے گا یا صرف فاسق گنہگار ہوگا یا کچھ بھی نہیں
(۳)بکر ایك پکا سنی خوش عقیدہ مسلمان ہے اور زید مذکور کے نہ مکان پر آتاجاتاہے۔نہ اس سے گفتگو کرتا نہ اس کے یہاں کھاتاپیتاہے نہ زید مذکور کے پیچھے نماز پڑھتا اورمناکحت کرتاہے بلکہ اس کو کافر مرتد سمجھتا اس کے کفر میں شك نہیں کرتا اس سے نفرت دینی ودنیوی ہر دو پہلو رکھتاہے ہاں عمرو مذکور سے جو پکا سنی صحیح العقیدہ ہے راہ ورسم رکھتاہے اس سے ہم کلام ہوتاہے اس کے یہاں کھاتا پیتاہے اس کے گھر پر جاتا آتاہے۔ایسی صورت میں کیا بکر مذکور مثل زید کے عندالشرع وہابی کافر مرتد ہوجائیگا یا صرف فاسق گنہگار ہوگایاوہابی اور نہ فاسق ہوگابلکہ مسلمان صحیح العقیدہ رہے گاصورت مذکورہ بالا نمبر ۲ و نمبر ۳ کا جواب بالتفصیل ارقام فرمائیں۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں عمرو بکر دونوں سنی مسلمان ہیں ان میں کوئی کافر یا گمراہ نہیں مگر عمرو فاسق گنہگار ہے کہ مرتد سے میل جول رکھتاہے۔
وقد قال اﷲ تعالی " ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فایاکم و ایاھم لایضلونکم ولایفتونکم ۔ اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)ظالموں کی طرف مائل نہ ہو ورنہ تمھیں آگ چھوئے گیاور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:ان سے بچوکہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں اور تمھیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۱ /۱۱۳€
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ الضعفاء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰€
#5947 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
اور بکر کا عمرو سے ملنا اگر بربنائے مصلحت شرعیہ ہوکہ اس سے امید ہے کہ اس کی نصیحت مانے اور زید سے ملنا چھوڑ دے تو حرج نہیں ورنہ نامناسب ہے خصوصا اس حالت کہ بکر کوئی اعزاز علمی ودینی رکھتاہو کہ ایسے کو فاسق سے بے ضرورت اختلاف مکروہ ہے۔عالمگیری میں ہے:
یکرہ للمشہور المقتدی بہ الاختلاط الی رجل من اھل الباطل والشرالایقدر الضرورۃ لانہ یعظم امرہ بین ایدی الناس ولو کان رجلا لایعرف یداربہ لیدفع الظلم عن نفسہ من غیر اثم فلا باس بہ کذا فی الملتقط واﷲ تعالی اعلم۔ جو شخص مشہور ہو اور لوگوں کا پیشوا ہو اسے اہل باطل اور صاحب شر لوگوں سے میل ملاپ رکھنا مکروہ ہے۔ہاں اگر قدرے ضرورت کی اجازت ہے کیونکہ لوگوں میں اس کی شان معظم ہے لیکن اگر کوئی شخص غیر معروف ہو تو اس سے مصالحت رکھنا تاکہ اپنی ذات سے بغیر گناہ ظلم کا دفاع ہوجائے اور اس میں کوئی حرج نہیںفتاوی ملتقط میں اسی طرح مذکور ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۴: از شہر محلہ ذخیرہ چاہ چڑیماراں مسئولہ شمشیر علی قادری رضوی ۱۱ رجب المرجب ۱۳۳۹ھ
حضور پرنور اعلحضرت قبلہ وکعبہ دام برکاتہمحضور !یہ جلسہ وہابیوں ك جو ۲۴۲۵۲۶مارچ کو متصل مسجد نومحلہ ہونے والا ہے اس میں اہلسنت وجماعت خصوصا حضور کے مریدین کو جلسہ مذکور میں شریك ہونا جائز ہے یا ناجائز اہل وہابیوں وہاں جائیں گےایسے جلسے میں جہاں وہابی ہوں ہم اہلسنت وجماعت کو جانا جائز ہے یا ناجائز امید کہ حضور اپنے مہر اور دستخط سے مشرف فرمائیں تاکہ ہم اہل السنت والجماعت شریك ہونے سے پرہیز کریںبینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
شمشیر علی قادری رضوی محلہ ذخیرہ چاہ چڑیماراں بریلی نیاز محمدرضوی شمس الحسن رضوی ذخیرہ
الجواب:
وہ کہ وہابیہ ودیوبندیہ ومخالفان دین وغلامان مشرکین کاجلسہ ہواس میں سنی کو شرکت کیسےحلال ہوسکتی ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔ ان سے دور بھاگو اور انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔
حوالہ / References فتاوی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشرہ ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۶€
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰€
#5948 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ کے متوسلین کوبالخصوص تاکید ہے کہ یك لخت ایسے لوگوں سے دور رہیں تاکہ اپنے رب جل وعلا اور اپنے بنی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نزدیك رہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵تا ۱۲۴: از بدایوں مرسلہ عبدالماجد از نام حبیب الرحمن ۱۲ رجب ۱۳۳۹ھ
(۱)خلافت ترك صحیح ہے یانہیں
(۲)خلیفۃ المسلمین سے بغاوت کرنے والے کے لئے کیاحکم آیا ہے اس باغی سے قتال واجب ہے یانہیں
(۳)بادشاہ اسلام سے کوئی غیر مسلم حکومت جنگ کرے ممالك اسلامیہ پر حملہ آور ہو تو مسلمانوں پر جس طرح ممکن ہو بادشاہ کی اعانت اور حکومت کو نقصان پہنچانافرض ہے یانہیں
اہل اسلام کو یہ جائز ہے یانہیں کہ خلیفہ کے مقابلے میں کفار نصاری کی مالی امداد کریں
(۵)مسلمانوں پریہ حرام ہے کہ یانہیں کہ حکومت نصاری کی فوج میں ملازم ہوکر اپنے برادران اسلام سے مقابلہ مقاتلہ کریں۔
(۶)شرعا ان لوگوں کے واسطے کیا سزا مقررہے جو مخالف اسلام لشکر کے ساتھ شریك ہوکر عمدا مسلمانوں کو قتل کریں۔
(۷)نصاری کی وہ ملازمتیں جن میں خلاف شرع فیصلے کرنے پرتے ہیں(مثلا ڈپٹی کلکٹر ی وغیرہ)جائز ہیں یا نہیںارشاد باری عزاسمہ:
" ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الکفرون ﴿۴۴﴾
" ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الظلمون ﴿۴۵﴾
" ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہم الفسقون ﴿۴۷﴾" اور جوکوئی اﷲ تعالی کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی لوگ کافر ہیںاور جوکوئی اﷲ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیںاور جو اﷲ کے اتارے ہوئے کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی لوگ نافرمان ہیں۔(ت)
کے کیا معنی ہیں:
(۸)یونہی انریری مجسٹریٹی جس میں قانون کی پابندی لازم ہے اگر چہ وہ خلاف شریعت ہوجائز ہے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵/۴۴€
القرآن الکریم ∞۵/۴۵€
القرآن الکریم ∞۵ /۴۷€
#5949 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
یاحرام اوربموجب فرمان الہی:
" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" گناہ اور زیادتی میں ایك دوسرے کی مدد نہ کرو۔(ت)
مسلمانوں پر اس کا ترك واجب ہے یانہیں
(۹)نصاری سے موالات جائز ہے یانہیں یونہی ان کی تعظیم درست ہے یانہیں
(۱۰)یہاں مذہبی منافرت میں نصاری کاحکم ہنود سے سخت ہے یانہیں
(۱۱)بڑے دن میں نصاری کو ڈالی دینا حرام ہے یانہیں
(۱۲)کسی نصرانی حاکم یا شہزادے کے جلوس میں شرکت کیسی ہے ایسے شخص پرجو اس جلوس میں شریك ہو لزوم کفر وتجدید اسلام وتجدید نکاح کا حکم ہے یانہیں
(۱۳)نصاری سے ترك معاملت بیع وشراء وغیرہ جائز ہے یانہیں
(۱۴)مشرکین سے اس طور پر مددلینا کہ کوئی بات خلاف شرع لازم نہ آتی ہوجائز ہے یاناجائز
(۱۵)مسلمانوں کو علی گڑھ کالج کی امداد حرام ہے یاکیا
(۱۶)لڑکوں کو اس میں پڑھنا اور پڑھوانا درست ہے یانہیں
(۱۷)اس کی ملازمت کیسی ہے
(۱۸)جزیرۃ العرب خصوصا مکہ معظمہ ومدینہ منورہ بالخصوص حرم شریف کے اند رمشرکین ویہود ونصاری کے
داخل ہونے کی ممانعت ہے یانہیں
(۱۹)جو شخص قصدا ان کو حرمین محترمین کے اندر داخل کرے اور اس کا باعث ہو اس کے لئے کیا حکم ہے
(۲۰)بلاداسلامیہ ومقامات متبرکہ اور مساجد خصوصا مسجد اقصی کا قبضہ ہوجانے یا بیحرمتی ہونے کی حالت
میں مسلمانوں پر جلسے کرنا ریزولیوشن پاس کرنا وغیرہ فرض ہے یانہیں
الجواب:
(۱)ترك اور تو نے کیا جانا کیا ترک۔صدہا سائل سے حامیان دین متین اور حافظان بیضہ دین خادمان حرمین محترمین اور مالأان قلب وعین ان کے اخیار نہ خلفاء کہ بیسوں خلفاء کہلانے والوں سے افضل واعلی خیرخواہی ونصیحت اور بقدر قدرت اعانت کی فرضیت لفظ خلافت پر موقوف جاننا جہالت
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۵ /۲€
#5950 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
اور اس کے لئے محض بلاوجہ احادیث متواترہ واجماع صحابہ واجماع تابعین واجماع ائمہ دین وعقیدہا جملہ اہلسنت وجماعت کارد کرنا اور خارجیوں معتزلیوں کا دامن پکڑنا ضلالت۔
(۲)یہ سوال اول پر متفرع تھا۔
(۳)جو جس قدر پر قادرہو شرع اسی قدر کا اسے حکم فرماتی ہے اس سے آگے بڑھانا شرع پر زیادت اور اﷲ پر افترا اور
مسلمانوں کی بدخواہی ہے۔
(۴)لفظ خلیفہ سائل نے حماقۃ بڑھایا کیا سلطنت اسلام کی بدخواہی میں حرج نہیں رسیدیں دیں مدد یں دیں چندے دئےطبی وفدکا سامان کہ جنگ بلقان میں مسلمانوں نے ترك کے لئے خریدا تھا گورنمنٹ کو دے دے جو بمقابلہ ترك استعمال میں آیا۔
(۵)مسلمان بادشاہ کی فوج میں بھی نوکر ہو کر خواہ بے نوکری مسلمانوں سے مقاتلہ کسی حال میں جائز نہیں مگر باغیوں خارجیوں وامثالہم سے تواہل خلافت کمیٹی جن کا مقولہ ہے کہ ہم ہندی قوم پرست ہیں ہمارا فرض ہے کہ ترکی بھی ہندوستان پر چڑھائی کرے توہم اس کے خلاف تلواریں اٹھائیںخلافت کمیٹی کے طور پر بھی کافر وخارج از اسلام ہیں۔
(۶)اس کا جواب جواب سابق سے واضح ہے۔سب جانتے ہیں کہ عمدا قتل ناحق مسلم اشد کبائر سے ہے اگر چہ لشکر مسلمین کے ساتھ ہو اس کی سزا اگر پارٹی دے سکتی ہے تو پہلے اپنے لیڈروں کو دے جن کا قول مذکور ہوا۔
(۷)شرع مطہر کا حکم عام ہے اسلامی ریاست خواہ اسلامی سلطنت کی بھی وہ ملازمت جس میں خلاف شرع حکم کرنا ہوجائز نہیںقصدا خلاف شریعت حکم کرنا اگر براہ عنادیا استحسان یا استحلال مخالفت یا استخفاف حکم شریعت ہو کفر ہے ورنہ ظلم وفسق اور یہ کچھ ملازمت ہی پر موقوف نہیںنہ مقدمات سے خاص ویسے ہی جو شخص خلاف ماانزل اﷲ حکم کرے گا انھیں صورتوں پر کافرظالمفاسق ہے جیسے یہ لوگ کہ ہندؤوں سے اتحاد منارہے ہیںان سے استمداد کررہے ہیں ان سے بھائی چارہ گانٹھ رہے ہیں انھیں رہنما اور آپ ان کے پس روبن رہے ہیں معاملہ دینی میں ان کی اطاعت کررہے ہیں جو وہ کہتے ہیں وہی مانتے ہیں انھیں مسجدوں میں لیجا کر مسلمانوں کا واعظ بناتے ہیں ان کی خاطر شعار اسلام بند کرتے ہیں ان کے معاہد وحلیف بنتے ہیں انھیں اپنا خیرخواہ سمجھتے ہیں وغیرہ وغیرہ کہ تمام لیڈر بننے والے ان میں مبتلا ہیں اور انھیں باتوں کا عوام کو حکم دیتے ہیں سب انھیں آیات کفرونظلمونفسقون کے تحت میں داخل ہےکہ یہ سب باتیں خلاف ماانزل اﷲ ہیں۔
#5951 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
(۸)اس کا جواب جواب سابق سے واضح۔
(۹)موالات کسی غیر مسلم بلکہ کسی غیر سنی سے جائز نہیںمجرد دنیوی معاملات سوائے مرتد سب جائز ہے ہنود وہابیہ ودیوبندیہ سے جو موالاتیں خلافت کمیٹی والے کر رہے ہیں وہ سخت حرام وتباہی دین وموجب لعنت رب العالمین ہےکتابیوں سے بد تر مجوس ہیںمجوس سے بدتر مشرکین ہےںجیسے ہنود مشرکین سے بد تر مرتدین ہےں جیسے وہابیہ خصوصا دیوبندیہ سائلوں کی وہ پارٹی ہنود وہابیہ کی کیا کیا تعظیمیں کررہی ہے جو حسب روشن تصریحات فقہائے کرام کفر ہے۔کیا پارٹی زیر حکم شریعت نہیں یا مسئلہ تعظیم کفار سے ہنود وہابیدیوبندی مستثنی ہیںہر گز نہیںہاں صورت ضرورت سلطنت مستثنی ہےکما یفیدہ مافی المدارك والمفاتیح وغیرھما(جیسا کہ مدارك اور تفسیرکبیر وغیرہ میں اس کا افادہ پیش فرمایا۔ت)خود قرآن عظیم اس استثناء پر دال۔" واللہ یعلم المفسد من المصلح" (اور اﷲ تعالی فساد کرنے والے اصلاح کرنے والے کو جانتاہے۔ت)
(۱۰)مذہبی منافرت بحسب مراتب کفر وضلالت ہے۔ہنود مشرك بت پرست ہیں اور شرك بدترین اصناف کفر سے ہے۔تو ہنود ہی سے مذہبی منافرت اشد وآکد ہے۔اور ہنود سے بھی سخت تر منافت کے مستحق وہابیہ دیوبندیہ ہیں کہ مرتدین ہیں لیکن ہندوؤں اور دیوبندیوں سے اتحاد منایا جارہاہےانھیں جگر کا پارا آنکھ کا تارا بنایا جارہا ہے۔اسلام واحد قہار کے حضورتمھارا شاکی ہے۔
(۱۱)بڑے دن کاحکم پارٹی کے جگری بھائیوں کی ہولی دوالی سے خفیف تر ہے اور ماتھوں پر ہندوؤں سے قشقے لگوانا سب سے سخت تر۔اگر ثابت ہوکہ یہ دن ولادت سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے تو بے شك شرع میں ہر نبی کا روز ولادت صاحب عظمت ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے وجوہ فضیلت روز جمعہ سے پہلی وجہ یہی ارشداد فرمائی کہ اس میں تخلیق سیدنا آدم علیہ الصلوۃ والسلام ہوئیصحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
خیر یوم طلعت علیہ الشمس یوم الجمعۃ فیہ خلق ادم حدیث سب سے بہتر دن کہ جس پر سورج طلوع ہوا ہو روز جمعہ ہے۔اس میں حضرت آدم(علیہ الصلوۃ والسلام)پیدا کئے گئے۔الحدیث(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲ /۲۲۰€
صحیح مسلم کتاب الجمعۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۸۲€
#5952 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
ابن ماجہ نے ابولبابہ ابن عبدالمنذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان یوم الجمعۃ سید الایام واعظمہا عند اﷲ تعالی فیہ خمس خصال خلق اﷲ فیہ ادم ۔ یقینا روز جمعہ تمام دنوں کا سردار ہے اور اﷲ تعالی کے نزدیك ان سب سے عظیم تر ہے۔اس میں پانچ خصلتیں ہیں۔ایك یہ کہ اس میں اﷲ تعالی نے حضرت آدم کو پیدا فرمایا۔(ت)
اگر کوئی اس نکتے سے غافل ہو کر(جس سے آج بڑے بڑے لیڈر بننے والے اور تمام عوام غافل ہیں کہ شرع مطہر میں تاریخ قمری معتبر ہے نہ کہ شمسیعلماء نے فرمایا اپنے معاملات میں بھی مسلمانوں کو اس کے اعتبار کی اجازت نہیں۔
قال اﷲ تعالی " ان عدۃ الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتب اللہ یوم خلق السموت والارض منہا اربعۃ حرم ذلک الدین القیم ۬" ۔) اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:یقینا مہینوں کا شمار اﷲ تعالی کے نزدیك بارہ مہینے ہیں نو شتہ الہی میںجب سے اس نے آسمان اور زمین پیدا فرمائےان میں چار عزت وحرمت رکھتے ہیں اوریہی ٹھیك دین ہے۔(ت)
اسے روز ولادت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام جان کر بہ نیت تعظیم نبوت نہ کہ بہ نیت تشبہ نصاری تعظیم کرےوہ ہر گز ہولی دوالی کی تعظیم مثل نہیں ہوسکتا کہ وہ اسی غفلت نکتہ کے باعث غلطی ہوئیاور یہ کفر ہے تنویر الابصار میں ہے:
الاعطاء باسم النیروز والمہر جان لایجوز وان قصد تعظیمہ یکفرو ۔ نیزور اور مہرجان کے نام پر کچھ دینا جائز نہیںاگر ان کی تعظیم کا ارادہ کرے تو کافر ہوجائے گا۔(ت)
پھر ڈالی والوں کی نیت بوجہ سلطنت خوشامدہوتی ہے جس میں کسی نہ کسی وجہ پر عوام کو ابتلاء ہے اور خود لیڈر بننے والوں کو اب تك یاآج سے پہلے کل تك تھا بلکہ غناء کے سبب خوشامد مسلمان امراء کے ساتھ
حوالہ / References سنن ابن ماجہ ابواب اقامۃ الصلٰوۃ والسنۃ فیہا باب فی فضل الجمعۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۷€
القرآن الکریم ∞۹ /۳۶€
درمختار شرح تنویر الابصار مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵۰€
#5953 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
کب روا ہے
من تواضع لغنی لاجل غناہ ذھب ثلث دینہ ۔ جس نے کسی مالدار کی اس کے سرمایہ دار ہونے کی وجہ سے عزت وتواضع کی اس کا دو حصے دین ضائع ہوگیا۔(ت)
اس سے بچتے ہیں تووہی بچتے ہیں جن کو اﷲ عزوجل نے نعمت زہد وقناعت ومجانبت امراء عطا فرمائی ہے " قلیل ما ہم " (اور وہ بچنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ت)
یوں بھی تحائف ہوولی ودوالی ناجائز تر ہیں کہ بلاوجہ کفار کی طرف میل ہیں خصوصا جب اس اتحاد ملعون کے سبب ہوں جس کی آگ نے آج مشتعل ہوکر ان لوگوں کا دین یکسر پھونك دیا۔
(۱۲)عجب کی وہ پارٹی جسے عمر بھر ایسی ہی باتوں اور ان سے زائد میں ابتلا رہاا ور ہنود کے ساتھ بہت اخبث واخنع ہیں اب علانیہ مبتلا ہے ایسے سوال ان بندگان خدا سے کرے جن کو ہمیشہ تلوث دنیا سے بکرمہ تعالی محفوظ رکھا ایسے افعال اگر بضرورت صحیحہ ہوں محذور نہیں اورخوشامد سلطنت کے لئے ہوں جب بھی شرکت کفر نہیں کہ لزوم کفر ہوآگے حکم وفرق اسی طرح ہیں جو ابھی گزرے خوشامد سلطنت نہ اضطرار ہے نہ مفید دین ٹھہرا کر خالص طیب قلب سے استحسان واختیار بخلاف پر ستش جلوس گاندھی وغیرہ مشرکین کہ اس اتحاد ملعون کی بنا پر ہے جسے بہبود دین بنا کر غایت درجہ استحسان میں بتایا جاتاہے تو وہ ضرور شرکت کفر ہے۔اور اس پر لزوم کفر اور تجدید ایمان ونکاح کاحکمہاں جسے نہ یہ اتحاد منظور تھا نہ تعظیم شرك مقصود محض بطور تماشاجلوس گاندھی میں شریك ہوا اس پر بھی لزوم کفر نہیںالبتہ اتنا کہا گیا اوریہ ضرور حق ہے کہ حرام فعل کا تماشا دیکھنابھی حرام ہے۔
(۱۳)معاملات مجردہ مثل بیع وشرائے اشیاء مباحہ شرع نے کسی خاص قوم سے واجب کئے نہ حراممباح کا فعل وترك یکساں ہے جب تك خارج سے کوئی وجہ داعی یا مانع نہ پید اہو مگر کسی امر مباح کو شرعا فرض ٹھہرا لینا جائز جیسا پارٹی والے کررہے ہیں یہ قطعا حرام اور شریعت مطہرہ پر افتراء واتہام ہے
(۱۴)ان مشرکین سے دین میں مدد لینی ہی حرام ہے۔کوئی بات خلاف شرع لازم نہ آنا کیامعنیاس کی تفصیل المحجۃ المؤتمنہ میں ہے:
(۱۵ و ۱۶)کالج ہو یا مدرسہ اگر چہ کیسا ہی دینی کہلاتاہو اعتبار تعلیم کاہے اگر اس میں دین اسلام یا مذہب اہلسنت یاشریعت مطہرہ کے خلاف تعلیم دی جاتی تلقین کی جاتی ہے تواس کی امداد بھی حرام
حوالہ / References کشف الخفاء ∞حدیث ۲۴۴۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۲۱۵€
القرآن الکریم ∞۳۸ /۲۴€
#5954 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
اوراس میں پڑھنا پڑھوانا بھی حرامعلی گڑھ کالج زمانہ پیر نیچر میں ان باتوں کا معدن تھا اور اب اس کی حالت جہاں تك معلوم ہے عام کالجوں کی ہے مسلمانوں بچوں کو زندیق وبے دین بنانے کی خاص لگاتارجان توڑ کوشش جو پیر نیچر کو تھی ظاہرا اب اس میں اس کا جانشین کوئی نہیں۔ایك انگریزی کی تعلیم گاہ ہے جس میں حسابریاضیہندسہجبرو مقابلہ وغیرہ علوم جائزہ کے ساتھ سائنس وجغرافیہ بھی پڑھائے جاتے ہیں کہ بعض کفریات پر مشتمل ہیں جس طرح درس نظامی کے عام مدارشس میں فلسفہ قدیمہ پڑھاتے ہیں وہ کیا کفریات سے خالی ہے قدم زمانہ وقدم عقول وقدم افلاك وقدم انواع عناصر خالقیت عقول ومسئلۃ الواحد لای صدر عنہ الاالواحد(اوریہ مسئلہ ہے کہ سے صر ف ایك ہی صادرہوتاہے۔ت)فلاسفہ قدیم کا یہ خیال ہے)ونفی علم جزئیات وغیرہا کثیر کفریات کیا ا س میں نہیں پھر اگر پڑھانے والے پڑھائیں اور پوری کوشش سے اس کا رد طلبہ کے ذہن نشین نہ کریں تووہ سب نظامی مدارس علی گڑھ کالج ہی ہیں اور اگر علی گڑھ کالج کے معلم حرکت ارض وسکون شمس وغیرہا کفریات کا رد متعلمین کے ذہن نشین کریں تو وہ بھی ایك مدرسہ نظامیہ کے رنگ پر ہے۔ہاں اب خصوصیت کے ساتھ تمام ہندوستان میں تعلیم کفر وتلقین ارتداد و سلب ایمان کا مرکز مدرسہ دیوبند ہے جو کمیٹی کے شیخ الہند اور بہت جو شیلے لیڈروں کا مرجع وماوی ہے یونہی دہلیسہارن پورمیرٹھبریلی وغیرہا کے مدرسے جو اسی مدرسہ دیوبند کی فاسد شاخیں ہیں ان سب میں امداد قطعا حرام اور پڑھنا پڑھانا حرام قاطع اسلاماب علی گڑھ کے متعدد پڑھے ہوئے مسلمان پائے لیکن دیوبند اور اس کی شاخوں کا رنگ جس پر چڑھا وہ اﷲ ورسول کو گالیاں دینے والا مرتد ہی نظر پڑا۔
(۱۷)کالج ہویا مدرسہ جس کی ملازمت اعانت کفر یا ضلال یا حرام کے لئے ہو باختلاف احوال کفر یا ضلال یاحرام ہےاور جو ملازمت اس سے پاك ہو اس میں حرج نہیںاور اگر کوئی عالم خدا شناس خدا ترسسنی المذہبحامی دینایسی جگہ تعلیم کی ملازمت اس نیت سے کرے کہ کفریات سے طلبہ کو بچاؤں گا ان کا ر د ذہن نشین کروں گا گمراہی کی طر ف نہ جانے دوں گااور ایسا ہی کرے تو اس کے لئے اجر عظیم ہے۔وہ بازار میں ذاکر کے مثل ہے کہ اموات میں زندہ ہے نہیں نہیں بلکہ جو موت کے منہ میں ہیں انھیں زندگی کی طرف لانے والا۔
(۱۸ و ۱۹)حرم شریف سے سائلوں کی مراد مسجد الحرام شریف ہے ورنہ مکہ معظمہ ومدینہ منورہ خود حرم ہیں بلکہ ان کے گردوپیش کے جنگل بھیمسجد الحرام شریف نہ صرف مسجد الحرامکسی مسجد میں کسی کافر حربی کالے جانا مطلقا ناجائزہے خصوصا یہ ظلم جو اہل پارٹی نے متعدد مساجد کے ساتھ برتا کہ ان میں مشرکین کو بطور استعلاء لے گئے اورانھیں واعظ مسلمین بناکر مسلمانوں سے اونچا کھڑا کیا اور مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ
#5955 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
وسلم کے مسند پر جلوہ دیایہ خاص وحی شیطان ومخالف دین وایمان ہوا پھر اسکی حلت پر زور دینا اور اغوائے مسلمین کے لئے اس کے جواز میں رسائل لکھنا صریح نیابت ابلیس اور اپنے باطنی کفر کی تلبیس ہے جزیرہ عرب شریف میں کفار کو ساکن ومتوطن کرنا ناجائز ہے مگر مدتوں سے سلاطین جہاں حدود و غیرہ احکام شرعیہ بدل دیئے اس حکم پر بھی عامل نہ رہے تجارت وغیرہا کے لئے نہ آمد ورفت ممنوع نہ اس کی اجازت مدفوع۔
(۲۰)جلسے اور ریزولیوشن اگر معاملہ مسجد کانپور میں کئے جاتے تو ضرور امید منفعت تھی جس کا بیان"ابانۃ المتواری"سے واضح ہے۔ملك اور وہ بھی اتنا وسیع اور وہ بھی مسلمانوں کا اور وہ بھی نصاری سے محض چیخ وپکار کی بناء پر واپس مل جانا کسی طرح قرین قیاس نہیںشرع مطہر مہمل بات فرض نہیں کرتیہندوستان یا ذرا سالکھنو ہی واپس لینے کے لئے لیڈر بننے والوں میں جن جن کے باپ دادا اہل علم تھے انھوں نے کتنے جلسے کئے کتنے ریزولیوشن پاس کئےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵: ازبھاگلپور مسئولہ عظمت حسین صاحب پیشکار سب جج ۷رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید ایك شخص پکا سنی ہے اور اس کےیہاں برادری کی قید ہے اور چند لوگ اس کی برادری کے پکے وہابی ہیںان وہابیوں کی چند عورات زید سنی کے یہاں آیا کرتی ہیں اور زید ان کی پوری خاطر مدارات کرتاہے اور پلاؤ قورمہ پکاکر کھلاتاہے مطابق فتوی حسام الحرمین کے زید سنی رہا یا وہابی ہوگیا آیا اسلام میں اس کے کسی قسم کا فرق آیا یانہیں دائرہ اسلام کے اندر رہا یا خارج ہوگیا بیان زید یہ ہے کہ ہم اس کے عقیدہ کو برا سمجھتے ہیں مگر بخیال رشتہ کے اس کی خاطر کرتے ہیں بینوا توجروا
الجواب:
اگر فی الواقع زید اس کے مذہب کو برا ا ور وہابیہ کو کافر جانتاہے تو وہ اس حرکت سے وہابی تو نہ ہوا مگر گنہ گار فاسق ضرور ہوااس پر توبہ لازم ہے اور آئندہ احتیاط فرضبرادری ہی کب رہی جب دین مختلف ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
یایہا الذین امنوا لاتتخذوا اباءکم و اخونکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمن ومن یتولہم منکم فاولئک ہم الظلمون ﴿۲۳﴾" اے ایمان والو! اپنے باپ بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی پکا ظالم ہوگا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۹ /۲۳€
#5956 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتصاحب الا مؤمنا ولایاکل طعامك الاتقیرواہ احمد وابوداؤد الترمذی وابن حبان والحاکم باسانید صحیحۃ عن ابن سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔واﷲ تعالی اعلم۔ رفاقت نہ کر مگر مسلمان سےاور تیرا کھانا نہ کھائے مگر پرہیز گار یعنی سنی(امام احمدابوداؤدجامع ترمذیابن حبان اور امام حاکم نے صحیح سندوں کے ساتھ حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کیاانھوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے روایت فرمائی۔واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۲۶ تا ۱۳۶:ازمہروناگھاٹ ڈاکخانہ قصبہ لار ضلع گور کھپور مسئولہ شیخ عباس وشیخ غوث علی و شیخ فضل حسین وشیخ رخت علی زمینداران ۲۲ رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام ذیل کے مسائل میںزید خیالات مندرجہ کی عام پر طور پر تبلیغ کرتاہے جواب بحوالہ نام کتاب و عبارت وصفحہ وسطر درکار ہے۔
(۱)مشرك وکفار کے جنازہ میں مشایعتکاندھا دینا اہل اسلام کے لئے نہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہے۔
(۲)مساجد وعیدگاہ میں جلسہ وسبھا کرتاہے اور تمام بت پرست بلاروك ٹوك آتے جاتے ہیں جس میں صدر جلسہ وسبھابت پرست مشرك ہوتاہے عیدگاہ میں اس مشرك صدر کے لئے کرسی بچھائی جاتی ہے وہ اس پر بیٹھتاہے اور نام کے اہل اسلام زمین پر ہوتے ہیں ستر عورت مشرکین کا عام طور پر کھلاہوتاہے جلسہ میں عام پر طور پر تالیاں بجتی اور مشرکین کے جے کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔
(۳)سوم بکرے کے گوشت کا نرخ چھ پیسے مقرر کیا ہے اس لئے کہ ارزاں دیکھ کر اہل السلام کھائیں اور گائے کے گوشت سے احتراز کریں اور کہتاہےکہ جو اس مقرر نرخ سے زائد دام لے یا زائد دام سے خریدے وہ سوئر بیچتاہے اور سوئر خریدتاہے۔اور جو نرخ مقرر سے زائد دام دے کر بکرے کا گوشت کھائے وہ سوئر کھاتاہے۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الادب با ب من یؤمر ان یجالس ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۸،€جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء فی صحبۃ المؤمن ∞امین کمپنی کراچی ۲ /۶۲€
#5957 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
(۴)شوالہ مندر میں جاکر لکچر دیتا ہے جس میں عالم اہل اسلام کو بھی شریك کرتاہے اور کہتاہے کہ جیسے مسلمانوں کا قرآن ایسا ہنود کا ویدہے مسلمانوں کوقرآن پر اور ہنودکو اپنے وید پرعمل کرنا چاہے
(۵)ہزار داڑھی بڑھاؤ ہزا ر مسجد بناؤ مسلمان نہیں کچھ ثواب نہیں جب تك ہنود کے ساتھ میل جول کرکے ساتھ ہوکر مالك کی بہبود میں سعی نہ کرو دیس بھگت نہ بنو۔
(۶)مسلمانوں کے امور فیصلہ کے لئے پنچایت مقرر کی ہے جس میں ہنود سر پنچ وپنچ میں ہر قسم کے فیصلہ جات شرعی کو بھی ان پنچوں سے کراتاہے۔بعض مواقع پر اہل اسلام نے کہا کہ ہم لوگ فلاں معاملہ کا فیصلہ بحسب شریعت چاہتے ہیں اس میں بھی دیگر اہل اسلام پنچ کے ساتھ ایك مشرك ہندو کو پنچ بناکر شریك فیصلہ کیا جب اہل اسلام نے اس پر اعتماد کیا کہ ہندو شرعی معاملہ میں کیسے پنچ ہوسکتاہے تو ناراض ہوکر اس ہندو کی خاطر سے بلا فیصلہ اٹھ گیا اور کہا کہ میں اس وقت تك شریك فیصلہ نہیں ہوسکتا جب تك ہندو کو بحیثیت پنچ شریك فیصلہ نہ کرو گے۔
(۷)لوگوں کو ترغیب وتحریص کرتاہے کہ ہندو بھائی کی خاطر سے گائے کا ذبح کرنا اس کا گوشت کھانا چوڑ دواور اگر کوئی چھپا کر دوسرے گاؤں سے گائے کا گوشت لاتاہے۔اس پر تشدد کیا جاتاہے۔
(۸)باجود یہ کہ ہر گاؤ ں میں قیام کر موقع مسجد کے علاوہ دوسرے مکان اہل اسلام پر آسانی سے ممکن ہے اور ہر اہل اسلام مکان پر قیام کو کہتا بھی ہے لیکن مسجد میں قیامبود وباش خوردونوش رکھتاہے اور ہر وقت مشرکین وعوام کا مجمع عام رہتاہے جس میں ہر قسم کا فیصلہ مسلم وغیر مسلم ہوتاہے۔
(۹)مسلمانوں سے محض دباؤ کے خیال سے ایك پرامیسری پرونوٹ ہر فیصلے سے پہلے رکھو الیتاہے کہ بعد فیصلہ اگر فیصلے سے انکار کرو گے تو یہ پرونوٹ کا روپیہ تم سے وصول کرلیاجائے گا یا نقد روپیہ جمع کراتاہے اور اگر فیصلہ پنچی سے انکار کرو گے تو یہ روپیہ سوخت ہوجائے گاجس خیال کی تبلیغ کرتاہے اس پر وہ ترك صلوۃ وارتکاب منہیات پر جرمانہ ایك مقدار میں وصول کرتاہے۔
(۱۰)فیصلہ معاملات کے لئے جو لوگ درخواست پنچایت میں دیتے ہیں ان میں سے عہ ۴/ یا کم سے کم ۵/ رسوم وصول کیا جاتاہے۔
(۱۱)اہل ہنود سے بلا کسی معاوضہ کے بناء مسجد کے لئے زمین لی ہے اور اس کی تعمیر میں بھی ان سے ہر قسم کی مدد لیتاہے۔
الجواب:
(۱)زید شریعت مطہر پر افتراء کرتاہے جلد بتائے کہ کہاں شریعت نے مشرك وکافر کے جنازے
#5958 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
کو کندھا دینا اور مشایعت کرنا ضروری بتایا ہے ورنہ کریمہ:
" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾
" (لوگو! جو کچھ تمھاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں اس کے متعلق یہ نہ کہا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ تم اﷲ تعالی پر جھو ٹ باندھو بیشك جو لوگ اﷲ تعالی کے ذمے جھوٹ لگاتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔(ت)
میں داخل ہونے کا اقرار کرےحدیث میں تو روافض کے لئے فرمایا:وذا ماتوا فلا تشہدوھم (اور جب وہ مرجائیں تو ان کی نماز جنازہ میں حاضر نہ ہوں۔ت)نہ کہ کفار اگر اس کا حکم ہوتارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ضرور جنازہ ابوطالب کی مشایعت فرماتے۔
(۲)یہ تعظیم مشرك ہے اور تعظیم مشرك کفرہے۔ ظہیریہ واشباہ ودرمختار میں ہے:تبجیل الکافر کفر (کافر کی تعطیم کفر ہے۔(ت)مشرك کا اس طرح مسجد میں لے جانا بلا شبہ حرام ہے۔المحجۃ المؤتمنہ میں اس کی تفصیل تام ہے۔اور مساجد وعیدگاہ میں ا یسے جلسے اور سبھائیں حرام ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ان المساجد لم تبن لھذا (مسجدیں اس لئے تعمیرنہیں ہوئیں۔ت)مشرك کی جے پکارنا مشرك کا کام ہے رب عزوجل اس پر غضب فرماتاہے اور عرش الہی ہل جاتاہے کما فی الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(جیسا کہ حدیث پاك میں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے۔ت)
(۳)یہ اس کے منہ کا سوئر ہےمسلمانوں پر اس کا کیا اثر ہے۔وہ اس شریعت پرافتراگر ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لاتسعرو (لوگو! قیمتیں مقرر نہ کرو۔ت) بلکہ اگر بیچنے والے اس کے جبر سے اتنا ارزاں بیچیں تو خریدنا اور کھانا حرام ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۶ /۱۱۶€
کنز العمال ∞حدیث ۳۲۵۴۲€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۱ /۵۴۲،€تہذیب تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ حسین بن الولید السمین النیسابوری داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۶۹€
درمختار کتاب الحظر و الاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱€
سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ باب فی کراھیۃ انشادالضالۃ فی المسجد ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۶€۸
شعب الایمان ∞حدیث ۴۸۸۶€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۴ /۲۳۰€
کشف الخفاء ∞حدیث ۳۰۱۴€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲ /۳۲۱€
#5959 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
" الا ان تکون تجرۃ عن تراض منکم " مگریہ کہ تجارت تمھاری آپس کی رضامندی سے ہو۔(ت)
(۴)مندر ماوائے شیاطین ہے۔اس میں مسلمانوں کو جانا منع ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
فی التتارخانیۃ یکرہ للمسلم الدخول فی البیعۃ و الکنیسۃ حیث انہ مجمع الشیاطین قال فی البحر الظاھر انہا تحریمۃ لانہا المرادۃ عند اطلاقہم اھ فاذا حرم الدخول فالصلوۃ اولی ۔ فتاوی تاتارخانیہ میں ہے کسی مسلمانوں کو یہودیوں عیسائیوں کے گرجوں میں جانا مکروہ ہے اس لئے کہ وہ شیطانوں کے جمع ہونے کے مکانات ہیںبحرالرائق میں فرمایا ظاہر یہ ہے کہ یہاں کراہت سے کراہۃ تحریمی مرا دہے کیونکہ اطلاق کے وقت یہی مراد ہواکرتی ہے اھ جب وہاں جانا حرام ہے تو پھر نماز پڑھنا بدرجہ اولی حرام ہے۔(ت)
جب اس میں یونہی جاناحرام ہے جن مقاصد فاسد کے لئے زید سا شخص لے جاتاہو ان کا کا ذکرقرآن عظیم کو مثل وید بتانا کفر ہے۔اور ہندوؤں کے وید پر عمل کاحکم کفر کفر ہےاور حکم کفر کفرہے۔
عام کتب میں ہے:الرضا بالکفر کفر (کفر پر راضی ہونا کفر ہے۔ت)
(۵)مشرکین ہند سے میل جول حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی " ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:ظالموں کی طرف مت جھکو ورنہ تمھیں آگ چھوئے گی۔(ت)
حرام کو مدار اسلام بنانا کفر ہے۔والتفصیل فی المحجۃ المؤتمنۃ(اور تفصیل المحجۃ المؤتمنہ میں ہے۔ت)
(۶)یہ حرام ہے اور بحکم قرآن سخت ضلالت وبے دینی۔
قال اﷲ تعالی " یریدون ان یتحاکموا الی الطغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یضلہم ضللابـعیدا ﴿۶۰﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:وہ چاہتے ہیں کہ شیطان کے پاس اپنا فیصلہ لے جائیں حالانکہ انھیں حکم دیا گیا کہ اس کا انکار کریں حالانکہ شیطان چاہتاہے کہ ان کو دور کی گمراہی میں بہکا دے۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴ /۲۹€
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/۲۵۴€
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحًا وکنایۃً مصطفی البابی ∞مصر ص۱۷۷€
القرآن الکریم ∞۱۱ /۱۱۳€
القرآن الکریم ∞۴ /۶۰€
#5960 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
(۷)یہ حرام ہے۔بدخواہی اسلام ہے۔مشرك کی خوشی کو شعار اسلام کابندکرنا حرام ہے۔مسلمان پر اس کے جائز فعل کے سبب تشدد کرنا ظلم صریح اور شیطان کا کام ہے۔خود ان کے بڑے لیڈر مولوی عبدالباری صاحب نے اپنے رسالہ''قربانی گاؤ'' میں تصریح کردی ہے کہ ہنودکی خاطر یا مروت کے لئے گاؤ کشی چھوڑنا حرام ہے۔والتفصیل فی الطارئ الداری(اور پوری تفصیل رسالہ مذکورہ الطاری الداری میں ہے۔ت)۔
(۸)مسجد میں سکونت وخوردونوش سوائے معتکف کسی کو جائز نہیںفتاوی سراجیہ میں ہے:
یکرہ النوم والأکل فیہ لغیر المعتکف ۔ معتکف کے علاوہ کسی کو مسجد میں سوناکھانا پینا مکروہ ہے۔(ت)
اور مشرکین کا مجمع توہن مسجد ہے۔وانظر المحجۃ المؤتمنۃ(اور تفصیل المحجۃ المؤتمنہ میں دیکھئے۔ت)
(۹)وہ نوٹ لکھوانا یا روپیہ جمع کراکر ضبط کرنا یا گناہ پر مالی جرمانہ ڈالنا یہ سب حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)اپنے مال آپس میں ناجائز طور پر مت نہ کھاؤ۔(ت)
مالی جرمانہ منسوخ ہوگیا اور منسوخ پر عمل حرام ہے۔
(۱۰)یہ سنت نصاری اور شرعا حرام ورشوت ہے اور رشوت لینے دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الراشی والمرتشی کلاھما فی النار ۔ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں دوزخی ہیں۔(ت)
(۱۱)کافر کی زمین پر مسجد تعمیر نہیں ہوسکتینہ وہ مسجد مسجد ہوگینہ مسجد وقف ہوگی۔
قال ا ﷲ تعالی " و ان المسجد للہ" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:مسجدیں اﷲ تعالی کی ہیں۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی سراجیہ کتا ب الکراھیۃ باب المسجد ∞نولکشور لکھنؤ ص۷۱€
القرآن الکریم ∞۲ /۱۸۸€
کنز العمال ∞حدیث ۱۵۰۷۷€ مؤسستہ الرسالہ بیروت ∞۶ /۱۱۳€
القرآن الکریم ∞۷۲ /۱۸€
#5961 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مسلمان اسے وقف نہیں کرسکتے کہ پرائی ملك ہے۔ردالمحتار میں ہے:
الواقف لابدان یکون مالکالہ وقت الوقف ملکاباتا ۔ کسی چیز کو وقف کرنے والے کےلیے ضروری ہے کہ وہ وقف کرتے وقت اس چیز کا مکمل طور پر مالك ہو۔(ت)
مسجد کے لئے کافر وقف نہیں کرسکتا کہ وہ ا س کا اہل نہیں۔
قال اﷲ تعالی " ماکان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:شرك کرنے والوں کو لائق نہیں کہ وہ اﷲ تعالی کے گھرو کی تعمیر کریں۔(ت)
ہاں اگر کافر کسی مسلمان کو اپنی زمین بیعا یا ہبۃ دے دیتا اور مسلمان کی ملك ہوجاتی وہ اپنی طرف سے وقف کرتا تو جائز تھا اور مشرك سے امو دینیہ میں مددلینی بھی جائز نہیںتفسیر ارشاد العقل وتفسیر فتوحات الہییہ زیر آیہ کریمہ
" لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء"اولیاء(مسلمانوں کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں۔ت)ہے:
نھوا عن موالاتہم وعن الاستعانۃ بہم فی الغزو و سائر الامور الدینیۃ ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ انھیں(مسلمانوں کو)کافروں کی دوستی سے روك دیا گیاا ور غزوات اور تمام دینی کاموں میں کافروں سے مددلینے کی ممانعت ہے۔اور اﷲ تعالی پاك اور برتر سب سے بڑا عالم ہے۔اور اس بڑی شان والے کا علم زیادہ کامل اور زیادہ پختہ ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۳۷: از پوکھریرا محلہ نور الحلیم شاہ شریف آباد مسئولہ اراکین انجمن نور الاسلام ۹ شعبان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس جلسہ میں وہابیندوینیچریدیوبندیہندو مقررلکچرارواعظ ہوں اور ان کا صدر دیوبندی وغیرہا یا بندو ہوا یسے جلسوں میں مسلمانان اہلسنت وجماعت
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۵۹€
القرآن الکریم ∞۹ /۱۷€
الفتوحات الٰہیہ ∞تحت آیۃ€ لایتخذ المومنون الخ ∞۳ /۲۸€ مصطفی البابی ∞مصر ۱ /۲۵۷€
#5962 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
کو شرعا شریك ہونا جائز ہے یانہیں اور جو مسلمان ایسے جلسوں میں شریك نہ ہو وہ خارج از اسلام ہے یا نہیں اس سے ترك موالات کرنا شرعا جائز ہے یانہیں
الجواب:
ایسے جلسوں میں شریك ہونا قطعا حرام اور سخت مضر اسلام ہے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس مت بیٹھ۔
اﷲ تعالی ان کے پاس بیٹھنے کو شیطانی کام بتاتاہے اور بھولے سے بیٹھ گیاہو تو یاد آنے پر فورا اٹھ آنے کا حکم فرماتاہے نہ کہ ان کا وعظ ولکچر سننارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۔ ان سےدور بھاگو انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردین کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔
نہ کہ انھیں مسند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بٹھاناانھیں صدر یا واعظ بنانے میں ان کی تعظیم و توقیر ہے۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من وقرصاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام ۔جس نے کسی بد مذہب کی توقیر کی بے شك اس نے دین اسلام ڈھا دینے پر مدد کی۔فتاوی ظہیریہ واشباہ والنظائر ومنح الغفار ودرمختار وغیرہا میں ہے: تبجیل الکافر کفر کافر کی تعظیم کفر ہے۔تو جو مسلمان ایسے جلسوں میں شریك نہ ہو وہ اﷲ ورسول جل وعلا و صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کاحکم مانتے ہیں اپنے اسلام کو دستبرد کفار ومرتدین وشیاطین سے بچاتے ہیںاس بناء پر جو ان کو خارج از اسلام بتاتا ہے خود خارج از اسلام ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:فقد باء بہا احد ھما جو کسی کو کافر کہے اگر وہ کافر
حوالہ / References ا لقرآن الکریم ∞۶ /۶۸€
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰€
شعب الایمان ∞حدیث ۹۴۶۴€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۷ /۶۱€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱€
صحیح البخاری کتاب الادب باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۰۱€
#5963 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
نہیں تو یہ کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہے جو ان سے اس بناء پر ترك موالات کرے وہ ابلیس سے موالات کرتاہے مسلمانوں کو اس سے ترك موالات چاہئے۔
قال اﷲ تعالی" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " ۔ والعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوئے گیاﷲ تعالی کی پناہ اور اﷲ تعالی سب کچھ اچھی جانتاہے(ت)
مسئلہ ۱۳۸: از بنارس محلہ مدنپورہ متصل دہتوریاپورہ مسئولہ محمدامین ومحمد سلیمان ۱۸ شعبان ۱۳۳۹ھ
شہربنارس میں جس میں تاریخ کو آپ کا اشتہار جماعت رضائےمصطفی کی طرف سے بابت نکاح کےجو آیا ہے اس پر مخالف لوگ اعتراض کررہے ہیں ہم لوگ بہت پریشان ہیں لہذا ہم نے دوسرے ہفتہ کو جو کاروبار بند کردیا ہے یہ مسئلہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ بند کرنے سے ہم کو کلمہ پڑھنے کے بعد نکاح دوبارہ کرنے کی ضرورت ہوگیاور ہم لوگوں کو خلافت کمیٹی سے حکم ہوا تھا کہ تم لوگ ہڑتال کردو یعنی اپنا کاروبار بند کردو جس میں سے کچھ لوگ مسجد میں دعا کرنے کے لئے گئے اور کچھ لوگ فضول ادھر ادھر گھومتے رہےلہذاہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے موقع پر جو لوگ دعامانگنے کے لئے گئے تو ان کے واسطے کیا مسئلہ ہے اور جولوگ کہ فضول گھومتے رہے ان کے لئے کیا مسئلہ ہے۔مگر خاص کہ ہڑتال کی وجہ سے بند تھا بالکل کاروبارمہربانی فرماکر جواب سے جلد مشرف فرمایا جائے۔
الجواب:
مخالفوں کے اعتراض کی پرواہ نہ کیجئےوہ تو قرآن وحدیث کو پیٹھ دے کر مشرك کے پیرو ہولئے ہیںمشرك کو اپنا رہنما بنالیا ہے۔مشرك جوکہتاہے وہی مانتے ہیں حالانکہ مشرك کی اطاعت کو قرآن مجید نے حرام فرمایا ہے۔مشرکوں کا سوگ درکنار تین دن بعد مسلمان کا سوگ بھی صحیح حدیثوں نے حرام فرمایا ہے۔مشرکوں کے سوگ میں بازار بندکرنا مشرك کی تعظیم ہے۔اور کافر کی تعظیم کو فقہائے کرام نےکفر فرمایا ہے۔مشرکوں سے اتحاد حرام وکفر ہے۔مشرك کے حکم سے کاروبار بند کرنا حرام ہے۔ حرام کو حلال وخوب سمجھنا کفر ہےجن لوگون نے مفسدوں کے مجبور کرنے سے دفع فتنہ کے لئے دکان بند کی ان پر تجدید اسلام ونکاح کا حکم نہیں کہ وہ اس پر راضی نہ تھےہاں یہ الزام ہے کہ بلا مجبوری خلاف شرع بات کرنے میں مجبور بن گئے اگر کوئی دس روپے چھیننا چاہتاہے تویوں سہل مجبور بن جاتے ہیں اور جن لوگوں نے خوشی سے بند کئے وہ سخت کبیرہ گناہ کے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۱ /۱۱۳€
#5964 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مرتکب ہوئےپھر اگر مشرك کا سوگ منانا یا مشرك کاحکم اس کی فرمانبرداری کو ماننا منظور تھا تو بیشك ان پر لازم ہے کہ نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیںاس کے بعد اگر اپنی عورتیں رکھنا چاہیں تو ان سے دوبارہ نکاح کریںفضول گھومنا برا ہےاور دعا اگر اچھی ہے خوب ہے مگر مشرك کاحکم ماننے کو دعا کرنا روزہ رکھنا رسالت میں شرك ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۹: از راندیر ضلع سورت ڈاکخانہ خاص مسئولہ جناب مولانا مولوی فقیر غلام محی الدین صاحب ۲۷رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کسی ضروری امر کے لئے سورت گیا قریب مغرب ایك مسجد میں پہنچا امام نے گاندھوی خبثا کے لئے ہار بنائے تھےاقامت ہونے کے سبب امامت تو مصلی پرکھڑاہوگیایہ خبثا آئے تو اس شخص کو چند احباب نے گھیر کر کہا کہ یہ ہار پہنادوان احباب کے کہنے سے شخص مذکور نے ہار پہناکر اپنی جان چھڑائی اور بعد میں اس امام کے پیچھے امام بلکہ اس مسجد ہی میں نماز نہ پڑھیاس کے دل میں نہ امام کی عظمت نہ ان خبثا کی عزتلیکن مجبورا شرما شرمی ہار پہنائے ہیںاس میں کچھ گناہ ثابت ہوگایانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ ہار پہنانا عرفا تعظیم ہے اور یہ لوگ فساق وگمراہ ہیں بلکہ ان میں بعض فنافی المشرکین ہوکر اسلام سے بھی گزرگئےتعظیم فاسق ناجائز ہے۔ تبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمۃ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۔ چونکہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے جبکہ شریعت میں لوگوں پر اس کی توہین وتذلیل واجب ہے۔(ت)
اورتعظیم کافر کو علماء کرام نے کفر لکھاہے۔درمختاروغیرہ میں ہے:
لوسلم علی الذمی تبجیلا کفر لان تبجیل الکافر کفر ۔ اگر کافر کےاحترام میں اس کو سلام کیا تو کافر ہوگا کیونکہ کافر کا احترام کفر ہے۔(ت)
شخص مذکور نے اس امام کے پیچھے نماز نہ پڑھی بہت اچھا کیا مگر یہ ہار پہنانا اس سے بڑی خطا ہوئی تو بہ فرض ہے منکر کا حکم دینے والے احباب نہ تھے نہ احباب کی خاطر کوئی شرعی مجبوریہاں
حوالہ / References تبیین الحقائق باب الامامۃ والحدث فی الصلٰوۃ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۱/ ۱۳۴€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۱€
#5965 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
اکراہ کی حالت ہوتی تو معذوری تھیوھو تعالی اعلم(اور اﷲ سب سے زیادہ علم رکھتاہے۔ت)
مسئلہ ۱۴۰: از رامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راوالپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ۱۸ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
رئیس المحققین قاطع بیدین عمدۃ الامین دام لطفہ تسلیم کے بعد حضور انور کی خدمت اقدس میں غلامانہ عرض ہے کہ ایك مولوی صاحب نے ارشاد کیا ہے کہ جو شخص غیر مقلدین اورمرزائی کے ساتھ نشست برخاست کرے گا وہ کافر اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی حالانکہ نشست وبرخاست ان کے ساتھ برائے امور دنیا ہے قرابت یا کسی امر ضروری کے سبب سے ان کے شریك مجلس ہونا ضروری پڑتاہے ان کے افعال واقوال کو اچھا نہیں سمجھا جاتاہے تب بھی ان کی مجلس میں شرکت کفرہے۔اب جو حکم شرعی ہو بیان فرمائیں۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
وہابیہ وغیر مقلدین ودیوبندی ومرزائی وغیرہم فرقے آج کل سب کفار مرتدین ہں ان کے پاس نشست وبرخاست حرام ہے ان سے میل جول حرام ہے اگرچہ اپنا باپ یا بھائی بیٹے ہوں۔
قال اﷲ تعالی " و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
وقال تعالی
" لا تجد قوما یؤمنون باللہ و الیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ و لو کانوا اباءہم او ابناءہم او اخونہم او عشیرتہم " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھواور اﷲ تعالی نے فرمایا: تم لوگوں کو ایسا نہ پاؤ گےکہ جو اﷲ تعالی اور پچھلے دن پر ایمان رکھتے ہوں کہ وہ ان سے دوستی رکھیں کہ جنہوں نے اﷲ تعالی اور اس کے رسول کی مخالفت کیاگر چہ وہ ان کے باپ دادا یا انکے بھائی یا انکے قبیلہ کے لوگ ہوں۔(ت)
اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیںکما بیناہ فی المحجۃ المؤتمنہ(جیسا کہ ہم نے اسے اپنی کتاب المحجۃ المؤتمنہ میں بیان کردیا ہے۔ت)ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے پاس بیٹھتا ہے یا ان کے کفر میں شك رکھتاہے اور وہ ان کے اقوال سے مطلع ہے تو بلاشبہ خود کافر ہے۔فتاوی بزایہ ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا میں ہے:
حوالہ / References ا لقرآن الکریم ∞۶ /۶۸€
القرآن الکریم ∞۵۸ /۲۲€
#5966 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جس نے ان کے عذاب اور کفر میں شك کیا تو بلا شبہ وہ بھی کافر ہوگیا۔(ت)
اوراگر ان کو یقینا کافر جانتا ہے اور پھر ان سے میل جول رکھتا ہے تو اگر چہ اس قدر سے کافر نہ ہوگا مگر فاسق ضرور ہے اور اسے امام بنانا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی قریب بحرام کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجباور معاذاﷲ بالآخر اس پر اندیشہ کفر ہے۔امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ شرح الصدور میں فرماتے ہیں ایك شخص رافضیوں کے پاس بیٹھا کرتا تھا اس کے مرتے وقت لوگوں نے اسے کلمہ طیبہ کی تلقین کیاس نے کہا نہیں کہا جاتاپوچھا کیوں کہا یہ دو شخص کھڑے ہیں یہ کہتے ہیں تو ان کے پاس بیٹھا کرتا تھا جو ابوبکر و عمر(رضی اﷲ تعالی عنہما)کو برا کہتے تھے اب چاہتاہے کہ کلمہ پڑھ کر اٹھے نہ پڑھنے دیں گے ۔
جب صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما)کو برا کہنے والوں کے پاس بیٹھنے والوں کو یہ حالت ہے تو یہ لوگ تو اﷲ جل وعلا اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بر ا کہتے ہیں ان کی تنقیص شان کرتے ہیں انھیں طرح طرح کے عیب لگاتے ہیں ان کے پاس بیٹھنے والے کو کلمہ نصیب ہونا اور بھی دشوار ہے۔نسأل اﷲ العفوا والعافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت چاہتے ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۱ تا ۱۴۳: مسئولہ مولنا مولوی احمد مختار صاحب میرٹھی مورخہ ۸ شعبان المعظم ۱۳۳۸ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام(اے علماء کرام! آپ کا کیا ارشاد گرامی ہے۔ت)
(۱)مرزا غلام احمد قادیانی کو مجددمہدیمسیح موعود اور پیغمبر صاحب وحی والہام ماننے والے مسلم ہیں یا خارج از اسلام اور مرتد
(۲)بشکل ثانی اس کا نکاح کسی مسلمہ یا غیر مسلمہ یا ان کی ہم عقیدہ عورت سے شرعا درست ہے یانہیں
(۳)بصورت ثانیہ جن عورات کا نکاح ان لوگوں کے ساتھ منعقد کیا گیا ہے ان عورات کو اختیار حاصل ہے کہ بغیر طلاق لئے اور بلا عدت کسی مرد مسلم سے عقد نکاح کرلیںبینوا اجرکم اﷲ تعالی(بیان کرو اﷲ تعالی تمھیں اجر وثواب عطا فرمائے۔ت)
الجواب:
(۱)لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنے کا جو قائل ہو وہ تو مطلق کافر مرتد ہے۔ اگرچہ کسی ولی یا صحابی کے لئے مانے۔
حوالہ / References درمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۵۶€
شرح الصدور باب مایقول الانسان فی مرض الموت مصطفی البابی ∞مصر ص۱۶€
#5967 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
قال اﷲ تعالی " ولکن رسول اللہ و خاتم النبین " وقال صلی اﷲ علیہ وسلم انا خاتم النبیین لانبی بعدی ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:لیکن محمد کریم اﷲ تعالی کے رسول ہیں اور سب بنیوں سے آخر ہیںحضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:میں تمام انبیاء کرام سے آخر میں آیا لہذا میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(ت)
لیکن قادیانی تو ایسا مرتد ہے جس کی نسبت تمام علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ:
من شك فی کفرہ فقد کفر ۔ جس نے سا کے کفر میں شك کیا وہ بھی کافر ہوگیا۔(ت)
اسے معاذاﷲ مسیح موعود یا مہدی یا مجدد یا ایك ادنی درج کا مسلمان جاننا درکنار جو اس کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہو کر اس کے کافر ہونے میں ادنی شك کرے وہ خود کافر مرتد ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)قادیانی عقیدے والے یا قادیانی کو کافر مرتد نہ ماننے والے مرد خواہ عورت کانکاح اصلا قطعا ہر گز زنہار کسی مسلم کافر یا مرتد اس کے ہم عقیدہ یا مخالفت العقیدہ غرض تمام جہان میں انسان حیوان جن شیطان کسی سے نہیں ہوسکتا جس سے ہوگا زنائے خالص ہوگافتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز للمرتد ان یتزوج مرتدۃ ولا مسلمۃ ولاکافرۃ اصلیۃ وکذلك لایجوز نکاح المرتدۃ مع احد کذا فی المبسوط ۔ کسی مرتد مرد کے لئے جائز نہیں کو وہ کسی مرتد عورت سے یا کسی اصلی کافر عورت سے نکاح کرےاسی طرح کسی مرتد عورت کو بھی جائز نہیں کہ وہ کسی شخص سے نکاح کرے مبسوط میں یونہی ہے۔(ت)
اسی میں درباہ تصرفات مرتد ہے:
منہا ماھو باطل بالاتفاق نحوالنکاح لایجوز لہ ان یتزوجل امرأۃ مسلمۃ ولا مرتدۃ ولاذمیۃ ولاحرۃ مرتد آدمی کے بعض تصرفات بالاتفاق باطل ہیں جیسے نکاح کرنالہذا مرتد شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان عورت یا اپنے جیسی کسی مرتد عورت یا ذمی
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۳۳ /۴۰€
اللآلی المصنوعۃ کتاب المناقب دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۲۴۳،€الموضوعات لابن جوزی کتاب الفضائل باب ذکر انہ لانبی بعدہ دارالفکر بیروت ∞۱ /۲۸۰€
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب النکاح الباب لثالث القسم السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۸۲€
#5968 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
ولو مملوکۃ واﷲ تعالی اعلم۔ کافرہ عورت چاہے آزادہو یا لونڈی سے نکاح کرے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۳)جس مسلمان عورت کا غلطی یاجہالت سے کسی ایسے کے ساتھ نکاح باندھا گیا اس پر فرض فرض فرض ہے کہ فورا فورا فورا اس سے جدا ہوجائے کہ زنائے سے بچےاور طلاق کی کچھ حاجت نہیںبلکہ طلاق کا کوئی محل ہی نہیںطلاق تو جب ہوکہ نکاح ہوا ہونکاح ہی سرے سے نہ ہوانہ اصلا عدت کی ضرورت کہ زنائے کے لئے عدت نہیںبلا طلاق وبلا عدت جس مسلمان سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔درمختار میں ہے:
نکح کافر مسلمۃ فولدت منہ لایثبت النسب منہ ولا تجب العدۃ لانہ نکاح باطل ۔ کسی کافر نے کسی مسلمان عورت سے(اپنے خیال میں)نکاح کرلیا تو اس سے عورت نے بچہ جنا تو اس سے بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا۔اور نہ عورت پر عدت واجب ہوگیاس لئے کہ وہ ایك باطل نکاح ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای فالوطءفیہ زنا لایثبت بہ النسب ۔واﷲ تعالی اعلم۔ یہ وطی زنا قرار پائے گی اس سے بچے کا نسب ثابت نہ ہوگا واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۴۴: از لاہور مسجد بیگم شاہی مرسلہ مولوی احمد الدین صاحب یکم ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں اکثر واعظین لوگوں کوکابل ہجرت کرنے پر مجبور کررہے ہیں اس کے واسطے کیا حکم ہے
الجواب:
شریعت مجبور نہیں کرتیہندوستان میں بکثرت شعائر اسلام اب تك جاری ہیں تو ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك بدستور دارالاسلام ہے
مابقیت علقۃ من علائق الاسلام فان الاسلام یعلو و لا یعلو جب تك اسلام کے ذرائع میں سے کوئی ذریعہ اسلام موجود ہو تو وہ داراسلام ہے۔کیونکہ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۵۵€
درمختار کتاب الطلاق فصل فی ثبوت النسب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶۳€
ردالمحتار کتاب الطلاق فصل فی ثبوت النسب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۶۳۳€
#5969 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
کما فی جامع الفصولین والدرالمختار و جلائل الاسفار۔ اسلام ہمیشہ غالب ہوتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتاجیسا کہ جامع الفصولیندرمختار اور دوسری بڑی بڑی کتابوں میں(یہ مسئلہ)مذکور ہے۔(ت)
اور داراسلام سے ہجرت فرض نہیں۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاھجرۃ بعد الفتح ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:فتح کے بعد ہجرت جائز نہیں۔(ت)
اوریہ ہجرت جائز ہمیشہ تھی اوراب بھی ہے مگر عالم دین کو جس کے علم کی طرف یہاں کے لوگوں کو حاجت ہے اسے ہجرت ناجائز ہے۔ہجرت درکنار اسے سفر طویل کی اجازت نہیں دیتےحتی کہ بزازیہ وتنویر الابصار وغیرہا میں ہے:
فقیہ فی بلدۃ لیس فیہا غیرہ افقہ منہ یرید ان یغز و لیس لہ ذلك ولفظ الدر من صدر کتاب الجہاد وعمم فی البزازیۃ السفر ولایخفی ان المقید یفید غیرہ بالاولی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کسی شہر میں کوئی ایسا عالم ہو کہ اس سے بڑا اس شہر میں کوئی اور عالم نہ ہو اگر وہ جہاد پر جانا چاہے تویہ اس کے لئے مناسب نہیںیعنی وہ جہادکےلئے نہ جائےدرمختار کے کتاب الجہاد میں ہے کہ فتاوی بزازیہ میں سفر کو عام رکھاہے۔اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ سفرمقیدیہ فائدہ دیتاہے کہ سفیر غیر مقید میں بطریق اولی یہ حکم جاری ہے(اس کی وضاحت یہ ہے جب جہاد کے لئے جانا جائز نہیں تو پھر دوسرے کاموں کے لئے سفر کرنے کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے)واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۴۵ تا ۱۴۹: از حسن پور ضلع مراد آباد مسئولہ عبدالرحمن مدرس ۸ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)تمام علماء دیوبند قطعی کافر ہیں جو ان کو کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہیں۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الجہاد باب وجوب النفیر الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۹۷،€صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب المبایعۃ بعد الفتح ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۱،€المعجم الکبیر ∞حدیث ۳۳۹۰€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۳ /۲۷۳€
درمختار شرح تنویر الابصار کتا ب الجہاد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۳۹€
#5970 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
(۲)جو علمائے دیوبندیہ ظاہر کریں کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں جو منسوب کیا جاتاہے بلکہ ہم لوگ بھی ایسے عقائد رکھنے والے کو کافر سمجھتے ہیں تو اس حیلہ شرعی سے بریت ہوسکتی ہے یا نہیں۔علاوہ ازیں وہ تقویۃ الایمان وغیرہ کی عبارت کی تاویل کرکے ان کا اچھا مطلب نکالتے ہیںتو ایسے علماء کے متعلق شرع شریف میں کیاحکم ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اوریہ لوگ امکان کذب کے قائل ہیںاور اقرار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو امکان کذب کا قائل نہیں وہ کافر ہے۔تو ان کے لئے کیا حکم ہے اور ہم کو گزشتہ نمازیں جو ان کے پیچھے ادا کی گئی ہیں لوٹائی چاہئیں یا نہیں
(۳)جو اشخاص نہ عالم ہیں نہ دیوبند کے تعلیم یافتہنہ ان سے بیعت وعقیدت رکھتے ہیں محض اپنی لاعلمی عقائد کی وجہ سے ان کو کافر نہیں سمجھتے اور ان کے عقائد بھی ایسے بالکل نہیں ہیں جن پر تکفیر لازم آتی ہے تو ان کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے یا تنہا بہترہے۔اور جو امام مسجدوں کے اور حافظ ایسے ہیں کہ تقویۃ الایمان وغیرہ کو برا سمجھتے ہیں اور نہ ان کے عقائد باطلہ میں صرف علمائے دیوبند کو کافر نہیں سمجھے اور ان کے پیچھے نماز پڑتھے ہیں تو کیا ایسے لوگ بھی کافر ہیں اور قابل اقتداء نہیں۔
(۴)کیایہ حدیث ہے کہ کسی کافر کو بھی کافرنہیں کہنا چاہئے اور کیوں اور اگر کسی نے علمائے دیوبند یا او رکسی کافر کو کہا تو اس کے ذمہ کتنا گناہ ہوگا
(۵)مصنف تقویۃ الایمانصراط مستقیمتحذیر الناسحفظ الایمانیکروزی کے کون کون ہیں اور شرع شریف میں ان کے لئے کیا حکم ہے
مدلل ومفصل جواب حوالہ کتب مع مہر ودستخط فرمادیںخدائے عزوجل جزائے خیر عطا فرمائےآمین!
الجواب:
بیشك وہ سب کفار ہیں اور جو ان کے اقوال پر مطلع ہوکر انھیں کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہےعلمائے کرام حرمین طیبین نے بالاتفاق ان کی نسبت فرمایا ہے:
من شك فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۔
(۲)قال اﷲ تعالی" یحلفون جو ان کے کفر اور عذاب میں شك کرے وہ بھی کافر۔
اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:وہ اﷲ تعالی کی قسمیں
حوالہ / References حسام الحرمین علی منح الکفر والمین مقدمۃ الکتاب ∞مکتبہ بنویہ لاہور ص۱۳€
#5971 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
باللہ ما قالوا ولقد قالواکلمۃ الکفر وکفروا بعد اسلمہم " کھاتے ہیں کہ انھوں نے نہیں کہا اور بیشك وہ کفر کا بول بولے ا ور اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے۔
یہ حیلہ شرعی نہیں حیلہ شیطانی ہے اور اس سے برأت نہیں ہوسکتی وہ ملعون عقائد واقوال ان کی کتابوں میں موجود ہیں اور ان پر اب تك مصر ہیں ان کو بار بار چھاپ رہے ہیں تو وہ کا فقط ناواقف کے بہلادینےکو ہوتاہے اور جو واقف ہے مگر ذی علم نہیں اس کے سامنے یہ حیلہ ہوتاہے کہ ان عبارتوں کا یہ مطلب نہیںاور جو ذی علم ہے اس کے سامنے یہ ہوتاہے کہ رنگون پہنچے وہاں سے بھاگا کلکتے میں پیچھا کیا وہاں سے بھی اڑگیااہل علم کے سامنے یہ ہوتاہےکہ میں اس فن سے جاہل ہوں میرے اساتذہ بھی جاہل تھے تم مجھے معقول بھی کرد و تو میں وہی کہے جاؤں گاتقویۃ الایمان کو جو اچھا سمجھے یا امکان کذب ماننے والے کو کافر کہے ان سب پر ستر ستر اور زائد زائد وجوہ سے کفر لازم ہے۔جس کی تفصیل سبحن السبوح وکوکبۃ شہابیہ وکشف ضلال دیوبند شرح الاستمداد وغیرہا میں ہے اس کے پیچھے نماز باطل ہے اور جو پہلے پڑھیں ان کا پھیرنا فرض ہے اور نہ پھیرنا فسق۔
(۳)سائل صورت وہ فرض کرتاہے جو واقع نہ ہوگیدیوبندیوں کے عقائد کفر طشت ازبان ہوگئے منکر بننے والے اپنی جان چھڑانے کے لئے انکار کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں جو منکر ہو اس سے کہئے فتاوی موجود وشائع ہیں دیکھو کہ کافروں کا کفر معلوم ہو اور دھوکے سے بچے اور ان کے پیچھے نمازیں غارت نہ کرورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دشمنوں سے دشمنی فرض ہے اس فرض پر قائم ہوتو کہتے ہیں ہمیں کتابیں دیکھنے کی حاجت نہیںیہ ان کا کید ہے ان کے دل میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علہ وسلم کی عظمت ہوتی تو جن کی نسبت ایسی عام اشاعت سننے کہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا دشنام دہندہ ہے۔اس سے فورا خود ہی کنارہ کشی ہوتے اور آپ ہی اس کی تحقیق کو بیقرار ہوتےکیا کوئی کسی کو سننے کہ تیرے قتل کےلئے گھات میں بیٹھا ہے اعتبار نہ آئے تو چل تجھے دکھادیںوہ یوں ہی بے پروائی برتے گا اور کہے گا مجھے نہ تحقیقات کی ضرورت ہے نہ اس سے احتراز کی حاجت تو یہ لوگ ضرور مکار اور بباطن انھیں سے انفار یا دین سے محض بےعلاقہ و بیزار ہوتے ہیں ان کے پیچھے نماز سے احتراز فرض ہے۔ہاں اگر واقع میں کوئی نوارد یا نرا جاہل یا ناواقف ایسا ہو جس کے کان تك یہ اوازیں نہ گئیں او ربوجہ ناواقفی محض انھیں کافر نہ سمجھا وہ اس وقت تك معذور ہے جبکہ سمجھانے سے فورا قبول کرے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۹ /۷۴€
#5972 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
(۴)یہ حدیث پر کافر پرستوں کا افتراء ہے جس نے دیوبندیہ وغیرہم کفا ر کو کفار کہا اس پر کوئی گناہ نہیںاﷲ عزوجل نے کافر کو کافر کہنے کا حکم دیا " قل یایہا الکفرون ﴿۱﴾" (اے نبی! فرمادیجئے اے کافرو!)ہاں کافر ذمی کہ سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام ہو کر رہتا ہے اسے کافر کہہ کر پکارنا منع ہے اگر اسے ناگوار ہودرمختار میں ہے:
شتم مسلم ذمیا عزروفی القنیۃ قال لیہودی او مجوسی یاکافر یأثم ان شق علیہ ۔ کسی مسلمان نے کسی ذمی کافر کو گالی دی تو اس پر تعزیر جاری کی جائے گیقنیہ میں ہے:کسی یہودی یا آتش پرست کو"اے کافر"کہا توکہنے والا گنہگار ہوگا اگر اسے ناگوار گزرا۔(
ت)
یوں ہی گڑی سلطنت اسلام میں جبکہ کافر کو"او کافر"کہہ کر پکارنے میں مقدمہ چلتاہو۔
فانہ لایحل لمسلم ان یذل نفسہ الا بضرورۃ شرعیۃ۔ تو کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے مگر جبکہ کوئی شرعی مجبوری ہو۔(ت)
مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ کافر کو کافرنہ جانے یہ خود کفر ہے۔
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر ۔ جس نے ان کے عذاب اور کفرمیں شك کیا تو وہ بلاشبہ کافر ہوگیا۔(ت)
اسی طرح جب کسی کافر کی نسبت پوچھا جائے کہ وہ کیسا ہے اس وقت اس کا حکم واقعی بتانا واجب ہےحدیث میں ہے:
اترعون من ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکر و الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ۔ کیا تم بدکارکا ذکر کرنے سے گھبراتے اور خوف رکھتے ہو تو پھر لوگ اسے کب پہنچائیں گے لہذ وہ بدکار کا ان برائیوں سے ذکر کرو جو اس میں موجود ہیں تاکہ لوگ اس سے بچیں اور ہوشیار رہیں۔(ت)
یہ کافر کہنابطور دشنام نہیں ہوتا بلکہ حکم شرعی کا بیانشرع مطہر میں کافر ہر غیر مسلم کا نام ہے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۰۹/ ۱€
درمختار کتاب الحدود باب التعزیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۲۹€
درمختار کتاب الجہاد باب المرتد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶€
نوادار الاصول للترمذی الاصل السادس والستون والمائۃ دارصادر بیروت ∞ص۲۱۳€
#5973 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
قال اﷲ تعالی " ہو الذی خلقکم فمنکم کافر و منکم مؤمن " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اﷲ وہی ہے جس نے تمھیں پیدا فرمایا پھر کچھ تمھارے اند ر کافر ہیں اور کچھ تمھارے اندر مومن ہیں۔(ت)
سوال حکم کے وقت حکم کو چھپانا اگر یوں ہے کہ اسے یقینا کافر جانتاہے او راسے کافر کہنا معیوب نہیں جانتا مگر اپنی مصلحت کے سبب بچتاہے تو صرف گنہگار ہے جبکہ وہ مصلحت صحیحہ تاحد ضرورت شرعیہ نہ ہواور اگر واقعی کافر کوکافر کہنا معیوب وخلاف تہذیب جانتاہے تو قرآن عظیم کو عیب لگاتاہے اور قرآن عظیم کو عیب لگانا کفر ہے اور اسے کافر جانتاہی نہیں تو خود اس کے کافر ہونے میں کیا کلام ہےکہ اس نے کفر کو کفر نہ جانا تو ضرور کفر کو اسلام جانا لعدم الواسطہ کیونکہ کفر اوراسلام کے درمیان کوئی واسطہ نہیں)تواسلام کو کفر جانا
لان ماکان کفرا فضدہ الاسلام فاذا جعلہ اسلاما فقد جعل ضدہ کفرا لان الاسلام لایضادہ الا الکفر و العیاذ باﷲ تعالی۔ اس لئے کہ جو کچھ کفر ہو تو اس اس کی ضد اسلا م ہے۔پھر جب کفر کو اسالم ٹھہرایا تو پھر اس کی ضد کفر ہوگی(یعنی اسلام کفر اور کفر اسلام ہوجائے گا)کیونکہ اسلام کے مخالف صرف کفر ہے اور اﷲ تعالی کی پناہ(ت)
(۵)تقویۃ الایمان وصراط مستقیم ویکروزی کا مصنف اسمعیل دہلوی ہے اس پر صد ہا وجہ سے لزوم کفر ہے۔دیکھو"سبحن السبوح" و"کوکبہ شہابیہ"ومتن و"شرح الاستمداد"اور تحذیر الناس نانوتوی وبراہین قاطعہ گنگوہی وخفض الایمان تھانوی میں قطعی یقینی اﷲ ورسول کو گالیاں ہیں اور ان کے مصنفین مرتدین ان کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایاہے:
من شك فی کفرہ وعذاب فقد کفر ۔ جو ان کے کفروعذاب میں شك ہی کرے وہ بھی کافر ہے۔
دیکھو کتاب"مستطاب حسام الحرمین"واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۶۴ /۲€
حسام الحرمین علی منح الکفر والمین مقدمۃ الکتاب ∞مکتبہ نبویہ لاہور ص۱۳€
#5974 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مسئلہ ۱۵۰: از دفتر ریلوے انجنئیر سرسہ ضلع حصار مسئولہ سید محمد ابراہیم نقشہ نویس صاحب ۱۳ ذی القعدہ الحرام ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس شخص کے بارے میں جو حضرت غوث پاك کی توہین اور ان کے خاندان کی بے عزتی روبرو اہل اسلام علانیہ کرتاہے اوراس پر اصرار کرتاہے آیا ایسا شخص مومن ہے یا دائرہ اسلام سے خارج ہے ایسے شخص سے سلام یا کلام کرنا مسلمانوں کو چاہئے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
حضور سیدنا غوث الاعظم قطب اکرمجگر پارہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی توہین فی نفسہ زہر قاتل وموجب بربادی دین ودنیابہجہ مقددسہ میں ہے:
تکذیبکم لی سم قاتل لادیانکم وسبب لذھاب دنیاکم واخراکم ۔ تم لوگوں کا مجھے جھٹلانا زہر قاتل اور تمھاری دنیا اور آخرت کی تباہی وبربادی کا سبب ہے۔(ت)
اور یہاں نظریر واقع اس طرح توہین علانیہ کامرتکب ومصر نہ ہوگا مگر کٹر رافضی بغیض یاپکا وہابی خبیثاوریہ دونوں قطعا دائرہ اسلام سے خارج ہیں کما ھو مفصل فی حسام الحرمین و فتاوی الحرمین وردالرفضۃ(جیسا کہ مسائل مذکورہ کی پوری تفصیل حسام الحرمینفتاوی حرمین اور ردالرفضہ میں ہے۔ت)مسلمانوں کو ان سے میل جول رکھناسلام کرناپاس بیٹھنا پاس بٹھانا سب حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگرتمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو(ورنہ ان جیسے ہی ہوجاؤ گے)۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ (لوگو!)تم ان سے دور بھاگواور انھیں اپنے سے دور کرو کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں اور تمھیں کسی فتنے میں نہ ڈالدیںاور اﷲ تعالی سب سے زیادہ علم رکھتاہے۔(ت)
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکر کلمات اخبر بہا عن نفسہ محدثا بنعمۃ ربہ الخ مصطفی البابی ∞مصر ص۲۴€
القرآن الکریم ∞۶ /۶۸€
صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰€
#5975 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مسئلہ ۱۵۱: از بمبئی مرسلہ سید فیاض الدین بریلوی نواب مسجد لائن ۵۷ پوسٹ ۹ ۲۳ ذی القعدہ الحرام ۱۳۳۸ھ
الجواب:
انھوں نے اﷲ واحدقہارجل جلالہ اور اس کے رسول حبیب مختار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ایذا دی ابلیس لعین کے قدموں پر اس کی پیروی کی نام اسلام کو ذلیل کیا کفر وکفار کو فروغ دیا غضب الہی اپنے سر پرلیا اپنی ملعونہ حرکات سے عرش الہی کو لرزادیا کفا رکے ساتھ ان کے خاص دفتر میں اپنا چہرہ دکھایا اﷲ اور رسولوں اور ملائکہ سب کی لعنت کے کام کئے " ہم للکفر یومئذ اقرب منہم للایمن " (وہ لوگ اس دن ایمان کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے۔ت)میں صراحۃ داخل ہوئے ان پر ہر فرض سے اعظم فرض ہےکہ اپنی ان کفری حرکات سے علی الاعلان توبہ کریں نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں پھر اپنی عورتوں کو رکھنا ہو تو ان سے دوبارہ نکاح کریں .اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و لا تتبعوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین﴿۲۰۸﴾" الی قولہ تعالی " الا ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ وقضی الامر " ۔ (لوگو!)شیطان کے قدموں پر نہ چلو کیونکہ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے(اﷲ تعالی کے اس ارشاد تک)وہ نہیں انتظار کرتے مگریہ کہ ان پر چھائے ہوئے بادلوں میں(اﷲ تعالی کا)عذاب آجائے اور فرشتے نازل ہوجائے اور کافر کا فیصلہ ہوجائے(تو پھر ایمان لانے کا کیا فائدہ)۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من جامع المشرك وسکن معہ فانہ مثلہ اھ فاذا کان فی محض المساکنۃ فکیف فی مثل المعاونۃ۔ جو کوئی کسی مشرك کے ساتھ جمع ہوا اور اس کے ساتھ سکونت اختیار کی تو وہ اس جیسا ہوجائے گا اھ جب صرف رہنے سہنے کا یہ حکم ہے تو پھر مدد کرنے میں کتنا سخت حکم ہوگا۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۳ /۱۶۷€
القرآن الکریم ∞۲ /۲۰۸€
القرآن الکریم ∞۲ /۲۱۰€
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی الاقامۃ بارض المشرک ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۹€
#5976 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
دوسری حدیث میں ہے:
من کثرسواد قوم فہو منہم ۔ جس شخص نے کسی جماعت کو بڑھایا(اور پھیلایا)تو وہ اسی میں شمار ہوگا۔(ت)
تیسری حدیث میں ہے:
من سود مع قوم فہو معہم اھ فاذا کان ھذا فی مجرد التسوید فکیف مع المشارکۃ المذکورۃ التایید ۔ جو کوئی کسی قوم کے ساتھ ہوکر انھیں بڑھائے(اور ان کی کثرت میں اضافہ کرے)تو وہ ان ہی کے ساتھ ہوگا اھ پھر جب طلب کثرت کا یہ حکم ہے تو پھر ان کے ساتھ شراکت مذکورہ کہ جس میں ان کی تائید وتصدیق ہے اس کا کتنا سخت حکم ہوگا۔(ت)
چوتھی حدیث میں ہے:
اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتز لذلك العرش اھ فاذا کان ھذا فی الفاسق فماظنك بالکافر المارق۔ جب کسی نافرمان کی تعریف کی جائے تو اﷲ تعالی غضب ناك ہوجاتاہے اور اس وجہ سے اس کا عرش کانپ جاتاہے اھ جب فاسق کا یہ حکم ہے توپھر کافر سرکش کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے۔(ت)
شفاء شریف امام قاضی عیاض واعلام امام ابن حجر مکی میں ہے:
وکذا(یکفر)من فعل فعلا اجمع المسلمون علی انہ لا یصدر الا من کافر وان کان صاحبہ مصرحا بالا سلام مع فعلہ ۔ اور اسی طرح وہ شخص کافرہوجائے جس نے کوئی ایسا کام کیا کہ مسلمانوں کا جس پر اتفاق ہے کہ ایسا کام بغیر کسی کافر کے نہیں ہوسکتا اگر چہ وہ کام کرنے والا اپنا کام کرنے کے باوجود اسلام کا اظہا ر کرے۔(ت)
جامع الفصولین ومنح الروض الازھرمیں ہے:
من خرج الی السدۃ کفر اذفیہ جو کوئی کفار کی مجلس میکں جائے تو کافر ہوگیا اس لئے
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ عن ابن مسعود ∞حدیث ۲۴۷۳۵€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۹ /۴۲€
کنز العمال بحوالہ خط عن انس ∞حدیث ۲۴۶۸۱€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۹ /۱۰€
شعب الایمان ∞حدیث۴۸۸۶€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۴ /۲۳۰€
الاعلام بقواطع الاسلام الفصل الثالث مکتبۃ الحقیقۃ ∞استنبول ترکی ص۳۷۸€
#5977 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
اعلان الکفر وکانہ اعان الیہ اھ فاذا کان ھذا فی کانہ فکیف فی انہ۔ کہ اس میں کفر کااعلان ہے گویا وہ اس کے پاس امداد کے لئے گیا ہے اھجب گویا میں یہ حکم ہے تو پھر اصل اور تحقیق میں کیاحکم ہوگا۔(ت)
فتاوی امام ظہیر الدین واشباہ والنظائر وتنویر الابصارو درمختار میں ہے:
لوسلم علی الذمی تبجیلا یکفر لان تبجیل الکافر کفر اوقال لمجوسی یااستاذ تبجیلا کفر ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کوئی ذمی کافر کو تعظیم کے طورپر سلام دے تو کافر ہوجائے گا اس لئے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔اگر کسی نے آتش پرست کو بطور تعظیم"اے کافر"کہا تو کافر ہوگیا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۲:واقع دربارہ عالیہ بھر چونڈی شریف اسٹیشن ڈھرکی ضلع سکھر(سند)مسئولہ عاکف فقیر عبداﷲ قادری ۲۸ ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسول الکریم۔
بخدمت تاج الفقہاء سراج العلماء المدققین حامی السنۃ والدین غیاث الاسلام والمسلمین مجدد مائۃ حاضر جناب سید احمد رضا خاں صاحب قادری بعد الوف تسلیمات مع التکریمات بصد اداب واضح برائے عالی بادکہ مسئلہ ہجرت معروفہ معلومہ کہ درہندوسندھ کہ بتمام جوش وخروش علماء وقت بفرضیت اوقائل شدہ اند واعظ دینیہ وزاہد وجاہد بعام وخاص بمجالس مخصوصہ بشدت وحدت تمام دریں بارہ گشتہ اند بحدیکہ از اکثر علماء وقت مقال بدین منوال رفتہ کہ بخدمت فقہا کے تاجباریك بین علمائے کرام کے چراغ سنت اور دین کے مددگاراسلام اورمسلمانوں کے فریاد رس اس موجودہ صدی کے مجددجناب سید احمد رضا خاں صاحب قادریہزاروں ہزاروں سلام عزت واحترام کے ساتھ سیکڑں قسم کے آداب بجالاتے ہوئے حضور کی رائے عالی پر ظاہر ہو کہ مسئلہ ہجرت جو مشہور ومعروف ہے کہ ہند اور سند میں پورے جوش وخروش سے وقت علماء اس کی فرضیت کے قائل ہوگئے ہیں پس دینی وعظ کرنے والے گوشہ نشین زاہد اور جہاد کرنیوالے عام اور خاص خصوصی مجالس میں انتہائی
حوالہ / References جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۳،€منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا الخ مصطفی البابی ∞مصر ص۱۸۶€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحظروالاباحۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۱€
#5978 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
ہر آنکہ ہجرت نکنند ویاقائل بفرضیت اونشوند خارج از ایمان اندوزنان برایشاں حرام گردند آیا آں مفتی الزمان دریں مسئلہ کہ منزلۃ الاقوام است چہ فرمایند بدلائل قاطعہ وبراہین ساطعہ دریں باب چہ تحریر دارند براہ نوازش وعنایت بترسیم حقیقت مسئلہ حق مسئولہ شتاب بہ جواب سرفراز فرمایند کہ مادر فرضیت واستحبابیت ایں ہجرت سخت متردد ومتشکك ومضطرب حال مذبذب بایم تاکید مزید۔ وحدت اختیار کرتے ہوئے اس معاملہ میں ایك ہوگئے ہیں یہاں تك کہ اکثر علماء سے اس طرز پر گفتگو کرتے وقت وہ اس طرف گئے ہیںجو لوگ ہجرت نہیں کرتے یا اس کی فرضیت کے قائل نہیں تو وہ ایمان سے خارج ہیں اور منکوحہ عورتیں ان پر حرام ہیںکیا زمانے کے مفتی حضرات اس مسئلہ میں شواہد کے پیش نظر اس باب میں کیا تحریر رکھتے ہیں رائے نوازش اور نظر عنایت سے اس مسئلہ مسئولہ کاجلدی جواب عنایت فرماکرسرفراز فرمائیں اس لئے کہ ہم اس ہجرت کے فرض اور مستحب ہونے میں سخت ترددشك اور اضطراب اور تذبذب میں اپنے آپ کو پاتے ہیں اور مزید تاکید سے عرض کرتے ہیں۔(ت)
الجواب:
بحمداﷲ ہندوسند تاحال داراسلام است کما حققناہ فی رسالتنا اعلام الاعلام بان ھندستان دارالاسلام جمعہ وعیدین و اذان واقامت وغیرہا بکثرت شعار اسلام جاری ست وشہرے کہ دارالاسلام بود تا رشتہ از رشتہاء اسلام برجاست ہمچناں دارالاسلام ست کہ اسلام غالب ست ومغلو نتواں شد وﷲ الحجۃ البالغۃ درجامع الفصولین ست مابقی شیئ من احکام دارالاسلام تبقی دارالاسلام علی ماعرف ان الحکم اذا ثبت بعلۃ فی اﷲ تعالی کی تعریف وستائش کرتے ہوئے گزارش ہے کہ ہندوستان ابھی تك داراسلام ہیں جیسا کہ ہم نے اپنے ایك رسالہ موسومہ"اعلام الاعلام بان ھندوستان دار الاسلام" میں اس کی تحقیق کی ہے نمازجمعہعیدیناذان اور اقامت وغیرہ بے شمار شعائر اسلامیہ اس میں جاری ہیں اور جو شہر کہ داراسلام سے کوئی رشتہ قائم ہے تو وہ حسب سابق دارالاسلام ہی ہے کیونکہ اسلام غالب ہے اور کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا اور کامل دلیل اﷲ تاعلی ہی کے لئے ہے۔چنانچہ جامع الفصولین میں ہے جب تك داراسلام کا کوئی حکم باقی ہو تو وہ دار الاسلام ہی رہے گاجیسا کہ معلوم ہے کہ کوئی حکم جب کسی
#5979 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مابقی شیئ من العلۃ یبقی الحکم ببقائہ ھکذا ذکر شیخ الاسلام ابوبکر فی شرح سیر الاصل۔ودرفصول عمادی ست دارالاسلام لاتصیر دارالحرب اذا بقی شیئ من احکام الاسلام وان زال غلبۃ اھل السلام امام ناصر الدین فرماید مابقیت علقۃ من علائق الاسلام یترجح جانب الاسلام ۔و در شرح نقایہ است ان الدار محکومۃ بدارالاسلام ببقاء حکم واحد فیہا کما فی الحمادی وغیرھا وہجرت ازا دارالحرب فرض است نہ از دارالاسلام قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاھجرۃ بعد الفتح رواہ الشیخان ۔ ہجرت خاصہ کہ برشخصے خاص بوجہ خاص لازم آید چیزے دیگر ست وآواز محلہ بمحلہ بلکہ از خانہ بخانہ دیگر توان شد والیہا الاشارۃ فی حدیث من علت کی وجہ سے ثابت ہو تو جب تك وہ علت موجود رہے گی وہ حکم باقی رہے گاشیخ الاسلام حضرت ابوبکر نے شرح سیر الاصل میں اسی طرح بیان فرمایا۔اور فصول عماوی میں ہےکہ دارالاسلام میں جب تك کوئی حکم اسلامی موجود ہو تو وہ "دارحرب"نہ ہوگا اگر چہ مسلمانوں کا غلبہ ختم ہوگیا ہے۔امام ناصر الدین فرماتے ہیں کہ جب تك اسلام کے رشتوں میں سے کوئی رشتہ باقی ہو تو اسلام کی جانب ترجیح ہوگی۔اور"شرح نقایہ"میں مذکور ہےکہ اگر ملك میں ایك بھی اسلامی حکم باقی ہو تو اس پر دارالاسلام کا حکم لگایا جائے گا جیسا کہ "حمادی"وغیرہ میں مذکور ہے۔اور ہجرت کرنا دار کفر سے فرض ہے نہ کہ دارالاسلام سےحضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:فتح مکتہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں بخاری ومسلم نے اسے روایت فرمایا۔خاص ہجرت کہ کسی شخص پر کسی خاص وجہ کی بناء پر لزم ہو تویہ ایك دوسری بات ہے۔ ایك محلہ سے دوسرے محلہ تك بلکہ ایك گھر سے دوسرے گھر تك آواز پہنچ سکتی ہے۔
حوالہ / References جامع الفصولین الفصل الاول فی القضاء ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳€
فتاوٰی جامع الفوائد بحوالہ فصل العمادی کتاب الجہاد ∞مکتبہ حقانیہ کوئٹہ ص۴۴۴€
فتاوٰی جامع الفوائد ناصر الدین ∞مکتبہ حقانیہ کوئٹہ ص۴۴۵€
جامع الرموز کتاب الجہاد ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۴ /۵۵€۷
صحیح البخاری کتاب الجہاد باب وجوب النفیر الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۹۶،€صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب المبایعۃ بعد الفتح ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۱€
#5980 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
فربدینہ الحدیثواما ہجرت عامہ نباشد مگر از دار الحرب و ادعائے فرضیتش از دارالاسلام باطل محض ست و اصلی ندارد وتفوہ بتکفیر فرضیت غلو فی الدین ست وتکفیر تارك ازاں ہم بالاتر ضلال مبین ست مگر آنا نتر سنداز احادیث کثیرہ ناطقہ بانکہ اکفار مسلم کفر ست قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایما امرء قال لاخیہ کافر فقد باء بہا احد ھما فان کان کما قال والا رجعت علیہ رواہ مسلم والترمذی عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما موجب ہجرت اگر تسلط نصاری است او نہ از امروز ست صد سال بیش می گزرد اینہا و آباء ایناں تاحال قیامت داشتند وبرزعم خود بترك تخم کدام حکم کاشتند واگر چیزے ست کہ درممالك دیر ناشیئ پس ایں حکم عجبے ست کہ حادثے بملکے رود ہجرت از ملك دیگر واجب شودنسأل اﷲ العفو والعافیۃواﷲ تعالی اعلم۔ حدیث میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو کوئی اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا الحدیثلیکن عام ہجرت سوائے دار حرب کے نہیں ہوسکتی لہذا دارالاسلام سے ہجرت کی فرضیت کادعوی کرنا بلا شبہہ باطل ہے یہ اپنے اندر کوئی اصلیت نہیں رکھتا۔ اور جو کوئی اس کی فرضیت کاا نکار کرے اسے کافر قرار دینا دین میں بڑی زیادتی ہے پھر تارك کی تکفیر اس سے بھی بڑھ کر گمراہی ہےمگرکیا وہ لوگ اس بات سے نہیں ڈرتے کہ بے شمار روایات اس پر ناطق ہیں کہ کسی مسلمان کوکافر قرار دینا کفر ہے۔چنانچہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جس آدمی نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو یہ کفر ان دونوں میں سے کسی ایك پر پلٹ جائے گالہذا اگر کہنے والے کے مطابق وہ کافر ہے تو وہی کافر ہوگا ورنہ کہنے والے پر کفر لوٹ آئے گاامام مسلم اور امام ترمذی نے حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے اس حدیث کو روایت کیا(جو لوگ ہجرت کے قائل ہیں اور اسے فریضہ ایمان قرار دیتے ہیں ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ) ہجرت کرنے کا سبب اور وجہ کیا ہے اگر عیسائیوں کا تسلط ہے تو وہ کوئی آج نہیں ہوا بلکہ آج سے سو سال پہلے کا ہے پھراتنی مدت پر یہ لوگ اور ان کے باپ دادے اب تك یہاں کیوں ٹھہرے رہے اور اپنے خیال میں ہجرت نہ کرکے انھوں نے کون سے حکم کا بیچ بویا اور اگر ہجرت
حوالہ / References الدرالمنثور بحوالہ ابن مردویہ ∞تحت آیۃ ۵۷ /۱۹€ مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی ∞قم ایران ۶ /۱۷۶€
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ یاکافر الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۷،€جامع الترمذی کتاب الایمان باب ماجاء فی من رمی اخاہ بکفر ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۸€
#5981 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
کسی ایسے کم کی وجہ سے ہے جو کسی دوسرے ممالك میں پیدا ہوگیاتو پھر یہ حکم عجیب ہے کہ کوئی جدید حادثہ کسی ملك یں پیدا ہوجائے تو پھر ہجرت کرنا کسی دوسرے ملك پرواجب ہو جائے۔ (خلاصہ کلام)ہم اﷲ تعالی سے معافی اور عافیت کی دعا کرتے ہیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۳ و ۱۵۴: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)کسی کی زبان سےکلمہ کفر نکل گیا یا اﷲ ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو گالی دی پھرنادم ہو کر فورا توبہ کیاب بی بی اس کی نکاح میں اس کی رہے گی یانہیں
(۲)یہ جو مسئلہ مشہور ہے کہ اگر کوئی جاہل عالم کو گالی دے تو بی بی پر اس کے طلاق واقع ہوجاتی ہے یہ صحیح ہے یانہیں اگر صحیح ہے تو عالم کو کس مرتبہ کاہونا اور گالی کا کس مرتبہ کا ہونا شرط ہے اور اگر عالم بدخو یا فاسد العقیدہ کو گالی دے یا صحیح العقیدہ کو کسی بات پر خواہ دنیاوی یا اخروی یا مسئلہ اختلافی لےکر جھگڑا کرکے باہم گالی گلوچ کییہ جھگڑا مابین دو عالموں کے ہو تو شرع شریف کا کیاحکم ہے
الجواب:
(۱)جس نے کلمہ کفر قصدا کہا یا اﷲ یا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی وہ کافر ہوجاتاہے اس کی عورت نکاح سے نکل جاتی ہے پھر اگر مسلمان ہو او ر توبہ کرے عورت کو اختیار ہے کہ اس سے دوبارہ نکاح کرے خواہ بعد عدت کے اور سے کرے۔
(۲)عالم دین کو برا کہنا اگر اس کے عالم دین ہونے کے سبب ہے تو کفر ہے اور عورت نکاح سے باہرخواہ برا کہنے والا خود عالم ہو یا جاہلاور عالم سنی العقیدہ کی توہین جاہل کو جائز نہیںاگر چہ اس کے عمل کیسے ہی ہوںاور بدمذہب وگمراہ اگرچہ عالم کہلاتاہو اسے برا کہاجائے گا مگراسی قدر جنتے کا و ہ مستحق ہے۔اور فحش کلمہ سے ہمیشہ اجتناب چاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۵ تا ۱۵۸: از آورہ محلہ نوادہ ڈاك بنگلہ مرسلہ محبوب علی وعبدالغفور صاحب آخری ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
ایك پنڈت صاحب ساکن بلیا کے وہ آج کل آرہ میں آکر بہت زوروں کے ساتھ ہندو مسلمانوں کو ایك جامجمع کرکے لکچر دیا کرتے ہیں بعد ختم لکچر کے پنڈت صاحب اکثر موقعو ں پرخود اپنے ہاتھ ہندوؤں مسلمانوں کو ٹیکا دیتے ہیں بعد اس کے مسلمان سے گلے گلے ملتے ہیں مگر قبل ٹیکا دینے کے مسلمانوں سے دریافت کرتے ہیں کہ آپ لوگوں کے یہاں ممانعت ہے یانہیں اس پر چند مسلمانوں نے جواب دیا کہ کوئی ممانعت نہیں ہے اور نہ ٹیکے سے انکار ہے۔اس کہنے پر وہ ٹیکا دیتے ہیں اور گلے گلے ملتے ہیں اور اسی لکچر کے اندر یہ کہا کہ ہندو ومسلمان ایك دل ہوکر اپنے اپنے گھروں میں انتظام کریں بلکہ اس کے انتظام کے لئے چند
#5982 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مسلمان ممبر بنائے گئے اور یہ رائے مانی کہ اس غلہ کو بیچ کر ایك جگہ جمع کیا جائےاسی رائے کو دونوں فریق نے پاس کرکے ایك ہندو کے یہاں جمع کرنے کے لئے قرار دیا گیااور یہ کہا گیا کہ دونوں فریق کی رائے سے یہ پیسہ اپنے کار خیر کے لئے خرچ کریںاب میں علمائے دین سے اس امر کو دریافت کرتاہوں کہ وہ شراکت کا پیسہ ہم لوگ اپنے کار خیر میں جیسے مسجد کی مرمت یا تجہیز وتکفین مدارات میت وغیرہ وغیرہ میں لاسکتے ہیں یا نہیں۔اور ایك روز پنڈت صاحب نے مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آج ہم اپنے رامائن کا اور مسلمانوں کے قرآن مجید کی اور انگریزوں کی بائبل کی یعنی تینوں کتابوں کی پوچا کریں گےاس کے اتنظام اور اہتمام کےلئے یہ تھا کہ ایك ڈولہ جس کو وہ لوگ سنگا سن کہتے ہیں اس کو بڑے تکلف کے ساتھ ہار پھول سے سجوا کر اس کے اندر ایك طرف رامائن یاك طرف بائبل اور بیچ میں قرآن مجید منگوا کررکھا اور بڑے اہتمام کے ساتھ بھجن گاتے اورڈھول وجھانج وغیرہ بجاتے اور اس میں مسلمان بھی شریك ہوکر شہر سے گھماتے ہوئے اپنے مندر کے اندر لیجا کر رکھاخیر کہا ہماری شریعت میں علماء نے اس امر کوکہ کلام پاك غیر مذہب میں بے دین کی مجلس میں لے جانا اور یہ برتاؤ کرنا اور مندر کے اندر لیجا کر رکھنا کیاجائز ہے جب مسلمانوں سے کہا گیا تو ان لوگوں نے جواب دیا کہ اس میں حرج ہی کیا ہوا اگر ایسا کیا گیا کیونکہ ہم لوگوں نے شہر کے ایك ایك مولوی صاحب سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں ہے۔اور ٹیکا کے بارے میں بھی یہی جواب ملاان سب واقعات کو لکھ کر خدمت بابرکت میں اپنے علمائے دین شرع متین کے پیش کرتاہوں کہ فی الحقیقت یہ سب بات شرع کے اندر جائز ہے یانہیں جیسا کہ یہاں پر مسلمان ہم کو جواب دیتے ہیں کہ ہم نے یہ سب مولوی صاحب سے دریافت کرلیا ہے لہذا ذیل چند جملے درج کرتاہوں جو مضمون بالا کا لب لباب ہوسکتاہے ان سوالوں کے جواب سے بالتفصیل سرفراز فرمایا جائے تاکہ ان بھائی مسلمانوں کی خدمت میں پیش کرکے ان کی اصلاح کی جائےان کے عقائد درباہ مذکورہ درست نہیں ہیں اور ان کی ان خود پرستیوں کی پوری پوری گوشمالی ہوجائےوہ مذہب پر دھبہ لگانے والی حرکت سے باز آکر راہ راست پر آجائیںاس لئے گزارش خدمت عالی ہے کہ جلد جواب اسی پرچہ کی پشت پر تحریر فرمائیں
(۱)مسلمانوں کو پیشانی پرٹیکا لگانا خواہ وہ کسی قسم کا مانند زعفران وصندل وغیرہ کے ہوجائز ہے یانہیں
(۲)ہندؤوں کے شال غول باندھا کرگاتے بجاتے رامائن وغیرہ ہندوؤں کی کتابوں کو بڑے اہتمام کے ساتھ سنگاسن وغیرہ میں رکھ کر ہندوؤں کی مجلس میں جانا جہاں پر"رام چندر کی جے"کی صدا بلند ہوتی ہو مسلمانوں کے لئے جائز ہے یانہیں
#5983 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
(۳)قرآن مجید کا دوسری کتابوں کے شامل مانند رامائن بائبل وغیرہ ہندؤوں کے ساتھ پوجا کیا نا خواہ مندر کے اندر لیجانا اور اس کے اہتمام میں مسلمانوں کا شریك ہونا درست ہے یانہیں
(۴)ہندوؤں کے شامل چند ہ جمع کرنا اور اس چندہ سے رفاہ عام مسلمان کرنا مثلا مرمت مسجد تجہیر وتکفین میت لاوارث مسلمانیامداد بیوگانمسلم یا یتیم بچوں کی تربیت وتعلیم وغیرہ وغیرہ ممنوع ہے یانہیں
الجواب:
(۱)ماتھے پر قشقہ(ٹیکا)لگانا خاص شعار کفر ہے ا ور اپنے لئے جو شعار کفرپر راضی ہو اس پر لزوم کفر ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:من تشبہ بقوم فہو منہ جو کسی قم سے مشابہت پید کرے وہ انھیں میں سے ہے۔اشباہ والنظائر میں ہے:
عبادۃ الصنم کفر ولا اعتبار فی قلبہ وکذا لوتزنر بزنار الیہود والنصاری دخل کنیستہم اولم یدخل ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ بت کی پوجا کرنا کفر ہے اور جو کچھ اس کے دل میں ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔اور اسی طرح اگر کسی نے یہودیوں اور عیسائیوں کا زنار گلے میں ڈالا چاہے ان کے گرجوں میں جائے نہ جائےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۲)مسائل یہ پوچھتاہے کہ وہ حرکات ملعونہ جائز ہیں یانہیں۔یہ پوچھے کہ کفر ہے یانہیں۔ان کی عورتیں نکاح سے نکلیں یانہیں ان حرکات سے۔جامع الفصولین منح الروح الازہر میں ہے:
من خرج الی السدۃ(قال القاری ای مجمع اھل الکفر)کفر لان فیہ اعلام الکفر وکانہ اعان علیہ ۔و اﷲ تعالی اعلم۔ جوکوئی(دارالاسلام کو چھوڑ کر)کفارومشرکین کے مجمع میں جائے(السدۃ۔محدث ملاعلی قاری نے فرمایا:اس کا معنی مجمع اہل کفر ہے)تو وہ کافر ہوگیا کیونکہ ا س میں کفر کا اعلان ہے۔گو یا وہ کفر پر ان کی امداد کررہا ہے۔اور اﷲ تعالی سب کچھ زیادہ جاننے والا ہے۔(ت)
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لبس الشہرۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳€
الاشباہ والنظائر کتاب السیر والردۃ الفن الثانی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۲۹۵€
منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی ∞مصر ص۱۸۶،€جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۳€
#5984 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
(۳)قرآن عظیم کا مندر میں لیجا نا اس کی توہین ہے اور قرآن عظیم کی توہین کفر اور رامائن کی پوجا اگر کفر نہ ہوئی تو دنیا میں کوئی بات کفر نہیں ہوسکتیاور کفر کے اہتمام میں شریك ہونا اور اس پر راضی ہونا کفر ہے الرضا بالکفر کفر(کفر پر راضی ہونا کفر ہے۔ت)وہ لوگ اسلام سے نکل گئے اور ان کی عورتیں ان کے نکاح سے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)ممنوع ہے اور سخت ممنوع ہے شرکت کے سبب اگر ان کا روپیہ ہمارے یہاں کے کار خیرمیں میں صرف ہوگا تو مسلمان کا روپیہ ان کے کفر کے کاموں میں صرف ہوگا جن کو وہ کارخیر سمجھتے ہیں مثلا مندروں کی اعانت بتوں کی زینت وغیرہاور ان پر راضی ہونا کفر ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۹: از امرتسر کٹرہ پرجہ مرسلہ غلام محمد صاحب دکاندار ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرح متین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ اگر ہجرت ہی کرنی ہے تو بجائے کابل کے مدینہ منورہ ہجرت کروں گا کم از کم یہ تو ہوگا کہ مسجد نبوی شریف میں ایك نماز پرھنے سے بچاس ہزار نماز کا ثواب ہوگا اور کہتاہے دین مدینہ منور ہ سے نکلا ہے اور پھر اسی طرف پلٹ جائے گاپس اس جگہ سے کون جگہ افضل ہوگیاور اس زمانہ میں جبکہ نصاری کا قبضہ اس جگہ سے ہے کابل سے ہزار درجہ اس جگہ کی ہجرت کو افضل کہتاہے اور اپنے لئے باعث سلامتی دین وشفاعت تصور کرتاہےزید کایہ خیال درست ہے یانہیں یہ ہجرت اس کی درست ثابت ہوگی یا نہیں اور اگر ہجرت میں یہ نیت کرے کہ جب تك بیت اﷲ شریف او رمدینہ منورہ پر کفار کا قبضہ ہے اتنی مدت اپنے وطن میں نہ آئے گاایسی نیت اس کی درست ہوگی یا نہیں
الجواب:
زید کے بالائی خیالات سب صحیح ہیں بیشك مدینہ طیبہ سے کسی شہر کو نسبت نہیں ہوسکتیرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
والمدینۃ خیرلہم لو کانوا یعلمون ۔ مدینہ ان کے لئے سب سے بہتر ہے اور وہ جانیں۔
مگر مدینہ طیبہ میں مجاورت ہمارے ائمہ کے نزدیك مکروہ ہے کہ حفظ آداب نہ ہوسکے گا اور قبضہ کفار کا بیان غلط ہے اور ہو تو یہ نیت کہ ان کے قبضہ تك وہیں رہے گا الٹی نیت ہےواﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References صحیح البخاری فضائل المدینۃ باب من رغب عن المدینہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۲،€صحیح مسلم کتا ب الحج باب ترغیب الناس فی سکنی المدینہ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۴۵€
#5985 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
مسئلہ۱۶۰و ۱۶۱: از کلکتہ زکریا اسٹریٹ ۳۳ مرسلہ حکیم سعید الرحمن صاحب دہلوی ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
حضرت اقدس جناب مولانا صاحب قبلہ دام فیضہ السلام علیکممزاج گرامی ! نہایت ادب سے مگر بیتابی کے ساتھ خدمت والا میں گزارش ہیں کہ برائے کرم امور ذیل کا جواب مرحمت فرماکر خادم کی تسلی فرمائیں۔
(۱)مسائل خلافت اسلامیہ وہجرت عن الہند کے متعلق مولوی عبدالباری اور ابوالکلام وغیرہ نے جو کچھ آواز اٹھائی ہے یہ حدود اسلامیہ وشرعیہ کے موافق ہے یا خلاف
(۲)ہر لحاظ سے جناب والا کی خاموشی کن مصالح کی بنا پر ہے اگر موافق ہے تو کیوں ان اصحاب کی تائید میں آواز نہیں اٹھاتے اور اگر خلاف ہے تو دوسرے مسلمانوں کو خطرناك ہلاکت سے نہیں روکا گیا جناب والا نے اپنے لیے کیا راہ عمل تجویز فرمائی ہے
الجواب:
مقصد بتایا جاتاہے اماکن مقدسہ کی حفاظتاس میں کون مسلمان خلاف کرسکتاہے اور کاروائی کی جاتی ہے کفار سے اتحاد مشرك لیڈر وں کی غلامی و تقلید قرآن وحدیث کی عمر کو بت پرستی پر نثار کرنا مسلمانوں کا قشقہ لگواناکافروں کی جے بولنارام لچھمن پر پھول چڑھانارامائن کی پوجا میں شریك ہونامشرك کا جنازہ اپنے کندھو ں پر اٹھا کر اس کی جے بولتے ہوئے مرگھٹ کو لے جاناکافروں کو مسجدمیں لیجا کر مسلمانوں کا واعظ بناناشعار اسلام قربانی گاؤ کو کفار کی خوشامد میں بند کرنا ایك ایسے مذہب کی فکرمیں ہونا جو اسلام وکفر کی تمییز اٹھاد ے اور بتوں کے معبد پر آگ کومقدس ٹھہرائےاور اسی طرح کے بہت اقوال احوال افعال جن کا پانی سر سے گزر گیا اور جنھوں نے اسلام پر یکسرپانی پھیر دیاکون مسلمان ان میں مواقفت کرسکتاہے ان حرکات خبیثہ کے رد میں فتوے لکھے گئے اورلکھے جارہے ہیں اس سے زیادہ کیا اختیار ہے پاکی ہے اسے جو مقلب القلوب والابصار ہے۔ وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم(اورہمیں اﷲ تعالی کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ گناہوں سے تحفظ اورنیکی بجالانے کی طاقت کسی میں نہیں مگر اﷲ تعالی بلند شان والےبڑی عظمت والے کی توفیق سے ہے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲ تا ۱۶۴: از گوری ڈاك خانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ عبدالجبار صاحب یکم شعبان ۱۳۳۶ھ
(۱)ایك شخص نماز نہیں پڑھتا ہے لوگوں نے زبردستی نماز پڑھنے کو کہا اور اس نے انکار کیااس صورت میں انکار کرنے والے اور تاکید کرنے والے کے ایمان میں نقص آیا یانہیں اگر نقص کیا تو کس درجہ کا بصورت اکراہ وخوف سزا سے جبر یہ نماز پڑھتاہے۔نہ معلوم نماز ریا اداکرتاہے
#5986 · الرمز المرصف علی سوال مولٰنا السید اٰصف (مولانا سید آصف کے سوال پر مضبوط اشارہ)
یا خلوصلیکن ظاہر اسباب زبردستی دباؤ ہے۔پس نماز عام جاہل کے دباؤ سے مقبول ہے یانہیں
(۲)ذابح البقرجس نے اپنا پیشہ ذبح کرنا مویشیوں کا ونفع اٹھانا فروخت گوشت سے ہمیشہ اختیار کرلیا ہے بخشا جائے گا یانہیں وپرسش خون ناحق کا یوم الحشر میں ہوگایا نہیں
(۳)ایك مسلمان نذر لغیر اﷲ کھاتاہے اور امداد مخلوق مثل شیخ سدو وخواجہ خضر وکالی بھوانی وغیرہ تعزیہ پرستی سے طلب کرتاہے وبصورت حصول مراد نہیں نذر دینے سے ضرر جان ومال کا تصور کرتاہے۔ان صورتوں میں نقص ایمان واقع ہوا یا نہیں وذبیحہ اس کا کھانا جائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)تاکید کرنے والے پر الزام نہیںاور انکار اگر یوں ہے کہ تیرے کہنے سے نہیں پڑھتا تو گنا ہ ہی ہے اور اگر فرضیت نما ز سے انکار کرے تو کفر کما فی جامع الفصولین وغیرہ(جیسا کہ جامع الفصولین وغیرہ میں ہے۔ت)
قبول وعدم قبول کو بیان اوپر گزرا سقوط فرض ہوجائے گا لاریاء فی الفرائض کما فی الاشباہ وغیرھا(فرائض میں دکھاوا نہیں جیساکہ الاشباہ وغیرہ میں مذکورہے۔ت)مسلمانوں پر بدگمانی حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ذبح بقر کو خون ناحق کہنا کلمہ کفر ہے اور اس کی بخشش نہ جاننا ضلالت وگمراہی اور اس پیشے کے جواز میں کوئی شبہ نہیں اور ذابح البقر کی وعید موضوع وبے اصل ہے حوالہ اس پر ہے جو ان دعاوی باطلہ کا مدعی ہوا الٹا مطالبہ جہالت وہابیہ ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)کالی بھولالی سے مدد مانگنے والے کو مسلمان کہنا کفر ہے۔کہنے والے پر تجدید اسلام وتجدید نکاح لازم ہے۔اور کالی بھوانیشیخ سدو اور ارواح خبیثہ کے ساتھ نبی اﷲ خضر علیہ الصلوۃوالسلام سے استمداد کو ملانا صریح گمراہی اور اور نبی اﷲ کی توہین اور امام الوہابیہ مخزولی کی طرز لعین ہے۔تو بہ فرض ہے اور جب وہ کالی بھوانی سے مددمانگتاہے تو قطعا کافر مشرك ہے اس کے ایمان کے نقصان کمال اور اس کے ذبیحہ سے سوال نادانی ہے۔نہ اسکے بعد کسی امر محتمل سے بحث کی حاجت نہ کہ جائز مستحب۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ص۳۰۶€
#5987 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
رسالہ
برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ
(مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۶۵: از سہسواں محلہ شہباز پورہ مرسلہ احمد نبی خان ۱۴/ شعبان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیۃ وایاك نستعین کے معنی وہابی یوں بیان کرتا ہے کہ استعانت غیر حق سے شرك ہے
دیکھ حصر نستعین اے پاك دیں استعانت غیر سے لائق نہیں
ذات حق بیشك ہے نعم المستعان حیف ہے جو غیر حق کاہو دھیان
اور علمائے صوفیہ کرام کا عقیدہ یوں ظاہر کرتاہے کہ حضرت مصلح الدین سعدی شیرازی رحمہ اﷲ تعالی کا بھی یہی ایمان تھا کہ ع
نداریم غیر از تو فریاد رس
(ہم تیرے سوا کوئی فریاد کو پہنچنے والانہیں رکھتے۔ت)
اور حضرت مولانا نظامی گنجوی رحمہ اﷲ تعالی بھی دعا میں عرض کرتے تھے
#5988 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
بزرگا بزرگی دہا بیکسم توئی یاوری بخشش ویاری رسم
(اے بزرگ ! بزرگی عطا فرما کہ میں بیکس ہوںتو ہی حمایت کرنے ولا اورمیری مدد کو پہنچنے والاہے)
اور حضرت سفیان ثوری رحمہ اﷲ تعالی علیہ کاقصہ دلچسپ وعبرت دلہا بیان کرتاہے جو تحفۃ العاشقین میں لکھا ہے کہ ایك روز آپ نماز پڑھ رہے تھے جب نستعین پر پہنچے بیہوش ہوکر گر پڑےجب ہوش ہوا فرمایا:جب رب العالمین ایاك نستعین فرمائے اور میں غیر حق سے مانگوں مجھ سے زیادہ بے ادب کون ہوگادوسری آیت شریف جناب ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام کے قصہ کی کہ انی وجہت وجھی للذی سے بیان کرتاہے اور بہت سی آیت شریفہ اور حدیث پاك اور قول علماء وصوفیہ بتاتا ہے لہذا مستدعی خدمت عالی ہوں کہ تردید اس کی مرحمت ہوکہ اس وہابی سے بیان کروں جو اب قرآن کا قرآن سےحدیث کا حدیث سےاقوال کا اقوال سےارشاد فرمائے گا او رمعنی لفظی ہوںبینوا توجروا راقم نیاز احمد نبی خاںسہسوان
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمد ﷲ وبہ نستعین والصلوۃ والسلام علی اعظم غوث اکرم ومعین محمد والہ واصحابہ اجمعین۔ سب حمدیں اﷲ تعالی کے لیےاور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیںاور صلوۃ وسلام سب سے بڑے بزرگی والے غوث ومددگار محمد صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وصحبہ اجمعین۔(ت)
الحمد ﷲ آیات کریمہ تو مسلمان کی ہیں اور حضرت مولنا سعدی ومولنا نظامی قدس سرہ السامی کے جو اشعار نقل کئے وہ بھی حق ہیںمگر وہابی حق باتوں سے باطل معنی کا ثبوت چاہتاہے جو ہر گز نہ ہوگا آیہ کریمہ انی وجہت وجہی کو تو اس مقام سے کوئی علاقہ ہی نہیں اس میں توجہ بقصد عبادت کا ذکر ہے کہ میں اپنی عبادت سے اسی کا قصد کرتاہوں جس نے پیدا کئے زمین وآسمان نہ یہ کہ مطلق توجہ کا جس میں انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے استعانت بھی داخل ہوسکےجلالین شریفین میں اس آیہ کریمہ کی تفسیر فرمائی۔
قالوالہ ماتعبد قال انی وجہت وجہی قصدت بعبادتی الخ۔ یعنی کافروں نے سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا تم کسے پوجتے ہو فرمایا:میں اپنی عبادت سے اس کا قصد کرتاہوں جس نے بنائے آسمان وزمین۔
حوالہ / References تفسیر جلالین ∞تحت آیۃ ۶/ ۷۹ اصح المطابع دہلی ص۱۱۹€
#5989 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
آیت میں اگر مطلق توجہ مرادہو تو کسی کی طرف منہ کرکے باتیں کرنا بھی شرك ہونماز میں قبلہ کی طرف توجہ بھی شرك ہو کہ قبلہ بھی غیر خدا ہے خدانہیں اور رب العزت جل وعلا کاارشادہے:
" وحیث ما کنتم فولوا وجوہکم شطرہ" ۔ جہاں کہیں ہو اپنا منہ قبلہ کی طرف کرو۔
معاذاﷲ شرك کا حکم دینا ٹھہرےمگر وہابیہ کی عقل کم ہے۔آیہ کریمہ وایاك نستعین مناجات سعدی ونظامی میں استعانت و فریاد رسی ویاوری دیاری حقیقی کا حضرت عزوجل وعلا میں حصرہے نہ کہ مطلق کااور بلا شبہہ حقیقت ان امور بلکہ ہر کمال بلکہ ہر وجوہ ہستی کی خاص بجناب احدیت عزوجل ہے استعانت حقیقیہ یہ کہ اسے قادر بالذات ومالك مستقل وغنی بے نیاز جانے کہ بے عطائے الہی وہ خود اپنی ذات سے اس کام کی قدرت رکھتاہےاس معنی کا غیر خدا کے ساتھ اعتقاد ہر مسلمان کے نزدیك شرك ہے نہ ہر گز کوئی مسلمان غیر کے ساتھ اس معنی کا قصد کرتا ہے بلکہ واسطہ وصول فیض وذریعہ ووسیلہ قضائے حاجات جانتے ہیں اور یہ قطعا حق ہے۔خود رب العزت تبارك وتعالی نے قرآن عظیم میں حکم فرمایا: " وابتغوا الیہ الوسیلۃ " اﷲ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
بایں معنی استعانت بالغیر ہر گز اس سے حصر ایاك نستعین کے منافی نہیںجس طرح وجود حقیقی کہ خود اپنی ذات سے بے کسی کے پیدا کئے موجود ہونا خالص بجناب الہی تعالی وتقدس ہے۔پھر اس کے سبب دوسرے کو موجود کہنا شرك نہ ہوگیا جب تك وہی وجود حقیقی نہ مرادلے۔حقائق الاشیاء ثابتۃ پہلا عقیدہ اہل اسلام کا ہے۔یونہی علم حقیقی کہ اپنی ذات سے بے عطائے غیر ہواور تعلیم حقیقی کہ بذات خود بے حاجت بہ دیگرے القائے علم کرےاﷲ جل جلالہ سے خاص ہیںپھر دوسرے کو عالم کہنا یا اس سے علم طلب کرنا شرك نہیں ہوسکتا جب تك وہی معنی اصلی مقصود نہ ہوںخود رب العزت تبارك وتعالی قرآن عظیم میں اپنے بندوں کو علیم وعلماء فرماتاہے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نسبت ارشاد کرتاہے:
"یعلمہم الکتب والحکمۃ" یہ نبی انھیں کتاب وحکمت کا علم عطا کرتاہے۔
یہی حال استعانت وفریاد رسی کا ہے کہ ان کی حقیقت خاص بخدا اور بمعنی وسیلہ وتوسل وتوسط غیر کے لئے ثابت اور قطعا روابلکہ یہ معنی تو غیر خدا ہی کے لئے خاص ہیں اﷲ عزوجل وسیلہ وتوسل وتوسط بننے سے
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲ /۱۴۴€
القرآن الکریم ∞۵ /۳۵€
القرآن الکریم ∞۳ /۱۶۴€
#5990 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
پاك ہے۔اس سے اوپر کون ہے کہ یہ اس کی طرف وسیلہ ہوگا اور اس کے سوا حقیقی حاجت روا کون ہے۔کہ یہ بیچ میں واسطہ بنے گاولہذا حدیث میں ہے جب اعرابی نے حضور پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ سے عرض کیاکہ یارسول اﷲ ! ہم حضور کو اﷲ تعالی کی طرف شفیع بناتے ہیں اور اﷲ عزوجل کو حضور کے سامنے شفیع لاتے ہیں۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر سخت گراں گزرا دیر تك سبحان اﷲ فرماتے رہے۔پھر فرمایا:
ویحك انہ لایستشفع با ﷲ علی احد شان اﷲ اعظم من ذلکروہ ابوداؤد عن جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ارے نادان! اﷲ کو کسی کے پاس سفارشی نہیں لاتے ہیں کہ اﷲ کی شان اس سے بہت بڑی ہے(اسے ابوداؤد نے جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
اہل اسلام انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے یہی استعانت کرتے ہیں جو اﷲ عزوجل سے کیجئے تو اﷲ اور اس کا رسول عــــــہ۱ غضب فرمائیں اور اسے اﷲ جل وعلا کی شان میں بے ادبی ٹھہرائیںاور حق تویہ ہے کہ اس استعانت کے معنی اعتقاد کرکے جناب الہی جل وعلا سے کرے تو کافر ہوجائے مگر وہابیہ کی بد عقلی کو کیا کہئےنہ اﷲ عــــــہ۲ کا ادب نہ رسول(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)سے خوفنہ ایمان کاپاس خواہی نخواہی اس استعانت کو ایاك نستعین میں داخل کرکے جو اﷲ عزوجل کے حق میں محال قطعی ہے اسے اﷲ تعالی سے خاص کئے دیتے ہیں۔ایك بیوقوف وہابی نے کہا تھا
وہ کیا ہے جو نہیں ملتا خدا سے جسے تم مانگتے ہو اولیاء سے
فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے کہا:
توسل کرنہیں سکتے خدا سے اسے ہم مانگتے ہیں اولیاء سے
یعنی یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ خدا سے توسل کرکے اسے کسی کے یہاں وسیلہ وذریعہ بنائے اس وسیلہ بننے کوہم اولیائے کرام سے مانگتے ہیں کہ وہ دربارہ الہی میں ہمارا وسیلہ وذریعہ وواسطہ قضائے حاجات ہوجائیں اس بے وقوفی کے سوال کا جواب اﷲ عزوجل نے اس آیہ کریمہ میں دیا ہے۔
عــــــہ۱: جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ عــــــہ۲: جل جلالہ۔
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی الجہیمۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۹۴€
#5991 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
" ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما ﴿۶۴﴾ " اور جب وہ اپنی جانوں پر ظلم یعنی گناہ کرکے تیرے پاس حاضر ہوں اور اﷲ سے معافی چاہیں اور معافی مانگے ان کے لئے رسولتو بیشك اﷲ کو توبہ قبول کرنیوالا مہربان پائیں گے۔
کیااﷲ تعالی اپنے آپ نہیں بخش سکتا تھا۔پھریہ کیوں فرمایا کہ اے نبی! تیرے پاس حاضرہوں اورتو اﷲ سے ان کی بخشش چاہے تو یہ دولت ونعمت پائیں گے۔یہی ہمارا مطلب ہے۔جو قرآن کی آیت صاف فرمارہی ہے۔مگر وہابیہ تو عقل نہیں رکھتے۔
خدارا انصاف ! اگر آیہ کریمہ ایاك نستعین میں مطلق استعانت کا ذات الہی جل وعلا میں حصر مقصود ہو تو کیا صرف انبیاء علیہم الصلوۃوالسلام ہی سے استعانت شرك ہوگیکیا یہی غیر خدا ہیںاور سب اشخاص واشیاء وہابیہ کے نزدیك خدا ہیں یا آیت میں خاص انھیں کا نام لے دیا ہے کہ ان سے شرك اوروں سے روا ہے۔نہیں نہیںجب مطلقا ذات احدیت سے تخصیص اور غیر سے شرك ماننے کی ٹھہری تو کیسی ہی استعانت کسی غیر خدا سے کی جائے ہمیشہ ہر طرح شرك ہی ہوگی کہ انسان ہوں یا جماداتاحیاء ہوں یا امواتذوات ہوں یا صفاتافعال ہوں یا حالاتغیر خدا ہونے میں سب داخل ہیںاب کیاجواب ہے آیہ کریمہ کا کہ رب جل وعلا فرماتاہے:
" واستعینوا بالصبر والصلوۃ " استعانت کرو صبر ونماز سے۔
کیا صبر خدا ہے جس سے استعانت کا حکم ہوا ہے۔کیا نماز خدا ہے جس سے استعانت کو ارشاد کیا ہے۔دوسری آیت میں فرماتاہے:
" وتعاونوا علی البر والتقوی ۪" آپس میں ایك دوسرے کی مدد کرو بھلائی اور پرہیزگاری پر۔
کیوں صاحب ! اگرغیر خدا سے مددلینی مطلقا محال ہے تو اس حکم الہی کا حاصل کیااور اگر ممکن ہو تو جس سے مدد مل سکتی ہے اس سے مدد مانگنے میں کیا زہر گھل گیا۔
احادیث مبارکہ:____ حدیثوں کی تو گنتی ہی نہیں بکثرت احادیث میں صاف صاف حکم ہے۔کہ____ صبح کی عبادت سے استعانت کرو___ شام کی عبادت سے استعانت کرو__
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۴ /۶۴€
القرآن الکریم ∞۲ /۴۵€
القرآن الکریم ∞۵ /۲€
#5992 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
کچھ رات رہے کی عبارت سے استعانت کرو ____ علم کے لکھنے سے استعانت کرو ____ سحری کے کھانے سے استعانت کرو ____ دوپہر کے سونے سے وصدقہ سےاستعانت کرو ____ عورتوں کی خانہ نشینی میں انھیں ننگارکھنے سے استعانت کرو ____ حاجت روائیوں میں حاجتیں چھپانے سے استعانت کرو ____ کیا یہ سب چیزیں وہابیہ کی خد اہیں کہ ان سے استعانت کاحکم آیا۔یہ حدیثیں خیال میں نہ ہوں تو مجھ سے سنئے:
(۱)البخاری والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استعینوا بالغدوۃ والروحۃ وشیئ من الدلجۃ ۔
(۲)الترمذی عن ابی ھریرۃ ۔
(۳)والحکیم الترمذی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استعن بیمینك علی حفظك ۔
(۴)ابن ماجہ والحاکم والطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی شعب الایمان عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استعینوا بطعام السحر علی صیام النہار وبالقیلولۃ علی قیام اللیل ۔ امام بخاری اورنسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:صبح وشام اور رات کے کچھ حصہ میں عبادت سے استعانت کرو۔(ت)
ترمذی نے ابوہریرہ سے روایت کیا۔(ت)
حکیم ترمذی نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے انھوں نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اپنے حافظہ کی امداد کرو اپنے ہاتھ سے۔(ت)
ابن ماجہ اور حاکم اورطبرانی نے کبیر میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:دن کے روزے رکھنے پر سحری کے کھانے سے استعانت کرو اور رات کے قیام کے لئے قیلولہ سے استعانت کرو۔(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الایمان باب الدین یسر ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰€
جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی الرخصۃ فیہ ∞امین کمپنی کراچی ۲ /۹۱€
کنز العمال ∞حدیث ۲۹۳۰۵ ۱۰/ ۲۴۵€ و مجمع الزوائد کتاب العلم باب کتاب العلم ∞۱ /۱۵۲€
سنن ابن ماجۃ ابواب الصیام باب ماجاء فی السحور ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۳،€المستدرك للحاکم کتاب الصوم الاستعانۃبطعام السحر دارالفکر بیروت ∞۱ /۴۱۵€
#5993 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
(۵)الدیلمی فی مسند الفردوس عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استعینوا علی الرزق بالصدقۃ ۔
(۶)ابن عدی فی الکامل عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استعینوا علی النساء بالعری فان احدھن اذاکثرت ثیابہا واحسنت زینتہا اعجبہا الخروج ۔
(۷)الطبرانی فی الکبیر والعقیلی و ابن عدی وابو نعیم فی الحلیۃ والبیہقی فی الشعب عن معاذ بن جبل ۔
(۸)والخطیب عن ابن عباس ۔
(۹)والخلعی فی فوائدہ عن امیر المؤمنین علی ن المرتضی ۔
(۱۰)والخرائطی فی اعتلال القلوب عن امیر المومنین عمر الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہم عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دیلمی نے مسند فردوس میں عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے انھوں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ رزق پر صدقہ سے استعانت کرو۔(ت)
ابن عدی نے کامل میں حضرت انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے انھوں نے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ عورتوں کے خلاف استعانت حاصل کرو تنگی لباس سےکیونکہ جب وہ ان کے جوڑے زیادہ ہوں گے اور ان کی زینت اچھی بنے گی وہ باہر نکلنا پسند کریں گی۔(ت)
طبرانی نے کبیر میں اور عقیلی اور ابن عدی اور ابو نعیم نے حلیہ میں اور بیہقی نے شعب میں معاذ بن جبل سے روایت کیا۔ (ت)
خطیب نے ابن عباس سے روایت کیا(ت)
خلعی نے اپنی فوائد میں امیر المؤمین حضرت علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کیا۔ت(ت)
خرائطی نے اعتلال میں امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہم سے انھوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ
وسلم سے روایت کیا کہ حاجت روائیوں میں
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ فر عن عبداﷲ بن عمرو ∞حدیث ۱۵۹۶۱€ موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۶ /۳۴۳€
کنز العمال بحوالہ عد عن انس ∞حدیث ۴۴۹۵۲€ موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۱۶ /۳۷۲€
حلیۃ الاولیاء ترجمہ خالد بن معدان دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۵ /۲۱۵€
تاریخ بغداد ترجمہ حسین بن عبیداﷲ ∞۴۱۲۴€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۸ /۵۷€
الجامع الصغیر ∞حدیث ۹۸۵€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۶۶€
#5994 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
استعینوا علی انجاح الحوائج بالکتمان ۔ حاجتیں چھپانے سے استعانت کرو۔(ت)
یہ دس حدیثیں تو افعال سے استعانت میں ہوئیںبیس۲۰ حدیثیں اشخاص سے استعانت میں لیجئے کہ تیس۳۰ احادیث کا عدد کامل ہو۔
حدیث ۱۱:احمد وابوداؤد وابن ماجہ بسند صحیح ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی ہیں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:انا لانستعین بمشرك ہم کسی مشرك سے استعانت نہیں کرتے۔
اگر مسلمان سے استعانت بھی ناجائز ہوتی تو مشرك کی تخصیص کیوں فرمائی جاتیولہذا امیر المومنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے ایك نصرانی غلام وثیق نامی سے کہ دنیاوی طور کا امانت دار تھا ارشاد فرماتے ہیں:
اسلم استعن بك علی امانۃ المسلمین۔ مسلمان ہوجا کہ میں مسلمانوں کی امانت پر تجھ سے استعانت کروں۔
وہ نہ مانتا تو فرماتے ہم کافر سے استعانت نہ کریں گے۔
حدیث ۱۲:امام بخاری تاریخ میں حبیب بن یساف رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا لانستعین بالمشرکین علی المشرکین ۔ورواہ الامام احمد ایضا۔ ہم مشرکوں سے مشرکوں پر استعانت نہیں کرتے(امام احمد نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ت)
حدیث ۱۳:صحیح بخاری وصحیح مسلم وسنن نسائی میں ہے چند قبائل عرب نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ عق،عد،طب،حل،ھب عن معاذ بن جبل،الخرائطی فی اعتلال القلوب عن عمر خط وابن عساکر خل فی فوائدہ عن علی∞،حدیث ۱۶۸۰۰ €موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶/ ۵۱۷€
سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب فی المشرك یسہم لہ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۹،€مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲ عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۶۸،سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب الاستعانۃ بالمشرکین ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰€۸
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجہاد باب فی الاستعانۃ بالمشرکین ادارۃ القرآن ∞۱۲ /۳۹۴،€مسنداحمد بن حنبل حدیث جد خبیب رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۳ /۴۵۴€
#5995 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
علیہ وسلم سے استعانت کیحضور والا نے مدد عطا فرمائی۔
عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتاہ رعل وذکوان وعصیۃ وبنو لحیان فزعموا انہم قد اسلموا واستمدوہ علی قومہم فامدھم النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الحدیث۔ حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس رعلذکوانعصیہ اور بنولحیان قبائل کے لوگ آئے اور انھوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں اور اپنی قوم کے لئے آپ سے مدد طلب کی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی مدد کی۔الحدیث۔ (ت)
حدیث ۱۴:صحیح مسلم وابوداؤد وابن ماجہ ومعجم کبیرطبرانی میں ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے حضور پر نور سید العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:مانگ کیا مانگتاہے کہ ہم تجھے عطافرمائیںعرض کی میں حضور سے سوال کرتاہوں کہ جنت میں حضور کی رفاقت عطا ہوفرمایا بھلا اور کچھعرض کی بس میری مراد تو یہی ہےفرمایا تو میری اعانت کر اپنے نفس پر کثرت سجود سےقال کنت ابیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سلولفظ الطبرانی فقال یوما یاربیعۃ سلنی فاعطیك رجعنا الی لفظ مسلم فقال فقلت اسألك مرافقتك فی الجنۃقال اوغیرذلک۔قلت ھو ذاکقال فاعنی علی نفسك بکثرۃ السجود ۔
الحمد ﷲ یہ جلیل ونفیس حدیث صحیح اپنے ہر ہر فقرہ سے وہابیت کش ہے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اعنی فرمایا کہ میری اعانت کراسی کو استعانت کہتے ہیںیہ درکنار حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا مطلق طور پر سل فرماناکہ مانگ کیا مانگتاہےجان وہابیت پر کیسا پہاڑ ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضو رہر قسم کی حاجت روا فرماسکتے ہیںدنیا وآخرت کی سب مرادیں حضور کے اختیار میں ہیں جب تو بلاتقیید وتخصیص فرمایا:مانگ کیا مانگتاہے۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الجہاد باب العون بالمدد ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۳۱€
صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب فضل السجود و الحث علیہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۳،€المعجم الکبیر عن ربیعہ بن کعب حدیث ∞۴۵۷۶€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۵ /۵۸€
#5996 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی شرح مشکوۃ شریف میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں:
ازاطلاق سوال کہ فرمود سل بخواہ وتخصیص نکرد بمطلوبی خاص معلوم میشود کہ کارہمہ بدست ہمت و کرامت اوست صلی تعالی علیہ وسلم ہر چہ خواہد وہر کراخواہد باذن پروردگار خود بدہد
فان من جودك الدنیا وضرتہا
ومن علومك علم اللوح والقلم ۔ مطلق سوال کے متعلق فرمایا "سوال کر"جس میں کسی مطلوب کی تخصیص نہ فرمائیتومعلوم ہوا کہ تمام اختیارات آپ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دست کرامت میں ہیںجو چاہیں جس کو چاہیں اﷲ تعالی کے اذن سے عطا کریںآپ کی عطا کا ایك حصہ دنیا وآخرت ہے اور آپ کے علوم کا ایك حصہ لوح وقلم کا علم۔(ت)
علامہ علی قاری علیہ رحمۃ الباری مرقاۃ میں فرماتے ہیں:
یوخذ من اطلاق صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الامر بالسؤال ان اﷲ مکنہ من اعطاء کل مااراد من خزائن الحق ۔ یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے جو مانگنے کا حکم مطلق دیا اس سے مستفاد ہوتاہے کہ اﷲ عزوجل نے حضور کوقدرت بخشی ہے کہ اﷲ تعالی کے خزانوں میں سے جو کچھ چاہیں عطافرمائیں۔(ت)
پھر لکھا:
وذکر ابن سبع فی خصائصہ وغیرہ ان اﷲ تعالی اقطعہ ارض الجنۃ یعطی منہا ماشاء لمن یشاء ۔ یعنی امام ابن سبع وغیرہ علماء نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے خصائص کریمہ میں ذکر کیا ہے کہ جنت کی زمین اﷲ عزوجل نے حضور کی جاگیر کردی ہے کہ اس میں سے جو چاہیں جسے چاہیں بخش دیں۔(ت)
اما م اجل سیدی ابن حجر مکی قدس سرہالملکی"جو ہر منظم"میں فرماتے ہیں:
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتاب الصلٰوۃ باب السجود وفضلہ فصل اول ∞مکتبہ نبویہ رضویہ سکھر ۱ /۳۹۶€
مرقاۃ المفاتیح کتاب الصلٰوۃ ∞مکتبۃ حبیبہ کوئٹہ ۲ /۶۱۵€
مرقاۃ المفاتیح کتاب الصلٰوۃ ∞مکتبۃ حبیبہ کوئٹہ ۲ /۶۱۵€
#5997 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
انہ صلی تعالی علیہ وسلم خلیفۃ اﷲ الذی جعل خزائن کرمہ وموائد نعمہ طوع یدیہ وتحت ارادتہ یعطی منہا من یشاء ویمنع من یشاء ۔ بے شك نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ عزوجل کے خلیفہ ہیںاﷲ تعالی نے اپنے کرم کے خزانے اور اپنی نعمتوں کے خوان حضور کے دست قدرت کے فرمانبردار اور حضور کے زیر حکم وارادہ واختیار کردئے ہیں کہ جسے چاہیں عطا فرماتے ہیں اور جسے چاہیں نہیں دیتے۔(ت)
اس مضمون کی تصریحیں کلمات ائمہ وعلماء واولیاء وعرفاء میں حد تواتر پر ہیں جو ان کے انوار سے دیدہ ایمان منور کرنا چاہے فقیر کا رسالہ سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری(۱۲۹۷ھ)مطالعہ کرے۔
اس جلیل حدیث میں سب سے بڑھ کر جان وہابیت پر یہ کیسی آفت کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد پر حضرت ربیعہ بن کعب رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے جنت مانگی کہ اسألك مرافقتك فی الجنۃ یار سول اﷲ!میں حضور سے سوال کرتاہوں کہ جنت میں رفاقت والا سے مشرف ہوںوہابیہ کے طور سے یہ کیساکھلا شرك ہے مگر اس کی شکایت کیاابھی فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے بجواب سوال دہلی ایك نفیس رسالہ"اکمال الطامۃ علی شرك سوی بالامور العامۃ"تالیف کیا اور بتوفیقہ تعالی اس میں تین سو ساٹھ آیتوں حدیثوں سے ثبوت دیا کہ وہابیہ کے طور پر حضرات انبیاء کرام وملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام سے لے کر حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور خود حضرت رب العزت جل جلالہ تك معاذاﷲ کوئی شرك سے محفوظ نہیںولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
اشراك بمذہبے کہ تاحق برسد
مذہب معلوم واہل مذہب معلوم
(ایك مذہب میں شرك اﷲ تعالی تك پہنچتاہے وہ سب کو معلوم ہے اور مذہب والے بھی سب کو معلوم ہیں)
حدیث ۱۵ تا ۲۸:چودہ۱۴ حدیثوں میں ہے کہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اطلبوا الخیر عند حسان الوجوہ ۔ خیر طلب کرونیك رویوں کے پاس۔
حوالہ / References الجوہر المنظم الفصل السادس المطبعۃ الخیرۃ ∞مصر ص۴۲€
التاریخ الکبیر ∞حدیث ۴۶۸€ دارالباز مکۃ المکرمۃ ∞۱/ ۱۵۷،€موسوعہ رسائل ابن ابی الدنیا قضاء الحوائج ∞حدیث ۵۱€ مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ بیروت ∞۲ /۴۹،€کشف الخفاء ∞حدیث ۳۹۴€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱ /۱۲۲€
#5998 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
وفی لفظ(دوسرے الفاظ میں):
اطلبوا الخیر والحوائج من حسان الوجوہ ۔ نیکی اور حاجتیں خوبصورتوں سے مانگو۔
وفی لفظ(بالفاظ دیگر):
اذا ابتغیتم المعروف فاطلبوہ عند حسان الوجوہ ۔ جب نیکی چاہو تو خوبرویوں کے پاس طلب کرو
وفی لفظ(دوسرے لفظو ں میں):
اذا طلبتم الحاجات فاطلبوھا عند حسان الوجوہ ۔ جب حاجتیں طلب کرو خوش چہروں کے پاس طلب کرو۔
وفی لفظ بزیادۃ(اضافہ کے ساتھ دیگر الفاظ میں):
فان قضی حاجتك قضاھا بوجہ طلق و ان ردك ردك بوجہ طلقاخرجہ الامام البخاری فی التاریخ وابو بکر بن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج وابویعلی فی مسندہ والطبرانی فی الکبیر والعقیلی وابن عدی خوش جمال آدمی اگر تیری حاجت روا کرے گا تو بکشادہ روئی اور تجھے پھیرے گا تو بکشادہ پیشانی۔(اسے امام بخاری نے تاریخ میںابوبکر بن ابی الدنیا نے قضاء الحوائج میں ابویعلی نے اپنی مسند میں طبرانی نے کبیر میں۔عقیلی نے عدی نے
حوالہ / References المعجم الکبیر عن ابن عباس ∞حدیث ۱۱۱۱۰€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۱۱ /۸۱€
الکامل لابن عدی ترجمہ یعلی بن ابی الاشدق الخ دارالفکر بیروت ∞۷ /۲۷۴۲،€کنز العمال ∞حدیث ۱۶۷۹۴€ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۶/ ۵۱۶€
اتحاف السادۃ کتاب الصبر والشکر بیاں حقیقۃ النعمۃ الخ دارالفکر بیروت ∞۹ /۹۱€
التاریخ الکبیر ∞حدیث ۴۶۸€ دارالباز مکۃ المکرمۃ ∞۱ /۱۵۷€
موسوعہ رسائل ابن ابی الدنیا قضاء الحوائج ∞حدیث ۵۴€ موسسۃ الکتب الثقافیۃ بیروت ∞۲ /۵۱€
مسند ابی یعلی عن عائشہ رضی اﷲ عنہا ∞حدیث ۴۷۴۰ €موسسۃ علوم القرآن بیروت ∞۴ /۳۸۶)€
الضعفاء الکبیر ∞حدیث ۵۹۹€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۱۲۱€
الکامل لابن عدی ترجمہ حکم بن عبداﷲ بن سعد دارالفکر بیروت ∞۲ /۶۲۲€
#5999 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر ۔
(۱۵)عن ام المؤمنین الصدیقۃ وعبد بن حمید فی مسندہوابن حبان فی الضعفاء وابن عدی فی الکامل والسلفی فی الطیوریات۔
(۱۶)عن عبداﷲ بن عمر الفاروقوابن عساکر وکذا الخطیب فی تاریخہما۔
(۱۷)عن انس بن مالك بلفظ التمسواء والطبرانی فی الاوسط والعقیلی و الخرائطی فی اعتلال القلوب و تمام فی فوائدہ وابو سہل عبد الصمد بن عبد الرحمن البزار فی جزئہ وصاحب المہروانیات۔
(۱۸)عن جابن بن عبداﷲ والدارقطنی فی الافراد بلفظ ابتغوا والعقیلی و بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عساکر نے روایت کیا۔ت)
(۱۵)حضرت ام المومنیں صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کو عبد بن حمید نے اپنی مسند اور ابن حبان نے ضعفاء اور ابن عدی نے کامل اور سلفی نے طیوریات میں ذکر کیا۔ (ت)
(۱۶)حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما کی روایت کو اور ابن عساکر اور ایسے ہی خطیب نے اپنی اپنی تاریخ میں ذکر کیا۔(ت)
(۱۷)حضرت انس بن مالك کی روایت میں المتسوا کالفظ ہے اور اس کو طبرانی نے اوسط اور عقیلی اور خرائطی نے اعتلال القلوب اورتمام نے اپنی فوائد میں اور ابوسہیل عبدالصمد بن عبد الرحمن بزار نے اپنی جزء میں اور مہر وانیات والے نے روایت کیا ہے۔(ت)
(۱۸)حضرت جابر بن عبداﷲ سے روایت کہ دارقطنی "ابتغوا"کے لفظ کے ساتھ اور عقیلی اور
حوالہ / References شعب الایمان ∞حدیث ۳۵۴۱و ۳۵۴۲€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳ /۲۷۸€
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن عائشہ ∞حدیث ۱۶۷۹۳€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶ /۵۱۶€
الکامل لابن عدی ترجمہ یعلی بن اشدق دارالفکر بیروت ∞۷/ ۲۷۴۲€
تہذیب تاریخ ابن عساکر ترجمہ خیثمہ بن سلیمان داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۸۸€
تاریخ بغداد ∞ترجمہ ۱۲۸۷€ محمد بن محمد المقری دارالکتب العربی بیروت ∞۳/۲۲۶€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۶۱۱۳€ مکتبہ المعارف ریاض ∞۷ /۷۱€
الضعفاء الکبیر ∞حدیث ۶۲۸€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۱۳۹€
کنز العمال بحوالہ قط فی الافراد ∞حدیث ۱۶۷۹۲€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶ /۵۱۶€
#6000 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
ابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج و الطبرانی فی الاسط وتمام والخطیب فی رواۃ مالک۔
(۱۹)عن ابی ہریرۃ وابن النجار فی تاریخۃ ۔
(۲۰)عن امیر المومنین علی المرتضی والطبرانی فی الکبیر ۔
(۲۱)عن یزید بن خصیفہ عن ابیہ عن جدہ ابی خصیفہ بلفظ التمسوا وتمام فی الفوائد۔
(۲۲)عن ابی بکرۃ والخطیب وتمام ولفظ التمسوا والبیہقی فی الشعب والطبرانی ۔
(۲۳)عن عبداﷲ بن عباس ھذا الاخیر منہم خاصۃ عن ابن عباس باللفظ الثانی وابن عدی عن ام المومنین باللفظ الثالثواخرجہ بن عدی فی الکامل والبیہقی فی الشعب ۔ ابن ابی الدنیا نے قضاء الحوائج میں اور طبرانی نے اوسط میں اور تمام اور خطیب نے رواۃ مالك میں ذکر کیا ہے۔(ت)
(۱۹)حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی روایت کو ابن النجار نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے۔(ت)
(۲۰)حضرت امیر المومنین علی المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ کی روایت کو طبرانی نے کبیر میں ذکر کیا۔
(۲۱)حضرت یزید بن خصیفہ نے اپنے والد انھوں نے یزید کے دادا ابی خصیفہ سے"المتسوا"کے لفظ کے ساتھ اور تمام نے فوائد میں ذکر کیا۔
(۲۲)حضرت ابوبکرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کو اور خطیب اور تمام نے"المتسوا"کے لفظ کو اور بیہقی نے شعب میں اور طبرانی نے ذکر کیا۔(ت)
(۲۳)یہ آخری ان سے خاص حضرت ابن عبا س رضی اﷲ تعالی عنہ سے ثانی لفظ کے ساتھ اور ابن عدی نے حضرت ام المومنین رضی اﷲ تعالی عنہا سے تیسرے لفظ کے ساتھ اس کو ابن عدی نے کامل میں اور بیہقی نے شعب میں ذکر کیا۔(ت)
حوالہ / References موسوعہ رسائل ابن ابی الدنیا قضاء الحوائج ∞حدیث ۵۳€ موسسۃ الکتب بیروت ∞۲ /۵۱€
کشف الخفاء بحوالہ ابن النجار فی تاریخ بغداد ∞حدیث ۵۲۷€ موسسۃ الکتب العلمیہ ∞۱ /۱۶۰€
المعجم الکبیر عن ابی خصیفہ ∞حدیث ۹۸۳€ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ∞۲۲ /۳۹۶€
تاریخ بغداد ترجمہ محمد بن محمد ابوبکر المقری∞ ۱۲۸۷€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۳ /۲۲€۶
المعجم الکبیر عن ابن عباس ∞حدیث ۱۱۱۱۰€ المکتبۃالفیصلیہ بیروت ∞۱۱ /۸۱€
شعب الایمان ∞حدیث ۱۰۸۷۶€ دارالکتب العلمیہ بیروت ۷ ∞/۲۳۵€
#6001 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
(۲۴)عن عبداﷲ بن جراد باللفظ الرابعواحمد بن منیع فی مسندہ عن الحجاج بن یزید۔
(۲۵)عن ابیہ یزید القسملی باللفظ الخامس رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین ہذہ کلہا مسندات وابو بکرابن ابی شیبۃ فی مصنفہ۔
(۲۶)عن ابن مصعب الانصاری و
(۲۷)عن عطاء و(۲۸)عن الزھری مرسلات۔ (۲۴)حضرت عبداﷲ بن جراد سے چوتھے لفظ کے ساتھ اور احمد بن منیع نے اپنی مسند میں حجاج بن یزید نے ذکر کیا۔(ت)
(۲۵)اس نے اپنے باپ یزید قسملی سے پانچویں لفظ کے ساتھ رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین یہ تمام مسندات اورابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں ذکر کیا۔(ت)
(۲۶)ابن مصعب انصاری سے اور(۲۷)عطاء سے(۲۸)اور زہر ی سے سب مرسلات ہیں۔
امام محقق جلال الملۃ والدین سیوطی فرماتے ہیں: الحدیث فی نقدی حسن صحیح یہ حدیث میری پر کھ میں حسن صحیح ہے۔ قلت وقولہ ھذا لاشك حسن صحیح فقد بلغ حد التواتر علی رائی(میں کہتاہوں اور ان کا یہ قول حق ہے بیشك یہ حسن صحیح حد تواتر کو پہنچی ہے میری رائے میں)
حضرت عبداﷲ بن رواحہ یا حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں:
قد سمعنا نبینا قال قولا ھو لمن یطلب الحوائج راحۃ
اغتدوا واطلبوا الحوائج ممن زین اﷲ وجہہ بصباحۃ
یعنی بے شك ہم نے اپنے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو ایك بات فرماتے سنا کہ وہ حاجت مانگنے والوں کےلئے آسائش ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں کہ صبح کرو اور حاجتیں اس سے مانگو جس کا چہرہ اﷲ تعالی نے گورے رنگ سے آراستہ کیا ہے۔رواہ العسکری۔
حوالہ / References کشف الخفاء بحوالہ القسمی ∞حدیث ۵۲۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۱/ ۱۶۰€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الادب ماذکر فی طلب الحوائج ∞حدیث ۶۳۲۷ کراچی ۹ /۱۰€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الادب ماذکر فی طلب الحوائج ∞حدیث ۶۳۲۸ کراچی ۹ /۱۰€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الادب ماذکر فی طلب الحوائج ∞حدیث ۲۹ ۶۳ کراچی ۹ /۱۰€
کشف الخفاء تحت ∞حدیث ۵۲۷€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۱ /۱۶۰€
الدرالمنثور فی الاحادیث المشتہرہ تحت ∞حدیث ۸۸€ المکتب الاسلامی بیروت ∞ص۶۸€
#6002 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
حدیث ۲۹:کہ حضرت پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ وعلی آلہ فرماتے ہیں:
اطلبوا الفضل عند الرحماء من امتی تعیشوا فی اکنافہم فان فیہم رحمتی ۔ فضل میرے رحمدل امتیوں کے پاس طلب کرو کہ ان کے سائے میں چین کرو گے کہ ان میں میری رحمت ہے۔
وفی لفظ(اور دوسرے الفاظ میں۔ت):
اطلبوا الحوائج الی ذوی الرحمۃ من امتی ترزقوا تنجحوا ۔ اپنی حاجتیں میرے رحمدل امتیوں سے مانگو رزق پاؤگے مرادیں پاؤگے۔
وفی لفظ قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(بالفاظ دیگرر سول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت):
یقول اﷲ عزوجل اطلبوا الفضل من الرحماء من عبادی تعیشوا فی اکنافہم فانی جعلت فیہم رحمتی ۔
رواہ باللفظ الاول ابن حبان والخرائطی فی مکارم الاخلاق والقضاعی فی مسند الشہاب والحاکم فی التاریخ وابوالحسن الموصلی وبالثانی العقیلی و الطبرانی فی الاوسط وبالثالث العقیلیکلہم عن ابی سعید ن الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
اﷲ تعالی فرماتا ہے فضل میرے رحمدل بندوں سے مانگو ان کے دامن میں عیش کروگے کہ میں نے اپنی رحمت ان میں رکھی ہے۔
روایت کیا پہلی حدیث کو ابن حبان اور خرائطی نے مکارم الاخلاق میں اور قضاعی نے مسند الشہاب میں اور حاکم نے تاریخ میںاور ابوالحسن موصلی نے اور دوسری حدیث کو عقیلی اور طبرانی نے اوسط میںاور تیسری حدیث کو عقیلی نے یہ ساری حدیثیں ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی گئیں۔(ت)
حدیث۳۰:کہ حضوروالاارشاد فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اطلبوا المعروف من رحماء امتی میرے نرم دل امتیوں سے نیکی واحسان مانگو
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ الخراطی فی مکارم الاخلاق ∞حدیث ۱۶۸۰۶€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶ /۵۱۹€
کنز العمال بحوالہ عق وطس عن ابی سعید خدری ∞حدیث ۱۱۸۰۱€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۶ /۵۱۸€
الضعفاء الکبیر ∞حدیث ۹۵۷€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۳ /۳€
#6003 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
تعیشوا فی اکنافہماخرجہ الحاکم فی المستدرك عن امیر المومنین علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ الاسنی۔ ان کے ظل عنایت میں آرام کرو گے(اسے حاکم نے مستدرك میں امیر المومنین علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ الاسنی سے روایت کیا۔ت)
انصاف کی آنکھیں کہاں ہیںذرا ایمان کی نگاہ سے دیکھیں یہ سولہ بلکہ سترہ حدیثیں کیسا صاف صاف واشگاف فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے نیك امتیوں سے استعانت کرنے ان سے حاجتیں مانگنےان سے خیر واحسان کرنے کاحکم دیا کہ وہ تمھاری حاجتیں بکشادہ پیشانی روا کرینگےان سے مانگو تو رزق پاؤ گےمرادیں پاؤ گےان کے دامن حمایت میں چین کرو گے ان کے سایہ عنایت میں عیش اٹھاؤ گے۔
یارب! مگر استعانت اور کس چیز کانام ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا صورت استعانت ہوگیپھر حضرات اولیاء سے زیادہ کون سا امتی نیك ورحمدل ہوگا کہ ان سے استعانت شرك ٹھہرا کہ اس سے حاجتیں مانگنے کا حکم دیاجائے گاالحمدﷲ حق کا آفتاب بے پردہ وحجاب روشن ہوامگر وہابیہ کا منہ خدا نے مارا ہے انھیں اس عیش چین آرامخیربرکتسایہ رحمتدامن رافت میں حصہ کہاںجس کی طرف مہربان خدا مہربان رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اپنے امتیوں کو بلا رہا ہے ع
گر برتو حرام ست حرامت بادا
(اگر تجھ پر حرام ہے تو حرام رہے۔ت)
والحمدﷲ رب العلمین تیس حدیث کا وعدہ بحمداﷲ پورا ہواآخرمیں تین۳ حدیثیں وہابیت کش اور سنتے جائیے کہ عدد وتر اﷲ عزوجل کو محبوب ہے:
حدیث ۳۱:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اذا ضل احد کم شیئا وارادعونا وھو بارض لیس بہا انیس فلیقل یاعباد اﷲ اعینونی یاعباداﷲ اعینونی یا عباداﷲ اعینونی فان اﷲ عباد الایراھم ۔ (والحمداﷲ) جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے یا راہ بھول جائے اور مدد چاہے اور ایسی جگہ ہو جہاں کوئی ہمدم نہیں تو اسے چاہئے یوں پکارے اے اﷲ کے بندو میری مدد کرواے اﷲ کے بندومیر ی مدد کرو۔اے اﷲ کے بندو
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب الرقاق دارالفکر بیروت ∞۴ /۳۲۱€
المعجم الکبیر عن عتبہ بن غزوان ∞حدیث ۲۹۰€ المکتبہ الفیصیلۃ بیروت ∞۱۷ /۱۸۔۱۱۷€
#6004 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
رواہ الطبرانی عن عتبۃ بن غزوان رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میری مدد کرو۔کہ اﷲ کے کچھ بندے ہیں جنھیں یہ نہیں دیکھتا وہ اس کی مدد کرینگے(والحمدللہ)(اسے طبرانی نے عتبہ بن غزوان رضی اﷲ تعالی سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳۲:کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
جب جنگل میں جانور چھوٹ جائے فلیناد یاعباد اﷲ احبسوا تو یوں ندا کرے اے اﷲ کے بندو! روك دوعباداﷲ اسے روك دیں گےرواہ ابن السنی عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ(اسے ابن السنی نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۳۳:کہ فرماتے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
یوں ندا کرے اعینوا یا عباداﷲ مدد کرو اے اﷲ کے بندو۔رواہ ابن ابی شیبہ والبزار عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما(اسے ابن بی شیبہ اور بزار نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
یہ حدیثیں کہ تین صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے روایت فرمائیں قدیم سے اکابر علمائے دین رحمہم اﷲ تعالی کی مقبول و معمول ومجرب ہیںاس مطلب کی قدرے تفصیل اوران حدیثوں کی شوکت قاہرہ کے حضور وہابیہ کی حرکت مذبوحی کا حال دیکھنا ہو تو فقیر کا رسالہ"انھار الانوار من یم صلاۃ الاسرار"ملاحظہ ہو۔اور اس سے زائد ان حضرات کی بری حالت حدیث اجل واعظم یا محمد انی توجہت بك الی ربی (یامحمد! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہواہوں۔ ت)کے حضور ہے کہ وہ حدیث صحیح وجلیل ومشہور منجملہ اعظم واکبر احادیث استعانت ہے جس سے ہمیشہ ائمہ دین مسئلہ استعانت میں استدلال فرماتے رہے۔ ا س کی تفصیل بھی فقیر کے اسی رسالے میں مسطور ہے کہ یہاں بخوف تطویل ذکر نہ کی۔
حوالہ / References عمل الیوم واللیلۃ لابن سنی باب مایقول اذا انفلت الدابۃ ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۷۰€
المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الدعائ باب مایدعو بہ الرجل الخ ∞حدیث ۹۷۷۰ ۱۰ /۳۹۰€
جامع الترمذی ابواب الدعوات ∞امین کمپنی دہلی ۲ /۱۹۷،€المستدرك للحاکم کتاب صلٰوۃ التطوع دارالفکر بیروت ∞۱ /۳۱۳و ۵۱۹€
#6005 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
اقوال علماء:رہے اقوال علماء ان کا نام لینا تو وہابی صاحبوں کی بڑی حیاداری ہے صدہا قول علماء اہلسنت وائمہ ملت کے نہ صرف ایك بار بلکہ بار بار نہ صرف ایك آدھ رسالے بلکہ تصانیف کثیرہ اہلسنت میں ان حضرات کے سامنے پیش ہوچکےدیکھ چکےسن چکےجانچ چکےجن کے جواب سے آج تك عاجز ہیں اور بحوالہ تعالی قیامت تك عاجز رہیں گے۔مگر آنکھوں کے ڈھلے پانی کا علاج کیا کہ اب بھی اقوال علماء کا نام لئے جاتے ہیں یعنی ہزار بار مارا تو مارا اب کی بار مارلو تو جانیں۔سبحان اﷲ!
۱شفاء السقام امام علامہ مجتہد فہامہ سیدی تقی الملۃ والدین علی بن عبدالکافی و۲کتاب الافکار امام اجل اکمل سیدی ابو زکریا نووی و۳احیاء العلوم وغیرہ تصانیف عظیمہ امام الانام حجۃ الاسلام قطب الوجود محمد غزالی و۴روض الریاحین و۵خلاصۃ المفاخرو۶نشر المحاسن وغیرہا تصانیف جلیلہ امام اجل اکرم عارف باﷲ فقیہ محقق عبداﷲ بن سعد یافعی و۷حصن حصین امام شمس الدین ابوالخیر ابن جزری و۸مدخل امام ابن الحاج محمد عبدری مکی و۹مواہب لدینہ ومنح محمدیہ امام احمد قسطلانی و۱۰افضل القری لقری ام القری و۱۱جوہر منظم و ۱۲عقود الجمان وغیرہ تصانیف امام عارف باﷲ سیدیابن حجر مکی و۱۳میزان امام اجل عارف باﷲ عبدالوہاب شعرانی وحرز ۱۴ثمین ملا علی قاری و۱۵مجمع بحار الانوار علامہ طاہر فتنی و۱۶لمعات التنقیح و۱۷اشعۃ اللمعات و ۱۸جذب القلوب و۱۹مجمع البرکات و۲۰مدارج النبوۃ وغیرہا تالیف شیخ الشیوخ علماء الہند مولانا عبدالحق محدث دہلوی و۲۱فتاوی خیریہ خیر الملۃ والدین رملی و ۲۲مراقی الفلاح علامہ حسن وفائی شرنبلالی و۲۳مطالع المسرات علامہ فاسی وشرح ۲۴مواہب علامہ محمد زرقانی و۲۵نسیم الریاض علامہ شہاب الدین خفا جی وغیرہا تصانیف کثیرہ علمائے کرام وسادات اسلام جن کی تحقیق وتنقیح واثبات وتصریح استمداد واعانت سے زمین وآسمان گونج رہے ہیںاگر مطالعہ کرنے کی لیا قت نہ تھی تو کیا۱تصحیح المسائل و۲سیف الجہار و۳بوارق محمدیہ وغیرہا تصانیف نفیسہ عمادالسنۃ معین الحق حضرت مولانا فضل رسول قدس سرہ المقبول بھی نہ دیکھیں یہ تو عام فہم زبان اردو فارسی میں خاص تمھارے ہی مذہب نامذہب کے رد میں تصنیف ہوئیں اور بحمداﷲ بار ہا مطبوع ہوکر راحت قلوب صادقین وغیظ صدور مارقین ہواکیںعلی الخصوص۴کتاب جلیل فیوض ارواح اقدس جس میں خاندان عزیزی کے صدہا اقوال صریحہ قاتل وہابیت قبیحہ منقولمگر ہے یہ کہ ع
بیحیا باش وآنچہ خواہی کن
بیحیا ہوجا پھر جو چاہے کر۔ت
تصانیف فقیر غفراﷲ تعالی لہ سے۵کتاب حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات و۶رسالہ انہار الانوار من یم صلاۃ الاسرار و۷رسالہ انوار الانتباہ فی حل ندایا رسول اﷲ
#6006 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
و۸رسالہ الاھلال بفیض الاولیاء بعد الوصال و۹ کتاب الامن والعلی لنا عتی المصطفی بدافع البلاء خصوصا کتاب مستطاب۱۰سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری وغیرہا میں جابجا بکثرت ارشادات واقوال ائمہ وعلماء واولیائے کرام مذکوریہاں ان کے ذکر سے اطالت کی حاجت نہیں اور خود اسی تحریر میں جو اقوال حضرت شیخ محقق ومولانا علی قاری وامام ابن حجر مکی رحمہم اﷲ تعالی زیر حدیث ۱۴ مذکور ہوئے قتل وہابیت کو کیا کم ہیںپھر وہابی صاحب کی اس سے بڑھ کر پرلے سرے کی شوخ چشمی یہ کہ علماء کے ساتھ صوفیاء کرام کا نام پاك بھی لے دیاکیا وہابیت وحیا میں ایسا ہی تناقض تام ہے کہ ایك آن کو بھی حیا کا کوئی شمہ وہابیت کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتااناﷲ وانا الیہ راجعون۔
دربارہ استعانت صوفیاء کرام کے اقوال افعالاعمال سے دفتر بھرے ہیں دریا بہہ رہے ہیں اس دیدے کی صفائی کا کیا کہناذرا آنکھوں پر ایمان کی عینك لگا کر حضرت شیخ محقق مولنا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ العزیز کا ترجمہ مشکوۃ شریف ملاحظہ ہو
اس مسئلہ میں حضرات اولیائے کرام قدست اسرارھم سے کیاذکر کرتے ہیں فرماتے ہیں:
آنچہ مروی ومحکی ست از مشائخ اہل کشف در استمداد از ارواح کمل واستفادہ ازاں خارج از حصر است ومذکورست در کتب ورسائل ایشاں ومشہوراست میاں ایشاں کہ حاجت نیست کہ آں راذکر کنیم وشاید کہ منکر ومتعصب سود نہ کند او راکلمات ایشاں عافانا اﷲ من ذلك ۔ مشائخ اہل کشف سے کامل لوگوں کی ارواح سے استمداد اور استفادہ گنتی سے باہر ہے اور ان کی کتب ورسائل میں مذکور ہے اور ان میں مشہور ہے لہذا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہوسکتاہے کہ ان کے کلمات منکر ومتعصب لوگوں کو فائدہ نہ دیں۔اﷲ تعالی اس سے محفوظ رکھے(ت)
اﷲ اکبران منکران بے دولت کی بے نصیبی یہاں تك پہنچی کہ اکابر علماء وعرفاء کو کلمات
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتاب الجہاد باب حکم الاسراء فصل اول∞ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ /۴۰۲€
#6007 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
حضرت اولیائے کرام سے انھیں نفع پہنچنے کی امید نہ رہی اور فی الواقع ایسا ہی ہے۔یوں نہ مانئے تو آزمالیجئے اور ان ہزار در ہزار ارشادات بیشمار سے امتحانا صرف ایك کلام پاك فرزند دلبند صاحب لولاك صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ذکر کریں جو بتصریح اعاظم اولیاء سید الاولیاء وامام الاصفیاء وقطب الاقطاب وتاج الاوتاد ومرجع الابدال ومفزع الافراد اور باعتراف اکابر علماء امام شریعت وسردار امت ومحی دین وملت ونظام طریقت وبحر حقیقت وعین ہدایت ودریائے کرامت ہے۔وہ کونہاں وہ سید الاسیادواہب المراد سیدنا ومولنا وملاذنا و ماونا وغوثنا وغیثنا حضرت قطب عالم وغوث اعظم سید ابومحمد عبدالقادر حسنی حسینی صلی اﷲ تعالی علی جدہ الاکرام وعلی آلہ وعلیہ وبارك وسلماور وہ کلام پاك نہ ایسا کہ کسی ایسے ویسے رسالے یا محض زبانوں پر مشہور ہوا بلکہ اکابر واجلہ ائمہ کرام وعلمائے عظام مثل امام اجل عارف باﷲ سید الفقراء ثقہ ثبتحجت فقیہ محدث راویۃالحضرۃ والعلیۃ القادریۃ سید نا امام ابوالحسن نور الدین علی بن الجریر لخمی شطنوفی پھر امام کرام شیخ الفقہاء فردالوفاء عالم ربانی لوائے حکمت یمانی سیدنا امام عبداﷲ بن اسعد یافعی شافعی مکی پھر فاضل اجل فقہیہ اکمل محدث اجمل شیخ الحرم المحترم مولنا علی قادری حنفی ہروی مکی وبقیۃ السلف جلیل الشرف صاحب کرامات عالی وبرکات معالی ومولنا محمد ابوالمعالی سلمی معالی پھر شیخ شیوخ علماء الہند محقق فقیہ عارف نبیہ مولنا شیخ عبدالحق محدث دہلوی وغیرہم کبرائے ملت وعظمائے امت قدسنا اﷲ تعالی باسرارہم وافاض علینا من برکاتہم وانوارہم نے اپنی تصانیف جلیلہ جمیلہ ومستندہ ومثل بہجۃ الاسرار شریف وخلاصۃ المفاخر ونزہۃ الخاطرالفاتر وتحفۃ قادریہ واخبار الاخیار وزبدۃ الآثار وغیرہ میں ذ کر وروایت فرمایا کہ حضور پر نور جگر پارہ شافع یوم النشور صلی ااﷲ تعالی علیہ فعلیہ وبارك وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
من استغاث فی کربۃ کشف عنہ و من نادانی باسمی فی شدۃ فرجت عنہ ومن توسل بی الی اﷲ فی حاجۃ قضیت لہ ومن صلی رکعتین یقراء فی کل رکعۃ بعد الفاتحۃ سورۃ الاخلاص احدی عشرۃ مرۃ ثم یصلی و یسلم علی رسول اﷲ جو کسی مصیبت میں مجھ سے فریاد کرے وہ مصیبت دور ہو اور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دفع ہو اور جو اﷲ عزوجل کی طرف کسی حاجت میں مجھ سے وسیلہ کرے وہ حاجت پوری ہواور جو دورکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں بعد فاتحہ گیارہ بار سورہ اخلاص پڑھے پھرسلام پھیر کر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر
#6008 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بعد السلام ویذکر نی ثم یخطو الی جہۃ العراق احدی عشرۃ خطوۃ ویذکر اسمی ویذکر حاجتہ فانہا تقضی باذن اﷲ تعالی ۔
یقول العبد صدقت یا سیدی یا مولائی رضی اﷲ تعالی عنك وعن کل من کان لك ومنك فالحمدﷲ الذی جعل وارث ابیك المرسل رحمۃ ومولی النعمۃ و صلی اﷲ تعالی علی ابیك وعلیك وعلی کل من انتمی الیك و بارك وسلم وشرف وکرم امین امین یاارحم الراحمین والحمدﷲ رب العالمین۔
درود وسلام بھیجے اور مجھے یاد کرےپھر بغداد شریف کی طرف گیارہ قدم چلے اور میرا نام لے اور اپنی حاجت کاذکر کرے تو بیشك اﷲ تعالی کے حکم سے وہ حاجت روا ہو۔
یہ بندہ(یعنی احمد رضا)عرض کرتاہے کہ میرے آقا مولی! آپ نے سچ فرمایا اﷲ تعالی آپ سے اور آپ کے متوسلین اور آپ کی اولاد سے راضی ہوتمام حمدیں اﷲ تعالی کے لئے جس نے آپ کے والد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا وارثرحمت اور آقائے نعمت بتایااﷲ تعالی آپ کے والد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور آپ پر اور آپ سے منسوب سب پر رحمتیں نازل فرمائے اور برکتیں اور سلامتی اور کرم فرمائے آمین یا ارحم الراحمین۔والحمدﷲ رب العالمین(ت)
حضرت ابوالمعالی قدس سرہ العالی کی روایت میں الفاظ کریمہ کشفت فرجت قضیت بصیغہ متکلم معلوم ہیںوہ ان کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں:
عمر بزاز قدس سرہ میگوید من شنیدہ ام از حضرت شیخ رضی اﷲ تعالی عنہ کہ ہر کہ در کربتے بمن استغاثہ کند کشفت عنہ دور گردانم آن کر بت را از ووہر کہ در شدتے بنام من ندا کند فرجت عنہ خلاص بخشم اور اازاں عمر بزاز فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شیخ رضی اﷲ تعالی عنہ سے سنا کہ جو شخص مصیبت میں مجھ سے استغاثہ کرے گا میں مدد کروں گااس سے اس کی تکلیف دور کروں گا اور جو سختی میں مجھے ند ا کرے گا اس کی سختی کو دور
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکر فضل اصحابہ وبشراہم مصطفی البابی ∞مصر ص۱۰۲€
#6009 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
شدت وہر کہ درحاجتے توسل بمن کند در حضرت جل وعلا قضیت لہ حاجت او را برآرم ۔ کردوں گا اور خلاصی دلاؤں گااور جو اپنی حاجت میں مجھے سے توسل کرے گا اﷲ تعالی کے دربار میں اس کی حاجت پوری کروں گا۔(ت)
علامہ علی قاری بعد ذکر روایت فرماتے ہیں:
قد جرب ذلك مرارا فصح رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ بیشك یہ بار ہا تجربہ کیا گیا ٹھیك اترااﷲ تعالی کی رضا شیخ پر ہو۔(ت)
فقیر غفرلہ نے اس نماز مبارك کی ترکیب وبعض نکات ولطائف غریب میں ایك مختصر رسالہ مسمی بہ ازھار الانوار من صباء صلوۃ الاسرار(۱۳۰۵ھ)میں اس کے ہر ہر فعل کے ثبوت کو کافیہر ہر جز کے احادیث کثیرہ واقوال ائمہ وحکم شرعیہ سے اثبات وافی ہیں ایك مفصل رسالہ نفیسہ بر فوائد جلیلہ مسمی بہ "ازھار الانوار من یم صلوۃ الاسرار(۱۳۰۵ھ)" تصنیف کیا جس کی خداداد شوکت قاہرہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے وﷲ الحمد۔ایمان سے کہنا یہ وہی اولیاء ہیں جن پر تم یہ جیتا بہتان اٹھاتے ہو مگر وہ تو حضرات اولیاء تمھیں منکر متعصب فرماہی چکےتم پر ارشادات اولیاء کا کیا اثر ہوولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔عنان قلم روکتے روکتے سخن طویل ہوا جاتا ہے۔چند فوائد ضروریہ لکھ کر ختم کیا چاہئے۔
فائدہ ضروریہ
حضرت امام سفیان ثوری قدس سرہ النوری کی نقل قول میں مخالف نے ستم کار سازی کو کام فرمایا ہے۔اصل حکایت شاہ عبدالعزیز صاحب کی فتح العزیز سے سنئےلکھتے ہیں:
شیخ سفیان ثوری رحمۃاﷲ تعالی علیہ در نماز شام امامت میکرد چوں ایاك نعبد وایاك شیخ سفیان ثوری رحمۃاﷲ تعالی علیہ نے شام کی نماز میں امامت فرمائی جب ایاك نعبد و
حوالہ / References تحفہ قادریہ باب دہم فی التوسل الیہ الخ ∞قلمی ص۷۶€
نزہۃ الخاطر والفاتر
#6010 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
نستعین گفت بیہوش افتادچوں بخود آمد گفتند اے شیخ ! تراچہ شدہ بود گفت چوں وایاك نستعین گفتم ترسیدم کہ مرا بگویند کہ اے دروغ گو ! چرا از طبیب دارو می خواہی واز امیر روزی واز بادشاہ یاری می جوئیولہذا بعضے از علماء گفتہ اند کہ مرد را باید کہ شرم کند ازانکہ ہر روز وشب پنج نوبت در مواجہہ پروردگار خود استادہ دروغ گفتہ باشدلیکن درینجا باید فہمید کہ استعانت از غیر بوجہے کہ اعتماد برآں غیر باشد و او را مظہر عون الہی نداند حرام استواگر التفات محض بجانب حق است واو را مظاہر عون دانستہ ونظربہ کارخانہ اسباب وحکمت او تعالی در آں نمودہ بغیر استعانت ظاہری نمایددور از عرفان نخواہد بودودر شرع نیز جائز وروا ستوانبیاء واولیا ء ایں نوع استعانت بغیر کردہ اند ودرحقیقت ایں نوع استعانت بغیر نیست بلکہ استعانت بحضرت حق است لاغیر ایاك نستعین پر پہنچے بیہوش ہوکرگر پڑےجب ہوش میں آئے تولوگوں نے دریافت کیااے شیخ! آپ کو کیا ہوگیا تھا فرمایا:جب ایاك نستعین کہا تو خوف ہوا کہ مجھ سے یہ نہ کہا جائے اے جھوٹےپھر طبیب سے دواکیوں لیتاہے۔امیر سے روزی اور بادشاہ سے مدد کیوں مانگتاہے اس لئے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ انسان کو خدا سے شرم کرنی چاہئے کہ پانچ وقت اس کے حضور کھڑا ہوکر جھوٹ بولتا ہے مگر یہاں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ غیر اﷲ سے اس طرح مدد مانگنا کہ اسی پر اعتماد ہو اور اس کو اﷲ کی مدد کامظہر نہ جانا جائے حرام ہے اور اگر توجہ حضرت حق ہی کی طرف ہے اور اس کو اﷲ کی مدد کا مظہر جانتا ہے اور اﷲ کی حکمت اور کارخانہ اسباب پر نظر کرتے ہوئے ظاہری طور پر غیر سے مدد چاہتاہے تو یہ عرفان سے دورنہیںاورشریعت میں بھی جائز اور روا ہے اور انبیاء اور اولیاء نے ایسی استعانت کی ہے۔اور درحقیقت یہ استعانت غیر سے نہیں ہے بلکہ یہ حضرت حق سے ہی استعانت ہے۔(ت)
مخالف صاحب نے دیکھا کہ حکایت اگر صحیح طور پر نقل کریں تو ساری قلعی کھل جاتی ہے طبیبوں سے دوا چاہنیامیروں سے نوکری مانگنیبادشاہوں سے مقدمات وغیرہا میں رجوع کرنا سب شرك ہوا جاتا ہے جس میں خود بھی مبتلا ہے۔لہذا از طبیب دوا وغیرہ الفاظ کی جگہ یوں بتایا کہ "غیر حق سے مدد مانگو مجھ سے زیادہ بے ادب کون ہوگا"تاکہ جاہلوں کے بہکانے کو اسے بہ زور زبان
حوالہ / References فتح العزیز∞(تفسیر عزیزی)€ تفسیر سورہ فاتحہ پار الم افغانی دارالکتب ∞دہلی ص۸€
#6011 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
حضرت انبیاء واولیاء علیہم السلام والثناء سے استعانت پر جمائیں اور آپ حکیم جی سے دوا کرانےنواب راجہ کی نوکری کرنےمنصف ڈپٹی کے یہاں نالش لڑانے کو الگ بچ جائیںسبحان اﷲ کہاں وہ تبتل تام واسقاط تدبیر واسباب کامقام جس کی طرف امام رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے اس قول میں ارشاد فرمایا جس کے اہل مریض ہوں تو دوا نہ کریں۔بیماری کو کسی سبب کی طرف نسبت نہ فرمائیںعین معرکہ جہاد میں کوڑا ہاتھ سے گر پڑے تو دوسرے سے نہ کہیں آپ ہی اتر کے اٹھائیںاور کہاں مقام شریعت مطہرہ واحکام جواز ومنع وشرك واسلام مگران ذی ہوشوں کے نزدیك کمال تبتل وشرك متقابل ہیں کہ جو اس اعلی درجہ انقطاع محض وتفویض تام پر نہ ہوا مشرك ٹھہرایاانا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
ذرا انکھیں کھول کردیکھواسی حکایت کے بعد شاہ صاحب نے کیسی تصریح فرمادی کہ استعانت بالغیروہی ناجائزہے کہ اس غیر کو مظہر عون الہی نہ جانے بلکہ اپنی ذات سے اعانت کا مالك جان کر اس پر بھروسا کرےاور اگر مظہر عون الہی سمجھ کر استعانت بالغیر کرتاہے تو شرك وحرمت بالائے طاقمقام معرفت کے بھی خلاف نہیں خود حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام نے ایسی استعانت بالغیر کی ہے۔
مسلمانو! مخالفین کے ا س ظلم وتعصب کا ٹھکانا ہے کہ بیمار پڑیں تو حکیم کے دوڑیںدوا پر گریںکوئی مارے پیٹے تو تھانے کو جائیں رپٹ لکھائیںڈپٹی وغیرہ سے فریاد کریںکسی نے زمین دبالی کہ تمسك کا روپیہ نہ دیا تو منصف صاحب مدد کیجیوجج بہادر خبر لیجیونالش کریںاستغاثہ کریںغرض دنیا بھر سے استعانت کریں اور حصر ایاك نستعین کو اس کے منافی نہ جانیںہاں انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والثناء سے استعانت کی اور شرك آیاان کاموں کے وقت آیت کاحصر کیوں نہیں یاد آتاوہاں تو یہ ہے کہ ہم خاس تجھی سے استعانت کرتے ہیںکیا مخالفین کے نزدیک"خاص تجھی"میں بیدحکیمتھانیدارجمعدارڈپٹیمنصف جج وغیرہ سب آگئے کہ یہ اس حصر سے خارج نہ ہوئےیا معاذا ﷲ ایہ کریمہ کا حکم ان پر جاری نہیںیہ خدا کے ملك سے کہیں الگ بستے ہیںولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
غرض مخالفین خود بھی دل میں خوب جانتے ہیں کہ آیہ کریمہ مطلق استعانت بالغیر کی اصلا ممانعت نہیںنہ وہ ہر گز شرك یاممنوع ہوسکتی ہے بلکہ استعانت حقیقیہ ہی رب العزۃ جل وعلا سے خاص فرمائی گئی ہے اور اس کا اختصاص کسی طرح حضرات انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والسلام
#6012 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
سے استعانت جائزہ کا منافی نہیں ہوسکتا مگر عوام بیچاروں کو بہکانے اور محبوبان خدا کا نام پاك ان کی زبان سے چھڑا نے کو دیدہ و دانستہ قرآن وحدیث کے معنی بدلتے ہیںتو بات کیا سر کی کھلی اور دل کی بند ہیںپاؤ تلے کی نظر آتی ہے۔حکیم جی کو علاج کرتےتھانیدار کو چوریاں نکالتےنواب راجہ کو نوکریاں دیتےڈپٹی منصف کو مقدمات بگاڑتے سنبھالتےآنکھوں دیکھ رہے ہیںان کہ امداد و اعانت سے کیونکر منکر ہوں اور حضرات علیہ انبیاء واولیاء علیہم الـصلوۃ والثناء سے جو باطن وظاہر قاہر وباہر مددیں پہنچ رہیں ہیںوہ نہ دل کے اندھوں کو سوجھیں اور نہ ہی اپنے نصیبے میں ان کی برکات کا حصر سمجھیں پھر بلا کیونکر یقین لائیںجیسے معتزلہ خذلہم اﷲ تعالی کہ ان کے پیشوا ظاہری عبادتیں کرتے کرتے مرگئےکرامات اولیاء کی اپنے میں بوند نہ پائی ناچار منکر ہوگئے ع
چونہ دید ندحقیقت رہ افسانہ زدند
(جب انھوں نے حقیقت کو نہ سمجھا تو افسانہ کی راہ اختیار کی۔ت)
پھر ان حضرات کو ڈپٹیمنصفحکیم سے خود بھی کام پڑتا رہتاہے ان سے استعانت کیونکر شرك کہیںمعہذا ان لوگوں سے کوئی کاوش بھی نہیں۔دل میں آزار تو حضرات انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلوۃوالثناء سے ہے۔ان کانام تعظیم ومحبت سے نہ آنے پائے ان کی طرف کوئی سچی عقیدت سے رجوع نہ لائے۔" و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (عنقریب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔(ت)
فائدہ مہمہ
مخالفین بیچارے کم علموں کو اکثر دھوکا دیتے ہیں کہ یہ تو زندہ ہیں فلاں عقیدہ یا معاملہ ان سے شرك نہیںوہ مردہ ہیں ان سے شرك ہے۔یا یہ تو پاس بیٹھے ہیں ان سے شرك نہیںوہ دور ہیں ان سے شرك ہے وعلی ھذا القیاس طرح طرح کے بیہودہ وسواسمگریہ سخت جہالت بے مزہ ہے جو شرك ہے وہ جس کے ساتھ کیا جائے شرك ہی ہوگااورایك کے لئے شرك نہیں توکسی کے لئے بھی شرك نہیں ہوسکتاکیا اﷲ کے شریك مردے نہیں زندے ہوسکتے ہیں دور کے نہیں ہوسکتے پاس کے ہوسکتے ہیںانبیاء نہیں ہوسکتے حکیم ہوسکتے ہیںانسان نہیں ہوسکتے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۲۶ /۲۲۷€
#6013 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
فرشتے ہوسکتے ہیںحاشاﷲ اﷲ تبارك وتعالی کاکوئی شریك نہیں ہوسکتاتو مثلا جوبات ندا خواہ کوئی شے جس اعتقاد کے ساتھ کسی پاس بیٹھے ہوئے زندہ آدمی سے شرك نہیں وہ اسی اعتقاد سے کسی دور والے یا مردے بلکہ اینٹ پتھر سے بھی شرك نہیں ہوسکتیاور جو ان میں سے کسی سے شرك ٹھہرے وہ قطعا یقینا تمام عالم سے شرك ہوگیاس استعانت ہی کو دیکھئے کہ جس معنی پر خدا سے شرك ہے یعنی اسے قادر بالذات ومالك مستقل جان کر مدد مانگنا۔بہ ایں معنی اگر دفع مرض میں طبیب یادوا سے استمداد کرے یا حاجت فقر میں امیر یا بادشاہ کے پاس جائے یا انصاف کرانے کو کسی کچہری میں مقدمہ لڑائےبلکہ کسی سے روز مرہ کے معمولی کاموں ہی میں مدد لے جو بالیقین تمام مخالفین روزانہ اپنی عورتوںبچوںنوکروں سے کرتے کراتے رہتے ہیںمثلایہ کہنا کہ فلاں چیزاٹھادے یا کھانا پکادےیا پانی پلادے سب شرك قطعی ہے کہ جب یہ جانا کہ اس کام کے کر دینے پر انھیں خود اپنی ذات سے بے عطائے الہی قدر ت ہے تو صریح کفر اور شرك میں کیا شبہہ رہااور جس معنی پر ان سب سے استعانت شرك نہیں یعنی مظہر عون الہی وواسطہ و سیلہ وسبب سمجھنا اس معنی پر حضرات انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء سے کیوں شرك ہونے لگیمگر حکیمامیرججاولادنوکرجوروان سب کو مظہر عون وسبب ووسیلہ جاننا جائز ہے۔اور ان حضرات عالیہ کو کہ وہ اعلی مظہر واعظم سبب وافضل وسائل بلکہ منتہی الاسباب وغایۃ الوسائط ونہایۃ الوسائل ہیںایسا سمجھنا شرك ہوگیاہزار تف بریں بے عقلی وناانصافیغرض پانی وہیں مڑتاہے کہ جو کچھ غصہ ہے۔وہ حضرات محبوبان خداکے بارے میں ہے۔جو رویاربچے مددگارنوکرکارگزار مگر انبیاءواولیاء کانام آیا اور سر پر شرك کا بھوت سوار یہ کیا دین ہے۔کیسا ایمان ہے ! ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
مسلمین اس نکتے کو خوب محفوظ ملحوظ رکھیںجہاں ان چالاکوںعیاروں کو کوئی فرق کرتے دیکھیں کہ فلاں عمل یا فلاں اعتقاد فلاں کے ساتھ شرك ہے فلاں سے نہیںیقین جان لیجئے کہ نرے جھوٹے ہیںجب ایك جگہ شرك نہیں تو اس اعتقاد سے کسی جگہ شرك نہیں ہوسکتاواﷲ الھادی الی طریق سوی۔
فائدہ ضروریہ
مخالفین جب سب طرح عاجز آجاتے ہیں اور کسی طرف راہ مفر نہیں پاتے تو ایك نیا شگوفہ
#6014 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
چھوڑتے ہیں کہ صاحبو! ہم بھی اسی استعانت کو شرك کہتے ہیں جو غیر خدا کو قادر بالذات و مالك مستقل بے عطائے الہی جان کر کی جائےاور اپنی بات بنانے اور خجلت مٹانے کو ناحق ناروا بیچارے عوام مومنین پر جیتا بہتان باندھتے ہیں کہ وہ ایسا ہی سمجھ کرانبیاء واولیاء سے استعانت کرتے ہیں ہمارایہ حکم شرك انھیں کی نسبت ہے۔اس ہار ے درجہ کی بناوٹ کا لفافہ تین طرح کھل جائے گا۔
اولا: صریح جھوٹے ہیں کہ صرف اسی صور ت کو شرك جانتے ہیں ان کے امام خود تقویۃ الایمان میں لکھ گئے ہیں:
"کہ پھر خواہ یوں سمجھے کہ ان کاموں کی طاقت ان کو خود بخود ہے خواہ یوں سمجھے کہ اﷲ نے ان کو ایسی قدرت بخشی ہے ہرطرح شرك ہوتاہے۔"
کیوں اب کہاں گئے وہ جھوٹے دعوے۔
ثانیا:ان کے سامنے یوں کہئے کہ یا رسول اﷲ ! حضور کو اﷲ تعالی نے اپنا خلیفہ اعظم ونائب اکرم وقاسم نعم کیادنیا کی کنجیاں زمین کی کنجیاںخزانو ں کی کنجیاںمدد کی کنجیاںنفع کی کنجیاں حضور کے دست مبارك میں رکھیںروزانہ دو وقت تمام امت کے اعمال حضور کی بارگاہ میں پیش کرائےیارسول اللہ!میرے کام میں نظررحمت فرمائے اﷲ کے حکم سے میری مدد وعافیت فرمائے۔
اب ان لفظوں میں توصراحۃ قدرت ذاتی کاانکار اور مظہر عون الہی کی تصریح ہے ان میں تو معاذاﷲ اس ناپاك گمان کی بو بھی نہیں آسکتییہ کہتے جائے اور ان صاحبوں کے چہرے کو غور کرتے جائےاگر بکشادہ پیشانی سے سنیں اور آثار کراہت وغیظ ظاہر نہ ہو جب تو خیراور اگر دیکھئے کہ صورت بگڑیناك بھوں سمٹیمنہ پر دھوئیں کی مانند تاریکی دوڑیتو جان لیجئے کہ دلی آگ اپنا رنگ لائی ع
کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں
سبحان اللہ! میں عبث امتحان کو کہتا ہوں بارہا امتحان ہو ہی لیاان صاحبوں میں نواب دہلوی مصنف ظفر جلیل تھے حدیث عظیم وجلیل ثابت یامحمد انی توجہت بك الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی کہ صحاح ستہ سے تین صحاح جامع ترمذیسنن نسائیسنن ابن ماجہ
حوالہ / References تقویۃ الایمان ∞پہلاباب توحید وشرك کے بیان میں مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص€۷
جامع الترمذی ابواب لدعوات ∞۲/ ۱۹۷€ و المستدرك کتاب صلٰوۃ التطوع ∞۱/ ۳۱۳،€وکتاب الدعا ∞۵۱۹،€سنن ابن ماجہ ابواب الصلٰوۃ باب ماجاء فی صلٰوۃ الحاجۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۰€
#6015 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
میں مروی اور اکابر محدثین مثل امام ترمذی وامام طبرانی وامام بیہقی وابوعبداﷲ حاکم امام عبدالعظیم منذری وغیرہم اسے صحیح فرماتے آئے ہیں جسے خود حضور پر نور سید یوم النشور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے لئے تعلیماور صحابہ و تابعین رضی اﷲ تعالی عنہم نے زمانہ اقدس اور حضورکے بعد زمانہ امیر المومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ میں حاجت روائی کا ذریعہ بنایااس میں کیا تھایہی نا کہ یار سول اللہ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طر ف توجہ کرتاہوں کہ وہ میری حاجت روا فرمائےاس میں معاذاﷲ قدرت بالذات کی کہاں بو تھی جو نواب صاحب کو پسند نہ آئی کہ نہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد کا پاس نہ صحابہ وتابعین کی تعلیم وعمل کا لحاظ نہ اکابر حفاظ حدیث کی تصحیح کا خیالسخت ڈھٹائی کے ساتھ حاشیہ ظفر جلیل پر حدیث صحیح کو بزور زبان وزور بہتان رد کرنے کے لئے عقل و شرع کی قید سے بے دھڑك بے پرکی اڑادی کہ یہ حدیث قابل حجت نہیںانا ﷲ وانا الیہ راجعون۔
اس واقعہ عبرت خیز کا بیان ہمارے رسالہ انھار الانوار میں ہے۔اب دیکھئے کہ نہ فقط اولیاء بلکہ خود حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوۃ والثناء سے استعانت جائز ومحمودہخود حضور اقدس کی فرمودہصحابہ وتابعین کی معمولہ ومقبولہصحیح حدیث میں ان لوگوں کا یہ حال ہے " قل موتوا بغیظکم ان اللہ علیم بذات الصدور﴿۱۱۹﴾" ۔
ثالثا: سب جانے دوسرے سے یہ ناپاك ادعاہے کہ بندگان خدا محبوبان خدا کو قادر مستقل جان کر استعانت کرتے ہیںایك ایسی سخت بات ہے جس کی شناعت پر اطلاع پاؤ تو مدتوں تمھیں توبہ کرنی پڑے اہل لا الہ الا اﷲ پر بدگمانی حراماور ان کے کام کہ جس کے صحیح معنی بے تکلف درست ہوں خواہی نخواہی معاذاﷲ معنی کفر کی طرف ڈھال لے جانا قطعا گناہ کبیرہ ہے۔حق سبحانہ وتعالی فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" اے ایمان والو! بہت گمانوں کے پاس نہ جاؤبیشك کچھ گمان گناہ ہیں۔
اور فرماتاہے:
" و لا تقف ما لیس لک بہ علم پیچھے نہ پڑ اس بات کے جو تجھے تحقیق نہیں۔
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۳ /۱۱۹€
القرآن الکریم ∞۴۹ /۱۲€
#6016 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
" ان السمع و البصر والفؤادکل اولئک کان عنہ مسؤلا ﴿۳۶﴾ " بیشك کان آنکھدل سب سے سوال ہوناہے۔
اور فرماتاہے:
" لو لا اذ سمعتموہ ظن المؤمنون و المؤمنت بانفسہم خیرا " کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اسے سنا تو مسلمان مردوں عورتوں نے اپنی جانوں یعنی اپنے بھائی مسلمانوں پر نیك گمان کیاہوتا۔
اور فرماتاہے:
" یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا ان کنتم مؤمنین ﴿۱۷﴾ " اﷲ تمھیں نصیحت فرماتاہے کہ اب ایسا نہ کرنا اگرایمان رکھتے ہو۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث رواہ مالك و البخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی۔ گمان سے بچو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔
(اسے امام مالکبخاریمسلمابوداؤاور ترمذی نے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
افلا شققت عن قلبہ رواہ مسلم وغیرہ۔ تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا(اسے امام مسلم وغیرہ نے روایت کیا۔ت)
علماء کرام فرماتے ہیں کلمہ گو کے کلام میں اگر ننانوے۹۹ معنی کفر کے نکلیں اور ایك تاویل اسلام کی پیدا ہو تو واجب ہے اسی تاویل کو اختیار کریں اور اسے مسلمان ٹھہرائیں کہ حدیث میں آیا ہے۔
الاسلام یعلو ولایعلی رواہ الرؤیانی اسلام غالب رہتا ہے اور مغلوب نہیں کیا جاتا
حوالہ / References القرآن الکریم ∞۱۷/ ۳۶€
القرآن الکریم ∞۲۴ /۱۲€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۷€
صحیح بخاری باب قول اﷲ عزوجل من بعد وصیۃ الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۷۴€
سنن ابی داؤد باب علی مایقاتل المشرکون ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۵۵€
سنن الدارقطنی کتاب النکاح باب المہر دارالمحاسن اللطباعۃ ∞قاہرۃ ۳ /۲۵۲€
#6017 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
والدار قطنی والبیہقی والضیاء والخلیل عن عائذ بن عمر المزنی رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ سلم۔ (اسے رؤیائیدارقطنیبہیقیضیاء اور خلیل نے عائذ بن عمرو المزنی رضی اﷲ تعالی عنہ سے انھوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ت)
نہ کہ بلاوجہ منہ زوری سے صاف ظاہرواضحمعلوممعروف معنی کا انکار کرکے اپنی طرف سے ایك ملعونمردودمصنوع مطرود احتمال گھڑیں اور اپنے لئے علم غیب اور اطلاع حال کا دعوی کرکے زبردستی وہی ناپاك مرادمسلمانوں کے سر باندھیں قیامت تونہ آئے گیحساب تو نہ ہوگاان بہتانوںطوفانوں پر بار گاہ قہار سے مطالبہ جواب تو نہ ہوگاہاں ہاں جواب تیار کر رکھو اس سخت وقت کے لئے جب مسلمانوں کی طرف سے جھگڑتا آئے گالا الہ الا اﷲ ہاں اب جانا چاہتے ہیں ستمگر لوگ کہ کس پلٹے پر پلٹاکھاتے ہیںیوں اعتبار نہ آئے تو اپنے کذب کا امتحان کرلواہل استعانت سے پوچھو تو کہ تم انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلوۃ والسلام والثناء کو عیاذا باﷲ خدا یا خدا کا ہمسر یا قادر بالذات یا معین مستقل جانتے ہو یا اﷲ عزوجل کے مقبول بندے اس کی سرکار میں عزت ووجاہت والے اس کے حکم سے اس کی نعمتیں بانٹنے والے مانتے ہودیکھو تو تمھیں کیا جواب ملتاہے۔
اما م علامہ خاتمۃ المجتہدین تقی الملۃ والدین فقیہ محدث ناصر السنۃ ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رضی اﷲ تعالی عنہ کتاب مستطاب شفاء السقام میں استمداد واستعانت کو بہت احادیث صریحہ سے ثابت کرکے ارشاد فرماتے ہیں:
لیس المراد نسبۃ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی الخلق والاستقلال بالافعال ھذا لا یقصدہ مسلم فصرف الکلام الیہ ومنعہ من باب التلبیس فی الدین و التشویش علی عوام الموحدین ۔
صدقت یا سیدی جزاك اﷲ عن الاسلام و یعنی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مددمانگنے کا یہ مطلب نہیں کہ حضور انور کو خالق اور فاعل مستقل ٹھہراتے ہوں یہ تو اس معنی پر کلام کو ڈھال کر استعانت سے منع کرنا دین میں مغالطہ دینا اور عوام مسلمانوں کو پریشانی میں ڈالنا ہے
اے میرے آقا ! اپ نے سچ فرمایا اﷲ تعالی
حوالہ / References شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام الباب الثامن فی التوسل الخ ∞نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۷۵€
#6018 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
المسلمین خیراامین! اپ کو سلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیرعطا فرمائے۔آمین(ت)
فقیہ محدث علامہ محقق عارف باﷲ امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی کتاب افادت نصاب جوہر منظم میں حدیثوں سے استعانت کا ثبوت دے کر فرماتے ہیں:
فالتوجہ والاستغاثۃ بہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بغیرہ لیس لہما معنی فی قلوب المسلمین غیر ذلك و لایقصد بہما احد منہم سواہ فمن لم یشرح صدرہ لذلك فلیبك علی نفسہ نسأل اﷲ العافیۃ و المستغاث بہ فی الحقیقۃ ھو اﷲ و النبی صلی اﷲ تعالی علیہ واسطۃ بینہ وبین المستغیث فہو سبحنہ مستغاث بہ والغوث منہ خلقا وایجادا والنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مستغاث والغوث منہ سببا وکسبا ۔ یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا حضور اقدس کے سوا اور انبیاء واولیاء علیہم افضل الصلوۃ والثناء کی طرف توجہ اور ان سے فریاد کے یہی معنی مسلمانوں کے دل میں ہیں اس کے سوا کوئی مسلمان اور معنی نہیں سمجھتا ہے نہ قصد کرتا ہے تو جس کا دل اسے قبول نہ کرے وہ آپ اپنے حال پر روئےہم اﷲ تبارك وتعالی سے عافیت مانگتے ہیں حقیقتا فریاد اﷲ عزوجل کے حضور ہے اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس کے اور اس فریادی کے بیچ میں وسیلہ و واسطہ ہیںتو اﷲ عزوجل کے حضور فریاد ہے اور اس کی فریاد رسی یوں ہے کہ مراد کو خلق وایجاد کرے اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے حضور فریاد ہے اور حضور کی فریاد رسی یوں ہے کہ حاجت روائی کے سبب ہوں اور اپنی رحمت سے وہ کام کریں جس کے باعث اس کی حاجت روا ہو۔
مخالف کو کریما کامصرعہ یادرہا کہ:
نداریم غیر از تو فریادرس
(ہم تیرے سوا کوئی فریاد کو پہنچنے والا نہیں رکھتے۔ت)
اور وہ بیشك حق ہے جس کے معنی ہم اوپر بیان کرآئے مگر یہ یاد نہ آیا کہ اس کے کبرائے طائفہ کے اکابر وعمائد حضور پر نور سیدنا ومولانا وغوثنا وماوینا حضرت غوث اعظم غوث الثقلین صلی اﷲ تعالی علی جدہ الکریم وآبائہ الکرام وعلیہ وعلی مریدیہ ومحبیہ و بارك وسلم کو فریاد رس مان رہے ہیں۔
حوالہ / References الجوہر المنظم الفصل السابع فیما ینبغی للزائر الخ المطبعۃ الخیریہ ∞مصر ص۶۲€
#6019 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
شاہ ولی اﷲ صاحب ہمعات میں لکھتے ہیں:
امروز اگر کسے را مناسبت بروح خاص پیدا شود وازآں جافیض بردار غالبا بیروں نیست از آنکہ ایں معنی بہ نسبت پیغمبر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باشد یا بہ نسبت حضرت امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ یا بہ نسبت غوث الاعظم جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ آج اگر کسی کو روح خاص سے مناسبت پیدا ہوجائے اور وہاں سے فیضیاب ہوتو غالبا بعیدنہیں کہ یہ کمال حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی مناسبت سے حاصل ہوا ہوگا یا بہ نسبت غوث الاعظم جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ ملا ہوگا۔(ت)
شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی میں حضرت اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبوبیت بیان کرکے فرماتے ہیں:
ایں مرتبہ ازاں مراتب است کہ ہیچکس رااز بشر نہ دادہ اندمگر بہ طفیل ایں محبوبے برخے ازا ولیاء امت اورا شمہ محبوبیت آں نصیب شدہ مسجود خلائق ومحبوبیت دلہا گشتہ اند مثل حضرت غوث الاعظم وسلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء قدس اﷲ سرہما ۔ یہ وہ مرتبہ ہے جو کسی انسان کو نصیب نہ ہواہاں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے طفیل سے اس کا کچھ حصہ اولیائے امت تك پہنچاپھر یہ حضرات اس کی برکت سے مسجودخلائق اور محبوب قلوب ہوئے جیسے حضرت غوث الاعظم اور سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء قدس اﷲ سرہما(ت)
مرزا مظہر جانجاناں اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں:
آنچہ درتاویل قول حضرت غوث الثقلین رضی اﷲ تعالی عنہ قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اﷲ نوشتہ اند ۔ حضرت غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول کہ"میرا قدم ہر ولی اﷲ کی گردن پرہے"کی تاویل میں انھوں نے لکھا ہے۔ (ت)
حوالہ / References ∞ ہمعات ہمعہ ۱۱ اکادیمیۃ الشاہ ولی اﷲ حیدر آباد ص۶€۲
فتح العزیز∞(تفسیر عزیزی)€ سورۃ الم نشرح مسلم ∞بکڈپو لال کنواں دہلی ص۳۲۲€
کلمات طیبات فصل دوم درمکاتیب مرزا مظہر جانجاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۱۹
#6020 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
انہی کے ملفوظات میں ہے:
التفات غوث الثقلین بحال متوسلان طریقہ علیہ ایشاں بسیار معلوم باشد باہیچ کس از اہل ایں طریقہ ملاقات نشدہ کہ توجہ مبارك آں حضرت بحالش مبذول نیست ۔ غوث الثقلین کی توجہ اپنے سلسلے سے وابستہ حضرات کی طرف بہت معلوم ہوئی ہے آپ کے سلسلے کے کسی ایسے شخص سے ملاقات نہ ہوئی جو آپ کی توجہ سے محروم ہیں۔(ت)
قاضی ثناء اﷲ صاحب پانی پتی سیف المسلول میں لکھتے ہیں:
فیوض وبرکات کارخانہ ولایت اول بریك شخص نازل می شود وازاں تقسیم شدہ بہریك از اولیائے عصر می رسدو بہ ہیچ کس از اولیاء اﷲ بے توسط اوفیضے نمی رسد ایں منصب عالی تاوقت ظہور سید الشرفاء حضرت غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر الجیلانی بروح حسن عسکری علیہ السلام متعلق بودہ چوں حضرت غوث الثقلین پیدا شدایں منصب مبارك بوئے متعلق شدہ تاظہور محمد مہدی ایں منصب بروح مبارك حضرت غوث الثقلین متعلق باشد ولہذا آں حضرت قدمی ہذہ علی رقبۃ کل ولی اﷲ فرمودہو قول حضرت غوث الثقلین اخی وخلیلی کان موسی بن عمر ان نیزبراں دلالت دارد ۔ کارخانہ ولایت کے فیوض پہلے ایك شخص پر نازل ہوئے۔پھر اس سے منقسم ہوکر ہر زمانے کے اولیاء کو ملے اور کسی ولی کو ان کے توسط کے بغیر فیض نہ ملاحضرت غوث الثقلین محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ کے ظہور سے قبل یہ منصب عالی حسن عسکری علیہ السلام کی روح سے متعلق تھاجب غوث الثقلین پیدا ہوئے تو یہ منصب آپ سے متعلق ہوا اور محمد مہدی کے ظہور تك یہ منصب حضرت غوث الثقلین کی روح سے متعلق رہے گااس لئے آپ نے فرمایا میرا یہ قدم ہر ولی اﷲ کی گردن پر ہے۔پھر غوث پاك کا یہ قول"میرے بھائی اوردوست موسی بن عمرا ن تھے"بھی اس پر دلالت کرتاہے(ت)
یہ سب ایك طرفخود امام الطائفہ میاں اسمعیل دہلوی صراط مستقیم میں اپنے پیرکا حال لکھتے ہیں:
"روح مقدس جناب حضرت غوث الثقلین و حضرت غوث الثقلین اور حضرت خواجہ بہاؤ الدین
حوالہ / References کلمات طیبات ملفوظات مرزا مظہر جانجاناں مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳
السیف المسلول لقاضی ثناء اﷲ پانی پتی(مترجم اردو) فاروقی کتب خانہ ملتان ص۵۲۷
#6021 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
جناب حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی متوجہ حال حضرت ایشاں گردیدہ ۔ نقشبند کی ارواح مبارکہ ان کے حال پر متوجہ تھیں۔(ت)
اسی میں ہے:
شخصیکہ در طریقہ قادریہ قصد بیعت مے کند البتہ او رادر جناب غوث الاعظم اعتقادے عظیم بہم می رسد(الی قولہ)کہ خود را از زمرہ غلامان آن جناب می شمارد اھ ملخصا ۔ ایك شخص نے قادری طریقے میں بیعت کا ارادہ کیا یقینا ا س کو جناب حضرت غوث الثقلین میں بہت گہرا اعتقاد تھا(الی قولہ)خود کو آنجناب کے غلاموں میں شمار کیا اھ ملخصا(ت)
اسی میں ہے:
اولیائے عظام مثل حضرت غوث الاعظم وحضرت خواجہ بزرگ الخ۔ اولیائے عظام جیسے غوث پاك رضی اﷲ تعالی عنہ اور حضرت خواجہ بزرگ(ت)
یہی امام الطائفہ اپنی تقریر ذبیحہ مندرج مجموعہ زبدۃ النصائح میں لکھتے ہیں:
اگر شخصے بزے راخانہ پرور کند تاگوشت او خوب شود واو راذبح وپختہ فاتحہ حضرت غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ خواندہ بخورانند خللے نیست ۔ اگر کوئی شخص کوئی بکرا گھر میں پالے تاکہ اس کا گوشت اچھا ہو جائے اور اس کو ذبح کرکے پکاکر غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی فاتحہ دلائے اور لوگوں کو کھلائے تو کوئی خلل نہیں۔(ت)
ایمان سے کہیو"غوث الاعظم"کے یہی معنی ہوئے کہ"سب سے بڑے فریاد رس"یاکچھ اور۔خدا کو ایك جان کر کہنا"غوث الثقلین"کا یہی ترجمہ ہوا کہ"جن وبشر کے فریاد رس"یا کچھ اورپھر یہ کیسا کھلا شرك تمھارا امام اور اس کا سارا خاندان بول رہا ہے قول کے سچے ہو تو ان سب کو ذرا جی کراکر کے مشرك بے ایمان کہہ دوورنہ شریعت کیا ان کی خانگی ساخت ہے کہ فقط باہر والوں کے لئے خاص ہے گھر والے سب اس سے مستثنی ہیں۔
حوالہ / References صراط مستقیم خاتمہ دربیان پارہ از وارادات ومعاملات الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۶۶
صراط مستقیم تکملہ باب چہارم دربیان طریق الخ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۱۴۷
صراط مستقیم تکملہ دربیان سلوك ثانی راہ ولایت المکتبہ السلفیہ لاہور ص۱۳۲
زبدۃ النصائح رسالہ نذور
#6022 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
افسوس اس امام کی تلون مزاجیوں نے طائفہ کی مٹی اور بھی خراب کی ہے۔آپ ہی تو شرك کا قانون سکھائے جس کی بناء پر طائفہ کے نواب بھوپالی بہادر دبی زبان سے کہہ بھی گئےغوث اعظم یا غوث الثقلین کہنا شرك سے خالی نہیں اور آپ ہی جب تلو ن کی لہرآئے تو اپنی موج میں آکر انھیں گہرے میں دھکا دے اور خود دور کھڑا قہقہے لگائے کہ
" انی بریء منک انی اخاف اللہ رب العلمین ﴿۱۶﴾" (میں تجھ سے الگ ہوں میں اﷲ سے ڈرتاہوں جو سارے جہاں کا رب ہے)اب یہ بیچارے رویا کریں
اپنا بیڑا کھے گئے اور ہوگئے ندیا پار
بانھ نہ میری تھام لی سوآن پڑی منجدھار
کون سنتاہے الحق
دو گونہ رنج وعذاب است جان مجنوں را بلائے صحبت لیلی وفرقت لیلی
(مجنون کی جان کے لئے دوہرا دکھ اور عذاب ہے صحبت لیلی کی مصیبت اور لیلی کا فراق)
ضعف الطالب والمطلوب o لبئس المولی ولبئس العشیر وحسبنا اﷲ ونعم الوکیلولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العزیز الحکیمنعم المولی ونعم النصیروالحمد ﷲ رب العالمینوقیل بعداللقوم الظلمینوصلی اﷲ تعالی علی سید المرسلین غوث الدنیا وغیاث الدین سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔ امین! طالب ومطلوب کمزور ہوئےتوبرا مددگار اور براخاندان ہمیں اﷲ تعالی کافی اور وہ اچھا وکیلنیکی کی طرف پھرنا اور قوت صرف اﷲ تعالی کی مدد سے ہے جو غالب حکمت والا ہے۔وہی اچھا مددگاراور اچھا آقا ہے۔اور رب العالمین کے لئے تمام حمدیںاور ظالم قوم کو کہا گیا تمھارے لئے بعد ہے۔ وصلی اﷲ تعالی علی سید المرسلین غوث الدنیا وغیاث الدین سیدنا ومولانا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین۔آمین! (ت)
الحمدﷲ کہ یہ نہایت اجمالی جواب اور اتنے اجمال پر کافی ووافی موضع صواب چند جلسات میں ۱۶/ شعبان المعظم روز مبارك جمعہ ۱۳۱۱ ہجریہ قدسیہ کو بوقت عصر تمام اور بلحاظ تاریخ
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۹ /۱۶
#6023 · برکات الامداد لاھل الاستمداد ۱۳۱۱ھ (مدد طلب کرنے والوں کے لئے امداد کی برکتیں)
برکات الامداد لاھل الاستمداد(۱۳۱۱ھ)نام ہوانفعنی اﷲ بہ وبسائر تصانیفی والمسلمین فی الدارین بالنفع الاتموصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ وسلمواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
تمت
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضاالبریلوی
عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
__________________
#6024 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
رسالہ
فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ
(لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبان خدا کا بعطاء الہی دلوں پر قبضہ ہے)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم ط

مسئلہ ۱۶۶: از کانپور محلہ فیل خانہ کہنہ مکان مولوی سید محمد اشرف صاحب وکیل۔مرسلہ سید محمد آصف صاحب ۸/ذی الحجہ ۱۳۲۶ھ
حامی سنتماحی بدعت جناب مولانا صاحب دامت فیوضہمبعد سلام مسنون الاسلامالتماس مرام اینکہ ان دنوں جناب والا کا دیوان نعتیہ کمترین کے زیر مطالعہ ہے۔بصد آداب ملازمان کی خدمت بابرکت میں ملتمس ہوں کہ وہ مصرع کے الفاظ شرعا قابل ترمیم معلوم ہوتے ہیں اور غالبا اس ہیچمدان کی رائے سے ملازمان سامی بھی متفق ہوں اور ودر صورت عدم اتفاق جواب باصواب سے تشفی فرمائیں ع
حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
#6025 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
اس مصرح میں لفظ"شہنشاہ"خلاف حدیث ممانعت دربارہ قول ملك الملوك ہے بجائے"شہنشاہ"اگر"مرے شاہ"ہو تو کسی قسم کا نقصان نہیںدوسرایہ مصرع حضرت غوث اعظم قدس سرہکی تعریف میں:ع
بندہ مجبور ہے خاطر پر ہے قبضہ تیرا
صحیح حدیث شریف سے ثابت ہے کہ دل خدا وند کریم کے قبضہ قدرت میں ہیںاور وہی ذات مقلب القلوب ہےچونکہ اس ہیچمداں سراپا عصیان کو ملازمان جناب والا سے خاص عقیدت وارادت ہے۔لہذا امیدوار ہے کہ یہ تحریر محض الدین النصح (دین نصیحت ہے۔ت)پر محمول فرمائی جائےبخدا فدوری نے کسی اور غرض سے نہیں لکھا۔
عریضہ ادب سید محمد آصف عفی عنہ
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمد ﷲ ھو الشاہوالشاہ الشاھنشاہلا ملك سواہ فمن ادعا دونہ فقد ضل وتاہوصلی اﷲ تعالی علیہ سید العالممالك الناس دیان العرب والعجم الذی ملك الارض ورقاب الامموعلی الہ وصحبہ وبارك وسلمامین! سب حمدیں اﷲ تعالی کے لئے جو حقیقی بادشاہ اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی حقیقی بادشاہ نہیں ہے تو جو اس کے غیر کو مقابلہ میں سمجھے تو وہ گمراہ اور بھٹکا ہوا ہے۔اور اﷲ تعالی رحمت نازل فرمائے جہاں کے سردارعرب وعجم کے جزادہندہ جوروئے زمین اور امتوں کے مالك بنے اور آپ کی ال پاك واصحابہ پر اور برکت اور سلامتی فرمائے۔آمین۔ (ت)
کرم فرمائے مکرم ذی الطف والکرم مکرمی سیدی محمد آصف صاحب زید کرمہموعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔
نوازش نامہ تشریف لایاممنون فرمایاحق سبحانہ وتعالی آپ کو جزائے خیر عطافرمائے آپ کے صرف انھیں دو مصرعوں میں تامل فرماتے سے شکر الہی بجالایاکہ اس میں بحمداﷲ تعالی آپ کی سنیت خالصہ اور محبت وتعظیم حضور پر نور سید الانبیاء علیہ وعلیہم الصلوۃ والثناء کا شاہد پایاورنہ قوم بے ادب خذلہ اﷲ تعالی کے نزدیك تو ان اوراق میں معاذاﷲ معاذاﷲ ہزاروں شرك بھرے ہیںکہ ان دو لفظوں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیںحالانکہ بحمداﷲ تعالی اس میں جو کچھ ہے اکابر ائمہ دین واعاظم عرفائے کا ملین کے ایمان کامل
#6026 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
کا ایك مختصر نمونہ ہے۔جیسا کہ فقیر کی کتاب"سلطنۃ المصطفی فی ملکوت کل الوری"کے مطالعہ سے ظاہر ہے۔وﷲ الحمد۔
اب شکریہ کے ساتھ بتوفیقہ تعالی جواب عرض کروںامید کہ جس خالص اسلامی محبت سے یہ اطلاع دی اسی پر ان جوابوں کو مبنی سمجھ کر ویسی ہی نظر سے ملاحظہ کرینگےوباﷲ التوفیق۔
جواب سوال اول:لفظ"شہنشاہ"۱اولا بمعنی سلطان عظیم السطنۃ محاورات میں شائعوذائع ہے۔اور عرف ومحاورہ کو افادہ مقاصد میں دخل تامقال اﷲ تعالی: " وامر بالعرف" (اور بھلائی کا حکم دو۔ت)
خود ہمارے فقہاء کرام میں امام اجل علاء الدین ابوالعلاء لیثی ناصحی رحمۃ اﷲ تعالی کا لقب"شاہان شہدملك الملوک"تھا ائمہ وعلمائے مابعد جوان کے فتاوی نقل کرتے ہیں اسی لقب سے انھیں یاد فرماتے ہیں اور وہ جناب فقاہت مآب خود اپنے دستخط! انھیں الفاظ سے کرتےامام رکن الدین ابوبکر محمد بن المفاخرین عبدالرشید کرمانی جواہر الفتاوی کتاب الاجارہ باب سادس میں فرماتے ہیں:
قال الامام القاضی ملك الملوك ابوالعلاء الناصحی لماسئل عمن اجر ارضا موقوفۃ مائۃ سنۃ ھل یجوز
افتی ببطلان الاجارۃ معشر
من زمرۃ الفقہاء قطعا لازما
وبذلك افتی للمتدین حسبۃ
کیلا اکون بما احرز ظالما
۲ملك الملوك ابوالعلا مجیبہ
لمعز دین اﷲ مدعوا دائما ۔ امامقاضیشاہوں کے شاہ ابوالعلانا صحی سے یہ استفتاء کیا گیا کہ ایك شخص نے ایك موقوفہ زمین سال بھر کے لئے اجارہ میں دی تو کیا اس کا یہ فعل از روئے شرع جائز ودرست ہے۱۲ م
فقہاء کی ایك جماعت نے فتوی دیا کہ یہ اجارہ قطعی اورلازمی طور پر باطل ہے۔۱۲ممیرا عدم جواز کایہ فتوی دینا دینداروں کے لئے کافی ہے تاکہ میں اپنی جمع کردہ چیزوں کی وجہ سے ظالم نہ ہوجاؤ۔۱۲ م
شاہوں کے شاہ ابوالعلاء اس کا مجیب ہے دین الہی کے غلبہ کے لئے ہمیشہ دعا گو ہے۔۱۲ م
حوالہ / References القرآن الکریم ۷ /۱۹۹
جواہر الفتاوٰی کتاب الاجارۃ الباب السادس قلمی نسخہ ورق ۱۳۸ صفحہ ۲۷۵
#6027 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
اسی کی ۳ کتاب القضاء میں ایك اور مسئلہ اس جناب سے بایں عنوان نقل فرمایا:
قال القاضی الامام ملك الملوك ابوالعلاء الناصحی ۔ قاضی امام شاہوں کے شاہ ابو العلاء ناصحی نے کہا ۱۲م۔
پھر ۴تیسرے مسئلے میں فرمایا:
قال القاضی الامام ملك الملوك ھذا لما عرض علیہ محضر ۔ قاضی امامشاہوں کے شاہ نے یہ کہاجب ان کے پاس دستاویز پیش کیا گیا۔۱۲ م
۵اس میں ان کا منظوم فتوی نقل کیا جس کےاخر میں فرمایا:
شاھان شہ ملك الملوك ابوالعلاء
نظم الجوابمنظما ومفصلا۔ شاہوں کے شاہ ابوالعلاء نے اس جواب کو نظم اور ترتیب اور تفصیل سے بیان کیا ہے۔۱۲م
۶پھر فرمایا:قال ملك الملوك (شاہوں کے شاہ نے فرمایا۔ت)اور ان کا چوتھا فتوی نقل کیا جس کے ۷آخر میں فرمایا:
شاھان شہ ملك الملوك ابوالعلا
نظم الجواب لکل من ھو قد عرف شہنشاہ وقت ابوالعلاء نے اس جواب کو ہر جانکار شخص کے لئے مرتب کیا۔۱۲ م
۸پھر ان کا پانچواں فتوی نقل فرمایا جس کے دستخط یوں فرمائے ہیں:
شاھان شہ ملك الملوك ابوالعلاء
نظم الجواب مبینا لمنارہ شاہوں کے شاہ ابوالعلاء نے جواب کو یوں مرتب فرمایا کہ اس کے ہر پہلو کو واشگاف کردیا۔۱۲م
۹پھر ان کا چھٹا فتوی نقل کیا جس کے دستخط ہیں:
شاھان شہ ملك الموك ابوالعلاء
ھادی امیر المومنین لقد نظم ۔ شاہوں کے شاہ ملك الملوك ابوالعلاء مسلمانوں کے امیر ورہبر نے اس جواب کو مرتب کیا۔۱۲م
۱۰یونہی کتاب الوقف میں ان کے متعد د فتاوے نقل فرمائے ازاں جملہ ایك کلام کا ختم یہ ہے:
حوالہ / References جواھر الفتاوٰی کتاب القضاء ص۳۵۳ ورق ۱۷۷
جواھر الفتاوٰی کتاب القضاء ص۳۵۳ ورق ۱۷۷
جواھر الفتاوٰی کتاب القضاء ص۳۵۳ ورق ۱۷۷
جواھر الفتاوٰی کتاب القضاء ص۳۵۳ ورق ۱۷۷
جواھر الفتاوٰی کتاب القضاء ص۳۵۴ ورق ۱۷۷
#6028 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
ملك الملوك ابوالعلاء مجبیہ
معزدین اﷲ یشکر داعیا ۔ شاہوں کے شاہ ابوالعلاء اس کا مجیب ہے جو دین الہی کے غلبہ کے لئے شکر کے ساتھ دعا کرتاہے۔۱۲م
۱۱ایك کے آخر میں ہے:
شاھان شہ ملك الملوك ابوالعلاء
نظم الجواب لمن تعفی بالہ ۔ شہنشاہ ملك الملوك ابوالعلاء نے یہ جواب اس شخص کے لئے مرتب کیا جو اﷲ عزوجل کی پناہ کا طالب ہے۔۱۲م
یون ہی ۱۲ تا ۱۵ کتاب البیوع میں ان کے چار۴ فتوے نقل فرمائے ہر ایك کی ابتداء انھییں لفظوں سے کی:
قال القاضی الامام ملك الملوك ۔ قاضیامامملك الملوك نے کہا۔(ت)
۱۶غرض کتاب مستطاب ان کے فتاوئے صواب اور ان کے ان گرامی الفاظ سے مشحون ہے۔
علامہ خیر الدین رملی استاد صاحب درمختار رحمہما اﷲ تعالی نے فتاوی خیریہ کتاب الاجارہ میں نوازل سے نقل فرمایا:
قال سئل ملك الملوك ابوالعلاء فیمن اجر دار موقوفۃ مائۃ سنۃ الخ۔ شاہوں کے شاہ ابوالعلاء سے اس شخص کے بارے م یں استفتاء کیا گیا جس نے ایك قف کی ہوئی زمین کو سال بھر کےلئے اجرت میں دیا تو کیا حکم ہے۔۱۲ م۔
۱۷اسی کی کتاب القضا باب خلل المحاضرہ والسجلات میں دربارہ ساعی فرمایا:
فحول المتاخرین افتوا بجواز قتلہ حتی قال ملك الملوك الناصحی رحمہ اﷲ تعالی ۔ متاخرین میں معتمد ومستند علماء نے فتوی دیا ہے کہ ایسے شخص کو قتل کرنا جائز ہےحتی کہ شاہوں کے شاہ ناصحی رحمۃ اﷲ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۱۲م۔
حوالہ / References جواہرالفتاوٰی کتاب الوقف،قلمی ص۳۰۹ ورق ۱۵۵
جواہر الفتاوٰی کتاب الوقف ص۳۱۰ ورق ۱۵۵
جواہر الفتاوٰی کتاب البیوع الباب السادس قلمی نسخۃ ص ۲۵۹ ورق ۱۳۰
فتاوٰی خیریہ کتا ب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۲۱
فتاوٰی خیریہ کتاب ادب القاضی باب خلل المحاضر والسجلات دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۲۰
#6029 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
۱۸پھر ان کا منظوم فتوی نقل فرمایا:
القتل مشروع علیہ واجب
زجرا لہ والقتل فیہ مقنع
شاھان شہ ملك الملوك ابوالعلاء
نظم الجواب لکل من ھو یبرع ۔ ایسے شخص کوقتل کرنا مشروع بلکہ اس کے زجر وتوبیخ کے لئے واجب ہے اور اس میں قتل عین عدل ہے۔شاہوں کے شاہ ملك الملوك ابوالعلاء نے ہر فضیلت وعلم رکھنے والوں کے لئے اس جواب کو مرتب کیا ۱۲م
۱۹حضرت عمدۃ العلماء والاتقیاء زبدۃ العرفاء والاولیاء مولوی معنوی سیدی محمد جلال الملۃ والدین رومی بلخی قدس سرہ الشریف مثنوی شریف میں ایك بادشاہ کی حکایت میں فرماتے ہیں:
گفت شاہنشاہ جزائش کم کنید
دربجنگدنامش از خط برزنید بادشاہ نے کہا اس کی اجرت کم کردی جائے اور اگر وہ آمادہ جنگ ہو تو روزنامچہ سے اس کا نام نکال دو۔۱۲م
۲۰نیز ابتدائے مثنوی مبارك میں فرماتے ہیں:
تاسمرقند آمد ند آن دوامیر
پیش آں زرگر زشاہنشہ بشیر بادشاہ کے دونوں امیر(ایلچی)شہر سمرقند آئے اور اس مردزر گر کو بادشاہ کی جانب سے خوشخبری دی ۱۲م
۲۱وہی فرماتے ہیں:
پیش شاہنشاہ بروش خوش نباز
تابسو زد برسر شمع طراز اس خوش نصیب مرزرگر کو بادشاہ کے پاس لے آئے تاکہ اس شمع طراز معشوقہ پر اسے قربان کردے۔۱۲م
۲۲اسی میں فرمایا:
ہم زانواع اوانی بے عدد
کانچناں دربزم شاہنشاہ سزد اور بہت سے مختلف قسم کے برتن بھی(بنا)جو بادشاہوں کی بزم مسرت کی زیب وزینت نہیں ۱۲م
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب ادب القاضی باب خلل المحاضر والسجلات دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۲۰
مثنوی معنوی دربیان آنکہ ترك الجواب جواب مقرر ایں سخن الخ نورانی کتب خانہ پشاور دفتر چہارم ص۳۸
مثنوی معنوی فرستادن بادشاہ رسولاں سمرقند در طلب زرگر نورانی کتب خانہ پشاور دفتر اول ص ۹
مثنوی معنوی فرستادن بادشاہ رسولاں سمرقند در طلب زرگر نورانی کتب خانہ پشاور دفتر اول ص ۹
مثنوی معنوی فرستان بادشاہ رسولاں سمرقند در طلب زرگر نورانی کتب خانہ پشاور دفتر اول ص ۹
#6030 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
۲۳حضرت عارف باﷲ داعی الی اﷲ سیدی مصلح الدین سعد شیرازی قدس سرہفرماتے ہیں:
جمال الانام مفخر الاسلام سعد ابن الاتابك الاعظم شاھنشاہ المعظم مالك رقاب الامم مولی ملوك العرب و العجم ۔ مخلوق کے جمالاسلام کے لئے قابل فخرسعد ابن اتابك اعظمقابل عظمت شہنشاہ لوگوں کی گردنوں کے مالك عرب وعجم کے بادشاہوں کے مولی وآقا ۱۲ م۔
۲۴نیز فرماتے ہیں:
بارعیت صلح کن وزجنگ خصم ایمن نشین
زانکہ شاہنشاہ عادل رارعیت لشکر است رعایا کے ساتھ خیر خواہی سے پیش آاور پھر دشمن کی جانب لڑائی سے بے خوف رہکیونکہ عادل بادشاہ کے لئے رعایہ ہی لشکر ہے۔۱۲م۔
۲۵نیز فرماتے ہیں:
شہنشہ برآشفت کاینك وزیر
تعلل میندیش وحجت مگیر بادشاہ نے غصے سے کہا اے وزیر! بہانہ مت بنا اور حجت مت لا ۱۲ م
۲۶نیز فرماتے ہیں:
سر پر غرور از تحمل تہی
حرامش بودتاج شاہنشہی جو سر صبر وتحمل سے خالی اورکبرہ ونخوت سے پرہو وہ بادشاہی کے تاج سے محروم ہوتاہے۔۱۲م
۲۷نیز فرماتے ہیں:
دواں آمد ش گلہ بانے زپیش
شہنشہ بر آورد تغلق زکیش بادشاہ کے پاس سامنے سے ایك چرواہا دوڑتا آیا بادشاہ نے(اسی وقت)تیرترکش سے نکال لیا ۱۲م
حوالہ / References گلستان سعدی دیباچہ کتاب دانش سعدی تہران ایران ص۱۲
گلستان سعدی باب اول تہران ایران ص۳۰
بوستان باب اول ملك سراج الدین اینڈ سنز لاہور ص۳۴
بوستان باب اول ملك سراج الدین اینڈ سنز لاہور ص ۳۸
بوستان باب اول ملك سراج الدین اینڈ سنز لاہور ص۴۲
#6031 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
۲۸محبوب محبوب الہی حضرت عارف باﷲ سیدی خسروقدس سرہاواخر قران السعدین صفت تخت شاہی میں فرماتے ہیں:
کیست جز از وے کہ نہد پائے راست
پیش شکوہ کہ شہنشاہ راست ۔ اس کے سوا کون ہے جو بادشاہ کی شان وشوکت کے سامنے سیدھا پاؤں رکھے ۱۲م
۲۹عارف باﷲ اما العلماء حضرت مولانا نورالدین جامی قدس سرہ السامی تحفہ الاحرار میں فرماتے ہیں:
زدبجہاں نوبت شاہنشہی
کوکبہ فخر عبید اللہی حضرت عبید اﷲ احراررضی اﷲ تعالی عنہ کے ستارہ افتخار نے دنیا میں اپنی شہنشاہی کا نقارہ بجادیا ۱۲
۳۰حضرت خواجہ شمس الدین حافظ قدس سرہ فرماتے ہیں:
خان بن خان شہنشاہ شہنشاہ نزاد
آنکہ مے زیبد اگر جان جہانش خوانی خان بن خان خاندانی شاہوں کے شاہ جسے جان جہاں کا خطاب زیب دیتاہے۔۱۲م۔
۳۱نیز فرماتے ہیں:
ہم نسل شہنشہ زمان است
ہم نقد خلیفہ زمین است ۔ زمانہ کے بادشاہوں کا ہم رتبہخلیفہ زمین کا ہم جنس ہے۔۱۲ م
۳۲حضرت مولانا نظامی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں:
گزارندہ شرح شاہنشہی
چنیں داد پرسندہ را آگہی احکام شاہی کی تفصیل سنانے والے نے سائل کو یوں آگاہ کیا۔۱۲م
۳۳مخدوم قاضی شیخ شہاب الدین تفسیر بحرمواج میں فرماتے ہیں:
"سلطان السلاطین خدا وند باعز وتمکین بادشاہ سلیمان فر الخ"
حوالہ / References تحفۃ الاحرار
دیوان حافظ ردیف الباء حامد اینڈ کمپنی لاہور ص۳۸۳
دیوان حافظ ترکیب بند حامد اینڈ کمپنی لاہور ص۴۶۹

تفسیر بحرمواج
#6032 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
غرض کلمات اکابر میں اس کے صدہا نظائر ملیں گےہمیں کیا لائق ہے کہ ان تمام ائمہ ورفقہااء وعلماء وعرفاء رحمہم اﷲ تعالی قدست اسرارھم پر طعن کریں وہ ہم سے ہر طرح اعرف واعلم تھےلہذا واجب کہ بتوفیق الہی نظر فقہی سے کام لیںاور اس لفظ کے منع وجواز میں تحقیق مناط کریں کہ مسئلہ قطعا معقول المعنی ہے نہ کہ محض تعبدی
فاقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق اﷲ سے ہے۔ت)ظاہر ہے کہ اصل منشا ئے منع اس لفظ کا ستغراق حقیقی پر حمل ہے یعنی موصوف کا استثناء تو عقلی ہے کہ خود اپنے نفس پر بادشاہ ہونا معقول نہیں۔اس کے سوا جمیع ملوك پر سلطنت اوریہ معنی قطعا مختص بحضرت عزت عزجلالہ ہیںاور اس معنی کے ارادے سے اگر غیر پر اطلاق ہو تو صراحۃ کفر ہے کہ اس کے استغراق حقیقی میں رب عزوجل بھی داخل ہوگا یعنی معاذاﷲ موصوف کو اس پر بھی سلطنت ہے یہ ہر کفر سے بد تر کفر ہے۔ مگر حاشا ہر گز کوئی مسلمان اس کا ارادہ کرسکتاہے نہ زنہار کلام مسلم میں یہ لفظ سن کر کسی کا اس طرف ذہن جاسکتاہےبلکہ قطعا قعطا عہد یا استغراق عرفی ہی مراد اور وہی مفہوم ومستفاد ہوتاہے کہ قائل کااسلام ہی اس ارادہ پر قرینہ قاطعہ ہے۔جیسا کہ علماء نے موحد کے انبت الربیع البقل(موسم ربیع نے سبزہ اگایا)کہنے میں تصریح فرمائینیز فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی رجل حلف لایدخل ھذہ الدار الا ان یحکم علیہ الدھرفدخل ھل یحنث(اجاب)لاوھذا مجاز لصدورہ عن المواحد والحکم القضاء واذا ادخلہا فقد حکم ای قضی علیہ رب الدھر بدخولہا وھو مستثنی من یمینہفلاحنث ۱ ۔ ایك ایسے شخص کے بارے میں استفتاء کیا گیا جس نے یہ قسم کھالی تھی کہ اس گھر میں داخل نہ ہوں گاجب تك کہ اس پر زمانہ کاحکم نہ ہوپھر وہ اس گھر میں داخل ہوا تو کیا اس کی قسم ٹوٹ جائیگیجوا ب نفی میں ملاچونکہ موحد سے یہ جملہ صادر ہوا اس لئے مجاز قرار پائےگا اور حکم بمعنی قضاء ہے وار جب وہ شخص داخل ہوا تو اس کا دخول رب الدہر کے حکم اور قضاء سے ہوا ہے اور یہ اس قسم سے مستثنی ہے لہذا حانث نہ ہوگا الخ۔
اب رہا یہ کہ استغراق حقیقی اگر چہ نہ مراد نہ مفہوم مگر مجرد احتمال ہی موجب منع ہے۔یہ قطعا
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب الایمان دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۸۷
#6033 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
باطل ہے۔یوں تو ہزاروں الفاظ کہ تمام عالم میں دائر وسائر ہیں منع ہوجائیں گےپہلے خود اسی لفظ"شہنشاہ"کی وضع وترکیب لیجئےمثلا قاضی القضاۃ امام الائمہ شیخ الشیوخشیخ المشائخعالم العلماءصدر الصدورامیر الامراءخان خاناں بگاء بگ وغیرہما کہ علماء ومشائخ وعامہ سب میں رائج ہیںشیخ المشائخسلطان الاولیاءمحبوب الہی اور شیخ الشیوخ حضرت سیدنا شہاب الحق والدین عمر سہروردی رضی اﷲ تعالی عنہما کا لقب ہے۔جواھر الفتاوی کتاب اصول الدین وکتاب اصول فقہ وکتاب الایمان وکتاب الغصب وکتاب الدعوی وکتاب الکراھت وغیرہا سب کے باب سادس میں امام علاء الدین سمرقندی کو عالم العلماء فرمایا۔
امام اجل عبدالرحمن اوزاعی امام اہل الشام کہ امام اعظم ابوحنیفہ وامام مالك کے زما نے میں تھے اور تبع تابعین کے اعلی طبقے میں ہیںامام مالك کو عالم العلماء فرمایاکرتے۔زرقانی علی الموطا میں ہے:
امامالك فہو الامام المشہور صدر الصدور اکمل العقلاء واعقل الفضلاء کان الاوزاعی اذا ذکر مالکا قال قال عالم العلماء وعالم اھل المدینۃ ومفتی الحرمین ۔ امام مالك تو مشہور امام ہیںرئیسوں میں رئیسعقلاء میں کامل ترفضلا میں سب سے فہیمامام اوزاعی جب امامالك کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ عالم العلماء مدینہ والوں کے عالم اور حرمین طیبین کے مفتی نے فرمایا ہے۔۱۲م
امام الائمہ امام محمد بن خزیمہ حافظ الحدیث کا لقب ہے۔قاضی القضاۃ اسلامی سلطنتوں کا معرف عہدہ ہے۔عامہ کتب فقہ میں اس کا اطلاق موجوداور ائمہ کی زبانوں پر شائعدرمختار کتاب القضاء میں ہے:
لایستخلف قاض نائبا الا اذا فوض الیہ کجعلتك قاضی القضاۃ وھو الذی یتصرف فیہم مطلقا تقلید اولا ۔ کوئی بھی قاضی اپنا نائب اس وقت مقرر کرسکتاہے جب اس کو نائب بنانے کے اختیارات سپر دکردئے گئے ہوں مثلا یہ کہے میں نے تمھیں قاضی القضاۃ بنایا۔قاضی القضاۃ(چیف جسٹس)وہ ہے جسے علی الاطلاق تصر ف کاحق حاصل ہوچاہے تقلید ہو یا نہ ہو ۱۲ م۔
حوالہ / References شرح الزرقانی علی مؤطا الامام مالك مقدمۃ الکتاب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲و ۳
الدارالمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس مطبع مجتبائی دہلی ۲/۷۸
#6034 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
بحرالرائق وردالمحتار کتاب الوقف میں ہے:
قولہم فی الاستدانۃ بامرالقاضی المراد بہ قاضی القضاۃ وفی کل موضع ذکروا لقاضی فی امور الاوقاف ۔ استدانت بامرالقاضی میں ان کی مراد قاضی سے"قاضی القضاۃ" ہے اور امور اوقاف میں جہاں بھی"قاضی"کا لفظ آیا ہے اس سے یہی(قاض القضاۃ)مراد ہے۔۱۲م۔
امیر الامراءخان خاناںبگاء بگ عربی فارسی ترکی تین مختلف زبانوں کے الفاظ ہیں اور معنی ایکیعنی سرورسرواں سردار اسرداراںسید الاسیاداور اگر امیرامر بمعنی حکم سے لیجئے تو امیر الامراء بمعنی حاکم الحاکمینشك نہیں کہ ان الفاظ کو عموم و استغراق حقیقی پر رکھیں توقاضی القضاۃ وحاکم الحاکمین وعالم العلماء وسید الاسیاد حضرت رب العزت عزوجل ہی کے لئے خاص ہیں اور دوسرے پر ان کا اطلاق صریح کفربلکہ بنظر حقیقت اصلیہ صرف قاضی وحاکم وسید وعالم بھی اسی کے ساتھ خاص
قال اﷲ تعالی:" و اللہ یقضی بالحق و الذین یدعون من دونہ لا یقضون بشیء ان اللہ ہو السمیع البصیر ﴿۲۰﴾ " ۔ اور اﷲ سچا فیصلہ فرماتاہے اور اس کے سوا جن کو پوچتے ہیں وہ کچھ فیصلہ نہیں کرتےبیشك اﷲ ہی سنتادیکھتاہے۔
وقال اﷲ تبارك وتعالی:
" لہ الحکم و الیہ ترجعون ﴿۸۸﴾" ۔ اسی کاحکم ہے اور اسی کی طرف پھرے جاؤ گے۔
وقال اﷲ تعالی:
" ان الحکم الا للہ " ۔ حکم نہیں مگر اﷲ کا۔
وقال اﷲ تعالی:
" و ہو العلیم الحکیم ﴿۲﴾ " ۔ وہی علم وحکمت والا ہے۔
وقال اﷲ تعالی:
" یوم یجمع اللہ الرسل فیقول جس دن اﷲ جمع فرمائے گا رسولوں کو پھر فرمائے گا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۰
القرآن الکریم ۴۰ /۲۰
القرآن الکریم ۲۸ /۸۸
القرآن الکریم ۱۲ /۴۰
القرآن الکریم ۶۶ /۲
#6035 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
" ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا " تمھیں کیا جواب ملا عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں۔
وفد بنی عامر نے حاضر ہوکر حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:انت سیدنا حضور ہمارے سید ہیں۔فرمایا: السید اﷲ سید تو خدا تعالی ہی ہے۔
رواہ احمد ابوداؤد عن عبداﷲ بن الشخیر العامری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اسے روایت کیا ہے احمد اور ابوداؤد نے عبداﷲ بن شخیر عامری رضی اﷲ تعالی عنہ سے(ت)
یوں ہی نہ ملك الملوك بلکہ صرف مالك ہیقال اﷲ تعالی:
" لہ الملک ولہ الحمد ۫" اسی کے لئے ملك اور اسی کے لئے تعریف۔
وقال اﷲ تعالی:
" لمن الملک الیوم " آج کس کی بادشاہی ہے۔
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اسی حدیث ملك الملوك کی تعلیل میں فرمایا:لا ملك الا اﷲ بادشاہ کوئی نہیں سوائے اﷲ تعالی کے۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ(اسے روایت کیا ہے مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔ت)
اورا مام الائمہشیخ الشیوخ شیخ المشائخ اپنے استغراق حقیقی پر یقینا حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ خاصاور دوسرے پر اطلاق قطعا کفر کہ اس کے عموم میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بھی داخل ہوں گےاور معنی یہ ٹھہریں گےکہ فلاں شخص معاذاﷲ حضور سید العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا بھی شیخ وامام ہے۔اور یہ صراحۃ کفر ہے۔مگر حاشا ان تمام الفاظ میں نہ ہر گز یہ معنی قائلین کی مراد نہ ان کے اطلاق سے مفہوم ومفاد اور اس پر
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۱۰۹
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی کراھیۃ التماح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۶،مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۴
القرآن الکریم ۶۴ /۱
القرآن الکریم ۴۰ /۱۶
صحیح مسلم کتاب الادب با ب تحریم التسمی بملك الاملاك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸
#6036 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
دلیل ظاہر وباہریہ ہے کہ متکبر مغرور جبار سلاطین کہ اپنے آپ کو مابدولت واقبال اور اپنے بڑے عہدہ داروںامراء وزراء کو بندہ حضور وفدوی خاص لکھتے ہیں جن کے تکبر کی یہ حالت کہ اﷲ و رسول کی توہین پر شاید چشم پوشی بھی کرجائیںمگر ہر گز اپنی ادنی سی توہین پر درگزر نہ کریں گےیہی جبار انہیں امراء کوقاضی القضاۃ امیرالامراء وخان خاناں وبگاء بگ خطاب دیتے اور خود لکھتےاور اوروں سے لکھواتےاور لوگوں کو کہتےلکھتے دیکھتےسنتے اور پسند ومقرر رکھتے ہیں بلکہ جو انکے اس خطاب پر اعتراض کرے عتاب پائے اگر ان میں استغراق حقیقی کا ادنی ابہام بھی ہوتاجس سے متوہم ہوتا کہ یہ امراء خود ان سلاطین پر بھی حاکم وافسروبالا وبرتر وسردار وسرور ہیںتو کیا امکان تھا کہ اسے ایك آن کے لئے بھی روا رکھتےتو ثابت ہو اکہ عرف عام میں امثال الفاظ میں استغراق حقیقی ارادۃ وافادۃ ہر طرح قطعا یقینا متروك ومہجور ہے۔جس کی طرف اصلا خیال بھی نہیں جاتابعینہ بداہۃ یہی حال شاہنشاہ کا ہے۔کیا پکے مجنون کے سوا کوئی گمان ہوسکتا ہے کہ امام اجل ابوالعلاء علاء الدین ناصحی امام اجل ابوبکر رکن الدین کرمانیعلامہ اجل خیر الملۃ والدین رملیعارف باﷲ شیخ مصلح الدین______ عارف باﷲ حضرت امیرعارف باﷲ حضرت حافظعارف باﷲ حضرت مولوی معنویعارف باﷲ حضرت مولانا نظامیعارف باﷲ حضرت مولانا جامیفاضل جلیل مخدوم شہاب الدین وغیرہم رضی اﷲ تعالی عنہم وقدست اسرارھم کے کلام میں یہ ناپاك معنی مرادہونا درکناراسے سن کر کسی مسلمان کا وہم بھی اس طرف جاسکتاہے تو بے ارادہ وبے افادہ اگر مجرد احتمال منع کے لئے کافی ہوتا وہ تمام الفاظ بھی حرام ہوتے حالانکہ خواص وعام سب میں شائع وذائع ہیں خصوصا قاضی القضاۃ کہ انہیں فقہائے کرام کا لفظ اور قدیما وحدیثا کے ان کے عامہ کتب میں موجود ہے۔اس میں اور شہنشاہ میں کیا فرق ہے۔لاجرم امام قاضی عیاض مالکی المذہب نے فرمایا:
ومنہم قولہم شاہ ملوك وکذا مایقولون قاضی القضاۃ اھ نقلہ فی المرقاۃ۔ ان میں بادشاہوں کا بادشاہ اور یوں وہ قاضی القضاۃ کا قول کہتے ہیں اھ مرقات میں اس کو نقل کیا۔(ت)
اسی کی مانند امام حجر شافعی المذہب نے زواجر میں اپنے یہاں کے بعض ائمہ سے نقل کیا۔
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب اسامی الفصل الاول المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۷،اکمال المعلم بفوائد مسلم باب تحریم التسمی بملك الاملاك دارالوفاء بیروت ۷ /۱۹،۲۰
#6037 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
مگر جانتے ہو کہ یہ قاضی القضاۃ عــــــہ کس کا لقب ہے اور کب سے رائج ہے۔سب میں پہلے یہ لقب ہمارے امام
عــــــہ: امام ماوردی کا لقب"اقضی القضاۃ"تھا:
کمافی ارشاد الساری وظنی انہ اول من تسمی بہ و زعم الامام البدر ان ھذا ابلغ من قاضی القضاۃ لانہ افعل التفصیل قال ومن جہلاء ھذا الزمان من مسطری سجلات القضاہ یکتبون للنائب اقضی القضاۃ وللقاضی الکبیر قاضی القضاۃ اھ واقرہ الامام القسطلانی اقول و عندی ان الامر بالعکس فان اقضی القضاۃ من لہ مزیۃ فی القضاء علی سائر القضاۃ و لایلزم ان یکون حاکما علیہم ومتصرفا فیہم بخلاف قاضی القضاۃ کما نقلناعن الدرالمختار و نظیرہ املك الملوك یصدق اذا کان اکثر ملکا عنہم بخلاف ملك الملوك فہو الذی نسبۃ الملوك الیہ کنسبۃ الرعایا الی الملوك کما لایخفی فہذا ھو الابلغ وبہ یندفع اعتراض الامام الماوردی و ﷲ الحمد منہ عفی عنہ۔ جیسا کہ ارشاد الساری میں ہے: اور گمان یہ ہے کہ وہ پہلے شخص ہیں جن کا یہ نام رکھا گیا اور امام بدرالدین عینی رحمۃ اﷲ تعالی کا گمان ہے کہ اقضی القضاۃ زیادہ ابلغ ہے قاضی القضاۃ کی نسبت کیونکہ اس میں افعل تفصیل ہے اور انھوں نے فرمایا ہمارے زمانے کے جاہل قاضیوں کے دفتری لوگ مثلا نائب قاضیکو اقضی القضاۃ لکھتے ہیں اور قاضی کبیر کو قاضی القضاۃ لکھتے ہیں اھاس کلام کو امام قسطلانی نے ثابت رکھاہے میں کہتاہوں حالانکہ میرے نزدیك معاملہ بالعکس ہے کیونکہ اقضی القضاۃ وہ ہے جس کے فیصلے دوسرے قاضیوں کی نسبت زیادہ ہوں اس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ قاضیوں کاحاکم ہو اور ان کے متعلق اختیار رکھتاہو اس کے برخلاف قاضی القضاۃ ہے جیسا کہ ہم نے درمختار سے نقل کیا ہے اس کی نظیر املك الملوك کا مصداق کثیر مملکت والا دوسروں کے مقابلہ میں بخلاف ملك الملوك اس کو کہتے ہیں جو بادشاہوں کا سردار ہو جس طرح کہ بادشاہ کے لئے رعایا ہوتی ہے جیسا کہ مخفی نہیں لہذا یہ ابلغ ہے اس سے امام ماوردی کا اعتراض ختم ہوگیااﷲ تعالی کے لیے ہی تمام حمدیں ہیں۔(ت)
حوالہ / References ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب الادب دارالکتب العربی بیروت ۹ /۱۱۸
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الادب باب البغض لاسماء الی اﷲ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۲ /۲۱۵
#6038 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
مذہب سیدنا امام ابویوسف تلمیذ اکبر سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہماکا ہوا اور اس زمانہ خیر کے ائمہ کرام تبع تابعین و اتباع اعلام نے اسے مقبول ومقرر رکھااور جب سے آج تمام علمائے حنفیہ اور بہت دیگر علمائے مذاہب ثلاثہ میں رائج وجاری و ساری ہے۔امام اجل علامہ بدرالملۃ والدین محمود عینی حنفی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری شریف میں فرماتے ہیں:
اول من تسمی قاضی القضاۃ ابویوسف من اصحاب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہما وفی زمنہ کان اساطین الفقہاء و العلماء والمحدثین فلم ینقل عن احد منہم عنکار عن ذلك ۔ یعنی سب میں پہلے جس کا لقب قاضی القضاۃ ہوا امام اعظم کے شاگرد امام ابویوسف ہیں رضی اﷲ تعالی عنہمااس جناب نے یہ لقب قبول فرمایا اور ان کے زمانہ میں فقہاء وعلماء ومحدثین کے اکابر وعمائد تھےان میں کسی سے اس کا انکار منقول نہ ہوا۔
اب ثابت ہوا کہ وہ طعن نہ فقط انھیں ائمہ وفقہاء واولیاء پر ہوگا جن سے لفظ"شہنشاہ"کی سندیں گزریںبلکہ ائمہ تبع تابعین اور ان کے اتباع اور امام مذہب حنفی ابویوسف اور اس وقت سے آج تك کے تمام علماء حنفیہ اور بکثرت علمائے بقیہ مذاہب سب پر طعن لازم آئے گا اور اس پر جرأت ظلم شدید وجہل مدیدہوگیلاجرم بات وہی ہے کہ لفظ جب ارادۃ وافادۃ ہر طرح سے شناعت سے پاك ہے تو صرف احتمال باطل سے ممنوع نہ کردے گا ورنہ سب سے بڑھ کر نما ز میں تعالی جدك حرام ہوکہ دوسرے معنی کس قدر شنیع وفظیع رکھتاہے۔ہاں صدر اسلام میں کہ شرك کی گھٹائیں عالمگیر چھائی ہوئی تھیںفقیر وقطمیر کے ساتھ نہایت تدقیق فرمائی جاتی کہ توحید بروجہ اتم اذہان میں متمکن ہوولہذا نہ فقط شہنشاہ بلکہ انت سیدنا کے جواب میں ارشاد ہوا السید اﷲ سید اﷲ ہی ہے۔ابوالحکم کنیت رکھنے پر فرمایا:
ان اﷲ ھو الحکم والیہ الحکم فلم تکنی اباالحکم رواہ ابو داؤد والنسائی عن ابی شریح بے شك اﷲ ہی حکم ہے اور حکم کا اعتبار اسی کو ہے توتیری کنیت ابوالحکم کیوں ہے(اس کو
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الادب باب البغض الاسماء الی اﷲ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۲۲ /۲۱۵
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغیر الاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۱،سنن النسائی ادب القضاۃ باب اذا حکموا رجلا الخ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۰۴
#6039 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
رضی اﷲ تعالی عنہ۔ روایت کیا ہے ابوداؤد اور نسائی نے ابی شرئح رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔ت)
غلاموں کوارشاد ہوا تھا:
لایقول العبد لسیدہ مولای فان مولاکم اﷲ ۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ غلام اپنے آقا کو مولی نہ کہے کیونکہ تمھارا مولی تو اﷲ تعالی ہی ہے(اسے روایت کیا مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔(ت)
ایك حدیث شریف میں آیا:
لاتسموا ابنائکم حکیما ولا اباالحکم فان اﷲ ھوالحکیم العلیم۔رواہ عطاء عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم ذکرہ الامام البدر محمود فی عمدۃ القاری۔ اپنے بیٹوں کانام حکیم یا ابوالحکم نہ رکھو کہ اﷲ تعالی ہی حکیم وعلیم ہے۔اس کو عطا نے ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالی عنہ سے انھوں نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے(اسے امام بدر محمود نے عمدۃ القاری میں روایت کیا ہے۔ت)
۵۶ ایك حدیث شریف میں آیا:
ابغض الاسماء الی اﷲ خالد و مالك و ذلك ان احدا لیس یخلد والمالك ھواﷲ۔ذکرہ الامام البدر عن الداودی اﷲ عزوجل کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ نام خالد اور مالك ہے اس لئے کہ کوئی ہمیشہ نہ رہے گا اور مالك اﷲ تعالی ہی ہے (اسی کو امام بدر نے داؤدی سے ذکر کیاہے۔)
یوں ہی عزیز وحکم ناموں کو تبدیل فرمادیا۔سنن ابی داؤد میں ہے:
غیررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم اسم عزیز و الحکم۔قال ترکت اسانیدھا اختصارا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اسم عزیز وحکم کو تبدیل فرمادیافرمایا اس کی سانید کو بوجہ اختصار ترك کردیا۔(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الالفاظ باب حکم اطلاق لفظۃ العبد الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۸
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری الادب باب البغض الاسماء ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۲/ ۲۱۵
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری الادب باب البغض الاسماء ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۲۲ /۲۱۵
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب تغیر الاسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۱
#6040 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
حدیث شریف میں ہے کہ نبی صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتسمہ عزیزا۔رواہ احمد والطبرانی فی الکبیر عن عبد الرحمن بن سمرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اس کا نام عزیز نہ رکھ(اس کو روایت کیا ہے احمد اور طبرانی نے کبیر میں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔(ت)
نیز حدیث شریف میں ہے:
نھی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یسمی الرجل حربا وولیدا او مرۃ او ابا الحکم۔راواہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ حرب یا ولید یا مرۃ یا حکم نام رکھا جائے۔(اس کو طبرانی نے کبیر میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حالانکہ یہ الفاظ اوصاف غیر خدا کے لئے خود قرآن عظیم واحادیثاقوال علماء میں بکثرت واردقال اﷲ تعالی:
" وسیدا وحصورا ونبیا من الصلحین﴿۳۹﴾" سردار اور ہمیشہ کے لئے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے۔
وقال اﷲ تعالی:
" والفیا سیدہا لدا الباب " اور دونوں کو عورتوں کامیاں(سید)دروازے کے۔
وقال اﷲ تعالی:
" فابعثوا حکما من اہلہ وحکما من اہلہا " تو ایك پنچ مردوالوں کی طرف سے بھیجو اور ایك پنچ عورتوں والوں کی طرف سے۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن عبدالرحمن المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۱۷۸
المعجم الکبیر حدیث ۹۹۹۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰ /۸۹
القرآن الکریم ۳ /۳۹
القرآن الکریم ۱۲ /۲۵
القرآن الکریم ۴ /۳۵
#6041 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
وقال اﷲ تعالی:
" و ان حکمت فاحکم بینہم بالقسط " اور اگر ان میں فیصلہ فرماؤ تو انصاف سے فیصلہ کرو۔
وقال اﷲ تبارك وتعالی:
" و اتینہ الحکم صبیا ﴿۱۲﴾" اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی۔
وقال اﷲ تبارك وتعالی:
" فان اللہ ہو مولىہ و جبریل و صلح المؤمنین " تو بیشك اﷲ ان کا مددگار ہے اور جبرئیل اور نیك ایمان والے۔
وقال اﷲ تعالی عن عبدہ زکریا علیہ الصلوۃ والسلام:
" و انی خفت المولی من و راءی" اور مجھے اپنے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔
وقال اﷲ تعالی:
" ہم فیہا خلدون﴿۸۲﴾ " انھیں ہمیشہ اس میں رہنا۔
وقال اﷲ تعالی:
" فہم لہا ملکون ﴿۷۱﴾" یہ تو ان کے مالك ہیں۔
وقال اﷲ تعالی:
" و اتینہ الحکمۃ" اور وہ پکاریں گے اے مالک!
وقال اﷲ تعالی:
" و نادوا یملک" اور ہم نے اسے حکمت دی۔
وقال اﷲ تعالی:
" ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا" اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی۔
#6042 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
وقال اﷲ تبارك وتعالی:
" و للہ العزۃ و لرسولہ و للمؤمنین و لکن المنفقین لا یعلمون ﴿۸﴾ " عزت تو اﷲ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
انا سید ولد ادم۔رواہ مسلم و ابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ میں تمام اولاد آدم کا سید(سردار ہ)ہوں(اسے روایت کیا ہے مسلم اور ابوداؤد نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔ت)
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
ان ابنی ھذا سید رواہ البخاری عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بیشك یہ میرابیٹا سید ہے(یعنی حضرت امام حسن رضی اﷲ تعالی عنہ(اس کو روایت کیا ہے امام بخاری نے ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔ت)
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اﷲ ورسولہمولی من لا مولی لہ۔رواہ الترمذی و حسنہ وابن ماجۃ عن امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲ اور اس کا رسول ہر بے مولی کے مولی ہے۔(اس کو روایت کیا ہے ترمذی نے اور اسے حسن کہا اور ابن ماجہ نے امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے۔ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمایا:
لقد حکمت فیھم بحکم اﷲ بے شك تم نے ان یہود کے بارے میں وہ حکم
حوالہ / References القرآن الکریم ۶۳ /۸
صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فضل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۴۵،سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی التخیر بن الانبیاء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۸۶
صحیح البخاری فضائل اصحاب النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مناقب الحسن والحسین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۳۰
جامع الترمذی ابواب الفرائض باب ماجاء فی میراث الخال امین کمپنی کراچی ۲ /۳۱،سنن بن ماجہ ابواب الفرائض باب ذوی الارحام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۱
#6043 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
رواہ مسلم عن عائشہ وعن ابی سعید ن الخدری و النسائی عن سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہم۔ دیا جو خدائے تعالی کا حکم تھا(اس کو مسلم نے عائشہ اور ابی سعید خدری سے اور نساء نے سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ت)
اسی حدیث شریف میں ہے جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان سے حکم کے لئے فرمایا۔انھوں نے عرض کی:
اﷲ ورسولہ احق بالحکم رواہ الحافظ محمد بن عائذ فی المغازی بسندہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ حکم دینا تو اﷲ تعالی اور اس کے رسول کاحق ہے(اس روایت کیا ہے حافظ محمد بن عائد نے مغازی میں اپنی مسند کے ساتھ جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔ت)
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فیما یروی الطبرانی فی اوسطہ۔
حکیم امتی عویمر۔ میری امت کے حکیم عویمر(ابودرداء)ہیں۔
انصارکرام نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
یا رسول اﷲ انت واﷲ الاعز العزیز ۔رواہ ابوبکر ابن ابی شیبۃ استاد البخاری ومسلم عن عروۃ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ یا رسول اللہ! خدا تعالی کی قسم حضور ہی سب سے زیادہ عزت والے ہیں۔(اسے روایت کیا ہے ابوبکر بن ابی شیبہ استاد بخاری ومسلم نے عروہ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔ت)
صرف حضورہی کے لئے عزت ہے عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہ ابن عبداﷲ ابن ابی منافق نے اپنے باپ سے فرمایا:
انك الذلیل ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی بے شك توہی ذلیل ہے اور حضور صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الجہاد باب جواز قتال من نقض العہد الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۵
المواھب اللدنیہ غزوہ بنی قریظہ حکم سعد بن معاذ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۴۶۷
کنز العمال بحوالہ طس حدیث ۳۳۵۰۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۷۱۸
الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی شیبہ تحت آیۃ وﷲ العزۃ ولرسولہ الخ مکتبۃ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۶ /۲۲۶
#6044 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
علیہ وسلم العزیزرواہ الترمذی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما ونحوہ الطبرانی عن اسامۃ بن یزید رضی اﷲ تعالی عنہما۔ علیہ وسلم ہی عزیز وصاحب عزت ہیں(اسے روایت کیا ہے ترمذی نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔یونہی طبرانی نے اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔
صحابہ کرام میں بیس۲۰ سے زائد کا نام حکم ہے۔تقریبا دس کا نام حکیم۔اور ساٹھ سے زیادہ کا خالداور ایك سو دس۱۱۰ سے زیادہ کا مالک___ ان وقائع او ان کے امثال کثیرہ پر نظر سے ظاہر ہے کہ ایسی نہی میں شرع مطہر کا مقصو دکیا تھا اور اس پر قرینہ واضحہ یہ ہے کہ خود حدیث شریف میں اس کی تعلیل یوں اراد ہوئی کہ:
لاملك الا اﷲ خدا تعالی کے سوا کوئی بادشاہ ہی نہیں۔
ظاہر ہے کہ حصرا سی السید ھو اﷲ ومولکم اﷲ(سید اﷲ تعالی ہی ہے اور تمھارا مولی اﷲ تعالی ہے۔ت)کے قبیل سے ہے۔ ورنہ خود قرآن عظیم میں ارشاد ہوا:
و قال الملک انی اری" " اور بادشاہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھا۔
اور فرمایا:
" و قال الملک ائتونی بہ " اور بادشاہ بولا کہ انھیں میرے پاس لے آؤ۔
اور فرمایا:
"ان الملوک اذا دخلوا قریۃ " بیشك بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں۔
امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں اس معنی کی طرف اشارہ کیا۔حدیث انما الکرم قلب المؤمن(مومن کا دل کرم کا خزانہ ہے) کے نیچے فرماتے ہیں:
وقد قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انما المفلس الذی یفلس یوم القیمہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:صحیح معنی میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ المنافقون امین کمپنی کراچی ۲ /۱۶۵
صحیح مسلم کتاب الادب باب تحریم التسمی بملك الاملاك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸
القرآن الکریم ۱۲ /۴۳
القرآن الکریم ۱۲ /۵۰
القرآن الکریم ۲۷ /۳۴
#6045 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
کقولہ انما الصرعۃ الذی یملك نفسہ عند الغضب کقولہ لاملك الا اﷲ فوصفہ بانتہاء الملك ثم ذکر الملوك ایضا قال ان الملوك اذا دخلوا قریۃ افسدوھا اھ حالت افلاس میں ہو جس طرح آپ کا یہ ارشاد گرامی کہ حلیم وبردبار وہ شخص ہے جو غیظ و غضب میں اپنے نفس کو کنٹرول میں رکھےا ور اسی کے ہم مثل آپ کا یہ ارشاد بھی ہے۔ "بادشاہت تو صرف اﷲ کے لئے ہے:یہاں ذات باری تك بادشاہت کی انتہاء مانی گئی حالانکہ دوسروں کے لیے بھی بادشاہ ہونے کا ذکر موجود ہے۔چنانچہ فرمایا:بے شك بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے اھ ۱۲م
وہابیہ وخوارج اسی نکتہ جلیلہ سے غافل ہوکر شرك شرك وکفر میں پڑے کہ اﷲ تعالی تو "ان الحکم الاللہ " حکم تو اﷲ ہی کا ہے۔فرماتاہےمولی علی نے کیسے ابو موسی کو حکم فرمایا_____ اﷲ تعالی تو " ایاک نستعین﴿۴﴾" فرماتاہے۔ مسلمانوں نے انبیاء واولیاء سے کیسے استعانت کی _____ اﷲ تعالی تو "قل لا یعلم " الایۃ فرماتاہے۔ اہلسنت نے کیسے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے لئے اطلاع غیوب مان لی ____ اور اندھوں نے نہ دیکھا کہ وہی خدا تعالی " فابعثوا حکما" ایك پنچ بھیجو____ اور " وتعاونوا علی البر والتقوی ۪" اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایك دوسرے کی مدد کرو ______ اور " واستعینوا بالصبر والصلوۃ " اور صبر اور نماز سے مدد چاہو_____ اور الا من ارتضی من رسول"" سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے ____ اور " یجتبی من رسلہ من یشاء ۪" چن لیتاہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے ____ اور " تلک من انباء الغیب نوحیہا الیک " یہ غیب کی خبریں ہم تمھاری طرف وحی کرتے ہیں ____ اور " یؤمنون بالغیب" بے دیکھے ایمان لائےوغیرہا فرمارہا ہے " افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض " تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ سے انکار کرتے ہو۔۱۲م
#6046 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
خیر یہ تو جملہ معترضہ تھااس مقصد کی شرع کی نظر واقعہ تحریم خمرپر ہے کہ ابتداء میں نقیر ومزفت جرہ وحنتم یعنی مضبوط برتنوں میں نبیذ ڈالنے سے منع فرمایا تھا کہ تساہل نہ واقع ہوجب اسکی حرمت اور اس سے نفرت مسلمانوں کے دل میں جم گئی اور اس سے کامل تحفط واحتیاط نے قلوب میں جگہ پائی۔ فرمایا:
ان ظرفا لایحل شیئا ولا یحرمہ ۔ برتن کسی چیز کو حلال وحرام نہیں کرتا۔
بالجملہ ان اکابر ائمہ وعلماء واولیاء نے مقصود پر نظر فرماکر لفظ شاہنشاہ کا اطلاق فرمایا اور جن کی نظر لفظ پر گئی منع بتایا کما نقلہ فی التتارخانیہ(جیسا کہ تتارخانیہ میں نقل کیا گیا ہے۔ت)دونوں فریق کے لئے ایك وجہ موجہ ہے " و لکل وجہۃ ہو مولیہا" (ہر ایك کے لئے ایك جہت ہے وہ اس طرف پھریگا) اس کی نظیر واقعہ نماز ظہر یا عصر ہے کہ جب یہودی بنی قریظہ پر لشکر کشی فرمائی عسکر ظفر پیکر میں اس مناادی کا حکم فرمایا کہ:
من کان سامعا مطیعا فلا یصلین العصر الا فی بنی قریضۃ۔ جوبات سنتا اورحکم مانتا ہو وہ ہر گز عصر نہ پڑھے مگر آبادی بنی قریضہ میں۔
صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہم رواں ہوئےراہ میں وقت عصر ہوااس پر د وفرقے ہوگئے بعض نے کہا لانصلی حتی نأتھا ہم تو جب تك اس ابادی میں نہ پہنچ جائیں نماز نہ پڑھیں گےکہ ہمیں ارشاد فرمادیا ہے کہ نماز وہیں پہنچ کر پڑھنا۔بعض نے کہا بل نصلی لم یرد منا ذلك بلکہ ہم نماز راہ ہی میں پڑھ لیں گےارشاد سے مقصود جلدی تھی نہ یہ نماز قضاکردی جائےغرض کچھ نے نماز راہ میں پڑھ لی اور جاملےکچھ نے نہ پڑھییہاں تك کہ عشاء کے وقت وہاں پہنچے۔دونوں فریق کا حال بارگاہ اقدس میں معروض ہواو لم یعنف واحدا منہمحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان میں سے کسی پر اعتراض نہ فرمایا۔رواہ الائمۃ منہم الشیخان عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما(اس کو ائمہ حدیث خصوصا شیخین نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الاشربہ باب النہی عن الانتباذ فی الحتنم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۶۷
القرآن الکریم ۲ /۱۴۸
صحیح البخاری ابواب صلٰوۃ والخوف باب صلٰوۃ الطالب والمطلوب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۹
#6047 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
علماء فرماتے ہیں ایك فریق نے مقصود پر نظر کی اور دسرے نے لفظ کو دیکھا۔
اقول:یعنی اور اس پر عمل خلاف مقصود نہ تھا بخلاف جمود ظاہر یہ کہ مقصود سے یکسر دور پڑتااور احکام شرعیہ کو معاذ اﷲ محض بے معنی ٹھہراتا ہے کما ھو معہودمن دابہم(جیسا کہ ان کی عادت معروف ہے۔ت)لہذا فریقین میں کسی پر ملامت نہ فرمائی یہی حال یہاں ہے۔
ثانیا: اسے یوں بھی تحریر کرسکتے ہیں کہ مانعین نے ظاہر نہی پر نظر کی کہ اس میں اصل تحریم ہے اور اطلاق کرنے والوں نے دیکھا کہ لفظ ارادۃ وافادۃ ہر طرح شناعت سے پاك ہے تو نہی صرف تنزیہی ہے کہ منافی جواز واباحت نہیںجس طرح حدیث میں ارشاد ہوا۔
لا یقل العبد ربی ۔ غلام اپنے آقا کو اپنار ب نہ کہے۔
اور فرماتاہے:
لا یقل احدکم اسق ربك اطعم ربك وضئ ربك ولا یقل احد کم ربی ۔ تم میں سے کوئی نہ کہے کہ اپنے رب کو پانی پلا۔اپنے رب کو کھانا کھلااپنے رب کو وضو کرااور نہ کوئی کسی کو اپنا رب کہے۔
اور علماء نے تصریح فرمائی کہ یہ نہی صرف تنزیہی ہے۔امام نووی رحمۃ اﷲ تعالی شرح صحیح مسلم شریف میں اسی حدیث کے تحت میں فرماتے ہیں:
النہی للادب وکراھۃ التزیہ لا للتحریم ۔ ممانعت بطور ادب ہے اور کراہت تنریہی ہے نہ کہ تحریمی۔
امام بخاری اپنی صحیح میں فرماتے ہیں:
باب کراھۃ التطاول علی الرقیق و قولہ عبدی وامتی وقال اﷲ تعالی " الصلحین من عبادکم و امائکم "وقال عبدا یہ باب ہے اس بارے میں کہ غلام پر زیادتی مکروہ ہے اور آقا کے اس قول کے سلسلہ میں کہ میراعبد اور میری باندی ہے۔ اور اﷲ تعالی عزوجل کا یہ ارشاد"اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا"
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الفاظ باب حکم اطلاق لفظۃ العبد الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۸
صحیح مسلم کتاب الفاظ بابحکم اطلاق لفظۃ العبد الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۸
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الالفاظ بابحکم اطلاق لفظۃ العبد الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۸
#6048 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
مملوکا واذکر نی عندربك ای عند سیدك ۔ اور فرمایا:عبد مموك اور مجھے اپنے رب یعنی اپنے آقا کے پاس یاد کرو۔۱۲ م
امام عینی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
ذکر ھذا کلہ دلیلا لجواز ان یقول عبدی وامتی وان النہی الذی ورد فی الحدیث عن قول الرجل عبدی و امتی وعن قولہ اسق ربك ونحوہ للتنزیہ لاللتحریم ۔ یہ تمام باتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ(مملوك اور مملوکہ) کو"عبدی"اور"امتی"(میرا بندہ اور باندی)کہنا جائز ہے۔ اور احادیث کریمہ میں جو یہ وارد ہے کہ کوئی ادمی"عبدی" (میرا عبد)اور امتی(میر ی باندی)نہ کہےیونہی اپنے رب کو پانی پلا"نہ کہے یا اس قسم کی دیگر ممانعت تو یہ تحریم کے لئے نہیں بلکہ تنزیہہ کے لئے ہے۔۱۲م
امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری شریف میں فرماتے ہیں:
فان قلت قد قال تعالی اذکرنی عند ربك وارجع الی ربك اجیب انہ و رد لبیان الجواز والنہی للادب و التنزیۃ دون التحریم ۔ اگر یہ اعتراض ہوکہ اﷲ تعالی عزوجل نے فرمایا ہے"مجھے اپنے رب کے پاس یاد کرو"اور اپنے رب کی طرف لوٹو"تو جواب یہ ہوگا کہ یہ بیان جواز کے لئے ہے اور نہی تحریم کے لئے نہیں بلکہ تادیبا اور تنزیہا ہے۔۱۲م
ثالثا: مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی تحفہ اثناعشریہ میں نقل کرتےہیں کہ اﷲ عزوجل زبورمقدس میں فرماتاہے:
امتلات الارض من تحمید احمد وتقد یسہوملك الارض ورقاب الامم ۔ زمین بھر گئی احمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حمد اور اس کی پاکی کے بیان سےاحمد مالك ہواتمام زمین اور سب امتوں کی گردنوں گاصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب العتق باب کراھیۃ التطاول علی الرقیق الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۶
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب العتق باب کراھیۃ التطاول علی الرقیق الخ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱۳ /۱۱۰
ارشاد الساری کتاب العتق باب کراھیۃ التطاول علی الرقیق الخ دارالکتاب بیروت ۴ /۳۲۴
تحفہ اثنا عشریہ باب ششم دربحث نبوت وایمان انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹
#6049 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
امام احمد مسنداورعبداﷲ بن احمد زوائد مسنداور امام طحاوی شرح معانی الآثار اور امام بغوی وابن السکن وابن ابی عاصم وابن شاہین وابن ابی خیثمہ وابویعلی بطریق عدیدہ حضرت اعشی مازنی رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی کہ وہ خدمت اقدس حضور پرنور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں فریادی آئے اور اپنی عرضی حضور میں گزار دی جس کی ابتداء یہ تھی:
یا مالك الناس ودیان العرب۔ اے تمام آدمیوں کے مالك اور عرب کے جزا و سزادینے والے!
مسند احمد وشرح معانی الآثار میں مالك الناس ہے اور زوائد مسند نیز ثلثہ متصلہ کی روایت سے بعض نسخ میں یاملك الناس ودیان العرب یعنی اے تمام آدمیوں کے بادشاہ اور عرب کے جزاء دہندہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کی فریاد کو سن کر حاجت روائی فرمائیپر ظاہر کہ آدمیوں اور امتوں میں سلاطین وغیر سلاطین سب داخل ہیں۔
جب حضور تمام ادمیوں کے مالکتمام آدمیوں کے بادشاہتمام امتوں کی گردنوں کے مالك ہیں تو بلاشبہہ تمام بادشاہوں کے بھی مالك تمام سلاطین کے بھی بادشاہ تمام بادشاہوں کی گردنوں کے بھی مالك ہوئےملك الناس کانسخہ تو عین مدعا ہے اورمالك الناس اس سے بھی اعظم واعلی ہے کہ بادشاہ لوگوں پر حاکم ہوتاہے ان کی گردنوں کا مالك نہیں ہوتاحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بحکم آیت وحدیث جلل تمام بادشاہوں کی گردنوں کے بھی مالك ہیں۔وﷲ الحمد۔
زمخشری معتزلی نے کشاف سورہ ہود میں زیر قولہ تعالی وانت احکم الحاکمین اقضی القضاۃ پر اعتراض کیا۔امام ابن المنیر سنی نے انتصاف میں اس کا رد فرمایا کہ حدیث شریف میں ارشاد ہوا:اقضا کم علی (علی رضی اﷲ عنہ تم سب سے زیادہ فیصلے کرنیوالے ہیں۔ت)اس سے جواز ثابت
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل از مسند عبداﷲ بن عمرو بن العاس المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۰۱،شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب الشعر ایچ اایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۴۱۰
مسند ابویعلی حدیث ۶۸۳۶ موسسۃ علوم القرآن بیروت ۶ /۲۳۰،مجمع الزوائد بحوالہ عبداﷲ بن احمد کتاب النکاح ۴ /۲۳۱ وکتاب الادب باب جواز الشعر الخ ۸ /۱۲۷
فیض القدیر بحوالہ ابن المنیر تحت حدیث ۳۰۳ درالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۲۰
#6137 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
ہوتاہے یعنی جب اقضی کی اضافت سب کی طرف ہے۔اور اس میں قضاۃ بھی داخل۔تو اقضاکم سے اقضی القضاۃ بھی حاصل ظاہر ہے کہ اقضاکم عموم میں مالك الناس و ملك الناس ومالك رقاب الامم کے برابر نہیں کہ وہ بظاہر صرف مخاطبین سے خاص ہےتو ان الفاظ کریمہ سے مالك الملوك وملك الملوك ومالك رقاب الملوك وشہنشاہ بدرجہ اولی ثابت پس آیت و حدیث میں ان ارشادات عالیہ کا انا دلیل روشن ہے کہ نہی صرف اسی طور پر ہے جیسے مولی وسید کہنے سے منع فرمایا حالانکہ قرآن وحدیث خود ان کا اطلاق فرمارہے ہیں وﷲ الحمد۔
رابعا:اگر یہاں کوئی حدیث دربارہ نہی ثابت بھی ہو تو کلام مذکور اس کے لئے کافی ووافی ہے نظر دقت میں یہاں ایك حدیث ابن النجار ہے کہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کی:
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سمع رجلا یقول شاھان شاہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اﷲ ملك الملوك ۔ یعنی ایك شخص نے دوسرے کو پکارا:اے شاہان شاہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سن کر فرمایا:شاہان شاہ اﷲ ہے۔اس کی تو صحت بھی ثابت نہیں۔
رہی حدیث جلیل صحیح ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کہ صحیحین وسنن ابی داؤد وجامع الترمذی میں مروی:
اخنع الاسماء عنداﷲ یوم القیمۃ رجل تسمی ملك الاملاك ۔ روز قیامت اﷲ تعالی کے نزدیك سب ناموں میں زیادہ ذلیل وخوار وہ شخص ہے جس نے اپنا نام مالك الاملاك رکھا۔
یہ بداہۃ طالب تاویل ہے ك وہ شخص خود نام نہیںاور اس روایت کے لفظ یہ ہیں کہ وہ شخص سب سے برا نام ہے۔علماء نے اس میں دو۲ تا ویلیں فرمائیں:
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ ابن النجار حدیث ۴۵۹۹۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۵۹۶
صحیح البخاری کتاب الادب باب البغض الاسماء الی اﷲ تعالٰی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۱۶،سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی تغییر اسم القبیح آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۲۲،جامع الترمذی کتاب الادب باب مایکرہ من الاسماء امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۷،صحیح مسلم کتاب الالفاظ باب تحریم بملك الاملاك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸
#6138 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
ایك یہ کہ مجازا نام سے ذات مراد ہے۔یعنی روز قیامت اﷲ تعالی کے نزدیك سب آدمیوں سے بدتر وہ شخص ہے جس نے اپنایہ نام رکھے۔
دوسری یہ کہ خبر میں حذف مضاف ہے یعنی اﷲ تعالی کے نزدیك روز قیامت سب ناموں سے بدتر یہ نام ہے۔
مصابیح واشعۃ اللمعات وسراج المنیر شرح جامع صغیر میں تاویل ثانی ذکر کیامام قرطبی نے مفہماور امام نووی نے منہاج اور علامہ حفنی نے حواشی جامع الصغیر میں اول پر جزم واختصار کیا فیض القدیر میں قرطبی سے ہے:
المراد بالاسم المسمی بدلیل روایۃ اغیظ رجل و اخبثہ ۔ نام سے ذات مرا دہے کیونکہ ایك روایت کے الفاظ یہ ہیں "آدمیوں میں سب سے بدتر اور خبیث"۱۲م
شرح امام نوروی میں ہے:
قالوا معناہ اشد ذلا وصغارا یوم القیامۃ والمراد صاحب الاسم وتدل علیہ الروایۃ الثانیۃ اغیظ رجل ۔ علماء نے فرمایا اس کا معنی یہ ہےکہ قیامت کے دن سب سے زیادہ ذلیل وحقیراور اس سے مراد مسمی ہے جیسا کہ دوسری روایت میں اغیظ رجل(لوگوں میں سب سے بدتر)کا لفظ بتارہا ہے۔۱۲م
حواشی حفنی میں ہے:
اخنع الاسماء ای مسمی الاسماء بدلیل قولہ رجل لانہ المسمی لاالاسم ۔ ناموں میں سب سے زیادہ ذلیل یعنی نام والوں میں سب سے زیادہ ذلیلکیونکہ ایك روایت میں رجل(آدمی)کا لفظ آیا ہے۔اور ادمی مسمی ہے نہ کہ اسم ۱۲م
علامہ طیبی نے شرح مشکوۃپھر علامہ قسطلانی نے شرح بخاری پھر علامہ مناوی نے فیض القدیر
حوالہ / References فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۳۰۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۲۰
شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الالفاظ باب تحریم التسمٰی بملك الاملاك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸
حواشی الحفنی علی الجامع الصغیر مع السراج المنیر المطبعۃ الاھریۃ المصریۃ مصر ۱ /۶۸
#6140 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
پھر تیسیر شروح جامع الصغیر اور علامہ طاہر نے مجمع البحارارور علامہ قاری نے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں دونوں ذکر فرمائیںطیبی پھر ارشاد الساری پھر فیض القدیر نے اشارہ کیا کہ تاویل اول ابلغ ہے۔
حیث قال اعنی الطیبی یمکن ان یراد بالاسم المسمی ای اخنع الرجال کقولہ سبحانہ وتعالی سبح اسم ربك الاعلی وفیہ مبالغۃ لانہ اذا قدس اسمہ عما لا یلیق بذاتہ فذاتہ بالتقدیس اولی واذا کان الاسم محکوما علیہ بالصغار والہوان فکیف المسمی بہ اھ نقلہ فی فیض القدیر ونحوہ فی الارشاد۔ چنانچہ طیبی نے کہا یہاں اسم سے مسمی مراد لیاجاسکتاہے یعنی لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل وپستجیسا کہ اﷲ عزوجل کا یہ ارشاد"اپنے رب اکبر کے نام کی پاکی بولو"اور اس میں مبالغہ ہےکیونکہ جب نامناسب چیزوں سے اسم الہی کی تقدیس ضروری ہے تو خود ذات باری تقدیس کی کتنی مستحق ہوگیلہذا جب(ملك الملوك جیسے)نام پر ذلت(حقارت)کا حکم ہے تو اس کے مسمی کا کیا حال ہوگا ۱۲م۔
مرقاۃ نے تصریح کی کہ یہی تاویل بہترہے:
حیث قال بعد نقلہ نحوما مرعن القبض ومثل مافی الارشاد مانصہوھذا التاویل ابلغ واولی لانہ موافق لروایۃ اغیظ رجل اھ ۔ چنانچہ فیض القدیر کی مذکورہ عبارت کے ہم معنی اور عبارت ارشاد کے ہم مثل ایك عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا یہ تاویل بلیغ تر اور سب سے بہتر ہے کیونکہ یہ اس روایت کے مطابق ہے جس میں ایسے نام رکھنے والوں کو سب سے زیادہ خبیث بتایا ۱۲م
بلکہ تاویل دوم پر افعل التفضیل اس کے غیر پر صادق آئے گاکہ بلا شبہہ ملك الاملاك نام رکھنے سے اﷲ یا رحمن نام رکھنا بدرجہا بدتر وخبیث ترہے۔ابوالعتاہیہ شاعر کی نسبت منقول ہوا کہ اس کی دو۲ بیٹیاں تھیں ایك کانام اﷲ اور دوسری کانام رحمن۔والعیاذ باﷲ تعالی:ذکر کیا جاتاہےکہ پھر اس نے اس سے تو بہ کرلی تھیفیض القدیر علامہ مناوی میں ہے:
حوالہ / References شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب باب الاسماء ادارۃ القرآن کراچی ۹ /۶۸
مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسماء المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۶
#6144 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
من العجائب التی لا تخطر بالبال مانقلہ ابن بزیزۃ عن بعض شیوخہ ان اباالعتاھیۃ کان لہ ابنتان تمسمی احدیھما اﷲ والاخری الرحمن وھذا من عظیم القبائح وقیل انہ تاب ۔ ابن بزیرہ نے اپنے بعض مشائخ سے ایك ایسی تعجب خیز بات نقل کی ہے جس کا دل میں خطرہ بھی نہیں گزرتاوہ یہ کہ ابو العتابیہ کے دو بیٹیاں تھیںایك کانام اﷲ اور دوسری کا نام رحمن رکھا تھااور یہ تو بڑی ہی قبیح بات ہے اور ایك قول کے مطابق وہ اس سے تائب ہوگیا تھا ۱۲م۔
اور قاطع ہر کلام یہ کہ حدیث کی تفسیر کرنے والا خود حدیث سے بہتر کون ہوگایہی حدیث صحیح مسلم شریف کی دوسری روایت میں ان لفظوں سے ہے: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اغیظ رجل علی اﷲ یوم قیامت کے دن سب سے زیادہ عــــــہ خدا کے غضب

عــــــہ:تبعنا فیہ الشراح وقد اضطربوا فی تاویل قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اغیظ رجل علی اﷲ اضطرابا کثیرا وحاملہم علیہ ان ظاھرا للمغیظ کون اشد تغیظا علی اﷲ فیکون الغیظ صادرا منہ و متعلقا بہ تعالی وھو خلاف عن المقصود فان المرادبیان شدۃ غضب اﷲ تعالی علیہ وھذا معنی ماقال الطیبی ان علی ھہنا لیست بصلۃ لاغیظ کما یقال اغتاظ علی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد"اغیظ رجل علی اﷲ"کی تاویل میں ہم نے شارحین حضرات کو بہت مضطرب پایااس تاویل پر ان کو آمادگی اس لئے ہوئی کہ حدیث کے ظاہر الفاظ میں وہ شخص اﷲ تعالی پر شدید غیظ والا ہے تو غیظ بندے سے صاد رہوکر اﷲ تعالی سے متعلق ہوگا حالانکہ یہ خلاف مقصود ہے کیونکہ مقصد تو یہ بیان کرنا ہے کہ اﷲ تعالی کا شدید غضب اس شخص پر ہوگا اور طیبی رحمہ اﷲ تعالی کے قول کا بھی یہی معنی ہے کہ"علی"یہاں پر "اغیظ"کا صلہ نہیں ہے جیسے کہ اغتاظ علی(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۳۰۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۲۰
#6148 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
القیمۃ واخبثہ واغیظہ میں اور سب سے بڑھ کر خبیث اور سب سے زیادہ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
صاحبہ ویغیظ علیہ وھو مغیظ مخنق لان المعنی یاباہ کما لایخفی ثم اخذ فی التاویل فقال ولکن بیان کانہ لما قیل اغیظ رجل قیل علی من قیل علی اﷲ اھوانت تعلم انہ لم یأت بشیئ واثما جعلہ صلۃ الاغیظ کما کان وقال القاضی الامام اسم تفضیل بنی للمفعول اھ ۔اقول و انت تعلمانہ خلاف الاصل ثم بھذا التاویل لما صار الغیظ مضافا الی اﷲ تعالی وھو محال منہ لانہ غضب العاجز عن الانتقام کما فی المرقاۃ احتاجوا الی تاویلہ بانہ مجاز عن عقوبتہ کما فی النہایۃ والطیبی والمرقاۃ ثم بعد ھذا الکل لم یتضح کلمۃ علیفالتجأ القاری الی انہ علی حذف مضاف ای بناء علی حکمہ تعالی اھاقول:ولا یخفی علیك مافیہ صاحبہ"اور"یغیظ علیہ"میں صلہ بن رہا ہے کیونکہ"علی" کا "اغیظ"کے لئے صلہ ہونا معنی کے خلاف ہے جیسا کہ ظاہر ہے طیبی نے یہ بیان کرنے کے بعد تاویل شروع کیگویا بیان یوں ہے کہ جب"اغیظ رجل"کہا گیا تو سوال ہوا کہ کس پرتو جواب میں کہا گیا اﷲ پر اھحالانکہ آپ پر واضح ہے کہ یہ تاویل بے مقصد ہے اور"علی"ویسے ہی"اغیظ"کاصلہ رہا ہے۔اور قاضی نے تاویل میں فرمایا کہ اغیظ اسم تفضیل مفعول کے معنی میں ہے اھ اقول:(میں کہتاہوں)آپ کو معلوم ہونا چہائے کہ یہ بھی خلاف اصل ہے نیز یہ کہ جب غیظ کی اضافت اﷲ تعالی کی طرف ہوئی تو اﷲ تعالی کے لئے یہ معنی محال ہے کیونکہ یہ اتنقام سے عاجز والا غضب ہے۔(جبکہ اﷲ تعالی عجز سے پاك ہے)جیسا کہ مرقاۃ میں ہے سب اس کی تاویل پر ہیں کہ یہ کلام اس شخص پر اﷲ تعالی کے عقاب و عذاب سے مجاز ہے جیسا کہ نہایہطیبیمرقاۃ
(باقی بر صفحہ ا)
حوالہ / References شرح الطیبی کتاب الادب باب الاسامی حدیث ۴۷۵۵ ادارۃ القرآن کراچی ۹ /۶۸ و ۶۹
مرقاۃ المفاتیح بحوالہ القاضی کتاب الادب باب الاسامی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۶
مرقاۃ المفاتیح بحوالہ القاضی کتاب الادب باب الاسامی المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۵
#6151 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
رجل کان یسمی ملك الاملاك لا ملك الا اﷲ ۔ خدا کا مبغوض وہ شخص ہے جس کا نام ملك الاملاك کہا جاتاہے بادشاہ کوئی نہیں خدا تعالی کے سوا۔

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
من البعد الشدید وبالجملۃ رجع الکلام علی تاویلہم الی ان اشد الناس مغضوبیۃ بناء علی حکم اﷲ تعالی وانا اقول: وباﷲ التوفیق ان جعلنا الغیظ وھو غضب العاجز صادرا عن الرجل وعلی صلۃ لہ تخلصنا عن ذلك کلہ ولا نسلم اباء المعنی فان المجرم المعذب الکافر بعظمۃ الملك ونعمتہ لابدلہ من التغیظ علی الملك عند حلول نقمتہ بہ وکلما کان اشد عذابا کان اشد تغیظا والتہابا فکان کنایۃ عن انہ اشد الناس عذابا وناسب ذکرہ بہذا الوجہ اشارۃ الی کونہ متکبرا علی ربہ منازعالہ فی کبریائہ متکبرا علی ربہ منازعا لہ فی کبریائہ فاذا احس مس العذاب جعل یتغیظ علی من لایقدر علیہ ولایستطیع الفرار منہ وقد کان یزعم مساواۃ فی العظمۃ والاقتدار فمن یقدر تغیظہ الاالواحد القہار والعیا ذ باﷲ العزیز الغفار۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔۱۲ منہ عفی عنہ۔ میں ہے لیکن اس کے باوجود کہ"علی"کی وضاحت نہ ہوسکی اس لئے ملا علی قاری"لفظ اللہ"سے قبل مضاف مقد رماننے پر مجبور ہوئے یعنی اغیظ رجل علی حکم اﷲ تعالی اھ۔
اقول:(میں کہتاہوں)تجھ پر مخفی نہیں ہے کہ اس تاویل میں شدید بعد ہے خلاصہ یہ کہ ان حضرات کی تاویل کا ماحاصل یہ ہے کہ وہ شخص اﷲ تعالی کے حکم پر لوگوں میں سے شیدید مغضوب ہوگا حالانکہ میں کہتاہوں اﷲ تعالی کی توفیق سے مگر ہم غیظ کو عاجز کا غضب قرار دے کر اس کا صدور شخص مذکور سے بنائیں تو ہم تمام اعتراض سے بچ جائیں گے اور اس معنی کا انکار ہمارے لیے قابل قبول نہ ہوگا کیونکہ عذاب میں مبتلا ہونیوالے اﷲ تعالی کی عظمت ونعمت کے منکر شخص کو لازما اپنے ملك ہونے کی بناء پر عذاب کی وجہ سے غصہ آئیگااور جیسے جیسے عذاب کی شدت ہوگی اس کے غصے میں شدت آئیگی تویہ تمام لوگوں سے بڑھ کر عذاب سے کنایہ ہے۔اس انداز سے اس کے ذکر کی مناسبت میں اپنے رب تعالی پر تکبر اور اس کی کبریائی میں مقابل بننے کی طرف اشارہ ہے توجب اس کو عذاب ہوگا تو اپنے گمان میں اﷲ تعالی کی عظمت واقتداء میں مساوی ہونےکے باوجود عذاب سے خلاصی میں اپنے بے بسی پر غیظ میں آئیگا تو اس کے غیظ کی مقدار کو اﷲ تعالی کے بغیر کوئی نہ جان سکے گاوالعیاذباﷲ تعالی۔و اﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References شرح مسلم کتاب الالفاظ باب تحریم التسمی بلملك الاملاك قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۸
#6152 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
بالجملہ حدیث حکم فرمارہی ہے کہ اس نام والا روز قیامت تمام جہان سے زیادہ خدا تعالی کے غضب وعذاب میں ہے۔امام قاضی عیاض نے فرمایا:ای اکبر من یغضب علیہ یعنی سب سے بڑھ کر جس پرغضب الہی ہوگا۔ علامہ طیبی نے کہا:یعذبہ اشد العذاب اﷲ تعالی اسے سخت تر عذاب فرمائے گا۔نقلہما فی المرقاۃ (انھیں مرقاۃ میں نقل کیا گیا ہے۔ت) اور شك نہیں کہ سب سے سخت تر عذاب وغضب نہ ہوگا مگرکافرپر اور"ملك الاملاک"نام رکھنا بالاجماع کفر نہیں ہوسکتاجب تك استغراق حقیقی مراد نہ لےتو حاصل حدیث یہ نکلا کہ جس شخص نے بد عوی الوہیت و خدائی اپنا نام ملك الاملاك رکھا اس پرسب سے زیادہ سخت عذاب وغضب رب الارباب ہےاور یہ قطعا حق ہے اور اسے مانحن فیہ سے علاقہ نہیںکما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
خامسا: اس معنی حق حقیقت سے جس میں وہ نام رکھنے والا ضرور صفت خاص رب العزت بلکہ الوہیت سے بھی بڑھ کر منزلت کا مدعی قطعا مستحق اشد العذاب الابدی ہے تنزل لیجئے تو علماء نے سبب نہی یہ بتایا ہے کہ اس نام سے ا س کا متکبر ہونا پیدا ہے۔ شرح مشکوۃ علامہ طیبی میں ہے:
المالك الحقیقی لیس الاھو ومالکیۃالغیر مستردۃ الی مالك الملوك فمن تسمی بہذا الاسم نازع اﷲ سبحنہ فی رداء کبریائہ واستنکف ان یکون عبداﷲ لان وصف المالکیۃ مختص باﷲ تعالی لا یتجاوزہ و الملوکیۃ بالعبد لایتجاوزہ فمن تعدی طورہفلہفی الدنیا الخزی والعاروفی الاخرۃ والالقاء فی النار ۔ مالك حقیقی تو صرف وہی ذات ہے اوردوسروں کی بادشاہت وملکیت اسی شہنشاہ کی رہین منت تو جس نے "ملك الملوک"اپنا نام رکھا تو اس نے کبریائی کی چادرمیں اﷲ سے منازعت مول لی اوراپنے کو بندہ خدا ہونے سے تکبر کیا کیونکہ مالك ہونا ایك ایسا وصف ہے جو ذات باری کے ساتھ خاص ہے۔دوسروں میں یہ پایانہیں جاسکتایونہی مملوك ہونا یہ بندوں کے ساتھ خاص ہے ان سے متجاوز نہیں ہوسکتاتو جو اس دارہ کار سے آگے بڑھ گیا وہ دنیا میں رسو ا اور ذلیل اور آخرت میں عذاب نار کا سزاوار ہے۔۱۲م۔
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح بحوالہ القاضی کتاب الادب باب الاسامی تحت حدیث ۴۷۵۵ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۶
مرقاۃ المفاتیح بحوالہ الطیبی کتاب الادب باب الاسامی تحت حدیث ۴۷۵۵ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۷
شرح الطیبی علی المشکوۃ کتاب الادب باب الاسامی تحت حدیث ۴۷۵۵ ادارۃ القرآن کراچی ۹ /۷۵
#6153 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
مرقاۃ میں ہے:
الملك الحقیقی لیس الا ھو وملکیۃ غیرہ مستعارۃ فمن سمی بہذا الاسم نازع اﷲ بردائہ وکبریائہ و لما استنکف ان یکون عبداﷲ جعل لہ الخزی علی رؤس الاشہاد ۔ مالك حقیقی تو ہی ذات ہے اور دوسروں کی ملکیت عارضی لہذا جس نے اس نام"ملك الملوک"سے اپنا نام رکھااس نے ردائے الہی اور اس کی کبرایائی سے منازعت کیاور جب اس نے بندہ خدا ہونے سے تکبر کیا تو علی الاعلان ذلت ورسوائی اس کے لئے مقرر کردی گئی۔۱۲م
تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے:
لامالك لجمیع الخلائق الا اﷲ ومالکیۃ الغیر مستردۃ الی ملك الملوك فمن تسمی بذلك نازع اﷲ فی رداء کبریائہ واستنکف ان یکون عبداﷲ ۔ مخلوقات کا مالك تو صرف اﷲ ہے۔اور غیر کا مالك ہونا اسی شہنشاہ کا صدقہ ہے تو جس نے یہ(ملك الملوک)نام رکھا تو اس نے اﷲ عزوجل سے اس کی کبریائی کی چادر مول لی اور بندہ الہی ہونے سے تکبر کیا۔۱۲م
بعینہ یونہی سراج المنیر میں ہے: من قولہ فمن تسمی بذلك الخ۔ ارشاد الساری میں ہے:
المالك الحقیقی لیس الاھو مثل مامر عن الطیبی الی قولہ استنکف ان یکون عبد اﷲ و زاد فیکون لہ الخزی والنکال ۔ مالك حقیقی تو صرف وہی ذات ہے استنکف ان یکون عبد اﷲ(اﷲ کا بندہ ہونے سے تکبر کیا)تك من وعن طیبی کے قول کی طرحالبتہ اس میں یکون لہ الخ کا لفظ زائد ہے یعنی اس کے لئے ذلت ورسوائی ۱۲م
حوالہ / References مرقاۃ المفاتیح کتاب الادب باب الاسامی تحت حدیث ۴۷۵۵ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۱۵
التیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث ۳۰۳ اخنع الاسماء عنداﷲ مکتبہ الامام الشافعی ریاض ۱/ ۵۱۔۵۲
السراج المنیر شرح الجامع الصغیر حدیث ۳۰۳ اخنع الاسماء عنداﷲ المطبعۃ الازہریہ المصریۃ مصر ۱ /۶۸
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب الادب باب البغض الاسماء الخ دارالکتاب العربی بیروت ۹ /۱۸۔۱۱۷
#6154 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
ان سب عبارات کاحاصل یہ کہ علت نہی ہے کہ اس نے تکبر کیا اور اﷲ تعالی کا بندہ بننے سے نفرت کیان کلمات کو اگر ان کی حقیقت پر پرکھئے جب تو وہی وجہ سابق ہے کہ حدیث اسی کی نسبت ہے جو حقیقی اصل شاہنشہی یعنی الوہیت کا مدعی اورعبدیت سے منکر ہو ورنہ کم از کم اس قدر ضرور کہ علت منع تکبر بتاتے ہیںتو ممانعت خود اپنے آپ شہنشاہ کہنے سے ہوئی کہ اپنے تعظیم کی ور اپنے آپ کو بڑا جانادوسرے نے اگر معظم دینی کی تعظیم کی اسے خدا تعالی کے بڑا کئے سے بڑا جانا تو اسے تکبر سے کیا علاقہاب یہ حدیث اس طریق کی طرف راجع ہوئی کہ آقا کو منع فرمایا کہ اپنے غلام کو اپنا بندہ نہ کہے حالانکہ قرآن وحدیث واقوال جمیع علمائے امت میں واقع ہے۔قال اﷲ تبارك وتعالی:
" الصلحین من عبادکم" اور اپنے لائق بندوں۔
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم:
لیس علی المسلم فی عبدہ ولا فرسہ صدقۃ ۔ مسلمان کے عبد(غلام)اور گھوڑے میں صدقہ نہیں۔
اس مسئلے کی تحقیق فتاوائے فقیر میں بحمداﷲ تعالی بروجہ اتم ہے۔امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں:
قال فی مصابیح الجامع ساق المؤلف فی الباب قولہ تعالی والصالحین من عبادکم وامائکم وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قوموا الی سیدکم تنبیہا علی ان النھی انما جاء متوجہا علی جانب السید اذھو فی مظنہ الاستطالۃ وان قول الغیر ھذا عبدزید مصابیح الجامع میں فرمایا کہ مؤلف کا باب کی مناسبت سے اﷲ عزوجل کا یہ ارشاد اپنے لائق بندوں اور کنیزوں اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کایہ قول"اپنے سردار کے لئے کھڑے ہو جاؤ"پیش کرنا اس بات پر تنبیہ کے لئے ہے کہ ممانعت خود ذات سید کی طرف نسبت کرتے ہوئےہے کیونکہ یہ کبر کی جاہے رہا کسی غیر کا یہ کہنا یہ زید کا عبد(غلام)
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۴ /۳۲
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۱۶،سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب صدقہ الرقیق آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۲۲۵،سنن ابن ماجہ ابوب الزکوٰۃ باب صدقۃ الخیل والرقیق ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۱
#6155 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
و ھذا امۃ خالد جائز لانہ یقولہ اخباراوتعریفا و لیس فی مظنۃ الاستطالۃ والایۃ والحدیث مما یوید ھذا الفرق ۔ ہےیہ خالد کی باندی ہے۔تو یہ جائز ہے کیونکہ اس قول سے مقصود خبر دینا اور تعریف کرنا ہے یہاں تك کبر ونخوت کی کوئی جگہ نہیںآیت کریمہ او ر حدیث پاك سے بھی اسی فرق کی تائید ہوتی ہے۔۱۲م
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:
المعنی فی ذلك کل راجع البراءۃ من الکبر یہ معنی کبر ونخوت سے برأت کےلیے ہے ۱۲م۔
شرح السنہ امام بغوی پھر مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:
معنی ھذا راجع الی براءۃ من الکبر والتزام الذل والخضوع۔ یہ تمامی تاویلات کبر اور ذلت وخواری کے التزام سے براءت کے لئے ہے ۱۲م۔
ان سب عبارتوں کا حاصل یہ ہے کہ ساری ممانعتیں تکبر سے بچنے کے لئے ہیں اوریہ کہ تکبر خود اپنے کہنے میں ہوسکتاہے دوسرے کو کہتے ہیں میں تکبر کا کیا محل۔پھر اپنے آپ کو کہئے میں بھی حقیقۃ حکم نیت پر دائر ہوگااگر بوجہ تعلی وتکبر ہے قطعا حرامورنہ نہیں
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی ۔ اعمال کا دار مودار نیتوں پر ہے۔اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جو اس نے کیا۔
اس کی نظیریہی کہ اپنے غلام کو"اے میرے بندے"کہنا یہ بہ نیت تکبر نہ ہو تو کچھ حرج نہیں امام نووی پھر امام عینی شرح بخاری میں فرماتے ہیں:
المراد بالنہی من استعملہ علی جہۃ التعاظم لامن ممانعت سے مراد اس خاص صورت میں ممانعت ہے جب اسے بڑائی بیان کرنے کے لئے استعمال
حوالہ / References ارشا دالساری شرح صحیح البخاری کتاب العتق باب الکراھیۃ التطاول علی الرقیق درالکتاب العربی بیروت ۴ /۳۲۴
عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب العتق باب الکراھیۃ التطاول علی الرقیق ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۱۳ /۱۱۰
شرح السنۃ للبغوی باب یقول العبد بمالکہ الخ تحت حدیث ۳۳۸۱ المکتب الاسلامی بیروت ۱۲/ ۳۵۱،مرقاۃ المفاتیح شرح المشکوٰۃ کتاب الادب با الاسامی حدیث ۴۷۶۰ المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۲۰
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲
#6156 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
مرادہ التعریف ۔ کرے اور جس کی مراد دسرے کی تعریف ہو اس کےلئے ممانعت نہیں۔۱۲م
مرقاۃ میں ہے:
ولذا قیل فی کراھۃ ھذا الاسماء ھو ان یقول ذلك علی طریق التطاول علی الرقیق والتحقیر لشانہ والا فقد جاء بہ القران قال اﷲ تعالی والصالحین من عباد کم وامائکم وقال اذکر نی عند ربك ۔ اس وجہ سے بعض علماء نے کہا ایسا نام رکھنا اس وقت مکروہ ہے کہ جب کہنے والے کا مقصد غلام پر فخر کرنا اور اس کی شان کی حقارت ظاہر کرنا ہو ورنہ خود قرآن ناطق ہے اﷲ عزوجل ارشاد فرماتاہے :"اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا"او فرماتا ہے:"اور اپنے آقا کے پاس ہمیں یاد کرو"۱۲م
اشعۃ اللمعات میں ہے:
وگفتہ اند کہ منع ونہی ازا طلاق عبد وامہ برتقدیرے است کہ بروجہ تطاؤل وتحقیر تصغیر باشد والا اطلاق عبدامۃ درقران و احادیث آمدہ ۔ علماء نے فرمایاہے کہ(اپنے غلام اور اپنے باندی پر)عبد اور امۃ کا اطلاق اس صورت میں منع ہے کہ جب یہ ازراہ تکبر اورتحقیر و تصغیر ہوورنہ خود قرآن واحادیث میں لفظ عبد اور امۃ موجود ہے۔۱۲م
دوسری نظیر اپنے آپ کو عالم کہنا ہے کہ برسبیل تفاخر حرام ورنہ جائزحدیث میں شریف میں ہے:
من قال انا عالم فہو جاھلرواہ الطبرانی فی الاوسط ۔ جو شخص یہ کہے میں عالم ہوں وہ جاہل ہے(اس کو روایت کیا ہے طبرانی نے اوسط میں
حوالہ / References عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب العتق ادارۃ الطباعۃ لنیریۃ بیروت ۱۳ /۱۱۳
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتا ب الادب تحت حدیث ۴۷۶۰ المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۸ /۵۲۰
اشعۃ اللمعات کتاب الادب باب الاسامی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۷۴
المعجم الاوسط حدیث ۶۸۴۲ مکتبہ المعارض ریاض ۷ /۴۳۳
#6157 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔ت)
حالانکہ نبی اﷲ سیدنا یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:" انی حفیظ علیم ﴿۵۵﴾" بے شك میں حفاظت کرنے والاہوں عالم ہوں۔
تیسری نظیر اسبال ازار ہے یعنی تہبند یا پائچے ٹخنوں سے نیچے خصوصا زمین تك پہنچتے رکھنا کہ اس کے بارے میں کیا کیا سخت وعیدیں واردیہاں تك کہ فرمایا:
ثلثۃ لایکلمہم اﷲ یوم القیمۃ ولاینظر الیہم ولا یزکیھم ولہم عذاب الیم المسبل ازارہ والمنان و المنفق سلعتہ بالحلف الکاذبرواہ الستۃ الا البخاری عن ابی ذر النجاری علیہ رضوان الباری۔ تین شخص ہیں کہ اﷲ تعالی روز قیامت ان سے بات نہ کرے گا اور ان کی طرف نظر نہ فرمائیے گا اور انھیں پاك نہیں کرے گا اور ان کے لئے عذاب دردناك ہے۔یہ تہبند لٹکانے والا اور دے کر احسان رکھنے والااور جھوٹی قسم کھاکر اپنا مال چلتا کرنے والا(اسے روایت کیا گیا صحاح ستہ میں بخاری کے سوا ابی ذرنجاری رحمۃ اﷲ علیہ سے۔ت)
پھر جب صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ نے عرض کی:
ان ازاری یسترخی الا ان تعاھدہ۔ یا رسول اللہ! بیشك میرا تہبند ضرور لٹك جاتاہے مگر یہ کہ میں اس کی خاص احتیاط اور خیال رکھوں۔
فرمایا:
انت لست ممن یفعلہ خیلاء۔ تم ان میں سے نہیں جو براہ تکبر وناز ایسا کریں۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۲ /۵۵
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۷۱،سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب ماجاء فی اسبال الازار آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۹،مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۶۲،۱۶۸،۱۷۸،سنن الدارمی کتاب البیوع باب ۶۳،حدیث ۲۶۹۸ دارالمحاسن للطباعۃ قاہرہ ۲ /۱۸۰۔سنن النسائی کتاب البیوع باب المنفق سلعتہ بالحلف الکاذب نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۲۱۱،سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب ماجاء فی کراہیۃ الایمان الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۰
#6158 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
رواہ الشیخان وابوداؤد والنسائی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ (اسے روایت کیا شیخان اورابوداؤد اور نسائی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔ت)
سادسا: عــــــہ حدیث میں ممانعت ہے تو نام رکھنے کیکسی کے وصف میں کوئی بات بیان کرنے اور نام رکھنے میں بڑا بل ہے۔آخر نہ دیکھا کہ حدیثوں میں عزیز وحکم وحکیم نام رکھنے کی ممانعت آئیاور عزت وحکم وحکمت سے قرآن وحدیث میں بندوں کا وصف فرمایا گیا جن کی سندیں اوپر گزریںنیز اس کی نظیر حابس الفیل وسائق البقرات ہے کہ رب عزوجل کے یہ نام رکھنا حرام اور وصف واردجب واقعہ حدیبیہ میں ناقہ قصواءشریف بیٹھ گیااور لوگوں نے کہا ناقہ نے سرکشی کیتو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:نہ اس نے سرکشی کی نہ اس کی یہ عادت ولکن حبسہا حابس الفیل اسے حابس فیل نے روك دیا یعنی جس نے ابرہہ کے ہاتھی کو بٹھادیا اور کعبہ معظمہ پر حملہ کرنے سے روکا تھا۔عزوجلالہزرقانی علی المواھب میں علامہ ابن المنیر سے ہے:
یجوز اطلاق ذلك فی حق اﷲ تعالی فیقال حبسھا اﷲ حابس الفیل وانما الذی یمکن ان یمنع تسمیتہ سبحانہ حابس الفیل ونحوہ اھ قال الزرقانی وھو مبنی علی الصحیح من الاسماء توقیفہ ۔ اﷲ تبارك وتعالی پر اس کااطلاق جائز ہے۔اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اﷲ حابس فیل نے اسے روك لیاہاں ممانعت اس صورت میں ہوسکتی ہے جب"حابس فیل"یا اس کے ہم معنی کو اسم الہی قرار دے دیاجائےزرقانی نے کہا ا س کی بناء وہ قول صحیح ہے جس میں اسمائے الہی کو تو فیقی قرار دیا ہے۔۱۲م

عــــــہ:الوجوہ الخمسۃ الاول عامۃ وہذا خاص بغیر التسمیۃ ۱۲منہ عفی عنہ۔ پہلے پانچ وجوہ عام اور یہ غیر تسمیہ سے خاص ہے ۱۲منہ(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری فضائل اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۱۷،صحیح البخاری کتاب اللباس باب من جرازارہ من غیر خیلاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۶۰،صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم جر الثوب خیلاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ، سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب ماجاء فی اسبال الازار آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۹
المواہب اللدنیہ بیان صلح الحدیبیہ الکمتب الاسلامی بیروت ۱ /۴۹۱
شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ امر الحدیبیہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۱۸۴
#6159 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
اکید رباد شاہ دومۃ الجندل کے واقعہ میں حضرت بحیر طائی رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:
تبارك سائق البقرات انی
رأیت اﷲ یھدی کل ھاد ۔ اﷲ تبارك وتعالی گائیوں کو چلانے والا ہے میں نے اﷲ تعالی کو ہر رہنما کا رہنما پایا ہے۔(ت)
حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ان کا کلام پسند کیا اور فرمایا:
لایفضض اﷲ فاک۔رواہ ابن السکن وابو نعیم ومندہ۔ اﷲ تیرا منہ بے دندان نہ کرے(نوے برس جئے کسی دانت کو جنش نہ ہوئی)(اس کو روایت کیا ابن السکن اور ابونعیم
اور ابن مندہ نے۔ت)
یہ ہے تمام وہ کلام کہ ان اکابر متقدمین ومتاخرین ائمہ دین وفقہائے معتمدین وعرفائے کاملین کی طرف سے فقیر نے حاضر کیا اور ممکن کہ خود ان کے پاس اسے بھی بہتر جواب ہو" وفوق کل ذی علم علیم ﴿۷۶﴾" ۔
سابعا:اس سب سے قطع نظر کرکے یہی فرض کرلیجئے کہ معاذاﷲ ان تمام اکابر پر طعن ثابت ہواور جواب معدومتو انصافا فقیر کا مصرع اب بھی اس روش پر نہیں کہ ان ائمہ وعلماء نے قطعا غیر خدا کو شنہشاہ وقاضی القضاۃ کہا ہے حتی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو بھی نہیں بلکہ کسی عالم یا ولی یا نرے حکام دنیوی کواور وہ مصرح اس معنی میں ہرگز متعین نہیں۔ہم پوچھتے ہیں لفظ شہنشاہ حضرت عزجلالہ سے مخصوص ہے یانہیں اگر نہیں ہے تو سرے سے منشاء شبہہ زائلاور اگر ہے تو جو لفظ اﷲ عزوجل کے لئے خاص تھا اسے غیر اﷲ پر کیوں حمل کیجئے شہنشاہ سے اﷲ ہی کیوں نہ مراد لیجئے کہ روضہ بمعنی قبر نہیں بلکہ خیابان اورکیاری کوکہتے ہیںقال اﷲ تعالی " فہم فی روضۃ یحبرون ﴿۱۵﴾" (اﷲ تعالی نے فرمایا:باغ کی کیاری میں ان کی خاطر داری ہوگی۔ت) قبر پر اس کا اطلاق تشبہ بلیغ ہے جیسے رایت اسدا یرمی(میں نے شیر کو تیرا ندازی کرتے دیکھا)حدیث شریف میں قبر مومن کو روضۃ من ریاض الجنۃ فرمایا جنت کی کیاریوں میں سے ایك کیاریتو روضہ شہنشاہ کے معنی ہوئے
حوالہ / References دلائل النبوۃ لابی نعیم ذکر ماکان فی غزوۃ تبوك عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص ۱۹۲
شرح الزرقانی المواہب اللدینۃ بحوالہ ابن مندہ وابونعیم وابن السکن دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۷۸
القرآن الکریم ۱۲ /۷۶
القرآن الکریم ۳۰ /۱۵
جامع الترمذی ابواب صفۃ یوم القیمۃ امین کمپنی دہلی ۲ /۶۹
#6160 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
الہی خیابانخدا کی کیاریاس میں کیا حرج ہےجب قرآن عظیم نے مدینہ طیبہ کو ساری زمین کو اﷲ عزوجل کی طرف اضافت فرمایا:
" الم تکن ارض اللہ وسعۃ فتہاجروا فیہا " ۔ کیا خدا کی زمین یعنی زمین مدینہ کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے۔
تو خاص روضہ انور کو الہی روضہ شاہنشاہی خیابانربانی کیاری کہنے میں کیاحرج ہےوﷲ الحمد
بایں ہمہ جب فقیر بعون القدیر آیت وحدیث سے اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا مالك الناسملك الناس مالك الارضمالك رقاب الامم ہونا ثابت کرچکا تو لفظ پر اصرار یا روایت خلاف پر انکار کی حاجت نہیںیہ بھی ہمارے علماء سے بعض متاخرین کا قول ہے اس کے لحاظ بجائے"شاہنشاہ طیبہ"کہئےکہ وہ شاہ طیبہ بھی ہیں اور شاہ تمام روئے زمین بھی اور شاہ تمام اولین وآخرین بھی جن میں ملوك وسلاطین سب داخل بادشاہ ہو یا رعیتوہ کون ہے کہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دائرہ غلامی سے سرباہر نکال سکتا ہے
محمد عربی کہ ابروئے ہر دوسراست کسےکہ خاك درش نیست خاك برسراو
(محمد عربی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دونوں جہانوں کی عزت ہیں جو ان کے درکی خاك نہیں اس کے سر پرخاک)
وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد وآلہ و صحبہ اجمعینولیکن ھذا ھذا اخرا لکلام فی المسئلۃ الاول الحمد ﷲ فی الاولی والاخری۔ اﷲ تعالی ك رحمت نازل ہوہمارے آقا مولی پر صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور آپ کی آل واصحاب سب پریہ پہلے مسئلہ میں آخری کلام ہے۔دنیاواخرت میں تمام حمدیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں۔(ت)
جوا ب سوال دوم:الحق اﷲ عزوجل ہی مقلب القلوب ہے سب کے دلوںنہ صرف دل بلکہ عالم کے ذرے ذرے پر حقیقی قبضہ اسی کا ہے۔مگر نہ اس کی قدرت نہ محدود نہ اس کی عطاء کا باب وسیع مسدود" ان اللہ علی کل شیء قدیر﴿۲۰﴾ " بے شك اﷲ تعالی ہر چیز پرقادر ہے " وما کان عطـاء ربک محظورا ﴿۲۰﴾ " اور تیرے رب کی عطا پر روك نہیںوہ علی الاطلاق فرماتاہے:
#6161 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
" و لکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشاء " اﷲ تعالی اپنے رسولوں کو جس پر چاہے قبضہ و قابودیتاہے۔
اس کا اطلاق اجسام وابصار واسماع وقلوب سب کو شامل ہے وہ اپنے محبوبوں کو جس کے چاہے دست وپا پر قدرت دے چاہے چشم وگوش پرچاہے دل وہوش پراس کی قدرت میں کمی نہ عطا میں تنگیکیا ملائکہ دلوں میں القائے خیر نہیں کرتےنیك ارادے نہیں ڈالتےبرے خطروں سے نہیں پھرتے ضرور سب کچھ باذن اﷲ کرتے ہیں پھردلوں میں تصرف کے اور کیا معنی قال اﷲ تعالی:
" اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم فثبتوا الذین امنوا "
جب وحی فرماتاہے تیرارب فرشتوں کو کہ میں تمھارے ساتھ ہوں تو تم دل قائم رکھو مسلمانوں کے۔
سیرت ابن اسحاق وسیرت ابن ہشام میں ہے بنی قریضہ کو جاتے ہوئے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم راہ میں اپنے کچھ اصحاب پر گزرےان سے دریافت فرمایا:تم نے ادھر جاتے ہوئے کوئی شخص دیھا عرض کی:دحیہ بن خلیفہ کو نقرہ جنگ پر سوار جاتے ہوئے دیکھا۔فرمایا:
ذاك جبریل بعث الی بنی قریضۃ یزلزل بھم حصونہم ویقذف الرعب فی قلوبہم ۔ وہ جبریل تھا کہ بنی قریظہ کی طرف بھیجا گیا کہ ان کے قلعوں میں زلزلے اور ان کے دلوں میں رعب ڈالے۔۱۲م
امام بیہقی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
اذا جلس القاضی مجلسہ ھبط علیہ ملکان یسدد انہ ویوفقانہ ویرشد انہ مالم یجر فاذا جار عرجا و ترکاہ ۔ جب قاضی مجلس حکم میں بیٹھتاہے تو دو فرشتے اترتے ہیں کہ اس کی ائے کو درستی دیتے ہیں اور اسے ٹھیك بات سمجھنے کی توفیق دیتے ہیں اور اسے نیك راستہ سمجھاتے ہں جب تك حق سے میل نہ کرے جہاں ا س نے میل کیا فرشتوں نے اسے چھوڑا اور آسمان پر اڑ گئے۔۱۲م
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۹ /۶
القرآن الکریم ۸ /۱۲
السیرۃ النبویۃ لابن ہشام مع الروض الانف غزوہ بنی قریظہ مکتبہ فاروقیہ ملتان ۲ /۱۹۵
السنن الکبرٰی کتاب آداب القاضی باب من ابتلی بشیئ الخ دار صادر بیروت ۱۰ /۸۸
#6162 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
دیلمی مسند الفردوس میں صدیق اکبر وابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہمادونوں سے روای کہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لو لم ابعث فیکم لبعث عمر اید اﷲ عمر بملکین یوفقانہ ویسدد انہ فاذا اخطا صرفاہ حتی یکون صوابا ۔ اگرمیں بھی تم میں ظہورنہ فرماتا تو بیشك عمر نبی کیا جاتا۔اﷲ عزوجل نے دو فرشتوں سے تائید فرمائی ہے کہ وہ دونوں عمر کو توفیق دیتے اور ہر بات میں اسے راہ پر رکھتےاگر عمر کی رائے لغزش کرنے کو ہوتی ہے وہ پھیردیتے ہیں یہاں تك کہ عمر سے حق ہی صادر ہوتاہے۔۱۲م
ملائکہ کی شان تو بلندہے۔شیاطین کو قلوب عوام میں تصرف دیا ہے جس سے فقط اپنے چنے ہوئے بندوں کو مستثنی کیا ہے کہ:
" ان عبادی لیس لک علیہم سلطن" میرے خاص بندوں پر تیرا قابوں نہیں۔
قال اﷲ تعالی:
" یوسوس فی صدور الناس ﴿۵﴾ من الجنۃ و الناس﴿۶﴾
" شیطان جن اور لوگلوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتے ہیں۔
وقال اﷲ تعالی:
" شیطین الانس و الجن یوحی بعضہم الی بعض زخرف القول غرورا " شیطان آدمی اور جن ایك دوسرے کے دل میں ڈالتے ہیں بناوٹ کی بات دھوکے کی۔۱۲م
بخاریمسلمابوداؤد مثل امام احمدحضرت انس بن مالك اور مثل ابن ماجہ حضرت ام المومنین حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راویرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۵۱۲۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۳۷۲
القرآن الکریم ۱۷ /۶۵
القرآن الکریم ۱۱۴ /۵و۶
القرآن الکریم ۶ /۱۱۲
#6163 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
ان الشیطن یجری من الانسان مجری الدم ۔ بے شك شیطان انسان(آدمی)کی رگ رگ میں خون کی طرح ساری وجاری ہے۔
صحیحین وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہےکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:"جب اذان ہوتی ہے شیطان گوز زناں بھاگ جاتاہے کہ اذان کی آواز نہ سنےجب اذان ہوچکتی ہے پھر آتاہے۔جب تکبیر ہوتی ہے پھر بھاگ جاتاہےجب تکبیر ہوچکتی ہے پھر آتاہے حتی یخطرا بین المراء ونفسہ یقول اذکر کذا اذکر کذا لما لم یکن یذکرہحتی یظل الرجل مایدری کم صلی یہاں تك کہ آدمی اور اس کے دل کے اندر حائل ہوکر خطرے ڈالتاہے کہتا ہے کہ یہ بات یاد کروہ بات یاد کر ان باتوں کے لئے جو آدمی کے خیال میں بھی نہ تھیںیہاں تك کہ انسان کو یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ کتنی پڑھی"امام ابوبکر ابی الدنیا کتاب مکائد الشیطاناور امام اجل ترمذی نوادر الاصول میں بسند حسناور ابویعلی مسند اور ابن شاہین کتاب الترغیباور بہیقی شعب الایمان میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی:
ان الشیطان واضع خطمہ علی قلب ابن ادم فان ذکر اﷲ خنس وان نسی التقم قلبہ فذلك الوسواس بیشك شیطان اپنی چونچ آدمی کے دل پر رکھے ہوئے ہےجب آدمی خدا تعالی کو یاد کرتاہے شیطان دبك جاتاہے اور جب آدمی(ذکرسے)غفلت کرتاہے(بھول جاتاہے)تو شیطان اس کا
حوالہ / References صحیح البخاری باب الاعتکاف ۱ /۲۷۲ کتاب بدء الخلق ۱ /۴۶۴ کتاب الاحکام ۲ /۱۰۶۳ قدیمی کتب خانہ کراچی،سنن ابی داؤد کتاب الصوم باب المعتکف یدخل البیت لحاجتہ الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۳۵
صحیح البخاری کتاب الاذان باب فضل التاذین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۸۵،صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب فضل الاذان وھرب الشیطن الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۸،صحیح مسلم کتاب المساجد باب السہو فی الصلٰوۃ والمسجود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۱۱،مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۱۳،۴۶۰،۵۲۲
#6164 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
الخناس ۔ دل اپنے منہ میں لے لیتاہے تویہ ہے(شیطان خناس)وسوسہ ڈالنے والا دبك جانیوالا۔
لمہ شیطان ولمہ مبلکہ دونوں مشہور اور حدیثوں میں مذکور ہیں پھر اولیاء کرام کو قلوب میں تصرف کی قدرت عطا ہونی کیا محل انکار ہے۔حضرت علامہ سلجماسی رحمۃاﷲ تعالی علیہ کتاب ابریز میں اپنے شیخ حضرت سیدی عبدالعزیز رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عوام جو اپنے حاجات میں اولیاء کرام مثل حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے استعانت کرتے ہیں نہ کہ اﷲ عزوجل سےحضرات اولیاء نے ان کو قصدا ادھر لگا لیا ہے کہ دعا میں مرا دملنی نہ ملنی دونوں پہلو ہیں عوام (مراد)نہ ملنے کی حکمتوں پر مطلع نہیں کئے جاتےتو اگر بالکلیہ خالص اﷲ عزوجل ہی سے مانگتے پھر مراد ملتی نہ دیکھتے تو احتمال تھا کہ خدا کے وجود ہی سے منکر ہوجاتےاس لئے اولیاء نے ان کے دلوں کو اپنی طرف پھیر لیا کہ اب اگر(مراد)نہ ملنے پر بے اعتقادی کا وسوسہ آیا بھی تو اس ولی کی نسبت آئے گا جس سے مدد چاہی تھاس میں ایمان تو سلامت رہے گا۔
حدیث اول:اور سنئےمولانا علی قاری علیہ الرحمۃ الباری کتاب مستطاب نزھۃ الخاطر الفاتر فی ترجمۃ سیدی الشریف عبد القادر رضی اﷲ تعالی عنہ میں فرماتے ہیں:
روی الشیخ الجلیل ابوصالح المغربی رحمہ اﷲ تعالی انہ قال قال لی سیدی الشیخ ابو مدین قدس سرہ یا ابا صالح سافر الی بغداد وأت الشیخ محی الدین عبدالقادر لیعلمك الفقرفسافرت الی بغداد فلما رأیتہ رأیت رجلا مارأیت اکثرھیبۃ منہ(فساق الحدیث الی اخرہ الی ان قال)قلت یا سیدی ارید ان تمدنی ملك بہذا الوصف فنظر نظرۃ یعنی شیخ جلیل ابوصالح مغربی رحمہ اﷲ تعالی نے روایت کی مجھ کو میرے شیخ حضرت ابوشعیب مدین رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:اے ابوصالح! سفر کرکے حضرت شیخ محی الدین عبد القادری کے حضور حاضر ہو کر وہ تجھ کو فقر تعلیم فرمائیں میں بغداد گیا جب حضور پر نور سید ناغوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا میں نے اس ہبیت و جلال کا کوئی بندہ خدانہ دیکھا تھا حضور نے مجھ کو ایك سو بیس۱۲۰ دن یعنی تین چلے خلوت میں بٹھایا پھر میرے پاس تشریف لائے اور قبلہ کی طرف
حوالہ / References شعب الایمان حدیث ۵۴۰ دارالمکتب العلمیہ بیروت ۱ /۴۰۳،نوادر الاصول الاصل التاسع والخمسون والمائتان الخ دارصادر بیروت ص۳۵۴
#6165 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
فتفرقت عن قلبی جواذب الارادات کما یتفرق الظلام بھجوم النہار وانا الان انفق من تلك النظرۃ ۔ اشارہ کرکے فرمایا:اے ابوصالح! ادھر کو دیکھو تجھ کو کیا نظر آتاہے میں نے عرض کی۔کعبہ معظمہپھر مغرب کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ادھر دیکھ تجھے کیا نظر آتا ہے۔میں نے عرض کی:میرے پیر ابومدین۔ فرمایا:کدھر جانا چاہتاہے کعبہ کو یا اپنے پیر کے پاس اپنے پیر کے پاس۔فرمایا:ایك قدم میں جانا چاہتاہے یا جس طرح آیا تھا میں نے عرض کی:بلکہ جس طرح آیا تھا:یہ افضل ہے۔پھر فرمایا:اے ابوصالح! اگر تو فقر چاہتاہے تو ہر گز بے زینہ ا س تك نہ پہنچے گا اور اس کا زینہ تو حید ہے اور توحید کا مدار یہ ہے کہ عین السر کے ساتھ دل سے ہر خطرہ مٹا دے لوح دل بالکل پاك وصاف کرلےمیں نے عرض کی: اے میرے آقا!میں چاہتاہوں کہ حضوراپنی مدد سے یہ صفت مجھ کو عطا فرمائیںیہ سن کر حضور نے ایك نگاہ کرم مجھ پر فرمائی کہ ارادوں کی تمام کششیں میرے دل سے ایسی کافور ہوگئیں جیسے دن کے آنے سے رات کی اندھیریاور میں آج تك حضور کی اسی ایك نگاہ سے کام چلارہاہوں۔
دیکھئے خاطر پر اس سے بڑھ کر اور کیا قبضہ ہوگا کہ ایك نگاہ میں دل کو تمام خطرات سے پاك فرمادیا اور نہ فقط اسی وقت بلکہ ہمیشہ کے لئے۔
امام اجل مصنف بہجۃ الاسرار کی جلالت شان اور اس کتاب جلیل کی صحت وعظمت
فائدہ:یہ حدیث جلیل حضرت اما اجل سید العلماء شیخ القراء عمدہ العرفاء نور الملۃ والدین ابوالحسن علی بن یوسف بن جریر لحمی شطنونی قدس سرہ العزیز نے صرف دوواسطہ سے حضور پر نور سید نا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے مرید ہیںامام جلیل الشانشیخ القراءابوالخیر شمس الدین محمد محمد محمد ابن الجزری رحمہ اﷲ تعالی مصنف حصن حصین شریف کے استاذ ہیںامام ذہبی صاحب میزان الاعتدلال ان کی مجلس مبارك میں حاضر ہوئےاور طبقات القراء میں ان کی مدح ستائش کی اور ان کو اپنا امام یکتا لکھا۔
حیث قال علی بن یوسف بن جریر اللخمی شطنوفی الامام الاوحد المقری نورالدین چنانچہ کہا کہ علی بن یوسف بن جریری لخمی شطنونی نورالدین امام یکتامدرس قراءت اور
حوالہ / References نزھۃ الخاطر الفاتر فی ترجمۃ عبدالقادر
#6166 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
شیخ القراء بالدیار المصریۃ ۔ بلاد مصری کے شیخ القرء ہیں ۱۲م
اور امام اجل عارباﷲ سیدی عبداﷲ بن اسعد یافعی شافعی یمعنی رحمہ اﷲ تعالی"فی آمرۃ الجنان میں اس جناب کو ان مناقب جلیلہ سے یاد رفرمایا:
روی الشیخ الامام الفقیہ العالم المقری ابوالحسن علی بن یوسف بن جریر بن معضاد الشافی اللخمی فی مناب الشیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ بسندہ الخ شیخ امام زبردست فقیہ مدرس قراءت علی ابن یوسف بن جریر بن معضاد شافی لخمی نے شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ سے یہ روایت بیان کی۔۱۲م
اورامام اجل شمس الملۃ والدین ابوالخیر الجزری مصنف حصن حصین نے نہایۃ الدرائت فی اسماء الرجال القرائت میں فرمایا:
علی بن یوسف بن جریر بن فضل بن معضاہ نوراالدین ابوالحسن اللخمی الشطنونی الشافعی الاستاذ المحقق البارع شیخ الدیار المصریۃ ولد بالقاہرۃ سنۃ اربع و اربعین وستمائۃ وتصدر للاقراء بالجامع الازھر من القاہرۃ وتکاثر علیہ الناس لاجل الفوائد والتحقیق وبلغنی انہ عمل علی الشاطبیۃ شرحا فلوکان ظہر لکان من اجود شروحہا توفی یوم السبت اوان الظہر دفن یوم الاحد العشرین من ذی الحجۃ سنۃ ثلث عشرۃ وسبع مائۃ رحمہ اﷲ تعالی۔ (مختصرا) یعنی علی بن یوسف نور الدین ابوالحسن شافعی استاد محقق اینے کمال والے جو عقلوں کو حیران کردےبلاد مصر کے شیخ قاہرہ مصرمیں پیدا ہوئے اور مصر کی جامع ازہر میں صدر تعلیم پر جلوس فرمایاان کے فوائد وتحقیق کے سبب خلائق کا ان پر ہجوم ہوامیں نے سنا کہ شاطبیہ پر بھی اس جناب نے شرح لکھی یہ شرح اگر ظاہر ہوتی تو ان کی تمام شرحوں سے بہتر شروح میں ہوتیروز دوشنبہ بوقت ظہر وفات پائی اور بروز یك شنبہ بستم ذی الحجہ ۷۱۳ھ میں دفن ہوئےرحمۃ اﷲ تعالی علیہ انتہی ۱۲م
حوالہ / References زبدۃ الآثار بحوالہ طبقات المقرئین مطبع بکسلنگ کمپنی جزیرہ ص۳
مرآۃ الجنان وعبرۃ الیقظان فی معرفۃ مایعتبر من حوادث الزمان
زبدۃ الآثار بحوالہ نہایۃ الدرایات فی اسماء الرجال واالقرأت مطبع بکسلنگ کمپنی جزیرہ ص۵
#6167 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
اور امام اجل جلال الملۃ والدین سیوطی نے"حسن المحاضرۃ باخبار مصر والقاھرۃ"میں فرمایا:
علی بن یوسف بن جریر اللخمی الشطنونی الامام الاوحد نور الدین ابوالحسن شیخ القراء بالدیار المصریۃ تصد للاقراء بالجامع الازہروتکاثر علیہ الطلبۃ ۔ یعنی علی بن یوسف ابوالحسن نور الدین امام یکتا ہیںاور بلا د مصر میں شیخ القراء پھر ان کا مسند تعلیم پر جلوس اور طلبہ کا ہجوم اور تاریخ ولادت ووفات اسی طرح ذکر فرمائی۔
نیز امام سیوطی نے اس جناب کا تذکرہ اپنی کتاب"بغیۃ الوعادۃ"میں لکھا اور اس میں نقل فرمایا کہ:
لہ الید الطولی فی علم التفسیر ۔ علم تفسیر میں اس جناب کو ید طولی تھا۔
اور حضرت شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ نے کتاب"زبدۃ الاسرار"میں اس جناب کے فضائل عالیہ یوں بیان فرمائے:
بھجۃ الاسرار من تصنیف الشیخ الامام الاجل الفقیہ العالم المقریالاو حد البارع نورا لدین ابی الحسن علی بن یوسف الشافعی اللخمی وبینہ وبین الشیخ رضی اﷲ تعالی عنہ واسطتان وھو داخل فی بشارۃ قولہ رضی اﷲ تعالی عنہ طوبی لمن رانی ولمن رای من رانی ولمن رای من رانی ۔ یعنی امام اجلفقیہعالممدرس قرائت یکتاعجب صاحب کمال نور الدین ابوالحسن علی بن یوسف شافعی لخمیان میں اور حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں صرف دو واسطے ہیں اور وہ حضور پر نور سرکارغوثیت کی اس بشارت میں داخل ہیں کہ شادما نی ہے اسے جس نے مجھ کو دیکھا اور اسے جس نے میرے دیکھنے والوں کو دیکھاا ور اسے جس نے میرے دیکھنے والے کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔انتہی
ان امام اجل یکتا نے کہ ایسے اکابر ائمہ جن کی امامت وعظمت وجلالت شان کے ایسے مداح ہوئےاپنی کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار ومعدن الانوار شریف میں(کہ امام اجل یافعی وغیرہ اکابر اس سے سند لیتے آئے امام اجل شمس الملۃ والدین ابوالخیر ابن الجزری مصنف حصن حصین نے یہ کتاب مستطاب
حوالہ / References حسن المحاضرۃ باخبار مصروالقاھرۃ
بغیۃ الوعاۃ للیسوطی
زبدۃ الاسرار خطبۃ الکتاب مطبع بکسلنگ کمپنی جزیرہ ص۵
#6168 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر حنفی وشطوطی رحمہ اﷲ تعالی سے پڑھیاور حدیث کی طرح اس کی سندھ حاصل کی اورعلامہ عمر بن عبدالوہاب حلبی نے اس کی روایات معتمدہونے کی تصریح کیاور حضرت شیخ محقق محدث دہلوی نے زبدۃ الآثارشریف میں فرمایا:
ایں کتاب بہجۃ الاسرار کتابے عظیم وشریعت ومشہور است ۔ یہ کتاب بہجۃ الاسرار ایك عظیم شریعت اور مشہور کتاب ہے۔۱۲م
اور زبدۃ الاسرار شریف میں اس کی روایات صحیح وثابت ہونے کی تصریح کی)یوں بسندصحیح روایت فرمائی کہ:
حدثنا الفقیہ ابوالحجاج یوسف بن عبدالرحیم بن حجاج بن یعلی الفاسی المالکی المحدث بالقاہرۃ ۶۷۱ھ قال اخبرنا جدی حجاج بفاس۶۲۳ھ قال حججت مع الشیخ ابی محمد صالح بن ویرجان الدکالی رضی اﷲ تعالی عنہ ۵۸۸ھ فلما کنا بعرفات وافینا بہا الشیخ ابالقاسم عمر بن مسعود المعروف بالبزار فتسما لما وجلسا یتذکران ایام الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ فقال الشیخ ابومحمد قال لی سیدی الشیخ ابو مدین رضی اﷲ تعالی عنہ یاصالح سافر الی بغداد الحدیث ۔ یعنی فقیہ محدث ابوالحجاج نے ہم سے حدیث بیان کی کہ میرے جدا مجد حجاج بن یعلی بن عیسی فاسی نے مجھے خبر دی کہ میں نے شیخ ابومحمد صالح کے ساتھ۵۸۸ھ میں حج کیا عرفات میں ہم کو حضرت شیخ ابوالقاسم عمر بزار ملےدونوں شیخ بعد سلام بیٹھ کر حضور پر نور غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا ذکر فرمانے لگےابومحمد صالح نے فرمایا مجھ سے میرے شیخ حضرت شعیب ابومدین نے فرمایا:اے صالح! سفر کرکے بغداد حاضر ہوالی آخرہ۔
تنبیہ:یہاں سےمعلوم ہوا کہ ان شیخ کانام گرامی صالح ہے اورکنیت ابو محمد نزہۃ الخاطر میں ابوصالح واقع ہوا سہو قلم ہے۔
حوالہ / References زبدۃ الآثار مع زبدۃ الاسرار خطبہ الکتاب مطبع بکسلنگ کمپنی جزیرہ ص۲
بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۵۲
#6169 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
حدیث دوم:اور سنیےاسی حدیث جلیل میں ہے کہ حضرت صالح یہ روایت فرماچکے تو حضرت سید عمر بزار قدس سرہنے فرمایا:
وانا ایضا کنت جالسا بین یدیہ فی خلوتہ فضرب بیدہ فی صدری فاشرق فی قبلہ نورعلی قدر دائرۃ الشمس ووجدت الحق من وقتی وانا الی الان فی زیادۃ من ذلك النور ۔ یعنی یونہی میں بھی ایك روز حضور پر نور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے سامنے خلوت میں حاضر تھا حضو رنے اپنے دست مبارك کو میرے سینے پر مارافورا ایك نور قرص آفتاب کے برابرمیرے دل میں چمك اٹھااور اس وقت سے میں نے حق کو پایااور آج تك وہ نور ترقی کررہاہے۔
حدیث سوم:او ر سنیےامام ممدوح اسی بہجۃ الاسرار شریف میں بایں سند راوی:
حدثنا الشیخ ابوالفتوح محمد ابن الشیخ ابی المحاسن یوسف بن اسمعیل التیمی البکری البغدادی قال اخبرنا الشیخ الشریف ابوجعفر محمد بن ابی القاسم العلوی قال الخبرنا الشیخ العارف ابوالخیر بشربن محفوظ ببغداد بمنزلہ الحدیث۔ یعنی ہم سے شیخ ابو الفتوح محمد صدیق بغدادی نے حدیث بیان کی کہ ہم کو سید ابوجعفرمحمد علوی نے خبر دی کہ ہم سے شیخ عارف باﷲ ابو الخیر بشر بن محفوظ بغدادی نے اپنے دولت خانے پر بیان فرمایا کہ ایك روزمیں اور بارہ صاحب اور)جن کے نام حدیث میں مفصل مذکور ہیں)خدمت اقدس حضور پرنور سید نا غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ میں حاضر تھے کہ حضور نے فرمایا:لیطلب کل منکم حاجۃ اعطیہا لہتم میں سے ہر ایك ایك ایك مراد مانگے کہ ہم عطا فرمائیں(اس پر دس صاحبوں نے دینی حاجتیں متعلق علم ومعرفت اور تین شخصوں نے دنیوی عہدہ ومنصب کی مردیں مانگیں جو بتفصیل مذکور ہیں)
حضور پرنور رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:
" کلا نمد ہؤلاء و ہؤلاء من عطاء ربک وما کان عطـاء ربک محظورا ﴿۲۰﴾ "۔ ہم ان اہل دین اور اہل دنیا سب کی مدد کرتے ہیں تیرے رب کی عطا سےاور تیرے رب کی عطا پر روك نہیں۔
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۵۳
#6170 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
خدا کی قسم! جس نے جو مانگا تھا پایامیں نے یہ مراد چاہی تھی کہ ایسی معرفت مل جائے کہ واردات قلبی میں مجھے تمیز ہوجائے کہ یہ وارداﷲ تعالی کی طرف سے ہے۔اوریہ نہیں(اوروں کو ان کی مرادیں ملنے کی تفصیل بیان کرکے فرماتے ہیں):
واما انا فان الشیخ رضی اﷲ تعالی عنہ وضع یدہ علی صدری وانا جالس بین یدیہ فی مجلسہ ذلك فوجدت فی الوقت العاجل نورا فی صدری وانا الی الان افرق بہ بین مواردا الحق والباطل وامیز بہ بین احوال الہدی والضلال وکنت قبل ذلك شدید القلق لالتباسہا علق ۔ اور میری یہ کیفیت ہوئی کہ میں حضو رکے سامنے حاضرتھاحضور نے اسی مجلس میں اپنا دست مبارك میرے سینے پر رکھا کہ فورا ایك نور میرے سینے میں چمکا کہ آج تك میں اسی نور سے تمیزکرلیتاہوں کہ یہ وارد حق ہے اوریہ باطلیہ حال ہدایت ہے اور یہ گمراہی اور اس سے پہلے مجھے تمیز نہ ہوسکنے کے باعث سخت قلق رہا کرتا تھا۔
حدیث چہارم:اور سنیےامام ممدوح اسی کتاب جلیل میں اس سند عالی سے راوی کہ:اخبرنا ابو محمدن الحسن ابن ابی عمران القرشی وابومحمد سالم بن علیا الدمیاطی قال اخبرنا الشیخ العالم الربانی شہاب الدین عمر السہروردی الحدیث یعنی ہمیں ابو محمد قرشی وابومحمد میاطی نے خبردیدونوں نے فرمایا کہ ہمیں شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین عمر سہروردی رضی اﷲ تعالی عنہ سردار سلسلہ سہروردیہ نے خبردی کہ مجھ علم کلام کا بہت شوق تھامیں نے اس کی کتابیں از بر حفظ کرلی تھیں اور اس میں خوب ماہر ہوگیا تھا میرے عم مکرم پیر معظم حضر ت سیدی نجیب الدین عبدالقاہر سہروردی رضی اﷲ تعالی عنہ مجھ کو منع فرماتے تھے اور میں بازنہ آتاتھاایك روز مجھے ساتھ لے کر بارگا غوثیت پناہ میں حاضرہوئےراہ میں مجھ سے فرمایا:اے عمر! ہم اس وقت اس کے حضور حاضر ہونے کو ہیں جس کا دل اﷲ تعالی کی طرف سےخبر دیتاہے دیکھو ان کے سامنے باحیتاط حاضرہونا کہ ان کے دیدار سے برکت پاؤ۔
جب ہم حاضربارگاہ ہوئے میرے پیر نے حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے عرض کی:اے میرے آقا! یہ میرا بھتیجا علم کلام میں آلودہ ہے میں منع کرتاہوںنہیں مانتاحضور نے مجھ سے فرمایا:اے عمر! تم نے علم کلام میں کون سی کتاب حفظ کی ہے میں نے عرض کی:فلاں فلاں کتابیں۔
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکر فضول من کلامہ مرصعابشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۳۰ و ۳۱
#6171 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
فامریدہ علی صدری فواﷲ مانزعہا وانا احفظ من تلك الکتب لفظۃ وانسائی اﷲ جمیع مسائلہا ولکن وفراﷲ فی صدری العلم اللدنی فی الوقت العاجل فقمت من بین یدیہ و انا انطق بالحکمۃ وقال لی یاعمر انت اخر المشہورین بالعراققال وکان الشیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ سلطان الطریق والتصرف فی الوجود علی التحقیق۔حضو رنے دست مبارك میرے سینے پر پھیراخدا تعالی کی قسم! ہاتھ ہٹانے نہ پائے تھے کہ مجھے ان کتابوں سے ایك لفظ بھی یاد نہ رہااور ان کے تمام مطالب اﷲ تعالی نے مجھے بھلادےےہاں! اﷲ تعالی نے میرے سینے میں فورا علم لدنی بھردیاتو میں حضور کے پاس سے علم الہی کا گویا ہوکر اٹھااور حضور نے مجھ سے فرمایا ملك عراق میں سب سے پہلے نامور تم ہوگئے یعنی تمھارے بعد عراق بھر میں کوئی اس درجہ شہرت کو نہ پہنچے گااس کے بعد امام شیخ الشیوخ سہروردی فرماتے ہیں حضرت شیخ عبدالقادری رضی اﷲ تعالی عنہ بادشاہ طریق ہیں اور تمام عالم میں یقینا تصرف فرمانے والے رضی اﷲ تعالی عنہ۔
پھر امام مذکور بسند خود حضرت شیخ نجم الدین تفلیسی رحمہ اﷲ تعالی سے روایت فرماتے ہیں میرے شیخ حضرت شیخ الشیوخ نے مجھے بغدادمقدس میں چلے میں بٹھایا تھاچالیسویں روز میں واقعہ میں کیا دیکھتاہوں کہ حضرت شیخ الشیوخ ایك بلند پہاڑ پر تشریف فرماہیں اور ان کے پاس بکثرت جواہر ہیں او رپہاڑ کے نیچے انبوہ کثیر جمع ہے حضرت شیخ پیمانے بھر بھرکر وہ جواہ رخلق پر پھینکتے ہیں اور لوگ ٹوٹ رہے ہیں جب جواہر کمی پر آتے ہیں خود بخود بڑھ جاتے ہیں گویا چشمے سے ابل رہے ہیںدن ختم کرکے میں خلوت سے باہر نکلا اور حضرت شیخ الشیوخ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ جو دیکھا تھا عرض کرو۔میں کہنے نہ پایا تھا کہ حضرت شیخ نے فرمایا:جو تم نے دیکھا وہ حق ہے۔اور اس جیسے کتنے ہییعنی صرف اپنے ہی جواہر نہیں جو تم نے دیکھےبلکہ اتنے اتنے اور بہت سے ہیںیہ وہ جواہر ہیں کہ حضرت شیخ عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ نے علم کلام کے بدلے میرے سینے میں بھر دئے ہیں رضی اﷲ تعالی عنہم۔
اس سے بڑھ کر دلوں پر قابو اور کیا ہوگاکہ ایك ہاتھ مار کر تمام حفظ کی ہوئی کتابیں یکسر محو فرمادیں کہ نہ ان کا ایك لفظ یاد رہے اورنہ اس علم کا کوئی مسئلہ اور ساتھ ہی علم لدنی سے سینہ بھردیں۔
حدیث پنجم:اور سنیے امام محمدوح اسی کتاب جلیل الفتوح میں اس سند عالی سے راوی:حدثنا الشیخ الصالح ابوعبداﷲ محمد بن کامل بن ابوالمعالی الحسینی قال سمعت
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۳۲ و ۳۳
#6172 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
الشیخ العارف ابا محمد مفرج بن بنہان بن رکاف الشیبانی یعنی ہم سے شیخ صالح ابوعبداﷲ محمد حسینی نے حدیث بیان کی کہ میں بے شیخ عارف ابومحمد مفرج کو فرماتے سنا کہ جب حضور پر نور رضی اﷲ تعالی عنہ کا شہرہ ہوا فقہائے بغداد سے سو فقیہ کوفقاہت میں سب سے اعلی اورذہین تھےاس بات پر متفق ہوئے کہ انواع علوم سے سو مختلف مسئلے حضور سے پوچھیںہر فقیہ اپنا جدا مسئلہ پیش کرے تاکہ انھیں جواب سے بند کردیںیہ مشوہ گانٹھ کر سومسئلے الگ الگ چھانٹ کر حضور اقدس کی مجلس وعظ میں آئےحضرت شیخ مفرج فرماتے ہیں میں اس وقت مجلس وعظ میں حاضر تھا جب وہ فقہاء آکر بیٹھ لئے حضور پر نور رضی اﷲ تعالی عنہ نے سرمبارك جھکا یا اورسینہ انور کی ایك بجلی چمکی جو کسی کو نظر نہ آئی مگر جسے خدا نے چاہا اس بجلی نے ان سب فقیہوں کے سینیوں پر دورہ کیا۔جس جس کے سینے پر گزرتی ہے وہ حرت زدہ ہوکر تڑپنے لگتاہے۔پھر وہ سب فقہاء ایك ساتھ سب چلانے لگے اور اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور سرننگے ہو کر مبنر اقدس پر گئے اور اپنے سرحضور پر نور کے قدموں پر رکھےتمام مجلس سے ایك شور اٹھا جس سے میں نے سمجھا کہ بغداد پھر ہل گیاحضور پر نور ان فقیہوں کو ایك ایك کرکے اپنے سینہ مبارك سے لگاتے اور فرماتے تیرا سوال یہ ہے اور اس کا جواب یہ ہےیونہی ان سب کے مسائل اور ان کے جواب ارشاد فرمادئے۔
جب مجلس مبارك ختم ہوئی تو میں ان فقیہوں کے پاس گیا اور ان سے کہا:یہ تمھارا حال کیا ہوا تھا بولے:
لما جلسنا فقدنا جمیع مانعرفہ من العلم حتی کانہ نسخ منا فلم یمربنا قط فلما ضمنا الی صدرہ رجع الی کل منا مانزع عنہ من العلم ولقد ذکرنا مسائلنا التی ھیأنا حالہ وذکر فیہا اجوبتہ ۔ جب ہم وہاں بیٹھے جتنا آتا تھا دفعۃ سب ہم سے گم ہوگیا ایسا مٹ گیا کہ کبھی ہمارے پاس ہوکر نہ گزرا تھاجب حضور نے ہمیں اپنے سینہ مبارك سے لگایا ہر ایك کے پاس اس کا چھینا ہوا علم پلٹ آیاہمیں وہ اپنے مسئلے بھی یاد نہ رہے تھےجو حضور کےلئے تیار کرکے لے گئے تھے۔حضور نے وہ مسائل بھی ہمیں یاد دلائے اور ان کے وہ جواب ارشاد فرمائے جو ہمارے خیال میں بھی نہ تھے۔
اس سے یہ زیادہ قلو ب پر اور کیاقبضہ درکارہے کہ ایك آن میں اکابر علماء کو تمام عمر کا پڑھا لکھا
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکر وعظہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مصطفی البابی مصر ص۹۶
#6173 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
سب بھلادیں اور پھر ایك آن میں عطا فرمادیں۔
حدیث ششم:اور سنیےامام ممدوح اسی کتاب مبارك میں اس سند جلیل سے راوی کہ:اخبرنا الشیخ ابوالحسن علی بن عبداﷲ الابہری وابومحمد سالم الدمیاطی اصوفی قالا سمعنا الشیخ شہاب الدین السہروردی الحدیث۔یعنی ہمیں ابوالحسن ابہری و ابومحمد اسالم الدمیاطی الصوفی نے خبر دیدونوں نے فرمایا کہ ہم نے حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی کو فرماتے سنا کہ میں ۶۰ھ میں اپنے شیخ معظم وعم مکرم سیدی نجیب الدین عبدالقادر سہروردی کے ہمرا حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے حضور حاضرہوامیرے شیخ نے حضور کے ساتھ عظیم ادب برتااور حضور کے ساتھ ہمہ تن گوش بے زبان ہوکر بیٹھے جب ہم مدرسہ نظامیہ کو واپس آئے میں نے اس ادب کا حال پوچھا۔فرمایا:
کیف لا اتادب مع من صرفہ مالکی فی قلبی وحالی وقلوب الاولیاء واحوالہم ان شاء امسکہا وان شاء ارسلہا ۔ میں کیونکر ان کا ادب نہ کروں جن کومیرے مالك نے دل اور میرے حال اور تمام اولیاء کے قلوب و احوال پر تصرف بخشاہے۔چاہیں روك لیں چاہیں چھوڑدیں۔
کہئے قلوب پر کیسا عظیم قبضہ ہے۔
حدیث ہفتم:اور سنیےاور سب سے اجل واعلی سنیےامام ممدوح قدس سرہاسی کتاب عالی نصاب میں اسی سند صحیح سے روایت فرماتے ہیں کہ:حدثنا الشیخ ابومحمد القاسم بن احمد الہاشمی الحرمیالحنبلی قال اخبرنا الشیخ ابوالحسن علی الخباز قال اخبرنا الشیخ ابوالقاسم عمر بن مسعود البزارالحدیث۔
یعنی شیخ ابو محمد ہاشمی ساکن حرم محترم نے ہم سے حدیث بیان کی کہ انھیں عارف حضرت ابوالحسن علی خباز نے خبردی کہ انھیں امام اجل عارف اکمل سیدی عمر بزار نے خبر دی کہ میں ۱۵ / جمادی الآخرہ۵۵۶ھ روزہ جمعہ کو حضورپر نور سید نا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے ہمرا جامع مسجد کو جاتا تھاراہ میں کسی شخص نے حضور کو سلام نہ کیامیں نے اپنے جی میں کہا سخت تعجب ہےہر جمعہ کو تو خلائق کا حضور پر وہ اژدحام ہوتاتھا کہ ہم مسجد تك بمشکل پہنچ پائے تھے آج کیا واقعہ ہےکہ کوئی سلام تك نہیں کرتایہ بات
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکر الشیخ ابوالنجیب عبدالقاہر السہروردی مصطفی البابی مصر ص۲۳۵
#6174 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
ابھی میرے دل میں پوری آنے بھی نہ پائی تھی کہ حضو رپر نور رضی اﷲ تعالی عنہم نے تبسم فرماتے ہوئے میری طرف دیکھا اور معا لوگ تسلیم ومجرا کے لئے چاروں طرف سے دوڑ پڑےیہاں تك کہ میرے اور حضور کے بیچ میں حائل ہوگئےمیں اس ہجوم میں حضور سے دور رہ گیامیں نے اپنے جی میں کہا کہ اس حالت میں تو وہی پہلا حال اچھا تھا یعنی دولت قرب تو نصیب تھییہ خطرہ میرے دل میں آتے ہی معا حضور نے میرے طرف پھرکر دیکھا اور تبسم فرمایا:اور ارشاد کیا:اے عمر! تم ہی نے اس کی خواہش کی تھیاوما علمت ان قلوب الناس بیدی ان شئت صرفتہا عنی وان شئت اقبلت بہا الی یعنی کیا تمھیں معلوم نہیں کہ لوگوں کے دل میرے ہاتھ میں ہیں چاہوں تو اپنی طرف سے پھیردوں اورچاہوں تو اپنی طرف متوجہ کرلوںرضی اﷲ تعالی عنہ ورحمنا بہ وجعلنا لہ وبہ الیہ ولم یقطعنا بجاھہ لدیہ امین۔
یہ حدیث کریم(مذکورہ بالا)بعینہ انھیں الفاظ سے مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے نزہۃ الخاطر الفاتر شریف میں ذکر کیعارب باﷲ سیدی نورا لملۃ والدین جامی قدس سرہ السامی نفحات الانس شریف میں اس حدیث کو لاکر ارشاد اقدس کا ترجمہ یوں تحریر فرماتے ہیں:
نادانستی کہ دلہائے مردماں بدست من است اگر خواہم دلہائے ایشاں راز خود بگردانم واگر خواہم روئے درخود کنم ۔ تو نہیں جانتا کہ لوگوں کے دل میرے ہاتھ میں ہے اگر چاہوں تو ان لوگوں کے قلوب از خود پھیردوں اور اگر چاہوں تو اپنی طرف متوجہ کرلو ۱۲م۔
یہی تو اس سگ کوئے قادری غفرلہ بمولاہ نے عرض کیا تھا ع
بندہ مجبور ہے خاطر پہ ہے قبضہ تیرا
اور دو شعر بعد میں عرض کیا تھا:
کنجیاں دل کی خدا نے تجھے دیں ایسی کر کہ یہ سینہ ہو محبت کا خزینہ تیرا
اس قصیدہ مبارك کے وصل چہارم میں ان اشقیاء کا رد تھا جو حضو رپر نور رضی اﷲ تعالی عنہ کی تنقیص شان کرتے ہیںظاہر ہےکہ ان کے ناپاك کلموں سے غلامان بارگاہ کےقلب پر کیا کچھ صدمہ نہیں پہنچتا اپنے اور اپنے خواجہ تاشوں کی تسکین کو وہ مصرع تھاجس طرح دوسری جگہ عرض کیا ہے
رنج اعدا کا رضا چارہ ہی کیا ہے جب انھیں اپ گستاخ رکھے حلم وشکیبائی دوست
حوالہ / References بہجۃ الاسرار فصول من کلامہ مرصعابشیئ من عجائب احوالہ مصطفی البابی مصر ص۷۶
نفحات الانس من حضرات القدس ترجمہ شیخ ابوعمرو یفینی ازانتشارات کتاب فروشی محمودی ص۵۲۱
#6175 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
اوریہ اس آیہ کریمی کا اتباع ہے کہ:
" و لو شاء اللہ لجمعہم علی الہدی فلا تکونن من الجہلین ﴿۳۵﴾" اﷲ چاہتاتو سبھی کو ہدایت پر جمع فرمادیتا تو نادان نہ بن۔
اب اس کلام کو ایك حدیث مقید مسلمین ومحافظ ایمان ودین پر ختم کریںامام ممدوح قد سرہفرماتے ہیں:
حدثنا الشیخ الفقیہ ابوالحسن علی بن الشیخ ابو العباس احمد بن المبارك البغدادی الحریمی قال اخبرنا الفقیہ الشیخ محمد بن عبدالطیف الترمسی البغدادی الصوفی قال کان شیخنا الشیخ محی الدین عبدالقادر رضی اﷲ تعالی عنہ اذا تکلم بالکلام العظیم یقول عقیبہ باﷲ قولوا صدقت وانما اتکلم عن یقین لاشك فیہ انما انطق فانطق واعطی فافرق واومرفافعل والعہدۃ علی من امرنی ولدیۃ علی العاقلۃ تکذیبکم لی سم ساعۃ لادیانکم وسبب لاذھاب دنیاکم واخرکم اناسیاف اناقتال و یحذرکم اﷲ نفسہ لو لالجام الشریعۃ علی لسانی لا خبرتکم بما تاکلون وماتدخرون فی بیوتکم انتم بین یدی کالقواریر یری مافی بطونکم وظواھرکم یعنی حضور پر نور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ جب کوئی عظیم بات فرماتے اس کے بعد ارشاد فرماتے تم پر اﷲ عزوجل کا عہد ہے کہ کہو حضو رنے سچ کہا میں اس یقین سےکلام فرماتا ہوں جس میں اصلاکوئی شك نہیں میں کہلوایا جاتاہوں تو کہتاہوں اور مجھے عطا کرتے ہیں تو تقسیم فرماتا ہوں اور مجھے حکم ہوتاہے تو میں کام کرتاہوںاور ذمہ داری اس پر ہے جس نے مجھے حکم دیااور خون بہا مددگاروں پر تمھارا میری بات کو جھٹلانا تمھارے دین کے حق میں زہرہلاہل ہے جو اسی ساعت ہلاك کردے اور اس میں تمھاری دنیا وآخرت کی بربادی ہے۔میں تیغ زن ہوںمیں سخت کش ہوںاور اﷲ تعالی کی روك میری غضب سے ڈراتا ہے۔اگر شریعت کی روك میری زبان پرنہ ہوتی تو میں تمھیں بتا دیتا جو تم کھاتے ہو اور جواپنے گھروں میں جمع رکھتے ہوتم سب میرے سامنے شیشے کی طرح ہوتمھارے فقط ظاہر ہی نہیں بلکہ جو کچھ تمھارے دلوں کے اندر ہے وہ سب ہمارے
حوالہ / References القرآن الکریم ۶ /۳۵
#6176 · فقہ شنہشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء ﷲ ۱۳۲۶ھ (لفظ شہنشاہ کا مفہوم ا ور یہ کہ بیشك محبوبانِ خدا کا بعطاء الٰہی دلوں پر قبضہ ہے)
لولالجام الحکم علی لسانی لنطق صاع یوسف بما فیہ لکن العلم مستجیر بذیل العالم کیلا یبدئ مکنونۃ ۔ صدقت یاسیدی واﷲ انت الصادق المصدوق من عند اﷲ وجلی لسان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و علیك وبارك وسلم وشرف ومجدوعظم وکرم۔ پیش نظر ہے اگر حکم الہی کی روك میر ی زبان پر نہ ہوتی تو یوسف کا پیمانہ خود بول اٹھتا کہ اس میں کیا ہےمگر ہے یہ کہ عالم عالم کے دامن سے لپٹا ہوا پناہ مانگ رہاہے کہ راز کی باتیں فاش نہ فرمائے۔اے میرے آقا !آپ نے سچ فرمایا۔قسم خدا کی اﷲ عزوجل کے نزدیك اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق آپ بڑے سچے ہیںآپ پربھی اﷲ کی رحمت وبرکت اور سلام۔۱۲م۔
یہ مختصر عجالہ بصورت رسالہ ظاہر ہوااور اس میں دو مسئلوں پر کلام تھاایك لفظ"شہنشاہ"دوسرے یہ کہ قلوب پر سید اکرم مولائے افخم حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا قبضہ وتصرف ہے۔لہذامناسب کہ اس کا تاریخی نام فقہ شھنشاہ وان القلوب بید المحبوب بعطاء اﷲ رکھا جائے۔
والحمداﷲ رب العالمیمنوافضل الصلوۃ والسلام علی افضل المرسلین والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین۔امین واﷲ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضاالبریلوی عفی عنہ
بمحمدن المصطفی علیہ افضل التحیۃ والثناء
_________________
حوالہ / References بہجۃ الاسرار کلمات اخیر بھا عن نفسہ مصطفی البابی مصر ص۲۴
#6177 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
آثار مقدسہ اور ان سے تبرك وتوسل

رسالہ
بدرالانوار فی اداب الاثار ۱۳۲۶ھ
(آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہ کامل)

فصل اول

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۶۷: اجمیر شریف درگاہ معلی مرسلہ سید حبیب اﷲ قادری دمشقی طرابلسی شامی ۲۸/ جمادی الآخرہ ۱۳۲۳ھ
ماقولکم دام فضلکم(اﷲ تعالی کا ہمیشہ آپ پر فضل ہو آپ کا کیا ارشاد مبارك ہے۔ت)ایك شخص اپنے وعظ میں صاف انکار کرتاہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کوئی تبرك اور حضور کے آثار شریفہ سے کوئی چیز اصلا باقی نہیںنہ صحابہ کے پاس تبرکات شریفہ سے کچھ تھا نہ کبھی کسی نبی کے آثار سے کچھ تھاامید کہ اس کا جوب بحوالہ احادیث وکتاب ارشاد ہو۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیمالحمد ﷲ حمدا یکافئنی فضلہ وانعامہ ویحلنا برضاہ دارالمقامۃ دارا ذات برکۃ وسلامۃ لامخافۃ فیہا والاسامۃ والصلوۃ والسلام اﷲ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اورنہایت رحم والا ہے۔ اﷲ تعالی کے لئے تمام حمدیں جو مجھے اپنے فضل وانعام میں کفایت دے اور ہمیں اپنی رضا سے برکت اور سلامتی والے گھر(جنت)میں
#6178 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
علی نبی التہامۃ خیر من لبس الجبۃ والنعل والعمامۃ وعلی الہ وصحبہ ذوی الکرامۃ الناصحین لامتہ المبلغین احکامہالمعظمین اثارہ بعدہ وامامہ صلوۃ تنمی وتنمی الی یوم القیمۃ۔ داخل کرے جہاں خوف ہے نہ تکلیف اور صلوۃ و سلام تہامہ کے نبی پر جو جبہ وچپل اور عمامہ پہننے والوں میں سب سے افضل ہیں اور آپ کی آل واصحاب کرامت والوں پر جو امت کے مخلص اور ان کو احکام پہنچانے والے ہیں اور آپ کے آثار مبارکہ کی آپ کے بعد اور سامنے بھی تعظیم کرنے والے ہیں بڑھنے والی صلوۃ قیامت تك بڑھتی رہے۔(ت)
اما بعدیہ فتاوی ہیں متعلق تبرکات شریفہ وآثار لطیفہ کہ ان کا ادب کیسا ہے اور ان کے ثبوت میں کیا دیکھا ہے اور بے سند ہوں تو کیا چاہئے اور زیارت پر نذرانہ لینے دینے مانگنے کے مسئلے جن کا فقیر سے سوال ہوااور مجموع کا بدر الانوار فی اداب الآثار نام ٹھہراوالحمدﷲ رب العلمین والصلوۃ علی المولی والہ اجمعین۔
ایسا شخص آیات واحادیث کا منکر اور سخت جاہل خاسر یا کمال گمراہ فاجر ہے اس پر توبہ فرض ہے اور بعد اطلاع بھی تائب نہ ہو تو ضرور گمراہ بے دین ہے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وہدی للعلمین﴿۹۶﴾ فیہ ایت بینت مقام ابرہیم۬ " بیشك سب میں پہلا گھر کہ لوگوں کے لئے مقرر فرمایا گیا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کو راہ دکھاتا اس میں کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم کے کھڑے ہونے کاپتھر۔
جس پر کھڑے ہوکر انھوں نے کعبہ معظمہ بنایاان کے قدم پاك کا نشان اس میں بن گیااجلہ محدثین عبد بن حمید وابن جریر و ابن المنذر وابن ابی حاتم وارزقی نے امام اجل مجاہد تلمیذ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم سے اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں روایت کی:
قال اثر قدمیہ فی المقام ایۃ بینۃ ۔ فرمایا کہ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے دونوں قدم پاك کا اس پتھر میں نشان ہوجانا یہ کھلی نشانی ہے جسے اﷲ عزوجل ایات بینات فرمارہاہے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۳ /۹۶
جامع البیان(تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۳/ ۹۶ المطبعۃ المیمنیہ مصر ۴/ ۸،تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم تحت آیۃ ۳/ ۹۶ مکتبہ نزار مکۃ المکرمۃ ۳/ ۷۱۱
#6179 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
تفسیر کبیر میں ہے:
الفضیلۃ الثانیۃ لہذا البیت مقام ابراھیم وھو الحجر الذی وضع ابراھیم قدمہ علیہ فجعل اﷲ ما تحت قدم ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام من ذلك الحجر دون سائر اجزائہ کالطین حتی غاص فیہ قدم ابراھیم علیہ الصلوۃ والسلام وھذا مما لایقدر علیہ الا اﷲ تعالی۔ولا یظہرہ الا علی انبیاءثم لما رفع ابراھیم علیہ الصلوۃ والسلام قدمہ عنہ خلق فیہ الصلوبۃ الحجریۃ مرۃ اخریثم انہ تعالی ابقی ذلك الحجر علی سبیل الاستمرار والدوام فہذہ انواع من الایات العجبیۃ و المعجزات الباھرۃ اظہرہا اﷲ تعالی فی ذلك الحجر ۔ یعنی کعبہ معظمہ کی ایك فضیلت مقام ابراہم ہے یہ وہ پتھر ہے جس پر ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا قدم مبارك رکھا تو جتنا ٹکڑا ان کے زیر قدم آیا تر مٹی کی طرح نرم ہوگیا یہاں تك کہ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا قدم مبارك اس میں پیر گیا اور یہ خاص قدرت الہیہ ومعجزہ انبیاء ہے پھر جب ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے قدم اٹھایا اﷲ تعالی نے دوبارہ اس ٹکڑے میں پتھر کی سختی پیدا کردی کہ وہ نشان قدم محفوظ رہ گیا پھر اسے حق سبحنہ نے مدتہا مدت باقی رکھا تو یہ اقسام اقسام کے عجیب وغریب معجزے ہیں کہ اﷲ تعالی نے اس پتھر میں ظاہر فرمائے۔
ارشاد العقل السلیم میں ہے:
ان کل واحد من اثرقدمیہ فی صخرۃ صماء و غوصہ فیہا الی الکعبین والانۃ بعض الصخور دون بعض و ابقائہ دون سائر ایات الانبیاء علیہم الصلوۃ و السلام وحفظہ مع کثرۃ الاعداء طوف سنۃ ایۃ مستقلۃ ۔ یعنی اس ایك پتھر کو مولی تعالی نے متعد د آیات فرمایا اس لئے کہ اس میں ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا نشان قدم ہوجانا ایك اور ان کے قدموں کا گٹوں تك اس میں پیر جانا دو اور پتھر کا ایك ٹکڑا نرم ہوجانا باقی کا اپنے حال پر رہنا تین او ر معجزات انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم میں اس معجزے کا باقی رکھنا چار اور باوصف کثرت اعداء ہزاروں برس اس کا محفوظ رہنا پانچیہ ہر ایك بجائے خود ایك آیت معجزہ ہے۔
حوالہ / References مفاتیح الغیب(التفیسر الکبیر) تحت آیۃ ۳/ ۹۶ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۸/ ۱۵۵
ارشاد العقل السلیم تحت آیۃ ۲/ ۹۶۳ داراحیاء التراث العربی بیروت الجزء الثانی ۶۱
#6180 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
مولی سبحانہ تعالی فرماتاہے:
" وقال لہم نبیہم ان ایۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت فیہ سکینۃ من ربکم وبقیۃ مما ترک ال موسی وال ہرون تحملہ الملئکۃ ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین﴿۲۴۸﴾
" بنی اسرائیل کے نبی شمویل علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے فرمایا کہ سلطنت طالوت کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمھارے پاس تابوت جس میں تمھارے رب کی طرف سے سکینہ ہے اور موسی وہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیںفرشتے اسے اٹھا کر لائیںبے شك اس میں تمھارے لئے عظیم نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
وہ تبرکات کیا تھےموسی علیہ الصلوۃ والسلام کا عصا اور ان کی نعلین مبارك اور ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کا عمامہ مقدسہ وغیرہاان کی برکات تھیں کہ بنی اسرائیل اس تابوت کو جس لڑائی میں آگے کرتے فتح پاتے اور جس مراد میں اس سے توسل کرتے اجابت دیکھتےابن جریر وابن ابی حاتم حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راویقال:
وبقیۃ مما ترك ال موسی عصاہ ورضاض الالواح ۔ تابوت سکینہ میں تبرکات موسویہ سے ان کا عصا تھااور تختیوں کی کرچیں۔
وکیع بن الجراح وسعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی حاتم وابوصالح تلمیذ عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی قال:
کان فی التابوت عصا موسی وعصا ھرون وثیا ب موسی وثیاب ہرون ولوحان من التوراۃ والمن وکلمۃ الفرح لا الہ الا اﷲ الحلیم الکریم و سبحن اﷲ رب السموت السبح ورب العرش العظیم والحمدﷲ رب العالمین ۔ تابوت میں موسی وہارون علیہما الصلوۃ والسلام کے عصاء اور دونوں حضرات کے ملبوس اور توریت کی دو تختیاں اور قدرے من کہ بنی اسرایل پر اترا اور یہ دعائے کشائش لا الہ الا اﷲ الحلیم الکریم الخ۔
معالم التنزیل میں ہے:
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۴۸
جامع البیان(تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۲/ ۲۴۸ المطبعۃ الیمنیۃ مصر ۲/ ۳۶۶
تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم حدیث ۲۴۸۵،۲۴۸۶ مکتبۃ نزار مکۃ المکرمہ ۲/۴۷۰
#6181 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
کان فیہ عصاموسی ونعلاہ وعمامۃ ھرون وعصاہ الخ ۔ تابوت میں موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا عصا اور ان کی نعلین اور ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کا عمامہ وعصا الخ(ت)
صحیح بخاری وصحیح مسلم میں انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے:
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دعا بالحلاق وناول الحالق شقہ الایمن فحلقہ ثم دعا اباطلحۃ الانصاری فاعطاہ ایاہ ثم ناول الشق الایسر فقال احلق فحلقہ فاعطاہ اباطلحۃ فقال اقسمہ بین الناس ۔ یعنی نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حجام کو بلا کر سرمبارك کے داہنی جانب کے بال مونڈنے کا حکم فرمایا پھر ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ کو بلاکر وہ سب بال انھیں عطا فرمادئے پھر بائیں جانب کے بالوں کوحکم فرمایا اور وہ ابوطلحہ کو دئے کہ انھیں لوگوں میں تقسیم کردو۔
صحیح بخاری شریف کتاب اللباس میں عیسی بن طہمان سے ہے:
قال اخرج الینا انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ نعلین لہما قبالان فقال ثابت البنانی ہذا نعل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ دو نعل مبارك ہمارے پاس لائے کہ ہر ایك میں بندش کے دو تسمے تھے ان کے شاگرد رشید ثابت بنانی نے کہا یہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعل مقدس ہے۔
صحیحین میں ابوبردہ سے ہے:
قال اخرجت الینا عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا کساء ملبدا وازارا غلیظا فقالت قبض روح رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے ایك رضائی یا کمبل اور ایك موٹا تہبند نکال کر ہمیں دکھایا اور فرمایا کہ وقت وصال اقدس حضور پرنور
حوالہ / References معالم النتزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ۲/۲۴۸ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۵۷
صحیح مسلم کتاب الحج باب بیان ان السنۃ یوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۱
صحیح البخاری کتاب الجہاد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۳۸،صحیح البخاری کتاب اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۱
#6182 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
علیہ وسلم فی ھذین ۔ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے یہ دو کپڑے تھے۔
صحیح مسلم شریف میں حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے:
انہا اخرجت جبۃ طیالسیۃ کسروانیۃ لہا لبنۃ دیباج وفرجیہا مکفوفین بالدیباج وقالت ہذہ جبۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کانت عند عائشۃ فلما قبضت قبضتہا وکان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یلبسہا فنحن نغسلہا للمرضی نستشفی بہا ۔ یعنی انھوں نے ایك اونی جبہ کسروانی ساخت نکالااس کی پلیٹ ریشمین تھی اور دونوں چاکوں پر ریشم کا کام تھا اور کہایہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا جبہ ہے ام المومنین صدیقہ کے پاس تھا ان کے انتقال کے بعد میں نے لے لیا نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اسے پہنا کرتے تھے تو ہم اسے دھو دھو کر مریضوں کو پلاتے اور اس سے شفا چاہتے ہیں۔
صحیح بخاری میں عثمن بن عبداﷲ بن موہب سے ہے:
قالت دخلت علی ام سلمۃ فاخرجت الینا شعرا من شعر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مخضوبا ۔ میں حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کے خدمت میں حاضر ہوا انھوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے موئے مبارك کی ہمیں زیارت کرائی اس پر خضاب کا اثر تھا۔
یہ چند احادیث خاص صحیحین سے لکھ دیں اور یہاں احادیث میں کثرت اوراقوال ائمہ کا تواتر بشدت اور مسئلہ خود واضحاور اس کا انکار جہل فاضح ہے لہذا صرف ایك عبارت شفاء شریف پر اقتصار کریں فرماتے ہیں:
ومن اعظامہ واکبارہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعظام جمیع اسبابہ ومالمسہ اوعرف بہ وکانت فی یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کا ایك جزیہ بھی ہے کہ جس چیز کو حضور سے کچھ علاقہ ہو حضور کی طرف منسوب ہو حضور نے اسے
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب الجہاد ۱/ ۴۳۸ و کتاب اللباس باب الاکسیہ والخماص ۲/ ۸۶۵ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم کتاب اللباس باب التواضع فی اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۴۔۱۹۳
صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم استعمال اناء الذہب والفضۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۹۰
صحیح البخاری باب یذکر فی الشیب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۷۵
#6183 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
قلنسوۃ خالد بن الولید رضی اﷲ تعالی عنہ شعرات من شعرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فسقطت قلنسوتہ فی بعض حروبہ فشد علیہا شدۃ انکر علیہ اصحاب النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کثرۃ من قتل فیہا فقال لم افعلہا بسبب القلنسوۃ بل لما تضمنتہ من شعرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لئلا اسلب برکتہا وتقع فی ایدی المشرکین ورأی ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما واضعایدہ علی مقعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من المبنر ثم وضعہا علی وجہہ (ملخصا)اللھم ارزقنا حب حبیبك وحسن الادب معہ ومع اولیائہ امین صلی اﷲ تعالی علیہ وبارك وسلم وعلیہم اجمعین۔ چھوا ہو یا حضور کے نام پاك سے پہچانی جاتی ہو اس سب کی تعظیم کی جائے خالد بن ولید رضی اﷲ تعالی عنہ کی ٹوپی میں چند موئے مبارك تھے کسی لڑائی میں وہ ٹوپی گر گئی خالد رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کے لئے ایسا شدید حملہ فرمایا جس پر اور صحابہ کرام نے انکار کیا اس لئے کہ اس شدید وسخت حملہ میں بہت مسلمان کام آئے خالد رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا میرا یہ حملہ ٹوپی کے لئے نہ تھا بلکہ موئے مبارك کے لئے تھا کہ مبادا اس کی برکت میرے پاس نہ رہے اور وہ کافروں کے ہاتھ لگیں اور ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کو دیکھا گیا کہ منبرا طہر سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں جو جگہ جلوس اقدس کی تھی اسے ہاتھ سے مس کرکے وہ ہاتھ اپنے منہ پر پھیر لیا۔ (ملخصا)اے اللہ! ہمیں اپنے حبیب علیہ الصلوۃ والسلام اور اولیائے کرام کی محبت اور حسن ادب نصیب فرما۔آمین! (ت)
خالد بن ولید کی حدیث ابویعلی اور عبداﷲ بن عمر کی حدیث ابن سعد نے طبقات میں روایت کی۔واﷲ تعالی اعلم۔
فصل دوم
مسئلہ ۱۶۸: از بستی مرسلہ مولوی مفتی عزیز الحسن صاحب رجسٹرار ۹/ شوال ۱۳۱۰ھ
جناب مولانا سراپا فیض مجسم علم وحلممعظم ومکرم دام مجدہمپس از سلام مسنون باعث تکلیف آنجناب یہ ہے کہ ایك شخص برکت آثار بزرگان سے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ بزرگوں کے خرقہ وجبہ
حوالہ / References الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن اعظامہ واکبارہ الخ عبدالتواب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان ۲/ ۴۴
#6184 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
وغیرہما سے کوئی برکت حاصل نہیں ہوتیچونکہ وہ پڑھے لکھے ہیں یہ امر قرار پایا ہے کہ اگر سو برس سے قبل کے کسی عالم نے اپنی کتاب میں اس برکت کو تحریر کیا ہو تو میں مان لوں گاآنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے جبہ وغیرہ میں گفتگو نہیں ہے۔والسلام۔
الجواب:
برکت آثار بزرگان سے انکار آفتاب روشن کا انکار ہے معہذا جب برکت آثار شریفہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور پر ظاہر کہ اولیاء وعلماء حضور کے ورثاء ہیں تو ان کے آثار میں برکت کیوں نہ ہوگی کہ آخر وارث برکات ووارث ایراث برکات ہیںفقیر غفراﷲ تعالی کہ اتمام حجت کے لئے چند عبارات ائمہ وعلماء کہ وہ سب آج سے سوبرس پہلے اور بعض پانسو چھ سو برس پہلے کے تھے حاضر کرتا ہے۔کتب مطبوعہ کا نشان جلد وصفحہ بھی ظاہر کردیا جائے گاکہ مراجعت میں آسانی ہو
(۱)امام اجل زکریا نووی جن کی ولادت باسعادت ۶۳۱ھ اور وفات شریف ۶۷۷ھ میں ہوئی شرح صحیح مسلم شریف میں زیر حدیث عتبان بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ:انی احب ان تاتینی وتصلی فی منزلہ فاتخذہ المصلی(میری تمنا ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لاکر کسی جگہ نماز پڑھ لیں تاکہ میں اس جگہ کو نماز پڑھنے کے لئے متعین کرلوں۔ت)فرماتے ہیں:
فی ہذا الحدیث انواع من العلم وفیہ التبرك باثار الصالحین وفیہ زیارۃ العلماء والصلحاء والکبار و اتباعہم وتبریکھم ایاھم ۔ اس حدیث میں کئی قسم کے علوم ومعارف ہیں اور اس میں بزرگان دین کے آثار سے تبرك اور علماء صلحاءاوربزرگوں اور ان کے متبعین کی زیارت اور ان سے برکات کا حصول ثابت ہے۔(ت)
(۲)نیز اسی حدیث کے نیچے لکھتے ہیں:
فی حدیث عتبان فی ہذا فوائدکثیرۃ منہا التبرك بالصالحین واثارھم والصلوۃ فی المواضع التی صلوا بہا وطلب التبریك منھم ۔ حضرت عتبان رضی اﷲ تعالی عنہ کی اس حدیث میں بہت فوائد ہیں ان میں سے صالحین اور ان کے آثار سے تبرك اور ان کی جائے نماز پر نماز اور ان سے تبرکات حاصل کرنا ثابت ہے۔ (ت)
حوالہ / References المنہاج لشرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب الایمان باب الدلیل علی ان من رضی باللہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۷
المنہاج لشرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب المساجد باب الرخصۃ فی التخلف عن الجماعۃ لعذر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳۳
#6185 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
(۳)اسی میں زیر حدیث ابو جحیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ فخرج بلال بوضوئہ فمن نائل و ناضح(حضرت بلال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے وضو کابچا ہوا پانی لے کر باہر نکلے لوگوں نے اس پانی کو مل لیاکسی کو پانی مل گا اور کسی نے اس پانی کو چھڑك لیا۔ت)فرمایا:
فیہ التبرك باثار الصالحین واستعمال فضل طہورہم وطعامہم وشرابہم ولباسہم ۔ اس حدیث سے بزرگان دین کے آثار سے تبرك حاصل کرنا ثابت ہوتا ہے اور اس کے وضو سے بچے ہوئے پانی طعام مشروب اور لباس کے استعمال سے برکت حاصل ہونا ثابت ہے۔(ت)
(۴)اسی میں زیر حدیث انس رضی اﷲ تعالی مایوتی باناء الا غمس یدہ فیہ(مدینہ کے خدام پانی سے بھرے ہوئے اپنے اپنے برتن لے کر آتے حضور ہر برتن میں اپنا ہاتھ ڈبودیتے۔ت)فرمایا:
فیہ التبرك باثارالصالحین ۔ اس میں صالحین کے آثار سے تبرك ثابت ہے۔(ت)
(۵)اسی میں زیر حدیث ابوایوب رضی اﷲ تعالی عنہ اکل منہ وبعث بفضلۃ الی(طعام سے کھایا اور بقیہ میری طرف بھیج دیا۔ت)فرمایا:
قال العلماء فی ہذہ انہ یستحب للاکل والشارب ان یفضل مما یاکل ویشرب فضلۃ لبواسی بہا من بعدہ لاسیما ان کان ممن یتبرك بفضلتہ ۔ علماء کرام نے فرمایا اس میں فائدہ ہے کہ کھانے اور پینے والے کو مستحب ہے کہ اپنے کھانے پینے سے کچھ بچارکھے تاکہ دوسرے حصہ پائیں خصوصا ایسے لوگوں جن کے بچے ہوئے سے تبرك حاصل کیا جاتاہو۔(ت)
(۶)اسی میں زیر حدیث سأل عن موضع اصابعہ فیتتبع موضع اصابعہ(آپ کی انگشت مبارك کے مقام سے متعلق پوچھتے تو آپ کی انگشت مبارك کی جگہ تلاش کرتے۔ت) فرمایا:
فیہ التبرك باثار الخیر فی الطعام وغیرہ ۔ اس میں آثار صالحین سے تبرك طعام وغیرہ میں ثابت ہے۔ (ت)
حوالہ / References المنہاج لشرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب الصلوٰۃ باب سترۃ المصلی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۶
المنہاج لشرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب الفضائل باب قربہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من الناس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۵۶
المنہاج لشرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب الاشربہ باب اباحۃ اکل الثوم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۸۳
المنہاج لشرح صحیح مسلم بن الحجاج کتاب الاشربہ باب اباحۃ اکل الثوم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۸۳
#6186 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
(۷)امام احمد بن محمد قسطلانی متوفی ۹۲۳ھ ارشادالساری شرح صحیح البخاری میں زیر حدیث ابوجحیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ فجعل الناس یتمسحون بوضوئہ فرماتے ہیں:
استنبط منہ التبرك بما یلامس اجساد الصالحین ۔ اس میں صالحین کے اجسام سے مس کرنیوالی چیز سے تبرك کا ثبوت ہے۔(ت)
(۸)اسی میں زیر حدیث انی واﷲ ماسألتہ لالبسہا انما سألتہ لتکون کفنی فرمایا:
فیہ التبرك باثارالصالحین قال اصحابنا لایندب ان یعد نفسہ کفنا الا ان یکون من اثرذی صلاح فحسن اعمادہ کما ھنا انتھی ملخصا۔ اس میں آثار صالحین سے تبرك کا ثبوت ہے۔ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ کسی صالح کے اثر والا کفن اپنے لئے تیار کرنا بہترین کفن جیسے یہاں حدیث میں ہے انتہی ملخصا۔(ت)
(۹)مولنا علی قاری مکی متوفی ۱۰۱۴ھ نے مرقاۃ شرح مشکوۃ میں اس حدیث سنن نسائی کے نیچے کہ طلق بن علی رضی اﷲ تعالی عنہ بقیہ آب وضو ئے حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم حضور سے مانگ کر اپنے ملك کو لے گئے یہ فائدہ لکھ کر کہ:
فیہ التبرك بفضلہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ونقلہ الی البلاد نظیرہ ماء زمزم۔ اس میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے استعمال سے بچی ہوئی چیز سے تبرك حاصل کرنا اور اسے دوسرے شہروں میں لے جانا آب زمزم کی نظیر ہے۔(ت)
فرمایا:
ویوخذ من ذلك ان فضلۃ وارثیہ من العلماء و الصلحاء کذلک ۔ اور اس سے اخذ ہوتاہے کہ حضور علیہ الصلوۃ ولسلام کے وارثوں علماء وصلحاء کا بچا ہوا بھی اسی طرح متبرك ہے۔(ت)
(۱۰)مولنا شیخ محقق عبالحق محدث دہلوی متوفی ۱۰۲۵ھ نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا:
دریں حدیث استحباب است بہ بقیہ آب وضو ے وپس ماندہ آنحضرت ونقل آں بلاد و اس حدیث میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے وضو سے بچا ہوا پانی اور دیگر پسماندہ اشیاء کا متبرك ہونا
حوالہ / References ارشاد الساری شرح صحیح البخاری ابواب سترۃ المصلی باب السترۃ بمکۃ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۴۶۷
ارشاد الساری شرح صحیح البخاری ابواب الجنائز باب من استعدالکفن فی زمن نبی دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۳۹۶
مرقاۃ المفاتیح باب المساجد مواضع الصلٰوۃ افضل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۲/ ۴۲۰
#6187 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
مواضع بعیدہ مانندآب زمزم وآنحضرت چوں در مدینہ مے بودآب زمزم رااز حاکم مکہ مے طلبید وتبرك مے ساخت وفضلہ وارثان او کہ علماء وصلحاء اند وتبرك بآثار وانوار ایشاں ہم بریں قیاس ست ۔ اور ان کو دوسرے بعید شہروں میں منتقل کرنے کی نظیر آب زمزم شریف ہے۔جب آپ مدینہ منورہ میں تھے تو آپ حاکم مکہ سے اب زمزم طلب فرماتے اور متبرك بناتے اور آپ کے وارث علماء وصلحاء کی بچی ہوئی چیز اور ان کے آثار وانوار کا اسی پر قیاس ہے۔(ت)
(۱۱)امام علامہ احمد بن محمد مصری مالکی معاصر شیخ محقق دہلوی نے کتاب مستطاب فتح المتعال فی مدح خیر النعال میں ا مام اجل خاتمۃ المجتہدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی شافعی متوفی ۷۵۶ء کا ایك کلام نفیس تبرك بہ آثارامام شیخ الاسلام ابو زکریا نووی قدست اسرار ہم میں نقل فرمایا:
وھذا لفظ حکی جماعۃ من الشافعیۃ ان الشیخ العلامۃ تقی الدین ابا الحسن علیا السبکی الشافعی لما تولی تدریس دارالحدیث بالاشرافیۃ بالشام بعد وفاۃ الامام النووی احد من یفتخر بہ المسلمون خصوصا الشافعیۃ انشد لنفسہ۔
وفی دارالحدیث لطیف معنی
الی بسط لہا اصبو و اوی
لعلی ان امس بحر وجھی
مکانامسہ قدم النواوی
واذ ا کان ہذا فی اثار من ذکر
فما بالك باثار من شرف اس بات کو شوافع کی ایك جماعت نے حکایت کیا ہے کہ علامہ شیخ تقی الدین ابوالحسن علی سبکی شافعی جب شام میں امام نووی کی وفات کے بعد مدرسہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث کے منصب پرت فائز ہوئے تو انھوں نے اپنے متعلق یہ پڑھا:
دارالحدیث میں ایك لطیف معنی سے بسط کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف میں مائل اور راجع ہوں یہ کہ ہوسکتاہے کہ محبت کی شدت میں اس جگہ کو اپنے چہرے سے مس کروں جس کو امام نووی کے قدموں نے مس کیا ہے جب یہ مذکور حضرات کے آثار کا معاملہ ہے تو اس ذات کے آثار کے متعلق تیرا حال کیا ہوگا جس ذات سے سب نے
حوالہ / References اشعۃ اللمعات با ب المساجد مواضع الصلوٰۃ الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۳۱
#6188 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
الجمیع بہ ۔ شرف پایا۔(ت)
(۱۲)شاہ ولی اﷲ دہلی متوفی ۱۱۷۴ھ فیوض الحرمین صفحہ ۲۰میں لکھتے ہیں:
من اراد ان یحصل لہ ماللملاء السافل من الملئکۃ فلا سبیل الی ذلك الا الاعتصام بالطہارۃ و الحلول بالمساجد القدیمۃ التی صلی فیہا جماعات من الاولیاء الخ۔ جو شخص ملاء سافل کے فرشتوں کا مقام چاہتاہے اس کی صرف یہی صورت ہے کہ وہ طہارت اور قدیم مساجد جہاں اولیائے کرام نے نماز پڑھی ہومیں داخل ہونے کا التزام کرے الخ۔ (ت)
(۱۳)اسی میں ہے ص۴۹:
ان الانسان اذا صار محبوبا فکان منظورا للحق و للملاء الا علی عروساجمیلا فکل مکان حل فیہ انعقدت و تعلقت بہ ہمم الملاء الا علی وان ساق الیہ افواج الملئکۃ وامواج النور لاسیما اذا کانت ہمتہ تعلقت بہذا المکان والعارف الکامل معرفۃ وحالا لہ ھمۃ یحل فیھا نظر الحق یتعلق باھلہ ومالہ وبیتہ و نسلہ ونسبہ وقرابتہ واصحابہ یشمل المال والجاہ وغیرہا ویصلحہا فمن ذلك تمیزت ماثر الکمل من ماثر الکمل من ماثر غیرھم ۔ تحقیق جب انسان محبوب بن جاتا ہے تو وہ حق تعالی کا منظور اور ملاء اعلی کا خوب صورت دولھا بن جاتاہے تو وہ جس مکان میں ہوتا ہے وہاں ملاء اعلیکی ہمتیں مرکوز ہوجاتی ہیں اور فرشتوں کی فوج اور نور کی امواج اس جگہ واردہوتی ہیں خصوصا وہ مکان جہاں اس کی ہمت مرکوز ہوتی ہے اور معروف میں کامل عارف کی ہمت میں حق تعالی کی نظر رحمت مرکوز ہوتی ہے جس کا عارف کے اہل مالگھرنسل ونسبقرابت اور اس کے اصحاب سے یوں تعلق ہوتاہے کہ اس سے متعلق ہر چیز کو وہ تعلق شامل ہوجاتاہے اسی بناء پر لوگوں کے آثار کامل اور غیر کامل حضرات کے آثار سے ممتاز ہوتے ہیں(ت)
حوالہ / References فتح المتعارف فی مدح خیر النعال
فیوض الحرمین(مترجم اردو) مشہد ۵ محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۶۲
فیوض الحرمین(مترجم اردو)مشہد ۲۰ محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۳۹۔۱۳۸
#6189 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
(۱۴)اسی میں ہے ص ۵۷:
ان تام المعرفۃ لروحہ تحدیق و غایۃ بکل شیئ من طریقتہ ومذھبہ وسلسلتہ ونسبہ وقرابتہ وکل ما یلیہ وینسب الیہ وعنایتہ ھذہ یختلف بہا عنایۃ الحق ۔ بیشك تمام معرفت والے کی روح کو اپنے متعلق ہر چیز طریقہ مذہبسلسلہنسب وقرابت بلکہ اس کی طرف ہر منسوب پر نظر واہتمام ہوتاہے جس کی وجہ سے حق تعالی کی عنایت اس کو شامل ہوجاتی ہے۔(ت)
(۱۵)یہی شاہ صاحب ہمعات میں لکھتے ہیں:
از ینجاست حفظ اعراس مشایخ ومواظبت زیارت قبور ایشاں والتزام فاتحہ خواندن وصدقہ دادن برائے ایشاں واعتنائے تمام کردن بہ تعظیم آثار واولاد ومنتبان ایشاں ۔ اسی وجہ سے مشایخ کے عرس ان کے قبروں کی زیارتان کے لئے فاتحہ خوانی اور صدقات کا اہتمام والتزام ضروری ہوجاتاہے اور ان کے آثار واولاد اور جو چیز ان کی طرف منسوب ہو ان کی تعظیم کا مکمل اہتمام لازم قرار پاتاہے۔(ت)
(۱۶)انھیں شاہ صاحب کی انفاس العارفین میں ہے:
درحرمین شخصے از بزرگان خود کلاہ حضرت غوث الثقلین تبرك یافتہ بود شبے در واقعہ حضرت غوث الاعظم رادید کہ می فرمایند ایں کلاہ بہ ابوالقاسم اکبر آبادی برساں آں شخص برائے امتحان یك جبہ قیمتی ہمراہ آں کلاہ کردہ گرفت کہ ایں ہر دو تبرك حضرت غوث الاعظم ہستند حکم شد کہ بشمار سانم حضرت شاں بسیار خوش شد گرفتند آن شخص گفت کہ برائے شکر حصول ایں تبرك اہل شہر را حرمین شریفین میں ایك ایسا شخص مقیم تھا جسے حضرت غو ث الاعظم کی کلاہ مبارك تبرکا سلسلہ وار اپنے آباء واجداد سے ملی ہوئی تھی جس کی برکت سے وہ شخص حرمین شریفین کے نواح میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور شہرت کی بلندیوں پر فائز تھا ایك رات حضرت غوث الاعظم کو(کشف میں)اپنے سامنے موجود پایا جو فرمارہے تھے کہ یہ کلاہ ابو القاسم اکبرآبادی تك پہنچادوحضرت غوث اعظم کا
حوالہ / References فیوض الحرمین(مترجم اردو) مشہد ۲۶ محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۱۶۱،۱۶۲
ہمعات ہمہ ۱۱ اکادیمہ الشاہ ولی اللہ الدہلوی حیدرآباد ص۵۸
#6190 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
دعوت کنید فرمودند کہ وقت صبح بیائید مردمان بسیار بوقت صبح آمد ند طعامہائے خوب خوردند وفاتحہ خواند ند بعد آں پرسید ند کہ شمار مرد فقیر ہستید ایں قدر طعام از کجا آمد فرمود کہ جبہ رافروختم وتبرك را نگاہدا شتم ہمہ گفتند کہ ﷲ الحمد کہ تبرك بمستحق رسید ۔ یہ فرمان سن کر اس شخص کے دل میں آیا کہ اس بزرگ کی تخصیص لازما کوئی سبب رکھتی ہےچنانچہ امتحان کی نیت سے کلاہ مبارك کے ساتھ ایك قیمتی جبہ بھی شامل کرلیا اور پوچھ گچھ کرتے حضرت خلیفہ کی خدمت میں جاپہنچا اور ان سے کہا کہ یہ دونوں تبرك حضرت غوث اعظم کے ہیں اور انھوں نے مجھے خواب میں حکم دیا ہے کہ یہ تبرکات ابوالقاسم اکبر آبادی کو دے دویہ کہہ کر تبرکات ان کے سامنے رکھ دئےخلیفہ ابوالقاسم نے تبرکات قبول فرماکر انتہائی مسرت کا اظہار کیااس شخص نے کہا یہ تبرك ایك بہت بڑے بزرگ کی طرف سے عطا ہوئے ہیں لہذا اس شکریے میں ایك بڑی دعوت کا انتظام کرکے رؤسائے شہر کو مدعو کیجئےحضرت خلیفہ نے فرمایا کل تشریف لانا ہم کافی سارا طعام تیار کرائیں گے آپ جس جس کو چاہیں بلالیجئےدوسرے روز علی الصباح وہ درویش روسائے شہر کے ساتھ آیا دعوت تناول کی اور فاتحہ پڑھی فراغت کے بعد لوگوں نے پوچھا کہ آپ تو متوکل ہیں ظاہری سامان کچھ بھی نہیں رکھتےاس قدر طعام کہاں سے مہیا فرمایا فرمایا کہ اس قیمتی جبے کو بیچ کر ضروری اشیاء خریدی ہیںیہ سن کر وہ شخص چیخ اٹھا کہ میں نے اس فقیر کو اہل اﷲ سمجھا تھا مگر یہ تو مکار ثابت ہواایسے تبرکات کی قدر اس نے نہ پہچانیآپ نے فرمایا چپ رہو جو چیز تبرك تھی وہ میں نے محفوظ کرلی ہے اور جو سامان امتحان تھا ہم نے اسے بیچ کر دعوت شکرانہ کاانتظام کر ڈالایہ سن کر وہ شخص متنبہ ہوگیا اور اس نے تمام اہل مجلس پر ساری حقیقت حال کھول دی جس پر سب نے کہا کہ الحمدﷲ تبرك اپنے مستحق تك پہنچ گیا۔(ت)
اسی طرح صدہا عبارات ہیں جس کے حصر واستقصاء میں محل طمع نہیںیہ سب ایك طرف فقیر غفراﷲ تعالی لہ حدیث صحیح سے ثابت کرے کہ خود حضور پر نور سید یوم النشور افضل صلوات اﷲ تعالی واجل تسلیمات علیہ وعلی آلہ وذریاتہ آثار مسلمین سے تبرك فرماتے۔وﷲ الحجۃ البالغۃ۔طبرانی معجم اوسط اور ابونعیم حلیہ میں حضرت سیدنا عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رضی ﷲ تعالی عنہما سے راوی:
قال کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References انفاس العارفین(مترجم اردو) قلندہر چہ گوید دیدہ گوید اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور ص۷۷
#6191 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
یبعث للمطاہر فیوتی بالماء فیشربہ یرجوبہ برکۃ ایدی المسلمین ۔ مسلمانوں کی طہارت گاہوں مثل حوض وغیرہ سے جہاں اہل اسلام وضو کیا کرتے پانی منگا کر نوش فرماتے اور اس سے مسلمانوں کے ہاتھوں کی برکت لینا چاہتےصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وعلی آلہ وصحبہ وبارك وکرم۔
علامہ عبدالرؤف مناوی تیسیرج ۲ ص ۲۶۹ پھر علامہ علی بن احمد عزیزی سراج المنیر ج ۳ ص ۱۴۷ شروح جامع صغیر میں اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں:باسناد صحیح (صحیح اسناد کے ساتھ ہے۔ت)علامہ محمد حفنی اپنی تعلیقات علی الجامع میں فرماتے ہیں:
یرجو بہ برکۃ الخ لانہم محبوبون ﷲ تعالی بدلیل ان اﷲ یحب التوابین ویحب المتطہرین ۔ یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بقیہ آب وضو ئے مسلمین میں اس وجہ سے امید برکت رکھتے کہ وہ محبوبان خدا ہیں۔قرآن عظیم میں فرمایا بیشك اﷲ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتاہے طہارت والوں کو۔
اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اعلی واجل واکبریہ حضور پر نور سید المبارکین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں جن کی خاك نعلین پاك تمام جہانوں کے لئے تبرك دل وجان وسرمہ چشم دین وایمان ہے وہ اس پانی کو جس میں مسلمانوں کے ہاتھ دھلے تبرك ٹھہرائیں اور اسے منگا کر بغرض حصول برکت نوش فرمائیں حالانکہ واﷲ مسلمانوں کے دست وزبان ودل وجان میں جو برکتیں ہیں سب انھیں نے عطا فرمائیںانھیں کی نعلین پاك کے صدقے میں ہاتھ آئیںیہ سب تعلیم امت وتنبیہ مشغولان خواب غفلت کے لئے تھا کہ یوں نہ سمجھیں تو اپنے مولی وآقا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا فعل سن کر بیدار اور برکت آثار اولیاء وعلماء کے طلبگار ہوںپھر کیسا جاہل ومحروم ونافہم ملوم کہ محبوبان خدا کے آثار کو تبرك نہ جانے اوراس سے حصول برکت نہ مانے
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۷۹۸ مکتبہ المعارف ریاض ۱/ ۴۴۳
التیسیر لشرح الجامع الصغیر تحت حدیث مذکور مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۲۶۹،السراج المنیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث مذکور المطبعۃ الازہریۃ المصریۃ مصر ۳/ ۱۵۱
تعلیقات للحفنی علی ہامش السراج المنیر المطبعۃ الازہریۃ المصریۃ مصر ۳/ ۱۵۱
#6192 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدا لمرسلین محمد والہ وصحبہ واولیائہ وعلمائہ وامتہ وحزبہ اجمعین امین۔واﷲ وتعالی اعلم۔
فصل سوم
مسئلہ ۱۶۹: غرہ ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تبرك آثار شریفہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کیسا اور اس کے لئے ثبوت یقینی درکارہے۔یا صرف شہرت کافی ہے اور نعلین شریفین کی تمثال کو بوسہ دینا کیسا ہے اور اس سے توسل جائز ہے یانہیں اور بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ تمثال نعل شریف کے اوپربعد بسم اﷲ کے لکھتے ہیں:
اللھم ارنی برکۃ صاحب ھذین النعلین الشریفین۔ یا اللہ! مجھے ان نعلین پاك کی برکت سے نواز۔(ت)
اور اس کے نیچے دعائے حاجت لکھتے ہیں۔یہ کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
فی الواقع آثار شریفہ حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے تبرك سلفا وخلفا زمانہ اقدس حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وصحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے آج تك بلا نکیر رائج ومعمول اور باجماع مسلمین مندوب ومحبوب بکثر ت احادیث صحیحہ بخاری ومسلم وغیرہما صحاح و سنن وکتب حدیث اس پر ناطق جن میں بعض کی تفصیل فقیر نے کتاب البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ الشارقۃ میں ذکر کی۔اور ایسی جگہ ثبوت یقینی یاسند محدثانہ کی اصلا حاجت نہیں اس کی تحقیق وتنقیح کے پیچھے پڑنا اوربغیر اس کے تعظیم وتبرك سے بازرہنا سخت محرومی کم نصیبی ہے ائمہ دین نے صرف حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نام سے اس شے کا معروف ہونا کافی سمجھا ہے۔ امام قاضی عیاض شفا شریف میں فرماتے ہیں:
من اعظامہ واکبارہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعظام جمیع اسبابہ و اکرام مشاھدہ وامکنتہ من مکۃ و المدینۃ ومعاھدہ ومالمسہ علیہ الصلوۃ والسلام او اعرف بہ ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے تمام متعلقات کی تعظیم اور آپ کے نشانات اور مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ کے مقامات اور آپ کے محسوسات اور آپ کی طرف منسوب ہونے کی شہرت والی اشیاء کا احترام یہ سب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم وتکریم ہے۔
حوالہ / References الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن اعظامہ واکبارہ الخ عبدالتواب اکیڈمی بوہڑ گیٹ ملتان ۲/ ۴۴
#6193 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
اسی طرح طبقۃ فطبقۃ شرقا غربا عربا عجما علمائے دین وائمہ معتمدین نعل مطہر حضور سید البشر علیہ افضل الصلوۃ واکمل السلام کے نقشے کاغذوں پر بناتے کتابوں میں تحریر فرماتے آئے اور انھیں بوسہ دینے آنکھوں سے لگانے سر پر رکھنے کا حکم فرماتے رہے اور دفع امراض وحصول اغراض میں اس سے توسل فرمایا کئےاور بفضل الہی عظیم وجلیل برکات وآثار اس سے پایا کئے۔علامہ ابو الیمن ابن عساکر وشیخ ابواسحق ابراہیم بن محمد بن خلف سلمی وغیرہما علماء نے اس باب میں مستقل کتابیں تصنیف کیں اور علامہ احمد مقتری کی فتح المتعال فی مدح خیر النعال اس مسئلہ میں اجمع وانفع تصانیف سے ہے۔محدث علامہ ابوالربیع سلیمن بن سالم کلاعی وقاضی شمس الدین ضیف اﷲ رشیدی وشیخ فتح اﷲ بیلونی حلبی معاصر علامہ مقتری وسید محمد موسی حسینی مالکی معاصر علامہ ممدوح وشیخ محمد بن فرج سبتی وشیخ محمد بن رشید فہری سبتی وعلامہ احمد بن محمد تلمسانی موصوف وعلامہ ابوالیمن ابن عساکر وعلامہ ابوالحکم مالك بن عبدالرحمن بن علی مغربی وامام ابوبکر احمد ابو محمد عبداﷲ بن حسین انصاری قرطبی وغیرہم رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین نے نقشہ نعل مقدس کی مدح میں قصائد عالیہ تصنیف فرمائے ان سب میں اسے بوسہ دینے سرپر رکھنے کا حکم واستحسان مذکور اوریہی مواہب لدنیہ امام احمد قسطلانی وشرح مواہب علامہ زرقانی وغیرہما کتب جلیلہ میں مسطور وقد لخصنا اکثر ذلك فی کتابنا المزبور(اور ہم نے اکثر کا خلاصہ اپنی مذکور کتاب میں ذکر کیا ہے۔ت)
علماء فرماتے ہیں جس کے پاس یہ نقشہ متبرکہ ہو ظلم ظالمین وشر شیطان وچشم زخم حاسدین سے محفوظ رہے عورت دردزہ کے وقت اپنے داہنے ہاتھ میں لے آسانی ہوجو ہمیشہ پاس رکھے نگاہ خلق میں معزز ہو زیارت روضہ مقدس نصیب ہو یا خواب میں زیارت حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مشرف ہوجس لشکر میں ہونہ بھاگے جس قافلہ میں ہو نہ لٹےجس کشتی میں ہو نہ ڈوبے جس مال میں ہو نہ چرےجس حاجت میں اس سے توسل کیا جائے پوری ہو جس مراد کی نیت سے پاس رکھیں حاصل ہوموضع درد ومرض پر اسے رکھ کر شفائیں ملی ہیںمہلکوں مصیبتوں میں اس سے توسل کرکے نجات وفلاح کی راہ ہیں کھلی ہیںاس باب میں حکایت صلحاء وروایات علماء بکثرت ہیں کہ امام تلسمانی وغیرہ نے فتح المتعال وغیرہ میں ذکر فرمائیں اور بسم اﷲ شریف اس پر لکھنے میں کچھ حرج نہیںاگریہ خیال کیجئے کہ نعل مقدس قطعا تاج فرق اہل ایمان ہے مگر اﷲ عزوجل کانام وکلام ہر شے سے اجل واعظم وارفع واعلی ہے۔یوہیں تمثال میں بھی احتراز چاہئے تو یہ قیاس مع الفارق ہے۔اگر حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی جاتی کہ نام الہی یا بسم اﷲ شریف حضور کی نعل مقدس پر لکھی جائے تو پسند نہ فرماتے مگر اس قدر ضروری ہے کہ نعل بحالت استعمال وتمثال محفوظ عن الابتذال میں تفاوت بدیہی ہے اور اعمال کا
#6194 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
مدارنیت پر ہے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ نے جانور ان صدقہ کی رانوں پر جیس فی سبیل اﷲ(اﷲ کی راہ میں وقف ہے۔ت)داغ فرمایا تھا حالانکہ ان کی رانیں بہت محل بے احتیاطی ہیں۔ بلکہ سنن دارمی شریف میں ہے:
اخبرنا مالك بن اسمعیل ثنا مندل بن علی الغزی حدثنی جعفر بن ابی المغیرۃ عن سعید بن جبیر قال کنت اجلس الی ابن عباس فاکتب فی الصحیفۃ حتی تمتلی ثم اقلب نعلی فاکتب فی ظہورہما واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ مالك بن اسمعیل نے خبرد ی کہ مندل بن علی الغذی نے بیان کیا کہ مجھے جعفر بن ابی مغیرہ نے سعید بن جبیر کے حوالے سے فرمایا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ کے پاس بیٹھا ایك کاغذ پر لکھ رہا تھا کہ وہ کاغذ پر ہوگیا پھر میں نے اپنا جو تا الٹا کر کے لکھاواﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
فصل چہارم
مسئلہ ۱۷۰: مسئولہ حضرت سید حبیب اﷲ زعبی دمشقی طرابلسی جیلانی وارد حال بریلی ۷/ ربیع الآخر ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ جو لوگ تبرکات شریف بلاسند لاتے ہیں ان کی زیارت کرنا چاہئے یانہیں اور اکثر لوگ کہتے ہں کہ آج کل مصنوعی تبرکات زیادہ لئے پھرتے ہیں یہ ان کا کہنا کیساہے اور جو زائر کچھ نذر کرے اس کالینا جائز ہے یانہیں اور جو شخص خود مانگے اس کا مانگنا کیساہے بینوا توجروا
الجواب:
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے آثار وتبرکات شریفہ کی تعظیم دین مسلمان کا فرض عظیم ہے تابوت سکینہ جس کا ذکر قرآن عظیم میں ہے جس کی برکت سے بنی اسرائیل ہمیشہ کافروں پر فتح پاتے اس میں کیا تھا "بقیۃ مما ترک ال موسی وال ہرون" موسی اور ہارون علیہما الصلوۃ والسلام کے چھوڑے ہوئے تبرکات سے کچھ بقیہ تھا۔موسی علیہ السلام کا عصا اور ان کی نعلین مبارك اور ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کا عمامہ وغیرہاولہذا تواترسے ثابت کہ جس چیز کوکسی طرح حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے
حوالہ / References سنن الدارمی باب من اخص فی کتابۃ العلم حدیث ۵۰۷ دارالمحاسن قاہرہ ۱/ ۱۰۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۵
#6195 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
کوئی علاقہ بدن اقدس سے چھونے کا ہوتا صحابہ وتابعین وائمہ دین ہمیشہ اس کی تعظیم وحرمت اور اس سے طلب برکت فرماتے ائے اور دین حق کے معظم اماموں نے تصریح فرمائی ہے کہ اس کے لئے کسی سند کی بھی حاجت نہیں بلکہ وہ چیز حضور اقد س صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نام پاك سے مشہور ہو اس کی تعظیم شعائر دین سے ہے۔شفا شریف ومواہب لدنیہ ومدارج شریف وغیرہا میں ہے:
من اعظامہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اعظامہ جمیع اسبابہ ومالمسہ او عرف بہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم میں سے ہے ان تمام اشیاء کی تعظیم جسکو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کچھ علاقہ ہو اور جسے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے چھوا ہو یا جو حضور کے نام پاك سے مشہور ہو۔
یہاں تك کہ برابر ائمہ دین وعلمائے معتمدین نعل اقدس کی شبیہ ومثال کی تعظیم فرماتے رہے اور اس سے صدہا عجیب مددیں پائیں اور اس کے باب میں مستقل کتابیں تصنیف فرمائیںجب نقشے کی یہ برکت وعظمت ہے تو خود نعل اقدس کی عظمت وبرکت کو خیال کیجئے پھر ردائے اقدس جبہ مقدسہ وعمامہ مکرمہ پر نظر کیجئے پھر ان تمام آثار وتبرکات شریفہ سے ہزاروں درجے اعظم واعلی واکرم واولی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ناخن پاك کا تراشہ ہے کہ یہ سب ملبوسات تھے اور وہ جزء بدن والا ہے اور اس سے اجل واعظم وارفع واکرم حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ریش مبارك کا موئے مطہر ہے مسلمانوں کا ایمان گواہ ہے کہ ہفت آسمان وزمین ہر گز اس ایك موئے مبارك کی عظمت کونہیں پہنچتے اور ابھی تصریحات ائمہ سے معلوم ہولیا کہ تعظیم کے لئے نہ یقین درکارہے ہے نہ کوئی خاص سند بلکہ صرف نام پاك سے اس شے کا اشتہار کافی ہے ایسی جگہ بے ادراك سند تعظیم سے باز نہ رہے گا مگر بیمار دل پر ازار دل جس میں نہ عظمت شان محمد رسول اﷲ صلی ااﷲ تعالی علیہ وسلم بروجہ کافی نہ ایمان کامل اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و ان یک کذبا فعلیہ کذبہ و ان یک صادقا یصبکم بعض الذی یعدکم " اگریہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اس پراور اگر سچا ہے تو تمھیں پہنچ جائیں گے بعض وہ عذاب جن کا وہ تمھیں وعدہ فرماتاہے۔
اور خصوصا جہاں سند بھی موجود ہو پھر تو تعظیم واعزاز وتکریم سے باز نہیں رہ سکتا مگر کوئی کھلا کافر یا چھپا
حوالہ / References کتاب الشفاء للقاضی فصل ومن اعظامہ الخ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۴۸۔۴۷
القرآن الکریم ۴۰ /۲۸
#6196 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
منافق۔والعیاذ باﷲ تعالی۔
اور یہ کہنا کہ آج کل اکثر لوگ مصنوعی تبرکات لئے پھرتےہیں مگر یوہیں مجمل بلاتعین شخص ہو یعنی کسی شخص معین پر اس کی وجہ سے الزام یا بدگمانی مقصود نہ ہو تو اس میں کچھ گناہ نہیںاور بلا ثبوت شرعی کسی خاص شخص کی نسبت حکم لگادینا کہ یہ انھیں میں سے ہے جو مصنوعی تبرکا ت لئے پھرتے ہیں ضرورتا ناجائز وگناہ وحرام ہے کہ اس کا منشا صرف بدگمانی ہے اور بدگمانی سے بڑھ کر کوئی جھوٹی بات نہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔ بدگمانی سے بچو کہ بدگمانی سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔
ائمہ دین فرماتے ہیں:
انما ینشوء الظن الخبیث من القلب الخبیث ۔ خبیث گمان خبیث ہی دل سے پیدا ہوتاہے۔
تبرکات شریفہ جس کے پاس ہوں ان کی زیارت کرنے پر لوگوں سے اس کا کچھ مانگنا سخت شنیع ہے۔جو تندرست ہو اعضاء صحیح رکھتا ہو نوکری خواہ مزدوری اگر چہ ڈلیا ڈھونے کے ذریعہ سے روٹی کما سکتاہوا سے سوال کرناحرام ہے۔رسول اﷲ صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سوی ۔ غنی یا سکت والے تندرست کے لئے صدقہ حلال نہیں۔
علماء فرماتے ہیں:
ماجمع السائل بالتکدی فہو الخبیث ۔ سائل جو کچھ مانگ کر جمع کرتاہے وہ خبیث ہے۔
اس پر ایك تو شناعت یہ ہوئیدوسری شناعت سخت تویہ ہے کہ دین کے نام سے دنیا
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الوصایا ۱/ ۳۸۴ وکتاب الفرائض ۲/ ۹۹۵ صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ ۲/ ۳۱۶،جامع الترمذی ابواب البر ۲/ ۲۰ مؤطا امام مالک باب ماجاء فی المہاجرۃ ص۷۰۲
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۲۹۰۱ ایاکم والظن الخ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۲
مسند امام احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۱۹۲
ردالمحتار کتاب الکراہیۃ ۵/ ۲۴۷ وفتاوٰی ہندیۃ کتا ب الکراہیۃ ۵/ ۳۴۹
#6197 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
کماتاہے اور " ویشترون بہ ثمنا قلیلا" (میری آیات کے ذریعہ قلیل رقم حاصل کرتے ہیں۔ت)کے قبیل میں داخل ہوتاہے۔
تبرکات شریفہ بھی اﷲ عزوجل کی نشانیوں سے عمدہ نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ سے دنیا کی ذلیل قلیل پونجی حاصل کرنے والاد نیا کے بدلے دین بیچنے والا ہے شناعت سخت تر یہ ہے کہ اپنے اس مقصد فاسد کے لئے تبرکات شریفہ کو شہر بشہر دربدر لئے پھرتے ہیں اور کس و نا کس کے پاس لے جاتے ہیں یہ آثار شریفہ کی سخت توہین ہے۔خلیفہ ہارون رشید رحمۃاﷲ تعالی علیہ نے عالم دار الہجرۃ سیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے درخواست کی تھی کہ ان کے یہاں جاکر خلیفہ زادوں کو پڑھا دیا کریںفرمایا:میں علم کو ذلیل نہ کروں گا انھیں پڑھنا ہے تو خود حاضر ہوا کریںعرض کی:وہی حاضر ہونگے مگر اور طلباء پر ان کو تقدیم دی جائے فرمایا:یہ بھی نہ ہوگا سب یکساں رکھے جائیں گے آخر خلیفہ کو یہی منظور کرناپڑا____ یونہی امام شریك نخعی سے خلیفہ وقت نے چاہا تھا کہ ان کے گھر جاکر شہزادوں کو پڑھا دیا کریںانکار کیا۔کہا:آپ امیر المومنین کا حکم ماننا نہیں چاہتے۔فرمایا:یہ نہیں بلکہ علم کو ذلیل نہیں کرنا چاہتا۔
رہا یہ کہ بے اس کے مانگے زائرین کچھ اسے دیں اوریہ لے۔اس میں تفصیل ہے شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ المعہود عرفا کالمشروط لفظا(عرفا مقررہ چیز لفظا مشروط کی طرح ہے۔ت)یہ لوگ تبرکات شریفہ شہر بشہر لئے پھرتے ہیں ان کی نیت وعادت قطعا معلوم کہ اس کے عوض تحصیل زر وجمع مال چاہتےہیں یہ قصدنہ ہوتو کیوں دور دراز سفر کی مشقت اٹھائیں ریلوں کے کرائے دیںاگر کوئی ان میں زبانی کہے بھی کہ ہماری نیت فقط مسلمانوں کو زیارت سے بہرہ مند کرنا ہے تو ان کا حال ان کے قال کی صریح تکذیب کررہاہے ان میں علی العموم وہ لوگ ہیں جو ضروری ضروری طہارت وصلوۃ سے بھی آگاہ نہیں اس فرض قطعی کے حال کرنے کو کبھی دس پانچ کو س یا شہرہی کے کسی عالم کے پاس گھر سے آدھ میل جانا پسند نہ کیا مسلمانوں کو زیارت کرانے کے لئے ہزاروں کوس سفر کرتے ہیں پھر جہاں زیارتیں ہوں اور لوگ کچھ نہ دیں وہاں ان صاحبوں کے غصے دیکھئے پہلا حکم یہ لگایا جاتاہے کہ تم لوگوں کو حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کچھ محبت نہیں گویا ان کے نزدیك محبت نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ا ور ایمان اسی میں منحصر ہے کہ حرام طور پر کچھ ان کی نذر کردیا جائےپھرجہاں کہیں سے ملے بھی مگر ان کے خیال سے تھوڑا ہو ان کی سخت شکایتیں اور مذمتیں ان سے سن لیجئے اگر چہ وہ دینے والے صلحاء وعلماء ہوں اور مال حلال سے دیا ہو اور جہاں پیٹ بھر کے مل گیا وہاں کی لمبی چوڑی تعریفیں لے لیجئے اگر چہ وہ دینے والے فساق فجار بلکہ بد مذہب ہوں اور مال حرام سے دیا ہو قطعا معلوم ہے کہ وہ زیارت نہیں کراتے بلکہ لینے کے لئے اور زیارت کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ ضرو رکچھ دینا
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۱۷۴
#6198 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
پڑے گا تو اب یہ صرف سوال ہی نہ ہوا بلکہ بحسب عرف زیارت شریفہ پر اجارہ ہوگیا اور وہ بچند وجہ حرام ہے۔
اولا زیارت آثار شریفہ کی کوئی ایسی چیز نہیں جو زیر اجارہ داخل ہوسکے۔
کما صرح بہ فی ردالمحتار وغیرہ ان مایؤخذ من النصاری علی زیارۃ بیت المقدس حرام ۔وھذا اذا کان حراما اخذہ من کفار دور الحرب کالروس وغیرہم فکیف من المسلمین ان ہو الا ضلال مبین۔ جس طرح اس کی تصریح ردالمحتار وغیرہ میں ہے کہ بیت المقدس کی زیارت کے عوض عیسائیوں سے وصولی حرام ہے یہ حربی کافروں اور سرداروں وغیرہ سے وصولی حرام ہے تو مسلمانوں سے وصولی کیسے حرام نہ ہوگی یہ نہیں مگر کھلی گمراہی۔(ت)
ثانیا: اجر ت مقرر نہیں ہوئی کیا دیاجائے گا اور جو اجارے شرعا جائز ہیں ان میں بھی اجرت مجہول رکھی جانا اسے حرام کردیتاہے نہ کہ جو سرے سے حرام ہے کہ حرام درحرام ہوااوریہ حکم جس طرح گشتی صاحبوں کو شامل ہے مقامی حضرات بھی اس سے محفوظ نہیں جبکہ اس نیت سے زیارت کراتے ہوں اور ان کا یہ طریقہ معلوم ومعروف ہوہاں اگر بندہ خدا کے پاس کچھ آثار شریفہ ہوں اور وہ انھیں بہ تعظیم اپنے مکان میں رکھے اور جو مسلمان اس کی درخواست کرے محض لوجہ اﷲ اسے زیارت کرادیا کرے کبھی کسی معاوضہ نذرانہ کی تمنا نہ رکھےپھر اگر وہ آسودہ حال نہیں اور مسلمان بطور خود قلیل یا کثیر بنظر اعانت اسے کچھ دے تو اس کے لے لینے میں اس کو کچھ حرج نہیں باقی گشتی صاحبوں کو عموما اور مقامی صاحبوں میں خاص ان کو جو ا س امر پر اخذ نذور کے ساتھ معروف ومشہور ہیں شرعا جوا ز کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی مگر ایك وہ یہ کہ خدائے تعالی ان کو توفیق دے نیت اپنی درست کریں اور اس شر ط عرفی کے رد کے لئے صراحۃ اعلان کے ساتھ ہر جلسے میں کہہ دیا کریں کہ مسلمانو! یہ آثار شریفہ تمھارے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا فلاں ولی معزز ومکرم کے ہیں کہ محض خالصا لوجہ اﷲ تعالی تمھیں ان کی زیارت کرائی جاتی ہے ہر گز ہر گز کوئی بدلہ یا معاوضہ مطلوب نہیںاس کے بعد اگر مسلمان کچھ نذر کریں تو اسے قبول کرنے میں کچھ حرج نہ ہوگافتاوی قاضی خاں وغیرہا میں ہے:ان الصریح یفوق الدلالۃ (کہ صراحت کودلالت پر فوقیت ہے۔ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب النکاح ۲/ ۳۵۷ وکتاب الدعوٰی ۴/ ۴۳۷
#6199 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
اور اس کی صحت نیت پر دلیل یہ ہوگی کہ کم پر ناراض نہ ہو بلکہ اگر جلسے گزرجائیں لوگ فو ج فوج زیارتیں کرکے یوں ہی چلے جائیں اور کوئی پیسہ نہ دے جب بھی اصلا دل تنگ نہ ہو اور اسی خوشی وشادمانی کے ساتھ مسلمانوں کو زیارت کرایا کرےاس صورت میں یہ لینا دینا دونوں جائز وحلال ہوں گے اور زائرین و مزور دونوں اعانت مسلمین کا ثواب پائیں گے اس نے سعادت وبرکت دے کر ان کی مدد کی انھوں نے دنیا کی متاع قلیل سے فائدہ پہنچایااوررسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ رواہ مسلم فی صحیحہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما۔ تم میں سے جس سے ہوسکے کہ اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچائےپہنچائے(اسے مسلم نے اپنی صحیح میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
اﷲ فی عون العبد مادام العبد فی عون اخیہ۔رواہ الشیخان ۔ اﷲ اپنے بندہ کی مدد میں ہے جب تك بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہے(اسے امام بخاری ومسلم نے روایت کیا۔ت)
علی الخصوص جب یہ تبرکات والے حضرات سادات کرام ہوں تو اب کی خدمت اعلی درجہ کی برکت وسعادت ہے۔
حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں"جو شخص اولاد عبدالمطلب میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوك کرے اور اس کا صلہ دنیا میں نہ پائے میں بہ نفس نفیس رو ز قیامت اس کا صلہ عطا فرماؤں گا"اوراگر زیارت کرانے والے کو اس کی توفیق نہ ہو تو زیارت کرنے والے کو چاہئے خود ان سے صاف صراحۃ کہہ دے کہ نذر کچھ نہیں دی جائے گی خالصا لوجہ اﷲ اگر آپ زیارت کراتے ہیں کرائے اس پر اگر وہ صاحب نہ مانیں ہر گز زیارت نہ کرے کہ زیارت ایك مستحب ہے اوریہ لین دین حرامکسی مستحب شے کے حاصل کرنے کے واسطے حرام کو اختیار نہیں کرسکتےالاشباہ والنظائر وغیرہا میں ہے:
ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ ۔ جس چیز کا لینا حرام اس کا دینا بھی حرام ہے۔(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم باب استحباب الرقیۃ من العین الخ نورمحمد اصح المطابع کراچی ۲/ ۲۲۴
صحیح مسلم کتاب الذکر والدعا باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن نورمحمد اصح المطابع کراچی ۲/ ۳۴۵
الاشباہ والنظائر الفن الاول ۱/ ۱۸۹ و ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ ۲/ ۵۶
#6200 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
درمختار میں ہے:الاخذ والمعطی اثمان (لینے اور دینے والے دونوں گنہ گار ہوں گے۔ت)
اسی درمختار میں تصریح ہے کہ جو تندرست ہو اور کسب پر قادر ہو اسے دینا حرام ہے کہ دینے والے اس سوال حرام پر اس کی اعانت کرتے ہیں اگرنہ دیں خواہی نخواہی عاجز ہو اور کسب کرے اور اگر اس کی غرض زیارت کرنے والے صاحب نے قبول کرلی تو اب سوال واجرت کاقدم درمیان سے اٹھ گیا بے تکلف زیارت کرے دونوں کے لئے اجر ہے اس کے بعد حسب استطاعت ان کی نذر کردےیہ لینا دینا دونوں کے لئے حلال او ر دونوں کے لئے اجرہے۔بحمداﷲ فقیر کا یہی معمول ہے اور توفیق خیر اﷲ تعالی سے مسئول ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۱: بتاریخ ۹/ جمادی الاولی ۱۳۱۸ھ
جناب من! ایك نئی بات سنی گئی ہے اس کی بابت عرض کرتاہوں اطمینان فرمائے۔
سوال:نقل روضۃ منورہ حضور سرور کائنات صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور نقل روضہ امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہ اور تعزیہ میں کیا فرق ہے شرعا کس کی تعظیم کم وبیش کرنا چاہئےاعنی کون افضل ہے۔اور زیارت کرنا روضہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی درست ہے یانہیںیعنی نقل روضہ منورہ کو جو مقبول حسین کے یہاں ہے بعض لوگ یوں کہتے ہیں کہ کاریگر کی کاریگری دیکھ لو۔لفظ زیارت کا کہنا اور وقت زیارت درود شریف پڑھنا اور مثل اصل کے تعظیم کرنادرست ہے ہر گز نہیں چاہئےاتنا کہنا تومثل نسبت در ست کہتے ہیں الا بالکل تعظیم کرنا محض برا بتاتے ہیں اور ایسا کرنے والے کو مثل ہنود کے جانتے ہیں اس کا کیا جواب ہے
الجواب:
روضہ منورہ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نقل صحیح بلا شبہہ معظمات دینیہ سے ہے اس کی تعظیم وتکریم بروجہ شرعی ہر مسلمان صحیح الایمان کا مقتضاء ایمان ہے۔ ع
اے گل بتو خرسندم تو بوئے کسے داری
(اے پھول میں تجھے اس لئے سونگھتاہوں کہ تجھ میں کسی کی خوشبو ہے۔ت)
اس کی زیارت بآداب شریعت اور اس وقت درود شریف کی کثرت ہر مومن کی شہادت قلب وبداہت عقل
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۳
#6201 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
مستحب ومطلوب ہے۔علامہ تاج فاکہانی فجر منیر میں فرماتے ہیں:
من فوائد ذلك ان من لم یمکنہ زیارۃ الروضۃ فلیبرز مثالہا ولیلثمہ مشتاقا لانہ ناب مناب الاصل کما قد بان مثال نعلہ الشریفۃ مناب عینھا فی المنافع و الخواص بشہادۃ التجربۃ الصحیحۃ ولذا جعلوالہ من الاکرام والاحترام مایجعلون للمنوب عنہ ۔ یعنی روضہ مبارك سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نقل میں ایك فائدہ یہ ہے کہ جسے اصل روضہ اقدس کی زیارت نہ ملے وہ اس کی زیارت کرے اور شوق دل کے ساتھ اسے بوسہ دے کہ یہ نقل اسی اصل کے قائم مقام ہے جیسے نعل مبارك کا نقشہ منافع وخواص میں یقینا خود اس کا قائم مقام ہے جس پر صحیح تجربہ گواہ ہے ولہذا علمائے دین نے اس کی نقل کا اعزاز واکرام وہی رکھا جو اصل کا رکھتے ہیں۔
اسی طرح دلائل الخیرات ومطالع المسرات وغیرہما معتبرات میں ہے اس بحث کی تفصیل جمیل فقیر کے رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب ومزارہ ونعالہ ۱۳۱۵ھ میں ہے یہاں لفظ زیارت کی ممانعت محض جہالت ہے اور معاذاﷲ درود شریف کی ممانعت اور سخت حماقت اور صراحۃشریعت مطہرہ پر افتراء ہے۔
علامہ طاہر فتنی مجمع البحار میں اپنے استاد امام ابن حجر مکی رحمہ اﷲ تعالی سے نقل فرماتے ہیں:
من استقیظ عنداخذ الطیب وشمہ الی ماکان علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من محبتہ للطیب فصلی علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لما وقر فی قلبہ من جلالتہ واستحقاقہ علی کل امۃ ان یلحظوا بعین نہایۃ الاجلال عند رؤیۃ شیئ من اثارہ او مایدل علیہا فہو ات بمالہ فیہ اکمل الثواب الجزیل وقد استحبہ العلماء لمن رأی خوشبو والے کے پاس خوشبو دیکھ کر متوجہ ہوا اور اسے سونگھا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام خوشبو کو پسند فرماتے تھے تو اس وقت درود شریف پڑھا اس لئے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی جلالت شان کا دل میں وقار پایا اور تمام امت پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ استحقاق جانتے ہوئے کہ آپ کے آثار مبارکہ کو دیکھتے ہوئے ان کی تعظیم واہتمام کو ملحوظ رکھیں تو خوشبو سونگھنے پر درود شریف پڑھنے والے
حوالہ / References فجر منیر
#6202 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
شیئا من اثارہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ولا شك ان من استحضر ماذکرتہ عند شمہ للطیب یکون کالرائی شیئ من اثارہ الشریفۃ فی المعنی فلیس بہ الااکثار من الصلوۃ والسلام علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حینئذ اھ مختصرا۔ نے اس پر کامل اور بھاری ثواب پایا جبکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے آثار کو دیکھنے والے کے لئے علماء کرام نے اس کو مستحب قرار دیا ہے اور کوئی شك نہیں کہ خوشبو سونگھنےپر مذکورہ امور کو مستحضر کرنے والے نے گویا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے آثار شریفہ کو معنی دیکھا تو اس وقت صرف درود شریف کی کثرت ہی اس کو مناسب ہے اھ مختصرا(ت)
اسی ارشاد جمیل میں صاف تصریح جلیل ہے کہ تمام امت پررسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا حق ہے کہ جب حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے آثار شریفہ سے کوئی چیز دیکھیں یا وہ شے دیکھیں جو حضو رکے آثار شریفہ سے کسی چیز پر دلالت کرتی ہو تواس وقت کمال ادب وتعظیم کے ساتھ حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا تصور لائیں اور درود وسلام کی کثرت کریں ولہذا جو خوشبو لیتے یا سونگھتے وقت یاد کرے کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اسے دوست رکھتے تھے وہ بھی گویا معنی آثار شریفہ کی زیارت کررہا ہے اسے اس وقت درود پڑھنے کی کثرت مسنون ہونی چاہئے تو نقل روضہ مبارك کہ صاف صاف مایدل علیہا میں داخل ہے اس کی زیارت کے وقت حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تعطیم وتکریم اور حضور پر درود وتسلیم کیوں نہ مستحب ہوگی ایسی تعظیم کرنے والے کو معاذاﷲ کفار ومشرکین کے مثل بتانا سخت ناپاك کلمہ بیباك ہے قائل جاہل پر توبہ فرض ہے بلکہ از سر نو کلمہ اسلام کی تجدید کرکے اپنی عورت سے نکاح دوبارہ کرے کہ اس نے بلاوجہ مسلمانوں کو مثل کفار بتایارسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من دعا رجلا بالکفر ا وقال عدواﷲ ولیس کذلك الا حار علیہ رواہ الشیخان ۔ جس نے کسی کو کفر کے ساتھ پکارا یا اس کو عدواﷲ کہا حالانکہ وہ شخص ایسا نہ تھا تو وہ کلمہ کہنے والے
حوالہ / References مجمع بحارالانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ علی الالسن مکتبہ الایمان المدینۃ المنورۃ ۵/ ۲۳۷
صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ یاکافر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۷
#6203 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
عن ابی ذر رضی اﷲ تعالی عنہ۔ کی طرف لوٹے گا۔اس کو شیخین(بخاری ومسلم)نے حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
یونہی اگر روضہ مبارك حضرت شہزادہ گلگوں قباحسین شہید ظلم وجفا صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علی جدہ الکریم وعلیہ کی صحیح نقل بنا کر محض بہ نیت تبرك بے آمیزش منکرات شرعیہ مکان میں رکھتے تو شرعا کوئی حرج نہ تھامگرحاشا تعزیہ ہر گز اس کی نقل نہیںنقل ہونا درکنار بنانے والوں کو نقل کا قصد بھی نہیںہر جگہ نئی تراش نئی گھڑت جسے اس اصل سے نہ کچھ علاقہ نہ نسبت پھر کسی میں پریاں کسی میں براق کسی میں اور بیہودہ طمطراق پھر کوچہ بکوچہ ودشت بدشت اشاعت غم کے لئے ان کا گشتاور اس کے گرد سینہ زنی ماتم سازشی کی شور افگنیحرام مرثیوں سے نوحہ کنیعقل ونقل سے کٹی چھنیکوئی ان کھپچیوں کو جھك جھك کر سلام کررہا ہے کوئی مشغول طواف کوئی سجدہ میں گرا ہے کوئی اس مایہ بدعات کو معاذاﷲ جلوہ گاہ حضرت امام عالی مقام سمجھ کر اس ابرك پنی سے مرادیں مانگتا منتیں مانتاہے۔عرضیاں باندھتا حاجت رواجانتا۔پھر باقی تماشے باجے تاشے مردوں عورتوں کا راتوں کو میل اور طرح طرح کے بیہودہ کھیل ان سب پر طرہ ہیںغرض عشرہ محرام الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاك تك نہایت بابرکت ومحل عبادت ٹھہرا ہوا تھاان بیہودہ رسموں نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کر دیاپھر وبال ابتداع کا وہ جوش ہوا کہ خیرات کو بھی بطور خیرات نہ رکھاریاوتفاخر علانیہ ہوتا ہے پھر وہ بھی یہ نہیں کہ سیدھی طرح محتاجوں کودیں بلکہ چھتوں پر بیٹھ کر پھینکیں گےروٹیاں زمین پر گررہی ہیںرزق الہی کی بے ادبی ہوتی ہے۔ پیسے ریتے میں گر کر غائب ہوتے ہیںمالك کی اضافت ہو رہی ہے مگر نام تو ہوگیا کہ فلاں صاحب لنگر لٹارہے ہیں اب بہار عشرہ کے پھو ل کھلےتاشے باجےبجتے چلے۔رنگ رنگ کے کھیلوں کی دھوم بازاری عورتوں کا ہر طرف ہجومشہوانی میلوں کی پوری رسومجشن فاسقانہیہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا یہ ساختہ ڈھانچ بعینہاحضرات شہدائے کرام علیہم الرضوان کے پاك جنازے ہیں: ع
اے مومنو! اٹھاؤ جنازہ حسین کا
گاتے ہوئے مصنوعی کر بلا پہنچےوہاں کچھ نوچ اتار باقی توڑتاڑ دفن کردئےیہ ہر سال اضاعت مال کے جرم ووبال جدا گانہ رہے اﷲ تعالی صدقہ حضرات شہدائے کرام کربلا علیہم الرضوان والثناء کا مسلمانوں کو نیك تو فیق بخشے اور بدعات سے توبہ دے امین امین!
تعزیہ داری کہ اس طریقہ نا مرضیہ کانام ہے قطعا بدعت وناجائز وحرام ہے۔ان خرافات کے
#6204 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
شیوع نے اس اصل مشروع کو بھی اب مخدور ومحظور کردیاکہ اس میں اہل بدعت سے مشابہت اور تعزیہ داری کی تہمت کا خدشہ اور آئندہ اپنی اولاد یا اہل اعتقاد کے لئے ابتلائے بدعات کا اندیشہ ہے وما یؤدی الی محظور محظور(جو چیزیں ممنوع تك پہنچائے وہ ممنوع ہے۔ت)۔حدیث میں ہے اتقوا مواضع التہم (تہمت کے مواقع سے بچو۔ت)اور وار دہوا:
من کان یومن باﷲ والیوم الاخر فلا یقفن مواقف التہم ۔ جو شخص اﷲ تعالی اوریوم آخرت پر ایمان رکھتاہے وہ تہمت کے مواقع میں ہر گز نہ کھڑا ہو۔(ت)
لہذا دربارہ کربلا ئے معلی اب صرف کاغذ پرصحیح نقشہ لکھا ہوا محض بقصد تبرك بے آمیزش منہیات پاس رکھنے کی اجازت ہوسکتی ہے والسلام علی من اتبع الہدیواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
___________________
(ختم شد رسالہ بدر الانوار فی اداب الاثار)
_____________________________
حوالہ / References کشف الخفاء حدیث ۸۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۷،اتحاف السادۃ المتقین کتاب عجائب القلب دارالفکر بیروت ۷/ ۲۸۳
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃ باب ادراک الفریضۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کراچی ص۲۴۹
#6240 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
رسالہ
شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ۱۳۱۵ھ
(محبوب خدا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)

مسئلہ ۱۷۲ تا ۱۷۵: از ریاست ریواں مرسلہ مولوی عبدالرحیم خاں ۲۶/ذی القعدہ ۱۳۱۵ھ
ماقولکم ایھا العلماء الکرام فی ھذہ المسائل(اے علماء کرام! ان مسائل کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں۔ت):
(۱)بنانا تصویر آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام کا بغرض حصول ثواب زیارت کے درست وجائز ہے یانہ اور بنانے والا اور خریدار مثوب ہوگا یانہیں
(۲)اگر کوئی تصویر آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وتصویر براق نبوی ونیز تصویر حضرت جبرئیل علیہ الصلوۃ والسلام بناکر یا بنوا کر واسطے حصول ثواب زیارت کے اپنے پاس رکھے اور اکثر مجالس میلاد نبوی میں تصاویر مذکورین کو بتکلف تمام نمائشا بوقت ذکر معراج شریف حاضرین مجلس کے رو برو پیش کرےاور یقین اس امر کا دلائے کہ گویا حضور معراج کو تشریف لئے جاتے ہیں اور لوگوں کو لمس وبوسہ کے لئے ہدایت وفہمائش کرے تویہ فعل اس کا شرعا جائز ہوسکتاہے اور امور مندرجہ سوالات دوم مشروع ہوں گے یاغیر مشروع
(۳)نقشہ روضہ مقدسہ آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بغرض حصول ثواب زیارت بنواکر اپنے پاس
#6249 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
رکھنا اوریہ گمان کرنا کہ جس طرح اصل کی تعظیم وتکریم سے ہم کو ثواب حاصل ہوتاہے تعظیم نقل وشبیہ سے بھی ثواب حاصل ہوتاہے کیسا ہے۔جائز ہے یا کیا اور دلائل الخیرات میں جو نقشہ روضہ مطہر ہ کا دیا گیا ہے دراصل دینا چاہئے یانہیں
(۴)بصورت ناجوازی وغیر مشروع ہونے تصاویر کے ان تصاویر کو کیا کرنا چاہئے اور نقشہ روضہ مطہر دلائل الخیرات میں سے نکال دینا بہترہوگا یا بدستور باقی وقائم رکھنا افتونا بالصواب و اسقونا بالجواب توجروا بالاجرین وتکرموا فی الدارین (ہمیں ٹھیك ٹھیك فتوی دو اور بہترین جواب سے سرفراز فرماؤ تاکہ تمھیں دوہرا اجر ملے اور دونوں جہان میں عزت پاؤ۔ت)
الجواب:
اللھم لك الحمد صل علی نبیك نبی الحمدو الہ وصحبہ الخیار بالحمد اسألك حسن الادب وصدق الحب لحبیبك الکریم علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ و التسلیم رب انی اعوذبك من ہمزات الشیطین واعوذ بك رب ان یحضرون۔ اے اللہ! درحقیقت تیرے ہی لئے سب تعریف وتوصیف ہے اور نزول رحمت فرما اپنے نبی پر جو نبی حمد ہیںاور ان کی آل اور ان کے ساتھیوں پر رحمت نازل فرما جو اچھی حمد کرنے والے ہیں ______ ہم تجھ سے بہترین ادب اور تیرے حبیب مکرم کی سچی محبت کا سوال کرتے ہیںآپ پر اور آپ کی اولاد پر سب سے بہتر درودہواے میرے پروردگار! بیشك میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتاہوںاے پروردگار!میں تیری پناہ مانگتاہوں اس بات سے کہ وہ (شیاطین) میرے پاس(شر کے لئے)حاضر ہوں۔(ت)
اﷲ عزوجل پناہ دے ابلیس لعین کے مکائد سے سخت ترکید یہ ہے کہ آدمی سے حسنات کے دھوکے میں سیآت کراتاہے اور شہد کے بہانے زہرپلاتا ہے۔والعیاذباﷲ رب العالمین اس مسکین تینوں تصویرات مذکورہ بنانے والے ان کی زیارت ولمس وتقبیل کرانے والے نے گمان کیاکہ وہ حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا حق محبت بجالاتا اور حضور کو راضی کرتاہے حالانکہ حقیقۃ وہ اپنی ان حرکات باطلہ سے حضور اقدس سیدعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صریح نافرمانی کررہا ہے اس پر پہلے ناراض ہونے والے حضور والا ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔حضور سرور عالم صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم نے ذی روح کی تصویر بنانا بنوانااعزازا اپنے پاس رکھنا سب حرام فرمایا ہے اوراس پر سخت سخت وعیدیں ارشاد کیں اور ان کے دور کرنے مٹانے کاحکم دیا احادیث اس بارے میں حد تواترپر ہیںیہاں بعض مذکور ہوتی ہیں:
#6255 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
حدیث ۱:صحیحین ومسند امام محمد میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کل مصور فی النار یجعل اﷲ لہ بکل صورۃ صورہ نفسا فتعذبہ فی جہنم ۔ ہر مصور جہنم میں ہے اﷲ تعالی ہر تصویر کے بدلے جو اس نے بنائی تھی ایك مخلوق پیدا کرے گا کہ وہ جہنم میں اسے عذاب کرے گی۔
حدیث ۲:انھیں میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اشد الناس عذابا یوم القیمۃ المصورون ۔ بیشك نہایت سخت عذاب روزقیامت تصویر بنانے والوں پرہے ۔
حدیث ۳:انھیں میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قال اﷲ تعالی ومن اظلم ممن ذھب یخلق خلقا کخلقی فلیخلقوا ذرۃ اولیخلقو احبۃ اولیخلقوا شعیرۃ ۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے اس سے بڑھ کر ظالم کون جو میرے بنائے ہوئے کی طرح بنانے چلے بھلا کوئی چیونٹی یا گیہوں یا جو کا دانہ توبنادیں۔
حدیث ۴:صحیحین وسنن نسائی میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ المتفق علیہ کتاب اللباس باب التصاویر مطبع مجتبائی دہلی ص۳۸۵،صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۲،مسند احمد بن حنبل از مسند عبداﷲ بن عباس المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۳۰۸
صحیح البخاری کتاب اللباس باب التصاویر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۰،صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱
صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۲،صحیح بخاری کتاب اللباس باب التصاویر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۰
#6258 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
ان الذین یصنعون ھذہ الصور یعذبون یوم القیمۃ یقال لہم احیواما خلقتم ۔ بیشك یہ جو تصویریں بناتے ہیں قیامت کے دن عذاب کئے جائیں گے ان سے کہا جائے گایہ صورتیں جو تم نے بنائی تھیں ان میں جان ڈالو۔
حدیث ۵:مسند احمد وصحیحین وسنن نسائی میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من صور صورۃ فان اﷲ معذبہ حتی ینفخ فیہا الروح ولیس بنافخ ۔ جو کوئی تصویر بنائے تو بیشك اﷲ تعالی اسے عذاب کرے گا یہاں تك کہ ا س میں روح پھونکے اور نہ پھونك سکے گا۔
حدیث ۶:مسند احمد وجامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یخرج عنق من النار یوم القیمۃ لہ عینان تبصران و اذ نان تسمعان ولسان ینطق یقول انی وکلت بثلثۃ بکل جبار عنید وبکل من دعا مع اﷲ الھا اخرو بالمصورین ۔ قیامت کے دن جہنم سے ایك گردن نکلے گی جس کے د و آنکھیں ہوں گی دیکھنے والی اور دو کان سننے والے اور ایك زبان کلام کرتی وہ کہے گی میں تین فرقوں پر مسلط کی گئی ہوں جو اﷲ تعالی کا شریك بتائے اور ہر ظالم ہٹ دھرم اور تصویر بنانے والے ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب اللباس باب عذاب المصورین یوم القیمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۰،صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۱،سنن النسائی کتاب الزینۃ ذکر ما یکلف اصحاب الصور یوم القیامۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۳۰۰
صحیح البخاری کتاب البیوع باب بیع التصاویر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹۶،صحیح مسلم کتاب البیوع باب تحریم صورۃ الحیوان قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۲،مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۲۴۱ و ۲۴۶، سنن النسائی کتاب الزینۃ ذکر ما یکلف اصحاب الصور الخ نورمحمد کارخانہ کراچی ۲/ ۳۰۰
جامع الترمذی ابواب صفۃ جہنم باب ماجاء فی صفۃ النار امین کمپنی دہلی ۲/ ۸۱،مسند احمد بن حنبل از مسند ابی ہریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۳۶
#6280 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
حدیث ۷:امام احمد مسند اور طبرانی معجم کبیر اور ابونعیم حلیۃ الاولیاء میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اشد اھل النار عذابا یوم القیمۃ من قتل نبیا او قتلہ نبی اوامام جائر وہولاء المصورون ولفظ احمد اشد الناس عذابا یوم القیمۃ رجل قتل نبیا اوقتلہ نبی او رجل یضل الناس بغیر علم او مصور یصور التماثیل ۔ بیشك روز قیامت سب دوزخیوں میں زیادہ سخت عذاب اس پر ہے جس نے کسی نبی کو شہید کیا یا کسی نبی نے جہاد میں اسے قتل کیا یا بادشاہ ظالم یا جو شخص بے علم حاصل کئے لوگوں کو بہکانے لگے اور ان تصویر بنانے والوں پر۔
حدیث ۸:بیہقی شعب الایمان میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اشد الناس عذابا یوم القیمۃ من قتل نبیا اوقتلہ نبی اوقتل احد والدیہ والمصورون وعالم لم ینتفع بعلمہ ۔ بیشك روز قیامت سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ ہے جو کسی نبی کو شہید کرے یا کوئی نبی اسے جہاد میں قتل فرمائے یا جو اپنے ماں باپ کو قتل کرے اور تصویر بنانے والے اور وہ عالم جو علم پڑھ کر گمراہ ہو۔
حدیث ۹:امام مالك وامام احمد وامام بخاری وامام مسلم ونسائی وابن ماجہ حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے راوی:
قدم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من سفر و قد سترت سہوۃ لی بقرام فیہ تمأثیل فلما راہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سفر سے تشریف فرما ہوئے تھے میں نے ایك کھڑکی پر تصویر دار پردہ لٹکایا ہوا تھا جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واپس تشریف لائے اسے
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۹۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰/ ۲۶۰،حلیۃ الاولیاء ترجمہ ۲۵۳ خثیمہ بن عبدالرحمن دارالکتب العربی بیروت ۴/ ۱۲۲،مسند امام احمد بن حنبل از مسند عبداﷲ بن مسعود المکتبہ الاسلامی بیروت ۱/ ۴۰۷
شعب الایمان حدیث ۷۸۸۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/ ۱۹۷
#6281 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
تلون وجہہ وقال یا عائشۃ اشد الناس عذابا عنداﷲ یوم القیمۃ الذین یضاھؤن بخلق اﷲ وفی روایۃ للشیخین قام علی الباب فلم یدخل فعرفت فی وجہ الکراھیۃ فقلت یا رسول اﷲ اتوب الی اﷲ والی رسولہ فماذا اذنبت فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اصحاب ھذہ الصور یعذبون یوم القیمۃ فیقال لھم احیوا ما خلقتم و قال ان البیت الذی فیہ الصور لا تدخلہ الملئکۃ وفی اخری لہما تناول الستر فھتکہ وقال من اشد الناس عذابا یوم القیمۃ الذین یشبھون بخلق اﷲ ۔ ملاحظہ فرماکر رنگ چہرہ انور کا بدل گیا اندر تشریف نہ لائےام المومنین فرماتی ہیں میں نے عرض کی یا رسول اﷲ ! میں اﷲ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا خطا ہوئی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے وہ پردہ اتارکر پھینك دیا اور فرمایا اے عائشہ! اﷲ تعالی کے یہاں سخت تر عذاب روز قیامت ان مصوروں پرہے جو خدا کے بنائے ہوئے کی نقل کرتے ہیں ان پر روزقیامت عذاب ہوگا ان سے کہاجائے گا یہ جو تم نے بنایا ہے اس میں جان ڈالو جس گھر میں یہ تصویریں ہوتی ہیں اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔
حدیث ۱۰:ابوداؤد وترمذی ونسائی وابن حبان حضرت ابویرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روای رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اتانی جبریل علیہ الصلوۃ والسلام فقال لی مربرأس التماثیل یقطع فتصیر کہیأۃ الشجرۃ و امر بالستر فلیقطع فلیجعل وسادتین منبوذتین توطأان ھذا مختصرا۔ میرے پاس جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام نے حاضر ہوکر عرض کی حضور ! مورتوں کے لئے حکم دیں کہ ان کے سر کاٹ دئے جائیں کہ پیڑ کی طرح رہ جائیں اورتصویر دار پردے کے لئے حکم فرمائیں کہ کاٹ کر دو مسندیں بنالی جائیں کہ زمین پرڈال کر پاؤں سے روندی جائیں۔
ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حوالہ / References صحیح البخاری ۲/ ۸۸۰ وصحیح مسلم ۲/ ۲۰۱ وسنن النسائی ۲/ ۳۰۰ ومسند احمد بن حنبل ۶/ ۸۳ و ۲۱۹
صحیح البخاری ۲/ ۸۸۱ وصحیح مسلم ۲/ ۲۰۱
صحیح مسلم ۲/ ۲۰۰ وصحیح البخاری ۲/ ۸۸۰
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الصور آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۷،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی الملئکۃ لاتدخل بیتا الخ امین کمپنی کراچی ۲/ ۱۰۴
#6282 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
حدیث ۱۱ تا ۱۴:صحیح بخاری میں حضرت عبداﷲ بن عمر اور صحیح مسلم میں حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا اورنیز اسی میں حضرت ام المومنین میمونہ اور مسند امام احمد میں بسند صحیح حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہم سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی:
انا لاندخل بیتا فیہ کلب وصورۃ ۔ ہم ملائکہ رحمت اس گھر میں نہیں جاتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔
حدیث ۱۵:احمد ونسائی وابن اماجہ وابن خزیمہ وسعید بن منصور حضرت امیر المومنین علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:جبریل امین نے عرض کی:
انہا ثلث لم یلج ملك مادام فیہا واحد منہا کلب او جنابۃ اوصورۃ روح ۔ تین چیزیں ہیں کہ جب تك ان میں سے ایك بھی گھرمیں ہوگی کوئی فرشتہ رحمت وبرکت کا اس گھر میں داخل نہ ہوگا کتا یا جنب یاجاندار کی تصویر۔
حدیث ۱۶ و ۱۷:مسند احمد وصحیح بخاری وصحیح مسلم وجامع الترمذی وسنن نسائی وابن ماجہ میں حضرت ابوطلحہ اور سنن ابی داؤد و نسائی وصحیح ابن حبان میں حضرت امیر المؤمنین مولی علی رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتدخل الملئکۃ بیتا فیہ کلب ولاصورۃ ۔ رحمت کے فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔
حدیث ۱۸:نسائی وابن ماجہ وشاشی وابویعلی اور ابونعیم حلیہ اور ضیاء صحیح مختارہ میں امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی:
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب اللباس ۲/ ۸۸۱ وصحیح مسلم کتاب اللباس ۲/ ۱۹۹ و ۲۰۰
مسند احمد بن حنبل از مسند علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۸۵
صحیح البخاری کتاب بدء الخلق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۵۸،صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۰،سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی الصور آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۶،جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء ان الملائکۃ لا تدخل بیتا امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۰۳،سنن النسائی کتاب الزینۃ التصاویر ۲/ ۲۹۹ و کتاب الطہارۃ ۱/ ۵۱
#6283 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
صنعت طعاما فد عوت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فجاء فرأی تصاویر فرجع(زاد الاربعۃ الا خیرون)فقلت یا رسول اﷲ مارجعك بابی وامی قال ان فی البیت سترا فیہ تصاویر وان الملئکۃ لا تدخل بیتا فیہ تصاویر ۔ میں نے حضور پر نور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ کی دعوت کی حضور تشریف فرما ہوئے پردے پر کچھ تصویریں بنی دیکھیںواپس تشریف لے گئے(آخر ی چار میں یہ اضافہ ہے)میں نے عرض کی یار سول اﷲ میرے ماں باپ حضور پر نثار کس سبب سے حضور واپس ہوئےفرمایا گھر میں ا یك پردے پر تصویریں تھیں اور ملائکہ رحمت اس گھر میں نہیں جاتے جس میں تصویریں ہوں۔
حدیث ۱۹:صحیح بخاری وسنن ابی داؤد میں حضرت ام المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے:
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یکن یترك فی بیتہ شیئا فیہ تصالیب الا نقضہ ۔ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جس چیز میں تصویر ملاحظہ فرماتے اسے بے توڑے نہ چھوڑتے۔
حدیث ۲۰:مسلم وابوداؤد وترمذی حبان بن حصین سے راوی:
قال لی علی رضی اﷲ تعالی عنہ الا ابعثك علی مابعثنی علیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان لاتدع صورۃ الاطمستہا و لاقبرا مشرفا الا سویتہ ۔ورواہ ابو یعلی و ابن جریر فلم یسمیا حبان انما قالا عن علی انہ دعا صاحب شرطتہ مجھ سے امیرالمومنین مولا علی کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا کہ میں تمھیں اس کا م پرنہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے مامورفرما کر بھیجا کہ جو تصویر دیکھو اسے مٹاد و اور جو قبر حد شرع سے زیادہ اونچی پاؤ اسے حد شرع کے برابر کردو(بلندی قبر میں حد شرع ایك بالشت ہے)
حوالہ / References سنن النسائی کتاب الزینۃ التصاویر نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۳۰۰،کنز العمال بحوالہ الشاشی ع حل ص حدیث ۹۸۸۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۱۳۱ و ۱۳۲
صحیح البخاری کتاب اللباس ۲/ ۸۸۰ وسنن ابی داؤد کتاب اللباس ۲/ ۲۱۶
صحیح مسلم کتاب الجنائز ۱/ ۳۱۲ وسنن ابی داؤد کتاب الجنائز باب تسویۃ القبر ۲/ ۱۰۳،جامع الترمذی ابواب الجنائز باب ماجاء فی تسویۃ القبر امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۲۵
مسند ابی یعلی حدیث ۳۳۸ مؤسسۃ الرسالہ علوم القرآن بیروت ۱/ ۱۹۹
#6284 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
فقال لہ فذکرا بمعناہ۔ (اس کو ابویعلی اور ابن جریر دونوں نے روایت کیا مگر ان دونوں نے حبان بن حصین کانام نہیں بلکہ یوں فرمایا کہ حضرت علی(کرم اﷲ وجہہ)سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے کو توال کو بلایا اور اس سے ارشاد فرمایا۔آگے دونوں نے حدیث کا مفہوم ذکر فرمایا۔(ت)
حدیث ۲۱:امام بسند جید امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایك جنازے میں تھے حضور نے ارشاد فرمایا:
ایکم ینطلق الی المدینۃ فلا یدع بہا وثنا الاکسرہ ولا قبرا الاسواہ ولا صورۃ الا لطخہا۔ تم میں کون ایساہے مدینے جاکر ہر بت کو توڑ دے اور ہر قبر برابر کردے اور ہر تصویر مٹادے۔
ایك صاحب نے عرض کی:یا رسول اللہ۔فرمایا:تو جاؤ۔وہ جاکر واپس آئے اور عرض کی:یا رسول اللہ! میں نے سب بت توڑ دئے اورسب قبریں برابر کردیں اور سب تصویریں مٹا دیںرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
من عاد لصنعۃ شیئ من ھذا فقد کفر بما انزل علی محمد ۔ اب جو یہ سب چیزیں بنائے گا وہ کفروانکار کریگا اس چیز کے ساتھ جو محمد(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)پر نازل ہوئی۔
والعیاذ باﷲ رب العالمین(اﷲ تعالی کی پناہ جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
مسلمان بنظر ایمان دیکھے کہ صحیح وصریح حدیثوں میں اس پر کیسی سخت سخت وعیدیں فرمائی گئیں اوریہ تمام احادیث عام شامل محیط کامل ہیں جن میں اصلا کسی تصویر کسی طریقے کی تخصیص نہیں تو معظمین دین کی تصویروں کو ان احکام خدا اوررسول سے خارج کرنا محض باطل و وہم عاطل ہے بلکہ شرع مطہر میں زیادہ شدت عذاب تصاویر کی تعظیم ہی پر ہے۔اور خود ابتدائے بت پرستی انھیں تصویرات معظمین سے ہوئیقرآن عظیم میں جو پانچ بتوں کا ذکر سورہ نوح علیہ الصلوۃ والسلام میں فرمایا ود سواعیغوث یعوقنسر یہ پانچ بندگان صالحین تھے کہ لوگوں نے ان کے انتقال کے بعد باغوائے ابلیس لعین ان کی تصویریں بناکر ان کی مجلسوں میں قائم کیںپھر بعد کی آنے والی نسلوں نے انھیں معبود سمجھ لیا۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل از مسند علی رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۸۷
القرآن الکریم ۷۱ /۲۳
#6285 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
ود و سواع ویغوث ویعوق ونسراسماء رجال صالحین من قوم نوح فلما ہلکوا اوحی الشیطن الی قومہم ان انصبوا الی مجالسہم التی کانوا یجلسون انصابا وسموہا باسماھم ففعلوا فلم تعبد حتی اذا ھلك اولئك وتنسخ العلم عبدت ھذا مختصرا۔ ودسواعیغوثیعوق اور نسر حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے نیك لوگوں کے نام ہیں جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ جہاں وہ بیٹھتے تھے وہاں ان کی مجالس میں ان کے بت نصب کرواور ان کے نام لیا کروتو وہ ایسا ہی کرنے لگےپھر اس دور میں تو ان کی عبادت نہیں ہوئی مگر جب وہ لوگ ہلاك ہوگئے اور علم مٹ گیا سابق لوگوں کے بارے میں جہالت کا پردہ چھا گیا تو رفتہ رفتہ ان مجسموں کی عبادت وپرستش شروع ہوگئییہ حدیث کے مختصر الفاظ ہیں۔(ت)
باایں ہمہ اگر وساوس و ہوا جس سے تسکین نہ پائیں تو احادیث صحیحہ صریحہ سے خاص تصاویر معظمین کاجزئیہ لیجئے۔
حدیث ۲۲:صحیح بخاری میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
انہ قال دخل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم البیت فوجد فیہ صورۃ ابراہیم وصورۃ مریم علیہما الصلوۃ والسلام فقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم امالہم فقد سمعوا ان الملئکۃ لا تدخل بیتا فیہ صورۃ الحدیث ھذا لفظہ فی الانبیاء وفیہ ایضا ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضرت ابن عباس نے فرمایا:جب حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کعبہ شریف کے اندر تشریف لے گئے تو وہاں آپ نے حضرت ابراہیم اور سیدہ مریم علیہما الصلوۃ والسلام کی تصاویر پائیں حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آگاہ ہوجاؤ کہ آگاہ ہوجاؤ کہ تصویریں بنانے والوں نے بھی یہ بات سن رکھی تھی(یعنی ان کے کانوں تك بھی یہ بات پہنچی ہوئی تھی کہ)بیشك جس گھر میں تصویر ہو وہاں فرشتے نہیں آتے (الحدیث)یہ الفاظ حدیث کتاب الانبیاء میں
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التفسیر باب ودّا و سواعا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۳۲
صحیح البخاری کتا ب الانبیاء باب قول اﷲ عزوجل واتخذ اﷲ ابراھیم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۷۳
#6286 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
لما رأی الصور فی البیت لم یدخل حتی امر بھا فمحیت الحدیث وفی المغازی فاخرج صورۃ ابراھیم واسمعیل علیہما الصلوۃ والسلام الحدیث ہذہ کلہا روایات البخاری وذکر ابن ھشام فی سیرتہ قال وحدثنی بعض اھل العلم ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دخل البیت یوم الفتح فرأی فیہ صور الملئکۃ وغیرھم فرای ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام مصورا فذکر الحدیث الی ان قال ثم امر بتلك الصور کلہا فطمست ۔ آئے ہیںاور اسی میں ہے ____ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کعبہ شریف میں تصویریں دیکھیں تو اندر داخل نہ ہوئے یہاں تك کہ ان کے متعلق حکم فرمایا تو وہ مٹادی گئیں الحدیثاور مغازی میں ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما الصلوۃ والسلام کی تصاویر باہر نکال دی گئیں الحدیث یہ سب بخاری شریف کی روایات ہیں اور ابن ہشام نے اپنی سیرت میں بیان فرمایا کہ مجھ سے بعض اہل علم نے بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فتح کے روز بیت اﷲ شریف میں داخل ہوئے تو وہاں فرشتوں وغیرہ کی تصاویر دیکھیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مجسمہ دیکھاپھربقیہ حدیث ذکر فرمائییہاں تك کہ فرمایاپھر تمام تصاویر کے بارے میں حکم فرمایا کہ مٹادی جائیں تو وہ مٹادی گئیں(ت)
ان احادیث کا حاصل یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم روز فتح مکہ کعبہ معظمہ کے اندر تشریف فرما ہوئے اس میں حضرت ابراہیم وحضرت اسمعیل وحضرت مریم وملائکہ کرام علیہم الصلوۃ والسلام وغیرہم کی تصویریں نظر پڑیں کچھ پیکر دار کچھ نقش دیوارحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویسے ہی پلٹ آئے اور فرمایا خبردار رہو بیشك ان بنانے والوں کے کان تك بھی یہ بات پہنچی ہوئی تھی کہ جس گھر میں کوئی تصویر ہو اس میں ملائکہ رحمت نہیں جاتےپھر حکم فرمایا کہ جتنی تصویریں منقوش تھیں سب مٹادی گئیں اور جتنی مجسم تھیں سب باہر نکال دی گئیں انھیں بھی حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اﷲ وحضرت سیدنا اسمعیل ذبیح اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی ابنیہما الاکرم وعلیہما وبارك وسلم کی تصویریں بھی باہر لائی گئیں جب تك کعبہ معظمہ سب تصاویر سے پاك نہ ہوگیا حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اپنے قدم اکرم سے اسے شرف نہ بخشا۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الانبیاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۷۳
صحیح البخاری کتاب المغازی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۱۴
سیرۃ النبی لابن ہشام امر الرسول بطمس مابالبیت من صور دار ابن کثیر ۴/ ۳۲
#6287 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
حدیث ۲۳:مسند امام احمد میں جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما سے ہے:
قال کان فی الکعبۃ صور فامر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عمر بن الخطاب ان یمحوھا فبل عمررضی اﷲ تعالی عنہ ثوبا ومحاھا بہ فد خلہا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وما فیہا منھا شیئ ۔وفی حدیثہ عند الامام الواقدی وکان عمر قد ترك صورۃ ابراھیم فلما دخل صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم راھا فقال یاعمر الم آمرك ان لاتدع فیہا صورۃ ثم رای صورۃ مریم فقال امحواما فیہا من الصور قاتل اﷲ قوما یصورون ما لایخلقون ۔ھذا مختصرا۔ حضرت جابر نے فرمایا ایام جاہلیت میں کعبہ شریفہ کے اندر تصویریں تھیںحضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ کو حکم فرمایا کہ تصویری نقوش مٹادوتو حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے گیلے کپڑے کے ساتھ ان نقوش کو مٹادیا اس کے بعد حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کعبہ شریف میں داخل ہوئے تو وہاں کوئی تصویر ی نقش موجود نہ تھا اس سند میں امام واقدی کایہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ نے وہاں حضرت ابراہیم علیہم السلام کی تصویر چھوڑ دی تھی یعنی اسے نہیں مٹایا تھا۔پھر جب اندر تشریف لے جا کر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ سلم نے اسے دیکھا تو ارشاد فرمایا اے عمر! کیا میں نے تمھیں حکم نہ دیا تھا کہ یہاں کوئی تصویر باقی نہ رہنے دوپھر آپ نے سیدہ مریم کی تصویر دیکھی تو فرمایا یہاں جتنی بھی تصویریں ہیں ان سب کو مٹا دیا جائے اﷲ تعالی ایسے لوگوں کو برباد کرے جو ایسی چیزوں کی تصویریں بناتے ہیں جنھیں وہ پیدا نہیں کرسکتے۔
حدیث ۲۴:عمر بن شبہ حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دخل الکعبۃ فامرنی فاتیتہ بماء فی دلو فجعل یبل الثوب ویضرب بہ علی الصور و یقول قاتل اﷲ قوما یصورون ما لا یخلقون ۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کعبہ شریف میں داخل ہوئے تو مجھے حکم فرمایا تو میں پانی کا ڈول بھر کر لایا آپ خود بنفس نفیس اس پانی سے کپڑا ترکرنے لگے پھر ان تصویروں پر وہ بھیگا ہو اکپڑا رگڑتے ہوئے فرمانے لگے اﷲ تعالی ایسے لوگوں کو ہلاك کرے جو ایسی چیزوں کی تصویر کشی کرتے ہیں جنھیں وہ پیدا نہیں کرسکتے۔(ت)
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل از مسندجابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۳۹۶
کتاب المغازی للواقدی شان غزوۃ الفتح موسسۃ الاعلمی بیروت ۲/ ۸۳۴
فتح الباری بحوالہ عمر بن شبہ کتاب المغازی مصطفی البابی مصر ۹/ ۷۸،المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب العقیقہ حدیث ۵۲۶۵ وکتاب المغازی حدیث ۱۸۷۵۶ ۸/ ۲۹۶ و۱۴/ ۴۹۰
#6288 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
حدیث ۲۵:ابوبکر بن ابی شیبہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے راوی:
ان المسلمین تجردوا فی الازرو اخذ وا الدلاء و ارتجزوا علی زمزم یغسلون الکعبۃ ظہرھا وبطنہا فلم یدعوا اثر امن المشرکین الا محوہ اوغسلوہ ۔ (اس وقت)مسلمانوں نے اپنی اپنی چادریں اتاریں اور ڈول میں آب زمزم بھر بھرکر کعبہ شریف کو اندرون وبیرون سے خوب دھونے لگے چنانچہ مشرکین کے تمام نشانات شرك دھو ڈالے اور مٹادئے۔(ت)
حاصل ان احادیث کا یہ ہے کہ کعبہ میں جو تصویریں تھیں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کوحکم فرمایا کہ انھیں مٹادو۔ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اور دیگر صحابہ کرام چادریں اتار اتارکر امتثال حکم اقدس میں سرگرم ہوئے زمزم شریف سے ڈول کے ڈول بھر کر آتے اور کعبہ کو اندر باہر سے دھویا جاتا کپڑے بھگو بھگو کر تصویریں مٹائی جاتیں یہاں تك کہ وہ مشرکوں کے آثار سب دھوکر مٹادئے جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے خبر پائی کہ اب کوئی نشان باقی نہ رہا اس وقت اندر رونق افروزہوئے اتفاق سے بعض تصاویر مثل تصویر ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام کا نشان رہ گیا تھا پھر نظر فرمائی توحضرت مریم کی تصویر بھی صاف نہ دھلی تھی حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اﷲ تعالی عنہ سے ایك ڈول پانی منگا کر بنفس نفیس کپڑا تر کرکے ان کے مٹانے میں شرکت فرمائی اور ارشاد فرمایا:اﷲ کی ماران تصویر بنانے والوں پر۔فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے:
فی حدیث اسامۃ انہ صلی اﷲ تعالی علہ وسلم دخل الکعبۃ فرأی صورۃ ابراھیم فدعا بماء فجعل یمحوھا وھو محمول علی انہ بقیۃ تخفی علی من محاھا اولا ۔ حضرت اسامہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کعبہ شریف کے اندر تشریف لے گئے توکچھ تصاویر انمٹی دیکھ کر پانی منگوایا اور انھیں اپنے دست اقدس سے خود مٹانے لگے یہ حدیث اس پر محمول ہے کہ بعض تصویروں کے کچھ نشانات باقی رہ گئے تھے جنھیں پہلی دفعہ مٹانے والا نہ دیکھ سکا (تو حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے دوبارہ انھیں مٹادیا) (ت)
حدیث ۲۶:صحیحین میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے ہے:
لما اشتکی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے مرض میں بعض
حوالہ / References المصنف لابن ا بی شیبہ کتاب المغازی حدیث ۱۸۷۶۵ ادارۃ القرآن کراچی ۱۴/ ۴۹۴
فتح الباری کتاب المغازی باب این رکز النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الرایۃ یوم الفتح مصطفی البابی مصر ۹/ ۷۷، ۷۸
#6289 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
ذکر بعض نسائہ کنیسۃ یقال لہا ماریۃ وکانت ام سلمۃ وام حبیبۃ اتتاارض الحبشۃ فذکرتا من حسنہا وتصاویر فیہا فرفع رأسہ فقال اولئك اذا مات فیہم الرجل الصالح بنوا علی قبرہ مسجدا ثم صوروافیہ تلك الصور اولئك شرار خلق اﷲ ۔
فی المرقاۃ الرجل الصالح ای من نبی او ولی تلك الصور ای صور الصلحاء تذکیرا بہم وترغیبا فی العبادۃ لاجلہم الخ۔
ازواج مطہرات نے ایك گرجا کا ذکر کیا جس کا نام ماریہ تھا اور حضرت ام المومنین ام سلمہ وام المومنین ام حبیبہ ملك حبشہ میں ہو آئی تھیں ان دونوں بیبیوں نے ماریہ کی خوبصورتی اور اس کی تصویروں کا ذکر کیا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا یہ لوگ جب ان میں کوئی نیك بندہ نبی یا ولی انتقال کرتاہے اس کی قبر پر مسجد بناکر اس میں تبرکا اس کی تصویر لگاتے ہیں یہ لوگ بدترین خلق ہیں۔(ت)
مرقاۃ(ا زمحدث علی قاری)میں ہے مردصالح یعنی وہ نبی یا ولی فوت ہوجا تا اس کی تصاویر بناتے اور لٹکایا کرتے تھے ان کی یادگار اور ان کی وجہ سے عبادت میں رغبت دلانے کے لئے الخ(ت)
حدیث ۲۷:امام بخاری کتاب الصلوۃ جامع صحیح میں تعلیقا بلاقصہ اور عبدالرزاق وابوبکر بن ابی شیبہ اپنے اپنے مصنف اور بیہقی سنن میں اسلم مولی امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالی عنہ سے موصولا مع القصہ راوی جب امیر المومنین ملك شام کو تشریف لے گئے ایك زمیندار نے آکر عرض کی میں نے حضور کے لئے کھانا تیار کرایا ہے میں چاہتاہوں حضور قدم رنجہ فرمائیں کہ ہمچشموں میں میری عزت ہو امیر المومنین نے فرمایا:
انا لاندخل کنائسکم من اجل الصورالتی فیہا ۔ ہم ان کنیسوں میں نہیں جاتے جن میں یہ تصویریں ہوتی ہیں۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰہ فی البیعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۲،صحیح البخاری کتاب الجنائز باب المسجد علی القبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۹،صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۱
مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب التصاویر الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۸۲
المصنف لعبد الرزاق باب التماثیل وماجاء فیہ حدیث ۱۹۴۸۶ المکتب الاسلامی بیروت ۱۰/ ۳۹۷،صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰہ فی البیعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۲
#6290 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
بالجملہ حکم واضح ہے اور مسئلہ مستبین اور حرکات مذکورہ حرام بالیقین اور ان میں اعتقاد ثواب ضلال مبین اس شخص پرفرض ہے کہ اس حرکت سے باز آئے اور حرام میں ثواب کی امید سے نہ خود گمراہ ہونہ جاہل مسلمانوں کو گمراہ بنائے ان تصویروں کو نا اباد جنگل میں راہ سے دور نظر عوام سے بچا کر اس طرح دفن کردیں کہ جہال کو ان پر اصلا اطلاع نہ ہو یا کسی ایسے دریا میں کہ کبھی پایاب نہ ہوتا ہو نگاہ جاہلان سے خفیہ عمیق کنڈے میں یوں سپرد کریں کہ پانی کی موجوں سے کبھی ظاہر ہونے کا احتمال نہ ہو"واللہ یہدی من یشاء الی صرط مستقیم﴿۲۱۳﴾ " (اور اﷲ تعالی جسے چاہتاہے سیدھا راستہ دکھاتاہے۔ ت) یہ سب متعلق بتصاویرذی روح تھا۔ رہا نقشہ روضہ مبارکہ اس کے جواز میں اصلا مجال سخن وجائے دم زدن نہیں جس طرح ان تصویروں کی حرمت یقینی ہے یوں ہی اس کاجواز اجماعی ہے۔ ہر شرع مطہر میں ذی روح کی تصویر حرام فرمائی حدیث پانزدہم میں اس قید کی تصریح کردی حدیث اول میں ہے کہ ایك مصور نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کی خدمت والا میں حاضر ہو کر عرض کی میں تصویریں بنایا کرتاہوں اس کا فتوی دیجئے فرمایا:پاس آیا وہ پاس آیا فرمایا:پا س آ۔ وہ اور پاس آیا یہاں تك کہ حضرت نے اپنا دست مبارك اس کے سر پر رکھ کر فرمایا کیا میں تجھے نہ بتادوں وہ حدیث جو میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سنی پھر حدیث مذکور مصوروں کے جہنمی ہونے کی ارشاد فرمائی اس نے نہایت ٹھنڈی سانس لی حضرت نے فرمایا:
ویحك ان ابیت الا ان تصنع فعلیك بہذا الشجر وکل شیئ لیس فیہ روح افسوس تجھ پر اگر بے بنائے نہ بن آئے تو پیڑ اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنایا کر۔
ائمہ مذاہب اربعہ وغیرہم نے اس کے جواز کی تصریحیں فرمائیں تمام کتب مذاہب اس سے مملو ومشحون ہیں ہر چند مسئلہ واضح اور حق لائح ہے مگر تسکین اوہام وتثبیت عوام کے لئے ائمہ کرام علماء اعلام کی بعض سندیں اسباب میں پیش کروں کہ کن کن اکابردین واعاظم معتمدین نے مزار مقد س اور اس کے مثل نعل اقدس کے نقشے بنائے اور ان کی تعطیم اور ان سے تبرك کرتے ائے اور اسباب میں کیا کیا کلمات روح افزائے مومنین وجانگزائے منافقین ارشاد فرمائے:
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۱۳
مسند احمد بن حنبل ازمسند عبداﷲ بن عباس المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۳۰۸،صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۲،صحیح البخاری کتاب البیوع باب بیع التصاویر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹۶
#6291 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
(۱)امام عثیم بن نسطاس تابعی مدنی۔
(۲)امام محدث جلیل القدر ابونعیم صاحب حلیۃ الاولیاء
(۳)امام محدث علامہ ابوالفرج عبدالرحمن ابن الجوزی حنبلی
(۴)امام ابوالیمن ابن عساکر
(۵)امام تاج الدین فاکہانی صاحب فجر منیر۔
(۶)علامہ سید نور الدین علی بن احمد سمہودی مدنی شافعی صاحب کتاب الوفاء و وفاء الوفاء۔
(۷)سیدی عارف باﷲ محمد بن سلیمن جزولی صاحب الدلائل۔
(۸)امام محدث فقیہ احمد بن حجر مکی شافعی صاحب جوہر منظم۔
(۹)علامہ حسین بن محمد بن حسن دیار بکری صاحب الخمیس فی احوال النفس نفیس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
(۱۰)علامہ سیدی محمد بن عبدالباقی زرقانی مالکی شارح مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ۔
(۱۱)شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی صاحب جذب القلوب۔
(۱۲)محمد العاشق بن عمر الحافظ الرومی حنفی صاحب خلاصۃ الاخبار ترجمہ خلاصۃ الوفاء وغیرہم ائمہ و علماء
نے مزار اقدس واکرم سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقبور مقدسہ حضرات صدیق وفاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہما کے نقشے بنائے۔مواہب اور اس کی شرح میں ہے:
(قدروی ابوداؤد والحاکم من طریق القاسم بن محمد بن ابی بکر)الصدیق(قال دخلت علی عائشۃ فقلت یا امہ اکشفی لی عن قبر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)و صاحبیہ الحدیث(زاد الحاکم فرأیت رسول اﷲ)ای قبرہ(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم) مقدما وابابکر راسہ بین کتفی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ امام ابوداؤد اور حاکم نے حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق کی سند سے روایت کیا۔ فرمایا:میں سیدہ عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے عرض کیا:اما ں جان! حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور ان کے دو ساتھیوں کی قبور سے پردہ اٹھادیجئے(الحدیث)امام حاکم نے یہ اضافہ کیا(جب مائی صاحبہ نے قبور سے پردہ اٹھایا) تو میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قبر اطہر سب سے آگے دیکھی اوردوسری دو قبروں کی صورت یہ تھی کہ ابوبکر صدیق
#6292 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
وسلم وعمر راسہ عند رجلی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)قال ابو الیمن بن عساکر وھذہ صفتہ۔ کاسر مبارك حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دو کندھوں کے پاس تھا جبکہ فاروق اعظم کا سرمبارك حضور کے مبارك پاؤں کے متوازی ومتصل تھا
امام ابوالیمن بن عساکر نے فرمایا صورت نقشہ سامنے ہے:

(وروی ابوبکر الاجری)الحافظ الامام توفی فی محرم سنۃ ست وثلثمائۃ(فی کتاب صفۃ قبر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن عثیم بن نسطاس المدنی)تابعی مقبول کما فی التقریب(قال رأیت قبر النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی امارۃ عمر بن عبدالعزیز فرأیتہ مرتفعا نحوا من اربع اصابع و رأیت قبر ابی بکر وراء قبرہ ورأیت قبر ابی بکر اسفل منہ)ورواہ ابونعیم بزیادۃ وصورہ لنا۔ امام حافظ ابوبکر آجری(متوفی محرم ۳۰۶ھ)نے حضوراقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قبر اطہر کے بیان میں ارشاد فرمایا: عثیم بن نسطاس مدنی تابعی(جومقبول رواۃ میں سے ہیں جیسا کہ التقریب میں ہے)سے روایت ہے فرمایا میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ خلافت میں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قبر اقدس کی زیارت کی قبر اطہر زمین سے چار انگشت کے بقدر بلند تھی اور میں نے دیکھا کہ جناب صدیق اکبر کی قبر مبارك اس کے پیچھے اور اس سے نیچے تھی محدث ابونعیم نے کچھ اضافہ کرتے ہوئے راویت کیا ہے اور ہمارے لئے اس کی یہ تصویر ی صورت بیان فرمائی:(ت)
حوالہ / References €&۱€∞؎€& شرح الزرقانی علی المواہب اللدینۃ المقصد العاشر الفصل الثانی دارالمعرفۃبیروت €∞۸/۲۹۴€&
#6295 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
(وقد اختلف اہل السیر وغیرہم فی صفۃ القبور المقدسۃ علی سبع روایات اوردھا)ابوالیمن(ابن عساکر فی)کتابہ(تحفۃ الزائر)والصحیح منھا روایتان احدہما ماتقدم عن القاسم والاخری وبہا جزم رزین وغیرہ وعلیہا الاکثر کما قال المصنف فی الفصل الثانی و قال النووی انھا المشہورۃ والمسمہودی انہا اشہر الروایات ان قبرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الی القبلۃ مقدما بجدارہا ثم قبر ابی بکر حذاء منکبی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وقبر عمر حذامنکبی ابی بکر رضی اﷲ تعالی عنہما وہذا صفتہا: سیرت نگاروں نے قبور مقدسہ کی وضع یا ساخت میں جو اختلاف کیا ہے اس سلسلے میں سات روایات پائی جاتی ہیں ابوالیمن ابن عساکر نے وہ روایات اپنی کتاب ''تحفہ الزائر'' میں بیان کی ہیں ان میں سے صرف دوروایات صحیح ہیں ایك ان میں سے وہ ہے جو ابوالقاسم کے حوالے سے بیان ہوچکی ہے۔ اور دوسری روایت وہ جس پر محدث رزین وغیرہ نے اعتماد کیا ہے اور اسی پر اکثر اہل علم قائم ہیں جیسا کہ مصنف نے دوسری فصل میں فرمایا امام نووی کہتے ہیں کہ یہی مشہور ہے اور علامہ سمہودی نے فرمایا:زیادہ مشہور روایت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی قبر اطہر دیوار قبلہ سے متصل سب سے آگے ہے اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے شانوں کے بالمقابل حضرت ابوبکر صدیق ضی اﷲ تعالی عنہ کی قبر ہے پھر صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کے شانوں(کندھوں)کے بالمقابل حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کی قبر ہے۔ یہ ان قبور کی صورت ساخت ہے:(ت)
#6298 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
ومرت واحدۃ من الضعیفۃ ولاحاجۃ لذکر باقیھا اھ مافی المواہب و شرحہا ملتقطا قلت وقد ذکر السبع جمیعا الامام البدر محمود العینی فی عمدۃ القاری فراجعہا ان ھویت۔ ایك ضعیف روایت گزر چکی ہے اور بقیہ کے ذکر کی چنداں ضرورت نہیں جو کچھ موہب لدنیہ اور اس کی شرح میں منتخب کردہ عبارت تھی وہ مکمل ہوگئی میں کہتاہوں کہ پوری سات روایتوں کو امام بدرالدین محمود عینی نے اپنی شہر آفاق تصنیف عمدۃ القاری(شرح صحیح بخاری)میں ذکر فرمایا ہے اگر خواہش مطالعہ ہو تو اس سے رجوع کیاجائے۔ ت)
مطالع المسرات میں ہے:
وضع المولف صفۃ الروضۃ ھکذا۔ مؤلف نے روضۃ کی ساخت بیان کی جو کہ نقشہ ذیل کے مطابق کچھ اس طرح ہے۔(ت)

ابوبکر مؤخر قلیلا عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خلفہ وعمر خلف رجل ابی بکر وروی ابوداؤد والحاکم وصحح اسنادہ عن القاسم بن محمد الحدیث قال السمہودی وھذا ارجح ماروی عن القاسم ثم صورھا عن ابن عساکر ھکذا۔ حضرت ابوبکر رصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کچھ تھوڑا پیچھے ہیں اور حضرت عمر فاروق حضرت ابو بکر صدیق کے پاؤں والی حد سے قدرے پیچھے ہیں امام ابوداؤد اورحاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت قاسم بن محمد سے روایت کی ہے۔(الحدیث)علامہ سمہودی نے فرمایاکہ یہ زیادہ راجح ہے جو کچھ حضرت قاسم سے روایت کیا گیا ہے پھر انھوں نے ابن عساکر کے حوالے سے اس کی تصویر (نقشہ) کچھ اس طرح بیان فرمائی:(ت)
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواہب اللدینۃ المقصد العاشر الفصل الثانی دارالمعرفۃ بیروت ۸/ ۹۶۔ ۲۹۵
#6301 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
وصدر ابوالفتح ابن الجوزی بوضعہا ھکذا ونسب ابن حجر ھذہ الصفۃ الی الاکثر اھ مختصرا قلت و وقع ھہنا فی الکتاب تخلیط واضطراب نبھت علیہ علی ھامشہ وزادہ سید المرتضی فی النقل عنہ فی شرح الاحیاء لم اجدہ فی نسختی شرح الدلائل ولا ہو صحیح فی نفسہ وذلك انہ لم یذکر فی المطالع عن ابن الجوزی صورۃ جدیدۃ فکان قولہ ہکذا اشارۃ الی مامر و ہو الذی نسبہ ابن حجر الی الجمہور والاکثر کما ستمسع فیما یذکر اما المرتضی فنقل تصویرہ عن المطالع عن ابن الجوزی بعد قولہ حافظ ابوالفرج بن جوزی نے ان کی وضع(یعنی قبور مقدسہ کی ساخت)کچھ اس طرح بیان فرمائی اور علامہ ابن حجر نے اس صورت وضع کو اکثر اہل علم سے منسوب کیا ہے(مختصر عبارت مکمل ہوئی)میں کہتاہوں کہ اس کے باوجود یہاں کتاب میں کچھ خلط ملط اور اشتباہ پایا جاتاہے میں نے اس پر اس کے حاشیہ میں تنبیہ کی ہے سید مرتضی نے شرح احیاء العلوم میں اپنے حاشیہ میں تنبیہ فرماتے ہوئے ان سے نقل کرنے میں کچھ اضافہ فرمایا لیکن میں نے اسے شرح دلائل الخیرات کے اپنے نسخہ میں نہیں پایا اور فی ذاتہ وہ صحیح بھی نہیں اس لئے کہ مطالع المسرات میں ابن جوزی کے حوالے سے کوئی نئی صورت نہیں ذکر کی گئی لہذا ابن جوزی کا قول ہکذا اسی گزشتہ قول کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ وہی ہے جس کو علامہ ابن حجر نے جمہور اور اکثر کی طرف سے منسو ب کیا ہے جیسا کہ ائندہ ذکر کیا جاتاہے آپ سنیں گے لیکن سید مرتضی نے اس کی تصویر مطالع المسرات سے ابن جوزی کے قول ہکذا کہنے کے بعد کچھ اس طرح نقل فرمائی ہے جو نقشہ ذیل
حوالہ / References مطالع المسرات المکتبہ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ص ۴۹۔ ۱۴۸
#6304 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
ھکذا ھکذا۔ سے ظاہر ہے:(ت)

ثم عقبہ بقولہ ونسب ابن حجر ہذاہ الصفۃ الی الاکثر الخ فلا ادری لعل ھذا الغلط فی التصویر من النساخ واﷲ تعالی اعلم۔ پھر اسے اپنے اس قول کے بعد لائے ہیں کہ علامہ ابن حجر نے اس صفت کو اکثر کی طرف منسوب کیا ہے الخ میں نہیں جانتا کہ شاید تصویر میں یہ لفظ غلطی کرنے والوں کی طرف سے اضافہ ہوگیا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
جو ہر منظم امام ابن حجر میں ہے:
یسن لہ بل یتاکد علیہ اذا فرغ من السلام علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یتاخر الی صوب یمینہ قدر ذراع للسلام علی ابی بکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ وکرم وجہہ لان راسہ عند منکب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثم یتاخر الی یمینہ ایضا قدر ذراع للسلام علی سیدنا عمر رضی اﷲ تعالی عنہ لان راسہ عند منکب ابی بکر وہذہ صورۃ القبور الثلثۃ الکریمۃ علی الاصح المذکور وعلیہ الجمہور تاکیدی سنت ہے کہ جب زائر حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی ذات اقدس پرسلام پیش کرنے سے فارغ ہو تو حضرت ابو بکر صدیق کو سلام پیش کرنے کے لئے بقدر ایك ہاتھ اپنی دائیں جنوبی سمت پیچھے ہٹ جائے(اﷲ تعالی ان سے راضی ہو اور ان کے چہرے کو رونق بخشے)کیونکہ ان کا سر مبارك حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے شانوں کے بالمقابل ہے پھر دائیں جانب ایك ہاتھ کے بقدر مزید پیچھے ہو جائے تاکہ سید نا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کی خدمت میں سلام پیش کرسکے کیونکہ ان کا سر مبارك حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کے کندھوں کے بالمقابل ہے۔ زیادہ صحیح قول مذکور کے مطابق
حوالہ / References اتحاف السادۃ المتقین الجملۃ العاشرۃ صفۃ الروضۃ المشرفۃ الخ دارالفکر بیروت ۴/ ۲۱۔۴۲۰
#6308 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
ثم قال بعد التصویر اخترت وضعہا علی ہذہ الکیفیۃ لانہا لمطابقۃ للواقع عند توجہ الزائر الیہم الخ۔ قبور ثلاثہ کی یہی صورت واقع ہے اور اسی پر جمہور کا اتفاق ہے پھر تصویر کے بعد فرمایامیں نے اس کیفیت کے مطابق صورت وضع قبر اختیار کی ہے اس لئے کہ یہی واقع کے مطابق ہے جب زائر ان کی طرف منہ کرے الخ(ت)
اگر معاذاﷲ دلائل الخیرات شریف سے نقشہ مقدسہ نکالا جائے تو نہ صرف دلائل بلکہ ان سب کتب احادیث وسیر وغیرہما کے اوراق چاك کئے جائیں اور ان ائمہ محدثین کے بنائے ہوئے نقشوں کا کیا علاج ہوجو زمانہ تابعین وتبع تابعین سے قرنا فقرنا روایت حدیث میں نقشے بناتے آئے اﷲ عزوجل افراط وتفریط کی آفت سے بچائے دلا ئل الخیرات شریف کو تالیف ہوئے پونے پانسوبرس گزرے جب سے یہ کتاب مستطاب شرقا غربا عربا عجما تمام جہاں کے علماء واولیاء وصلحاء میں حرزجان ووظیفہ ودین وایمان ہورہی ہے یہ حسن قبول خدا ور سول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زید وعمر کے مٹائے نہیں مٹ سکتا
ہمہ شیران جہاں بستہ ایں سلسلہ اند روبہ از حیلہ چساں بگسلد ایں سلسلہ را
(دنیا کے سارے شیر اسی سلسلے میں بندھے ہوئے ہیں لہذا کسی حیلہ سے لومڑی اس سلسلہ کو کیسے کاٹ سکتی ہے۔ ت)
ہاں اب نئے زمانے فتنہ کے گھرانے میں وہ گمراہ بھی پیدا ہوئے جو عیاذا باﷲ دلائل الخیرات کو معدن شرك و بدعات کہتے ہیں مگر ان کے بکنے سے امت مرحومہ کا اتفاق واطباق نہیں ٹوٹ سکتا
مہ فشاند نور وسگ عو عوکند ہر کسے برخلقت خود می تند
(چاند نور بکھیرتا ہے مگر کتے اسے بھونکتے ہیں درحقیقت ہر ایك اپنی اپنی تخلیق میں تنا ہوا اورکسا ہوا ہے۔ ت)
کشف الظنون میں ہے:
دلائل الخیرات آیۃ من ایات اﷲ یواظب بقراء تہ فی المشارق والمغارب وللدلائل اختلاف فی النسخ لکثرۃ روایتہا عن المؤلف رحمہ اﷲ تعالی یعنی کتاب دلائل الخیرات اﷲ تعالی کی آیتوں میں سے ایك آیت ہے کہ مشارق ومغارب میں ہمیشہ پڑھی جاتی ہے اس کے نسخے مختلف ہیں کہ مؤلف رحمہ اﷲ تعالی سے اس کی روایت بکثرت ہوئی مگر
حوالہ / References الجوہر المنظم الفصل السابع فیما ینبغی للزائر فعلہ الخ المکتبۃ القادریہ جامع نظامیہ لاہور ص۵۰
#6311 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
لکن المعتبر نسخۃ ابی عبداﷲ محمد السہیلی کان المؤلف صححہا قبل وفاتہ بثمان سنین سادس ربیع الاول ۸۶۲ھ ملخصا۔ معتبر ابو عبداﷲ محمد سہیلی کانسخہ ہے کہ مؤلف قدس سرہ نے وصال شریف سے آٹھ برس پہلے ششم ربیع الاول ۸۶۲ھ کو اس کی تصحیح فرمائی تھی۔
(۱۳)علامہ محمد بن احمد بن علی فاسی قصری مطالع میں فرماتے ہیں:
اعقب المؤلف رحمہ اﷲ تعالی ورضی عنہ ترجمۃ الاسماء بترجمۃ صفۃ الروضۃ المبارکۃ موافقا وتابعا للشیخ تاج الدین الفاکہانی فانہ عقد فی کتاب الفجر المنیر بابا فی صفۃ القبور المقدسۃ ومن فوائد ذلك ان یزور المثال من لم یتمکن من زیارۃ الروضۃ ویشاہدہ مشتاق ویلثمہ ویزداد فیہ حباو شوقا ۔ مؤلف رضی اﷲ تعالی عنہ نے فصل اسماء طیبہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے بعد صفت روضہ مبارکہ کی فصل بہ تبعیت وموافقت امام تاج الدین فاکہانی ذکر فرمائی کہ انھوں نے بھی اپنی کتاب فجر منیر میں خاص ایك باب ذکر کیا اور اس میں بہت فائدے ہیں از انجملہ یہ کہ جسے روضہ مبارکہ کی زیارت میسرنہ ہوئی وہ اس نقشہ پاك کی زیارت کرے مشتاق اسے دیکھے اور بوسہ دے اور نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی محبت اور حضور کا شوق اس کے دل میں بڑھے۔
اللھم ارزقنا امین(اے اللہ! ہمیں بھی یہ نصیب فرما اور ہماری یہ درخواست قبول فرما۔ ت)
(۱۴)اسی میں ہے:
قد کنت رأیت تالیفا لبعض المشارقۃ یقول فیما انہ ینبغی لذاکر(اسم)الجلالۃ من المریدین ان یکتبہ بالذھب فی ورقۃ ویجعلہ نصب عینیہ فاذا صور قاری ہذا الکتاب الروضۃ صورۃ حسنۃ بالوان حسنۃ و خصوصا بالذھب فہو من معنی ذلك ۔ میں نے بعض علماء مشرق کی تالیف میں دیکھا کہ جو مرید اسم پاك اﷲ کا ذکر کرے اسے چاہئے کہ نام پاك اﷲ ایك ورق میں سونے سے لکھ کر اپنے پیش نظر رکھے تو جب اس کتاب کو پڑھنے والا روضہ مقدسہ کی خوبصورت تصویر خوشنما رنگوں سے رنگین خصوصا آب زر سے بنائے تو وہ اسی قبیل سے ہے۔
حوالہ / References کشف الظنون باب الدال المہلۃ دلائل الخیرات منشورات مکتبہ المثنی بغداد ۱/ ۷۵۹
مطالع المسرات المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ص۱۴۴
مطالع المسرات المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ص ۱۴۵
#6317 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
(۱۵)اسی میں ہے:
وقد ذکر بعض من تکلم علی الاذکار و کیفیتۃ التربیۃ بہا انہ اذا کمل لا الہ الا اﷲ بمحمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلیشخص بین عینیہ ذاتہ الکریمۃ بشریۃ من نور فی ثیاب من نور یعنی لتنطبع صورتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی روحانیتہ و یتألف معہا تألفا یتمکن بہ من الاستفادۃ من اسرارہ والا قتباس من انوارہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فان لم یزرق تشخص صورتہ فیری کانہ جالس عند قبرہ المبارك یشیر الیہ متی ماذکرہ فان القلب متی ماشغلہ شیئ امتنع من قبول غیرہ فی الوقت الی اخر کلامہ فیحتاج الی تصویر الروضۃ المشرفۃ والقبور المقدسۃ لیعرف صورتہا و یشخصھا بین عینیہ من لم یعرف من المصلین علیہ فی ھذا الکتاب وہم عامۃ الناس وجمہورھم ۔ بعض اولیاء کرام جنھوں نے ذکر وشغل سے تربیت مریدین کی کیفیت ارشاد کی بیان فرماتے ہیں کہ جب ذکر لا الہ الا اﷲ کو محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے کامل کرلے تو چاہئے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا تصور اپنے پش نظر جمائے بشری صورت نور کی طلعت نورکے لباس میں تاکہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت کریمہ ا س کے آئینہ دل میں جم جائے اور اس سے وہ الفت پیدا ہو جس کے سبب حضور کے اسرار سے فائدہ لے حضور کے انوار کے پھول چنے اور جسے یہ تصور میسر نہ ہو وہ یہی خیال جمائے کہ گویا مزار مبارك کے سامنے حاضر ہے اور ہر بار جب ذکر میں نام پاك آئے تصور میں مزار اقدس کی طرف اشارہ کرتا جائے کہ دل جب ایك چیز سے مشغول ہوجاتاہے پھر اس وقت دوسری چیز قبول نہیں کرتا تو اب روضہ مطہرہ وقبور مطہرہ کی تصویر بنانے کی حاجت ہوئی کہ جن دلائل الخیرات پڑھنے والوں نے ان کی زیارت نہ کی اور اکثر ایسے ہی ہیں وہ انھیں پہچان لیں اور ذکر کے وقت ان کا تصور ذہن میں جمائیں۔
(۱۶)اسی میں ہے:
وقد استنابوامثال النعل عن النعل وجعلوہ لہ من الاکرام والاحترام ماللمنوب عنہ وذکروالہ خواصا و برکات وقد جربت وقال فیہ اشعارا علمائے کرام نے نعل مقدس کے نقشے کو نعل مقدس کا قائم مقام بنایا اور اس کے لئے وہی اکرام واحترام جو اصل کے لئے تھا ثابت ٹھہرایا اور اس
حوالہ / References مطالع المسرات المکتبہ النوریۃ رضویۃ فیصل آباد ص۱۴۴، ۱۴۵
#6320 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
کثیرۃ والفوا فی صورتہ ورووہ بالاسانید وقد قال القائل:
اذا ماالشوق اقلقنی الیہا
ولم اظفر بمطلوبی لدیھا
نقشت مثالہا فی الکف نقشا
وقلت لنا ظری قصرا علیہا نقشہ مبارك کےلئے خواص وبرکات ذکر فرمائے اور بلاشبہہ وہ تجربے میں آئے اور اس میں بکثرت اشعار کہے اور اس کی تصویر میں رسالے تصنیف کئے اور اسے سندوں کے ساتھ روایت کیا اور کہنے والے نے کہا:
جب اس کی آتش شوق میرے سینے میں بھڑکتی ہے اور اس کا دیدار میسر نہیں ہوتا اس کی تصویر ہاتھ پر کھینچ کر آنکھ سے کہتاہوں اسی پر بس کر۔
(۱۷)علامہ تاج فاکہانی فجر منیر میں فرماتے ہیں:
من فوائد ذلك ان من لم یمکنہ زیارۃ الروضۃ فلیبرز مثالہا ولیلثمہ مشتاقا لانہ ناب مناب الاصل کما قد ناب مثال نعلہ الشریفۃ مناب عینہا فی المنافع والخواص شہادۃ التجربۃ الصحیحۃ و لذا جعلوا لہ من الاکرام والاحترام مایجعلون للمنوب عنہ الخ۔ نقشہ روضہ مبارك کے لکھنے میں ایك فائدہ یہ ہے کہ جسے اصل روضہ اقدس کی زیارت نہ ملی وہ اس کی زیارت کرے اور شوق دل کے ساتھ اسے بوسہ دے کہ یہ مثال اسی اصل کے قائم مقام ہے جیسے نقشہ نعل مقدس منافع وخواص میں بالیقین اس کا قائم مقام ہے جس پر صحیح تجربہ شاہد عدل ہے ولہذا علمائے دین نے نقشے کا اعزاز واعظام وہی رکھا جو اصل کا رکھتے ہیں۔
(۱۸)حضر ت مصنف دلائل قدس سرہ العزیز اس کی شرح کبیر میں اسے نقل فرماتے اور علامہ ممدوح کی متابعت ظاہر کرتے ہیں:
حیث قال انما ذکرتہا تابعا للشیخ تاج الدین الفاکہانی فانہ عقد فی کتابہ الفجر المنیر بابا فی صفۃ القبور المقدسۃ و چنانچہ مصنف دلائل الخیرات نے فرمایا میں نے علامہ تاج الدین فاکہانی کے اتباع میں اس کا ذکر کیا ہے اس لئے کہ موصوف نے اپنی کتاب الفجر المنیر میں قبور مقدسہ کی صورت وضع
حوالہ / References مطالع المسرات المکتبہ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ص۱۴۴
فجر منیر
#6321 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
قال ومن فوائد ذلك الخ۔ میں ایك باب باندھا اور فرمایا ان فوائد میں سے ایك فائدہ یہ ہے الخ۔(ت)
(۱۹)امام ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن خلف السلمی الشہیر بابن الحاج المترلی الاندلسی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے نقشہ نعل مقدس کے بیان میں مستقل کتاب تالیف فرمائی۔
(۲۰)اسی طرح ان کے تلمیذ شیخ عزیز ابوالیمن ابن عساکر نے نفیس وجلیل کتاب مسمی بہ خدمت النعل للقدم المحمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لکھی جس کے ساتھ اکابر ائمہ نے مثل کتب حدیث روایۃ وسماعا وقرائۃ اعتنائے تام کیا۔
(۲۱)امام احمد بن محمد خطیب قسطلانی صاحب ارشاد الساری شرح صحیح بخاری مواہب لدنیہ و منح محمد یہ میں فرماتے ہیں:
قدذکر ابوالیمن ابن عساکر تمثال نعلہ الکریمۃ علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم فی جزء مفرد رویتہ قرائۃ وسماعا وکذا افردہ بالتالیف ابواسحق ابراہیم بن محمد بن خلف السلمی المشہور بابن الحاج من اہل المریۃ بالاندلس وکذا غیر ہما واﷲ درابی الیمن بن عساکر حیث قال:
یا منشدا فی رسم ربع خال ومناشدا لدوارس الاطلال دع ندب آثار وذکر مآثر
لاحبۃ بانوا وعصر خال والثم ثری الاثر الکریم فحبذا ان فزت منہ بلثم ذا التمثال
صافح بہا خدا اوعفر وجنۃ فی تربھا وجد اوفرط تغال یاشبہ نعل المصطفی روحی الفدا
لمحلك الاسمی الشریف العال ھملت لمرآك العیون وقد نأی مرمی العیان بغیرما اہمال
وتذکرت عہد العقیق فتاثرت شوقا عقیق المدمع الہطال اذکر تنی قد مالہا قدم العلاء
والجود و المعروف و الافضال لوان خدی یحتذی نعلا لہا لبلغت من نیل المنی آمال
اوان اجفانی لوطء نعالھا ارض سمت عزابذا الاذلال اھ بالالتقاط
خلاصہ یہ کہ ابوالیمن ابن عساکر نے نقشہ نعل اقدس کے باب میں ایك مستقل جز تالیف کیا جسے میں نے استاد پر پڑھ کر اور استاد سے سن کر روایت کیا اور اسی طرح ابن الحاج اندلسی وغیرہما علماء نے اس
حوالہ / References مطالع المسرات المکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۴۴
اللمواہب اللدینہ المقصد الثالث الفصل الثالث لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۶۶ تا ۴۶۸
#6322 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
بارہ میں مستقل تصنیفیں کیں اور اﷲ عزوجل کے لئے ہے خوبی ابوالیمن ابن عساکر کی کیا خوب قصیدہ مدح شبیہ شریف میں لکھا ہے جس میں فرماتے ہیں اے فانی کی یاد کرنے والے ان چیزوں کی یاد چھوڑ اور تبرکات شریفہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خاکبوسی کر زہے نصیب اگرتجھے اس تصویر نعل مبارك کا بوسہ ملے اپنا رخسارہ اس پر رکھ اور اس کی خاك پر اپنا چہرہ مل اے نعل مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تصویر! تیری عزت وشرف بلند پرمیری جان قربان تجھے دیکھ کر آنکھیں ایسی بہ نکلیں کہ اب تھمنا بہت دور ہے تجھے دیکھ کر انھیں مدینے کی وادی عقیق میں مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی رفتار یاد آگئی لہذا اب اپنے اشك رواں کے سرخ سرخ عقیق نچھاور کررہے ہیں اے تصویر نعل مبارک! تو نے مجھے وہ قدم پاك یاد دلادیا جس کے بلندی وجود واحسان وفضل قدیم سے ہیں اگرمیرا رخسارہ تراش کر اس قدم پاك کے لئے کفش بناتے تو دل کی تمنا بر آتی یا میری آنکھ ان کی کفش مبارك کے لئے زمین ہوتی تو اس زمین ہونے سے عزت کا آسمان بن جاتی ع
جزاك اﷲ خیرا یا اباالیمن
(اے ابوالیمن! اﷲ تعالی تمھیں بہترین صلہ عطا فرمائے۔ ت)
(۲۲)ابوالحکم بن عبدالرحمن الشہیر بابن المرحل کہ فضلائے مغاربہ سے ہیں امام بقیۃ الحفاظ ابن حجر عسقلانی نے تبصیر میں ان کا ذکر لکھا وصف نقش مبارك میں ان کا قصیدہ غرا شیخ ابن الحاج نے اپنی کتاب مذکورمیں ذکر کیا امام قسطلانی نے اسے مااحسنہا کہا یعنی کیا خوب فرمایا اس کے بعض ابیات کریمہ مواہب میں یہ ہیں:
مثال لنعلی من احب ھویتہ فہا انا فی یومی ولیلی لاثمہ
اجر علی راسی ووجہی ادیمہ والثمہ طوراوطورا الازمہ
امثلہ فی رجل اکرم من مشی فتبصرہ عینی وماانا حالمہ
احرك خدی ثم احسب وقعہ علی وجنتی خطواھناك یداومہ
ومن لی بوقع النعل فی حر وجنتی لما ش علت فوق النجوم براجمہ
ساجعلہ فوق الترائب عوذۃ لقلبی لعل القلب یبرد حاجمہ
واربطہ فوق الشوؤن تمیمۃ لجفنی لعل الجفن یرقاء ساجمہ
الابابی تمثال نعل محمد لطاب لحاذیہ وقدس خادمہ
یودھلال الافق لوانہ ھوی ینرا حمنا فی لثمہ ونزاحمہ
#6323 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
سلام علیہ کلما ھبت الصبا وغنت باغصان الاراك حمائمہ
اپنے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی تصویر نعل پاك کومیں دوست رکھتا اور رات دن اسے بوسہ دیتاہوں اپنے سر اور منہ پر رکھتااور کبھی چومتا کبھی سینے سے لگاتاہوں میں اپنے دھیان میں اسے محبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پائے اقدس میں تصور کرتا ہوں تو شدت صدق تصور سے گویا اپنی آنکھوں سے جاگتے میں دیکھ لیتاہوں اس نقش پاك کو اپنے رخسارے پر رکھ کر جنبش دیتااور یہ خیال کرتا ہوں کہ گویا وہ اسے پہنے ہوئے میرے رخسارے پر چل رہے ہیں آہ کون ایسی صورت کردے کہ وہ پائے مبارك جو ستارگان آسمان ہشتم کے سروں پر بلند ہوئے ان کی کفش مبارك چلنے میں میرے رخسارے پر پڑے میں نقشہ نعل پاك کو اپنے سینے پر دل کا تعویز بنا کر رکھوں گا شاید دل کی آنکھ ٹھنڈی ہو میں اسے سرپر آنکھوں کا تعویذ بنا کر باندھوں گا شاید بہتی پلکیں رکیں سن لو تصویر کفش مقدس پر میرا باپ نثار کیااچھا ہے اس کا بنانے والا اور جو اس کی خدمت کرے پاك ہوجائے ماہ نور کی تمنا ہے کاش آسمان سے اتر کر اس نقشہ مبارك کے بوسے میں ہم اور وہ باہم مزاحمت کرتے اﷲ عزوجل کا سلام اترے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر جب تك بادصبا چلے اور جب تك درخت اراك کی ڈالیوں پر کبوترگونجیں اللھم صل وسلم وبارك علیہ وعلی الہ وامتہ ابدا آمین(یا اﷲ! ان پر درود وسلام اور برکت نازل فرما اور ان کی آل اور امت پر ہمیشہ ہمیشہ اپنی رحمت فرما یہی میری دعا ہے اسے قبول فرما۔ ت)(۲۳)نیز مواہب لدنیہ میں ہے:
من بعض ماذ کر من فضلہا وجرب من نفعہا و برکتہا ماذکرہ ابوجعفر احمد بن عبدالمجید وکان شیخا صالحا ورعاقال حذوت ہذا المثال لبض الطلبۃ فجاء نی یوم فقال رأیت البارحۃ من برکۃ ھذا النعل عجبا اصاب زوجی وجع شدید کادیھلکہا فجعلت النعل علی موضع الوجع و قلت اللہم ارنی برکۃ صاحب ھذا النعل فشفاھا اﷲ للحین ۔ اس مثال مبارك کے فضائل جو ذکر کئے گئے ہیں اور اس کے منافع وبرکات جو تجربے میں آئے ان میں سے وہ ہیں جو شیخ صالح صاحب ورع وتقوی ابوجعفر احمد بن عبدالمجید نے بیان فرمائے کہ میں نے نعل مقدس کی مثال اپنے بعض تلامذہ کو بنادی تھی ایك روز انھوں نے آکر کہا رات میں نے اسے اس مثال مبارك کی عجیب برکت دیکھی میری زوجہ کو ایك سخت درد لاحق ہوا کہ مرنے کے قریب ہوگئی میں نے مثال مبارك موضع درد پر رکھ کر دعا کی کہ الہی! اس کی برکت سے شفا ء دے اﷲ عزوجل نے فورا شفابخشی۔
حوالہ / References المواہب اللدنیہ المقصد الثالث الفصل الثالث لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۶۹
المواہب اللدنیہ المقصد الثالث الفصل الثالث لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۶۹
#6324 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
(۲۴)نیز امام قسطلانی فرماتے ہں کہ ابواسحاق ابراہیم بن الحاج فرماتے ہیں کہ ان کے شیخ الشیخ ابوالقاسم بن محمد فرماتے ہیں:
ومما جرب من برکتہ ان من امسکہ عندہ متبرکابہ کان لہ امانا من بغی البغاۃ وغلبۃ العداۃ وحر زا من کل شیطان مارد وعین کل حاسد وان امسکت المرأۃ الحامل بیمینہا وقد اشتد علیہا الطلق تیسرامرھا بحول اﷲ تعالی وقوتہ ۔ نقشہ نعل مبارك کی آزمائی ہوئی برکات سے یہ ہے کہ جو شخص بہ نیت تبرك اسے اپنے پاس رکھے ظالموں کے ظلم اور دشمنوں کے غلبے سے امان پائے اور وہ نقشہ مبارك ہر شیطان سرکش اور حاسد کے چشم زخم سے اس کی پناہ ہوجائے اور زن حاملہ میں شدت درد زہ میں اگر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں لے بعنایت الہی اس کا کام آسان ہو۔
(۲۵)علامہ ابن حجر مقری تلمسانی نے اس باب میں دو مستقل کتابیں تصنیف فرمائی ایك النفخات العنبریۃ فی وصف نعل خیرا لبریۃ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کہ وجیز ونافع ہے۔ دوسری فتح المتعال فی مدح خیر النعال کہ بسیط وجامع ہے ان کتب مبارك میں عجب عجب فضائل وبرکات ودفع بلیات وقضائے حاجات کے جو اس نقشہ مبارکہ سے مشاہدہ کئے اور سلف صالح ومعاصرین صالحین نے دیکھے بکثرت بیان فرمائے ان کاذکر باعث تطویل ہے جو چاہے فتح المتعال مطالعہ کرے اب ہم بنظر اختصار ان باقی ائمہ واعلام کے بعض گرامی نام شمار کرنے پر اقتصار کریں جنھوں نے نقشہ مبارکہ بنوایا بناکر اپنے تلامذہ کو عطافرمایا۔ ا س سے تبرك کیا اس کی مدحیں لکھیں اس سے فیض وبرکت حاصل کرنے اسے سر آنکھوں پر رکھنے بوسہ دینے کی ترغیبیں کیں احادیث کی طرح باہتمام تام اس کی روایتیں فرمائیں جسے تفصیل دیکھنی ہو فتح المتعال وغیرہ کی طرف رجوع لائے وباﷲ التوفیق۔
(۲۶)امام اجل ابواویس عبداﷲ بن عبداﷲ بن اویس ابوالفضل بن مالك بن ابی عامر اصبحی مدنی کہ اکابر علماء مدینہ طیبہ وائمہ محدثین ورجال صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وترمذی ونسائی وبن ماجہ اور تبع تابعین کے طبقہ اعلی سے ہیں امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کے بہنوئی اور بھتیجے یعنی ان کے حقیقی چچازاد بھائی کے بیٹے ہیں ۱۶۷ھ میں انتقال فرمایا:انھوں نے خود اپنے واسطے امام مالك و غیرہ اکابر تابعین وتبع تابعین کے زمانے میں نعل اقدس نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی مثال بنواکر اپنے پاس رکھی اور قرنا فقرنا
حوالہ / References المواہب اللدنیہ المقصد الثالث الفصل الثالث لبس النعل المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۴۶۷
#6329 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
اس مثال کے نقشے ہر طبقے کے علماء لیتے رہے۔
(۲۷)ان کے صاحبزادے امام مالك کے بھانجے اسمعیل بن ابی اویس کہ امام بخاری وامام مسلم کے استاذ اور رجال صحیحین اور اتباع تبع تابعین کے طبقہ اعلی سے ہیں اور امام شافعی وامام احمد رضی اﷲ تعالی عنہما کے معاصر ۲۲۶ ہجری میں وفات پائی۔
(۲۸)ان کے شاگرد ابویحیی بن ابی میسرہ۔
(۲۹)ان کے تلمیذ ابو محمد ابراہیم بن سہل سبتی۔
(۳۰)ان کے شاگرد ابو سعید عبدالرحمن بن محمد بن عبداﷲ مکی۔
(۳۱)ان کے تلمیذ محمد بن جعفر تمیمی۔
(۳۲)ان کے تلمیذ محمد بن الحسین الفارسی۔
(۳۳)ان کے شاگرد شیخ ابو زکریا عبدالرحیم بن احمد بن نصر بن اسحاق بخاری۔
(۳۴)ان کے تلمیذ شیخ فقیہ ابوالقاسم حلی ابن عبدالسلام بن حسن رمیلی۔
(۳۵)ان کے شاگرد شیخ عیاض۔
(۳۶)دوسرے تلمیذ اجل امام اکمل حافظ الحدیث قاضی ابوبکر بن العربی اشبیلی اندلسی۔
(۳۷)ان دونوں کے شاگرد امام ابن العربی کے صاحبزادے فقیہ ابو زید عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ۔
(۳۸)ان کے تلمیذ ابن الحیہ۔
(۳۹)ان کے شاگرد شیخ ابن البر تونسی۔
(۴۰)ان کے تلمیذ شیخ ابن فہد مکی۔
(۴۱)ح امام اجل ابن العربی ممدوح کے دوسرے شاگرد ابوالقاسم خلف بن بشکوال۔
(۴۲)ان کے تلمیذ ابوجعفر احمد بن علی اوسی جن کے شاگرد ابوالقاسم بن محمد اور ان کے تلمیذ ابواسحق ابراہیم بن الحاج ان کے شاگرد ابوالیمن ابن عساکر مذکورین ہیں جن کے اقوال طیبہ اوپر مرقوم ہوئے۔
(۴۳)ح امام اسمعیل بن ابی اویس مدنی ممدوح کے دوسرے تلمیذ ابواسحق ابراہیم ابن الحسین۔
(۴۴)ان کے شاگرد محمد بن احمد خزاری اصبہانی ۔
(۴۵)ان کے تلمیذ ابوعثمن سعید بن حسن تستری۔
(۴۶)ان کے شاگرد ابو بکر محمد بن علی منقری۔
(۴۷)ان کے تلمیذ ابوطالب عبداﷲ بن حسن بن احمد عنبری۔
#6335 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
(۴۸)ان کے شاگرد ابو محمد عبدالعزیز بن احمد کنانی۔
(۴۹)ان کے تلمیذ ابو محمد ہبۃ اﷲ بن احمد بن محمد اکفانی دمشقی۔
(۵۰)ان کے شاگرد حافظ ابو طاہر احمد بن محمد بن احمد اسکندرانی۔
(۵۱)ان کے تلمیذ ابوعبداﷲ محمد بن عبدالرحمن تجیبی۔
(۵۲)ان کے شاگرد ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ سبتی ان کے تلمیذ ابواسحق ابراہیم بن الحاج سلمی ممدوح ان کے شاگرد ابن عساکر۔
(۵۳)ان کے تلمیذ بدر فارقی یہ تین سلسلے مثل سلاسل حدیث تھے ان کے علاوہ
(۵۴)امام ابو حفص عمر فاکہانی اسکندرانی۔
(۵۵)شیخ یوسف تتائی مالکی۔
(۵۶)فقیہ ابوعبداﷲ بن سلامہ۔
(۵۷)فقیہ محدث ابویعقوب۔
(۵۸)ان کے شاگرد ابوعبداﷲ محمد بن رشید فہری۔
(۵۹)حافظ شہیر ابوالربیع بن سالم کلاعی۔
(۶۰)ان کے تلمیذ حافظ ابوعبداﷲ بن الابار قضاعی۔
(۶۱)ابو عبداﷲ محمد بن جابر دادی۔
(۶۲)خطیب ابو عبداﷲ بن مرزوق تلمسانی۔
(۶۳)ابن عبدالملك مراکش۔
(۶۴)شیخ ابوالخصال۔
(۶۵)ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ بن عبدالحق انصاری معروف بابن القصاب ۔
(۶۶)شیخ فتح اﷲ حلبی بیلونی۔
(۶۷)قاضی شمس الدین ضعیف اﷲ ترابی رشیدی۔
(۶۸)شیخ عبدالمنعم سیوطی۔
(۶۹)محمد بن فرج سبتی۔
(۷۰)شیخ ابن حبیب النبی جن سے علامہ تلمسانی نے نقشہ مقدسہ کی عجیب برکت شفاہا روایت کی۔
(۷۱)سید محمد موسی حسینی مالکی معاصرعلامہ ممدوح۔
#6336 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
(۷۲)سید جمال الدین محدث صاحب روضۃ الاحباب۔
(۷۳)علامہ شہاب الدین خفاجی جنھوں نے فتح المتعال کی تعریف کی اور ہو مصنف حسن فرمایا یعنی وہ خوب کتاب ہے۔
(۷۴)فاضل کاتب چلپی صاحب کشف الظنون۔
(۷۵)فاضل علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی شارح مواہب ومؤطا امام مالک۔
اب اور پانچ ائمہ کرام اکے اسماء طیبہ عالیہ پر اختتام کیجئے جن کی امامت کبری پر اجماع اور ان کی جلالت شان وعظمت مکان مشہور ومعروف بلاد وبقاع:
(۷۶)امام اجل حافظ الحدیث زین الدین عراقی استاذ امام الشان ابن حجر عسقلانی صاحب الفیہ سیرت وغیرہا۔
(۷۷)ان کے ابن کریم علامہ عظیم سیدی ابوزرعہ عراقی۔
(۷۸)امام اجل سراج الفقہ والحدیث والملۃ والدین بلقینی۔
(۷۹)امام جلیل محدث نبیل حافظ شمس الدین سخاوی۔
(۸۰)امام اجل واکرم علامہ عالم خاتم الحفاظ والمحدثین جلال الملۃ والشرع والدین عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی رضی اﷲ تعالی عنہم وعنابہم یوم الدین آمین یا رب العالمین۔
بالجملہ مزار اقدس کا نقشہ تابعین کرام اور نعل مبارك کی تصویر تبع تابعین اعلام سے ثابت اور جب سے آج تك ہر قرن وطبقہ کے علماء وصلحا میں معمول اور رائج ہمیشہ اکابر دین ان سے تبرك کرتے اور ان کی تکریم وتعظیم رکھتے آئے ہیں تو اب انھیں بدعت شنیعہ اور شرك وحرام نہ کہے گامگر جاہل ببیاك یا گمراہ بددین مریض القلب ناپاك والعیاذباﷲ من مہاوی الھلاک(اﷲ تعالی کی پناہ ہلاکت وبربادی کے ٹھکانوں سے۔ ت)آج کل کے کسی نو آموز قاصر ناقص فاتر کی بات ان اکابر ائمہ دین واعاظم علماء معتمدین کے ارشادات عالیہ کے حضور کسی ذی عقل دیندار کے نزدیك کیا وقعت رکھتی ہے عاقل منصف کے لئے اسی قدر کافی ہے واﷲ الھادی وولی الایادی بہ ثقتی وعلیہ اعتمادی(اﷲ تعالی ہی راہ ہدایت دکھانے والا ہے اورجملہ احسانات وانعامات کا مالك ووالی ہے پس اسی پر بھروسا واعتماد ہے۔ ت)الحمدﷲ کہ یہ مجمل جواب موضع صواب اواخر ذی الحجہ مبارك ۱۳۱۵ھ کے چند جلسوں میں تمام اور بلحاظ تاریخ شفاء عــــــہ الوالہ فی صور الحبیب ومزارہ ونعالہ(۱۳۱۵ھ)(حیرت زدہ(عاشق)کی شفا(صحت یابی) صور حبیب ان کے مزار اور ان کے جوتوں کے دیدار میں ہے۔ ت)نام ہو الحمدﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالی علی
عــــــہ: ہمزہ بے مرکز ملحوظ العددست ۱۲۔
#6337 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
(سب خوبیان خدا کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کاپروردگار(مربی)ہے اﷲ تعالی ہمارے آقا ومولی حضرت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر اور ان کی آل پر اور ساتھیوں پر رحمت نازل فرمائے اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔ اور اس جلیل القدر ذات کا علم بہت کامل واکمل اور نہایت درجہ پختہ ومحکم ہے۔ ت)
اس تحریر کے چند ماہ بعد آج کل کے بعض ہندی عــــــہ صاحبوں نے اس کے مخالف تحریریں پیش کیں جن میں کسی امام معتمد یا عالم مستند سے اس کے خلاف پر اصلا سند نہ دی گئی ہم ابھی گزارش کرچکے ہیں کہ ارشادات ائمہ دین وعلماء معتمدین کے مقابل ایں وآن کے بے سند اقوال کیا قابل استدلال قرون ثلاثہ میں باوصف تحقق ضرورت اس کی طرف قولا وفعلا اصلا توجہ نہ پائے جانے کا جواب بھی واضح ہوچکا کہ زمانہ تابعین وتبع تابعین سے متوارث ہے اور ضروت شرعیہ بمعنی افتراض ووجوب نہ ہونا تو بدیہی یوہیں بایں معنی کہ کوئی امر مامور بہ فی الشرع عینا اس پر موقوف ہو واضح المنع نہ سہی مسلم کہ مقتضی عین موجود مذکر حاصل موانع مقصود جس سے باوصف تحقق خطور بالبال وخصوص احتیاج بالقصد امتناع پر اطباق واجماع مفہوم ہو اور جہاں ایسا نہیں وہاں عدم وقوع ہر گز مفید کف قصدی نہیں کہ وہی مقدور ہے اور اس میں اتباع وقد حققنا ھذہ المباحث فی کتابنا المبارك ان شاء اﷲ تعالی البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ(ان مباحث کی تحقیق ہم نے اپنی بابرکت کتاب میں کرد ی ہے کتاب کا نام ہے البارقۃ الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ(چمکدار تیز تلواریں دین سے نکلنے والے مشرقی خوارج پر)۔ ت)اس قضیہ کو اگر یوہیں مرسل رکھیں تو صدہا مسائل شرعیہ خود صاحب تحریر مذکور کے تحریرات کثیرہ اس کے ناقض و مناقض موجود ہیں جن میں بعض ہمارے رسالہ سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلاۃ العید(عید مبارك کی خوشیاں نماز عید کے بعد دعا کے جواز میں۔ ت)بحوالہ جلد وصفحہ مذکور ہوئیں رہا یہ کہ نقشہ کعبہ معظمہ وروضہ منورہ کو ان کا عین یا تمام احکام میں مساوی سمجھنا کہ نقشہ کعبہ کے طواف سے حج ادا ہوجائے اور حج کے بعد نقشہ روضہ کے پاس حاضر زیارت مقدسہ کی حاضری سے مغنی ہوجائے یہ کسی جاہل کا بھی زعم نہیں ایسے اوہام باطلہ البتہ مشرکین وروافض کو پیدا ہوتے ہیں رسالہ اسلمی میں قطع نظر اس سے کہ وہ کیا اور کیسا رسالہ
عــــــہ: یعنی فتوی عبدالحی لکھنوی ۱۲۔
#6338 · رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ و نعالہ ۱۳۱۵ھ (محبوب خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آپ کے مزار اور آپ کے نعلین مقدسہ کے نقشوں میں غمزدہ کی شفاء)
اور کہاں تك محل استناد میں پیش ہونے کی لیاقت رکھتاہے اسی وہم پر اعتراض ہے وہ اس طریقہ انیقہ پر جوا ئمہ کرام وعلمائے اعلام میں معمول ومقبول رہا اصلا واردنہیں وباﷲ التوفیق واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔(اﷲ تعالی کے فضل ہی سے توفیق حاصل ہے اور اﷲ پاك اور برتر سب سے بڑا عالم ہے۔ ت)
___________________
(رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب ومزارہ ونعالہ ختم شد)
#6339 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
تصوف وطریقت وبیعت وسجادہ نشینی وغیرہ
تصور شیخ مراقبہ پیری مریدی کے آداب نیز سچے اور جھوٹے پیر کا بیان

مسئلہ ۱۷۶: از شہر کہنہ ۱۷/ شعبان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ستار بجاتاہے وصف اس میں یہ ہیں حافظ قرآن ہے۔ خاندان چشتیہ میں بیعت ہے۔ بے دینوں سے نفرت رکھتاہے خدا وند تعالی کے فضل وکرم سے اس کے مکان پر سب خوردوکلاں نمازی ہیں یعنی بالغ اور نابالغ کو خدا تعالی نے اپنے فضل وکرم سے یہ وصف دیا ہے اور حکم خدا ورسول سے اس کو کسی وقت میں انکار نہیں اگرچہ اس کا ظاہر نقصان ہو جب کوئی اس کو ستار بجانے سے منع کرتاہے تو جواب منع کرنے والے کو یوں دیتاہے کہ بیشك میں خطا وار خدا تعالی کا بلکہ از حد گنہگارہوں کہ فی زمانہ مسلمانوں میں کوئی خطاوار مجھ سے بڑھ کر نہ ہوگا مگر ستار میں نے خدا تعالی کے ذکر یا د کرنے کے واسطے سیکھا ہے وہ یاد کرنا یہ ہے کہ اکثر جانوروں کی بولیاں اس سے سمجھ میں آتی ہیں جو شخص عاقل او رذی فہم ہیں اس وقت خوب جان لیتے ہیں اس بات کو کہ ادنی درجہ کی اشیاء خدا کے ذکر میں مشغول ہوں اورہم اشرف المخلوقات ہو کر خدا کی یاد سے غافل ہوں پھر بہت ساافسوس کرکے خدا تعالی کے ذکر میں مشغول ہوجاتے ہیں اس کو علم معرفت کہتے ہیں اور درجے چار۴ ہیں:۱شریعت ۲طریقت ۳معرفت۴حقیقت علمائے دین سے ہر ایك کے معنی دریافت کرلو یعنی شریعت کے معنی لغت میں کیا ہے۔ او ر اصطلاح میں کیا۔ اسی طرح پر طریقت معرفت
#6340 · آثار مقدسہ اور اُن سے تبرك وتوسل بدرالانوار فی اٰداب الاٰثار €∞۱۳۲۶ھ (آثار مقدسہ کے آداب کے بارے میں روشنیوں کا ماہِ کامل)
حقیقت کے معنی بتاکر حکم فرمائیں کہ اس طرح پر خدا تعالی سے محبت کا سلسلہ پیدا کرنا چاروں طریقوں میں منع ہے ان شاء اﷲ تعالی فورا چھوڑ دوں گا بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
شریعت طریقت حقیقت معرفت میں باہم اصلا کوئی تخالف نہیں اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تونرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ بددین شریعت حضور اقدس سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اقوال ہیں اور طریقت حضور کے افعال اور حقیقت حضور کے احوال اور معرفت حضور کے علوم بے مثال صلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ الی مالایزال(ان پر(یعنی آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر)ان کی آل پر اور اصحابہ کرام پر اﷲ تعالی رحمت برسائے جب تك مولی تعالی فرمائے۔ ت)
#6341 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
رسالہ
نقاء السلافہ فی احکام البیعۃ والخلافہ ۱۳۱۹ھ
(بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)

مسئلہ ۱۷۷: ۲۵/ جمادی الاولی ۱۳۱۸ھ
زید کہتا ہے کہ میں مسلمان اور مسلمان کے یہاں پیدا ہوا رو زپیدائش سے طریقہ اسلام پر اہلسنت وجماعت کا پیرو غیر طریقے کی بے جابات جو خلاف سنت ہے حجت کو تیار ا ور جو باتیں پیر بتاتاہے وہ قرآن وحدیث سے بتاتاہے وہ باتیں مجھ کو معلوم ہیں۔ پہلے سے عمل کرتاہوں اور نہیں بھی پھر روز قیامت کو گروہ امتیان حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں اٹھیں گے پھر کیا ضرورت ہے بیعت کرنے کی اور سلسلے میں آنے کی ایك فقرہ جواب اس خیال جاہلانہ کا لکھ دیجئے تاکہ وسوسہ شیطانی دل سے دور ہوجائے آئندہ توبہ واستغفار کریں بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجرپاؤ۔ت)
الجواب:
قرآن وحدیث میں شریعت طریقت حقیقت سب کچھ ہے اور ان میں سب سے زیادہ ظاہر وآسان مسائل شریعت ہیں ان کی تویہ حالت ہے کہ اگر ائمہ مجتہدین انکی شرح نہ فرماتے تو علماء نہ سمجھتے اور علماء کرام اقوال ائمہ مجتہدین کی تشریح وتوضیح نہ کرتے تو ہم لوگ ارشادات ائمہ کے سمجھنے سے بھی عاجز
#6342 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
رہتے اورا ب اگر اہل علم عوام کے سامنے مطالب کتب کی تفصیل اور صورت خاصہ پرحکم کی تطبیق نہ کریں تو عام لوگ ہر گز ہر گز کتابوں سے احکام نکال لینے پر قادر نہیں ہزار جگہ غلطی کریں گے اور کچھ کا کچھ سمجھیں گے اس لئے یہ سلسلہ مقرر ہے کہ عوام آج کل کے اہل علم ودین کا دامن تھامیں اور وہ تصانیف علمائے ماہرین کا اور وہ مشائخ فتوی کا اور وہ ائمہ ہدی کا اور وہ قرآن وحدیث کا جس شخص نے اس سلسلے کو توڑا وہ اندھا ہے۔ جس نے دامن ہادی ہاتھ سے چھوڑا عنقریب کسی عمیق(گہرے) کنویں میں گرا چاہتا ہے۔ امام اجل عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبری میں فرماتے ہیں:
لو قدان اھل دور تعدوا من فوقہم الی الدور الذی قبلہ لا انقطعت وصلتہم بالشارع ولم یھتدوا لایضاح مشکل ولا تفصیل مجمل وتامل یااخی لولا ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فصل بشریعتہ مااجمل فی القران لبقی علی اجمالہ کما ان الائمۃ المجتہدین لو لم یفصلوا مااجمل فی السنۃ ابقیت السنۃ علی اجمالہا و ھکذا الی عصرنا ھذا الخ۔ اگر بالفرض اہل زمانہ تجاوز کرجائیں اپنے اوپر والوں سے طرف اس زمانہ کے کہ وہ ان سے پہلے ہو تو ان کا شار ع علیہ الصلوۃ والسلام کو ملنا منقطع ہوجائے گا اور وہ مشکل کو واضح کرنے اور مجمل کی تفصیل کی راہ نہ پائیں غور کراے بھائی اگر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قرآن کے اجمال کی اپنی شریعت سے تفصیل نہ فرماتے تو قرآن اپنے اجمال پر باقی رہتا جیسا کہ تحقیق اگر ائمہ مجتہدین حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی سنت کے اجمال کی تفصیل نہ کرتے تو سنت اپنے اجمال پر باقی رہتی اور ایسے ہی ہمارے اس زمانہ تك الخ(ت)
اسی میں ہے:
کما ان اشارع بین لنا بسنتہ ما اجمل فی القران و کذلك الائمۃ المجتہدین بینوا لنا ما اجمل فی احادیث الشریعۃ ولو لابیانہم لنا ذلك لبقیت الشریعۃ علی اجمالہا جیساکہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی سنت کے ساتھ قرآن مجید کے اجمال کی تفصیل کی ہے اور ایسے ائمہ مجتہدین نے ہمارے لئے احادیث شریعت کے اجمال کا بیان فرمایا ہے اور بالفرض ان کا بیان نہ ہوتا تو شریعت اپنے اجمال پر باقی
حوالہ / References المیزان الکبری فصل ومما یدلك علی صحۃ ارتباط جمیع اقوال علماء الشریعۃ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۷
#6343 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
وہکذا القول فی اہل کل دور بالنسبۃ للدور الذین قبلہم الی یوم القیمۃ فان الاجمال لم یزل ساریا فی کلام علماء الامۃ الی یوم القیمۃ ولو لا ذلك ماشرحت الکتب ولاعمل علی الشروح حواش کما مر ۔ رہتی اور یہی بات ہر اہل دور کی بنسبت اپنے پہلے دور والوں کی ہے قیامت تک اس لئے کہ اجمال علماء امت کے کلام میں قیامت تك جاری رہتا اگر ایسا نہ ہوتا تو کتابوں کی شرحیں اور شرحوں پر حواشی نہ لکھے جاتے۔ جیسا کہ گزرچکا۔(ت)
غیر مقلدین اس سلسلے کو توڑکر گمراہ ہوئے اور نہ جانا کہ: ع
ہمہ شیران جہاں بستہ ایں سلسلہ اند روبہ از حیلہ چساں بگسلدایں سلسلہ را
(دنیا کے تمام شیراس سلسلہ میں بندھے ہوئے ہیں لومڑی اپنے حیلہ سے اس سلسلہ کو کیسے کمزور بناسکتی ہے۔ ت)
جب احکام شریعت میں یہ حال ہے تو صاف روشن کہ دقائق سلوك اور حقائق معرفت بے مرشد کامل خود بخود قرآن وحدیث سے نکال لینا کس قدر محال ہے۔ یہ راہ سخت باریك اور بے شمع مرشد نہایت تاریك ہے بڑے بڑوں کو شیطان لعین نے اس راہ میں ایسا مارا کہ تحت الثری تك پہنچادیا تیری کیا حقیقت کہ بے رہبر کامل اس میں چلے اور سلامت نکل جانے کا ادعا کرے ائمہ کرام فرماتے ہیں:آدمی اگر چہ کتنا ہی بڑا عالم زاہد کامل ہو اس پر واجب ہے کہ ولی عارف کو اپنا مرشد بنائے بغیر اس کے ہرگز چارہ نہیں میزن الشریعۃ میں ارشاد فرمایا:
فعلم من جمیع ماقررناہ وجوب اتخاذ الشیخ لکل عالم طلب الوصول الی شہود عین الشریعۃ الکبری و لواجمع جمیع اقرانہ علی علمہ وعملہ وزہدہ و ورعہ و لقبوہ بالقطبیۃ الکبری فان لطریق القوم شروطا لایعرفہا الا المحققون منہم دون پس معلوم ہوا اس تمام سے جو کہ ہم نے ثابت کیاہے شیخ کے پکڑنے کا وجوب ہرعالم کے لئے جو طلب کرے عین شریعت الکبری کے مشاہدہ تك پہنچنے کو اگر چہ اس کے تمام ہم عصر اس کے علم وعمل او زہد و ورع پر جمع ہو جائیں اور اس کو قطبیت کبری کا لقب دیں اس لئے کہ اس قوم(یعنی صوفیہ)کے طریق کی کچھ شرطیں ہیں جن کو کہ سوائے ان کے محققین کے
حوالہ / References المیزان الکبرٰی فصل فی بیان استحالہ خروج شیئ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۶
#6344 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
الدخیل فیہم بالدعاوی والاوہام وربما کان من لقبوہ بالقطبیۃ لا یصلح ان یکون مریدا لقطب الخ۔ کوئی نہیں پہچان سکتا نہ کہ وہ لوگ جو صرف اپنے دعاوی او ر اوہام کے ساتھ ان میں داخل ہوتے ہیں اور بسا اوقات جن کو انھوں نے قطب ہونے کا لقب دیا ہے وہ اس لائق نہیں ہے کہ کسی حقیقی قطب کا مریدہو۔(ت)
یہ اس لئے جو اس راہ کا چلنا چاہے اور ہمت پست کوتاہ دست لوگ اگر سلوك نہ بھی چاہیں تو انھیں توسل کے لئے شیخ کی حاجت ہے یوں اﷲ عزوجل اپنے بندوں کو بس تھا۔ قال اﷲ تعالی(اﷲ تعالی نے فرمایا):
"الیس اللہ بکاف عبدہ " کیاخدا اپنے بندوں کو کافی نہیں ۔
مگر قرآن عظیم نے حکم فرمایا:
" وابتغوا الیہ الوسیلۃ " اﷲ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
اﷲ کی طرف وسیلہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف وسیلہ مشائخ کرام سلسلہ بہ سلسلہ جس طرح اﷲ عزوجل تك بے وسیلہ رسائی محال قطعی ہے یونہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك رسائی بے وسیلہ دشوار عادی ہے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صاحب شفاعت ہیں اﷲ عزوجل کے حضور وہ شفیع ہونگے اور ان کے حضور علماء واولیاء اپنے متوسلوں کی شفاعت کریں گے مشائخ کرام دنیا ودین و نزع وقبر و حشر سب حالتوں میں اپنے مریدین کی امداد فرماتے ہیں میزان الشریعہ میں ارشاد فرمایا:
قد ذکرنا فی کتاب الاجوبۃ عن ائمۃ الفقہاء و الصوفیۃ ان ائمۃ الفقہاء والصوفیۃ کلہم یشفعون فی مقلدیہم و یلاحظون احدھم عندطلوع روحہ و عند سوال منکر ونکیر لہ وعند تحقیق ہم نے ذکر کیا ہے کتاب الاجوبہ عن ائمۃ الفقہاء و الصوفیہ میں کہ فقہاء اور صوفیہ سب کے سب اپنے متبعین کی شفاعت کریں گے او ر وہ اپنے متبعین اور مریدین کے نزع کی حالت میں روح کے نکلنے اور منکر نکیر کے سوالات
حوالہ / References المیزان الکبرٰی فصل ان القائل کیف الوصول الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۲
القرآن الکریم ۳۹ /۳۶
القرآن الکریم ۵ /۳۵
#6345 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
النشر والحشر والحساب والمیزان والصراط ولا یغفلون عنہم فی موقف من المواقف الخ۔ نشر وحشر اورحساب اور میزان عدل پر اعمال تلنے اور پر صراط گزرنے کے وقت ملاحظہ فرماتے ہیں اور تمام مواقف میں سے کسی ٹھہرنے کی جگہ سے غافل نہیں ہوتے الخ(ت)
اس محتا ج وبےدست وپا سے بڑھ کر کون احمق اپنی عافیت کادشمن کون جو اپنی سختیوں کے وقت اپنے مددگار نہ بنائے ۔حدیث میں ہےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
استکثروامن الاخوان فان لکل مؤمن شفاعۃ یوم القیمۃ رواہ ابن النجار فی تاریخہ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ اﷲ کے بکثرت نیك بندوں سے رشتہ وعلاقہ محبت پیدا کرو کہ قیامت میں ہر مسلمان کامل کو شفاعت دی جائے گی کہ اپنے علاقہ والوں کی سفارش کرے(اس کو ابن النجار نے اپنی تاریخ میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
اور بالفرض معاذاﷲ اور کچھ نہ ہوتا تو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك اتصال سلسلہ کی برکت کیا تھوڑی تھی جس کے لئے علماء کرام آج تك حدیث کی سندیں لیتے ہیں یہاں کہ رتن ہندی وغیرہ کی اسانید سے طلب برکت کرتے ہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی اصابہ فی تمیز الصحابہ میں فرماتے ہیں:
انتقیت عن المحدث للرحال جمال الدین محمد بن احمد بن امین الاقشھری نزیل المدینۃ النبویۃ فی فوائد رحلتہ اخبرنا ابوالفضل وابو القاسم بن ابی عبداﷲ بن علی بن ابراھیم بن عتیق اللواتی المعروف بابن الخباز المھدوی(فذکر بسندہ حدیثا عن خواجہ رتن)قال وذکر خواجہ رتن بن عبداﷲ انہ شھد کوچ کرنے والے محدث جمال الدین محمد بن احمد بن اقشہری مدینہ منورہ میں رہائش پذیر سے خبر دیا گیا میں اپنی فوائد رحلت میں بیان کیا ہم سے ابوالفضل اور ابوالقاسم ابن عبداﷲ بن ابراہیم بن عتیق اللواتی المعروف بہ بن خباز مہمدوی کہ انھوں نے اپنی سند سے حدیث ذکر کی حضرت خواجہ رتن سے فرمایا اور ذکر کیا کہ خواجہ رتن بن عبداﷲ نے کہ تحقیق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
حوالہ / References المیزان الکبرٰی فصل فی بیان جملۃ من الامثلۃ المحسوسۃ مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۳
کنز العمال بحوالہ ابن نجار عن انس حدیث ۲۴۶۴۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹/ ۴
#6346 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الخندق وسمع منہ ہذاالحدیث ورجع الی بلاد الہند ومات بہا وعاش سبع مائۃ سنۃ ومات لسنۃ ست وتسعین وخمسمائۃ وقال الاقشھری وہذا السند یتبرك بہ وان لم یوثق بصحتہ ۔ کی معیت میں غزوہ خندق میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس حدیث کو سنا اور ہندوستان کے شہروں میں واپس آئے اور وہاں فوت ہوئے اور سات سو سال زندہ رہے اور ۵۹۶ھ میں وفات پائی اور اقشہری نے فرمایا اس سند سے برکت حاصل کی جاتی ہے اگرچہ اس کی صحت کا وثوق(اعتماد)نہیں ہے۔(ت)
تو سلاسل واسانید اولیائے کرام کا کیا کہنا خصوصا سلسلہ عالیہ علیہ حضور پر نور سیدنا غوث اعظم قطب عالم صلی اﷲ تعالی علی جدہ الکریم وابائہ الکرام وعلیہ وسلم جو ارشاد فرماتے ہیں کہ:
"میرا ہاتھ میرے مرید پر ایسا ہے جیسے زمین پر آسمان"
اور فرماتے ہیں:"اگر میرے مرید کا پاؤں پھسلے گا میں ہاتھ پکڑلوں گا"
اسی لئے حضور کو پیردستگیر(ہاتھ پکڑنے والے)کہتے ہیں_____ اور فرماتے ہیں:
"اگر میرا مرید مشرق میں ہو اور میں مغرب میں ہوں اوراس کا پردہ کھلے میں ڈھانك دوں گا"
اور فرماتے ہیں:مجھے ایك دفتر دیاگیا حد نگاہ تك کہ اس میں میرے مریدوں کے نام تھے قیامت تك اور مجھ سے فرمایا گیا وھبتھم لك یہ سب ہم نے تمھیں دے ڈالے"
رواھا عنہ الائمۃ الثقات رضی اﷲ تعالی اس ارشاد کو معتمد ائمہ رضی اﷲ تعالی عنہم نے
حوالہ / References الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ ترجمہ انس بن عبداﷲ ۲۷۵۹ دارصادر بیروت ۱/ ۵۳۷
بہجۃ الاسرار ذکر فضل اصحابہ وبشراھم مصطفی البابی مصر ص۱۰۰
بہجۃ الاسرار ذکر فضل اصحابہ وبشراھم مصطفی البابی مصر ص ۱۰۲
بہجۃ الاسرار ذکر فضل اصحابہ وبشراھم مصطفی البابی مصر ص ۹۹
بہجۃ الاسرار ذکر فضل اصحابہ وبشراھم مصطفی البابی مصر ص ۱۰۰
#6347 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
عنہم وعنابہم امین۔ واﷲ تعالی اعلم۔ آپ سے روایت کیا ہے۔ آمین! واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۸: مرسلہ حضور پر نور مولنا حضرت سیدنا شاہ ابوالحسین احمد نوری میاں صاحب مارہری دامت برکاتہم ۱۲۹۸ھ
یہ سوال چند امور متعلقہ خلافت وسجادہ نشینی حضرات اولیائے کرام سے استفسار تھا جس کے مقاصد تقریر وجواب سے واضح ہیں۔
الجواب:
الحمدﷲ والصلوۃ والسلام علی حبیبہ المصطفی والہ الکرام السادات الشرفا وصحابۃ العظام والاولیاء العرفاء وعلینا معہم دائماابدا۔
اما بعدخلافت حضرات اولیائے کرام نفعنا اﷲ ببرکاتہم فی الدنیا والاخرۃ(نفع دے ہم کو اﷲ تعالی ان کی برکات سے دنیااورآخرت میں)دو۲ طرح ہے:۱عامہ اور ۲خاصہ۔
عامہ یہ کہ مرشد مربی(تربیت دینے والا)اپنے مریدین اقارب او ر اجانب سے جس جس کو صالح ارشاد ولائق تربیت سمجھے اپنا خلیفہ ونائب کرے اور اسے اخذ بیعت وتلقین اذکارواشغال واوراد واعمال وتربیت طالبین وہدایت مسترشدین کےلئے مثال خلافت کرامت فرمائے یہ معنی صرف منصب دینی ہے اور اس میں تعدد خلفاء بیحد وانتہا جائزوواقع حضور سید العالمین مرشد الکل محمد مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سب صحابہ کرام بایں معنی حضور کے خلفاء تھے اور اسی خلافت کو وراثت انبیاء سے تعبیر کیا گیا ہے اور بایں معنی علمائے دین ومشائخ کاملین اہل شریعت وطریقت تابقیام قیامت سب حضرت رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ کے نواب خلفاء ہیں اور یہ خلافت حیات مستخلف(جس کا خلیفہ ہو)اسے مجتمع ہوتی ہے کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
اورخاصہ یہ ہے کہ اس مرشد مربی کے بعد وصال یہ شخص اس کی مسند خاص پر جس پر اس کی زندگی میں سوااس کے دوسرانہ بیٹھ سکتا جلوس کرے اور تمام نظم ونسق ورتق وفتق وجمع وتقسیم وعزل ونصب خدام وتقدیم وتاخیر مصالح وتولیت اوقاف درگاہی و قوامت مصارف خانقاہی میں اس کی جگہ قائم ہو یہ معنی بھی ہر چند باطن ان کا دین ہے مگر روئے بظاہر بسوئے دنیا رکھتے ہیں۔
کما قال سیدنا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ جیسے حضرت سیدنا علی رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا
#6348 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
فی خلافۃ سیدنا الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ رضیہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لدیننا افلا نرضاہ لدنیانا ۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر(رضی اﷲ تعالی عنہ)کی خلافت کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے آپ کو ہمارے دین کے لئے پسند فرمایا تو بس ہم اس کو اپنی دنیا کے لئے کیوں پسند نہ کریں۔(ت)
یہ خلافت خلافت وامامت کبری سے بہت مشابہ ولہذا حیات مستخلف سے مجتمع نہیں ہوتی اسی کو سجادہ نشینی کہتے ہیں یہاں مرجع اول مستخلف ہے کہ جس شخص کو وہ ولیعہد کرے یا اس کے لئے قریب وصال وصیت کر جائے بشرطیکہ وہ وصیت شرعا معتبرا ور وصی مذکور اہل ولائق اور متعلق درگارہ کچھ اوقاف ہوں تو ان کی تولیت کی بھی صلاحت رکھتاہو وہی سجادہ نشین قر ارپائے گا اور باوجود اس کے نص مقبول ومعتبر شرعی کے کام کو ناتمام جان کر بحث ارباب شوری واہل حل وعقد کے سامنے پیش نہ کریں گے کما فی الامامۃ الکبری والخلافۃ العظمی(جیسا کہ امامت کبری اوربڑی خلافت ہے)اور مجرد تقریر وعدم انکا ر نص صریح کے مقابل خصوصا جبکہ نص متاخر ہو ہر گز رنگ قبول نہیں پاسکتی مثلا اگر کوئی شخص اس مرشد مربی کے حضور کہے کہ بعد حضور زید سجادہ نشین ہے یا کسی شخص کی تحریر اس مضمون پر مشتمل اس مرشد مربی کے سامنے پڑھی جائے اور وہ اس قول یا تحریر کو سن کر سکوت فرمائے بعدہ وصیت سجادہ نشینی بنام عمرو یا باشتراك زید وعمرو کرے تویہ وصیت ہی معتبر ہوگی اور وہ سکوت پایہ اعتبا سے ساقط رہا۔
والدلیل علی ذلك قاعدتان من الفقۃ الاولی لا ینسب الی ساکت قول والاخری ان الصریح یفوق الدلائل ۔ اور دلیل اس پر دو قانون فقہ کے ہیں پہلا خاموش کی طرف کوئی قول منسوب نہیں ہوتا دوسرا تحقیق صریح دلالت پر راجح ہوتا ہے۔(ت)
اوراگر نص صریح دو پائے جائیں ایك میں تصریح وصیت زید کے لئے ہو اور دوسرے میں عمرو خواہ دونوں کے لئے اور ان میں ایك کی تاریخ دوسرے سے متاخر ہو تاہم دنوں نص معمول بہ(عمل کیا جائے گا)رہیں گے اور زید وعمرو دونوں وصی قرار پائیں گے ہاں اگر نص متاخرمیں نص اول سے
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر بیعۃ ابی بکر دارصادر بیروت ۳/ ۱۸۳
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیہ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۸۴
ردالمحتار کتاب النکاح باب المہر داراحیا ء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۵۷
#6349 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
رجوع اور وصی پیشین کو معزول کیاہے تو بیشك متاخر متقدم کا نا سخ ہوجائے گا۔
وھذا کما فی ردالمحتار عن ادب الاوصیاء عن التتارخانیۃ اوصی الی رجل ومکث زمانا فاوصی الی اخر فہما وصیان فی کل وصایاہ سواء تذکر ایصاہ الی الاول او نسی لان الوصی عندنا لاینعزل مالم یعزل الموصی حتی لو کان بین وصیتہ مدۃ سنۃ اواکثر لاینعزل الاول عن الوصایہ ۔ اور یہ جیساکہ ردالمحتار میں ادب الاوصیاء سے وہ تاتارخانیہ سے کسی نے کسی مردکو اپنا وصی(نائب)بنایا اور کچھ زمانہ ٹھہرا تو دوسرے مرد کو وصی(نائب)بنادیا تو وہ دونوں اس کے تمام وصایا میں نائب ہوں گے برابرہے کہ پہلے شخص کو نائب بنانا ایسے یا دہو یا بھول گیا ہو کیونکہ وصی(نائب) ہمارے مذہب میں جب تك وصیت کرنے والا معزول نہ کرے معزول نہیں ہوتا حتی کہ دونوں وصیتوں کے درمیان مدت ایك برس یازیادہ ہو پھر بھی پہلا وصی(نائب)ہونے سے معزول نہ ہوگا۔(ت)
اوراگر اس کا نص نہیں تو اس درگاہ وخانقاہ میں جو دستور قدیم سے چلا آیا ہے اس پر کاربندی ہوگی یا اہل حل وعقدجس پراتفاق کریں مگر ان دونوں صورتوں میں یہ ضرور ہے کہ شخص مذکور اس مرشد مربی سے خلافت عامہ بطور مقبول رکھتا ہو ورنہ بسبب تعامل یا ہمارے بلادمیں بوجہ عدم قضاۃ اتفاق ناس سے تولیت اوقاف اگر چہ صحیح ہوجائے مگر سجادہ نشینی ہر گز درست نہ ہوگی کہ وہ خلافت خاصہ ہے اور کوئی خاص بے عام کے متحقق نہیں ہوسکتا اورخلافت عامہ بے اجازت صحیحہ زنہار حاصل نہیں ہوتیحضرت اسدالعارفین سیدنا ومولانا حضرت سید شاہ حمزہ علی مارہری قد س اﷲ تعالی سرہ الزکی اپنی بیاض شریف میں ارشاد فرماتے ہیں:
معلوم بادکہ خلافت مشائخ کہ دریں ولایت مروج ست بر ہفت نوع ست بعضے ازاں مقبول بعضے ازاں مجہول اول اصالۃ دوم اجازۃ سوم اجماعا چہارم وراثۃ پنجم حکما ششم تکلیفا ہفتم اویسیا اما اصالۃ انکہ بزرگے بامر الہی شخصے راخلیفہ معلوم ہو کہ مشائخ کی خلافت کہ اس ولایت ہندو پاك میں مروج ہے سات قسموں پر ہے۔ بعض مقبول ہیں اور بعض مجہول پہلی قسم اصالۃ ہے۔ اور دوسری اجازۃ تیسری اجماعا چوتھی وراثۃ پانچویں حکما چھٹی تکلیفا ساتویں اویسیا اصالۃ یہ کوئی بزرگ اﷲ تعالی کے حکم سے کسی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجازتہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۰
#6350 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
خود گیرد وجانشین خود گرداند ۔
اقول:وذلك کما فی الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ماقدمت ابابکر وعمر ولکن اﷲ قدمہما وعنہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سألت اﷲ ثلثا ان یقدمك یا علی فابی علی الاتقدیم ابی بکر وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یابی اﷲ والمؤمنون الا ابی بکر الی غیر ذلك من الاحادیثرجعنا الی کلام سیدنا حمزہ قدس سرہ العزیز واجازۃ آنکہ شیخے مریدے راخواہ وارث خواہ بیگانہ قابل کاردیدہ برضا ورغبت خود خلیفہ کرد۔ اقول: کاستخلاف امیر المومنین حسن بن علی رضی اﷲ تعالی عنھما)۔ واجماعا آنکہ شیخے ازیں عالم نقل کرد کسے راخلیفہ نگرفت قوم و قبیلہ وارثے یا مریدے رابخلافت شخص کو اپنا خلیفہ اور جانشین بنالے۔
اقول:(میں کہتاہوں) یہ اس طرح ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیث میں ہے میں نے ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ اور عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کے آگے نہیں کیا بلکہ اﷲ تعالی نے ان کو مقدم کیا ہے۔ اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے منقول ہے کہ میں نے اے علی رضی اﷲ تعالی عنہ! تمھارے بارے میں اﷲ تعالی سے تین مرتبہ سوال کیا کہ وہ آپ کو مقدم کرے لیکن اﷲ تعالی نے ابوبکر رضی اﷲ تعالی عنہ کے سوا دوسرے کو مقدم کرنے سے انکار فرما یا ہے اور فرمایا حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کہ ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کے سوا اور کو امام بنائے جانے پر اﷲ تعالی اور مومن انکار کرینگے ان کے علاوہ دیگر احادیث مبارك میں بھی یونہی آیا ہے۔ہم سیدنا حمزہ قدس سرہ کے کلام کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اجازۃ یہ کہ کوئی شیخ کسی مرید کو خواہ وہ وارث ہو یا بیگانہ کام کے لائق دیکھ کر اپنی رضا ورغبت سے اپنا خلیفہ کرے۔
اقول:(میں کہتاہوں)جس طرح
حوالہ / References کنز العمال ابن النجار عن انس حدیث ۳۲۷۰۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۷۲
کنز العمال حدیث ۳۲۶۳۷ و ۳۲۶۳۸ و ۳۵۶۸۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۹ ۔ ۵۵۸و ۱۲/ ۵۱۵
الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر الصلوٰۃ التی امر بہا رسول اﷲ ابابکر عندوفاتہ دارصادربیروت ۳/ ۱۸۰
#6351 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
وے تجویز نمایند۔
اقول:کا ستخلاف اھل الحل والعقد امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ بعد شہادۃ امیر المومنین عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ)اما ایں خلافت نزدیك مشائخ روا نیست وایں نوع خلافت راخلافت اخترائی گویند۔



اقول:یعنی لانعدام الخلافۃ العامۃ المشروطۃ لصحۃ الخلافۃ الخاصۃ فی باب الطریقہ اما علی کرم اﷲ تعالی وجہہ فقد کان من اجل خلفاء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)و وراثۃ آنکہ مشایخے ازیں جہاں واگزاشت وخلیفہ رابجائے خود نگزاشت وراثے کہ شایان ایں امر بود بر جادہ او نشست وخود راخلیفہ گرفت ۔

اقول:کخلافت الامیر معاویۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بعدا بن عمہ امیر المومنین الغنی قبل تفویض الامام المجتبی ایاہ وہذا ان ثبت انہ کان یدعی قبلہ انہ خلیفۃ والا فقد صح انہ رضی اﷲ تعالی عنہ کان ینکردعوی الخلافۃ و امیر المومنین علی المرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضرت امیر المومنین حسن بن علی رضی اﷲ تعالی عنہ کو خلیفہ بنایا اور اجماعا یہ کہ شیخ اس عالم سے انتقال کر جائے اور کسی کو خلیفہ نہ بنائے قوم اور قبیلہ شیخ کے وارث یا کسی مرید کو شیخ کا خلیفہ یعنی جانشین تجویز کرلیں ۔
اقول:(میں کہتاہوں)جس طرح اہل حل وعقد یعنی اصحاب الرائے نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ کو خلیفہ بنایا) لیکن یہ خلافت مشائخ کے نزدیك روا نہیں اور اس قسم کی خلافت کو اخترائی خلافت کہتے ہیں۔
اقول:(میں کہتاہوں)یعنی بوجہ معدوم ہونے اس خلافت عامہ کے جو کہ خلافت خاصہ کے صحیح ہونے کےلئے شرط ہے لیکن علی کرم اﷲ وجہہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے جلیل القدر خلفاء سے تھے)اور وراثۃ یہ کہ کوئی شیخ اس جہاں سے انتقال کرجائے اور اپنی جگہ خلیفہ نہ چھوڑے کوئی اس بزرگ کا وارث جو کہ اس امر خلافت کا اہل ہو وہ اس کی جگہ بیٹھ جائے اور اپنے آپ کو خلیفہ بنائے۔
اقول:(میں کہتا ہوں)جیسے کہ امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی خلافت ان کے چچا کے بیٹے امیر المومنین عثمان الغنی رضی اﷲ تعالی عنہ کے بعد حضرت امام مجتبی حسن رضی اﷲ تعالی عنہ کے سپرد کرنے سے پہلے اوریہ تب ہے جبکہ ثابت ہوجائے کہ وہ خلافت کا دعوی اس سے قبل کرتے اور
#6352 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
یقول انی لاعلم انہ یعنی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ افضل منی واحق بالامر ولکن الستم تعلمون ان عثمان قتل مظلوما وانا ابن عمہ وولیہ اطلب بدمہ رواہ یحیی بن سلیمن الجعفی شیخ البخاری فی کتاب الصفین بسند جید عن ابی مسلم الخولانی واما بعد تفویض الامام المجتبی ایاہ فلا شك انہ امام حق وامیر صدق کما بینہ العلامۃ ابن حجر فی الصواعق ایں نوع رامشائخ منظور ندا شتہ اند۔ واحیانا آں شیخ او را در باطن امر فرماید روا بود کہ نزد صوفیہ حکم ارواح جائز ست۔

اقول:وح یرجع الی الاویسیۃکما ان سید اباالحسن الخرقانی خلیفۃ سیدی ابی یزید البسطامی قدس اﷲ تعالی اسرارھما ولکن لایسلم ھذا لکل مدع مالم نعلم ثقتہ وعدالتہ اویشھد لہ اھل الباطن)الی اخر ماافادہ واجاد قدس اﷲ تعالی تحقیق یہ صحیح ہے کہ امیر معاویہ رضی اﷲ تعالی عنہ دعوی خلافت کا انکارفرماتے تھے اور فرماتے بیشك میں جانتاہوں کہ علی کرم اﷲ وجہہ مجھ سے افضل ہیں اورخلافت کے زیادہ حقدار ہیں لیکن کیا تم جانتے ہو کہ تحقیق عثمان رضی اﷲ تعالی عنہ ظلما قتل کئے گئے ہیں اور میں ان کے چچا کا بیٹا ان کا بھائی اور ان کا ولی ہوں میں ان کے خون کا بدلہ طلب کرتاہوں اس کو یحیی بن سلیمان الجعفی شیخ البخاری نے کتاب الصفین میں سندجید کے ساتھ ابومسلم الخولانی سے روایت کیا۔ لیکن امام مجتبی رضی اﷲ تعالی عنہ نے جب امر خلافت ان کو تفویض یعنی سپرد کردیا تو بیشك وہ امام حق اور امیر صادق تھے جیسا کہ اس کو علامہ ابن حجر مکی نے صواعق میں بیان فرمایا ہے۔ اس قسم کو مشائخ نے منظور نہیں رکھا ۔
اوراحیانا کسی وقت وہ شیخ اس کو باطن میں حکم فرمائیں تو جائز ہے اس لئے کہ صوفیہ کے نزدیك ارواح کاحکم جائز ہے۔ اقول:(میں کہتاہوں)اس وقت حضرات اویسیہ کی طرف رجوع کیا جائے گا جیسا کہ حضرت سیدی ابوالحسن الخرقانی حضرت سیدی ابویزید البسطامی قدس سرہما کے خلیفہ تھے لیکن یہ امر ہر مدعی سے تسلیم نہیں کیا جائیگا۔
حوالہ / References کتاب الصفین لیحیٰی بن سلیمان الجعفی
الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اھل السنۃ الخ مکتبۃ مجیدیہ ملتان ص۲۱۸
#6353 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
سرہ العزیز۔ تاوقتیکہ ہم کو اس کی عدالت اور ثقہ ہونے کا علم نہ ہو یا اہل باطن حضرات اس کے متعلق شہادت نہ دیں یہاں سے آخر تك جو کہ حضرت مارہری قدس سرہ العزیز نے افادہ فرمایا اور اچھی باتیں فرمائیں۔(ت)
ہاں بعد صحت خلافت عامہ تعامل(یعنی خلیفہ جیسا معاملہ کرنا)اور اجماع معتبر کافی ہے۔
لان المعہود عرفا کالمشروط لفظا وما راہ المسلمون حسنا فہو عنداﷲ حسن ۔ اس لئے کہ جو شے عرف میں معروف(مقرر)ہو وہ گویا لفظا مشروط ہے۔(لفظوں میں شرط قرار دی گئی ہے)جو چیز کہ مسلمان اس کو اچھی دیکھیں تو وہ اﷲ تعالی کے نزدیك بھی اچھی ہے۔(ت)
ایسی جگہ عرف غالب یہی ہے کہ اکبر اولاد کو استحقاق ہوتا ہے اور اس کے ہوتے دوسرانہیں ہوسکتا مگر جبکہ وہ اہلیت سے عاری ہویا مستخلف(شیخ)صرف دوسرے کے نام یا دوسرے کو اس کا شریك وسہیم بنا کر)وصیت معتبرہ کرجائے تو البتہ اس پر عمل سے چارہ نہیں اور جس طرح مستخلف کا کسی مصلحت شرعیہ کی بنا پر قرابت دار قریبہ کو بالکلیہ محروم کردینا رواہے یونہی دوسرے کو بربنائے مصلحت ا س کا شریك وسہیم کرنا اور وجوہ مصلحت سے ایك وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جب اس منصب شریف کا ایك رخ جانب دنیا اور دوسرا جانب دین ٹھہرا تو جو تنہا ایك امر میں رشد کافی رکھتا ہے اس سے تمام انتظامات کا تکفل غیر مظنون(کفیل بننا غیر یقینی)لہذا اگر مستخلف(شیخ)عارف بالصالح(مصلحتوں کا عارف ہو)اپنے اقارب سے ایك کارشد ادھر اوردوسرے کا ادھر زائد دیکھے تو کون مانع ہے کہ وہ عارف صاحب بصیرت وعالم عــــــہ۱ بعواقب الامور الارشد فی الدین کو خلیفہ وبنظر جہت اخری ارشد فی الدنیا کو اس کا شریك وبازوکردے تاکہ باتفاق آراء ایك ہیئت اجتماعیہ حاصل ہو کہ اس منصب عظیم کے تمام احباء کا تحمل بروجہ احسن ظہور میں آئے اور امامت کبری میں جو تعدد ناجائز ہو اس کی وجہ ظاہر ہے کہ وہاں اثنینیت عــــــہ۲ مظنہ فتن عظیمہ ومعارك ہائلہ ہے کما لایخفی(جیسا کہ پوشید ہ نہیں۔ ت)مثل مشہور
عــــــہ۱: معاملات کے نتائج کاجاننے والا دین میں سب سے زیادہ ہدایت والا سیدھے راستے چلنے والا اور دوسری جہت کے لحاظ سے دنیوی معاملات میں سب سے بہتر جاننے والا ہو۔
عــــــہ۲:دو کا ہونا بہت بڑے فتنوں کے پیدا ہونے اور تباہ کرنے والے معرکوں کی جائے گاہ ہے۔ ۱۲
حوالہ / References ردالمحتار کتا ب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۹
المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ دارالفکر بیروت ۳/ ۷۸
#6354 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
دو بادشاہ دراقلیمے نگنجد(دو بادشاہ ایك ولایت میں نہیں سماتے)اور یہ خلافت ہر چند امامت کبری سے بغایت مشابہ ولہذا وہ کثرت وتعدد جو خلافت اولی میں واقع یہاں متصورنہیں لیکن تمام احکام میں اس سے اتحاد نہیں رکھتی اسی لئے قرشیت مشروط نہ ہوئی اور جس مصلحت پر تمثیلا فقیر نے تقریر کی مثلا اگر اثنینیت واقع ہو کوئی دلیل اس کے بطلان پر ظاہر نہیں ومن ادعی فعلیہ البیان(او ر جو دعوی کرے اس پر بیان لازم ۔ ت)اور صرف تولیت اوقاف میں تو اپنے محل پر تعدد نظاربدیہی الجواز (اس کی متعدد نظیریں واضح جو از کی دلیل ہے)ہاں اس میں شك نہیں کہ رسم سجادہ نشینی میں عام متوارث وحدت ہے۔ (جو عام جاری رسم چلی آرہی ہے وہ وحدت ہے)اور بلاوجہ وجیہ(معقول وجہ کے بغیر)اس کی مخالفت نہ چاہئے مگر کلام اس میں ہے کہ جب مرشد مربی کہ اعرف بالمصالح واعلم بالشان ہے دو۲ کو جانشین فرماچکا تو اس کے رد کی طر ف کوئی سبیل نہیں ہاں صورت مذکورہ میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ارشد فی الدین اصل جانشین اور دوسرا ناظرہ ومشرف(دیکھ بھال کرنے والا)ہے
کما اشرنا الیہ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب وعندہ ام الکتاب وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ والاصحاب والخلفاء والنواب والاتباع والاحباب امین۔ جیسا کہ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیا اور اﷲ بے عیب اور برتر صواب کو بہتر جاننے والا ہے اور اس کے پاس ہے اصل لکھا ہوا اور درود بھیجے اﷲ تعالی ہمارے سردار محمد اور آل اور اصحاب اور خلفاء اور نائبین اورتابعین اور دوستوں پر۔ آمین (ت)
مسئلہ ۱۷۹:مع رسالہ"زیب غرفہ"بغرض تصدیق دربارہ منع تعدد بیعت مرسلہ جنا ب مولوی محمد عبدالسمیع صاحب مرحوم و مغفور مصنف رسالہ"انوار ساطعہ"از میرٹھ ۲۳/ شوال ۱۳۰۹ھ
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمدﷲ الواحد الاحد المنزہ من کل شرك وعدد و الصلوۃ والسلام علی النبی الاوحد والہ وصحبہ و تابعیھم فی الرشد من الازل الی ابدالابد۔ سب تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں جو کہ واحد احد ہے ہر شرك اور متعدد ہونے سے پاك ہے اور رحمت کاملہ اور سلامتی ہو نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر جویکتا ہیں مخلوق ہیں اور ان کی آل اور اصحاب اور ہدایت میں ان کی اتباع کرنے والوں پر ہو ازل سے لے ابد تک۔(ت)
#6355 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
فی الواقع بے ضرورت صحیحہ صادقہ ملجئہ(مجبور کرنے والا)باوجود پیر غیر کے ہاتھ پر بیعت ارادت سے احتراز تام لازم سمجھے وھوالمختار وفیہ الخیر وفی غیرہ ضیر ایما ضیر(یہی مختار ہے اس میں بہتری اس کے غیر میں نقصان ہے کامل نقصان ۔ ت)پریشان نظری وآوارہ گردی باعث محرومی ہے والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
یاھذا قرآن عظیم صاف صاف فرما رہاہے کہ " رجلا سلما لرجل " (ایك غلام صرف ایك مولا کا۔ ت)ہی ہونا بھلا ہے۔
" ہل یستون الحمد للہ بل اکثرہم لا یعلمون ﴿۷۵﴾ "
کیا ان دونوں کا حال ایك سا ہے۔ سب تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے ہیں بلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے۔(ت)
یا ھذا پیر صادق قبلہ توجہ ہے اور قبلہ سے انحراف نماز کو جواب صاف باآنکہ " فاینما تولوا فثم وجہ اللہ " (تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اﷲ یعنی خدا کی رحمت تمھاری طرف متوجہ ہے۔ ت)فرماتے ہیں پھر طالبان وجہ اﷲ کوحکم یہی سناتے ہیں کہ:
" وحیث ما کنتم فولوا وجوہکم شطرہ " تم جہاں کہیں ہو پس اپنے چہروں کو مسجد حرام کی طرف پھیر لو۔(ت)
یہ محل محل تحری ہے اور صاحب تحری کا قبلہ قبلہ تحری۔
یا ھذا ارباب وفا آقایان دنیا کا دروازہ چھوڑ کر دوسرے در پر جانا کورنمکی جانتے ہیں ع
سراینجا سجدہ اینجا بندگی اینجا قرار اینجا
(سراس جگہ ہے سجدہ اس جگہ بندگی اس جگہ قرار واطمینان اس جگہ ہے۔ ت)
پھر احسانات دنیا کو احسانات حضرت شیخ سے کیا نسبت عجب اس سے کہ محبت واخلاص پیر کا دعوی کرے اور اس کے ہوتے این وآن کا دم بھرے
#6356 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
چودل بادلبری آرام گیرد زوصل دیگرے کے کام گیرد
نہی صد دستہ ریحاں پیش بلبل نخواہد خاطرش جزء نگہت گل
(جب دل ساتھ ایك محبوب کے آرام پکڑے دوسرے کے ملنے سے کب مقصود پکڑے گا بلبل کے سامنے نیاز بو کے سودستے رکھے تو لیکن پھول کی نگہت یعنی خوشبو کے سوا اس کا دل نہیں چاہے گا۔ ت)
یاھذا فیض پیر من وسلوی ہے اور " لن نصبر علی طعام وحد " (ہم ہر گز ایك طعام پر صبر نہیں کرسکتے۔ ت)کہنے کا نتیجہ برا۔
فلا تکن اسرائیلیا وکن محمد یا یاتك رزقك بکرۃ وعشیا۔ پس تو اسرائیل نہ ہو تو محمدی بن تیرے پاس رزق صبح وشام ائے گا۔ ت(ت)
یا ھذا باپ پدر گل ہے اور پیر پدر دل مولی معتق مشت خاك ہے او رپیر معتق جان پاک اہل ہوس کے زجر کو یہی حدیث بس ہے کہ"جو اپنے باپ کے سوا دوسرے کو باپ بتائے یا اپنے مولی کے ہوتے غیر کو مولی بنائے ا س پر خدا وملائکہ وناس سب کی لعنت اﷲ تعالی نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل"
الائمۃ الخمسۃ عن امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من ادعی الی غیر ابیہ اوانتمی الی غیر موالیہ فعلیہ لعنۃ اﷲ والملئکۃ و الناس اجمعین لایقبل اﷲ منہ صرفا ولا عدلا ۔ پانچوں اماموں نے امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے انھوں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت فرمایا:جو شخص اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف ادعا کرے یعنی کسی دوسرے کو باپ بنائے یا اپنے مولی کے سوا دوسرے کو اپنا مولی بنائے تو اس پر اﷲ تعالی اورفرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے نہ انکا فرض قبول اور نہ نفل(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۶۱
صحیح مسلم کتا ب الحج باب فضل المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۴۲،جامع الترمذی ابواب الوصایا باب ماجاء فی من تولی غیر موالیہ الخ امین کمپنی کراچی ۲/ ۳۴،مسند احمد بن حنبل عن علی المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۸۱
#6357 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
جو لوگ متلا عبانہ ان حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں کیا خوف نہیں کرتے کہ مبادا بحکم قیاس جلی اس حدیث صحیح کی وعید شدید سے حصہ پائیں۔
یاھذا سعادت منداں ازلی نے خود باوصف حکم پیر ترك پیر روانہ رکھا اور پھر ترك بھی کیسا کہ چشمہ کے پاس سے بحرز خار کی بندگی میں آنا باایں ہمہ آستان پیر چھوڑنا گوارا نہ کیا ااور ان کا یہ ادب محبوبان خدا نے پسند فرمایا حضور پر نور سید الاولیاء الکرام امام العرفاء العظام حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ حضرت سیدی علی بن بیتی قد س سرہ الملکوتی کے یہاں رونق افروز ہوئے حضرت علی بن ہیتی نے اپنے مرید خاص ولی بااختصاص سیدی ابوالحسن علی جوسقی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کو حکم دیا کہ خدمت حضرت غوثیت رضی اﷲ تعالی عنہ کی ملازمت اختیار کریں اور یہ پہلے فرماچکے تھے کہ میں حضور پر نور غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے غلاموں سے ہوں سیدی ابوالحسن قدس سرہ پیر سے یہ کچھ سن کر اس پر رونے لگے اور آستانہ پیر چھوڑ نا کسی طرح نہ چاہا حضرت غوث الاولیاء رضی اﷲ تعالی عنہ نے انھیں روتاد یکھ کر فرمایا:
مایحب الا الثدی الذی رضع منہ۔ جس پستان سے دودھ پیا ہے اس کے غیر کو نہیں چاہتا۔
اور انھیں حکم فرمایا کہ اپنے پیر کی ملازمت میں رہیں۔
اخرج سیدی الامام نورالدین ابوالحسن علی بن یوسف اللخمی قدس سرہ فی کتابہ بہجۃ الاسرار ومعدن الانوار بسند صحیح عن سیدی ابی حفص عمر البزار قدس اﷲ تعالی سرہ۔ سیدی امام نور الدین ابوالحسن علی بن یوسف اللخمی قد س سرہ نے اپنی کتاب بہجۃ الاسرار و معدن الانوار میں اس کو سند صحیح کے ساتھ سیدی ابوحفص عمر البزار(پاکیزہ کرے اﷲ تعالی ان کے بھید چنے ہوئے کو)سے اخراج کیا ہے یعنی بیان فرمایا اور روایت کیا ہے۔(ت)
سیدی عارف باﷲ امام اجل عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبری میں فرماتے ہیں:
سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اﷲ یقول انما امر علماء الشریعۃ الطالب یعنی میں نے اپنے سردار علی خواص رحمہ تعالی کو فرماتے سنا کہ علمائے شریعت نے طالب کو
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکرابوالحسن علی الجوسقی مصطفی البابی مصر ص۲۰۵
#6358 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
بالتزام مذھب معین وعلماء الحقیقۃ المرید بالتزام شیخ واحد ۔ حکم دیا ہے کہ مذہب ائمہ میں خاص ایك مذہب معین کی تقلید اپنے اوپر لازم کرے اور علمائے باطن نے مرید کو فرمایا کہ ایك ہی پیر کاالتزام رکھے(ت)
اس کے بعد ولی موصوف قد س سرہ المعروف نے ایك روشن مثال سے اس امر کو واضح فرمایا ہے امام علامہ محمدعبدری مکی شہیر بابن الحاج رحمۃاﷲ تعالی علیہ مدخل شریف میں فرماتے ہیں:
المرید یعظم شیخہ ویؤثرہ علی غیرہ ممن ہو فی وقتہ لان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول من رزق فی شیئ فلیزمہ (الی اخر ما افاد واجاد ہذا مختصرا) یعنی مرید اپنے پیر کی تعظیم کرے اور اسے تمام اولیائے زمانہ پرمرجح رکھے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی شیئ میں رزق دیا جائے چاہئے کہ اسے لازم پکڑے ۔
اسی میں ہے:
ان المرید لہ اتساع فی حسن الظن بہم وفی ارتباطہ علی شخص واحد یعول علیہ فی امورہ ویحذر من تقضی اوقاتہ لغیرہ فائدۃ ۔ مرید کے لئے وسعت اس میں ہے کہ اپنے زمانہ کے تمام مشائخ کے ساتھ گمان نیك رکھے اور ایك شیخ کے دامن سے وابستہ ہورہے اور اپنے تمام کاموں میں اس پر اعتماد کرے اور بے فائدہ تضیع اوقات سے بچے۔(ت)
فائدہ:یہ حدیث کہ امام ممدوح نے معضلا ذکر کی حدیث حسن ہے۔
اخرجہ البیہقی فی شعب الایمان بسند حسن عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ وھو عند ابن ماجۃ من حدیثہ اخراج کیا اس کو بیہقی نے شعب الایمان میں سند حسن کے ساتھ حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور یہی روایت ابن ماجہ کے نزدیك
حوالہ / References المیزان الکبری فصل فان قلت فاذا انفك قلب الولی عن التقلید الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۳
المدخل لابن الحاج حقیقۃ اخذ العہد دارالکتب العربی بیروت ۳/ ۲۲۳ و ۲۲۴
المدخل لابن الحاج فصل فی دخول المرید الخلوۃ دارالکتب العربی بیروت ۳/ ۱۶۰
شعب الایمان حدیث ۱۲۴۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۸۹
#6359 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
ومن حدیث ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہما عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ ولسم بلفظ من بورك لہ فی شیئ فلیزمہ ۔ آپ کی حدیث اور حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہما کی حدیث نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے کہ جس کو کسی شے میں برکت دی گئی ہو تو چاہے اسے لازم پکڑے۔(ت)
اور اس سے یہ استنباط عجب نفیس واحسن۔
والحمدﷲ علی مارزق ومن والصلوۃ والسلام علی رسولہ الامن والہ وصحبہ وکل من امن واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔ اور سب خوبیاں اﷲ کے لئے ہیں اس کے عطا فرمانے اور احسان کرنے پر اور صلوۃ وسلام ہو اس کے ایسے رسول پر جو سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہیں اور ان کی آل واصحاب پر جو ایمان لائیںاور اﷲ تعالی خوب جانتاہے اور اس کا علم پورا ہے اور اس کاحکم مضبوط ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۸۰: ۱۵/شوال ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مین کہ زید کہتاہے اور اپنی کتاب میں لکھتاہے من لا شیخ لہ فی الدنیا فشیخ لہ شیطان فی الاخرۃ یعنی جس کا شیخ نہیں ہے بیچ دنیا کے پس شیخ ہے واسطے اس کے شیطان بیچ اخرت کے یعنی قیامت کے روز گروہ شیطان میں شیطان کے ساتھ اٹھایا جائے گاآنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:الشیخ فی قومہ کالنبی فی الامہ یعنی شیخ بیچ قوم اپنی کے مثل نبی کے ہے بیچ امت اپنی کے یعنی جس طرح نبی سے ہدایت امت کی ہوتی ہے اس طرح شیخ یعنی مرشد سے مرید کو ہدایت ہوتی ہے جس قوم پر نبی نہیں آیا ہے وہ قوم گمراہ ہے ایسا ہی جو شخص بے پیرہے وہ گمراہ ہے۔
حضرت شیخ المشائخ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رضی اﷲ تعالی عنہ نے راحت القلوب میں ارقام فرمایا ہےجو شخص پلہ دامن اولیاء اﷲ میں نہیں ہے یعنی بے پیر ہے وہ شخص دائرہ اسلام سے باہر ہے یہاں تك کہ
حوالہ / References الاسرار المرفوعۃ بحوالہ سنن ابن ماجۃ حدیث ۸۸۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۲۵
المقاصد الحسنۃ حدیث ۶۰۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۵۷
#6360 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
بندگی اس کی قبول نہیں ہوتینماز وروزہ اس کا ایسا ہے جیسا چراغ بے روغناور بعض حضرات صوفیہ کرام نے فرمایا:بے پیر کے سلام کا جواب ہداك ﷲ دینا چاہئے جس کس نے علیك جواب بے پیر کو جان کر دیا اس نے ساتھ شیطان کے آشنائی کیبیت:
اگر بے پیر کارے پیش گیرد ہلاکی راز بہر خویش گیرد
(اگر بغیر پیر کے کوئی کام پکڑے تو وہ ہلاکت کو اپنے لئے پکڑے گا۔ت)
ع بناگرو کی مالا جپنا جنم اکارت جائے۔
(پیشوا اور شیخ کے سوا تسبیح پھیرنا اور درود ووظیفہ کرنا زندگی برباد کرنے کے برابر ہے۔ت)
اور بکر کہتاہےکہ میں کسی شخص بیعت نہیں ہوں اور نماز پڑھتاہوں اور روزہ رکھتاہوں اور احکامات شرع شریف اور کلام مجید کو اور جو علمائے دین فرماتے ہیں برحق جانتاہوں لیکن کسی پیر فقیر کا مرید نہیں ہوں اور نہ مرید ہونے کو برا کہتاہوںتو اس صورت میں بموجب کہنے زید کے بکر کی کوئی عبادت کسی قسم کی درگاہ باری تعالی میں قبول نہیں سب عبادت بکر کی بلا مرید ہوئے برباد گئی اور سلام علیك بکر سے ناجائز ٹھہری اور بکر دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا اور گروہ شیاطین کے ساتھ بکر کا حشر ہوگا تو ا س صورت میں بکر کیا کرے
الجواب:
شیخ یعنی مرشدوراہنما وہادی راہ خدا دوطورپر ہے:عام ہادی کلام اﷲ وکلام ائمہ شریعت وطریقت کلام علمائے اہل ظاہر وباطن ہے اسی سلسلہ صحیحہ پر کہ عوام کا ہادی کلام علماء علماء کا رہنماکلام ائمہائمہ کامرشد کلام رسولرسول کا پیشوا کلام اللہاور خاص یہ کہ زید کسی خاص بندہ خدا ہادی مہتدی قابل پیشوائی وہدایت جامع شرائط بیعت کے ہاتھ پر بیعت کرے اور اپنے اقوال وافعال وحرکات وسکنات میں اس کی ہدایت مطابقہ شریعت وطریقت کا پابند رہے۔شیخ مرشد بمعنی اول ہر شخص کو ضرور اور ایسا بے پیر قطعا دائرہ اسلام سے دوراس کی عبادت تباہ ومہجوراور اس سے ابتداء بسلام ممنوعومحظوراور روز قیامت گروہ شیطان میں محشور قال اﷲ تعالی:
" یوم ندعوا کل اناسۭ باممہم " جس دن ہم ہر گروہ کو اس کے امام کے ساتھ لائیں گے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۷ /۷۱
#6361 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
جب اس شخص نے ائمہ ہدی کو اپنا مرشد وامام نہ مانا تو امام ضلالت یعنی شیطان لعین کا مرید ہوالاجر م روز قیامت اسی کے گروہ میں اٹھے گاوالعیاذباﷲ سبحانہ وتعالی۔مگر کلمہ گویوں میں اس طرح کے بے پیرے چارگروہ ہوسکتے ہیں۔
اول: وہ کافر جو سرے سے قرآن وحدیث ہی کو نہ مانے جیسے نیچری کو حدیثوں کو صراحۃ مردود و بے سودبتاتے ہیں اور قرآن کے یقینی قطعی معافی حق کو رد کر کے اپنے دل سے گھڑ کر کہانی پہیلی بناتے ہیں لعنہم اﷲ لعنا کبیرا۔
دوم: غیر مقلد کہ بظاہر قرآن وحدیث کو مانتے اور ارشادات ائمہ دین وحاملان شرع متین کو باطل و نامعتبر جانتے ہیں یہ سلسلہ بیعت توڑکر براہ راست خدا اور رسول سے ہاتھ ملا یا چاہتے ہیں"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (اور عنقریب جان لیں گے کیسا پلٹا کھائیں گے۔ت)
سوم: وہابیہ مقدلین کہ اگر چہ بظاہر فروع فقہیہ میں تقلید ائمہ کا نام لیتے ہیں مگر اصول وعقائد میں صراحۃ سواد اعظم کے خلاف چلتے ہیں اور مقامات ومناسب وتصرفات ومراتب اولیائے کرام کے نام سے جلتے ہیں۔
چہارم: اسی طرح تمام طوائف ضالہ بد مذہب گمراہ رافضی خارجی معتزلہ قدری جبری وغیرہم خذلھم اﷲ کہ ان سب نے راہ ہدی چھوڑ کر اپنی ہوا کو امام بنایا اور اپنا سلسہ بیعت شیطان لعین سے جاکر ملایا قا ل اﷲ تعالی:
" افرءیت من اتخذ الـہہ ہوىہ" کیا تو نے دیکھا وہ شخص جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود ٹھہرایا(ت)
بالجملہ کلمہ جامعہ یہی ہے کہ جو اہل ہوا ہیں یعنی مخالفان اہلسنت وجماعت وہی اس معنی پر بے پیر صادق اور ان تمام احکام کے ٹھیك مستحق ہیں " قتلہم اللہ انی یؤفکون ﴿۳۰﴾" (اﷲ تعالی ان کو ہلاك کرے کہاں اوندھے پھرتے ہیں۔ت) سنی صحیح العقیدہ کہ ائمہ ہدی کو مانتا تقلید ائمہ ضروری جانتا اولیائے کرام کا سچا معتقد تمام عقائد میں راہ حق پر مستقیم وہ ہر گز بے پیر نہیں دو چاروں مرشداں پاك یعنی کلام خدا و
#6362 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
رسول وائمہ علمائے ظاہر وباطن اس کے پیر ہیں بلکہ اگر اسی حالت پر ہے تو مثل اور لاکھوں مسلمانان اہلسنت کے اس کا ہاتھ شریعت مطہرہ کے ہاتھ میں ہے اگر چہ بظاہر کسی خاص بندہ خدا کے دست مبارك پر شرف بیعت سے مشرف نہ ہوا ہو
عہد مابالب شیریں دہنا بست خدائے ماہمہ بندہ وایں قوم خداوند انند
(ہمارے عہد کو میٹھے منہ والے لوگوں سے خدا نے باندھ دیا ہے ہم سب بندے ہیں اور یہ لوگ آقا ومولی ہیں۔ت)
شیخ ومرشد بمعنی دوم سے بھی اس شخص کو چارہ نہیں جو سلوك راہ طریقت چاہے یہ راہ ایسی نہیں کہ آدمی اپنی رائے سے یا کتابیں دیکھ بھال کر چل سکے اس میں ہر شخص کو نئے مشکلات اپنی اپنی قابلیت وحالات کے لائق پیش آتے ہیں جس کی عقد وکشائی بے توجہ خاص رہبر کامل نہیں ہوسکتی مگر اس کے ترك پر وہ جبروتی احکام لگادینا محض باطل وکذب عاطل وظلم صریح اور دین الہی پر افترائے صحیح ہے اول تو اس راہ کے قاصد اقل قلیلاور جو طلب بھی کرے اسے اس زمانہ تاریکی و ظلمت وغیبت اکثر اصحاب ولایت وہجوم دنیا طلبان ریاخصلت میں شیخ کا مل ہر وقت میسرآنا مشکل ہے
اے بسا ابلیس آدم ہوئے ہست پس بہرد ستے نباید داددست
(یعنی بہت سے ابلیس صفت شکل وصورت میں آدمی ہیں پس ہر ہاتھ میں ہاتھ نہیں دینا چاہئے۔ت)
ہزاروں علماء وصلحاء گزرے کہ بظاہر اس خاص طریقت بیعت میں ان کا انسلاك ثابت نہیںکیا معاذاﷲ انھیں ان سخت احکام کا مصداق کہا جاسکتاہے۔اور جو منسلك بھی ہوئے کیا سب ہوش سنھبالتے ہی منسلك ہوگئے تھے حاشا بلکہ بہت اس وقت جبکہ علم ظاہر میں پایہ عالیہ امامت تك پہنچ چکے تھے اس وقت تك عیاذ باﷲ ان احکام کے مستحق تھے یہ سخت جہالت فاضحہ واضحہ ہے۔ والعیاذباﷲ تعالی۔
پہلی حدیث جو زید نے بیان کی کلام رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں اس کا نشان نہیں ہاں قول اولیاء ہے اور دوسری حدیث: الشیخ فی قومہ کالنبی فی امہ (شیخ اپنی قوم میں ایسا ہے جیسا کہ نبی اپنی امت میں)۔ جسے ابن حبان نے کتب الضعفاء اور دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت ابورافع
حوالہ / References المقاصد الحسنۃ حدیث ۶۰۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ص۲۵۷
#6363 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایسا فرمایا اگر چہ امام ابن حجر عسقلانی اور ان سے پہلے ابن تیمیہ نے موضوع اور امام سخاوی نے باطل کہا مگر صنیع امام جلیل جلال سیوطی سے ظاہر کہ وہ صرف ضعیف ہے باطل وموضوع نہیں انھوں نے یہ حدیث دو وجہ سے جامع صغیر میں ایرادفرمائی۔
حیث قال الشیخ فی اھلہ کالنبی فی امتہ والخلیل فی مشیختہ وابن النجار من ابی رافع الشیخ فی بیتہ کالنبی فی قومہ حب(ابن حبان)فی الضعفاء والشیرازی فی الالقاب عن ابن عمر ۔ جیسے فرمایا کہ شیخ اپنے اہل یعنی اپنی قوم میں ایسے ہے جیسا کہ نبی اپنی امت میںاسے ذکر کیا خلیل نے اپنی کتاب مشیخت میں اور ابن نجار نے ابورافع سے روایت کیشیخ اپنے بیت میں جیسے نبی اپنی قوم میںابن حبان نے ضعفاء میں اور شیرازی نے القاب میں حضرت ابن عمر سے روایت کی۔(ت)
اور خطبہ کتاب میں وعدہ فرمایا کہ اس میں کوئی حدیث موضوع نہ لاؤں گا۔
حیث قال ترکت القشر واخذات اللباب وصنتہ عما تفرد بہ وضاع اوکذاب ۔ چھلکے کو چھوڑا میں نے اور مغز کو لیا میں نےاور جس چیز کے ساتھ گھڑنے والا یا جھوٹ بولنے والا اکیلا ہوا اس سے بچایا میں نے۔(ت)
مگر اس سے اس قدر ثابت کہ ہادیان اخدا کی اطاعت لازم ہے۔اس میں کیا کلام ہے اس کے لئے خود آیہ کریمہ:
" اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم " اطاعت کرو تم اﷲ تعالی کی اور اطاعت کرو رسول اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور اپنے صاحب امر کی۔(ت)
کافی ہے قول اصح وارجح پر اولی الامر سے مراد علمائے دین ہیں کہ علمائے شریعت وطریقت دونوں کو شاملاس سے زیادہ یہ معنی اس کے لینا کہ جس نے بیعت ظاہری کسی کے ہاتھ پر نہ کی وہ گمراہ
حوالہ / References الجامع الصغیر حدیث ۴۹۶۹ و ۴۹۷۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۳۰۶
الجامع الصغیر حدیث ۴۹۶۹ و ۴۹۷۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۳۰۶
الجامع الصغیر خطبۃ المؤلف دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۵
القرآن الکریم ۴ /۵۹
#6364 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
ہے ہرگز مفادحدیث نہیں یہ افتراء وتہمت یا جہل وسفاہت ہے والعیاذ باﷲ تعالیہاں بیعت و امامت کبری کےلئے صحیح حدیث میں ارشاد ہوا:
من خلع ید امن طاعۃ لقی اﷲ یوم القیمۃ لاحجۃ لہ ومن مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاھلیۃ رواہ مسلم عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جس نے کھینچا ہاتھ کو اطاعت سے ملے گا اﷲ تعالی کو اس حال میں کہ اس کے پاس قیامت کے دن کوئی دلیل نہ ہوگیاور جو مرجائے اس حال میں کہ اس کی گردن میں بیعت کا پٹکا نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔روایت کیا اس کو مسلم نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے۔(ت)
یہ بھی اس صورت میں ہے کہ امام موجود ومتیسر ہو۔
کما لایخفی والا فلایکلف اﷲ نفسا الاوسعہا واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے ورنہ اﷲ تعالی کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کے وسعت کے مطابق۔واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۸۱:از کچھوچھا شریف ضلع فیض آباد مرسلہ حضرت سیدچاہ ابوالمحمو ومولنا مولوی احمد اشرف میاں صاحب اشرفی دام مجدھم ۱۷/ شوال ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے عظام وحضرات مشائخ کرام اس مسئلہ میں کہ پانسو برس کا زمانہ ہوا زید وعمرو دونوں برادر حقیقی کو ایك ہی مرشد یعنی اپنے والد ماجد سے علیحدہ علیحدہ دو خرقے عطا ہوکر خلافت وسجادہ نشینی حاصل ہوئیزید خلف اکبربرابر اپنے مرشد کے یوم العرس خرقہ عطیہ مرشد کو خاص خانقاہ ومرشدمیں پہن کر فاتحہ عرس حسب دستور مشائخ کرتا رہا یونہی آٹھ پشت تك زید کے خاندان میں خلافت خاندانی وخرقہ پوشی بحیثیت سجادہ نشینی قائم رہی اٹھویں پشت کا اخیر سجادہ نشینی بکر پانی زوجہ ہندہ اور برادر وخلیفہ خاص خالد کو چھوڑ کر انتقال کرگیا ہندہ بعد وفات شوہر خرقہ مذکورہ لے کر اپنے میکے چلی گئی خالد سے سلسلہ بیعت وخلافت خاندانی قریب سو برس سے جارہ ہے مگر بوجہ مذکور خرقہ پوشی اس مدت میں نہ ہوسکیعمروخلف اصغر کی نسل میں نو پشت تك خرقہ پوشی ایك روز قبل عرس ہوا کہ خاص روز عرس کی خرقہ پوشی نسل خلف اکبر میں
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمۃ جماعۃ المسلمین قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۲۸
#6365 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
ہوئی جب زمانہ خالد میں خرقہ نہ رہنے کے سبب وہ رسم ادانہ ہوسکی رشید نے کہ نسل عمرو کا نواں۹ سجادہ نشین اور معاصر خالد تھا دونوں روز خرقہ پوشی کی اب عمرو کے سلسہ میں حامداور زید کے خاندان میں محمود ہے جس نے علاوہ بیعت وخلافت خاندانی بزرگ ہوا خرقہ بھی واپس لیا اور رسم رفتہ پھر از سرنو تازہ کیاب حامد اس کے استحااق خرقہ پوشی میں منازع ہے مرشد مرشد محمود تك خلافت خاندانی بہت معززین اہل خاندان وغیرہم کو مسلم اور ان میں مشہورہے بعض اکابر اہل خاندان نے اپنے رسائل شائع شدہ میں بھی اسے درج کیا ہےمرشد محمود کو کہ ثقاب عدول سے تھے ان کے مرشد نے خلافت نامہ تحریری دستخطی اپنے قلم مبارك سے دیا جسے خود ان کے صاحبزادے وغیرہ بہت جانتے ہیں انھوں نے مدت سے اس سلسلہ کو اجرا فرمایالوگ ان کے پھر محمود پھر خلیفائے محمود کے مرید ہوتے رہے اور ہوتے ہیں کبرائے علماء ومشائخ عصر نے محمود کو خلیفہ وسجادہ نشین خاندان مانا اور اس پر مہر یں کی ہیں بلکہ خود مرشد مرشد محمود نے ایك خط دستخطی کے القاب میں نام محمود کے ساتھ لفظ سجادہ نشین تحریر فرمایاکیا اس صورت میں یہ سلسلہ خلافت و سجادہ نشینی ثابت ومسلم مانا جائے گا یا انکار بعض منازعین کے باعث تسلیم نہ ہوگااور چار سو برس تك رسم خرقہ پوشی خاندا ن محمود میں جاری رہ کر تقریبا سو برس تك بوجہ مذکور منقطع اور حامد کے یہاں دونوں رو ز خرقہ پوشی ہونے سے اب حق محمود زائل ہوگیایا وہ اس رسم کو تازہ کرسکتا ہے حامد کو بوجوہ مذکورہ یوم العرس خصوصا حدود خانقاہ میں خرقہ پوشی محمود سے تعرض ومزاحمت کا حق حاصل ہے یانہیں بینو توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ(دریافت کردہ صورت)میں محمود کی خلافت خاندانی وسجادہ نشینی ضرور ثابت ومسلم ہے اور انکار منازعین اصلا مسموع نہیں شرعا وعقلا ایسے امور کے ثبوت کے دو طریقے ہیں ایك اتصال سنددوسرے شہرت ____ تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ محمود کو دونوں وجہ شہرت بروجہ احسن حاصلتو نفی نافی قطعا نامسموع وباطل(نفی کرنے والے کی نفی نہ سنی ہوئی)
فتح القدیر وبحرالرائق ونہر الفائق ومنح الغفار وردالمحتار میں ہے:
طریق نقلہ لذلك عن المجتہد احد امرین امام ان یکون لہ سند فیہ اویاخذہ من کتاب معروف تد اولتہ الایدی نحو کتب محمد بن الحسن ونحوھا اس قول کو مجتہد سے نقل کرنے کا طریقہ دو میں سے ایك ہے یا تو یہ کہ اس کی سند اس میں موجود ہو یا اس کو کسی مشہور کتاب سے پکڑے جو ہاتھوں میں متداول ہو جیساکہ محمد بن حسن کی کتابیں اور
#6366 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
من التصانیف المشہورۃ للمجتہدین لانہ بمنزلۃ الخبر المتواتر المشہور ھکذا ذکر الرازی ۔ ان کی مثل مجتہدین کی مشہور تصانیف اس لئے کہ وہ بمنزلہ خبر متواتر مشہور کے ہےرازی نے اسی طرح ذکر کیا ہے۔(ت)
جب بتصریح ائمہ کرام دین خدا واحکام شرع ومسائل حلال وحرام وفتوی وقضا متعلق بدماء ومحارم میں انھیں دو طریقہ سند و شہرت سے صرف ایك کا وجود کافی جس کی بناء پر اجرائے حدود وقصاص تك کیاجائے گا امر سجادہ نشینی میں دونوں کا اجتماع بھی کافی نہ جاننا سراسر بعید از انصاف ہے سند کی تویہ حالت ہے کہ زید مسموع القول جب کوئی حدیث یا مسئلہ فقہیہ اپنے شیخ سے روایت کرے اور اس میں تصریح سماع بھی نہ ہوتاہم امام بخاری وغیرہ بعض ائمہ کے نزدیك شیخ وتلمیذ کی صرف کبھی ملاقات ہونا تسلیم کے لئے بس ہے اور امام مسلم وغیرہ جمہور اکابر کے نزدیك اس کی ضرورت نہیں محض معاصرت یعنی دونوں کا ایك زمانہ میں ہونا اور امکان لقاہی کافی ہے۔ہمارے علماء کے نزدیك یہی مذہب صحیح ہے نہ کہ جب وہ کہے کہ میں نے سنا یا مجھے خبر دی یا مجھ سے حدیث بیان کی کہ اب تو بالاجماع بے شرط مذکور قبول اور صاحب سند سے دعوی سماع پر گواہ مانگنا ضروری جاننا باجماع ائمہ باطل ومخذول امام مسلم اپنے مقدمہ صحیح میں فرماتے ہیں:
زعم القائل الذی افتتحنا الکلام علی الحکایۃ عن قولہ ان کل اسناد فیہ فلان عن فلانہ وقد احاط العلم بانہما کانا فی عصر واحد وجائز ان یکون سمعہ منہ غیر انہ لم تجد فی الروایات انھما التقیا لم یکن حجۃ وھذا القول مخترع مستحدث والمتفق علیہ بین اھل العلم قدیما وحدیثا ان الروایۃ ثابتۃ و الحجۃ بہا لازمۃ گمان کیا ہے اس قائل نے کہ شرو کیا ہم نے کلام کو اس کے قول کی حکایت پر تحقیق ہر استاد کہ اس میں فلان عن فلاں ہواور حال یہ کہ علم نے اس کا احاطہ کیاہو کہ وہ دونوں ایك ہی زمانہ میں ہوں او رجائز ہے کہ اس نے اس سے سنا ہو سوا ا س کے کہ ہم روایات میں نہ پائیں ان کی باہم ملاقات کو کہ وہ حجت نہ ہو اور یہ قول نیا گھڑا ہوا ہے اور پرانے اورنئے اہل علم میں یہ اتفاقی بات ہے کہ روایت ثابت ہے اور حجت اس کے ساتھ لازم ہے مگریہ کہ اس
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ الفتح والبحروالمنح کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۰۶
#6367 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
الاان تکون ہناك دلالۃ بینۃ ان الراوی لم یلق من روی عنہ اھ ملخصا۔ جگہ دلالت ظاہر کہ روای نے جس سے روایت کی ہے اس سے ملاقات نہیں کی اھ ملخصا۔(ت)
شرح امام نووی میں ہے:
ھذا الذی صار الیہ مسلم قد انکرہ المحققون وقالو اھذا ضعیف والذی ردہ ھوالمختار الصحیح الذی علیہ ائمۃ الفن علی بن المدینی والبخاری وغیرھما ۔ یہ وہ ہے جس کی طرف مائل ہوئے ہیں امام مسلمحال یہ ہے کہ محققوں نے اس کا نکار کیا ہے اور انھوں نے کہا ہے یہ ضعیف ہے اور جس کو اس نے رد کیا ہے وہی مختار صحیح ہے جس پر ائمہ فن علی بن المدینی اور امام بخاری وغیرہما جمع ہوئے ہیں۔(ت)
فتح القدیر میں ہے:
مانقل عن البخاری من انہ اعلم بقولہ لایعرف سماع بعض ھؤلاء من بعض فبناء علی اشتراطہ العلم باللقی والصحیح الاکتفاء بامکان اللقی ۔ جو نقل کیا گیا ہے امام بخاری سے کہ انھوں نے ضعیف قرار دیا ہے ساتھ اپنے قول کہ نہیں پہچانا جاتا سننا بعض ان حضرات کا بعض سےتویہ اس پر مبنی ہے کہ ان کے نزدیك ملاقت کا علم ہونا شرط ہے اور صحیح یہ ہے کہ ملاقات کا امکان ہی کافی ہے۔ (ت)
نیز کتاب الزکوۃ فصل فی البقر میں فرمایا:
قول الجمہور الاکتفاء بالمعاصرۃ مالم یعلم عدم اللقاء و شرط البخاری ابن المدینی العلم باجتما عہما ولو مرۃ جمہور کا قول کفایت کرتاہے ہم عصر ہونے کے ساتھ جبکہ ملاقات کے نہ ہونے کا علم نہ ہو اور شرط قرار دیا ہے امام بخاری اور ابن المدینی نے ان کے اجتماع کو اگرچہ ایك ہی مرتبہ ہوا ہو۔
حوالہ / References صحیح مسلم مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۱و ۲۲
شرح صحیح مسلم للنووی مقدمۃ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۱
فتح القدیر کتاب الصلٰوۃ باب الوتر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۷۰
#6368 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
والحق خلافہ اھ ملتقطا۔ حال یہ ہے کہ حق اس کے خلاف ہے ھ ملتقطا(ت)
زیدوعمرو کی خلافت وسجادہ نشینی درکنار خود حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صحابیت(جس کا اثر اعمال سے گزر کر عقائد تك پہنچتا ہے کہ صحابہ کی تعظیم ومحبت ضروریمذہب اہلسنت اور معاذاﷲ ان کی توہین وتنقیص گمراہی وضلالت)اس کے بارے میں محققین علماء فرماتے ہیںثقہ عادل کا خود اپنی خبر دینا کہ مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل ہوا کافی ہے اگر چہ کسی دوسرے طریقے سے اس کی صحابیت کا اصلا ثابت نہ ہو جبکہ وہ ایسے وقت میں تھا کہ فضل اسے ملنا متصود ہو
امام ابن حجر عسقلانی فی تمیز الصحابہ میں فرماتے ہیں:
الفصل الثانی فی الطریق الی معرفۃ کون الشخص صحابیا وذلك باشیاء اولھا ان یثبت بطریق التواتر انہ صحابی ثم بالاستفاضۃ والشہرۃ ثم بان یروی عن احد من الصحابۃ ان فلانالہ صحبۃ مثلا وکذا عن احادالتا بعین بناء علی قبول التزکیۃ من واحد وھو الراجح ثم بان یقول ھوا ذاکان ثابت العدالۃ والمعاصرۃ انا صحابی ۔ دوسری فصل کسی شخص کے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے صحابی ہونے کی پہچان کے طریق میں اور چند چیزوں سے ہےاول یہ کہ تواتر کے طریق سے ثابت ہو کہ وہ صحابی ہے پھر ساتھ طریق استفاضہ اور شہرت کےپھر بایں طور کہ کسی صحابی سے روایت کیاجائے کہ فلاں کو صحبت نصیب ہے مثلا اور ایسے ہی کسی ایك تابعی سے بنا پر قبول کرنے تزکیہ کے کسی ایك سے اور یہی راجح ہے پھر بایں طور کہ کہے وہ جب کہ اس کی عدالت اور ہم عصر ہونا ثابت ہو کہ میں صحابی ہوں۔(ت)
مسلم الثبوت میں ہے:
اخبار العدل عن نفسہ بانہ صحابی اذا کان معاصرا لاکالرتن لیس کتعدیلہ نفسہ ۔ کہ عادل کا خبردینا اپنی ذات کے بارے میں کہ وہ صحابہ ہے جبکہ وہ ہمعصر ہوخواجہ رتن کی طرح نہ ہو اپنی تعدیل کے حکم میں نہیں ہے۔(ت)
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الزکوٰۃ فصل فی البقر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۳۳
الاصابۃ فی تمییر الصحابۃ خطبۃ الکتاب الفصل الثانی دار صادر بیروت ۱ /۸
مسلم الثبوت الاصل الثانی السنۃ مسئلہ اخبار عن نفسہ الخ مطبع انصاری دہلی ص۱۹۸
#6369 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
کتنے صحابہ ہیں جن کی احادیث ائمہ حدیث قدیم وحدیث نے اپنے صحاح ومسانید وسنن معاجیم میں تخریج فرمائیں نہ ان کے پاس نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا کوئی فرمان تھا کہ فلاں ہمارے حضور بارگاہ علام پناہ سے شرف یاب ہوا نہ ان سے اس پر کوئی شہادت لی گئی نہ اور صحابہ کا محضر طلب ہوا ان ثقات کا خود ہی کہاکہ:
سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم شہدت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے سنا ہے میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا ہے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔(ت)
مسموع ومقبول ہوا۔
کماافادہ الامام ابو عمربن عبدالبر فی الاستیعااب و اقرہ علیہ حافظ الشان۔ جیساکہ افادہ فرمایا ہے امام ابوعمر بن عبدالبر نے استیعاب میں اور ثابت رکھا ہے اس پر حافظ الشان ابن حجر نے(ت)
شہرت وہ چیزہے جس سے رشتہ خلافت درکنار رشتہ نسب کہ صدہا احکام حلال وحرام وحقوق و ذمام کا مدار ہے شرعاوعقلا اجماعا عرفا ہر طرح ثابت ہوجاتاہے ہم شہادت دیتے ہیں کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ حضرت ابوقحافہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے پسر اطہر اور امام زین العابدین حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالی عنہما کے خلف مطہر میں سوا شہرت کے ہمارے پاس اس پر اور کیا دلیل ہے۔فتاوی خلاصہ میں ہے:
اما النسب فصورتہ اذا سمع من انسان ان فلانا ابن فلان الفلانیومعہ ان یشھد بذلك وان لم یعاین الولادۃ علی فراشہ الا یری انا نشھد ان ابابکر الصدیق رضی اﷲ تعالی عنہ ابن ابی قحافۃ وما رأینا ابا قحافہ رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ لیکن نسب تو صورت اس کی یہ ہے کہ سنا کسی انسان سے تحقیق فلاں بیٹا فلاں کا فلان ہے تو اس کو گنجائش ہے اس بات کی شہادت دے اس کی اگر چہ اس کے فرش پر اس کی ولادت کا اس نے معائنہ نہ کیا ہوکیا نہیں دیکھتا کہ ہم گواہی دیتے ہیں اس بات کی کہ تحقیق ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ ابوقحافہ کے بیٹے ہیں حالانکہ ہم نے ابوقحافہ رضی اﷲ تعالی عنہ کو دیکھا نہیں۔(ت)
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الشہادۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبہ کوئٹہ۴/۵۲
#6370 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
اور دونوں طریق ثبوت کر ناکافی سمجھا جائے تو تمام سلاسل اولیاء اﷲ سے معاذاﷲ ہاتھ دھونا ہو کیا کوئی قادر ہے کہ شروع سلسلہ سے منتہی تك ہر بندہ خدا کا اپنے شیخ سے خلافت واجازت پانا ن کے سوا اور کسی طریقہ انیقہ سے ثابت کرسکےحاشا وکلا تو اس کے انکار میں عیاذا باﷲ تمام سلاسل کا انکار لازم آتاہے۔وھو کما تری(یہ وہ معاملہ جسے آپ سمجھتے ہیں)او رجب دلیل شرعی سے محمود کا سلسلہ سجادہ نشینی وخلافت ثابت تو خانقاہ مبارك میں رسم خرقہ پوشی سے اسے مانع ہونے کا کوئی حق حامد کو نہیںنہ حامد خوہ کسی کاانکار قابل قبول ہوسکتاہے۔عقل ونقل کا قاعدہ اجماعیہ ہے کہ نفی پر مثبت مقدم ہوتاہے دو ثقہ گواہی دیں کہ زید وہندہ کا نکاح ہوا اور ہزار گواہ ہوں کہ نہ ہوا ان نافیوں کی بات ہر گز نہ سنی جائے گی کہ اس کا حاصل صرف اپنے علم کی نفی ہے یعنی ہمارے سامنے نہ ہوا اور اس سے نفی وقوع لازم نہیں آتیاصول مسلمہ میں سے ہے:
المثبت مقدم علی النافی لان من یعلم حجۃ من لا یعلم۔ مثبت نافی پر مقدم ہے اس لئے کہ ہوجاتاہے وہ حجت ہے اس پر جو نہیں جانتا۔(ت)
الاشباہ میں ہے:
بینۃ النفی غیر مقبولۃ الا فی عشر(الی قولہ)وفی ایمان الہدایۃ لافرق بین ان یحیط علم الشاھد اولا ۔ نفی کی دلیل غیرمقبول ہے مگر دس چیزوں میں ہدایہ کی کتاب الایمان میں ہے کہ نہیں فرق درمیان اس کے کہ گواہ کاعلم احاطہ کرے یانہ(ت)
دور کیوں جائے سلاسل طریقت ہی دیکھئے ہر سلسلہ میں بتوسط امام حسن بصری حضرت امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے انتساب موجود حالانکہ جماہیر اکابر ائمہ محدثین کہ فن رجال میں انھیں پر اعتماد اور انھیں کی طرف رجوع ہے۔ حضرت مولا علی کرم اﷲ تعالی وجہہ سے ان کے لئے سماع ہرگز نہیں مانتے مگر اسی قاعدہ عقلیہ ونقلیہ المثبت مقدم علی النافی لان من حفظ حجۃ علی من لم یحفظ(مثبت نافی پر مقدم ہے اس لئے کہ جس نے محفوظ رکھا اس کی بات حجت ہے اس پر جس نے محفوظ نہ رکھا)نے اتصال سلاسل میں اصلا خلل نہ آنے دیا جب اثبات کے سامنے ایسے اکابر کی نفی مقبول نہ ہوئی تو آج کل کے کسی صاحب کا انکار کیاا ثر ڈال سکتاہے۔رہا سوبرس تك اس رسم کا بعذر
حوالہ / References الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۵۲۔۳۵۱
#6371 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
مذکورہ ادا نہ ہونا وہ بعد ثبوت سجادہ نشینی کا قابل احتجاج ہے حامدکے یہاں چار سو برسك تك روز عرس خرقہ پوشی نہ ہونے نے اسے ممنوع نہ کیاحالانکہ اول یہ امر اس کے خاندان میں نہ تھا تو محمود کے یہاں چار سو برس جاری رہ کر سو برس بعذر منقطع ہونا کیا مخل ہوسکتاہے شرع کا قاعدہ مسلمہ ہے کہ:البقاء اسھل من الابتداءابتداء سے بقاء آسان ہے۔(ت)بنی اسرائیل سے عمالقہ تابوت سکینہ چھین لے گئے مدتہامدت کے بعد واپس آیا تھا تو کیا ان کا حق تبرك اس سے زائل ہوگیا تھا۔قال اﷲ تعالی:
" وقال لہم نبیہم ان ایۃ ملکہ ان یاتیکم التابوت فیہ سکینۃ من ربکم" اور کہا ان کو ان کے نبی نے تحقیق نشانی اس کی شاہی کی یہ ہے کہ آئے گا تابوت تمھارے پاس اس میں تمھارے رب کی طرف سے سکینت ہوگی۔(ت)
یاجب قرامطہ مخذولین کعبہ معظمہ سے حجر اسود اکھیڑ کر ہجر کو لے گئے اور بائیس برس بعدمسلمانوں نے بحمداﷲ تعالی واپس پایا تو کیا اہل اسلام یا اہل بیت الحرام کا حق تبرك واستلام اس میں باقی نہ رہایہ امور واضحہ ہیں نہایت درجہ روشن وصافوالانصاف خیر الاوصاف واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔(اور انصاف تمام اوصاف سے بہترہے اور اﷲ تعالی پاك اور برتر سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ت)
مسئلہ ۱۸۲:
چہ می فرمایند علمائے دین کہ بردست کدام کس بیعت نمودن جائز وعدم جواز ست وکدام کس قابل مرشد شدن ست وباینہمہ کسیکہ قابل بیعت نمود نیست واگر کسے رابیعت نماید بحق او شان چہ حکم ست۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کس شخص کے ہاتھ پر بیعت ہونا جائز ہے اور کس کے ہاتھ پر ناجائز ہے اور کون شخص مرشد ہونے کے قابل ہے اور باوجود ان سب باتوں کے جو شخص بیعت کرنے کے قابل نہیں اگر وہ کسی کو بیعت کرے اس کے حق میں کیاحکم ہے
الجواب:
بیعت گرفتن ودر مسند ارشاد نشستن را ازچار بیعت لینے اور مسند ارشاد پر بیٹھنے کے لئے چار
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۴۸
#6372 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
شرط ناگزیرست:
یکے آنکہ سنی صحیح العقیدہ باشد زیر اکہ بد مذہبیاں سگان دوزخ اند بدترین خلق چنانچہ درحدیث آمدہ ست۔
دوم عالم بعلم ضروری بودن کہ ع
بے علم نتواں خداراشناخت
سوم اجتناب کبائر کہ فاسق واجب التوہین است ومرشد واجب التعظیم ہر دو چہ گونہ بہم آید۔
چہارم اجازت صحیحہ متصلہ کما اجمع علیہ اھل الباطن۔
ہر کہ ازنہا ہیچ شرطے رافاقدست اور ا نشاید پیر گرفتن۔واﷲ تعالی اعلم۔ شرطیں ضروری ہیں:
ایك یہ کہ سنی صحیح العقیدہ ہو اس لئے کہ بدمذہب دوزخ کے لئے کتے ہیں اوربدترین مخلوقجیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
دوسری شرط ضروری علم کا ہونااس لئے کہ بے علم خدا کوپہچان نہیں سکتا۔
تیسری یہ کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیرز کرنا اس لئے کہ فاسق کی توہین واجب ہے اور مرشد واجب التعظیم ہے دونوں چیزیں کیسے اکھٹی ہوں گی۔
چوتھی اجازت صحیح متصل ہوجیسا کہ اس پر اہل باطن کا اجما ع ہے۔
جس شخص میں ان شرائط من سے کوئی ایك شرط نہ ہوتو اس کو پیر نہیں پکڑنا چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۸۳: ۸/ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں احمد ایك ولی اﷲ امام وقت کا مرید وغلام اور امام ممدوح کی طرف سے مجاز وماذون ہے بعد وصال شریف اپنے شیخ رضی اﷲ تعالی عنہ کے احمد کو بوجہ کثرت ذنوب خیال تجدید بیعت آیا احمد نے اپنے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم کی بعض تصانیف میں دیکھا تھا کہ اگر شیخ تك بوجہ وصال یا بعد کے وصول نہ ہوسکے اور تجدید بیعت چاہے تو شیخ کے کپڑے پر تجدید کرے بایں لحاظ احمد نے مولانا حسین بن حسن خلیفہ وسجادہ نشین حضرت شیخ سے جامہ شیخ رضی اﷲ تعالی عنہ کی استدعا کی مولانا نے فرمایا جب جانشین شیخ موجود ہے کپڑے کی کیاحاجت ہے۔احمد کے بھی ذہن میں آیا کہ واقعی نیابت جانشین نیابت جامہ سے اتم واکمل ہونی چاہئے اس نیت سے مولانا کے ہاتھ پر بیعت کی مگر کبھی اپنا شیخ حضرت ولی اﷲ امام ممدوح رضی اﷲ تعالی عنہ کے سوا دوسرے کو نہ جانا نہ قراءت شجرہ طیبہ میں کسی اور کانام داخل کیانہ جو شجرے اپنے بیعت کرنے والوں کو دئے ان میں کبھی حضرت شیخ رضی اﷲ تعالی عنہ کے بعد کوئی نام
#6373 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
لکھا اب جانشین موصوف کو بوجہ تجدید مذکور یہ خیال ہے کہ احمد میرا مرید ہے اوراحمد اپنے ذہن میں اپنی بیعت اولی پر ہے۔ اس صورت میں امرحق کیاہے۔احمد چاہتاہے کہ اگر میرے خیال کی غلطی ثابت ہو تومیں تائب ہوکر از سر نو دست مولنا پر بیعت مستقلہ بجالاؤں اور اگر اسی کا خیال صحیح ہے تو شرع مطہر سے اس پر کیا دلیل ہے کہ باوصف یکہ احمد نے دوبارہ بیعت دست مولنا پر کیمولنا کا مرید متصور نہ ہو۔بینو اتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں احمد کا خیال ہے صحیح ہے وہ اپنی بیعت اولی پر ہے بوجہ تجدید مذکور جانشین موصوف کا مرید قرار نہ پائے گا۔
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔ سوائے اس کے نہیں کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور سوا اس کے نہیں کہ ہر آدمی کے لئے وہ ہے جو اس نے نیت کی۔(ت)
شرع مطہر سے اس پر دلیل واضح حضرت سیدنا طلحہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا فعل اور حضرت امیر المومنین امام العارفین مولی المسلمین علی مرتضی کرم اﷲ تعالی وجہہ الکریم کا قول ہے:
وناھیك بہما قدوۃ فی الدین۔ تیرے لئے ان دونوں حضرات کا دین میں پیشوا ہونا کافی ہے۔(ت)
جب حضرت طلحہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنی خطائے اجتہادی سے رجوع فرماکر دست حق پر ست حضرت امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ پر تجدید بیعت چاہی ظالم کے ہاتھ سے زخمی ہوچکے تھے امیر المومنین علی تك وصول کی طاقت نہ تھی امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ کے لشکر کا ایك سپاہی گزرا اسے بلاکر حضرت طلحہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس کے ہاتھ پر تجدید بیعت فرمائی اور روح اقدس جوار اقدس رحمت الہی میں پہنچی امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ نے یہ حال سن کر فرمایا:
ابی اﷲ ان یدخل طلحۃ الجنۃ الا و بیعتی فی عنقہ۔ اﷲ عزوجل نے طلحہ کاجنت میں جانا نہ مانا جب تك میری بیعت ان کی گردن میں نہ ہو۔(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲،صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۴۰
#6374 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
دیکھو امیر المومنین نے اس بیعت کو اپنی ہی بیعت قرار دیا نہ کہ لشکری کیاور حضرت طلحہ نے امیر المومنین ہی کو امیر المومنین مستحق بیعت سمجھا نہ کہ معاذاﷲ لشکری کو۔
ذلك برھانان من ربك وقد عرضتہ علی محقق الشریعۃ والطریقۃ مولینا محب الرسول عبدالقادر القادری البدایونی حفظہ اﷲ تعالی عن شر کل مجونی وفتونی فاقرہ وصوبہ واستحسنہ واعجبہواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ یہ دونوں برہان تیرے رب کی طرف سے ہیں اور تحقیق میں نے پیش کیا اس کو شریعت و طریقت کے محقق مولانا محب رسول عبدالقادر قادری بدایونی پراﷲ تعالی ان کو محفوظ رکھے ہر بے حیا اور فتین کے شر سےپس اس کو ثابت رکھا اور اس کو صواب قرار دیا اور اس کو عجیب اور مستحسن قرار دیااور اﷲ تعالی پاك ہر عیب سے اور برتر ہے سب سے زیادہ جاننے والا اور اس کا علم جلیل اس کی بزرگی اتم اور مضبوط ہے۔(ت)
مسئلہ ۱۸۴: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خاں صاحب ۲۰/ شوال ۱۳۱۴ھ
اگر عورت نیك خصلت پابند شریعت واقف طریقت اپنے ہاتھ پر عورتوں اور مردوں کو بیعت کرتا شروع کردے تو ازروئے طریقت اور شریعت یہ بیعت درست ہے یانہیں بحوالہ کتب مع عبارات تحریر فرمائیں۔
الجواب:
اولیائے کرام کا اجماع ہے کہ داعی الی اﷲ کا مرد ہونا ضرور ہے لہذا سلف صالحین سے آج تك کوئی عورت نہ پیر بنی نہ بیعت کیا۔حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لن یفلح قوم ولو امرھم امرأۃ رواہ الائمۃ احمد و البخاری والترمذی والنسائی ہر گز وہ قوم فلاں نہ پائے گی جنھوں نے کسی عورت کو والی بنایااس کو ائمہ کرام احمد وبخاری و
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الفتن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۵۲،جامع الترمذی ابوب الفتن امین کمپنی دہلی ۲/ ۵۱،سنن النسائی کتاب ادب القضاۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۳۰۴،مسند احمد بن حنبل عن ابی بکرۃ المکتب الاسلامیۃ بیروت ۵ /۵۱
#6375 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ترمذی اور نسائی نے ابوبکرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
امام عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ میزان الشریعۃ کتاب الاقضیہ میں فرماتے ہیں:
قد اجمع اھل الکشف علی اشتراط المذکورۃ فی کل داع الی اﷲ تعالی ولم یبلغنا ان احدا من نساء السلف الصالح تصدرت لتربیۃ المریدین ابدا النقص النساء فی الدرجۃ و ان ورد الکمال فی بعضہن کمریم بنت عمران واسیۃ امرأۃ فرعون فذلك کمال بالنسبۃ للتقوی والدین لابالنسبۃ للحکم بین الناس وتسلیکھم فی مقامات الولایۃوغایۃامر المرأۃ ان تکون عابدۃ وزاھدۃ کرابعۃ العدویۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ فقط بیشك اہل کشف نے اجماع کیا ہے اﷲ تعالی کی طرف بلانے والے کے لئے مردہونا شرط قرار دینے پراور نہیں پہنچی کہ ہم کو خبر کہ سلف صالحین کی عورتوں میں سے کوئی عورت مریدین کی تربیت کرنے کے درپے ہوئی ہو ہمیشہ بوجہ عورتوں کے درجہ میں ناقص ہونے کےاگر چہ ان کے بعض میں کمال وارد ہوا ہے۔جیسے کہ مریم بن عمران اور آسیہ فرعون کی بیویپس یہ کمال تقوی اور دین کے لحاظ سے ہے نہ کہ لوگوں کے درمیان حکومت کرنے کی نسبت سے اور ان کو مقامات ولایت میں چلانے کی وجہ سے عورت کی غایت امر یہی ہے کہ وہ عابدہ زاہدہ ہوجیسا کہ رابعہ عددیہ بصریہاور اﷲ سبحنہ وتعالی سب سے زیادہ علم جاننے والا ہے اور اس کا علم بزرگ تراکمل اور مضبوط ہے۔فقط۔(ت)
_____________________
رسالہ
نقاء السلافۃ فی البعیۃ والخلافۃ
ختم شد
حوالہ / References میزان الشریعۃ الکبرٰی کتاب الاقضیہ مصطفی البابی مصر ۲ /۱۸۹
#6376 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
(مندرجہ ذیل مسئلہ فتاوی افریقہ سے منقول ہے)
مسئلہ ۱۸۵:
اگر زید کا پیر ومرشد نہ ہو تو وہ فلاح پائے گا یا نہیں اوراس کا پیر ومرشد شیطان ہوگا یانہیں کیونکہ رب عزوجل حکم کرتاہے: وابتغوا الیہ الوسیلۃ اور ڈھونڈو طرف اس کی وسیلہ۔
الجواب:
ہاں اولیاء کرام قد سنااﷲ باسرارہم کے ارشاد سے دونوں باتیں ثابت ہیں اور عنقریب ہم ان دونوں کو قرآن عظیم سے استنباط کریں گےایك یہ کہ بے پیرا فلاح نہ پائے گاحضرت سیدنا شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس سرہعوارف المتعارف شریف میں فرماتے ہیں:
سمعت کثیرا من المشائخ یقولون من لم یر مفلحا لا یفلح ۔ یعنی میں نے بہت اولیائے کرام کو فرماتے سنا کہ جس نے کسی فلاح پائے ہوئے کی زیارت نہ کی وہ فلاح نہ پائے گا۔
دوسرے یہ کہ بے پیر کا پیر شیطان ہے عوارف شریف میں ہے:
روی عن ابی یزید(رضی اﷲ تعالی عنہ) یعنی سیدنا بایزید بسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ سے
حوالہ / References عوارف المعارف الباب الثانی مطبعۃ المشھد الحسینی ص۷۸
#6377 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
انہ قال من لم یکن لہ استاد فامامہ الشیطان ۔ مروی ہوا کہ فرماتے ہے جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے۔
رسالہ مبارکہ امام اجل ابوالقاسم قشیری میں ہے:
یجب علی المرید ان یتادب بشیخ فان لم یکن لہ استاذ لایفلح ابدا ھذا ابویزید یقول من لم یکن لہ استاذ نا فاما مہ الشیطان ۔ یعنی مرید پر واجب ہے کہ کسی پیر سے تربیت لے کہ بے پیرا فلاح نہ پائے گا۔یہ میں ابویزید کہ فرماتے ہیں جس کا کوئی پیر نہ ہو اس کا پیر شیطان ہے۔
پھر فرمایا:
سمعت الاستاذ ابا علی الدقاق یقول الشجرۃ اذا انبتت بنفسہا من غیر غارس فانھا تورق ولکن لا تثمر کذلك المرید اذا لم یکن لہ استاذ یأ خذ منہ طریقۃ نفسا فنفسا فھو عابد ھواہ لایجد نفاذا ۔ یعنی میں نے حضرت ابوعلی دقاق رضی اﷲ تعالی عنہ کو فرماتے سنا کہ پیڑ جب بے کس بونے والے کے آپ سے اگے توپتے لاتاہے مگر پھل نہیں دیتا یونہی مرید کے لئے اگر کوئی پیر نہ ہو جس سے ایك ایك سانس پر راستہ سیکھے تو وہ اپنی خواہش نفس کا پجاری ہے راہ نہ پائےگا۔
حضرت سیدنا میر سید عبدلواحد بلگرامی قد س سرہسبع سنابل شریف میں فرمات ہیں:
چوپیرت نیست پر تست ابلیس کہ راہ دین نہ زدست ازمکروتلبیس
(جب تیرا پیر نہیں ہے تو تیرا پیر ابلیس ہے کہ اس نے دین کی راہ ماری ہے مکر وفریب سے۔ت)
یہ مقام بہت تفصیل وتوضیح چاہتاہے فاقول: وباﷲ التوفیق(میں کہتاہون اور توفیق اﷲ تعالی سے ہے۔ت)فلاح دو۲ قسم کی ہے:
اول: انجام کا ررستگاری اگر چہ معاذاﷲ سبقت عذاب کے بعد ہویہ عقیدہ اہلسنت میں ہر مسلمان کے لئے لازم اور کسی بیعت ومریدی پر موقوف نہیں اس کے واسطے صرف نبی کو مرشد جاننا بس ہے۔
حوالہ / References عوارف المعارف الباب الثانی مطبعۃ المشہد الحسینی ص۷۸
الرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین مصطفی البابی مصر ص۱۸۱
الرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین مصطفی البابی مصر ص۱۸۱
سبع سنابل
#6378 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
بلکہ ابتدائے اسلام میں کسی دور دراز پہاڑ یا گمنام ٹاپو کے رہنے والے غافل جن کو نبوت کی خبر ہی نہ پہنچی اوردنیا سے صرف توحید پر گئےبالاخر ان کے لئے بھی یہ فلاح ثابت۔صحیح بخاری وصحیح مسلم انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:اہل محشر اور انبیاء سے مایوس پھر کر میرے حضور حاضر ہو ں گے میں فرماؤں گا انا لھا میں ہوں شفاعت کےلئے۔پھر اپنے رب سے اذن چاہوں گا وہ مجھے اذن دے گامیں سجدے میں گروں گا ارشاد ہوا۔یامحمد ارفع راسك وقال تسمع وسل تعطہ واشفع تشفع اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو کہ تمھاری بات سنی جائے گی اور مانگو تمھیں عطا کیا جائے گااور شفاعت کرو کہ تمھاری شفاعت قبول ہے۔میں عرض کروں گا اے میرے رب! میری امت میری امتفرمایا جائے گا جاؤ جس کے دل میں جو بھر ایمان ہو اسے دوزخ سے نکال لوانھیں نکال کر میں دوبارہ حاضر ہوں گا سجدہ کروں گا وہی ارشاد ہوگا کہ اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ اور کہو کہ سنا جائے گا مانگو کہ دیا جائے گاشفاعت کرو کہ قبول ہےمیں عرض کروں گا اے میرے رب! میری امت میری امت۔ارشاد ہوگا جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو نکال لومیں انھیں نکال کر سہ بارہ حاضر ہوکر سجدہ کروں گا فرمائے گا اے محمد! اپنا سراٹھاؤاور جو کہو منظور ہے جو مانگو عطا ہے شفاعت کرو مقبول ہےمیں عرض کرو ں گا اے میرے رب میری امت میری امتارشاد ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے سے کم تر ایمان ہو اسے نکال لومیں انھیں نکال کر چھوتھی بار حاضر وساجد ہوں گا ارشاد ہوگا اے محمد ! پنا سراٹھا ؤ اور کہو کہ سنیں گے مانگو کہ دیں گے شفاعت کرو کہ قبول کرینگے۔میں عرض کروں گا الہی! مجھے ان کے نکالنے کی اجازت دے جنھوں نے تجھے ایك جانا ہے۔ارشاد ہوگا یہ تمھارے سبب نہیں بلکہ مجھے اپنے عزت وجلال و کبریاوعظمت کی قسم ہر مؤحد کو اس سے نکال لوں گا
اقول:یہ ان کے بارے میں رد شفاعت حضور نہیں بلکہ عین قبول ہے کہ حضور کے عرض کرنے ہی پر توجہنم سے نکالے گئےفقط یہ فرمایا گیا ہے کہ ان کو رسالت سے توسل کا موقع نہ ملا مجرد وعقل جنتے ایمان کے لئے کافی تھی یعنی توحید اسی قدر رکھتے تھےثم اقول معنی حدیث کی یہ تقریر کہ ہم نے کی اس سے ظاہر ہوا کہ یہ اس حدیث صحیح کے معارض نہیں کہ فرمایا:
مازلت اتردد علی ربی فلا اقوم فیہ مقاما الا میں اپنے رب کے حضور آتا جاتارہوں گا جس
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب التوحید باب کلام الرب یوم القیمۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۔۱۱۱۸،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۰
#6379 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
شفعت حتی اعطانی اﷲ من ذلك ان قال یامحمد ادخل من امتك من خلق اﷲ من شہدان لا الہ الا اﷲ یوما واحدا مخلصا ومات علی ذلك رواہ احمد بسند صحیح عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ شفاعت کے لئے کھڑا ہوں گا قبول ہوگییہاں تك کہ میرا رب فرمائے گا کہ تمام مخلوق میں جتنی تمھاری امت ہے ان میں جو توحید پر مرا ہو اسے جنت میں داخل کردو(اسے احمد نے بسند صحیح حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
کہ یہاں کلام امت میں ہے تو یہاں لا الہ الا اﷲ سے پور اکلمہ طیبہ مراد ہے جیسا کہ انھوں نے امام احمد صحیح ابن حبان حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
شفاعتی لمن شہدان لا الہ الا اﷲ ملخصا وان محمد رسول اﷲ یصدق لسانہ قلبہ و قلبہ لسانہ ۔
اللھم اشہد وکفی بك شہیدا انی اشھد بقلبی ولسانی انہ لا الہ الا اﷲ وان محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حنیفا مخلصا وما انا من المشرکین و الحمدﷲ رب العالمین۔ میری شفاعت ہر اس شخص کے لئے ہے جواﷲ کی تو حیداور میری رسالت پر اخلاص سے گواہی دیتا ہو کہ زبان دل کے موافق ہواور دل زبان کے۔
الہی!گواہ ہوجا اور تیری ہی گواہی کافی ہے کہ میں اپنے دل و زبان سے گواہی دیتاہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اسکے رسول ہیں سب باطل دینوں سے کنارہ کرتاہوا خالص اسلام والاہو کراور میں مشرکوں میں سے نہیں اور سب تعریفیں اﷲ رب العالمین کے لئے ہیں۔(ت)
دوم: کامل رستگاری کہ بے سبقت عذاب دخول جنت ہوا س کے د وپہلو ہیں:
اول: وقوع یہ مذہب اہلسنت میں محض مشیت الہی پر ہے جسے چاہے ایسی فلاح عطا فرمائے اگر چہ لاکھوں کبائر کا مرتکب ہواور چاہے تو ایك عــــــہ گناہ صغیرہ پر گرفت کرلے اگر چہ لاکھوں حسنات رکھتاہو۔
عــــــہ: اگر چہ وہ ایسا کرے گا نہیں۔ (باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۷۸
مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۳۰۷،مواردالظمان باب جامع فی البعث والشفاعۃ حدیث ۲۵۹۴ المطبعۃ السلفیہ مکۃ المکرمہ ص۶۴۵
#6380 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
یہ عدل ہے اور وہ فضل:
" فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء" جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے۔(ت)
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت سے بے گنتی اہل کبائر ایسی فلاح پائیں گے نبی کریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شفاعتی لاھل الکبائر من امتی۔رواہ احمد میری شفاعت میری امت سے کبیرہ گناہوں والوں

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لقولہ تعالی" و یجزی الذین احسنوا بالحسنی ﴿۳۱﴾ الذین یجتنبون کبئر الاثم و الفوحش الا اللمم ان ربک وسع المغفرۃ " وقولہ تعالی" ان تجتنبوا کبائر ما تنہون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما ﴿۳۱﴾ " قولہ تعالی
" ان الحسنت یذہبن السیات ذلک ذکری للذکرین ﴿۱۱۴﴾" ۱۲ منہ غفرلہ ارشاری تعالی ہے اور نیکی کرنے والوں کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے وہ جو گناہوں اور بے حیائیوں سے بچنے ہیں مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رك گئےبیشك تمھارے رب کی مغفرت وسیع ہے۔اور اﷲ تعالی کا ارشاد ہے اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمھیں ممانعت ہے تو تمھارے اور گناہ ہم بخش دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ داخل کریں گےاور اﷲ تعالی کا فرمان ہے بے شك نیکیاں برائیوں کی مٹادیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۸۴
سنن ابی داؤد کتا ب السنۃ فی الشفاعیۃ ۲/ ۲۹۶ و جامع الترمذی ابواب صفۃ القیمۃ ۲ /۶۶،سنن ابن ماجہ ابوباب الزہد باب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۳۲۹،مسند احمد بن حنبل عن انس دارالکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۱۳،شعب ایمان حدیث ۳۱۰،۳۱۱۱ درالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۲۸۷،السنن الکبرٰی کتاب الجنایات دارصادر بیروت ۸ /۱۷۰،موارد الظمان حدیث ۲۵۹۶ ص۶۴۵ و المعجم الکبیر حدیث ۱۱۴۵۴ ۱۱/ ۱۸۹
القرآن الکریم ۵۳ /۳۱ و ۳۲
القرآن الکریم ۴ /۳۱
القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۴
#6381 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن حبان والحاکم والبیہقی وصححہ عن انس بن مالك والترمذی وابن ماجۃ وابن حبان والحاکم عن جابر بن عبد اﷲ والطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس والخطیب عن کعب بن عجرۃ وعن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ کے لئے ہے(یہ حدیث احمد وابوداؤد وترمذی ونسائی وبن حبان وحاکم وبیہقی نے انس بن مالك سے روایت کیاور بیہقی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے اور ترمذی وابن ماجہ وابن حبان و حاکم نے جابر بن عبداﷲ سے روایت کیاور طبرانی نے معجم الکبیر میں عبداﷲ بن عباس سے اور خطیب نے کعب بن عجرہ سے اور عبداﷲ بن عمر سےرضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ت)
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
خیرت بین الشفاعۃ وبین ان یدخل شطر امتی الجنۃ فاخترت الشفاعۃ لانہا اعم واکفی اترونھا للمؤمنین المتقین لاولکنا للمذنبین المتلوثین الخطائین رواہ الحمد بسند صحیح والطبرانی فی الکبیر باسناد جید عن ابن عمر وابن ماجۃ عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہم۔ مجھ سے میرے رب نے فرمایا تم کو اختیارہے چاہے شفاعت لے لو چاہے یہ کہ تمھاری آدھی امت بلا عذاب داخل جنت ہو۔میں نے شفاعت اختیار فرمائی کہ وہ زیادہ عام اور زیادہ کافی ہے کیا اسے ستھرے مومنوں کےلئے سمجھتے ہو۔نہیں بلکہ وہ گناہگاں آلودہ بزرگاروں سخت خطا کاروں کے لئے ہے۔(یہ حدیث احمد نے بسند صحیح اورطبرانی نے معجم کبیر میں بہ سند جید عبداﷲ بن عمر سے روایت کیاور ابن ماجہ نے ابن موسی اشعری سے رضی اﷲ تعالی عنہم۔ت)
بلکہ وہ بھی ہونگے جن کے گناہ نیکیوں سے بدل دئے جائیں گے۔ قال اﷲ تعالی:
فاولئک یبدل اللہ سیاتہم حسنت وکان اللہ غفورا رحیما ﴿۷۰﴾ اﷲ ان کے گناہوں کونیکیوں سے بدل دے گا اور اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔
حوالہ / References سنن ابن ماجہ ابواب الزہد با ب ذکر الشفاعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۹،مسند احمد بن حنبل عبداﷲ بن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۷۵
القرآن الکریم ۲۵ /۷۰
#6382 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
حدیث میں ہے ایك شخص روز قیامت حاضر لایا جائے گاار شاد ہوگا ا س کے چھوٹے چھوٹے گناہ اس پر پیش کرو اور بڑے بڑے ظاہرنہ کرو۔اس سے کہا جائے گا تو نے فلاں فلاں دن یہ یہ کام کئے وہ مقرہوگا اور اپنے بڑے گناہوں سے ڈررہا ہوگا کہ ارشاد ہوگا اعطوہ مکان کل سیئۃ حسنۃ اسے ہر گناہ کی جگہ ایك نیکی دو۔اب کہہ اٹھے گا کہ الہی! میرے اور بہت سے گناہ ہیں وہ تو سننے میں آئے ہی نہیںیہ فرما کر حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آس پاس کے دندان مبارك ظاہر ہوئے رواہ الترمذی عن ابن ذر رضی اﷲ تعالی عنہ(ترمذی نے ابوذر رضی اﷲ تعالی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)بالجملہ وقوع کے لئے سوا اسلام اور اﷲ ورسول کی رحمت کے اور کوئی شرط نہیں جل وعلاوصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
دوم: امیدیعنی انسان کے اعمالافعالاقولاحوال ایسے ہوناکہ اگر انہی پر خاتمہ ہو تو کرم الہی سے امید واثق ہوکہ بلا عذاب داخل جنت کیا جائے۔یہی وہ فلاح سے جس کی تلاش کاحکم ہے کہ
" سابقوا الی مغفرۃ من ربکم و جنۃ عرضہا کعرض السماء و الارض " جلدی کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس کی جنت کی طرف جس کی چوڑان آسمان وزمین کے پھیلاؤ کی مانندہے۔(ت)
اس لئے کہ کسب انسانی اسی سے متعلق یہ پھر دو۲ قسم:
اول: فلاح ظاہرحاشا اس سے وہ مرادنہیں کہ نرے ظاہر دارو کو مطلوب جن کی نظر صرف اعمال جوارح پر مقصور ظاہر احکام شرع سے آراستہ اور معاصی سے منزہ کرلیا اور متقی بن گئے اگر چہ باطل ریا وعجب وحسد وکینہ وحب مدح وحب جاہ ومحبت دنیا و طلب شہرت وتعظیم امراء وتحقیر مساکین واتباع شہوات ومداہنت۱ وکفران ۲نعم وحرصوبخل وطول ۳امل وسوئے ظن و عناد حق اوراصرار باطل و مکر وغدر وخیانت وغفلت وقسوت۴ وطمع وتملق ۵واعتماد خلق ونسیان خالق۶ ونسیان موت و جرأت علی اﷲ ونفاق واتباع شیطان وبندگی نفس ورغبت بطالت۷ وکراہت عمل و۸قلت خشیت وجزع ۹و عدم۱۰ خشوع وغضب۱۱ لنفس وتساہل۱۲ فی اﷲ وغیرہا مہلکات۱۳ آقات سے گندہ ہورہا ہو جےسے مزبلہ پر زربفت
۱ دین میں سستی ۲ نعمتوں کی ناشکری ۳ لمبی آرزو ۴ دل کی سختی ۵ چاپلوسی ۶ خدا کو بھول جانا ۷ باطل کی رغبت ۸ ڈر کی کمی ۹ بے صبری ۱۰ خشوع کا نہ ہونا ۱۱ نفس کے لئے ناراض ہونا ۱۲ اﷲ کے بارے میں سستی کرنا۔ ۱۳ ہلاك کرنےوالی آفتیں (ت)
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب صفۃ جہنم باب ماجاء ان للنار نفیس الخ امین کمپنی دہلی ۲/۸۳
القرآن الکریم ۵۷ /۲۱
#6383 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
کا خیمہ اوپر زینت اور اندر نجاست پھر کیا یہ باطنی خباثتیں ظاہری صلاح پر قائم رہنے دیں گی
حاشا معاملہ پڑنے دیجئے کون کسی ناگفتنی ہے کہ نہ کہیں گے کون سی ناکردنی ہے کہ اٹھا رکہیں گے اورپھر بدستور صالح عوام کی کیا گنتی آج کل بہت علمائے ظاہر اگر متقی ہیں بھی تو اسی قسم کے الا من شاء اﷲوقلیل ماھم(اگر جو اﷲ تعالی چاہے اور وہ بہت تھوڑے ہیں۔ت)میں اسے زیادہ مشرح کرتا مگر کیا فائدہ کہ حق تلخ ہوتاہے اسسے نفع پانا اور اپنی اصلاح کی طرف آنا درکنار بتانے والے کے الٹے دشمن ہوجاتے ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ ہزار اوف اس نام علم پر کہ آجکل بہت بے دین مرتدین اﷲ ورسول کی جناب میں کیسی کیسی سخت گالیاں بکتے لکھتے اور چھاپتے ہیں ان سے کان پر جوں نہ رینگےکہیں بے پروائی کہیں آرام خواہیکہیں نیچری تہذیب کہیں طمع کی تخریبکہیں ملاقات کا پاس کہیں اس کا ہراس(ڈر)کہ ان مرتدوں کا رد کریں مسلمانوں کو ان کا کفر بتائیں تو یہ سر ہوجائیں گے اخباروں اشتہاروں میں ہماری مذمتیں گائیں گےہزاروں جھوٹے بہتان لگائیں گے کون اپنی عافیت تنگ کرےان ناپاك وجوہ کے باعث وہاں خموشی اور خود ان سے اعمال میں خطا بلکہ عقائد میں غلطی ہو ا سے کوئی بتائے تو نہ اب وہ تہذیب نہ آرام طلبینہ بے پروائینہ سلامت رویبلکہ جامے سے باہر ہو کر جس طرح بنے اس کی عداوت میں گرمجوشی حق کا جواب نہ بن آئے تو عنادومکابرہ سے کام لینا حتی کہ کتابوں کی عبارتیں گھڑلیںجھوٹے حوالے دل سے تراش لیں کہ کہیں اپنی ہی بات بالا رہے۔عوام کے سامنے شیخی کرکری نہ ہو یا وہ جو وعظ وغیرہ کے زریعے سے مل رہتاہے اس میں کھنڈت نہ پڑے۔کیا اس کانام تقوی ہے حاش ﷲ بلکہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ ولسم کے بدگویوں کے مقابل وہ خواب خرگوش اور اپنے نفس کی بے جا حمایت میں یہ جوش وخروشتو یہ کہتاہے کہ اﷲ اور رسول کی عظمت سے اپنے نفس کی عظمت دل میں سو اہے۔اب اسے کیا کہئیے سوااس کی طرف
انا اﷲ وانا الیہ راجعون ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم بیشك ہم اﷲ ہی کے لئے میں اور ہم اس کی طرف لوٹنے والے ہمیں اور نہیں طاقت اور نہ قوت مگر ساتھ اﷲ بلند ترعظمت والے کے۔(ت)
بالجملہ اس صورت کہ فلاح سے علاقہ نہیں صاف ہلاك ہے بلکہ فلاح ظاہر یہ کہ دل وبدن دونوں پر جتنے احکام الہیہ میں سب بجالا ئےنہ کسی کبیرہ کاارتکاب کرےنہ کسی صغیرہ پر مصر رہے نفس کے خصائل ذمیمہ اگر دفع نہ ہو تو معطل رہیںان پر کار بند نہ ہومثلا دل میں بخل ہے تونفس پر جبر کرکے ہاتھ کشادہ رکھےحسد سے تو محسود کی برائی نا چاہئے۔علی ھذا القیاس کہ یہ جہاد اکبر ہے اور اس کے بعد مواخذہ نہیں بلکہ اجر عظیم ہے۔حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
#6384 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
ثلاث لم تسلم منہا ھذا ا لامۃ الحسد و الظن و الطیرۃ الاانبئکم بالمخرج منہا اذا ظننت فلا تحقق واذا حسدت فلاتبغ واذا تطیرت فامضرواہ رستہ فی کتاب الایمان عن الامام الحسن البصری مرسلا ووصلہ ابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بلفظ اذاحسدتم فلاتبغوا واذا ظنتم فلا تحققوا واذا تطیرتم فامضوا وعلی اﷲ فتوکلوا ۔ تین خصلتیں اس امت سے نہ جھوٹیں گیحسدبدگمانی اور بدشگونیکیامیں تمھیں ان کا علاج نہ بتادوںبد گمانی آئے تو اس پر کاربند نہ ہو اور حسد آئے تو محسود پر زیادتی نہ کراور بدشگونی کے باعث کے سے کام رك نہ رہو(اس حدیث کو رستہ نے کتاب الایمان میں امام حسن بصری سے بے ذکر صحابہ سے روایت اور ابن عدی نے متصل ابوہررہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے کہ رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جب تمھارے دل میں حسد آئے توزیادتی نہ کرو اور بدگمانی آئے تو اسے جما نہ دو اور بدشگونی آئے تو رکو نہیں اور اﷲ ہی پر بھروسہ کرو۔ت)
یہ فلاح قوی ہے اس سے آدمی سچا متقی ہوجاتاہے۔ہم نے اسے فلاح ظاہر بایں معنیں کہا کہ اس میں جو کچھ کرنا نہ کرنا ہے اس کے احکام ظاہر وواضح ہوچکے ہیں " قد تبین الرشد من الغی " ۔(بیشك ہدایت ظاہر ہوگئی گمراہی سے۔ت)
دوم: فلاح باطنی کہ قلب وقالب رذائل سے متخلی اور فضائل سے متجلی کرکے بقا پائے شرك خفی دل سے دورکئے جائیں یہاں تك کہ لا مقصود الا اﷲ(کوئی مقصود نہیں سوائے اﷲ کے۔ت)پھر لامشھود الا اللہ(کوئی نظر میں نہیں سوائے اﷲ کے) پھر لاموجود الا اللہ(کوئی وجود ذاتی نہیں رکھتا سوائے اﷲ کے)متجلی ہو یعنی اولا ارادہ غیر سے خالی ہو پھر غیر نظر سے معدم ہو پھر حق حقیقت جلوہ فرمائے کہ وجود اسی کے لئے ہے باقی سب ظلال وپرتویہ منتہائے فلاح وفلاح احسان ہے۔فلاح تقوی میں تو عذاب سے دور اور جنت کا چین تھا کہ:
" فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ جو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ ضرور
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ سۃ فی کتا ب الایمان حدیث ۴۳۷۸۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۲۷ و ۲۸
کنز العمال بحوالہ عد عن ابی ہریرہ حدیث ۷۴۴۱ موسسۃ الرسالہ بیروت ۳ /۴۶۱
القرآن الکریم ۲ /۲۵۶
#6385 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
فقد فاز " فلاح کو پہنچا۔
اور فلاح احسان سے اعظم ہے کہ عذاب کا کیا ذکر کسی قسم کا اندیشہ وغم بھی ان کے پاس نہیں آتا۔
" الا ان اولیاء اللہ لاخوف علیہم ولا ہم یحزنون ﴿۶۲﴾" خبردار! اولیاء اﷲ پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(ت)
بہرحال اس فلاح کے لئے ضرور پیر ومرشد کی حاجت ہے چاہے قسم اول کی ہو یا دوم کی ۔
اقول: اب مرشد بھی دو۲ قسم ہے:
اول:عام کہ کلام اﷲ وکلام الرسول ائمہ شریعت وطریقت وکلام علمائے دین اہل رشد و ہدایت ہے اسی سلسلہ صحیحہ پر کہ عوام کا ہادی کلام علماءعلماء کا رہنما کلام ائمہ ائمہ کا مرشد کلام رسولرسول کا پیشوا کلام اﷲ جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلمفلاح ظاہر ہو یا فلاح باطن اسے اس مرشد سے چارہ نہیں جو اس سے ہے بلا شبہ کافر ہے یا گمراہ اور اس کی عبادت بربادو تباہ۔
دوم: خاص کہ بندہ کسی عالم سنی صحیح العقیدہ صحیح الاعمال جامع شرائط بیعت کے ہاتھ میں ہاتھ دےیہ مرشد خاص جسے پیر وشیخ کہتے ہیں۔پھر دو قسم ہے:
اول شیخ اتصال(بنائے فوقانی)یعنی جس کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انسان کا سلسلہ حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك متصل ہوجائے اس کےلئے چارہ نہیں شرطیں ہیں:
(۱)شیخ کا سلسلہ باتصال صحیح حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك پہنچا ہوبیچ میں منقطع نہ ہو کہ منقطع کے ذریعہ سے اتصال ناممکن۔بعض لوگ بلاد بیعت محض بزعم وراثت اپنے باپ دادا کے سجادے پر بیٹھ جاتے ہیں یا بیعت تو کی تھی مگر خلاف نہ ملی تھی بلا اذن مرید کرنا شروع کردیتے ہیں یا سلسلہ ہی وہ ہو کہ قطع کردیا گیا اس میں فیض نہ رکھا گیا لوگ براہ ہوس اس میں اذن وخلافت دیتے چلے آتے ہیں۔یاسلسلہ فی نفسہ اچھا تھا مگر بیچ میں کوئی ایسا شخص واقع ہواجو بوجہ انتفائے بعض شرائط قابل بیعت نہ تھا اس سے جو شاخ چلی وہ بیچ میں سے منقطع ہے ان صورتوں میں اس بیعت
#6386 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
سے ہر گز اتصال حاصل نہ ہوگابیل سے دودھ یا بانجھ سے بچہ مانگے کی مت جداہے۔
(۲)شیخ سنی العقیدہ ہو بدمذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تك پہنچے گا نہ کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك آج کل بہت کھلے ہوئے بددینوں بلکہ بے دینو حتی کہ وہابیہ نے کہ سرے سے منکر ودشمن اولیاء ہیں مکاری کے لئے پیری مریدی کا جال پھیلا رکھا ہے۔ہو شیار خبردار احتیاط احتیاط
اے بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہر دستے نباید داددست
(بہت سے ابلیس انسانی شکلوں میں ہیں پس ہر ہاتھ میں ہاتھ نہیں دینا چاہئے۔ت)
(۳)عالم ہو اقول علم فقہ اسی کی اپنی ضرورت کے قابل کافی اور لازم کہ عقائد اہلسنت سے پورا واقف کفر واسلام وضلالت وہدایت کے فرق کا خوب عارف ہو ورنہ آج بد مذہب نہیں کل ہوجائے گا ع
فمن لم یعرف الشرفیوما یقع فیہ
(جو شر سے آگاہ نہیں آگاہ نہیں ایك دن اس میں پڑجائیگا۔ت)
صدہا کلمات وحرکات ہیں جن سے کفر ولازم آتاہے اور جاہل براہ جہالت ان میں پڑ جاتے ہیںاول تو خبر ہی نہیں ہوتی کہ ان کے قول یافعل سے کفرسرزد ہوا اور بے اطلاع تو بہ ناممکن تو مبتلا کے مبتلا ہی رہے اور اگر کوئی خبر دے تو ایك سلیم الطبع جاہل ڈر بھی جائے تو یہ بھی کرلےمگر وہ جو سجادہ مشیخت پر ہادی ومرشد بنے بیٹھے ہیں ان کی عظمت کہ خود ان کے قلوب میں ہے کب قبول کرنے دے۔
" و اذا قیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم" جب اس سے کہا جائے اﷲ تعالی سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھتی ہے گناہ کی۔(ت)
اور اگر ایسے ہی حق پرست ہوئے اور مانا تو کتنااتنا کہ آپ تو بہ کرلیں گے۔قول وفعل کفر سے جو بیعت فسخ ہوگئی اب کسی کے ہاتھ پر بیعت کریں اور شجرہ اس جدید شیخ کے نام سے دین اگر چہ شیخ اول ہی کا خلیفہ ہو یہ ان کا نفس کیونکر گورا کرےنہ اسی پر راضی ہوں گے کہ آج سے سلسلہ بند کریں مرید کرنا چھوڑیں لاجرم وہی سلسلہ کہ ٹوٹ چکا جاری رکھیں گے لہذا علم عقائد ہونا لازم ہے۔
(۴)فاسق معلن نہ ہواقول اس شرط پر حصول اتصال کا توقف نہیں کہ مجرد وفسق باعث فسخ نہیں مگر
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۰۶
#6387 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
پیرکی تعظیم لازم ہے اور فاسق کی توہین واجب ہے۔دونوں کا اجتماع باطلتبیین الحقائق امام زیلعی وغیرہ میں دربارہ فاسق ہے:
فی تقدیمۃ للامامۃ تعظیمۃ قد وجب علیہم اھانتہ شرعا ۔ امامت کے لئے اسے آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے اور شرع میں تو اس کی توہین واجب ہے۔(ت)
دوم: شیخ ایصال کہ شرائط مذکورہ کے ساتھ مفاسد نفس انفس کے فسادات ومکائد شیطان(شیطان کی مکاریاں)ومصائر ہوا (خواہشات کا شکار)سے آگاہ ہودوسرے کی تربیت جانتا اور اپنے متوسل پر شفقت تامہ رکھتا ہو کہ اس کے عیوب پر اسے مطلع کرے ان کا علاج بتائے جو مشکلات اس راہ میں پیش آئیں حل فرمائے نہ محض سالك ہو نہ نرا مجذوبعوارف شریف میں فرمایا :یہ دونوں قابل پیری نہیں۔
اقول:اس لئے کہ اول خود ہنوز راہ میں ہے اور دوسرا طریق تربیت سے غافلبلکہ مجذوب سالك ہو یا سالك مجذوباور اول اولی ہے۔
اقول:اس لئے کہ وہ مراد ہے اور یہ مریدپھر بیعت بھی دو۲ قسم ہے:
اول: بیعت برکت کہ صرف تبرك کے لئے داخل سلسلہ ہوجانا آج کل عام بیعتیں یہی ہیںوہ بھی نیك نیتوں کیورنہ بہتوں کی بیعت دنیاوی اغراض فاسدہ کے لئے ہوتی ہے۔وہ خارج ازبحث ہے۔اس بیعت کے لئے شیخ اتصال کہ شرائط اربع کا جامع ہو بس ہے۔
اقول:بیکار یہ بھی نہیںمفید اور بہت مفیداور دنیاواخرت میں بکارآمد ہے۔محبوبان خدا کے غلاموں کے دفتر میں نام لکھا جانا ان سے سلسلہ متصل ہوجانا فی نفسہ سعادت ہے۔
اولا: ان کے خاص غلاموں سا لکان راہ سے اس امر میں مشابہت اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من تشبہ بقوم فھو منہم ۔ جو جس قوم سے مشابہت پیدا کرلے وہ انہی میں سے ہے۔
حوالہ / References تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق باب الامامۃ الخ المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱ /۱۳۴
سنن ابی داؤد کتا ب اللباس باب فی لبسل الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۰۳،مسند احمد بن حنبل المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۵۰و ۹۲
#6390 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
سیدناشیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہرودی رضی اﷲ تعالی عنہ عوارف المعارف شریف میں فرماتے ہیں:
واعلم ان الخرقۃ خرقتان خرقۃ الارادۃ وخرقۃ التبرك والاصل الذی قصدہ المشایخ للمریدین خرقۃ الارادۃ وخرقۃ التبرك تشبہ بخرقۃ الارادۃ فخرقۃ الارادۃ للمرید الحقیقی وخرقۃ التبرك للمتشبہ ومن تشبہ بقوم فھومنہم ۔ واضح ہو کہ خرقے دو ہیں:خرقہ ارادات و خرقہ تبرکمشائخ کا مریدوں سے اصل مطالعہ خرقہ ارادت ہے اور خرقہ تبرك کو اس سے مشابہت ہے تو حقیقی مرید کے لئے خرقہ ارادت ہے اور مشابہت چاہنے والوں کے لئے خرقہ تبرك اور جو کسی قوم سے مشابہت چاہے وہ انہی میں ہے۔(ت)
ثانیا: ان غلامان خاص کے ساتھ ایك سلك میں منسلك ہونا ع
بلبل ہمیں کہ قافیہ گل شود بس است
(بلبل کو یہی کہ پھول کی صحبت ہو کافی ہے۔ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ھم القوم لایشقی بہم جلیسہم ۔ وہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں رہتا۔
ثالثا: محبوبان خدا آیہ رحمت ہیںوہ اپنا نام لینے والے کو اپنا کرلیتے ہیں اور اس پر نظر رحمت رکھتے ہیں امام یکتا سیدی ابوالحسن نورا لملۃ والدین علی قدس سرہبہجۃ الاسرار شریف میں فرماتے ہیں:حضور پر نور سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے عرض کی گئی کہ اگر کوئی شخص حضور کا نام لیوا ہو اور اس نے نہ حضور کے دست مبارك پر بیعت کی ہو نہ حضور کاخرقہ پہنا ہو کیا وہ آپ کے مریدوں میں شمار ہوگا فرمایا:
من انتمی الی وتسمی لی قبلہ اﷲ تعالی و تاب علیہ ان کان علی سبیل مکروہ وھو من جملۃ اصحابی وان ربی عزوجل وعدنی ان یدخل اصحابی واھل مذھبی وکل محب جو اپنے آپ کو میری طرف نسبت کرے اور اپنا نام میرے غلاموں کے دفتر میں شامل کرے اﷲ اسے قبول فرمائے گا اور اگر وہ کسی ناپسندیدہ راہ پر ہو تو اسے توبہ دے گا اور وہ میرے مریدوں کے زمرے
حوالہ / References عوارف المعارف الباب الثانی عشرۃ مطبعۃ الشہد الحسینی القاہرۃ ص۷۹
جامع الترمذی ابواب الدعوات ۲ /۱۹۹ و مسند احمد بن حنبل ۲ /۲۵۳ و ۳۵۹ و ۳۸۳
#6394 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
لی الجنۃ ۔ میں ہے اور میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے مریدوں اور ہم مذہبوں اورمیرے ہر چاہنے والے کو جنت میں داخل فرمائے گا(و الحمد اﷲ رب العالمین)
دوم:بیعت ارادت کہ اپنے ارادہ واختیار سے یکسر باہر ہوکر اپنے آپ کو شیخ مرشد ہادی برحق واصل حق کے ہاتھ میں بالکل سپرد کردے اسے مطلقا اپنا حاکم ومالك ومتصرف جانےاس کے چلانے پر راہ سلوك چلے کوئی قدم بے اس کی مرضی کے نہ رکھے اس کے لئے بعض احکام یا اپنی ذات میں خود اس کے کچھ کام اگر اس کے صحیح نہ معلوم ہوں انھیں افعال خضرعلیہ الصلوۃ والسلام کے مثل سمجھے اپنے عقل کا قصور جانےاس کی کسی بات پر دل میں بھی اعتراض نہ لائے اپنی ہر مشکل اس پر پیش کرے غرض اس کے ہاتھ میں مردہ بدست زندہ ہوکر رہے۔یہ بیعت سالکین ہے اور یہی مقصود ومشائخ مرشیدین ہے۔یہی اﷲ عزوجل تك پہنچاتی ہے یہی حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے لی ہے جسے سیدنا عبادہ بن صامت انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
بایعنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی السمع والطاعۃ فی العسر والیسر والمنشط والمکرہ و ان لاننازع الامر اھلہ ۔ ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس پر بیعت کی کہ ہر آسانی ودشواری ہر خوشی وناگواری میں حکم سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور صاحب حکم کے کسی حکم میں چون چرانہ کریں گے
شیخ ہادی کا حکم رسول کا حکم ہے اور رسول کاحکم اﷲ کاحکم اور اﷲ کے حکم میں مجال دم زدن نہیں اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" وما کان لمؤمن و لا مؤمنۃ اذا قضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ و رسولہ فقد ضل کسی مسلمان مرد وعورت کو نہیں پہنچتا کہ جب اﷲ ورسول کسی معاملہ میں کچھ فرمادیں تو پھر انھیں کام کا کوئی اختیار رہے اور جو اﷲ ورسول کی نافرمانی
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکر فصل اصحابہ وبشراھم مصطفی البابی مصر ص۱۰
صحیح بخاری کتاب الفتن باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سترون بعدی امورا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۴۵،صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ لہ، قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۲۴
#6397 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
" کرے وہ کھلا گمرا ہ ہوا۔
عوارف شریف میں ارشاد فرمایا:
دخولہ فی حکم الشیخ دخولہ فی حکم اﷲ ورسولہ واحیاء سنۃ المبایعۃ ۔ شیخ کے زیر حکم ہونا اﷲ ورسول کے زیر حکم ہونا ہے اور اس بیعت کی سنت کازندہ کرنا۔
نیزفرمایا:
ولایکون ھذ ا الالمرید حصر نفسہ مع الشیخ و انسلخ من ارادۃ نفسہ وفنی فی الشیخ بترك اختیار نفسہ ۔ یہ نہیں ہوتا مگر اس مرید کے لئے جس نے اپنی جان کو شیخ کی قید کردیا اور پانے ارادے سے بالکل باہر آیا اپنا ختیار چھوڑ کر شیخ میں فنا ہوگیا۔
پھر فرمایا:
ویحذر الاعتراض علی الشیوخ فانہ السم القاتل للمرید ینوقل ان یکون مرید یعترض علی الشیخ بباطنہ فیفلحویذکر المرید فی کل ما اشکل علیہ من تصاریف الشیخ قصۃ الخضر علیہ السلام کیف کان یصدر من الخضر قصاریف ینکرھا موسیثم لما کشف لہ عن معنا ھا بان بزلموسی وجہ الصواب فی ذلك فھکذا ینبغی للمرید ان یعلم ان کل تصرف اشکل علیہ صحتہ من الشیخ عند الشیخ فیہ پیروں پر اعتراض سے بچے کہ یہ مریدوں کے لئے زہر قاتل ہے۔کم کوئی مرید ہوگا جو اپنے دل میں شیخ پر کوئی اعتراض کرے پھر فلاح پائےشیخ کے تصرفات سے جو کچھ اسے صحیح نہ معلوم ہوتے ہوں ان میں خضر علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعات یاد کرلے کیونکہ ان سے وہ باتیں صادر ہوتی تھیں بظاہر جن پر سخت اعتراض تھا(جیسے مسکینوں کی کشتی میں سوراخ کردینا بے گناہ بچے کو قتل کردینا)پھر جب وہ اس کی وجہ بتاتے تھے ظاہر ہوجاتا تھاکہ حق یہی ہے تھا جو انھوں نے کہایوں ہی مریدکو یقین رکھنا چاہئے کہ شیخ کا جو فعل
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۳ /۳۶
عوارف المعارف الباب الثانی عشرۃ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ص۷۸
عوارف المعارف الباب الثانی عشرۃ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ص۷۸
#6399 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
بیان وبرھان للصحۃ ۔ مجھے صحیح معلوم نہیں ہوتا۔شیخ کے پاس اس کی صحت پر دلیل قطعی ہے۔
اما ابوالقاسم قشیری رسالہ میں فرماتے ہیں:میں نے حضرت ابوعبدالرحمن سلمی کو فرماتے سنا کہ ان سے ان کےشیخ حضرت ابو سہل صعلوکی نے فرمایا:
من قال الاستاذہ لملایفلح ابدا ۔ جوا پنے پیر سے کسی بات میں کیوں کہے گا کبھی فلاح نہ پائے گا۔
نسأ اﷲ العفو والعافیۃ(اﷲ تعالی سے ہم معافی اور عافیت ك دعاکرتے ہیں۔ت)
جب یہ اقسام معلوم ہولئے تو اب حکم مسئلہ کی طرف چلئےمطلق فلاح کے لئے مرشد عام کی قطعا ضرورت ہے۔فلاح تقوی ہو یا فلاح احسان مرشد سے جدا ہو کر ہر گز نہیں مل سکتی اگرچہ مرشد خاص رکھتا بلکہ خود مرشد خاص بنتا ہواقول:(میں کہتا ہوں۔ت)پھر اس سے جدائی دو طرح ہے:
اول: صرف عمل میں جیسے کسی کبیرے کا مرتکب یا صغیر ے پر مصراور اس سے بدتر ہے وہ جاہل کہ علماء کی طرح رجوع ہی نہ لائے اور اس سے بدتر کہ باوصف جہل ذی رائے بنےاحکام علماء میں اپنی رائے کو دخل دے یا حکم کے خلاف اپنے یہاں کے باطل رواج پر اڑے اور اسے حدیث وفقہ سے بتادیا جائے کہ یہ رواج بے اصل ہے جب بھی اس کوحق کہےبہر حال یہ لوگ فلاح پر نہیں۔اور بعض بعض سے زائد ہلاکت میں ہیں مگر صرف ترك عمل کے سبب نہ بے پیرا ہو نہ اس کا پیر شیطان جبکہ اولیاء وعلمائے دین کا سچے دل سے مقتد ہو اگر چہ شامت نفس نافرمانی پر لائے کہ بیعت جس طرح باعتبار پیر خاص دو۲ قسم تھی یوں ہی باعتبار مرشد عام بھیاگر اس کے حکم پر چلتاہےبیعت ارادت رکھتاہے ورنہ بیعت برکت سے خالی نہیں کہ ایمان واعتقاد ت تو ہے تو گنہ گار سنی اگر کسی پیر جامع شرائط اربعہ کا مرید ہے فبہا اورنہ بوجہ حسن اعتقاد مرشد عام کے منتسبوں میں ہے اگر چہ نا فرمانی کے باعث فلاح پر نہیں دوم منکر ہو کہ جدائی مثلا(۱)وہ ابلیس مسخرے کہ علمائے دین پر ہنستے اور ان کے احکام کو لغو سمجھتے ہیں انہی میں وہ جھوٹے مدعیان فقر جو کہتے ہیں کہ عالموں فقیروں کی سدا سے ہوتی آئی ہے
حوالہ / References عوارف المعارف الباب الثانی عشرہ مطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ ص۷۹
رسالۃ القشیریۃ باب حفظ قلوب المشائخ وترك الخلاف علیہم مصطفی البابی مصر ص۱۵۰
#6401 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
یہاں تك کہ بعض خبیثوں صاحب سجادہ بلکہ قطب وقت بننے والوں کو یہ لفظ کہتے سنے گئے کہ عالم کون ہے۔سب پنڈت ہیںعالم تو وہ جو انبیائے نبی اسرائیل کے سے معجزے دکھائے(۲)وہ دہرئے ملحد فقیر وولی بننے والے کو کہتے ہیں شریعت راستہ ہے ہم تو پہنچ گئےہمیں راستے سے کیا کامان خبیثوں کا رد ہمارے رسالے "مقال عرفا باعزار شرع وعلماء" میں ہے
اما ابوالقاسم قشیری قدس سرہرسالہ مبارك میں فرماتے ہیں:
ابوعلی الروذباری بغدادی اقام بمصر ومات بہا سنۃ اثنتین وعشرین و ثلثمائۃ صحب الجنید والنوری اظرف المشائخ واعلمھم بالطریقۃ سئل عمن یسمع الملاھی ویقول ھی لی حلال لانی وصلت الی درجۃ لا توثرفی اختلاف الاحوال فقال نعم قدر وصل ولکن الی سقر۔ یعنی سیدی ابوعلی روذباری رضی اﷲ تعالی عنہ بغدادی ہیں۔ مصرمیں اقامت فرمائی اور اسی میں ۳۲۲ھ میں وفات پائی سیرا لطائفۃ جنید و حضرت ابوالحسین احمد نوری رضی اﷲ تعالی عنہما کے اصحاب سے ہیںمشائخ میں ان سے زیادہ علم طریقت کسی کو نہ تھا۔اس جناب میں سوال ہوا کہ ایك شخص مزامیر سنتا اورکہتاہے یہ میرے لئے حلال ہیں اس لئے کہ میں ایسے درجے تك پہنچ گیا کہ احوال کا اختلاف مجھ پر کیوں اثر نہیں ڈالتافرمایا ہاں پہنچا تو ضرور مگر کہاں تك جہنم تک
عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قد س سرہکتاب الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر میں فرماتے ہیں فرماتے ہیں:حضور سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ سے عرض کی گئی کچھ لوگ کہتے ہیں ان التکالیف کانت وسیلۃالی الوصول وقد وصلنا شریعت کے احکام تو وصول کے وسیلہ تھے اور ہم دارصل ہوگئےفرمایا صدقوا فی الوصول ولکن الی سقر والذی یسرق ویزنی خیر ممن یعتقد ذلك وہ سچ کہتے ہیںواصل تو ضرور ہوئے مگر جہنم تکچور اورزانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہے۔
(۳)وہ جاہل اجہل یا ضال اضل کہ بے پڑھے کتابیں پڑھ کر بزعم خود عالم بن کر ائمہ سے بے نیاز ہو بیٹھے جیسا کہ قرآن وحدیث ابوحنیفہ وشافعی سمجھتے تھے ان کے زعم میں یہ بھی سمجھتے ہیں بلکہ ان سے بھی
حوالہ / References الرسالۃ القشیریۃ منہم ابوعلی احمد بن محمد الروذھاری مصطفی البابی مصر ص۲۶
الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر المبحث السادس والعشرون داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۷۳ و ۲۷۲
#6402 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
بہتر کہ انھوں نے قرآن وحدیث کے خلاف حکم دئےیہ ان کی غلطیاں نکال رہے ہیںیہ گمراہی بد دین غیر مقلد ہے۔
(۴)اس سے بدتر وہابیت کی اصل علت کہ تقویۃ الایمان پر سر منڈا بیٹھےا س کے مقابل قرآن وحدیث پس پشت پھینك دئے اﷲ ورسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك اس ناپاك کتاب کے طور معاذاﷲ مشرك ٹھہریں اور یہ اﷲ ورسول کو پیٹھ دے کر اسی کے مسائل پر ایمان لائیں۔
(۵)ان سے بدتر ان میں دیوبندی کہ انھوں نے گنگوہی ونانوتوی وتھانوی اپنے اہبارورہبان کفر کو اسلام بنانے کے لئے اﷲ ورسول کو سخت سخت گالیاں قبول کیں۔
(۶)قادیانی(۷)نیچیری(۸)چکڑالوی(۹)روافض(۱۰)خوارج(۱۱)نواصب(۱۲)معتزلہ وغیرہم۔
بالجملہ جملہ مرتدین یا ضالین معاندین دین کہ سب مرشد عا م کے مخالف ومنکر ہیںیہ اشد ہالك ہیں اور ان سب کا پیر شیطان اگرچہ بظاہر کسی کی بیعت کا نام لیں بلکہ خود پیر وولی وقطب بنیں۔قال اﷲ تعالی:
" استحوذ علیہم الشیطن فانسىہم ذکر اللہ اولئک حزب الشیطن الا ان حزب الشیطن ہم الخسرون ﴿۱۹﴾ " شیطان نے انھیں اپنے گھیرے میں لے کر اﷲ تعالی کی یاد بھلادی وہی شیطان کے گروہ ہیں سنتا ہے شیطان ہی کے گروہ زیاں کار ہیں۔
فلاح تقوی
اقول:(میں کہتاہوں)اس کے لئے مرشد خاص کی ضرورت بایں معنی نہیں کہ بے اس کے یہ فلاح مل ہی نہ سکے یہ جیسا کہ اوپر گزرافلاں ظاہر ہے اس کے کلام واضح ہیںآدمی اپنے علم سے یا علماء سے پوچھ پوچھ کر متقی بن سکتاہے اعمال قلب میں اگر چہ بعض دقائق ہیں مگر محدود اور کتب ائمہ مثل امام ابوطالب مکی وامام حجۃ الاسلام الی وغیرہما میں مشروح تو بے بیعت بھی اس کی راہ کشادہ اور اس کا دروازہ مفتوحیہ جب کہ اسی قدر پراقتصار کرے تو ہم اوپر بیان کر آئے کہ غیر متقی سنی بھی بے پیرا نہیں
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۷ /۱۹
#6403 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
متقی کیونکر بے پیرایا معاذاﷲ مرید شیطان ہوسکتاہے اگر چہ کسی کاص کے ہاتھ پر بیعت نہ کی ہوکہ یہ جس راہ میں ہے اس میں مرشد عام کے سوا مر شد خاص کی ضرورت ہی نہیںتو جتنا پیرا سے درکار ہے حاصل ہے۔تو اولیاء کا قول دوم کہ جس کے لئے شیخ نہیں اس کا شیخ شیطان ہے اس سے متعلق نہیں ہوسکتا اور قول اول کہ بے پیر افلاح نہیں پاتا۔یہ تو بداہۃ اس پر صادق نہیں فلاح تقوی بلاشبہہ فلاح ہے اگر چہ فلاح احسان اس سے اعظم واجل ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ان تجتنبوا کبائر ما تنہون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما ﴿۳۱﴾ " اگر تم گناہوں سے بچے تو ہم تمھاری برائیاں مٹادیں گے اور تمھیں عزت والے مکان میں داخل فرمائیں گے۔
یہ بلاشبہہ نفوز عظیم ہے مولی تعالی نے اہل تقوی واہل احسان دونوں کے لئے اپنی معیت ارشاد فرمائی:
ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ہم محسنون ﴿۱۲۸﴾" " بے شك اﷲ متقیوں کے ساتھ ہے اور ان کے جو اہل احسان ہیں۔
یہ کیسا افضل عظیم ہے اور فلاح کے لئے کیا چاہئے اقول بات یہ ہے کہ تقوی عموما ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور اس فلاح اعلی یعنی عذاب سے رستگاری کے لئے بفضل الہی حسب وعدہ صادقہ کافی ووافیاحسان یعنی سلوك راہ ولایت اعلی درجے کا مطلب و محبوب ہے مگر اس کی طرح فرض نہیں ورنہ اولیاء کے سوا کہ ہر دور میں صرف اایك لاکھ بیس ہزارہوتے ہیں باقی کروڑ ہا کروڑ مسلمان ہزار ہا علماء وصلحا ء سب معاذاﷲ تارك فرض وفساق ہوں اولیاء نے بھی کبھی اس راہ کی عام دعورت نہ دی کروڑوں میں سے معدودے چند کو اس پر چلایا اور اس کے طالبوں میں سے بھی جسے اس بار کے قابل نہ پایا واپس فرمایا فرض دے واپس کرنا کیونکر ممکن تھا:
" لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا"
"لا یکلف اللہ نفسا الا ما اتىہا " اﷲ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت بھر اﷲ کسی کو تکلیف نہیں دیتامگر اتنے کی جو اسے دیا ہے۔(ت)
#6404 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
عوارف شریف میں ہے:
اماخرقۃ التبرك فیطبلھا من مقصودہ التبرك بزی القوم ومثل ھذا لایطالب بشرائط الصحۃ بل یوصی بلزوم حدود الشرع و مخالطۃ ھذا الطائفۃ لتعود علیہ برکتھم ویتادب بادابھم فسوف یرقیہ ذلك الی الاھلیۃ الخرقۃ الارادۃ فعلی ھذہ خرقۃ التبرك مبذولۃ لکل طالب وخرقۃ الارادۃ ممنوعۃ الامن الصادق الراغب ۔ جو شخص خرقہ تبرك کاخواہاں ہے تو اس کا مقصود صرف یہ ہے کہ وہ صوفیائے کے اس لباس سے برکت حاصل کرے اس کے لئے وہ تمام شرائط مخلوق نہیں رکھے جاتے جو خرقۃ وارادت کے لئے ضروری ہیں بلکہ صرف اتنا کہیں گے کہ شریعت کا پابند رہ اور اولیاء کی صحبت اختیار کر کہ شاید اس کی برکت اسے خرقہ ارادت کااہل کردے یہی وجہ ہے کہ خرقہ تبرك تو ہر طالب حقیقت کو دیا جاسکتاہے مگر خرقہ ارادت صرف طلب صادق کے لئے مخصوص ہے۔(ت)
توظاہر ہوا کہ اس کا ترك نافی فلاح نہیں۔نہ کہ معاذاﷲ مرید شیطان کردے۔
اکابر علماء وائمہ میں ہزار ہا وہ گزرے ہیں جن سے یہ بعیت خاصہ ثابت نہیں یاکی تو آخرعمر میں بعد حصول مرتبہ امامت اور وہ بھی بیعت برکت جیسے امام ابن حجر عسقلانی نے سیدی مدین قدس سرہکے دست مبارك پراقول ہاں جو اس کا ترك بوجہ انکار کرے اسے باطل ولغو جانے وہ ضرور گمراہ اور بے فلاں ومرید شیطان ہے جب کہ اس انکار مطلق ہواوراگر اپنے عصر ومصر میں کسی کو بیعت کے لئے کافی نہ جانے تو اس کا حکم اختلاف منشا سے مختلف ہوگااگر یہ اپنے تکبر کے باعث ہے تو
" الیس فی جہنم مثوی للمتکبرین ﴿۶۰﴾ " کیا جہنم میں متکبروں کا ٹھکانا نہیںاور اگر بلاوجہ شرعی اپنی بدگمانی کے باعث سب کو نااہل جانے تو یہ بھی میری کبیرہ ہے اور مرتکب کبیرہ مفلح نہیں۔اوراگر ان میں وہ باتیں ہیں کہ اشتباہ میں ڈالتی ہیں اور یہ بنظر احتیاط بچتا ہے تو الزام نہیں۔
ان من الحرم سوء الظن دع مایریك الی مالایریبک۔ بیشك احتیاط میں داخل ہےبرا پہلو بچنے کے لئے سوچ لینا جس بات میں تجھے دغدغہ ہو اسے چھوڑ کر وہ اختیار کر جو بے دغدغہ ہو۔
حوالہ / References عوارف المعارف الباب الثانی عشرۃ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ص۸۰
القرآن الکریم ۳۹ /۶۰
#6405 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
فلاح انسان
فلاح انسان کے لئے بے شك مرشد خاص کی حاجت ہے اور وہ بھی شیخ ایصال کی شیخ اتصال اس کے لئے کافی نہیں اور اس کے ہاتھ پر بھی بیعت ارادت ہوبیعت برکت یہاں بس نہیں اس راہ میں وہ شدید باریکیاں اور سخت تاریکیاں ہیں کہ جب تك کامل مکمل اس راہ کے جملہ نشیب وفراز سے آگاہ وماہر حل نہ کرے حل نہ ہوں گے نہ کتب سلوك کا مطالعہ کام دے گا کہ یہ دقائق تقوی کی طرح محدود نہیں جن کا ضبط کتاب کر سکے الطر ق الی اﷲ بعددانفاس الخلائق اﷲ تك راستے اتنے ہیں جتنی تمام مخلوقات کی سانسیںحضور سیدنا غوث رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
ان اﷲ لایتجلی لعبد فی صفتین ولا فی صفۃ لعبدین الخ۔رواہ فی البہجۃ الشریفۃ وفیہ ثنیا یطول شرحہا۔ اﷲ تعالی عزوجل نہ ایك بندے پر دو صفتوں میں تجلی فرمائے نہ ایك صفت سے دو بندوں پر(یہ ارشاد مبارك بہجۃ الاسرار شریف میں روایت کیا اور اس میں ایك استثناء ہے جس کی شرح طویل ہے۔ت)
اور ہر راہ کی دشواریاںباریکیاںگھاٹیاں جد اہیں جن کو نہ یہ خود سمجھے سکے گا نہ کتاب بتائے گی اور وہ پرانا دشمن مکار پر فن ابلیس لعین ہر وقت ساتھ ہے۔اگر بتانے والا آنکھیں کھولنے والاہاتھ پکڑنے والا مدد فرمانے ولا ساتھ نہ ہو تو خدا جانے کس کھوہ میں گرائے کس گھاٹی میں ہلاك کرےممکن ہے کہ سلوك درکنار معاذاﷲ ایمان تك ہاتھ سے جائے جیسا کہ اس کا کہنابارہا واقع ہوچکاہے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کا ابلیس کے مکر کو رد فرمانا اور اس کا کہنا اے عبدالقادر ! تمھیں تمھارے علم نے بچالیا ورنہ اسی دھوکے سے میں نے ستر اہل طریق ہلاك کئے ہیںمعروف ومشہور اور کتب ائمہ مثل بہجۃ الاسرار شریف وغیرہا میں مروی(یعنی یہ روایت لکھی ہوئی ہے)ومسطور۔
اقول:حاشایہ مرشدعام کا عجز نہیں بلکہ اس کے سمجھنے سے سالك کا عجز ہے مرشد عام میں سب کچھ ہے " ما فرطنا فی الکتب من شیء " ہم نے کتاب میں کوئی چیز اٹھا نہ رکھی مگر احکام
حوالہ / References بہجۃ الاسرار فصول من کلامہ مرصعابشیئ من عجائب احوالہ مصطفی البابی مصر ص۸۲
القرآن الکریم ۶ /۳۸
#6406 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
ظاہر عام لوگ نہیں سمجھ سکتے جس کے سبب عوام کو علماء علماء کو ائمہائمہ کو رسول کی طرف رجوع فرض ہوئی کہ:
"فسـلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ﴿۴۳﴾" ذکروالوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے۔
یہی حکم یہاں بھی ہے اور یہاں اہل اﷲ کروہ مرشد خاص باوصاف مذکورہ ہے تو جو اس راہ میں قدم رکھے اور(۱)کسی کو پیر نہ بنائے(۲)کسی مبتدع(۳)کسی جاہل کا مرید ہو جو پیر اتصال بھی نہیں(۴)ایسے پیر کا مرید ہو جو صرف پیر اتصال ہے قابل ایصال نہیں اور اس کے بھروسے پر یہ راہ طے کرنا چاہے(۵)شیخ ایصال ہی کا مرید ہو مگر خود رائی برتے اس کے احکام پر نہ لچے تو یہ شخص اس فلاح کو نہ پہنچے گااور اس راہ میں ضرور اس کا پیر شیطان ہوگا جس سے تعجب نہیں کہ اسے فلاح بلکہ نفس ایمان سے دور کردے والعیاذ باﷲ رب العالمین اقول: بلکہ اس کا نہ ہونا ہی تعجب ہے یہ نہ سمجھو کہ غلطی پڑے گی تو اسی قدر کہ اس راہ میں بہکے گا یہ فرض نہ تھی کہ اس کے نہ پانے سے اصلی فلاح نہ رہے۔نہیں نہیں عدد لعین تو دشمن ایمان ہے وقت وموقع کا منتظر ہے وہ کرشمے دکھاتاہے جن سے عقائد ایمانی پر حرف آتاہے۔آدمی ایك بات سنے ہوئے ہے اورا ب آنکھوں سے اس کے خلاف دیکھے توکس قدر مشکل ہے کہ اپنے مشاہدے کو غلط جانے اور اسی اعتقاد پر جمارہے حالانکہ لیس الخبر کالمعاینۃ شنیدہ کے بعد مانند دیدہ(سنی ہوئی بات دیکھنے کے مانند کب ہوسکتی ہے۔ت)پیر کامل کو چاہئے کہ ان شبہان کاکشف کرے۔ رسالہ مبارك اما قشیری میں ہے:
اعلم ان فی ھذہ الحالۃ قلما یخلوالمرید فی اوان خلوتہ فی ابتداء ارادتہ من الوسادس فی الاعتقاد الی اخر ما افاد واجاد علینا بہ وعلیہ رحمۃ الملك الجواد۔ واضح ہو کہ اس حالت میں ابتدائے ارادت کے زمانہ خلوت میں کم کوئی مریدہوگا جسے عقائد میں وسوسہ نہ آتے ہو آخر مفید او جید بیان تکاور ان پر اﷲ تعالی کی رحمت ہو۔(ت)
ثم اقول: غالب یہی ہے کہ بے پیر اس راہ کاچلنے والا ان آفتوں میں گرفتار ہوجاتاہے اور گرگ شیطان اسے بے راعی کی بھیڑ پاکر نوالہ کرلیتاہے اگرچہ ممکن کہ لاکھوں میں ایك ایسا ہو جسے
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۶ /۴۳
الرسالۃ القشیریۃ باب الوصیۃ للمریدین مصطفی البابی مصر ص۱۸۲
#6407 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
جذب ربانی ہی کفایت وکفالت کرے اور بے توسط پیراسے مکائد نفس وشیطان سے بچاکر نکال لے جائے اس کے لئے مرشدعام مرشد خاص کا کام دے گا۔خود حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس کے مرشد خاص ہوں گے کہ بے توسط نبی کوئی وصول ممکن نہیں مگرت یہ ہے تو نہایت نادر ہے اور نادر کےلئے حکم نہیں ہوتا ثم اقول: بے مرشد خاص ا راہ میں قدم رکھنے والوں میں بڑا خوش نصیب وہ ہے کہ ریاضتیں چلے مجادہدے کرے اور اس پر اصلا فتح یاب نہ ہوراہ ہی نہ کھلے جس کی شواریاں پیش آئیں یہ آپنی فلاح تقوے پر قائم رہے گا دو۲ شرط سے:ایك یہ کہ اس کا مجاہدہ اسے عجب نہ دلائے اپنے آپ کو اوروں سے اچھا نہ سمجھنے لگےورنہ فلاح تقوی سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے گا۔دوسرے یہ کہ عظیم محنتوں کے بعد محرومی کی تنگ دلی کسی عظیم امر میں نہ ڈال دے کہ کوئی کلمہ سخت کہہ بیٹھے یا دل سے منکر ہوجائے کہ اس وقت فلاں تو درکنار اس کا پیر شیطان ہوجائے گا اور اگر اپنی تقصیر سمجھا اور تذلل وانکسار پر قائم رہا تو اس حکم سے مستثنی رہے گا یوں کہ جب راہ نہی کھلی تو راہ چلا ہی نہیں اور اس کے مثل ہو اجو فلاح تقوی پر مقتصر رہا ۔اقول:قرآن کریم کے لطائف لامتناہی ہیں اس بیان سے آیہ کریمہ:
"یایہا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ وجہدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون ﴿۳۵﴾" اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جان لڑاؤ اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔(ت)
کے مبارك جملوں کا حسن ترتیب واضح ہوایہ فلاح احسان کی طرف دعوت ہے اس کے لئے تقوی شرط ہے تو اولا اس کاحکم فرمایا کہ اتقوااﷲ(اﷲ سے ڈرو۔ت) اب کہ تقوی پر قائم ہوکر راہ احسان میں قدم رکھنا چاہتاہے اور یہ عادۃ بے وسیلہ شیخ ناممکن ہے لہذا دوسرے مرتبہ میں قبل سلوك تلاش پیر کو مقدم فرمایا:وابتغوا الیہ الوسیلۃ(اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔ت) اس لئے کہ الرفیق ثم الطریق(پہلے ساتھ تلاش کرو پھرراستہ لو۔ت)اب کہ سامان مہیا ہو لیا اصل مقصود کا حکم دیاکہ جاھدوا فی سبیلہ اس کی راہ میں مجاہدہ کرو لعلکم تفلحون تاکہ فلاح احسان پاؤ۔
جعلنا اﷲ من المفلحین بفضل اﷲ ہمیں فلاح والوں میں کرے اس کی رحمت کے
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۳۵
#6408 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
رحمتہ بھم انہ ھوالرؤف الرحیم وصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وبارك علی من بہ الصلاح والفلاح ولی الہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امین۔ فضل سے جو فلاح والوں پ رکی بیشك وہی بڑا مہربان رحم والا ہے اور اﷲ درود وسلام وبرکت اتارے ان پرجن کے صدقے میں ہر صلاح وفلاح ہے اوران کے آل واصحاب اور ان کے بیٹے حضور غوث اعظم اور ان کے سب گروہ پر آمین۔(ت)
ثم اقول: یہاں سے ظاہرہوا کہ اس میں راہ فلاح وسیلہ پر موقوف کہ ا س کو اس پر مرتب فرمایا تو ثابت ہوا کہ یہاں بے پیرا فلاح نہ پائے گا اورجب فلاح نہ پائے گا خاسر ہوگا تو حزب اﷲ سے نہ ہوا حزب الشیطان سے ہوگا کہ رب عزوجل فرماتاہے:
الا ان حزب الشیطن ہم الخسرون ﴿۱۹﴾ ""
"الا ان حزب اللہ ہم المفلحون ﴿۲۲﴾" سنتاہے شیطان ہی کا گروہ خاسر ہے سنتاہے اﷲ ہی کا گروہ فلاح والا ہے۔
تودوسرا جملہ بھی ثابت ہوا کہ بے پیرے کا پیر شیطان ہے جس کا بیان ابھی گزرا نسأل اﷲ العفو والعافیۃ(ہم اﷲ تعالی سے معافی وعافیت کا سوال کرتے ہیں۔ت)
بالجملہ حاصل تحقیق یہ چند جملے ہوئے:
(۱)ہر بد مذہب فلاح سے دور ہلاکت میں چور ہ۔مطلقا بے پیرا ہےاور ابلیس ا س کا پیراگر چہ بظاہر کسی انسان کا مرید ہوبلکہ خود پیر بنے راہ سلوك میں قدم رکھے نہ رکھے ہرطرح لایفلح وشیخہ الشیطان(فلاح نہیں پائے گا اوراس کا پیر شیطان ہے۔ ت)کامصداق ہے۔
(۲)سنی صحیح العقیدہ کہ راہ سلوك نہ پڑا اگر فسق کرے فلاح پر نہیں مگر پھر بھی نہ بے پیرا ہے نہ اس کا پیر شیطان بلکہ جس شیخ جامع شرائط کا مرید ہو ا س کا مرید ہے ورنہ مرشد عام کا۔
(۳)یہ اگر تقوی کرے تو فلاح پر بھی ہے اور بدستور اپنے شیخ یا مرشد کا عام کا مرید غرض سنی کا مضایق سلوك میں نہ پڑا کسی خاص بیعت نہ کرنے سے بے پیرا نہیں ہوتا نہ شیطان کا مرد ہاں فسق کرے تو فلاح پر نہیں اور متقی ہو تو مفلح بھی ہے۔
(۴)اگر مضایق سلوك میں بے پیر خاص قدم رکھا اور راہ کھل ہی نہیں نہ کوئی مرض مثل عجب وانکار پیدا ہو تو اپنی پہلی حالت پر ہے اس میں کوئی تغیر نہ آیا شیطان اس کا پیر نہ ہوگا اور متقی تھا
#6409 · نَقَاءُ السَّلَافَہْ فِیْ اَحْکَامِ الْبیْعَۃِ وَالْخِلَافِہْ ۱۳۱۹ھ (بیعت وخلافت کے احکام میں خوبصورت نچوڑ)
تو فلاح پر بھی ہے۔
(۵)یہ مرض پیداہوئے تو فلاح پر نہ رہا اور بحالت انکار وفساد عقیدہ مرید شیطان بھی ہوگیا۔
(۶)اگر راہ کھلی تو جب تك پیرا یصال کے ہاتھ پر بیعت ارادت نہ رکھتا ہو غالب ہلاك ہے اس بے پیر ے کا پیر شیطان ہوگا اگرچہ بظاہر کسی ناقابل پیر یا محض شیخ اتصال کا مرید یا خود شیخ بنتاہو۔
(۷)ہاں اگر محض جذب ربانی کفالت فرمائے تو ہر بلا دور ہے اور اس کے پیر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
الحمدﷲ !یہ وہ تفصیل جمیل وتحقیق جلیل ہے کہ ان اوراق کے سوا کہیں نہ ملے گیبیس برس ہوئے جب بھی یہ سوال ہوا اور ایك مختصر جواب لکھا گیا تھا جس کی تکمیل وتفصیل یہ ہے کہ اس وقت قلب فقیر پر فیض قدیر سے فائض ہوئی۔
والحمدﷲ رب العالمین وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی سید المرسلین
و صحبہ اجمعینواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
#6410 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
رسالہ
مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ
(علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۸۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ووارثان انبیاء ومرسلین صلوات اﷲ وسلامہ علی نبینا وعلیہم اجمعین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ حدیث شریف العلماء ورثہ الانبیاء(علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ت)میں علمائے شریعت وطریقت دونوں داخل ہیںاور جامع جو شریعت وطریقت ہیں وہ وراثت کے رتبہ اعظم وابجل ودرجہ اتم واکمل پر فائز ہیںاور عمرو کا بیان ہے:
(۱)شریعت نام ہے چند فرائض وواجبات وسنن ومستحبات وچند مسائل حلال وحرام کاجیسے صورت وضو ونماز وغیرہ۔
(۲)اور طریقت نام ہے وصول الی اﷲ تعالی کا۔
(۳)اس میں حقیقت نماز وغیرہ منکشف ہوتی ہے۔
(۴)یہ بحرنا پیدا کنارو دریائے ذخار ہے اور وہ بمقابلہ اس دریا کے ایك قطرہ ہے۔
(۵)وراثت انبیاء کا یہی وصول الی اﷲ مقصود ومنشاء اور یہی شان رسالت ونبوت کا مقتضی خاص اسی کے لئے وہ مبعوث ہوئے۔
#6411 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
(۶)بھائیو! علمائے صوری وقشری کسی طرح اس وراثت کی قابلیت نہیں رکھتے۔
(۷)نہ وہ علمائے ربانی کہے جاسکتے ہیں۔
(۸)ان کے دام تزویر سے اپنے آپ کو دور رکھنا العیاذ باﷲ یہ شیطان ہیں۔
(۹)منزل اصل طریقت کے سدر اہ ہوئے ہیں۔
(۱۰)یہ باتیں میں اپنی طرف سے نہیں کہتابہت سے علمائے حقانی واولیائے ربانی نے اپنی اپنی تصانیف میں ان کو تصریح سے لکھا ہے الی آخر الہذیانات التماس یہ کہ ان دونوں میں کس کا قول صحیح اور اس مسئلہ کی کیا تنقیح ہے۔اگر عمرو غلطی پر ہے تو اس پر کوئی شرعی تعزیر بھی ہے یانہیں وہ کہتاہے میری غلطی جب ثابت ہوگی کہ میرے اقوال کا ابطال اولیاء کے اقوال ہدایت مآل سے کیا جائے ورنہ نہیں۔بینوا بالتفصیل التام توجروا یوم القیام(پوری تفصیل بیان کرو اور روزقیامت اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
الحمدﷲ الذی انزل الشریعۃ وجعلہا للوصول الیہ ہی الذریعۃ لمن ابتغی الیہ طریقا دونہا فقد خاب و ھوی وضل وغوی وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی اکرم الرسل و افضل داع الی سبل السلام الذی شریعتہ ھی الطریقۃ بعین الحقیقۃ فبہا الوصول الی العلی الاکبر ومن خالفہا فسیصل ولکن الی این الی سقر وعلی الہ واصحابہ وعلمائہ واحزابہ وارثی علمہ و حاملی ادابہ امین یارب العالمین* اللھم لك الحمد رب انی اعوذبك من ہمزات الشیطین واعوذبك رب ان یحضرون۔ تمام حمدیں اﷲ تعالی کے لئے جس نے شریعت نازل فرمائی اور اس کو اپنی طرف وصول کا ذریعہ بنایا یہی وسیلہ ہے اس کی طرف جانے والے کا کوئی اور راستہ ہو تو وہ ناکام ہو اور خواہش نفس گمراہی اور ضلالت میں مبتلا رہے تمام رسولوں سے اکرم رسول پر افضل صلوۃ واکمل سلام ہو جوسب سے بہتر دعوت دینے والا سلامتی کی راہ کا یہ وہ ذات ہے جس کی شریعت ہی طریقت اور عین حقیقت ہے اسی کے سبب اﷲ تعالی کے دربار میں وصول ہے اور جو اس کی مخالفت کرے گا وہ پہنچے گا کہاں جنہم میںآپ کی آل پاك وصحابہ وعلماء اور جماعت پر جو آپ کے علم کے وارث ہیں اور آپ کے آداب کے حامل ہیںآمین یارب العالمینیا اللہ! حمد تیرے ہی لئےمیرے رب! میں تیری پناہ لیتاہوں شیطان کے وسوسوں سے اور تیری پناہ لیتا میرے رب! ان کے حاضر ہونے سے۔(ت)
#6412 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
زید کا قول حق وصحیح اور عمرو کا زعم باطل وقبیح والحاد صریح ہے۔اس کے کلام شیطنت نظام میں دس فقرے ہیں ہم سب کے متعلق مجمل بحث کریں کہ ان شاء اﷲ الکریم مسلمانوں کو مفید ونافع اور شیطانوں کی قالع وقامع ہو وباﷲ التوفیق۔
(۱)عمرو کا قول کہ شریعت چند احکام فرض وواجب وحلال وحرام کا نام ہے محض اندھا پن ہے۔شریعت تمام احکام جسم وجان و روح وقلب وجملہ علوم الہیہ ومعارف نامتناہیہ کو جامع ہے جن میں سے ایك ایك ٹکڑے کا نام طریقت ومعرفت ہے ولہذا باجماع قطعی جملہ اولیائے کرام تمام حقائق کو شریعت مطہرہ پر عرض کرنا فرض ہے۔اگر شریعت کے مطابق ہوں حق ومقبول ہیں ورنہ مردود ومخذولتو یقینا قطعا شریعت ہی اصل کار ہے۔شریعت ہی مناط ومدا رہے۔شریعت ہی محکم ومعیار ہے۔ شریعت "راہ"کو کہتے ہیں اور شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ کا ترجمہ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی راہیہ قطعا عام ومطلق ہے نہ کہ صرف چند احکام جسمانی سے خاصیہی وہ راہ ہے کہ پانچوں وقت ہر نماز بلکہ ہر رکعت میں اس کا مانگنا اور اس پر ثبات واستقامت کی دعا کرنا ہر مسلمان پر واجب فرمایا ہے کہ "اہد نا الصرط المستقیم﴿۵﴾ " ہم کو محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی راہ چلا ان کی شریعت پر ثابت قدم رکھعبداﷲ بن عباس وامام ابوعالیہ وامام حسن بصری رضی اﷲ تعالی عنہم فرماتے ہیں:
الصراط المستقیم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم وصاحباہرواہ عن ابن عباس الحاکم فی صحیحہ وعن ابی العالیۃ من طریق عاصم الاحول عنہ عبد بن حمید وابناء جریج وابی حاتم وعدی و عساکر وفیہ ابی حاتم وعدی و عساکر و فیہ فذکرنا ذلك للحسن فقال صدق ابوالعالیۃ ونصح ۔ صراط مستقیم محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور ابوبکر صدق وعمر فاروق ہیں رضی اﷲ تعالی عنہما(اس کو حاکم نے اپنی صحیح میں ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا اور ابوالعالیہ سے بطریق عاصم الاحول ان سے عبد بن حمید اور جریج وابی حاتم وعدی اور عساکر کے بیٹوں نے اور اس میں ہے کہ ہم نے یہ حدیث حسن سے ذکر کی تو انھوں نے فرمایا ابوالعالیہ نے خالص سچ کہا۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۱ /۵
المستدرك للحاکم کتاب التفسیر شرح الصراط المستقیم دارالفکر بیروت ۲ /۲۵۹
تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم تفسیر سورۃ الفاتحہ مکتبہ نزار مصطفی الباز ریاض ۱/ ۳۰
#6413 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
یہی وہ راہ ہے جس کا منتہا اﷲ ہے۔قرآن عظیم میں فرمایا: ان ربی علی صرط مستقیم ﴿۵۶﴾" بیشك اس سیدھی راہ پر میرا رب ملتاہے۔یہی وہ راہ ہے جس کا مخالف بددین گمراہ ہےقرآن عظیم نے فرمایا:
"و ان ہذا صرطی مستقیما فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ ذلکم وصکم بہ لعلکم تتقون ﴿۱۵۳﴾ (شروع رکوع سے احکام شریعت بیان کرکے فرماتاہے)اور اے محبوب! تم فرمادو کہ یہ شریعت میری سیدھی راہ ہے تو اس کی پیروی کرو اور اس کے سوااور راستوں کے پیچھے نہ جاؤ کہ وہ تمھیں اس کی تاکید فرماتاہے تاکہ تم پرہیز گاری کرو۔
دیکھو قرآن مجید نے صاف فرمادیا کہ شریعت ہی صرف وہ راہ ہے جس سے وصول الی اﷲ ہے اور اس کے سوا آدمی جو راہ چلے گا اﷲ کی راہ سے دور پڑے گا۔
(۲)عمرو کا قول کہ طریقت نام ہے وصول الی اﷲ کا محض جنون وجہالت ہے۔ہر دو حرف پڑھا ہوا جانتا ہے۔کہ طریق طریقہ طریقت راہ کو کہتے ہیں نہ کہ پہنچ جانے کوتو یقینا طریقت بھی راہ ہی کا نام ہے اب اگر وہ شریعت سے جدا ہو تو بشہادت قرآن مجید خدا تك نہ پہنچائے گیبلکہ شیطان تك جنت میں نہ لے جائے گی بلکہ جہنم میں کہ شریعت کے سوا سب راہوں کو قرآن مجید باطل ومردود فرماچکا۔لاجرم ضرور ہوا کہ طریقت ہی شریعت ہے کہ اسی راہ روشن کا ٹکڑا ہے اس کا اس سے جدا ہونا محال ونا سزا ہے جو اسے شریعت سے جدا جانتا ہے اسے راہ خدا سے توڑ کر راہ ابلیس مانتا ہے مگر حاشا طریقت حقہ راہ ابلیس نہیں قطعا راہ خدا ہے تو یقینا وہ شریعت مطہرہ ہی کا ٹکڑا ہے۔
(۳)طریقت میں جو کچھ منکشف ہوتا ہے شریعت ہی کے اتباع کا صدقہ ہے ورنہ بے اتباع شرع بڑے بڑے کشف راہبوںجوگیوںسنیاسیوں کو ہوتے ہیںپھر وہ کہاں تك لے جاتے ہیں اسی نار جحیم وعذاب الیم تك پہنچاتے ہیں۔
(۴)شریعت کو قطرہ طریقت کو دریا کہنا اس مجنون پکے پاگل کا کام ہے جس نے دریا کا پاٹ
#6414 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
کسی سے سن لیا اور نہ جانا کہ یہ وسعت نہ ہوتی تو اس میں کس گھر سے آتیشریعت منبع ہے اور طریقت اس میں سے نکلا ہوا ایك دریا۔بلکہ شریعت اس مثال سے بھی متعالی ہے۔منبع سے پانی نکل کر دریا بن کر جن زمینوں پر گزرے انھیں سیراب کرنے میں اسے منبع کی احتیاج نہیں۔نہ اس سے نفع لینے والوں کو اصل منبع کی اس وقت حاجتمگر شریعت وہ منبع ہے کہ اس سے نکلے ہوئے دریا یعنی طریقت کو ہر آن اس کی احتیاج ہے منبع سے اس کا تعلق ٹوٹے تو یہی نہیں کہ صرف آئندہ کے لئے مدد موقوف ہوجائے فی الحال جتنا پانی آچکا ہے چند روز تك پینےنہانےکھیتیاںباغات سینچنے کا کام دے نہیں نہیں منبع سے اس کا تعلق ٹوٹتے ہی یہ دریا فورا فنا ہوجائے گابوند تو بوند نم کا بھی نام نظر نہ آئے گانہیں نہیںمیں نے غلطی کیکاش اتنا ہی ہوتا کہ دریا سوکھ گیاپانی معدوم ہواباغ سوکھےکھیت مرجھائےآدمی پیا سے تڑپ رہے ہیںہر گز نہیںبلکہ یہاں سے اس مبارك منبع سے تعلق چھوٹتے ہی یہ تمام دریا البحرالمسجور ہوکر شعلہ فشاں آگ ہوجاتا ہے جس کے شعلوں سے کہیں پناہ نہیںپھر کاش وہ شعلے ظاہری آنکھوں سے سوجھتے تو جو تعلق توڑنے والے جلے خاك سیاہ ہوئے تھے اتنے ہی جل کرباقی بچ جاتے کہ ان کا یہ انجام دیکھ کر عبرت پاتے مگر نہیں وہ تو " نار اللہ الموقدۃ ﴿۶﴾ التی تطلع علی الافـدۃ ﴿۷﴾ " ہے۔اﷲ کی بھڑکاتی ہوئی آگ کہ دلوں پر چڑھتی ہے۔ اندر سے دل جل گئےایمان خاك سیاہ ہوگئے۔اور ظاہر میں وہی پانی نظر آرہا ہے دیکھنے میں دریا اور باطن میں آگ کا دہراآہ آہ کہ اس پر دے نے لاکھوں کو ہلا ك کیاپھر دریا منبع کی مثال سے ایك اور فرق عظیم ہے جس کی طرف اشارہ گزرا کہ نفع لینے والوں کو اس وقت منبع کی حاجت نہیںمگر حاشا یہاں منبع سے تعلق نہ توڑئیے کہ پانی باقی رہے اور آگ نہ ہوجائے جب بھی ہر آن منبع سے اس کی جانچ پڑتال کی حاجت ہے وہ یوں کہ یہ پاکیزہ شیریں دریا جو اس برکت والے منبع سے نکل کر اس دار الالتباس کی وادیوں میں لہریں لے رہا ہے۔یہاں اس کے ساتھ ایك سخت ناپاك کھاری دریا بھی بہتا ہے۔ "ہذا عذب فرات و ہذا ملح اجاج " ایك خوب میٹھا شیریں ہے اور ایك سخت نمك کھاریوہ دریائے شور کیا ہے شیطان ملعون کے وسوسے دھوکےتو دریائے شیریں سے نفع لینے والوں کو ہر آن احتیاج ہے کہ ہر نئی
#6415 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
لہر پر اس کی رنگت مزے بو کو اصل منبع کے لون طعم ریح سے ملاتے رہیں کہ یہ لہر اس منبع سے آئی ہے یا شیطانی پیشاب کی بد بو کھاری دھار دھوکا دے رہی ہے۔سخت دقت یہ ہے کہ اس پاك مبارك منبع کی کمال لطافت سے اس کا مزہ جلدزبان سے اتر جاتا ہے۔رنگت بو کچھ یاد نہیں رہتی اور ساتھ ہی ذائقہ شامہ باصرہ کا معنوی حس فاسد ہوجاتا ہے کہ آدمی منبع سے جدا ہو اور اسے گلاب اور پیشاب میں تمیز نہیں رہتیابلیس کا کھاری بد بو رنگ موت غٹ غٹ چڑھا تا اور گمان کرتا ہے کہ دریائے طریقت کا شیریں خوشبو خوش رنگ پانی پی رہا ہوںلہذا شریعت منبع ودریا کی مثال سے بھی نہایت متعالی ہے وﷲ المثل الاعلی شریعت مطہر ہ ایك ربانی نور کا فانوس ہے۔کہ دینی عالم میں اس کے سوا کوئی روشنی نہیں اس کی روشنی بڑھتے بڑھتے صبح اور پھر آفتاب اور پھر اس سے بھی غیر متناہی درجوں زیادہ تك ترقی کرتی ہے جس سے حقائق اشیاء کاانکشاف ہوتا اور نور حق تجلی فرماتاہے یہ مرتبہ علم میں معرفت اور مرتبہ تحقیق میں حقیقت ہے تو حقیقت بین وہی ایك شریعت ہے کہ باختلاف مراتب اس کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں جب یہ نور بڑھ کر صبح روشن کے مثل ہوتا ہے ابلیس لعین خیر خواہ بن کر آتا ہے اور اس سے کہتاہے "اطفی المصباح فقد اشرق الاصباح"چراغ ٹھنڈا کر کہ اب تو صبح خوب روشن ہوگئیاگرآدمی دھوکے میں نہ آیا اور نور فانوس بڑھ کر دن ہوگیا ابلیس کہتاہے کیا اب بھی چراغ نہ بجھائے گا آفتاب روشن ہے۔احمق اب تجھے چراغ کی کیا حاجت ہے۔ ع
ابلہے کو روز روشن شمع کافوری نہد
(بیوقوف روشن دن کا فوری شمع رکھتاہے۔ت)
ہدایت الہی اگر دستگیر ہے تو بندہ لاحول پڑھتا اور اس ملعون کو دفع کرتاہے کہ اوعدواللہ! یہ جسے تو دن یا آفتاب کہہ رہا ہے آخر کیا ہے۔اسی فانوس کا تو نور ہے۔اسے بجھایا تو نور کہاں سے آئے گااس وقت وہ دغاباز خائب وخاسر پھرتاہے اور بندہ " نور علی نور یہدی اللہ لنورہ من یشاء " (نور پر نور ہے اور اپنے نور کی راہ بتاتاہے جسے چاہتاہے۔ت)کی حمایت میں نور حقیقی تك پہنچتاہے اور اگر دم میں آگیا اور سمجھا کہ ہاں دن تو ہوگیا اب مجھے چراغ کی کیا حاجت ہے ادھر فانوس بجھا اور معا اندھیرا گھپ کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا۔جیسا کہ قرآن مجید نے فرمایا:
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۴ /۳۵
#6416 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
"] ظلمت بعضہا فوق بعض اذا اخرج یدہ لم یکد یرىہا و من لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور ﴿۴۰﴾ "] ایك پر ایك اندھیریاں ہیںاپنا ہاتھ نکالے تو نہ سوجھے اور جسے خدا نور نہ دے اس کے لئے نور کہاں۔
یہ ہیں وہ کہ طریقت بلکہ حقیقت تك پہنچ کر اپنے آپ کو شریعت سے مستغنی سمجھے اور ابلیس کے فریب میں آکر اس الہی فانوس کو بجھا بیٹھے کا ش یہی ہوتا کہ اس کے بجھنے سے جو عالمگیر اندھیرا ان کی آنکھوں میں چھایا جسے دن دہاڑے چوپٹ کر دیا ان کو اس کی خبر ہوتی کہ شاید تو بہ کرتے فانوس کا مالك ندامت والوں پر مہر رکھتا ہے۔پھر انھیں روشنی دیتامگر ستم اندھیر تو یہ ہے کہ دشمن ملعون نے جہاں فانوس خاموش کرائی اس کے ساتھ ہی معا اپنی سازشی بتی جلا کر ان کے ہاتھ میں دے دی یہ اسے نور سمجھ رہے ہیں اور وہ حقیقۃ نار ہے۔یہ مگن ہیں کہ شریعت والوں کے پاس کیا ہے۔ایك چراغ ہے ہمارا نور آفتاب کو لئے جارہا ہے۔وہ قطرہ اور یہ ایك دریا ہے۔اور خبر نہیں کہ وہ حقیقۃ نور ہے۔اور یہ دھوکے کی ٹٹیآنکھ بند ہوتے ہی حال کھل جائے گا کہ ع
باکہ باختہ عشق درشب دیجور
(اندھیری رات میں کس سے عشق بازی کی۔ت)
بالجملہ شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ایك ایك سانس ایك ایك پل ایك ایك لمحہ پر مرتے دم تك ہے اور طریقت میں قدم رکھنے والوں کو اور زیادہ کہ راہ جس قدر باریك اس قدر ہادی کی زیادہ حاجت ولہذا حدیث میں آیا حضور سیدی عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
المتعبد بغیر فقہ کالحمار فی الطاحونرواہ ابونعیم فی الحلیۃ عن واثلۃ بن الاسقع رضی اﷲ تعالی عنہ۔ بغیر فقہ کے عبادت میں پڑنے والا ایساہے جیسا کہ چکی کھینچنے والا گدھا کہ مشقت جھیلے اور نفع کچھ نہیں(اسے ابونعیم نے حلیہ میں واثلہ بن الاسقع رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
امیر المومنین مولی علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں:
قصم ظھری اثنان جہل دو شخصوں نے میری پیٹھ توڑدی(یعنی وہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۴ /۴۰
حلیۃ الاولیاء لابی نعیم ترجمہ ۳۱۸ خالد بن معدان دارالکتاب العربی بیروت ۵/ ۲۱۹
#6417 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
متنسك وعالم متھتك ۔ بلائے بے در ماں ہیں)جاہل عابد اور عالم جو علانیہ بیباکانہ گناہوں کا ارتکاب کرے۔
اے عزیز!شریعت عمارت ہے اور اس کا اعتقاد بنیاد اور عمل چنائیپھر اعمال ظاہر وہ دیوار ہیں کہ اس بنیاد پر ہو ا میں چنے گئےاور جب تعمیر اوپر بڑھ کر آسمان تك پہنچی وہ طریقت ہے۔دیوار جتنی اونچی ہوگی نیوکی زیادہ محتاج ہوگی اور نہ صرف نیوکہ بلکہ اعلی حصہ اسفل کا بھی محتاج ہے۔اگر دیوار نیچے سے خالی کردی جائے اوپر سے بھی گر پڑے گیاحمق وہ جس پر شیطان نے نظر بندی کرکے اس کی چنائی آسمانوں تك دکھائی اور دل میں ڈالا کہ اب ہم توزمین کے دائرے سے اونچے گزر گئے ہمیں اس سے تعلق کی کیا حاجت ہے۔نیو سے دیوار جدا کرلی اور نتیجہ وہ ہوا جو قرآن مجیدنے فرمایا کہ "فانہار بہ فی نارجہنم " اس کی عمارت اسے لے کر جہنم میں ڈھے پڑیوالعیاذ باﷲ رب العالمین اسی لئے اولیائے کرام فرماتے ہیں صوفی جاہل شیطان کا مسخرہ ہے۔اسی لئے حدیث میں آیا حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابدرواہ الترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ ایك فقیہ شیطان پرہزاروں عابدوں سے زیادہ بھاری ہے(اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
بے علم مجاہدہ والوں کو شیطان انگلیوں پر نچاتا ہے منہ میں لگامناك میں نکیل ڈال کر جدھر چاہے کھینچے پھرتاہے "و ہم یحسبون انہم یحسنون صنعا ﴿۱۰۴﴾" اور وہ اپنے جی میں سمجھتے ہیں کہ ہم اچھا کام کررہے ہیں۔
(۵)عمرو کا طریقت کو غیر شریعت جان کر حصر کردینا کہ یہی مقصود ہے انبیاء صرف اس کے لئے مبعو ث ہوئے ہیں۔صراحۃ شریعت مطہرہ کو معاذاﷲ معطل ومہمل ولغو باطل کردینا ہے اوریہ صریح
حوالہ / References القرآن الکریم ۹ /۱۰۹
جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۳،سنن ابن ماجہ باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰
القرآن الکریم ۱۸ /۱۰۴
#6418 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
کفر وارتداد اور وہ زندقہ والحاد موجب لعنت ابعاد ہے۔ہاں یہ کہنا تو حق ہے کہ اصل مقصود وصول الی اﷲ ہے۔مگر حیف اس پر جو اپنی جہالت شدیدہ سے نجانے یا جانے اور عناد شریعت کے باعث نہ مانے کہ وصول الی اﷲ کاراستہ یہی شریعت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہے وبسہم اوپر قرآن مجید سے ثابت کرآئے ہیں کہ شریعت کے سوااﷲ تك راہیں بند ہیںطریقت اگر وہ اپنے زعم میں کسی راہ مخالف کا نام سمجھا ہے تو حاشا وہ خدا تك پہنچائے بلکہ وہ مسدود اور اس کا چلنے والا مردوداور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پراس کی تہمت ملعون ومطرودکیا کوئی ثبوت دے سکتاہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کبھی کسی کوشریعت کے خلاف دوسری راہ کی طرف بلایا ہے حاشا وکلا۔
(۶)جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے عمر بھر اسی کی طرف بلایا اوریہی راستہ ہمارے لئے چھوڑا تو اس کا حامل اس کا خادم اس کا حامی اس کا عالم کیونکر ان کا وارث نہ ہوگاہم پوچھتے ہیں اگر بالفرض شریعت صرف فرض واجب سنت مستحب حلال وحرام ہی کے علم کا نام ہو تو یہ علم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے ہے یا ان کے غیر سے اگر اسلام کاد عوی رکھتاہے تو ضرور کہے گا کہ حضور ہی سے ہے۔پھر اس کا عالم حضور کا وارث نہ ہوا تو او رکس کا ہوگاعلم ان کا ترکہ پھر اس پانے والا اس کا وارث نہ ہو اس کے کیا معنی۔اگر کہے کہ یہ علم تو ضرور ان کا ہے مگر دوسرا حصہ یعنی علم باطن اس نے نہ پایا لہذا وارث نہ ٹھہرا تو اے جاہل! کیا وارث کے لئے یہ ضرور ہے کہ مورث کاکل مال پائے یوں تو عالم میں کوئی صدیق ان کا وارث نہ ٹھہرے گااور ارشاد اقدس ان العلماء ورثۃ الانبیاء معاذاﷲ غلط بن کر محال ہوجائے گاکہ ان کا کل علم تو کسی کو مل ہی نہیں سکتا اور اگر بالفرض غلط شریعت وطریقت دو جدا رہیں بنیں اورقطرہ دریا کی نسبت جانیں جس طرح یہ جاہل بکتاہے جب بھی علمائے شریعت سے وراثت انبیاء کا سلب کرنا جنون محض ہوگاکیا ترکہ مور ث سے تھوڑا حصہ پانے والاوارث نہیں ہوتاجسے ملا ان کے علم میں سے تھوڑا ہی ملا "وما اوتیتم من العلم الا قلیلا ﴿۸۵﴾ " اگر یہ شریعت طریقت کی معاذاﷲ برائی فرض کرلیں تو انصافا حدیث ان مسخرگان شیطان پر الٹی پڑے گی یعنی علمائے ظاہری وارثان انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء ٹھہرینگے اور علمائے باطن عیاذا باﷲ اس سے محرومانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نبی بھی ہوتے ہیں اور ولی بھی ان کے علوم نبوت یہ ہیں جن کو شریعت کہتے ہیںجن کی طرف وہ عام امت کو دعوت کرتے ہیںاور علوم ولایت وہ ہیں جن کو یہ جاہل طریقت کہتاہے اور وہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۷ /۸۵
#6419 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
خاص خاص لوگوں کو خفیہ تعلیم ہوتے ہیں تو علمائے باطن کہ علوم ولایت کے وارث ہوئے وارثان اولیاء ٹھہرے نہ کہ وارثان انبیاءوارثان انبیاء یہی علمائے ظاہر رہے جنھوں نے علوم نبوت پائےمگر یہ اس جاہل کی اشد جہالت ہے۔حاشا نہ شریعت وطریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء کبھی غیر علماء ہوسکتے ہیں علامہ مناوی شرح جامع صغیر پھر عارف باﷲ سید عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
علم الباطن لایعرف الا من عرف علم الظاھر ۔ علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتاہے۔
امام شافعی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
وما اتخذاﷲ ولیا جاھلا ۔ اﷲ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا۔
یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اس کے بعد ولی کیا کہ جو علم ظاہر نہیں رکھتا علم باطن کہ اس کا ثمرہ ونتیجہ ہے کیونکر پاسکتا ہےحق سبحانہ وتعالی کے متعلق بندوں کےلئے پانچ علم ہیں :علم ذاتعلم صفاتعلم افعالعلم اسماءعلم احکام۔
ان میں ہر پہلا دوسرے سے مشکل تر ہے۔جو سب سے آسان علم احکام میں عاجز ہوگا سب سے مشکل علم ذات کیونکر پاسکے گا اور قرآن شریف انھیں مطلقا وارث بتارہاہے حتی کہ ان کے بے عمل کو بھی یعنی جبکہ عقائد حق پر مستقیم اور ہدایت کی طرف داعی ہو کہ گمراہ اور گمراہی کی طرف بلانے والا وارث نبی نہیں نائب ابلیس ہے والعیاذ باﷲ تعالی۔ہاں رب عزوجل نے تمام علماء شریعت کو کہاں وارث فرمایا ہے یہاں تك کہ ان کے بے عمل کو بھیہاں وہ ہم سے پوچھئےمولی عزوجل فرماتا ہے:
" ثم اورثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرت باذن اللہ ذلک ہو الفضل الکبیر ﴿۳۲﴾ " پھر ہم نے کتاب کا وارث کیااپنے چنے ہوئے بندوں کو تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی متوسط حال کا اور کوئی بحکم خدا بھلائیوں میں پیشی لے جانے والا یہی بڑا فضل ہے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۵ /۳۲
#6420 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
دیکھوبے عمل کہ گناہوں سے اپنی جان پر ظلم کررہے ہیں انھیں بھی کتاب کا وارث بتایا اور نرا وارث ہی نہیں بلکہ اپنے چنے ہوئے بندوں میں گنااحادیث میں آیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:
سابقنا سابق ومقتصدنا ناج وظالمنا مغفورلہ والحمدﷲ رب محمد الرؤف الرحیم علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والتسلیمرواہ العقیلی وابن لال و ابن مردویہ والبیھقی فی البعث والبغوی فی المعالم عن امیر المومنین عمروالبیھقی وابن مردویہ عن ابن عمر وابن النجار عن انس رضی اﷲ تعالی عنہم۔ ہم میں کا جو سبقت لے گیا وہ تو سبقت لے ہی گیا او رجو متوسط حال کا ہواوہ بھی نجات والا ہے اور جو اپنی جان پر ظالم ہے اس کی بھی مغفرت ہے(والحمدﷲ رب محمد الرؤف الرحیم علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔اسے عقیلیابن لالابن مردویہ اور بیہقی نے بعث میں اور بغوی نے معالم میں امیر المومنین عمر سے اور بیہقی اور ابن مردویہ نے ابن عمر سے اور ابن نجار نے انس رضی اﷲ تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
عالم شریعت اگراپنے علم پر عامل بھی ہو چاند ہے کہ آپ ٹھنڈا اور تمھیں روشنی دے ورنہ شمع ہے کہ خو دجلے مگر تمھیں نفع دےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثل الذی یعلم الناس الخیر وینسی نفسہ مثل الفتیلۃ تضیئ للناس وتحرق نفسہارواہ البزار عن ابی ھریرۃ والطبرانی عن جندب بن عبداﷲ الازدی وعن ابی برزۃ الاسلمی رضی اﷲ تعالی عنہم بسند حسن۔ اس شخص کی مثال جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتا اور اپنے آپ کو بھول جاتاہے اس فتیلہ کی طرح ہے کہ لوگوں کو روشنی دیتا ہے اور خود جلتاہے اس کو بزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور طبرانی نے حضرت جندب بن عبداﷲ ازدی اور حضرت ابوبرزہ السلمی رضی اﷲ تعالی عنہم سے بسند حسن روایت کیا۔ت)
حوالہ / References معالم التنزیل تحت آیۃ ۳۵/۳۲ مصطفی البابی مصر ۵/ ۳۰۲
الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی والبزار مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۷۔۱۲۶ و ۳/۲۳۵
#6421 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا قرأ الرجل القران واحتشی من احادیث رسول اﷲ صلی علیہ وسلم وکانت ھناك غریرۃ کان خلیفۃ من خلفاء الانبیاء رواہ الامام الرافعی فی تاریخہ عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جب آدمی قرآن مجید پڑھ لے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی حدیثیں جی بھر کر حاصل کرے اور اس کے ساتھ طبیعت سلیقہ دار رکھتا ہو تو وہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے نائبوں سے ایك ہے۔(اسے امام رافعی نے اپنی تاریخ میں ابی امامہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
دیکھوحدیث نے وارث تو وارث خلیفۃ الانبیاء ہونے کے لئے صرف تین شرطیں مقرر فرمائیں قرآن وحدیث جانے اور ان کی سمجھ رکھتاہوخلیفہ ووارث میں فرق ظاہر ہے آدمی کی تمام اولاد اس کی وارث ہے مگر جانشین ہونے کی لیاقت ہر ایك میں نہیں۔
(۷)جب قرآن مجید نے سب وارثان کتاب کو اپنے چنے ہوئے بندے فرمایاتو وہ قطعا اﷲ والے ہوئے اور جب اﷲ والے ہوئے تو ضرور ربانی ہوئےاﷲ عزوجل فرماتاہے:
"ولکن کونوا ربنین بما کنتم تعلمون الکتب وبما کنتم تدرسون﴿۷۹﴾" ربانی ہوجاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس لئے کہ تم پڑھتے ہو۔
اور فرماتاہے:
"انا انزلنا التورىۃ فیہا ہدی ونور یحکم بہا النبیون الذین اسلموا للذین ہادوا و الربانیون و الاحبار بما استحفظوا من کتب اللہ وکانوا علیہ شہداء " بیشك ہم نے اتاری توریت اس میں ہدایت و نور ہے اس سے ہمارے فرمانبردار نبی اور ربانی اور دانشمند لوگ یہودیوں پر حکم کرتے تھے یوں کہ وہ کتاب اﷲ کے نگہبان ٹھہرائے گے اور وہ اس سے خبردار تھے۔
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ الرافعی فی تاریخہ حدیث ۲۸۶۹۴ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۳۸
القرآن الکریم ۳ /۷۹
القرآن الکریم ۵ /۴۴
#6422 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
ان آیات میں اﷲ عزوجل نے ربانی ہونے کی وجہ اور ربانیوں کی صفات اس قدر بیان فرمائیں کہ کتاب پڑھنا پڑھانا اس کے احکام سے خبردار ہونا اور اس کی نگہداشت رکھنا اس کے ساتھ حکم کرناظاہر ہے کہ یہ سب اوصاف علمائے شریعت میں ہیں تو وہ ضرور ربانی ہیںعبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں:
ربانیین فقھاء معلمینرواہ ابن ابی حاتم عن سعید بن جبیر۔ ربانی کے معنی ہیں فقیہ مدرس(اسے ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا۔ت)
نیز وہ اور ان کے تلامذہ امام مجاہد وامام سعید بن جبیر رضی اﷲ تعالی عنہم فرماتے ہیں:
ربانیین علماء فقہاء رواہ عن ابن عباس ابن جریرۃ وابن ابی حاتم وعن مجاھد ابن جریر و عن ابن جبیر الدرامی فی سننہ۔ ربانی عالم فقیہ کو کہتے ہیں(اسے ابن عباس ابن جریرۃ وابن حاتم سے او رمجاھد ابن جریر وابن جبیر دارمی کی سنن میں روایت کیا گیا۔ت)
(۸)جبکہ اﷲ عزوجل علمائے شریعت کو اپنا چنا ہوا بندہ کہتا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انھیں اپنا وارث اپنا خلیفہ انبیاء کا جانشین بتاتے ہیں تو انھیں شیطان نہ کہے گا مگر ابلیس یا اس کی ذریت کا کوئی منافق خبیث یہ میں نہیں کہتا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثہ لایستخف بحقہم الامنافق بین النفاق ذو الشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام مقسط رواہ ابو الشیخ فی التوبیخ عن جابر والطبرانی فی الکبیر تین شخصوں کے حق کو ہلکانہ جانے گا مگر منافق منافق بھی کون سا کھلا منافق۔ایك بوڑھا مسلمان جسے اسلام ہی میں بڑھاپا ایادوسرا عالم دینتیسرا بادشاہ مسلمان عادل(اس کو
حوالہ / References تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم تحت آیۃ ۳/ ۷۹ مکتبہ نزار مصطفی الباز ریاض ۲/ ۶۹۱
تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم تحت آیۃ ۳/ ۷۹ مکتبہ نزار مصطفی الباز ریاض ۲/ ۶۹۲،جامع البیان(تفسیر ابن جریر) بحوالہ مجاہد وابن عباس المطبعۃ المیمنۃ مصر الجزء الثانی ص۲۱۲،سنن الدارمی باب فضل العلم والعالم حدیث ۳۲۷ نشرالسنۃ ملتان ۱/ ۸۱
المعجم الکبیر عن ابی امامہ حدیث ۷۸۱۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸/ ۲۳۸،کنز العمال بحوالہ ابی الشیخ فی التوبیخ حدیث ۴۳۸۱۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶/ ۳۲
#6423 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالی عنہما بسند حسنہ الترمذی فی غیر ھذا الحدیث۔ ابوالشیخ نے توبیخ میں جابر سے اور طبرانی نے کبیر میں ابوامامہ رضی اﷲ تعالی عنہما سے
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایبغی علی الناس الاولد بغی والامن فیہ عرق منہ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ۔ لوگوں پر زیادتی نہ کرے گا مگر ولد الزنا یا وہ جس میں اس کی کوئی رگ ہو۔(اسے طبرانی نے کبیر میں ابو موسی اشعری رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
جب عام لوگوں پر زیادتی کے بارے میں یہ حکم ہے پھر علماء کی شان ارفع واعلی ہے بلکہ حدیث میں لفظ ناس فرمایااور اس کے سچے مصداق علماء ہی ہیں۔امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:سئل ابن المبارك من الناس فقال العلماء یعنی ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے تلمیذ رشید عبداﷲ بن مبارك رضی اﷲ تعالی عنہ کہ حدیث وفقہ ومعرفت وولایت سب میں امام اجل ہیں ان سے کسی نے پوچھا کہ ناس یعنی آدمی کون ہیںفرمایا:علماء۔امام غزالی فرماتے ہیں:"جو عالم نہ ہو امام ابن المبارك نے اسے آدمی نہ گنا اس لئے کہ انسان اور چوپائے میں علم کا فرق ہےانسان اس سبب سے انسان ہے نہ جسم کے باعث کہ اس کا شرف جسمانی طاقت سے نہیں کہ اونٹ اس سے زیادہ طاقت ور ہے۔نہ بڑے جثہکے سبب کہ ہاتھی کاجثہ اس سے بڑا ہے۔نہ بہادری کے باعث کہ شیر اس سے زیادہ بہادر ہے۔نہ خوراك کی وجہ سے کہ بیل کا پیٹ اس سے بڑا ہے نہ جماع کی غرض سے کہ چڑوٹا جو سب میں ذلیل چڑیا ہے اس سے زیادہ جفتی کی قوت رکھتا ہے آدمی تو صرف علم کے عــــــہ لئے بنایا گیا اور اسی سے
عــــــہ: قال تعالی "وما خلقت الجن و الانس اﷲ تعالی نے فرمایا اورنہیں پیدا کیا جن وانس کو (باقی بر صفحہ ایندہ)
حوالہ / References مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الخلافۃ باب فی عمال السؤالخ دارالکتاب بیروت ۵/ ۲۳۳ و ۶/ ۲۵۸،کنز العمال بحوالہ طب حدیث ۱۳۰۹۳ مؤسسۃالرسالہ بیروت ۵/ ۳۳۳
احیاء العلوم کتاب العلم الباب الاول مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۷
#6424 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
اس کا شرف ہے انتہی"۔
(۹)بیانات بالا سے واضح ہے کہ علمائے شریعت ہر گز طریقت کے سدراہ نہیں بلکہ وہی اس کے فتح باب اور وہی اس کے نگاہبان راہ ہیںہاں وہ طریقت جسے بندگان شیطان طریقت نام رکھیں اور اسے شریعت محمدر سول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سےجدا کریں علماء اس کے لئے ضرور سد راہ ہیں علماء کیا خود اﷲ عزوجل نے اس راہ کو مسدود ومردود وملعون ومطرود فرمایا اوپر گزرا کہ علمائے شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ہرآن ہے اور یہ طریقت میں قدم رکھنے والوں کو اور زیادہ ورنہ حدیث میں اسے چکی کھینچنے والا گدھا فرمایا۔تو اگر علماء نے تمھیں گدھا بننے سے روکا کیا گناہ کیا۔
(۱۰)عمرو کا اپنی خرافات شیطانیہ توہین شریعت وسب وشتم علمائے شریعت علمائے مقامی و اولیائے ربانی کی طرف نسبت کرنا اس کا محض کذب مہین وافترائے لعین ہے۔اس کی خواہش کے مطابق ہم صرف حضرات اولیاء کرام قدست اسرارہم کے ارشادات عالیہ محض بطور نمونہ ذکر کریں جن سے شریعت مطہرہ کی عظمت ظاہر ہو اور یہ کہ طریقت اس سے جدا نہیں اوریہ کہ طریقت اس کی محتاج ہے اوریہ کہ شریعت ہی اصل کارو مدار ومعیار ہے غرض جو بیانات ہم نے کئے ان سب کا ثبوت وافی اور عمرو کے دعاوی وخرافات ملعونہ کا رد کافی وباﷲ التوفیق۔
قول ۱:حضو رپر نور سید الافراد قطب الارشاد غوث عالم قطب عالم رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لا تری لغیر ربك وجودا مع لزوم الحدود وحفظ الا و امروالنواھی فان انخرم غیر خدا کو موجود نہ دیکھنا اس کے ساتھ ہو تو اس کی باندھی ہوئی حدوں سے کبھی جدا نہ ہو او راس کے

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) الا لیعبدون ﴿۵۶﴾" مگر عبادت کے لئے۔(ت)
سیدنا امام ابوالقاسم قشیری رضی اﷲ تعالی عنہ کہ اجل اکابر صوفیہ کرام سے ہیں اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:الالیعرفون۔ یعنی ہم نے نہیں پیدا کیا جن وانس کو مگر معرفت حاصل کرنے کے لئے۔۱۲۔
حوالہ / References احیاء العلوم کتاب العلم الباب الاول مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۷
القرآن الکریم ۵۱ /۵۶
#6425 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
فیك شیئ من الحدود فاعلم انك مفتون قد لعب بك الشیطان فارجع الی حکم الشرع والزمہ ودع منك الھوی لان کل حقیقۃ لاتشھد لہ الشریعۃ فہی باطلۃ (الطبقات الکبری) ہرامرونہی کی حفاظت کرے اگر حدود شریعت سے کسی حد میں خلل آیا تو جان لے کہ تو فتنہ میں پڑا ہوا ہے بیشك شیطان تیرے ساتھ کھیل رہا ہے تو فورا حکم شریت کی طرف پلٹ آاور اس سے لپٹ جا اور اپنی خواہش نفسانی چھوڑ اس لئے کہ جس حقیقت کی شریعت تصدیق نہ فرمائے وہ حقیقت باطل ہے۔
سعادت مند کے لے حضور پر نور سید الاولیاء غوث العرفاء رضی اﷲ تعالی عنہ کا ایك یہی ارشاد کا فی ہے کہ اس میں سب کچھ جمع فرمادیا ہے۔وﷲ الحمد۔
قول ۲:حضور پرنور غوث الثقلین غیاث الثقلین رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتےہیں:
اذا وجدت فی قلبك بغض شخص اوحبہ فاعرض افعالہ علی الکتب والسنۃ فان کانت محبوبۃ فیہما فاحبہ وان کانت مکروھۃ فاکرھہ لئلا تحبہ بھواك وتبغضہ بہواك قال اﷲ ولاتتبع الہوی فیضلك عن سبیل اﷲ ۔ جب تو اپنے دل میں کسی کی دشمنی یا محبت پائے تو اس کے کاموں کو قرآن وحدیث پر پیش کراگر ان میں پسندیدہ ہوں تو اس سے محبت رکھ اور اگر ناپسند ہوں تو کراہتتاکہ اپنی خواہش سے نہ کوئی دوست رکھے نہ دشمناﷲ تعالی فرماتا ہے:خواہش کی پیروی نہ کر کہ تجھے بہکا دیگی خدا کی راہ سے۔
قول ۳:حضور پر نور غوث الاغواث رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
الولایۃ ظل النبوۃ والنبوۃ ظل الالھیۃ وکرامۃ الولی استقامۃ فعل علی قانون قول النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ ولایت پر تو نبوت ہے اور نبوت پر تو الوہیتاور ولی کی کرامت یہ ہے کہ اس کا فعل نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے قول کے قانون پر ٹھیك اترے۔
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی للشعرانی ترجمہ ۲۴۸ سید عبدالقادر الجیلی مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۳۱
الطبقات الکبرٰی للشعرانی ترجمہ ۲۴۸ سید عبدالقادر الجیلی مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۳۱
بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلامہ مرصعا بشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۳۹
#6426 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
قول ۴:حضور سیدنا محی الدین محبوب سبحانی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
الشرع حکم محق سیف سطوۃ قہرہ من خالفہ وناواہ واعتصمت بحبل حمایتہ وثیقات عری الاسلام و علیہ مدار امر الدارین وباسبابہ انیطت منازل الکونین ۔ شرع و ہ ہے جس کے صولت قہر کی تلوار اپنے مخالف ومقابل کو مٹادیتی ہے اور اسلام کی مضبوط رسیاں اس کی حمایت کی ڈوری پکڑے ہوئے ہیں۔دوجہاں کے کام کا مدار فقط شریعت پر ہے۔اور اس کی ڈوریوں سے دونوں عالم کی منزلیں وابستہ ہیں۔
قول ۵:حضور پر نور سیدنا باز اشہب شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
الشریعۃ المطہرۃ المحمدیۃ ثمرۃ شجرۃ الملۃ الاسلامیۃ شمس اضاءت بنورھا ظلمۃ الکونین اتباع شرعہ یعطی سعادۃ الدارین احذر ان تخرج من دائرتہ ایاك ان تفارق اجماع اھلہ ۔ شریعت پاکیزہ محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم درخت دین اسلام کا پھل ہے شریعت وہ آفتاب ہے جس کی چمك سے تمام جہاں کی اندھیریاں جگمگا اٹھیں شرع کی پیروی دونوں جہان کی سعادت بخشی ہے خبردار اس کے دائرہ سے باہرنہ جاناخبردار اہل شریعت کی جماعت سے جدا نہ ہونا۔
قول ۶:حضور پر نور سید الاولیاء قطب الکونین رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
اقرب الطرق الی اﷲ تعالی لزوم قانون العبودیۃ والاستمساك بعروۃ الشریعۃ ۔ اﷲ عزوجل کی طر ف سے سب سے زیادہ قریب راستہ قانون بندگی کو لازم پکڑنا اور شریعت کی گرہ کو تھامے رہنا ہے۔
قول ۷:حضور پر نور سیدنا وارث المصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم غوث الاولیاء رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
تفقہ ثم اعتزل من عبداﷲ بغیر علم کان مایفسدہ اکثر مما یصلحہ خذ فقہ حاصل کراس کے بعد خلوت نشین ہو جو بغیر علم کے خدا کی عبادت کرے وہ جتنا سنوارے گا
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۴۰
بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۴۹
بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلامہ مرصعابشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۵۰
#6431 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
معك مصباح شرع ربك ۔ اس سے زیادہ بگاڑے گااپنے ساتھ شریعت الہیہ کی شمع لے لے۔
قول ۸:حضرت سیدنا جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں میرے پیر حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالی عنہ نے مجھے دعا دی:
جعلك اﷲ صاحب حدیث صوفیا و لاجعلك صوفیا صاحب حدیث ۔ اﷲ تعالی تمھیں حدیث داں کرکے صوفی بنائے اور حدیث داں ہونے سے پہلے تمھیں صوفی نہ کرے۔
قول ۹:امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی ا س دعائے حضرت سیدی سری سقطی رضی اﷲ تعالی عنہ کی شرح فرماتے ہیں:
اشار الی ان من حصل الحدیث والعلم ثم تصوف افلح ومن تصوف قبل العلم خاطر بنفسہ ۔ حضرت سری سقطی رحمہ اﷲ تعالی نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ جس نے پہلے حدیث وعلم حاصل کرکے تصوف میں قدم رکھا وہ فلاح کو پہنچااور جس نے علم حاصل کرنے سے پہلے صوفی بننا چاہا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا
(والعیاذباﷲ تعالی)
قول ۱۰:حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی ااﷲ تعالی عنہ سے عرض کی گئی کچھ لوگ زعم کرتے ہیں کہ:
ان التکالیف کانت وسیلۃ الی الوصول و قد وصلنا۔ یعنی احکام شرعیت تو صول کا وسیلہ تھےاور ہم واصل ہوگئے اب ہمیں شرعیت کی کیا حاجت۔
فرمایا:
صدقوا فی الوصول ولکن الی سقر والذی یسرق ویزنی خیر ممن یعتقد ذلك ولو انی بقیت الف عام مانقصت من سچ کہتے ہیں واصل ضرور ہوئےکہاں تك جہنم تك چوراور زانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہیںمیں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض واجبات
حوالہ / References بہجۃ الاسرار ذکر فصول من کلام مرصعا بشیئ الخ مصطفی البابی مصر ص۵۳
احیاء العلوم کتاب العلم الباب الثانی مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۲۲
احیاء العلوم کتاب العلم الباب الثانی مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۱/ ۲۲
#6435 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
اورادی شیئا الابعذر شرعی ۔ تو بڑی چیز ہیں جو نوافل ومستحبات مقرر کرلئے ہیں بے عذر شرعی ان میں سے کچھ کم نہ کروں۔
قول ۱۱:حضرت سیدی ابوالقاسم قشیری رضی اﷲ تعالی عنہ اپنے رسالہ مبارك میں حضرت سیدی ابوالقاسم جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ سے نقل فرماتے ہیں:
من لم یحفظ القران ولم یکتب الحدیث لایقتدی بہ فی ھذا الامر لان علمنا ھذا مقید بالکتاب والسنۃ ۔ جس نے نہ قرآن یا دکیا نہ حدیث لکھی یعنی جو علم شریعت سے آگاہ نہیں دربارہ طریقت اس کی اقتدا نہ کریں اسے اپنا پیر نہ بنائیں کہ ہمار ا یہ علم طریقت بالکل کتاب وسنت کا پابند ہے۔
نیز فرمایا:
الطریق کلھا مسدودۃ علی الخلق الاعلی من اقتفی اثر الرسول علیہ الصلوۃ والسلام ۔ خلق پر تمام راسے بند ہیں مگر وہ جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نشان قدم کی پیروی کرے۔
خلاف پیمر کسے راہ گزید کہ ہر گز بمنزل نخواہد رسید
(جس نے پیغمبر کے خلاف راستہ اختیار کیا وہ ہر گز منزل مقصود پر نہ پہنچے گا)
قول ۱۲:حضرت سیدنا ابویزید بسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ نے عمی بسطامی کے والد رحمہما اﷲ تعالی سے فرمایا:چلو اس شخص کو دیکھیں جس نے اپنے آپ کو بنام ولایت مشہورکیا ہےوہ شخص مرجع ناس ومشہور بہ زہد تھاجب وہاں تشریف لے گئے اتفاقا اس نے قبلہ کی طرف تھوکا۔حضرت ابویزید بسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ فورا واپس آئے اور اس سے سلام علیك نہ کی اور فرمایا:
ھذا رجل غیر مامون علی ادب من اداب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فکیف یکون مامونا علی ما یدعیہ ۔ یہ شخص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے آداب سے ایك ادب پر توامین ہے نہیں جس چیز کا ادعا رکھتا ہے اس پر کیا امین ہوگا۔
حوالہ / References الیواقیت والجواہر المبحث السادس والعشرون مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۵۱
الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابی القاسم الجنید بن محمد مصطفی البابی مصر ص۲۰
الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابی القاسم الجنید بن محمد مصطفی البابی مصر ص۲۰
الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابو یزید البسطامی مصطفی البابی مصر ص۱۵
#6440 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
اور دوسری روایت میں ہے۔فرمایا:
ھذا رجل غیر مامون علی ادب من اداب الشریعۃ فکیف یکون امینا علی اسرار الحق ۔ یہ شخص شریعت کے ایك ادب پر توامین ہے نہیں اسرار الہیہ پر کیونکہ امین ہوگا۔
قول ۱۳:نیز حضرت بسطامی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لونظر تم الی رجل اعطی من الکرامات حتی یرتقی (وفی نسخۃ یتربع)فی الہواء فلا تغتروا بہ حتی تنظروا کیف تجدونہ عندالامر والنھی وحفظ الحدود و آداب الشریعۃ۔ اگر تم کسی شخص کو دیکھو ایسی کرامت دیا گیا کہ ہوا پر چار زانو بیٹھ سکے تو اس سے فریب نہ کھانا جب تك یہ نہ دیکھو کہ فرضواجب ومکروہ و حرام ومحافظت حدود وآداب شریعت میں اس کا حال کیسا ہے۔
قول ۱۴:حضرت ابو سعید خراز رضی اﷲ تعالی عنہ کہ حضرت ذوالنون مصری سری سقطی رضی اﷲ تعالی عنہما کے اصحاب اور سید الطائفہ جنید رضی اﷲ تعالی عنہ کے اقران سے ہیں فرماتے ہیں:
کل باطن یخالفہ ظاھر فہو باطل ۔ جو باطن کہ ظاہر اس کی مخالفت کرے وہ باطن نہیں باطل ہے۔
علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قد س سرہ القدسی اس قول مبارك کی شرح میں فرماتے ہیں:
لانہ وسوسۃ شیطانیۃ وزخرفۃ نفسانیۃ حیث خالف الظاھر ۔ اس لئے کہ جب اس نے ظاہر کی مخالفت کی تو وہ شیطانی وسوسہ اور نفس کی بناوٹ ہے۔
قول ۱۵:حضرت سیدنا حارث محاسبی رضی اﷲ تعالی عنہ کہ اکابر ائمہ اولیاء معاصرین حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہیں فرماتے ہیں:
من صحح باطنہ بالمراقبۃ والاخلاص جو اپنے باطن کو مراقبہ اور اخلاص سے صحیح
حوالہ / References الرسالۃ القشیریۃ باب الولایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۱۷
الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابو یزید البسطامی مصطفی البابی مصر ص۱۵
الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابو سعید خراز مصطفی البابی مصر ص۲۴
الحدیقۃ الندیۃ الباب الاول الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۱۸۶
#6441 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
زین اﷲ ظاھرہ بالمجاھدۃ واتباع السنۃ ۔ کرلے گا۔لازم ہے کہ اﷲ تعالی اس کے ظاہر کو مجاہدہ وپیروی سنت سے آراستہ فرمادے۔
ظاہر ہے کہ انتفائے لازم کو انتفائے ملزوم لازم تو ثابت ہواکہ جس کا ظاہر زیور شرع سے آراستہ نہیں وہ باطن میں بھی اﷲ عزوجل کے ساتھ اخلاص نہیں رکھتا۔
قول ۱۶:حضرت سیدنا ابوعثمان حیری رضی اﷲ تعالی عنہ کہ اجلہ اکابر اولیاء معاصرین حضرت سید الطائفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہیں وقت انتقال اپنے صاحبزادے ابوبکر رحمہ اﷲ تعالی سے فرمایا:
خلاف السنۃ یابنی فی الظاہر علامۃ ریاء فی الباطن ۔ اے میرے بیٹے! ظاہر میں سنت کا خلاف اس کی علامت ہے کہ باطن میں ریا کاری ہے۔
قول ۱۷:نیز حضرت سعید بن اسمعیل حیری ممدوح رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
الصحبۃ مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باتباع السنۃ ولزوم ظاھر العلم ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ زندگانی کا طریقہ یہ ہے کہ سنت کی پیروی کرے اور علم ظاہر کو لازم پکڑے۔
قول ۱۸:حضرت سید ابوالحسین احمد بن الحواری رضی اﷲ تعالی عنہ جن کو حضرت سید الطائفہ ریحانۃ الشام یعنی ملك شام کا پھول کہتے تھے فرماتے ہیں:
من عمل عملا بلااتباع سنۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فباطل عملہ ۔ جو کسی قسم کا کوئی عمل بے اتباع سنت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کرے وہ عمل باطل ہے۔
قول ۱۹:حضرت سیدی ابوحفص عمر حداد رضی اﷲ تعالی عنہ کہ اکابر ائمہ عرفاء و معاصرین
حوالہ / References الرسالۃ القشیریۃ ذکر حارث محاسبی مصطفی البابی مصر ص۱۳
الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابوعثمن سعید بن اسمعیل الحیری مصطفی البابی مصر ص۲۱
الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابوعثمن سعید بن اسمعیل الحیری مصطفی البابی مصر ص۲۱
الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابوالحسین احمد بن الحواری مصطفی البابی مصر ص۱۸
#6442 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہیں فرماتے ہیں:
من لم یزن افعالہ واحوالہ فی کل وقت بالکتاب و السنۃ ولم یتھم خواطرہ فلا تعدہ فی دیوان الرجال ۔ جو ہر وقت اپنے تمام کام احوال کو قرآن وحدیث کی میزان میں نہ تولے او راپنے وارادات قلب پر اعتماد کرلے اسے مردوں کے دفترمیں نہ گن۔
ع راوی کم ززن لاف مردی مزن
قول ۲۰:حضرت سیدنا ابوالحسین احمد نوری رضی اﷲ تعالی عنہ کہ حضرت سری سقطی رضی اﷲ تعالی عنہ کے اصحاب اور حضرت سید الطائفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے اقران سے ہیں فرماتے ہیں:
من رأیتہ یدعی مع اﷲ حالۃ تخرجہ عن حد العلم الشرعی فلا تقربن منہ ۔ تو جسے دیکھے کہ اﷲ عزوجل کے ساتھ ایسے حال کا ادعا کرتاہے جو اسے علم شریعت کی حد سے باہر کرے اس کے پاس نہ پھٹک۔
قول ۲۱:حضرت سیدی ابوالعباس احمد بن محمد الآدمی رضی اﷲ تعالی عنہ کو سید الطائفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے اقران سے ہیں فرماتے ہیں:
من الزم نفسہ آداب الشریعۃ نور اﷲ تعالی قلبہ بنورالمعرفۃ ولامقام اشرف من مقام متابعۃ الحبیب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی اوامرہ و افعالہ واخلاقہ جو اپنے اوپرآداب شریعت لازم کرے اﷲ تعالی اس کے دل کو نور معرفت سے روشن کردے گا اور کوئی مقام اس سے بڑھ کر معظم نہیں کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے احکامافعال عادات سب میں حضور کی پیروی کی جائے۔
قول ۲۲:حضرت سیدنا ممشاد دینوری رضی اﷲ تعالی عنہ مرجع سلسلہ چشتیہ بہشتیہ
حوالہ / References الرسالہ القشیریۃ ذکر ابوحفص عمر الحداد مصطفی البابی مصر ص۱۸
الرسالہ القشیریۃ ذکر ابوالحسین احمد نوری مصطفی البابی مصر ص۲۱
الرسالہ القشیریۃ ذکر ابوالعباس احمد بن محمد الآدمی مصطفی البابی مصر ص۲۵
#6443 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
فرماتے ہیں:
ادب المرید حفظ آداب الشرع علی نفسہ ۔ مرید کا ادب یہ ہے کہ آداب شرع کی اپنے نفس پر محافظت کرے۔
قول ۲۳:حضرت سیدنا سری سقطی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
التصوف اسم لثلاث معان وھوالذی لایطفی نور معرفتہ نور ورعہ ولایتکلم بباطن فی علم ینقضہ ظاھر الکتب او السنۃ ولاتحملہ الکرامات علی ھتك استار محارم اﷲ تعالی ۔ تصوف تین وصفوں کانام ہیںایك یہ کہ اس کا نور معرفت اس کے نور ور ع کو نہ بجھائے دوسرے یہ کہ باطن سے کسی ایسے علم میں بات نہ کرے کہ ظاہرقرآن یا ظاہر سنت کے خلاف ہوتیسرے یہ کہ امتیں اسے ان چیزوں کی پردہ دری پر نہ لائیں جو اﷲ تعالی نے حرام فرمائیں۔
قول ۲۴:حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سید ابوسلیمان دارانی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
ربما یقع فی قلبی النکتۃ من نکت القوم ایاما فلا اقبل منہ الا بشاھدین عدلین الکتاب والسنۃ ۔ بار ہا میرے دل میں تصوف کا کوئی نکتہ مدتوں آتا ہے جب تك قرآن وحدیث دو گواہ عادل اس کی تصدیق نہیں کرتے میں قبول نہیں کرتا۔
دوسری روایت میں ہےفرمایا:
ربما ینکث الحقیقۃ فی قلبی اربعین یوما فلا آذن لھا ان تدخل فی قلبی الابشاھدین من الکتاب والسنۃ ۔ بارہا کوئی نکتہ حقیقت میرے دل میں چالیس چالیس دن کھٹکتا رہتا ہےجب تك کتاب وسنت کے دو گواہ اس کے ساتھ نہ ہوں میں اپنے دل میں داخل ہونے کا اسے اذن نہیں دیتا۔
حوالہ / References الرسالۃ القشیریۃ ذکر ممشاد الدینوری مصطفی البابی مصر ص۲۷
الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابولحسن عن سری بن المغلس السقطی مصطفی البابی مصر ص۱۱
الرسالۃ القشیریۃ ذکر ابوسلیمان عبدالرحمن بن عطیہ الدارانی مصطفی البابی مصر ص۱۵
نفحات الانس ذکر ابوسلیمان عبدالرحمن بن عطیہ الدارانی انتشارات کتاب فروشی محمودی تہران ایران ص۴۰
#6444 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
قول ۲۵:حضرت عالی منزلت امام طریقت سید نا ابوعلی رود باری بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ کہ اجلہ خلفائے حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اﷲ تعالی عنہ سے ہیں حضرت عارف باﷲ سیدنا استاذ ابوالقاسم قشیری رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا: مشائخ میں ان کے برابر علم طریقت کسی کو نہ تھا۔اس جناب گردوں قباب سے سوال ہواکہ ایك شخص مزامیر سنتاہے اور کہتا ہے یہ میرے لئے حلال ہے اس لئے کہ میں ایسے درجے تك پہنچ گیا ہوں کہ احوال کے اختلاف کا مجھ پر کچھ اثر نہیں ہوتا فرمایا:
نعم قد وصل ولکن الی سقر ہاں پہنچا تو ضرور ہے مگر جہنم تکوالعیاذ باﷲ تعالی۔
قول ۲۶:حضرت سیدی ابوعبداﷲ محمد بن خفیف ضبی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
التصوف تصفیہ القلوب وذکر اوصاف الی ان قال واتباع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الشریعۃ ۔ تصوف اس کا نام ہے کہ دل صاف کیا جائے اور شریعت میں نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی پیروی ہو۔
قول ۲۷:امام اجل عارف باﷲ ابوبکر محمدابراہیم بخاری کلابازی قد س سرہ نے کتاب التعرف لمذہب التصوف جس کی شان میں اولیاء نے فرمایا لو لا التعرف لما عرف التصوف(کتاب تعرف نہ ہوتی تو تصوف نہ پہچانا جانا)تصوف کی ایسی ہی تعریف حضرت سید الطائفہ جنید رضی اﷲ تعالی عنہ سے نقل فرمائی کہ تصوف ان ان اوصاف کا نام ہے۔ان میں ختم اس پر فرمایا کہ:
واتباع الرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الشریعۃ ۔ شریعت میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا اتباع۔
قول ۲۸:حضرت سیدی ابوالقاسم نصرآبادی رضی اﷲ تعالی عنہ کو حضرت سید ناابوبکر شبلی وحضرت سیدنا ابوعلی رودباری رضی اﷲ تعالی عنہما کے اجلہ اصحاب سے ہیں فرماتے ہیں:
التصوف ملازمۃ الکتاب تصوف کی جڑیہ ہے کہ کتاب وسنت کو لازم
حوالہ / References الرسالۃ القشیریۃ ابوعلی احمد بن محمد رودباری مصطفی البابی مصر ص۲۸
الطبقات الکبرٰی للشعرانی ذکر ابی عبداﷲ بن محمد الضبی مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۲۱
التعرف لمذہب التصوف
#6445 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
والسنۃ الخ۔ پکڑے رہے۔
قول ۲۹:حضرت سیدی جعفر بن محمد خواص رضی اﷲ تعالی عنہ مریدو خلیفہ حضرت سیدا لطائفہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لااعرف شیئا افضل من العلم باﷲ و باحکام فان الاعمال لاتزکوا الابالعلم ومن لا علم عندہ فلیس لہ عمل وبالعلم عرف اﷲ واطیع ولایکرہ العلم الا منقوص ۔ میں کوئی چیز معرفت الہی وعلم احکام الہی سے بہتر نہیں جانتا۔ اعمال بے علم کے پاك نہیں ہوتےبے علم کے سب عمل برباد ہیںعلم ہی سے اﷲ کی معرفت ومعرفت اطاعت ہوئی علم کو وہ ہی ناپسند رکھے گا جو کم بخت ہو۔
قول ۳۰:حضرت سید داود کبیر بن ماخلا رضی اﷲ تعالی عنہ کہ ولی اﷲ وعالم جلیل حضرت سید محمد وفا شاذلی رضی اﷲ تعالی عنہ کے پیرو مرشد ہیں فرماتے ہیں:
قلوب علماء الظاھر وسائط بین عالم الصفاء ومظاہر الاکدار رحمۃ بالعامۃ الذین لم یصلوا الی ادراك المعانی الغیبۃ والادراکات الحقیقۃ ۔ علماء ظاہر کے دل عالم صفاء و مظہر تکدر کے اندر واسطہ ہیں ان عام خلائق پر رحمت کے لئے کہ معانی غیب وعلوم حقیقت تك جن کی رسائی نہ ہو۔
یہ صراحۃ وراثت نبوت کی شان ہے کہ انبیاء علیم الصلوۃ والسلام اس لیے بھیجے جاتے ہیں کہ خالق وخلق میں واسطہ ہوںان خلائق پر رحمت کے لئے کہ بارگار ہ غیب وحقیقت تك جن کی رسائی نہیں۔
قول ۳۱:حضرت سیدنا شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی رضی اﷲ تعالی عنہ سردار سلسلہ علیہ سہروردیہ اپنی کتاب مستطاب میں فرماتے ہیں:
قوم من المفتونین لبسوا لبسۃ الصوفیۃ لینتسبوا بہا الی الصوفیۃ وما ھم من الصوفیۃ بشیئ بل ھم فی غرور یعنی کچھ فتنہ کے مارے ہوؤں نے صوفیوں کا لباس پہن لیا ہے کہ صوفی کہلائیں حالانکہ ان کو صوفیہ سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ وہ ضرور غلط میں ہیں بکتے
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی للشعرانی ذکر ابی القاسم ابراہیم بن محمد النصرآبادی مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۲۳
الطبقات الکبرٰی للشعرانی ذکر سید جعفر بن محمد الخواص مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۹۔۱۱۸
الطبقات الکبرٰی للشعرانی ترجمہ۲۸۹ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۹۰
#6446 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
غلط یزعمون ان ضمائرھم خلصت الی اﷲ تعالی و یقولون ھذا ھو الظفر بالمراد و الارتسام بمراسم الشریعۃ رتبۃ العوام وھذا ھو عین الالحاد الزندقۃ و الابعاد فکل حقیقۃ ردتہا الشریعۃ فھی زندقۃ ۔ کہ ان کے دل خالص خدا کی طرف ہوگئے اور یہی مراد کو پہنچ جانا ہے اور رسوم شریعت کی پابند ی عوام کا مرتبہ ہے ان کا یہ خالص الحاد وزندقہ اﷲ کی بارگاہ سے دور کیا جانا ہے اس لئے کہ جس حقیقت کو شریعت رد فرمائے وہ حقیقت نہیں بے دینی ہے۔
پھرجنید رضی اﷲ تعالی عنہ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ جو چوری اور زنا کرے وہ ان لوگوں سے بہتر ہے ۔
قول ۳۲:نیز حضرت الشیوخ سہروردی رضی اﷲ تعالی عنہ کتاب مستطاب اعلام الہدی و عقیدہ ارباب التقی میں عقیدہ کرامات اولیاء بیان کرکے فرماتے ہیں:
ومن ظہرلہ وعلی یدہ من المخترقات وھو علی غیر الالتزام باحکام الشریعۃ نعتقد انہ زندیق وان الذی ظھرلہ مکر واستدراج ۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ جس کے لئے اورا س کے ہاتھ پر خوارق عادات ظاہر ہوں اور وہ احکام شریعت کاپورا پابند نہ ہو وہ شخص زندیق ہے اور وہ خوارق کہ اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوں مکر واستدارج ہیں۔
قول ۳۳:حضرت سیدنا امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی فرماتے ہیں:
فرقۃ ادعت المعرفۃ الوصول و لایعرف(احد ھم) ھذہ الامور الا بالاسامی ویظن ان ذلك اعلی من علم الاولین والاخرین فینظر الی الفقہاء والمفسرین و المحدثین بعین الازرا و یستحقر بذلك جمیع العباد و العلماء ویدعی مختصرا ایك گروہ معرفت ووصول کا دعوی رکھتا ہے حالانکہ معرفت ووصول کانام ہی نام جانتا ہے اور گمان کرتا کہ یہ سب اگلے پچھلوں کے علم سے اعلی ہے تووہ فقہیوں مفسروں محدثوں سب کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور تمام مسلمانوں اور علماء کو حقیر جانتا ہے اپنے
حوالہ / References عوارف المعارف الباب التاسع فی ذکر من الصوفیۃ الخ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ص۷۱ و ۷۲
عوارف المعارف الباب التاسع فی ذکر من الصوفیۃ الخ مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ص۷۱ و ۷۲
نفحات الانس بحوالہ اعلام الہدی از انتشارات کتاب فروش محمودی تہران ایران ص۲۶
#6447 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
لنفسہ انہ الواصل الی الحق وہو عند اﷲ من الفجار و المنافقین (ملخصا) واصل بخدا ہونے کا ادعا کرتا ہے حالانکہ وہ اﷲ کے نزدیك فاجروں او رمنافقوں میں سے ہے اھ
قول ۳۴:حضرت سیدنا شیخ اکبر محی الدین محمد بن العربی رضی اﷲ تعالی عنہ فتوحات مکیہ میں فرماتے ہیں:
ایاك ان ترمی میزان الشرع من یدك فی العلم الرسمی بل بادرالی العمل بکل ماحکم بہ وان فھمت منہ خلاف مایفھمہ الناس مما یجول بینك وبین امضاء ظاھر الحکم بہ فلا تعول علیہ فانہ مکرالھی بصورت علم الھی من حیث لاتشعر ۔ خبردار علم ظاہر میں جو شرع کی میزان ہے اسے ہاتھ سے نہ پھینکنا بلکہ جو کچھ اس کاحکم ہے فورا اس پر عمل کر اور اگر عام علماء کے خلاف تیری سمجھ میں اس سے کوئی ایسی چیز آئے جو ظاہر شرع کا حکم نافذ کرنے سے تجھے روکنا چاہے تو اس پر اعتماد نہ کرنا وہ علم الہی کی صورت میں ایك مکر ہے جس کی تجھے خبر نہیں۔
قول ۳۵:نیز حضرت سید محی الدین ابن عربی رضی اﷲ تعالی عنہ فتوحات میں فرماتے ہیں:
اعلم ان میزان الشرع الموضوعۃ فی الارض ہی مابا یدی العلماء من الشریعۃ فمھما خرج ولی عن میزان الشرع المذکورۃ مع وجود عقل التکلیف وجب الانکار علیہ ۔ یقین جان کر میزان شرع جو اﷲ عزوجل نے زمین میں مقرر فرمائی ہے وہ یہی ہے جو علماء شریعت کے ہاتھ میں ہے تو جب کبھی کوئی ولی اس میزا ن شرع سے باہر نکلے اور اس کی عقل کہ مدار احکام شرعیہ ہے باقی ہو تو اس پر انکار واجب ہے۔
قول ۳۶:نیز حضرت بحرالحقائق ممدوح رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
اعلم ان موازین الاولیاء المکملین لاتخطی الشریعۃ ابدافھم یقین جان کہ اولیاء مرشدین رضی اﷲ تعالی عنہم کی میزانیں کبھی شریعت سے خطا نہیں
حوالہ / References احیاء العلوم کتاب ذم الغرور بیان اصناف المغترین الخ الصنف الثالث المشہد الحسینی قاہرہ ۳/ ۴۰۵
الیواقیت والجواہر الفصل الرابع مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۶
الیواقیت والجواہر الفصل الرابع مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۶
#6448 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
محفوظون من مخالفۃ الشریعۃ الخ۔ کرتیں وہ مخالف شرع سے محفوظ ہیں۔
قول ۳۷:نیز حضرت خاتم الولایۃ المحمدیہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
اعلم ان عین الشریعۃ ھی عین الحقیقۃ اذ الشریعۃ لھا دائرتان علیا وسفلی فالعلیا لاھل الکشف و السفلی لا ھل الفکر فلما فتش اھل الفکر علی ماقال اھل الکشف فلم یجدوہ فی دائرۃ فکرھم قالوا ھذا خارج عن الشریعۃ فاھل الفکر ینکرون علی اھل الکشف واھل الکشف لاینکرون علی اھل الفکرمن کان ذاکشف وفکرفہو حکیم الزمان فکما ان علوم الفکر احد طرفی الشریعۃ فکذالك علوم اہل الکشف فھما متلازمان ولکن لما کان الجامع بین الطرفین عزیز افرق اھل الظاہر بینھما ۔ یقین جان کہ شریعت ہی کا چشمہ حقیقت کا چشمہ ہے اس لئے کہ شریعت کے دو دائرے ہیں ایك اوپر اور ایك نیچے اوپر کا دائرہ اہل کشف کے لئے ہے اور نیچے کا اہل فکر کے لئےاہل فکر جب اہل کشف کے اقوال کو تلاش کرتے اور اپنے دائرہ فکر میں نہیں پاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ قول شریعت سے باہر ہے۔تو اہل فکراہل کشف پر معترض ہوتے ہیں مگر ا ہل کشف اہل فکر پر انکار نہیں رکھتے۔جو کشف وفکر دونوں رکھتا ہے وہ اپنے وقت کا حکیم ہے پس جس طرح علوم فکر شریعت کا ایك حصہ ہیں یونہی علوم اہل کشف بھیتو وہ دونوں ایك دوسرے کو لازم ہیں اور جبکہ دونوں کناروں کا جامع نادر ہے لہذا ظاہر بینوں نے شریعت وحقیقت کو جدا سمجھا۔
سبحان اﷲ ! اہل ظاہر اگر علوم حقیقت کو نہ سمجھیں عذر رکھتے ہیں کہ شریعت کے دائرے زیریں میں ہیںمدعی ولایت جو علم ظاہر سے منکر ہو معلوم ہوا قطعا جھوٹا کذاب فریبی ہے کہ اگر دائرہ بالا تك پہنچتا تو دائرہ زیریں سے جاہل نہ ہوتا۔جڑوا لے اگر شاخ تراشیں اصل درخت قائم رہے۔مگر بلند شاخ تك پہنچنے والے جڑ کاٹیں تو ان کی ہڈی پسلی کی خیرنہیں۔اس عبارت شریفہ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اہل ظاہر اگر شریعت وحقیقت کو جدا سمجھیں ان کی غلطی مگر وہ اپنے علم میں کاذب نہیں اور مدعی تصوف اگر انھیں جدا بتائے توقطعا دروغ باف ولاف زن ہے۔
حوالہ / References الیواقیت والجواہر الفصل الرابع مصطفی البابی مصر ص۲۶ و ۲۷
الیواقیت والجواہر الفصل الرابع مصطفی البابی مصر ص۲۶
#6449 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
قول ۳۸:نیز حضرت لسان القوم رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
لایتعدی کشف الولی فی العلوم الالھیۃ فوق مایعطیہ کتاب نبیہ و وحیہ قال الجنید فی ہذا المقام علمنا ہذا مقید بالکتاب و السنۃ وقال الاخر کل فتح لا یشھد لہ الکتاب والسنۃ فلیس بشیئ فلا یفتح لولی قط الا فی الفہم فی الکتاب العزیز فلہذا قال تعالی ما فرطنا فی الکتاب من شیئ وقال سبحنہ فی الواح موسی وکتبنالہ فی الالواح من کل شیئ الآیۃ فلا تخرج علم الولی جملۃ واحدۃ عن الکتاب والسنۃ فان خرج احد عن ذلك فلیس بعلم ولاعلم ولایۃ معا بل اذا حققتہ وجدتہ جہلا ۔ علوم الہیہ میں ولی کا کشف اس علم سے تجاوز نہیں کرسکتا جو اس کے نبی کی وحی وکتاب عطا فرمار ہی ہے اس مقام میں جنید نے فرمایا ہمارا یہ علم کتاب وسنت کا مقید ہے۔اور ایك عارف نے فرمایاجس کشف کی شہادت کتاب وسنت نہ دیں وہ محض لاشیئ ہے تو ہر گز ولی کے لئے کچھ کشف نہیں ہوتا مگر قرآن عظیم کے فہم میں اﷲ تعالی فرماتاہے ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا اور موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تختیوں کو فرماتا ہے ہم نے اس کے لئے الواح میں ہر چیز سے کچھ بیان لکھ دیا تو سوبات کی ایك بات یہ ہے کہ ولی کا علم کتاب وسنت ہے۔ باہر نہ جائے گا اگر کچھ باہر جائے تو وہ علم ہوگانہ کہ کشف بلکہ تحقیق کرے تو تجھے ثابت ہوجائے گا کہ وہ جہالت تھا۔
قول ۳۹:نیز حضرت عین المکاشفہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
اعلم ایدك اﷲ ان الکرامۃ من الحق من اسمہ البر فلا تکون الاللابرار وھی حسیۃ ومعنویۃفالعامۃ ما تعرف الاالحسیۃ مثل الکلام علی الخاطر والاخبار المغیبات الماضیۃ والکائنۃ والاتیۃ والمشی علی الماء و اختراق الھوا وطی الارض والاحتجاب یقین جان اﷲ تیری مدد کرے کہ کرامت حق سبحانہ کے نام بر یعنی محسن کی بارگاہ سے آتی ہے تو اسے صرف ابرار نیکو کار ہی پاتے ہیں اور وہ دو قسم ہےمحسوس ظاہری ومعقول معنوی عوام صرف کرامت محسوسہ کو جانتے ہیں جیسے کسی کو دل کی بات بتادینا گزشتہ وموجودہ و ائندہ غیبوں کی خبردیناپانی پر چلناہو اپر اڑنا۔صدہا منزل زمین ایك قدم میں طے کرنا آنکھوں سے
حوالہ / References الفتوحات المکیۃ لابن عربی الباب الرابع عشروثلثمائۃ فی معرفۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۵۶
#6450 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
عن الابصار ومعنویۃ لایعرفہا الاالخواص وہی ان تحفظ علیہ اداب الشریعۃ و یوفق لاتیان مکارم الاخلاق واجتباب سفسافہا والمحافظۃ علی اداء الواجبات مطلقا فی اوقاتھا فہذہ کرامات لا یدخل مکر ولا استدراج والکرامات التی ذکرنا ان العامۃ تعرفہا فکلھا یمکن ان یدخلھا المکر الخفی ثم لابد ان تکون نتیجۃ عن استقامۃ اوتنتج استقامۃ والا فلیست بکرامۃ والمعنویۃ لایدخلہا شیئ مما ذکرنا فان العلم یصحبہا وقوۃ العلم وشرفہ تعطیك و ان المکر لایدخلھا فان الحدود الشرعیۃ لاتنصب حبالۃ للمکرالالھی فانہا عین الطریق الواضحۃ الی نیل السعادۃ لان العلم ہو المطلوب وبہ تقع المنفعۃ ولو لم یعمل بہ فانہ لایستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون فالعلماء ھم الامنون من التلبیس اھ اختصار۔ چھپ جاناکہ سامنے موجود ہو اور کسی کو نظر نہ آئیں اور کرامات معنویہ کہ صرف خواص پہچانتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اپنے نفس پر آداب شرعیہ کی حفاظت رکھےعمدہ خصلتیں حاصل کرنے اور بری عادتوں سے بچنے کی توفیق دیا جائے تمام واجبات ٹھیك ادا کرنے پر التزام رکھےان کرامتوں میں مکر واستدراج کو دخل نہیں اور کرامتیں جنھیں عوام پہچانتے ہیں ان سب میں مکرنہاں کی مداخلت ہوسکتی ہے پھریہ بھی ضروری ہے کہ وہ ظاہری کرامتیں استقامت کا نتیجہ ہوں یا خود استقامت پیدا کریں ورنہ کرامت نہ ہوگی اور کرامت معنویہ میں مکر واستدراج کی مداخلت نہیں اس لئے کہ علم ان کے ساتھ ہے علم کا شرف خودہی تجھے بتائے گا کہ ان میں مکر کا دخل نہیں اس لئے کہ شریعت کی حدیں کسی کے لئے مکر کا پھندا قائم نہیں کرتیں اس وجہ سے کہ شریعت سعادت پانے کا عین صاف وروشن راستہ ہے علم ہی مقصود ہے اور اسی نے نفع پہنچانا ہے اگرچہ اس پر عمل نہ ہو کہ مطلقا ارشاد ہوا ہے کہ عالم و بے علم برابر نہیں تو علماء ہی مکرواشتباہ سے امان میں ہیں وبس۔
قول ۴۰:حضرت سیدی ابراہیم دسوقی رضی اﷲ تعالی عنہ کہ اقطاب اربعہ سے ہیں یعنی ان چہار میں جو تمام اقطاب میں اعلی و ممتاز گنے جاتے ہیں اول حضور پر نور سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ دوم سید احمد رفاعیسوم حضرت سید احمد کبیر بدوی چہارم حضرت سید ابراہیم دسوقی رضی اﷲ تعالی عنہم ونفعنا ببرکاتہم فی الدنیا والآخرۃ)فرماتے ہیں:
حوالہ / References الفتوحات المکیۃ للشیخ ابن عربی الباب الرابع والثمانون ومائۃ داراحیا التراث العربی بیروت ۲/ ۳۶۹
#6451 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
الشریعۃ ھی الشجرۃ والحقیقۃ ھی الثمرۃ ۔ شریعت درخت ہے اور حقیقت پھل ہے۔
درخت وثمر کی نسبت بھی وہی بتا رہی ہے کہ درخت قائم ہے تو اصل موجود ہے مگر جو اصل کاٹ بیٹھا وہ نرا محروم ومردود ہے۔ پھر اس کی مثال کی بھی وہی حالت ہے جو ہم منبع وبحر میں بیان کرآئے ہیںدرخت کٹ جائے تو آئندہ پھل کی امید نہ رہی مگر جو پھل آچکے ہیں یہاں درخت کٹتے ہی آئے ہوئے پھل بھی فنا ہوجاتے ہیں اور فنا ہوتے ہی پھر بس نہیں بلکہ انسان کا دشمن ابلیس لعین غلیظ اورگوبر کے پھل جادو سے بنا کر اس کے منہ میں دیتا ہے اوریہ اپنی حالت سے انھیں ثمر حقیقت جان کر خوش خوش نگلتاہے جب آنکھ بند ہوگئی اس وقت کھلے گا کہ منہ میں کیا بھرا تھا والعیاذ باﷲ تعالی ان درختوں میں قریب تر مثال پان اور اس کی بیل کی ہے خوشبوخوشرنگخوش ذائقہمفرحمقوی دل ودماغ مصفی خون مطیب نکہت وجہ سرخروئی باعث زینتاور پھر عجیب خاصہ یہ کہ بیل سوکھے تو اس کے پان جہاں جہاں ہوں معا سوکھ جائیں گے یہ ایك ادنی مثال شریعت و حقیقت یا اس جاہل کے طورپر شریعت وطریقت کی ہے۔
قول ۴۱:عارف باﷲ حضرت سیدی علی خواص رضی اﷲ تعالی عنہ پیر ومرشد امام عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی فرماتے ہیں:
علم الکشف اخبار بالامور علی ماھی علیہ فی نفسہا و ھذا اذا حققتہ وجدتہ لایخالف الشریعۃ فی شیئ بل ھوالشریعۃ بعینھا ۔ یعنی علم کشف یہ ہے کہ اشیاء جس طرح واقع وحقیقت میں ہیں اسی طرح ان سے خبردے اسے اگر توتحقیق کرے تو اصلا کسی بات میں شریعت کے خلاف نہ پائے گا بلکہ وہ عین شریعت ہے۔
قول ۴۲:نیز ولی ممدوح رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
جمیع مصابیح علماء الظاھر والباطن قد اتقدت من نور الشریعۃ فما من قول من اقوال المجتہدین و مقلدیھم الاوہو مؤید باقوال اھل الحقیقۃ علمائے ظاہر ہوں خواہ علمائے باطن سب کے چراغ شریعت ہی کے نور سے روشن ہیںتو ائمہ مجتہدین اور ان کے مقلدین کسی کاکوئی قول ایسا نہیں کہ اہل حقیقت کے اقوال اس کی تائید
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی ترجمہ ابراہیم الدسوقی ۲۸۶ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۶۹
میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل فی بیان استحالہ خروج شیئ لخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۴
#6452 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
لاشك عندنا فی ذلك ۔ نہ کرتے ہوںہمارے نزدیك اس میں کوئی شك نہیں۔
نیز فرمایا:
امداد قلبہ صلی اﷲ تعالی علیہ سلم لجمیع قلوب علماء امتہ فما اتقد مصباح عالم الا عن مشکوۃ نور قلب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ تمام علمائے امت کے دلوں کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم کے قلب اقدس سے مدد پہنچتی ہے تو ہر عالم کا چراغ حضور ہی کے نور باطن کے شمع دان سے روشن ہے۔
قول ۴۳:نیز یہی مفتوح ممدوح رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
علم الکشف الصحیح لایاتی قط الاموافقا للشریعۃ المطہرۃ ۔ سچا علم کشف کبھی نہیں آتا مگر شریعت مطرہ کے موافق۔
قول ۴۴:حضرت سید افضل الدین اجل خلفائے سیدی علی خواص رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں:
کل حقیقۃ شریعۃ وعکسہ ۔ حقیقت عین شریعت ہے اور شریعت عین حقیقت۔
قول ۴۵:امام اجل عارف باﷲ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالی قد اقدرابلیس کما قال الغزالی وغیرہ علی ان یقیم للمکاشف صورۃ المحل الذی یاخذ علمہ منہ من سماء او عرش اوکرسی اوقلم او لوح فربما ظن المکاشف ان ذلك العلم عن اﷲ عزوجل بیشك اﷲ تعالی نے ابلیس کو قدرت دی ہے جیسے امام حجۃ الاسلام غزالی وغیرہ اکابر نے تصریح کی ہے کہ صاحب کشف آسمانعرشکرسیلوحقلم جہاں سے اپنے علوم حاصل کرتا ہے اس مکان کی ساختہ تصویر اس کے سامنے قائم
حوالہ / References المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل فی بیان استحالہ خروج شیئ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۵
المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل فی بیان استحالہ خروج شیئ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۵
المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل فان قال قائل ان احدا لایحتاج الی ذوق الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۲
المیزان الکبرٰی للشعرانی فصل فی بیان استحالۃ الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۵
#6453 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
فاخذ بہ فضل فاضل فمن ھنا اوجبوا علی المکاشف انہ یعرض مااخذہ من العلم من طریق کشفہ علی الکتاب و السنۃ قبل العمل بہ فان وافق فذاك و الاحرام علیہ العمل بہ ۔ کردے(اور حقیقت میں وہ عرش کرسی لوح وقلم نہ ہوں شیطان کا دھوکا ہوں اب شیطان اس دھوکے کی ٹٹی سے اپنا علم شیطانی القاء کرے)اوریہ صاحب کشف اسے اﷲ عزوجل کی طرف سے گمان کرکے عمل کربیٹھے خود بھی گمراہ ہوا اور وں کو بھی گمراہ کرے اس لئے ائمہ اولیائے کشف والے پر واجب کیا ہے کہ جو علم بذریعہ کشف حاصل ہوا اس پر عمل کرنے سے پہلے اسے کتاب وسنت پر عرض کرے اگر موافق ہو تو بہتر ورنہ اس پر عمل حرام ہے۔
نابیناؤ! تم نے شریعت کی حاجت دیکھی شریعت کا دامن نہ تھا مو توشیطان کچے دھاگے کی لگام دے کر تمھیں گھمائے پھرےجب تو حدیث نے فرمایا: "عابد بے فقہ چکی کا گدھا"
قول ۴۶:نیز امام ممدوح قدس سرہ فرماتے ہیں:
لاتلحق نہایۃ الولایۃ بدایۃ النبوۃ ابدا ولو ان ولیا تقدم الی العین التی یاخذ منھا الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام لاحترق وغایۃ امرالاولیاء انھم یتعبدون بشریعۃ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قبل الفتح علیہم وبعدہ ومتی ماخرجوا عن شریعۃ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھلکوا وانقطع عنہم الامداد فلا یمکنھم ان یستقلوا بالاخذ عن اﷲ تعالی کبھی ولایت کی نہایت نبوت کی ابتداء تك نہیں پہنچ سکتی اور اگر کوئی ولی اس چشمہ تك بڑھے جس سے انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام فیض لیتے ہیں۔تو وہ ولی جل جائےاولیاء کی نہایت کاریہ ہے کہ شریعت محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر عبادت بجالاتے ہیں خواہ کشف حاصل ہواہویا نہیں اور جب کبھی شریعت محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے نکلیں گے ہلاك ہو جائیں گے اور ان کی مدد قطع ہوجائے گی تو انھیں کبھی ممکن نہیں کہ اﷲ عزوجل سے خود بالا ستقلال لے سکیں اور
حوالہ / References المیزان الکبرٰی فصل فان قائل ان احدالایحتاج الخ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۲
حلیۃ الاولیا ء لابی نعیم ترجمہ ۳۱۸ خالد بن معدان دارالکتاب العربی بیروت ۵/ ۲۱۹
#6454 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
ابدا وقد تقدم ان جمیع الانبیاء والاولیاء مستمدون من محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ ہم اوپر بیان کرآئے کہ تمام انبیاء واولیاء علیہم الصلوۃ والثناء محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مددلیتے ہیں۔
قول ۴۷:نیز ولی موصوف قدس سرہ فرماتے ہیں:
التصوف انما ھو زبدۃ عمل العبد باحکام الشریعۃ ۔ تصوف کیا ہے بس احکام شریعت پر بندہ کے عمل کا خلاصہ ہے۔
قول ۴۸:پھرفرمایا:
علم التصوف تفرع من عین الشریعۃ ۔ علم تصوف چشمہ شریعت سے نکلی ہوئی جھیل ہے۔
قول ۴۹:پھر فرمایا:
من دقق النظر علم انہ لایخرج شیئ من علوم اھل اﷲ تعالی عن الشریعۃ وکیف تخرج علومھم عن الشریعۃ و الشریعۃ ھی وصلتھم الی اﷲ عزوجل فی کل لحظۃ ۔ جو نظر غور کرے جان لے گا کہ علوم اولیاء سے کوئی چیز شریعت سے باہر نہیں اور کیونکر ان کے علم شریعت سے باہر ہوں حالانکہ ہر ہر لحظہ شریعت ہی ان کے وصول بخدا کا ذریعہ ہے۔
قول ۵۰:پھر فرمایا:
قد اجمع القوم علی انہ لایصلح للتصدر فی طرق اﷲ عزوجل الامن تبحر فی علم الشریعۃ وعلم منطوقھا ومفہومہا وخاصھا وعامھا وناسخھا ومنسوخھا و تبحر فی لغۃ العرب حتی عرف مجاز اتھا تمام اولیائے کرام کا اجماع ہے کہ طریقت میں صدر بننے کا لائق نہیں مگر وہ جو علم شریعت کا دریا ہو ا س کے منطوق مفہوم خاص عام ناسخ منسوخ سے آگاہ ہو زبان عرب کا کمال ماہر ہو یہاں تك کہ اس کے مجاز اور استعارے وغیرہ
حوالہ / References الیواقیت الجواہر المبحث الثانی والاربعون مصطفی البابی مصر ۲/ ۷۱
الطبقات الکبرٰی للشعرانی مقدمۃ الکتاب مصطفی البابی مصر ۱/ ۴
الطبقات الکبرٰی للشعرانی مقدمۃ الکتاب مصطفی البابی مصر ۱/ ۴
الطبقات الکبرٰی للشعرانی مقدمۃ الکتاب مصطفی البابی مصر ۱/ ۴
#6455 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
واستعاراتھا وغیر ذلك فکل صوفی فقیہ ولاعکس ۔ جانتاہو تو ہر صوفی فقیہ ہوتاہے اور ہر فقیہ صوفی نہیں۔
قول ۵۱:نیز عارف معروف قدس سرہ فرماتے ہیں:
الکشف الصحیح لا یاتی دائما الا موافقا للشریعۃ کماھو مقرر بین العلماء ۔ سچا کشف ہمیشہ شریعت کے مطابق ہی آتا ہے جیسا کہ اس فن کے علماء میں مقرر ہوچکا ہے۔
قول ۵۲:حضرت عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی فرماتےہیں:
ماید عیہ بعض المتصوفۃ فی زماننا انکم معشر اھل العلم الظاھر تاخذون احکامکم من الکتاب والسنۃ و انا ناخذ من صاحبہ ہذا کفر لامحالۃ بالاجماع من وجوہ الاول التصریح بعدم الدخول تحت احکام الکتاب والسنۃ مع وجود شروط التکلیف من العقل و البلوغ ۔ وہ جو ہمارے زمانے کے بعض صوفی بننے والے ادعا کرتے ہیں کہ اے علم ظاہر والو ! تم اپنے احکام کتا ب وسنت سے لیتے ہو اور ہم خود صاحب قرآن سے لیتے ہیں یہ بالاجماع قطعا بوجوہ کثیرہ کفر ہے ازانجملہ یہ عقل وبلوغ شرائط تکلیف ہوتے ہوئے کہہ دیا کہ ہم زیراحکام شریعت نہیں۔
یہیں فرمایا:
ان اراد بترك العلم الظاہر عدم تعلم ذلك وعدم الاعتناء بہ لان العلم الظاہر لاحاجۃ الیہ فقد سفہ الخطاب الالھی وسفہ الانبیاء ونسب العبث و البطلان الی ارسال الرسل وانزال الکتب فلا شك فی کفرہ اشد الکفر (ملتقطا) اگر علم ظاہر چھوڑ نے سے اس کا نہ سیکھنا اور اس کا اہتمام نہ کرنا مرادلے اس خیال سے کہ علم ظاہر کی طرف حاجت نہیں تو اس نے کلام الہی کو احمق بتایا اور انبیاء کو بیوقوف ٹھہرایا رسولوں کے بھیجنے کتابوں کے اتارنے کو عبث وباطل کی طرف نسبت کیا تو کچھ شك نہیں کہ وہ کافر ہے اور اس کا کفر سب سے سخت تر کفر۔
حوالہ / References الطبقات الکبرٰی للشعرانی مقدمۃ الکتاب مصطفی البابی مصر ۱/ ۴
المیزان الکبرٰی فصل فان قال قائل ان احدالا یحتاج الٰی ذوق مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۲
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الباب الاول الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۵۸ تا ۱۵۵
الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الباب الاول الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۱۵۹
#6456 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
قول ۵۳:نیز عارف ممدوح قدس سرہ تعظیم شریعت مطہرہ کے بارے میں حضرات عالیہ سید الطائفہ وسری سقطی وابویزید بسطامی وابوسلیمان دارانی وذوالنون مصری وبشر حافی وابوسعید خراز وغیرہم رضی اﷲ تعالی عنہ کے اقوال کریمہ ذکر کرکے فرماتے ہیں:
انظر ایھا العاقل الطالب للحق ان ھؤلاء عظماء مشائخ الطریقۃ وکبراء ارباب الحقیقۃ کلھم یعظمون الشریعۃ المحمدیۃ و کیف وہم ماوصلو الا بذلك التعظیم و السلوك علی ہذا المسلك المستقیم ولم ینقل عن احد منہم ولا عن غیرھم من السادۃ الصوفیۃ الکاملین انہ احتقر شیئا من احکام الشریعۃ المطھرۃ ولا امتنع من قبولہ بل کلھم مسلمون لہ و یبنون علومھم الباطنۃ علی السیرۃ الاحمدیۃ فلا یغرنك طامات الجھال المتنسکین الفاسدین المفسدین الضالین المفضلین الزائغین عن الشرع القویم الی صراط الجحیم خارجین عن مناھج علماء الشریعۃ المحمدیۃ مارقین من مسالك مشائخ الطریقۃ لاعراضھم عن التادب بآداب الشریعۃ وترکھم الدخول فی حصونہا المنیعۃ فہم کافرون بانکارہا مدعون الاستنارۃ بانوارھا ومشائخ الطریقۃ قائمون بالاداب الشریعۃ معتقدون تعظیم احکام اﷲ تعالی ولہذا یعنی اے عاقل! اے حق کے طالب ! دیکھ کہ یہ عظمائے مشائخ طریقت یہ کبرائے ارباب حقیقت سب کے سب شریعت مطہرہ کی تعظیم کررہے اورکیوں نہ کریں کہ وہ واصل نہ ہوئے مگر اسی تعظیم اقدس سیدھی راہ شریعت پر چلنے کے سبب یا ان سے یا ان کے سواا ور سرداران اولیائے کاملین کسی ایك سے بھی منقول نہیں کہ اس نے شریعت مطہرہ کے کسی حکم کی تحقیر کی یا اس کے قبول سے باز رہا ہو بلکہ وہ سب اس کے حضور گردن رکھے ہوئے ہیں اور اپنے باطنی علوم کی سیرت محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر بنا کرتے ہیں تو تجھے زنہار دھوکا میں نہ ڈالیں حد سے گزری ہوئی باتیں ان جاہلوں کی کہ سالك بنتے ہیں خودبگڑے اوروں کو بگاڑتے ہیں آپ گمراہ اوروں کو گمراہ کرتے ہیں شرع مستقیم سے کج ہوکر جہنم کی راہ چلتے ہیں علمائے شریعت کی راہ سے باہر مشائخ طریقت کے مسلك سے خارج اس لئے کہ آداب شریعت اختیار کرنے سے روگردانی کئے اور اس کے مستحکم قلعوں میں پناہ لینے کو چھوڑے بیٹھے ہیں تو وہ انکار شریعت کے سبب کافر ہیں او ر دعوے یہ کہ اس کے انوار سے روشن ہیں مشائخ طریقت تو آداب شریعت پرقائم ہیں احکام الہی کی تعظیم کے معتقد ہیں اسی لئے
#6457 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
اتحفھم اﷲ تعالی بالکمالات القدسیۃ وہولاء المغرورون بالفشار اللابسون حلۃ العار الذین ہم مسلمون فی الظاہر واذا حققتھم فھم کفار لم یزالوا معتکفین علی اصنام الاوھام مفتونین بمایلقی لھم الشیطان من الوساوس فی الافہام فالویل لھم ولمن تبعھم او حسن امرھم فھم قطاع طریق اﷲ تعالی اھ ملتقطا۔ اﷲ تعالی نے انھیں کمالات اقدس کا تحفہ دیا اور یہ اپنی خرافات پر مغروریہ عار لباس پہنے ہوئے کہ ظاہر میں مسلمان اور حقیقت میں کافر ہیں یہ ہمیشہ اپنے اوہام کے بتوں کے آگے آسن مارے بیٹھے ہیں۔شیطان جو وسوسے ان کے افکار میں ڈالتا ہے انھیں پر مفتون ہوئے ہیں تو خرابی پوری خرابی ان کے لئے اور اس کے لئے اور ان کے لئے جو ان کا پیرو ہویا ان کے کام کو اچھا جانے اس لئے کہ وہ راہ خدا کے راہزن ہیں اھ ملتقطا
قول ۵۴:حضرت قطب ربانی محبوب یزدانی مخدوم اشرف جہانگیر چشتی سمنانی رضی اﷲ تعالی عنہ سردار سلسلہ چشتیہ اشرفیہ فرماتے ہیں:
خارق عادت اگر ازولی موصوف باوصاف ولایت ظاہربود کرامت گویند واگر از مخالف شریعت صادر شود استدراج حفظنا اﷲ وایاکم ۔ اگر اوصاف ولایت والے ولی سے خارق عادت ظاہر ہو تو وہ کرامت ہے اور اگر مخالف شریعت سے صادر ہو تو استدارج ہے۔اﷲ تعالی ہمیں اور آپ کو محفوظ فرمائے۔(ت)
قول ۵۵:حضرت سیدی ابوالمکارم رکن الدین خلیفہ حضرت سیدی نور الدین عبدالرحمن اسفرائنی خلیفہ وقت حضرت سیدی جمال الدین احمد جوزقانی خلیفہ سیدی رضی الدین لالا خلیفہ حضرت سیدی نجم الدین کبری سردار سلسلہ کبرویہ رضی اﷲ تعالی عنہم اپنے شیخ ومرشد رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت فرماتے ہیں:
ولی تاشریعت رابکمال نگیرد قدم درولایت نتواں نہاد بلکہ اگر انکار کند کافر گردد ۔ ولی جب تك شرعیت کو مکمل طو ر پر نہ اپنائے ولایت میں قدم نہیں رکھ سکتا بلکہ اگر اس کا انکار کرے تو کافر ہے۔(ت)
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقہ المحمدیہ الباب الاول الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱/ ۱۸۷ تا ۱۸۹
لطائف اشرفی لطیفہ پنجم مکتبہ سمنانی کراچی ۱/ ۱۲۶
نفحات الانس ذکر ابی المکارم رکن الدین احمد بن محمد از انتشارات کتابفروشی تہران ایران ص۴۴۳
#6458 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
قول ۵۶:حضرت سیدی شیخ الاسلام احمد نامقی جامی رضی اﷲ تعالی عنہ نے حضرت سیدی خواجہ مودود چشتی رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمایا:
اول مصلی رابر طاق نہ و برو علم آموز کہ زاہد بے علم مسخرہ شیطان است ۔ پہلے عبادت کا مصلی طاق پر رکھ اور جا کر علم حاصل کرکیونکہ جاہل شیطان کا مسخرہ ہوتاہے۔(ت)
یہ حکایت شریف بہت نفیس ولطیف ہے۔ اس کا خلاصہ عرض کریں کہ اس کلام کریم کا منشاء معلوم ہو اور حضرت خواجہ مودود رضی اﷲ تعالی عنہ سے کہ سرور وسردار سلسلہ عالیہ چشتیہ بہشتیہ ہیں دفع وہم ہو اور آج کل کے بہت مدعیان ناکار کے لئے کہ مسند ولایت کو ترکہ پدری جانتے ہیں۔ باعث ہدایت وعبرت وفہم ہو حضرت ممدوح سلالہ خاندان اولیائے کرام ہین ان کے آباء کرام رضی اﷲ تعالی عنہم اجلہ اکابر محبوبان خدا سرداران شریعت وطریقت واصحاب علم وکرامت تھے اور ان کے بعد حضرت خواجہ مودود چشتی نے مسند آبائی پر جلوس فرمایا۔ ہزاروں آدمی مرید ہوگئے مگر صاحبزادہ والاقدر ابھی عالم نہ ہوئے تھے نہ راہ طریقت کسی مرشد کامل کی تعلیم سے چلے تھے عنایت ازلی ہی ان کے حال شریف پر متوجہ تھی حضرت شیخ الاسلام قطب الکرام سیدی احمد نامقی جامی رضی اﷲ تعالی عنہ کو ان کی تعلیم وتفہیم کے لئے ہرات بھیجا یہاں خواص وعام اس جناب کی کرامات عالیہ دیکھ کر مرید ومعتقد ہوئے اور تمام اطراف میں ان کا شہرہ ہوا صاحبزادہ خواجگان رضی اﷲ تعالی عنہم کو ناگوار ہوا قصد فرمایا کہ حضرت والا کو اس ملك سے باہر کریں لشکر مریدان لے کر جنبش فرمائی اصحاب حضرت شیخ الاسلام کو اس کی اطلاع ہوئی انھوں نے براہ ادب اسے شیخ الاسلام سے چھپایا مگر حضرت خود ہی خوب جانتے تھے ایك دن جب صبح کا ناشتہ حاضر کیا گیا تو ارشاد فرمایا:ایك ساعت صبر کرو کہ کچھ قاصد آتے ہیں تھوڑی دیر بعد قاصدان صاحبزادہ حاضر ہوئے حضرت والا نے انھیں کھانا کھلایا پھر فرمایا:تم کہو گے یامیں بتاؤں کہ کس لئے آئے ہو عرض کی:حضرت فرمائیں۔ فرمایا:خواجہ مودود نے تمھیں بھیجا ہے کہ احمد سے کہو وہ ہماری ولایت میں کیوں آیاسیدھی طرح واپس جاتا ہے تو جائے ورنہ جس طرح چاہے نکالا جائے گا قاصدوں نے تصدیق کی کہ ہاں حضرت خواجہ نے یہی پیام دے کر ہمیں بھیجا ہے حضرت والا نے فرمایا:
حوالہ / References نفحات الانس ذکر خواجہ قطب الدین مودود چشتی انتشارات کتابفروشی تہران ایران ص۳۲۹
#6459 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
کہ ولایت سے یہ دیہات مراد ہیں تو یہ اوروں کی ملك ہیں نہ کہ خواجہ مودو دکی اورا گر ولایت سے یہ لوگ مراد ہیں تو یہ بادشاہ سنجر کی رعیت ہیں تو یوں بادشاہ شیخ الشیوخ ٹھہرے گا اور اگر ولایت سے وہ مراد ہے جو میں جانتاہوں اور جسے اولیاء اﷲ جانتے ہیں تو کل ہم انھیں دکھادیں گے کہ ولایت کا کام کیا اور کیسا ہوتا ہے قاصدوں کو یہ جواب عطا فرمایا اور ادھر ابرعظیم آیا اور ایك رات دن ابر برسادم بھر کو نہ دم لیا۔ دوسرے دن صبح کو حضرت والا نے فرمایا:گھوڑے کسو کہ خواجہ مودود کی طرف چلیں اصحاب نے عرض کی ندی چڑھ گئی اب جب تك چند روز بارش موقوف نہ ہو کوئی ملاح کشتی بھی نہیں لے جاسکتا۔ فرمایا:کچھ مشکل نہیں آج ہم ملاحی کریں گے جب سوار ہو کر جنگل میں پہنچے ملاحظہ فرمایا کہ ایك انبوہ مسلح حضرت کے ہمراہ ہے۔ فرمایا:یہ کون لوگ ہیں ۔ عرض کی:حضور کے مرید ومحب ہیں یہ سن کر کہ ایك جماعت حضور کے مقابلے کو آئی ہے یہ حضور کے ہمراہ ہولئے فرمایا:انھیں واپس کرو تیر وتلوار تو سنجر کا کام ہے اولیاء کے ہتھیار اور ہی ہیں غرض چند خدام کے ساتھ ندی کنارے پہنچے پانی طغیانی پر تھا فرمایا:آج یہ ٹھہری ہے کہ ہم ملاحی کریں گے معرفت الہی میں کلام فرمانا شروع کیا تمام حاضرین ذوق سے بیخود ہوگئے فرمایا:آنکھیں بند کرلو اور بسم اﷲ الرحمن الرحیم کہہ کر چلو لوگوں نے ایسا ہی کیا جس نے آنکھ جلدی کھول دی اس کا جوتا تر ہوا اور جس نے ذرادیر کر کھولی اس کا جوتا بھی خشك رہا اور سب نے اپنے آپ کو دریا کے اس پار پایا قاصدوں نے جو یہ ماجرا دیکھا جلدی کرکے حضرت صاحبزادہ خواجگان کے حضور حاضر ہوئے اور حال عرض کیا کسی کو یقین نہ آیا صاحبزادہ دوہزار مریدمسلح کے ساتھ متوجہ ہوئے اور جیسے حضر ت شیخ الاسلام سے نظر دو چارہوئی صاحبزادہ بے اختیار پیادہ ہوئے اور حضرت والا کے پائے مبارك پر بوسہ دیا حضرت ان کی پیٹھ ٹھونکتے اور فرماتے تھے ولایت کا کام دیکھا تم نہیں جانتے مردان خدا کی فوج سلاح سے نہیں جاؤ سوار ہو ابھی بچے ہو تمھیں نہیں معلوم کہ کیا کرتے ہو۔ جب بستی آئے حضرت شیخ الاسلام مع اپنے اصحاب کے ایك محلہ میں اترے اورحضرت صاحبزادہ مع مریدان دوسرے محلہ میں دوسرے دن ان مریدین صاحبزادہ نے کہا ہم آئے تھے شیخ احمد کو اس ملك سے نکالنے اور آج وہ ہمارے ساتھ ایك ہی گاؤں میں مقیم ہیں کوئی فکر عمدہ کرنی چاہئے حضرت خواجہ موود نے فرمایا:میری رائے میں صواب یہ ہے کہ صبح ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے اجازت لیں ان کا کام ہمارے بس کا نہیں۔ مریدوں نے کہا:بلکہ رائے صواب یہ ہے کہ کوئی کام پر جاسوس مقرر کریں جب ان کے قیلولہ یعنی دوپہر کو آرام کا وقت آئے اور لوگ ان کے پاس سے چلے جائیں وہ تنہا رہیں اس وقت ہماری ایك جماعت
#6460 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
اپ کے ساتھ ان کے پاس جائے اور سماع شروع کریں اورحال لائیں اسی حالت میں کوئی حربہ ان پر ماردیں حضرت خواجہ نے فرمایا:ٹھیك نہیں وہ ولی ہیں صاحب کرامات ہیں مگر مریدوں نے نہ مانا جب دوپہر کو حضرت شیخ الاسلام کے آرام کا وقت آیا خادم نے چاہا کہ بچھونا بچھائے فرمایا:ایك ساعت توقف کرو کچھ آرام ہوگا ایك کام درپیش ہے ناگاہ کسی نے دروازہ کھٹکٹھایا خادم نے دروازہ کھولا دیکھا کہ حضرت خواجہ مودود ایك انبوہ کے ساتھ تشریف لا ئے سلام کر کے سماع شرو ع ہوا ساتھ والے نعرے لگانے لگے انھوں نے چاہا تھا کہ اپنا ارادہ فاسدہ پور اکریں کہ حضرت شیخ الاسلام نے سرمبارك اٹھا کر فرمایا ہے سہلا کجائی ہے(اے سہلا! تو کہاں ہے)سہلا نام ایك صاحب شہر سرخس کے ساکن صاحب کرامات وعاقل مجنون نما تھے ہمیشہ حضرت شیخ الاسلام کی خدمت میں رہتے حضرت کے آواز دیتے ہی وہ فورا حاضر ہوئے اورایك نعرہ ان مفسدوں پر لگایا وہ سب کے سب معا جوتیاں پگڑیاں چھوڑ کر بھاگ گئے صرف صاحبزادہ خواجگان باقی رہے۔ نہایت ندامت کے ساتھ کھڑے ہوئے اور سر برہنہ کرکے معافی مانگی اور عرض کی:حضرت کو روشن ہے کہ اس دفعہ یہ میری مرضی نہ تھی فرمایا:تم سچ کہتے ہو مگر تم ان کے ساتھ کیوں آئے عرض کی:میں نے برا کیا حضرت معاف فرمائیں فرمایا:میں نے معاف کیا جاؤ اور ان لوگوں کو واپس لاؤ اور دو خدمت گار مقرر کرواور تین دن ٹھہراؤ حضرت خواجہ مودود نے ایسا ہی کیا بعد ازاں حضرت شیخ الاسلام کے پاس آکر گزارش کی:جوحکم ہو اتھا بجا لایا اب کیا فرمان ہے۔ فرمایا:سجادہ طاق پر رکھواور اول جاکر علم پڑھو کہ زاہد بے علم مسخرہ شیطان ہے خواجہ نے فرمایا:میں نے قبول کیا اور کیا ارشاد ہے۔ فرمایا:جب تحصیل علم سے فارغ ہو اپنا خاندان زندہ کرو تمھارے باپ دادا اولیاء وصاحب کرامت تھے خواجہ مودود نے عرض کی خاندان زندہ کرنے کو ارشاد ہوتا ہے تو پہلے تبرکا حضرت والا مجھے مسند پر بٹھادیں فرمایا:آگے آؤ۔ یہ آگے گئے حضرت نے ہاتھ پکڑ کر اپنی مسند مبارك کے کنارے پربٹھایا اور فرمایا:بشرط علم بشرط علم بشرط علم تین بار فرمایا:حضرت خواجہ تین روز اور حاضر خدمت رہے فائدے لئے نوازشیں پائیں پھر تحصیل علم کے لئے بلخ بخارا تشریف لے گئے چار سال میں ماہر کامل ہوئے ہر شہر میں حضرت سے کرامات ظاہر ہوئیں پھر چشت کو مراجعت فرمائی تربیت مریدان میں مشغول ہوئے اطراف سے طالبان خدا حاضر خدمت ہوئے اور حضرت کی برکت انفاس سے دولت معرفت ورتبہ ولایت کو پہنچے حضرت خواجہ شریف زندنی رضی اﷲ تعالی عنہ کہ نہایت عالی درجہ ولی وعارف وواصل ہیں اسی جناب کے مریدوتربیت یافتہ ہیں رضی اﷲ تعالی عنہ وعنہم اجمعین ۔:
حوالہ / References نفحات الانس ذکر خواجہ قطب الدین مودود چشتی ازانتشارات کتابفروشی محمودی تہران ایران ص۳۲۶ تا ۳۲۹
#6461 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
قول ۵۷:حضرت مولانا نورالدین جامی قدس سرہ السامی فرماتے ہیں:
اگر صد ہزار خارق عادات برایشاں ظاہر شودچوں نہ ظاہر ایشاں موافق احکام شریعت ست و نہ باطن ایشاں موافق آداب طریقت باشد و آں از قبیل مکرواستدراج خواہد بود نہ از مقولہ ولایت وکرامت ۔ اگر لاکھ خارق عادات ظاہر ہوں جب تك ظاہر وباطن شریعت وآداب طریقت کے موافق نہ ہو تو وہ مکر اور استد راج ہوگا ولایت وکرامت کا مصداق نہ ہوگا۔(ت)
بعینہ اسی طرح لطائف اشرفی ص۱۲۹ میں ہے۔ پھر دونوں کتابوں میں حضرت شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی رضی اﷲ تعالی عنہ کی وہ عبارت کریمہ منقول قول ۳۲ ذکر فرمائی فائدہ نفیسہ اسی نفحات الانس شریعت میں حضرت شیخ الاسلام عبداﷲ ہروی انصاری رضی اﷲ تعالی عنہ سے منقول کہ حضرت شیخ احمد چشتی رضی اﷲ تعالی عنہ کی تعریف کرکے فرماتے ہیں:
چشتیاں ہمہ چناں بودند از خلق بیباك ودر باطن پاك ودر معرفت وفراست چالاك ہمہ احوال ایشاں باخلاص وترك ریا بود ہیچ گونہ در شرع سستی روا ند اشتندے۔ تمام چشتی حضرات ایسے ہی تھے کہ مخلوق سے بے خوف باطن میں پاك اور معرفت وفراست میں باکمال ان کے تمام احوال اخلاص اور بے ریائی پر مبنی تھے اور کسی طرح بھی شریعت میں سستی برداشت نہ کرتے۔(ت)
اور نسخہ قدیمہ نفحات شریف میں کہ تین سو برس کا لکھا ہوا ہے یوں ہے:
ہیچگونہ سستی روا ند اشتندے در شرع تابتہاون چہ رسد ۔ کسی طرح بھی شرع میں سستی روا نہ رکھتے تو کوتاہی کہاں ہوتی۔(ت)
ہمارے چشتی بھائی حضرات چشت رضی اﷲ تعالی عنہم کا حال کریم مشاہدہ کریں کہ اصلا
حوالہ / References نفحات الانس القول فی اثبات الکرامۃ للاولیاء ازانتشارات کتابفروشی محمودی تہران ایران ص۲۶
لطائف اشرفی لطیفہ پنجم مکتبہ سمنانی کراچی ۱۰/ ۱۲۹
نفحات الانس ذکر شیخ احمد چشتی ازانتشارات کتاب فروشی محمودی تہران ایران ص۳۴۰
نفحات الانس ذکر شیخ احمد چشتی ازانتشارات کتاب فروشی محمودی تہران ایران ص۳۴۰
#6462 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
شرع میں سستی وکاہلی بھی جائز نہ رکھتے نہ کہ معاذاﷲ احکام شرعیہ کو ہلکا جاننا چشتی ہونے کو بندگی شرع سے پروانہ آزادی ماننا والعیاذباﷲ رب العالمین ۔سردار سلسلہ علیہ بہشتیہ حضرت سلطان الاولیا ء شیخ المشائخ محبوب الہی نظام الحق والدین محمد رضی اﷲ تعالی عنہ کے ارشادات عالیہ سنئے فرماتے:
(۱)چندیں چیز می باید تاسماع مباح شود مستمع و مسمع آلہ سماع مسمع یعنی گویندہ مرد تمام باشد کودك نباشد وعورت نباشد و مستمع آنکہ می شنود ازیاد حق خالی نبا شد ومسموع انچہ بگویند فحش و مسخرگی نباشد وآلہ سماع مزامیر است چوں چنگ درباب ومثل آں می باید درمیان نباشدایں چنیں سماع حلال است ۔ چندچیزیں پائی جائیں تو سماع حلال ہوگا سنانے والے تمام مرد بالغ ہوں بچے اور عورت نہ ہوں سننے والے اﷲ تعالی کی یاد سے خالی نہ ہوں کلام فحش ومذاق سے خالی ہو اور آلات سماع سرنگی اور طبلہ وغیرہ نہ ہو تو ایسا سماع حلال ہوگا(ت)
(۲)ایك بارحضرت محبوب الہی رضی اﷲ تعالی عنہ سے کسی نے عرض کی آجکل بعضے خانقاہ دار درویشوں نے مزامیر کے مجمع میں وجد کیا۔ فرمایا:
نیکونہ کردہ اند انچہ نامشروع ست ناپسندیدہ ست ۔ اچھا نہ کیا جو بات شرع میں ناروا ہے وہ کسی طرح پسندیدہ نہیں۔
(۳)کسی نے عرض کی کہ جب وہ لوگ وہاں سے باہرآئے ان سے کہا گیا کہ تم نے یہ کیا کیا وہاں تو مزامیر تھے تم نے وہاں جا کر کیوں قوالی سنی اور وجد کیا وہ بولے ہم ایسے مستغرق تھے کہ ہمیں مزامیر کی خبرنہ ہوئی حضرت شیخ المشائخ نظام الحق والدین نے فرمایا:
ایں جواب ہم چیزے نیست ایں سخن درہمہ معصیتہا بیاید ۔ یہ جواب بھی محض مہمل ہے سب گناہوں میں یہی حیلہ ہو سکتاہے۔
حوالہ / References سیرالاولیاء باب نہم مرکز تحقیقات فارسی ایران وپاکستان اسلام آباد ص۰۲۔ ۵۰۱
سیرالاولیاء باب نہم مرکز تحقیقات فارسی ایران وپاکستان اسلام آباد ص ۵۳۰
سیرالاولیاء باب نہم مرکز تحقیقات فارسی ایران وپاکستان اسلام آباد ص ۵۳۱
#6463 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
دیکھو کیسا قاطع جواب ارشاد ہوا۔ آدمی شراب پئے اور کہہ دے کمال استغراق کے سبب ہمیں خبر نہ ہوئی کہ شراب ہے یا پانی زنا کرے اور کہہ دے ہمیں تمیز نہ ہوئی کہ جوروہے یا بیگانی۔
(۴)ایك بار کسی نے عرض کی کہ فلاں موضع میں بعض یاروں نے مجمع کیا اور مزامیر وغیرہ حرام چیزیں ہیں حضرت سلطان المشائخ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا:
من منع کردہ ام کہ مزامیر ومحرمات درمیان نباشد نیکونہ کردہ اند ۔ میں نے منع فرمادیا ہے کہ مزامیر ومحرمات درمیان نہ ہوں ان لوگوں نے اچھا نہ کیا۔
(۵)حضور کے خلیفہ شیخ محمد بن مبارك رحمۃ اﷲ تعالی فرماتے ہیں حضرت محبوبیت منزلت نے اس باب میں نہایت شدت اورسخت تاکید سے ممانعت فرمائی یہاں تك کہ فرمایا کہ اگر امام نماز پڑھاتا ہو اور جماعت میں کچھ عورتیں بھی ہوں امام کو سہو واقع ہو مرد تو سبحان اﷲ کہہ کر امام کو مطلع کریں عورت بتانا چاہے تو کیا کرے سبحان اﷲ تو کہے گی نہیں کہ اسے اپنی آواز سنانی نہ چاہئے پھر کیا کرے۔
پشت دست برکف دست زند وکف دست برکف دست نہ زند کہ آں بہ لہو می ماند تا ایں غایت از ملاہی وامثال آں پرہیز آمدہ است پس در سماع طریق اولی کہ ازیں بابت نباشد ۔ ہاتھ کی پشت کو ہتھیلی پر مارے ہتھیلی کو ہتھیلی پر نہ مارے کیونکہ تالی لہو میں شمار ہوتی ہے۔ جب یہاں تك کہ آپ لہو والی چیزوں سے پرہیز فرماتے تو سماع میں بطریق اولی ضروری ہے کہ ایسا نہ ہو۔(ت)
شیخ مبارك فرماتے ہیں:
یعنی در منع دستك چندیں احتیاط آمدہ است پس در سماع مزامیر بطریق اولی منع است ۔ یعنی تالی بجانے میں منع کے لئے یہ احتیاط تھی تو سماع میں مزامیر سے منع بطریق اولی ہے۔(ت)
سبحان اﷲ ! جو بند گان خدا تالی کو ناجائز جانیں بندگان نفس ان کے سرستار اور ڈھولك کی تہمت باندھیں۔
حوالہ / References سیرالاولیاء باب نہم مرکزتحقیقات فارسی ایرام وپاکستان اسلام آباد ص۵۳۲
سیرالاولیاء باب نہم مرکزتحقیقات فارسی ایرام وپاکستان اسلام آباد ص۵۳۲
سیرالاولیاء باب نہم مرکزتحقیقات فارسی ایرام وپاکستان اسلام آباد ص۵۳۲
#6464 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
(۶)حضرت محبوب الہی کے ملفوظات کریمہ فوائد الفواد کہ حضرت کے مرید رشید میر حسن علاسجزی قدس سرہ کے جمع کئے ہوئے ہیں ان میں بھی حضور کا صاف ارشاد مذکور ہے کہ:مزامیرا حرام ست ۔
(۷)حضور کے خلیفہ حضرت مولانا فخر الدین زراوی قد س سرہ نے حضور کے زمانہ میں حضور کے حکم سے دربارہ سماع ایك رسالہ عربیہ مسمی بہ کشف القناع عن اصول السماع تالیف فرمایا اس میں ہے:
اماسماع مشایخنا رضی اﷲ تعالی عنہم فبرئ عن ھذہ التھمۃ وھو مجرد صوت القوال مع الاشعار المشعرۃ من کمال صنعۃ اﷲ تعالی ۔ یعنی ہمارے مشائخ کرام رضی اﷲ تعالی عنہ کا سماع اس مزامیر کے بہتان سے پاك ہے وہ تو صرف قوال کی آواز ہے ان اشعار کے ساتھ جو کمال صنعت الہی کی خبر دیتے ہیں۔
مسلمانوں! یہ سچے یا وہ جو اپنی ہوائے نفس کی حمایت کو ان بندگان خدا پر مزامیر کی تہمت دھرتے ہیں اﷲ تعالی ہمارے بھائی مسلمانوں کو توفیق وہدایت بخشے آمین!
قول ۵۸:حضرت میر سید عبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی کہ اجلہ اولیائے خاندان عالیشان چشت سے ہیں اور صرف ایك واسطہ سے حضرت مخدوم شاہ صفی قدس سرہ الوفی کے مریدہیں جو صرف ایك واسطہ سے حضرت مخدوم شاہ مینا رضی اﷲ تعالی عنہ کے مرید ہیں:حضرت شاہ کلیم اﷲ چشتی جہاں آبادی قد س سرہ فرماتے ہیں۔
شبے درمدینہ منورہ پہلو بربسترخواب گزاشتم درواقعہ دیدم کہ من وسید صبغۃ اﷲ بروجی معا درمجلس اقدس حضرت رسالت پناہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باریاب شدیم جمعے از صحبہ کرام واولیائے عظام حاضراند درینہا شخصے ست کہ آنحضرت میں مدینہ منور ہ میں ایك شب بستر خواب پر لیٹا تھا کہ میں نے عالم واقعہ میں دیکھا کہ میں اور سید صبغۃ اﷲ بروجی دونوں حضرت رسالت پناہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہیں اور صحابہ کرام اور اولیائے عظام کی ایك جماعت بھی موجود ہے انھیں میں ایك صاحب ایسے ہیں
حوالہ / References فوائد الفواد
کشف القناع عن اصول السماع
#6465 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باولب بہ تبسم شیریں کردہ حرفہائے زنند والتفات تمام باومیدارند چوں مجلس آخر شدازسید صبغۃ اﷲ استفسار کردم کہ ایں شخص کیست کہ حضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم با اوالتفات بایں مرتبہ دارند گفت میر عبدالواحد بلگرامی ست وباعث مزید احترام او ایں ست کہ سبع سنابل تصنیف او درجناب رسالتمآب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مقبول افتاد ۔ جن سے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لب شیریں سے تبسم آمیز گفتگو فرمارہے اور ان کی جانب توجہ خاص رکھتے ہیں جب یہ مجلس برخاست ہوئی تو میں نے سید صبغۃ اﷲ صاحب سے دریافت کیا کہ یہ کوں صاحب تھے جن کی جانب حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو اس درجہ التفات ہے۔ انھوں نے فرمایا یہ میر عبدالواحد بلگرامی ہیں اور اس عزت وکرامت کا باعث یہ ہے کہ ان کی تصنیف کردہ کتاب سبع سنابل شریف بارگاہ نبوی میں سے شرف قبول پاچکی ہے۔(ت)
یہی حضرت میر قدس سرہ المنیر اسی کتاب مقبول بارگاہ اقدس سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں:
اے صاحب تحقیق علمائے راہ دین کہ ورثہ انبیاء اندسہ طائفہ ہستند اصحاب حدیث وفقہاء وصوفیہ ۔ اے حق کے طلب کرنے والے وہ علماء جو دین کے راستوں پر چلتے ہیں کہ ورثہ انبیاء ہیں ان کے تین گروہ ہیں اول محدثین دوم فقہاء اور سوم صوفیاء(ت)
دیکھو کیسی صریح تصریح ہے کہ علمائے ظاہر وباطن سب وارثان انبیاء کرام ہیں علیہم الصلوۃ والسلام والثناء۔
قول ۵۹:یہی حضرت میر رضی اﷲ تعالی عنہ اسی سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں:
شریعت محمدی ودین احمدی راہے ست سلیم و جادہ ایست مستقیم خاتم النبین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باچندیں ہزار افواج امت ازا ولیاء و اصفیاء وشہداء وصدیقان بران جادہ رفتہ و آنرا از خار و خاشاك شکوك وشہبات پاك رفتہ اعلام ومنازل آں معین و مبین کردہ از ہر قدمے شریعت محمدی ودین احمدی وہ راہ سلیم وجادہ مستقیم ہے جس پر خاتم الانبیاء علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ اپنی امت کے ہزارہا اولیاء و اصفیاء اور صدیقین وشہداء کے جلو میں گامزن رہے اور اسے ہر قسم کے خس وخاشاك اور شکوك وشبہات سے پاك فرمایا اس کے مقامات ومنازل متعین و
حوالہ / References اصح التواریخ ۱/ ۱۶۸
سبع سنابل سنبلہ اول مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۴
#6466 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
نشانے باز دادہ درہر منزلے نزلے نہادہ ورفع قطاع الطریق را بدرقہ ہمت بہمراہی فرستادہ اگر مہو سے مبتدعے بطریق دیگر دعوت کند باید کہ قول اومسموع ندارند واہل بدعت وضلالت طائفہ باشند کہ خود را درلباس اسلام بہ تلبیس پیدا آرند وعقائد فاسدہ خویش درباطن پوشیدہ دارند ایں جماعت اند اعدائے دین واخوان شیاطین وچوں بنور علم علمائے دین و مشائخ اسلام ظلمات بدعت ایشاں مکشوف میگردد ناچارعلمائے شریعت را دشمن پندارند علمائے ربانی کہ نجوم سپہراسلام اند مردم را از شرایں شیاطین الانس محفوظ میدارند وانفاس نورانی ایشاں بمشابہ شہب ثواقب پیوستہ ایں مسترقاں(یعنی دزداں) شریعت ازہر جانبے میرا نند وبرجم وقذف پر اگندہ میگردانند ۔ روشن فرمادئے قدم قدم پر نشانات ہیں اور منزل منزل بنیات اور رہزنوں سے حفاظت کے لیے جگہ جگہ رہنمائی کرنیوالے مقرر ہیں اور اولیائے کرام و صوفیائے عظام کے مسلك قدیم کے بر خلاف کوئی اور راہ دکھاتاہے کسی اور طریقے کی طرف بلاتاہے تو اس کی بات پر کان نہیں دھر نا چاہئے بلکہ حمایت و نصرت حق کی نیت سے اس کی تردید وتغلیط کو منجملہ فرائض دینیہ سمجھنا چاہئے اہل بدعت وضلالت وہی توہیں جواز راہ فریب دہی لباس اسلام پہن کر (عوام اہل اسلام میں)آتے اور اپنے عقائد فاسدہ کو پوشیدہ رکھتے ہیں یہی لوگ اعدائے دین واخوان شیاطین ہیں اور چونکہ علمائے دین ومشائخ اسلام کے علم کے نور سے انکی گمراہی کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں لامحالہ یہ لوگ علمائے شریعت کو دشمن سمجھنے لگے ہیں علمائے ربانی کہ آسمان اسلام کے روشن ستارے ہیں عوام کو ان شیاطین الانس کے شر سے محفوظ رکھتے ہیں اوراپنے نورانی انفاس سے شہاب ثاقب کی مانند ہمیشہ ان دین کے لٹیروں اور چوروں کو ہر ہر طرف سے ہنکاتے اور ان پر لعنت ورد کے پتھر مار مار کر در دراتے رہتے ہیں۔(ت)
اس جاہل نے کہ علمائے شریعت کو معاذاﷲ شیاطین کہا تھا الحمدﷲ کہ اولیائے کرام کی زبان درفشاں سے اﷲ عزوجل نے ثابت کردیا کہ یہ جاہل اور اس کے ہم مشرب ہی شیاطین ودشمنان دین ہیں اور ہزار در ہزار حمد اس کے وجہ کریم کو یہ کلمات عالیات بارگارہ رسالت میں معروض ہوکر مسجل بمہر قبول ہولئے وﷲ الحمد ۔
قول ۶۰:یہی سید جلیل عارف جمیل رضی اﷲ تعالی عنہ اسی کتاب میں فرماتے ہیں:
چند شرائط می دان کہ بے آن شرائط اصلا پیری مریدی درست نیست یکے آنکہ پیر پیری مریدی چند شرائط پر مبنی ہے جن کے بغیر پیری مریدی صحیح نہیں ان شرائط میں پہلی شرط
حوالہ / References سبع سنابل سنبلہ اول مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۸ تا ۹
#6467 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
مسلك صحیح داشتہ باشد دوم آنکہ پیردرادائے حق شریعت قاصر ومتہاون نباشد سوم آنکہ پیر راعقائد درست بود موافق مذہب سنت و جماعت پیری ومریدی بے ایں سہ شرائط اصلا درست نیست ۔ یہ ہے کہ پیر مسلك صحیح رکھتا ہو دوسری شرط یہ ہے کہ پیر حقوق شرعیہ ادا کرے اور تیسری شرط یہ ہے کہ پیر کے عقائد مذہب اہلسنت و جماعت کے مطابق ہوں یہ وہ شرطیں ہیں جن کے بغیر پیری ومریدی ہر گز صحیح نہیں ہوسکتی(یعنی اتباع احکام شریعت میں سست اور کاہل نہ ہوں)(ت)
پھر شرط اول کی تفصیل ارشاد فرماکر شرط دوم کے متعلق فرمایا:
شرط دوم پیرآنست کہ عالم وعامل باشد برجملہ عبادات بر انواع ودرادائے احکام قاصر ومتہاون نبود واگر برانواع عبادات عالم نبود عامل نتواند شد واز حد شرع بیفتد پس پیری رانشاید زیراکہ ہر کہ از مقام حقیقت بیفتد بر طریقت قرار گیرد و ہر کہ از شریعت بیفتد گمراہ کردد وگمراہ پیر رانشاید امادر ویشے کہ مرجع خلائق بو د او را احتیاط در جزئیات شریعت فرض لازم ست باید کہ یك دقیقہ از دقائق شرع ازوفوت نشود کہ وسیلہ گمراہی مریدان ست بجہت آنکہ گویند کہ پیر ما ایں چنیں کار کردہ است پس اوضال ومضل گردد ۔ پیری کی دوسری شرط کی توضیح یہ ہے کہ پیر کو عامل باعمل ہونا ضروری ہے شریعت کی مقررہ فرمودہ عبادات واحکام میں کوتاہی اور سستی کو دخل نہ دے اب اگر کوئی شخص عبادات و(فرائض وواجبات سنن ومستحباتمحرمات و مکروہات) سے واقف نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ ان پر عمل نہ کرسکے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ حد شریعت سے گر جائے گا اوراب پیر بننے کا اہل نہ رہے گا اس لئے جو شخص مقام حقیت سے گرتاہے وہ طریقت پر رك جاتاہے اور جو طریقت سے گرتاہے شرعیت پر ٹھہر جاتاہے اور جو شخص شریعت سے گرتاہے وہ گمراہی میں پڑ جاتاہے۔ اور گمراہ آدمی پیری کے قابل نہیں پھر جو درویش کہ مرجع خلائق ہو اس پر شریعت کے احکام جزئی کی احتیاط فرض ولازم ہوجاتی ہے لہذا اس پر فرض ہے کہ شریعت کے آداب ومستحبات سے بھی کسی ادب و مستحب سے غافل نہ رہے اور اسے فوت نہ ہونے دے کہ یہ چیز مریدوں کی گمراہی کی سند ہوجاتی ہے۔
حوالہ / References سبع سنابل سنبلہ دوم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۳۹ و ۴۰
سبع سنابل سنبلہ دوم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص ۴۲
#6468 · مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء ۱۳۲۷ھ (علماء اور شریعت کی افضلیت پر اہل معرفت کا کلام)
اور مریدیں اسے حجت بنا کر کہتے ہیں کہ ہمارے پیر صاحب نے تو یہ کیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ گمراہ وگمراہ کن بن جاتے ہیں۔(ت)
پھر تینوں شرطیں بیان کرکے فرمایا:
مرید کہ پیررابایں ہر سہ شرائط موصوف یابد بیعت با اوکند کہ جائز ومستحسن است واگر در پیرا زیں ہر سہ شرائط یکے مفقود بود بیعت با اوجائز نہ باشد واگر کسے از سبب نادانی باو بیعت کردہ باشد باید کہ ازاں بیعت بگردد ۔ غرض یہ کہ مرید جب پیر کو ان تینوں شرطوں کا جامع پائے تو اب اس کے ہاتھ پر بیعت کرے کہ جائز ومستحسن ہے اور اگر پیر میں ان شرائط میں سے کوئی ایك شرط بھی نہ پائی جائے تو اس سے بیعت جائز نہیں بلکہ اگر کسی نے نادانستہ ایسے پیر سے بیعت کرلی تو اس پر اس بیعت کاتوڑدینا واجب ہے۔(ت)
خاتمہ رزقنا ﷲ حسنھا
یہ بظاہر اگر چہ ساٹھ۶۰ قول ہیں مگر حقیقۃ چالیس۴۰ او لیاء کرام کے اسی۸۰ ارشادات عالیہ ہیں کہ صدر کلام میں ۱مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کا ارشاد امر چہارم میں اور ۲امام مالك اور ۳امام شافعی کے اقوال امر ششم میں اور ۴سید الطائفہ کا ارشاد زیر قول ۱۱ ۵سیدی نابلسی کا زیر قول۱۴ ۶ایك ولی کا قول جن سے شیخ اکبر نے استفسا ر کیا بضمن قول ۳۸ ۷علی خواص کا قول زیر قول ۴۲ ۸علامہ نابلسی کا زیر قول ۵۲ ۹حضرت خواجہ مودود کا قول بضمن قول ۵۶ ۱۰شیخ الاسلام ہروی کا ایك قول اورحضرت سلطان الاولیاء محبوب ۱۱ تا ۱۶ الہی کے چھ اور حضرت شیخ ۱۷۱۸محمد بن مبارك مرید شیخ العالم فرید الحق والدین گنج شکر وخلیفہ حضرت سلطان المشائخ رضی اﷲ تعالی عنہ کے دو قول یہ سب زیر قول ۵۷ اور حضرت میر عبدالواحد کے دو قول۱۹ تا ۲۰ زیر قول ۶۰ یہ بیس۲۰ شمار میں آئے۔
___________________
رسالہ
مقال العرفاء باعزاز شرع وعلماء
ختم شد
حوالہ / References سبع سنابل سنبلہ دوم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۴۳
#6469 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
رسالہ
الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ
(وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
مسئلہ ۱۸۷:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص صورت شیخ کو واسطہ وصول فیض جان کر وقت ذکر یا مراقبہ کے اس کا تصور کرتا ہے۔ چنانچہ شاہ ولی اﷲ صاحب قدس سرہ نے اشتغال نقشبندیہ کے بیان میں اپنی کتاب قول الجمیل میں فرمایا ہے:
و اذا غاب الشیخ عنہ یتخیل صورتہ بین عینیہ بوصف المحبۃ والتعظیم فتفید صورتہ ما تفید صحبتہ ۔ جب کسی کا شیخ غائب ہو تو محبت اورتعظیم کے ساتھ اس کی صورت کو اپنی آنکھوں کے سامنے خیال کرے تو اس کی صورت وہی فائدہ دے گی جو اس کی مجلس دیتی ہے۔(ت)
اس طور پر کہ حق سبحانہ وتعالی کی ذات پاك سے مرشد کے لطائف میں فیض نازل ہوکر مرید کے لطائف
حوالہ / References القول الجمیل مع شفاء العلیل الفصل السادس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۸۱ و ۸۲
#6470 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
پر وارد ہوتا ہے۔ اوریہ بھی جب تك کہ اس کو مناسبت کا ملہ ذات حق سبحانہ وتعالی سے نہ ہواور جب مناسبت کا ملہ پیدا ہوجائے پھر ضروری نہ جانے اور مرشد کو فقط واسطہ اور وسیلہ فیض کا جانتا ہے۔ نہ عالم الغیب جانے نہ حاضر وناظر اور معبود ومسجود مقرر کرے بلکہ ان امور کا غیر خدا کے واسطے ثابت کرنا شرك سمجھے جائز ہے یانہ اگر جائز ہے تو اس کی سند قرآن ہے یا حدیث یا قول مجتہد یا اجماع اگر نہیں جائز تو ادلہ اربعہ سے اس کے لئے کون سی دلیل ہے بینوا توجروا۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمدﷲ الذی ہدنا لربط القلوب باعظم برزخ بین الامکان والوجوب والصلوۃ والسلام علی اجمل مطلوب اجل وسیلۃ لاصلاح الخطوب صلوۃ تمحورین العیوب وتمثل فی الفواد صورۃ المحبوب منشھدا بالتوحید لعلام الغیوب وبالرسالۃ الکبری لشفیع الذنوب صلی اﷲ تعالی علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسائط الکرم قال الفقیر عبدالمصطفی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی لم اﷲ تعالی شعثہ وتحت اللواء الغوثی بعثہ۔ تمام تعریفیں اﷲ تعالی کے لئے جس نے دلوں کے ربط کے لئے امکان اور وجوب کے درمیان برزخ اعظم کی رہنمائی عطا فرمائی اور صلوۃ وسلام خوبصورت مطلوب اور خطرات کی اصلاح کےلئے جلیل وسیلہ پر ایسی صلوۃ جو عیوب کو مٹادے اور دلوں میں محبوب کی صورت کو قائم کردے علام الغیوب کی توحید اور شفیع المذنبین کی ر سالت کبری کی شہادت دیتے ہوئے صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وصحبہ پر جو برگزیدہ واسطے ہیں زفقیر عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی کہتا ہے اﷲ تعالی اس کو پراگندگی سے محفوظ فرمائے اور حضور غوث اعظم کے جھنڈے تلے اٹھائے۔(ت)
تصور متدا ۱۲بشیخ بروجہ رابطہ جسے برزخ بھی کہتے ہیں جس طرح حضرات صوفیہ صافیہ قدسنا اﷲ تعالی باسرار ھم الوافیہ میں خلفا عن سلف معمول وماثور اور ان کی تصانیف منیفہ ومکتوبات شریفہ وملفوظات لطیفہ میں بتواتر مذکور ومسطور وغیرمسطور کہ شبح شیخ حاشا بلکہ عین شیخ(کہ شیخ حضورا وغیبۃ مرآت ملاحظہ ہے۔ اور کارحقیقۃ کار روح جو بعد صفائی کدورات حیوانیہ وانجلائے ظلما ت نفسانیہ صورت واحدۃ شہادت وہیاکل متکثرہ مثالیہ میں دفعۃ ہزار جگہ کام کرسکتی ہے جیساکہ بارہا مشاہدہ
#6471 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
ومرئی اور حضرات اولیاء سے بکثرت مروی اور عالم رؤیا میں بے شرط ولایت جاری جسے افعال عجیبہ و تصرفات غریبہ روح انسانی پر اطلاع حاصل وہ جانتاہے کہ یہ تو اس کے بحار ذاخرہ وامواج قاہرہ سے ایك قطرہ قلیلہ ہے اور خود بعد تمرن واعتیاد و تکامل مناسبت اس صورت متخیلہ کابے اعانت تخییل حرکت وکلام اور مشکلات راہ میں قیام واہتمام اور دقائق وحقائق کا شفاہا حل تام کما تشہد بہ شہود الشہودو التجربۃ(جیسا کہ مشاہدہ اور تجربہ گواہ ہے۔ ت)دلیل جلی وسلیل ہے کہ یہ فقط پیکر مخزون کا علی عکس المعتاد خزانہ خیال سے حس مشترك کی طرف عود قہقری نہیں بلکہ وہی مرکب مثال میں شہسوار روح کی جولانیاں ہیں اگر چہ خود فاعل کو شعور یعنی شعور بالشعور نہ ہو
کما ھو المشہود لعموم الناس فی غیبۃ الرؤیا۔ جیسا کہ عوام الناس کو خواب کے بارے میں معلوم ہے۔ (ت)
ورنہ صدور افعال اختیار یہ کو شعور سے انفکاك نہیں۔
اتقن ھذا فانہ مہم نافع ولاکثر الشبہات حاسم قالع۔ اس کو خوب یاد رکھو کیونکہ یہ اہم نافع ہے اور بہت سے شبہات کو ختم کرتاہے۔(ت)
صرف واسطہ وصول وناؤوان فیض وباعث جمیعت خاطر وزوال تفرقہ ہائے شرعا جائز جس کے منع پر شرع سے اصلا دلیل نہیں نہ کہ معاذ اﷲ شرك وکفر کہنا جیسا کہ زبان زد سفہائے منکرین ہے۔والناس اعداء لما جھلوا(لوگ جس سے ناواقف ہوں اس کے مخالف ہوتے ہیں۔ ت)
منعم کنی زعشق ولے اے زاہد زماں معذور دار مت کہ تو او راند یدہ
(اے زمانہ کے زاہد! تو مجھے عشق سے منع کرتا ہے مجھے معذور رکھ کیونکہ تو نے اسے دیکھا نہیں۔ ت)
ورحم اﷲ القائل(اس قائل پر اﷲ رحم فرمائے۔ ت)
جنگ ہفتادد وملت ہمہ راعذر بنہ چوں ندیدند حقیقت رہ افسانہ نروند
(بہتر۷۲ فرقوں سے جنگ میں ان سب کو معذور جان جب وہ حقیقت سے آگاہ نہیں تو اس راہ پر نہ چلیں گے۔ ت)
یا ھذا بقاعدہ اصول وتصادق وتطابق معقول ومنقول بینہ ذمہ مدعی ہے اورقائل جواز متمسك باصل جسے ہر گز کسی دلیل کی حاجت نہیں بعض حضرات جہلا یا تجاہلا مانع فقہی وبحثی میں فرق نہ کرکے دھوکا کھاتے ہیں یا مغالطہ دیتے ہیں کہ تم قائل جواز اور ہم مانع ومنکر تودلیل تم پر چاہئے۔ حالانکہ یہ سخت ذہول وغفلت یا
#6472 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
کید وخدیعت ہے نہ جانا یا جانا اور نہ مانا کہ قول جواز کا حاصل کتنا صرف اس قدر کہ لم ینہ عنہ یالم یؤمر بہ ولم ینہ عنہ (یہ ممنوع نہیں یا نہ مامور ہے نہ ممنوع۔ ت)تو مجوز نافی امرونہی ہے اور نافی پر شرعا وعقلا بینہ نہیں جو حرام وممنوع کہے وہ نہی شرعی کامدعی ہے ثبوت دینا اسکے ذمے ہے کہ شرع نے کہاں منع کیا ہے۔ علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی رسالۃ الصلح بین الاخوان میں فرماتے ہیں:
ولیس الاحتیاط فی الافتراء علی اﷲ تعالی باثبات الحرمۃ والکراھۃ الذین لابدلھما من دلیل بل فی الاباحۃ التی ھی الاصل ۔ حرام اور مکروہ قرار دینے میں اﷲ تعالی پر افتراء باندھنے میں احتیاط نہیں ہے ان دونوں حکموں کے لئے دلیل چاہئے بلکہ احتیاط اباحت میں ہے جو اصل حکم ہے۔(ت)
علامہ علی مکی رسالہ اقتدا بالمخالف میں فرماتے ہیں:
من المعلوم ان الاصل فی کل مسئلۃ ھو الصحۃ واما القول بالفساد والکراہۃفیحتاج الی حجۃ ۔ مسلمہ بات ہے کہ ہر مسئلہ میں اصل صرف اباحت ہے فساد اور کراہت کے حکم کے لئے دلیل کی ضرورت ہے۔(ت)
غرض مانع فقہی مدعی بحثی ہے اور جواز کا قائل مثل سائل مدعا علیہ جس سے مطالبہ دلیل محض جنون یا تسویل ا س کے لئے یہی دلیل بس ہے کہ منع پر کوئی دلیل نہیں۔ مسلم الثبوت میں ہے:
کل ماعدم فیہ المدرك الشرعی للحرج فی فعلہ وترکہ فذلك مدرك شرعی لحکم الشارع بالتخییر ۔ کسی کام کے کرنے میں اور نہ کرنے میں حرج کے مسئلہ میں کوئی شرعی دلیل نہ ہو تو یہ خود شرعی دلیل ہے کہ شرعا اختیار ہے۔(ت)
فقیر غفر اﷲ تعالی لہ رسالہ اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبی تھامہ(۱۲۹۹ھ)ورسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین (۱۳۰۱ھ)وغیرہما میں اس بحث کو واضح کرچکا وﷲ الحمد امثال مقام میں نہایت سعی منکرین عدم نقل سے استدلال ہے۔ ذلك مبلغھم من العلم(یہی ان کے
حوالہ / References الصلح بین الاخوان(رسالہ)
الاقتداء بالمخالف(رسالہ)
مسلم الثبوت المقالۃ الثانیہ الباب الثانی مطبع انصاری دہلی ص۲۴
#6473 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
علم کی پہنچ ہے۔ ت)مگر نزد عقلاء فضلاء عن الفضلاء یہ بے اصل استناد تشبت بالحشیش وخرط القتاد(تنکے کا سہارا اور مشکل میں پھنسنا ہے۔ ت)عدم نقل نقل عدم نہیں نہ عدم فعل منع کو مستلزم کاش خود معنی جواز لم یؤمر بہ ولم ینہ عنہ(نہ اس کا حکم اور نہ اس کی ممانعت ہے۔ ت)کو سمجھتے تو جانتے کہ جس امر سے اس کا ابطال چاہتے ہیں وہ خود اس کی حد کا احد المصادیق ہے۔ کہ نقل مع عدم الطلب فعلا وکفا وعدم ذکر راسا دونوں اسی انعدام امرونہی کی صورتیں ہیں تو یہ استدلال ایسا ہوا کہ ثبوت اخص کوا رتفاع اعم پر دلیل بنائے وھل ھوالا بہت بحت(یہ خاص بہتان ہے۔ ت)یہ بحث بھی فقیر نے اپنے رسائل مذکورہ ونیز رسالہ انھار الانوار من یم صلوۃ الاسرار(۱۳۰۵ھ)ورسالہ سرور العید السعید فی حل الدعاء بعدصلوۃ العید(۱۳۰۷ھ)وغیرہا میں تمام کردی۔
ولمن احسن تفصیل تلك المباحث ختام المحققین امام المدققین اعلم العلماء سیف السنۃ علم الاسلام سیدنا الوالد قدس الواجد سرالماجد فی کتابہ الجلیل"اذاقۃ الاثام لما نعی عمل المولد و القیام" وسفرہ الجمیل"اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد" و غیرھما من تصانیفہ الجیاد علیہ الرحمۃ الجواد۔ ان مباحث کی اچھی تفصیل کرنے والوں میں سب سے بہتر خاتم المحققین علماء کرام کے بڑے سنت کی تلوار اسلام کے جھنڈے حضرت والد گرامی کی کتاب"اذاقۃ الاثام لما نعی عمل المولد والقیام"اور کتاب جمیل"اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد"وغیرہما میں ہے۔ اﷲ تعالی ان پر رحمت فرمائے۔(ت)
اوراگر عدم ورود ہی پر مدار منع ٹھہرا تو ایك شغل برزخ ہی پر کیا موقوف عامہ اشغال وافکار اور ان کے طریق واطوار کہ طبقہ فطبقۃ تمام اکابر اولیائے قدست اسرارہم میں رائج ومعمول رہے سب معاذاﷲ بدعت شنیعہ وحرام وممنوع قرار پائیں گے کہ ان میں بہت تو راسا اوربہت بایں ہیئات خاصہ واوضاع جزئیہ ہر گز حضور پرنور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یا صحابہ وتابعین سے ثابت نہیں ہاں ہاں قول الہی عزوجل:
فیما یرویہ عنہ نبیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من عادی لی ولیا فقد اذنتہ بالحرب کما فی الجامع الصحیح وغیرہ ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اﷲ تعالی سے روایت فرمایا کہ جس نے میرے ولی سے عداوت کی میں اس سے جنگ کا اعلان کرتاہوں جیسا کہ صحیح بخاری میں وغیرہ میں ہے۔(ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الرقاق باب التواضع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۶۳
#6474 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
بھلا کر بنہایت وقاحت اس لازم شنیع کا التزام کرلینا اور جماہیر اساطین طریقت وسلاطین حقیقت کو معاذاﷲ مخترع بدعات و مروج سیئات کہہ دینا اگرچہ منکر مکابر کے نزدیك سہل ہو
" قد بدت البغضاء من افوہہم وما تخفی صدورہم اکبر " بغض ان کے منہ سے ظاہر اور جو ان کے دلوں میں ہے وہ اس سے بڑھ کرہے۔(ت)
مگر اتنا یاد رہے کہ یہ مان کر گھر کی بھی جائے گی ذرا امام الطائفہ کے نسبا دادا تلمذا دادا بیعۃ پر دادا جناب شاہ ولی اﷲ صاحب کو بھی سن لو کہ وہ قول الجمیل میں جس کی وضع انھیں افکار محدثہ واشغال حادثہ کی ترویچ وتعلیم کے لئے ہے کیسا کھلا اقرار فرماتے ہیں:
صحبتنا متصلۃ الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وان لم یثبت تعین الاداب ولا تلك الاشغال اھ ملخصا۔ ہماری صحبت تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك متصل ہے اگر چہ خاص یہ آداب واشغال ثابت نہیں۔ اھ ملخصا۔
اسی میں ہے:
لاتظن النسبۃ لاتحصل الابھذا الاشغال بل ھذا طریق لتحصیلھا من غیر حصر فیہا وغالب الرائ عندی ان الصحابۃ و التابعین کانوا یحصلون السکینۃ بطرق اخری الخ۔ یہ نہ سمجھنا کہ نسبت بس انھیں اشغال سے حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ بھی اس کی تحصیل کے طریقے ہیں کچھ ان میں حصر نہیں اورمیرا زیادہ گمان یہ ہے کہ صحابہ وتابعین اورہی طریقوں سے نسبت حاصل فرماتے تھے الخ۔
معلم ثالث وہابیہ مولوی خرم علی صاحب مصنف نصیحۃ المسلمین کے ترجمہ شفاء العلیل میں اس کے بعد لکھتے ہیں:
"مترجم کہتاہے کہ مصنف نے کلام دلپذیر اور تحقیق عدیم النظیر سے شبہات ناقصین کو جڑ سے اکھاڑ دیا بعض نادان کہتے ہیں کہ قادریہ چشتیہ نقشبندیہ کے اشغال مخصوصہ صحابہ و تابعین کے زمانے میں نہ تھے تو بدعت سیئہ ہوئی خلاصہ جواب یہ ہے کہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۳ /۱۱۸
القول الجمیل مع شفاء العلیل الفصل السابع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص
القول الجمیل مع شفاء العلیل الفصل الحادی عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۳
#6475 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
جس امر کے واسطے اولیائے طریقت رضی اﷲ تعالی عنہم نے یہ اشغال مقرر کئے ہیں وہ امر زمانہ رسالت سے اب تك برابر چلا آیا ہے گو طرق اس کی تحصیل کے مختلف ہیں فی الواقع اولیائے طریقت مجتہدین شریعت کے مانند ہوئے مجتہدین شریعت نے استنباط احکام ظاہر شریعت کے اصول ٹھہرائے اولیائے طریقت نے باطن شریعت کی تحصیل کے جس کو طریقت کہتے ہیں قواعد مقرر فرمائے تو یہاں بدعت سیئہ کا گمان سراسر غلط ہے۔ ہاں یہ البتہ ہے کہ حضرات صحابہ کو بسبب صفائی طبیعت اور حضور خورشید رسالت تحصیل نسبت میں اشغال کی حاجت نہ تھی بخلاف متاخرین کے ان کو بسبب بعد زمان رسالت کے البتہ اشغال مذکورہ کی حاجت ہوئی جیسے صحابہ کرام کو قرآن وحدیث کے فہم میں قواعد صرف ونحو کے دریافت کی حاجت نہ تھی اور اہل عجم اور بالفعل کے عرب اس کے محتاج ہیں واﷲ اعلم۔"
امام الطائفہ کے نسبا چچا علما باپ طریقۃ دادا مولنا شاہ عبدالعزیز صاحب حاشیہ قول الجمیل میں فرماتے ہیں:
"اسی طرح پیشوایان طریقت نے جلسات وہیئات واسطے اذکا رمخصوصہ کے ایجاد کئے ہیں مناسبات مخفیہ کے سبب سے جن کو مرد صافی الدین اور علوم حقہ کا عالم دریافت کرتاہے(الی قولہ)تو اس کو یاد رکھنا چاہئے "اھ بترجمہ البلہوری۔
مولوی بلہوری اسے نقل کرکے کہتے ہیں:"یعنی ایسے امور کو مخالف شرع یا داخل بدعات سیئہ نہ سمجھنا چاہئے جیسا کہ بعض کم فہم سمجھتے ہیں "
مرزا مظہر جان جاناں صاحب(جنھیں شاہ ولی اﷲ صاحب نے اپنے مکتوبات میں نفس زکیہ و قیم طریقہ احمد وداعی سنت نبویہ ومتجلی بانواع فضائل وفواضل کہا)اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں:
"مراقبات باطوار معمولہ کہ درقرون متاخرہ موجودہ طریقوں کے مراقبات جو آخر زمانہ میں
حوالہ / References شفاء العلیل مع القول الجمیل ساتویں فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۰۷ و ۱۰۸
شفاء العلیل مع القول الجمیل چوتھی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۱ و ۵۲
شفاء العلیل مع القول الجمیل چوتھی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۲
#6476 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
رواج یافتہ از کتاب وسنت ماخوذ نیست بلکہ حضرات مشائخ بطریق الہام واعلام از مبدء فیاض اخذ نمودہ اند شرع ازاں ساکت ست وداخل دائرہ اباحت" مروج ہوئے کتاب وسنت سے ماخوذ نہیں ہیں بلکہ مشائخ حضرات نے بطور الہام اﷲ تعالی سے پائے ہیں جبکہ شریعت ان کی تفصیل سے ساکت ہے اور اباحت کے درجہ میں ہیں ۔(ت)
انھیں کے ملفوظات میں ہے:
"حضرت مجدد رضی اﷲ تعالی عنہ طریقہ نو بیان نمودہ اند "۔ حضرت مجدد رضی اﷲ تعالی عنہ نے نئے طریقے بیان فرمائے ہیں(ت)
اسی میں ہے:
"حضرت شاہ ولی اﷲ محدث رحمۃ اﷲ تعالی علیہ طریقہ جدیدہ بیان نمودہ اند " حضرت شاہ ولی اﷲ رحمۃ اﷲ علیہ نے جدید طریقہ بیان فرمایا ہے۔(ت)
بات کے پورے تو جب ہیں کہ آنکھیں بند کرکے ان صاحبوں کو بھی بدعتی کہہ بھاگیں ورنہ یہ تو ستم سینہ زوری ہوئی کہ اکابر محبوبان خدا قرون متطاولہ سے سب معاذاﷲ مجرم احداث چنیں وچناں ٹھہریں اور ان صاحبوں پر صرف لالچ سے کہ امام الطائفہ کے علاقہ والے ہیں آنچ نہ آئے یہ تو دین نہ ہوا دھینگا مشتی ہوئی اے حضرت! یہ سب ایك طرف خود امام الطائفہ کی خبر لیجئے وہ سربازار اپنا اور اپنے پیر ومرشد کا بدعتی ومخترع الدین ہونا پکا رہا ہے صراط مستقیم میں لکھتا ہے:
"اشغال مناسبہ ہروقت ریاضت ملائمہ ہر قرن جد ا جدامے باشند و لہذا محققین ہر وقت از اکابر ہر طرق درتجدید اشغال کو ششہا کرد اند بناء علیہ مصلحت دید وقت چناں اقتضاکر د کہ یك باب ازیں کتاب برائے بیان اشغال جدیدہ کہ مناسب ایں وقت ست تعین کردہ شود " ہر وقت کے مناسب اشغال اور ریاضات ہر زمانہ کے مناسب جدا جدا ہیں اور اسی لئے وقت کے محقق لوگ اپنے طریقہ وسلسلہ کے اکابر سے اشغال کی تجدید میں کوشش کرتے رہے ہیں اسی بناء پروقتی مصلحت کے تحت اس کتاب کا ایك باب موجودہ وقت کے اشغال جدیدہ کے بیان کے لئے مختص کیا گیا ہے۔(ت)
حوالہ / References مکتوبات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات مکتوب یازدہم مطبع مجتبائی دہلی ص۲۳
مکتوبات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات مکتوب یازدہم مطبع مجتبائی دہلی ص۷۰
مکتوبات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات مکتوب یازدہم مطبع مجتبائی دہلی ص۸۳
صرام مستقیم مقدمۃ الکتاب المکتبہ السلفیہ لاہور ص۷ ، ۸
#6477 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
خدارا ذرا ہٹ دھرمی کی نہیں سہی خدا لگتی کہو تو نہ صرف اشغال بلکہ تمام بحث تعریف بدعت کا یہیں خاتمہ ہوگیا اب کیا ہوئے وہ قرون ثلثۃ کی تخصیص پر جبروتی اصرار ا ب کدھرگئی وہ بات بات پر من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فہو رد (جس نے نیا عمل جاری کیا جو ہمارے امر میں سے نہیں وہ مردود ہے۔ ت)اور کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار (ہر بدعت ضلالۃ ہے اورہر ضلالت جہنم میں ہے۔ ت)کی تکرار امام وہابیت کیشاں اور ان کے حضرت ایشاں تیرھویں صدی میں بیٹھے خاص امراعظم دین و وجوہ تقرب رب العالمین میں نئی نئی باتیں گھڑ رہے ہیں جن کا خود ان کے اقرار سے تین قر ن کیا معنی تین تین چھ اور چھ اور چھ بارہ قرن تك نام ونشاں نہیں لیکن وہ بدعتی ٹھہرتے ہیں نہ ان کے اصل ایمان میں خلل آتا ہے نہ ان کے لئے اصحاب البدع کلاب اھل النار (بدعت والے اہل جہنم کے کتے ہیں۔ ت)پڑھا جاتاہے نہ یہ باتیں رد وضلالت وفی النار ہوتی ہیں یہ یجوز للوھا بی مالا یجوز لغیرہ(جو غیر کے لئے جائز نہیں وہابی کے لئے جائز ہے۔ ت)کا فتوی کہاں سے آگیا اب اسے کیا کہئے مگر یہ کہ اذ الم تستحی فاصنع ما شئت (جب تجھے حیا نہیں تو جو چاہے کر۔ ت)مولی عزوجل ہدایت بخشے آمین!
خیر بات دور پہنچی خاص مسئلہ شغل برزخ کے متعلق نصوص اکابر وعمائد حاضر کردن مگر حاشا نہ ارشادات حضرات اولیائے قدست اسرارہم کہ:
اولا: وہ بنہایت ظہور محتاج اظہار نہیں موافق ومخالف کون نہیں جانتا کہ طریقہ اکابر اولیاء کا معمول رہا اوران کی تصانیف جلیلہ میں جابجا اس کی روشن تصریحیں ہیں۔
ثانیا: شاید ان کے ارشاد منکر متعصب کو نفع بھی نہ دیں ہاں شاید کیوں یقینا نہ دیں گے کہ منکر خود بھی ارشاد اولیاء سے قولا و فعلا اس کے متواتر ثبوت پر مطلع پھر بھی برسر انکار وابطال و ادعائے ضلال ہے اﷲ تعالی کی بے شمار رحمتیں شیخ شیوخ الہند عاشق المصطفی وارث الانبیاء ناصرا لاولیاء مولانا وبرکتنا حضرت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی قدس اﷲ تعالی سرہ القوی پر کہ
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الصلح ۱/ ۳۷۱ وسنن ابی داؤد کتاب السنۃ ۲/ ۲۷۹،کنزالعمال حدیث ۱۱۰۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/ ۲۱۹
الدرالمنثور تحت آیۃ ۷/ ۱۷۸ مکتبہ آیۃ اﷲ العظیمی قم ایران ۳/ ۱۴۷
کنزالعمال حدیث ۱۰۹۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۱۸
المعجم الکبیر حدیث ۶۵۸ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۷/ ۲۳۷
#6478 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
اشعۃاللمعات شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں:
"وآنچہ مروی ومحکی ست از مشائخ اہل کشف در استمداد از ارواح کمل واستفادہ ازاں خارج از حصر ست درکتب و رسائل ایشاں ومشہور ست میاں ایشاں وحاجت نیست کہ آں را ذکر کنیم وشاید کہ منکر متعصب سود نکند او ر اکلمات ایشاں عافانا اﷲ من ذلك " کاملین کی روح سے استمداد واستفاد ہ جو اہل کشف مشائخ سے مروی ہے اور ان کی کتب ورسائل میں مذکور ومشہور ہے ان بے شمار مرویات کو ذکر کرنے کی ہمیں حاجت نہیں اور شاید متعصب منکرین کو ان کا کلام سود مند بھی نہ ہو اﷲ تعالی ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔(ت)
افسوس ان مدعیان حقانیت کی حالت یہاں تك پہنچی کہ بندگان خدا محبوبان خدا کے کلام ان کے سامنے پیش کرنا عبث وبے سود سمجھتے ہیں بلکہ اس سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے مقابلے میں اور بھی گستاخیوں پر نہ اترآئیں عافانا اﷲ تعالی من کل ذلک(اﷲ تعالی ہمیں اس سب سے محفوظ رکھے۔ ت)لہذا میں صرف اقوال علماء پر اکتفا کروں جنھیں مانے بغیر بے چارے مخالف کو چارہ نہیں۔
۱شاہ ولی اﷲ صاحب کی ایك عبارت تو سائل نے سوال میں نقل کی جس کے ترجمہ میں ۲معلم ثالث وہابیہ شفاء العلیل میں یوں کہتے ہیں:"جب مرشد اس کے پاس نہ ہوتو اس کی صورت کو اپنی دونوں آنکھوں کے درمیان خیال کرتا رہے بطریق محبت اور تعظیم کے تو اس کی خیالی صورت وہ فائدے دے گی جو ا س کی صحبت فائدہ دیتی ہے۔ "
یہیں ۳مولنا شاہ عبدالعزیز صاحب سے نقل کیا مولانا نے فرمایا:"حق یہ ہے کہ سب راہوں سے یہ راہ زیادہ تر قریب ہے انتہی۔
اب کون کہے کہ شاہ صاحب! یہ وہی راہ ہے جسے کچھ دنوں بعد آپ کے قریب گھروالے ٹھیٹ بت پرستی بتانے کو ہیں ۴شاہ ولی اﷲ صاحب انتباہ میں فرماتے ہیں:
الطریق الثالث طریق الرابطۃ بالشیخ یعنی خدا تك پہنچنے کی تیسری راہ شیخ کے ساتھ رابطہ کا
حوالہ / References اشعۃ اللمعات کتا ب الجہاد باب حکم الاسراء فصل اول مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۴۰۲
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل چھٹی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۸۱ و ۸۲
شفاء العلیل ترجمہ القول الجمیل چھٹی فصل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۸۰
#6479 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
(الی ان قال)ینبغی ان تحفظ صورتہ فی الخیال و تتوجہ الی القلب الصنوبری حتی تحصل الغیبۃ و الفناء من النفس ۔ طریقہ ہے چاہئے کہ اس کی صورت اپنے خیال میں محفوظ رکھ کر قلب صنوبری کی طرف متوجہ ہو یہاں تك کہ اپنے نفس سے غیبت وفنا ہاتھ آئے(ت)
۵اسی میں ہے:
ان وقفت عن الترقی فینبغی ان تجعل صورۃ الشیخ علی کتفك الا یمن وتعتبر من کتفك الی قلبك امرأممتدا وتاتی بالشیخ علی ذلك الامر الممتد و تجعلہ فی قلبك فانہ یرجی لك بذلك حصول الغیبۃ والفناء ۔ یعنی اگر تو ترقی سے رك رہے تو یوں چاہئے کہ صورت شیخ کو اپنے داہنے شانے پر اور شانے سے دل تك ایك امر کشیدہ فرض کرلے اور اس پر صورت شیخ کو لاکر اپنے دل میں رکھے کہ اس سے تیرے لئے غیبت وفنا ملنے کی امید ہے۔
یہ عبارتیں شاہ صاحب نے رسالہ ۶تاجیہ نقشبندیہ سے نقل کیں جن کی نسبت لکھا کہ حضرت والد بزرگوار یعنی ۷شاہ عبدالرحیم صاحب اسے بہت پسند فرماتے اور مریدوں کو اس کے سلسلہ پر چلاتے ۔ ۸اسی میں یہ بھی لکھا کہ:
"تفرقہ مستمر ہو تو اپنے مرشد مربی کی صورت خیال میں حاضر کر امید ہے کہ اس کی برکت سے تفرقہ مبدل بجمیعت ہو "
اسی انتباہ میں رسالہ ۹عزیز یہ سے جس کی اجازت اپنے والد ماجد سے پائی لکھا:
"صورت مرشد پیش خود تصور کردہ بعد ذکر گوید الرفیق ثم الطریق درحق ایشاں ست وبرائے نفی خواطرنفسانی وہواجس شیطانی ووساوس ظلمانی اثرے تمام دارد " مرشد کی صورت کو پیش خاطر رکھے اورذکر کے بعد کہے الرفیق اور پھر الطریق مرشد کے حق میں ہے یہ طریق نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کی نفی میں مؤثر ہے۔(ت)
حوالہ / References انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ طریقہ نقشبندیہ عباسی کتب خانہ کراچی ص۴۱ و ۴۲
انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ طریقہ نقشبندیہ عباسی کتب خانہ کراچی ص۴۲
انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ طریقہ نقشبندیہ عباسی کتب خانہ کراچی ص۳۲
انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ بیان دفع وسوسہ عباسی کتب خانہ کراچی ص۴۷
انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ بیان طریقہ چشتیہ عباسی کتب خانہ کراچی ص۹۲
#6480 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
۱۰اسی رسالہ مذکور سے لکھا:
بلکہ حضرت سلطان موحودیں برہان العاشقین حجۃ المتکلمین شیخ جلال الحق والشرع والدین مخدوم مولانا قاضی خاں یوسف ناصحی قدس سرہ العزیز چنیں می فرمودند کہ صورت مرشد کہ ظاہر دید میشود مشاہدہ حق سبحانہ وتعالی ست در پردہ آب وگل واما صورت مرشد کہ درخلوت نمودارم شہود آں مشاہدہ حق تعالی ست بے پردہ آب و گل کہ ان اﷲ تعالی خلق ادم علی صورۃ الرحمن من رانی فقد رای الحق درحق اودرست شدہ ۔" بلکہ حضرت شیخ جلال الدین مولانا قاضی خاں یوسف ناصحی قدس سرہ بمع القابہ یوں فرماتے ہیں کہ مرشد کی صورت کا ظاہری مشاہدہ آب وگل کے پردہ میں اﷲ تعالی کا مشاہدہ ہے اور مرشد کی خلوت میں نمودار ہونے والی صورت یہ اﷲ تعالی کا آب وگل کے پردہ کے بغیر مشاہدہ ہے اﷲ تعالی نے آدم کی صورت رحمن کی صفت پرپیدا کی جس نے مجھے دیکھا تو بیشك اس نے حق دیکھا اس پر درست ثابت ہوگا۔(ت)
۱۱شاہ عبدالعزیز صاحب تفیسر عزیزی میں زیر قولہ تعالی واذکر اسم ربك لکھتے ہیں:
یعنی یادکن نام پروردگار خود رابر سبیل دوام وہر وقت وہر شغل خواہ بزبان خواہ بقلب خواہ بروح خواہ بہ سر خواہ بخفی خواہ باخفی خواہ بنفس خواہ ذکر یك ضربی خواہ دو ضربی خواہ بحبس نفس خواہ بے حبس خواہ بدون برزخ خواہ بابرزخ الی غیر ذلك من الخصوصیات التی استنبطھا الماھرون من اھل الطرائق وتعین احد الشقین ازیں خصوصیات مذکورہ مفوض بصوابد ید شیخ ومرشد ست کہ بحسب حال ہرچہ را اصلح داند تلقین فرمایا ید چنانچہ درآیت دیگر فرمودہ فاسئلوا اھل الذکر ان کتنم اﷲ تعالی کو ہر وقت اور ہر شغل میں یاد رکھ دل روح سری خفی سانس یك ضربی یا دو ضربی ہو یا سانس بند کرکے ہو یابغیر بند کئے ہو برزخ کے ذریعے یا بے برزخ وغیرہا خصوصیات جن کو اہل طریقت سے ماہرین نے اخذ کیا ہے ان میں سے کسی مخصوص طریقہ کو متعین کرنا مرشد کی صوابدید پر موقوف ہے کہ وہ حال کے مطابق جس کو مناسب سمجھے اس کی تلقین کرے جس طرح دوسری آیہ کریمہ میں ارشاد ہے کہ اگر تم
حوالہ / References انتباہ فی سلاسل اولیاء اﷲ بیان طریقہ چشتیہ عباسی کتب خانہ کراچی ص۹۲ و ۹۳
#6481 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
لاتعلمون اھ ملتقطا۔ نہ جانو تو اہل ذکر سے سوال کرو اھ ملتقطا(ت)
اقول:وباﷲ التوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲ سے ہے۔ ت)اس عبارت سے جیسا کہ تصور برزخ کا جواز ثابت ہوا اس کے سو ا اور بھی فوائد جلیل حاصل مثلا:
۱ ایک:یہ کہ شغل برزخ کے ساتھ ذکر کرنا اطلاق آیت قرآنی کے تحت میں داخل ۔
۲دوم: مطلق ذکر پر قرآن وحدیث میں جو عظیم تر غیبیں آئیں اسے بھی شامل۔
۳سوم: مطلق ہمیشہ اپنے اطلاق پر رہے گا اور اس کا حکم اس کے جمیع مقیدات میں ساری شرع میں صرف اس کی اجازت ان کی اجازت کے لئے کافی جس کے بعد خصوصیات خاصہ کے ثبوت خاص کی حاجت نہیں مطلق اصولی کو مطلق منطقی سمجھنا محض خطاہے۔
۴چہارم: نیك بات بانضمام اوضاع خاصہ بد نہیں ہوسکتی جب تك اس منضم میں کوئی محذور خاص شرع سے ثابت نہ ہو
۵پنجم:قائل جواز کو صرف اس قدر بس کہ یہ مقید زیر مطلق داخل جو ممنوع بتائے وہ مدعی ہے اس صورت خاصہ سے منع ثابت کرے۔
۶ششم: ہیئات عبادات توقیفی ہے ولہذا سیرووقوف دونوں میں شرع مطہر کا اتباع واجب جہاں وہ تھم رہے ہم آگے نہ بڑھیں جہاں وہ آگے چلے ہم تھم نہ رہیں تو اپنی طر ف سے اطلاق مقید و تقیید مطلق دونوں ممنوع جس طرح بعد حصر فی وجہ احداث وجہ آخر شرع پر زیادت یونہی بعد اطلاق اجازت منع بعض صور شرع کی مخالفت اس توقیف وتوقف کے یہ معنی ہیں نہ وہ کہ عبادت الہیہ کو معاذاﷲ غیر معقول المعنی سمجھ کر مطلقا وارد ومورد پر مقتصر کردیجئے کما زعم المتکلم القنوجی(جیسا کہ قنوجی متکلم نے سمجھا ہے۔ ت)
۷ہفتم: بدعت شرعیہ کی یہ تفسیر کہ جو بات زمانہ اقدس نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں نہ تھی یا جو کام صحابہ نے نہ کیا یا جو کچھ قرون ثلثہ میں نہ تھا۔
کما تزعمہ النجدیۃ علی تفرق کلمھم فیما بینھم تحسبہم جمیعا و قلوبہم شتی ذلک بانہم قوم لا یعقلون ﴿۱۴﴾ " ۔ جیسا کہ نجدی حضرات متفرق باتیں کرتے ہیں"تم ان کو جمع خیال کرتے ہو حالانکہ ان کے دل متفرق ہیں یہ اس لئے کہ وہ بے عقل قوم ہیں"(ت)
۸ہشتم: بدعت لغویہ کہ تفاسیر مذکور حقیقۃ اسی پر منطق ہرگز سیئہ میں منحصر نہیں اس تقدیر پر
حوالہ / References فتح العزیز(تفسیر عزیزی) تحت آیۃ ۷۳/ ۸ ص۲۷۹
القرآن الکریم ۵۹ /۱۴
#6482 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
قضیہ کل بدعۃ ضلالۃ (ہر بدعت گمراہی سے۔ ت)قطعا عام مخصوص منہ البعض ہاں اگر بدعت شرعیہ لیجئے یعنی:
ما احدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے حاصل شدہ حق کے خلاف کوئی نئی چیز ہو(ت)
تو بیشك وہ اپنی صراحت عموم ومحوضت اطلاق پر ہے علماء تفسیر حدیث میں دونوں طرف گئے مگر یہ اعجوبہ ملفقہ کو پہلوں سے تفسیر لیں اور دوسروں سے اطلاق یہ خاص ایجاد حضرات انجاد ہے جس پر شرع سے اصلا دلیل نہیں اور جس کی بناء پر شاہ عبد العزیز وشاہ ولی اﷲ سے ہزار برس تك کے ائمہ شریعت وسادات طریقت یا ہزاروں تابعین یا صدہا صحابہ بھی معاذاﷲ بدعتی قرارپاتے ہیں اور ان کے بعض جری بیباکوں مثل بھوپالی بہادر وغیرہ نے اس کی صاف تصریح بھی کردی وہ بھی کہاں خاص امیر المومنین غیظ المنافقین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے بارے میں
"و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ﴿۲۲۷﴾
" (اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ت)
۹نہم عدم نقل نقل عدم نہیں۔
۱۰دہم عدم فعل قاضی منع نہیں کف میں اتباع ہے نہ مجرد ترك میں۔
۱۱یاز دہم یہ جاہلی مغالطہ کہ اس طریقے میں کوئی بھلائی ہوتی تو صحابہ ہی کرتے تم کیا ان سے بھی زیادہ دین کی سمجھ رکھتے تو محض بیہودہ ونامسموع ہے۔
۱۲دوازدہم اولیائے کرام کے ایجادات محمودومقبول ہیں۔
۱۳سیزدہم وہ اہل الذکر ہیں دوسروں کو ان پر اعتراض نہیں پہنچتا بلکہ ان کی طرف رجوع اور جو وہ فرمائیں اس پر عمل چاہئے۔
۱۴چہاردہم کفار سے غیر شعار میں اتفاقی مشابہت ہرگز وجہ ممانعت نہیں ورنہ حبس دم کہ جوگیوں کا مشہور طریقہ ہے ممنوع ہوتا۔
۱۵پانزدہم آیۃ " "فسـلوا اہل الذکر (وجوب تقلید میں نص ہے ۔ اہل ذکر سے علمائے اہل کتاب
حوالہ / References الدرالمنثور تحت آیۃ ۷/ ۱۷۸ مکتبہ آیۃ اﷲ العظیمی قم ایران ۳/ ۱۴۷
القرآن اکریم ۲۷ /۲۲۷
القرآن اکریم ۱۶/ ۴۳ و ۲۱/ ۷
#6483 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مراد لے کر مبحث تقلیدی سے آیت کو بیگانہ بتانا غیر مقلدوہابیوں کی نری جہالت ہے
اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ کہ مخصوص سبب کا الی ذلك من الفوائد مما یستخرجہ البصیر الناقد(دیگر فوائد جن کو پرکھنے والے صاحب بصیرت نے ظاہر کیا ہے۔ ت)شاہ صاحب کی یہ نفیس عبارت کس قدر قابل قدر و منزلت کہ معدود حرفوں میں کتنے فوائد نفیسہ بتاگئے اور آدھی بلکہ دو تہائی وہابیت کو خاك میں ملاگئے والحمد ﷲ رب العالمین۔
اب پھر شمار عبارات کی طرف چلئے ۱۲تمام خاندان دہلی کے آقائے نعمت وخداوند دولت ومرجع و منتہی ومفرغ وملجا وسید ومولی جناب شیخ مجدد صاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ اپنے مکتوبات کی جلد اول میں فرماتے ہیں:
ہیچ طریقے اقرب بوصول از طریق رابطہ نیست تاکدام دولتمند رابآں سعادت مستسعد سازند " وصول کے طریقوں میں سے اقرب ترین طریقہ رابطہ ہے کہ بہت سے ابدی دولت والے اس سے بہرہ ور ہوئے ہیں۔(ت)
۱۳اسی میں ہے:
"مخدومامقصد اقصی ومطلب اسنی وصول بجناب قدس خداوندی ست جل سلطانہ لیکن چوں طالب در ابتداء بواسطہ تعلقات شتی درکمال تدنس وتنزل ست وجناب قدس اوتعالی درنہایت تنزہ وترفع ومناسبتے کہ سبب افاضہ واستفاضہ است درمیان مطلوب وطالب مسلوب ست لاجرم از پیر راہ دان راہ بین چارہ نمودہ کہ برزخ بود(الی قولہ)پس درابتدا ودر توسط مطلوب رابے آئینہ پیر نمیتواں دید " اے میرے مخدوم! سب سے بڑا اور اعلی مقصد اﷲ جل شانہ تك رسانی ہے لیکن کوئی طالب ابتدائی مرحلہ میں دنیاوی مشاغل کی وجہ سے انتہائی کثافت اور کہتری میں ہوتا ہے جبکہ اﷲ تعالی انتہائی پاك اور بلند ذات ہے اس وجہ سے طالب ومطلوب کے درمیان فیض کے حصول وعطا کے لئے کوئی مناسبت نہیں ہے لہذا ضروری ہے راستہ جاننے اور دیکھنے والا مرشد واسطہ بنے(اوریہاں تك فرمایا)ابتدائی اور درمیائے مرحلہ میں پیر کے آئینہ کے بغیر مطلوب کو نہیں دیکھ سکتا۔(ت)
حوالہ / References مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب صد وہشتا دو ہفتم نولکشور لکھنؤ ۱/ ۱۸۷
مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب ۱۶۹ استانبول ترکیہ ۱/ ۲۸۱
#6484 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
۱۴جلد دوم میں فرمایا:
"نسبت رابطہ ہموارہ شمار باصاحب رابطہ می دارد وواسطہ فیض انعکاسی می شود شکرا یں نعمت عظمی بجاباید آورد" ۔ تمھارے رابطہ کی نسبت صاحب رابطہ کے ساتھ ہموا ر ہوجائے اور فیوض کاواسطہ عکس ڈالے تو اس عظیم نعمت کا شکر بجالانا چاہئے۔(ت)
۱۵جلدسوم میں لکھا:
پرسیدہ بودند کہ لم ایں چیست کہ چوں درنسبت رابطہ فتور میرود دراتیان سائر طاعات التذاذ نمی یابد بدانند کہ ہماں وجہیکہ سبب فتور رابطہ گشتہ است مانع التذاذ ست(الی قولہ)استغفار باید نمود تابکرم اﷲ سبحنہ اثر آں مرتفع گردد " آپ سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ جب رابطہ والی نسبت میں فتور ہوجائے تمام عبادات کی لذت میں فتور پیدا ہوجاتاہے تو فرمایا یاد رکھو کہ جس وجہ سے رابطہ میں فتور آتا ہے وہی لذت سے مانع ہوجاتی ہے اور(بعد میں یہاں تك فرمایا) اس موقعہ پر استغفار کرنی ضروری ہے تاکہ اﷲ تعالی اپنے کرم سے اس مانع اثر کو اٹھادے۔(ت)
اور ۱۶ذرا وہ بھی ملاحظہ ہوجائے جو انھوں نے مکتوبات کی جلد دوم مکتوب سیم میں فرمایا:
"خواجہ محمد اشرف ورزش نسبت رابطہ از نوشتہ بودند کہ سجدے استیلا یافتہ است کہ درصلوات آں را مسجود خود مے داند ومے بیند واگر فرضا نفی کند منتفی نمیگر دد محبت اطوار ایں دولت متمنائے طلاب است ازھزاراں یکے رامگر بد ہند صاحب ایں معاملہ مستعد تام المناسبۃ سبب یحتمل کہ باندك صحبت شیخ مقتدا جمیع کمالات اوراجذب نماید رابطہ راچرا خواجہ محمد اشرف نے نسبت رابطہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ سجدے میں رفعت ہوتی ہے جب شیخ کو نمازوں میں مسجود سمجھے اور دیکھے اگر بالفرض وہ اس کی نفی کرے بھی تو منتفی نہ ہو یہ محبت کا ایك مرحلہ ہے طالب حضرات ہزاروں اس دولت کی تمنا کرتے ہیں مگر حاصل کسی ایك کو ہوتا ہے یہ عطا کا معاملہ مناسبت تامہ کی وجہ سے ہوتا ہے شیخ کی تھوڑی سی صحبت کے سبب کبھی
حوالہ / References مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب بست وچہارم نولکشور لکھنو، ۲/ ۲۱
مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب صدو ہفتم نولکشور لکھنو، ۳/ ۱۹۸
#6492 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
نفی کنند کہ اومسجود الیہ است نہ مسجود لہ چرا محاریب ومساجد رانفی نکنند ظہور ایں قسم دولت سعادت منداں رامیسر است نادر جمیع احوال صاحب رابطہ متوسط خود دانند ودرجمیع اوقات متوجہ اوباشتند ودررنگ جماعہ بے دولت کہ خود رامستغنی دانند وقبلہ توجہ از شیخ خود منحرف سازند ومعاملہ خود رابرہم زنند" تمام کمالات شیخ اس طالب میں جذب کردیتا ہے رابطہ کی نفی لوگ کیوں کرتے ہیں حالانکہ شیخ و مقتداء مسجود الیہ ہوتا ہے نہ کہ مسجود لہ یہ لوگ محراب اور مساجد کی نفی کیوں نہیں کرتے ہیں(حالانکہ وہ بھی مسجود الیہ ہیں)یہ دولت خاص سعاد تمندوں کو میسرہوتی ہے حتی کہ وہ تمام احوال میں صاحب رابطہ کو واسطہ جانتے ہیں اور تمام اوقات میں اسی کی طرف متوجہ رہتے ہیں ان لوگوں کی طرح نہیں جو بے دولت ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو مستغنی سمجھتے ہیں اور شیخ سے اپنی توجہ کا قبلہ موڑ لیتے ہیں او ر اپنا معاملہ خود خراب کرلیتے ہیں۔(ت)
الحمدﷲ اس عبارت باہرہ کا ایك ایك کلمہ قاہرہ ازبیخ برکن نجدیت بائرہ ہے وﷲ الحجۃ الظاھرہ
آمدیم ونصوص علماء کتاب مستطاب ۱۷حدائق الانوار فی الصلوۃ واسلام علی النبی المختار صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں ہے:
الحدیقۃ الخامسۃ فی الثمرات التی یجتنیھا العبد بالصلوۃ علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والفوائد التی یکتسبھا ویقتنیھا ۔ پانچواں حدیقہ ان پھلوں کے بیان میں ہے جنھیں بندہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر درود بھیج کر چنتاہے اور ان فائدوں میں جنھیں درود کی برکت سے کسب وتحصیل کرتاہے۔
پھر چالیس۴۰ فائدے گناکرکہتے ہیں:
الاحدی والاربعون من اعظم الثمرات و اجل الفوائد المکتسبات بالصلوۃ علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انطباع صورۃ الکریمۃ فی النفس ۔ وہ فائدے جو نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر دورد بھیج کر حاصل کر تے ہیں ان میں اجل واعظم فائدوں سے حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت کریمہ کا دل میں نقش ہوناہے۔
حوالہ / References المکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب ۳۰ نولکشورلکھنؤ ۲/ ۴۶
حدائق الانورا فی الصلوٰۃ والسلام علی النبی المختار
حدائق الانورا فی الصلوٰۃ والسلام علی النبی المختار
#6494 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
۱۸امام ابو عبداﷲ ساحلی رضی اﷲ تعالی عنہ بغیۃ السالك میں فرماتے ہیں:
ان من اعظم الثمرات واجل الفوائد المکتسبات بالصلوۃ علیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انطباع صورتہ الکریمۃ فی النفس انطباعا ثابتا متا صلامتصلا و ذلك بالمداومۃ علی الصلوۃ علی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باخلاص القصد وتحصیل الشروط و الاداب و تدبر المعانی حتی یتمکن حبہ من الباطن تمکنا صادقا خالصا یصل بین نفس الذاکر ونفس النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویؤلف بینھما فی محل القرب و الصفا الخ۔ ثمرات وفوائد کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر دورد بھیج کر حاصل کئے جاتے ہیں ان کے اعظم و اجل سے یہ ہے کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت کریمہ کا پائدار ومستحکم ودائمی نقش دل میں ہوجائے یہ یوں حاصل ہوتاہے کہ نیت خالص ورعایت شروط آداب وغور وفکر معانی کے ساتھ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی مداومت کریں یہاں تك کہ حضور کی محبت ایسے سچے خالص طور پر دل میں جم جائے جس کے سبب نفس ذاکر کو نفس اقدس حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اتصال اور محل تقرب و صفامیں باہم الفت حاصل ہو۔
۱۹علامہ فاسی محمد بن احمد بن علی قصری رحمۃ اﷲ علیہ مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات میں فرماتے ہیں:
قد ذکر بعض من تکلم علی الاذکار وکیفیۃ التربیۃ بہا انہ اذا کمل لاالہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فلیشخص بین عینیہ ذاتہ الکریمۃ بشریۃ من نور فی ثیاب من نور یعنی لتنطلع صورتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی روحانیتہ ویتالف معہا تالفا یتمکن بہ من الاستفادۃ من اسرارہ و الاقتباس من انوارہ صلی اﷲ تعالی یعنی بعض علماء جنھوں نے اذکا ر اور ان سے تربیت مریدین کی کیفیت بیان کی فرماتے ہیں کہ جب ذکر لا الہ الا اﷲ محمد رسو ل اﷲ کو کامل کرے تو چاہئے کہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا تصور اپنے پیش نظر جمائے بشری صورت نور کی طلعت نور کے کپڑوں میں اس غرض سے کہ حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت اس کے آئینہ روح میں منقش ہوجائے اور وہ الفت پیدا ہو جس کے سبب حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے اسرار سے استفادہ اور انوار سے
حوالہ / References بغیۃ السالک
#6496 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
علیہ وسلم قال فان لم یرزق تشخص صورۃ فیری کانہ جالس عند قبرہ المبارك یشیرالیہ متی ماذکرہ فان القلب متی ماشغلہ شیئ امتنع من قبولہ غیرہ فی الوقت الی اخر کلامہ فیحتاج الی تصویر الروضۃ المشرفۃ والقبور المقدسۃ لیعرف صورتھا یشخصہا بین عینیہ من لم یعرف من المصلین علیہ فی ہذا الکتب وہم عامۃ الناس وجمھورھم اھ ملخصا۔ اقتباس کرسکے وہی عالم فرماتے ہیں جسے حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت کریمہ کا تصور روزی نہ ہو وہ یہی خیال جمائے کہ گویا مزار مبارك کے سامنے حاضر ہے اور ہر بار ذکر شریف کے ساتھ مزار اقدس کی طرف اشارہ کرتا رہے یہ اس لئے کہ دل کو جب ایك چیز مشغول کرلیتی ہے تو اس وقت دوسری کسی شے کو قبول نہیں کرتا اسے نقل کرکے علامہ فاسی فرماتے ہیں جب بات یہ ٹھہری تو روضہ مطہرہ وقبور معطرہ کی تصویر بنانے کی حاجت ہوئی کہ جن دلائل الخیرات پڑھنے والوں کو ان کا نقشہ معلوم نہیں اور اکثر ایسے ہی ہیں وہ پہچان لیں اور ان کا تصور پیش نظر رکھیں۔
۲۱شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ جذب القلوب الی دیار المحبوب صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وکتاب ترغیب اہل السعادات میں فرماتے ہیں:
ازفوائد صلاۃ برسید کائنات علیہ افضل الصلوۃ ست تمثل خیال وے صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم درعین کہ لازم کثرت صلاۃ ست بانعت حضور وتوجہ اللھم صل وسلم علیہ اھ ملتقطا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر درود پاك کے فوائد میں سے یہ ہے کہ آنکھ میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خیالی صورت قائم ہوجاتی ہے جس کے لئے حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نعت شریف کے ساتھ دورد شریف کی کثرت لازم ہے اور توجہ سے اللھم صل وسلم علیہ اھ ملتقطا(ت)
۲۲امام محمد ابن الحاج عبدری مکی قدس سرہ مدخل میں فرماتے ہیں:
من لم یقدر لہ بزیارۃ صلی اﷲ تعالی یعنی جسے مزار اقدس حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۴۴ و ۱۴۵
جذب القلوب الی دیار المحبوب باب ہفدہم مکتبہ نعیمیہ چوك دالگراں لاہور ص۱۸۰ تا ۱۸۲
#6498 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
علیہ وسلم بجسمہ فلینوھا کل وقت بقلبہ ولیحضر قلبہ انہ حاضر بین یدیہ متشفعا بہ الی من من بہ علیہ کما قال الامام ابومحمد بن السید البطلیوسی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فی رقعتہ التی ارسلھا الیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من ابیات
الیك افر من زللی وذنبی
وانت اذا لقیت اﷲ حسبی
وزورۃ قبرك المحجوج قدما
منای وبغیتی ولوشاء ربی
فان احرم زیارتہ بجسمی
فلم احرم زیارتہ بقلبی
الیك غدت رسول اﷲ منی
تحید مومن دنف محب ۔ علیہ وسلم کی زیارت جسم سے نصیب نہ ہوئی ہو وہ ہروقت دل سے اس کی نیت رکھے اور دل میں یہ تصور جمائے کہ میں حضور پر نور صلوۃ اﷲ تعالی وسلامہ علیہ کے حضور حاضر ہوں حضور سے اس کی بارگاہ میں اپنے لئے شفاعت چاہ رہا ہوں جس نے حضور کی امت میں داخل فرما کر مجھ پر احسان کیا جیسا کہ امام محمد بن السید بطلمیوسی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے اپنی اس عرضی میں کہ مزار پر انوار بھیجی یہ ابیات عرض کیں کہ یارسول اللہ!میں اپنی لغزش وگناہ سے حضورہی کی طرف بھاگتاہوں او رجب میں خدا سے ملوں تو حضور مجھے کافی ہیں حضور کی قبر مبارك کی زیارت کی کہ ہمیشہ سے جس کا حج ہوتا ہے(یعنی مسلمان اس کی نیت کرکے دور دور سے حاضر ہوتے ہیں)میری آرزو مراد ہے۔ اگرمیرا رب چاہے اگر جسم سے اس کی زیارت مجھے نصیب نہ ہوئی تو دل کی زیارت سے محروم نہیں ہوں صبحدم حضور کی بار گاہ میں حاضر ہے یا رسول اللہ! میری طرف سے ایك مسلمان محب بیمار محبت کا مجرا۔
۲۳امام احمد بن محمد خطیب قسطلانی شارح صحیح بخاری مواہب لدنیہ ومنح محمدیہ اور ۲۴علامہ محمد زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
یلازم الادب والخشوع والتواضع غاض البصر فی مقام الہیبۃ کما کان یفعل بین ید یہ فی حیاتہ(اذھو حی)ویستحضر علمہ یعنی زائر ادب وخشوع وتواضع کو لازم پکڑے آنکھیں بند کئے مقام ہیبت میں کھڑا ہوجیسا حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے عالم حیات ظاہری میں حضور کے سامنے کرتا کہ
حوالہ / References المدخل لابن الحاج فصل فی الکلام علی زیارۃ سید المرسلین الخ دارالکتب العربی بیروت ۱/ ۲۵۸
#6499 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
بوقوفہ بین یدیہ علیہ الصلوۃ والسلام سماعہ لسلامہ کما ہو فی حال حیاتہ اذلا فرق بین موتہ و حیاتہ فی مشاھدتہ لامتہ ومعرفتہ باحوالھم و نیاتھم و عزائمھم وخواطرھم وذلك عندہ جلی لاخفاء بہ ویمثل(یصور)الزائر وجہہ الکریم علیہ الصلوۃ و السلام فی ذھنہ ویحضر قلبہ جلال رتبتہ و علم منزلتہ وعظیم حرمتہ اھ ملخصا وہ اب بھی زندہ ہیں اور تصور کرے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اس کی حاضری سے آگاہ ہیں اس کا سلام سن رہے ہیں بعینہ اسی طرح جیسے حال حیات ظاہری میں کہ حضور کی وفات و حیات دونوں ان امور میں یکساں ہیں کہ حضور اپنی امت کو دیکھتے اور ان کے احوال کو پہچانتے ہیں اور ان کی نیتوں اور ارادوں اور دل کے خطروں سے آگاہ ہیں اور یہ سب باتیں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر ایسی روشن ہیں جنھیں اصلا پوشیدگی نہیں اور زائر اپنے ذہن میں حضور والا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے چہرہ کریمہ کا تصور جمائے اور دل میں حضور کی بزرگی مرتبہ وبلندی قدرواحترام عظیم کا خیال لائے۔
۲۵علامہ رحمت اﷲ ہندی تلمیذ امام ابن الہمام منسك متوسط اور ۲۶علامہ علی قاری مکی اس کی شرح مسلك متقسط میں فرماتے ہیں:
ثم توجہ(ای بالقلب والقالب)مع رعایۃ الادب فقام تجاہ الوجہ الشریف متواضعا خاضعا خاشعا مع الذلۃ والانکسار والخشیۃ والوقار والہیبۃ والافتقار غاض الطرف مکفوف الجوارح فارغ القلب(من سوی مرامہ)واضعا یمینہ علی شمالہ مستقبلا لوجہ الکریم مستدبر القبلۃ متمثلا صورتہ الکریمۃ فی خیالک(ای فی تخیلات بالك لتحسین حالک) مستشعرا یعنی زائر دل وبدن دونوں سے بنہایت ادب مزار اقدس کی طرف متوجہ کو کر مواجہہ شریف میں کھڑا ہو تواضع وخشوع و خضوع وتذلل وانکسار وخوف ووقار وہیبت ومحتاجی کے ساتھ آنکھیں بند کئے اعضاء کو حرکت سے روکے دل اس مقصود مبارك کے سوا سب فارغ کئے ہوئے داہنا ہاتھ بائیں پر باندھے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی طرف منہ اور قبلہ کو پیٹھ کرے دل میں حضور انور صلوات اﷲ تعالی وسلامہ علیہ کی صورت کریمہ کا تصور باندھے کہ یہ خیال تجھے
حوالہ / References شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد العاشر الفصل الثانی دارالمعرفۃ بیروت ۸/ ۳۰۵
#6500 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
بانہ علیہ الصلوۃ والسلام عالم بحضورك وقیامك وسلامک(ای بل بجمیع افعالك واحوالك وارتحالك ومقامک)وکانہ حاضر جالس بازائك مستحضرا عظمتہ وجلالہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اھ ملخصا۔ خوشحال کر دے گا اور خوب ہوشیار ہوجا کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تیری حاضری وقیام وسلام بلکہ تمام افعال واحوال اور منزل منزل کے کوچ ومقام سے آگاہ ہیں اور یہ تصور کر کہ گویا حضور تیرے سامنے حاضر وتشریف فرماہیں اور حضور کی عظمت وجلال کا خیال اپنے ذہن میں حاضر رکھ۔
۲۷امام مجدالدین ابوالفضل عبداﷲ بن محمود موصلی اپنے متن مختار کی شرح اختیار میں پھر علمائے دولت علیہ سلطان اورنگزیب انار اﷲ برہانہ فتاوی عالمگیری میں فرماتے ہیں:
یقف کما یقف فی الصلوۃ ویمثل صورتہ الکریمۃ البھیۃ کانہ نائم فی لحدہ عالم بہ یسمع کلامہ ۔ یعنی زائر روضہ منورہ کے حضور دست بستہ بادب یوں کھڑا ہو جیسے نماز میں کھڑا ہوتاہے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت کریمہ روشن کا تصور باندھے گویا حضور مرقد اطہر میں لیٹے ہیں زائر کو جانتے اور اس کا کلام سنتے ہیں۔
۲۸امام اجل قاضی عیاض نے شفا شریف میں امام ابواہیم تجیبی سے نقل فرمایا کہ وہ فرماتے ہیں:
واجب علی کل مؤمن متی ذکرہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم او ذکر عندہ ان یخضع ویخشع ویتوقر ویسکن من حرکتہ ویاخذ فی ھیبتہ واجلالہ بما کان یاخذ نفسہ لوکان بین یدیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویتادب بماادبنا اﷲ تعالی بہ ہر مسلمان پر واجب ہے جب حضور پر نور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ذکر کرے یا حضور کا ذکر اس کے سامنے کیا جائے کہ خشوع وخضوع ووقار بجالائے جسم کا کوئی ذرہ حرکت نہ کرے جس طرح خود حضور انور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے سامنے خاص حضوری میں رہتا ہے حضور کا ادب کرے جیسا کہ اﷲ تعالی نے ہمیں اس جناب کے لئے مودب ہوناسکھایا۔
حوالہ / References المسلك المتقسط فی المنسك المتوسط مع ارشاد الساری دارالکتاب العربی بیروت ص۳۳۷، ۳۳۸
الاختیار لتعلیل المختار فصل فی زیارۃ قبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالمعرفہ بیروت ۱/ ۱۷۶
الشفا بتعریف حقوق المصطفی فصل واعلم ان حرمۃ النبی الخ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۲/ ۳۴
#6501 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
۲۹علامہ شہاب الدین خفاجی اس کی شرح نسیم الریاض میں اس پر فرماتے ہیں:
یفرض ذلك ویلا حظہ ویتمثلہ فکانہ عندہ ۔ یعنی ذکر شریف کے وقت یہ فرض ملاحظہ کرے کہ خاص حضوری میں ہوں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی صورت کا تصور جمالیا جائے کہ گویا حضور اس کے پاس جلوہ فرما ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
۳۰فاضل رفیع الدین خان مراد آبادی تاریخ الحرمین میں لکھتے ہیں:
شبے در طواف بودم وہجوم بسیار بود بخیال خود حضور آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یاد کر دم تصور نمودم کہ آں سرور علیہ وآلہ الصلوۃ والسلام وطوائف ہستند وجماعت صحابہ بآنحضرت طواف میکنند ومن بطفیل ایشاں درمجمع حاضرم وروزے پیش باب بیت اﷲ ایستادہ دعا میکردم وباخود قصہ روز فتح یاد کردم وتصور نمودم کہ جناب اقدس نبوی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم در دروازہ ایستادہ اندوصحابہ کرام بحسب مرتبہ ومقام خود درخدمت شریف حاضر اند و کفار قریش ترساں وہراساں درحضور آمدہ اند و آنحضرت ازایشاں عفو فرمودہ ملاحظہ ایں حال باعث شد بتوسل از آنجناب ودعا درحضرت عزت جلت عظمتہ برائے مغفرت خود جمیع اقارب واحباب وقضائے حوائج دین ودنیا ونر جو من اﷲ الاجابۃ ان شاء اﷲ تعالی ایك رات میں طواف کررہا تھا ہجوم کثیر تھا میں نے اپنے خیال میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو یادکیا اور تصور کیا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام طواف فرمارہے ہیں اور صحابہ کرام کی جماعت بھی حضور کے ساتھ طواف کررہی ہے اور میں بھی آپ کے طفیل وہاں مجمع میں حاضرہوں اور ایك روز میں بیت اﷲ شریف کے آگے کھڑا دعا کررہا تھا کہ مجھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا فتح مکہ والا منظر یاد آیا اور تصور کیاکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام فتح کے روز بیت اﷲ شریف کے دروازے پر تشریف فرماہیں اور صحابہ کرام اپنے مراتب کے لحاظ سے اپنی جگہ پر خدمت میں حاضر ہیں اور کفار مکہ ڈرتے ہوئے پریشان آپ کے سامنے آرہے ہیں اور آپ ان کو معاف فرمارہے ہیں اس تصور کی برکت سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے وسیلے اور اﷲ تعالی کے دربارمیں دعا کے
حوالہ / References نسیم الریاض فی شرح الشفا للعیاض فصل واعلم ان حرمۃ النبی الخ ادارۃ تالیفات اشرفیہ ملتان ۳/ ۳۹۶
#6502 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
دوستاں راکجا کنی محروم
توکہ بادشمناں نظر داری سبب تمام اقارب واحباب کی مغفرت اورحاجتیں تمام دنیاوی اور دینی قبول ہونے کی امید ہوئی ان شاء اﷲ تعالی
دوستوں کوتو آپ کیا محروم کریں گے آپ تو دشمنوں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔(ت)
الحمدللہ! یہ سردست تیس نصوص عظیم الفوائد ہیں اور جو باقی رہ گئے وہ ان سے بہت زائد پھر نصف کہ اس قدر بھی کافی اور مکابر متعسف کو دفتر ناوافی نسأ ل اﷲ العفو والعافیہ(ہم اﷲ تعالی سے معافی وعافیت مانگتے ہیں۔ ت)
تنبیہ لطیف:یہ تو شاہ عبدالعزیز صاحب کی تقریر سے روشن ہولیا کہ جواز برزخ اطلاق آیات قرآنیہ سے ثابت ومستفاد اور یہ بھی کہ حضرت اولیاء کا امور طریقت میں مرجع ومسؤل اور ان کے ارشادات کا معمول ومقبول ہونا آیۃ کریمہ فاسئلوا اھل الذکر کامفاد اوریہ بھی ان کے کلام میں اشارۃ اور تقریر معلم ثالث میں صراحۃ گزرا کہ اولیائے طریقت مثل مجتہدان شریعت ہیں اور خود امام الطائفہ نے بھی صراط المستقیم میں ان کامجتہد فی الطریقۃ ہونا تسلیم کیا ۔ حیث قال:
اولیائے کبار از اصحاب طرق کہ امامت درفن باطن شریعت حاصل کردہ واجتہاد درقواعد اصلاح قلب کہ خلاصہ دین متین ست بہم رسانیدہ بودند ۔ بڑے بڑے اولیائے کرام اور اصحاب طریقت نے فن باطن شریعت میں امامت حاصل کی اور اپنے اجتہاد سے انھوں نے اصلاح قلب کے قواعد عطا کئے جوکہ کتاب وسنت کا خلاصہ ہے۔(ت)
مگر مجھے یہاں یہ بیان کرنا ہے کہ بطور حضرات نہ صرف جوازبرزخ بلکہ اس کی ترغیب شدید وتحریص اکید اور اس کا اقرب الطرق الی اﷲ ہونا خود امام المجتہد شریعت کے صریح وروشن اشاروں سے ثابت ہولیا پوچھئے وہ کیونکر ہاں وہ یوں کہ کلمات مذکورہ جناب شیخ مجدد صاحب پر پھر نظر ڈالیے دیکھئے یہ باتیں ان میں صاف صریح موجود ہیں یا نہیں جب دیکھ لیجئے تو اب جناب مرزا مظہر جان جاناں صاحب کا کلام سنئے جنہیں سن چکے کہ امام الطائفہ کے جدو فرجد جناب شاہ ولی اﷲ صاحب کیسا کچھ جانتے وہ تصریح فرماتے ہیں کہ حضرت مجددنہ فقط طریقت میں مجدد بلکہ شریعت میں بھی امام مجتہد تھے مکتوب پانزدہم میں لکھتے ہیں:
حوالہ / References تاریخ الحرمین رفیع الدین مراد آبادی
صراط مستقیم باب اول فصل ثانی ہدایت رابعہ فادہ نمبر ۵ المکتبہ السلفیہ لاہور ص۴۱
#6503 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
حضرت مجدد الف ثانی رضی اﷲ تعالی عنہ کہ نائب کامل آنحضرت اند بنائے طریقہ خود رابراتباع کتاب وسنت گزاشتہ اند وعلماء دراثبات رفع سبابہ رسالہا مشتمل بر احادیث صحیحہ و روایات فقہیہ حنفیہ تصنیف کردہ اند تابجائیکہ حضرت شاہ یحیی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرزند اصغر حضرت مجدد نیز دریں باب رسالہ تحریر نمودہ اند ودرنفی رفع یك حدیث بہ ثبوت نہ رسیدہ وترك رفع از جناب حضرت مجدد بنا عــــــہ بر اجتہاد واقع شدہ وسنت محفوظ از نسخ براجتہاد مجتہد مقدم ست ۔ حضرت مجدد الف ثانی رضی اﷲ تعالی عنہ جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے کامل نائب ہیں انھوں نے کتاب وسنت کی پیروی میں اپنے طریقہ کے قواعد بنائے اور علمائے کرام احادیث صحیحہ اور منتخب حنفی روایات پر مشتمل رسائل رفع سبابہ کے مسئلہ کے اثبات میں لکھے حتی کہ مجدد صاحب کے چھوٹے صاحبزادے حضرت شاہ یحیی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے بھی اس مسئلہ کے اثبات میں ایك رسالہ تصنیف فرمایا اور لکھا کہ رفع سبابہ کی نفی میں ایك حدیث بھی پایہ ثبوت کو نہ پہنچی اور ترك رفع سبابہ پر حضرت مجدد صاحب نے جو لکھا وہ ان کے اجتہاد پر مبنی ہے جبکہ غیر منسوخ سنت مجتہد کے اجتہاد پر مقدم ہوتی ہے۔(ت)

عــــــہ: جاناں ایں سخن مرزا صاحب بہ اجتہاد خود گفتہ باشند ورنہ ملاحظہ مکتوبات حضرت مجدد گواہ عادل ست کہ ترك رفع محض بربنائے تقلید ائمہ حنفیہ فرمودہ اند وآنہم بمجرد تقدیم ظاہر الروایۃ برنوادروترك اتباع احادیث صحیحہ صریحہ کثیرہ بمقابلہ روایت ظاہرہ فقہیہ ایں بار سالہ الکوکبۃ الشہابیۃ دیدن وارد بعونہ تعالی بروہابیہ لہابیہ آتش قہرمے بارد وباﷲ التوفیق ۱۲۔ حضرت مرز ا مظہر جان جاناں کایہ کلام اپنے اجتہاد پر مبنی ہے ورنہ حضرت مجدد صاحب رحمۃاﷲ تعالی علیہ کے مکتوبات کو ملاحظہ کرنے پرواضح گواہی ملتی ہے کہ رفع سبابہ کا ترك خالص امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی تقلید پر مبنی ہے کہ مذہب کی ظاہر الروایت نوادر کے مقابلہ میں اور صریح صحیح احادیث کی اتباع کی بجائے فقہی ظاہرالروایت کو مقدم رکھا جاتا ہے میرے رسالہ الکوکبۃ الشہابیۃ کا یہ مقام دیکھنا چاہئے وہابیوں پر وہ آتش قہر ہے وباﷲ التوفیق ۱۲۔(ت)
حوالہ / References کلمات طیبات فصل دوم مکاتیب مرزا مظہر جانجاناں مکتوبات پانزدہم مطبع مجتبائی دہلی ص۲۸
#6504 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
اب امام الطائفہ وغیرہ منکرین جنھیں نہ طریقت میں لیاقت نہ شریعت میں مہارت بھلا منصف تجدید واجتہاد تو بڑی بات ہے ولی مجدد امام مجتہد کے مقابل ایسوں کی زق زق کون سنتاہے۔ اگرچہ ع
مغز ماخورد وحلق خود بدرید
(ہمارا مغز کھالیا اور اپنا گلا پھاڑلیا)
تنبیہ الطف:یہاں تك تو امام مجتہد ہی کے قول سے ثبوت تھا امام الطائفہ کے ایمان پر خود ایك معصوم صاحب وحی کی نص جلی سے جواز برزخ ثابت اب زیادہ توجہ کیجئے گا کہ یہ کیا مگر امام الطائفہ کی سنی ہوتی تو تعجب نہ آتا وہ صراط مستقیم میں تصریح کرتا ہے کہ اولیاء میں جو حکیم ہوتا ہے جسے صدیق وامام ووصی بھی کہتے ہیں اس پر خدا کے یہاں سے وحی آتی ہے اسے نہ صرف بعض احکام کو نیہ غیب و شہادات ومعاملات جزئیہ سلوك وطریقت بلکہ خاص احکام کلیہ شریعت وملت بے واسطہ انبیاء بھی پہنچتے ہیں وہ انبیاء کا ہم استاذ ہوتاہے وہ انبیاء کی مثل معصوم ہوتا ہے اس پر خاص امور شرعیہ میں کچھ تقلید انبیاء مطلقا ضرور نہیں بلکہ ایك وجہ سے وہ خود محقق ہوتاہے اس کا علم جسے حکمت کہتے ہیں علم انبیاء سے اصلا کم نہیں ہوتا صرف اتنا فرق ہے کہ انبیاء پرعلانیہ وحی آتی ہے اور اس پر پوشیدہ قال:
پوشیدہ نخواہد ماند کہ صدیق من وجہ مقلد انبیاء مے باشد ومن وجہ محقق درشرائع علوم کلیہ شرعیہ او رابدو واسطہ مے رسد بوساطت نورجبلی وبوساطت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پس درکلیات شریعت وحکم احکام ملت اوراشاگرد انبیاء ہم مے تواں گفت وہم استاذ انبیاء ہم ونیز طریقہ اخذ آں ہم شعبہ ایست از شعب وحی کہ آں را درعرف شرع بنفث فی الروح تعبیر می فرمایند وبعضے اہل کمال آں را بوحی باطنی مے نامند ہمیں معنی رابامامت ووصایت تعبیر می کنند و پوشیدہ نہ رہے کہ صدیق من وجہ انبیاء کا مقلد ہوتا ہے اور من وجہ شریعت میں محقق ہوتا ہے علوم شرعیہ کلیہ اس کو دو ذریعوں سے حاصل ہوتے ہیں ایك بذریعہ فطری نور اور دوسرا بذریعہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام لہذا اس کو شریعت کے کلیات اور احکام کے حکم میں انبیاء کا شاگرد کہہ سکتے ہیں اور انبیاء کا استاذ بھی نیزان کا طریقہ اخذ بھی وحی کی طرح ہوتا ہے اس کو عرف شرع میں نفث فی الروح سے تعبیر کرتے ہیں اور بعض اہل کمال اس کو باطنی وحی قرار دیتے ہیں اس معنی میں اس کو امامت اور وصایت سے تعبیر کرتے ہیں اور
#6505 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
علم ایشاں را کہ بعینہ علم انبیاء ست لیکن بوحی ظاہری متلقی نشد بحکمت مے نامند لابد او رابمحافظتے مثل محافظت انبیاء کہ مسمی بعصمت ست فائز مے کنند وایں حفظ نصبیہ انبیاء وحکماء ست وہمیں را عصمت نامند ندانی کہ اثبات وحی باطن حکمت و و جاہت وعصمت مرغیر انبیاء رامخالف سنت واز جنس اختراع بدعت ست ندانی کہ ارباب ایں کمال از عالم منقطع شدہ اند اھ ملتقطا ۔ اس کا علم بعینہ انبیاء کا علم ہوتا ہے لیکن ظاہری وحی نہیں پاتا اس کو حکمت کہتے ہیں اس لئے کہ انبیاء کی طرح اس کو حفاظت حاصل ہوتی ہے جس کو عصمت کہتے ہیں جو انبیاء اورحکماء کو نصیب ہوتی ہے یہ نہ سمجھنا کہ وحی باطن اور حکمت وجاہت اور عصمت غیر انبیاء کے لئے ثابت کرنا سنت کے خلاف اور نئی اختراع ہے اور بدعت ہے اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ اس کمال کے لوگ دنیا سے ختم ہوچکے ہیں اھ ملتقطا (ت)
صراط مستقیم معوج ونامستقیم چھپی نہیں چھپی ہے مطبوع مطبع ضیائی میرٹھ ۱۲۸۵ھ کے آخر صفحہ ۳۸ سے ثلث صفحہ ۴۲ تك ان کفریات شنیعہ ورفضیات فظیعہ کا جوش دیکھ لیجئے خیر ان کی اصطلاح شیطانی پر حکیم وحکمت کے معنی تو معلوم ہولئے کہ حکمت یہی علوم صدیقیت ہیں جو ان باطنی ساختہ نبیوں کو بذریعہ وحی نہانی ملتے ہیں۔
اب ملاحظہ ہو کہ یہیں اسی بحث میں شاہ ولی اﷲ صاحب کو نہ نراحکیم بلکہ سید الحکماء کہا حیث قال:
ایں صدیقیت راجناب سید الحکماء وسید العلماء اعنی الشیخ ولی اﷲ بقرب الوجود تعبیر میفر مایند ۔ اس صدیقیت کو جناب سید الحکماء وسید العلماء جس سے مرا دشاہ ولی اﷲ ہیں قرب الوجود سے تعبیر کرتے ہیں۔(ت)
اب کیا شك رہا کہ ان کے یہاں پر شاہ صاحب بھی(استغفراللہ)انھیں چھپے رسولوں بوڑھے معصوموں میں ہیں اور ان کے علوم میں وحی نہانی سے ان پر اترے اور ان کی سن چکے کہ وہ انتباہ وغیرہ میں مثالی برزخ کی کیسی کیسی تجویز وتحسین وتعلیم وتلقین کرتےہیں پھر اس کا انکار نہ ہوگا مگر اپنے ساختہ پیغمبر کا رد کرکے اپنے طور پر کافر ہوجانا غایت یہ کہ ظاہری پیغمبر کا منکر کھلا کافر اور نہانی کا منکر ڈھکا کافر۔ والعیاذ باﷲ رب العالمین العزۃ ﷲ ان حضرات نے بات بات پر مسلمانوں کو کافر مشرك بنایا یہاں تك کہ
حوالہ / References صراط مستقیم باب اول فصل ثانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۳ تا ۳۶
صراط مستقیم باب اول فصل ثانی المکتبۃ السلفیہ لاہور ص۳۵
#6506 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
ان کے مذہب پر صلحاء وتابعین درکنار ان کے ساختہ پیغمبروں سے ہمارے سچے رسولوں تك کوئی ارتکاب شرك سے محفوظ نہ رہا یہ اس کی سزا ہے کہ ہر جگہ اپنے منہ آپ کافر ٹھہرتے ہیں کہ کرد و نیا فت کما تدین تدان ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العزیز المنان(جیسا کرے گا بدلہ دیا جائے ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العزیز المنان۔ ت)مولی تعالی صدقہ اپنے محبوبوں کا دین حق پر قائم رکھے اور ملت وسنت مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر دنیا سے اٹھائے امین!
الحمدﷲ کہ یہ مختصر جواب مظہر صواب اوائل جمادی الآخرہ ۱۳۰۹ھ میں مرتب اور بلحاظ تاریخ"الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ"ملقب ہوا۔ ربنا تقبل منا انك انت السمیع العلیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ واصحابہ اجمعین امین الحمدﷲ رب العلمین واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ
محمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
مسئلہ ۱۸۸: مرسلہ منشی عبیداﷲ حسن قلعہ بھنگیاں امر تسر رجب ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اپنے مریدوں سے اشعار ذیل سنے اور سن کو خوش ہو بلکہ تمغاء انعام دے ایسا شخص لائق بیعت ہے یانہیں خدا رسیدہ ہے یا نفس کا مطیع اہلسنت ہے یا اہل بدعت شعار یہ ہیں:
افتاب چرخ علم وفضل شمس العارفین قبلہ عالم سراج المتقین شاہ جہاں
سید السادات مطلوب علی شیر خدا عاشق محبوب رب العالمین فخر زمان
ماہر علم لدنی واقف اسرار غیب قطب عالم غوث اعظم وارث پیغمبراں
کس طرح اہل جہاں پر راز ان کا کھل سکے راز داں ان کا خدا ہے وہ خدا کے رازداں
اولیاء ہونے کو دنیا میں بہت ہیں اولیاء ان کی صور ان کی سیرت ان کی عادت کا کہاں
کچھ عجب ہیں یہ بھی حسن وعشق کے راز ونیاز مدح خواں ان کا خدا ہے وہ خدا کے مدح خوان
الجواب:
حب ثناء غالبا خصلت مذمومہ ہے اور کم از کم کوئی خصلت محمودہ نہیں اور اس کے عواقب خطر ناك ہیںحدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
حب الثناء من الناس یعمی ویصم۔ ستائش پسندی آدمی کو اندھا بہرا کردیتی ہے۔
#6507 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ (اس کو مسند الفردوس میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے روایت کیا ہے۔ت)
اوراگر اپنی جھوٹی تعریف کو دوست رکھےکہ لوگ ان فضائل سے اس کی ثناء کریں جو اس میں نہیں جب تو صریح حرام قطعی ہے۔
قال اﷲ" لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا فلا تحسبنہم بمفازۃ من العذاب ولہم عذاب الیم ﴿۱۸۸﴾ " والعیاذ باﷲ تعالی۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)ہر گز گمان نہ کرنا ان کو جو اپنے کئے پر خوش ہوتے اور دوست رکھتے ہیں کہ بے کئے پر سرا ہے جائیں تو زنہار انھیں عذاب کے بچاؤ کی جگہ نہ گمان کرنا اور ان کے لئے دردناك مار ہے۔والعیاذ باﷲ تعالی(ت)
ہاں اگر تعریف واقعی ہو تو اگر چہ تاویل معروف ومشہور کے ساتھجیسے شمس الائمہ وفخر العلماء وتاج العارفین وامثال ذلك (اماموں کے آفتاباہل علم کے لئے فخراور عارفوں کے تاجاور اسی قسم اور نوع کے دوسرے توصیف کلمات(جو مدح کی تعریف وتوصیف ظاہر کریں)۔ت)کہ مقصود اپنے عصر یا مصر کے لوگ ہوتے ہیں اور اس پر اس لئے خوش نہ ہو کہ میری تعریف ہورہی ہے بلکہ اس لئے کہ ان لوگوں کی ان کو نفع دینی پہنچائے گی سمع قبول سے سنیں گے جو ان کو نصیحت کی جائے گی تو یہ حقیقۃ حب مدح نہیں بلکہ حب نصح مسلمین ہے اور وہ محض ایمان ہے "واللہ یعلم المفسد من المصلح" (اور اﷲ تعالی اصلاح کرنے والے بگاڑنے والے سے جانتاہے۔(عینی وہ جانتاہے کون مصلح اور کون مفسد ہے)۔ت)طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے:
سبب حب الریاسۃ ثلثۃ ثانیھا التوسل بہ الی تنقیذ الحق واعزاز الدین واصلاح الخلق فہذا ان خلا عن المحذور کالریا والتلبیس وترك الواجب ریاست کی چاہت اور محبت کے تین اسباب ہیںدوسرا یہ ہے کہ اقتدار اس لئے چاہتاہے تاکہ اس کی وجہ سے نفاذ حق اعزاز دین اور لوگوں کی اصلاح کر سکےاگر یہ ممنوع امور مثلا ریاء تلبیساور واجب اور سنت کے چھوڑنے سے
حوالہ / References الفردوس بماثور المخطاب حدیث ۲۷۲۶ درالکت العلمیہ بیروت ۲ /۱۴۲
القرآن الکریم ۳ /۱۸۸
القرآن الکریم ۲ /۲۲۰
#6508 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
والسنۃ فجائز بل مستحب قال اﷲ تعالی عن العباد الصالحین واجعلنا للمتقین اماما اھ ملتقطا۔ خالی ہو تو نہ صرف جائزہے بلکہ مستحب(موجب اجرو ثواب ہے)چنانچہ اﷲ تعالی نے نیك بندوں کی حکایت بیان فرمائی (کہ وہ بارگاہ رب العزت میں عرض گزار ہوتے ہیں) اے پروردگار! ہمیں پرہیزگار اور ڈرنے والے لوگوں کا امام (یعنی پیشوا)بنا دے۔چیدہ اور منتخب عبارت مکمل ہوگئی۔ (ت)
اور جب معاملہ نیت پر ٹھہرا اور دلوں کا مالك اﷲ عزوجل ہے تو اس شخص کے حالات پر نظر لاز ہے۔اگر بے شرع ہے معاصی میں بیباك ہے یا جاہل بے ادراك ہے اور شوق پیری میں انہماك ہے تو خود ہی اس کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیں اور اب اس کا ان تعریفوں پر خوش ہونا ضرور قسم دوم میں ہے جسے قرآن عظیم میں فرمایا کہ انھیں عذاب سے دور نہ جانیو ان کے لئے دردناك سزا ہے اور اگر ایسا نہیں بلکہ سنی صحیح العقیدہ صالح الاعمال متصل السلسلہ ہے خلق اﷲ کو حق کی طرف دعوت کرتا منکرات سے روکتا باز رکھتاہے تو ضرور قابل بیعت ہے اور اب اس کے فعل مذکور کو اسی محل حسن پر حمل کرنا فرض اور اس پر بدگمانی حرام ہے۔
قال اﷲ تعالی یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم " ۔قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب ۔ الحدیث۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا:)اے مسلمانوں! بہت سے گمانوں سے بچو کہ کچھ گمان گناہ ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:)گمان سے دور بھاگو کہ گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔الحدیث۔
پھر بھی اسے چاہئے کہ اظہار تواضع میں کمی نہ کرے مریدوں کو اس پر انعام تمغے دے کر اور زیادہ برانگیختہ نہ کرے۔لوگوں کو اپنے اوپر بدگمانی کی راہ نہ دےرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے
حوالہ / References الطریقۃ المحمدیہ باب حب الناس یعمی ویصم مکتبہ حنفِیہ کوئٹہ ۱ /۵۴۔۱۵۳،الحدیقہ الندیہ حب الریاستہ الدنیویۃ ھو الخلق الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ فیصلہ آباد ۱/ ۴۲۔۴۴۱
القرآن الکریم ۴۹ /۱۲ صحیح البخاری کتاب الوصایا ۱/ ۳۸۴ و کتاب الفرائض ۲/ ۹۹۵ قدیمی کتب خانہ کراچی
صحیح البخاری کتاب الوصایا ۱/ ۳۸۴ و کتاب الفرائض ۲/ ۹۹۵ قدیمی کتب خانہ کراچی، صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب تحریم الظن ۲ /۳۱۶ و جامع الترمذی ابواب البر باب ماجاء فی سوء الظن ۲ /۲۰
#6509 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
اپنی نعت کریم کے قصائد سنے اور ان پر انعام عطا فرمائے اس پر قیاس نہ کرے خاك کو علام پاك سے نسبت نہ دے ان کی تعظیم ان کی محبتان کی ثناء ان کی مدحت سب عین ایمان ہے اور اس کا اظہار واعلان فرض اہم اور ان کاذکر عین ذکر الہیان کی ثناء عین حمد الہیامیر المومنین خلیفہ راشد سیدناعمر بن عبدالعزیز رضی ااﷲ تعالی عنہ کے حضور ایك شاعر حاضر ہوا کہ میں نے حضرت کی مدح میں کچھ اشعار کہے ہیں فرمایا میں سننا نہیں چاہتاعرض کی نعت شریف میں کچھ عرض کیاا ہے۔فرمایا سناؤ ایسے ائمہ راشدین کااتباع کرے خصوصا قطب عالم غوث اعظم جکیسے الفاظ کہ غالبا وہ اپنے وجدان سے ان الفاظ کو اپنے لئے صادق نہ جان سکے گا۔نسأل اﷲ العفو والعافیۃ والتوفیق لاتباع اقوام طریق۔(ہم اﷲ تعالی سے معافیصحت اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق مانگتے ہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹: مرسلہ عبدالغفور صاحب جمعدار اسٹیشن سورون ضلع ایٹہ ۲۱ جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ
گزارش یہ ہے کہ قادریہ میں سے سدا سہاگن ہوسکتاہے یانہیں اگر ہوسکتاہے تو کیا چیز پہننے کا حکم ہے فقط۔
الجواب:
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی اس مرد پر کہ عورتوں کی وضع بنائےقادریہ چشتیہ کسی فرقہ کا کوئی شخص سدا سہاگن نہیں پہن سکتا سب کوحرام ہے۔اﷲ ورسول کا حکم عام ہے۔بعض مجذوبین قدست اسرارہم ہم نے جو کچھ بحال جذب کیا وہ سند نہیں ہوسکتامجذوب عقل وہوش دنیانہیں رکھتا۔اس کے افعال اس کے ارادہ واختیار صالح سے نہیں ہوتے وہ معذور ہے۔ ع
ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے
ع کہ سلطان نگیرد خراج از خراب
(کیونکہ بادشاہ غیر آباد اور ویران زمین سے ٹیکس نہیں لیتا۔ت)واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۰: از شیر گڑھ ضلع بریلی تحصیل بہیڑی ڈاکخانہ خاص درمدرسہ مرسلہ مسمی عظیم اﷲ نائب مدرس ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
الحمداﷲ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ علی رسولہ محمد والہ و ہر تعریف اﷲ تعالی کے لئے ہے جو سب جہانوں کا پروردگار ہے اور اس کے رسول محمد کریم پر نزول رحمت ہو اور ان کی تمام آل اور سب
#6510 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
اصحابہ اجمعین۔ ساتھیوں پر باران رحمت ہو۔(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص داڑھی اور مونچھیں اور بھنویں منڈائے ہوئے ہوں تو مسلمانوں کو ایسے شخص کا مرید ہونا چاہئے یانہیں اور جو شخص داڑھی مونچھ منڈائے ہو اور کانوں میں مندرے پہنے ہو تو اس کا بھی مرید ہونا چاہئے یانہیں اور جو شخص گیسو دراز ہو اور گیسو اس کے مقام ہنسلی سے نیچے ہوں تو ایسے شخص کا بھی مرید ہونا چاہئے یانہیں یعنی یہ تینوں شخص قابل پیشوائی ہیں یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
داڑھی منڈانا حرام ہے بھنویں منڈانا حرام ہے۔مرد ہوکر کانوں میں مندرے پہنا حرام ہے۔شانوں سے نیچے ڈھلکے ہوئے عورتوں کے سے بال رکھنا حرام ہے۔مرد کو زنانی وضع کی کوئی بات اختیار کرنا حرام ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی ہے۔اور جو اﷲ ورسول کا ملعون ہو پیشوا نہیں ہوسکتا اس کا مرید ہونا حرام ہے بات یہ ہے کہ عورت کے رحم میں دو خانے ہیں دہنا خانہ لڑکے کے لئے اور بایاں لڑکی کے واسطےاور نطفہ مرد کا غالب آئے تولڑکا بنتاہے اور عورت کا غالب پڑا تو لڑکی بتنی ہے پھر اگر مردکا نطفہ غالب آیا اور رحم کے سیدھے خانے میں میں پڑا تو لڑکی ہوگیظاہر وباطن عورت اور اگر نطفہ مرد کا غالب آیا اور رحم کے بائیں خانے میں گر ا تو ہوگا صورت میں لڑکامگر دل میں زنانہاسے داڑھی منڈانے گہنا پہننےہاتھ پاؤں میں مہندی لگانےعورتوں کے سے بال بڑھا کر چوٹی گندھوانے یا جوڑا باندھنے یا بکھرے ہوئے رکھنےکلیوں دار غرارہ دار پائچہ پہننےسرخ نیفہ ڈالنے وغیرہ وغیرہ کسی زنانی وضع کا شوق ہوگا اوراس حالت میں مرد کا نطفہ خفیف غالب تھا تو بالکل زنانہ زنخہ بن جائے گا اور اگر نطفہ عورت کاغالب آیا اور رحم کے دہنے خانے میں گرا ہو تو ہوگی صورت میں لڑکی مگر دل میں مردانیاسے انکر کھا پہننےٹوپی رکھنےعمامہ باندھنےگھوڑے پر چڑھنےتلوار اٹھانےتیرا ندازی کرنےمردانہ جوتا پہننے وغیرہ وغیرہ کسی مردانی وضع کا ذوق ہوگا بہر حال یہ دونوں خانے بہکے ہوئے اﷲ ورسول کے ملعون ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ المتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء اﷲ کی لعت ان عورتوں پر کہ مردوں کی وضع بنائیں اور ان مردوں پر کہ عورتوں کی وضع اختیار کریں۔
#6511 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
رواہ احمد والبخاری ابواداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ (مسند احمدبخاریابوداؤدترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کی سند سے اس کو روایت کیا ہے۔ت)
حضور نے یہ ارشاد اس وقت فرمایا کہ ایك عورت کمان کندھے میں لٹکائے دیکھا رواہ اطبرانی فی معجمہ الکبیر (امام طبرانی نے اپنی معجم کبیر میں اس کو روایت فرمایا۔ت)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ الرجل یلبس لبسۃ المرأۃ والمرأۃ تلبس لبسۃ الرجل۔رواہ ابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ و الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ بلفظ لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ اﷲ کی لعنت اس مرد پر کہ عورتوں کے پہننے کی چیز پہننے اور اس عورت پر کہ مردوں کے پہننے کی چیز استعمال کرے(ابوداؤد سنن نسائیابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے الفاظ "رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی"سے اس کو روایت کیا۔ت)
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے عرض کی گئیفلاں عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے۔فرمایا:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الرجلۃ من النساء ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اس عورت پر کہ مردانی وضع لے۔
حوالہ / References مسند حمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۲۹،صحیح بخاری کتاب اللباس باب المتشبہین بالنساء والتشبہات بالرجال قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۷۴،سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۲۰،جامع الترمذی کتاب الادب باب ماجاء فی المتشبہات بالرجال الخ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۰۲،سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب فی المخنثین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۳۸
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر کتاب الادب باب فی المشبہین من الرجال الخ دارالکتاب بیروت ۸/۳۔۱۰۲
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفاتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱۰
سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب فی لباس النساء آفاتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۱۰
#6512 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
ان حدیثوں سے ثابت ہو اکہ کسی ایك بات میں مرد کو عورتعورت کو مرد کی وضع لینی حرام وموجب لعنت ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے گیسوانتہا درجہ شانہ مبارك تك رہتے بس یہیں تك حلال ہے آگے وہی زنانہ خصلت ہے بلکہ علماء نے اس سے بھی ہلکی بات میں مشابہت پر وہی حکم لعنت بتایا۔درمختار میں ہے:
غزل الرجل علی ھیأۃ غزل المرأۃ یکرہ ۔ کسی مرد کا کسی عورت کے بال گوندنے کی طرح اور اس کی ہیئیت پر بال گوند نا مکروہ(ناپسندیدہ)فعل ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
لما فیہ من التشبہ بالنساء وقد لعن علیہ الصلوۃ و السلام والمتشبھین والمتشبہات ۔ اس لئے کہ اس میں عورتوں سے مشابہت ہے۔اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان مردوں پر لعنت فرمائی(جوعورتوں سے)مشابہت اختیار کریںاور ان عورتوں پر بھی لعنت فرمائی جو مردوں سے مشابہت اختیار کریں۔(ت)
فتح القدیر ودرمختار میں ہے:
اماالاخذ منہا(ای من اللحیۃ)وھی دون ذلک(ای القبضۃ)کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ احد واخذ کلھا فعل یہود الھند ومجوس الاعاجم واﷲ تعالی اعلم۔ لیکن داڑھی تراشنا جبکہ مشت بھر سے کم ہو جیسا کہ بعض مغاربہ(مغربی باشندے)اورزنانہ وضع کے مرد کیا کرتے ہیں پس اہل علم میں سے کسی عالم نے اس کو مباح نہیں فرمایا اور پوری داڑھی مونڈنا تو یہ ہند کے یہودیوں اور عجمی آتش پرستوں کا فعل اور طریقہ ہے(جو بالکل ناجائز ہے)۔(ت)
مسئلہ ۱۹۱ تا ۱۹۲: از شیرگڑھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ عظیم اﷲ نائب مدرس ۱۳ / ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)جو اشخاص بوجہ لاعلمی کے خلاف شرع پیر مثل داڑھی منڈا اور کانوں میں مندرے پہنے ہوئے اور
حوالہ / References درمختار کتاب الحظرولاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۳
ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۷۴
درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم ومالایفسد مبطع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۲،فتح القدیر کتاب الصوم باب مایوجہ القضاء والکفارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۲۷۰
#6513 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
گیسو دراز کے مرید ہوچکے ہوں ان کی بیعت جائز ہوگی اور ان کو جائے دیگر بیعت ہونے کاحکم ہے یا نہیں
(۲)جس پیر کے یہاں قوالی مع مزامیر ہوتی ہو اور اپنے مریدوں کو بھی اسی جلسہ میں شامل کراکے راگ مع مزامیر سنواتا ہو تو ایسے پیر کا مرید ہونا جائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)فاسق کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیں۔اگر کرلی ہو فسخ کرکے کسی پیر متقیسنیصحیح العقیدہعالم دینمتصل السلسلۃ کے ہاتھ پر بیعت کرے۔
(۲)مزامیر جائز نہیں۔حضور سیدنا سلطان المشائخ نظام الحق والدین سردار سلسلہ عاریہہ چشتیہ نظامیہ فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں:"مزامیرحرام ست "(مزامیر حرام ست۔ت)ایسے شخص سے بیعت کاحکم ہے جو کم از کم یہ چاروں شرطیں رکھتا ہو:
اول سنی صحیح العقیدہ ہو۔
دوم علم دین رکھتاہو۔
سوم فاسق نہ ہو۔
چہارم اس کا سلسلہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تك متصل ہو
اگر ان میں سے ایك بات بھی کم ہے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کی اجازت نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۳: بمقام بریلی صدر بازار چھاؤنی رسیدہ پاس مظہر حسین کے پہنچے بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بزر گ سے خاندان قادریہ میں بیعت ہے اور اس کی طبیعت خاندان چشتیہ صابریہ میں بھی بیعت ہونے کوچاہیتی ہے اور اس کا پیر صرف خاندان قادریہ میں بیعت کرتاہے اور کسی دوسرے خاندان چشتیہ صابریہ وغیرہ میں بیعت نہیں کرتا۔اگر زید کسی دوسرے بزرگ سے خاندان چشتیہ صابریہ میں بیعت ہوجائے اور نیز اس کا پیر زندہ ہو تو ایسی صورت کچھ حرج تو نہیں ہے۔زید کاخیال ہے کہ وہ دونوں پیروں کو برابر سمجھے گا اور حسب معمول دونوں شجرے پڑھے گا اوردونوں پر عمل کرے گا۔
الجواب:
اکابر فرماتے ہیں ایك شخص کے دو۲ باپ نہیں ہوسکتے۔ایك وقت میں ایك عورت کے دو۲ شوہر
حوالہ / References فوائد الفواد
#6514 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
نہیں ہوسکتے ایك مرید کے دو۲ پیر نہیں ہوسکتے۔یہ وسوسہ ہے اس پر عمل نہ کیا جائےیك در گیر محکم گیر(ایك ہی دروازہ پکڑو مگر پکڑو مضبوطی سے۔ت)پریشان نظری والا کسی کی طرف سے فیض نہیں پاتا۔حدیث میں ارشاد ہوا:
من رزق شیئ فلیلزمہ ۔ جس کو کسی چیز میں(یعنی اس کے سبب سے)رزق دیا جائے تو چاہئے کہ اس پر لزوم اختیار کرے۔(ت)
قرآن عظیم کی آیت بھی اسی معنی کا افادہ فرماتی ہے جو کارڈ پر نہیں لکھی جاسکتی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴: مسئولہ جناب حکیم مقیم الدین صاحب بہیڑی ضلع بریلی ۱۱ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مسلمان متقی تصور سے بذریعہ میز کہ سہ پایہ ہوتی ہے اور تختہ پر اس کے کچھ ایات قران عظیم کی مع تسمیہ لکھی ہوتی ہے اور میز مذکورہ کے تینوں پایوں پر حروف تہجی لکھے ہوتے ہیں ارواح مسلمانان سے اور اس بات چیت کرتاہے کہ زید اور چار پانچ اشخاص مسلمان نمازی میز کے آس پاس کرسیوں وغیرہ پر حلقہ باندھ کر آنکھیں بند کرکے مکان پاك صاف میں کہ خالی از عوام ہوتاہے میز پر ہاتھ رکھ کر جس روح کو میز پر بلانا ہوتا ہے تصور کرتے ہیں کہ فلاں شخص کی روح میز میں داخل ہوئی اور زید کہ تسبیح:
سبحان ذی الملك والملکوت سبحان ذی العزۃ و العظمۃ والہیبۃ والقدرۃ والکمال والجمال والکبریاء والجبروتسبحان الملك الحی الذی لاینام ولا یموت سبوح قدوس ربنا ورب الملئکۃ والروح۔ اﷲ تعالی ہر عیب اور نقص سے پاك ہے جو جھوٹی اور بڑی بادشاہی رکھنے والا ہے۔(۱الملك و۲الملکوت)(۱)بادشاہی (۲)بڑی بادشاہیجیسا کہ لغت وغیرہ میں مرقوم ہے۔اﷲ پاك ہے جو عزت والا بزرگی والاربطاقتکمال اجمال اور بڑی رکھنے والا ہے(الجبروت)تسلط رکھنے والاقدرت اور عظمت والا ہے۔ پاك ہے وہ بادشاہ جو ہمیشہ ہمیشہ زندہ ہے جو کبھی سوتا نہیں اور نہ اس پر کبھی موت طاری ہوتی ہے۔بڑا منزہ اور بیحد پاك ہے۔اور وہ ہم سب کا پروردگار ہے۔تمام فرشتوں اور حضرت جبریل کا بھی پرودگار ہے۔(ت)
کا عامل ہے۔وقت حلقہ زید اس تسبیح کی تلاوت کرتاہے۔اس اثناء میں میز کا پایہ اٹھتا ہے تو سوال کیاجاتاہے جو کچھ سوال کرنا ہوتاہے پایوں کے ذریعے سے اگر روح پڑھی ہوتی ہے تو حروف تہجی سے کہ میزے کے پایوں پر لکھے ہوتے ہیں ان کے ذریعہ سے بتلاتی ہے اور ان پڑھ روح سے کلام بہت دشواری سے ہوتاہے اور بعض روح تو
حوالہ / References کنز العمال برمذھب عن انس حدیث ۹۲۸۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۴ /۱۹
#6515 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
بہت کچھ بیان کرتی ہے یہاں تك کہ جو کچھ اس پرعذاب اور ثواب بعد مرنے کے ہوتاہے بتلادیتی ہے۔اور اپنے گھرو وغیرہ کی کیفیت بھی بیان کردیتی ہے۔اوراکثر اتفاق ایسا ہوا کہ جو کچھ کسی نے پڑھ کر بخشا وہ بھی بتلاد یا تو کیا ایسی میز سے کسی قسم کی قباحت ازروئے شروع شریف لازم آتی ہے کیونکہ ظاہر میں کوئی فعل خلاف نہیں معلوم ہوتا۔بینوا توجروا۔(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
اگر اس کی حقیقت اسی قدر ہے تو فی نفسہ اس فعل میں حرج نہیں معلوم ہوتا جبکہ روحوں کا بلانا واقعیت رکھتاہو اور یہ بظاہر دشوار معلوم ہوتاہے۔جو ارواح معذب ومحبوس ہیں العیاذ باﷲ ان کا آنا کیا معنی اور جو ارواح طیبہ معظمہ ہیں ان کا یوں بلانا سوء ادب سے خالی نہیں ہوتا بظاہر اس عامل کے صرف تصور کا تصرف ہوتاہے اس تقدیر پر اسے ارواح کی طرف نسبت کرنا کذب اور دھوکا اور محض ناجائز ہوگا اس کا امتحان بہت آسان ہے جن علوم سے یہ عامل آگاہ نہ ہو ان کے کسی جاننے والے کی روح بلائے اور ان علوم کا سوال کیجئے مثلا ہندسہ و ہیأت کے واسطے نصیر طوسی کی روح بلائے اگر وہ دقائق علوم ہندسہ کا جواب دے دے جن سے یہ عامل ناواقف ہو تو احتمال صدق ہوسکتاہے اگرچہ دوسرا احتمال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ معلم الملکوت کا کوئی کرشمہ ہو اوراگر جواب نہ دے سکے تو دھوکا ظاہر ہے بعض اوقات تجربہ ہوا ہے کہ میز نے وہی جواب دئےے جو عامل کے علم میں ہیں اس سے زیادہ کچھ میز نہ بناسکیبالجملہ اس سے احتراز چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۵: مولوی نذیر احمد صاحب ساکن سموہان پرگنہ نواب گنج بریلی مورخہ ۲۷ محرم الحرام ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں :مرد نمازی اور صالح ناخواندہ کی بیعت شرعا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
ناجائز ہے کہ بے علم نتواں خدا راشناخت۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۶: از فیض آباد مسجد مغل پورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
اگر پیر کی اولاد کسی دنیا کے معاملات میں ناخوش ہوں اور اس کی کشیدگی کاا ثر عورت پر ہو اور مرید یہ کہتاہے کہ اگر میں قصور وار سمجھا گیا تو میں معافی مانگتاتو بہ کرتاہوں خواہش دنیا میں تلقین کیجئے صراط مستقیم کی تلاش ہے تو اس کی نہ سنی اس مرید کو زیادہ اشتعال وطیش دلا کر گمراہ کیا جاتاہے یہ جائز ہے
الجواب:
سوال بہت مجمل ہے۔کیا دنیا کا معاملہ اور کیا وجہ کشیدگیاور کسی عورت پر اثراور کیا اشتعال و
#6516 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
طیش دلایاجب تك مفصل نہ معلوم ہو یہ ظاہرنہیں ہوسکتا کہ کس کا قصور ہے۔مرید اشتعال وطیش کے لئے نہیں بنایا گیا اور معافی تقصیر میں کبھی تاخیر ہی مصلحت ہوتی ہے۔جیسے حضرت کعب بن مالك اور ان کے دونوں ہمراہیوں کے ساتھ پچاس شب تك کی گئی "حتی اذا ضاقت علیہم الارض بما رحبت " یہاں تك کہ اتنی وسیع زمین ان پر تنگ ہوگئی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹۷: از شہر کانپور محلہ موتی محال بردکان محمد خاں وبادل خاں سوداگران مرسلہ امیر الدین شاہ ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ
جناب پیر ومرشد روشن ضمیر مولوی احمد رضا خاں صاحبالسلام علیکم! بعد آداب گزراش خدمت شریف میں یہ ہے کہ میں نے آپ کا نام سنا ہے۔اور لوگوں کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بہت بڑے بزرگ ہیں مگر جب میرا کام آپ سے ہوجائے تو میں سمجھوںپیر وہ ہی ہے جو پیر میرے میرا پردہ آپ اٹھا سکتے ہں۔یانہیں۔عمل بات کا جھگڑا ہے او رمیں مولا فضل الرحمن صاحب کے درکا خادم ہوں صرف بات چیت کرناچاہتاہوں جن اور ملائکہ سے۔پھر آپ کا بیعت بھی ہوجاؤں گا۔
الجواب:
ملائکہ سے ملاقات اور کلام کے لئے ولایت درکاراور ولایت کسبی نہیں محض عطائی ہے۔ہاں کوشش اورمجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہ دکھاتےہے جنوں سے مکالمہ کی خواہش اورمصاحبت کی تمنا اصلا خیر نہیں۔کم سے کم جو اس کا ضرر ہے یہ کہ آدمی متکبر ہوجاتاہے۔جیسا کہ حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ نے تصریح فرمائی اور قرآن عظیم میں ہے کہ متکبروں کا ٹھکانا جہنموالعیاذ بہ تعالی ھو تعالی اعلم۔
__________________
حوالہ / References القرآن الکریم ۹ /۱۱۸
#6517 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
شرب وطعام
دعوت ولیمہمہمانیذبیحہشکارگوشت وغیرہا سے متعلق مسائل

مسئلہ ۱۹۸: ۱۱ / ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ مرزا باقی بیگ صاحب رامپوری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ہنودجو اپنے معبودان باطلہ کوو ذبیحہ کے سوااور قسم طعام وشیرینی وغیرہ چڑھاتے ہیں اور اس کا بھوگ یا پرشاد نام رکھتے ہیں اس کا کھانا شرعا حلال ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
حلال ہے لعدم المحرم(حرمت کی دلیل ہونے کی وجہ سے۔ت)مگر مسلمان کو احتراز چاہئے لخبث النسبۃ(نسبت کی خباثت کی وجہ سے۔ت)عالمگیریہ میں ہے:
مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارھم اوالکافر لالھتہم توکل لانہ سمی اﷲ تعالی ویکرہ للمسلم کذا فی التاتارخانیۃ ناقلا عن جامع الفتاوی اھ اقول: فاذا حلت ھذہ وھی ذبیحۃ فالمسئول عنہ اولی بالحل۔ اگر کسی مسلمان نے آتش پر ست کی بکری اس کے آتشکدہ کے لئے یا کافر کے جھوٹے خداؤں کے لئے ذبح کر ڈالی تو اسے کھایا جائے گا(یعنی کھانا چاہے تو کھاسکتاہے)اس لئے کہ مسلمان نے اس پر خدا کا نام لیاہے لیکن ایسا کرنا مسلمان کے لئے مکروہ ہے تاتارخانیہ میں جامع الفتاوی کے حوالہ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۸۶
#6518 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
سے اسی طرح منقول ہے۔اھ۔اقول:(میں کہتاہوں)جب یہ ذبیحہ ہونے کے بعد حلال ہے تو پھر جس مسئلہ کے متعلق سوال کیا گیا وہ بطریق اولی حلال ہے۔(ت)
اور شیخ محقق رحمۃ اﷲ تعالی نے مجمع البرکات میں فرماتے ہیں:
مایاتی المجوس فی نیروز ھم من الاطعمۃ یحل اخذ ذلك ولا حتراز عنہ اسلم کذا فی مطالب المومنین ناقلا عن الذخیرۃ اھ ملخصا اقول فاذا کان الاحتراز عن ھذا اسلم مع انہ لیس الاطعاما صنعہ لیوم زینتہم فالمستفسر عنہ اجدر بالاحتراز واحری کما لا یخفی۔ آتش پرست اپنی عیدمیں جو کھانے وغیرہ لاتے ہیں ان کالینا حلال ہے ہاں البتہ ان سے بچنا زیادہ سلامتی کی راہ ہے۔اسی طرح مطالب المومنین میں ذخیرہ کے حوالے سے منقول ہے۔تلخیص پوری ہوئیاقول(میں کہتاہوں)جب اس سے بچنا زیادہ سلامتی ہے باجود یکہ یہ صرف وہ کھانا ہے جو انھوں نے اپنی زیب وزینت کے دن کے لئے تیار کیا ہے لہذا جس کے متعلق سوال کیاگیا وہ بچنے کے زیادہ قابل اور لائق ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
اگر کفار اس پر شاہ کو بطور تصدق بانٹ رہے ہوں جب تو ہر گز پاس نہ جانے یا رب مگر بضرورت شدیدہ کہ صدقہ کے طور پر لینے میں معاذاﷲ مسلمان کی ذلت اور گویا کافر کے ہاتھ اس کے ہاتھ پر بالا کرنا ہے۔حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الیدالعلیا خیر من الید السفلی والید العلیا ھی المنفقۃ والید السفلی ھی السائلۃ اخرجۃ الشیخان وغیرھما عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔واﷲ تعالی اعلم۔ اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہے اور دینے والا ہاتھ اونچا ہے اور مانگنے والا نیچا(بخاریمسلم اور ان دو کے علاوہ باقی لوگوں نے عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہماا سے اس کی تخریج کی۔ ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس درخت کو پاخانہ وغیرہ کے ناپاك پانی دئے گئے ہوں اس کا میوہ کھانا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ت)
حوالہ / References مجمع البرکات
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب لاصدقہ الا عن ظہر غنی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۲،صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ بیان ان الید العلیا خیر من الید السفلٰی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۲
#6519 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
الجواب:
بلاکراہت جائزہے۔یہی مذہب ہے اکثر فقہاء کا۔
فی ردالمحتار عن ابی مسعود الزروع المسقیۃ بالنجاسات لاتحرم ولاتکرہ عند اکثر الفقہاء انتہیواﷲ تعالی اعلم۔ فتاوی شامی میں ابومسعود کے حوالے سے ہے کہ جن کھیتوں کو ناپاك پانیوں سے سیراب کیا گیا تو وہ اکثر ققہاء کے نزدیك حرام اور مکروہ نہیں انتھی واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۰۰: ۱۱ رجب ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك برات یہاں سے پیلی بھیت جائے گی میزبان وعدہ کرتاہے کہ کوئی ممنوع شرعی برات کے ساتھ راہ میں نہ ہوگا اسٹیشن ریل پیلی بھیت پر پہنچ کر سب ہمراہیوں کو کھانا کھلایا جائے گا اور ان میں جو لوگ ممنوعات شرعیہ سے پرہیز رکھتے ہیں۔انھیں کھانا کھلاتے ہی دلھن کے مکان پر معا بھیج دیا جائے گا کہ وہ علیحدہ مکانوں میں قیام کریں اور ممنوعات کے جلسہ سے بچیں انھیں بھیجنے کے بعد برأت ہمراہ باجہ وغیرہ کے دلھن کے گھر جائے گی اور وہاں دوسرے مکان میں ناچ اور آتشبازی وغیرہ ہوگیاس صورت میں ایسی برأت کی شرکت درست ہے یا نہیں اور کچھ لوگوں نے عہد نامہ لکھا تھا کہ جو اپنی شادیوں میں ناچ گانا کریں گے ہم ہر گز ان سے نہ ملیں گے انھیں بھی شرکت چاہئے یانہیں بینوا توجروا (بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
اگر یہ شخص جانتا ہے کہ میری خاطر ان لوگوں کو ایسی عزیز ہے کہ بحالت منکرات شرعیہ میں شرکت سے انکار کروں گا تو وہ مجبورا نہ مممنوعات سے بازرہیں گے اور میرا شریك نہ ہونا گوارا نہ کریں گے تو اس پر واجب ہے کہ بے ترك منکرات شرکت سے انکار کرے۔خزانۃ المفتین میں ہے:
رجل اتخذ ضیافۃ للقرابۃ اوولیمۃ اواتخذ مجلسا لاھل الفساد فد عارجلا صالحا الی الولیمۃ قالو ان کان ھذا الرجل ایك شخص نے اپنے رشتہ داروں اور قرابتداروں کے لئے عام دعوت طعام یا دعوت ولیمہ کا اہتمام کیا اور ساتھ ہی کھیل تماشے لہو ولعب کی مجلس بھی فسادیوں کے لئے آراستہ کی اور
حوالہ / References رد المحتار کتا ب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۱۷
#6520 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
بحال لوامتنع عن الاجابۃ منعہم عن فسقہم لا تباح لہ الاجابۃ بل یجب علیہ ان لایجب لانہ نھی عن المنکر ۔ خاندان سے غیر متعلق ایك نیك شخص کو بھی دعوت نامہ بھیجا ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ اگر وہ شخص اس دعوت کو قبول نہ کرتے ہوئے انھیں غلط قسم محفل آرائی اور بدکاری سے روك سکتا ہوں تو اس کے لئے اس دعوت کو قبول کرنا مباح نہیں بلکہ اس پر دعوت کو قبول نہ کرنا واجب ہے کیونکہ گناہ سے روکنے کا عمل ا س کے لئے مقدم ہے۔(ت)
اور اگر جانتا ہے کہ میری عزت وعظمت ان کی نگاہوں میں ایسی ہے کہ میں ساتھ ہوں گا تو وہ منکرات شرعیہ نہ کرسکیں گے تو اس پرواجب ہے وموجب ثواب عظیم ہے کہ شریك ہو۔ردالمختار میں ہے:
اذ ا علم انہم یترکون ذلك احتراما لہ فعلیہ ان یذھب اتقانی ۔ جب وہ جانتاہے کہ اس کے احترام کی وجہ سے وہ گناہ والے کام چھوڑ دیں گے تو اس پر ضروری ہے کہ وہاں جائے اور شرکت کرے۔ اتقانی۔(ت)
اور اگریہ دونوں صورتیں نہیں تو اگر جانتا ہے کہ جہاں کھانا کھلایا جائے گا وہیں منکرات شرعیہ ہوں گے اور برات والے کا وعدہ محض حیلہ ہی حیلہ ہے تو ہر گز نہ جائے۔
قال اﷲ تعالی فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:یا دآجانے کے بعد ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو اور مجلس نہ کرو۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
لو علم قبل الحضور لایحضرلانہ لم یلزمہ حق الدعوۃ ۔ اگر جانے سے پہلے ہی اسے(منکرات شرعیہ کا)اعلم ہوجائے تو وہاں نہ جائے کیونکہ اس پر دعورت کا حق لازم نہیں ہوا۔(ت)
کفایہ میں ہے:
لان اجابۃ الدعوۃ انما تلزم اذا کانت اس لئے کہ دعوت قبول کرنا اس وقت لازم ہوتاہے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۳۴۳
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۲۲
القرآن الکریم ۶ /۶۸
الہدایۃ کتاب الکراھیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۳
#6521 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
الدعوۃ علی وجہ السنۃ ۔ جبکہ دعوت سنت کے مطابق ہو۔(ت)
اور اگر واقعی ایساہی ہے کہ نفس دعوت منکرات سے خالی ہو گی اگر چہ دوسرے مکان میں لوگ مشغول گناہ ہوں تو شرکت میں کوئی حرج نہیں۔
قال تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ آٹھائے گی۔(ت)
غایت یہ کہ میزبان گنہ گارہ ہے پھر شرعا گنہگا ر کی دعوت ہے جبکہ وہ خود گناہ پر مشتمل نہ ہوخزانۃ المفتین میں ہے:
ان لم یکن الرجل بحال لولم یجب لایمنعھم من الفسق لاباس بان یجیب و یعطم وینکر معصیتہم وفسقھم لانہ اجابۃ الدعوۃ واجابۃ الدعوۃ واجبۃ اومندوبۃ فلا یمتنع بمعصیۃ افترنت بہا ۔ اگر کسی شخص کی ایسی پوزیشن ہو کہ کہ اگر یہ دعوت قبول نہ کرے تب بھی وہ گناہ اور نافرمانی سے باز نہیں آئیں گے۔تو پھر دعوت کی قبولیت میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں۔البتہ ان کے گناہ اور نافرمانی کا انکار کرے کیونکہ اس نے تو دعوت قبول کی(یعنی خود کوئی خلاف ورزی نہیں کی)اور دعوت قبول کرنا واجب ہے یا مستحب لہذا ایسی دعوت جس سے گناہ پیوست ہو ممنوع نہیں۔(ت)
مگر عالم اگرجانے کہ میری اتنی شرکت پر بھی عوام مجھے متہم ومطعون کرینگے تو نہ جائے کہ مواقع تہمت سے بچنا چاہئے اور مسلمانوں پر فتح باب غیبت ممنوع ہے۔
عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یقفن مواقف التہم ذکرہ الشرنبلالی وغیرہ ۔ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو کوئی اﷲ تعالی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ مقامات تہمت سے بچےاس کو علامہ حسن شرنبلالی وغیرہ نے ذکر کیا۔(ت)
حوالہ / References الکفایۃ مع الفتح القدیر کتا ب الکراھیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۸ /۴۵۰
القرآن الکریم ۶ /۱۶۴
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۳۴۳
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح مع حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتا ب الصلوٰ،ۃ باب ادراك الفریضۃ ص۲۴۹
#6522 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
یونہی وہ عہد کرنے والے نہ جائیں کہ خلاف عہد معیوب ہے۔
قال تعالی "واوفوا بالعہد ان العہدکان مسـولا ﴿۳۴﴾" ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے:(لوگوں!)وعدہ پورا کی اکرو کیونکہ وعدہ کے متعلق قیامت کے دن پوچھ ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۰۱: از اوجین مرسلہ مولوی یعقوب علی خاں ۹ محرم الحرام ۱۳۰۹ھ
چہ می فرمایندعلمائے شریعت ومفتیان طریقت دریں مسئلہ کہ زید منصب نیابت وامامت دارد وطعام بخانہ کسانیکہ لحکم خوك ومردار پختہ نصارے را می خوارنند بخورد ومی گوید کہ پختن مردار وخوك باکے نیست دست بشوید پاك شود وازیں سبب اکثرے مرد ماں شہر سند کامل دانسہتہ تناول طعام بخانہ اومی نمایند دریں بارہ حقارت اہل اسلام وتہبلکہ ونزاع درمیان مسلماناں واقع گردیدہ پس بحق گویندہ ایں کلام مخالف التیام شرعی وممد ومعاون آنچہ حکم وطعام خوردن برمکان آن شخص کہ دریں کار زشتیہ وناقصہ ملوث اند درست ست یانہ بیان فرمایند بسند کتاب۔بینوا توجروا۔ علمائے شریعت اور مفتیان طریقت اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید ایك مقام پرامامت و نیابت کے فرائض انجا م دیتاہے لیکن جو لوگ سور اور مردار کا گوشت پکا کر عیسائیوں کو کھلاتے ہیں زید ان لوگوں کے گھروں سے کھانا کھتاہے اور کہتاہے کہ مردار اور سور کا گوشت عیسائیوں کے لئے پکانے میں کوئی حرج نہیں۔پکانے کے بعد ہاتھ دھو ڈالے تو پاك ہوجاتے ہیں۔شہر کے اکثر لوگ زید کے اس طرز عمل کو دیکھ کر ان لوگوں کے گھرو سے کھانا کھانے لگے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس عمل سے نفرت اور سخت اختلاف کررہے ہیں اور نزاع کی صورت بن گئی ہے۔لہذا کتاب وسنت کی روشنی میں بیان فرمایا جائے کہ شخص مذکور کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے اور اس کی معاونت وامداد اور اس سے تعاون کرنے والوں کے بارے میں شریعت کیا فرماتی ہے۔بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔(ت)
الجواب:
ہمچوں بیباك فجار کہ بہر خوردن کفار پختن چنیں اخبث نجاسات وانجس محرمات پیشہ ساختہ اند ونظافت طبع ونزاہت ایسے نڈربے خوف اور تقوی سے عاری لوگ جو کافروں غیر مسلموں کے لئے خبیث ترین اور نجس وحرام چیزیں پکانے کھلانے کا پیشہ اختیار
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۷ /۳۴
#6523 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
شرح ہمہ را یك لخت پس پشت اند اختہ مسلمان متدین راطعام بخانہ ایشاں فشاید خورد بقطع نظر از انکہ تجربہ صادقہ شاہد است کہ کثرت مزاولت چیزے حرمتش از نگاہ برمی اندازد پس مظنون آنکہ دراب وظروب خود شان از ناجسات ملعونہ مذکورہ بے احتیاط باشند اقدام بریں امر باعث مطعونی وتہمت باشد ودرحدیث آوردہ اند من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یفقن مواقف التہم مومن متدین راچہ شایان ست کہ بے ضرورت شرعیہ آبروئے خود ریختہ بررخ خویشتن وبرطعن وتہمت مفتوح سازد وبراہ ران دینی را درگناہان کبیرہ غیبت و حقد وتنابزبالا لقاب وغیرہا اندزاہد درحدیث فرمودہ اند ایاك ومایسؤ الاذن ۔ودرحدیث دیگر ست ایاك وکل امر یعتذر منہ ذیادتے روایت کنند فان الخیر لا یعتذر منہ باز ایں امر باعث نفرت مسلماناں باشدد وتنفیر مسلماناں بے ضرورت شرعیہ قطعا ممنوع سید عالم فرمود صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بشروا ولا تنفروا مقصود شرع ایتلاف کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے ہاں سے دینداروں اور تقوی دار لوگوں کو کھاناہر گز نہیں کھانا چاہئے کیونکہ جہاں حرام چیزوں کا استعمال کثرت سے ہو وہاں برتنوں کے ناپاك اشیاء سے آلودہ ہونے کااحتمال ہوتاہے۔اور دیندار وتقوی دار لوگوں کا ایسے لوگوں کے ہاں جانا اور ان کے ہاں سے ایسے مشکوك برتنوں میں کھاناکھانا عوام الناس کی نگاہوں میں باعث الزام و باعث تہمت ہوسکتاہے۔حدیث شریف میں ہے: "جوکوئی اﷲ تعالی اور قیامت پر ایمان رکھتاہے تو وہ مقامات تہمت سے بچے"لہذا ایسی صورت حال میں الزامطعن اور تہمت سے بچنا ضروری ہے بصورت دیگر یہ اقدام اپنے دینی بھائیوں کو کبیرہ گناہوں غیبتبہتانکینہ اور برے القاب کے استعمال میں مبتلا کردے گا۔حدیث مبارك ہے۔لوگو! جن کاموں کو کان ناپسند کرتے ہیں ان سے بچو اور ایسے کاموں سے پرہیز کرو جن کے ارتکاب پر معذرت کرنی پڑے۔اور بغیرشرعی مجبوری کے مسلمانوں کو متنفر کرنا ممنوع ہے۔
چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کو خوشخبری دو یعنی سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ۔شریعت کا مقصد جوڑنا اتحاد پیدا کرنا ہے نہ کہ توڑنا۔عقل سلیم کا تقاضا۔
حوالہ / References مراتی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب ادراك الفریضہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹
مسند امام احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغاویۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۷۶
الفردوس بماثور الخطاب حدیث ۱۷۵۵ درالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۴۳۱
صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی یخولیم بالموعظہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶،مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابی موسٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۳۹۹
#6524 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
است نہ اختلاف وخود قضیہ عقل سلیم نیست بے ضرور تے ملحبہ باجہانے طرف افتادن وبموقف مقت وکراہت قوم استادن درحدیث آمدہ رأس العقل بعد الایمان باﷲ التود والتوددالی الناس وبروایتے دیگر راس العقل بعد الایمان باﷲ مداراۃ الناس فقیر احادیث ایں باب در رسالہ خود جمال الاجمال وشرح اوکمال الاکمال ہر چہ تمامتر رنگ وتفصیل دادہ امبالجملہ عقلا ونقلا ایں چنیں کار شناعتہائے نامحجودہ دارد وعاقبت ہائے نامحمودہ باز چوں کا ر بفتنہ فساد وتفریق کلمہ مسلمین انجامد سخت جریمہ عظیمہ گردد وقال اﷲ تعالی "والفتنۃ اشد من القتل" ۔و درحد یث است الفتنۃ نائمۃ لعن اﷲ من ایقظھا باز چوں نیکبنگری آزمودن وانما ست

بھی یہی ہے کہ لوگوں کو بیقراری میں ڈال کرنا راض کیا جائے اور کراہت ولزام والی جگہ کھڑے ہونے سے پرہیز کیا جائےحدیث پاك میں ارشاد نبوی ہے اﷲ تعالی پر ایمان لانے کے بعد عقل کی بنیاد لوگوں سے دوستی اور محبت رکھتاہے ایك اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالی پر ایمان لانے والے ے بعد عقل مندی ودانشمندی لوگوں سے صلح جوئی میں ہے۔فقیر(صاحب فتاوی)نے اس باب کی حدیثوں کو اپنے رسالہ جمال الاجمال اور اس کی شرح کمال الاکمال میں تفصیلا بیان کردیا ہے۔خلاصہ یہ کہ عقل ونقل کے اعتبار سے اس طرح کاکام یا اقدام اپنے اندر کئی قسم کی قباحتیں رکھتاہے کہ جن کا انکارنہیں کیا جاسکتا۔اور ایسے کاموں کا انجام مذموم ہوتاہے جب یہ کام یااقدام فتنہ وفساد اور مسلمانوں کے درمیان تفریق اورپھوٹ پڑنے کی حد تك جاپہنچے تو جرم عظیم بن جاتاہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے:فنہ قتل سے بدتر ہے۔
اور حدیث شریف میں ہے کہ فتنہ خوابیدہ(یعنی سویا ہوا ہوتا ہے)جوکوئی اسے بیدار کرے اس پر اﷲ تعلی کی لعنت ہو۔ اگر اپ اچھی طرح غور کریں تو یہ واضح ہوگا کہ اس قسم کے افعال انہی لوگوں سے سرزد ہوتے ہیں جو
حوالہ / References کنزا العمال بحوالہ الشیرازہی فی الالقاب حدیث ۴۳۵۸۱ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۵ /۹۱۶
المصنف لابن ابی شیبہ کتا ب الادب حدیث ۵۴۸۰ اداراۃ القرآن کراچی ۸ /۳۶۱
القرآن الکریم ۲ /۱۹۱
کشف االخفاء حرف الفاء حدیث ۱۸۱۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۷۷
#6525 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
کہ دریں اعصار وامثال ایں کار نخیز مگرازدست کسانیکہ چنداں پرائے دین ندارند وبے باك زیستن وآزاد گزراند راحاصل زندگانی انگارندلیت ولعل چیزے دیگر ست ووقع وفعل دیگر اگر انصاف کنی واقع چنیں ست کہ درلم و تسلیم فرازمباش بہمیں تقریر نفیس بحمداﷲ تعالی منکشف شد حکم طعام بانصاری خوردن وامثال ذلك ازکار ہائے اہل زیغ وفتن نسأل اﷲ السلامۃ والعز والکرامۃ باز مقرر فقہ است کہ منسب امامت نشاید داد ہمچوں کسے راکہ مردماں را از ونفرتے باشد وکار بتقلیل جماعت کشد اگرچہ دریں باب گناہے از ذات آن کس نباشد چوں ولد الزنا واجذام وابرص وغیرھم ایں نکتہ ہم بنظر داشتی است و آنکہ گفت در پختن خوك ومردار باکے نیست پر غلط گفت بلے بے ضرورت شرعیہ تلوث بنجاسات ممنوع ست خاصہ بھمچوکارے کہ حاملش قصد اصلاح ماافسدہ اﷲ باشد وپختن بہر خوارندن کفار قطعا ناجائز وحرام ماحرم اخذہ حرام اعطاؤہ وقال اﷲ تعالی "ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ دین اور تقاضائے دین کو چنداں اہمیت نہیں دیتے۔بے خوف ہوکر بالکل آزادانہ لاپروائی والی زندگی گزارنا زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں۔ٹال مٹول اور لیت ولعل سے کام لینا الگ چیز ہے۔ اور کام کہ گزرنا الگ اور جدا گانہ چیزاگر تم انصاف سے کام لوتو درحقیقت بات یہی درست اورصحیح ہے۔گو لم اور لانسلم کہہ کر اس سے صف نظر کیا جائے(میں نہیں مانتا اور کیوں کیسے کا تو کوئی علاج نہیں مترجم)پس اس نفیس اور عمدۃ تقریر سے بحمداﷲ تعالی ظاہر ہوگیا ہے کہ عیسائیوں کے ساتھ مل کر کھانا پینا اور اس قسم کے دوسرے کام کرنا فطرت اور فتنہ بازلوگوں کا شعار ہوتاہے(مخلص اہل ایمان نہ ایسا کرتے ہیں اورنہ انھیں ایسا کرنا زیب دیتاہے۔)نیز فقہ میں یہ اصول مسلمہ ہے اور طے شدہ ہے کہ عہدہ امامت ان لوگوں کو نہیں دینا چاہئے جن سے لوگ نفرت کرتے ہوں اور بوجہ نفرت جماعت سے نماز پڑھنا چھوڑدیں اگر چہ عہدہ امات پر فائز ہونے والا بے قصور وبے گناہ ہو جیسے حرامزادہ۔کوڑ والامرض برص والا۔اسی طرح دیگر امراض کا شکار آدمیلہذا یہ نکتہ پیش نظر رکھنا ضروری ہے اور جس کسی نے یہ کہا کہ سور اور مردار کا گوشت پکانے اور غیر مسلموں کو کھلانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یا کچھ مضائقہ نہیں اور خطرہ نہیں وہ شخص مذکور غلط بات کہنے کا
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الرابعۃ عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۸۹
القرآن الکریم ۵ /۲
#6526 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مرتکب ہوا بغیر علم وتحقیق کے اس قسم کا فیصلہ صادرکردینا ہر گز مناسب نہیں بغیر شرعی مجبوری کے گندگیوں سے آلودہ ہونا سخت ممنوع اور ناجائز ہے بالخصوس ایسے کاموں سے پرہیز کرنا بہت ضروری ہے جن کا حاصل ان کاموں کی اصلاح کرنے کاارادہ کرناہے جنھیں اﷲ تعالی نے بگاڑ دیا ہے۔اور کافروں کو کھانا کھلانے کے لئے مسلمانوں کا اپنے ہاتھوں ناجائز وحرام چیزوں کو پکانا یقینا ناجائزاور حرام ہے۔اور یہ قاعدہ واصول ہے کہ جس چیز کا لینا حرام اس کا دینا بھی حرام ہے۔اور اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)گناہ ااور زیادتی والے کاموں میں ایك دوسرے کی مدد نہ کیا کرو۔اور اﷲ تعالی پاکبرترا ور سب کچھ جاننے والاہے۔(ت)
مسئلہ۲۰۲: ازاوجین مرسلہ محمد یعقوب علی خاں ۱۷/ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ
چہ مے فرمایند علمائے افضل الکملائے ومفتیان اکمل الفضلاء دریں مسئلہ کہ حلا نزد کسے معتبر بہمراہی طباخ رفتہ گفت کہ من می خواہم کہ مردمان اہل اسلام طعام شادی دخترم تیارکنانیدہ بخورند چنانچہ مسلم ضعیف المعقیدہ وغیرہ چیزے از قسم خوردنی گرفتہ پختہ بخوردن ازیں حرکات خرافاتیہ اوشان مضحکہ درمیان اہل ہنود اظہر شدہ وجماعت مسلمان خجل پس دعوت مردار خوار وخوکیاں درست است یاحرام وخورندگان دعوت تاتائب نشوند بطریق تنبیہ زمرہ اہل اسلام خارج سازندو پر ہیز نمایند جائز ست ی نہ کہ دیگراں راعبرت شود وبار دوم ملوث ایں کار خراب نباشند دریں مسئلہ ہرچہ حکم شرعی درحق خورندہ وبزندہ گردد بحوالہ عبارت کتب بیان فرمایند رحمۃاﷲ علیہم اجمعین۔ کیا فرماتے ہیں ایسے علمائے جو کاملوں میں اکمل ور فاضلوں میں افضل ہیں کہ ایك غیر مسلم(ہندو)مسلمانوں کی بستی میں کسی معتبر آدمی کے پاس باورچی ہمراہ لے گیااورکہا کہ میں چاہتاہوں کہ مسلمان لوگ میری بیٹی کی شادی کا کھانا خود اپنے ہاتھوں تیارکرواکر کھائیں(تاکہ کوئی شك وشبہہ نہ ہو)چنانچہ کچھ کمزور عقیدہ والے لوگوں نے کھانے کا سامان وغیرہ لے کر پکایا اور کھایا جس سے مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں میں ہنسی مذاق ہونے لگا اور مسلمان شرمندہ ہوئےکیا حرام خوروں کی دعوت میں کھانا جائز ہے یا حرام دعوت کھانے والے جب تك تائب نہ ہوجائیں کیا انھیں گروہ اسلام سے بطور تنبیہ خارج تصور کیا جائے اور ان سے اگر علیحدگی اختیار کی جائے تو کیا یہ جائز ہوگی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو اور وہ دوبارہ اس طرح کی گھٹیا حرکت نہ کرنے پائیں۔اس سلسلے میں کھانے اور پکانے والوں کے بارے میں شرعا کیا حکم ہے بحوالہ عبارات کتب جواب مرحمت فرمایا جائے۔(ت)
#6527 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
الجواب:
اگر چہ کسان مذکور ایں قدر احتیاط کردن کہ طعام پختہ ہمچوں ناکساں نخوردند بلکہ خورد نیہا گرفتہ خود پختہ بکار بردند اما تاہم ایں کار ختطا وبے جا افتادہ کہ اموال ہمچوں حرام وناپاك پیشگان خبیث ست در حدیث کسب حجام را بسبب ملابست بجاست خون خبیث فرمودہ اند با آنکہ پیشہ او کہ خون کشیدن ست شرعا حلال است احمد ومسلم وابوداؤد والنسائی عن رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ثمن الکب خبیث ومھر البغی خبیث وکسب الحجام خبیث پس کسب خوکیاناں بدرجہ اولی اخبث واشنع باشد باز ایں کاربحب عرف دیار باعث تنفیر مسلمین وانگشت نمائی در بردران دین مے شود ہر کار یکہ چناں ست شرعا مکروہ ناشایانست تاآنکہ علماء گفتہ اند درشہرے کہ مرد مان بخضاب اعنی خضاب جائز کہ غیر سوا دست خوکردہ باشند آنجا ترك اگرچہ مذکورہ لوگوں نے اس قدر احتیاط برتی کہ ان نااہلوں کا پکا یا ہوا کھانا نہیں کھایا بلکہ کھانے کی اشیاء خود لے کر پکائیں اور اس طرح اپنے ہاتھوں سے پکا کر کھایا مکر پھر بھی ان کی یہ حرکت نامناسب اور بے جاقرار پاتی ہے۔حرام اور ناپاك پیشہ کرنے والوں کا مال خبیث(گندہ)ہےچنانچہ حدیث میں پچھنے لگانے والوں کی کمائی کو ناپاك اور خون کے تلبس کی وجہ سے خبیث فرمایا گیا حالانکہ اس کا پیشہ خون کھینچنا شرعا جائز ہے۔چنانچہ مسند احمدمسلمابوداؤد اور سنن نسائی میں حضرت رافع بن خدیج رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کتے کی قیمتبدکار عورت کا مہر یعنی اس کی کمائی اور پچھنے لگانے والے کی کمائی یہ سب خبیث یعنی گندے کام ہیں۔تو خنزیر خوروں کی کمائی بطریق اولی خبیث ہے۔نیزیہ کام علاقہ کے عرف میں مسلمانوں کی نفرت اور انگشت نمائی کا سبب ہے جبکہ ہر ایسا کام شرعا ممنوع ہے یہاں تك کہ علماء نے فرمایا ہے کہ جس شہر میں جائز خضاب یعنی سیاہ خضاب لگانے کی عادت ہو وہاں خضاب نہ لگانا اورجہاں خضاب
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب المساقات باب تحرم ثمن الکلب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹،سنن ابی داؤد کتاب البیوع آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۳۰
#6528 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
خضاب وجائیکہ تبرك باشند آنجا فعل خضاب مکروہ ونا پسندیدہ است زیرا کہ خروج از عادت باعث شہرت و موجب کراہت ستامام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہالقدسی درحدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ فرمود من کان فی موضع عادۃ اھلہ الصبغ اوترکہ فخر وجہ عن العادۃ شہرۃ ومکروہ اینہا بآنکہ خضاب و ترك ہر دو شرعا رواست وخوکردگان یکے از انہا مراں دیگر را زنہار مخالف دین ودیانت نمے دادند فکیف کہ آں فعل فی نفسہ نیز شرعا ناپسندیدگی دارد درعامہ بلاد در اذہان و قلوب عامہ مسلمین نفرت شدیدہ ازوجائیگیر باشند وارتکاب ہمچوں افعال پیش ایشاں امارت بیباکی ودناءت قلب وقلت دین وضعف دیانت بود بچناں رے پرداختن وخود راہدف سہام طعن وملام اہل اسلام ساختن وبا جہانے طرف شدہ رعایت شرع ومراعات خاطر مسلمانان یکسرپس پشت انداختن خود چہ زیبا ست شرع مطہر ہر گز ہمچوں کارے رضا ندہد نہ لگانے کا رواج ہو وہاں خضاب لگانا مکروہ ہے کیونکہ اس میں شہر کی عادت سے خروج کے باعث بدنامی ہوتی ہے جو کہ مکروہ ہے امام علامہ عارف باﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے حدیقہ ندیہ میں فرمایا جوشخص علاقہ کی عادت خضاب یا عدم خضاب کی عادت سے خروج کرے تو شہرت کی وجہ سے مکروہ ہے حالانکہ خضاب اور ترك خضاب اور عادت کے خلاف کرنا شرعا دین ودیانت کے خلاف نہیں ہے تو ایسے کام کے متعلق کیا حال ہوگا جوشرعا خود ناپسندیدہ ہے اور تمام بلاد میں اسکی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں میں شدید نفرت پائی جاتی ہے اس نوع کے کاموں میں مشغول ہوجانا اور اپنے آپ کو اہل اسلام کے طعن وملامت کے تیروں کا نشانہ بنانا اور دنیا والوں سے ایك طرف ہوجانا شریعت کی رعایت اور اہل اسلام کی مراعات کو یکدم پس پشت ڈال دینا کیسے اچھا ہوسکتا ہےشریعت مطہرہ اس قسم کے کاموں سے خوش نہیں ہوتی
حوالہ / References حدیقۃ الندیہ شرح طریقہ محمدیہ ومنہا ای من الافات اضاعۃ الرجل الخ المکتبہ النوریۃ الرضویۃ لائلپور ۲ /۵۸۲
#6529 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
کسان مذکورراباید کہ چارہ کار خود سازندوبمجمع مسلمین بتوبہ ومعذرت پردہ زند کہ بے سبب افروختہ اند بآب اعتذار بنشانند وغبار ملالےکہ بر خاطر مسلماناں از جانب آناں نشستہ است بیفشانند حکم ایں قدرست اماکار مسطور باخراج ایشاں از زمرہ مسلمان نیرزد تفریط وافراط ہر دو بدست ومیزان اعتدال بدست حق پرست نظر ست۔سبحنہ وتعالی اعلم۔ لہذا مذکورہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے کام کی تدبیر(چارہ) کریں اور مسلمانوں کی مجلس میں توبہ اور معذرت میں مشغول ہوں کہ بغیر سبب جلائی ہوئی آگ کو معذرت کے پانی سے بجھائیں۔اور بے چینی وتنگ دلی کا گردوغبار جو ان کی طرف سے مسلمانوں کے دلوں پر بیٹھ گیا ہے اسے جھاڑدیں۔ صرف اتنا ہی حکم ہے لیکن یہ کام جو سوال میں بیان کیا گیا ہے کہ انھیں مسلمانوں کے گروہ سے نکال دیا جائے یہ جائز اور مناسب نہیں۔پس افراط وتفریط(زیادتی وکمی)دونوں ہی برے ہیں۔اور حق پرستوں کے ہاتھوں میں عدل ترازو محفوظ ہے۔اﷲ تعالی پاکبرترا ور سب کچھ جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۰۳ تا ۲۰۶: از گلگت چھاؤنی جوئنال مرسلہ سید محمد یوسف علی صاحب شعبان ۱۳۱۲ھ
جناب مولوی صاحب مخدوم مکرم سلامتبعد آداب تسلیمات کے گزارش یہ ہے کہ براہ مہربانی اس کا جواب بہت جلد مرحمت فرمائے گا کیونکہ اس جگہ پر خط عرصہ سے پہنچتا ہے۔بوجہ برف کے جواب کے واسطے عرصہ دو ماہ کا ہونا چاہئے۔بندہ کو اس وقت سوا آپ کے اور کوئی نہیں یاد آیا۔امیدوارہوں کہ اکثر یہاں کے لوگ ناواقف ہیں۔چند باتیں میں سوال میں لاتاہوں ان کا جواب دیجئے گا۔فقط۔
(۱)انگریز کے ولایت کی چند چیزیں ایسی ہیں جو کہ بوجہ یہاں دستیاب نہ ہونے کو ان کو استعمال کرنا اول تو مکھن وہاں سے گائےکے دودھ کا بن کے ٹین کے بکس میں بند ہوکر آتاہے اس پر گائے کا نمونہ بھی بنا ہوتاہے اس کوخرچ میں لانا جائز ہے یانہیں
(۲)اس طرف سے گائےکا دودھ ٹین کے بکس میں آتاہے چند شخص کہتے ہیں یہ اچھا ہے چند شخص اعتراض کرتے ہیں دیکھا ہوا کوئی صحیح نہیں بتلاتا صرف سنے ہوئے پر برتتے ہیں۔
(۳)ایك قسم کا دانت صفا کرنے کا بجائے مسواك کے انگریزی برش ہے اس سے دانت خوب صفا ہوتے ہیں چند شخص کہتے ہیں اس کا دستہ ہاتھی دانت کا ہے اور سینگ کے بال ہیں فرض کا اگر سینگ کے بال ہیں ان کو منہ میں لینا کیساہے چونکہ کوئی اس سے اصلا خبر نہیں رکھتا عقل سے ہاتھی دانت بتاتے ہیں۔
(۴)یہ کہ بکری ہم نے اپنے ہاتھ سے ذبح کردی اس کو اپنے ہاتھ سے پکایا اس کو انگریز نے اپنے
#6530 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
سامنے رکھ کر چھری اور کانٹے سے علیحدہ کاٹا یہاں تك کہ اس کا ہاتھ نہ لگاہے اگر اس کوکوئی شخص غفلت سے کھائے تو کیسا ہے
الجواب:
(۱تا ۳)اصل اشیاء میں طہارت وحلت ہے جب تك تحقیق نہ ہو کہ اس میں کوئی ناپاك یا حرام چیز ملی ہے محض شبہہ پر نجس وناجائز نہیں کہہ سکتے۔ردالمحتارمیں ہے:
لایحکم بنجاستھا قبل العلم بحقیقتھا ۔ حقیقت حال معلوم ہونے سے پہلے اشیاء کی نجاست کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔(ت)
اسی میں ہے:
فی التاتارخانیۃ من شك فی انائہ اوثوبہ اوبدنہ اصابتہ نجاسۃ او لافھو طاھر مالم یستیقن وکذا الابار والحیاض والحباب الموضوعۃ فی الطرقات و یستقی منھا الصفار والمسلمون والکفار وکذا ما یتخذہ اھل الشرك اوالجھلۃ من المسلمین کالسمن و الخبز والاطعمۃ والثیاب اھ ملخصا۔ تاتارخانیہ میں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے جس لباس یا برتن کے بارے میں شك ہو کہ آیا وہ ناپاك ہیں یا نہیں تو جب تك اس کا شك یقین کی حدتك نہ پہنچے وہ پاك ہی تصور ہوں گے اور یہی حکم ہے کنووںتالابوں اور گھڑوں کے بارے میں جو راہوں میں رکھے گئے ہوں اور مسلمانکافر چھوٹے بڑے سب ان سے سیراب ہوتے ہوں اسی طرح مشرکین وکفار اور جاہل وناواقف مسلمانوں کی تیار کردہ اشیائے خوردو نوش کاحکم ہے(کہ محض شك سے ناپاك متصور نہیں ہوں گی)اھ ملخصا۔(ت)
ہاں اگر کچھ شبہہ ڈالنے والی خبر سن کر احتیاط کرے تو بہتر ہے لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیف وقدقیل (اس لئے کہ حضور نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے یہ کیسے ہوسکتاہےحالانکہ(اس کے متعلق)ایسا کہا گیا ہے۔ت)مگر ناجائز وممنوع نہیں کہہ سکتےسینگ ہر جانور یہاں تك کہ مردار کا بھی پاك ہے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۲۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۰۲
صحیح البخاری کتاب العلم باب الرحلۃ فی المسئلۃ النازلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹،مسند امام احمد بن حنبل عن عقبہ بن حرث دارالفکر بیروت ۴ /۷
#6531 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
اس کی بنی مسواك منہ میں لینی جائز ہے۔درمختارمیں ہے:
شعر المیتۃ غیر الخنزیر وحافرھا وقرنھا طاھر اھ ملتقطا۔ سوائے سور کے ہر مردار کے بالکھر اور سینگ پاك ہوتے ہیں۔اھ متقلطا(ت)
البتہ خنزیر کے بالوں کا برش نجش ہے اور اس کا استعمال حرام اس سے دانت مانجنا ایسا ہے جیسے پاخانے سے اور وہ بھی بلاد یورپ سے آتے اور علانیہ بکتے ہیں۔معلوم ہونے کی صورت میں توصریح حرام ہی ہے اور شبہہ کی حالت میں بھی بچنا ہے۔اور اصل تو یہ ہے کہ مسواك کی سنت چھوڑ کر نصرانیوں کا برش اختیار کرنا ہی سخت جہالت وحماقت اور مرض قلب کی دلیل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)اس کھانے والے پر کچھ الزام نہیں۔ہاں کسی کافر خصوصا ان بلاد میں انگریز کے ساتھ کھانے یامعاذاﷲ اس کا جھوٹا کھانے یا پینے سے احتراز ضرور ہے۔
لما فیہ من مخالفۃ الکافر وقد قدمنا کراھۃ مخالطۃ اھل الباطل والشرمطلقا فکیف الکافر فکیف اذا کان مسلطا بالحکومۃ والنفوس والموسوسۃ تحب التقرب الیہ ولما فیہ من اساء ظنون المسلمین بنفسہ وقد روی الامام احمد عن ابی الغادیۃ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاك و مایسوء الاذن و لما فیہ من ایقاع غیرہ فی الغیبۃ ونفسہ فی التھمۃ قد جاء عن امیر المومنین عمر الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یقفن مواقف التھم بل یروی فی ذلك عن النبی صلی اﷲ کیونکہ اس میں کفار سے میل جول پایا جاتاہے حالانکہ ہم اس سے پہلے اہل باطل اور اہل شر سے ملطقا میل جول کی کراہت بیان کر ائے ہیں پھر کیسے کافر سے اور کیسے حکومت پر جبرا مسلط شخص سے میل جول کا جواز ہوسکتاہے(یعنی اس کا حال تو زیادہ سنگین اور خطرناك ہے پس یہ کیسے روا ہوسکتاہے)اور وسوسے ڈالنے والے نفوس تو چاہتے ہیں کہ ان کے تقرب میں گرفتار ہوں نیز اس میں مسلمانوں کے ہاں بدگمانی پائی جانے کا امکان ہوتاہے۔امام احمد نے ابو الغادیۃ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔(اے بندو!) اپنے آپ کو ان کاموں سے بچاؤ جو کانوں کو برے
حوالہ / References درمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۸
مسند امام احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغادیہ المکتب الاسلامی بیروت ۴/۷۶
#6532 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
تعالی علیہ وسلم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ لگیں اور اس میں دوسروں کو غیبت میں اور اپنے آپ کو تہمت میں ڈالنا ہے جبکہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ جوکوئی اﷲ تعالی او ریوم آخرت پر ایمان رکھتاہے وہ مقامات تہمت سے بچے یعنی وہاں نہ ٹھہرے بلکہ اس باب میں حضور نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے بھی روایت کیا کی گئی ہے۔اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۰۷: از گلگت مرسلہ سردار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں :ایك ڈنڈی دار پیالے میں جس میں کچھ بال نہ پڑا ہو اگر ہم نے اس میں چائے بنائی اس کو قوم نصاری نے آکر ڈنڈی پکڑ کر صرف اٹھالیا اور وہ چائے ہم کو پینا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجرو ثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
جائز ہے۔مسلمان کے مذہب میں چھوت نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸: ۲۰ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ مسلمان جو اینٹ کے کاروبار کرتے ہیں ان کے یہاں کمھار نوکر ہیںاگر یہ کمھار ہندوکبھی اپنے یہاں سے پوری پکوا کرلائیں یا بازار سے اپنی آمدنی میں سے مٹھائی وغیرہ خرید کرکے دیں تو اس کا لینا اور کھانا درست ہوگا یا نہیں اور نیز عام اہل ہنود کے یہاں کے کھانے کا جوطریق رسم کچھ بھیجیں لینا اور کھانا درست ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کافروں کے ہدیے قبول بھی فرمائے اور د بھی فرمائے۔کسری بادشاہ ایران نے ایك خچر نذر کیا۔قبول فرمایا:
الحاکم فی المستدرك عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما قال ان کسری اھدی للنبی صلی اﷲ تعالی حاکم نے مستدرك میں حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کی ہے انھوں نے فرمایا کسری شاہ ایران نے آنحضرت صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی باب ادراك الفریضۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹،حاشیہ الطحطاوی فصل مایکرہ للصائم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۷۱
#6533 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
علیہ وسلم بغلۃ فرکبھا بحبل من شعرثم اردفنی خلفہ قال الحافظ الدمیاطی فی ذلك نظر لان کسری مزق کتابہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فبعید ان یھدی لہ اقول: یرد نظرہ حدیث الآتی واما استبعادہ فقد اجاب عنہ العلماء بجوابین ذکرھما الزرقانی فی شرحہ علی المواھب فی ذکر بغالہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایك خچر بطور تحفہ بھیجا اور آپ نے اس پر سواری فرمائی جبکہ اس کی لگان بالوں کی رسی تھی اور آپ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایاحافظ دمیاطی نے فرمایا اس میں اشکال ہے اس لئے کسری نے آپ کا نامہ مبارك چاك کردیا تھااوریہ بات ناقابل فہم اور بعید ہے کہ اس نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا ہو میں کہتاہوں محدث دمیاطی کے اعتراض کو اگلی حدیث مسترد کررہی ہے۔رہا اس کا بعید کہنا تو اہل علم حضرات نے اس کے دو جواب دیئے ہیں جن کو علامہ زرقانی نے مواھب اللدنیہ کی شرح میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وآلہ وسلم کے خچروں کے شمار کے سلسلے میں ذکر کیا ہے۔(ت)
یونہی بادشاہ فدك نے چار اونٹنیاں پر بار نذ ر کیں۔قبول فرمائیںاور بلال رضی اﷲ تعالی عنہ کو بخش دیں۔
رواہ ابو اداؤد عن بلال المؤذن رضی اﷲ تعالی عنہ وفیہ انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لبلال فاقبضھن واقض دینک۔ اس کو امام ابوداؤد نے حضرت بلال مؤذن کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔(رضی اﷲ تعالی عنہ)اس میں مذکور ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمایا:ان پر قبضہ کرکے اپنا قرض ادا کرو۔(ت)
قیصر روم وغیرہ سلاطین کفار کے ہدایا قبول فرمائے۔
احمد والترمذی عن امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالی وجہہقال اھدی کسری لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالی امام احمد اور ترمذی نے امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کیا کی ہے کہ آپ نے فرمایا کسری بادشاہ ایران نے حضور صلی اﷲ تعالی
حوالہ / References المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحافیۃ تعلیم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابن عباس دارالفکر بیروت ۳ /۵۴۱
شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ ذکر بغالہٖ علیہ الصلٰوۃ والسلام دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۸۹
شرح الزرقانی علی المواھب اللدینہ ذکر بغالہٖ علیہ الصلٰوۃ والسلام دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۳۸۹
سنن ابی داؤد کتاب الخراج والفی باب فی الامام یقبل ھدایا المشرکین آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۷۸
#6534 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
علیہ وسلم فقبل منہ واھدی قیصر فقبل منہ واھدت لہ الملوك فقبل منہا ۔ علیہ وآلہ وسلم کو تحفہ بھیجا تو آپ نے اس کا تحفہ قبول فرمایا۔اسی طرح قیصر روم(روم کے بادشاہ)نے تحفہ بھیجا وہ بھی آپ نے قبول فرمایا۔ اسی طرح دیگر بادشاہوں نے بھی ہدئے بھیجے تو آپ نے وہ بھی قبول فرمائے۔(ت)
قتیلہ بنت عبدالعزی بن سعد اپنی بیٹی حضرت سیدتناء اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہا کے پاس آئی اور کچھ گوشت کے زندہ جانورپنیرگھی ہدیہ لائیبنت صدیق نے نہ لیانہ ماں کو گھر میں آنے دیا کہ تو کافر ہ ہے۔ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھاآیت اتری:
" لا ینہىکم اللہ عن الذین لم یقتلوکم فی الدین " اﷲ تعالی نے ان کافروں کے ساتھ نیك سلوك سے تمھیں منع نہیں فرماتا جو تم سے دیں میں نہ لڑیں۔
نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہدیہ لو اور گھرمیں آنے دو ۔
رواہ الامام احمد عن عامر بن عبداﷲ بن الزییر رضی اﷲ تعالی عنہم۔ امام احمدنے بن اس کو عامر بن عبداﷲ زبیر سے روایت کیا ہے۔رضی اﷲ تعالی عنہم۔(ت)
یہ حدیثیں تو جوا ز کی ہیں____ اور عیاض رضی اﷲ تعالی عنہ نے پیش از اسلام کوئی ہدیہ یاناقہ نذر کیافرمایا:تو مسلمان ہے عرض کی نہ۔فرمایا:
ان نھیت عن زبدالمشرکین رواہ عن احمد وابوداؤد والترمذی وقال حسن صحیح۔ میں کافروں کی دی ہوئی چیزیں لینے سے منع کیا گیا ہوں(امام احمدابوداؤد اور ترمذی نے اس کو روایت کیا۔اور امام ترمذی نے فرمایا یہ حسن صحیح ہے۔ت)
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن علی بن ابی طالب المکتب الاسلامی بیروت ۱/۱۴۵۔۹۶،جامع الترمذی ابواب السیر باب ماجاء فی قبول ھدایا اللمشرکین آمین کمپنی اردو بازار لاہور ۱/۱۹۱
القرآن الکریم ۶۰ /۸
مسند احمد بن حنبل عن علی ابی طالب المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۴۵
جامع الترمذی ابواب السیر باب ماجاء فی قبول ھدایا للمشرکین آمین کمپنی اردو بازار لاہور ۱ /۱۹۱
#6535 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
یونہی ملا عب الاسنہ نے کچھ ہدیہ نذر کیا۔فرمایا:اسلام لا۔انکار کیا۔فرمایا:
انی لا اقبل ہدیۃ مشرك رواہ الطبرانی فی الکبیر عن کعب بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ میں کسی مشرك کا ہدیہ قبول نہیں فرماتا۔(امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت کعب بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے بسند صحیح اسے روایت کیا ہے۔ت)
ایك حدیث میں ارشاد فرمایا:
انالا نقبل شیئا من المشرکین۔رواہ احمد والحاکم عن حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالی عنہ بسند صحیح۔ ہم مشرکوں سے کوئی چیز قبول نہیں فرماتے(اس کو امام احمد اور حاکم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت حکیم بن حزام رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
اسی طرح اور بھی حدیثیں رد وقبول دونوں میں وارد ہیں:
فمنھم من زعم ان الرد نسخ القبول ورد بجھل التاریخ ومنھم من وفق بان من قبلہ منہم فاھل کتاب لا مشرك کما فی مجمع البحار اقول: قد قبل عن کسری ولم یکن کتابیا الا ان یتمسك فی المجوس سنوابھم سنۃ اھل الکتاب غیر ناکحی نسألھم ولا اکل ذبائحھم ۔ ان میں کچھ وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ ہدیہ رد کرنے سے اس کا قبول کرنا منسوخ ہوااوریہ غلط ہے کیونکہ تاریخ معلوم نہیں۔اور بعض نے دونوں میں مطابقت اور موافقت پیدا کی کہ جن کا ہدیہ قبول فرمایا وہ اہل کتاب تھے مشرك نہ تھے جیسا کہ مجمع البحارمیں ہے اقول:(میں کہتاہوں)کہ آپ نے کسری شاہ ایران کا ہدیہ قبول فرمایا حالانکہ وہ اہل کتاب نہ میں سے نہ تھا بلکہ مجوس سے تھا۔مگر یوں استدلال کیا جائے کہ مجوسی نے اہل کتاب کی روش اختیار کی البتہ ان کی عورتوں سے نکاح اور ان کے ذبیحہ کا کھانا جائز نہیں۔(ت)
اس بارہ میں تحقیق یہ ہے کہ یہ امر مصلحت وقت وہ حالت ہدیہ آرندہ وہدیہ گیرندہ پر ہے اگر تالیف قلب کی نیت ہے اور امید رکھتاہےکہ اس سے ہدایاد تحاتف لینے دینےکا معاملہ رکھنے میں اسے اسلام
حوالہ / References المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۱۳۸ المکتبۃ الفیصلیۃ ۱۹ /۷۰
مسند امام احمد بن حنبل عن حکیم ابن حزام المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۰۳
التلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر حدیث ۱۵۳۳ المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل ۳ /۱۷۲
#6536 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
کی طرف رغبت ہوگی تو ضرور لے اور اگر حالت ایسی ہے کہ نہ لینے میں اسے کوفت پہنچےگی اور اپنے مذہب باطل سے بیزار ہوگا تو ہر گز نہ لےاور گر اندیشہ ہے کہ لینے کے باعث معاذاﷲ اپنے قلب میں کافر کی طرف سے کچھ میل یا اس کے ساتھ کسی امر دینی میں نرمی ومداہنت راہ پائے گی تو اس ہدیہ کو اگ جانے اور بیشك تحفوں کا رغبت ومحبت پیدا کرنے میں بڑا اثرہوتا ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
تھادوا تحابوا۔رواہ ابو یعلی بسند جید عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ زاد ابن عساکر وتصافحوا یذھب الغل عنکم و عندہ عن ام المومنین الصدیقۃ رفعتہ تھادوا تزدادو احبا الحدیث۔ ایك دوسرے کو ہدیہ دے دیا کرو تاکہ آپس کی محبت میں اضافہ ہوابویعلی نے اس کو جید سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔اور ابن عساکر نے یہ اضافہ کیا کہ ایك دوسرے کے ساتھ مصافحہ کیا کرو۔(یعنی ہاتھ ملایا کرو)اس سے تمھارا باہمی کینہ دور ہوگا اور اسی نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے مرفوعا روایت کیاہے ہدیہ دیا کرو تاکہ تمھاری باہمی محبت میں اضافہ اورترقی ہو الحدیث(ت)
ایك حدیث میں ہے۔حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الہدیۃ تذھب بالسمع والقلب والبصر۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ حسنہ السیوطی وضعفہ الہیشمی وغیرہ۔ ہدیہ آدمی کو اندھابہرادیوانہ کردیتا ہے(امام طبرانی نے اس کو معجم کبیر میں عصمۃ بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔امام سیوطی نے اس کی تحسین فرمائی جبکہ ہیثمی وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا۔(ت)
نیز حدیث میں ہے۔فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم:
الھدیۃ تعور عین الحکیماخرجہ الدیلمی ہدیہ حکیم کی آنکھ اندھی کردیتاہے(دیلمی نے بسند
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن ابی ہریرۃ حدیث ۱۵۰۵۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۱۱۰
کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن ابی ہریرۃ حدیث ۱۵۰۵۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۱۱۰
کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن عائشہ حدیث ۱۵۰۵۷ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۱۱۰
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۴۸۸ المکتبہ الفیصلیہ ۱۷ /۱۸۳
الفردوس بمأثور الخطاب حدیث ۶۹۶۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۳۳۵
#6537 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما بسند ضعیف۔ ضعیف حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی۔ت)
اور اگر نہ کچھ مصلحت ہونہ کچھ اندیشہ تو مباح ہے چاہے لے چاہے نہ لے۔
وقد بنی الامر فی ذلك علی المصالح علماؤنا الکرام کما نقلہ فی الباب الرابع عشر من کراھیۃ الہندیۃ عن المحیط عن الامام الفقیہ ابی جعفر وغیرہ فراجعہ۔ ہمارے علماء کرام نے اس معاملہ میں مختلف مصالح پر بنیاد رکھی ہے جیسا کہ اس کو فتاوی ہندیہ کی بحث کراہت چودھویں باب میں بحوالہ محیط امام فقیہ ابوجعفر وغیرہ نے نقل کیا ہے لہذا اس کی طرف رجوع کیا جائے۔(ت)
پھر ان کا پکایا ہوا یا ہدیہ دیا ہوا گوشت تو حرام ہے جب تك اپنے سامنے جانور ذبح ہو کر بغیر نگاہ سے غائب ہوئے سامنے نہ پکاہو اور اس کے سوا پکائی ہوئی چیزیں اور بازار کی مٹھائی دودھ دہی گھی ملائی سب کا ایك حکم ہے کہ فتوی جواز اور تقوی احتراز۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۹: ا ز ملك بنگالہ شہر نصیر آباد قصہ لاما پڑا مرسلہ محمد علیم الدین صاحب ۵ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں:ایك شخص مسلمان سود ورشوت وغیرہ حرام کھاتاہے اور تجارتی وغیرہ حلال پیشہ بھی اس کا ہے یعنی مال مختلط حرام وحلال شے ہے۔اور وہ نماز پڑھتانہیں اس کے مکان پر کھانا کھانا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
جائز بایں معنی تو ہے کہ کھائے گا تو کوئی شے حرام نہ کھائی جب تك معلوم نہ ہو کہ یہ شے جو میرے سامنے آئی بعینہ حرام ہے۔
بہ ناخذ مالم تعرف شیئا حراما بعینہ نص علیہ محرم المذھب الامام محمد رحمہ اﷲ تعالی کما فی الذخیرۃ وغیرھا۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین شے کے حرام ہونے کو پہچان نہ لیں چنانچہ مذہب قلمبند کرنے والے امام محمدر حمہ اﷲ تعالی نے اس کی صراحت فرمائی ہے جیسا کہ ذخیرہ وغیرہ کتب میں مذکورہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۸۔۳۴۷
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الظہیریۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
#6538 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مگر احتراز اولی خصوصا جب کہ غالب حرام ہو۔
خروجا عن الخلاف وکما فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن الامام ابی جعفر احب الی فی دینہ ان لایأکل ویسعہ حکما ان لم یکن(ذلك الطعام)غصبا ورشوۃ الخ۔ تاکہ اختلاف سے نکل جائیں جیسا کہ فتاوی شامی میں ذخیرہ کے حوالے سے امام ابوجعفر سے روایت کیا ہے کہ آدمی کے دین کے معاملے میں یہ بات مجھے زیادہ پسند ہے کہ وہ نہ کھائے جبکہ حکم میں اس کی گنجائش ہے بشرطیکہ طعام مال غصب شدہ اور شوت وغیرہ سے نہ ہو الخ۔(ت)
خصوصا جب کہ یہ شخص سود اور رشوت لینے کے باعث نہ صرف فاسق بلکہ عباداﷲ پرظالم ہے ایسے فساق سے اظہار بغض و نفرت پر سلمف صالح اجماع قائم ہے۔امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں:
طرق السلف قد اختلف فی اظہار البغض مع اھل المعاصی وکلھم اتفقوا علی الظہار البغض للظلمۃ و المبتدعۃ وکل من عصی اﷲ تعالی بمعصیۃ متعدیۃ منہ الی غیرہ الخ۔ علمائے سلف کی روشن گناہ کرنے والے کے ساتھ اظہار بغض میں مختلف رہی ہے لیکن ظالموں اور بدعتیوں کے خلاف بغض کرنے پر سب کااتفاق ہے۔اور جو کوئی گناہ کرکے اﷲ تعالی کی نافرمانی کرتاہے اس کی یہ کاروائی دوسروں تك متجاوز ہوتی ہے۔الخ(ت)
تو اس کے یہاں کھانے سے اور زیادہ احتراز چاہئے خصوصا اس کے ساتھ کھانے سےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۰: از بلگرام شریف مرسلہ حضرت سید محمد زاہدصاحب دوم رجب ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میز پر اورٹیك لگاکر کھانا کیسا ہے
الجواب:
ٹیك لگا کر کھانا اگر بہ نیت تکبر ہو تو کراہت کیسی حرام ہے۔
قال تعالی " الیس فی جہنم مثوی للمتکبرین ﴿۶۰﴾ " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:کیا دوزخ تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا نہیں (یعنی یقینا ہے)۔(ت)
ورنہ بلا کراہت درست بعض اوقات حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے بھی اس کا فعل
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظرولاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۷
احیاء العلوم کتاب آداب الالفۃ واخوۃ بیان البغض فی اﷲ مطبعۃ المشہد الحسینی ۲ /۱۶۸
القرآن الکریم ۳۹ /۶۰
#6539 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مروی
فقد اخرج ابونعیم عن عبداﷲ بن السائب عن ابیہ عن جدہ وقال ھو وھم والصواب ابن عبداﷲ بن السائب عن ابیہ عن جدہ رضی اﷲ تعالی عنہما قال رأیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یأکل ثریدا متکئا علی سریر ثم یشرب من فخارۃ ۔ بیشك عبداﷲ بن سائب سے بواسطہ اپنے باپ اپنے دادا محدث ابونعیم نے اس کو تخریج کیا اور فرمایا۔یہ وہم ہے ٹھیك یوں ہے ابن عبداﷲ بن سائب عن ابیہ عن جدہ(رضی اﷲ تعالی عنہما)فرمایا میں نے نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو تخت پر تکیہ لگائے کھانا(ثرید)کھاتے ہوئے دیکھا پھر پختہ مٹی کے برتن سے پانی پیتے ہوئے بھی دیکھا(ت)
ہاں عادت کریمہ زمین پر دسترخوان بچھا کر کھانا تناول فرمانا تھی اور یہی افضل
اخرج الالمام احمد فی کتاب الزھد عن الحسن مرسلا والبزار نحوہ عن ابن ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا اتی بطعام وضعہ علی الارض واخرج الدیلمی فی مسند الفردوس عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ یرفعہ الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صنعہا علی الحضیض ثم قال انما انا عبد اکل کما یاکل العبد واشرب کما یشرب العبد واخرج الدارمی و امام احمد نے کتاب الزہد میں امام حسن سے بغیر سند(یعنی مرسلا)تخریج فرمائیمحدث بزار نے اسی کی مثل ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عن سے تخریج فرمائیجب حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا جاتا تو اپ اسے زمین پر خود رکھ دیتےمحدث ویلمی نے مسند الفردوس میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے مرفوعا تخریج فرمائی یعنی حضرت ابوہریرہ نے حضور اقدس سے روایت کی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا طریقہ کار یہ تھا کہ کھانا زمین پر رکھ کر خود زمین پر بیٹھ جاتے اور فرماتے میں ایك بندہ ہوں اس لئے اس طریقے سے
حوالہ / References ابونعیم
الزھد الاحمد بن حنبل درالدیان للتراث القاھرہ ص۱۱
اتحاف السادۃ بحوالہ الدیلمی عن ابی ھریرۃ ۸ /۳۹۳ وا بن عدی فی الکامل دارالفکر بیروت ۵ /۱۹۷۱
#6540 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
الحاکم وصححہ واقروہ عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذوضع الطعام فاخلعوانعالکم فانہ اروح لاقد امکم و اخرجہ ابویعلی بمعناہ وزادوھو السنۃ۔ کھاتا اور پیتاہوں جس طریقے سے ایك غلام یعنی بندہ کھاتا اور پیتا ہے۔نیز دارمی اور حاکم نے تخریج کی اور اسے صحیح قرار دیا اور انھوں نے اسے ثابت رکھااور حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کھانا رکھا جائے تو اپنے جوتے اتاردو کیونکہ ایسا کرنا تمھارے قدموں کے لئے زیادہ باعث راحت ہے اور ابویعلی نے اس مفھوم کی تخریج کی البتہ اس میں یہ اضافہ کیا کہ یہ سنت ہے۔(ت)
شرعۃ الاسلام اور اس کی شرح میں ہے:
(وضع الطعام علی الارض احب الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی السفرۃ وھی)ای والحال ان السفرۃ(علی الارض)لاعلی شیئ اخر فوق الارض ۔ دسترخوان پر کھانارکھ کر کھانا آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کو زیادہ پسند تھا اور حالت یہ ہوتی تھی کہ دسترخوان زمین پر بچھاہوتا تھا نہ کہ کسی اور چیز پر جوزمین کے اوپر ہو۔
عین العلم اور اس کی شرح میں ہے:
(یاکل علی السفرۃ الموضوعۃ علی الارض)فھو اقرب الی ادبہ علیہ الصلوۃ والسلام و تواضعہ لمقام الانعام (فالخوان والمنحل والااشنان والشبع من البدع وان لم تکن مذمومات غیر الشبع)فانہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس دسترخوان پر کھانا تناول فرماتے جو زمین پر بچھا ہوتا پس مقام انعام میں یہ چیز حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ادب اور تواضع کے زیادہ قریب ہے لہذا دسترخوان بچھانا جو زمین کی بجائے کسی اور چیز پر بچھا ہویہ آپ کو ناپسند تھا چھلنی سے چھانا ہواآٹااشنان(خوشبودار گھاس)
حوالہ / References سنن الدارمی کتاب الاطعمۃ باب خلع النعال عند الاکل دارالمحاسن القاھرۃ ۲ /۳۴
شرح شرعۃ الاسلام لسید علی زادہ فصل فی سنن الاکل والشرب مکتبہ اسلامیہ کانسی روڈ کوئٹہ ص۲۴۳
#6541 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مذموم اھ مختصر۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور سیر ہو کر کھانا یہ سب بدعات میں سے ہیں(یعنی سنت میں شامل نہیں)اگر چہ سیری کے علاوہ باقی کام مذموم نہیں البتہ سیری مذموم ہے۔اھ مختصر۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۱۱: از بریلی محمڈن بورڈنگ ہاؤس بریلی مرسلہ عظمت حسین صاحب ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت وجماعت اس بارے میں کہ آیا شیعوں کے ہمراہ ان کے مکان پر تیار شدہ کھانا کھانا درست ہے یانہیں اوریہ بات جو مشہور ہے کہ شیعہ اہلسنت وجماعت کو کھانا خراب کھلاتے ہیں اس کا کیا ثبوت عقلی یا نقلی ہے اورنقلی ہے تو کس کی کتاب سے اورکس کتاب سے بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
روافض کے ساتھ کھانا کھاناان کی تقریبات سرور میں دوستانہ شریك ہونا اور جو امور ولاء ووداد ومحبت پر دلالت کریں ان سے احتراز واجتناب کی نسبت احادیث کثیرہ واقوال ائمہ وافرہ متظافرہ وارد ہیں۔ازاں جملہ حدیث ابن جہاں وعقیلی وغیرہما کہ نبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
لاتواکلوھم ولاتشاربواھم ولا تجالسوھم ۔ نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ پانی پیو نہ ان کے پاس بیٹھو۔
قرآن عظیم میں ارشاد ہوتاہے۔
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " میل نہ کرو ظالموں کی طرف کہ تمھیں چھوئے دوز خ کی آگ۔
اورفرماتاہے:
" فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " یاد انے پر پااس نہ بیٹھ ظالموں کے۔
یہ بات کہ یہ نامقید فرقہ جب اہلسنت کے بعض ناواقفو کو کھانا دیتاہے خراب کرکے دیتاہے اس پر
حوالہ / References شرح عین العلم لملا علی قاری الباب السابع مطبع السلامیہ لاہور ص
الضعفاء الکبیر للعقیلی ترجمہ ۱۵۳ احمد بن عمران الاخنس درالکتب العلمیہ بیروت ۱/۱۲۶
القرآن العظیم ۱۱ /۱۱۳
القرآن العظیم ۶ /۶۸
#6542 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
کسی دلیل اوربرہان عقل کے قیام کے کیا معنییہ امور متعلق بشہادت ہیں مشہور اسی طرح ہے والعلم عنداللہ(حقیقی علم کامالك اﷲ تعالی ہے۔ت)اور اس کا پتا ان کی ان حرکات سے چلتاہے جو خاص حرم محترم مکہ معظمہ میں ان کی بیباکوں سے صادر ہوتی ہوئی سنی ہیں اور بعد اطلاع سزائیں دی جاتی ہں فقیر جس زمانے میں حاضر الحج تھا خدام کرام کعبہ معظمہ کی زبانی معلوم ہوا کہ ایك رافضی نے حرم مبارك میں پیشاب کیا کہ اہلسنت کے کپڑے خراب ہوں اس زمانے میں مسموع ہوا کہ کوئی خدا ناترس معاذاﷲ حجر اسود شریف پر کوئی گندی چیز لگاگیا کہ مسلمان ایذا پائیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲: ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ از شہر کہنہ مرسلہ سید عبدالواحد متھراوی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر عرق جو انگریزی دواخانوں میں فروخت ہوتے ہیں اور نہایت ہاضم مشتہی مبہی مسمن بدن ہیں مگر ہم کو ان کی ساخت کی کیفیت بالکل معلوم نہیںاور ان میں نشہ بھی مطلق نہیںنہ کچھ سرور اور کیفیت ہے۔لیکن وہ شراب کے نام سے موسوم ہیں اور بیقیمت گراں فروخت ہوتے ہیں لیکن منشی مطلق نہیں خواہ کئی گلاس پی لئے جائیںتو ایسے عرق کے جواز میں کیاحکم ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
اصل یہ ہے کہ اصل اشیاء میں طہارت واباحت ہے۔جب تك نجاست یا حرمت معلوم نہ ہو حکم جواز ہے۔
فی ردالمحتار ھذا الدودۃ ان کانت غیر مائیۃ المولد وکان لھا دم سائل فھی نجسۃ والافطاھرۃ فلایحکم بنجاستھا قبل العلم بحقیقتہا اھ و فیہ عن التتارخانیۃ من شك فی انائہ اوثوبہ اوبدنہ اصابتہ نجاسۃ اولافھو طاہر مالم یستیقن وکذا مایتخذہ اھل الشرك کالسمن و الخبزوالاطعمۃ والثیاب اھ ملخصا۔ ردالمحتار میں ہے۔اگر کیڑے پانی میں پیدا نہ ہوں اور ان میں بہتا خون ہو تو نجس(ناپاک)ہیں بصورت دیگر یہ پاك ہیں لہذا جب تك ان کی حقیقت معلوم نہ ہو ان پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جاسکتا اھ اور اسی میں تتارخانیہ کے حوالے سے ہے کہ جس شخص کو اپنے جسم۔لباس اور برتن کے پاك ہونے میں شك ہو تو جب تك شك یقین میں نہ بدل جائے وہ پاك ہی متصورہونگے۔اسی طرح مشرکین کی تیار کردہ اشیاء خوردونوش اور ملبوسات وغیرہ از قسم گھی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۲۰
ردالمحتار باب الانجاس داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۱۰۲
#6543 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مٹھائیکھانا اور کپڑے وغیرہ اس وقت تك پاك اور قابل استعمال سمجھی جائیں گی جب تك ان میں کسی ناپاك و نجس چیز کی ملاوٹ یا لگاوٹ کا یقین حاصل نہ ہو اھ ملخصا۔(ت)
مگر ان عرقوں کا بنام شراب مشہور ہونا سخت شبہہ ڈالنے والا ہے۔اور اس کا مؤید یہ ہے کہ نصاری کو شراب سے بے حد اشتغال ہے ان کے یہاں کی رقیق اشیاء میں کم کوئی چیز اس نجاست غلیظہ سے خالی ہوگی اور کچھ نہ ہو تو سپرٹ کی شرکت اکثر ہوتی ہی ہے کوئی ٹنچر اس سے پاك نہیں اور ایسی شرکت اگر چہ موجب سکر نہ ہو نجس وحرام کردیتی ہے اگر شراب کا کچھ میل نہ ہوتا تو اسے شراب کانام دینے کی کیا وجہ ہوتیتو جب تك حال تحقیق نہ ہو اس سے احتراز ہی میں سلامت ہے۔حدیث میں ہے:
ایاك ومایسؤ الاذن ۔ جو کچھ کانوں کو برا لگے اس سے بچو۔(ت)
ہمیں شرع مطہر نے ج سطرح بےر کام سے بچنے کاحکم فرمایا برے نام سے بھی احتراز کی طرف بلایاسیدنا امام مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے لوگوں نے دریائی سور کا حکم پوچھافرمایا:حرام ہے۔عرض کی:وہ سورنہیں ہوتا۔فرمایا:تمھیں نے اسے اس نام سے تعبیر کیا۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۲: حامدا ومصلیا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید سود خوار کے یہاں کھانا کھانا مسلمانوں کو اور وعظ مولود شریف پڑھ کر اسے سود خوار سے کچھ لینا اور اس کا پیسہ مسجد میں لگانا گیارھویں مولود شریف میں مٹھائی تقسیم کرنا اور کپڑا وغیرہ خیرات کرناحالانکہ اسی زید سود خوار کے یہاں تجارت چمڑہ فروشی وغیرہ زمینداری مالگزاری بھی ہوتی ہے ان سب صورتوں میں کیا حکم ہے
الجواب:
جب اس کے یہاں رزق حلال کے ذرائع تجارت زراعت بھی موجود ہیں تو امور مذکور میں کچھ حرج نہیں جب تك کسی خاص روپیہ کی نسبت معلوم نہ ہو کہ یہ وجہ حرام سے ہے۔امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ کما فی الھندیۃ عن الذخیرۃ ۔ ہم اس کو لیتے ہیں جب تك کسی معین چیز کا حرام ہونا واضح نہ ہو جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ذخیرہ سے نقل کیا گیا ہے۔(ت)
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث ابی الغادیۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۷۶
الفتاوی الہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
#6544 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
ہاں بنظر مصالح شریعہ اس کی زجر وتوبیخ اورنگاہ مسلمانان میں اسی کے فعل کی تقبیح کے لئے اس کی دعوت سے احتراز خصوصا مقتداء عالم کو انسب واولی ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ زید نے ظاہر پیر کے نام پر بکرا یا مرغا چڑھایا اور رات بھرا گیاری کرائی یعنی بکرے کے گوشت کو آگ کے پاس رکھ کر اور جھنڈی گاڑ کر آگ میں لونگ جلائی اور گھی جلایا اور ڈبرو یعنی دف بجوا کر گانا کرایا اور اس نے اس گوشت کا کھانا پکوا کر مسلمانوں کی دعوت کی اور جس شخص نے نیاز کرائی ہے وہ مردہ بھی کھاتاہے۔اس کے یہاں کا کھانا جائز ہے یانہیں اور جو شخص اس قسم کا کھانا نہ کھائے اس کے واسطے کیا حکم ہے
الجواب:
مسلمانوں کو اس کے یہاں کھانا کھانا اس سے بات چیت کلام سلام کرنا نہ چاہئے جب تك وہ توبہ نہ کرے اس پر توبہ فرض ہے اور از سر نو کلمہ اسلام پڑھے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵ تا ۲۱۶: از بنگالہ ضلع سلہٹ موضع قاسم نگر مرسلہ مولوی اکرم یکم ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)سود خوار کے گھر کا کھانا جائز ہے یانہیں اگر جواز کی کوئی صورت ہے تو بیان فرمائیے۔
(۲)بے نمازی کے گھر کا کھانا جائز ہے یانہیں اگر جواز کی کوئی صورت ہو تو ارشاد فرمائے۔اور کبھی کبھی جو شخص نماز پڑھتاہے اس کو بے نمازی کہنا جائز ہے یانہیں اور جو مطلقا نہیں پڑھتا ہے اور جو گاہے گاہے پڑھتا ہے ان دونوں شخصوں میں کیا فرق ہے۔بینوا اللہتوجروا عنداللہ(اﷲ تعالی کی خوشنودی کے لئے بیان کرو تاکہ اس کے ہاں اجر وثواب پاؤ۔ت)فقط۔
الجواب:
(۱)جائز ہے جب تك خاص اس شیئ کا جواس کے سامنے لائی گئی حرام ہونا تحقیق نہ ہو۔
فی الہندیۃ عن الظہریۃ عن الفقیہ ابی اللیث قال قال محمد وبہ ناخذ مالك نعرف شیأا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفہ واصحابہ رضی اﷲ تعالی عنھم ۔ فتاوی ہندیہ بحوالہ فتاوی ظہیریہفقیر ابوللیث سے مروی ہے۔فرمایا اما م محمد نے ارشاد فرمایا ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین چیز کی صورت کو نہ جائیںامام بوحنیفہ اور ان کے اصحاب رضی اﷲ تعالی عنہم کا یہی مذہب ہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتا ب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
#6545 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
ہاں عالم مقتدا کو بلا ضروت مطلقا احتراز کرنا چاہئے کہ اس کا گناہ عوام کی نظرمیں ہلکا نہ ہوجائے۔
فی الہندیۃ عن المحیط عن الملتقیط یکرہ للمشہور المقتدی بہ الاختلاط الی رجل من اھل الباطل والشر الا بقدر الضرورۃ لانہ یعظم امر ہ بین ایدی الناس الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ فتاوی ہندیہ میں ملتقط سے نقل کیا ہے کہ کسی مشہور مقتداء اور پیشوا کو اہل باطل اور اہل شر سے میل جول اور آمد ورفت رکھنا مکروہ ہے مگر بقدر ضرورتکیونکہ وہ لوگوں کے سامنے بڑے ہوجائینگے الخ واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)یہاں جواز پہلی صورت سے بھی اظہر ہے کہ ترك نماز کا مال وطعام پر کیا اثر ہے اور عالم مقتدا کو بے ضرورت اس سے احتراز مؤکد تر ہے کہ ترك نماز کبیرہ اخبث واکبر ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من ترك الصلوۃ متعمدا فقد کفر جہارا رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جس کسی نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی تو وہ کھلم کھلا کافر ہو گیا۔(یعنی حد کفر تك پہنچ گیا کیونکہ مرتکب کبیرہ بغیر انکار کے کافر نہیں ہوتا جیساکہ اصول مقرر ہ ہے)امام طبرانی نے اس کو الاوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔(ت)
اور نماز کبھی نہ پڑھنا یا بلاعذر شرعی ترك کردینا احکام میں دونون یکساں ہیں جب تك توبہ نہ کریں دونوں سخت اشد فاسق مرتکب اخبث کبیرہ ہیں ہاں جتنی بار زیادہ ترك کریگا کبائر کا شمار اور گناہوں کا بار بڑھتا جائے گا۔والعیاذ باﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
مسئلہ ۲۱۷ تا ۲۲۳: ازاترولی ضلع اعظم گڑھ محلہ مغلاں مرسلہ اکرام اعظم صاحب ۱۸/ جمادی الاولی ۱۳۲۱ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ملت محمدی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم از روئے قرآن وحدیث وفقہ کے اس بارے میں کہ ایك فرقہ مسلمان گازروں یعنی دھوبیوں کا جو اپنا پیشہ پارچہ شوئی کا کرتے ہیں اور اس وقت تك بموجب رواج قدیم اس قصبہ اترولی کے مسلمانوں کے کھانے پینے میں شریك نہیں ہیں یعنی مسلمان یہاں کے ان کا کھانا پانی نہیں کھاتے پیتے ہیں اور اس کو سخت برا سمجھتے ہیں اب وہ فرقہ مسلمان دھوبیوں کا اس امر کا خواہشمند ہےکہ ہمارا کھانا پینا سب مسلمان کھائیں پئیں اور ہم کو مسلمانوں میں ملائیں اور ہم کو احکام شرع سکھائے جائیں اور اب ہم نماز پڑھیں گے اور اس کوترك نہ کرینگے چنانچہ وہ اکثر نمازی ہوگئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں اور مسجد میں آکر
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۶
المعجم الکبیرالاوسط للبرانی حدیث ۳۳۷۲ مکتبۃ المعارف الریاض ۴ /۲۱۱
#6546 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
کلمہ ونماز وغیرہ یاد کرتے ہیں آیا ان مسلمانوں دھوبیوں کو مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے اور ان کو احکام شرع نہ سکھائے جائیں اور ان کا کھانا پانی مسلمان نہ کھائیں پئیں اور ان سے موافق رواج قدیم اس قصبہ کے متنفر رہیں اور ان کی دلجوئی نہ کریں یا یہ سب امور ان کے ساتھ کئے جائیں
(۲)جن مسلمانوں نے ان مسلمانوں دھوبیوں کے گھر کا کھانا پانی کھایا ہے بعد ان کے نمازی ہونے کے کیا وہ مسلمان کھانے والے کچھ گنہگار ہیں یانہیں
(۳)بے نمازی مسلمان دھوبیوں کے گھر کا جو اپنا پیشہ پارچہ شوئی کا کرتے ہیں پینا درست ہے یانہیں اور اس مسئلہ کا حکم شرعی کیا صرف دھوبیوں کی قوم سے خصوصیت رکھتا ہے یا سب اقوام اہل اسلام اس حکم میں شامل ہیں
(۴)جومسلمان اس قصبہ کے بموجب رواج قدیم کہتے ہیں کہ مسلمانوں دھوبیوں کو مسلمانوں میں نہ ملایا جائے ان کا کھانا پانی نہ کھایا پیا جائے اور ان مسلمانوں کو بھی برا کہتے ہیں جو کہ نمازی مسلمان دھوبیوں کے گھر کا کھا آئے ہیں اور ان سے نفرت رکھتے ہیں۔مسلمان تنفر کرنے والے اور برا کہنے والے گنہگارہیں یانہیں
(۵)جو مسلمان بے نمازی یا نمازی پیشہ ناجائز کھلم کھلا کرتے ہیں جیسے نقالی وقوالی وشراب فروشی و سود خواری وغیرہ ان کے گھروں کا کھانا پینا اور مسلمانوں کو جائز ہے یانہیں
(۶)جن اقوام مسلمان نمازی بے نمازی کی عورات بموجب روایت قدیم کے پردہ نشین نہیں ہیں ان کے گھروں کا کھانا پینا اور مسلمانوں کو درست ہے یانہیں
(۷)اہل ہنود کی دکان یا مکان یا ہاتھ کی اشیاء تر وخشك خوردنی یا نوشیدنی غذائی یا دوائی کھنا پینا چاہئے یانہیں
الجواب:
(۱)انھیں مسلمانوں میں ملانا اور احکام دین سکھانا فرض ہے اور نفرت دینا دلانا باوصف درخواست تعلیم شریعت سے محروم رکھنا حرام ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:بشروا ولاتفروا (خوشخبری سناؤاور نفرت نہ دلاؤ۔ت)
اﷲ تعالی فرماتاہے: " لتبیننہ للناس " (تم اسے لوگوں کے لئے ضروریات بیان کرو۔ت)
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتخذلہم بالموعظہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶
القرآن الکریم ۳ /۱۸۷
#6547 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
(۲)انھوں نے بہت اچھا کیا ان پر کچھ الزام نہیں۔
(۳)عوام ہندوستان نے چھوت کا مسئلہ کفار ہند سے سیکھا ہے۔دھوبی ہر قسم کے کپڑے طاہر ونجس سب کچھ دھوتے ہیں اس لئے ہندو چھوت مانتے ہیں۔جاہل مسلمان بھی انھیں کی پیروی کرتے ہیں اور خود ہندوؤں کے مکانوں اور دکانوں سے دودھدہی پوریکچوریمٹھائی سب کچھ کھاتے ہیں حالانکہ تمام ہندو سخت گندے رہتے ہیں اور ان کے پانی برتن نہایت گھن کے قابل ہیں مسلمان دھوبیوں سے ظاہریہی ہے کہ وہ ضرور اپنے کھانے پانی میں طہارت کا خیال رکھتے ہونگے اور ہندوؤں سے اصلا اس کی امید نہیں جس قوم کے یہاں گوبر پوتر ہو یعنی پاك کرنے والاانھیں طہارت سے کیا علاقہ۔البتہ جو دھوبی یا کوئی قوم طہارت کا لحاظ نہ رکھے اس کے کھانے پینے سے احتراز بہتر ہے اور نہ کیا جائے تو کچھ گناہ نہیں جب تك کسی خاص کھانے کی نجاست تحقیق نہ ہواسی بناء پر ہنود کے یہاں کھانا پینا سوائے گوشت کے جائز رکھا گیا ہے۔اگر چہ بہتر بچنا ہے۔
کمانص علیہ فی نصاب الاحتساب وغیرہ وبیناہ فی فتاونا غیر مرۃ۔ جیسا کہ نصاب الاحتساب میں اس کی تصریح کی گئی ہے اور ہم نے اس کو اپنے فتاوی میں میں متعددبار بیان کیا ہے۔(ت)
(۴)ہاں یہ بے جاوبلاوجہ شرعی تنفرکرنے اور مسلمانوں کو برا کہنے والے گنہگارہوئے۔
(۵)جس کا ذریعہ معاش صرف مال حرام ہے۔اس کے یہاں سے بچنا ہی اولی ہے تحرز اعن الخلاف(اختلاف سے بچتے ہوئے۔ت)مگر کوئی کھانا حرام نہیں جب تك تحقیق نہ ہو کہ خاص یہ کھانا وجہ حرام سے ہے عملا باصل الحل(حل کے اصل ہونے پر عمل کرتے ہوئے۔ت)ہاں یہ جدام بات ہے کہ ایسے فاسقوں سے خلط ملط مناسب نہیں خصوصا ذی علم کو۔
(۶)اگرہ وہ موٹے اور خوب گھیر دار کپڑے پہنے سرے سے پاؤ تك جسم ڈھانپنے نکلتی ہیں کہ سوا منہ کی ٹکلی اورہتھیلیوں کے بال یا گلایا بازو وکلائی یا پیٹ یا پنڈلی کچھ ظاہر نہیں ہوتا جب تو حرج نہیں ورنہ وہ عورتیں فاسقہ اور ان کے مرد دیوث ہیں ان سے احتراز کرنا چاہئے۔اسی بناء پر کہ فاسقوں سے میل جول مناسب نہیں ورنہ اصل کھانے میں حرج نہیں۔
(۷)اس کا جواب نمبر ۳ میں آگیا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
#6548 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مسئلہ ۲۲۴:مرسلہ ڈاکٹر محمد واعظ الحق سعداﷲ لودی ڈاکخانہ خسروپور ضلع پٹنہ مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۵ ربیع لآخر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عرق تاڑ جس کو اس ہندوستان میں تاڑی کہتے ہیں بذانہ حلال ہے یاحرامتاڑی ایسی صورت میں کہ شب کو نیا برتن تاڑ میں لگایا جائے اور علی الصباح اتارلیا جائے اور اس میں کسی قسم کا سکہ نہ پید ہو تو حلال ہے یاحرام بینوا توجروا(بیان فرماؤتاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
تاڑی فی نفسہ ایك درخت کاعرق ہے۔جب تك اس میں جوش وسکر نہ آئے طیب وحلال ہے جیسے شیرہ ا نگورلوگوں کا بیان ہے کہ اگر کور اگھڑاوقت مغر ب باندھیں اور وقت طلوع اتار کر اسی وقت استعال کریں تو اس میں جوش نہیں آتا۔اگر یہ امر ثابت ہو تو اس وقت تك وہ حلال وطاہر ہوتی ہے۔جب جوش لائے ناپاك وحرام ہوئیمگر اس میں تنقیح طلب یہ امر ہے کہ آیا حرارت ہوا بھی چند گھنٹے یا چند پہر ٹھہرنے کے بعد اس عرق میں جوش وتغیر لاتی ہے یانہیںاگر ثابت ہو تو شام کے وقت تاڑی چند پیڑوں سے بقدر معتدبہ نکال کر کسی ظرف میں بند کرکے صبح تك رکھ چھوڑیں تو ہرگز متغیر نہ ہوگی جب تك آفتاب نکل کر دیر تك دھوپ سے اس میں فعل نہ کرے جوش نہیں لاتی تو اس صورت میں وہ بیان مذکور ضرور پایہ ثبوت کو پہنچے گا ورنہ صراحت معلوم ہے کہ شام کو جو گھڑا لگایا جائے گا تاڑی اس میں صبح تك بتدریج آیا کرے گی تو وہ اجزاء کہ اول شام آئے تھے طول مدت کے سبب حرارت ہو اسے ان کا تغیر منظنون ہے اور جوش وتغیر محسوس نہ ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ اجزاء جنھیں مدت اس قدر نہ گزرے کہ ہنوز تغیر کی حد تك نہ پہنچے کثیروغالب میں اس تقدیر پر اس سے احتراز میں سلامتی ہے۔
مسئلہ ۲۲۵: مرسلہ شیخ ممتاز حسین صاحب از رمپورہ تھانہ بھوحی پورہ پرگنہ بریلی ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دو لڑکی اور ایك لڑکے نے خاکروب کی لڑکی سے روٹی چھین کر کھالیایك لڑکی کی عمر چودہ برس کی اور دوسری کی گیارہ برس کیاور لڑکے کی عمر دس برس کی اب ان کے ساتھ کھانا کھانا یا ان کے ہاتھ کی کوئی چیز لینا اور کنویں سے پانی بھروانا درست ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤاور اجر وثواب پاؤ۔ت)بعض صاحبوں نے فرمایا ہے کہ روٹی کے کھانے سے یا خاکروب کے چھونے سے کوئی نقصان نہیںاگر یہ بات درست ہے تو جس مسلمان کا جی چاہے وہ خاکروب کی روٹی کھائے اور پانی پئےپھرعلیحدہ کیوں کیا ہے۔خاکرو ب کو
#6549 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
بھی اپنے کنویں سے پانی بھرنے دینااور اس کو کنویں سے آپ پینا جائز ہے لہذا بندہ امیدوار ہےکہ جناب جواب باصواب مع مہر اعلی کے مرحمت فرمائیں۔ آپ کا کفش بردار ممتاز حسین۔
الجواب:
اول لڑکی لڑکوں کے مربیوں پر لازم ہےکہ انھیں پوری کافی تنبیہ کریں کہ آئندہ ایسی حرکت پھر نہ کریں اول تو روٹی چھین کر کھانا کیسی ناپاك حرکت ہے۔نابالغ پر اگر چہ گناہ نہ ہو۔مگر ایسی حرکات سے انھیں بچانا لازم ہے ورنہ ان کی یہی عادت رہے گیاور پھر بدخصلت شرعا معصیت بھی ہوجائے گیلہذا اگر چہ نماز بچوں پر فرض نہیںحدیث میں ارشاد ہوا:
مروا صبیاننکم بالصلوۃ اذا بلغوا سبعا و اضربوھم علیہا اذا بلغوا عشرا ۔ اپنے بچوں کو نماز کاحکم دو جب وہ سات برس کے ہوں اور نماز پر انھیں مارو جب وہ دس برس کی ہوجائیں۔
دوسرے یہ کہ بھنگی کی روٹی کھانی ضرور شرعا ممنوع اورآدمی کی سخت بے قدری پردلیل ہے جس نے یہ کہا کہ بھنگی کی روٹی کھانے پینے میں حرج نہیں اس نے محض غلط کہا وہ شریعت مطہرہ کے مصالح سے آگاہ نہیں ۱جو بات عام مسلمانوں کی نفرت کی موجوب ہو شرعا منع ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بشروا ولاتنفروا ۔ خوشخبری سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ۔(ت)
۲جس بات میں آدمی متہم ہو مطعون ہو انگشت نماہو شرعا منع ہے۔ رسول اﷲ صلی ااﷲ تعالی علیہ وسلم سے حدیث ہے:
من کان یؤمن باﷲ والیوم الاخر فلا یقف مواقف التہم ۔ جوکوئی اﷲ تعالی اور روز قیامت پرایمان رکھتاہے وہ تہمت والے مقامات پر ٹھہرنے سے پرہیز کرے۔(ت)
حوالہ / References مسند امام احمد عن عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۸۰
صحیح البخاری کتاب العلم باب ماکان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتخولھم بالموعۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹،حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب مایفسد الصوم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۷۱
#6550 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
جو بات مسلمانوں پر فتح باب غیبت کرے انھیں فتنے میں ڈالے گی اور انھیں فتنے میں ڈالنا حرام ہے۔اﷲ تعالی فرماتاہے:
"ان الذین فتنوا المؤمنین و المؤمنت ثم لم یتوبوا فلہم عذاب جہنم و لہم عذاب الحریق ﴿۱۰﴾" بلا شبہ جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو فتنے میں ڈالا(پھر اس جرم)سے توبہ نہ کی تو ان کے لئے عذاب دوزخ ہے اور جلا دینے والی آگ کا عذاب ہے۔(ت)
مسلمان کہ بھنگیوں سے احتراز کرتے ہیں شرعا منع نہیں۔نہ شرعا اصل ہےاور وہ عادت فاشیہ ہونے کے باعث طیبعت ثانیہ ہورہا ہے تو ضرور وہ ایسے شخص کے ساتھ کھانا پینا اور اپنے کنویں سے اس کا پانی بھرنا گوارہ نہ کریں گے اب اگر اس نے اس پر صبر کیا تو خود اپنے ہاتھوں بلا میں پڑا۔اپنی عاقبت تنگ کی اور اس کے قریب رشتہ داروں نے بھی اسے برادری سے نکالا تو قطع رحم کا بھی باعث ہوا اور وہ سخت حرام ہے۔اور اگر اس سے صبر نہ ہوا تو ضرور اس کے باعث فتنہ اٹھے فساد پھیلنے کا اندیشہ قوی ہے اور مسلمانوں میں فساد پیدا کرنا حرام ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتاہے:
"والفتنۃ اشد من القتل" فتنہ قتل سے بھی زیادہ سخت جرم ہے۔(ت)
حدیث میں ہے:
الفتنۃ نائمۃ لعن اﷲ من ایقظھا ۔ فتنہ سوئی ہوئی خرابی ہے لہذا جو کوئی اسے جگائے اس پر اﷲ تعالی کی لعنت ہے۔(ت)
غرض بہت وجوہ سے یہ فعل شرعا نادرست ہے اول لڑکی لڑکوں کو ان کے مربی تنبیہ کریں اور مسلمانوں کو ان سے توبہ کرائیں اس کے بعد ان کے ساتھ کھانا پینےکنویں سے پانی بھرنے میں حرج نہیںواﷲ تعالی اعلم(اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔ ت)
مسئلہ ۲۲۶ تا ۲۲۸: بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ طالب حسین خاں ۲۷ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دی ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اکثر موضع میں بدجانور کا گوشت
حوالہ / References القرآن الکریم ۸۵ /۱۰
القرآن الکریم ۲ /۱۹۱
الجامع الصغیر بحوالہ الرافعی عن انس حدیث ۵۹۷۶ دارلکتب العلمیہ بیروت ۲ /۳۷۰
#6551 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
کھاتے ہیں ان کے یہاں کا کھانا کھانا جائز ہے یانہیں(ت)
(۲)مسلمانوں کو قصد ا شکار سور کا کھانا اوربلم سے مارنا اور کتے سے اور اہل ہنود کو کھلانا جائز ہے یانہیں
(۳)سود لینے والے کے یہاں کھانا کھانا جائز ہے یانہیں ایك مولوی صاحب نے کہا کہ اگر اس کی آمدنی اور جگہ سے بھی ہے تو اس کے یہاں کھانا کھانا جائز ہے۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)جو کفار اس بدجانور کو کھاتے ہیں جیسے ٹھاکر وغیرہبہتر یہ ہے کہ ان کے یہاں کی روٹی سے بھی احتراز کیا جا ئے کہ ظاہر یہی ہے کہ ان کے برتن اوربدن سب نجس ہوتے ہیںاور یہی حال ان کے بامنوں وغیرہ اقوام کا بھی ہے کہ وہ سوئر نہ کھائیں تو گوبر اور بچھیا کاموت تو ان سب کے نزدیك پاك بلکہ پبتر ہے وہ سب نجس ہیں مگر شریعت آسان ہے جب تك کسی خاص شے میں حرمت یا نجاست کا حال معلوم نہ ہوہمارے لئے پاك وحلال ہے ورنہ بازار کا دودھگھیمٹھائی سب کایہی حال ہے۔امام محمد رحمہ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بیعینہ ۔ ہم اسی کو لیتے ہیں(یعنی عمل کرتے ہیں)جب تك کسی شئی کے حرام ہونے کو پہچان نہ لیں۔(ت)
(۲)سوئر اگر کھیتی وغیرہ کو ضرر دے یا اس سے انسان یا مویشی پر حملہ آوری کااندیشہ ہو تو اسے کتے سے شکار کرنا خواہ بلم یا بندوق سے مارنا جائز بلکہ مستحببلکہ بعض اوقات میں فرض وواجب ہے۔مگر ہندو وغیرہ کسی کافر کو اس کا کھلانا یا اس کے پاس بھجوانا سخت حرام ہے۔کہ کھانے اور کھلانا ایك حکم ہے۔اشباہ میں ہے:
ماحرم اخذہ حرم اعطاؤہ ۔ جس چیز کالینا حرام ہے اس کا دینا بھی حرام ہے۔(ت)
(۳)سود خوار کے یہاں نہ کھانا بہتر ہے خصوصا عالم ومقتداء کو اورفتوی وہی ہے کہ جب تك کسی خاص مال کی حرمت معلوم نہ ہو منع نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References الفتاوی الہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الرابعہ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۸۹
#6552 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مسئلہ ۲۲۹: از شہر محلہ جامع مسجد ۱۴جمادی الاولی
حلال جانور مادہ سے نر جانور حرام جفتی کرے جو بچہ اس سے پیدا ہو خواہ بشکل مادہ یا نر یا دونوں کی شکل ہو وہ بچہ حرام ہوگا یاحلال
الجواب:
مادہ جب حلال ہے تو بچہ حلال ہے کہ جانور میں نسب ماں سے ہے نہ کہ باپ سےوھو الصحیح کما فی الہدایۃ وغیرھا (اوریہی صحیح ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ(کتب فقہ احناف)میں مذکور ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۰: حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہ کی فاتحہ کا کھانا مردوں کو کھانا چاہئے یانہیں
الجواب:
چاہئےکوئی ممانعت نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱: ضرورت کوحرام چیز کھانا یا استعمال میں لانا جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر بھوك پیاس سے مرتاہو اور کوئی شے پا س نہیں اور جانے کہ اس وقت کھائے پیئے گا نہیں تو مرجائے گا ایسی صورت حرام شے کھانا پینا اس قدر جس سے اس وقت جان بچ جائے جائز ہے۔یوہیں اگر سردی سخت ہے اور پہننے کو حرام کے سوا کچھ پاس نہیں اور نہ پہنے تو مرجائے گا یا ضرر پائے گا تو اتنی دیر پہن لینا جائز ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲: شراب پینا خدا کے راستے کو روکتی ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
بیشك ضرور روکتاہے اور اس کے پینے والے پر اﷲ تعالی نے لعنت فرمائی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References الہدایۃ
#6553 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مسئلہ۲۳۳ تا ۲۳۷: از بمبئی محلہ چوٹا بھٹی مسئولہ مولوی عبدالقادر صاحب مدرس اول مدرسہ کمون سیٹھ ۵ رجب المرجب ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)اولیائے کرام کے مزا رپر واسطے فاتحہ وامداد مردوں اور عورتوں کو جانا درست ہے یانہیں
(۲)شادی میں دف تاشہ بجانا درست ہے یانہیں
(۳)شادی میں لڑکیوں کا گانا درست ہے یانہیں
(۴)تیجہدسواںچہلم کا کھانا درست ہے یانہیں
(۵)مسائل بالا کو نادرست کہنے والا کیا سمجھا جائے ازروئے شرع شریف کیا حکم ہے بینو توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)مزارات اولیاء کرام پر بلحاظ آداب ومراعات احکام شرعیہ فاتحہ واستمداد واستفادہ کے لئے مردوں کا جانا جائز ومندوب ومحبوب ومرغوب ہے۔شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی میں لکھتے ہیں:
ازاولیاء مدفونین انتفاع واستفادہ جاری ست ۔ اہل قبور اولیاء سے فائدہ اور استعفادہ جاری ہے یعنی ہر دورمیں لوگوں کا معمول ہے۔(ت)
مگر عورتوں کو حاضری سے روکنا ہی انسب واسلم ہے
کما افادہ فی الغنیۃ وبیناہ فی فتاونا واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔ جیسا کہ الغنیہ میں اس کا افادہ پیش کیا اور ہم نے اسے اپنے فتاوی میں بیان کیا واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
(۲)دف کہ بے جلا جل یعنی بغیر جھانجھ کا ہو اور تال سم کی رعایت سے نہ بجایاجائے اور بجانے والے نہ مرد ہوں نہ ذی عزت عورتیں بلکہ کنیزیں یاایسی کم حیثیت عورتیں اور وہ غیر محل فتنہ میں بجائیں تو نہ صرف جائز بلکہ مستحب ومندوب ہے۔
للامر بہ فی الحدیث والقیود مذکورۃ فی ردالمحتار وغیرہ شرحناھا حدیث میں مشروط دف کے بجانے کاحکم دیا گیا اور اس کی تمام قیود کو فتاوی شامی وغیرہ میں ذکر
حوالہ / References تفسیر عزیزی پارہ عم استفادہ از اولیاء مدفونین سورۃ عبس مسلم بك ڈپو لال کنواں دہلی ص۱۴۳
#6554 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
فی فتاونا۔ کردیا گیا اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تشریح کردی ہے۔(ت)
اس کے سوا اور باجوں سے احترز کیا جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)جواری کا طلاق لڑکوں واور چھوکریوں دونوں پر آتاہے کنیزوں کا گانا کہ محض طبعی طور پر ہونہ قواعد موسیقی پرتعلیم کیا ہوا اور اس میں فحش وغیرہ کوئی امر خلاف شرع نہ ہونہ اس میں فی الحال فتنہ ہو نہ ائندہ فتنے کا اندیشہ ہومحل سرور مثل نکاح وعیدین میں مضائقہ نہیں رکھتا اور بہت چھوٹی چھوٹی لڑکیاں اگر بطور خود کچھ آوازیں نکالیں جو غیر مردوں کو نہ پہنچے تویہ بھی فی نفسہ ایسا منکر نہیں جس پر شرعا مواخذہ ہو اور اپنی حیثیت وعزت وعرف وعادت کے اختلاف سے یہاں اختلاف ہوجائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)تیجہدسواںچہلم سب جائز ہیں جب بہ نیت محمودوبطور محمود ہو اور ان کا کھانا مساکین و فقراء کے لئے چاہئے برادری کی دعوت کے طور پر نہ ہو۔
فان الدعوۃ انما اشرعت فی السرور لا فی الشرور فتح وغیرہ۔ دعوت کا جواز خوشی میں ہوتاہے نہ کہ مواقع غم میںفتح القدیر وغیرہ(ت)
(۵)یہ مسائل محض فرعیہ ہیں مگر اول وچہارم میں مطلقا کلام ان بلاد میں شعار وہابیہ ہے اور وہابی ایك سخت گمراہ بددین فرقہ ہے جس کا حال الکوکبۃ الشہابیہ وسل السیوف الہندیہ والنہی الاکید وفتاوی الحرمین وحسام الحرمین وغیرہا تصانیف فقیر سے ظاہرواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۸: از نجیب آباد ضلع بجنور مسئولہ جناب محمد احمد حسین خاں صاحب ۷ ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
کسی شخص کی ضیافت خواہ مسلمان ہو خواہ کافرنہ کرنی چاہئے اور کس شخص کی نامنظور کرنی چاہئے اور کیوں بینوا توجروا
الجواب:
مرتد کی نہ دعوت کرے نہ اس کی دعوت میں جائے نہ اس سے کوئی معاملہ میل جول کا رکھےیونہی کفار خصوصا وہ جو ذمی یعنی سلطنت اسلامیہ میں رہ کر مطیع الاسلام نہ ہوں ان سے بھی کوئی برتاؤ محبت ودوستی کا نہ کرے ہاں مصلحت شرعیہ ہو تو اس کی دعوت کرے بھی اورکھائے بھی جس کی بد مذہبی
حوالہ / References فتح القدیر کتا ب الصلٰوۃ باب الشہید مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۰۲
#6555 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
حدکفر تك نہ پہنچی ہو اور بلا مصلحت اس سے کیا فاسق معلن بیباك سے بھی بچے خصوصا مضرت دینی کا خوف ہو جب تو احتراز سنت لازم ہوگا مثال یہ ہے کہ ایك شخص کے یہاں شادی میں ناچ یا ناجائز باجا ہے وہ اسے بلاتا ہے اور یہ جانتاہے کہ میں جاؤں گا تو اسے روك سکوں گا اسے میرا کہنا ضرور ماننا ہوگا تو بالقصد جائے اور اگر سمجھے کہ میں اپنا شریك ہونا ممنوعات کے نہ ہونے پر موقوف کردوں کہ اگر یہ باتیں نہ کروں تو آؤں گا تو اسے میری ایسی خاطر ہے کہ ان باتوں سے باز رہے گا توہرگز نہ جائے جب تك وہ منہیات ترك نہ کردے۔دوسری مثال اس سے میل جول نرم برتاؤ رکھنے میں امید ہے کہ یہ راہ پر آجائے اس کا دل نرم ہے حق قبول کرلے گاتو حد جائز تك آشتی برتے اور جانے کی میل جول میں مجھے اندیشہ ہے کہ اس کی محبت اثر کر جا ئے تو آگ سمجھے دور بھاگے عام لوگوں کو اسی اخیر صورت کالحاظ چاہئے۔ولہذا حدیث میں صاف فرمایا:
ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم ۔والعیاذ باﷲ تعالی۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ ان سے دور ہو اور ان کو اپنے سے دور رکھوں کہیں وہ تم کو بہکا نہ دیں کہیں وہ تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔اور اﷲ تعالی کی پناہ اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے اور اس کا علم(جس کی بزرگی سب سے بڑھ کر ہے)سب سے زیادہ کامل اور سب سے زیادہ بختہ ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۳۹: مرسلہ محمد بشیر الدین طالب عالم مدرسہ امداد العلوم محلہ بانسمنڈی کانپور ۲۵ صفر ۱۳۳۰ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ اگر ازمال حلال واز مال کسبے چاہے کندہ مال حرام زیادہ باشد آب آں چاہ حلال ست یا حرام وچاہ را چہ حکم ست ویراں کندند یانہ بینوا توجروا۔ اہل علم اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں:اگر کوئی شخص حلال اورکمائی کے مال سے کنواں کھدوائے جبکہ حرام مال زیادہ نہ ہو تو ایسے کنویں کا پانی استعمال کرناجائز ہے یاحراماو رکنویں کا کیاحکم ہے کیا اسے ویران(غیر آباد)کردے یا نہ کر دے بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔(ت)
الجواب:
آب برحلال حلال ست لانہ مباح حتی لایملکہ مالك البئر کما ھو بہر حال اس کنویں کا پانی استعما ل کرنا جائز ہے اس لئے کہ وہ مباح ہے۔یہاں تك کہ کنویں کا
حوالہ / References صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰
#6556 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مصرح بہ فی عامۃ کتب المذھب وچاہ را ویران کردن ضرور نیست اگر اں مال حرام زر نقد بود فان اشتراء بہ لایورث خبثا فی المشتری علی مذھب الکرخی المعنی بہ مالم یجتمع علیہ العقد والنقد ولیس معہودا فی البیاعات ھنا بل اختار فی الطریقہ المحمدیۃ الفتوی علی القول الثالث ان الخبث لایسری الیہ اصلا ولو اجتمعا واگر نفس خشت وخشت کہ بآنہا تعمیر چاہ کردندمال حرام بود اگر مالك معلوم ست باذن او اباحت تو ان شد واگر مضائقہ کند قیمت تواں گرفت علی التفصیل المعلوم فی الساجۃ المذکور فی الدر وغیرہ واگر معلوم نیست لقطہ شد پس باذن قاضی وآنجا کہ قاضی نیست باجازت عالم سنی فقہ بلد وصوابدید عمائد مسلمین صرف چاہ تواں شد کمافی الخانیۃ وغیرھا۔واﷲتعالی اعلم۔ مالك بھی اس کا مالك نہیں۔(یعنی اس میں تصرف اور پابندی کرنے کااختیار نہیں رکھتا)جیسا کہ مذہب کی عام کتابوں میں تصریح موجود ہے اور کنویں کوغیر آباد کرنا کوئی ضروری نہیںاگر وہ مال حرام نقدی زرہو تو اس کے ساتھ اسے خریدنا امام کرخی کے مذہب میں خرید کردہ چیز میں خباثت نہیں پیدا کرتااوریہی قابل قبول فتوی مذہب ہے بشرطیکہ اس پر عقد اور نقد کا اجتماع نہ ہو پس خرید وفروخت کے باب میں یہاں یہ معہود(متعین)نہیں بلکہ طریقہ محمدیہ میں ایك تیسرے قول کو پسند فرمایا کہ بالکل خباثت اس تك سرایت ہی نہیں کرتی اگر چہ دونوں عقد ونقد کا اجتما ع ہواگر صرف اینٹلکڑی کہ جس سے کنویں کی تعمیر کرتے ہیں حرام مال کی ہواگر مالك معلوم ہو تو اس سے اجازت اور اباحت ہوسکتی ہے(یعنی لی جاسکتی ہے)لیکن اگر تنگدل ہو تو قیمت وصول کرلے اس معلوم تفصیل کے مطابق جو درمختار وغیرہ میں مذکور ساگوان لکڑی کے متعلق گزر چکی ہے۔اور اگر مالك اشیاء معلوم نہ ہو تو پھر وہ چیزیں لقطہ(یعنی گری پڑی چیز)کی طرح ہوگئیںتو فتاوی قاضی خاں وغیرہ کی تصریح کے مطابق ان چیزوں کو کنویں پر خرچ کیا جاسکتاہے بشرطیکہ قاضی اجازت دے اگر وہاں قاضی موجود نہ ہو تو پھر وہاں کے بڑے فقیہ سنی عالم اور عام مسلمانوں کے اکابرین کا صوابدید پر ایسا کیا جاسکتاہے۔اور اﷲ تعالی سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۴۰: از مشہر محلہ بحاری پور متصل مسجد بی بی جی مرحومہ مسئولہ جناب سلطان احمد خاں صاحب ۲۸ ذی قعدہ ۱۳۳۰ھ
خاکی انڈا کھانا جائز ہے یانہیں
#6557 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
الجواب:
جائز ہے کہ وہ تنہامادہ کی منی منعقدہ مستحیل بطیب ہے جیسے اور انڈے نر ومادہ دونوں کی منی مستحیل۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱: ۱/جمادی الآخرہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید جو کہ فی الحال امامت کرتاہے وہ جاکرنوروز کو رافضی کے یہاں کھانا کھا آیا جبکہ ہم لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترك کیا لوگوں نے اعتراض کرنا شروع کیاکہ امام کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ہم نے کہا کہ روافض کے یہاں کھانا پینا مجالست شریعت مطہرہ میں قطعا حرام ہے ان میں سے بعض لوگوں نے یہ کہا کہ زمانہ حضور اقدس سرور عالم صلی اﷲ تعالی علہ وسلم میں یہود ونصاری بھی تھے جبکہ انھوں نے حضور پر نور شافع یوم النشور کی دعوت کی حضور نے قبول فرمایا اور تناول بھی فرمایا ہم نے یہ کہا کہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے کبھی یہودی ونصرانی کے یہاں تناول نہ فرمایااس کے اوپر انھوں نے کہا کہ رنڈی وسود خوار وزانی کے یہاں بھی نہ کھانا چاہئے کیونکہ وہ بھی گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیںاس کے اوپر ہم نے کہاکہ رافضی ویہودی ونصرانی قطعی کافر ہے اس لحاظ سے ہم کو ان کے یہاں کھانا حرام اور رنڈی وزانی وسود خوار سب کے سب گناہ کبیرہ ہیں۔آپ اس کا ثبوت دیجئے کہ کافرہیںاس پر وہ کوئی ثبوت نہ لاسکے خاموش بیٹھے رہے۔اس سے معلوم ہوا کہ کافر ان کے نزدیك بھی نہیں ہیں اب ہم کوبحکم شریعت زید کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اور روافض وغیر کے یہاں کھانا کیساہے اس کا جواب بالتشریح والتوضیح وحوالہ کتاب تحریر فرمائے۔بینوا توجروا(بیان فرماؤ تراکہ اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
زانیشرابیسود خوار کے یہاں کھانا خلاف اولی ہے مگر وہ کافرنہیں۔اور یہود ونصرانی کافر ہیں پھر یہود ونصاری باوصف کفر کے کافراصلی میں مرتد نہیںاور رافضوہابیقادیانینیچریچکڑالوی مرتد ہیںاحکام دنیا میں مرتد سب کافروں سے بدتر ہے۔ اورکافروں کو بادشاہ اسلام جزیہ لے کر اپنے ملك میں رکھے گا بشرطیکہ جزیہ ان کے جان ومال کی حفاظت کرے گا لیکن مرتد کو تین دن سے زیادہ زندہ نہ رکھے گا تین دن میں مسلمان ہوگیا تو بہتر ورنہ سلطان اسلام اسے قتل کردے گا۔مرتد کے یہاں کھانا کھانے جانا اس سے میل جول سب حرام ہے۔زید اگر جاہل ہے اور ناواقفی میں یہ حرکت اس سے ہوئی اور اب معلوم ہونے پر علانیہ توبہ کرے تو خیر ورنہ وہ امامت کے قابل نہیں۔فورا معزول
#6558 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
کیا جائے۔
قال اﷲ تعالی " ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " وقال تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)ظالموں کی طر ف مت جھکو (یعنی ان سے میل نہ رکھو)ورنہ تمھیں آگ(دوزخ) چھوئے گی(مرا دیہ کہ آتش دوزخ میں داخل ہوجاؤ گے)اور نیز ارشاد فرمایا:اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔اور اﷲ تعالی سب کچھ اچھی جانتاہے(ت)
مسئلہ ۲۴۲: ۱/جمادی الاخری ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین درمیان اس مسئلہ کے کہ زید خاندان قادریہ وچشتیہ میں خلیفہ ہے اور مولو دخواں بھی ہےاورعلم فارسی میں دخل رکھتاہے۔علاوہ ازیں کلام نعتیہ اس کی تصنیفات بھی موجود ہیں اور حاجی بھی ہے اور یہ زید کو علم تھا کہ بکرقادیانی ہے دانستہ اس کے مکان پر واسطے کھانا کھانے گیا لہذا اس کی نسبت ازروئے شرع شریف کاکیاحکم ہے اورزید سے محفل مولود شریف پڑھوانا کیساہے بینوا توجروا۔
الجواب:
زید گنہگار ہوا اس نے حکم شریعت کے خلاف کیا۔ا س سے علانیہ توبہ لی جائےاگر نہ مانے تو اس سے محفل شریف نہ پڑھوائی جائےاﷲ تعالی فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اور اگر تمھیں شیطان بھلادے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھواور اﷲ تعالی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے (ت)
مسئلہ ۲۴۳: مرسلہ ہیڈماسٹر اسکول نمبر ۸ شہر تھانہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شہر کی مارکیٹ جس میں گوشت بکتا ہے ا س میں ایك مجوسی نے سوئر کاٹا اور صاف کیالوگوں نے گوشت لینا بند کردیااور مسلمانوں کا خیال ہے
#6559 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
کہ جب تك اس مارکیٹ کا فرش اور وہ مقام جس پر ہم کو شك ہے نکال نہ دیا جائے ہم گوشت اس مقام ہر گز نہ خریدیں گے۔کیا آپ اجازت دیں گے کہ فرش وغیرہ مشکوك اشیاء کو خارج کردیا جائے یاکوئی دوسری صورت اختیار کی جائے تاکہ شك رفع ہو اور وہ کیاہے۔بینواتوجروا
الجواب:
اسی ناپاك ملعون جانور کی نجاست مثل پاخانے کے ہے ہر نجاست دھو کر زائل کردینے سے پاك ہوجاتی ہے ا س کے لئے فروش وغیرہ بالکل نکال دینا ضروری نہیں اور نکال دیاجائے تو اور بہتر ہے مگر یہاں زیادہ قابل توجہ یہ ہے کہ مجوسی کے ہاتھ کی بکری ذبح کی ہوئی بھی سور کے مثل ہے۔اور جہاں مجوسی ذابح ہویا مجوسی بھی ذابح ہواور اس کا کاٹاہوا اور مسلمان کا ذبیحہ دلیل صحیح شرعی سے متمیز نہ ہوں وہاں سے کسی حلال جانور کا گوشت خریدناکھاناکھلانا سب حرام ہے۔یونہی اگر مجوسی گوشت بیچتا ہواور حلفا کہے کہ یہ جانور مسلمان کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا ہے جب بھی اس کا خریدکرنا حرام ہے مگریہ کہ مسلمان نے ذبح کیا اور وہ یا اورمسلمان اس وقت سے خریداری کے وقت تك اس جانور کو دیکھتا رہا یا کسی وقت مسلمان کی نگاہ سے غائب نہ ہوا اور وہ مسلمان کہے کہ یہ میرا فلاں مسلمان کا ذبح کیاہوا ہے اس وقت خریداری جائز ہے حدیث میں مجوسی کی نسبت ہے:
سنوابھم سنۃ اھل الکتاب غیرناکحی نسائھم ولا اکل ذبائحھم ۔ ان(آتش پرستوں)سے اہل کتاب کے روش اورطریقہ اخیتار کرو سوائے اس کے کہ ان کی عورتوں سے نکاح نہ کرو اور نہ ان کا ذبیحہ کھاؤ۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی التتارخانیہ عن جامع الجوامع لابی یوسف من اشتری لحما فعلم انہ مجوسی وارادالرد فقال ذبحہ مسلم یکرہ اکلہ اھ ومفادہ ان مجرد کون البائع مجوسیا یثبت الحرمۃ واﷲ تعالی اعلم۔ تتارخانیہ میں جامع الجوامع سے حضرت امام ابویوسف سے روایت ہے کہ جس شخص نے گوشت خریدا پھر اسے معلوم ہوا فروخت کرنے والا تو آتش پرست ہے تو اس نے واپس کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے جھٹ کہہ دیا کہ مسلمان نے اس کو ذبح کیا ہے تو اس گوشت کا کھانا مکروہ ہے اھ پس اس کا حاصل یہ ہوا کہ صرف بیچنے والے کا آتش پرست ہونا(گوشت
حوالہ / References تلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر حدیث ۱۵۳۳ المکتبہ الاثریۃ سانگلہ ہل ۳ /۱۷۲
ردالمحتار کتا ب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۱۹
#6560 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
میں)حرمت پیدا کردیتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۴ تا ۲۴۶: مرسلہ منشی حاجی محمد ظہور خان ۱۷ جمادی الآخرہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)چند سوداگر مسلمان ایسئے ہیں کہ تجارت بھی کرتے ہیں اور سود بھی کھاتے ہیں اور زمیندار بھی ہیں ایسوں کے یہاں کا کھانا پینااور لڑکی لڑکوں کا بیاہنا جائزہے یانہیں
(۲)ہنود عام طو ر پر سود کھاتے اور زمینداری ودکانداری بھی کرتے ہیں ان کے یہاں کا کھانا جو بسبب رسم بھیجتے ہیں جائز ہے یانہیں اگر ہر دو شخصوں کے یہاں کا کھانا آئے اورنہ کھایا جائے تو کس کو دیا جائے
(۳)ایك شخص بسبب اپنی ضرورتوں کے روپیہ لے کر سود دیتاہے اس کے یہاں کا کھانا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)اگر معلوم ہو کہ یہ کھانا جوہمارے سامنے آیا بعینہ سود کا ہے مثلا سود میں چاول لئے تھے یا چاولوں کی کٹوتی بغیر شرائط شرعی کی تھی وہی چاول پکائے ہیں تو اس کا کھانا جائز نہیں۔اور اگر مال خریدا ہواہے اگر چہ سودی روپے سے تو اس کا کھانا حرام نہیں کہ اس کا وہ روپیہ حرام تھا خریدنا حرام نہ تھا اور کچھ معلوم نہ ہو جب بھی حکم حلت ہے۔یہ تو اصل اس کھانے کاحکم تھا باقی ایسے لوگوں سے اتحاد میل جول خلا ملا نہ چاہئے۔اﷲ تعالی فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" اگر تمھیں شیطان بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ ان سے شادی بیاہت کا رشتہ ہرگزنہ کیا جائے کہ اس سے بڑھ کر میل جول اور کیا ہوگاواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ہندو کے یہاں کا گوشت حرام ہے۔یونہی اگر گھی میں چربی ملی ہوئی ہو تو ہندو سے خریدنا بھی حرام ہے اور اگر ان کی پوجا کا کھانا ہو تو مطلقا لینا منع ہے۔اوراگرمفاسد سے خالی ہو تو لے لینے بھی حرج نہیں اور نہ لینا بہتر۔اور اگر لینے میں اسلام کی طرف اس کی رغبت کی امید ہے تو لینا بہترجو کھانا
حوالہ / References القرآن الکریم ۶ /۶۸
#6561 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
ان دونوں جوابوں میں ناجائز بتایا اس کا لینا ہی منع ہے لے لیا ہو تو واپس دے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)جو خود سود نہیں کھاتاصحیح ضرورت کے سبب سودی قرض لیتا ہے اس کے یہاں کھانے میں حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷ و ۲۴۸: از ضلع نینی تال کاشی پور ڈاکٹر اشتیاق علی بروز یکشنبہ ۱۸ / صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
مخدومی مکرمی جناب مولانا صاحب دام اقبالہبعد آداب کے معلوم ہو کہ میں خیریت سے ہوں اور آپ کی خیریت وعافیت کاخواہاںباعث تکلیف یہ ہے کہ برائے نوازش ذیل سوالوں کا جواب بھیج دیں گے تو بندہ بہت مشکور ہوگا۔
(۱)اہل کتاب کے ساتھ کھانا کھانا جائز ہے یانہیں اہل کتاب عیسائی ہو یا انگریزان کا باورچی مسلمان ہو یا عیسائی یہ بات ضرور ہے کہ یہ لوگ شراب پیتے ہیں اور بد جناورکھاتے ہیں۔
(۲)اہل ہنود کے ہاتھ کا پکاہوا کھانا جائز ہے یانہیں
الجواب:
(۱)یہاں عیسائیوں کا خصوصا انگریزوں کے ساتھ کھانا کھاناجائزنہیں۔حدیث میں ہے:
لاتوأکلو ھم ولاتشاربوھم ۔ نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ ان کے ساتھ پانی پیو۔
ان کے برتن نجاست سے خالی نہیں ہوتےاور ان کا باورچی اگر چہ مسلمان ہو ناپاك گوشت پکاتاہے۔
ومن یرتع حول الحمی یوشك ان یقع فیہ ۔وھو تعالی اعلم۔ جو کوئی چراگاہ کے آس پاس اپنے جانور چرائے تو قریب ہے کہ چراگاہ میں جاپڑے۔وھو تعالی اعلم۔(ت)
(۲)ہندوؤں کے ہاتھ پکاہوا گوشت حرام ہے مگر اس صورت میں کہ مسلمان نے ذبح کیا اور اپنی آنکھ سے غائب ہونے نہ دیا یا اس کے سامنے پکایا اور باقی کھانے اس کے پکائے ہوئے جائز ہیں۔
حوالہ / References کنز العمال برمزعق عن انس حدیث ۳۲۴۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/ ۵۲۹
صحیح البخاری کتاب البیوع باب الحلال بین والحرام بین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۷۵،صحیح مسلم کتاب المسقات باب اخذ الحلال وترك الشہبات قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۱۸
#6562 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
جبکہ پانی یا برتن میں خلط نجاست معلوم نہ ہوواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۹ تا ۲۵۱: از بنارس چھاؤنی محلہ دبٹوری محال تھانہ سکرور رسیدہ مومولوی عبدالوہاب بروز چہارشنبہ بتاریخ ۲۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
(۱)یہ کہ اگر کسی شخص کو دعوت دے کر بلائے اور وہ شخص دعوت کھا کر کھانے میں عیب نکالے تو وہ شخص گنہگارشرعا ہے یانہیں۔جائز کہ نہیں۔مثلا کہے کہ گھی کم ہے مرچ زیادہ ہے۔
(۲)یہ کہ کسی مر دمسلمان کا سر برہنہ ہوکر کھانا کھانا ازروئے شرع شریف درست ہے یانہیں اور اس شخص کے ساتھ جو سر برہنہ کھاتاہو شیطان کھاتاہے یانہیں اور خلاف سنت ہے یانہیں
(۳)یہ کہ اگر کوئی شخص کسی ایك شخص کی دعوت کرے تو چند آدمیوں کو لے کر اس شخص کادعوت میں جانا اور ان لوگوں کو بھی مجبور کرکے دعوت کھلانا جائز ہے یا نہیں حالانکہ یہ لوگ بلادعوت ہیں
الجواب:
(۱)کھانے میں عیب نکالنا اپنے گھر پر بھی نہ چاہئے مکروہ وخلاف سنت ہے عادت کریمہ یہ تھی کہ پسند آیا تو تناول فرمایا ورنہ نہیں اور پرائے گھر عیب نکالنا تو مسلمانوں کی دل شکنی ہے اور کمال حرص و بے مروتی پر دلیل ہے۔گھی کم ہے یا مزہ کا نہیں یہ عیب نکالنا ہے اور اگر کوئی شے اسے مضر ہے اسے نہ کھانے کے عذر کے لئے اس کا اظہار کیا نہ کہ بطور طعن وعیبمثلا اس میں مرچ زائد ہے میں اتنی مرچ کا عادی نہیں تو یہ عیب نکالنا نہیں اور اتنا بھی بے تکلفی خاص کی جگہ ہو اور اس کے سبب دعوت کنندہ کو اور تکلیف نہ کرنی پڑے مثلا دو قسم کا سالن ہے ایك میں مرچ زائد ہے اور یہ عادی نہیں تو اسے نہ کھائے اور وجہ پوچھی جائے بتادےاور اگر ایك ہی قسم کا کھانا ہے اب اگر نہیں کھاتا تو دعوت کنندہ کو اس کے لئے کچھ اور منگانا پڑے گا اسے ندامت ہوگی اور تنگدست ہے تو تکلیف ہوگیایسی حالت میں مروت یہ ہے کہ صبر کرے اور کھائے اور اپنی اذیت ظاہرنہ کرےواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)جو بسم اﷲ کہہ کر کھانا کھاتاہے شیطان اس کے ساتھ نہیں کھا سکتا اور جو بغیر بسم اﷲ کھائے شیطان اس کے ساتھ کھائے گا اگرچہ سر پر سوکپڑے ہوںننگے سر کھاناہنود کی رسم ہے اور خلاف سنت ہے ہاں کوئی عذر ہو تو حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)بلا دعوت جو دعوت میں جائے اسے صحیح حدیث میں فرمایا:دخل سارقا وخرج معیرا چور بن کر گیا اور
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الاطعمۃ باب ماجاء فی اجابۃ الدعوۃ امین کمپنی کراچی ۲ /۱۶۹
#6563 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
لٹیرا ہوکرنکلا۔ خصوصا جبکہ دعوت عام نہ ہو تو معہود ومعروف سے زائد آدمی لے جانا سخت ناجائز ہے مثلا جو لوگ عادی ہیں کہ بے آدمی کے ساتھ لئے ہوئے کہیں نہیں جاتے ان کی جو دعوت کرے گا آپ جانے گا کہ ساتھ آدمی ہوگا المعروف کالمشروط (جو بات لوگوں کے عرف اور واج میں مشہور ہے وہ طے شدہ شرط کی طرح ہے۔ت)ہاں اگر کسی بے تکلفی والے نے دعوت کی اور کچھ حاجتمندہیں کہ یہ ان کا ساتھ لے گیااور ان کا بار اس پر نہ پڑے گا خواہ یوں کہ دسترخوان وسیع ہے اور دل فراخ یا یوں کہ ان کی کفالت یہ خود کرے گا اور اسے ناگوار نہ ہوگا تو حرج نہیں جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالی عنہما نے غزوہ خندق میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالی عنہ کی دعوت کی اور دو صاحبوں کے قابل کھانا پکایاجب یہ دعوت کو عرض کرنے گئے ہیں حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے بآواز بلند ارشاد فرمایا کہ اہل خندق ! جابر تمھاری ضیافت کرتاہےوہ ایك ہزار صحابہ کرام تھے رضی اﷲ تعالی عنہماور جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے فرمایا:جب تك ہم تشریف نہ لائیں کھانا نہ اتار ا جائے او کما قال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(جیساکہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جابر رضی اﷲ تعالی عنہ گھبرائے ہوئے اپنے گھر تشریف لائے اور اپنی زوجہ مقدسہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے حال بیان کیا کہ یہاں دو ہی آدمیوں کے قابل کھانا ہے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مع ایك ہزار صحابہ کے تشریف لا تے ہیںان بی بی نے کہا:آپ کو اس کی کیا فکر ہے جو لاتے ہیں وہی سامان فرمانے والے ہیں۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے آٹے اور ہانڈی میں لعاب دہن اقدس ڈالا اور ارشاد فرمایا کہ روٹی پکانے والی بلالو اور ہانڈی چولھے پر رہنے دو۔اس قلیل آٹے اور گوشت سے ایك ہزار صحابہ کو پیٹ بھر کر کھلادیا اور ہانڈی ویسا ہی جوش مارتی رہی اور آٹا ذرا کم نہ ہوا ۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۲: مرسلہ شیخ احمد از بمبئی معرفت حکمت یار خاں بریلی بروز دوشنبہ ۱۱/ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ ملفوظ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص قمار باز جس کا پیشہ سوائے جوا کے اور کچھ نہ ہویا کوئی طوائف ناچنے گانے والی یا کوئی کسبی حرام پیشہ بارھویں شریف یا گیارھویں شریف میں آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اور حضرت غوث اعظم قدس سرہکی نیاز کرے اس کا کھانا شرعا جائز ہے یانہیں بحوالہ کتب معتبرہ ارشاد فرمائیںبینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
جس کا پیشہ محض حرام کا ہو اس سے مخالطت ویسے ہی نہ چاہئے۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الخندق قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۸۹
#6564 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
قال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگر شیطان تمھیں بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ہر گز ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔(ت)
اس کے یہاں کھانا اور زیادہ معیوب ہے مگر مذہب صحیح میں نفس طعام حرام نہیں سوا اس صورت کے کہ وہ خود اسے وجہ حرام میں ملاہو مثلا اجرت غنایا زنا یا رشوت زانیہ میں ناج دیا گیا وہ ناج اس کھانے میں ہے یا اس نے اسے زر حرام سے خریدا اور خریداری میں عقد ونقد اسی مال حرام پر جمع ہوئے مثلا وہ زر حرام دکھا کر کہا اس کے عوض دے دو یہ تو حرام پر عقد ہو اپھر جب اس نے دے دیا وہی زر حرام ثمن میں دیا یہ حرام کانفد ہوا ان دونوں صورتوں میں وہ کھانا حرام ہے ورنہ نہیں۔
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حرام بعینہ ھندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد رضی اﷲ تعالی عنہ۔ ہم اس کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین شے کے متلعق حرام ہونے کو نہ جانیںفتاوی ہندیہ بحوالہ ذخیرہ حضرت امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ سے مروی ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۳۵: مسئولہ اشرف علی طالب علم بنگالی مدرسہ اہلسنت وجماعت بروز پنچشنبہ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك رنڈی سے نکاح کرلیا ہے اور اس رنڈی کا مال اسباب بھی اپنے مکان پر لے آیا ہے اب وہ مال طیب ہوسکتاہے یا نہیں اور اس کے گھر میں کھانا پینا کیساہے اور اس شخص نے اپنا مال بھی اس رنڈی کے مال میں ملادیا ہے۔بیان کرو ثواب پاؤ گے۔
الجواب:
وہ مال یوں ہر گز طیب نہیں ہوسکتا اور اس نے اپنا مال اس سے ملاکر یہ بھی خبیث کردیا اس کے یہاں کھانا پینا نہ چاہئے جبکہ رنڈی کا مال غالب ہو اور اگر معلوم ہو کہ یہ مال جو سامنے آیا ہے رنڈی کا مال ہے جب تو اس کا کھالینا عین حرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۶ /۶۸
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲۹
#6565 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مسئلہ ۲۵۴: بروز شنبہ بتاریخ ۲/ جمادی الاولی شریف ۱۳۳۴ھ
کیا حکم ہے شرع مطہرہ کا اس میں کہ دعوت طعام کون سی سنت ہے کہ کس دعوت طعام سے انکار کرنا اور قبول نہ کرنا گناہ ہے بالتفصیل ارشاد ہوبینوا توجروا(بیان فرمائے اجر پائے۔ت)
الجواب:
دعوت ولیمہ کا قبول کرناسنت مؤکدہ ہے جبکہ وہاں کوئی معصیت مثل مزامیر وغیرہا نہ ہو نہ اور کوئی مانع شرعی ہواور اس کا قبول وہاں جانے میں ہےکھانے نہ کھانے کا اختیار ہے باقی عام دعوتوں کا قبول افضل ہے جبکہ نہ کوئی مانع ہو نہ کوئی ا س سے زیادہ اہم کام ہواور خاص اس کی کوئی دعوت کرے تو قبول کرنے نہ کرنے کا اسے مطلقااختیار ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
دعی الی الولیمۃ ھی طعام العرس وقیل الولیمۃ اسم لکل طعام وفی الہندیۃ عن التمرتاشی اختلف فی اجابۃ الدعوۃ وقال بعضھم واجبۃ لایسع ترکھا و قال العامۃ ھی سنۃ والا فضل ان یجیب اذا کانت ولیمۃ و الا فھو مخیر والاجابہ افضل لان فیھا ادخال السرور فی قلب المؤمن واذا اجاب فعل ما علیہ اکل اولا والافضل ان یأکل لو غیر صائم وفی البنایۃ اجابۃ الدعوۃ سنۃ ولیمۃ اوغیرہا و امادعوۃ یقصد بہا التطاول وانشاء الحمد او کسی کو ولیمہ میں شمولیت کی دعوت دی گئیاور ولیمہ شادی کی دعوت کا نام ہے۔اور یہ بھی کہا گیا کہ ہر دعوت طعام ولیمہ کہلاتی ہے۔فتاوی عالمگیری میں اما م تمرتاشی سے روایت ہے کہ دعوت قبول کرنے میں اختلاف کیا گیا(یعنی اس کی شرعی حیثیت ونوعیت میں ماہرین قانون فقہ کا اختلاف ہے) چنانچہ بعض ائمہ کے نزدیك دعوت قبول کرنا شرعا واجب ہےلہذا اس کے ترك کی کوئی گنجائش نہیں لیکن علماء کرام نے فرمایا کہ وہ سنت ہے۔اور افضل(اور عمدہ)یہ ہے کہ دعوت طعام ضرور قبول کرے بشرطیکہ دعوت ولیمہ ہو ورنہ اسے اختیار ہے کہ(یعنی دعوت قبول کرنے نہ کرنے میں وہ خود مختار ہے)لیکن اجابت بہتر ہے۔کیونکہ اس میں ایك مسلمان کے دل کی خوشنودی ہے(کہ اس طرح کرنے سے اس کودلی مسرت ہوگی جو کہ اسلام میں مطلوب ہے)اور جب دعوت قبول کرلے تو پھر جو کچھ ااس کی ذمہ داری ہے اسے نبھائے کھانا
#6566 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
ما اشبہہ فلا ینبغی اجابتھا لاسیما اھل العلم اھ ومقتضاہ انھا سنۃ مؤکدۃ بخلاف غیرھا وصرح شراح الہدایۃ بانھا قریبۃ من الواجب وفی التاتارخانیۃ عن الینابیع لو دعی الی دعوۃ فالواجب الاجابۃ ان لم یکن ھنالك معصیۃ ولا بدعۃ و الامتناع اسلم فی زماننا الا اذا اعلم یقینا ان لا بدعۃ ولا معصیۃ اھ والظاھر حملہ علی غیر الولیمۃ لما مر تأمل اھ واﷲ تعالی اعلم۔ خواہ کھائے یا نہ کھائےلیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اگر روزہ دارنہ ہو تو کھانا ضرور کھائےاور البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے کہ اجابت دعوت طعام سنت ہے خواہ دوعوت ولیمہ ہو یا کوئی اور دعوت ہورہی وہ دعوت کہ جس سے نام ونمودنمائش اور فخر وریا اور قصیدہ گوئی وغیرہ مقصود ہوتو پھر اس قسم کی دعوت کو قبول نہ کرنا اور مسترد کردینا ہی زیادہ مناسب ہےخصوصا اہل علم حضرات کے لئے(یہی زیادہ موزوں ہے) اھ اور اس کا مقتضا یہ ہے کہ دعوت ولیمہ سنت مؤکدہ ہے جس کے علاوہ یہ حکم نہیں البتہ شارحین ہدایہ نے یہ تصریح فرمائی کہ دعوت کا حکم واجب کے قریب ہے۔ تاتارخانیہ میں ینابیع کے حوالے سے منقول ہے کہ اگر کسی کو شمولیت دعوت کے لئے مدعو کیا جائے تو اسے قبول کرنا واجب ہے بشرطیکہ وہاں کوئی گناہ اور بدعت کا کام نہ ہواور ہمارے زمانے میں زیادہ سلامتی اسی میں ہے کہ دعوت میں شمولیت سے بازرہے۔ہاں البتہ اگر اسے قوی یقین ہو کہ وہاں کوئی گناہ اور بدعت نہیں(توپھر ضرور شریك ہو)اور ظاہر یہ ہے کہ اسے غیر ولیمہ پر حمل کیا جائے۔اس وجہ سے جو بات گزر چکی۔غور وفکر کیجئے اھ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۵: از بمبئی سندھر سٹ روڈ نمبر ۹ شیخ امام علی صاحب اسکریم والے روز شنبہ ۶ رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ جھینگا مچھلی کا شمار مچھلیوں میں ہے یانہیں اوراس کاکھانا ہمارے مذہب میں جائز ہے یامکروہ یا کیا فقط۔
الجواب:
جھینگےمیں اختلاف ہے کہ وہ مچھلی ہے یانہیں۔اگر مچھلی ہے حلال ورنہ حرام۔لہذا اس سے بچنے میں احتیاط ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶: از ملك کاٹھیا واڑ مقام اڑتیان امین احمد پنجشنبہ ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ
گوشت ہمیشہ کے واسطے کھانا بعض بولتے ہیں کہ یہ قرآن شریف سے ثابت نہیں اس کا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۲۱
#6567 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
خلاصہ لکھنا۔
الجواب:
قرآن مجید میں گوشت ہمیشہ کھانے کی کہیں ممانعت نہیں۔یہ غلط بات ہے ہاں نفس پروری کو قرآن مجید نے منع فرمایا ہے۔
مسئلہ ۲۵۷: بریلی نو محلہ ۷/صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین بیچ اس امر کےعشرہ محرم الحرام میں شکار کھیلنا مسلمانوں کو درست ہے یانادرست بینوا توجروا
الجواب:
جسے کھانے یا دوا کے لئے کسی جانور کی حاجت ہے وہ اگر بقدر حاجت وہ ایك جانور مار لائے تو یہ کسی کھیل یا تفریح کا فعل نہ ہوگا ایہ کریمہ " و اذا حللتم فاصطادوا " (لوگو! جب تم(احرام سے فارغ ہوکر)حلال ہوجاؤ تو پھر شکار کرنا چاہو تو کرسکتے ہو۔ت) اسی کا ذکر ہے مگر بے حاجت مذکورہ تفریح طبع کے لئے جو شکار کیا جاتاہے وہ خود ناجائز ہے کہ ایك لہو ولعب لوگ خود اسے شکار کھیلنا کہتے ہیںاور کھیل کے لئے بے زبانوں کی جان ہلاك کرناظلم وبے دردی ہے۔ اشباہ والنظائر میں ہے:
الصید مباح الا للتلھی ۔ (یاد رکھو)شکار کرنا مباح ہے مگر جب کہ بطور کھیل ہو(تو اس کی اجازت نہیں)۔(ت)
اسی طرح وجیز کردری وتنویر الابصار میں ہے تو کھیل اور ناجائز کھیل اور عشرہ محرم۔
اناﷲ وانا الیہ راجعون وحسبنا اﷲ و نعم الوکیل۔ واﷲ تعالی اعلم۔ بے شك ہم اﷲ تعالی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گےاو ر اﷲ تعالی ہمیں کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔اور اﷲ تعالی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۵۸: مرسلہ محمد حسن صاحب فاروقی ضلع پورینہ ڈاکخانہ اسلام پور ۲۲ صفر ۱۳۳۵ھ
سود خوار کے مکان کا کھانا درست ہے یانہیں اور جس مال میں کہ سود کا شبہہ ہو اس کا کھانا کیسا ہے اوراگر زید تمام عمر سود کا مال جمع کرتا رہا اور اس کے بیٹے عمرو کو بخوبی معلوم کہ یہ مال تمام سود کا ہے
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۲
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الصید ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۰۴
#6568 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
تو اس صورت میں بعد مرنے زیدکے وہ مال عمرو کے حق میں حلال ہوسکتا ہے یا نہیں اور در صورت نہ معلوم ہونے عمرو کے کہ یہ مال سود کا ہے یا کہ تجارت کا یا اور کوئی کمال حلال کامگر درحقیقت وہ مال سو د کا تھااگر وہ مال حلال سمجھ کر کھائے تو کون گنہگار ہوگا فقط۔
الجواب:
جو چیز بعینہ سود میں آئی ہو مثلا گیہوں یا چاولاس کا کھانا بلا شبہہ حرام ہے۔او ر اگر سود کے روپے سے خریدی گئی یوں کہ وہ روپیہ دکھا کر کہا گیا کہ اس کے بدلے دے دے اور پھر وہی روپیہ قیمت میں دے دیا تو یہ چیز بھی ناجائز ہوگئیاور اگر ایسا نہیں تو حرمت نہیںمگر سود خوار کے یہاں کھانے سے احترازمناسب ہے۔اور شبہہ کے مال سے زیادہ احتراز چاہئے مگر حرمت نہیں جب تك معلوم نہ ہو
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ھندیۃ عن الذخیریۃ عن محمد رحمہ اﷲ تعالی۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین چیز کے حرام ہونے کو نہ پہچانیںہندیہ(فتاوی عالمگیری)میں ذخیرہ کے حوالے سے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے۔(ت)
وارث اگر جانتا ہے کہ فلاں روپیہ سود کاہے تو اسے لینا جائز نہیں مورث نے جس سے لیا تھا اسے واپس دے یا تصدق کرے اوراگر کسی معین روپے کی نسبت علم نہیں اتنا جانتاہے کہ اس میں اس قدر روپے حرام کے ہیں تو اتنا روپیہ مستحق کو پہنچائے اوراگریہ بھی نہیں معلوم تو لینے والے پر وبال اور اس کے لئے حلال۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۹:مرسلہ محمد تقی مقام بکسر متصل اسٹیشن ریلوے بتوسط حاجی رحیم بخش ۳۰ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
پیشہ تصویر سے اکل وشرب کیسا ہے فقط۔
الجواب:
تصویر حرام کے پیشہ سے اکل وشرب جائز نہیں کہ وہ کسب خبیث ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۰ و ۲۶۱: ازپیلی بھیت محلہ محمد شیر محمد متصل مارکیٹ گوشت مرسلہ حبیب احمد صاحب ۲۲/ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
(۱)ہندو کے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا یا شرینی وغیرہ کھانا یا پانی شربت وغیرہ پینا کیسا ہے اور گڑ اور تیل اور گھی وغیرہ جن میں پانی نہیں جذب ہوتا ہے ان کا کھانا جائز ہے یا ناجائز ہے کسی گاؤں میں جہاں
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۳۴۲
#6569 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مسلمان نہ ہو یا ریل کے اسٹیشن پر جہاں مسلمان نہ ہو کیا کرنا چاہئےایك واعظ نے کہا تھا کہ ہندو کے یہاں کھانے سے دل میں اندھیرا ہوتاہے اور ایك مرتبہ کھانے سے چالیس یوم تك دعا قبول نہیں ہوتیجب ایك دفعہ کھانے سے چالیس یوم دعا قبول نہیں ہوتی تو روز مرہ کھانے سے قلب بالکل سیاہ ہوجائے گا تو اس کھانے پر حرام قطعی ہونے کا فتوی ہونا چاہئےامید کہ جواب مشرح تحریر فرمایا جائے۔
(۲)بے نمازی قطعی جسے کلمہ تك اچھی تك یاد نہ ہو اس کے ہمراہ کھانا جائز ہے یانہیں اور گاؤں والے جو رشتہ دارہوں اور صفت مذکور سے موصوف ہوں ان سے کس طرح سلوك کیا جائے
الجواب:
(۱)ہندو کے یہاں گوشت کھانا حرام ہے اور اور چیز میں فتوی جواز اور تقوی احترازامام محمد رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۔ ہم اسی کواختیار کرتے ہیں جب تك کسی معین چیز کی حرمت کو نہ پہچانیں(ت)
چالیس دن دعا قبول نہ ہونا محض غلط ہے اور ہندوستان میں رہ کر احتراز دشوار۔
" وما جعل علیکم فی الدین من حرج " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے دین(اسلام)میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۲)فاسقوں کے ساتھ سلوك میں سلف صالح کا عمل مختلف رہا ہے اور اس کامبنی مصلحت شرعیہ ہے جسے یہ جانے کہ نرمی سے راہ پر آئے گا اس سے ہدایت کے لئے میل جول کرے اور جسے یہ جانے کہ میرے قطع تعلق سے اس پر اثر پڑے گا اور گناہ چھوڑے گا اس سے ہدایت کے لئے قطع کرے مگر ماں باپ سے کہ ان سے قطع کی کسی طرح اجازت نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۲: ا ز رائے پور چھتی گڑھ مرسلہ گوہر علی عرائض نویس نیاپارہ اکھاڑا
شراب خواری کی نسبت کیا مسئلہ ہے
الجواب:
شراب حرام ہے اور سب نجاستوں گندگیوں کی ماں ہے اس کے پینے والے کو دوزخ میں دوزخیوں کا جلتا لہو اور پیپ پلایا جائے گا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
القرآن الکریم ۲۲ /۷۸
#6570 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مسئلہ ۲۶۳ تا ۲۶۵:از کمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدابخش زردوز مالك فلور مل اسلامیہ ۲۰ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
تقریب طعام شادی کی تین صورتیں ہیںہر ایك کی شرکت کا علیحدہ حکم بیان فرمائیں:
(۱)بعض ایسا کرتے ہیں پہلے لوگوں کو دعوت کھلاکر اسی روز یا دوسرے روز بارات نکالتے ہیں اگر چہ جلسہ دعوت میں باجہ وغیرہ نہیں ہوتا مگردعوت کھانے والے کو معلوم ہے کہ دو ایك روز میں جو بارات یہاں سے نکلے گے اس میں باجہ وغیرہ سب ہوگا۔
(۲)بعض لوگ جب دلھن کو رخصت کرکے گھر لاتے ہیں تب کھانا کرتے ہیں اگر چہ جلسہ دوعوت میں کچھ نہیں ہے مگر بارات میں سب کچھ تھا۔
(۳)دلھن کے گھر دعوت ہے اور اس کے یہاں کچھ باجہ وغیرہ نہیں ہے مگر اس کے یہاں جو بارات آئی ہے اس میں باجہ وغیرہ سب کچھ ہے اور دلھن کے گھروالوں کی تین حالتیں ہیں ہر ایك کا علیحدہ حکم تحریر فرمائیں:
(۱)بعض تو دلھا والوں کو فرمائش دے کر باجہ وغیرہ منگاتے ہیں:
(۲)بعض نہ فرمائیش دیتے ہیں نہ منع کرتے ہیں۔
(۳)بعض منع کرتے ہیں مگر دولھا نہیں مانتا اور باجے کے ساتھ آتاہے۔
ان تینوں میں کس کے یہاں شرکت جائز ہے اور کیا اس تیسرے پر شرعا الزام ہوسکتاہےکیوں نہ اس نے بارات واپس کردی اور کیوں نکاح کردیاشرکت میں اگر عوام وخواص کا فرق ہو تحریر ہو۔
الجواب:
پہلی دوصورتوں میں شرکت دعوت میں کوئی حرج خصوصا نہیں خصوصا دعوت ولیمہ کو سنت ہے اور اس میں بلاعذر شرعی نہ جانا مکروہ۔
ومن لم یجب الدعوۃ فقد عصی ابا القاسم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ جس نے کسی کی دعوت قبول نہ کی اس نے اباالقاسم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔(ت)
حوالہ / References نصب الرایۃ لاحادیث الہدایہ کتاب الکراھیۃ الحدیث الثالث المکتبہ الاسلامیہ ۴ /۲۲۱
#6571 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
اور تیسرے صورت میں وہی دو صورتیں ہیں جو اپر گزریں وہ منکرات مکان دعوت میں ہیں یا دوسرے مکان میں اور وہی احکام ہیں جو اوپر بیان ہوئےوہ کہ فرمائش کرکے ممنوعات شرعیہ منگاتے ہیں سخت گنہ گار اور ان ممنوعات کے کرنےوالوں سننے والوں سب کے گناہوں کے ذمہ دارہیں ان سب پر گناہ ہوگا اور ان سب کی برابر ان پر۔
من دعی الی ضلالۃ فعلیہ وزرھا ووزر من عمل بہا الی یوم القیمۃ لاینقص من اوزارھم شیئا ۔ جس شخص نے کسی دوسرے شخص کو گمراہی کی طرف بلایا (اور گمراہی کی دعوت دی)تو اسی داعی پر اس کا گناہ ہے اور اس شخص کا بھی گناہ قیامت تك جس نے اس گمراہی پر عمل کیا لیکن ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہ کی جائے گی(یعنی کاسب اور موجد دونوں کی سزا میں کچھ کمی نہ ہوگی)۔(ت)
اور وہ جو نہ منگائیں نہ منع کریں وہ بھی گنہ گار ہیں کہ اپنے یہاں گناہ کرنے سے منع کرنا ہرشخص پر واجب ہے اور وہ کہ منع کریں اور ادھر والے نہ مانیں تو اس کا ان پر الزام نہیں۔
" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھا ئیگی۔(ت)
اوربرأت کا پھیردینا یہ مصالح پر موقوف ہے۔اگ رکوئی ضرر نہیں ضرور پھیردے ورنہ اس ضرر اور اس مفسدہ میں موازنہ کیا جائے جو زیادہ مضر ہو اس سے بچیں۔
من ابتلی بلیتین فاختار اھونھما واﷲ تعالی اعلم۔ جو کوئی دو مصیبتوں میں مبتلا ہوجائے تو وہ ان دونوں میں سے اسے اختیارکرے جو زیادہ آسان او رہلکی ہوواﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۶۶: از کمال پورہ علاقہ جیت پورہ بنارس مرسلہ خدا بخش زردوز مالك فلور مل اسلامیہ ۲۰/ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
تقریب ولادت یاختنہ یا گھر بھوج یعنی تیاری مکان میں اکثر لوگ کھانا کرتے ہیں یہ اسراف
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۴۱،جامع الترمذی ابواب العلم باب ماجاء من دعاالی ھذا الخ امین کمپنی دہلی ۲ /۹۲،سنن ابن ماجہ باب من سن سنۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹
القرآن الکریم ۶ /۱۶۵
اسرار المرفرعۃ حدیث ۸۵۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص۲۱۵
#6572 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
ہے یانہیں اور ان دعوتوں میں شریك ہونا چاہئے یا نہیں جبکہ اس تقریط میں عورتیں مکان کے اندر ڈھولك سے گاتی بجاتی ہیں اگر چہ مجلس دعوت میں کچھ نہ ہو۔
الجواب:
مجلس دعوت میں ہو یا دوسرے مکان میں سب کے احکام مفصل اوپر گزرےاور جبکہ منکرات شرعیہ نہ ہوں اور کھانا نیت محمودہ سے ہو تو اسراف نہیں۔اور ریاء وتفاخر کے لئے ہو تو حرام۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷: از موضع کسگنجہ ڈاکخانہ گھونگچائی تحصیل پورنپور ضلع پیلی بھیت مرسلہ امانت اﷲ محرر ۲۱/ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زیدنے ہندوؤں کی کسی تقریب میں کھانا کھایااس میں گوشت مردار جھٹکے کا جس کو ہندو گردن مویشی کی مار کر کاٹتے ہیں زید کے کھانے کے واسطے نہیں دیازید نے گوشت مانگا تو ہندؤوں نے انکا رکیا کہ مسلمان جھٹکانہیں کھاتے ہیں زیدنے کہا ہمیں کھانے کودو ہم جھٹکا کھاتیں ہیں ہندؤوں نے زید کو بھی کھانے کے لئے دیا زید نے کھایاجب اہل اسلام کو معلوم ہوا تو اسے ترك کر کے کھانا کھلانے اور کھانے سے علیحدہ کردیاجب زید تائب ہوا تو اہل اسلام نے اس کا قصور معاف کرکے زید کو از سر نو ایمان کی تلقین کی اور میلاد شریف پڑھوا کر اسے شریك کرلیا جس کو عرصہ پانچ برس کا ہوااب زید مذکور نے بہمراہی بکر کے ایك چیتل مردار شیر کی ماری ہوئی کاٹ کر گاؤں میں فروخت کیایك سپاہی نے خریدنا چاہا توبوجہ خوف کے سپاہی کو گوشت دینے سے انکار کیااو ر کہا کہ یہ تمھارے کھانے کانہیں ہے مردار ہے۔اس چپراسی نے زید کو زد وکوب کیااب شرع شریف کا زید کے واسطے کیاحکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
زید بقیید مسخرہ شیطان ہےاس کے دین ایمان کا کچھ ٹھیك نہیںمسلمانوں کو اس سے پرہیز لازم ہے۔اس سے سلام کلام میل جول سب ترك کردیں اس کے ہاتھ کا پانی تك کوئی نہ پئے کیا اعتبار ہےکہ وہ ناپاك پانی مسلمان کو پلائےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۸: ۲۲/ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
میلاد شریف جس کے یہاں پڑھنے والے کی دعوت کرے تو پڑھنے والے کو چاہئے یانہیں اور اگر کھایا تو پڑھنے والے کو کچھ ثواب ملے گا یانہیں بینوا توجروا
#6573 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
الجواب:
پڑھنے کے عوض کھانا کھلاتاہے تو یہ کھانا نہ کھلانا چاہئے نہ کھانا چاہئےاور اگر کھائے گا تو یہی کھانا اس کا ثواب ہوگیا اور ثواب کیا چاہتاہے بلکہ جاہل میں جو یہ دستور ہے کہ پڑھنے والوں کو عام حصوں سے دونا دیتے ہیں اور بعض احمق پڑھنے والے اگر ان کو اوروں سے دونا نہ دیا جائے تو اس پر جھگڑتے ہیں۔یہ زیادہ لینا دینا بھی منع ہے اور یہی اس کا ثواب ہوگیا۔
قال اﷲ تعالی " ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا ۫" واﷲ تعالی اعلم۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:(لوگو!)میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۶۹: ۲۲ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایك شخص کے یہاں کچھ مویشی ہے اور کنبے کا کھانا ہے اس نے میلاد شریف پڑھنے والوں کو بھی کہا ہے کہ تمھاری دعوت ہے تو کھانا چاہئے یانہیں
الجواب:
جب کسی کے یہاں شادی میں عام دوت ہے جیسے سب کو کھلایا جائے گا پڑھنے والوں کو بھی کھلایا جائے گا اس میں کوئی زیادت و تخصیص نہ ہوگی تو یہ کھانا پڑھنے کا معاوضہ نہیں۔کھانا بھی جائز اور کھلانا بھی جائز۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۰: از باگ ضلع امچہرہ ریاست گوالیاء مکان منشی اوصاف علی صاحب مرسلہ شیخ اشر ف علی صاحب سب انسپکٹر ۱۲ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
زید کو کوئی خبر خوشی کی آئے اور زید اس کے شکریہ میں کھانا یا مٹھائی تقسیم کی تو کیا اس میں اغنیاء وفقراء دونوں شامل ہوسکتے ہیں یا صرف اغنیاء
الجواب:
فقیر اور اغنیاء دونوں شامل ہوسکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۱ و ۲۷۲: از پودل سوپول ڈاکخانہ ہیرول ضلع(در بھنگہ بلگرام مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۲۱ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱)ہندوکے یہاں کا پکا ہواشیرینی یا کوئی چیز مسلمان کو کھانا درست ہے یانہیں اور میلا دشریف وغیرہ میں ہندو کے یہں کاپکا ہوا یا بنا ہوا تقسیم کرنا چاہئے یانہیں
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۴۱
#6574 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
(۲)میلاد شریف میں قوالی کی طرح پڑھنا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)ہندو کے یہاں کا گوشت اوراس کی جس شے کی نسبت معلوم ہو کہ اس میں کوئی چیز حرام یا نجس ملی ہے وہ ضرور حرام ہے اور جس شے کاحال معلوم نہیں وہ جائز ہے مجلس شریف میں بھی اسے خرچ کرسکتے ہیں اور بہتر بچنا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)قوالی کی طرح پڑھنے سے اگر یہ مرا د کہ ڈھول ستار کے ساتھ جب تو حرام اور سخت حرام ہے۔اوراگر صرف خوش الحانی مراد ہے تو کوئی امر مورث فتنہ نہ ہو تو جائز بلکہ محمود ہے اوراگر بے مزامیر گانے کے طور پر راگنی کی رعایت سے ہو تو ناپسند ہے کہ یہ امر ذکر شریف کے مناسب نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۳: از مدرسہ منظر الاسلام مرسلہ عبدالقوی صاحب بنگالی متعلم مدرسہ مذکور ۱ رجب المرجب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صدف کو بجائے چامیس یعنی چمچے کے استعمال کرنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے۔سیپ کا کھانا حرام ہے سیپ کے چمچے سے کھانے میں کچھ حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۴: از اروہ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرا ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خاں صاحب ۲۵ شوال ۱۳۳۶ھ
ایك شخص کہتاہے کہ عیسائیوں کے ساتھ کھانا پینااپنے برتنوں میں کھلاناان کے برتنوں میں کھانا اور ان کا حقہ پینا اور ان کو اپنا پلانا جائز ہے۔دلیل جواز میں یہ آیت پیش کرتاہے:
" الیوم احل لکم الطیبت وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم ۪ وطعامکم حل لہم ۫" (لوگو!)تمھارے لئے ستھری اشیاء حلال کردی گئی اور ان لوگوں کا کھانا جنھیں کتاب دی گئی تمھارے لئے حلال ہے اور تمھارا کھانا انکے لئے حلال ہے۔(ت)
الجواب:
امور مذکور ممنوع ہیں۔اس میں ان کے ساتھ مجالست ہے اور اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾
" اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر پاس نہ بیٹھ بے انصافوں کے۔
#6575 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
علماء فرماتے ہیں۔اس میں قباحت تك ہر کافر وبدمذہب داخل ہے والقعود مع کلھم ممتنع(ہر کافر کے ساتھ بیٹھنا ممنوع ہے۔ت)یہ ان کی طرف میل کا موجب ہے۔اور اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار " بے انصافوں کی طرف میل نہ کرو کہ تمھیں جہنم کی آگ چھوئے گی۔
بد مذہب کے لئے حدیث میں ارشاد ہے :
لا تؤاکلوھم ولا تشاربوھم نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ نہ پیو۔
نہ کہ جو مسلمان ہی نہیں اس میں مسلمانوں کو اپنے سے نفرت دلانا ہے۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
بشروا ولاتنفروا بشارت دو اور نفرت نہ دلاؤ۔
آیہ کریمہ میں طعام سے مراد ذبیحہ ہے گیہوںچاولدودھدہی تو مشرك کے یہاں کا بھی حلال ہے جبکہ نجس نہ ہواہل کتاب کی کیا تخصیصابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم تفاسیر اور بیہقی سنن میں حضرت عبداﷲ بن عباس اور عبداﷲ ابن حمید حضرت مجاہد اور عبدالرزاق مصنف میں حضرت ابراہیم نخعی رضی اﷲ تعالی عنہم سے راوی فرماتے ہیں:
طعام الذین اتو الکتب ذبائحھم طعام اہل کتاب سے ان کے ذبیحہ حرام مراد ہیں۔
شرع مطہر میں ہر غیر مسلم کافر ہے یہودی ہو یانصرانی یا مجوسی یا مشرکجو اہل کتاب کو کافرنہ جانے خود کافر ہے۔اﷲ تعالی عزوجل فرماتاہے:
" ان الذین کفروا من اہل الکتب و المشرکین فی نار جہنم خلدین فیہا " بیشك وہ جو کافر ہیں کتابی اور مشرکسب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
اور فرماتاہے:
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۱ /۱۱۳
کنز العمال حدیث ۳۲۴۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۶۹
صحیح البخاری کتاب العلم با ب ماکان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتخولھم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶
الدرالمنثور بحوالہ ابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی النن وعبد بن عن مجاہد وعبدالرزاق عن ابراہیم النخعی ۲ /۲۶۱
القرآن الکریم ۹۸ /۶
#6576 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
" لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ہو المسیح ابن مریم " بیشك کافر ہیں وہ جو مسیح ابن مریم کو خدا کہتے ہیں۔
مسئلہ ۲۷۵: ا زموضع سران ڈاکخانہ بشندور تحصیل وضلع جہلم مرسلہ حافظ سجاد شاہ ۱۸/ شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ طعام کو حاضر رکھ کر کھانا سے پہلے دعا کا کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
جائزہے بلکہ مطلق دعا مسنون ہے کہ حدیث میں ہےجب کھانا لا کر رکھا جائے کہو:
بسم اﷲ وباﷲ بسم اﷲ خیرالاسماء فی الارض وفی السماء لایضر مع اسمہ داء اجعل فیہ رحمۃ وشفاء ۔ اﷲ تعالی کے بابرکت نام سے اور اس کی مقدس ذات سے۔ اﷲ تعالی کے نام سے کہ زمین وآسمان میں جس کے سب سے اچھے نام ہیںاس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری تکلیف نہیں دیتی۔اﷲ تعالی اس میں شفاء اور رحمت فرمائے۔(ت)
یہ دعا نہیں تو کیا ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۶ و ۲۷۷: از بھیرہ ضلع شاہ پور محلہ پرا چگان مسئولہ محمد رحیم پراچہ باب لی ۷/ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) شہد کا اتارنا جائز ہے یا ممنوع (۲)اگر جائز ہے تو شرعا کچھ بیت النحل میں چھوڑنا لابدی ہے یانہ
الجواب:
(۱)و(۲)شہد کااتارنا بلا شبہ جائز ہے:
قال اﷲ تعالی" یخرج من بطونہا شراب مختلف الونہ فیہ شفاء للناس ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:شہد کی مکھیوں کے پیٹوں سے ایك مشروب(پینے کی چیز)نکلتاہے کہ جس کے رنگ الگ الگ(اور جدا)ہیں اس میں لوگوں کے لئے شفا(تندرستی)ہے۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۷۲
کنز العماال حدیث ۴۰۷۹۹ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۱۵ /۲۴۹
القرآن الکریم ۱۶ /۶۹
#6577 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
اور بیت النحل میں اس کا کچھ حصہ چھوڑنا ضروری نہیں کہ وہ ان کی غذا نہیں ان کی غذا پھل پھول ہیں۔
قال تعالی " ثم کلی من کل الثمرت " ۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:پھر تو ہر قسم کے پھلوں سے کھالیجئے۔ (ت)
شہد تمام وکمال ہمارے لئے ہے:
قال تعالی " خلق لکم ما فی الارض جمیعا" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:(لوگوں!)اﷲ تعالی نے تمھارے لئے پیدا فرمایا وہ سب کچھ جو زمین میں موجود ہے۔(ت)
واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۸: از بریلی مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ مولوی عبید اﷲ صاحب بنگالی ۱۴/ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی کافر ایك برتن میں کھانا کھائے اور برتن میں کچھ کھانا باقی رہے تو باقی کھانا مسلمان کھاسکتاہے یانہیں
الجواب:
اﷲ تعالی کی بے شمار رحمتیں حضرت شیخ سعدی قدس سرہ پر کہ فرماتے ہیں:
نیم خوردہ سگ ہم سگ راشاید
(کتے کا جھوٹاکتے ہی کے لائق ہے یعنی وہی کھائے۔ت)
نبی اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:بشروا ولاتنفروا (خوشخبری سناؤ اور نفرت نہ دلاؤ۔(ت )واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۹: از جبلپور بازار لارڈ گنج مرسلہ احمد علی محمد کچھی ۱۴/ جمادی الآخر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عالم صاحب اپنی ایك گجراتی تصنیف میں تحریر فرماتے ہیں کہ کچا انڈا حرام ہے اور پکا ہوا جائز ہے۔تو ظاہر فرمائیے کہ اس میں شریعت مطہر کا کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
حلال جانور کا کچا پکا انڈہ سب حلال ہے۔ہاں وہ کہ خون ہوجائے نجس وحرام ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۶ /۶۹
القرآن الکریم ۲ /۲۹
سنن ابی داؤد باب کراھیۃ المراء آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۹
#6578 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مسئلہ ۲۸۰ تا ۲۸۲: از ڈاکخانہ شیر پور ضلع پیلی بھیت مرسلہ شبیر الحسن صاحب ۱۲/ رمضان ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)اہل ہنو دکی اشیاء خوردنی کا استعمال ایك مسلمان کے لئے کہاں تك جائز ہے
(۲)یونہی اہل ہنود کے ہمراہ کھانا کھانا۔
(۳)کیا اوپرکے مسائل کے جواب ہر غیر مسلم پر عائد ہوسکتے ہیں اگر نہ تو غیر مسلم کے بارے میں اوپر کے ہر دو مسائل کا کیا جواب ہوگا
الجواب:
(۱)ایشائے خوردنی جو شریعت نے حلال فرمائی ہیں حلال ہیں ہنود کی کوئی تخصیص نہیں کہ وہ چیزیں خاص ہندوؤں کے کھانے کی ہیں ہاں ہندو کے یہاں کا کھانا اگر گوشت ہے حرام ہے اور اس کے سوا ار چیزیں مباح ہیںجب تك ان کی حرمت یانجاست تحقیق نہ ہواوربچنااولی۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)ہندو کے ساتھ کھانا کھانے کا سوال بے معنی ہے۔ہندو کب اسی کے ساتھ کھائے گا۔اور ایسا ہو تو اسے نہ چاہئے۔حدیث میں ہے:
لاتواکلوھم ولا تشاربواھم ۔واﷲ تعالی اعلم۔ نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤنہ ان کے ساتھ پانی پیو۔
(۳)غیر مسلم چار قسم ہیں:کتابیمجوسیمشرکمرتدکتابی اگر کتابی ہو ملحد نہ ہو تو اس کا ذبیحۃ اور اس کے یہاں کا گوشت بھی حلال ہے اور باقیوں کے یہاں کا گوشت حرام۔اور مرتد ان میں سب سے خبیث تر ہے اس کے پاس نشست برخاست مطلقا ناجائز ہے۔اور ساتھ کھانا ہر کافر کے ساتھ برا ہے۔پھر اگر اس میں بد مذہبی کی تہمت ہو جیسے نصرانی کے ساتھ کھانا مسلمانوں کے لئے زیادہ باعث نفرت ہو تو اس کاحکم اور سخت تر ہوگا ورنہ اس اصل حکم میں کہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ پانی نہ پیو سب برابر ہیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۳: از آلہ باد مدرسہ سبحانیہ مولوی ابراہیم صاحب ۱۷/ رمضان ۱۳۳۸ھ
زید نے اپنی لڑکی کی شادی کی اور اس کا مہر لے کر لوگوں کوکھانا کھلایا کھانے تیار ہوجانے پر لڑکی سے اجازت لی یہ کھانا کھانا کیسا ہے۔عمرو کہتاہے کہ یہ جائز نہیں کیونکہ بعد تیار ہونے کی اجازت لی ہے تو اس وقت
حوالہ / References کنزالعمال حدیث ۳۲۵۲۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۴۰
#6579 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
لڑکی نے مجبورا اجازت دے دی پہلے اس سے اجازت نہ لی۔
الجواب:
شرع مطہرظاہر کو دیکھتی ہے جب اس نے اجازت دی اجا زت ہوگئیفتاوی خیریہ میں ہے:
الاجازہ الاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ ۔ پچھلی اجازت سابقہ وکالت کی طرح ہے۔(ت)
اوریہ احتمال کہ مجبوری سے اجازت دی پہلے سے اجازت لینے میں بھی قائم تھا بلاد اوہام کا اعتبار نہیںاس کھانے میں کوئی حرج نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۴: از چتور گڑھ میواڑ محلہ چھیپیاں برمکان قاضی اسمعیل محمد صاحب مسئولہ جمیع مسلمان کنگرار ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہیجڑہ اگر دعوت کرے اس کا کھانا کیسا ہے
الجواب:
ہیجڑے کے یہاں دعوت کھانے کو نہ جایا جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۵ و ۲۸۶:از محلہ میاں ہٹے ضلع سارن ڈاك خانہ مانجن مسئولہ عبدالعزیز میاں مدرس مدرسہ ۱۴/ رمضان المبارك ۱۳۳۹ھ
(۱)کھڑئے ہو کر پانی پینا کیوں منع ہے اس کا ثبوت مع حدیث۔
(۲)روٹی چار ٹکڑے کرکے کیوں کھاتے ہیں اور ایك ہاتھ سے روٹی پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے توڑ کر کیوں کھاتے ہیں۔اس کا ثبوت مع حدیث دیجئےاور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ کس مذہب میں اما م اعظم کے نزدیك یا کس امام کے نزدیك جائز ہے بینوا توجروا
الجواب:
(۱)سوائے زمزم شریف وبقیہ وضو کھڑے ہوکر پانی پینا مکروہ ہے۔اس کی حدیثیں وفقہی بحث کتب علماء میں موجود ہے۔
(۲)روٹی کے چار ٹکڑے کرنا کوئی ضروری بات نہیںبائیں ہاتھ میں لے کر دہنے ہاتھ سے نوالہ توڑنا دفع تکبر کے لئے ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب النکاح باب اولیاء والاکفاء درالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۵
#6580 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مسئلہ ۲۸۷: از رچھا روڈ ضلع بریلی مسئولہ حکیم حمد احسن ۹ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان دھوبی کے گھر کھانا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جائزہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۸۸: از دانا پور کیمپ محلہ شاہ ٹوپی مکان جناب حکیم محمد کفیل صاحب مسئولہ حافظ محمد جعفر ۲ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك آنحضرت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ دسترخوان پرصحابہ کرام یا او رکوئی مہمان طعام تناول فرماتے تھے تو آپ کو جو کچھ اشیائے خوردنی دسترخوان پر موجود تھیں تھوڑی تھوڑی سب چیز لوگوں کو تقسیم کرتے تھے۔یا خود تناول فرماتے تھے مع حوالہ حدیث مطلع فرمائے۔اس ہندوستان میں لوگوں نے دسترخوان میں فرسٹ سکینڈ بنا رکھا ہے۔جیسے انگریزی کلاس ہیں۔بینواتوجروا
الجواب:
حضور اقدس صلی اﷲ تعلی علیہ وسلم کے دسترخوان پر قسم قسم کے متعدد کھانے نہ ہوتے تھے کہ تھوڑا تھوڑا سب میں تقسیم ہوتا ما اجتمع لو نان فی فی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے دہن اقدس میں کبھی دو رنگ کے کھانے جمع نہیں ہوئے۔ت)دسترخوان میں فرسٹ سکینڈ سے کیا مقصود ہے۔ظاہرا یہ کہ کوئی سنت نصاری کا اتباع ہوگا حاضرین میں تفریق بدعت ہے اور ایك فریق کی تذلیل ودل شکنیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۹ و ۲۹۰: از بنارس کچی باغ مسئولہ مولوی محمد ابراہیم صاحب ۱۸ ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں عالم اہلسنت ناصر ملت علامہ زماں محقق دوراں رأس العلماء رئیس الفضلا حضرت مولانا الشیخ الحاج احمدرضاخاں صاحب مجدد المائۃ الحاضرہ ادامہ اﷲ تعالی بفیوضہ الباطنۃ الظاھرۃ(سنت اور اہل سنت کے عالم دین کے مدد گارزمانے میں سب سے زیادہ جاننے والےدورحاضر میں مسائل کی تحقیق کرنے والےعلماء کے سر تاج فاضلوں کے امام حضرت مولانا شیخ حاجی احمد رضاخاں صاحب موجودہ صدی کے مجدداﷲ تعالی ظاہر اور باطنی فیض کے ساتھ انھیں ہمیشہ رکھے۔ت)
#6581 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
(۱)دعوت ولیمہ اور طعام کے متعلق ظاہر الروایۃ کاصرف یہ حلم ہے:
رجل دعی الی ولیمۃ او طعام جدھناك لعبا اوغناء فلا باس بان یقعد ویاکل کما فی الجامع الصغیر ۔ کسی شخص کو دعوت ولیمہ یا ویسے کھانے کی طرف مدعو کیا گیا پھر اس نے وہاں کھیل کود اور گانا بجانا پایا تو کوئی حرج نہیں کہ وہ وہاں بیٹھ جائے اور کھانا کھائے جیسے کہ جامع صغیر میں موجود ہے۔(ت)
لیکن شرح وفتاوی میں اس کے متعلق بہت سے قیدیں ہیں۔ چنانچہ عبارت ہدایہ یہ ہے کہ:
ولو کان ذلك علی المائدۃ لاینبغی ان یقعد ان لم یکن مقتدی لقولہ تعالی فلا تقعد الایۃ وھذا کلہ بعد الحضور ولم علم قبول الحضور ولایحضر الخ ملخصا وھکذا فی الدر والکنز والھدایۃ وقاضی خاں وغیرھا۔ اگریہ بدعات کھانے کے دسترخوان کے پاس موجو دہوں تو پھر مناسب نہیں کہ یہ بیٹھے اگر چہ یہ پیشوا نہ ہواﷲ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ"یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس نہ بیٹھو"(الآیۃ)اور یہ سب کچھ حاضرہونے کے بعد ہے۔اگر جانے سے پہلے ہی بدعات کا پایا جانا معلوم ہو تو پھر وہاں نہ جائے الخ ملخصا۔اور ایسے ہی درکنزہدایہ اور قاضی خاں وغیرہ میں ہے۔(ت)
ظاہر الروایت میں ھنالك عام ہے منزل اور مائدہ دونوں کو شاملمگر شروح فتاوی میں تفریق کرکے جدا گانہ حکم لکھا ہے۔اسی طرح رجل عام ہے عالم وجاہل سب کو شامل ہے۔مگر فتاوی تفصیل کرکے دونوں کاحکم علیحدہ لکھا علی ھذا علم قبل الحضور اور بعد الحضور سے احکام مختلف ہوجاتے ہیں اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ ظاہر روایت میں شارحین کی یہ تقیدیدات معتبر ہوں گی یا نہیں اگر معتبر ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شارحین علیہم الرحمۃ کی تقیید کے موافق جب یہ مسئلہ ہے کہ اگر عامی دعوت میں جائے اور وہاں لعب وغنا پائے اگر مائدہ کے پاس ہوتو چلا آئے اور اگر منزل میں ہو تو کھالے حلانکہ حرمت استماع ملاہی دونوں صورتوں پائی جاتی ہے پھر تشقیق کا حاصل کیاہے اسی طرح علم قبل الحضور کی صورت میں عام وخاص سب کے لئے ممانعت ہے کہ نہ جائےاس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آیا شرکت کی ممانعت عام ہے کہ نہ جائےاس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ آیا شرکت کی ممانعت اسی وقت ہے جبکہ کھانے کے وقت لعب وغنا کا وجود ہو اور اگر کھانے کا وقت
حوالہ / References الجامع الصغیر کتاب الکراھیۃ مسائل من کتاب الکراھیۃ الخ مطبع یوسفی لکھنؤ ص۱۵۲
الہدایہ کتاب الکراھیۃ فصل الاکل والشرب مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۴۵۳
#6582 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
گزار کر دوسرے وقت لعب وغنا کا وجود ہو مگر کھانے کے وقت نہ ہو تو جائز ہے اگر یہ صحیح ہے تو سوال یہ ہے کہ نفس ارتکاب مناہی وملاہی میں دونوں برابر ہیں وجہ تفریق کیا ہے بعض لوگ دوپہر کو کھانا کرتے ہیں اور شام کو برات میں تمامی خرافات باجے وغیرہ رکھتے ہیں تو کیا اس کے یہاں علم قبل الحضور کی صورت میں جائز ہوگا
(۲)زید کہتاہے کہ فی زماننا جو دعوتیں دی جاتی ہیں ان میں عموما فخر وتطاول وانشاء الحمد کا خیال ہوتاہے اور فقہاء اس قسم کی دعوتوں کو منع فرماتے ہیں لہذا وہ کسی دعوت میں نہیں جانا اس کا یہ فعل کیساہے اور یہ بھی کہتاہے کہ آج کل حبوب طعام کی بہت بے قدری ہوتی ہے بینوا توجروا(بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ت)
الجواب:
(۱)تقیید مطلق وتخصیص عمومات وتفصیل مجمل وتوضیع مبہامات منصب شراح ہے اسی غرض کے لئے وضع شروح ہے وہ اس سے مبائن نہ سمجھے جائیں گے بلکہ مبین کما فی ردالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار(جیسا کہ ردالمحتار(فتاوی شامی)وغیرہ قابل اعتماد بڑی کتابوں میں مذکور ہے۔ت)استماع یعنی قصد سننا یہ تو اس کا فعل ہے اور اس میں منزل بھی شرط نہیں کہیں ہواور کتنی ہی دور ہو جہاں سے آواز آئےیہاں نظر علماء اس عاصی بالقصد کی طرف نہیں بلکہ متقی کی جانب جواتباع شرع چاہتاہے اس کے لئے مائدہ ومنزل کا فرق ظاہر ہے مائدہ پر ہو تو فساق کے ساتھ بیٹھنا ہوگا اور آیہ کریمہ
فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾ " (یاد آنے کے بعد ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ت)کا خلافبخلاف منزل۔ جب یہ شرکت دعوت کے لئے جاتا ہے اوردعوت کے وقت ملاہی نہیں تو یہ شریك اثم نہ ہوبعد کو وہ جو کچھ کریں ان کا فعل ہے فافترقا(پس دونوں فرق ظاہر ہوگیا۔ت)اوریہ حکم شراح ہنوز محل وطالب تفصیل ہے جسے فقیر نے اپنے فتاوی میں بیان کیا اس کا خلاصہ یہ کہ اس کا ان پر ایسا رعب ہے کہ اس کے سامنے نہ کرسکیں گے تو ضرور جائے کہ اس کا جانا نہی عن المنکر ہے۔اور اگر انھیں اس سے ایسا علاقہ محبت ہے کہ اس کا شریك نہ ہونا کسی طرح گوارہ نہ کریں گے تو ضرور شرکت سے انکار کرے جب تك وہ ترك ملاہی کا عہد وپیمان نہ دیںاور اگر یہ دونوں صورتیں نہیں تو تفصیل وہ ہے کہ شراح نے ذکر فرمائی۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)قبول دعوت سنت ہے فقہاء کرام کا حکم غیر معین پر ہے اورنہ ہر گز ان کے یہاں تعمیمنہ اصلا اس پر دلیل قویم۔وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ جہاں ایسا ہو وہاں نہ جانا چاہئے۔غیر معین پر حکم کسی معین
حوالہ / References القرآن الکریم ۶ /۶۸
#6583 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
مسلمان کے لئے سمجھ لینابد گمانی ہے جب تك اس کے قرائن واضحہ نہ ہو اور بدگمانی حرام۔
قال اﷲ تعالی" یایہا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۫ ان بعض الظن اثم" وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاکم الظن فان فان الظن اکذب الحدیث۔ اﷲ تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو! ا بہت سے گمانوں سے بچتے رہو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔اور حضور اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:لوگو! بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ الحدیث۔(ت)
بحال قصد تفاخر اگر یہ جاتا تو ایك نامناسب ہی بات ہوتی۔بنایہ امام عینی میں ہے:
اجابۃ الدعوۃ سنۃ ولیمۃ اوغیرہا وامادعوۃ یقصد بہا التطاول اوابتغاء المحمدۃ اوما اشبہہ فلیس ینبغی اجابتہا لاسیما اھل العلم فقد قیل ماضع احدیدہ فی قصعۃ غیرہ الاذل لہ ۔ملخصا۔
دعوت قبول کرنا سنت ہے خواہ دعوت ولیمہ ہو یا کوئی اور لیکن جس دعوت میں تفاخر اور مدح سرائی یا اس قسم کی باتیں ہوں تو پھر ایسی دعوت قبول کرنا مناسب نہیں خصوصا علم و فضل رکھنے والوں کے لئےکیونکہ یہ کہا گیا ہے کہ کسی نے ہاتھ دوسرے کے پیالے میں رکھا تویہ اس کے لئے ذلت اختیار کرے گا۔ملخصا۔(ت)
اور اب کہ ایك مسلمان پر بلاد لیل یہ گمان کیا کہ اس کی نیت ریا وتفاخر وناموری ہے تویہ حرام قطعی ہواحبوب طعام کی اگر بے ادبی ہوتی ہے تو جائے اور اس سے منع کرے اگر نہ مانے تو وبال ان پرہے۔امام ابوالقاسم صفار رحمۃ اﷲ تعالی فرماتے ہیں میں آج کل دعوت میں جانے کی کوئی نیت نہیں پاتاہوں سوا اس کے کہ نمك دانی روٹی پر سے اٹھاؤں۔ہندیہ میں ہے:
لایجوز وضع القصاص علی الخبز و السکرجۃ کذا فی القنیۃ قال الامام الصفار لااجد فی نیۃ الذھاب الی الضیافۃ سو ی ان روٹی اور چپاتی پر پیالوں کا رکھنا درست نہیں۔اسی طرح قنیہ میں مذکور ہے۔امام صفار نے فرمایامیرا دعوت میں جانے کا سوائے اس کے کوئی مقصد
حوالہ / References القرآن الکریم ۴۹ /۱۲
صحیح بخاری کتاب الوصایا باب قول اﷲ عزوجل من بعد وصیۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۸۴
البنایہ فی شرح الہدایہ کتاب الکراھیۃ فصل فی الاکل والشرب المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۴ /۲۰۴
#6584 · الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ ۱۲۰۹ھ (وہ یاقوت جو خالص عقد رابطہ کا ذریعہ ہے)
ارفع المملحۃ عن الخبز کذا فی الخلاصۃ نہیں کہ میں نمك دانی روٹی پر سے اٹھالوں ایسے ہی خلاصہ میں ہے۔(ت)
جب یہ نہی عن المنکر کی نیت سے جائے گا ثواب پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۱: از ڈاکخانہ گریفہ مقام چٹکل گوری پور ضلع ۲۴ پرگنہ مسئولہ تبارك حسین ۱۹ ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ سود خواربے نمازیشرابیہیجڑامخنث اور جس کی بی بی سر بازار باہر نکلتی ہوں ان کے ساتھ کھانا کیسا ہے ایك شخص دوسرے کی بی بی کو زبردستی لے آیا ہے تین برس بعد نکاح کیا پہلے شوہر نے اب تك طلاق نہ دی یہ نکاح اور اس کے ساتھ کھانا کیسا ہے بینوا توجروا
الجواب:
سود خواربے نمازیشرابیمخنث کسی کے ساتھ کھانا نہ چاہئے خصوصا شرابی کہ اس کے ہاتھ اور منہ پاك ہونے کا کچھ اعتبار نہیں جس کی بی بی سر عام بے پر دہ پھرتی ہو اگر ستر کا مل نہیں کرتی مثلا سر کے بالوں یا گردن یا پیٹ یا بازوں یا کلائی یاپنڈلی کا کوئی حصہ کھلا ہوا یا باریك کپڑے سے چمکتا ہو اور وہ اس پرمطلع ہے اور منع نہیں کرتا تو دیوث ہے اس کے ساتھ بھی کھانا نہ چاہئےجو پرائی عورت کو بھگا لا یا ہے اور شوہر زندہ ہے اور طلاق نہ دی اور نکاح کرلیا وہ اس نکاح کے بعد بھی زانی ہے۔اوریہ نکاح باطل محض ہوا ایسے شخص سے میل جول اصلا نہ کیا جائے۔واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
___________________________________
نوٹ
جلد ۲۱ شرب وطعام کے عنوان پر ختم ہوگئی
جلد ۲۲ ان شاء اﷲ ظروف کے عنوان سے شروع ہوگی۔
__________________
حوالہ / References فتاوٰی ھندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الحادی عشرۃ فی الکراھیۃ فی الاکل نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۴۱
Scroll to Top